فہرست

تحفہ گولڑویہ

یکم ستمبر ۱۹۰۲ء

اشتہار انعامی پچاس روپیہ

چونکہ میں اپنی کتاب انجام آتھم کے اخیر میں وعدہ کر چکا ہوں کہ آئندہ کسی مولوی وغیرہ کے ساتھ زبانی بحث نہیں کروں گا اس لئے پیر مہر علی شاہ صاحب کی درخواست زبانی بحث کی جو میرے پاس پہنچی میں کسی طرح اس کو منظور نہیں کر سکتا۔ افسوس کہ انہوں نے محض دھوکا دہی کے طور پر باوجود اس علم کے کہ میں ایسی زبانی بحثوں سے برکنار رہنے کے لئے جن کا نتیجہ اچھا نہیں نکلا خدا تعالیٰ کے سامنے وعدہ کر چکا ہوں کہ میں ایسے مباحثات سے دور رہوں گا پھر بھی مجھ سے بحث کرنے کی درخواست کر دی۔ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ ان کی درخواست محض اس ندامت سے بچنے کے لئے ہے کہ وہ اس اعجازی مقابلہ کے وقت جو عربی میں تفسیر لکھنے کا مقابلہ تھا اپنی نسبت یقین رکھتے تھے۔ گویا عوام کے خیالات کو اور طرف الٹا کر سرخرو ہو گئے اور پردہ بنا رہا۔

ہر ایک دل خدا کے سامنے ہے اور ہر ایک سینہ اپنے گنہ کو محسوس کر لیتا ہے لیکن میں حق کی حمایت کی وجہ سے ہرگز نہیں چاہتا کہ یہ جھوٹی سرخروئی بھی اُن کے پاس رہ سکے اس لئے مجھے خیال آیا کہ عوام جن میں سوچ کا مادہ طبعاً کم ہوتا ہے وہ اگر چہ یہ بات تو سمجھ لیں گے کہ پیر صاحب عربی فصیح میں تفسیر لکھنے پر قادر نہیں تھے ایسی وجہ سے تو ٹال دیا لیکن ساتھ ہی ان کو یہ خیال بھی گذرے گا کہ منقولی مباحثات پر ضرور وہ قادر ہوں گے تبھی تو درخواست پیش کر دی اور اپنے دلوں میں گمان کریں گے کہ اُن کے پاس حضرت مسیح کی حیات اور میرے دلائل کے رد میں کچھ دلائل ہیں اور یہ تو معلوم نہیں ہوگا کہ یہ زبانی مباحثہ کی جرأت بھی میرے ہی اس عہد ترک بحث نے اُن کو دلائی ہے جو انجام آتھم میں طبع ہو کر لاکھوں انسانوں میں مشتہر ہو چکا ہے۔ لہذا میں یہ رسالہ لکھ کر اس وقت اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ اگر وہ اس کے مقابل پر کوئی رسالہ لکھ کر میرے ان تمام دلائل کو اول سے آخر تک توڑ دیں اور پھر مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی ایک مجمع بٹالہ میں مقرر کر کے ہم دونوں کی حاضری میں میرے تمام دلائل ایک ایک کر کے حاضرین کے سامنے ذکر کریں اور پھر ہر ایک دلیل کے مقابل پر جس کو وہ بغیر کسی کمی بیشی اور تصرف کے حاضرین کو سنا دیں گے پیر صاحب کے جوابات سنادیں اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہیں کہ یہ جوابات صحیح ہیں اور دلیل پیش کردہ کی قلع قمع کرتے ہیں تو میں مبلغ پچاس روپیہ انعام بطور فتح یابی پیر صاحب کو اسی مجلس میں دے دوں گا اور اگر پیر صاحب تحریر فرماویں تو میں یہ مبلغ پچاس روپیہ پہلے سے مولوی محمد حسین صاحب کے پاس جمع کرادوں گا مگر یہ پیر صاحب کا ذمہ ہوگا کہ وہ مولوی محمد حسین صاحب کو ہدایت کریں کہ تا وہ مبلغ پچاس روپیہ اپنے پاس بطور امانت جمع کر کے باضابطہ رسید دیدیں اور مندرجہ بالا طریق کی پابندی سے قسم کھا کر ان کو اختیار ہو گا کہ وہ بغیر میری اجازت کے پچاس روپیہ پیر صاحب کے حوالہ کر دیں۔ قسم کھانے کے بعد میری شکایت اُن پر کوئی نہیں ہوگی صرف خدا پر نظر ہوگی جس کی وہ قسم کھائیں گے۔ پیر صاحب کا یہ اختیار نہیں ہوگا کہ یہ فضول عذرات پیش کریں کہ میں نے پہلے سے ردّ کرنے کے لئے کتاب لکھی ہے کیونکہ اگر انعامی رسالہ کا انہوں نے جواب نہ دیا تو بلا شبہ لوگ سمجھ جائیں گے کہ وہ سیدھے طریق سے مباحثات پر بھی قادر نہیں ہیں۔

المشتہر مرزا غلام احمد از قادیاں۔ یکم ستمبر ۱۹۰۲ء

ضمیمہ تحفہ گولڑویہ

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

نحمدهٗ و نصلّى على رسوله الكريم

رَبَّنَا افۡتَحۡ بَیۡنَنَا وَبَیۡنَ قَوۡمِنَا بِالۡحَقِّ وَاَنۡتَ خَیۡرُ الۡفٰتِحِیۡنَ

اے ہمارے خدا ہم میں اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ کر۔

اور تُو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

آمین

اشتہار انعامی پانسو روپیہ

بنام حافظ محمد یوسف صاحب ضلعدار نہر۔ اور ایسا ہی اس اشتہار میں یہ تمام لوگ بھی مخاطب ہیں جن کے نام ذیل میں درج ہیں۔

مولوی پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑی۔ مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی۔ مولوی محمد بشیر صاحب بھوپالوی۔ مولوی حافظ محمد یوسف صاحب بھوپالوی۔ مولوی تلطف حسین صاحب دہلوی۔ مولوی عبدالحق صاحب دہلوی صاحب تفسیر حقانی۔ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی۔ مولوی محمد صدیق صاحب دیوبندی حال مدرس بچھرایوں ضلع مراد آباد۔ شیخ خلیل الرحمٰن صاحب جمالی سرساوہ ضلع سہارنپور۔ مولوی عبدالعزیز صاحب لدھیانہ۔ مولوی محمد حسن صاحب لدھیانہ۔ مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری۔ مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی ثم امرتسری۔ مولوی غلام رسول صاحب عرف رسل بابا۔ مولوی عبد اللہ صاحب ٹونکی لاہور۔ مولوی عبد اللہ صاحب چکڑالوی لاہور۔

ڈپٹی فتح علی شاہ صاحب ڈپٹی کلکٹر نہر لاہوری۔ منشی الٰہی بخش صاحب اکونٹ لاہور۔ منشی عبد الحق صاحب اکونٹنٹ پنشنز۔ مولوی محمد حسن صاحب ابوالفیض ساکن بھین۔ مولوی سید عمر صاحب واعظ حیدرآباد۔ علماء ندوۃ الاسلام معرفت مولوی محمد علی صاحب سیکرٹری ندوۃ العلماء۔ مولوی سلطان الدین صاحب جے پور۔ مولوی مسیح الزمان صاحب استاد نظام حیدر آباد دکن۔ مولوی عبدالواحد خان صاحب شاہجہانپور۔ مولوی اعزاز حسین خان صاحب شاہجہانپور۔ مولوی ریاست علی خان صاحب شاہجہانپور۔ سید صوفی جان شاہ صاحب میرٹھ۔ مولوی اسحاق صاحب پٹیالہ۔ جمیع علماء کلکتہ و بمبئی و مدراس۔ جمیع سجادہ نشینان و مشائخ ہندوستان۔ جمیع اہل عقل و انصاف و تقویٰ و ایمان از قوم مسلمان۔

واضح ہو کہ حافظ محمد یوسف صاحب ضلعدار نہر نے اپنے نافہم اور غلط کار مولویوں کی تعلیم سے ایک مجلس میں بمقام لاہور جس میں مرزا خدا بخش صاحب مصاحب نواب محمد علی خاں صاحب اور میاں معراج الدین صاحب لاہوری اور مفتی محمد صادق صاحب اور صوفی محمد علی کلرک اور میاں چٹو صاحب لاہوری اور خلیفہ رجب دین صاحب تاجر لاہوری اور شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر اخبار الحکم اور حکیم محمد حسین صاحب قریشی اور حکیم محمد حسین صاحب تاجر مرہم عیسیٰ اور میاں چراغ الدین صاحب کلرک اور مولوی یار محمد صاحب موجود تھے بڑے اصرار سے یہ بیان کیا کہ اگر کوئی نبی یا رسول یا اور کوئی مامور من اللہ ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرے اور اس طرح پر لوگوں کو گمراہ کرنا چاہے تو وہ ایسے افترا کے ساتھ تئیس برس تک یا اس سے زیادہ زندہ رہ سکتا ہے یعنی افترا علی اللہ کے بعد اس قدر عمر پانا اس کی سچائی کی دلیل نہیں ہو سکتی اور بیان کیا کہ ایسے کئی لوگوں کا نام میں نظیراً پیش کر سکتا ہوں جنہوں نے نبی یا رسول یا مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا اور تئیس برس تک یا اس سے زیادہ عرصہ تک لوگوں کو سناتے رہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام ہمارے پر نازل ہوتا ہے حالانکہ وہ کاذب تھے۔ غرض حافظ صاحب نے محض اپنے مشاہدہ کا حوالہ دے کر مذکورہ بالا دعویٰ پر زور دیا جس سے لازم آتا تھا کہ قرآن شریف کا وہ استدلال جو آیات مندرجہ ذیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منجانب اللہ ہونے کے بارے میں ہے صحیح نہیں ہے اور گویا خدا تعالیٰ نے سراسر خلاف واقعہ اس حجت کو نصاریٰ اور یہودیوں اور مشرکین کے سامنے پیش کیا ہے اور گویا ائمہ اور مفسرین نے بھی محض نادانی سے اس دلیل کو مخالفین کے سامنے پیش کیا یہاں تک کہ شرح عقائدِ نسفی میں بھی کہ جو اہل سنت کے عقیدوں کے بارے میں ایک کتاب ہے عقیدہ کے رنگ میں اس دلیل کو لکھا ہے اور علماء نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ استخفافِ قرآن یا دلیل قرآن کلمۂ کفر ہے مگر نہ معلوم کہ حافظ صاحب کو کس تعصب نے اس بات پر آمادہ کر دیا کہ باوجود دعویٰ حفظ قرآن مفصلہ ذیل آیات کو بھول گئے اور وہ یہ ہیں۔ اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ۔ وَّمَا ہُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَ ۔ وَلَا بِقَوْلِ کَاہِنٍ قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ ۔ تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ ۔ لَاَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ ۔ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ ۔ فَمَا مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْہُ حٰجِزِیْنَ دیکھو سورۃ الحاقۃ الجزو نمبر ۲۹ اور ترجمہ اس کا یہ ہے کہ یہ قرآن کلام رسول کا ہے یعنی وحی کے ذریعہ سے اُس کو پہنچا ہے۔ اور یہ شاعر کا کلام نہیں مگر چونکہ تمہیں ایمانی فراست سے کم حصہ ہے اس لئے تم اس کو پہچانتے نہیں اور یہ کاہن کا کلام نہیں یعنی اس کا کلام نہیں جو جنات سے کچھ تعلق رکھتا ہو مگر تمہیں تدبر اور تذکر کا بہت کم حصہ دیا گیا ہے اس لئے ایسا خیال کرتے ہو۔ تم نہیں سوچتے کہ کاہن کس پست اور ذلیل حالت میں ہوتے ہیں بلکہ یہ رَبّ الْعَالَمِین کا کلام ہے۔ جو عالم اجسام اور عالم ارواح دونوں کا ربّ ہے یعنی جیسا کہ وہ تمہارے اجسام کی تربیت کرتا ہے ایسا ہی وہ تمہاری رُوحوں کی تربیت کرنا چاہتا ہے اور اِسی ربوبیت کے تقاضا کی وجہ سے اُس نے اس رسول کو بھیجا ہے۔ اور اگر یہ رسول کچھ اپنی طرف سے بنا لیتا اور کہتا کہ فلاں بات خدا نے میرے پر وحی کی ہے حالانکہ وہ کلام اس کا ہوتا نہ خدا کا تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے اور پھر اُس کی رگِ جان کاٹ دیتے اور کوئی تم میں سے اس کو بچا نہ سکتا یعنی اگر وہ ہم پر افترا کرتا تو اس کی سزا موت تھی کیونکہ وہ اس صورت میں اپنے جھوٹے دعوے سے افترا اور کفر کی طرف بلا کر ضلالت کی موت سے ہلاک کرنا چاہتا تو اس کا مرنا اس حادثہ سے بہتر ہے کہ تمام دنیا اس کی مفتریانہ تعلیم سے ہلاک ہو اس لئے قدیم سے ہماری یہی سنت ہے کہ ہم اُسی کو ہلاک کر دیتے ہیں جو دنیا کے لئے ہلاکت کی راہیں پیش کرتا ہے اور جھوٹی تعلیم اور جھوٹے عقائد پیش کر کے مخلوق خدا کی روحانی موت چاہتا ہے اور خدا پر افترا کر کے گستاخی کرتا ہے۔

اب ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی پر یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ اگر وہ ہماری طرف سے نہ ہوتا تو ہم اس کو ہلاک کر دیتے اور وہ ہرگز زندہ نہ رہ سکتا گو تم لوگ اس کے بچانے کے لئے کوشش بھی کرتے لیکن حافظ صاحب اِس دلیل کو نہیں مانتے اور فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی تمام و کمال مدت تئیس برس کی تھی اور میں اس سے زیادہ مدت تک کے لوگ دکھا سکتا ہوں جنہوں نے جھوٹے دعوے نبوت اور رسالت کے کئے تھے اور باوجود جھوٹ بولنے اور خدا پر افترا کرنے کے وہ تئیس برس سے زیادہ مدت تک زندہ رہے۔ لہذا حافظ صاحب کے نزدیک قرآن شریف کی یہ دلیل باطل اور ہیچ ہے اور اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ثابت نہیں ہو سکتی مگر تعجب کہ جبکہ مولوی رحمت اللہ صاحب مرحوم اور مولوی سید آل حسن صاحب مرحوم نے اپنی کتاب ازالہ اوہام اور استفسار میں پادری فنڈل کے سامنے یہی دلیل پیش کی تھی تو پادری فنڈل صاحب کو اس کا جواب نہیں آیا تھا اور باوجودیکہ تواریخ کی ورق گردانی میں یہ لوگ بہت کچھ مہارت رکھتے ہیں مگر وہ اس دلیل کے توڑنے کے لئے کوئی نظیر پیش نہ کر سکا اور لا جواب رہ گیا۔ اور آج حافظ محمد یوسف صاحب مسلمانوں کے فرزند کہلا کر اس قرآنی دلیل سے انکار کرتے ہیں۔ اور یہ معاملہ صرف زبانی ہی نہیں رہا بلکہ ایک ایسی تحریر اس بارے میں ہمارے پاس موجود ہے جس پر حافظ صاحب کے دستخط ہیں جو انہوں نے محبی اخویم مفتی محمد صادق صاحب کو اس عہد اقرار کے ساتھ دی ہے کہ ہم ایسے مفتریوں کا ثبوت دیں گے جنہوں نے خدا کے مامور یا نبی یا رسول ہونے کا دعویٰ کیا اور پھر وہ اس دعوے کے بعد تیئیس برس سے زیادہ جیتے رہے۔ یاد رہے کہ یہ صاحب مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کے گروہ میں سے ہیں اور بڑے مؤحد مشہور ہیں اور ان لوگوں کے عقائد کا بطور نمونہ یہ حال ہے جو ہم نے لکھا اور یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں کہ قرآن کے دلائل پیش کردہ کی تکذیب قرآن کی تکذیب ہے۔ اور اگر قرآن شریف کی ایک دلیل کو ردّ کیا جائے تو امان اٹھ جائے گا اور اس سے لازم آئے گا کہ قرآن کے تمام دلائل جو توحید اور رسالت کے اثبات میں ہیں سب کے سب باطل اور ہیچ ہوں اور آج تو حافظ صاحب نے اس ردّ کے لئے یہ بیڑہ اٹھایا کہ میں ثابت کرتا ہوں کہ لوگوں نے تیئیس برس تک یا اس سے زیادہ نبوت یا رسالت کے جھوٹے دعوے کئے اور پھر زندہ رہے اور کل شاید حافظ صاحب یہ بھی کہہ دیں کہ قرآن کی یہ دلیل بھی کہ لَوۡ کَانَ فِیۡہِمَاۤ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا باطل ہے اور دعویٰ کریں کہ میں دکھلا سکتا ہوں کہ خدا کے سوا اور بھی چند خدا ہیں جو سچے ہیں مگر زمین و آسمان پھر بھی اب تک موجود ہیں۔ پس ایسے بہادر حافظ صاحب سے سب کچھ امید ہے لیکن ایک ایماندار کے بدن پر لرزہ شروع ہو جاتا ہے جب کوئی یہ بات زبان پر لاوے کہ فلاں بات جو قرآن میں ہے وہ خلاف واقعہ ہے یا فلاں دلیل قرآن کی باطل ہے بلکہ جس امر میں قرآن اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر زد پڑتی ہو ایمان دار کا کام نہیں کہ اس پلید پہلو کو اختیار کرے اور حافظ صاحب کی نوبت اس درجہ تک محض اس لئے پہنچ گئی کہ انہوں نے اپنے چند قدیم رفیقوں کی رفاقت کی وجہ سے میرے منجانب اللہ ہونے کے دعوے کا انکار مناسب سمجھا اور چونکہ دروغ گو کو خدا تعالیٰ اِسی جہان میں ملزم اور شرمسار کر دیتا ہے اس لئے حافظ صاحب بھی اور منکروں کی طرح خدا کے الزام کے نیچے آ گئے اور ایسا اتفاق ہوا کہ ایک مجلس میں جس کا ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں میری جماعت کے بعض لوگوں نے حافظ صاحب کے سامنے یہ دلیل پیش کی کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں ایک شمشیر برہنہ کی طرح یہ حکم فرماتا ہے کہ یہ نبی اگر میرے پر جھوٹ بولتا اور کسی بات میں افترا کرتا تو میں اس کی رگِ جان کاٹ دیتا اور اس مدت دراز تک وہ زندہ نہ رہ سکتا۔ تو اب جب ہم اپنے اس مسیح موعود کو اس پیمانہ سے ناپتے ہیں تو براہین احمدیہ کے دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دعویٰ منجانب اللہ ہونے اور مکالماتِ الٰہیہ کا قریباً تیس برس سے ہے اور اکیس برس سے براہین احمدیہ شائع ہے۔ پھر اگر اس مدت تک اس مسیح کا ہلاکت سے امن میں رہنا اس کے صادق ہونے پر دلیل نہیں ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تئیس برس تک موت سے بچنا آپ کے سچا ہونے پر بھی دلیل نہیں ہے کیونکہ جبکہ خدا تعالیٰ نے اس جگہ ایک جھوٹے مدعی رسالت کو تیس برس تک مہلت دی اور وَلَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا کے وعدہ کا کچھ خیال نہ کیا تو اسی طرح نعوذ باللہ یہ بھی قریب قیاس ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی باوجود کاذب ہونے کے مہلت دے دی ہو مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کاذب ہونا محال ہے۔ پس جو مستلزم محال ہو وہ بھی محال۔ اور ظاہر ہے کہ یہ قرآنی استدلال بدیہی الظہور جبھی ٹھہر سکتا ہے جبکہ یہ قاعدہ کلی مانا جائے کہ خدا اس مفتری کو جو خلقت کے گمراہ کرنے کے لئے مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہو کبھی مہلت نہیں دیتا کیونکہ اس طرح پر اُس کی بادشاہت میں گڑ بڑ پڑ جاتا ہے اور صادق اور کاذب میں تمیز اُٹھ جاتی ہے۔ غرض جب میرے دعویٰ کی تائید میں یہ دلیل پیش کی گئی تو حافظ صاحب نے اِس دلیل سے سخت انکار کر کے اِس بات پر زور دیا کہ کاذب کا تئیس برس تک یا اس سے زیادہ زندہ رہنا جائز ہے اور کہا کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایسے کاذبوں کی میں نظیر پیش کروں گا جو رسالت کا جھوٹا دعویٰ کر کے تئیس برس تک یا اس سے زیادہ رہے ہوں مگر اب تک کوئی نظیر پیش نہیں کی اور جن لوگوں کو اسلام کی کتابوں پر نظر ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ آج تک علماء امت میں سے کسی نے یہ اعتقاد ظاہر نہیں کیا کہ کوئی مفتری علی اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تیئیس برس تک زندہ رہ سکتا ہے بلکہ یہ تو صریح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر حملہ اور کمال بے ادبی ہے اور خدا تعالیٰ کی پیش کردہ دلیل سے استخفاف ہے۔ ہاں اُن کا یہ حق تھا کہ مجھ سے اس کا ثبوت مانگتے کہ میرے دعویٰ مامور من اللہ ہونے کی مدت تیئیس برس یا اس سے زیادہ اب تک ہو چکی ہے یا نہیں مگر حافظ صاحب نے مجھ سے یہ ثبوت نہیں مانگا کیونکہ حافظ صاحب بلکہ تمام علماءِ اسلام اور ہندو اور عیسائی اس بات کو جانتے ہیں کہ براہین احمدیہ جس میں یہ دعویٰ ہے اور جس میں بہت سے مکالمات الٰہیہ درج ہیں اس کے شائع ہونے پر اکیس برس گذر چکے ہیں اور اسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ قریباً تیس برس سے یہ دعویٰ مکالماتِ الٰہیہ شائع کیا گیا ہے اور نیز الہام اَلَیْسَ اللہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ جو میرے والد صاحب کی وفات پر ایک انگشتری پر کھودا گیا تھا اور امرتسر میں ایک مہرکن سے کھدوایا گیا تھا وہ انگشتری اب تک موجود ہے اور وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے طیار کروائی اور براہین احمدیہ موجود ہے جس میں یہ الہام الیس اللہ بکاف عبدہ لکھا گیا ہے اور جیسا کہ انگشتری سے ثابت ہوتا ہے یہ بھی چھبیس برس کا زمانہ ہے۔ غرض چونکہ یہ تیس سال تک کی مدت براہین احمدیہ سے ثابت ہوتی ہے اور کسی طرح مجال انکار نہیں۔ اور اسی براہین کا مولوی محمد حسین نے ریویو بھی لکھا تھا لہذا حافظ صاحب کی یہ مجال تو نہ ہوئی کہ اس امر کا انکار کریں جو اکیس سال سے براہین احمدیہ میں شائع ہو چکا ہے نا چار قرآن شریف کی دلیل پر حملہ کر دیا کہ مثل مشہور ہے کہ مرتا کیا نہ کرتا۔ سو ہم اس اشتہار میں حافظ محمد یوسف صاحب سے وہ نظیر طلب کرتے ہیں جس کے پیش کرنے کا انہوں نے اپنی دستخطی تحریر میں وعدہ کیا ہے۔ ہم یقیناً جانتے ہیں کہ قرآنی دلیل کبھی ٹوٹ نہیں سکتی۔ یہ خدا کی پیش کردہ دلیل ہے نہ کسی انسان کی۔ کئی کم بخت بد قسمت دنیا میں آئے اور انہوں نے قرآن کی اس دلیل کو توڑنا چاہا مگر آخر آپ ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔

مگر یہ دلیل ٹوٹ نہ سکی۔ حافظ صاحب علم سے بے بہرہ ہیں اُن کو خبر نہیں کہ ہزار ہا نامی علماء اور اولیاء ہمیشہ اسی دلیل کو کفار کے سامنے پیش کرتے رہے اور کسی عیسائی یا یہودی کو طاقت نہ ہوئی کہ کسی ایسے شخص کا نشان دے جس نے افترا کے طور پر مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کر کے زندگی کے تیئیس برس پورے کئے ہوں۔ پھر حافظ صاحب کی کیا حقیقت اور سرمایہ ہے کہ اِس دلیل کو توڑ سکیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسی وجہ سے بعض جاہل اور نافہم مولوی میری ہلاکت کے لئے طرح طرح کے حیلے سوچتے رہے ہیں تا یہ مدت پوری نہ ہونی پاوے جیسا کہ یہودیوں نے نعوذ باللہ حضرت مسیح کو رفع سے بے نصیب ٹھہرانے کے لئے صلیب کا حیلہ سوچا تھا تا اس سے دلیل پکڑیں کہ عیسیٰ بن مریم اُن صادقوں میں سے نہیں ہے جن کا رفع الی اللہ ہوتا رہا ہے مگر خدا نے مسیح کو وعدہ دیا کہ میں تجھے صلیب سے بچاؤں گا اور اپنی طرف تیرا رفع کروں گا جیسا کہ ابراہیم اور دوسرے پاک نبیوں کا رفع ہوا۔ سو اس طرح ان لوگوں کے منصوبوں کے برخلاف خدا نے مجھے وعدہ دیا کہ میں اسّی برس یا دو تین برس کم یا زیادہ تیری عمر کروں گا تا لوگ کمی عمر سے کاذب ہونے کا نتیجہ نہ نکال سکیں جیسا کہ یہودی صلیب سے نتیجہ عدم رفع کا نکالنا چاہتے تھے۔ اور خدا نے مجھے وعدہ دیا کہ میں تمام خبیث مرضوں سے بھی تجھے بچاؤں گا جیسا کہ اندھا ہونا تا اس سے بھی کوئی بد نتیجہ نہ نکالیں۔ اور خدا نے مجھے اطلاع دی کہ بعض ان میں سے تیرے پر بددعائیں بھی کرتے رہیں گے مگر ان کی بددعائیں میں انہی پر ڈالوں گا۔ اور در حقیقت لوگوں نے اس خیال سے کہ کسی طرح لو تقول کے نیچے مجھے لے آئیں منصوبہ بازی میں کچھ کمی نہیں کی۔ بعض مولویوں نے قتل کے فتوے دیئے۔ بعض مولویوں نے جھوٹے قتل کے مقدمات بنانے کے لئے میرے پر گواہیاں دیں۔ بعض مولوی میری موت کی جھوٹی پیشگوئیاں کرتے رہے۔ بعض مسجدوں میں میرے مرنے کے لئے ناک رگڑتے رہے بعض نے جیسا کہ مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنی کتاب میں اور مولوی اسمعیل علیگڈہ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ اگر وہ کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا کیونکہ کاذب ہے مگر جب ان تالیفات کو دنیا میں شائع کر چکے تو پھر بہت جلد آپ ہی مر گئے اور اس طرح پر اُن کی موت نے فیصلہ کر دیا کہ کاذب کون تھا مگر پھر بھی یہ لوگ عبرت نہیں پکڑتے ۔ پس کیا یہ ایک عظیم الشان معجزہ نہیں ہے کہ محی الدین لکھو کے والے نے میری نسبت موت کا الہام شائع کیا وہ مر گیا ۔ مولوی اسمعیل نے شائع کیا وہ مر گیا۔ مولوی غلام دستگیر نے ایک کتاب تالیف کر کے اپنے مرنے سے میرا پہلے مرنا بڑے زور شور سے شائع کیا وہ مر گیا ۔ پادری حمید اللہ پشاوری نے میری موت کی نسبت دس مہینہ کی میعاد رکھ کر پیشگوئی شائع کی وہ مر گیا ۔ لیکھرام نے میری موت کی نسبت تین سال کی میعاد کی پیشگوئی کی وہ مر گیا ۔ یہ اس لئے ہوا کہ تا خدا تعالیٰ ہر طرح سے اپنے نشانوں کو مکمل کرے۔

میری نسبت جو کچھ ہمدردی قوم نے کی ہے وہ ظاہر ہے اور غیر قوموں کا بغض ایک طبعی امر ہے۔ ان لوگوں نے کون سا پہلو میرے تباہ کرنے کا اُٹھا رکھا کون سا ایذا کا منصوبہ ہے جو انتہا تک نہیں پہنچایا۔ کیا بد دعاؤں میں کچھ کسر رہی یا قتل کے فتوے نامکمل رہے یا ایذا اور توہین کے منصوبے کَمَا حَقَّہٗ ظہور میں نہ آئے پھر وہ کون سا ہاتھ ہے جو مجھے بچاتا ہے۔ اگر میں کاذب ہوتا تو چاہیے تو یہ تھا کہ خدا خود میرے ہلاک کرنے کے لئے اسباب پیدا کرتا نہ یہ کہ وقتاً فوقتاً لوگ اسباب پیدا کریں اور خدا اُن اسباب کو معدوم کرتا رہے۔ کیا یہی کاذب کی نشانیاں ہوا کرتی ہیں کہ قرآن بھی اس کی گواہی دے اور آسمانی نشان بھی اسی کی تائید میں نازل ہوں ۔ اور عقل بھی اُسی کی مؤید ہو اور جو اس کی موت کے شائق ہوں وہی مرتے جائیں۔ میں ہرگز یقین نہیں کرتا کہ زمانہ نبوی کے بعد کسی اہل اللہ اور اہل حق کے مقابل پر کبھی کسی مخالف کو ایسی صاف اور صریح شکست اور ذلت پہنچی ہو جیسا کہ میرے دشمنوں کو میرے مقابل پر پہنچی ہے۔ اگر انہوں نے میری عزت پر حملہ کیا تو آخر آپ ہی بے عزت ہوئے اور اگر میری جان پر حملہ کر کے یہ کہا کہ اس شخص کے صدق اور کذب کا معیار یہ ہے کہ وہ ہم سے پہلے مرے گا تو پھر آپ ہی مر گئے ۔ مولوی غلام دستگیر کی کتاب تو دور نہیں مدّت سے چھپ کر شائع ہو چکی ہے۔ دیکھو وہ کس دلیری سے لکھتا ہے کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا اور پھر آپ ہی مر گیا ۔ اس سے ظاہر ہے کہ جو لوگ میری موت کے شائق تھے اور انہوں نے خدا سے دعائیں کیں کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے آخر وہ مر گئے نہ ایک نہ دو بلکہ پانچ آدمی نے ایسا ہی کہا اور اس دنیا کو چھوڑ گئے اس کا نتیجہ موجودہ مولویوں کے لئے جو محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبد الجبار غزنوی ثم امرتسری اور عبد الحق غزنوی ثم امرتسری اور مولوی پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور رشید احمد گنگوہی اور نذیر حسین دہلوی اور رسل بابا امرتسری اور منشی الہی بخش صاحب اکونٹنٹ اور حافظ محمد یوسف ضلعدار نہر و غیر هم کے لئے یہ تو نہ ہوا کہ اس اعجاز صریح سے یہ لوگ فائدہ اُٹھاتے اور خدا سے ڈرتے اور توبہ کرتے ۔ ہاں ان لوگوں کی ان چند نمونوں کے بعد کمریں ٹوٹ گئیں اور اس قسم کی تحریروں سے ڈر گئے فلن یکتبوا بمثل هٰذا بما تقدمت الامثال . یہ معجزہ کچھ تھوڑا نہیں تھا کہ جن لوگوں نے مدار فیصلہ جھوٹے کی موت رکھی تھی وہ میرے مرنے سے پہلے قبروں میں جاسوئے۔ اور میں نے ڈپٹی آتھم کے مباحثہ میں قریباً ساٹھ آدمی کے روبرو یہ کہا تھا کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو آتھم بھی اپنی موت سے میری سچائی کی گواہی دے گیا۔ مجھے ان لوگوں کی حالتوں پر رحم آتا ہے کہ بخل کی وجہ سے کہاں تک اِن لوگوں کی نوبت پہنچ گئی ہے۔ اگر کوئی نشان بھی طلب کریں تو کہتے ہیں کہ یہ دعا کرو کہ ہم سات دن میں مرجائیں نہیں جانتے کہ خود تراشیدہ میعادوں کی خدا پیروی نہیں کرتا اُس نے فرما دیا ہے کہ وَلَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ(بنی اسرائیل: ۳۷)۔ اور اس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ وَلَا تَقُوۡلَنَّ لِشَایۡءٍ اِنِّیۡ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا(الکہف: ۲۴)۔ سو جبکہ سیدنا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن کی میعاد اپنی طرف سے پیش نہیں کر سکتے تو میں سات دن کا کیونکر دعویٰ کروں ۔ ان نادان ظالموں سے مولوی غلام دستگیر اچھا رہا کہ اُس نے اپنے رسالہ میں کوئی میعاد نہیں لگائی ۔ یہی دعا کی کہ یا الہی اگر میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تکذیب میں حق پر نہیں تو مجھے پہلے موت دے۔ اور اگر مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعویٰ میں حق پر نہیں تو اُسے مجھ سے پہلے موت دے۔ بعد اس کے بہت جلد خدا نے اس کو موت دے دی ۔ دیکھو کیسا صفائی سے فیصلہ ہو گیا ۔ اگر کسی کو اس فیصلہ کے ماننے میں تردد ہو تو اس کو اختیار ہے کہ آپ خدا کے فیصلہ کو آزمائے لیکن ایسی شرارتیں چھوڑ دے جو آیت وَلَا تَقُوۡلَنَّ لِشَایۡءٍ اِنِّیۡ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا(الکہف: ۲۴)سے مخالف پڑی ہیں۔ شرارت کی حجت بازی سے صریح بے ایمانی کی بُو آتی ہے۔ ایسا ہی مولوی محمد اسمعیل نے صفائی سے خدا تعالیٰ کے روبرو یہ درخواست کی کہ ہم دونوں فریق میں سے جو جھوٹا ہے وہ مر جائے۔ سو خدا نے اُس کو بھی جلد تر اس جہان سے رخصت کر دیا اور ان وفات یافتہ مولویوں کا ایسی دعاؤں کے بعد مر جانا ایک خدا ترس مسلمان کے لئے تو کافی ہے مگر ایک پلید دل سیاہ دل دنیا پرست کے لئے ہرگز کافی نہیں۔ بھلا علیگڑہ تو بہت دور ہے اور شاید پنجاب کے کئی لوگ مولوی اسمعیل کے نام سے بھی ناواقف ہوں گے مگر قصور ضلع لاہور تو دور نہیں اور ہزاروں اہل لاہور مولوی غلام دستگیر قصوری کو جانتے ہوں گے اور اُس کی یہ کتاب بھی انہوں نے پڑھی ہو گی تو کیوں خدا سے نہیں ڈرتے ۔ کیا مرنا نہیں؟ کیا غلام دستگیر کی موت میں بھی لیکھرام کی موت کی طرح سازش کا الزام لگائیں گے۔ خدا کی جھوٹوں پر نہ ایک دم کے لئے لعنت ہے بلکہ قیامت تک لعنت ہے۔ کیا دنیا کے کیڑے محض سازش اور منصوبہ سے خدا کے مقدس مامورین کی طرح کوئی قطعی پیشگوئی کر سکتے ہیں۔ ایک چور جو چوری کے لئے جاتا ہے اس کو کیا خبر ہے کہ وہ چوری میں کامیاب ہو یا ماخوذ ہو کر جیل خانہ میں جائے۔ پھر وہ اپنی کامیابی کی زور شور سے تمام دنیا کے سامنے دشمنوں کے سامنے کیا پیشگوئی کرے گا۔ مثلاً دیکھو کہ ایسی پُر زور پیشگوئی جو لکھرام کے قتل کئے جانے کے بارے میں تھی جس کے ساتھ دن تاریخ وقت بیان کیا گیا تھا کیا کسی شریر بد چلن خونی کا کام ہے۔ غرض اِن مولویوں کی سمجھ پر کچھ ایسے پتھر پڑ گئے ہیں کہ کسی نشان سے فائدہ نہیں اُٹھاتے ۔ براہین احمدیہ میں قریب سولہ برس پہلے بیان کیا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ میری تائید میں خسوف کسوف کا نشان ظاہر کرے گا لیکن جب وہ نشان ظاہر ہو گیا اور حدیث کی کتابوں سے بھی کھل گیا کہ یہ ایک پیشگوئی تھی کہ مہدی کی شہادت کے لئے اس کے ظہور کے وقت میں رمضان میں خسوف کسوف ہوگا تو اِن مولویوں نے اس نشان کو بھی گاؤ خورد کر دیا اور حدیث سے منہ پھیر لیا۔ یہ بھی احادیث میں آیا تھا کہ مسیح کے وقت میں اونٹ ترک کئے جائیں گے اور قرآن شریف میں بھی وارد تھا کہوَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ(التکویر: ۵)۔ اب یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ میں بڑی سرگرمی سے ریل طیار ہو رہی ہے اور اونٹوں کے الوداع کا وقت آگیا۔ پھر اس نشان سے کچھ فائدہ نہیں اٹھاتے۔ یہ بھی حدیثوں میں تھا کہ مسیح موعود کے وقت میں ستارہ ذوالسنین نکلے گا۔ اب انگریزوں سے پوچھ لیجئے کہ مدت ہوئی کہ وہ ستارہ نکل چکا ۔ اور یہ بھی حدیثوں میں تھا کہ مسیح کے وقت میں طاعون پڑے گی حج روکا جائے گا۔ سو یہ تمام نشان ظہور میں آگئے ۔ اب اگر مثلاً میرے لئے آسمان پر خسوف کسوف نہیں ہوا تو کسی اور مہدی کو پیدا کریں جو خدا کے الہام سے دعوی کرتا ہو کہ میرے لئے ہوا ہے۔ افسوس ان لوگوں کی حالتوں پر ۔ ان لوگوں نے خدا اور رسول کے فرمودہ کی کچھ بھی عزت نہ کی اور صدی پر بھی سترہ برس گزر گئے مگر ان کا مجدد اب تک کسی غار میں پوشیدہ بیٹھا ہے۔ مجھ سے یہ لوگ کیوں بخل کرتے ہیں ۔ اگر خدا نہ چاہتا تو میں نہ آتا۔ بعض دفعہ میرے دل میں یہ بھی خیال آیا کہ میں درخواست کروں کہ خدا مجھے اس عہدہ سے علیحدہ کرے اور میری جگہ کسی اور کو اس خدمت سے ممتاز فرمائے پر ساتھ ہی میرے دل میں یہ ڈالا گیا کہ اس سے زیادہ اور کوئی سخت گناہ نہیں کہ میں خدمت سپرد کردہ میں بزدلی ظاہر کروں ۔ جس قدر میں پیچھے ہٹنا چاہتا ہوں اُسی قدر خدا تعالیٰ مجھے کھینچ کر آگے لے آتا ہے۔ میرے پر ایسی رات کوئی کم گذرتی ہے جس میں مجھے یہ تسلی نہیں دی جاتی کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور میری آسمانی فوجیں تیرے ساتھ ہیں اگر چہ جو لوگ دل کے پاک ہیں مرنے کے بعد خدا کو دیکھیں گے لیکن مجھے اُسی کے مُنہ کی قسم ہے کہ میں اب بھی اُس کو دیکھ رہا ہوں ۔ دنیا مجھ کو نہیں پہچانتی لیکن وہ مجھے جانتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔ یہ اُن لوگوں کی غلطی ہے۔ اور سراسر بد قسمتی ہے کہ میری تباہی چاہتے ہیں۔ میں وہ درخت ہوں جس کو مالک حقیقی نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے جو شخص مجھے کاٹنا چاہتا ہے اس کا نتیجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ وہ قارون اور یہودا اسکریوطی اور ابو جہل کے نصیب سے کچھ حصہ لینا چاہتا ہے۔ میں ہر روز اِس بات کے لئے چشم پُر آب ہوں کہ کوئی میدان میں نکلے اور منہاج نبوت پر مجھ سے فیصلہ کرنا چاہے۔ پھر دیکھے کہ خدا کس کے ساتھ ہے مگر میدان میں نکلنا کسی مخنث کا کام نہیں ۔ ہاں غلام دستگیر ہمارے ملک پنجاب میں کفر کے لشکر کا ایک سپاہی تھا جو کام آیا ۔ اب اِن لوگوں میں سے اس کے مثل بھی کوئی نکلنا محال اور غیر ممکن ہے۔ اے لوگو! تم یقیناً سمجھ لو کہ میرے ساتھ وہ ہاتھ ہے جو اخیر وقت تک مجھ سے وفا کرے گا۔ اگر تمہارے مرد اور تمہاری عورتیں اور تمہارے جوان اور تمہارے بوڑھے اور تمہارے چھوٹے اور تمہارے بڑے سب مل کر میرے ہلاک کرنے کے لئے دعائیں کریں یہاں تک کہ سجدے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور ہاتھ شل ہو جائیں تب بھی خدا ہر گز تمہاری دعا نہیں سنے گا اور نہیں رکے گا جب تک وہ اپنے کام کو پورا نہ کرلے۔ اور اگر انسانوں میں سے ایک بھی میرے ساتھ نہ ہو تو خدا کے فرشتے میرے ساتھ ہوں گے اور اگر تم گواہی کو چھپاؤ تو قریب ہے کہ پتھر میرے لئے گواہی دیں ۔ پس اپنی جانوں پر ظلم مت کرو کاذبوں کے اور منہ ہوتے ہیں اور صادقوں کے اور۔ خدا کسی امر کو بغیر فیصلہ کے نہیں چھوڑتا ۔ میں اس زندگی پر لعنت بھیجتا ہوں جو جھوٹ اور افترا کے ساتھ ہوا اور نیز اس حالت پر بھی کہ مخلوق سے ڈر کر خالق کے امر سے کنارہ کشی کی جائے ۔ وہ خدمت جو عین وقت پر خداوند قدیر نے میرے سپرد کی ہے اور اسی کے لئے مجھے پیدا کیا ہے ہرگز ممکن نہیں کہ میں اس میں سُستی کروں اگر چہ آفتاب ایک طرف سے اور زمین ایک طرف سے باہم مل کر کچلنا چاہیں۔ انسان کیا ہے محض ایک کیڑا ۔ اور بشر کیا ہے محض ایک مضغہ ۔ پس کیونکر میں حیّ و قیّوم کے حکم کو ایک کیڑے یا ایک مضغہ کے لئے ٹال دوں ۔ جس طرح خدا نے پہلے مامورین اور مکذبین میں آخر ایک دن فیصلہ کر دیا اِسی طرح وہ اس وقت بھی فیصلہ کرے گا ۔ خدا کے مامورین کے آنے کے لئے بھی ایک موسم ہوتے ہیں اور پھر جانے کے لئے بھی ایک موسم ۔ پس یقیناً سمجھو کہ میں نہ بے موسم آیا ہوں اور نہ بے موسم جاؤں گا ۔ خدا سے مت لڑو! یہ تمہارا کام نہیں کہ مجھے تباہ کر دو ۔

