فہرست

سیرت المہدی جلد دوم

صفحات ۱–۴۳۱

سِیْرَةُ الْمَهْدِیْؑ

حصہ چہارم

تالیفِ لطیف

حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

﴿976﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ہمارے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب مرحوم نے مجھ سے بیان کیا کہ جس روز پنڈت لیکھرام کے قتل کے معاملہ میں حضرت مسیح موعود کے مکان کی تلاشی ہوئی۔ تو اچانک پولیس کپتان بمعہ ایک گروہ سپاہیوں کے قادیان آگیا اور آتے ہی سب ناکے روک لئے۔ باہر کے لوگ اندر اور اندر کے باہر نہ جاسکتے تھے۔ میر صاحب قبلہ یعنی حضرت والد صاحب جو مکان کے اندر تھے فوراً حضور کے پاس پہنچے اور عرض کیا کہ ایک انگریز بمعہ سپاہیوں کے تلاشی لینے آیا ہے۔ فرمایا بہت اچھا آجائیں۔ میر صاحب واپس چلے تو آپ نے اُن کو پھر بلایا۔ اور ایک کتاب یا کاپی میں سے اپنا الہام دکھایا جو یہ تھا کہ مَاهٰذَا اِلَّا تَهْدِیْدُ الْحُکَّامِ یعنی یہ حکام کی طرف سے صرف ایک ڈراوا ہے۔ اس کے بعد جب انگریز کپتان بمعہ پولیس کے اندر داخل ہوا تو آپ اُسے ملے۔ اُس نے کہا کہ مرزا صاحب! مجھے آپ کی تلاشی کا حکم ہوا ہے۔ حضور نے فرمایا! بیشک تلاشی لیں میں اس میں آپ کو مدد دوں گا۔ یہ کہہ کر اپنا کمرہ اور صندوق، بستے اور پھر تمام گھر اور چوبارہ سب کچھ دکھایا۔ انہوں نے تمام خط و کتابت میں سے صرف دو خط لئے جن میں سے ایک ہندی کا پرچہ تھا۔ جو دراصل آٹا وغیرہ خریدنے اور پسوانے کی رسید یعنی ٹومبو تھا۔ دوسرا خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چچازاد بھائی مرزا امام الدین یعنی محمدی بیگم کے ماموں کا تھا۔ پھر وہ چند گھنٹے بعد چلے گئے۔ چاشت کے وقت وہ لوگ قادیان آئے تھے۔ اس کے بعد دوبارہ دو ہفتہ کے بعد اس خط کی بابت دریافت کرنے کے لئے ایک انسپکٹر پولیس بھی آیا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ ۱۸۹۷ء کا واقعہ ہے اور اس کے متعلق مزید تفصیل دوسری روایتوں میں مثلاً روایت نمبر ۴۶۰ میں گذر چکی ہے۔ یہ روایت ہمارے ماموں حضرت ڈاکٹر سید میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے خود بیان کی تھی مگر افسوس ہے کہ اس کتاب کی اشاعت کے وقت حضرت میر صاحب وفات پاچکے ہیں۔

نوٹ:۔ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب جولائی ۱۹۴۷ء میں قادیان میں فوت ہوئے تھے اور میں اس تالیف کی نظر ثانی اکتوبر ۱۹۴۹ء میں لاہور میں کررہا ہوں۔

﴿977﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ تمام انبیاء کے نام چونکہ خدا کی طرف سے رکھے جاتے ہیں اس لئے ہر ایک کے نام میں اس کی کسی بڑی صفت کی پیشگوئی موجود ہوتی ہے۔ مثلاً آدم، گندم گوں اقوام کا باپ۔ ابراہیم، قوموں کا باپ۔ اسماعیل، خدا نے دعا کو سن لیا۔ یعنی اولاً اولاد کے متعلق ابراہیم کی دعا کو سن لیا اور پھر مکہ کی وادی غیر ذی زرع میں اسماعیل کی پکار سن لی اور پانی مل گیا اور آبادی کی صورت پیدا ہوگئی۔ اسحٰق، اصل میں اضحاک ہے چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے فَضَحِکَتۡ فَبَشَّرۡنٰہَا بِاِسۡحٰقَ(ھود: ۷۲)۔ نوح کا اتنی لمبی عمر نوحہ کرنا مشہور ہے۔ مسیح، سفر کرنے والا، خدا کا ممسوح۔ سلیمان جس کے متعلق قرآن فرماتا ہے۔ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَیۡمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(النحل: ۴۵)۔ ایسا بادشاہ جو نہ صرف خود مسلم تھا بلکہ جس کے طفیل ایک شہزادی بمعہ اپنے اہل ملک کے اسلام لائی۔ مریم بتول یعنی کنواری۔ چنانچہ فرماتا ہے اِنِّیۡ نَذَرۡتُ لَکَ مَا فِیۡ بَطۡنِیۡ مُحَرَّرًا(ال عمران: ۳۶)۔ یعقوب۔ پیچھے آنے والا۔ وَمِنۡ وَّرَآءِ اِسۡحٰقَ یَعۡقُوۡبَ(ھود: ۷۲) یوسف۔ یٰۤاَسَفٰی عَلٰی یُوۡسُفَ(یوسف: ۸۵)۔ محمد ﷺ، تمام کمالات کا جامع جس کی ہر جہت سے تعریف کی جائے یعنی کامل محمود و محبوب اور معشوق۔ احمد، نہایت حمد کرنے والا یعنی عاشق صادق وغیرہ وغیرہ۔

﴿978﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ خواب میں چور کی تعبیر داماد بھی ہوتی ہے کیونکہ وہ بھی ایک قسم کا چور ہوتا ہے۔ اسی طرح جوتی کی تعبیر عورت ہوتی ہے اور عورت کی تعبیر دنیا۔ ہاتھوں کی تعبیر بھائی ہوتی ہے اور دانت ٹوٹ جائے تو تعبیر یہ ہے کہ کوئی عزیز مر جائے گا۔ اوپر کا دانت ہو تو مرد نیچے کا ہو تو عورت۔

﴿979﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فیاض علی صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ کپور تھلہ کی جماعت میں ہم پانچ آدمی جماعت کے نام سے نامزد تھے۔ (۱) خاکسار فیاض علی (۲) منشی اروڑ ا صاحب تحصیل دار مرحوم (۳) منشی محمد خان صاحب مرحوم (۴) منشی عبد الرحمن صاحب (۵) منشی ظفر احمد صاحب کاتب جنگ مقدس۔ ان سب کو حضرت مسیح موعود نے ۳۱۳ میں شمار کیا ہے اور مجموعی طور پر اور فرداً فرداً حضرت اقدس نے ان کو جو دعائیں دی ہیں وہ ازالہ اوہام اور آئینہ کمالات اسلام میں درج ہیں۔ ان دعاؤں کی قبولیت سے ہماری جماعت کے ہر فرد نے اپنی زندگی میں بہشت کا نمونہ دیکھ لیا ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں فیاض علی صاحب پرانے صحابی تھے۔ افسوس ہے کہ اس وقت (۱۹۴۹ء) میں وہ اور منشی عبدالرحمٰن صاحب اور منشی ظفر احمد صاحب سب فوت ہو چکے ہیں۔

﴿980﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فیاض علی صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خاکسار کو دعا دی تھی ”اے خدا تو اس کے اندر ہو کر ظاہر ہو۔“ (ملاحظہ ہو ازالہ اوہام) اس سے پیشتر میں قطعی بےاولاد تھا۔ شادی کو چودہ سال گذر چکے تھے۔ دوسری شادی کی۔ وہ بیوی بھی بغیر اولاد نرینہ کے فوت ہوگئی۔ تیسری شادی کی۔ اُس سے پے در پے خدا نے چار لڑکے اور دو لڑکیاں عطا کیں۔ ایک لڑکا چھوٹی عمر میں فوت ہوگیا۔ تین لڑکے اور لڑکیاں اس وقت زندہ موجود ہیں۔ اُن میں سے ہر ایک خدا کے فضل سے خوش حال و خوش وخرم ہے۔ لڑکیاں صاحب اقبال گھر بیاہی گئیں۔ ان میں سے ہر ایک احمدیت کا دلدادہ ہے۔ بڑا لڑکا مختار احمد ایم اے ۔ بی۔ٹی سررشتۂ تعلیم دہلی میں سپرنٹنڈنٹ ہے۔ دوسرا لڑکا نثار احمد بی اے، ایل ایل بی ضلع شاہجہان پور میں وکالت کرتا ہے۔ تیسرا لڑکا رشید احمد بی۔ ایس۔سی پاس ہے اور قانون کا پرائیویٹ امتحان پاس کر چکا ہے۔ اور اس وقت ایم۔ایس۔سی کے فائنل کے امتحان میں ہے۔

﴿981﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فیاض علی صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میرے ایک لڑکے کو مرگی کا عارضہ ہو گیا تھا۔ بہت کچھ علاج کرایا مگر ہر ایک جگہ سے مایوسی ہوئی۔ قادیان میں مولانا حکیم نور الدین صاحب خلیفہ اولؓ کی خدمت میں بھی مع اس کی والدہ کے لڑکے کو بھیجا گیا مگر فائدہ نہ ہوا۔ اور اس کی والدہ مایوس ہو کر گھر واپس آنے لگی۔ اس وقت حضرت ام المومنین کے مکان میں اُن کا قیام تھا۔ حضرت ام المومنین نے لڑکے کی والدہ سے فرمایا۔ ٹھہرو ہم دعا کریں گے۔ چنانچہ حضور دام اقبالھا قریباً دو گھنٹہ بچہ کی صحت کے واسطے سر بسجود رہیں۔ آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ رات کو لڑکے نے خواب میں دیکھا۔ کہ چاندنی رات ہے اور میں دورہ مرگی میں مبتلا ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیت الدعا کی کھڑکی سے تشریف لائے اور مجھ کو دیکھ کر دریافت کیا کہ تیرا کیا حال ہے۔ میں نے عرض کیا کہ حضور ملاحظہ فرمالیں۔ مسیح موعود علیہ السلام نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا کہ گھبراؤ نہیں، آرام ہو جائے گا۔ اس کے بعد اس کی والدہ لڑکے کو لے کر گھر واپس چلی آئی۔ پھر میں ہر مشہور ڈاکٹر اور طبیب سے لڑکے کا علاج کرواتا رہا۔ آخر قصبہ ہاپڑ ضلع میرٹھ میں ایک طبیب کے پاس گیا۔ اس نے نسخہ تجویز کیا اور رات کو اپنے سامنے کھلایا۔ اس وقت لڑکے کو نہایت سختی کے ساتھ دورہ ہو گیا۔ طبیب اپنے گھر کے اندر جا کر سو گیا۔ اور ہم دونوں باہر مردانہ میں سو گئے۔ صبح ہوئی نماز پڑھی۔ طبیب بھی گھر سے باہر آیا۔ طبیب نے کہا کہ رات کو میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک کتاب دی گئی۔ جب میں نے اس کو کھولا تو اس کے شروع میں لکھا ہوا تھا۔ اس مرض کا علاج امللی ہے۔ چھ سات سطر کے اندر یہی لکھا ہوا تھا کہ اس مرض کا علاج سوائے امللی کے دنیا میں اور کوئی نہیں۔ طبیب نے کہا کہ نہ تو میں مرض کو سمجھا اور نہ علاج کو۔ میں نے تمہیں اپنا خواب سنا دیا ہے۔ میں نے طبیب کے اس خواب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بشارت کے مطابق خدا کی طرف سے الہام سمجھا اور لڑکے کو لے کر گھر چلا آیا۔ امللی کا استعمال شروع کر دیا۔ رات کو چار تولہ بھگو دیتا تھا۔ صبح کو چھان کر دو تولہ مصری ملا کر لڑکے کو پلا دیتا تھا۔ دو ہفتہ کے اندر اس مرض سے لڑکے نے نجات پالی۔ اور اس وقت خدا کے فضل سے گریجویٹ ہے اور ایک اچھے عہدہ پر ممتاز ہے۔

﴿982﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فیاض علی صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ریاست کپور تھلہ میں ڈاکٹر صادق علی صاحب مشہور آدمی تھے اور راجہ صاحب کے مصاحبین میں سے تھے۔ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بیعت کی درخواست کی۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ان کو بیعت کی کیا ضرورت ہے۔ دوبارہ اصرار کیا۔ فرمایا آپ تو بیعت میں ہی ہیں۔ مگر باوجود اصرار کے بیعت میں داخل نہ فرمایا۔ نہ معلوم کہ اس میں کیا مصلحت تھی۔

﴿983﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فیاض علی صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کپور تھلہ تشریف لائے تو ایک شخص مولوی محمد دین آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بیعت کی درخواست کی۔ حضور نے جواب دیا۔ آپ سوچ لیں۔ دوسرے دن اس نے عرض کی تو پھر وہی جواب ملا۔ تیسرے دن پھر عرض کی۔ فرمایا آپ استخارہ کر لیں۔ غرض اس طرح ان مولوی صاحب کی بیعت قبول نہ ہوئی۔

﴿984﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فیاض علی صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ کپور تھلہ میں حکیم جعفر علی ڈاکٹر صادق علی کے بھائی تھے۔ جماعت کپور تھلہ جلسہ پر قادیان جارہی تھی۔ جعفر علی نے کہا کہ لنگر خانہ میں پانچ روپیہ میری طرف سے حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کئے جائیں۔ وہ روپے منشی ظفر احمد صاحب کا تب جنگ مقدس نے حضور کی خدمت میں پیش کئے ۔ مگر حضور نے قبول نہ فرمائے ۔ دوسرے دن دوبارہ پیش کئے ۔ فرمایا۔ یہ روپے لینے مناسب نہیں ہیں۔ تیسرے دن منشی ظفر احمد صاحب نے پھر عرض کی کہ بہت عقیدت سے روپے دیئے گئے ہیں۔ اس پر فرمایا: تمہارے اصرار کی وجہ سے رکھ لیتے ہیں۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ منشی ظفر احمد صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاص محبوں میں سے تھے اور مجھے ان کی محبت اور اخلاص کو دیکھ کر ہمیشہ ہی رشک آیا۔

﴿985﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فیاض علی صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ کپور تھلہ میں ایک شخص شرابی ، فاسق و فاجر تھا۔ ایک رات وہ کسی جگہ سے شب باش ہو کر آیا۔ راستہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک مکان میں وعظ فرمارہے تھے۔ یہ شخص بھی وعظ کا سن کر وہاں آگیا۔ وعظ میں حضور علیہ السلام افعال شنیعہ کی بُرائی بیان فرمارہے تھے۔ اس شخص نے مجھ سے کہا ۔ حضرت صاحب کے وعظ کا میرے دل پر گہرا اثر ہوا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا آپ لوگوں کو مخاطب کر کے مجھے سمجھا رہے ہیں۔ اُس دن سے اُس نے توبہ کی ۔ شراب وغیرہ چھوڑ دی اور پابند صوم وصلوٰۃ ہو گیا۔

﴿986﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فیاض علی صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مسجد کپور تھلہ حاجی ولی اللہ غیر احمدی لا ولد نے بنائی تھی۔ اس کے دو برادر زادے تھے۔ انہوں نے حبیب الرحمٰن صاحب کو مسجد کا متولی قرار دیا اور رجسٹری کرا دی ۔ متولی مسجد احمدی ہو گیا۔ جب جماعت احمدیہ کو علیحدہ نماز پڑھنے کا حکم ہوا ۔ تو احمدیوں اور غیر احمدیوں میں اختلاف پیدا ہو گیا۔ غیر احمدیوں نے حکام بالا اور رؤسائے شہر کے ایماء سے مسجد پر جبراً قبضہ کر لیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہم کو حکم دیا کہ اپنے حقوق کو چھوڑنا گناہ ہے۔ عدالت میں چارہ جوئی کرو۔ اس حکم کے ماتحت ہم نے عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا۔ یہ مقدمہ سات برس تک چلتا رہا۔ ان ایام میں جماعت احمدیہ اپنے گھروں میں نماز پڑھ لیا کرتی تھی۔ خاکسار ہمیشہ حضور کی خدمت میں دعا کے لئے عرض کرتا رہتا تھا۔ ایک دفعہ حضور دہلی سے قادیان واپس آ رہے تھے کہ لدھیانہ میں حضور کا لیکچر ہوا۔ لیکچر سننے کے لئے خاکسار اور منشی عبدالرحمٰن صاحب مرحوم لدھیانہ گئے۔ لیکچر ختم ہونے پر خاکسار نے مسجد کپور تھلہ کے واسطے دعا کی درخواست کی۔ حضرت اقدس نے ارشاد فرمایا کہ ”اگر یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے تو مسجد تمہارے پاس واپس آجائے گی“ اس وقت چہرہ مبارک پر ایک جلال رونما تھا۔ اس پیشگوئی کو سن کر بہت خوشی ہوئی ۔ جس کا اظہار اخباروں میں بھی ہو گیا۔ میں نے تحریر و تقریر میں ہر ایک مدعاعلیہ سے اس پیشگوئی کا اظہار کر دیا۔ اور میں نے تحدّی کے ساتھ مدعاعلیہم پر حجت تمام کر دی کہ اپنی ہر ممکن کوشش کرلو۔ اگرچہ حکام بھی غیر احمدی ہیں جن پر تم سب کو بھروسہ ہے مگر مسجد ضرور ہمارے پاس واپس آئے گی۔ میرے اس اصرار پر ڈاکٹر شفاعت احمد کپور تھلہ نے وعدہ کیا کہ اگر مسجد تمہارے پاس واپس چلی گئی تو میں مسیح موعودؑ پر ایمان لے آؤں گا۔ میں ایک مرتبہ ضرورتاً لاہور گیا اور جمعہ ادا کرنے کے لئے احمد یہ مسجد میں چلا گیا۔ خواجہ کمال الدین صاحب سے اس پیشگوئی کا ذکر آ گیا۔ انہوں نے کہا کہ منبر پر چڑھ کر سب کو سنا دو۔ میں نے مفصل حال اور یہ پیشگوئی احباب کو سنا دی تاکہ پیشگوئی پورا ہونے پر جماعت کی تقویت ایمان کا باعث ہو۔ پہلی اور دوسری دو عدالتوں میں با وجود مدعاعلیہم کی کوشش وسعی کے مقدمہ احمدیوں کے حق میں ہوا۔ ڈاکٹر صادق علی ان ہر دو حکام کا معالج خاص تھا۔ اور اس نے بڑی کوشش کی۔ آخر اس کی اپیل آخری عدالت میں دائر ہوئی۔ یہ حاکم غیر احمدی تھا۔ مقدمہ پیش ہونے پر اُس نے حکم دیا ”کہ یہ مسجد غیر احمدی کی بنائی ہوئی ہے۔ اس مسجد میں احمدیوں کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ احمدی جماعت نے جدید نبی کے دعویٰ کو قبول کر لیا ہے۔ اس لئے وہ اپنی مسجد علیحدہ بنائیں ۔ پرسوں میں حکم لکھ کر فیصلہ سناؤں گا ۔“ ڈاکٹر شفاعت احمد صاحب نے مجھ سے کہا۔ کہو صاحب! مرزا صاحب کی پیشگوئی کہاں گئی؟ مسجد کا فیصلہ تو تم نے سن لیا۔ میں نے اس کو جواب دیا۔ کہ شفاعت احمد ! ابھی دو تین روز درمیان میں ہیں۔ اور ہمارے اور تمہارے درمیان احکم الحاکمین کی ہستی ہے ۔ اس بات کا انتظار کرو کہ وہ کیا فیصلہ کرتا ہے۔ یاد رکھو۔ زمین و آسمان ٹل جائیں گے مگر خدا کی جو باتیں مسیح موعود علیہ السلام کی زبان سے نکل چکی ہیں وہ نہیں ٹلیں گی۔ میری اس تحدّی سے وہ حیرت زدہ ہو گیا۔ رات کو حبیب الرحمن متولی مسجد نے خواب میں دیکھا اور جماعت کو وہ خواب بھی سنایا کہ یہ حاکم ہماری مسجد کا فیصلہ نہیں کرے گا۔ اس کا فیصلہ کرنے والا اور حاکم ہے۔ یہ خواب بھی مدّعاعلیہم کو سنا دی گئی۔ مدّعاعلیہم ہماری ان باتوں سے حیرت زدہ ہو جاتے تھے۔ کیونکہ فیصلہ میں دو روز باقی تھے اور حاکم اپنا فیصلہ ظاہر کر چکا تھا۔ ایک احمدی کہتا ہے۔ زمین آسمان ٹل جائیں گے مگر مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی پوری ہو کر رہے گی۔ دوسرا کہتا ہے کہ یہ حاکم فیصلہ نہیں کرے گا وہ اور ہے جو فیصلہ کرے گا۔ مقررہ دن آ گیا مگر حاکم فیصلہ نہیں لکھ سکا۔ دوسری تاریخ ڈال دی اور ہر پیشی پر خدا ایسے اسباب پیدا کر دیتا رہا کہ وہ حاکم فیصلہ نہ لکھ سکا۔ اس سے مخالفوں میں مایوسی پیدا ہونے لگی کہ کہیں پیشگوئی پوری نہ ہو جائے۔ اسی اثناء میں عبدالسمیع احمدی نے ایک رؤیا دیکھا جو اس وقت قادیان میں موجود ہے کہ میں بازار میں جا رہا ہوں راستہ میں ایک شخص مجھے ملا اور اس نے کہا کہ تمہاری مسجد کا فیصلہ کرنے والا حاکم فوت ہو گیا ہے۔ یہ خواب بھی مخالفوں کو سنا دی گئی۔ ایک ہفتہ کے بعد عبدالسمیع مذکور بازار میں جا رہا تھا کہ اسی موقعہ پر وہ شخص جس نے خواب میں کہا تھا کہ تمہاری مسجد کا فیصلہ کرنے والا حاکم فوت ہو گیا ہے۔ اُن کو ملا اور اُس نے حاکم کی موت کی خبر دی۔ حاکم کی موت کا واقعہ یوں ہوا۔ کہ وہ حاکم کھانا کھا کر کچہری جانے کے واسطے تیاری کر رہا تھا، سواری آ گئی تھی۔ خدمت گار کسی کام کے لئے باورچی خانہ میں گیا ہی تھا کہ دفعتاً حرکتِ قلب بند ہوئی اور وہ حاکم وہیں فوت ہو گیا۔ اس کے ماتم پر لوگ عام گفتگو کرتے تھے کہ اب ہمارے پاس مسجد کے رہنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اس کی جگہ ایک آریہ حاکم فیصلہ کرنے کے لئے مقرر ہوا۔ یہ بھی احمدیوں کا سخت دشمن تھا۔ اور وہ بھی مخالفوں کی طرف ہی مائل تھا۔ آخر وکلاء کی بحث کے بعد یہ بات قرار پائی کہ کسی انگریزی علاقہ کے بیرسٹر سے فیصلہ کی رائے لی جائے۔ پچاس روپیہ فریقین سے فیس کے لئے گئے۔ اور اُس حاکم نے اپنے قریبی رشتہ دار آریہ بیرسٹر کے پاس مشورہ کے واسطے وہ مسل بھیج دی۔ اس جگہ بھی غیر احمدیوں نے بے حد کوششیں کیں۔ اور یہ بات قابلِ غور ہے کہ مقدمہ میں کس طرح پیچ در پیچ پڑتے چلے جا رہے تھے۔ ہاں عدالتِ ابتدائی کے دوران میں ایک احمدی نے خواب دیکھا تھا کہ ایک مکان بنایا جا رہا ہے۔ اس کی چاروں طرف کی دیواریں غیر احمدی کے واسطے تعمیر کی گئی ہیں۔ مگر چھت صرف احمدیوں کے واسطے ڈالی گئی ہے جس کے سایہ میں وہ رہیں گے۔ جس سے یہ مراد تھی کہ کونسل کا فیصلہ غیر احمدیوں کے حق میں لکھا جارہا ہے لیکن جب حکم سنانے کا موقعہ آئے گا تو مسجد احمدیوں کو دی جائے گی اور جس طرح کوئی بالا طاقت قلم کو روک دیتی ہے اور بے اختیار حاکم کے قلم سے احمدیوں کے حق میں فیصلہ لکھا دیتی ہے اور ہر ایک عدالت میں یہی بات ہوئی۔ میں نے بھی خواب میں دیکھا کہ آسمان پر ہماری مسل پیش ہوئی اور ہمارے حق میں فیصلہ ہوا۔ میں نے اپنا یہ خواب وکیل کو بتا دیا۔ وہ مسل دیکھنے کے لئے عدالت گیا۔ اُس نے آ کر کہا کہ تمہارا خواب بڑا عجیب ہے کہ فیصلہ ہو گیا ہے ، حالانکہ بیرسٹر کے پاس ابھی مسل بھیجی بھی نہیں گئی۔ میں نے اُس سے کہا کہ ایک سب سے بڑا حاکم ہے اس کی عدالت سے فیصلہ آگیا ہے ۔ یہ دنیا کی عدالتیں اس کے خلاف نہیں جاسکیں گی۔ آخر اس آریہ بیرسٹر نے احمدیوں کے حق میں فیصلہ کی رائے دی اور مسل واپس آگئی اور حکم سنا دیا گیا۔ ہمارے وکیل نے کہا کہ ظاہری صورت میں ہم حیران تھے کہ کس طرح مسجد تم کو مل سکتی ہے۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے ساتھ خدا کی امداد ہے تبھی مسجد مل گئی۔ لیکن افسوس ہے کہ اس پیشگوئی کے پورا ہونے پر بھی شفاعت احمد ایمان نہ لایا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مسجد احمد یہ کپور تھلہ کا واقعہ روایت نمبر ۷۹ میں بھی درج ہو چکا ہے اور شاید کسی اور روایت میں بھی جو مجھے اس وقت یاد نہیں۔

﴿987﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میر عنایت علی شاہ صاحب لدھیانوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ خاکسار پہلی مرتبہ میر عباس علی صاحب کے ہمراہ قادیان آیا تھا۔ میر صاحب نے آتے ہی گول کمرہ میں بیٹھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بذریعہ حافظ حامد علی صاحب اپنے آنے کی اطلاع دی کہ میر صاحب لدھیانہ سے آئے ہیں ۔ ہم اطلاع دیتے ہی بڑی مسجد میں نماز عصر پڑھنے کے لئے چلے گئے۔ اس وقت اس مسجد میں کوئی نمازی نہ تھا۔ جب ہم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے اور واپس گول کمرہ میں آئے تو حافظ صاحب نے کہا کہ میر صاحب! آپ کو حضرت صاحب اوپر بلاتے ہیں۔ اس پر میر صاحب پاؤں برہنہ ہی گئے۔ حضور علیہ السلام نے مجھے دیکھ کر میر صاحب سے پوچھا۔ یہی میر عنایت علی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا ”جی ہاں“ غرض اس طرح پہلی مرتبہ میری حضور سے ملاقات ہوئی۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس وقت میر عنایت علی صاحب فوت ہو چکے ہیں۔ بہت سادہ مزاج بزرگ تھے۔ اور میر عباس علی صاحب ان کے چچا تھے یہ میر عباس علی وہی ہیں جو بعد میں مرتد ہو گئے تھے۔

﴿988﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محمد خان صاحب ساکن گل منج تحصیل و ضلع گورداسپور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑے جوش سے تقریر فرمائی۔ اُس تقریر میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ اللہ کے نام پر اپنے لڑکے دیں گے وہ بہت ہی خوش نصیب ہوں گے۔ اُس زمانہ میں احمد یہ سکول کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ میں نے بھی اس وقت خدا سے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تو ہمیں بھی لڑکے عطا فرما تاکہ ہم حضرت صاحب کی حکم کی تعمیل میں اُن کو احمد یہ سکول میں داخل کراویں۔ خدا تعالیٰ نے دعا کو سنا۔ اور پانچ بچے دیئے جن میں سے تین فوت ہو گئے اور دو چھوٹے بچے رہ گئے۔ پھر میں نے بموجب ارشاد حضرت صاحب بڑے لڑکے کو احمد یہ سکول میں اور چھوٹے کو ہائی سکول میں داخل کرا دیا۔ اور اپنی وصیت کی بہشتی مقبرہ کی سند بھی حاصل کر لی۔

﴿989﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فیاض علی صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا ہے کہ جب ہنری مارٹن کلارک پادری نے ایک بڑے منصوبے کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام پر قتل کا مقدمہ دائر کیا تو شفاعت احمد نے جن کا میں ایک روایت میں ذکر کر آیا ہوں۔ مجھ سے کہا کہ مسجد تو ہمارے حاکم کے فوت ہو جانے کی وجہ سے ہمارے ہاتھ سے نکل گئی۔ مگر اس مقدمہ قتل سے اگر مرزا صاحب بچ گئے تو میں ضرور احمدی ہو جاؤں گا۔ میں نے اس کو جواب دیا کہ مسیح موعود نے فرما دیا ہے کہ مغرب کی طرف سے ایک آگ کا شعلہ آیا اور ہمارے مکان کے دروازہ پر آ کر گرا ہے۔ مگر وہ گرتے ہی ایک خوشنما پھول بن گیا ہے۔ پس انجام اس مقدمہ کا یہی ہو گا جو میں لکھ رہا ہوں۔ آخر وہ مقدمہ حضرت صاحب کے حق میں فیصلہ ہوا اور پادریوں کو شرمندگی اُٹھانا پڑی۔ خاکسار اس فیصلہ کے موقعہ پر عدالت میں حاضر تھا۔ میں نے شفاعت احمد کو یاد دلایا کہ پیش گوئی تو پوری ہو گئی۔ اب تم اپنے احمدی ہونے کا وعدہ پورا کرو۔ شفاعت احمد نے صاف انکار کر دیا کہ میں نے تو کوئی وعدہ نہ کیا تھا بلکہ غصہ میں آ کر کہنے لگا کہ اگر میں جھوٹ بولتا ہوں تو مجھ پر عذاب آئے اور میرا فرزند مر جائے۔ میری بیوی مر جائے۔ میں نے اُس سے کہا

کہ شفاعت احمد ! اب تُو نے مسیح موعود علیہ السلام سے یکطرفہ مباہلہ کر لیا ہے۔ اب تُو اس کے نتیجہ کا انتظار کر اور میں بھی کرتا ہوں۔ اس کے بعد شفاعت احمد ایک سال کے عرصہ میں اس قدر بیمار ہوا کہ جان کے لالے پڑ گئے۔ حتیٰ کہ اس نے گھبرا کر احمدی جماعت سے دعا کی درخواست کی ۔ اس پر وہ مرنے سے تو بچ گیا مگر کانوں کی شنوائی جاتی رہی اور اس وقت وہ امرتسر میں ہے اس کا ایک اکلوتا بیٹا تھا وہ بھی مر گیا۔

﴿990﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فیاض علی صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مسجد کپور تھلہ کے مقدمہ میں ایک شخص ناظر عبدالواحد بھی مدعا علیہ تھا۔ اس کے دو بیٹے تھے۔ ایک سب انسپکٹر تھا اور دوسرا ایف اے پاس تھا۔ دونوں ہی فوت ہو گئے ۔ اس کی بیوی کو بیٹوں کی موت کا بہت صدمہ ہوا اور وہ اپنے خاوند کو سمجھاتی رہی کہ دیکھ ۔ تُو نے اپنے دو فرزند مسیح موعودؑ کی مخالفت میں زمین میں سُلا دیئے۔ اور اب تو اور کیا کرنا چاہتا ہے؟ غرض کہ مسجد احمد یہ کپور تھلہ کے مقدمہ میں جو بھی مدعا علیہ تھے۔ اُن سب کا برا انجام ہوا اور مسجد ہمارے قبضہ میں آئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی واضح طور پر پوری ہوئی۔

﴿991﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فیاض علی صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا ہے کہ ہوشیار پور میں ایک شخص شیخ مہر علی رئیس تھے۔ حضرت اقدس اس شخص کے گھر ٹھہرا کرتے تھے۔ اور اس کو بھی حضور سے عقیدت تھی ۔ ایک مرتبہ حضرت اقدس نے خواب میں دیکھا کہ شیخ مہر علی کے بستر کو آگ لگ گئی ہے۔ حضور نے اس رؤیاء کے متعلق اس کو خط لکھا اور اس میں ہدایت کی کہ آپ ہوشیار پور کی رہائش چھوڑ دیں ۔ وہ خط اس کے بیٹے کو مل گیا اور اس نے تکیہ کے نیچے رکھ دیا کہ جب بیدار ہوں گے پڑھ لیں گے مگر چونکہ خدائی امر تھا اور بستر کو آگ لگ چکی تھی وہ خط شیخ مہر علی صاحب کو نہ پہنچا اور ان کے بیٹے کو بھی اس کا ذکر کرنا یاد نہ رہا۔ تھوڑے عرصہ بعد محرم آگیا اور ہوشیار پور میں ہندو مسلم فساد ہو گیا۔ شیخ مہر علی صاحب اس کے سرغنہ قرار پائے اور ان کے خلاف عدالت میں بغاوت کا مقدمہ قائم ہو گیا۔ عدالت سے ضبطی جائیداد اور پھانسی کا حکم ہوا۔ اس حکم کے خلاف لاہور میں اپیل ہوا۔ شیخ صاحب نے دعا کے واسطے حضرت صاحب سے استدعا کی ۔ حضور نے دعا فرمائی اور کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ فضل کرے گا۔ چنانچہ ہائی کورٹ میں اپیل منظور ہو گیا اور شیخ مہر علی بھی با عزت طور پر بری کئے گئے۔ خواجہ کمال الدین صاحب کا اُن دنوں جالندھر میں لیکچر تھا۔

جماعت کپور تھلہ اور ڈاکٹر صادق بھی لیکچر سننے گئے ۔ اور ڈاکٹر صاحب نے ہم سے کہا کہ شیخ مہر علی کے عزیز و اقارب یہ کہتے ہیں کہ یہ جو مشہور کیا جاتا ہے کہ شیخ صاحب مسیح موعود کی قبولیت دعا سے بری ہوئے ہیں ، یہ غلط ہے ۔ بہت سے لوگوں نے اُن کی بریت کے لئے دعا کی تھی ۔ مرزا صاحب کی دعا میں کیا خصوصیت ہے ۔ خدا جانے کس کی دعا قبول ہوئی ۔ یہ واقعہ حضرت صاحب کو جماعت کپور تھلہ نے لکھ بھیجا۔ اس تحریر پر حضرت صاحب نے ایک اشتہار اس مضمون کا شائع کیا کہ میرا دعویٰ ہے کہ محض میری دعا سے شیخ مہر علی بری ہوئے ہیں ۔ یا تو شیخ صاحب اس کو منظور کر کے اخبار میں شائع کرا دیں ورنہ ان کے خلاف آسمان پر مقدمہ دوبارہ دائر ہو جائے گا اور اس مقدمہ میں قید کی سزا ضرور ہو گی ۔ ایک اشتہار رجسٹری کرا کر کے شیخ مہر علی کے پاس بھیجا گیا ۔ وہ بہت خوف زدہ ہو گیا ۔ اور قبولیت دعا مسیح موعود علیہ السلام کا اقراری ہوا اور اخبار میں شائع بھی کرا دیا ۔ اور یہ بھی لکھا کہ جیل خانہ سے واپس آ کر مجھ کو حضور کا خط ملا جس میں مجھ کو ہوشیار پور چھوڑنے کے واسطے ہدایت ہوئی تھی ۔ اگر اس وقت مجھ کو خط مل جاتا تو میں ضرور ہوشیار پور چھوڑ جاتا ۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس واقعہ کا ذکر روایت نمبر ۳۴۶ میں بھی آ چکا ہے۔

﴿992﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۔ میاں فیاض علی صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ قصبہ سراوہ ضلع میرٹھ میں ، جہاں کا میں رہنے والا ہوں ۔ ایک شخص مولوی حمید اللہ اہل حدیث رہتا تھا ۔ اُن سے میرا مباحثہ ہوتا رہتا تھا ۔ وہ بہت سی باتوں میں عاجز آ جاتے تھے ۔ آخر ایک دفعہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں مرزا صاحب کے پاس چلوں گا ۔ اس کے بعد میں اپنی نوکری پر کپور تھلہ چلا آیا ۔ میں یہ سمجھا کہ مولوی صاحب اب بیعت کر لیں گے ۔ کیونکہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں قادیان جا رہا ہوں ۔ راستہ میں ایک دریا موجزن ہے ۔ مگر اس کے اوپر میں بے تکلف بھاگا جا رہا ہوں ۔ میرے ساتھ ایک اور شخص ہے مگر وہ گلے تک پانی میں غرق ہے ۔ مگر ہاتھ پیر مارتا ہوا وہ بھی دریا سے پار ہو گیا ۔ میں نے سمجھا کہ یہ حمید اللہ مولوی ہے ۔ تھوڑے عرصہ کے بعد مولوی صاحب کا قادیان جانے کے لئے ایک خط کپور تھلہ میں میرے پاس آیا ۔ میں بہت خوش ہوا ۔ مولوی صاحب کا اصل خط اور ایک عریضہ اپنی طرف سے حضرت اقدس کی خدمت میں بھیج دیا اور عرض کی کہ غالباً یہ مولوی حضور کی بیعت کرنے کے واسطے آ رہا ہے ۔ حضور نے جواب میں خط لکھا کہ اس کے خط میں سے تو نفاق کی بو آتی ہے۔ یہ وہ شخص نہیں ہے جس کو تم نے خواب میں دیکھا ہے۔ وہ کوئی اور شخص ہوگا جو تمہاری تبلیغ سے سلسلہ بیعت میں داخل ہوگا۔ چنانچہ مولوی حمید اللہ سراوہ سے چل کر کپور تھلہ پہنچے اور قادیان چلنے کا ارادہ کیا۔ مولوی غلام محمد اہل حدیث جس کو حضور نے اپنی بیعت میں قبول نہ فرمایا تھا۔ انہوں نے مولوی حمید اللہ سے کہا کہ اگر تم قادیان گئے تو تم اپنے عقیدہ پر قائم نہ رہو گے۔ اس کے کہنے پر مولوی حمید اللہ رک گئے اور سراوہ واپس چلے گئے۔ مولوی غلام محمد نے ہماری بہت مخالفت کی۔ جماعت کو ہر ممکن تکلیف دی گئی۔ فتویٰ کفر پر دستخط کئے گئے۔ مخالفت میں حکیم جعفر علی اور مولوی حمید اللہ نے رسالہ شائع کر کے خوب جوش دکھلایا۔ اور مولوی صاحب بیعت سے محروم رہے اور حسب پیشگوئی مسیح موعود میری تبلیغ کے ذریعہ مولوی دین محمد صاحب بیعت میں داخل ہوئے اور وہ خدا کے فضل سے جوشیلے احمدی ہیں۔

﴿993﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حافظ نور محمد صاحب ساکن فیض اللہ چک نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ سیر کو جاتے ہوئے بسراواں کے راستہ میں شعر و شاعری کا تذکرہ شروع ہوا تو میں نے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں عرض کی کہ قرآن مجید میں جو وارد ہے کہ وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الۡغَاوٗنَ اَلَمۡ تَرَ اَنَّہُمۡ فِیۡ کُلِّ وَادٍ یَّہِیۡمُوۡنَ وَاَنَّہُمۡ یَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا یَفۡعَلُوۡنَ(الشعراء: ۲۲۵) اس سے شعر گوئی کی برائی ثابت ہوتی ہے۔ حضور نے فرمایا! کہ آپ ذرا اس کے آگے بھی تو پڑھیں۔ تو مولوی غلام محمد صاحب نے اگلی آیت فوراً پڑھ دی کہ اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیۡرًا(الشعراء: ۲۲۸) اس پر میرا مطلب حل ہو گیا۔

﴿994﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حافظ نور محمد صاحب ساکن فیض اللہ چک نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ہمارے گاؤں میں ایک کشمیری مولوی جو حافظ قرآن بھی تھے تشریف لائے اور کئی روز تک وہ اپنے وعظ میں غیر مقلدین یعنی اہل حدیث کے خلاف تقریریں کرتے رہے۔ ہم بھی غیر مقلد تھے۔ مولوی صاحب اعلانیہ کہا کرتے کہ اپنے فوت شدہ بزرگوں سے مدد طلب کرنا جائز ہے اور جس قدر نمازیں تم نے غیر مقلدوں کے پیچھے پڑھی ہیں۔ سب کی سب دوبارہ پڑھنی چاہئیں اور ثبوت میں قرآنی آیات یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ(المائدة: ۳۶) پیش کرتے تھے۔ میں نے اُن مولوی صاحب سے پوچھا کہ اس وسیلہ سے آپ کون سا وسیلہ مراد لیتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ نیک عملوں اور فوت شدہ بزرگوں کا وسیلہ۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کو مشرکانہ تعلیم نہ دیں۔ اس بات پر اس نے میرے ساتھ سخت کلامی کی اور گاؤں کے لوگوں کو برانگیختہ کیا۔ جس پر گاؤں کے لوگ ہم سے الگ نماز پڑھنے لگے۔ صرف میں اور میرے والد ہی اکٹھی نماز پڑھتے تھے۔ میرے والد صاحب نے قادیان جا کر حضرت صاحب سے کہا کہ جناب میں نے تو اپنا لڑکا مسلمان بنانے کے لئے آپ کی خدمت میں چھوڑا تھا لیکن اب تو لوگ اس کو کافر کہتے ہیں۔ آپ نے اس وقت ایک سرخ کاغذ پر فتویٰ لکھوا کر میرے والد صاحب کو دیا کہ جو لوگ آمین بالجہْر، الحمد للّٰہ، رفعِ یدین اور فاتحہ خلف الامام کے پڑھنے پر کسی کو کافر کہے وہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک خود کافر ہے۔ مگر چند روز کے بعد عام لوگ خود بخود ہی میرے پیچھے نماز پڑھنے لگ گئے۔ اس کے بعد جب میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ میاں نور محمد! تم کو لوگ وہابی کہتے ہیں۔ تم جواب دیا کرو کہ میں حضرت پیرانِ پیر کا مرید ہوں اور ان کی کتاب غنیۃ الطالبین پڑھ کر اُن کو سنایا کرو اور حضرت صاحب ہمیشہ جناب پیرانِ پیرؒ اور امام غزالیؒ کی تعریف فرمایا کرتے تھے۔

﴿995﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حافظ نور محمد صاحب ساکن فیض اللہ چک نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ خواب میں میری زبان پر لفظ ’مُحَدَّ دْ‘ جاری ہوا۔ مگر اس وقت مجھے اس لفظ کی کوئی تشریح معلوم نہ ہوئی۔ اور ایک لغت کی کتاب دیکھنے سے معلوم ہوا کہ اس کے معنے یہ ہیں کہ ’نیا کام کرنے والا‘۔ اس خواب کے چند روز بعد ایک بڑا لمبا چوڑا اشتہار دیکھا جو کہ میر عباس علی صاحب لدھیانوی کی طرف سے شائع ہوا تھا کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب چودھویں صدی کے مجدد ہیں۔ اور جن ایام میں مسجد مبارک تیار ہوتی تھی تو حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے اس مسجد میں ایک مولوی رکھنا ہے جو عورتوں میں وعظ کیا کرے گا۔ لیکن اب اللہ کے فضل و کرم سے بجائے ایک کے سینکڑوں مولوی مسجد مبارک میں موجود رہتے ہیں۔ اُس زبان مبارک سے نکلی ہوئی باتیں اب ہم پوری ہوتی دیکھ رہے ہیں۔

﴿996﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ بعض دفعہ احباب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ مسئلہ پوچھتے تھے کہ جب آدمی ایک دفعہ بیعت کر لے تو کیا یہ جائز ہے کہ اگر پھر کبھی بیعت ہو رہی ہو تو وہ اس میں بھی شریک ہو جائے۔ حضورؐ فرماتے تھے کہ کیا حرج ہے؟ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اکثر دوست دوبارہ سہ بارہ بلکہ کئی بار بیعت میں شریک ہوتے رہتے اور بیعت چونکہ توبہ اور اعمالِ صالحہ کے عہد کا نام ہے اس لئے بہر حال اس کی تکرار میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔

﴿997﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یوں تو ہر امر میں قرآن مجید کی طرف رجوع کرتے تھے مگر بعض بعض آیات آپ خصوصیت کے ساتھ زیادہ پڑھا کرتے تھے۔ علاوہ وفات مسیح کی آیات کے حسب ذیل آیات آپ کے منہ سے زیادہ سنی ہیں۔ سورۃ فاتحہ۔ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰٮہَا(الشمس: ۱۰) اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ(الحجر: ۱۴) وَرَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ(الاعراف: ۱۵۷) ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَدِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ(التوبة: ۳۳) کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعۡمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعۡمٰی(الاسراء: ۷۳) اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ(النساء: ۵۹) یٰۤاَیَّتُہَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّۃُ ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرۡضِیَّۃً فَادۡخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ وَادۡخُلِیۡ جَنَّتِیۡ(الفجر: ۲۹) وَاَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ(الضحیٰ: ۱۲) قُلۡ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا(الزمر: ۵۴) وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَرَحۡمَۃٌ(البقرة: ۱۵۶)

مَا یَفۡعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمۡ اِنۡ شَکَرۡتُمۡ وَاٰمَنۡتُمۡ(النساء: ۱۴۸)

فَقُوۡلَا لَہٗ قَوۡلًا لَّیِّنًا(طه: ۴۵)

اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنٌ(الحجر: ۴۳)

وَاللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ(المائدة: ۶۸)

وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ(الجمعة: ۴)

لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا(البقرة: ۲۸۷)

تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ(البقرة: ۱۹۶)

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ(العنكبوت: ۳)

یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی(النجم: ۴)

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوۡسَیۡنِ اَوۡ اَدۡنٰی(النجم: ۹)

تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ(الاسراء: ۳۷)

قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ(ال عمران: ۳۲)

لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ(البقرة: ۲۵۷)

قُلۡ مَا یَعۡبَؤُا بِکُمۡ رَبِّیۡ لَوۡلَا دُعَآؤُکُمۡ(الفرقان: ۷۸)

خاکسار عرض کرتا ہے کہ کیا خوب انتخاب ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی انگوٹھیوں کی تقسیم بذریعہ قرعہ اندازی

خاکسار مرزا بشیر احمد عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے پیچھے تین انگوٹھیاں چھوڑی تھیں جن کی حضور کی وفات کے بعد بذریعہ قرعہ اندازی تقسیم کی گئی۔ قرعہ کی پرچیوں کا چربہ اوپر درج ہے۔ ان پرچیوں میں الہام کی عبارت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے اور ہم تین بھائیوں کے نام حضرت اماں جان کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں۔ میں نے مناسب سمجھا کہ ہر دو تحریروں کا چربہ محفوظ ہو جائے۔

﴿998﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔مولوی رحمت اللہ صاحب باغبانوالہ بنگہ ضلع جالندھر نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ خاکسار چند دن ہوئے لدھیانہ گیا تھا۔ وہاں میاں رکن الدین صاحب احمدی سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مندرجہ ذیل ایک حلفیہ تحریری بیان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق دیا۔ بیان حلفیہ میاں رکن الدین احمدی ولد حسن الدین قوم ارائیں سکنہ لدھیانہ چھاؤنی ”میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ جس وقت حضرت مرزا صاحب (مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام) لدھیانہ تشریف لائے تھے اُس وقت میری عمر قریباً پندرہ سال کی تھی۔ اور اس وقت قریباً ۷۳/۷۴ سال کی عمر ہے۔ میں اس وقت تانگہ میں، تانگہ ڈرائیور تھا۔ تانگہ میرا اپنا تھا۔ ایک روز منشی احمد جان صاحب نے ایک آدمی کو میاں کرم الٰہی صاحب مرحوم، پیر بخش صاحب، جناب قاضی خواجہ علی صاحب، جناب شہزادہ عبدالمجید صاحب کے پاس بھیجا کہ فلاں گاڑی پر جناب حضرت مرزا صاحب تشریف لا رہے ہیں آپ لوگ بھی اسٹیشن پر پہنچیں۔ تو وہ فوراً اکٹھے ہو کر چل پڑے اور میں بھی اُن کے ساتھ چل پڑا۔ جب اسٹیشن کے قریب سو دو سو کرم کے فاصلہ پر پہنچے تو حضرت صاحب بمعہ چند ایک احباب کے پیدل آ رہے تھے۔ اور ایک آدمی قلی کو بستر وغیرہ اٹھوائے آ رہا تھا۔ جناب کو سیدھے فیل گنج کو لے گئے۔ وہ مکان چونکہ اچھا نہ تھا اس لئے حضور کو شہزادہ عبدالمجید صاحب اپنے مکان پر لے گئے۔ میں روزانہ ایک پھیرا تانگہ کا لگا کر اُن کی خدمت میں حاضر ہوتا اور سودا سلف بازار سے مجھ سے منگواتے۔ پھر مجھے فرمایا کہ ”روٹی یہاں ہی کھایا کرو“ تو میں وہاں ہی حضور کے حکم سے کھانے لگ پڑا۔ مجھے ایک روز فرمایا کہ ”لڑکے نماز پڑھا کرو اور ہمارے پاس ہی پڑھا کرو“ میں نے کہا کہ مجھے سوائے بسم اللہ کے اور کچھ نہیں آتا۔ فرمایا۔ ”وضو کر کے ہمارے ساتھ کھڑے ہو جایا کرو“۔ میں اسی طرح کرنے لگا اور مجھے نماز آ گئی۔ الحمد للّٰہ۔ غرض میں حتی المقدور خدمت کرتا رہا۔ ملاں کرم الٰہی مرحوم میرا حقیقی بھائی مجھ سے بڑا تھا۔ وہ پولیس میں لائن آفیسر تھے۔ ایک روز فارغ ہو کر میرے ساتھ ہی حضرت صاحب کی خدمت میں پہنچے۔ تو آپ نے ملاں کرم الٰہی کو فرمایا کہ ”آپ لوگوں کے طعن وغیرہ سے نہ ڈریں۔ خدا سے ڈریں۔ اس سے دنیا اور آخرت بہتر ہو گی“ (غالباً مفہوم یہی تھا) منشی احمد جان صاحب نے فرمایا کہ آپ بیعت میرے مکان پر لیں جو دارالبیعت کے نام سے مشہور ہے تو پہلے روز قریباً شام کے قریب سات آدمی بیعت کے لئے تیار ہوئے جن میں سے پانچ نے بیعت کر لی۱؎۔ ان میں ایک میاں کریم بخش صاحب بھی تھے۔ باقی دو نے کہا کہ ہم کل کریں گے بس پھر سلسلہ بیعت ہر روز جاری رہا۔ میں ہر روز عرض کرتا کہ حضور میری بیعت لیں ۔ فرماتے تمہاری بیعت تو ہوگئی۔ جب تم روزانہ ہماری خدمت کرتے ہو۔ بس پھر میں حاضر خدمت رہتا۔ بیعت کے لئے کہتا تو فرماتے کہ تمہاری بیعت ہوگئی ہے۔ پھر حضور قریباً مہینہ بھر کے بعد تشریف لے گئے۔ میں نے قریباً دو سال بعد قادیان پہنچ کر عرض کیا کہ حضور آپ اور لوگوں کی بیعت لیتے ہیں ، میری بیعت نہیں لیتے ۔ فرمایا! میاں تمہاری بیعت ہو چکی ہے ۔ اچھا جمعہ کے بعد پھر کر لینا۔ میری عمر قریباً ۱۸ سال کی شروع ہوگئی تھی۔ تب دستی بیعت کی ۔ میرے جیسے جاہل اوجدّ پر یہ فضل الہی تھا۔ الحمد للّٰہ۔ یہ بیان میں نے میاں رحمت اللہ باغبانوالہ احمدی بنگہ کے پاس اپنی یادداشت کے طور پر لکھایا ہے۔ ذکر لمبا ہے مختصر لکھ دیا ہے۔

میاں رحمت اللہ مذکور ہمارے رشتہ دار ہیں۔ میرے بھائی ملاں کرم الہی کی نواسی کی شادی ان کے عزیز بیٹے ہدایت اللہ احمدی سے ہوئی ہے۔

العبد نشان انگوٹھا میاں رکن الدین ۳۸-۹-۲۴ ارائیں لدھیانہ چھاؤنی محلہ الراقم خاکسار طالب دعا رحمت اللہ باغبانوالہ احمدی بنگہ حال لدھیانہ بقلم خود ۳۸-۹-۲۴

خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس روایت میں یہ ذکر ہے کہ ”پہلے روز قریباً شام کے قریب سات آدمی بیعت کے لئے تیار ہوئے جن میں سے پانچ نے بیعت کر لی۔ اُن میں سے ایک میاں کریم بخش صاحب تھے،، میں نے میاں کریم بخش صاحب مذکور کے متعلق تحقیقات کی ہے اس کے متعلق میر عنایت علی صاحب لدھیانوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ کوئی کریم بخش نامی ایسا نہیں جس نے ابتدائی دس بیعت کنندگان میں بیعت کی ہو۔ سوائے سائیں گلاب شاہ مجذوب والے کریم بخش کے۔ وہ فوت ہو چکے ہیں، ان کا ذکر ازالہ اوہام میں بھی ہے۔ یہی ذکر میاں رکن الدین ساکن چھاؤنی لدھیانہ نے میاں رحمت اللہ صاحب باغبانوالہ کے پاس بیان کیا ہے۔ لیکن میاں رحمت اللہ صاحب باغبانوالے نے سمجھا نہیں اور کوئی اور کریم بخش سمجھتے ہوئے انہوں نے آپ کو لکھ دیا ہے۔ جو میاں رحمت اللہ صاحب کی غلط فہمی ہے۔

﴿999﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فیاض علی صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میرا افسر سکھ مذہب کا تھا۔ مسلمانوں سے بہت تعصب رکھتا تھا اور مجھ کو بھی تکلیف دیتا تھا آخر اس نے رپورٹ کر دی کہ فیاض علی کو موقوف کر دیا جائے۔ میں اس کے کام کا ذمہ دار نہیں ہوں۔ میں نے دعا کے واسطے مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عریضہ بھیجا اور اس کی سختی کا ذکر کیا۔ حضور نے جواب تحریر فرمایا کہ ”انسان سے خوف کرنا خدا کے ساتھ شرک ہے اور نماز فرضوں کے بعد ۳۳ مرتبہ لاحول ولاقوۃ پڑھا کریں اور اگر زیادہ پڑھ لیں تو اور بھی اچھا ہے“۔ خط کے آتے ہی میرے دل سے خوف قطعی طور پر جاتا رہا۔ ایک ہفتہ کے اندر خواب کا سلسلہ شروع ہو گیا کہ افسر علیحدہ کیا جائے گا۔ اور میں اپنی جگہ پر بدستور رہوں گا۔ میں رخصت لے کر علیحدہ ہو گیا۔ اور راجہ صاحب کے حکم کا منتظر رہا۔ قبل از حکم ایک احمدی بھائی نے خواب میں دیکھا کہ راجہ صاحب کے سامنے تمہارے افسر کی رپورٹ پیش ہوئی ہے۔ اس پر راجہ صاحب نے حکم لکھایا ہے کہ افسر کو کہہ دو کہ فیاض علی کو حکماً رکھنا ہوگا۔ اس دوران میں مجھے بھی ایک خواب آئی کہ میں ایک برآمدہ میں ہوں اور مجھ سے کچھ فاصلہ پر ایک اور شخص ہے۔ ایک سیاہ سانپ اس کے بدن سے لپٹ رہا ہے اور اس سے کھیل رہا ہے۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ اس سانپ میں زہر ہی نہیں۔ جب اُس سانپ کی نظر مجھ پر پڑی تو وہ اُس کو چھوڑ کر میری طرف دوڑا اور اس نے بہت کوشش کی کہ میرے پاؤں کو کاٹے۔ قدرت خدا سے میں ہوا میں معلق ہو گیا اور جھولے میں جھولنے لگا۔ وہ سانپ برآمدے سے باہر چلا گیا اور میں اُسی جگہ آگیا۔ مالک سانپ آیا اور اس نے دریافت کیا کہ سانپ کہاں گیا وہ تو بہت زہریلا تھا۔ میں نے جواب دیا کہ وہ باہر چلا گیا ہے۔

اسی طرح ایک اور خواب مجھے آیا کہ ایک نیم مردہ سانپ سردی کی وجہ سے راستہ میں سویا پڑا ہے اور آسمان سے چیل اور کوے اس پر جھپٹا مار رہے ہیں۔ ایک چیل آئی تو اس کو اٹھا کر لے گئی۔ اب مجھ کو کامل یقین ہو گیا کہ انشاء اللہ افسر نہیں رہے گا اور یہی وہ سانپ ہے جس کی پہلے وہ حالت تھی کہ دیکھنے سے خوف معلوم ہوتا تھا اور اب اس نوبت کو پہنچ گیا ہے۔ بالاخر افسر کی درخواست راجہ صاحب کے سامنے پیش ہوئی۔ راجہ صاحب نے وہی حکم لکھایا جو ایک احمدی بھائی نے خواب میں دیکھا تھا کہ افسر کو لکھ دو کہ فیاض علی کو حکماً رکھنا ہو گا۔ مجھ کو حکماً بلایا گیا اور حاکم کے سپرد کیا گیا۔ حضرت مسیح موعودؑ کی دعا کا یہ اثر دیکھنے کے قابل ہے کہ وہ افسر راجہ صاحب کا ہم نشین تھا۔ اور راجہ صاحب کو یہ بھی علم نہ تھا کہ فیاض علی ہمارا ملازم ہے یا کہ نہیں۔ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد افسر اپنے عہدہ سے علیحدہ کر دیا گیا اور میں اسی جگہ قائم رہا۔

﴿1000﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اولؓ میں یہ ایک خاص بات تھی کہ معترض اور مخالف کو ایک یا دو جملوں میں بالکل ساکت کر دیتے تھے اور اکثر اوقات الزامی جواب دیتے تھے۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ طریق تھا کہ جب کوئی اعتراض کرتا تو آپ ہمیشہ تفصیلی اور تحقیقی جواب دیا کرتے تھے اور کئی کئی پہلوؤں سے اس مسئلہ کو صاف کیا کرتے تھے۔ یہ مطلب نہ ہوتا تھا کہ معترض ساکت ہو جائے بلکہ یہ کہ کسی طرح حق اس کے ذہن نشین ہو جائے۔

﴿1001﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مولوی ذوالفقار علی خاں صاحب رام پوری حال قادیان نے مجھ سے بیان کیا کہ ۱۸۸۴ء میں جب کہ میں سکول میں پڑھتا تھا۔ ایک رات کو تاروں کے ٹوٹنے کا غیر معمولی نظارہ دیکھنے میں آیا، رات کے ایک لمبے حصہ میں تارے ٹوٹتے رہے اور اس کثرت سے ٹوٹے کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ تیروں کی بارش ہو رہی ہے۔ ایک حصہ تاروں کا ٹوٹ کر ایک طرف جاتا اور دوسرا دوسری طرف۔ اور ایسا نظر آتا کہ گویا فضا میں تاروں کی ایک جنگ جاری ہے۔ یہ سلسلہ ۱۰؍بجے شب سے لے کر ۴؍بجے شب تک جاری رہا۔ میں نے اس واقعہ کا ذکر ایک مجلس میں غالباً ۱۹۱۰ء میں کیا تھا تو ایک بہت شریف اور عابد و زاہد معمر انسان نے کہا کہ مجھے بھی وہ رات یاد ہے۔ میرے پیر و مرشد حضرت قبلہ علامہ مولوی ارشاد حسین صاحب نور اللہ مرقدہٗ نے یہ عالم دیکھ کر فرمایا تھا کہ ظہور حضرت امام مہدی علیہ السلام ہو گیا ہے۔ یہ اسی کی علامت ہے۔ مولوی ارشاد حسین صاحب زبردست علماء میں سے تھے۔ انصار الحق وغیرہ آپ کی مشہور تصانیف ہے اور یہ مولوی احمد رضا خاں بریلوی کے پیر تھے۔ لیکن جب میں نے بعد میں اُن مولوی صاحب کے ایک دوست سے جس نے یہ روایت بیان کی تھی یہ کہا کہ شہادت لکھ دو تو اُس نے لکھنے سے انکار کر دیا۔ مگر زبانی مانتا تھا کہ اُن مولوی صاحب نے ایسا کہا تھا۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ ستاروں کا گرنا بہت سے نبیوں کے لئے بطور علامت واقع ہو چکا ہے اور حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ یہ جو حضور کی بعثت کے وقت غیر معمولی طور پر ستارے گرتے نظر آئے۔ یہ حضور کے لئے بطور علامت تھا اور اس سے مراد یہ تھی کہ اب گویا کو اکب یعنی علماء کے گرنے کا وقت آ گیا ہے جس کے بعد سورج کا طلوع ہوگا۔

﴿1002﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مولوی محمد اسماعیل صاحب فاضل پروفیسر جامعہ احمدیہ قادیان نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میں قریباً آٹھ دس سال کی عمر کا تھا۔ (اس وقت میری عمر پچپن سال کی ہے) ایک دفعہ میرے حقیقی چچا مرحوم حافظ حکیم خدابخش صاحب احمدی جو اوائل سے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مصدّق تھے اور بیعت میں صرف اس خیال سے دیر کرتے چلے گئے کہ میں بہت ہی گنہگار اور آلودہ دامن ہوں۔ میرا وجود سلسلہ حقہ کے لئے ایک بدنما داغ ہوگا اور اس کی بدنامی کا باعث ہوگا اور آخر حضور کی رحلت کے بعد اوائل ۱۹۰۹ء میں انہوں نے تحریری طور پر حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کے ہاتھ پر بیعت کی۔ کسی لمبے سفر سے واپس آئے۔ جب مجھے معلوم ہوا تو میں اُن سے ملنے کے لئے ان کے پاس گیا۔ انہوں نے مجھے ایک کتاب دی۔ جسے لے کر میں بہت خوش ہوا۔ اس کتاب کے مجھے دینے سے اُن کا مقصد یہ تھا کہ میرے والد صاحب اسے دیکھ لیں۔ دوسرے روز میں شوق سے وہ کتاب ہاتھ میں لئے مسجد کی طرف قرآن کریم کا سبق پڑھنے کے لئے جا رہا تھا۔ اتفاق سے میرے والد صاحب راستہ میں ہی ایک چھوٹی سی مجلس میں بیٹھے تھے۔ میرے ہاتھ میں وہ کتاب دیکھ کر انہوں نے لے لی اور دیکھنے لگے۔ کسی نے پوچھا کہ یہ کیا کتاب ہے۔ میرے والد صاحب نے کہا کہ یہ ایک بزرگ ولی اللہ کی کتاب ہے۔ جن کی دعائیں بہت قبول ہوتی ہیں اور ساتھ ہی بیان کیا کہ میں ایک دفعہ فساد خون کے عارضہ سے دیر تک بیمار رہا تھا۔ ان ایام میں مجھے ان بزرگ ولی اللہ کے متعلق اطلاع ملی اور یہ بھی کہ ان کی دعائیں بہت قبول ہوتی ہیں۔ میں اس وقت بغرض علاج لاہور (یا امرتسر اس وقت خاکسار کو صحیح یاد نہیں رہا کہ کس شہر کا نام لیا تھا) گیا ہوا تھا۔ وہاں یہ بات مجھے معلوم ہوئی تھی۔ جس پر میں نے ان کی خدمت میں (حاضر ہو کر نہیں بلکہ تحریراً یا کسی صاحب کی زبانی جس کی تفصیل اب خاکسار کو یاد نہیں رہی) اپنی صحت یابی کے لئے دعا کے واسطے عرض کیا تھا۔ سو اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت بخشی۔ یہ واقعہ بچپن میں میں نے غالباً متعدد دفعہ اپنے والد صاحب (مولوی محمد بخش صاحب) سے سنا تھا۔ اس کے بعد وہ کتاب میرے والد صاحب نے مجھے واپس دے دی اور وہ مدت تک میری پاس رہی۔ جب میں بڑا ہوا تو اس کے نام وغیرہ کی شناخت ہوئی۔ یہ کتاب سرمہ چشم آریہ تھی جو ۱۸۸۶ء کی تصنیف ہے۔

﴿1003﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں حیات محمد صاحب پنشنر ہیڈ کانسٹیبل پولیس نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کرم دین کے مقدمہ میں جہلم تشریف لائے تو سردار ہری سنگھ کی درخواست پر آپ اُن کی کوٹھی میں مقیم ہوئے۔ کھانا وغیرہ کا انتظام جماعت کے ذمہ تھا۔ کوٹھی نہایت خوبصورت اور سجائی گئی تھی۔ باورچی نے کارکنوں سے حضور کے لئے ایک چوزہ مرغ طلب کیا تو وہ لوگ حیران ہوئے کہ اب کہاں سے ملے گا۔ مجھے علم تھا کہ حضور کچھ عرصہ سے چوزہ مرغ بطور دوائی استعمال فرماتے ہیں اس لئے میں نے چار چوزے اپنے پاس اسی غرض سے رکھے ہوئے تھے۔ میں فوراً گیا اور چاروں لے آیا اور وہ چوزے تین دن تک کام آ گئے۔ چونکہ میں نے تین دن کی رخصت لی ہوئی تھی اس لئے میں دن رات حضور کے پاس رہتا اور حضور کے جسم مبارک کو دباتا تھا۔ میں ۹۴ء سے حضور کا عاشق تھا۔ رات بھر حضور کے بدن کو دباتا۔ جب حضور کروٹ بدلتے تو کھانسی کی تکلیف کے وقت منہ مبارک سے معصوم بچوں کی سی آواز نکلتی ”اللہ“۔ حضور فرماتے تھے کہ خشک کھانسی بھی ایک وبا کی طرح ہے۔ پیشاب کی بار بار حاجت ہوتی۔ حمام میں گرم اور سرد دونوں پانی موجود تھے۔ آپ لوٹے میں دونوں کو ملا کر استعمال فرماتے۔ میرے دباتے ہوئے جب حضور انور کروٹ لیتے تو فرماتے کہ ”آپ بس کیجئے“۔ مگر مجھے ان الفاظ کے سننے سے ازحد خوشی ہوتی اور میں حضور کو دباتا چلا جاتا تھا۔

﴿1004﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں حیات محمد صاحب پنشنر ہیڈ کانسٹیبل پولیس نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جس دن عدالت میں مقدمہ کی پیشی تھی۔ صبح نو بجے تک بیعت ختم نہ ہوئی تھی پھر کچہری کے لئے تیاری شروع ہوئی ورنہ لوگ تو بس نہ کرتے تھے۔ رات کو عورتوں کی بیعت کی باری آیا کرتی تھی۔ اُن کے خاوند دروازوں پر کھڑے ہوتے تھے۔ حضور اقدس کرسی پر اونچی جگہ تشریف رکھے ہوتے، بلند آواز سے اپنی جگہ پر ہی اللہ اور اس کے رسول کے احکام حسب ضرورت عورتوں کو سناتے تھے اور حضرت صاحب نے میاں بیوی کے حقوق اور تعلقات کو خوب واضح طور پر بیان کیا تھا۔ حضور عورتوں کی بیعت لیتے وقت ہاتھ یا کپڑا وغیرہ نہ پکڑتے تھے بلکہ آپ اونچی جگہ پر بیٹھ کر اپنی تعلیم سنا دیتے تھے اور پھر لمبی دعا فرما کے اپنے کمرہ میں چلے جاتے تھے۔ اُن دنوں سخت سردی پڑتی تھی۔ جس دن پیشی تھی اُسی رات مجھ کو خواب آیا اور وہ میں نے حضرت کو سنا دیا تھا کہ دہکتے ہوئے انگاروں سے ایک چولہا بھرا ہوا ہے۔ اُس پر حضور کی آرام کرسی رکھی گئی ہے، اُس پر آپ بیٹھے ہیں۔ آگ کی بھاپ شعلے مار مار کر تمام بدن سے نکلتی جاتی ہے۔ اسی طرح کپڑوں اور بالوں سے اور ہم لوگ خوش ہو رہے ہیں کہ دھواں تو نہیں ہے بلکہ بھاپ ہے۔ بالوں میں سے پانی کے قطرے نیچے گر رہے ہیں۔ تو میں کہہ رہا ہوں کہ سبحان اللہ! ابراہیم علیہ السلام والی پوری مثال ہے۔ اس موقعہ پر قُلۡنَا یٰنَارُ کُوۡنِیۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ(الانبیاء: ۷۰) کی مثال صادق آرہی ہے۔ جب میں نے یہ خواب حضور کو سنائی تو حضور اقدس علیہ السلام نے ہنس کو فرمایا کہ دشمن نے آگ بھڑکائی مگر اللہ نے ٹھنڈی کر دی ہے۔ تمام دشمنوں نے زور لگایا۔ ایک طرف تمام مخالف تھے اور ایک طرف خدا کا مرسل تھا۔ ایک طرف حکومت کے لوگ اور بڑے بڑے رئیس، مجسٹریٹ اور وکیل اور چھوٹے چھوٹے ملازم تھے۔ یہ سب لوگ کرم دین پر خوش تھے کہ اُس نے دعویٰ کیا ہے مگر خدا نے اُن کو ناکام کر دیا۔

﴿1005﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں حیات محمد صاحب پنشنر ہیڈ کانسٹیبل پولیس نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مقدمہ کی تاریخ سے ایک ماہ قبل میری بیوی کو خواب آئی تھی کہ حضرت سلمان فارسی جن کی قبر ۹؍ گز لمبی دریائے جہلم کے کنارے پر ہے۔ وہ چوک میں کھڑے ہو کر بآواز بلند یہ کہتے ہیں۔ سنو لوگو! یہ جو دو فریق آپس میں جھگڑا کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک سیّد ہے جو مرزا صاحب ہیں اور دوسرا مولوی جو ہے وہ ڈوم ہے۔ جب حضور کو یہ خواب سنائی گئی۔ تو حضور نے ”ہیں“ کہہ کر فرمایا کہ ڈوم کیسے ہوتے ہیں۔ اس پر دوستوں نے بتایا کہ ڈوم میراثی ہوتے ہیں۔ تحصیل دار نواب خان نے بھی کہا کہ حضور میراثی لوگ ڈوم ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک روز مفتی محمد صادق صاحب نے بھی اپنی خواب سنائی۔ خواب مجھے یاد نہیں رہی۔ میں اپنی بیوی کے اکثر خواب حضور علیہ السلام کی خدمت میں تحریر کر کے تعبیر منگواتا رہتا تھا۔

﴿1006﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں حیات محمد صاحب پنشنر ہیڈ کانسٹیبل پولیس نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا۔ کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام عدالت میں گئے تو بہت ہجوم حضور کے ساتھ اندر چلا گیا۔ آخر کھلے میدان میں حضور کی کرسی سرکاری جمعدار نے رکھی۔ چار پانچ کرم کے فاصلہ پر مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے اپنا وعظ شروع کیا تو محمد دین کمپونڈر نے کہا۔ حضور! مولوی ابراہیم نے یہاں آ کر ہی وعظ شروع کر دیا ہے۔ اس وقت میں بھی حضور کے پاس تھا تو حضور نے اپنے ہاتھ سے اپنی جیب سے ایک رسالہ ”مواہب الر حمٰن“ نکال کر دیا کہ میری یہ کتاب اُسے دے دو۔ ابھی اُس نے وعظ شروع ہی کیا تھا کہ ڈپٹی صاحب نے حکم دیا کہ اس کو یہاں سے نکال دو۔ اگر وعظ کرنا ہے تو شہر میں جا کر کرے۔ سپاہیوں نے اسی وقت اسے کچہری سے باہر نکال دیا۔ جب اُس نے جلدی سے کتاب پر نظر ماری تو صفحہ ۲۵ پر نظر پڑی۔ جہاں لکھا تھا ”کرم دین کذّاب“ فوراً کرم دین کو جا کر دیا کہ دیکھو تم کو یہ لکھا گیا ہے۔ اُس نے اپنے وکیل شیخ محمد دین کو دکھایا۔ وکیل نے کہا کہ اس کا بھی دعویٰ کر دو۔ اُسی وقت مولوی ابراہیم اور کرم دین اور شیخ محمد دین وکیل میاں نظام دین سب جج کی کچہری میں چلے گئے اور اُس کو دکھا کر کہا کہ یہ وہ کتاب ہے اور اب موقعہ ہے۔ ہم دعویٰ آپ کی عدالت میں کرتے ہیں۔ اُس جج نے جواب دیا کہ میرے پاس دعویٰ کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ کرم دین بھی سنی مسلمان ہے اور میں بھی سنی مسلمان ہوں۔ جب جج مذکور نے یہ جواب دیا وہ اپنا سا منہ لے کر واپس آگئے۔ بندہ اچانک اُسی وقت اس جج کی کچہری میں ان تینوں کے پیچھے کھڑا یہ کارروائی دیکھ رہا تھا۔ ہاں البتہ اُس نے ان کو یہ کہا کہ یہ دعویٰ بھی اُسی ڈپٹی کمشنر کے پاس کرو جس کے پاس پہلا دعویٰ ہے۔ ڈپٹی نے خوب دونوں دعووں کو اڑایا اور کرم دین کو کہا کہ تم نے خود اپنے لئے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ضرور میں جھوٹا اور کمینہ ہوں۔ کیونکہ تعزیرات ہند میں یا سرکاری قانون میں تو یہ جرم نہیں ہے کیونکہ مرزا صاحب تو کہتے ہیں کہ خدا نے الہام سے مجھے یہ کہا ہے۔ قانون سے جرم تب ہوتا اگر یہاں کرم دین کی ولدیت وسکونت کتاب میں درج ہوتی۔ کیا دنیا میں اور کوئی کرم دین نہیں ہے صرف تُو ہی کرم دین ہے؟

﴿1007﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں حیات محمد صاحب پنشنر ہیڈ کانسٹیبل پولیس نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ کرم دین نے ڈپٹی کی عدالت میں یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ مرزا صاحب نے میرے بھائی محمد حسین کے متعلق کہا ہے کہ مرتے وقت اس کا منہ سیاہ ہو گیا ہے اس طرح اس کی ہتک کی ہے۔ ڈپٹی نے پوچھا کہ کیا تمہارے بھائی محمد حسین کا کوئی لڑکا ہے۔ اس نے کہا کہ ”ہے“ پوچھا کہ بالغ ہے یا نا بالغ ہے؟ کرم دین نے جواب دیا کہ بالغ ہے۔ اس پر ڈپٹی صاحب نے کہا کہ وہ دعویٰ کر سکتا ہے۔ تمہارا دعویٰ نہیں چل سکتا۔ واپسی پر دیوی دیال صاحب سب انسپکٹر نے حضور کو بڑی محبت اور احترام سے بڑے بازار شہر سے گزار کر اسٹیشن پر لا کر گاڑی پر سوار کرایا تھا۔ بازار میں سے لانے کی غرض یہ تھی کہ تمام لوگ حضور کی زیارت کر لیں۔ لوگ کھڑے ہو ہو کر حضور کو دیکھتے تھے۔ حضور باعزت طور پر گاڑی میں سوار ہوئے اور واپس قادیان روانہ ہوئے۔

﴿1008﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت اُمّ المؤمنین نے ایک روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی اور شیرینی کا ایک خوان اُسی وقت پیش کیا اور شام کی دعوت کی۔

﴿1009﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ شہتیر والا مکان خطرناک ہوتا ہے۔ بعض دفعہ شہتیر ٹوٹ جاتا ہے تو ساری چھت یکدم آپڑتی ہے۔ یعنی صرف کڑیاں یعنی بالے پڑے ہوئے ہوں۔ اور فرمایا ایک دفعہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی ایسے حادثہ سے بچایا تھا۔

﴿1010﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ اس وقت یعنی ۱۹۳۸ء میں میری عمر ۷۴؍ سال کے قریب ہے۔ ہمارا اصل وطن بڈھانہ ضلع مظفر نگر۔ یو پی ہے گو میری زیادہ سکونت باغپت ضلع میرٹھ میں رہی ہے یعنی میں نے اپنی اوائل عمر زیادہ تر اپنے وطن باغپت ضلع میرٹھ میں گزاری تھی اور سنہ ۱۹۴۱ء بکرمی میں کپور تھلہ میں آیا جب کہ میری عمر ۲۱/۲۰ سال کی تھی۔ میرے کپور تھلہ آنے سے قبل کی بات ہے کہ حاجی ولی اللہ صاحب جو کپور تھلہ میں سیشن جج تھے وہ رخصت پر اپنے وطن سراہ ضلع میرٹھ میں گئے۔ اس وقت میرے والد صاحب اور میں بوجہ تعلق رشتہ داری اُن سے ملنے کے لئے گئے۔ حاجی ولی اللہ صاحب کے پاس براہین احمدیہ کے چاروں حصے تھے۔ اور حاجی صاحب موصوف مجھ سے براہین احمدیہ سنا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ مجھے یہ کتاب حضرت مرزا صاحب نے بھیجی ہے۔ اُن کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خط و کتابت تھی۔ جب میں حاجی صاحب کو براہین احمدیہ سنایا کرتا تھا تو اس دوران میں مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عقیدت ہو گئی۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت جب کہ میں براہین احمدیہ سنایا کرتا تھا تو سامعین کہا کرتے تھے کہ اس کتاب کا مصنف ایک بے بدل انشاء پرداز ہے۔

﴿1011﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حاجی ولی اللہ جو ہمارے قریبی رشتہ دار تھے اور کپور تھلہ میں سیشن جج تھے۔ اُن کے ایک ماموں منشی عبدالواحد صاحب ایک زمانہ میں بٹالہ میں تحصیلدار ہوتے تھے۔ منشی عبدالواحد صاحب بٹالہ سے اکثر اوقات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کو ملنے کے لئے جایا کرتے تھے اور وہ بیان کرتے تھے کہ اس وقت حضرت صاحب کی عمر ۱۵/ ۱۴ سال کی ہوگی۔ اور بیان کرتے تھے کہ اس عمر میں حضرت صاحب سارا دن قرآن شریف پڑھتے رہتے اور حاشیہ پر نوٹ لکھتے رہتے تھے۔ اور مرزا غلام مرتضیٰ صاحب حضرت صاحب کے متعلق اکثر فرماتے تھے کہ میرا یہ بیٹا کسی سے غرض نہیں رکھتا۔ سارا دن مسجد میں رہتا ہے اور قرآن شریف پڑھتا رہتا ہے۔ منشی عبدالواحد صاحب قادیان بہت دفعہ آتے جاتے تھے۔ اُن کا بیان تھا کہ میں نے حضرت صاحب کو ہمیشہ قرآن شریف پڑھتے دیکھا ہے۔

﴿1012﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب نے ایک دفعہ ایک مرض کے متعلق عبدالواحد صاحب کو اپنے صرف سے دو سو روپیہ کی معجون تیار کر کے دی جس سے مرض جاتا رہا۔ عبدالواحد صاحب نے بعدش قیمت ادا کرنی چاہی۔ جو مرزا صاحب نے قبول نہ فرمائی۔

﴿1013﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ عبدالواحد صاحب احمدی نہیں ہوئے۔ میں نے اپنی بیعت کے بعد اُن سے پوچھا کہ آپ تو سب حالات جانتے ہیں بیعت کیوں نہیں کر لیتے۔ انہوں نے کہا مجھے الہام ہوا ہے کہ مرزا صاحب کے پاس دو جن سکھ دیو اور ہر دیو ہیں اور اُن پر اُن کا دارومدار ہے۔ اور گویا میں اس الہام کے ذریعہ سے بیعت سے روکا گیا ہوں۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ ذکر کیا کہ یہ اُن کا الہام غالباً شیطانی ہے۔ حضور نے فرمایا۔ نہیں۔ یہ رحمانی الہام ہے۔ جس زبان میں الہام ہو اس کے مطابق معنے کرنے چاہئیں۔ دیوسنسکرت میں فرشتے کو کہتے ہیں۔ گویا راحت کے فرشتے اور ملائکۃ اللہ ہمارے مددگار ہیں۔ تم انہیں لکھو۔ چنانچہ میں نے انہیں گڑگانواں میں جہاں وہ منصف تھے خط لکھا۔ جواب نہ آیا۔ تھوڑے عرصہ کے بعد عبدالواحد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ عبدالواحد صاحب مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کے مرید تھے۔

﴿1014﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ہمارے رشتہ دار منشی عبداللہ صاحب جالندھر میں صدر واصل باقی نویس تھے۔ جو حاجی صاحب کے بہنوئی تھے۔ اُن سے ملنے میں جالندھر جایا کرتا تھا۔ جالندھر میں اسی طرح ایک مرتبہ گیا ہوا تھا کہ معلوم ہوا کہ ایک بزرگ کہیں سے جالندھر آرہے ہیں۔ یہ سرمہ چشمۂ آریہ کی طباعت سے پیشتر کا واقعہ ہے۔ جالندھر سٹیشن پر میں اور میرا ایک رشتہ دار گئے۔ وہاں دو تین سو آدمی حضور کی پیشوائی کے لئے موجود تھے اور کنور بکرماں سنگھ صاحب نے اپنا وزیر اور سواری حضور کو لانے کے لئے بھیجے ہوئے تھے۔ حضرت صاحب ریل سے اُترے۔ صحیح یاد نہیں کہ حضور کہاں سے تشریف لا رہے تھے۔ لوگوں نے مصافحہ کرنا شروع کیا اور وزیر مذکور نے حضور کو بکرماں سنگھ صاحب کے ہاں لے جانے کو کہا۔ اس دوران میں میں نے بھی مصافحہ کیا تو حضور نے دریافت فرمایا کہ آپ کہاں رہتے ہیں۔ میں نے کہا ”کپورتھلہ“ لیکن یہاں میرے ایک رشتہ دار منشی عبداللہ صاحب بوچڑ خانہ کے قریب رہتے ہیں۔ حضور نے فرمایا ہم آپ کے ساتھ چلیں گے۔ چنانچہ بکرماں سنگھ کی گاڑی میں حضور، مولوی عبداللہ صاحب سنوری، حافظ حامد علی صاحب اور خاکسار سوار ہو کر منشی عبداللہ صاحب کے مکان پر آ گئے۔ جب حضور گاڑی سے اُترنے لگے تو بہت ہجوم لوگوں کا ہو گیا۔

عورتیں اپنے بچے حضرت صاحب کی طرف کرتی تھیں کہ حضور کے کپڑوں کی ہوا لگ جائے۔ اُس وقت اعتقاد کا یہ عالم تھا۔ غرض حضور منشی عبد اللہ صاحب کی بیٹھک میں فروکش ہوئے۔

﴿1015﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا۔ کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام جالندھر میں منشی عبداللہ صاحب کی بیٹھک میں فروکش تھے تو ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ سرسید کو کیا سمجھتے ہیں؟ فرمایا! میں تو ایک طرح دیانند کی بھی اس لحاظ سے قدر کرتا ہوں کہ بت پرستی کے خلاف ہے اور سرسید تو مسلمان ہے اور انہوں نے تعلیمی کام مسلمانوں کے لئے کیا ہے۔ اُن کا ممنون ہونا چاہئے۔ سرسید کو مسلمان کہنا بہت سے لوگوں کو ناگوار معلوم ہوا۔

﴿1016﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام جالندھر میں ہی تھے تو اُس زمانہ کے اعتقاد کے بموجب کہ دل کی بات اہل اللہ بتا دیا کرتے ہیں۔ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ نماز میں وساوس کس طرح دور ہو سکتے ہیں۔ تقریر کرتے کرتے حضور نے میری طرف مخاطب ہوکر فرمایا! ’ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ(1:5) کے تکرار سے‘ اور پھر تقریر جاری رکھی۔ میرا اس وقت آپ پر ایمان ہو گیا۔ منشی عبد اللہ صاحب کچھ انڈوں کا حلوا بنوا کر لائے۔ حضور نے فرمایا! مجھے بھوک نہیں ہے۔ لیکن منشی صاحب کے اصرار پر تھوڑا سا کھا لیا۔ ظہر کی نماز حضور نے قریب کی مسجد میں پڑھی۔ آٹھ نو بجے صبح آپ سٹیشن پر اُترے تھے۔ اور بعد نمازِ ظہر آپ واپس سٹیشن پر تشریف لے گئے۔ آپ گاڑی میں بیٹھ گئے اور میرے مصافحہ کرنے پر فرمایا۔ ہم سے خط و کتابت رکھا کرو۔ یہ غالباً ۱۹۴۲ بکرمی کا واقعہ ہے۔

﴿1017﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کپور تھلہ آکر اپنے دوستوں منشی اروڑا صاحب اور محمد خاں سے اِیَّاکَ نَعۡبُدُ(1:5) والی بات سنائی اور حضور کی تعریف کی ۔ اس ملاقات سے دو ڈیڑھ ماہ بعد میں قادیان گیا۔ حضور بہت محبت سے پیش آئے۔ خود اندر سے کھانا لا کر کھلاتے۔ میں دس بارہ دن قادیان میں رہا۔ اُس وقت حافظ حامد علی خادم ہوتا تھا اور کوئی نہ تھا۔ جہاں اب مہمان خانہ اور مفتی محمد صادق صاحب کا مکان ہے۔ اس کے پاس بڑی چوڑی کچی فصیل ہوتی تھی۔

﴿1018﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضور علیہ السلام کی جالندھر کی ملاقات اول کے بعد دو ماہ کے قریب گزرنے پر میں قادیان گیا۔ اس کے بعد مہینے ڈیڑھ مہینے بعد اکثر جایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ چار ماہ بعد گیا تو حضور نے فرمایا ”کیا کوئی معصیت ہوگئی ہے جو اتنی دیر لگائی“ میں رونے لگا۔ اس کے بعد میں جلدی جلدی قادیان جایا کرتا تھا۔

﴿1019﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ملاقات کے بعد میں قادیان جاتا رہا۔ بہت دفعہ ایسا ہوتا رہا کہ جمعہ کی نماز میں پڑھاتا اور حضرت صاحب اور حافظ حامد علی صرف مقتدی ہوتے۔ میں نے کہا مجھے خطبہ پڑھنا نہیں آتا۔ حضور نے فرمایا۔ کوئی رکوع پڑھ کر اور بیٹھ کر کچھ درود شریف پڑھ دو۔ انہی دنوں الہی بخش اکاؤنٹنٹ، عبد الحق اکاؤنٹنٹ اور حافظ محمد یوسف سب اور سیر تینوں مولوی عبدالحق صاحب غزنوی کے مرید تھے۔ یہ بہت آیا کرتے تھے۔ اکثر ایسا موقعہ ہوا ہے کہ میں قادیان گیا ہوں تو یہ بھی وہاں ہوتے۔

﴿1020﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حافظ محمد یوسف اور محمد یعقوب برادرش نے عبداللہ صاحب غزنوی کا ایک کشف بیان کیا تھا کہ ”قادیان سے ایک روشنی نمودار ہوگی۔ وہ ساری جہاں میں پھیلے گی مگر میری اولاد اُس سے محروم رہے گی“ اور اُن تینوں میں سے کسی نے یہ بھی کہا کہ مرزا غلام احمد صاحب سے ممکن ہے یہ مراد ہو۔ مہدویت کے دعویٰ کے بعد اس واقعہ سے محمد یوسف صاحب انکاری ہوگئے۔ تو حضرت صاحب نے مجھے حلفیہ شہادت کے لئے خط لکھا۔ کہ تمہارے سامنے محمد یوسف نے یہ واقعہ بیان کیا تھا۔ میں نے محمد یوسف اور محمد یعقوب کو خط لکھا کہ یہاں میرا اور محمد خاں صاحب کا جھگڑا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا اور میں کہتا ہوں کہ ان الفاظ میں بیان کیا تھا۔ محمد یعقوب کا جواب امرتسر سے آیا۔ جس میں میرے بیان کردہ الفاظ کی اُس نے تائید کی۔ میں محمد یعقوب کا خط لے کر قادیان پہنچا۔ حضور بہت خوش ہوئے اور وہ خط شائع کر دیا جس سے یہ لوگ بہت شرمندہ ہوئے۔ محمد یوسف صاحب میرے ہم وطن تھے۔ میرا اصل وطن قصبہ بڈھانہ ضلع مظفر نگر۔ یوپی ہے اور محمد یوسف صاحب بڈھانہ سے اڑھائی میل پر حسین پور کے رہنے والے تھے۔

﴿1021﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب سرمہ چشم آریہ طبع ہوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چار نسخے مجھے اور چار منشی چراغ محمد صاحب کو کپور تھلہ بھیجے۔ چراغ محمد صاحب دینانگر گورداسپور کے رہنے والے تھے۔ محمد خاں صاحب، منشی اروڑا صاحب، منشی عبدالرحمن صاحب اور خاکسار سرمہ چشمہ آریہ مسجد میں پڑھا کرتے تھے۔ پھر محمد خاں صاحب، منشی اروڑا صاحب بعد میں قادیان گئے۔ منشی اروڑا صاحب نے کہا کہ بزرگوں کے پاس خالی ہاتھ نہیں جایا کرتے۔ چنانچہ تین چار روپیہ کی مٹھائی ہم نے پیش کی۔ حضور نے فرمایا۔ یہ تکلفات ہیں۔ آپ ہمارے مہمان ہیں۔ ہمیں آپ کی تواضع کرنی چاہئے۔ ہم تینوں نے بیعت کے لئے کہا کیونکہ سرمہ چشم آریہ پڑھ کر ہم تینوں بیعت کا ارادہ کر کے گئے تھے۔ آپ نے فرمایا۔ مجھے بیعت کا حکم نہیں۔ لیکن ہم سے ملتے رہا کرو۔ پھر ہم تینوں بہت دفعہ قادیان گئے اور لدھیانہ میں بھی کئی دفعہ حضور کے پاس گئے۔

﴿1022﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جو فقرات عربی کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے لکھوائے تھے۔ اُن میں بعض اشیاء کے نام جمع کر کے آپ نے اشعار میں منظوم کر دیا تھا۔ تاکہ یاد کرنے میں سہولت رہے۔ چنانچہ سونے ، اونٹ اور نیزوں کے نام حسب ذیل اشعار میں تھے۔

(سونے کے آٹھ نام)

نُضَارٌ ، عَسْجَدٌ ، عَيْنٌ وَّدَجَّالٌ وَّعِقْيَانُ

تِبْرٌ ، زُخْرُفٌ ، ذَهَبٌ بِهِ فِسْقٌ وَّعِصْيَانُ

(اونٹوں کے ۳۷ نام)

عُنُسٌ ، قَعُوْدٌ ، نَاقَةٌ ، كَوْمَاءُ

وَقَعِيْدٌ ، عُسْبُوْرَةٌ وَجَنَاءُ

جَمَلٌ ، قَلُوْصٌ ، عَيْدَهُوْدٌ ، عَسْبَرَةٌ

اِبِلٌ وَسِرْدَاحٌ حَكَى الْاِمْلَاءَ

مُهْرِىٌّ ، عِرْبَاضٌ ، بَعِيْرٌ ، خَتْثَعَةٌ

ثُمَّ الْهَجَانُ وَذِعْلِبٌ دَفْوَآءُ

عِرْسٌ مَعَ الْعَزْهُوْلِ ، عَسْبُوْرٌ مَّعًا

وَالْعَيْسَجُوْرُ كَمَا رَوَى الْأَدَبَآءُ

ثُمَّ الْجَزُوْرُ وَلِقْحَةٌ حِدْبَارُ

وَكَذَا اللَّبُوْنُ وَمِثْلُهُ ، عَشْوَآءُ

هَبْرٌ ، مَهُوْبَرَةٌ ، لَقُوْحٌ ، شَائِلَةٌ

بِكْرٌ ، هَبَرَّوْ ، عَنْكُوَةٌ عَصْبَآءُ

(نیزوں کے ۱۲ نام)

رُمْحٌ ، قَنَاةٌ ، سَعْدَةٌ ، مَرَّانُ

اَسَلٌ وَعَسَّالٌ حَكَوْا وَاَبَانُوْا

خَطِّيٌّ ، رُدَيْنِیٌّ ، سَمْهَرِیٌّ ، سَمْهَرِیَّةٌ

زَابِلٌ وَاسْمَرُ اَیُّهَا الْاِخْوَانُ

﴿1023﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کہ کہ جب میں لاہور میڈیکل کالج میں ففتھ ائیر کا سٹوڈنٹ تھا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے مندرجہ ذیل خط تحریر فرمایا

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

نحمده و نصلی

عزیزی اخویم میر محمد اسماعیل صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ ۔ چونکہ بار بار خوف ناک الہام ہوتا ہے اور کسی دوسرے سخت زلزلہ ہونے کی اور آفت کے لئے خبر دی گئی ہے ۔ اس لئے مناسب ہے کہ فی الفور بلا توقف وہ مکان چھوڑ دو۔ اور کسی باغ میں جارہو۔ اور بہتر ہے کہ تین دن کے لئے قادیان میں آکر مل جاؤ۔ والاسلام

خاکسار

مرزا غلام احمد

۱۱۔اپریل ۱۹۰۵ء

﴿1024﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ بیعت اولیٰ سے پیشتر میں نے سرسید احمد صاحب کی کتابیں پڑھی تھیں ۔ اور میں اور محمد خاں صاحب وفات عیسیٰ کے قائل تھے۔ چنانچہ میں نے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو خط لکھا کہ حیات عیسےٰ علیہ السلام کہاں سے ثابت ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جس طرح خضر علیہ السلام کی حیات ضعیف احادیث سے ثابت ہے اور ضعیف احادیث کا مجموعہ اقسام حدیث میں سے حدیث حسن کو پہنچتا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ موضوع احادیث کا مجموعہ ضعیف ہوا اور ضعیف احادیث کا مجموعہ حسن۔ پس کوئی حدیث موضوع نہ رہے گی۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم اہلِ ھویٰ کا جواب نہیں دیا کرتے۔ لیکن چونکہ تمہارا تعلق مرزا صاحب سے ہے۔ اس لئے جواب لکھتا ہوں اور مرزا صاحب وہ ہیں کہ معقولی باتیں پیش کرتے ہیں اور پھر قرآن سے دکھا دیتے ہیں اور ان کا دعویٰ مجددیت ”قریب بہ اذعان“ ہے (یہ مولوی رشید احمد صاحب کے الفاظ ہیں) قرآن پر جو کوئی اعتراض کرتا ہے۔ مرزا صاحب معقولی جواب اس کا دیتے ہیں اور قرآن سے نکال کر وہی دکھا دیتے ہیں۔

مراد اس ذکر سے یہ ہے کہ رشید احمد صاحب گنگوہی حضرت صاحب کو مجدد ہونے والا اپنے اندازے میں سمجھتے تھے۔ وہ خطوط رشید احمد صاحب کے مجھ سے مولوی اشرف علی نے، جو رشید احمد صاحب کا مرید تھا اور سلطان پور ریاست کپورتھلہ میں رہتا تھا، لے کر دبالئے اور پھر باوجود مطالبہ کے نہ دیئے۔

﴿1025﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ سبز کاغذ پر جب اشتہار حضور نے جاری کیا تو میرے پاس بھی چھ سات اشتہار حضور نے بھیجے۔ منشی اروڑ ا صاحب فوراً لدھیانہ کو روانہ ہو گئے۔ دوسرے دن محمد خاں صاحب اور میں گئے اور بیعت کر لی۔ منشی عبدالرحمن صاحب تیسرے دن پہنچے۔ کیونکہ انہوں نے استخارہ کیا اور آواز آئی ”عبدالرحمن آجا“ ہم سے پہلے آٹھ نو کس بیعت کر چکے تھے۔ بیعت حضور اکیلے اکیلے کو بٹھا کر لیتے تھے۔ اشتہار پہنچنے کے دوسرے دن چل کر تیسرے دن صبح ہم نے بیعت کی۔ پہلے منشی اروڑا صاحب نے، پھر میں نے۔ میں جب بیعت کرنے لگا تو حضور نے فرمایا۔ تمہارے رفیق کہاں ہیں؟ میں نے عرض کی۔ منشی اروڑا صاحب نے تو بیعت کر لی ہے اور محمد خاں صاحب تیار ہی ہیں کہ بیعت کر لیں۔ چنانچہ محمد خاں صاحب نے بیعت کر لی۔ اس کے ایک دن بعد منشی عبدالرحمن صاحب نے بیعت کی۔ منشی عبدالرحمن صاحب، منشی اروڑا صاحب اور محمد خاں صاحب تو بیعت کر کے واپس آ گئے۔ کیونکہ یہ تینوں ملازم تھے۔ میں پندرہ بیس روز لدھیانہ ٹھہرا رہا اور بہت سے لوگ بیعت کرتے رہے۔

حضور تنہائی میں بیعت لیتے تھے اور کواڑ بھی قدرے بند ہوتے تھے۔ بیعت کرتے وقت جسم پر ایک لرزہ اور رِقّت طاری ہو جاتی تھی۔ اور دعا اور بیعت بہت لمبی فرماتے تھے۔ اس لئے ایک دن میں بیس پچیس آدمی کے قریب بیعت ہوتے تھے۔

﴿1026﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ بیعت کے بعد جب میں لدھیانہ میں ٹھہرا ہوا تھا تو ایک صوفی طبع شخص نے چند سوالات کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا کہ آیا آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بھی کرا سکتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ اس کے لئے مناسبت شرط ہے اور میری طرف منہ کر کے فرمایا کہ یا جس پر خدا کا فضل ہو جائے۔ اسی رات میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کو خواب میں دیکھا۔

﴿1027﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ میرے دو تین خواب ازالہ اوہام کی جلد کے ساتھ جو کورے کاغذ تھے۔ اُن پر اپنی قلم سے درج فرمائے۔ اسی طرح الٰہی بخش اکاؤنٹنٹ نے جب حضرت صاحب کے خلاف کچھ خواب شائع کئے تو حضور نے مجھے لکھا کہ اپنے خواب لکھ کر بھیجو۔ میں نے بھیج دیئے۔ حضور نے وہ خواب اشتہار میں چھپوا دیئے۔ خواب سے پیشتر میں نے یہ شعر بھی لکھا تھا۔ ؎

الا اے بلبل نالاں چہ چندیں ماجرا داری

بیا داغے کہ من درسینہ دارم تو کجا داری

عسل مصفّٰی میں وہ اشتہار اور خواب چھپے ہوئے موجود ہیں۔

﴿1028﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ منشی اروڑا صاحب مرحوم اور میں نے لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی کہ کبھی حضور کپور تھلہ بھی تشریف لائیں۔ اُن دنوں کپور تھلہ میں ریل نہ آئی تھی۔ حضور نے وعدہ فرمایا کہ ہم ضرور کبھی آئیں گے۔ اس کے بعد جلد ہی حضور بغیر اطلاع دیئے ایک دن کپور تھلہ تشریف لے آئے۔ اور یکہ خانہ سے اتر کر مسجد فتح والی نزدیک یکہ خانہ واقع کپور تھلہ میں تشریف لے گئے۔ حافظ حامد علی صاحب ساتھ تھے۔ مسجد سے حضور نے ملاں کو بھیجا کہ منشی صاحب یا منشی ظفر احمد صاحب کو ہمارے آنے کی اطلاع کر دو۔ میں اور منشی اروڑ ا صاحب کچہری میں تھے کہ ملاں نے آ کر اطلاع دی کہ مرزا صاحب مسجد میں تشریف فرما ہیں۔ اور انہوں نے مجھے بھیجا ہے کہ اطلاع کر دو۔ منشی اروڑ ا صاحب نے بڑی تعجب آمیز ناراضگی کے لہجے میں پنجابی میں کہا ”دیکھوناں تیری مسیت وچ آ کے مرزا صاحب نے ٹھہرناسی؟“۔ میں نے کہا کہ چل کر دیکھنا تو چاہئے۔ پھر منشی صاحب جلدی سے صافہ باندھ کر میرے ساتھ چل پڑے۔ مسجد میں جا کر دیکھا کہ حضور فرش پر لیٹے ہوئے تھے اور حافظ حامد علی صاحب پاؤں دبا رہے تھے اور پاس ایک پیالہ اور چمچہ رکھا ہوا تھا۔ جس سے معلوم ہوا کہ شاید آپ نے دودھ ڈبل روٹی کھائی تھی۔ منشی اروڑ ا صاحب نے عرض کیا کہ حضور نے اس طرح تشریف لانی تھی؟ ہمیں اطلاع فرماتے۔ ہم کرتار پور سٹیشن پر حاضر ہوتے۔ حضور نے جواب دیا۔ اطلاع دینے کی کیا ضرورت تھی۔ ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا وہ پورا کرنا تھا۔ پھر حضور کو ہم اپنے ہمراہ لے آئے۔ اور محلہ قائم پورہ کپور تھلہ میں جس مکان میں پرانا ڈاکخانہ بعد میں رہا ہے، وہاں حضور کو ٹھہرایا۔ وہاں بہت سے لوگ حضور کے پاس جمع ہو گئے۔ کرنل محمد علی خاں صاحب، مولوی غلام محمد صاحب وغیرہ۔ حضور تقریر فرماتے رہے۔ کچھ تصوف کے رنگ میں کرنل صاحب نے سوال کیا تھا جس کے جواب میں یہ تقریر تھی۔ حاضرین بہت متاثر ہوئے۔ مولوی غلام محمد صاحب جو کپور تھلہ کے علماء میں سے تھے آبدیدہ ہو گئے اور انہوں نے ہاتھ بڑھائے کہ میری آپ بیعت لے لیں۔ مگر حضور نے بیعت لینے سے انکار کر دیا۔ بعد میں مولوی مذکور سخت مخالف رہا۔

﴿1029﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام لدھیانہ سے کپور تھلہ تشریف لائے تو صرف ایک دن قیام فرما کر قادیان کو تشریف لے گئے۔ ہم کرتار پور کے اسٹیشن پر پہنچانے گئے۔ یعنی منشی اروڑ ا صاحب، محمد خاں صاحب اور میں۔ اگر کوئی اور بھی ساتھ کرتار پور گیا ہو تو مجھے یاد نہیں۔

کرتار پور کے اسٹیشن پر ہم نے حضرت صاحب کے ساتھ ظہر و عصر کی نماز جمع کی ۔ نماز کے بعد میں نے عرض کی کہ کس قدر مسافت پر نماز جمع کر سکتے ہیں اور قصر کر سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا۔ انسان کی حالت کے اوپر یہ بات ہے۔ ایک شخص ناطاقت اور ضعیف العمر ہو تو وہ پانچ چھ میل پر بھی قصر کر سکتا ہے اور مثال دی کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مزدلفہ میں نماز قصر کی ۔ حالانکہ وہ مکہ شریف سے قریب جگہ ہے۔

﴿1030﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میری نظر سے پہلے موٹا اشتہار بابت براہین احمدیہ ۱۸۸۵ء میں گزرا۔ مگر کوئی التفات پیدا نہ ہوا۔ ۸۸۔ ۱۸۸۷ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شہرہ سنتا رہا۔ ۱۸۹۰ء میں آپ نے مولوی عبداللہ صاحب فخری کی تحریک پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دعا کی استدعا کی۔ اس طرح خط و کتابت کا سلسلہ شروع ہوا۔ غالباً ستمبر ۱۸۹۰ء میں میں بمقام لدھیانہ حضرت صاحب سے ملا اور چند معمولی باتیں ہوئیں۔ وہاں سے واپسی پر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لکھا کہ میں تفضیلی شیعہ ہوں ۔ یعنی حضرت علیؓ کو دوسرے خلفاء پر فضیلت دیتا ہوں۔ کیا آپ ایسی حالت میں میری بیعت لے سکتے ہیں یا نہیں؟ آپ نے لکھا کہ ہاں ایسی حالت میں آپ بیعت کر سکتے ہیں۔ باقی اگر ہم ان خدمات کی قدر نہ کریں جو خلفائے راشدین نے کیں تو ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہو سکتا کہ یہ قرآن وہی قرآن ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا کیونکہ انہی کے ذریعہ قرآن و اسلام، حدیث و اعمال ہم تک پہنچتے ہیں۔ چنانچہ میں نے غالباً ستمبر یا اکتوبر ۱۸۹۰ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی اور بعد بیعت تین سال تک شیعہ کہلاتا رہا۔

﴿1031﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ابتدائے خط و کتابت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میں نے ایک خط میں لکھا تھا کہ میں شیعہ ہوں اور شیعوں کے ہاں ولایت ختم ہوگئی ہے۔ اس لئے جب ہم کسی کو ولی نہیں مانتے تو بیعت کس طرح کر سکتے ہیں؟ آپ نے لکھا ’’ہم جو ہر نماز میں اهدنا الصراط المستقيم ، صراط الذين انعمت عليهم کی دعا مانگتے ہیں۔ اس کا کیا فائدہ ہے؟ کیونکہ مے تو پی گئے اب تو دُرد رہ گیا۔ پھر کیا ہم مٹی کھانے کے لئے رہ گئے؟ اور جب ہمیں انعام ملنا نہیں تو یہ دعا عبث ہے۔ مگر اصل واقعہ یہ ہے کہ انعامات کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ ۱۸۹۳ء میں میں نے خاص طور پر سے شیعیت کی بابت تحقیقات کی اور شیعیت کو ترک کر دیا۔

﴿1032﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام لدھیانہ میں قیام پذیر تھے میں اور محمد خان مرحوم ڈاکٹر صادق علی صاحب کو لے کر لدھیانہ گئے۔ (ڈاکٹر صاحب کپور تھلہ کے رئیس اور علماء میں سے شمار ہوتے تھے) کچھ عرصہ کے بعد حضور مہندی لگوانے لگے۔ اس وقت ایک آریہ آگیا۔ جو ایم۔اے تھا۔ اس نے کوئی اعتراض اسلام پر کیا۔ حضرت صاحب نے ڈاکٹر صاحب سے فرمایا۔ آپ ان سے ذرا گفتگو کریں تو میں مہندی لگوالوں۔ ڈاکٹر صاحب جواب دینے لگے۔ مگر اُس آریہ نے جو جوابی تقریر کی تو ڈاکٹر صاحب خاموش ہو گئے۔ حضرت صاحب نے یہ دیکھ کر فوراً مہندی لگوانی چھوڑ دی اور اسے جواب دینا شروع کیا اور وہی تقریر کی جو ڈاکٹر صاحب نے کی تھی مگر اس تقریر کو ایسے رنگ میں بیان فرمایا کہ وہ آریہ حضور کے آگے سجدہ میں گر پڑا۔ حضور نے ہاتھ سے اُسے اٹھایا۔ پھر وہ دونوں ہاتھوں سے سلام کر کے پچھلے پیروں ہٹتا ہوا واپس چلا گیا۔ پھر شام کے چار پانچ بجے ہوں گے تو ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں تخلیہ چاہتا ہوں میں نے حضور سے عرض کی۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب حضرت صاحب کے پاس تنہائی میں چلے گئے اور میں اور مولوی عبد اللہ سنوری اور محمد خان صاحب ایک کوٹھڑی میں چلے گئے۔ بعد میں ڈاکٹر صاحب نے ذکر کیا کہ میں نے بہت اصرار کیا کہ مجھے بیعت میں لے لیں مگر آپ نے فرمایا۔ آپ جلدی نہ کریں۔ سوچ سمجھ لیں۔ دو دن رہ کر ہم واپس آگئے۔

﴿1033﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ کسی شخص نے بیعت کرنی چاہی مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی بیعت نہ لی اور انکار کر دیا۔

﴿1034﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک شخص نے ایک کتاب لکھی۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور وہ کتاب پیش کی۔ حضور نے ہاتھ سے کتاب پرے کر دی۔ کہ جب مسلمانوں کے سینکڑوں بچے عیسائی ہو گئے۔ اس وقت یہ کتاب نہ لکھی۔ اب جو مصنف کا اپنا لڑکا عیسائی ہو گیا تو یہ کتاب لکھی۔ اس میں برکت نہیں ہو سکتی۔

﴿1035﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ آنریبل چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ شروع ستمبر ۱۹۰۴ء میں میرے والد صاحب مجھے اپنے ہمراہ لاہور لے گئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُن دنوں لاہور ہی میں تشریف رکھتے تھے۔ ۳؍ ستمبر کو آپ کا لیکچر میلا رام کے منڈوے میں ہوا۔ والد صاحب بھی مجھے اپنے ہمراہ وہاں لے گئے۔ میری عمر اس وقت ساڑھے گیارہ سال کی تھی لیکن وہ منظر مجھے خوب یاد ہے کہ مجھے سٹیج پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کرسی کے قریب ہی جگہ مل گئی اور میں قریباً تمام وقت آپ ہی کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھتا رہا۔ گو معلوم ہوتا تھا کہ میں نے لیکچر بھی توجہ سے سنا ہو گا یا کم سے کم بعد میں توجہ سے پڑھا ہو گا۔ کیونکہ اس لیکچر کے بعض حصے اس وقت سے مجھے اب تک یاد ہیں۔ لیکن میری توجہ زیادہ تر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چہرہ مبارک کی طرف رہی۔ آپ ایک آرام کرسی پر تشریف فرما تھے۔ اور ایک سفید رومال آپ کے ہاتھ میں تھا جو اکثر وقت آپ کے چہرہ مبارک کے نچلے حصہ پر رکھا رہا۔

﴿1036﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ آنریبل چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب میں نے پہلی بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لاہور میں زیارت کی تو میرے دل میں اس وقت کسی قسم کے عقائد کی تنقید نہیں تھی۔ جو اثر بھی میرے دل میں اس وقت ہوا۔ وہ یہی تھا کہ یہ شخص صادق ہے اور جو کچھ کہتا ہے کہ وہ سچ ہے اور ایک ایسی محبت میرے دل میں آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈال دی گئی کہ وہی میرے لئے حضور علیہ السلام کی صداقت کی اصل دلیل ہے۔ میں گو اس وقت بچہ ہی تھا لیکن اس وقت سے لے کر اب تک مجھے کسی وقت بھی کسی دلیل کی ضرورت نہیں پڑی۔ بعد میں متواتر ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں جو میرے ایمان کی مضبوطی کا باعث ہوئے۔ لیکن میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کا چہرہ مبارک دیکھ کر ہی مانا تھا اور وہی اثر اب تک میرے لئے حضور کے دعاویٰ کی صداقت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ میں ۳؍ ستمبر ۱۹۰۴ء کے دن سے ہی احمدی ہوں۔

﴿1037﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں قادیان میں تقریباً ایک ماہ تک ٹھہرا رہا۔ مولوی عبداللہ صاحب سنوری بھی وہاں تھے۔ مولوی صاحب نے میرے لئے جانے کی اجازت چاہی اور میں نے اُن کے لئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ابھی نہ جائیں۔ اس عرصہ میں مولوی صاحب کو ان کے گھر سے لڑکے کی ولادت کا خط آیا۔ جس پر مولوی صاحب نے عقیقہ کی غرض سے جانے کی اجازت چاہی۔ حضور نے فرمایا۔ اس غرض کے لئے جانا لازمی نہیں۔ آپ ساتویں دن ہمیں یاد دلا دیں اور گھر خط لکھ دیں کہ ساتویں دن اس کے بال منڈوا دیں۔ چنانچہ ساتویں روز حضور نے دوبکرے منگوا کر ذبح کرا دیئے اور فرمایا گھر خط لکھ دو۔

﴿1038﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دورانِ سر کا عارضہ تھا۔ ایک طبیب کے متعلق سنا گیا کہ وہ اس میں خاص ملکہ رکھتا ہے اُسے بلوایا گیا، کرایہ بھیج کر اور کہیں دور سے۔ اس نے حضور کو دیکھا اور کہا کہ دو دن میں آپ کو آرام کر دوں گا۔ یہ سن کر حضرت صاحب اندر چلے گئے اور حضرت مولوی نور الدین صاحب کو رقعہ لکھا کہ اس شخص سے میں علاج ہر گز نہیں کرانا چاہتا۔ یہ کیا خدائی دعویٰ کرتا ہے۔ اس کو واپسی کرایہ کے روپیہ اور مزید بیس پچیس روپے بھیج دیئے کہ یہ دے کر اُسے رخصت کر دو۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔

﴿1039﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ لدھیانہ کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ سر درد کا دورہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس قدر سخت ہوا کہ ہاتھ پیر برف کی مانند سرد ہو گئے۔ میں نے ہاتھ لگا کر دیکھا تو نبض بہت کمزور ہو گئی تھی۔ آپ نے مجھے ارشاد فرمایا کہ اسلام پر کوئی اعتراض یاد ہو تو اس کا جواب دینے سے میرے بدن میں گرمائی آجائے گی اور دورہ موقوف ہو جائے گا۔ میں نے عرض کی کہ حضور اس وقت تو مجھے کوئی اعتراض یاد نہیں آتا۔ فرمایا! کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نعت میں کچھ اشعار آپ کو یاد ہوں تو پڑھیں۔ میں نے براہین احمدیہ کی نظم ”اے خدا! اے چارۂ آزارِ ما“ خوش الحانی سے پڑھنی شروع کر دی اور آپ کے بدن میں گرمائی آنی شروع ہو گئی۔ پھر آپ لیٹے رہے اور سنتے رہے۔ پھر مجھے ایک اعتراض یاد آگیا کہ آیت وَاِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیۡفَۃً(البقرة: ۳۱) پر یہ اعتراض ہے کہ جو مشورہ کا محتاج ہے۔ وہ خدائی کے لائق نہیں۔ قَالُوۡۤا اَتَجۡعَلُ فِیۡہَا مَنۡ یُّفۡسِدُ فِیۡہَا(2:31)۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کا علم بھی کامل نہیں۔ کیونکہ اُسے معلوم نہ تھا کہ یہ آئندہ فساد اور خون ریزی کرے گا۔ وَنَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ(2:31)۔ اُس سے معلوم ہوا کہ وہ پاکوں سے دشمنی اور ناپاکوں سے پیار کرتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو اس خلافت کے لئے پیش کیا تھا۔ قَالَ اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ(2:31)۔ بھلا یہ بھی کوئی جواب ہے جس سے عجز ظاہر ہوتا ہے۔ پھر یہ کہا کہ عَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسۡمَآءَ کُلَّہَا۔ ایک آدمی کو الگ لے جا کر کچھ باتیں چپکے سے سمجھا دیں اور پھر کہا کہ تم بتاؤ اگر سچے ہو۔ اس میں فریب پایا جاتا ہے۔ جب میں نے یہ اعتراضات سنائے تو حضور کو جوش آگیا اور فوراً آپ بیٹھ گئے اور بڑے زور کی تقریر جواباً کی اور بہت سے لوگ بھی آگئے۔ اور دورہ ہٹ گیا۔ بہت لمبی تقریر فرمائی کہ کہیں آدم کا خونریزی وغیرہ کرنا ثابت نہیں۔ وغیرہ

﴿1040﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم اور عبدالحکیم مرتد جس زمانے میں لاہور پڑھتے تھے۔ وہاں پر ایک شخص جو برہمو سماج کا سیکرٹری اور ایم اے تھا، آیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور میں تھے۔ اُس نے آ کر کہا کہ تقدیر کے مسئلہ کو میں نے ایسا سمجھا ہوا ہے کہ شاید کسی اور نے نہ سمجھا ہو۔ وہ دلائل میں آپ کو سنانا چاہتا ہوں اس پر حضور نے خود ہی تقدیر پر تقریر شروع فرمادی اور یہ تقریر مسلسل دو گھنٹے جاری رہی۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب اور مولوی عبدالحکیم صاحب بھی اس میں موجود تھے اور نواب فتح علی خان صاحب قزلباش بھی موجود تھے، تقریر کے ختم ہونے پر جب سب چلے گئے تو نواب صاحب بیٹھے رہے اور نواب صاحب نے کہا کہ آپ تو اسلام کی روح بیان فرماتے ہیں اور اسلام کی صداقت آفتاب کی طرح سامنے نظر آتی ہے۔ وہ لوگ بڑے ظالم ہیں جو آپ کے متعلق سخت کلامی کرتے ہیں۔ ظالم کا لفظ سن کر حضور نے شیعہ مذہب کی تردید شروع کر دی۔ گویا ثابت کیا کہ شیعہ ظلم کرتے ہیں جو صحابہ کا فیض یافتہ صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا نہیں مانتے۔ اور صحابہ کا تقدس ظاہر کر کے بڑے جوش میں فرمایا کہ کیا کوئی شیعہ اس بات کو گوارا کر سکتا ہے کہ اس کی ماں کی قبر دونابکاروں کے درمیان ہو۔ مولوی عبدالکریم صاحب کا چہرہ اُترا ہوا سا تھا۔ پھر نواب صاحب نہایت ادب سے اجازت لے کر چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب نے حضور سے دریافت کیا کہ کیا حضور کو یہ علم نہیں تھا کہ یہ شیعہ مذہب رکھتے ہیں۔ حضور نے فرمایا۔ ان کے ہمارے بزرگوں سے تعلقات چلے آتے ہیں۔ ہم خوب جانتے ہیں۔ میں نے سمجھا کہ یہ بڑے آدمی کہاں کسی کے پاس چل کر آتے ہیں اس لئے میں نے چاہا کہ حق اُن کے گوش گزار کر دوں۔

﴿1041﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ پہلی دفعہ غالباً فروری ۱۸۹۱ء میں مَیں قادیان آیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سادگی نے مجھ پر خاص اثر کیا۔ دسمبر ۱۸۹۲ء میں پہلے جلسہ میں شریک ہوا۔ ایک دفعہ میں نے حضرت صاحب سے علیحدہ بات کرنی چاہی گو بہت تنہائی نہ تھی مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت پریشان پایا۔ یعنی آپ کو علیحدگی میں اور خفیہ طور سے بات کرنی پسند نہ تھی۔ آپ کی خلوت اور جلوت میں ایک ہی بات ہوتی تھی۔ اسی جلسہ ۱۸۹۲ء میں حضرت بعد نماز مغرب میرے مکان پر ہی تشریف لے آتے تھے۔ اور مختلف امور پر تقریر ہوتی رہتی تھی۔ احباب وہاں جمع ہو جاتے تھے۔ اور کھانا بھی وہاں ہی کھاتے تھے۔ نماز عشاء تک یہ سلسلہ جاری رہتا تھا۔ میں علماء اور بزرگان خاندان کے سامنے دوزانو بیٹھنے کا عادی تھا۔ بسا اوقات گھٹنے دکھنے لگتے۔ مگر یہاں مجلس کی حالت نہایت بے تکلفانہ ہوتی۔ جس کو جس طرح آرام ہوتا بیٹھتا۔ بعض پچھلی طرف لیٹ بھی جاتے مگر سب کے دل میں عظمت و ادب اور محبت ہوتی تھی۔ چونکہ کوئی تکلّف نہ ہوتا تھا۔ اس لئے یہی جی چاہتا تھا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تقریر فرماتے رہیں اور ہم میں موجود رہیں۔ مگر عشاء کی اذان سے جلسہ برخاست ہو جاتا۔

﴿1042﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا ہے کہ جب سورج گرہن اور چاند گرہن رمضان میں واقع ہوئے تو غالباً ۱۸۹۴ء تھا۔ میں قادیان میں سورج گرہن کے دن نماز میں موجود تھا۔ مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے نماز پڑھائی تھی۔ اور نماز میں شریک ہونے والے بے حد رو رہے تھے۔ اس رمضان میں یہ حالت تھی کہ صبح دو بجے سے چوک احمدیہ میں چہل پہل ہو جاتی۔ اکثر گھروں میں اور بعض مسجد مبارک میں آ موجود ہوتے۔ جہاں تہجد کی نماز ہوتی۔ سحری کھائی جاتی اور اول وقت صبح کی نماز ہوتی۔ اس کے بعد کچھ عرصہ تلاوت قرآن شریف ہوتی اور کوئی آٹھ بجے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کو تشریف لے جاتے۔ سب خدام ساتھ ہوتے۔ یہ سلسلہ کوئی گیارہ بارہ بجے ختم ہوتا۔ اس کے بعد ظہر کی اذان ہوتی اور ایک بجے سے پہلے نماز ظہر ختم ہو جاتی اور پھر نماز عصر بھی اپنے اول وقت میں پڑھی جاتی۔ بس عصر اور مغرب کے درمیان فرصت کا وقت ملتا تھا۔ مغرب کے بعد کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر آٹھ ساڑھے آٹھ بجے نماز عشاء ختم ہو جاتی اور ایسا ہُو کا عالم ہوتا کہ گویا کوئی آباد نہیں۔ مگر دو بجے سب بیدار ہوتے اور چہل پہل ہو جاتی۔

﴿1043﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ امرتسر میں جب آتھم کے ساتھ مباحثہ قرار پایا تو بیس بیس یا پچیس پچیس آدمی فریقین کے شامل ہوتے تھے۔ ہماری طرف سے علاوہ غیر احمدیوں کے مولوی عبد الکریم صاحب، سید محمد احسن صاحب بھی شامل ہوتے تھے۔ اور ایک شخص اللہ دیا لدھیانوی جلد ساز تھا جس کو توریت وانجیل خوب یاد تھی اور کرنيل الطاف علی خاں صاحب رئیس کپور تھلہ عیسائیوں کی طرف بیٹھا کرتے تھے۔ ایک طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ایک طرف عبد اللہ آتھم بیٹھتے تھے۔ دونوں فریق کے درمیان خلیفہ نور الدین صاحب جمونی اور خاکسار مباحثہ لکھنے والے بیٹھا کرتے تھے۔ اور دو کس عیسائیوں میں سے اسی طرح لکھنے کے لئے بیٹھا کرتے تھے۔ بحث تقریری ہوتی تھی اور ہم لکھتے جاتے تھے اور عیسائیوں کے آدمی بھی لکھتے تھے۔ اور بعد میں تحریروں کا مقابلہ کر لیتے تھے۔ حضرت صاحب اختصار کے طور پر غ سے مراد غلام احمد اور ع سے مراد عبد اللہ لکھاتے تھے۔ آتھم بہت ادب سے پیش آتا تھا۔ جب عیسائیوں کے لکھنے والے زیادہ نہ لکھ سکتے۔ آتھم خاکسار کو مخاطب کر کے کہا کرتا کہ عیسائی ہمارے لکھنے والے ٹٹو ہیں۔ ان کی کمریں لگی ہوئی ہیں۔ انہیں بھی ساتھ لینا کیونکہ میں اور خلیفہ نور الدین صاحب بہت زُود نویس تھے۔ آتھم کی طبیعت میں تمسخر تھا۔

ایک دن آتھم مقابلہ پر نہ آیا۔ اس کی جگہ مارٹن کلارک بیٹھا۔ یہ بہت بےادب اور گستاخ آدمی تھا۔ اُس نے ایک دن چند لولے لنگڑے اندھے اکٹھے کر لئے اور لا کر بٹھا دیئے۔ اور کہا کہ آپ کو مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔ ان پر ہاتھ پھیر کر اچھا کر دیں اور اگر ایسا ہو گیا تو ہم اپنی کچھ اصلاح کر لیں گے۔ اس وقت جماعت میں ایک سناٹا پیدا ہو گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جواباً ارشاد فرمایا۔ کہ ہمارے ایمان کی علامت جو قرآن شریف نے بیان فرمائی ہے۔ یعنی استجابت دعا اور تین اور علامتیں حضور نے بیان فرمائیں۔ یعنی فصاحت و بلاغت اور فہم قرآن اور امور غیبیہ کی پیشگوئیاں۔ اس میں ہماری تم آزمائش کر سکتے ہو اور اس جلسہ میں کر سکتے ہو۔ لیکن مسیح نے تمہارے ایمان کی علامت یہ قرار دی ہے کہ اگر تم میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا تو لنگڑوں لولوں کو چنگا کر دو گے اور پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہلا سکو گے۔ لیکن میں تم سے اتنے بڑے نشان تو نہیں مانگتا۔ میں ایک جوتی الٹی ڈالتا ہوں اگر وہ تمہارے اشارے سے سیدھی ہو جائے تو میں سمجھوں گا کہ تم میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہے۔ اس وقت جس قدر مسلمان تھے۔ خوش ہو گئے اور فریق ثانی مارٹن کلارک کے ہوش گم ہو گئے۔

﴿1044﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ آتھم کے مناظرہ میں آخری دن جب آتھم کو پیشگوئی سنائی گئی تو اس کا رنگ بالکل زرد ہو گیا اور دانتوں میں زبان دے کر گردن ہلا کر کہنے لگا کہ میں نے حضرت محمد صاحب کو دجّال نہیں کہا۔ حالانکہ اپنی کتاب ”اندرونہ بائیبل“ میں اس نے یہ لفظ لکھا تھا۔ پھر آتھم اٹھا اور گر پڑا۔ حالانکہ وہ بہت قوی آدمی تھا۔ پھر دو عیسائیوں نے اس کی بغلوں میں ہاتھ دے کر اسے اٹھایا۔ ایک شخص جگن ناتھ عیسائی تھا۔ وہ مجھ سے اکثر باتیں کرتا تھا۔ میں نے اسے کہا کہ یہ کیا ہو گیا؟ وہ کہنے لگا کہ آتھم بے ایمان ہو گیا ہے اور ڈر گیا ہے۔ پھر جب ہم اپنی جگہ واپس آئے ۔ غالباً کریم بخش ایک رئیس کی کوٹھی پر ہم ٹھہرے ہوئے تھے تو کرنل الطاف علی خاں ہمارے ساتھ ہو لئے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں حضرت صاحب سے تخلیہ میں ملنا چاہتا ہوں۔ کرنل صاحب کوٹ پتلون پہنے اور ڈاڑھی مونچھ منڈائے ہوئے تھے۔ میں نے کہا کہ آپ اندر چلے جائیں۔ باہر سے ہم کسی کو آنے نہ دیں گے۔ چنانچہ کرنل صاحب اندر چلے گئے اور آدھ گھنٹہ کے قریب حضرت صاحب کے پاس تخلیہ میں رہے۔ کرنل صاحب جب باہر آئے تو چشم پُر آب تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے کیا باتیں کیں جو ایسی حالت ہے۔ وہ کہنے لگے کہ جب میں اندر گیا تو حضرت صاحب اپنے خیال میں بوریے پر بیٹھے ہوئے تھے حالانکہ بوریہ پر صرف آپ کا گھٹنا ہی تھا اور باقی حصہ زمین پر تھا۔ میں نے کہا حضور زمین پر بیٹھے ہیں! اور حضور نے یہ سمجھا کہ غالباً میں (کرنل صاحب) بوریے پر بیٹھنا پسند نہیں کرتا اس لئے حضور نے اپنا صافہ بوریے پر بچھا دیا کہ آپ یہاں بیٹھیں۔ یہ حالت دیکھ کر میرے آنسو نکل پڑے۔ اور میں نے عرض کی کہ اگرچہ میں ولایت میں Baptize ہو چکا ہوں (یعنی عیسائیت قبول کر چکا ہوں) مگر اتنا بے ایمان نہیں ہوں کہ حضور کے صافے پر بیٹھ جاؤں۔ حضور فرمانے لگے کہ کچھ مضائقہ نہیں۔ آپ بلا تکلف بیٹھ جائیں۔ میں نے صافے کو ہاتھ سے ہٹا کر بوریہ پر بیٹھ گیا۔ اور میں نے اپنا حال سنانا شروع کیا۔ کہ میں شراب بہت پیتا ہوں اور دیگر گناہ بھی کرتا ہوں، خدا، رسول کا نام نہیں جانتا۔ لیکن میں آپ کے سامنے اس وقت عیسائیت سے توبہ کر کے مسلمان ہوتا ہوں۔ مگر جو عیوب مجھے لگ گئے ہیں ان کو چھوڑنا مشکل معلوم ہوتا ہے۔ حضور نے فرمایا۔ استغفار پڑھا کرو۔ اور پنجگانہ نماز پڑھنے کی عادت ڈالو۔ جب تک میں حضور کے پاس بیٹھا رہا۔ میری حالت دگرگوں ہوتی رہی اور میں روتا رہا۔ اور اسی حالت میں اقرار کر کے کہ میں استغفار اور نماز ضرور پڑھا کروں گا، آپ کی اجازت لے کر آ گیا۔ وہ اثر میرے دل پر اب تک ہے۔

چونکہ کرنل صاحب بہت آزاد طبع آدمی تھے۔ اس واقعہ سے دو تین سال بعد ایک دفعہ مجھ سے ملے اور انہوں نے کہا کہ استغفار اور نماز میں نے اب تک نہیں چھوڑی۔ یہ ضرور ہے کہ باہر اگر میں سیر کو چلا گیا اور نماز کا وقت آ گیا تو میں چلتے چلتے نماز پڑھ لیتا ہوں۔ ورنہ مقام پر نماز اور قرآن شریف پڑھتا ہوں۔ ہاں دو وقت کی نمازیں ملا لیتا ہوں۔ اور کرنل صاحب نے یہ بھی کہا کہ میں نے ایک دفعہ پچاس روپے حضور کو بھیجے اور مجھے اس کی خوشی ہوئی کہ حضور نے قبول فرما لئے۔

﴿1045﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ عبد اللہ آتھم کی پیشگوئی کی میعاد کے جب دو تین دن رہ گئے تو محمد خان صاحب مرحوم اور منشی اروڑ ا صاحب مرحوم اور میں قادیان چلے گئے اور بہت سے دوست بھی آئے ہوئے تھے۔ سب کو حکم تھا کہ پیشگوئی کے پورا ہونے کے لئے دعائیں مانگیں۔ مرزا ایوب بیگ مرحوم برادر ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب اس قدر گریہ وزاری سے دعا مانگتا تھا کہ بعض دفعہ گر پڑتا تھا۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ محمد خان اور منشی اروڑا صاحب اور میں مسجد مبارک کی چھت پر سویا کرتے تھے۔ آخری دن میعاد کا تھا کہ رات کے ایک بجے کے قریب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمارے پاس تشریف لائے کہ ابھی الہام ہوا ہے کہ اس نے رجوع الی الحق کر کے اپنے آپ کو بچا لیا ہے۔ منشی اروڑا صاحب مرحوم نے مجھ سے، محمد خان صاحب سے اور اپنے پاس سے کچھ روپے لے کر جو تیس پینتیس کے قریب تھے، حضور کی خدمت میں پیش کئے کہ حضور اس کے متعلق جو اشتہار چھپے وہ اس سے صرف ہوں۔ حضور بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ ہم تمہارے روپے سے ہی اشتہارات چھپوائیں گے۔ ہم نے عرض کی کہ ہم اور بھی روپے بھیجیں گے۔ ہم نے اسی وقت رات کو اُتر کر بہت سے آدمیوں سے ذکر کیا کہ وہ رجوع بحق ہو کر بچ گیا۔ اور صبح کو پھر یہ بات عام ہوگئی۔ صبح کو ہندو مسلمانوں کا ایک بہت بڑا مجمع ہو گیا کہ معلوم کریں کہ آتھم مر گیا یا نہیں۔ پھر ان لوگوں کو یہ الہام سنایا گیا۔ اس کے بعد ہم اجازت لے کر قادیان سے امرتسر آئے اور امرتسر میں آ کر دیکھا کہ عیسائیوں نے آتھم کا جلوس نکالا ہوا ہے۔ ایک ڈولا سا تھا جس میں آتھم بیٹھا ہوا تھا اور اس ڈولہ کو اُٹھایا ہوا تھا اور وہ چپ چاپ ایک طرف گردن ڈالے بیٹھا تھا۔ پھر ہم کپور تھلہ چلے آئے۔ بہت سے آدمیوں نے مجھ سے چھیڑ چھاڑ بھی کی۔ ہم جب امرتسر قادیان سے گئے تھے تو شائع شدہ اشتہار لوگوں کو دیئے کیونکہ ہم تین دن قادیان ٹھہرے تھے اور یہ اشتہار چھپ گئے تھے۔

﴿1046﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں پہلی دفعہ ۱۸۹۱ء میں قادیان گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک فینس میرے لئے اور ایک بہلی بھیجی تھی۔ سابقہ ڈاکخانہ سے نکل کر جو راستہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکان کو جاتا تھا جواب بھی ہے جہاں محمد اسماعیل صاحب جلد ساز کا مکان ہے اور پھر مفتی محمد صادق صاحب کے مکان کے پاس احمدیہ چوک کی طرف مڑتا ہے۔ جس کے مشرقی طرف مدرسہ احمدیہ ہے اور مغربی طرف دکانیں ہیں اس تمام راستہ میں ایک پہیہ خشکی میں اور دوسرا پانی میں یعنی جوہڑ میں سے گزرتا تھا اور یہ حد آبادی تھی۔ اور میرے مکان کے آگے ایک ویرانہ تھا۔ اور گلی چھت کر بنا ہوا کمرہ میری فرووگاہ تھی اور یہ ادھر حد آبادی تھی۔ دسمبر ۱۸۹۲ء میں میں قادیان گیا تو مدرسہ احمدیہ۔ مہمان خانہ اور حضرت خلیفۃ المسیح اولؓ کے مکان کی بنیادیں رکھی ہوئی تھیں۔ اور یہ ایک لمبا سا چبوترا بنا ہوا تھا۔ اسی پر جلسہ ہوا تھا۔ اور کسی وقت گول کمرہ کے سامنے جلسہ ہوتا تھا۔ (یہ چبوترا ڈھاب میں بھرتی ڈال کر بنایا گیا تھا) اور اس کے بعد جتنے مکان بنے ہیں ڈھاب میں بھرتی ڈال کر بنائے گئے ہیں۔

﴿1047﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ غالباً پہلی یا دوسری دفعہ میرے قادیان آنے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مغرب کے بعد میرے ہاں تشریف لائے تو آپ موم بتی لے کر اس کی روشنی میں آئے۔ میرے ملازم صفدر علی نے چاہا کہ بتی کو بجھا دیا جائے تا کہ بے فائدہ نہ جلتی رہی۔ اس پر آپ نے فرمایا۔ جلنے دوروشنی کی کمی ہے۔ دنیا میں تاریکی تو بہت ہے (قریب قریب الفاظ یہ تھے)

﴿1048﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ آتھم کے واقعہ کے چھ ماہ بعد میں قادیان گیا تو وہاں پر شمس الدین صاحب سیکرٹری انجمن حمایت اسلام بھی ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہ احمدی نہ تھے۔ قادیان سے میں اور شمس الدین صاحب امرتسر آئے۔ میاں قطب الدین صاحب امرتسری جو بہت مخلص آدمی تھے۔ اُن سے ملنے گئے تو انہوں نے کہا کہ یہاں پر ایک عیسائی ہے اس کے پاس عبداللہ آتھم کی تحریر موجود ہے جس میں آتھم نے اقرار کیا ہے کہ اس نے ضرور رجوع بحق کیا ہے اور وہ خائف رہا اور وہ اُن لوگوں کے ساتھ ہر گز نہیں جو مرزا صاحب کی ہتک کرتے ہیں۔ آپ کو بزرگ جانتا ہے۔ یہ سن کر ہم تینوں اس عیسائی کے پاس گئے۔ اور اُس سے وہ تحریر مانگی۔ اس نے دور سے دکھائی اور پڑھ کر سنائی۔ اور یہ کہا کہ یہ خاص آتھم کے قلم کی تحریر ہے جو چھپوانے کی غرض سے اس نے بھیجی تھی مگر

عیسائیوں نے اجازت نہیں دی کہ اس کو چھاپا جائے۔ میرے پاس امانتاً رکھی ہوئی ہے۔ عیسائی مذکور نے چند شرائط پر وہ تحریر دینے کا اقرار کیا کہ اس کی نوکری جاتی رہے گی۔ اس کا انتظام اگر ہم کریں۔ پانچ سو روپیہ دیں اور اس کی دولڑکیوں کی شادی کا بندوبست کریں۔ شمس الدین صاحب نے اس کا انتظام کیا۔ اور پھر ہم تینوں اس کے پاس گئے تو معلوم ہوا کہ یہ راز افشاء ہو گیا ہے اور اسے عیسائیوں نے کوہاٹ یا کسی اور جگہ تبدیل کر دیا ہے۔

﴿1049﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں اپنے وطن بڈھانہ ضلع مظفر نگر جارہا تھا تو انبالہ سٹیشن پر ایک بڑا پادری فیروز پور سے آرہا تھا۔ جبکہ آتھم فیروز پور میں تھا۔ پادری مذکور کے استقبال کے لئے بہت سے پادری موجود تھے۔ وہ جب اُترا تو پادریوں نے انگریزی میں اس سے آتھم کا حال پوچھا۔ اس نے کہا۔ وہ تو بے ایمان ہو گیا۔ نمازیں بھی پڑھتا ہے۔ بابو محمد بخش صاحب ہیڈ کلرک جو احمدی تھے۔ اور میرے ملنے کے لئے اسٹیشن پر آئے ہوئے تھے کیونکہ میں نے اُن کو اطلاع دے دی تھی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ انہوں نے پوچھا ہے اور یہ اس نے جواب دیا ہے میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں واقعہ تحریر آتھم والا اور انبالہ سٹیشن والا عرض کیا۔ آپ نے ہنس کر فرمایا کہ گواہ تو سب احمدی ہیں۔ حضور کا مطلب یہ تھا کہ غیر کب اس شہادت کو مانیں گے۔ شیخ محمد احمد صاحب وکیل پسر منشی ظفر احمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے والد صاحب سے پوچھا کہ شمس الدین صاحب تو احمدی نہ تھے۔ جس کا جواب والد صاحب نے یہ دیا کہ دراصل حضور نے اس امر کو قابل توجہ نہیں سمجھا اور درخور اعتنا خیال نہ فرمایا۔

﴿1050﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا۔ میں ۱۹۰۱ء میں معہ اہل وعیال قادیان آگیا اور پھر مستقل رہائش اختیار کر لی۔ اُن دنوں میں ایک رسالہ ابتدائی جماعت کے لئے نماز کے متعلق لکھ رہا تھا۔ اُس میں میں نے ارکان نماز کا مختصر ذکر کیا تو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا کہ پانچ ارکان ایمان یعنی (۱) اللہ تعالیٰ (۲) فرشتے (۳) اللہ کی کتابیں (۴) اللہ کے رسول (۵) آخرت کے ساتھ ”قدر خیرہ و شرہ“ کا مفہوم بھی درج کیا جائے یا نہیں ۔ یہ میں نے حضرت مولانا مولوی نور الدین خلیفۃ المسیح الاول کے ذریعہ دریافت کیا اور مغرب کے بعد عشاء تک جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف رکھا کرتے تھے۔ اُس وقت دریافت کیا تھا۔ اس وقت مسجد مبارک وسیع نہ ہوئی تھی۔ اور اس کی شکل یہ تھی۔

۱۔ امام کے کھڑے ہونے کی جگہ ۲۔ مسجد مبارک ۳۔ یہ کوٹھڑی بھی شامل مسجد ہو گئی تھی۔ ۴۔ دفتر ریویو۔ مولوی محمد علی صاحب یہاں بیٹھا کرتے تھے۔ ابتداء میں یہ غسل خانہ تھا اور گہرا تھا۔ تخت بچھا کر مسجد کے برابر کر لیا تھا۔ زیادہ لوگ ہوتے تو امام کے پاس بھی دو آدمی کھڑے ہو جاتے تھے۔ اور مولوی محمد علی صاحب کے دفتر میں بھی چند آدمی کھڑے ہو جاتے تھے۔ مگر جس وقت کا میں ذکر کرتا ہوں ۔ اس وقت یہ دفتر نہ بنا تھا۔ اس لئے صرف نمبر ۱، نمبر ۲، نمبر ۳ میں ہی نماز ہوتی تھی۔

میں مولوی عبدالکریم صاحب کے پاس بیٹھا تھا جو امام نماز تھے اور حضرت خلیفۃ المسیح اول بھی وہاں بیٹھے ہوتے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقام (الف) پر بیٹھا کرتے تھے اور دریچہ (ب) میں سے ہو کر مسجد میں آتے تھے۔ میرے دریافت کرنے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سمجھا کہ میں تقدیر کا قائل نہیں۔ اس پر لمبی تقریر فرمائی جو غالباً الحکم میں درج ہوگی۔ میں نے پھر بذریعہ مولانا صاحب عرض کیا کہ میں تقدیر کا قائل ہوں اور اللہ تعالیٰ پر مع جمیع صفات ایمان رکھتا ہوں۔ اور اسے قادر وقدیر مانتا ہوں مگر میری عرض یہ ہے کہ باقی ماندہ صفات کو چھوڑ کر قدر خیر و شر کو کیوں الگ طور سے لکھا جائے ۔ یا تو تمام صفات کو لکھا جائے یا یہ بھی نہ ہو۔ تو آپ نے فرمایا۔ یہ الگ طور پر نہ لکھی جائے۔

﴿1051﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پردہ کے متعلق دریافت کیا۔ اس وقت میں ایک کام کے لئے حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ اس وقت صرف میں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی تھے۔ اور یہ اس مکان کا صحن تھا جو حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کے رہائشی مکان کا صحن تھا۔ اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے جنوبی جانب بڑے کمرے کی چھت پر تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس وقت وہاں تشریف رکھتے تھے۔ حضور نے اپنی دستار کے شملہ سے مجھے ناک کے نیچے کا حصہ اور منہ چھپا کر بتایا کہ ماتھے کو ڈھانک کر اس طرح ہونا چاہئے ۔ گویا آنکھیں کھلی رہیں اور باقی حصہ ڈھکا رہے۔ اس سے قبل حضرت مولانا نور الدین صاحبؓ سے میں نے ایک دفعہ دریافت کیا تھا تو آپ نے گھونگھٹ نکال کر دکھلایا تھا۔

﴿1052﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مباحثہ آتھم میں فریقین کی تقاریر جو قلمبند ہوتی تھیں۔ دونوں فریق کے کاتبانِ تحریر آپس میں اُن کا مقابلہ کر لیتے تھے۔ کبھی اُن کے کاتب آجاتے ، کبھی میں جاتا۔ ایک دفعہ میں مضمون کا مقابلہ کرانے کے لئے آتھم کے مکان پر گیا۔ جا کر بیٹھا ہی تھا کہ آتھم نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں کے رہنے والے ہیں۔ میں نے کہا قصبہ بڈھانہ ضلع مظفر نگر کا۔ اس نے کہا! وہاں کے منشی عبدالواحد صاحب منصف ایک میرے دوست تھے۔ میں نے کہا کہ وہ میرے چچا تھے۔ پھر کسی جگہ کا آتھم نے ذکر کیا کہ میں وہاں کا ڈپٹی تھا اور منشی عبدالواحد صاحب بھی وہاں منصف یا تحصیلدار تھے اور میرا اُن کا بڑا تعلق تھا۔ اور وہ بھی اپنے آپ کو ملہم سمجھتے تھے۔ تم تو میرے بھتیجے ہوئے ۔ اور وہ اپنی مستورات کو لے آیا اور اُن سے ذکر کیا کہ یہ میرے بھتیجے ہیں۔ ان کی خاطر کرنی چاہئے ۔ چنانچہ اُسی وقت مٹھائی وغیرہ لائی گئی۔ میں نے کہا کہ میں یہ نہیں کھا سکتا۔ کیونکہ ہمارے حضرت صاحب نے بعض عیسائیوں کی دعوت کو قبول نہیں کیا تھا اور فرمایا تھا کہ تم ہمارے آقا اور مولا کی ہتک کرتے ہو تو ہم تمہاری دعوت کیسے قبول کر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے میں بھی چائے نہیں پی سکتا۔ وہ کہتا رہا کہ احمدی ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ بھتیجا ہونے کی وجہ سے دعوت کرتے ہیں۔ اس کے بعد میں مضمون کا مقابلہ کرائے بغیر وہاں سے چلا آیا اور حضور کی خدمت میں یہ واقعہ عرض کیا۔ حضور نے فرمایا! کہ آپ نے بہت اچھا کیا۔ اب تمہیں وہاں جا کر مقابلہ کرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہیں خواہش ہو تو خود آجایا کریں۔

﴿1053﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ بیعتِ اولٰی سے پہلے کا ذکر ہے کہ میں قادیان میں تھا۔ فیض اللہ چک میں کوئی تقریب شادی یا ختنہ تھی۔ جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مع چند خدام کے مدعو کیا گیا۔ ان کے اصرار پر حضرت صاحب نے دعوت قبول فرمائی۔ ہم دس بارہ آدمی حضور کے ہمراہ فیض اللہ چک گئے۔ گاؤں کے قریب ہی پہنچے تھے کہ گانے بجانے کی آواز سنائی دی جو اس تقریب پر ہو رہا تھا۔ یہ آواز سنتے ہی حضور لوٹ پڑے۔ فیض اللہ چک والوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے آ کر بہت التجاء کی مگر حضور نے منظور نہ فرمایا۔ اور واپس ہی چلے آئے۔ راستہ میں ایک گاؤں تھا مجھے اس کا نام اس وقت یاد نہیں۔ وہاں ایک معزز سکھ سردارنی تھی۔ اُس نے بمنتّ حضور کی دعوت کی۔ حضور نے فرمایا۔ قادیان قریب ہی ہے۔ مگر اس کے اصرار پر حضور نے اس کی دعوت قبول فرمالی اور اس کے ہاں جا کر سب نے کھانا کھایا۔ اور تھوڑی دیر آرام کر کے حضور قادیان واپس تشریف لے آئے۔ ہمراہیان کے نام جہاں تک یاد ہے یہ ہیں۔ مرزا اسماعیل صاحب شیر فروش، حافظ حامد علی، علی بخش حجام جس نے عطاری کی دکان کی ہوئی تھی۔ اور بھی چند آدمی تھے۔

﴿1054﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ پٹیالہ کے بعض عیسائیوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور یہ بات پیش کی کہ ہم ایک لفافے میں مضمون لکھ کر میز پر رکھ دیتے ہیں۔ آپ اسے دیکھے بغیر اس کا مضمون بتا دیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا! ہم بتا دیں گے۔ آپ وہ مضمون لکھ کر رکھیں۔ اس پر انہوں نے جرأت نہ کی۔ اس قدر واقعہ میرا چشم دید نہیں۔ البتہ اس واقعہ کے بعد حضرت صاحب نے ایک اشتہار شائع فرمایا تھا جو حنائی کاغذ پر تھا۔ وہ اشتہار میں نے پڑھا تھا جس میں یہ واقعہ درج تھا اور حضور نے یہ شرط پیش کی تھی کہ اگر ہم لفافے کا مضمون بتا دیں تو مسلمان ہونا ہو گا۔ یہ واقعہ ابتدائی ایام کا اور بیعتِ اولیٰ سے پہلے کا ہے۔

﴿1055﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میری دوسری بیوی کے انتقال پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتوسل حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب راولپنڈی کے ایک تاجر صاحب کی سالی سے میرا رشتہ کرنا چاہا۔ مجھے یہ رشتہ پسند نہ تھا کیونکہ مجھے اُن کے اقرباء اچھے معلوم نہ ہوتے تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ رشتہ بہت پسند تھا۔ بلکہ یہاں تک زور دیا، خود تو نہیں فرمایا مگر پیغامبر کی معرفت فرمایا کہ اگر یہ رشتہ میں منظور نہ کروں گا تو آپ میرے رشتہ کے متعلق کبھی دخل نہ دیں گے۔ مگر اُن تاجر صاحب نے خود یہ بات اُٹھائی کہ ان کی سالی بہنوئیوں سے پردہ نہ کرے گی اور سخت پردہ کی پابند نہ ہوگی (میرے متعلق یہ کہا کہ) سنا جاتا ہے کہ نواب صاحب پردہ میں سختی کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میرے پاس میرے مکان پر خود تشریف لائے اور فرمایا کہ وہ یہ کہتے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ قرآن شریف میں جو فہرست دی گئی ہے میں اس سے تجاوز نہیں چاہتا۔ فرمانے لگے کہ کیا بہنوئی سے بھی پردہ ہے۔ میں نے عرض کی کہ حضور مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے۔ قرآن شریف کی فہرست میں بہنوئی داخل نہیں۔ آپ خاموش ہو گئے اور پھر اس رشتہ کے متعلق کچھ نہیں فرمایا۔ اور وہ تاجر صاحب بھی چلے گئے۔

﴿1056﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جالندھر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تقریباً ایک ماہ قیام پذیر رہے۔ بیعتِ اولیٰ سے تھوڑے عرصہ بعد کا یہ ذکر ہے۔ ایک شخص جو ہندو تھا اور بڑا ساہوکار تھا وہ جالندھر حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کی کہ میں حضور کی مع تمام رفقاء کے دعوت کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فوراً دعوت قبول فرمالی۔ اُس نے کھانے کا انتظام بستی بابا خیل میں کیا اور بہت پر تکلف کھانے پکوائے۔ جالندھر سے پیدل چل کر حضور مع رفقاء گئے۔ اُس ساہوکار نے اپنے ہاتھ سے سب کے آگے دسترخوان بچھایا۔ اور لوٹا اور سلاپچی لے کر خود ہاتھ دُھلانے لگا۔ ہم میں سے کسی نے کہا کہ آپ تکلیف نہ کریں تو اُس نے کہا کہ میں نے اپنی نجات کا ذریعہ محض یہ سمجھا ہے کہ میری یہ ناچیز خدمت خدا قبول کرلے۔ غرض بڑے اخلاص اور محبت سے وہ کھانا کھلاتا رہا۔ کھانا کھانے کے بعد اُس نے حضرت صاحب سے عرض کی کہ کیا خدا میرے اس عمل کو قبول کرے گا، مجھے نجات دے گا؟ حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ذرہ نواز ہے۔ تم خدا کو وحدہ لاشریک یقین کرو اور بتوں کی طرف بالکل توجہ نہ کرو اور اپنی ہدایت کے لئے خدا سے اپنی زبان میں ہی دعا مانگتے رہا کرو۔ اُس نے کہا کہ میں ضرور ایسا کروں گا۔ حضور بھی میرے لئے دعا مانگتے رہیں۔ پھر ہم واپس جالندھر آگئے اور وہ ساہوکار دوسرے تیسرے دن آتا اور بڑے ادب کے ساتھ حضور کے سامنے بیٹھ جاتا۔

﴿1057﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جالندھر میں قیام کے ایام میں ایک دن ایک ضعیف العمر مسلمان غالباً وہ بیعت میں داخل تھا اور اس کا بیٹا نائب تحصیلدار تھا، اس بیٹے کو لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اُس نے شکایت کی کہ یہ میرا بیٹا میری یا اپنی ماں کی خبر گیری نہیں کرتا اور ہم تکلیف سے گزارا کرتے ہیں۔ حضور نے مسکرا کر اُس کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَیُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّیَتِیۡمًا وَّاَسِیۡرًا(الدهر: ۹)۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ جب کوئی شخص اپنے ماں باپ، اولاد اور بیوی کی خبر نہ لے۔ تو وہ بھی اس حکم کے نیچے مساکین (ماں باپ) یتامیٰ (بچے) اسیر (بیوی) میں داخل ہو جاتے ہیں۔ تم خدا تعالیٰ کا یہ حکم مان کر ہی آئندہ خدمت کرو۔ تمہیں ثواب بھی ہوگا اور ان کی خبر گیری بھی ہو جائے گی۔ اُس نے عہد کیا کہ آج سے میں اپنی کل تنخواہ ان کو بھیج دیا کروں گا۔ یہ خود مجھے میرا خرچ جو چاہیں بھیج دیا کریں پھر معلوم ہوا کہ وہ ایسا ہی کرتا رہا۔

﴿1058﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ دوران قیام جالندھر میں ایک شخص جو مولوی کہلاتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بحث کرنے کی غرض سے آیا۔ حضور نے فرمایا کہ آپ صبح کے وقت آجائیں۔ اُس نے کہا کہ صبح کو مجھے فرصت نہیں ہوتی۔ میں بھی اُس شخص کو جانتا تھا۔ میں نے کہا۔ یہ شخص واقعی صبح کو مشغول ہوتا ہے کیونکہ شراب نوشی کا عادی ہے۔ اس پر حاضرین تو مسکرا پڑے۔ لیکن حضور نے صرف اس قدر فرمایا کہ آپ اپنے شکوک رفع کرنے کے لئے کوئی اور وقت مقرر کر لیں۔

﴿1059﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جالندھر میں زیادہ عرصہ قیام جب رکھا تو دوست احباب ٹھہر کر چلے جاتے تھے۔ لیکن مولوی عبداللہ صاحب سنوری اور خاکسار برابر ٹھہرے رہے ۔ ایک دن میں نے اور مولوی صاحب مرحوم نے ارادہ کیا کہ وہ میرے لئے اور میں اُن کے رخصت ہونے کی اجازت حاصل کریں۔ صبح کو حضور سیر کے لئے تشریف لائے اور آتے ہی فرمایا۔ لوجی میاں عبداللہ صاحب اور منشی صاحب! اب تو ہم اور آپ ہی رہیں گے اور دوست تو چلے گئے ۔ نئے نو دن پرانے سو دن۔ بس پھر ہم خاموش ہو گئے اور ٹھہرے رہے۔

﴿1060﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ابتداء میں جب میں قادیان مستقل طور پر رہنے لگا تو مرزا نظام الدین صاحب کے ہاں باہر سے برات آئی تھی۔ اس کے ساتھ کنچنی بھی تھی اور ناچ وغیرہ ہوتا تھا۔ میں ایسی شادی کی رسوم میں نہ خود شریک ہوتا ہوں اور نہ اپنی کوئی چیز دیتا ہوں۔ مرزا نظام الدین نے مجھ سے غالباً کچھ دریاں اور چکیں مانگی تھیں۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا۔ دے دو کیونکہ اس شادی سے اغلب ہے کہ دولہا کی اصلاح ہو گی۔

﴿1061﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مرزا خدا بخش صاحب کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ انہوں نے لڈو میرے ہاں بھیجے۔ میں نے واپس کر دیئے کہ عقیقہ کا کھانا تو میں لے لوں گا مگر یہ میں نہیں لیتا۔ تھوڑے عرصہ بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہ رکابی خود لئے تشریف لائے اور فرمایا کہ بات ٹھیک ہے جو تم نے کہی۔ یہ بچہ کی پیدائش کے لڈو نہیں۔ بلکہ اس شکریہ کے ہیں کہ ماں کی جان بچ گئی۔ میں نے نہایت تکریم سے وہ رکابی لے لی۔ اُس وقت میرے مکان زنانہ کے صحن میں ایک دروازہ تھا اس پر کھڑے کھڑے یہ باتیں ہوئیں۔

﴿1062﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جالندھر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر تقریر فرمارہے تھے۔ اس وقت ایک انگریز جو بعد میں معلوم ہوا کہ سپرنٹنڈنٹ پولیس تھا، آگیا اور ٹوپی اتار کر سلام کیا اور حضور کی تقریر سننے کے لئے کھڑا رہا اور باوجودیکہ اس کے بیٹھنے کے لئے کرسی وغیرہ بھی منگوائی گئی مگر وہ نہ بیٹھا۔ عجیب بات تھی کہ وہ تقریر سنتا ہوا۔ سبحان اللہ سبحان اللہ کہتا تھا۔ تھوڑا عرصہ تقریر سن کر سلام کر کے وہ چلا گیا۔ اس کے بعد قریباً دوسرے تیسرے دن جب حضور سیر کو تشریف لے جاتے تو ایسا اتفاق ہوتا کہ وہ راستہ میں گھوڑے پر سوار مل جاتا اور گھوڑے کو ٹھہرا کر ٹوپی اتار کر سلام کرتا۔ یہ اس کا معمول تھا۔

﴿1063﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جالندھر میں مولوی عبدالکریم صاحب نے ایک دفعہ مجھے فرمایا۔ یا ظفر المظفر (وہ دوستانہ بے تکلفی میں مجھے اس نام سے مخاطب فرمایا کرتے تھے) ذرا جالندھر کی سیر تو کراؤ۔ چنانچہ ہم چل پڑے۔ راستہ میں دیکھا کہ گویا ایک برات آرہی ہے اور اس کے ساتھ دیسی اور انگریزی باجا اور طوائف وغیرہ آرہے ہیں۔ اُن کے پیچھے ایک شخص گھوڑے پر سوار بٹیرے کا پنجرہ ہاتھ میں لئے آرہا تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ تمام جلوس اسی بٹیرے کے لڑائی جیتنے کی خوشی میں ہے۔ میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ یہ برات ورات نہیں۔ یہ تو بٹیرے کی کشتی جیتنے کی خوشی ہے۔ مولوی عبدالکریم صاحب یہ دیکھ کر سڑک پر ہی سجدہ میں گر پڑے اور سخت مغموم ہوئے۔ بوجہ مسلمانوں کی اس ابتر حالت کے۔ اور یہی فرماتے رہے کہ اوہو! مسلمانوں کی حالت اس درجہ پر پہنچ گئی ہے۔ ہم واپس آگئے۔

