یا اہل دار الندوة تعالوا الی کلمة سواء بیننا وَبَیْنَکُمْ أَنْ لَّا تُحَکِّمَ إِلَّا القرآن . ولا نقبل الا ما وافق قول الرحمن. وہذا ہو الدین القیم ایہا المتقاعسون. وان القرآن کتاب ختم بہ الہدی . وفیہ کتب قیمة وخبر ما یأتی وما مضی فبای حدیث بعدہ تؤمنون. اعلموا ان الخیر کلہ فی القرآن وشر الاحادیث ما خالفہ فاحذروہا ایہا المتقون. وکلما خالف ہدی القرآن وقصصہ فاعلموا انہ سقط ولا یقبلہ الا الفسقون. وَإِنّی انا المسیح وبالحق أمشی واسیح وللہ أنادی واصیح وَأُذَکِّرُکُمُ ایّام اللہ فہل انتم تتذکرون. وانی جئتکم ببینة من ربّی وعُلِّمتُ ما لم تُعلّموا وأبصرت مالا تبصرون. اتکذبوننی ولا تجیئوننی ولا تسئلون ان عیسی مات و لا یُحیی باحیاء کم فلا تکذبوا القرآن أیہا المجترء ون. وإن کان نازلا قبل یوم القیامة کما تزعمون . فلم انکر لما سئل عن ضلالة النصاری. واعتذر بعدم العلم کما انتم تدرسون. ولم یقل انی اعلم ما احدثوا بعدی بما رددتُ الی الدنیا ورئیتُ ما کانوا یعملون. وکان الحق ان یقول رب انی رجعت الی الدنیا باذنک ولبثت فیہم الی اربعین سنة فوجدتہم یعبدوننی وأُمِّی وعلیہ یُصِرُّون . فکسرت صلبانہم وأصلحت زمانہم وقتلت کثیرا منہم فدخلوا فی دین اللہ وہم یتضرعون. فاسئلوا عیسی کُمُ لم یکذب یوم القیامة ویُخفی شہادة کانت عندہ کأنہ من الذین لا یعلمون . وانی اقسم باللہ انی منہ فعظموا حلف اللہ ان کنتم تتقون. وانی اعطیت کثیرا من الآیات وسد القرآن طریقًا آخر من دونی فاین تفرون. وقد جئت علی رأس المائة کما انتم تعلمون. وخُسف القمر والشمس فی رمضان. لیکونا آیتین لی من ربی الرحمن ثم انزل الطاعون لعل الناس یتفکرون. فمالکم لا تنظرون الی آی اللہ او تعاف عیونکم ما تنظرون. ایہا الناس عندی شہادات من اللہ فہل انتم تؤمنون. ایہا الناس عندی شہادات من اللہ فہل انتم تسلمون. وَإِنْ تَعُدُّوا شہادات ربّی لا تحصوہا فاتقوا اللہ ایہا المستعجلون. اَ فَکُلَّمَا جاء کم رسول بما لا تہوی انفسکم ففریقا کذَّبتم و فریقا تقتلون انا نُصرنا من ربّنا وَلَا تُنْصَرُون من اللہ ایہا الخائنون. اقتلتمونی بفتاوی القتل او دعاوی رفعتموہا الی الحکام ثم لا تتندمون. کتب اللہ لاغلبن انا و رسلی ولن تُعجزوا اللہ ایہا المحاربون. وَوَاللہ انی صادق ولست من الذین یختلفون. اَ تُنکروننی و قد تمت علیکم الحجة الا تردون الی اللہ او انتم کمسیحکم خالدون. الا تتدبرون سورة النور و التحریم والفاتحة أو تَکْرَہُون قراءتہا او علی انفسکم تُحرمون. وہذہ رسالة منی اہدیت لکم یا اہل الندوة لعلکم تفتحون عیونکم اوتتم علیکم حجة اللہ فلا تعتذرون بعدہا ولا تختصمون. وانی سمیتہا
وانی أرسل إلیکم رسلی و انظر کیف یرجعون وانی ادعو اللہ ان یجعلہا مبارکة لقوم لا یستکبرون. ربّ اشہد انی بلَّغْتُ مَا أَمَرْتَ فاکتبنی فی الذین یُبلغون رسالاتک ولا یخافون. آمین ثم آمین
مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باھتمام حاجی حکیم فضل دین صاحب طبع ہوا
کشتی نوح ہے یہ و دعوت الایمان
ہے عجب اک کتاب عالی شان
تازہ ہوتا ہے اس کو پڑھ کر دیں
اس سے بڑھتی ہے رونق ایمان
ہے یہ آبِ حیات سے بہتر
مردہ روحوں کو بخشتی ہے جان
اس کی تعریف سے ہوں میں عاجز
وصف سے اس کے لال میری زبان
گمرہوں کی ہے رہنما یہ کتاب
ہے ہدایت کا ان کے یہ سامان
بیکسوں کی ہے تکیہ گاہ یہی
لا علاجوں کا اس میں ہے درمان
ہیں مضامین اس کے لاثانی
ہے خدا کے رسول کا یہ نشان
اس سے کھلتے ہیں دین کے عقدے
غور سے گر اسے پڑھے انسان
علم آتا ہے جہل جاتا ہے
دور ہوتے ہیں اس سے وہم و گمان
باغ دنیا نہیں جنت ہے یہ
جس میں پھرتے ہیں حور اور غلمان
اس میں ہیں شیر و شہد کی نہریں
جا بجا اس میں قصر عالی شان
کشتی بے نظیر ہے یہ مفت
کوئی اجرت کا یاں نہیں خواہان
جس نے ہم کو عطا یہ کشتی کی
ایسے ملاح پر ہیں ہم قربان
یا الہی تو ہم کو دے توفیق
کیونکہ تو ہے رحیم اور رحمان
دور ہوں ہم سے نفس کے جذبات
ہم سے بھاگے پرے پرے شیطان
تیرے حکموں پہ ہم چلیں دن رات
دل سے ہم مان لیں ترے فرمان
ہم سے تو خوش ہو تجھ سے ہم راضی
جسم سے جب ہمارے نکلے جان
تیرا بندہ ہے ناصر عاجز
چاہتا ہے یہ تجھ سے تیری امان
تیری رحمت کا تجھ سے خواہاں ہے
فضل کا تیرے تجھ سے ہے جویان