اب اس اشتہار سے میرا یہ مطلب ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے اور نشانوں میں مخالفین پر حجت پوری کی ہے۔ اِسی طرح میں چاہتا ہوں کہ آیت لَو تَقَوَّلَ کے متعلق بھی حجت پوری ہو جائے ۔ اِسی جہت سے میں نے اس اشتہار کو پانسو روپیہ کے انعام کے ساتھ شائع کیا ہے اور اگر تسلی نہ ہو تو میں یہ روپیہ کسی سرکاری بنک میں جمع کرا سکتا ہوں ۔ اگر حافظ محمد یوسف صاحب اور اُن کے دوسرے ہم مشرب جن کے نام میں نے اس اشتہار میں لکھے ہیں اپنے اس دعوے میں صادق ہیں یعنی اگر یہ بات صحیح ہے کہ کوئی شخص نبی یا رسول اور مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کر کے اور کھلے کھلے طور پر خدا کے نام پر کلمات لوگوں کو سنا کر پھر با وجود مفتری ہونے کے برابر تیئیس برس تک جو زمانہ وحی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے زندہ رہا ہے تو میں ایسی نظیر پیش کرنے والے کو بعد اس کے کہ مجھے میرے ثبوت کے موافق یا قرآن کے ثبوت کے موافق ثبوت دے دے پانسو روپیہ نقد دے دوں گا۔ اور اگر ایسے لوگ کئی ہوں تو ان کا اختیار ہو گا کہ وہ روپیہ با ہم تقسیم کر لیں ۔ اس اشتہار کے نکلنے کی تاریخ سے پندرہ روز تک اُن کو مہلت ہے کہ دنیا میں تلاش کر کے ایسی نظیر پیش کریں۔ افسوس کا مقام ہے کہ میرے دعوے کی نسبت جب میں نے مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا مخالفوں نے نہ آسمانی نشانوں سے فائدہ اٹھایا اور نہ زمینی نشانوں سے کچھ ہدایت حاصل کی ۔ خدا نے ہر ایک پہلو سے نشان ظاہر فرمائے پر دنیا کے فرزندوں نے ان کو قبول نہ کیا ۔ اب خدا کی اور ان لوگوں کی ایک کشتی ہے یعنی خدا چاہتا ہے کہ اپنے بندہ کی جس کو اُس نے بھیجا ہے روشن دلائل اور نشانوں کے ساتھ سچائی ظاہر کرے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ تباہ ہو اس کا انجام بد ہو اور وہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہلاک ہوا اور اس کی جماعت متفرق اور نابود ہو تب یہ لوگ ہنسیں اور خوش ہوں اور ان لوگوں کو تمسخر سے دیکھیں جو اس سلسلہ کی حمایت میں تھے اور اپنے دل کو کہیں کہ تجھے مبارک ہو کہ آج تو نے اپنے دشمن کو ہلاک ہوتے دیکھا اور اس کی جماعت کو تتر بتر ہوتے مشاہدہ کر لیا مگر کیا اُن کی مرادیں پوری ہو جائیں گی اور کیا ایسا خوشی کا دن اُن پر آئے گا ؟ اس کا یہی جواب ہے کہ اگر ان کے امثال پر آیا تھا تو ان پر بھی آئے گا ۔ ابو جہل نے جب بدر کی لڑائی میں یہ دُعا کی تھی کہ اللّٰهم من كان منا كاذبا فاحنه في هٰذا الموطن . یعنی اے خدا ہم دونوں میں سے جو محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اور میں ہوں جو شخص تیری نظر میں جھوٹا ہے اُس کو اسی موقع قتال میں ہلاک کر ۔ تو کیا اِس دعا کے وقت اُس کو گمان تھا کہ میں جھوٹا ہوں؟ اور جب لیکھرام نے کہا کہ میری بھی مرزا غلام احمد کی موت کی نسبت ایسی ہی پیشگوئی ہے جیسا کہ اِس کی ۔ اور میری پیشگوئی پہلے پوری ہو جائے گی اور وہ مرے گا ۔ تو کیا اُس کو اس وقت اپنی نسبت گمان تھا کہ میں جھوٹا ہوں؟ پس منکر تو دنیا میں ہوتے ہیں پر بڑا بد بخت وہ منکر ہے جو مرنے سے پہلے معلوم نہ کر سکے کہ میں جھوٹا ہوں ۔ پس کیا خدا پہلے منکروں کے وقت میں قادر تھا اور اب نہیں؟ نعوذ باللہ ہرگز ایسا نہیں بلکہ ہر ایک جو زندہ رہے گا وہ دیکھ لے گا کہ آخر خدا غالب ہوگا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ وہ خدا جس کا قوی ہاتھ زمینوں اور آسمانوں اور اُن سب چیزوں کو جو ان میں ہیں تھامے ہوئے ہے وہ کب انسان کے ارادوں سے مغلوب ہو سکتا ہے اور آخر ایک دن آتا ہے جو وہ فیصلہ کرتا ہے۔ پس صادقوں کی یہی نشانی ہے کہ انجام انہی کا ہوتا ہے۔ خدا اپنی تجلیات کے ساتھ اُن کے دل پر نزول کرتا ہے پس کیونکر وہ عمارت منہدم ہو سکے جس میں وہ حقیقی بادشاہ فروکش ہے۔ ٹھٹھا کرو جس قدر چاہو گالیاں دو جس قدر چاہو اور ایذا اور تکلیف دہی کے منصوبے سوچو جس قدر چاہو اور میرے استیصال کے لئے ہر ایک قسم کی تدبیریں اور مکر سوچو جس قدر چاہو ۔ پھر یاد رکھو کہ عنقریب خدا تمہیں دکھلا دے گا کہ اس کا ہاتھ غالب ہے۔ نادان کہتا ہے کہ میں اپنے منصوبوں سے غالب ہو جاؤں گا مگر خدا کہتا ہے کہ اے لعنتی دیکھ میں تیرے سارے منصوبے خاک میں ملا دوں گا ۔ اگر خدا چاہتا تو ان مخالف مولویوں اور ان کے پیروؤں کو آنکھیں بخشا۔ اور وہ ان وقتوں اور موسموں کو پہچان لیتے جن میں خدا کے مسیح کا آنا ضروری تھا۔ لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیشگوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دُکھ اُٹھائے گا وہ اُس کو کافر قرار دیں گے اور اُس کے قتل کے لئے فتوے دیئے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دیں کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔ سو ان دنوں میں وہ پیشگوئی انہی مولویوں نے اپنے ہاتھوں سے پوری کی ۔ افسوس یہ لوگ سوچتے نہیں کہ اگر یہ دعوئی خدا کے امر اور ارادہ سے نہیں تھا تو کیوں اس مدعی میں پاک اور صادق نبیوں کی طرح بہت سے سچائی کے دلائل جمع ہو گئے ۔ کیا وہ رات ان کے لئے ماتم کی رات نہیں تھی جس میں میرے دعوی کے وقت رمضان میں خسوف کسوف عین پیشگوئی کی تاریخوں میں وقوع میں آیا ۔ کیا وہ دن اُن پر مصیبت کا دن نہیں تھا جس میں لیکھرام کی نسبت پیشگوئی پوری ہوئی۔ خدا نے بارش کی طرح نشان برسائے مگر ان لوگوں نے آنکھیں بند کر لیں تا ایسا نہ ہو کہ دیکھیں اور ایمان لائیں ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ یہ دعویٰ غیر وقت پر نہیں بلکہ عین صدی کے سر پر اور عین ضرورت کے دنوں میں ظہور میں آیا اور یہ امر قدیم سے اور جب سے کہ بنی آدم پیدا ہوئے سنت اللہ میں داخل ہے کہ عظیم الشان مصلح صدی کے سر پر اور عین ضرورت کے وقت میں آیا کرتے ہیں جیسا کہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد ساتویں صدی کے سر پر جبکہ تمام دنیا تاریکی میں پڑی تھی ظہور فرما ہوئے اور جب سات کو دگنا کیا جائے تو چودہ ہوتے ہیں لہذا چودھویں صدی کا سر مسیح موعود کے لئے مقدر تھا تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ جس قدر قوموں میں فساد اور بگاڑ حضرت مسیح کے زمانہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک پیدا ہو گیا تھا اس فساد سے وہ فساد دو چند ہے جو مسیح موعود کے زمانہ میں ہوگا ۔ اور جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں خدا تعالیٰ نے ایک بڑا اصول جو قرآن شریف میں قائم کیا تھا اور اسی کے ساتھ نصاریٰ اور یہودیوں پر حجت قائم کی تھی یہ تھا کہ خدا تعالیٰ اس کاذب کو جو نبوت یا رسالت اور مامور من اللہ ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرے مہلت نہیں دیتا اور ہلاک کرتا ہے۔ پس ہمارے مخالف مولویوں کی یہ کیسی ایمانداری ہے کہ مُنہ سے تو قرآن شریف پر ایمان لاتے ہیں مگر اس کے پیش کردہ دلائل کو ردّ کرتے ہیں۔ اگر وہ قرآن شریف پر ایمان لا کر اسی اصول کو میرے صادق یا کاذب ہونے کا معیار ٹھہراتے تو جلد تر حق کو پالیتے ۔ لیکن میری مخالفت کے لئے اب وہ قرآن شریف کے اس اصول کو بھی نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے کہ میں خدا کا نبی یا رسول یا مامور من اللہ ہوں جس سے خدا ہم کلام ہو کر اپنے بندوں کی اصلاح کے لئے وقتاً فوقتاً راہ راست کی حقیقتیں اس پر ظاہر کرتا ہے۔ اور اس دعوے پر تیئیس یا پچیس برس گزر جائیں یعنی وہ میعاد گذر جائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی میعاد تھی ۔ اور وہ شخص اس مدت تک فوت نہ ہو اور نہ قتل کیا جائے تو اس سے لازم نہیں آتا کہ وہ شخص سچا نبی یا سچا رسول یا خدا کی طرف سے سچا مصلح اور مجدد ہے اور حقیقت میں خدا اس سے ہم کلام ہوتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ کلمہ کفر ہے کیونکہ اس سے خدا کے کلام کی تکذیب و توہین لازم آتی ہے۔ ہر ایک عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت حقہ کے ثابت کرنے کے لئے اسی استدلال کو پکڑا ہے کہ اگر یہ شخص خدا تعالیٰ پر افترا کرتا تو میں اس کو ہلاک کر دیتا اور تمام علماء جانتے ہیں کہ خدا کی دلیل پیش کردہ سے استخفاف کرنا بالاتفاق کفر ہے کیونکہ اس دلیل پر ٹھٹھا مارنا جو خدا نے قرآن اور رسول کی حقیت پر پیش کی ہے مستلزم تکذیب کتاب اللہ و رسول اللہ ہے اور وہ صریح کفر ہے مگر ان لوگوں پر کیا افسوس کیا جائے ۔ شائد ان لوگوں کے نزدیک خدا تعالیٰ پر افترا کرنا جائز ہے اور ایک بدظن کہہ سکتا ہے کہ شائد یہ تمام اصرار حافظ محمد یوسف صاحب کا اور ان کا ہر مجلس میں بار بار یہ کہنا کہ ایک انسان تیئیس برس تک خدا تعالیٰ پر افترا کر کے ہلاک نہیں ہوتا اس کا یہی باعث ہو کہ انہوں نے نعوذ باللہ چند افترا خدا تعالیٰ پر کئے ہوں اور کہا ہو کہ مجھے یہ خواب آئی یا مجھے یہ الہام ہوا اور پھر اب تک ہلاک نہ ہوئے تو دل میں یہ سمجھ لیا کہ خدا تعالیٰ کا اپنے رسول کریم کی نسبت یہ فرمانا کہ اگر وہ ہم پر افترا کرتا تو ہم اس کی رگِ جان کاٹ دیتے یہ بھی صحیح نہیں ہے۔ اور خیال کیا کہ ہماری رگِ جان خدا نے کیوں نہ کاٹ دی اس کا جواب یہ ہے کہ یہ آیت رسولوں اور نبیوں اور مامورین کی نسبت ہے جو کروڑہا انسانوں کو اپنی طرف دعوت کرتے ہیں اور جن کے افترا سے دنیا تباہ ہوتی ہے لیکن ایک ایسا شخص جو اپنے تئیں مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کر کے قوم کا مصلح قرار نہیں دیتا اور نہ نبوت اور رسالت کا مدعی بنتا ہے اور محض ہنسی کے طور پر یا لوگوں کو اپنا رسوخ جتلانے کے لئے دعویٰ کرتا ہے کہ مجھے یہ خواب آئی اور یا الہام ہوا اور جھوٹ بولتا ہے یا اس میں جھوٹ ملاتا ہے وہ اس نجاست کے کیڑے کی طرح ہے جو نجاست میں ہی پیدا ہوتا ہے اور نجاست میں ہی مر جاتا ہے۔ ایسا خبیث اس لائق نہیں کہ خدا اس کو یہ عزت دے کہ تو نے اگر میرے پر افترا کیا تو میں تجھے ہلاک کر دوں گا بلکہ وہ بوجہ اپنی نہایت درجہ کی ذلت کے قابل التفات نہیں کوئی شخص اُس کی پیروی نہیں کرتا کوئی اُس کو نبی یا رسول یا مامور من اللہ نہیں سمجھتا۔ ماسوا اس کے یہ بھی ثابت کرنا چاہیے کہ اس مفتریانہ عادت پر برابر تیئیس برس گذر گئے۔ ہمیں حافظ محمد یوسف صاحب کی بہت کچھ واقفیت نہیں مگر یہ بھی امید نہیں۔ خدا اُن کے اندرونی اعمال بہتر جانتا ہے۔ اُن کے دو قول تو ہمیں یاد ہیں اور سنا ہے کہ اب ان سے وہ انکار کرتے ہیں (۱) ایک یہ کہ چند سال کا عرصہ گذرا ہے کہ بڑے بڑے جلسوں میں انہوں نے بیان کیا تھا کہ مولوی عبداللہ غزنوی نے میرے پاس بیان کیا کہ آسمان سے ایک نور قادیاں پر گرا اور میری اولاد اس سے بے نصیب رہ گئی۔ (۲) دوسرے یہ کہ خدا تعالیٰ نے انسانی تمثل کے طور پر ظاہر ہو کر اُن کو کہا کہ مرزا غلام احمد حق پر ہے کیوں لوگ اس کا انکار کرتے ہیں۔ اب مجھے خیال آتا ہے کہ اگر حافظ صاحب ان دو واقعات سے اب انکار کرتے ہیں جن کو بار بار بہت سے لوگوں کے پاس بیان کر چکے ہیں تو نعوذ باللہ بے شک انہوں نے خدا تعالیٰ پر افترا کیا ہے کیونکہ جو شخص سچ کہتا ہے اگر وہ مر بھی جائے تب بھی انکار نہیں کر سکتا جیسا کہ اُن کے بھائی محمد یعقوب نے اب بھی صاف گواہی دیدی ہے کہ ایک خواب کی تعبیر میں مولوی عبداللہ صاحب غزنوی نے فرمایا تھا کہ وہ نور جو دنیا کو روشن کرے گا وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ حافظ صاحب بھی بار بار ان دونوں قصوں کو بیان کرتے تھے اور ہنوز وہ ایسے پیر فرتوت نہیں ہوئے تا یہ خیال کیا جائے کہ پیرانہ سالی کے تقاضا سے قوتِ حافظہ جاتی رہی اور آٹھ سال سے زیادہ مدت ہو گئی جب میں حافظ صاحب کی زبانی مولوی عبداللہ صاحب کے مذکورہ بالا کشف کو ازالہ اوہام میں شائع کر چکا ہوں۔ کیا کوئی عقلمند مان سکتا ہے کہ میں ایک جھوٹی بات اپنی طرف سے لکھ دیتا اور حافظ صاحب اس کتاب کو پڑھ کر پھر خاموش رہتے۔ کچھ عقل و فکر میں نہیں آتا کہ حافظ صاحب کو کیا ہو گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ کسی مصلحت سے عمداً گواہی کو چھپاتے ہیں اور نیک نیتی سے ارادہ رکھتے ہیں کہ کسی اور موقع پر اس گواہی کو ظاہر کر دوں گا مگر زندگی کتنے روز ہے؟ اب بھی اظہار کا وقت ہے۔ انسان کو اس سے کیا فائدہ کہ اپنی جسمانی زندگی کے لئے اپنی روحانی زندگی پر چھری پھیر دے۔ میں نے بہت دفعہ حافظ صاحب سے یہ بات سنی تھی کہ وہ میرے مصدقین میں سے ہیں اور مکذب کے ساتھ مباہلہ کرنے کو تیار ہیں اور اسی میں بہت سا حصہ اُن کی عمر کا گذر گیا اور اس کی تائید میں وہ اپنی خوابیں سناتے رہے اور بعض مخالفوں سے انہوں نے مباہلہ بھی کیا مگر کیوں پھر دنیا کی طرف جھک گئے لیکن ہم اب تک اس بات سے نومید نہیں ہیں کہ خدا ان کی آنکھیں کھولے اور یہ امید باقی ہے جب تک کہ وہ اسی حالت میں فوت نہ ہو جائیں۔

اور یاد رہے کہ خاص موجب اس اشتہار کے شائع کرنے کا وہی ہیں کیونکہ ان دنوں میں سب سے پہلے انہی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قرآن کی یہ دلیل کہ „اگر یہ نبی جھوٹے طور پر وحی کا دعویٰ کرتا تو میں اس کو ہلاک کر دیتا“ یہ کچھ چیز نہیں ہے بلکہ بہتیرے ایسے مفتری دنیا میں پائے جاتے ہیں جنہوں نے تیئیس برس سے بھی زیادہ مدت تک نبوت یا رسالت یا مامور من اللہ ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر کے خدا پر افترا کیا اور اب تک زندہ موجود ہیں۔ حافظ صاحب کا یہ قول ایسا ہے کہ کوئی مومن اس کی برداشت نہیں کرے گا مگر وہی جس کے دل پر خدا کی لعنت ہو۔ کیا خدا کا کلام جھوٹا ہے؟ و من اظلم من الذي كذب كتاب اللہ الا ان قول اللہ حق والا ان لعنة اللہ على المكذبين. یہ خدا کی قدرت ہے کہ اُس نے منجملہ اور نشانوں کے یہ نشان بھی میرے لئے دکھلایا کہ میرے وحی اللہ پانے کے دن سیدنا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے دنوں سے برابر کئے جب سے کہ دنیا شروع ہوئی ایک انسان بھی بطور نظیر نہیں ملے گا جس نے ہمارے سید و سردار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تیئیس برس پائے ہوں اور پھر وحی اللہ کے دعوے میں جھوٹا ہو یہ خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خاص عزت دی ہے جو اُن کے زمانہ نبوت کو بھی سچائی کا معیار ٹھہرا دیا ہے۔ پس اے مومنو! اگر تم ایک ایسے شخص کو پاؤ جو مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور تم پر ثابت ہو جائے کہ وحی اللہ پانے کے دعوے پر تیئیس برس کا عرصہ گذر گیا اور وہ متواتر اس عرصہ تک وحی اللہ پانے کا دعویٰ کرتا رہا اور وہ دعویٰ اس کی شائع کردہ تحریروں سے ثابت ہوتا رہا تو یقیناً سمجھ لو کہ وہ خدا کی طرف سے کیونکہ ممکن نہیں کہ ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی اللہ پانے کی مدت اُس شخص کو مل سکے جس شخص کو خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے۔ ہاں اس بات کا واقعی طور پر ثبوت ضروری ہے کہ در حقیقت اس شخص نے وحی اللہ پانے کے دعوے میں تیئیس برس کی مدت حاصل کر لی اور اِس مدت میں اخیر تک کبھی خاموش نہیں رہا اور نہ اس دعوے سے دست بردار ہوا۔ سو اس اُمت میں وہ ایک شخص میں ہی ہوں جس کو اپنے نبی کریم کے نمونہ پر وحی اللہ پانے میں تیئیس برس کی مدت دی گئی اور تیئیس برس تک برابر یہ سلسلہ وحی کا جاری رکھا گیا۔ اِس کے ثبوت کے لئے اوّل میں براہین احمدیہ کے وہ مکالمات الہیہ لکھتا ہوں جو اکیس برس سے براہین احمدیہ میں چھپ کر شائع ہوئے اور سات آٹھ برس پہلے زبانی طور پر شائع ہوتے رہے جن کی گواہی خود براہین احمدیہ سے ثابت ہے اور پھر اس کے بعد چند وہ مکالماتِ الہیہ لکھوں گا جو براہین احمدیہ کے بعد وقتاً فوقتاً دوسری کتابوں کے ذریعہ سے شائع ہوتے رہے۔ سو براہین احمدیہ میں یہ کلمات اللہ درج ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوئے اور میں صرف نمونہ کے طور پر اختصار کر کے لکھتا ہوں۔ مفصل دیکھنے کے لئے براہین موجود ہے۔

وہ مکالماتِ الہیہ جن سے مجھے مشرف کیا گیا

اور براہین احمدیہ میں درج ہیں

بشرىٰ لك احمدی. انت مرادى و معى. غرست لك قدرتى بيدى. سرّك سرّى. انت وجيه فى حضرتى. اخترتك لنفسى. انت منى بمنزلة توحيدى و تفريدى فحان ان تعان و تعرف بين الناس. يا احمد فاضت الرحمة على شفتيك. بوركت يا احمد وكان ما بارك اللہ فيك حقًّا فيك. الرحمٰن علم القرآن لتنذر قومًا ما انذر آباءهم ولتستبين سبيل المجرمين. قل انى امرت وانا اوّل المؤمنين. قل ان كنتم تحبون اللہ فاتبعونى يحببكم اللہ. ويمكرون ويمكر اللہ واللہ خير الماكرين. و ما كان اللہ ليتركك حتى يميز الخبيث من الطيب. وان عليك رحمتى فى الدنيا والدين. وانك اليوم لدينا مكين امين. وانك من المنصورين. وانت منى بمنزلة لا يعلمها الخلق. وما ارسلناك الارحمة للعالمين. يا احمد اسكن انت وزوجك الجنة. يا آدم اسكن انت وزوجك الجنة. هذا من رحمة ربك ليكون آية للمؤمنين. اردت ان استخلف فخلقت آدم ليقيم الشريعة ويحى الدين. جرى اللہ فى حلل الانبياء. وجيه فى الدنيا والآخرة ومن المقربين. كنت كنزًا مخفيا فاحببت ان اعرف. ولنجعله آية للناس ورحمة منّا وكان امرًا مقضيّا. يا عيسىٰ انى متوفيك و رافعك الىّ و مطهرك من الذين كفروا. وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفرو الىٰ يوم القيامة ثلة من الاوّلين وثلة من الآخرين. يخوفونك من دونه. يعصمك اللہ من عنده ولو لم يعصمك الناس. وكان ربك قديرا. يحمدك اللہ من عرشهٖ نحمدك ونصلى. و انا كفيناك المستهزئين. وقالوا ان هوالا افك إفترٰى. وما سمعنا بهذا فى اٰبائنا الاولين. ولقد كرمنا بنى اٰدم وفضّلنا بعضهم على بعض كذالك لتكون اية للمؤمنين. وجحدوا بها واستيقنتها انفسهم ظلما وعلوا. قل عندى شهادة من اللہ فهل انتم مؤمنون. قل عندى شهادة من اللہ فهل انتم مسلمون. وقالوا انى لك هذا. ان هٰذا الاسحر يؤثر. وان يروا آية يعرضوا ويقولوا سحر مستمر. كتب اللہ لاغلبن انا ورسلى. واللہ غالب علىٰ امره ولكن اكثر الناس لا يعلمون. هو الذى ارسل رسوله بالهدىٰ ودين الحق ليظهره على الدين كله. لامبدل لكلمات اللہ. والذين اٰمنوا ولم يلبسوا ايمانهم بظلم اولئك لهم الامن وهم مهتدون. ولا تخاطبنى فى الذين ظلموا انهم مغرقون. وان يتخذونك الا هزوا. اهذا الذى بعث اللہ وينظرون اليك وهم لا يبصرون. واذ يمكر بك الذى كفّر. اوقدلى ياهامان لعلى اطلع علىٰ الٰه موسىٰ وانى لاظنّه من الكاذبين. تبّت يدا ابى لهب وتبّ. ما كان له ان يدخل فيها الاخائفًا. وما اصابك فمن اللہ. الفتنة هٰهنا فاصبر كما صبر اولو العزم. الا انها فتنة من اللہ ليحبّ حبّا جمّا. حبّا من اللہ العزيز الاكرم. عطاءً ا غير مجذوذ. وَ فِى اللّٰہِ اجرك ويرضىٰ عنك ربك ويتمّ اسمك. وعسىٰ ان تحبّوا شيئا وهو شرّلكم وعسىٰ ان تكرهوا شيئا وهو خير لكم واللہ يعلم وانتم لا تعلمون.

ترجمہ۔ اے میرے احمد! تجھے بشارت ہو تو میری مراد ہے اور میرے ساتھ ہے۔

میں نے اپنے ہاتھ سے تیرا درخت لگایا۔ تیرا بھید میرا بھید ہے اور تو میری درگاہ میں وجیہ ہے۔ میں نے اپنے لئے تجھے چنا۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید۔ پس وقت آگیا ہے کہ تو مدد دیا جائے اور لوگوں میں تیرے نام کی شہرت دی جائے۔ اے احمد! تیرے لبوں میں نعمت یعنی حقائق اور معارف جاری ہیں اے احمد! تو برکت دیا گیا اور یہ برکت تیرا ہی حق تھا۔ خدا نے تجھے قرآن سکھلایا یعنی قرآن کے اُن معنوں پر اطلاع دی جن کو لوگ بھول گئے تھے تا کہ تو اُن لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے بے خبر گذر گئے اور تا کہ مجرموں پر خدا کی حجت پوری ہو جائے۔ ان کو کہہ دے کہ میں اپنی طرف سے نہیں بلکہ خدا کی وحی اور حکم سے یہ سب باتیں کہتا ہوں اور میں اس زمانہ میں تمام مومنوں میں سے پہلا ہوں۔ ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے۔

اور یہ لوگ مکر کریں گے اور خدا بھی مکر کرے گا اور خدا بہتر مکر کرنے والا ہے۔ اور خدا ایسا نہیں کرے گا کہ وہ تجھے چھوڑ دے جب تک کہ پاک اور پلید میں فرق نہ کرلے۔ اور تیرے پر دنیا اور دین میں میری رحمت ہے اور تو آج ہماری نظر میں صاحب مرتبہ ہے اور اُن میں سے ہے جن کو مدد دی جاتی ہے۔ اور مجھ سے تو وہ مقام اور مرتبہ رکھتا ہے جس کو دنیا نہیں جانتی اور ہم نے دنیا پر رحمت کرنے کے لئے تجھے بھیجا ہے۔ اے احمد! اپنے زوج کے ساتھ بہشت میں داخل ہو۔ اے آدم! اپنے زوج کے ساتھ بہشت میں داخل ہو یعنی ہر ایک جو تجھ سے تعلق رکھنے والا ہے گو وہ تیری بیوی ہے یا تیرا دوست ہے نجات پائے گا۔ اور اس کو بہشتی زندگی ملے گی اور آخر بہشت میں داخل ہوگا۔ اور پھر فرمایا کہ میں نے ارادہ کیا کہ زمین پر اپنا جانشین پیدا کروں سو میں نے اس آدم کو پیدا کیا۔ یہ آدم شریعت کو قائم کرے گا اور دین کو زندہ کر دے اور یہ خدا کا رسول ہے نبیوں کے لباس میں۔ دنیا اور آخرت میں وجیہ اور خدا کے مقربوں میں سے۔ میں ایک خزانہ پوشیدہ تھا پس میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں اور ہم اس اپنے بندہ کو اپنا ایک نشان بنائیں گے اور اپنی رحمت کا ایک نمونہ کریں گے اور ابتدا سے یہی مقدر تھا۔ اے عیسیٰ! میں تجھے طبعی طور پر وفات دوں گا یعنی تیرے مخالف تیرے قتل پر قادر نہیں ہو سکیں گے اور میں تجھے اپنی طرف اُٹھاؤں گا یعنی دلائل واضحہ سے اور کھلے کھلے نشانوں سے ثابت کر دوں گا کہ تو میرے مقربوں میں سے ہے اور اُن تمام الزاموں سے تجھے پاک کروں گا جو تیرے پر منکر لوگ لگاتے ہیں۔ اور وہ لوگ جو مسلمانوں میں سے تیرے پیرو ہوں گے میں اُن کو اُن دوسرے گروہ پر قیامت تک غلبہ اور فوقیت دوں گا جو تیرے مخالف ہوں گے۔ تیرے تابعین کا ایک گروہ پہلوں میں سے ہوگا اور ایک گروہ پچھلوں میں سے۔ لوگ تجھے اپنی شرارتوں سے ڈرائیں گے پر خدا تجھے دشمنوں کی شرارت سے آپ بچائے گا گو لوگ نہ بچاویں اور تیرا خدا قادر ہے۔ وہ عرش پر سے تیری تعریف کرتا ہے یعنی لوگ جو گالیاں نکالتے ہیں ان کے مقابل پر خدا عرش پر تیری تعریف کرتا ہے۔ ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں اور جو ٹھٹھا کرنے والے ہیں اُن کے لئے ہم اکیلے کافی ہیں اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو جھوٹا افترا ہے جو اس شخص نے کیا۔ ہم نے اپنے باپ دادوں سے ایسا نہیں سنا۔ یہ نادان نہیں جانتے کہ کسی کو کوئی مرتبہ دینا خدا پر مشکل نہیں۔ ہم نے انسانوں میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ پس اسی طرح اس شخص کو یہ مرتبہ عطا فرمایا تا کہ مومنوں کے لئے نشان ہو مگر خدا کے نشانوں سے ان لوگوں نے انکار کیا۔ دل تو مان گئے مگر یہ انکار تکبر اور ظلم کی وجہ سے تھا۔ ان کو کہہ دے کہ میرے پاس خاص خدا کی طرف سے گواہی ہے پس کیا تم مانتے نہیں۔ پھر ان کو کہہ دے کہ میرے پاس خاص خدا کی طرف سے گواہی ہے۔ پس کیا تم قبول نہیں کرتے۔ اور جب نشان دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ تو ایک معمولی امر ہے جو قدیم سے چلا آتا ہے۔ (واضح ہو کہ آخری فقرہ اس الہام کا وہ آیت ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ جب کفار نے شق القمر دیکھا تھا تو یہی عذر پیش کیا تھا کہ یہ ایک کسوف کی قسم ہے۔ ہمیشہ ہوا کرتا ہے کوئی نشان نہیں۔ اب اس پیشگوئی میں خدا تعالیٰ نے اس کسوف خسوف کی طرف اشارہ فرمایا جو اس پیشگوئی سے کئی سال بعد میں وقوع میں آیا جو کہ مہدی معہود کے لئے قرآن شریف اور حدیث دارقطنی میں بطور نشان مندرج تھا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ اس کسوف خسوف کو دیکھ کر منکر لوگ یہی کہیں گے کہ یہ کچھ نشان نہیں۔ یہ ایک معمولی بات ہے۔ یاد رہے کہ قرآن شریف میں اس کسوف خسوف کی طرف آیت وَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ میں اشارہ ہے اور حدیث میں اس کسوف خسوف کے بارے میں امام باقر کی روایت ہے جس کے یہ لفظ ہیں کہ انّ لمهدينا اٰيتين۔ اور عجیب تر بات یہ کہ براہین احمدیہ میں واقعہ کسوف خسوف سے قریباً پندرہ برس پہلے اس واقعہ کی خبر دی گئی اور یہ بھی بتلایا گیا کہ اس کے ظہور کے وقت ظالم لوگ اس نشان کو قبول نہیں کریں گے اور کہیں گے کہ یہ ہمیشہ ہوا کرتا ہے حالانکہ ایسی صورت جب سے کہ دنیا ہوئی کبھی پیش نہیں آئی کہ کوئی مہدی کا دعویٰ کرنے والا ہو اور اس کے زمانہ میں کسوف خسوف ایک ہی مہینہ میں یعنی رمضان میں ہو۔ اور یہ فقرہ جو دو مرتبہ فرمایا گیا کہ قل عندى شهادة من اللّٰہ فهل انتم مؤمنون. وقل عندى شهادة من اللہ فهل انتم مسلمون۔ اس میں ایک شہادت سے مراد کسوف شمس ہے اور دوسری شہادت سے مراد خسوف قمر ہے) اور پھر فرمایا کہ خدا نے قدیم سے لکھ رکھا ہے یعنی مقرر کر رکھا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب ہوں گے۔ یعنی گو کسی قسم کا مقابلہ آپڑے جو لوگ خدا کی طرف سے ہیں وہ مغلوب نہیں ہوں گے اور خدا اپنے ارادوں پر غالب ہے مگر اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ خدا وہی خدا ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کرے کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو بدل دے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کو کسی ظلم سے آلودہ نہیں کیا ان کو ہر ایک بلا سے امن ہے اور وہی ہیں جو ہدایت یافتہ ہیں۔ اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے کچھ کلام نہ کر وہ تو ایک غرق شدہ قوم ہے اور تجھے ان لوگوں نے ایک ہنسی کی جگہ بنا رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ کیا یہی ہے جو خدا نے مبعوث فرمایا اور تیری طرف دیکھتے ہیں اور تو انہیں نظر نہیں آتا۔ اور یاد کر وہ وقت جب تیرے پر ایک شخص سراسر مکر سے تکفیر کا فتویٰ دے گا۔ (یہ ایک پیشگوئی ہے جس میں ایک بدقسمت مولوی کی نسبت خبر دی گئی ہے کہ ایک زمانہ آتا ہے جب کہ وہ مسیح موعود کی نسبت تکفیر کا کاغذ طیار کرے گا) اور پھر فرمایا کہ وہ اپنے بزرگ ہامان کو کہے گا کہ اس تکفیر کی بنیاد تو ڈال کہ تیرا اثر لوگوں پر بہت ہے اور تو اپنے فتویٰ سے سب کو افروختہ کر سکتا ہے۔ سو تو سب سے پہلے اس کفر نامہ پر مہر لگا تا سب علماء بھڑک اٹھیں اور تیری مہر کو دیکھ کر وہ بھی مہریں لگا دیں اور تا کہ میں دیکھوں کہ خدا اس شخص کے ساتھ ہے یا نہیں کیونکہ میں اُس کو جھوٹا سمجھتا ہوں (تب اُس نے مہر لگا دی) ابولہب ہلاک ہو گیا اور اُس کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے (ایک وہ ہاتھ جس کے ساتھ تکفیر نامہ کو پکڑا اور دوسرا وہ ہاتھ جس کے ساتھ مہر لگائی یا تکفیر نامہ لکھا) اس کو نہیں چاہیے تھا کہ اس کام میں دخل دیتا مگر ڈرتے ڈرتے اور جو تجھے رنج پہنچے گا وہ تو خدا کی طرف سے ہے جب وہ ہامان تکفیر نامہ پر مہر لگا دے گا تو بڑا فتنہ بر پا ہوگا۔ پس تو صبر کر جیسا کہ اولو العزم نبیوں نے صبر کیا (یہ اشارہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت ہے کہ اُن پر بھی یہود کے پلید طبع مولویوں نے کفر کا فتویٰ لکھا تھا اور اس الہام میں یہ اشارہ ہے کہ یہ تکفیر اس لئے ہوگی کہ تا اس امر میں بھی حضرت عیسیٰ سے مشابہت پیدا ہو جائے۔ اور اِس الہام میں خدا تعالیٰ نے استفتاء لکھنے والے کا نام فرعون رکھا اور فتویٰ دینے والے کا نام جس نے اوّل فتویٰ دیا ہامان۔ پس تعجب نہیں کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ ہامان اپنے کفر پر مرے گا لیکن فرعون کسی وقت جب خدا کا ارادہ ہو کہے گا آمنت بالّذى آمنت به بنو اسرائيل) اور پھر فرمایا کہ یہ فتنہ خدا کی طرف سے فتنہ ہوگا تا وہ تجھ سے بہت محبت کرے جو دائمی محبت ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگی اور خدا میں تیرا اجر ہے خدا تجھ سے راضی ہوگا اور تیرے نام کو پورا کرے گا۔ بہت ایسی باتیں ہیں کہ تم چاہتے ہو مگر وہ تمہارے لئے اچھی نہیں۔ اور بہت ایسی باتیں ہیں کہ تم نہیں چاہتے اور وہ تمہارے لئے اچھی ہیں اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تکفیر ضروری تھی اور اس میں خدا کی حکمت تھی مگر افسوس اُن پر جن کے ذریعہ سے یہ حکمت اور مصلحت الہی پوری ہوئی اگر وہ پیدا نہ ہوتے تو اچھا تھا۔

اس قدر الہام تو ہم نے بطور نمونہ کے براہین احمدیہ میں سے لکھے ہیں۔ لیکن اس اکیس برس کے عرصہ میں براہین احمدیہ سے لے کر آج تک میں نے چالیس کتابیں تالیف کی ہیں اور ساٹھ ہزار کے قریب اپنے دعوے کے ثبوت کے متعلق اشتہارات شائع کئے ہیں اور وہ سب میری طرف سے بطور چھوٹے چھوٹے رسالوں کے ہیں اور ان سب میں میری مسلسل طور پر یہ عادت رہی ہے کہ اپنے جدید الہامات ساتھ ساتھ شائع کرتا رہا ہوں۔ اس صورت میں ہر ایک عقلمند سوچ سکتا ہے کہ یہ ایک مدّت دراز کا زمانہ ابتدائے دعویٰ مامور من اللہ ہونے سے آج تک کیسی شبا روزی سرگرمی سے گذرا ہے اور خدا نے نہ صرف اس وقت تک مجھے زندگی بخشی بلکہ ان تالیفات کے لئے صحت بخشی مال عطا کیا وقت عنایت فرمایا۔ اور الہامات میں خدا تعالیٰ کی مجھ سے یہ عادت نہیں کہ صرف معمولی مکالمہ الہیہ ہو بلکہ اکثر الہامات میرے پیشگوئیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور دشمنوں کے بد ارادوں کا اُن میں جواب ہے۔ مثلاً چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ دشمن میری موت کی تمنا کریں گے تا یہ نتیجہ نکالیں کہ جھوٹا تھا تبھی جلد مر گیا اِس لئے پہلے ہی سے اُس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ ثمانين حولا او قريبا من ذالك او تزيد عليه سنينا و ترى نسلا بعيدًا یعنی تیری عمر اسّی برس کی ہوگی یا دو چار کم یا چند سال زیادہ اور تو اس قدر عمر پائے گا کہ ایک دُور کی نسل کو دیکھ لے گا اور یہ الہام قریباً پینتیس برس سے ہو چکا ہے اور لاکھوں انسانوں میں شائع کیا گیا۔ ایسا ہی چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ دشمن یہ بھی تمنا کریں گے کہ یہ شخص جھوٹوں کی طرح مہجور اور مخذول رہے اور زمین پر اُس کی قبولیت پیدا نہ ہو تا یہ نتیجہ نکال سکیں کہ وہ قبولیت جو صادقین کے لئے شرط ہے اور اُن کے لئے آسمان سے نازل ہوتی ہے اس شخص کو نہیں دی گئی لہذا اس نے پہلے سے براہین احمدیہ میں فرما دیا۔ ينصرك رجال نوحى اليهم من السماء. ياتون من كل فج عميق. والملوك يتبركون بثيابك. اذا جاء نصر اللہ والفتح وانتهى امر الزمان الينا اليس هذا بالحق. یعنی تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کے دلوں پر میں آسمان سے وحی نازل کروں گا۔ وہ دُور دُور کی راہوں سے تیرے پاس آئیں گے اور بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ جب ہماری مدد اور فتح آجائے گی تب مخالفین کو کہا جائے گا کہ کیا یہ انسان کا افترا تھا یا خدا کا کاروبار۔ ایسا ہی خدا تعالیٰ یہ بھی جانتا تھا کہ دشمن یہ بھی تمنا کریں گے کہ یہ شخص منقطع النسل رہ کر نابود ہو جائے تا نادانوں کی نظر میں یہ بھی ایک نشان ہو۔ لہذا اس نے پہلے سے براہین احمدیہ میں خبر دے دی کہ ينقطع آباءك ويبدء منك یعنی تیرے بزرگوں کی پہلی نسلیں منقطع ہو جائیں گی اور اُن کے ذکر کا نام و نشان نہ رہے گا اور خدا تجھ سے ایک نئی بنیاد ڈالے گا۔ اسی بنیاد کی مانند جو ابراہیم سے ڈالی گئی۔ اِسی مناسبت سے خدا نے براہین احمدیہ میں میرا نام ابراہیم رکھا جیسا کہ فرمایا سلام على ابراهيم صافيناه ونجيناه من الغم واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى. قل ربّ لا تذرني فردا وانت خير الوارثين یعنی سلام ہے ابراہیم پر (یعنی اس عاجز پر) ہم نے اس سے خالص دوستی کی اور ہر ایک غم سے اس کو نجات دے دی اور تم جو پیروی کرتے ہو تم اپنی نماز گاہ ابراہیم کے قدموں کی جگہ بناؤ یعنی کامل پیروی کرو تا نجات پاؤ۔ اور پھر فرمایا کہہ اے میرے خدا مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تو بہتر وارث ہے۔ اس الہام میں یہ اشارہ ہے کہ خدا اکیلا نہیں چھوڑے گا اور ابراہیم کی طرح کثرتِ نسل کرے گا اور بہتیرے اُس نسل سے برکت پائیں گے اور یہ جو فرمایا کہ وَاتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰہٖمَ مُصَلًّی۔ یہ قرآن شریف کی آیت ہے اور اس مقام میں اس کے یہ معنے ہیں کہ یہ ابراہیم جو بھیجا گیا تم اپنی عبادتوں اور عقیدوں کو اس کی طرز پر بجالاؤ اور ہر ایک امر میں اس کے نمونہ پر اپنے تئیں بناؤ اور جیسا کہ آیت وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِی اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ(الصف: ۷) میں یہ اشارہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخر زمانہ میں ایک مظہر ظاہر ہوگا گویا وہ اس کا ایک ہاتھ ہوگا جس کا نام آسمان پر احمد ہوگا اور وہ حضرت مسیح کے رنگ میں جمالی طور پر دین کو پھیلائے گا ایسا ہی یہ آیت وَاتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰہٖمَ مُصَلًّی(البقرۃ: ۱۲۶)اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔

اب ہم بطور نمونہ چند الہامات دوسری کتابوں میں سے لکھتے ہیں۔ چنانچہ ازالہ اوہام میں صفحہ ۶۳۴ سے اخیر تک اور نیز دوسری کتابوں میں یہ الہام ہیں جعلناك المسيح ابن مريم. ہم نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنایا۔ یہ کہیں گے کہ ہم نے پہلوں سے ایسا نہیں سُنا۔ سو تو ان کو جواب دے کہ تمہارے معلومات وسیع نہیں تم ظاہر لفظ اور ابہام پر قانع ہو اور پھر ایک اور الہام ہے اور وہ یہ ہے الحمدللہ الذى جعلك المسيح ابن مريم. انت الشيخ المسيح الذى لا يُضاع وقته. كمثلك درّ لا يُضاع. یعنی خدا کی سب حمد ہے جس نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنایا تو وہ شیخ مسیح ہے جس کا وقت ضائع نہیں کیا جاوے گا۔ تیرے جیسا موتی ضائع نہیں کیا جاتا اور پھر فرمایا لنحيينك حيوة طيبة ثمانين حولا او قريبا من ذالك. وترى نسلا بعيدًا مظهر الحق والعلا كانّ اللہ نزل من السماء. یعنی ہم تجھے ایک پاک اور آرام کی زندگی عنایت کریں گے۔ اسّی برس یا اس کے قریب قریب یعنی دو چار برس کم یا زیادہ اور تو ایک دور کی نسل دیکھے گا بلندی اور غلبہ کا مظہر گویا خدا آسمان سے نازل ہوا۔ اور پھر فرمایا يأتى قمر الانبياء و امرك يتاتّى ما انت ان تترك الشيطان قبل ان تغلبه. الفوق معك والتحت مع اعدائك. یعنی نبیوں کا چاند چڑھے گا اور تو کامیاب ہو جائے گا تو ایسا نہیں کہ شیطان کو چھوڑ دے قبل اس کے کہ اس پر غالب ہو اور اوپر رہنا تیرے حصہ میں ہے اور نیچے رہنا تیرے دشمنوں کے حصے میں اور پھر فرمایا انّى مهين من اراد اهانتك. وما كان اللہ ليتركك حتى يميز الخبيث من الطيب. سبحان اللہ انت وقاره. فكيف يتركك. انّى انا اللہ فاخترنى. قل ربّ انى اخترتك على كلّ شئ۔ ترجمہ۔ میں اُس کو ذلیل کروں گا جو تیری ذلت چاہتا ہے اور میں اس کو مدد دوں گا جو تیری مدد کرتا ہے۔ اور خدا ایسا نہیں جو تجھے چھوڑ دے جب تک وہ پاک اور پلید میں فرق نہ کرلے۔ خدا ہر ایک عیب سے پاک ہے اور تو اس کا وقار ہے پس وہ تجھے کیونکر چھوڑ دے۔ میں ہی خدا ہوں تو سراسر میرے لئے ہو جا۔ تو کہہ اے میرے رب میں نے تجھے ہر چیز پر اختیار کیا۔ اور پھر فرمایا۔ سيقول العدو لست مرسلا. سناخذه من مارن او خرطوم. وانّا من الظالمين منتقمون. انى مع الافواج اتيك بغتةً. يوم يعضّ الظالم على يديه ياليتنى اتخذت مع الرسول سبيلا. وقالوا سيقلب الامر وما كانوا على الغيب مطّلعين. انا انزلناك وكان اللہ قديرا. یعنی دشمن کہے گا کہ تو خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ ہم اس کو ناک سے پکڑیں گے یعنی دلائل قاطعہ سے اُس کا دم بند کر دیں گے اور ہم جزا کے دن ظالموں سے بدلہ لیں گے۔ میں اپنی فوجوں کے ساتھ تیرے پاس نا گہانی طور پر آؤں گا یعنی جس گھڑی تیری مدد کی جائے گی اس گھڑی کا تجھے علم نہیں۔ اور اس دن ظالم اپنے ہاتھ کاٹے گا کہ کاش میں اس خدا کے بھیجے ہوئے سے مخالفت نہ کرتا اور اُس کے ساتھ رہتا۔ اور کہتے ہیں کہ یہ جماعت متفرق ہو جائے گی اور بات بگڑ جائے گی حالانکہ اُن کو غیب کا علم نہیں دیا گیا۔ تو ہماری طرف سے ایک بُرہان ہے اور خدا قادر تھا کہ ضرورت کے وقت میں اپنی بُرہان ظاہر کرتا اور پھر فرمایا انا ارسلنا احمد الى قومه فاعرضوا وقالوا كذاب اشر. وجعلوا يشهدون عليه ويسيلون كماء منهمر. ان حِبّى قريب مستتر. يأتيك نصرتى انّى انا الرحمن انت قابل يأتيك وابل. انّى حاشر كل قوم يأتونك جنبا. وانى انرت مكانك. تنزيل من اللہ العزيز الرحيم بلجت آياتى. ولن يجعل اللہ للكافرين على المؤمنين سبيلا. انت مدينة العلم. طيب مقبول الرحمن. وانت اسمى الاعلى. بشرىٰ لك فى هذه الايام. انت منّى يا ابراهيم. انت القائم على نفسه مظهر الحىّ. وانت منّى مبدء الامر. انت من مائنا وهم من فشل. ام يقولون نحن جميع منتصر. سيهزم الجمع ويولّون الدّبر. الحمدللہ الذى جعل لكم الصهر والنسب. انذر قومك وقل انى نذير مبين. انا اخرجنا لك زروعًا يا ابراهيم. قالوا لَنهلكنّك. قال لاخوف عليكم لاغلبن انا و رسلى. وانّى مع الافواج اتيك بغتة. وانّى اموج موج البحر. ان فضل اللہ لات. وليس لاحد ان يرد ما اتىٰ. قل اى وربّى انه لحق لا يتبدّل ولا يخفىٰ. وينزل ما تعجب منه وحى من ربّ السماوات العلىٰ. لا اله الّا هو يعلم كل شئ و يرىٰ. ان اللہ مع الذين اتقوا والذين هم يحسنون الحسنىٰ تُفَتَّحُ لهم ابواب السّماء ولهم بشرىٰ فى الحيوة الدنيا. انت تربى فى حجر النبى وانت تسكن قنن الجبال. وانّى معك فى كل حال۔ ترجمہ۔ ہم نے احمد کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ تب لوگوں نے کہا کہ یہ کذاب ہے اور انہوں نے اس پر گواہیاں دیں اور سیلاب کی طرح اس پر گرے۔ اس نے کہا کہ میرا دوست قریب ہے مگر پوشیدہ تجھے میری مدد آئے گی۔ میں رحمٰن ہوں۔ تو قابلیت رکھتا ہے اس لئے تو ایک بزرگ بارش کو پائے گا۔ میں ہر ایک قوم میں سے گروہ کے گروہ تیری طرف بھیجوں گا۔ میں نے تیرے مکان کو روشن کیا۔ یہ اُس خدا کا کلام ہے جو عزیز اور رحیم ہے۔ اور اگر کوئی کہے کہ کیونکر ہم جانیں کہ یہ خدا کا کلام ہے تو ان کے لئے یہ علامت ہے کہ یہ کلام نشانوں کے ساتھ اُترا ہے اور خدا ہرگز کافروں کو یہ موقع نہیں دے گا کہ مومنوں پر کوئی واقعی اعتراض کر سکیں۔ تو علم کا شہر ہے طیب اور خدا کا مقبول اور تو میرا سب سے بڑا نام ہے۔ تجھے ان دنوں میں خوشخبری ہو۔ اے ابراہیم تو مجھ سے ہے تو خدا کے نفس پر قائم ہے۔ زندہ خدا کا مظہر اور تو مجھ سے امر مقصود کا مبدء ہے اور تو ہمارے پانی سے ہے اور دوسرے لوگ فشل سے۔ کیا یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک بڑی جماعت ہیں انتقام لینے والی۔ یہ سب بھاگ جائیں گے اور پیٹھ پھر لیں گے۔ وہ خدا قابل تعریف ہے جس نے تجھے دامادی اور آبائی عزت بخشی۔ اپنی قوم کو ڈرا اور کہہ کہ میں خدا کی طرف سے ڈرانے والا ہوں۔ ہم نے کئی کھیت تیرے لئے طیار کر رکھے ہیں اے ابراہیم۔ اور لوگوں نے کہا کہ ہم تجھے ہلاک کریں گے مگر خدا نے اپنے بندہ کو کہا کہ کچھ خوف کی جگہ نہیں میں اور میرے رسول غالب ہوں گے۔ اور میں اپنی فوجوں کے ساتھ عنقریب آؤں گا۔ میں سمندر کی طرح موج زنی کروں گا۔ خدا کا فضل آنے والا ہے اور کوئی نہیں جو اس کو رد کر سکے اور کہہ خدا کی قسم یہ بات سچ ہے اس میں تبدیلی نہیں ہوگی اور نہ وہ چھپی رہے گی اور وہ امر نازل ہوگا جس سے تو تعجب کرے گا۔ یہ خدا کی وحی ہے جو اونچے آسمانوں کا بنانے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ ہر ایک چیز کو جانتا ہے اور دیکھتا ہے اور وہ خدا اُن کے ساتھ ہے جو اس سے ڈرتے ہیں اور نیکی کو نیک طور پر ادا کرتے ہیں اور اپنے نیک عملوں کو خوبصورتی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ وہی ہیں جن کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور دنیا کی زندگی میں بھی ان کو بشارتیں ہیں۔ تو نبی کی کنارِ عاطفت میں پرورش پا رہا ہے۔ اور میں ہر حال میں تیرے ساتھ ہوں اور پھر فرمایا وقالوا ان هذا الا اختلاق. ان هذا الرجل يجوح الدين. قل جاء الحق وزهق الباطل. قل لو كان الامر من عند غير اللہ لوجدتم فيه اختلافًا كثيرًا. هو الذى ارسل رسوله بالهدىٰ و دين الحق وتهذيب الاخلاق. قل ان افتريته فعلىّ اجرامى. ومن اظلم ممن افترىٰ على اللہ كذبًا. تنزيل من اللہ العزيز الرحيم. لتنذر قومًا ما انذر اباؤهم ولتدعو قومًا اخرين. عسى اللہ ان يجعل بينكم وبين الذين عاديتم مودة. يخرّون على الاذقان سجدا ربنا اغفرلنا انا كنّا خاطئين. لا تشريب عليكم اليوم يغفر اللہ لكم وهو ارحم الراحمين. انّى انا اللہ فاعبدنى ولا تنسنى واجتهد ان تصلنى واسئل ربك وكن سئولا. اللہ ولىّ حنّان. علّم القران. فباَىّ حديث بعده تحكمون. نزّلنا على هذا العبد رحمة. وما ينطق عن الهوىٰ ان هو الّا وحى يوحىٰ. دنىٰ فتدلّىٰ فكان قاب قوسين او ادنىٰ. ذرنى والمكذبين. انّى مع الرسول اقوم. ان يومى لفصل عظيم. وانك على صراط مستقيم. وانّا نرينك بعض الذى نعدهم او نتوفّينك. وانى رافعك الىّ ويأتيك نصرتى. انى انا اللہ ذو السلطان. ترجمہ۔ اور کہتے ہیں کہ یہ بناوٹ ہے اور یہ شخص دین کی بیخ کنی کرتا ہے۔ کہہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا۔ کہہ اگر یہ امر خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو تم اس میں بہت سا اختلاف پاتے یعنی خدا تعالیٰ کی کلام سے اس کے لئے کوئی تائید نہ ملتی۔ اور قرآن جو راہ بیان فرماتا ہے یہ راہ اس کے مخالف ہوتی اور قرآن سے اس کی تصدیق نہ ملتی اور دلائل حقہ میں سے کوئی دلیل اس پر قائم نہ ہو سکتی اور اس میں ایک نظام اور ترتیب اور علمی سلسلہ اور دلائل کا ذخیرہ جو پایا جاتا ہے یہ ہرگز نہ ہوتا اور آسمان اور زمین میں سے جو کچھ اس کے ساتھ نشان جمع ہو رہے ہیں اِن میں سے کچھ بھی نہ ہوتا اور پھر فرمایا خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔ ان کو کہہ دے کہ اگر میں نے افترا کیا ہے تو میرے پر اس کا جرم ہے یعنی میں ہلاک ہو جاؤں گا اور اس شخص سے زیادہ تر ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے۔ یہ کلام خدا کی طرف سے ہے جو غالب اور رحیم ہے تا تو ان لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے اور تا دوسری قوموں کو دعوتِ دین کرے۔ عنقریب ہے کہ خدا تم میں اور تمہارے دشمنوں میں دوستی کر دے گا۔ اور تیرا خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ اُس روز وہ لوگ سجدہ میں گریں گے یہ کہتے ہوئے کہ اے ہمارے خدا ہمارے گناہ معاف کر ہم خطا پر تھے۔ آج تم پر کوئی سرزنش نہیں خدا معاف کرے گا اور وہ ارحم الراحمین ہے۔ میں خدا ہوں میری پرستش کر۔ اور میرے تک پہنچنے کے لئے کوشش کرتا رہ۔ اپنے خدا سے مانگتا رہ اور بہت مانگنے والا ہو۔ خدا دوست اور مہربان ہے۔ اُس نے قرآن سکھلایا۔ پس تم قرآن کو چھوڑ کر کس حدیث پر چلو گے۔ ہم نے اس بندہ پر رحمت نازل کی ہے اور یہ اپنی طرف سے نہیں بولتا بلکہ جو کچھ تم سنتے ہو یہ خدا کی وحی ہے۔ یہ خدا کے قریب ہوا یعنی اوپر کی طرف گیا اور پھر نیچے کی طرف تبلیغ حق کے لئے جھکا۔ اس لئے یہ دو قوسوں کے وسط میں آگیا۔ اُوپر خدا اور نیچے مخلوق۔ مکذبین کے لئے مجھ کو چھوڑ دے۔ میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔ میرا دن بڑے فیصلہ کا دن ہے اور تو سیدھی راہ پر ہے اور جو کچھ ہم اُن کے لئے وعدہ کرتے ہیں ہو سکتا ہے کہ ان میں سے کچھ تیری زندگی میں تجھ کو دکھلا دیں اور یا تجھ کو وفات دیدیں اور بعد میں وہ وعدے پورے کریں۔ اور میں تجھے اپنی طرف اُٹھاؤں گا۔ یعنی تیرا رفع الی اللہ دنیا پر ثابت کر دوں گا۔ اور میری مدد تجھے پہنچے گی۔ میں ہوں وہ خدا جس کے نشان دلوں پر تسلط کرتے ہیں اور ان کو قبضہ میں لے آتے ہیں۔

اِن الہامات کے سلسلہ میں بعض اردو الہام بھی ہیں جن میں سے کسی قدر ذیل میں لکھے جاتے ہیں اور وہ یہ ہیں :-

ایک عزت کا خطاب۔ ایک عزت کا خطاب۔ لك خطاب العزة. ایک بڑا نشان اس کے ساتھ ہوگا۔ (عزت کے خطاب سے مراد یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسے اسباب پیدا ہو جائیں گے کہ اکثر لوگ پہچان لیں گے اور عزت کا خطاب دیں گے اور یہ تب ہوگا جب ایک نشان ظاہر ہوگا) اور پھر فرمایا خدا نے ارادہ کیا ہے کہ تیرا نام بڑھاوے اور آفاق میں تیرے نام کی خوب چمک دکھاوے۔ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا اور قدرت نمائی سے تجھے اٹھاؤں گا۔ آسمان سے کئی تخت اُترے مگر سب سے اونچا تیرا تخت بچھایا گیا۔ دشمنوں سے ملاقات کرتے وقت فرشتوں نے تیری مدد کی۔ آپ کے ساتھ انگریزوں کا نرمی کے ساتھ ہاتھ تھا۔ اسی طرف خدا تعالیٰ تھا جو آپ تھے۔ آسمان پر دیکھنے والوں کو ایک رائی برابر غم نہیں ہوتا۔ یہ طریق اچھا نہیں اس سے روک دیا جائے مسلمانوں کے لیڈر عبدالکریم کو خذوا الرفق الرفق فانّ الرفق رأس الخيرات نرمی کرو نرمی کرو کہ تمام نیکیوں کا سر نرمی ہے۔ (اخویم مولوی عبدالکریم صاحب نے اپنی بیوی سے کسی قدر زبانی سختی کا برتاؤ کیا تھا اس پر حکم ہوا کہ اِس قدر سخت گوئی نہیں چاہیے۔ حتّی المقدور پہلا فرض مومن کا ہر ایک کے ساتھ نرمی اور حسن اخلاق ہے اور بعض اوقات تلخ الفاظ کا استعمال بطور تلخ دوا کے جائز ہے۔ اما بحکم ضرورت و بقدر ضرورت۔ نہ یہ کہ سخت گوئی طبیعت پر غالب آجائے) خدا تیرے سب کام درست کر دے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔ رب الافواج اس طرف توجہ کرے گا۔ اگر مسیح ناصری کی طرف دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس جگہ اُس سے برکات کم نہیں ہیں۔ اور مجھے آگ سے مت ڈراؤ کیونکہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔ (یہ فقرہ بطور حکایت میری طرف سے خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے) اور پھر فرمایا۔ لوگ آئے اور دعویٰ کر بیٹھے شیر خدا نے اُن کو پکڑا شیر خدا نے فتح پائی۔ اور پھر فرمایا ”بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیان بر منار بلند تر محکم افتاد پاک محمد مصطفے نبیوں کا سردار۔ و روشن شد نشانہائے من۔ بڑا مبارک وہ دن ہوگا۔ دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“ آمین


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ

دینی جہاد کی ممانعت کا فتویٰ مسیح موعود کی طرف سے

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال

دیں کیلئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

اب آ گیا مسیح جو دیں کا امام ہے

دیں کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے

اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے

اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے

دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد

منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

کیوں چھوڑتے ہو لوگو نبی کی حدیث کو

جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو

کیوں بھولتے ہو تم يضع الحرب کی خبر

کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر

فرما چکا ہے سید کونین مصطفے

عیسیٰ مسیح جنگوں کا کر دے گا التوا

جب آئے گا تو صلح کو وہ ساتھ لائے گا

جنگوں کے سلسلہ کو وہ یکسر مٹائے گا

پیویں گے ایک گھاٹ پہ شیر اور گوسپند

کھیلیں گے بچے سانپوں سے بے خوف و بے گزند

یعنی وہ وقت امن کا ہوگا نہ جنگ کا

بھولیں گے لوگ مشغلہ تیر و تفنگ کا

یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا

وہ کافروں سے سخت ہزیمت اُٹھائے گا

اک معجزہ کے طور سے یہ پیشگوئی ہے

کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے

القصہ یہ مسیح کے آنے کا ہے نشاں

کردے گا ختم آئے وہ دیں کی لڑائیاں

ظاہر ہیں خود نشاں کہ زماں وہ زماں نہیں

اب قوم میں ہماری وہ تاب و تواں نہیں

اب تم میں خود وہ قوت و طاقت نہیں رہی

وہ سلطنت وہ رعب وہ شوکت نہیں رہی

وہ نام وہ نمود وہ دولت نہیں رہی

وہ عزمِ مقبلانہ وہ ہمت نہیں رہی

وہ علم وہ صلاح وہ عفت نہیں رہی

وہ نور اور وہ چاند سی طلعت نہیں رہی

وہ درد وہ گداز وہ رقت نہیں رہی

خلقِ خدا پہ شفقت و رحمت نہیں رہی

دل میں تمہارے یار کی اُلفت نہیں رہی

حالت تمہاری جاذبِ نصرت نہیں رہی

حمق آگیا ہے سر میں وہ فطنت نہیں رہی

کسل آگیا ہے دل میں جلادت نہیں رہی

وہ علم و معرفت وہ فراست نہیں رہی

وہ فکر وہ قیاس وہ حکمت نہیں رہی

دنیا و دیں میں کچھ بھی لیاقت نہیں رہی

اب تم کو غیر قوموں پہ سبقت نہیں رہی

وہ اُنس و شوق و وجد وہ طاعت نہیں رہی

ظلمت کی کچھ بھی حد و نہایت نہیں رہی

ہر وقت جھوٹ ۔ سچ کی تو عادت نہیں رہی

نورِ خدا کی کچھ بھی علامت نہیں رہی

سو سو ہے گند دل میں طہارت نہیں رہی

نیکی کے کام کرنے کی رغبت نہیں رہی

خوان تہی پڑا ہے وہ نعمت نہیں رہی

دیں بھی ہے ایک قشر حقیقت نہیں رہی

مولیٰ سے اپنے کچھ بھی محبت نہیں رہی

دل مر گئے ہیں نیکی کی قدرت نہیں رہی

سب پر یہ اک بلا ہے کہ وحدت نہیں رہی

اِک پھوٹ پڑ رہی ہے مودت نہیں رہی

تم مر گئے تمہاری وہ عظمت نہیں رہی

صورت بگڑ گئی ہے وہ صورت نہیں رہی

اب تم میں کیوں وہ سیف کی طاقت نہیں رہی

بھید اس میں ہے یہی کہ وہ حاجت نہیں رہی

اب کوئی تم پہ جبر نہیں غیر قوم سے

کرتی نہیں ہے منع صلوٰۃ اور صوم سے

ہاں آپ تم نے چھوڑ دیا دیں کی راہ کو

عادت میں اپنے کر لیا فسق و گناہ کو

اب زندگی تمہاری تو سب فاسقانہ ہے

مومن نہیں ہو تم کہ قدم کافرانہ ہے

اے قوم تم پہ یار کی اب وہ نظر نہیں

روتے رہو دعاؤں میں بھی وہ اثر نہیں

کیونکر ہو وہ نظر کہ تمہارے وہ دل نہیں

شیطاں کے ہیں خدا کے پیارے وہ دل نہیں

تقویٰ کے جامے جتنے تھے سب چاک ہو گئے

جتنے خیال دل میں تھے ناپاک ہو گئے

کچھ کچھ جو نیک مرد تھے وہ خاک ہو گئے

باقی جو تھے وہ ظالم و سفاک ہو گئے

اب تم تو خود ہی موردِ خشم خدا ہوئے

اُس یار سے بشامت عصیاں جدا ہوئے

اب غیروں سے لڑائی کے معنے ہی کیا ہوئے

تم خود ہی غیر بن کے محل سزا ہوئے

سچ سچ کہو کہ تم میں امانت ہے اب کہاں

وہ صدق اور وہ دین و دیانت ہے اب کہاں

پھر جبکہ تم میں خود ہی وہ ایماں نہیں رہا

وہ نور مومنانہ وہ عرفاں نہیں رہا

پھر اپنے کفر کی خبر اے قوم لیجئے

آیت عَلَیۡکُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ یاد کیجئے

ایسا گماں کہ مہدیٔ خونی بھی آئے گا

اور کافروں کے قتل سے دیں کو بڑھائے گا

اے غافلو! یہ باتیں سراسر دروغ ہیں

بہتاں ہیں بے ثبوت ہیں اور بے فروغ ہیں

یارو جو مرد آنے کو تھا وہ تو آچکا

یہ راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا

اب سال سترہ بھی صدی سے گزر گئے

تم میں سے ہائے سوچنے والے کدھر گئے

تھوڑے نہیں نشاں جو دکھائے گئے تمہیں

کیا پاک راز تھے جو بتائے گئے تمہیں

پر تم نے اُن سے کچھ بھی اٹھایا نہ فائدہ

منہ پھیر کر ہٹا دیا تم نے یہ مائدہ

بخلوں سے یارو باز بھی آؤ گے یا نہیں

خو اپنی پاک صاف بناؤ گے یا نہیں

باطل سے میل دل کی ہٹاؤ گے یا نہیں

حق کی طرف رجوع بھی لاؤ گے یا نہیں

اب عذر کیا ہے کچھ بھی بتاؤ گے یا نہیں

مخفی جو دل میں ہے وہ سناؤ گے یا نہیں

آخر خدا کے پاس بھی جاؤ گے یا نہیں

اُس وقت اُس کو منہ بھی دکھاؤ گے یا نہیں

تم میں سے جس کو دین و دیانت سے ہے پیار

اب اُس کا فرض ہے کہ وہ دل کر کے اُستوار

لوگوں کو یہ بتائے کہ وقت مسیح ہے

اب جنگ اور جہاد حرام اور قبیح ہے

ہم اپنا فرض دوستو اب کر چکے ادا

اب بھی اگر نہ سمجھو تو سمجھائے گا خدا

☆☆☆

عربی زبان میں ایک خط

اہلِ اسلام پنجاب اور ہندوستان اور عرب اور فارس وغیرہ ممالک کی طرف جہاد کی ممانعت کے بارے میں

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ

اعلموا ايها المسلمون رحمكم اللہ ان اللہ الذي تولى الاسلام. وكفل اموره العظام. جعل دينه هٰذا وصلة الى حكمه وعلومه. ووضع المعارف في ظاهره ومكتومه. فمن الحكم التي اودع هذا الدين ليزيد هدى المهتدين. هو الجهاد الذى امر به في صدر زمن الاسلام. ثم نهى عنه في هذه الايام. والسرّ فيه انه تعالى اذن للذين يقاتلون فى اوّل زمان الملّة دفعًا لصول الكفرة. وحفظا للدين ونفوس الصحبة ثم انقلب امر الزمان عند عهد الدولة البرطانية. وحصل الامن للمسلمين وما بقى حاجة السيوف والاسنة. فعند ذالك اثم المخالفون المجاهدين. وسلكوهم مسلك الظالمين السفاكين. ولبس اللہ عليهم سرّ الغزاة والغازين. فنظروا الى محاربات الدين كلها بنظر الزراية. ونسبوا كل من غزا الى الجبر و الطغيان والغواية. فاقتضت مصالح اللہ ان يضع الحرب والجهاد ويرحم العباد وقد مضت سنته هٰذه في شيع الاولين. فان بنى اسرائيل قد طعن فيهم لجهادهم من قبل فبعث اللہ المسيح في اٰخر زمن موسٰى وارٰى ان الزارين كانوا خاطئين. ثم بعثني ربّى في اٰخر زمن نبينا المصطفٰى وجعل مقدار هٰذا الزمن كمقدار زمن كان بين موسٰى وعيسٰى و ان في ذالك لأية لقوم متفكرين. والمقصود من بعثى وبعث عيسٰى واحد وهو اصلاح الاخلاق ومنع الجهاد. واراءة الآيات لتقوية ايمان العباد. ولا شك ان وجوه الجهاد معدومة في هٰذا الزمن وهذه البلاد. فاليوم حرام على المسلمين ان يحاربوا للدين. وان يقتلوا من كفر بالشرع المتين. فان اللہ صرح حرمة الجهاد عند زمان الامن والعافية. وندّد الرسول الكريم بانه من المناهي عند نزول المسيح في الامّة. ولا يخفٰى انّ الزمان قد بدّل احواله تبديلا صريحًا وترك طورًا قبيحًا ولا يوجد في هٰذا الزمان ملك يظلم مسلمًا لاسلامه. ولا حاكم يجور لدينه في احكامه. فلاجلِ ذالك بدل اللہ حكمه في هٰذا الاوان. ومنع ان يحارب للدين او تقتل نفس لاختلاف الاديان. وامر ان يتم المسلمون حججهم على الكفار. ويضعوا البراهين موضع السيف البتار. ويتورّدوا موارد البراهين البالغة و يعلوا قنن البراهين العالية حتى تطأ اقدامهم. كل اساس يقوم عليه البرهان. ولا يفوتهم حجة تسبق اليه الاذهان. ولا سلطان يرغب فيه الزمان. ولا يبقى شبهة يولّدها الشيطان. وان يكونوا في اتمام الحجج مستشفّين. و اراد ان يتصيّد شوارد الطبائع المنتفرة من مسئلة الجهاد. وينزل ماء الأى على القلوب المجدبة كالعهاد. ويغسل وسخ الشبهات ودرن الوساوس وسوء الاعتقاد. فَقَدّر للاسلام وقتًا كابّان الربيع وهو وقت المسيح النازل من الرقيع. ليجرى فيه ماء الآيات كالينابيع. ويظهر صدق الاسلام. ويبيّن ان المتزرّين كانوا كاذبين. وكان ذالك واجبًا في علم اللہ ربّ العالمين. ليعلم الناس ان تضوّع الاسلام وشيعوعته كان من اللہ لا من المحاربين. وانّى انا المسيح النازل من السماء. و انّ وقتى وقت ازالة الظنون واراءة الاسلام كالشمس في الضياء. ففكروا ان كنتم عاقلين. وترون ان الاسلام قد وقعت حِدَته اديان كاذبة يسعى لتصديقها. واعين كليلة يجاهد لتبريقها. وان اهلها اخذوا طريق الرفق والحلم فى دعواتهم وأروا التواضع والذل عند ملاقاتهم. وقالوا ان الاسلام اولغ فى الابدان المدىٰ. ليبلغ القوة والعلٰى. وانا ندعوا الخلق متواضعين. فرأى اللہ كيدهم من السماء. وما اريد من البهتان والازدراء والافتراء. فجلّى مطلع هذا الدين بنور البرهان. وارى الخلق انه هو القائم والشايع بنور ربّه لا بالسيف والسنان. ومنع ان يقاتل في هذا الحين. وهو حكيم يعلّمنا ارتضاع كأس الحكمة والعرفان. ولا يفعل فعلا ليس من مصالح الوقت والأوان. ويرحم عباده ويحفظ القلوب من الصداء والطبائع من الطغيان. فانزل مسيحه الموعود والمهدى المعهود. ليعصم قلوب الناس من وساوس الشيطان وتجارتهم من الخسران. وليجعل المسلمين كرجل هيمن مااصطفاه. واصاب مااصباه. فثبت ان الاسلام لا يستعمل السيف والسهام عند الدعوة. ولا يضرب الصعدة ولٰكن يأتي بدلائل تحكى الصعدة في اعدام الفرية. وكانت الحاجة قد اشتدت في زمننا لرفع الالتباس. ليعلم الناس حقيقة الامر ويعرفوا السرّ كالاكياس. والاسلام مشرب قد احتوىٰ كل نوع حفاوة. والقرآن كتاب جمع كل حلاوة وطلاوة. ولٰكن الاعداء لا يرون من الظلم والضيم. وينسابون انسياب الايم. مع ان الاسلام دين خصّه اللہ بهٰذه الاثرة. وفيه بركات لا يبلغها احد من الملة. وكان الاسلام في هٰذا الزمان كمثل معصوم اُثِّم وظُلم بانواع البهتان. وطالت الالسنة عليه و صالوا على حريمه. وقالوا مذهب كان قتل النّاس خلاصة تعليمه. فَبُعِثت ليجد الناس ما فقدوا من سعادة الجد. وليخلصوا من الخصم الالدّ. و انى ظهرت برث في الارض وحلل بارقة في السماء. فقير في الغبراء وسلطان في الخضراء. فطوبى للذى عرفني اوعرف من عرفني من الاصدقاء وجئت اهل الدنيا ضعيفًا نحيفًا كنحافة الصب. وغرض القذف والشتم والسبّ. ولٰكنى كمىّ قوى فى العالم الاعلٰى. ولى عضب مذرب في الافلاك وملك لا يبلٰى. وحسام يضاهى البرق صقاله. ويمذّق الكذب قتاله. و لى صورة في السماء لا يراها الانسان. ولا تدركها العينان. وانني من اعاجيب الزمان. وانى طُهِّرت وبُدِّلت وبُعِّدت من العصيان. وكذالك يطهّر ويبدّل من احبّنى وجاء بصدق الجنان. وان انفاسي هٰذه ترياق سم الخطيّات وسدّ مانع من سوق الخطرات الٰى سوق الشبهات. ولا يمتنع من الفسق عبدٌ ابدًا الاّ الّذى احبّ حبيب الرحمان. اوذهب منه الاطيبان. وعطف الشيب شطاطه بعد ما كان كقضيب البان. ومن عرف اللہ اوعرف عبده فلا يبقى فيه شيءٌ من الحدّ والسنان. وينكسر جناحه ولا يبقى بطش في الكف والبنان. ومن خواص اهل النظر انهم يجعلون الحجر كالعقيان. فانهم قوم لا يشقٰى جليسهم ولا يرجع رفيقهم بالحرمان. فالحمدللہ على مننه انه هو المنّان. ذو الفضل والاحسان. واعلموا انى انا المسيح. وفي بركات اسيح. وكل يوم يزيد البركات ويزداد الآيات. والنور يبرق على بابي. و يأتي زمان يتبرك الملوك فيه اثوابى. و ذالك الزمان زمان قريب. وليس من القادر بعجيب.

الاختبار اللطيف لمن كان يعدل اويحيف

ايّهاالناس ان كنتم في شكّ من امرى. ومّما اوحى الىّ من ربّى. فناضلوني في انباء الغيب من حضرة الكبرياء. وان لم تقبلوا ففى استجابة الدعاء. و ان لم تقبلوا ففي تفسير القرآن في اللسان العربية. مع كمال الفصاحة ورعاية الملح الادبية. فمن غلب منكم بعد ماساق هٰذا المساق. فهو خير منّى ولا مِراء ولا شقاق. ثم ان كنتم تُعرضون عن الامرين الاوّلين. و تعتذرون وتقولون انا مااعطينا عين رؤية الغيب ولا من قدرة علٰى اجراء تلك العين. فصارعوني في فصاحة البيان مع التزام بيان معارف القرآن واختاروا مسحب نظم الكلام. ولتسحبوا ولا ترهبوا ان كنتم من الادباء الكرام. وبعد ذالك ينظر الناظرون في تفاضل الانشاء. ويحمدون من يستحق الاحماد والابراد و يلعنون من لعن من السماء. فهل فيكم فارس هٰذا الميدان. و مالك ذالك البستان. وان كنتم لا تقدرون على البيان. ولا تكفون حصائد اللسان. فلستم على شيءٍ من الصدق والسداد. وليس فيكم الامادة الفساد. اتحمون وطيس الجدال. مع هٰذه البرودة والجمود والجهل والكلال. موتوا في غدير او بارزوني كقدير. و اروني عينكم ولا تمشوا كضرير. واتقوا عذاب ملك خبير. واذكروا اخذ عليم وبصير. وان لم تنتهوا فياتي زمان تحضرون عند جليل كبير. ثم تذوقون ما يذوق المجرمون في حصير. وان كنتم تدّعون المهارة في طرق الاشرار. ومكائد الكفار. فكيدوا كلّ كيدٍ الٰى قوة الاظفار. و قَلّبوا امرى ان كان عندكم ذرّة من الاقتدار. واحكموا تدبيركم وعاقبوا دبيركم. واجمعوا كبيركم. وصغيركم واستعملوا دقاريركم۔ وادعوا لهذا الامر مشاهيركم۔ وكل من كان من المحتالين۔ واسجدوا علىٰ عتبة كل قريع زمن وجابرزمن ليمدّكم بالمال والعقيان ثم انهضوا بذالك المال وهدّمونى من البنيان ان كنتم علىٰ هدّ هيكل اللہ قادرين۔ واعلموا ان اللہ يخزيكم عند قصد الشرّ۔ ويحفظنى من الضرّ۔ ويتم امره وينصر عبده ولا تضرونه شيئًا ولا تموتون حتى يريكم ما ارىٰ من قبلكم كل من عادا اولياءه من النبيين والمرسلين والمامورين وآخر امرنا نصر من اللہ وفتح مبين۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ ربّ العالمين۔

المشتهر مرزا غلام احمد مسیح موعود از قادیان

☆☆☆

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ

بجواب پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی

اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ثُمَّ کَفَرۡتُمۡ بِہٖ

وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ


ناظرین کو یاد ہوگا کہ میں نے اپنے اشتہار مؤرخہ ۲۰؍جولائی ۱۹۰۰ء میں پیر مہر علی صاحب گولڑوی کی اس بنا پر ایک اعجازی مقابلہ کی دعوت کی تھی کہ اگر وہ دوسرے علماء پنجاب اور ہندوستان کی طرح میرے دعوے کے مکذب ہیں اور میری وہ تیس سے زیادہ کتابیں جو میں نے اپنے دعوے کے اثبات میں تالیف کر کے ملک میں شائع کی ہیں وہ ثبوت اُن کے لئے کافی نہیں ہے اور نیز وہ تمام مناظرات اور مباحثات جو اُن کے ہم عقیدہ علماء سے آج تک ہوتے رہے وہ بھی اُن کے نزدیک نظری ہیں تو اب آخری فیصلہ یہ ہے کہ وہ سنت قدیمہ اکابر اسلام کے رو سے اس طرح پر ایک مباہلہ کی صورت پر مجھ سے مقابلہ کر لیں کہ قرآن شریف کی چالیس آیتیں قرعہ اندازی کے ذریعہ سے نکال کر اور یہ دعا کر کے کہ جو شخص حق پر ہے اُس کو اِس مقابلہ میں فوری عزت حاصل ہو اور جو ناحق پر ہے اس کو فوری خذلان نصیب ہو اور پھر آمین کہہ کر دونوں فریق یعنی میں اور پیر مہر علی شاہ صاحب زبان عربی فصیح اور بلیغ میں اُن چالیس آیات کی تفسیر لکھیں جو بیس ورق سے کم نہ ہو اور جو شخص ہم دونوں میں سے فصاحت زبان عربی اور معارف قرآنی کے رو سے غالب رہے وہی حق پر سمجھا جائے۔ اور اگر پیر صاحب موصوف اس مقابلہ سے کنارہ کش ہوں تو دوسرے مولوی صاحبان مقابلہ کریں بشرطیکہ چالیس سے کم نہ ہوں تا عام لوگوں پر اُن کے مغلوب ہونے کا کچھ اثر پڑ سکے اور اُن کی وقعت گھٹانے کی گنجائش کم ہو جائے لیکن افسوس بلکہ ہزار افسوس کہ پیر مہر علی شاہ صاحب نے میری اس دعوت کو جس سے مسنون طور پر حق کھلتا تھا اور خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے فیصلہ ہو جاتا تھا ایسے صریح ظلم سے ٹال دیا ہے جس کو بجز ہٹ دھرمی کچھ نہیں کہہ سکتے اور ایک اشتہار شائع کیا کہ ہم اوّل نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے رو سے بحث کرنے کے لئے حاضر ہیں اس میں اگر تم مغلوب ہو تو ہماری بیعت کر لو اور پھر بعد اس کے ہمیں وہ اعجازی مقابلہ بھی منظور ہے۔ اب ناظرین سوچ لیں کہ اس جگہ کس قدر جھوٹ اور فریب سے کام لیا گیا ہے کیونکہ جبکہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے رو سے مغلوب ہونے کی حالت میں میرے لئے بیعت کرنے کا حکم لگایا گیا ہے تو پھر مجھے اعجازی مقابلہ کے لئے کونسا موقع دیا گیا اور ظاہر ہے کہ غالب ہونے کی حالت میں تو مجھے خود ضرورت اعجازی مقابلہ کی باقی نہیں رہے گی اور مغلوب ہونے کی حالت میں بیعت کرنے کا حکم میری نسبت صادر کیا گیا۔ اب ناظرین بتلاویں کہ جس مقابلہ اعجازی کے لئے میں نے بلایا تھا اس کا موقع کونسا رہا۔ پس یہ کس قدر فریب ہے کہ پیر جی صاحب نے پیر کہلا کر اپنی جان بچانے کے لئے اس کو استعمال کیا ہے۔ پھر اِس پر ایک اور جھوٹ یہ ہے کہ آپ اپنے اشتہار میں لکھتے ہیں کہ ہم نے آپ کی دعوت کو منظور کر لیا ہے۔ ناظرین انصاف کریں کہ کیا یہی طریق منظوری ہے جو انہوں نے پیش کیا ہے؟ منظوری تو اس حالت میں ہوتی کہ وہ بغیر کسی حیلہ بازی کے میری درخواست کو منظور کر لیتے مگر جبکہ آپ نے ایک اور درخواست پیش کر دی اور یہ لکھ دیا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ قرآن اور حدیث کے رو سے مباحثہ ہو اور اگر منصف لوگ جو اُنہی کی جماعت میں سے ہوں گے یہ رائے ظاہر کریں کہ پیر صاحب اس مباحثہ میں غالب رہے تو پھر بیعت کر لو۔ اب بتلاؤ کہ جب منقولی مباحثہ پر ہی بیعت تک نوبت پہنچ گئی تو میری درخواست کے منظور کرنے کے کیا معنے ہوئے وہ تو بات ہی معرض التوا میں رہی کیا اسی کو منظوری کہتے ہیں؟ کیا میں پیر صاحب کا مرید بن کر پھر تفسیر لکھنے میں ان کا مقابلہ بھی کروں گا یا غالب ہونے کی حالت میں میرا حق نہیں ہوگا کہ میں اُن سے بیعت لوں اور میرے لئے پھر اعجازی مقابلہ کی ضرورت رہے گی مگر اُن کے لئے نہیں۔ اور پھر قابل شرم دھوکا جو اس اشتہار میں دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ بیان نہیں کیا گیا کہ ہماری اس دعوت سے اصل غرض کیا تھی۔ ابھی میں بیان کر چکا ہوں کہ اصل غرض اس اشتہار سے یہ تھی کہ جب کہ نقلی مباحثات سے مخالف علماء راہ راست پر نہیں آئے اور ان مباحثات کو ہوتے ہوئے بھی دس سال سے کچھ زیادہ گذر گئے اور اس عرصہ میں میں نے چھتیس کتابیں تالیف کر کے قوم میں شائع کیں اور ایک سو سے زیادہ اشتہار شائع کیا اور ان تمام تحریروں کی پچاس ہزار سے زیادہ کاپی ملک میں پھیلائی گئی اور نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ سے اعلیٰ درجہ کا ثبوت دیا گیا لیکن ان تمام دلائل اور مباحثات سے انہوں نے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا تو آخر خدا تعالیٰ سے امر پا کر سنت انبیاء علیہم السلام پر علاج اس میں دیکھا کہ ایک فوری مباہلہ کے رنگ میں اعجازی مقابلہ کیا جائے لیکن اب پیر صاحب مجھے اسی پہلے مقام کی طرف کھینچتے ہیں اور اسی سوراخ میں پھر میرا ہاتھ ڈالنا چاہتے ہیں جس میں بجز سانپوں کے میں نے کچھ نہیں پایا اور جس کی نسبت میں اپنی کتاب انجام آتھم میں مولویوں کی سخت دلی کو دیکھ کر تحریری وعدہ کر چکا ہوں کہ آئندہ ہم ان کے ساتھ مباحثات مذکورہ نہیں کریں گے پیر صاحب نے کسی جگہ ہاتھ پڑتا نہ دیکھ کر اس غریق کی طرح جو گھاس پات پر ہاتھ مارتا ہے مباحثہ کا بہانہ پیش کر دیا یہ خیال میری نسبت کر کے کہ اگر وہ مباحثہ نہیں کریں گے تو ہم عوام میں فتح کا نقارہ بجائیں گے۔ اور اگر مباحثہ کریں گے تو کہہ دیں گے کہ اس شخص نے خدا تعالیٰ کے ساتھ عہد کر کے پھر توڑا۔ ہم پیر صاحب سے فتویٰ پوچھتے ہیں کہ کیا آپ اپنے نفس کے لئے یہ جائز رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ عہد کر کے پھر توڑ دیں؟ پھر ہم سے آپ نے کیونکر توقع رکھی؟ اور اب منقولی مباحثات کی حاجت ہی کیا تھی؟ خدا تعالیٰ کی کلام سے حضرت مسیح کا فوت ہونا ثابت ہو گیا۔ ایماندار کے لئے صرف ایک آیت فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ(المائدۃ: ۱۱۸) اس بات پر دلیل کافی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے کیونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کے تئیس مقامات میں لفظ توفّی کو قبض رُوح کے موقعہ پر استعمال کیا۔ اوّل سے آخر تک قرآن شریف میں کسی جگہ لفظ توفّی کا ایسا نہیں جس کے بجز قبض رُوح اور مارنے کے اور معنے ہوں۔ اور پھر ثبوت پر ثبوت یہ کہ صحیح بخاری میں ابن عباس سے متوفّیک کے معنے ممیتک لکھے ہیں۔ ایسا ہی تفسیر فوز الکبیر میں بھی یہی معنے مندرج ہیں اور کتاب عینی تفسیر بخاری میں اس قول کا اسناد بیان کیا ہے۔ اب اس نص قطعی سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام عیسائیوں کے بگڑنے سے پہلے ضرور مر چکے ہیں اور احادیث میں جہاں کہیں توفّی کا لفظ کسی صیغہ میں آیا ہے اس کے معنے مارنا ہی آیا ہے جیسا کہ محدثین پر پوشیدہ نہیں۔ اور علم لغت میں یہ مسلّم اور مقبول اور متفق علیہ مسئلہ ہے کہ جہاں خدا فاعل اور انسان مفعول بہٖ ہے وہاں بجز مارنے کے اور کوئی معنے توفّی کے نہیں آتے۔ تمام دواوین عرب اس پر گواہ ہیں۔ اب اس سے زیادہ ترک انصاف کیا ہوگا کہ قرآن بلند آواز سے فرما رہا ہے کوئی نہیں سنتا۔ حدیث گواہی دے رہی ہے کوئی پروا نہیں کرتا۔ علمِ لغت عرب شہادت ادا کر رہا ہے کوئی اس کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا۔ دواوین عرب اس لفظ کے محاورات بتلا رہے ہیں کسی کے کان کھڑے نہیں ہوتے۔ پھر قرآن شریف میں صرف یہی آیت تو نہیں کہ حضرت مسیح کی موت پر دلالت کرتی ہے۔ تیس آیتیں جن کا ذکر ازالہ اوہام میں موجود ہے یہی گواہی دیتی ہیں جیسا کہ آیت فِیۡہَا تَحۡیَوۡنَ(الاعراف: ۲۶) یعنی زمین پر ہی تم زندگی بسر کرو گے۔