﴿1064﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام جالندھر میں مقیم تھے تو انہیں دنوں میر عباس علی صاحب بھی اپنے کسی مرید کے ہاں آکر جالندھر میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ حضرت صاحب نے مجھے فرمایا کہ وہ آپ کے پرانے ملنے والے ہیں اُن کو جا کر کچھ سمجھاؤ۔ پیراں دتا جو کہ فاتر العقل سا شخص تھا اور حضرت صاحب کے پاس رہتا تھا۔ اس نے کہا ”جو رمیں وی جا کے سمجھاواں“ حضرت صاحب نے فرمایا۔ ہاں منشی صاحب کے ساتھ چلے جاؤ۔ میں میر عباس علی کی قیام گاہ پر گیا۔ آٹھ دس آدمی فرش پر بیٹھے تھے اور میر صاحب چارپائی پر۔ ایک تخت بھی وہاں تھا۔ ڈوروں میں پوست بھیگے ہوئے تھے۔ پیراں دتا کو دیکھ کر میر عباس علی نے اُسے بے تکلفانہ پکارا۔ اوپر اں دتا، اوپر اں دتا، اور مجھ سے السلام علیکم کر کے ہنستے ہوئے، آئیے آئیے کہہ کر بیٹھنے کو کہا۔ پیراں دتا مجھ سے کہنے لگا۔ میں پہلے سمجھالوں۔ میں نے کہا سمجھالے۔ پیراں دتا کہنے لگا۔ میر صاحب! میں تمہیں دونوں وقت کھانا پہنچاتا تھا یا نہیں؟ اور تمہیں کبھی کبھی میں پیسے بھی دیا کرتا تھا یا نہیں؟ میر صاحب اب بڑے آدمی دور دور سے روٹی کھانے والے آتے ہیں۔ اب جو تم روٹیوں کی خاطر ادھر ادھر پھرتے ہو یہ وقت اچھا ہے یا وہ جب گھر بیٹھے میں تمہیں روٹی دے جایا کرتا تھا۔ اب تم میرے ساتھ چلو۔ میں تمہیں روٹی دونوں وقت دے جایا کروں گا۔ میر عباس علی ہنستے رہے۔ پھر میں نے اُن سے کہا کہ آپ کیوں برگشتہ ہو گئے۔ وہ کہنے لگا کہ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ یہ جسم آسمان پر نہیں جاسکتا۔ میں نے اپنے پیر کو خود دیکھا ہے (مولوی غوث علی پانی پتی ان کے پیر تھے ) کہ ایک دفعہ انہوں نے الا اللہ کا جو نعرہ مارا تو زمین شق ہوگئی اور وہ اس میں سما گئے۔ میں نے کہا کہ اوپر تو پھر بھی نہ گئے۔ اور وہاں قرآن شریف رکھا تھا۔ میں نے اُٹھا کر میر صاحب کے سر پر رکھ دیا کہ آپ خدا کو حاضر و ناظر جان کر بتائیں کہ آپ نے یہ واقعہ خود دیکھا ہے۔ وہ کہنے لگا کہ ہمارے پیر نے جب یہ بیان کیا کہ انہوں نے ایک دفعہ ایسا کیا۔ اور ہم انہیں سچا سمجھتے ہیں۔ تو یہ چشم دید ماجرا ہی ہوا۔ غرضیکہ جہاں تک ہوسکا۔ میں نے اُن کو سمجھایا۔ مگر اس وقت ان کی حالت بہت بگڑ چکی تھی۔ وہ اقراری نہ ہوئے۔

﴿1065﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ پہلے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کو تشریف لے جاتے تو میرا انتظار فرماتے۔ بعض دفعہ بہت دیر بھی ہو جاتی مگر جب سے مبارکہ بیگم صاحبہ کا نکاح مجھ سے ہوا تو آپ نے پھر میرا انتظار نہیں کیا۔ (یا تو حیا فرماتے۔ اور اس کی وجہ سے ایسا نہیں کیا یا مجھے فرزندی میں لینے کے بعد فرزند سمجھ کر انتظار نہیں کیا)

﴿1066﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جس مکان میں رہا کرتے تھے اب اس میں حضرت اماں جان علیہا السلام رہتی ہیں۔ اس کے صحن اور میرے مکان کے صحن میں صرف ایک دروازہ حائل تھا۔ گویا اس وقت نقشہ یہ تھا۔

کمرہ نمبر ۱، نمبر ۲، نمبر ۳ میں میری رہائش تھی۔ نمبر ۴ میں مولوی محمد احسن صاحب رہا کرتے تھے۔ نمبر ۵ میرا صحن تھا، نمبر ۶ حضرت صاحب کا صحن تھا۔ اور نمبر ۷ آپ کا رہائشی کمرہ تھا اور نمبر ۸ بیت الفکر تھا۔ اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب کوئی بات کرتے ہمیں سنائی دیتی۔ جب بھی کوئی بات ہو یا عورتوں میں تقریر ہو۔ رات دن میں جب بھی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ذکر آتا تو آپ کے منہ سے یہی نکلتا تھا ”ہمارے رسول کریم، ہمارے نبی کریم“

﴿1067﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مغرب کے بعد مسجد مبارک کی دوسری چھت پر مع چند احباب کھانا کھانے کے لئے تشریف فرما تھے۔ ایک احمدی میاں نظام الدین ساکن لدھیانہ جو بہت غریب آدمی تھے اور ان کے کپڑے بھی دریدہ تھے۔ حضور سے چار پانچ آدمیوں کے فاصلہ پر بیٹھے تھے۔ اتنے میں کئی دیگر اشخاص خصوصاً وہ لوگ جو بعد میں لاہوری کہلائے، آتے گئے اور حضور کے قریب بیٹھتے گئے۔ جس کی وجہ سے میاں نظام الدین کو پرے ہٹنا پڑتا رہا۔ حتیٰ کہ وہ جوتیوں کی جگہ تک پہنچ گیا۔ اتنے میں کھانا آیا۔ تو حضور نے ایک سالن کا پیالہ اور کچھ روٹیاں ہاتھ میں اٹھالیں اور میاں نظام الدین کو مخاطب کر کے فرمایا۔ آؤ میاں نظام الدین! آپ اور ہم اندر بیٹھ کر کھانا کھائیں۔ اور یہ فرما کر مسجد کے صحن کے ساتھ جو کوٹھڑی ہے اس میں تشریف لے گئے اور حضور نے اور میاں نظام الدین نے کوٹھڑی کے اندر ایک ہی پیالہ میں کھانا کھایا۔ اور کوئی اندر نہ گیا۔ جو لوگ قریب آ کر بیٹھتے گئے تھے ان کے چہروں پر شرمندگی ظاہر تھی۔

﴿1068﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک صاحب مولوی عبدالرحیم ساکن میرٹھ قادیان آئے ہوئے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تین دن تک اُن کی ملاقات نہ ہو سکی۔ وجہ یہ تھی کہ جب حضور مسجد مبارک میں بیٹھتے تو عبدالرحیم صاحب تکلف اور آداب کے خیال سے لوگوں کو ہٹا کر اور گزر کر قریب جانا ناپسند کرتے تھے۔ میری یہ عادت تھی کہ بہرحال و بہر کیف قریب پہنچ کر حضور کے پاس جا بیٹھتا تھا۔ عبدالرحیم صاحب نے مجھ سے ظاہر کیا کہ تین دن سے ملاقات نہیں ہو سکی۔ چنانچہ میں نے حضرت صاحب سے یہ بات عرض کی۔ حضور ہنس کر فرمانے لگے کہ کیا یہ آپ سے سبق نہیں سیکھتے۔ اور پھر انہیں فرمایا کہ آجائیے۔ چنانچہ ان کی ملاقات ہو گئی۔

﴿1069﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ دو شخص منی پور آسام سے قادیان آئے اور مہمان خانہ میں آکر انہوں نے خادمان مہمان خانہ سے کہا کہ ہمارے بستر اُتارے جائیں اور سامان لایا جائے۔ چارپائی بچھائی جائے۔ خادمان نے کہا کہ آپ خود اپنا اسباب اتروائیں۔ چارپائیاں بھی مل جائیں گی۔ دونوں مہمان اس بات پر رنجیدہ ہو گئے اور فوراً یکہ میں سوار ہو کر واپس روانہ ہو گئے۔ میں نے مولوی عبدالکریم صاحب سے یہ ذکر کیا تو مولوی صاحب فرمانے لگے۔ جانے بھی دو ایسے جلد بازوں کو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس واقعہ کا علم ہوا تو نہایت جلدی سے ایسی حالت میں کہ جوتا پہننا مشکل ہو گیا۔ حضور ان کے پیچھے نہایت تیز قدم چل پڑے۔ چند خدام بھی ہمراہ تھے۔ میں بھی ساتھ تھا۔ نہر کے قریب پہنچ کر اُن کا یکّہ مل گیا۔ اور حضور کو آتا دیکھ کر وہ یکّہ سے اُتر پڑے اور حضور نے انہیں واپس چلنے کے لئے فرمایا کہ آپ کے واپس ہونے کا مجھے بہت درد پہنچا۔ چنانچہ وہ واپس آئے۔ حضور نے یکہ میں سوار ہونے کے لئے انہیں فرمایا کہ میں ساتھ ساتھ چلتا ہوں مگر وہ شرمندہ تھے اور وہ سوار نہ ہوئے۔ اس کے بعد مہمان خانہ میں پہنچے۔ حضور نے خود اُن کے بستر اُتارنے کے لئے ہاتھ بڑھایا مگر خدام نے اُتار لیا۔ حضور نے اُسی وقت دو نواری پلنگ منگوائے اور اُن پر ان کے بستر کروائے اور اُن سے پوچھا کہ آپ کیا کھائیں گے۔ اور خود ہی فرمایا کیونکہ اس طرف چاول کھائے جاتے ہیں۔ اور رات کو دودھ کے لئے پوچھا۔ غرضیکہ اُن کی تمام ضروریات اپنے سامنے پیش فرمائیں اور جب تک کھانا آیا وہیں ٹھہرے رہے۔ اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ ایک شخص جو اتنی دور سے آتا ہے۔ راستہ کی تکالیف اور صعوبتیں برداشت کرتا ہوا یہاں پہنچ کر سمجھتا ہے کہ اب میں منزل پر پہنچ گیا۔ اگر یہاں آ کر بھی اس کو وہی تکلیف ہو تو یقیناً اس کی دل شکنی ہوگی۔ ہمارے دوستوں کو اس کا خیال رکھنا چاہئے۔ اس کے بعد جب تک وہ مہمان ٹھہرے رہے۔ حضور کا یہ معمول تھا کہ روزانہ ایک گھنٹہ کے قریب اُن کے پاس آ کر بیٹھتے اور تقریر وغیرہ فرماتے۔ جب وہ واپس ہوئے تو صبح کا وقت تھا۔ حضور نے دو گلاس دودھ کے منگوائے اور انہیں فرمایا۔ یہ پی لیجئے۔ اور نہر تک انہیں چھوڑنے کے لئے ساتھ گئے۔ راستہ میں گھڑی گھڑی اُن سے فرماتے رہے کہ آپ تو مسافر ہیں۔ آپ یکے میں سوار ہو لیں۔ مگر وہ سوار نہ ہوئے۔ نہر پر پہنچ کر انہیں سوار کرا کے حضور واپس تشریف لائے۔

﴿1070﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ منشی اروڑا صاحب، محمد خاں صاحب اور خاکسار قادیان سے رخصت ہونے لگے۔ گرمیوں کا موسم تھا اور گرمی بہت سخت تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اجازت اور مصافحہ کے بعد منشی اروڑا صاحب نے کہا کہ حضور گرمی بہت ہے ہمارے لئے دعا فرمائیں کہ پانی ہمارے اوپر اور نیچے ہو۔ حضور نے فرمایا۔ خدا قادر ہے۔ میں نے عرض کی کہ حضور یہ دعا انہیں کے لئے فرمانا کہ ان کے اوپر نیچے پانی ہو۔ قادیان سے یکہ میں سوار ہو کر ہم تینوں چلے تو خاکروبوں کے مکانات سے ذرا آگے نکلے تھے کہ یکدم بادل آ کر سخت بارش شروع ہو گئی۔ اس وقت سڑک کے گرد کھائیاں بہت گہری تھیں۔ تھوڑی دور آگے جا کر یکہ الٹ گیا۔ منشی اروڑا صاحب بدن کے بھاری تھے وہ نالی میں گر گئے اور محمد خاں صاحب اور میں کود پڑے۔ منشی اروڑا صاحب کے اوپر نیچے پانی ہو گیا اور وہ ہنستے جاتے تھے۔

﴿1071﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دن دوپہر کے وقت ہم مسجد مبارک میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ کسی نے اُس کھڑکی کو کھٹکھٹایا جو کوٹھڑی سے مسجد مبارک میں کھلتی تھی۔ میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود تشریف لائے ہیں۔ آپ کے ہاتھ میں ایک طشتری ہے جس میں ایک ران بھنے ہوئے گوشت کی ہے۔ وہ حضور نے مجھے دے دی اور حضور خود واپس اندر تشریف لے گئے۔ اور ہم سب نے بہت خوشی سے اُسے کھایا۔ اس شفقت اور محبت کا اثر اب تک میرے دل میں ہے اور جب بھی اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو میرا دل خوشی اور فخر کے جذبات سے لبریز ہو جاتا ہے۔

﴿1072﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا ہے کہ صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب مرحوم کی بیماری کے دوران میں بھی قادیان ہی میں حاضر تھا اور اُن کی وفات کے وقت بھی یہیں موجود تھا۔ چنانچہ ان کے جنازہ کو مقبرہ بہشتی میں لے جانے کے لئے ڈھاب کے ایک حصہ پر عارضی پل بنانا پڑا تھا۔ اس پل کے بنانے میں زیادہ تر تعلیم الاسلام ہائی سکول کے لڑکوں کا حصہ تھا اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں بھی اُن کے ساتھ شامل ہوا تھا اور بعد میں صاحبزادہ صاحب کے جنازہ میں بھی شامل ہوا۔ جنازہ کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام قبر سے تھوڑے فاصلہ پر بیٹھ گئے اور صاحبزادہ صاحب مرحوم کے متعلق اپنے الہامات اور پیشگوئیوں کا ذکر فرماتے رہے۔ میں اگرچہ اُس وقت بچہ ہی تھا لیکن یہ احساس اس وقت تک میرے دل میں قائم ہے کہ حضور باوجود اس قدر سخت صدمہ کے جو آپ کو صاحبزادہ صاحب کی وفات سے لازماً پہنچا ہوگا نہایت بشاشت سے کلام فرماتے رہے۔

﴿1073﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی سے واپسی پر امرتسر اُترے۔ حضرت ام المومنین بھی ہمراہ تھیں۔ حضور نے ایک صاحبزادے کو جو غالباً میاں بشیر احمد صاحب (خاکسار مؤلف) تھے گود میں لیا۔ اور ایک وزنی بیگ دوسری بغل میں لیا اور مجھے فرمایا آپ پاندان لے لیں۔ میں نے کہا حضور مجھے یہ بیگ دے دیں۔ آپ نے فرمایا۔ نہیں۔ ایک دو دفعہ میرے کہنے پر حضور نے یہی فرمایا۔ تو میں نے پاندان اٹھا لیا اور ہم چل پڑے۔ اتنے میں دو تین جوان عمر انگریز جو اسٹیشن پر تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ حضور سے کہو ذرا کھڑے ہو جائیں۔ چنانچہ میں نے عرض کی کہ حضور یہ چاہتے ہیں کہ حضور ذرا کھڑے ہو جائیں۔ حضور کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اُسی حالت میں حضور کا فوٹو لے لیا۔

﴿1074﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا ہے کہ مقدمہ کرم دین میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تار میرے نام آیا۔ کہ آپ شہادت کے لئے گورداسپور پہنچیں۔ میں فوراً گورداسپور روانہ ہو گیا۔ کرم دین نے لمبی چوڑی جرح تیار کی ہوئی تھی۔ ہر ایک گواہ کے لئے۔ خصوصاً پرانے خدام کے لئے لمبی جرح اُس نے تیار کی تھی۔ چنانچہ مجھ پر اُس نے حسب ذیل سوالات کئے۔ س : قادیان میں کتنے پریس ہیں۔ ج : میں کیا جانوں کس قدر پریس ہیں۔ س : مرزا صاحب کی کس قدر تصانیف ہیں ج : اَسّی کے قریب ہوں گی۔ س : کتابوں کے کیا کیا نام ہیں۔ ج : مجھے یاد نہیں۔ میں کوئی کتب فروش نہیں ہوں۔ س : کس قدر سنگ ساز ہیں اور ان کے کیا کیا نام ہیں ج : ایک شخص کرم الٰہی کو میں جانتا ہوں اور پتہ نہیں س : کاتب کس قدر ہیں اور ان کے کیا کیا نام ہیں ج : مجھے علم نہیں۔ س : آپ قادیان میں کتنی دفعہ آئے ہیں۔ ج : سینکڑوں دفعہ س : تعداد بتائیں ج : میں نے گنتی نہیں کی

اسی طرح چند اور سوال کئے ۔ جن کے جواب میں میں لاعلمی ظاہر کرتا رہا۔ آخر مجسٹریٹ نے اسے اس قسم کے سوالات کرنے سے روک دیا۔ اور میں کمرہ عدالت سے باہر چلا آیا۔ جس پر اُس نے عدالت سے کہا کہ یہ دیگر گواہوں کو باہر جا کر بتا دے گا۔ مگر حاکم نے اس کی بات نہ مانی کہ گواہ معزز آدمی ہے اور میں باہر چلا آیا۔

اسی درمیان میں مجسٹریٹ نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ آپ مرزا صاحب کے مرید ہیں۔ میں نے کہا۔ ہاں۔ پھر اس نے پوچھا کہ آپ جان و مال اُن پر فدا کر سکتے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ جان و مال کی حفاظت کے لئے ہم نے بیعت کی ہے۔ وہ مجھے سوال میں پھانسنا چاہتا تھا۔ مگر یہ جواب سن کر رہ گیا۔

گواہوں کے بیانات نوٹ کرنے کے لئے حضرت صاحب مجھے تقریباً ہر مقدمہ میں اندر بلا لیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے میری اس خوش قسمتی بوجہ زود نویسی پر رشک کا اظہار فرمایا۔

﴿1075﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ شیخ کرم الٰہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ سب سے پہلے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے شرف نیاز کا موقعہ اُس روز ہوا جب کہ حضور مولوی عبداللہ صاحب سنوری کی اس درخواست پر کہ حضور ایک دفعہ ان کے گھر واقعہ قصبہ سنور متصل پٹیالہ میں قدم رنجہ فرمائیں۔ پٹیالہ تشریف لائے۔ دس بجے صبح کے قریب پہنچنے والی ٹرین سے حضور کے راجپورہ کی جانب سے تشریف لانے کی اطلاع تھی۔ خاکسار پہلی ٹرین سے راجپورہ پہنچ گیا۔ آگے پٹیالہ آنے والی ٹرین تیار تھی۔ حضور گاڑی کے آگے معہ دو ہمراہیاں حکیم فضل الدین صاحب بھیروی مرحوم و حاجی عبدالرحیم صاحب المعروف ’’پیسہ والے سوداگر‘‘ گاڑی کے آگے پلیٹ فارم پر کھڑے تھے۔ چونکہ ہم لوگ اس سے قبل کسی کی صورت سے بھی آشنا نہ تھے۔ اس لئے حاجی عبدالرحیم صاحب کی طرف مصافحہ کے لئے بڑھے۔ کیونکہ حاجی صاحب لحیم وشحیم اور قد آور آدمی تھے۔ اور لباس ظاہری بھی اُن کا شاندار تھا۔ حاجی صاحب نے ہمارا مقصد محسوس کرتے ہوئے حضرت صاحب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اگر آپ لوگ حضرت صاحب کی زیارت کے لئے آئے ہیں تو حضرت صاحب یہ ہیں۔ اس پر ہم دو تین آدمیوں نے حضرت صاحب سے مصافحہ کیا۔ حضرت صاحب نے حاجی صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا۔ کہ حاجی صاحب! بہت تھوڑے لوگ ہیں جو صرف خدا کے لئے آتے ہیں۔ دراصل دنیا عجائب پسند ہے۔ اگر یہ شہرت ہو جائے کہ انبالہ میں ایک چار آنکھوں والا آدمی ہے۔ تو اس کے دیکھنے کے لئے دنیا ٹوٹ پڑے۔ ایسا ہی لفظ الہام سے دنیا اجنبی ہو چکی تھی۔ اب جو وہ سنتے ہیں کہ ایک شخص کو خدا کی طرف سے الہام ہوتا ہے تو اُسی طرح تعجب سے وہ چاہتے ہیں کہ دیکھیں وہ آدمی جس کو الہام ہوتا ہے وہ کیسا ہے۔ اس کے بعد گاڑی پٹیالہ کو روانہ ہوئی۔ پٹیالہ اسٹیشن پر معلوم ہوا کہ حضرت صاحب جناب وزیر محمد حسین صاحب کی گاڑی میں سوار ہو کر جو اسی غرض سے خود گاڑی لے کر آئے تھے۔ جانب شہر روانہ ہو گئے ۔ اور اُس کوٹھی میں جو اسٹیشن سے دو میل کے فاصلہ پر (جانب شرق پٹیالہ سے) واقع ہے موجود ہیں ۔ جب خاکسار بھی پتہ لگا کر وہاں پہنچ گیا تو حضور کوٹھی کے بڑے کمرے میں تقریر فرمارہے تھے اور بیس تیس مردماں کا مجمع تھا۔ تقریر کا مفہوم ”ضرورت الہام“ معلوم ہوتا تھا۔ کیونکہ خاکسار کے حاضر ہونے کے بعد جو الفاظ حضرت صاحب سے سنے تھے وہ یہ تھے ۔ عقل صرف ہستی باری تعالیٰ کے بارہ میں ”ہونا چاہئے“۔ تک جاسکتی ہے۔ لیکن یہ بات کہ ایسی ہستی ضرور ہے۔ اس کی دسترس سے باہر ہے۔ یہ صرف الہام ہی کے ذریعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ایسی ہستی ضرور موجود ہے۔ تقریر والے کمرہ سے ملحقہ کمرہ کی طرف جو بند تھا۔ اشارہ کر کے فرمایا کہ فرض کرو کہ اس کمرہ میں کسی شخص کے بند ہونے کا کوئی دعویٰ کرے اور کوئی دوسرا شخص اس کے شوق زیارت میں ہر روز بڑے الحاح اور عاجزی سے اس کو پکارے۔ اگر سالہا سال بعد بکثرت لوگ ایسا ہی کریں اور کسی کو اُس شخص کی آواز تک نہ سنائی دے تو وہ سب تھک کر آخر اس کے ہونے سے انکاری ہو جائیں گے۔ پس دہریہ تو عدم جہد و عدم معرفت کی وجہ سے دہریہ ہیں ۔ لیکن یہ خدا کے پرستار الہام سے تشفی یاب نہ ہونے کی صورت میں ایک تجربہ کار دہریہ ہوتے ۔ پس یقینی ایمان الہام کے بغیر میسر نہیں ہو سکتا۔ یقینی ایمان کے لئے الہام از بس ضروری ہے۔ اس تقریر کے ختم کرنے کے بعد حضور بسواری گاڑی وزیر صاحب سنور تشریف لے گئے۔

﴿1076﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ شیخ کرم الٰہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنور سے شام کو پٹیالہ واپس تشریف لائے تو پھر وزیر محمد حسین صاحب کی کوٹھی پر حضورؐ نے تقریر فرمائی۔ لیکن خاکسار اس کو سن نہ سکا۔ کیونکہ تقریر اوپر کے حصہ مکان میں ہو رہی تھی۔ اور مجمع اس قدر کثیر تھا کہ چھتوں کے گر جانے کے خوف سے پہرہ قائم کر دیا گیا تھا کہ اور آدمی اندر نہ آنے پائیں۔ واپسی پر اسٹیشن پٹیالہ پر بھی ایسی ہی لوگوں کی کثرت تھی۔

﴿1077﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ شیخ کرم الٰہی صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام واپسی پر پٹیالہ کے اسٹیشن پر تشریف لائے تو حضورؐ نے نمازِ مغرب خود پڑھائی۔ اس وقت ایک ناگوار واقعہ یہ ہوا کہ حضورؐ وضو فرمانے لگے تو ہاتھ میں ایک رومال تھا جس میں قریباً یکصد روپیہ تھا تو حضورؐ نے لوٹا ہاتھ میں لیتے وقت بے خیال کسی اجنبی شخص کو وہ رومال پکڑا دیا۔ اور نماز ادا کرنے کے بعد جب حضورؐ نے رومال کے متعلق دریافت کیا تو کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ جب اس امر کا چرچا ہونے لگا تو حضورؐ نے منع فرمایا کہ زیادہ تجسس نہ کرو۔ شاید کسی ضرورت مند کے لئے خدا نے اپنے رحم سے ایسا کیا ہو۔ اس کے بعد گاڑی میں سوار کر راجپورہ پہنچ گئے۔ خاکسار بھی راجپورہ تک ساتھ گیا۔ اور جب حضورؐ ریل گاڑی میں جو پنجاب کی طرف جانے والی تھی تشریف فرما ہوئے تو خاکسار نے ایک روپیہ بطور نذرانہ پیش کیا کہ حضورؐ اسے قبول فرمائیں۔ حضورؐ نے فرمایا کہ آپ تو طالب علم معلوم ہوتے ہیں اس لئے یہ تکلیف نہ کریں۔ خاکسار نے عرض کی کہ میری آرزو یہ ہے کہ میرا یہ روپیہ اُس کتاب کی اشاعت کے مصارف میں شامل ہو جائے جو حضورؐ نے تصنیف فرمائی ہے (یعنی براہین احمدیہ) اس پر حضورؐ نے وہ روپیہ بخوشی قبول فرما کر جزائے خیر کی دعا کی۔

﴿1078﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ چندولعل مجسٹریٹ آریہ تھا اور اُس زمانہ میں ہی وہ کھدر پوش تھا۔ ایک دن دوران مقدمہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بیان ہو رہا تھا اور اس دن آدمیوں کی بہت کثرت تھی۔ اس لئے چندولعل نے باہر میدان میں کچہری لگائی۔ اور بیان کے دوران میں حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو نشان نمائی کا بھی دعویٰ ہے؟ آپ نے فرمایا۔ ہاں۔ اور تھوڑی دیر میں آپ نے فرمایا۔ جو نشان آپ چاہیں میں اس وقت دکھا سکتا ہوں اور یہ بڑے جوش میں آپ نے فرمایا۔ اس وقت وہ سناٹے میں آگیا اور لوگوں پر اس کا بڑا اثر ہوا۔

﴿1079﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ چندو لعل مجسٹریٹ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام ’ اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ ‘ کے متعلق سوال کیا کہ یہ خدا نے آپ کو بتایا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اس کا مجھ سے وعدہ ہے۔ وہ کہنے لگا جو آپ کی ہتک کرے وہ ذلیل و خوار ہو گا؟ آپ نے فرمایا۔ بے شک۔ اس نے کہا ’اگر میں کروں؟‘‘ آپ نے فرمایا ’’چاہے کوئی کرے‘‘ تو اس نے دو تین دفعہ کہا ’’اگر میں کروں؟‘‘ آپ یہی فرماتے رہے ’’چاہے کوئی کرے‘‘ پھر وہ خاموش ہو گیا۔

﴿1080﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک مقدمہ کے تعلق سے میں گورداسپور میں ہی رہ گیا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچا کہ واپسی پر مل کر جائیں۔ چنانچہ میں اور شیخ نیاز احمد صاحب اور مفتی فضل الرحمن صاحب یکے میں قادیان کو روانہ ہوئے۔ بارش سخت تھی۔ اس لئے یکے کو واپس کرنا پڑا اور ہم بھیگتے ہوئے رات کے دو بجے کے قریب قادیان پہنچے۔ حضور اُسی وقت باہر تشریف لے آئے۔ ہمیں چائے پلوائی اور بیٹھے باتیں پوچھتے رہے۔ ہمارے سفر کی تمام کوفت جاتی رہی۔ پھر حضور تشریف لے گئے۔

﴿1081﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب ستمبر ۱۹۰۷ء میں میں والد صاحب کے ساتھ قادیان آیا تو حضرت خلیفۃ المسیح اولؓ کے ارشاد کی تعمیل میں مَیں نے خود ہی ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور یہ ۱۶؍ ستمبر ۱۹۰۷ء کا دن تھا۔ اسی سال میں نے انٹرنس کا امتحان پاس کیا تھا اور گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہو چکا تھا۔ چنانچہ مئی ۱۹۰۸ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام آخری دفعہ لاہور تشریف لے گئے تو میں اُن دنوں لاہور میں ہی تھا۔ اُن ایام میں بھی مجھے حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوتا تھا۔ ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء کو دوپہر کے وقت میں اپنے کمرہ ہوسٹل میں سویا ہوا تھا کہ شیخ تیمور صاحب بڑی جلدی اور گھبراہٹ کے ساتھ تشریف لائے اور میرے پاؤں کو ہلا کر کہا کہ جلدی اٹھو اور میرے کمرہ میں آؤ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ چنانچہ میں فوراً اُٹھ کر اُن کے کمرہ میں گیا اور ہم نے کالج اور ہوسٹل سے چھٹی وغیرہ لینے کا انتظام کیا تا کہ حضور کے جنازہ کے ساتھ قادیان جاسکیں۔ یہ انتظام کر کے ہم احمدیہ بلڈنگس پہنچ گئے اور پھر حضور کے جنازہ کے ساتھ قادیان آئے ۔ اس موقعہ پر میں غالباً دو دن قادیان ٹھہرا اور حضرت خلیفۃ المسیح اولؓ کی بیعت کرنے کے بعد واپس لاہور چلا گیا۔ ان ایام کے احساسات اور قلبی کیفیات کا سپرد قلم کرنا میرے جیسے انسان کے لئے مشکل ہے۔

﴿1082﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ستمبر ۱۹۰۵ء میں میں اپنے والد صاحب کے ہمراہ پہلی دفعہ قادیان آیا اور ہم اس کوٹھڑی میں ٹھہرے جو صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب (یعنی خاکسار مؤلف) کے مکان کے جنوب مشرقی کونہ میں بیت المال کے دفاتر کے بالمقابل ہے۔ ان ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ظہر اور عصر کی نمازوں کے بعد کچھ وقت کے لئے مسجد مبارک کی چھوٹی کوٹھڑی میں جس میں حضور علیہ السلام خود نماز ادا فرمایا کرتے تھے تشریف رکھا کرتے تھے اور کچھ عرصہ سلسلہ کلام جاری رہا کرتا تھا۔ میں ان مواقع پر ہمیشہ موجود رہتا تھا۔ صبح آٹھ نو بجے کے قریب حضور باہر سیر کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ اکثر اوقات میں بھی دیگر احباب کے ساتھ حضور کے پیچھے پیچھے چلا جایا کرتا تھا۔

﴿1083﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جن ایام میں حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم انبالہ چھاؤنی میں دفتر سپرنٹنڈنگ انجینئر انہار میں ڈرافٹسمین تھے۔ ہم کو مولوی عبد اللہ صاحب سنوری کی زبانی معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آج کل انبالہ چھاؤنی میں اسٹیشن کے قریب والے بنگلہ میں تشریف فرما ہیں۔ ہم دس اشخاص کی تعداد میں پٹیالہ سے روانہ ہوئے۔ چھاؤنی پہنچ کر سرائے متصل اسٹیشن کی مسجد میں شب باش ہوئے۔ صبح آٹھ بجے کے قریب قیام گاہ حضور پر پہنچے۔ اطلاع ہونے پر حضور نے شرف باریابی بخشا۔ ہمارے ہمراہیوں میں سے ایک شخص نے حضور سے دریافت کیا کہ مجھ کو ایک درویش نے ایک درود شریف بتایا ہوا ہے۔ اس کی تاثیر یہ بتائی تھی کہ کیسی ہی کوئی مشکل درپیش ہو یا کوئی بیماری ہو یا کوئی ملازمت وغیرہ کی خواہش ہو۔ عشاء کی نماز کے بعد اس درود شریف کا ورد کرنے سے یہ مشکل اور تکلیف دور اور مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔ اس شخص نے یہ بھی بیان کیا کہ چنانچہ اس وقت سے میرا تجربہ ہے کہ جب کوئی ضرورت پیش آتی ہے تو میں اس درود شریف کا ورد شروع کرتا ہوں ۔ چند روز میں ہی وہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔ حضور نے سن کر یہ نہیں دریافت فرمایا کہ وہ کون سا درود شریف ہے بلکہ فرمایا۔ کہ ہر وہ کلام جس میں سرورِ کائنات پر صلوٰۃ و سلام بھیجنا مقصود ہو۔ خواہ کسی زبان میں ہو۔ درود شریف ہے۔ لیکن جو درود شریف نماز کے آخر میں متداول ہے وہ زیادہ صحیح روایات سے ثابت ہے۔ اور درود شریف کے فضائل اور تاثیرات اس قدر ہیں کہ بیان سے باہر ہیں۔ اس کا عامل نہ صرف ثوابِ عظیم کا مستحق ہوتا ہے بلکہ دنیا میں بھی معزز اور مؤقر ہوتا ہے۔ میں خود اس کا صاحبِ تجربہ ہوں۔ آپ اس دورد کو پڑھتے جائیں جو درویش صاحب نے بتایا ہے لیکن میں یہ بتا دینا ضروری خیال کرتا ہوں کہ میں کسی ایسے درود شریف کا قائل نہیں ہوں کہ جس پر یہ بھروسہ کیا جائے کہ گویا قضا و قدر کی کلید اب ذاتِ باری تعالیٰ کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اس درود خواں کے قبضہ میں آگئی ہے۔ ذاتِ باری کی صفتِ غنا اور قدیر کو سامنے رکھ کر جس قدر درود شریف پڑھو گے بابرکت ہوگا۔ لیکن اس قادرِ مطلق کی بعض قضایا تو ایسی بھی ہونی تھیں جن کے سامنے، جس پر تم درود بھیجتے ہو، اس کو تسلیم اور رضا کے سوا چارہ نہ تھا۔ اس کے بعد حضور نے یہ معلوم کر کے کہ ہم لوگ رات سے آئے ہوئے ہیں اور بخیالِ تکلیف و بے وقت ہونے کے حاضرِ خدمت نہ ہو سکے۔ حضور نے افسوس کرتے ہوئے یہ الفاظ فرمائے کہ جب آپ صرف میری ملاقات کے ارادہ سے آئے تھے تو چھاؤنی پہنچ کر آپ ہمارے مہمان تھے۔ آپ کے رات کو مسجد میں سونے سے اور خوردونوش میں بھی جو تکلیف ہوئی ہوگی اس کے خیال سے مجھے تکلیف ہوئی۔ یہاں چارپائیاں وغیرہ سب سامان موجود رہتا ہے۔ آپ کو کوئی تکلیف نہ ہوتی۔ اس کے بعد حضور نے کھانا منگوا کر ہم لوگوں کے ساتھ شامل ہو کر تناول فرمایا۔ بعد فراغتِ طعام سب اصحاب باہر کوٹھی کے احاطہ میں درختوں کے نیچے آرام کرنے کے لئے آگئے جہاں کہ ضرورت کے موافق چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں۔

﴿1084﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جاڑے کا موسم تھا اور مولوی عبداللہ صاحب سنوری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاؤں داب رہے تھے۔ حضور کو غنودگی کا عالم طاری ہو گیا۔ اور میں نے دیکھا کہ حضور کو پیشانی پر پسینہ آیا۔ میں اس وقت آپ سے لپٹ گیا۔ آپ کی آنکھ کھل گئی تو مسکرانے لگے۔ میں نے کہا۔ حضور اس موسم میں پیشانی پر پسینہ دیکھ کر میں نے خیال کیا کہ اس وقت آپ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا! مجھے اس وقت ایک ہیبت ناک الہام ہوا۔ اور یہ عادت ہے کہ جب ایسا الہام ہو تو پسینہ آ جاتا ہے۔ وہ الہام بھی حضور نے مجھے بتایا تھا مگر اب مجھے وہ یاد نہیں رہا۔

﴿1085﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا۔ کہ لدھیانہ کا واقعہ ہے کہ ایک شخص جو بظاہر فاتر العقل معلوم ہوتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس خاکی وردی اور بوٹ پہنے ہوئے آیا اور سر پر کلاہ اور پگڑی تھی۔ وہ آ کر حضرت صاحب کے سامنے جھک گیا۔ سر زمین سے لگا دیا۔ حضور نے اس کی کمر پر تین تھاپیاں ماریں اور وہ اٹھ کر ہنستا ہوا چلا گیا۔ مولوی عبدالکریم صاحب نے دریافت بھی کیا مگر حضور مسکراتے رہے اور کچھ نہ بتایا۔

﴿1086﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن مسجد اقصیٰ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تقریر فرما رہے تھے کہ میرے درد گردہ شروع ہو گیا۔ اور باوجود بہت برداشت کرنے کی کوشش کے میں برداشت نہ کر سکا اور چلا آیا۔ میں اس کوٹھے پر جس میں پیر سراج الحق صاحب مرحوم رہتے تھے ، ٹھہرا ہوا تھا۔ حضرت صاحب نے تقریر میں سے ہی حضرت مولوی نورالدین صاحب کو بھیجا۔ انہوں نے درد گردہ معلوم کر کے دوا بھیجی مگر اس کا کچھ اثر نہ ہوا۔ تکلیف بڑھتی گئی۔ پھر حضور جلدی تقریر ختم کر کے میرے پاس آگئے اور مولوی عبداللہ صاحب سنوری سے جو آپ کے ساتھ تھے فرمایا کہ آپ پرانے دوست ہیں ، منشی صاحب کے پاس ہر وقت رہیں اور حضور پھر گھر سے دوا لے کر آئے اور اس طرح تین دفعہ یکے بعد دیگرے دوا بدل کر خود لائے۔ تیسری دفعہ جب تشریف لائے تو فرمایا۔ زینے پر چڑھنے اُترنے میں دقت ہے۔ آپ میرے پاس آجائیں۔ آپ تشریف لے گئے اور مولوی عبداللہ صاحب سنوری مجھے سہارا دے کر حضرت صاحب کے پاس لے گئے۔ راستہ میں دو دفعہ میں نے دعا مانگی۔ مولوی صاحب پہچان گئے اور کہنے لگے کہ تم یہ دعا مانگتے ہو گے کہ مجھے جلدی آرام نہ ہوتا کہ دیر تک حضرت صاحب کے پاس ٹھہرا رہوں۔ میں نے کہا ہاں یہی بات ہے۔ جب میں آپ کے پاس پہنچا تو آپ کھانا کھا رہے تھے۔ دال، مولیاں سرکہ اس قسم کی چیزیں تھیں۔ جب آپ کھانا کھا چکے تو آپ کا پس خوردہ ہم دونوں نے اٹھا لیا اور باوجودیکہ کے مجھے مسہل آور دوائیں دی ہو ئی تھیں اور ابھی کوئی اسہال نہ آیا تھا۔ میں نے وہ چیزیں روٹی سے کھا لیں اور حضور نے منع نہیں فرمایا۔ چند منٹ کے بعد درد کو آرام آگیا۔ کچھ دیر بعد ظہر کی اذان ہو گئی۔ ہم دونوں مسجد میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنے آگئے۔ فرضوں کا سلام پھیر کر حضور نے میری نبض دیکھ کر فرمایا۔ آپ کو تو اب بالکل آرام آ گیا۔ میرا بخار بھی اُتر گیا تھا۔ میں نے کہا حضور بخار اندر ہے۔ اس پر آپ ہنس کر فرمانے لگے۔ اچھا آپ اندر ہی آ جائیں۔ عصر کے وقت تک میں اندر رہا۔ بعد عصر میں نے خود ساتھ جانے کی جرأت نہ کی۔ میں بالکل تندرست ہو چکا تھا۔

﴿1087﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب ہم انبالہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک کوٹھی میں مقیم تھے تو ایک امر کے متعلق جو کہ دینی معاملہ نہ تھا بلکہ ایک دوائی کے متعلق تھا۔ حضور سے استفسار کی ضرورت پیش آئی۔ احباب نے خاکسار کو اس کام کے لئے انتخاب کیا۔ چنانچہ میں اجازت لے کر اندر حاضر ہوا۔ حضور اپنے کمرہ میں صرف تنہا تشریف فرما تھے۔ خاکسار نے اس امر کے جواب سے فارغ ہو کر موقعہ کو غنیمت خیال کرتے ہوئے اپنے متعلق ایک واقعہ عرض کرنے کی اجازت چاہی۔ حضور نے بڑی خندہ پیشانی سے اجازت دی۔ خاکسار نے عرض کیا کہ میں اس سے قبل نقش بند یہ خاندان میں بیعت ہوں اور ان کے طریقہ کے مطابق ذکر واذ کار بھی کرتا ہوں۔ ایک رات میں ذکر نفی اثبات میں حسب طریقہ نقشبند یہ اس طرح مشغول تھا کہ لفظ لا کو وسط سینہ سے اُٹھا کر پیشانی تک لے جاتا تھا۔ وہاں سے لفظ اِلٰہَ کو دائیں شانہ پر سے گزار کر دیگر اطراف سے گذارتے ہوئے لفظ اِلَّا اللہ کی ضرب قلب پر لگاتا۔ کافی وقت اس عمل کو جاری رکھنے کے بعد قلب سے بجلی کی رو کی طرح ایک لذت افزا کیفیت شروع ہو کر سر سے پاؤں تک اس طرح معلوم ہوئی کہ جسم کا ذرہ ذرہ اس کے زیر اثر تھا۔ آخر وہ کیفیت اس قدر بڑھی اور ناقابل برداشت معلوم ہونے لگی کہ میں نے خیال کیا۔ اگر یہ کیفیت اس سے زیادہ رہی تو اغلب ہے کہ میں بے ہوش ہو کر چار پائی سے نیچے گر جاؤں۔ چونکہ تنہا تھا اس لئے خیال ہوا کہ صبح اگر گھر کے لوگوں نے اس طرح گرا ہوا دیکھا تو شاید وہ کسی نشہ وغیرہ کا نتیجہ خیال کریں۔

میں نے ذکر کو قصداً بند کر دیا۔ چونکہ رات کافی گذر چکی تھی اسلئے تھوڑی دیر میں ہی نیند آگئی۔ صبح بیدار ہونے پر حالت حسبِ معمول تھی۔ اس کے بعد میں نے بارہا اس طرح عمل کیا مگر وہ کیفیت پیدا نہ ہوئی۔ حضورؐ نے سن کر فرمایا۔ کہ اب آپ یہ چاہتے ہیں کہ وہ کیفیت پھر پیدا ہو۔ میں نے عرض کیا کہ میری خواہش تو یہی ہے۔ حضورؐ نے فرمایا۔ کس غرض سے آپ ایسا چاہتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ اس میں ایک عالمِ سرور اور ایک قسم کی لذت تھی۔ اس جیسی لذت میں نے کسی اور شے میں نہیں دیکھی۔ اس کے جواب میں حضورؐ نے فرمایا کہ خدا کی عبادت لذت کے لئے نہیں کرنی چاہئے۔ بلکہ حکم کی تعمیل اور اپنا فرض سمجھ کر کرنی چاہئے۔ خدا چاہے تو اس میں بھی اس سے بہتر لذت پیدا ہو سکتی ہے۔ اگر لذت کو مدنظر رکھ کر عبادت کی جائے تو لذتِ نفس کی ایک کیفیت ہے۔ اس کے حصول کے لئے عبادت نفس کے زیرِ اتباع ہے۔ خدا کی عبادت ہر حال میں کرنی چاہئے۔ خواہ لذت ہو یا نہ ہو۔ وہ اس کی مرضی پر ہے۔ پھر فرمایا۔ یہ حالت جو آپ نے دیکھی یہ ایک سالک کے لئے راستہ کے عجائبات اور غولِ راہ کے طور پر ہوتے ہیں اور عارضی ہوتے ہیں۔ اس کے عارضی ہونے کا اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہوگا کہ آپ اس کو پھر چاہتے ہیں۔ اسی طرح ذکر کرنے پر بھی وہ لذت حاصل نہ ہوئی۔ ہم آپ کو ایسی بات بتاتے ہیں جس میں مستقل لذت پیدا ہوگی جو پھر جدا نہیں ہوگی۔ وہ اتباعِ سنت اور اسوۂ حسنہ حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم ہے جس کی غرض خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی ہے۔ ان فانی لذتوں کے پیچھے نہ پڑو۔ پھر فرمایا۔ نماز خشوع و خضوع سے پڑھنی چاہئے۔ منہیات سے پر ہیز ضروری ہے۔

﴿1088﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ماہِ رمضان جو کہ سخت سردیوں کے ایام میں آیا۔ اس کے گذارنے کے لئے دارالامان آیا۔ حضرت حکیم فضل الدین صاحب بھیروی اُن دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کتب خانہ کے انچارج اور مہتمم تھے اور کمرہ متصل مسجدِ مبارک میں کتب خانہ تھا اور وہیں حکیم صاحب کا قیام تھا۔ خاکسار کے پہنچنے پر حکیم صاحب نے مجھے بھی اُسی کمرہ میں ٹھہرنے کی اجازت دے دی۔ خاکسار نے شکریہ ادا کرتے ہوئے ایک گوشہ میں بستر لگا لیا۔ اور بہت آرام و لطف سے وقت گزرنے لگا۔ حضرت صاحب ہر نماز کے لئے اسی کمرہ سے گزر کر مسجد میں تشریف لے جاتے تھے۔ ایک دفعہ سحری کے وقت دروازہ کھلا۔ خاکسار سامنے بیٹھا تھا۔ یہ دیکھ کر کہ حضرت صاحب دروازہ میں کھڑے ہیں۔ تعظیماً کھڑا ہو گیا۔ حضور نے اشارہ سے اپنی طرف بلایا۔ میں جب آگے بڑھا (تو دیکھا) کہ حضور کے دونوں ہاتھوں میں دو چینی کے پیالے ہیں۔ جن میں کھیر تھی۔ حضور نے وہ دونوں پیالے خاکسار کو دیتے ہوئے فرمایا کہ جن احباب کے نام ان پر لکھے ہوئے ہیں دیکھ کر اُن کو پہنچا دو، میں نے وہ حکیم صاحب کے پیش کئے۔ انہوں نے مسجد میں سے کسی کو طلب کر کے وہ پیالے اُن احباب کو پہنچا دیئے جن کے نام سیاہی سے لکھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد پھر دروازہ کھلا۔ پھر حضرت صاحب دو پیالے پکڑا گئے۔ وہ بھی جن کے نام کے تھے ان کو پہنچا دیئے گئے۔ اس طرح حضرت صاحب خود دس گیارہ دفعہ پیالے لاتے رہے اور ہم اُن اشخاص کو مہمان خانہ میں پہنچاتے رہے۔ اخیر دفعہ میں جو دو پیالے حضور نے دیئے۔ اُن میں سے ایک پر حکیم صاحب کا نام اور دوسرے پر میرا نام تحریر تھا۔ حکیم صاحب نے کھیر کھا کر کہا کہ آج تو مسیح کا من وسلوٰی اُتر آیا۔

﴿1089﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ شیخ کرم الٰہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ خاکسار کے قیام قادیان کے دنوں میں عشاء کی نماز کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے۔ مسجد بھری ہوئی تھی۔ ایک پنجابی مولوی صاحب نے کھڑے ہو کر حضور سے عرض کیا کہ صوفیوں کے فرقہ نقش بند یہ وغیرہ میں جو کلمہ نفی اثبات کو پیشانی تک لے جا کر اور اطراف پر گذارتے ہوئے قلب پر الا اللہ کی ضرب مارنے کا طریق مروج ہے۔ اس کے متعلق حضور کا کیا حکم ہے؟ حضور نے فرمایا کہ چونکہ شریعت سے اس کی کوئی سند نہیں اور نہ اسوۂ حسنہ سے اس کا کچھ پتہ چلتا ہے اس لئے ہم ایسے طریقوں کی ضرورت نہیں خیال کرتے۔ اس مولوی نے پھر کہا کہ اگر یہ امور خلاف شرع ہیں تو بڑے بڑے مسلمہ اور مشاہیر جن میں حضرت احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ جیسے اولیاء بھی ہیں جنہوں نے مجدد الف ثانی ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ یہ سب لوگ بدعت کے مرتکب ہوئے اور لوگوں کو اس کی ترغیب و تعلیم دینے والے ہوئے۔ حضور نے فرمایا۔ اسلام پر ایک زمانہ ایسا بھی آیا ہے کہ فتوحات کے بڑھ جانے اور دنیاوی دولت اور سامانِ تعیش کی فراوانی سے لوگوں کے دلوں سے خدا کے نام کی گرمی سرد پڑتی جا رہی تھی۔ اس وقت اگر ان بزرگوں نے بعض ایسے اعمال اختیار کئے ہوں جو اُن کے خیال میں اس وقت اس روحانی وبائی مرض میں مفید تھے تو وہ ایک وقتی ضرورت تھی اور بوجہ ان کی نیک نیتی کے اس کو خدا کے حوالہ کر دینا مناسب ہے۔ حضورؐ نے فرمایا! اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی قافلہ راستہ بھول کر ایسے جنگل میں جانکلے جہاں پانی کا نشان نہ ہو۔ اور ان میں سے بعض پیاس کی شدت سے زبان خشک ہو کر جان بلب ہوں۔ اور ان کے ہمراہی درختوں کے پتے پتھروں سے کوٹ کر ان کا پانی نکالیں۔ اور تشنہ دہانوں کے حلق میں ڈالیں تا کسی طرح پانی ملنے تک ان کا حلق بالکل خشک ہو کر ہلاکت کا موجب نہ ہو جائے۔ یا دامن کوہ میں پتھروں کو توڑ کر اور بڑی مشکلوں سے کاٹ کاٹ کر کنواں کھودا جاتا ہے یا ریگستان میں بڑی مصیبت سے اگر سو سو ہاتھ کھودا جائے تو کنواں برآمد ہوتا ہے۔ لیکن جہاں دریا جاری ہو۔ کیا وہاں بھی ان تکالیف کو اٹھانے کی ضرورت ہے؟ فرمایا۔ پس شکر کرنا چاہئے کہ اس وقت خدا نے پہاڑ کی چوٹی پر سے مصفّٰی اور شیریں پانی کا چشمہ جاری فرمایا ہے جس کے ہوتے ہوئے ان تکالیف میں پڑنا خدا کی ناشکری اور جہالت ہے۔ حضورؐ کے اس ارشاد کے بعد جو ایک پر سرور کیفیت خاکسار نے محسوس کی وہ یہ تھی اُن امور سے جن کا اسوہ حسنہ سے ثبوت نہ تھا۔ حضورؐ نے اتفاق نہ فرمانے کے باوجود اُن متوفّٰی بزرگوں کے متعلق کوئی کلمہ رکیک نہ فرمایا۔ بلکہ ایک وقتی ضرورت کے ماتحت اُن کی نیک نیتی پر محمول فرما کر اُن کا معاملہ خدا پر چھوڑ دیا۔

﴿1090﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے بیٹھنے کی جگہ کھلے کواڑ کبھی نہ بیٹھتے تھے۔ حضرت صاحبزادہ محمود احمد صاحب (حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد آ کر کہتے’’ابا کنڈ اکھول‘‘ اور حضورؐ اٹھ کر کھول دیتے۔ میں ایک دفعہ حاضر خدمت ہوا۔ حضور بوریے پر بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھ کر حضور نے پلنگ اٹھایا اور اندر لے گئے۔ میں نے کہا۔ حضور میں اٹھا لیتا ہوں۔ آپ فرمانے لگے بھاری زیادہ ہے آپ سے نہیں اٹھے گا۔ اور فرمایا آپ پلنگ پر بیٹھ جائیں۔ مجھے یہاں نیچے آرام معلوم ہوتا ہے۔ پہلے میں نے انکار کیا۔ لیکن آپ نے فرمایا۔ نہیں آپ بلاتکلف بیٹھ جائیں۔ پھر میں بیٹھ گیا۔ مجھے پیاس لگی تھی۔ میں نے گھڑوں کی طرف نظر اٹھائی۔ وہاں کوئی پانی پینے کا برتن نہ تھا۔ آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا۔ کیا آپ کو پیاس لگ رہی ہے۔ میں لاتا ہوں۔ نیچے زنانے سے جا کر آپ گلاس لے آئے۔ پھر فرمایا۔ ذرا ٹھہریے اور پھر نیچے گئے اور وہاں سے دو بوتلیں شربت کی لے آئے۔ جو منی پور سے کسی نے بھیجی تھیں۔ بہت لذیذ شربت تھا۔ فرمایا ان بوتلوں کو رکھے ہوئے کئی دن ہو گئے کہ ہم نے نیت کی تھی کہ پہلے کسی دوست کو پلا کر پھر خود پئیں گے۔ آج مجھے یاد آ گیا۔ چنانچہ آپ نے گلاس میں شربت بنا کر مجھے دیا۔ میں نے کہا پہلے حضور اس میں سے تھوڑا سا پی لیں تو پھر میں پیوں گا۔ آپ نے ایک گھونٹ پی کر مجھے دے دیا۔ اور میں نے پی لیا۔ میں نے شربت کی تعریف کی۔ آپ نے فرمایا کہ ایک بوتل آپ لے جائیں اور ایک باہر دوستوں کو پلا دیں۔ آپ نے اُن دو بوتلوں سے وہی ایک گھونٹ پیا ہو گا۔ میں آپ کے حکم کے مطابق بوتلیں لے کر چلا آیا۔

﴿1091﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لیٹے ہوئے تھے اور سید فضل شاہ صاحب مرحوم حضور کے پاؤں دبا رہے تھے۔ اور حضرت صاحب کسی قدر سو گئے۔ فضل شاہ صاحب نے اشارہ کر کے مجھے کہا کہ یہاں پر جیب میں کچھ سخت چیز پڑی ہے۔ میں نے ہاتھ ڈال کر نکال لی تو حضور کی آنکھ کھل گئی۔ آدھی ٹوٹی ہوئی گھڑے کی چپنی اور ایک دو ٹھیکرے تھے۔ میں پھینکنے لگا تو حضور نے فرمایا کہ یہ میاں محمود نے کھیلتے کھیلتے میری جیب میں ڈال دیئے ۔ آپ پھینکیں نہیں۔ میری جیب میں ہی ڈال دیں۔ کیونکہ انہوں نے ہمیں امین سمجھ کر اپنے کھیلنے کی چیز رکھی ہے۔ وہ مانگیں گے تو ہم کہاں سے دیں گے۔ پھر وہ جیب میں ہی ڈال لئے۔ یہ واقعہ میرے سامنے کا ہے۔ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے بھی اس کو حضور کی سوانح میں لکھا ہے۔

﴿1092﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں اور محمد خان صاحب مرحوم قادیان گئے۔ اور حضرت اُم المومنین بہت سخت بیمار تھیں۔ مسجد مبارک کے زینے کے قریب والی کوٹھڑی میں مولوی عبدالکریم صاحب کے پاس ہم تین چار آدمی بیٹھے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا ’’تار برقی کی طرح ‘‘’ اِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ . اِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ ‘‘ گھڑی گھڑی الہام ہوتا ہے۔ اور میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کی یہ عادت ہے کہ جب کوئی بات جلد وقوع میں آنے والی ہوتی ہے تو اس کا بار بار تکرار ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر بیٹھ کر جب آپ تشریف لے گئے تو پھر واپس آئے اور فرمایا کہ وہی سلسلہ پھر جاری ہو گیا ۔ ’ اِنَّ کَیۡدَکُنَّ عَظِیۡمٌ(يوسف: 29)۔ اِنَّ کَیۡدَکُنَّ عَظِیۡمٌ(يوسف: 29) ‘ ان دنوں میر ناصر نواب صاحب کا کنبہ پٹیالہ میں تھا۔ اگلے دن پٹیالہ سے خط آیا۔ کہ اسحاق کا انتقال ہو گیا اور دوسرے بیمار پڑے ہیں اور والدہ صاحبہ بھی قریب الموت ہیں۔ یہ خط حضرت ام المومنین کی خدمت میں لکھا۔ کہ صورت دیکھنی ہو تو جلد آجاؤ۔ حضور وہ خط لے کر ہمارے پاس آئے۔ مولوی عبدالکریم صاحب، محمد خان صاحب اور خاکسار ہم تینوں بیٹھے تھے۔ جب حضور تشریف لائے۔ فرمانے لگے کہ یہ خط ایسا آیا ہے اور حضرت اُم المومنین کے متعلق فرمایا کہ وہ سخت بیمار ہیں۔ اگر ان کو دکھایا جائے تو ان کو سخت صدمہ ہوگا اور نہ دکھائیں تو یہ بھی ٹھیک نہیں۔ ہم نے مشورہ دیا کہ حضور انہیں خط نہ دکھائیں۔ نہ کوئی ذکر اُن سے کریں۔ کسی کو وہاں بھیجیں۔ چنانچہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم کو اُسی وقت روانہ کر دیا گیا۔ اور انہوں نے جا کر خط لکھا کہ سب سے پہلے مجھے اسحاق ملا اور گھر جا کر معلوم ہوا کہ سب خیریت ہے۔ حافظ حامد علی صاحب پھر واپس آگئے۔ اور سارا حال بیان کیا۔ اس وقت معلوم ہوا کہ اِنَّ کَیۡدَکُنَّ عَظِیۡمٌ(يوسف: 29) کا یہ مطلب تھا۔ یہ واقعہ میرے سامنے کا ہے۔

﴿1093﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک شخص شملے میں رہتا تھا۔ اور اس کی بہن احمدی تھی۔ وہ شخص بڑا عیاش تھا۔ اس کی بہن حاملہ تھی اور حالات سے وہ سمجھتی تھی کہ اس دفعہ میں ایام حمل میں بچنے کی نہیں۔ کیونکہ اسے تکلیف زیادہ تھی۔ اس نے اپنے بھائی کو مجبور کیا کہ اسے قادیان پہنچا دے۔ چنانچہ وہ اسے قادیان لے آیا، اور کچھ دنوں کے بعد جب بچہ پیدا ہونے لگا تو پیروں کی طرف سے تھوڑا نکل کر اندر ہی مر گیا۔ یہ حالت دیکھ کر حضرت ام المومنین روتی ہوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آئیں ۔ اور فرمایا عورت مرنے والی ہے اور یہ حالت ہے۔ آپ نے فرمایا ہم ابھی دعا کرتے ہیں۔ اور آپ بیت الدعا میں تشریف لے گئے۔ دو چار ہی منٹ کے بعد وہ بچہ خود بخود اندر کو جانا شروع ہو گیا۔ اور پھر پلٹا کھا کر سر کی طرف سے باہر نکل آیا اور مرا ہوا تھا۔ وہ عورت بچ گئی۔ اور اس کا بھائی توبہ کر کے اسی وقت احمدی ہو گیا۔ اور بعد میں صوفی کے نام سے مشہور ہوا۔

﴿1094﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ شیخ کرم الٰہی صاحب پٹیالوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں ایک دفعہ دارالامان گیا ہوا تھا۔ گرمی کا موسم تھا۔ نمازِ ظہر سے فارغ ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے۔ دس گیارہ اور احباب بھی حاضر تھے۔ اُس وقت ایک زمیندار نے جو کہ قریباً پچاس سالہ عمر اور اَپر پنجاب کا رہنے والا معلوم ہوتا تھا۔ بڑی عاجزی سے حضور کی طرف مخاطب ہو کر عرض کی کہ حضور میں کسی معاملہ میں ایک شخص کے یکصد روپیہ کا ضامن ہو گیا۔ وہ بھاگ گیا ہے۔ ہر چند گرد ونواح میں تلاش کیا مگر ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا۔ مجھ سے اس کی حاضری کا یا زرِضمانت کا مطالبہ ہے۔ ہر روز چپراسی آ کر تنگ کرتے ہیں۔ میں تنگ آ کر نکل آیا ہوں۔ وہ میرے گھر والوں کو تنگ کرتے ہوں گے۔ مجھ کو معلوم ہوا تھا کہ حضور کی دعا خدا قبول فرماتا ہے۔ اس لئے میں اتنی دور سے چل کر آیا ہوں کہ حضور دعا فرمائیں کہ خدا جلد سے جلد مجھ کو اس مشکل سے نجات دلائے۔ حضور نے اس کا یہ دردناک حال سن کر مع حاضرین دعا فرمائی۔ اس کے بعد حضور حسبِ معمول براستہ دریچہ اندرونِ خانہ تشریف لے گئے۔ وہ شخص بھی نیچے اُتر گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر دریچہ کھلا۔ دیکھا تو حضرت صاحب کھڑے ہیں۔ خاکسار بھی قریب ہی کھڑا تھا۔ حضور کے دونوں ہاتھوں میں روپے تھے۔ حضور نے مجھے بلا کر میرے دونوں ہاتھوں میں وہ روپے ڈال دیئے اور فرمایا کہ یہ سب اُس شخص کو دے دو جس نے ابھی دعا کروائی تھی۔ میں نے عرض کیا کہ وہ تو مسجد سے چلا گیا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ کسی آدمی کو بھیج کر اُسے بلوا لو۔ وہ ابھی ایسی جلدی میں کہاں گیا ہو گا۔ یہ کہہ کر کھڑکی بند کر لی۔ خاکسار نے وہ سارا روپیہ حکیم فضل الدین صاحب اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کے آگے ڈھیری کر دیا۔ یہ دو اصحاب اور دو تین اور دوست بھی اس وقت مسجد میں موجود تھے۔ حکیم صاحب نے اُسی وقت چند آدمی اس شخص کی تلاش میں دوڑائے۔ اور مولوی صاحب روپیہ گن کر بیس بیس کی بیڑیاں لگانے لگے۔ غالباً اس لئے کہ اُس شخص کو دیتے وقت آسانی ہو۔ جب گن چکے تو ایک قہقہہ مار کر ہنستے ہوئے فرمایا کہ لو دیکھو لو کہ اس سائل نے تو سو روپیہ کا ذکر کیا تھا۔ لیکن حضرت صاحب جو روپیہ لائے ہیں وہ تو ایک سو بیس ہے۔ اور مجھ کو فرمایا کہ کھڑکی کی کنڈی ہلا کر حضرت صاحب سے ذکر کر دو کہ ان میں بیس روپیہ زائد آ گئے ہیں۔ لیکن خاکسار سے مولوی صاحب کے اس ارشاد کی تعمیل کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ پھر مولوی صاحب نے حکیم صاحب کو کہا۔ مگر حکیم صاحب نے جواب دیا کہ مولوی صاحب یہ تجویز آپ کی ہے۔ آپ ہی اب ہمت بھی کریں۔ آخر مولوی صاحب نے خود اٹھ کر زنجیر ہلائی۔ اندر سے ایک خادمہ کے آنے پر حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کرو کہ عبدالکریم ایک ضروری بات عرض کرنا چاہتا ہے۔ خادمہ کے جانے کے تھوڑی بعد حضور دریچہ پر آ کر کھڑے ہو گئے۔ مولوی صاحب نے سارا ماجرہ بیان کیا۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ مولوی صاحب خدا جانے وہ بیچارہ یہاں کیسے آیا ہے۔ اور اب اس کو جلد پہنچنے کے لئے کرایہ کی بھی ضرورت ہو گی۔ مولوی صاحب نے عرض کی کہ حضور کرایہ کے لئے چار پانچ روپیہ کافی ہے۔ حضور نے فرمایا کہ مولوی صاحب جس مصیبت میں وہ ہے ایسی حالت میں اس کی مشکل معاش کا بھی کیا حال ہو گا۔ آخر پانچ سات روز کا خرچ تو اس کے پاس ہو۔ اور فرمایا یہ جو کچھ ہم لائے ہیں ٹھیک سوچ کر لائے ہیں۔ یہ سب اُس شخص کو دے دو۔ یہ فرما کر کھڑکی بند کر لی۔ اتنے میں وہ شخص بھی آ گیا۔ اُس کو روپیہ دیتے ہوئے مولوی صاحب نے فرمایا کہ ”ایڈی چھیتی دعا قبول ہوندی کسے نے گھٹ ہی ڈٹھی ہوگی اور پھر وہ بھی سوائی“ یعنی اس قدر جلدی کسی کی دعا قبول ہوتی بہت کم دیکھی ہے اور پھر وہ بھی سوائی۔

﴿1095﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں قادیان جاتے ہوئے اخبار چودھویں صدی راولپنڈی کا ایک پرچہ ساتھ لے گیا۔ جو سراج الدین صاحب بیرسٹر کی ایڈیٹری میں شائع ہوتا تھا اور اس وقت کے اردو اخبارات میں مشہور تھا۔ اس کے ساتھ لے جانے کی غرض یہ تھی کہ ایک شخص جو سید محمود صاحب خلف سرسید مرحوم کا دوست تھا۔ اس نے ان سے علی گڑھ میں ملاقات کی اور ایک دو روز ان کے ہاں ٹھہرا۔ اور واپسی پر اس نے سید محمود کی قابل عبرت حالت کا نقشہ ایک مضمون میں کھینچ کر اس اخبار میں درج کروایا تھا۔ راقم مضمون نے لکھا تھا کہ مجھے اس دفعہ مسٹر محمود کو دیکھ کر سخت رنج و افسوس ہوا کہ وہ عالی دماغ شخص جس کی قابلیت قابل رشک اور قانون دانی انگریز ججوں تک مسلّمہ تھی۔ اس کو میں نے ایسی حالت میں پایا کہ ان کی جسمانی صحت نا قابل تلافی درجہ تک پہنچ چکی ہے۔ مگر با وجود اس کے وہ شراب کے بغیر ایک لمحہ بھی نہیں رہ سکتے تھے۔ گویا شراب ہی اُن کی روح رواں تھی۔ اور دن بھر جگت ، پھبتی بازی، تمسخر اور استہزاء کے سوا ان کا کوئی علمی مشغلہ نہیں رہا۔ اور وہ بھی صحت کے لحاظ سے چراغِ سحری ہے۔ مضمون مذکور میں اس لئے ساتھ لے گیا تھا کہ حضرت مولوی صاحب کو ایسے حالات سے دلچسپی ہے۔ چنانچہ میں نے وہ مضمون حضرت مولوی صاحب کے پیش کیا۔ مولوی صاحب نے مضمون پڑھ کر اخبار خاکسار کو واپس دیتے ہوئے فرمایا کہ اس پرچہ کو بحفاظت جیب میں رکھنا۔ اگر موقعہ میسر آیا تو حضرت صاحب کے پیش کریں گے۔ حضرت صاحب ایسے حالات بڑی توجہ سے سنتے ہیں۔ خاکسار نے وہ اخبار کوٹ کی جیب میں رکھ لیا۔ ظہر کی نماز کے بعد حضرت صاحب مسجد اقصیٰ میں تشریف فرما تھے کہ مولوی صاحب نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ یہ ایک اخبار لائے ہیں جس کا ایک مضمون حضور کے سننے کے قابل ہے۔ حضرت صاحب کے اشارہ پر میں نے وہ مضمون سنانا شروع کر دیا۔ حضور بڑی توجہ سے سنتے رہے۔ غالباً دو تین صفحات کا وہ مضمون تھا۔ جب مضمون ختم ہو چکا تو حضور نے مولوی صاحب کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ مولوی صاحب! اگر آج سید صاحب زندہ ہوتے تو میں اُن سے پوچھتا کہ جن دنوں مسٹر محمود ولایت میں تعلیم بیرسٹری پا رہے تھے آپ کے دل سے بارہا یہ دعا نکلی ہوگی کہ وہ ایسی قابلیت کا اہل ہو کہ انگریز بھی اس کی قابلیت کا سکہ مانیں۔ اور ایسے اعلیٰ عہدہ پر فائز ہو جس کے ماتحت انگریز ہوں لیکن یہ کبھی آپ کی آرزو دعاؤں کے وقت نہیں ہوگی کہ وہ خدا اور اس کے رسول کا فرمانبردار اور احکام شریعت کا دل سے پابند اور اسلام کا سچا خادم اور نمونہ ہو۔ پس جو کچھ آپ نے مانگا وہ مل گیا۔ اور خدا سے جس چیز کے مانگنے میں بے پرواہی کی جائے وہ نہیں ملتی۔

﴿1096﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ قادیان میں آریوں نے ایک اخبار نکالا تھا اور اس میں سلسلہ کے خلاف سخت کلامی اختیار کی۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ”قادیان کے آریہ اور ہم“ ایک کتاب لکھی۔ اور حضور نے فرمایا تھا کہ خدا ایسا نہیں کر سکتا کہ یہ ہمارے ہمسائے میں رہ کر بدزبانی کریں اور بچ جائیں۔ پھر آریوں میں طاعون ہوئی۔ جس کو طاعون ہوتی ، میں اور شیخ یعقوب علی صاحب اُسے دیکھنے جاتے اور سب آریہ کارکن اخبار مذکور کے جو تھے مر گئے۔ صرف مالک اخبار بچ رہا۔ پھر اُسے بھی طاعون ہوئی۔ میں اور شیخ صاحب اسے دیکھنے جاتے ۔ پھر

اسے پلنگ سے نیچے اتار لیا گیا۔ جیسا کہ ہندو مرتے وقت کرتے ہیں مگر وہ پھر ذرا اچھا ہو گیا اور اسے دوبارہ پلنگ پر لٹا دیا گیا اور وہ باتیں کرنے لگ گیا۔ بعض آریہ جو ہمیں جانتے تھے ہم سے کہنے لگے کہ تمہاری یہ مراد پوری نہیں ہو گی کہ یہ مرے۔ جب میں اور شیخ صاحب اس کے گھر سے واپس آئے تو ہمارے آنے سے پہلے کسی نے حضرت صاحب کی خدمت میں شکایت کر دی کہ یہ دونوں اس طرح آریوں کو مرنے دیکھنے جاتے ہیں۔ حضور بالائی نشست گاہ میں تشریف فرما تھے اور ہمیں وہیں بلوایا۔ کیونکہ ہمیں معلوم ہو گیا تھا کہ کسی نے ہماری شکایت کر دی ہے۔ شیخ صاحب نے مجھے بھیجا۔ جب میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ آپ کیوں وہاں جاتے ہیں؟ اور اسی وقت حضور نے فرمایا کہ مجھے ابھی الہام ہوا ہے جس کے معنے یہ تھے کہ مراے خائن!۱؎اس الہام پر حضور نے فرمایا کہ اب جا کر دیکھو۔ میں اور شیخ صاحب اسی وقت گئے تو چیخ و پکار ہو رہی تھی اور وہ مر چکا تھا۔ ہم وہاں بیٹھے اور پھر چلے آئے۔ رات کو مفتی فضل الرحمن صاحب کی بیٹھک میں اس کے مرنے پر ہم نے ایک قسم کی خوشی کی۔ حضرت صاحب پر یہ بھی کسی نے ظاہر کر دیا۔ صبح کو جب آپ سیر کے لئے تشریف لے گئے تو ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ میرا ایک آدمی مر گیا ہے اور تم خوشی کرتے ہو (مطلب یہ تھا کہ میں تو اس کے اسلام لانے کا خواہاں تھا) اور فرمایا مجھے خوف ہے کہ ہم میں ایسا واقعہ نہ ہو جائے۔ ہمیں اس پر بہت شرمندگی ہوئی۔ راستہ میں لاہور سے تار آیا کہ الٰہی بخش اکاؤنٹنٹ پلیگ سے مر گیا۔ جس نے حضور کے خلاف ایک کتاب میں اپنے آپ کو موسیٰ اور حضرت صاحب کو فرعون اپنے الہام کی رو سے لکھا تھا۔ میں اس تار کو سن کر بے اختیار ہنس پڑا۔ حضرت صاحب میری طرف ذرا دیکھنے لگے تو میں نے عرض کی کہ حضور مجھے ہنسی اس لئے آ گئی۔ کہ یہ اپنے آپ کو موسیٰ کہتا تھا اور موسیٰ صاحب پہلے ہی پلیگ سے چل دئے۔ آپ نے فرمایا! اس کی کتاب میں سے تمام وہ الہامات جو اس کو ہمارے خلاف ہوئے ہیں مجھے نکال کر دو۔ چنانچہ میں نے وہ نوٹ کر کے دے دیئے۔

﴿1097﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الٰہی بخش اکاؤنٹنٹ کی کتاب سے الہامات نکال کر دیئے۔ تو اس

دوران میں ایک طالب علم محمد حیات کو پلیگ ہو گیا۔ اس کو فوراً باغ میں بھیج کر علیحدہ کر دیا گیا۔ اور حضورؐ نے مولوی نور الدین صاحب کو بھیجا کہ اس کو جا کر دیکھو۔ اس کے چھ گلٹیاں نکلی ہوئی تھیں اور بخار بہت سخت تھا۔ اور پیشاب کے راستہ خون آتا تھا۔ حضرت مولوی صاحب نے ظاہر کیا کہ رات رات میں اس کا مر جانا اغلب ہے۔ اس کے بعد ہم چند احباب حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ محمد حیات کی تکلیف اور مولوی صاحب کی رائے کا اظہار کر کے دعا کے لئے عرض کی۔ حضرت صاحب نے فرمایا۔ میں دعا کرتا ہوں اور ہم سب روتے تھے۔ میں نے روتے روتے عرض کی کہ حضور دعا کا وقت نہیں رہا۔ سفارش فرمائیں۔ میری طرف مڑ کر دیکھ کر فرمایا۔ بہت اچھا۔ مسجد کی چھت پر میں، منشی اروڑا صاحب اور محمد خاں صاحب سوتے تھے۔ دو بجے رات کے حضرت صاحب اوپر تشریف لائے اور فرمایا کہ حیات خاں کا کیا حال ہے؟ ہم میں سے کسی نے کہا کہ شاید مر گیا ہو۔ فرمایا کہ جا کر دیکھو۔ اسی وقت ہم تینوں یا اور کوئی بھی ساتھ تھا۔ باغ میں گئے۔ تو حیات خاں قرآن شریف پڑھتا اور ٹہلتا پھرتا تھا۔ اور اُس نے کہا میرے پاس آ جاؤ۔ میرے گلٹی اور بخار نہیں رہا۔ میں اچھا ہوں۔ چنانچہ ہم اس کے پاس گئے تو کوئی شکایت اس کو باقی نہ تھی۔ ہم نے عرض کی کہ حضور اسکو تو بالکل آرام ہے۔ غالباً صبح کو آ گیا۔ چونکہ اس کے باپ کو بھی تار دیا گیا تھا۔ اور ہم تینوں یہ عظیم الشان معجزہ دیکھ کر اجازت لے کر قادیان سے روانہ ہو گئے۔ نہر پر اس کا باپ ملا جو یکہ دوڑائے آ رہا تھا۔ اس نے ہمیں دیکھ کر پوچھا کہ حیات کا کیا حال ہے؟ ہم نے یہ سارا واقعہ سنایا۔ وہ یہ سن کر گر پڑا۔ دیر میں اُسے ہوش آیا۔ اور پھر وہ وضو کر کے نوافل پڑھنے لگ گیا اور ہم چلے آئے۔

﴿1098﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ کلکتہ کا ایک برہمن مجسٹریٹ خدا تعالیٰ کی ہستی کا قائل نہ تھا۔ وہ قادیان آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میں خدا کا قائل نہیں ہوں اور سنی سنائی باتوں پر یقین نہیں رکھتا۔ کیا آپ خدا مجھے دکھا دیں گے؟ آپ نے فرمایا کہ اگر کچھ عرصہ آپ ہمارے پاس ٹھہریں گے تو ہم آپ کو دکھا دیں گے اور یہ دریافت فرمایا کہ آپ کچھ عرصہ ٹھہر سکتے ہیں؟ اس نے کہا کہ میں چھ ماہ کی رخصت پر ہوں۔ اور میں یہ سارا عرصہ ٹھہر سکتا ہوں۔ بشرطیکہ آپ خدا مجھے دکھا دیں۔ حضور نے فرمایا کہ آپ لندن گئے ہیں۔ اس نے کہا نہیں۔ فرمایا لندن کوئی شہر ہے۔ اس نے کہا ہاں ہے۔ سب جانتے ہیں۔ فرمایا آپ لاہور تشریف لے گئے ہیں اس نے کہا کہ میں لاہور بھی نہیں گیا۔ فرمایا۔ قادیان آپ کبھی پہلے بھی تشریف لائے تھے۔ اس نے کہا نہیں۔ فرمایا! آپ کو کس طرح معلوم ہوا کہ قادیان کوئی جگہ ہے اور وہاں پر کوئی ایسا شخص ہے جو تسلی کر سکتا ہے۔ اس نے کہا سنا تھا۔ آپ نے ہنس کر فرمایا۔ آپ کا تو سارا دار و مدار سماعت پر ہی ہے اور اُس پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ پھر آپ نے ہستی باری تعالیٰ پر تقریر فرمائی اور سامعین پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ ایک کیفیت طاری ہوگئی۔ اور اس شخص کی دماغی حالت کی یہ کیفیت تھی کہ وہ اقلیدس کی شکلوں کا ذکر کرنے لگا۔ اور حضرت مولوی صاحب نے اسے دوا منگوا کر دی۔ جب اس کی حالت درست ہوئی تو وہ حضرت صاحب کے پیروں کو ہاتھ لگا کر مسجد سے نیچے اُتر آیا اور حضرت مولوی صاحب اس کے ساتھ ہی اتر آئے۔ اس نے یکہ منگوایا اور سوار ہوگیا۔ حضرت مولوی صاحب نے فرمایا۔ کہ آپ ایسی جلدی کیوں کرتے ہیں۔ اس نے کہا کہ میں مسلمان ہونے کی تیاری نہیں کر کے آیا تھا اور مجھے پورا یقین ہے کہ اگر رات کو میں یہاں رہا تو صبح ہی مجھے مسلمان ہونا پڑے گا۔ مجھے خدا پر ایسا یقین آگیا ہے کہ گویا میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔ میرے بیوی اور بچے ہیں اُن سے مشورہ کر لوں۔ اگر وہ متفق ہوئے تو پھر آؤں گا۔ اس کے بعد وہ چلا گیا۔

﴿1099﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک شخص یہودی تھا۔ اور وہ مسلمان ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں شامل ہو گیا تھا۔ ایک دن میں حضور کی محفل میں بیٹھا تھا۔ کسی دوست نے حضور سے اس کے متعلق پوچھا۔ آپ کی تعریف! تو حضور نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ یہودی ہیں۔ بلکہ یہ فرمایا’’ آپ بنی اسرائیل صاحبان میں سے ہیں۔‘‘

﴿1100﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ شیخ کرم الٰہی صاحب پٹیالوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا ہے کہ اخیر سنین بعثت حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں میں قادیان جانے کے لئے تیار ہوا۔ اُس وقت کے امیر جماعت مولوی عبد اللہ خان صاحب مرحوم نے مجھ سے فرمایا۔ کہ ہمارے ایک پیغام کا یاد سے جواب لانا۔ پیغام دریافت طلب یہ تھا کہ جس طرح حضرت صاحب کی نسبت نبی یارسول کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ کیا دیگر مجددین امت و اولیاء کبار مثلاً حضرت مجدد الف ثانیؒ کی نسبت ایسے الفاظ استعمال ہو سکتے

ہیں؟ اور یہ تاکید فرمائی کہ اس کا جواب اگر ہو سکے تو خود حضرت صاحب سے حاصل کیا جائے ۔ اگر ایسا موقعہ نہ میسر ہو تو پھر حضرت مولوی نور الدین صاحب سے دریافت کیا جائے ۔ خاکسار کئی روز کوشش میں رہا۔ مگر مناسب موقعہ نہ ملنے کے سبب حضور سے دریافت کرنے کی جرأت نہ ہوئی ۔ آخر جب میں نے واپس جانے کا ارادہ کیا تو میں نے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کیا اور وہ شرط بھی ظاہر کر دی جو سائل صاحب نے لگائی تھی۔ حضرت مولوی صاحب نے ہنس کر فرمایا۔ کہ ابھی رخصت کے دو تین دن ہوں گے۔ ہم موقع نکال دیں گے ۔ چنانچہ اُسی روز یا اگلے روز حضرت صاحب بعد نماز مغرب اوپر تشریف فرما تھے کہ حضرت مولوی صاحب نے میرے حوالہ سے یہ سوال حضور کے گوش گذار کیا۔ حضور نے سن کر جوش بھرے لہجہ میں فرمایا۔ کہ مولوی صاحب! میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ سوال پیدا ہی کیسے ہوتا ہے ۔ جس شخص کو خدا نے اپنی وحی میں نبی کے لفظ سے نامزد نہ کیا ہو اور جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی کے لفظ سے یاد نہ فرمایا ہو۔ اور نہ اس شخص نے خود نبوت کا دعویٰ کیا ہو۔ پھر سر پھرا ہے کہ اس کو نبی کے لفظ سے پکارا جائے یا اس کو نبی کہا جائے؟

﴿1101﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ شیخ کرم الٰہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ خاکسار چند روز کے لئے قادیان میں مقیم تھا ۔ ایک دفعہ صبح آٹھ بجے کے قریب اطلاع ملی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کو تشریف لے جا رہے ہیں۔ خاکسار بھی ساتھ ہو لیا۔ حضور ایسے تیز قدم جا رہے تھے کہ کوشش کر کے شامل رہا جاتا تھا۔ پندرہ بیس کے قریب افراد حضور کے ساتھ ہوں گے۔ حضور بوہڑ کے درخت کے قریب پہنچ کر واپس ہوئے ۔ واپسی پر جو گفتگو ہو رہی تھی اس کو ختم کرنے کے لئے چوک زیریں مسجد مبارک میں اُس مقام پر جہاں نواب صاحب کا مکان ہے۔ کھڑے ہو کر سلسلہ کلام کو جاری رکھا۔ خلیفہ رجب دین صاحب لاہوری مرحوم زیادہ بات چیت میں حصہ لیتے تھے اور وہی حضور کے قریب کھڑے تھے۔ یہ مجھے یاد نہیں کہ کیا سلسلہ کلام تھا۔ کیونکہ پیچھے سے گفتگو ہوتی آ رہی تھی اور بہت حصہ خاکسار سن بھی نہ سکا۔ سلسلہ کلام جب ختم ہوا تو حضور کی نظر فیض اثر خاکسار پر پڑ گئی اور بڑی شفقت سے میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ آپ کی رخصت کتنے دن کی تھی۔ خاکسار نے عرض کی کہ رخصت تو پندرہ روز کی تھی مگر اب صرف دو روز باقی رہ گئے ہیں۔ کل واپسی کا ارادہ ہے۔ حضور نے فرمایا۔ دو روز پیشتر کیوں جاتے ہو۔ میں نے عرض کی کہ ایک روز تو راستہ میں صرف ہو جاتا ہے۔ اور ایک دن میں امرتسر میں اس لئے ٹھہرا کرتا ہوں کہ گھر کی فرمائشات اور بچوں کے لئے پھل وغیرہ خرید سکوں۔ اس پر حضور نے فرمایا۔ کہ وہ دو روز جو رخصت کے باقی ہیں وہ بھی یہیں ٹھہر کر ختم کرو۔ پٹیالہ تک راستہ کے لئے رات کافی ہے۔ پٹیالہ بڑا شہر ہے وہاں سب اشیاء مل سکتی ہیں۔ وہیں سے خرید کر بچوں کو دے دینے میں کیا حرج ہے۔ پھر خلیفہ رجب دین صاحب کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا۔ کہ میں اس نوجوان (یعنی خاکسار کرم الہی) کو دیکھ کر بہت تعجب کرتا ہوں۔ یہ عمر کھیل تماشہ کی ہوتی ہے۔ اس کو جب وقت ملتا ہے یہ لاہور اور امرتسر جیسے شہروں کی تفریحات اور تھیٹروں کو چھوڑتا ہوا یہاں آجاتا ہے۔ آخر اس نے کچھ تو دیکھا ہے۔ پھر خاکسار کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا۔ کہ کبھی تین ماہ کی رخصت لے کر آنا چاہئے۔ خاکسار نے عرض کی کہ سال میں ایک ماہ کا حق رخصت ہے۔ تین ماہ کی رخصت تب مل سکتی ہے کہ جب تین سال تک کوئی رخصت نہ لوں۔ خاکسار اس ایک ماہ کی رخصت کو دو دفعہ کر کے پندرہ پندرہ روز کے لئے اور کرسمس کی تعطیلات میں تین دفعہ حاضر ہو جاتا ہے۔ حضور نے فرمایا زیادہ دفعہ آؤ۔ اور زیادہ وقت کے لئے آؤ۔ آپ لوگ دفتروں کے ملازم ہیں۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ احکام ہیڈ کوارٹرز میں آتے ہیں۔ بہت کم اُن میں سے مفصلات تک پہنچتے ہیں اور وہ بھی دیر کے بعد۔ یہ خدا کی شان اور اس کی مرضی ہے کہ اس روڑیوں والے گاؤں کو خدا نے اپنا ہیڈ کوارٹر چن لیا ہے۔ (اس وقت وہاں تک روڑیوں یعنی کوڑا کرکٹ کے ڈھیر تھے جہاں آج احمدیہ بازار ہے) پھر خلیفہ صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا۔ کہ بعض لوگوں کو یہ بھی وسوسہ ہوتا ہے کہ مل لیا ہے۔ اب زیادہ دیر ٹھہر کر لنگر خانہ پر کیوں بار ہوں۔ یہ بھی صحیح نہیں بلکہ اس کے برعکس مہمانوں کے آنے اور قیام سے ہم کو راحت ہوتی ہے۔ تکلیف کی نوبت تو تب آئے کہ جب لوگوں کے دلوں میں تحریک کرنے اور ان کی رہائش اور خورونوش کا انتظام دو جداگانہ ہاتھوں میں ہو۔ لیکن یہاں تو دونوں امور ایک ہی خدا کے ہاتھ میں ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ خدا آدمیوں کو بھیجے اور اُن کے لئے سامان آسائش مہیا نہ کرے۔ پس یہ خیال دل سے نکال دینا چاہئے۔ چنانچہ اس دفعہ دو روز بقیہ رخصت کے دن بھی خاکسار نے دارالامان میں ہی گزارے۔

﴿1102﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دن سیر کو تشریف لے جا رہے تھے اور میرے پاس ڈبیا میں پان تھے۔ چلتے چلتے میں نے ایک پان نکال کر کھایا۔ آپ نے فرمایا۔ ہمیں بھی دو۔ میں نے ایک پان پیش کر دیا۔ بغیر اس خیال کے کہ پان میں زردہ ہے۔ میں نے وہ دے دیا اور آپ نے کھا لیا۔ کھاتے ہی چکر آیا ہوگا۔ کیونکہ حافظ حامد علی صاحب سے حضور نے فرمایا کہ ذرا پانی کا لوٹا لے کر ہمارے ساتھ چلو۔ وہاں قریب کے کنوئیں سے پانی لیا گیا۔ اور آپ دور تشریف لے گئے۔ حافظ صاحب بھی ساتھ تھے۔ آپ کی عادت شریفہ تھی کہ راستہ میں اگر پیشاب کرنے کی حاجت ہوتی تو اتنی دور چلے جاتے تھے جتنا کہ قضائے حاجت کے لئے جاتے ہیں۔ اس لئے میں نے سمجھا کہ پیشاب کرنے تشریف لے گئے ہیں۔ وہاں جا کر آپ کو استفراغ ہوا۔ اور پانی سے منہ صاف کر کے تشریف لے آئے۔ مجھے جب خیال آیا کہ پان میں زردہ تھا تو میں سخت نادم تھا۔ آپ نے مجھے دیکھ کر ہنستے ہوئے فرمایا۔ منشی صاحب آپ کے پان نے تو دوا کا کام کیا۔ مجھے کچھ گرانی سی تھی بالکل رفع ہوگئی۔

﴿1103﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مولوی محمد احسن صاحب امروہی، مولوی عبد الرحیم صاحب میرٹھی، چند اور احباب اور خاکسار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس بیٹھے تھے۔ حضور نے ایک اردو عبارت سنا کر فرمایا کہ اس مضمون کی مجھے یاد ہے کہ ترمذی شریف میں ایک حدیث ہے اور ترمذی شریف جو عربی میں تھی منگوا کر مولوی محمد احسن صاحب کو دی کہ اس میں سے نکالیں۔ مولوی صاحب موصوف علم حدیث میں بہت کامل سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے بہت دیر تک دیکھ کر فرمایا کہ حضور اس میں تو یہ حدیث نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا۔ مولوی عبد الرحیم صاحب کو کتاب دے دو۔ ان کو بھی وہ حدیث نہ ملی۔ پھر آپ نے فرمایا۔ منشی صاحب یعنی خاکسار کو دے دو۔ میں نے کتاب کھول کر دو تین ورق ہی الٹے تھے کہ وہ حدیث نکل آئی اور میں نے حضور کی خدمت میں پیش کر دی کہ حدیث تو یہ موجود ہے آپ اسے پڑھتے رہے اور مولوی محمد احسن صاحب بہت حیران ہو کر مجھ سے کہنے لگے کہ آپ بڑے فقیہ ہیں۔ میں نے کہا کہ میری فقاہت اس میں کیا ہے۔ یہ حضور کا تصرّف ہے۔

مجھے تو اچھی طرح عربی بھی نہیں آتی۔

﴿1104﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ بعض دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کو تشریف لے جاتے تو کنوئیں سے پانی نکلوا کر ڈول کو منہ لگا کر ہی پانی پی لیتے۔ اور لوگ منتظر رہتے کہ آپ کا چھوڑا ہوا پانی پیئیں۔ مگر حضور عموماً وہ ڈول مجھے عطا فرماتے۔ بعض دفعہ کسی اور کو بھی دے دیتے۔

﴿1105﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک شخص محمد سعید صاحب عرب تھے اور وہ ڈاڑھی منڈوایا کرتے تھے۔ جب وہ قادیان میں زیادہ عرصہ رہے تو لوگوں نے انہیں داڑھی رکھنے کے لئے مجبور کیا۔ آخر انہوں نے داڑھی رکھ لی۔ ایک دفعہ میرے سامنے عرب صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی کہ حضور میری داڑھی دیکھیں ٹھیک ہے۔ آپ نے فرمایا اچھی ہے اور پہلے کیسی تھی۔ گویا آپ کو یہ خیال ہی نہ تھا کہ پہلے یہ داڑھی منڈایا کرتے تھے۔

﴿1106﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دن محمد سعید صاحب عرب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اپنی داڑھی کے متعلق پوچھا۔ اُس وقت ایک شخص نے عرض کی کہ حضور داڑھی کتنی لمبی رکھنی چاہئے۔ آپ نے فرمایا کہ میں داڑھیوں کی اصلاح کے لئے نہیں آیا۔ اس پر سب چپ ہو گئے۔

﴿1107﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ شیخ کرم الٰہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا۔ غالباً ۱۸۸۸ء کے آخر یا ۱۸۸۹ء کے شروع میں خاکسار ریاست پٹیالہ کی طرف سے ریلوے میل سروس میں ریکارڈ کلرک ملازم ہو کر راجپورہ میں مقیم تھا کہ ایک روز شام کی گاڑی سے حاجی عبدالرحیم صاحب انبالوی پنجاب کی طرف لے جانے والی گاڑی میں سوار ہوئے۔ خاکسار پلیٹ فارم پر پھرتا ہوا ان سے ملا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آج کل لدھیانہ میں تشریف رکھتے ہیں۔ تُو بھی چل، قریب ہیں، زیارت کا موقعہ ہے۔ میں نے بلا اجازت ہیڈ کوارٹر چھوڑنے کی معذوری ظاہر کی۔ اور وعدہ کیا کہ اگر اجازت مل گئی تو حاضر ہو جاؤں گا۔ اتفاق سے اُسی روز اجازت مل گئی۔ اور خاکسار اگلے دن صبح ہی لدھیانہ پہنچ گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب قبلہ میر ناصر نواب صاحب مرحوم انبالہ سے لدھیانہ تبدیل ہو چکے تھے۔ بمشکل پتہ لے کر قریب نمازِ عصر یا بعد نمازِ عصر جائے قیام حضرت صاحب پر پہنچا۔ جمعہ کا دن تھا۔ نمازِ جمعہ خاکسار نے جامع مسجد میں پڑھی۔ وہیں سے حضور کے جائے قیام کا پتہ بھی چلا تھا۔ مکان مذکور کا بیرونی دروازہ مشرقی رویہ تھا۔ اندر صحن میں چبوترہ بنا ہوا تھا۔ اسی پر حضرت صاحب مع چند رفقاء کے تشریف فرما تھے اور تقریر فرما رہے تھے۔ جو حصہ میں نے تقریر کا سنا اس سے معلوم ہوا کہ موضوعِ تقریر یہ ہے کہ مسلمان حضور کے اعلانِ بیعت کے خلاف کیا کیا عذرات کر رہے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ علماء کا گروہ اول تو یہ کہتا ہے کہ یہ کوئی جید عالم نہیں۔ نیز فرقہ اہلِ حدیث والے یہ کہتے ہیں کہ یہ آمین اور رفع یدین جیسی سنت کا تارک ہے اور حنفی کہتے ہیں یہ فاتحہ خلف الامام کا عامل ہے۔ اس لئے مجدد کیسے ہو سکتا ہے۔ صوفی کہتے ہیں کہ ہمارے بزرگوں کے ۱۴ خاندان اور ۳۲ خانوادہ جو وہ بناتے ہیں۔ اُن میں سے یہ کسی میں داخل نہیں۔ پھر ہم اس کی بیعت کیسے کر سکتے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ کوئی ان سے پوچھے کہ تم نے جو ۱۴ اور ۳۲ کی تعداد مقرر کی ہے۔ کوئی وقت ایسا بھی تھا۔ کہ وہ ایک نمبر سے شروع ہوئے تھے۔ خدا نے اب سب کو مٹا کر اب پھر از سر نو نمبر ۱ سے شروع کیا ہے۔ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ ایک گروہ ایسا بھی ہے کہ باوجود ہمارے ساتھ حسنِ ظن رکھنے کے بیعت سے رکا ہوا ہے۔ جس طرح چور کسی مکان میں نقب لگانے کے لئے مکان کے کسی کمزور حصہ کو منتخب کرتا ہے۔ اسی طرح شیطان نے بھی جب دیکھا کہ ایسے لوگ کسرِ نفسی کے تحت ہی شکار ہو سکتے ہیں ان کے دل میں یہ وسوسہ پیدا کیا کہ یہ بات تو بے شک درست ہے مگر شرائطِ بیعت ایسی نازک اور مشکل ہیں کہ دنیا دارانہ زندگی میں اُن کی پابندی ناممکن ہے۔ جب کلام اس مرحلہ پر پہنچا تو حاجی عبدالرحیم صاحب نے جو اس مجمع میں مجھ سے آگے بیٹھے ہوئے تھے اور جو اس سے قبل ہر ملاقات میں مجھے بیعت کے لئے کہتے تھے اور میں ایسا ہی عذر کر کے ٹلا دیتا تھا انہوں نے حضرت صاحب سے کچھ عرض کرنے کی اجازت طلب کی۔ اجازت ملنے پر میرا ہاتھ پکڑ کر حضرت صاحب کے سامنے کر دیا اور کہا حضور جس گروہ کا حضور نے آخر نمبر پر ذکر فرمایا ہے اُن میں سے ایک یہ شخص بھی ہے۔ حضور نے خاکسار کی طرف نظر کر کے فرمایا کہ ہمارے بہت دیرینہ ملنے والے ہیں ان کو تو ایسا خیال نہیں ہونا چاہئے ۔ پھر میری طرف مخاطب ہوکر فرمایا کہ آپ کو اس میں کیا مشکل نظر آتی ہے؟ میں نے عرض کیا۔ حضور! ایک ہی شرط جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی ہے کیا کم ہے۔ اور دوسری شرائط بھی ایسی ہی ہیں۔ اس پر حضور نے فرمایا! کہ اچھا اگر یہ شرائط سخت اور ناقابل عمل ہیں تو کیا آپ کا یہ منشاء ہے کہ یہ شرط ہوتی کہ بیعت کر کے جو منہیات چاہو کرو کوئی روک ٹوک نہیں۔ تو کیا آپ لوگ نہ کہتے کہ یہ ایک جرائم پیشہ کا گروہ ہے اس میں کسی شریف آدمی کا شمول کیسے ہو سکتا ہے۔ فرمایا! اس بارہ میں لوگوں کو دھوکا لگا ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بیعت وہی کرے جو پہلے سے ولی اللہ ہو۔ حالانکہ ایسا نہیں بلکہ ایسے بننے کا ارادہ اور دلی خواہش ضرور ہونی چاہئے ۔ جس کا ارادہ ہی طلب حق نہ ہو اس کو ہم کھلے الفاظ میں کہتے ہیں کہ وہ ہرگز ہماری بیعت میں شامل نہ ہو۔ فرمایا اس کی مثال یہ ہے کہ اس شہر میں کالج ہوگا۔ اگر کوئی طالب علم پرنسپل سے جا کر کہے کہ مجھ کو کالج میں تو داخل کر لو مگر میں نے پڑھنا وغیرہ نہیں تو پرنسپل اُس کو یہی جواب دے گا۔ کہ مہربانی رکھو تم ہمارے دوسرے طلباء کو بھی کھلنڈرا بنا کر خراب کر دو گے ۔ بات یہ ہے کہ ایک طالب نیک نیتی سے خدا کی رضا جوئی کے لئے بیعت کرتا ہے گویا وہ معاہدہ کرتا ہے۔ خدانخواستہ اگر اس کو کسی منکر یا برائی کا موقعہ پیش آجائے تو اس کو اپنے عہد کا خیال آکر اس سے روک کا موجب ہوگا۔ علاوہ ازیں خود بیعت لینے والے کی ہمدردانہ دعاؤں کی برکت بھی شامل حال ہوتی ہے۔ اور اگر نیت نیک اور عزم راسخ ہو تو ہر شخص اپنے عزم واستقلال اور استعداد کے مطابق فیض یاب ہوتا ہے۔ خدا رحیم کسی کے نیک عمل کو ضائع نہیں کرتا۔ خاکسار نے عرض کیا کہ اگر ایسا ہے تو مجھ کو بیعت کرنے میں کوئی عذر نہیں۔ لیکن میں اس سے قبل طریقہ نقشبندیہ میں بیعت ہوں۔ حضور نے فرمایا! کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ بھی ایک وسوسہ ہے۔ کیا علم میں ایک سے زیادہ استاد نہیں ہوتے اور بیعت تو بعض اوقات ایک ایک امر کے متعلق بھی ہو سکتی ہے۔

﴿1108﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ شیخ کرم الٰہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ اپنی بیعت سے قبل میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تقریر لدھیانہ میں سنی۔ جب وہ تقریر ختم ہوئی تو نماز مغرب ادا کی گئی۔ امامت حضرت صاحب نے خود فرمائی۔ اور پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص اور فلق تلاوت فرمائی۔ اور دوسری رکعت میں فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص اور قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ(114:2) پڑھی۔

اس کے بعد حضور نے بیعت لی۔ اس روز ہم دو آدمیوں نے بیعت کی تھی۔ پہلے جب وہ صاحب بیعت کر کے کمرے سے باہر آ گئے تو حضور کے طلب فرمانے پر عاجز داخل ہوا۔ حضور نے دروازہ بند کر کے کنڈی لگا دی اور بیعت لی۔ بیعت سے قبل خاکسار نے عرض کیا کہ جب میں نے اس سے قبل نقشبندی میں بیعت کی تھی تو کچھ شیرینی تقسیم کی تھی۔ اگر اجازت ہو تو اب بھی منگوالی جائے۔ فرمایا لازمی تو نہیں اگر آپ کا دل چاہے تو ہم منع نہیں کرتے۔ اور فرمایا۔ ایسی باتیں جو آج کل لوگ بطور رسم اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ان کے ماخذ بھی سنت نبوی سے تلاش اور غور کرنے سے مل سکتے ہیں۔ مثلاً یہی شیرینی وغیرہ تقسیم کرنے کا معاملہ ہے۔ حدیث سے ثابت ہے کہ ایک موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جس گھر پر کچھ آدمیوں کا مجمع ہو اور وہ تمام کی دعوت کی توفیق نہ رکھتا ہو تو اگر حاضرین کو ایک ایک کھجور بھی تقسیم کر دے تو خدا تعالیٰ اس کو دعوت کا ثواب عطا فرمائے گا۔ یہاں سے مجالس میں تبرک وغیرہ کی بنیاد پڑی ہے۔ اگر کوئی اس نیت سے ایسا کرے تو وہ علاوہ ثواب دعوت کے عامل سنت ہونے کا اجر بھی پائے گا۔ لیکن اب اس کے برعکس تبرک تقسیم کرنے والوں کا تو یہ حال ہے کہ وہ صرف نام نمود کے لئے ایسا کرتے ہیں کہ فلاں شخص نے اپنی مجلس میں دال داکھ وغیرہ تقسیم کی ہے ہم جلیبی یا قلاقند تقسیم کریں گے اور دوسری طرف تبرک لینے والوں کا یہ حال ہے کہ اُن کو اس وعظ و پند سے فائدہ اُٹھانے کا مطلب ہی نہیں ہوتا۔ جس کے لئے مجلس کا انعقاد ہوا ہو۔ بلکہ ان کی ٹولیوں میں دن سے ہی مشورہ ہوتے ہیں کہ فلاں مجلس میں زردہ پلاؤ یا کوئی عمدہ مٹھائی تقسیم ہوگی اس لئے وہاں چلیں گے اور مجلس میں جا کر باہر بیٹھے اونگھتے یا سوتے رہیں گے۔ جب تقسیم کا وقت آتا ہے تو سب سے پیش اور سب سے بیش لینے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اگر موقعہ ملے تو ایک سے زیادہ دفعہ بدل کر یا دوسری طرف کی صفوں میں بیٹھ کر حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

﴿1109﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دن مسجد مبارک میں رِیا پر تقریر فرمارہے تھے۔ کہ ریا شرک ہے۔ تھوڑی سی دیر میں ایک دوست نے پوچھا کہ حضور کو بھی کبھی ریا کا خیال آیا ہے۔ فرمایا کہ ریا ہم جنس سے ہوا کرتی ہے۔

﴿1110﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب میں قادیان میں ہوتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ڈاک میرے سپرد ہوتی۔ میں ڈاک سنایا کرتا تھا۔ ایک خط پر لکھا ہوا تھا کہ کوئی دوسرا نہ کھولے۔ باقی خطوط تو میں نے سنائے لیکن وہ خط حضور کے پیش کر دیا۔ آپ نے فرمایا۔ کھول کر سنائیں۔ دوسرے کے لئے ممانعت ہے۔ ہم اور آپ تو ایک وجود کا حکم رکھتے ہیں۔ میں نے وہ خط پڑھ کر سنا دیا۔ نویسندہ نے اپنے گناہوں کا ذکر کر کے دعا کی درخواست کی تھی۔ اور بڑی عاجزی اور انکساری سے خط لکھا تھا۔ اس کی تحریر سے معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ ایک آگ میں پڑا ہوا ہے۔ اور حضور اُسے جلدی کھینچ کر نکال لیں۔ آپ نے فرمایا۔ یہ خط مجھے دے دیں۔ میں خود اس کا جواب لکھوں گا۔ جس طرح واشگاف حال اس نے لکھا ہے مجھے اس کی خوشی ہوئی۔ ایسے لوگ کم دیکھے گئے ہیں۔

﴿1111﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت اُمّ المومنین نے مجھے ارشاد فرمایا کہ میرے لئے ایک سبک اور عمدہ دیسی جوتا بنوا کر لائیں۔ میں پیر کا ناپ بھی لایا۔ اور پھگواڑہ کے ایک معروف موچی سے جوتا بنوایا۔ بنوا کر لے گیا۔ حضرت ام المومنین کے پیر میں وہ ڈھیلا آیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اندر سے خود پہن کر باہر تشریف لائے اور فرمایا۔ کہ اُن کے پیر میں تو ڈھیلا ہے مگر ہم پہنا کریں گے میں نے پھر دوبارہ اور جوتا بنوا کر بھیجا۔

﴿1112﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کو تشریف لے جا رہے تھے۔ پیر میں جو جوتا تھا۔ اُس کو پیوند لگے ہوئے تھے اور بدزیب معلوم ہوتا تھا۔ میں آپ کی ہمراہی سے ہٹ کر ایک دوکان پر گیا اور آپ کے پیر کا بہت ٹھیک جوتا خرید کر لایا۔ آپ مجھے سیر سے واپسی پر ملے۔ میں جوتا لئے ساتھ چلا آیا اور مکان پر آ کر پیش کیا کہ حضور وہ جوتا تو بُرا لگتا ہے۔ آپ نے جزاکم اللہ فرما کر نیا جوتا رکھ لیا۔ اور پہن کر بھی دیکھا تو بہت ٹھیک تھا۔ اگلے دن جب حضور سیر کو تشریف لے گئے تو وہی پرانا جوتا پیوند کیا ہوا پہنے ہوئے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ حضور نے تو پھر وہی جوتا پہن لیا۔ آپ نے فرمایا اس میں مجھے آرام معلوم ہوتا ہے اور اس کو پیر سے موافقت ہو گئی ہے۔

﴿1113﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں ایک دفعہ بوٹ پہنے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ تھا۔ میرا بوٹ ذرا تنگ تھا۔ اس لئے میں تکلیف سے چلتا تھا کیونکہ حضور بہت تیز چلتے تھے۔ آپ نے مجھے دیکھ کر اپنے پرانے جوتے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ہم تو ایسا جوتا پہنتے ہیں یعنی آپ کیوں تکلیف اُٹھاتے ہیں۔

﴿1114﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں نے جب لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تو میں نے اُس خلوت کو غنیمت جان کر حضور سے دو تین امور کے متعلق استفسار کیا۔ وہ سوالات اور جوابات جو حضور نے ازراہ شفقت فرمائے، یہ ہیں۔

سوال نمبر ۱: خاکسار نقش بند یہ طریق میں بیعت ہونے سے قبل فرقہ اہل حدیث جس کو عام لوگ وہابی کے لفظ سے یاد کرتے ہیں۔ میں بھی شامل رہا ہے۔ اُس وقت سے نمازوں کو جمع کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ اس بارہ میں حضور کا کیا ارشاد ہے۔

جواب: حضور نے فرمایا کہ جمع صلاتین کے بارہ میں میرے نزدیک مخالف و موافق ہر دو فریق نے افراط و تفریط سے کام لیا ہے۔ ایک طرف اس پر عاملین کا تو یہ حال ہے کہ بلا عذر شرعی یا جائز ضرورت کے نمازیں جمع کر لیتے ہیں۔ یہاں تک کے حقہ ذرا اچھا چل رہا ہے یا تاش وغیرہ کھیل رہے ہیں۔ اذان ہوئی تو ان کو چھوڑ کر کون جائے۔ جھٹ نماز جمع کرنے کی ٹھان لیتے ہیں، چاہے دوسری نماز بھی ادا ہو جائے یا دونوں ضائع ہو جائیں۔ فرمایا! یہ بہت بُری بات ہے۔ نماز جیسے ضروری فرض میں کوتاہی اور غفلت ایمان کی کمزوری پر دال ہے اور دوسری طرف حنفی صاحبان کا یہ حال ہے کہ کیسی ہی ضرورت اور عذر جائز ہو نماز قضاء تو کر دیں گے مگر اہل حدیث کی ضد اور مخالفت میں جمع نہ کریں گے۔ فرمایا۔ کہ کوئی ان لوگوں سے پوچھے کہ حج کے موقعہ پر ایک نماز ہر حاجی کو ٹھیک ادائے رسوم حج کے وقت لازمی طور پر جمع کرنی پڑتی ہے۔ اگر یہ فعل ایسا ہی ممنوع ہوتا۔ جیسا آپ لوگوں کے عمل سے ہویدا ہے تو ایسے مقدس مقام پر اس کی اجازت کیسے ہوتی۔ دراصل ضرورت اور عدم ضرورت کا سوال ہے اور یہی اس بارہ میں معیار ہے۔

سوال نمبر ۲: خاکسار نے عرض کیا کہ میں نے بارہا صوفیاء کی مجلس حال وقال میں اور شیعہ وغیرہ کی مجالس محرم وغیرہ میں قصداً اس غرض سے شامل ہو کر دیکھا ہے کہ یہ اس قدر گریہ و بکا اور چیخ و پکار جو کرتے ہیں مجھ پر بھی کوئی حالت کم از کم رقت وغیرہ ہی طاری ہو مگر مجھے کبھی رقت نہیں ہوئی۔ جواب: حضور نے فرمایا کہ ان مجالس میں جو شور و شغب ہوتا ہے اس کا بہت حصہ تو محض دکھاوے یا بانی مجلس کے خوش کرنے کے لئے ہوتا ہے اور باقی رسم اور عادت کے طور پر بھی وہ ایسا کرتے ہیں کیونکہ اُن کا خیال ہوتا ہے کہ اس موقعہ پر ایسا کرنا موجب ثواب ہے۔ لیکن مومن کے لئے رقیق القلب ہونا ضروری ہے۔ اس کے لئے نمازیں وقت پر اور خشوع خضوع سے ادا کرنا اور کثرت استغفار و درود شریف اور نمازوں میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کے وقت اهدنا الصراط المستقیم کا تکرار بطور علاج فرمایا۔ سوال نمبر ۳: خاکسار نے بطور ورد و وظائف کچھ پڑھنے کے واسطے دریافت کیا۔ تو حضور نے فرمایا کہ آپ کی ملازمت بھی نازک اور ذمہ واری کی ہے۔ بس نمازوں کو سنوار کر وقت پر ادا کرنا اور اتباع سنت اور چلتے پھرتے درود شریف، استغفار پڑھئے اور وقت فرصت قرآن مجید کی سمجھ کر تلاوت کو کافی فرمایا۔ خاکسار کے مکرر اصرار پر نماز فرض کے بعد اُسی نشست میں گیارہ دفعہ لا حول ولا قوۃ پڑھنے کے لئے ارشاد فرمایا۔

﴿1115﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ شیخ کرم الٰہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب دہلی پہنچ کر مولوی نذیر حسین صاحب اور مولوی بشیر احمد بھوپالوی سے مباحثہ فرمایا تھا۔ اُس سفر سے واپسی پر جماعت پٹیالہ کی درخواست پر ایک دو روز کے لئے حضور نے پٹیالہ میں قیام فرمایا۔ حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ہمراہ تھے۔ ان دنوں میری شادی و نکاح کا مرحلہ درپیش تھا اور میرے والد مرحوم اپنی دنیا دارانہ وضع کے پابند اور نام و نمود کے خوگر تھے اور اپنے احباب اور مشیروں کے زیر اثر شادی کے اہتمام میں باوجود مالی حالت اچھی نہ ہونے کے قرض لے کر بھی جلوس اور خلاف شرع رسوم کی تیاروں میں مصروف تھے۔ خاکسار نے اُن سے ان رسوم کی مخالفت اور اپنی بیزاری کا اظہار کیا مگر اُن پر کچھ اثر نہ ہوا۔ میں نے اپنی جائے ملازمت راجپورہ سے ان رسومات کے خلاف شرع اور خلاف اخلاق و تمدن ہونے کے متعلق تین چار صفحات کا ایک مضمون لکھ کر دہلی کے ایک ہفتہ وار اخبار میں شائع کرایا اور چند کاپیاں منگوا کر اپنے والد صاحب کی خدمت میں اور دیگر بزرگان کے نام بھجوا دیں۔ اس کے بعد میں پٹیالہ آ کر اپنے والد صاحب سے ملا۔ والد صاحب نے مضمون کی تعریف کی اور اُن خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے فرمایا کہ اس مضمون کے مطابق تم اپنے وقت پر عمل کر لینا۔ میں نے تو صرف یہی ایک شادی کرنی ہے۔ میں تو اسی طرح کروں گا جیسا میرا دل چاہتا ہے۔ تم کو وہ باتیں پسند ہوں یا نہ ہوں۔ اس کا جواب خاموش رہنے کے سوا اور میرے پاس کیا تھا۔ آخر میں نے ایک اہل حدیث مولوی سے جن کے ہمارے خاندان سے بہت تعلقات تھے اور خاکسار پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے۔ اپنی یہ مشکل پیش کی۔ انہوں نے سن کر میرے والد صاحب کی طبیعت سے واقف ہونے کی وجہ سے اُن کو تو کچھ کہنے کی جرأت نہ کی بلکہ مجھے بڑی سختی سے تلقین کی کہ اگر تمہارے والد صاحب ان خلافِ شرع رسومات کے ادا کرنے سے نہ رکیں تو تم شادی کرانے سے انکار کر دو۔ چونکہ میں اپنے والد صاحب کی طبیعت سے واقف تھا اور میرا کوئی دوسرا بہن بھائی بھی نہ تھا۔ اس لئے میں نے خیال کیا کہ ایسا جواب اُن کو سخت ناگوار معلوم ہوگا اور میرے اُن کے تعلقات ہمیشہ کے لئے خراب ہو کر خانگی زندگی کے لئے تباہ کن ہوں گے۔ اس لئے ان حالات میں میں سخت پریشانی اور تردّد میں تھا کہ انہی دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پٹیالہ تشریف لے آئے۔ ایامِ قیامِ پٹیالہ میں حضرت مولوی نور الدین صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب نمازِ عشاء کے بعد شب باش ہونے کے لئے ہمارے مکان پر تشریف لاتے اور صبح کی نماز کے بعد پھر حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہو جاتے۔ ایک دن موقعہ پا کر میں نے اپنی مشکل کو حضرت مولوی نور الدین صاحب کی خدمت میں عرض کیا۔ حضرت مولوی صاحب نے اس داستان کو بڑے غور سے سنا اور فرمایا کہ چونکہ حضرت صاحب تشریف فرما ہیں۔ اس لئے اس معاملہ کو حضور کے پیش کر دو۔ میں نے عرض کیا کہ لوگوں کی ہر وقت آمد و رفت اور حضرت صاحب کی مصروفیت کے سبب شاید حضرت صاحب سے عرض کرنے کا موقعہ نہ ملے۔ مولوی صاحب نے فرمایا۔ موقعہ نکالنے کی ہم کوشش کریں گے۔ خاکسار تو رخصت نہ ہونے کے سبب ایک روز قبل ہی راجپورہ اپنی جائے ملازمت پر چلا گیا۔ حضرت صاحب اُس سے ایک روز بعد یا دوسرے روز بغرضِ واپسی راجپورہ صبح آٹھ بجے والی گاڑی سے پہنچے اور کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر جب ٹرین پر سوار ہونے کے لئے پلیٹ فارم راجپورہ پر تشریف لائے تو مولوی صاحب نے خاکسار کو قریب طلب فرما کر یہ سارا واقعہ حضور کے گوش گزار کر دیا۔ حضور نے تمام حالات سن کر خاکسار سے دریافت کیا کہ کیا آپ کے والد صاحب کو یہ علم ہے کہ آپ کو ایسی رسوم جو کہ خلاف شرع ہیں دل سے پسند نہیں۔ میں نے عرض کیا کہ میں نے اُن سے زبانی عرض کرنے کے علاوہ ایک مدلل مضمون ان رسومات کے خلاف لکھ کر ایک اخبار میں اپنے نام سے شائع کرا کر اس کی کاپیاں اپنے والد صاحب کے پاس پہنچائیں۔ مگر وہ مضمون کو پسند کرنے اور اس سے متفق ہونے کے باوجود عملاً اس کے خلاف اور اپنی مرضی کے موافق کرنے پر آمادہ ہیں۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ اگر تم اُن اہلِ حدیث مولوی صاحب کے کہنے کے موافق شادی سے انکار کر دو تو اس کا کیا نتیجہ ہو گا۔ میں نے عرض کیا کہ ہمیشہ کے لئے میرا اُن سے انقطاع انجام ہو گا۔ اس کے بعد فرمایا۔ آخر نکاح وغیرہ کی رسم تو اسلامی شریعت کے مطابق ہی ہو گی۔ خاکسار کے اثبات پر جواب عرض کرتے ہوئے فرمایا کہ جو رسوم شرع اور سنت کے موافق ہیں اُن کو تم اپنی طرف سے سمجھو اور جو خلاف شرع امور ہیں اُن کو اُن کی مرضی پر چھوڑ دو۔ دل سے ناپسند کرنے کے باوجود کچھ تعرض نہ کرو۔ اس طرح یہ مرحلہ بغیر فساد اور نزاع کے گزر جائے گا۔ پھر مولوی صاحب کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا۔ میرے نزدیک کسی لڑکے کو کسی خلاف شرع امر میں باپ کو منع کرنے کا اس سے زیادہ حق نہیں کہ وہ اس امر کا خلاف شرع ہونا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر دے۔ سختی سے روکنے یا جبر کرنے کا کوئی حق نہیں۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے والدین کے سامنے ادب کے ساتھ اپنا شانہ جھکانے کا اور اُن کے آگے اُف تک نہ کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ اتنے میں گاڑی آگئی۔ خاکسار نے حضرت صاحب سے مصافحہ کیا اور نیچے اُتر کر حضرت مولوی صاحب سے جب مصافحہ کیا تو مولوی صاحب نے فرمایا! کہ حضرت صاحب کے فتویٰ نے آپ کی مشکل کا حل کر دیا۔ میں نے اسی لئے کہا تھا کہ حضرت صاحب سے عرض کرنا چاہئے۔ دراصل ہم مولوی صاحبان کی نظریں اُن گہرائیوں تک نہیں جاتیں جہاں حضرت صاحب کا نقطۂ نگاہ ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ معاملہ بلا مخالفت گزر گیا۔

﴿1116﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام لدھیانہ میں تھے تو وہاں ہیضہ بہت پھیلا ہوا تھا۔ اور منادی ہو رہی تھی۔

تو چراغ خادم نے آکر کہا کہ پوریاں اور حلوا خوب کھایا جائے اس سے ہیضہ نہیں ہوگا۔ اُس نے زنانہ میں آ کر یہ ذکر کیا تھا۔ دراصل اُس نے مذاق کیا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پانچ چھ روپے لے کر باہر تشریف لائے اور مولوی عبدالکریم صاحب سے فرمایا کہ دوستوں کو کھلایا جائے کیونکہ چراغ کہتا تھا کہ ایسی منادی ہو رہی ہے۔ مولوی عبدالکریم صاحب نے عرض کیا کہ چراغ تو شریر ہے۔ یہ چیز تو ہیضہ کے لئے مضر ہے۔ چراغ نے تو ویسے ہی کہہ دیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہم نے تو یہ سمجھا تھا کہ اسے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے۔ شاید کوئی نئی تحقیق ہوئی ہو۔ آپ پھر گھر میں تشریف لے گئے۔ آپ کے جانے کے بعد میں نے چراغ کو ڈانٹا کہ تم نے یہ کیا بات کی تھی۔ اُس نے کہا کہ مجھے کیا معلوم تھا کہ حضرت جی اندر بیٹھے ہیں۔

﴿1117﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خارش ہوگئی۔ اور انگلیوں کی گھائیوں میں پھنسیاں تھیں اور تر تھیں۔ دس بجے دن کے میں نے دیکھا تو آپ کو بہت تکلیف تھی۔ میں تھوڑی دیر بیٹھ کر چلا آیا۔ عصر کے بعد جب میں پھر گیا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ میں نے عرض کیا کہ خلاف معمول آج حضور کیوں چشم پُر نم ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ میرے دل میں ایک خیال آیا کہ اے اللہ! اس قدر عظیم الشان کام میرے سپرد ہے اور صحت کا میری یہ حال ہے کہ اس پر مجھے پُر ہیبت الہام ہوا کہ تیری صحت کا ہم نے ٹھیکہ لیا ہوا ہے؟ فرمایا کہ اس الہام نے میرے وجود کا ذرہ ذرہ ہلا دیا۔ اور میں نہایت گریہ وزاری کے ساتھ سجدہ میں گر گیا۔ خدا جانے کس قدر عرصہ مجھے سجدہ میں لگا۔ جب میں نے سر اُٹھایا تو خارش بالکل نہ تھی اور مجھے اپنے دونوں ہاتھ حضور نے دکھائے کہ دیکھو کہیں پھنسی ہے؟ میں نے دیکھا تو ہاتھ بالکل صاف تھے۔ اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کوئی پھنسی بالکل نکلی ہی نہیں۔

﴿1118﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جلسہ سالانہ پر بہت سے آدمی جمع تھے۔ جن کے پاس کوئی پارچہ سرمائی نہ تھا۔ ایک شخص نبی بخش نمبردار ساکن بٹالہ نے اندر سے لحاف بچھونے منگانے شروع کئے اور مہمانوں کو دیتا رہا۔ میں عشاء کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ بغلوں میں ہاتھ دیئے ہوئے بیٹھے تھے۔ اور ایک صاحبزادہ جو غالباً حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تھے پاس لیٹے تھے۔ اور ایک شتری چوغہ انہیں اوڑھا رکھا تھا۔ معلوم ہوا کہ آپ نے بھی اپنا لحاف اور بچھونا طلب کرنے پر مہمانوں کے لئے بھیج دیا۔ میں نے عرض کی کہ حضور کے پاس کوئی پارچہ نہیں رہا اور سردی بہت ہے۔ فرمانے لگے کہ مہمانوں کو تکلیف نہیں ہونی چاہئے اور ہمارا کیا ہے، رات گزر ہی جائے گی۔ نیچے آکر میں نے نبی بخش نمبردار کو بہت برا بھلا کہا کہ تم حضرت صاحب کا لحاف بچھونا بھی لے آئے۔ وہ شرمندہ ہوا۔ اور کہنے لگا کہ جس کو دے چکا ہوں اس سے کس طرح واپس لوں۔ پھر میں مفتی فضل الرحمن صاحب یا کسی اور سے ٹھیک یاد نہیں رہا۔ لحاف بچھونا مانگ کر اوپر لے گیا۔ آپ نے فرمایا کسی اور مہمان کو دے دو۔ مجھے تو اکثر نیند بھی نہیں آیا کرتی۔ اور میرے اصرار پر بھی آپ نے نہ لیا۔ اور فرمایا کسی مہمان کو دے دو۔ پھر میں لے آیا۔

﴿1119﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ چوہدری رستم علی خاں صاحب مرحوم انسپکٹر ریلوے تھے۔ ایک سو پچاس روپیہ ماہوار تنخواہ پاتے تھے۔ بڑے مخلص اور ہماری جماعت میں قابل ذکر آدمی تھے۔ وہ بیس روپیہ ماہوار اپنے پاس رکھ کر باقی کل تنخواہ حضرت صاحب کو بھیج دیتے تھے۔ ہمیشہ اُن کا یہ قاعدہ تھا۔ ان کے محض ایک لڑکا تھا۔ وہ بیمار ہوا تو وہ اُسے قادیان لے آئے مع اپنی اہلیہ کے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکان میں قیام پذیر ہوئے۔ حضرت اقدس نے ایک دن فرمایا کہ رات میں نے رویاء دیکھا۔ کہ میرے خدا کو کوئی گالیاں دیتا ہے۔ مجھے اس کا بڑا صدمہ ہوا۔ جب آپ نے رویاء کا ذکر فرمایا تو اُس سے اگلے روز چوہدری صاحب کا لڑکا فوت ہو گیا۔ کیونکہ ایک ہی لڑکا تھا۔ اس کی والدہ نے بہت جزع فزع کی اور اس حالت میں اس کے منہ سے نکلا۔ ارے ظالم! تو نے مجھ پر بڑا ظلم کیا۔ ایسے الفاظ وہ کہتی رہی۔ جو حضرت صاحب نے سن لئے۔ اُسی وقت آپ باہر تشریف لائے اور آپ کو بڑا رنج معلوم ہوتا تھا۔ اور بڑے جوش سے آپ نے فرمایا۔ کہ اسی وقت وہ مردود عورت میرے گھر سے نکل جائے۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کی والدہ جو بڑی دانشمند اور فہمیدہ تھیں۔ انہوں نے چوہدری صاحب کی بیوی کو سمجھایا اور کہا کہ حضرت صاحب سخت ناراض ہیں۔ اُس نے توبہ کی اور معافی مانگی اور کہا کہ اب میں رونے کی بھی نہیں۔ میر صاحب کی والدہ نے حضرت صاحب سے آکر ذکر کیا۔ کہ اب

معافی دیں۔ وہ توبہ کرتی ہے۔ اور اُس نے رونا بھی بند کر دیا ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ اچھا اُسے رہنے دو اور تجہیز و تکفین کا انتظام کرو۔

﴿1120﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کا جب انتقال ہوا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر تشریف لائے ۔ میں موجود تھا۔ فرمایا کہ لڑکے کی حالت نازک تھی۔ اس کی والدہ نے مجھ سے کہا کہ آپ ذرا اس کے پاس بیٹھ جائیں۔ میں نے نماز نہیں پڑھی۔ میں نماز پڑھ لوں۔ فرمایا کہ وہ نماز میں مشغول تھیں کہ لڑکے کا انتقال ہو گیا۔ میں ان خیالات میں پڑ گیا کہ جب اس کی والدہ لڑکے کے فوت ہونے کی خبر سنے گی تو بڑا صدمہ ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے سلام پھیرتے ہی مجھ سے پوچھا کہ لڑکے کا کیا حال ہے؟ میں نے کہا کہ لڑکا تو فوت ہو گیا۔ انہوں نے بڑے انشراحِ صدر سے کہا کہ الحمد للّٰہ! میں تیری رضا پر راضی ہوں۔ ان کے ایسا کہنے پر میرا غم خوشی سے بدل گیا اور میں نے کہا اللہ تعالیٰ تیری اولاد پر بڑے بڑے فضل کرے گا۔ باہر جب آپ تشریف لائے ہیں تو اس وقت آپ کا چہرہ بشاش تھا۔ کئی دفعہ میں نے حضرت صاحب کو دیکھا ہے کہ کسی کی بیماری کی حالت میں بہت گھبراتے تھے اور مریض کو گھڑی گھڑی دیکھتے اور دوائیں بدلتے رہتے تھے۔ مگر جب مریض فوت ہو جاتا تو پھر گویا حضور کو خبر بھی نہیں ہوتی تھی۔ چنانچہ میاں مبارک احمد صاحب کی بیماری میں بھی بہت گھبراہٹ حضور کو تھی اور گھڑی گھڑی باہر آتے تھے۔ پھر دوا دیتے۔ لیکن اس کی وفات پر حضرت ام المومنین کے حد درجہ صبر کا ذکر کر کے حضور بڑی دیر تک تقریر فرماتے رہے۔ فرمایا کہ جب قرآن شریف میں اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ(2:154) کہ جب صابروں کے ساتھ اللہ کی معیت ہے تو اس سے زیادہ اور کیا چاہئے۔ لڑکے کا فوت ہونا اور حضور کا تقریر کرنا ایک عجیب رنگ تھا۔

﴿1121﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ شیخ کرم الٰہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ محکمہ ریلوے سروس میں ریکارڈ کلرک رہنے کے بعد چونکہ اس پوسٹ میں آئندہ ترقی کی کوئی امید نہ تھی۔ اس لئے میرے والد صاحب نے میرا تبادلہ صیغہ پولیس میں کروا دیا۔ اور سب انسپکٹری بٹھنڈہ پر میری ماموری ہو گئی۔ لیکن یہ تبادلہ میری خلاف مرضی ہوا تھا۔ ورنہ میں صیغہ پولیس کو اپنی طبیعت کے خلاف محسوس کرتا تھا۔ ماموری کے بعد بڑے تأمل سے اپنے والد صاحب کے اس وعدہ کرنے پر کہ عنقریب تبادلہ ہو جائے گا۔ بادلِ ناخواستہ حاضر ہوا۔ اور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پے درپے تبادلہ کے لئے لکھتا رہا۔ کافی عرصہ کے بعد جب تبادلہ سے ناامیدی سی ہو گئی تو میں نے ارادہ کیا کہ خواہ کچھ ہو۔ اپنے والد صاحب سے اجازت لئے بغیر استعفیٰ پیش کر دوں گا۔ خدا رازق ہے کوئی اور سبیل معاش پیدا کر دے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے مولوی عبدالکریم صاحب کے ہاتھ کا خط لکھا ہوا موصول ہوا۔ اس میں تحریر تھا کہ حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ خط میں جو تکالیف آپ نے اپنی ملازمت میں لکھی ہیں۔ اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلوقِ خدا آپ کے طرزِ عمل سے بہت آسائش اور اطمینان کی حالت میں ہے۔ اور آپ کو خدا نے خدمتِ خلق کا بہترین موقعہ عطا فرمایا ہے جس کو باسلوب انجام دیتے ہوئے خدا کا شکر بجالاؤ۔ رہا تکالیف کا معاملہ سو کوئی نیکی نہیں جو بلا تکلیف حاصل ہو سکے۔ دعائیں کرتے رہو۔ خدا اس سے کوئی بہتر صورت پیدا کر دے گا۔ اور جب تک کوئی دوسری صورت پیدا نہ ہو۔ استعفیٰ کا خیال تک دل میں نہ لاؤ۔ کیونکہ دنیا دارالابتلاء ہے اور انسان یہاں بطور امتحان بھیجا گیا ہے۔ جو شخص ملازمت کو چھوڑتا اور اس کے بعد کسی دوسری سبیل کی تلاش میں ہوتا ہے۔ اکثر اوقات ابتلاء میں پڑ جاتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنی آزمائش میں پورا اُترنے کی بجائے خدا کو آزمانا چاہتا ہے کہ ہم نے ملازمت چھوڑی ہے۔ دیکھیں اس کے بعد اب خدا اس سے بہتر صورت ہمارے واسطے کیا کرتا ہے۔ یہ طریق گستاخانہ ہے۔ اس لئے بنے ہوئے روزگار کو اس سے قبل چھوڑنا کہ جب خدا اس کے لئے کوئی اُس سے بہتر سامان مہیا فرمائے۔ ہمارے مسلک کے خلاف ہے۔ اس جواب کے موصول ہونے پر خاکسار نے وہ ارادہ ترک کر دیا۔ اور صیغہ پولیس ہی سے پنشن یاب ہوا۔

﴿1122﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ شیخ کرم الٰہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میرے گھر میں بوجہ کمزوریِ قویٰ وغیرہ دیرینہ مرض اٹھرا تھا۔ تقریباً دس بچے صغیر سنی، شیر خوارگی میں ضائع ہو گئے ہوں گے۔ ہمیشہ حضرت مولوی (نور الدین) صاحب کا معالجہ جاری رہتا مگر کامیابی کی صورت نہ پیدا ہوئی۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ حالات سن کر مولوی صاحب نے از راہ شفقت نکاحِ ثانی کا اشارہ بھی کیا۔ لیکن میں اپنی مالی حالت اور دیگر مصالح کی بناء پر اس کی جرأت نہ کر سکا۔ آخر مولوی صاحب نے معالجہ تجویز کرتے ہوئے فرمایا کہ اس دفعہ ان ادویات کا استعمال صورتِ حمل کے شروع دو ماہ سے کر کے ساری مدتِ حمل میں کراتے رہو۔ چنانچہ اس کے مطابق عمل شروع کر دیا گیا۔ جب چھ سات ماہ کا عرصہ گزر گیا اور میری اہلیہ کو مرض بخار اور اسہال وغیرہ نے آ گھیرا جو خرابیِ جگر وغیرہ کا نتیجہ تھا۔ خاکسار نے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں مفصل حال عرض کیا۔ مولوی صاحب نے حالات سن کر بڑی تشویش کا اظہار کیا اور فرمایا ایسی صورت میں نہ صرف بچہ کی طرف سے اندیشہ ہے بلکہ ایسی کمزوری اور دیرینہ مرض میں مولود کی ماں کے لئے بھی سخت خطرہ ہے۔ اور خاکسار سے فرمایا کہ نسخہ تو ہم تجویز کریں گے لیکن میری رائے میں ایسے موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خاص موقعہ لے کر دعا بھی کرائی جائے۔ اس پر میں نے عرض کیا کہ خاص وقت ملنا بھی تو مشکل ہے۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ اس کے حصول کی تجویز یہ ہے کہ آپ ایک رقعہ اس مضمون کا لکھ کر دیں کہ میں ایک بات عرض کرنے لئے چند منٹ خلوت چاہتا ہوں ۔ حضرت صاحب کے پاس اندر بھیجو۔ حضرت صاحب اندر بلا لیں گے۔ اُس وقت یہ استدعا اور ضرورتِ خاص عرض کر دینا تو حضرت فوراً دعا فرمائیں گے۔ چنانچہ خاکسار نے اس مضمون کا رقعہ لکھ کر پیراں دتا جو کہ حضرت صاحب کا خادم تھا، کے ہاتھ بھجوا دیا کہ وہ حضور کے پیش کر دے۔ اُس نے تھوڑی دیر کے بعد واپس آ کر بتلایا کہ حضرت اقدس نے رقعہ پڑھ کر فرمایا کہ ہم کوئی ضروری مضمون تحریر کر رہے ہیں۔ درمیان میں مضمون کا چھوڑنا مناسب نہیں۔ اس لئے فرصت نہیں پھر فرصت کے وقت دیکھا جائے گا۔ خاکسار نے مولوی صاحب سے اس کا ذکر کیا تو مولوی صاحب نے فرمایا کہ اب تو وقت نہیں ملے گا۔ کیونکہ کل پٹیالہ کو واپس جانا چاہتے ہو۔ پٹیالہ جا کر مفصل خط حضرت صاحب کے نام لکھ دینا۔ حضرت صاحب خطوط پر دعا فرما دیتے ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں۔ اس لئے ایک ہی بات ہے۔ اگلے دن صبح خاکسار کا روانگی کا ارادہ تھا۔ صبح کی نماز سے فارغ ہو کر حضرت صاحب مسجد مبارک کی چھت پر تشریف فرما تھے اور خاکسار اس انتظار میں تھا کہ موقعہ ملے تو حضرت صاحب سے رخصتی مصافحہ کیا جائے۔ کہ حضرت صاحب کی نظرِ مبارک مجھ پر پڑی تو میرے کچھ عرض کرنے کے بغیر حضور نے فرمایا! کل آپ کا رقعہ پیراں دتا لایا تھا ہم اس وقت ایک خاص مضمون کی تحریر میں مصروف تھے۔ اس لئے وقت نہیں مل سکا۔ وہ کیا کام تھا۔ خاکسار نے عرض کیا کہ کچھ ایسی ضروری بات نہ تھی اگر ضرورت ہوئی تو میں پٹیالہ سے بذریعہ خط عرض کر دوں گا۔ حضرت صاحب نے فرمایا اگر کوئی خاص بات ہے تو اب بھی کہی جاسکتی ہے کیونکہ اس وقت اپنے ہی احباب بیٹھے ہیں میں بوجہ حجاب سا محسوس ہونے کے خاموش رہا کہ حضرت مولوی صاحب نے بوجہ اس حال کے واقفیت کے فرمایا وہ رقعہ میرے مشورہ سے ہی تحریر میں آیا تھا۔ مرض کے مفصل حالات بیان کر کے فرمایا کہ چونکہ خطرہ ڈبل ہے اس لئے میں نے ہی ان کو یہ دعا کرانے کا مشورہ دیا تھا۔ حضور نے یہ سن کر ہنستے ہوئے فرمایا کہ اگر یہی کام ہے تو دعا کے لئے ایسا اچھا وقت اور کون سا ہوگا اور اسی وقت مجمع سمیت دعا فرمائی۔ دعا سے فارغ ہو کر میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ بس اتنی ہی بات تھی یا کچھ اور بھی۔ میں نے عرض کیا کہ بس حضور دعا ہی کے لئے عرض کرنا تھا۔ اُسی حالتِ مرض وکمزوری میں بچہ پیدا ہوا۔ جس کا کمزور ہونا ضروری تھا۔ بذریعہ خطوط حضرت مولوی صاحب کے مشورہ سے معالجہ وغیرہ ہوتا رہا۔ رفتہ رفتہ ہر دو (یعنی زچہ وبچہ) کو افاقہ اور صحت حاصل ہوئی۔ میری اولاد میں صرف وہی بچہ زندہ سلامت ہے۔ بشیر احمد نام ہے۔ اور ایم اے علیگ ایل ایل بی ہے۔ دو بچوں کا باپ ہے (جن کے نام سلیم احمد اور جمیل احمد ہیں) دفتر ریونیو منسٹر صاحب پٹیالہ میں آفس سپرنٹنڈنٹ ہے۔ اس کی تعلیم بھی بالکل مخالف حالات ماحول میں محض خدا کے فضل سے ہوتی رہی۔ میرا ایمان ہے کہ یہ سب حضرت اقدس کی اس خاص دعا اور اس کی استجابت کا ظہور ہے اور ظہور بھی ایک خاص معجزانہ رنگ میں۔

﴿1123﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ منشی علی گوہر صاحب کپور تھلہ میں ڈاک خانہ میں ملازم تھے۔ اڑھائی روپیہ ان کی پنشن ہوئی۔ گزارہ اُن کا بہت تنگ تھا۔ وہ جالندھر اپنے مسکن پر چلے گئے۔ انہوں نے مجھے خط لکھا کہ جب تم قادیان جاؤ تو مجھے ساتھ لے جانا۔ وہ بڑے مخلص احمدی تھے۔ چنانچہ میں جب قادیان جانے لگا تو اُن کو ساتھ لینے کے لئے جالندھر چلا گیا۔ وہ بہت متواضع آدمی تھی۔ میرے لئے انہوں نے پُر تکلف کھانا پکوایا اور مجھے یہ پتہ لگا کہ انہوں نے کوئی برتن وغیرہ بیچ کر دعوت کا سامان کیا ہے۔ میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ ہم حج کو جاتے ہیں اور جہاز راستے سے اُتر گیا۔ اگلے دن گاڑی میں سوار ہو کر جب ہم دونوں چلے ہیں تو مانانوالہ سٹیشن پر گاڑی کا پہیہ پٹڑی سے اُتر گیا۔ گاڑی اسی وقت کھڑی ہو گئی۔ دیر بعد پہیہ سڑک پر چڑھایا گیا۔ کئی گھنٹے لگے۔ پھر ہم قادیان پہنچ گئے۔ میں نے منشی علی گوہر صاحب کا ٹکٹ خود ہی خرید لیا تھا۔ وہ اپنا کرایہ دینے پر اصرار کرنے لگے۔ میں نے کہا یہ آپ حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دیں۔ چنانچہ دو روپے انہوں نے حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دیئے۔ آٹھ دس دن رہ کر جب ہم واپسی کے لئے اجازت لینے گئے تو حضور نے اجازت فرمائی۔ اور منشی صاحب کو کہا ذرا آپ ٹھہریئے۔ پھر آپ نے دس یا پندرہ روپیہ منشی صاحب کو لا کر دیئے۔ منشی صاحب رونے لگے اور عرض کی کہ حضور مجھے خدمت کرنی چاہئے یا میں حضور سے لوں۔ حضرت صاحب نے مجھے ارشاد فرمایا کہ یہ آپ کے دوست ہیں۔ آپ انہیں سمجھائیں۔ پھر میرے سمجھانے پر کہ ان میں برکت ہے۔ انہوں نے لے لئے اور ہم چلے آئے حالانکہ حضرت صاحب کو منشی صاحب کی حالت کا بالکل علم نہ تھا۔

﴿1124﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر خرچ نہ رہا۔ ان دنوں جلسہ سالانہ کے لئے چندہ ہو کر نہیں جاتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے پاس سے ہی صرف فرماتے تھے۔ میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے آ کر عرض کی کہ رات کو مہمانوں کے لئے کوئی سامان نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ بیوی صاحبہ سے کوئی زیور لے کر جو کفایت کر سکے فروخت کر کے سامان کر لیں۔ چنانچہ زیور فروخت یا رہن کر کے میر صاحب روپیہ لے آئے اور مہمانوں کے لئے سامان بہم پہنچا دیا۔ دو دن کے بعد پھر میر صاحب نے رات کے وقت میری موجودگی میں کہا کہ کل کے لئے پھر کچھ نہیں۔ فرمایا کہ ہم نے برعایتِ ظاہری اسباب کے انتظام کر دیا تھا۔ اب ہمیں ضرورت نہیں۔ جس کے مہمان ہیں وہ خود کرے گا۔ اگلے دن آٹھ یا نو بجے صبح جب چٹھی رساں آیا تو حضور نے میر صاحب کو اور مجھے بلایا۔ چٹھی رساں کے ہاتھ میں دس پندرہ کے قریب منی آرڈر ہوں گے۔ جو مختلف جگہوں سے آئے ہوئے تھے۔ سوسو پچاس پچاس روپیہ کے۔ اور اُن پر لکھا تھا کہ ہم حاضری سے معذور ہیں۔ مہمانوں کے صرف کے لئے یہ روپے بھیجے جاتے ہیں۔ وہ آپ نے وصول فرما کر توکل پر تقریر فرمائی۔ اور بھی چند آدمی تھے۔ جہاں آپ کی نشست تھی۔ وہاں کا یہ ذکر ہے۔ فرمایا کہ جیسا کہ ایک دنیا دار کو اپنے صندوق میں رکھے ہوئے روپوں پر بھروسہ ہوتا ہے کہ جب چاہوں گا نکال لوں گا۔ اس سے زیادہ اُن لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پر یقین ہوتا ہے اور ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب ضرورت ہوتی ہے۔ فوراً خدا تعالیٰ بھیج دیتا ہے۔

﴿1125﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی۔ کہ مہمانوں کے لئے دوستوں سے پوچھ پوچھ کر عمدہ عمدہ کھانے پکواتے تھے کہ کوئی عمدہ کھانا بتاؤ جو دوستوں کے لیے پکوایا جائے۔ حکیم حسام الدین صاحب سیالکوٹی ، میر حامد شاہ صاحب مرحوم کے والد تھے۔ ضعیف العمر آدمی تھے۔ اُن کو بلا لیا۔ اور فرمایا کہ میر صاحب کوئی عمدہ کھانا بتلائیے۔ جو مہمانوں کے لئے پکوایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں شب دیگ بہت عمدہ پکوانی جانتا ہوں۔ آپ نے فرمایا بہت اچھا۔ اور ایک مٹھی روپوں کی نکال کر ان کے آگے رکھ دی۔ انہوں نے بقدر ضرورت روپے اٹھالئے اور آخر انہوں نے بہت سے شلجم منگوائے۔ اور چالیس پچاس کے قریب کھونٹیاں لکڑی کی بنوائیں۔ شلجم چھلوا کر کھونٹیوں سے کوچے لگوانے شروع کئے۔ اور ان میں مصالحہ اور زعفران وغیرہ ایسی چیزیں بھروائیں۔ پھر وہ دیگ پکوائی۔ جو واقعہ میں بہت لذیذ تھی اور حضرت صاحب نے بھی بہت تعریف فرمائی اور مہمانوں کو کھلائی گئی۔

﴿1126﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک انسپکٹر جنرل پولیس کا ایک باورچی قادیان میں آیا۔ بوڑھا آدمی تھا اور بیعت میں داخل تھا۔ اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ ایک بڑے آدمی کا کھانا پکاتے رہے ہیں کوئی بہت عمدہ چیز دوستوں کے لئے پکائیں۔ انہوں نے کہا پہلے حضور نمونہ ملاحظہ فرمائیں۔ پھر اس نے بکرے کی ران اور گھی منگا کر روسٹ کیا مگر وہ گوشت بالکل نہ گلا۔ حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کیا۔ میں اور مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم بیٹھے ہوئے تھے۔ گوشت چاقو سے بمشکل کٹتا تھا۔ بڑی مشکل سے تھوڑا سا ٹکڑا کاٹ کر اس نے حضرت صاحب کو دیا۔ آپ نے منہ میں ڈال لیا۔ اور چبانے کی کوشش فرماتے رہے۔ وہ چبایا نہ جا سکا۔ مگر اس باورچی کی تعریف فرمائی کہ آپ نے بہت عمدہ پکایا۔ میں نے کہا کہ یہ نہ تو کاٹا جاتا ہے اور نہ ہی چبایا جاتا ہے۔ گھی بھی ضائع کر دیا۔ فرمانے لگے منشی صاحب! آپ کو علم نہیں۔ انگریز ایسا ہی کھاتے ہیں اور ان کے نقطہ خیال سے بہت اعلیٰ درجہ کا پکا ہوا ہے۔ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم ہنسنے لگے۔ اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ٹھیک نہیں پکایا۔ فرمانے لگے کہ نہیں نہیں آپ نے نہیں جانتے۔ فرمایا کہ آپ کوئی اور چیز مہمانوں کے لئے تیار کریں۔ باورچی موجود ہیں۔ ان کو آپ بتلاتے جائیں۔ اس نے تو شرم کے مارے کوئی چیز تیار کروائی نہیں۔ کوئی اور صاحب تھے جن کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ انہوں نے بریانی مہمانوں کے لئے پکوائی اور میں نے بہت محظوظ ہو کر کھائی۔ حضرت صاحب کی خدمت میں بھی پہنچائی گئی۔ آپ نے مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کو اور مجھے بلوایا۔ اور فرمایا کہ دیکھو کیسی عمدہ پکوائی ہے۔ وہ انگریزی قسم کا کھانا تھا۔ جس سے آپ واقف نہ تھے۔ یہ دیسی قسم کا کھانا کیسا عمدہ ہے۔ حضرت صاحب نے یہی سمجھا کہ اُسی باورچی نے پکوائی ہے۔ پھر ہم دونوں نے ظاہر نہیں کیا۔ کہ اس نے نہیں پکوائی۔ غرض کوئی ناقص شے بھی آپ کی خدمت میں کوئی پیش کرتا تو آپ کی اس کی تعریف فرماتے۔

﴿1127﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد اقصیٰ سے ظہر کی نماز پڑھ کر آرہے تھے تو آپ نے میراں بخش سودائی کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا کہ وہ گول کمرے کے آگے زمین پر بیٹھا ہوا تھا۔ ایک ہندو مست بڑا موٹا ڈنڈا لئے آیا۔ میراں بخش اس سے کہنے لگا کہ پڑھ کلمہ اور اس کے ہاتھ سے ڈنڈا لے کر مارا کہ پڑھ کلمہ لا الہ الا اللہ۔ اس نے جس طرح میراں بخش نے کہلوایا تھا۔ کلمہ پڑھ دیا۔ تو اس کو میراں بخش نے ایک دونی دے دی۔ فرمایا کہ میں بہت خوش ہوا کہ ایک مسلمان پاگل نے ایک ہندو پاگل کو مسلمان کر لیا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں تبلیغی مادہ ضرور ہے۔

﴿1128﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جن ایام میں خاکسار کا تبادلہ صیغہ پولیس میں ہوا اور ماموری تھانہ بٹھنڈہ میں ہوئی۔ علاقہ بٹھنڈہ ریاست پٹیالہ میں جنگل کا علاقہ ہے اور ضلع فیروز پور اور ریاست فرید کوٹ سے سرحدات ملتی ہیں۔ ان دنوں ان علاقوں میں ڈکیتیوں کا بڑا زور تھا اور اسی قسم کی وارداتوں کی کثرت تھی۔ دن رات اونٹوں پر سفر کرنا پڑتا تھا۔ چونکہ وہ علاقہ تو سخت گرم اور ریگستان ہے اس لئے سفر میں پانی بھی زیادہ پیا جاتا تھا۔ اور بعض اوقات اونٹ کے سفر میں یہ بے احتیاطی بھی ہو جاتی کہ تعجیل کی وجہ سے اگر اونٹ کو بٹھانے میں دیر لگی تو جھٹ اوپر سے ہی چھلانگ دی۔ اس وقت کی عمر کا تقاضا بھی یہی تھا۔ ہچوں قسم کی بے احتیاطی سے خاکسار کو مرض ہر نیا لاحق ہو گیا تھا۔ اور شروع میں تو اسے ریحی تکلیف خیال کیا گیا کیونکہ جب سواری سے اُترتے اور لیٹتے تو افاقہ معلوم ہوتا تھا۔ مگر ایک ڈاکٹر صاحب کو دکھانے کا موقعہ ملا۔ تو انہوں نے کمپلیٹ ہر نیا تجویز اور تشخیص کیا۔ اور جلد سے جلد آپریشن بطور علاج تجویز کیا۔ خاکسار نے حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب کی خدمت میں ایک عریضہ بھیج کر استصواب کیا۔ مولوی صاحب موصوف نے ایک کارڈ پر یہ جواب تحریر فرمایا کہ اگر مرض ہر نیا تحقیق ہوا ہے تو پھر آپریشن کے سوا اس کا کوئی علاج نہیں۔ لیکن ہماری رائے یہ ہے کہ آپریشن سے پہلے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب سے معائنہ کروا لیا جائے۔ ڈاکٹر صاحب اول تو تم سے واقف ہوں گے اگر تعارفی تحریر کی ضرورت ہو تو یہی ہمارا کارڈ ان کو دکھا دیں۔ چنانچہ حسب رائے حضرت مولوی صاحب میں لاہور میں ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کے پاس حاضر ہوا۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم نے بڑے اخلاق اور توجہ سے معائنہ فرمایا اور مکمل مرض ہر نیا تشخیص کر کے آپریشن کے سوا کوئی اور علاج نہ تجویز فرمایا۔ چونکہ خاکسار اس دوران میں ٹرس پٹی اس مرض میں احتیاط کے لئے استعمال کرنے لگ گیا تھا ڈاکٹر صاحب نے تاکید فرمائی۔ کہ رات کے سونے کے وقت کے علاوہ ٹرس کا استعمال ہر وقت چلتے پھرتے ضروری ہے۔ اور آپریشن جلد کرایا جائے ورنہ بعض الجھنیں پڑ جانے پر آپریشن ناکامیاب ہو گا اور یہ چنداں خطرناک بھی نہیں ہے۔ گھوڑے کی سواری، چھلانگ مارنے اور دوڑ کر چلنے، بلندی سے کودنے کی ممانعت فرمائی۔ اس سے قبل خاکسار کا تبادلہ سب انسپکٹری بٹھنڈہ سے کورٹ انسپکٹری بسی پر ہو چکا تھا۔ اس لئے کوئی فوری اندیشہ نہ تھا۔ خاکسار نے ڈاکٹر صاحب سے فیس وغیرہ مصارف آپریشن دریافت کر کے بعد انتظام آپریشن کا ارادہ کر کے لاہور سے واپس ہوا۔ واپسی کے موقعہ پر قادیان آیا اور حضرت مولوی صاحب سے کل کیفیت اور ڈاکٹر صاحب کے مشورہ کا ذکر کیا۔ جس کو سن کر مولوی صاحب نے فرمایا کہ ہم نے تو پہلے ہی یہ مشورہ دیا تھا۔ کہ آپریشن کرایا جائے۔ پھر خاکسار سے دریافت کیا کہ آپریشن کا ارادہ ہے؟ میں نے عرض کی کہ ایک دو ماہ میں موسم بھی آپریشن کے قابل ہو جائے گا۔ اور سامانِ سفر بھی ہو سکے گا۔ حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ آپریشن سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ذکر کر کے ضرور دُعا کروائی جائے۔ اب چونکہ آئے ہوئے ہو کیوں نہ حضرت صاحب سے ذکر کر لیا جائے۔ میں نے عرض کیا کہ اگر موقعہ میسر آیا تو عرض کرنے کی کوشش کروں گا۔ اُسی روز شام کے وقت بعد نمازِ مغرب حضرت صاحب بالائی حصہ مسجد پر تشریف فرما تھے۔ پانچ دیگر اصحاب بھی حاضر تھے۔ حضرت مولوی صاحب نے میری طرف اشارہ کر کے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ اس کو مرض ہرنیا ہو گیا ہے۔ اطمینان کے لئے میں نے اس کو ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کے پاس بھیجا تھا۔ انہوں نے جلد سے جلد آپریشن کیا جانا ضروری تجویز فرمایا ہے۔ یہ سن کر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب! وہ ہرنیا مرض کیا ہوتا ہے۔ مولوی صاحب کے اس توضیح فرمانے پر کہ یونانی والے اس مرض کو فتق کہتے ہیں۔ حضور نے میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ ہم نے کبھی آپ کو اس مرض کی وجہ سے تکلیف کی حالت میں نہیں دیکھا۔ آپ ہمیشہ تندرست آدمی کی طرح چلتے پھرتے ہیں۔ حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ آپریشن سے قبل ایک قسم کی پٹی اس مرض کے لئے خاص طور پر بنی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کو یہ ہر وقت لگائے رہتے ہیں۔ اس سے مرض کو تو کوئی افاقہ نہیں ہوتا۔ البتہ چلنے پھرنے میں سہولت اور ایک طرح کا سہارا رہتا ہے۔ حضور نے یہ سن کر فرمایا! کہ جب کام چل رہا ہے اور کوئی تکلیف نہیں۔ پھر آپریشن کی کیا حاجت ہے۔ حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ پٹی کوئی علاج تو نہیں ایک سہارا ہے۔ اور بعض حالات ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اس پٹی کے استعمال سے الٹا مرض کو ترقی ہوتی ہے اور پھر کسی خرابی کے رونما ہونے پر آپریشن بھی کامیاب نہیں ہوتا۔ اور اخیر عمر میں آپریشن کو بغیر اشد ضرورت کے ممنوع بھی قرار دیتے ہیں۔ اس موقعہ پر مرزا یعقوب بیگ صاحب بھی وہاں موجود ہیں اور عمر کے لحاظ سے بھی مناسب وقت ہے۔ اور ویسے بھی یہ آپریشن زیادہ خطرے والا نہیں ہوتا۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ میں تو اندرونی آپریشنوں کے بارہ میں جو خطرے کا پہلو رکھتے ہوں۔ یہی رائے رکھتا ہوں کہ وہ اشد ضرورت کے وقت کرانے چاہئیں۔ یعنی جب تک بغیر آپریشن کے بھی جان کا خطرہ ہو۔ پھر خاکسار کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا کہ جن امور سے ڈاکٹر لوگ منع کرتے ہیں ان کی پابندی کرو۔ اور خدا پر بھروسہ رکھتے ہوئے جب تک بغیر آپریشن کے کام چلتا ہے چلاتے جاؤ۔ بات یہیں ختم ہوگئی۔ حضرت مولوی صاحب نے مسجد سے آنے پر خاکسار سے فرمایا کہ جب حضرت صاحب نے آپریشن کی مخالفت فرمائی ہے اس لئے اب آپریشن کا ارادہ ترک کردو۔ اور جیسا حضرت صاحب نے فرمایا ہے۔ اس پر عمل پیرا ہو جاؤ۔ اس بات کو ۴۵ سال سے متجاوز عرصہ ہوتا ہے۔ خاکسار کو خطرہ کی کوئی حالت لاحق نہیں ہوئی۔ اور اب تو عمر کی آخری سٹیج ہے۔ اس وقت بھی جب تک کسی شخص کو خاص طور پر علم نہ ہو۔ کوئی جانتا بھی نہیں کہ مجھے ایسا دیرینہ مرض لاحق ہے۔ میرا ایمان ہے کہ بعض اوقات ان مقدس اور مبارک زبانوں سے جو الفاظ شفقت اور ہمدردی کا رنگ لئے ہوئے ہوتے ہیں۔ تو وہ بھی ایک دُعائی کیفیت اختیار کر کے مقرون اجابت ہوجاتے ہیں۔

﴿1129﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ رسول بی بی بیوہ حافظ حامد علی صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مرزا نظام دین کے متعلق یہ پیشگوئی کی کہ اُن کے گھر فلاں تاریخ کو کوئی ماتم ہوگا۔ لیکن جب تاریخ آئی اور شام کا وقت قریب ہوگیا اور کچھ بات ظہور میں نہ آئی تو تمام مخالفین حضرت صاحب کے گھر کے اردگرد ٹھٹھا اور مخول کے لئے جمع ہوگئے۔ سورج غروب ہونے لگا یا ہو گیا تھا۔ کہ اچانک مرزا نظام الدین کے گھر سے چیخوں کی آواز شروع ہوگئی۔ معلوم کرنے پر پتہ لگا۔ کہ الفت بیگم والدہ مرزا ارشد بیگ فوت ہوگئی ہیں۔ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر اس وقت سے ہوں جب کہ ابھی بشیر اول پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔

﴿1130﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ رسول بی بی بیوہ حافظ حامد علی صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ بعض دفعہ مرزا نظام الدین کی طرف سے کوئی رذیل آدمی اس بات پر مقرر کر دیا جاتا تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دے۔ چنانچہ بعض دفعہ ایسا آدمی ساری رات گالیاں نکالتا رہتا تھا۔ آخر جب سحری کا وقت ہوتا تو حضرت جی دادی صاحبہ کو کہتے کہ اب اس کو کھانے کو کچھ دو۔ یہ تھک گیا ہوگا۔ اس کا گلا خشک ہو گیا ہوگا۔ میں حضرت جی کو کہتی کہ ایسے کم بخت کو کچھ نہیں دینا

چاہئے۔ تو آپ فرماتے۔ ہم اگر کوئی بدی کریں گے تو خدا دیکھتا ہے۔ ہماری طرف سے کوئی بات نہیں ہونی چاہئے۔

﴿1131﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ دہلی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک خط بھیجا۔ لفافہ پر محمد خان صاحب، منشی اروڑ ا صاحب اور خاکسار تینوں کا نام تھا۔ خط میں یہ لکھا ہوا تھا۔ کہ یہاں کے لوگ اینٹ پتھر بہت پھینکتے ہیں۔ اور علانیہ گالیاں دیتے ہیں۔ میں بعض دوستوں کو اس ثواب میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔ اس لئے تینوں صاحب فوراً آجائیں۔ ہم تینوں کچہری سے اُٹھ کر چلے گئے۔ گھر بھی نہیں آئے۔ کرتار پور جب پہنچے تو محمد خان اور منشی اروڑا صاحب نے مجھے ٹکٹ لانے کے لئے کہا۔ میرے پاس کچھ نہیں تھا۔ مجھے یہ خیال ہوا کہ اپنے کرایہ کے لئے بھی اُن سے لے لوں انہوں نے اپنے ٹکٹوں کا کرایہ مجھے دے دیا تھا۔ میں نے اُن دونوں کے ٹکٹ لے لئے اور گاڑی آگئی۔ چوہدری رستم علی خان صاحب مرحوم گاڑی میں کھڑے آواز دے رہے تھے کہ ایک ٹکٹ نہ لینا میرے ساتھ سوار ہو جانا۔ میں چوہدری صاحب مرحوم کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اور ہم دہلی پہنچ گئے۔ دہلی میں حضرت صاحب نے ایک بڑا دومنزلہ مکان کرایہ پر لیا ہوا تھا۔ اوپر زنانہ تھا اور نیچے مردانہ رہائش تھی۔ واقعہ میں روز صبح و شام لوگ گالی گلوچ کرتے تھے اور ہجوم اینٹ پتھر پھینکتا تھا۔ انسپکٹر پولیس جو احمدی تو نہ تھا۔ لیکن احمدیوں کی امداد کرتا تھا اور ہجوم کو ہٹا دیتا تھا۔ ایک دن مرزا حیرت آیا۔ میں اس وقت کہیں گیا ہوا تھا۔ اس نے آکر حضرت صاحب کو بلوایا۔ اور کہا کہ میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ہوں اور مجھے ہدایت ہوئی ہے کہ میں آپ سے دریافت کروں کہ آپ کس غرض کے لئے آئے ہیں اور کس قدر عرصہ ٹھہریں گے اور اگر کوئی فساد ہوا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔ آپ مجھے اپنا بیان لکھوادیں۔ اسی اثناء میں میں آگیا۔ میں اس کو جانتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان لکھارہے تھے اور میں یہ دیکھ کر زینے سے نیچے اُتر آیا۔ اس نے مجھے دیکھ لیا اور اُتر کر بھاگ گیا۔ میں دراصل پولیس میں اطلاع دینے کے لئے اُترا تھا اس کو اُترتے ہوئے دیکھ کر ایک عورت نے جو اوپر تھی اسے برا بھلا کہا۔