دور کر اس کے بوجھ اے مولی
راستہ اپنا اس کر آسان
اتقیا میں اسے بھی شامل کر
رحم کر رحم اس پر اے سُبحان
ڈھانک دے اس کے عیب اے ستار
کہ یہ رکھتا ہے تجھ پہ نیک گمان
بطفیل محمد و احمد
درد کا اس کے جلد کر درمان
دل سے اپنے یہ ہے غلام امام
کر مدد اس کی ظاہر و پنہان
نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي
بہر دم مددے از خدا ہمی آید
کجاست اہل بصیرت کہ چشم بکشاید
آج ۲ راکتو بر ۱۹۰۲ء کو ایک اشتہار مجھے ملا جو حافظ محمد یوسف پنشنر کی طرف سے میرے نام پر شائع ہوا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ میں ایک دفعہ زبانی اس بات کا اقرار کر چکا ہوں کہ جن لوگوں نے نبی یا رسول یا اور کوئی مامور من اللہ ہونے کا دعوی کیا تو وہ لوگ ایسے افترا کے ساتھ جس سے لوگوں کو گمراہ کرنا مقصود تھا تئیس برس تک ( جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایام بعثت کا کامل زمانہ ہے ) زندہ رہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔ اور پھر حافظ صاحب اسی اشتہار میں لکھتے ہیں کہ ان کے اس قول کی تائید میں ان کے ایک دوست ابو اسحاق محمد دین نام نے قطع الوتین نام ایک رسالہ بھی لکھا تھا جس میں مدعیان کا ذب کے نام معہ مدت دعوئی تاریخی کتابوں کے حوالہ سے درج ہیں ۔ ماحصل اس تمام تقریر کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ حافظ صاحب کو قرآن شریف کی آیت لو تقول پر ایمان نہیں ہے اور نہ لانا چاہتے ہیں اور نہ آیت وَاِنۡ یَّکُ کَاذِبًا فَعَلَیۡہِ کَذِبُہٗ(المؤمن: ۲۹) پر ان کا عقیدہ ہے اور نہ ایسا عقیدہ رکھنا چاہتے ہیں بلکہ رساله قطع الوتین قرآن شریف کی ان آیتوں کو رد کر چکا ہے اور ان کے نزدیک گویا یہ تمام آیتیں جیسا کہ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰی(طه: ۶۲) کے اور جیسا کہ آیت اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ لَا یُفۡلِحُوۡنَ(النحل: ۱۱۷) ۔ اور جیسا کہ آیت فَبَدَّلَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا قَوۡلًا غَیۡرَ الَّذِیۡ قِیۡلَ لَہُمۡ فَاَنۡزَلۡنَا عَلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ(البقرة: ۶۰) یہ سب منسوخ شدہ ہیں جو اب واجب العمل نہیں اور پھر ان آیتوں میں سے وہ بھی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ نبی بعض باتیں میری طرف بناوٹ سے منسوب کر دیتا تو میں اُسے پکڑتا اور اُس کی رگ جان قطع کر دیتا ۔ گویا یہ تمام آیات رسالہ قطع الوتین سے رد ہو گئیں اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گویا یہ تمام وعید خدا تعالیٰ کے جو اوپر کی تمام آیتوں میں مفتریوں کے متعلق ہیں یہ بالکل خلاف واقع باتیں تھیں اور یہ انبیاء علیہم السلام اگر نعوذ باللہ افترا کرنے والے ہوتے تب بھی بقول حافظ صاحب ہلاک نہ کئے جاتے تو گویا خدا کی گورنمنٹ میں مفتریوں کے لئے کوئی انتظام نہیں اور وہاں ہر ایک فریب چل جاتا ہے٭ اور یہ امکان باقی رہتا ہے کہ اگر خدا پر کوئی نبی افترا بھی کرتا تو دنیا کی زندگی میں اس کے لئے کوئی عذاب نہ تھا گویا خدا کے قانون سے انسانی گورنمنٹ کے قانون بڑھ کر ہیں کہ ان میں جھوٹی دستاویز بنانے والے دست بدست پکڑے جاتے اور سزا پاتے ہیں۔ اس جگہ یہ مسئلہ بھی حل ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کی تکمیل تک جو تئیس برس کی مدت تھی مہلت ملنا اور مخالفانہ کوششوں سے جو ہلاک کرنے کے لئے تھیں محفوظ رہنا اور زندگی پوری کر کے خدا کے حکم کے ساتھ جانا جیسا کہ میرے لئے بھی اسی برس کی زندگی کی پیشگوئی ہے جب تک میں سب کچھ پورا کرلوں یہ باتیں حافظ صاحب کی نظر میں معجزہ کے رنگ میں نہیں ہیں اور نہ ایسی پیشگوئیوں کے پورا ہونے سے کوئی شخص صادق سمجھا جاتا ہے۔ غرض کیا میں اور کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حافظ صاحب کے مذہب کی رو سے اس حفاظت اور عصمت الہی کو اپنی سچائی کی دلیل نہیں ٹھہرا سکتے بلکہ کاذب بھی اس میں شریک ہو سکتا ہے مگر اس طرح پر تو قرآن شریف کا تمام بیان غلط ٹھہرتا ہے کیونکہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک مفتری پکڑا جائے گا ، ذلیل ہوگا ، ہلاک ہوگا اور فلاح نہیں پائے گا اور انسانی عقل بھی یہی قبول کرتی ہے کہ کذاب جو خدا کے سلسلہ کو عمد انتباہ کرنا چاہتا ہے ہلاک ہونا چاہیے ۔ یہی بیان جا بجا خدا کی پہلی کتابوں میں بھی ہے مگر حافظ صاحب کا مقولہ ہے کہ بہتوں نے جھوٹی وحی اور جھوٹی نبوت کے دعوے کئے اور ان دعووں کا سلسلہ میں تیس برس تک جاری رکھا اور اپنی نبوتوں پر اصراری رہے اور اپنا سلسلہ جھوٹی وحی پیش کرنے کا اخیر دم تک نہ چھوڑا یہاں تک کہ اسی کفر پر مر گئے اور خدا نے اُن کی عمر اور کام میں برکت دی اور کوئی عذاب نہ کیا اور نہ ثابت ہو سکا کہ کبھی اُنہوں نے توبہ کی اور کبھی اُن کی توبہ ملک میں شائع ہو کر لوگوں کو اُن کے دوبارہ مسلمان ہونے کی خبر ہوئی اور حافظ صاحب فرماتے ہیں کہ ان باتوں کا ثبوت رسالہ قطع الوتین میں بخوبی لکھا گیا ہے اور حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ میں انعام کا پانسو روپیہ لینا نہیں چاہتا اس کے عوض یہ چاہتا ہوں کہ ندوۃ العلماء کے سالانہ جلسہ میں جو ابتداء ۱۹ اکتوبر ۱۹۰۲ء سے بمقام امرتسر منعقد ہوگا جس میں ہندوستان کے مشاہیر علماء شریک ہوں گے مرزا صاحب یعنی یہ عاجز یہ اقرار لکھ دیں کہ جو نظائر پیش کی گئی ہیں (یعنی رساله قطع الوتین میں ) اگر مقرر کردہ حکم کے نزدیک یعنی ندوہ کے علماء کے نزدیک محک امتحان پر پوری اتریں یعنی ندوہ نے قبول کر لیا ہو کہ جس عمر کو ابتدا وحی سے میں نے پایا ہے اور جس انکشاف سے اور پورے زور اور یقین سے خدا کی وحی پر میرا دعویٰ ہے اور میں نے جس طرح ہزار ہا کلمات خدا تعالیٰ کی وحی کے اپنی نسبت لکھے ہیں اور دنیا میں مشہور کئے ہیں ایسا ہی ان لوگوں نے مشہور کئے تھے اور خدا پر افترا کیا تھا پھر وہ ہلاک نہ ہوئے بلکہ میرے جیسی اُن کی بھی جماعت ہو گئی تو ایسی صورت میں مجھے اس مجلس میں تو بہ کرنی چاہیے۔ میں قبول کرتا ہوں کہ ندوہ کے علماء اگر ان کو خدا نے بصیرت دی ہے اور تقویٰ اور انصاف بھی ہے اور پورے غور کرنے کے لئے وقت بھی ہے تو ضرور وہ میرے بیان اور حافظ صاحب کی قطع الوتین کو دیکھ کر سچا فتوی دے سکتے ہیں مگر میں ندوہ کے پاس امرتسر میں آنہیں سکتا کیونکہ میرا ان لوگوں پر حسن ظن نہیں ہے ۔ سچی بات یہ ہے کہ میں نہ تو ان لوگوں کو متقی سمجھتا ہوں ( آئندہ اگر خدا کسی کو متقی کردے تو اُس کا فضل ہے ) اور نہ عارف حقائق قرآن خیال کرتا ہوں ۔ کیونکہ یہ امر لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ٭ کے پر موقوف ہے پھر میں اُن کا حکم ہونا کس وجہ سے منظور کروں ہاں اگر چند منتخب مولوی ان میں سے بطور طالب حق قادیان میں آجاویں تو میں زبانی ان کو تبلیغ کر سکتا ہوں ورنہ خدا کا کام چل رہا ہے کوئی مخالف اس کو روک نہیں سکتا ۔ مخالف سے فتوی لینا کیا معنی رکھتا ہے ہاں البتہ ہم حافظ صاحب کے اس اشتہار سے ندوہ کے لئے ایک موقع تبلیغ کا نکالتے ہیں حافظ صاحب یا د رکھیں کہ جو کچھ رسالہ قطع الوتین میں جھوٹے مدعیان نبوت کی نسبت بے سروپا حکایتیں لکھی گئی ہیں وہ لکھی گئی ہیں وہ حکایتیں اُس وقت تک ایک ذرہ قابل اعتبار نہیں جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ مفتری لوگوں نے اپنے اس دعوئی پر اصرار کیا اور توبہ نہ کی اور یہ اصرار کیونکر ثابت ہو سکتا ہے جب تک اُسی زمانہ کی کسی تحریر کے ذریعہ سے یہ امر ثابت نہ ہو کہ وہ لوگ اسی افترا اور جھوٹے دعوی نبوت پر مرے اور اُن کا کسی اُس وقت کے مولوی نے جنازہ نہ پڑھا اور نہ وہ قبرستان مسلمانوں میں دفن کئے گئے اور ایسا ہی یہ حکایتیں ہرگز ثابت نہیں ہوسکتیں جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ ان کی تمام عمر کے مفتریات جن کو انہوں نے بطور افترا خدا کا کلام قرار دیا تھا وہ اب کہاں ہیں اور ایسی کتاب ان کی وحی کی کس کس کے پاس ہے تا اس کتاب کو دیکھا جائے کہ کیا کبھی اُنہوں نے کسی قطعی یقینی وحی کا دعویٰ کیا اور اس بناء پر اپنے تئیں ظلی طور پر یا اصلی طور پر نبی اللہ ٹھہرایا ہے اور اپنی وحی کو دوسرے انبیاء علیہم السلام کی وحی کے مقابل پر منجانب اللہ ہونے میں برابر سمجھا ہے تا تَقَوَّلَ کے معنے اس پر صادق آئیں ۔ حافظ صاحب کو معلوم نہیں کہ تقول کا حکم قطع اور یقین کے متعلق تی ہے پس جیسا کہ میں نے بار بار بیان کر دیا ہے کہ یہ کلام جو میں سناتا ہوں یہ قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام ہے جیسا کہ قرآن اور توریت خدا کا کلام ہے اور میں خدا کا ظلی اور بروزی طور پر نبی ہوں اور ہر ایک مسلمان کو دینی امور میں میری اطاعت واجب ہے اور مسیح موعود ماننا واجب ہے اور ہر ایک جس کو میری تبلیغ پہنچ گئی ہے گو وہ مسلمان ہے مگر مجھے اپنا حکم نہیں ٹھہراتا اور نہ مجھے مسیح موعود مانتا ہے اور نہ میری وحی کو خدا کی طرف سے جانتا ہے وہ آسمان پر قابل مواخذہ ہے کیونکہ جس امر کو اُس نے اپنے وقت پر قبول کرنا تھا اُس کو رد کر دیا میں صرف یہ نہیں کہتا کہ میں اگر جھوٹا ہوتا تو ہلاک کیا جاتا بلکہ میں یہ بھی کہتا ہوں کہ موسیٰ اور عیسیٰ اور داؤد اور آنحضرت صلعم کی طرح میں سچا ہوں اور میری تصدیق کے لئے خدا نے دس ہزار سے بھی زیادہ نشان دکھلائے ہیں ۔ قرآن نے میری گواہی دی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گواہی دی ہے۔ پہلے نبیوں نے میرے آنے کا زمانہ متعین کر دیا ہے کہ جو یہی زمانہ ہے اور قرآن بھی میرے آنے کا زمانہ متعین کرتا ہے کہ جو یہی زمانہ ہے اور میرے لئے آسمان نے بھی گواہی دی اور زمین نے بھی اور کوئی نبی نہیں جو میرے لئے گواہی نہیں دے چکا اور یہ جو میں نے کہا کہ میرے دس ہزار نشان ہیں یہ بطور کفایت لکھا گیا اور نہ مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر ایک سفید کتاب ہزار جز کی بھی کتاب ہو اور اس میں میں اپنے دلائل صدق لکھنا چاہوں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ کتاب ختم ہو جائے گی اور وہ دلائل ختم نہیں ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے وَاِنۡ یَّکُ کَاذِبًا فَعَلَیۡہِ کَذِبُہٗ ۚ وَاِنۡ یَّکُ صَادِقًا یُّصِبۡکُمۡ بَعۡضُ الَّذِیۡ یَعِدُکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ ہُوَ مُسۡرِفٌ کَذَّابٌ(المؤمن: ۲۹) یعنی اگر یہ جھوٹا ہوگا تو تمہارے دیکھتے دیکھتے تباہ ہو جائے گا اور اس کا جھوٹ ہی اس کو ہلاک کر دے گا لیکن اگر سچا ہے تو پھر بعض تم میں سے اس کی پیشگوئیوں کا نشانہ بنیں گے اور اس کے دیکھتے دیکھتے اس دارالفنا سے کوچ کریں گے۔ اب اس معیار کے رو سے جو خدا کے کلام میں ہے مجھے آزماؤ اور میرے دعوے کو پرکھو کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ان مولوی صاحبوں نے میرے تباہ کرنے کے لئے کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھا کفر نامہ تیار کرتے کرتے ان کے پیرگھس گئے ۔ گالیوں کے اشتہار شائع کرتے کرتے شیعوں کو بھی پیچھے ڈال دیا میرے پر خون کے مقدمات بنائے گئے اور کئی دفعہ فوجداری الزاموں کے نیچے رکھ کر مجھے عدالت تک پہنچایا گیا۔ میری طرف آنے والوں پر وہ سختی کی گئی کہ بجز صحابہ کی اُس زندگی کے جب مکہ میں تھے دنیا میں اس تو ہین اور تحقیر اور ایذا کی نظیر نہیں پائی جاتی بعض میرے متعلقین غیر ممالک کے انہیں ممالک میں قتل کئے گئے ۔ غرض اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ میرے معدوم کرنے کے لئے اور لوگوں کو میری طرف آنے سے منع کرنے کے لئے ناخنوں تک زور لگایا گیا اور کوئی دقیقہ باقی نہ چھوڑا۔ بہت سے بے حیائی کے کام بھی انہیں مولویوں میں سے بعض سے ظہور میں آئے میرے پر چھوٹی مخبریاں بھی کی گئیں اور خواہ نخواہ گورنمنٹ کو خلاف واقعہ باتوں کے ساتھ اُکسایا گیا مگر کچھ خبر ہے کہ اس کا نتیجہ آخر کا ر کیا ہوا؟ یہ ہوا کہ میں ترقی کرتا گیا جب یہ لوگ میری تکفیر اور تکذیب کے لئے کھڑے ہوئے اور خود بخود پیشگوئیاں کیں کہ جلد تر ہم اس شخص کو نابود کر دیں گے۔ اُس وقت میرے ساتھ کوئی بڑی جماعت نہ تھی بلکہ صرف چند آدمی تھے جن کو انگلیوں پر گن سکتے تھے بلکہ براہین احمدیہ کے زمانہ میں جب براہین احمد یہ چھپ رہی تھی میں صرف اکیلا تھا کون ثابت کر سکتا ہے کہ اُس وقت میرے ساتھ کوئی ایک بھی تھا یہ وہ زمانہ تھا کہ جبکہ خدا تعالیٰ نے پچاس سے زیادہ پیشگوئیوں میں مجھے خبر دی تھی کہ اگر چہ تو اس وقت اکیلا ہے مگر وہ وقت آتا ہے جو تیرے ساتھ ایک دنیا ہوگی اور پھر وہ وقت آتا ہے جو تیرا اس قدر عروج ہوگا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے کیونکہ تو برکت دیا جائے گا۔ خدا پاک ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ وہ تیرے سلسلہ کو اور تیری جماعت کو زمین پر پھیلائے گا اور انہیں برکت دے گا اور بڑھائے گا اور اُن کی عزت زمین پر قائم کرے گا جب تک کہ وہ اس کے عہد پر قائم ہوں گے ۔ اب دیکھو کہ براہین احمدیہ کی ان پیشگوئیوں کا جن کا ترجمہ لکھا گیا وہ زمانہ تھا جبکہ میرے ساتھ دنیا میں ایک بھی نہیں تھا جبکہ خدا نے مجھے یہ دعا سکھلائی کہ رَبِّ لَا تَذَرۡنِیۡ فَرۡدًا وَّاَنۡتَ خَیۡرُ الۡوٰرِثِیۡنَ(الانبیاء: ۹۰) کے یعنی اے خدا مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے۔ یہ دعا الہامی براہین میں درج ہے غرض اس وقت کے لئے تو براہین احمد یہ خود گواہی دے رہی ہے کہ میں اُس وقت ایک گمنام آدمی تھا مگر آج باوجود مخالفانہ کوششوں کے ایک لاکھ سے بھی زیادہ میری جماعت مختلف مقامات میں موجود ہے پس کیا یہ معجزہ ہے یا نہیں کہ میری مخالفت اور میرے گرانے میں ہر قسم کے فریب خرچ کئے منصوبے کئے مگر یہ سب مولوی اور ان کے رفیق چھوٹے بڑے سب کے سب نامرادر ہے۔ اگر یہ معجزہ نہیں تو پھر معجزہ کی تعریف ندوہ کے جبہ پوش خود ہی کریں کہ کس چیز کا نام ہے۔ اگر میں صاحب معجزہ نہیں تو جھوٹا ہوں ۔ اگر قرآن سے ابن مریم کی وفات ثابت نہیں تو میں جھوٹا ہوں ۔ اگر حدیث معراج نے ابن مریم کو مردہ روحوں میں نہیں بٹھا دیا تو میں جھوٹا ہوں ۔ اگر قرآن نے سورہ نور میں نہیں کہا کہ اس اُمت کے خلیفے اِسی اُمت میں سے ہوں گے تو میں جھوٹا ہوں اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔ اے فانی انسانو! ہشیار ہو جاؤ اور سوچو کہ بجز اس کے معجزہ کیا ہوتا ہے کہ اس قدر مخالفوں کے جنگ وجدل کے بعد آخر براہین احمدیہ کی وہ پیشگوئیاں سچی نکلیں جو آج سے بائیس برس پہلے کی گئی تھیں تم ثابت نہیں کر سکتے کہ اس زمانہ میں ایک فرد انسان بھی میرے ساتھ تھا مگر اس وقت اگر میری جماعت کے لوگ ایک جگہ آباد کئے جاویں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ شہر امرتسر سے بھی کچھ زیادہ ہوگا۔ حالانکہ براہین کے زمانہ میں جب یہ پیشگوئی کی گئی میں صرف اکیلا تھا پھر اگر مولویوں کی مزاحمت درمیان نہ ہوتی تو براہین احمدیہ کی پیشگوئی پر دوہرا رنگ نہ چڑھتا لیکن اب تو مولویوں اور اُن کے تابعداروں کی مخالفانہ کوششوں نے اس اعجاز پر دوہرا رنگ چڑھا دیا اور بجائے اس کے کہ حسب مضمون وَاِنۡ یَّکُ کَاذِبًا فَعَلَیۡہِ کَذِبُہٗ نے مجھے صرف صادق ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مقرر کردہ علامت سے بریت مل جاتی۔ اب تو اس کے علاوہ براہین احمدیہ کی عظیم الشان پیشگوئیاں جو اس زمانہ سے بائیس برس پہلے دنیا میں شائع ہو چکی ہیں وہ پوری ہو گئیں اور ہزار ہا اہل فضل و کمال میرے ساتھ ہو گئے۔ اب دوسرا جز اس آیت کا دیکھو وَاِنۡ یَّکُ صَادِقًا یُّصِبۡکُمۡ بَعۡضُ الَّذِیۡ یَعِدُکُمۡ(المؤمن: ۲۹) یہ معیار بھی کیسا اعجازی رنگ میں پورا ہوا خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ اِنِّی مُہِینٌ مَنْ اَرَادَ اِہَانَتَکَ ہر ایک شخص جو تیری اہانت کرے گا وہ نہیں مرے گا جب تک وہ اپنی اہانت نہ دیکھ لے۔ اب مولویوں سے پوچھ لو کہ اُنہوں نے میرے مقابل پر خدا کے حکم سے کوئی ذلت بھی دیکھی ہے یا نہیں۔ اب کون میری توہین کرنے والا بول سکتا ہے کہ قرآن کی یہ پیشگوئی جو یُّصِبۡکُمۡ بَعۡضُ الَّذِیۡ یَعِدُکُمۡ ہے میری تائید کے لئے ظہور میں نہیں آئی بلکہ قرآن شریف نے بعض کے لفظ سے جتلا دیا کہ وعید کی پیشگوئی کے لئے بعض کا نمونہ کافی ہے اور اس جگہ نمونے تھوڑے نہیں۔ کیا مخالفوں کی اس میں کچھ تھوڑی ذلت ہے کہ غلام دستگیر اپنی کتاب فتح رحمانی میں یعنی صفحہ ۲۷ میں میرے پر عام لفظوں میں بد دعا کر کے یعنی فریقین میں سے کاذب پر بد دعا کر کے خود ہی چند روز کے بعد مر گیا۔٭ محمد حسن بھیں نے اپنی تحریر میں لعنت اللہ علی الکاذبین کا لفظ میرے مقابل پر بولا وہ کتاب پوری نہ کرنے پایا کہ سخت عذاب سے مر گیا ۔ پیر مہر علی شاہ نے اپنی کتاب میں میرے مقابل پر لعنت اللہ على الكاذبين کہا وہ معاً جرم سرقہ میں اس طرح گرفتار ہوا٭ کہ اُس نے ساری کتاب محمد حسن مردہ کی چرالی اور کہا کہ میں نے بنائی ہے اور جھوٹ بولا اور اس کا نام سیف چشتیائی رکھا اور پھر تیسری مصیبت یہ کہ محمد حسن مردہ نے جس قدر میری کتاب اعجاز المسیح پر جرح خیال کیا تھا وہ جرح بھی سارا غلط ثابت ہوا اُس نے ابھی نظر ثانی نہیں کی تھی کہ وہ مر گیا اس نادان نے جو عربی سے بے بہرہ ہے اس تمام جرح کو سچ سمجھ لیا ۔ اب بتلاؤ کہ یہ بھی ایک قسم کی موت ہے یا نہیں کہ کتاب کا مسودہ چرایا اور وہ چوری پکڑی گئی اور پھر گدی نشین ہو کر صریح جھوٹ بولا کہ یہ کتاب میں نے بنائی ہے اور پھر جو کچھ چرایا وہ ایسی غلطیاں تھیں کہ گویا نجاست تھی ۔ کیا اس عذاب سے عذاب جہنم زیادہ ہے٭ پھر حافظ صاحب کی خدمت میں خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرے تو بہ کرنے کے لئے صرف اتنا کافی نہ ہوگا کہ بفرضِ محال کوئی کتاب الہامی مدعی نبوت کی نکل آوے جس کو وہ قرآن شریف کی طرح ( جیسا کہ میرا دعوی ہے ) خدا کی ایسی وحی کہتا ہو جس کی صفت میں لا ريب فيه ہے جیسا کہ میں کہتا ہوں اور پھر یہ بھی ثابت ہو جائے کہ وہ بغیر توبہ کے مرا اور مسلمانوں نے اپنے قبرستان میں اس کو دفن نہ کیا اور کسی عذاب سے ہلاک نہ ہوا تو صرف اسی قدر سے کوئی کا ذب مدعی نبوت میرے برابر نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ میری تائید میں معجزات بھی ہیں اور باایں ہمہ میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر حافظ صاحب کوشش کرتے کرتے دنیا سے رخصت بھی ہو جائیں یا کسی اور ابو اسحاق محمد دین سے ایک اور ہزار رسالہ قطع الوتین کا تصنیف بھی کرالیں اور گوایسا شخص اپنے لئے خودکشی پسند کر کے قطع الوتین ہی کرلے مگر پھر بھی حافظ صاحب کے نصیب نہ ہوگا کہ جس طرح میں قریباً تمھیں ۲۳ برس سے اپنی وحی برابر آج کے دن تک شائع کرتا رہا ہوں اسی طرح اُس کی مسلسل تئیس برس کی وحی کا مجموعہ پیش کر سکیں جس پر اس نے میری طرح قسم کھا کر بیان کیا ہو کہ یہ وحی یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام ہے اگر میں نے جھوٹ بولا ہو تو مجھ پر خدا کی لعنت ہو جیسا کہ میں اپنی کتابوں میں یہی الفاظ اپنی نسبت لکھ چکا ہوں ۔ یہ تو ایک ادنی درجہ کی بات ہے کہ جھوٹوں کے ساتھ میرا موازنہ کیا جائے مگر میں تو اس سے بڑھ کر اپنا ثبوت رکھتا ہوں کہ ہزار ہا معجزات اب تک ظاہر ہو چکے ہیں جن کے ہزار ہا گواہ ہیں اور قرآن شریف میرا مصدق ہے۔ کیا یہ میرا حق نہیں ہے کہ مقابلہ کے وقت ان ثبوتوں کو کسی کا ذب پیش کردہ کی نسبت آپ سے طلب کروں ۔ بھلا بتلائیں کہ میرے بغیر کس کے لئے بموجب حدیث دار قطنی کے کسوف خسوف ہوا کس کے لئے بموجب احادیث صحیحہ کے طاعون پڑی۔ کس کے لئے ستارہ ذوالسنین نکلا۔ کس کے لئے لیکھر ام وغیرہ کے نشان ظاہر ہوئے۔ لیکن ندوۃ العلماء اگر اپنے تئیں اسم با مسمی کرنا چاہے تو اب اس کی اپنی ذاتی ہدایت کے لئے خواہ حافظ صاحب اس سے کچھ حصہ لیں یا نہ لیں اس قدر بھی کافی ہو سکتا ہے کہ حافظ صاحب سے تو ایسے مدعیان نبوت کا حلفاً ثبوت مانگے جن کی وحی کا ذب کا قرآن شریف کی طرح تئیس برس تک برابر سلسلہ جاری رہا اور اُن سے ثبوت مانگے کہ کہاں انہوں نے قسم کے ساتھ بیان کیا کہ ہم در حقیقت نبی ہیں اور ہماری وحی قرآن کی طرح قطعی یقینی ہے اور یہ بھی ثبوت مانگے کہ کیا وہ لوگ اس زمانہ کے مولویوں کے فتوے سے کافر ٹھہرائے گئے تھے یا نہیں اور اگر نہیں ٹھہرائے گئے تو اس کی کیا وجہ ۔ کیا ایسے مولوی فاسق فاجر تھے یا نہیں جنہوں نے دین میں ایسی لا پروائی ظاہر کی اور یہ بھی ثبوت مانگے کہ ایسے لوگ کن قبروں میں دفن کئے گئے کیا مسلمانوں کی قبروں میں یا علیحدہ اور اسلامی سلطنت٭ میں قتل ہوئے یا امن سے عمر گزاری۔ حافظ صاحب سے تو یہ ثبوت طلب کیا جائے اور پھر میرے معجزات اور دیگر دلائل نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے طلب ثبوت کے لئے بعض منتخب علماء ندوہ کے قادیان میں آویں اور مجھ سے معجزات اور دلائل یعنی نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کا ثبوت لیں پھر اگر سنت انبیاء علیہم السلام کے مطابق میں نے پورا ثبوت نہ دیا تو میں راضی ہوں کہ میری کتابیں جلائی جائیں لیکن اس قدر محنت اٹھانا بڑے باخدا کا کام ہے ندوہ کو کیا ضرورت جو اس قدر سر درد اٹھاوے اور کونسا فکر آخرت ہے تا خدا سے ڈرے مگر ندوہ کے علماء ایک ایک کر کے یا درکھیں کہ وہ ہمیشہ اس دنیا میں نہیں رہ سکتے موتیں پکار رہی ہیں اور جس لہو ولعب میں وہ مشغول ہو رہے ہیں جس کا نام وہ دین رکھتے ہیں خدا آسمان پر دیکھ رہا ہے اور جانتا ہے کہ وہ دین نہیں ہے وہ ایک چھلکے پر راضی ہیں اور مغز سے بے خبر ہیں یہ اسلام کی خیر خواہی نہیں بلکہ بدخواہی ہے۔ کاش اگر ان کی آنکھیں ہوتیں تو وہ سمجھتے کہ دنیا میں بڑا گناہ کیا گیا کہ خدا کے مسیح کو رد کر دیا گیا اس بات کا ہر ایک کو مرنے کے بعد پتہ لگے گا اور حافظ صاحب مجھے ڈراتے ہیں کہ تم اگر امرتسر میں نہ آئے تو اپنے دعوئی میں تمام دنیا میں کا ذب سمجھے جاؤ گے۔ اے حافظ صاحب! دنیا کس کی ہے خدا کی یا آپ کی ۔ آپ لوگ تو اب بھی مجھے کا ذب ہی سمجھ رہے ہیں ۔ اس کے بعد اور کیا سمجھیں گے۔ آپ کی دنیا کی ہمیں کیا پر واہ۔ ہر ایک نفس میرے خدا کے قدموں کے نیچے ہے۔ اے بداندیش حافظ سن۔ تجھے کیا خبر کہ کس قدر خدا کی تائید میری ترقی کر رہی ہے۔ حاسد اگر مر بھی جائے تو یہ ترقی رک نہیں سکتی کیونکہ خدا کے ہاتھ سے اور خدا کے وعدہ کے موافق ہے نہ انسان کے ہاتھ سے ۔ خدا نے میری جماعت سے پنجاب اور ہندوستان کے شہروں کو بھر دیا۔ چند سال میں ایک لاکھ سے بھی زیادہ اشخاص نے میری بیعت کی ۔ کیا ابھی آپ نہیں سمجھتے کہ آسمان پر کس کی تائید ہو رہی ہے۔ میرے خیال میں تو دس ہزار کے قریب تو طاعون کے ذریعہ سے ہی میری جماعت میں داخل ہوئے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ تھوڑے دنوں میں میری جماعت سے زمین بھر جائے گی۔ اے حافظ صاحب! کیا آپ وہی حافظ صاحب نہیں جنہوں نے مجھ کو بلا واسطہ دیگرے کہا تھا کہ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کہتے تھے کہ قادیان پر ایک نور نازل ہوا جس سے میری اولاد محروم رہ گئی افسوس آپ نے قبر میں عبداللہ صاحب کو دکھ دیا کیا ان کے قول کے مخالف یہ طریق خلاف آپ کو لازم تھا۔ پھر کیا میاں محمد یعقوب آپ کے حقیقی بھائی نہیں ہیں۔ اُن سے بھی تو ذرا پوچھ لیا ہوتا وہ تو قریباً دس برس سے دوہائی دے رہے ہیں کہ ان کو بھی مولوی عبداللہ صاحب غزنوی نے قادیان کا ہی حوالہ دیا تھا کہ نور قادیان میں ہی نازل ہوگا اور وہ غلام احمد ہے اور انہوں نے خبر دی ہے کہ وہ اب تک اس گواہی پر قائم ہیں اور اُن کا خط موجود۔ پھر آپ حافظ کہلا کر حقیقی حافظ پر تو کل نہیں رکھتے قوم کے ڈر سے جھوٹ بولتے ہیں۔ میں سوچ میں ہوں کہ عبداللہ صاحب کے یہ کیسے مکاشفات تھے۔ جو اُن کے ساتھ ہی خاک میں مل گئے۔ آپ جیسے اُن کے بڑے خلیفہ نے بھی اُن کا قدر نہ کیا۔ والسلام على من اتبع الهدى
المؤلف مرزا غلام احمد قادیانی - ۴ اکتوبر ۱۹۰۲ء
☆
حضرت عیسی علیہ السلام جن کی خارق عادت زندگی اور خلاف نصوص قرآنیہ مع جسم آسمان پر چلے جانا اور باوجود وفات یافتہ نہ ہونے کے پھر وفات یافتہ نبیوں کی روحوں میں جو ایک رنگ سے بہشت میں داخل ہو چکے داخل ہو جانا یہ تمام ایسی باتیں تھیں کہ در حقیقت سچے مذہب کے لئے ایک داغ تھا اور نیز مدت دراز سے مغربی مخلوق پرستوں کا موحدین اہل اسلام کے ذمہ ایک قرضہ چلا آتا تھا اور نادان مسلمانوں نے بھی اس قرضہ کا اقرار کر کے اپنے ذمہ ایک بڑی سودی رقم عیسائیوں کی بڑھادی تھی جس کی وجہ سے کئی لاکھ مسلمان اس ملک ہند میں ارتداد کا جامہ پہن کر عیسائیوں کے ہاتھ میں گرو پڑ گئے تھے اور کوئی صورت ادائے قرضہ کی نظر نہ آتی تھی۔ جب عیسائی کہا کرتے تھے کہ ربنا یسوع مسیح آسمان پر زندہ مع جسم چڑھ گیا بڑی طاقت دکھلائی خدا جو تھا مگر تمہارا نبی تو ہجرت کرنے کے بعد مدینہ تک بھی پرواز کر کے نہ جا سکا غار ثور میں ہی تین دن تک چھپا رہا آخر بڑی مشکل سے مدینہ تک پہنچا اور پھر بھی عمر نے وفا نہ کی دس برس کے بعد فوت ہو گیا اور اب وہ قبر میں اور زیر زمین ہے مگر یسوع مسیح زندہ آسمان پر ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا اور وہی دوبارہ آسمان سے اُتر کر دنیا کا انصاف کرے گا ۔ ہر ایک جو اس کو خدا نہیں جانتا وہ پکڑا جائے گا اور آگ میں ڈالا جائے گا۔ اس کا جواب مسلمانوں کو کچھ بھی نہیں آتا نہایت شرمندہ اور ذلیل ہوتے تھے اب یسوع مسیح کی خوب خدائی ظاہر ہوئی ۔ آسمان پر چڑھنے کا سارا بھانڈا پھوٹ گیا۔ اوّل تو ہزار نسخہ سے زیادہ ایسی طبی کتابیں جن کو پُرانے زمانہ میں رومیوں یونانیوں مجوسیوں عیسائیوں اور سب سے بعد مسلمانوں نے بھی ان کا ترجمہ کیا تھا پیدا ہوگئیں جن میں ایک نسخہ مرہم عیسیٰ کا لکھا ہے اور ان کتابوں میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ مرہم حضرت عیسی کے لئے یعنی اُن کے صلیبی زخموں کے لئے بنائی گئی تھی۔ ازاں بعد کشمیر میں حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر بھی پیدا ہوگئی ۔ پھر اس کے بعد عربی اور فارسی میں پرانی کتابیں پیدا ہوگئیں جو بعض ان میں سے ہزار برس کی تصنیف ہیں اور حضرت عیسی کی وفات کی گواہی دیتی اور قبر اُن کی کشمیر میں بتلاتی ہیں اور پھر سب کے بعد جو آج ہمیں خبر ملی یہ تو ایک ایسی خبر ہے کہ گویا آج اس نے مسلمانوں کے لئے عید کا دن چڑھا دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ حال میں بمقام یروشلم پطرس حواری کا دستخطی ایک کاغذ پرانی عبرانی میں لکھا ہوا دستیاب ہوا ہے جس کو کتاب کشتی نوح کے ساتھ شامل کیا گیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح صلیب کے واقعہ سے تخمیناً پچاس برس بعد اسی زمین پر فوت ہو گئے تھے اور وہ کا غذا ایک عیسائی کمپنی نے اڑھائی لاکھ روپیہ دے کر خرید لیا ہے کیونکہ یہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ وہ پطرس کی تحریر ہے اور ظاہر ہے کہ اس قدر ثبوتوں کے جمع ہونے کے بعد جوز بردست شہادتیں ہیں پھر اس بیہودہ اعتقاد سے جو عیسیٰ زندہ ہے باز نہ آنا ایک دیوانگی ہے۔ امور محسوسہ مشہودہ سے انکار نہیں ہو سکتا سو مسلمانوں تمہیں مبارک ہو آج تمہارے لئے عید کا دن ہے اُن پہلے جھوٹے عقائد کو دفع کرو اور اب قرآن کے مطابق اپنا عقیدہ بنالو۔ مکرر یہ کہ یہ آخری شہادت حضرت عیسی کے سب سے بزرگ تر حواری کی شہادت ہے یہ وہ حواری ہے کہ اپنی تحریر میں جو برآمد ہوئی ہے خود اس شہادت کے لئے یہ الفاظ استعمال کرتا ہے کہ میں ابن مریم کا خادم ہوں اور اب میں نوے سال کی عمر میں یہ خط لکھتا ہوں جبکہ مریم کے بیٹے کو مرے ہوئے تین سال گزر چکے ہیں لیکن ہیں لیکن تاریخ سے یہ امر ثابت شدہ ہے اور بڑے بڑے مسیحی علماء اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ پطرس اور حضرت عیسیٰ کی پیدائش قریب قریب وقت میں تھی اور واقعہ صلیب کے وقت حضرت عیسی کی عمر قریباً تیتیس سال اور حضرت پطرس کی عمر اس وقت تیس چالیس سال کے درمیان تھی ( دیکھو کتاب سمتھس ڈکشنری جلد ۳ صفحہ ۲۴۴۶ و موٹی ٹیولس نیوسٹیمنٹ ہسٹری و دیگر کتب تاریخ) اور اس خط کے متعلق اکابر علماء مذہب عیسوی نے بہت تحقیقات کر کے یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ صحیح ہے اور اس کیلئے بڑی خوشی کا اظہار کیا ہے اور جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں ایسی عزت سے یہ تحریر دیکھی گئی ہے کہ ایک رقم کثیر اس کے عوض میں وارثان اُس مقدس راہب کو دی گئی ہے جس کے کتب خانہ سے بعد وفات یہ کاغذ برآمد ہوا اور ہمارے نزدیک اس کا غذ کی صحت پر ایک اور قوی دلیل ہے کہ ایسے شخص کے کتب خانہ سے یہ کا غذ نکلا ہے جو رومن کیتھولک عقیدہ رکھتا تھا اور نہ صرف حضرت عیسی کی خدائی کا قائل تھا بلکہ حضرت مریم کی خدائی کا بھی قائل تھا یہ کا غذات اُس نے محض ایک پرانے تبرکات میں رکھے ہوئے تھے اور چونکہ وہ پرانی عبرانی تھی اور طرز تحریر بھی پرانی تھی اس لئے وہ اس کے مضمون سے محض نا آشنا تھا۔ یہ ایک نشان ہے ماسوا اس نئی شہادت کے جو حضرت پطرس کے خط میں سے نکلی ہے۔ متقدمین میں بھی عیسائیوں کے بعض فرقے خود اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت عیسیٰ صلیب پر سے ایک موت کی سی سخت بیہوشی میں اُتارے گئے تھے اور ایک غار کے اندر تین دن کے علاج معالجہ سے تندرست ہو کر کسی اور طرف چلے گئے جہاں مدت تک زندہ رہے ان عقائد کا ذکر انگریزی کتابوں میں مفصل درج ہے جن میں سے کتاب نیو لائف آف جیزس مصنفہ سٹر اس اور کتاب ماڈرن ڈوٹ اینڈ کرسچن بیلیف اور کتاب سوپر نیچرل ریلیجن کی بعض عبارتیں ہم نے اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ میں درج کی ہیں۔
المؤلف میرزاغلام احمد قادیانی - ۶ اکتوبر ۱۹۰۲ء