اب دیکھو اگر کوئی آسمان پر جا کر بھی کچھ حصہ زندگی کا بسر کر سکتا ہے تو اس سے اس آیت کی تکذیب لازم آتی ہے۔ اِسی کی مؤید ہے یہی دوسری آیت کہ وَلَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مُسۡتَقَرٌّ یعنی تمہارا قرارگاہ زمین ہی رہے گی۔ اب اِس سے زیادہ خدا تعالیٰ کیا بیان فرماتا؟ پھر ایک اور آیت حضرت عیسیٰ کی موت پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ کَانَا یَاۡکُلٰنِ الطَّعَامَ یعنی حضرت مسیح اور حضرت مریم جب زندہ تھے تو روٹی کھایا کرتے تھے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر ترکِ طعام کی دو وجہیں ہوتیں تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر علیحدہ علیحدہ کر دیتا کہ مریم تو بوجہ فوت ہونے کے طعام سے مہجور ہو گئی اور عیسیٰ کسی اور وجہ سے کھانا چھوڑ بیٹھا بلکہ دونوں کو ایک ہی آیت میں شامل کرنا اتحاد امر واقعہ پر دلیل ہے تا معلوم ہو کہ دونوں مر گئے۔ پھر ایک اور آیت حضرت عیسیٰ کی موت پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ وَاَوۡصٰنِیۡ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مَا دُمۡتُ حَیًّا یعنی خدا نے مجھے حکم دے رکھا ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں نماز پڑھتا رہوں اور زکوٰۃ دوں۔ اب بتلاؤ کہ آسمان پر وہ زکوٰۃ کس کو دیتے ہیں؟ اور پھر ایک اور آیت ہے جو بڑی صراحت سے حضرت عیسیٰ کی موت پر دلالت کر رہی ہے اور وہ یہ ہے کہ اَمۡوَاتٌ غَیۡرُ اَحۡیَآءٍ یعنی جس قدر باطل معبودوں کی لوگ زمانہ حال میں پرستش کر رہے ہیں وہ سب مر چکے ہیں اُن میں کوئی زندہ باقی نہیں۔ اب بتلاؤ کیا اب بھی کچھ خدا کا خوف پیدا ہوا یا نہیں؟ یا نعوذ باللہ خدا نے غلطی کی جو سب باطل معبودوں کو مردہ قرار دیا اور پھر ان سب کے بعد وہ عظیم الشان آیت ہے جس پر تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ہوا اور ایک لاکھ سے زیادہ صحابی نے اس بات کو مان لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور کل گذشتہ نبی فوت ہو چکے ہیں اور وہ یہ آیت ہے۔ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ۔ اس جگہ خلت کے معنے خدا تعالیٰ نے آپ فرما دیئے کہ موت یا قتل۔ پھر اس کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے محلِّ استدلال میں جمیع انبیاءِ گذشتہ کی موت پر اس آیت کو پیش کر کے اور صحابہ نے ترک مقابلہ اور تسلیم کا طریق اختیار کر کے ثابت کر دیا کہ یہ آیت موت مسیح اور تمام گذشتہ انبیاء علیہم السلام پر قطعی دلیل ہے اور اس پر تمام اصحاب رضی اللہ عنہم کا اجماع ہو گیا ایک فرد بھی باہر نہ رہا جیسا کہ میں نے اس بات کو مفصّل طور پر رسالہ تحفہ غزنویہ میں لکھ دیا ہے پھر اس کے بعد تیرہ سو برس تک کبھی کسی مجتہد اور مقبول امام پیشوائے انام نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ حضرت مسیح زندہ ہیں بلکہ امام مالک نے صاف شہادت دی کہ فوت ہو گئے ہیں اور امام ابن حزم نے صاف شہادت دی کہ فوت ہو گئے ہیں۔ اور تمام کامل مکمل ملہمین میں سے کبھی کسی نے یہ الہام نہ سنایا کہ خدا کا یہ کلام میرے پر نازل ہوا ہے کہ عیسیٰ بن مریم بر خلاف تمام نبیوں کے زندہ آسمان پر موجود ہے۔ الغرض جبکہ میں نے نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ اور اقوال ائمہ اربعہ اور وحی اولیاءِ اُمت محمدیہ اور اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم میں بجز موت مسیح کے اور کچھ نہ پایا تو بنظرِ تکمیل لوازم تقویٰ انبیاء سابقین علیہم السلام کے قصص کی طرف دیکھا کہ کیا قرون گذشتہ میں اس کی کوئی نظیر بھی موجود ہے کہ کوئی آسمان پر چلا گیا ہو اور دوبارہ واپس آیا ہو تو معلوم ہوا کہ حضرت آدم سے لے کر اس وقت تک کوئی نظیر نہیں جیسا کہ قرآن شریف بھی آیت قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا میں اسی کی طرف اشارہ فرماتا ہے۔ یعنی جب کفار بد بخت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اقتراحی معجزہ مانگا کہ ہم تب تجھے قبول کریں گے کہ جب ہمارے دیکھتے دیکھتے آسمان پر چڑھ جائے اور دیکھتے دیکھتے اُتر آوے تو آپ کو حکم آیا کہ قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا(بنی اسرائیل: ۹۴) یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا خدا اس بات سے پاک ہے کہ اپنی سنّتِ قدیمہ اور دائمی قانونِ قدرت کے برخلاف کوئی بات کرے میں تو صرف رسول اور انسان ہوں اور جس قدر رسول دنیا میں آئے ہیں اُن میں سے کسی کے ساتھ خدا تعالیٰ کی یہ عادت نہیں ہوئی کہ اس کو بجسم عنصری آسمان پر لے گیا ہو اور پھر آسمان سے اتارا ہو اور اگر عادت ہے تو تم خود ہی اس کا ثبوت دو کہ فلاں نبی بجسم عنصری آسمان پر اٹھایا گیا تھا اور پھر اتارا گیا۔ تب میں بھی آسمان پر جاؤں گا اور تمہارے روبرو اُتروں گا۔

اور اگر کوئی نظیر تمہارے پاس نہیں تو پھر کیوں ایسے امر کی نسبت مجھ سے تقاضا کرتے ہو جو رسولوں کے ساتھ سنت اللہ نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو یہ سکھلایا ہوا ہوتا کہ حضرت مسیح زندہ بجسمہ العنصری آسمان پر چلے گئے ہیں تو ضرور وہ اس وقت اعتراض کرتے اور کہتے کہ یا حضرت آپ کیوں آسمان پر کسی رسول کا بجسم عنصری جانا سنت اللہ کے برخلاف بیان فرماتے ہیں حالانکہ آپ ہی نے تو ہمیں بتلایا تھا کہ حضرت مسیح آسمان پر زندہ بجسمہ العنصری چلے گئے ہیں ایسا ہی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ پر کسی نے اعتراض نہ کیا کہ قرآن میں کیوں تحریف کرتے ہو تمام گذشتہ انبیاء کہاں فوت ہوئے ہیں اور اگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اُس وقت عذر کرتے کہ نہیں صاحب میرا منشاء تمام انبیاء کا فوت ہونا تو نہیں ہے میں تو بدل اس پر ایمان رکھتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسمہ العنصری آسمان پر چڑھ گئے ہیں اور کسی وقت اُتریں گے تو صحابہ جواب دیتے کہ اگر آپ کا یہی اعتقاد ہے تو پھر آپ نے اِس آیت کو پڑھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خیالات کا ردّ کیا کیا؟ کیا آپ کے کان بہرے ہیں کیا آپ سنتے نہیں کہ عمر بلند آواز سے کیا کہہ رہا ہے؟ حضرت وہ تو یہ کہہ رہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرے نہیں زندہ ہیں اور پھر دنیا میں آئیں گے اور منافقوں کو قتل کریں گے اور وہ آسمان کی طرف ایسا ہی زندہ اٹھائے گئے ہیں جیسے کہ عیسیٰ بن مریم اٹھایا گیا تھا آپ نے آیت تو پڑھ لی مگر اس آیت میں اِس خیال کا ردّ کہاں ہے لیکن صحابہ جو عقلمند اور زیرک اور پاک نبی کے ہاتھ سے صاف کئے گئے تھے اور عربی تو اُن کی مادری زبان تھی اور کوئی تعصب درمیان نہ تھا۔ اس لئے انہوں نے آیت موصوفہ بالا کے سنتے ہی سمجھ لیا کہ خلت کے معنے موت ہیں جیسا کہ خود خدا تعالیٰ نے فقرہ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ میں تشریح کر دی ہے اس لئے انہوں نے بلا توقف اپنے خیالات سے رجوع کر لیا اور ذوق میں آ کر اور آنحضرت کے فراق کے درد سے بھر کر بعض نے اس مضمون کو ادا کرنے کے لئے شعر بھی بنائے جیسا کہ حسان بن ثابت نے بطور مرثیہ یہ دو بیت کہے

کنت السواد لناظری۔ فعمی علیک الناظر

من شاء بعدک فلیمت۔ فعلیک کنت احاذر

یعنی اے میرے پیارے نبی! تو تو میری آنکھوں کی پتلی تھی اور میرے دیدوں کا نور تھا۔ پس میں تو تیرے مرنے سے اندھا ہو گیا اب تیرے بعد میں دوسروں کی موت کا کیا غم کروں عیسیٰ مرے یا موسیٰ مرے۔ کوئی مرے مجھے تو تیرا ہی غم تھا۔ دیکھو عشق محبت اسے کہتے ہیں جب صحابہ کو معلوم ہو گیا کہ وہ نبی افضل الانبیاء جن کی زندگی کی اشد ضرورت تھی عمر طبعی سے پہلے ہی فوت ہو گئے تو وہ اس کلمہ سے سخت بیزار ہو گئے کہ آنحضرت تو مر جائیں مگر کسی دوسرے کو زندہ رسول کہا جائے۔ افسوس ہے آج کل کے مسلمانوں پر کہ پادریوں کے ہاتھ سے اس بحث میں سخت ذلیل بھی ہوتے ہیں اور لاجواب اور کھسیانے ہو کر بحث کو ترک بھی کر دیتے ہیں مگر اس عقیدہ سے باز نہیں آتے کہ زندہ رسول فقط عیسیٰ علیہ السلام ہے جو آسمان کے تخت پر بیٹھا ہوا دوبارہ آنے سے محمدی ختم نبوت کو داغ لگانا چاہتا ہے۔ افسوس کہ یہ علماء اس بات کو خوب سمجھتے ہیں کہ حضرت سید الرسل وسید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مردہ رسول قرار دینا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک زندہ رسول ماننا اِس میں جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی ہتک ہے اور یہی وہ جھوٹا عقیدہ ہے جس کی شامت کی وجہ سے کئی لاکھ مسلمان اس زمانہ میں مرتد ہو چکے ہیں اور اصطباغ لئے ہوئے گر جاؤں میں بیٹھے ہوئے ہیں مگر پھر بھی یہ لوگ اس باطل عقیدہ سے باز نہیں آتے بلکہ میری مخالفت کی وجہ سے اور بھی اِس میں اصرار کرتے اور حد سے بڑھتے جاتے ہیں بلکہ بعض نابکار مولوی یہ بھی کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عیسیٰ مسیح سے نسبت ہی کیا ہے وہ تو از قسم ملائکہ تھا نہ انسان۔ اور صاف اور صریح اور روشن دلائل حضرت مسیح کی موت پر پیش کئے گئے ان کو میرے بغض سے مانتے نہیں اور اُن کی اُس ہندو کی مثال ہے کہ ایک ایسے موقع پر جہاں صرف مسلمان رہتے تھے سخت بھوکا اور قریب الموت ہو گیا مگر مسلمانوں کے کھانے جو نہایت نفیس اور لذیذ موجود تھے جن کو اُس ہندو کے کبھی باپ دادے نے بھی نہیں دیکھا تھا ان میں سے کچھ نہ کھایا یہاں تک کہ بھوک سے مر گیا اور اس لئے نہ کھایا کہ مسلمانوں کے ہاتھ اُن کھانوں سے چھو گئے تھے۔ اسی طرح ان لوگوں کا حال ہے کہ جن دلائل قاطعہ کو اُن کے خیال میں میرے ہاتھوں نے چھوا اُن سے فائدہ اٹھانا نہیں چاہتے مگر میں بار بار کہتا ہوں کہ ہندومت بنو یہ دلائل میرے نہیں ہیں اور نہ میرے ہاتھ ان کو چھوئے ہیں بلکہ یہ تو سب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں شوق سے ان کو استعمال کرو۔ دیکھو کس قدر نصوص قرآنیہ حضرت مسیح کی وفات پر گواہی دے رہی ہیں۔ نصوص حدیثیہ گواہی دے رہی ہیں صحابہ کا اجماع گواہی دے رہا ہے۔ ائمہ اربعہ کی شہادت گواہی دے رہی ہے۔ سنت قدیمہ جو مؤید بآیت وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا(الفتح: ۲۴)ہے گواہی دے رہی ہے پھر بھی اگر نہ مانو تو سخت بد نصیبی ہے۔ قرآن اور حدیث اور اجماع صحابہ اور نظیر سنت قدیمہ کے بعد کونسا شک باقی ہے۔ افسوس یہ بھی نہیں سوچتے کہ دوبارہ نزول کا مقدمہ حضرت مسیح کی عدالت سے پہلے فیصلہ پا چکا ہے اور ڈگری ہماری تائید میں ہوئی ہے۔ اور حضرت مسیح نے یہودیوں کے اس خیال کو کہ ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا ردّ کر دیا ہے اور مجاز اور استعارہ کے طور پر اس پیشگوئی کو قرار دے دیا ہے اور مصداق ایلیا کا حضرت یوحنا یعنی یحیٰی کو ٹھہرایا ہے۔ دیکھو حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ فیصلہ کس قدر تمہارے مسئلہ متنازعہ فیہ کو صاف کر رہا ہے سچ کی یہی نشانی ہے کہ اس کی کوئی نظیر بھی ہوتی ہے اور جھوٹ کی یہ نشانی ہے کہ اُس کی نظیر کوئی نہیں ہوتی۔ بھلا بتلاؤ کہ مثلاً دو فریق میں ایک امر متنازعہ فیہ ہے اور منجملہ ان کے ایک فریق نے اپنی تائید میں ایک نبی معصوم کے فیصلہ کی نظیر پیش کر دی ہے اور دوسرا نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے اب ان دونوں میں سے احق بالامن کون ہے؟ بیّنوا توجروا۔ یہ مسلّم مسئلہ ہے کہ بجز خدا تعالیٰ کے تمام انبیاء کے افعال اور صفات نظیر رکھتے ہیں تا کسی نبی کی کوئی خصوصیت منجر بہ شرک نہ ہو جائے۔ اب بتلاؤ کہ ایک طرف تو نصاریٰ حضرت مسیح کی اس قدر لمبی زندگی کو اُن کی خدائی پر دلیل ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب دنیا میں بجز اُن کے کوئی بھی زندہ نبی موجود نہیں اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مردہ سمجھتے ہیں مگر مسیح کو ایسا زندہ کہ خدا تعالیٰ کے پاس بیٹھا ہوا خیال کرتے ہیں اور دوسری طرف آپ لوگ بھی حضرت عیسیٰ کو زندہ کہہ کر اور قرآن اور حدیث اور اجماع صحابہ کو خاک میں پھینک کر نصاریٰ سے ہاں میں ہاں ملا رہے ہو۔ اب سوچ لو کہ اس حالت میں اُمت محمدیہ پر کیا اثر پڑے گا؟ تم نے تو اپنے منہ سے اپنے تئیں لاجواب کر دیا اور کچے عذر تو اور بھی مخالف کی بات کو قوت دیتے ہیں۔ غرض تمہارے لا جواب ہو جانے سے ہزاروں انسان مر گئے اور مسجدیں خالی ہو گئیں اور نصاریٰ کے گرجا بھر گئے۔ اے رحم کے لائق مولویو! کبھی تو مسجدوں کے حجروں سے نکل کر اس انقلاب پر نظر ڈالو جو اسلام پر آگیا۔ خود غرضی کو دور کیجئے۔ برائے خدا ایک نظر دیکھئے کہ اسلام کی کیا حالت ہے خدا نے جو مجھے بھیجا اور یہ امور مجھے سکھلائے یہی آسمانی حربہ ہے جس کے بغیر باطل کا دفع کرنا ممکن ہی نہیں۔ اب ہر ایک مرتد کا گناہ آپ لوگوں کی گردن پر ہے۔ جب آپ لوگ ہی قبول کریں کہ حضرت مسیح زندہ رسول اور حضرت خاتم الانبیاء مردہ رسول ہیں تو پھر لوگ مرتد ہوں یا نہ ہوں؟ پھر فرض کے طور پر اگر یہ واقعہ دوبارہ دنیا میں آنے کا صحیح تھا تو کیا وجہ کہ آپ لوگ اس کی کوئی نظیر نہیں پیش کر سکتے۔ بغیر نظیر کے تو ایسی خصوصیت سے شرک کو قوت ملتی ہے اور ہرگز خدا تعالیٰ کی یہ عادت نہیں ہے ظاہر ہے کہ نصاریٰ کو ملزم کرنے کے لئے صرف ایلیا نبی کے آسمان پر جانے اور دوبارہ آنے کی نظیر ہو سکتی تھی اور بے شک اس نظیر سے کچھ کام بن سکتا تھا لیکن ان معنوں کو تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آپ ہی ردّ کر دیا اور فرمایا کہ ایلیا سے مراد یوحنا نبی ہے جو اس کی خو اور طبیعت پر آیا ہے۔ اب تک یہودی شور مچارہے ہیں کہ ملاکی نبی کی کتاب میں ایلیا کے دوبارہ آنے کی صاف اور صریح لفظوں میں خبر دی گئی تھی کہ وہ مسیح سے پہلے آئے گا مگر حضرت مسیح نے ناحق اپنے تئیں سچا مسیح بنانے کے لئے اس کھلے کھلے نص کی تاویل کر دی اور اس تاویل میں وہ متفرد ہیں کسی اور نبی یا ولی یا فقیہ نے ہرگز یہ تاویل نہیں کی۔ اور ایلیا سے یحیٰی نبی مراد نہیں لیا بلکہ ظاہر آیت کو مانتے چلے آئے اور حضرت ایلیا کے دوبارہ آسمان سے نازل ہونے کے منتظر رہے۔ سو یہ ایک جھوٹ ہے جو عیسیٰ نے محض خود غرضی سے بولا۔ اب بتلاؤ یہودی اس الزام میں سچے ہیں یا جھوٹے؟ وہ تو اپنے تئیں سچے کہتے ہیں۔ ان کی یہ حجت ہے کہ خدا کی کتاب میں کسی مثیل ایلیا کے آنے کی ہمیں خبر نہیں دی گئی۔ خبر یہی دی گئی کہ خود ایلیا ہی دوبارہ دنیا میں آجائے گا۔ مگر حضرت مسیح کا یہ عذر ہے کہ میں حکم ہو کر آیا ہوں اور خدا سے علم رکھتا ہوں نہ اپنی طرف سے اس لئے میرے معنے صحیح ہیں۔ اور واقعی امر یہ ہے کہ اگر یہ قبول نہ کیا جائے کہ حضرت مسیح خدا کی طرف سے علم پا کر کہتے ہیں تو منطوق آیت بلا شبہ یہودیوں کے ساتھ ہے۔ اسی وجہ سے وہ لوگ اب تک روتے چیختے اور حضرت مسیح کو سخت گالیاں دیتے ہیں کہ اپنے تئیں مسیح موعود قرار دینے کے لئے تحریف سے کام لیا۔ چنانچہ ایک فاضل یہودی کی ایک کتاب اسی پیشگوئی کے بارے میں میرے پاس موجود ہے جس کا خلاصہ اس جگہ لکھا گیا جو چاہے دیکھ لے میں دکھا سکتا ہوں۔ اس کتاب کا مؤلف نہایت درجہ کے دعوے سے تمام لوگوں کے سامنے اپیل کرتا ہے کہ دیکھو عیسیٰ کیسا عمداً اپنے تئیں مسیح موعود قرار دینے کے لئے جھوٹ اور افترا سے کام لے رہا ہے اور پھر یہ مؤلف کہتا ہے کہ خدا کے سامنے ہمارے لئے یہ عذر کافی ہے کہ ملاکی کی کتاب میں صاف لکھا ہے کہ مسیح موعود سے پہلے ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا مگر یہ شخص جو عیسیٰ بن مریم ہے یہ نص کتاب اللہ کے ظاہر الفاظ سے انحراف کر کے ایلیا سے مثیل ایلیا مراد لیتا ہے اس لئے کاذب ہے اور چونکہ ایلیا اب تک آسمان سے نہیں اُترا تو یہ کیونکر مسیح بن کر آگیا اور ممکن نہیں جو الہامی کتابیں جھوٹ ہوں۔ اب بتلاؤ کہ آپ لوگ حضرت عیسیٰ سے تو اتنی محبت رکھتے ہیں کہ آپ لوگوں کی نظر میں نعوذ باللہ سید الاصفیاء واصفی الاصفیاء حضرت خاتم الابنیاء تو مردہ رسول مگر مسیح زندہ رسول اور با وصف اس قدر اطراء حضرت مسیح کے یہودیوں کا پہلو آپ لوگوں نے اختیار کر رکھا ہے۔ بھلا بتلاؤ کہ آپ لوگوں کے بیان میں جو آخری مسیح موعود کے بارے میں ہے اور یہودیوں کے بیان میں جو ان کے اس زمانہ کے مسیح موعود کے بارے میں ہے فرق کیا ہے۔ کیا یہ دونوں عقیدے ایک ہی صورت کے نہیں ہیں؟ اور کیا میرا جواب اور حضرت عیسیٰ کا جواب ایک ہی طرز کا نہیں ہے؟ پھر اگر تقویٰ ہے تو اس قدر ہنگامہ محشر کیوں برپا کر رکھا ہے اور یہودیوں کی وکالت کیوں اختیار کر لی؟ کیا یہ بھی ضروری تھا کہ جب میں نے اپنے آپ کو مسیح کے رنگ میں ظاہر کیا تو اس طرف سے آپ لوگوں نے جواب دینے کے وقت فی الفور یہودیوں کا رنگ اختیار کر لیا۔ بھلا اگر بقول حضرت مسیح ایلیا کے دوبارہ نزول کے یہ معنے ہوئے کہ ایک اور شخص بروزی طور پر اُس کی خو اور طبیعت پر آئے گا تو پھر آپ کا کیا حق ہے کہ اس نبوی فیصلہ کو نظر انداز کر کے آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اب خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی آجائے گا۔ گویا خدا تعالیٰ کو ایلیا نبی کے دوبارہ بھیجنے میں تو کوئی کمزوری پیش آگئی تھی مگر مسیح کے بھیجنے میں پھر خدائی قوت اس میں عود کر آئی۔ کیا اس کی کوئی نظیر بھی موجود ہے کہ بعض آدمی آسمان پر بجسمہ العنصری جا کر پھر دنیا میں آتے رہے ہیں کیونکہ حقیقتیں نظیروں کے ساتھ ہی کھلتی ہیں۔ چنانچہ جب لوگوں کو حضرت عیسیٰ کے بے پدر ہونے پر اشتباہ ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ نے دلوں کو مطمئن کرنے کے لئے حضرت آدم کی نظیر پیش کر دی مگر حضرت عیسیٰ کے دوبارہ آنے کے لئے کوئی نظیر پیش نہ کی نہ حدیث میں نہ قرآن میں حالانکہ نظیر کا پیش کرنا دو وجہ سے ضروری تھا ایک اس غرض سے کہ تا حضرت عیسیٰ کا زندہ آسمان کی طرف اُٹھائے جانا اُن کی ایک خصوصیت ٹھہر کر منجر الی الشرک نہ ہو جائے اور دوسرے اس لئے کہ تا اس بارے میں سنت اللہ معلوم ہو کر ثبوت اس امر کا پایہ کمال کو پہنچ جائے۔ سو جہاں تک ہمیں علم ہے خدا اور رسول نے اس کی نظیر پیش نہیں کی۔ اگر گولڑوی صاحب کو کشف کے ذریعہ سے اس کی نظیر معلوم ہو گئی ہے تو پھر اس کو پیش کرنا چاہئے۔ غرض حضرت مسیح علیہ السلام کی موت قرآن اور حدیث اور اجماع صحابہ اور اکابر ائمہ اربعہ اور اہل کشوف کے کشوف سے ثابت ہے اور اس کے سوا اور بھی دلائل ہیں جیسا کہ مرہم عیسیٰ جو ہزار طبیب سے زیادہ اس کو اپنی اپنی کتابوں میں لکھتے چلے آئے ہیں جن کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ مرہم جو زخموں اور خون جاری کے لئے نہایت مفید ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے تیار کی گئی تھی اور واقعات سے ثابت ہے کہ نبوت کے زمانہ میں صرف ایک ہی صلیب کا حادثہ اُن کو پیش آیا تھا کسی اور سقطہ یا ضربہ کا واقعہ نہیں ہوا پس بلا شبہ وہ مرہم انہی زخموں کے لئے تھی۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب سے زندہ بچ گئے اور مرہم کے استعمال سے شفا پائی اور پھر اس جگہ وہ حدیث جو کنز العمال میں لکھی ہے حقیقت کو اور بھی ظاہر کرتی ہے یعنی یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح کو اس ابتلا کے زمانہ میں جو صلیب کا ابتلا تھا حکم ہوا کہ کسی اور ملک کی طرف چلا جا کہ یہ شریر یہودی تیری نسبت بد ارادے رکھتے ہیں اور فرمایا کہ ایسا کر جو ان ملکوں سے دور نکل جا تا تجھ کو شناخت کر کے یہ لوگ دکھ نہ دیں۔ اب دیکھو کہ اس حدیث اور مرہم عیسیٰ کا نسخہ اور کشمیر کے قبر کے واقعہ کو باہم ملا کر کیسی صاف اصلیت اس مقولہ کی ظاہر ہو جاتی ہے۔ کتاب سوانح یوز آسف جس کی تالیف کو ہزار سال سے زیادہ ہو گیا ہے اس میں صاف لکھا ہے کہ ایک نبی یوز آسف کے نام سے مشہور تھا اور اس کی کتاب کا نام انجیل تھا اور پھر اُسی کتاب میں اُس نبی کی تعلیم لکھی ہے اور وہ تعلیم مسئلہ تثلیت کو الگ رکھ کر بعینہ انجیل کی تعلیم ہے۔ انجیل کی مثالیں اور بہت سی عبارتیں اُس میں بعینہ درج ہیں چنانچہ پڑھنے والے کو کچھ بھی اس میں شک نہیں رہ سکتا کہ انجیل اور اس کتاب کا مؤلف ایک ہی ہے اور طرفہ تر یہ کہ اس کتاب کا نام بھی انجیل ہی ہے۔ اور استعارہ کے رنگ میں یہودیوں کو ایک ظالم باپ قرار دے کر ایک لطیف قصہ بیان کیا ہے جو عمدہ نصائح سے پُر ہے اور مدت ہوئی کہ یہ کتاب یورپ کی تمام زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے اور یورپ کے ایک حصہ میں یوز آسف کے نام پر ایک گرجا بھی طیار کیا گیا ہے اور جب میں نے اس قصہ کی تصدیق کے لئے ایک معتبر مرید اپنا جو خلیفہ نورالدین کے نام سے مشہور ہیں کشمیر سری نگر میں بھیجا تو انہوں نے کئی مہینے رہ کر بڑی آہستگی اور تدبر سے تحقیقات کی۔ آخر ثابت ہو گیا کہ فی الواقع صاحب قبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں جو یوز آسف کے نام سے مشہور ہوئے۔ یوز کا لفظ یسوع کا بگڑا ہوا یا اس کا مخفف ہے اور آسف حضرت مسیح کا نام تھا جیسا کہ انجیل سے ظاہر ہے جس کے معنے ہیں یہودیوں کے متفرق فرقوں کو تلاش کرنے والا یا اکٹھے کرنے والا۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کشمیر کے بعض باشندے اس قبر کا نام عیسیٰ صاحب کی قبر بھی کہتے ہیں اور اُن کی پرانی تاریخوں میں لکھا ہے کہ یہ ایک نبی شہزادہ ہے جو بلادِ شام کی طرف سے آیا تھا جس کو قریباً اُنیس سو برس آئے ہوئے گزر گئے اور ساتھ اس کے بعض شاگرد تھے اور وہ کوہ سلیمان پر عبادت کرتا رہا اور اُس کی عبادت گاہ پر ایک کتبہ تھا جس کے یہ لفظ تھے کہ یہ ایک شہزادہ نبی ہے جو بلادِ شام کی طرف سے آیا تھا۔ نام اس کا یوز ہے۔ پھر وہ کتبہ سکھوں کے عہد میں محض تعصب اور عناد سے مٹایا گیا اب وہ الفاظ اچھی طرح پڑھے نہیں جاتے۔ اور وہ قبر بنی اسرائیل کی قبروں کی طرح ہے اور بیت المقدس کی طرف منہ ہے اور قریباً سرینگر کے پانسو آدمی نے اس محضر نامہ پر بدین مضمون دستخط اور مہریں لگائیں کہ کشمیر کی پرانی تاریخ سے ثابت ہے کہ صاحب قبر ایک اسرائیلی نبی تھا اور شہزادہ کہلاتا تھا کسی بادشاہ کے ظلم کی وجہ سے کشمیر میں آگیا تھا اور بہت بڑھا ہو کر فوت ہوا اور اُس کو عیسیٰ صاحب بھی کہتے ہیں اور شہزادہ نبی بھی اور یوز آسف بھی۔ اب بتلاؤ کہ اس قدر تحقیقات کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے میں کسر کیا رہ گئی اور اگر با وجود اس بات کے کہ اتنی شہادتیں قرآن اور حدیث اور اجماع اور تاریخ اور نسخہ مرہم عیسیٰ اور وجود قبر سرینگر میں اور معراج میں بزمرہ اموات دیکھے جانا اور عمر ایک سو بیس سال مقرر ہونا اور حدیث سے ثابت ہونا کہ واقعہ صلیب کے بعد وہ کسی اور ملک کی طرف چلے گئے تھے اور اسی سیاحت کی وجہ سے اُن کا نام نبی سیاح مشہور تھا۔ یہ تمام شہادتیں اگر ان کے مرنے کو ثابت نہیں کرتیں تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوئی نبی بھی فوت نہیں ہوا۔ سب بجسم عنصری آسمان پر جا بیٹھے ہیں کیونکہ اس قدر شہادتیں اُن کی موت پر ہمارے پاس موجود نہیں بلکہ حضرت موسیٰ کی موت خود مشتبہ معلوم ہوتی ہے کیونکہ اُن کی زندگی پر یہ آیت قرآنی گواہ ہے یعنی یہ کہفَلَا تَکُنۡ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡ لِّقَآئِہٖ(السجدۃ: ۲۴)۔ اور ایک حدیث بھی گواہ ہے کہ موسیٰ ہر سال دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ خانہ کعبہ کے حج کرنے کو آتا ہے۔ اے بزرگو! اب اس ماتم سے کچھ فائدہ نہیں۔ اب تو حضرت مسیح پر اِنَّا لِلّٰہِ پڑھو وہ تو بے شک فوت ہو گئے وہ حدیث صحیح نکلی کہ مسیح کی عمر ایک سو بیس برس ہوگی نہ ہزاروں برس اب خدا سے ڈرنے کا وقت ہے کج بحثی کا وقت نہیں کیونکہ ثبوت انتہا تک پہنچ گیا ہے اور یہ خیال کہ قرآن شریف میں اُن کی نسبت بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِآیا ہے اور بَلْ دلالت کرتا ہے کہ وہ مع جسم آسمان پر اُٹھائے گئے۔ یہ خیال نہایت ذلیل خیال اور بچوں کا سا خیال ہے۔ اس قسم کا رفع تو بلعم کی نسبت بھی مذکور ہے یعنی لکھا ہے کہ ہم نے ارادہ کیا تھا کہ بلعم کا رفع کریں مگر وہ زمین کی طرف جھک گیا۔ ظاہر ہے کہ مسیح کیلئے جو لفظ رفع میں استعمال کئے گئے وہی لفظ بلعم کی نسبت استعمال کئے گئے۔ مگر کیا خدا کا ارادہ تھا کہ بلعم کو مع جسم آسمان پر پہنچادے بلکہ صرف اُس کی رُوح کا رفع مراد تھا۔ اے حضرات! خدا سے خوف کرو۔ رفع جسمانی تو یہودیوں کے الزام میں معرض بحث میں ہی نہیں تمام جھگڑا تو رفع روحانی کے متعلق ہے کیونکہ یہود نے حضرت مسیح کو صلیب پر کھینچ کر بموجب نص توریت کے یہ خیال کر لیا تھا کہ اب اس کا رفع روحانی نہیں ہوگا اور وہ نعوذ باللہ خدا کی طرف نہیں جائے گا بلکہ ملعون ہو کر شیطان کی طرف جائیگا یہ ایک اصطلاحی لفظ ہے کہ جو شخص خدا کی طرف بلایا جاتا ہے اس کو مرفوع کہتے ہیں اور جو شیطان کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے اس کو ملعون کہتے ہیں سو یہی وہ یہودیوں کی غلطی تھی جس کا قرآن شریف نے بحیثیت حَکَمْ ہونے کے فیصلہ کیا اور فرمایا کہ مسیح صلیب پر قتل نہیں کیا گیا اور فعل صلیب پایہ تکمیل کو نہیں پہنچا اس لئے مسیح رفع روحانی سے محروم نہیں ہو سکتا۔ علاوہ اس کے صاف ظاہر ہے کہ علم طبعی کی رو سے جس کے مسائل مشہودہ محسوسہ ہیں ہمیشہ جسم معرضِ تحلیل و تبدیل میں ہے ہر آن اور ہر سیکنڈ میں ذرّاتِ جسم بدلتے رہتے ہیں جو اس وقت ہیں وہ ایک منٹ کے بعد نہیں پھر کیونکر ممکن ہے کہ جس جسم کے رفع کا آیت وَرَافِعُکَ اِلَیَّ میں وعدہ ہوا تھا وہی جسم زمانہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ تک موجود تھا۔ پس لازم آیا کہ جو وعدہ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ میں ایک خاص جسم کی نسبت دیا گیا تھا وہ پورا نہیں ہوا کیونکہ ایفاء وعدہ کے وقت تو اور جسم تھا اور پہلا جسم تحلیل پا چکا تھا۔ اور خود یہ خیال غلط ہے کہ جب کسی کو مخاطب کیا جائے اور یہ کہا جائے کہ یا ابراہیم اور یا عیسیٰ اور یا موسیٰ اور یا محمد (علیہم السلام) تو اس کے ساتھ معیت جسم شرط ہوتی ہے اور کچھ حصہ خطاب کا جسم کے ساتھ بھی متعلق ہوتا ہے کیونکہ اگر یہ صحیح ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ اگر مثلاً ایک نبی کا ہاتھ کٹ جائے یا پیر کٹ جائے تو پھر اس لائق نہ رہے کہ یا عیسیٰ یا یا موسیٰ اس کو کہا جائے کیونکہ ایک حصہ جسم کا جس کو خطاب کیا گیا ہے اُس کے ساتھ نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ نے مردہ انبیاء کا قرآن شریف میں ذکر اسی طرح کیا ہے جیسے اس حالت میں ذکر کیا تھا جبکہ وہ جسم کے ساتھ زندہ تھے پس اگر ایسے خطاب کے لئے جسم کی شرط ہے تو مثلاً یہ کہنا کیونکر جائز ہے کہ اِنَّ اِبۡرٰہِیۡمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیۡمٌ(التوبۃ: ۱۱۴)۔ غرض حضرت مسیح علیہ السلام کی موت کا بخوبی فیصلہ ہو چکا ہے اور اب ایسے ایسے بے ہودہ عذر کرنا اُس غرق ہونے والے کی مانند ہے جو موت سے بچنے کے لئے گھاس پات کو ہاتھ مارتا ہے۔ افسوس کہ یہ لوگ نیک نیتی سے سیدھی راہ کو نہیں سوچتے۔ اس بحث میں سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ حضرت مسیح کچھ انوکھے رسول نہیں تھے اُن کے قتل کے بارے میں اس قدر جھگڑا کیوں برپا کیا گیا اور کیوں بار بار اس بات پر زور دیا گیا کہ وہ مصلوب نہیں ہوئے بلکہ خدا نے ان کو اپنی طرف اُٹھا لیا نہ شیطان کی طرف اگر اس جھگڑے سے صرف اس قدر غرض تھی کہ یہودیوں پر ظاہر کیا جائے کہ وہ قتل نہیں ہوئے تو یہ تو ایک بیہودہ اور سراسر لغو غرض ہے اس غرض کو اس رفع اعتراض سے کیا تعلق کہ خدا نے مسیح کو اپنی طرف جو مقامِ اعزاز ہے اُٹھالیا شیطان کی طرف رد نہیں کیا جو مقامِ ذلت ہے۔ ظاہر ہے کہ محض قتل ہونے سے نبی کی شان میں کچھ فرق نہیں آتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دُعا میں یہ بات داخل ہے کہ میں دوست رکھتا ہوں کہ خدا کی راہ میں قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر قتل کیا جاؤں تو پھر یہ بات قبول کے لائق ہے کہ قتل ہونے میں کوئی ہتک عزت نہیں ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لئے یہ دعا نہ کرتے تو پھر اس قدر حضرت مسیح کی نسبت الزام قتل کا دفع اور ذَبّ اور یہ کہنا کہ وہ قتل نہیں ہوا اور ہرگز صلیب سے قتل نہیں ہوا بلکہ ہم نے اپنی طرف اُٹھا لیا اس سے مطلب کیا نکلا اگر مسیح قتل نہیں ہوا تو کیا یحیٰی نبی بھی قتل نہیں ہوا اُس کو خدا نے کیوں اپنی طرف مع جسم عنصری نہ اٹھایا۔ کیا وجہ کہ اس جگہ غیرت الہی نے جوش نہ مارا اور اُس جگہ جوش مارا اور اگر خدا نے کسی کو جسم کے ساتھ آسمان پر اُٹھانا ہے تو اُس کے لئے تو یہ الفاظ چاہئیں کہ جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھایا گیا نہ یہ کہ خدا کی طرف اُٹھایا گیا۔ یاد رہے کہ قرآن شریف بلکہ تمام آسمانی کتابوں نے دو طرفیں مقرر کی ہیں ایک خدا کی طرف اور اس کی نسبت یہ محاورہ ہے کہ فلاں شخص خدا کی طرف اُٹھایا گیا اور دوسری طرف بمقابل خدا کی طرف کے شیطان کی طرف ہے۔ اس کی نسبت قرآن میں اَخۡلَدَ اِلَی الۡاَرۡضِ(الاعراف: ۱۷۷)کا محاورہ ہے۔ یہ کس قدر ظلم ہے کہ رفع الی اللہ جو ایک روحانی امر اخلاد الی الشیطان کے مقابل پر تھا اس سے آسمان پر مع جسم جانا سمجھا گیا اور خیال کیا گیا کہ خدا نے مسیح کو مع جسم کے آسمان پر اُٹھا لیا بھلا اس کارروائی سے حاصل کیا ہوا اور اس سے کونسا الزام یہودیوں پر آیا اور آسمان پر مع جسم کیوں پہنچایا گیا۔ کس ضرورت نے حکیم مطلق سے یہ فعل کرایا؟ اگر قتل سے بچانا تھا تو خدا تعالیٰ زمین پر بھی بچا سکتا تھا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو غارِ ثور میں کفار کے قتل سے بچالیا۔ اب اگر آہستگی اور تحمل سے سنو تو ہم بتلاتے ہیں کہ اس تمام جھگڑے کی اصلیت کیا ہے؟ بزرگو! خدا تم پر رحم کرے۔ یہودیوں اور عیسائیوں کی کتابوں کو غور سے دیکھنے اور اُن کے تاریخی واقعات پر نظر ڈالنے سے جو تواتر کے اعلیٰ درجہ پر پہنچے ہوئے ہیں جن سے کسی طرح انکار نہیں ہو سکتا یہ حال معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں اوائل حال میں تو بے شک یہودی ایک مسیح کے منتظر تھے تا وہ ان کو غیر قوموں کی حکومت سے نجات بخشے اور جیسا کہ ان کی کتابوں کی پیشگوئیوں کے ظاہر الفاظ سے سمجھا جاتا ہے داؤد کے تخت کو اپنی بادشاہی سے پھر قائم کرے چنانچہ اس انتظار کے زمانہ میں حضرت مسیح علیہ السلام نے دعویٰ کیا کہ وہ مسیح میں ہوں اور میں ہی داؤد کے تخت کو دوبارہ قائم کروں گا۔ سو یہودی اس کلمہ سے اوائل حال میں بہت خوش ہوئے اور صد ہا عوام الناس بادشاہت کی اُمید سے آپ کے معتقد ہو گئے اور بڑے بڑے تاجر اور رئیس بیعت میں داخل ہوئے لیکن کچھ تھوڑے دنوں کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ظاہر کر دیا کہ میری بادشاہت اس دنیا کی نہیں ہے اور میری بادشاہت آسمان کی ہے۔ تب اُن کی وہ سب اُمیدیں خاک میں مل گئیں اور ان کو یقین ہو گیا کہ یہ شخص دوبارہ تختِ داؤد کو قائم نہیں کرے گا بلکہ وہ کوئی اور ہوگا۔ پس اسی دن سے بغض اور کینہ ترقی ہونا شروع ہوا اور ایک جماعت کثیر مرتد ہوگئی پس ایک تو یہی وجہ یہودیوں کے ہاتھ میں تھی کہ یہ شخص نبیوں کی پیشگوئی کے موافق بادشاہ ہو کر نہیں آیا۔ پھر کتابوں پر غور کرنے سے ایک اور وجہ یہ بھی پیدا ہوئی کہ ملاکی نبی کی کتاب میں لکھا تھا کہ مسیح بادشاہ جس کی یہودیوں کو انتظار تھی وہ نہیں آئے گا جب تک ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں نہ آئے چنانچہ انہوں نے یہ عذر حضرت مسیح کے سامنے پیش بھی کیا لیکن آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اس جگہ ایلیا سے مراد مثیل ایلیا ہے یعنی یحیٰی۔ افسوس کہ اگر جیسا کہ اُن کی نسبت احیاءِ موتیٰ کا گمان باطل کیا جاتا ہے وہ حضرت ایلیا کو زندہ کر کے دکھلا دیتے تو اس قدر جھگڑا نہ پڑتا اور نص کے ظاہری الفاظ کے رو سے حجت پوری ہو جاتی۔ غرض یہودی اُن کے بادشاہ نہ ہونے کی وجہ سے اُن کی نسبت شک میں پڑ گئے تھے اور ملاکی نبی کی کتاب کے رو سے یہ دوسرا شک پیدا ہوا پھر کیا تھا سب کے سب تکفیر اور گالیوں پر آگئے اور یہودیوں کے علماء نے اُن کے لئے ایک کفر کا فتویٰ طیار کیا اور ملک کے تمام علماءِ کرام اور صوفیہ عظام نے اس فتوے پر اتفاق کر لیا اور مہریں لگا دیں مگر پھر بھی بعض عوام الناس میں سے جو تھوڑے ہی آدمی تھے حضرت مسیح کے ساتھ رہ گئے۔ اُن میں سے بھی یہودیوں نے ایک کو کچھ رشوت دے کر اپنی طرف پھیر لیا اور دن رات یہ مشورے ہونے لگے کہ توریت کے نصوصِ صریحہ سے اس شخص کو کافر ٹھہرانا چاہیے تا عوام بھی یکدفعہ بیزار ہو جائیں اور اس کے بعض نشانوں کو دیکھ کر دھوکا نہ کھاویں۔ چنانچہ یہ بات قرار پائی کہ کسی طرح اس کو صلیب دی جائے پھر کام بن جائے گا۔ کیونکہ توریت میں لکھا ہے کہ جو لکڑی پر لٹکایا جائے وہ لعنتی ہے یعنی وہ شیطان کی طرف جاتا ہے نہ خدا کی طرف۔ سو یہودی لوگ اس تدبیر میں لگے رہے اور جو شخص اس ملک کا حاکم قیصر روم کی طرف سے تھا اور بادشاہ کی طرح قائم مقام قیصر تھا اس کے حضور میں جھوٹی مخبریاں کرتے رہے کہ یہ شخص در پردہ گورنمنٹ کا بدخواہ ہے۔ آخر گورنمنٹ نے مذہبی فتنہ اندازی کے بہانہ سے پکڑ ہی لیا مگر چاہا کہ کچھ تنبیہ کر کے چھوڑ دیں مگر یہود صرف اس قدر پر کب راضی تھے۔ انہوں نے شور مچایا کہ اس نے سخت کفر بکا ہے قوم میں بلوا ہو جائے گا مفسدہ کا اندیشہ ہے اس کو ضرور صلیب ملنی چاہیے۔ سو رومی گورنمنٹ نے یہودیوں کے بلوہ سے اندیشہ کر کے اور کچھ مصلحت ملکی کو سوچ کر حضرت مسیح کو اُن کے حوالہ کر دیا کہ اپنے مذہب کے رو سے جو چاہو کرو اور پیلاطوس گورنر قیصر جس کے ہاتھ میں یہ سب کارروائی تھی اس کی بیوی کو خواب آئی کہ اگر یہ شخص مر گیا تو پھر اس میں تمہاری تباہی ہے۔ اِس لئے اس نے اندرونی طور پر پوشیدہ کوشش کر کے مسیح کو صلیبی موت سے بچالیا مگر یہود اپنی حماقت سے یہی سمجھتے رہے کہ مسیح صلیب پر مر گیا۔ حالانکہ حضرت مسیح خدا تعالیٰ کا حکم پا کر جیسا کہ کنز العمال کی حدیث میں ہے اس ملک سے نکل گئے اور وہ تاریخی ثبوت جو ہمیں ملے ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ نصیبین سے ہوتے ہوئے پشاور کی راہ سے پنجاب میں پہنچے اور چونکہ سرد ملک کے باشندے تھے اس لئے اس ملک کی شدت گرمی کا تحمل نہ کر سکے لہٰذا کشمیر میں پہنچ گئے اور سری نگر کو اپنے وجود باجود سے شرف بخشا اور کیا تعجب کہ انہی کے زمانہ میں یہ شہر آباد بھی ہوا ہو۔ بہر حال سری نگر کی زمین مسیح کے قدم رکھنے کی جگہ ہے۔ غرض حضرت مسیح تو سیاحت کرتے کرتے کشمیر پہنچ گئے لیکن یہودی اسی زعم باطل میں گرفتار رہے کہ گویا حضرت مسیح بذریعہ صلیب قتل کئے گئے کیونکہ جس طرز سے حضرت مسیح صلیب سے بچائے گئے تھے اور پھر مرہم عیسیٰ سے زخم اچھے کئے گئے تھے اور پھر پوشیدہ طور پر سفر کیا گیا تھا یہ تمام امور یہودیوں کی نظر سے پوشیدہ تھے۔ ہاں حواریوں کو اس راز کی خبر تھی اور گلیل کی راہ میں حواری حضرت مسیح سے ایک گاؤں میں اکٹھے ہی رات رہے تھے اور مچھلی بھی کھائی تھی با ایں ہمہ جیسا کہ انجیل سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے حواریوں کو حضرت مسیح نے تاکید سے منع کر دیا تھا کہ میرے اس سفر کا حال کسی کے پاس مت کہو سو حضرت مسیح کی یہی وصیت تھی کہ اس راز کو پوشیدہ رکھنا اور کیا مجال تھی کہ وہ اس خبر کو افشا کر کے نبی کے راز اور امانت میں خیانت کرتے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حضرت مسیح کا نام سیاحت کرنے والا نبی رکھا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ حضرت مسیح نے اکثر حصہ دنیا کا سیر کیا ہے اور یہ حدیث کتاب کنز العمال میں موجود ہے اور اسی بنا پر لغت عرب کی کتابوں میں مسیح کی وجہ تسمیہ بہت سیاحت کرنے والا بھی لکھا ہے۔ غرض یہ قولِ نبوی کہ مسیح سیاح نبی ہے تمام سر بستہ راز کی کُنجی تھی اور اسی ایک لفظ سے آسمان پر جانا اور اب تک زندہ ہونا سب باطل ہوتا تھا مگر اس پر غور نہیں کی گئی۔ اور اس بات پر غور کرنے سے واضح ہوگا کہ جبکہ عیسیٰ مسیح نے زمانہ نبوت میں یہودیوں کے ملک سے ہجرت کر کے ایک زمانہ دراز اپنی عمر کا سیاحت میں گزارا تو آسمان پر کس زمانہ میں اُٹھائے گئے اور پھر اتنی مدت کے بعد ضرورت کیا پیش آئی تھی؟ عجیب بات ہے یہ لوگ کیسے بیچ میں پھنس گئے ایک طرف یہ اعتقاد ہے کہ صلیبی فتنہ کے وقت کوئی اور شخص سولی مل گیا اور حضرت مسیح بلا توقف دوسرے آسمان پر جا بیٹھے اور دوسری طرف یہ اعتقاد بھی رکھتے ہیں کہ صلیبی حادثہ کے بعد وہ اسی دنیا میں سیاحت کرتے رہے اور بہت سا حصہ عمر کا سیاحت میں گزارا۔ عجب اندھیر ہے کوئی سوچتا نہیں کہ پیلاطوس کے ملک میں رہنے کا زمانہ تو بالا تفاق ساڑھے تین برس تھا۔ اور دور دراز ملکوں کے یہودیوں کو بھی دعوت کرنا مسیح کا ایک فرض تھا۔ پھر وہ اس فرض کو چھوڑ کر آسمان پر کیوں چلے گئے کیوں ہجرت کر کے بطور سیاحت اس فرض کو پورا نہ کیا؟ عجیب تر امر یہ ہے کہ حدیثوں میں جو کنز العمال میں ہیں اسی بات کی تصریح موجود ہے کہ یہ سیر و سیاحت اکثر ملکوں کا حضرت مسیح نے صلیبی فتنہ کے بعد ہی کیا ہے اور یہی معقول بھی ہے کیونکہ ہجرت انبیاء علیہم السلام میں سنت الہی یہی ہے کہ وہ جب تک نکالے نہ جائیں ہر گز نہیں نکلتے اور بالاتفاق مانا گیا ہے کہ نکالنے یا قتل کرنے کا وقت صرف فتنہ صلیب کا وقت تھا۔ غرض یہودیوں نے بوجہ صلیبی موت کے جو اُن کے خیال میں تھی حضرت مسیح کی نسبت یہ نتیجہ نکالا کہ وہ نعوذ باللہ ملعون ہو کر شیطان کی طرف گئے نہ خدا کی طرف۔ اور اُن کا رفع خدا کی طرف نہیں ہوا بلکہ شیطان کی طرف ہبوط ہوا کیونکہ شریعت نے دو طرفوں کو مانا ہے۔ ایک خدا کی طرف اور وہ اونچی ہے جس کا مقام انتہائے عرش ہے اور دوسری شیطان کی اور وہ بہت نیچی ہے اور اس کا انتہا زمین کا پاتال ہے۔ غرض یہ تینوں شریعتوں کا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ مومن مر کر خدا کی طرف جاتا ہے۔ اور اُس کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں جیسا کہ آیت ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِاس کی شاہد ہے اور کافر نیچے کی طرف جو شیطان کی طرف ہے جاتا ہے جیسا کہ آیت لَا تُفَتَّحُ لَہُمۡ اَبۡوَابُ السَّمَآءِ(الاعراف: ۴۱)اس کی گواہ ہے۔ خدا کی طرف جانے کا نام رفع ہے اور شیطان کی طرف جانے کا نام لعنت۔ ان دونوں لفظوں میں تقابل اضداد ہے۔ نادان لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھے۔ یہ بھی نہیں سوچا کہ اگر رفع کے معنے مع جسم اٹھانا ہے تو اس کے مقابل کا لفظ کیا ہوا جیسا کہ رفع روحانی کے مقابل پر لعنت ہے۔ یہود نے خوب سمجھا تھا مگر بوجہ صلیب حضرت مسیح کے ملعون ہونے کے قائل ہو گئے اور نصاریٰ نے بھی لعنت کو مان لیا مگر یہ تاویل کی کہ ہمارے گناہوں کے لئے مسیح پر لعنت پڑی اور معلوم ہوتا ہے کہ نصاریٰ نے لعنت کے مفہوم پر توجہ نہیں کی کہ کیسا نا پاک مفہوم ہے جو رفع کے مقابل پر پڑا ہے جس سے انسان کی روح پلید ہو کر شیطان کی طرف جاتی ہے اور خدا کی طرف نہیں جا سکتی۔ اِسی غلطی سے انہوں نے اس بات کو قبول کر لیا کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت ہو گئے ہیں اور کفارہ کے پہلو کو اپنی طرف سے تراش کر یہ پہلو اُن کی نظر سے چھپ گیا کہ یہ بات بالکل غیر ممکن ہے کہ نبی کا دل ملعون ہو کر خدا کو رڈ کر دے اور شیطان کو اختیار کرے مگر حواریوں کے وقت میں یہ غلطی نہیں ہوئی بلکہ اُن کے بعد عیسائیت کے بگڑنے کی یہ پہلی اینٹ تھی۔ اور چونکہ حواریوں کو تاکیداً یہ وصیت کی گئی تھی کہ میرے سفر کا حال ہرگز بیان مت کرو اس لئے وہ اصل حقیقت کو ظاہر نہ کر سکے اور ممکن ہے کہ توریہ کے طور پر انہوں نے یہ بھی کہہ دیا ہو کہ وہ تو آسمان پر چلے گئے تا یہودیوں کا خیال دوسری طرف پھیر دیں۔ غرض انہی وجوہ سے حواریوں کے بعد نصاریٰ صلیبی اعتقاد سے سخت غلطی میں مبتلا ہو گئے مگر ایک گروہ اُن میں سے اِس بات کا مخالف بھی رہا اور قرائن سے انہوں نے معلوم کر لیا کہ مسیح کسی اور ملک میں چلا گیا صلیب پر نہیں مرا اور نہ آسمان پر گیا۔ بہر حال جبکہ یہ مسئلہ نصاریٰ پر مشتبہ ہو گیا اور یہودیوں نے صلیبی موت کی عام شہرت دے دی تو عیسائیوں کو چونکہ اصل حقیقت سے بے خبر تھے وہ بھی اس اعتقاد میں یہودیوں کے پیرو ہو گئے مگر قدر قلیل، اِس لئے اُن کا بھی یہی عقیدہ ہو گیا کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت ہو گئے تھے اور اس عقیدہ کی حمایت میں بعض فقرے انجیلوں میں بڑھائے گئے جن کی وجہ سے انجیلوں کے بیانات میں باہم تناقض پیدا ہو گیا چنانچہ انجیلوں کے بعض فقروں سے تو صاف سمجھا جاتا ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا اور بعض میں لکھا ہے کہ مر گیا۔ اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ مرنے کے یہ فقرے پیچھے سے ملا دیئے گئے ہیں۔ اب قصّہ کوتاہ یہ کہ یہودیوں نے صلیب کی وجہ سے اس بات پر اصرار شروع کیا کہ عیسیٰ ابن مریم ایماندار اور صادق آدمی نہیں تھا اور نہ نبی تھا اور نہ ایمان داروں کی طرح اس کا خدا کی طرف رفع ہوا بلکہ شیطان کی طرف گیا اور اس پر یہ دلیل پیش کی کہ وہ صلیبی موت سے مرا ہے اس لئے ملعون ہے یعنی اس کا رفع نہیں ہوا۔ اِس کے بعد رفتہ رفتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ آگیا اور چھ سو برس اِس قصہ کو گزر گیا اور چونکہ عیسائیوں میں علم نہیں تھا اور کفارہ کا ایک منصوبہ بنانے کا شوق بھی اُن کو محرک ہوا لہذا وہ بھی لعنت اور عدم رفع کے قائل ہو گئے اور خیال نہ کیا کہ لعنت کے مفہوم کو یہ بات لازمی ہے کہ انسان خدا کی درگاہ سے بالکل راندہ ہو جائے اور پلید دل ہو کر شیطان کی طرف چلا جائے اور محبت اور وفا کے تمام تعلق ٹوٹ جائیں اور دل پلید اور سیاہ اور خدا کا دشمن ہو جائے جیسا کہ شیطان کا دل ہے۔ اسی لئے لعین شیطان کا نام ہے۔ پھر کیونکر ممکن ہے کہ خدا کا ایسا مقبول بندہ جیسا کہ مسیح ہے اُس کا دل لعنت کی کیفیت کے نیچے آسکے اور نعوذ باللہ شیطانی مناسبت سے شیطان کی طرف کھینچا جائے۔ غرض یہ دونوں قومیں بھول گئیں۔ یہودیوں نے ایک پاک نبی کو ملعون کہہ کر خدا کے غضب کی راہ اختیار کی اور عیسائیوں نے اپنے پاک نبی اور مرشد اور ہادی کے دل کو بوجہ لعنت کے مفہوم کے ناپاک اور خدا سے پھرا ہوا قرار دے کر ضلالت کی راہ اختیار کی اس لئے ضروری ہوا کہ قرآن بحیثیت حَکَم ہونے کے اس امر کا فیصلہ کرے۔ پس یہ آیات بطور فیصلہ ہیں کہ وَمَا قَتَلُوۡہُ وَمَا صَلَبُوۡہُ وَلٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ(النساء: ۱۵۸)۔ بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ(النساء: ۱۵۹)۔ یعنی یہ سرے سے بات غلط ہے کہ یہودیوں نے بذریعہ صلیب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا ہے اس لئے اس کا نتیجہ بھی غلط ہے کہ حضرت مسیح کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوا اور نعوذ باللہ شیطان کی طرف گیا ہے بلکہ خدا نے اپنی طرف اُس کا رفع کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہود اور نصاریٰ میں رفع جسمانی کا کوئی جھگڑا نہ تھا اور نہ یہود کا یہ اعتقاد تھا کہ جس کا رفع جسمانی نہ ہو وہ مومن نہیں ہوتا اور ملعون ہوتا ہے اور خدا کی طرف نہیں جاتا بلکہ شیطان کی طرف جاتا ہے۔ خود یہود قائل ہیں کہ حضرت موسیٰ کا رفع جسمانی نہیں ہوا حالانکہ وہ حضرت موسیٰ کو تمام اسرائیلی نبیوں سے افضل اور صاحب الشریعت سمجھتے ہیں اب تک یہود زندہ موجود ہیں اُن کو پوچھ کر دیکھ لو کہ انہوں نے حضرت مسیح کے مصلوب ہونے سے کیا نتیجہ نکالا تھا؟ کیا یہ کہ اُن کا رفع جسمانی نہیں ہوا یا یہ کہ اُن کا رفع روحانی نہیں ہوا اور وہ نعوذ باللہ اوپر کو خدا کی طرف نہیں گئے بلکہ نیچے کو شیطان کی طرف گئے۔ بڑی حماقت انسان کی یہ ہے کہ وہ ایسی بحث شروع کر دے جس کو اصل تنازع سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ بمبئی کلکتہ میں صدہا یہودی رہتے ہیں بعض اہل علم اور اپنے مذہب کے فاضل ہیں اُن سے بذریعہ خط دریافت کر کے پوچھ لو کہ انہوں نے حضرت مسیح پر کیا الزام لگایا تھا اور صلیبی موت کا کیا نتیجہ نکالا تھا کیا عدم رفع جسمانی یا عدم رفع روحانی۔ غرض حضرت مسیح کے رفع کا مسئلہ بھی قرآن شریف میں بے فائدہ اور بغیر کسی محرک کے بیان نہیں کیا گیا بلکہ اِس میں یہود کے اُن خیالات کا ذَبّ اور دفع مقصود ہے جن میں وہ حضرت مسیح کے رفع روحانی کے منکر ہیں۔ بھلا اگر تنزل کے طور پر ہم مان بھی لیں کہ یہ لغو حرکت نعوذ باللہ خدا تعالیٰ نے اپنے لئے پسند کی کہ مسیح کو مع جسم اپنی طرف کھینچ لیا اور اپنے نفس پر جسم اور جسمانی ہونے کا اعتراض بھی وارد کر لیا کیونکہ جسم جسم کی طرف کھینچا جاتا ہے پھر بھی طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چونکہ قرآن شریف یہود اور نصاریٰ کی غلطیوں کی اصلاح کرنے آیا ہے اور یہود نے یہ ایک بڑی غلطی اختیار کی تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نعوذ باللہ ملعون قرار دیا اور اُن کے روحانی رفع سے انکار کیا۔ اور یہ ظاہر کیا کہ وہ مر کر خدا کی طرف نہیں گیا ہے بلکہ شیطان کی طرف گیا تو اس الزام کا دَفع اور ذَبّ قرآن میں کہاں ہے جو اصل منصب قرآن کا تھا کیونکہ جس حالت میں آیت وَرَافِعُکَ اِلَیَّاور آیت بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ(النساء: ۱۵۹) جسمانی رفع کے لئے خاص ہو گئیں تو روحانی رفع کا بیان کسی اور آیت میں ہونا چاہیے اور یہود اور نصاریٰ کی غلطی دور کرنے کے لئے کہ جو عقیدہ لعنت کے متعلق ہے ایسی آیت کی ضرورت ہے کیونکہ جسمانی رفع لعنت کے مقابل پر نہیں بلکہ جیسا کہ لعنت بھی ایک روحانی امر ہے ایسا ہی رفع بھی ایک امر روحانی ہونا چاہیے۔ پس وہی مقصود بالذات امر تھا۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ جو امر تصفیہ کے متعلق تھا وہ اعتراض تو بدستور گلے پڑا رہا اور خدا نے خواہ نخواہ ایک غیر متعلق بات جو یہود کے عقیدہ اور باطل استنباط سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتی یعنی رفع جسمانی اس کا قصہ بار بار قرآن شریف میں لکھ مارا۔ گویا سوال دیگر اور جواب دگر۔ ظاہر ہے کہ رفع جسمانی یہود اور نصاریٰ اور اہل اسلام تینوں فرقوں کے عقائد کے رو سے مدار نجات نہیں بلکہ کچھ بھی نجات اِس پر موقوف نہیں تو پھر کیوں خدا نے اس کو بار بار ذکر کرنا شروع کر دیا۔ یہود کا یہ کب مذہب ہے کہ بغیر جسمانی رفع کے نجات نہیں ہو سکتی اور نہ سچا نبی ٹھہر سکتا ہے پھر اس لغو ذکر سے فائدہ کیا ہوا؟ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جو تصفیہ کے لائق امر تھا جس کے عدم تصفیہ سے ایک سچا نبی جھوٹا ٹھہرتا ہے بلکہ نعوذ باللہ کافر بنتا ہے اور لعنتی کہلاتا ہے اس کا تو قرآن نے کچھ ذکر نہ کیا اور ایک بے ہودہ قصہ رفع جسمانی کا جس سے کچھ بھی فائدہ نہیں شروع کر دیا۔ غرض حضرت مسیح کی موت اور رفع جسمانی پر یہ دلائل ہیں جو ہم نے بہت بسط سے اپنی کتابوں میں بیان کئے ہیں اور اب تک ہمارے مخالف عدم جواب کی وجہ سے ہمارے مدیون ہیں۔ پھر اس میں اب ہم پیر مہر علی شاہ یا کسی اور پیر صاحب یا مولوی صاحب سے کیا بحث کریں۔ ہم تو باطل کو ذبح کر چکے اب ذبح کے بعد کیوں اپنے ذبیحہ پر بے فائدہ چھری پھیریں۔ اے حضرات! ان اُمور میں اب بحثوں کا وقت نہیں۔ اب تو ہمارے مخالفوں کے لئے ڈرنے اور توبہ کرنے کا وقت ہے کیونکہ جہاں تک اس دنیا میں ثبوت ممکن ہے اور جہاں تک حقائق اور دعاوی کو ثابت کیا جاتا ہے اسی طرح ہم نے حضرت مسیح کی موت اور اُن کے رفع روحانی کو ثابت کر دیا ہے۔ فَمَاذَا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ۔