﴿1132﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مولوی بشیر احمد صاحب بھوپالوی دہلی آگئے ۔ جن کو علی جان والوں نے مباحثہ کے لئے بلایا تھا۔ علی جان والے ٹوپیوں کے بڑے سوداگر اور وہابی ہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آ کر انہوں نے عرض کی کہ مولوی صاحب کو بھوپال سے آپ کے ساتھ مباحثہ کرنے کے لئے بلایا ہے۔ شرائط مناظرہ طے کر لیجئے ۔ حضور نے فرمایا کہ کسی شرط کی ضرورت نہیں۔ احقاق حق کے لئے یہ بحث ہے۔ وہ آجائیں اور جو دریافت فرمانا چاہیں دریافت فرما لیں ۔ پھر ایک تاریخ مقرر ہوگئی ۔ مجھ کو اور پیر سراج الحق صاحب مرحوم کو حضور نے حکم دیا کہ آپ کچھ کتابیں اپنے واقفوں سے لے آئیں ۔ ہمیں تو ضرورت نہیں مگر انہی کے مسلمات سے ان کو ساکت کیا جاسکتا ہے ۔ ہم دونوں بہت جگہ پھرے لیکن کسی نے کتابیں دینے کا اقرار نہ کیا ۔ امام کی گلی میں مولوی محمد حسین صاحب فقیر رہتے تھے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ جس قدر کتابوں کی ضرورت ہو کل لے جانا ۔ اگلے روز جب ہم گئے تو وہ نہ ملے اور ان کے بیٹوں نے ہمیں گالیاں دینی شروع کر دیں کہ جو ملحدوں کی مدد کرے وہ بھی ملحد ہے۔ ہم دونوں ان کے پاس سے اُٹھ کر چلے آئے ۔ پیر سراج الحق تو مجھ سے علیحدہ ہو کر کہیں چلے گئے ۔ میں تھوڑی دور کھڑا ہو کر اُن سے سخت کلامی کرنے لگ گیا۔ وہاں آدمی جمع ہو گئے اور مجھ سے پوچھنے لگے کہ کیا بات ہے۔ میں نے عرض کیا کہ امام اعظم کو یہ بُرا کہتے ہیں۔ وہ کہنے لگے ہمیں معلوم ہے کہ یہ بڑے بے ایمان ہیں ۔ یہ چھپے ہوئے وہابی ہیں ۔ وہابیوں کی مسجد میں نماز پڑھنے جایا کرتے ہیں ۔ چنانچہ وہ لوگ میرے ساتھ ہو کر ان کے خلاف ہوگئے ۔ پھر میں وہاں سے چلا آیا ۔ جب امام صاحب کے مکان کے آگے سے گزرا۔ تو انہوں نے مجھے اشارہ کر کے اپنی بیٹھک میں بلا لیا اور کہنے لگے کہ آپ کسی سے ذکر نہ کریں تو جس قدر کتابیں مطلوب ہیں ۔ میں دے سکتا ہوں ۔ میں نے کہا آپ اتنا بڑا احسان فرمائیں تو میں کیوں ذکر کرنے لگا ۔ کہنے لگا کہ جب مرزا صاحب مولوی نذیر حسین سے قسم لینے کے لئے جامع مسجد میں بیچ کے دروازے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس وقت میں دیکھتا تھا کہ انوار الٰہی آپ پر نازل ہوتے ہیں اور آپ کی پیشانی سے شان نبوت عیاں تھی مگر میں اپنی عقیدت کو ظاہر نہیں کر سکا ۔ خیر میں یہ کتابیں لے کر چلا آیا۔ اور حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دیں آپ بہت خوش ہوئے ۔ اس پر دہلی والوں نے کہا تھا (ہولی ہے بھئی ہولی ہے پاس کتابوں کی جھولی ہے ) تفسیر مظہری اور صحیح بخاری دستیاب نہ ہوئی تھی۔ اُس زمانے میں مولوی رحیم بخش صاحب فتح پوری مسجد کے متولی تھے۔ وہ سید امام علی شاہ رتڑ چھتڑ والوں کے خلیفہ تھے اور ان سے میرے والد صاحب مرحوم کے، جبکہ والد صاحب گجرات میں بندوبست میں ملازم تھے، سید امام علی شاہ صاحب سے بہت عمدہ تعلقات قائم ہو گئے تھے۔ رحیم بخش صاحب سے جب میں نے اس تعلق کا اظہار کیا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ میں نے اُن سے کتابیں طلب کیں۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ ہمارے ہوکر مرزا صاحب کے ساتھ کس طرح ہیں۔ میں نے کہا کہ ان وہابیوں کی شکست ہماری فتح ہے۔ کہنے لگے یہ بات تو ٹھیک ہے۔ چنانچہ انہوں نے کتابیں دے دیں۔ وہ بھی لا کر میں نے حضور کو دے دیں۔ صحیح بخاری ابھی تک نہ ملی تھی۔ پھر حبیب الرحمٰن صاحب مرحوم جو اسی اثناء میں حاجی پور سے دہلی آ گئے تھے۔ تو وہ اور میں مدرسہ شاہ عبدالعزیز میں گئے۔ اور اس مدرسہ کے پاس میرے ماموں حافظ محمد صالح صاحب صدر قانون گو دہلی کا مکان تھا۔ وہاں جا کر ہم نے بخاری شریف کا آخری حصہ دیکھنے کے لئے مانگا۔ انہوں نے دے دیا اور ہم لے آئے۔ مولوی بشیر احمد صاحب مباحثہ کے لئے آ گئے۔ ایک بڑا لمبا دالان تھا جس میں ایک کوٹھڑی تھی۔ اس کوٹھڑی میں مولوی عبدالکریم صاحب اور عبدالقدوس غیر احمدی ایڈیٹر صحیفہ قدسی اور ہم لوگ بیٹھے تھے۔ مولوی بشیر احمد آ گئے۔ ظاہراً بڑے خضر صورت تھے اور حضرت صاحب سے بڑے ادب اور تعظیم سے ملے اور معانقہ کیا اور بیٹھ گئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ کوئی ہار جیت کا معاملہ نہیں۔ یہیں بیٹھے ہوئے آپ سوال کریں۔ میں جواب دوں۔ بات طے ہو جائے۔ مگر اس کو یہ حوصلہ نہ ہوا کہ حضور کے سامنے بیٹھ کر سوال و جواب کر سکتا۔ اُس نے اجازت چاہی کہ دالان میں ایک گوشہ میں بیٹھ کر لکھ لے۔ دالان میں بہت سے آدمی مع علی جان والوں کے بیٹھے تھے۔ حضور نے فرمایا۔ بہت اچھا۔ سو وہ سوالات جو اپنے گھر سے لکھ کر لایا تھا ایک شخص سے نقل کرانے لگا۔ وہ بھی میرا واقف تھا۔ مجد علی خان اس کا نام تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ حضرت صاحب خالی بیٹھے ہوئے ہیں۔ جب آپ سوال لکھ کر لائے ہیں تو دے دیں تا کہ حضور جواب لکھیں۔ وہ کہنے لگے کہ یہ تو نوٹ ہیں۔ حالانکہ وہ حرف بحرف نقل کر رہے تھے۔ دہلی والوں نے میرے خلاف شور کیا کہ آپ کیوں اس بارہ میں دخل دیتے ہیں۔ مجھے مولوی عبدالکریم صاحب نے آواز دی کہ آپ یہاں آ جائیں۔ میں چلا گیا۔ لیکن تھوڑی دیر میں اٹھ کر میں مولوی بشیر احمد صاحب کے پاس چلا گیا کہ دیکھوں انہوں نے ختم کیا ہے یا نہیں۔ میں نے کہا مولوی صاحب پسے ہوئے کو پیسنا یہ کوئی دانائی ہے؟ پھر مجھے مولوی عبدالکریم صاحب نے آوازیں دیں کہ تم یہاں آجاؤ۔ میں پھر چلا گیا۔ حضرت صاحب نے فرمایا آپ کیوں جاتے ہیں۔ تیسری دفعہ میں پھر اٹھ کر چلا گیا۔ پھر حضرت صاحب اوپر اٹھ کر چلے گئے۔ اور میرے متعلق کہا کہ یہ بہت جوش میں ہیں۔ جب وہ لکھ چکیں تو مجھے بھیج دینا۔ پھر جب وہ اپنا مضمون تیار کر چکے تو ہم نے حضرت صاحب کے پاس پہنچا دیا۔ آپ نے مجھے فرمایا کہ تم یہیں کھڑے رہو۔ دو ورقہ جب تیار ہوجائے۔ تو نقل کرنے کے لئے دوستوں کو دے دینا۔

میں نے دیکھا کہ حضور نے اس مضمون پر صفحہ وار ایک اُچٹتی نظر ڈالی۔ انگلی پھیرتے رہے اور پھر ورق الٹ کر اُس پر بھی انگلی پھیرتے ہوئے نظر ڈال لی۔ اسے علیحدہ رکھ دیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پڑھا نہیں۔ محض ایک سرسری نگاہ سے دیکھا ہے اور جواب لکھنا شروع کیا۔ جب دو ورقہ تیار ہوگیا۔ تو میں نیچے نقل کرنے کے لئے دے آیا۔ دو ورقہ کو ایک ایک ورق کر کے ایک مولوی عبدالکریم صاحب نے نقل کرنا شروع کیا اور ایک عبد القدوس نے۔ اس طرح میں اوپر سے جب دو ورقہ تیار ہوتا لے آتا اور یہ نقل کرتے رہتے۔ حضرت صاحب اس قدر جلدی لکھ رہے تھے کہ ایک دو ورقہ نقل کرنے والوں کے ذمہ فاضل رہتا تھا۔ عبد القدوس جو خود بہت زود نویس تھا حیران ہوگیا۔ اور ہاتھ لگا کر سیاہی کو دیکھنے لگا کہ پہلے کا تو لکھا ہوا نہیں۔ میں نے کہا کہ اگر ایسا ہو تو یہ ایک عظیم الشان معجزہ ہے کہ جواب پہلے سے لکھا ہو۔

غرض اس طرح جھٹ پٹ آپ نے جواب لکھ دیا اور ساتھ ہی اس کی نقل بھی ہوتی گئی۔ میں نے مولوی بشیر احمد کو وہ جواب دے دیا کہ آپ اس کا جواب لکھیں۔ اس نے کہا کہ میں حضرت صاحب سے ملنا چاہتا ہوں۔ ہم نے تو نہیں مگر کسی نے حضرت صاحب کو اطلاع کر دی کہ مولوی بشیر احمد صاحب ملنا چاہتے ہیں۔ حضور فوراً تشریف لے آئے اور مولوی بشیر احمد صاحب نے کہا کہ اگر آپ اجازت فرمائیں تو میں کل کو جواب لکھ لاؤں گا۔ آپ نے خوشی سے اجازت دے دی۔ حضرت صاحب تو اوپر تشریف لے گئے۔ مگر ہم ان کے پیچھے پڑ گئے کہ یہ کوئی بحث ہے۔ اس طرح تو آپ بھوپال میں بھی کر سکتے تھے۔ جب بہت کش مکش اس بارہ میں ہوئی تو دہلی والوں نے کہا کہ جب مرزا صاحب اجازت دے گئے ہیں تو آپ کو روکنے کا کیا حق ہے۔ ہم تو خود سمجھ گئے ہیں کہ یہ بالمقابل بیٹھ کر بحث نہیں کر سکتے۔ پھر ہم نے مولوی صاحب کو چھوڑ دیا۔ آخری مباحثہ تک مولوی بشیر احمد صاحب کا یہی رویہ رہا۔ کبھی انہوں نے سامنے بیٹھ کر نہیں لکھا۔ اجازت لے کر چلے جاتے۔ ایک مولوی نے مولوی بشیر احمد صاحب کو کہا کہ بڑی بات آپ کی بحث میں نونِ ثقیلہ کی تھی مگر مرزا صاحب نے تو نونِ ثقیلہ کے پل باندھ دیئے۔ بحث ختم ہونے پر چلتے چلتے مولوی بشیر احمد ملنے آئے اور حضرت صاحب سے کہا میرے دل میں آپ کی بڑی عزت ہے۔ آپ کو جو اس بحث کے لئے تکلیف دی ہے میں معافی چاہتا ہوں۔ غرض کہ وہ حضرت صاحب کا بڑا ادب کرتے تھے۔

﴿1133﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ دہلی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام واپس تشریف لے گئے۔ میں کتابیں واپس کرنے کے لئے ایک روز ٹھہر گیا۔ جسے کتابیں دینے جاتا وہ گالیاں نکالتا۔ مگر میں ہنس پڑتا۔ اس پر وہ اور کوستے۔ چونکہ ہمیں کامیابی ہوئی تھی اس لئے ان کی گالیوں پر بجائے غصے کے ہنسی آتی تھی اور وہ بھی بے اختیار۔

﴿1134﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ دہلی میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف فرما تھے۔ تو ایک دن حضور شاہ ولی اللہ صاحب کے مزار پر تشریف لے گئے۔ فاتحہ پڑھی اور فرمایا کہ یہ اپنے زمانے کے مجدد تھے۔

﴿1135﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں قادیان سے رخصت ہونے لگا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اجازت بھی دے دی۔ پھر فرمایا کہ ٹھہر جائیں۔ آپ دودھ کا گلاس لے آئے اور فرمایا یہ پی لیں۔ شیخ رحمت اللہ صاحب بھی آگئے۔ پھر اُن کے لئے حضور دودھ کا گلاس لائے اور پھر نہر تک ہمیں چھوڑنے کے لئے تشریف لائے۔ اور بہت دفعہ حضور نہر تک ہمیں چھوڑنے کے لئے تشریف لاتے تھے۔

﴿1136﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ رسول بی بی بیوہ حافظ حامد علی صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ عادت تھی کہ جب کوئی آدمی آپ سے ملنے آتا اور آواز دیتا تو میں یا کوئی اور دوسرا آپ کو اطلاع دیتا کہ کوئی آپ کو ملنا چاہتا ہے۔ تو آپ کی یہ حالت ہوتی کہ آپ فوراً باہر تشریف لے آتے۔

﴿1137﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ شیخ کرم الٰہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ خاکسار نے پٹیالہ میں خواب دیکھا کہ میں قادیان میں ہوں۔ دن کا وقت ہے۔ حضرت مولوی صاحب والے کمرے سے باہر نکلا ہوں کہ میرے دل میں آیا کہ اب کی دفعہ جو پٹیالہ جاؤں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے ایک چوغہ تیار کروا کر ارسال کروں۔ جب چوک میں پہنچا تو کسی شخص نے کہا کہ حضرت صاحب مسجد اقصیٰ کی چھت پر تشریف فرما ہیں۔ میری خواہش ہوئی کہ حضرت صاحب سے کیوں نہ دریافت کر لیا جائے کہ حضور کیسا چوغہ پسند فرماتے ہیں تاکہ ویسا ہی تیار کروا کر بھیج دیا جائے۔ یہ بات دریافت کرنے کے لئے خاکسار مسجد کی چھت پر چڑھ گیا۔ دیکھا حضرت صاحب تشریف فرما ہیں۔ اور آپ کے ایک طرف خواجہ کمال الدین صاحب بیٹھے ہیں۔ اور دوسری طرف ایک اور شخص بیٹھا تھا جس کو میں نہیں جانتا تھا۔ خاکسار سامنے جا کر بیٹھ گیا۔ ابھی میں کچھ عرض کرنے نہ پایا تھا کہ حضور نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اب کی دفعہ جو تم پٹیالہ جاؤ۔ تو ہمارے لئے ایک چوغہ تیار کروا کر ارسال کرنا اور جو چوغہ اس وقت حضور نے پہنا ہوا تھا۔ اس کے گریبان کے نیچے سے دونوں اطراف دونوں ہاتھوں سے پکڑے اور اُن کو ملا کر فرمایا کہ ایسا ہو کہ جو سردی سے محفوظ رکھے۔ خاکسار نے حیرت زدہ ہو کر عرض کی کہ حضور ابھی تھوڑا عرصہ ہوا کہ نیچے چوک میں مجھ کو یہی خیال آیا تھا کہ اس دفعہ پٹیالہ جانے پر ایک چوغہ حضور کے لئے بنوا کر روانہ کروں اور حضور کے تشریف فرما ہونے کی اطلاع پر اس ارادہ سے حاضر ہوا تھا کہ حضور سے دریافت کروں کہ حضور کیسا چوغہ پسند فرماتے ہیں۔ تعجب ہے کہ ابھی میں عرض بھی کرنے نہ پایا تھا کہ حضور نے خود ہی فرما دیا۔ یہ سن کر حضور نے فرمایا کہ یہ درست ہے۔ خدا تعالیٰ اپنے فضل سے بعض اوقات اپنے بندوں کی بعض ضروریات دوسرے اشخاص کے قلوب پر القا کرتا ہے۔ اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میں پٹیالہ میں ہی ہوں۔ چونکہ سرما کا موسم تھا۔ خاکسار نے اسی خیال سے کہ اس خواب کی جو کوئی اور تعبیر خدا کے علم میں ہو وہ ہو۔ لیکن ظاہری الفاظ کے مطابق مجھے ایک چوغہ تیار کروا کر روانہ کرنا چاہئے۔ چنانچہ ہفتہ عشرہ کے اندر ایک گرم کشمیر کا چوغہ قطع کرا کر اور اس کے ہر چہار طرف اُسی رنگ کی ریشمی ڈوری کا کام نکلوا کر جسم مبارک کا اندازہ درزی کو بتا کر ایک چوغہ تیار کروا کر بذریعہ پارسل ڈاک حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کو روانہ کر دیا۔ اور خط میں مفصل لکھ دیا کہ ایک خواب کی ظاہری تعبیر پورا کرنے کے خیال سے ایسا کیا گیا ہے۔ آپ پارسل پہنچنے پر یہ چوغہ میری طرف سے حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دیں۔ اس کے جواب میں مولوی صاحب مرحوم نے مجھے تحریر فرمایا کہ پارسل پہنچنے پر فوراً حضرت صاحب کی خدمت میں وہ پارسل خود لے جا کر پیش کیا۔ حضور نے فرمایا اسے کھولو۔ جب چوغہ نکالا گیا تو حضور نے فوراً کھڑے ہو کر اپنا پہلا چوغہ اُتار کر اس مرسلہ چوغہ کو زیب تن کیا۔ اور مولوی صاحب سے فرمایا کہ خدا کی کیا شان ہے کہ اپنے بندوں کی بعض ضروریات دوسرے لوگوں کے قلوب پر القا فرما دیتا ہے۔ فی الواقعہ ہمارا یہ چوغہ اس قدر میلا ہو گیا تھا کہ جب کپڑے بدلتے تو چوغہ پہننے کو دل نہ چاہتا۔ اور ارادہ کرتے کہ جلد کوئی چوغہ نیا تیار کروائیں گے۔ مگر پھر سلسلہ کی ضروریات اور مصروفیات کی وجہ سے سہو ہو جاتا۔ پھر بٹنوں کو دیکھ کر فرمایا۔ کہ مولوی صاحب اس نے یہ کیسی عقل کی بات کی ہے کہ باوجود چوغہ کی طرح لمبا ہونے کے آگے بٹن لگوا دیئے ہیں۔ تا سردی سے بچاؤ ہو۔ پرانی قسم کے چوغوں میں مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ سب سے اوپر کا کپڑا آگے سے کھلا ہوا ہوتا ہے۔ جس سے سردی سے حفاظت نہیں ہو سکتی۔ پھر فرمایا کہ مولوی صاحب تعجب تو یہ ہے کہ بدن پر ایسا درست آیا ہے کہ جیسے کسی نے ناپ لے کر بنوایا ہو۔ مولوی صاحب نے آخر میں خاکسار کو یہ بھی لکھا کہ آپ کا خواب صحیح اور تعبیر بھی ٹھیک ثابت ہوئی۔ کیونکہ جو الفاظ اس بارہ میں حضور نے فرمائے تھے۔ بالکل وہی الفاظ چوغہ پیش کرنے پر فرمائے۔ خدا تعالیٰ نے آپ کی سعی کو مشکور فرمایا۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ شیخ کرم الٰہی صاحب نے مجھ سے یہ بھی بیان کیا کہ جہاں تک میرا خیال ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو فوٹو ولایت روانہ کرنے کے لئے حکیم محمد کاظم فوٹوگرافر انارکلی لاہور کا تیار کردہ ہے جس میں حضور نے بٹن والا چوغہ نما لمبا کوٹ پہنا ہوا ہے وہ وہی ہے۔

﴿1138﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ رسول بی بی بیوہ حافظ حامد علی صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک دفعہ الہام ہوا کہ تمہارا اور تمہارے ساتھی کا کچھ نقصان ہوگا۔ تو حضرت صاحب نے حافظ حامد علی صاحب سے فرمایا کہ مجھے اس طرح الہام ہوا ہے دعا کرنا۔ چند دن بعد آپ حافظ حامد علی صاحب کو ہمراہ لے کر پیدل ہی گاؤں کے راستہ سے گورداسپور تشریف لے گئے تو راستہ میں کسی بیری کے نیچے سے حافظ صاحب نے کچھ بیر اٹھا کر کھانے شروع کر دیئے۔ تو حضرت جی نے فرمایا کہ یہ کس کی بیری ہے۔ حافظ صاحب نے کہا کہ پتہ نہیں۔ جس پر حضرت جی نے فرمایا کہ پھر بغیر اجازت کے کس طرح کھانا شروع کر دیا۔ جس پر حافظ صاحب نے وہ سب بیر پھینک دیئے اور آگے چل دیئے۔ اس سفر میں حضرت صاحب کا روپوں والا رومال اور حافظ صاحب کی چادر گم ہوگئی۔

﴿1139﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر تشریف لے جارہے تھے۔ کرنا کھلا ہوا تھا اور بہت مہک رہا تھا۔ آپ نے فرمایا! کہ دیکھو کرنا اور کہنا اس میں بڑا فرق ہے۔ حضور نے فرمایا۔ پنجاب میں کہنا مکڑی کو کہتے ہیں (یعنی کرنا خوشبودار چیز ہے اور کہنا ایک مکروہ چیز ہے)

﴿1140﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ لدھیانہ کا واقعہ ہے کہ بارش ہو کر تھمی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر سیر کو جارہے تھے۔ میاں چراغ جو اس وقت لڑکا تھا اور بہت شوخ تھا۔ چلتے چلتے گر پڑا۔ میں نے کہا اچھا ہوا۔ یہ بڑا شریر ہے۔ حضرت صاحب نے چپکے سے فرمایا کہ بڑے بھی گر جاتے ہیں۔ یہ سن کر میرے تو ہوش گم ہو گئے اور بمشکل وہ سیر طے کر کے واپسی پر اُسی وقت اندر گیا جبکہ حضور واپس آ کر بیٹھے ہی تھے۔ میں نے کہا حضور میرا قصور معاف فرمائیں۔ میرے آنسو جاری تھے۔ حضور فرمانے لگے کہ آپ کو تو ہم نے نہیں کہا۔ آپ تو ہمارے ساتھ ہیں۔

﴿1141﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میر عباس علی صاحب لدھیانوی بہت پرانے معتقد تھے۔ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اصطلاحِ صوفیاء میں معنے دریافت کرتے رہتے تھے۔ اور تصوف کے مسائل پوچھتے تھے۔ اس بارہ میں حضرت صاحب نے کئی مبسوط خطوط انہیں لکھے تھے جو ایک کتاب میں انہوں نے نقل کر رکھے تھے۔ اور بہت سی معلومات ان خطوط میں تھی گویا تصوف کا نچوڑ تھا۔ میر عباس علی صاحب کا قول تھا کہ انہوں نے بے وضو کوئی خط نقل نہیں کیا۔ حضرت صاحب نے براہین احمدیہ کے بہت سے نسخے میر صاحب کو بھیجے تھے اور لکھا تھا کہ یہ کوئی خرید و فروخت کا معاملہ نہیں۔ آپ اپنے دوستوں کو دے سکتے ہیں۔ چونکہ میرا اُن سے پرانا تعلق تھا۔ میں اُن سے وہ خطوط والی کتاب دیکھنے کو لے آیا۔ ابھی وہ کتاب میرے پاس ہی تھی کہ میر صاحب مرتد ہو گئے۔ اس کے بعد کتاب مذکور کا انہوں نے مجھ سے مطالبہ کیا۔ میں نے نہ بھیجی۔ پھر انہوں نے حضرت صاحب سے میری شکایت کی کہ کتاب نہیں دیتا۔ حضرت صاحب نے مجھے لکھا کہ آپ ان کی کتاب ان کو واپس کر دیں۔ میں خاموش ہو گیا۔ پھر دوبارہ میر صاحب نے شکایت کی۔ اور مجھے دوبارہ حضور نے لکھا۔ اُن دنوں ان کے ارتداد کی وجہ سے الہام ’ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُهَا فِی السَّمَاءِ ‘ پر مخالفین بہت اعتراض کرتے تھے۔ میں قادیان گیا۔ مولوی عبداللہ سنوری صاحب کی موجودگی میں حضور نے مجھے فرمایا کہ آپ اُن کی کتاب کیوں نہیں دیتے۔ مولوی عبداللہ صاحب مرحوم نے عرض کی کہ حضور کی ضمانت پر تو اُس نے کتاب نہیں دی تھی (بعض دفعہ عبداللہ سنوری صاحب اور میں حضرت صاحب سے اس طرح بے تکلف باتیں کر لیا کرتے تھے۔ جس طرح دوست دوست سے کر لیتا ہے اور حضور ہنستے رہتے) اور میں نے عرض کی کہ اتنا ذخیرہ عرفان و معرفت کا اس کتاب کے اندر ہے، میں کس طرح اسے واپس کر دوں۔ حضور نے فرمایا واپس کرنی چاہئے۔ آپ جانیں وہ جانیں۔ اس کے بعد میں کپور تھلہ آیا۔ ایک دن وہ کتاب میں دیکھ رہا تھا تو اس میں ایک خط عباس علی کے نام حضرت صاحب کا ، عباس علی کے قلم سے نقل کردہ موجود تھا۔ جس میں لکھا تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ کسی وقت مرتد ہو جائیں گے۔ آپ کثرت سے توبہ واستغفار کریں اور مجھ سے ملاقات کریں۔ جب یہ خط میں نے پڑھا تو میں فوراً قادیان چلا گیا۔ اور حضور کے سامنے وہ عبارت نقل کردہ عباس علی پیش کی۔ فرمایا ! یہی سِرّ تھا جو آپ کتاب واپس نہیں کرتے تھے۔ پھر وہ کتاب شیخ یعقوب علی صاحب نے مجھ سے لے لی۔

﴿1142﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی میں قیام فرما تھے۔ اور وہاں کے لوگوں نے تجویز کی کہ مولوی نذیر حسین صاحب حضرت صاحب سے بحث کریں۔ تو مولوی نذیر حسین نے بحث کرنے سے انکار کر دیا۔ حضور نے مولوی نذیر حسین صاحب کو خط لکھا تھا۔ کہ میں جامع مسجد میں عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر دلائل بیان کروں گا۔ آپ اگر قسم کھا کر کہہ دیں کہ یہ صحیح نہیں ہیں تو پھر ایک سال کے اندر اگر آپ پر عذاب نہ آئے تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔ اس کا جواب مولوی نذیر حسین نے کوئی نہ دیا۔ جواب نہ آنے پر حضور نے ایک دوسرا خط لکھا جو محمد خان صاحب اور خاکسار لے کر مولوی نذیر حسین کے پاس گئے۔ اس میں حضور نے لکھا تھا کہ کل ہم جامع مسجد میں پہنچ جائیں گے۔ اگر تم نہ آئے تو خدا کی لعنت ہو گی۔ یہ خط جب ہم لے کر گئے تو مولوی نذیر حسین نے ہمیں کہا کہ تم باہر مولوی محمد حسین بٹالوی کے پاس چل کر بیٹھو۔ خط انہیں دے دو۔ میں آتا ہوں۔ مولوی محمد حسین نے وہ خط کھول لیا۔ پھر مولوی نذیر حسین صاحب آ گئے۔ اور انہوں نے مولوی محمد حسین سے پوچھا کہ خط میں کیا لکھا ہے۔ مولوی محمد حسین نے کہا میں سنا نہیں سکتا۔ آپ کو بہت گالیاں دی ہیں۔ اس وقت ایک دہلی کا رئیس وہاں بیٹھا تھا۔ اور اس نے بھی مولوی محمد حسین کے پاس بیٹھے وہ خط پڑھ لیا تھا۔ اس نے کہا۔ خط میں تو کوئی گالی نہیں۔ مولوی نذیر حسین نے اسے کہا۔ تو بھی مرزائی ہو گیا ہے۔ وہ پھر چپ ہو گیا۔ پھر ہم نے مولوی نذیر حسین سے کہا۔ آپ نے جو کچھ جواب دینا ہو دے دیں۔ مولوی محمد حسین نے کہا ہم کوئی جواب نہیں دیتے۔ تم چلے جاؤ۔ تم ایلچی ہو۔ خط تم نے پہنچا دیا ہے۔ ہم نے کہا ہم جواب لے کر جائیں گے۔ پھر لوگوں نے کہا۔ جانے دو۔ غرض انہوں نے جواب نہیں دیا۔ اور ہم نے سارا واقعہ حضرت صاحب کے پاس آ کر عرض کر دیا۔ اگلے دن ہم سب جامع مسجد میں چلے گئے۔ ہم بارہ آدمی حضرت صاحب کے ساتھ تھے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے۔ محمد خان صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب، منشی اروڑ ا صاحب، حافظ حامد علی صاحب، مولوی عبدالکریم صاحب۔ محمد سعید صاحب جو میر ناصر نواب صاحب کے بھانجے تھے اور خاکسار۔ باقیوں کے نام یاد نہیں رہے۔ جامع مسجد کے بیچ کے دروازہ میں ہم جا کر بیٹھ گئے۔ حضرت صاحب بھی بیٹھ گئے۔ یہ یاد پڑتا ہے کہ سید امیر علی اور سید فضیلت علی سیالکوٹی بھی تھے۔ دروازے کے دائیں طرف یعنی دریچہ کی طرف ہم تھے۔ اور فرش کے ایک طرف مولوی نذیر حسین اور مولوی محمد حسین آٹھ سات آدمی تھے۔ تمام صحن مسجد کا لوگوں سے پُر تھا۔ ہزاروں آدمی تھے۔ انگریز کپتان پولیس آیا۔ کثرتِ ہجوم کی وجہ سے وہ گھبرایا ہوا تھا۔ اس نے حضرت صاحب سے آ کر پوچھا کہ آپ کا یہاں آنے کا کیا مقصد ہے؟ شیخ رحمت اللہ صاحب نے انگریزی میں اس سے ذکر کیا کہ یہ غرض ہے کہ حضرت صاحب دلائل وفاتِ عیسیٰ بیان کریں گے اور نذیر حسین قسم کھا کر کہہ دے کہ یہ صحیح نہیں۔ وہ پھر نذیر حسین کے پاس گیا۔ اور اُن سے پوچھا کہ تمہیں ایسی قسم منظور ہے۔ اس نے کہا کہ میں قسم نہیں کھاتا۔ اس نے آ کر حضرت صاحب سے بیان کیا کہ وہ آپ کے دلائل سن کر قسم کھانے پر آمادہ نہیں۔ اس لئے آپ چلے جائیں۔ حضرت صاحب چلنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ میں نے حضور کا ہاتھ پکڑ کر عرض کی کہ حضور ذرا ابھی ٹھہر جائیں اور میں نے شیخ رحمت اللہ صاحب سے کہا کہ آپ کپتان پولیس سے کہیں کہ پہلے فریق ثانی جائے پھر ہم جائیں گے۔ پھر اس نے انہیں کہا۔ اس پر وہ مصر ہوئے کہ پہلے ہم جائیں۔ غرض اس بارہ میں کچھ قیل قال ہوتی رہی۔ پھر کپتان پولیس نے قرار دیا کہ دونوں ایک ساتھ اُٹھ جائیں اور ایک دروازے سے وہ اور دوسرے سے ہم چلے جائیں۔ غرض اس طرح ہم اُٹھے۔ ہم بارہ آدمیوں نے حضرت صاحب کے گرد حلقہ باندھ لیا۔ اور ہمارے گرد پولیس نے۔ اس وقت دہلی والوں نے اینٹ پتھر بہت پھینکے۔ نذیر حسین پر بھی اور ہم پر بھی۔ ہم دریچے کی جانب والے دروازے سے باہر نکلے۔ تو ہماری گاڑی جس میں ہم آئے تھے دہلی والوں نے کہیں ہٹا دی تھی۔ کپتان پولیس نے ایک شکرم میں ہمیں سوار کرا دیا۔ کوچ بکس پر انسپکٹر پولیس، دونوں پائیدانوں پر دو سب انسپکٹر اور پیچھے سپاہی گاڑی پر تھے۔ گاڑی میں حضرت صاحب، محمد خان صاحب، منشی اروڑا صاحب، خاکسار اور حافظ حامد علی صاحب تھے۔ پھر بھی گاڑی پر اینٹ پتھر برستے رہے۔ جب ہم چلے تو مولوی عبدالکریم صاحب پیچھے رہ گئے۔ محمد خان صاحب گاڑی سے کود پڑے اور مولوی صاحب کے گرد لوگ جمع ہو گئے تھے جو محمد خان صاحب کو دیکھ کر ہٹ گئے اور محمد خان صاحب مولوی صاحب کو لے آئے۔

﴿1143﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ شیخ کرم الٰہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ خاکسار دارالامان میں چند روز سے وارد تھا۔ کہ ایک شام کو نماز مغرب کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک کی چھت پر تشریف فرما تھے۔ پانچ سات خدام سامنے حلقہ بنائے بیٹھے تھے۔ حضرت مولوی صاحب عبدالکریم صاحب مرحوم اس چھت کی مشرقی سمت ذرا فاصلہ پر کھڑے ٹہل رہے تھے۔ وہاں سے وہ حضرت صاحب کی طرف آئے۔ ابھی بیٹھے نہ تھے کہ حضرت صاحب سے مخاطب ہو کر اور خاکسار کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ پٹیالہ والا شیخ جو حضور کے سامنے بیٹھا ہے۔ ’’ایہہ ساتھوں گھٹ نیچری نہیں رہیا جے‘‘ یعنی یہ ہم سے کم نیچری نہیں رہا اور اس نے سرسید کی بہت سی کتابیں دیکھی ہیں۔ یہ حضور کی کشش ہے جو اس کو یہاں کھینچ لائی ورنہ یہ لوگ کسی کے قابو نہیں آنے والے تھے۔ یہ سن کر میں حیران رہ گیا کہ مولوی صاحب کو اس وقت حضور سے ایسا کہنے کی کیا سوجھی۔ حضرت صاحب نے مولوی صاحب کا یہ کلام سن کر معاً خاکسار کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اگر آپ نے سید صاحب کی کتابیں دیکھی ہیں تو بتاؤ آپ کو تصانیف میں سے کون سی کتابیں زیادہ پسند اور مرغوبِ خاطر ہوئیں۔ خاکسار نے تھوڑے تامل کے بعد عرض کیا کہ اپنی کم علمی اور استطاعت کے باعث خاکسار سید صاحب کی کل تصانیف تو نہیں دیکھ سکا البتہ کوئی کتاب کسی صاحب سے مل گئی تو دیکھ لی یا ان کے چھوٹے چھوٹے رسالے منگا کر بھی دیکھے ہیں۔ اخبار تہذیب الاخلاق جو ایک ماہواری رسالہ کی صورت میں علی گڑھ سے شائع ہوتا تھا جس میں سید صاحب مرحوم اور مولوی چراغ علی حیدر آبادی مرحوم اور نواب مہدی علی خان صاحب مرحوم کے مضامین ہوتے تھے۔ اس کا کئی سال خاکسار خریدار بھی رہا ہے اور اس کی پچھلی جلدوں کے فائل منگوا کر بھی دیکھے ہیں۔ سید صاحب کی تصانیف میں خطبات احمدیہ اور تبیین الکلام مجھے زیادہ پسند آئیں۔ پہلی کتاب میں سید صاحب نے اپنے قیام لندن کے وقت قرآن مجید کی بعض آیات پر جو عیسائیوں نے اعتراض کئے تھے وہاں میوزیم کے پرانے کتبے اور قدیم اسناد سے ان کے جوابات دیئے ہیں جو ایک اہم اسلامی خدمت ہے۔ ایسا ہی دوسری کتاب میں صفحات کے تین کالم بنا کر ایک میں توریت۔ دوسرے میں انجیل اور تیسرے میں قرآن مجید کی متحد المضامین آیات درج کی ہیں جس سے اُن کی غرض یہ ثابت کرنا ہے کہ جب وہی مضامین ان کی مسلمہ الہامی کتب میں ہیں تو قرآن مجید کے الہامی ہونے سے اُن کو انکار کا کیا حق حاصل ہے؟ خاکسار کی یہ گفتگو سن کر حضرت صاحب نے فرمایا۔ سید صاحب کی مصنفہ کتب آپ نے کیوں دیکھیں۔ خاکسار نے ذرا تامّل کے بعد عرض کیا کہ ایک پڑھا لکھا گھرانہ ہونے اور اکثر ذی علم اشخاص کی آمد و رفت اور علمی اور اخباری تذکروں کے ہمیشہ سنتے رہنے کی وجہ سے طبیعت کی افتاد ہی کچھ ایسی پڑ گئی تھی کہ سکول میں سیر وغیرہ میں جو ہم جماعت، ہم عمر لڑکے ملتے۔ بعض اوقات ان کے کسی مذہبی عقیدہ پر اعتراض کیا جاتا اور وہ اگر کسی اسلامی عقیدہ پر اعتراض کر دیتے تو ان کو جواب دینے کی کوشش کرتے۔ وہ لوگ چونکہ اپنے بڑوں سے سنے ہوئے فلسفہ یا سائنس کے تحت میں اعتراض کرتے تو بعض اوقات اپنا جواب خود بہت پست اور عقل کے خلاف معلوم ہوتا۔ اگر پرانی قسم کے مولویوں سے اس کے متعلق استفسار کرتے تو وہ جواب دینے کی بجائے ایسے بحث و مباحثہ سے منع کر دیتے۔ یہ بات بس کی نہ تھی۔ آخر جب سید صاحب کے اشخاص سے اس کا ذکر آتا تو وہ بحوالہ تصانیفِ سرسید ایسا جواب دیتے جو بظاہر معقول دکھائی دیتا۔ اس وجہ سے سید صاحب کی کتب کو دیکھنے کا شوق پیدا ہونا لازمی امر تھا۔ اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ اچھا یہ بتاؤ کہ ہماری تصانیف بھی کبھی آپ نے دیکھی ہیں۔ خاکسار نے عرض کیا کہ حضور عربی کتب تو خاکسار نہیں دیکھ سکا البتہ جو کتابیں اردو میں شائع ہوتی ہیں ان کو میں اکثر منگا کر دیکھتا ہوں۔ اس پر حضور نے فرمایا۔ اچھا یہ بتاؤ کہ ہماری تعلیم اور سید صاحب کی تعلیم میں آپ نے کیا فرق اور امتیاز محسوس کیا۔ حضور کے اس سوال پر ایک تردد سا پیدا ہوا اور دل میں خیال آیا۔ کہ مولوی صاحب نے آج امتحان کا پرچہ ہی دلا دیا۔ اور بعد تامّل کے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھ جیسا محدود العلم اس فرق کو کیا بیان کر سکتا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ ہماری غرض کوئی علمی فرق یا عالمانہ رائے دریافت کرنے کی نہیں بلکہ صرف یہ بات معلوم کرنی چاہتے ہیں کہ ہر دو تصانیف کے مطالعہ سے جو کیفیت آپ کے دل نے محسوس کی اس میں آپ کیا تمیز کرتے ہیں۔ کچھ دیر تامّل کرنے کے بعد خاکسار نے عرض کیا کہ فلسفیانہ اعتراضات کے جوابات جو سید صاحب نے دیئے ہیں۔ ان کا نتیجہ بطور مثال ایسا ہے جیسے ایک پیاسے کو پانی کی تلاش میں جنگل میں کہیں تھوڑا سا پانی مل جائے جس کے دو چار گھونٹ پی کر صرف اس کی جان کنی کی مصیبت سے بچ جائے اور بس۔ لیکن حضور کے کلام کا یہ عالم ہے کہ جیسے پیاسے کے لئے دودھ کا گلاس جس میں برف اور کیوڑہ پڑا ہوا ہو۔ وہ مل جائے۔ اور وہ سیر ہو کر مسرور اور شادماں ہو جائے۔ یہ سن کر حضور نے فرمایا کہ اچھا کوئی مسئلہ بطور مثال بیان کرو۔ اس کے جواب

میں خاکسار کو زیادہ متردد اور پریشان دیکھ کر حضورؐ نے فرمایا کہ جلدی نہیں۔ آپ سوچ کر جواب دیں۔ تھوڑی دیر سکوت کے بعد خاکسار نے عرض کیا کہ مثلاً معراج کا واقعہ ہے جب کوئی اس پر معترض ہوتا اور اس کے خلاف عقل ہونے کا ادعا کرتا تو جواب میں بڑی مشکل پیش آتی تھی کہ اس کو کیا سمجھائیں کہ براق کس اصطبل سے آیا تھا اور پھر وہ اب کہاں ہے اور وہ پرند۔ چرند اور ساتواں آسمان اور عرشِ معلیٰ کی سیر اور انبیاء سے مکالمات اور عرصہ واپسی اتنا کہ ابھی دروازہ کی زنجیر متحرک تھی۔ اور بستر جسم کی حرارت سے ابھی گرم تھا۔ لیکن سید صاحب کی تصانیف سے معلوم ہوا کہ وہ صرف ایک خواب تھا۔ خواب میں خواہ کچھ سے کچھ عجائبات بلکہ ناممکنات بھی دیکھ لے تو ازروئے فلسفہ کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ اس لئے معترض سے جان تو چھوٹ جاتی مگر اپنے دل میں معراج کی جو وقعت اور منزلت ہوتی وہ بھی ساتھ ساتھ اٹھ جاتی بلکہ سائل اور مجیب ایک ہی رنگ میں ہو جاتے تھے۔ لیکن حضورؐ کی تفہیم کے مطابق معراج ایک عالمِ کشف تھا جس کے مظاہر تعبیر طلب اور اعلیٰ پیشگوئیوں اور اخبارِ غیب کے حامل ہوتے ہیں۔ جس سے معراج کی توقیر اور قدر و منزلت میں بھی فرق نہیں آنے پاتا اور معترض کو عالمِ کشف اور روحانی تاثرات سے اپنی لاعلمی کا احساس کرنا پڑتا ہے۔ ایسا جواب وہی دے سکتا ہے جو خود صاحبِ حال اور اس سے بہرہ ور ہو۔ اس پر حضورؐ نے ایک بشاش انداز میں حضرت مولوی صاحب کو مخاطب فرمایا کہ مولوی صاحب یہ سب سوالات میں نے آپ کی خاطر کئے ہیں تا آپ کو معلوم ہو جائے کہ چونکہ ان کو ایک بات کی تلاش اور دل میں اس کے لئے تڑپ تھی اس لئے خدا نے آیت وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا(العنکبوت: ۷۰) کے مطابق ان کو اپنے مطلوب تک پہنچا دیا۔ بڑی مشکل یہی ہے کہ لوگوں میں حق کی تلاش ہی نہیں رہی۔ اور جب خواہش اور تلاش ہی کسی شخص کے دل میں نہ ہو تو اچھے اور برے کی تمیز کیسے ہو۔

﴿1144﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ رسول بی بی بیوہ حافظ حامد علی صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمارے گاؤں موضع کرالیاں میں تشریف لائے۔ میاں چراغ دین ساکن تھہ غلام نبی نے اپنی بیوی مسماۃ حسّو کو طلاق دے دی ہوئی تھی۔ حضرت جی وہاں صلح کرانے گئے تھے تو وہاں جا کر رات رہے اور دوبارہ نکاح کرا دیا۔ اور رات کو دیر تک وعظ بھی کیا۔ اس کے بعد آپ ایک جگہ پیشاب کرنے لگے تو مہر علی ساکن کرالیاں کو کہا کہ مجھے کوئی ڈھیلا دو۔ تو اس نے کسی دیوار سے ایک روڑا توڑ کر دے دیا تو آپ نے اس سے پوچھا کہ یہ ڈھیلا کہاں سے لیا۔ تو اس نے کہا کہ فلاں دیوار سے۔ آپ نے فرمایا جہاں سے لیا ہے وہیں رکھ دو۔ بغیر اجازت دوسرے کی چیز نہیں لینی چاہئے۔

﴿1145﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ رسول بی بی بیوہ حافظ حامد علی صاحب نے بواسطہ مولوی عبد الرحمٰن صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا ایک دفعہ قحط پڑا۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت اُمّ المومنین سے روپیہ قرض لیا اور گندم خرید کی اور گھر کا خرچ پورا کیا اس کے بعد آپ نے چوہدری رستم علی صاحب سے حافظ حامد علی صاحب کے ذریعہ سے ۵۰۰ روپیہ منگوایا اور کچھ گھی کی چاٹیاں منگوائیں۔ روپیہ آنے پر آپ نے حضرت ام المومنین کا قرض ادا کر دیا اور میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ حافظ صاحب تھیلیوں کے تھیلے روپوں کے لایا کرتے تھے۔ جن کی حفاظت رات کو مجھے کرنی پڑتی تھی۔

﴿1146﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ رسول بی بی بیوہ حافظ حامد علی صاحب نے بواسطہ مولوی عبد الرحمٰن صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ام المومنین بعض دفعہ حافظ صاحب کے متعلق حضرت جی سے شکایت کرتیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ فلاں سودے میں حافظ صاحب نے کچھ پیسے رکھ لئے ہیں۔ جس پر ہمیشہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ حافظ صاحب ایسے نہیں۔ ہاں سودا مہنگا لائے ہوں گے۔

﴿1147﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عید الاضحٰی کے روز مسجد اقصٰے میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ میں الہاماً چند الفاظ بطور خطبہ عربی میں سنانا چاہتا ہوں۔ مولوی نور الدین صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب دونوں صاحب تمام و کمال لکھنے کی کوشش کریں۔ یہ فرما کر آپ نے خطبہ الہامیہ عربی میں فرمانا شروع کر دیا۔ پھر آپ اس قدر جلدی بیان فرما رہے تھے کہ زبان کے ساتھ قلم کا چلنا مشکل ہو رہا تھا اور ہم نے اس خطبہ کا خاص اثر یہ دیکھا کہ سب سامعین محویت کے عالم میں تھے اور خطبہ سمجھ میں آرہا تھا۔ ہر ایک اس سے متاثر تھا۔ مولوی نور الدین صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب بعض دفعہ الفاظ کے متعلق پوچھ کر لکھتے تھے۔ ایک لفظ خناطیل مجھے یاد ہے کہ اس کے متعلق بھی پوچھا۔ خطبہ ختم ہونے پر جب حضور مکان پر تشریف لائے تو مجھے اور مولوی عبد اللہ صاحب سنوری اور میر حامد شاہ صاحب ہم تینوں کو بلایا اور فرمایا کہ خطبہ کا جو اثر ہوا ہے اور جو کیفیت لوگوں کی ہوئی ہے۔ اپنے اپنے رنگ میں آپ لکھ کر مجھے دیں۔ مولوی عبد اللہ صاحب اور میر صاحب نے تو مہلت چاہی لیکن خاکسار نے اپنے تاثرات جو کچھ میرے خیال میں تھے اسی وقت لکھ کر پیش کر دیئے۔ میں نے اس میں یہ بھی لکھا کہ مولوی نور الدین صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب بعض الفاظ دورانِ خطبہ میں دریافت فرماتے رہے۔ وغیرہ۔ حضور کو میرا یہ مضمون بہت پسند آیا اس میں لوگوں کی محویت کا عالم اور کیفیت کا ذکر تھا کہ باوجود بعض لوگوں کے عربی نہ جاننے کے وہ سمجھ میں آرہا تھا۔ حق بات یہ ہے کہ اس کا عجیب ہی اثر تھا جو ضبط تحریر میں نہیں آسکتا۔ دوران خطبہ میں کوئی شخص کھانستا تک نہیں تھا۔ غرض حضرت صاحب کو وہ مضمون پسند آیا اور مولوی عبد الکریم صاحب کو بلا کر خود حضور نے وہ مضمون پڑھ کر سنایا اور فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ خطبہ کے ساتھ اس مضمون کو شائع کردو۔ مولوی عبد الکریم صاحب نے فرمایا کہ حضور اس نے تو ہمیں زندہ ہی دفن کر دیا ہے۔ (مولوی عبد الکریم صاحب کی خاکسار سے حد درجہ دوستی اور بے تکلفی تھی) حضرت صاحب نے ہنس کر فرمایا۔ اچھا ہم شائع نہیں کریں گے۔ پھر میں کئی روز قادیان میں رہا اور خطبہ الہامیہ کا ذکر اذکار ہوتا رہا۔ مولوی عبد الکریم صاحب عربی زبان سے بہت مذاق رکھتے تھے۔ اس لئے خطبہ کی بعض عبارتوں پر جھومتے اور وجد میں آجاتے تھے اور سناتے رہتے تھے اور اس خطبے کے بعض حصے لکھ کر دوستوں کو بھی بھیجتے رہتے تھے۔

﴿1148﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ میں ایک ماہ تک ٹھہرے رہے۔ حضور کا وہاں لیکچر تھا۔ عبد الحمید خاں صاحب، مولوی عبد القادر صاحب لدھیانوی اور خاکسار لیکچر والے دن پہنچے۔ تقریر کے ختم ہونے پر میں نے جاکر مصافحہ کیا۔ گاڑی کا وقت قریب تھا۔ اس لئے رخصت چاہی۔ آپ نے فرمایا۔ اچھا اب آپ کو ایک ماہ کے قریب یہاں ٹھہرے ہوئے ہو گیا ہوگا۔ اچھا اب آپ گھر جائیں۔ جب میں اجازت لے کر نیچے اترا تو سید حامد شاہ صاحب نے کہا کہ ایک مہینے کی خدمت کا ثواب آپ نے لے لیا۔ گویا حضور کے نزدیک آپ ایک مہینہ سے آئے ہوئے ہیں۔ اور میر حامد شاہ صاحب نے یہ بھی ذکر کیا کہ ایک عورت خادمہ حضور کو کھانا کھلاتی رہتی اور اس کے اولاد نہ تھی۔ اس لئے دعا کے لئے عرض کرتی رہی۔ ایک دفعہ پھر جو اس نے دعا کے لئے دس پندرہ دن بعد عرض کی ۔ تو حضور نے فرمایا تم کہاں رہی تھیں۔ اس نے کہا میں تو حضور کو دونوں وقت کھانا کھلاتی ہوں۔ فرمانے لگے اچھا تم کھانا کھلانے آیا کرتی ہو۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضور کو ایسا انہماک کبھی کبھی خاص استغراق کے زمانہ میں ہوتا تھا۔ ہمیشہ یہ کیفیت نہ ہوتی تھی۔ گو ویسے حضرت صاحب کی یہ عام عادت تھی کہ آنکھیں اٹھا اٹھا کر ادھر ادھر زیادہ نہیں دیکھا کرتے تھے۔

﴿1149﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک میں ایک دفعہ قادیان میں زیادہ عرصہ تک نمازیں جمع ہوتی رہیں۔ مولوی محمد احسن صاحب نے مولوی نور الدین صاحب کو خط لکھا کہ بہت دن نمازیں جمع کرتے ہوگئے ہیں۔ لوگ اعتراض کریں گے تو ہم اس کا کیا جواب دیں گے۔ حضرت مولوی صاحب نے جواب دیا کہ اُسی سے پوچھو (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے)۔ مولوی انوار حسین صاحب شاہ آبادی اس خط و کتابت میں قاصد تھے۔ اُن سے مجھے اس کا حال معلوم ہوا۔ تو میں نے حضرت صاحب سے جا کر عرض کر دی۔ اس وقت تو حضور نے کچھ نہ فرمایا لیکن بعد عصر جب حضور معمولاً مسجد کی چھت پر تشریف فرما تھے تو آپ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ ایسے اعتراض دل میں کیوں اُٹھتے ہیں۔ کیا حدیثوں میں نہیں آیا کہ وہ نماز جمع کرے گا۔ ویسے تو نماز جمع کا حکم عام ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے کاموں میں اس قدر منہمک ہوگا کہ اس کو نمازیں جمع کرنی پڑیں گی۔ اس وقت سید محمد احسن صاحب زار زار رورہے تھے اور توبہ کر رہے تھے۔

﴿1150﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ رسول بی بی بیوہ حافظ حامد علی صاحب نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا۔ کہ میں اکثر دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کھانا پکا کر کھلاتی تھی۔ جس دن کوئی اچھا کھانا ہوتا تو آپ اس پر بہت خوش ہوتے۔ اور اُس دن مجھے اس میں سے ضرور کچھ نہ کچھ دے دیتے۔اور میں وہ کھانا بعض دفعہ خود کھا لیتی اور اکثر دفعہ حافظ حامد علی صاحب کو دے دیتی۔

﴿1151﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔میاں رحمت اللہ صاحب ولد میاں عبد اللہ صاحب سنوری مرحوم مختار عام سنور ریاست پٹیالہ نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ اس وقت میری عمر قریباً ۴۔۵؍ سال کی ہے۔ میں گو بہت چھوٹی عمر کا بچہ تھا اور ابھی بولنے نہیں لگا تھا۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمارے گھر سنور تشریف لائے تھے۔ مجھے اس وقت کا نظارہ صرف اتنا یاد ہے کہ ہمارے گھر میں کوئی شخص آیا تھا۔ لوگوں کا بہت ہجوم تھا اور مجھے گود میں لیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا میں ہزار ہزار شکر ادا کرتا ہوں کہ یہ نعمت مجھے ملی۔ شاذ کے طور پر جماعت میں کوئی اور بھی ہوگا جس کو حضور علیہ السلام کی گود میں کھیلنے کا فخر حاصل ہو۔ والد صاحب مرحوم نے کئی بار مجھ سے ذکر کیا۔ کہ اپنے مکان میں جس جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیٹھے تھے اس جگہ پر بیٹھ کر دعا کرنے کے لئے احمدیوں کے خطوط آتے رہتے تھے۔ مگر میں نے کسی کو اجازت نہیں دی کہ کہیں رفتہ رفتہ رسم نہ ہو جائے۔یا شاید کچھ اور فرمایا تھا مجھے یاد نہیں۔ پھر جب میں کچھ بڑا ہو گیا اور سکول میں جانا شروع کر دیا تو میرے طالب علمی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پھر پٹیالہ تشریف لائے۔ لوگ زیارت کے لئے جانے شروع ہوئے اور آپس میں باتیں کرتے تھے کہ چلو پٹیالہ میں مرزا صاحب آئے ہوئے ہیں۔ اُن کو دیکھنا ہے۔ میں نے بڑے تعجب کے ساتھ اُن کو کہا کہ وہ مرزا کیسا ہے جن کو دیکھنے پٹیالہ جانا ہے۔ ہمارے محلہ میں بھی تو مرزے رہتے ہیں اُن کو تو دیکھنے کوئی نہیں جاتا (ہمارے محلہ میں چند مغل رہتے ہیں جن کو مرزا کہتے ہیں) لیکن تھوڑی دیر بعد مجھے بھی شوق پیدا ہوا۔ میں بھی پٹیالہ پہنچ گیا۔ جہاں حضور ٹھہرے ہوئے تھے اور آپ کی زیارت کی۔ پھر جب میں کچھ اور بڑا ہو گیا اور پانچویں چھٹی جماعت میں تعلیم حاصل کرنے لگا تو لوگوں میں عام چرچا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا ہونے لگا۔ کوئی اعتراض کرتا ہے ، کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ۔ سب کو اپنی اپنی بولیاں بولتے سنا کرتا تھا۔ مجھے اس وقت اتنی بھی خبر نہ تھی کہ حضور کا دعویٰ کیا ہے۔ اور نہ ہی میں اُن دنوں احمدی ہی ہوا تھا (اُس زمانہ میں ہم حضرت صاحب کے ماننے والوں کو مرزائی کہا کرتے تھے) میری طبیعت بہت ڈگمگاتی رہتی تھی۔ کبھی مخالفین کی باتوں کا دل پر اثر اور کبھی موافقین کی باتوں کا اثر

ہوتا تھا۔ غرضیکہ دل ایک طرف قائم نہ رہتا تھا۔ ایک رات کو سوتے سوتے بڑے زور کے ساتھ متواتر دو تین دفعہ یہ آواز آئی۔’کیا کوئی مر کر بھی زندہ ہوا ہے۔ لامھدی الا عیسیٰ یہی ہے۔‘ اس آواز کے بند ہونے کے معاً بعد دیکھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام آمنے سامنے دوزانو بیٹھے ہیں۔ اور میرے والد صاحب مرحوم قریب کھڑے ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد تینوں آسمان کی طرف پرواز کرنے لگ گئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اوپر ہیں اور نیچے نیچے والد صاحب ہیں۔ جب آسمان کے قریب پہنچے تو آسمان پھٹ گیا اور تینوں داخل ہو گئے۔ میری آنکھ کھل گئی۔ یہ آواز اور نظارہ بچپن سے ہی میرے دل میں میخ کی طرح گڑا ہوا ہے میں اُسی وقت سے آپ پر ایمان لے آیا کہ یہ نبی ہیں۔ اور اس کا اتنا گہرا اثر خدا کے فضل سے آج تک ہے کہ کبھی ظلی بروزی کی بحث میں نہیں پڑا۔

﴿1152﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیر میں نقرس کا درد تھا۔ میں بھی وہیں بیٹھا تھا۔ فرمانے لگے کہ ایک بزرگ کے پیر میں نقرس کا درد تھا۔ انہیں الہام ہوا کہ کدو کھاؤ۔ میں نے عرض کیا کہ حضور اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ سبب کے ذریعہ ہی کام کرتا ہے۔ فرمایا نہیں۔ بے سبب بھی کرتا ہے۔

﴿1153﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک روز میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی کہ بمقام سرہند مجدد الف ثانی کے عرس میں ایک مولوی وعظ کر رہا تھا کہ ایک عیسائی نے کہا کہ دیکھو ہمارا یسوع آسمان پر ہے اور تمہارا پیغمبر زمین میں۔ تو اس عیسائی کو جواب دیا گیا کہ۔

حُباب بر سرِ آب و گہر تہِ دریا است

حضور نے مجھ سے یہ قصہ سن کر فرمایا ’’طفل تسلیاں ہیں‘‘

﴿1154﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے ایک دفعہ مجھے فرمایا کہ ہم نے ایک باغیچہ لگایا ہے۔ آؤ آپ کو دکھاتے ہیں۔ آپ مجھے اپنے زنchannelانہ مکان میں لے گئے اور وہاں اپنے کتب خانہ میں بٹھا دیا کہ یہ باغیچہ ہے۔ تمام

عربی کتب تھیں۔ ایک جگہ میں نے دیکھا کہ متکلمین کی کتابیں اوپر نیچے رکھی تھیں۔ سب سے اوپر براہین احمدیہ تھی۔ اس کے نیچے حجۃ اللہ البالغہ شاہ ولی اللہ صاحب اور اس کے نیچے اور کتابیں تھیں۔ میں نے آپ سے دریافت کیا کہ آیا یہ ترتیب اتفاقی ہے یا آپ نے مدارج کے لحاظ سے لگائی ہے۔ آپ نے فرمایا میں نے اپنے خیال میں درجہ وار لگائی ہے۔ پھر مجھے الماری کے نیچے مولوی صاحب کے دستخطی کچھ عربی میں لکھے ہوئے کاغذ ملے جو پھٹے ہوئے تھے ، میں وہ نکال کر پڑھنے لگا۔ آپ نے منع فرمایا۔ میں نے کہا کہ قرآن شریف کی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔ فرمانے لگے۔ کیا پوچھتے ہو۔ میں نے منطق الطیر کی تفسیر کی تھی۔ نہایت ذوق وشوق میں۔ اور میں سمجھتا تھا کہ میں اس مسئلے کو خوب سمجھا ہوں۔ لیکن کل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے منطق الطیر پر تقریر فرمائی۔ تو میں بہت شرمندہ ہوا اور میں نے آ کر یہ مضمون پھاڑ ڈالا اور اپنے آپ کو کہا کہ تُو کیا جانتا ہے۔

﴿1155﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام جالندھر میں قیام پذیر تھے۔ تو میں اوپر کوٹھے پر گیا۔ حضور تنہائی میں بہت لمبی نماز پڑھتے تھے اور رکوع سجود لمبے کرتے تھے۔ ایک خادمہ غالباً مائی تابی اس کا نام تھا جو بہت بڑھیا تھی۔ حضور کے برابر مصلے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھ کر چلی گئی۔ میں دیر تک بیٹھا رہا۔ جب حضور نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے یہ مسئلہ پوچھا۔ کہ عورت مرد کے ساتھ کھڑی ہو کر نماز پڑھ سکتی ہے یا پیچھے۔ حضور نے فرمایا۔ اُسے پیچھے کھڑا ہونا چاہئے ۔ میں نے کہا حضور تابی تو ابھی حضور کے برابر نماز پڑھ کر چلی گئی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہمیں تو خبر نہیں۔ وہ کب کھڑی ہوئی اور کب چلی گئی۔

﴿1156﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ منشی اروڑ ا صاحب کے پاس کپور تھلہ میں خط آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مقدمہ قتل بن گیا ہے۔ وہ فوراً روانہ بٹالہ ہو گئے اور ہمیں اطلاع تک نہ کی۔ میں اور محمد خان صاحب تعجب کرتے رہے کہ منشی صاحب کہاں اور کیوں چلے گئے ہیں۔ ہمیں کچھ گھبراہٹ سی تھی۔ خیر اگلے دن میں قادیان جانے کے ارادہ سے روانہ ہو گیا۔ بٹالہ جا کر معلوم ہوا کہ حضرت صاحب یہاں تشریف رکھتے ہیں۔ اور مارٹن کلارک والا مقدمہ بن گیا ہے۔ ابھی میں حضور کی قیام گاہ پر جا کر کھڑا ہی ہوا تھا کہ حضور نے مجھے دیکھا بھی نہ تھا اور نہ میں نے حضور کو دیکھا تھا کہ آپ نے فرمایا۔ منشی ظفر احمد صاحب کو بلالو۔ میں حاضر ہو گیا۔ منشی اروڑ ا صاحب کی عادت تھی کہ حضرت صاحب کے پاس ہمیشہ بیٹھے پیر دابتے رہتے تھے۔ اُس وقت منشی اروڑا صاحب کسی ضرورت کے لئے اُٹھ کر گئے ہوئے تھے۔ آپ نے مجھے فرمایا کہ مقدمہ کے متعلق میں کچھ لکھانا چاہتا ہوں آپ لکھتے جائیں اور اس بات کا خیال رکھنا کہ کوئی لفظ خلاف قانون میری زبان سے نہ نکل جائے۔ گو میں نے سینکڑوں فیصلے ہائی کورٹوں کے پڑھے ہیں۔ لیکن پھر بھی اگر تمہارے خیال میں کوئی ایسا لفظ ہو تو روک دینا۔ غرض آپ لکھاتے رہے اور میں لکھتا رہا اور میں نے عرض کی کہ منشی اروڑا صاحب کو قانون کی زیادہ واقفیت ہے۔ انہیں بھی بلالیا جائے ۔ حضور نے فرمایا کہ وہ مخلص آدمی ہیں اگر ان کو رخصت ملتی تو بھلا ممکن تھا کہ وہ نہ آتے۔ میں نے ذکر نہ کیا کہ وہ آئے ہوئے ہیں۔ منشی اروڑا صاحب کو جب علم ہوا تو وہ کہنے لگے کہ تم نے کیوں نہ بتایا کہ وہ تو کل کا آیا ہوا ہے۔ میں نے کہا۔ تم ہمیں اطلاع کر کے کیوں نہ آئے تھے۔ اب دیکھ لو۔ ہم حاضر ہیں اور آپ غائب ہیں۔ غرض ہم اس طرح ہنستے رہتے۔

﴿1157﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جماعت علی شاہ صاحب نے منشی فاضل کا امتحان محمد خان صاحب مرحوم کے ساتھ دیا تھا۔ اس تعلق کی وجہ سے وہ کپور تھلہ آگئے۔ محمد خان صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اُن سے ذکر کیا اور کچھ اشعار کا بھی ذکر ہو گیا۔ جماعت علی شاہ صاحب نے کہا کہ نظامی سے بڑھ کر فارسی میں کوئی اور لکھنے والا نہیں ہوا۔ میں نے کہا کہ کوئی شعر نظامی کا نعت میں سناؤ۔ انہوں نے یہ شعر پڑھا

فرستادۂ خاص پروردگار

رسانندۂ حجتِ اُستوار

میں نے حضرت صاحب کا یہ شعر انہیں سنایا

صدرِ بزمِ آسمان وحجۃ اللہ بر زمیں

ذات خالق را نشانِ بس بزرگ اُستوار

وہ کہنے لگا کہ کوئی اردو کا شعر بھی آپ کو یاد ہے میں نے اس کو قرآن شریف کی تعریف میں حضور کے اشعار سنائے۔

اس کے منکر جو بات کہتے ہیں

یونہی اک واہیات کہتے ہیں

بات جب ہو کہ میرے پاس آئیں

میرے منہ پر وہ بات کر جائیں

مجھ سے اس دلستاں کا حال سنیں

مجھ سے وہ صورت و جمال سنیں

آنکھ پھوٹی تو خیر کان سہی

نہ سہی یونہی امتحان سہی

وہ کہنے لگا۔ اہل زبان اس سے زیادہ اور کیا کہہ سکتے ہیں۔ جماعت علی شاہ صاحب کے پاس ایک مسمریزم کی کتاب تھی اور وہ کہنے لگے کہ یہ ہمارے کھانے کمانے کا شغل ہے۔

﴿1158﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں رحمت اللہ صاحب ولد میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک دفعہ لاہور میں لیکچر تھا تو اس موقعہ پر مولوی عبدالکریم صاحب نے قرآن مجید کی تلاوت کی تھی۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس مکان کے بالا خانہ میں تشریف فرما تھے جو مسجد احمدیہ کے سامنے ہے۔ میں بھی سکول سے رخصت لے کر لاہور پہنچ گیا۔ لیکچر کے موقعہ پر ایک عجیب نظارہ تھا۔ جگہ بجگہ ملاں لوگ لڑکوں کو ہمراہ لئے شور مچاتے پھرتے تھے اور گلا پھاڑ پھاڑ کر کہتے تھے کہ لیکچر میں کوئی نہ جائے مگر وہاں یہ حالت تھی کہ لوگوں کی کثرت کی وجہ سے جگہ ہی نہ ملتی تھی۔ حضور کے نورانی چہرہ میں ایک عجیب کشش تھی۔ جب حضور تقریر کے لئے کھڑے ہوئے تو بہت شور مچ گیا۔ ہر ایک دوسرے کو منع کرتا۔ اس پر مولوی عبدالکریم صاحب نے تلاوت شروع کی۔ جھٹ خاموشی ہوگئی پھر حضور نے تقریر فرمائی جو آخر تک توجہ سے سنی گئی۔ لیکچر سننے کے بعد میں بھی اُس بالا خانہ میں چلا گیا۔ جہاں حضور فرش پر ہی بیٹھے ہوئے تھے یا لیٹے ہوئے تھے۔ (یہ مجھے یاد نہیں) میں پاؤں دبانے لگ گیا۔ اس وقت ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور میں گنڈے تعویذ کرتا ہوں۔ میرے لئے کیا حکم ہے۔ میرا گذارہ اسی پر ہے مجھے اب یاد نہیں رہا۔ کہ حضور نے اس کو کیا جواب دیا۔ البتہ ایک مثال حضور علیہ السلام نے جو اس وقت دی تھی وہ مجھے اب تک یاد ہے۔ حضور نے فرمایا! کہ دیکھو ایک زمیندار اپنی زمین میں خوب ہل چلاتا ہے اور کھاد بھی خوب ڈالتا ہے اور پانی بھی خوب دیتا ہے اور بیج بھی عمدہ ہوتا ہے۔ یہ سب اس کے اپنے اختیار کی باتیں ہیں۔ بیج کا اگنا، بڑھنا یہ اس کے اپنے اختیار میں نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے خواہ وہ اُگے ، نہ ہی نہ دے۔

﴿1159﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں رحمت اللہ صاحب ولد میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ لدھیانہ میں تشریف لائے۔ رمضان شریف کا مہینہ تھا۔ یہ اُس وقت کا واقعہ ہے جب حضور دہلی سے تشریف لائے تھے۔ شاید ۱۹۰۵ء کا ذکر ہے یا اس سے پہلے کا۔ میں بھی والد صاحب مرحوم کے ساتھ لدھیانہ پہنچ گیا۔ گاڑی کے آنے پر وہ نظارہ بھی عجیب تھا۔ باوجود مولوی ملانوں کے شور مچانے کے کہ کوئی نہ جائے ۔ وہ خود ہی زیارت کے لئے دوڑے بھاگے پھرتے تھے۔ اسٹیشن کے باہر بڑی مشکل سے حضور علیہ السلام کو بگھی میں سوار کرایا گیا ۔ کیونکہ آدمیوں کا ہجوم بہت زیادہ تھا۔ جائے قیام پر حضور علیہ السلام مع خدام ایک کمرہ میں فرش پر ہی تشریف فرما تھے۔ ایک مولوی صاحب نے عرض کی کہ لوگ زیارت کے لئے بہت کثرت سے آرہے ہیں۔ حضور کرسی پر بیٹھ جائیں تو اچھا ہے۔ حضور نے منظور فرما لیا۔ کرسی لائی گئی ۔ اور اس پر آپ بیٹھ گئے۔ دہلی کے علماء کا ذکر فرماتے رہے۔ جو مجھے یاد نہیں۔ چونکہ رمضان کا مہینہ تھا۔ ہم سب غوث گڑھ سے ہی روزہ رکھ کر لدھیانہ گئے تھے۔ حضور نے والد صاحب مرحوم سے خود دریافت فرمایا یا کسی اور سے معلوم ہوا ( یہ مجھے یاد نہیں ) غرض خود کو معلوم ہو گیا کہ یہ سب غوث گڑھ سے آنے والے روزہ دار ہیں۔ حضور نے فرمایا میاں عبداللہ ! خدا کا حکم جیسا روزہ رکھنے کا ہے ویسا ہی سفر میں نہ رکھنے کا ہے۔ آپ سب روزے افطار کر دیں۔ ظہر کے بعد کا یہ ذکر ہے۔ اگلے روز حضور کا لیکچر ہوا۔ دورانِ تقریر حضور بار بار عصا پر ہاتھ مارتے تھے۔ تقریر کے بعد ایک فقیر نے حضور علیہ السلام کی صداقت کے متعلق ایک خواب بیان کی۔ حضور نے قادیان سے حضرت خلیفۃ المسیح اول کو بلانے کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ بھی جلدی ہی لدھیانہ پہنچ گئے۔ حکیم صاحب نے فرمایا۔ ہم تو حکم ملتے ہی چلے آئے، گھر تک بھی نہیں گئے۔

﴿1160﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں رحمت اللہ صاحب ولد میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میرے نکاح کا خطبہ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے پڑھا تھا۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود میری اہلیہ کی طرف سے اپنی زبانِ مبارک سے ایجاب قبول کیا تھا۔ کیونکہ حضور ولی

تھے۔ میں اس کو اپنی نہایت ہی خوش قسمتی سمجھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر یہ ادا کرتا ہوں۔ نکاح تو حضور نے کئی ایک کے پڑھائے ہوں گے لیکن اس طرح کا معاملہ شاید ہی کسی اور سے ہوا ہو۔ سب کچھ والد صاحب مرحوم و مغفور پر حضرت اقدس کی خاص شفقت کا نتیجہ تھا۔ اس کا مفصل ذکر حضرت خلیفہ اولؓ کے خطبہ نکاح میں درج ہے جو اخبار بدر میں شائع ہو چکا ہے۔

﴿1161﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میری اہلیہ تو میرٹھ گئی ہوئی تھی۔ گھر خالی تھا۔ تین دن کی تعطیل ہوگئی۔ دیوانی مقدمات کی مسلیں صندوق میں بند کر کے قادیان چلا گیا۔ وہاں پر جب تیسرا دن ہوا تو میں نے حضور کی خدمت میں عرض کی ۔ کہ حضور تعطیلیں ختم ہوگئی ہیں۔ اجازت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا۔ ابھی ٹھہرو۔ تھوڑے دنوں کے بعد منشی اروڑے صاحب کا خط آیا کہ مجسٹریٹ بہت ناراض ہے۔ مسلیں ندارد ہیں تم فوراً چلے آؤ۔ مجھے بہت کچھ تاکید کی تھی۔ میں نے وہ خط حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دیا۔ آپ نے فرمایا۔ لکھ دو۔ ابھی ہمارا آنا نہیں ہوتا۔ میں نے یہی الفاظ لکھ دیئے کہ انہی میں برکت ہے۔ پھر میں ایک مہینہ قادیان رہا۔ اور کپور تھلہ سے جو خط آتا۔ میں بغیر پڑھے پھاڑ دیتا۔ ایک مہینہ کے بعد جب آپ سیر کو تشریف لے جانے لگے تو مجھے فرمانے لگے کہ آپ کو کتنے دن ہو گئے۔ میں نے کہا حضور ایک ماہ کے قریب ہو گیا ہے۔ تو آپ اس طرح گننے لگے۔ ہفتہ ہفتہ آٹھ اور فرمانے لگے۔ ہاں ٹھیک ہے۔ پھر فرمایا۔ اچھا اب آپ جائیں۔ میں کپور تھلہ آیا اور عملہ والوں نے بتایا کہ مجسٹریٹ بہت ناراض ہے۔ میں شام کو مجسٹریٹ کے مکان پر گیا کہ وہاں جو کچھ اس نے کہنا ہوگا وہ کہہ لے گا۔ اس نے کہا آپ نے بڑے دن لگائے اور اس کے سوا کوئی بات نہ کہی۔ میں نے کہا کہ حضرت صاحب نے آنے نہیں دیا۔ وہ کہنے لگا ان کا حکم تو مقدم ہے۔ تاریخیں ڈالتا رہا ہوں۔ مسلوں کو اچھی طرح دیکھ لینا اور بس۔ میں ان دنوں ایک سررشتہ دار کے عوض کام کرتا تھا۔

﴿1162﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں اور منشی اروڑا صاحب مرحوم قادیان گئے ۔ منشی اروڑا صاحب اس وقت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے سررشتہ دار تھے۔ اور میں اپیل نویس تھا۔ باتوں باتوں میں میں نے عرض کی کہ حضور مجھے اپیل نویس ہی رہنے دینا ہے؟ فرمایا کہ اس میں آزادی ہے۔ آپ ایک ایک دو ماہ ٹھہر جاتے ہیں۔ پھر خود بخود ہی فرمایا کہ ایسا ہو کہ منشی اروڑ ا صاحب کہیں اور چلے جائیں (مطلب یہ کہ کسی اور آسامی پر ) اور آپ اُن کی جگہ سر رشتہ دار ہو جائیں۔ اس سے کچھ مدت بعد جبکہ حضور علیہ السلام کا وصال ہو چکا تھا۔ منشی اروڑا صاحب تو نائب تحصیلدار ہو کر تحصیل بھونگہ میں تعینات ہو گئے اور میں ان کی جگہ سر رشتہ دار ہو گیا۔ پھر منشی صاحب مرحوم نائب تحصیلداری سے پنشن پا کر قادیان جا رہے۔ اور میں سر رشتہ داری سے رجسٹراری ہائی کورٹ تک پہنچا اور اب پنشن پاتا ہوں۔ بہت دفعہ ہم نے دیکھا کہ حضور نے بغیر دعا کے کوئی بات فرمادی ہے اور پھر وہ اُسی طرح وقوع میں آگئی ہے۔

﴿1163﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں قادیان میں مسجد مبارک سے ملحق کمرے میں ٹھہرا کرتا تھا۔ میں ایک دفعہ سحری کھارہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لے آئے۔ دیکھ کر فرمایا۔ آپ دال سے روٹی کھاتے ہیں؟ اور اسی وقت منتظم کو بلوایا اور فرمانے لگے کہ آپ سحری کے وقت دوستوں کو ایسا کھانا دیتے ہیں؟ یہاں ہمارے جس قدر احباب ہیں وہ سفر میں نہیں۔ ہر ایک سے معلوم کرو کہ اُن کو کیا کیا کھانے کی عادت ہے اور وہ سحری کو کیا کیا چیز پسند کرتے ہیں۔ ویسا ہی کھانا ان کے لئے تیار کیا جائے۔ پھر منتظم میرے لئے اور کھانا لایا مگر میں کھانا کھا چکا تھا اور اذان بھی ہوگئی تھی۔ حضور نے فرمایا کھالو۔ اذان جلد دی گئی ہے اس کا خیال نہ کرو۔

﴿1164﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں رحمت اللہ صاحب ولد میاں عبداللہ صاحب مرحوم سنوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ماموں قادر بخش صاحب مرحوم (والد مکرم مولوی عبدالرحیم صاحب درد) نے والد صاحب مرحوم سے بہت خواہش کی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہمارے گھر لائیں۔ والد صاحب نے جواب دیا کہ حضرت صاحب نے مکان پر جانے سے کئی ایک کو جواب دے دیا ہے۔ ماموں صاحب نے پھر کہا۔ والد صاحب نے جواب دیا کہ اچھا ہم لے آتے ہیں۔ مگر ۔/۲۵ روپیہ لوں گا۔ ماموں صاحب نے خوشی سے ۔/۲۵ روپے دینے منظور کر لئے۔ والد صاحب مرحوم نے فرمایا کہ اچھا۔ حضور کے بیٹھنے کی جگہ کا انتظام کرو۔ میں جاتا ہوں۔ چنانچہ میں اور والد صاحب ماموں صاحب کے مکان سے اُٹھ کر شہر کی طرف آئے۔ والد صاحب راستے میں ہی بگھی کا انتظام کر کے اس کو ساتھ لے گئے۔ حضور اس وقت اندر تشریف فرما تھے۔ والد صاحب نے ڈیوڑھی کے دروازے پر دستک دی اور حضور باہر تشریف لے آئے اور مسکرا کر فرمانے لگے۔ میاں عبد اللہ کیا ہے۔ والد صاحب نے عرض کی۔ حضور مکان تک تشریف لے چلیں۔ حضور نے فرمایا اچھا سواری کا انتظام کرو۔ والد صاحب نے عرض کی کہ سواری تیار ہے۔ چنانچہ حضور بگھی میں بیٹھ گئے۔ اور ہم سب ماموں صاحب کے مکان پر پہنچ گئے۔ ماموں صاحب نے کچھ پھل پیش کئے۔ والد صاحب نے ماموں صاحب سے وہ۔/۲۵ روپیہ لے کر پھلوں میں رکھ دیئے۔ اس وقت کئی مستورات نے بیعت کی۔ دعا کے بعد حضور اپنی قیام گاہ پر واپس تشریف لے گئے۔ اس وقت لوگوں کو معلوم ہوا کہ حضرت صاحب میاں عبد اللہ سنوری کے ساتھ مکان پر گئے تھے۔ اور حضور کے تشریف لے جانے میں تعجب کرتے رہے۔ کیونکہ تشریف لے جاتے وقت کسی کو بھی خبر نہ تھی۔ زمانہ گذر گیا۔ لیکن جس سادگی کے ساتھ حضور دستک دینے پر تشریف لائے تھے۔ اس کا ایک گہرا اثر اس وقت میرے دل پر ہے۔

﴿1165﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں رحمت اللہ صاحب ولد میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں ایک دفعہ بہت سخت بیمار ہو گیا۔ ڈاکٹروں اور حکیموں نے جواب دے دیا کہ اب یہ صرف چند دن کا مہمان ہے کسی دوائی کے بدلنے کی ضرورت نہیں۔ والد صاحب مرحوم نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا کہ اگر خدانخواستہ کوئی ایسی ویسی بات ہو گئی تو مجھے نصیحت فرمائیں کہ میں اس وقت اپنی حالت کیسی رکھوں حضور کے دست مبارک سے لکھا ہوا جواب پہنچ گیا۔ کہ اگر یہ موت نہ ہوئی تو میری دعا قبولیت کو پہنچ گئی۔ کیونکہ دعا کرنے کے بعد یہ خط لکھا ہے۔ حضور کا یہ خط ابھی سنور پہنچا نہ تھا کہ رات کو مجھے آرام سے نیند آ گئی کہ گویا میں بیمار ہی نہ تھا۔ صبح کو والد صاحب نے میری حالت کی بابت دریافت کیا۔ میں نے کہا کہ میری حالت بہت اچھی ہے۔ کوئی تکلیف نہیں۔ والد صاحب مرحوم نے جوش کے ساتھ فرمایا۔ کہ رحمت اللہ گواہ رہنا۔ آج کا دن یاد رکھنا۔ حضرت صاحب نے تمہارے لئے دعا کر دی ہے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے۔ ڈاکٹر وحکیم نے قارورہ دیکھ کر کہا کہ یہ کسی مریض کا نہیں بلکہ یہ تو بالکل تندرست آدمی کا قارورہ ہے اور وہ بہت حیران تھے۔ کہ ایک دن میں ایسی حالت کا تغیر کیسے ہو گیا۔ حضور کا جب خط آیا تو ہفتہ کے روز کی تاریخ کا تھا۔ اور مجھے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب کو کلی طور پر صحت ہوگئی تھی۔ میں حضور کی دعا کی قبولیت کا زندہ نشان ہوں۔ افسوس حضرت اقدس کا یہ خط اور واسکٹ کا ٹکڑا جو میں نے تبرکاً رکھے ہوئے تھے، گم ہوگئے ہیں۔

﴿1166﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میرے کئی خواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب ازالہ اوہام کے کئی اوراق پر اپنے قلم سے درج فرمائے تھے۔ ایک دفعہ کسی شخص نے غالباً مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کے مریدوں میں سے کسی نے اشتہار دیا اور اس میں اپنے خواب اور کشوف درج کئے۔ اس پر حضرت صاحب نے مجھے رقم فرمایا کہ آپ نے جو خواب دیکھے ہیں وہ اس کے جواب میں آپ اشتہار کے طور پر شائع کریں۔ چنانچہ آپ کے فرمودہ کے مطابق میں نے اشتہار شائع کر دیا جس کی سرخی یہ تھی۔

الا اے بلبلِ نالاں چہ چندیں ماجرا داری

بیا داغے کہ من درسینہ دارم تُو کجا داری

وہ خواب جہاں تک مجھے یاد ہیں حسب ذیل تھے۔

(۱) بیعت اولیٰ کے موقعہ پر جب میں لدھیانہ میں تھا تو ایک صوفی نے حضور سے دریافت کیا کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بھی کرا سکتے ہیں؟ اور آپ نے فرمایا کہ اس کے لئے مناسبت شرط ہے اور میری طرف منہ کر کے فرمایا یا جس پر خدا فضل کرے۔ مجھے اُسی رات خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی۔

(۲) اس کے بعد یہ سلسلہ جاری ہو گیا۔ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خواب میں زیارت ہوئی۔ حسو خاں احمدی جو پہلے وہابی تھا اس کو دیکھا کہ وہ بھی کھڑا ہے۔ اور اس نے شکایتاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ یہ (یعنی خاکسار) یا رسول اللہ! آپ کی حدیثوں کو نہیں مانتے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مرزا صاحب میرے فرزند ہیں۔ اور جب وہ قرآن پڑھتے ہیں۔ میری روح تازہ ہو جاتی ہے اور میری طرف منہ کر کے فرمایا کہ مرزا صاحب سے کہیں کہ وہ کچھ قرآن شریف سنائیں۔ پھر میری آنکھ کھل گئی۔

(۳) ایک دفعہ میں مسجد احمدیہ کپور تھلہ میں عصر کی نماز پڑھ رہا تھا جس میں تشہد میں بیٹھا تو میں نے محراب کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سامنے دیکھا۔

(۴) ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب مجھے مدینہ منورہ لے گئے اور جالیوں میں سے میں زیارت قبر کرنا چاہتا ہوں مگر وہ جالی میرے قد سے اونچی ہے۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میری دونوں بغلوں میں ہاتھ دے کر اونچا کر دیا۔ تو پھر میں نے دیکھا کہ سامنے کی عمارت کوئی نہیں رہی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کھلی ہوئی ہے اور آپؐ بیٹھے ہیں۔

(۵) ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مزار پر ساتھ لے گئے۔ وہاں پر ایک چبوترہ سا تھا جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم رونق افروز تھے اور وہاں کسی قدر فاصلہ پر ایک شخص جرنیلی وردی پہنے ہوئے ایک چبوترے پر بیٹھا تھا۔ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا کہ آپؐ اسے بیعت فرمالیں۔ چنانچہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے عربی میں ایک فقرہ فرمایا۔ جو مجھے اب یاد نہیں رہا جس کا مطلب یہ تھا کہ تمام نیکیوں کو اختیار کرنا اور تمام بدیوں سے پرہیز کرنا۔ میں بیعت کرنے کے بعد مصافحہ کرنے کے لئے اس شخص کی طرف گیا جو جرنیلی وردی پہنے بیٹھا تھا۔ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جاتے ہوئے روک دیا۔

(۶) ایک دفعہ تہجد پڑھ رہا تھا کہ ایک دم مجھے اس قدر خوشبو آئی کہ تمام مکان معطّر ہو گیا۔ میری بیوی سورہی تھی اسے چھینکیں آنے لگی اور انہوں نے کہا کہ تم نے بہت سا عطر ملا ہے۔ جس کی وجہ سے مکان معطّر ہے۔ میں نے کہا میں نے کوئی خوشبو نہیں لگائی۔

(۷) ایک دفعہ میں نے خواب میں حضرت عمرؓ کو دیکھا کہ آپ کی بڑی بڑی آنکھیں ہیں۔ آپ کے پاس تلوار رکھی ہوئی ہے۔ جس سے موتی اوپر نیچے جھڑ رہے ہیں۔ میں نے یہ خواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھ کر بھیجا۔ تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ فاروقؓ کی زیارت سے دین میں استقامت اور شجاعت پیدا ہوتی ہے۔

﴿1167﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حافظ معین الدین عرف مانا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیر دباتا تھا اور ساتھ ساتھ اپنے پیش آمدہ واقعات سناتا رہتا تھا۔ مثلاً حضور میں فلاں جگہ گیا۔ مجھے روٹی نہیں ملی۔ کتے لپٹ گئے۔ مجھے سالن کم ملتا ہے۔ وغیرہ۔ اس قسم کی باتیں وہ کرتا اور حضور اس کی باتیں سنتے۔ اور وہ روز اس قسم کی باتیں کرتا اور حضور سن لیتے ۔ ایک دن میں نے دستک دی کہ حضور میں اندر آنا چاہتا ہوں۔ آپ نے کواڑ کھول دئے۔ میں اندر جا کر بیٹھ گیا۔ میں نے حافظ معین الدین کو بہت ڈانٹا اور سخت سست کہا کہ تم یہ کیا واہیات باتیں کیا کرتے ہو کہ فلاں جگہ روٹی نہیں ملی اور فلاں جگہ سالن کم ملتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ توجہ الی اللہ میں مجھے اس قدر استغراق ہے کہ اگر میں دنیوی باتیں نہ سنوں تو میرا دماغ پھٹ جائے۔ ایسی باتیں ایک طرح سے مجھے طاقت دیتی ہیں۔ تھوڑی دیر آپ نے ایسی باتیں کیں اور پھر میں چلا آیا کہ رات زیادہ ہو گئی تھی۔

﴿1168﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ چوہدری حاکم علی صاحب نمبردار سفید پوش چک نمبر ۹ شمالی ضلع شاہ پور نے بواسطہ مولوی محمد اسماعیل صاحب فاضل پروفیسر جامعہ احمدیہ مجھ سے بیان کیا کہ ۱۹۰۰ء کے قریب یا اس سے کچھ پہلے کی بات ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسجد مبارک میں صبح کی نماز کے بعد فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ اس وقت جو لوگ یہاں تیرے پاس موجود ہیں اور تیرے پاس رہتے ہیں ان سب کے گناہ میں نے بخش دیئے ہیں۔

﴿1169﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ چوہدری حاکم علی صاحب نمبردار نے بواسطہ مولوی محمد اسماعیل فاضل پروفیسر جامعہ احمدیہ مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ جب ہم پر کوئی تکلیف آتی ہے مثلاً کوئی دشمن کبھی مقدمہ کھڑا کر دیتا ہے یا کوئی اور ایسی ہی بات پیش آجاتی ہے تو اس وقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ ہمارے گھر میں آگیا ہے۔

﴿1170﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ چوہدری حاکم علی صاحب نمبردار سفید پوش نے بواسطہ مولوی محمد اسماعیل صاحب فاضل پروفیسر جامعہ احمدیہ مجھ سے بیان کیا کہ ۹۹۔۱۸۹۸ء کے قریب ایک دفعہ میں قادیان میں رمضان شریف کے مہینہ میں بیمار ہو گیا اور روزے نہ رکھ سکا۔ میرا مکان اس وقت ڈھاب کے کنارے پر تھا۔ مجھے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کے طور پر وہاں ڈھاب کے کنارہ پر تشریف فرما ہیں۔ مجھے کمزوری تو بہت تھی۔ مگر میں افتان و خیزاں حضور تک پہنچا۔ اور افسوس کے ساتھ عرض کیا کہ میں بیماری کی وجہ سے اس دفعہ روزے نہیں رکھ سکا۔ حضور نے فرمایا۔ آپ کو دوگنا ثواب ملے گا۔ میں نے عرض کیا کہ وہ کیسے ۔ حضور نے فرمایا کہ ایک تو اس بات کا ثواب کہ آپ بیماری کی حالت میں دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ اور دوسرے جب دوسرے دنوں میں آپ روزے رکھیں گے تو اس کا ثواب ہوگا۔

﴿1171﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مولوی محمد اسماعیل فاضل پروفیسر جامعہ احمدیہ قادیان نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے رسالہ توفیقات قمریہ میں جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سن پیدائش سے لے کر چودھویں صدی کے آخر تک شمسی اور قمری تاریخوں کا مقابلہ کیا ہے، موٹے طور پر ان تین باتوں کو پیش نظر رکھا ہے۔ (۱) قمری مہینہ کی اوسط مقدار ۲۹؍دن ۱۲؍گھنٹے ۴۴؍منٹ اور تقریباً ۲/۷ ۲؍سیکنڈ (۲/۷ ۲۹۸۶۴۹ سیکنڈ) ہوتی ہے اور جو فرق تدریجی طور پر چاند کی رفتار میں نمودار ہو رہا ہے وہ اس اندازہ پر چنداں اثر انداز نہیں۔ (۲) یکم محرم 1ھ کا دن جمعہ تھا۔ جیسا کہ محمد مختار پاشا مصری کی کتاب توفیقات الہامیہ سے اور مغربی مصنفین کے شائع کردہ دیگر تقویمی نقشوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ محمد مختار پاشا اپنی کتاب مذکور کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ اقوال شرعیہ اور حسابی طریق سے یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یکم محرم 1ھ کو جمعہ کا دن تھا۔ (۳) یہ تقویمی نقشہ مختلف واقعات زمانہ گذشتہ و زمانہ حال کی معین طور پر معلوم تاریخوں کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش کے دن پر جو نوٹ لکھ کر الفضل مورخہ ۱۱؍اگست ۱۹۳۶ء میں شائع کروایا تھا۔ اپنے سامنے رکھ کر بھی میں نے اس تقویمی نقشہ کو دیکھا ہے اور اس کے مطابق پایا ہے۔

تفصیل اس کی یہ ہے کہ یکم محرم 1ھ بروز جمعہ سے لے کر ۱۴؍شوال ۱۲۵۰ھ تک کے دن مذکور بالا اوسط کی رو سے ۴۴۲۸۸۳ ہوئے ۔ جو سات پر پورے تقسیم ہوتے ہیں ۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ۱۴؍شوال ۱۲۵۰ھ کو بھی جمعہ ہی کا دن تھا کیونکہ اس عرصہ کے کل قمری مہینے ۱۴۹۹ ہوتے ہیں۔ اور جب اس عدد کو مذکورہ بالا اوسط ماہانہ سے ضرب دی جائے تو حاصل ضرب ۴۴۲۸۰۷ ہوتا ہے ۔ اور جب اس میں یکم شوال کے اوپر کے ۱۳دن جمع کئے جائیں تو جیسا کہ اوپر بھی بیان کیا گیا ہے تو ۱۴؍شوال تک کے کل دنوں کی تعداد ۴۴۲۸۸۳ ہوتی ہے ۔ اور یہ عدد سات پر پورا تقسیم ہوتا ہے ۔ پس جو دن یکم محرم ۱ ھ کو تھا وہی دن ۱۴؍شوال ۱۲۵۰ ہجری کو تھا۔ سو چونکہ یکم محرم ار ہجری کو جمعہ کا دن تھا اس لئے ۱۴؍شوال ۱۲۵۰ ہجری کو بھی جمعہ ہی تھا۔ نیز ۱۳؍فروری ۱۸۳۵ عیسوی بروز جمعہ کو قمری تاریخ ۱۴؍شوال ۱۲۵۰ ہجری کا ہونا حسابی طریق سے بھی ثابت ہے ۔ کیونکہ قمری مہینہ کا اوسط ۱۵ ۱۷ ۵۳۰۵۸۸ء۲۹ دن یعنی ۲۹ دن ۱۲ گھنٹے ۴۴ منٹ ۶۲۵۰۰ ÷ ۲٫۵۴۰۶۱ ہوتی ہے ۔ اور یہ یکم شوال ۱۲۵۷ ہجری سے لے کر یکم شوال ۱۳۵۷ھ تک کا عرصہ ۱۲۸۲ ماہ کا ہوتا ہے ۔ جسے مذکورہ بالا اوسط میں ضرب دینے سے حاصل ضرب ۲۷۵۹۱۰۰۶ء ۳۷۹۱ (دن) ہوتا ہے۔ جس کی اعشاریہ کی کسر کو (جو اس قابل نہیں کہ اسے ایک دن شمار کیا جائے) چھوڑ کر باقی رقم کو ہفتہ کے دنوں کے عدد یعنی سات پر تقسیم کرنے سے پانچ دن باقی بچتے ہیں۔ یعنی عرصہ ۵۴۱۵ ہفتہ اور پانچ دن کا ہوتا ہے۔ اور یہ یقینی بات ہے کہ یکم شوال ۱۳۵۷ھ کا یعنی سال رواں کا عیدالفطر کا دن پنج شنبہ تھا اور جب ہم پنج شنبہ سے پانچ دن پیچھے جائیں تو شنبه یعنی ہفتہ کا دن ہوتا ہے۔ پس یکم شوال ۱۲۵۰ ہجری کو ہفتہ کا دن تھا۔ اس لئے ۱۴؍شوال ۱۲۵۰ ہجری کو جمعہ کا دن تھا۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ الفضل مورخہ ۱۱؍ اگست ۱۹۳۶ء میں میرا جو مضمون شائع ہوا تھا وہ روایت نمبر ۶۱۳ میں درج ہے ۔ جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تاریخ پیدائش بروز جمعہ ۱۴؍شوال ۱۲۵۰ ہجری بمطابق ۱۳؍فروری ۱۸۳۵ عیسوی مطابق یکم پھاگن ۱۸۹۱ بکرمی ثابت کی گئی ہے۔

﴿1172﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دن عصر کے وقت میں پروف یا کاپی لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس اندر گیا۔ اتنے میں کسی نے کہا کہ چند آدمی حضور سے ملنے کے لئے آئے ہیں۔ تب صحن سے حضور ڈونگے دالان میں آگئے۔ ایک بڑی چادر سفید لٹھے کی لائے اور مجھے فرمایا کہ میاں منظور محمد ایک طرف سے پکڑو۔ میں نے ایک طرف سے چادر کو پکڑا اور دوسری طرف سے حضور نے خود پکڑا اور ہم دونوں نے مل کر چادر بچھائی۔ تب حضور اس چادر پر بیٹھ گئے اور فرمایا جاؤ۔ ملنے والوں کو بلا لاؤ۔ میں نے باہر جا کر ان کو اطلاع دی کہ اندر آجاؤ۔

﴿1173﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طبیعت اچھی نہ تھی۔ ڈونگے دالان کے صحن میں چارپائی پر لیٹے تھے اور لحاف اوپر لیا ہوا تھا۔ کسی نے کہا کہ ایک ہندو ڈاکٹر حضور سے ملنے آیا ہے۔ حضور نے اندر بلوا لیا۔ وہ آکر چارپائی کے پاس کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس کا رنگ نہایت سفید اور سرخ تھا۔ جنٹلمینی کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ طبیعت پوچھنے کے بعد شاید اس خیال سے کہ حضور بیمار ہیں، جواب نہیں دے سکیں گے۔ مذہب کے بارہ میں اس وقت جو چاہوں کہہ لوں اس نے مذہبی ذکر چھیڑ دیا۔ حضور فوراً لحاف اُتار کر اُٹھ بیٹھے اور جواب دینا شروع کیا۔ یہ دیکھ کر اس نے کہا کہ میں پھر کبھی حاضر ہوں گا اور چلا گیا۔

﴿1174﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب جب ایف اے کے طالب علم یا شاید ڈاکٹری کے طالب علم تھے۔ تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے ایک دن کہا کہ خدا تعالیٰ کا ایک نام مُسَبِّبُ الْاَسْبَاب بھی ہے۔ یہ نام لے کر بھی دعا مانگا کرو۔

﴿1175﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کسی بات کی بابت عرض کیا کہ اس میں میرے کامیاب ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ حضور نے فرمایا کہ میاں تم اللہ تعالیٰ کے نام ”مُسَبِّبُ الْاَسْبَاب“ کو لے کر اس سے دعا کیا کرو۔

﴿1176﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب انچارج نور ہسپتال قادیان نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بیان کیا کہ خاکسار ۱۹۰۷ء میں جلسہ سالانہ میں شمولیت کے لئے قادیان حاضر ہوا۔ ایک رات میں نے کھانا نہ کھایا تھا اور اس طرح چند اور مہمان بھی تھے۔ جنہوں نے کھانا نہ کھایا تھا۔ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام ہوا یا ایها النبی اطعموا الجائع والمعتر۔ منتظمین نے حضور کے بتلانے پر مہمانوں کو کھانا کھانے کے لئے جگایا۔ خاکسار نے بھی ان مہمانوں کے ساتھ بوقت قریباً ساڑھے گیارہ بجے لنگر میں جا کر کھانا کھایا۔ اگلے روز خاکسار نے یہ نظارہ دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دن کے قریب دس بجے مسجد مبارک کے چھوٹے زینے کے دروازے پر کھڑے ہوئے تھے اور حضور کے سامنے حضرت مولوی نور الدین خلیفہ اول کھڑے ہوئے تھے۔ اور بعض اور اصحاب بھی تھے ۔ اس وقت حضور کو جلال کے ساتھ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ انتظام کے نقص کی وجہ سے رات کو کئی مہمان بھوکے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ الہام کیا۔ ’ یا ایها النبی اطعموا الجائع والمعتر ‘‘

﴿1177﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میر محمد اسحاق صاحب فاضل نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بیان کیا کہ ایک دفعہ میں ایک خط لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں گیا۔ حضور اس وقت اس دالان میں جو بیت الدعا کے متصل ہے، زمین پر بیٹھ کر اپنا ٹرنک کھول رہے تھے۔ اس لئے مجھے فرمایا کہ خط پڑھو، اس میں کیا لکھا ہے میں نے حضور کو وہ خط پڑھ کر سنایا۔ حضور نے فرمایا کہ کہد دو کہ خضر انسان تھا۔ وہ فوت ہو چکا ہے۔

﴿1178﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میر محمد اسحاق صاحب فاضل نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بیان کیا کہ ایک دفعہ لاہور میں مستری موسیٰ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ حضور! غیر احمدی کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا اور یہ کہ حضور جب قضائے حاجت کرتے تو زمین اسے نگل جاتی۔ جواب میں حضور نے ان دونوں باتوں کی صحت سے انکار کیا۔

﴿1179﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میر محمد اسحاق صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بٹالہ ایک گواہی کے لئے گئے۔ یہ سفر حضور نے رتھ میں کیا۔ میں بھی علاوہ اور بچوں کے حضور کے ہمراہ رتھ میں گیا۔ راستہ میں جاتے وقت حضور نے اعجاز احمدی کا مشہور عربی قصیدہ نظم کرنا شروع کیا۔ رتھ خوب ہلتی تھی۔ اس حالت میں حضور نے دو تین شعر بنائے۔

﴿1180﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مسجد مبارک میں جو ابھی وسیع نہیں ہوئی تھی۔ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اور سید محمد علی شاہ صاحب رئیس قادیان مرحوم اور میں، صرف ہم تینوں بیٹھے تھے۔ مولوی صاحب نے شاہ صاحب موصوف کو مخاطب کر کے کہا کہ شاہ صاحب! حضرت صاحب دے پرانے زمانے دی کوئی گل سناؤ۔ شاہ صاحب نے ایک منٹ کے وقفہ کے بعد کہا کہ ”اس پاک زاد دا کی پُچھ دے اؤ، اس کے بعد ایک قصہ سنایا کہ ایک دفعہ ڈپٹی کمشنر کی آمد تھی۔ اور بڑے مرزا صاحب صفائی اور چھڑکاؤ کر رہے تھے۔ تو میرے اس کہنے پر کہ آپ خود تکلیف کیوں اُٹھاتے ہیں۔ بڑے مرزا صاحب میرا ہاتھ پکڑ کر ایک حجرے کے دروازے پر گئے۔ اندر حضرت صاحب لیٹے ہوئے تھے اور تین طرف تین ڈھیر کتابوں کے تھے اور ایک کتاب ہاتھ میں تھی اور پڑھ رہے تھے۔ مرزا صاحب نے کہا۔ آؤ دیکھ لو ایہہ حال ہے اسدا۔ میں اس نوں کم کہہ سکدا ہاں؟ میرے اس بیان کرنے سے یہ مطلب ہے کہ قادیان کے پرانے لوگ بھی حضرت صاحب کو باخدا سمجھتے تھے۔

﴿1181﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب ڈوئی امریکہ کا رہنے والا مطابق پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوا۔ تو میں نے اسی دن، جب یہ خبر آئی حضور سے عرض کیا کہ حضور ڈوئی مر گیا؟ فرمایا ”ہاں میں نے دعا کی تھی، یہ میں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ وہ پیشگوئی جو دعا کے بعد الہام ہو کر پوری ہو وہ بہ نسبت اس پیشگوئی کے جس میں دعا نہ ہو اور صرف الہام ہو کر پوری ہو، خدا تعالیٰ کی ہستی کو زیادہ بہتر طور پر ثابت کرنے والی ہے۔ کیونکہ اس میں خدا تعالیٰ کا متکلم ہونے کے علاوہ سمیع اور مجیب ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔

﴿1182﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جس دن حضرت خلیفہ اول گھوڑے سے گرے۔ ڈریس کے بعد جب چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ تو میں نے نزدیک ہو کر کہا کہ مولوی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ گھوڑے سے گرنے والی پیشگوئی ظاہری رنگ میں پوری ہوئی۔ میرا مطلب اس بیان کرنے سے یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کا علم مجھے بھی تھا۔

﴿1183﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مولا بخش صاحب پنشنر کلرک آف کورٹ نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ جن دنوں مولوی کرم دین سکنہ بھین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مقدمہ فوجداری دائر کیا ہوا تھا۔ حضرت صاحب اس کے متعلق اپنا الہام شائع کر چکے تھے کہ ہمارے لئے ان مقدمات میں بریت ہوگی۔ لیکن جب ایک لمبی تحقیقات کے بعد مقدمہ کا فیصلہ ہوا کہ آتمارام مجسٹریٹ نے حضور کو پانچ سو روپیہ جرمانہ کی سزا دی ۔ اس سے فوراً ہی بعد ایک اور مقدمہ کی پیشی کے لئے حضور جہلم تشریف لے جارہے تھے۔ جماعت امرتسر ریلوے سٹیشن پر حاضر ہوئی۔ میں بھی موجود تھا۔ اس وقت میاں عزیز اللہ صاحب منٹو وکیل احمدی نے عرض کیا۔ کہ حضور لوگ ہم کو بہت تنگ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ الہامات غلط ہو گئے۔ بریت نہ ہوئی۔ حضور کا چہرہ جوش ایمان سے اور منور ہو گیا۔ اور نہایت سادگی سے فرمایا ” یہ شتاب کار لوگ ہیں۔ ان کو انجام دیکھنا چاہئے ۔“ چنانچہ بعد میں اپیل میں حضور بری ہو گئے۔

﴿1184﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محمد حسین صاحب پنشنر دفتر قانون گو نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بیان کیا ۔ کہ جنوری ۱۹۰۷ء کا واقعہ ہے ۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام احمد یہ چوک سے باہر سیر کو تشریف لے جارہے تھے۔ اور میں بھی ساتھ تھا۔ حضور نے فرمایا کہ آج سعد اللہ لدھیانوی کی موت کی اطلاع آئی ہے اور آج عید کا دوسرا دن ہے۔ ہمارے لئے خدا تعالیٰ نے نشان پورا فرمایا۔ اگرچہ کسی کی موت کی خوشی نہیں ہوتی۔ لیکن خدا تعالیٰ کے نشان سے خوشی ہوتی ہے اور اس لئے آج ہمارے لئے دوسری عید ہے۔

﴿1185﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مولوی عبداللہ صاحب بوتالوی نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ ۱۹۰۵ء میں میں پہلی مرتبہ قادیان آیا اور اکیلے نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ حضور اس وقت مسجد مبارک میں محراب کی جانب پشت کئے ہوئے بیٹھے تھے اور خاکسار حضور کے سامنے بیٹھا تھا۔ حضور نے اپنا دایاں ہاتھ اوپر رکھ کر میرے دائیں ہاتھ کو پکڑا تھا۔ حضور کا ہاتھ بھاری اور پُر گوشت تھا۔

﴿1186﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مولوی عبداللہ صاحب بتالوی نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بیان کیا کہ غالباً ۱۹۰۷ء کا ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اندر سے تشریف لائے اور آکر مسجد مبارک میں کھڑے ہوگئے۔ حضور کے گرداگرد لوگوں کا ہجوم ہوگیا۔ جو سب کے سب حضور کے گرد حلقہ کئے ہوئے کھڑے تھے۔ حضور نے فرمایا کہ شاید کسی صاحب کو یاد ہوگا کہ ہم نے آگے بھی ایک دفعہ کہا تھا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے دکھلایا ہے۔ اس چھوٹی مسجد (مبارک) سے لے کر بڑی مسجد (اقصیٰ) تک سب مسجد ہی مسجد ہے۔ اس پر حاضرین میں سے ایک سے زیادہ اصحاب نے تائیداً بتایا کہ ہاں ہمیں یاد ہے۔ کہ حضور نے یہ بات فرمائی تھی۔ اُن بتانے والوں میں سے جہاں تک مجھے یاد ہے۔ ایک تو شیخ یعقوب علی صاحب تھے۔ لیکن دوسرے بتانے والوں کے نام مجھے یاد نہیں۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ ”اب پھر مجھے اللہ تعالیٰ نے دکھلایا ہے کہ اس چھوٹی مسجد سے لے کر بڑی مسجد تک سب مسجد ہی مسجد ہے۔“

﴿1187﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بیان کیا کہ پیغمبر اسنگھ سب سے پہلے کانگڑہ والے زلزلہ کے دنوں میں جب حضور باغ میں تھے۔ قادیان آیا تھا۔ میں بھی باغ میں تھا۔ پیغمبر اسنگھ میرے پاس آیا۔ میں نے کہا مسلمانوں کے ہاں کا کھانا کھالو گے؟ کہنے لگا! کہ میں تاں مہدی دا پیشاب بھی پین نو تیار ایں ۔ جاؤ لیا ؤ میں پیواں ۔ میں خاموش ہو رہا۔ پھر کہنے لگا کہ مجھے ایک جھنڈا بنادو۔ اور اس پر نبیوں کے نام لکھ دو۔ میں نے کہا کہ میں پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پوچھوں۔ تب میں نے حضرت صاحب کو عریضہ لکھا کہ پیغمبر اسنگھ کہتا ہے کہ مجھے ایسا جھنڈا بنادو اور کاغذ پر نقشہ بھی کھینچ دیا۔ تب حضرت صاحب نے جواب میں فرمایا۔ بنادو شاید مسلمان ہو جائے۔ چنانچہ میں نے لٹھے کے ایک سفید کپڑے پر ایک دائرہ کھینچا۔ اور عین درمیان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لکھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نام کے نیچے حضرت صاحب کا نام لکھا۔ یعنی یہ دونوں نام دائرے کے اندر تھے۔ پھر چاروں طرف دائرہ کے خط کے ساتھ ساتھ باقی تمام انبیاء کے نام لکھے اور وہ کپڑا پیغمبر اسنگھ کو دے دیا۔ چنانچہ کچھ مدت بعد پیغمبر اسنگھ مسلمان ہو گیا۔ اس کے مسلمان ہونے کے بعد میں نے اسے کہا کہ جب میں نے تمہیں جھنڈا بنا کر دیا تھا تو حضرت صاحب نے فرمایا تھا کہ ایسا جھنڈا بنا کر دے دو شاید مسلمان

ہو جائے۔ تو یہ سن کر پیغمبر اسنگھ بہت خوش ہوا۔ اور دوبارہ مجھ سے پوچھا کہ حضرت صاحب نے ایسا کیا سی۔ میں نے کہا۔ ہاں کیا سی۔

﴿1188﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بیان کیا کہ آگ کے گولوں والی پیشگوئی جو پچیس دن کے سر پر پوری ہوئی۔ جس دن یہ الہام ہوا۔ تو اندر سے ایک عورت نے مجھے آکر بتلایا کہ آج حضرت صاحب کو یہ الہام ہوا ہے۔ اور کہا الہام بیان کرتے وقت ساتھ ہی حضور نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ ”مائی تابی نہیں فوت ہوگی جب تک اس پیشگوئی کو پورا ہوتے نہ دیکھ لے۔“ چنانچہ مائی تابی جو اسی برس کے قریب عمر کی ایک عورت تھی۔ اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے بعد فوت ہوئی۔

﴿1189﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مولوی محمد عبداللہ صاحب بوٹالوی نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بیان کیا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جسم پر عنابی رنگ کی بانات کا نہایت نرم چغہ دیکھا تھا۔ جس کو ہاتھوں سے مس کر کے خاکسار نے بھی اپنے چہرے پر پھیرا۔ جیسا کہ اور لوگ بھی اسی طرح سے برکت حاصل کرتے تھے۔ نیز مجھے حضور کے پاس سے خوشبو بھی بہت آتی تھی جو شاید مشک کی ہوگی۔

﴿1190﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ملک مولا بخش صاحب پنشنر کلرک آف کورٹ نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بیان کیا کہ جب حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کی شہادت کی خبر قادیان پہنچی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طبیعت پر بہت صدمہ تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب احمد نور صاحب کابلی واپس آگئے تھے اور انہوں نے مفصل حالات عرض کر دیئے تھے۔ شام کی مجلس میں مسجد مبارک کی چھت پر میں بھی حاضر تھا۔ حضور نے فرمایا ہم اس پر ایک کتاب لکھیں گے۔ مجھے حضور کے فارسی اشعار کا شوق تھا۔ میں نے عرض کیا۔ حضور اس میں کچھ فارسی نظم بھی ہو تو مناسب ہوگا۔ حضور نے فرمایا۔ نہیں۔ ہمارا مضمون سادہ ہوگا۔ میں شرمندہ ہو کر خاموش ہو گیا کہ میں نے رنج کے وقت میں شعر گوئی کی فرمائش کیوں کر دی۔ لیکن جب کتاب تذکرۃ الشہادتین شائع ہوئی۔ تو اس میں ایک لمبی پر درد فارسی نظم تھی۔ جس سے مجھے معلوم ہوا کہ حضور اپنے ارادے سے شعر گوئی کی طرف مائل نہیں ہوتے تھے۔ بلکہ جب خدا تعالیٰ چاہتا تھا طبیعت کو اُدھر مائل کر دیتا تھا۔

﴿1191﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ملک مولا بخش صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بیان کیا کہ صاحبزادہ مبارک احمد صاحب مرحوم جب بیمار تھے تو ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تشویش اور فکر کا علم ہوتا رہتا تھا۔ جب صاحبزادہ صاحب فوت ہو گئے تو سردار فضل حق صاحب اور ڈاکٹر عباد اللہ صاحب مرحوم اور بندہ بخیال تعزیت قادیان آئے۔ لیکن جب حضور مسجد میں تشریف لائے۔ تو حضور حسب سابق بلکہ زیادہ خوش تھے۔ صاحبزادہ مرحوم کی وفات کا ذکر آیا تو حضور نے فرمایا کہ مبارک احمد فوت ہو گیا۔ میرے مولا کی بات پوری ہوئی۔ اس نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ یہ لڑکا یا تو جلدی فوت ہو جائے گا یا بہت باخدا ہوگا۔ پس اللہ نے اُس کو بلا لیا۔ ایک مبارک احمد کیا۔ اگر ہزار بیٹا ہو اور ہزار ہی فوت ہو جائے۔ مگر میرا مولا خوش ہو۔ اس کی بات پوری ہو۔ میری خوشی اسی میں ہے۔ یہ حالات دیکھ کر ہم میں سے کسی کو افسوس کے اظہار کی جرأت نہ ہوئی۔

﴿1192﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ملک مولا بخش صاحب پنشنر کلرک آف کورٹ نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بیان کیا کہ مسجد مبارک کی چھت پر شام کی مجلس میں ایک امرتسری دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور مولوی ثناء اللہ بہت تنگ کرتا ہے۔ اس کے لئے بددعا فرمائیں۔ اس پر حضور نے فرمایا۔ نہیں ۔ وہ ہماری بہت خدمت کرتے ہیں۔ ان کے ذریعہ سے ہمارے دعویٰ کا ذکر اُن لوگوں میں بھی ہو جاتا ہے جو نہ ہماری بات سننے کو تیار ہیں اور نہ ہماری کتابیں پڑھتے ہیں۔ وہ تو ہمارے کھیت کے لئے کھاد کا کام دے رہے ہیں۔ بدبُو سے گھبرانا نہیں چاہئے۔

﴿1193﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ کہ ڈونگے دالان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کاپی پڑھ رہے تھے۔ میں پاس بیٹھا تھا۔ اطلاع آئی کہ سپرنٹنڈنٹ پولیس اور انسپکٹر پولیس آئے ہیں۔ حضرت صاحب باہر تشریف لے گئے۔ چھوٹی مسجد کی سیڑھیوں کی آخری اوپر کی سیڑھی پر سپرنٹنڈنٹ پولیس اندر کی طرف کھڑا تھا۔ حضرت صاحب کو دیکھ کر اس نے ٹوپی اتاری اور کہا کہ مجھے لیکھرام کے قتل کے بارہ میں تلاشی کا حکم ہوا ہے۔ حضور نے فرمایا۔ بہت اچھا تلاشی میں میں آپ کو مدد دوں گا۔ تب حضرت صاحب اور سپرنٹنڈنٹ پولیس اور انسپکٹر اندر ڈونگے دالان میں گئے ۔ میں بھی اندر گیا ۔ دالان میں ہم صرف چاروں تھے ۔ دالان کے شمال مغربی کونے میں ڈھائی تین گز مربع کے قریب لکڑی کا ایک تخت بچھا تھا۔ اس پر کاغذات کے پندرہ بیس بستے بندھے پڑے تھے ۔ انسپکٹر نے دونوں ہاتھ زور سے بستوں پر مارے ، گرد اُٹھی ۔ انسپکٹر نے سپرنٹنڈنٹ پولیس کو مخاطب کر کے انگریزی میں کہا جس کا مطلب یہی معلوم ہوتا تھا کہ کسی قدر گرد ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ بہت مدت سے ان کو کسی نے ہاتھ نہیں لگایا۔ انسپکٹر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس دونوں مغرب کی طرف منہ کئے تخت کے پاس کھڑے تھے۔ دونوں کا منہ بستوں کی طرف تھا۔ میں مشرق کی طرف منہ کئے مغربی دیوار کے ساتھ کھڑا تھا۔ حضرت صاحب مشرقی دیوار کے ساتھ دالان کی لمبائی میں اس طرح ٹہل رہے تھے جیسے کوئی بادشاہ ٹہلتا ہے۔ لکڑی ہاتھ میں تھی اور درمیان سے پکڑی ہوئی تھی ۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس اور انسپکٹر کی پشت حضرت صاحب کی طرف تھی۔ انسپکٹر سپرنٹنڈنٹ سے باتیں تو کرتا تھا۔ لیکن سپرنٹنڈنٹ جو انگریز تھا (شاید لیمارچنڈ اس کا نام تھا) اس کا دھیان بالکل حضرت صاحب میں تھا۔ میں دیکھتا تھا جب حضرت صاحب اس کی پیٹھ کے پیچھے سے ہو کر جنوب کی طرف جاتے تو وہ کنکھیوں سے خفیف سا سر پھیر کر حضرت صاحب کو دیکھتا تھا۔ اور جب حضرت صاحب اس کے پیچھے سے ہو کر شمال کی طرف جاتے تو سر پھیر کر پھر کنکھیوں سے حضرت صاحب کو دیکھتا تھا۔ وہ بار بار یہی کچھ کرتا رہا۔ انسپکٹر کی طرف اس کا دھیان نہ تھا۔ پھر تجویز ہوئی کہ باقی مکان کی تلاشی لی جائے ۔

عصر کے بعد گول کمرہ کے باہر کھلے میدان میں کرسیاں بچھائی گئیں۔ ایک پر سپرنٹنڈنٹ پولیس تھا۔ اس کی دائیں طرف انسپکٹر تھا۔ بائیں طرف حضرت صاحب کرسی پر تھے۔ سامنے اس کے اور سپرنٹنڈنٹ سے پرے محمد بخش تھانیدار بٹالہ تھا۔ حاکم علی سپاہی متعینہ قادیان سپرنٹنڈنٹ کو رومال ہلا رہا تھا۔ درمیان میں زمین پر وہی بستے جو ڈونگے دالان کے تخت پر رکھے ہوئے تھے ۔ پڑے تھے۔ محمد بخش نے ایک کاغذ ایک بستے میں سے نکالا اور مسکراتا ہوا کہنے لگا کہ یہ دیکھئے ثبوت ۔ انسپکٹر نے اس کاغذ کو لے کر پڑھا اور کہا یہ تو ایک مرید کی طرف سے پیشگوئی کے پورا ہونے کی مبارکباد ہے اور کچھ نہیں۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس نے بھی اس سے اتفاق کیا اور کاغذ واپس بستہ میں ڈال دیا گیا۔ محمد بخش نے پھر ایک اور کاغذ نکالا وہ بھی اسی

قسم کا تھا۔ جو واپس بستہ میں ڈال دیا گیا۔ اسی طرح کئی کاغذ دیکھے گئے اور واپس کئے گئے۔ آخر کار دو کاغذ جن میں سے ایک ہندی میں لکھا ہوا تھا۔ اور دوسرا مرزا امام الدین کا خط محمدی بیگم کے متعلق تھا، لے کر عملہ پولیس واپس چلا گیا۔ ایک دو ماہ بعد ایک سکھ انسپکٹر پولیس آیا اور وہی دونوں کاغذ واپس لایا۔ حضرت صاحب نے اس کو ڈونگے دالان میں بلا لیا۔ آداب عرض کرنے کے بعد اس نے ہندی کا خط حضرت کو دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو جناب کا آٹے وغیرہ کے متعلق دوکاندار کا ٹونبو ہے اور یہ دوسرا کاغذ کس کا ہے؟ حضرت صاحب نے فرمایا۔ مرزا امام الدین کا ہے۔ انسپکٹر نے کہا کہ اس کے متعلق مرزا امام الدین سے پوچھنا ہے کہ کیا یہ تمہارا ہے۔ اس لئے مرزا امام الدین کی ضرورت ہے۔ چنانچہ آدمی بھیج کر مرزا امام الدین کو بلوایا گیا۔ انسپکٹر نے اس کو خط دکھا کر کہا کہ کیا یہ آپ کا خط ہے؟ اُس نے صاف انکار کر دیا کہ میرا نہیں۔ تب انسپکٹر نے کاغذ اور قلم دوات منگوا کر مرزا امام الدین کو دیا کہ آپ لکھتے جائیں، میں بولتا جاتا ہوں۔ انسپکٹر نے اس خط کی صرف دو سطریں لکھوائیں۔ پھر امام الدین کے ہاتھ سے لے کر اس کا لکھا ہوا کاغذ لے کر اصل خط کے مقابلہ میں رکھ کر دیکھنے لگا۔ میں جھٹ انسپکٹر کی کرسی کے پیچھے جا کھڑا ہوا اور ان دونوں خطوں کو میں نے دیکھ کر انسپکٹر کو کہا کہ یہ دیکھئے قادیان کا نون یا کے اوپر ڈالا گیا ہے اور گول نہیں بلکہ لمبا ہے۔ اور دوسری تحریر میں بھی بالکل ویسا ہی ہے۔ اور یہ دیکھئے لفظ ”بارہمیں“ کو ”بارہ میں“ لکھا ہوا ہے اور دوسری تحریر میں بھی ”بارہ میں“ ہے۔ مجھے ساتھ لے جائیے۔ میں ثابت کر دوں گا کہ یہ دونوں تحریریں ایک شخص کے ہاتھ کی ہی لکھی ہوئی ہیں۔ یہ سن کر انسپکٹر نے اس خط کو ہاتھ سے پکڑ کر اوندھا اپنی ران پر مارتے ہوئے کہا کہ ”لجانا کتھے اے پتہ لگ گیا“ جوں ہی انسپکٹر نے یہ کہا تو مرزا امام الدین خود ہی بول پڑا کہ یہ خط میرے ہاتھ کا ہی لکھا ہوا ہے۔ سب لوگ جو کھڑے تھے اس کے جھوٹ پر سخت انگشت بدندان ہوئے کہ ابھی اس نے کہا تھا کہ یہ خط میرا نہیں۔ اب کہتا ہے کہ یہ خط میرا ہے۔ تب انسپکٹر کھڑا ہو گیا اور حضرت صاحب کو وہ خط دے کر جانے کے لئے رخصت طلب کی۔ لیکن ساتھ ہی کہا کہ میں بطور نج محمدی بیگم کی پیشگوئی کی نسبت جناب سے دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت صاحب نواڑی پلنگ کے اوپر کھڑے تھے اور انسپکٹر نیچے زمین پر کھڑا تھا۔ اسی حالت میں کھڑے کھڑے حضرت صاحب نے تمام قصہ سنایا۔ تب انسپکٹر سلام کر کے رخصت ہو کر واپس چلا گیا۔

﴿1194﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میاں مبارک احمد صاحب بیمار تھے۔ ان کے لئے ڈاکٹروں نے تجویز کی کہ پورٹ وائن ایک چمچہ دی جائے۔ چنانچہ ایک بوتل امرتسر یا لاہور سے منگوائی گئی۔ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکان کے اس حصہ میں رہتا تھا جہاں حضور کی دواؤں کی الماری تھی۔ میں نے دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی تشریف لائے۔ اُن کے ہاتھ میں بوتل تھی۔ انہوں نے بوتل الماری میں رکھ دی اور مجھ سے فرمایا کہ پیر جی پانی چاہئے۔ میں نے کہا کیا کرو گے؟ کہا کہ ابا نے فرمایا ہے کہ ہاتھ دھو لینا کیونکہ شراب کی بوتل پکڑی ہے۔ پھر ہاتھ دھو لئے۔

﴿1195﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک مرتبہ میں سر کی لیکھ (جو جُوں سے چھوٹی ہوتی ہے) بڑے پاور کی خوردبین میں رکھ کر حضور علیہ السلام کو دکھانے کے لئے لے گیا۔ حضور نے دیکھنے کے بعد فرمایا۔ آؤ میاں بارک اللہ! (مرزا صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب مرحوم) تمہیں عجائبات قدرت دکھلائیں۔ اس وقت حضور ڈونگے دالان میں پلنگ پر بیٹھے تھے۔

﴿1196﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میاں مبارک احمد صاحب مرحوم حجرے میں بیماری کی حالت میں پڑے تھے۔ حجرے کے باہر برآمدہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیٹھے ہوئے تھے۔ اور حضور کے سامنے نصف دائرہ میں چند ڈاکٹر صاحبان اور غالباً حضرت خلیفہ اول بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ درمیان میں پورٹ وائن کی وہی بوتل جو صاحبزادہ مبارک احمد صاحب مرحوم کے لئے منگائی گئی تھی پڑی ہوئی تھی۔ میاں مبارک احمد صاحب کے علاج کے لئے دواؤں کی تجویز ہو رہی تھی میں بھی ایک طرف کو بیٹھا تھا۔ حضرت اقدس نے فرمایا! کہ یہ جو حافظ کہتا ہے۔

آں تلخ وش کہ صوفی ام الخبائث خواند

اشھی لنا واحلی من قبلۃ العذاری

اس کا مطلب یہ ہے کہ اس شعر میں حافظ نے ام الخبائث ترک دنیا کو کہا ہے اور تلخ اس لئے کہا کہ ترک دنیا سے ایسی تکلیف ہوتی ہے جیسے کسی کے جوڑ اور بند اکھاڑے جائیں اور ام الخبائث اس لئے کہا کہ جس طرح ماں جننے کے بعد تمام آلائشوں کو باہر نکال دیتی ہے۔ اسی طرح ترک دنیا بھی انسان کی تمام روحانی آلائشوں کو باہر نکال دیتی ہے۔ قبلۃ العذاریٰ سے مراد ہے دنیا کی عیش وعشرت۔ پس حافظ صاحب کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کو حاصل کرنے کی نسبت ہمیں ترک دنیا زیادہ پسندیدہ ہے۔

﴿1197﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ کانگڑہ والے زلزلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام باغ میں چلے گئے تھے۔ انہی دنوں باغ میں حضرت صاحب کو الہام ہوا۔ ”تین بڑے آدمیوں میں سے ایک کی موت“ عصر کی نماز جب ہوچکی۔ دوست چلے گئے۔ مولوی عبدالکریم صاحب مصلّٰی پر بیٹھے رہے۔ میں ان کے پاس مصلے کے کنارہ پر جا بیٹھا، اور کہا کہ سنا ہے کہ آج یہ الہام ہوا ہے۔ مولوی صاحب نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ لیکن کسی قسم کی بات نہ کی۔ میں تھوڑی دیر بیٹھ کر چلا گیا۔ میرے خیال میں تین بڑے آدمی یہ تھے۔ حضرت خلیفہ اول، مولوی عبدالکریم صاحب، مولوی محمد احسن صاحب، چند روز بعد مولوی عبدالکریم صاحب کی پشت پر ایک پھنسی نکلی جو بڑھتے بڑھتے کاربنکل بن گئی۔ غرض اس الہام کے بعد تقریباً ڈیڑھ ماہ میں مولوی عبدالکریم صاحب فوت ہو گئے اور پیشگوئی نہایت صاف طور پر پوری ہوئی۔

﴿1198﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ماسٹر عبدالرحمن صاحب بی۔ اے نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مرتبہ مدرسہ احمدیہ کے مکان میں جہاں پہلے ہائی سکول ہوا کرتا تھا۔ ایک گھنٹہ کے قریب لیکچر دیا۔ بعد میں آپ کی تحریک سے حضرت مولوی عبدالکریم اور حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ ہفتہ وار ایک ایک گھنٹہ لیکچر طلباء کے سامنے دیا کرتے تھے۔ اسی سلسلہ میں آپ نے فرمایا۔ ہم جو تصانیف کرتے ہیں۔ یہ علماء زمانہ کے مقابلہ اور مخاطبت میں لکھی گئی ہیں۔ ان کتابوں کو طلباء نہیں سمجھ سکتے۔ ان دنوں ان کے کورس بھی اتنے لمبے ہیں کہ طلباء کو فرصت ہی نہیں ملتی کہ تالیفات کو پڑھنے کی فرصت پاسکیں۔ اس لئے میں یہی کہتا ہوں اور پھر پھر کہتا ہوں کہ سکولوں کے ماسٹر صاحبان میری کتابوں کے چند صفحات مطالعہ کر لیا کریں اور ان کا خلاصہ سہل اور آسان الفاظ میں طلباء کے روبرو بیان کر دیا کریں۔ تاکہ ہماری باتیں طلباء کے دل و دماغ میں نقش ہو جائیں۔ ورنہ جو کتب مولویوں کے مقابلہ میں لکھی گئی ہیں وہ بچوں کے فہم سے بالا تر ہوتی ہیں۔

﴿1199﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مولوی ذوالفقار علی خان صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ دورانِ قیام مقدمہ کرم دین حضور علیہ السلام کچہری گورداسپور کی عمارت کے متصل پختہ سڑک کے کنارے ٹالیوں کے نیچے دری کے فرش پر تشریف فرما ہوا کرتے تھے۔ جس روز کا یہ واقعہ ہے۔ حضور لیٹے ہوئے تھے۔ اور سڑک کی طرف پشت تھی۔ ڈپٹی کمشنر انگریز تھا اور وہ اپنی کوٹھی کو اسی طرف سے جاتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ اس گروہ کی طرف دیکھتا ہوا جاتا تھا۔ اور ہماری جماعت سے کوئی تعظیماً کھڑا نہیں ہوتا تھا۔ میں نے یہ دیکھ کر حضرت سے عرض کی کہ حضور! ڈپٹی کمشنر ادھر سے ہمارے قریب سے گزرتا ہے اور کل بھی اس نے غور سے ہم لوگوں کی طرف دیکھا۔ آج بھی ہم میں سے کوئی تعظیم کے لئے نہیں اٹھا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ وہ حاکم وقت ہے۔ ہمارے دوستوں کو تعظیم کے لئے کھڑا ہونا چاہئے۔ پھر اس کے بعد ہم برابر تعظیماً کھڑے ہو جایا کرتے تھے اور اس کے چہرہ پر اس کے احساس کا اثر معلوم ہوتا تھا۔ اسی مقدمہ کے دوران ایک مرتبہ حضور گورداسپور کی کچہری کے سامنے ٹالیوں کے سایہ کے نیچے تشریف فرما تھے۔ عدالت کا اوّل وقت تھا۔ اکثر حکام ابھی نہیں آئے تھے۔ خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم نے مجھے فرمایا۔ چلئے ۔ حج خدا بخش صاحب سے مل آئیں۔ میں ان کے ہمراہ حج صاحب کے اجلاس میں چلا گیا۔ وہ خود اور ان کے پیشکار (ریڈر) محمد حسین جن کو لوگ محمد حسین خشکی کے نام سے ذکر کیا کرتے تھے۔ اجلاس میں تھے۔ غالباً اور کوئی نہ تھا۔ محمد حسین نے خواجہ صاحب سے مقدمہ کرم دین کا ذکر چھیڑا۔ غالباً وہ اہلحدیث فرقہ سے تعلق رکھتے تھے اور کہا کہ مرزا صاحب نے یہ کیا کیا کہ مقدمہ کا سلسلہ شروع کر لیا ہے۔ صلح ہو جانی چاہئے۔ حج صاحب نے بھی خواجہ صاحب سے کہا کہ مرزا صاحب کی شان کے خلاف ہے۔ مقدمہ بازی بند ہونا چاہئے اور باہمی صلح آپ کرانے کی کوشش کریں۔ حضرت سے اس بارہ میں ضرور کہیں اور میری جانب سے کہیں۔ خواجہ صاحب نے کہا کہ خواہش تو میری بھی یہی ہے اور یہ اچھا ہے۔ میں آپ کی طرف سے حضرت کی خدمت میں عرض کروں گا۔ یہ کہہ کر خواجہ صاحب اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کے سامنے مجھ سے کہا کہ آپ بھی میری تائید کیجئے گا۔ میں خاموش رہا۔ جب اجلاس سے ہم باہر آگئے۔ تو میں نے کہا کہ اس بارہ میں میں آپ کی تائید نہیں کر سکتا۔ مجھ سے یہ توقع نہ رکھئے۔ خواجہ صاحب نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ جج صاحب نے کہا ہے کہ مقدمہ کرنا حضرت کی شان کے خلاف ہے اور صلح ہو جانا ہی اچھا ہے اور مجھے تاکید کی ہے کہ حضور سے عرض کروں۔ حضرت صاحب اُٹھ کر بیٹھ گئے اور چہرہ سرخ ہو گیا۔ اور فرمایا آپ نے کیوں نہ کہہ دیا کہ صلح اس معاملہ میں ناممکن ہے۔ کرم دین کا الزام ہے کہ میں اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہوں۔ پس یہ تو خدا کے ساتھ جنگ ہے اور خدا پر الزام ہے۔ نبی صلح کرنے والا کون ہوتا ہے اور اگر میں صلح کر لوں تو گویا دعویٰ نبوت کو خود جھوٹا ثابت کر دوں۔ دیر تک حضرت اس معاملہ میں کلام فرماتے رہے اور چہرہ پر آثار ناراضگی تھے یہاں تک کہ کھڑے ہو گئے اور ٹہلنے لگے۔

﴿1200﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ملک مولا بخش صاحب پنشنر نے بذریعہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا۔ کہ ایک صاحب عبدالحئی عرب قادیان میں آئے تھے۔ انہوں نے سنایا کہ میں نے حضرت اقدس کی بعض عربی تصانیف دیکھ کر یقین کر لیا تھا کہ ایسی عربی بجز خداوندی تائید کے کوئی نہیں لکھ سکتا۔ چنانچہ میں قادیان آیا۔ اور حضور سے دریافت کیا کہ کیا یہ عربی حضور کی خود لکھی ہوئی ہے۔ حضور نے فرمایا۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے فضل و تائید سے۔ اس پر میں نے کہا کہ اگر آپ میرے سامنے ایسی عربی لکھ دیں تو میں آپ کے دعاویٰ کو تسلیم کر لوں گا۔ حضور نے فرمایا یہ تو اقترا حی معجزہ کا مطالبہ ہے۔ ایسا معجزہ دکھانا انبیاء کی سنت کے خلاف ہے۔ میں تو تب ہی لکھ سکتا ہوں جب میرا خدا مجھ سے لکھوائے۔ اس پر میں مہمان خانہ میں چلا گیا اور بعد میں ایک چٹھی عربی میں حضور کو لکھی۔ جس کا حضور نے عربی میں جواب دیا۔ جو ویسا ہی تھا۔ چنانچہ میں داخل بیعت ہو گیا۔

﴿1201﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ملک مولا بخش صاحب پنشنر نے بذریعہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بمعہ اہل بیت و خدام امرتسر تشریف لائے۔ امرتسر کی جماعت نے ایک بڑے مکان کا انتظام کیا مگر اس خیال سے کہ مرد زیادہ ہوں گے۔ مکان کا بڑا حصہ مردانہ کے لئے اور چھوٹا حصہ زنانہ کے لئے تجویز کیا۔ حضور نے آتے ہی پہلے مکان کو دیکھا اور اس تقسیم کونا پسند فرمایا اور بڑے حصے کو زنانہ کے لئے مخصوص فرما لیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضور کو صنفِ نازک کے آرام کا بہت خیال رہتا تھا۔

﴿1202﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ملک مولا بخش صاحب پنشنر نے بواسطہ مولوی عبد الرحمٰن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام رمضان شریف میں امرتسر تشریف لائے۔ اور آپ کا لیکچر منڈوہ با بو گھنیا لعل (جس کا نام اب بندے ماترم ہال ہے) میں ہوا۔ بوجہ سفر کے حضور کو روزہ نہ تھا۔ لیکچر کے دوران مفتی فضل الرحمٰن صاحب نے چائے کی پیالی پیش کی۔ حضور نے توجہ نہ فرمائی۔ پھر وہ اور آگے ہوئے۔ پھر بھی حضور مصروف لیکچر رہے۔ پھر مفتی صاحب نے پیالی بالکل قریب کر دی تو حضور نے لے کر چائے پی لی۔ اس پر لوگوں نے شور مچا دیا۔ یہ ہے رمضان شریف کا احترام۔ روزے نہیں رکھتے۔ اور بہت بکواس کرنا شروع کر دیا۔ لیکچر بند ہو گیا اور حضور پس پردہ ہو گئے۔ گاڑی دوسرے دروازے کے سامنے لائی گئی۔ اور حضور اس میں داخل ہو گئے۔ لوگوں نے اینٹ پتھر وغیرہ مارنے شروع کئے اور بہت ہلڑ مچایا۔ گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا۔ مگر حضور بخیر و عافیت قیام گاہ پر پہنچ گئے اور بعد میں سنا گیا کہ ایک غیر احمدی مولوی یہ کہتا تھا۔ کہ ”اَج لوکاں نے مرزے نوں نبی بنا دتا“ یہ میں نے خود اس کے منہ سے نہیں سنا۔ حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب کے ساتھ ہم باہر نکلے اور ان کی خدمت میں عرض کی کہ لوگ اینٹ پتھر مارتے ہیں۔ ذرا ٹھہر جائیں۔ تو آپ نے فرمایا وہ گیا جس کو مارتے تھے۔ مجھے کون مارتا ہے۔ چونکہ مفتی فضل الرحمٰن صاحب کے چائے پیش کرنے پر یہ سب گڑ بڑ ہوئی تھی۔ اس لئے سب آدمی ان کو کہتے تھے کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔ میں نے بھی ان کو ایسا کہا۔ وہ بیچارے تنگ آ گئے اور بعد میں میاں عبد الخالق صاحب مرحوم احمدی نے مجھے بتلایا کہ جب یہ معاملہ حضور کے سامنے پیش ہوا کہ مفتی صاحب نے خواہ مخواہ لیکچر خراب کر دیا۔ تو حضور نے فرمایا! کہ مفتی صاحب نے کوئی برا کام نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ کا ایک حکم ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے فعل سے اس حکم کی اشاعت کا موقعہ پیدا کر دیا۔ پھر تو مفتی صاحب شیر ہو گئے۔

﴿1203﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مولوی عبد اللہ صاحب بٹالوی نے بواسطہ مولوی عبد الرحمٰن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں دیکھا۔ کہ حضور بمثل دیگر اصحاب کے بے تکلف بیٹھے ہوئے ہوتے تھے اور اس میں ایک اجنبی کے واسطے کوئی امتیازی رنگ نہ ہوتا تھا۔ ایک دن بعد فراغت نماز ظہر یا عصر حضور مسجد سے نکل کر گھر کے متصلہ کمرہ میں داخل ہوئے جہاں حضور نے جوتا اتارا ہوا تھا۔ میں نے دیکھا کہ حضور کا دھیان جوتا پہنتے ہوئے جوتے کی طرف نہ تھا بلکہ پاؤں سے ٹٹول کر ہی اپنا جوتا پہن رہے تھے۔ اور اس وقت حضرت مولوی نور الدین صاحب سے مخاطب تھے۔ مولوی صاحب حضور کے سامنے قدرے خمیدہ ہو کر نہایت مودّب کھڑے تھے۔ اور کوئی اپنا خواب حضور کو سنا رہے تھے۔ وہ خواب نہایت اطمینان سے سن کر حضور نے فرمایا کوئی فکر نہیں۔ مبشر ہے۔ اس کے بعد حضور اندر تشریف لے گئے۔ میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے حضرت مولوی صاحب نہایت ادب و نیاز سے کھڑے ہوئے تھے اور نگاہیں ان کی زمین کی طرف تھیں۔ بات کرتے ہوئے کسی کسی وقت نظر سامنے اٹھا کر حضور کو دیکھ لیتے اور پھر آنکھیں نیچی کر کے سلسلۂ کلام چلاتے جاتے تھے۔

﴿1204﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مولوی محمد عبد اللہ صاحب بوٹالوی نے بواسطہ مولوی عبد الرحمٰن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھے ایک دفعہ غالباً ۱۹۰۷ء میں امۃ الرحمٰن صاحبہ بنت قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم ہمشیرہ قاضی محمد عبد اللہ صاحب بی اے بی ٹی سیکنڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان نے جو میری ننھیال کی طرف سے رشتہ دار بھی ہے۔ ایک کاغذ کا پُرزہ دیا تھا جو ردی کے طور پر تھا۔ لیکن چونکہ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اُم المومنین ایدھا اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کی لکھی ہوئی عبارتیں تھیں۔ اس لئے میں نے اس کو تبرکاً نہایت شوق سے حاصل کیا اور محفوظ رکھا۔ پھر کسی وقت وہ کاغذ مجھ سے پس و پیش ہو گیا ہے۔ معلوم نہیں کہ کسی کتاب میں پڑا ہوا ہے یا گم ہو گیا ہے۔ جس کا مجھے بہت افسوس ہے۔ لیکن چونکہ اس کے ساتھ ایک واقعہ کا تعلق ہے۔ جو مجھے امۃ الرحمٰن صاحبہ مرحومہ نے خود سنایا تھا اس بے تکلفانہ لکھی ہوئی عبارت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تعلق باللہ اور تقویٰ وطہارت و عبادات میں شغف پر روشنی پڑتی ہے۔ اس لئے میں اس کا ذکر کرنا اور تحریر میں لانا ضروری سمجھتا ہوں۔ امۃ الرحمٰن صاحبہ جن دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں رہا کرتی تھیں۔ انہوں نے دیکھا اور خاکسار سے بیان کیا کہ ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اُم المومنین صاحبہ نے یہ تجربہ کرنا چاہا کہ دیکھیں آنکھیں بند کر کے کاغذ پر لکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔ چنانچہ وہ پرزہ کاغذ پکڑ کر اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حسبِ ذیل عبارت لکھی ہوئی تھی اور جو مجھے حرف بحرف بخوبی یاد ہے۔ اور مجھے اس کے متعلق ایسا وثوق ہے کہ اگر وہ پرزہ کاغذ کبھی دستیاب ہو جاوے تو یقیناً یہی الفاظ اس پر لکھے ہوئے ہوں گے۔ حضور نے آنکھیں بند کرنے کی حالت میں لکھا تو یہ لکھا کہ

”انسان کو چاہئے کہ ہر وقت خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور پنج وقت اس کے حضور دعا کرتا رہے۔“

دوسری جگہ اسی حالت میں حضرت اماں جان کی تحریر کردہ عبارت حسبِ ذیل تھی۔

”محمود میرا پیارا بیٹا ہے کوئی اس کو کچھ نہ کہے۔“ ”مبارک احمد بسکٹ مانگتا ہے۔“

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت ان سے شکستہ اور پختہ خط میں صاف طور پر پڑھی جاتی تھی اور باوجود آنکھیں بند کر کے لکھنے کے اس میں سطر بندی مثل دوسری تحریرات کے قائم تھی۔ لیکن حضرت اُم المومنین کے حروف اپنی جگہ سے کچھ اوپر نیچے بھی تھے اور سطر بندی ان کی قائم نہ رہی تھی۔ لیکن خاص بات جس کا مجھے ہمیشہ لطف آتا ہے وہ یہ تھی کہ اپنے گھر میں بے تکلفانہ بیٹھے ہوئے بھی اگر اچانک بے سوچے کوئی بات حضور کو لکھنی پڑتی ہے تو وہ نصیحتانہ پاک کلمات کے سوا اور کوئی نہیں سوجھی۔ اور ادھر حضرت اُم المومنین کی عبارت ایسی ہے جو کہ ماحول کے حالات کے مطابق ان کے ذہن میں موجود ہو سکتی ہے۔ یہ وہ فرق ہے جو ماموروں اور دوسروں میں ہوا کرتا ہے۔

﴿1205﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مولوی محمد عبد اللہ صاحب بوٹالوی نے بواسطہ مولوی عبد الرحمٰن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے۔ مجلس میں مولوی محمد علی صاحب بھی موجود تھے۔ اس وقت مولوی صاحب مقدمہ کرم دین کے سلسلہ میں زر جرمانہ وصول کر کے آرہے تھے۔ اور مہتمم خزانہ کے ساتھ ان کی جو گفتگو مقدمہ اور واپسی جرمانہ کے متعلق ہوئی تھی۔ وہ حضور کو سنا رہے تھے۔ مولوی صاحب نے کہا کہ جس مجسٹریٹ نے اس مقدمہ میں جرمانہ کیا تھا۔ اپیل منظور ہونے پر وہی افسر مہتمم خزانہ ہو گیا تھا جس سے زر جرمانہ ہم نے واپس لینا تھا۔ چنانچہ ہم پہلے اس کے مکان پر (کچہری کے وقت سے پہلے) گئے اور اس سے ذکر کیا کہ ہم تو جرمانہ واپس لینے کے واسطے آئے ہیں۔ اس پر وہ مجسٹریٹ بہت نادم سا ہو گیا۔ اور اس نے فوراً کہا کہ آپ کو وہ رقم نہیں مل سکتی کیونکہ اس کے لئے خود مرزا صاحب کی دستخطی رسید لانا ضروری ہے۔ اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ وہ رسید تو میں مرزا صاحب سے لکھوا لایا ہوں۔ پھر اس مجسٹریٹ نے کہا کہ پھر بھی یہ رقم آپ کو نہیں دی جا سکتی۔ جب تک آپ کے پاس مرزا صاحب کی طرف سے اس امر کا مختار نامہ موجود نہ ہو۔ مولوی صاحب نے کہا کہ وہ بھی میں لے آیا ہوں۔ اسے لاجواب ہو کر کہنا پڑا کہ اچھا کچہری آنا۔ اس موقعہ پر مولوی محمد علی صاحب نے مسیح موعود علیہ السلام کے حضور ایک یہ فقرہ بھی سیشن جج صاحب منظور کنندہ اپیل کی باتیں کرتے ہوئے کہا تھا کہ حضور اس سیشن جج نے تو اس قدر زور کے ساتھ حضور کی بریت اور تائید میں لکھا ہے کہ اگر ہم میں سے بھی کوئی اس کرسی پر بیٹھا ہوا ہوتا تو شاید اتنی جرأت نہ کر سکتا۔ یہ جملہ حالات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہایت خوشی کی حالت میں سنتے رہے تھے۔

﴿1206﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ (خاکسار عرض کرتا ہے کہ) حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے سارے مکان کا نام بیت البرکات رکھا ہوا تھا۔ پھر جب وہ مکان بنا جس میں بعد میں میاں شریف رہتے رہے ہیں اور جس میں آج کل ام طاہر احمد رہتی ہیں تو چونکہ اس کا ایک حصہ گلی کی طرف سے نمایاں طور پر نظر آتا تھا اس لئے آپ نے اس کے اس حصہ پر بیت البرکات کے الفاظ لکھوا دیئے جس سے بعض لوگوں نے غلطی سے یہ سمجھ لیا کہ شاید یہ نام اسی حصہ کا ہے حالانکہ حضرت صاحب نے اپنے سارے مکان کا نام بیت البرکات رکھا ہوا تھا۔ علاوہ ازیں حضرت صاحب نے اپنے مکان کے بعض حصوں کے مخصوص نام بھی رکھے ہوئے تھے مثلاً مسجد مبارک کے ساتھ والے کمرہ کا نام بیت الفکر رکھا تھا بلکہ دراصل اس نام میں اس کے ساتھ والا دالان بھی شامل تھا۔ اسی طرح نچلی منزل کے ایک کمرہ کا نام جو اس وقت ڈیوڑھی کے ساتھ ہے، بیت النور رکھا تھا اور تیسری منزل کے اس دالان کا نام جس میں ایک زمانہ میں مولوی محمد علی صاحب رہتے رہے ہیں اور اس وقت ام وسیم احمد رہتی ہیں بیت السلام رکھا تھا۔ نیز حضرت والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے سنا ہوا ہے کہ جس چوبارہ میں اس وقت مائی کا کو رہتی ہے جو مرزا سلطان احمد صاحب والے مکان کے متصل ہے اور میرے موجودہ باورچی خانہ کے ساتھ ہے اس میں حضرت صاحب نے وہ لمبے روزے رکھے تھے جن کا حضرت صاحب نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے اور یہی وہ کمرہ ہے جس میں حضرت صاحب نے براہین احمدیہ تصنیف کی تھی۔

﴿1207﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت صاحب کا بچہ مبارک احمد فوت ہوا تو اس وقت میں اور مولوی محمد علی صاحب مسجد مبارک کے ساتھ والے کوٹھے پر کھڑے تھے۔ اس وقت اندرون خانہ سے آواز آئی جو دادی کی معلوم ہوتی تھی کہ ”ہائے او میر یا بچیا“ حضرت صاحب نے دادی کو سختی کے ساتھ کہا کہ دیکھو وہ تمہارا بچہ نہیں تھا۔ وہ خدا کا مال تھا جسے وہ لے گیا اور فرمایا یہ نظام الدین کا گھر نہیں ہے۔ منشی صاحب کہتے ہیں کہ انہی دنوں نظام الدین کا ایک لڑکا فوت ہوا تھا جس پر ان کا گھر میں دنیا داروں کے طریق پر بہت رونا دھونا ہوا تھا۔ سو حضرت صاحب نے اس طرف اشارہ کیا تھا کہ میرے گھر میں یہ بات نہیں ہونی چاہئے۔ اس وقت مولوی محمد علی صاحب نے مجھ سے کہا کہ کام بہت خراب ہو گیا ہے کیونکہ اس لڑکے کے متعلق حضرت صاحب کی بہت پیشگوئیاں تھیں اور اب لوگ ہمیں دم نہیں لینے دینگے اور حضرت صاحب کو تو کسی نے پوچھنا نہیں۔ لوگوں کا ہمارے ساتھ واسطہ پڑنا ہے۔ مولوی صاحب یہ بات کر ہی رہے تھے کہ نیچے مسجد کی طرف سے بلند آواز آئی جو نہ معلوم کس کی تھی کہ تریاق القلوب کا صفحہ چالیس نکال کر دیکھو۔ مولوی صاحب یہ آواز سن کر گئے اور تریاق القلوب کا نسخہ لے آئے۔ دیکھا تو اس کے چالیسویں صفحہ پر حضرت صاحب نے مبارک احمد کے متعلق لکھا ہوا تھا کہ اس کے متعلق مجھے جو الہام ہوا ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ یا تو یہ لڑکا بہت نیک اور دین میں ترقی کرنے والا ہوگا اور یا بچپن میں فوت ہو جائے گا۔ مولوی صاحب نے کہا خیر اب ہاتھ ڈالنے کی گنجائش نکل آئی ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ دادی سے مراد میاں شادی خاں صاحب مرحوم کی والدہ ہے جو مبارک احمد کی کھلاوی تھی اور مبارک احمد اسے دادی کہا کرتا تھا۔ اس پر اس کا نام ہی دادی مشہور ہو گیا۔ بیچاری بہت مخلص اور خدمت گزار تھی۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مبارک احمد ۱۹۰۷ء میں فوت ہوا تھا جب کہ اس کی عمر کچھ اوپر آٹھ سال کی تھی۔

﴿1208﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حضرت مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام آخری دفعہ لاہور تشریف لے گئے تو آپ نے اسی دوران میں لاہور سے خط لکھ کر مولوی محمد علی صاحب کو ایک دن کے لئے لاہور بلایا اور ان کے ساتھ میں بھی لاہور چلا گیا۔ جب مولوی صاحب حضرت صاحب کو ملنے گئے تو حضور انہیں اس برآمدہ میں ملے جو ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان کا برآمدہ جانب سڑک تھا۔ میں یہ خیال کر کے کہ شاید حضرت صاحب نے کوئی بات علیحدگی میں کرنی ہو، ایک طرف کو ہٹنے لگا جس پر حضور نے مجھے فرمایا۔ آپ بھی آ جائیں۔ چنانچہ میں بھی حضور کے پاس بیٹھ گیا۔ اس وقت حضور نے مولوی صاحب سے لنگر کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا ذکر کیا اور فرمایا کہ میں اس کی وجہ سے بہت فکر مند ہوں کہ لنگر کی آمد کم ہے اور خرچ زیادہ اور مہمانوں کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہے اور ان حالات کو دیکھ کر میری روح کو صدمہ پہنچتا ہے۔ اسی ملاقات میں حضور نے مولوی صاحب سے یہ بھی فرمایا کہ میں لاہور میں یہ مہینہ ٹھہروں گا یہاں ان دوستوں نے خرچ اٹھایا ہوا ہے اس کے بعد میں کہیں اور چلا جاؤں گا اور قادیان نہیں جاؤں گا۔ حضرت مولوی شیر علی صاحب فرماتے ہیں کہ اس وقت میں یہ سمجھا کہ یہ جو حضور نے قادیان واپس نہ جانے کا ذکر کیا ہے غالباً موجودہ پریشانی کی وجہ سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ کچھ عرصہ کہیں اور گزار کر پھر قادیان جاؤں گا مگر اب میں سمجھتا ہوں کہ اس سے غالباً حضور کی مراد یہ تھی کہ میری وفات کا وقت آ گیا ہے اور اب میرا قادیان جانا نہیں ہوگا۔ واللہ اعلم

﴿1209﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مکرم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میرے سامنے مولوی قطب الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اجازت مانگی کہ وہ حضور کے کسی مزارعہ دخیلکار سے کچھ زمین خرید لیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا یہ حقوق کا معاملہ ہے اور میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ اگر آپ کو اجازت دوں تو پھر دوسروں کو بھی اجازت دینی ہوگی۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ قادیان میں کچھ رقبہ تو ہمارا مقبوضہ مملوکہ ہے یعنی اس کی ملکیت بھی ہماری ہے اور قبضہ بھی ہمارا ہے مگر بیشتر رقبہ ایسا ہے کہ وہ ملکیت ہماری ہے لیکن وہ ہمارے قبضہ میں نہیں ہے بلکہ ایسے مزارعین کے قبضہ میں ہے جنہیں ہم بلا کسی خاص قانونی وجہ کے بے دخل نہیں کر سکتے اور نسل بعد نسل انہی کا قبضہ چلتا ہے اور ہمیں ان کی آمد میں سے ایک معین حصہ ملتا ہے۔ یہ لوگ موروثی یا دخیلکار کہلاتے اور وہ مالکان کی مرضی کے بغیر اپنے قبضہ کی زمین فروخت نہیں کر سکتے۔ مولوی قطب الدین صاحب نے انہی میں سے کسی کی زمین خریدنی چاہی تھی مگر حضرت صاحب نے اجازت نہیں دی اور واقعی عام حالات میں ایسی اجازت دینا فتنہ کا موجب ہے۔ کیونکہ اول تو اگر ایک احمدی کو اجازت دی جائے تو دوسروں کو کیوں نہ دی جائے۔ دوسرے: زمینوں کے معاملات میں بالعموم تنازعات پیش آتے رہتے ہیں اور مالکان اور مزارعان موروثی کے درمیان کئی باتوں میں اختلاف کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ ان حالات میں اگر ہمارے دخیلکاروں سے جو بالعموم غیر مسلم اور غیر احمدی ہیں، احمدی دوست زمینیں خرید لیں تو پھر ہمارے احمدی احباب کے درمیان تنازعات اور مقدمات کا سلسلہ شروع ہو جانے کا اندیشہ ہے اور اگر ایسا نہ بھی ہو تو کم از کم دلوں میں میل آنے کا احتمال ہے۔ ان حالات میں حضرت صاحب نے اس کی اجازت نہیں دی اور اسی کی اتباع میں آپ کے بعد ہم بھی اجازت نہیں دیتے بلکہ اسی قسم کے وجوہات کی بناء پر ہم عموماً ان دیہات میں بھی اجازت نہیں دیتے جن میں ہم مالکانِ اعلیٰ ہیں اور دوسرے لوگ مالکان ادنیٰ ہیں اور ایسے دیہات تین ہیں یعنی ننگل اور بھینی اور کھارا۔ گویا قادیان میں تو ہمارا خاندان مالک ہے اور دوسرے لوگ موروثی یا دخیلکار ہیں اور ننگل، بھینی اور کھارا میں ہم مالکانِ اعلیٰ ہیں اور دوسرے لوگ مالکان ادنیٰ ہیں۔

﴿1210﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے حضورؐ کی خدمت میں سورۃ الحمد خلف امام پڑھنے کے متعلق سوال کیا۔ فرمایا کہ ”قرأت سورۃ الحمد خلف امام بہتر ہے۔“ میں نے عرض کی کہ اگر نہ پڑھا جائے تو نماز ہو جاتی ہے یا نہیں؟ فرمایا کہ نماز تو ہو جاتی ہے مگر افضل تو یہی ہے کہ الحمد خلف امام پڑھا جاوے۔ یہ بھی فرمایا کہ اگر بدوں سورۃ الحمد خلف امام نماز نہ ہوتی ہو تو حنفی مذہب میں بڑے بڑے صالح لوگ گزرے ہیں وہ کس طرح صالح ہو جاتے۔ نماز دونوں طرح سے ہو جاتی ہے۔ فرق صرف افضلیت کا ہے۔“ ایسا ہی آمین بالسرّ پر آمین بالجہر کو ترجیح دی جاتی تھی۔

﴿1211﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میر عبد الرحمن صاحب رینج افسر بارہ مولا کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ خان صاحب، ساکن چک ائیر چھ کشمیر نے کہ ”میں نے حضور علیہ السلام کے پاس اپنا یہ رویاء بیان کیا: کئی درختوں کی قطار ہے جن پر گھونسلے ہیں اور ان میں خوبصورت پرندے ہیں۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”یہ مسیح موعود کی جماعت ہے“

﴿1212﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضور علیہ السلام نے رسالہ فتح اسلام اور توضیح المرام شائع فرمائے تو ان کے سرورق پر مرسلِ یزدانی کا فقرہ حضور کی طرف منسوب کر کے لکھا ہوا تھا۔ ایک شخص نے اعتراض کیا کہ مرزا صاحب خود کو مرسلِ یزدانی تحریر کرتے ہیں۔ میں نے معترض کو کہا کہ ممکن ہے کہ مطبع والوں نے لکھ دیا ہو (کیونکہ شیخ نور احمد صاحب کے مطبع ریاض ہند امرتسر میں رسائل موصوفہ طبع ہوئے تھے) جب میں قادیان آیا تو یہ ذکر میں نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں کیا۔ حضورؐ نے بلا تامل جواباً فرمایا: ”میری اجازت کے بغیر مطبع والے کس طرح لکھ سکتے تھے۔“

﴿1213﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میر عبدالرحمٰن صاحب رینج افسر بارہ مولا کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ خان صاحب مرحوم ساکن ائیر چھ نے کہ ایک دن سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جو صبح کے وقت سیر کو نکلے تو مولوی عبداللہ صاحب حال وکیل کشمیر نے حضور علیہ السلام کے پاس اپنی رویاء بیان کی کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک دریا ہے اور میں اس کے کنارے کھڑا ہوں۔ اس پر حضور علیہ السلام نے مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ ”اس کا پانی کیسا تھا؟“ مولوی صاحب نے جواب دیا ”میلا پانی تھا“ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”دریا سے مراد دل ہے۔“ راقم ھٰذا کو یہ یاد نہیں رہا کہ میاں عبداللہ خان صاحب مرحوم نے یہ کہا تھا یا نہیں؟ کہ حضور علیہ السلام نے مولوی صاحب کو اصلاحِ نفس کی تلقین فرمائی تھی یا نہ؟۱؎

﴿1214﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے ایک شخص کے بار بار بہ تکرار سوال پر استغفار اور لاحول گیارہ گیارہ دفعہ پڑھنے کا بطور وظیفہ فرمایا تھا (سائل کا سوال تعداد معینہ کا تھا) مجھے ٹھیک یاد نہیں رہا۔ شاید درود شریف بھی گیارہ دفعہ پڑھنے کا ساتھ ہی فرمایا تھا۔

﴿1215﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میر عبدالرحمٰن صاحب رینج افسر بارہ مولا کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مجھ سے میاں فقیر خان صاحب مرحوم ساکن اندور کشمیر (ملازم حضرت راجہ عطا محمد خان صاحب مرحوم جاگیر دار یاڑی پورہ کشمیر) نے، راجہ صاحب موصوف کی بینائی بڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہو گئی تھی۔ جب وہ قادیان گئے تو جب کبھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے باغ میں بیدانہ کے ایام میں جاتے تو حضور علیہ السلام راجہ صاحب موصوف کے آگے خود اچھے اچھے دانے بیدانہ یا شہتوت میں سے چن کر رکھتے۔ راقم عاجز کرتا ہے کہ راجہ صاحب موصوف مہمان خانہ میں رہتے تھے اور حضور علیہ السلام مہمان خانہ آکر راجہ صاحب کو بھی سیر میں شریک فرماتے تھے۔

﴿1216﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے تولد فرزند کے عقیقہ کے متعلق سوال کیا۔ فرمایا ’’لڑکے کے عقیقہ کے لئے دو بکرے قربان کرنے چاہئیں‘‘ میں نے عرض کی کہ ایک بکرا بھی جائز ہے؟ حضور نے جواب نہ دیا۔ میرے دوبارہ سوال پر ہنس کر فرمایا کہ اس سے بہتر ہے کہ عقیقہ نہ ہی کیا جاوے۔ ایک بکرا کے جواز کا فتویٰ نہ دیا۔ میری غرض یہ تھی کہ بعض کم حیثیت والے ایک بکرا قربانی کر کے بھی عقیقہ کر سکیں۔

﴿1217﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میر عبدالرحمٰن صاحب رینج افسر بارہ مولا کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیمار مہمانوں کی بعض اوقات عیادت فرماتے تھے۔ راجہ عطا محمد خان صاحب مرحوم کی بھی مہمان خانہ میں آکر عیادت فرماتے تھے۔ ایک دفعہ میاں ضیاء الدین صاحب مرحوم طالب علم تعلیم الاسلام ہائی سکول کی بورڈنگ میں عیادت فرمائی تھی۔

﴿1218﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضورؐ بمعہ اصحاب اس راستہ کی طرف جو ٹمٹوں کا راستہ متصل محلہ خاکروبان بٹالہ کو جاتا ہے۔ سیر کو تشریف لے گئے ۔ واپسی پر راستہ کے ایک طرف درخت کیکر کسی کا گرا ہوا تھا۔ بعض دوستوں نے اس کی خورد شاخیں کاٹ کر مسواکیں بنالیں ۔ حضور علیہ السلام کے ساتھ اس وقت حضرت خلیفہ ثانی بھی تھے (اس وقت دس بارہ سال عمر تھی) ایک مسواک کسی بھائی نے ان کو دے دی اور انہوں نے بوجہ بچپن کی تکلفی کے ایک دفعہ کہا کہ ابا تسیں مسواک لے لو۔ حضور علیہ السلام نے جواب نہ دیا۔ پھر دوبارہ یہی کہا۔ حضور علیہ السلام نے پھر جواب نہ دیا۔ سہ بارہ پھر کہا کہ ابا مسواک لے لو۔ تو حضور علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ’’پہلے یہ بتاؤ کہ مسواکیں کس کی اجازت سے لی گئی ہیں؟ اس فرمان کو سنتے ہی سب نے مسواکیں زمین پر پھینک دیں۔

﴿1219﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۔ میر عبدالرحمن صاحب رینج افسر بارہ مولا کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ بیان کیا مجھ سے میرے والد خواجہ حبیب اللہ صاحب مرحوم و مغفور ساکن گاگرن کشمیر نے کہ ایک دفعہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے کسی نے دریافت کیا۔ حضور! درود شریف کس قدر پڑھنا چاہئے؟ حضور نے فرمایا۔’’تب تک پڑھنا چاہئے کہ زبان تر ہو جائے ۔‘‘

﴿1220﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؔ قیام مقبرہ بہشتی سے پہلے فوت ہوئے اور اس قبرستان میں جو شہیدوں کے تکیہ کے قریب جانب شرق قادیان قدیم واقعہ ہے بطور امانت حسب الارشاد حضرت اقدس مدفون ہوئے تھے۔ ایک دفعہ حضور علیہ السلام اس طرف سیر کو تشریف لے گئے۔ واپسی پر مولوی صاحب موصوف کی قبر پر کھڑے ہو کر معہ اصحاب ہمراہیان ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی۔

﴿1221﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۔ میر عبدالرحمن صاحب رینج افسر بارہ مولا کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ خاکسار راقم عرض کرتا ہے کہ میاں عبدالکریم صاحب مرحوم حیدر آبادی کو میرے روبرو دیوانہ کتے نے بورڈنگ ہائی سکول (جو اس وقت اندرون شہر تھا اور جواب مدرسہ احمدیہ کا بورڈنگ ہے ) کے صحن میں بوقت دن کاٹا تھا۔ میرے سامنے ہی اسے کسولی بھیجا گیا تھا۔ وہاں سے علاج کرا کے جب مرحوم واپس قادیان آیا۔ تو چند روز کے بعد اسے ہلکا ؤ ہوگیا۔ اس پر حضرت مولوی شیر علی صاحب نے کسولی کے افسران کو تار دیا کہ عبدالکریم کو ہلکا ؤ ہو گیا ہے۔ کیا علاج کیا جائے؟ انہوں نے جواب دیا

Sorry`nothing can be done for Abdul Karim افسوس! عبدالکریم کے لئے اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ تب عبدالکریم کو سید محمد علی شاہ صاحب رئیس قادیان کے ایک مکان میں علیحدہ رکھا گیا۔ اور مکرم معظم سید ولی اللہ شاہ صاحب اور خاکسار اس کے پاس پہرہ کے لئے اپنی مرضی سے لگائے گئے۔ ہم دونوں بھی اس کے پاس جانے سے ڈرتے تھے۔ بہر حال سیدنا حضرت اقدس علیہ السلام نے نہایت الحاح سے عبدالکریم کے لئے دعائیں کیں۔ ڈاکٹروں کو حکم دیا کہ عبدالکریم کو ہرگز زہر دے کر نہ مارا جائے۔ اسے بادام روغن بھی استعمال کراتے رہے۔ سو اللہ تعالیٰ نے اپنے مسیح پاک کی دعاؤں کی برکت سے اسے شفاء دی۔

﴿1222﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں بعض اپنی کمزوریوں کا ذکر کیا اور عرض کی کہ بعض وقت طبیعت کی حالت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ گویا طبیعت میں نفاق آگیا ہے۔ حضورؐ نے زور دار الفاظ کے لہجہ میں فرمایا کہ ”نہیں نہیں کچھ نہیں۔ چالیس سال تک تو نیکی اور بدی کا اعتبار ہی نہیں۔“ پھر میں نے عرض کہ کہ مجھے پے در پے دو خوابیں دہشت ناک آئی ہیں۔ فرمایا۔ سناؤ۔ میں نے عرض کی کہ ”خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں ایک خنزیر پر سوار ہوں اور وہ نیچے سے بہت تیز بھاگتا ہے مگر میں اس کے اوپر سے گرا نہیں ہوں۔ اسی اثناء میں ایک بچہ خنزیر مری گردن سے پیچھے کی طرف سے چمٹتا ہے۔ میں ہر چند کوشش کرتا ہوں کہ اس کو گردن سے نیچے گرادوں مگر وہ جبراً میری گردن سے چمٹتا ہے اسی حالت میں میری آنکھ کھل گئی۔ دوسری خواب یہ ہے کہ ایک نامعلوم سا آدمی میری طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ میں اور یہ دونوں نصرانی ہیں۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ دونوں خوابیں اچھی ہیں۔ چنانچہ خواب اول کے متعلق فرمایا کہ تم کسی عیسائی پر فتح یاب ہو گے۔ مگر بچہ خنزیر کے متعلق کوئی تعبیر نہ فرمائی۔ اور دوسری خواب کے متعلق فرمایا (اور ایک کتاب علم تعبیر کی بھی سامنے رکھ لی تھی) کہ ایسی خواب کا دیکھنے والا اگر اہلیت رکھتا ہو تو بادشاہ ہوجاوے گا۔ کیونکہ نصرانی نصرت سے نکلا ہے یعنی نصرت یافتہ۔ اور نصاریٰ نصرانی آج دنیا کے بادشاہ ہیں۔ یہ بھی فرمایا کہ اگر بادشاہی کی اہلیت نہیں رکھتا تو بڑا متمول ہوجاوے گا۔ اس کے چند روز بعد مجھے بمقام ڈہری والہ داروغہ برائے تصدیق انتقال اراضی زر خرید واقعہ سکھوں کے لئے جانا پڑا۔ بر مکان چوہدری سلطان ملک صاحب سفید پوش (اب ذیلدار ہیں) ایک عیسائی نبی بخش کے نام کے ساتھ میری مذہبی گفتگو چھڑ گئی۔ آخر وہ عیسائی مغلوب ہو کر تیزی میں آگیا۔ دفعیہ کے طور پر میں نے بھی اس پر تیزی کی۔ اس میں بھی وہ مغلوب ہو گیا اس مجلس میں ایک شخص سوچیت سنگھ نام ساکن چھینا تحصیل گورداسپور جو سکھ مذہب کو ترک کر کے آریہ مذہب اختیار کر چکا تھا۔ موجود تھا۔ وہ اس عیسائی کا حامی بن گیا اور مجھ پر تیزی کرنے لگا۔ تا اس عیسائی کو مشتعل کرے مگر وہ عیسائی بالکل خاموش رہا۔ میں نے اس سکھ آریہ کو کہا کہ میں نے اس کو دفعیہ کے طور پر کہا ہے۔ ابتداء میں نے نہیں کی مگر وہ سکھ آریہ اشتعال دہی سے باز نہ آیا حتیٰ کہ اس کو استغاثہ فوجداری عدالت میں دائر کرنے کا اشتعال دلانے سے بھی باز نہ آیا مگر وہ عیسائی با وجود اس سکھ آریہ کے بھڑکانے کے خاموش رہا۔ تب مجھ کو بچہ خنزیر یاد آگیا جو میری گردن سے چمٹتا تھا۔ احادیث نبویہ میں مسیح موعود علیہ السلام کے فعل یقتل الخنزیر کی تصدیق بھی ہوگئی۔

﴿1223﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میر عبد الرحمن صاحب ریخ افسر بارہ مولا کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پسند نہیں فرماتے تھے کہ احمدی طلباء عیسائی کالجوں میں داخل ہوں۔ جب خاکسار اور شیخ عبدالعلی صاحب بھیروی حال ای اے سی تعلیم الاسلام ہائی سکول سے انٹرنس میں بفضل خدا پاس ہوئے۔ اس وقت عبدالعلی موصوف نے مجھے یہ بات لاہور میں بتائی کہ حضرت صاحب کرسچن کالج لاہور میں احمدی طلباء کا داخلہ پسند نہیں فرماتے۔ چنانچہ عبدالعلی صاحب نے کسی کا نام بھی بتایا تھا کہ اسے حضور علیہ السلام نے کرسچن کالج لاہور میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی (غالباً فقیر اللہ خان صاحب انسپکٹر کا نام یا اپنا ہی؟) خاکسار کو بھی حضور نے اسلامیہ کالج لاہور ہی میں داخل ہونے کی اجازت دی۔ چنانچہ میں وہاں داخل ہو گیا تھا۔ بعد میں علی گڑھ کالج چلا گیا۔

﴿1224﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میر عبد الرحمن صاحب ریخ افسر بارہ مولا کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے وقت ایک دفعہ قادیان کا لنگر خانہ گورداسپور منتقل کیا گیا تھا یعنی قادیان میں لنگر خانہ بند کیا گیا اور گورداسپور میں لگایا گیا۔ وہ ایام کرم دین کے مقدمہ کے تھے۔ جبکہ مجسٹریٹ عمداً نزدیک نزدیک تاریخیں رکھتا تھا تا کہ حضرت صاحب علیہ السلام کو تکلیف ہو۔ ہم چند طلباء گورداسپور چلے گئے تھے۔

﴿1225﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک شخص نے کہا کہ لوگ حضور علیہ السلام کے حج کے متعلق اعتراض کرتے ہیں۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دجال کو خانہ کعبہ طواف کرتے دیکھا ہے۔ ہم تو دجال کے پیچھے پڑے ہیں اس کو ساتھ لے کر حج کریں گے۔ نوٹ: پہلے علماء نے یہ تاویل کی ہے کہ دجال کا طواف کعبہ ایسا ہے جیسے چور (سارق) کسی مکان میں نقب زنی کے لئے گشت کرلے اور مسیح موعود علیہ السلام کا طواف جیسے کوتوال چوروں کے تعاقب میں گشت کرتا ہے۔

﴿1226﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میر عبدالرحمن صاحب رینج افسر بارہ مولا کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ بیان کیا مجھ سے میاں شمس الدین صاحب (غیر احمدی) سابق سیکرٹری انجمن حمایت اسلام لاہور نے کہ دعویٰ سے پہلے ہم چند شرفاء لاہور سے قادیان اس غرض سے جاتے تھے کہ سیاسی امور میں حضور علیہ السلام ہماری راہنمائی فرماویں۔ لیکن حضور علیہ السلام نے اس وقت کی حکومت کے خلاف ہم کو کبھی بھی کچھ بات نہ کہی۔ پس ہم نے پھر قادیان جانا ہی چھوڑ دیا۔

﴿1227﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے اور بھائی فضل محمد صاحب ساکن ہرسیاں (جو مولوی عبدالغفور صاحب مبلغ کے والد ہیں) نے مشورہ کیا کہ قادیان میں دوکان تجارت کھولیں اور حضور علیہ السلام سے مشورہ کرنے کے لئے قادیان آئے۔ حضور علیہ السلام غالباً نماز ظہر پڑھ کر اندر تشریف لے جا رہے تھے کہ ہم نے سوال کر دیا اور اپنی تجویز پیش کر دی۔ حضور علیہ السلام اس صحن میں کھڑے ہو گئے جو مسجد مبارک کی اندرونی سیڑھیوں سے مسجد کو آویں تو ایک سیڑھی ابھی باقی رہتی تھی کہ ایک دروازہ اندر جانے کو کھلتا تھا اور آگے چھوٹا سا صحن جسے عبور کر کے حضور اندر گھر میں تشریف لے جاتے تھے اور وہاں صحن میں ایک چوبی سیڑھی لگی ہوئی تھی اس کے اوپر کے مکان میں حضرت خلیفہ اولؓ رہا کرتے تھے۔ اس وقت حضرت خلیفہ اولؓ بھی اس چوبی سیڑھی پر چڑھ کر اوپر مکان کو جا رہے تھے۔ حضور علیہ السلام نے ان کو بھی بلا لیا اور فرمایا کہ ”میاں خیر الدین وغیرہ یہاں دوکان کھولنا چاہتے ہیں۔ کیا اعتبار ہے کہ دوکان میں خسارہ ہو یا نفع ہو؟ اچھا اگر خسارہ پڑے گا تو دوکان چھوڑ دیں گے۔ یہ فرما کر اندر تشریف لے گئے۔ بعدش ہم نے مشورہ کیا کہ ہم کو امید نہیں ہے کہ منافع ہو۔ بہتر ہے کہ دوکان کھولنے کا ارادہ ترک کر دیں ۔ چنانچہ ہم واپس اپنے گھروں کو چلے گئے۔

﴿1228﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میر عبد الرحمن صاحب ریج افسر بارہ مولا کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ بیان کیا مجھ سے میرے والد خواجہ حبیب اللہ صاحب مرحوم ساکن گا گرن کشمیر نے کہ جب میں ۹۸۔۱۸۹۷ء میں قادیان گیا۔ تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرنے کے کچھ عرصہ بعد میں نے حضرت اقدس علیہ السلام سے کشمیر واپس آنے کی اجازت مانگی ۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”یہاں ہی ٹھہرو اور قرآن شریف پڑھو۔“ پھر میں کچھ عرصہ اور ٹھہرا۔ اس کے بعد پھر میں نے حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب خلیفہ اولؓ کے ذریعہ درخواست کی کہ میرے دولڑ کے سری نگر میں مشرکوں کے پاس ہیں اس لئے مجھے اجازت دی جائے کہ میں ان کا کچھ بند و بست کروں ۔ چنانچہ مجھے اجازت دی گئی اور پھر تم دونوں بھائیوں کو (عبد القادر وعبد الرحمن ) قادیان لے آیا۔ فالحمد للّٰہ علیٰ ذالک

﴿1229﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میر عبد الرحمن صاحب ریج افسر بارہ مولا کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میرے والد صاحب پہلے حنفی تھے پھر اہل حدیث ہوئے اس وقت وہ اپنے دوست مولوی محمد حسن صاحب مرحوم ساکن آسنور (والد مولوی عبد الواحد صاحب ) کو کہا کرتے تھے کہ ہم لوگ اب بڑے موحد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ممکن ہے کوئی ایسی جماعت اور نکل آئے جو ہم کو بھی مشرک گردانے ۔ والد صاحب فرماتے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ کیونکہ ہم لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مُردوں (کو زندہ کرنے والے) اور پرندوں کا خالق مانتے ہیں۔ لیکن جب میرے کانوں نے یہ شعر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا سنا

ہے وہی اکثر پرندوں کا خدا

اُس خدا دانی پہ تیرے مرحبا

مولوی صاحب! یہی توحید ہے

سچ کہو کس دیو کی تقلید ہے ؟

اس وقت مجھے ہوش آیا اور میں نے تم دونوں بھائیوں کو سری نگر اپنے ماموں کے پاس چھوڑا اور قادیان پیدل چلا گیا۔ اور وہاں بیعت سے مشرف ہوا۔ فالحمد للہ ثم الحمد للہ علیٰ ذالک

﴿1230﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں قادیان پہنچا۔ حضورؑ گھر میں معہ احباب مہمانان کھانا کھانے کے لئے تیار تھے کہ میں بھی گھر میں داخل ہوا۔ میرے لئے بھی کھانا آگیا۔ جب کھانا رکھا گیا تو رکابی پلاؤ کی زائد از حصہ رسدی حضور علیہ السلام نے اپنے دستِ مبارک سے اٹھا کر میرے آگے رکھ دی۔ تمام حاضرین میری طرف دیکھنے لگ گئے ۔ میں حضور علیہ السلام کی شفقت بھری نگاہوں سے خدا تعالیٰ کا شکر یہ کرتے ہوئے کہتا ہوں۔ الحمد للہ علیٰ ذالک۔

﴿1231﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جن دنوں پادری مارٹن کلارک امرتسر نے حضورؑ کے خلاف اقدام قتل کا استغاثہ کیا۔ اول عدالت صاحب ڈپٹی کمشنر امرتسر سے حضورؑ کے خلاف ورانٹ جاری ہو کر گورداسپور پہنچا لیکن جلد ہی واپس ہو گیا۔ چوہدری رستم علی صاحبؓ ان دنوں گورداسپور میں بعبدہ کورٹ انسپکٹر مقرر تھے۔ انہوں نے منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی (پٹواری سیکھوانی) کو اطلاع دی۔ وہ فوراً سیکھواں آئے ۔ میں بھی سیکھواں سے شامل ہوا۔ قادیان پہنچ کر حضور علیہ السلام کی خدمت میں اطلاع کی گئی۔ حضور علیہ السلام نے اندر ہی بلا لیا۔ حاضر خدمت ہو کر خط چوہدری رستم علی صاحب مرحوم والا پیش کر دیا۔ خط پڑھ کر فرمایا (قریب ہی ایک دریچہ تھا جس کے آگے بیٹھ کر حضور علیہ السلام تحریر کا کام کیا کرتے تھے) اس دریچہ کے باہر سے خواب یا کشف میں معلوم ہوا کہ بجلی آئی ہے لیکن واپس ہو گئی (چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ وارنٹ امرتسر سے جاری ہوا پھر حکام کو غلطی خود معلوم ہو گئی

اور واپس کرایا گیا) پھر دوبارہ مقدمہ ضلع گورداسپور میں منتقل ہوگیا اور خدا نے عزت کے ساتھ بری کیا۔ فالحمد للّٰہ علٰی ذالک۔

﴿1232﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ آپ (حضرت صاحب) نماز عموماً دوسرے کی اقتدا میں پڑھتے تھے۔ میں نے اس قدر طویل عرصہ میں دو دفعہ حضور علیہ السلام کی اقتدا میں نماز پڑھی ہے۔ (۱) قبل دعویٰ مسجد اقصیٰ میں شام کی نماز۔ ایک رکعت میں سورۃ وَالتِّیْن پڑھی تھی لیکن بہت دھیمی آواز میں جو مقتدی بہ مشکل سن سکے۔ (۲) دوسری دفعہ مولوی کرم الدین والے مقدمات میں گورداسپور کو جاتے ہوئے بڑی نہر پر ظہر کی نماز حضور علیہ السلام کی اقتدا میں پڑھی تھی۔

﴿1233﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ دوران مقدمات مولوی کرم الدین، مَیں بعض کاموں کی وجہ سے سولہ سترہ روز کے بعد جب قادیان پہنچا۔ حضور علیہ السلام دریچہ بیت الفکر سے جو مسجد مبارک میں کھلتا تھا تشریف لائے اور دیکھتے ہی مجھ کو فرمایا کہ ”بڑی دیر کے بعد آئے۔“ اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ حضورؐ کو اپنے خدام کو جلد یا بدیر آمد و رفت کے متعلق خیال رہتا تھا۔

﴿1234﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضورؐ نے ایک جلسہ کیا اور اس کا نام ”جلسۃ الدعاء“ رکھا (یہ جلسہ عید گاہ قدیمی متصل قبرستان غربی جانب از قادیان کیا تھا) جلسہ مذکورہ میں حضورؐ نے تقریر فرمائی کہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ یاجوج ماجوج کی جنگ ہوگی اور یاجوج ماجوج روس اور انگریز (برطانیہ) دونوں قومیں ہیں اور ہمیں معلوم نہیں کہ جب یہ جنگ ہوگی اس وقت ہم زندہ ہوں گے یا نہیں؟ اس لئے میں آج ہی دعا کر چھوڑتا ہوں کہ اللّٰہ تعالیٰ اس وقت انگریز قوم کو فتح دے۔ آمین۔

﴿1235﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سیاسی شورش کے متعلق فرمایا کہ ’’ایک وقت آئے گا۔ سوائے قادیان کے کہیں امن نہ ہوگا۔‘‘

﴿1236﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلّہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب پہلی دفعہ میں (بادل ناخواستہ) بیعت کر کے واپس گھر گیا تو میرے دل میں یہی خیال آتا تھا کہ قادیان شریف کو لوگ بڑا بُرا کہتے ہیں اور میں نے تو وہاں اس جگہ سوائے قرآن شریف اور دینی باتوں کے اور کچھ نہیں سنا۔ سب لوگ رات دن یادِ الٰہی میں مشغول ہیں۔ بس میں نے اس خیال کو مدنظر رکھ کر نمازوں میں اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعا کرنی شروع کی کہ اے میرے پیدا کرنے والے رب! میرے محسن! میں تیرا بندہ ہوں، گنہگار ہوں، بے علم ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ تیری رضا کے مطابق کون چلتا ہے؟ اس وقت دنیا میں کسی فرقے میں مجھے نہیں معلوم کہ کون فرقہ راستی پر ہے؟ پس اے میرے پیدا کرنے والے! میں اس وقت اپنے آپ کو تیرے سپرد کرتا ہوں کہ تو مجھے اس راہ پر چلا جس پر تو راضی ہو۔ تاکہ قیامت کے دن مجھے شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔ اے میرے مولا! جب تو مجھے قیامت کو پوچھے گا تو میں اس وقت بھی یہی عرض کروں گا کہ میرے پیارے اللہ! میں بے علم تھا اور میں نے اپنے آپ کو تیرے حضور رکھ دیا تھا اور بار بار یہی عرض کرتا تھا کہ اے میرے پیارے! مجھے صحیح رستہ بتا اور اس پر مجھے چلنے کی توفیق بخش۔ کئی دن کے بعد بٹالہ میں سودا بزازی وغیرہ خریدنے کے لئے گیا تو میں پہلے اُس دوست محمد اکبر صاحب کے پاس ملاقات کے لئے چلا گیا تو وہاں بھی یہی باتیں شروع ہو گئیں۔ انہوں نے ذکر کیا کہ کل ایک سیٹھ صاحب مدراس سے تشریف لائے ہیں اور قادیان شریف گئے ہیں۔ چنانچہ ایسی ایسی باتوں پر میرے دل میں ایسا جوش پیدا ہوا کہ میں نے اس دوست یعنی محمد اکبر صاحب کو کہا کہ اس روز آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر بیعت والوں میں شامل ہونے کے لئے حضور علیہ السلام کے ہاتھ پر رکھ دیا تھا اور میرا دل نہیں چاہتا تھا۔ آج مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے دل میں جوش پیدا ہوا ہے اور اب میں اسی جگہ سے قادیان شریف جاتا ہوں اور سچے دل سے توبہ کر کے بیعت میں داخل ہوتا ہوں۔ اس پر میرے اس دوست نے نہایت خوشی کا اظہار کیا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر میرے ہمراہ قادیان پہنچے اور جب میں بیعت کر کے گھر میں پہنچا تو میری بیوی نے پوچھا کہ آپ سودا لینے گئے تھے اور اب خالی آرہے ہیں تو میرے دل میں وہی خیال گزرا کہ شاید ناراض نہ ہو جاویں۔ مگر میں نے اس کو سچ سچ کہہ دیا کہ میں قادیان شریف جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر آیا ہوں۔ اس پر انہوں نے کچھ نہ کہا۔

﴿1237﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ملک غلام محمد صاحب لاہور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میرے والد ملک بسو صاحب کے ایک دوست سید محمد علی شاہ صاحب قادیان کے رہنے والے تھے۔ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہم جولی اور بچپن کے دوست تھے۔ ان کی بھتیجی کا رشتہ ان کے بھانجے شاہ چراغ کے ساتھ ہوا اور اس کی شادی پر میں قادیان گیا تھا۔ اس وقت میری عمر تقریباً اٹھارہ سال کی تھی۔ شاہ صاحب نے مجھ کو تقریباً ایک ہفتہ وہاں رکھا۔ اُن دنوں حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفۃ المسیح اولؓ مسجد اقصیٰ میں عصر کے بعد قرآن کریم کا درس دیا کرتے تھے۔ شاہ صاحب کے حسب ہدایت میں درس سننے جایا کرتا تھا۔ ان دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام صبح کے وقت سیر کو جایا کرتے تھے۔ حضور علیہ السلام کے ساتھ بہت سے آدمیوں کا ایک ہجوم بھی ہوا کرتا تھا۔ میں بھی حضور علیہ السلام کے ساتھ سیر کو کبھی کبھی جایا کرتا تھا۔ مسجد مبارک ان دنوں چھوٹی سی ہوا کرتی تھی اور حضورؐ مغرب کی نماز کے بعد مسجد میں شہ نشین پر بیٹھا کرتے تھے اور اکثر مذہبی باتیں اور دینی مسائل کے متعلق گفتگو ہوا کرتی تھی۔ سیر میں بھی حضور علیہ السلام چلتے چلتے تقریر فرمایا کرتے تھے۔

﴿1238﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جن دنوں صاحبزادہ حضرت مولوی عبد اللطیف صاحب امیر حبیب اللہ والیٔ کابل کے حکم سے شہید کئے گئے۔ ان کے ذکر پر حضورؐ نے فرمایا کہ ”اگر سلطنت کابل نے اپنی اصلاح نہ کی تو اس سلطنت کی خیر نہیں ہے۔“

﴿1239﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل محمد صاحب دوکاندار محلہ دار الفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب میں دوبارہ بیعت کر کے واپس گھر گیا تو اس کے کچھ عرصہ کے بعد میری بیوی نے ایک خواب سنایا کہ آج میں خواب میں حج کو جا رہی ہوں اور بہت لوگ بھی حج کو جا رہے ہیں اور وہ جگہ ہمارے گاؤں سے مشرق کی جانب ہے جس طرف حج کو جا رہے ہیں۔ جب میں حج کی جگہ پر پہنچی ہوں تو میں اکیلی ہوں اور سیڑھیوں پر چڑھ کر ایک مکان کی چھت پر جا بیٹھی۔ دیکھتی ہوں کہ ایک بچہ چھوٹی عمر کا وہاں بیٹھا ہے اور اس کے ارد گرد بہت مٹھائیاں پڑی ہیں۔ مجھے اس کو دیکھ کر اپنا بچہ جو کچھ عرصہ ہوئے فوت ہو گیا تھا یاد آیا۔ تو اس بچہ نے میری طرف مخاطب ہو کر کہا کہ فکر نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اور بچہ دے گا جو اچھا ہو گا، نیک ہو گا اور بہت باتیں کیں۔ جو مجھے یاد نہیں رہیں۔ خیر اس نے یعنی میری بیوی نے کہا کہ میرے خیال میں وہ قادیان شریف ہی ہے۔ پس مجھے بھی قادیان شریف لے چلو۔ چنانچہ میں نے اس کو قادیان شریف میں لا کر بیعت میں داخل کر دیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذَالِكَ۔ بیعت کرنے کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں آپ سے ایک بات کہتی ہوں اور وہ یہ ہے کہ مجھے قادیان شریف جانے سے نہ روکیں اور میں کوئی چیز نہیں چاہتی۔ صرف میری یہی خواہش ہے۔ چنانچہ اس میری بیوی کو اس قدر محبت قادیان شریف سے ہوئی کہ اس کو وہاں اپنے گاؤں میں رہنا نہایت ناپسند ہوا اور اس وقت تک اپنی آمد و رفت نہ چھوڑی جب تک قادیان شریف میں اپنا مکان نہ بنوا لیا اور مکان بنا کر قریباً دو سال آباد ہو کر اس دار فانی کو چھوڑ کر مقبرہ بہشتی میں داخل ہو گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

﴿1240﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ملک غلام محمد صاحب لاہور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں سید محمد علی شاہ صاحب سے اس معیار کے پیش نظر کہ انبیاء علیہ السلام کی پہلی زندگی ہر قسم کے عیبوں سے پاک اور معصومانہ ہوتی ہے۔ عام طور پر حضورؑ کی نسبت دریافت کرتا تھا۔ ان کی زبانی جو باتیں مجھے معلوم ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔ سید محمد علی شاہ صاحب کہا کرتے تھے کہ مرزا صاحب بچپن سے پاک صاف اور نیک ہیں۔ ان کی زندگی کی نسبت کوئی کسی قسم کا شبہ نہیں کر سکتا اور ان کے والد صاحب ان کو اکثر ”مسیتڑ“ کہا کرتے تھے۔ اگر کوئی دریافت کرتا کہ مرزا غلام احمد صاحب کہاں ہیں؟ تو وہ کہا کرتے تھے کہ مسجد میں جا کر دیکھ۔ اگر وہاں نہ ملے تو ناامید نہ ہو جانا۔ ملے گا بہرحال مسجد میں۔

﴿1241﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضور علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِیْ وَارْحَمْنِی (آمین) بذریعہ الہام تعلیم فرمائی تو حضور علیہ السلام نے ایک روز ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اسم اعظم ہے اور ہر ایک قسم کی مصیبت سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ بجائے واحد کے بصورت جمع بھی اس کا استعمال جائز ہے۔ یہ ان دنوں میں حضرت صاحب پر جناب الٰہی سے نازل ہوئی تھی جن ایام میں مقدمات ہونے والے تھے یا شروع ہو گئے تھے۔

﴿1242﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میری بیوی نے مجھ سے اپنی خواب بیان کی جو یہ ہے۔ وہ کہتی ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت اقدس علیہ السلام ایک میدان میں یا ایک مکان میں ٹہل رہے ہیں اور ان کے سر پر سبز دستار ہے اور ہاتھ میں کتاب ہے۔ حضور علیہ السلام نے مجھے حکم دیا کہ ’برکت بی بی! فلاں جگہ ایک تھان ریشمی سبز رنگ کا پڑا ہے۔ اٹھا لاؤ۔ اور وہ کتاب جو حضور علیہ السلام کے ہاتھ میں ہے وہ مولوی نورالدین صاحبؓ کو دے دی اور مولوی صاحب کے سر پر سفید پگڑی ہے اور چارپائی پر بیٹھے ہیں۔ مولوی صاحب نے وہ کتاب حضرت میاں محمود احمد صاحبؓ کو دے دی اور میاں صاحب کے سر پر سبز ریشمی پگڑی ہے۔ وہ کچھ لمبی خواب تھی جو انہوں نے بتلائی۔ یہ خواب انہوں نے حضرت ام المومنین صاحبہ کو اسی وقت سنائی تھی۔ جب حضرت خلیفہ صاحب اوّلؓ کا انتقال ہوا تھا۔ تو اس وقت حضرت ام المومنین نے فرمایا تھا کہ اگر کسی کو کوئی خواب آئی ہو تو بتاوے۔ چنانچہ حضرت ام المومنین کو وہ خواب یاد کرائی گئی تو حضور نے فرمایا کہ وہ خواب تو مجھے یاد ہے۔

﴿1243﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضورؑ سیدنا مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ ”دعا نماز میں بہت کرنی چاہئے“ نیز فرمایا کہ اپنی زبان میں دعا کرنی چاہئے لیکن جو کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ثابت ہے اس کو انہیں الفاظ میں پڑھنا چاہئے مثلاً رکوع میں سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں سبحان ربی الاعلیٰ وغیرہ پڑھ کر اور اس کے بعد بیشک اپنی زبان میں دعا کی جائے۔ “ نیز فرمایا کہ ”رکوع و سجدہ کی حالت میں قرآنی دعا نہ کی جائے کیونکہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا پاک کلام ہے اور اعلیٰ شان رکھتا ہے اور رکوع اور سجدہ تذلل کی حالت ہے۔ اس لئے کلام الہیٰ کا احترام کرنا چاہئے‘‘۔

﴿1244﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ہمارے گاؤں کا قاضی فوت ہو گیا اور اس کے دو چھوٹے بچے اور لڑکی اور اس کی بیوی پیچھے رہ گئی۔ میں اس کے لئے قضا کا کام کرتا رہا اور جو آمدنی گاؤں سے ملانوں کو ہوتی ہے اس کو دیتا رہا۔ چنانچہ میں نے اور میری بیوی نے اس کی لڑکی کو قرآن شریف اور کچھ دینی کتابیں بھی پڑھائیں۔ جب لڑکے بڑے ہوئے تو ایک دفعہ عید کے دن جب ہم عید کے واسطے مسجد میں گئے اور میں نماز پڑھانے کے واسطے کھڑا ہوا تو اس لڑکے نے کہا کہ میں آج عید کی نماز پڑھاؤں گا۔ میں نے اس کو کہا کہ ہماری نماز تمہارے پیچھے نہیں ہوتی۔ تُو ہمیشہ پیچھے پڑھتا رہا ہے۔ آج تو کیوں پڑھائے گا؟ اس کے ساتھیوں نے اس کو کہا کہ تمہاری قضاء لے لے گا۔ اس پر اس ملانے کے بچے نے زور دیا کہ آج میں ہی نماز پڑھاؤں گا۔ اس بات پر ہماری جماعت کے ایک لڑکے نے جس کا نام شیر محمد تھا اس کو ایک مکا مارا۔ میں نے اس کو منع کیا اور سب کو ساتھ لے کر اپنی جگہ حویلی میں نماز ادا کی اور جب میں جمعہ پڑھنے کے لئے اپنی عادت کے مطابق قادیان شریف آیا تو دیکھا کہ میاں عبدالرحیم حجام مسجد میں کھڑا ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس جگہ کیوں کھڑے ہو؟ تو اس نے جواب دیا کہ حضور علیہ السلام کو مہندی لگانی ہے اور اندر اجازت کے لئے کہلا بھیجا ہے۔ میں نے یہی موقعہ پایا اور وہاں کھڑا ہو گیا۔ جب اجازت ہوئی تو میں بھی اندر چلا گیا۔ حضور علیہ السلام سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔ مصافحہ کیا اور پاس بیٹھ گیا۔ میں نے وہ سارا قصہ عید والا سنایا۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’صبر کرو۔ یہ سب مسجدیں تمہاری ہی ہو جاویں گی‘‘۔ اس کے علاوہ اور بہت باتیں ہوتی رہیں جو یاد نہیں رہیں۔ چنانچہ اب وہ مسجد اللہ کے فضل وکرم سے احمدیوں کے پاس ہے۔

﴿1245﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ملک غلام محمد صاحب لاہور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ سید محمد علی شاہ صاحب نے فرمایا کہ میں لاہور میں محکمہ جنگلات میں ملازم تھا۔ مرزا غلام مرتضیٰ صاحب و مرزا غلام احمد صاحب اور ان کے بڑے بھائی میرے پاس آکر ٹھہرے۔ اُن دنوں میں ان کا ایک مقدمہ چیف کورٹ پنجاب میں درپیش ہونا تھا۔ وہ مقدمہ حضرت مسیح موعودؑ کے والد صاحب اپنی کھوئی ہوئی جائیداد لینے کی اپیل تھی۔ اس میں بہت سا روپیہ خرچ ہو چکا تھا۔ مقدمے کی پیروی کے بعد حضورؐ کے والد صاحب اور بڑے بھائی واپس تشریف لے گئے اور مرزا غلام احمد صاحب کو عدالت سے حکم سننے کے لئے چھوڑ گئے۔ میرے ایک دوست ملک بسو صاحب رئیس لاہور تھے۔ (جو خاکسار ملک غلام محمد کے والد صاحب تھے) ان کی گاڑی آ جایا کرتی تھی اور حضرت صاحب کو چیف کورٹ میں لے جاتی تھی اور پھر چار بجے ان کو واپس لے آتی تھی۔ ایک روز ایک یا دو بجے کے قریب حضرت صاحبؑ پیدل تشریف لا رہے تھے۔ میں نے دور سے دیکھا تو ان کا چہرہ نہایت بشاش تھا اور بڑے خوش خوش آ رہے تھے۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ جلدی آ گئے ہیں اور گاڑی کا انتظار نہیں کیا۔ بڑی خوشی سے فرمانے لگے ’آج حکم سنایا گیا ہے اس واسطے جلدی آ گیا ہوں۔ گاڑی کا انتظار نہیں کیا۔‘ میں نے کہا بہت خوش ہیں مقدمہ جیت لیا ہو گا اور میں نے ان کے چہرہ سے دیکھ کر بھی یہی محسوس کیا کہ مقدمہ جیت لیا ہو گا لیکن حضرت صاحب علیہ السلام نے فرمایا کہ ’وہی بات پوری ہوئی جو میرے اللہ تعالیٰ نے مجھ کو پہلے فرمائی ہوئی تھی یعنی ’مقدمہ ہارا گیا‘ اور میرے مولیٰ کی بات پوری ہوئی۔ یہ سنتے ہی میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور میں نے دل میں کہا کہ باپ کا تو بیڑا غرق ہو گیا ہے اور یہ خوش ہو رہے ہیں۔

﴿1246﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عرب غالباً اس کا نام محمد سعید تھا۔ قادیان میں دیر تک رہا تھا۔ ایک روز حضور علیہ السلام بعد نمازِ مسجد مبارک میں حاضرین مسجد میں بیٹھے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر مبارک فرما رہے تھے کہ اس عرب کے منہ سے یہ فقرہ نکل گیا کہ ’رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غریب تھے۔‘ پس عرب کا یہ کہنا ہی تھا کہ حضور علیہ السلام کو اس قدر رنج ہوا کہ چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور محمد سعید عرب پر وہ جھاڑ ڈالی کہ وہ متحیر اور مبہوت ہو کر خاموش ہو گیا اور اس کے چہرہ کا رنگ فق ہو گیا۔ فرمایا کہ ’کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غریب تھا جس نے ایک رومی شاہی ایلچی کو اُحد پہاڑ پر سارا کا سارا مال مویشی عطا کر دیا تھا وغیرہ۔ اس کو مال دنیا سے لگاؤ اور محبت نہ تھی۔‘

﴿1247﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلّہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام سیر کے واسطے باہر تشریف لے گئے اور میں بھی ساتھ تھا۔ جب واپس تشریف لائے اور اندر گھر میں داخل ہونے لگے تو میں نے جھٹ آگے ہو کر عرض کی کہ ’’پہلے بزرگ، اگر کسی کو کچھ تکلیف ہوتی تھی تو اس پر وہ بزرگ اپنے منہ کی لب لگا دیا کرتے تھے اور اس کو شفا ہو جاتی تھی۔ حضور علیہ السلام میری آنکھوں پر ہمیشہ پھنسیاں نکلتی رہتی ہیں۔ اس پر حضور علیہ السلام مسکرا پڑے اور کچھ پڑھ کر میری آنکھوں پر دم کر دیا۔ آج تک تقریباً پینتیس برس ہو گئے ہیں میری آنکھوں میں کبھی پھنسی نہیں ہوئی بلکہ میری آنکھیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کبھی دکھنے میں نہیں آئیں۔ الحمد للہ۔

﴿1248﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ملک غلام محمد صاحب لاہور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک بابا میراں بخش ہوتا تھا جو سید محمد علی شاہ صاحب کا نائی تھا اور بوڑھا آدمی تھا۔ اس سے بھی میں حضرت صاحبؓ کی نسبت دریافت کیا کرتا تھا۔ اس نے ہمیشہ یہی ظاہر کیا کہ آپ بچپن سے نیک اور شریف تھے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ حضورؓ بچپن میں اپنے ہم جھولیوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ ریوڑیاں آپ کو مرغوب تھیں جو آپ اپنے ہم جھولیوں میں بانٹ کر کھایا کرتے تھے۔

﴿1249﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ دعا کے متعلق کچھ سوال ہوا۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’دعا ہی مومن کا ہتھیار ہے۔ دعا کو ہرگز چھوڑنا نہیں چاہئے۔ بلکہ دعا سے تھکنا نہیں چاہئے۔ لوگوں کی عادت ہے کہ کچھ دن دعا کرتے ہیں اور پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ دعا کی مثال حضور علیہ السلام نے کنوئیں کی دی کہ انسان کنواں کھودتا ہے جب پانی قریب پہنچتا ہے تو تھک کر نا امید ہو کر چھوڑ دیتا ہے۔ اگر وہ ایک دو بالشت اور کھودتا تو نیچے سے پانی نکل آتا اور اس کا مقصود حاصل ہو جاتا اور کامیاب ہو جاتا۔ اسی طرح دعا کا کام ہے کہ انسان کچھ دن دعا کرتا ہے اور پھر چھوڑ دیتا ہے اور ناکام رہتا ہے۔

﴿1250﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جس دکان میں فخر الدین ملتانی بیٹھتا تھا اور اس کے جانب شرق میں مولوی کرم الٰہی بزاز کھاروی بیٹھتا ہے اور درمیان میں دروازہ آمد و رفت چھوڑ کر جانب شرق متصل میں وہ دکان جس میں عبدالرحیم فالودہ والا بیٹھتا ہے یہ کل جگہ ویران اور منہدم پڑی تھی۔ مرزا نظام الدین وغیرہ ہر موقعہ پر اپنا تسلط جمانا چاہتے تھے۔ یہاں بھی یہی خیال ان کو تھا۔ ایک روز حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’اس جگہ پر ایک دن میں مکان تیار کیا جائے‘۔ چنانچہ مرزا خدا بخش صاحب نے مجھے کہا کہ اپنے گاؤں سیکھواں سے کچھ آدمی فوراً لاؤ۔ چنانچہ دس بارہ آدمی سیکھواں سے قادیان پہنچ گئے اور مکان تیار ہونا شروع ہو گیا۔ چونکہ حضرت صاحب شامل تھے اس لئے تمام لوگ جماعت کے (اس وقت ابھی جماعت برائے نام ہی تھی) کام میں مشغول تھے۔ حتیٰ کہ حضرت خلیفہ اوّلؓ کو بھی میں نے دیکھا کہ اینٹیں اٹھا اٹھا کر معماروں کو دیتے تھے۔ ایک ہی دن میں مکان تیار ہو گیا۔ مرزا نظام الدین صاحب وغیرہ اس نظارہ کو دیکھتے تھے لیکن طاقت نہ تھی کہ کسی کو آ کر روک سکیں۔ شام کے بعد مسجد مبارک میں حضرت صاحب کے حضور مرزا خدا بخش صاحب نے واقعات پیش کئے اور کامیابی کا اظہار کیا گیا۔ اور سیکھواں سے آدمی پہنچنے کا ذکر کیا گیا۔ الحمد للہ علیٰ ذالک

﴿1251﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ملک غلام محمد صاحب لاہور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں قادیان میں میاں منظور علی شاہ صاحب ولد سید محمد علی شاہ صاحب کی بسم اللہ کی تقریب پر جو مولوی نور الدین صاحبؓ نے کرائی تھی، گیا تھا۔ حسب دستور میں مولوی صاحب کے درس میں جایا کرتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کبھی کبھی سیر کو بھی جایا کرتا تھا۔ میں تقریباً پندرہ بیس دن وہاں رہا۔ یہ اس زمانہ کی بات ہے جس زمانہ میں ڈاکٹر عبد الحکیم (جو بعد میں مرتد ہو گیا تھا) قرآن شریف کا ترجمہ کر کے لایا ہوا تھا۔ حضرت صاحب سیر کو جاتے تھے اور وہ سناتا جاتا تھا۔ حضور علیہ السلام سنتے جاتے تھے اور بعض دفعہ کچھ فرمایا بھی کرتے تھے۔

﴿1252﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل محمد صاحب دوکاندار محلہ دار الفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میرا بیٹا عبد الغفور ابھی چھوٹا ہی تھا کہ اس کی نانی اپنی پوتی کا رشتہ اس کو دینے کے لئے مجھے زور دے رہی تھی اور میں منظور نہیں کرتا تھا۔ چنانچہ ایک دن موقعہ پا کر حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ حضورؐ میں اپنی پوتی کا رشتہ اپنے نواسہ کو دیتی ہوں اور یہ میرا بیٹا پسند نہیں کرتا۔ حضورؐ نے مجھے بلایا اور کہا کہ ”یہ رشتہ تم کیوں نہیں لیتے؟“ میں نے عرض کی کہ حضور! یہ لوگ مخالف ہیں اور سخت گوئی کرتے ہیں اس واسطے میں انکار کرتا ہوں۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”مخالفوں کی لڑکی لے لو اور مخالفوں کو دو نہیں“، یعنی مخالفوں کی لڑکی لے لو اور مخالفوں کو دینی نہیں چاہئے۔

﴿1253﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضورؐ نے فرمایا کہ ”مشکلات کیا چیز ہیں؟ دس دن کوئی نمازِ تہجد پڑھے۔ خواہ کیسی ہی مشکل ہو خدا تعالیٰ حل کر دے گا۔ (اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ)

﴿1254﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ملک غلام محمد صاحب لاہور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میری عمر چونکہ بڑھ رہی تھی۔ میں نے دعا کرنی شروع کی کہ یا خداوندِ کریم! اگر یہ (یعنی حضرت مسیح موعود) سچا ہے اور میں نے اس کی بیعت نہ کی تو میں جہالت کی موت مروں گا اور اگر یہ سچا نہ ہوا تو میرے اسلام میں فرق آئے گا۔ تُو ہی اپنے فضل سے مجھے صحیح رستہ دکھا دے۔ میں یہ دعا مدت تک کرتا رہا۔ حضورؐ لاہور تشریف لایا کرتے تھے ایک دفعہ حضورؐ کا لیکچر بریڈلا ہال میں ہوا تھا۔ لوگوں نے حضورؐ کی گاڑی پر اینٹیں ماریں لیکن پولیس اپنی حفاظت میں حضورؐ کو خیریت سے لے آئی۔ پھر خدا تعالیٰ نے مجھے ہدایت دی اور میں نے حضور کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔

﴿1255﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جبکہ مولوی کرم الدین کے ساتھ مقدمہ تھا، گورداسپور میں پیشی تھی۔ جب آواز پڑی تو سب دوست اندر چلے گئے صرف میں یعنی یہ عاجز اور حضرت اقدس دونوں ہی ایک شیشم کے درخت کے نیچے رہ گئے چنانچہ حضورؐ لیٹ گئے اور میں حضورؐ کے پاؤں دبا رہا تھا اور بہت سی باتیں حضورؐ کے ساتھ ہوتی رہیں۔ چنانچہ ان میں سے صرف دو باتیں یاد رہیں ایک یہ کہ میں نے عرض کیا کہ حضورؐ! مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک اور بچہ عطا فرمایا ہے۔ حضورؐ اس کا نام رکھ دیویں۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”پہلے کا نام کیا ہے؟“ تو میں نے عرض کی کہ حضور پہلے کا نام عبدالغفور ہے۔ تب حضور نے فرمایا کہ اس کا نام ”عبدالرحیم“ رکھ دو۔

﴿1256﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ۹۹۔۱۹۰۲ء کا واقعہ ہے حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمیؓ کے سوال کے جواب میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ”خدا تعالیٰ کی کوئی باریک حکمت ہے کہ مجھے دو بیماریاں لگی ہوئی ہیں۔ ایک جسم کے اوپر کے حصہ میں اور ایک نیچے کے حصہ میں۔ اوپر کے حصہ میں تو وہ دَوری بیماری ہے جو ہمیشہ کوئی ہفتہ عشرہ خالی نہیں جاتا جو دورہ کرتی رہتی ہے جس سے دل میں ضعف اور دردِ سر اور نبض بالکل ساکت ہو جاتی ہے وغیرہ اور نیچے کے حصہ میں بیماری ذیابیطس ہے اور یہ بھی فرمایا کہ میں نے ان کی نسبت توجہ بھی کی تھی تو یہی جواب ملا کہ یہ بیماری لا علاج ہے لیکن فضلِ خدا شاملِ حال رہے گا اور فرمایا کہ ”کیا عجیب پیشگوئی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کہ مسیح موعود دو زرد چادریں پہنے ہوئے نازل ہوگا۔ وہ یہی اشارہ ہے۔ ورنہ کون سمجھ سکتا ہے کہ آسمان پر کپڑا بنایا جاتا ہے جس سے مسیح کو زرد چادریں دی جاویں گی۔ اور حدیث میں جو دو زرد چادروں کا ذکر ہے۔ دراصل انسان کے لئے دو ہی چادریں پردہ پوشی کے لئے کافی ہیں۔ ایک تہ بند اور دوسری اوپر کی چادر کافی ہو سکتی ہے۔“

﴿1257﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جبکہ مولوی کرم دین والا مقدمہ تھا اور گورداسپور میں اس کی پیشی تھی تو وہاں پر میں نے ایک شیشم کے درخت کے نیچے حضرت صاحب کے حضور عرض کی کہ حضورؐ عشاء کی نماز کے بعد اگر وتر نہ پڑھے جائیں اور پچھلے وقت بھی رہ جاویں تو پھر ان کو کس وقت پڑھا جاوے۔ تب حضورؐ نے فرمایا کہ ”بہتر یہی ہے کہ پہلے وقت ہی پڑھ لئے جاویں۔“ یعنی نماز عشاء کے بعد ہی پڑھ لینے چاہئیں۔

﴿1258﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ۹۹۔۱۲۔۷ء کو ٹیکہ کے متعلق ذکر چل پڑا۔ فرمایا کہ ”ٹیکہ ضرور کرانا چاہئے۔ یہ بڑا مفید ہے کیونکہ بعض اوقات چیچک سے لوگ مر جاتے ہیں۔ یہ بڑی خطرناک بیماری ہے۔ تین دفعہ جس کا ٹیکہ کیا جائے وہ چیچک سے محفوظ رہتا ہے (۱) بچپن میں (۲) پھر تقریباً آٹھ سال کی عمر میں (۳) پھر سولہ سترہ سال کی عمر میں۔ فرمایا کہ اگر ٹیکہ کرنے والے آویں تو مبارک احمد کو ٹیکہ کرایا جائے۔ پہلے تینوں لڑکوں کا ٹیکہ کرایا ہے کسی کو چیچک نہیں ہوئی۔“ ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب اور فیض احمد صاحب نیٹو ڈاکٹر نے عرض کیا کہ آج قادیان میں ٹیکاکارنے والے آئے ہوئے ہیں۔ اُن سے دریافت کریں گے۔ اگر جاگ مل گیا تو خود ہی اچھی طرح ٹیکہ

کرلیویں گے۔انشاءاللہ۔

﴿1259﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل احمد صاحب دکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت اقدس علیہ السلام مسجد اقصیٰ میں کچھ تقریر فرمارہے تھے۔ دورانِ تقریر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”جس کام کے واسطے مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اگر چالیس آدمی بھی ہو جاویں تو میں بڑی کامیابی حاصل کر لوں یا اپنے مقصود کو حاصل کر لوں۔“ ایسا ہی کوئی لفظ تھا جو مجھے اس وقت یاد نہیں رہا۔ اس وقت میرے بائیں جانب حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اولؓ بیٹھے تھے۔ جب حضورؑ کے مبارک منہ سے یہ الفاظ نکلے تو حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ ہائے افسوس! لوگ اس مبارک وجود کو کیا کہتے ہیں۔ یہ جھوٹ بولنے والا منہ ہے؟ اس کے بعد جب تقریر ختم ہوئی تو سب لوگ اپنے اپنے مکانوں کی طرف جا رہے تھے۔ چنانچہ میں بھی اٹھ کر چلا جب مسجد اقصیٰ سے نیچے اترے تو میں حضرت مولوی نور الدین صاحب کو جا ملا۔ آپ کے ساتھ اُن کا ایک شاگرد جا رہا تھا۔ اس وقت شاگرد نے حضور مولوی صاحب سے سوال کیا کہ حضورؐ! آج جو حضرت اقدسؑ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر میری جماعت سے چالیس آدمی بھی میری مرضی کے مطابق ہو جاویں تو میں کامیاب ہو جاؤں۔ حضور آپ فرمادیں کہ ہم کیا گناہ کر رہے ہیں؟ نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، کوئی بھی بُرا کام نہیں کرتے۔ وہ کیا کام ہے جو حضرت صاحب کرانا چاہتے ہیں تاکہ ہم ان کی مرضی کے مطابق ہو جاویں۔ اس کے جواب میں حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ ہاں! ہے تو، بیشک آپ اچھا کام کرتے ہیں مگر اگر آج ہی آپ کو لنگر سے روٹی نہ ملے تو پھر آپ کو پتہ لگے۔ کیا کیا آپ منصوبہ بازی کرتے ہیں۔

﴿1260﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ملک غلام محمد صاحب لاہور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ وفات سے چند یوم قبل حضور علیہ السلام نے لاہور میں امراء کی دعوت کی تھی اور تقریر بھی فرمائی تھی۔ حضورؑ لاہور احمدیہ بلڈنگس میں تشریف لائے ہوئے تھے۔ جمعہ کی نماز یا ظہر کی نماز کا وقت تھا۔ میں نماز پڑھ کر فارغ ہو کر بیٹھا تھا۔ حضورؑ سنتیں پڑھ رہے تھے۔ میں نزدیک ہی حضورؑ کی دائیں طرف بیٹھا ہوا تھا۔ حضورؑ نے سلام پھیرتے وقت یا سلام کے معاً بعد میری طرف دیکھا اور جب آنکھیں چار ہوئیں تو حضورؐ کی آنکھوں کی روشنی سمجھیں یا جلال سمجھیں یا نور سمجھیں۔ بہرحال کچھ بھی ہو۔ اس نے مجھ پر اتنا اثر کیا کہ میں پسینہ پسینہ ہو گیا۔

﴿1261﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ہمارے گاؤں میں ایک جگہ مکانوں کے درمیان سفید پڑی ہے وہاں حضرت اقدسؑ مجھ کو بغل گیر کر کے مشرق سے مغرب کی طرف جا رہے ہیں اور مجھے فرماتے ہیں کہ آپ کے گھر میں تین بیٹے ہوں گے۔ پہلے کا نام عبدالغنی، دوسرے کا نام ملک غنی، تیسرے کا نام پتال غنی رکھنا اور آپ کی عمر ۴۵ سال کی ہوگی یا ہے۔ اس کے بعد میں بیدار ہو گیا۔ جب میں جمعہ کے دن قادیان شریف میں جمعہ کے واسطے آیا تو رات اسی جگہ یعنی قادیان شریف ہی رہا۔ شام کے بعد جب حضورؐ مسجد کے اوپر نماز کے بعد گرمیوں میں جیسا کہ ہمیشہ بیٹھا کرتے تھے، بیٹھے تو کچھ صحابی اور بیٹھے تھے اور باتیں ہو رہی تھیں اور میں بھی حضورؐ کے قدموں میں ہی بیٹھا ہوا تھا۔ چنانچہ میں نے حضورؐ کی خدمت میں عرض کی کہ حضورؐ! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ حضورؐ مجھے بغل گیر کر کے مشرق سے مغرب کی طرف لے جا رہے ہیں اور مجھے فرماتے ہیں کہ آپ کے گھر میں تین بیٹے ہونگے۔ پہلے کا نام عبدالغنی دوسرے کا نام ملک غنی اور تیسرے کا نام پتال غنی رکھنا اور آپ کی عمر پنتالیس برس کی ہو گی یا ہے۔‘‘ اس پر مولوی عبدالکریم صاحب ہنس پڑے اور فرمانے لگے کہ فضل محمد پھر بتلاؤ کہ پہلے کا نام کیا اور دوسرے کا نام کیا ہے میں نے جب دوبارہ بتایا تو مولوی صاحب پھر بولے کہ میاں! پھر بتلاؤ تو میں نے حضورؐ سے عرض کی کہ حضور! مولوی صاحب تو مذاق کرتے ہیں اور مجھے بڑا غم ہو رہا ہے۔ حضور مسکرا کر بولے کہ ”آپ کو کیا غم ہے؟“ تو میں نے عرض کی کہ حضورؐ میری عمر اس وقت ۲۸ یا ۳۰ برس کی ہے اور باقی تھوڑی رہ گئی ہے اور میں نے حضور علیہ السلام کا زمانہ دیکھنا ہے۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ قادر ہے وہ دگنی کر دیا کرتا ہے۔‘‘ (اور حقیقت میں ان کی عمر دگنی ہو گئی تھی)

﴿1262﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضورؐ اپنے خادموں کی جدائی (وفات وغیرہ) پر صدمہ محسوس فرماتے تھے۔ چنانچہ جس روز میاں محمد اکبر صاحب تاجر چوب بٹالہ فوت ہوئے۔ وہ جمعہ کا دن تھا۔ مولوی عبد اللہ صاحب کشمیری (جو آج کل کشمیری ہائی کورٹ میں وکیل ہیں) نے مسجد اقصیٰ میں بعد نمازِ جمعہ حضورؐ کی خدمت میں ایک نظم خود تیار کردہ سنانے کے لئے عرض کی تو حضورؐ نے فرمایا کہ ”آج محمد اکبر فوت ہو گیا ہے۔ اس وقت میری طبیعت سننا نہیں چاہتی۔“

﴿1263﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں احمد الدین صاحب ولد محمد حیات صاحب سابق ساکن چوکنانوالی (گجرات) نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں اور میرے والد صاحب جن کا نام محمد حیات تھا اور ایک اور دوست جن کا نام غلام محمد صاحب احمدی (جو اب تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے زندہ موجود ہیں) اپنے گاؤں چوکنانوالی ضلع گجرات پنجاب سے غالباً ۱۹۰۵ء میں حضرت اقدسؑ کی زیارت کے لئے دارالامان میں حاضر ہوئے تھے اور مسجد مبارک میں ظہر کی نماز کے لئے گئے تا بیعت بھی ہوجائے اور نماز بھی حضرت اقدسؑ کے ہمراہ ادا کرلیں اور زیارت بھی نصیب ہو۔ گو اس سے پہلے کئی سال آپ کی تحریری بیعت سے بندہ شرف یافتہ تھا جس کا سنہ یاد نہیں۔ لیکن زیارت کا شرف حاصل نہ تھا۔ چنانچہ ایک شخص نے جو کہ ہمارے ہی ضلع کے تھے فرمایا کہ آپ لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کرنی ہو تو مسجد مبارک میں ظہر کی نماز کے وقت سب سے پہلے حاضر ہو جاؤ۔ وہ دوست بھی مہمان خانہ میں موجود تھے۔ چنانچہ ہم ہر سہ اشخاص وضو کر کے مسجد مبارک میں چلے گئے۔ ہم سے پہلے چند ایک دوست ہی ابھی حاضر ہوئے تھے جن میں ہم شامل ہو گئے اور سب دوست اس بدر منیر چودھویں کے چاند کی زیارت اور درشن کا عاشقانہ وار انتظار کر رہے تھے جن میں کمترینان بھی شامل تھے۔ بندہ عین اس کھڑکی کے پاس بیٹھ گیا جہاں سے حضرت اقدس علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف لایا کرتے تھے۔ تھوڑی انتظار کے بعد اس آفتاب ہدایت نے اپنے طلوع گاہ سے اپنے منور چہرہ کو دکھا کر ہمارے دلوں کی زمین پر سے شکوک و شبہات کی تاریکیوں کو پاش پاش کر کے جملہ نشیب و فرازِ عملی و اخلاقی کو دکھا دیا اور اپنے درشنوں سے بہرہ ور فرمایا۔ حضورؐ کے مسجد میں قدم رکھتے ہی بندہ عاشقانہ وار آپ سے بغل گیر ہو گیا اور کئی منٹوں تک حضورؐ کے سینہ مبارک سے اپنا سینہ لگا کر بغل گیر رہا۔ جب بہت دیر ہوگئی تو میں نے خود ہی دل میں آپ کو تکلیف ہونے کے احساس کو پا کر اپنے آپ کو آپ سے الگ کیا (یہ واقعہ بیان کرنے کی غرض محض آپؐ کے اسوۂ حسنہ پر تبصرہ ہے) پھر حضورؐ اپنی نشست گاہ میں جو مسجد مبارک کے شمال مغربی گوشہ میں واقعہ تھی تشریف لے گئے۔ ان دنوں مسجد مبارک ایک ایسے تنگ مگر لمبے کمرہ کی صورت میں تھی جس کا یہ عالم تھا کہ ہر صف میں غالباً چھ یا سات آدمی دوش بدوش کھڑے ہو سکتے ہوں گے۔ اور اپنی نشست گاہ پر فروکش ہوئے۔

﴿1264﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلّہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دن حضورؐ نماز پڑھ کر گھر کو تشریف لے جارہے تھے جب مسجد سے نکل کر دوسرے کمرہ میں تشریف لے گئے تو میں نے عرض کی کہ حضورؐ میں نے کچھ عرض کرنی ہے۔ حضورؐ وہاں ہی بیٹھ گئے اور میں بھی بیٹھ گیا اور پاؤں دباتا رہا۔ بہت دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ میں نے اس وقت کچھ خوابیں اپنی اور کچھ خوابیں بیوی کی عرض کیں اور کچھ دینی و دنیاوی بھی باتیں ہوتی رہیں اور بہت دیر تک وہاں بیٹھے رہے۔ میں نے خیال کیا کہ حضورؐ نے تو خواہ کتنا ہی وقت گذر جاوے، کچھ نہیں کہنا اور آپ کا میں قیمتی وقت کیوں خرچ کر رہا ہوں۔ چنانچہ بہت دیر کے بعد میں نے عرض کی کہ حضورؐ مجھ کو اجازت فرماویں۔ حضورؐ نے فرمایا ”بہت اچھا جاؤ۔“

﴿1265﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جس روز حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اور ان کا جنازہ مدرسہ احمدیہ کے صحن میں رکھا گیا۔ جس وقت حضورؐ نماز جنازہ پڑھانے کے لئے باہر تشریف لائے۔ میں اس وقت مسجد مبارک کی سیڑھیوں کے نیچے جو میدان ہے وہاں کھڑا تھا۔ اس وقت آپ اگرچہ ضبط کو قائم رکھے ہوئے تھے لیکن چہرہ مبارک سے عیاں ہو رہا تھا کہ آپ اندر سے روتے ہوئے آرہے ہیں۔

﴿1266﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل محمد صاحب دوکاندار محلّہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں اپنی بیوی کو ساتھ لے کر آیا۔ جب میری بیوی اندر گھر میں داخل ہونے لگی تو شادی خان دربان نے روک دیا۔ ہر چند کہا گیا مگر اس نے اندر جانے کی اجازت نہ دی کیونکہ اکثر گاؤں میں ارد گرد طاعون کا حملہ ہو رہا تھا اور اندر جانے کی اجازت نہ تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضورؐ باہر سے تشریف لے آئے۔ السلام علیکم کے بعد مصافحہ بھی ہوا، حضورؐ نے پوچھا کہ ”اس جگہ کھڑے کیوں ہو؟“ میں نے عرض کی کہ حضورؐ میاں شادی خان اندر جانے نہیں دیتا۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”آؤ میرے ساتھ چلو“ اور وہ اندر چلے گئے۔

﴿1267﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میری بیوی نے خواب میں دیکھا کہ میں بالکل چھوٹی ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی گود میں بیٹھی ہوں۔ اس وقت میں ایسی محبت سے بیٹھی ہوں جیسے کہ ایک چھوٹا بچہ اپنے باپ کی گود میں بیٹھا ہوا ہے۔ اس وقت حضورؐ نے اپنی زبان مبارک سے بڑی محبت کے ساتھ فرمایا کہ میں برکت بی بی تم کو حکم دیتا ہوں کہ آئندہ تم نماز تیمم سے پڑھ لیا کرو۔ بیماری کی حالت میں غسل جائز نہیں ہے بیمار کو کسی حالت میں بھی غسل جائز نہیں اور میں آپ کو ایک خوشخبری دیتا ہوں وہ یہ کہ آپ کو اللہ تعالیٰ ایک لڑکا دے گا جو صالح ہوگا۔ چنانچہ میں نے یہ خواب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بمعہ نذرانہ بدست شیخ حامد علی صاحب اندر گھر میں بھیج دی۔ جب وہ لڑکا پیدا ہوا تو حضور علیہ السلام نے اس کا نام ’صالح محمد‘ رکھا۔

﴿1268﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں احمد الدین صاحب ولد محمد حیات صاحب سابق ساکن چوکنوالی ضلع گجرات (پنجاب) نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے مسجد مبارک میں اپنی نشست گاہ پر تشریف رکھتے ہوئے باتوں کے دوران میں (غالباً آپؐ ہی کے الفاظ ہیں) ایک مخالف کی طرف سے آئی ہوئی مگر گالیوں سے بھری ہوئی چٹھی کے پڑھے جانے پر حضورؐ نے فرمایا کہ ”اس کو مطبع میں بھیج کر چھپوا دیا جائے یا بھیج کر چھپوا دو۔ تاکہ اس کا شاید بھلا ہو جائے۔ فقط

﴿1269﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جس روز عبداللہ آتھم عیسائی والی پیشگوئی کی میعاد ختم ہوگئی اس سے دوسرے دن جب کچھ سورج نکل آیا تو حضور علیہ السلام باہر تشریف لائے اور جہاں اب مدرسہ احمدیہ کا دروازہ آمد و رفت بھائی شیر محمد صاحب کی دوکان کے سامنے ہے اور اس کے جنوب و شمال کے کمرے جن میں طلباء پڑھتے ہیں۔ یہ جگہ سب کی سب سفید پڑی ہوئی تھی۔ کوئی مکان ابھی وہاں نہیں بنا تھا۔ چارپائیاں یا تخت پوش تھے۔ ان پر حضور علیہ السلام مع خدام بیٹھ گئے اور اسی پیشگوئی کا ذکر شروع کر دیا کہ ”خدا نے مجھے کہا ہے کہ عبداللہ آتھم نے رجوع کر لیا ہے۔ اس لئے اس کی موت میں تاخیر کی گئی ہے۔“ اس وقت آپ کے کلام میں عجیب قسم کا جوش اور شوکت تھی اور چہرہ مبارک کی رنگت گلاب کے پھول کی طرح خوش نما تھی اور یہ آخری کلام تھا جو اس مجلس سے اٹھتے ہوئے آپ نے فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ ”حق یہی ہے کہ جو خدا نے فرمایا ہے۔ مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ کوئی میرے ساتھ رہے یا نہ رہے۔“

﴿1270﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے ضلع سیالکوٹ کے بعض سرکاری کاغذات ملے ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۶۴ء میں سیالکوٹ میں ملازم تھے اور اس وقت آپ کا عہدہ نائب شیرف کا تھا۔ ان کاغذوں میں جن کی تاریخ اگست اور ستمبر ۱۸۶۴ء کی ہے، یہ ذکر ہے کہ چونکہ مرزا غلام احمد نائب شیرف رخصت پر گئے ہیں اس لئے ان کی جگہ فلاں شخص کو قائمقام مقرر کیا جاتا ہے۔

﴿1271﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ بیگم نواب محمد علی خاں صاحب مرحوم سے حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفۃ المسیح الاولؓ کی وصیت ملی ہے جو حضور نے اپنی وفات سے نو دن قبل یعنی ۰۴؍ مارچ ۱۹۱۴ء کو تحریر فرمائی اور اس پر نواب محمد علی خان صاحب اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثانی اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب ایم اے موجودہ امیر غیر مبائعین کی گواہی درج کرا کے اور اس وصیت کو مجلس میں مولوی محمد علی صاحب سے پڑھوا کر نواب محمد علی خان صاحب کے سپرد فرمادی جو مجھے اب نواب صاحب مرحوم کی وفات کے بعد اپنی ہمشیرہ سے ملی ہے اور میں حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ کے خط کو اور اسی طرح گواہوں کے دستخط کو پہچانتا ہوں۔ وصیت جس کا عکس یعنی چربہ درج ذیل کیا جاتا ہے یہ ہے۔

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ نحمده و نصلی علی رسوله الکریم مع التسلیم خاکسار بقائمی حواس کہتا ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ ؂ ؂ جو چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑے ہیں ہمارے گھر مال نہیں۔ ان کا اللہ حافظ ہے۔ ان کی پرورش امدادی یا ؂ یتامیٰ یا ؂ مساکین سے نہ ہو۔ کچھ قرضہ حسنہ جمع کریں جائے۔ لائق لڑکے ادا کر دیں یا کتب۔ جائیداد وقف ؂ علی الاولاد ہو۔ میرا جانشین مفتی ہو ہر دفعہ نیز عالم با عمل ہو۔ حضرت صاحب کے پرانے اور نئے احباب سے سلوک چشم پوشی و درگزر کو کام میں لاوے۔ میں سب کا خیر خواہ تھا و بھی خیر خواہ رہے۔ قرآن و حدیث کا درس جاری رہے۔ والسلام نور الدین ۴ مارچ ۱۹۰۷ء

﴿1272﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ سیرت المہدی حصہ سوم روایت نمبر ۶۴۲ بیان کردہ ڈاکٹر غلام احمد صاحب میں غلطی واقع ہوگئی ہے۔ صحیح روایت خود ڈاکٹر صاحب موصوف کے والد صاحب شیخ نیاز محمد صاحب انسپکٹر پولیس نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کی ہے یہ ہے کہ سال ۱۹۰۰ء کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ یہ عاجز (شیخ نیاز محمد صاحب) حضرت سیدہ ام المومنین سلمها اللہ تعالیٰ کے لئے ایک کپڑا بطور تحفہ لایا۔ اور حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ سے عرض کی کہ وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے حضور میں پیش کر دیں۔ کیونکہ اس عاجز کو حجاب تھا۔ ان ایام میں مسجد مبارک کی توسیع ہو رہی تھی اور اس لئے نماز ایک بڑے کمرے میں جو اب حضرت میاں بشیر احمد صاحب (خاکسار مؤلف) کے مکان میں شامل ہے، ہوتی تھی۔ نماز ظہر کے وقت جب جماعت کھڑی ہوئی تو حضرت خلیفہ اول نے اس عاجز کو آگے بلا کر وہ کپڑا حضرت اقدس کی خدمت بابرکت میں پیش کیا۔ حضور نے قبول فرما کر اپنے سامنے رکھ لیا۔ نماز کے بعد حضور وہ کپڑا لے کر اوپر تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت نانا جان مرحوم ہنستے ہوئے باہر تشریف لائے اور پوچھا کہ میاں محمد بخش تھانیدار کا لڑکا کہاں ہے۔ یہ عاجز اس وقت نفلوں میں التحیات پڑھ رہا تھا۔ حکیم مولوی محمد الدین صاحب مرحوم امیر جماعت گوجرانوالہ نے اس عاجز کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ ہے۔ حضرت نانا جان وہاں بیٹھ گئے اور فرمایا کہ آج حضرت اقدس بہت خوشی سے مسکراتے ہوئے اندر تشریف لائے اور ام المؤمنینؓ کو ایک کپڑا دے کر فرمایا کہ محمد بخش تھانیدار جس نے لیکھرام کے قتل کے موقعہ پر ہمارے کپڑوں کی تلاشی کرائی تھی اس کا لڑکا ہمارے واسطے یہ تحفہ لے کر آیا ہے۔ حضرت نانا جان نے فرمایا کہ حضرت اقدس کی اس غیر معمولی خوشی کو دیکھ کر میں اس لڑکے کو ملنے آیا ہوں۔ اتنے میں یہ عاجز نفل پڑھ کر حضرت نانا جان سے ملا تو وہ اس عاجز سے نہایت محبت سے ملے اور پھر آخر عمر تک اس عاجز سے خاص شفقت فرماتے رہے۔

اس کے کچھ عرصہ بعد اس عاجز کی اہلیہ قادیان آئیں تو حضرت سیدہ ام المؤمنین سلمہا اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ واقعہ بیان فرمایا کہ ایک دفعہ تمہارے میاں (خاوند) ایک کپڑا بطور تحفہ میرے لئے لائے تو حضرت صاحب اس دن بہت خوشی سے اندر تشریف لائے اور کپڑا دے کر فرمایا کہ معلوم ہے یہ کپڑا کون لایا ہے؟ پھر خود ہی فرمایا کہ یہ اس تھانیدار کے بیٹے نے دیا ہے جس نے ہمارے کپڑوں کی تلاشی لیکھرام کے قتل کے موقع پر کرائی تھی۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ وہی ایمان افروز نظارہ ہے جو دنیا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں دیکھا کہ عرب سرداروں نے ساری عمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت اور مخالفت میں گزار دی مگر خدا نے انہی کی اولادوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قدموں میں ڈال کر ان کے خلاف اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں گواہ بنا دیا۔

﴿1273﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ سیرۃ المہدی حصہ سوم روایت نمبر ۵۰۸ میں جو حافظ نور محمد صاحب کی طرف سے درج ہے میں جس عرب صاحب کے متعلق حافظ صاحب نے بیان کیا ہے کہ ان کی شادی مالیر کوٹلہ سے ہوئی تھی اس کے متعلق خاکسار نے لکھا ہے کہ آخری زمانہ میں ایک عرب قادیان میں آکر رہے تھے ان کا نام عبدالمحی تھا اور حضرت صاحب نے ان کی شادی ریاست پٹیالہ میں کرادی تھی۔ اور میں نے لکھا ہے کہ اگر اس روایت میں انہی عرب صاحب کا ذکر ہے تو مالیر کوٹلہ کے متعلق حافظ نور محمد صاحب کو سہو ہوا ہے۔ سو اس روایت کے متعلق محترمی شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا ہے کہ وہ عبدالمحی عرب نہیں تھے بلکہ محمد سعید عرب شامی تھے جو یہاں آئے اور ایک عربی رسالہ بھی انہوں نے لکھا تھا۔ اور ان کی شادی مالیر کوٹلہ میں ہوئی تھی اور عبدالمحی صاحب تو بہت عرصہ بعد قادیان آئے تھے۔

﴿1274﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے اپنے برادر نسبتی عزیز عبدالرحمٰن خان نیازی سکنہ پشاور سے بعض وہ خطوط حاصل ہوئے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرے خسر یعنی خان بہادر مولوی غلام حسن خان صاحب پشاور کے نام لکھے تھے۔ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خط کو پہچانتا ہوں اور یہ خطوط حضور کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں ان میں سے ایک خط جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میری شادی کی تجویز کے متعلق مولوی صاحب موصوف کو لکھا وہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ نحمده ونصلى على رسوله كريم

محبی مکرمی اخویم مولوی غلام حسن صاحب سلمہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ

اس سے پہلے اخویم مولوی عبدالکریم صاحب نے برخوردار محمود احمد کے رشتہ ناطہ کے لئے عام دوستوں میں تحریک کی تھی اور آپ کے خط کے پہنچنے سے پہلے ایک دوست نے اپنی لڑکی کے لئے لکھا اور محمود نے اس تعلق کو قبول کر لیا۔ بعد اس کے آج تک میرے دل میں تھا کہ بشیر احمد اپنے درمیانی لڑکے کے لئے تحریک کروں جس کی عمر دس برس کی ہے اور صحت اور متانت مزاج اور ہر ایک بات میں اس کے آثار اچھے معلوم ہوتے ہیں اور آپ کی تحریر کے موافق عمریں بھی باہم ملتی ہیں۔ اس لئے یہ خط آپ کو لکھتا ہوں اور میں قریب ایام میں اس بارہ میں استخارہ بھی کروں گا اور بصورت رضامندی یہ ضروری ہوگا کہ ہمارے خاندان کے طریق کے موافق آپ لڑکی کو ضروریاتِ علم دین سے مطلع فرماویں اور اس قدر علم ہو کہ قرآن شریف باترجامہ پڑھ لے ۔نماز اور روزہ اور زکوٰۃ اور حج کے مسائل سے باخبر ہو اور نیز بآسانی خط لکھ سکے اور پڑھ سکے اور لڑکی کے نام سے مطلع فرمائیں اور اس خط کے جواب سے اطلاع بخشیں۔زیادہ خیریت ہے۔

والسلام خاکسار مرزا غلام احمد

چونکہ دونو کی عمر چھوٹی ہیں اس لئے تین برس تک شادی میں توقف ہوگا۔

(اس خط پر کسی اور کے قلم سے تاریخ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۲ء درج ہے)

﴿1275﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔حضرت اماں جان اُم المومنین اطال اللہ ظلہا نے مجھے فرمایا کہ میرے بچوں کی پیدائش اس طرح ہوئی ہے کہ عصمت انبالہ میں پیدا ہوئی۔ بشیر اول قادیان میں بیت الفکر کے ساتھ والے دالان میں پیدا ہوا۔ تمہارے بھائی محمود نیچے کے دالان میں پیدا ہوئے جو گول کمرہ کے ساتھ ہے۔ شوکت لدھیانہ میں پیدا ہوئی۔ تم (یعنی خاکسار مرزا بشیر احمد) نیچے کے دالان متصل گول کمرہ میں پیدا ہوئے۔ شریف بھی اسی دلان میں پیدا ہوئے اور مبارکہ بھی اسی میں پیدا ہوئیں۔ مبارک نیچے کی منزل کے اس دالان میں پیدا ہوا جو مغربی گلی کے ساتھ ہے اور کنوئیں سے جانب غرب ہے۔ امتۃ النصیر بھی مبارک والے دالان میں پیدا ہوئی اور امتۃ الحفیظ اوپر والے کمرہ میں جو بیت الفکر کے ساتھ ہے پیدا ہوئی۔

﴿1276﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔حضرت اماں جان اُم المومنین اطال اللہ ظلہا نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے سنا ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے مکان کے اس کمرہ میں پیدا ہوئے تھے جو نچلی منزل میں ہمارے کنوئیں والے صحن کے ساتھ شمالی جانب ملحق ہے۔

﴿1277﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔حضرت اماں جان ام المومنین نے مجھ سے بیان کیا کہ ہماری بڑی بہن عصمت انبالہ میں پیدا ہوئی تھی اور لدھیانہ میں فوت ہوئی۔ اس کی قبر لدھیانہ کے قبرستان گورِ غریباں میں ہے اور ایک احمدی سپاہی (سابقہ خاوند زوجہ بابو علی حسن صاحب سنوری) کے بیٹے کی قبر کے ساتھ ہے۔ شوکت بھی لدھیانہ میں فوت ہوئی اور قبرستان حرم سرائے شاہ زادگان لدھیانہ میں ہے۔

﴿1278﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی نے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی طرح ہمارے بھی بارہ حواری ہیں اور حضور نے ذیل کے اصحاب کو ان بارہ حواریوں میں شمار کیا (۱) حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ (۲) مولوی محمد احسن صاحب امروہوی (۳) میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی (۴) مولوی غلام حسن خان صاحب پشاوری (۵) ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب آف لاہور (۶) ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب (۷) شیخ رحمت اللہ صاحب آف لاہور (۸) سیٹھ عبد الرحمٰن صاحب مدراسی (۹) ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب آف لاہور (۱۰) مولوی محمد علی صاحب ایم اے (۱۱) سید امیر علی شاہ صاحب سیالکوٹی (۱۲) مفتی محمد صادق صاحب۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ میرے پوچھنے پر کہ کیا اس فہرست میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کا نام نہیں تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے فرمایا کہ مولوی عبد الکریم صاحب اس وقت فوت ہو چکے تھے بلکہ ان کی وفات پر ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بات کہی تھی کہ مولوی صاحب کی وفات بڑا حادثہ ہے مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت سے مخلص آدمی دے رکھے ہیں۔ پھر فرمایا۔ کہ مسیح ناصری کی طرح ہمارے بھی حواری ہیں اور اوپر کے نام بیان فرمائے۔ اس موقعہ پر ہم نے بعض اور نام لئے کہ کیا یہ حواریوں میں شامل نہیں۔ آپ نے ان کی نسبت فرمایا کہ یہ درست ہے کہ یہ لوگ بھی بہت مخلص ہیں مگر اس گروہ میں شامل نہیں۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات ۱۹۰۵ء کے آخر میں ہوئی تھی۔


سِیْرَۃُ الْمَہْدِیْ علیہ السلام

حصہ پنجم

تالیفِ لطیف

حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

﴿1279﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ آمنہ بیگم والدہ محمود احمد نے بذریعہ تحریر بواسطہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب مجھ سے بیان کیا کہ میرے والدین نے ۱۹۰۱ء میں بذریعہ خط میری بیعت کرائی تھی۔ بعد میں جب میں قادیان آئی تو حضور کے ہاتھ پر بیعت کی چونکہ حضورؐ نے ہی میری شادی کروائی تھی۔ شادی کے بعد زیورات وغیرہ کا کچھ جھگڑا ہو گیا مقدمہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے پاس ہوا اس لئے ہمیں حضور علیہ السلام نے قادیان ہی بلوالیا۔ میں قادیان آئی اور دو دن حضورؐ نے اپنے ہی گھر میں رکھا دونوں وقت لنگر خانہ سے کھانا آتا تھا لیکن پھر کبھی حضورؐ اپنے پاس سے بخوشی تبرک کے طور پر بھی بچا ہوا کھانا بھیج دیتے تھے۔ ہم جس دن آئے اسی دن ہی واپس جانے لگے تھے لیکن حضورؐ نے فرمایا کہ ”جب تک تمہارے مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہوتا، یہیں پر رہو۔“ چنانچہ ہم دو دن رہے۔ جب فیصلہ ہمارے حق میں ہو گیا تو حضور علیہ السلام نے میرا زیور مجھے واپس دے دیا اور نہایت ہی محبت سے فرمانے لگے کہ ”بی بی تمہیں دو دن اس لئے رکھا گیا تھا کہ لڑکیوں کو زیور سے بہت محبت ہوتی ہے اور تمہارا زیور اس لئے لے لیا گیا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ تم چلی جاتی اور زیور تمہارا فیصلہ ہونے تک یہیں رہتا اور تمہیں رنج ہوتا۔ اب تمہارا زیور دے کر تمہیں جانے کی اجازت دیتے ہیں۔“

﴿1280﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب بشیر اوّل یا غالباً بشیر ثانی (یعنی سیدنا حضرت خلیفہ ثانی) کا عقیقہ ہوا تو گول کمرے میں احباب کو کھانا کھلایا گیا تھا اس روز میں اور میرے بھائی صاحب میاں امام الدین جو مولوی جلال الدین صاحب شمس کے والد ہیں قادیان میں تھے اور دعوت میں شامل نہیں ہوئے تھے چونکہ ہماری قریبی رشتہ داری قادیان میں تھی اس لئے جب ہم قادیان آتے تھے تو وہاں سے ہی کھانا وغیرہ کھایا کرتے تھے اور وہ ہمارے بڑے خاطر گزار تھے۔ حسب معمول عقیقہ کے روز ہم نے وہاں سے ہی کھانا کھایا تو ان کی ہمسایہ عورت نے کہا کہ آتے تو اْدھر ہیں اور کھانا یہاں سے کھاتے ہیں حالانکہ اُس عورت پر ہمارے کھانے کا کوئی بوجھ نہیں تھا۔ خواہ مخواہ اُس نے بات منہ سے نکالی اس کی بات کا اثر ضرور ہم پر ہوا اور کوئی جواب اس کو نہ دیا گیا اور اپنے گاؤں چلے گئے۔ جب دوسری دفعہ قادیان آئے اور حضرت صاحبؓ کی خدمت میں پیش ہوئے تو حضور علیہ السلام نے بہت التفات اور محبت سے زور دار الفاظ میں فرمایا۔ کہ ”دیکھو تم ہمارے مہمان ہو جب قادیان آیا کرو تو کھانا ہمارے ہاں کھایا کرو۔ اور کسی جگہ سے مت کھانا کھاؤ۔“ ہم حیران بھی ہوئے اور خوش بھی ہوئے۔ الحمد للہ علیٰ ذالک۔

﴿1281﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ بی بی رانی موصیہ والدہ عزیزہ بیگم موصیہ زوجہ حکیم محمد عمر صاحب قادیان نے بواسطہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بیان کیا کہ میں نے ۱۹۰۱ء میں بذریعہ خط بیعت کی تھی۔ چونکہ میری لڑکی عزیزہ بیگم اہلیہ حکیم محمد عمر صاحب قادیان میں تھیں۔ اس واسطے مجھ کو بھی ۱۹۰۲ء میں قادیان آنے کی رغبت ہوئی میرے ساتھ میری چھوٹی لڑکی تھی۔ جب حضرت صاحب صبح کو کسی وقت سیر کو باہر باغ کی طرف تشریف لے جاتے تھے تو میں بھی اکثر اوقات ساتھ جاتی تھی۔ بوجہ معمر ہونے کے اور دیر ہو جانے کے باتیں یاد نہیں رہیں۔ ہاں البتہ یہ یاد ہے کہ ایک دفعہ صبح کے وقت جب حضرت صاحب کھانا کھا رہے تھے میں بھی آگئی، میری چھوٹی لڑکی نے رونا شروع کیا۔ حضرت صاحبؓ نے دریافت کیا تو عرض کی، روٹی مانگتی ہے۔ آپؐ نے روٹی منگوا کر دی مگر لڑکی چپ نہ ہوئی۔ حضور علیہ السلام کے دوبارہ دریافت کرنے پر عرض کیا کہ یہ وہ روٹی مانگتی ہے جو حضورؑ کھا رہے ہیں تب حضورؐ نے وہ روٹی دی جو حضورؑ کھا رہے تھے۔ سو لڑکی نے وہ روٹی جو تھوڑی تھی لے لی اور چپ کر کے کھانے لگ گئی۔ حضورؑ کا یہ کریمانہ و فیاضانہ کام مجھ کو یاد ہے کہ حقیقۃ الوحی میں جو واقعہ غلام محی الدین لکھو کے کا درج ہے وہ یوں ہے کہ حضورؑ نے چوہدری فتح محمد صاحب سیال کو فیروز پور ہمارے گھر بھیجا تھا کہ موضع لکھو کے جا کر ان کے گھر کے حالات دریافت کر کے آویں۔ چنانچہ عزیزہ بیگم اہلیہ حکیم محمد عمر صاحب اور میں بمعیت میرے لڑکے، مسمی نور محمد مرحوم کے موضع لکھو کے جا کر تحقیق کر کے آئے تھے وہ واقعہ ہماری زبانی ہے۔ میری لڑکی عزیزہ بیگم کو بہت حالات یاد ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ میرا لڑکا نور محمد بہشتی مقبرہ میں کتبہ نمبر ۱۰۰ کے مطابق فوت ہو چکا ہے۔

﴿1282﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ عبدالعزیز سابق پٹواری سیکھواں نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میرا لڑکا محمد شفیع تھا وہ بیمار ہو گیا میں نے حضورؐ کی خدمت میں جا کر عرض کی اور حضرت ام المومنین نے بھی سفارش کی کہ ان کا ایک ہی لڑکا ہے آپ دعا کریں۔ حضورؐ نے فرمایا۔ ”انشاء اللہ دعا کرونگا۔“ اور پھر مجھے دوائی بھی دی۔ دوائی منگنیشیا تھا۔ فرمایا۔ ”ابھی گھول کر پلا دو اور پھر مجھے بھی اطلاع دے دینا۔“ چنانچہ وہ میں نے لا کر پلایا جس سے جلد ہی آرام آگیا میں نے جا کر اطلاع دی کہ حضور اب آرام آ گیا ہے۔ اس وقت یہی طریق تھا کہ جب کوئی تکلیف ہو تو فوراً حضورؐ کی خدمت میں عرض کر دیتے۔ حضور علیہ السلام فوراً تکلیف کے رفع کا انتظام کر دیتے۔

﴿1283﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ ماسٹر عبدالرحمٰن صاحب (مہر سنگھ) بی اے نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کہ جب میں پہلے پہل اپنے والد خلیفہ نورالدین صاحب کے ساتھ قادیان آئی تو جس طرف اب سردار النساء رہتی ہے حضرت صاحبؓ کا کچھ مکان ہوتا تھا اور میاں بشیر احمدؓ صاحب والے مکان میں لنگر خانہ ہوتا تھا جس میں میاں غلام حسین روٹیاں پکایا کرتا تھا۔ سالن گھر میں پکا کرتا تھا اور آٹا بھی گھر میں گندھتا تھا۔ جب روٹی پک کر آتی تو سالن برتنوں میں ڈال کر باہر بھیجا جاتا۔ برتن ٹین کے کٹورے اور لوہے کے خوانچے ہوتے تھے۔ کھانا مسجد مبارک میں بھیجا جاتا اور حضور علیہ السلام سب مہمانوں کے ساتھ مل کر کھاتے۔

﴿1284﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ ماسٹر عبدالرحمٰن صاحب (مہر سنگھ) بی اے نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک سیٹھ صاحب کہیں سے آئے تھے ان کے لئے پلاؤ پکتا تھا اور اسی طرح ایک کشمیری ہوتا تھا اس کے لئے حضور علیہ السلام کچھ سادہ چاول پکواتے۔ پلاؤ عائشہ بنت شادی خان صاحب پکاتی اور خشکہ میری والدہ پکاتی تھیں۔ پھلکے بھی وہی پکایا کرتی تھیں۔

﴿1285﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضور علیہ السلام نے چندہ کی تحریک فرمائی تو میں قادیان میں آیا اور آپؑ اس وقت مسجد مبارک کی سیڑھیوں سے نیچے اُتر کر جو میدان ہے اس میں ٹہل رہے تھے۔ میں نے کچھ چندہ پیش کیا اور آئندہ کے لئے عرض کی کہ میں موازی چار آنے ماہوار دیتا رہوں گا انشاء اللہ۔ حضور علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ’’یہ چندہ دائمی ہے۔‘‘ میں نے عرض کی کہ میں سمجھتا ہوں کہ چندہ دائمی ہے اور میں اقرار کرتا ہوں کہ ہمیشہ ادا کرتا رہوں گا۔ سو اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس نے مجھے توفیق دی کہ چندہ کو باقاعدہ ادا کرتا چلا آیا ہوں بلکہ زیادتی چندہ کی بھی توفیق دی (صَدَقَ اللّٰہُ تَعَالٰی - وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ)

﴿1286﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔اہلیہ صاحبہ عبد العزیز صاحب سابق پٹواری سیکھواں نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میرے ساتھ میری ایک چھوٹی لڑکی تھی جس کا نام صغریٰ تھا۔ مکی کی چھلیاں حضرت امّ المومنین (امان جان) کے پاس دیکھ کر لڑکی نے خواہش کی۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’جلد دو۔ زمینداروں کی لڑکیاں ایسی چیزوں سے خوش ہوتی ہیں‘‘ تو آپ نے لڑکی کو چھلی دے دی۔

﴿1287﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔اہلیہ صاحبہ منشی نبی بخش صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ’’جب منشی صاحب نے بیعت کی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کا نام نبی بخش سے عبد العزیز رکھ دیا اور فرمایا۔ ’’نبی کسی کو نہیں بخش سکتا‘‘۔

﴿1288﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔اہلیہ صاحبہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم و مغفور نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں ایک دفعہ ۱۹۰۳ء میں قادیان سالانہ جلسہ پر آئی۔ شام کا وقت تھا۔ ڈاکٹر صاحب اور میرے بھائی اقبال علی صاحب میرے ساتھ تھے۔ حضور علیہ السلام اس وقت اپنے پلنگ پر لیٹے ہوئے تھے۔ مجھ سے پوچھا۔ ’’راستہ میں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی تھی۔‘‘ میں نے کہا نہیں۔ فرمایا ’’کتنے دن کی چھٹی ملی ہے۔‘‘ میں نے کہا دس دن کی۔ پھر فرمایا۔ ’’راستہ میں سردی لگتی ہو گی‘‘۔ میری گود میں عزیزہ رضیہ بیگم چند ماہ کی تھی۔ آپ نے فرمایا چھوٹے بچوں کے ساتھ سفر کرنا بڑی ہمت کا کام ہے‘‘ حضورؓ مجھ سے باتیں کرتے تھے کہ اتنے میں میر ناصر نواب صاحب (اس وقت وہ لنگر خانہ کے افسر اعلیٰ تھے) آئے اور فرمایا۔ حضرت مہمان تو کثرت سے آگئے ہیں، معلوم ہوتا ہے اب کے دیوالہ نکل جائے گا۔ حضورؓ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور لیٹے لیٹے فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا۔

”میر صاحب! آپ نے یہ کیا کہا؟ آپ کو نہیں معلوم کہ مومن کا کبھی دیوالہ نہیں نکلتا جو آتا ہے وہ اپنی قسمت ساتھ لاتا ہے، جب جاتا ہے تو برکت چھوڑ کر جاتا ہے۔ یہ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ دیوالہ نکل جائے گا، پھر ایسی بات نہ کریں“۔ میر صاحب سبحان اللہ، سبحان اللہ کہتے ہوئے واپس چلے گئے۔

﴿1289﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جن دنوں مولوی کرم دین والے مقدمات چل رہے تھے۔ تین اشخاص گورداسپور میں آئے انہوں نے بیعت کی اور بتایا کہ وہ بنارس کے رہنے والے ہیں۔ بعدش بتکرار انہوں نے کہا کہ حضورؐ ہمارے جانے کی دیر ہے، بنارس سے بہت لوگ حضورؐ کی جماعت میں داخل ہونگے۔ پہلی دفعہ تو حضورؐ خاموش رہے۔ جب تیسری دفعہ انہوں نے کہا کہ ہمارے جانے کی دیر ہے بہت لوگ بیعت کرینگے تو حضور علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ”تم اپنی خیر مانگو خدا جانے لوگ تمہارے ساتھ کیسے پیش آئیں گے“۔ (ان تینوں میں ایک معمر اور وجیہہ بھی تھا) خدا جانے پھر کبھی ان کو میں نے نہیں دیکھا کہ ان کے ساتھ کیا گزری؟ وَ اللّٰہُ اَعْلَمُ

﴿1289﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ عبد العزیز صاحب سابق پٹواری سیکھواں نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں یہاں قادیان میں بیمار ہوگئی اور دو جانور صدقہ کئے اور حضورؐ کی خدمت میں عرض کی کہ کیا صدقہ کا گوشت لنگر خانہ میں بھیجا جاوے۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”یہ غرباء کا حق ہے۔ غرباء کو تقسیم کیا جاوے“۔ چنانچہ غرباء کو تقسیم کیا گیا۔

﴿1290﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ فضل بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا محمود بیگ صاحب پٹی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب میں پہلی بار قادیان آئی تو حضرت خلیفۃ المسیح اولؓ کے مکان پر ٹھہری۔ تیسرے دن حضرت بیوی جی صاحبہ مجھے حضرت صاحبؑ کے پاس لے گئیں۔ حضرت صاحبؑ نے فرمایا۔ ”یہ کون ہے؟“ حضرت اماں جان نے کہا کہ مرزا فتح محمد صاحب کی بہو اور مرزا محمود بیگ صاحب کی بیوی ہیں اور پٹی سے آئی ہیں۔ آپؑ نے فرمایا۔ ”ہم جانتے ہیں مرزا صاحب سے ہماری خط و کتابت ہے۔“ پھر میں چلی آئی دوسرے دن میری بیعت ہوئی۔ حضورؐ جو لفظ فرماتے وہ اماں جان دہراتی جاتی تھیں اور میں بھی ان کے ساتھ کہتی جاتی۔ اس وقت نیچے جو بڑا دالان ہے اس میں بیٹھے تھے حضور علیہ السلام نے پوچھا کہ ”آپ کی نندوں کا رشتہ ہو گیا،،؟ میں نے کہا ”جی نہیں،، میرا بھائی دیر سے بیمار تھا میرے خاوند نے کہا کہ حضورؐ سے اجازت لے کر چلو تمہارا بھائی بیمار ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ ”کوئی خطرہ کی بات نہیں،،۔ پھر ہم دو ماہ بعد پٹی چلے گئے۔

﴿1291﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ خطبہ جمعہ میں مولوی عبدالکریم صاحبؒ نے یہ آیت لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ(المائدة: ۷۹) پڑھ کر تقریر کی تو بعد نماز جمعہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”دوران خطبہ میں الہام ہوا ہے کہ ’وزیر آباد پر بھی لعنت پڑ گئی۔‘۔ (اَللّٰھُمَّ نَسْتَغْفِرُكَ وَنَتُوْبُ اِلَيْكَ۔ آمین)

﴿1292﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”ضرورت امام پر مضمون لکھو (جماعت ابھی تھوڑی تھی) اکثر احباب نے جو کچھ خواندہ تھے مضامین لکھے۔ میں نے بھی لکھا جب مضامین جمع ہو گئے تو بعدش حضور علیہ السلام شام وعشاء کے درمیان سنا کرتے تھے۔ جس روز میرا مضمون پڑھا گیا تو میں موجود نہ تھا۔ مولوی قطب الدین صاحب طبیب قادیان نے مجھے کہا کہ تمہارے مضمون کو سن کر حضرت صاحبؑ بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ ”ہے تو وہ جٹ جیسا لیکن مضمون بہت اچھا لکھا ہے۔،، مجھے یاد ہے کہ تحریر مضمون کے وقت مجھے دعا کی توفیق مل گئی تھی ورنہ علمی خوبی مجھ میں کوئی نہ تھی نہ اب ہے۔ الحمد للہ۔

﴿1293﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ فقیر محمد صاحب بڑھئی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ہمارا زمینداری کا کام تھا ایک دفعہ بارش بہت کم ہوئی، فصل خراب ہوگئی، دانے کھانے کے واسطے بھی بہت کم تھے۔ ادھر حضرت صاحب کے مختار، حامد علی صاحب معاملہ لینے کے لئے آگئے ۔ سب آدمیوں نے مل کر عرض کی کہ دانے بہت کم ہیں۔ معاملے کے واسطے اگر بیچ دیئے جائیں تو ہمارا کیا حال ہوگا؟ حامد علی صاحب نے جا کر حضرت صاحبؓ کی خدمت میں اسی طرح کہہ دیا۔ آپ نے فرمایا۔ ”اچھا! اگلے سال معاملہ لے لینا۔ اس وقت رحم کرو“۔ چنانچہ اگلے سال اس قدر فصل ہوئی کہ دونوں معاملے ادا ہو گئے۔ آپ غرباء پر بہت رحم فرمایا کرتے تھے۔

﴿1294﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام اپنے قدیمی مکان کے دروازہ کے آگے کوچہ میں جو جناب مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کے گھر کو نکل جاتا ہے بیٹھے ہوئے تھے اور شیخ غلام مصطفٰے و شیخ غلام محمد (یہ نوجوان تھے) جو بٹالہ کے رہنے والے تھے موجود تھے۔ ان سے گفتگو کرتے ہوئے حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تو قرآن کریم کے متن یعنی مفصل حصہ کی توضیح ہوئی ہے اور دوسرے حصہ مجمل یعنی مقطعات کی توضیح ہمارے زمانہ میں ہوگی (یعنی حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں)

﴿1295﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جن دنوں مولوی کرم دین والے مقدمات چل رہے تھے ایک روز حضورؑ یکہ پر گورداسپور سے قادیان روانہ ہوئے۔ ہم تینوں بھائی یعنی میاں جمال الدین و میاں امام الدین صاحب اور خاکسار راقم یکہ کے ساتھ کبھی بھاگ کر اور کبھی تیز قدمی سے چل کر قادیان پہنچ گئے۔ اس روز کھانا ہم نے مسجد مبارک میں ہی کھایا اور حضورؑ نے براہِ شفقت بعض اشیاء خوردنی خاص طور پر اندر سے ہمارے لئے خادمہ کے ہاتھ ارسال فرمائیں۔ الحمد للہ علٰی ذالک

﴿1296﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ عبد العزیز صاحب سابق پٹواری سیکھواں نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ میں اپنے گاؤں اوجلہ میں تھی اور وہ دن طاعون کے تھے۔ مجھ کو بخار ہو گیا اور کچھ آثار گلٹی کے بھی نمودار ہو گئے۔ وہاں سے حضورؑ کی خدمت میں عریضہ تحریر کر کے مفصل حال کی اطلاع دی۔ حضور علیہ السلام نے جواب تحریر فرمایا کہ ”میں انشاء اللہ دعا کرونگا۔ مکان کو بدل دینا چاہئے۔“ چنانچہ مکان بدلا گیا۔ خداوند کریم نے ہر ایک طرح سے محفوظ رکھا۔

﴿1297﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ڈاکٹر صاحب تین ماہ کی رخصت لے کر آگرہ سے قادیان آئے۔ آگرہ میں خورمے بہت عمدہ اور بڑے بڑے بنتے تھے۔ حضورؐ کو بہت پسند تھے ڈاکٹر صاحب جب آتے تو حضرت صاحب کے لئے خورمے ضرور لاتے تھے۔ حضور علیہ السلام نے صبح سے کھانا نہیں کھایا ہوا تھا۔ عصر کے وقت میں آئی۔ آپ بہت خوش ہوئے۔ مجھ سے سفر کا حال پوچھتے رہے۔ اماں جان نے کہا کہ کھانا تیار ہے آپ نے فرمایا۔ ”طبیعت نہیں چاہتی“ پھر حضرت اماں جان نے کہا کہ ”مراد خاتون تو آپ کے لئے آگرہ سے خورمے لائی ہیں“۔ پہلے تو آپ بہت خوش ہوئے پھر فرمایا۔ ”یہ مجھے بہت پسند ہیں لاؤ میں کھاؤں“۔ جب سامنے لائے گئے تو فرمایا۔ ”اُف اتنے بہت سے“۔ حضورؐ نے کھائے اور کہا۔ ”یہ میرے لئے رکھو میں پھر کھاؤں گا“۔ میرا اتنا دل خوش ہوا کہ میں بیان نہیں کر سکتی۔ پھر میں نے ڈاکٹر صاحب کو بتایا وہ بھی بہت خوش ہوئے۔ کتنی دیر تک آسمان کی طرف منہ کر کے سبحان اللہ، سبحان اللہ پڑھتے رہے۔

﴿1298﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ والدہ صاحبہ فاطمہ بیگم بیوہ میاں کریم بخش صاحب باورچی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک عورت جو سامانہ کی رہنے والی تھی حج کر کے حضورؐ کے گھر آئی۔ وہ اس وقت پہنچی جبکہ حضورؐ کا تمام کنبہ کھانا کھا چکا تھا۔ حضورؐ تھوڑی دیر بعد حجرے سے باہر نکلے اور کہا کہ تم نے کھانا کھا لیا ہے کہ نہیں؟ اس نے کہا ”نہیں“ حضور علیہ السلام گھر والوں کو خفا ہو کر کہنے لگے کہ ”تم نے اس کو کھانا نہیں کھلایا۔ یہی تو میرے بال بچے ہیں“۔ حضورؐ نے خود کھانا منگوا کر اُسے کھلایا۔

﴿1299﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مسجد مبارک میں حضور علیہ السلام کے حضور ذکر ہوا کہ مسجد اقصیٰ کے ارد گرد زمین پڑی ہوئی ہے اور لوگوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”مسجد اپنی زمین لے لے گی“۔

﴿1300﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میاں جان محمد صاحب (جو میرے ماموں تھے اور مخلص تھے سیدنا حضرت مسیح موعودؑ نے جب اپنے ۳۱۳؍ صحابہ کی فہرست تیار فرمائی اس وقت میاں جان محمد صاحب فوت ہو چکے تھے۔ حضور علیہ السلام نے ان کا نام فہرست مذکور میں درج فرما کر ان کے اخلاص کا اظہار فرما دیا۔)۔ نے ذکر کیا کہ جہاں مسجد اقصیٰ بنائی گئی ہے۔ سکھ حکومت میں یہ جیل خانہ تھا اور ایک کاردار حکومت کرتا تھا۔ جب انگریزی حکومت قائم ہوئی تو اس وقت یہ زمین نیلام کی گئی۔ ہندوؤں کا ارادہ تھا کہ یہ زمین خرید کر اس پر گوردوارہ بنایا جائے۔ لیکن حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم کو یہ خیال تھا کہ یہاں مسجد بنائی جائے۔ چونکہ دو قوموں میں مقابلہ ہونا تھا، معلوم نہیں کہ بولی کہاں تک بڑھ جائے، اس لئے ان کی خدمت میں عرض کی گئی کہ کہاں تک بولی دی جائے تو حضرت مرزا صاحب موصوف نے فرمایا کہ ”بس میری طرف سے یہ جواب ہے کہ آخری بولی میرے نام پر ختم ہو۔ خواہ کہاں تک بولی جائے“ ہندو سات سو روپیہ بولی دے کر ٹھہر گئے۔ آخری بولی حضرت موصوف مرحوم کے نام پر ختم ہو گئی۔

نوٹ:۔ خدا جانے حضرت موصوف مرحوم نے کس جوش و غیرت ملی سے اس زمین کو خرید کر مسجد کی بنیاد رکھی تھی کیونکہ قبولیت مسجد شہادت دیتی ہے کہ کس پاک نیت سے یہ کام کیا گیا ہے کہ خدا کا پاک نبی مسیح موعودؑ اس میں نماز پڑھتا رہا۔ اب آپؑ کی جماعت مستفید ہو رہی ہے وغیرہ۔ یا اللہ بانی مسجد پر ہزاروں ہزار رحمتیں اور فضل نازل فرما۔ آمین

﴿1301﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ راجو زوجہ فقیر محمد قادیان نے بذریعہ تحریر بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان مجھ سے بیان کیا کہ میری ساس جس کو حضرت صاحبؑ ”ہسّو“ کہا کرتے تھے۔ پہلی دفعہ مجھے حضور علیہ السلام کے سلام کے لئے لے گئی۔ حضورؑ نے پوچھا کہ ہسو! یہ تیری درانی ہے یا بہو ہے؟ حضورؑ نے بالآخر مبارک باد دی اور دعا دی اور فرمایا۔ ”یہ رشتہ کہاں سے لیا ہے؟“۔۔۔۔ حضور علیہ السلام ہمارے برتنوں میں ہمارے ہاتھوں سے لے کر کھا لیا کرتے تھے۔ حضورؑ کا لباس بہت سادہ ہوتا تھا اور بال سرخ چمکیلے تھے۔ سر پر پگڑی باندھتے۔ کرتے کے اوپر چوغہ پہنتے یا کوٹ۔ اور شرعی پائجامہ پہنتے۔ جوتا سادہ ہوتا۔ ہاتھ میں سوٹی رکھتے۔

﴿1302﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مائی بھاگو اور مائی بھانو صاحبہ قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مائی بھاگو اور بھانو ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پنکھا ہلا رہی تھیں کہ مائی بھانو نے دریافت کیا کہ حضورؐ نماز پڑھنے کا ثواب ہوگا؟ تو حضورؐ نے فرمایا کہ ’’نہ ثواب ہوگا نہ عذاب ہوگا۔ پانچ وقت کی نماز نہیں چھوڑنی چاہئے۔‘‘ میں نے کبھی نماز قضا نہیں کی۔ ایک دفعہ ایک مباحثہ میں جمع کی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا تھا کہ ’’مکان تیار کرو۔ آپ کی سیدوں میں شادی ہوگی‘‘۔ اس پر لوگوں نے بہت ٹھٹھا اُڑایا مگر ہمارے سامنے ایسا ہی واقعہ ہوا۔ پھر حضرتؐ کو الہام ہوا کہ ’’آپ کے گھر ایک لڑکا ہوگا جو اسلام میں بہت ہوشیار ہوگا‘‘ پھر ہمارے گاؤں کی مسجد میں گئے اور دریافت فرمایا کہ ’’کون کون نماز پڑھتا ہے؟ اور کون کون نہیں پڑھتا؟‘‘ لوگوں نے کہا کہ بہت کم لوگ پڑھتے ہیں۔ اس پر حضور علیہ السلام نے جیب سے ایک کاپی نکالی اور فرمایا کہ ’’ان کے نام لکھاؤ۔ اس پر حضرت ام المومنین سلمہا اللہ نے فرمایا کہ ’’آپ نام کیوں لکھتے ہیں؟ تو حضور علیہ السلام نے کاپی جیب میں ڈال لی اور نام نہ لکھے۔ اب خدا کے فضل سے سب (نماز) پڑھتے ہیں۔

﴿1303﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ منشی نبی بخش صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحبؑ ہمیشہ جماعت کے ساتھ باہر کھانا کھایا کرتے تھے اور آپؑ وہی کھانا کھایا کرتے تھے جو سب کے لئے پکتا تھا۔ بچوں سے بہت محبت و اخلاق سے پیش آیا کرتے تھے۔ عورتوں کو ہمیشہ نماز کی ادائیگی کے متعلق تاکید بہت کرتے تھے۔

﴿1304﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میری والدہ صاحبہ بھی قادیان میں ہی رہا کرتی تھیں۔ جب میں قادیان آتی تو حضورؐ مجھ کو کہتے تھے کہ ’’تم ہمارے مہمان ہو۔ ہمارے مکان پر رہو‘‘۔ میں تو شرم کے مارے چپ رہتی اور ڈاکٹر صاحب سے کہلاتی۔ حضورؐ دس روز کی رخصت ہے، یہ اپنی ماں کے پاس رہنا چاہتی ہیں۔ حضورؐ فرماتے ۔ ’’کوئی حرج نہیں ان کی والدہ بھی یہیں رہیں گی‘‘۔ فوراً آدمی میری اماں کی طرف بھیج دیتے۔ کہ جب تک ڈاکٹر صاحب یہاں رہیں آپ بھی یہاں رہیں۔ چنانچہ کئی بار ایسا ہوا کہ میری والدہ صاحبہ اور میری بھاوجہ فاطمہ جو ڈاکٹر فیض علی صاحب کی بیوی ہیں یہاں رہتیں۔ میرے بھائی باہر نوکری پر ہوتے تو میری والدہ کہتیں۔ بہو گھر میں اکیلی ہے میں نہیں آسکتی۔ لیکن حضرت صاحب فرماتے ”نہیں ڈاکٹر صاحب ہمارے مہمان ہیں ان کو بھی کہو کہ یہاں پر آجائیں۔“ کھانا لنگر خانہ سے آتا۔ حضورؐ کی سخت تاکید ہوتی تھی کہ ڈاکٹر صاحب کے لئے کھانا عمدہ ہو۔ کریم بخش باورچی کھانا پکایا کرتا تھا جو کہ روز آ کر پوچھتا کرتا۔ لنگر والے روزانہ آکر پوچھتے آپ کے لئے کیا پکایا جائے؟ پھر آپ علیہ السلام خود پوچھتے ”کھانا خراب تو نہیں تھا۔ کوئی تکلیف تو نہیں ہے“؟ کہنا نہیں حضورؐ کوئی تکلیف نہیں۔ پھر بھی حضورؐ کی تسلی نہ ہوتی۔ گھر سے بھی کبھی کوئی چیز ضرور بھیج دیتے۔ تین ماہ کی رخصت لے کر ڈاکٹر صاحب آئے حضورؐ کبھی بھی مہمان نوازی سے نہ گھبراتے تھے اور اپنی ملازمہ سے کہتے تھے۔ ”دیکھو ڈاکٹر صاحب تنور کی روٹی کھانے کے عادی نہیں ان کو پھلکے پکا کر بھیجا کرو“۔ روز کھانے کے وقت حضورؐ آواز دے کر پوچھتے۔ ”صفیہ کی اماں! ڈاکٹر صاحب کے لئے پھلکے بھیج دیئے؟“ تو وہ کہتی۔ بھیجتی ہوں۔ تو فرماتے ”جلدی کرو، وہ کھانا کھا چکے ہونگے“۔ حضور علیہ السلام مہمانوں کا یوں خیال رکھتے جیسے ماں بچے کا خیال رکھتی ہے۔

﴿1305﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ رحیمن اہلیہ قدرت اللہ صاحب ریاست پٹیالہ نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میری والدہ کے ہاں چار لڑکے اور پانچ لڑکیاں پیدا ہوئی تھیں ۔ جن میں سے صرف میں زندہ رہی اور باقی تمام فوت ہو گئے۔ لیکن ۱۵؍سال کی عمر میں مجھے دق کا مرض شروع ہو گیا۔ حتیٰ کہ ڈاکٹروں اور حکیموں نے جواب دے دیا۔ اس مایوسی کی حالت میں میرے والد مجھے قادیان شریف لائے اور مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا اور دعا کے لئے عرض کی۔ حضورؐ نے ایک خط لکھ کر میرے والد کو دیا اور فرمایا کہ ”میں دعا کرتا ہوں اور تم یہ خط مولوی صاحب (حضرت خلیفۃ المسیح اولؓ) کو دو۔ وہ اس لڑکی کا علاج کرینگے۔“ چنانچہ اس کے بعد مجھے صحت ہو گئی۔ میری شادی ہوئی اور حضورؐ کے فرمانے کے بموجب بچے پیدا ہوئے۔

﴿1306﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ مولوی فضل الدین صاحب کھاریاں نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں اس زمانہ میں قادیان آئی جب حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی آمین ہوئی تھی۔ میں حضرت کے مکان کے نچلے حصہ میں رہتی تھی۔ آپؐ کے کمرے کے درمیان میز رکھی ہوئی تھی۔ آپؐ ٹہلتے جاتے اور لکھتے جاتے۔ دوات میز پر رکھی ہوتی۔ جب میز کے پاس سے گزرتے تو

قلم کو سیاہی لگا لیتے۔ دو عورتیں میرے ساتھ تھیں۔ نیز ہمارے ساتھ ایک مرد بھی تھا۔ اُس نے ہمارے متعلق حضرت صاحب کی خدمت میں ایک خط لکھ کر ہمارے ہاتھ بھیجا کہ یہ مستورات جو آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی ہیں ان میں سے ایک اہلیہ مولوی جلال الدین صاحب ضلع گجرات کی ہیں اور دوسری اہلیہ محمد الدین صاحب۔ دونوں عورتوں کا نام تو حضورؐ نے پڑھ لیا جب تیسری کی باری آئی تو حضورؐ کمرے سے باہر نکل آئے اور دروازے کی چوکھٹ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا اور فرمایا۔ ”وہ مولوی فضل الدین صاحب کی بیوی ہیں۔“ تین بار حضورؐ نے یہی الفاظ دہرائے۔ انگنائی میں حضرت اُمّ المؤمنین صاحبہ تشریف رکھتی تھیں۔ بیوی صاحبہ ہنس پڑیں۔ فرمایا ”لوگوں کو کیا پتہ بیوی صاحبہ کہاں ہیں“؟ جب اذان ہوئی تو آپؐ نے فرمایا۔ ”لڑکیو! اذان ہوگئی ہے نماز پڑھو“۔ چونکہ بیوی صاحبہ نے نماز نہیں پڑھی تھی۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ ”بیوی صاحبہ نے نماز نہیں پڑھنی کچھ دن عورتوں کے لئے ہوتے ہیں کہ جن میں وہ نماز نہیں پڑھتیں“۔

﴿1307﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ”ایام مقدمات مولوی کرم الدین میں ایک روز نصف شب گورداسپور پہنچے۔ چونکہ حضور علیہ السلام بڑے محتاط تھے۔ فرمایا کہ ”شاید عدالت ضمانت طلب کرے۔ میاں فضل الٰہی نمبر دار فیض اللہ چک کو بلایا جائے“ چنانچہ اُسی وقت میں اور میرا بھائی میاں امام الدین صاحب لالٹین ہاتھ میں لے کر فیض اللہ چک کو چل پڑے اور قبل از نماز صبح پہنچ گئے اور میاں فضل الٰہی صاحب کو ساتھ لے کر قبل از کچہری گورداسپور پہنچ گئے لیکن اس روز عدالت نے ضمانت طلب نہ کی۔

﴿1308﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جن ایام میں عبداللہ آتھم عیسائی کے ساتھ مباحثہ شروع ہو گیا تھا موسم گرما تھا۔ پانی کی ضرورت پڑتی تھی لیکن پانی اپنے ساتھ لے جایا جاتا تھا۔ عیسائیوں کے چاہ (کنوئیں) کا پانی نہیں لیا جاتا تھا کیونکہ عیسائی قوم حضرت رسول کریم ﷺ کی شان میں گستاخیاں کرنے والی ہے۔ لہٰذا ان کے چاہ کا پانی پینا حضور پسند نہ فرماتے تھے۔

﴿1309﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے سودی قرضہ کے متعلق سوال کیا۔ فرمایا کہ ”یہ جائز نہیں ہے“۔ میں نے عرض کی کہ بعض اوقات مجبوری ہوتی ہے مثلاً ایک کاشتکار ہے۔ اس کے پاس کچھ نہیں ہے۔ سرکاری معاملہ ادا کرنا ہوتا ہے۔ سپاہی سر پر کھڑا ہے۔ بجز سود خور، کوئی قرض نہیں دیتا۔ ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟ فرمایا ”مجبوری تو ہوتی ہے لیکن استغفار ہی کرے اور سودی قرضہ نہ لیوے۔“

﴿1310﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ فقیر محمد بڑھئی نے بذریعہ تحریر بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بیان کیا کہ ”میرا باپ مجھے سنایا کرتا تھا کہ ایک دفعہ مرزا صاحب ایک کوٹھے پر سے گر پڑے، ہم آپ کی خبر گیری کو گئے۔ آپ کو جب کچھ ہوش آئی تو فرمایا کہ ’دیکھو کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے‘؟۔

﴿1311﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ کنیز فاطمہ صاحبہ اہلیہ میر قاسم علی صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بیان کیا کہ حضرت اقدسؑ ۱۹۰۵ء میں دہلی تشریف لے گئے۔ حضورؐ ہمارے مکان میں تشریف رکھتے تھے۔ اس وقت میں نے حضور کی بیعت کی۔ میرے ساتھ عبدالرشید صاحب کے سب خاندان نے بھی بیعت کی۔ آپ نے فرمایا ”تم سوچ سمجھ لو۔ تمہارے سب رشتہ دار وہابی ہیں“۔ میں نے کہا ”حضور میں نے خوب سوچ لیا ہے“۔ آپ نے فرمایا ”کل جمعہ کے روز بیعت لوں گا، آج رات اور سوچ لو“۔ جمعہ کے دن آپ نے مولوی محمد احسن صاحب کو فرمایا کہ ”میر صاحب کی بیوی کو بلا لاؤ“ میں گئی تو حضور نے بڑی محبت سے میری بیعت لی۔ میرے ساتھ میرا ایک رشتہ دار محمد احمد بھی تھا۔ اس نے بھی بیعت کی۔ بیعت کرنے کے وقت دل بہت خوش ہوا۔ بعد میں حضورؐ نے بہت لمبی دعا فرمائی۔

﴿1312﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ کنیز فاطمہ صاحبہ اہلیہ میر قاسم علی صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت صاحب ۱۹۰۵ء میں دہلی میں تھے اور وہاں جمعہ کو میری بھی بیعت لی۔ اور دعا فرمائی۔ باہر دشمنوں کا بھاری ہجوم تھا۔ میں بار بار آپ کے چہرے کی طرف دیکھتی تھی کہ باہر اس قدر شور ہے اور حضرت صاحب ایک شیر کی طرح بیٹھے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ ”شیخ یعقوب علی صاحب کو بلالاؤ۔ گاڑی لائیں“۔ میر صاحب نے کہا۔ حضور! گاڑی کیا کرنی ہے؟ آپ نے فرمایا ”قطب صاحب جانا ہے“ میں نے کہا حضور اس قدر خلقت ہے۔ آپ ان میں سے کیسے گزریں گے؟ آپ نے فرمایا ”دیکھ لینا میں ان میں سے نکل جاؤں گا۔ میر صاحب کی اپنی فٹن بھی تھی ، دو گاڑیاں اور آگئیں۔ ہم سب حضرت صاحب کے خاندان کے ساتھ گاڑیوں میں بھر کر چلے گئے۔ پہلے حضرت میر ناصر نواب صاحب کے والد کے مزار پر تشریف لے گئے اور بہت دیر تک دعا فرمائی اور آنکھیں بند کر کے بیٹھے رہے۔ اس کے بعد آپ حضرت نظام الدین اولیاء کے مقبرہ پر تشریف لے گئے۔ آپ نے تمام مقبرہ کو خوب اچھی طرح سے دیکھا۔ پھر مقبرہ کے مجاوروں نے حضورؐ سے پوچھا، آپ حضرت نظام الدین صاحب کو کیا خیال فرماتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا ”ہم انہیں بزرگ آدمی خیال کرتے ہیں“۔ پھر آپؐ نے مقبرہ کے مجاوروں کو کچھ رقم بھی دی جو مجھے یاد نہیں کتنی تھی پھر آپ مع مجاوروں کے قطب صاحب تشریف لے گئے۔ وہاں کے مجاوروں نے آپ کو بڑی عزت سے گاڑی سے اتارا اور مقبرہ کے اندر لے گئے کیونکہ مقبرہ نظام الدین اولیاء میں تو عورتیں اندر چلی جاتی ہیں لیکن قطب صاحب میں عورتوں کو اندر نہیں جانے دیتے۔ ان لوگوں نے حضورؐ کو کھانے کے لئے کہا۔ حضورؐ نے فرمایا ”ہم پرہیزی کھانا کھاتے ہیں آپ کی مہربانی ہے“۔ وہاں کے مجاوروں کو بھی حضورؐ نے کچھ دیا پھر حضور علیہ السلام وہاں سے شام کو واپس گھر تشریف لے آئے۔ مجاور کچھ راستہ تک ساتھ آئے۔

﴿1313﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ بابو فخر الدین صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ۱۹۰۲ء میں بابو صاحب کو تین ماہ کی رخصت ملی تو ہم ڈیڑھ ماہ قادیان میں رہے۔ میں صبح ہی حضرت صاحب کو ملنے آئی تو دادی سے پوچھا۔ حضرت صاحب کہاں ہیں؟ دادی نے کہا اس وقت حضورؐ سو گئے ہیں۔ تمام رات جاگتے رہے۔ رات بارش کا طوفان تھا۔ حضورؐ نے فرمایا ”خدا جانے کوئی عذاب نہ آجائے۔“ تمام رات جاگتے رہے اور دعا کرتے رہے۔ اب نماز کے بعد سو گئے ہیں۔ اس لئے میں واپس آگئی۔ پھر ایک بجے گئی تو حضورؐ اس وقت ڈاک دیکھ رہے تھے۔ آپ نے حضرت ام المومنین صاحبہ کو فرمایا ”دیکھو! ہم نے ڈاک کھولی تو نوٹ یہاں پر ہی گر پڑے اب مل گئے ہیں کسی نے دیکھے نہیں“۔ میں ہر روز جاتی اور پنکھا جھل کر چلی آتی۔ شرم کی وجہ سے کبھی حضورؐ سے بات نہ کی۔

﴿1314﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ ماسٹر عبد الرحمن صاحب مہر سنگھ بی اے نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میری شادی حضورؐ کے حکم سے ہوئی تھی۔ میں رخصت ہوکر قادیان ہی آئی تھی اور میری والدہ ساتھ تھیں۔ حضرت صاحب کے گھر میں ایک سرد خانہ ہوتا تھا اس میں ہم سب رہا کرتے تھے۔ جب میں حضورؐ کو وضو کراتی تو حضور علیہ السلام ”جزاکم اللہ“ کہا کرتے۔ حضورؐ لکھا بہت کرتے تھے۔ جب بیٹھ کر لکھتے تو ہم حضورؐ کے کندھے دبایا کرتے تھے۔ حضورؐ اکثر ٹہل کر لکھا کرتے تھے درمیان میں ایک میز رکھی ہوتی اور اس پر ایک دوات پڑی رہتی تھی۔ حضورؐ لکھتے لکھتے ادھر سے آتے تو قلم کو سیاہی لگا لیتے۔ پھر ادھر جاتے تو قلم سیاہی میں ڈبو لیتے اور جب پڑھتے تو اونچی آواز سے پڑھا کرتے تھے اور جو کچھ لکھتے اس کو دہراتے جاتے۔

﴿1315﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ عبد العزیز صاحب سابق پٹواری سیکھواں نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب بڑا زلزلہ جو ۱۹۰۵ء میں آیا تھا۔ اس وقت ہم موضع سیکھواں جو ہمارا حلقہ تھا میں سکونت رکھتے تھے۔ زلزلہ آنے کے بعد میں کچھ گھی لے کر قادیان میں آئی اس وقت حضورؐ باغ میں معہ خدام سکونت رکھتے تھے۔ حضورؐ نے پوچھا کہ ”میاں عبدالعزیز نہیں آئے؟“۔ میں نے عرض کی کہ حضورؐ ان کا کوئی افسر آیا ہوا تھا اس واسطے نہیں آسکے۔

﴿1316﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ والدہ صاحبہ فاطمہ بیگم بیوہ میاں کریم بخش باورچی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جس وقت میاں مبارک احمد فوت ہوئے تو دادی آئی (میاں شادی خان کی بیوی) اور اماں جی کے گلے مل کر رونے لگی۔ تو حضورؐ حجرے سے گھبرا کر باہر نکلے اور کہنے لگے۔ ”یہ مکان رونے کا نہیں ہے بلکہ ہنسنے کا ہے۔“

﴿1317﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مائی بھولی۔ مائی جیواں عرف ملا قادر آباد نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ پہلے جب میاں جان محمد کشمیری نے بیعت کی تھی۔ پھر مولوی صاحب نے۔ میں اس وقت لڑکی تھی۔ میری عمر اب اسی (۸۰) سال کی ہے۔ جب حضرت صاحبؑ ڈھاب بھروانا چاہتے تو ہندو سکھ آتے، کہیاں اور ٹوکریاں چھین لیتے۔ آپ کے مکان کے پیچھے لابھا کھڑا ہو کر گالیاں دیتا رہا۔ آپ نے اپنی جماعت کو فرمایا کہ ”چپ رہو“ چھ ماہ کے بعد وہ لابھا ہندو گڑ کے کڑاہ میں گر کر مر گیا۔ اس

کے بعد لیکھرام، آریوں کے ساتھ آپ کا مباحثہ ہوتا رہا۔

﴿1318﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مائی بھولی۔ مائی جیواں عرف ملا قادرآباد نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن حضور علیہ السلام سیر کو آئے تو دیکھا راستہ جو پہلے خراب تھا۔ نیا بنا ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا۔ ’’یہ کس نے بنایا ہے؟‘‘ ہم نے کہا حضورؐ آپ کی اسامیوں نے۔ آپ بہت خوش ہوئے اور ہنسے۔

ایک بار حضورؐ تشریف لائے تو میں نئی کنک (گندم) بھنا کر لے گئی۔ آپ نے اپنے ساتھ جو تھے ان کو بانٹ دی۔ خود بھی چکھی اور خوش ہوئے۔ جب حضورؐ سیر کو آیا کرتے تو ہماری کچی مسجد میں آ کر نماز اشراق پڑھتے۔ ہم لوگ ساگ روٹی پیش کرتے تو حضور علیہ السلام کبھی بُرا نہ مناتے اور نہ ہی کراہت کرتے۔

﴿1319﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ منشی نبی بخش صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ہم نے قادیان میں مکان بنانا شروع کیا۔ دیواریں وغیرہ بنوائیں تو مرزا نظام الدین نے آ کے گرا دیا۔ اس پر حضورؐ پُر نور نے فرمایا کہ ’’اگر خدا نے چاہا تو آپ کا مکان پھر اور کہیں بن جائے گا۔‘‘ جب نواب مبارکہ بیگم صاحبہ پیدا ہوئیں۔ میں قادیان میں ہی تھی۔ حضرت اُم المومنین کو کچھ تکلیف تھی، حضور علیہ السلام نے دعا فرمائی۔ خدا نے شفا بخشی۔ آپ نے ان کی پیدائش پر بہت خوشی کا اظہار فرمایا۔

﴿1320﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ۱۹۰۴ء کا ذکر ہے کہ میں اور ڈاکٹر صاحب مرحوم رُڑ کی سے آئے۔ چار دن کی رخصت تھی۔ حضورؐ نے پوچھا۔ ’’سفر میں روزہ تو نہیں تھا؟‘‘ ہم نے کہا نہیں۔ حضورؐ نے ہمیں گلابی کمرہ رہنے کو دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا ’’ہم روزہ رکھیں گے۔ آپ نے فرمایا ’’بہت اچھا! آپ سفر میں ہیں‘‘ ڈاکٹر صاحب نے کہا۔ حضورؐ! چند روز قیام کرنا ہے دل چاہتا ہے روزہ رکھوں۔ آپ نے فرمایا۔ ’’اچھا! ہم آپ کو کشمیری پراٹھے کھلائیں گے۔‘‘ ہم نے خیال کیا کشمیری پراٹھے خدا جانے کیسے ہونگے؟ جب سحری کا وقت ہوا اور ہم تہجد و نوافل سے فارغ ہوئے اور کھانا آیا تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خود گلابی کمرے میں تشریف لائے (جو کہ مکان کی نچلی منزل میں تھا) حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مکان کی اوپر والی تیسری منزل پر رہا کرتے تھے۔ ان کی بڑی اہلیہ کریم بی بی صاحبہ جن کو مولویانی کہا کرتے تھے کشمیری تھیں اور پراٹھے اچھے پکایا کرتی تھیں۔ حضورؐ نے یہ پراٹھے ان سے ہمارے واسطے پکوائے تھے۔ پراٹھے گرما گرم اوپر سے آتے تھے اور حضور علیہ السلام خود لے کر ہمارے آگے رکھتے تھے اور فرماتے تھے۔ ”اچھی طرح کھاؤ“۔ مجھے تو شرم آتی تھی اور ڈاکٹر صاحب بھی شرمسار تھے مگر ہمارے دلوں پر جو اثر حضورؐ کی شفقت اور عنایت کا تھا اس سے روئیں ، روئیں میں خوشی کا لرزہ پیدا ہو رہا تھا۔ اتنے میں اذان ہو گئی تو حضورؐ نے فرمایا کہ ”اور کھاؤ ابھی بہت وقت ہے۔ فرمایا قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَکُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الۡخَیۡطُ الۡاَبۡیَضُ مِنَ الۡخَیۡطِ الۡاَسۡوَدِ مِنَ الۡفَجۡرِ(البقرة: ۱۸۸)۔ اس پر لوگ عمل نہیں کرتے۔ آپ کھائیں ابھی وقت بہت ہے۔ مؤذن نے وقت سے پہلے اذان دے دی ہے۔“ جب تک ہم کھاتے رہے حضورؐ کھڑے رہے اور ٹہلتے رہے۔ ہر چند ڈاکٹر صاحب نے عرض کیا کہ حضورؐ تشریف رکھیں۔ میں خود خادمہ سے پراٹھے پکڑ لوں گا یا میری بیوی لے لیں گی۔ مگر حضورؐ نے نہ مانا اور ہماری خاطر تواضع میں لگے رہے۔ اس کھانے میں عمدہ سالن اور دودھ سویاں وغیرہ کھانے بھی تھے۔

﴿1321﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ رحیمن اہلیہ صاحبہ قدرت اللہ صاحب ریاست پٹیالہ نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی کہ روزانہ صبح سیر کے لئے جایا کرتے تھے۔ صاحبزادی امتۃ الحفیظ بیگم کی عمر اس وقت اندازاً تین سال کی تھی۔ میں اور حافظ حامد علی صاحب کی لڑکی آمنہ مرحومہ امتۃ الحفیظ بیگم کو باری باری اٹھا کر ساتھ لے جاتی تھیں۔ چونکہ حضورؐ بہت تیز رفتار تھے۔ اس لئے ہم پیچھے رہ جاتے تھے۔ تو امتۃ الحفیظ بیگم ہم سے کہتیں کہ ”ابا کے ساتھ ساتھ چلو“۔ اس پر میں نے کہا کہ میں تھک جاتی ہوں تم حضرت صاحب سے دعا کے لئے کہنا۔ اس پر صاحبزادی نے حضرت صاحب سے کہا۔ آپ نے فرمایا۔ ”اچھا! ہم دعا کریں گے کہ یہ تم کو ہمارے ساتھ رکھے“۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اور آمنہ کو اتنی طاقت دی کہ ہم صاحبزادی کو اٹھا کر ساتھ ساتھ لے جاتیں اور لے آتیں مگر تھکان محسوس نہ ہوتی۔

﴿1322﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ مولوی فضل الدین صاحب کھاریاں نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ہمارے ساتھ ایک بوڑھی عورت مائی تابی رہتی تھی۔ اس کے کمرے میں ایک روز بلی پاخانہ کر گئی۔ اس نے کچھ ناراضگی کا اظہار کیا میرے ساتھ جو دو عورتیں تھیں انہوں نے خیال کیا کہ ہم سے تنگ آکر مائی تابی ایسا کہتی ہے۔ ایک نے تنگ آکر اپنے خاوند کو رقعہ لکھا جو ہمارے ساتھ آیا ہوا تھا کہ مائی تابی ہمیں تنگ کرتی ہے۔ ہمارے لئے الگ مکان کا انتظام کر دیں۔ جلال الدین نے وہ رقعہ حضورؐ کے سامنے پیش کر دیا۔ رقعہ پڑھتے ہی حضورؐ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور آپ نے فوراً مائی تابی کو بلایا اور فرمایا۔ تم مہمانوں کو تکلیف دیتی ہو۔ تمہاری اس حرکت سے مجھے سخت تکلیف پہنچی ہے اس قدر تکلیف کہ اگر خدانخواستہ میرے چاروں بچے مر جاتے تو مجھے اتنی تکلیف نہ ہوتی جتنی مہمانوں کو تکلیف دینے سے پہنچی ہے۔ مائی تابی نے ہم سے اور حضرت صاحبؓ سے معافی مانگی۔ اس کے بعد مائی تابی اور ہم بہت اچھی طرح رہتے رہے۔

﴿1323﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ فضل بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا محمود بیگ صاحب پٹی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ جلسہ سالانہ کا ذکر ہے کہ چارپائیوں کی ضرورت تھی تو جلسہ والے ہم سب گھر والوں کی چارپائیاں لے گئے۔ آپؐ کو معلوم ہوا تو آپؐ نے میاں نجم الدین صاحب مرحوم مغفور کو بلا کر فرمایا۔ ”فضل بیگم کی چارپائی کیوں لے گئے ہو؟ کیا وہ مہمان نہیں؟ بس ان کی چارپائی جہاں سے لائے ہو وہیں پہنچا دو“۔ وہ بیچارے لا کر بچھا گئے۔

﴿1324﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فقیر محمد صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب بڑا زلزلہ آیا تھا تو حضرت صاحبؓ باغ میں تشریف لے گئے تھے۔ میں نواب صاحب کے کام کرتا تھا۔ جب اذان ہو گئی تو ہم سب نماز کے لئے گئے۔ حضرت صاحب بھی تشریف لائے۔ آپؐ کچھ باتیں کر رہے تھے کہ ایک شخص نے پوچھا۔ حضور! شرمپت آپ کا دوست ہے اور وہ مسلمان نہیں ہوا؟ حضرت صاحبؓ نے فرمایا۔ ”وہ مسلمان نہیں ہوگا مگر مصدق ہو جائے گا“۔ مولوی عبدالکریم صاحب نے پوچھا کہ حضورؐ مصدق کا کیا مطلب ہے۔ آپؐ نے فرمایا ”کہ میری سب باتوں کا یقین کر لے گا“۔

﴿1325﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ عبدالعزیز صاحب سابق پٹواری سیکھواں نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت ام المومنین مجھ سے دریافت کرتی تھیں کہ تمہارا گاؤں تو اوجلہ ہے تم سیکھواں کیوں رہتے ہو؟ حضورؐ نے فرمایا۔ ”میں آپ کو بتلاتا ہوں کہ چونکہ میاں عبدالعزیز کی ملازمت پٹوار سیکھواں میں ہے اور پٹواری کو مع عیال حلقہ میں رہنے کا حکم ہے اس واسطے ان کو سیکھواں میں رہنا پڑتا ہے۔“

﴿1326﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ ماسٹر عبدالرحمٰن صاحب (مہر سنگھ) بی اے نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے لڑکا پیدا ہوا اور فاطمہ اہلیہ مولوی محمد علی صاحب پوچھتی ہیں ”بشریٰ کی اماں! لڑکے کا نام کیا رکھا ہے!‘‘ اتنے میں دائیں طرف سے آواز آتی ہے کہ ”نذیر احمد‘‘۔ میرے خاوند نے یہ خواب حضرت اقدسؑ کو سنا دیا۔ جب میرے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو ماسٹر صاحب نام پوچھنے گئے تو حضورؐ نے فرمایا کہ ”وہی نام رکھو جو خدا نے دکھایا ہے۔‘‘ جب میں چلّہ نہا کر گئی تو حضورؐ کو سلام کیا اور دعا کے لئے عرض کی۔ آپ نے فرمایا۔ ”انشاء اللہ‘‘ پھر حضور علیہ السلام ہنس پڑے اور فرمایا۔ ”ایک نذیر دنیا میں آنے سے تو دنیا میں آگ برس رہی ہے اور اب ایک اور آ گیا ہے۔‘‘

﴿1327﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ ماسٹر عبدالرحمٰن صاحب (مہر سنگھ) بی اے نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت صاحب اکثر گھر میں ٹہلا کرتے تھے۔ جب تھک کر لیٹ جاتے تو ہم لوگ حضورؐ کو دبانے لگ جاتے۔ آپ کو اکثر ضعف ہو جاتا تھا۔ اس وقت حضورؐ دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے اور جس قدر عورتیں وہاں ہوتیں ان سب کو بھی دعا کے لئے فرماتے تو ہم سب دعا کرتے۔ حضورؐ بہت ہی خوش اخلاق تھے اور بڑی محبت سے بات کیا کرتے تھے۔ جو کوئی حضورؐ سے اپنی تکلیف بیان کرتی حضورؐ بڑی ہمدردی کا اظہار کرتے اور دعا فرماتے۔

﴿1328﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ بابو فخر الدین صاحب نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک روز میرے باپ کا خط آیا میری دو چھوٹی بہنیں تھیں جن کی منگنی پیدا ہوتے ہی میری ماں نے اپنے بھائی کے گھر کر دی تھی۔ جب وہ جوان ہوئیں تو میرے چچا نے نالش کر دی کہ لڑکیوں کا نکاح تو میرے لڑکوں سے ہو چکا ہے۔ میرے باپ نے خط میں تمام حال لکھا تھا اور دعا کے لئے عرض کی تھی۔ میں خط لے کر حضورؐ کے پاس آئی۔ حضورؐ سب بال بچوں کو لے کر باغ میں سیر کو گئے ہوئے تھے۔ میں بیٹھی رہی۔ جب حضورؐ تشریف لائے تو جس حجرے میں حضورؐ بیٹھا کرتے تھے چلے گئے۔ میں نے دروازہ میں سے عرض کیا کہ حضورؐ! یہ خط میرے باوا جی کا آیا ہے اور سب معاملہ عرض کیا۔ حضورؐ نے خط لے کر پڑھا اور سب حال بھی سنا کہ چچوں نے جھوٹا مقدمہ کر دیا ہے۔ فرمایا ’’اچھا ہم دعا کریں گے۔‘‘ دس بارہ دن کے بعد پھر خط آیا کہ چچوں نے مقدمہ کیا تھا واپس لے لیا ہے اور معافی بھی مانگی ہے کہ ہماری غلطی تھی۔ حضورؐ سن کر بہت خوش ہوئے اور کئی بار زبان مبارک سے ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ‘‘ فرمایا۔ اس کے بعد ہم رخصت لے کر چلے گئے۔

﴿1329﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ صفیہ بیگم صاحبہ شاہجہانپوری اہلیہ شیخ غلام احمد صاحب نو مسلم واعظ مجاہد نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضورؐ نے کچھ دوائیاں ایک لڑکی کے سپرد کی ہوئی تھیں کہ مجھے کھانے کے بعد دے دیا کرو۔ چونکہ آپ مہندی بھی لگاتے تھے اس لئے گرم پانی کی بھی ضرورت ہوتی تھی۔ یہ دونوں کام اس لڑکی کے سپرد تھے۔ وہ اکثر بھول جاتی تھی اس لئے یہ کام آپ نے میرے سپرد کر دئے تھے۔ میں نے اچھی طرح سرانجام دیا۔ ایک دفعہ جب میں بیمار ہوئی تو حضورؐ نے آکر فرمایا: ’’صفیہ! کیا حال ہے؟‘‘ چونکہ حضور علیہ السلام کھانا کھا چکے تھے اس لئے میں نے عرض کی ۔ حضورؐ! اب تو بہت اچھا ہے مگر حضورؐ دوائی کھا لیویں۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ’’صفیہ کو بات خوب یاد رہتی ہے۔‘‘

﴿1330﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مائی بھاگو ومائی بھانو صاحبہ قادر آباد نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک میراسی کہا کرتا تھا کہ حضرت صاحبؑ بچپن میں پڑھنے کی طرف بہت متوجہ رہتے تھے اور گھر سے جو کھانا آتا وہ غرباء میں تقسیم کر دیا کرتے۔ کبھی گھر سے جا کر کھانا اٹھا لاتے۔ گھر والوں کو معلوم ہوتا کہ آپؐ تمام کھانا لے گئے ہیں۔ اس پر آپؐ کے والد صاحب فرماتے کہ ان کو کچھ نہ کہا کرو۔

﴿1331﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان میں بواسطہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مجھے مائی فجو کے ہاتھ بلایا۔ حضور علیہ السلام اس وقت بیت الفکر میں بیٹھے تھے۔ میں دروازہ میں آ کر بیٹھ گئی۔ میں نے عرض کی کہ ہمارا دل نہیں چاہتا کہ ہم جائیں کیونکہ ہم ہجرت کر کے آئے ہیں۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”کوئی فرق نہیں پڑتا۔ خدا تعالیٰ پھر لے آئے گا۔ فی امان اللہ۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔“

﴿1332﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ عنایت بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا محمد علی صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں کئی بار بیعت کرنے کو گئی۔ ہم چار عورتیں تھیں۔ جب حضرت صاحب عصر کے بعد باہر سے تشریف لائے تو فرمایا کہ ”تُم یوں بیٹھی ہو جس طرح بٹالہ میں مجرم بیٹھے ہوتے ہیں۔“ ہم سب کی بیعت لی۔ میں نے اپنے لڑکے اسکول میں داخل کرائے ہوئے تھے۔ استاد نے مارا۔ میں نے جا کر حضورؐ کے پاس شکایت کی۔ آپ نے فرمایا ”اب نہیں مارینگے۔ تم کوئی فکر نہ کرو۔“ میں نے کہا حضورؐ یتیم لڑکا ہے۔ اسکول والوں نے فیس لگا دی ہے۔ فرمایا ”فیس معاف ہو جائے گی۔ علاوہ اس کے ایک روپیہ ماہوار جیب خاص سے مقرر فرمایا۔ میں نے عرض کی کہ حضور یہ بورڈنگ میں نہیں جاتا، روتا ہے۔ آپ نے فرمایا ”کچھ حرج نہیں گھر میں ہی رہے۔“

﴿1333﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ خورشید بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کہا کہ میری پھوپھی صاحبہ (حضرت مصلح موعود کی تائی) نے ہمیں بتایا کہ ایک بار حضرت صاحبؓ چالیس دن تک ایک کمرہ میں رہے۔ گھر والے کچھ کھانا بھیج دیتے کبھی آپ کھا لیتے کبھی نہ کھاتے۔ جب چالیس دن کے بعد باہر تشریف لائے تو آپ نے فرمایا۔ خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے کہ ”جو بھی دنیا کی نعمتیں ہیں وہ میں سب تم کو دوں گا۔ دور دراز ملکوں سے لوگ تیرے پاس آویں گے۔“ تو ہم سب ہنستے تھے۔ اب دیکھو وہ سب باتیں پوری ہو گئیں۔

﴿1334﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ مولوی حکیم قطب الدین صاحب قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ نے فرمایا۔ ”عرق مکو کی بوتل لاؤ“۔ میں لے گئی۔ آپ اکثر ٹہلا کرتے تھے۔ آپ کی چابیوں کا گُچھا ازار بند میں بندھا ہوا ہوتا تھا جو کہ لاتوں سے لگتا رہتا تھا۔ میری لڑکیاں زندہ نہیں رہتی تھیں ۔ جب یہ چھٹی پیدا ہوئی جس کا نام عائشہ ہے تو میں اس کو لے کر حضور کی خدمت میں گئی۔ حضرت ام المومنین نے فرمایا کہ ”حضرت جی! اس کی لڑکیاں زندہ نہیں رہتیں۔ مرجاتی ہیں۔ آپ دعا کریں کہ یہ زندہ رہے اور اس کا نام بھی رکھ دیں“۔ حضور علیہ السلام نے لڑکی کو گود میں لے کر دعا کی اور فرمایا۔ ”اس کا نام جیونی ہے۔“ چونکہ جیونی اس نائن کا نام بھی تھا جو خادمہ تھی۔ میں نے کہا کہ حضورؐ جیونی تو نائن کا نام بھی ہے۔ حضورؐ نے فرمایا۔ ”جیونی کے معنی ہیں زندہ رہے۔ اس کا اصل نام عائشہ ہے“۔ اب یہ میری چھٹی لڑکی خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے اب تک زندہ ہے اور صاحب اولاد ہے۔

﴿1335﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۔ اللہ جوائی صاحبہ اہلیہ مستری قطب الدین صاحب وطن گجرات گولیکی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میرا سب خاندان احمدی تھا صرف میں ہی غیر احمدی تھی۔ میری دیورانی نے ایک روز کہا کہ امام مہدی آیا ہوا ہے اسے مان لو۔ میں نے جواب دیا کہ میرا امام مہدی آسمان سے اترے گا۔ میں اسے مانوں گی تمہارا آگیا ہے تم اس کو مان لو، میں نہیں مانتی۔ میں نے ان دنوں میں نماز بھی چھوڑ دی تھی محض اس لئے کہ احمدیوں کے گھر میں نماز پڑھنے سے میری نماز ضائع ہو جاوے گی۔ اس کے بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک سڑک بہت لمبی چوڑی ہے اس پر بہت سے آدمی پھاوڑے لئے کھڑے ہیں اور سب سے آگے میں ہوں۔ ایک شخص سفید کپڑے اور سفید داڑھی والا خوبصورت درمیانہ قد ہے۔ وہ شخص یہ آواز دے رہا ہے کہ احمدیوں کا ٹولہ آرہا ہے۔ دوزخ کی نالیں بند کر دو۔ یہ آواز اس شخص نے دو دفعہ دی۔ ایک اور شخص دراز قد سیاہ فام جس کے سر پر سرخ ٹوپی تھی۔ اٹھا اس نے بڑے بڑے ڈھکنے ہاتھ میں پکڑ کر دروازوں کو بند کر دیا۔ آگے ایک دروازہ ہے میں اس میں سے گزری۔ تو دیکھا کہ اس میں اندر سبز رنگ کے نہایت خوبصورت درخت ہیں اور گھاس کا بھی بہت ہی سبزہ ہے۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے صبح اٹھ کر نماز شروع کر دی۔ میری دیورانی نے مجھ سے دریافت کیا کہ آج تو نے نماز کس لئے پڑھی ہے؟ میں نے کہا کہ میں آج امام مہدی پر ایمان لے آئی ہوں۔

﴿1336﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میرے والد مولوی عبدالغنی صاحب نو مسلم تھے۔ میں تین سال کی تھی کہ ابا فوت ہو گئے تھے۔ میرے چھ بھائی تھے اور میں اکیلی ان کی بہن تھی کہ ہم یتیم ہو گئے تھے۔ میں اپنے دونوں چھوٹے بھائیوں ڈاکٹر اقبال علی غنی اور منظور علی صاحب مرحوم سے بڑی تھی۔ ہم امرتسر میں رہتے تھے۔ میرے دونوں بڑے بھائی ڈاکٹر علی اظفر صاحب اور فیض علی صابر جب جوان ہوئے تو مشرقی افریقہ چلے گئے تھے اور وہیں احمدی ہو گئے تھے۔

میں کوئی بارہ سال کے قریب عمر کی ہوں گی کہ بھائی فیض علی صابر صاحب کو دو تین دن کے واسطے گھر امرتسر آنے کا موقع ملا۔ وہ اتفاق اس طرح ہوا کہ ان کی اور ڈاکٹر رحمت علی صاحب مرحوم مغفور کی نوکری یوگنڈا ریلوے کے مریض قلیوں اور ملازموں کو جو بیمار ہو کر کام کے لائق نہیں رہے تھے واپس بمبئی تک پہنچانے کی لگی۔ ان کے جہاز نے ایک ہفتہ قیام کے بعد بمبئی سے واپس ممباسہ کو جانا تھا اس موقعہ کو غنیمت سمجھ کر یہ دونوں حضرت مسیح موعودؑ سے دستی بیعت کرنے کے واسطے روانہ ہو پڑے۔ رات کو بارہ بجے امرتسر گھر پہنچے صبح کو قادیان چلے گئے۔ دوسرے دن بیعت کر کے آئے اور واپس بمبئی چلے گئے۔

﴿1337﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میری والدہ مکرمہ مرحومہ مدفوند بہشتی مقبرہ نمبر ۱۳۰ بہت نیک پاک اور عبادت گزار تھیں، جب ان کو معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے احمدی ہو گئے ہیں تو اس لحاظ سے کہ وہ نیک ہو گئے ہیں اور نماز روزہ کے پابند بھی ہو گئے ہیں وہ خوش تھیں۔ لیکن ہمارے ہمسایہ اور رشتہ دار ان کو ڈراتے تھے کہ تیرے بیٹے کافر ہو گئے ہیں۔ مرزا صاحب کی نسبت طرح طرح کے اتہام لگاتے اور بکواس کرتے تو وہ رویا کرتی تھیں اور دعا مانگتی تھیں۔ کہ اللہ کریم! ان کی اولاد کو سیدھے رستہ پر رکھے۔ میرے دل میں اس وقت سے کچھ اثر یا ولولہ احمدیت کا ہو گیا تھا جسے میں ظاہر نہیں کر سکتی تھی۔ رشتہ دار مخالف تھے۔ ان کے بہکانے سے والدہ بھی مخالف ہی معلوم ہوتی تھیں۔ اتفاق یہ ہوا کہ بھائی فیض علی صاحب صابر قریباً ایک سال کے بعد بیمار ہو جانے کے وجہ سے ملازمت چھوڑ کر واپس آ گئے۔ گھر میں کوئی نگران بھی نہ تھا اس لئے بھی دوسرے بھائیوں نے ان کو بھیج دیا۔ ان دنوں میرے دوسرے دو بھائی مظہر علی طالب اور منظر علی وصال بھی افریقہ چلے گئے ہوئے تھے۔ بھائی فیض علی صاحب صابر جب واپس آئے تو قادیان آتے جاتے رہتے تھے اور گھر میں وہاں کے حالات سنایا کرتے تھے جس سے مجھے تو گونہ تسلی ہوتی لیکن والدہ ماجدہ مرحومہ کو مخالفوں نے بہت ڈرایا ہوا تھا۔

﴿1338﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ہمارے گھر میں پرانے رسم ورواج اور پردہ کی بڑی پابندی تھی۔ کنواریوں کو سخت پابندی سے رکھا جاتا تھا۔ اچھی وضع کے کپڑے، مہندی، سرمہ اور پھول وغیرہ کا استعمال ان کے لئے ناجائز تھا۔ ایک مرتبہ بھائی صاحب چھوٹے بھائیوں کے واسطے کوٹوں کا کپڑا لائے۔ میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ میں بھی اس کی صدری بنا سکتی بچپن کی بات تھی۔ اللہ تعالیٰ کا معاملہ بھی بچوں سے اسی طرح کا علیٰ قدر مراتب ہوتا ہے۔ میں نے خیال کیا کہ اگر حضرت صاحبؑ سچے ہیں تو خدا کرے اس کپڑے میں سے کوٹوں کی وضع کے بعد میری صدری کے قابل کپڑا بچ جاوے۔ چنانچہ جب کپڑا بچ گیا تو میں حیران تھی۔ میرا دل صدری پہننے کو چاہتا تھا مگر زبان نہیں کھول سکتی تھی۔ پھر میں نے دعا کی اگر حضرت مرزا صاحب سچے ہیں تو میری صدری بن جائے۔ اور ڈرتے ڈرتے اماں جی سے کہا کہ میں اس کی صدری بنالوں؟ یہ سن کر وہ سخت خفا ہونے لگیں کہ لڑکیاں بھی کبھی صدری پہنا کرتی ہیں؟ اس وقت بھائی صاحب پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ بول پڑے کہ کونسی شریعت میں لڑکیوں کو صدری پہننا منع ہے؟ اس پر والدہ صاحبہ نے وہ کپڑا میری طرف پھینک دیا۔ میں نے کاٹ کر کے شام تک اس کی صدری سی لی۔ جس میں دو جیب بنالئے تھے۔ جب اس کو پہنا تو خیال ہوا کہ جیب خالی نہ ہونا چاہئے اس پر پھر خیال آیا کہ اگر حضرت مرزا صاحبؑ سچے ہیں تو مجھے کہیں سے ایک روپیہ بھی مل جاوے۔ اللہ کریم نے اس کو بھی پورا کر دیا۔ مجھے ایک روپیہ بھائی نے خود ہی دے دیا۔

﴿1339﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ منشی نبی بخش صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ ”ہمارے ہاں سوہانجنے کا اچار بیٹھ جایا کرتا ہے“۔ منشی نبی بخش صاحب نے کہا۔ ”میری بیوی سوہانجنے کا اچار بہت اچھا ڈالتی ہے“ اس پر حضرت صاحب نے حضرت ام المومنین سے کہہ کر مجھ سے تین چار چاٹیاں اچار کی ڈلوائیں اور وہ بہت اچھا رہا۔