اب موتِ مسیح کے بعد دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ مسیح موعود کا اِسی اُمت میں سے آنا کن نصوصِ قرآنیہ اور حدیثیہ اور دیگر قرائن سے ثابت ہے۔ سو وہ دلائل ذیل میں بیان کئے جاتے ہیں۔ غور سے سنو شاید خدائے رحیم ہدایت کرے۔

منجملہ ان دلائل کے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں جو آنے والا مسیح جس کا اس اُمت کے لئے وعدہ دیا گیا ہے وہ اسی اُمت میں سے ایک شخص ہوگا بخاری اور مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں امامکم منکم اور امّکم منکم لکھا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ وہ تمہارا امام ہوگا اور تم ہی میں سے ہوگا۔ چونکہ یہ حدیث آنے والے عیسیٰ کی نسبت ہے اور اسی کی تعریف میں اِس حدیث میں حَکَم اور عدل کا لفظ بطور صفت موجود ہے جو اس فقرہ سے پہلے ہے اس لئے امام کا لفظ بھی اسی کے حق میں ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ اس جگہ منکم کے لفظ سے صحابہ کو خطاب کیا گیا ہے اور وہی مخاطب تھے لیکن ظاہر ہے کہ اُن میں سے تو کسی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اس لئے منکم کے لفظ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو خدا تعالیٰ کے علم میں قائم مقام صحابہ ہے اور وہ وہی ہے جس کو اس آیت مفصلہ ذیل میں قائم مقام صحابہ کیا گیا ہے یعنی یہ کہ وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ کیونکہ اس آیت نے ظاہر کیا ہے کہ وہ رسول کریم کی روحانیت سے تربیت یافتہ ہے اور اسی معنے کے رو سے صحابہ میں داخل ہے اور اِس آیت کی تشریح میں یہ حدیث ہے لو کان الایمان معلقًا بالثریا لناله رجل من فارس اور چونکہ اس فارسی شخص کی طرف وہ صفت منسوب کی گئی ہے جو مسیح موعود اور مہدی سے مخصوص ہے یعنی زمین جو ایمان اور توحید سے خالی ہو کر ظلم سے بھر گئی ہے پھر اس کو عدل سے پُر کرنا۔ لہٰذا یہی شخص مہدی اور مسیح موعود ہے اور وہ میں ہوں اور جس طرح کسی دوسرے مدعی مہدویت کے وقت میں کسوف خسوف رمضان میں آسمان پر نہیں ہوا۔ ایسا ہی تیرہ سو برس کے عرصہ میں کسی نے خدا تعالیٰ کے الہام سے علم پا کر یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اس پیشگوئی لناله رجل من فارس کا مصداق میں ہوں اور پیشگوئی اپنے الفاظ سے بتلا رہی ہے کہ یہ شخص آخری زمانہ میں ہوگا جبکہ لوگوں کے ایمانوں میں بہت ضعف آجائے گا اور فارسی الاصل ہوگا اور اس کے ذریعہ سے زمین پر دوبارہ ایمان قائم کیا جائے گا اور ظاہر ہے کہ صلیبی زمانہ سے زیادہ تر ایمان کو صدمہ پہنچانے والا اور کوئی زمانہ نہیں۔ یہی زمانہ ہے جس میں کہہ سکتے ہیں کہ گویا ایمان زمین پر سے اُٹھ گیا جیسا کہ اس وقت لوگوں کی عملی حالتیں اور انقلاب عظیم جو بدی کی طرف ہوا ہے اور قیامت کی علاماتِ صغریٰ جو مدت سے ظہور میں آچکی ہیں صاف بتلا رہی ہیں اور نیز آیت وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ میں اشارہ پایا جاتا ہے کہ جیسے صحابہ کے زمانہ میں زمین پر شرک پھیلا ہوا تھا ایسا ہی اُس زمانہ میں بھی ہوگا اور اس میں کچھ شک نہیں کہ اس حدیث اور اس آیت کو باہم ملانے سے یقینی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ پیشگوئی مہدی آخر الزمان اور مسیح آخر الزمان کی نسبت ہے کیونکہ مہدی کی تعریف میں یہ لکھا ہے کہ وہ زمین کو عدل سے بھر دے گا جیسا کہ وہ ظلم اور جور سے بھری ہوئی تھی اور مسیح آخر الزمان کی نسبت لکھا ہے کہ وہ دوبارہ ایمان اور امن کو دنیا میں قائم کر دے گا اور شرک کو محو کرے گا اور ملل باطلہ کو ہلاک کر دے گا۔ پس اِن حدیثوں کا مآل بھی یہی ہے کہ مہدی اور مسیح کے زمانہ میں وہ ایمان جو زمین پر سے اُٹھ گیا اور ثریا تک پہنچ گیا تھا پھر دوبارہ قائم کیا جائے گا اور ضرور ہے کہ اوّل زمین ظلم سے پُر ہو جائے اور ایمان اُٹھ جائے کیونکہ جبکہ لکھا ہے کہ تمام زمین ظلم سے بھر جائے گی تو ظاہر ہے کہ ظلم اور ایمان ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے ناچار ایمان اپنے اصلی مقر کی طرف جو آسمان ہے چلا جائے گا۔ غرض تمام زمین کا ظلم سے بھرنا اور ایمان کا زمین پر سے اُٹھ جانا اس قسم کی مصیبتوں کا زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے بعد ایک ہی زمانہ ہے جس کو مسیح کا زمانہ یا مہدی کا زمانہ کہتے ہیں اور احادیث نے اس زمانہ کو تین پیرایوں میں بیان کیا ہے رجل فارسی کا زمانہ۔ مہدی کا زمانہ۔ مسیح کا زمانہ۔ اور اکثر لوگوں نے قلت تدبر سے ان تین ناموں کی وجہ سے تین علیحدہ علیحدہ شخص سمجھ لئے ہیں اور تین قومیں اُن کے لئے مقرر کی ہیں۔ ایک فارسیوں کی قوم۔ دوسری بنی اسرائیل کی قوم، تیسری بنی فاطمہ کی قوم۔ مگر یہ تمام غلطیاں ہیں۔ حقیقت میں یہ تینوں ایک ہی شخص ہے جو تھوڑے تھوڑے تعلق کی وجہ سے کسی قوم کی طرف منسوب کر دیا گیا ہے۔ مثلاً ایک حدیث سے جو کنز العمال میں موجود ہے سمجھا جاتا ہے کہ اہل فارس یعنی بنی فارس بنی اسحاق میں سے ہیں۔ پس اس طرح پر وہ آنے والا مسیح اسرائیلی ہوا اور بنی فاطمہ کے ساتھ امہاتی تعلق رکھنے کی وجہ سے جیسا کہ مجھے حاصل ہے فاطمی بھی ہوا پس گویا وہ نصف اسرائیلی ہوا اور نصف فاطمی ہوا جیسا کہ حدیثوں میں آیا ہے۔ ہاں میرے پاس فارسی ہونے کے لئے بجز الہام الٰہی کے اور کچھ ثبوت نہیں لیکن یہ الہام اس زمانہ کا ہے کہ جب اس دعوے کا نام و نشان بھی نہیں تھا یعنی آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں لکھا گیا ہے اور وہ یہ ہے خذوا التوحید التوحید یا ابناء الفارس یعنی توحید کو پکڑو توحید کو پکڑو اے فارس کے بیٹو! اور پھر دوسری جگہ یہ الہام ہے۔ ان الذین صدّوا عن سبیل اللہ ردّ علیہم رجل من فارس شکر اللہ سعیہ۔ یعنی جو لوگ خدا کی راہ سے روکتے تھے ایک شخص فارسی اصل نے اُن کا ردّ لکھا۔ خدا نے اُس کی کوشش کا شکریہ کیا۔ ایسا ہی ایک اور جگہ براہین احمدیہ میں یہ الہام ہے لو کان الایمان معلقًا بالثریّا لناله رجل من فارس یعنی اگر ایمان ثریا پر اٹھایا جاتا اور زمین سراسر بے ایمانی سے بھر جاتی تب بھی یہ آدمی جو فارسی الاصل ہے اس کو آسمان پر سے لے آتا۔ اور بنی فاطمہ ہونے میں یہ الہام ہے۔ الحمد للہ الذی جعل لکم الصهر والنسب۔ اشکر نعمتی رئیت خدیجتی یعنی تمام حمد اور تعریف اُس خدا کے لئے جس نے تمہیں فخر دامادی سادات اور فخر علو نسب جو دونوں مماثل و مشابہ ہیں عطا فرمایا یعنی تمہیں سادات کا داماد ہونے کی فضیلت عطا کی اور نیز بنی فاطمہ اُمہات میں سے پیدا کر کے تمہارے نسب کو عزت بخشی اور میری نعمت کا شکر کر کہ تو نے میری خدیجہ کو پایا یعنی بنی اسحاق کی وجہ سے ایک تو آبائی عزت تھی اور دوسری بنی فاطمہ ہونے کی عزت اس کے ساتھ ملحق ہوئی اور سادات کی دامادی کی طرف اس عاجز کی بیوی کی طرف اشارہ ہے جو سیّدہ سندی سادات دہلی میں سے ہیں میر درد کے خاندان سے تعلق رکھنے والے۔ اسی فاطمی تعلق کی طرف اس کشف میں اشارہ ہے جو آج سے تیس برس پہلے براہین احمدیہ میں شائع کیا گیا جس میں دیکھا تھا کہ حضرات پنج تن سید الکونین حسنین فاطمۃ الزہراء اور علی رضی اللہ عنہ عین بیداری میں آئے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کمال محبت اور مادرانہ عطوفت کے رنگ میں اس خاکسار کا سر اپنی ران پر رکھ لیا اور عالم خاموشی میں ایک غمگین صورت بنا کر بیٹھے رہے۔ اُسی روز سے مجھ کو اس خونی آمیزش کے تعلق پر یقین کلّی ہوا۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک۔

غرض میرے وجود میں ایک حصہ اسرائیلی ہے اور ایک حصہ فاطمی۔ اور میں دونوں مبارک پیوندوں سے مرکب ہوں اور احادیث اور آثار کو دیکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ آنے والے مہدی آخر الزمان کی نسبت یہی لکھا ہے کہ وہ مرکب الوجود ہوگا۔ ایک حصہ بدن کا اسرائیلی اور ایک حصہ محمدی کیونکہ خدا تعالیٰ نے چاہا کہ جیسا کہ آنے والے مسیح کے منصبی کاموں میں بیرونی اور اندرونی اصلاح کی ترکیب ہے یعنی یہ کہ وہ کچھ مسیحی رنگ میں ہے اور کچھ محمدی رنگ میں کام کرے گا ایسا ہی اس کی سرشت میں بھی ترکیب ہے۔ غرض اس حدیث امامکم منکم سے ثابت ہے کہ آنے والا مسیح ہرگز اسرائیلی نبی نہیں ہے بلکہ اسی امت میں سے ہے جیسا کہ ظاہر نص یعنی امامکم منکم اسی پر دلالت کرتا ہے اور اس تکلف اور تاویل کے لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آ کر اُمتی بن جائیں گے اور نبی نہیں رہیں گے کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔ اور عبارت کا حق ہے کہ قبل وجود قرینہ اس کو ظاہر پر حمل کیا جائے ورنہ یہودیوں کی طرح ایک تحریف ہوگی۔ غرض یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰ بنی اسرائیلی دنیا میں آ کر مسلمانوں کا جامہ پہن لے گا اور امتی کہلائے گا یہ ایک غیر معقول تاویل ہے جو قوی دلائل چاہتی ہے۔ تمام نصوص حدیثیہ اور قرآنیہ کا یہ حق ہے کہ اُن کے معنے ظاہر عبارت کے رو سے کئے جائیں اور ظاہر پر حکم کیا جائے جب تک کہ کوئی قرینہ صارفہ پیدا نہ ہو اور بغیر قرینہ قویہ صارفہ ہرگز خلاف ظاہر معنے نہ کئے جائیں اور امامکم منکم کے ظاہری معنی یہی ہیں جو وہ امام اسی امت محمدیہ میں پیدا ہوگا۔

اب اس کے برخلاف اگر یہ دعویٰ کیا جائے کہ حضرت عیسیٰ بنی اسرائیلی جس پر انجیل نازل ہوئی تھی وہی دنیا میں دوبارہ آ کر امتی بن جائیں گے تو یہ ایک نیا دعویٰ ہے جو ظاہر نص کے برخلاف ہے اس لئے قوی ثبوت کو چاہتا ہے کیونکہ دعویٰ بغیر دلیل کے قابل پذیرائی نہیں اور ایک دوسرا قرینہ اس پر یہ ہے کہ صحیح بخاری میں جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہلاتی ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ سرخ رنگ لکھا ہے جیسا کہ عام طور پر شامی لوگوں کا ہوتا ہے ایسا ہی اُن کے بال بھی خمدار لکھے ہیں مگر آنے والے مسیح کا رنگ ہر ایک حدیث میں گندم گوں لکھا ہے اور بال سیدھے لکھے ہیں اور تمام کتاب میں یہی التزام کیا ہے کہ جہاں کہیں حضرت عیسیٰ نبی علیہ السلام کے حلیہ لکھنے کا اتفاق ہوا ہے تو ضرور بالالتزام اُس کو احمر یعنی سرخ رنگ لکھا ہے اور اس احمر کے لفظ کو کسی جگہ چھوڑا نہیں۔ اور جہاں کہیں آنے والے مسیح کا حلیہ لکھنا پڑا ہے تو ہر ایک جگہ بالالتزام اس کو آدم یعنی گندم گوں لکھا ہے یعنی امام بخاری نے جو لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لکھے ہیں جس میں ان دونوں مسیحوں کا ذکر ہے وہ ہمیشہ اس قاعدہ پر قائم رہے ہیں جو حضرت عیسیٰ بنی اسرائیلی کے لئے احمر کا لفظ اختیار کیا ہے اور آنے والے مسیح کی نسبت آدم یعنی گندم گوں کا لفظ اختیار کیا ہے۔ پس اس التزام سے جس کو کسی جگہ صحیح بخاری کی حدیثوں میں ترک نہیں کیا گیا بجز اس کے کیا نتیجہ نکل سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک عیسیٰ ابن مریم بنی اسرائیلی اور تھا۔ اور آنے والا مسیح جو اسی امت میں سے ہوگا اور ہے ورنہ اس بات کا کیا جواب ہے کہ تفریق حُلیتین کا پورا التزام کیوں کیا گیا۔ ہم اس بات کے ذمہ وار نہیں ہیں اگر کسی اور محدث نے اپنی ناواقفی کی وجہ سے احمر کی جگہ آدم اور آدم کی جگہ احمر لکھ دیا ہو مگر امام بخاری جو حافظ حدیث اور اول درجہ کا نقاد ہے اُس نے اس بارے میں کوئی ایسی حدیث نہیں لی جس میں مسیح بنی اسرائیلی کو آدم لکھا گیا ہو یا آنے والے مسیح کو احمر لکھا گیا ہو بلکہ امام بخاری نے نقل حدیث کے وقت اِس شرط کو عمداً لیا ہے اور برابر اوّل سے آخر تک اس کو ملحوظ رکھا ہے۔ پس جو حدیث امام بخاری کی شرط کے مخالف ہو وہ قبول کے لائق نہیں۔