﴿1340﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جب ہم آگرہ میں تھے وہاں ڈاکٹر صاحب مرحوم صبح کو اٹھے تو بہت گھبرائے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ اسی حالت میں ہسپتال اپنی ڈیوٹی پر چلے گئے جب دو بجے واپس آئے تو ویسے ہی پریشان سے تھے۔ پوچھا کہ کوئی خط حضورؐ کا قادیان سے آیا ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ فرمایا کہ حضرت اقدس کا خط کئی دن سے نہیں آیا۔ خدا کرے خیریت ہو۔ طبیعت بہت پریشان ہے۔ میں کھانا لائی تو آپ ٹہل رہے تھے کہا، دل نہیں چاہتا۔ جب حضرت صاحب کے خط کو دیر ہو جاتی تو ڈاکٹر صاحب بہت فکر کرتے اور گھبراہٹ میں ٹہلا کرتے اور کہتے خدا کرے حضورؐ کی صحت اچھی ہو۔ ابھی ٹہل رہے تھے کہ قادیان سے حضورؐ کا تار آیا۔ جس میں لکھا تھا کہ حضرت اُم المومنین کی طبیعت خراب ہے۔ آپ ایک ہفتہ کی رخصت لے کر چلے آئیں۔ مجھے کہا، دیکھا میری پریشانی کا یہی سبب تھا۔ مجھے کہا کہ مجھے بھوک نہیں ہے۔ میرے واسطے سفر کا سامان درست کرو۔ میں صاحب سے رخصت لے آؤں۔ دعا کرنا کہ رخصت مل جاوے۔ ایک گھنٹہ کے بعد دس یوم کی رخصت لے کر قادیان چلے گئے۔ ان دنوں میں صاحبزادی امتۃ الحفیظ سلمہا پیدا ہونے والی تھیں۔ اس لئے حضرت اُم المومنین کی طبیعت ناساز تھی۔ جب ڈاکٹر صاحب واپس آئے تو حبشی حلوہ جو حضرت اُم المومنین نے خود بنایا تھا۔ آپ کو راستہ میں ناشتہ کے واسطے دیا تھا، ساتھ لائے اور مجھے بطور تبرک کے دیا۔

﴿1341﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ رحیمن اہلیہ صاحبہ منشی قدرت اللہ صاحب ریاست پٹیالہ نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میری شادی کے چھ ماہ بعد مجھے میرا خاوند قادیان میں لایا اور ایک خط لکھ کر دیا کہ یہ حضرت صاحب کے پاس لے جاؤ۔ میں خط لے کر گئی۔ حضورؐ نے وہ خط پڑھا اور مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ ”تمہارے میاں ڈاکٹر ہیں؟“ میں نے کہا کہ نہیں حضورؐ ! آپ نے فرمایا ”کیا حکیم ہیں“ میں نے عرض کیا نہیں حضورؐ۔ آپؐ نے فرمایا۔ ”پھر وہ کس طرح کہتے ہیں کہ تمہارے ہاں اولاد نہیں ہوگی۔ تمہارے ہاں اتنی اولاد ہوگی کہ تم سنبھال نہ سکو گی“ اس واقعہ کے نو یا دس ماہ بعد مجھے ایک لڑکا پیدا ہوا اور اس وقت میں سولہ بچوں کی ماں ہوں۔ جن میں سے آٹھ بفضلہ تعالیٰ زندہ ہیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذَالِکَ۔

﴿1342﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ والدہ محترمہ ڈاکٹر چوہدری شاہ نواز صاحب زوجہ چوہدری مولا بخش صاحب چونڈے والے سر رشتہ دار نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں نے ۶؍مئی ۱۹۰۱ء میں بیعت کی تھی۔ میں بڑے دلان میں آکر اتری تھی۔ میں پہلے آٹھ یوم رہی تھی۔ میری گود میں لڑکا تھا۔ حضرت اماں جان نے پوچھا۔ اس کا کیا نام ہے؟ میں نے عرض کیا۔ ”مبارک احمد“ انہوں نے فرمایا کہ ہمارے مبارک کا نام رکھ لیا ہے۔ حضورؐ نے مسکرا کر فرمایا کہ ”جیتا رہے۔“

مجھے بچپن سے ہی نماز روزہ کا شوق تھا۔ جب میں بیعت کر کے چلی گئی تو مجھے اچھی اچھی خوابیں آنے لگیں۔ میرے خواب میرے خاوند مرحوم کاپی میں لکھتے جاتے ۔ جب ایک کاپی لکھی گئی تو حضورؐ کی خدمت میں اس کو بھیجا اور پوچھا کہ حضورؐ ! یہ خوابیں کیسی ہیں؟ رحمانی ہیں یا شیطانی؟ حضور علیہ السلام نے لکھ بھیجا تھا کہ ”یہ سب رحمانی ہیں۔“

﴿1343﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ برکت بی بی صاحبہ اہلیہ حکیم مولوی رحیم بخش صاحب مرحوم ساکنہ ٹلونڈی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں نے ۱۹۰۴ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کی تھی۔ پہلے جب میں اپنے خاوند مرحوم مغفور کے ساتھ قادیان میں آئی تھی تو میں آنگن میں بیٹھی تھی۔ جمعہ کا دن تھا، حضور علیہ السلام نے مہندی لگائی ہوئی تھی اور کمرے میں سے تشریف لائے تھے۔ مجھے فرمایا کہ ”تم رحیم بخش کی بیوی ہو؟ میرے ساتھ چھوٹی بچی تھی۔ حضورؐ نے فرمایا ”یہ تمہاری لڑکی ہے؟“ فرمایا ”تمہارا کوئی لڑکا بھی ہے“ میں نے عرض کیا کہ نہیں ، صرف یہی لڑکی ہے۔ ”اچھا“ فرما کر اندر تشریف لے گئے۔

﴿1344﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مائی رکھی خادمہ لکے زئی فیض اللہ چک والدہ نذیر نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ بھائی حامد علی صاحب کے پیٹ میں تلی تھی۔ وہ حضور علیہ السلام سے علاج کرانے آتے تھے۔ جب اچھے ہو گئے تو حضورؐ کے خادم بن کر یہاں ہی رہ گئے اور اپنی بیوی کو بھی بلا لیا۔ حافظ نور محمد صاحب والد رحمت اللہ شاکر بھی قادیان آگئے۔ حضورؐ نے حافظ نور محمد صاحب کے والد صاحب سے کہا کہ ”اپنا بیٹا ہمیں دے دو۔“ مگر اس نے کہا کہ میرا ایک ہی بیٹا ہے، آپ کو کس طرح دے دوں۔ یہ آٹھویں دن حاضر ہو جایا کرے گا۔ حافظ حامد علی صاحب پانچ بھائی تھے۔ یہ دونوں حافظ تھے۔ (حضورؐ نے) قرآن مجید سننے کے واسطے ان کو اپنی خدمت میں رکھ لیا تھا۔

﴿1345﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم و مغفور نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب فنانشل کمشنر صاحب دورہ کی تقریب پر قادیان تشریف لائے تھے تو حضرت اقدسؑ نے جماعت کے معززین کو طلب فرمایا تھا تو ڈاکٹر صاحب رضی اللہ عنہ کو بھی بذریعہ تار طلب کیا تھا۔ وہ تین یوم کی رخصت لے کر آئے تھے۔ میں قادیان میں ہی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے حضور مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے حضورؐ کے قدموں سے جدا رہنا مصیبت معلوم ہوتا ہے، میرا دل ملازمت میں نہیں لگتا۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”سردست ملازمت چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔ تم ایک سال کے واسطے آجاؤ۔ اکٹھے رہیں گے۔ زندگی کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔“ چنانچہ وہ حضورؐ سے اجازت لے کر ایک سال کی رخصت حاصل کر کے قادیان آگئے۔

﴿1346﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ فضل بیگم صاحبہ اہلیہ محترمہ مرزا محمود بیگ صاحب پٹی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ خربوزے رکھے تھے تو میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ سرور سلطان صاحبہ اہلیہ محترمہ مرزا بشیر احمد صاحب کہنے لگیں۔ ”نظر نہیں آتا۔ کیا ہے؟“ حضرت صاحب نے فرمایا کہ ”نرمی سے بولا کرو اگر تم پٹھانی ہو تو وہ مغلانی ہے اس لئے محبت سے پیش آیا کرو۔“

﴿1347﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ فقیر محمد صاحب بڑھئی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ہمیں پانی کی کمی کی وجہ سے بہت تکلیف تھی۔ ہم سب گاؤں کے آدمیوں نے مل کر مشورہ کیا کہ حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کریں کہ وہ کنواں لگوا دیں۔ حضرت صاحبؓ، اور بہت سے آدمی آپ کے ہمراہ تھے۔ اس وقت کوٹھیوں کے آگے جو رستہ ہے اس رستے سیر کو جا رہے تھے۔ جب واپس ہمارے گاؤں کے قریب آئے تو لوگوں نے عرض کی کہ حضورؐ پانی کی تکلیف ہے۔ آپؐ نے فرمایا ”انشاء اللہ بہت پانی ہو جائے گا۔“ اس وقت گاؤں کے چاروں طرف پانی ہی پانی ہے۔

﴿1348﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ بابو فخر الدین صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں اپنے وطن میانی میں تھی کہ میرے لڑکے اسحق کو جس کی عمر اس وقت دوسال کی تھی۔ طاعون کی دو گلٹیاں نکل آئیں۔ ان دنوں یہ بیماری بہت پھیلی ہوئی تھی۔ ہم بہت گھبرائے اور حضرتؓ کے حضور دعا کے لئے خط لکھا۔ لڑکا اچھا ہو گیا تو ایک ماہ کے بعد میں اس کو لے کر قادیان آئی اور اس کو حضورؐ کے سامنے پیش کیا کہ یہ وہی بچہ ہے جس کو طاعون نکلی تھی۔ حضورؐ اس وقت لیٹے ہوئے تھے۔ سنتے ہی اٹھ بیٹھے اور فرمایا۔ ’’اس چھوٹے سے بچہ کو دو گلٹیاں نکلی تھیں؟‘‘ اب خدا کے فضل سے وہ بچہ جوان اور تندرست ہے۔

﴿1349﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ صفیہ بیگم صاحبہ شاہجہانپوری اہلیہ شیخ غلام احمد صاحب نو مسلم واعظ مجاہد نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”صفیہ! گرم پانی کا لوٹا پائخانہ میں رکھو۔“ مجھ سے کچھ تیز پانی زیادہ پڑ گیا۔ جب حضورؐ باہر آئے تو مجھے کہا۔ ”ہاتھ کی پشت کرو، اور پانی ڈالنا شروع کیا اور ہنستے بھی جاتے تھے۔ پھر فرمایا۔ ”پانی تیز لگتا ہے؟ میں نے کہا لگتا تو ہے۔ آپؐ نے فرمایا ”اتنا تیز پانی نہیں رکھنا چاہئے ۔“

﴿1350﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ برکت بی بی صاحبہ اہلیہ حکیم مولوی رحیم بخش صاحب مرحوم ساکنہ تلوانڈی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن آپ لیٹے ہوئے تھے اور میں پیر دبا رہی تھی۔ کئی طرح کے پھل لیچیاں، کیلے، انجیر اور خربوزوں میں سے آپ نے مجھے بہت سے دئے۔ میں نے ان کو بہت سنبھال کر رکھا کہ یہ بابرکت پھل ہیں۔ ان کو میں گھر لے جاؤں گی تاکہ سب کو تھوڑا تھوڑا بطور تبرک کے دوں۔ جب میں جانے لگی تو حضورؐ نے اماں جان کو فرمایا کہ برکت کو وائی برنم دے دو۔ اس کے رحم میں درد ہے (ایکسٹریکٹ وائی برنم لیکوئڈ ایک دو ارحم کی اصلاح کے واسطے ہوتی ہے۔) یہ مجھے یاد نہیں کہ کس نے دوا لا کر دی۔ حضورؐ نے دس قطرے ڈال کر بتایا کہ دس قطرے روز صبح کو پیا کرو۔ میں گھر جا کر پیتی رہی۔

﴿1351﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ برکت بی بی صاحبہ اہلیہ حکیم مولوی رحیم بخش صاحب مرحوم ساکنہ تلوندَی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”میں تیسری بار قادیان میں آئی تو میرے پاس ایک کتاب رابعہ بی بی کے قصے کی تھی جسے میں شوق سے پڑھا کرتی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ ”برکت بی بی! لو یہ درثمین پڑھا کرو۔“

دوا پینے کے بعد مجھے حمل ہو گیا تھا جس کا مجھے علم نہ تھا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اور دو اور عورتیں بیٹھی ہیں کہ مجھے حیض آ گیا ہے۔ میں گھبرائی اور تعبیر نامہ دیکھا۔ اس میں یہ تعبیر لکھی تھی کہ ”جو عورت اپنے آپ کو حائضہ دیکھے وہ کوئی گناہ کرتی ہے۔“ مجھے یہ دیکھ کر سخت رنج ہوا۔ میں نفل پڑھتی اور توبہ استغفار کرتی اور خدا سے عرض کرتی۔ یا اللہ! مجھ سے کون سا گناہ ہوا ہے یا ہونے والا ہے؟ تو مجھے اپنے فضل سے بچا اور قادیان آئی۔ حضورؑ کے پاؤں دبا رہی تھی کہ میں نے عرض کی۔ ’حضورؑ مجھے ایک ایسی خواب آئی ہے جس کو میں حضورؑ کی خدمت میں پیش کرنے سے شرم محسوس کرتی ہوں، حالانکہ نہیں آنی چاہئے کیونکہ حضورؑ تو خدا کے بھیجے ہوئے ہیں۔ آپ سے نہ عرض کروں گی تو کس کے آگے بیان کروں گی۔ پھر میں نے حضورؑ کی خدمت میں وہ خواب بیان کی۔ حضورؑ نے فرمایا کہ ”وہ کتاب جو سامنے رکھی ہے وہ اٹھا لاؤ“۔ میں لے آئی آپ نے کتاب کھول کر دیکھا اور بتایا کہ ”جو عورت ایسا خواب دیکھے۔ تو اگر وہ حاملہ ہے تو لڑکا پیدا ہو گا اور اگر حاملہ نہیں تو حمل ہو جائے گا۔“ میں نے عرض کی کہ مجھے حضور علیہ السلام کی دوا اور دعا سے حمل ہے۔ آپ نے فرمایا۔ ”اب انشاء اللہ لڑکا پیدا ہو گا۔“

﴿1352﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ والدہ صاحبہ فاطمہ بیگم بیوہ میاں کریم بخش صاحب باورچی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک شخص جس کے سپرد گائے بھینس وغیرہ کا انتظام تھا وہ چوری سے چیزیں بھی نکال کر گھر کو لے جایا کرتا تھا۔ میاں کریم بخش صاحب نے اس کو منع کیا کہ بھئی تو اس طرح چیزیں نہ نکالا کر مگر وہ لڑ پڑا۔ میں نے جا کر حضور علیہ السلام کو بتایا کہ وہ اس طرح سے کرتا ہے میاں کریم بخش نے اس سے کہا تو وہ لڑ پڑا۔ حضور علیہ السلام نے اس کو کہا۔ ”ہم ایسے آدمی کو نہیں چاہتے۔“

﴿1353﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم حضور علیہ السلام کے ساتھ باغ میں سیر کو گئیں۔ (یہ باغ حضرت کی ملکیت تھا جو ڈھاب کے پار ہے) اس میں صرف آم، جامن اور شہتوت وغیرہ کے درخت تھے۔ کوئی پھول پھلواری اور ان کی کیاریاں وغیرہ زیبائش کا سامان نہیں تھا۔ بالکل تنہا وہ باغ تھا، تو حضور علیہ السلام نے سب کو جامن کھلائے۔ ایک بار حضورؑ نے چڑوے ریوڑیاں کھلائیں، حضرت اُمّ المومنین بھی ساتھ ہو تی تھیں، چھابڑی والے بعض اوقات وہاں پہنچ جایا کرتے تھے۔

﴿1354﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مغلانی نور جان صاحبہ بھاوجہ مرزا غلام اللہ صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ڈاکٹر نور محمد صاحب کی بیوی نے حضرت اُمّ المومنین صاحبہ سے پوچھا کہ نور جان نے ایسا ارائیوں والا لباس پہنا ہوا ہے۔ آپ اس کو اپنی نند کیوں کہتی ہیں۔ آپ نے کہا کہ اس کے بھائی سے پوچھو۔ پھر آپؐ سے پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا۔ کہ ”صرف لباس کی وجہ سے ہم بہن کو چھوڑ دیں؟ یہ خود سادگی پسند کرتی ہیں۔ پہلے ایسا ہی لباس ہوتا تھا“۔

﴿1355﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم مغفور نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میرے بھائی صاحب فیض علی صاحب صابر کا خیال تھا کہ وہ اپنے چھوٹے بھائیوں اقبال علی غنی اور منظور علی کو قادیان میں تعلیم دلائیں جس کے متعلق انہوں نے بصد مشکل والدہ ماجدہ مرحومہ کو راضی کیا اور جب اس طرح یہ دونوں چھوٹے بھائی قادیان چلے گئے تو کچھ اس خیال سے کہ والدہ کو ان کی جدائی شاق ہوگی اور کچھ بھائی صاحب کی بار بار تحریک سے کہا کہ میں نے بھی قادیان رہنا ہے اور قرآن مجید پڑھنا ہے، آپ بھی چلیں اور وہاں حالات دیکھیں۔ والدہ مرحومہ اس وعدہ پر راضی ہوئیں کہ وہ صرف چند یوم کے واسطے جائیں گی اور الگ مکان میں رہیں گی اور کہ ان کو حضرت صاحبؑ کے گھر جانے وغیرہ کے واسطے ان کی خلاف مرضی ہرگز مجبور نہ کیا جاوے۔ چنانچہ بھائی صاحب نے ایک مکان خوجہ کے محلہ میں مرادو ملانی کا جو شیخ یعقوب علی تراب کے مکان کے ساتھ گلی کے کونے پر تھا، کرایہ پر لے لیا۔ اور مجھے اور حضرت بوبوجی (اماں جی) کو لے آئے۔ میں نے کبھی ریل نہ دیکھی تھی۔ بوبوجی کو راستہ میں یکہ اور کچی سڑک کے باعث بہت تکلیف ہوئی۔ چکر آئے اور قے بھی ہو گئی۔ اس مکان پر پہنچ کر وہ تو مصلے پر لیٹ گئیں، میں نماز سے فارغ ہو کر کھانا پکانے میں لگ گئی۔ بھائی صاحب نماز پڑھنے چلے گئے۔ بوبوجی نے اس گھبراہٹ میں ہی نماز پڑھی۔ قبلہ کی جانچ بھی نہ کی۔ نماز کے بعد وہیں غنودگی میں لیٹے تھے کہ بھائی صاحب آگئے۔ والدہ بوبوجی نے اچانک بیدار ہوکر کہا کہ میں نے ابھی ایک بزرگ سفید ریش کو دیکھا۔ جن کے ہاتھ میں عصا تھا۔ انہوں نے تین دفعہ فرمایا، ’یا حضرت عیسیٰؑ‘ اس پر بھائی صاحب نے کہا کہ بوبوجی آپ کو تو آتے ہی بشارت ہوگئی ہے اب آپ کو زیادہ تأمل بیعت میں نہیں کرنا چاہئے‘۔

﴿1356﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب ہم کو مراد وملانی کے مکان میں رہتے ہوئے چند دن گزر گئے تو ہمسائیوں کی عورتیں گھر میں آنے جانے لگیں اور ان کو معلوم ہوا کہ بوبوجی کو لوگوں نے ڈرایا ہوا ہے تو با وجودیکہ وہ بھی مخالفین میں سے تھیں مگر انہوں نے بتایا کہ مرزا صاحب میں کوئی بات خوف کرنے کی نہیں ہے۔ وہ تو بچپن سے ہی ہم جانتی ہیں بہت نیک پاک ہے نمازی پرہیز گار ہے۔

بوبوجی کو مخالفوں نے یہاں تک ڈرایا ہوا تھا کہ اگر تو جاتی ہے تو اپنی لڑکی کو ساتھ نہ لے جا۔ مرزا جادوگر ہے وہ اپنے مریدوں کو ایسا قابو کر لیتا ہے کہ وہ اس کی خاطر اپنی عزتوں کی بھی پروا نہیں کرتے۔ لیکن جب بوبوجی کا ڈر ہمسائیوں کے ملنے اور قادیان میں دو تین ہفتہ تک رہنے سے کچھ کم ہوا ۔ تو ان کو حضرت صاحب کے گھر جانے کی جرأت ہوگئی۔ ایک دن وہ چند ہمسائیوں کو لے کر دل کڑا کر کے حضرت اقدسؑ کے گھر گئیں۔ حضرت اقدسؑ کو دیکھ کر انہوں نے پہچان لیا کہ یہ تو وہی بزرگ ہے جس کو انہوں نے پہلے دن کشف میں دیکھا تھا۔

﴿1357﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”دوسرے دن بوبوجی مجھے ساتھ لے کر گئیں۔ تو پہلے قدرت اللہ خان کی بیوی سے ملے۔ اونچے دالان کے سامنے تخت پوش پر جہاں ڈاکٹر نی اور اُمّ حبیبہ بیٹھی ہوئی تھیں ہمیں بٹھا دیا اور ہم سے پتہ معلوم کر کے حضرت اقدسؑ کو اطلاع دی کہ مہمان عورتیں آئی ہیں۔ حضرت اقدسؑ اور اُمّ المومنین تشریف لے آئے۔ بوبوجی نے پردہ کیا۔ ڈاکٹرنی نے کہا کہ اللہ کے نبی سے پردہ نہیں کرنا چاہئے۔ مگر انہوں نے کہا کہ مجھے شرم بھی آتی ہے اور پردہ کا رواج بھی ہمارے گھر میں زیادہ ہے۔ حضرت کے دریافت کرنے پر جب حضورؑ کو معلوم ہوا کہ یہ ڈاکٹر فیض علی صاحب کی والدہ ہیں تو آپؐ نے فرمایا کہ کہاں ٹھہرے ہو اور کب سے آئے ہو؟ والدہ نے عرض کیا کہ پندرہ دن ہوئے ہیں۔ ہم مراد و ملانی کے مکان میں رہتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا۔ ”کھانے کا کیا انتظام ہے؟“ بوبوجی نے کہا کہ خود پکا لیتے ہیں۔ فرمایا کہ ”افسوس کی بات ہے کہ ہمارے مہمان ہو کر خود کھانا پکائیں۔ آپ کو معلوم نہیں کہ قادیان میں جو مہمان آتا ہے وہ ہمارا ہی مہمان ہوتا ہے۔ آپ کو ڈاکٹر فیض علی نے نہیں بتایا؟“ بوبوجی نے کہا ہم پانچ چھ آدمی ہیں۔ حضور علیہ السلام کو تکلیف دینا مناسب نہ تھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ ہمارا حکم ہے کہ ہمارے مہمان ہمارے گھر سے ہی کھانا کھائیں۔ فرمایا کہ ”دادی کہاں ہیں؟“ دادی نے کہا۔ ”حضور جی! میں کولے کھڑی آں۔“ فرمایا ”ان کے ساتھ جا کر گھر دیکھ لو اور دونوں وقت کھانا پہنچا آیا کرو اور پوچھ لیا کرو کہ کوئی تکلیف تو نہیں ہے۔“ میرے متعلق پوچھا کہ ”کیا یہ فیض علی کی لڑکی ہے؟“ بوبوجی نے بتایا کہ یہ میری لڑکی ہے۔ فیض علی کی تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی۔ پوچھا ”عمر کیا ہے؟“ بوبوجی نے بتایا چودہ سال۔ اس وقت دادی اور فجو ہمیں گھر چھوڑنے آئیں۔ کھانا لنگر سے آنے لگا۔ لنگر ابھی گھر میں ہی تھا۔ وہ جلسہ سالانہ کے ایام تھے۔ مہمانوں کا کھانا زردہ، پلاؤ وغیرہ بھی گھر ہی پکتا تھا۔ حضرت اُم المومنین صاحبہ کھانا خود تقسیم فرماتی تھیں۔ چند یوم کے بعد بوبوجی اور میں نے بیعت کر لی۔ بیعت مغرب کے بعد اونچے دالان کے ساتھ والے چھوٹے کمرے میں کی تھی۔ اس میں کھوری بچھا کر اوپر ٹاٹ کے ٹکڑے بچھائے ہوئے تھے اور دونوں طرف لکڑی کے دو صندوق تھے ایک پر موم بتی جل رہی تھی اور حضور علیہ السلام کچھ تحریر فرما رہے تھے۔ جگہ تنگ تھی۔ ہم دونوں دروازہ میں بیٹھ گئیں حضور علیہ السلام نے بیعت لی اور دعا فرمائی۔

﴿1358﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب ہم بیعت کر کے امرتسر واپس چلے گئے۔ میری عمر اس وقت پندرہ سال کی تھی۔ ایک سال کے بعد میرے بڑے بھائی علی اظفر صاحب مرحوم نے افریقہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں تحریر کیا کہ ”میری بہن کے رشتہ کا حضورؐ کو اختیار ہے، حضورؐ اس کے ولی ہیں، جہاں حضورؐ کی منشاء ہو، رشتہ کر دیں۔‘‘۔ اور اسی مفہوم کا ایک خط بھائی فیض علی صاحب صابر کو بھی لکھ دیا۔ پھر حضور علیہ السلام نے بھائی صاحب کو تحریر فرمایا کہ ’’آپ کے بڑے بھائی نے ہمیں ہی لڑکی کا سربراہ بنا دیا ہے، ان کا خط آیا ہے۔ ہم ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کو پسند کرتے ہیں۔ ان کو دیکھ لو اور چاہو تو ان سے اپنی ہمشیرہ کا نکاح کر دو۔ مگر بہتر ہو کہ پہلے ان کو اپنی ہمشیرہ دکھا بھی دو‘‘۔

﴿1359﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم و مغفور نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ڈاکٹر خلیفہ صاحب مرحوم و مغفور فرماتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے ڈاکٹر فیض علی صاحب کی طرف ایک تحریر دی جس میں رشتہ کا لکھا تھا۔ آپ رقعہ لے کر امرتسر گئے۔ امرتسر میں آپ کو حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب رحمۃ اللہ علیہ مل گئے۔ آپؑ نے دریافت فرمایا کہ ’’کیسے آئے ہو؟‘‘ ڈاکٹر صاحب نے بتایا تو حضرت نانا جانؓ نے کہا کہ ’’لاؤ رقعہ مجھے دو تم تو بڑے بھولے ہو۔ کوئی اپنے رشتہ کا پیغام خود بھی لے جاتا ہے؟ ہم خود پیغام لے کر جائیں گے‘‘۔ اس پر ڈاکٹر صاحب مرحوم وہ رقعہ حضرت میر صاحبؓ کے سپرد کر کے خود لاہور چلے گئے۔

﴿1360﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ڈاکٹر فیض علی صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میری ہمشیرہ کے رشتہ کا رقعہ حضرت اقدس علیہ السلام نے خود خلیفہ صاحب کو دیا تھا۔ چونکہ پہلے مجھ سے ان کا تعارف نہ تھا۔ یوں بھی شرمندگی سے وہ خود میرے پاس نہیں آئے اور حضرت میر صاحب نانا جانؓ کو بھیج کر خود لاہور چلے گئے تھے۔ میں دوسرے دن یہ ہدایت نامہ لے کر پہلے ڈاکٹر رحمت علی صاحبؓ کے پاس چھاؤنی میاں میر (لاہور) میں گیا۔ ڈاکٹر صاحب رقعہ دیکھ کر بہت خوش بھی ہوئے ہونگے۔ فرمایا۔ حضرت اقدسؑ کا حکم سر آنکھوں پر ہے۔ پھر میں آگے لاہور حویلی پتھراں والی ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کے پاس چلا گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ ’’دیکھنا ہے تو چل کر دیکھ لو۔ مگر سیرت جو نہایت ضروری ہے اسے کس طرح دیکھ کر معلوم کرو گے (میں نے کچھ ایسا ہی کہا تھا) مگر شاید وہ خود جا کر دیکھنے میں بھی شرمساری محسوس کرتے ہونگے۔ واللہ اعلم انہوں نے کہا کہ میں نے صورت وسیرت کے متعلق سن لیا ہے اور تمہارے چھوٹے بھائیوں کو بھی جو قادیان میں پڑھتے ہیں دیکھا ہے اور مجھے ہر طرح سے تشفی ہے۔ اس وقت تجویز یہ ہوئی کہ غالباً کل یا پرسوں قادیان پہنچ جاویں اور نکاح ہو جاوے۔ چنانچہ میں اور ڈاکٹر صاحب وقت پر قادیان میں پہنچ گئے۔ جب نکاح پڑھا جا رہا تھا تو یہ دریافت کرنے پر کہ مہر کیا مقرر ہوا ہے میں نے کہہ دیا۔ جس نے یہ نکاح پڑھوایا ہے مہر کا بھی اس کو علم ہوگا اس پر حضرت اقدس فِدَاهُ اُمِّیْ وَاَبِیْ نے مبلغ۔/۲۰۰ روپے حق مہر مقرر فرما دیا۔ یہ نکاح بفضلہٖ تعالیٰ بہت مبارک ہوا۔ خدا کی باتیں خدا ہی جانے۔ شاید یہ میری اس نیک نیتی کا ثمر تھا کہ میں اپنی بہن کو محض نیک ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر رحمت علی صاحب رضی اللہ عنہ کے خواہ مخواہ گلے مڑھنا چاہتا تھا جس نے اس کے ایک دو سال بعد ہی لڑائی میں شہید ہو جانا تھا۔ اللہ کریم نے مجھے ایک اور نیک نفس اور ایسا متقی انسان دے دیا جو بہر صورت نعم البدل تھا۔

معلوم ہوتا ہے کہ پہلی مرتبہ حضرت صاحب نے اس وقت مجھے کہا تھا جبکہ حضورؐ کو مولوی محمد علی صاحب اور ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب کے لئے رشتوں کی ضرورت تھی۔ اس وقت فرمایا تھا کہ ”تم اپنے بھائیوں سے بھی مشورہ کرلو۔“ بھائی میرے افریقہ میں تھے۔ ان سے مشورہ کرتے ہوئے ایک دو مہینے ڈاک کے لگ جاتے مگر اس مرتبہ ویسا نہیں فرمایا۔ گویا یہ ایک تقدیر مبرم تھی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِک

﴿1361﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ (صاحبزادہ مبارک احمد مرحوم کی وفات کے بعد) حضور مسیح موعود علیہ السلام فِدَاهُ اُمِّیْ وَاَبِیْ اس جگہ جہاں ام ناصر احمد سلمہا کا آنگن ہے چار پائی پر بیٹھے یا لیٹے ہوئے تھے۔ حضرت ام المومنین پاس ہوتی تھیں۔ حضرتؐ اس طرح خوشی ہنسی باتیں کرتے تھے گویا کوئی واقعہ رنج اور افسوس کا ہوا ہی نہیں۔ عورتیں تعزیت کے واسطے آتیں تو حضور علیہ السلام کو اس حال میں راضی دیکھ کر کسی کو رونے کی جرأت نہ ہوتی اور حیران رہ جاتیں۔

﴿1362﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ برکت بی بی صاحبہ اہلیہ حکیم مولوی رحیم بخش صاحب مرحوم ساکنہ تلکونڈی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ میں حضور علیہ السلام کو وضو کرانے لگی۔ عصر یا ظہر کا وقت تھا۔ میری لڑکی نے مجھے کہا کہ اماں! یہ امام مہدی ہیں؟ میں نے کہا ہاں اس پر

حضورؐ نے دریافت فرمایا کہ ”یہ لڑکی کیا کہتی ہے؟“ میں نے عرض کیا کہ حضورؐ! یہ لڑکی پوچھتی ہے کہ امام مہدی یہی ہیں؟ حضور علیہ السلام نے ہنس کر فرمایا کہ ”ہاں! میں امام مہدی ہوں۔“

حضورؐ نے حکم دیا کہ انکے واسطے گوشت منگواؤ۔ حضرت خلیفہ اولؓ کی بیوی صاحبہ نے مجھے کہا کہ تم بہت خوش قسمت ہو۔ حضورؐ کی خاص توجہ تمہارے حال پر ہے۔

﴿1363﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ برکت بی بی صاحبہ اہلیہ حکیم مولوی رحیم بخش صاحب مرحوم ساکن تلوندّی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”میرے خاوند رضی اللہ عنہ نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں لکھا کہ میری بیوی بیمار ہے اس کے رحم میں درد رہتا ہے۔ حضرت اقدسؑ نے دریافت فرمایا تو میں نے عرض کیا کہ ”ہاں“ حضورؐ نے فرمایا ”اچھا میں علاج کروں گا۔“ اس کے بعد ہم واپس چلے گئے۔ جب آٹھ دن کے بعد میں پھر آئی تو گلابی کمرہ کے آگے کھڑی ہوئی تھی کہ حضور علیہ السلام تشریف لائے۔ میں نے السلام علیکم کہا حضورؐ نے فرمایا ”وعلیکم السلام“ اور نہایت محبت اور شفقت سے فرمایا:۔ ”برکت آگئی ہے“؟ اماں جان نے فرمایا: اپنے علاج کے واسطے آئی ہے۔ حضورؐ نے فرمایا ”نہیں وہ دین کی محبت رکھتی ہے۔“

﴿1364﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مائی رکھی کے زئی فیض اللہ چک والدہ نذیر نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن حضورؐ نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ ”تم اپنے ہمسائیوں کو جانتی ہو؟“ میں نے کہا ’خوب واقف ہوں۔ مغل مرزا محمد علی مرحوم تھے۔ ہمارا بہت آنا جانا تھا۔ فرمایا کہ محمد علی بیمار ہے میں دوا بنا دیتا ہوں اس کو پہنچا دو۔ رستہ میں گرا تو نہیں دو گی؟ میں نے کہا ’جی میں سیانی بیانی رستہ میں بھلا گرا دوں گی؟“ پھر دوا شیشی میں ڈال دی اور نشان لگا دیئے اور فرمایا کہ ’جا کر کیا کہو گی؟‘ میں نے کہا کہ میں کہوں گی کہ مسیح موعودؑ نے بھیجی ہے۔ پھر پوچھا ’مائی تابی تیری کیا لگتی ہے؟‘ میں نے عرض کیا کہ میری خالہ لگتی ہے۔ دریافت فرمایا کہ ”سگی خالہ؟“ میں نے عرض کیا کہ میری ماں کی خالہ زاد بہن۔ پھر میں دوا دینے چلی گئی۔ پھر ایک دن آئی تو پوچھا کہ ”گابو تیری کیا لگتی ہے؟“ میں نے کہا کہ بھاوج ہے۔ آپؐ ہی نے تو شادی کروائی تھی۔ اس کی ماں رشتہ دینے سے انکار کرتی تھی حضورؐ نے پھر رشتہ کروا دیا تھا۔

مائی تابی کی نواسی (برکت) کو حضورؐ نے مودی خانہ کی چابی دی اور اس کی ذمہ داری لگادی کہ وہی چیزیں نکال کر دیا کرے۔

﴿1365﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ جب میرے خاوند مرحوم و مغفور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحبؒ کے گھٹنوں میں درد تھا وہ چھ ماہ کی رخصت لے کر قادیان آئے تھے۔ درد بھی تھا لیکن یوں بھی ان کو کمال رغبت اس بات کی تھی کہ جہاں تک ہو سکے حضورؐ کے قدموں سے لگے رہیں۔ جب ہم آئے تو میری والدہ قادیان کے پرلے سرے پر ریتی چھلہ کی طرف ملاوامل کے مکان میں رہتی تھیں۔ ڈاکٹر صاحب نے حضورؐ سے اجازت طلب کی کہ چھوٹے بچوں کا ساتھ بھی ہے۔ اس وقت عزیزہ رضیہ بیگم سلمہا ۳؍سال کی تھیں اور سیدہ رشیدہ مرحومہ ایک سال دو ماہ کی ہو گئی تھی۔ ان کی والدہ اپنی ماں کے پاس رہنا چاہتی ہیں۔ ہمیں اجازت عطا فرمائی جاوے حضورؐ نے فرمایا۔ ’’نہیں تم میرے پاس ہی رہو تمہاری خوشدامن بھی تمہارے پاس آجاویں گی۔‘‘ چنانچہ اسی وقت مائی فجو کو بھیج کر انہیں بلا دیا۔

﴿1366﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ڈاکٹر صاحب کو جب گھٹنوں میں درد تھا اور وہ چھ ماہ کی رخصت لے کر آئے تو حضورؐ نے ہمیں گول کمرہ رہنے کو دیا۔ دوسرے دن جب حضورؐ صبح کو سیر کے واسطے حسب معمول تشریف لے جا رہے تھے تو ڈاکٹر صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ’’یہ مکان آپ کے لئے ہے اور آپ کا ہی ہے‘‘ جب ڈاکٹر صاحب سیر سے واپس آئے تو اس قدر خوش تھے کہ میں بیان نہیں کر سکتی۔ آپ خوشی سے جھومتے تھے اور حضرت اقدسؑ کی خوشنودی مزاج کے حصول پر تسبیح و تحمید کرتے تھے۔ جب رخصت ختم ہونے لگی اور صلاح الدین کی ولادت قریب تھی تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’کتنے دن آپ کی رخصت میں باقی ہیں؟‘‘ ڈاکٹر صاحب نے عرض کیا کہ ’’صرف بیس دن‘‘۔ پھر دریافت فرمایا کہ ’’تمہارے علم ڈاکٹری کی رو سے بچہ پیدا ہونے میں کتنے دن ہیں‘‘؟ تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ۹؍دن معلوم ہوتے ہیں۔ حضورؐ نے فرمایا ’’اچھا! ہم آپ کا اندازہ بھی دیکھ لیں گے اور دعا بھی کریں گے کہ آپ کی موجودگی میں ہی لڑکا پیدا ہو جائے“۔

﴿1367﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم و مغفور نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ صلاح الدین کی ولادت سے ایک دو دن قبل میری والدہ نے سموسے پکائے اور کچھ ان میں سے تھالی میں لگا کر رومال سے ڈھانپ کر حضورؐ کی خدمت میں لے گئی۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”کیا لائی ہو؟“ انہوں نے عرض کی کہ سموسے ہیں۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”میں نے خیال کیا تھا کہ لڑکا پیدا ہونے پر پتاشے لائی ہو“ حضور علیہ السلام جب ایسا ذکر ہوتا تھا لڑکا ہی فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ جب ٹھیک نو دن گزرنے پر لڑکا پیدا ہوا تو حضورؐ بہت خوش ہوئے نام ”صلاح الدین“ رکھا اور یہ بھی فرمایا کہ ”ڈاکٹر صاحب آپ کا حساب بھی ٹھیک نکلا“۔

﴿1368﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”صلاح الدین“ کے عقیقہ کے وقت ڈاکٹر صاحب نے دو بکرے منگوائے۔ میں نے کہا کہ کچھ مٹھائی بھی منگوا لو۔ میں نے منت مانی ہے کہ لڑکا ہو گا تو مٹھائی تقسیم کروں گی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ عقیقہ کرنا تو سنت ہے۔ لڈو بانٹنے بدعت نہ ہوں؟ حضورؐ سے پوچھ لیا جاوے۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ”خوشی کے موقعہ پر شیرینی بانٹنی جائز ہے“۔ پہلے دو بکرے کئے گئے تھے پھر ایک اور کیا گیا تھا۔ دوسرے دن کچھ گوشت بازار سے بھی منگایا گیا تھا تاکہ تقسیم پوری ہو جاوے۔ اس وقت مٹھائی چار سیر روپیہ کی تھی جو کہ اٹھارہ روپیہ کی منگوا کر تمام گھروں میں اور دفاتر و مہمانخانہ وغیرہ سب جگہ تقسیم کی گئی تھی۔ اب یہ عالم ہے کہ اگر ایک سو روپیہ کی مٹھائی بھی ہو تو پوری نہیں ہوگی۔ صلاح الدین سلمہ نو دن کا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کو فرخ آباد ملازمت پر حاضر ہونے کا حکم آگیا۔ آپؓ کا دل حضور کے قدموں سے جدا ہونے کو نہیں چاہتا تھا مگر مجبوری تھی۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”جاؤ“۔

﴿1369﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ برکت بی بی صاحبہ اہلیہ حکیم مولوی رحیم بخش صاحب مرحوم ساکنہ تلگنڈی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”میں دوبارہ ۱۹۰۳ء میں قادیان آئی اور وہ اگست کا مہینہ تھا۔ پشاور سے انگور کے ٹوکرے آئے ہوئے تھے۔ آپ نے امۃ الرحمٰن قاضی عبدالرحیم صاحب کی ہمشیرہ کو فرمایا۔ ’’پارسل کھولو‘‘ انگور کچھ خراب تھے۔ آپ بھی پاس بیٹھ ہوئے تھے۔ امۃ الرحمٰن سب کو دیتی رہی، جب مجھے دینے لگی تو آپ نے فرمایا کہ ’’برکت کو میں خود دوں گا۔‘‘ پھر آپ نے چینی کی رکابی میں ڈال کر مجھے دیئے۔ میں وہ انگور شام کو تلکونڈی لے کر چلی گئی۔‘‘

﴿1370﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضور علیہ السلام کو اس طرف توجہ تھی کہ جماعت میں عربی بول چال کا رواج ہو۔ چنانچہ ابتدا میں ہم لوگوں کو عربی فقرات لکھ کر دیئے گئے تھے جو خاص حد تک یاد کئے گئے تھے بلکہ اپنے چھوٹے بچوں کو بھی یاد کراتے تھے۔ میرا لڑکا (مولوی قمر الدین فاضل) اس وقت چار پانچ سال کا تھا جب میں اسے کہتا۔ ’’ اِبْرِیْق ‘‘ تو فوراً لوٹا پکڑ لاتا۔ (قمر الدین کی پیدائش بفضل خدا مئی ۱۹۰۰ء کی ہے) مگر کچھ عرصہ یہ تحریک جاری رہی بعد میں حالات بدل گئے اور تحریک معرض التوا میں آگئی۔

﴿1371﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی صاحب نے سوال کیا کہ حضورؐ نماز تو پڑھی جاتی ہے لیکن کچھ لذت نہیں آتی اور نہ خوشی سے نماز کو دل چاہتا ہے۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ’’دل چاہے یا نہ چاہے نماز پڑھتے جاؤ۔ تم دیکھتے نہیں کہ بیمار کا دل غذا کو نہیں چاہتا لیکن اس کو اگل نگل کر کے کھلاتے ہیں اسی طرح نماز کو دل چاہے یا نہ چاہے نماز پڑھتے جاؤ۔‘‘

ایسا ہی حضورؐ کے سامنے سوال ہوا کہ نماز میں حضور قلب پیدا نہیں ہوتا۔ فرمایا کہ ’’جب اذان ہو مسجد میں جاؤ یہی حضور قلب ہے۔ بندہ کا کام ہے کہ کوشش کرے۔ آگے خدا کا کام ہے۔‘‘

﴿1372﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مغلانی نور جان صاحبہ بھاوجہ مرزا غلام اللہ صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مرزا غلام قادر صاحب کی وفات پر لوگوں نے ماتم کرنا شروع کیا۔ حضورؐ نے کہلا بھیجا ’’ان کو کہو کہ پیٹنا بند کرو۔‘‘ مگر کسی نے نہ سنا۔ پھر حضورؐ خود تشریف لے آئے اور سب کو خود منع فرمایا اس پر بھی وہ نہ مانیں۔ پھر آپ نے فرمایا۔ ’’اچھا جاؤ قیامت کے دن اس وقت کو یاد کرو گی‘‘ یہ بھی فرمایا کہ ”جاؤ پیٹو سکھنیو۔“

﴿1373﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مائی رکھی لگڑ زئی خادمہ۔ فیض اللہ چک والدہ نذیر نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مائی تابی میری خالہ کا ایک ہی بیٹا تھا جو فوت ہو گیا۔ وہ غم سے پاگل ہو گئی اور سارا دن بیٹے کی قبر پر پڑی رہتی تھی۔ لوگوں نے کہا کہ اس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس بھیج دو۔ لوگ اس کو یہاں لے آئے۔ وہ نیچے رہا کرتی تھی۔ نیچے دالان میں گھڑے پڑے رہتے تھے وہ ان میں اپنا کرتہ ڈبو دیتی تھی۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”یہ گھڑے اس کے واسطے ہی رہنے دو اور گھر کی ضرورت کے واسطے اور رکھ لو۔“ جب وہ رونا شروع کرتی تو حضورؐ خود اس سے پوچھتے کہ ”کیوں روتی ہے؟“ وہ کہتی کہ مجھے میرا بیٹا یاد آتا ہے۔ تو حضورؐ فرماتے کہ ”میں بھی تیرا بیٹا ہوں“ آخر وہ اچھی ہو گئی تو اس نے حضورؐ سے کہا۔ میں اپنی روٹی آپ پکایا کروں گی۔ جو عورتیں روٹی پکاتی ہیں ان کے ہاتھ صاف نہیں ہوتے۔ اس پر حضورؐ نے اس کو آٹے کے پیسے الگ دے دیئے۔ وہ اپنی روٹی خود پکایا کرتی تھی۔“

﴿1374﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”جب صلاح الدین کوئی تین مہینے کا تھا۔ میں حضرت اقدسؑ کی خدمت عالی میں سلام اور دعا کے واسطے روزانہ جاتی تھی۔ ایک دن جب میں آنے لگی تو حضور علیہ السلام نے فرمایا۔ ”ٹھہر جاؤ آج ہم نے مَسّی روٹی پکوائی ہے۔“ میں نے عرض کی حضورؐ میرا بچہ ابھی چھوٹا ہے۔ میں سخت غذا سے بہت ڈرتی ہوں۔ میری والدہ سخت پر ہیز کراتی ہیں۔ اگر ذرا سی بھی ثقیل غذا کھائی جائے تو بچہ کو فوراً تکلیف ہوتی ہے۔ مَسّی روٹی مَیں نہیں کھا سکتی۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”کھا لو کچھ تکلیف نہ ہو گی ۔“ آپؐ اس وقت دیہات سے آئی ہوئی عورتوں کو کھانا کھلوا رہے تھے۔ جب روٹیاں پک کر آئیں تو آپ نے گھی منگوا کر ان کو لگوایا اور مجھے مَسّی روٹی اور لسی دی۔ میں نے بخوشی کھالی۔ کوئی تکلیف اس سے مجھ کو یا بچہ کو نہیں ہوئی۔

﴿1375﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مغلانی نور جان صاحبہ بھا وجہ مرزا غلام اللہ صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”حضرت ام المومنین کی پہلی صاحبزادی عصمت بیگم کا ناک چھدوایا تو حضورؐ کی پہلی بیوی نے بھی خوشی کی‘‘۔

جب نور جان اتفاق سے مرزا نظام الدین کے گھر گئی تو مرزا نظام الدین نے کہا کہ حضرت صاحب کی وجہ سے ہم پر بڑا فضل ہوا ہے۔ آبادی ہو گئی ہے۔ ہم امیر بن گئے ہیں۔ تو میں نے کہا کہ ’’اب امیر ہو کر ان پر آوازیں کستے ہو۔‘‘

﴿1376﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ایک بار نواں پنڈ کی دو عورتیں آئیں جن کے پاس کچھ گیہوں تھا۔ انہوں نے کہا۔ ’حضور! اب کے فصل بہت کم ہوئی ہے۔ میں پندرہ یا سولہ سیر لائی ہوں۔ فرمایا ’’لے جاؤ‘‘ کہا حضور! اب کے ٹڈی (ملخ) پڑ گئی ہے۔ فصل نہیں ہوئی۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا ’’لے جاؤ ہم کو معلوم ہے۔‘‘ انہوں نے کہا حضور! اب ہم لے آئی ہیں آپ لے لیں۔ آپ نے فرمایا۔ ’’نہیں لے جاؤ‘‘ دوسری عورت سے فرمایا کہ ’’تم بھی نہ لانا‘‘۔ یہ بھی فرمایا کہ ’’سب کو منع کر دو کوئی حق فضلانہ نہ لاوے‘‘۔

﴿1377﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ’’چند ہندو عورتیں گلگلے لے کر آئیں۔ کوئی شادی تھی۔ ان عورتوں نے ماتھا ٹیکا۔ آپ نے فرمایا کہ ’انسان کو سجدہ کرنا منع ہے۔‘‘ گھر میں جو عورتیں تھیں ان کو کہا کہ ’’ان کو سمجھا دو اور خوب ذہن نشین کرا دو کہ سجدہ صرف خدا کے لئے ہے کسی انسان کو نہیں کرنا چاہئے۔‘‘

﴿1378﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ خدیجہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترمہ خان بہادر غلام محمد صاحب گلگتی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب میں پہلے پہل گلگت سے اپنے خاوند کے ہمراہ بیعت کے واسطے آئی ہوں۔ میرے خاوند نے مجھے حضور کے مکان کے اندر بھیج دیا۔ کنوئیں کے پاس حضرت اماں جان پیڑھی پر بیٹھے ہوئی کچھ دھو رہی تھیں۔ انہوں نے میرے آنے کی اطلاع حضورؐ کو بھیج دی۔ اس وقت حضورؐ اوپر کی منزل پر تھے۔ مجھے بلا بھیجا۔ میں ایک عورت کے ساتھ اوپر گئی۔ تو حضورؐ نے ایک موٹا سا کپڑا میری طرف پھینکا کہ ’’اس کو پکڑ لو۔ اور جو میں کہتا جاؤں تم بھی کہتی جاؤ۔‘‘ پھر حضورؐ جو کچھ بیعت لینے کے وقت فرمایا کرتے تھے فرماتے گئے۔ میں بھی کہتی گئی۔ بیعت کے بعد دعا فرمائی۔

﴿1379﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فقیر محمد صاحب بڑھئی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب سیر کو آئے تو کچھ عورتیں بھی ساتھ تھیں۔ واپسی پرستانے کے لئے ہماری کچی مسجد میں بیٹھ گئے اور عورتیں بھی بیٹھ گئیں۔ ہماری عورتیں بھی وہاں چلی گئیں۔ سلام علیکم کہا اور پوچھا کہ حضورؐ کے واسطے کچھ پانی وغیرہ لائیں؟ آپ نے فرمایا۔ ”بیٹھ جاؤ‘ بتاؤ، تمہارے آدمی نمازیں پڑھتے ہیں؟ اگر نہیں پڑھتے تو ان کے نام لکھواؤ“۔

﴿1380﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ فضل بیگم صاحبہ اہلیہ محترمہ مرزا محمود بیگ صاحب پٹی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”میں اکثر یہاں رہا کرتی تھی اور میرے خاوند قصور رہا کرتے تھے۔ وہ قصور سے آئے تو کچھ قصور کی جوتیاں اور خربوزے لائے اور حضورؐ کی خدمت میں پیش کئے اور ایک خط بھی بھیجا جس میں لکھا ہوا تھا کہ حضورؐ مجھے کوئی کام نہیں آتا حضورؐ مجھے اپنے کپڑے ہی دھونے کے لئے دے دیا کریں۔ میں وہاں پر ہی بیٹھی تھی۔ حضورؐ نے فرمایا۔ ”فضل! مرزا صاحب تمہارے کپڑے دھویا کرتے ہیں؟“ میں نے کہا کہ حضورؐ وہ تو کبھی گھڑے میں سے پانی بھی ڈال کر نہیں پیتے۔ حضور علیہ السلام ہنس پڑے اور فرمایا۔ کہ ”ہم سے تو کپڑے دھونے کا کام مانگتے ہیں“۔

﴿1381﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ والدہ محترمہ ڈاکٹر چوہدری شاہ نواز خان صاحب زوجہ چوہدری مولا بخش صاحب چونڈے والے۔ سرشتہ دار نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کہ ’جب دوسری دفعہ میں قادیان میں آئی تو حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کی بیوی مرحومہ کرسی پر بیٹھی تھیں۔ میں نے عرض کی کہ حضور علیہ السلام مجھے کچھ علم نہیں ہے میں سیدھی سادی ہوں۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”خدا تعالیٰ سیدھے سادوں کو قبول کر لیتا ہے“۔

﴿1382﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جناب حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے پہلے پہل فونو گراف منگوایا تو ان دنوں بڑے شوق اور تعجب سے دیکھا جاتا اور سنا جاتا تھا۔ ایک روز حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ لالہ شرمپت وغیرہ کہتے ہیں کہ ہم کو بھی سنواؤ تو ہم نے اس میں تبلیغی فائدہ کو مدنظر رکھ کر ایک نظم بھروا دی ہے۔

(وہ نظم مذکور حسب ذیل ہے)

آواز آرہی ہے یہ فونو گراف سے

ڈھونڈو خدا کو دل سے نہ لاف و گزاف سے

جب تک عمل نہیں ہے دل پاک و صاف سے

کمتر نہیں یہ مشغلہ بت کے طواف سے

باہر نہیں اگر دل مردہ غلاف سے

حاصل ہی کیا ہے جنگ و جدال و خلاف سے

وہ دیں ہی کیا ہے جس میں خدا سے نشاں نہ ہو

تائید حق نہ ہو مددِ آسماں نہ ہو

مذہب بھی ایک کھیل ہے جب تک یقیں نہیں

جو نور سے تہی ہے خدا سے وہ دیں نہیں

دینِ خدا وہی ہے جو دریائے نور ہے

جو اس سے دور ہے وہ خدا سے بھی دور ہے

دینِ خدا وہی ہے جو ہے وہ خدا نما

کس کام کا وہ دیں جو نہ ہووے گرہ کُشا

جن کا یہ دیں نہیں ہے نہیں ان میں کچھ بھی دم

دنیا سے آگے ایک بھی چلتا نہیں قدم

وہ لوگ جو کہ معرفتِ حق میں خام ہیں

بت ترک کر کے پھر بھی بتوں کے غلام ہیں

یہ نظم لالہ شرمپت وغیرہ کی موجودگی میں سنائی گئی پھر اسی وقت حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے سورۃ مریم کے ایک یا دو رکوع فونو گراف کے سامنے پڑھے۔ وہ بھی فونو گراف میں بھرے گئے۔ حضور علیہ السلام نے بھی یوں فونو گراف سنا۔“

﴿1383﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ صفیہ بیگم صاحبہ شاہجہاں پوری اہلیہ محترمہ شیخ غلام احمد صاحب نو مسلم واعظ مجاہد نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ جب آپ دہلی تشریف لے گئے تو وہاں ایک شخص ہر روز آ کر آپ کو گالیاں دیا کرتا تھا۔ حضورؐ نے حضرت ام المومنین سے فرمایا کہ ”اسے ایک گلاس شربت کا بنا کر بھیج دو۔ اس کا گلا گالیاں دیتے سوکھ گیا ہو گا۔“ حضرت ام المومنین نے فرمایا کہ ”میں بھیج تو دوں مگر وہ کہے گا کہ مجھے زہر ملا کر دیا ہے۔“۔ واپسی پر آپ نے لدھیانہ میں قیام کیا وہاں بھی کئی مخالفوں نے آ کر گالیاں دیں۔ حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے انہیں روکا۔ حضرت علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میر صاحب! مت روکو۔ ان کو دل خوش کر لینے دو۔“

﴿1384﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں چارپائی پر لیٹا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ میرے سر کی طرف ایک فرشتہ ہے اور میرے پاؤں کی طرف ایک فرشتہ ہے وہ آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ ایک نے دوسرے کو میاں شریف احمد (صاحب) کی نسبت کہا کہ وہ بادشاہ ہے۔ دوسرے نے کہا نہیں پہلے تو اس نے قاضی بننا ہے“۔۱؎

﴿1385﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مغلانی نور جان صاحبہ بھاوجہ مرزا غلام اللہ صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ مُردوں کے نام پر محتاجوں کو روٹی دو۔ مُلّانوں کو نہ دو ملاں جب کوٹھوں پر روٹیاں سکھانے کو ڈالتے ہیں کتے اور کوّے کھاتے ہیں اور وہ چوڑھوں کو روٹی دیتے ہیں۔“

﴿1386﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک بار حضورؐ کے ساتھ مولوی شیر علی صاحب کے گھر کے قریب آئے۔ ہندو بازار سے ہوتے ہوئے رات کے وقت گزرے۔ فرمایا۔ ”یہ سب ہمارے ہی بازار ہیں۔ سب احمدی ہو جاویں گے۔ سب بازار ہمارا ہی ہے۔“ پھر بڑی مسجد میں آ کر اپنے والد صاحب کی قبر پر دعا کی اور ہم سب نے بھی دعا کی۔ فرمایا۔ ”پانی لاؤ اس کنوئیں کا پانی بہت ٹھنڈا ہے۔“ پانی منگوا کر پہلے حضور علیہ السلام نے پیا پھر ہم سب نے پیا۔ فرمایا ”اس کا پانی بہت ٹھنڈا ہے۔“ حضرت اماں جان نے فرمایا کہ اس کا بھی ٹھنڈا ہے جو درزی خانہ کے پاس ہے۔ آپ نے فرمایا ”نہیں یہ بہت ٹھنڈا ہے اور لذیذ ہے اور بہت بہتر ہے۔“

﴿1387﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ فضل بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا محمود بیگ صاحب پٹی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے حضرت اماں جان لاہور تشریف لے گئیں تو ہم نے بازار سے تربوز منگوائے۔ ان کو کاٹ کر اور مصری ڈال کر رکھ چھوڑا۔ میں ، سرور سلطان صاحبہ، زینب استانی صاحبہ اُمّ ناصر احمد صاحب فاطمہ صاحبہ اہلیہ مولوی محمد علی صاحب اور عائشہ بیگم صاحبہ اہلیہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم سب مل کر کھانے لگیں۔ ایک مائی تابی ہوا کرتی تھی۔ ہم نے ایک ٹکڑا اس کو بھی کھانے کو دیا۔ اس نے کھا کر درمیان میں جو برتن تھا اس میں چھلکا پھینک دیا۔ تربوز کے پانی کی چھینٹیں اُڑ کر ہم سب پر پڑیں ۔ ہم کو بھی شرارت سوجھی۔ ہم نے اپنے اپنے چھلکے مائی تابی کو مارے۔ وہ بیچاری غصہ ہوگئی اور حضرت صاحبؑ سے جا کر شکایت کی۔ حضورؐ نے گواہیاں لیں تو معلوم ہوا کہ پہل مائی نے کی تھی۔ پھر سب کو باری باری بلا کر پوچھا۔ آپؑ ہنس پڑے اور فرمایا۔ ”مائی پہل تم نے کی تھی“۔

﴿1388﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ مولوی فضل الدین صاحب زمیندار کھاریاں نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضورؐ دن بھر یا تو عبادت کرتے رہتے تھے یا لکھتے رہتے تھے اور جب بہت تھک جاتے تھے تو رات کے وقت حافظ معین الدین صاحب کو کہا کرتے تھے کہ ”کچھ سناؤ تاکہ مجھے نیند آجائے۔“ حافظ صاحب آپ کو دبایا بھی کرتے تھے۔ ایک دن حضرت صاحبؑ نے فرمایا کہ ”حافظ صاحب کچھ سنائیے ۔“ حافظ صاحب سنانے لگے ۔ سناتے سناتے حافظ صاحب نے سمجھا کہ حضورؐ سوگئے ہیں۔ وہ چپ ہو گئے حضرت صاحبؑ نے فرمایا کہ ”سنائیے میں سویا نہیں۔ میرے سر میں درد ہے۔“ اسی طرح حضرت صاحب نے صبح تک تین چار دفعہ کہا۔ صبح کے وقت آپؑ مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے جایا کرتے تھے اور جب آتے تو حضرت ام المومنین کو جو بات وہاں ہوتی سنا دیا کرتے۔ آپؐ کے کھانے کے وقت بہت سے لوگ تبرک کے لئے عرض کرتے آپؐ ان سب کو دے دیا کرتے۔

﴿1389﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ فضل بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا محمود بیگ صاحب پٹی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”ایک دفعہ جب میں پہلی بار آئی تو حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے گھر جانا منع کیا ہوا تھا۔ میں بھی ڈر کے مارے نہیں جایا کرتی تھی۔ آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ”فضل سے کہو کہ تم کو منع نہیں کیا۔ تم جایا کرو تمہاری رشتہ داری ہے۔“

﴿1390﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ صفیہ بیگم صاحبہ شاہجہاں پوری اہلیہ شیخ غلام احمد صاحب نو مسلم واعظ مجاہد نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ جب حضورؐ باہر سیر کو تشریف لے گئے تو مستورات بھی ساتھ تھیں۔ آپؐ آدھے راستہ سے ہی واپس آگئے۔ راستہ میں تھے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو خبر دی کہ تیرے نام منی آرڈر آیا ہے۔ تو مسیح موعود علیہ السلام ڈاک خانہ سے پچاس روپے وصول کرتے ہوئے اپنے گھر واپس تشریف لے آئے۔

﴿1391﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ضلع گورداسپور کی عورتیں آئیں۔ حضرت اماں جان کچھ گھبرا گئیں۔ گاؤں کی عورتیں جن کے سر میں گھی لگا ہوتا ہے۔ حضورؐ نے فرمایا:’’گھبرانے کی بات نہیں۔ مجھے تو حکم ہے کہ وَسِّعْ مَكَانَكَ يَأْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ (یہ الہام ہیں) آپ کو معلوم نہیں یہ میرے مہمان ہیں۔‘‘

﴿1392﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مغلانی نور جان صاحبہ بھاوجہ مرزا غلام اللہ صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ بیواؤں کے نکاح ثانی کے متعلق جب پشاور سے چار عورتیں آئی تھیں دو ان میں سے بیوہ، جوان اور مال دار تھیں۔ میں ان کو حضرتؐ کے پاس لے گئی۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’جوان عورتوں کو نکاح کر لینا چاہئے۔‘‘ میں نے کہا جن کا دل نہ چاہے وہ کیا کریں؟ یا بچوں والی ہوں ان کی پرورش کا کون ذمہ دار ہو؟ آپ نے فرمایا’’اگر عورت کو یقین ہو کہ وہ ایمانداری اور تقویٰ سے گذار سکتی ہے اس کو اجازت ہے کہ وہ نکاح نہ کرے مگر بہتر یہی ہے کہ وہ نکاح کر لے۔‘‘

﴿1393﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ سات دسمبر اٹھارہ سوننانوے کا واقعہ ہے۔ فرمایا کہ’’ہم نے گھر میں کہا ہوا ہے کہ جب کوئی بھاجی کے طور پر کوئی چیز بھیجے تو نہ لیا کرو۔‘‘ پھر فرمایا کہ’’ایک روز ایک عورت سکھ مذہب کی ہمارے گھر میں بعض چیزیں لے کر آئی۔ حسب دستور ہمارے گھر سے واپس کر دی گئیں۔ اس عورت نے کہا کہ واپس نہ کرو۔ مجھے کوئی غرض نہیں ہے۔ مجھ پر آپ نے بڑا احسان کیا ہے۔ فرمایا کہ ہم نے اس عورت کو شناخت کیا۔ اصل بات یہ تھی کہ اس عورت کے لڑکے کو ام الصبیان کی بیماری تھی اور لڑکا قریب المرگ تھا وہ ہمارے پاس لڑکے کو لے آئی اس کا علاج کیا گیا، لڑکا اچھا ہو گیا۔ اس کے شکرانہ میں وہ کچھ چیزیں لائی تھی پھر ہم نے گھر میں کہا کہ لے لو یہ شکر گزاری کے طور پر ہے۔‘‘ (بھا جی وہ ہے جو بدلہ کے طور پر دی جائے)۔

﴿1394﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ مولوی فضل الدین صاحب زمیندار کھاریاں نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”میں نے درخواست کی کہ حضرت! مرد آپ کی تقریریں سنتے رہتے ہیں۔ ہم میں بھی کوئی وعظ و نصیحت کریں۔ آپ نے فرمایا۔ ”اچھا ہم تقریر کریں گے۔“ پھر رات کو سب مستورات کو حضورؐ نے بلا بھیجا۔ کئی بہنوں کو اس وقت بچے پیدا ہوئے ہوئے تھے اور چلوں میں تھیں۔ جب ان کو معلوم ہوا تو وہ ڈولیوں میں بیٹھ کر آگئیں۔ ساری تقریر تو مجھے یاد نہیں رہی یہ یاد ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”عورتوں میں یہ مرض حد سے بڑھا ہوا ہے کہ شرک کرتی ہیں اور پیر دستگیرؒ کی منتیں مانتی ہیں اور ایک دوسری کی شکایت کرنا ان کا رات دن کا کام ہے۔ اور عورتیں یہ دیکھنے آتی ہیں کہ یہ نماز پڑھتے ہیں یا نہیں؟ روزے رکھتے ہیں یا نہیں؟ ان کو یہ چاہئے کہ یہ خیال کر کے آئیں کہ ہم مسلمان بننے آئے ہیں۔ اور نماز کے متعلق یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ عورتوں پر کچھ دن ایسے بھی آتے ہیں کہ ان میں وہ نماز اور روزے نہیں ادا کر سکتیں“۔

﴿1395﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ فضل بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا محمود بیگ صاحب پٹی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب میری لڑکی صادقہ پیدا ہوئی جو اب چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی بیوی ہے تو میں میاں احمد نور کے مکان میں تھی۔ حضورؐ مولوی عبدالکریم صاحب کی بیوی کو روز بھیج دیتے کہ ”جا کر کھانا وغیرہ پکا کر دو“ جب ذرا دیر ہو جاتی تو آپ فوراً بلا کر بھیج دیتے اور کہتے ”مولویانی! تم گئی کیوں نہیں؟ جلدی جاؤ“۔

﴿1396﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ دونوں وقت دال پک کر آئی۔ حضورؐ کو علم ہوا تو آپ نے فرمایا۔ ”میں نہیں چاہتا کہ میرے مہمانوں کو دونوں وقت دال دی جائے۔ میں تو بدل بدل کر کھانا کھلاؤں گا۔ یہ میرے مہمان ہیں“۔

﴿1397﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ”ایک دفعہ جبکہ مولوی کرم دین ساکن بھیں ضلع جہلم کے ساتھ مقدمات چل رہے تھے۔ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی کئی کئی روز تک گورداسپور میں رہا کرتے تھے۔ کچھ مدت اندرونِ شہر مولوی علی محمد صاحب جو محکمہ نہر میں ایک معزز عہدہ دار تھے ان کے مکان میں رہائش کا موقعہ ملا اور ان کے بھائی نبی بخش صاحب جو ان دنوں غالباً پنشنر تھے ان کے ہاں لڑکی تھی۔ مولوی محمد علی صاحب (حال امیر پیغام بلڈنگ لاہور) کے لئے اس کے رشتہ کی تحریک ہوئی جس کو حضور علیہ السلام نے منظور فرما لیا اور اس لڑکی کے والد صاحب نے بھی منظور کر لیا لیکن نکاح کرنے میں وہ غالباً ایک سال کی التوا چاہتے تھے۔ اس طرف مولوی محمد علی صاحب کے لئے اور رشتہ بھی تیار تھا لیکن حضور علیہ السلام اس رشتہ کی منظوری دے چکے تھے اس لئے کسی کو یہ طاقت نہ تھی کہ کسی اور رشتہ کے لئے منظوری دے سکے۔ اس لئے ایک روز مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے مسجد مبارک میں بڑے زور کے ساتھ تجویز کی کہ آج ظہر کے وقت حضرت صاحبؑ کے سامنے زور سے عرض کی جائے کہ اور کئی رشتے آرہے ہیں اور کہ گورداسپور والا رشتہ ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ لڑکی والے ایک سال تک التوا چاہتے ہیں۔ اس لئے حضورؐ ایک دفعہ ان سے دریافت کر لیں اگر وہ نکاح کر دیں تو بہتر ورنہ کسی دوسری جگہ نکاح ہو جائے۔ جب حضور علیہ السلام نماز کے لئے مسجد میں تشریف لائے تو سوال کر دیا گیا اور زور دار الفاظ میں سوال کیا گیا۔ حضور علیہ السلام نے بھی درخواست منظور فرما کر خط بنام منشی نبی بخش صاحب تحریر فرما کر منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی (پٹواری سیکھواں) کے حوالہ میری معیت میں کر دیا اور فرمایا کہ ”جس وقت گورداسپور پہنچو فوراً ان کے مکان پر جا کر ان سے دو حرفی جواب لو کہ یا وہ نکاح کر دیں یا جواب دیں تا ہم کوئی اور انتظام کر لیں۔ ان دنوں رات کے ایک دو بجے کے قریب ریل گاڑی گورداسپور پہنچا کرتی تھی ہم نے گاڑی سے اترتے ہی اس کا دروازہ جا کھٹکھٹایا اور سوتے سے جگایا۔ خط اس کو دے دیا اور زبانی بھی حقیقت سنا دی اور جوابِ دو حرفی کا مطالبہ کیا اس نے نہایت سنجیدگی اور متانت کے ساتھ جواب دیا کہ حضرت صاحبؑ بادشاہ ہیں وہ مولوی صاحب کا کسی دوسری جگہ بھی نکاح کر دیں۔ میں ایک سال تک ضرور نکاح کر دوں گا۔ ہم نے کئی بار مطالبہ کیا کہ آپ یا نکاح کر دیں یا انکار کر دیں۔ منشی صاحب نے ہر بار نہایت سنجیدگی اور متانت کے ساتھ یہی جواب دیا جو اوپر لکھا گیا ہے اور یہ بھی کہا کہ اگر میں نکاح کر بھی دوں تو رخصتانہ ایک سال کو ہی ہو گا۔ آخر ہم اسی وقت اُس سے واپس ہوئے اور جواب آ کر سنا دیا گیا۔ حضورؑ خاموش رہے اور مولوی عبدالکریم صاحبؓ بھی منہ تکتے رہ گئے۔ حضور علیہ السلام نے اس وقت فرمایا کہ ”لڑکی والوں میں ایک حد تک استغناء ہوتا ہے اس کا قدر کرنا چاہئے۔“ آخر وہ نکاح ہوا اور وہ دلہن ہاں مبارک دلہن قادیان میں آباد ہوئی۔ کچھ مدت کے بعد بیمار ہو کر قادیان میں فوت ہوئی اور مقبرہ بہشتی میں مدفون ہوئی۔ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَھَا وَارْحَمْھَا وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ۔

نوٹ: اس سے حضورؑ کی صداقت اور مقبرہ بہشتی کی عظمت کا پتہ لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ نیک فطرتوں کو روکیں تو توڑ کر یہاں لاتا ہے جن کی فطرت نیک ہے آئیں گے وہ انجام کار

اس کے بعد مولوی محمد علی صاحب لاہور چلے گئے۔ اب تو مقبرہ بہشتی کو کانی آنکھ دیکھتے ہیں۔ یہ زمین کسی کو بہشتی نہیں بناتی بلکہ جو بہشتی ہوتا ہے وہ یہاں مدفون ہوتا ہے۔

﴿1398﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ فضل بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا محمود بیگ صاحب پٹی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ آپ بچوں سے بہت محبت کیا کرتے تھے ہر وقت اپنے پاس کوئی چیز رکھتے تھے۔ میری بڑی لڑکی چار سال کی تھی اور اس کو کالی کھانسی تھی۔ وہ کہتی تھی کہ اگر حضرت صاحب مجھے کچھ دیں گے تو مجھے آرام ہو جائے گا۔ حضور کچھ لکھ رہے تھے۔ حضورؑ نے بکس کھولا اور دونوں ہاتھ بھر کے منقہ دیا اور ایک سفید رومال میں باندھ دیا اور فرمایا کہ سارا نہ کھا جائے ۔تھوڑا تھوڑا کھائے گرم ہوتا ہے۔ وہ کھانے لگی اس کے کھاتے ہی اس کو کھانسی سے آرام ہو گیا۔ ورنہ ہم تو بہت علاج کر چکے تھے۔ حضور علیہ السلام کے ہاتھ کی برکت تھی۔

﴿1399﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ بندوبست ۱۸۹۰/۹۱ء کے وقت قادیان میں ایک افسر بندوبست مرزا نظام الدین صاحب کے مکان میں رہتے تھے اور وہ حضورؑ کو بھی ملا کرتے تھے۔ نمازی تھے اور ان کا نام مولوی غلام علی صاحب تھا آخر میں وہ احمدی ہو گئے تھے۔ ان کو شکار کھیلنے کا شوق تھا۔ ایک روز ان کو معلوم ہوا کہ ہندو محلہ میں کسی مکان میں بلّا

چھپا ہوا ہے۔ مولوی صاحب موصوف معہ شکاری کتوں کے ہندو محلہ کی طرف چل پڑے۔ اس وقت میں اور میرے بڑے بھائی صاحب میاں جمال الدین صاحب مرحوم موجود تھے۔ ہم بھی ساتھ چل پڑے۔ وہاں چل کر ایک بند مکان میں شکاری کتے گھس گئے اور بلاّ مکان سے نکلا۔ کتوں نے اس کا تعاقب کر کے پکڑ لیا اور بہت شور پڑا۔ جبکہ بلاّ کو کتے اِدھر اُدھر گھسیٹنے لگ پڑے۔ حضور علیہ السلام اس نظارہ کو دیکھ نہ سکے اور فوراً وہاں سے چپکے سے واپس ہوئے اور حضورؐ کی خاموش واپسی کو دیکھ کر ہم بھی واپس آگئے (کسی کی تکلیف کو نہ دیکھ سکتے تھے)۔

﴿1400﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ فضل بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا محمود بیگ صاحب پٹی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میری لڑکی آمنہ جب حضرت صاحب کے پاس آتی تو حضورؐ مٹھائی دیتے۔ جب نماز کا وقت ہوتا تو آمنہ کہتی کہ حضرت صاحب نماز اندر ہی پڑھیں۔ اماں جان فرماتیں کہ اس کی مرضی ہے کہ اندر نماز پڑھی جائے اور مجھ کو مٹھائی جلدی ملے تو حضورؐ مٹھائی دے کر جاتے۔

﴿1401﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضورؐ کے بڑے باغ میں علاوہ درخت ہائے آم کے کچھ درختانِ بیدانہ بھی تھے لیکن ثمر بیدانہ مارچ اپریل میں تیار ہو جاتا ہے اور آم کا ثمر جولائی اگست میں تیار ہوتا ہے لیکن تاجر لوگ مارچ اپریل میں ہی سارے باغ کا سودا کر لیتے تھے۔ ایک دفعہ تجویز ہوئی کہ جو ثمر پختہ ہو وہی بیع ہونا چاہئے اس لئے سردست بیدانہ بیع ہونا چاہئے اور تاجر بھی موجود تھے۔ مگر حضورؐ نے ہمیں ترجیح دی اور ہمارے چودہ روپے نقد وصول کر لئے اور فرمایا کہ ”ان سے ہمیں کمی وبیشی قیمت کا سوال نہیں۔“

﴿1402﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ ہم آگرہ سے تین ماہ کی رخصت لے کر آئے۔ حضورؐ نے اونچا دالان رہنے کو دیا۔ میرا معمول تھا کہ روزانہ نماز عصر کے بعد حضورؐ کی خدمت میں سلام کو جاتی۔ حضرت اقدسؑ وامّ المومنین صاحبہ ام ناصر والے صحن میں پلنگ پر بیٹھے تھے۔ میں سلام کر کے ایک چھوٹی چارپائی پر جو سامنے پڑی تھی بیٹھ گئی۔ میں اس وقت زیادہ تر سفید کپڑے ہی پہنتی تھی۔ حضورؐ نے حضرت اُمّ المومنین سے دریافت کیا کہ ’’کیا یہ ہمیشہ سفید کپڑے ہی پہنتی ہیں؟‘‘ اماں جان نے مجھ سے پوچھا کہ ’’کیا تم کو رنگین کپڑے پسند نہیں ہیں؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ ’’حضور پسند تو ہیں لیکن کپڑے رنگنے سے ہاتھ خراب ہو جاتے ہیں۔‘‘ حضورؐ نے میرے ہاتھوں کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ ’’مراد خاتون کیا تم مہندی نہیں لگایا کرتیں؟‘‘ میں نے عرض کی کہ نہیں۔ حضورؐ نے فرمایا ’’کیوں‘‘؟ میں نے پھر کہا کہ حضورؐ! ہاتھ خراب ہو جاتے ہیں۔ فرمایا کہ ’’مہندی لگانا سنت ہے۔ عورتوں کو ہاتھ سفید نہیں رکھنے چاہئیں‘‘۔ اتنے میں میر ناصر نواب صاحب مرحوم جو لاہور کچھ سامان لینے گئے ہوئے تھے تشریف لائے۔ اس سامان میں کچھ کپڑا اور بڑا پڑا مہندی کا بھی تھا۔ آپؐ نے حضرت اماں جان سے پوچھا کہ ’’گھر میں مہندی ہے؟‘‘ انہوں نے بتایا کہ ’’مہندی گھر میں ہے‘‘ آپؐ نے فرمایا کہ ’’یہ مہندی اور ایک قمیض کا کپڑا مراد خاتون کو دے دو اور اس کو کہہ دو کہ مہندی لگایا کرے۔‘‘ وہ کپڑا ریشمی موتیا رنگ کا تھا۔ اس دن سے میں عموماً مہندی لگاتی ہوں اور رنگین کپڑا بھی پہنتی ہوں۔

﴿1403﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حضرت ام ناصر صاحبہ حرم اوّل حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ وبنت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’میری شادی ہونے کے بعد جو رُڑکی میں ہوئی تھی جب میں پہلی بار قادیان میں آئی تھی میری عمر ۱۱؍سال کی تھی۔ جب مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور لایا گیا تو حضورؐ نے کمال شفقت سے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور ایک سرخ رومال میں بندھے ہوئے کچھ پونڈ دئے تھے۔ یہ یاد نہیں کہ کتنے تھے؟ میرے ساتھ میری چھوٹی والدہ اور ایک ملازمہ بھی تھی۔ چند یوم کے بعد میرے والد رضی اللہ عنہ آ کر مجھے لے گئے۔ پھر جب ماہ اکتوبر ۱۹۰۳ء میں ڈاکٹر صاحب کی تبدیلی آگرہ ہو گئی تھی۔ حضورؐ نے حضرت نانا جان اور نانی اماں کو اور میر اسحق صاحب کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے ساتھ مجھے لینے کے واسطے بھیجا تھا۔

﴿1404﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ محترمہ قاضی عبد الرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اہلیہ حافظ احمد اللہ صاحب مرحوم کو فرمایا تھا کہ یہ نظم

”عجب نوریست در جان محمد

عجب لعلیست در کان محمد“

والی پڑھ کر سناؤ۔ جب اس نے خوش الحانی سے سنائی تو اس وقت حضورؐ گاؤ تکیہ سے ٹیک لگا کر بیٹھے سنتے رہے۔

﴿1405﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ مولوی فضل الدین صاحب زمیندار کھاریاں نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ آپؐ کا صاحبزادہ، مبارک احمد تین سال کا تھا جب عصر کے وقت حضورؐ کو گھبراہٹ ہوتی تو پوچھتے کہ مبارک احمد کہاں ہے؟ اسے اندر لے آؤ، دادی مرحومہ مغفورہ ان کو اندر لے آیا کرتی تھیں۔

﴿1406﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ مولوی فضل الدین صاحب زمیندار کھاریاں نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”آپؐ کے کھانے کے وقت بہت سے لوگ تبرک کے لئے عرض کرتے تو آپؐ ان سب کو دے دیا کرتے تھے۔“

﴿1407﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ ماسٹر قادر بخش صاحب مرحوم و مغفور نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”لوگ ماسٹر صاحب کو طنزاً کہا کرتے تھے کہ آپ کے مسیح کو تب جانیں گے جب آپ کے والد صاحب گالیاں دینے سے ہٹ جائیں گے۔ ماسٹر صاحب نے حضرت صاحب کو خط لکھا اور دعا کی درخواست کی۔ حضور کا جواب آیا کہ ہم نے دعا کی ہے اب گالیاں نہ دیں گے۔ اس پر ماسٹر صاحب نے ان لوگوں سے کہا کہ حضرت صاحب کا خط آ گیا ہے۔ اب والد صاحب گالیاں نہیں نکالیں گے۔ اور وہ خط بھی ان کو دکھایا۔ اس کے بعد پھر حضرت صاحب کی دعا سے انہوں نے کبھی گالیاں نہیں دیں۔

نشان انگوٹھا اہلیہ صاحبہ ماسٹر قادر بخش صاحب مرحوم دستخط مریم۔ دستخط نور احمد سنوری۔ ۴۵۔۱۔۲۶ دستخط سارہ۔ ۴۵۔۱۔۲۶

﴿1408﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ ماسٹر قادر بخش صاحب مرحوم و مغفور نے تحریراً بیان کیا کہ ایک دفعہ جب حضرت صاحب لدھیانہ تشریف رکھتے تھے تو ماسٹر صاحب نے گھر میں مولوی عبداللہ صاحب سنوری سے کہا کہ وہ حضرت صاحب سے درخواست کریں کہ حضور ہمارے گھر تشریف لائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حضور تشریف لے آئے تو آپ مجھے کیا دیں گے۔ ماسٹر صاحب نے فرمایا کہ مٹھائی کھلاؤں گا۔ اس پر مولوی عبداللہ صاحب سنوری نے کہا کہ وہ مٹھائی بھی آپ حضور کی خدمتِ اقدس میں ہی پیش کر دیں۔ چنانچہ وہ گئے اور حضرت صاحب سے عرض کی۔ جس پر حضور ہمارے گھر تشریف لے آئے ماسٹر صاحب کے والد چونکہ احمدی نہ تھے اور کسی زمانہ میں شدید مخالفت بھی کرتے رہے تھے۔ اس ڈر سے گھر میں ان کو کسی نے اطلاع نہ دی کہ حضور تشریف لائے ہیں۔ جس وقت حضور واپس جا رہے تھے تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پیچھے سے دیکھ لیا۔ مگر جب بعد میں ان کو پتہ چلا تو انہوں نے بہت افسوس کا اظہار کیا۔ اور فرمایا مجھے کیوں نہ اطلاع دی، میں نے تو حضور کو پیچھے سے ہی دیکھا ہے۔ وہ تو واقعی شیرِ خدا معلوم ہوتا ہے۔ اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے میری بچی صغریٰ گود میں پیش کی گئی۔ جو اس زمانہ میں حضور کی دعا سے پیدا ہوئی تھی۔ حضور نے اس کے لئے دعا فرمائی اور اس کے منہ پر ہاتھ پھیرا۔ تین بچے پیدا ہونے کے بعد میں بیمار ہوگئی تھی۔ جس سے بہت سے بچے ضائع ہو گئے۔ میرا خیال تھا کہ مجھے آتشک ہو گئی ہے۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں دعا کے لئے عرض کی اور حضور اقدس نے دعا فرمائی چنانچہ حضور کی دعا سے میری وہ بیماری دور ہوگئی اور پھر خدا تعالیٰ نے مجھے چار بچے دیئے۔ صغریٰ۔ برکت اللہ۔ مصلح الدین اور کلثوم اور وہ چاروں خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ سلامت ہیں اور خود بھی بچوں والے ہیں۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِک نشان انگوٹھا اہلیہ صاحبہ ماسٹر قادر بخش صاحب مرحوم دستخط نور احمد سنوری ۲۵-۱-۲۵

﴿1409﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک مرتبہ میں آگرہ سے آئی تھی۔ میرے ساتھ ایک ملازمہ تھی۔ میری لڑکی عزیزہ رضیہ بیگم جو کہ ابھی چار سال کی تھی وہ اس کی کھلاوی تھی۔ کچھ باتیں مزاح کی بھی اس کو سکھایا کرتی تھی۔ ایک دن حضور علیہ السلام آنگن میں ٹہل رہے تھے۔ عزیزہ سلمہا نے چھوٹا سے برقعہ پہنا ہوا تھا۔ وہ حضورؐ کی ٹانگوں سے لپٹ گئی۔ حضورؐ ٹھہر گئے۔ عزیزہ نے رونی صورت بنا کر کہا۔ اُوں اُوں مجھے جلدی بلا لینا۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”تم کہاں چلی ہو؟“ وہ نوکر کی سکھائی ہوئی کہنے لگی کہ میں سسرال چلی ہوں۔ اس پر حضور خوب ہنسے۔ فرمایا ”سسرال جا کر کیا کرو گی؟“ کہنے لگی۔ ”حلوہ پوری کھاؤں گی۔“ پھر آنگن میں ایک چکر لگایا پھر آ کر حضورؐ کے قدموں سے چمٹ گئی۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”سسرال سے آگئی ہو؟“ ”تمہاری ساس کیا کرتی تھیں؟“ عزیزہ سلمہا نے کہا کہ روٹی پکاتی تھی۔ تمہارے میاں کیا کرتے تھے؟ کہا کہ روٹی کھاتے تھے۔ پھر پوچھا ”تم کیا کھا کر آئی ہو؟“ کہنے لگی حلوہ پوری۔ حضورؐ نے فرمایا ”اس کی ساس اچھی ہے۔ بیٹے کو تو روٹی دیتی ہے مگر بہو کو حلوہ پوری“۔

﴿1410﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”جب حضرت خلیفہ ثانی میاں محمود کی شادی ہوئی۔ تو تائی صاحبہ یعنی حضرت اقدسؐ کی بھاوجہ صاحبہ نے مراثن کو کہا کہ ’دہلی والی یعنی حضرت اُمّ المومنین اپنے بیٹے کا بیاہ کرنے لگی ہے۔ مریدوں کی بیٹیاں لے لے کر۔ اپنے خاندان کی لڑکیاں تو وہ لیں گے نہیں۔ تو پرانی خاندانی حقدار مراثن ہے تو بھی ڈھولکی لے کر جا‘۔ جب وہ آئی اور ڈھول بجانا شروع کیا تو حضورؐ اندر کمرے میں تھے۔ ڈھول کی آواز سن کر باہر تشریف لے آئے اور فرمایا ’اس کو کہد و کہ یہ نہ بجائے۔‘ اس طرح چند مرتبہ کہا تھا کہ ’اس کو کہد و یہ نہ بجائے اور اس کو کچھ دے دو۔‘ چنانچہ اس کو پانچ روپے دئے تھے۔ مگر اس نے کہا کہ حضورؐ میں یہ نہیں لیتی۔ مجھے سردی لگتی ہے حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ اچھا اس کو ایک لحاف بھی دے دو۔ وہ اس وقت پانچ روپے اور لحاف لے گئی تھی۔“

﴿1411﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ قبل از دعویٰ کا واقعہ ہے کہ حضورؐ مسجد مبارک کے شاہ نشین پر بیٹھے ہوئے تھے اور میں بھی قریب ہی بیٹھا ہوا تھا کہ نماز شام کے بعد میر عباس علی لدھیانوی آگئے۔ حضرت صاحب اٹھ کر ان کو ملے۔ وہ بھی شاہ نشین پر بیٹھ گئے اور بہت خوش خوش باتیں ہوتی رہیں اور وہاں ہی کھانا آگیا جو روٹی اور سبزی کریلے تھے جو گھی میں ہار بنا کر تلے ہوئے تھے۔ میں نے بھی کھائے اس وقت حضرت صاحب، میں اور میر عباس علی ہی تھے۔

میر عباس علی بڑا ہی مؤدب تھا۔ افسوس! کہ بعد میں حالت بدل گئی۔

﴿1412﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم و مغفور نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ کا نکاح ہوا تھا اسی دن صلاح الدین کو سردی لگ جانے سے سخت بخار اور نمونیا ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب فرخ آباد ملازمت پر تھے۔ حضور علیہ السلام نے حضرت مولوی نور الدین خلیفۃ المسیح اولؓ کو علاج کے واسطے مقرر کر دیا تھا۔ مولوی صاحبؓ دونوں وقت تشریف لا کر مریض کو دیکھتے اور علاج تجویز فرماتے تھے۔ جب آتے تھے تو باہر سے گول کمرہ کے دروازہ کا جو مسجد کے زینہ میں تھا کنڈا کھٹکھٹاتے۔ میں کہتی ’’کون ہیں‘‘ تو فرماتے کہ ’’نور الدین‘‘ حضرت اقدسؑ خود بھی آتے جاتے کمال مہربانی اور شفقت سے بیمار بچہ کا حال پوچھتے تھے اور اس کو پیار کرتے تھے۔‘‘

﴿1413﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ان دنوں میں جب کہ سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ کے واسطے کچھ کپڑے سیے جاتے تھے تو میں بھی روزانہ سینے کو چلی آتی تھی۔ اس وقت سعیدہ رشیدہ بیگم مرحومہ میری چھوٹی لڑکی کوئی سال سوا سال کی تھی اور اس کی کھلادی اس کو اٹھائے ہوئے میرے ساتھ ہوتی تھی۔ حضرت اقدسؑ اس کو روز بلایا کرتے تھے اور پیار سے لکڑی کے ساتھ چھیڑا بھی کرتے تھے۔ چونکہ موسم تبدیل ہو گیا تھا۔ ایک دن میں نے اس کو سفید کپڑے پہنا دیئے۔ حضورؑ نے دریافت کیا کہ ’’اس کا زیور کیوں اتار دیا ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا کہ زیور اس کو کبھی نہیں پہنایا گیا۔ اصل بات یہ تھی کہ پہلے اس لڑکی کے عموماً ریشمی رنگین اور گوٹے والے کپڑے ہوتے تھے۔ حضور علیہ السلام ان کو زیور خیال فرماتے رہے۔ اس لئے آج سادہ لباس میں دیکھ کر تعجب فرمایا تھا۔

﴿1414﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ابتدائے دعوٰی میں مولوی محمد حسین نے مخالفت دعوٰی کے متعلق کوئی مضمون شائع کیا اور وہ شائع شدہ مضمون حضور علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا وہ بلا جلد ہی تھا اور حضور علیہ السلام کھڑے تھے اور ہم سہ برادران (خاکسار راقم ، میاں جمال الدین صاحب ومیاں امام الدین صاحب) بھی کھڑے تھے ۔ ہم سب کو فرمایا کہ ”بٹالہ جاکر مولوی محمد حسین صاحب سے مل کر باتیں سنو ۔“ چنانچہ ہم بٹالہ چلے گئے اور وہ جمعہ کا دن تھا ۔ خلیفیا نو الی مسجد میں نماز جمعہ پڑھایا کرتے تھے ۔ نماز جمعہ کے بعد ایک چوبی منبر پر بیٹھ کر تقریر شروع کردی اور ازالہ اوہام ہاتھ میں تھا۔ ہماری طرف سے جواب شروع ہو گیا۔ لوگ سنتے رہے۔ اس وقت تک غیر احمدی کے پیچھے ترک نماز کا حکم نہ ہوا تھا۔ اس کے بعد کبھی جمعہ اس کے پیچھے نہیں پڑھا۔

﴿1415﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ مولوی عبد اللہ صاحب سنوری نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ جب میں قادیان میں آئی ہوئی تھی اور میرا بچہ عبدالقدیر جس کی عمر آٹھ سال کی تھی میرے ساتھ تھا اور اس چھت کے نیچے ہم رہے جس کے اوپر حضرت صاحب رہا کرتے تھے۔ ایک دن عبدالقدیر بہت رویا۔ وہ ضد کر رہا تھا کہ میں نے حضرت صاحب ابھی دیکھنے ہیں۔ حضرت صاحب نے آواز سن کر صفیہ کی اماں کو بھیجا کہ ”دیکھو کس کا بچہ روتا ہے؟“ مگر صفیہ کی اماں نے رونے کی آواز ہی نہ سنی کیونکہ مولوی صاحب عبدالقدیر کو چپ کرا چکے تھے۔ رات بھر عبدالقدیر کو بخار رہا۔ ہمیں ڈر تھا کہ اسے طاعون نہ ہو جائے کیونکہ قادیان میں طاعون کی وبا ہو رہی تھی۔ خیر ہم نے رقعہ لکھ کر حضرت صاحب کو دیا۔ آپ نے مولوی صاحب کو اندر بلایا اور فرمایا کہ ”کیا آپ کو ڈر ہے کہ طاعون ہو جائے گی۔ آپ خیال نہ کریں۔ عبدالقدیر کو قبض کا بخار ہے۔“ پھر حضورؐ نے تین پڑیاں دیں اور کہا ”جاؤ ایک پڑیا پانی سے کھلا دیں۔“ جب ایک پڑیا کھلائی تو وہ قے ہو کر نکل گئی۔ حضور علیہ السلام کو بتایا تو فرمایا کہ ”اور دے دو۔“ دوسری اور تیسری بھی الٹی ہو کر نکل گئی۔ پھر حضورؐ نے دادی یعنی والدہ حضرت شادی خان صاحب جو صاحبزادہ میاں مبارک احمد صاحب مرحوم کو رکھا کرتی تھیں کو بھیج کر مجھ کو بلایا اور پوچھا کہ ”عبدالقدیر کی عمر کتنی ہے؟“ میں نے بتلایا کہ آٹھ سال۔ فرمانے لگے۔ ”مبارک احمد کی عمر ہے۔“ اس کے بعد کسٹر آئل دیا جس سے آٹھ گھنٹہ بعد ایک قے آئی، دست آیا اور بخار ہلکا ہو گیا۔ پھر چار بجے عبدالقدیر نے کہا کہ میں نے حضرت صاحب دیکھنے ہیں۔ مولوی صاحب نے کہا کہ بغیر اجازت نہیں لے جانا۔ اجازت لے لیں پھر دیکھ لینا۔ میں نے جا کر اصغری کی ماں سے کہا کہ حضرت صاحب سے کہو عبدالقدیر روتا ہے۔ اگر حضورؑ اجازت دیں تو میں لے آؤں۔ آپ نے فرمایا۔ ”جلدی لے آؤ“ حضور علیہ السلام پگڑی سنبھالتے ہوئے اُٹھے اور مجھے فرمانے لگے ”یہیں ٹھہر جاؤ“ پھر حضورؑ نے عبدالقدیر کی نبض دیکھی۔ اور منہ پر ہاتھ پھیرا اور دعا دی کہ ”صحت ہو اور عمر دراز ہو۔“ بس اسی وقت بخار کافور ہو گیا۔

﴿1416﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ مولوی عبد اللہ صاحب سنوری مرحوم و مغفور نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میرے پاس میری بھابی اور بھتیجا درد صاحب رہتے تھے ان کو طاعون کی وجہ سے مولوی صاحب ان کے والد صاحب کے پاس چھوڑ آئے تھے۔ میں پریشان تھی، میری پریشانی کا ذکر اصغری کی اماں نے جا کر حضور علیہ السلام سے کیا۔ حضور علیہ السلام نے مجھ کو اپنے پاس بلا کر پوچھا کہ ”تم پریشان ہو۔ اچھا ہوا کہ مولوی صاحب چھوڑ نے چلے گئے کیونکہ بچے اپنے باپ کے پاس اچھے ہوتے ہیں۔ یہاں بیماری ہے اس لئے اچھا ہوا۔

﴿1417﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”ایک دفعہ احمد نور کی بیوی کو غشی آگئی۔ حضور علیہ السلام نے خود آ کر دیکھا۔ دوائی دی۔ فرمایا۔ ”ایک وقت گوشت اور چاول بھی دئے جائیں۔ ٹھنڈے ملک کے ہیں مرچ نہیں کھا سکتے۔“

﴿1418﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب لیکھرام آریہ حسب پیشگوئی سیدنا مسیح موعود علیہ السلام ہلاک ہوا تو وہ دن عید الفطر کے بعد کا دن تھا۔ اس سے قریباً چار پانچ روز قبل ۲۶ اور ۲۷ رمضان کی درمیانی رات جو ستائیسویں ماہِ رمضان کی عموماً مسلمانوں میں مشہور رات ہے۔ ہم سب بھائی اور منشی عبدالعزیز صاحب پٹواری اس رات مسجد مبارک میں ہی سوئے تھے۔ صبح کی نماز کے وقت حضور علیہ السلام مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا کہ آج رات گھر میں دردِ زہ کی وجہ سے تکلیف تھی اور میں دعا کر رہا تھا کہ یکایک دعا کرتے کرتے لیکھرام کی شکل سامنے آگئی۔ اس کے متعلق بھی دعا کر دی گئی اور فرمایا کہ میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عادت ہے کہ جب کوئی کام کرنا ہوتا ہے تو دعا کرتے کرتے وہ معاملہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے ایسا ہی آج ہوا ہے کہ لیکھرام سامنے آگیا۔

پس چار پانچ روز بعد لیکھرام کی ہلاکت کی خبر آگئی اور اسی ستائیسویں رات میں لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام ”مبارکہ“ رکھا گیا۔ یہ وہی بابرکت و مبارک دختر ہے جن کا نکاح حضرت نواب محمد علی خان صاحب آف مالیر کوٹلہ سے ہوا۔ حضور علیہ السلام کو مدت پہلے الہام میں خبر دی گئی تھی کہ ”نواب مبارکہ بیگم“۔

﴿1419﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حضرت ام ناصر صاحبہ حرم اول حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ و بنت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا ہے کہ میں اور سرور سلطان بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا بشیر احمد صاحب و اہلیہ مولوی محمد علی صاحب اور اہلیہ پیر منظور محمد صاحب، حضرت مولوی صاحب خلیفہ اولؓ سے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے جایا کرتی تھیں اس وقت مولوی صاحب اس مکان میں رہتے تھے جہاں اب اُمّ وسیم سلمھا اللہ رہتی ہیں۔ پیر جی کی اہلیہ صاحبہ کو ماہواری تھی۔ حضرت مسیح موعودؑ اور اماں جان کے سامنے سے جب ہم قرآن مجید لے کر گزریں تو حضرت اماں جان نے دریافت کیا کہ ”اس حالت میں قرآن مجید کو ہاتھ لگانا جائز ہے؟“ آپ نے فرمایا کہ ”جب خدا تعالیٰ نے ان دنوں میں چھٹی دے دی تو ہم کیوں نہ دیں۔ ان سے کہد و کہ ان دنوں میں قرآن مجید نہ پڑھیں۔“

﴿1420﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم و مغفور نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ اصغری کی والدہ کھانا پکایا کرتی تھی۔ ایک دن کریلے گوشت کا سالن پکایا۔ حضور کو یہ سالن پھیکا معلوم ہوا تو کھانا لانے والی خادمہ کو فرمایا کہ اصغری کی اماں سے پوچھو کہ ”کیا نمک ڈالنا بھول گئی ہو؟“ اس نے جا کر پوچھا تو اس کو اصغری کی اماں نے کہا کہ میں نے تو کئی مرتبہ نمک ڈالا تھا مگر میں نے خیال کیا کہ شاید میرے منہ کا مزہ اس وقت درست نہیں ہے اس لئے میں نے اور ڈالنا بند کر دیا تھا۔ پھر حضورؑ نے اس کو خود طلب کر کے پوچھا تو اس نے یہی کہا کہ میں نے تو نمک کئی بار ڈالا ہے۔ میں چکھتی رہی ہوں مگر سالن پھیکا ہی معلوم ہوتا رہا۔ حضرت اُمّ المومنین نے فرمایا کہ اصغری کی اماں! باورچی خانہ کے طاق میں جو پھٹکری پڑی تھی کہیں وہی تو نہیں ڈال دی؟ مگر اس نے انکار کیا بعدۂ جب ایک عورت کو بھیجا کہ جا کر دیکھو کہ طاق میں پھٹکری ہے یا نہیں؟ اور اس نے جا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ پھٹکری وہاں نہیں ہے اس طرح یقین ہو گیا کہ سالن میں غلطی سے نمک کی بجائے پھٹکری پڑ گئی ہے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”نماز کا وقت ہو چلا ہے کوئی اور چیز روٹی کے ساتھ کھانے کو منگالو“۔ اس وقت اور کچھ انتظام جلدی سے کر لیا گیا تھا۔

دوسرے دن جب کھانا آیا تو میں بھی وہاں موجود تھی۔ حضورؐ نے اصغری کی اماں سے دریافت کیا کہ ”سچ سچ بتاؤ کہ سالن میں کل نمک ڈالا تھا یا پھٹکری؟ تو اس نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا کہ حضور غلطی سے پھٹکری پڑ گئی تھی۔ حضورؐ نے ہنس کر فرمایا کہ ”کل تم نے کیوں نہیں مانا تھا کہ پھٹکری ڈالی ہے“۔ اس نے کہا کہ حضورؐ میں ڈرتی تھی کہ شاید حضور خفا ہوں گے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”کیا آج ہم خفا نہیں ہو سکتے ہمیں تو کل ہی پتہ لگ گیا تھا“۔

﴿1421﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ مولوی فضل الدین صاحب زمیندار کھاریاں نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ آپ علیہ السلام کی طبیعت میں کسی قدر مذاق بھی تھا۔ ایک دفعہ آپ نے ایک لڑکی کو اخروٹ توڑنے کے لئے دیئے اور فرمایا کہ جتنے اخروٹ ہیں اتنی ہی گریاں لیں گے۔ ایک عورت نے کہا کہ حضورؐ اخروٹوں میں سے گریاں بہت نکلتی ہیں تو حضورؐ مسکرائے۔

﴿1422﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے جب طاعون پڑی تھی۔ لوگوں کو حکم تھا کہ ”باہر چلے جاؤ“۔ میرے خسر صاحب قاضی ضیاء الدین صاحب کو حکم ہوا تھا کہ تم اسکول چلے جاؤ۔ ایک کمرے میں ہم اور ایک میں مولوی شیر علی صاحب ٹھہرے تھے۔ قاضی صاحب بیمار تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ حضور علیہ السلام کی زیارت کریں۔ کہتے تھے کہ جب حضورؐ اس طرف سے گزریں گے تو مجھے بتانا، میں زیارت کروں گا۔

انہیں ایام میں جب حضرت صاحبؐ گورداسپور تشریف لے گئے تھے وہ فوت ہو گئے۔ جب حضور علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ قاضی ضیاء الدین صاحب کی یہ خواہش تھی کہ مجھے دیکھیں تو افسوس کیا کہ ”اگر خبر ہوتی تو میں خود جا کر ان کو مل آتا“۔

﴿1423﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب صاحبزادہ میاں مبارک احمد صاحب مرحوم کا نکاح سیدہ مریم بیگم صاحبہ بنت ڈاکٹر عبد الستار شاہ صاحب مرحوم و مغفور (حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی) سے ہوا تو میں آگرہ سے آئی ہوئی تھی۔ مغرب کے بعد نکاح ہوا۔ میں مبارک دینے آئی تو کوئی عورت سیدہ مریم بیگم کو گود میں اٹھا کر حضورؐ کے پاس لائی۔ حضور علیہ السلام اس وقت ام ناصر احمد صاحب کے صحن میں پلنگ پر استراحت فرما تھے۔ حضور علیہ السلام نے سیدہ مریم بیگم کے سر پر ہاتھ پھیرا اور مسکرائے۔

﴿1424﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اصغری بیگم صاحبہ بنت اکبر خان صاحب مرحوم دربان زوجہ مدد خان صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے میرا نکاح کر دیا تھا ایک مرتبہ جب میں واپس آئی تو اس وقت میرے دو بہت صغر سن بچے تھے۔ ایک لڑکی۔ ایک لڑکا۔ حضورؐ کی کمال مہربانی میرے حال پر تھی۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”اصغری کمزور معلوم ہوتی ہے اسکے بچے چھوٹے ہیں۔ اسے ان کو سنبھالنا مشکل ہے اسے بچوں کی خدمت کے واسطے ملازمہ رکھ دو۔“ چنانچہ پہلے ایک عورت مائی کرموں رنگریزنی رکھی گئی۔ چند یوم کے بعد حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”چھوٹے بچے کے واسطے بھی ملازمہ کھلانے کے واسطے رکھ دو۔“ چنانچہ پہلی خادمہ کرموں کی نواسی بھی مقرر کی گئی۔ ان کو ایک روپیہ مہینہ اور کھانا دیا جاتا تھا۔

﴿1425﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میاں فضل الٰہی صاحب نمبر دار فیض اللہ چک کی ہمشیرہ قابل شادی تھی۔ حضرت خلیفہ اولؓ کے لئے حضور علیہ السلام نے تحریک فرمائی۔ یہ عاجز اور بڑا بھائی میاں جمال الدین صاحبؓ یہ تحریک لے کر فیض اللہ چک گئے اور تحریک سنا دی گئی۔ میاں فضل الٰہی مرحوم نے تو تسلیم کیا لیکن لڑکی کی والدہ نے انکار کیا۔ بعدش اس کی شادی ایک معمر عمر حیات نامی فیض اللہ چک کے ساتھ کی گئی۔ سنا گیا کہ اس لڑکی کی زندگی ہی برباد ہو گئی۔

﴿1426﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ بھابی زینب صاحبہ اہلیہ پیر مظہر قیوم صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں نے ۱۹۰۷ء میں بیعت کی تھی۔ ایک دن میں حضورؐ کی خدمت میں بیعت کرنے کو آئی۔ رحیم بی بی نائن نے جا کر عرض کی ایک نابینا لڑکی بیعت کرنے کو آئی ہے۔ حضورؐ اندر سے تشریف لائے اور فرمایا کہ نماز ظہر کے بعد بیعت لیں گے۔ میں گھر چلی گئی جب ظہر کے بعد آئی تو حضورؐ نے فرمایا کہ عصر کے بعد۔ میں وہیں بیٹھی رہی۔ عصر کے بعد جب میں نے عرض کی تو حضورؐ نے فرمایا کہ شام کو۔ شام کو حضورؐ نے ام ناصر احمد سلمہا اللہ کے مکان کے آنگن میں نماز مغرب و عشاء جمع کرا کر پڑھائیں۔ حضورؐ اور حضرت اماں جان نے پلنگ پر بیٹھ کر نماز پڑھی اور ہم سب عورتوں نے پیچھے شاہ نشین پر۔ مائی سلطانوں نے کہا کہ حضورؐ وہ لڑکی بیعت کرنے کو کھڑی ہے۔ حضورؐ نے فرمایا کہ صبح کو۔ صبح جب آئی تو حضورؐ سیر کو تشریف لے گئے تھے۔ حضورؐ واپس آئے تو پھر منشیانی نے کہا کہ حضورؐ وہ لڑکی پھر بیعت کرنے آئی ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ”اس کو کھانا کھلا دیا ہے یا نہیں؟“ آپ نے سلطانوں کو بلا کر فرمایا کہ ”اس کو کھانا کھلا دو۔“ اس نے مجھے کھانا کھلا دیا۔ کھانے کے بعد جب پوچھا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ظہر کے بعد، ظہر کے بعد فرمایا کہ ”عصر کے بعد“ عصر کے بعد پوچھا تو فرمایا کہ صبح کو۔ میں گھر چلی گئی۔ صبح دس بجے جب آئی تو حضورؐ دروازے میں کھڑے حافظ احمد اللہ صاحب کی لڑکی کلثوم کو بلا رہے تھے ”کلثوم! کلثوم!!“ جب وہ آئی تو اس کو انگور دئے پھر اس کو کہا کہ ”زینب (یعنی اس کی بڑی بہن) کہاں ہے؟“ اس کو بلا کر بھی انگور دئے پھر مجھے بھی انگور دئے۔ کلثوم نے کہا کہ یہ بیعت کرنے کو آئی ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ”ظہر کے بعد۔“ میں وہیں بیٹھی رہی۔ ظہر کے بعد فرمایا کہ ”لڑکی تیری بیعت ہو چکی“ اس طرح تیسرے دن میری بیعت قبول ہوئی تھی۔

﴿1427﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ محترمہ قاضی عبد الرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کشمیر سے بہت سے سیب آئے ۔ حضورؐ نے فرمایا کہ سب گھروں میں تقسیم کر دو۔ آٹھ آٹھ نو نو سیب گھروں میں بانٹے گئے تھے۔ سیب بڑے بڑے اور بہت اچھے تھے۔ گھر میں سیبوں کا مربہ تھا وہ کچھ خراب ہو گیا تھا۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”اس کو پھینک دو‘ بعض عورتوں نے عرض کی کہ یہ مربہ ان کو دے دیا جائے مگر آپ نے فرمایا کہ ”نہیں لوگ کھا کر بیمار ہو جائیں گے۔“ عورتوں نے کہا کہ اوپر سے پھینک دیتے ہیں۔ نیچے والا اچھا ہوگا اس کو پھر پکا لیں گے۔ چنانچہ نیچے والا جو اچھا نکلا تھا اس کو پکا کر کچھ رکھ لیا تھا کچھ بانٹ دیا تھا۔“

﴿1428﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم و مغفور نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں قادیان میں تھی اور حضرت ڈاکٹر صاحب لاہور گئے ہوئے تھے۔ ان دنوں میرے بھائی مظہر علی صاحب طالب جو ایسٹ افریقہ میں پوسٹ ماسٹر تھے انہوں نے واپس آنے کے واسطے رخصت لی تھی۔ ہم ان کے انتظار میں رہا کرتے تھے ان کی ڈاک بھی آنے لگ گئی تھی۔ ابھی ہمیں معلوم نہ تھا کہ ان کا ارادہ وطن آنے کا سردست ملتوی ہو گیا ہے اب وہ اپنے بڑے بھائی ڈاکٹر علی اظہر صاحب کے ساتھ ہی کچھ عرصہ تک آئیں گے کہ اچانک اطلاع ملی کہ وہ وہیں فوت ہو گئے ہیں اس پر ہمیں بہت صدمہ ہوا اور خصوصاً میری والدہ مکرمہ بوبوجی نے بہت غم کیا۔ حضور مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو بلایا اور بہت تسلی دی اور سمجھایا کہ ”جو اولاد پہلے فوت ہو جاتی ہے اپنے والدین کی بخشش کا موجب ہوتی ہے۔ اللہ کریم اس کی محبت بھری سفارش کو جو والدین کے لئے ہوتی ہے قبول فرما کر ان کو بھی بخش دیتا ہے۔“

﴿1429﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مائی رکھی صاحبہ لگے زئی فیض اللہ چک خادمہ والدہ نذیر نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مائی راجی جولاہی جو پہلے زمانہ میں روٹیاں پکایا کرتی تھی۔ اس نے ہم کو سنایا تھا کہ اکثر جب میں روٹیاں پکایا کرتی (تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابھی چھوٹے ہی تھے) آپ کھدر کے دوپٹہ میں روٹیاں رکھ کر گٹھڑی کندھے پر اٹھا کر باہر بھاگ جاتے جب میں منع کرتی اور پوچھتی کہ ”میاں! کیا کر رہے ہو؟“ تو فرماتے کہ ”میں کوئی برا کام کر رہا ہوں؟“ جب میں آپ کی والدہ کو پکارتی کہ دیکھو آپ کا بیٹا کیا کر رہا ہے؟ اور وہ آکر پوچھیں تو کہتے کہ ”باہر میرے ہم جولی ہیں ان کو روٹیاں نہ کھلاؤں؟“

﴿1430﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مائی کاکو صاحبہ نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ہم آٹھ عورتیں بیعت کرنے کو آئیں۔ میری ممانیاں اور میری بھاوجیں۔ باہر سے ایک لڑکا آیا کہ ایک آدمی کا کھانا دے دو۔ حضور علیہ السلام واماں جان سامنے بیٹھے تھے وہ لڑکا کھڑا رہ کر چلا گیا۔ کھانا پکانے والی نے کچھ پرواہ نہ کی۔ حضرت اماں جان نے کھانا پکانے والی کو کہا ”تم نے کیوں اس کو کھانا نہیں دیا؟“ اور کہا کہ ”جب کوئی سفید کپڑے والا آتا ہے تو تم اس کو کھانا کھلاتی ہو مگر میلے کپڑے والے کی پرواہ نہیں کرتی۔“ اماں جان نے اس کو نکال دیا۔

﴿1431﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔رسول بی بی صاحبہ والدہ خواجہ علی صاحب نسبتی بہن حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب میں قادیان میں آئی تھی میرا بیٹا خواجہ علی اس وقت چھ یا سات سال کا تھا۔ اس کا باپ جو غیر احمدی تھا اس نے اور شادی کر لی تھی۔ جب میں حضرت صاحب کے گھر جاتی تو اُمّ المومنین فرماتیں کہ ”یہ لڑکا باپ کے جیتے ہی یتیم ہے اس کو کچھ دو۔“ اُمّ المومنین اس کو عموماً مٹھائی وغیرہ دیا کرتی تھیں۔

﴿1432﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔رسول بی بی صاحبہ والدہ خواجہ علی صاحب نسبتی بہن حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب حضور علیہ السلام سیالکوٹ تشریف لے گئے تھے۔ میں بھی معہ اس بچہ (یعنی خواجہ علی صاحب) کے حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور ان کے اہل وعیال کے ساتھ ہم رکاب تھی۔ حضور علیہ السلام کی گاڑی پر لوگوں نے اینٹیں پھینکی تھیں۔ میرا خاوند پٹواٹا میں ملازم تھا۔ حضورؐ نے مجھے میرے خاوند کے پاس بھیج دیا، فرمایا کہ ”تم لڑکا لے کر اپنے خاوند کے پاس چلی جاؤ۔ ہم ابھی سیالکوٹ میں بیس دن ٹھہریں گے۔“ فرمایا تھا کہ اگر تمہارا خاوند تم کو دِق کرے تو چلی آنا۔ ایک عورت جو کشمیری تھی میرے ساتھ بھیجی تھی۔ شام کو جب میں گھر پہنچی تو میرے خاوند نے کہا کہ مرزا کی بیعت چھوڑ دے اور بد کلامی بھی کی۔ میں نے کہا کہ ”مجھے جو کچھ کہنا ہے بیشک کہو مگر ہمارے حضرتؑ کو گالیاں نہ دو۔ میں نہیں سن سکتی۔ اس پر اس نے مجھے مارا اور کہا کہ ”مرزے کے اوپر کیوں چڑھتی ہے۔ اگر بیعت نہیں چھوڑے گی تو میرے گھر سے نکل جا۔ میں نے کہا ”بیعت نہیں چھوڑوں گی۔“ رات بھر لڑتے ہوئے گزری۔ صبح کو بھوکی پیاسی لڑکے اور اس عورت کو ساتھ لے کر واپس سیالکوٹ آگئی۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”ایسا ظالم ہے اس کو بچے پر بھی ترس نہ آیا۔ اچھا اس نے اپنے بچہ کو دھکے دئے ہیں۔ اب وہ کسی اور بچے کا منہ نہیں دیکھے گا۔“ انجام اس کا یہ ہوا کہ جو عورت اُس نے کی ہوئی تھی اس کی اولاد پچھلے خاوند سے ایک لڑکا ۲۵ سال کا اور ایک لڑکی تھی۔ لڑکے کا بیٹا بھی ایک تھا جو کہ پندرہ یوم کے اندر ہی سب مر گئے اور وہ خود بھی لاولد ہی مر گیا ہے۔ میرا بیٹا خواجہ علی جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مہربانی تھی بفضل خدا صاحب اولاد ہے۔

﴿1433﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حافظ حامد علی صاحب کی بیوی نے اپنے خاوند رضی اللہ عنہ سے خفا ہو کر حضورؐ کی خدمت میں ان کی شکایات کیں اور کہا کہ میں اب گھر میں نہیں جاؤں گی۔ وہ ایک دن شاید نہیں گئی تھی۔ حضورؐ نے حافظ صاحب کو جو حضورؐ کے قدیمی خادم تھے طلب فرما کر سمجھایا تھا کہ ”عورتیں کمزور ہوتی ہیں۔ مردوں کو چاہئے کہ نرمی اختیار کریں۔ میں ایسی سختی پسند نہیں کرتا۔“ ان کو سمجھا کر ان کی بیوی کو گھر بھیج دیا تھا۔ حافظ صاحب نے معافی بھی مانگی تھی۔

﴿1434﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب حضور علیہ السلام جہلم کے مقدمہ سے واپس آئے تو چارپائی پر بیٹھ گئے اور اپنے پاؤں کپڑے سے صاف کئے۔ فرمایا ”تم کو معلوم ہے سلطان احمد ڈپٹی ہو گیا ہے، ہم کو خط لکھا تھا دعا کرو۔ ہم نے دعا کی وہ ڈپٹی ہو گیا ہے“

﴿1435﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ہم سب بھائی (یعنی خاکسار و برادران میاں جمال الدین مرحوم و میاں امام الدین صاحب) مسائل فقہی کی بنا پر گاہے بگاہے بدیں طریق تجارت کرتے تھے کہ غلہ خرید کر ضرورت کے موقع پر غرباء کو کسی قدر گراں نرخ پر بطور قرض دے دیتے اور فصلِ آئندہ پر وصولی قرضہ کر لیتے تھے۔ جب حضور علیہ السلام کا دعویٰ ظاہر ہو گیا تو اس وقت بھی ایک دفعہ غلہ خریدا گیا کہ غرباء کو دستورِ سابق دیا جائے۔ جب میں قادیان گیا تو مجھے خیال آیا کہ حضور علیہ السلام سے اس کے متعلق دریافت کرلوں۔ چنانچہ حضورؐ کی خدمت میں سوال مفصل طور پر پیش کر دیا۔ حضور علیہ السلام نے جواباً فرمایا کہ ”تمہیں ایسے کاموں کی کیا ضرورت ہے؟“ جس لہجہ سے حضورؐ نے جواب دیا وہ اب تک میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ جس سے ثابت ہوا کہ حضور علیہ السلام کو ایسے کام بہت ناپسند ہیں۔ پس واپس آ کر ہم نے ارادہ ترک کر دیا اور بعد ازاں پھر

کبھی یہ کام نہ کیا۔

﴿1436﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک بار صاحبزادہ مبارک احمد کچھ بیمار ہو گئے۔ آپ نے فرمایا کہ ”مکڑی کا گھر ہونا چاہئے ۔“ میں نے کہا حضورؐ! میں لاتی ہوں۔ میں اپنے گھر سے چار پانچ مکڑی کے گھر صاف کر کے لائی۔ حضورؐ نے لے کر دوائی بنائی۔“

﴿1437﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مائی کا کو صاحبہ نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہمارے گاؤں سیکھواں سے کچھ عورتیں آئیں جن میں منشی عبدالعزیز پٹواری کی بیوی بھی تھی جو ایک ٹوکری میں تازہ جلیبیاں لائی۔ حضور علیہ السلام پلنگ پر لیٹے ہوئے تھے۔ ایک خادمہ پاؤں دبا رہی تھی۔ جلیبیوں کا رنگ بہت خوش نما تھا۔ ٹوکری لا کر اس نے حضورؐ کے سرہانے کی طرف پلنگ پر رکھ دی۔ حضورؐ نے ایک جلیبی اٹھا کر کھائی ۔ پیر دبانے والی خادمہ نے کہا کہ حضورؐ یہ جلیبیاں ہندوؤں کے ہاتھ کی بنی ہوتی ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ ”ترکاریاں جو ہم روز کھاتے ہیں یہ گوبر کی کھاد کی بنی ہوئی ہیں۔ دھو دھا کر ہمارے آگے رکھ دیتے ہیں ہم کھا لیتے ہیں“۔

﴿1438﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مسماۃ غفور بیگم صاحبہ بنت حضرت منشی احمد جان صاحب لدھیانوی ہمشیرہ پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں قادیان میں اپنے بھائی کے ہاں آئی ہوئی تھی۔ ہم سب رات کو حضرت اماں جان کے پاس آئیں ۔ ایک بڑے دالان میں ہم سب بیٹھی ہوئی تھیں، اماں جان بھی تھیں۔ حضورؐ کا چھوٹا بچہ (مجھے یاد نہیں کہ کون سا صاحبزادہ تھا؟) رونے لگا۔ حضور علیہ السلام جو اُمّ ناصر کے آنگن میں دروازہ تھا اس میں سے باہر تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضورؐ نے کھڑکی میں سر اندر کر کے دریافت کیا کہ ”کیا بچہ چپ ہو گیا ہے؟“ تو معلوم ہوا کہ چپ کر گیا ہے تو حضور علیہ السلام اندر تشریف لائے۔

﴿1439﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مائی کا کو صاحبہ نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ہمارے زمانہ میں جو بھی کوئی عورت آتی حضورؐ کو سلام کرتی ۔ حضور علیہ السلام وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ کے بعد فرماتے کیا خدا کو جانتی ہو؟ رسول کو جانتی ہو؟ نماز پڑھتی ہو؟ قرآن پڑھتی ہو؟ قرآن شریف کا ترجمہ بھی پڑھا کرو تاکہ تم کو سمجھ آجائے اس میں کیا حکم ہے؟

﴿1440﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ مولوی فضل الدین صاحب زمیندار کھاریاں نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ آپ کو سردی بہت لگا کرتی تھی۔ آپ اپنی پگڑی کو کمر سے باندھ لیا کرتے تھے۔ جب آپ اندر نہ بیٹھ سکتے تھے تو حضرت اُمّ المومنین کو فرماتے کہ’ میں اندر نہیں بیٹھ سکتا باہر چلو۔‘‘ آپ اُمّ المومنین سے الگ نہیں بیٹھا کرتے تھے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ آپ کو الہام ہو رہا ہوتا اور حضرت بیوی صاحبہ آپ کے پاس ہوتیں۔ آپ کو ان سے بہت انس ومحبت تھی۔ ایک دن حضرت اُمّ المومنین نے فرمایا کہ ”دنیا میں رشتے تو بہت ہوتے ہیں مگر میاں بیوی کا رشتہ سب سے بڑا ہے۔ میرا دل چاہتا ہے۔ میں آپ کے ساتھ مروں۔

﴿1441﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایام مقدمات کرم دین میں حضور علیہ السلام کئی کئی روز تک گورداسپور میں ہی رہتے تھے کیونکہ روزانہ پیشی ہوتی تھی۔ ایک مکان تحصیل کے سامنے جو تالاب ہے۔ اس کے جنوب میں کرایہ پر لیا گیا تھا۔ ایک روز حضورؑ مکان کے اوپر کے حصہ میں تھے۔ نیچے والے حصہ میں ایک شخص قرآن کریم تکلف کے لہجہ میں پڑھ رہا تھا، سن کر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”یہ آواز کو ہی سنوارتا رہتا ہے۔‘‘ گویا تکلف سے قرآن کریم پڑھنے کو ناپسند فرمایا۔

﴿1442﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جس سال عید قربان پر عربی زبان میں خطبہ مسجد اقصیٰ میں پڑھا۔ حضورؑ نے قبل از قراءت خطبہ حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ (خلیفہ اوّل) اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ کو تاکیداً فرمایا۔ ”خطبہ کو ساتھ ساتھ لکھتے جانا کیونکہ جو کچھ اس وقت میں کہوں گا اس کے لکھنے میں غلطی رہ گئی تو بعد میں میں بتا نہ سکوں گا۔ چنانچہ جس وقت حضورؑ نے خطبہ شروع کیا تو ہر دو مولوی صاحبان لکھتے جاتے تھے پہلے حضورؑ نے کچھ حصہ خطبہ کا کھڑے کھڑے پڑھا اور بعد میں کرسی لائی گئی جس پر بیٹھ کر خطبہ کو ختم کیا۔ دورانِ خطبہ

میں الفاظ کی روانی کا یہ حال تھا کہ ہر دو مولوی صاحبان موصوف باوجود تحریری و علمی قابلیت کے پیچھے رہے جاتے تھے حتیٰ کہ بعض دفعہ فرمایا کہ ”جلدی کرو۔ جلدی کرو“ اور اس وقت حضور علیہ السلام پر ایک عجیب محویت کا عالم تھا کہ آنکھیں بند کی ہوئی تھیں اور چہرہ مبارک پُر نُور برستا ہوا معلوم ہوتا تھا اور بلا کسی قسم کی روک ٹوک کے عربی عبارت مسلسل اور مقفّٰی پڑھتے جا رہے تھے گویا یوں معلوم ہوتا تھا کہ آگے کتاب رکھی ہوئی ہے یا جیسے کوئی حافظ قرآن پڑھتا جا رہا ہے۔ غالباً دو تین گھنٹہ تک مضمون خطبہ جاری رہا ہوگا۔ بعد میں مَیں نے سنا تھا کہ کسی صاحب کے سوال پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میری آنکھوں کے سامنے سلسلہ وار مضمون لکھا ہوا گزرتا جاتا تھا اور میں پڑھتا جاتا تھا۔“

﴿1443﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ مولوی فضل الدین صاحب زمیندار کھاریاں نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ بی بی زینب نے عرض کی کہ میرے ماموں فوت ہو گئے ہیں اور وہ احمدی نہ تھے۔ ان کا ایک لڑکا ہے دعا کریں کہ احمدی ہو جائے۔ آپ نے پوچھا کہ ”اس کا نام کیا ہے؟“ میں نے بتایا کہ ”اس کا نام غلام محمد ہے۔“ حضورؐ نے لکھ لیا۔ آپ نے دعا فرمائی اور وہ احمدی ہو گیا۔ الحمد للہ علیٰ ذالک۔

﴿1444﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا ہے کہ جب بڑی سخت طاعون پڑی تھی تو حضورؐ نے حکم دیا تھا کہ لوگ صدقہ کریں۔ چنانچہ لوگوں نے صدقے کئے اور حضور علیہ السلام نے بھی کئی جانور صدقہ کئے تھے۔ گوشت اس قدر ہو گیا تھا کہ کوئی کھانے والا نہیں ملتا تھا۔ انہی دنوں میں ماسٹر محمد دین صاحب جو آج کل ہیڈ ماسٹر ہیں ان کو طاعون ہو گئی تھی۔ ان کے واسطے حضور علیہ السلام نے کیمپ لگوا دیا تھا۔ تیمارداری کے واسطے ڈاکٹر گوہر دین صاحب کو مقرر فرمایا تھا اور گھر میں ہم سب کو حکم دیا تھا کہ ”دعا کرو، خدا ان کو صحت دیوے۔ چنانچہ ان کو صحت ہو گئی تھی۔“

﴿1445﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اصغری بیگم صاحبہ بنت اکبر خان صاحب مرحوم دربان زوجہ مدد خان صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”ایک دن میں اکیلی بیٹھی تھی۔ بادل گھرا ہوا تھا اور ترشح ہو رہا تھا۔ حضورؐ نے پوچھا کہ ”تمہارا بچہ کہاں ہے؟“ میں نے عرض کی کہ حضور خادمہ اپنے گھر لے گئی ہے۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”اور تو نے اس کو گھر لے جانے کی اجازت کیوں دی؟ یہ لوگ گھر جا کر خود اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں اور بچوں کو زمین پر چھوڑ دیتے ہیں وہ بارش میں بھیگ رہا ہو گا۔“ حضور علیہ السلام نے ایک اور خادمہ سے فرمایا کہ ”جلدی جا کر اس کے بچہ کو لے آ۔“ چنانچہ جب وہ عورت گئی تو دیکھا کہ وہ خود چکی پیس رہی تھی اور بچہ کو باہر زمین پر بارش میں بٹھایا ہوا تھا۔ وہ خادمہ بھیگتے ہوئے بچہ کو اٹھا لائی تو ہم لوگ حیران ہوئے کہ جس طرح حضورؐ نے فرمایا تھا کہ بچہ بارش میں بھیگ رہا ہو گا۔ ویسا ہی ظہور میں آیا۔

﴿1446﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حضرت اُم ناصر صاحبہ حرم اوّل حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ وبنت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم و مغفور نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضور علیہ السلام مجھ پر نہایت مہربانی اور شفقت فرمایا کرتے تھے۔ مجھے جس چیز کی ضرورت ہوتی حضورؐ سے عرض کرتی حضورؐ اس کو مہیا کر دیتے اور کبھی انکار نہ کرتے۔

میرا اور سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ کا روزمرہ کا معمول تھا کہ عصر کے بعد ایک دن میں اور ایک دن مبارکہ بیگم حضورؐ کے پاس جاتے اور کہتے کہ حضورؐ بھوک لگی ہے۔ حضورؐ کے سرہانے دو لکڑی کے بکس ہوتے تھے۔ حضورؐ چابی دے دیتے۔ مٹھائی یا بسکٹ جو اس میں ہوتے تھے جس قدر ضرورت ہوتی ہم نکال لیتے، ہم کھانے والی دونوں ہوتیں تھیں مگر ہم تین یا چار یا چھ کے اندازہ کا نکال لیتیں اور حضورؐ کو دکھا دیتیں تو حضور علیہ السلام نے کبھی نہیں کہا کہ زیادہ ہے اتنا کیا کرو گی۔

﴿1447﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ جو الہام ہے کہ ”دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“ اس کی ایک قرأت یہ بھی ہے کہ ”دنیا میں ایک نبی آیا“ (یعنی بجائے ”نذیر“ نبی کا لفظ الہام میں ہے)۔

﴿1448﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام مسجد مبارک میں بیٹھے ہوئے تھے ایک شخص نے سوال کیا کہ جبکہ اعمال محدود ہیں تو نجات ابدی کیونکر ہے؟ فرمایا کہ موت بندہ کے اپنے اختیار کی چیز نہیں ہے اگر وہ ہمیشہ زندہ رہتا تو اعمال کرتا رہتا لیکن خدا نے اس کو موت دے دی۔ یہ اختیار سے باہر ہے لہٰذا نجات ابدی ہے۔“

﴿1449﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضورؐ نے فرمایا کہ ”نبی جب مجلس میں بیٹھتا ہے تو گویا دکانِ عطّاری کھولتا ہے ہر ایک کو (یعنی روحانی مریضوں کو) مناسب حال نسخہ جات بتاتا ہے۔“

﴿1450﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ مولوی فضل الدین صاحب زمیندار کھاریاں نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضور علیہ السلام نے مجھے فرمایا کہ ”طاعون کم سردی میں شروع ہوتی ہے اور جب طاعون کے آثار دیکھنا تو باہر چلی جانا۔“ میں نے عرض کی کہ حضور علیہ السلام میرے پاس باہر رہنے کا سامان نہیں ہے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”موٹے موٹے گدیلے بنا کر چلی جانا۔“ جب طاعون شروع ہوگئی تو میں ڈرتی تھی کہ حضورؐ نے فرمایا تھا کہ ”باہر چلے جائیں“ لیکن میرے خاوند نے کہا کہ چونکہ ہمارے باہر جانے سے مسجد ویران ہوجائے گی اس لئے ہم نہیں جاتے ۔ تو خدا تعالیٰ نے حضرت صاحب کی معرفت میرے خاوند کو کچھ بتلا دیا اس لئے ہم باہر نہ گئے۔

﴿1451﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ صاحبہ مولوی فضل الدین صاحب زمیندار کھاریاں نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت نانی جان صاحبہؓ اپنے اور اپنے بچوں کے لئے اور حضرت نانا جان صاحبؓ کے لئے حضور علیہ السلام سے دعا کرایا کرتی تھیں نیز مولوی محمد علی صاحب جو اب پیغامی ہیں ان کی بیوی جن کا نام ”فاطمہ“ تھا اپنے اور اپنی بیٹی رقیہ کے لئے دعا کرایا کرتی تھی۔ مولوی فضل الدین صاحب بھی دعا کرایا کرتے تھے جو میرے شوہر ہیں۔ جب وہ حضرت صاحب سے خاص محبت میں رخصت مانگا کرتے تھے تو حضورؐ اجازت نہ دیا کرتے تھے ایک بار جس دن ہم نے جانا تھا تو حضور علیہ السلام کو ایک الہام ہوا کہ جو کہ خطرناک تھا۔ حضورؐ نے مجھے رقعہ لکھ کر دیا کہ مولوی صاحب کو دے آؤ۔ میں نے رقعہ پہنچا دیا اور مولوی صاحب سے کہا کہ مجھے بھی ایک رقعہ لکھ دو میں نے حضورؐ کو دعا کے لئے دینا ہے۔ انہوں نے لکھ دیا۔ میں لے کر چلی گئی اور پوچھا۔ حضور اس رقعہ کو الماری میں لگا دوں؟ حضورؐ نے فرمایا۔ ”ہاں! وہاں پر میرا بہت کام رہتا ہے۔“ اور میں حکم کی تعمیل کر کے چلی گئی۔

﴿1452﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حضرت ام ناصر صاحبہ حرم اول حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز و بنت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم ومغفور نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھے جب پہلا بچہ نصیر احمد پیدا ہونے والا تھا میری طبیعت خراب تھی۔ مجھے دورہ ہو گیا۔ میں اس وقت بیت الدعا میں تھی۔ خادمہ مجھے دبا رہی تھی۔ حضور علیہ السلام بار بار دریافت فرماتے تھے کہ ”کیا حال ہے؟“ حضورؐ نے مجھے دوا بھی بھیجی تھی۔ حضرت خلیفہ ثانی اس وقت گھر میں نہیں تھے۔ جب آئے تو حضورؐ نے فرمایا کہ ”محمود تم کو معلوم نہیں کہ محمودہ بیمار ہے؟ جاؤ دیکھو اور مولوی صاحب (حکیم الامت) کو بلا کر علاج کراؤ“ حضرت میاں صاحب پہلے میرے پاس آئے، حال پوچھا اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو بلا کر علاج کرایا۔“

﴿1453﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حضرت اُم ناصر صاحبہ حرم اوّل حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز و بنت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب بڑا زلزلہ آیا صبح کا وقت تھا۔ یکایک شور و غل کی آوازیں آئیں اور جھٹکے شروع ہو گئے۔ ہم اس وقت گھر میں وہ کمرہ جو کنوئیں کے اوپر تھا اور اب گرا دیا گیا ہوا ہے، اس میں تھے۔ نوکریں باہر سے دروازہ کھٹکھٹاتی تھیں کہ دروازہ کھول کر باہر نکلو۔ حضرت خلیفہ الثانی رضی اللہ تعالیٰ چارپائی پر چڑھ کر دروازہ کھولنے کی کوشش فرماتے مگر جھٹکوں کے باعث کھول نہیں سکتے تھے۔ کنڈی گنڈے سے کچھ ہی پیچھے ہٹاتے تھے کہ زلزلہ کے جھٹکے سے ہاتھ چھوٹ جاتا اور حلقہ پیچھے ہٹ جاتا۔ کئی بار ایسا ہوا۔ بمشکل کنڈی کھولی۔ سردی بھی لگ رہی تھی۔ میں نے پردہ کے واسطے چادر اٹھانی چاہی مگر میاں صاحب نے میرا ہاتھ پکڑ کے مجھے جلدی سے باہر کھینچ لیا۔ وہاں آنگن کی کنڈی بند تھی اسے بمشکل کھولا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور سب خدا کے حضور سجدہ میں گرے پڑے تھے۔ میں نے چونکہ نماز نہیں پڑھنی تھی میں کھڑی رہی۔ حضرت میاں صاحب نے مجھے ہاتھ سے پکڑ کر سجدہ میں گرا دیا۔

﴿1454﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم و مغفور نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وصال لاہور میں ہوا ہے تو ڈاکٹر صاحب خلیفہ رشید الدین صاحب ایک سال کی رخصت پر قادیان آئے ہوئے تھے۔ آپ نے بہت خواہش کی کہ حضورؐ ان کو بھی اپنے ہمرکاب لاہور جانے کی اجازت مرحمت فرمائی جاوے۔ مگر حضورؐ نے فرمایا کہ ”تم یہاں گھر کی حفاظت کرو۔ بابو شاہ دین صاحب بیمار تھے ان کا علاج معالجہ بھی کرتے رہو۔ اور کہ اپنے آدمی کا پیچھے گھر میں ہونا ضروری ہے۔ روزانہ خبر بھیجتے رہا کرو۔“ اور اپنے حجرہ میں ڈاکٹر صاحب کو اور مجھے رہنے کا حکم فرمایا۔ میری والدہ اور بھاوجہ اس جگہ تھے جہاں اب ام ناصر احمد سلمہ ہیں۔ جب حضورؐ کو لاہور میں تکلیف تھی اور جب تک حضورؐ کے وصال کی خبر وصال کے دن عصر کے وقت تک نہ آئی تھی۔ مجھے اور ڈاکٹر صاحب کو ایسی پریشانی تھی کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ دل بیٹھا جاتا تھا اور دماغ چکراتا تھا۔ کسی پہلو قرار نہ تھا۔ جب خبر پہنچی تو حالت دگرگوں ہوگئی اور معلوم ہوا کہ پہلا قلق اس ناشدنی خبر کا پیش خیمہ تھا۔

﴿1455﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام مسجد مبارک میں سورۃ الحمد شریف کے مضامین کے متعلق ذکر فرما رہے تھے اسی ضمن میں فرمایا کہ ” ایمان بین الخوف والرجاء ہے اور سورۃ الحمد شریف میں الرَّحْمٰن اور الرَّحِیْم فرما کر ساتھ ہی مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ فرمایا۔ اس سے ثابت ہے کہ اگر ایک طرف رَحْمٰن و رَحِیْم ہے تو دوسری طرف مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ بھی ہے۔ کیسا دونوں فقروں میں خوف و رجا کو نبھایا ہے۔“

﴿1456﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے کنجری کے مال کے متعلق فرمایا کہ ”دینی جہاد میں خرچ کر لیا جائے۔ کیونکہ جب دشمن اسلام پر حملے کر رہا ہو اور اہلِ اسلام کے پاس گولہ بارود (کے لئے) کنجری کے مال کے سوا نہ ہو۔ تو کیا دیکھتے رہنا چاہئے کہ یہ کنجری کا مال ہے، ہم استعمال نہیں کرتے۔ ہر چیز خدا کی مملوک ہے، خدا مالک ہے۔ اس کی طرف جا کر پاک ہو جاتی ہے۔“

﴿1457﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ سردار سندر سنگھ صاحب ساکن دھر مکوٹ بگہ تحصیل بٹالہ جب مسلمان ہو گئے تو ان کا اسلامی نام فضل حق رکھا گیا تھا۔ ان کی بیوی اپنے آبائی سکھ مذہب پر مصر تھی۔ سردار فضل حق صاحب چاہتے تھے کہ وہ بھی مسلمان ہو جائے۔ ایک دن حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”اگر وہ مسلمان نہیں ہوتی تو نہ ہووے، اپنے مذہب پر رہتے ہوئے آپ کے گھر میں آباد رہے، اسلام میں جائز ہے۔“ کوشش کی گئی لیکن وہ سردار صاحب کے پاس نہ آئی۔ آخر سردار فضل حق صاحب کی شادی لاہور میں ہو گئی جس سے اولاد ہوئی۔

﴿1458﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ٹوپی سلمہ ستارہ کی بڑی خوبصورت بنی ہوئی تھی۔ میاں شریف احمد صاحب اس وقت چھوٹے بچے تھے وہ اس ٹوپی کو ٹھوکریں مارتے اور پاؤں میں دبا کر دوسرے ہاتھ سے کھینچتے تھے۔ ہم عورتوں نے منع کیا مگر نہ مانے۔ حضرت اماں جان کے منع کرنے پر بھی نہ رُکے۔ حضرت اماں جان نے حضورؐ سے عرض کی کہ ”شریف ٹوپی خراب کر رہا ہے۔“ حضورؐ نے باہر آکر دیکھا اور فرمایا کہ ”کیا ہوا بچہ تو ہے میں نے بھی جب میں چھوٹا تھا ایک خوبصورت کرتہ جو نینوں کا تھا پھاڑ دیا تھا۔“ ”بچہ جو ہوا“ چند مرتبہ فرمایا تھا۔ اس پر میاں شریف احمد صاحب ٹوپی چھوڑ کر چلے گئے۔

﴿1459﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک مرتبہ کسی نے تین ترکی ٹوپیاں بھیجیں۔ حضور علیہ السلام نے تینوں بچوں کو بلوا کر تینوں ٹوپیاں حضرت میاں محمود احمد صاحب، میاں بشیر احمد صاحب و میاں شریف احمد صاحب سلّمہم کے سروں پر رکھ دیں اور اپنے کام میں مشغول ہو گئے۔ آپ نے یہ بھی خیال نہ کیا کہ آیا ٹوپیاں ٹھیک ہیں یا کیسی ہیں؟

﴿1460﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ”ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے قبول ہونے والی دعا کے متعلق فرمایا کہ دعا کیا ہے کہ جیسے مرگی کی حالت یکا یک وارد ہوتی ہے اسی طرح دعا کی حالت انسان پر وارد ہوتی ہے۔“

﴿1461﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں نے حضور علیہ السلام کو جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ میں دو رکعت ہی پڑھتے ہوئے بارہا دیکھا ہے۔ عام طور پر لوگ قبل از نماز جمعہ چار رکعت پڑھتے ہیں لیکن حضور علیہ السلام کو دو رکعت ہی پڑھتے دیکھا ہے شاید وہ دو رکعت تحیۃ المسجد ہوں کیونکہ باقی نمازوں میں سنتیں گھر میں ہی پڑھ کر مسجد مبارک میں تشریف لاتے تھے۔

﴿1462﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام کی مجلس میں ” لَا صَلٰوۃَ اِلَّا بِحُضُوْرِ الْقَلْبِ “ پر ذکر ہوا۔ فرمایا کہ ”حضورِ قلب یہی ہے کہ جب اذان ہو مسجد میں چلا جاوے۔ آگے نماز میں توجہ قائم ہو یا نہ ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار کی بات ہے۔ بندہ کا کام ہے کہ وقت پر حاضر ہو جائے۔“

﴿1463﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم و مغفور نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ بڑے زلزلہ کے بعد جب میں آگرہ سے آئی تھی تو خادمہ اصغری کی والدہ اور دوسری عورتوں نے مجھے بتایا تھا کہ حضور مسیح موعود علیہ السلام میاں محمود یعنی خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی تعریف فرماتے تھے کہ ”اس نے ایسے گھبراہٹ اور خطرناک وقت پر جو زلزلہ کے خوف سے پیدا ہو گیا تھا اپنی بیوی کو سنبھالے رکھا اور اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا۔ ایسے نازک وقت پر عورتیں بسا اوقات اپنے بچوں کو بھی بھول جاتی ہیں۔“

﴿1464﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب قادیان میں پہلی مرتبہ اینٹوں کا بھٹہ جاری ہوا تھا تو حضرت اقدس اُمّ المومنین اور دوسری بعض عورتوں کو اپنے ہمراہ سیر پر لے گئے تھے اور بھٹہ جس میں اینٹیں پک رہی تھیں دکھایا تھا۔ حضورؐ نے بتایا اور سمجھایا تھا کہ کس طرح اس میں کہاں اینٹیں رکھی جاتی ہیں۔ کیونکر آگ دی جاتی ہے؟ اور کس طرح پختہ کر کے پکائی جاتی ہیں؟ تمام باتیں بتائیں اور سمجھائی تھیں۔

﴿1465﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ برکت بی بی صاحبہ اہلیہ اللہ یار صاحب ٹھیکیدار نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب اخبار میں یہ چھپا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کشف میں دیکھا کہ فرشتے کالے کالے درخت لگا رہے ہیں تو حضورؐ نے اس سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت لگا رہے ہو؟ اس نے کہا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں۔ طاعون بہت پڑے گی۔ قادیان کو اور شہروں کی نسبت محفوظ رکھا جاوے گا۔ میرے والد صاحب نے میری والدہ صاحبہ کو کہا کہ تم قادیان چلی جاؤ۔ میرا بھائی قادیان میں پڑھتا تھا اور رشتہ دار بھی قادیان میں تھے۔ ہم قادیان چلے آئے۔ جب میری ماں اور دوسری بہنیں بھی آنے لگیں تو میں بھی تیار ہوئی مگر میری بڑی بہن نے کہا کہ یہ کنواری لڑکی ہے یہ نہ جاوے کیونکہ ہمارے ہاں دستور تھا کہ کنواری لڑکی باہر نہیں بھیجتے تھے۔ میں بہت روئی اور ضد کی آخر وہ راضی ہو گئے اور ہم سب روانہ ہو پڑے۔ میری ماں گھوڑی پر سوار تھی اور ہم پیدل تھے۔ میرے پاؤں سوج گئے۔ جب ہم سرکاری سکول کے پاس ریتی چھلہ پہنچے تو سانس لینے کے واسطے تھک کر بیٹھ گئے۔ حضور اس وقت سیر کو تشریف لے جا رہے تھے۔ وہاں سے گزرے۔ جب ہم حضورؐ کے دَرِ دولت پر پہنچے تو اماں جان نے فرمایا کہ حضورؐ سیر کو تشریف لے گئے ہیں۔ مجھے حضورؐ کی زیارت کا سخت اشتیاق تھا۔ حضور علیہ السلام تشریف لائے تو میں نے دیکھا کہ چہرہ مبارک بہت نورانی تھا۔ حضورؐ نے دریافت کیا کہ ”تم کہاں سے آئے ہو؟“ عرض کیا کہ حضور! مکیریاں سے آئے ہیں۔ سبحان پور تیرا ضلع کانگڑہ کے وزیر الدین ہیڈ ماسٹر صاحب کی ہم بیٹیاں ہیں اور یہ ہماری والدہ صاحبہ ہیں۔ حضورؐ نے دریافت فرمایا کہ ”کھانا کھا لیا ہے؟“ ہم نے کہا کہ ”حضور کھا لیا ہے۔“ آپ اندر تشریف لے گئے۔ ہم نے ڈاکڑنی صاحبہ سے پوچھا کہ بیعت کیسے لیتے ہیں؟ ڈاکٹرنی صاحبہ نے کہا کہ جس طرح حضورؐ فرماتے جاویں گے تم بھی کہتی جانا کوئی محنت نہیں کرنی پڑے گی۔ اماں جان نے حضورؐ کو کہا کہ ”یہ بیعت کرنے آئی ہیں۔“ حضور علیہ السلام دالان میں کرسی پر بیٹھ گئے۔ حضورؐ نے ہم سے بیعت لینی شروع کی۔ ہم شرم کے مارے آواز نہیں نکال سکتی تھیں۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”اتنی آواز نکالو کہ میں سن سکوں۔“ پھر ہم نے کچھ اونچی آواز کی۔ جب ہم واپس جانے لگے تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”تمہارے پیر سوجے ہوئے ہیں تم آج نہ جاؤ، آرام ہو گا تو چلی جانا۔“

﴿1466﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ برکت بی بی صاحبہ اہلیہ اللہ یار صاحب ٹھیکیدار نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ میرے والد صاحب رخصت لے کر آئے تھے تو حضورؐ نے فرمایا تھا کہ ’’اور زلزلہ آئے گا۔‘‘ یعنی ایک بڑا زلزلہ جو کہ آ چکا تھا اس کے بعد اور آنے والا ہے۔ میرے والد صاحب نے کہا کہ حضور فرمادیں تو رخصت لے کر یا ملازمت چھوڑ کر چلا آؤں۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ’’لگا ہوا روزگار نہیں چھوڑنا چاہئے۔ دعا کے واسطے بار بار یاد دلایا کرو‘‘، آخر دسمبر تک میں ایک دفعہ حضورؐ کے دَرِ دولت پر گئی تو اماں جان نے اصغری کی اماں سے چاول پکوائے۔ چاول خراب ہو گئے۔ حضرت اماں جان اس پر خفا ہوئیں۔ حضور علیہ السلام آواز سن کر باہر آگئے اور فرمایا کہ ’’اس کو کچھ نہ کہو۔‘‘ اماں جان نے فرمایا کہ ’’اس نے چاول خراب کر دیئے ہیں۔‘‘ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’چاول ہی خراب ہوں گے۔‘‘

﴿1467﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ”حضور علیہ السلام کو زلزلہ ضلع کانگڑہ وغیرہ (جو ۱۹۰۴ء میں غالباً آیا) کے متعلق جب یہ الہام ہوا کہ نُهَدِّمُ مَا يُعَمَّرُونَ۔“ اس پر حضور علیہ السلام نے ایک دن فرمایا کہ ”دھرم سالہ ضلع کانگڑہ میں اس الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ پھر زلزلہ آئے گا اور جو عمارات بنا رہے ہیں گرادی جائیں گی (رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنَا وَانْصُرْنَا وَارْحَمْنَا)

﴿1468﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ہم اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب ایک ہی مکان میں رہتے تھے۔ ورانڈہ میں ہم نے دیوار کر لی تھی۔ میرے لڑکا پیدا ہوا۔ حضور علیہ السلام نے اس کا نام ”عبدالسلام“ رکھا تھا۔ میری نند امۃ الرحمن صاحبہ نے حضور اقدسؐ سے کہا کہ ”ہم اور مفتی صاحب ایک ہی مکان میں رہتے ہیں۔ ان کے بچے کا نام بھی ”عبدالسلام“ ہے اور ہمارے کا نام بھی ”عبدالسلام“ ہے۔ حضور علیہ السلام نے ہنس کر فرمایا کہ ”پھر کیا ہوا وہ اپنے باپ کا بیٹا ہے یہ اپنے باپ کا ہے۔“

﴿1469﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ برکت بی بی صاحبہ اہلیہ اللہ یار صاحب ٹھیکیدار نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھے ماہواری تکلیف سے ہوا کرتی تھی۔ میں نے اس کا ذکر اپنی اماں سے نہ کیا بلکہ حضور علیہ السلام سے عرض کر دیا کہ مجھ کو یہ تکلیف ہے حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”ایسی باتیں اپنی والدہ سے کہو۔ مردوں سے نہ بیان کیا کرو۔‘ اس پر مجھے بعد میں شرمساری ہوئی۔

﴿1470﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم و مغفور نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت اُمّ المؤمنین اور سب نے مل کر آم کھائے صحن میں چھلکوں اور گٹھلیوں کے دو تین ڈھیر لگ گئے جن پر بہت سی مکھیاں آگئیں۔ اس وقت میں بھی وہاں بیٹھی تھی۔ کچھ خادمات بھی موجود تھیں مگر حضرت اقدس نے خود ایک لوٹے میں فینائل ڈال کر سب صحن میں چھلکوں کے ڈھیروں پر اپنے ہاتھ سے ڈالی۔

﴿1471﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ (حضرت مسیح موعودؑ نے۔ ناقل) ایک دفعہ فرمایا کہ ”دعا نماز میں کرنی چاہئے رکوع میں، سجدہ میں، بعد تسبیحات مسنونہ اپنی زبان میں دعا مانگے۔ بعض لوگ نماز تو جلدی جلدی پڑھ لیتے ہیں اور بعد نماز ہاتھ اٹھا کر لمبی لمبی دعائیں کرتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جب سامنے کھڑا ہو اس وقت مانگتا نہیں ۔ جب باہر آجائے تو پھر دروازہ جا کھڑکانے لگے۔ نمازی نماز کے وقت خدا تعالیٰ کے حضور سامنے کھڑا ہوتا ہے اور اس وقت تو جلدی جلدی نماز پڑھ لیتا ہے اور کوئی حاجت یا ضرورت خدا تعالیٰ کے حضور پیش نہیں کرتا لیکن جب نماز سے فارغ ہو کر حضوری سے باہر آجاتا ہے پھر مانگنا شروع کرے ( یہ ایک قسم کی سوء ادبی ہوگی ) اس کے یہ معنے نہیں کہ بغیر نماز دعا جائز نہیں صرف یہ مطلب ہے کہ نماز کے وقت خاص حضوری ہوتی ہے اس وقت ایسا نہیں کرنا چاہئے بلکہ بہتر ہے کہ نماز کے اندر دعا کرے وہ قبولیت کا وقت ہوتا ہے۔

﴿1472﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”میں نے حضرت اماں جان صاحبہ سے سنا کہ ایک دفعہ شام کے وقت حضرت اُمّ المؤمنین صاحبہ اور مولویانی نے صلاح کی کہ حسن بی بی اہلیہ ملک غلام حسین صاحب کو ڈرائیں۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام عشاء کی نماز کے لئے مسجد میں تشریف لے گئے تو حضرت اُمّ المؤمنین نے حسن بی بی سے کہا کہ پانی پلاؤ جب وہ پانی لینے گئی تو مولویانی صاحبہ چارپائی کے نیچے چھپ گئی۔ وہ پانی لے کر آئی اور چارپائی کے پاس کھڑی ہو کر پانی دینے لگی تو مولویانی صاحبہ نے نیچے سے اس کے پاؤں کی زور سے چٹکی لی۔ اس نے دو تین چیخیں ماریں اور زمین پر گر پڑی۔ حضور علیہ السلام مسجد سے گھبرائے ہوئے تشریف لائے اور استفسار فرمایا تو حضرت اماں جان اور سب چپ ہو گئیں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ ”میں نے کئی بار کہا ہے کہ نماز کے وقت ایسی باتیں نہ کیا کرو۔“ آپ علیہ السلام ہنستے بھی جاتے کیونکہ حضورؐ کو معلوم ہو گیا تھا کہ مذاق کیا گیا ہے۔

﴿1473﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ”اللہ دتہ وعلی محمد چھینبے وغیرہ سکنائے سوہل تحصیل و ضلع گورداسپور ابتدائے دعویٰ سیدنا حضرت مسیح موعودؑ کے وقت اکثر معترض رہتے تھے اور ہر حرکت وسکون پر اعتراض کرتے رہتے تھے۔ مینار (جو نزول گاہ مسیح موعودؑ ہے) پر بھی معترض تھے کہ ”مینار کہاں ہے؟“ جس پر حضرت مسیح کا نزول احادیث میں آیا ہے ایک روز حضرت صاحبؑ کے حضور عرض کیا گیا کہ مولوی اللہ دتہ وغیرہ سوہلوی (چھینبے) مینار کے متعلق اعتراض کرتے ہیں۔ حضور علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ”جس وقت مینار بنے گا اس وقت یہ چھینبے کہاں ہوں گے؟ (یعنی ہلاک ہو چکے ہوں گے) چنانچہ ایسا ہی ہوا ایک طاعون سے ہلاک ہوا اور دوسرا علی محمد زندہ درگور کی حالت میں ہے، کبھی کلام کرتا نہیں سنا گیا۔

﴿1474﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب حضور مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دائی فوت ہوئی تھیں تو حضورؐ نے افسوس کیا تھا اور فرمایا تھا کہ ”آج ہماری دائی صاحبہ فوت ہوگئی ہیں۔“

﴿1475﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضورؐ نے ایک بزرگ کا ذکر کیا کہ وہ دعا کرتے اور جواب جناب الٰہی سے آتا کہ تمہاری دعا مردود ہے، قابل قبول نہیں۔ اتفاق سے ان کا ایک مرید ملنے کے لئے آگیا۔ جب حسب دستور انہوں نے دعا شروع کی تو جناب الٰہی سے وہی جواب ملا جو روز ملا کرتا تھا۔ آخر مرید نے بھی وہ جواب سن لیا تو اس نے اپنے پیر کی خدمت میں عرض کی کہ جبکہ یہی جواب آتا ہے کہ تمہاری دعا مردود ہے قابل قبول نہیں تو آپ دعا ترک کیوں نہیں کر دیتے؟ تو پیر نے جواباً فرمایا کہ تم دو تین رات میں ہی سن کر گھبرا گئے۔ میں تو تقریباً ۳۰ سال سے یہی جواب سن رہا ہوں کہ ”تمہاری دعا مردود ہے قابل قبول نہیں ہے۔“ وہ بے نیاز ہے جو چاہے کرے اور میں بندہ ہوں ، اس کے سوا میرے لئے کوئی پناہ نہیں ہے۔ وہ اپنی بے نیازی کی وجہ سے میری دعا کو رد کرتا جائے۔ میں اپنی بندگی اور عبودیت کو اس کے حضور پیش کر کے مانگتا جاؤں گا جب تک کہ دم میں دم ہے۔ جب اس کا استقلال اس حد تک پہنچ گیا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کو بذریعہ الہام بتایا گیا کہ ”تمہاری سب دعائیں مقبول ہیں۔“

﴿1476﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عورت (قوم خانہ بدوش) آلے بھولے یعنی مٹی کے کھلونے بیچنے والی آئی اس نے آواز دی۔ ”لوئی آلے بھولے۔“ گرمی کا موسم تھا۔ حضور علیہ السلام اور اماں جان ان دنوں دن کو مکان کے نیچے کے حصہ میں رہتے تھے۔ حضورؑ کھانا کھا کر ٹہل رہے تھے کہ اس عورت نے آواز دی۔ ”لوئی آلے بھولے۔“ ابھی میں نے جواب نہیں دیا تھا کہ وہ پھر بولی کہ میں سخت بھوکی ہوں مجھے روٹی دو۔ صفیہ کی اماں جو حضور کی خادمہ تھی اس وقت کھانا کھلایا کرتی تھی۔ انہوں نے دو روٹیاں سلطانو کو دیں کہ ان پر دال ڈال کر اس کو دے دو۔ سلطانی مغلانی بھی حضور علیہ السلام کے گھر میں آنکھوں سے معذور اور غریب ہونے کی وجہ سے رہتی تھی۔ اس نے جب دال ڈال کر اس سائلہ کو دی تو اس عورت نے جلدی سے ٹوکرا زمین پر رکھ کر روٹی ہاتھ میں لی اور جلدی سے ہی ایک بڑا سا لقمہ توڑ کر اپنے منہ میں ڈالنے کے لئے منہ اوپر کیا اور ساتھ ہی ہاتھ بھی اونچا کیا۔ مکان کی پکی عمارت اس کو نظر آئی تو لقمہ اس کے ہاتھ میں تھا اور سخت بھوکی منہ اوپر کو کئے ہوئے اس نے پوچھا کہ ”یہ کس کا گھر ہے کہیں عیسائیوں کا تو نہیں۔“ سلطانو نے کہا کہ ”تو کون ہے؟“ اس نے کہا کہ ”میں مسلمان امت رسول دی۔“ حضورؑ ٹہلتے ہوئے یہ بات سن کر کھڑے ہو گئے فرمایا ”اس کو کہہ دو۔ یہی مسلمانوں کا گھر ہے۔“ پھر تین بار فرمایا کہ ”اس کو کہہ دو کہ یہ خاص مسلمانوں کا گھر ہے۔“ پھر ایک روپیہ اپنی جیب سے نکال کر اس کو دیا اور اس کے اس فعل سے کہ باوجود سخت بھوک ہونے کے اس نے جب تک تحقیق نہیں کر لی کہ یہ خیرات مسلمانوں کی ہے اس کو نہیں کھایا۔ آپ بہت خوش ہوئے۔