اور منجملہ ان دلائل کے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا قرآن شریف کی یہ آیت ہے۔ کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ۔ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ تم بہترین امت ہو جو اس لئے نکالی گئی ہو کہ تا تم تمام دجالوں اور دجال معہود کا فتنہ فرو کر کے اور اُن کے شر کو دفع کر کے مخلوق خدا کو فائدہ پہنچاؤ۔ واضح رہے کہ قرآن شریف میں النّاس کا لفظ بمعنی دجال معہود بھی آتا ہے اور جس جگہ ان معنوں کو قرینہ قویہ متعین کرے تو پھر اور معنے کرنا معصیت ہے چنانچہ قرآن شریف کے ایک اور مقام میں الناس کے معنے دجال ہی لکھا ہے اور وہ یہ ہے۔ لَخَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اَکۡبَرُ مِنۡ خَلۡقِ النَّاسِ۔ یعنی جو کچھ آسمانوں اور زمین کی بناوٹ میں اسرار اور عجائبات پُر ہیں دجال معہود کی طبائع کی بناوٹ اس کے برابر نہیں یعنی گو وہ لوگ اسرار زمین و آسمان کے معلوم کرنے میں کتنی ہی جانکاہی کریں اور کیسی ہی طبعِ وقاد لاویں پھر بھی ان کی طبیعتیں ان اسرار کے انتہا تک پہنچ نہیں سکتیں۔ یاد رہے کہ اس جگہ بھی مفسرین نے الناس سے مراد دجال معہود ہی لیا ہے دیکھو تفسیر معالم وغیرہ اور قرینہ قویہ اِس پر یہ ہے کہ لکھا ہے کہ دجال معہود اپنی ایجادوں اور صنعتوں سے خدا تعالیٰ کے کاموں پر ہاتھ ڈالے گا اور اس طرح پر خدائی کا دعویٰ کرے گا اور اس بات کا سخت حریص ہوگا کہ خدائی باتیں جیسے بارش برسانا اور پھل لگانا اور انسان وغیرہ حیوانات کی نسل جاری رکھنا اور سفر اور حضر اور صحت کے سامان فوق العادت طور پر انسان کے لئے مہیا کرنا ان تمام باتوں میں قادرِ مطلق کی طرح کارروائیا کرے اور سب کچھ اس کے قبضۂ قدرت میں ہو جائے اور کوئی بات اس کے آگے انہونی نہ رہے اور اسی کی طرف اِس آیت میں اشارہ ہے اور خلاصہ مطلب آیت یہ ہے کہ زمین آسمان میں جس قدر اسرار رکھے گئے ہیں جن کو دجال بذریعہ علم طبعی اپنی قدرت میں کرنا چاہتا ہے وہ اسرار اُس کے اندازۂ جودت طبع اور مبلغ علم سے بڑھ کر ہیں اور جیسا کہ آیت ممدوحہ میں النّاس کے لفظ سے دجال مراد ہے۔ ایسا ہی آیت اخرجت للنّاس میں بھی الناس کے لفظ سے دجال ہی مراد ہے۔ کیونکہ تقابل کے قرینہ سے اس آیت کے یہ معنے معلوم ہوتے ہیں کہ کنتم خیر الناس اخرجت لشرّ الناس۔ اور شرّ الناس سے بلاشبہ گروہ دجال مراد ہے کیونکہ حدیث نبوی سے ثابت ہے کہ آدم سے قیامت تک شرانگیزی میں دجال کی مانند نہ کوئی ہوا اور نہ ہوگا اور یہ ایک ایسی محکم اور قطعی دلیل ہے کہ جس کے دونوں حصے یقینی اور قطعی اور عقائدِ مسلمہ میں سے ہیں یعنی جیسا کہ کسی مسلمان کو اس بات سے انکار نہیں کہ یہ اُمت خیر الامم ہے اسی طرح اس بات سے بھی انکار نہیں کہ گروہ دجال شرّ الناس ہے اور اس تقسیم پر یہ دو آیتیں بھی دلالت کرتی ہیں جو سورۃ لم یکن میں ہیں اور وہ یہ ہیں اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ وَالۡمُشۡرِکِیۡنَ فِیۡ نَارِ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمۡ شَرُّ الۡبَرِیَّۃِ اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمۡ خَیۡرُ الۡبَرِیَّۃِ(البینۃ: ۷،۸) دیکھو اس آیت کے رو سے ایک ایسے گروہ کو شرّ البریہ کہا گیا ہے جس میں سے گروہ دجال ہے اور ایسے گروہ کو خیر البریہ کہا گیا ہے جو امت محمدیہ ہے۔ بہرحال آیت خیر امّۃٍ کا لفظ الناس کے ساتھ مقابلہ ہو کر قطعی طور پر ثابت ہو گیا کہ الناس سے مراد دجال ہے اور یہی ثابت کرنا تھا۔ اور اس مقصد پر ایک یہ بھی بزرگ قرینہ ہے کہ خدا کی عادت حکیمانہ یہی چاہتی ہے کہ جس نبی کے عہد نبوت میں دجال پیدا ہو۔ اُسی نبی کی امت کے بعض افراد اس فتنہ کے فرو کرنے والے ہوں نہ یہ کہ فتنہ تو پیدا ہووے عہدِ نبوتِ محمدیہ میں اور کوئی گذشتہ نبی اس کے فرو کرنے کے لئے نازل ہو اور یہی قدیم سے اور جب سے کہ شریعتوں کی بنیاد پڑی سنت اللہ ہے کہ جس کسی نبی کے عہد نبوت میں کوئی مفسد فرقہ پیدا ہوا اسی نبی کے بعض جلیل الشان وارثوں کو اس فساد کے فرو کرنے کے لئے حکم دیا گیا ہاں اگر یہ فتنہ دجال کا حضرت مسیح کے عہد نبوت میں ہوتا تو اُن کا حق تھا کہ خود وہ یا کوئی اُن کے حواریوں اور خلیفوں میں سے اس فتنہ کو فرو کرتا مگر یہ کیا اندھیر کی بات ہے کہ یہ اُمت کہلاوے تو خیر الامم مگر خدا تعالیٰ کی نظر میں اس قدر نالائق اور نکمی ہو کہ جب کسی فتنہ کے دور کرنے کا موقع آوے تو اس کے دور کرنے کے لئے کوئی شخص باہر سے مامور ہو اور اس اُمت میں کوئی اس لائق نہ ہو کہ اس فتنہ کو دور کر سکے گویا اس امت کی اس صورت میں وہ مثال ہوگی کہ مثلاً کوئی گورنمنٹ ایک نیا ملک فتح کرے جس کے باشندے جاہل اور نیم وحشی ہوں تو آخر اس گورنمنٹ کو مجبوری سے یہ کرنا پڑے کہ اس ملک کے مالی اور دیوانی اور فوجداری کے انتظام کے لئے باہر سے لائق آدمی طلب کر کے معزز عہدوں پر ممتاز کرے۔ سو ہرگز عقل سلیم قبول نہیں کر سکتی کہ جس امت کے ربانی علماء کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل یعنی میری امت کے علماء اسرائیلی پیغمبروں کی طرح ہیں اخیر پر ان کی یہ ذلت ظاہر کرے کہ دجال جو خدائے عظیم القدرت کی نظر میں کچھ بھی چیز نہیں اس کے فتنہ کے فرو کرنے کے لئے اُن میں مادہ لیاقت نہ پایا جائے۔ اس لئے ہم اسی طرح پر جیسا کہ آفتاب کو دیکھ کر پہچان لیتے ہیں کہ یہ آفتاب ہے اس آیت کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ(ال عمران: ۱۱۱) کو پہچانتے ہیں اور اس کے یہی معنے کرتے ہیں کہ کنتم خیر امۃٍ اخرجت لشر الناس الذی هو الدجال المعهود۔ یاد رہے کہ ہر ایک اُمت سے ایک خدمت دینی لی جاتی ہے اور ایک قسم کے دشمن کے ساتھ اس کا مقابلہ پڑتا ہے سو مقدر تھا کہ اس اُمت کا دجال کے ساتھ مقابلہ پڑے گا جیسا کہ حدیث نافع بن عتبہ سے مسلم میں صاف لکھا ہے کہ تم دجال کے ساتھ لڑو گے اور فتح پاؤ گے۔ اگرچہ صحابہ دجال کے ساتھ نہیں لڑے مگر حسب منطوق آخرین منهم مسیح موعود اور اس کے گروہ کو صحابہ قرار دیا۔ اب دیکھو اس حدیث میں بھی لڑنے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو جو امت ہیں قرار دیا۔ اور یہ نہ کہا کہ مسیح بنی اسرائیلی لڑے گا اور نزول کا لفظ محض اجلال اور اکرام کے لئے ہے۔ اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چونکہ اس پُر فساد زمانہ میں ایمان ثریا پر چلا جائے گا اور تمام پیری مریدی اور شاگردی استادی اور افادہ استفادہ معرضِ زوال میں آجائے گا اس لئے آسمان کا خدا ایک شخص کو اپنے ہاتھ سے تربیت دے کر بغیر توسط زمینی سلسلوں کے زمین پر بھیجے گا جیسے کہ بارش آسمان سے بغیر توسط انسانی ہاتھوں کے نازل ہوتی ہے۔

اور منجملہ دلائل قویہ قطعیہ کے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں جو مسیح موعود اسی اُمت محمدیہ میں سے ہوگا قرآن شریف کی یہ آیت ہے۔ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ الخ یعنی خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے جو ایماندار ہیں اور نیک کام کرتے ہیں وعدہ فرمایا ہے جو ان کو زمین پر انہی خلیفوں کی مانند جو اُن سے پہلے گذر چکے ہیں خلیفے مقرر فرمائے گا اِس آیت میں پہلے خلیفوں سے مراد حضرت موسیٰ کی امت میں سے خلیفے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی شریعت کو قائم کرنے کے لئے پے درپے بھیجا تھا اور خاص کر کسی صدی کو ایسے خلیفوں سے جو دین موسوی کے مجدد تھے خالی نہیں جانے دیا تھا اور قرآن شریف نے ایسے خلیفوں کا شمار کر کے ظاہر فرمایا ہے کہ وہ باراں ہیں اور تیرھواں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو موسوی شریعت کا مسیح موعود ہے۔ اور اس مماثلت کے لحاظ سے جو آیت ممدوحہ میں کمَا کے لفظ سے مستنبط ہوتی ہے ضروری تھا کہ محمدی خلیفوں کو موسوی خلیفوں سے مشابہت و مماثلت ہو۔ سو اسی مشابہت کے ثابت اور متحقق کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں بارہ موسوی خلیفوں کا ذکر فرمایا جن میں سے ہر ایک حضرت موسیٰ کی قوم میں سے تھا اور تیرھواں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا جو موسیٰ کی قوم کا خاتم الانبیاء تھا مگر درحقیقت موسیٰ کی قوم میں سے نہیں تھا اور پھر خدا نے محمدی سلسلہ کے خلیفوں کو موسوی سلسلہ کے خلیفوں سے مشابہت دے کر صاف طور پر سمجھا دیا کہ اس سلسلہ کے آخر میں بھی ایک مسیح ہے اور درمیان میں باراں خلیفے ہیں تا موسوی سلسلہ کے مقابل پر اس جگہ بھی چوداں کا عدد پورا ہو ایسا ہی سلسلہ محمدی خلافت کے مسیح موعود کو چودھویں صدی کے سر پر پیدا کیا کیونکہ موسوی سلسلہ کا مسیح موعود بھی ظاہر نہیں ہوا تھا جب تک کہ سن موسوی کے حساب سے چودھویں صدی نے ظہور نہیں کیا تھا ایسا کیا گیا تا دونوں مسیحوں کا مبدء سلسلہ سے فاصلہ باہم مشابہ ہو اور سلسلہ کے آخری خلیفہ مجدد کو چودھویں صدی کے سر پر ظاہر کرنا تکمیل نور کی طرف اشارہ ہے کیونکہ مسیح موعود اسلام کے قمر کا متمّم نور ہے اس لئے اس کی تجدید چاند کی چودھویں رات سے مشابہت رکھتی ہے اسی کی طرف اشارہ ہے اس آیت میں کہ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ کیونکہ اظہار تام اور اتمام نور ایک ہی چیز ہے۔ اور یہ قول کہ لیظہرۂ علی الادیان کل الاظہار مساوی اس قول سے ہے کہ لیتم نورہ کل الاتمام اور پھر دوسری آیت میں اس کی اور بھی تصریح ہے اور وہ یہ ہے۔ یُرِیۡدُوۡنَ لِیُطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰہِ بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوۡرِہٖ وَلَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ(الصّف: ۹) اس آیت میں تصریح سے سمجھایا گیا ہے کہ مسیح موعود چودھویں صدی میں پیدا ہوگا کیونکہ اتمام نور کے لئے چودھویں رات مقرر ہے۔ غرض جیسا کہ قرآن شریف میں حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ بن مریم کے درمیان باراں خلیفوں کا ذکر فرمایا گیا اور اُن کا عدد بارہ ظاہر کیا گیا اور یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ وہ تمام بارہ کے بارہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں سے تھے مگر تیرھواں خلیفہ جو اخیری خلیفہ ہے یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے باپ کے رو سے اس قوم میں سے نہیں تھا کیونکہ اس کا کوئی باپ نہ تھا جس کی وجہ سے وہ حضرت موسیٰ سے اپنی شاخ ملا سکتا۔ یہی تمام باتیں سلسلہ خلافت محمدیہ میں پائی جاتی ہیں یعنی حدیث متفق علیہ سے ثابت ہے کہ اس سلسلہ میں بھی درمیانی خلیفے باراں ہیں اور تیرھواں جو خاتم ولایت محمدیہ ہے وہ محمدی قوم میں سے نہیں ہے یعنی قریش میں سے نہیں اور یہی چاہیے تھا کہ باراں خلیفے تو حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم میں سے ہوتے اور آخری خلیفہ اپنے آباء واجداد کے رو سے اس قوم میں سے نہ ہوتا تا تحقق مشابہت اکمل اور اتم طور پر ہو جاتا۔ سو الحمد للہ والمنّۃ کہ ایسا ہی ظہور میں آیا کیونکہ بخاری اور مسلم میں یہ حدیث متفق علیہ ہے جو جابر بن سمرہ سے ہے اور وہ یہ ہے۔ لا یزال الاسلام عزیزًا الی اثنا عشر خلیفۃ کلهم من قریش یعنی بارہ خلیفوں کے ہوتے تک اسلام خوب قوت اور زور میں رہے گا مگر تیرھواں خلیفہ جو مسیح موعود ہے اُس وقت آئے گا جبکہ اسلام غلبۂ صلیب اور غلبہ دجالیت سے کمزور ہو جائے گا اور وہ بارہ خلیفے جو غلبۂ اسلام کے وقت آتے رہیں گے وہ سب کے سب قریش میں سے ہوں گے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم میں سے ہوں گے مگر مسیح موعود جو اسلام کے ضعف کے وقت آئے گا وہ قریش کی قوم میں سے نہیں ہوگا کیونکہ ضرور تھا کہ جیسا کہ موسوی سلسلہ کا خاتم الانبیاء اپنے باپ کے رو سے حضرت موسیٰ کی قوم میں سے نہیں ہے ایسا ہی محمدی سلسلہ کا خاتم الاولیاء قریش میں سے نہ ہوا اور اسی جگہ سے قطعی طور پر اس بات کا فیصلہ ہو گیا کہ اسلام کا مسیح موعود اِسی امت میں سے آنا چاہئے کیونکہ جبکہ نص قطعی قرآنی یعنی کَمَا کے لفظ سے ثابت ہو گیا کہ سلسلہ استخلاف محمدی کا سلسلہ استخلاف موسوی سے مماثلت رکھتا ہے جیسا کہ اُسی کَمَا کے لفظ سے ان دو نبیوں یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی مماثلت ثابت ہے جو آیت کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا(المزمل: ۱۶) سے سمجھی جاتی ہے تو یہ مماثلت اسی حالت میں قائم رہ سکتی ہے جبکہ محمدی سلسلہ کے آنے والے خلیفے گزشتہ خلیفوں کا عین نہ ہوں بلکہ غیر ہوں ۔ وجہ یہ کہ مشابہت اور مماثلت میں من وجہِ مغائرت ضروری ہے اور کوئی چیز اپنے نفس کے مشابہ نہیں کہلا سکتی ۔ پس اگر فرض کر لیں کہ آخری خلیفہ سلسلہ محمدیہ کا جو تقابل کے لحاظ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقابل پر واقع ہوا ہے جس کی نسبت یہ ماننا ضروری ہے کہ وہ اس اُمت کا خاتم الاولیاء ہے جیسا کہ سلسلہ موسویہ کے خلیفوں میں حضرت عیسیٰ خاتم الانبیاء ہے۔ اگر در حقیقت وہی عیسیٰ علیہ السلام ہے جو دوبارہ آنے والا ہے تو اس سے قرآن شریف کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ قرآن جیسا کہ کَمَا کے لفظ سے مستنبط ہوتا ہے دونوں سلسلوں کے تمام خلیفوں کو من وجہ مغائر قرار دیتا ہے اور یہ ایک نص قطعی ہے کہ اگر ایک دنیا اس کے مخالف اکٹھی ہو جائے تب بھی وہ اس نص واضح کو رد نہیں کر سکتی کیونکہ جب پہلے سلسلہ کا عین ہی نازل ہو گیا تو وہ مغائرت فوت ہو گئی اور لفظ کَمَا کا مفہوم باطل ہو گیا ۔ پس اس صورت میں تکذیب قرآن شریف لازم ہوئی ۔ وهٰذا باطل وكلّما يستلزم الباطل فهو باطل ۔ یاد رہے کہ قرآن شریف نے آیت کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ میں وہی کَمَا استعمال کیا ہے جو آیت کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا(المزمل: ۱۶) میں ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہو کر نہیں آئے بلکہ یہ خود موسیٰ بطور تناسخ آگیا ہے یا یہ دعویٰ کرے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعویٰ صحیح نہیں ہے کہ توریت کی اس پیشگوئی کا میں مصداق ہوں بلکہ اس پیشگوئی کے معنے یہ ہیں کہ خود موسیٰ ہی آجائے گا جو بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے ہے تو کیا اس فضول دعوے کا یہ جواب نہیں دیا جائے گا کہ قرآن شریف میں ہرگز بیان نہیں فرمایا گیا کہ خود موسیٰ آئے گا بلکہ کَمَا کے لفظ سے مثیل موسیٰ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ پس یہی جواب ہماری طرف سے ہے کہ اس جگہ بھی سلسلہ خلفاء محمدی کے لئے کَمَا کا لفظ موجود ہے۔

اور یہ نص قطعی کلام الٰہی کی آفتاب کی طرح چمک کر ہمیں بتلا رہی ہے کہ سلسلہ خلافت محمدی کے تمام خلیفے خلفاء موسوی کے مثیل ہیں۔ اسی طرح آخری خلیفہ جو خاتم ولایت محمدیہ ہے جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے وہ حضرت عیسیٰ سے جو خاتم سلسلۂ نبوت موسویہ ہے مماثلت اور مشابہت رکھتا ہے۔ مثلاً دیکھو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حضرت یوشع بن نون سے کیسی مشابہت ہے کہ انہوں نے ایسا ایک ناتمام کام لشکر اسامہ اور انبیاء کاذبین کے مقابلہ کا پورا کیا جیسا کہ حضرت یوشع بن نون نے پورا کیا۔ اور آخری خلیفہ سلسلہ موسوی کا یعنی حضرت عیسیٰ جیسا کہ اُس وقت آیا جبکہ گلیل اور پیلاطوس کے علاقہ سے سلطنت یہود کی جاتی رہی تھی ایسا ہی سلسلہ محمدیہ کا مسیح ایسے وقت میں آیا کہ جب ہندوستان کی حکومت مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل چکی ۔

تیسرا مرحلہ یہ ہے کہ آیا یہ امر ثابت ہے یا نہیں کہ آنے والا مسیح موعود اسی زمانہ میں آنا چاہیے جس میں ہم ہیں ۔ سو دلائل مفصلہ ذیل سے صاف طور پر کھل گیا ہے کہ ضرور ہے کہ وہ اسی زمانہ میں آوے۔

(۱) اوّل دلیل یہ ہے کہ صحیح بخاری میں جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہلاتی ہے لکھا ہے کہ مسیح موعود کسر صلیب کے لئے آئے گا ۔ اور ایسے وقت میں آئے گا کہ جب ملک میں ہر ایک پہلو سے بے اعتدالیاں قول اور فعل میں پھیلی ہوئی ہوں گی ۔ سو اب اِس نتیجہ تک پہنچنے کے لئے غور سے دیکھنے کی بھی حاجت نہیں کیونکہ ظاہر ہے کہ عیسائیت کا اثر لاکھوں انسانوں کے دلوں پر پڑ گیا ہے ۔ اور ملک اباحت کی تعلیموں سے متاثر ہوتا جاتا ہے ۔ صدہا آدمی ہر ایک خاندان میں سے نہ صرف دین اسلام سے ہی مرتد ہو گئے ہیں بلکہ جناب سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت دشمن بھی ہو گئے ہیں اور اب تک صدہا کتابیں دین اسلام کے ردّ میں تالیف بھی ہو چکی ہیں اور اکثر وہ کتابیں توہین اور گالیوں سے پُر ہیں اور اس مصیبت کے وقت جب ہم گزشتہ زمانہ کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک قطعی فیصلہ کے طور پر یہ رائے ظاہر کرنی پڑتی ہے کہ تیرہ سو برس کی بارہ صدیوں میں سے کوئی بھی ایسی صدی اسلام کے مضر نہیں گزری کہ جیسے تیرھویں صدی گذری ہے اور یا جو اب گذر رہی ہے ۔ لہذا عقل سلیم اس بات کی ضرورت کو مانتی ہے کہ ایسے پُر خطر زمانہ کے لئے جس میں عام طور پر زمین میں بہت جوش مخالفت کا پھوٹ پڑا ہے اور مسلمانوں کی اندرونی زندگی بھی ناگفتہ بہ حالت تک پہنچ گئی ہے کوئی مصلح صلیبی فتنوں کا فرو کرنے والا اور اندرونی حالت کو پاک کرنے والا پیدا ہو۔ اور تیرھویں صدی کے پورے سو برس کے تجربہ نے ثابت کر دیا ہے کہ اِن زہریلی ہواؤں کی اصلاح جو بڑے زور شور سے چل رہی ہیں اور عام وبا کی طرح ہر ایک شہر اور گاؤں سے کچھ کچھ اپنے قبضہ میں لا رہی ہیں ہر ایک معمولی طاقت کا کام نہیں کیونکہ یہ مخالفانہ تاثیرات اور ذخیرہ اعتراضات خود ایک معمولی طاقت نہیں بلکہ زمین نے اپنے وقت پر ایک جوش مارا ہے اور اپنے تمام زہروں کو بڑی قوت کے ساتھ اُگلا ہے اس لئے اس زہر کی مدافعت کے لئے آسمانی طاقت کی ضرورت ہے کیونکہ لوہے کو لوہا ہی کاٹتا ہے۔ سو اس دلیل سے روشن ہو گیا کہ یہی زمانہ مسیح موعود کے ظہور کا زمانہ ہے۔ یہ بات بڑی سریع الفہم ہے جس کو ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ جس حالت میں علت غائی مسیح کے آنے کی کسر صلیب ہے اور آج کل مذہب صلیب اُس جوانی کے جوشوں میں ہے جس سے بڑھ کر اُس کی قوتوں کا نشو و نما اور اس کے حملوں کا طریق ہیبت نما ہونا ممکن نہیں تو پھر اگر اِس وقت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی مدافعت نہ ہوتی تو پھر اس کے بعد کس وقت کی انتظار تھی ؟ اور نیز جبکہ مسیح موعود کا صدی کے سر پر ہی آنا ضروری ہے اور چودھویں صدی میں سے سترہ برس گذر گئے تو اس صورت میں اگر اب تک مسیح نہیں آیا تو ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کی مرضی ہے کہ اور سو برس تک یا اس سے بھی زیادہ اسلام کو نشانہ توہین و تحقیر رکھے لیکن اس کسر صلیب سے میری مراد وہ طریق جہاد اور کشت و خون نہیں جو حال کے اکثر علماء کا مدنظر ہے کیونکہ وہ لوگ تمام خوبیوں کو جہاد اور لڑائی پر ہی ختم کر بیٹھے ہیں ۔ اور میں اس بات کا سخت مخالف ہوں کہ مسیح یا اور کوئی دین کے لئے لڑائیاں کرے۔

(۲) دوسری دلیل وہ بعض احادیث اور کشوف اولیاءِ کرام و علماءِ عظام ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ مسیح موعود اور مہدی معہود چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا ۔ چنانچہ حدیث اَلْاٰیات بَعْد الْمَأتین کی تشریح بہت سے متقدمین اور متأخرین نے یہی کی ہے جو مَأتین کے لفظ سے وہ مَأتین مراد ہیں جو الف کے بعد ہیں یعنی ہزار کے بعد اس طرح پر معنے اس حدیث کے یہ ہوئے کہ مہدی اور مسیح کی پیدائش جو آیاتِ کبریٰ میں سے ہے تیرھویں صدی میں ہوگی اور چودھویں صدی میں اس کا ظہور ہوگا ۔ یہی معنے محققین علماء نے کئے ہیں اور انہی قرائن سے انہوں نے حکم کیا ہے کہ مہدی معہود کا تیرھویں صدی میں پیدا ہو جانا ضروری ہے تا چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہو سکے ۔ چنانچہ اسی بنا پر اور نیز کئی اور قرائن کے رو سے بھی مولوی نواب صدیق حسن خان صاحب مرحوم اپنی کتاب حجج الکرامہ میں لکھتے ہیں کہ میں بلحاظ قرائن قویہ گمان کرتا ہوں کہ چودھویں صدی کے سر پر مہدی معہود کا ظہور ہوگا۔ اور ان قرائن میں سے ایک یہ ہے کہ تیرھویں صدی میں بہت سے دجّالی فتنے ظہور میں آگئے ہیں ۔ اب دیکھو کہ اس نامی مولوی نے جو بہت سی کتابوں کا مؤلف بھی ہے کیسی صاف گواہی دے دی کہ چودھویں صدی ہی مہدی اور مسیح کے ظاہر ہونے کا وقت ہے اور صرف اِسی پر بس نہیں کی بلکہ اپنی کتاب میں اپنی اولاد کو وصیت بھی کرتا ہے کہ اگر میں مسیح موعود کا زمانہ نہ پاؤں تو تم میری طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا السلام علیکم مسیح موعود کو پہنچا دو مگر افسوس کہ یہ تمام باتیں صرف زبان سے تھیں اور دل انکار سے خالی نہ تھا اگر وہ میرے دعویٰ مسیح موعود ہونے کا زمانہ پاتے تو ظاہر قرائن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی اپنے دوسرے بھائیوں علماء سے لعن وطعن اور تکفیر و تکذیب اور تفسیق میں شریک ہو جاتے۔ کیا اِن مولویوں نے چودھویں صدی کے آنے پر کچھ غور بھی کی؟ کچھ خوف خدا اور تقویٰ سے بھی کام لیا ؟ کون سا حملہ ہے جو نہیں کیا اور کون سی تکذیب اور توہین ہے جو ان سے ظہور میں نہیں آئی اور کونسی گالی ہے جس سے زبان کو روکے رکھا ۔ اصل بات یہ ہے کہ جب تک کسی دل کو خدا نہ کھولے کھل نہیں سکتا اور جب تک وہ قادر کریم خود اپنے فضل سے بصیرت عنایت نہ کرے تب تک کوئی آنکھ دیکھ نہیں سکتی ۔ اور پھر ایک ثبوت چودھویں صدی کے متعلق یہ ہے کہ ایک بزرگ نے مدت دراز سے ایک شعر اپنے کشف کے متعلق شائع کیا ہوا ہے جس کو لاکھوں انسان جانتے ہیں۔ اس کشف میں بھی یہی لکھا ہے کہ مہدی معہود یعنی مسیح موعود چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہو گا اور وہ شعر یہ ہے ۔

در سن غاشی ہجری دو قراں خواہد بود

از پئے مہدی و دجال نشاں خواہد بود

اِس شعر کا ترجمہ یہ ہے کہ جب چودھویں صدی میں سے گیارہ برس گذریں گے تو آسمان پر خسوف کسوف چاند اور سورج کا ہوگا اور وہ مہدی اور دجال کے ظاہر ہو جانے کا نشان ہوگا ۔ اِس شعر میں مؤلف نے دجال کے مقابل پر مسیح نہیں لکھا بلکہ مہدی لکھا۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ مہدی اور مسیح دونوں ایک ہی ہیں ۔ اب دیکھو کہ یہ پیشگوئی کیسی صفائی سے پوری ہو گئی اور میرے دعوے کے وقت رمضان کے مہینہ میں اسی صدی میں یعنی چودھویں صدی ۱۳۱۱ھ میں خسوف کسوف ہو گیا ۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک ۔ ایسا ہی دار قطنی کی ایک حدیث بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مہدی معہود چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا ۔ وہ حدیث یہ ہے کہ ان لمهدینا ایتین الخ ۔ ترجمہ تمام حدیث کا یہ ہے کہ ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں جب سے زمین و آسمان کی بنیاد ڈالی گئی وہ نشان کسی مامور اور مرسل اور نبی کے لئے ظہور میں نہیں آئے اور وہ نشان یہ ہیں کہ چاند کا اپنی مقررہ راتوں میں سے پہلی رات میں اور سورج کا اپنے مقررہ دنوں میں سے بیچ کے دن میں رمضان کے مہینہ میں گرہن ہوگا ۔ یعنی انہی دنوں میں جبکہ مہدی اپنا دعویٰ دنیا کے سامنے پیش کرے گا اور دنیا اُس کو قبول نہیں کرے گی آسمان پر اس کی تصدیق کے لئے ایک نشان ظاہر ہوگا ۔ اور وہ یہ کہ مقررہ تاریخوں میں جیسا کہ حدیث مذکورہ میں درج ہیں سورج چاند کا رمضان کے مہینہ میں جو نزول کلام الٰہی کا مہینہ ہے گرہن ہوگا اور ظلمت کے دکھلانے سے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ اشارہ ہو گا کہ زمین پر ظلم کیا گیا اور جو خدا کی طرف سے تھا اس کو مفتری سمجھا گیا ۔ اب اس حدیث سے صاف طور پر چودھویں صدی متعین ہوتی ہے کیونکہ کسوف خسوف جو مہدی کا زمانہ بتلاتا ہے اور مکذبین کے سامنے نشان پیش کرتا ہے وہ چودھویں صدی میں ہی ہوا ہے۔ اب اس سے زیادہ صاف اور صریح دلیل کونسی ہوگی کہ کسوف خسوف کے زمانہ کو مہدی معہود کا زمانہ حدیث نے مقرر کیا ہے اور یہ امر مشہود محسوس ہے کہ یہ کسوف خسوف چودھویں صدی ہجری میں ہی ہوا اور اسی صدی میں مہدی ہونے کے مدعی کی سخت تکذیب ہوئی ۔ پس ان قطعی اور یقینی مقدمات سے یہ قطعی اور یقینی نتیجہ نکلا کہ مہدی معہود کا زمانہ چودھویں صدی ہے اور اس سے انکار کرنا امور مشہودہ محسوسہ بدیہیہ کا انکار ہے۔ ہمارے مخالف اِس بات کو تو مانتے ہیں کہ چاند اور سورج کا گرہن رمضان میں واقع ہو گیا اور چودھویں صدی میں واقع ہوا مگر نہایت ظلم اور حق پوشی کی راہ سے تین عذر پیش کرتے ہیں۔ ناظرین خود سوچ لیں کہ کیا یہ عذر صحیح ہیں؟

(۱) اوّل یہ عذر ہے کہ بعض راوی اس حدیث کے ثقاۃ میں سے نہیں ہیں اِس کا یہ جواب ہے کہ اگر در حقیقت بعض راوی مرتبۂ اعتبار سے گرے ہوئے تھے تو یہ اعتراض دار قطنی پر ہوگا کہ اُس نے ایسی حدیث کو لکھ کر مسلمانوں کو کیوں دھوکا دیا ؟ یعنی یہ حدیث اگر قابل اعتبار نہیں تھی تو دار قطنی نے اپنی صحیح میں کیوں اس کو درج کیا ؟ حالانکہ وہ اِس مرتبہ کا آدمی ہے جو صحیح بخاری پر بھی تعاقب کرتا ہے اور اس کی تنقید میں کسی کو کلام نہیں اور اس کی تالیف کو ہزار سال سے زیادہ گذر گیا مگر اب تک کسی عالم نے اس حدیث کو زیر بحث لاکر اس کو موضوع قرار نہیں دیا نہ یہ کہا کہ اس کے ثبوت کی تائید میں کسی دوسرے طریق سے مدد نہیں ملی بلکہ اس وقت سے جو یہ کتاب ممالک اسلامیہ میں شائع ہوئی تمام علماء و فضلاء متقدمین و متاخرین میں سے اس حدیث کو اپنی کتابوں میں لکھتے چلے آئے ۔ بھلا اگر کسی نے اکابر محدثین میں سے اس حدیث کو موضوع ٹھہرایا ہے تو اُن میں سے کسی محدث کا فعل یا قول پیش تو کرو جس نے لکھا ہو کہ یہ حدیث موضوع ہے اور اگر کسی جلیل الشان محدث کی کتاب سے اس حدیث کا موضوع ہونا ثابت کر سکو تو ہم فی الفور ایک سو روپیہ بطور انعام تمہاری نذر کریں گے جس جگہ چاہو امانتاً پہلے جمع کرالو ورنہ خدا سے ڈرو جو میرے بغض کے لئے صحیح حدیثوں کو جو علمائے ربانی نے لکھی ہیں موضوع ٹھہراتے ہو حالانکہ امام بخاری نے تو بعض روافض اور خوارج سے بھی روایت لی ہے ان تمام حدیثوں کو کیوں صحیح جانتے ہو؟ غرض ناظرین کے لئے یہ فیصلہ کھلا کھلا ہے کہ اگر کوئی شخص اس حدیث کو موضوع قرار دیتا ہے تو وہ اکابر محدثین کی شہادت سے ثبوت پیش کرے۔ ہم حتمی وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اس کو ایک سو روپیہ بطور انعام دے دیں گے۔ خواہ یہ روپیہ بھی مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب کے پاس اپنی تسلی کے لئے بشرائط مذکورہ بالا جمع کرالو اور اگر یہ حدیث موضوع نہیں اور افترا کی تہمت سے اس کا دامن پاک ہے تو تقویٰ اور ایمانداری کا یہی تقاضا ہونا چاہیے کہ اس کو قبول کر لو۔ محدثین کا ہرگز یہ قاعدہ نہیں ہے کہ کسی راوی کی نسبت ادنیٰ جرح سے ہی فی الفور حدیث کو موضوع قرار دیا جائے۔ بھلا جن حدیثوں کی رو سے مہدی خونی کو مانا جاتا ہے وہ کس مرتبہ کی ہیں؟ آیا اُن کے تمام راوی جرح سے خالی ہیں ؟ بلکہ جیسا کہ ابن خلدون نے لکھا ہے تمام اہل حدیث جانتے ہیں کہ مہدی کی حدیثوں میں سے ایک حدیث بھی جرح سے خالی نہیں۔ پھر ان مہدی کی حدیثوں کو ایسا قبول کر لینا کہ گویا اُن کا انکار کفر ہے حالانکہ وہ سب کی سب جرح سے بھری ہوئی ہیں۔ اور ایک ایسی حدیث سے انکار کرنا جو اور طریقوں سے بھی ثابت ہے اور جو خود قرآن آیت وَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ میں اس کے مضمون کا مصدق ہے کیا یہی ایمانداری ہے؟ حدیثوں کے جمع کرنے والے ہر ایک جرح سے حدیث کو نہیں پھینک دیتے تھے ورنہ ان کے لئے مشکل ہو جاتا کہ اس التزام سے تمام اخبار و آثار کو اکٹھا کر سکتے ۔ یہ باتیں سب کو معلوم ہیں مگر اب بخل جوش مار رہا ہے ۔ ماسوا اس کے جبکہ مضمون اس حدیث کا جو غیب کی خبر پر مشتمل ہے پورا ہو گیا تو بموجب آیت کریمہ فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِّنۡ رَّسُوۡلٍ قطعی اور یقینی طور پر ماننا پڑا کہ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اور اس کا راوی بھی عظیم الشان ائمہ میں سے ہے یعنی امام محمد باقر رضی اللہ عنہ۔ تو اب بعد شہادت قرآن شریف کے جو آیت فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا سے اس حدیث کے منجانب رسول ہونے پر مل گئی ہے پھر بھی اس کو حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ سمجھنا کیا یہ دیانت کا طریق ہے؟ اور کیا آپ لوگوں کے نزدیک اس اعلیٰ درجہ کی پیشگوئی پر بجز خدا کے رسولوں کے کوئی اور بھی قادر ہو سکتا ہے؟ اور اگر نہیں ہو سکتا تو کیوں اس بات کا اقرار نہیں کرتے کہ قرآنی شہادت کے رو سے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے ۔ اور اگر آپ لوگوں کے نزدیک ایسی پیشگوئی پر کوئی دوسرا بھی قادر ہو سکتا ہے تو پھر آپ اس کی نظیر پیش کریں جس سے ثابت ہو کہ کسی مفتری یا رسول کے سوا کسی اور نے کبھی یہ پیشگوئی کی ہو کہ ایک زمانہ آتا ہے جس میں فلاں مہینے میں چاند اور سورج کا خسوف کسوف ہوگا اور فلاں فلاں تاریخوں میں ہوگا اور یہ نشان کسی مامور من اللہ کی تصدیق کے لئے ہوگا جس کی تکذیب کی گئی ہوگی اور اس صورت کا نشان اوّل سے آخر تک کبھی دنیا میں ظاہر نہیں ہوا ہوگا اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ آپ ہرگز اس کی نظیر پیش نہیں کر سکیں گے۔ در حقیقت آدم سے لے کر اس وقت تک کبھی اس قسم کی پیشگوئی کسی نے نہیں کی اور یہ پیشگوئی چار پہلو رکھتی ہے۔ (۱) یعنی چاند کا گرہن اس کی مقررہ راتوں میں سے پہلی رات میں ہونا (۲) سورج کا گرہن اس کے مقررہ دنوں میں سے بیچ کے دن میں ہونا (۳) تیسرے یہ کہ رمضان کا مہینہ ہونا (۴) چوتھے مدعی کا موجود ہونا جس کی تکذیب کی گئی ہو۔ پس اگر اس پیشگوئی کی عظمت کا انکار ہے تو دنیا کی تاریخ میں سے اس کی نظیر پیش کرو اور جب تک نظیر نہ مل سکے تب تک یہ پیشگوئی ان تمام پیشگوئیوں سے اول درجہ پر ہے جن کی نسبت آیت فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا کا مضمون صادق آسکتا ہے کیونکہ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ آدم سے اخیر تک اس کی نظیر نہیں ۔ پھر جبکہ ایک حدیث دوسری حدیث سے قوت پا کر پایہ یقین کو پہنچ جاتی ہے تو جس حدیث نے خدا تعالیٰ کے کلام سے قوت پائی ہے اُس کی نسبت یہ زبان پر لانا کہ وہ موضوع اور مردود ہے اُنہی لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ کا خوف نہیں ہے اگر چہ بباعث کثرت اور کمال شہرت کے اس حدیث کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک رفع نہیں کیا گیا اور نہ اس کی ضرورت سمجھی گئی مگر خدا نے اپنی دو گواہیوں سے یعنی آیت فَلَا یُظۡہِرُ الخ اور آیت وَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ سے خود اس حدیث کو مرفوع متصل بنادیا۔ سو بلا شبہ قرآنی شہادت سے اب یہ حدیث مرفوع متصل ہے کیونکہ قرآن ایسی تمام پیشگوئیوں کا جو کمال صفائی سے پوری ہو جائیں اس تہمت سے تبریہ کرتا ہے کہ بجز خدا کے رسول کے کوئی اور شخص ان کا بیان کرنے والا ہے۔ نعوذ باللہ یہ خدا کے کلام کی تکذیب ہے کہ وہ تو صاف لفظوں میں بیان فرمادے کہ میں صریح اور صاف پیشگوئیوں کے کہنے پر بجز اپنے رسول کے کسی کو قدرت نہیں دیتا لیکن اس کے بر خلاف کوئی اور یہ دعوی کرے کہ ایسی پیشگوئیاں کوئی اور بھی کر سکتا ہے جس پر خدا کی طرف سے وحی نازل نہیں ہوئی اور اس طریق سے آیت فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا(الجن: ۲۷) کی تکذیب کر دیوے۔ غرض جبکہ ان تمام طریقوں سے اِس حدیث کی صحت ثابت ہو گئی اور نیز اس کی پیشگوئی اپنے پورے پیرایہ میں وقوع میں بھی آگئی تو اے خدا سے ڈرنے والو ! اب مجھے کہنے دو کہ ایسی حدیث سے انکار کرنا جو گیارہ سو برس سے علماء اور خواص اور عوام میں شائع ہو رہی ہے اور امام محمد باقر اس کے راوی ہیں اور تیرہ سو برس سے یعنی ابتدا سے آج تک کسی نے اس کو موضوع قرار نہیں دیا۔ اور نہ دار قطنی نے اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا اور قرآن آیت وَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ(القیامۃ: ۱۰) میں اس کا مصدق ہے یعنی اسی گرہن سورج اور چاند کی طرف یہ آیت بھی اشارہ کرتی ہے اور نیز قرآن کے صاف اور صریح لفظوں میں فرماتا ہے کہ کسی پیشگوئی پر جو صاف اور صریح اور فوق العادت طور پر پوری ہوگئی ہو بجز خدا کے رسول کے اور کوئی شخص قادر نہیں ہو سکتا۔ ایسا انکار جو عناداً کیا جائے ہرگز کسی ایماندار کا کام نہیں۔

دوسرا اعتراض مخالفین کا یہ ہے کہ یہ پیشگوئی اپنے الفاظ کے مفہوم کے مطابق پوری نہیں ہوئی کیونکہ چاند کا گرہن رمضان کی پہلی رات میں نہیں ہوا بلکہ تیرھویں رات میں ہوا اور نیز سورج کا گرہن رمضان کی پندرھویں تاریخ نہیں ہوا بلکہ ۲۸ تاریخ ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گرہن کے لئے کوئی نیا قاعدہ اپنی طرف سے نہیں تراشا بلکہ اسی قانون قدرت کے اندر اندر گرہن کی تاریخوں سے خبر دی ہے جو خدا نے ابتدا سے سورج اور چاند کے لئے مقرر کر رکھا ہے اور صاف لفظوں میں فرما دیا ہے کہ سورج کا کسوف اس کے دنوں میں سے بیچ کے دن میں ہوگا اور قمر کا خسوف اس کی پہلی رات میں ہو گا یعنی ان تین راتوں میں سے جو خدا نے قمر کے گرہن کے لئے مقرر فرمائی ہیں پہلی رات میں خسوف ہوگا سو ایسا ہی وقوع میں آیا کیونکہ چاند کی تیرھویں رات میں جو قمر کی خسوفی راتوں میں سے پہلی رات ہے خسوف واقع ہو گیا اور حدیث کے مطابق واقع ہوا اور نہ مہینہ کی پہلی رات میں قمر کا گرہن ہونا ایسا ہی بدیہی محال ہے جس میں کسی کو کلام نہیں وجہ یہ کہ عرب کی زبان میں چاند کو اسی حالت میں قمر کہہ سکتے ہیں جبکہ چاند تین دن سے زیادہ کا ہو اور تین دن تک اس کا نام ہلال ہے نہ قمر اور بعض کے نزدیک سات دن تک ہلال ہی کہتے ہیں ۔ چنانچہ قمر کے لفظ میں لسان العرب وغیرہ میں یہ عبارت ہے ۔ هو بعد ثلث ليال الى اخر الشهر یعنی چاند کا قمر کے لفظ پر اطلاق تین رات کے بعد ہوتا ہے۔ پھر جبکہ پہلی رات میں جو چاند نکلتا ہے وہ قمر نہیں ہے اور نہ قمر کی وجہ تسمیہ یعنی شدت سپیدی و روشنی اس میں موجود ہے تو پھر کیونکر یہ معنے صحیح ہوں گے کہ پہلی رات میں قمر کو گرہن لگے گا ۔ یہ تو ایسی ہی مثال ہے جیسے کوئی کہے کہ فلاں جواں عورت پہلی رات میں ہی حاملہ ہو جائے گی اور اس پر کوئی مولوی صاحب ضد کر کے یہ معنے بتلاویں کہ پہلی رات سے مراد وہ رات ہے جس رات وہ لڑکی پیدا ہوئی تھی تو کیا یہ معنے صحیح ہوں گے؟ اور کیا اُن کی خدمت میں کوئی عرض نہیں کرے گا کہ حضرت پہلی رات میں تو وہ جوان عورت نہیں کہلاتی بلکہ اس کو صبیّہ یا بچہ کہیں گے پھر اس کی طرف حمل منسوب کرنا کیا معنے رکھتا ہے؟ اور اس جگہ ہر ایک عقلمند یہی سمجھے گا کہ پہلی رات سے مراد زفاف کی رات ہے جبکہ اول دفعہ ہی کوئی عورت اپنے خاوند کے پاس جائے ۔ اب بتلاؤ کہ اس فقرے میں اگر کوئی اس طرح کے معنے کرے تو کیا وہ معنے آپ کے نزدیک صحیح ہیں ؟ اس بنیاد پر کہ خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے اور کیا آپ ایسا خیال کر لیں گے کہ وہ جوان عورت پیدا ہوتے ہی اپنی پیدائش کی پہلی رات میں ہی حاملہ ہو جائے گی ۔ اے حضرات !