﴿1477﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جلسہ (دھرم) مہوتسو لاہور کے موقعہ پر جب حضور علیہ السلام کا مضمون ”اسلامی اصول کی فلاسفی“ جو حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے بمقام لاہور پڑھ کر سنایا تھا جس کی نسبت خداتعالیٰ نے پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ ”مضمون بالا رہا“ اس وقت محویت سامعین کا یہ حال تھا کہ کوئی اگر کھانستا بھی تو سامعین گوارا نہ کرتے تھے۔ مضمون کیا تھا اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ایک چمکتا ہوا نشان تھا۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مکذب کا مضمون اس مضمون سے ایک روز پہلے ہو چکا تھا جو اس نے خود پڑھا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ لوگ ہم سے نشان مانگتے ہیں ہم کہاں سے نشان دکھلائیں؟ ہم میں کوئی اب نشان دکھلانے والا نہیں ہے۔ اس کے بعد دوسرے دن حضور علیہ السلام کا مضمون پڑھا گیا جس میں بڑے زور سے کہا گیا کہ ”اندھا ہے وہ جو کہتا ہے کہ کہاں سے نشان لائیں؟ آؤ میں نشان دکھلاتا ہوں اور میں اندھوں کو آنکھیں بخشنے کے لئے آیا ہوں (یہ فقرات بذات خود نشان تھے کیونکہ مولوی محمد حسین کا مضمون پہلے پڑھا گیا تھا اور حضور علیہ السلام کا بعد میں پڑھا گیا اور اگر حضور علیہ السلام کا مضمون پہلے پڑھا جاتا اور مولوی محمد حسین کا بعد میں پڑھا جاتا تو بے مزگی پیدا ہو جاتی لیکن قدرت کا منشا تھا کہ اسلام کی عظمت ظاہر ہو اس لئے مولوی محمد حسین نے جو کمزوری (اسلام کی طرف) اپنے مضمون میں دکھلائی تھی خدا کے مامور و مرسل نے اس کو رَدّ کر کے اسلامی شوکت کو بلند کر دیا۔ الحمد للہ علیٰ ذالک

﴿1478﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ برکت بی بی صاحبہ اہلیہ اللہ یار صاحب ٹھیکیدار نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ ہم پر بہت قرضہ ہو گیا تھا۔ میں نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”لکڑی کا کاروبار کرو۔“ چنانچہ لکڑی کے کاروبار سے ہم کو بہت فائدہ ہوا۔

﴿1479﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ برکت بی بی صاحبہ اہلیہ اللہ یار صاحب ٹھیکیدار نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک مرتبہ میں اور میری بہن مکیڑیاں سے آئے۔ طاعون کے دن تھے۔ حضور علیہ السلام کے دروازہ پر پہرہ تھا۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”تم کو کسی نے نہیں روکا؟“ عرض کیا کہ نہیں۔ حضورؐ ہم کو کسی نے نہیں روکا۔ حضور علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ ”جہاں سے تم آئی ہو وہاں تو طاعون نہیں تھا؟ ہم نے کہا کہ نہیں۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”کوئی جگہ خالی نہیں رہے گی سب جگہ طاعون پڑ جائے گی“۔

﴿1480﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ماہِ رمضان کا روزہ خود چاند دیکھ کر تو نہیں بعض غیر احمدیوں کی شہادت پر روزہ رکھ لیا اور اسی دن (ہم) قادیان قریباً ظہر کے وقت پہنچے اور یہ ذکر کیا کہ ہم نے روزہ رکھا ہوا ہے اور حضور علیہ السلام بھی مسجد میں تشریف لے آئے۔ اسی وقت احادیث کی کتابیں مسجد میں ہی منگوائی گئیں اور بڑی توجہ سے غور ہونا شروع ہو گیا کیونکہ قادیان میں اس روز روزہ نہیں رکھا ہوا تھا۔ اسی دوران میں ہم سے سوال ہوا کہ ”کیا چاند تم نے خود دیکھ کر روزہ رکھا ہے؟“ ہم نے عرض کیا کہ ”بعض غیر احمدیوں نے دیکھا تھا“۔ ہمارے اس فقرے کے کہنے پر کہ ”چاند غیر احمدیوں نے دیکھا تھا“ کتاب کو تہہ کر دیا اور فرمایا کہ ”ہم نے سمجھا تھا کہ تم نے خود چاند دیکھ کر روزہ رکھا ہے اس لئے تحقیقات شروع کی تھی۔ اس کے بعد دیر تک ہنستے رہے۔“

﴿1481﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ برکت بی بی صاحبہ اہلیہ اللہ یار صاحب ٹھیکیدار نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک مرتبہ میرے والد ماسٹر ظہیر الدین صاحب بیمار ہو گئے تو میرے خاوند ان کو قادیان میں لے آئے۔ حضور علیہ السلام ان دنوں دہلی تشریف لے گئے ہوئے تھے۔ جب میرے والد صاحب کی بیماری زیادہ بڑھ گئی تو ان کے رشتہ داران کو لے گئے۔ کہتے تھے کہ کہیں اپنی لڑکی کے گھر میں ہی فوت نہ ہو جائیں۔ وہ اسی بیماری سے فوت ہو گئے تھے۔ جب حضور علیہ السلام دہلی سے واپس آئے تو میں سلام کے واسطے گئی۔ حضورؐ میری آواز سن کر کمرے سے باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ ”برکت! تیرے والد کے فوت ہونے کا افسوس ہے۔“ میں رو پڑی۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”رو نہیں ۔ ہر ایک نے فوت ہونا ہے۔ تسلی رکھنی چاہئے ۔“ جب سے حضور علیہ السلام نے ایسا فرمایا تھا میرا رونا اور غم کرنا بند ہو گیا تھا۔

﴿1482﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جن ایام میں مقدمات شروع ہوئے تھے اور عیسائی کلارک والے مقدمہ کا فیصلہ ہوا تھا اور پیلا طوس بہادر صاحب ڈپٹی کمشنر ڈگلس گورداسپور نے فیصلہ کرتے وقت حضور علیہ السلام کو مبارک باد کہہ کر بری کیا تھا اور یہ بھی دریافت کیا تھا کہ ”کیا آپؐ کلارک وغیرہ پر ازالہ حیثیت کا استغاثہ کریں گے؟“ حضورؑ نے کہا تھا کہ ”میں دنیاوی حکومتوں کے آگے استغاثہ کرنا نہیں چاہتا۔ میری فریاد اپنے اللہ تعالیٰ کے آگے ہے۔“ اس فقرہ کا اس پر اچھا تاثر ہوا تھا۔ احمدیوں کو اس مقدمہ میں عزت کے ساتھ بریت کی بڑی خوشی تھی۔ مولوی محمد حسین بٹالوی نے (بٹالوی) عیسائیوں کی تائید میں شہادت دی تھی۔ بریت پر اس کو بھاری ذلت پہنچ چکی تھی۔ عبد اللہ آتھم عیسائی بھی میعاد پیشگوئی میں مرعوب ہو کر بڑبڑاتا رہا تھا کہ ”مجھ پر سانپ چھوڑے گئے ہیں اور تلواروں والے حملہ آور ہوئے وغیرہ۔ مولوی محمد حسین نے بھی آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہندوستان کا باوجود نمائندہ ہونے کے ایک چھری خرید لی جس کو جیب میں رکھتا تھا۔

ایک روز شیخ محمد بخش سب انسپکٹر تھانہ بٹالہ کے پاس یہ ذکر کر دیا اور ان کو چھری دکھلائی۔ سب انسپکٹر نے نقضِ امن کی رپورٹ کر دی اور ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے فریقین کو طلب کر لیا۔ ادھر سب انسپکٹر نے جوشِ سب انسپکٹری میں کہہ دیا کہ ”آگے ہی مرزا کلارک والے مقدمہ سے بچ گیا تھا۔ اب بچا تو جانیں گے۔“ اس طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے مسیح موعودؑ کو بریت کی خبر دے دی کہ ’ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ وَيُوْثَقُ ‘ کہ ظالم اپنے ہاتھ کاٹے گا اور روکا جائے گا۔ غرض اس مقدمہ میں صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر دورہ پر تھے، بمقام کارخانہ دھاریوال پیشی تھی اور رمضان کا مہینہ تھا۔ تاریخ سے پہلے خیال تھا کہ کارخانہ دھاریوال کے قریب کسی جگہ ڈیرہ لگایا جائے تاکہ پیشی کے وقت تکلیف نہ ہو۔ (قادیان سے آٹھ میل سفر تھا) پہلے موضع لیل میں کوشش کی گئی لیکن افسوس کہ مسلمانانِ لیل نے انکار کر دیا۔ بعدش موضع کھونڈا تجویز ہو گئی اور رانی اِیشر کور صاحبہ جو موضع کھونڈا کی رئیسہ تھی اس نے حضرت اقدس کی تشریف آوری پر بہت خوشی کا اظہار کیا اور اپنے مصاحبوں کو حضور علیہ السلام کے استقبال کے لئے آگے بھیجا اور اپنا عالی شان مکان صاف کرا کر رہائش کے لئے دے دیا اور اپنے مصاحبوں کے ذریعہ نذرانہ پیش کیا اور کہلا بھیجا کہ مجھے حضور کی آنے کی اس قدر خوشی ہوئی ہے کہ میں سمجھتی ہوں کہ سردار جیمل سنگھ صاحب سرگباش آ گئے ہیں (سردار جیمل سنگھ صاحب رانی موصوفہ کے خسر تھے) اس رات کو رانی صاحبہ موصوفہ نے حضور علیہ السلام کو مع خدام پُر تکلف

دعوت دی حضور علیہ السلام نے بڑی خوشی کا اظہار کیا۔

اس سفر میں سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب مدراسی بھی ساتھ تھے۔ حضورؑ پالکی میں تھے۔ (پالکی قدیم پنجاب کی سواری تھی قریباً چار آدمی اٹھاتے تھے) اور سیٹھ صاحب یکّہ پر تھے۔ ہم سب بھائی پالکی کے ساتھ ساتھ چلتے تھے اور ہم نے روزے رکھے ہوئے تھے۔ جب روزے کا ذکر ہوا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”سفر میں روزہ نہیں ہے“۔ ہم نے اسی وقت افطار کر دئے۔

دوسرے روز بمقام کارخانہ دھاریوال میں پیش ہوئے (کھونڈا سے ایک میل کے فاصلہ پر تھا) آئندہ تاریخ گورداسپور کی ہو گئی۔ زائرین کا ہجوم اس قدر تھا کہ آخر حضور علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی گئی کہ زائرین مضطرب زیارت ہیں لیکن کثرت کی وجہ سے اطمینان سے زیارت نہیں کر سکتے۔ حضور علیہ السلام درخواست کو منظور فرما کر نہر کے پل پر کھڑے ہو گئے اور لوگوں کو زیارت کا موقع دیا گیا۔

نوٹ: مولوی محمد حسین اس نظارہ کو دیکھتا تھا لیکن حسرت کی نگاہ سے (افسوس) آخر مجسٹریٹ ضلع نے مولوی محمد حسین سے لکھوا لیا کہ ”میں آئندہ مرزا صاحب کو کافر نہیں کہوں گا“۔ اور سب انسپکٹر کے ہاتھوں پر مہر ی (چندرا) کے زخم ہو گئے جس سے وہ جانبر نہ ہو سکا۔

صدق اللہ تعالىٰ ۔ ”يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ وَيُوْثَقُ“۔ حضور علیہ السلام سے اسی مجسٹریٹ ضلع نے پوچھا کہ آپ اس کو کافر کہتے ہیں۔ حضورؑ نے جواب دیا کہ ”میں نے اس کو نہیں کہا بلکہ اس نے مجھ پر کفر کا فتویٰ لگایا اس لئے وہ خود کافر ہوا“ اور اس پر آپ نے دستخط کر دئے۔“

﴿1483﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ برکت بی بی صاحبہ اہلیہ اللہ یار صاحب ٹھیکیدار نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں اکثر اپنی بہن کے لڑکے کو جو چھ یا آٹھ سال کا تھا حضرت اقدسؑ کے گھر میں لے جاتی تھی۔ ایک دن اس کو جبکہ نماز پڑھ رہی تھی کھانسی ہوئی۔ حضورؑ نے فرمایا کہ ”اس بچہ کو کالی کھانسی ہے جب تک آرام نہ ہو یہاں ساتھ نہ لایا کرو۔“ میں نے عرض کی کہ حضور دعا فرماویں کہ آرام ہو جائے۔ چنانچہ بچہ کو جلد آرام ہو گیا تھا۔

﴿1484﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ابتدائے دعویٰ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے وقت مولوی اللہ دتہ، محمد علی وغیرہ سوہلوی کے ساتھ مقابلہ ہوتا رہتا تھا۔ ایک دفعہ موضع اَٹھوال ضلع گورداسپور میں (اٹھوال میں اب بفضل خدا کافی جماعت قائم ہے) مقابلہ ہوا۔ چونکہ اس سے پہلے کئی مقابلے ہو چکے تھے اس لئے اس روز مباہلہ پر زور دیا گیا کہ مباہلہ کیا جاوے تا فیصلہ ہو جاوے۔ صدہا آدمی موجود تھے۔ قریباً کئی گھنٹہ تک بالمقابل مباہلہ پر گفتگو ہوتی رہی۔ احمدیت کی طرف سے خاکسار بولتا تھا اور مخالفین کی طرف سے مولوی اللہ دتہ تھا۔ وہ تمسخر و استہزاء میں وقت ضائع کر رہا تھا۔ ہر چند امن کے ساتھ تصفیہ کی طرف متوجہ کیا گیا لیکن وہ تمسخر و استہزاء سے باز نہ آیا۔ آخر مجلس بلا تصفیہ برخاست ہو گئی۔ مجھے یاد ہے کہ شیخ غلام مرتضیٰ صاحب والد شیخ یوسف علی صاحب (سابق پرائیویٹ سیکرٹری حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) وہاں مع دیگران موجود تھے۔ احمدیوں کے کلام اور رویہ سے نہایت متاثر تھے۔ خیر مباہلہ تو نہ ہوا لیکن خدا تعالیٰ کی مشیت نے اسی سال کے اندر ہی مولوی اللہ دتہ کو طاعون میں گرفتار کر کے ہلاک کر دیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذَالِکَ ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن

﴿1485﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں سوال کیا کہ شادیوں کے موقعہ پر اکثر لوگ باجا، آتش بازی وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں اس کے متعلق شرعی فیصلہ کیا ہے؟ فرمایا کہ ”آتش بازی تو جائز نہیں۔ یہ ایک نقصان رساں فعل ہے اور باجا کا بغرضِ تشہیرِ نکاح جواز ہے“۔

﴿1486﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ عید کا دن تھا اور اسی عیدگاہ میں عید پڑھی گئی تھی جس کا آج کل غیر احمدی تنازعہ کرتے ہیں کہ احمدی جبراً قبضہ کر رہے ہیں۔ حضور علیہ السلام بھی عیدگاہ میں پہنچ گئے تھے اور ٹہل رہے تھے کہ پہلے مجھے حکیم فضل دین صاحب مرحوم بھیروی نے کہا کہ سب مسلمان یہاں آ گئے ہیں تم شہر چلے جاؤ تا مستورات کی حفاظت ہو جائے۔ ابھی میں تامل میں تھا کہ حضور علیہ السلام ٹہلتے ہوئے اسی موقعہ پر آ گئے۔ یہاں حکیم صاحب سے باتیں ہو رہی تھیں ۔ حکیم صاحب نے حضورؐ کے پیش کر دیا کہ میاں خیر الدین کو کہا ہے کہ شہر میں جا کر حفاظت مستورات کرے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”کسی اور کو حفاظت کے لئے بھیج دو“ حکیم صاحب نے دوبارہ میرا نام پیش کر دیا۔ حضورؐ نے انکار کیا۔ حکیم صاحب نے دوبارہ میرا نام ہی پیش کر دیا تو حضور علیہ السلام نے کسی قدر جھڑکی کے ساتھ روک دیا تو حکیم صاحب خاموش ہو گئے۔

﴿1487﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے مباحثات و مناظرات کو حکماً بند کر دیا۔ انہیں ایام میں مولوی اللہ دتہ ، علی محمد سوہلوی و مولوی عبد السبحان ساکن مسانیاں وغیرہ یکا یک موضع ہرسیاں میں آگئے۔ اس وقت بھائی فضل محمد صاحب (والد مولوی عبد الغفور صاحب مبلغ) و منشی نور محمد صاحب وغیرہ تھے۔ ہرسیاں والے احمدی برادران نے مولوی فتح الدین صاحب کو دھرمکوٹ بگہ سے بلا لیا اور سیکھواں میں ہماری طرف بھی بلانے کے لئے آدمی آگیا۔ چونکہ حضور علیہ السلام کا حکم نسبت بند کرنے مباحثات و مناظرات کے ہم کو علم تھا۔ اس لئے میں اور میرے بڑے بھائی میاں امام الدین صاحب ( والد مولوی جلال الدین صاحب شمس مبلغ) روانہ ہرسیاں ہو گئے اور ہمارے سب سے بڑے بھائی میاں جمال الدین صاحب مرحوم برائے حصول اجازت قادیان روانہ ہو گئے اور وہاں فیصلہ یہ ہوا کہ تا وقتیکہ قادیان سے اجازت نہ آوے مباحثہ نہیں ہوگا۔ ہم نے ہرسیاں جا کر یہ خبر سنا دی اور مباحثہ روک دیا گیا۔ اب مخالفین کی طرف سے پیغام پر پیغام آتے ہیں کہ میدان میں نکلو اور ہم خاموش تھے لیکن زبانی طور پر ان کو جواب دیا گیا کہ ہم ایک امر کے منتظر ہیں جب حکم پہنچے گا تب مناظرہ کریں گے ورنہ نہیں۔ اس پر مخالفین نے خوشی کے ترانے گانے شروع کر دیئے۔ وہاں کا نمبر دار چوہدری فتح سنگھ صاحب ان کی طرف سے آیا اور مجھے الگ کر کے کہا کہ اگر آپ میں طاقت مباحثہ نہیں ہے تو آپ مجھے کہہ دیں تو میں ان کو کسی وجہ سے یہاں سے روانہ کر دیتا ہوں۔ میں نے کہا کہ ہم میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مباحثہ کرنے کی طاقت ہے اور فریق مخالف ہماری طاقت کو جانتا ہے لیکن ہم اپنے پیشوا کے تابع ہیں۔ قادیان ہمارا آدمی برائے حصول اجازت گیا ہوا ہے اس کے آنے کے ہم منتظر ہیں۔ اگر قادیان سے اجازت حاصل ہو گئی تو ہم مباحثہ کریں گے اور ہماری طاقت کا علم آپ کو ہو جائے گا۔ اگر اجازت نہ ملی تو ہم مباحثہ نہیں کریں گے پھر جو دل چاہے قیاس کر لینا۔ تھوڑی دیر کے بعد بھائی صاحب مرحوم ہر سیاں پہنچ گئے اور کہا کہ حضور علیہ السلام نے اجازت نہیں دی۔ جب مخالفین کو علم ہو گیا کہ مباحثہ احمدیوں کی طرف سے نہیں ہو گا تب ان میں طوفان بد تمیزی بلند ہوا اور جو کچھ ان سے ہو سکتا تھا بکواس کیا۔ تمسخر و استہزاء کی کوئی حد نہ رہی۔ چھوٹے چھوٹے بچے بھی خوشی سے شادیا نے گاتے تھے اور ہم خاموش تھے۔ فریق مخالف بظاہر فتح و کامیابی کی حالت میں اور ہم ناکامی اور شکست کی حالت میں موضع ہر سیاں سے نکلے۔ لیکن خدا تعالیٰ کی قدرت کا عجیب نظارہ دیکھا کہ جمعہ کے روز ہر سیاں مذکور تحصیل بٹالہ سے ایک جماعت قادیان پہنچ گئی کہ ہم بیعت کرنے کے لئے آئے ہیں۔ ہم حیران ہوئے اور پوچھا کہ آپ کو بظاہر ہماری شکست میں کون سی دلیل مل گئی؟ تو انہوں نے جواباً کہا کہ آپ لوگوں کے چہروں سے ہمیں صداقت نظر آئی اور ان کے چہروں سے کذب اور بیہودہ پن کے نشان نظر آئے یہی بات ہم کو قادیان کھینچ لائی۔ الحمد للہ على ذالك۔

﴿1488﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جن دنوں حضور علیہ السلام نے رسالہ آریہ دھرم (جس میں آریوں کے مسئلہ نیوگ کا ذکر ہے) لکھنے کا ارادہ فرمایا تو اس سے پہلے ایک روز فرمایا کہ ”آریہ ہمارے ہمسائے ہیں۔ اگر ہم جیسا کہ دیانند نے نیوگ کی تشریح ستیارتھ پرکاش میں لکھی ہے نقل کر دیں تو شاید آریہ کہیں کہ ہم تو مانتے ہی نہیں، خواہ مخواہ ہماری دل آزاری کی گئی ہے۔ بہتر ہے کہ آریان قادیان سے دریافت کر لیا جائے چنانچہ منتخب آریہ ملاوامل اور شرمپت۔ سومراج کشن سنگھ کیسو نوالہ آریہ وغیرہ کو مسجد مبارک میں بلایا گیا اور ان سے دریافت کیا گیا کہ ”کیا جس طرح پنڈت دیانند نے نیوگ کا مسئلہ بیان کیا ہے درست ہے؟“ انہوں نے کہا کہ نیوگ کا مسئلہ ایسا ہی ہے جیسا کہ طلاق اور نکاحِ ثانی جب ان کو سمجھایا گیا کہ طلاق کے بعد عورت کے ساتھ مرد کا کوئی تعلق نہیں رہتا۔ اس لئے اس کو حق ہوتا ہے کہ نکاحِ ثانی کر لے وے مگر نیوگ میں تو عورت اپنے خاوند کے گھر رہتی ہوئی اس کی کہلاتی ہوئی دوسرے کے ساتھ ہم بستر ہوتی ہے اور اولاد حاصل کر کے خاوند کو دیتی ہے۔ نیز نیوگ بحالت نہ اولاد ہونے کے ہی نہیں کیا جاتا بلکہ اولاد تو ہوتی ہے مگر لڑکیاں ہوتی ہیں لڑکا نہیں ہوتا اس لئے نیوگ کی اجازت ہے تاکہ لڑکا پیدا ہو جائے اس صورت میں طلاق اور نیوگ میں کیا نسبت ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ جب صرف لڑکیاں ہوتی ہوں، جیسا کہ دیانند نے لکھا ہے، لڑکا نہ ہو نیوگ چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں جو کچھ دیانند نے لکھا ہے اس کو ہم مانتے ہیں۔ تو اس وقت میں مولوی عبدالکریم صاحبؒ کے پاس کھڑا تھا۔ مجھے مولوی صاحبؒ نے کہا کہ کہہ دو کہ یہ تو بڑی بے حیائی ہے۔ چنانچہ میں نے بآواز بلند کہہ دیا کہ یہ تو بڑی بے حیائی ہے۔ تو حضور علیہ السلام نے سنتے ہی فرمایا کہ ”چپ“ یعنی خاموش۔ ”یہ نہیں کہنا چاہئے“۔ اس کے بعد آریہ چلے گئے تو آریہ دھرم رسالہ شائع ہوا۔ اللّھم صلّ علیٰ محمّدٍ و آلِ محمّدٍ ونائب محمّدٍ وبارک وسلم انّک حمید مجید۔

﴿1489﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مجھے یاد ہے کہ ماہِ رمضان مبارک تھا اور گرمی کا موسم تھا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس سردخانہ میں تھے جو قدیمی مکان کے مشرقی دروازہ سے ڈیوڑھی کو عبور کرتے ہوئے بجانب شمال تھا۔ آپ صائم تھے اور میں نے روزہ نہیں رکھا تھا کیونکہ میری عمر ابھی سنِ بلوغ کو نہیں پہنچی تھی۔ اور ایک اور شخص جمال نامی جو میاں جان محمد صاحب مرحوم کا بھائی تھا وہاں تھا۔ ہم دونوں حضرت اقدس علیہ السلام کو دبا رہے تھے۔ جب سورج مغرب کی طرف مائل ہو گیا ہوا تھا اس وقت چنے سفید رنگ کے جو سردخانہ کے ایک کونے میں ایک گھڑے میں تھے نکلوائے اور بھنوا کر حضرت اقدسؑ نے اپنے دست مبارک سے ہم دونوں کو تقسیم کر دیئے۔

مجھے یہ بھی یاد ہے کہ ایک نظم جو مولوی غلام رسول صاحب مرحوم قلعہ صوبا سنگھ ضلع سیالکوٹ کی بعض فقہی کتابوں مثلاً پکی روٹی وغیرہ کے آخر میں درج ہوتی تھی جس کے شعروں کی تعداد بارہ تھی وہ حضرت اقدسؑ کے فرمانے پر سنائی تھی۔ اس وقت وہ بارہ شعر تو مجھے یاد نہیں۔ صرف چار یاد ہیں:

دلا غافل نہ ہو اک دم یہ دنیا چھوڑ جانا ہے

بغیچے چھوڑ کر خالی زمیں اندر سمانا ہے

نہ بیلی ہو گا نہ بھائی نہ بیٹا باپ اور مائی

تو کیا پھرتا ہے سودائی عمل نے کام آنا ہے

تیرا نازک بدن بھائی جو لیٹے سیج پھولوں پر

ہووے گا ایک دن مردار یہ کرموں نے کھانا ہے

غلام اک دن نہ کر غفلت حیاتی پر نہ ہو غرہ

خدا کی یاد کر ہر دم جو آخر کام آنا ہے

﴿1490﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ امتۃ الرحمٰن صاحبہ بنت قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ہم سب باغ میں گئے ۔ یہ خادمہ بھی ہر وقت ابو ہریرہؓ کی طرح حضور علیہ السلام کے اردگرد پروانہ کی طرح تھی ۔ کئی عورتیں ساتھ تھیں ۔ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور حضرت اُم المومنین صاحبہ اور حضرت مبارک احمد تینوں جارہے تھے۔ صاحبزادہ مبارک احمد نے بے قراری سے کہا۔ ابا ! سنگترہ لینا ۔ سنگترہ لینا۔ اور خادمہ ان کے پیچھے پیچھے تھی۔ حضور علیہ السلام ایک درخت کے پاس گئے اور ہاتھ اوپر کیا اور ایک سنگترہ مبارک احمد کے ہاتھ میں دے دیا۔ بیوی صاحبہ ہنستی ہوئیں آگے چلی گئیں ۔ میرے ساتھ ایک لڑکی جو بابا حسن محمد کی رشتہ دار تھی اور اس کا نام جیون تھا درخت پر چڑھ گئی۔ اس نے خیال کیا کہ شاید اوپر سنگترے ہیں ۔ ہم سب نے اس کا پتا پتا دیکھا لیکن کوئی سنگترہ نہ ملا۔ وہ سنگترے کا درخت بہشتی مقبرہ کی طرف تھا۔ جب یہ عاجز باغ میں جایا کرتی تو وہ بات یاد آجاتی تھی۔ ایک دفعہ دیکھا کہ وہاں وہ درخت نہ تھا مجھ کو بڑا افسوس ہوا اور رونا بھی آیا۔ دل میں کہا ہائے! اگر میں پاس ہوتی تو جن لوگوں نے وہ درخت کاٹا ہے ہرگز کاٹنے نہ دیتی ۔ یہ نشان میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

﴿1491﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محمد کرم الٰہی صاحب پٹیالہ نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ شیخ محمد حسین صاحب مراد آبادی مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دیرینہ مخلصین میں سے تھے۔ جس زمانہ میں براہین احمدیہ جلد دوئم نور احمد پریس امرتسر میں زیر طباعت تھی۔ شیخ صاحب موصوف مطبع مذکور میں کاپی نویسی کرتے تھے اور اچھے خوش قلم کاتبوں میں سے تھے ۔ چنانچہ براہین احمدیہ جلد دوئم تمام و کمال ان کی کتابت کردہ ہے۔ بعد ازاں شیخ صاحب بوجہ انحطاط قویٰ کاپی نویسی کی مشقت سے سبکدوش ہوکر یہاں پٹیالہ میں آ کر اپنی خوشخطی کی وجہ سے فارن آفس ریاست پٹیالہ میں مراسلہ نگاری کی پوسٹ پر بمشاہرہ ۳۰؍ روپے ماہوار پر ملازم ہو گئے۔ اور دس بارہ برس ملازمت میں رہ کر جماعت احمدیہ پٹیالہ میں باقاعدہ چندہ وغیرہ دیتے رہے اور اسی جگہ ایک رات نماز پڑھ کر مسجد سے گھر کو جاتے ہوئے سانپ کاٹنے سے ان کا انتقال ہوا ۔

﴿1492﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محمد اکرم الہی صاحب پٹیالہ نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ یہاں کے قیام کے دنوں میں حضرت صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے شیخ محمد حسین صاحب مرحوم مراد آبادی نے ایک واقعہ اپنا چشم دید بیان کیا جو درج ذیل ہے۔ شیخ صاحب نے فرمایا کہ جن دنوں میں مطبع مذکور میں براہین احمدیہ جلد دوئم کی کتابت کرتا تھا۔ ایک درویش نما مسن شخص جو ہندوستان کی طرف کا رہنے والا معلوم ہوتا تھا کسی کی وساطت سے مطبع کے احاطہ میں آ کر بطور ایک مسافر کے مقیم ہوا۔ شیخ صاحب فرماتے تھے کہ پہلی دفعہ اس کو دیکھنے سے مجھ کو یہ خیال ہوا کہ یہ کوئی مسجد یا یتیم خانہ وغیرہ کے نام سے چندہ کرنے والا ہو گا لیکن چند روز اس کے قیام کرنے سے روزانہ اس کا یہ وطیرہ دیکھا کہ صبح کو اٹھ کر کہیں باہر چلا جاتا اور شام کو آ کر بلا کسی سے بات چیت کرنے کے اپنی مقررہ جگہ پر آ کر پڑ جاتا۔ مجھے خیال ہوا کہ اگر یہ شخص چندہ وغیرہ کا خواہاں ہوتا تو مطبع میں بھی اس کا کچھ تذکرہ کرتا یا امداد کا خواہاں ہوتا۔ اتفاقاً ایک دن وہ صحن احاطہ میں کھڑے ہوئے مجھ کو مل گیا۔ میں نے پوچھا کہ کیا میں آپ سے دریافت کر سکتا ہوں کہ آپ یہاں کیسے آئے ہوئے ہیں؟ اس درویش نے جواب دیا کہ میں ویسے ہی بطور سیاحت پھرتا رہتا ہوں۔ پھرتا پھراتا اس طرف بھی آنکلا۔ منشی صاحب نے کہا کہ آپ کی غرض سیاحت کیا ہے؟ اس پر اس شخص نے کہا کہ اس غرض کے معلوم کرنے سے آپ کو کچھ فائدہ نہ ہو گا بلکہ آپ مجھ کو ایک خبطی یا سودائی خیال کریں گے۔ شیخ صاحب فرماتے تھے کہ اس کے اس جواب پر مجھ کو زیادہ خیال ہوا اور ان سے با اصرار کہا کہ اگر آپ کا حرج نہ ہو تو بیان کر دیجئے اس پر اس درویش نے اپنا قصہ یوں سنایا کہ میرا جس خاندان سے تعلق تھا وہ ایسے لوگ تھے کہ جن کے ہاں بچپن سے ہی نماز روزہ کی تلقین اور دین سے رغبت پیدا کر دی جاتی ہے۔ مجھ کو سن شعور سے ہی خدا سے ملنے کی آرزو اور اس رسم کے طور پر عبادات بجالانے کے علاوہ اطمینانِ قلب حاصل ہونے کی تمنا تھی۔ میں اپنے اس شوق میں ہر عالم اور بزرگ سے جس سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے یا لوگوں کی زبانی تعریف سن کر پتہ لگتا۔ میں اس سے ملتا اور اپنی آرزو کا اس سے اظہار کر کے بمنّت راہ نمائی کی خواہش کرتا اور جو درویش یا بزرگ کوئی وظیفہ یا چلّہ مجھے بتاتا۔ میں اس کے موافق عمل کرتا لیکن میرا مطلب حل نہ ہوتا تو پھر تلاش میں لگ جاتا، اس سلسلہ میں تلاش میں ایک درویش نے مجھ کو ایک مقام پر ایک خانقاہ کا پتہ بتا کر کہا کہ ایسے مطالب اس بزرگ کی خانقاہ پر چلہ کرنے سے اکثر لوگوں کو حاصل ہوئے ہیں۔ درویش صاحب نے کہا کہ میں تو اپنی دھن کا پکا تھا ہی اس سے اچھی طرح پتا پختہ طور پر لے کر سامانِ سفر کر اس خانقاہ پر جا پہنچا اور حسبِ ہدایت اس درویش کے وہاں چلہ شروع کر دیا ابھی اس چلہ کو نصف تک نہیں کیا تھا کہ ایک رات رویاء میں ایک بزرگ نظر آئے ایک صاحب اور ان کے برابر کھڑے ہوئے تھے اور وہ اول الذکر بزرگ اس وقت میرے خیال میں وہ صاحب خانقاہ بزرگ تھے جس پر میں چلہ میں مصروف تھا۔ بزرگ موصوف نے میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ ”یہاں ناحق اپنا وقت ضائع نہ کرو“ اور اپنے برابر کھڑے دوسرے صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ”اس وقت اگر تمہاری مراد پوری ہوسکتی ہے تو ان سے فیض حاصل کرو۔“ میں نے ان دوسرے صاحب کی طرف بغور دیکھا اور ہنوز یہ دریافت کرنے نہ پایا تھا کہ یہ کون بزرگ ہیں؟ کیا نام ہے؟ اور کہاں رہتے ہیں؟ کہ کسی نے مجھ کو جگا دیا یا خود آنکھ کھل گئی۔

﴿1493﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محمد کرم الہی صاحب پٹیالہ نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ شیخ محمد حسین صاحب مرحوم مراد آبادی نے بیان کیا کہ درویش مذکور نے مجھ سے بیان کیا کہ اس کے بعد میں ایام چلہ پورا کرنے تک وہاں ٹھہرا اور چلہ پورا ہونے پر بھی جب کوئی انکشاف مزید نہ ہوا تو واپس ہو کر اس روز سے اپنا یہ وطیرہ اختیار کر لیا ہے کہ گھر بار سے قطع تعلق کر کے ہر قصبہ و شہر و دیار میں پڑا پھرتا ہوں اور جس جگہ کسی بزرگ کا پتہ لگتا ہے اس کو جا کر دیکھ لیتا ہوں اور جب وہ میرے مطلوبہ حلیہ سے مطابقت نہیں رکھتا تو واپس ہو کر کسی اور طرف کو چلا جاتا ہوں۔ دس بارہ برس سے نہ مجھ کو گھر والوں کی خبر ہے نہ ان کو میری۔ سارا ہندوستان چھان کر اب پنجاب میں آیا ہوں۔ یہاں امرتسر میں پانچ سات اشخاص کا لوگوں نے مجھ کو پتہ دیا لیکن اس حلیہ سے جس کا نقشہ فوٹو کی طرح میرے دل پر ہے کسی کو مطابق نہیں پایا۔ اب میں ایک آدھ روز میں یہاں سے کسی اور طرف کو چلا جاؤں گا۔ یہی میری سیاحی کا مدعا اور غرض ہے۔ شیخ صاحب فرماتے تھے کہ اس کی سرگذشت سن کر مجھ کو حیرت بھی ہوئی اور اس کے حال پر رحم بھی آیا۔ حیرت تو اس لئے کہ کس عزم واستقلال کا یہ شخص ہے کہ ایک امید موہوم کے پیچھے اور محض ایک خواب کی بات پر اپنا گھر بار اور سب کچھ حتیٰ کہ اپنی زندگی بھی اسی بازی پر لگائے پھر رہا ہے اور رحم اس لئے کہ اگر ایسا شخص اس کو نہ ملا تو بیچارہ کی ساری زندگی کس مصیبت میں گزرے گی؟ اور اس نے ایسی منزل اختیار کی ہے جس کا انجام لاپتہ ہے۔ اگر وہ شخص آپ کو نہ ملا تو پھر آپ کیا کریں گے۔ اس کے جواب میں اس نے کہا کہ میں نے عزم کر لیا ہے کہ اپنے اخیر دم تک اسطرح مصروف رہوں گا اور جہاں موت آجاوے مر رہوں گا۔ تا مجھے بارگاہ ایزدی میں یہ کہنے کا حق ہو کہ میری طاقت اور بساط میں جو تھا اس میں میں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اب اگر میری قسمت میں نہ تھا تو میرے اختیار کی بات نہ تھی۔ شیخ صاحب نے اس پر کہا کہ ایک بزرگ کا پتہ میں بھی آپ کو بتا دوں؟ اس نے کہا کہ مجھے اور کیا چاہئے؟ شیخ صاحب نے حضرت صاحب کا پتہ ان کو بتایا کہ یہاں سے چار پانچ اسٹیشن ایک مقام بٹالہ شہر ہے۔ اس سے دس گیارہ میل کے فاصلہ پر ایک چھوٹا قصبہ قادیان نامی ہے وہاں ایک بزرگ مرزا غلام احمد نام ہیں۔ صاحب الہام ہونے کا ان کا دعویٰ ہے۔ اسلام اور قرآن مجید کی حمایت میں انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جو اسی مطبع میں چھپ رہی ہے اگر آپ چاہیں تو اس کی کاپیاں میں آپ کو دکھا سکتا ہوں۔ اس میں انہوں نے اپنے الہام اور پیشگوئیاں بھی درج کی ہیں اور عیسائیوں ، آریوں اور برہموسماجیوں کے اعتراضات کے جو انہوں نے اسلام اور قرآن مجید کے متعلق کئے بڑے پر زور جواب دئے ہیں اور لوگوں کو مقابلہ کے لئے بلایا ہے اور ان کی مسلمہ کتب پر ایسے اعتراضات کئے ہیں کہ تمام ملک میں اس کا چرچا ہے اور ہندوستان و پنجاب کے بڑے بڑے علماء اور اخبارات نے اس کی بڑی تعریف کی ہے کہ ایسی کتاب آج تک اسلام کی تائید میں نہیں لکھی گئی۔ آپ نے جہاں اور بزرگوں کو دیکھا ہے یہاں سے کچھ دور نہیں ہے ان کو بھی دیکھ لو اس پر وہ درویش صاحب بولے کہ نہیں منشی صاحب ایسے اصحاب جو بحث ومباحثہ اور جھگڑے کرنے والے ہوں۔ میری گوں کے نہیں ہیں۔ میرا کام تو اگر خدا کو منظور ہے تو کسی تارک الدنیا بزرگ سے بنے تو بنے۔ نہیں تو جو خدا کی مرضی۔ شیخ صاحب یہ سن کر خاموش ہو کر اپنے کام میں مصروف ہو گئے۔ شیخ صاحب فرماتے تھے کہ ان ایام میں میرا معمول تھا کہ ہفتہ بھر جس قدر براہین احمدیہ کی کاپی کرتا ہفتہ کے روز خود قادیان لے جا کر اس کے پروف حضرت صاحب کے پیش کرتا بعد ملاحظہ اتوار کو پروف لے کر بغرض طباعت امرتسر واپس آ جاتا۔

﴿1494﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محمد کرم الٰہی صاحب پٹیالہ نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ شیخ محمد حسین صاحب مرحوم مراد آبادی فرماتے ہیں کہ درویش سے اس گفتگو کے بعد چونکہ ان کی بات کا میرے دل پر ایک اثر تھا، جس ہفتہ کے دن میں نے قادیان کو پروف لے کر جانا تھا میں درویش مذکور کو پھر ملا اور اس سے کہا کہ میں بھی پروف لے کر جانے والا ہوں اگر آپ چلے چلیں تو کیا حرج ہے؟ سیر ہی ہو جائے گی۔ میرے ساتھ ہونے کے سبب آپ کو کوئی تکلیف نہ ہوگی۔ میرے ساتھ واپس آ کر پھر جدھر آپ کا جی چاہے روانہ ہو جانا۔ اگر آپ کو کرایہ کا خیال ہے تو امرتسر سے واپسی تک کا کرایہ میں دینے کو بخوشی آمادہ ہوں۔ اس پر اس درویش نے کہا کہ نہیں کرایہ وغیرہ کا کچھ خیال نہیں۔ میں پہلے بھی پھرتا ہی رہتا ہوں۔ آپ کہتے ہیں تو میں چلا چلوں گا۔ شیخ صاحب فرماتے تھے کہ کچھ بادل ناخواستہ سا میرے کہنے پر وہ چلنے کو تیار ہو گیا اور دونوں امرتسر سے بسواری ریل روانہ ہوئے اور بارہ بجے دن کے گاڑی اسٹیشن بٹالہ پر پہنچی وہاں سے بسواری یکہ قادیان کو چل پڑے۔ جب نہر کا پل عبور کر کے اس مقام پر پہنچے جہاں سے قادیان کی عمارات نظر آنے لگتی ہیں۔ تو شیخ صاحب نے ان عمارات کی طرف اشارہ کر کے درویش صاحب سے کہا کہ ”یہ عمارات اسی قصبہ کی ہیں جہاں ہم نے جانا ہے۔ اس پر اس درویش نے ایک آہِ سرد کھینچ کر کہا کہ منشی صاحب! خدا کی رحمت سے کیا بعید ہے کہ وہ بزرگ یہی ہوں جن کے پاس آپ مجھے لے جا رہے ہیں جن کا حلیہ میرے دل کی لوح پر نقش ہے۔ اس پر شیخ صاحب نے فرمایا کہ اس روز تو آپ نے فرمایا تھا کہ ایسے لوگوں سے میری مراد پوری ہونے کی امید نہیں پڑتی۔ پھر کس بات نے آپ کی رائے میں تبدیلی پیدا کر دی؟ اس کے جواب میں درویش مذکور نے کہا کہ اس کی کوئی مدلل وجہ تو میں نہیں بتا سکتا مگر ایک کیفیت ہے جس کی مثال ایسی ہے کہ جنگل میں کوئی پیاسا پانی کی تلاش میں سرگردان ہو اس کو پانی تو ابھی نہ ملے لیکن دریا پر سے گزر کر آنے والی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے پانی کے قریب ہونے کا یقین دلا کر اس کے قلب کی تسکین کا موجب اور پانی تک پہنچنے کی امید دلائیں۔ ایسا ہی جوں جوں یہ مقام نزدیک آ رہا ہے میری روح پر ایک پر سرور کیفیت طاری معلوم ہوتی ہے جو اس سے قبل کسی اور جگہ نہیں دیکھی گئی۔ شیخ صاحب نے اس کے جواب میں کہا کہ جو کچھ بھی خدا کو منظور ہے ہوگا اب تو صرف آدھ گھنٹہ کا وقفہ ہے آپ چل کر دیکھ لیں گے۔ شیخ صاحب نے فرمایا کہ دو بجے کے بعد ہم دونوں قادیان پہنچ گئے۔ مہمان خانہ میں سامانِ سفر رکھ کر وضو کیا جب باہر نکلے تو مسجد مبارک کی جانب سے آنے والے ایک شخص کی زبانی دریافت پر معلوم ہوا کہ نماز ظہر ہو چکی ہے مگر حضرت صاحب ابھی مسجد میں تشریف فرما ہیں۔ ہم دونوں ذرا قدم اٹھا کر اوپر گئے۔ حضرت صاحب دروازہ کی طرف رخ کئے ہوئے سامنے تشریف فرما تھے۔ چند خدام کا حلقہ تھا۔ دروازہ مسجد میں جا کر جب ہم دونوں کھڑے ہوئے تو اس درویش نے شیخ صاحب کا ہاتھ پکڑ کر دعائیں دیتے ہوئے کہا۔ خدا آپ کا بھلا کرے آپ نے تو میری کٹھن منزل کا خاتمہ کر دیا۔ میں نے انہی صاحب کو جو سامنے تشریف فرما ہیں۔ رویاء میں دیکھا تھا اور میں ہرگز اس شناخت میں غلطی نہیں کرتا۔ شیخ صاحب نے اس کو مبارکباد کہا اور مسجد میں داخل ہو کر حضرت صاحب سے مصافحہ کیا۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب براستہ دریچہ اندرون تشریف لے گئے اور ہم نے نماز ظہر ادا کی۔

﴿1495﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محمد کرم الہی صاحب پٹیالہ نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ شیخ محمد حسین صاحب مرحوم مراد آبادی نے مجھ سے بیان کیا کہ نماز ظہر کے بعد میں نے پروف پیش کرنے کی اطلاع کرائی۔ حضرت نے متصلہ کمرہ میں تشریف فرما ہو کر مجھے اندر بلا لیا۔ میں نے اول پروف پیش کئے اور پروف کے متعلق ضروری بات چیت کے بعد اس درویش کا قصہ مفصل عرض کیا اور کہا کہ میں امرتسر سے اس کو آج اپنے ہمراہ لایا ہوں اور کہ اس نے حضورؐ کو دروازہ سے دیکھتے ہی شناخت کر کے بتایا ہے کہ میں نے آپ کو ہی رویاء میں دیکھا تھا۔ پھر حضرت صاحب سے اجازت لے کر اس کو اندر بلا لیا۔ اس کے بیٹھتے ہی پہلا سوال اس سے حضرت صاحب نے یہ فرمایا کہ آپ کو اپنی شناخت میں تو شک و شبہ نہیں ہے؟ اس نے جواب دیا حضور! ہرگز نہیں۔ میں نے اسی شکل و شباہت اور ٹھیک اسی لباس میں جو اس وقت حضور نے پہنا ہوا ہے حضور کو دیکھا ہے۔ یہی لنگی اسی بندش کے ساتھ زیب سر تھی۔ اس کے بعد حضرت صاحب نے شیخ صاحب کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا کہ اگر خدا سے ملنے کی کسی دل میں طلب صادق ہو تو کچھ مدت بطور ابتلا اور آزمائش اس کو تعویق میں رکھ کر اس کو عزم اور استقلال کی منازل سے گذار کر آخر خود اس کی ہدایت کا سامان مہیا کر دیتا ہے اس کے بعد ہم باہر آگئے۔

﴿1496﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محمد کرم الٰہی صاحب پٹیالہ نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ شیخ محمد حسین صاحب مرحوم مراد آبادی نے بیان کیا کہ اگلے روز جب میں چلنے لگا تو درویش صاحب سے ان کا ارادہ پوچھا۔ اس نے کہا کہ بس میں اب کہاں جاؤں گا؟ آپ جائیں۔ میں تو، حضرت صاحب جو حکم دیں گے اس کے موافق کار بند رہوں گا۔ شیخ صاحب اس کو وہیں مہمانخانہ میں چھوڑ کر تنہا امرتسر واپس آگئے ۔ اگلے ہفتہ پھر گئے۔ درویش صاحب سے دریافت پر اس نے یہ کہا کہ نمازیں مسجد میں جا کر پڑھ لیتا ہوں اور جس وقت تک حضرت صاحب تشریف رکھتے ہیں حاضر رہتا ہوں اس کے بعد مہمانخانہ آ کر پڑ رہتا ہوں اور اللہ اللہ کئے جاتا ہوں۔ حضرت صاحب نے کچھ خاص طور پر فرمایا نہیں اور مجھ کو کچھ کہنے کی یا دریافت کرنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ شیخ صاحب نے فرمایا کہ اسی طرح جب حسب معمول تین چار دفعہ ہر ہفتہ پروف لے کر قادیان جاتا اور آتا رہا۔ اس شخص نے ہر دفعہ وہی جواب دیا جو اول دفعہ دیا تھا۔ آخر ایک دفعہ جو میں گیا تو اس نے حضرت صاحب کے بارہ میں تو وہی کیفیت ظاہر کی لیکن مجھ سے خواہش کی کہ چونکہ اب مجھے اپنی تلاش میں تو خدا تعالیٰ نے کامیابی عطا فرمادی ہے، دو تین دن سے مجھے خیال آ رہا ہے کہ اگر حضرت صاحب اجازت فرماویں تو میں اپنے متعلقین کی وطن جا کر خبر لے آؤں۔ کیونکہ مجھے ان کے مرنے جینے کا اور ان کو میرا اس لمبے عرصہ تک کچھ پتہ نہیں ملا اور چونکہ میں خود حضرت صاحب سے دریافت کرنے کی جرأت نہیں رکھتا آپ اگر حضرت صاحب سے اس بارہ میں تذکرہ فرمادیں تو جیسا پھر حضرت صاحب کی طرف سے اشارہ ہوگا۔ میں اسی کے موافق عمل کروں گا۔ منشی صاحب نے فرمایا کہ جب میں حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے درویش صاحب کی اس خواہش کا ذکر کیا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں! وہ بڑی خوشی سے جا سکتے ہیں کوئی پابندی نہیں ہے بلکہ ضرور جا کر اپنے بال بچہ کی خبرگیری کرنی چاہئے۔ جب اس کا جی چاہے وہ پھر آ سکتا ہے۔ میں نے حضرت صاحب سے اجازت لے کر اس کو اندر بلا لیا تا کہ وہ حضرت صاحب کا ارشاد خود حضور کی زبان سے سن لے۔ اس کی حاضری پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ جا سکتے ہیں اور پھر جب چاہے آ سکتے ہیں۔ اسپر اس نے بطور وِرد و وظائف کچھ پڑھنے کے لئے دریافت کیا۔ حضورؑ نے فرمایا کہ ”اتباع سنت اور نمازیں سنوار کر پڑھنا سب سے اعلیٰ وظیفہ ہے اس کے علاوہ چلتے پھرتے درود شریف، استغفار اور جس قدر وقت فراغت میسر ہو قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنا کافی ہے۔ ہمارے ہاں الٹے لٹک کر یا سردی میں پانی میں کھڑے ہو کر چلہ کرنے کا خلاف سنت کوئی طریق نہیں ہے۔“ اس پر اس درویش نے باصرار کہا کہ میں چونکہ سن شعور سے ہی مجاہدات کا عادی ہوں۔ اس لئے بطریق مجاہدہ اگر کچھ فرما دیا جاوے تو میں اب اس کے موافق کاربند رہوں گا۔ اس کی یہ بات سن کر حضرت صاحب اٹھے اور اندر جا کر ایک پلندہ براہین احمدیہ کے اس حصہ کا جو اس وقت تک شائع ہوا تھا اٹھا لائے اور اس کو دے کر فرمایا کہ ”لو جہاں جاؤ اس کو خود بھی پڑھو اور دوسرے لوگوں کو بھی سناؤ۔ خدا نے اس وقت کا یہی مجاہدہ قرار دیا ہے۔“ منشی صاحب نے فرمایا کہ اس کے بعد ہم باہر آ گئے۔ اگلے روز وہ شخص میری معیت میں امرتسر آ گیا۔ وہاں سے اپنے وطن کی طرف روانہ ہو گیا پھر اس کے متعلق کوئی اطلاع نہیں ملی۔

﴿1497﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”کتب فقہ پر بھی نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔“

﴿1498﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی مہربانی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ تو بخشنے کے لئے بہانے لبھدا ہے“ (یعنی تلاش کرتا ہے)۔

﴿1499﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جن دنوں شیخ صاحب بھائی عبدالرحیم صاحب (سابق نام جگت سنگھ) نے اسلام قبول کیا۔ چند روز بعد موضع سرسنگھ جھبال سے جو شیخ صاحب موصوف کا اصلی گاؤں ضلع امرتسر یا ضلع لاہور میں ہے ان کے رشتہ دار جو خوب قد آور اور جوان تھے پانچ چھ کس قادیان میں شیخ صاحب کو واپس لے جانے کی نیت سے آئے۔ میں اس وقت حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کے مطب میں بیٹھا ہوا تھا اور شیخ عبدالرحیم صاحب بھی وہاں ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت مولوی صاحب نے مجھے فرمایا کہ ”اس کو اپنے گاؤں سیکھواں میں ہمراہ خود لے جاؤ۔“ چنانچہ میں نے فوراً تعمیل کی اور ہم دونوں سیکھواں پہنچ گئے چونکہ سیکھواں میں کثرت سکھ قوم کی تھی انہوں نے سکھ برادری سے میل جول کیا۔ بعد میں ہمارے مکان پر پہنچ گئے اور شیخ صاحب سے بخوشی مل ملا کر آخر مطالبہ کیا کہ ”ہم گاؤں سے باہر لے جا کر کچھ باتیں کرنا چاہتے ہیں۔“ اگرچہ شیخ صاحب اور ہم ان کے اس مطالبہ کو پسند نہ کرتے تھے۔ لیکن ان کے جذبہ مطالبہ کو بوجہ رشتہ داری نظر انداز کرنا مناسب نہ خیال کر کے رضا مندی دے دی گئی جب گھر سے باہر نکلے تو تھوڑے فاصلہ پر جا کر ایک میدان ہے جب وہاں پہنچے تو وہاں اور سکھ وغیرہ جمع تھے یہی گفتگو چھڑ گئی۔ شیخ صاحب نے رشتہ داران خود کو کہا کہ ”اگر تم زبردستی مجھ کو ساتھ لے جاؤ گے تو میں پھر آجاؤں گا اور مسلمان ہو جاؤں گا۔“ اس پر ایک سکھ جو سیکھواں کا باشندہ اور روڑ سنگھ نام تھا، بڑے جوش سے بولا کہ ”خواہ مخواہ نرم نرم باتیں کرتے ہو۔ ڈانگ پکڑ کر آگے لگاؤ۔“ ہم بھی وہاں کھڑے تھے۔ اس سکھ کے جواب میں ہماری طرف سے ہمارے بڑے بھائی میاں جمال الدین صاحب مرحوم نے کہا کہ ”دیکھو! اگر شیخ صاحب عبدالرحیم جو ہمارا بھائی ہے اپنی خوشی سے تمہارے ساتھ چلا جاوے تو ہم روک نہیں سکتے اور اگر زبردستی لے جانا چاہو تو پہلے ہم کو مار لو گے تو اس کو لے جاؤ گے ورنہ ہرگز نہیں لے جاسکتے۔“ پس اس پر سلسلہ گفتگو ختم ہوا۔ آخر انہوں نے التجا کی کہ ہم اس کو الگ لے جا کر ایک بات کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ گاؤں سے کچھ فاصلہ پر چھپڑ (جو ہڑ) تھا وہاں چلے گئے اور ہم بھی اپنے پہرے پر کھڑے رہے کہ آخر شیخ صاحب نے ان کی کوئی نہ مانی۔ وہ وہاں سے ہی واپس چلے گئے اور شیخ صاحب ہماری طرف آگئے۔“ اس وقت ہم مع شیخ صاحب قادیان پہنچ گئے۔ شام کی نماز کے بعد حضرت اقدس کے حضور تمام حالات بیان کئے گئے۔ حضور علیہ السلام نے اس پر ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ ”مولوی صاحب نے بہت غلطی کی کہ قادیان سے باہر ان کو بھیج دیا۔ قادیان سے زیادہ امن کی جگہ کون سی ہے؟“

﴿1500﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ عائشہ صاحبہ بنت احمد جان صاحب خیاط پشاوری وزوجہ چوہدری حاکم علی صاحب نے بواسطہ مکرمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ۱۹۰۴ء میں جب بڑا زلزلہ آیا تو ہم سب حضور علیہ السلام کے ساتھ باغ میں چلے گئے تھے۔ میں تقریباً آٹھ سال کی تھی۔ حضرت اماں جان نے باغ میں جھولا ڈالا ہوا تھا۔ میں حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ، صالحہ بیگم صاحبہ اہلیہ میر محمد اسحق صاحب بنت پیر منظور محمد صاحب، میری بہن فاطمہ بیگم وفہمیدہ وسعیدہ بنت پیر افتخار احمد صاحب ہم سب جھولا جھول رہی تھیں۔ جب میری باری آئی تو حضورؐ وہاں سے گزرے۔ حضور علیہ السلام ہمیں دیکھ کر ہنسے۔

﴿1501﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ رسول بی بی صاحبہ اہلیہ حافظ حامد علی صاحبؓ وخوشدامن مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل نے بواسطہ محترمہ مکرمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں اور رسول بی بی صاحبہ اہلیہ خورد بابو شاہ دین، ہم دونوں رات کو حضور علیہ السلام کے پیر دبایا کرتے تھے۔ ایک دن حضورؐ نے فرمایا کہ ”جب مجھے الہام ہونے لگے تو مجھے جگا دیا کرو۔“ حضورؐ کو الہام ہونا شروع ہوا تو وہ کہتی تھی کہ تو جگا اور میں کہتی تھی تم جگاؤ آخر میں نے کہا کہ حضورؐ کا حکم ہے اگر نہ جگایا تو گناہ ہوگا۔ ہم نے جگا دیا۔ حضورؐ نے دریافت کیا کہ تم نے کچھ سنا ہے یا تم کو کچھ معلوم ہوا ہے؟ میں نے کہا ”نہیں“، قلم دوات حضورؐ کے سرہانے تھی حضورؐ نے لکھ لیا۔ فرمایا کہ ”اب میں پہلے وقت تم کو ہی پہرہ پر رکھا کروں گا۔ بارہ ایک بجے الہام ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔“ ہمیں معلوم تھا کہ جب حضورؐ کو الہام ہونے لگتا تھا تو حضورؐ کو عموماً سردی محسوس ہوتی تھی جس سے کچھ کپکپی ہو جاتی تھی اور حضورؐ کچھ کچھ گنگنایا بھی کرتے تھے۔

﴿1502﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ لال پری صاحبہ پٹھانی دختر احمد نور صاحب کابلی نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب ہم اپنے وطن سے آئے تھے تو میری آنکھیں بہت درد کرتی تھیں اور ہر موسم میں آ جاتی تھیں۔ وطن میں بھی علاج کیا۔ قادیان میں بھی بہت علاج کیا۔ کوئی آرام نہیں ہوتا تھا۔ ایک دن میں نے اپنی والدہ مرحومہ سے کہا میرا دل چاہتا ہے کہ میں حضرت اقدس کی خدمت میں جاؤں اور آنکھوں کو دم کراؤں۔ شاید میں اچھی ہو جاؤں؟“ والدہ صاحبہ مرحومہ نے کہا کہ ہاں فوراً جاؤ۔ کوئی پیالی بھی دی تھی کہ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا تھوک بھی لے آنا۔ میں جب گئی تو حضرت چارپائی پر بیٹھے تھے۔ رخ مغرب کی طرف تھا۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا۔ ”کیوں لال پری! کس طرح آئی ہے۔“ میں نے ہاتھ آنکھوں پر رکھا ہوا تھا۔ میں نے کہا کہ حضورؔ آنکھیں دکھتی ہیں، بہت علاج کیا اچھی نہیں ہوتیں۔ آپ نے اپنی انگلی پر تھوک لگا کر میری آنکھوں کے اردگرد لگا دیا۔ فرمایا ”بس! پھر کبھی ایسی درد نہ کریں گی اور ہنس کر کہا۔ ”اچھی ہو گئی؟“، گھر آئی! میں نے آنکھیں کھول لیں۔ پھر مجھے وہ تکلیف کبھی نہیں ہوئی۔

﴿1503﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مائی امیری نائین والدہ عبدالرحیم صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضور علیہ السلام بہت نیک تھے اور بہت عبادت گزار تھے۔ ادھر اُدھر گلیوں میں کبھی نہیں پھرتے تھے۔ عموماً گھر پر ہی رہتے تھے یا مسجد میں جاتے تھے۔ جانو کشمیری عموماً خدمت میں ہوتا تھا۔ حافظ مانا بسا اوقات رات دیر تک پیر دبایا کرتا تھا۔ حضور علیہ السلام کا لباس سادہ ہوتا تھا۔ جب دہلی اپنے نکاح کے لئے گئے تھے ۔ تو یونہی سادگی سے چلے گئے تھے۔

﴿1504﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ سعیدہ بیگم صاحبہ بنت مولوی محمد علی صاحب مرحوم بدوملہوی مہاجر واہلیہ وزیر محمد صاحب مرحوم پنشنر مہاجر نے بواسطہ مکرم محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک روز میری والدہ مرحومہ نے، جب حضور علیہ السلام صحن ہی میں پلنگ پر تشریف فرما تھے، آپ کی خدمت میں کہا کہ میری یہ لڑکی درثمین میں سے یہ شعر پڑھا کرتی ہے اس پر سراج منیر سے حضرت اقدس نے خاکسارہ کو فرمایا کہ ”پڑھو، سناؤ“ خاکسارہ نے فداہ نفسی وہ تمام شعر سنا دیئے جن کا پہلا شعر یہ ہے۔

زندگی بخش جام احمدؐ ہے

کیا ہی پیارا یہ نام احمدؐ ہے۔

حضورؐ نے سر پر پیار کیا اور دونوں دست مبارک سے باداموں کی مٹھی بھر کر خاکسارہ کی جھولی میں ڈال دی۔

﴿1505﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ خیر النساء صاحبہ والدہ سید بشیر شاہ صاحب وبنت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ بارش سخت ہو رہی تھی اور کھانا لنگر میں میاں نجم الدین صاحب پکوایا کرتے تھے۔ انہوں نے کھانا حضورؐ اور بچوں کے واسطے بھجوایا کہ بچے سو نہ جائیں، باقی کھانا بعد میں بھجوا دیں گے۔ حضور علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ ”شاہ جی کے بچوں کو کھانا بھجوا دیا ہے یا نہیں؟“ جواب ملا کہ نہیں۔ ان دنوں دادی مرحومہؓ وہاں رہا کرتی تھیں۔ حضورؐ نے کھانا اٹھوا کر ان کے ہاتھ بھجوایا اور فرمایا کہ ”پہلے شاہ جی کے بچوں کو دو بعد میں ہمارے بچے کھا لیں گے۔“

﴿1506﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ استانی رحمت النساء بیگم صاحبہ نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میرے والد مولوی محمد یوسف صاحب سعدی نے لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی۔ آپ ۱۳۱۳ھ میں سے تھے اور سنور کے رہنے والے تھے۔ میں ۱۹۰۷ء میں حضورؐ کے قدموں میں آئی۔ میں اور میرا خاوند ہم دونوں موسمی تعطیلات میں قادیان آئے اور میں حضورؐ کے گھر کے نچلے حصہ میں ٹھہری۔ سخت گرمی تھی اور میرے دو چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے جو نیچے کھیلتے رہتے تھے۔ آپ کی دو نوکرانیاں تھیں جو بچوں سے اکتا کر ان کو اور مجھ کو برا بھلا کہتی تھیں۔ ایک عرصہ تک میں ان کی باتوں کو سنتی رہی۔ آخر ایک دن میرا خاوند آیا تو میں نے اس سے شکایت کی۔ میرے خاوند نے ایک رقعہ لکھ کر مجھ کو دیا کہ حضرت مسیح موعودؑ کو دے دینا۔ جب میں وہ رقعہ لے کر اوپر گئی تو آپ اور اماں جان چوبارہ پر ٹہل رہے تھے۔ جب میں نے سلام کہا تو آپ ٹھہر گئے اور رقعہ لے لیا۔ میں نیچے اتر آئی۔ ابھی نیچے اتری ہی تھی کہ آپ نے ایک عورت کو جس کا نام فجو تھا مجھے بلانے کے واسطے بھیجا۔ جب میں حضور میں پہنچی تو آپ نے محبت آمیز لہجہ میں جو باپ کو بیٹی سے ہوتی ہے بلکہ اس سے زیادہ محبت کے ساتھ فرمایا ”تم ان کی باتوں سے غم نہ کرو۔ انہوں نے جو تم کو برا بھلا کہا ہے وہ تم کو نہیں مجھ کو کہا ہے۔“ پھر آپ نے ان عورتوں کو خوب ڈانٹا اور ان میں سے ایک کو تو فوراً نکل جانے کا حکم دیا اور دوسری کو خوب ڈانٹا اور فرمایا ”کیا میرے مہمان جو اتنی گرمی میں اپنے گھروں کو چھوڑ کر، اپنے آراموں کو چھوڑ کر یہاں آئے ہیں تم ان کو برا بھلا کہتی ہو۔ کیا وہ صرف لنگر کی روٹیاں کھانے آتے ہیں؟ اور میرے متعلق کہا کہ اس لڑکی کو آئندہ کچھ تکلیف نہ ہو۔‘‘

تھوڑے عرصہ بعد میاں مبارک احمد صاحب بیمار ہو گئے تو ہم اکثر اوپر رہتی تھیں۔ ہم نے دیکھا کہ آپ کے چہرہ پر کسی قسم کے غم کے آثار نہیں تھے۔ جب میاں مبارک احمد صاحب نے وفات پائی تو آپ دیکھ کر اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(2:157) پڑھ کر چوبارہ پر تشریف لے گئے اور اس وقت تک نہ اترے جب تک جنازہ تیار نہ ہوا۔ آپ کو فطرتی غم تھا اور ایک طرف خوشی بھی تھی۔ کہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی پوری ہوئی۔ آپ فرماتے تھے کہ ”اللہ کی امانت تھی جو کہ خدا کے پاس چلی گئی۔“ لیکن جب بھی میں آپ کو دیکھتی آپ کو خوش ہی دیکھتی۔

آپ اپنے مہمانوں کا زیادہ خیال رکھتے تھے اور انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ ہونے دیتے تھے اور ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے تھے۔ جب ہماری چھٹیاں ختم ہونے کو آئیں تو میں نے حضور علیہ السلام سے گھر جانے کی اجازت مانگی جو کہ حضور علیہ السلام نے بخوشی منظور کر لی۔

﴿1507﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ اہلیہ حضرت مولوی شیر علی صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صبح کے وقت آفتاب نکلنے کے بعد بسراواں کی طرف سیر کرنے کے واسطے تشریف لے گئے۔ آپ کے ہمراہ حضرت اُمّ المومنین کے علاوہ چند اور عورتیں بھی تھیں۔ جن میں سے میرے علاوہ مرزا خدا بخش صاحب جھنگ والے کی بیوی ام حبیبہ، محمد افضل صاحب کی بیوی سردار، حافظ احمد اللہ صاحب کی بیوی اور اہلیہ حضرت خلیفۃ المسیح اولؓ وغیرہ بھی تھیں۔ ان دنوں حضور علیہ السلام کے ہمراہ صبح کو پانچ چھ عورتیں اور حضرت اُمّ المومنین سیر کو جایا کرتی تھیں اور عصر کے بعد مرد جایا کرتے تھے۔ بعض اوقات صبح کو بجائے عورتوں کے مرد ہی صبح کو جایا کرتے تھے۔ حضور علیہ السلام اکثر محلہ دارالانوار کی طرف والے رستہ پر سیر کے لئے جایا کرتے تھے۔ بعض دفعہ حضورؐ جب سیر کے واسطے نکلتے تو سکھ لوگ بے ادبی کے کلمات زبان سے نکالتے جو حضورؐ اور حضور کے ہمراہ عورتوں کو سنائی دیتے تھے مثلاً ”مرزا بھیڑ بکریاں لے کر باہر نکلتا ہے۔“ جب سکھ لوگ اس طرح کے فقرے لگاتے تو بعض اوقات مرزا خدا بخش اور محمد افضل صاحب کی بیوی حضورؐ کو توجہ دلاتیں تو حضورؐ فرماتے۔ ”ان کو بولنے دو۔ تم خاموش رہو اور ادھر توجہ ہی نہ کرو۔“

﴿1508﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ عصمت بیگم صاحبہ عرف زمانی اہلیہ حکیم محمد زمان صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک روز حضور علیہ السلام سوئے ہوئے تھے اور میں پیر کی طرف فرش پر بیٹھ کر آہستہ آہستہ پیر دبا رہی تھی۔ حضورؐ کے پیر مبارک کا انگوٹھا ہل رہا تھا۔ اتنے میں اماں جان آئیں اور حضور کو آواز دی کہ سنتے ہو، سنتے ہو۔ حضورؐ کی آنکھ کھل گئی۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”تم نے مجھ کو جگا دیا الہام ہو رہا تھا۔ کیا پتہ کہ زمانی کے لئے ہو رہا تھا اس کا بھلا ہو جاتا۔“ مَیں روز حضورؐ کے پاس دعا کے لئے جاتی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعا سے اب میری چار لڑکیاں اور ایک لڑکا سلامت ہیں۔“

﴿1509﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ عائشہ صاحبہ بنت احمد جان صاحب خیاط پشاوری زوجہ چوہدری حاکم علی صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ۱۹۰۶ء میں جب میری والدہ مرحومہ فوت ہو گئی تھیں تو مجھے اماں جی اہلیہ خلیفہ اولؓ اپنے گھر لے گئیں۔ ناشتہ وغیرہ کرایا۔ پھر چار پانچ یوم کے بعد حضرت اُمّ المومنین مجھے اپنے گھر لے آئیں۔ جہاں اب اماں جان کا باورچی خانہ ہے وہاں میرا سر دھلوا رہی تھیں۔ ایک عورت میرے سر میں پانی ڈالتی جاتی تھی۔ حضرت اُمّ المومنین میرے سر کو صابن ملتیں اور دھوتی تھیں۔ وہ عورت پانی زیادہ ڈال دیتی تھی۔ حضور علیہ السلام وہاں ٹہل رہے تھے۔ حضور علیہ السلام نے لوٹا اس کے ہاتھ سے لے کر میرے سر پر پانی ڈالا۔ پھر حضور علیہ السلام آہستہ آہستہ پانی ڈالتے جاتے تھے اور اُمّ المومنین کنگھی کرتی جاتی تھیں ۔ حضورؐ فرماتے کہ ”اس طرح جوئیں نکل جائیں گی۔“

﴿1510﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ رسول بی بی صاحبہ اہلیہ حافظ حامد علی صاحب مرحومؓ وخوشدامن مولوی عبد الرحمٰن صاحب (جٹ) فاضل نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحبؒ بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضورؐ کو گڑ کے میٹھے چاول بہت پسند تھے۔ حضورؐ مسجد میں کھانا کھا رہے تھے کہ میں نے میٹھے چاول بھیج دئے۔ حضورؐ نے حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کو پوچھا کہ ”یہ چاول کس نے پکائے ہیں؟“ انہوں نے عرض کی کہ حضورؐ! مجھے معلوم نہیں۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”حافظ حامد علی صاحب کی بیوی نے پکا کر بھیجے ہیں۔ بہت اچھے پکائے ہیں ان کے واسطے دعا کرو۔“

﴿1511﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ لال پری صاحبہ پٹھانی دختر احمد نور صاحب کابلی نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن میری والدہ مرحومہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دبا رہی تھیں۔ آپ کے پاس کوئی جامن لایا۔ آپ نے جامن کھا کر گٹھلی پھینک دی میں نے والدہ سے کہا کہ اس کو میں اپنے منہ میں ڈال لوں۔ اس پر تھوک لگا ہے۔ جب میں نے منہ میں ڈالی تو آپؐ نے میری طرف نظر کر کے جامن دئے۔ میری والدہ نے عرض کیا کہ نہیں حضورؐ! وہ تبرک چاہتی تھی۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”آپ کی بات سمجھ گیا ہوں یہ بھی تبرک ہے۔“ حالانکہ میں نے پشتو زبان بولی تھی۔

﴿1512﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ خیر النساء صاحبہ والدہ سید بشیر شاہ صاحب بنت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحبؓ نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن فجر کے وقت حضور علیہ السلام شہ نشین پر ٹہل رہے تھے۔ میں اور ہمشیرہ زینب اور والدہ صاحبہ نماز پڑھنے کے لئے گئیں تو آپ نے فرمایا۔ ”آؤ تمہیں ایک چیز دکھائیں۔ یہ دیکھو یہ دمدار تارا ہماری صداقت کا نشان ہے۔ اس کے بعد بہت سی بیماریاں آئیں گی۔“ چنانچہ طاعون اس قدر پھیلا کہ کوئی حد نہیں رہی۔

﴿1513﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ اہلیہ حضرت مولوی شیر علی صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ صبح کے وقت حضورؐ بسراواں کی طرف سیر کے لئے تشریف لے گئے۔ جس وقت چھوٹی بھینی جو بڑی بھینی کے مشرق کی طرف ہے کے پاس سے گزر کر ذرا آگے بڑھے تو ام حبیبہ زوجہ مرزا خدا بخش صاحب نے کہا کہ حضور! اب آگے نہ بڑھیں میں تھک گئی ہوں۔ اب واپس چلیں۔ تو حضور علیہ السلام نے ہنس کر فرمایا کہ ”تم ابھی تھک گئی ہو یہ بھینی تو قادیان کے اندر آ جائے گی۔ اس وقت تم کو یہاں کسی کے گھر آنا پڑا تو اس وقت کیا کرو گی؟“

﴿1514﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ مائی جانو صاحبہ زوجہ صوبا ارائیں ننگل نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ مکرمہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضورؐ ایک دفعہ ننگل کی طرف سیر کو تشریف لائے۔ میں نے جو آتے دیکھا تو ایک کٹورے میں گرم دودھ اور ایک گڑ کی روڑی لے کر آئی۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”اس لڑکی نے بڑی مشقت کی ہے کہ ایک ہاتھ میں گرم دودھ اور دوسرے میں گڑ لائی ہے۔“ حضورؐ میرے گھر کے دروازے پر جو لب سڑک ہے، کھڑے ہو گئے اور جو اصحاب ساتھ تھے وہ بھی ٹھہر گئے۔ پھر اس دودھ میں سے خود بھی ایک دو گھونٹ نوش فرمائے اور باقی تمام ہمراہیوں نے تھوڑا تھوڑا پیا۔ حکیم مولوی غلام محمد صاحب بھی تھے اسے کہا ”گڑ کی ڈھیلی توڑو“ تو وہ توڑ نہ سکے۔ تو حضورؐ نے خود ہتھیلیوں سے دبا کر توڑی اور ان کو کہا ”سب کو تھوڑا تھوڑا گڑ بانٹ دو۔“ خود بھی چکھا تھا۔

﴿1515﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ مراد بی بی صاحبہ بنت حاجی عبداللہ صاحب ارائیں ننگل نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں تیرہ یا چودہ سال کی تھی جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاں آیا کرتی تھی۔ ایک بار میں اور میرا باپ گنے کا رس لے کر آئے تھے۔ میرا باپ ڈیوڑھی میں اس کا گھڑا لے کر کھڑا رہا اور میں اپنا رس کا برتن لے کر اندر گئی۔ اماں جان بیٹھی تھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٹہل رہے تھے۔ حضرت اماں جان نے حضور سے دریافت کیا کہ آپ رس پیئیں گے؟ دودھ ملا کر دیں؟ حضورؐ نے فرمایا کہ ہاں۔ حضرت اماں جان نے رس چھان کر اس میں دودھ ملایا۔ پھر حضرت مسیح موعودؑ نے گلاس لے کر پیا۔ میں کھڑی رہی کہ میں آپ کو دیکھوں۔ حضورؐ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ”آج صبح سے رس پینے کو دل چاہتا تھا۔“ دوسرا برتن رس کا بھی میں اپنے باپ سے لے آئی۔

پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف لائے تو میرا باپ پیچھے مڑنے لگا تو گر گیا اور چوٹ آئی۔ حضرت نے دیکھا اور فرمایا کہ ”بچ گیا۔“ میرے باپ نے بتایا کہ جیسے ہی حضرت نے فرمایا کہ ”بچ گیا“ تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ چوٹ ہی نہیں لگی۔

﴿1516﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ سیدہ زینب بیگم صاحبہ بنت ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحبؒ نے بواسطہ مکرمہ محترمہ والدہ صاحبہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن حضور علیہ السلام نے وضو کرنے کے بعد مجھے فرمایا کہ ”جاؤ اندر سے میری ٹوپی لے آؤ۔“ جب میں گئی تو دیکھتی کیا ہوں کہ ایک معمولی سی ٹوپی پڑی ہوئی ہے جس کو دیکھ کر میں واپس آگئی اور عرض کی کہ حضور! وہاں نہیں ہے۔ اس طرح تین مرتبہ اندر جا کر آتی رہی مگر مجھے گمان نہ ہوا کہ یہ پرانی ٹوپی حضورؐ کی ہوگی۔ صاحبزادہ مبارک احمد صاحب جو وہاں تھے انہوں نے فرمایا کہ ”میں لاتا ہوں۔“ جب وہ وہی ٹوپی اٹھا کر لائے جو میں نے دیکھی تھی تو میں حیران رہ گئی کہ اللہ اللہ کیسی سادگی ہے“

﴿1517﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ رسول بی بی صاحبہ اہلیہ حافظ حامد علی صاحب مرحومؒ وخوشدامن مولوی عبدالرحمٰن صاحب فاضل جٹ نے بواسطہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ہمارا تمام خرچ روٹی کپڑے کا حضورؐ ہی دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضورؐ نے ایک کپڑے کی واسکٹ اپنے اور ایک حافظ حامد علی صاحبؒ کے واسطے بنوائی تھی۔ سردی کا موسم تھا۔ میں نے حافظ صاحب کو کہا کہ میں صبح جب نماز تہجد کے لئے اٹھتی ہوں اور سحری پکاتی ہوں تو مجھے سردی لگتی ہے۔ حافظ صاحب نے گرم صدری جو حضورؐ نے ان کو بنادی تھی مجھے دے دی۔ جب میں اس کو پہن کر گئی اور انگیٹھی میں آگ جلا رہی تھی تو حضورؐ نے پوچھا کہ ”رسول بی بی! کیا یہ میری واسکٹ چرا لی ہے؟“ میں نے عرض کیا کہ حضور سب کچھ آپ کا ہی ہے۔ آپ کا ہی کھاتے ہیں، آپ کا ہی پہنتے ہیں۔ حضورؐ اس پر خوب ہنسے اور فرمایا کہ ”خوب کھاؤ پیو۔“

﴿1518﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ حسو صاحبہ اہلیہ فجا معمار خادم قدیمی نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب بڑا زلزلہ آیا تھا تو حضورؐ اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر دروازہ میں کھڑے تھے۔ اوپر سے ایک اینٹ گری۔ میں نے حضورؐ سے کہا کہ حضور! باہر آجائیں۔ آپ نے فرمایا کہ ”سب لڑکیاں کھڑی ہیں کسی کو یہ خیال نہیں آیا۔ یہ بہت ہشیار ہے۔“ اماں جان نے زینب سے جو اب مصری کی بیوی ہے کہا کہ ”مبارکہ بیگم اندر سوئی ہوئی ہیں ان کو اٹھا لاؤ۔“ زینب

نے کہا کہ کہیں میرے اوپر چھت نہ گر جائے ۔ لیکن میں جلدی سے اندر گئی اور بی بی کو اٹھا لائی۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ” یہ لڑکی بڑی ہشیار ہے۔ یہ جو بھاری کام کیا کرے گی اس میں برکت ہوگی اور اس کو تھکن نہیں ہوگی۔“ حضور علیہ السلام کی برکت سے میں بھاری بھاری کام کرتی ہوں مگر تھکتی نہیں۔

﴿1519﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ لال پری صاحبہ پٹھانی بنت احمد نور صاحب کابلی نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ (حضور) ایک دن سیر کو گئے جوتیوں پر بہت گرد ا گرا۔ میری والدہ مرحومہ اپنے دوپٹہ سے پونچھنے لگی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ”نعمت! چھوڑ دو کیا کرنا ہے؟ آخرت کا گرد اس سے زیادہ ہے۔“

﴿1520﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ خیرالنساء صاحبہ والدہ سید بشیر شاہ صاحب بنت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحبؓ نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن میری والدہ صاحبہ نماز فجر باجماعت پڑھنے کے لئے گئیں تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”آج رات کو کوئی خاص چیز دیکھی ہے؟“ والدہ صاحبہ نے کہا کہ ”آدھی رات کا وقت ہوگا کہ مجھے یوں معلوم ہوا جیسے دن چڑھ رہا ہے، روشنی تیز ہو رہی ہے۔ تو میں جلدی سے اٹھی اور نفل پڑھنے شروع کر دئے۔ معلوم تو ہوتا تھا کہ صبح ہوگئی ہے لیکن میں کافی دیر تک نفل پڑھتی رہی اور اس کے بڑی دیر بعد صبح ہوئی۔“ آپ نے فرمایا کہ ”میں نے یہی پوچھنا تھا۔“

﴿1521﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ اہلیہ صاحبہ حضرت مولوی شیر علی صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا ہے کہ جب میں شروع شروع قادیان میں آئی تو میں نے دیکھا کہ جس جگہ اب نواب صاحب کا شہر والا مکان ہے وہاں لنگر ہوا کرتا تھا اور روٹی یہاں تیار ہوتی تھی مگر سالن اندر عورتیں پکایا کرتی تھیں۔ جب کھانا تیار ہو جاتا تو مسجد مبارک کے قدیم حصہ کی بالائی چھت پر لے جایا جاتا اور حضور علیہ السلام مہمانوں کے ساتھ اکثر وہیں کھانا کھاتے تھے۔ یہ مغرب کے بعد ہوتا تھا۔ دوپہر کے کھانے کے متعلق مجھے یاد نہیں کہ کس طرح اور کہاں کھایا جاتا تھا۔

﴿1522﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ مائی جانو صاحبہ زوجہ صوبا ارائیں ننگل نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب میں نے بیعت کی تھی اس وقت بٹالہ والے منشی عبدالعزیز صاحب قادیان آئے ہوئے تھے۔ ہم چار پانچ عورتیں، میری ساس، راجن اور میری نند تھیں۔ جب ہم حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو حضورؐ نے دریافت کیا کہ ”تم کیوں آئی ہو؟“ میری ساس راجن نے کہا کہ ہم منشی صاحب کو جو میرا بھتیجا ہے ملنے آئی ہیں۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”نہیں جس بات کے واسطے تم آئی ہو وہ کیوں نہیں بتاتیں؟“ گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو علم ہو گیا تھا کہ ہم بیعت کرنے آئی ہیں۔ پس ہم سب نے بیعت کرلی۔ بیعت لینے سے پہلے فرمایا تھا کہ ”مائی راجن! یہ کام بہت مشکل ہے تم سوچ لو۔ کہیں گھبرا نہ جاؤ۔“ چونکہ ابھی ہمارے مردوں نے بیعت نہیں کی تھی اسلئے حضورؐ نے فرمایا تھا کہ ”ایسا نہ ہو کہ تم مستقل مزاج نہ رہ سکو اور بیعت سے پھر جاؤ۔“ ہم نے کہا کہ حضور! خواہ کچھ ہو، ہم نہیں گھبرائیں گی اور بیعت پر قائم رہیں گی۔ تو حضور علیہ السلام نے دعا فرمائی۔

﴿1523﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ مائی جانو صاحبہ زوجہ صوبا ارائیں ننگل نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ منشی عبدالعزیز صاحب بٹالہ والے جن کی بیوی کا نام برکت ہے، جواب شاید پھر گئے ہیں۔ اس زمانہ میں قادیان گول کمرہ میں ہوتے تھے۔ وہ میری ساس راجن کے بھتیجے تھے۔ منشی صاحب کی پھوپھی جس کا نام ”نانکی“ تھا وہ ہمارے ننگل میں رہتی تھی جو کہ احمدیت کی سخت مخالف تھی۔ کہتی تھی کہ ”مرزا صاحب کی بیعت کرنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔“ اور مردوں میں بھی مخالفت عام تھی اس لئے ہم نے بیعت تو کر لی تھی مگر ہم کسی سے اس کا ذکر ڈر کی وجہ سے نہیں کر سکتے تھے۔ ہم نے کوشش کی کہ ”نانکی“ اگر بیعت کر لے تو اچھا ہوگا۔ ہم نے اسے سمجھانا شروع کیا کہ ”تو پہلے کہا کرتی تھی کہ جب مہدی آوے گا تو میں اس کو مان لوں گی مگر تم نہیں مانو گی۔ اب یہ جو مہدی آگیا ہے تو اس کو کیوں نہیں مانتی؟“ مگر وہ مخالفت کرتی رہتی اور کہتی تھی کہ ”یہ مہدی نہیں ہے۔“ ایک دن وہ قادیان میں منشی صاحب کے پاس آئی تو اس کو سمجھایا کہ ”اس طرح نکاح نہیں ٹوٹتے تو آہستہ آہستہ اس کو سمجھ آگئی اور اس نے بیعت کرلی۔ ہمارے گھر میں خدا کے فضل سے مخالفت کا جوش کم ہو گیا اور ان کو معلوم ہو گیا کہ ہم نے عرصہ کی بیعت کی ہوئی ہے۔ جب مخالفت کا جوش کچھ کم ہوا تھا تو میرے خسر مسمیٰ ”کوڈا“ نے کہا تھا کہ ”نکاح تو نہیں ٹوٹتے مگر مجھے تو یہ فکر ہے کہ ہم میں سے جو بیعت کرے گا وہ اس طرح الگ ہو جائے گا کہ برادری میں اپنی لڑکیاں نہیں دے گا۔“ جب ہمارے مرد بھی چند ایک احمدی ہو گئے تھے تو ہم نے حضورؐ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ ”حضورؐ ہم گھبرائے تو نہیں تھے مگر یہ قصور ہم سے ضرور ہوا ہے کہ ہم نے ایک عرصہ تک یہ ظاہر نہیں کیا تھا کہ ہم نے حضور کی بیعت کر لی ہے۔“ حضورؐ نے ہمیں تسلی دی اور فرمایا کہ ” یہ قصور نہیں ہے یہ مصلحتاً ایسا کیا گیا ہے جس کا نتیجہ بہت اچھا ہوا ہے۔“

﴿1524﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ رسول بی بی صاحبہ اہلیہ حافظ حامد علی صاحبؓ وخوشدامن مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل جٹ نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عورت سونے کا زیور پہن کر آئی تو جس پلنگ پر حضرت اُم المومنین اور حضورؐ بیٹھے تھے آکر بیٹھ گئی۔ ہم لڑکیاں دیکھ کر ہنسنے لگیں۔ ہم نے کہا کہ اگر ہمیں بھی سونے کی بالیاں اور کڑے وغیرہ ملتے تو ہم بھی حضورؐ کے پلنگ پر بیٹھتیں۔ حضرت اُم المومنین نے حضور کو بتا دیا کہ یہ لڑکیاں ایسا کہہ رہی ہیں۔ حضورؐ ہنس پڑے اور فرمایا کہ ”آجاؤ لڑکیو! تم بھی بیٹھ جاؤ۔“

﴿1525﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ حسّو صاحبہ اہلیہ فجا معمار خادم قدیم نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”مجھے نیند بہت آیا کرتی تھی۔ حضور علیہ السلام نے صفیہ بنت قدرت اللہ خان صاحبؓ سے فرمایا تھا کہ حسّو کو صبح جگا دیا کرو۔ ایک دن زینب مجھے جگا رہی تھی اور حضورؐ دیکھتے تھے۔ اس نے پہلے میرا لحاف اتارا پھر میرے منہ پر تھپڑ مارا۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”ایسے نہیں جگاتے۔ بچے کو تکلیف ہوتی ہے۔ تم اسے نہ جگایا کرو میں خود جگا دیا کروں گا۔“ اس دن سے جب حضورؐ صبح اٹھ کر رفع حاجت کو جاتے تو پانی کا ذرا سا چھینٹا میرے منہ پر مار دیتے۔ میں فوراً اُٹھ کھڑی ہوتی۔ حضور علیہ السلام مجھے نماز کے واسطے اٹھایا کرتے تھے۔“

﴿1526﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ خیر النساء صاحبہ والدہ سید بشیر شاہ صاحب بنت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”ایک دفعہ حضور علیہ السلام نماز پڑھانے کے واسطے تشریف لے جارہے تھے تو خاکسار ہ سے فرمایا کہ میری ٹوپی اندر سے لے آؤ۔ میں دو دفعہ گئی لیکن پھر واپس آگئی۔ تیسری دفعہ گئی تو میاں شریف احمد صاحب نے کہا کہ ”تمہیں ٹوپی نہیں ملتی آؤ۔ میں تمہیں بتا دوں۔“ یہ کہہ کر میاں صاحب نے ”تاکی“ میں سے ٹوپی اٹھالی۔ میں نے کہا ” یہ تو میں نے دیکھ کر رکھ چھوڑی تھی۔“ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”آپ سمجھتی ہوں گی کہ کوئی بڑی اعلیٰ ٹوپی ہوگی۔ ہم ایسی ہی ٹوپیاں پہنا کرتے ہیں۔“

﴿1527﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ حسن بی بی صاحبہ اہلیہ ملک غلام حسین صاحب رہتاسی نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”میرا چوتھا لڑکا کوئی چار پانچ سال کا تھا کہ اس کو سانپ نے کاٹ لیا تھا۔ اس نے سانپ کو دیکھا نہ تھا اور یہ سمجھا تھا کہ اس کو کانٹا لگا ہے۔ میں نے بھی سوئی سے جگہ پھول کر دیکھی۔ کچھ معلوم نہ ہوا لیکن جب بچہ کو چھالا ہو گیا اور سوج پڑ گئی تو معلوم ہوا کہ وہ کانٹا نہیں تھا بلکہ سانپ نے کاٹا تھا جس کا زہر چڑھ گیا ہے۔ بچہ چھٹے دن فوت ہو گیا تھا۔ جب حضور علیہ السلام کو علم ہوا تو حضور نے افسوس کیا اور فرمایا کہ ” مجھے کیوں پہلے نہیں بتایا؟ میرے پاس تو سانپ کے کاٹے کا علاج تھا۔“ مجھے بچے کے فوت ہونے کا بہت غم ہوا تھا اور میں نے رو رو کر اور پیٹ پیٹ کر اپنا برا حال کر لیا تھا۔ جب حضورؐ کو حضرت ام المومنین نے یہ بات بتائی تو حضورؐ نے مجھے طلب فرما کر نصیحت کی اور بڑی شفقت سے فرمایا کہ ”دیکھو حسن بی بی! یہ تو خدا کی امانت تھی اللہ تعالیٰ نے لے لی۔ تم کیوں پریشان ہوتی ہو؟“ اور فرمایا کہ ”ایک بڑی نیک عورت تھی اس کا خاوند باہر گیا ہوا تھا جس دن اس نے واپس آنا تھا۔ اتفاقاً اس دن اس کا جوان بچہ جو ایک ہی تھا فوت ہو گیا تھا۔ اس عورت نے اپنے لڑکے کو غسل اور کفن دے کر ایک کمرے میں رکھ دیا اور خود خاوند کے آنے کی تیاری کی۔ کھانے پکائے، کپڑے بدلے، زیور پہنا اور جب خاوند آیا تو اس کی خاطر داری میں مشغول ہو گئی۔ جب وہ کھانا کھا چکا تو اس نے کہا کہ ” میں آپ سے ایک بات دریافت کرتی ہوں اور وہ یہ ہے کہ اگر کسی کی امانت کسی کے پاس ہو اور وہ اس کو واپس مانگے تو کیا کرنا چاہئے؟ اس نے کہا کہ فوراً امانت کو شکریہ کے ساتھ واپس کر دینا چاہئے۔“ تو اس نیک بی بی نے کہا کہ اس امانت میں آپ کا بھی حصہ ہے پس وہ اپنے خاوند کو اس کمرے میں لے گئی جہاں بچہ کی نعش پڑی تھی اور کہا کہ ”اب اس کو آپ بھی خدا کے سپرد کر دیں یہ اس کی امانت تھی جو اس کو دے دی گئی ہے؟“ یہ سن کر میرا دل ٹھنڈا ہو گیا اور میں نے اُسی وقت جزع فزع چھوڑ دی اور مجھے اطمینانِ کلی حاصل ہو گیا۔ اسکے بعد میں نے اپنے خاوند سے کہا کہ ”مجھے اپنے وطن جہلم لے چلو۔“ اس نے حضورؐ سے اجازت طلب کی۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”تمہاری بیوی کو نیا نیا صدمہ پہنچا ہے۔ یہ وہاں جا کر پھر غم کرے گی اس لئے میں ابھی اجازت نہیں دیتا۔ پھر عرصہ تین سال کے بعد جب اجازت ملی تو میں اپنے وطن گئی۔“

﴿1528﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ عائشہ بیگم صاحبہ اہلیہ بابو محمد ایوب صاحب بدوملہوی نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”۱۹۰۸ء میں جبکہ حضور علیہ السلام لاہور اپنے وصال کے دنوں میں تشریف فرما تھے۔ عاجزہ نے حضورؐ کے دستِ مبارک پر بیعت کی۔ غالباً ۱۲ یا ۱۳؍ مئی ۱۹۰۸ء کو بیعت کی۔ خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان میں میرے خاوند بابو محمد ایوب صاحب نے پہنچایا اور تھوڑا سا پھل عاجزہ کو ایک رومال میں ساتھ دیا۔ خواجہ صاحب موصوف کی اہلیہ کو عاجزہ نے کہا کہ ”میں نے حضرت صاحب کی بیعت کرنی ہے۔“ اس نے جواب دیا کہ ”ابھی عورتیں بیعت کر کے اتری ہیں اگر آپ ذرا پہلے آجاتیں تو ساتھ ہی چلی جاتیں۔ اب دریافت کر لیتی ہوں بیٹھ جائیں۔“ تھوڑی دیر بعد مجھے ایک لڑکی لے گئی۔ آپ اوپر بالا خانہ میں ایک کمرے میں تشریف فرما تھے۔ ایک طرف حضرت ام المؤمنین ایک پلنگ پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں ”السلام علیکم“ عرض کر کے حضرت اماں جان کے پلنگ کے پاس بیٹھ گئی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ”یہ کون لڑکی ہے؟“ اماں جان نے جواباً فرمایا کہ ”پچھلے سال حسن بی بی بدوملہوی بہو بیاہ کر لائی تھی یہ وہی لڑکی ہے۔ وہ پھل والا رومال میں نے حضرت اماں جان کے پلنگ پر رکھ دیا تھا پھر میں نے عرض کی کہ ”میں نے بیعت کرنی ہے۔“ اماں جان نے حضرت صاحب سے فرمایا کہ ”یہ بیعت کرنا چاہتی ہے۔“ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”یہاں آ جائے۔“ وہ رومال جو میں نے حضرت اماں جان کے پاس رکھا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قریب جاتے ہوئے اپنی کم عمری کی وجہ سے ساتھ ہی لے گئی اور حضورؐ کے پاس رکھ دیا۔ بیعت کے بعد حضورؐ نے اپنی جیب سے چاقو نکالا اور ایک سیب کا ٹا اور ایک قاش مجھے عطا فرمائی اور ایک حضور علیہ السلام نے خود کھا لی اور باقی رومال حضورؐ نے اٹھایا اور فرمایا کہ ”بیوی جی کے پاس لے جاؤ“، اگرچہ آج بھی اس بات کو یاد کر کے اپنی حرکت پر ہنسی آتی ہے کہ پہلے پھل حضرت اماں جان کے پاس رکھا اور پھر اٹھا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس لے گئی۔ مگر اس بات کو یاد کر کے شکریہ سے دل بھر جاتا ہے کہ حضور علیہ السلام کے دست مبارک سے ایک قاش لینی نصیب ہوئی۔ فالحمد للہ علیٰ ذلک

﴿1529﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ رسول بی بی صاحبہ اہلیہ حافظ حامد علی صاحبؒ و خوشدامن مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل جٹ نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مرزا ارشد بیگ کی والدہ الفت بیگم کے متعلق الہام ہوا کہ وہ فوت ہو جائے گی۔ جو وقت فوت ہونے کا بتایا تھا اس دن کا کچھ حصہ ابھی باقی تھا کہ لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ پیشگوئی جھوٹی نکلی ہے۔ اور ڈھول بجا کر بھی شور مچایا مگر جب اذان شروع ہوئی تو ساتھ ہی گھر میں سے چیخوں کی آواز آنے لگ گئی۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ الفت بیگم ہی فوت ہوئی ہیں اس پر مخالفین بہت نادم ہوئے۔“

﴿1530﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ سلطان بی بی صاحبہ اہلیہ مستری خیر دین صاحب قادر آباد نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”ایک دن حضور سیر کو تشریف لے جا رہے تھے۔ میری ساس ساتھ چلی گئی پھر واپس گھر تک چھوڑنے گئی وہ ہمیشہ ان کے ساتھ جایا کرتی تھی۔ ایک دن ہم بیعت کرنے کے لئے گئے۔ ہم تین عورتیں تھیں۔ ہماری ساس ہم کو ساتھ لے کر گئی۔ میری ساس کچھ بتاشے لے کر گئی تھی۔ حضورؐ پوچھنے لگے کہ ”تمہاری بہو کون سی ہے؟ اور کس کی بیٹی ہے؟ میری ساس نے بتایا کہ میری بہو یہ ہے اور یہ میری بہن کی بیٹی ہے۔ اس کے بعد بیعت ہوئی اور دعا کی گئی۔ وہ بتاشے جو ہم لے گئے تھے (ان میں سے حضورؐ نے) کچھ رکھ لئے اور کچھ مجھے دیئے۔

﴿1531﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ اہلیہ صاحبہ حضرت مولوی شیر علی صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”حضور علیہ السلام جب کام کرتے کرتے تھک جاتے تو اٹھ کر ٹہل ٹہل کر کام کیا کرتے تھے اور جب ٹہلتے ہوئے بھی تھک جاتے تو پھر لیٹ جاتے تھے اور حافظ حامد علی صاحب کو بلا کر اپنے جسم مبارک کو دَبواتے تھے اور بعض دفعہ حافظ معین الدین صاحب کو بلواتے تھے اور حافظ معین الدین صاحب نے نظمیں خود بنائی ہوئی تھیں حضورؐ ان کو فرماتے کہ ”اپنی نظمیں سناؤ“ حافظ صاحب دباتے ہوئے نظمیں بھی سنایا کرتے تھے۔ جب حافظ صاحب اس خیال سے کہ حضورؐ سو گئے ہوں گے خاموش ہو جاتے تو حضورؐ فرماتے کہ ”حافظ صاحب آپ خاموش کیوں ہو گئے؟ آپ شعر سناویں ۔“ تو حافظ صاحب پھر سنانے لگ جاتے تھے۔

﴿1532﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ عائشہ صاحبہ بنت مستری قطب الدین صاحب بھیروی زوجہ خان صاحب ڈاکٹر محمد عبداللہ صاحب پنشنر نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”میرے والد اکثر نئی لکڑی (عصا) بنا کر حضرت اقدسؑ کی خدمت میں پیش کیا کرتے تھے اور حضورؐ کی مستعملہ لکڑی اس سے تبرکاً بدلوا لیا کرتے تھے۔ ایک دن ایک نئی لکڑی دے کر مجھے بدلوانے کے واسطے بھیجا۔ حضورؐ اس وقت اُمّ ناصر کے آنگن میں ٹہل رہے تھے۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”اندر سے میرا سوٹا اٹھا لا۔“ میں اندر گئی اور ایک سوٹا اٹھا لائی۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ”یہ تو حافظ مانا کا ہے۔“ تب میں پھر جا کر دوسرا اٹھا لائی تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”یہ ہمارا ہے اسے لے جاؤ اور اپنے ابّا سے کہہ دینا کہ جس گھر میں یہ ہو گا اس گھر میں سانپ کبھی نہیں آویگا۔ چنانچہ وہ سوٹا اب تک موجود ہے اور سانپ گھر میں کبھی نہیں دیکھا گیا۔“

﴿1533﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ مہتاب بی بی صاحبہ از لنگروال نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”ایک بار میں نے حضرت اقدسؑ کی خدمت میں عرض کیا کہ لوگ تسبیح پر وظیفہ پڑھتے ہیں۔ مجھے بھی کوئی وظیفہ بتائیں تاکہ میں بھی تسبیح پر پڑھا کروں۔ آپؐ کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا کہ ”آپ کو اگر تسبیح کا شوق ہے تو یہ وظیفہ پڑھا کرو۔“ ” یَا حَفِیْظُ ، یَا عَزِیْزُ ، یَا رَفِیْقُ ، یَا وَلِیُّ اشْفِنِیْ

﴿1534﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ رسول بی بی صاحبہ اہلیہ حافظ حامد علی صاحبؓ وخوشدامن مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل جٹ نے بواسطہ مکرمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ایک دفعہ میرے خاوند کے چچا کا نکاح ہونے والا تھا حضور نے بھی برات کے ساتھ جانا تھا۔ میرے خاوند حافظ حامد علی صاحبؓ کو حضورؐ نے پہلے بھیج دیا تھا کہ وہ حضورؐ کا کھانا تیار کر کے لائیں۔ میری ساس سے چالیس پچاس پراٹھے اور دس باری سادہ روٹیاں۔ آم کا اچار اور بارہ سیر شکر لے کر حافظ صاحب کٹھوننگل پہنچ گئے وہاں حضورؐ نے کھانا کھایا۔ پھر حضورؐ نے حافظ صاحب کو گھر بھیجا کہ ’’جا کر صلح کراؤ ہم آ کر نکاح کر دیں گے۔‘‘ شام کو حضورؐ پہنچ گئے اور نکاح کرا دیا۔ دولہا کو کہا کہ ’’اپنے گھر جاؤ‘‘ اور حافظ صاحب کو کہا ’’اپنے گھر جاؤ‘‘ آپ حضور علیہ السلام وہیں دالان میں سو گئے۔۔۔۔۔ صبح اٹھ کر حضورؐ پیشاب کرنے گئے تو مٹی کا ڈھیلا (وٹوانی کے لئے) مانگا۔ ایک شخص نے جس کا نام مہر دین تھا ایک دیوار سے مٹی اکھیڑ کر دے دی۔ حضور علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ ’’مٹی کہاں سے لائے ہو؟‘‘ اس نے کہا کہ ’’ارائیں کی دیوار سے لایا ہوں۔‘‘ حضورؐ نے فرمایا کہ ’’کیا اس کو پوچھ لیا تھا؟‘‘ اس نے کہا کہ ’’وہ تو ہمارا موروث ہے۔‘‘ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’وہیں رکھ دو۔ میں نہیں لیتا۔‘‘

﴿1535﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ فہمیدہ بیگم صاحبہ بنت پیر افتخار احمد صاحب زوجہ میر احمد صاحب قریشی نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضورؐ قضائے حاجت کو جاتے تو میں عموماً لوٹے میں گرم پانی وضو کے واسطے باہر رکھ آتی۔ ایک دن غلطی سے زیادہ گرم پانی رکھا گیا تو حضورؐ وہ لوٹا اٹھا لائے اور میرا ہاتھ پکڑ کر اس پر گرم پانی ڈال دیا۔ میں ایسی شرمندہ ہوئی کہ کئی دن حضورؐ کے سامنے نہ ہو سکی۔ حضور ان دنوں نماز مغرب و عشاء جمع کرایا کرتے تھے۔ ایک دن میں نے کہا کہ حضورؐ ساریاں کے واسطے (یعنی سب کے لئے) دعا کریں۔‘‘ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’کیا کہا؟ صالحہ کے واسطے (جو حضرت میر محمد اسحق صاحب کی بیوی ہیں) دعا کروں؟‘‘ میں نے کہا کہ ’’حضورؐ! ساریاں کے واسطے۔‘‘

﴿1536﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ زینب صاحبہ اہلیہ مستری چراغ دین صاحب قادر آباد نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن میں اپنی سوتیلی والدہ کے ساتھ درس سننے گئی۔ میں اپنے چھوٹے بھائی کو جہاں جوتیاں تھیں کھلانے لگی جب حضور درس ختم کر کے اٹھے تو مجھے فرمانے لگے کہ ”بچہ کو اٹھا لو۔ بچے کا جوتیوں سے کھیلنا اچھا نہیں ہوتا۔“

﴿1537﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ خیر النساء صاحبہ بنت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب مرحوم نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ دو عورتیں حضورؐ کو دبا رہی تھیں ، خاکسارہ دبانے کے لئے گئی تو وہ کہنے لگیں کہ ”اب حضورؐ کی طبیعت خراب ہے۔ بس دو ہی آدمی دبائیں گے زیادہ نہیں دبا سکتے۔“ میں واپس چلی گئی۔ آپ آنکھیں بند کر کے لیٹے ہوئے تھے۔ یوں معلوم ہوتے تھے جیسے سوئے ہوئے ہیں۔ خاکسارہ چلی گئی تو آپ نے دریافت فرمایا ”کون آیا تھا؟“ ایک عورت نے کہا کہ خیر النساء آئی تھی چلی گئی (میں اس وقت ان عورتوں کا نام نہیں لینا چاہتی) آپ نے فرمایا کہ ”جاؤ ان کو بلا کے لاؤ۔“ وہی عورت جس نے مجھے کہا تھا، مجھے بلانے کے لئے گئی۔ جب میں حاضر ہوئی تو فرمایا ”آپ چلی کیوں گئی تھیں؟“ میں نے عرض کیا کہ ”انہوں نے دبانے نہیں دیا تھا اس لئے چلی گئی تھی“۔ تو فرمایا کہ ”آپ کو ثواب ہو گیا ہے، آپ بیٹھ جائیں“ اور مجھے اپنے پاس بٹھا لیا اور فرمایا کہ ”ان کے لئے چائے لاؤ“ غرضیکہ حضور علیہ السلام اس قدر شفقت اور محبت سے پیش آیا کرتے تھے کہ میری ناچیز زبان بیان کرنے سے قاصر ہے۔ آپ ہمیشہ مہمانوں کے لئے بادام روغن نکلوا کر رکھا کرتے تھے۔ میری آپا زینب زیادہ آپ کی خدمت مبارک میں رہا کرتی تھیں۔“

﴿1538﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ عائشہ بی بی صاحبہ والدہ عبد الحق صاحب واہلیہ شیخ عطا محمد صاحب پٹواری حال وارد قادیان نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”اب میری عمر ۷۰ سال کی ہوگی۔ میری شادی پندرہ سولہ سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ بارہ سال تک میرے گھر کوئی بچہ پیدا نہ ہوا۔ جس پر میرے خاوند صاحب نے دو اور بیویاں اولاد نرینہ کی غرض سے کیں مگر اولاد ان کے ہاں بھی کوئی نہ ہوئی۔ اس اثناء میں حضرت مرزا جی نے دعویٰ مہدویت کا کیا جس کا شور ملک میں پیدا ہو گیا۔ اس زمانہ میں میرے خاوند نے حضرت مرزا صاحب سے عرض کی کہ ’ولی کی دعا ہمیشہ خدا کی جناب میں منظور ہوتی ہے۔ اگر آپ مہدی اور ولی ہو تو خدا کی بارگاہ میں دعا مانگو کہ میری ہر سہ بیویوں سے جس سے میں چاہوں اس کے گھر فرزند ارجمند، نیک بخت، مومن صاحب اقبال پیدا ہو۔ چنانچہ میرے خاوند کو حضور علیہ السلام نے جواب دیا اور کارڈ تحریر کیا کہ ’مولیٰ کے حضور دعا کی گئی۔ تمہارے گھر میں فرزند ارجمند، مومن صاحب اقبال اس بیوی کو ہوگا جس کو تم چاہتے ہو بشرطیکہ تم زکریا علیہ السلام کی طرح توبہ کرو۔ چنانچہ میرے خاوند نے پوری پوری توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے فرزند ارجمند ۱۹۰۰ء میں عطا فرمایا۔ اُس وقت میرا خاوند موضع ونجواں تحصیل بٹالہ کا پٹواری مال تھا۔ چنانچہ اِس وقت لخت جگر عہدہ اوورسیئر پر ملازم ہے۔ تب سے ہمارا سب خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر پکا ایمان رکھتا ہے۔ اس کے بعد میرے خاوند شیخ عطا محمد صاحب کو خواب آیا کہ ’میں ایک میٹھا خربوزہ کھا رہا ہوں۔ جب میں نے اس کی ایک قاش اپنے لڑکے عبدالحق کو دی تو خشک ہوگئی ہے۔‘ تعبیر خواب پر حضرت مرزا صاحب نے فرمایا کہ ”تمہارے گھر میں اسی بیوی کو ایک اور لڑکا ہوگا مگر وہ زندہ نہیں رہے گا۔“ چنانچہ حسب فرمودہ حضرت صاحب لڑکا پیدا ہوا اور گیارہ ماہ کا ہو کر فوت ہو گیا اس کے بعد میرے ہاں کوئی لڑکا یا لڑکی پیدا نہیں ہوئی۔‘

﴿1539﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ حسن بی بی صاحبہ اہلیہ ملک غلام حسین صاحب رہتاسی نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضورؐ کچھ لکھ رہے تھے۔ میں کھانا لے کر گئی اور حضورؐ کے پاس رکھ کر لوٹ آئی۔ کافی دیر کے بعد جب حضورؐ کی نظر کہیں برتنوں پر پڑی اور ان کو خالی پایا تو مجھے آواز دی کہ ”آکر برتن لے جاؤ“ اور پوچھا کہ ”کیا میں نے کھانا کھا لیا ہے؟“ میں نے عرض کیا کہ حضورؐ میں تو کھانا چھوڑ گئی تھی مجھے معلوم نہیں کہ حضورؐ نے کھایا ہے یا نہیں؟“ حضورؐ نے فرمایا کہ ”شاید کھا لیا ہوگا؟“ لیکن معلوم یہ ہوتا تھا کہ حضور علیہ السلام لکھنے میں ایسی محویت کے عالم میں رہے کہ حضورؐ کو یہ بھی معلوم نہ ہوا کہ میں کھانا رکھ گئی ہوں اور نہ ہی بھوک محسوس ہوئی کہ اگر نہ کھایا ہوتا تو فرماتے کہ ”نہیں کھایا۔“

﴿1540﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ سیدہ زینب بیگم صاحبہ بنت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب مرحوم نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”میری موجودگی میں ایک دن کا ذکر ہے کہ باہر گاؤں کی عورتیں جمعہ پڑھنے آئی تھیں تو کسی عورت نے کہہ دیا کہ ’ان میں سے پسینہ کی بو آتی ہے‘۔ چونکہ گرمی کا موسم تھا۔ جب حضور علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ تو اس عورت پر ناراض ہوئے کہ ’تم نے ان کی دل شکنی کیوں کی؟‘ ان کو شربت وغیرہ پلایا اور ان کی بڑی دل جوئی کی۔ حضورؐ مہمان نوازی کی بہت تاکید فرمایا کرتے تھے۔

﴿1541﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ خیر النساء صاحبہ والدہ سید بشیر شاہ صاحب بنت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب مرحوم نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”پہلی دفعہ جب ہم قادیان آئے ہیں تو عزیزم ولی اللہ شاہ صاحب کی ٹانگ میں گھوڑے پر سے گر جانے کی وجہ سے سخت تکلیف تھی اور ٹانگ سیدھی نہیں ہوتی تھی۔ سول سرجن نے کہہ دیا تھا کہ ٹانگ ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ والدہ صاحبہ قادیان آنے لگیں تو انہوں نے دعا کے لئے رقعہ لکھ دیا۔ آپؐ نے دریافت فرمایا کہ ’ولی اللہ شاہ کون ہے؟‘ والدہ صاحبہ نے بتایا کہ ’میرا لڑکا ہے۔‘ آپؐ نے فرمایا۔ ’دعا کریں گے، انشاء اللہ صحت ہو جائے گی۔‘ چنانچہ آپؐ نے دعا فرمائی اور اسی سول سرجن نے جس نے کہا تھا کہ ’اب آرام نہیں آ سکتا۔‘ علاج کیا۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے ٹانگ بالکل ٹھیک ہو گئی۔ یہ بھی آپؐ کا معجزہ ہے۔“

﴿1542﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ عائشہ صاحبہ بنت مستری قطب الدین صاحب بھیروی زوجہ خان صاحب ڈاکٹر محمد عبداللہ صاحب پنشنر نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جس مکان میں اب ام طاہر صاحبہ رہتی ہیں یہ مکان بن رہا تھا۔ میرے ابا برآمدہ کو روغن کر رہے تھے۔ جب شام کو گھر گئے تو چونکہ وہ اپنا قرآن مجید بھول گئے تھے مجھے کہا کہ ’جا کر میرا قرآن مجید لے آ۔‘ جب میں گئی تو اس وقت بڑی سخت آندھی آگئی۔ اس آندھی میں ایک لفافہ اڑ کر آیا اور جہاں حضور علیہ السلام بیٹھے تھے وہاں آ کر گرا۔ جب آندھی ذرا تھمی تو حضورؐ نے لالٹین منگوائی اور وہ لفافہ کھول کر پڑھا اس میں جو لکھا تھا حضور علیہ السلام نے سنایا کہ ’چند مہمان آ رہے ہیں ان کے واسطے علیحدہ مکان رکھا جاوے اور ان کے کھانے کا انتظام بھی الگ ہی کیا جاوے۔ چنانچہ جب وہ مہمان آئے تو ان کو اس گھر میں جہاں اب میاں بشیر احمد صاحب رہتے ہیں ٹھہرایا گیا تھا۔ وہ

مہمان پٹھانوں کی طرح کے معلوم ہوتے تھے۔ چند دن رہے اور بیعت کر کے چلے گئے۔ بعض کہتے تھے کہ یہ جن ہیں۔

﴿1543﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ مراد بی بی صاحبہ بنت حاجی عبداللہ صاحب ارائیں ننگل نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”جب میں جوان ہوئی تو ہمارے گاؤں میں کھجلی کی بیماری پھیل گئی تو مجھے بھی کھجلی پڑ گئی۔ میں نو مہینے بیمار رہی، میرے والد صاحب نے کہا کہ ”حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس علاج کے واسطے لے جاؤ۔“ میری والدہ مجھے لے کر آئی۔ اس وقت نیچے کے دالان میں حضورؐ ٹہل رہے تھے۔ ہم کھرلی کے پاس بیٹھ گئے۔ میری ماں نے عرض کی کہ ”میں اپنی لڑکی کو علاج کے واسطے لائی ہوں۔ حضورؐ دیکھ لیں۔“ حضورؐ نے فرمایا کہ ”اس وقت فرصت نہیں ہے۔“ میں اس گھرلی میں لیٹ گئی اور میں نے کہا کہ ”میرا علاج کریں نہیں تو میں یہیں مر جاؤں گی (حضرت ام المؤمنین اب تک میرا گھرلی میں لیٹنا یاد کرتی ہیں) تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ”اچھا لڑکی کو لے آؤ۔“ آپ نے میری حالت دیکھ کر دوا لکھی۔ آنولے، بہٹیڑے، مہندی اور نیم یہ دوا لکھی۔ میری ماں نے کہا کہ ”یہ لڑکی بڑی لاڈلی ہے اس نے کڑوی دوا نہیں پینی۔“ حضور علیہ السلام نے دروازہ میں کھڑے ہو کر میرے سر پر ہاتھ رکھا اور فرمایا کہ ”بی بی تو دوا پی لے گی تو اچھی ہو جاوے گی۔“ آپ نے تین مرتبہ فرمایا تھا اور فرمایا کہ علی نائی کی دوکان سے یہ دوائیں لا کر مجھے دکھاؤ۔“ میری ماں دوا لائی تو حضور نے دیکھی اور فرمایا کہ ”اس کا عرق نکال کے اسے پلاؤ۔“ میری والدہ نے تین بوتلیں عرق کی بنائیں۔ میں پیتی رہی اور بالکل اچھی ہوگئی۔“

﴿1544﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ عائشہ بیگم صاحبہ اہلیہ مولوی ارجمند خان صاحب بنت حکیم محمد زمان صاحب مرحوم نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں نے حضرت ام المؤمنین صاحبہ سے سنا ہے کہ جبکہ ابھی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ چھوٹے بچے تھے تو باہر سے کسی سے یہ گالی سن آئے تھے کہ ”سُوٴر کا بچہ گو کھانا۔“ جب آپ نے گھر میں اس کو ایک دو مرتبہ بولا تو حضور مسیح موعود علیہ السلام نے سن کر فرمایا کہ ”محمود! محمود! ادھر آؤ۔ میں تمہیں بتاؤں۔ اس طرح کہا کرو کہ ”باپ کا بچہ گڑ کھانا۔“ پھر میاں صاحب اسی طرح کہتے تھے۔

﴿1545﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ اہلیہ صاحبہ حضرت مولوی شیر علی صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”ایک دفعہ جب میرا بڑا لڑکا عبدالرحمٰن دو ماہ کا تھا۔ میں اس کو اٹھا کر حضورؐ کے پاس لے گئی۔ آپ اس وقت اس صحن میں جواب اُمّ طاہر صاحبہ کا ہے، ٹہل رہے تھے۔ میں نے سلام کیا اور لڑکے کے واسطے دعا کے لئے عرض کیا اور بتایا کہ ”یہ جو دودھ پیتا ہے اس کو پھر منہ سے باہر نکال دیتا ہے۔“ حضورؐ نے بچہ کے منہ پر اور جسم پر اپنا ہاتھ مبارک پھیرا اور فرمایا کہ ”اس کو ریوند خطائی، بڑی ہڑڑ اور سہاگہ تینوں کو لے لو۔ سہاگہ کو پھل کروا اور جس وقت بچہ کو دودھ پلاؤ تو پھل کیا ہوا سہاگہ تھوڑا سا منہ میں ڈال دیا کرو اور ریوند خطائی و ہڑڑ کو خالص شہد میں ملا کر کھلایا کرو۔“

﴿1546﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ حسّو صاحبہ اہلیہ فجا صاحب معمار خادم قدیمی نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”جب گورداسپور میں کرم دین کا مقدمہ تھا تو حضور علیہ السلام کو وہاں تقریباً سات ماہ رہنا پڑا تھا۔ بہت سے لوگ جماعت کے ساتھ ہوتے تھے۔ وہاں گائے کا گوشت دیگوں میں پکا کرتا تھا۔ میں یہ گوشت نہیں کھایا کرتی تھی بلکہ روکھی روٹی کھا لیتی تھی۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”یہ روکھی روٹی کھانے سے کہیں بیمار نہ ہو جائے۔ صفیہ کی اماں سے کہدو کہ ایک چھوٹی پتیلی میں چند بوٹیاں اچھی طرح سے پکا کر اس کو کھلایا کرو تا کہ اس کو گائے کا گوشت کھانے کی عادت ہو جائے۔“ چنانچہ ایک دن حضرت ام المومنین صاحبہ بڑا عمدہ بھنا ہوا گوشت اور دو روٹیاں لے کر آئیں اور ایک روٹی اور کچھ سالن اس میں سے آپ نے کھایا اور دوسری روٹی اور چند بوٹیاں مجھے دے کے کہا کہ ”کھاؤ“ میں نے کھانا شروع کیا تو کھاتی گئی، مزیدار تھا۔ اس دن سے مجھے گائے کے گوشت سے جو نفرت تھی وہ جاتی رہی۔ اب کھاتی رہتی ہوں۔“

﴿1547﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ محترمہ رسول بی بی صاحبہ اہلیہ حافظ حامد علی صاحبؓ وخوشدامن مولوی عبدالرحمٰن صاحب فاضل جٹ نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”میرا خاوند میرے ساتھ سختی سے پیش آتا اور خرچ دینے میں تنگی کرتا۔ اس پر میں نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں ان کی شکایت کی تو حضورؐ نے فرمایا کہ ”جو عورت اپنی زبان اور شرم گاہ کی حفاظت کرتی ہے وہ سیدھی جنت میں جائے گی اور جو خاوند کی سختیوں کو صبر سے برداشت کرتی ہے وہ ایک ہزار سال پہلے جنت میں جائے گی۔“

﴿1548﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام اپنی عادت کے مطابق گھر سے سیر کے واسطے باہر تشریف لائے اور اس روز باغ کی طرف تشریف لے گئے جب باغ میں پہنچے تو وہاں شہتوت کے درختوں کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے۔ تب اس وقت مالی باغبان نے ایک بہت بڑا کپڑا زمین پر بچھا دیا اور حضور بھی بمعہ خدام سب اس کپڑے پر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد مالی تین چار ٹوکریوں میں شہتوت بیدانہ ڈال کر لایا۔ ان میں سے ایک حضور کے آگے رکھ دی اور دوسرے دوستوں کے آگے تین ٹوکریاں رکھ دیں۔ چنانچہ وہ شہتوت بیدانہ سب دوست کھانے لگ گئے۔ جو ٹوکری حضور کے آگے رکھی تھی اس پر میں اور ایک دو دوست اور بھی تھے میں بالکل حضور کے قریب دائیں جانب بیٹھا تھا۔ اور کچھ حجاب کے باعث خاموش بیٹھا رہا اور اس میں سے نہ کھاتا تھا۔ حضور علیہ السلام نے مجھے دیکھا کہ کھاتا نہیں تو حضور مجھے مخاطب ہو کر فرمانے لگے کہ میاں فضل محمد تم کھاتے کیوں نہیں۔ تو اس وقت مجھے اور کوئی بات نہ سوجھی جلدی سے منہ سے نکل گیا کہ حضور یہ گرم ہیں۔ میرے موافق نہیں۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا۔ نہیں میاں یہ گرم نہیں ہیں۔ یہ تو قبض کشا ہیں۔ جب میں نے دیکھا کہ حضور میرے ساتھ بات چیت کرنے میں مشغول ہیں تو میں نے موقع دیکھ کر عرض کیا کہ حضور میرے کھبے پٹ پر یعنی ران پر بہت مدت سے ایک گلٹی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ کسی وقت کچھ تکلیف نہ دے۔ اس وقت حضور کی زبان مبارک سے نکلا کہ ”تکلیف نہیں دیتی آرام ہو جاوے گا“ اور اس وقت ایک دوائی کا نام بھی لیا جو مجھے بھول گئی ہے۔ فرمایا لگا دیویں آرام ہو جاوے گا اس کے بعد کچھ دنوں کے بعد اس گلٹی پر درد شروع ہو گئی۔ مجھے خیال آیا کہ حضور علیہ السلام نے جو دوائی فرمائی تھی وہ تو مجھے بھول گئی اور میں حیران تھا کہ اب کیا کروں۔ اتنے میں دو تین روز کے بعد وہ گلٹی پھٹ گئی اور وہ اندر سے باہر جا پڑی اور دو تین روز تک وہ زخم بالکل صاف ہو گیا‘۔

﴿1549﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ کچھ لوگ سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں۔ تو میں نے ان سے پوچھا یہ کیسے پودے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا یہ طاعون کے پودے ہیں۔ تو پھر میں نے پوچھا کہ کب؟ تو انہوں نے بتایا کہ جاڑے کے موسم میں۔ تب حضور نے تمام جماعت کو بلا کر ایک بڑھ کے نیچے جس جگہ قادیان کی مشرق کی جانب اب نئی آبادی ہوئی ہے جو بڑھ اب تک کھڑا ہے جمع کیا اور فرمایا کہ میں نے یہ دیکھا ہے۔ اب دنیا میں طاعون کا عذاب آنے والا ہے۔ بہت بہت توبہ کرو، صدقہ کرو اور اپنی اصلاح کرو ہر طرح نصیحت فرمائی اور بہت ڈرایا اور بہت دیر تک نصیحت فرماتے رہے۔ چنانچہ اس کے کچھ عرصہ کے بعد طاعون شروع ہوئی۔

﴿1550﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ مقدمہ تھا اور اس کی ایک پیشی کے لئے موضع دھار یوال میں جانا پڑا۔ گرمی کا موسم تھا اور رمضان کا مہینہ تھا۔ بہت دوست ارد گرد سے موضع دھاریوال میں گئے اور بہتوں نے روزے رکھے ہوئے تھے۔ وہاں ایک مشہور سردارنی نے جو موضع کھنڈے میں مشہور سرداروں میں سے ہے حضور کی خدمت اقدس میں دعوت کا پیغام بھیجا۔ حضور نے دعوت منظور فرمائی۔ سردارنی نے میٹھے چاول وغیرہ کی دعوت دی۔ بعض دوستوں نے حضور سے روزہ کے متعلق عرض کی۔ فرمایا سفر میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔ چنانچہ اس وقت سب دوستوں نے روزے چھوڑ دئے اور جب حضور دھاریوال کے پل پر تشریف لے گئے تو بہت لوگوں نے جو حضور کی زیارت کے لئے ارد گرد سے آئے ہوئے تھے زیارت کی درخواست کی اس وقت حضور ایک پکی پر کھڑے ہوگئے اور سب لوگوں نے حضور کی زیارت کی‘۔

﴿1551﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ بھائی خیر الدین موضع سیکھواں نے اور میں نے مل کر ارادہ کیا کہ قادیان شریف میں دکان کھولیں ۔ چنانچہ اس کے متعلق یہ صلاح ہوئی کہ پہلے حضور سے صلاح لے لی جاوے ۔ چنانچہ جب حضور علیہ السلام نماز سے فارغ ہو کر گھر تشریف لے چلے تو ہم نے عرض کی کہ حضور ہم نے ایک عرض کرنی ہے اور وہ عرض یہ ہے کہ ہم دونوں نے ارادہ کیا ہے کہ قادیان میں دونوں مل کر دکان کھولیں ۔ حضور علیہ السلام وہاں بیٹھ گئے اور فرمایا کہ پہلے استخارہ کرو ۔ تو میں نے عرض کی کہ حضور استخارہ تو ایک ہفتہ تک کرنا پڑے گا۔

تب حضور نے فرمایا کہ استخارہ دعاہی ہوتی ہے ۔ ہر نماز میں دعا کرو ایک دن میں بھی استخارہ ہو سکتا ہے ۔ اس وقت حضرت مولوی نور الدین صاحب بھی گھر تشریف لے جا رہے تھے ۔ حضور نے مولوی نور الدین صاحب کو بھی بلا لیا ۔ اور فرمایا کہ مولوی صاحب یہ دونوں مل کر قادیان میں دکان کرنا چاہتے ہیں ۔ بھائی خیر الدین صاحب فرماتے ہیں کہ حضور نے اس وقت یہ بھی فرمایا تھا کہ اگر دکان میں گھاٹا پڑے تو چھوڑ دیں ۔ اس کے بعد ہمارا خیال دکان کرنے کا بالکل نہ رہا ۔ اور اپنے اپنے گاؤں کو چلے گئے ۔

﴿1552﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دن کا ذکر ہے حضور اپنی عادت کے طور پر سیر کے لئے گھر سے باہر تشریف لائے ۔ بہت دوست باہر دروازہ پر حضور کا انتظار کر رہے تھے ۔ اس روز حضور موضع بھینی کی طرف تشریف لے چلے۔ جب ایک چھپڑ پر جو قصبہ قادیان کے متصل بر لب راہ موضع بھینی کی جانب ہے اس کے کنارے پر ایک بڑا بڑھ کا درخت تھا حضور اس کے نیچے کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ اس چھپڑ کا پانی اچھا نہیں ہے اس سے وضو کر کے نماز نہیں پڑھنی چاہئے ۔ چنانچہ میں نے کئی دفعہ دوستوں کو وہاں سے وضو کرنے سے روکا تھا ۔ اور وہ دوست مجھے مخول کرتے تھے ۔ اس روز وہ دوست بھی وہاں ہی تھے انہوں نے اپنے کانوں سے سنا کہ حضور نے اس چھپڑ کے پانی سے وضو کرنا اور اس کو استعمال کرنا منع فرمایا۔

﴿1553﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت اقدس نے ایک رجسٹر بنایا اور اپنی جماعت کو حکم دیا کہ اپنی اولاد یعنی بچوں، بچیوں کے نام مجھے لکھوا دو تا کہ ہم اپنے طور پر جہاں چاہیں گے رشتہ کریں گے چنانچہ میں نے اپنے تین

بچوں کے نام حضور اقدس کی خدمت میں لکھ کر پیش کئے چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد ڈاکٹر اسماعیل صاحب کی اہلیہ صاحبہ فوت ہو گئیں۔ حضور نے ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کے والد سے کہا کہ تم اپنی لڑکی کا رشتہ ڈاکٹر اسماعیل صاحب کو دے دو اس نے صاف انکار کر دیا کہ حضور یہ بڑی عمر کے ہیں اور صاحب اولاد ہیں اس واسطے میں یہ رشتہ کرنا منظور نہیں کرتا۔

چنانچہ اس کے بعد میں نے سنا کہ حضور نے اس رجسٹر کو پھاڑ دیا اور اس خیال کو چھوڑ دیا میں نے سنا کہ اس لڑکی کا رشتہ کسی اور جگہ اس کے والد نے کر دیا اور اس لڑکی کی زندگی بڑی دکھی رہی اور دکھ میں مبتلا رہی۔

﴿1554﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلّہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب کہ پہلی ہی دفعہ ہمارے گاؤں میں طاعون پڑی تو ہمارے گاؤں میں سے بھی چوہے مرنے شروع ہو گئے۔ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر جمعہ کو قادیان میں ہی جمعہ پڑھا کرتا تھا اور اکثر حضور سے مل کر واپس گھر کو جاتا تھا۔ اس روز میں نے حضور سے ملنے کے وقت عرض کی۔ حضور! ہمارے گاؤں میں چوہے مرنے شروع ہو گئے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ جھٹ باہر کھلی ہوا میں چلے جاؤ ایسے خطرہ کے وقت جگہ کو چھوڑ دینا ہی سنت ہے۔ ضرور گھر چھوڑ کر باہر چلے جاؤ۔ چنانچہ میں حضور کے حکم کے ماتحت گھر چھوڑ کر باہر چلا گیا۔ اور بہت سے لوگ گاؤں کے گھر چھوڑ کر میرے ساتھ باہر چلے گئے۔ میرا ایک چچازاد بھائی نہ گیا۔ چند دن کے بعد وہ طاعون میں مبتلا ہو کر اس دنیا سے کوچ کر گیا۔

﴿1555﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلّہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ شیخ حامد علی صاحب جو ابتدا ہی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت اقدس میں رہے تھے میری ان سے بڑی محبت تھی، بعض بعض وقت وہ میرے پاس حضور کی ابتدائی باتوں کا ذکر کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ شیخ صاحب فرمانے لگے کہ ایک دفعہ حضور نے ایک ضروری کام کے لئے مجھے افریقہ یا امریکہان دونوں میں سے شیخ صاحب نے کسی کا نام لیا جو مجھے اس وقت یاد نہیں ہے بھیجا۔ جب میں

جہاز میں سوار ہوا تو وہ جہاز آگے چل کر خطرہ میں ہو گیا۔ یہاں تک کے لوگ چیخ و پکار کرنے لگ گئے۔ حتیٰ کہ میرا دل بھی فکر مند ہو گیا۔ تب فوراً میرے دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ میں اللہ تعالیٰ کے فرستادہ کا بھیجا ہوں اور اس کے کام کے واسطے جا رہا ہوں۔ پس یہ جہاز کس طرح ڈوب سکتا ہے۔ چنانچہ میں نے بلند آواز سے پکارا۔ کہ اے لوگو! گھبراؤ مت۔ یہ جہاز ہرگز نہیں ڈوبے گا کیونکہ میں ایک نبی کا فرستادہ ہوں اور میں اس جہاز میں سوار ہوں اس واسطے یہ جہاز ہرگز نہیں ڈوبے گا۔ چنانچہ میں نے اُن کو بہت تسلی دی اور یہ آگے چلے گئے چنانچہ جہاز اس جگہ پہنچ گیا۔ جس جگہ میں نے اترنا تھا۔ اس پر میں اس جگہ اتر گیا اور جس طرف جانا تھا چلا گیا اور وہ جہاز اس جگہ سے آگے نکل گیا اور آگے جا کر غرق ہو گیا۔ جب اس جہاز کے ڈوبنے کی خبر آئی تو میرے گھر والوں نے بھی سنا کہ فلاں جہاز فلاں تاریخ کو غرق ہو گیا تو میرے گھر کے لوگ روتے پیٹتے حضرت صاحب کی خدمت میں پہنچے اور رو رو کر کہنے لگے کہ فلاں جہاز جس پر حافظ حامد علی صاحب سوار تھے ڈوب گیا ہے۔ حضرت صاحب نے اس کے حال پکار کو سن کر فرمایا۔ ہاں میں نے بھی سنا ہے کہ فلاں جہاز فلاں تاریخ کو ڈوب گیا ہے اور اس میں حافظ صاحب بھی تھے۔ اور پھر خاموش ہو گئے اور کچھ جواب نہ دیا۔ چند منٹ کے بعد بلند آواز سے فرمایا ”صبر کرو حافظ حامد علی صاحب اللہ تعالیٰ کے فضل سے زندہ ہیں جس کام کے واسطے بھیجے گئے تھے کر رہے ہیں“۔ اور سب کو تسلی دی اور گھر کو روانہ کر دیا۔

﴿1556﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں عید کی نماز پڑھنے کے لئے قادیان شریف آیا۔ جب نماز ادا کر چکے تو مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے ، اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ حضور! جناب نے فرمایا تھا کہ عید کے دن اللہ تعالیٰ کوئی اپنا نشان دکھاوے گا۔ اور آج عید کا دن ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ اور قلم دوات و کاغذ اپنے پاس لے لو۔ یہ حکم سن کر سب دوست بیٹھ گئے اور حضور نے کرسی پر تشریف رکھ کر عربی زبان میں خطبہ شروع کر دیا جس کا نام خطبہ الہامیہ رکھا گیا۔ کچھ دوستوں نے وہ خطبہ لکھنا شروع کر دیا اور جو کچھ حضور فرماتے ، لکھنے والے لکھتے جاتے ۔ جب کوئی لفظ کسی کی سمجھ میں نہ آتا تو حضور پوچھنے والوں کو بمعہ جوڑ وغیرہ بتلا دیتے ۔ اس وقت حضور کے مبارک منہ سے اس طرح الفاظ جاری تھے۔ کہ گویا کتاب آگے رکھی ہوئی ہے جس پر سے دیکھ کر پڑھ رہے ہیں۔ کتاب پر سے پڑھنے والے بھی کبھی رک ہی جاتے ہیں مگر حضور بالکل نہیں رکتے تھے۔ حضور کے پاس میں بیٹھا ہوا تھا اور حضور کی طرف میری آنکھیں لگی ہوئی تھیں۔ حضور کا رنگ اس وقت سرسوں کے پھول کی مانند تھا۔ آنکھیں بند رکھتے تھے اور کبھی کبھی کھول کر دیکھ لیا کرتے تھے۔

﴿1557﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ رشوت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ رشوت یہ ہے کہ انسان کسی دوسرے کا حق غصب کرنے کے لئے کسی کو کچھ دے۔ لیکن اگر کسی بد نیت افسر کو اپنے حقوق محفوظ کرانے کے لئے کچھ دے دے تو یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی کتے کو جو کاٹتا ہو۔ کوئی روٹی کا ٹکڑا ڈال دیا جائے۔

﴿1558﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے بواسطہ محمد احمد صاحب بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ کرم دین سکنہ بھیں والے کے مقدمہ کی پیروی کے لئے حضرت صاحب گورداسپور یکوں میں تشریف لے جایا کرتے تھے اور میں حضور کے ساتھ ہوتا تھا۔ ایک دفعہ جب ہم گورداسپور سے روانہ ہونے لگے تو تقریباً گیارہ بجے دن کے تھے۔ اور سخت گرمیوں کا مہینہ تھا۔ میں حضور کے ساتھ یکے کے اندر بیٹھا۔ میں پہلے اس بات کا خیال کر لیا کرتا تھا کہ جس وقت ہم روانہ ہوں گے دھوپ کا رخ کسی طرف ہوگا اور یکہ میں سایہ کس طرف۔ پھر سائے میں حضور کو بٹھاتا۔ میں ثواب کی خاطر ایسا کرتا تھا اور سمجھتا تھا کہ حضور کو اس بات کا علم نہیں کہ میں عمداً ایسا کرتا ہوں۔ جب ہم روانہ ہوئے تو سخت گرمی اور دھوپ تھی اور یکہ سیدھا گورداسپور سے قادیان آتا تھا۔ بٹالہ کے راستہ سے نہیں آتا تھا۔ جونہی ہم روانہ ہوئے تو بادل کا ایک ٹکڑا سورج کے سامنے آگیا اور قادیان تک ہم پر سایہ کیا اور ٹھنڈ بھی ہوگئی۔ ہم یکّے پر سے قادیان آکر اترے۔ تو حضور نے فرمایا۔ مفتی صاحب! اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا فضل کیا جو بادل کا سایہ ہم پر کر دیا اور بدلی ساتھ ساتھ قادیان تک ہی آگئی۔ پھر حضور نے فرمایا کہ مفتی صاحب! اسی قسم کا ایک واقعہ پہلے بھی ہمارے ساتھ پیش آچکا ہے جب میں والد صاحب کے ساتھ زمین کے بارہ میں مقدمہ کی پیروی کے لئے امرتسر جایا کرتا تھا۔ جب ہم (بٹالہ یا امرتسر خاکسار کو بھول گیا ہے، محمد احمد) سے روانہ ہوئے

تو ہمارے ساتھ ایک ہندو بھی یکہ پر سوار ہونے والا تھا۔ تو جس طرح مفتی صاحب آپ تاڑ کر مجھے سایہ کی طرف بٹھاتے ہیں وہ بھی اسی طرح تاڑ کر جلدی سے اچھل کر خود سایے کی طرف بیٹھ گیا۔ ہم دھوپ میں ہی بیٹھ گئے اور اسے کچھ نہ کہا۔ پھر جونہی ہم روانہ ہوئے تو اسی طرح بدلی کا ٹکڑا سورج کے سامنے آگیا اور سارے راستے میں ہم پر سایہ کیا پھر جب اترنے لگے تو ہندو نے اپنے فعل پر شرمندہ ہو کر کہا۔ آپ دھوپ میں بیٹھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر سایہ کر دیا۔ آپ کے طفیل ہم بھی آرام سے پہنچ گئے۔ خاکسار محمد احمد عرض کرتا ہے کہ جب پہلے مفتی صاحب سے یہ روایت سنی تھی اس وقت مفتی صاحب نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اس ہندو کے منہ سے بے اختیار رام رام کے الفاظ نکل پڑے تھے۔

﴿1559﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ صفیہ بیگم بنت مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کہ غالباً جناب والد صاحب مرحوم ۱۸۹۸ء میں یہاں قادیان شریف بالکل ہی آگئے تھے۔ ان کی موجودگی میں ہی جناب میاں مبارک احمد صاحب مرحوم تولد ہوئے تھے۔ ان کی پیدائش کا سن ہی ہماری بیعت کا سن تھا۔ والد صاحب کی بیعت تو بہت پہلے کی ہو گی۔ ہمیں پتہ نہیں۔ ہم سب حضرت اقدس کے اسی مکان میں اترے کچھ عرصہ یہاں ہی ٹھہرے۔ جناب حضرت مسیح موعود نہایت سادہ پوشاک رکھتے تھے۔ بعض دفعہ تو ازار بند کے ساتھ چابیوں کا گچھا بھی لٹکتا ہوتا تھا۔ ہمیشہ نیم وا آنکھیں رکھتے تھے۔ کبھی سر مبارک پر رومی ٹوپی ہوتی تھی اور بعض دفعہ لکھنے میں بہت مصروفیت ہوتی تھی۔ ننگے سر بھی ہوتے تھے۔ ہر وقت اوپر، جہاں آج کل حضرت ام المومنین مدظلہا تشریف رکھتی ہیں، رہتے تھے۔ اور اکثر وقت لکھتے ہی رہتے تھے۔ بہت دفعہ دیکھا ہے کہ کمرے کے اندر ٹہلتے ٹہلتے بھی لکھتے رہتے تھے۔ تخت پر لکھے ہوئے اور سفید کاغذ رکھے ہوئے ہوتے تھے۔ ایک دفعہ میں حیرانی سے بڑی دیر کھڑی دیکھتی رہی بوجہ مصروفیت آپ کو کچھ خبر نہ تھی۔ چونکہ میں اپنے والد صاحب مرحوم کا کچھ پیغام لے کر آئی تھی اس لئے میں نے حضرت جی کہہ کر آواز دی۔ جو عرض کرنا تھا کیا۔ نہایت نرمی سے حضور اقدس نے فرمایا کہ ”حرج ہوتا ہے“ اس لئے میں جلدی چلی گئی اور اکثر شام کو حضرت صاحب صحن میں بالا خانے پر چارپائی پر بیٹھے ہوتے تھے۔ مولوی محمد احسن صاحب مرحوم ان کے پاؤں دبایا کرتے تھے۔

﴿1560﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ صفیہ بیگم بنت مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میرے والد صاحب نے مجھے بھیجا کہ جا کر حضرت صاحب سے عرض کرو کہ اب میں کیا کروں۔ میں گئی۔ حضور اقدس صحن میں کھٹولی پر پاؤں لٹکائے بیٹھے تھے۔ مولوی محمد احسن صاحب مرحوم پاؤں دبا رہے تھے۔ میں نے جا کر والد صاحب کی طرف سے کہا۔ آپ نے فرمایا ’’حضرت مولوی صاحب سے کہو کہ باہر جاویں تبلیغ کے لئے‘‘۔ میں نے آ کر والد صاحب کو کہہ دیا۔ والد صاحب ہنسے اور بہت خوش ہوئے۔ فرماتے تھے۔ اللہ اللہ حضرت صاحب کو تبلیغ سب کاموں سے پیاری ہے اور میرے دل میں بھی تبلیغ کا بہت شوق ہے۔ یہ اس لئے کہا کہ والدہ صاحبہ چاہتی تھیں کہ احمدیہ سکول میں منطق عربی پڑھانے پر ملازم ہو جاویں شاید سکول میں عرضی بھی دی ہوئی تھی۔

﴿1561﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ صفیہ بیگم بنت مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت اماں جان صاحبہ بھی اوپر بالا خانہ میں بیٹھی تھیں۔ میں بھی گئی بیٹھ گئی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ حضرت مولوی صاحب پٹیالے سے رسد کے کتنے روپے لائے ہیں؟ میں نے کہا کہ میری بہن کی شادی پر والدہ صاحبہ نے قرض لے کر خرچ کیا تھا۔ کچھ تو وہ ادا کر دیا باقی ہمارے سب کے کپڑے بنادئے۔ فرمانے لگے۔ کیا خرچ کیا تھا۔ میں نے کہا کہ کپڑے زیور برتن وغیرہ جو کچھ کیا تھا بتا دیا۔ فرمانے لگے کہ ’’قرض لے کر خرچ کرنا گناہ ہے‘‘۔ اماں جان نے فرمایا کہ حضرت رسول کریم ﷺ نے کیوں بی بی فاطمہؓ کو چکی دی تھی؟ حضور مسیح موعود علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔ وہ قرض لے کر نہیں دی بلکہ گھر میں موجود تھی۔

﴿1562﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ صفیہ بیگم بنت مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ پہلے ہم پیر سراج الحق (لمبے پیر) کے ساتھ چوبارے میں رہتے تھے۔ اور ہمارے ساتھ محمد اسماعیل یا کچھ اور نام تھا، ان کی بیوی رہتی تھی۔ ایک دو ماہ کے بعد پھر حضرت صاحب کے قریب ایک کچا مکان خالی تھا وہ آپ نے ہمیں کرائے پر لے دیا۔ وہاں مغلانیاں آپ کی غیر احمدی رشتہ دار آئیں۔ ہمیں خفا ہوتیں سخت سست کہتیں۔ ایک دن میں نے حضرت صاحب سے کہا کہ ہمیں گالیاں دی جاتی ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اس مکان کا ہم نے مقدمہ کیا ہوا ہے۔ دعا کرو کہ ہمیں مل جاوے کیونکہ یہ ہمارا ہی حق ہے۔ پھر تمہیں بھی اس میں سے مکان بنا دیں گے۔ میں بہت دن دعا کرتی رہی پھر جب کپور تھلہ میں جناب والد صاحب مرحوم محمد خاں صاحب افسر بگھی خانہ کو پڑھانے کے لئے گئے ہوئے تھے معہ ہم سب۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ حضرت صاحب کو وہ مکان مل گیا تھا۔

﴿1563﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ صفیہ بیگم بنت مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جناب والد صاحب کہیں باہر دورہ تبلیغ کے لئے گئے ہوئے تھے۔ پیچھے سے مصلحت کی وجہ سے منتظموں نے لنگر خانہ کا یہ انتظام کیا کہ جو مہمان آویں صرف ان کو تین دن تک کا کھانا ملا کرے۔ باقی گھروں کا بند کر دیا۔ ہمیں بھی لنگر خانہ سے دونوں وقت روٹی آتی تھی۔ جب بند ہوگئی تو نہ آئی۔ ہم سب بہن بھائی ایک دن رات بھوکے رہے کسی کو نہ بتایا۔ دوسرے دن سب کو بہت بھوک لگی ہوئی تھی کہ مائی تابی ایک مجمع اٹھائے ہوئے آئی۔ والدہ صاحبہ نے کہا۔ کہاں سے لائی ہے؟ کس نے بھیجا ہے؟ حضرت جی نے دور کا بیاں کھیر کی اور دو پیالے گوشت عمدہ پکا ہوا بھجوایا۔ والدہ صاحبہ کہتی ہیں مرغ کا گوشت تھا۔ اور روٹیاں توے کی پکی ہوئیں ہم سب حیران ہوئے کہ حضرت صاحب کو کس نے بتایا پھر میں شام کو برتن لے کر گئی۔ برتن نیچے رکھ کر اوپر گئی تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ صفیہ کل کیوں نہیں آئی۔ میں نے کہا کل ہم کو لنگر سے کھانا نہیں آیا تھا۔ اس لئے ہم سب گھر ہی رہے۔ آپ نے افسوس والی صورت سے فرمایا کہ کل تم سب بھوکے رہے۔ کیا تمہیں لنگر خانہ سے روٹی آتی تھی؟ بہت افسوس فرمایا اور کہا کہ آج جو مجھے کھانا آیا تھا میں نے تمہارے گھر بھیج دیا۔ مجھے یہ علم نہ تھا کہ تم کو کل سے کھانا نہیں ملا۔ پھر مجھے دس روپے دئے اور فرمایا کہ نیچے کوٹھی میں جتنے دانے گندم کے ہیں گھر لے جاؤ۔ اور خرچ کرو۔ جب تک حضرت مولوی صاحب نہیں آتے مجھے خرچ کے لئے بتایا کرو۔ پھر ایک ماہ میں کئی بار مجھ سے دریافت فرمایا کہ تمہارا خرچ ختم ہو گیا۔ میں کہدیتی نہیں۔ اسی ماہ کے اخیر میں ہی جناب والد صاحب مرحوم گھر آگئے۔

﴿1564﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ صفیہ بیگم بنت مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلّمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب جناب والد صاحب باہر جاتے تو حضرت صاحب ہمارا بہت خیال رکھتے تھے۔ ایک دفعہ والد صاحب باہر گئے ہوئے تھے۔ وہ مکان (جو) مرزا امام الدین کے پاس پہلے تھا اس میں ہم رہتے تھے۔ بہت ردّی حالت اس کی تھی۔ ایک چھتڑا بالکل گرنے والا تھا۔ اس میں ہم دو بہنیں اور ایک بھائی بیٹھے تھے۔ تھوڑی تھوڑی بارش ہو رہی تھی۔ حضور نے طاقی کھڑکائی اور اماں جان صاحبہ نے ناشپاتیاں دریچہ سے ہمارے صحن میں پھینکنی شروع کیں۔ ہم بھاگ کر باہر آگئے۔ ناشپاتیاں چُننے لگ گئے اور پیچھے وہ چھتڑا دھڑام سے گر گیا۔ والدہ صاحبہ دریچہ کے قریب اونچی اونچی شکریہ ادا کر رہی تھیں کہ آپ نے میرے بچوں کی جان بچائی ورنہ نیچے دب کر مر جاتے۔ حضرت صاحب مجھے اب اسی طرح مسکراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

﴿1565﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ صفیہ بیگم بنت مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلّمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک سوالی دریچہ کے نیچے کرتا مانگتا تھا۔ حضرت صاحب نے اپنا کرتا اتار کر دریچہ سے فقیر کو دے دیا۔ والد صاحب مرحوم نے فرمایا کہ اللہ اللہ کیسی فیاضی فرما رہے ہیں۔

﴿1566﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ صفیہ بیگم بنت مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلّمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ننگل حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اماں جان صاحبہ معہ سب بچوں کے اور عاجزہ بھی ساتھ ہی مرزا مبارک احمد صاحب مرحوم کو اٹھائے ہوئے اور بھی کئی عورتیں ہمراہ تھیں، گئے۔ زمینداروں کے ایک گھر گئے۔ انہوں نے چارپائی بچھادی اس پر حضرت صاحب بیٹھ گئے۔ اور دوسری چارپائی پر حضرت ام المؤمنین صاحبہ اور ہم سب ادھر ادھر، گھر والی ایک چنگیر میں تازہ گڑ لائی۔ وہ اماں جان صاحبہ کے پاس رکھ دیا اور چھنے میں رس یا رَوہ ہم سب کو آپ نے دیا اور گڑ بھی بانٹ دیا۔ یاد نہیں کہ آپ نے کھایا یا نہ کچھ دیر کے بعد واپس آئے۔ حضور عصا لے کر آگے آگے اور ہم سب پیچھے آپ بہت آگے رہتے تھے۔ گھر والی اور گاؤں کی عورتیں بھی آگئی

تھیں۔ معلوم نہیں، یاد نہیں انہوں نے کیا باتیں کی تھیں مگر بڑے اخلاص سے باتیں کرتی تھیں۔

﴿1567﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ صفیہ بیگم بنت مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلّمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میری بڑی بہن حلیمہ بی بی اپنے سسرال سے بیمار آئی۔ میں نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ میری بہن کو تپ دق ہوگئی ہے۔ آپ نے فرمایا کل صبح قارورہ لے آنا میں نے کہا وہ کیا ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ چھنے میں پیشاب ڈال کر ضرور لانا۔ علاج کریں گے۔ گھر جا کر میں نے والدہ صاحبہ کو بتایا۔ انہوں نے مجھے قارورہ دے کر بھیجا۔ جب میں نے چھنالا کر برانڈے میں رکھا۔ آپ نے فرمایا ڈھکنا اتار، ڈھکنا اتارا تو حضرت صاحب پچھلے پاؤں جلدی پیچھے ہٹ گئے اور فرمایا دھیلے کا شاہترالے کر مٹی کے برتن میں رات کو بھگودو، صبح پُن کر مصری ڈال کر پلا دو پھر والدہ پلاتی رہیں۔ اسی سے اللہ پاک نے آرام دے دیا ایک ہفتہ میں بالکل اچھی ہوگئی۔

﴿1568﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ صفیہ بیگم بنت مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلّمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ”ایک دفعہ حضور اقدس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نیچے برانڈے کے اندر جہاں ایک کمرے میں آج کل باورچی کھانا پکاتا ہے پلنگ پر لیٹے ہوئے تھے۔ مجھے فرمایا سر دباؤ۔ آپ دبواتے نہیں تھے بلکہ ایک طرف انگوٹھے دوسری طرف انگلیوں سے ستواتے تھے۔ میں بہت دیر تک اسی طرح سر دباتی رہی۔ مجھے سر دباتی کو فرمانے لگے ”کسی دن تم کو بہت فخر ہوگا کہ میں نے مسیح موعود کا سر دبایا تھا“ یہ کلمے حضرت علیہ السلام کے مجھے ایسے یاد ہیں جیسے اب فرماتے ہیں۔ افسوس اس وقت کچھ قدر نہ کی۔ اب پچھتانے سے کیا ہوسکتا ہے۔

﴿1569﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ صفیہ بیگم بنت مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلّمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کے ساتھ حضرت اماں جان صاحبہ بھی علی الصبح سیر کو جایا کرتی تھیں۔ ایک دو عورتیں لڑکیاں بھی اماں جان کے ہمراہ ہوتی تھیں۔ میں اماں جان صاحبہ سے کہتی کہ مجھے بھی بلا لینا۔ جب میں آتی تو وہ واپس آرہے ہوتے مجھے دیکھ کر اماں جان فرماتیں ۔ اچھا کل بلاؤں گی۔ پھر بھول جاتیں مجھے دیکھ کر کہتیں ہائے مجھے یاد نہیں رہا۔ میں نے کہا آپ روز بھول جاتی ہیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ کل میں بلاؤں گا۔ دوسرے دن جانے سے پہلے ہی آپ نے دریچہ کھول کر مجھے آواز دی جب میں سامنے آئی تو فرمایا ”آؤ بیوی صاحبہ سیر کو جارہی ہیں“۔

﴿1570﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ صفیہ بیگم بنت مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلّمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ۱۹۰۵ء ماہ اکتوبر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام لدھیانہ مع حضرت اماں جان صاحبہ اور سب بچوں کے تشریف لے گئے۔ چھاؤنی میں فرید کے مکان میں اترے۔ والد صاحب لدھیانہ کے ارد گرد کے گاؤں سے لوگوں کو، عورتوں کو پہلے ہی خبر کر آئے تھے کہ فلاں دن امام مہدی تشریف لائیں گے۔ لدھیانہ آکر زیارت کرنا۔ رمضان شریف کا مہینہ تھا۔ والدہ صاحبہ اور میں بھی حضور کی زیارت کو پہنچیں۔ گاؤں کی عورتیں کھدر کے گھگرے اور سب کپڑے کھدر کے پہنے ہوئے۔ روزے سے آ آ کر مجھے کہتیں۔ بی بی امام مہدی کی زیارت کرا۔ میں اندر لے لے جاتی تھی۔ وہ سب جا کر ایک ایک روپیہ دیتیں اور بڑے اخلاص سے دیکھتیں۔ حضور نے اماں جان صاحبہ کی طرف رخ کر کے اسی طرف ام ناصر اور میں بیٹھی تھیں۔ فرمایا کہ ایسی عورتیں ہی بہشت میں جاویں گی اور ان عورتوں کو بھی کچھ نصیحتیں کیں کہ جو مجھے بالکل یاد نہیں۔

﴿1571﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ صفیہ بیگم بنت مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلّمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ آخر ۱۸۹۹ء یا شاید ۱۹۰۰ء ہوگا کہ میرے والد صاحب مرحوم کے چچا زاد بھائی بابو محمد اسماعیل ہیڈ کلرک دفتر رولی برادرس امرتسر سے آئے اور کہنے لگے کہ میرے پر فلاں صاحب نے مقدمہ کیا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے میں سخت حیران ہوں۔ اس جینے سے موت بہتر سمجھتا ہوں۔ قریباً دو سال مقدمے کو ہو چلے ہیں۔ اب کوئی صورت رہائی کی نظر نہیں آتی۔ وکیلوں نے کہہ دیا ہے کہ قید اور جرمانہ ضرور ہوگا۔ رات میرے دل میں خیال آیا کہ بھائی صاحب سے جا کر کہوں یعنی والد صاحب سے کہ آپ حضرت مرزا صاحب سے میرے مقدمے کے لئے دعا کرائیں شاید اللہ تعالیٰ ان کی دعا کی برکت سے مجھے رہائی بخشے وہ روتے تھے والد صاحب نے فرمایا۔ بیلیا! اگر ہمارے حضرت صاحب نے تیرے لئے ہاتھ اٹھا دیئے تو واقعی تو ہر طرح کی سزا سے بچ جائے گا۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ دعا کراؤ۔ والد صاحب نے کہا کہ کھانا کھالو۔ ظہر کی نماز کے وقت مسجد چلیں گے پھر دعا کے لئے عرض کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں روٹی نہیں کھاتا مجھے روٹی اچھی نہیں لگتی پہلے دعا کراؤ۔ اور جب سے مقدمہ ہوا ہے میں نے کبھی بھی خوشی سے روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی۔ ہر وقت متفکر، جان سے بیزار روتا رہتا ہوں۔ بہت گھبراتے تھے۔ آخر والد صاحب مجھے ہمراہ لے کر حضرت صاحب کے مکان پر آئے۔ مسجد مبارک کی سیڑھیوں کے راستے میں اوپر حضور والا کے پاس پہنچی۔ میرے والد صاحب مسجد میں ٹھہرے اور بابو صاحب سیڑھیوں میں بیٹھ گئے میں نے جا کر کہا کہ میرے والد صاحب اور چچازاد بھائی بابو محمد اسماعیل آئے ہوئے ہیں۔ ان پر کوئی بڑا سخت مقدمہ ہے آپ کو دعا کے لئے عرض کرتے ہیں۔ آپ اس وقت چھوٹے تخت پوش پر بیٹھے لکھ رہے تھے۔ پاس لکھے ہوئے کاغذ پڑے تھے۔ فرمایا کہ ان سے پوچھ آؤ کہ کچھ تمہارا جرم بھی ہے؟۔ میں نے اسی طرح جا کر کہا۔ انہوں نے کہا کہ ہاں میں بڑا مجرم ہوں۔ میں نے خیانت کی پرائیویٹ دکان سرکاری ملازم ہو کر کھولی وغیرہ وغیرہ۔ خود زبانی عرض کروں گا۔ حضور اقدس نے فرمایا کہ دعا کریں گے۔ میں نے جا کر کہہ دیا کہ وعدہ کیا ہے دعا فرماویں گے۔ لیکن ان کو تسلی ہی نہ ہووے۔ بہتیرا والد صاحب نے سمجھایا۔ تسلی دی وہ بار بار یہی کہیں کہ تم حضرت صاحب کے دعا کے لئے ہاتھ اٹھوا آؤ میری منتیں کریں میں پھر حضرت صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ حضرت! جی وہ سیڑھیوں میں بیٹھے ہیں جاتے نہیں مجھے کہتے ہیں کہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھوا کر آ۔ حضور اقدس نے سنتے ہی دعا کے لئے دست مبارک اٹھائے اور میں بھاگی سیڑھیوں کی طرف گئی۔ کہ حضرت صاحب نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا لئے ہیں۔ دعا ہو رہی ہے۔ پھر والد صاحب نے مجھے کہا کہ اب تم گھر کو جاؤ۔ میں گھر چلی گئی۔ بعد میں پتہ نہیں نماز کے وقت حضرت سے ملے یا نہ ملے۔ پھر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد شاید ماہ ڈیڑھ ماہ کے بعد ہی وہ اپنی خوشی سے تحفے تحائف لے کر آئے اور میرے لئے بھی کپڑے، چاندنی، جوتی، پھل وغیرہ لائے۔ اور حضرت اُم المومنین کے لئے بھی چوڑیاں، خوبصورت کنگھیاں بہت سے فروٹ میرے ہاتھ بھیجے اور حضور اقدس کو ملے۔ بہت شکریہ کرتے تھے۔ نقدی بھی دی۔ پتہ نہیں اس مقدمے میں دو اور بھی گرفتار تھے۔ ایک کا نام بابو عبدالعزیز اور دوسرے کا نام بابو علی بخش تھا۔ ان کا خفیف سا جرم تھا۔ تاہم ان دونوں کو سزا قید ہوئی۔ جس وقت ان دونوں کے ہتھکڑیاں پڑیں۔ پیچھے ان کے بیوی بچے روتے جاتے تھے۔ بہت رحم آتا تھا۔ بابو محمد اسماعیل صاحب کہتے تھے کہ اصل مجرم تو میں تھا۔ حضرت صاحب کی دعا سے خدا نے مجھے بچایا۔ ورنہ میری رہائی کی کوئی صورت نہ تھی۔ اب کی چھٹیوں پر مجھے چچا محمد اسماعیل صاحب لاہور ملے تھے۔ میں نے وہ مقدمہ والا حال یاد دلایا اور کہا کہ آپ نے وہ زمانہ دیکھا تھا۔ جب یکے پر قادیان دعا کے لئے گئے تھے۔ اب یہاں آ کر ترقی کا زمانہ دیکھو اور آپ کو والد صاحب نے نعمت اللہ ولی کے شعر سنائے تھے۔ آپ نے لکھ لئے تھے۔ اب ذرا ”پسرش یادگار“ کی زیارت خود کیجئے۔ کہنے لگے جلسے پر ضرور آؤں گا۔ حضرت محمود احمد صاحب کی زیارت کروں گا۔ انہوں نے دو دفعہ حج کیا تھا، بہت بوڑھے ہو گئے تھے اسی ماہ اکتوبر میں فوت ہو گئے۔ ان کے بیٹے مقدمے کے گواہ ہیں اور میری والدہ صاحبہ بھی گواہ ہیں۔ بلکہ ان کا اور میرا مضمون واحد ہے۔