خدا سے ڈرو جبکہ حدیث میں قمر کا لفظ موجود ہے اور بالاتفاق قمر اُس کو کہتے ہیں جو تین دن کے بعد یا سات دن کے بعد کا چاند ہوتا ہے تو اب ہلال کو کیونکر قمر کہا جائے ۔ ظلم کی بھی تو کوئی حد ہوتی ہے پھر ظاہر ہے کہ جبکہ قمر کے گرہن کے لئے تین راتیں خدا کے قانونِ قدرت میں موجود ہیں اور پہلی رات چاند کے خسوف کی تین راتوں میں سے مہینہ کی تیرھویں رات ہے اور ایسا ہی سورج کے گرہن کے لئے خدا کے قانون قدرت میں تین دن ہیں اور بیچ کا دن سورج کے کسوف کے دنوں میں سے مہینہ کی اٹھائیسویں تاریخ ہے تو یہ معنے کیسے صاف اور سیدھے اور سریع الفہم اور قانون قدرت پر مبنی ہیں کہ مہدی کے ظہور کی یہ نشانی ہوگی کہ چاند کو اپنے گرہن کی مقررہ راتوں میں سے جو اس کے لئے خدا نے ابتدا سے مقرر کر رکھی ہیں پہلی رات میں گرہن لگ جائے گا یعنی مہینہ کی تیرھویں رات جو گرہن کی مقررہ راتوں میں سے پہلی رات ہے۔ ایسا ہی سورج کو اپنے گرہن کے مقررہ دنوں میں سے بیچ کے دن میں گرہن لگے گا یعنی مہینہ کی اٹھائیسویں تاریخ کو جو سورج کے گرہن کا ہمیشہ بیچ کا دن ہے کیونکہ خدا کے قانونِ قدرت کے رو سے ہمیشہ چاند کا گرہن تین راتوں میں سے کسی رات میں ہوتا ہے یعنی ۱۳ و ۱۴ و ۱۵ ۔ ایسا ہی سورج کا گرہن اُس کے تین مقررہ دنوں میں سے کبھی باہر نہیں جاتا یعنی مہینہ کا ۲۷, ۲۸, ۲۹ ۔ پس چاند کے گرہن کا پہلا دن ہمیشہ سترھویں تاریخ سمجھا جاتا ہے اور سورج کے گرہن کا بیچ کا دن ہمیشہ مہینہ کی ۲۸ تاریخ ۔ عقلمند جانتا ہے۔ اب ایسی صاف پیشگوئی میں بحث کرنا اور یہ کہنا کہ قمر کا گرہن مہینہ کی پہلی رات میں ہونا چاہیے تھا یعنی جبکہ کنارہ آسمان پر ہلال نمودار ہوتا ہے یہ کس قدر ظلم ہے ۔ کہاں ہیں رونے والے جو اس قسم کی عقلوں کو روویں یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ پہلی تاریخ کا چاند جس کو ہلال کہتے ہیں وہ تو خود ہی مشکل سے نظر آتا ہے۔ اسی وجہ سے ہمیشہ عیدوں پر جھگڑے ہوتے ہیں۔ پس اس غریب بے چارہ کا گرہن کیا ہوگا۔ کیا پدی کیا پدی کا شور با ۔

تیسرا اعتراض اس نشان کو مٹانے کے لئے یہ پیش کیا گیا ہے کہ کیا ممکن نہیں کہ کسوف خسوف تو اب رمضان میں ہو گیا ہو مگر مہدی جس کی تائید اور شناخت کے لئے خسوف کسوف ہوا ہے وہ پندرھویں صدی میں پیدا ہو یا سولہویں صدی میں یا اس کے بعد کسی اور صدی میں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اے بزرگو! خدا ہی تم پر رحم کرے جبکہ آپ لوگوں کی فہم کی یہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے تو میرے اختیار میں نہیں کہ میں کچھ سمجھا سکوں ۔ صاف ظاہر ہے کہ خدا کے نشان اس کے رسولوں اور ماموروں کی تصدیق اور شناخت کے لئے ہوتے ہیں اور ایسے وقت میں ہوتے ہیں جبکہ اُن کی سخت تکذیب کی جاتی ہے اور ان کو مفتری اور کافر اور فاسق قرار دیا جاتا ہے تب خدا کی غیرت اُن کے لئے جوش مارتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اپنے نشانوں سے صادق کو صادق کر کے دکھلاوے۔ غرض ہمیشہ آسمانی نشانوں کے لئے ایک محرک کی ضرورت ہوتی ہے اور جو لوگ بار بار تکذیب کرتے ہیں وہی محرک ہوتے ہیں۔ نشانوں کی یہی فلاسفی ہے اور یہ کبھی نہیں ہوتا کہ نشان تو آج ظاہر ہو اور جس کی تصدیق اور اس کے مخالفوں کے ذب اور دفع کے لئے وہ نشان ہے وہ کہیں سو یا دو سو یا تین سو یا ہزار برس کے بعد پیدا ہو اور خود ظاہر ہے کہ ایسے نشانوں سے اس کے دعوے کو کیا مدد پہنچے گی بلکہ ممکن ہے کہ اس عرصہ تک اس نشان پر نظر رکھ کر کئی مدعی پیدا ہو جائیں تو اب کون فیصلہ کرے گا کہ کس مدعی کی تائید میں یہ نشان ظاہر ہوا تھا۔ تعجب ہے کہ مدعی کا تو ابھی وجود بھی نہیں اور نہ اس کے دعوے کا وجود ہے اور نہ خدا کی نظر میں کوئی محرک تکذیب کرنے والا موجود ہے بلکہ سو دو سو یا ہزار برس کے بعد انتظار ہے تو قبل از وقت نشان کیا فائدہ دے گا اور کس قوم کے لئے ہوگا کیونکہ موجودہ زمانہ کے لوگ تو ایسے نشان سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتے جس کے ساتھ مدعی نہیں ہے اور جبکہ نشان کے دیکھنے والے بھی سب خاک میں مل جائیں گے اور کوئی زمین پر زندہ نہیں ہوگا جو یہ کہہ سکے کہ میں نے چاند اور سورج کو بچشم خود گرہن ہوتے دیکھا تو ایسے نشان سے کیا فائدہ مرتب ہوگا جو زندہ مدعی کے زمانہ کے وقت صرف ایک مردہ قصہ کے طور پر پیش کیا جائے گا اور خدا کو کیا ایسی جلدی پڑی تھی کہ کئی سو برس پہلے نشان ظاہر کر دیا اور ابھی مدعی کا نام ونشان نہیں ۔ نہ اس کے باپ دادے کا کچھ نام و نشان ۔ یہ بھی یا درکھو کہ یہ عقیدہ اہل سنت اور شیعہ کا مسلّم ہے کہ مہدی جب ظاہر ہوگا تو صدی کے سر پر ہی ظاہر ہوگا ۔ پس جبکہ مہدی کے ظہور کے لئے صدی کے سر کی شرط ہے تو اس صدی میں تو مہدی کے پیدا ہونے سے ہاتھ دھو رکھنا چاہیے کیونکہ صدی کا سر گذر گیا اور اب بات دوسری صدی پر جا پڑی اور اس کی نسبت بھی کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیونکہ جب کہ چودھویں صدی جو حدیث نبوی کا مصداق تھی اور نیز اہل کشف کے کشفوں سے لدی ہوئی تھی خالی گذر گئی تو پندرھویں صدی پر کیا اعتبار رہا۔ پھر جبکہ آنے والے مہدی کے ظہور کے کوئی لچھن نظر نہیں آتے اور کم سے کم سو برس پر بات جا پڑی تو اس بے ہودہ نشان خسوف کسوف سے فائدہ کیا ہوا ۔ جب اس صدی کے سب لوگ مرجائیں گے اور کوئی خسوف کسوف کا دیکھنے والا زندہ نہ رہے گا تو اس وقت تو یہ کسوف خسوف کا نشان محض ایک قصہ کے رنگ میں ہو جائے گا اور ممکن ہے کہ اس وقت علماء کرام اس کو ایک موضوع حدیث کے طور پر سمجھ کر داخل دفتر کر دیں ۔ غرض اگر مہدی اور اس کے نشان میں جدائی ڈال دی جائے تو یہ ایک مکروہ بد فالی ہے جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہرگز ارادہ ہی نہیں ہے کہ اس کی مہدویت کو آسمانی نشانوں سے ثابت کرے۔ پھر جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ نشان اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جبکہ خدا کے رسولوں کی تکذیب ہوتی ہے اور ان کو مفتری خیال کیا جاتا ہے تو یہ عجیب بات ہے کہ مدعی تو ابھی ظاہر نہیں ہوا اور نہ اس کی تکذیب ہوئی مگر نشان پہلے ہی سے ظاہر ہو گیا اور جب دو تین سو برس کے بعد کوئی پیدا ہوگا اور تکذیب ہوگی تب یہ باسی قصہ کس کام آ سکتا ہے کیونکہ خبر معائنہ کے برابر نہیں ہو سکتی اور نہ ایسے مدعی کی نسبت قطع کر سکتے ہیں کہ در حقیقت فلاں صدی میں خسوف کسوف اُسی کی تصدیق میں ہوا تھا۔ خدا کی ہرگز یہ عادت نہیں کہ مدعی اور اس کے تائیدی نشانوں میں اس قدر لمبا فاصلہ ڈال دے جس سے امر مشتبہ ہو جائے ۔ کیا یہ چند لفظ ثبوت کا کام دے سکتے ہیں کہ فلاں صدی میں جو خسوف کسوف ہوا تھا وہ اسی مدعی کی تائید میں ہوا تھا۔ یہ خوب ثبوت ہے جو خود ایک دوسرے ثبوت کو چاہتا ہے۔ غرض یہ دار قطنی کی حدیث مسلمانوں کے لئے نہایت مفید ہے اس نے ایک تو قطعی طور پر مہدی معہود کے لئے چودھویں صدی زمانہ مقرر کر دیا ہے اور دوسرے اس مہدی کی تائید میں اس نے ایسا آسمانی نشان پیش کیا ہے جس کے تیرہ سو برس سے کل اہل اسلام منتظر تھے۔ سچ کہو کہ کیا آپ لوگوں کی طبیعتیں چاہتی تھیں کہ میرے مہدویت کے دعوے کے وقت آسمان پر رمضان کے مہینہ میں خسوف کسوف ہو جائے ۔ ان تیرہ سو برسوں میں بہتیرے لوگوں نے مہدی ہونے کا دعوی کیا مگر کسی کے لئے یہ آسمانی نشان ظاہر نہ ہوا۔ بادشاہوں کو بھی جن کو مہدی بننے کا شوق تھا یہ طاقت نہ ہوئی کہ کسی حیلہ سے اپنے لئے رمضان کے مہینے میں خسوف کسوف کرا لیتے ۔ بے شک وہ لوگ کروڑ ہا روپیہ دینے کو تیار تھے اگر کسی کی طاقت میں بجز خدا تعالیٰ کے ہوتا کہ اُن کے دعوے کے ایام میں رمضان میں خسوف کسوف کر دیتا۔ مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اُس نے میری تصدیق کے لئے آسمان پر یہ نشان ظاہر کیا ہے اور اُس وقت ظاہر کیا ہے جبکہ مولویوں نے میرا نام دجال اور کذاب اور کافر بلکہ اکفر رکھا تھا۔ یہ وہی نشان ہے جس کی نسبت آج سے بیس برس پہلے براہین احمد یہ میں بطور پیشگوئی وعدہ دیا گیا تھا اور وہ یہ ہے۔ قل عندى شهادة من اللہ فهل انتم مؤمنون. قل عندى شهادة من اللہ فهل انتم مسلمون یعنی ان کو کہہ دے کہ میرے پاس خدا کی ایک گواہی ہے کیا تم اس کو مانو گے یا نہیں ۔ پھر ان کو کہہ دے کہ میرے پاس خدا کی ایک گواہی ہے کیا تم اس کو قبول کرو گے یا نہیں ۔ یاد رہے کہ اگرچہ میری تصدیق کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے بہت گواہیاں ہیں اور ایک سو سے زیادہ وہ پیشگوئی ہے جو پوری ہو چکی جن کے لاکھوں انسان گواہ ہیں ۔ مگر اس الہام میں اس پیشگوئی کا ذکر محض تخصیص کے لئے ہے یعنی مجھے ایسا نشان دیا گیا ہے جو آدم سے لے کر اس وقت تک کسی کو نہیں دیا گیا ۔ غرض میں خانہ کعبہ میں کھڑا ہو کر قسم کھا سکتا ہوں کہ یہ نشان میری تصدیق کے لئے ہے نہ کسی ایسے شخص کی تصدیق کے لئے جس کی ابھی تکذیب نہیں ہوئی اور جس پر یہ شور تکفیر اور تکذیب اور تفسیق نہیں پڑا اور ایسا ہی میں خانہ کعبہ میں کھڑا ہو کر حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ اس نشان سے صدی کی تعیین ہو گئی ہے کیونکہ جبکہ یہ نشان چودھویں صدی میں ایک شخص کی تصدیق کے لئے ظہور میں آیا تو متعین ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی کے ظہور کے لئے چودھویں صدی ہی قرار دی تھی کیونکہ جس صدی کے سر پر یہ پیشگوئی پوری ہوئی وہی صدی مہدی کے ظہور کے لئے ماننی پڑی تا دعوئی اور دلیل میں تفریق اور بعد پیدا نہ ہو۔ اور پھر اس بات پر ایک اور دلیل ہے جس سے صاف طور پر سمجھا جاتا ہے کہ علماء اسلام کا یقینی طور پر یہی عقیدہ تھا کہ مسیح موعود چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا اور وہ یہ ہے کہ انواع حافظ برخوردار سکنہ موضع چیٹی شیخاں ضلع سیالکوٹ میں جس کی پنجاب میں بڑی قبولیت ہے ایک ہندی شعر ہے جس میں صاف اور صریح طور پر اس بات کا بیان ہے کہ مسیح موعود چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا اور وہ یہ ہے ۔

پیچھے اک ہزار دے گزرے تری سے سال

عیسٰی ظاہر ہوسیا کر سی عدل کمال

اس کا ترجمہ یہ ہے کہ جب سن ہجری سے تیرہ سو برس گزر جائیں گے تو چودھویں صدی کے سر پر عیسے ظاہر ہو جائے گا جو کامل عدالت کرے گا یعنی دکھا دے گا کہ صراط مستقیم یہ ہے۔ اب دیکھو کہ حافظ صاحب مرحوم نے جو عالم حدیث اور فقہ ہیں اور تمام پنجاب میں بڑی شہرت رکھتے ہیں اور پنجاب میں اپنے زمانہ میں اول درجہ کے فقیہ مانے گئے ہیں اور لوگ اُن کو اہل اللہ میں سے شمار کرتے ہیں اور متقی اور راست گو سمجھتے ہیں بلکہ علماء میں وہ ایک خاص عزت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں کیسے انہوں نے صاف طور پر فرمادیا کہ چودھویں صدی کے سر پر عیسی ظاہر ہو گا اور منصفین کے لئے کافی ثبوت اس بات کا دے دیا ہے کہ حدیث اور اقوال علماء سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود کے ظاہر ہونے کا وقت چودھویں صدی کا سر ہے۔ دیکھو یہ کیسی صاف گواہیاں ہیں جن کو آپ لوگ قبول نہیں کرتے ۔ کیا ممکن تھا کہ حافظ برخوردار صاحب با وجود اس قدر وقعت اور شان اپنی کے جھوٹ بولتے ؟ اور اگر جھوٹ بولتے اور اس قول کا کوئی حدیث ماخذ ثابت نہ کرتے تو کیوں علمائے امت اُن کا پیچھا چھوڑ دیتے۔ پھر ایک اور مشہور بزرگ جو اسی زمانہ میں گزرے ہیں جو کوٹھہ والے کر کے مشہور ہیں۔ اُن کے بعض مرید اب تک زندہ موجود ہیں انہوں نے عام طور پر بیان کیا ہے کہ میاں صاحب کوٹھہ والے نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ مہدی پیدا ہو گیا ہے۔ اور اب اس کا زمانہ ہے اور ہمارا زمانہ جاتا رہا اور یہ بھی فرمایا کہ اُس کی زبان پنجابی ہے۔ تب عرض کیا گیا کہ آپ نام بتلا دیں جس نام سے وہ شخص مشہور ہے اور جگہ سے مطلع فرماویں ۔ جواب دیا کہ میں نام نہیں بتلاؤں گا ۔ اب جس قدر میں نے اس بات کا ثبوت دیا ہے وہ بدیہی طور پر اس امر کا قطعی ثبوت ہے کہ مسیح موعود کا ظہور چودھویں صدی کے سر پر ہونا ضروری تھا۔

چوتھا امر اس بات کا ثابت کرنا ہے کہ وہ مسیح موعود جس کا آنا چودھویں صدی کے سر پر مقدر تھا وہ میں ہی ہوں۔ سو اس امر کا ثبوت یہ ہے کہ میرے ہی دعوے کے وقت میں آسمان پر خسوف کسوف ہوا ہے اور میرے ہی دعوے کے وقت میں صلیبی فتنے پیدا ہوئے ہیں اور میرے ہی ہاتھ پر خدا نے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ مسیح موعود اس امت میں سے ہونا چاہئے اور مجھے خدا نے اپنی طرف سے قوت دی ہے کہ میرے مقابل پر مباحثہ کے وقت کوئی پادری ٹھہر نہیں سکتا اور میرا رعب عیسائی علماء پر خدا نے ایسا ڈال دیا ہے کہ اُن کو طاقت نہیں رہی کہ میرے مقابلہ پر آسکیں۔ چونکہ خدا نے مجھے روح القدس سے تائید بخشی ہے اور اپنا فرشتہ میرے ساتھ کیا ہے اس لئے کوئی پادری میرے مقابل پر آ ہی نہیں سکتا یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معجزہ نہیں ہوا کوئی پیشگوئی ظہور میں نہیں آئی اور اب بلائے جاتے ہیں پر نہیں آتے اس کا یہی سبب ہے کہ ان کے دلوں میں خدا نے ڈال دیا ہے کہ اس شخص کے مقابل پر ہمیں بجز شکست کے اور کچھ نہیں۔ دیکھو ایسے وقت میں کہ جب حضرت مسیح کے خدا بنانے پر سخت غلو کیا جاتا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو روح القدس کی تائید سے خالی خیال کرتے تھے اور معجزات اور پیشگوئیوں سے انکار تھا۔ ایسے وقت میں پادریوں کے مقابل پر کون کھڑا ہوا؟ کس کی تائید میں خدا نے بڑے بڑے معجزے دکھلائے کتاب تریاق القلوب کو پڑھو اور پھر انصاف سے کہو کہ اگر چہ صد ہا باتیں قصوں کے رنگ میں بیان کی جاتی ہیں مگر یہ نشان اور پیشگوئیاں جو رؤیت کی شہادت سے ثابت ہیں جن کے بچشم خود دیکھنے والے اب تک لاکھوں انسان دنیا میں موجود ہیں یہ کس سے ظہور میں آئے؟ کون ہے جو ہر ایک نئی صبح کو مخالفین کو ملزم کر رہا ہے کہ آؤ اگر تم میں روح القدس سے کچھ قوت ہے تو میرا مقابلہ کرو؟ عیسائیوں اور ہندوؤں اور آریوں میں سے کون ہے جو اس وقت میرے سامنے کہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا؟ سو یہ خدا کی حجت ہے جو پوری ہوئی۔ سچائی سے انکار کرنا طریق دیانت اور ایمان نہیں ہے۔ بلا شبہ ہر ایک قوم پر اللہ کی حجت پوری ہو گئی ہے آسمان کے نیچے اب کوئی نہیں کہ جو روح القدس کی تائید میں میرا مقابلہ کر سکے۔ میں انکار کرنے والوں کو کس سے مشابہت دوں وہ اس نادان سے مشابہت رکھتے ہیں جس کے سامنے ایک ڈبہ جواہرات کا پیش کیا گیا جس میں کچھ بڑے دانے اور کچھ چھوٹے تھے۔ اور بہت سے اُن میں سے صفا کئے گئے تھے مگر ایک دو دانے اعلیٰ قسم کے تو تھے مگر ابھی جوہری نے نادانوں کے امتحان کے لئے ان کو جلا نہیں دی تھی۔ تب یہ نادان غصہ میں آیا اور تمام پاک اور چمکیلے جواہرات دامن سے پھینک دیئے اس خیال سے کہ ایک دو دانے اُن جواہرات میں سے اُس کے نزدیک بہت روشن نہیں ہیں۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ باوجود یکہ خدا تعالیٰ کی اکثر پیشگوئیاں کمال صفائی سے پوری ہو گئیں اُن سے کچھ فائدہ نہیں اٹھاتے جو سو سے بھی کچھ زیادہ ہیں۔ لیکن ایک دو ایسی پیشگوئیاں جن کی حقیقت کم بصیرتی سے ان کو سمجھ نہیں آئی اُن کا بار بار ذکر کر رہے ہیں ہر ایک مجلس میں اُن کو پیش کرتے ہیں۔ اے مسلمانوں کی ذریت! تمہیں راستی سے بغض کرنا کس نے سکھایا جبکہ تمہاری آنکھوں کے سامنے خدا نے وہ عجیب کام بکثرت دکھلائے جن کا دکھلانا انسان کی قدرت میں نہیں اور جو تمہارے باپ دادوں نے نہیں دیکھے تھے تو کیا ان نشانوں کو بھلا دینا اور دو تین پیشگوئیوں کی نسبت بیہودہ نکتہ چینیاں کرنا جائز تھا؟ کیا تمہیں معلوم نہیں جو میری تصدیق کے لئے کیسا عظیم الشان نشان آسمان پر ظاہر ہوا۔ اور تیرہ سو برس کی انتظار کے بعد میرے ہی زمانہ میں میرے ہی دعوے کے عہد میں میری ہی تکذیب کے وقت خدا نے اپنے دو روشن نیروں سورج اور چاند کو رمضان کے مہینے میں بے نور کر دیا۔ یہ موجودہ علماء کے سلب نور اور ظلم پر ایک ماتمی نشان تھا اور مقرر تھا کہ وہ مہدی کی تکذیب کے وقت ظاہر ہوگا۔ خدا کے پاک نبی ابتدا سے خبر دیتے آئے تھے کہ مہدی کے انکار کی وجہ سے یہ ماتمی نشان آسمان پر ظاہر ہوگا اور رمضان میں اس لئے کہ دین میں ظلمت اور ظلم روا رکھا گیا جیسا کہ آثار میں بھی آچکا ہے کہ مہدی پر کفر کا فتویٰ لکھا جائے گا۔ اور اس کا نام وقت کے علماء دجال اور کذاب اور مفتری اور بے ایمان رکھیں گے اور اُس کے قتل کے منصوبے ہوں گے۔ تب خدا جو آسمان کا خدا ہے جس کا قوی ہاتھ اُس کے گروہ کو ہمیشہ بچاتا ہے آسمان پر مہدی کی تائید کے لئے یہ نشان ظاہر کرے گا اور قرآن اس کی گواہی دے گا مگر چونکہ نشانوں کے نیچے ہمیشہ ایک اشارہ ہوتا ہے گویا ان کے اندر ایک تصویری تفہیم منقوش ہوتی ہے اس لئے خدا نے اس کسوف خسوف کے نشان میں اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ علمائے محمدی جو چاند اور سورج کے مشابہ ہونے چاہیے تھے اس وقت اُن کا نور فراست جاتا رہے گا۔ اور مہدی کو شناخت نہیں کریں گے اور تعصب کے گرہن نے ان کے دل کو سیاہ کر دیا ہوگا۔ اس لئے اس امر کے اظہار کے لئے ماتمی نشان آسمان پر ظاہر ہوگا۔ پھر اسی نشان پر خدا نے بس نہیں کی بڑی بڑی فوق العادت پیشگوئیاں ظہور میں آئیں جیسا کہ لیکھرام والی پیشگوئی جس کی ساری برٹش انڈیا گواہ ہے کیسے شان اور شوکت سے ظہور میں آگئی اور باوجود ہزاروں طرح کی حفاظتوں اور ہشیاریوں کے کس طرح خدا کے ارادہ نے روز روشن میں اپنا کام کر دیا۔ ایسا ہی رسالہ انجام آتھم کی یہ پیشگوئی کہ عبدالحق غزنوی نہیں مرے گا جب تک کہ اِس عاجز کا پسر چہارم پیدا نہ ہولے کس صفائی اور روشنی سے عبدالحق کی زندگی میں پوری ہو گئی اور ایسا ہی یہ پیشگوئی کہ اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب کے گھر میں ایک لڑکا پیدا ہو گا بعد ان لڑکوں کے جو سب مر گئے اور اس لڑکے کا تمام بدن پھوڑوں سے بھرا ہوا ہو گا چنانچہ ان پیشگوئیوں میں ایسا ہی ظہور میں آیا۔ جس طور سے اور جس تاریخ میں لیکھرام کا قتل ہونا بیان کیا گیا تھا اسی طرح سے لیکھرام قتل ہوا اور کئی سو لوگوں نے گواہی دی کہ وہ پیشگوئی بہت صفائی سے پوری ہوگئی چنانچہ اب تک وہ محضر نامہ میرے پاس موجود ہے جس پر ہندوؤں کی گواہیاں بھی ثبت ہیں۔ ایسا ہی پیشگوئی کے مطابق میرے گھر میں چار لڑکے پیدا ہوئے اور پسر چہارم کی پیدائش تک پیشگوئی کے مطابق عبدالحق غزنوی زندہ رہا اس میں کیسی قدرت الٰہی پائی جاتی ہے۔ ایسا ہی لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ مکرمی اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب کے گھر میں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا بدن پھوڑوں سے بھرا ہوا تھا اور وہ پھوڑے ایک سال سے بھی کچھ زیادہ دنوں تک اس لڑکے کے بدن پر رہے جو بڑے بڑے اور خطرناک اور بدنما اور موٹے اور نا قابل علاج معلوم ہوتے تھے جن کے اب تک داغ موجود ہیں۔ کیا یہ طاقتیں بجز خدا کے کسی اور میں بھی پائی جاتی ہیں؟ پھر یہ پیشگوئیاں کچھ ایک دو پیشگوئیاں نہیں بلکہ اسی قسم کی سو سے زیادہ پیشگوئیاں ہیں جو کتاب تریاق القلوب میں درج ہیں۔ پھر ان سب کا کچھ بھی ذکر نہ کرنا اور بار بار احمد بیگ کے داماد یا آتھم کا ذکر کرتے رہنا کس قدر مخلوق کو دھوکہ دینا ہے اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ مثلاً کوئی شریر النفس اُن تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ظہور میں آئے اور حدیبیہ کی پیشگوئی کو بار بار ذکر کرے کہ وہ وقت اندازہ کردہ پر پوری نہیں ہوئی یا مثلاً حضرت مسیح کی صاف اور صریح پیشگوئیوں کا کبھی کسی کے پاس نام تک نہ لے اور بار بار ہنسی ٹھٹھے کے طور پر لوگوں کو یہ کہے کہ کیوں صاحب کیا وہ وعدہ پورا ہو گیا جو حضرت مسیح نے فرمایا تھا کہ ابھی تم میں سے کئی لوگ زندہ ہوں گے جو میں پھر واپس آؤں گا۔ یا مثلاً شرارت کے طور پر داؤد کا تخت دوبارہ قائم کرنے کی پیشگوئی کو بیان کر کے پھر ٹھٹھے سے کہے کہ کیوں صاحب کیا یہ سچ ہے کہ حضرت مسیح بادشاہ بھی ہو گئے تھے اور داؤد کا تخت اُن کو مل گیا تھا۔ شیخ سعدی بخیل کی نسبت سچ فرماتے ہیں۔

ندارد بصد نکتۂ نغز گوش

چو زحفے بہ بیند بر آرد خروش

یہ نادان نہیں جانتے کہ پیشگوئی ایک علم ہے اور خدا کی وحی ہے اس میں بعض وقت متشابہات بھی ہوتے ہیں اور بعض وقت ملہم تعبیر کرنے میں خطا کرتا ہے جیسا کہ حدیث ذهب وهلی اس پر شاہد ہے پھر احمد بیگ کے داماد کا اعتراض کرنا اور احمد بیگ کی وفات کو بھول جانا کیا یہی ایمان داری ہے۔ اس جگہ تو پیشگوئی کی دو ٹانگ میں سے ایک ٹانگ ٹوٹ گئی اور ایک حصہ پیشگوئی کا یعنی احمد بیگ کا میعاد کے اندر فوت ہو جانا حسب منشاءِ پیشگوئی صفائی سے پورا ہو گیا اور دوسرے کی انتظار ہے مگر یونس نبی کی قطعی پیشگوئی میں سے کونسا حصہ پورا ہو گیا؟ اگر شرم ہے تو اس کا کچھ جواب دو۔ آپ لوگ اگر بہت ہی کم فرصت ہوں اور اُن تمام نشانوں کو جو سو سے زیادہ ہیں غور سے نہ دیکھ سکیں تو نمونہ کے طور پر ایک نشان آسمان کا لے لیں یعنی مہینہ رمضان کا خسوف کسوف اور ایک نشان زمین کا یعنی لیکھرام کا پیشگوئی کے مطابق مارا جانا۔ اور پھر سوچ لیں کہ نشان نمائی میں در حقیقت یہ دو گواہیاں طالب صادق کے لئے کافی ہیں ہاں اگر طالب صادق نہیں تو اس کے لئے تو ہزار معجزہ بھی کافی نہیں ہوگا۔ دیکھنا چاہیے کہ چاند اور سورج کا رمضان شریف میں گرہن ہونا کس قدر ایک مشہور پیشگوئی تھی یہاں تک کہ جب ہندوستان میں یہ نشان ظاہر ہوا تو مکہ معظمہ کی ہر ایک گلی اور کوچہ میں اس کا تذکرہ تھا کہ مہدی موعود پیدا ہو گیا۔ ایک دوست نے جو اُن دنوں میں مکہ میں تھا خط میں لکھا کہ جب مکہ والوں کو سورج اور چاند گرہن کی خبر ہوئی کہ رمضان میں حدیث کے الفاظ کے مطابق گرہن ہو گیا تو وہ سب خوشی سے اُچھلنے لگے کہ اب اسلام کی ترقی کا وقت آگیا اور مہدی پیدا ہو گیا اور بعض نے قدیم جہادی غلطیوں کی وجہ سے اپنے ہتھیار صاف کرنے شروع کر دیئے کہ اب کافروں سے لڑائیاں ہوں گی۔ غرض متواتر سنا گیا ہے کہ نہ صرف مکہ میں بلکہ تمام بلاد اسلام میں اس کسوف خسوف کی خبر پا کر بڑا شور اٹھا تھا اور بڑی خوشیاں ہوئی تھیں اور نجمین نے یہ بھی گواہی دی ہے کہ اس کسوف خسوف میں ایک خاص ندرت تھی یعنی ایک بے مثل اعجوبہ جس کی نظیر نہیں دیکھی گئی اور اسی ندرت کے دیکھنے کے لئے ہمارے اس ملک کے ایک حصہ میں انگریزی فلاسفروں کی طرف سے ایک رصد گاہ بنایا گیا تھا اور امریکہ اور یورپ کے دُور دُور کے ملکوں سے انگریزی منجم کسوف خسوف کی اس طرز عجیب کے دیکھنے کے لئے آئے تھے جیسا کہ اس خسوف کسوف کے ندرت کے حالات ان دنوں میں پرچہ سول ملٹری گزٹ اور ایسا ہی اور کئی انگریزی اخباروں میں اور نیز بعض اردو اخباروں میں بھی مفصل چھپے تھے۔ اور لیکھرام کے مارے جانے کا نشان بھی ایک ہیبت ناک نشان تھا جس میں پانچ برس پہلے اس واقعہ کی خبر دی گئی تھی اور پیشگوئی میں ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ عید کے دوسرے دن مارا جائے گا۔ اور اس طرح پر قتل کا دن بھی متعین ہو گیا تھا اور اس کے ساتھ کسی قسم کی شرط نہ تھی اور ہزار سے زیادہ لوگ بول اُٹھے تھے کہ یہ پیشگوئی کمال صفائی سے پوری ہو گئی۔ غرض ان دونوں نشانوں کی عظمت نے دلوں کو ہلا دیا تھا۔ نہ معلوم منکر خدا تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے جنہوں نے ان چمکتے ہوئے نشانوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ناحق ظلم سے اپنے پیروں کے نیچے کچل دیا۔ وَسَیَعۡلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ہائے یہ لوگ کیوں نہیں دیکھتے کہ کیسے متواتر نشان ظاہر ہوتے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی تائیدیں کیسی نازل ہو رہی ہیں اور ایک خدائی قوت زمین پر کام کر رہی ہے۔ ہائے! یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اگر یہ کاروبار خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو اس قدر نقلی اور عقلی اور کشفی طور پر ثبوت کے مواد ہرگز اس میں جمع نہ ہو سکتے۔