﴿1572﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ صفیہ بیگم بنت مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میاں مبارک احمد صاحب مرحوم کے چوٹ لگی جس سے خون نکلتا تھا۔ اور حضرت فرما رہے تھے کہ خدا کی بات کبھی نہیں ٹلتی اور خوشی کا اظہار فرما رہے تھے۔ گھر گئی تو والد صاحب نے بتایا کہ آپ کو الہام ہوا تھا کہ ”میاں مبارک احمد صاحب کو چوٹ لگے گی“۔

﴿1573﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ سکینہ بیگم صاحبہ اہلیہ ماسٹر احمد حسین صاحب مرحوم فرید آبادی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جس وقت میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تو میری عمر ۱۳ برس کی تھی۔ جب میری شادی احمد حسین مرحوم سے ہوئی تو میری عمر گیارہ یا بارہ برس کی تھی۔ نادانی کی عمر تھی۔ ماسٹر صاحب مجھے بہت سمجھایا کرتے ، مگر میری سمجھ میں کچھ نہ آتا جب وہ مجھے بیعت کو کہتے تو میں انکار کر دیتی۔ کہ میں کیوں غیر مردوں کی بیعت کروں۔ ماسٹر صاحب بہت سمجھاتے مگر کچھ سمجھ میں ہی نہ آتی کیونکہ ہندوستان سے گئی تھی جہاں پر جہالت ہی جہالت تھی۔ اور ان دنوں ماسٹر صاحب اخبار کے ایڈیٹر تھے۔ حضرت مسیح موعود نے دہلی سے بلوایا تھا۔ وہاں پر وہ حسن نظامی کے پاس ملازم تھے۔ وہاں پر سے آ کر

وہ اخبار کی ایڈیٹری پر ملازم ہوئے تھے۔ وہ بہت پرانے احمدی تھے۔ وہ دو دفعہ مجھے قادیان لائے بیعت کے لئے مگر میں نے نہیں کی۔ آہستہ آہستہ مجھے جب سمجھ آگئی تو پھر ماسٹر صاحب مجھے بیعت کے لئے لائے اور میں نے بیعت کی۔ میرے ہمراہ شیخ یعقوب علی صاحب کی اہلیہ تھیں۔ انہوں نے میری بیعت کروائی تھی۔ ان دنوں حضرت صاحب (حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثانی) میاں بشیر احمد صاحب، مبارکہ بیگم صاحبہ یہ سب چھوٹے بچے تھے۔ اور یہ کھیلتے کھیلتے کمرے میں داخل ہو گئے۔ اور دروازہ بند کر لیا۔ دروازہ ایسا بند ہوا کہ کھلے نہ اور بچے اندر روئیں۔ ان کے رونے سے حضرت اماں جان بے ہوش ہو گئیں۔ ہم سب نے ہر چند دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر نہ کھلے پھر کسی نوکر نے جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اطلاع دی تو حضرت علیہ السلام نے بڑھئی کو بلا کر دروازہ کھلوایا تو پھر بچے اندر سے نکلے۔ اُسی دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تقریر کی تھی۔ یہ امرتسر کا ذکر ہے کہ جب شام ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تقریر شروع ہوئی۔ تو دشمنوں نے پتھر برسانے شروع کر دیئے۔ شیشے دروازوں کے توڑ دیئے۔ اور اماں جان دوبارہ بے ہوش ہو گئیں۔ ہم سب عورتیں چھپ گئیں۔ کوئی پاخانے میں کوئی چارپائی کے نیچے، کوئی کہیں، کوئی کہیں۔ پھر خدا جانے کسی طرح پتھر برسنے بند ہو گئے۔ حضرت علیہ السلام سے بیعت کرنے والے آپ کے چاروں طرف بیٹھ جاتے اور حضرت ان سے بیعت لیتے ۔ یہ حضرت صاحب کے اوصاف حمیدہ میں سے ہے کہ آپ عورتوں کو کبھی بھی کھلی لمبی آنکھوں سے نہ دیکھتے تھے۔ جب کمرے سے باہر نکلتے تو کوٹ، واسکٹ صافہ ہمیشہ پہن کر نکلتے۔ میں نے کئی بار آپ کو صحن میں ٹہلتے ٹہلتے لکھتے دیکھا۔ دو دواتیں ہوتی تھیں۔ ادھر گئے تو ادھر سے دوات سے قلم بھر لیتے تھے اور لکھتے، اُدھر گئے تو اُدھر سے قلم بھر لیتے اور لکھتے اور اگر کسی نے مسجد سے آواز دینی تو آپ تشریف لے جاتے۔ اور لوگوں نے دوڑ کر آگے پہنچے ہونا۔ گرد سخت اڑتی تھی۔ اور حضرت صاحب صافہ کا پلّو منہ اور ناک کے آگے لے لیتے اور ہر ایک کے ساتھ محبت اور اخلاص کے ساتھ پیش آتے۔ ان دنوں راستے بہت خراب تھے۔ جنگل ہی جنگل تھا۔ گنتی کے آٹھ دس مکان تھے جب ہم نے امرتسر سے قادیان ٹانگا پر آنا تو کتنی کتنی اونچی جگہ ٹانگے نے چڑھ جانا اور پھر نیچے اترنا۔ ہچکولے بہت لگتے تھے مگر ہمارے دلوں میں تڑپ تھی۔ اس لئے ہمیں پرواہ نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ خوشی محسوس ہوتی تھی۔

﴿1574﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ سکینہ بیگم اہلیہ ماسٹر احمد حسین صاحب فرید آبادی مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ نے عورتوں میں چندے کی تحریک کی، سب عورتیں چندہ دینے لگ گئیں۔ جن کے پاس پیسے نہ تھے وہ زیور دیتی تھیں۔ تو مجھے اس بات کا علم نہ تھا کہ یا تو زیور عورتیں دیتی ہیں یا پیسے، پہلے میں سوچتی کہ سارا زیور دے دوں۔ پھر سوچا کہ اپنے میکے جاؤں گی تو سب پہنیں گے تو میرے پاس نہیں ہو گا یہ سوچ کر اٹھی اور ناک سے نتھ اتاری اور میرے پاس سات روپے تین پیسے تھے وہ بھی رکھ لئے۔ اور جا کر حضرت صاحب کے ہاتھ میں دے دئے تو حضور نے میری طرف دیکھا اور پھر مولوی محمد دین کو کچھ کہا۔ جو مجھے یاد نہیں انہوں نے روپے بھی لئے اور نتھ بھی اور ماسٹر صاحب کے پاس لے گئے ماسٹر صاحب نے نتھ تو لے لی اور روپے رہنے دیئے مگر مجھے اس بات کا علم نہیں تھا۔ جب سمجھ دار ہوئی تو پھر ماسٹر صاحب نے بتایا تھا۔ جس وقت حضرت مولوی صاحب واپس آگئے۔ ماسٹر صاحب کے پاس سے تو پھر مجھے بلایا۔ ماسٹر صاحب نے اور پوچھا کہ تم نے چندہ دیا تو میں نے کہا کہ ہاں۔ پوچھا، کیا میں نے کہا جو جیب میں روپے تھے۔ اور ناک کی نتھ۔ پہلے میں سارا زیور دینے لگی تھی۔ پھر میں نے سوچا کہ اپنے میکے جاؤں گی تو سب پہنیں گے تو میرے پاس نہیں ہوں گے۔ ماسٹر صاحب نے مجھے شاباش دی اور کہا کہ دیکھو کہ تم نے چندے میں نتھ دی تھی۔ اور ہم تمہیں دیتے ہیں۔ میں بہت خوش ہوئی اور کہا کہ اب کے میں سارا ہی دے دوں گی۔ مجھے اللہ میاں اور دے دے گا۔ یہ کہہ کر بھاگی ہوئی اندر گئی اور پھر نتھ پہن لی تو میری ناک میں نتھ دیکھ کر مولوی محمد دین کی بیوی نے اور حضرت صاحب کی بڑی بیوی یعنی اُم ناصر احمد صاحب کہنے لگیں۔ ابھی تو تم نے چندے میں دی تھی۔ اور اب تمہاری ناک میں ہے۔ تو میں نے خوش ہو کر کہا کہ اللہ میاں نے اور دے دی ہے۔ اور جب بھی ہم قادیان آتے تو حضرت صاحب کے گھر میں اترتے اور حضور بڑی محبت سے پیش آتے۔ اگر کھانے کے وقت نظر پڑ جاتی تو پھر پوچھتے۔ ”نتھ والی، کھانا کھا لیا‘‘۔ تو میں کہتی، جی۔

﴿1575﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ سکینہ بیگم اہلیہ ماسٹر احمد حسین صاحب مرحوم فرید آبادی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ اماں جان کو ساتھ لے کر حضور سیر کو جاتے تو ہم عورتیں بھی ساتھ ہو لیتیں، تو حضور راستے میں اماں جان سے باتیں کرتے۔ مگر اتنی عقل نہیں تھی کہ سنتی حضرت صاحب کیا باتیں کرتے ہیں۔ سارے راستے میں میں شرارتیں کرتی جاتی مگر حضور نے کبھی منع نہ کرنا۔ کئی بار ساتھ سیر کو میں گئی۔ اور جب حضور اپنے سسرال میں جاتے یعنی دہلی تو وہاں بھی کئی بار میں نے ان کو دیکھا کیونکہ وہاں پر میرے میکے تھے۔ اور مرزا محمد شفیع کے گھر بہت آنا جانا تھا۔ تو حضور بھی وہاں تشریف فرما ہوتے۔ غرض میں جہاں بھی حضور کو دیکھتی وہیں کھڑی ہو جاتی اور بڑے غور سے آپ کو دیکھتی اور اپنے دل میں خوش ہوتی۔ اور اگر باہر سے آتے ہوئے دیکھنا آپ کو، تو ادھر انہوں نے اندر قدم رکھا اور سب کو سلام کرنا جس کا انہوں نے جواب دینا پھر میں نے جلدی سے سلام کرنا جس کا انہوں نے جواب دینا۔

﴿1576﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ سکینہ بیگم اہلیہ ماسٹر احمد حسین صاحب فرید آبادی مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ”ماسٹر صاحب بھی مجھے کبھی کبھی حضور کی باتیں سناتے۔ ایک واقعہ سنایا کہ چٹھی رساں آیا اور خط لایا۔ تو حضور کے پاس چائے رکھی تھی اور کسی آدمی نے مانگی۔ حضور نے اس کو آنجلابھر کے دی تو ڈاکیے نے کہا کہ حضور چائے کی تو مجھے بھی عادت ہے۔ حضور نے اس کو بھی دی پھر لے کر کہنے لگا۔ حضور دودھ اور میٹھا کہاں سے لوں گا تو آپ نے اس کو ایک روپیہ بھی دیا۔“

﴿1577﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ سکینہ بیگم اہلیہ ماسٹر احمد حسین صاحب فرید آبادی مرحوم نے بذریعہ تحریر ماسٹر صاحب سے مجھ سے بیان کیا کہ ”حضرت صاحب مردوں کو نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ کہ مرد اپنی بیویوں کا گھر کے کام میں ہاتھ بٹایا کریں ثواب کا کام ہے۔ رسول کریم ﷺ بھی گھر کے کام میں اپنی بیویوں کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ اور ساتھ ہی یہ لفظ کہتے ، ہمیں تو لکھنے سے فرصت ہی نہیں ہوتی۔

﴿1578﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ سکینہ بیگم اہلیہ ماسٹر احمد حسین صاحب مرحوم فرید آبادی نے ماسٹر صاحب سے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مجھے ماسٹر صاحب نے سنایا کہ سردی کا موسم تھا ڈاکیہ خط لایا اور کہنے لگا حضور مجھے سردی لگتی ہے آپ مجھے اپنا کوٹ دیں تو حضور اسی وقت اندر گئے اور دو گرم کوٹ لے آئے اور کہنے لگے جو پسند ہو لے لو۔ اس نے کہا مجھے دونوں پسند ہیں تو حضورؐ نے دونوں دے دئے۔

﴿1579﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ سکینہ بیگم اہلیہ ماسٹر احمد حسین فرید آبادی نے ماسٹر صاحب سے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضورؐ اپنی مجلس میں یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ مردوں کو چاہئے کہ عورتوں کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آیا کریں۔ اور عورتوں کو فرمایا کرتے کہ عورتوں کو اپنے گھر کو جنت بنا کر رکھنا چاہئے اور مردوں کے ساتھ کبھی اونچی آواز سے پیش نہیں آنا چاہئے اور میں جب کبھی حضرت صاحب کے گھر آتی تو میں دیکھا کرتی کہ حضورؐ ہمیشہ ام المومنین کو بڑی نرمی کے ساتھ آواز دیتے۔ محمود کی والدہ یا کبھی محمود کی اماں! یہ بات اس طرح سے ہے اور اپنے نوکروں کے ساتھ بھی نہایت نرمی سے پیش آتے۔ مجھے یاد نہیں آتا کہ حضورؐ کبھی کسی کے ساتھ سختی سے گفتگو کرتے، ہمیشہ خندہ پیشانی کے ساتھ بولتے۔

﴿1580﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ سکینہ بیگم اہلیہ ماسٹر احمد حسین صاحب فرید آبادی نے ماسٹر صاحب سے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضورؐ فرمایا کرتے تھے کہ عورتوں میں یہ بری عادت ہے کہ ذرا سی بات میں گالیاں اور کوسنوں پر اتر آتی ہیں بجائے اس کے اگر وہ اپنے بچوں کو نرمی سے پیش آئیں اور بجائے گالی کے ”نیک ہو“ کہہ دیا کریں تو کیا حرج ہے۔ عورتیں ہی اپنے بچوں کو گالیاں سکھاتی ہیں اور بُرے اخلاق پیدا کرتی ہیں۔ اگر یہ چھٹے تو بچوں کی بہت اچھی تربیت ہوسکتی ہے۔ اگر میاں بیوی میں ناراضگی ہوجاوے تو چاہئے کہ دونوں میں سے ایک خاموش ہوجائے تو لڑائی نہ بڑھے اور نہ بچے ماں باپ کو تُو تُو مَیں مَیں کرتے سنیں بچہ تو وہی کام کرے گا جو اس کے ماں باپ کرتے ہیں اور پھر یہ عادت اس کی چھوٹے گی نہیں۔ بڑا ہوگا ماں باپ کے آگے جواب دے گا پھر رفتہ رفتہ باہر بھی اسی طرح کرے گا اس لئے عورتوں کو اپنی زبان قابو میں رکھنی چاہئے۔ آپ بیعت کرنے والوں کو ضرور کچھ روز اپنے گھر ٹھہراتے تھے۔

﴿1581﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ سکینہ بیگم اہلیہ ماسٹر احمد حسین صاحب فرید آبادی مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت میاں صاحب باہر سے کھیلتے کھیلتے آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جیب میں دو یا ایک چھوٹے چھوٹے پتھر ڈال دئے۔ پھر حضور جب اندر تشریف لائے تو اماں جان سے کہا کہ میرے کوٹ سے قلم نکال لاؤ یا کسی کا خط منگایا۔ یاد نہیں ۔ تو اماں جان نے جیب میں کنکر دیکھ کر پوچھا تو آپ نے کہا کہ ان کو جیب میں ہی رہنے دو یہ میاں محمود کی امانت ہے اور اماں جان نے جیب میں ہی رہنے دئے۔

﴿1582﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ ماسٹر مولا بخش صاحب ریٹائرڈ مدرسہ احمدیہ قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ موسمی تعطیلات میں میں یہاں آیا ہوا تھا۔ ستمبر کا مہینہ تھا، سن اور تاریخ یاد نہیں۔ مسجد مبارک کی توسیع ہو چکی تھی۔ میں صبح آٹھ بجے مسجد مبارک میں اکیلا ہی ٹہل رہا تھا کہ اچانک حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کھڑکی سے جو مسجد مبارک میں کھلتی ہے تشریف لائے۔ ذرا سی دیر بعد حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اولؓ اور ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب مرحوم یا خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم اندرونی سیڑھیوں کی راہ سے مسجد میں آگئے۔ حضرت اقدس مسجد کے پرانے حصہ میں کھڑکی سے مشرقی جانب فرش پر تشریف فرما ہوئے اور ان سے باتیں کرنے لگ گئے اور خاکسار آہستہ آہستہ حضرت اقدس کے دست مبارک دبانے لگا۔ باتیں کرتے کرتے آپ کے جسم مبارک میں جھٹکا سا لگا اور سارا بدن کانپ گیا اور میرے ہاتھوں سے آپ کی کلائی چھوٹ گئی۔ آپ فوراً اندر تشریف لے گئے حضرت خلیفہ اولؓ نے فرمایا کہ یہ نزول وحی کا وقت ہے۔

﴿1583﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی نے مجھ سے بیان کیا کہ میاں مبارک احمد صاحب کی وفات پر جب جنازہ لے کر قبر پر گئے تو قبر تیار نہ تھی۔ اس واسطے وہیں ٹھہرنا پڑا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقبرے کے شمال کی طرف درختوں کی قطار کے نیچے بیٹھ گئے۔ باقی احباب آپ کے سامنے بیٹھ گئے۔ اس وقت آپ نے جو تقریر کی وہ تو مجھے یاد نہیں مگر اس کا اثر یہ تھا کہ اس وقت ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ان لوگوں کا کوئی عزیز فوت ہو گیا ہے اور حضور ماتم پرسی کے لئے آئے ہیں اور ان کو تسلی دے رہے ہیں۔ منشی محمد اسماعیل صاحب نے بیان فرمایا کہ بالکل یہی الفاظ میں نے سید حامد شاہ صاحب کو لکھے تھے۔

﴿1584﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے محمد بخش نام کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اگر محمد بخش سے یہ مراد لی جائے کہ محمدؐ کے طفیل بخشا گیا تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

﴿1585﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی نے مجھ سے بیان کیا کہ مرزا حاکم بیگ کی شادی پر اس کے سسرال نے آتش بازی ، تماشے اور باجے کا تقاضا کیا۔ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھا کہ میرے سسرال والے یہ چاہتے ہیں۔ حضور کا کیا ارشاد ہے؟ آپ نے فرمایا کہ یہ سب نا جائز ہیں مگر مومن بعض وقت نا جائز سے بھی فائدہ اٹھا لیتا ہے مثلاً شہر میں وبائی مرض پھیلی ہوئی ہے۔ ایک شخص اس خیال سے آتش بازی چھوڑتا ہے کہ اس سے ہوا صاف ہو جائے گی اور لوگوں کو فائدہ پہنچے گا تو وہ اس سے بھی گویا ثواب حاصل کرتا ہے۔ اور اسی طرح باجے کے متعلق اگر اس شخص کی یہ نیت ہو کہ چونکہ ہم نے دور تک جانا ہے اور باجے کے ذریعے سے لوگوں کو علم ہو جائے گا۔ کہ فلاں شخص کی لڑکی کا نکاح فلاں شخص سے ہوا ہے اگر اس نے اس نیت سے باجا بجوایا تو یہ ایک اعلان کی صورت ہو جائے گی۔ اس میں بھی نا جائز کا سوال اٹھ گیا۔

﴿1586﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ پیر افتخار احمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میرے والد منشی احمد جان صاحب مرحوم حج کو جانے لگے تو حضرت صاحب نے ایک خط ان کو لکھ کر دیا کہ یہ خط وہاں جا کر پڑھنا۔ چنانچہ میرے والد صاحب نے عرفات کے میدان میں وہ خط پڑھا۔ اور ہم نے وہ خط سنا۔ اس کے الفاظ خاکسار کو یاد نہیں ۔ ہم بیس آدمی اس خط کو سن کر آمین کہنے والے تھے۔

﴿1587﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ پیر افتخار احمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ بشیر اول کے عقیقہ کے وقت مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا والد رحیم بخش قادیان میں تھا۔ اس نے بچے کو بال مونڈنے کے وقت گودی میں لیا ہوا تھا۔ اور بیت الفکر میں ہم پندرہ کے قریب آدمی حضور کے ساتھ تھے اور اتنے ہی آدمی بمشکل اس کمرہ میں آسکتے تھے۔ حضرت میر محمد اسحق صاحب کے والد جو اس تقریب میں تشریف لا رہے تھے بوجہ بارش بٹالہ میں ہی رکے رہے۔ گویا اس دن بارش خوب ہو رہی تھی۔

﴿1588﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ امۃ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک شخص فجا تھا۔ اس کی بیوی ابھی آٹھ دس سال کی بچی تھی اور وہ کالی سی تھی۔ اور حضرت صاحبزادہ مبارک احمد کے ساتھ ساتھ رہتی۔ گویا یہ نوکرانی تھی۔ حضور اس کو فرماتے کہ ادھر آؤ اور مبارک احمد کو اچھی طرح سے رکھا کرو۔ ہم اس وقت تین لڑکیاں تھیں، صفیہ، صغریٰ، امۃ الرحمان تو ہم نے حیران ہو جانا کہ ہم اس کو ذلیل سمجھتی ہیں اور حضرت صاحب اس کو بھی ادب سے بلاتے ہیں۔

﴿1589﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ امۃ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضور ایک دالان میں ہوتے اور عورتیں بھی وہاں ہوتیں اور ہر وقت اپنے کام تحریر میں لگے رہتے ان کو کوئی خبر نہ ہوتی تھی کہ کون آیا اور کون گیا۔ ایک لڑکی ہم تینوں میں سے بغیر اجازت کوئی چیز کھا لیتی۔ ایک دن وہ صحن میں بیٹھے آم کھا رہے تھے۔ ہم دو لڑکیاں اوپر سے گئیں اور آم لے لئے۔ ایک عورت آ گئی اور کہنے لگی تم نے آم کہاں سے لئے۔ ہم نے کہا حضرت صاحب نے دئے ہیں۔ اس نے کہا نہیں تم نے خود ہی لئے ہیں۔ حضور نے تجھ کو نہیں دئے ان کو کہاں نظر آتا ہے۔ ان کو تو کوئی خبر ہی نہیں ہوتی۔ کوئی آئے کوئی جائے۔ حضور بیٹھے تھے میں آئی اور حضور کو خبر تک نہیں۔

﴿1590﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ امۃ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان فرمایا کہ حضور ہمیشہ وضو سے رہتے تھے اور غسل بھی روز فرماتے ۔ حضور نہایت رحیم کریم تھے۔ اگر حضور کوئی خاص دوائی یا غذا بنواتے تو کسی خاص اعتبار والے سے بنواتے۔ یہ خادمہ جب تک نوکر رہی، چیزیں حضور کی بنایا کرتی۔

﴿1591﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ امۃ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضور ”سناتن دھرم“ کتاب تصنیف فرمارہے تھے۔ تو ان دنوں میں مجھ کو بلانے آئے تو حضور کی زبان مبارک سے امۃ الرحمان کی جگہ سناتن دھرم کے لفظ نکل گئے۔ تو ایک دن میں نے حضور سے عرض کی حضور مجھ کو فکر ہو گیا۔ حضور کی زبان مبارک سے میری بابت یہ کیوں ہندو لفظ آجاتا ہے تو حضور نے فرمایا امۃ الرحمان یہ کوئی برا لفظ نہیں ہے۔ اس کے معنے ہیں پرانا ایمان۔ پھر جب بھی یہ لفظ کہتے حضور ہنس پڑتے اور چہرہ چمک جاتا۔

﴿1592﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ امۃ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت اُم المومنین علیہا السلام کو فرما رہے تھے کہ جو کام خدا تعالیٰ خود بخود کرے اس کا ذمہ دار بھی خدا تعالیٰ خود بخود ہو جاتا ہے۔ انسان کی خواہش اس کے مطابق چاہئے اور دعائیں بھی کرے۔ جب انسان کی کوشش اور خواہش کے مطابق وہ ہو بھی جائے تو اس کی ذمہ داری وہ انسان پر ڈال دیتا ہے۔ اس واسطے سب کام خدا کے اُسی کے ذمہ ڈال دینے چاہئیں۔

﴿1593﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ امۃ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضور علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ انسان کو چاہئے کہ کسی کی نسبت کینہ اپنے دل میں نہ رکھے اور مواد نہ جمائے کیونکہ اس کی وجہ سے بڑے بڑے نقصان اور مصیبتوں کا سامنا ہوتا ہے جب ایک دوسرے کی بابت کوئی دل میں رنج ہو تو فوراً مل کر دلوں کو صاف کر لینا چاہئے اور مثال بیان فرمائی جب انسان کو زخم ہو اس میں مواد پیپ بھرا پڑا ہو اور نکالا نہ جائے تو وہ گندہ مواد انسان کے بہت سے حصہٴ بدن کو خراب کر دیتا ہے۔ اسی طرح دل کے مواد کی بات ہے۔ اگر ایک دوسرے کے رنج کو دل میں رکھا جائے تو زخم کے مواد کی طرح بُری حالت پیدا ہوتی ہے جس کی تلافی مشکل ہوتی ہے۔

﴿1595﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ امۃ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ جو سچے دل سے اخلاص رکھتا ہوتا تھا اور حضور کو معصوم جانتا ہوتا تھا۔ حضور بھی اس کی خطاؤں پر چشم پوشی سے کام لیا کرتے تھے۔ اگرچہ وہ کوئی ناپسندیدہ کام کرتا لیکن حضور اس کے اخلاص کی وجہ سے باز پرس نہیں کیا کرتے تھے۔

﴿1596﴾ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ امۃ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مرزا فضل احمد صاحب مرحوم کی وفات کی خبر آئی تو مغرب کا وقت تھا اور حضرت اقدس علیہ السلام اس وقت سے لے کر تقریباً عشاء کی نماز تک ٹہلتے رہے۔ حضور علیہ السلام جب ٹہلتے تو چہرہ مبارک حضور کا اس طرح ہوتا کہ گویا بشرہ مبارک سے چمک ظاہر ہوتی ہے۔


تتمہ

سِيْرَةُ الْمَهْدِیّ عَلَيْهِ السَّلَامُ

تالیفِ لطیف

حضرت قمرالانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے

تتمہ سیرت المہدی

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے بعض خطوط اور مضامین سیرت المہدی کے غیر مطبوعہ مسودہ میں ہی رکھے تھے تاکہ انہیں بھی شامل اشاعت کیا جائے کیونکہ ان کا تعلق سلسلہ کی تاریخ سے ہے۔

خطوط میں محمد نصیب صاحب، عبد الرحمن صاحب خلف میاں حبیب الرحمن صاحب مرحوم، ملک حسن محمد صاحب، شیخ محمد احمد مظہر صاحب اور جناب کنور سین صاحب ایم اے بار ایٹ لاء ڈیرہ دون کے خطوط ہیں۔ اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کی تحریک پر حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی رضی اللہ عنہ کے مندرجہ ذیل تین مضامین شامل ہیں جو آپ نے ۳۹۔۱۹۳۸ء اور ۱۹۴۶ء میں تحریر کر کے حضرت میاں صاحب کو دیئے تھے اور آپ نے انہیں سیرت المہدی کے غیر مطبوعہ مواد کے ساتھ رکھا تھا۔

۱۔ جلسہ اعظم مذاہب لاہور ۱۸۹۶ء کی روئیداد

۲۔ عید قربان ۱۹۰۰ء اور خطبہ الہامیہ

۳۔ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آخری سفر لاہور اور حضور پُر نور کا وصال

ناشر۔ سید عبد الحی

مکتوب مکرم محمد نصیب صاحب

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ نحمده ونصلی علی رسوله الکریم

بخدمت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میں اخبار بدر دیکھ رہا تھا اس میں ۲۷؍فروری ۱۹۰۸ء کے اخبار میں حضرت مولوی نور الدین صاحب کی تقریر جو آپ نے ۷؍فروری ۱۹۰۸ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی موجودگی میں آپ کے سامنے فرمائی، حسب ذیل پائی گئی۔ اس کی نقل پیش خدمت ہے۔

”گزشتہ ہفتہ میں مختصر اً نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کا نکاح صاحبزادی مبارکہ بیگم کے ساتھ ۷؍فروری کو ہونا ذکر کیا گیا تھا۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے خطبہ نکاح میں کیا خوب فرمایا تھا۔ کہ ایک وقت تھا جبکہ حضرت نواب صاحب موصوف کے ایک مورث اعلیٰ صدر جہان کو ایک بادشاہ نے اپنی لڑکی نکاح میں دی تھی اور وہ بزرگ بہت ہی خوش قسمت تھا مگر ہمارے دوست نواب محمد علی خان صاحب اس سے زیادہ خوش قسمت ہیں کہ ان کے نکاح میں ایک نبی اللہ کی لڑکی آئی ہے۔

نواب صاحب موصوف کے خاندان میں حق مہر کے متعلق دستور ہوتا ہے کہ کئی کئی لاکھ مقرر کیا جاتا ہے اور انہوں نے اپنی قومی رسم کے مطابق اب بھی یہی کہا تھا مگر حضرت اقدس علیہ السلام نے پسند نہ فرمایا۔ تاہم نواب صاحب کی وجاہت اور ریاست کے لحاظ سے چھپن ہزار روپے حق مہر مؤجل مقرر ہوا۔“

اس عبارت کی نقل کرنے اور خدمت والا میں عرض کرنے کی غرض یہ ظاہر کرنا ہے کہ حضرت مولوی صاحب کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کے متعلق کیا خیال تھا؟

خادم محمد نصیب ۴۱۔۱۔۱۶

مکتوب مکرم عبدالرحمن خان خلف میاں حبیب الرحمن خان

P.O.Tandlianwala Distt. Lyall Pur Date. 21.10.49

هو الناصر

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ

نحمده و نصلی علیٰ رسوله الکریم و علیٰ عبده المسیح الموعود

بحضور حضرت صاحبزادہ صاحب۔ مکرم و معظم واجب التعظیم والتکریم سلّمہٗ اللہ تعالیٰ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ بہت ہی ادب و احترام سے یہ خاکسار حضور میں عرض پرداز تھے کہ اخبار الفضل مورخہ ۲۰؍اکتوبر ۴۹ء نمبر ۲۴۰ موصولہ امروزہ میں حضور نے حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت حسب تحریر برادرم مکرم شیخ محمد احمد صاحب ایڈووکیٹ سابق کپور تھلہ حال لائل پور طبع فرمائی ہے جو کہ بزبانی حضرت ماموں صاحب منشی ظفر احمد صاحبؓ سے سنی ہوئی ہے اور کئی مرتبہ دوسرے احباب کو بھی سناتے ہوئے خود سنا ہے۔ اس لحاظ سے خاکسار شاہد ہے۔ اور چونکہ یہ سلسلہ کی تاریخی روایت ہے۔ اس لئے میں روایت کے متعلق جس قدر میرے ساتھ ماموں ظفر احمد صاحب مرحومؓ نے تذکرہ فرمایا وہ مجھے بخوبی یاد ہے۔ چنانچہ خاکسار بھی حضور میں عرض پرداز ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ روایت صحیح عرض کر رہا ہوں تا کہ محفوظ رہے۔

’’حضرت منشی ظفر احمد صاحب مرحوم و مغفور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود مجھ سے بھی تذکرہ فرمایا اور میری موجودگی میں بھی کئی مرتبہ مسجد احمد یہ کپور تھلہ میں اس روایت کا اس طرح تذکرہ فرمایا تھا کہ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وصال ہوا ہے۔ جالندھر میں بعہدہ افسر مال تعینات تھے۔ حضور کی وفات سے پیشتر علاقہ میں دورہ پر گئے ہوئے تھے۔ جس روز علاقہ کے دورہ سے واپس گھوڑے پر سوار جالندھر کی جانب تشریف لا رہے تھے کہ راستہ میں یکلخت آپ کو الہام ہوا ’ماتم پرسی‘ آپ اس الہام پر پہلی مرتبہ تو کچھ نہ سمجھے اور گہری سوچ میں پڑ گئے اور گھوڑے پر سوار بدستور چلتے چلے گئے کہ راستہ میں دوبارہ پھر یہی الہام ہوا اور ساتھ ہی طبیعت پر آپ کو کچھ بوجھ بھی محسوس ہوا۔ پھر آپ کو خیال ہوا کہ یہ کیا ماجرا ہے اور خیالات بہت پراگندہ ہوئے ۔ آپ نے بوقتِ تذکرہ بتلایا کہ آپ نے قیاس کیا کہ شائد تائی صاحبہ کا انتقال ہو گیا ہو۔ مگر آپ اسی طرح گہرے خیالات کی سوچ بچار میں بدستور گھوڑے پر سوار چلتے گئے کہ پھر تیسری مرتبہ یہی الہام ہوا اور ساتھ ہی آپ کے دل پر بھی اس کا بہت گہرا اثر ہوا۔ کچھ بوجھ سا دل پر اور بھی زیادہ محسوس ہوا۔ جس سے آپ کی طبیعت بہت ہی خائف ہو گئی اور آپ ڈر گئے تو آپ راستہ میں ہی فوراً گھوڑے سے اتر کر زمین پر بیٹھ گئے اور دل میں انہی خیالات میں پریشان اور ملول و محزون ہو گئے اور پریشان تھے کہ اس ”ماتم پرسی“ کے الہام کا حل کیا ہے۔ کبھی آپ کو تائی صاحبہ کا خیال آتا اور کبھی حضرت والد صاحب کی وفات (حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام) کا خیال آتا۔ کہ شائد آپ کا وصال ہو گیا ہے۔ پھر بہت ہی گہری سوچ کے بعد یہ سوال آپ کے دل میں آیا کہ خدا تعالیٰ کی جانب سے ”ماتم پرسی“ ہو تو لازمی ہے کہ یہ کسی اعلیٰ اور ارفع ہستی کی موت اور وصال سے وابستہ ہے۔ یہ خیال دل پر مسلط ہو گیا اور دل میں آپ کے یہ پورا یقین ہو گیا کہ بس یہ حضرت والد صاحب (حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام) کا ہی وصال ہے۔ یہ خیال راسخ ہوتے ہی آپ پھر گھوڑے پر سوار ہو کر روانہ ہو گئے اور اسی غم و حزن کی حالت میں بجائے اپنے بنگلہ پر جانے کے آپ سیدھے ڈپٹی کمشنر صاحب جالندھر کے بنگلہ کو تشریف لے گئے۔ اس وقت جالندھر میں کوئی انگریز ڈپٹی کمشنر تعینات تھے۔ آپ نے سیدھے DC کے بنگلہ پر پہنچ کر صاحب سے ملاقات کی اور حصولِ رخصت کے لئے صاحب کو یہ اطلاع دی کہ میرے والد صاحب کا وصال ہو گیا ہے اس لئے فوراً رخصت دے دی جائے، میں جارہا ہوں۔ اور یہ بھی بتلایا کہ میں اسی غرض سے دورہ سے سیدھا آپ کے بنگلہ پر آیا ہوں۔ صاحبِ موصوف نے دریافت کیا کہ کیا والد صاحب کی وفات کی خبر آپ کو راستہ میں ملی ہے یا کوئی اور ذریعہ سے موصول ہوئی ہے۔ یا کوئی آدمی آیا ہے۔ آخر کیا معاملہ ہوا ہے مگر آپ نے صاحب سے عرض کیا کہ نہ کوئی تار آیا ہے نہ کوئی آدمی آیا ہے اور نہ کوئی اور ہی اطلاع موصول ہوئی ہے صرف خدائی تار آیا ہے۔ صاحبِ موصوف نے اس کا سلسلہ دریافت کیا تو حضرت مرزا صاحبؓ مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم و مغفور نے اپنے راستہ کا تمام ماجرا الہامی سنایا تو صاحب کو بہت حیرت ہوئی کہ اس پر اتنا یقین کرلینا یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے۔ یونہی آپ کو وہم ہوگیا ہے۔ آپ اطمینان رکھیں ایسا کوئی حادثہ نہیں ہوا ہے۔ اس لئے آپ رخصت کے لئے جلدی نہ کریں۔ اور گھبرائیں نہیں اطمینان کر لیجئے۔ لیکن حضرت مرزا صاحب بدستور اپنے یقین کامل پر رخصت کے لئے مصر رہے اور پورے وثوق سے اس خدائی اطلاع پر ملول تھے۔ مگر پھر آپ صاحب کے بہت اصرار پر اپنے بنگلہ پر تشریف لے آئے۔ پہنچے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ اطلاعی تار وفات حسرت آیات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام آپ کو موصول ہوا۔ چنانچہ آپ اسی ہم و غم میں اسی تار کو لے کر دوبارہ صاحب کے بنگلہ پر پہنچے اور بتلایا کہ اس وقت میں دورہ سے سیدھا آپ کے بنگلہ پر آگیا تھا وہ خدائی اطلاع کی بناء پر تھا۔ اب یہ تار بھی موصول ہوگیا ہے۔ صاحب بہادر اس تمام کیفیت کو دیکھ کر بہت ہی حیران اور ششدر رہ گئے کہ آپ لوگوں کو خدا پر کیسا یقین اور وثوق اور ایمان ہے۔ اور وہ من وعن پورا بھی ہو رہا ہے۔ چنانچہ حضرت مرزا صاحب رخصت پر فوراً روانہ ہوگئے۔

”اور ماموں صاحب فرماتے تھے کہ جب حضرت مرزا صاحب جالندھر سے امرتسر پہنچے تو اسٹیشن پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جنازہ بھی امرتسر پہنچ چکا تھا۔ حضرت مرزا صاحب بھی شامل ہوگئے اور ساتھ ہی رہے۔ ماموں صاحب منشی ظفر احمد صاحب بھی امرتسر میں تھے چنانچہ حضرت مرزا صاحبؓ مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم نے یہ تمام ماجرا امرتسر میں ہی حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ سے خود بیان فرمایا تھا۔“

ایک مرتبہ عاجز اور حضرت ماموں ظفر احمد صاحب قبلہ مسجد احمدیہ کپور تھلہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور ایک دو دوست اور بھی موجود تھے یا کالج کے طالب علم جو حصولِ تعلیم کے لئے کپور تھلہ مقیم تھے وہ بیٹھے تھے یہ مکمل یاد نہیں ہے۔ میں نے ماموں صاحب کی خدمت میں اس روایت کے متعلق عرض کیا کہ میں نے یہ کئی بار آپ سے سنی ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے یہ روایت سلسلہ میں محفوظ نہیں ہے۔ اس لئے ایسی روایت کا محفوظ ہونا بہت ضروری ہے۔ اس لئے میرا دل چاہتا ہے کہ اس روایت (مندرجہ صدر) کو جس طرح میں نے آپ سے سنا ہے میں لکھ کر پیش کر دیتا ہوں آپ اس پر دستخط کر دیں تاکہ میں اس روایت کو اخبار الفضل میں طبع کرا دوں۔ میری اس گزارش پر حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ نے فرمایا کہ خیال تو ٹھیک ہے مگر یہ واقعہ مجھے مکمل یاد نہیں ہے۔ مثلاً دوبارہ تار لے کر حضرت مرزا صاحب خود گئے تھے یا بھیجا تھا وغیرہ مجھے یاد نہیں رہا اس لئے طبع کرانی مناسب نہیں ہے۔ چنانچہ پھر میں خاموش ہو گیا۔ اطلاعاً عرض ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ جو میرے کانوں نے خود سنا وہ امانت تھی اور میں نے عرض کر دی ہے اور جو کچھ میرے عرض کرنے پر ماموں صاحب مرحوم نے مجھے فرمایا وہ بھی میں نے من وعن عرض خدمت والا کر دیا ہے۔ میرا خود دل چاہتا تھا میں اس روایت کو طبع کراؤں مگر ماموں صاحب کے ارشاد بالا کے مطابق میں نے چپ اختیار کر لی تھی جو اطلاعاً عرض خدمت ہے۔ فقط والسلام

دعاؤں کا طالب خادم المسیح غلام زادہ خاکسار عبدالرحمٰن خلف میاں حبیب الرحمٰن صاحب مرحوم حال نائب تحصیلدار تحصیل سمندری ڈاکخانہ تاندلیانوالہ منڈی (ہیڈ کوارٹر) ضلع لائل پور ۱۹۴۹۔۱۰۔۲۱ مطابق ماہ اخاء

مکتوب مکرم ملک حسن محمد احمدی قادیانی

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ نحمده ونصلی علی رسولہ الکریم بخدمت جناب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ایک روایت الفضل مجریہ ۲۰؍اخاء ۱۳۲۸ھ ش میں شائع ہوئی ہے جس کے راوی مولوی محمد احمد صاحب وکیل کپور تھلوی ہیں اور انہوں نے اپنے والد بزرگوار حضرت منشی ظفر احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنی ہے۔ جو خاکسار کی نظر سے بھی گزری۔ اس میں ایک فقرہ ایسا ہے جس نے مجھے بھی ایک شہادت کے بیان کرنے پر مجبور کیا۔ وہ فقرہ یہ ہے کہ ’’مرزا سلطان احمد صاحب نے ہماری تائی مرحومہ (تائی آئی الہام سیدنا مسیح موعودؓ) کے پیچھے لگ کر ساری عمر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے علیحدگی اور ایک گونہ مخالفت میں گزاری۔

میری شہادت:

خاکسار سید نا خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مبارک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب سیدنا مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حیات تھے اور حضرت خلیفہ اوّل حکیم الامت کے مبارک لقب سے یاد ہوتے تھے۔ حضرت مولوی صاحب نے فرمایا ’’حضرت مرزا سلطان احمد صاحب میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے کہا کہ حضرت مسیح موعودؑ سے میری صلح کروادیں اور مجھے حضرت کی خدمت میں اپنے ہمراہ لے چلیں تاکہ میں حضرت سے معافی مانگ لوں۔‘‘ مولوی صاحبؓ نے فرمایا! ’’ میں نے حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر اس معاملہ کو پیش کیا کہ مرزا سلطان احمد صاحب حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر معافی مانگنا چاہتے ہیں۔ حضور کا کیا ارشاد ہے۔ میں ان کو اپنے ہمراہ لے آؤں اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ’’جب تک سلطان احمد اپنے چال چلن درست نہیں کرتا اس وقت تک میرے پاس نہ آوے۔‘‘ یہ شہادت حضرت حکیم الامت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی ہے جس کو مولوی صاحبؓ نے اپنی مجلس میں بیان فرمایا جس کا میں شاہد ہوں۔

دوسری شہادت خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کی بیگم صاحبہ کی ہے جو میری بیوی کے روبرو موصوفہ نے بیان فرمائی اس کے ذریعہ مجھ تک پہنچی۔ میری بیوی کے روبرو محترمہ خورشید بیگم صاحبہ حرم مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم نے بیان کیا کہ مرزا صاحب یعنی مرزا سلطان احمد صاحب فرماتے ہیں کہ ”میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کا مخالف نہیں ہوں میں مسیح موعود کو مانتا ہوں لیکن میرے اندر کچھ خامیاں کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے میں بیعت نہیں کرتا۔“

تیسری شہادت:۔

محترمہ مکرمہ اُمّ ناصر احمد صاحب حرم اوّل سیدنا امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی ہے یہ شہادت بھی میری بیوی محترمہ کے ذریعہ سے مجھ تک پہنچی ہے۔ محترمہ اُمّ ناصر احمد صاحب نے بیان کیا کہ ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام صحن میں شہ نشین پر تشریف فرما وضو کر رہے تھے کہ خادمہ نے ایک کاغذ آپ کے حضور پیش کیا۔ حضور نے اسی وقت وہ کاغذ کھول کر پڑھنا شروع کیا اور اسی وقت پڑھ کر اس کو چاک کر دیا اور فرمایا ’جب بھی سلطان احمد دعا کے لئے لکھتا ہے دنیاوی ترقی کے لئے ہی لکھتا ہے دین کے لئے کبھی نہیں لکھتا‘۔ کچھ دنوں کے بعد مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کا عریضہ پھر حضور کی خدمت میں پیش ہوا جس میں لکھا ہوا تھا کہ حضور کی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ نے مجھے ترقی عطا فرمائی ہے“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ”میں نے تو دعا کی ہی نہیں“

ان شہادتات کو بنظر غور دیکھا جاوے تو معمولی سے تدبر کے بعد معلوم ہو جاتا ہے کہ سیدنا مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی پر خان بہادر مرزا سلطان احمد مرحوم کو کامل ایمان و یقین تھا۔ لیکن بعض اپنی کمزوریوں کی وجہ سے بیعت عمداً نہیں کرتے تھے کہ اس بیعت پر میں عمل پیرا نہیں ہو سکتا۔ جھوٹا اقرار کیوں کروں۔

لما تقولون مالا تفعلون

حضور کا خادم خاکسار ملک حسن محمد احمدی قادیانی۔ سمبڑیالوی حال عارضی مقام الہ آباد۔ ریاست بہاولپور۔ ضلع رحیم یار خان۔ ۱۴؍ نومبر ۱۹۴۹ء

مکتوب مکرم شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ لائل پور

شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ لائل پور فرزند اکبر حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ کے نام اپنے مکتوب ۲۹۔۱۰۔۱۴ میں تحریر فرماتے ہیں۔

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

مخدوم و محترم۔ السلام علیکم۔ گرامی نامہ ملا۔ امور ذیل عرض ہیں۔

(۱) وطن مالوف والد صاحب کا بڈھانہ ضلع مظفر نگر تھا۔ لیکن والد صاحب کی زیادہ سکونت اور تعلیم کا زمانہ قصبہ باغپت ضلع میرٹھ میں گزرا۔ یہ وجہ ہے کہ دونوں جگہ وطن کا ذکر روایات میں ہوا۔ باغپت میں ہمارے بعض بزرگ ملازم تھے۔ اور والد صاحب وہاں رہتے تھے۔ براہین احمدیہ بھی والد صاحب نے باغپت میں پڑھی۔

(۲) روایات مطبوعہ ریویو آف ریلیجنز اردو میں بعض کتابت کی غلطیاں تھیں۔ رسالہ مذکور اس وقت میرے سامنے نہیں۔ لیکن

(الف) شروع میں جو روایت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد مرحوم نے عبدالواحد صاحب کو ایک دوا تیار کر کے دی عبدالواحد صاحب ان دنوں بٹالہ میں منصف تھے۔ لیکن کاتب نے پٹیالہ لکھ دیا ہے اور یہ بڑا مغالطہ ہے صحت فرمالی جائے۔

(ب) ایک جگہ آتھم کے مباحثہ کے متعلق روایت میں ہے کہ نبی بخش کی کوٹھی میں ہم ٹھہرے تھے۔ کاتب نے ٹھہرے کی بجائے کھڑے تھے لکھ دیا۔ ایسا ہی بعض اور کتابت کی غلطیاں تھیں۔ جو میں نے نوٹ کی تھیں اگر رسالہ مذکورہ مجھے ملا تو عرض کروں گا۔ اس وقت آپ کے جواب کی تعمیل میں جلدی ہے۔

(۳) رفع اشتباہ کے لئے یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ والد صاحب مرحوم شروع میں اپیل نویس تھے۔ لیکن صورت یہ تھی کہ آپ کی بجائے حکام نے ایک اور شخص کو اپیل نویس عوضی مقرر کیا ہوا تھا۔ والد صاحب اس سے آمدنی لے لیتے تھے اور خود بطور سر رشتہ دار عدالت کام کرتے تھے۔ مدتوں یہ عمل رہا تا کہ کے مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد والد صاحب مستقل سر رشتہ دار ہو گئے۔ اور پھر ترقی پا کر ہائی کورٹ کی رجسٹری سے پنشنریاب ہوئے۔

یہ وضاحت اس لئے ہے کہ اشتباہ ہوتا ہے کہ شروع میں والد صاحب ملازم تھے یا نہیں۔ اور یہ طریق اس لئے والد صاحب نے قائم رکھا تھا کہ ملازمت سے بے نیاز تھے جب چاہتے قادیان چلے جاتے کوئی روک نہ تھی اور یہ وجہ تھی کہ اکثر سفر و حضر میں حضرت کے ساتھ رہتے تھے۔

آپ نے اخبار میں چند سوال شائع فرمائے تھے ان کے تعلق سے عرض ہے کہ:۔

(۴۔ الف) بروایت والد صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی احمدی کا جنازہ پڑھایا اور اس کے بعد حضور نے فرمایا! کہ جو مقتدی ہیں ان کا بھی میں نے جنازہ پڑھا دیا ہے۔ والد صاحب فرماتے کہ میرا جنازہ تو حضور خود پڑھا چکے ہیں۔ چنانچہ بوقت جنازہ والد صاحب جو حضرت مولوی شیر علی صاحب نے پڑھایا۔ میں نے اس امر کا ذکر ان سے کیا تھا۔

(۴۔ ب) ایک مرتبہ والد صاحب کپور تھلہ سے لدھیانہ حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ماہِ رمضان تھا اور والد صاحب روزے سے تھے۔ حضرت صاحب کو جب معلوم ہوا، تو آپ نے روزہ افطار کرا دیا۔ اس وقت سورج غروب ہونے میں آدھ گھنٹہ کے قریب باقی تھا۔ اور فرمایا! کہ سفر میں روزہ جائز نہیں۔

(۵) والد صاحب کی ایک روایت ذیل غیر مطبوعہ ہے۔

جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہوا تو حضرت مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم جالندھر میں ملازم تھے غالباً افسر مال تھے۔ مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کا والد صاحب سے بڑا تعلق تھا۔ چنانچہ مرزا صاحب موصوف نے والد صاحب سے فرمایا کہ بروز وصال حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں جالندھر میں گھوڑے پر سوار جا رہا تھا۔ کہ یکدم بڑے زور سے مجھے الہام ہوا’’ماتم پرسی‘‘ میں اسی وقت گھوڑے سے اُتر آیا اور مجھے بہت غم تھا۔ خیال کیا کہ شاید تائی صاحبہ کا انتقال ہو گیا ہو۔ پھر خیال کیا کہ نہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ماتم پرسی تو والد صاحب کے متعلق ہی ہو سکتی ہے۔ چنانچہ میں ڈپٹی کمشنر کے پاس گیا کہ مجھے رخصت چند دن کی دی جائے۔ غالباً والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا نہ کوئی خبر آئی ہے نہ شائع ہوئی ہے۔ اسی درمیان میں تار آگیا۔ جس میں والد صاحب کے انتقال کی خبر دی تھی۔ اور ڈپٹی کمشنر کو حیرت ہوئی۔ میں نے قلم برداشتہ یہ چند باتیں عرض کر دی ہیں جو مناسب ہو اختیار فرمائیں۔ والسلام خاکسار محمد احمد ایڈووکیٹ لائل پور ۱۴۔۱۰۔۱۹۴۹

ایک امر میں آپ کا مشورہ مجھے مطلوب ہے

میں سالہا سال سے انگریزی فارسی اور اردو الفاظ کے عربی ماخذ تحقیق کرنے میں لگا ہوا ہوں اس میں مجھے حیرت انگیز کامیابی ہوئی ہے۔ نصف سے زیادہ انگریزی لغت کو میں حل کر کے معہ دلائل وجہ تسمیہ وغیرہ عربی میں لوٹا چکا ہوں اور ایسے فارمولے مجھے معلوم ہو چکے ہیں کہ باقی ماندہ لغت کا حل کرنا میرے نزدیک بالکل سہل ہے۔ صرف وقت کی ضرورت ہے۔ اس بارے میں جامعہ احمدیہ احمد نگر میں میرا ایک حالیہ لیکچر بھی پسند کیا گیا تھا۔

اس طرح اردو۔ پنجابی۔ اور فارسی کے کثیر لغت جو روز مرہ بولے جاتے ہیں اور ٹھیٹھ الفاظ ہیں میں حل کر چکا ہوں۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا میں اس کام کو جاری رکھوں اور یہ مفید ہوگا۔ میرا ارادہ ساری لغت انگریزی کو حل کر ڈالنے کا ہے۔ انشاء اللہ

اس میں علمائے لغت انگریزی کی فاش اور مُضْحک بہت سی غلطیاں دریافت ماخذ کے بارے میں ثابت ہو چکی ہیں اور اس قابل ہیں کہ انہیں شائع کر کے OXFORD تک پہنچایا جائے۔ اس بارے میں آپ کوئی مفید مزید مشورہ بھی عنایت فرمائیں۔ میری تحقیق بعض اصولی فارمولوں کی بنا پر ہے۔ جو کم و بیش سب زبانوں پر یکساں عائد ہوتے ہیں۔ وباللہ التوفیق خاکسار محمد احمد مظہر

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

رائے کنورسین کے خط کا تعارف

ایک شریف النفس ہندو لالہ بھیم سین بٹالہ میں مولوی گل علی شاہ کے مدرسہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہم مکتب تھے اور اس زمانہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک قلبی تعلق اور بے پناہ عقیدت رکھتے تھے۔ لالہ بھیم سین بعد میں سیالکوٹ میں وکالت کرتے تھے اور جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۶۴ء سے ۱۸۶۸ء تک سیالکوٹ میں ملازم تھے تو وہاں جن افراد کے ساتھ آپ کا تعلق تھا ان میں لالہ بھیم سین بھی تھے۔ حضور دفتری اوقات کے بعد اکثر لالہ صاحب کی قیام گاہ پر جاتے تھے۔ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لالہ بھیم سین کو ایک طویل خط بھی لکھا تھا جس میں بت پرستی کے رد میں قرآن کریم کی تعلیمات پیش کی گئی ہیں۔ یہ خط لالہ صاحب کے کاغذات سے ان کے بیٹے نے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کو دے دیا تھا۔ یہ خط مکتوبات احمدیہ میں شائع ہو چکا ہے۔

جب ان کے بیٹے کنورسین انگلستان سے بار ایٹ لاء کر کے پنجاب کی عدالتوں میں پریکٹس کرتے تھے تو لالہ بھیم سین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پیشکش کی تھی کہ ان کا بیٹا حضور کے مقدمات میں بلا معاوضہ پیش ہوا کرے۔ لیکن حضور نے اس پیشکش کو منظور نہیں فرمایا۔ بعد میں جناب کنورسین صاحب پرنسپل لاء کالج لاہور بنے اور پھر ریاست ہائے کشمیر، جودھ پور الور وغیرہ میں چیف جسٹس و جوڈیشل منسٹر کے عہدوں پر فائز رہے۔

اپنے والد کی طرح بیرسٹر کنورسین کو بھی حضور سے انتہا درجہ کی عقیدت تھی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ ڈیرہ دون میں رہائش پذیر ہو گئے تھے۔

بیرسٹر کنورسین کے ایک صاحبزادے مسٹر گوپال چندر سین جب جودھ پور میں ملازم تھے تو وہاں ایک احمدی علی محمد صاحب نے سیرت المہدی کی جلدیں ان کو دیں کہ ان میں ان کے خاندان کا ذکر ہے۔ غالباً ان کے لڑکے گوپال سین یہ کتب اپنے ساتھ ڈیرہ دون لے گئے تھے اور انہوں نے اپنے والد کو متعلقہ حصے پڑھ کر سنائے تھے۔ جس پر رائے کنورسین نے ڈیرہ دون سے علی محمد صاحب کو کتابوں کے بھیجنے پر شکریہ کا خط لکھا اور ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں لکھا ہے کہ انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ حضرت مرزا صاحب ان کے گھر آیا کرتے تھے کیونکہ ان کے والد ان کے گہرے دوست تھے۔ اور ساتھ کچھ ایسی باتیں بھی لکھی ہیں جن کا ذکر ہمارے لٹریچر میں نہیں ہے۔

علی محمد صاحب نے ۱۹۴۵ء کی ابتداء میں بیرسٹر کنورسین صاحب کا انگریزی میں ٹائپ شدہ جواب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو بھجوا دیا تھا جسے آپ نے سلسلہ کی تاریخ سے متعلق دستاویزات میں محفوظ کر دیا تھا۔

اگلے صفحات میں ان دونوں خطوط کا عکس دیا جا رہا ہے۔ سید عبدالحی

عکس خط مکرم علی محمد صاحب بنام حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ

حیدرآباد دکن 3-1-45 بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم مخدوم محترم حضرت میاں صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہٗ ۔ 11؍ ماہ گذشتہ کا گرامی نامہ شرف صدور لایا۔ یہاں چودھری عزیز الدین صاحب معتمد سیرت المہدی حصہ سوم کا ایک کاپی لے در تھے۔ فاضل محترم وہ نسخہ ۔ حودس خابران کے منشی سن ارسل گئے۔ بدیں حالت غیرسیر جگ نے ڈیرہ دون کے خریدار حتی گئی ۔ میرے دو دانت سن سر ۔ غالباً اسکی ترکھ حسو گوپال شیر جگ وہ کتاب شائع جائے ۔ اندو نویں سے اپنی دار کردہ 20 شرح کر شایا گیا ۔ وہ خطی نسخہ ارسال خدمت ۔ شاید کسی کے کام وہ آسکی قیاس سر غندہ ۔ بقیہ جلد دیکھ کر مناسب خیال فرمائیں تو کٹوا دیں ۔ محرر درویش رنگاہی خدمت سنہا ۔ خاکسار علی محمد میر رفیق چودھری کے ساتھ حیدرآباد میں سرور تھا ۔ میرا اُنکی لسمر 45 سال مدت بیار تھے ۔ اور وہ 31/12/44 کو فوت ہوئے۔ معلوم

عکس خط جناب رائے کنورسین صاحب بنام مکرم علی محمد صاحب

“Kanwar Kunj” LAKSHMI AVENUE DEHRA DUN. Rai Bahadur Kanwar Sain, M. A. Bar-at-Law, Retired Judicial Minister & Chief Justice, Kashmir, Jodhpur, Alwar, Panna etc. Dated 27th December 1944 . My dear Khan Sahib, My son, Gopal Chandra Sain, has read out to me several pages out of the book "Seeratul Ahmadi", which you so kindly gave to him for perusal. I was very greatly interested to find in the book so many references to my worthy father who was a great friend and associate of the great Hazrat Mirza Sahib of revered memory. It would, I am sure, interest you to know that I too had the honour and privilege of seeing the Hazarat Sahib at my house when I was a boy. My father used to have correspondence with him and I remember to have seen some of his letters. My father used to mention to me those incidents which are stated in this book. The one regarding the phrophesy about his success in the pleadership examination bears repetition. Mirza Sahib had written to ask my father to confirm this incident, which Mirza Sahib wanted to publish in his book 'Burahin-i-ahmadiya', my father used to tell me that in reply, he confirmed the incident but added P.T.O.

that more than he Mirza Sahib's worthy father was in his (my father's) opinion a prophet, because, he (Mirza Sahib's father) had foretold while Mirza Sahib was born and was yet a child that the new born child was to be a Wali (علامت کُڑیں ولی پیدا ہوا ھے). This according to my father was a positive assertion and should indeed be regarded as a prophesy whereas Mirza Sahib's prophesy regarding my father's success in the examination was a matter of inference inasmuch as when asked as to how the basis on which the prediction was founded. Mirza Sahib had stated that he had seen in a dream that my father's answer papers had changed from yellow colour to red and that Mirza Sahib understood as betokening success.

Let me in the end reciprocate my sentiments of affection and regard for you, who has shown so much kindness and consideration to my son Gopal on the footing of my father's happy associations with your revered Mirza Sahib.

I am, Yours sincerely,

رائے کنورسین کے خط کا اُردو ترجمہ

کنور کُنج رائے کنورسین۔ایم اے بار ایٹ لاء لکشمئی ایونیو۔ڈیرہ دون ریٹائرڈ وزیر انصاف و چیف جسٹس کشمیر، جودھ پور، الور، پنا وغیرہ ۲۷؍دسمبر ۱۹۴۴ء

مکرم خان صاحب

میرے بیٹے گوپال چندرسین کو کتاب سیرت المہدی جو آپ نے ازراہ مہربانی مطالعہ کے لئے دی ہے، اس کے چند صفحات انہوں نے مجھے سنائے ہیں۔ مجھے اس بات سے بہت دلچسپی محسوس ہوئی کہ اس کتاب میں میرے معزز والد جو حضرت مرزا صاحب مرحوم کے دوست اور ساتھی تھے کا اتنی بار ذکر کیا گیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ جب میں ابھی لڑکا ہی تھا مجھے حضرت مرزا صاحب کو اپنے گھر پر دیکھنے کی عزت اور سعادت نصیب ہوئی تھی۔ میرے والد صاحب آپ کے ساتھ خط و کتابت کرتے رہتے تھے اور مجھے یاد ہے کہ میں نے آپ کے بعض خطوط بھی دیکھے تھے۔

میرے والد صاحب ان واقعات کا تذکرہ کرتے رہتے تھے جن کا ذکر اس کتاب میں کیا گیا ہے۔ ایک بات کو جو میرے والد کی وکالت (مختار کاری) کے امتحان میں کامیابی سے تعلق رکھتی ہے میں یہاں دوبارہ بیان کرنا چاہوں گا۔ مرزا صاحب نے میرے والد کو لکھا تھا کہ وہ اس واقعہ کی تصدیق کریں۔ مرزا صاحب اسے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں شائع کرنا چاہتے تھے۔ میرے والد مجھے بتاتے تھے کہ انہوں نے اس واقعہ کی تصدیق کر دی تھی۔ لیکن میرے والد نے ساتھ ہی یہ بھی لکھا تھا کہ ان کی رائے میں مرزا صاحب سے زیادہ ان کے یعنی مرزا صاحب کے معزز والد صاحب صحیح پیش خبریاں کرنے والے تھے کیونکہ مرزا صاحب کے والد صاحب نے مرزا صاحب کی پیدائش پر اور ابھی جب آپ بچہ ہی تھے یہ پیشگوئی کی تھی کہ نومولود (یعنی مرزا صاحب) ایک ولی ہوں گے۔ انہوں نے کہا تھا ”ہمارے گھر میں ولی پیدا ہوا ہے“ میرے والد صاحب کے نزدیک یہ ایک بہت مثبت اور تحدّی سے کی جانے والی بات تھی جو کہ ایک پیشگوئی کے طور پر لی جانی چاہئے جبکہ مرزا صاحب کی میرے والد کی امتحان میں کامیابی کے بارہ میں پیشگوئی کی حیثیت دراصل استدلال کی ہے۔ کیونکہ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی اس پیشگوئی کی بنیاد کیا ہے تو مرزا صاحب نے بیان کیا کہ انہوں نے رؤیا میں دیکھا ہے کہ میرے والد صاحب کے جوابی پرچوں کا رنگ زرد سے سرخ ہو گیا جس سے مراد مرزا صاحب نے کامیابی لی۔

آخر میں مجھے اجازت دیجیے کہ میں آپ کے لئے جنہوں نے مرزا صاحب کے میرے والد صاحب سے تعلقات کی بنیاد پر میرے بیٹے گوپال کے ساتھ مہربانی کا سلوک کیا محبت اور احترام کے جذبات کا اظہار کروں۔

میں ہوں آپ کا مخلص دستخط کنور سین

جلسہ اعظم مذاہب

لیکچر اسلامی اصول کی فلاسفی

۱۸۹۶ء

از قلم حضرت بھائی عبدالرحمٰن صاحب قادیانی رضی اللہ عنہ

نحمده ونصلی علیٰ رسوله الکریم وعلیٰ عبده المسیح الموعود

خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ

هو الناصر

جلسہ اعظم مذاہب لاہور

”یہ وہ مضمون ہے جو سب پر غالب آئے گا“

اللہ اكبر خربت خيبر

ا۔ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جوشِ تبلیغ اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے لگن اور دھن کی کیفیت کا بیان انسانی طاقت سے باہر ہے۔ اَللّٰہُ اَعۡلَمُ حَیۡثُ یَجۡعَلُ رِسَالَتَہٗ(6:125)۔ حضور کا منصب و کام ہی خداوند عالم نے اسلام کو تمام دوسرے مذاہب پر غالب کر دکھانا مقرر فرمایا ہے اور جن خواص کو یہ خدمات تفویض ہوا کرتی ہیں ان کے بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ(5:68) کا حکم الٰہی ہمیشہ قائم ہوتا ہے۔

حضورؐ پُر نور نے حق تبلیغ کی ادائیگی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی اور نہ ہی کوئی فروگذاشت کی۔ کیا دن، کیا رات حضور کو یہی فکر رہتی اور حضور کوئی موقعہ تبلیغ کا ہاتھ سے جانے نہ دیا کرتے۔ اٹھتے بیٹھتے چلتے اور پھرتے خلوت میں اور جلوت میں الغرض ہر حال میں اسی فکر اور اسی دھن میں رہتے چنانچہ حضور پُر نور کی سوانح کا ہر ورق اور حیاتِ طیبہ کا ہر لمحہ بزبانِ حال اس بیان کا گواہ اور شاہدِ عادل ہے۔ لمبے مطالعہ اور حضور کی تصانیف کی گہرائیوں کو الگ رکھ کر اگر حضور کے صرف ایک دو ورقہ اشتہار پر ہی بہ نیت انصاف، تعصب سے الگ ہو کر نظر ڈالی جائے جو حضور نے ۹؍دسمبر ۱۸۹۰ء کو شائع فرمایا تو یقیناً میرے اس بیان کی تصدیق کرنا پڑے گی اور حضور کی اس سچی تڑپ اور خلوص نیت ہی کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ بھی ہر رنگ میں آپ کی غیر معمولی تائید و نصرت فرماتا اور غیب سے سامان مہیا فرما دیا کرتا اور حضور خدا کے اس فضل و احسان کا اکثر تحدیث نعمت کے طور پر یوں ذکر فرمایا کرتے کہ ”خدا کا کتنا فضل و احسان ہے کہ ادھر ہمارے دل میں ایک خواہش پیدا ہوتی ہے یا کوئی ضرورت پیش آتی ہے اور ادھر اللہ تعالیٰ اس کے پورا کرنے کے سامان مہیا کر دیتا ہے۔‘‘

۲۔ ۱۸۹۲ء کے نصف دوم کا زمانہ تھا کہ اچانک ایک اجنبی انسان، سادھو منش، بھگوے کپڑوں میں ملبوس شوگن چندر نام وارد قادیان ہوا اور جلد ہی ہماری مجالس کا ایک بے تکلف رکن نظر آنے لگا۔ ایک آدھ دن سیدنا حضرت حکیم الامت مولانا مولوی نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مجلس میں شریک ہوا تو دوسرے ہی روز وہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دربار شام اور اور صبح کی سیر میں شامل ہو کر حضور کی خاص توجہات کا مورد بن گیا۔ کیونکہ وہ شخص اپنے آپ کو حق کا متلاشی اور صداقت کا طالب ظاہر کرتا ہوا اپنی روحانی پیاس بجھانے کے لئے آسمانی پانی کی تلاش میں دور و نزدیک ، قریہ بقریہ بلکہ کو بکو سرگردان پھرتا ہوا قادیان کی مقدس بستی میں اپنے مدعا و مقصود کے حصول کی امید لے کر آیا اور کچھ لے کر ہی لوٹنے کی نیت سے پہنچا تھا اور اس کی نیک نیتی ہی کا نتیجہ تھا کہ وہ باوجود بالکل غیر ہونے کے بہت جلد اپنا لیا گیا۔ وہ نہ صرف سادھو تھا جو بھگوے کپڑوں میں اپنا فقر و حاجات چھپائے تھا اور نہ ہی کوئی ایسا سوالی جس کو دام و درہم کی ضرورت اور روپیہ پیسہ کا لالچ قادیان میں تقسیم ہوتے خزائن کی خبریں یہاں کھینچ لائی ہوں بلکہ واقعہ میں متلاشی حق اور طالب صداقت تھا ورنہ خدا کا برگزیدہ مسیح الزمان جس کی فراستِ کامل جوہر شناس تھی اور جو خدا کے عطاء فرمودہ نور سے دیکھا کرتا تھا یوں اس کی طرف ملتفت نہ ہو جاتا۔

۳۔ شوگن چندر ایک تعلیم یافتہ اور معقول انسان تھا جو گورنمنٹ میں کسی اچھے عہدے پر فائز تھا۔ بعض حوادث نے دنیا کی بے ثباتی کا ایک نہ مٹنے والا خیال اس کے دل و دماغ پر مستولی کر دیا۔ اس کی بیوی اور بچے بلکہ خویش واقارب تک اس سے جدا ہو گئے اور وہ یک وتنہا رہ گیا۔ دل و دماغ میں پیدا شدہ تحریک نے اندر ہی اندر پرورش پائی۔ فانی چیزوں کے اثرات نے اس کے خیالات کی رَو کا رخ کسی غیر فانی اور قائم بالذات ہستی کی تلاش کی طرف پھیر دیا جس سے متاثر ہو کر اس نے ملازمت چھوڑ کر ترکِ دنیا اور تلاشِ حق کا عزم کر لیا اور سادھو بن کر جا بجا گھومنے اور ڈھونڈنے میں مصروف ہو گیا۔ نہ معلوم کتنا عرصہ پھرا اور کہاں کہاں گیا۔ اس نے کیا کچھ دیکھا اور سنا جس کے بعد کسی نے اس کو ہمارے آقا و مولا، ہادی و راہ نمائے زمان کا پتہ دیا اور قادیان کی نشان دہی کی جس پر وہ صدق دلانہ اخلاص و عقیدت سے پہنچ کر حصولِ مقصد و مدعا کی کوشش میں مصروف ہو گیا۔ حضور کی صحبت میں رہ کر فیض پانے لگا اور ہوتے ہوتے ایسا گرویدہ ہوا کہ اس کی ساری خوشی، تسلی و اطمینان حضور کی صحبت اور کلماتِ طیبات سے وابستہ ہو گئے جس کی وجہ سے وہ یہیں ٹک جانے پر آمادہ ہو گیا مگر اللہ تعالیٰ کو اس کے ذریعہ اپنا ایک نشان ظاہر کرنا منظور اور کرشمہ قدرت دکھانا مطلوب تھا جس کے لئے اسی ذات بابرکات نے اتنے تغیرات کئے اور ذرات عالم پر خاص تصرفات فرمائے اور ایک شخص کو قادیان پہنچایا جو کبھی لالہ پھر مسٹر اور باوا اور آخری سوامی شوگن چندر کے نام سے موسوم ہوا۔

۴۔ مہمان نوازی کا خلق شیوۂ انبیاء ہے اور حضور پُر نُور کو اس خلق میں کمال حاصل تھا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ حسنِ سلوک اور احسان و مروت میں حضور اپنی مثال صرف آپ ہی تھے۔ تالیف قلوب کے وصف عظیم کے ساتھ ہمدردی و خیر خواہی خلق کا جذبہ حضور میں بے نظیر و عدیم المثال تھا اور ان تمام خصائل حسنہ اور فضائل کے علاوہ حق و صداقت اور علم و حکمت کے خزائن حضور کے ساتھ تھے جو حضور کے تعلق باللہ اور مقبول بارگاہ ہونے کی دلیل تھے اور ان حقائق کے ساتھ ہی ساتھ خدا سے ہمکلامی کا شرف اور قبولیت دعا کے نمونے ایسی نعماء تھیں جن سے کوئی بھی نیک فطرت اور پاک طینت متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا تھا اور درحقیقت یہی وہ چیزیں ہیں جن کو ناواقف دنیا نے جادو اور سحر کا نام دے کر حضور پرنور سے دنیا جہاں کو دور رکھنے کی ناکام سعی کی ہے۔ سوامی شوگن چندر بھی ان کرامات کا شکار ہوئے اور جس چیز کی ان کو تلاش تھی اور دنیا میں وہ چیز ان کو کہیں بھی نہ ملی تھی آخر خدا کی خاص حکمت کے ماتحت ان کو قادیان میں وہ کچھ مل گیا جس کی انہیں جستجو تھی۔ اور وہ کچھ انہوں نے یہاں دیکھا جو دنیا جہاں میں انہوں نے دیکھا نہ سنا تھا۔ وہ خوش تھے اپنی خوش بختی پر کہ ان کو جس چیز کی خواہش اور تلاش تھی آخر خدا تعالیٰ نے عطا کر دی مگر ہمارے آقائے نامدار اس سے بھی کہیں زیادہ خوش تھے خدا کے اس فضل پر کہ اس نے حضور کی ایک دلی خواہش کے پورا کرنے کے لئے شوگن چندر صاحب کا وجود پیدا فرما دیا ہے۔

۵۔ حضور کی دیرینہ خواہش تھی کہ مذاہب عالم کی ایک کانفرنس ہو جس میں حضور کو قرآن کریم کے فضائل و کمالات اور معجزات و محاسن اسلام بیان کرنے کا موقعہ ملے۔ ہر ایک مذہب کا نمائندہ اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے تا اس میدانِ مقابلہ میں اعلائے کلمۃ اللہ ہو۔ اسلام کی برتری اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا اظہار ہو۔ سو حضور کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے اللہ کریم نے سوامی صاحب کو قادیان پہنچایا جنہوں نے حضور کی اس تجویز کو حق و باطل میں امتیاز کا حقیقی ذریعہ اور سچی کسوٹی یقین کر کے اس کے انعقاد کے لئے اپنی خدمات پیش کیں اور پھر ہمہ تن سعی بن کر اس کام میں لگ گئے۔ ہندو اور پھر گیروے لباس کی وجہ سے بھی اور علم و تجربہ کے باعث بھی ان کو ہندوؤں کے ہر خیال اور طبقہ میں رسوخ میسر آتا گیا اور ان کی تجویز پر غور کیا جانے لگا اور اس کام کے لئے ایک حرکت پیدا ہو گئی۔ مرکزی ہدایات۔ صلاح اور مشورے ان کے لئے پیش آمدہ مشکلات کا حل بنتے اور اس بیل کے منڈھے چڑھ جانے کی خاطر ان کی ہر رنگ میں مدد اور حوصلہ افزائی کی جاتی رہی۔ کبھی وہ خود بطریقِ احتیاط قادیان آتے تو کبھی خاص پیامبروں کے ذریعہ ان کی ضروریات کا انتظام کیا جاتا رہا۔ اور اس طرح ہوتے ہوتے مطلوبہ کانفرنس کے قیام کی جھلک نظر آنے لگ گئی۔ حضور پرنور کی راہ نمائی میں ایک ڈھانچہ تیار کیا گیا اور کام کرنے والے آدمیوں اور اخراجات کے کثیر حصہ کا انتظام سیدنا حضرت اقدس کی طرف سے دیکھ کر اس ڈھانچہ میں زندگی کے آثار بھی نمودار ہو گئے۔ اور اس طرح سوامی شوگن چندر صاحب نے گویا حضور کی اس دینی خواہش کے پورا کرنے میں ایک غیبی فرشتہ کا کام کیا۔

۶۔ آخر خدا خدا کر کے بڑی مشکل گھاٹیوں کو عبور کرنے اور بے آب و گیاہ جنگلوں کو طے کرنے کے بعد اس جلسہ یعنی ”جلسہ اعظم مذاہب“ کے انعقاد کی تاریخوں کا بھی اعلان ہو گیا جو ۲۶ لغایت ۲۸ دسمبر ۱۸۹۶ء مقرر ہوئیں۔ اور ٹاؤن ہال لاہور میں اس کے انعقاد کا اعلان کیا گیا۔ ایک کمیٹی معززین و رؤساء کی جس میں علم دوست اصحاب شامل تھے، ترتیب پا چکی تو اس اطلاع پر سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اتنی خوشی ہوئی جیسے دنیا جہان کی بادشاہت کسی کو مل جائے۔

تب حضور نے اس جلسہ کے واسطے مضمون لکھنے کا ارادہ فرمایا مگر مصلحت الٰہی سے حضور کی طبیعت ناساز ہو گئی اور یہ سلسلہ کچھ لمبا بھی ہو گیا مگر چونکہ جلسہ کی تاریخیں قریب تھیں اور اندیشہ تھا کہ مضمون رہ ہی نہ جائے حضور نے بحالت بیماری و تکلیف ہی مضمون لکھنا شروع فرما دیا۔ اور چونکہ حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم و مغفور رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان ایام میں کسی ضرورت کے ماتحت سیالکوٹ جا کر بیمار ہو گئے اور ان کی بیماری کی اطلاعات سے اندیشہ تھا کہ وہ جلسہ پر نہ پہنچ سکیں گے اس پر لمبی سوچ بچار اور مشورہ کے بعد فیصلہ ہوا کہ حضور کا مضمون خواجہ کمال الدین صاحب پڑھیں چنانچہ اس فیصلہ کے ماتحت یہ تجویز کی گئی کہ

(الف) حضور کا مضمون جسے محترم حضرت منشی جلال الدین صاحب متوطن بلانی ضلع گجرات نقل کرتے تھے کہ حضرت پیر جی سراج الحق صاحب نعمانی کے سپرد یہ کام کیا گیا کتابت کے طریق پر لکھا جائے تا کہ خواجہ صاحب کو پڑھنے میں دقت نہ ہو مگر حضور پرنور کے پھر بیمار ہو جانے کی وجہ سے جب مضمون کی تیاری میں وقفہ پڑ گیا تو ہر دو اصحاب نے مل کر اس کو مکمل کیا۔

(ب) اس مضمون میں جس قدر آیات قرآنی۔ احادیث یا عربی عبارات آئیں وہ علیحدہ خوش خط لکھا کر خواجہ صاحب کو اچھی طرح سے رٹا دی جائیں تا کہ جلسہ میں پڑھتے وقت کسی قسم کی غلطی یا رکاوٹ مضمون کو بے لطف وبے اثر ہی نہ بنا دے۔

۷۔ حضور پُر نُور کا یہ مضمون خوشخط لکھا ہوا صبح کی سیر میں لفظاً لفظاً سنایا جایا کرتا تھا اور حضور کی عام عادت بھی یہی تھی کہ جو بھی کتاب تصنیف فرمایا کرتے یا اشتہار ورسائل لکھا کرتے ان کے مضامین کو مجلس میں بار بار دہرایا کرتے تھے۔ اتنا کہ باقاعدہ حاضر رہنے والے خدام کو وہ مضامین از بر ہو جایا کرتے تھے۔ ان ایام کی سیر صبح عموماً قادیان کے شمال کی جانب موضع بٹر کی طرف ہوا کرتی تھی اور اسی مضمون کے سننے کی غرض سے قادیان میں موجود احباب اور مہمان قریباً تمام ہی شوق اور خوشی سے شریک سیر ہوا کرتے جن کی تعداد تخمیناً پندرہ بیس یا پچیس تک ہوا کرتی تھی۔ مضمون کے بعض حصوں کی تشریح بھی حضور چلتے چلتے فرماتے جایا کرتے تھے۔ یہ تحریر و تقریر نئے نئے نکات۔ عجیب در عجیب معارف اور ایمان افروز حقائق و دلائل کی حامل ہوا کرتی تھی۔ ان دنوں کی سیر صبح میں جس کے لئے حضور باوجود بیماری اور ضعف کے نکلا کرتے تھے بعد میں معلوم ہوا کہ مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی کے بعض جاسوس بھی حضور کے اس مضمون کو سن کر ان کو رپورٹ پہنچایا کرتے تھے چنانچہ حضور کے مضمون کی اکثر آیات جن کو حضور نے موقعہ ومحل پر موتیوں کی لڑی کی طرح سجا کر ان سے استنباط فرمائے ہیں مولوی صاحب نے اپنے مضمون میں یکجا جمع کردی ہیں جن کا وہاں ربط ہے نہ موقعہ ومحل اور جوڑ۔

۸۔ جناب خواجہ کمال الدین صاحب مضمون کو پڑھا کرتے۔ پڑھنے کے طریقوں کی مشق کیا کرتے تھے اور ان کی کوشش ہوا کرتی تھی کہ پڑھنے کے طریق و بیان میں کوئی جدّت پیدا کریں جس سے سامعین زیادہ سے زیادہ متاثر ہوسکیں۔ آیات قرآنی۔ احادیث یا عربی الفاظ و فقرات کو ازبر کرنے کی کوشش کیا کرتے۔ قدرت نے خواجہ صاحب کو جہاں اردو خوانی میں خاص ملکہ دیا تھا وہاں آیات قرآنی کی تلاوت میں باوجود کوشش کے بہت کچھ خامی پائی جاتی تھی جسے خواجہ صاحب محنت اور شوق کے باوجود پورا کرنے سے قاصر تھے۔ مزید برآں انہی ایام میں بعض ان کے ہمراز دوستوں کی زبانی معلوم ہوا کہ دراصل خواجہ صاحب کو مضمون کی بلند پایگی، کمال ونفاست اور عمدگی کے متعلق بھی شکوک تھے جس کا اثر ان کے طرزِ ادا و بیان پر پڑنا لازمی تھا اور عجب نہیں کہ یہ بات سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تک بھی جا پہنچی ہو۔

۹۔ جلسہ سے چند ہی روز قبل اللہ تعالیٰ نے حضور کو الہاماً اس مضمون کے متعلق بشارت دی کہ ”یہ وہ مضمون ہے جو سب پر غالب آئے گا۔ اور اس کی مقبولیت دلوں میں گھر کر جائے گی اور کہ یہ امر بطور ایک ”نشان صداقت“ ہوگا۔ چنانچہ حضور پُرنور نے ۲۱؍دسمبر ۱۸۹۶ء کو ایک اشتہار بعنوان

”سچائی کے طالبوں کے لئے ایک عظیم الشان خوشخبری“

لکھ کر کاتب کے حوالے کیا اور مجھ ناچیز غلام کو یاد فرما کر یہ اعزاز بخشا اور فرمایا کہ ”میاں عبدالرحمن! اس اشتہار کو چھپوا کر خود لاہور لے جاؤ اور خواجہ صاحب کو (جو کہ ایک ہی روز پہلے انتظامات جلسہ کے لئے لاہور بھیجے گئے تھے) کو پہنچا کر ہماری طرف سے تاکید کر دینا کہ ’اس کی خوب اشاعت کریں۔ ضرورت ہو تو وہیں اور چھپوالیں۔ ہماری طرف سے ان کو اچھی طرح تاکید کرنا کیونکہ وہ بعض اوقات ڈر جایا کرتے ہیں، بار بار اور زور سے یہ پیغام پہنچا دینا کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ لوگوں کی مخالفت کا خیال اس کام میں ہرگز روک نہ بنے۔ یہ انسانی کام نہیں کہ کسی کے روکے رک جائے بلکہ خدا کا کام ہے جو بہرحال پورا ہو کر رہے گا۔“

۱۰۔ اشتہار قریبًا آدھی رات کو تیار ہوا اور میں اسی وقت لے کر پیدل بٹالہ کو روانہ ہو گیا۔ ۲۲؍دسمبر ۱۸۹۶ء کی دوپہر کے قریب لاہور پہنچا۔ جناب خواجہ صاحب اس زمانہ میں لاہور کی مشہور مسجد وزیر خان کے عقب کی ایک تنگ سی گلی میں رہا کرتے تھے جہاں میں انکو تلاش کر کے جاملار اور اشتہارات کا بنڈل اور حضور کا حکم کھول کھول کر سنا دیا بلکہ بار بار دہرا بھی دیا۔ خواجہ صاحب کے ساتھ اس وقت دو اور دوست بھی وہاں موجود تھے جن کے نام مجھے یاد نہیں رہے۔ خواجہ صاحب نے بنڈل اشتہارات کا کھولا اور مضمون اشتہار پڑھا اور میں نے دیکھا کہ چہرہ اُن کا بجائے بشاش اور خوش ہونے کے افسردہ و اداس سا ہو گیا اور مجھ سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے۔ ”میاں! حضرت کو کیا علم کہ ہمیں یہاں کن مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے۔ اور مخالفت کا کتنا زور ہے۔ ان حالات میں اگر یہ اشتہار شائع کیا گیا تو یہ ایک تودۂ بارود میں چنگاری کا کام دے گا اور عجب نہیں کہ نفس جلسہ کا انعقاد ہی ناممکن ہو جائے۔ موقعہ پر موجودگی اور حالات کی پیچیدگی سے آخر ہم پر بھی کوئی ذمہ داری آتی ہے۔ اچھا جو خدا کرائے، انشاء اللہ کریں گے۔“ آخر سوچ بچار۔ صلاح مشوروں اور اونچ نیچ۔ اتار چڑھاؤ کی دیکھ بھال کے بعد دوسری یا تیسری رات کے اندھیروں میں بعض غیر معروف مقامات پر چند اشتہارات چسپاں کرائے جن کا عدم و وجود یکساں تھا کیونکہ غیر معروف مقامات کے علاوہ وہ اشتہار اتنے اونچے لگائے گئے تھے کہ اوّل تو کوئی دیکھے ہی نہیں اور اگر دیکھ پائے تو پڑھ ہی نہ سکے۔

۱۱۔ میں نے دیکھا اور سنا بھی کہ سیدنا حضرت اقدس کے اصل مضمون کا حصہ خواجہ صاحب قادیان سے اپنے ساتھ لاہور لائے تھے اس کا مطالعہ اور آیات قرآنی کی تلاوت کی مشق کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ خواجہ صاحب کے لاہور چلے آنے کے بعد جو جو حصہ مضمون تیار ہوتا جاتا اس کی نقل ان کو لاہور پہنچائی جاتی رہتی اور یہ سلسلہ ۲۵؍دسمبر ۱۸۹۶ء کی شام تک جاری رہا تھا یا شاید ۲۶؍دسمبر کی رات تک بھی۔

۱۲۔ جلسہ خدا کے فضل سے ہوا۔ بہتر جگہ اور بہتر انتظام کے ماتحت ہوا اور واقعی سخت مخالفتوں کے طوفان اور مشکلات کی کٹھن اور خطرناک گھاٹیوں کو عبور کرنے کے بعد ہوا۔ بڑی بڑی روکیں کھڑی کی گئیں۔ طرح طرح کے حیلے اور باریک در باریک چالیں چلی گئیں مگر بالآخر ہندو و یہود اور ان کے معاون و مددگاروں کا خیبری قلعہ ٹوٹا اور بعینہٖ وہی ہوا جس کا نقشہ الہام الٰہی ”اَللہُ اَکْبَر خَرِبَتْ خَیْبَر“ میں بیان ہوا تھا۔ دشمنوں نے ٹاؤن ہال نہ لینے دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی بہتر سامان کر دیا اور اسلامیہ ہائی سکول اندرون شیرانوالہ دروازہ کی وسیع اور دومنزلہ عمارت، لمبے چوڑے صحن، بڑے بڑے کمروں، ہال کمرہ اور گیلریوں کو ملا کر ایک بڑی عظیم الشان عمارت جو ایک بڑے اجتماع کے لئے کافی اور موزوں تھی خدا نے دلا دی۔ ۲۶؍ دسمبر کا روز جلسہ کا پہلا دن تھا۔ حاضری حوصلہ افزا نہ تھی۔ سیدنا حضرت اقدس مسیح پاک علیہ اٰلَافُ اَلْفِ صَلٰوۃٍ وَّالسَّلَام کے مضمون کے لئے ۲۷؍دسمبر کا دن اور ڈیڑھ بجے دوپہر کا وقت مقرر تھا۔ خدا کی قدرت کا کرشمہ اور اس کے خاص فضل کا نتیجہ تھا کہ حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب وفورِ عشق و محبت سے بیتاب ہو کر والہانہ رنگ میں وقت سے پہلے لاہور پہنچ گئے جن کی تشریف آوری سے ہم لوگوں کے لئے خاص تسکین اور خوشی کے سامان اللہ تعالیٰ نے بہم پہنچا دیئے۔

۱۳۔ حالات کی ناموافقت۔

جوش مخالفت اور قسم قسم کی مشکلات نیز وقت کی ناموزونیت کے باعث خطرہ تھا اور فکر دامنگیر کہ جلسہ شاید حسب دل خواہ با رونق نہ ہو سکے گا مگر شان ایزدی کہ خلق خدا یوں کھچی چلی آ رہی تھی۔ جیسے فرشتوں کی فوج اسے دھکیلے لا رہی ہو اور ان کی تحریک کا اتنا گہرا اثر ہوا کہ مخلوق کے دل بدل گئے اور ان کے قلوب میں بجائے عداوت و نفرت کے عشق و محبت بھر گئی۔ مخالفوں کی مخالفت نے کھاد کا کام دیا اور روکنے و شرارت کرنے والوں کے غوغا نے لوگوں کی توجہ کو جلسہ کی طرف پھیر دیا جس سے لوگ کشاں کشاں تیز قدم ہو ہو کر جلسہ گاہ کی طرف بڑھے اور ہوتے ہوتے آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ صحن اور اس کے تمام بغلی کمرے اور ہال بھر گیا۔ اوپر کی گیلریوں میں تِل دھرنے کو جگہ نہ رہی اور ہجوم اس قدر بڑھا کہ گنجائش نکالنے کو سمٹنا اور سکڑنا پڑا۔ دسمبر کی تعطیلات کی وجہ سے جا بجا جلسے، کانفرنسیں اور میٹنگیں ہو رہی تھیں۔ لوگوں کی مصروفیات ان کے دنیوی کاموں میں انہماک اور مادی فوائد کے حصول کی مساعی کی موجودگی میں ایک خالص مذہبی جلسہ و کانفرنس میں اس کثرتِ ہجوم کو دیکھنے والا ہر کس و ناکس اس منظر سے متاثر ہو کر اس حاضری کی کامیابی کو غیر معمولی، خاص اور خدائی تحریک و تصرّف کا نتیجہ کہنے پر مجبور تھا اور ایک ہندو کو اس سے انکار تھا نہ ہی سکھ اور آریہ سماجی کو۔ مسلمان کو اس سے اختلاف تھا نہ عیسائی یہودی یا دیوسماجی کو بلکہ ہر فرقہ و طبقہ کے لوگ آج کے اس خارقِ عادت جذب اور بے نظیر کشش سے متاثر اور دل ان کے سچ مچ مرعوب ہو کر نرم تھے۔ دیکھنے اور سننے میں فرق ہوتا ہے اس تقریب کی تصویر الفاظ میں ممکن نہیں۔ مختصر یہ کہ وہ اجتماع اپنے ماحول کے باعث یقیناً عظیم الشان، بے نظیر اور لاریب غیر معمولی تھا۔

۱۴۔ مضمون کا شروع ہونا تھا کہ لوگ بے اختیار جھومنے لگے اور ان کی زبانوں پر بے ساختہ سبحان اللہ! اور سبحان اللہ! کے کلمات جاری ہو گئے۔ سنا ہوا تھا کہ علمِ توجہ اور مسمریزم سے ایک معمول سے تو یہ کچھ ممکن ہو جاتا ہے مگر ہزاروں کے ایک ایسے مجمع پر جس میں مختلف قویٰ۔ عقاید اور خیال کے لوگ جمع تھے اس کیفیت کا مسلط ہو جانا یقیناً خارقِ عادت اور معجزانہ تاثیر کا نتیجہ تھا۔ یہ درست ہے کہ حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب کو قرآن کریم سے ایک عشق تھا اور اللہ تعالیٰ نے آواز میں بھی ان کی لحنِ داؤدی کی جھلک پیدا کر رکھی تھی نیز وہ ان آیات و مضامین کے ربط اور حقائق سے متاثر ہو کر جس رقت، سوز اور جوش سے تلاوت فرماتے آپ کا وہ پڑھنا آپ کی قلبی کیفیات اور لذت و سرور کے ساتھ مل کر سامعین کو متاثر کئے بغیر نہ رہتا تھا مگر اس مجلس کی کیفیت بالکل ہی نرالی تھی اور کچھ ایسا سماں بندھا کہ اول تا آخر آیاتِ قرآنی کیا اور ان کی تشریح و تفسیر کیا، سارا ہی مضمون کچھ ایسا فصیح، بلیغ، مؤثر اور دلچسپ تھا کہ نہ مولانا موصوف کے لہجہ میں فرق آیا اور نہ جوشِ لذت ہی پھیکے پڑے۔ معارف کی فراوانی کے ساتھ عبارت کی سلاست و روانی اور مضمون کی خوبی و ثقاہت نے حاضرین کو کچھ ایسا از خود رفتہ بنا دیا جیسے کوئی مسحور ہوں۔ میں نے کانوں سنا کہ ہندو اور سکھ بلکہ کٹڑ آریہ سماجی اور عیسائی تک بے ساختہ سبحان اللہ! سبحان اللہ! پکار رہے تھے۔

ہزاروں انسانوں کا یہ مجمع اس طرح بے حس و حرکت بیٹھا تھا جیسے کوئی بت بے جان ہوں۔ اور ان کے سروں پر اگر پرندے بھی آن بیٹھتے تو تعجب کی بات نہ تھی۔ مضمون کی روحانی کیفیت دلوں پر حاوی اور اس کے پڑھے جانے کی گونج کے سوا سانس تک لینے کی آواز نہ آتی تھی حتیٰ کہ قدرتِ خداوندی سے اس وقت جانور تک خاموش تھے اور مضمون کے مقناطیسی اثر میں کوئی خارجی آواز رخنہ انداز نہیں ہو رہی تھی۔ کم و بیش متواتر دو گھنٹے یہی کیفیت رہی۔

افسوس کہ میں اس کیفیت کے اظہار کے قابل نہیں۔ کاش میں اس لائق ہوتا کہ جو کچھ میں نے وہاں دیکھا اور سنا اس کے عکس کا عشر عشیر ہی بیان کر سکتا جس سے اس علمی معجزہ و نشان کی عظمت دنیا پر واضح ہو کر خلق خدا کے کان حق کے سننے کو اور دل اس کے قبول کرنے کو آمادہ و تیار ہوتے جس سے دنیا جہان کے گناہ، معاصی اور غفلتیں دور ہو کر ہزاروں انسان قبول حق کی توفیق پا جاتے۔

۱۵۔ ساڑھے تین بج گئے۔ وقت ختم ہو گیا جس کی وجہ سے چند منٹ کے لئے اس پُر لذت و سرور کیفیت میں وقفہ ہوا۔ اگلا نصف گھنٹہ مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی کے مضمون کے لئے تھا۔ انہوں نے جلدی سے کھڑے ہو کر پبلک کے اس تقاضاء کو کہ ”یہی مضمون جاری رکھا جائے نیز کسی اور کی بجائے اسی مضمون کو وقت دیا جائے اسی مضمون کو مکمل و پورا کیا جائے“ اپنا وقت دے کر پورا کر دیا بلکہ اعلان کیا کہ میں اپنا وقت اور اپنی خواہش اس قیمتی مضمون پر قربان کرتا ہوں۔ چنانچہ پھر وہی پیاری۔ مرغوب اور دلکش و دلنشیں داستان شروع ہوئی اور پھر وہی سماں بندھ گیا۔ چار بج گئے مگر مضمون ابھی باقی تھا اور پیاس لوگوں کی بجائے کم ہونے کے بڑھتی جا رہی تھی۔ سامعین کے اصرار اور خود منتظمین کی دلچسپی کی وجہ سے مضمون پڑھا جاتا رہا حتّٰی کہ ساڑھے پانچ بج گئے۔ رات کے اندھیرے نے اپنی سیاہ چادر پھیلانی شروع کر دی۔ مجبوراً یہ نہایت ہی میٹھی اور پُر معرفت اور مسرت بخش مجلس اختتام کو پہنچی اور بقیہ مضمون ۲۹ دسمبر کے لئے ملتوی کیا گیا۔

کوئی دل نہ تھا جو اس لذت و سرور کو محسوس نہ کرتا ہو۔ کوئی زبان نہ تھی جو اس کی خوبی و برتری کا اقرار و اعتراف نہ کرتی اور اس کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان نہ تھی۔ ہر کوئی اپنے حال اور قال سے اقرار و اعتراف کر رہا تھا کہ واقعی یہ مضمون سب پر غالب رہا اور اپنی بلندی۔ لطافت اور خوبی کے باعث اس جلسہ کی زینت۔ روحِ رواں اور کامیابی کا ضامن ہے۔ نہ صرف یہی بلکہ ہم نے اپنے کانوں سنا اور آنکھوں دیکھا کہ کئی ہندو اور سکھ صاحبان مسلمانوں کو گلے لگا لگا کر کہہ رہے تھے کہ ’’اگر یہی قرآن کی تعلیم اور یہی اسلام ہے جو آج مرزا صاحب نے بیان فرمایا ہے تو ہم لوگ آج نہیں تو کل اس کو قبول کرنے پر مجبور ہوں گے اور اگر مرزا صاحب کے اسی قسم کے ایک دو مضمون اور سنائے گئے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام ہی ہمارا بھی مذہب ہوگا۔‘‘

۱۶۔ آج کا جلسہ ۲۷؍دسمبر برخاست ہو گیا۔ لوگ گھروں کو جا رہے تھے جلسہ گاہ کے دروازہ پر میں نے دیکھا کہ اس کے دونو طرف دو آدمی کھڑے سیدنا حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وہی اشتہار تقسیم کر رہے تھے جو حضور پُر نور نے میرے ہاتھ خاص تاکیدی احکام کے ساتھ بھجوایا تھا تا کہ معروف مقامات پر چسپاں کیا جائے اور جلسہ سے پہلے ہی پہلے کثرت سے شائع کیا جاوے بلکہ یہ بھی تاکید تھی کہ یہ تھوڑا ہے ضرورت کے مطابق لاہور ہی میں اور طبع کرا لیا جائے تا کہ قبل از وقت اشاعت سے اس خدائی نشان کی عظمت کا اظہار ہو جس سے سعید روحیں قبولِ حق کے لئے تیار ہوں مگر ہوا یہ کہ خواجہ کمال الدین صاحب کے خوف کھانے کی وجہ سے پہلے دنیا جہان نے خدائی نشان کی عظمت کا مشاہدہ کیا اور اس کے غلبہ کا اقرار و اعتراف اور بعد میں ان کو وہ اشتہار پہنچایا گیا جو کئی روز قبل چھاپا اور اچھی طرح شائع کرنے کو بھیجا گیا تھا چنانچہ جب سیدنا حضرت اقدس مسیح پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خواجہ صاحب کی اس کمزوری و کوتاہی کا علم ہوا تو حضور پُر نور بہت خفا ہوئے اور کئی دن تک جب جب بھی اس نشانِ الٰہی کا ذکر ہوا کرتا یا بیرونجات سے اس کامیابی کے متعلق رپورٹیں ملتیں ساتھ ہی خواجہ صاحب کی اس کمزوری پر اظہارِ افسوس بھی سننے میں آیا کرتا تھا۔ مضمون کی مقبولیت اور پبلک کے اصرار و تقاضا سے متاثر ہو کر مینیجنگ کمیٹی کا اجلاس خاص منعقد ہوا اور اس میں یہ قرارداد پاس کی گئی کہ

حضرت مرزا صاحب کے مضمون کی تکمیل کیلئے مجلس اپنے پروگرام میں ایک دن بڑھا کر ۲۹؍دسمبر کا چوتھا دن شامل کرتی ہے۔

حضور کے مضمون کی غیر معمولی مقبولیت غیروں کو کب بھاتی تھی۔ مولوی محمد عبد اللہ صاحب نے ایزادیٔ وقت کی اس خصوصیت اور اہمیت کو کم کرنے کے لئے کوشش کر کے اپنے لئے بھی وقت بڑھائے جانے کی خواہش کی چنانچہ نصف گھنٹہ ان کے لئے بھی بڑھا دیا گیا مگر دوسرے روز خود تشریف ہی نہ لائے

اور اپنا وقت مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے لئے وقف کر دیا جس کی وجہ ظاہر ہے عیاں راچہ بیاں۔ مگر خدا کی شان! حاضری اتنی حوصلہ شکن تھی کہ جلسہ گاہ کے بھر جانے کی انتظار ہی انتظار میں وقت گزرنے لگا نہ مجلس کل کی طرح پُر رونق ہوا ور نہ مولوی محمد حسین صاحب کھڑے ہوں۔ آخر بہت انتظار کے باوجود جب وہ خواہش پوری ہوتی نظر نہ آئی تو بادلِ ناخواستہ مجبوراً کھڑے ہوئے اور جو کچھ لکھا تھا پڑھ دیا اور زیادہ وقت لینے کے باوجود نہ خود خوش ہوئے نہ پبلک نے کوئی داد دی۔

۱۷۔ ۲۹ دسمبر کی صبح ساڑھے نو بجے کارروائی جلسہ شروع ہونے والی تھی۔ دسمبر کا اخیر۔ سردی کی شدت اور وقت اتنا سویرے کا تھا کہ لوگ ضروریات سے فراغت پاسکیں تو درکنار اتنی سویرے تو عام طور سے شہروں کے لوگ جاگنے کے بھی عادی نہیں ہوتے۔ فکر تھی، اندیشہ تھا کہ شاید حاضری بہت ہی کم رہے گی اور اس طرح آج وہ لطف شاید نصیب نہ ہو گا مگر خدا کے کام اپنے اندر ایک غیر معمولی جذب اور مقناطیسی کشش رکھتے ہیں جسے کوئی طاقت روک ہی نہیں سکتی۔ انسان اگر غفلت و سستی دکھائیں تو وہ فرشتوں سے کام لیتا ہے۔ چنانچہ سویرے ہی سویرے ٹھٹھرتے ہوئے اور سردی سے سمٹتے اور سکڑتے ہوئے خلقِ خدا جھنڈ کے جھنڈ اور جوق در جوق اس کثرت اور تیزی سے آئی کہ ۲۷ کی دوپہر بعد کا نظارہ بھی مات پڑ گیا اور جلسہ نہایت شوکت و عظمت اور خیر وخوبی سے جاری وساری اور پھر نہایت کامیابی و کامرانی سے اختتام پذیر ہوا اور اس طرح حضور پرنور کا مضمون دنیا جہان پر رَغْمَ اُنُوْفِ الْاَعْدَاءِ اپنے غلبہ، خوبی، کامیابی اور عظمت و حقانیت کا سکہ بٹھا کر علمی دنیا کے لئے ہمیشہ قائم رہنے والا نشان بن کر آسمانِ دنیا پر سورج اور چاند کی طرح چمکنے لگا۔ اور دوست تو درکنار دشمن بھی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے۔ اپنے اور بیگانے، پبلک اور منتظمین غرض ہر شعبہ میں اسی مضمون کا چرچا اور زبانوں پر حق جاری تھا۔ اخبارات نے مقالے لکھے اور اس صداقت کا اقرار و اعتراف کیا۔ منتظمہ کمیٹی نے اپنی طرف سے اس اقرار کو رپورٹ متعلقہ میں درج کر کے اظہارِ حقیقت کیا۔ سچ ہے

چڑھے چاند چھپے نہیں رہ سکتے

اور اس کا انکار بیوقوفی کی دلیل ہوتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت اپنے مقدس و مقبول بندے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ جو کچھ فرمایا تھا وہ ہو کر رہا۔ خدا کی بات پوری ہوئی اور دنیا کی کوئی طاقت، کوئی تدبیر، کوئی مکر اور حیلہ خدائی کلام کے پورا ہونے میں روک نہ بن سکا۔

۱۸۔ رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب شائع ہوئی اور منتظمہ کمیٹی جس کے اراکین ہر مذہب وملت کے ممبر اور اعلیٰ طبقہ کے ذمہ وار لوگ تھے، کی طرف سے اس کے خرچ وصرف سے شائع ہوئی۔ تمام وہ مضامین جو اس جلسہ میں پڑھے گئے یا اس کے واسطے لکھے گئے اس میں من وعن درج کئے گئے کہ دنیا اس مذہبی دنگل اور میدان مقابلہ میں آنے والے سبھی کو یکجا دیکھ کر غور اور فیصلہ اور حق و باطل میں تمیز کر سکے۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ قرآن کریم کی عظمت، اسلام کی حقانیت، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صداقت اور سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خدا کے مقرب اور مقبول بندے، اسی کے بلائے بولنے والے۔ اس کے سچے نبی ورسول ہونے کے لئے بطور شاہد اور دلیل وبرھان یہ امور قائم دائم رہیں۔ حضور پرنور کا یہی وہ مضمون ہے جو اردو میں ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کے نام سے اور انگریزی میں ’’ٹیچنگز آف اسلام‘‘ کے سرنامہ وعنوان کے ماتحت بارہا ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں شائع ہو کر دنیا جہان کی روحانی لذت و سرور کے سامان اور ہدایت کے راستے آسان کرتا اور نہ صرف یہی بلکہ دنیا کی اور کئی زبانوں میں بھی چھپ کر شائع ہوتا چلا آ رہا ہے۔

۱۹۔ یہ رپورٹ شائع ہوئی اور خدا کی خدائی گواہ ہے کہ ہزار ہا انسانوں نے جو کچھ جلسہ میں دیکھا اور سنا تھا وہی کچھ رپورٹ میں درج ہوا۔ وہی مضامین جو نمائندگان مذاہب نے لکھے اور سنائے اور پھر انہوں نے منتظمہ کمیٹی کے حوالے کئے۔ ٹھیک ٹھیک اور بالکل وہی اور بعینہٖ طبع ہوئے تھے۔ مگر کیا کہا جائے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو اور ان کی عقل ودانش کو کہ انہوں نے رپورٹ کی اشاعت پر یہ واویلا شروع کر دیا کہ ان کے نام سے جو مضمون اس میں طبع کرایا گیا ہے، وہ درحقیقت ان کا ہے ہی نہیں۔

مولوی صاحب کی غرض وغایت اس الزام تراشی سے ظاہر ہے کہ مقابلہ میں شکست کی ذلت کو چھپانا تھی۔ حالانکہ ان کی یہ حرکت عذر گناہ بدتر از گناہ اور اپنے ہاتھوں اپنی خاک اڑانے کے مترادف تھی اور یہ امر منتظمین سے پوشیدہ نہ تھا۔ چنانچہ منتظمین نے مولوی صاحب کے اس واویلا اور غوغا کو درخور اعتناء ہی نہ سمجھا اور اس طرح مولوی صاحب کی پردہ داری کی بجائے اور بھی زیادہ پردہ دری ہوئی جس سے ”مولانا صاحب“ جل بھن کر راکھ ہو گئے اور اس گہرے زخم سے تلملانے لگے جس کا اندمال ان سے ممکن نہ تھا کیونکہ وہ انسانی ہاتھوں سے نہ تھا کہ بشری تدابیر اس کو اچھا کر سکتیں۔ ورنہ اگر حقیقت یہی تھی جس کا ان کو گلہ تھا تو کیوں نہ اپنا اصل مضمون شائع کر کے منتظمین کے اس دھوکہ کو الم نشرح کر دکھایا۔

بریں عقل و دانش بباید گریست

۲۰۔ سوامی شوگن چندر صاحب جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس عظیم الشان ”نشانِ صداقت“ کے اظہار کے سامان پیدا کئے، جلسہ کی تمام تر کارروائی کے دوران میں اور پھر رپورٹ کی اشاعت تک تو ملتے ملاتے اور آتے جاتے رہے پھر نہ معلوم وہ کیا ہوئے اور کہاں چلے گئے۔ گویا خدائی قدرت کا ہاتھ انہیں اسی خدمت کی غرض سے قادیان لایا تھا اور پھر پہلے کی طرح غائب کر دیا۔

نوٹ:۔ حضرت منشی جلال الدین صاحب بلانوی اور حضرت پیر جی سراج الحق صاحب نعمانی رضوان اللہ علیہم دونوں بزرگوں کے ہاتھ کا نقل کردہ حضرت اقدس کا وہ مضمون جس پر سے حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے اس جلسہ میں پڑھ کر سنایا تھا آج تک میرے پاس محفوظ ہے مگر چونکہ اس مقدس اور قیمتی امانت کی حفاظت کا حق ادا کرنے سے قاصر ہوں لہٰذا اسے قومی امانت سمجھ کر اس کو سیدنا قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ عالی مقام مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ ربہ کے سپرد کرتا ہوں جو ایسے کاموں کے احق اور اہل ہیں تاکہ قائم ہونے والے قومی میوزیم میں رکھ کر اس کو آنے والی نسلوں کے ایمان و ایقان کی مضبوطی و زیادتی اور عرفان میں ترقی کا ذریعہ بنا سکیں۔

فقط عبدالرحمن قادیانی ۲۰؍ جولائی ۱۹۴۶ء

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ نحمدهٗ ونصلی علیٰ رسوله الکریم وعلیٰ عبده المسيح الموعود

خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ مکرم و محترم مہتہ شیخ عبدالرحمٰن صاحب قادیانی سلمکم اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہٗ

بہ تعمیل ارشاد روایات متعلقہ جلسہ مہوتسو رجسٹر نمبر ۴ صفحہ نمبر ۷۸؍۱ کتب خانہ صدر انجمن احمدیہ نقل کر کے حاضر خدمت ہیں۔ اصل کاغذات متعلقہ جلسہ مہوتسو جو بمقام لاہور منعقد ہوا تھا سوامی شوگن چندر کے اشتہار متعلقہ مورخہ ۲؍جنوری ۱۹۲۶ء ریل گاڑی میں گم ہو گئے۔ محمد الدین ۲۳/۶/۱۹۴۶

(۱۵) سوامی شوگن چندر رسالہ فوج میں ہیڈ کلرک تھا اور منشی (مرزا) جلال الدین صاحب کا ہمنشین اور صحبت یافتہ تھا۔ منشی صاحب فرماتے تھے کہ اس کے اہل و عیال واطفال فوت ہو گئے اس لئے نوکری چھوڑ کر فقیر بن گیا۔

(۱۶) جلسہ کا مضمون (اسلامی اصول کی فلاسفی) پڑھے جانے سے پہلے مخفی رکھا گیا تھا۔ حضرت صاحب نے منشی جلال الدین صاحب کو اس کی کاپی لکھنے پر مامور فرمایا۔ اور فرمایا کہ منشی صاحب کا خط مَا يُقْرَء ہوتا ہے۔ اس لئے آپ ہی اس کو لکھیں، چنانچہ منشی صاحب نے وہ مضمون اپنی قلم سے لکھا۔

(۱۷) منشی صاحب فرماتے تھے کہ حضرت صاحب نے فرمایا ہے کہ میں نے اس مضمون کی سطر سطر پر دعا کی ہے۔

(۱۸) مضمون کے لکھنے جانے اور پڑھے جانے کے وقت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ بیمار تھے۔ اس لئے مضمون پڑھنے کے لئے خواجہ کمال الدین صاحب کو تیار کیا جا رہا تھا لیکن خواجہ صاحب انگریزی خوان تھے، قرآن شریف عربی لہجہ میں پڑھ نہ سکتے تھے۔ آخر وقت پر مولوی عبدالکریم صاحب نے پڑھ کر جلسہ پر لاہور میں سنایا۔

(۱۹) میں محمد دین جلسہ پر حاضر نہیں ہو سکا تھا۔ میرے حلقہ پٹوار میں جو تین چار حصہ میں تقسیم تھی چھ سات املہ تقسیم زیر کار تھیں جن کی وجہ سے مجھے رخصت نہ مل سکی۔ اس لئے منشی جلال الدین صاحب حاضر ہوئے تھے۔ انہوں نے سنایا کہ اللہ تعالیٰ کی تائید معجزانہ رنگ میں ہوئی۔ سردی کے موسم کے باوجود کسی شخص کو کھانسی یا چھینک نہ آئی۔ ہمہ گوش ہو کر لوگوں نے سنا۔ آخر سکھوں نے مسلمانوں کو چھا مار کر اُٹھایا اور مبارکبادیں دیں۔ اور کہا کہ جے کدی مرزا ایہو جیا اک مضمون ہور دَوَ۔ تاں مسلمان ہی ہونا پئو (یعنی اگر مرزا ایسا ہی مضمون اور دیوے گا تو ہم کو مسلمان ہی ہونا پڑے گا) نیز منشی صاحب نے فرمایا کہ جانوروں یعنی پرندوں پر بھی الٰہی تصرف تھا کہ چڑیا تک کی بھی کوئی آواز سنائی نہ دیتی۔

﴿۲۰﴾ حضرت صاحب نے اس مضمون کے متعلق ماہ اگست ۱۸۹۶ء یعنی جلسہ سے چار ماہ قبل اشتہار دیا۔ ”خربت خیبر ۔ بالا رہے ۔ سب پر غالب آئے گا۔“ الہامات شائع کئے۔ لاہور میں خواجہ کمال الدین صاحب نے تشہیر بعد میں کی جس پر حضرت صاحب ناراض ہوئے۔

﴿۲۱﴾ اشتہار مذکور منشی جلال الدین صاحب نے اپنے ایک دوست اور ہم عصر سردار بہادر مردان علی خاں رسالدار میجر پنشنر رسالہ نمبر ۱۲ ساکن بّیسہ کو دیا اور تبلیغ بھی کی۔ جب پیشگوئیوں کے وقوع اور مضمون کی کامیابی سردار مردان علی خاں نے پڑھی تو کہا ”ھن مرزے دی چڑھ پَھبّسی“ کہ اب مرزا لوگوں پر اپنا غلبہ بڑھ چڑھ کر پیش کرے گا اور لوگ حجت ملزمہ (کے) آگے سرنگوں ہو جائیں گے۔ نقل مطابق اصل ہے ۴۶_۲۵_۶_۲۳ محمد الدین بقلم خود (دستخط)

اشتہار تبلیغ رسالت حصہ پنجم صفحہ ۷۷-۹۷ کے حاشیہ میں سوامی شوگن چندر کے اشتہار کا ذکر ہے جو غالباً اگست ۱۸۹۶ء میں سوامی صاحب نے مشتہر کیا تھا۔ ۴۶_۲۵_۶_۲۳ محمد الدین (دستخط)

نوٹ:۔ بغرضِ تکمیل روایت یہ تحریر بھی سیدنا حضرت صاحبزادہ عالی مقام، قمر الانبیاء مرزا بشیر احمد صاحب کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ عبدالرحمٰن قادیانی

عید قربان ۱۹۰۰ء

خطبہ الہامیہ

از قلم حضرت بھائی عبدالرحمٰن قادیانی صاحب رضی اللہ عنہ

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ

هو الناصر

عید قربان ۱۹۰۰ء اور خطبہ الہامیہ

الحمد للہ. الحمد للہ. ثم الحمد للہ الذى هدانا لهذا و ما كنا لنهتدى لولا ان هدانا اللہ. لقد جاءت رسل ربنا بالحق

(۱) اللہ تعالیٰ کا خاص بلکہ خاص الخاص فضل ہے کہ مجھ ناکارہ و نالائق کو لطف کرم سے نوازا اور سراسر احسان سے اُٹھا کر اپنے برگزیدہ و حبیب جری اللہ فی حلل الانبیاء کے قدموں میں لا ڈالا۔ ۱۹۰۰ عیسوی کے مندرجہ نشان کے ظہور کے وقت بھی مجھ غلام کو حضوری کا شرف میسر تھا۔ اس طرح اس روز کے علمی معجزہ کو آنکھوں دیکھنے اور کانوں سننے کی سعادت نصیب ہوئی وَذَالِكَ فَضْلُ اللہِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ وَلكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ۔

(۲) عید سے پہلے دن یعنی حج کے روز سیدنا حضرت اقدس کی طرف سے چاشت کے وقت یہ اعلان کرایا گیا کہ قادیان میں موجود تمام دوستوں کے نام لکھ کر حضرت کے حضور پیش کئے جائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے محض (فضل) اور رحم سے یہ دن حضور انور کے لئے دعاؤں کی قبولیت کے واسطے خاص فرما کر حضور کو اذنِ دعا دیا تھا اور حضور خدا کے اس انعام میں اپنے خدام کو بھی شریک فرمانا چاہتے تھے۔ ورنہ پانچ چھ سالہ فیض صحبت (یعنی ۱۸۹۵ء تا ۱۹۰۰ء) کی سعادت سے بہرہ ور ہونے کی وجہ سے میں کہہ سکتا ہوں کہ اس دن کے سوا حضور کی طرف سے اس قسم کا اعلان پہلے کبھی ہوتا میں نے دیکھا، نہ سنا تھا۔ یوں تو دعاؤں کے لئے ہم لوگ اکثر لکھتے اور عرض کرتے رہا کرتے تھے اور بعض اصحاب ضرورت وحاجت اکثر روازنہ اور متواتر ہفتوں بھی حضرت کے حضور دعاؤں کی درخواستیں بھیجا کرتے تھے۔ حضور کی مجلس کے دوران بھی کبھی کبھی احباب التجاء دعا کیا کرتے جس کے جواب میں عموماً حضور فرمایا کرتے :۔

’’انشاءاللہ دعا کروں گا۔ یاد دلاتے رہیں ۔‘‘

اور کئی بار ایسا بھی ہوا کرتا تھا کہ ادھر کسی نے دعا کے لئے عرض کیا ادھر حضور نے دستِ دعا اللہ تعالیٰ کے حضور بڑھا کر اس کے لئے دعا کر دی جس میں حاضرینِ مجلس بھی شریک ہو جایا کرتے۔ تحریری درخواست ہائے دعا کے جواب میں بعض دوستوں کو حضور خود دست مبارک سے جواب تحریراً بھی دیا کرتے تھے مگر اس یوم الحج کے روز تو ضرور کوئی خاص ہی فضلِ الہی تھا جس میں حضور نے از راہِ شفقت تمام خدام، احباب اور مہمانوں کو شامل کرنے کے لئے خاص طور سے اعلان کرایا تھا۔

(۳) اس اعلان کا ہونا تھا کہ جہاں یکجائی فہرست میں ہر کسی نے دوسرے سے پہلے اپنا نام لکھانے کی کوشش کی وہاں فرداً فرداً بھی رقعات اور عرائض بھیجنے کی سعی کی ۔ ایک فہرست حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب کی زیر قیادت تیار ہوئی تھی اور میرا خیال ہے کہ اسی طرح بعض دوستوں نے اور بھی دو ایک فہرستیں تیار کر کے اندر بھجوائی تھیں ۔ کتنے رقعات اور عرائض فرداً فرداً حضرت کے حضور پہنچائے گئے ان کا حساب اللہ تعالیٰ کو ہے کیونکہ ہر شخص کی خواہش تھی کہ میرا عریضہ پہلے روز حضرت کے اپنے ہاتھ میں پہنچے۔ چنانچہ اس کوشش میں اس روز حضور کی ڈیوڑھی کیا اور مسجد مبارک کی طرف سیڑھیاں کیا خدام سے اَٹی رہیں اور بچوں وخادمات نے بھی دوستوں کے عریضے اور خطوط پہنچانے میں جو احسان کیا وہ اپنی جگہ قابلِ رشک کام تھا۔

اُس زمانہ میں عیدین کے موقعہ پر دارالامان میں بیرونجات سے آنے والے احباب کی وجہ سے خاصی چہل پہل ہو جایا کرتی تھی اور جلسہ کا سا رنگ معلوم دیا کرتا تھا۔ رقعات اور عرائض کا سلسلہ کچھ زیادہ لمبا ہو گیا اور بچوں وخادمات کے بار بار کے جانے کی وجہ سے حضور کی توجہ الی اللہ میں خلل اور روک محسوس ہوئی تو کہد یا گیا کہ اب کوئی رقعہ حضرت کے حضور نہ بھیجا جاوے ۔ الغرض دن اونچا ہونے سے لے کر ظہر تک اور ظہر کے بعد سے عصر اور شام بلکہ عشاء کی نماز تک سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام دروازے بند کئے دعاؤں میں مشغول اپنی جماعت کے لئے اللہ کے حضور التجائیں کرتے رہے۔ اسلام کی فتح اور خدا کے نام کے جلال و جمال کے ظہور۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صداقت اور احیاء و غلبہ اسلام کے لئے نہ جانیں کس کس رنگ میں تنہا سوز و گداز سے دعائیں کرتے رہے اور یہ امر دعائیں کرنے والے جانتے ہیں یا جس ذات سے التجائیں کی گئیں وہ جانتا ہے۔ لوگوں نے جو کچھ سنا وہ آگے سنا دیا یا قیاس کر لیا ورنہ حقیقت یہی تھی کہ خدا کا برگزیدہ جانتا تھا یا پھر خدا جس سے وہ مقدس کچھ مانگ رہا تھا۔

(۴) دوسرا دن عید کا تھا اللہ تعالیٰ نے کل کی دعاؤں کو سنا اور نوازا۔ اس روز کے تنہائی کے راز و نیاز کو قبول فرمایا اور حضور کو بشارتیں دیں جن کے نتیجہ میں حضور کی طرف سے حضرت مولانا عبدالکریم صاحب، حضرت مولانا نورالدین صاحب اور بعض اور احباب خاص کو یہ ارشاد پہنچا کہ آج ہم کچھ بولیں گے اور عربی زبان میں تقریر کریں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عربی میں نطق کی خاص قوت عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے۔ لہٰذا آپ لکھنے کا سامان لے کر مسجد چلیں۔ اس خبر سے قادیان بھر میں مسرت و انبساط کی ایک لہر دوڑ گئی اور ہماری عید کو چار چاند لگ گئے۔

عید کے موقع پر اکثر شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم حضرت کے حضور نیا لباس پیش کیا کرتے تھے اور مدت سے اُن کا یہ طریق چلا آرہا تھا۔ اس روز اس لباس کے پہنچنے میں کچھ تاخیر ہو گئی یا سیدنا حضرت اقدس ہی خدا کے موعود فضل کے حصول کی سعی و کوشش میں ذرا جلد تشریف لے آئے وہ لباس پہنچا نہ تھا اور حضور تیار ہو کر مسجد کی سیڑھیوں کے رستے اتر کر مسجد اقصیٰ کو روانہ ہو گئے تھے۔ مسجد مبارک کی کوچہ بندی سے ایک یا دو قدم ہی حضور آگے بڑھے ہوں گے کہ وہ لباس حضرت کے حضور پیش ہو گیا اور حضور پر نور خلافِ عادت شیخ صاحب کی دلجوئی کے لئے واپس الدار کو لوٹے۔ اندرونِ بیت تشریف لے جا کر یہ لباس زیب تن فرمایا اور پھر جلد ہی واپس مسجد اقصیٰ میں پہنچ کر حسبِ معمول مخدومنا حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحبؓ کی اقتداء میں نمازِ عید ایک خاصے مجمع سمیت ادا فرمائی مگر خطبہ عید حضرت اقدس نے دیا۔

(۵) سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خطبہ اردو میں پڑھا جس کے آخری حصہ میں خصوصیت سے جماعت کو باہم اتفاق و اتحاد اور محبت ومودت پیدا کرنے کی نصائح فرمائیں اور پھر اس کے بعد حضور نے حضرت مولوی صاحبان کو خاص طور سے قریب بیٹھ کر لکھنے کی تاکید کی اور فرمایا کہ

اب جو کچھ میں بولوں گا وہ چونکہ ایک خاص خدائی عطا ہے لہٰذا اس کو توجہ سے لکھتے جائیں تاکہ محفوظ ہو جائے ورنہ بعد میں میں بھی نہ بتا سکوں گا کہ میں نے کیا بولا (ماحصل بالفاظ قادیانی)

چنانچہ حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ جو دور بیٹھے تھے اپنی جگہ سے اُٹھے اور قریب آ کر سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دائیں جانب حضرت مولانا عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھ گئے۔ حضور اقدس اس وقت اصل ابتدائی مسجد اقصیٰ کے درمیانی دروازہ کے شمالی کونہ میں ایک کرسی پر مشرق رو تشریف فرما تھے اور حاضرین کا اکثر حصہ صحنِ مسجد میں۔ مکرمی محترم حضرت شیخ یعقوب علی صاحب حال عرفانی کبیر اور یہ عاجز راقم بھی پنسل کاغذ لے کر لکھنے کو بیٹھے کیونکہ مجھے خدا کے فضل سے حضور کی ڈائری نویسی کا از حد شوق تھا اور حضرت شیخ صاحب اپنے اخبار کے لئے لکھنے کے عادی و مشاق تھے۔ پہلی تقریر یعنی خطبہ عید حضور نے کھڑے ہو کر فرمائی تھی جس کے بعد حضور کے لئے خاص طور سے ایک کرسی بچھائی گئی جس پر حضور تشریف فرما ہوئے اور جب عرض کیا گیا کہ لکھنے والے حاضر و تیار ہیں تو

(۶) حضور پُر نور اسی کرسی پر بیٹھے گویا کسی دوسری دنیا میں چلے گئے معلوم دینے لگے۔ حضور کی نیم وا چشمان مبارک بند تھیں اور چہرہ مبارک کچھ اس طرح منور معلوم دیتا تھا کہ انوارِ الٰہیہ نے ڈھانپ کر اتنا روشن اور نورانی کر دیا تھا جس پر نگہ ٹک بھی نہ سکتی تھی اور پیشانی مبارک سے اتنی تیز شعاعیں نکل رہی تھیں کہ دیکھنے والی آنکھیں خیرہ ہو جاتیں۔ حضور نے گونہ دھیمی مگر دلکش اور سریلی آواز میں جو کچھ بدلی ہوئی معلوم ہوتی تھی فرمایا۔

يَا عِبَادَ اللّٰہِ فِكْرًا فِيْ يَوْمِكُمْ هٰذَا يَوْمُ الْاَضْحٰى فَاِنَّهُ اُوْدِعَ اَسْرَارًا لِّاُولِى النُّهٰى۔۔ لکھنے والے لکھنے لگے جن میں خود میں بھی ایک تھا مگر چند ہی فقرے اور شاید وہ بھی درست نہ لکھے گئے تھے، لکھنے کے بعد چھوڑ کر حضور کے چہرہ مبارک کی طرف ٹکٹکی لگائے بیٹھا اس تبتل وانقطاع کے نظارہ اور سریلی و دلوں کے اندر گھس کر کایا پلٹ دینے والی پُر کیف آواز کا لطف اٹھانے لگ گیا۔ تھوڑی دیر بعد حضرت شیخ صاحب بھی لکھنا چھوڑ کر اس خدائی نشان اور کرشمہ قدرت کا لطف اٹھانے میں مصروف ہو گئے۔ لکھتے رہے تو اب صرف حضرت مولوی صاحبان دونوں جن کو خاص حکم تھا کہ وہ لکھیں۔ لکھنے میں پنسلیں استعمال کی جارہی تھیں جو جلد جلد گھس جاتی تھیں مجھے یاد ہے کہ پنسل تراشنے اور بنا بنا کر دینے کا کام بعض دوست بڑے شوق و محبت سے کر رہے تھے مگر نام ان میں سے مجھے کسی بھی دوست کا یاد نہ رہا تھا۔ ایک روز اس مقدس خطبہ الہامیہ کے ذکر کے دوران میں مکرم محترم حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب دردا یم اے نے بتایا کہ وہ بھی اس عید اور خطبہ الہامیہ کے نزول کے وقت موجود تھے اور کہ لکھنے والوں کو پنسلیں بنا بنا کر دیتے رہے تھے۔

(۷) بعض اوقات حضرت مولوی صاحب کو لکھنے میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے یا کسی لفظ کے سمجھ نہ آنے کے باعث یا الفاظ کے حروف مثلاً الف اور عین ۔ صاد وسین یا ثا اور ط وت وغیرہ وغیرہ کے متعلق دریافت کی ضرورت ہوتی تو دریافت کرنے پر سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عجب کیفیت ہوتی تھی اور حضور یوں بتاتے تھے جیسے کوئی نیند سے بیدار ہو کر یا کسی دوسرے عالم سے واپس آکر بتائے اور وہ دریافت کردہ لفظ یا حرف بتانے کے بعد پھر وہی حالت طاری ہو جاتی تھی اور انقطاع کا یہ عالم تھا کہ ہم لوگ یہ محسوس کرتے کہ حضور کا جسد اطہر صرف یہاں ہے، روح حضور پر نور کی عالم بالا میں پہنچ کر وہاں سے پڑھ کر یا سن کر بول رہی تھی۔ زبان مبارک چلتی تو حضور ہی کی معلوم دیتی تھی۔ مگر کیفیت کچھ ایسی تھی کہ بے اختیار ہو کر کسی کے چلائے چلتی ہو۔ یہ سماں اور حالت بیان کرنا مشکل ہے ۔ انقطاع، تبتل، ربودگی یا حالت مجذوبیت و بے خودی و وارفتگی اور محویت تامہ وغیرہ الفاظ میں سے شاید کوئی لفظ حضور کی اس حالت کے اظہار کے لئے موزوں ہو سکے ورنہ اصل کیفیت ایک ایسا روحانی تغیر تھا جو کم از کم میری قوتِ بیان سے تو باہر ہے کیونکہ سارا ہی جسم مبارک حضور کا غیر معمولی حالت میں یوں معلوم دیتا تھا جیسے ذرہ ذرہ پر اس کے کوئی نہاں در نہاں اور غیر مرئی طاقت متصرف و قابو یافتہ ہو۔ لکھنے والوں کی سہولت کے لئے حضور پرنور فقرات آہستہ آہستہ بولتے اور دہرا دہرا کر بتاتے رہے۔ خطبہ الہامیہ کے نام سے جو کتاب حضور نے شائع فرمائی وہ بہت بڑی ہے۔ ۱۹۰۰ء کی عید قربان کا وہ خاص خطبہ مطبوعہ کتاب کے اڑتیس صفحات تک ہے۔ باقی حصہ حضور نے بعد میں شامل فرمایا۔

(۸) یہ جلسہ اور مجلس ذکر لمبی ہوگئی اور نماز کا وقت آگیا۔ چونکہ حضور پرنور نے جب یہ خطبہ عربی ختم فرمایا تو دوستوں میں اس کے مضمون سے واقف ہونے کا اشتیاق اتنا بڑھا کہ حضور نے بھی آخر پسند فرمایا کہ حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب اس کا ترجمہ دوستوں کا سنا دیں۔ چنانچہ مولانا موصوف نے خوب مزے لے لے کر اس تمام خطبہ کا ترجمہ اردو میں اپنے خاص انداز اور لب و لہجہ میں سنا کر دوستوں کو محظوظ اور خوش وقت فرمایا اور یہ کیفیت بھی اپنے اندر ایک خاص لطف و سرور اور لذت روحانی رکھتی تھی۔ ترجمہ ابھی غالباً پورا بھی نہ ہوا تھا کہ اچانک کسی خاص فقرے سے متاثر ہو کر یا اللہ تعالیٰ کے خاص القاء کے ماتحت سیدنا حضرت اقدس کرسی سے اٹھ کر سجدہ میں گر گئے اور اس طرح مجمع تھوڑی دیر کے لئے حضور کے ساتھ خدائے بزرگ و برتر کے اس عظیم الشان نشان کے عطیہ کے لئے آستانہ الوہیت پر گر کر جبین نیاز ٹکا ئے اظہارِ تشکر و امتنان کرتا رہا۔ فالحمد للہ . الحمد للہ . ثم الحمد للہ على ذالك

(۹) سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خواہش فرمائی کہ اس خدائی نشان کو لوگ یاد کرنے کی کوشش کریں چنانچہ حضور کے ارشاد کی تعمیل میں خطبہ الہامیہ کی اشاعت کے بعد بہت سے دوستوں نے اس کو یاد کرنا شروع کیا بعض نے پورا یاد کر لیا تو بعض نے تھوڑا مگر ان دنوں اکثر یہی شغل تھا اور ہر جگہ ، ہر مجلس میں اسی خطبہ یعنی خطبہ الہامیہ کے پڑھنے اور سننے سنانے کی مشق ہوا کرتی تھی۔ بعض روز شام کے دربار میں کوئی نہ کوئی دوست بھری مجلس میں حضرت اقدس کے سامنے یاد کیا ہوا سنایا بھی کرتے تھے اور اسی طرح خدا کی اس نعمت کا چرچا رہتا تھا۔ میں نے بھی تین چار صفحات یاد کئے تھے۔

(۱۰) سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وجود باجود دنیا جہان بلکہ ہفت اقالیم سے بھی کہیں بڑی نعمت۔ خدا کا خاص انعام اور فضل و احسان تھا کیونکہ وہ خدا نما تھا جس کو دیکھتے ہی خدا کے عظمت و جلال کا کبھی نہ مٹنے والا اثر دل و دماغ پر ہوتا اور خدا کی خدائی پر یقین پیدا ہوا کرتا تھا۔ جس کی مجلس خدا کے

تازہ بتازہ کلام سننے کا مقام اور اسی کلام کو پورا ہوتے دیکھنے سے خدا کے کامل علم اور اس کی کامل قدرت پر یقین پیدا ہونے کی جگہ اور دلوں میں نورِ علم و عرفان بھرنے کا ذریعہ ہوا کرتی تھی۔ روح کی تازگی، ایمان کی مضبوطی، قلوب کی صفائی اور اذہان کی جلا کے سامان اس مجلس میں جمع ہوا کرتے تھے۔ تزکیۂ نفس کے سامان اس میں ملتے اور محبت الٰہی کی آگ پیدا ہو کر دنیا کی محبت کو سرد کر دیا کرتی تھی۔ چنانچہ اس تازہ نشان نے بھی جماعت میں ایک روحانی تغیر پیدا کر دیا اور سالکین کے لئے منازل ایقان و عرفان کو آسان بنا دیا تھا اور ایک خاص روحانی انقلاب کا یہ نشان الٰہی پیش خیمہ تھا جس کی اہمیت گہرے غور و تدبر سے ہمیشہ نمایاں ہوتی رہے گی۔

عید کے روز حضور کے اس خطبہ یعنی خطبہ الہامیہ کے پڑھے جانے اور حضور پر نور کو نطق کی خاص طاقت و قوت عطا کئے جانے سے یوم الحج کے روز کی دعاؤں کی قبولیت کا یقین گویا مشاہدہ میں بدل گیا تھا کیونکہ یہ دونوں چیزیں باہم بطور لازم ملزوم کے تھیں۔ یہ عید اپنی بعض کیفیات کے لحاظ سے تاریخِ سلسلہ کا ایک اہم ترین واقعہ اور ایک خاص باب ہے جس کی گہرائیوں میں جتنے بھی غوطے لگائے جائیں گے اتنے ہی زیادہ سے زیادہ قیمتی اور انمول اور بے مثال موتی ملیں گے۔ مبارک وہ جن کو ان کے حصول کی توفیق رفیق ہو اور سلامتی ہو اُن پر جو اُن کو حاصل کر کے خدمتِ سلسلہ اور خدمتِ خلق میں صرف کریں۔

اللہم صلّ على محمد وعلى آل محمد وبارك وسلم انك حميد مجيد

آمین۔ آمین۔ ثم آمین

عبدالرحمٰن قادیانی بقلم خود تحریر ۲۵؍جولائی ۱۹۴۶ء

سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا آخری سفر لاہور اور حضور پُر نُور کا وصال

از قلم حضرت بھائی عبدالرحمٰن صاحب قادیانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود

استغفر اللہ ـ استغفر اللہ ـ استغفر اللہ ربى من كل ذنب واتوب اليه

لاحول ولا قوة الا باللہ العلى العظيم

خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ

هو الناصر

سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا سفرِ لاہور

اور

حضور پُرنور کا وصال

ماہِ اپریل ۱۹۰۸ء کے دوران میں اللہ تعالیٰ کی باریک در باریک مصلحتوں، گوناگوں مشیتوں اور نہاں در نہاں مقادیر کے ماتحت سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خرابیٔ طبیعت اور بیماری وغیرہ کی وجہ سے کچھ ایسے حالات پیدا ہو گئے جن کے باعث حضورِ پُرنور کو سفر لاہور اختیار کرنا پڑا۔ مگر حضور کے اس سفر کے مطابق جو کچھ مجھے معلوم ہے وہ یہ ہے کہ کئی مرتبہ تیاری کی خبریں سنی گئیں جو منشاء ایزدی کے ماتحت ملتوی ہو جاتی رہیں اور کہ سیدنا حضرت مسیحِ پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس سفر کے لئے انشراح نہ تھا۔ کیونکہ ایک عرصہ سے اللہ تعالیٰ کی متواتر وحی اور الہامات سے حضور کو قربِ وصال کے الہامات ہو رہے تھے۔ جن کا سلسلہ رسالہ الوصیت کی تحریر سے بھی پہلے کا شروع تھا اور قریب ایام میں بھی بعض ایسے الہامات ہوئے تھے۔ چنانچہ ۷؍مارچ۔ ۱۹۰۸ء کا الہام ہے۔ ’’ماتم کدہ‘‘ اور پھر غنودگی میں دیکھا کہ ایک جنازہ آتا ہے۔

۱۴؍اپریل ۱۹۰۸ء کو پھر ایک الہام ہوا۔ ماتم کدہ اور پھر اس سفر کی تیاری و کشمکش میں ۲۶؍اپریل ۱۹۰۸ء کو الہام ہوا۔

مباش ایمن از بازیٔ روزگار

اس الہام اور پہلی تیاری و التوا کی خبروں سے ہم لوگوں پر غالب اثر یہ تھا کہ حضور پرنور کا یہ سفر اب پختہ طور پر معرض التوا ہی میں رہے گا۔ مگر دوسرے ہی روز یعنی ۲۷؍اپریل ۱۹۰۸ء کی صبح کو حضور کی روانگی کا فیصلہ ہو گیا چنانچہ صبح کی نماز کے بعد خدام کو تیاری کا حکم ہوا اور رختِ سفر باندھا جانے لگا۔ قریباً سات یا آٹھ بجے حضور معہ اہلِ بیت و تمام خاندان روانہ ہوئے۔ چند یکّے اور ایک رتھ حضور اور خاندان کی سواری کے لئے ساتھ تھے۔

حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب معہ اہلِ بیت و بچگان وغیرہ۔ مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی نیز بعض اور اصحاب اور خدام و خادمات حضور کے ہمرکاب تھے۔ صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سلمہ ربہ کی گھوڑی مکرمی مفتی فضل الرحمٰن کے سپرد تھی۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو بعد میں حضور نے لاہور بلوا لیا تھا۔

جہاں اور دوست مشایعت کیلئے گاؤں سے باہر محلہ دارالصحت تک گئے میں بھی جس حال میں گھر سے صبح نکلا ہوا تھا اسی حال میں محلہ دارالصحت تک اپنے آقائے نامدار کو الوداع کہنے کی غرض سے پیچھے پیچھے ہو لیا۔ دل میں کچھ تھا مگر حیاء و شرم اور کم مائیگی اظہار سے مانع تھی۔ سب بڑے چھوٹوں کو حضور نے از راہِ کرم و ذرّہ نوازی مصافحہ کا شرف بخشا۔ میں بھی اپنی باری سے دست بوسی کے لئے بڑھا۔ میرے ہاتھ میرے امام و مقتداء سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ میں تھے۔ قبلہ حضرت نانا جان مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور کے پہلو میں کھڑے تھے۔ مجھے اب یاد نہیں اور اس وقت بھی میں اس بات کا امتیاز نہ کر سکا تھا کہ حضرت نانا جان نے پہلے سفارش کی تھی یا خود ہی سیدنا حضرت اقدس نے اس غلام کو ہمرکابی کی عزت عطا فرمانے کا اظہار فرمایا تھا۔ ایک لمحہ تھا پُر سرور، دقیقہ تھا عزت افزاء اور ثانیہ تھا پُر کیف جو مجھے آج بھی کسی طرح لذت و سرور اور عزت و نشاط کے عالم میں لئے جا رہا ہے۔ قبلہ حضرت نانا جان مغفور رحمۃ اللہ علیہ کی سفارش کو بھی میرے کان سن رہے ہیں اور ’’میاں عبدالرحمٰن آپ بھی ہمارے ساتھ ہی لاہور چلو‘‘ کی دلکش اور سریلی اور پیاری آواز بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔ مگر باوجود اس کے میں فیصلہ نہیں کر سکا کہ حضور پرنور نے میری دلی کیفیت اور قلبی آرزو کا علم پا کر خود ہی مجھے ہمرکابی کے لئے نوازا تھا یا کہ یہ رحمت الٰہی مجھ پر حضرت نانا جان کی سفارش کے نتیجہ میں نازل ہوئی تھی۔ بہرکیف میں قبول کر لیا گیا اور بجائے اور دوستوں کی طرح واپس گھر کو لوٹنے کے اپنے آقا فداہ روحی کے ہمرکاب بٹالہ کے لئے ایک یکہ میں سوار ہو گیا۔ حال میرا یہ تھا کہ تن کے تین پھٹے ٹوٹے کپڑے صرف میرے بدن پر تھے اور بس۔ گھر والوں کو کسی دوست کے ذریعے اطلاع بھیج دی اور اپنی سعادت، خوش نصیبی اور بیدار بختی پر دل ہی دل میں ناز کرتا اور سجدات شکر بجالاتا ہوا چلا گیا۔ بٹالہ پہنچ کر حضور نے قیام کا ارشاد فرمایا اور سٹیشن کے قریب ہی ایک لب سڑک سرائے میں قیام ہوا، جس کے دروازہ پر ’’سرائے مائی اچھرا دیوی منقوش‘‘ ہے۔ سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور خاندان کے اراکین علیوال کی نہر پر سیر کے واسطے تشریف لے گئے۔ جہاں سے شام کے قریب واپسی ہوئی۔ بٹالہ یا علیوال کے سرسبز درختوں کا گھنا سایہ دیکھ کر واہ واہ کہتے ہوئے کسی خادمہ کی زبان سے نکلا۔ ’’کیسا پیارا منظر اور ٹھنڈی چھاؤں ہے‘‘ حضور نے یہ الفاظ سن کر فرمایا: ’’ہمیں تو قادیان کی دھوپ بھی اچھی لگتی ہے‘‘ بٹالہ پہنچ کر بھی ہم لوگوں کا خیال غالب یہی تھا کہ شاید حضور بٹالہ ہی میں چند روز ٹھہر کر قادیان واپس تشریف لے چلیں گے۔ کیونکہ آج شام کی گاڑی سے بھی لاہور جانے کا کوئی انتظام نظر نہ آتا تھا۔ ایک روک یہ پیدا ہوئی کہ گاڑی کے ریزرو ہونے میں بعض مشکلات پیش تھیں۔ چنانچہ یہ دن رات بلکہ دوسرا دن رات بھی بٹالہ کی اسی سرائے میں قیام رہا۔ سیر کے واسطے حضور معہ اہل بیت رضوان اللہ علیہم تشریف لے جاتے رہے اور رات اسی سرائے میں قیام ہوتا رہا۔ آخر گاڑی کے ریزرو کا فیصلہ ہو گیا اور تیسرے روز صبح کی گاڑی سے حضور نے لاہور کا عزم فرما لیا۔ جہاں دوپہر کے وقت خواجہ کمال الدین

صاحب کے مکان واقع کیلیانوالی سڑک متصل موجودہ اسلامیہ کالج لاہور میں پہنچ کر قیام ہوا۔

ان ایام میں یہ علاقہ قریباً ایک جنگل کی حیثیت میں تھا۔ کچھ باغات تھے۔ اسلامیہ کالج کی موجودہ عمارت بھی ابھی تعمیر نہ ہوئی تھی اور اگرچہ خواجہ صاحب وغیرہ احمدی لوگوں نے ایک وسیع قطعہ اراضی ایک لمبے عرصہ سے ٹھیکہ یا کرایہ پر لے رکھا تھا مگر ابھی تک مکان وہاں صرف دو تین ہی بنے تھے جن میں سے خواجہ صاحب کا مکان اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کا مکان لب سڑک واقع تھے۔ جن کے درمیان ایک چھوٹی سی گلی تھی اور یہ دونوں مکان دومنزلہ تھے۔

ابتداءً سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور حضور کے خاندان کے لئے قیام کا انتظام خواجہ صاحب ہی کے مکان میں کیا گیا۔ حضور مکان کے نچلے حصہ میں جو شمالی جانب واقع تھا بودوباش رکھتے رہے اور حضرت مولانا مولوی نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ معہ اہل بیت ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان میں۔ باقی ہم رکاب بزرگوں اور خدام کے لئے بھی ادھر اُدھر انہی مکانات میں انتظام کر دیا گیا۔ نماز کے لئے خواجہ کے مکان کی بالائی منزل کا بڑا دالان مخصوص کر دیا گیا جو حضرت کے دربار اور میل ملاقات کی تقریبوں میں بھی کام آتا تھا۔ درس قرآن کریم کھلے میدان میں ہونے لگا۔ حضرت کی زیارت اور فیض صحبت پانے کی غرض سے آنے والے مہمانوں کی رہائش و آسائش کا انتظام بھی ایک حد تک یہی دونوں اصحاب سمٹ سمٹا کر کر دیا کرتے تھے۔ کم وبیش آخری نصف عرصہ قیام لاہور کے زمانہ کا حضورِ پُرنور نے ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے بالا خانہ میں گزارا اور حضرت مولوی صاحب حضور کی جگہ خواجہ صاحب کے مکان میں جا رہے۔ نمازوں وغیرہ کے انتظامات بدستور اسی حالت میں رہے۔ البتہ حضور کے نمازوں میں آنے اور جانے کے واسطے درمیانی گلی پر ایک لکڑی کا عارضی پل بنا کر دونوں مکانوں کو ملا دیا گیا۔ اس زمانہ کی ڈائریاں اور تقاریر الحکم اور بدر میں چھپتے رہے ہیں ان کے دہرانے کی گنجائش نہیں۔

قیام لاہور کے زمانہ میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام قریباً روزانہ سیر کے واسطے خاندان کی بیگمات اور بچوں سمیت تشریف لے جایا کرتے تھے۔ بلکہ بعض روز تو صبح و شام دو وقتہ سیر فرمایا کرتے تھے۔ ابتداء میں حضور بھی رتھ میں بیٹھ کر بیگمات کے ساتھ سیر کو تشریف لے جاتے تھے۔ کھلی سڑکوں پر بھی اور شہر کے بازاروں مثلاً مال روڈ اور انارکلی میں بھی حضور سیر کے واسطے چلے جاتے تھے۔ بازار میں سے گزرتے ہوئے کبھی سواری ٹھہرا کر ہندو حلوائیوں کے ہاں سے کھانے کی چیزیں بھی خرید فرما لیا کرتے تھے اور بیگمات اور بچوں کے علاوہ ہمرکاب خدام کو بھی شریک فرماتے تھے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ حضور انارکلی میں سے گزرتے ہوئے کیسری کی دکان پر اکثر ٹھہرا کرتے اور سب کو سوڈا پلوایا کرتے تھے۔ عام اجازت ہوا کرتی تھی جو جس کا جی چاہتا پیتا یعنی لیمن، روز اور آئس کریم یا مائنیل وغیرہ وغیرہ۔ مگر سیدنا حضرت اقدس خود کھاری بوتل بتاشہ ڈال کر پیا کرتے تھے اور یہ عمل کھلے بازار میں کیسری کی دکان کے سامنے سواریاں کھڑی کر کے ہوا کرتا تھا۔ بیگمات بھی رتھ یا فٹن میں تشریف فرما ہوا کرتی تھیں۔

حضور کی غریب نوازی، کرم گستری اور غلام پروری کے چند ایک ادنیٰ سے کرشمے اور بالکل چھوٹی چھوٹی مثالیں بھی اس موقعہ پر لکھ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔

ا۔ میں چونکہ ایک لمبے عرصے کی جدائی کے بعد قریب ہی کے زمانہ میں راجپوتانہ سے قادیان واپس آیا تھا۔ جہاں مجھے میرے آقا سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے ایک نہایت عزیز کی خدمت اور ان کے زمینداری کاروبار میں مدد کے لئے ان کی درخواست پر جانے کا حکم نومبر ۱۹۰۳ء کے اواخر میں دے کر بھیجا تھا۔ اور جہاں سے میں سوائے دو تین مرتبہ قادیان آنے اور چند روز ٹھہر کر پھر واپس چلے جانے کے دسمبر ۱۹۰۷ء میں بصد مشکل وہ بھی ایک چیتے کے حملہ سے سخت زخمی ہو کر واپس پہنچا تھا۔ لہٰذا

اس لمبی جدائی اور دوری کی تلافی کا خیال میرے دل میں اس زور سے موجزن تھا کہ جی قربان ہو جانے اور حضرت کے قدموں میں جان نثار کر دینے کو چاہتا تھا۔ حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے مقدس انسان کی وفات میری عدم موجودگی میں واقع ہوئی تھی اور رسالہ الوصیت مجھے راجپوتانہ ہی میں ملا تھا۔ حضرت مولانا کی وفات اور اس کے بعد رسالہ الوصیت کے مضمون نے میری زندگی کی بنیاد کو ہلا دیا اور دنیا مجھ پر سرد کر دی تھی۔ ایسی کہ مجھے کسی حال میں چین نہ پڑا کرتا اور دل بے قرار رہتا تھا کہ وہ دن کب آئے کہ میں پھر قادیان کے گلی کوچوں میں پہنچ کر دیار حبیب میں داخل ہو کر اپنے آقا اور حضور کے خاندان کے قدموں میں رہوں۔ وہیں میرا جینا ہو اور وہیں خدا کرے کہ میرا ایمان و وفا پر مرنا ہو۔ یہ میری دعائیں تھیں اور یہی آرزوئیں اور تمنائیں ہوا، کرتی تھیں۔

آخر اللہ کریم نے میرے لئے غیر معمولی سامان بہم پہنچائے اور میں چنگا بھلا رہ کر تو شاید عمر بھر بھی وہاں سے نہ نکل سکتا۔ لہٰذا مجھے ایک خونخوار زخمی چیتے سے زخمی کرا کے اللہ کریم نے وہاں سے نجات دی اور میں مدتوں ہجر و فراق کے درد سہنے کے بعد خدا کے فضل سے پھر دارالامان پہنچا۔

حضور کا یہ سفر میرے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ تھی اور میرے جو کچھ دل میں بھرا تھا اس کے پورا کرنے کے خدا نے سامان کرائے تھے۔ میں ان ایام کو غنیمت سمجھ کر ہر وقت کمر بستہ رہتا اور حضور یا حضور کے خاندان کے احکام و اشارات کی تعمیل اور خدمت میں ایسی لذت اور سرور محسوس کیا کرتا تھا کہ۔

”تخت شاہی پر بھی بیٹھ کر شاید ہی کسی کو وہ لذت خوشی اور سرور میسر ہوا ہو۔“

میں سیر میں ہر وقت ہمرکاب رہتا۔ قیام میں دربانی کرتا اور خدمت کے موقع کی تاک و جستجو میں لگا رہتا۔ ہر کام کو پوری تندہی، محبت اور چستی سے سرانجام پہنچاتا۔ کسی کام سے عار نہ کرتا تھا۔ خدا کا فضل تھا کہ میری دلی مرادیں بھر آئیں اور خدا نے بھی مجھے قبول فرما لیا اس طرح کہ میرے آقا، میرے ہادی و رہنما، میرے امام ہمام اور پیشوا مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی مجھ سے خوش تھے۔ غیر معمولی رنگ میں نوازتے تھے۔ ایسا کہ کوئی شفیق سے شفیق یا مہربان سے مہربان ماں باپ بھی اپنی عزیز ترین اولاد کو بھی کم ہی نوازتے ہوں گے۔ میں چونکہ اپنے محسن و مولا اور رحیم و کریم آقا کے حسن و احسان کے تذکروں سے ایمان میں تازگی، محبت و وفا میں اضافہ اور عقیدت و نیاز مندی کے جذبات میں نمایاں ترقی کے آثار پاتا ہوں اور چونکہ اس رنگ میں یاد حبیب کا عمل میرے دل میں حضور پر نور پر سلام و درود بھیجنے اور حضور کے مقاصد کی تکمیل کے لئے دردمندانہ دعاؤں کا ایک بے پناہ جوش پیدا کرتا ہے۔ اس لئے میں اس ذکر میں بے انداز لذت محسوس کرتا اور بار بار ان کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں کیونکہ

کوئی راہ نزدیک تر راہِ محبت سے نہیں

طے کریں اس راہ سے سالک ہزاروں دشت خار

محبت کے پیدا کرنے اور بڑھانے کا واحد و مجرب طریق حسن و احسان کی یاد آور تکرار ہے۔ کسی خوبی کو ہلکا کر کے اس کی تحقیر کرنا یا کسی نیکی کو بے قدری کی نگاہ سے دیکھنا موجب کفران و خسران اور لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ وَلَئِنۡ کَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ(14:8) کے وعد و وعید کے نیچے آتا ہے۔ فَاعْتَبِرُوْا ۔

سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی سواری کے مقدس رتھ کے پیچھے ایک لکڑی کی سیٹ حکماً لگوا دی تاکہ حضور کا یہ ادنیٰ ترین غلام پیدل چلنے کی بجائے رتھ کے پچھلی طرف حضور کے ساتھ بیٹھ کر کوفت اور تکان سے بچ جایا کرے۔

سبحان اللہ!!! خدا کے برگزیدہ انبیاء و مقدسین کس درجہ رحیم و کریم اور الٰہی اخلاق و صفات کے سچے مظاہر اور کامل نمونے اور تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ کی کیسی صحیح تصویر ہوتے ہیں کہ گویا وہی مثل صادق آتی ہے۔

من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی

تاکس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری

صِبۡغَۃَ اللّٰہِ ۚ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبۡغَۃً(2:139) لوہا جس طرح آگ میں پڑ کر نہ صرف اپنا رنگ ہی کھو دیتا ہے بلکہ اپنے خواص میں بھی ایسی تبدیلی کر لیتا ہے کہ آگ ہی کا رنگ اور آگ ہی کے صفات اس میں پیدا ہو جاتے ہیں۔ بالکل یہی رنگ ان خدا نما انسانوں کا اور بعینہٖ یہی حال ان کاملین کا ہوتا ہے۔

مَیں اُس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بھلا چنگا تندرست و توانا تھا اور میرے جسمانی قویٰ ایسے صحیح اور قوی تھے کہ رتھ یا بیل گاڑی تو درکنار اچھے اچھے گھوڑے بھی مجھ سے بازی نہ لے جا سکتے تھے۔ اور کئی کئی دن رات متواتر کی دوڑ دھوپ اور محنت کا اثر مجھ پر نمایاں نہ ہوا کرتا تھا۔ اور یہ صبح و شام کی سیر یا دن بھر کے کاروبار مجھے محسوس بھی نہ ہوا کرتے تھے۔ مگر حضور کو میرے حال پر توجہ ہوئی اور اس خیال سے کہ میاں عبدالرحمٰن ساتھ چلتے چلتے تھک جاتے ہوں گے لہٰذا ان کے لئے رتھ کے پیچھے الگ جگہ بیٹھنے کی بنا دی جائے۔ اللہ اللہ کتنی ذرہ نوازی۔ کتنا رحم اور کیسا مروت اور حسن سلوک کا عدیم المثال نمونہ ہے۔

ایک روز نا معلوم میرے دل میں کیا آئی شام کی نماز کے بعد جب کہ مجھے خیال تھا کہ سیدنا حضرت اقدس کھانا تناول فرما چکے ہوں گے۔ میں اوپر سے نیچے اترا اس دروازہ پر پہنچا جو خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان کے نچلے شمالی حصہ سے مغربی جانب کوچہ میں کھلتا تھا جہاں حضور معہ اہل بیت رہتے تھے اور دستک دی۔ میرے کھٹکھٹانے پر سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بلند آواز سے دریافت فرمایا۔ کون ہے؟

حضور کا غلام عبدالرحمٰن قادیانی۔ میں نے بالکل دھیمی سی آواز میں عرض کیا اور مارے شرم کے پانی پانی ہو گیا۔ کیونکہ ساتھ ہی میرے کان میں سیدنا حضرت اقدس کی آواز پڑ گئی۔ میں دروازہ پر اس خیال سے گیا تھا کہ دستک دوں گا تو کوئی خادمہ یا بچہ آوے گا۔ میں آہستگی سے اپنا مقصد کہہ دوں گا۔ مگر یہاں معاملہ ہی کچھ اور بن گیا۔ نہ صرف حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا بلکہ سیدنا حضرت اقدس مسیح پاک بھی تشریف فرما ہیں۔ اب ہوگا کیا؟

نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن

’’کیا کہتے ہو بھائی جی؟‘‘ سیدۃ النساء کا فرمان تھا اور اب چپ رہنا یا لوٹ جانا بھی سوء ادبی میں داخل تھا۔ جواب عرض کئے بغیر چارہ نہ تھا۔ نہایت درجہ شرم سے اور بالکل دھیمی سی آواز میں عرض کیا۔ حضور کچھ تبرک چاہتا ہوں۔

’’تمہیں تبرک کی کیا ضرورت۔ تم تو خود ہی تبرک بن گئے۔‘‘

میری درخواست کا جواب دیا سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے، نہ تنہائی میں بلکہ نبی اللہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی موجودگی میں۔ حضور ابھی کھانا تناول فرما رہے تھے اور میں حضور کے بولنے کی آواز اپنے کانوں سے سن رہا تھا۔ ساتھ ہی ارشاد ہوا ’’ذرا ٹھہرو‘‘ میری اس وقت جو حالت تھی اس کا اندازہ میرے خدا اور خود میری اپنی ذات کے سوا کوئی کر ہی کیوں کر سکتا ہے۔ اگرچہ ہم لوگ اس زمانہ میں کوشش کر کے بھی خدا کے برگزیدہ جَرِیُٔ اللّٰہِ فِی حُلَلِ الْاَنْبِیَاءِ کے تبرکات حاصل کیا کرتے تھے۔ اور اس کے لئے ہماری جدوجہد اس درجہ بڑھی ہوئی ہوا کرتی تھی کہ ایک دوسرے پر رشک بھی کیا کرتے تھے۔ اور بارہا خدا کے نبی ورسول کے پس خوردہ کو ذرہ ذرہ اور ریزہ ریزہ کر کے بھی بانٹ کھایا کرتے تھے اور گاہے حضورؐ پر نور خود بھی لطف فرماتے۔ اپنے دست مبارک سے اپنے کھانے میں سے کبھی کسی کو کبھی کسی کو کچھ عطا فرما دیا کرتے تھے۔ اور ایک زمانہ میں جبکہ رات کے وقت ہم لوگ حضرت کے مکانات کا پہرہ دیا کرتے تھے۔ حضورؐ اکثر ہماری خبرگیری فرماتے اور کبھی کبھی کچھ نہ کچھ کھانے کو عطا فرما دیا کرتے تھے۔ جسے ہم لوگ شوق سے لیتے، محبت سے کھاتے اور اپنی خوش بختی پر شکرانے بجالایا کرتے تھے۔ مگر آج جو کچھ مجھ پر گزرا میرے لئے بہت ہی گراں اور بھاری تھا۔ اور اگر مجھے حضورؐ کی موجودگی کا علم نہ ہو جاتا تو شائد میں حضرت اماں جان سے تو چپ سادھ کر یا کھسک کر شرمسار ہونے سے بچ ہی جاتا۔ چند منٹ بعد حضورؐ کے سامنے کا بچا سارا کھانا ایک پتلوس میں لگالگایا میرے لئے آ گیا۔ یہ وہ سعادت اور شرف ہے کہ جس کے لئے ہر موئے بدن اگر ایک نہیں ہزار زبان بھی بن کر شکر نعمت میں قرنوں قرن لگی رہے تو حق یہ ہے کہ حق نعمت ادا نہ ہو۔ مادہ پرست دنیا کا بندہ اگر ان باتوں پر مضحکہ اڑائے تو اس کی تیرہ بختی ہے کیونکہ اس کو وہ آنکھ نہیں ملی جو ان روحانی برکات کو دیکھ سکے۔ اس کو وہ حواس نصیب نہیں کہ ان حقائق سے آشنا ہو۔ ورنہ جاننے والے جانتے اور سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ ایسی سعادت و عزت اور فضل و کرم ہیں کہ وقت آتا ہے جب ہفت اقلیم کی شاہی پر بھی ان کو ترجیح دی جائے گی۔

ایں سعادت بزورِ بازو نیست

تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

کیا چیز تھا ہریش چندر؟ ایک اکھڑ اور متعصب بت پرست، ہندو گھرانے میں پیدا ہونے والا کروڑوں بتوں اور دیوی دیوتاؤں کے پجاری ماں باپ کی اولاد اور کہاں خداوند خدا کا یہ پیارا نبی ورسول وَجِیْهٌ فِیْ حَضْرَتِہٖ کے معزز خطاب سے ممتاز! یہ فضل یہ کرم یہ عطاء وسخا خدائے واحد ویگانہ کی خاص الخاص رحمتوں کا نتیجہ اور فضل و احسان کی دین ہے۔ لَا يُسْئَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْئَلُوْنَ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ثُمَّ الْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذَالِكَ۔

جن ایام میں سیدنا حضرت اقدس ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان میں سکونت پذیر تھے ایک خادمہ نے مجھے نہایت ہی خوشی و محبت اور اخلاص سے یہ مژدہ سنایا کہ آج حضرت صاحب تمہارا ذکر گھر میں اماں جان سے کر رہے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ یہ لڑکا اخلاص و محبت میں کتنی ترقی کر رہا ہے۔ ہمارے تنخواہ دار ملازم بھی اتنی خدمت نہیں کر سکتے جتنی یہ جوش عقیدت و محبت میں کرتا ہے اور اس نے تو رات دن ایک کر کے دکھا دیا وغیرہ۔ وہ الفاظ تو پنجابی میں تھے جن کا مفہوم میں نے اپنے لفظوں میں لکھا ہے۔ اس خادمہ کا نام مجھے اب یاد نہیں کہ کون صاحبہ تھیں۔ مگر یہ ایک واقعہ ہے جس کو میں نے اظہار تشکر و امتنان کے طور پر حضرت کی ذرہ نوازی۔ مروت و احسان کے بیان کی غرض سے لکھا ہے ورنہ یہ اور ایسے ہی دوسرے واقعات کے ذکر سے میں بے انتہا شرم محسوس کرتا اور لکھتے وقت پسینہ پسینہ ہو ہو جاتا ہوں کیونکہ

کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا

میں کیا اور میری بساطِ خدمات کیا۔ ذرہ نوازی اور لطف تھا۔ ”ورنہ درگہ میں اس کی کچھ کم نہ تھے خدمت گذار“

(۴) میرے آقا کی غریب نوازی اور غلام پروری کا ایک اور بھی تذکرہ اس جگہ اسی سفر کا قابلِ بیان ہے وہ یہ کہ سیدنا امام ہمام علیہ الصلوٰۃ والسلام قیام لاہور کے ایام میں سیر کے لئے تشریف لے جانے سے قبل مجھ غلام کو یاد فرماتے اور جب میں اطلاع کرتا، تشریف لاتے تھے۔ یہی حضور کا معمول تھا اور میں بھی نہایت پابندی اور تعہد سے ان اوقات کا انتظام اور انتظار کیا کرتا تھا۔ رتھ کے پیچھے میرے واسطے حضور نے حکم دے کر ایک سیٹ بنوا دی تھی تو فٹن کی سواری میں پیچھے کی طرف کا پائیدان میرا مخصوص مقام تھا جہاں ابتداءً میں پیچھے کو منہ کر کے الٹا کھڑا ہوا کرتا تھا۔ ایسا کہ میری پیٹھ حضرت اور بیگمات کی طرف ہوا کرتی تھی۔ اس خیال سے کہ بیگمات کو تکلیف نہ ہو۔ کیونکہ عموماً سیدۃ النساء اور کوئی اور خواتین مبارکہ بھی حضرت کے ساتھ کوچوان کی طرف والی نشست پر تشریف فرما ہوتیں تو ان کی تکلیف یا پردہ کا خیال میرے الٹا کھڑے ہونے کا موجب و محرک ہوا کرتا تھا۔ مگر ایک روز کہیں حضور کا خیال میری اس حرکت کی طرف مبذول ہو گیا تو حکم دیا کہ میاں عبدالرحمٰن! یوں تکلف کر کے الٹا کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں۔ سفروں میں نہ اتنا سخت پردہ کرنے کا حکم ہے اور نہ ہی اس تکلف کی ضرورت۔ اَلدِّيْنُ يُسْرٌ۔ اور جس طرح عورتوں کو پردہ کا حکم ہے اسی طرح مردوں کو بھی غض بصر کر کے پردہ کی تاکید ہے آپ بے تکلف سیدھے کھڑے ہوا کریں۔

چنانچہ اس کے بعد پھر میں ہمیشہ سیدھا کھڑا ہوا کرتا تھا برعائت پردہ۔ بعض بیگمات کی گودی میں بچے ہوا کرتے تھے۔ گاڑی سے اترتے وقت ان کے اٹھانے میں بھی میں بہت حد تک تکلف کیا کرتا تھا مگر اس سے بھی حضور نے روک دیا اور میں بچوں کو محتاط طریق سے بیگمات کی گودیوں میں سے سہولت لے دے لیا کرتا تھا۔

ایک روز کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ ادھر حضور کے سیر کو تشریف لے جانے کا وقت تھا، گاڑی آ چکی تھی اور میں اطلاع کر چکا تھا۔ ادھر حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف سے ایک خادمہ نے پیغام دیا کہ بھائی جی سے کہو، ہمیں دیسی پان لا دیں۔ میں نے حضرت کی تشریف آوری کے خیال سے عذر کیا تو دوبارہ پھر سہ بارہ تاکیدی حکم پہنچا کہ نہیں آپ ہی لاؤ اور جلدی آؤ۔ مجبور ہو کر سر توڑ بھاگا۔ لوہاری دروازہ کے باہر انارکلی میں ایک دکان پر اچھے دیسی پان ملا کرتے تھے، وہاں سے پان لے کر واپس پہنچا تو موجود دوستوں نے بتایا کہ ”حضرت اقدس تشریف لائے، تمہارے متعلق معلوم کیا، غیر حاضر پا کر واپس اندر تشریف لے گئے۔“ میں پہلے ہی دوڑ بھاگ کی وجہ سے پسینہ پسینہ ہو رہا تھا۔ یہ واقعہ سن کر کانپ اٹھا اور ڈرتے ڈرتے دستک دے کر جہاں خادمہ کو پان دیئے وہاں حضرت کے حضور اپنی حاضری کی اطلاع بھی بھیج دی۔ حضور پرنور فوراً تشریف لے آئے اور فرمایا ”میاں عبدالرحمٰن آپ کہاں چلے گئے تھے۔ ہم نے جو کہہ رکھا ہے کہ سیر کے وقت موجود رہا کرو اور کہیں نہ جایا کرو۔“ حضور! اماں جان نے حکم بھیجا تھا۔ میں نے عذر بھی کیا مگر اماں جان نے قبول نہ فرمایا اور تاکیدی حکم دے کر کہلا بھیجا کہ تم ہی ہمارا یہ کام کرو۔ حضور! میں اماں جان کا حکم ٹال نہ سکا اور چلا گیا۔ بس حضور پرنور فٹن میں سوار ہوئے اور سیر کے واسطے تشریف لے گئے اور حضور کا یہ ادنیٰ ترین غلام بھی حسب معمول حضور کے ہمرکاب آخری دن کی سیر تک ہمرکابی کی عزت پاتا رہا۔ فٹن یعنی گھوڑا گاڑی جو حضور کی سیر کے واسطے منگوائی جاتی تھی۔ اس کے متعلق حضور کی تاکیدی ہدایت ہوا کرتی تھی کہ کوچوان حتی الوسع بھلا مانس تلاش کیا جاوے جو جھگڑالو اور بد زبان نہ ہو۔ گھوڑے شوخ نہ ہوں بلکہ اچھے سدھے ہوئے اور گاڑی صاف ستھری ہو، شکستہ نہ ہو۔ تیز چلانے کو حضور کبھی پسند نہ فرماتے تھے۔ کرایہ فٹن کا روزانہ واپسی پر ادا فرما دیا کرتے تھے۔ کوئی بقایا نہ رہنے دیتے تھے۔ گھوڑا گاڑی عموماً بدلتی رہتی تھی۔ کسی خاص گاڑی یا گاڑی بان سے کوئی معاہدہ یا ٹھیکہ نہ تھا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ کوئی گاڑی بان دو تین روز متواتر آجاتا۔

سیر کے واسطے حضور عموماً مکان سے سٹیشن کی طرف ہوتے ہوئے ایمپریس روڈ ، شملہ پہاڑی اور وہاں سے جانبِ شرق لاٹ صاحب کی کوٹھی کے مشرقی جانب سے ہوتے ہوئے لارنس گارڈن مال روڈ کو تشریف لے جاتے۔ گاہے انارکلی میں سے ہوتے ہوئے سرکلر روڈ پر لوہاری ، شاہ عالمی، موچی دروازہ کے باہر باہر مکان پر تشریف لاتے ۔ کبھی مال روڈ ہی سے واپسی کا حکم ہو جاتا۔ تنگ بازاروں میں حضور جانا پسند نہ فرماتے تھے۔ زیادہ تر کھلی اور آبادی سے باہر کی سڑکوں کی طرف حضور کو رغبت تھی۔ انارکلی وغیرہ کی طرف کبھی ضرورتاً تشریف لے جاتے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ حضور کوئی حکم نہ دیتے اور میں اپنی مرضی ہی سے حضور کے حسبِ پسند راہوں سے ہو کر واپس لے آتا۔ سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی کبھی بعض اوقات براہِ راست ہمیں حکم دیتیں کہ فلاں جگہ کو لے چلو۔ حضور پُر نور خاموش رہتے، انکار فرماتے نہ ناپسند فرماتے۔ سیر کے اوقات میں گفتگو عموماً مسائلِ دینیہ کے بارہ میں یا نظامِ سلسلہ سے متعلق رہتی۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ حضور پُر نور بالکل خاموش ہی نظر آتے مگر حضور کے لبوں کی حرکت سے ذکرِ الٰہی اور تسبیحات میں مصروفیت کا یقین ہوتا تھا۔

قیامِ لاہور کے زمانہ میں حضور پُر نور لاہور کے مضافات کی مشہور سیر گاہوں میں بھی تشریف لے جاتے رہے۔ مثلاً شالا مار باغ متصل باغبانپورہ۔ شالا مار باغ نیا جو کسی ہندو ساہوکار نے لاہور شہر کے جنوب کی طرف چند میل کے فاصلہ پر بنوایا۔ مقبرہ جہانگیر وغیرہ مگر ان مقامات میں سے شالا مار باغ متصل باغبانپورہ حضرت کو زیادہ پسند تھا۔ اور حضور وہاں ایک سے زیادہ مرتبہ تشریف لے گئے۔ زیادہ دیر تک وہاں قیام فرمایا اور زیادہ ہی دیر تک علیحدگی میں ٹہلتے اور دعائیں کرتے رہے۔ مقبرہ جہانگیر کے مغربی جانب علیحدہ ایک مزار ہے اس طرف حضور تشریف نہ لے گئے۔ مگر بھول بھلیاں یا جو کچھ بھی اس جگہ کا نام ہے ریلوے لائن کے مغربی جانب ایک عمارت ہے جس میں بہت سے دروازے ہی دروازے ڈاٹ دار ہیں وہاں حضور بیگمات اور بچوں کے ساتھ تشریف لے گئے۔

شالامار باغ سے ایک مرتبہ واپسی پر بڑے زور کی آندھی آگئی جو بہت سخت تھی۔ احباب جو مکان پر تھے ان کو بہت فکر ہوئی۔ چنانچہ کئی دوست شالامار باغ کی طرف چل نکلے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی شان کہ آندھی کی شدت سے پہلے ہی پہلے حضور معہ تمام قافلہ مکان پر بخیریت پہنچ گئے۔ حضور کا معمول تھا کہ سیر و تفریح کو جانے سے قبل حاجات سے فراغت پا کر تشریف لایا کرتے تھے۔ مگر پیشاب کی حاجت حضور کو اس لمبی سیر کے دوران میں بھی ہو جایا کرتی تھی۔ جس کے لئے حضور کسی قدر فاصلہ پر حتی الوسع نظروں سے اوجھل بیٹھ کر قضائے حاجت فرمایا کرتے تھے۔ لوٹا پانی کا کبھی حضور خود ہی اٹھا کر لے جایا کرتے اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ حضور جا کر قضائے حاجت کے لئے بیٹھ بھی جاتے اور میں احتیاط سے پیچھے کی طرف سے ہو کر لوٹا حضرت کے دائیں جانب رکھ دیا کرتا اور حضور فارغ ہو جاتے تو لوٹا اٹھا کر لے آتا۔ ڈھیلا لیتے میں نے حضور کو دیکھا نہ سنا۔ اسی طرح اکثر حضور کو وضو کرانے کے مواقع بھی میسر آتے رہے۔ وضو حضور بہت سنوار کر فرمایا کرتے۔ ہر عضو کو تین تین دفعہ دھوتے ، سر کے صرف اگلے حصہ کا مسح فرمایا کرتے۔ ریش مبارک میں خلال فرماتے اور جرابوں پر مسح۔ کبھی جرابیں اتار کر بھی پاؤں دھوتے تو انگلیوں میں خلال فرماتے۔ دانتوں کو انگلی سے اچھی طرح ملتے اور مسوڑھوں کو بھی صاف فرماتے تھے۔

لاہور کے اسی سفر کا واقعہ ہے کہ حاجی محمد موسیٰ صاحب نے ایک دن ایک موٹر کار حضور کی سواری کے واسطے کہیں سے مہیا کی اور حضرت سے اس میں سوار ہونے کی درخواست کی نیز سیدۃ النساء حضرت اُمّ المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بھی سوار ہونے کی خواہش کی۔ چنانچہ حضور پرنور معہ سیدہ حضرت اُمّ المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا موٹر میں سوار ہونے کی غرض سے مکان سے اتر کر سڑک پر تشریف لائے مگر موقعہ پر پہنچ کر سیدہ نے سوار ہونے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ مجھے خوف آتا ہے مگر حضرت اقدس بعض بچوں سمیت سوار ہوئے اور ایک قریبی سڑک کا چکر کاٹ کر واپس تشریف لے آئے۔ موٹر اس زمانہ میں

ابھی نئی نئی لاہور میں آئی تھی۔

اسی سفر کے دوران میں شاہزادگانِ والا تبار میں سے کسی صاحبزادہ نے حضرت سے بائیسکل خرید دینے کی خواہش کی۔ حضرت شاہزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سلّمہ ربّہ اس وقت اپنی گھوڑی پر سوار ہمرکاب تھے، پاس سے کوئی سائیکل سوار نکلتے دیکھ کر حضور نے فرمایا کہ ”سائیکل کی سواری گھوڑے کے مقابل میں تو ایک کتے کی سواری نظر آتی ہے۔“ اس واقعہ کے وقت حضور کی گاڑی اسلامیہ کالج (موجودہ) کے جنوبی جانب کی سڑک پر سے ہو کر سیر کو جا رہی تھی جس پر آجکل مغرب کو جا کر کچھ دور امرت دھارا بلڈنگ اور سبزی منڈی واقع ہیں۔

ایامِ قیامِ لاہور میں حضور کو بہت ہی مصروفیت رہا کرتی تھی۔ کیونکہ حضور کے لاہور پہنچتے ہی سارے شہر میں ہلچل مچ گئی اور ایک شور بپا ہو گیا۔ جس کی وجہ سے ہر قسم کے لوگ اس کثرت سے آتے رہتے تھے کہ خلقِ خدا کا تانتا بندھا رہتا اور رجوع کا یہ عالم تھا کہ باوجود مخالفانہ کوششوں اور سخت روکوں کے لوگ جوق در جوق لوہے کی طرح اس مقناطیس کی طرف کھنچے چلے آتے۔ مولویوں کے فتووں کی پرواہ کرتے نہ ان کی دھمکیوں سے ڈرتے۔ اپنے بھی آتے اور بیگانے بھی۔ دوست بھی اور دشمن بھی۔ موافق بھی اور مخالف بھی۔ محبت سے بھی اور عداوت سے بھی۔ علماء بھی آتے اور امراء بھی۔ الغرض عوام اور خواص، عالم اور فاضل، گریجوایٹ اور فلاسفر، ہر طبقہ اور ہر رتبہ کے لوگ جمع ہوتے اپنے علم و مذاق کے مطابق سوالات کرتے اور جواب پاتے تھے۔

اس اقبال اور رجوعِ خلق کو دیکھ کر مولوی لوگوں کے سینے پر سانپ لوٹنے لگے۔ وہ اس منظر کو برداشت نہ کر سکے اور آپے سے باہر ہو گئے۔ انہوں نے بالمقابل ایک اڈا قائم کیا جہاں ہر روز مخالفانہ تقریریں کرتے۔ گالی گلوچ اور سب و شتم کا بازار گرم رکھتے۔ افتراء پردازی اور بہتان طرازی کے ایسے شرمناک مظاہرے کرتے کہ انسانیت ان کی ایسی کرتوتوں پر سر پیٹتی اور اخلاق و شرافت کا جنازہ اٹھ جاتا۔ توہین و دل آزاری اتنی کرتے کہ قوتِ برداشت اس کی متحمل نہ ہو سکتی۔ مجبور ہو کر، تنگ آ کر بعض دوستوں نے حضرت کے حضور اپنے درد کا اظہار کیا تو حضور نے یہی نصیحت فرمائی کہ ’’گالیاں سن کے دعا دو پا کے دکھ آرام دو‘‘ صبر کرو اور ان کی گالیوں کی پرواہ نہ کیا کرو۔ برتن میں جو کچھ ہوتا ہے وہی نکلتا ہے۔ دراصل ان کو سمجھ نہیں کیونکہ اس طرح تو وہ آپ ہماری فتح اور اپنی شکست کا ثبوت بہم پہنچاتے ہماری صداقت اور اپنے بطلان پر مہر تصدیق لگاتے ہیں۔ منہ پھیر کر، کان لپیٹ کر نکل آیا کرو۔ کہتے ہیں ’’صبر گرچہ تلخ است لیکن بَرِ شیریں دارد‘‘ صبر کا اجر ہے حضور پرنور کی یہ نصیحت کارگر ہوئی۔ غلاموں نے کانوں میں روئی ڈال کر، کلیجوں پر پتھر باندھ کر یہ سب وشتم سنا اور برداشت کیا۔ اُف تک نہ کی اور اپنے آقا نامدار کی تعلیم پر ایسی طرح عمل کر کے دکھایا کہ جس کی مثال قرونِ اولیٰ کے سوا بہت ہی کم دنیا میں پائی جاتی ہے۔ چنانچہ اس کے خوش کن نتائج اور ثمراتِ شیریں بھی ملنے شروع ہو گئے اور باوجود مخالفوں کی مخالفت کے علی رغم انف، سلیم الطبع اور شریف المزاج انسانوں نے اس زمانہ میں اس کثرت سے بیعت کی کہ ہمارے اخبارات ان اسماء کی اشاعت کی گنجائش نہ پاسکے اور اعلان کیا کہ ’’بقدر گنجائش انشاء اللہ بتدریج اسماء بیعت کنندگان شائع کئے جاتے رہیں گے۔‘‘

قصہ کوتاہ۔ حضور کا یہ سفر جہاں گونا گوں مصروفیتوں کے باعث حضرت اقدس کے لئے شبانہ روز بے انداز محنت و انہماک اور توجہ و استغراق کے سامان بہم پہنچاتا وہاں اپنے اور بیگانے ہر رتبہ و مرتبہ کے لوگوں کے واسطے رحمت و ہدایت اور علم و معرفت کے حصول کا ذریعہ تھا۔ طالبانِ حق اور تشنگانِ ہدایت آتے نور و ہدایت اور ایمان و عرفان کے چشمہ سے سیری پاتے تھے۔ مقامی شرفاء اور معززین کے علاوہ بعض مخالف مولوی بھی آتے رہتے۔ بیرونی جماعتوں کے دوست بھی اکثر حضور کی زیارت کرنے اور فیض صحبت پانے کی غرض سے جمع رہتے تھے۔ اور چونکہ قادیان کی نسبت لاہور پہنچنا کئی لحاظ سے آسان تر اور مفید تر تھا۔ دوست اس سہولت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی غرض سے اکثر آتے تھے اور اس طرح اچھا خاصہ ایک جلسہ کا رنگ دکھائی دیا کرتا تھا۔ چنانچہ اسی ضرورت کے ماتحت حضرت اقدس کو لنگر کا انتظام بھی لاہور ہی میں کرنا پڑا۔ نمازوں کے بعد عموماً حضور کا دربار لگتا اور مختلف علمی و اختلافی مسائل کا چرچا رہتا تھا۔ ایک انگریز سیاح ماہر علوم ہیئت و فلسفہ ان ایام میں جابجا لیکچر دیتا پھرتا تھا۔ ہمارے محترم حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے جن کو تبلیغ کا قابلِ رشک شوق وجوش رہتا ہے اور وہ ایسے لوگوں کی تلاش میں رہا کرتے ہیں انہوں نے اس سے ملاقات کر کے اس کو حضرت اقدس کے حالات سے آگاہ کیا اور حضرت سے ملاقات کرنے کی تحریص دلائی۔ چنانچہ اس کی خواہش پر حضرت سے اجازت لے کر اس کو حضور کی ملاقات کے واسطے لے آئے۔ اس کی بیوی اور ایک بچہ چھوٹا سا بھی اس کے ہمراہ تھے۔ ملاقات کیا تھی ہم لوگوں کے لئے بحر علم وعرفان کے چشمے رواں ہو گئے اور اس ملاقات کے نتیجہ میں وہ علوم ہم لوگوں کو حاصل ہوئے جو اس سے پہلے نصیب نہ تھے۔ وہ انگریز بھی بہت متاثر اور خوش تھا اور اس پر ایسا گہرا اثر حضور کی اس ملاقات، توجہ اور علوم لدنی میں کمال کا ہوا کہ اس نے ایک بار پھر اس قسم کی ملاقات کی خواہش کی۔ چنانچہ وہ پھر ایک مرتبہ حضرت کے حضور حاضر ہوا اور ایسے علوم لے کر واپس گیا جس کے بعد اس کے لیکچروں اور تقاریر کا رنگ ہی پلٹ گیا۔

شاہزادہ محمد ابراہیم صاحب جو کابل کے شاہی خاندان کے ممبر اور رؤساء عظام میں سے تھے ان کو حضرت سے عقیدت و نیازمندی اور محبت تھی، حضرت کی ملاقات کو تشریف لائے۔ ۲؍ مئی کا دن تھا حضرت نے اس صحبت میں ایک معرکۃ الآرا تقریر فرمائی اور کھول کر تبلیغ فرمائی۔ اتنا اثر اور اتنا جذب تھا کہ حاضرین ہمہ تن گوش بن کر بے حس وحرکت بیٹھے سنتے اور زار و قطار روتے رہے۔ اسی تقریر کے نتیجہ میں شاہزادہ صاحب نے ہمارے ارباب حل وعقد کو تحریک کی کہ حضور کی ایک تقریر خاص اہتمام وانتظام سے کرائی جائے جس میں لاہور اور مضافات کے اکابر و شرفاء کو شمولیت کی دعوت دی جاوے۔ چنانچہ شاہزادہ صاحب کی تجویز موثر ثابت ہوئی اور اس طرح ایک اہم ترین اور کامل واکمل تقریر حضور پر نور نے لاہور اور مضافات کے صنادید، بڑے بڑے امرا اور شرفاء کے مجمع میں قریباً اڑھائی گھنٹہ تک کھڑے ہو کر فرمائی۔ تقریر کیا تھی؟

تکمیل تبلیغ اور اتمام الحجة

تھی جس میں حضور نے کھول کھول کر حق تبلیغ ادا فرمایا اور سلسلہ کے سارے ہی خصوصی مسائل پر روشنی ڈالی وہاں اپنے منصبِ عالی اور مقامِ محمود کے متعلق بھی کھول کر اعلان فرمایا:

جماعت لاہور کے سرکردہ دوستوں کی خواہش تھی کہ حضور کی تشریف آوری سے فائدہ اٹھا کر بڑے بڑے لوگوں کو تبلیغ کی جائے مگر چونکہ وہ لوگ اپنے آپ کو اتنا بڑا خیال کرتے تھے کہ مقامی دوستوں سے بعض حالات میں سلسلہ کے متعلق بات کرنا بھی نہ صرف پسند نہ کرتے تھے بلکہ اس میں اپنی ہتک سمجھتے ہوئے تبلیغ کا موقعہ ہی نہ دیا کرتے تھے۔ شاہزادہ محمد ابراہیم صاحب کی شرکت سے دوستوں کی اس خواہش کے پورا ہونے کا ایک موقعہ پیدا ہو گیا اور احباب کئی دن کی سوچ بچار اور مشورہ کے بعد اس فیصلہ پر پہنچے کہ ان لوگوں کو ان کی شان کے مناسب حال ایک دعوت میں جمع کیا جائے کیونکہ اس کے بغیر ان کا جمع ہونا بھی محال تھا۔ چنانچہ ایک فہرست مرتب کر کے دعوت نامے بھیجے گئے اور دعوت کے انتظامات مکمل ہو چکے تھے کہ اچانک سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر مقررہ دن سے ایک روز پہلے وہی اسہال کی بیماری کا حملہ ہو گیا جس سے حضور بہت کمزور ہو گئے اور اندیشہ پیدا ہو گیا کہ دعوت شاید بغیر تبلیغ ہی کے گزر جائے گی۔ دوستوں کو بہت گھبراہٹ تھی کہ اب ہو گا کیا، مگر قربان جائیں اللہ کریم کے جس نے ناامیدی کو امید سے بدل کر ایک تازہ نشان سے اپنے بندوں کی مدد فرمائی جس سے ایمانوں میں تازگی و بشاشت اور عرفان میں نمایاں زیادتی ہوئی اور ایسا معلوم ہوتا تھا گویا خدا کا کلام کہ

”ڈرو مت مومنو“

اسی موقعہ کی گھبراہٹ اور خوف سے تسلی دلانے کو نازل ہوا تھا۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مقررہ دن سے پہلی رات کے آخری حصہ میں ہمارے آقا و مولا سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ کریم نے اپنی تازہ وحی سے یوں سرفراز فرمایا۔

”اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ“

میں خود اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہو کر تبلیغ کراؤں گا۔ ضعف و کمزوری اور تکلیف و بیماری سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ یہ میرا اپنا کام ہے اور میں اسے سرانجام دوں گا۔

چنانچہ دن چڑھا منتظمین نے دعوت کے انتظامات شروع کئے اور ہوتے ہوتے معزز مہمان اور شرفاء کی سواریاں آنے لگیں۔ مگر حضرت کی طبیعت بدستور نڈھال و کمزور تھی اور ضعف و نقاہت کا یہ حال تھا کہ اس کی موجودگی میں حضور کو تقریر کر سکنے کی قطعاً کوئی امید نہ تھی اور اسی خیال سے حضور نے حضرت مولانا مولوی نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم بھیجا کہ آپ ہی آنے والے مہمانوں کی روحانی دعوت کا کچھ سامان کریں۔ چنانچہ وقت پر حضرت مولوی صاحب نے تقریر شروع فرما دی مگر تھوڑی ہی دیر بعد وہ ماہِ منور اور خورشیدِ انور بنفسِ نفیس ہم پر طلوع فرما ہوا۔ حضرت مولوی صاحب نے تقریر بند کی اور حضور پُر نور نے کھڑے ہو کر حاضرین کو خطاب فرماتے ہوئے کم وبیش تین گھنٹہ تک ایسی پُر زور، پُر معارف اور علم و معرفت سے لبریز تقریر فرمائی کہ اپنے تو درکنار، غیر بھی عش عش کر اٹھے اور ایسے ہمہ تن گوش ہو کر سنتے رہے کہ گویا مسحور تھے۔ اور اس روحانی مائدہ کی ایسی لذت ان کو محسوس ہوئی کہ جس نے جسمانی غذا سے بھی ان کو مستغنی کر رکھا تھا۔

جلسہ اعظم مذاہب ۹۶ء میں بھی میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاضر و موجود تھا۔ وہ نظارہ جو حضرت کی تحریر کے پڑھے جانے کے وقت آنکھوں نے دیکھا۔ لَا رَیْبَ کم ہی پہلے کبھی دنیا نے دیکھا ہوگا۔ مگر اس جلسہ میں ہماری آنکھوں نے خدا کی جس قدرت اور عظمت و سطوت کا مشاہدہ کیا وہ بلحاظ اپنی کیفیت و کمّیت کے جلسہ مہوتسو سے بھی کہیں بڑھی ہوئی تھی۔ اِس میں اور اُس میں زمین و آسمان کا فرق تھا کیونکہ یہاں خدا کا برگزیدہ نبی اور رسول خود اپنے خدا کی معیت میں کھڑا بول رہا تھا۔ جلسہ اعظم مذاہب میں مضامین علمی تھے مگر یہاں ایسے اختلافی کہ سامعین کا ان کو سن لینا بجائے خود ایک معجزہ سے کم نہ تھا۔ حضور کی تقریر میں ایسی روانی تھی کہ نوٹ کرنا مشکل ہو رہا تھا اور بیان میں اتنی قوت و شوکت تھی کہ بھرے مجمع میں کسی کے سانس کی حرکت بھی محسوس نہ ہوتی تھی اور حضور اس جوش سے تقریر فرما رہے تھے کہ زورِ تقریر کے ساتھ ساتھ حضور پُر نور خود بھی سامعین کی طرف بڑھے چلے جا رہے تھے۔ میں نے اپنی آنکھوں دیکھا اور اس بات کو اچھی طرح نوٹ کیا کہ حضور میز سے کئی مرتبہ چند چند قدم آگے بڑھ جاتے رہے تھے۔ حضور میز کو آگے لے کر نہ کھڑے تھے بلکہ میز حضور کی پشت پر تھی۔

حضور کی یہ تقریر ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان کے صحن میں زیادہ سے زیادہ حضور کے وصال سے ایک عشرہ پہلے ہوئی تھی جس کو تکمیل تبلیغ اور اتمامِ حجت کے نام سے یاد کیا کرتے تھے اور ماہر علومِ ہیئت انگریز سے مکالمہ خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان کے اوپر کے حصہ میں اس سے قبل ہو چکا تھا۔ ان تقریروں کے علاوہ کئی چھوٹی بڑی تقاریر حضور نے فرمائیں جن کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں۔ کچھ ہندو مستورات پیغامِ صلح کی تصنیف کے دوران میں حضرت کے درشن کرنے کی غرض سے ایک وفد کی صورت میں حاضر ہوئیں جبکہ حضورؐ ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان میں تشریف فرما تھے۔ حضور چونکہ بہت مصروف تھے ان کو جلدی رخصت فرمانا چاہا مگر انہوں نے عذر کیا اور کوئی نصیحت فرمانے کی درخواست کچھ ایسے رنگ میں کی کہ حضور نے باوجود انتہائی مصروفیت کے ان کی درخواست کو قبول فرما کر توحید کی تلقین فرمائی اور بت پرستی سے منع فرمایا۔ خدا سے دعا و پرارتھنا کی تاکید فرمائی۔ یہ واقعہ بالکل آخری ایک دو روز کا ہے۔ دراصل وہ مستورات بہت دیر ٹھہرنا اور بہت کچھ حضور کی زبانِ مبارک سے سننا چاہتی تھیں مگر حضور کی انتہائی مصروفیت کی وجہ سے مجبوراً بادلِ ناخواستہ جلد چلی گئیں۔ اسی طرح حضور کی ایک اور تقریر اپنے بعض فقرات کی وجہ سے نیز آخری ہونے کی وجہ سے خاص طور پر مشہور اور زبان زدِ خلائق ہے جس میں حضور نے فرمایا تھا۔

عیسیٰ مسیح کو مرنے دو کہ اسی میں اسلام کی زندگی ہے

مسیح محمدی کو آنے دو کہ اسی میں اسلام کی بزرگی ہے

الغرض حضور کا قیام لاہور ایسے ہی حالات کا مجموعہ اور اسی قسم کی مصروفیتوں کا مرکز تھا۔ حق و حکمت کے خزائن لٹا کرتے اور علم و معرفت کے موتی بٹا کرتے تھے۔ اور اگرچہ اس سفر کا عرصہ بالکل محدود، زیادہ سے زیادہ صرف ایک ماہ تھا مگر اس سفر کے نقشہ پر بحیثیت مجموعی غور کرنے سے ایک ایسی پرکیف کیفیت نمایاں طور سے نظر آنے لگتی ہے جیسے کوئی یکہ و تنہا مسافر کسی لمبے بے آب و گیاہ اور سنسان ویرانے کے سفر کو جلد جلد طے کر کے منزلِ مقصود پر پہنچنے کی انتھک اور سرگرم کوشش میں لگ رہا ہو یا کوئی جری و بہادر جانباز جرنیل چاروں طرف سے خونخوار دشمنوں کے گھیرے میں پھنسا ہوا دائیں بائیں اور آگے پیچھے کے واروں کو بچاتا، ان کا حلقہ توڑ کر شیر نر کی طرح حملے کرتا اپنی منزلِ مقصود تک پہنچنے کی جدوجہد میں مصروف ہو۔ بعینہٖ یہی حال حضور کی تبلیغی کوششوں، سرگرمیوں اور مساعی جمیلہ کا بنظرِ غائر مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا تھا اور ایسا نظر آتا تھا کہ گویا حضور کی ساری زندگی کا نچوڑ اور سارے مقاصد اور سلسلہ کے اہم مسائل اور خصوصی عقائد کی تکمیل کا یہ سفر ایک مجموعہ اور خلاصہ تھا۔ اور کہ حضور ان ایام کو غنیمت جان کر ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانا چاہتے تھے۔ انہماک و مصروفیت کا یہ عالم تھا کہ کوئی لمحہ فارغ نہ جاتا تھا اور حضور کی پوری توجہ اور ساری کوشش وسعی تبلیغ واشاعت ہی پر مرکوز تھی اور کم از کم پچیس مختلف صحبتوں اور تقاریر کا ذکر تو اخبارات میں موجود ہے۔ کتنی تقاریر اور ڈائریاں میری کوتاہ قلمی یا غیر حاضری کی نذر ہوئیں یا کتنی صحبتوں میں شرکت سے دوسرے ڈائری نویس محروم رہے اس بات کا علم اللہ کو ہے۔ اور اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ بہت کچھ لکھنے سے رہ جایا کرتا تھا۔ مجھے خود اپنی کمزوریوں کا اعتراف ہے اور میں اقرار کرتا ہوں کہ بہت سے وہ معارف اور حقائق جو حضور سیر کے وقت بیان فرمایا کرتے ، میں اپنی مجبوریوں اور کمزوریوں کی وجہ سے صفحہ قرطاس پر نہ لاسکا۔ حضور کی آخری تصنیف یعنی پیغامِ صلح اور اخبار عام والے خط کو اگر شامل کر لیا جائے جو حضور نے اپنے دعوئے نبوت کی تشریح فرماتے ہوئے اخبار عام کو لکھا تھا تو حضور کی معلومہ۔ مطبوعہ و مشتہرہ تقاریر کی تعداد ستائیس ہو جاتی ہے۔ کتنے خطوط اس عرصہ میں حضور نے دوستوں کو ہمارے مکرم ومحترم حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے لکھوائے اور کتنے خطوط حضور نے بعض خوش نصیب خدام کو خود از راہ شفقت وذرہ نوازی دست مبارک سے لکھے۔ ان کا اندازہ بھی میری طاقت وبساط سے باہر ہے۔ خلاصہ یہ کہ حضور کی ساری ہی حیات طیبہ، انفاس قدسیہ اور توجہات عالیہ جہاں خدا کے نام کے جلال کے اظہار، اس کے رسول ﷺ کی صداقت وعظمت کے اثبات اور اس کی مخلوق کی بہتری و بہبودی کے لئے وقف تھیں وہاں خصوصیت سے حضور کی پاکیزہ زندگی کے یہ آخری ایام

اَنْتَ الشَّیْخُ الْمَسِیْحُ الَّذِیْ لَا یُضَاعُ وَقْتُهُ

کی سچی تفسیر اور مصدّقہ نقشہ تھا۔ خدا کا برگزیدہ مسیح ہم میں موجود تھا جو ہماری آنکھوں کا سرور، دلوں کا نور بنا رہتا تھا جس کے در کی گدائی دنیا و ما فیھا سے بہتر معلوم دیتی تھی اور اس سے ایک پل کی جدائی موت سے زیادہ دوبھر ہوا کرتی تھی۔ اس کی صحبت آبِ حیات اور کلام حوض کوثر ہوا کرتا تھا۔ اس کی خلوت ذکرِ الٰہی اور خدا سے ہم کلامی میں اور جلوت تبلیغ اسلام اور تزکیہ نفوس میں گزرا کرتی تھی۔ دل میں ہزار غم ہوتا طبیعت کیسی ہی افسردہ ہوتی اس نورانی چہرہ پر نظر پڑتے ہی تمام غم اور ساری افسردگی کافور ہو جایا کرتی تھی۔ انسان کتنے ہی خطرناک مصائب و آلام کا شکار بنا ہوتا، کتنی ہی مشکلات میں مبتلا ہوتا اس محبوب الٰہی کی ایک نظر شفقت اور دعاءِ مستجاب ان کا حل بن جایا کرتی تھی۔ اس کی مجلس خدا نما مجلس اور اخلاق محمدی اخلاق تھے اور حلقہ بگوش خدام گویا نبوت کی اس شمعِ ہدایت کے گرد پروانے تھے، اس کی صحبت میں مجلس نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی جھلک اور غلاموں میں صحابیت کا رنگ نظر آتا تھا، اور سب سے بڑی نعمت اس کے وجودِ باجود سے ہمیں یہ میسر تھی کہ خدا اس سے ہم کلام ہوتا تھا اور وہ مقدس وجود خدا سے وحی پا کر اس کا تازہ بہ تازہ کلام ہمیں سنایا کرتا تھا جس کا بعض حصہ اسی دن اور بعض اوقات قریب ایام میں پورا ہو جایا کرتا تھا۔ جس سے اطمینان اور ثلج قلب ملتا اور زندہ خدا، زندہ رسول، زندہ مذہب کی زندگی کا یقینی ثبوت ملتا اور اس طرح زندہ ہی ہمارے ایمان بھی ہو جایا کرتے تھے۔ اللہم صل علیه وعلى مطاعه والهما وبارک وسلم انک حمید مجید۔ ایک قابل ذکر واقعہ مجھ سے بیان کرنا رہ گیا اور وہ یہ ہے کہ ایک روز بعد عصر کی سیر کے دوران میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مولوی محمد علی صاحب ایم اے کے ایک خط آمدہ از قادیان کا ذکر فرماتے ہوئے بہت ہی رنج اور ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ قادیان سے انہوں نے ایک خط خواجہ کمال الدین صاحب بی اے ایل ایل بی کو لکھا جس میں علاوہ اور امور کے لنگر خانہ کے خرچ کا ذکر کچھ ایسے رنگ میں تھا جس سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ مولوی صاحب بدظنی کی مرض میں مبتلا ہیں اور ان کے دل میں حضرت اقدس کی امانت و دیانت کے متعلق شبہات ہیں اور ان کو خیال ہے کہ لنگر خانہ کے اخراجات تو بہت قلیل ہیں اور آمد اس کے مقابل میں کہیں زیادہ ہوتی ہے جس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوتا اور یہ امر انہوں نے سیدنا حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قادیان سے لاہور تشریف لے آنے کے بعد ایک ماہ ہی اخراجات کے اعداد و شمار درج کر کے زیادہ واضح بھی کر دکھایا تھا۔ حضرت نے فٹن میں سوار ہو کر بہت پُر درد لہجہ میں اس کا ذکر حضرت نانا جان قبلہ مرحوم و مغفور رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا جو کہ سیر میں حضور کے ساتھ اور پہلو بہ پہلو تشریف فرما تھے۔ سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور خاندان کی بیگمات اور بعض بچے بھی موجود تھے اور حضور کا یہ ادنیٰ ترین غلام حسب معمول پچھلے پائیدان پر کھڑا اپنے ان دو کانوں سے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے عطا فرما رکھے ہیں، حضور کی آواز کو سن رہا

تھا اور خدا کی دی ہوئی ان دونوں آنکھوں سے حضور کے لبانِ مبارک کی جنبش کو دیکھ رہا تھا۔ میرا خالق و مالک جس نے مجھے پیدا کیا اور جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس بات پر گواہ ہے کہ میں نے جو کچھ سنا اور دیکھا تھا وہی لکھ رہا ہوں۔

حضور پُر نور نے فرمایا کہ خواجہ صاحب آج مولوی محمد علی صاحب کا ایک خط لائے جس میں لکھا تھا کہ لنگر خانہ کا خرچ تو بہت ہی تھوڑا ہوتا ہے مگر آمد بہت زیادہ ہوتی ہے، نہ معلوم وہ روپیہ کہاں جاتا ہے وغیرہ۔ ”خدا جانے ان لوگوں کے ایمان کیسے کچے ہیں اور بدظنی کا مادہ ان میں کیوں اتنا بڑھ گیا ہے کہ ہماری بیعت کرنے اور مرید کہلانے کے باوجود بلا تحقیق ایسی باتیں بناتے ہیں جن سے ہمیں تو نفاق کی بو آتی ہے اور ایسے لوگوں کے انجام کے متعلق خطرہ ہی رہتا ہے۔ لنگر خانہ کا انتظام تو ہم نے منشاء الٰہی کے ماتحت اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے ورنہ ہمیں تو اس کی وجہ سے بہت تکلیف ہوتی ہے اور بعض اوقات یہ امر اصل کام میں بھی مالی مشکلات اور ان کے حل کے افکار کی وجہ سے حارج ہوتا اور روک بن جایا کرتا ہے اور ہمیں تو اکثر اس کے چلانے کے واسطے قرض وام بھی کرنا پڑتا ہے۔ ان لوگوں کو شوق تو ہے کہ لنگر کا انتظام ان لوگوں کے ہاتھ میں دے دیا جائے مگر ہمیں اندیشہ ہے کہ اگر لنگر خانہ کا انتظام ان لوگوں کے سپرد کر دیا جائے تو یہ کام کہیں بند ہی نہ ہو جائے۔ یا مہمانوں کی خدمت کا حق ہی پوری طرح ادا نہ ہو۔ اس صورت میں اس کی جواب دہی خدا کے سامنے کون کرے گا؟ ان کو اتنی بھی سمجھ نہیں کہ لنگر کے اخراجات تو ہمارے آنے کے ساتھ ہی یہاں آگئے تھے۔ اب قادیان میں ہے کون؟ مہمان تو ہمارے پاس آتے ہیں۔ پس جب قادیان میں لنگر ہی بند ہے تو خرچ کیسا؟ معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں ہمارے متعلق بد دیانتی اور خیانت کا شبہ ہے اور ہمیں حرام خور سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک عرصہ سے یہ لوگ اس بات کے درپے ہیں کہ لنگر کا انتظام ان کو دے دیا جائے۔ ہمیں ان کے حال پر رہ رہ کر افسوس آتا ہے۔“ وغیرہ۔

قبلہ حضرت نانا جان مرحوم مغفور رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ان لوگوں کے ایسے خیالات سے متعلق ایسی باتیں حضرت کے حضور اسی مجلس میں عرض کیں اور بتایا کہ ان کا یہ مرض آج کا نہیں بلکہ پرانا ہے۔ یہ کھچڑی مدت سے پک رہی ہے اور طرح طرح کے اعتراض سننے میں آتے رہتے ہیں۔ کئی بار سنا ہے کہ قوم کے روپیہ سے بیوی جی کے زیور بنتے ہیں قوم کا روپیہ جو لنگر خانہ کے نام سے حضرت صاحب کے نام براہِ راست آتا ہے اس کا کوئی حساب کتاب نہیں۔ مکان قوم کے روپیہ سے بنتے مگر ان پر نانا جان قبضہ کرتے جاتے ہیں وغیرہ۔ الغرض اس دن کی سیر کا اکثر حصہ ایسی ہی رنج دہ گفتگو میں گزر گیا اور میں محسوس کرتا تھا کہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بے حد تکلیف اور ملال تھا اور سارا خاندان بھی ان حالات کے علم سے رنجیدہ تھا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ واقعہ حضور کے وصال کے بالکل قریب اور غالباً زیادہ سے زیادہ دو روز قبل یعنی ۰۸-۰۵-۲۴ کا ہے اور اسی روز یا اس سے ایک روز بعد یعنی آخری دن حضور نے سیر کے لئے تشریف لے جاتے ہوئے مجھ سے فرمایا۔

’’گاڑی بان سے کہہ دو کہ اتنی دور لے جائے کہ جانے آنے میں ایک گھنٹہ سے زیادہ وقت نہ لگے۔ کیونکہ آج ہمارے پاس اتنے ہی پیسے ہیں۔‘‘

آہ، آہ، آہ شہنشاہوں کا شہنشاہ جس کا یہ حال۔ جس کی تصدیق حضور کے وصال کے بعد کے واقعات نے کر دی جبکہ واقعی حضور پرنور نے بجائے مال ومنال کے قرض کی بھاری رقم ترکہ میں چھوڑی مگر مہمان نوازی میں سرمو فرق نہ آنے دیا اور نہ ہی کسی کو جتایا۔ جاننے والے جانتے اور دیکھنے والے یقین رکھتے ہیں کہ حضور کو مہمان نوازی میں کتنا کمال اور شغف تھا۔ حضور اس میں ذرہ بھر کوتاہی کو بھی پسند نہ فرماتے۔ قرض تک لے کر مہمانوں کی خدمت کرتے، خود اپنے ہاتھوں کھلاتے اور مہمانوں کی ضروریات کا پورے اہتمام سے ان کے حالات وعادات کے لحاظ سے انصرام کرتے۔ چارپائی۔ بستر۔ حتیٰ کہ حقہ تک بھی جس سے حضور کو طبعی نفرت تھی، مہمان کی خاطر مہیا فرماتے۔ حضور کی مہمان نوازی اور کرم فرمائی کی بے شمار مثالیں موجود ہیں بلکہ میرا یقین ہے کہ ابھی تو ایسے خوش نصیب وجود موجود بھی ہیں جو حضور کی ایسی عنایات کا خود مورد بن چکے یا اپنی آنکھوں ایسے واقعات دیکھ چکے ہیں کہ حضور نے کھانا تناول فرماتے ہوئے بھی اپنا کھانا اٹھا کر مہمانوں کو بھیج دیا اور خود دو گھونٹ پانی پر ہی کفایت فرمائی۔ کسی مہمان کو چار پائی نہ ملی تو اپنی چار پائی بھیج دی یا فوراً تیار کرا دی اور نیا بستر بنوا کر بھیج دیا۔ زبان طعن دراز کرنا آسان ہے مگر کچھ کر کے دکھانا مشکل۔ مدتوں ہم اور ایسے معترض اکٹھے رہے جس کی وجہ سے ان کے سلوک و اخلاق اور حسن و احسان کی داستانیں معلوم۔ دور کیا جانا۔ لاہور ہی کی بات کبھی بھولنے میں نہیں آتی جب مہمانوں کو دستر خوان پر بٹھا کر اور کھانا سامنے رکھ کر ساتھ ہی یہ پیغام بار بار دہرایا جاتا تھا کہ پیٹ کے چار حصے کرو۔ کھانے کا، پانی کا، ہوا کا، اور ذکر الٰہی کا۔ کاش ان بدقسمتوں کو مائیں نہ جنتیں۔ تنگ ہو کر مجبوراً آخر بعض خدام ہم رکاب نے پہلے اس قسم کی باتیں حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کیں چنانچہ آپ نے فوراً اپنے شاگردوں کے لئے تو کھانے کا الگ انتظام کر دیا۔ مکرمی حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسیٰ خدا کے فضل سے زندہ سلامت ہیں وہ اس بات کے شاہد ہیں کہ دو یا چار بوری آٹا فوراً خریدنے کا حضرت مولوی صاحب نے حکم دیا۔ یا خریدوا کر ان کے سپرد کر دیں اور اس طرح پہلے صاحب ممدوح کے شاگردوں کے کھانے کا بوجھ جماعت لاہور کے کندھوں سے اتر گیا اور پھر جلد ہی یہ بات سیدنا حضرت اقدس تک پہنچ گئی تو حضور پرنور نے تمام مہمانوں کے کھانے کے لئے اپنے خرچ سے انتظام کئے جانے کا ارشاد فرما دیا جو آخری دن تک جاری رہا۔

افترا کرنا اور جھوٹ بولنا لعنتیوں کا کام ہے میں اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم سے لکھتا ہوں کہ اوپر کا واقعہ میں نے جیسے سنا اور جس طرح دیکھا بعینہٖ اسی طرح لکھا ہے۔ الفاظ ممکن ہے وہ نہ ہوں یا آگے پیچھے ہو گئے ہوں مگر کوشش میں نے حتی الوسع یہی کی ہے کہ وہی لکھوں۔ مفہوم یقیناً یقیناً وہی ہے اور یہ واقعہ ایک گھنٹہ سیر کے وقت کی تعین کا بھی بالکل صحیح اور یقینی ہے اور میں نے جو کچھ بھی لکھا ہے پوری بصیرت اور یقین سے لکھا ہے جس پر میں غلیظ سے غلیظ قسم کے لئے بھی تیار ہوں۔ مجھے کسی سے ذاتی طور پر رنج، بغض یا عناد نہیں۔ سلسلہ کی ایک امانت جو اکتیس سال سے میرے دل و دماغ میں محفوظ تھی، ادا کی ہے اس کے سوا اور کوئی غرض نہیں۔

اسی سلسلہ میں اس امر کا لکھ دینا بھی بے محل نہ ہو گا کہ جس زمانہ کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے اس سے تین چار ماہ قبل ہی یعنی جنوری ۱۹۰۸ء کے اواخر میں میں ان زخموں سے اچھا ہو کر جو راجپوتانہ سے میری رہائی کا باعث بنے، قادیان پہنچا تھا۔ میں چونکہ ایک لمبے عرصہ کی غیوبت کے بعد دارالامان آیا تھا لہٰذا دل میں خواہش تھی کہ دوستوں سے ملوں، ان کی مجالس میں بیٹھوں اور حالات سنوں۔ چنانچہ اسی ذیل میں میرے کانوں میں ان اعتراضات کی بھنک پڑی جو بعض بڑے کہلانے والوں کی طرف سے سیدنا حضرت اقدس کی امانت و دیانت پر مالی معاملات سے متعلق کئے جاتے تھے۔ اور مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ ایسے اعتراضات سن کر ہم لوگ معترضین کے اس فعل کو جہاں حقارت اور نفرت سے دیکھا کرتے وہاں حضور کو سلیمان نام دئے جانے کی ایک یہ حکمت بھی ہماری سمجھ میں آگئی جو اس غیب دان ہستی نے پہلے ہی سے اس قسم کے اعتراض کرنے والوں کو بطور جواب اور حضور کی تسلی کے لئے الہاماً کہہ رکھی تھی اور اس بات کا عام ذکر رہتا تھا کہ چونکہ حضرت کا ایک نام سلیمان رکھ کر اللہ کریم نے

فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِکۡ بِغَیۡرِ حِسَابٍ(38:40)

کی شان و مقام بھی حضور کو عطاء فرما رکھا ہے تو پھر کس کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اس برگزیدۂ خدا اور مقبول الٰہی کی شان میں کوئی کلمہ گستاخی زبان پر لاوے یا حضور سے کسی حساب کتاب کا مطالبہ کرے۔ حضور کے طریق عمل اور اخلاق کریمانہ میں سے بیسیوں واقعات اور سینکڑوں مثالیں ایسی ملتی ہیں کہ حضور عطاء و سخا میں فَامْنُنْ بِغَيْرِ حِسَاب کے عامل بھی تھے۔ بارہا خدام اور غلاموں نے مفوضہ خدمات اور کاموں سے واپسی پر حضور کی خدمت میں حسابات کی فہرستیں پیش کیں تو حضور نے یہ فرماتے ہوئے کہ ”ہمارا آپ کا معاملہ حسابی گنتیوں سے بالا تر ہے۔ دوستوں کے ساتھ ہم حساب نہیں رکھا کرتے۔“ واپس کر دیا۔ یا کبھی کسی غلام کو قرض کی ضرورت ہوئی تو حضور نے دے کر نہ صرف بھلا ہی دیا بلکہ اگر اس غلام نے کبھی پیش کیا تو مسکراتے ہوئے فرمایا کہ کیا آپ نے ہمارے اور اپنے مال میں کوئی مابہ الامتیاز بنا رکھا ہے؟ ہمارے آپ کے تعلقات معمولی دنیوی تعلقات سے آگے نکل کر روحانی باپ اور بیٹوں کے سے ہیں۔ اور کئی دوستوں کو یاد ہوگا کہ جب کسی خدمت کے لئے حکم دیتے تو زادِ راہ کے لئے گن کر رقم نہ دیا کرتے بلکہ اکثر ایسا ہوتا کہ مٹھی بھر کر یا رومال میں گٹھڑی باندھ کر بے حساب ہی دے دیا کرتے تھے۔ اور کئی بار میں خود بھی چونکہ ایسے حالات سے دوچار ہوا ہوں اس وجہ سے ایسی شہادت میرے ذمہ تھی جس کی ادائیگی کے لئے یہ چند سطور نوٹ کی ہیں۔ زندگی کا اعتبار نہیں ، موت کا وقت مقرر نہیں ، خصوصاً جب کہ میں ایک لمبے عرصہ کی بیماری کے باعث اپنی ہڈیوں میں کھوکھلا پن ، پٹھوں میں سستی اور جسم میں اضمحلال پاتا ہوں اس موقعہ کو غنیمت جان کر یہ فرض ادا کرنے کی کوشش کی ۔

بارہا کا واقعہ یاد ہے کہ ایسے مواقع پر حضورؐ نے نہایت محبت و مہربانی سے بطور نصیحت فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ بھی ہمیں بھیجتا ہے اس سے ذاتی طور پر ہمارا صرف اسی قدر تعلق ہوتا ہے کہ ہم اُس کے خرچ کرنے میں بطور ایک واسطہ کے ہیں ۔ ورنہ خدا کے یہ اموال خدا کے دین اور اس کی مخلوق ہی کے لئے آتے اور خرچ ہوتے ہیں۔ ہم جب کسی کے سپرد کوئی کام کرتے ہیں تو اس کو امین و دیانتدار ہی سمجھ کر کرتے ہیں ۔ اس لئے ہمیں تو کبھی ایسا خیال بھی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ شخص اس میں خیانت کرے گا۔ دراصل یہ تمام باتیں بدظنی سے پیدا ہوتی ہیں اور حقیقت میں بدظنی کرنے والا اپنے ہی ایمان کی جڑ پر تبر رکھتا، اپنے اندرونہ کے گناہ کو ظاہر کرتا اور اپنے خبث باطن پر مہر لگاتا ہے۔

اَلْمَرْءُ يَقِيْسُ عَلٰى نَفْسِهِ

الغرض اس قسم کا مرضِ نفاق تو بعض لوگوں کے دلوں میں حضرت اقدس کی حیات ہی میں پیدا ہو چکا تھا اور خدا جانے کس بدقسمت انسان کی مجلس وصحبت کا اثر تھا جس کو ان لوگوں نے بجائے دور کرنے اور نکال باہر پھینکنے کے قبول کیا اور دلوں میں سنبھالے رکھا ، اس کی آبیاری کی اور آخر کار زہریلا پھل کھا کر روحانی موت کا شکار ہو گئے ۔ اللہ رحم کرے ۔ علو ، خودستائی و کبر کا بھی مادہ الگ ان میں موجود تھا۔ معتمد تھے اور سلسلہ کے کاروبار کے گویا وہی اپنے آپ کو کرتا دھرتا سمجھتے تھے مگر زبان کا ان کی یہ حال تھا کہ سیدۃ النساء حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا جن کی بلندشان اور اس عزت و اقبال کے مدنظر جس کا ذکر اللہ تعالیٰ کی وحی میں بار بار آتا ہے ، ہم خدام ان کا ذکر حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے الفاظ سے کیا کرتے مگر یہ لوگ سیدہ طاہرہ کو ”مائی جی“ ”بیوی جی“ اور زیادہ سے زیادہ ”بیوی صاحبہ“ کے بالکل معمولی الفاظ سے یاد کیا کرتے تھے۔ جن سے ظاہر ہے کہ ان کے دلوں میں ”خواتین مبارکہ“ کی حقیقی عزت موجود نہ تھی اور اس کے نتائج بھی ظاہر و باہر ہیں ۔ موقعہ کی مناسبت کے مدنظر خواجہ کمال الدین صاحب سیکرٹری انجمن احمدیہ کے اعلان میں سے جو ”اطلاع از جانب صدر انجمن“ کے زیر عنوان سیدنا حضرت اقدس کے وصال اور انتخاب خلافت کے متعلق قادیان سے جماعتوں کی اطلاع کے لئے شائع کرایا گیا تھا، ایک فقرہ درج کر کے اس کے علل و نتائج کا استنباط اصحابِ دانش کے ذہنِ رسا پر چھوڑتا ہوں۔ لکھا ہے

”چندوں کے متعلق سردست یہ لکھا جاتا ہے کہ ہر قسم کے چندے جس میں چندہ لنگر خانہ بھی شامل ہے محاسب صدر انجمن احمدیہ قادیان کے نام حسبِ معمول بھیجے جاویں۔“ فاعتبروا یا اولی الالباب۔

مارچ ۱۹۰۸ء کے مہینے میں موقر اخبار الحکم کا متعدد مرتبہ بحروفِ جلی بعنوان

لنگر خانہ کی طرف توجہ چاہئے

جماعت کو توجہ دلانا۔ قحط سالی کے باعث اخراجات کے بڑھ جانے کا ذکر کرنا وغیرہ بھی اس مسئلہ کے حل میں موید ہو گا۔

ایک واقعہ حضور کی سیر شام سے متعلق یہ بھی قابل ذکر ہے کہ آخری دن یعنی ۰۸۔۵۔۲۵ کو جب حضور سیر کے واسطے تشریف لائے تو خلاف معمول حضور خاموش اور اداس تھے۔ نیز کوفت اور تکان کے علامات حضور کے چہرہ پر نمایاں نظر آتے تھے اور ساری ہی سیر میں حضور ایسی حالت میں تشریف فرما رہے۔

گویا کسی دوسرے عالم میں ہیں

اور ربودگی و انقطاع کا یہ حال تھا کہ سارے ہی راستہ جاتے ہوئے اور واپسی پر بھی حضور اسی حالت میں رہے۔ حضور کی اس حالت کے مدنظر سارے ہی قافلہ پر عالمِ سکوت اور بیم و رجا طاری تھا۔ ایسا معلوم دیتا تھا کہ حضور دنیا و ما فیہا سے کٹ کر رفیقِ اعلیٰ کے وصال کا جامِ شیریں نوش فرما رہے ہیں اور اسی کی یاد میں یہ عالمِ محویت حضور پر طاری ہے۔

جن دوستوں نے خطبہ الہامیہ کے نزول کا منظر دیکھا ہوا ہے وہ آج کی ربودگی و تبتّل کو بھی سمجھ سکتے ہیں جو حالت حضور کی اس وقت میں ہوتی تھی اس سے بھی بڑھ کر آج حضور اپنے خدا میں جذب و گم ہو

رہے تھے کیونکہ خطبہ الہامیہ کے نزول کے دوران میں تو مشکل لفظ جب سمجھ میں نہ آتا۔ ہم لوگ لکھنے میں پیچھے رہ جاتے یا بعض جگہ الف یا ع۔ ق یا ک۔ ز یا ذ یا ض۔ ظ اور ث۔ س اور ص وغیرہ کا امتیاز نہ کر سکتے تو حضور سے دریافت کرنا پڑتا تھا جس کے بتانے کے لئے حضور گویا نیند سے بیدار ہو کر یا کسی روحانی عالم سے واپس آ کر بتاتے تھے اور دورانِ نزول میں کئی مرتبہ ایسا ہوا تھا۔ مگر آج کی محویت اور ربودگی متواتر کم وبیش ایک گھنٹہ جاری رہی اور واپس مکان پر آ کر ہی حضور نے آنکھ کھولی تھی۔ یہ واقعہ نہ صرف میرا ہی چشم دید ہے بلکہ خاندان کی بیگمات اور ہم رکاب مردوں کے علاوہ مجھے اچھی طرح سے ایک اور ایک دو کی طرح یاد ہے کہ جب حضور کی گاڑی لارنس گارڈنز اور لاٹ صاحب کی کوٹھی سے کچھ آگے جانبِ غرب بڑھی تھی تو اس موقعہ پر دو یا تین احمدی دوست لاہور کے سیر کرتے ہوئے وہاں ملے۔ جنہوں نے السلام علیکم کہی اور حضور کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھ کر تعجب کا اظہار کیا اور اشاروں سے دریافتِ حال کیا تھا۔ گویا ان دوستوں نے بھی حضور کی اس حالتِ تبتل و انقطاع کو خلافِ معمول سمجھا تھا۔ اور پھر مجھے یہ بھی خوب یاد ہے کہ دوسرے دن وصال کے بعد انہوں نے یا ان میں سے بعض نے آج کے چشم دید واقعہ کا ذکر کر کے بیان کیا تھا کہ ”ہم نے تو کل ہی حضور کی حالت سے اندازہ کر لیا تھا کہ حضور اس عالم میں موجود نہیں ہیں۔“ مگر افسوس کہ میں ان دوستوں کے نام یاد نہیں رکھ سکا۔ یہ یقین ہے کہ تھے وہ مقامی دوست ہی۔

میں نے اوپر ذکر کیا ہے کہ ابتداءً حضور خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان میں رہتے تھے اور کم وبیش قیامِ لاہور کا نصف عرصہ حضور وہیں مقیم رہے۔ اس کے بعد اس مکان کو چھوڑ کر ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان کے بالائی حصہ میں تشریف لے گئے اور آخری دن تک وہیں رہے۔

اس ہجرت کی بڑی وجہ

علاوہ بعض اور وجوہات کے یہ تھی کہ لاہور پہنچنے کے بعد حضور کو الہام ہوا ’’اَلرَّحِيْلُ ثُمَّ الرَّحِيْلُ‘‘ حضور پُرنور کی عادت وسنت تھی کہ خواب اور الہامات کو حتی الوسع ظاہری رنگ میں پورا کرنے کی کوشش فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں حضور اکثر صدقات، خیرات اور قربانیاں ادا کرتے رہتے تھے بلکہ بعض اوقات تو بعض خدام اور بچوں تک کی خوابوں کو پورا کرتے اور قربانیاں کروایا کرتے۔ اسی طرح اس الہام کو ظاہر طور پر پورا کرنے کی غرض سے حضور نے یہ نقل مکانی اختیار فرمائی تھی۔ الغرض حضور کا یہ سفر قضاء و قدر اور مشیت ایزدی کا نمونہ، خدا کی حکمتوں اور مصلحتوں کی ایک مثال اور وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰۤی اَمۡرِہٖ(12:22) کی عملی تفسیر تھی۔ خدا کا برگزیدہ رسول، نبی آخرالزمان خدا کے دیئے ہوئے علم کے ماتحت آنے والے واقعہ’ستائیس کو ایک واقعہ (ہمارے متعلق) اللّٰہِ خَیۡرٌ وَّاَبۡقٰی(28:61) ‘ سے نہ صرف آگاہ تھا بلکہ واقعات اور حالات پر یکجائی نظر ڈالنے سے صاف معلوم ہوگا کہ یقین پر تھا۔ یہی وجہ تھی کہ حضور نے حتیٰ الوسع مناسب حد تک اس سفر کو ٹالنے اور التوا میں ڈالنے کی کوشش کی اور امر واقعہ یہی ہے کہ حضور کو انشراح نہ تھا۔ چنانچہ جہاں حضور خود دعا و استخارہ میں مصروف تھے وہاں خاندان اور خدام کو بھی اس سفر کے متعلق دعا اور استخارہ کی تاکید کی جاتی رہی۔ کئی مرتبہ تیاری کا سامان ہوا اور ملتوی ہوجاتا رہا۔ خدا کی وحی واضح اور کھلی تھی اور اس کے سمجھنے میں کسی قسم کا اشتباہ نہ تھا۔ دعائیں اور استخارے اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچ کر ’’مباش ایمن از بازیِ روزگار‘‘ کا غیر مشتبہ جواب پاچکے تھے مگر الٰہی نوشتوں اور مقادیر کو کون ٹال سکتا ہے وہ بہرصورت پورے ہو کر رہتے ہیں اور خدا کے یہ مقدسین انبیاء و راستباز جو کہ ’ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ ‘ کا عہد اپنے خدا سے باندھتے ہیں عملاً اپنے عہد کے باریک در باریک شرائط اور سارے ہی پہلوؤں کی پوری طرح نگہداشت کرتے اور ان کو بطریق احسن نباہتے، اپنی مرضی کو پوری طرح سے اپنے خدا کی مرضی کے ماتحت کردیا کرتے، اس کی قضاء و قدر کے سامنے گردن ڈال دیتے اور سر تسلیم جھکا دیا کرتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی ایک مناسب اور جائز حد تک اس سفر کو روک دینے کی کوشش کی مگر بالکل اسی طرح جس طرح منذر رؤیا و کشوف کے وقت حضور دعا، صدقہ اور خیرات کیا کرتے تھے تاکہ تقدیر معلق ہو تو ٹل جائے مگر جب خدا تعالیٰ کی بار بار کی وحی کے ماتحت حضور کو یہ یقین ہوگیا کہ یہ قضاء مبرم ہے، ٹل نہیں سکے گی تو حضور نے ’’مرضی مولا از ہمہ اولیٰ‘‘ کی تعمیل کا مصمم ارادہ فرمالیا۔ جب دیکھا کہ قضا و قدر اور منشاء ایزدی یہی ہے کہ یہ سفر اختیار کیا جائے تو حضور نے توکلاً علی اللہ تیاری کا فیصلہ فرما کر یہ سفر اختیار کرلیا۔ سفر کی تیاری اور قافلہ کی ہیئت ترکیبی، سفر کی تیاری خود اس امر پر شاہد ہے کہ حضرت کو آنے والے واقعہ کا پوری طرح سے علم تھا۔ چنانچہ جہاں حضور نے اپنے سارے خاندان کو ساتھ لیا۔ ضروریات فراہم کیں۔ سواریاں لیں۔ (گھوڑی اور رتھ)۔ وہاں حتی الوسع ایسے تمام بزرگوں اور خدام کو بھی ہمرکابی کا شرف بخشا جو حضور کی مجلس کا جزوِ ضروری تھے یا جن کی موجودگی کو حضور پسند فرماتے تھے۔ حضرت مولانا مولوی نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ معہ خاندان کو درسِ قرآن کریم کے لئے تو محترم حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو کاروبارِ ڈاک کے واسطے ہمرکابی کا حکم دیا۔ اسی طرح حضرت فاضل امروہی اور بعض دوسرے ضروری ارکان کو بھی شرفِ ہمرکابی بخشا۔ وحی الٰہی

داغِ ہجرت

اور ’ستائیس کو ایک واقعہ (ہمارے متعلق) وَاللّٰہُ خَيْرٌ وَّأَبْقٰی “ اللہ تعالیٰ کی کسی خاص مشیّت اور قضاء کی مظہر تھیں۔ سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی علالت اور اس کے نتیجہ میں سفرِ لاہور پر اصرار کے واقعات بھی اس کی تائید میں تھے۔ مہبطِ انوارِ الٰہیہ سب سے زیادہ اس کلام کے منشاء و مقصد کو سمجھتے ہیں جو ان پر خدا کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔ چنانچہ باوجود صاحبزادہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی اچانک بیماری اور باوجود ۲۶؍اپریل ۱۹۰۸ء کے الہام

مباش ایمن از بازیٔ روزگار

کے نزول کے جس سے ہم لوگوں کے علم کے مطابق یقینی طور پر سفر کے التوا و روک کا حکم نکلتا تھا حضور نے ۲۷؍اپریل ۱۹۰۸ء کی صبح کو سفر کا فیصلہ فرمایا اور اس طرح کلامِ الٰہی ’’ستائیس کو ایک واقعہ (ہمارے متعلق) وَاللّٰہُ خَيْرٌ وَّأَبْقٰی ‘‘ کی صداقت آج اور دوسری مرتبہ ایک ماہ بعد یعنی ۲۷؍مئی ۱۹۰۸ء کو جب حضورِ پُرنور کا جسدِ مبارک کفن میں لپیٹ کر لایا گیا، ظاہر ہو گئی اور ساتھ ہی یہ امر بھی پایۂ ثبوت کو پہنچ گیا کہ مشیّتِ ایزدی اور قضا و قدر کے اسی منشاء کے ماتحت سیدنا حضرت اقدس نے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے اس سفر کو اختیار فرمایا تھا تا رضاء و تسلیم کا وہ مقام جو حضورِ پُرنور کو حاصل تھا، دنیا عملاً دیکھ کر ایک سبق حاصل کرے۔ چنانچہ اس امر کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جب قیامِ لاہور کے بالکل آخری ایام یعنی صرف ایک عشرہ قبل وصال

مکن تکیہ بر عمرِ نا پائیدار

اور پھر صرف پانچ چھ روز قبل وصال الرحیل ثم الرحیل والموت قریب کی وحی حضور پر نازل ہوئی تو سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان سے متاثر ہو کر گھبرا کر حضرت کے حضور عرض کی کہ چلو واپس قادیان چلیں۔ مگر حضور نے یہی جواب دیا کہ اب تو جب خدا لے جائے گا چلیں گے ہمارا اپنا اختیار کچھ نہیں ہے ورنہ اگر صرف حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مرضی و خواہش ہی اس سفر کا موجب ہوتی تو یہ ایسا موقعہ تھا کہ حضور فوراً واپسی کا حکم دے دیتے مگر حضور پرنور کا یہ جواب بڑی صفائی سے میرے خیال کی تصدیق کرتا ہے۔ اس امر کی مزید ایک دلیل کہ حضور کو آنے والے واقعہ کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا تھا، کئی رنگ میں ملتی ہے۔ یہ ایک امر واقعہ ہے کہ حضور کو مہمان نوازی کا کمال اشتیاق تھا اور مہمانوں کو حضور حتی الوسع جلدی سے رخصت و اجازت نہ دینا چاہتے تھے بلکہ حضور کی دلی خواہش ہوا کرتی تھی کہ مہمان زیادہ سے زیادہ حضور کی صحبت میں رہیں تا ان کے ایمان تازہ و مضبوط ہوں اور زندہ خدا کے تازہ نشان ان کے عرفان میں زیادتی کریں مگر اس سفر میں حضور کی یہ خواہش خصوصیت سے اپنے کمال پر تھی اور مہمانوں سے بڑھ کر اپنے خدام اور غلاموں تک کو جدا ہی نہ کرنا چاہتے تھے بلکہ ضرورت کو بھی کسی دوسرے رنگ میں پورا کر لینے کی ہدایت فرماتے تا خدام حضور سے تھوڑے وقت کے لئے بھی جدا نہ ہوں۔ چنانچہ مکرمی مفتی فضل الرحمٰن صاحب کو ان کے گھر والوں کی تکلیف وغیرہ کی اطلاع پر فرمایا کہ: ”میاں فضل الرحمٰن کیا اچھا ہو کہ آپ کو جانا بھی نہ پڑے اور آپ کے گھر والے آ بھی جائیں۔“ اور خدا کی شان کہ حضور کی یہ خواہش اسی رنگ میں پوری ہو گئی اور مکرمی مفتی صاحب کے گھر والے ان کی شدید بیماری کی غلط خبر پا کر از خود ہی لاہور سٹیشن پر پہنچ گئے۔ جن کی آمد کی اطلاع حضور تک کسی خادم کے ذریعہ پہنچی اور حضور نے اپنی سواری بھیج کر ان کو سٹیشن سے مکان پر منگوا لیا۔ اسی طرح خود میں نے ایک عریضہ ضرورتاً حضرت کے حضور لکھ کر خواہش کی تھی کہ مجھے قادیان آ کر گھر والوں کو کسی محفوظ جگہ رکھنے کی اجازت دی جاوے۔ جس پر زیادہ سے زیادہ ایک دن خرچ ہوتا مگر حضور نے اتنا بھی گوارا نہ فرمایا۔ میرا

عریضہ اور حضور کا جواب اصحابِ بصیرت کے لئے موجبِ تسکین و عرفان ہوگا، جو درج ذیل ہے۔

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ نحمدهٗ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم آقائی و مولائی فداک روحی ایدکم اللّٰہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ۔ حضور قادیان سے حضور کی خادمہ کا آج ہی خط آیا ہے کہ رات کے وقت ہمیں تنہائی کی وجہ سے خوف آتا ہے۔ کیونکہ جس مکان میں میں رہتا ہوں وہ بالکل باہر ہے۔ لہٰذا اگر حکم ہو اور حضور اجازت دیں تو میں جا کر ان کو کسی دوسرے مکان میں تبدیل کر آؤں یا اگر حضور کے دولت سرائے میں کوئی کوٹھڑی خالی ہو تو وہاں چھوڑ آؤں۔ جیسا حکم ہو تعمیل کی جاوے۔ حضور کی دعاؤں کا محتاج۔ خادم در عبدالرحمٰن قادیانی احمدی ۱۲/۵/۸

جواب

السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ۔ ابھی جانا مناسب نہیں ہے۔ لکھ دیں کہ کسی شخص کو یعنی کسی عورت کو رات کو سلا لیا کریں یا مولوی شیر علی صاحب بندوبست کر دیں کہ کوئی لڑکا ان کے پاس سویا کرے۔ مرزا غلام احمد

ان سب سے بڑھ کر وہ واقعہ اس بات پر شاہد ہے جو ۲۵؍مئی ۱۹۰۸ء کی رات کو گیارہ اور دو بجے کے درمیان مرض الموت کی ابتداء میں حضور نے خود سیدۃ النساء حضرت اُمّ المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ایک استفسار پر فرمایا جس کی تفصیل یہ ہے کہ حضور کی بیماری کی تکلیف اور کمزوری بڑھتے دیکھ کر سیدۃ النساء حضرت اُمّ المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور سے عرض کی۔

یا اللہ یہ کیا ہونے لگا ہے؟

اس پر حضور نے فرمایا:۔

”وہی جو میں آپ سے کہا کرتا تھا“

اور اس کا اشارہ صاف ظاہر ہے کہ واقعہٴ وصال ہی کی طرف تھا۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حضور نے سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک جائز خواہش کا احترام کرتے ہوئے ان کے اصرار کو بھی آخر کار شرف قبولیت بخش کر یہ سفر اختیار کیا تھا کیونکہ حضور کے اخلاق حمیدہ میں اپنے اہل بیت کی مرضی و خواہش کو پورا کرنے اور ان کی بات مان لینے کا پہلو اتنا نمایاں و واضح اور زبان زد خاص و عام تھا کہ جاہل واکھڑ خادمات کے دل و دماغ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتے اور وہ بے ساختہ پکار اٹھتیں کہ ”مَر جا بیوی دی بڑی مَن دا اے“ یہ امر ثبوت ہے اس بات کا کہ حضور کو اخلاق فاضلہ میں انتہائی کمال اور بالکل امتیازی شرف حاصل تھا۔ اور اس میں بھی دنیا کے لئے عورتوں سے حسن سلوک، حسن معاشرت، ان کی عزت و احترام اور محبت واکرام کے عملی سبق کے علاوہ ان کے جائز حقوق اور آزادیٔ مناسب کا عملی سبق دے کر ایک اسوہ حسنہ قائم کرنا مقصود تھا کیونکہ حضور پر نور اللہ تعالیٰ کے فضل سے کمال اخلاق کا اس لحاظ سے بھی کامل اور اکمل و اتم نمونہ واُسوہ تھے۔ مگر اس میں بھی کلام نہیں کہ حضور نے رضاء بالقضاء اور

تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ(81:30)

کا بھی اعلیٰ ترین اُسوہ و نمونہ پیش کر کے دنیا جہاں پر اپنے آخری عمل سے بھی ثابت کر دیا کہ واقعی حضور اپنے خدا میں فنا اور اسی کی رضاء کے طالب تھے۔ خدا کے برگزیدہ نبی و رسول سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی زندگی کے آخری دو تین روز ایک ایسی اہم اور مہتم بالشان تصنیف میں مصروف رہے جس میں نسل انسانی کے لئے بے نظیر اور فقید المثال خدمت کا مواد اور امن عالم کے قیام کی تجاویز درج ہیں۔ جس کا نام اس شہزادۂ صلح و آشتی اور امن وسلامتی نے مضمون کی مناسبت اور وقت کی ضرورت کے لحاظ سے ”پیغام صلح“ تجویز فرمایا۔ کتابت و طباعت کی خدمات کا اعزاز ہمارے محترم بزرگ میر مہدی حسین صاحب کے حصہ آیا اور حضور نے بھری مجلس میں میر صاحب موصوف کی خدمات متعلقہ، طباعت چشمۂ معرفت کا ذکر خیر فرماتے ہوئے فرمایا کہ

”یہ کام بھی ہم میر مہدی حسین کے سپرد کرتے ہیں“

چنانچہ ایک کاپی ۲۴؍ مئی ۱۹۰۸ء کو تیار کرا کر میر صاحب موصوف برفاقت مکرمی شیخ رحمت اللہ صاحب و حکیم محمد حسین صاحب قریشی کارکنانِ نولکشور پریس کو دے کر پروف کے واسطے تاکید کر آئے۔ دوسرے دن پروف لینے گئے مگر مُنتظمین نے کسی خورد سال بچہ کی موت کا عذر کر کے اگلے دن کا وعدہ کیا۔ ادھر دوسری کاپی تیار تھی مگر وہ پریس کو نہ دی گئی اس خیال سے کہ پہلا پروف آجائے تو دوسری کاپی دی جائے گی۔ ۲۵؍مئی ۰۸ء وعصر کے وقت اندر سے دادی آئیں اور میر مہدی حسین صاحب کو مخاطب کر کے بآوازِ بلند کہا حضرت صاحب فرماتے ہیں ’’آج ہم تو اپنا کام ختم کرچکے۔‘‘ مکرمہ دادی صاحبہ والدہ مکرمی میاں شادی خان صاحب مرحوم نے جس خوشی اور بشاشت سے یہ خبر آ کے سنائی وہ تو اس تصنیف کے اتمام سے متعلق تھی اور بالکل ایسی ہی تھی جیسے کسی اہم کام کے سرانجام پہنچنے پر ہوا کرتی ہے مگر یہ الفاظ سننے والوں میں سے بعض کا ماتھا ٹھنکا اور ان کے ذہن کسی دوسری طرف مُنتقل ہو گئے خصوصاً مکرمی میر مہدی حسین صاحب نے تو اس کو بے حد محسوس کیا۔ چنانچہ حضور پرنور کے وصال کے بعد ہمیشہ وہ اس فقرہ کو دہرایا کرتے اور اپنے تاثر کا ذکر کیا کرتے ہیں۔

اس موقعہ پر میں حضور کے بعض وہ فقرات جو حضور نے اس سفر کی تقریروں میں اپنے کام کے پورا کر چکنے اور تکمیل تبلیغ سے متعلق فرمائے۔ مختصراً درج کر دیتا ہوں تا دنیا کو معلوم ہو کہ خدا کا یہ برگزیدہ نبی اپنا کام پورا کر چکنے کے بعد ہی واپس بلایا گیا تھا۔

(۱) چنانچہ مورخہ ۳۰؍اپریل ۰۸ء کی تقریر میں فرماتے ہیں ’’جب بات حد سے بڑھ جاتی ہے تو فیصلہ کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ ہمیں چھبیس سال ہوئے تبلیغ کرتے۔ جہاں تک ممکن تھا ہم ساری تبلیغ کرچکے ہیں۔ اب وہ خود ہی کوئی ہاتھ دکھائے اور فیصلہ کرے گا۔‘‘ (الحکم ۲۶، ۳۰؍اگست ۱۹۰۸ء)

(۲) پھر ۲؍مئی ۰۸ء مسٹر محمد علی جعفری ایم۔اے وائس پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور کو مخاطب کر کے ایک لمبی تقریر فرمائی جو اخبار الحکم ۰۸۔۰۶۔۱۸ کے بڑے سائز کے نو کالموں میں درج ہے۔ فرمایا: ’’ہمارا کام صرف بات کا پہنچا دینا ہے۔ ماعلی الرسول الا البلاغ ۔ تصرف خدا کا کام ہے۔ ہم اپنی طرف سے بات کو پہنچا دینا چاہتے ہیں ایسا نہ ہو کہ ہم پوچھے جاویں کہ کیوں اچھی طرح نہیں بتایا۔ اسی واسطے ہم نے زبانی بھی لوگوں کو سنایا ہے۔ تحریری بھی اس کام کو پورا کر دیا ہے۔ دنیا میں کوئی کم ہی ہوگا جو اب بھی یہ کہہ دے کہ اُس کو ہماری تبلیغ نہیں پہنچی یا ہمارا دعویٰ اس تک نہیں پہنچا۔‘‘ (الحکم ۰۸۔۰۶۔۱۸)

(۳) پھر اسی روز یعنی مورخہ ۲؍ مئی ۰۸ء کو بعد نماز عصر شہزادہ محمد ابراہیم خان صاحب کی ملاقات کے وقت تقریر فرمائی جو الحکم ۱۴؍ مئی ۰۸ء کے قریباً چودہ کالموں میں شائع ہوئی تھی۔

فرمایا: ’’ہم نے اپنی زندگی میں کوئی کام دنیوی نہیں رکھا۔ ہم قادیان میں ہوں یا لاہور میں۔ جہاں ہوں ہمارے انفاس اللہ ہی کی راہ میں ہیں۔ معقولی رنگ میں اور منقولی طور سے تو اب ہم اپنے کام کو ختم کر چکے ہیں۔ کوئی پہلو ایسا نہیں رہ گیا جس کو ہم نے پورا نہ کیا ہو۔ البتہ اب تو ہماری طرف سے دعائیں باقی ہیں۔

(۴) مورخہ ۱۷؍ مئی ۰۸ء کو گیارہ بجے قبل دوپہر سے ایک ڈیڑھ بجے بعد دوپہر تک حضور نے ایک تقریر رؤسا وعمائد لاہور و مضافات کے سامنے فرمائی جو بڑے سائز کے ۳۶ کالموں میں چھپی۔ اور یہ وہ تقریر ہے جس کا نام ہی تکمیل التبلیغ و اتمام الحجّۃ اور نام ہی سے تقریر کا خلاصہ مطلب عیاں ہے۔ (الحکم ۱۴؍ جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ نمبر ا کالم نمبر ۲)

(۵) پھر ۱۹؍ مئی ۰۸ء کو عبدالحکیم کی کتاب کا ذکر تھا کہ اس نے بہت سے اعتراض کئے ہیں۔ فرمایا: ’’ہم نے جو کچھ کہنا تھا کہہ چکے۔ بحثیں ہو چکیں۔ کتابیں مفصل لکھی جا چکی ہیں۔ اب بحث میں پڑنا فضولیوں میں داخل ہے۔‘‘ (بدر ۲۲؍ مئی ۱۹۰۸ء صفحہ ۷ کالم نمبر ۲)

ان کے علاوہ اور بھی بعض تقاریر میں زبانی طور سے یاد پڑتا ہے کہ حضور نے بڑے زوردار الفاظ میں اس امر کا اعلان فرمایا کہ ’’ہم تو اپنا کام کر چکے۔ اب خدا اپنا ہاتھ دکھائے گا۔‘‘ ممکن ہے کہ تفصیلی محنت سے ایسے اور حوالے بھی مل جائیں یا بعض احباب کی یادداشت میری تصدیق کر دے۔ میں اس وقت زیادہ محنت کے قابل نہیں۔

نماز عصر ہوئی اور حضور پُر نور سیر کے واسطے تشریف لے آئے۔ یہ سیر وہی سیر تھی جس کا میں اوپر ذکر کر آیا ہوں۔ آخری دن کی خاموش اور پُر معنی سیر۔ جس کی وجہ سے طرح طرح کے خیالات پیدا ہوتے رہے۔ مگر باقی معاملات بالکل نارمل اور اپنے معمول پر تھے۔ مکان پر رات کو باقاعدہ پہرہ ہوا کرتا اور ہم لوگ باری سے اس خدمت کو بجالاتے تھے۔ ڈیوٹی والے پہرہ پر اور باقی اپنی جگہ آرام اور سیر و تفریح میں تھے۔ کوئی غیر معمولی امر درپیش نہ تھا۔ اچانک گیارہ بجے مکرم حافظ حامد علی مرحوم نے مجھے جگایا۔ میں سمجھا

میرے پہرے کا وقت آ گیا۔ پوچھا۔ کیا ایک بج گیا ہے؟ حافظ صاحب مرحوم نے دھیمی سی آواز میں جواب دیا۔ ایک تو نہیں بجا۔ حضرت صاحب بیمار ہیں، تمہیں یاد فرمایا ہے۔ حضور کی بیماری کی خبر سے میں چونکا، ہوشیار ہوا۔ نیند کے غلبہ کی غفلت اڑ گئی۔ سیڑھی، ورانڈہ اور دالان کے چار ہی قدم کر کے فوراً حضرت کے حضور حاضر ہوا۔ سلام عرض کیا، جواب پایا اور حضور کے پاؤں کی طرف فرش پر بیٹھ کر دبانے لگا۔ کیونکہ سیدۃ النساء حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت کے سرہانے چارپائی کے کونے پر بیٹھی تھیں۔ حضور نے چارپائی پر بیٹھ کر زور سے دبانے کا ارشاد فرمایا جس کی تعمیل میں پائنتی کی طرف چارپائی کے اوپر بیٹھ کر اپنی پوری طاقت اور سارے زور کے ساتھ پاؤں، پنڈلیاں، ران، کمر اور پسلیوں کو دباتا رہا۔

حضورِ پُر نور اس وقت ایک چارپائی پر مکان کے بالائی حصہ کے صحن میں شرقاً غرباً لیٹے ہوئے تھے۔ سیدۃ النساء حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور کے سرہانے اسی چارپائی کے شمال غربی کونہ پر تشریف فرما تھیں اور حضرت مولانا نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ چارپائی کے شمالی جانب ایک کرسی پر حسبِ عادت خاموش سر ڈالے بیٹھے تھے۔ حضور کا جسد اطہر ٹھنڈا، کمزور اور آواز بالکل دھیمی تھی۔ کیونکہ حضورِ پُر نور کو میرے پہنچنے سے پیشتر ایک بڑا اسہال ہو چکا تھا۔ مجھ پر اس وقت یہی اثر تھا کہ حضرت اقدس کو اُسی پرانی بیماری اسہال اور برودِ اطراف کا دورہ لاحق ہے جو اکثر دماغی کام میں انہماک اور شبانہ روز کی محنت کے نتیجہ میں ہو جایا کرتا تھا اور چونکہ ایسی تکلیف میں اکثر مجھے خدمت کی عزت نصیب ہوتی رہتی تھی جس کے بارہا میسر آنے کی وجہ سے مجھے حضرت کے جسمِ مبارک کی حالت کا اندازہ اور خدمت کے متعلق مزاج شناسی اور تجربہ حاصل تھا۔ چنانچہ اسی مشاہدہ، تجربہ اور احساس کی بنا پر میں اس یقین اور بصیرت پر ہوں کہ حضور پر متواتر و مسلسل سخت دماغی محنت اور دن رات کی مصروفیت کے باعث اسی پرانی بیماری و عارضہ کا حملہ ہوا تھا جو اس سے قبل بارہا حضور کی زندگی میں ہوا کرتا تھا اور یہی علامات ان تکالیف میں بھی نمایاں ہوا کرتی تھیں جو بعض اوقات کئی کئی مضبوط اور قوی غلاموں کی گھنٹوں کی محنت، کوشش اور خدمت سے، جو دبانے اور مالش چاپی وغیرہ کے ذریعہ کی جایا کرتی تھی، بصد مشکل زائل ہوا کرتی تھیں۔ حضور کا جسم مبارک برف کی طرح ٹھنڈا ہو جانے کے بعد گرم ہوا کرتا تھا۔ نبض کی حرکت بحال ہوا کرتی تھی۔

بعینہٖ وہی علامات آج میں نے محسوس کیں اور اسی رنگ میں حضور کے برف کی مانند ٹھنڈے جسم کو گرمانے کی ان تھک کوشش جاری رکھی۔ محترم بزرگ حافظ حامد علی صاحب مرحوم اور میاں عبدالغفار خانصاحب کابلی بھی کچھ دیر بعد میرے ساتھ شریکِ عمل ہوئے اور اپنی طاقت سے بڑھ کر ہر کسی نے مالش و چاپی کے ذریعہ حضور کے جسمِ مبارک کو گرمانے کی کوشش کی مگر لَا حَاصِل ۔ جسدِ اطہر میں گرمی پیدا ہوئی نہ نبض ہی سنبھلی بلکہ جسم زیادہ ٹھنڈا اور نبض زیادہ کمزور ہوتی چلی گئی اور حضور کو پھر ایک دست ہوا جس کی وجہ سے ہم لوگ اوٹ میں ہو گئے واپس پہنچے تو معلوم ہوا کہ حضور کو ایک قے بھی ہوئی اور ضعف اتنا بڑھا کہ حضور چارپائی پر گر گئے۔

سیدنا حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس حالت کو دیکھ کر سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کسی قدر جھک کر حضرت کے حضور عرض کیا

’’یا اللہ یہ کیا ہونے لگا ہے؟‘‘

جس کے جواب میں حضور نے فرمایا:

’’وہی جو میں آپ سے کہا کرتا تھا‘‘

میرے حضرت کے حضور پہنچنے کے قریباً ایک گھنٹہ بعد حضرت مولوی صاحب کو حضور نے گھر جا کر آرام کرنے کا حکم دیا اور حضرت مولوی صاحب تعمیلِ ارشاد میں تشریف لے گئے مگر جب حالت زیادہ نازک اور کمزور ہوتی گئی، جسم بجائے گرم ہونے کے اور زیادہ سرد ہوتا گیا تو حضرت مولوی صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کو دوبارہ بلوایا گیا۔ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب چونکہ شہر میں دور رہتے تھے ان کو بھی آدمی بھیج کر بلوایا گیا اور جب انہوں نے پہنچ کر سلام عرض کیا تو حضور نے جواب کے بعد فرمایا۔ ’’ڈاکٹر صاحب علاج تو اب خدا ہی کے ہاتھ میں ہے۔ مگر چونکہ رعایتِ اسباب ضروری ہے وہ بھی کریں ۔ مگر ساتھ ہی دعائیں بھی کریں۔‘‘ چنانچہ ڈاکٹروں نے بعض انگریز ماہرین اور سول سرجن کے مشورہ سے انجکشن کرنے کا فیصلہ کیا جو حضور کے بائیں پہلو کی پسلیوں میں دل کے اوپر کیا گیا۔ باوجود اس کے حضور کو کوئی افاقہ نہ ہوا بلکہ تین بجے رات کے قریب ایک اور دست حضور کو آ گیا جس سے کمزوری اتنی بڑھی کہ ڈاکٹر اور طبیب خود بھی گھبرا گئے۔ دوبارہ ایک پچکاریحضور کے اسی پہلو میں اور کی گئی۔ ان پچکاریوں سے حضور کو درد محسوس ہوا جس کی وجہ سے حضرت نے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش بھی فرمائی۔ باوجود اس کے اس مرتبہ بھی پچکاری کر ہی دی گئی۔ مجھے حضرت کی تکلیف سے سخت تکلیف ہوئی اور ڈاکٹر صاحب کی جرأت پر تعجب کہ کس دل سے انہوں نے حضرت کے جسم مبارک میں اتنا لمبا سو ا لگایا، خطرہ بجائے کم ہونے کے بڑھتا گیا جس کی وجہ سے حضور کی چار پائی صحن میں سے اٹھوا کر دالان میں شرقاً غرباً چھت کے نیچے بچھائی گئی اور خاندان کے اراکین کو بلوایا گیا۔ صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سلمہ ربہ ، ہمارے موجودہ خلیفۃ المسیح الثانی کے اہل بیت حرم اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس شب اپنے والد بزرگوار حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آبائی مکان واقعہ پتھراں والی حویلی میں تشریف فرما ، ان کو وہاں سے خود حضرت صاحبزادہ صاحب والا تبار جا کر لے آئے اور حضرت نواب صاحب قبلہ کو ان کی کوٹھی سے راتوں رات بلوا لیا گیا۔ نیند رات بھر حضرت کو بالکل نہ آئی البتہ انتہائی ضعف اور کمزوری کے باعث کبھی کبھی خاموش اور بالکل بے حس وحرکت پڑے رہتے تھے۔ نبض ڈھونڈے سے نہ ملتی تھی حتیٰ کہ ایک مرتبہ تو یہی سمجھا گیا کہ حضور کا وصال ہو گیا جس کی وجہ سے سب پر سکتہ چھا گیا مگر وقفہ سے پھر کسی قدر حرکت اور اضطراب و گھبراہٹ ہونے لگی۔ سیدۃ النساء حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نہ صرف یہ کہ رات بھر آنکھوں میں کاٹی بلکہ حضرت کی خدمت اور دوائی درمان کے علاوہ بار بار نہایت ہی اضطراب اور بیقراری میں خدا کے حضور گر گر کر عاجزی و تضرّع سجدات میں بھی اور بیٹھے ، کھڑے یا چلتے پھرتے بھی دعاؤں اور التجاؤں ہی میں گزاری۔ جزع فزع یا شکوہ شکایت کی بجائے ہمت واستقلال اور تحمل و وقار ہمرکاب اور شامل حال نظر آتا تھا۔ اور نہ صرف خود سنبھلتے بلکہ اوروں کو بھی سنبھالتے تھے اور خاندان کی بیگمات، معصوم شہزادیوں اور بچوں کو پیار کرتے اور تسلیاں دیتے تھے۔ خاندان کے تمام اراکین حضور کی چار پائی کے سرہانے کی طرف کھڑے دعاؤں میں لگے ہوئے تھے۔ سیدنا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سلمہ ربہ موجودہ خلیفۃ المسیح الثانی، قبلہ حضرت نانا جان، قبلہ حضرت نواب صاحب اور شہزادے سبھی حضور کے گرد مختلف رنگ میں خدمات بجالاتے، خدا سے دعائیں کرتے اور گڑگڑاتے ہی نظر آتے تھے۔ سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد حضور پُر نُور کے دہنِ مبارک میں گلاب کیوڑہ یا شہد وغیرہ ڈالتے اور کہتے

’’اے خدا میری عمر بھی ان کو دے دے، ان کو مدتوں تک زندہ سلامت رکھ تاکہ تیرے دین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکیں‘‘۔ یہ اور اسی قسم کی مختلف دعائیں سیدۃ طاہرہ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ کے نام کے واسطہ سے ایسے دردناک اور پُرسوز لہجہ میں کرتی تھیں جن کے اثر سے کلیجہ پھٹا جاتا تھا۔ اور بات برداشت سے باہر ہوئی جا رہی تھی۔ حضرات صاحبزادگانِ والا تبار بھی اپنی جگہ اپنے رنج وغم اور درد والم پر قابو پائے، ضبط کئے، بحالتِ کظم یادِ الٰہی اور دعاؤں میں مصروف تھے اور ایسا معلوم دیتا تھا کہ ان کی نظریں اس دنیا سے نکل کر کسی دوسرے عالم کی طرف اٹھ رہی ہیں اور ان کے عزائم کسی پروگرام کی تیاری میں مصروف اور وہ اپنے خدا سے کوئی نئے عہد و پیماں باندھ رہے ہیں۔

دور کہیں صبح کی اذان ہوئی جس کی بالکل دھیمی سی آواز ہمارے کانوں نے محسوس کی اور ساتھ ہی سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے باوجود انتہائی کمزوری وضعف اور باوجود شدتِ کرب خود دریافت فرمایا:

’’کیا صبح ہو گئی یا اذان ہو گئی؟‘‘

میں نے عرض کیا۔ حضور اذان ہو گئی۔ جس پر حضور پُر نور نے تیمم کی غرض سے ہاتھ بڑھائے۔ کوئی صاحب مٹی کی تلاش میں نکلے مگر حضور نے بستر کے کپڑے ہی پر ہاتھ مار کر تیمم کیا اور پھر کافی دیر تک نماز ہی میں مصروف رہے۔

اگر چہ جس وقت سے حضور بیمار ہوئے اور میں حاضر خدمت ہوا۔ میرے کان آشنا ہیں۔ میرا دماغ محفوظ رکھتا ہے اور دل اس بات کے اظہار میں بے حد لذت محسوس کرتا ہے کہ بیماری کی تکلیف اور سختی کے اوقات میں بھی حضور کی زبانِ مبارک سے میں نے ’’ہائے۔ وائے۔ میں مر گیا۔ یہ ہو گیا وہ ہو گیا‘‘ کے نازیبا اور بے صبری کے الفاظ میں سے قطعاً قطعاً نہ صرف یہ کہ کوئی ایک لفظ بھی نہ سنا بلکہ کوئی ایسی خفیف سی حرکت بھی میں نے دیکھی، نہ محسوس کی۔ اور جو کچھ دیکھا، سنا، یا محسوس کیا وہ سرتا پا نور اور کلیۃً نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ، روح پرور، ایمان افزا اور سبق آموز ہی تھا۔ شدتِ کرب اور انتہائی تکلیف کے اوقات میں بھی حضور متواتر مسلسل اور بلا وقفہ ذکر الٰہی اور یادِ خدا میں رطب اللسان تھے اور نہایت ہی صبر کے ساتھ تسبیحی کلمات شکر بجا لاتے ہوئے ان تکالیف کو برداشت کرتے رہے۔ جزع فزع یا بے حوصلگی و گھبراہٹ کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی حرکت بھی میں نے نہ دیکھی بلکہ پورے وقار اور رضا کا مقام حضور کو میسر تھا۔ وہ نورِ نبوت اور روحانی چمک جو شدتِ امراض یا مشکلات کے گھٹا ٹوپ اوقات میں بھی حضور کے چہرۂ انور پر موجود رہا کرتی تھی اور جس کو میں نے حضور کی جبینِ مبارک سے کبھی جدا ہوتے نہ دیکھا تھا۔ آج بھی برابر حضور کے رخسار اور جبینِ مبارک پر قائم و سلامت نظر آرہی تھی اور حضور کی روشن و درخشاں پیشانی پر کسی بل یا شکن کا کوئی اثر بھی نہ تھا۔ حضور کو علم تھا کہ خدائی وعدوں اور الٰہی وحیوں کے پورا ہونے کے سامان ہو رہے ہیں مگر با وجود اس کے نہ صرف یہ کہ حضور کو بے چینی و بیقراری یا اضطراب نہ تھا بلکہ حضور کو ایک اطمینان وسکون حاصل تھا۔ حضور کا دل وصال کی لذت میں اور زبان ذکر کے ترانوں میں مشغول یہی کہہ رہی تھی۔

’’اے میرے خدا! اے میرے پیارے اللہ اور اے میرے پیارے اور پیارے کے پیارے خدا! سبحان اللہ ، الحمد للہ ، یا حیّ یا قیّوم ‘‘ یہی ذکر تھا اور یہی ورد جس کی لذت و سرور میں حضور پر بیماری کی تکالیف اور اضطراب و کرب ہیچ اور بے اثر تھے اور اگرچہ بتقاضائے بشریت حضور کے اعضاء طبعی اور اضطراری حرکات کر رہے تھے مگر حضور کا دل اپنے آقا کی یاد میں محو و مطمئن اور روح اس کے وصال کے لئے پروازِ شوق میں مصروف تھی۔ حضور کے چہرۂ مبارک پر اطمینان اور سکون کے ساتھ اَنوارِ الٰہیہ کے آثار نمایاں تھے۔ خاندانِ نبوت کے علاوہ اور بھی بہت سے دوست حضور کی علالت کی خبر پا کر جمع ہو رہے تھے۔ چار پائی کے گرد ایک ہجوم حلقہ باندھے کھڑا دعاؤں میں مصروفِ قدرتِ الٰہی اور بے نیازی کا رنگ دیکھ رہا تھا۔ اس بڑھتے ہوئے ہجوم کو انتظام و ترتیب میں لا کر سبھی خدام کو خدمت و قربت کا موقعہ بہم پہنچانے کی غرض سے پہرہ کا انتظام کیا گیا۔ اور باری باری چند چند دوستوں کو موقعہ زیارت اور شرفِ خدمت

دیا جاتا تھا۔ سورج نکل کر بلند ہو چکا تھا۔ دھوپ میں شدت اور تیزی پیدا ہو چکی تھی۔ قریباً ۹ بجے کا وقت ہو گا کہ حضور کی بڑھتی ہوئی کمزوری اور حالت کی نزاکت کے مد نظر پوچھا گیا۔ جس پر ہمارے آقاء نامدار فداہ روحی نے کچھ اشارہ کیا جسے سمجھ کر قلم دوات اور کاغذ حضرت کے حضور پیش ہوا اور حضور نے کچھ لکھنے کی کوشش کی مگر ضعف و نقاہت کا یہ عالم تھا کہ بہت تھوڑا لکھا جا سکا۔ اور قلم حضور کا پھسل گیا۔ حضور نے قلم اور کاغذ چھوڑ دیا۔ جس کے پڑھنے کی کوشش کی گئی مگر ناکام۔ آخر مکرمی میر مہدی حسین صاحب کو دیا گیا کیونکہ ان کو حضرت کے دستِ مبارک کی تحریر کے پڑھنے کی زیادہ اور تازہ مشق تھی۔ چنانچہ میر صاحب محترم نے جو کچھ پڑھا وہ یہ تھا۔

”تکلیف یہ ہے کہ آواز نہیں نکلتی۔ دوائی پلائی جائے۔“

اور وہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات پر اس طرح یقین ہے جس طرح آیاتِ قرآنی پر۔ کہ بالکل یہی الفاظ حضور نے تحریر فرمائے تھے مگر انجام کار چونکہ میری یاد میں اس کاغذ کا محترم حضرت پیر جی منظور محمد صاحب کے پاس پہنچنا تھا لہٰذا میں اس مرحلہ پر صاحبِ ممدوح کی خدمت میں حاضر ہوا تا اس مقدس دستاویز کے متعلق معلوم کروں۔ تو حضرت پیر صاحب نے جو کچھ فرمایا وہ یہ تھا کہ

تکلیف یہ ہے کہ آواز نہیں نکلتی…………حلق…………علاج کیا جائے………… پہلا حصہ جس پر دونوں بزرگوں کا اتفاق ہے

”تکلیف یہ ہے کہ آواز نہیں نکلتی“۔ بہرحال مسلّم ہے اور مجھے بھی پوری طرح سے یہی یاد ہے۔ اگلے حصہ کے متعلق میری یاد یہی تھی کہ وہ قیاسی تھا۔

ایک حنائی رنگ کے کاغذ پر حضور نے حسبِ عادت اسے تہہ کر کے صرف دو چھوٹی چھوٹی سطریں لکھیں۔ یہ کاغذ حضرت کے ہاتھ سے ڈاکٹر نور محمد صاحب نے لیا اور وہی اس حالت میں سب سے پیش پیش تھے اور انہی کے بار بار کے تقاضا و اصرار پر حضرت نے کاغذ پر کچھ لکھا تھا۔ پہلے خود ڈاکٹر صاحب نے پڑھنے کی کوشش کی۔ ان سے اوروں نے لیا اور پڑھنے کی کوشش کی مگر جب دیکھا کہ کسی سے بھی پوری تحریر حضور کی پڑھی نہیں گئی تو مکرمی میر مہدی حسین صاحب کو دے کر پڑھوانے کی کوشش کی کیونکہ وہ حضرت کی طرزِ تحریر سے زیادہ واقف سمجھے گئے کچھ انہوں نے پڑھا اور آخر کار وہ دستاویز جو حضورؐ پُرنور کی آخری دستی تحریر تھی۔ قبلہ حضرت پیر جی منظور محمد صاحب مصنف وموجد قاعدہ یسرنا القرآن کے ہاتھ آئی اور چونکہ وہ بھی سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تحریر کے پڑھنے کا خاص ملکہ و مہارت رکھتے تھے، انہوں نے پڑھا اور جو کچھ انہوں نے پڑھا وہ بھی اوپر درج کیا گیا ہے۔ مجھے یاد تھا کہ وہ کاغذ مبارک حضرت پیر صاحب موصوف ہی کے پاس ہے چنانچہ میں اسی خیال سے ان کی خدمت میں حاضر ہوا کہ وہ کاغذ حاصل کر کے اس کا عکس اتروالوں مگر صاحب ممدوح نے بتایا کہ وہ کاغذ مبارک پانچ ماہ تک میرے پاس رہا اس کے بعد سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھ سے منگا لیا تھا۔ اب انہی کے پاس ہوگا۔

ڈاکٹر صاحبان نے اس مرحلہ پر ایک اور انجکشن کرنے کا فیصلہ کیا جو اسی طرح چھاتی کے بائیں جانب دل کی حرکت ظاہر کرنے والے مقام کے اوپر ہوا جس کے ساتھ گرم پانی میں ملا ہوا نمک بھی استعمال کیا گیا حضور نے بالکل اطمینان سے یہ انجکشن کرا لیا۔ کوئی گھبراہٹ، درد یا اضطراب ظاہر نہیں ہوا۔ اس وقت بھی حاضرین نے ڈاکٹروں کے اس عمل کو ناپسند کیا کہ کیوں حضور کو اس حال میں تکلیف دیتے ہیں مگر کوئی افاقہ نہ ہوا۔ اور بجائے فائدہ و آرام ہونے یا طاقت وقوت آنے کے حضور کی کمزوری بڑھتی گئی اور نقاہت غلبہ ہی پاتی گئی۔ سیدنا حضرت نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو حسب عادت سر ڈالے ایک طرف بیٹھے دعائیں کر رہے تھے اس موقعہ پر اٹھ کر خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان کی ایک تنہا کوٹھڑی میں کھٹولے پر جا بیٹھے۔ حضرت پیر جی منظور محمد صاحب بھی حضرت کے پیچھے ہی پیچھے گئے اور حضرت کی طبیعت کے متعلق سوال کیا جس پر حضرت نورالدین نے جو فرمایا وہ یہ تھا کہ

’’ایسی بیماری کے مریض کو میں نے تو بچتے کبھی نہیں دیکھا‘‘

سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حالت لحظہ بلحظہ زیادہ کمزور، زیادہ نازک اور نڈھال ہوتی جا رہی تھی۔ خاندان نبوت کے مرد و زن چھوٹے بڑے سبھی جمع تھے اور اللہ تعالیٰ کے اسماءِ حسنہ کے واسطے دے دے کر دعا، تضرّع اور ابتہال میں مشغول تھے۔ سیدۃ النساء حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا بے قرار ہو ہو کر پکار رہی تھیں۔ ’’اے میرے خدا! اے ہمارے پیارے اللہ! یہ تو ہمیں چھوڑے

جاتے ہیں پر تُو ہمیں نہ چھوڑ یو“

سیدنا صاحبزادہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد سلمہ ربہ، ہمارے موجودہ امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الثانی آنکھیں بند کئے ایک عزم مقبلانہ لئے

يَا حَيُّ يَا قَيُّوم . يَا حَيُّ يَا قَيُّوم

کہہ کہہ کر ہمیشہ ہمیش باقی رہنے والی ذات والا صفات سے دعاء والتجاء اور راز و نیاز میں مصروف تھے۔ اور یہ تو وہ بعض الفاظ ہیں جو ہمارے کانوں میں پڑ گئے اور یاد بھی رہ گئے ورنہ خاندان کے سارے ہی اراکین بڑے بوڑھے، بیگمات اور شہزادے شہزادیاں اپنی اپنی جگہ بڑے ہی الحاح اور عجز و انکسار سے ذکر الٰہی، یادِ خدا اور دعاو التجاء میں مصروف تھے۔ تسبیح و تہلیل اور ذکر واذکار کی ایک گونج تھی جس سے جو بھر ا معلوم دیتا اور فضا گونج رہی تھی۔ ان مقدسین کے دل و دماغ میں کیا عزائم ، کیا ارادے یا کیا کیا پاک خیالات تھے اور ان میں سے ہر ایک اپنے خدا سے کس کس رنگ میں راز و نیاز اور قول و قرار باندھنے میں مصروف تھا۔

کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا

وہ خود ہی بیان کریں تو علم ہو یا پھر ان کا خدا اظہار کرے تو پتہ چلے ورنہ ہم لوگ تو ان عزائم و خیالات کی گرد کو بھی پہنچنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ لَا رَیْبَ ان کے چہرے ان کے عزائم اور ارادوں کے آئینہ دار تھے مگر ان کا پڑھنا یا سمجھنا ہر کسی کا کام نہ تھا۔

خدام بھی پروانوں کی طرح اس نور الٰہی اور شمعِ ہدایت کے گرد جمع تھے اور ہر ایک اپنے اپنے رنگ میں مصروف دعا الٰہی جبروت اور شانِ بے نیازی کو دیکھ رہا تھا۔ حالت حضور کی اس مرحلہ پر پہنچ چکی تھی کہ خواتین مبارکہ اور صاحبزادگان والا تبار کے علاوہ خدام و غلاموں کی نظریں حضور کے چہرہ مبارک پر ہی گڑ رہی تھیں۔ محترم حکیم محمد حسین صاحب قریشی اور حافظ فضل احمد صاحب حالت کی نزاکت محسوس کر کے خود بخود حضرت اقدس کی چارپائی کے پاس بیٹھے سورہ یٰس پڑھتے رہے۔ حضور کے قلب مبارک کی حرکت جو کرب کی وجہ سے پہلے تیز تھی ہلکی پڑنے لگی مگر تنفس میں سُرعت اور بے قاعدگی شروع ہو گئی اور ساتھ ہی لب ہائے مبارک کی جنبش جس سے ہم اندازہ کرتے تھے کہ حضور پُر نور اس حال میں بھی ذکر الٰہی میں مصروف ہیں، میں بھی وقفے ہونے لگے۔ اور ہوتے ہوتے بالکل بے ساختہ اور نہایت ہی بے بسی کے عالم میں میرے مونہہ سے کسی قدر اونچے اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ نکل گیا کیونکہ میں نے حضور کے آخری سانس کی حرکت کو بند ہوتے محسوس کر لیا تھا اور اس کے ساتھ ہی ہر طرف سے اس مصیبت عظیمہ پر رضاء و تسلیم کے اظہار کے طور پر اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ کی درد بھری ندا بلند ہو گئی۔ اس وقت کم و بیش پچاس ساٹھ خدام اور خاندان نبوت کے اراکین و خواتین مبارکہ حضور پر نور کے پلنگ کے گرد جمع ہوں گے۔ حضور کی روح اطہر تو اس قفس عنصری سے پرواز کر کے واصل بحق ہو کر اپنے محبوب حقیقی سے جا ملی اور اس طرح

جلد آ پیارے ساقی اب کچھ نہیں ہے باقی

دے شربتِ تلاقی حرص و ہوا یہی ہے

اپنے مقصد اصلی کو پا کر ابدی حیات، سچی راحت اور مقامِ رضاء و محمود پر سب سے اونچے بچھائے گئے تخت پر جا متمکن ہوئی مگر حضور کے غلام بحالتِ یتیم بالکل اس شیر خوار بچے کی مانند بلبلاتے اور سسکیاں لیتے نہایت ہی قابلِ رحم حالت میں رہ گئے جو بالکل چھوٹی عمر میں مہرِ مادری سے محروم کر دیا گیا ہو اور نقشہ اس وقت کا اس کی سچی کیفیت کے ساتھ الٰہی کلام ”اس دن سب پر اداسی چھا جائے گی“ کے بالکل مطابق تھا۔

منگل کا دن ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء مطابق ۲۴؍ربیع الثانی ۱۳۲۶ہجری المقدس دس اور ساڑھے دس بجے دن کے درمیان کا وقت اس سانحہ ارتحال اور محبوب الٰہی کے وصال کی اطلاع آن واحد میں جہاں شہر بھر میں پھیل گئی وہاں خبر رساں ایجنسیوں، پرائیویٹ خطوط، اخباروں اور تاروں بلکہ ریل گاڑی کے مسافروں کے ذریعہ ہندوستان کے کونہ کونہ بلکہ اکناف عالم میں بجلی کی کوند کی طرح پھیل گئی اور اس اچانک حادثہ کی وجہ سے بعض ایسے مقامات کے احمدیوں نے تو اس اطلاع کو معاندانہ پراپیگنڈا یا جھوٹ و افتراء کے خیال سے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جو دور دراز اور علیحدہ تھے۔ حضور پر نور کا وصال کوئی معمولی حادثہ نہ تھا بلکہ موت عالم کا ایک نقشہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بعض برگزیدہ بندے دنیا و مافیھا کو اپنے اندر لئے ہوتے ہیں اور ان کا وجود حقیقۃً سارے عالم کا مجموعہ ہوتا ہے۔

اَحۡیَاہَا فَکَاَنَّمَاۤ اَحۡیَا النَّاسَ جَمِیۡعًا(5:33)

قولِ خداوندی بھی اسی حقیقت کی تفسیر ہے۔ دنیا ہماری آنکھوں میں اندھیر تھی اور زمین باوجود اپنی فراخی و کشائش کے ہم پر تنگ تھی اور گویا رنج و غم کے پہاڑ تلے دب جانے کے باعث ہم لوگ پاگل اور مجنون ہو رہے تھے اور کچھ سوجھتا نہ تھا نہ حواس ٹھکانے تھے کیونکہ آج وہ مقدس وجود، جس نے آ کر خدا دکھایا، رسولؐ منوائے اور نورِ ایمان دلوایا اچانک یوں ہم میں سے اٹھا لیا گیا کہ خدا کے بعض وعدوں کے باقی ہونے کے خیال سے بے وقت اٹھایا جانا سمجھا گیا۔ اور وہ وجودِ مقدس جس کا نام خود خدا نے

جرى اللّٰہ فی حلل الانبیاء

یعنی

پہلوانِ حضرتِ ربِّ جلیل

برمیاں بستہ زشوکت خنجرے

جامع کمالاتِ انبیاء سابقین رکھ کر نہ صرف اسے ایک عالم کا مجموعہ قرار دیا تھا بلکہ اسے مظہرِ صفاتِ کل انبیاء ہونے کی وجہ سے عالمین کے فضائل و برکات اور خصائص و حسنات کا حامل و حامل ہونے کی عزت و شرف سے سرفراز فرمایا تھا۔

وہ ہم سے جدا ہو گیا

وائے بر مصیبتِ ما۔ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(2:157)

سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جس صبر اور رضا بالقضاء کا نمونہ دکھایا اور جس طرح خاندان بھر کی دردمند اور رنجور و غمزدہ بیگمات کو سنبھال کر انہیں ڈھارس دی۔ سیدہ طاہرہ کا وہ نمونہ مردوں کے لئے بھی مشعلِ راہ بنا۔ سیدنا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے جس عزم و استقلال سے اس مصیبت کے پہاڑ کو برداشت کیا اور مقامِ شکر پر نہ صرف خود قائم رہے بلکہ جماعت کے قیام کا بھی موجب بنے وہ آپ کی اولوالعزمی اور کوہِ وقار کی ایک زندہ اور بے نظیر مثال تھی اور نہ صرف یہی بلکہ خاندانِ نبوت کے ہر رکن کا نمونہ خدا کے برگزیدہ نبی کی صداقت کا ایک معیار نظر آ رہا تھا۔ اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بے نظیر قوتِ قدسی۔ اعلیٰ روحانی تربیت اور کامل تعلق باللہ کا ہر فردِ خاندان ایسا شاہدِ ناطق اور گواہِ عادل ثابت ہو رہا تھا کہ بجز کاملین اور خدا کے خاص برگزیدہ بندوں کے اس کی مثال محال ہے۔ میں حضرت مولوی صاحب مولانا نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اطلاع دینے کی غرض سے خواجہ صاحب کے مکان کی اس کوٹھڑی میں پہنچا جہاں ابھی ابھی حضرت ممدوح سیدنا حضرت اقدس کی حالت نزع کو دیکھنے کی تاب نہ لا کر چلے گئے تھے اور تنہائی میں سر نیچے ڈالے دعاؤں میں مصروف تھے۔ میں نے روتے ہوئے سانحہ ارتحال کی اطلاع دی تو فرمایا: ”تمہیں اب معلوم ہوا؟ مگر میں تو رات ہی اس نتیجہ پر پہنچ چکا تھا کیونکہ اس مرتبہ جتنا سخت حملہ حضور کو اس مرض کا ہوا اس سے قبل میں نے اتنا سخت حملہ کبھی نہ دیکھا تھا۔“ اور فوراً اٹھ کر تشریف لے آئے۔ جبین مبارک پر بوسہ دیا۔ لوگوں کو روتے دھوتے اور غم میں نڈھال دیکھ کر نصیحت فرمائی۔ صبر کی تلقین کی۔ مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی بھی اور دوستوں کی طرح مضطرب و بیقرار زار و نزار تھے۔ حضرت مولوی صاحب کی نصیحت سے سنبھلے اور بے ساختہ جوش میں بول اٹھے۔

انت الصدیق۔ انت الصدیق ۔ انت الصدیق

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد آپ ہی اہل اور احق ہیں کہ جس طرح آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی خدمت کا مقام اور مسلمانوں کی سیادت عطا فرمائی تھی اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رفع الی اللہ کے بعد آپ صدیق اکبر ہو کر جماعت کو سنبھالیں اور حضرت اقدس کے کام کی باگ ڈور تھامیں۔ وغیرہ۔ گو حضرت مولوی نور الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو اس قسم کی باتوں سے روک دیا۔ مگر باوجو د اس کے اس وقت سے ہر کام میں آپ کی اجازت اور مرضی لی جانے لگی اور آپ ہی کے زیر ہدایت ضروری امور انجام پذیر ہونے لگے۔

سیدنا حضرت اقدس کی بیماری کی خبر جہاں احمدی احباب کو ایک دوسرے کے ذریعہ سے ملتی گئی اور جہاں حضور کے غلام اور فرشتہ سیرت لوگ تکلیف کی اطلاع پا پا کر عیادت اور خدمت کو جمع ہو رہے تھے اور دوائی درمان کے علاوہ دعاؤں میں لگے ہوئے تھے وہاں شیاطین اور ان کے چیلے چانٹوں کے کان میں بھی حضور پُرنور کی علالت کی اطلاعات پہنچ گئی تھیں اور حضرت کے خدام اور غلاموں کی دوڑ دھوپ کے باعث وہ لوگ حالت کی نزاکت کو بھانپ کر کثیر تعداد میں جمع ہو کر ہا۔ ہو کے شور و شر۔ گالی گلوچ اور گندی بکواس میں مصروف تھے۔ وصال کی خبر پاتے ہی ان بدبخت۔ ننگ انسانیت غنڈوں نے جس غنڈہ پن کا مظاہرہ کیا اور جس طرح مکان پر حملہ آور ہوئے وہ خونخوار درندوں اور جنگلی بھیڑیوں کے حملہ سے کم نہ تھا۔ کمینگی۔ بزدلی۔ اور پست فطرتی کا جو مظاہرہ لاہور کی اس سیاہ دل ٹولی نے کیا اس کی نظیر شاید ہی دنیا نے کبھی دیکھی سنی ہوگی۔ ایسے ایسے سوانگ بھرے کہ ان کے ذکر سے کلیجہ مونہہ کو آتا ہے۔ ایسے ایسے آوازے کسے کہ ان کے خیال سے بھی دل خون ہوتا ہے۔ جنازہ نکالا۔ سیاپا کیا اور اپنے جنازے کا اپنے ہاتھوں مونہہ کالا کر کے ایسی حرکات کیں اور وہ اودھم مچایا کہ الامان والحفیظ! قصہ کوتاہ وہ دن ہم پر یوم احزاب سے کم نہ تھا خطرہ بڑھتے بڑھتے یہاں تک بڑھ گیا تھا کہ حملہ آوروں سے مکان کے اندر داخل ہو کر بے حرمتی کرنے کا خوف پیدا ہو گیا۔ چنانچہ دوستوں نے مشورہ کے بعد حضرت مولوی صاحب کی اجازت سے پولیس کی امداد طلب کی جس نے موقعہ پر پہنچ کر ڈنڈے سے ان غنڈوں کو منتشر کیا۔ جب جا کر یہ غول بیابانی کچھ گھٹا اور کم ہوا ورنہ وہ ہر لحظہ بڑھتا ہی جا رہا تھا مگر باوجود پولیس کے انتظام کے ایک حصہ دشمنوں کا لب سڑک کھڑا گالیاں دیتا، بکواس کرتا ہی رہا۔

اصحاب حل و عقد نے حضرت مولوی صاحب کے مشورہ سے تقسیم عمل کر کے دوستوں کی ڈیوٹیاں لگا دیں تاکہ ضروری کام خوش اسلوبی اور تیزی سے انجام پذیر ہو سکیں اور یہ فیصلہ ہو گیا کہ شام کی گاڑی سے جنازہ قادیان کے لئے روانہ ہو گا۔ چنانچہ جماعتوں کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وصال کی اطلاعات کے خطوط اور تاروں کی ترسیل کا کام محترم حضرت مفتی محمد صادق صاحب انچارج ڈاک سیدنا حضرت اقدس کے سپرد ہوا۔ نعش مبارک کو ریل گاڑی کے ذریعہ بٹالہ لانے کے لئے حسب قاعدہ ریلوے طبی سرٹیفیکیٹ کی ضرورت تھی کیونکہ بعض امراض سے فوت ہونے والوں کے متعلق ریلوے کا قانون ان کی لاش کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کی اجازت نہیں دیتا اور چونکہ ڈاکٹر صاحبان رات ہی سے حضور کے علاج کے متعلق سول سرجن اور بعض دوسرے بڑے بڑے انگریز ڈاکٹروں سے مشورے کرتے چلے آ رہے تھے لہٰذا مطلوبہ سرٹیفیکیٹ کے حصول میں کوئی دقت نہ ہوئی۔ گو سننے میں آیا تھا کہ دشمنوں نے اس مرحلہ پر بھی بڑی شرارت کی تھی تاکہ جنازہ قادیان نہ جا سکے اور لاش کی بے حرمتی ہوتی دیکھ کر وہ خوش ہوں۔ یہ خدمت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ و ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحبان کے ذمے لگائی گئی۔ غسل اور تجہیز و تکفین کی ڈیوٹی ڈاکٹر نور محمد صاحب اور محترم حکیم محمد حسین صاحب قریشی کو ملی۔ خاندانِ نبوت کے اراکین اور قافلہ کے سفر کی تیاری اور رختِ سفر کا انتظام مجھ غلام اور حضرت میاں شادی خان صاحب مرحوم کے حصے آیا۔ علیٰ ہٰذا مال گاڑی کا ڈبہ اور سٹیشن پر کے انتظامات ریلوے کے بعض ان دوستوں کے سپرد ہوئے جن کا تعلق ریلوے سے تھا۔ اس طرح تقسیمِ عمل سے کام جہاں بطریقِ احسن انجام پذیر ہوئے وہاں جلدی بھی ہو گئے۔

سیدنا حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نعش مبارک کے غسل میں حسبِ ذیل دوست شریک تھے۔ ڈاکٹر نور محمد صاحب۔ حکیم محمد حسین صاحب قریشی۔ میاں شادی خان صاحب مرحوم۔ میر مہدی حسین صاحب اور خاکسار راقم الحروف عبدالرحمٰن قادیانی۔ غسل وغیرہ سے فارغ ہو کر جنازہ اندرونی سیڑھیوں کے راستہ اس مکان کے نچلے حصہ میں لے جایا گیا جہاں حاجی الحرمین حضرت مولوی نورالدین صاحب نے موجود الوقت دوستوں سمیت نمازِ جنازہ ادا کی۔ اس وقت بھی اس قدر ہجوم تھا کہ ڈاکٹر صاحب کے مکان کا نچلا حصہ اندر باہر بالکل بھر گیا تھا بلکہ ایک حصہ دوستوں کا کوچہ میں کھڑا تھا۔ اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بعض شریف غیر احمدی لوگ بھی نمازِ جنازہ میں شریک تھے۔ چنانچہ خلیفہ رجب دین صاحب کا یہ اعلان کہ ’’آؤ لوگو! حضرت کا چہرہ مبارک دیکھ کر تسلی کرلو۔ کیسا نورانی۔ کتنا روشن اور کس قدر پاک صورت ہے۔ جن کو شبہ ہو وہ اپنا شک ابھی نکال لیں۔ پیچھے باتیں بنانا فضول ہوگا۔‘‘ وغیرہ۔ اور درحقیقت اس اعلان کی ضرورت اشرار کی بدزبانی۔ الزام تراشی اور بعض بیہودہ بکواس کی وجہ سے پیش آئی۔ چنانچہ اس طرح دیر تک اپنے بھی اور پرائے بھی حضور کے چہرہ انور کی زیارت کرتے رہے۔ اپنے تو خیر پرائے بھی چہرہ اقدس کی زیارت کر کے بے ساختہ سبحان اللہ۔ ماشاء اللہ پکار اٹھتے تھے۔ نمازِ جنازہ حضرت پر کئی بار لاہور میں پڑھی گئی۔ جوں جوں لوگ آتے رہے چند چند مل کر نمازِ جنازہ پڑھتے اور زیارت سے مشرف ہوتے رہے۔ بعض ہندو شرفاء بھی حضرت کے آخری درشن کو آئے اور مہا پرش۔ دیوتا۔ مہاتما اور اوتار وغیرہ کے الفاظ بآوازِ بلند کہتے ہوئے نذرِ اخلاص و عقیدت کے پھول چڑھا گئے۔ مکرم میاں مدد خان صاحب اور ایک دو اور دوستوں کی ڈیوٹی وہاں لگائی گئی تھی۔ جب سب انتظام درست ہو گئے تو حضور کی نعش مبارک کو سٹیشن پر لے جانے کی تیاری ہوئی۔ نماز ظہر وعصر دونوں جمع کی جا چکی تھیں۔ اس موقعہ پر پھر مخالف لوگ کثرت سے جمع ہو گئے اور سبّ وشتم کرنے لگے جس کی وجہ سے جنازہ لے کر نکلنا سخت مشکل تھا۔ کیونکہ مشتعل ومفسد ہجوم سے یہ خطرہ پیدا ہو چکا تھا کہ مبادا جنازہ پر حملہ کر کے بے حرمتی کا ارتکاب کریں اور یہ خطرہ اتنا بڑھا ہوا تھا کہ مجبوراً پولیس کی مدد حاصل کرنا پڑی جس کے نتیجہ میں آخر ایک انگریز پولیس افسر معہ خاصی تعداد کنسٹیبلان نے آ کر پھر ان لوگوں کو منتشر کیا اور ساتھ ہو کر جنازہ سٹیشن پر پہنچایا جہاں ایک متعصب ہندو بابو گیٹ کیپر کی شرارت کی وجہ سے جنازہ تھوڑی دیر رکا رہا مگر ایک کالے عیسائی نے آ کر اس بابو کو ڈانٹ ڈپٹ کی اور جنازہ کو احترام کے ساتھ اندر لے جانے میں مدد کی۔

اس طرح سٹیشن پر تھوڑی دیر جنازہ اقدس کے رکے رہنے کی وجہ سے بھی بہتوں کا بھلا ہو گیا اور کئی لوگ زیارت سے مشرف ہوئے جن میں احمدیوں کے علاوہ ہندو شرفاء بھی تھے اور غیر احمدی بھی۔ جنازہ تابوت میں رکھ کر مخصوص گاڑی میں رکھا گیا جس کے ساتھ چند دوست سوار تھے مگر افسوس کہ ان کے نام نامی مجھے یاد نہیں۔ باقی خاندان نبوت کے اراکین اور خدام و مہمان مختلف گاڑیوں میں سوار تھے۔ گاڑی لاہور سے چھ بجے شام کے قریب چلی امرتسر کے بعض احمدی دوست بھی امرتسر سے ہمرکاب ہو گئے اور امرتسر سے چل کر دس بجے کے قریب گاڑی بٹالہ سٹیشن پر پہنچی جہاں گاڑی کے پہنچنے سے قبل بہت سے دوست بٹالہ، قادیان اور مضافات کے موجود تھے۔ لاہور سے بٹالہ تک احمدی احباب میں پیش آمدہ حالات ہی کا تذکرہ ہوتا چلا آیا الگ الگ بھی اور مل کر بھی۔ دوستوں نے جماعت کے مستقبل کے متعلق ذکر اذکار جاری رکھے حتیٰ کہ خلافت کے انتخاب کا معاملہ بھی ایک طرح سے گاڑی ہی میں حل ہو گیا تھا اور جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے مجھے یاد نہیں کہ اس بارہ میں موجود احباب میں کوئی اختلاف ہوا ہو۔

سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جسد اطہر ایک لکڑی کے تابوت میں تھا جس کے اندر کافی تعداد برف کی بھری تھی اور وہ پگھل پگھل کر پانی کے قطروں کی شکل میں تابوت میں سے گرتی تھی سید احمد نور صاحب کابلی جو قادیان سے بٹالہ پہنچے تھے، وفورِ محبت میں بے تاب گاڑی کے اندر ہی تابوت سے جا لپٹے اور یہاں تک بڑھے کہ تابوت سے گرنے والے قطرات ہاتھ میں لے لے کر پیتے رہے۔

تابوت کچھ دیر بعد گاڑی سے اتار کر پلیٹ فارم پر رکھ لیا گیا جس کے گرد حلقہ بگوش خدام نے محبت و عقیدت کا حلقہ بنایا اور پہرہ دیتے رہے۔

خاندانِ نبوت کی ”خواتین مبارکہ“ معصوم بچیاں اور بچے، شہزادے اور شہزادیاں بھی سب کے سب مردوں سے ذرا ہٹ کر اسی پلیٹ فارم کے ناہموار فرش پر جس کے کنکر پتھر کسی پہلو بھی چین نہ لینے دیتے تھے۔ کچھ دیر کے لئے لیٹ گئے اور ہم غلاموں نے جہاں پہرہ اور نگرانی کی خدمات ادا کیں وہاں سامان کی درستی اور یکے گاڑیوں پر بار کرنے کا کام بھی ساتھ ہی ساتھ کر لیا اور اس طرح قریباً تین بجے ستائیس مئی کی صبح کو یہ غمزدہ قافلہ کچھ آگے پیچھے ہو کر خدا کے برگزیدہ نبی سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تابوت کے ہمرکاب پورے ایک ماہ کی جدائی اور ”داغِ ہجرت“ کے صدمات لئے قادیان کو روانہ ہوا۔ ستائیس اپریل ۱۹۰۸ء کو قادیان سے رخصت ہو کر پھر ستائیس مئی ۱۹۰۸ء کی صبح ہی کو قادیان پہنچا اور اس طرح خدا کے مونہہ کی وہ بات کہ ”ستائیس کو (ہمارے متعلق) ایک واقعہ۔ اَللّٰہُ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰی “ پوری ہو کر رہی۔

جسد مبارک کو تابوت سے نکال کر چارپائی پر رکھا گیا اور اس کے ساتھ لمبے لمبے بانس باندھ کر اٹھانے والوں کے لئے زیادہ گنجائش نکال لی گئی اور اس طرح حضور کا جنازہ اپنے غلاموں کے کندھوں ہی کندھوں پر بآسانی و جلد تر دارالامان پہنچ گیا۔ بٹالہ سے روانگی کے وقت بھی تقسیم عمل کر کے احباب کی ڈیوٹیاں مختلف شعبہ جات میں تقسیم کر دی گئی تھیں۔ قادیان اور مضافات سے آنے والے خدام اور بعض لاہور، امرتسر و بٹالہ کے دوست اور مہمان حضرت اقدس کے جنازہ کے ہمرکاب تھے۔ پیدل بھی اور سوار بھی۔ قادیان کے بعض دوست بٹالہ اور دیوانی وال کے تکیہ کے درمیان آن ملے اور پھر یہ سلسلہ برابر قادیان تک جاری رہا۔ پیشوائی کو آنے والے آ آ کر شامل ہوتے گئے اور اس طرح جہاں ہجوم بڑھتا گیا، رفتار ہلکی پڑتی گئی۔ مولوی محمد علی صاحب ایم اے بھی معہ چند اور دوستوں کے سنا تھا کہ نہر اور سوئے کے درمیان بے اختیار دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے ملے تھے۔ بعض دوستوں کی ڈیوٹی سامان کے گڈوں کے ساتھ لگائی گئی جو سامان کو لے کر قادیان کو روانہ ہوئے۔ میری ڈیوٹی سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہمرکاب تھی جو اپنی رتھ میں معہ بیگمات سوار تھیں اور چونکہ ابھی اندھیرا تھا۔ لہٰذا چند اور مخلصین بھی ہمرکاب تھے۔ سیدنا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد سلمہ ربہ ہمارے موجودہ خلیفۃ المسیح بھی معہ دوسرے عزیزوں کے اجالا ہو جانے تک سیدۃ النساء حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سواری کے ہمرکاب رہے۔ اس قافلہ نے نمازِ صبح پو پھٹتے ہی اول وقت میں اس جگہ لبِ سڑک ادا کی جہاں اے ایل او ای ہائی سکول کی ایک گراؤنڈ واقع ہے اور بیرنگ ہائی سکول اس جگہ سے قریباً ایک فرلانگ جانبِ شرق آتا ہے۔ امام الصلوٰۃ اس مختصر سے قافلہ کے سیدنا حضرت صاحبزادہ والا تبار مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سلمہ ربہ تھے۔ سورۃ ق حضرت ممدوح نے اس نماز میں پڑھی۔ یہ نماز اپنی بعض کیفیات کے لحاظ سے ان چند خاص نمازوں کے شمار میں آتی ہے جو اس سے قبل مجھے اس بارہ تیرہ سالہ قیام دارالامان میں کبھی کبھار اللہ تعالیٰ کے خاص ہی فضل کے ماتحت خدا کے نبی ورسول سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اقتداء میں نصیب ہوئیں یا پھر کسی خاص ہی موقعہ پر اللہ کریم نے حضور وسرور عطا فرما کر نوازا۔ سچ مچ ہماری یہ نماز صحیح معنوں میں ایک معراج تھا۔ جس میں شرفِ حضوری بخشا گیا۔ رقت وسوز کا یہ عالم تھا کہ روح پگھل کر آستانہ الوہیت پہ بہنے لگی اور دل نرم ہو کر پارہ بنا جا رہا تھا۔ آتشِ محبت میں ایسی تیزی اور حدت پیدا ہوئی کہ ماسوا اللہ کے خیالات جل کر راکھ ہو گئے اور وحدتِ ذاتی نے یوں اپنی چادرِ توحید میں لپیٹ لیا کہ ہمارا کچھ بھی باقی نہ رہا اور ہم اپنے خدا میں فنا ہو گئے۔ یہ سب کچھ اس مقدس ہستی کی تقدیس اور پاک خیالات سے لبریز روحانی لہروں کا اثر تھا جو اس پاک نفس ہستی کے قلبِ صافی سے نکل کر اثر انداز ہو رہی تھیں اور جن سے سارے ہی مقتدین علیٰ قدرِ مراتب متاثر ہو رہے تھے۔ جس کو خدائے علیم وخبیر نے ایک عرصہ پہلے ”نور آتا ہے نور“ کا مصداق قرار دے کر غفلت و گناہ کے اسیروں کی رستگاری کا موجب بنا کر نوازا۔ قراءت میں آپ کا درد بھرا لہجہ لحنِ داؤدی بن کر پتھر کو موم اور نار کو گلزار بنا رہا تھا۔ جس کی نہ مٹنے والی لذت وسرور آج اکتیس بتیس برس بعد بھی میں ویسے ہی محسوس کر رہا ہوں جیسے اس روز۔ مجھے اس بات کا تو اندیشہ نہیں کہ نعوذ باللہ میں کسی غلو یا مبالغہ آمیزی سے کام لے کر بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کر رہا ہوں بلکہ اندیشہ ہے تو یہ کہ مبادا اپنی کمزوریِ بیان وتحریر کی وجہ سے اصل حقیقت کے اظہار سے قاصر رہ جانے کے باعث حق پوشی کا مجرم نہ بن جاؤں۔ اور حق بھی یہی ہے کہ مجھے یہی خطرہ بڑھا ہوا معلوم ہوتا ہے کہ میں اس روحانی لذت و سرور کی صحیح تصویر دکھانے سے عاجز اور ان تاثرات کے اظہار سے عاری ہوں جو مجھے اس نماز میں نصیب ہوئے اور آج تک میں برابر ان اثرات کو محسوس کرتا۔ ان کی مہک اور خوشبو سونگھتا اور لذت اٹھاتا چلا آرہا ہوں۔

میں حضرت ممدوح کو بچپنے سے جبکہ آپ کی عمر چھ سات برس کی تھی دیکھتا چلا آیا تھا بلکہ مجھے فخر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے مجھے اس مَظْهَرُ الْحَقِّ وَالْعُلٰی اور ظلِ خدا ہستی کو گودیوں کھلانے کی عزت سے ممتاز اور سعادت سے سرفراز فرمایا اور اس طرح میں نے جہاں آپ کا بچپنا دیکھا۔ بچپنے کے کھیل واشغال اور عادات واطوار دیکھے وہاں الحمد للہ کہ میں نے حضور کی جوانی بھی دیکھی۔ سفر میں بھی اور حضر میں بھی۔ خلوت میں بھی اور جلوت میں بھی اور ساتھ ہی ساتھ اس کے آپ کے اخلاقِ فاضلہ پاک ارادے اور عزائمِ استوار، آپ کے اذکار وافکار، لیل ونہار اور حال وقال بھی دیکھنے کا مجھے موقعہ ملا تھا اور ان مشاہدات کے نتیجہ میں میں اس یقین پر تھا کہ واقعی یہ انسان اپنے کاموں میں اولوالعزم اور راہِ ہدایت کا شہسوار ہے مگر کل اور پھر آج جو کچھ میں نے دیکھا اور محسوس کیا اس سے میں نے اندازہ کیا کہ اس شخصیت کے متعلق میرا علم وعرفان بالکل ابتدائی بلکہ ناقص تھا، ایسا کہ میں نے اس عظیم الشان ہستی کے مقامِ عالی کو شناخت ہی نہ کیا تھا۔ میرے علم میں ترقی ہوئی، ایمان بڑھا اور عرفان میرا بلند سے بلند ہوتا چلا گیا حتّٰی کہ میں نے اپنی باطنی آنکھوں سے دیکھا اور محسوس کیا کہ اس صاحبِ شکوہ اور عظمت و دولت ہستی کو ایسی طاقتیں اور قویٰ ودیعت کئے گئے ہیں کہ اگر ساری دنیا اپنے پورے سامانوں کے ساتھ بھی کبھی اس کے مقابل میں کھڑی ہو کر اس کے عزائم میں حائل اور ترقی میں روک بننا چاہے گی تو مخذول ومردود ہی رہے گی اور یہ جلد جلد بڑھتا جائے گا کیونکہ خدا نے خود اس کو اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ اس میں اپنی روح ڈالی اور اس کے سر پر اپنا سایہ کیا ہے۔ لہٰذا دنیا کے بلند و بالا پہاڑ اپنی بلند ترین اور ناقابلِ عبور چوٹیوں اور اتھاہ گہری غاروں کے باوجود اس کے عزائم میں حائل ہونے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ ہی خشک وتر مَوّاج سمندر اپنی بھیانک اور ڈراؤنی طوفانی لہروں اور ریت کے خشک بے آب و گیاہ ویرانے اور سنسان ناقابل گزر ٹیلوں کے باوجود اس کی مقدر ترقیا ت کو روک سکتے ہیں کیونکہ یہ ازل سے مقدر تھا کہ اس کا نزول بہت مبارک اور جلالِ الٰہی

کے ظہور کا موجب ہوگا۔ وہ کلمۃ اللہ ہے۔ وَلَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ(6:35)۔ میں اپنے ذوق اور قلبی کیفیات کے جوش میں اصل مضمون سے دور نکل گیا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی ایک ایسی شہادت تھی جو موقعہ ومحل کے لحاظ سے اسی جگہ ادا کرنی میرے ذمہ تھی۔ زندگی کا اعتبار نہیں۔ موت کا پتہ نہیں۔ حسن اتفاق اور اک فرشتہ رحمت و برکت سیدنا قمر الانبیاء کی تحریک سے یہ موقعہ میسر آگیا کہ سلسلہ کی وہ بعض امانتیں جو قضاء قدر نے میرے دل و دماغ کے سپرد کر رکھی تھیں ان کی ادائیگی کی توفیق رفیق ہوگئی ورنہ ایک طویل بیماری اور لمبی علالت نے میرے جسم کے رگ وپے کو اس طرح مضمحل، کمزور اور سست کر دیا ہے کہ میں ایک تودۂ خاک بن کر رہ گیا ہوں جس کی وجہ سے میں کچھ لکھنے کے قابل نہ تھا۔ پس میں اس موقعہ سے فائدہ اٹھا کر اس جگہ صرف ایک اور کلمہ کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ کہ خدا کے نبی اور رسول حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ساری ہی اولا د موعود و محمود۔ بشیر و شریف اور خدا کی بشارتوں کے ماتحت یقیناً یقیناً ذریت طیبہ۔ مظاہر الٰہی اور شعائر اللہ ہیں۔ ایک کو موعود بنا کر مظھر الحق والعُلیٰ کا خطاب دیا تو دوسرے کو قمر الانبیاء بنا کر دنیا جہاں کی راہ نمائی کا موجب بنایا اور تیسرے کو بادشاہ کے لقب سے ملقب فرما کر عزت و عظمت اور جاہ و حشمت کے وعدے دیئے۔ وَمَنۡ یُّعَظِّمۡ شَعَآئِرَ اللّٰہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقۡوَی الۡقُلُوۡبِ(22:33)۔ پس

مقام او مبیں از راہِ تحقیر

بدورانش رسولاں ناز کردند

اگر شومئی قسمت اور شامت اعمال کسی کو ان کاملین کی غلامی کی سعادت سے محروم رکھتی ہے۔ اگر نہاں در نہاں بداعمالیاں اور معاصی کسی کو ان مقدسین پر عقیدت و نیازمندی کے پھول نذر و نچھاور کرنے سے روکتے ہیں اور ان سے محبت و اخلاص کے لئے انشراح نہیں ہونے دیتے تو بے ادبی و گستاخی کی لعنت میں مبتلا ہونے سے تو پر ہیز کرو اور بدگمانی و بدظنی اور اعتراض وطعن کی عادت سے تو بچو، ورنہ یاد رکھو کہ اگر اس قسم کی آگ اپنے اندر جمع کرو گے، زبان پر لاؤ گے تو آخر ’آگ کھائے انگار لگے‘ کے مصداق بننا پڑے گا۔ خدا کے غضب کی آگ اور اس کی غیرت کی نار بھڑ کے گی جس سے بچ جانا پھر آسان نہ ہوگا۔ الغرض یہ سارا قافلہ آگے پیچھے حالات کے ماتحت مختلف حصوں میں تقسیم، سات۔ آٹھ اور نو بجے

قبل دوپہر تک دارالامان پہنچ کر سیدنا حضرت اقدس مسیح پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے باغ میں خیمہ زن ہوتا گیا جہاں قادیان کی مقدس بستی اور مضافات کے رہنے والے۔ مرد۔ عورت۔ بچے۔ بوڑھے سبھی اس غم سے فگار اور درد سے بیقرار ہو ہو کر گھروں سے نکل کر شریک حال ہو رہے تھے۔

میں سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے رتھ کے دائیں ۔ بائیں اور آگے پیچھے اس مصیبت کی تکلیف اور درد و رنج کو ہلکا کرنے اور بٹانے کی نیت و کوشش اور اظہار ہمدردی۔ نیازمندی و عقیدت کے جذبات سے لبریز دل کے ساتھ پیدل چلا آرہا تھا اور سیدہ طاہرہ بھی میری دلی کیفیات سے متاثر ہو کر گاہ گاہ دنیا کی ناپائیداری و بے ثباتی اور خدائے بزرگ و برتر کی بے نیازی کے تذکرے فرماتیں۔ دعامیں مشغول۔ خدا کی یاد اور اس کے ذکر میں مصروف چلی آ رہی تھیں ۔ آپ کے صبر و شکر اور ضبط و نظم کا یہ عالم تھا کہ غمزدہ خادموں اور دردمند غلاموں کو بار بار محبت بھرے لہجہ میں نصیحت فرماتیں اور تسلی دیتی تھیں ۔ سیدہ مقدسہ کا ایک فقرہ اور درد بھرا لہجہ اپنی بعض تاثیرات کے باعث کچھ ایسا میرے دل و دماغ میں سمایا کہ وہ کبھی بھولتا ہی نہیں اور ہمیشہ دل میں چٹکیاں لیتا رہتا ہے۔ جو آپ نے اسی سفر میں نہر کے پل سے آگے نکل کر جب آپ کی نظر قادیان کی عمارتوں پر پڑی اس سوز اور رقت سے فرمایا کہ میں پھوٹ پھوٹ کر رونے اور سسکیاں لینے لگا۔ آہ وہ فقرہ میرے اپنے لفظوں میں یہ تھا کہ

’’بھائی جی چوبیس برس ہوئے جب میری سواری ایک خوش نصیب دلہن اور سہاگن کی حیثیت میں اس سڑک سے گزر کر قادیان گئی تھی اور آج یہ دن ہے کہ میں افسردہ و غمزدہ بحالت بیوگی انہی راہوں سے قادیان جا رہی ہوں۔‘‘

قادیان قریب اور قریب تر ہوتا جا رہا تھا۔ بعض مخلص مرد اور عورتیں اخلاص وعقیدت کے پھول بطور نذرانہ لے لے کر سیدہ محترمہ کے استقبال و پیشوائی کو آتے ۔ اظہار ہمدردی اور تعزیت کر کے رتھ کے ساتھ ہو لیتے۔ چنانچہ اس طرح آپ کی رتھ کے ساتھ مرد اور عورتوں کا ایک خاصہ ہجوم وارد قادیان ہوا۔ آپ کی سواری شہر میں مغربی جانب سے داخل ہو کر ننگلی دروازہ کی راہ سے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے باغ والے مکان پر پہنچی جہاں حضرت اقدس کا جسد مبارک رکھا تھا اور کثرت سے مستورات اس کے گرد سیدۃ النساء کی انتظار میں بیٹھی تھیں۔ مرد باہر باغ میں ڈیرے ڈالے پڑے تھے اور صلاح مشورے ہو رہے تھے۔ منصب خلافت کی ردا کس بزرگ ہستی کے کندھوں کی زینت بنے، زیر غور اور اہم مسئلہ تھا جو اگرچہ علماء سلسلہ، اکابر صحابہ اور مجلس معتمدین کے ارکان بمشورہ اراکین خاندان نبوت اور باجازت سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا حل کر چکے تھے اور قرعہ فال حضرت حاجی الحرمین مولانا مولوی نور الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام نکل چکا تھا اور جماعت کا اس امر پر اجماع تھا۔ بغیر کسی اختلاف کے سبھی کے دل مائل اور جھکے ہوئے تھے اور اس اجماع۔ اتفاق اور رجوع کو رضا و نصرت الہی کی دلیل یقین کیا جاتا تھا کیونکہ سیدنا حضرت اقدس کے وصال سے لے کر اس وقت تک برابر جماعت دعاؤں میں مصروف خدا کی راہ نمائی و دستگیری کی طالب بنی چلی آرہی تھی اور اس انتخاب پر انشراح کو یقیناً خدا کی تائید سمجھتی تھی۔ نہ ہی کسی کو نفس منصب خلافت سے انکار تھا اور نہ ہی کوئی دوسرا نام خلافت کے لئے تجویز ہوا۔ چنانچہ اس فیصلہ کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے ایک مختصر سا مضمون لکھا گیا جس پر جماعت کے افراد کے دستخط بطور اظہار رضامندی و اتفاق حاصل کر کے حضرت ممدوح کی خدمت میں درخواست کی گئی کہ بیعت لے کر جماعت کی باگ ڈور تھامیں اور راہ نمائی فرمائیں۔

یہ تحریر مخدومی حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھڑے ہو کر بھاری مجمع کی موجودگی میں حضرت مولوی صاحب کے سامنے بطور درخواست پڑھی مگر حضرت مولوی صاحب اس بارگراں کے اٹھانے سے گھبراتے رکتے اور ہچکچاتے اور فرماتے تھے کہ میرے دل کے کسی گوشہ میں بھی خلافت اور نمبرداری کی خواہش نہیں اور نہ ہی میں کوئی بڑائی اپنے واسطے چاہتا ہوں کیونکہ میں اس بوجھ کے اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا

آنانکہ عارف تراند ترساں تر

آپ بار بار سیدنا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا نام لے کر جماعت کو یہ کہتے ہوئے کہ ’’میں چاہتا تھا کہ حضرت کا صاحبزادہ میاں محمود احمد جانشین بنتا اور اسی واسطے میں ان کی تعلیم میں سعی کرتا رہا‘‘ ان کے ہاتھ میں ہاتھ دینے کو فرماتے اور اسی پر زور دیتے رہے مگر جماعت کی طرف سے اصرار و الحاح دیکھ کر آپ نے کھڑے ہو کر ایک خطبہ پڑھا جس میں پھر انہی باتوں کو دہراتے ہوئے فرمایا کہ

”میں نے اس فکر میں کئی دن گزارے کہ ہماری حالت حضرت صاحب کے بعد کیا ہو گی؟ اسی لئے میں کوشش کرتا رہا کہ میاں محمود کی تعلیم اس درجہ تک پہنچ جائے۔ حضرت صاحب کے اقارب میں اس وقت تین آدمی موجود ہیں اول میاں محمود احمد وہ میرا بھائی بھی ہے میرا بیٹا بھی اس کے ساتھ میرے خاص تعلقات ہیں۔

:۲۔ قرابت کے لحاظ سے میر ناصر نواب صاحب ہمارے اور حضرت کے ادب کا مقام ہیں

:۳۔ تیسرے قریبی نواب محمد علی خان صاحب ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت مردوں۔ بچوں اور عورتوں کے لئے ضروری ہے کہ وحدت کے نیچے ہوں۔ اس وحدت کے لئے ان بزرگوں میں سے کسی کی بیعت کرلو، میں تمہارے ساتھ ہوں۔ میں خود ضعیف ہوں۔ بیمار رہتا ہوں پھر طبیعت مناسب نہیں۔ اتنا بڑا کام آسان نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پس میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جن عمائد کا نام لیا ہے ان میں سے کوئی منتخب کر لو میں تمہارے ساتھ بیعت کرنے کو تیار ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن جبکہ بلا میری خواہش کے یہ بار میرے گلے میں ڈالا جاتا ہے اور دوست مجھے مجبور کرتے ہیں تو اس کو خدا کی طرف سے سمجھ کر قبول کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر تم میری بیعت ہی کرنا چاہتے ہو تو

سن لو کہ بیعت بک جانے کا نام ہے۔ ایک دفعہ حضرت نے مجھے اشارہ فرمایا کہ وطن کا خیال بھی نہ کرنا۔ سو اس کے بعد میری ساری عزت اور سارا خیال انہی سے وابستہ ہو گیا اور میں نے کبھی وطن کا خیال تک نہیں کیا پس بیعت کرنا ایک مشکل امر ہے۔

الغرض حضرت مولانا نور الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک نہایت ہی پُر درد۔ پُر معرفت اور رقت آمیز خطبہ کے بعد جماعت سے سیدنا حضرت احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نام پر بیعت اطاعت لی اور اس طرح گویا خدا کے نبی و رسول سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی موجودگی ہی میں جماعت سلک وحدت میں پروئی گئی۔ بعض دوست آج بھی اپنے شہروں سے آئے اور شام تک بلکہ متواتر کئی روز تک آتے ہی رہے۔ جوں جوں ان کو اطلاع ملتی گئی دیوانہ وار مرکز کی طرف دوڑتے بھاگتے جمع

ہوتے رہے۔ اور یہ سلسلہ کئی روز تک بہت سرگرمی سے جاری رہا۔ حضرت مولوی صاحب کے خطبہ کے بعد بیعت خلافت پہلے مردوں میں ہوئی پھر مستورات میں۔ بیعت کے بعد کچھ انتظار کیا گیا تا کہ بیرون جات سے آنے والے دوست بھی نماز جنازہ میں شریک ہوسکیں۔ چنانچہ نماز جنازہ قریباً عصر کے وقت پڑھی گئی جس میں کثرت سے لوگ شریک ہوئے۔ نماز جنازہ کے بعد حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر ایک تقریر فرمائی اور جماعت کو نصائح فرمائیں۔ اس تقریر کے بعد نمازیں ادا کی گئیں۔ نماز جنازہ کے بعد سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جسد اطہر پھر باغ والے مکان میں پہنچا دیا گیا جہاں حضور کی آخری زیارت کا موقعہ حضور کے غلاموں کو دیا گیا۔ زیارت کے لئے ایسا انتظام کیا گیا کہ ایک طرف سے لوگ آتے اور دوسری طرف کو نکلتے جاتے رہے۔ زیارت کا سلسلہ بہت لمبا ہو گیا اور وقت تنگ ہوتا دیکھ کر کچھ جلدی کی گئی اور اس طرح شام سے پہلے پہلے حضرت کا جسم مبارک خدا کے مقرر کردہ قطعہ زمین میں رکھ کر اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا گیا۔ پہلے خیال تھا کہ حضور پُرنور کا جسد اطہر اسی تابوت میں رکھ کر قبر میں رکھا جائے جس میں لاہور سے لایا گیا تھا مگر بعد میں یہی فیصلہ ہوا کہ بغیر تابوت ہی الٰہی حفاظت میں دیا جاوے۔ چونکہ پہلے خیال کی وجہ سے قبر میں لحد تیار نہ کرائی گئی تھی لہٰذا حضور پُرنور کا جسم مبارک قبر کے درمیان رکھ کر اوپر سے اینٹوں کی ڈاٹ لگا کر پھر مٹی ڈال دی گئی۔ قبر کی درستی کے بعد ایک لمبی دعا حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجمع سمیت کی اور شام کے وقت اس فرض اور خدمت سے فارغ ہو کر دعائیں کرتے شہر کو آئے۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِكْ وَسَلِّمْ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ

نوٹ:۔ تحریر ہٰذا ۳۹؍۳۸ء کی ہے جو صاحبزادہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ ربہ قمر الانبیاء کی تحریک پر خاکسار عبدالرحمن قادیانی نے لکھی۔