آسماں بارد نشاں الوقت می گوید زمیں

باز بغض و کینہ و انکار ایناں را بہ بیں

اے ملامت گر خدا را بر زماں کن یک نظر

چوں خدا خاموش ماندے در چنیں وقتِ خطر

خستگانِ دیں مرا از آسماں طلبیدہ اند

آمدم وقتے کہ دلہا خوں زِغم گردیدہ اند

دعوئے مارا فروغ از صد نشانہا دادہ اند

مہر و مہ ہم از پئے تصدیق ما استادہ اند

کچھ ایسے عقل پر پردے پڑ گئے ہیں کہ بار بار یہی عذر پیش کرتے ہیں کہ حدیثوں کے مطابق اس شخص کا دعویٰ نہیں۔ اے قابل رحم قوم! میں کب تک تمہیں سمجھاؤں گا۔ خدا تمہیں ضائع ہونے سے بچاوے آپ لوگ کیوں نہیں سمجھتے اور میں کیونکر دلوں کو چاک کر کے سچائی کا نور اُن میں ڈال دوں۔ کیا ضرور نہ تھا کہ مسیح حَکَمْ ہو کر آتا۔ اور کیا مسیح پر یہ فرض تھا کہ باوجود اس کے کہ خدا نے اُس کو صحیح علم دیا پھر بھی وہ تمہاری ساری حدیثوں کو مان لیتا کیا اس کو ادنیٰ سے ادنیٰ محدث کا درجہ بھی نہیں دیا گیا اور اس کی تنقید جو علمِ لدنی پر مبنی ہے اس کا کچھ بھی اعتبار نہیں اور کیا اس پر واجب ہے کہ پہلے ناقدین حدیث کی شہادت کو ہر جگہ اور ہر مقام اور ہر موقعہ اور ہر تاویل میں قبول کرلے اور ایک ذرہ ان کے قدم گاہ سے انحراف نہ کرے۔ اگر ایسا ہی ہونا چاہیے تھا تو پھر اس کا نام حَکَم کیوں رکھا گیا؟ وہ تو تلمیذ المحدثین ہوا اور ان کی رہنمائی کا محتاج۔ اور جبکہ بہر حال محدثین کی لکیر پر ہی اُس نے چلنا ہے تو یہ ایک بڑا دھوکہ ہے کہ اُس کا نام یہ رکھا گیا کہ قومی تنازع کا فیصلہ کرنے والا۔ بلکہ اس صورت میں وہ نہ عدل رہا نہ حَکَم رہا۔ صرف بخاری اور مسلم اور ابن ماجہ اور ابن داؤد وغیرہ کا ایک مقلد ہوا۔ گویا محمد حسین بٹالوی اور نذیر حسین دہلوی اور رشید احمد گنگوہی وغیرہ کا ایک چھوٹا بھائی ہوا۔ بس یہی ایک غلطی ہے جس نے آسمانی دولت سے ان لوگوں کو محروم رکھا ہے۔ کیا یہ اندھیر کی بات نہیں کہ محدثین کی تنقید اور توثیق اور تصحیح کو عظمت کی نگاہ سے دیکھا جائے گویا ان کا سب لکھا ہوا نوشتہ تقدیر ہے لیکن وہ جس کا خدا نے فیصلہ کرنے والا نام رکھا اور امت کے اندرونی نزاعوں کے تصفیہ کرنے کے لئے ٹھہرایا وہ ایسا بے دست و پا آیا کہ کسی حدیث کے ردّ یا قبول کا اس کو اختیار نہیں گویا اس سے وہ لوگ بھی اچھے ٹھہرے جن کی نسبت اہل سنت قبول کرتے ہیں کہ وہ صحیح حدیث بطور کشف براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے تھے اور اس ذریعہ سے کبھی صحیح حدیث کو موضوع کہہ دیتے تھے اور کبھی موضوع کا نام صحیح رکھتے تھے۔ پس سوچو اور سمجھو کہ جس شخص کے ذمہ اسلام کے ۷۳ فرقوں کی نزاعوں کا فیصلہ کرنا ہے کیا وہ محض مقلد کے طور پر دنیا میں آسکتا ہے۔ پس یقیناً سمجھو کہ یہ ضروری تھا کہ وہ ایسے طور سے آتا کہ بعض نادان اس کو یہ سمجھتے کہ گویا وہ اُن کی بعض حدیثوں کو زیروزبر کر رہا ہے یا بعض کو نہیں مانتا اسی لئے تو آثار میں پہلے سے آچکا ہے کہ وہ کافر ٹھہرایا جائے گا اور علماء اسلام اُس کو دائرہ اسلام سے خارج کریں گے اور اس کی نسبت قتل کے فتوے جاری ہوں گے۔ کیا تمہارا مسیح بھی میری طرح کافر اور دجال ہی کہلائے گا؟ اور کیا علماء میں اُس کی یہی عزت ہوگی؟ خدا سے خوف کر کے بتلاؤ کہ ابھی یہ پیشگوئی پوری ہوگئی یا نہیں۔ ظاہر ہے کہ جبکہ مسیح اور مہدی کی تکفیر تک نوبت پہنچے گی اور علمائے کرام اور صوفیائے عظام اُن کا نام کافر اور دجال اور بے ایمان اور دائرہ اسلام سے خارج رکھیں گے تو کیا کسی ادنیٰ سے ادنی اختلاف پر یہ شور قیامت برپا ہوگا یہاں تک کہ بجز چند افراد کے تمام علماء اسلام جو زمین پر رہتے ہیں سب اتفاق کر لیں گے کہ یہ شخص کافر ہے یہ پیشگوئی بڑے غور کے لائق ہے کیونکہ بڑے زور سے آپ لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے اُس کو پورا کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ شبہات کہ کیوں صحاح ستہ کی وہ تمام حدیثیں جو مہدی اور مسیح موعود کے بارے میں لکھی ہیں اس جگہ صادق نہیں آتیں اس سوال سے حل ہو جاتی ہیں کہ کیوں اخبار و آثار میں یہاں تک کہ مکتوبات مجدد صاحب سرہندی اور فتوحات مکیہ اور حجج الکرامه میں لکھا ہے کہ مہدی اور مسیح کی علمائے وقت سخت مخالفت کریں گے اور ان کا نام گمراہ اور ملحد اور کافر اور دجال رکھیں گے اور کہیں گے کہ انہوں نے دین کو بگاڑ دیا اور احادیث کو چھوڑ دیا۔ اس لئے وہ واجب القتل ہیں کیونکہ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ضرور ہے کہ آنے والے مسیح اور مہدی بعض حدیثوں کو جو علماء کے نزدیک صحیح ہیں چھوڑ دیں گے بلکہ اکثر کو چھوڑیں گے تبھی تو یہ شور قیامت برپا ہوگا اور کافر کہلائیں گے۔ غرض اِن احادیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ مہدی اور مسیح علماء وقت کی امیدوں کے برخلاف ظاہر ہوں گے اور جس طور سے انہوں نے حدیثوں میں پڑی جما رکھی ہے اُس پڑی کے برخلاف ان کا قول اور فعل ہوگا۔ اِسی وجہ سے اُن کو کافر کہا جائے گا۔ یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ علماء مخالفین کا میری نسبت درحقیقت اور کوئی بھی عذر نہیں بجز اس بیہودہ عذر کے کہ جو ایک ذخیرہ رطب یابس حدیثوں کا انہوں نے جمع کر رکھا ہے اُن کے ساتھ مجھے ناپنا چاہتے ہیں حالانکہ ان حدیثوں کو میرے ساتھ ناپنا چاہئے تھا۔ یہ ایک ابتلاء ہے جو کم عقل اور بد قسمت لوگوں کے لئے مقدر تھا اور اس ابتلا میں نادان لوگ پھنس جاتے ہیں کیونکہ وہ لوگ اپنے دلوں میں پہلے ہی ٹھہرا لیتے ہیں کہ جو کچھ مہدی اور مسیح کی نسبت حدیثیں لکھی ہیں اور جس طرح اُن کے معنے کئے گئے ہیں وہ سب صحیح اور واجب الاعتقاد ہیں اس لئے جب وہ لوگ اس فرضی نقشہ سے جو قرآن شریف سے بھی مخالف ہے مجھے مطابق نہیں پاتے تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ کاذب ہے۔ مثلاً وہ خیال کرتے ہیں کہ مسیح موعود ایک ایسی قوم یا جوج ماجوج کے وقت آنا چاہئے جن کے لمبے درختوں کی طرح قد ہوں گے اور اس قدر لمبے کان ہوں گے کہ اُن کو بستر کی طرح بچھا کر ان پر سو رہیں گے۔ اور نیز مسیح آسمان سے فرشتوں کے ساتھ اُترنا چاہئے بیت المقدس کے منارہ کے پاس مشرقی طرف اور دجال عجیب الخلقت اس سے پہلے موجود چاہئے جس کے قبضہ قدرت میں سب خدائی کی باتیں ہوں۔ مینہ برسانے اور کھیتیاں اُگانے اور مردوں کے زندہ کرنے پر قادر ہوا ایک آنکھ سے کانا ہو۔ اور اس کے گدھے کا سر اتنا بڑا موٹا ہو کہ دونوں کانوں کا فاصلہ تین سو ہاتھ کے قریب ہو اور دجال کی پیشانی پر کافر لکھا ہوا ہو۔ اور مہدی ایسا چاہئیے جس کی تصدیق کے لئے آسمان سے زور زور سے آواز آوے کہ یہ خلیفۃ اللہ مہدی ہے اور وہ آواز تمام مشرق و مغرب تک پہنچ جائے اور مکہ سے اس کے لئے ایک خزانہ نکلے اور وہ عیسائیوں سے لڑے اور عیسائی بادشاہ اُس کے پاس پکڑے آویں اور تمام زمین کو کفار کے خون سے پُر کر دیوے اور اُن کی تمام دولت لوٹ لے اور اس قدر قاتل اور خونریز ہو کہ جب سے دنیا کی بنیاد پڑی ہے ایسا خونی آدمی کوئی نہ گذرا ہو۔ اور اس قدر اپنے تابعوں میں مال تقسیم کرے کہ لوگوں کو مال رکھنے کے لئے جگہ نہ رہے۔ اور پھر اتنی خونریزیوں کے بعد چالیس برس تک موت کا حکم دنیا پر سے قطعا موقوف کر دیا جائے اور تمام ایشیا اور یورپ اور امریکہ میں بجائے اس کے کہ ایک طرفۃ العین میں لاکھ آدمی مرتا تھا چالیس برس تک کوئی کیڑا بھی نہ مرے نہ وہ بچہ جو پیٹ میں ہے اور نہ وہ بڈھا جو ایک سو برس کا ہے۔ اور شیر اور بھیڑیے اور چرگ اور باز گوشت کھانا چھوڑ دیں یعنی چالیس برس تک درندے بھی اپنے شکار کو مارنا چھوڑ دیں۔ یہاں تک کہ وہ جوئیں جو بالوں میں پڑتی ہیں اور وہ کیڑے جو پانی میں ہوتے ہیں کسی کو موت نہ آوے۔ اور لوگ اگر چہ روپیہ بہت پاویں مگر چالیس برس تک صرف دال پر ہی گذارہ کریں۔ اور جین مت کے مذہب کی طرح کوئی شخص کوئی جانور نہ مارے عید کی قربانیاں اور حج کے ذبیحے سب بند ہو جائیں۔ لوگ سانپوں کو نہ ماریں اور نہ سانپ لوگوں کو ڈسیں۔ پس اگر کسی مہدویت کے مدعی کے وقت یہ سب باتیں ہوں تب اس کو سچا مہدی مانا جائے ورنہ نہیں تو اب بتلاؤ کہ ان علامتوں اور نشانوں کے ساتھ جو لوگ سچے مہدی اور سچے مسیح کو پرکھنا چاہتے ہیں وہ مجھ کو کیونکر قبول کر لیں۔ لیکن اس جگہ تعجب یہ ہے کہ آثار میں لکھا ہے کہ وہ مسیح موعود جو ان کے زعم میں آسمان پر سے اُترے گا اور وہ مہدی جس کے لئے آسمان پر سے آواز آئے گی اُس کو بھی میری طرح کافر اور دجال کہا جائے گا۔ اب اس جگہ طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ مسیح حدیثوں کے مطابق آسمان سے اُترے گا اور اس مہدی کے لئے سچ سچ آسمان سے آواز آئے گی جو یہ خلیفۃ اللہ ہے تو اتنے بڑے معجزات دیکھنے کے بعد یہاں تک کہ آسمانی فرشتے اُترتے دیکھ کر پھر کیا وجہ کہ اُن کو کافر ٹھہرائیں گے۔ بالخصوص جبکہ وہ آسمان سے اتر کر ان لوگوں کی تمام حدیثیں قبول کر لیں گے تو پھر تو کوئی وجہ تکفیر کی نہیں معلوم ہوتی۔ اس سے ضروری طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ میری نسبت بہت زیادہ ان لوگوں کی حدیثوں کا انکار کریں گے ورنہ کیا وجہ کہ باوجود اتنے معجزات دیکھنے کے پھر بھی اُن کو کافر کہا جائے گا پس ماننا پڑا کہ سچے مسیح اور مہدی کی نشانی ہی یہی ہے کہ وہ ان لوگوں کی بہت سی حدیثوں سے منکر ہو۔ ورنہ یوں تو علماء کا سر پھرا ہوا نہ ہوگا کہ بے وجہ کافر کہہ دیں گے اور ان کی نسبت کفر کا فتویٰ دیں گے۔ اب اس سوال کا جواب دینا ان مولوی صاحبوں کا حق ہے کہ جبکہ مہدی اور مسیح اُن کے قرار دادہ نشانوں کے موافق آئیں گے یعنی ایک تو دیکھتے دیکھتے آسمان سے مع فرشتوں کے اُترے گا اور دوسرے کے لئے آسمان سے آواز آئے گی کہ یہ خلیفۃ اللہ مہدی ہے اور ایک دم میں مشرق مغرب میں وہ آواز پھر جائے گی گویا دونوں آسمان ہی سے اُترے تو پھر اس قدر بڑا معجزہ دیکھنے کے بعد جو گویا سیدنا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ظہور میں نہیں آیا کیوں ان دونوں معجز نما بزرگوں کو کافر کہیں گے۔ حالانکہ وہ آتے ہی علماء کرام کے سامنے اطاعت کے ساتھ جھک جائیں گے اور چوں نہیں کریں گے اور بخاری اور مسلم اور ابن ماجہ اور ابو داؤد اور نسائی اور مؤطا غرض تمام ذخیرہ حدیثوں کو جس طرح پر حضرات موحدین مانتے ہیں سر جھکا کر سب کو مان لیں گے اور اگر کوئی عرض کرے گا کہ حضرت آپ تو حکم ہو کر آئے ہیں کچھ تو ان علماء سے اختلاف کیجیئے تو نہایت عاجزی اور مسکینی سے کہیں گے کہ حکم کیسے۔ ہماری کیا مجال کہ ہم صحاح ستہ کی کچھ مخالفت کریں یا حضرت مولانا شیخ الکل نذیر حسین اور حضرت مولانا مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی اور یا حضرت مولانا امام المقلدین رشید احمد گنگوہی کے اجتہادات اور ان کے اکابر کی تشریحات کی مخالفت کریں۔ یہ حضرات جو کچھ فرما چکے سب ٹھیک اور بجا ہے ہم کیا اور ہمارا وجود کیا۔ ظاہر ہے کہ جبکہ مہدی اس طرح پر تسلیم محض ہو کر آئیں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ علماء ان کو کافر کہیں یا اُن کا نام دجال رکھیں۔ اکثر یہ لوگ جو مولوی کہلاتے ہیں عوام کا لانعام کے آگے محض دھوکا دہی کے طور پر یہ بیان کیا کرتے ہیں کہ دیکھو مسلم میں یہ کیسی واضح حدیث ہے کہ مسیح موعود دمشق کے شرقی منارہ کے نزدیک آسمان پر سے اُترے گا اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھے گا اور اس پیشگوئی کے ظاہر الفاظ میں دمشق اور اس کے شرقی طرف ایک منارہ کا بیان ہے جس کے نزدیک مسیح موعود کا آسمان سے اُترنا ضروری ہے۔ پس اگر ان تمام الفاظ کی تاویل کی جائے گی تو پھر پیشگوئی تو کچھ بھی نہ رہے گی بلکہ مخالف کے نزدیک ایک باعث تمسخر ہوگا کیونکہ پیشگوئی کی تمام شوکت اور اس کا اثر اپنے ظاہر الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے اور پیشگوئی کرنے والے کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ لوگ ان علامتوں کو یاد رکھیں اور اُنہی کو مدعی صادق کا معیار ٹھہرائیں مگر تاویل میں تو وہ سارے نشان مقرر کردہ گم ہو جاتے ہیں اور یہ امر مقبول اور مسلم ہے کہ نصوص کو ہمیشہ اُن کے ظاہر پر حمل کرنا چاہئے اور ہر ایک لفظ کی تاویل مخالف کو تسکین نہیں دے سکتی کیونکہ اس طرح تو کوئی مقدمہ فیصلہ ہی نہیں ہو سکتا بلکہ اگر ایک شخص تاویل کے طور پر اپنے مطلب کے موافق کسی حدیث کے معنے کر لیتا ہے اور الفاظ کے معنے کو تاویل کے طور پر اپنے مطلب کی طرف پھیر لیتا ہے تو اس طرح پر تو مخالف کا بھی حق ہے کہ وہ بھی تاویل سے کام لے تو پھر فیصلہ قیامت تک غیر ممکن۔ یہ اعتراض ہے جو ہمارے مخالف کرتے ہیں اور نیز اپنے نادان چیلوں کو سکھاتے ہیں مگر انہیں معلوم نہیں کہ وہ خود اس اعتراض کے نیچے ہیں۔ ہم تو کسی حدیث کے ظاہر الفاظ کو نہیں چھوڑتے جب تک قرآن اپنے نصوص صریحہ سے مع دوسری حدیثوں کے اس کو نہ چھڑائے اور تاویل کے لئے مجبور نہ کرے۔ چنانچہ اس جگہ بھی ایسا ہی ہے۔ اگر یہ لوگ خدا تعالیٰ سے خوف کر کے کچھ سوچتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ در حقیقت یہ اعتراض تو انہی پر ہوتا ہے کیونکہ قرآن شریف میں حضرت مسیح کے بارے میں صاف لفظوں میں یہ پیشگوئی موجود تھی کہ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ(ال عمران: ۵۶) یعنی اے عیسی میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور وفات کے بعد اپنی طرف اُٹھانے والا لیکن ہمارے مخالفوں نے اس نص کے ظاہر الفاظ پر عمل نہیں کیا اور نہایت مکروہ اور پُر تکلف تاویل سے کام لیا یعنی رافعک کے فقرہ کو متوفّیک کے فقرہ پر مقدم کیا اور ایک صریح تحریف کو اختیار کر لیا اور یا بعض نے توفّی کے لفظ کے معنے بھر لینا کیا جو نہ قرآن سے نہ حدیث سے نہ علم لغت سے ثابت ہوتا ہے اور جسم کے ساتھ اٹھائے جانا اپنی طرف سے ملا لیا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے متوفیک کے معنی صریح ممیتک بخاری میں موجود ہیں۔ اُن سے منہ پھیر لیا اور علم نحو میں صریح یہ قاعدہ مانا گیا ہے کہ توفّی کے لفظ میں جہاں خدا فاعل اور انسان مفعول بهٖ ہو ہمیشہ اس جگہ توفّی کے معنے مارنے اور روح قبض کرنے کے آتے ہیں۔ مگر ان لوگوں نے اس قاعدہ کی کچھ بھی پروانہیں رکھی اور خدا کی تمام کتابوں میں کسی جگہ رفع الی اللہ کے معنے یہ نہیں کئے گئے کہ کوئی جسم کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف اُٹھایا جائے لیکن ان لوگوں نے زبردستی سے بغیر وجود کسی نظیر کے رفع الی اللہ کے اس جگہ یہ معنے کئے کہ جسم کے ساتھ اٹھایا گیا۔ ایسا ہی توفی کے اُلٹے معنے کرنے کے وقت کوئی نظیر پیش نہ کی اور بھر لینا معنے لے لئے۔ اب بتلاؤ کہ کس نے نصوص کے ظاہر پر عمل کرنا چھوڑ دیا؟ یا یوں سمجھ لو کہ اس جگہ دو پیشگوئیاں متناقض ہیں یعنی ایک پیشگوئی دوسرے کی ضد واقع ہے اس طرح پر کہ مسیح موعود کے نزول کی پیشگوئی جو صحیح مسلم میں موجود ہے اس کے یہ معنے محض اپنی طرف سے ہمارے مخالف کر رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر بیٹھا ہوا ہے ابھی تک فوت نہیں ہوا اور آخری زمانہ میں دمشقی منارہ کی شرقی طرف اُترے گا اور ایسے ایسے کام کرے گا غرض یہ پیشگوئی تو صحیح مسلم کی کتاب میں سے ہے جو بگاڑ کر بیان کی جاتی ہے اور اس کے مقابل پر اور اس کی ضد ایک پیشگوئی قرآن شریف میں موجود ہے جو پہلی صدی میں ہی کروڑ ہا مسلمانوں میں شہرت پا چکی تھی اور یہ شہرت قرآنی پیشگوئی کی مسلم والی پیشگوئی کے وجود سے پہلے تھی یعنی اس زمانہ سے پہلے جبکہ مسلم نے کسی راوی سے سُن کر اس مخالفانہ پیشگوئی کو قریباً پونے دو سو برس بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی کتاب میں لکھا تھا اور مسلم کی پیشگوئی میں صرف یہی نقص نہیں کہ وہ قریبا پونے دو سو برس بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کی گئی بلکہ ایک یہ بھی نقص ہے کہ مسلم نے اُس اصل راوی کو بھی نہیں دیکھا جس نے یہ حدیث بیان کی تھی اور نہ اس شخص کو دیکھا جس کے پاس یہ روایت بیان کی بلکہ بہت سی زبانوں میں گھومتی ہوئی اور ایسے لوگوں کو چھوتی ہوئی جن کو ہم معصوم نہیں کہہ سکتے مسلم تک پہنچی اور ہمارے پاس کوئی دلیل اس بات پر نہیں کہ کیوں ایسی پیشگوئی کی نسبت جو غیر معصوم زبانوں سے کئی وسائط سے سنی گئی یہ حکم جاری کریں کہ وہ قرآن کی پیشگوئی کے درجہ پر ہے۔ غرض ایسی پیشگوئی جس کا سارا تانا بانا ہی ظنی ہے جب قرآن کی پیشگوئی کے نقیض اور ضد ہو تو اس کو اس کے ظاہر الفاظ کے رو سے ماننا گویا قرآن شریف سے دست بردار ہونا ہے۔ ہاں اگر کسی تاویل سے مطابق آجائے اور تناقض جاتا رہے تو پھر بسر و چشم منظور۔ یاد رہے کہ کوئی فولادی قلعہ بھی ایسا پختہ نہیں ہو سکتا جیسا کہ قرآن شریف میں حضرت مسیح کی موت کی آیت ہے پھر آسمان سے زندہ مع جسم اُترنے کی پیشگوئی کس قدر موت کی پیشگوئی کی نقیض ہے ذرہ سوچ لو اور قرآن نے توفّی اور رفع کے لفظ کو کئی جگہ ایک ہی معنوں موت اور رفع روحانی کے محل پر ذکر کر کے صاف سمجھا دیا ہے کہ توفّی کے معنے مارنا اور رفع الی اللہ کے معنے رُوح کو خدا کی طرف اٹھانا ہے اور پھر توفّی کے لفظ کے معنے حدیث کے رو سے بھی خوب صاف ہو گئے ہیں کیونکہ بخاری میں ابن عباس سے روایت ہے کہ متوفیک ممیتک یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے لفظ متوفّیک کے یہی معنے کئے ہیں کہ میں تجھے مارنے والا ہوں۔ اور اس بات پر صحابہ کا اجماع بھی ہو چکا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے اور گذشتہ روحوں میں جاملے۔ اب بتلاؤ اور خود ہی انصاف کرو کہ دو پیشگوئیاں متناقض ایک ہی مضمون میں جھگڑا کر رہی ہیں۔ ایک قرآنی پیشگوئی ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے موت کا وعدہ ہونا اور پھر بموجب آیت فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کے اس وعدہ موت کا پورا ہو جانا صاف طور پر اس پیشگوئی سے معلوم ہو رہا ہے اور سارا قرآن اس پیشگوئی کے معنے یہی کر رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے اور اُن کی روح خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائی گئی اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تمام صحابہ کے اتفاق کے ساتھ جو لاکھ سے بھی کچھ زیادہ تھے اس بات پر اجماع ظاہر کر رہے ہیں کہ در حقیقت حضرت عیسیٰ فوت ہو گئے اور امام مالک بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ضرور مر گئے اور امام اعظم اور امام احمد اور امام شافعی ان کے قول کو سن کر اور خاموشی اختیار کر کے اسی قول کی تصدیق کر رہے ہیں اور امام ابن حزم بھی حضرت عیسیٰ کی موت کی گواہی دے رہے ہیں اور مسلمانوں میں سے فرقہ معتزلہ بھی ان کی موت کا قائل اور ایک صوفیوں کا فرقہ اسی بات کا قائل کہ مسیح فوت ہو گیا ہے اور آنے والا مسیح موعود اسی اُمت میں سے ہوگا اور ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی جو حجج الکرامہ میں بھی لکھی گئی ہے حضرت عیسیٰ کی عمر ایک سو بیس برس متعین کر رہی ہے اور کنز العمال کی ایک حدیث فتنہ صلیب کے بعد کے زمانہ کی نسبت بیان کر رہی ہے کہ حضرت مسیح آسمان پر نہیں گئے بلکہ خدا تعالیٰ سے حکم پا کر اپنے وطن سے برطبق سنت جمیع انبیاء علیہم السلام ہجرت کر گئے اور اُن ملکوں کی طرف چلے گئے جن میں دوسرے یہودی رہتے تھے جیسے کشمیر جس میں یہودی آکر بخت النصر کے تفرقہ کے وقت آباد ہو گئے تھے اور معراج کی رات میں وفات یافتہ نبیوں کی روحوں میں اُن کی روح دیکھی گئی۔ یہ تو قرآنی پیشگوئی ہے جو حضرت مسیح کی وفات بیان فرما رہی ہے جس کے ساتھ ایک لشکر دلائل کا ہے اور علاوہ ادلہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے نسخہ مرہم عیسیٰ اور قبر سری نگر جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام مدفون ہیں اس پر شاہد ہیں۔ اور اس کے مقابل پر وہی مسلم کی ظنی حدیث پیش کی جاتی ہے جس پر صد ہا شبہات چیونٹیوں کی طرح چمٹے ہوئے ہیں اور جو ظاہری الفاظ کے رو سے صریح قرآن شریف کے متناقض اور اس کی ضد پڑی ہوئی ہے اور طرفہ تر یہ کہ مسلم میں کوئی آسمان کا لفظ موجود نہیں مگر پھر بھی خواہ نخواہ اس حدیث کے یہی معنے کئے جاتے ہیں کہ آسمان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُتریں گے۔ حالانکہ قرآن بضرب دہل فرما رہا ہے کہ عیسیٰ بن مریم رسول اللہ زمین میں دفن کیا گیا ہے آسمان پر ان کے جسم کا نام و نشان نہیں۔ اب بتلاؤ کہ ہم ان دونوں متناقض پیشگوئیوں میں سے کس کو قبول کریں کیا مسلم کی روایت کے لئے قرآن کو چھوڑ دیں اور ایک ذخیرہ دلائل کو اپنے ہاتھ سے پھینک دیں کیا کریں۔ یہ بھی ہمارا مسلم پر احسان ہے کہ ہم نے تاویل سے کام لے کر حدیث کو مان لیا ورنہ رفع تناقض کے لئے ہمارا حق تو یہ تھا کہ اس حدیث کو موضوع ٹھہراتے لیکن خوب غور سے سوچنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ دراصل حدیث موضوع نہیں ہے ہاں استعارات سے پُر ہے اور پیشگوئی میں جہاں کوئی امتحان منظور ہوتا ہے استعارات ہوا کرتے ہیں ہر ایک پیشگوئی کے ظاہر لفظ کے موافق معنے کرنا شرط نہیں اس کی حدیثوں اور کتاب اللہ میں صدہا نظیریں ہیں یوسف علیہ السلام کے خواب کی پیشگوئی دیکھو کب وہ ظاہری طور پر پوری ہوئی اور کب سورج اور چاند اور ستاروں نے اُن کو سجدہ کیا اور دمشق کے شرقی منارہ سے ضروری نہیں کہ وہ حصہ شرقی منارہ دمشق کا جز ہو چنانچہ اس بات کو تو تمام علماء مانتے آئے ہیں اور یاد رہے کہ قادیان ٹھیک ٹھیک دمشق سے شرقی طرف واقع ہے اور دمشق کے ذکر کی وجہ ہم بیان کر چکے ہیں۔ ایک اور نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے یعنی یہ کہ جو مسلم کی حدیث میں یہ لفظ ہیں کہ مسیح موعود دمشق کے منارہ شرقی کے قریب نازل ہوگا اس لفظ کی تشریح ایک دوسری مسلم کی حدیث سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ اس شرقی طرف سے مراد کوئی حصہ دمشق کا نہیں ہے۔ حدیث یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا پتہ دینے کے لئے مشرق کی طرف اشارہ کیا تھا لفظ حدیث کے یہ ہیں کہ اَوْمَاً الى المشرق ۔ پس اس سے قطعی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ دمشق کسی صورت سے مسیح کے ظہور کی جگہ نہیں کیونکہ وہ مکہ اور مدینہ سے مشرق کی طرف نہیں ہے بلکہ شمال کی طرف ہے اور مسیح کے ظہور کی جگہ وہی مشرق ہے جو دجال کے ظہور کی جگہ حسب منشاءِ حدیث اَوْمَاً الى المشرق ہے یعنی حدیث سے ثابت ہے کہ دجال کا ظہور مشرق سے ہوگا اور نواب مولوی صدیق حسن خاں صاحب حجج الکرامہ میں منظور کر چکے ہیں کہ فتنہ دجالیہ کے لئے جو مشرق مقرر کیا گیا ہے وہ ہندوستان ہے اس لئے ماننا پڑا کہ انوار مسیحیہ کے ظہور کا مشرق بھی ہندوستان ہی ہے کیونکہ جہاں بیمار ہو وہیں طبیب آنا چاہیے اور بموجب حدیث لو كان الايمان عند الثريّا لناله رجال او رجل من هؤلاء (ای من فارس) دیکھو بخاری صفحہ ۷۲۷ ۔ رجل فارسی کا جائے ظہور بھی یہی مشرق ہے۔ اور ہم ثابت کر چکے ہیں کہ وہی رجل فارسی مہدی ہے اس لئے ماننا پڑا کہ مسیح موعود اور مہدی اور دجال تینوں مشرق میں ہی ظاہر ہوں گے اور وہ ملک ہند ہے۔

اب اس سوال کا میں جواب دیتا ہوں کہ اکثر مخالف جوش میں آکر مجھ سے پوچھا کرتے ہیں کہ تمہارے مسیح موعود ہونے کا کیا ثبوت ہے۔ کیا کسی قرآن شریف کی آیت سے تمہارا مسیح موعود ہونا ثابت ہوتا ہے؟ اور پھر آپ ہی یہ حجت پیش کرتے ہیں کہ اگر صرف کسی سچی خواب یا کسی سچے کشف سے کوئی مسیح موعود یا مہدی بن سکتا ہے تو دنیا میں ایسے ہزار ہا لوگ موجود ہیں جن کو سچی خوابیں آتی ہیں اور کشف بھی ہوتے ہیں اور ہم بھی انہی میں سے ہیں تو کیا وجہ کہ ہم مسیح موعود نہ کہلاویں؟

اما الجواب واضح ہو کہ یہ اعتراض صرف میرے پر نہیں بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام پر ہے۔ اور میں اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ سچی خوابیں اکثر لوگوں کو آ جاتی ہیں اور کشف بھی ہو جاتے ہیں بلکہ بعض اوقات بعض فاسق اور فاجر اور تارک صلوٰۃ بلکہ بدکار اور حرام کار بلکہ کافر اور اللہ اور اس کے رسول سے سخت بغض رکھنے والے اور سخت توہین کرنے والے اور سچ مچ اخوان الشیاطین شاذ و نادر طور پر سچی خوابیں دیکھ لیتے ہیں اور بعض کشفی نظارے بھی ایک سرعت برق کی طرح عمر بھر میں کبھی اُن کو دکھائے جاتے ہیں۔ پس در حقیقت ایک سرسری نظر سے اس قسم کے مشاہدات سے ایک نادان کے دل میں تمام انبیاء علیہم السلام کی نسبت اعتراض پیدا ہوگا کہ جبکہ ان کی مانند دوسرے لوگوں پر بھی بعض امور غیب کے کھولے جاتے ہیں تو انبیاء کی اس میں کونسی فضیلت ہوئی؟ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کبھی ایک نیک بخت نیک چلن تو کسی امر میں کوئی پیچیدہ خواب دیکھتا ہے یا نہیں دیکھتا مگر اسی رات ایک فاسق بد معاش نجاست خوار کو صاف اور کھلی کھلی خواب دکھائی دیتی ہے اور وہ سچی بھی نکلتی ہے اور اس راز سر بستہ کا حل کرنا عام لوگوں کی طبیعتوں پر مشکل ہو جاتا ہے۔ اور بہتیرے اس سے ٹھوکر کھاتے ہیں سو متوجہ ہو کر سننا چاہیے کہ خواص کے علوم اور کشوف اور عوام کی خوابوں اور کشفی نظاروں میں فرق یہ ہے کہ خواص کا دل تو مظہر تجلیات الہیہ ہو جاتا ہے اور جیسا کہ آفتاب روشنی سے بھرا ہوا ہے وہ علوم اور اسرار غیبیہ سے بھر جاتے ہیں اور جس طرح سمندر اپنے پانیوں کی کثرت کی وجہ سے نا پیدا کنار ہے اسی طرح وہ بھی نا پیدا کنار ہوتے ہیں اور جس طرح جائز نہیں کہ ایک گندے سڑے ہوئے چھپڑ کو محض تھوڑے سے پانی کے اجتماع کی وجہ سے سمندر کے نام سے موسوم کر دیں اسی طرح وہ لوگ جو شاذ و نادر کے طور پر کوئی سچی خواب دیکھ لیتے ہیں اُن کی نسبت نہیں کہہ سکتے کہ وہ نعوذ باللہ ان بحار علوم ربانی سے کچھ نسبت رکھتے ہیں اور ایسا خیال کرنا اسی قسم کا لغو اور بیہودہ ہے کہ جیسے کوئی شخص صرف منہ اور آنکھ اور ناک اور دانت دیکھ کر سؤر کو انسان سمجھ لے یا بندر کو بنی آدم کی طرح شمار کرے تمام مدار کثرتِ علوم غیب اور استجابت دُعا اور باہمی محبت و وفا اور قبولیت اور محبوبیت پر ہے ورنہ کثرت قلت کا فرق درمیان سے اُٹھا کر ایک کرم شب تاب کو بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ بھی سورج کے برابر ہے کیونکہ روشنی اُس میں بھی ہے۔ دنیا کی جتنی چیزیں ہیں وہ کسی قدر آپس میں مشابہت ضرور رکھتی ہیں۔ بعض سفید پتھر تبت کے پہاڑوں کی طرف سے ملتے ہیں اور غزنی کے حدود کی طرف سے بھی لاتے ہیں چنانچہ میں نے بھی ایسے پتھر دیکھے ہیں وہ ہیرے سے سخت مشابہت رکھتے اور اسی طرح چمکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ کچھ تھوڑا عرصہ گذرا ہے کہ ایک شخص کابل کی طرف کا رہنے والا چند ٹکڑے پتھر کے قادیان میں لایا اور ظاہر کیا کہ وہ ہیرے کے ٹکڑے ہیں کیونکہ وہ پتھر بہت چمکیلے اور آبدار تھے اور ان دنوں میں مدراس سے ایک مخلص دوست جو نہایت درجہ اخلاص رکھتے ہیں یعنی اخویم سیٹھ عبد الرحمن صاحب تاجر مدراس قادیاں میں میرے پاس تھے ان کو وہ پسند آگئے اور اُن کی قیمت میں پانسو روپیہ دینے کو تیار ہو گئے اور پچیس روپیہ یا کچھ کم و بیش اُن کو دے بھی دیئے اور پھر اتفاقاً مجھ سے مشورہ طلب کیا کہ میں نے یہ سودا کیا ہے آپ کی کیا رائے ہے؟ میں اگر چہ ان ہیروں کی اصلیت اور شناخت سے نا واقف تھا لیکن روحانی ہیرے جو دنیا میں کمیاب ہوتے ہیں یعنی پاک حالت کے اہل اللہ جن کے نام پر کئی جھوٹے پتھر یعنی مزوّر لوگ اپنی چمک دمک دکھلا کر لوگوں کو تباہ کرتے ہیں اس جو ہر شناسی میں مجھے دخل تھا اس لئے میں نے اس ہنر کو اس جگہ برتا اور اس دوست کو کہا کہ جو کچھ آپ نے دیا وہ تو واپس لینا مشکل ہے لیکن میری رائے یہ ہے کہ قبل دینے پانسو روپیہ کے کسی اچھے جوہری کو یہ پتھر دکھلا لیں اگر در حقیقت ہیرے ہوئے تو یہ روپیہ دے دیں۔ چنانچہ وہ پتھر مدراس میں ایک جوہری کے شناخت کرنے کے لئے بھیجے گئے اور دریافت کیا گیا کہ ان کی قیمت کیا ہے۔ پھر شائد دو ہفتہ کے اندر ہی وہاں سے جواب آگیا کہ ان کی قیمت ہے چند پیسے۔ یعنی یہ پتھر ہیں ہیرے نہیں ہیں۔ غرض جس طرح اس ظاہری دنیا میں ایک ادنیٰ کو کسی جزئی امر میں اعلیٰ سے مشابہت ہوتی ہے ایسا ہی روحانی اُمور میں بھی ہو جایا کرتا ہے اور روحانی جوہری ہوں یا ظاہری جو ہری وہ جھوٹے پتھروں کو اس طرح پر شناخت کر لیتے ہیں کہ جو سچے جواہرات کی بہت سی صفات ہیں ان کے رُو سے ان پتھروں کا امتحان کرتے ہیں آخر جھوٹ کھل جاتا ہے اور سچ ظاہر ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ سچے ہیروں میں صرف ایک چمک ہی تو صفت نہیں ہے اور بھی تو بہت سی صفات ہوتی ہیں۔ پس جب ایک جوہری وہ کل صفات پیش نظر رکھ کر جھوٹے پتھروں کا امتحان کرتا ہے تو فی الفور اُن کو ہاتھ سے پھینک دیتا ہے اِسی طرح مردانِ خدا جو خدا تعالیٰ سے محبت اور مودت کا تعلق رکھتے ہیں وہ صرف پیشگوئیوں تک اپنے کمالات کو محدود نہیں رکھتے ان پر حقائق اور معارف کھلتے ہیں اور دقائق و اسرار شریعت اور دلائل لطیفہ حقانیت ملت ان کو عطا ہوتے ہیں اور اعجازی طور پر ان کے دل پر دقیق در دقیق علوم قرآنی اور لطائف کتاب ربانی اتارے جاتے ہیں اور وہ ان فوق العادت اسرار اور سماوی علوم کے وارث کئے جاتے ہیں جو بلا واسطہ موہبت کے طور پر محبوبین کو ملتے ہیں اور خاص محبت ان کو عطا کی جاتی ہے اور ابراہیمی صدق وصفا اُن کو دیا جاتا ہے اور روح القدس کا سایہ اُن کے دلوں پر ہوتا ہے۔ وہ خدا کے ہو جاتے ہیں اور خدا اُن کا ہو جاتا ہے۔ ان کی دُعائیں خارق عادت طور پر آثار دکھاتی ہیں۔ اُن کے لئے خدا غیرت رکھتا ہے وہ ہر میدان میں اپنے مخالفوں پر فتح پاتے ہیں۔ اُن کے چہروں پر محبت الہی کا نور چمکتا ہے۔ اُن کے درودیوار پر خدا کی رحمت برستی ہوئی معلوم ہوتی ہے وہ پیارے بچے کی طرح خدا کی گود میں ہوتے ہیں۔ خدا اُن کے لئے اس شیر مادہ سے زیادہ غصہ ظاہر کرتا ہے جس کے بچے کو کوئی لینے کا ارادہ کرے۔ وہ گناہ(۱) سے معصوم۔ وہ دشمنوں(۲) کے حملوں سے معصوم۔ وہ تعلیم(۳) کی غلطیوں سے بھی معصوم ہوتے ہیں۔ وہ آسمان کے بادشاہ ہوتے ہیں۔ خدا عجیب طور پر اُن کی دعائیں سنتا ہے اور عجیب طور پر ان کی قبولیت ظاہر کرتا ہے یہاں تک کہ وقت کے بادشاہ اُن کے دروازوں پر آتے ہیں۔ ذوالجلال کا خیمہ اُن کے دلوں میں ہوتا ہے اور ایک رعب خدائی اُن کو عطا کیا جاتا ہے اور شاہانہ استغنا اُن کے چہروں سے ظاہر ہوتا ہے۔ وہ دنیا اور اہل دنیا کو ایک مرے ہوئے کیڑے سے بھی کمتر سمجھتے ہیں۔ فقط ایک کو جانتے ہیں اور اُس ایک کے خوف کے نیچے ہر دم گداز ہوتے رہتے ہیں۔ دنیا اُن کے قدموں پر گری جاتی ہے گویا خدا انسان کا جامہ پہن کر ظاہر ہوتا ہے وہ دنیا کا نور اور اس نا پائیدار عالم کا ستون ہوتے ہیں وہی سچا امن قائم کرنے کے شہزادے اور ظلمتوں کے دور کرنے کے آفتاب ہوتے ہیں۔ وہ نہاں در نہاں اور غیب الغیب ہوتے ہیں کوئی ان کو پہچانتا نہیں مگر خدا۔ اور کوئی خدا کو پہچانتا نہیں مگر وہ۔ وہ خدا نہیں ہیں مگر نہیں کہہ سکتے کہ خدا سے الگ ہیں۔ وہ ابدی نہیں ہیں مگر نہیں کہہ سکتے کہ کبھی مرتے ہیں۔ پس کیا ایک نا پاک اور خبیث آدمی جس کا دل گندہ، خیالات گندے، زندگی گندی ہے اُن سے مشابہت پیدا کر سکتا ہے؟ ہر گز نہیں مگر وہی مشابہت جو کبھی ایک چمکیلے پتھر کو ہیرے کے ساتھ ہو جاتی ہے۔ مردان خدا جب دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں تو اُن کی عام برکات کی وجہ سے آسمان سے ایک قسم کا انتشار روحانیت ہوتا ہے اور طبائع میں تیزی پیدا ہو جاتی ہے اور جن کے دل اور دماغ سچی خوابوں سے کچھ مناسبت رکھتے ہیں اُن کو سچی خوابیں آنی شروع ہو جاتی ہیں لیکن در پردہ یہ تمام انہی کے وجود باجود کی تاثیر ہوتی ہے جیسا کہ مثلاً جب برسات کے دنوں میں پانی برستا ہے تو کنوؤں کا پانی بھی بڑھ جاتا ہے اور ہر ایک قسم کا سبزہ نکلتا ہے لیکن اگر آسمان کا پانی چند سال تک نہ بَر سے تو کنوؤں کا پانی بھی خشک ہو جاتا ہے۔ سو وہ لوگ در حقیقت آسمان کا پانی ہوتے ہیں اور اُن کے آنے سے زمین کے پانی بھی اپنا سیلاب دکھلاتے ہیں اور اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو اِن زمین کے پانیوں کو نابود کر دیتا لیکن اِس امر میں کہ کیوں دوسرے لوگوں کو بھی اُن کے وقت میں خوابیں سچی آتی ہیں یا کبھی کشفی نظارے ہوتے ہیں۔ بھید یہ ہے کہ اگر عام لوگوں کو باطنی کشوف سے کچھ بھی حصہ نہ ہوتا اور پھر جب اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں اور نبیوں اور محدثوں کو دنیا میں بھیجتا اور وہ بڑے بڑے پوشیدہ واقعات اور عالم مجازات اور غیب کی خبریں دیتے تو لوگوں کے دل میں یہ گمان گذر سکتا تھا کہ شائد وہ جھوٹے ہیں یا بعض امور میں نجوم وغیرہ سے مدد لیتے ہیں یا درمیان کوئی اور فریب ہے۔ پس خدا نے اِن شبہات کے دُور کرنے کے لئے عام لوگوں میں رسولوں اور نبیوں کی جنس کا ایک مادہ رکھ دیا ہے اور نبوت کی بہت چیزوں اور بہت سی صفاتِ لازمہ میں سے ایک صفت میں ان کو ایک حد تک شریک کر دیا ہے تا وہ لوگ خدا کے نبیوں اور مامورین اور ملہمین کی تصدیق کے لئے قریب ہو جائیں اور دلوں میں سمجھ لیں کہ یہ امور جائز اور ممکن ہیں تبھی تو ہم بھی کسی حد تک شریک ہیں اور اگر خدا تعالیٰ اِس قدر بھی ان کو مادہ عطا نہ فرماتا تو عام لوگوں پر نبوت کا مسئلہ سمجھنا مشکل ہو جاتا اور اُن کی طبائع بہ نسبت اقرار کے انکار سے زیادہ قریب ہو تیں لیکن اب تمام عام لوگوں میں یہاں تک کہ فاسقوں اور فاجروں میں بھی علم غیب کا ایک مادہ ہے اس لئے اگر وہ تعصب کو کام میں نہ لائیں تو نبوت کی حقیقت کو بہت جلد سمجھ سکتے ہیں اور اس بات میں خطرہ بہت کم ہے کہ اگر کوئی ایسا خیال کرے کہ میری فلاں خواب بھی سچی نکلی اور فلاں موقع پر مجھے کشفی نظارہ ہوا وجہ یہ کہ انسان جب جمیع کمالات نبوت اور محدثیت اور اُن کے مقام محبوبیت پر بخوبی اطلاع پائے گا تو بہت آسانی سے اپنی اس غلطی پر متنبہ ہو جائے گا جیسا کہ وہ شخص جس نے کبھی سمندر نہیں دیکھا اور اپنے گاؤں کے ایک تھوڑے سے پانی کو سمندر کے برابر اور اس کے عجائبات سے ہم وزن خیال کرتا ہے جب اُس کا گذر سمندر پر ہوگا اور اس کی حقیقت سے اطلاع پائے گا تو بغیر نصیحت کسی ناصح کے خود بخود سمجھ جائے گا کہ میں ایک بڑی غلطی کے گرداب میں مبتلا تھا لیکن اگر خدا نخواستہ انسانوں کی یہ صورت ہوتی کہ فیضان امور غیبیہ کا کچھ بھی مادہ اُن میں امانت نہ رکھا جاتا اور نہ یہ علم ہوتا کہ کبھی خدا کی طرف سے غیبی علوم اور اخبار کا فیضان بھی ہوا کرتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہوتے جو مادر زاد اندھا اور بہرہ ہو۔ پس اِس صورت میں تمام انبیاء کو تبلیغ میں ناکامی ہوتی مثلاً جس اندھے نے کبھی روشنی نہیں دیکھی اس کو کس طرح سمجھا سکتے ہیں کہ روشنی کیا چیز ہے۔ فتدبر ولا تکن من العمين واسئل رحم اللہ ليفتح عينک وهو ارحم الراحمين.

ہم تصریح سے لکھ آئے ہیں کہ یہ بات بالکل غیر ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں کیونکہ اس کا ثبوت نہ تو قرآن شریف سے ملتا ہے اور نہ حدیث سے اور نہ عقل اس کو باور کر سکتی ہے۔ بلکہ قرآن اور حدیث اور عقل تینوں اس کے مکذب ہیں کیونکہ قرآن شریف نے کھول کر بیان فرما دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور معراج کی حدیث نے ہمیں بتلا دیا ہے کہ وہ فوت شدہ انبیاء علیہم السلام کی روحوں میں جا ملے ہیں اور اس عالم سے بکلی انقطاع کر گئے اور عقل ہمیں بتلا رہی ہے کہ اس جسم فانی کے لئے یہ سنت اللہ نہیں کہ آسمان پر چلا جائے اور باوجود زندہ مع الجسم ہونے کے کھانے پینے اور تمام لوازم حیات سے الگ ہو کر اُن روحوں میں جا ملے جو موت کا پیالہ پی کر دوسرے جہان میں پہنچ گئے ہیں۔ عقل کے پاس اِس کا کوئی نمونہ نہیں۔ پھر ماسوا اس کے جیسا کہ یہ عقیدہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر چڑھنے کا قرآن شریف کے بیان سے مخالف ہے ایسا ہی اُن کے آسمان سے اُترنے کا عقیدہ بھی قرآن کے بیان سے منافات کھلی رکھتا ہے کیونکہ قرآن شریف جیسا کہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ(المائدۃ: ۱۱۸) اور آیت قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ میں حضرت عیسیٰ کو مار چکا ہے۔ ایسا ہی آیت اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ(المائدۃ: ۴) اور آیت وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ میں صریح نبوت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کر چکا ہے اور صریح لفظوں میں فرما چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں جیسا کہ فرمایا ہے وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ(الاحزاب: ۴۱)۔ لیکن وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دوبارہ دنیا میں واپس لاتے ہیں اُن کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ بدستور اپنی نبوت کے ساتھ دنیا میں آئیں گے اور برابر پینتالیس برس تک اُن پر جبرئیل علیہ السلام وحی نبوت لے کر نازل ہوتا رہے گا۔ اب بتلاؤ کہ اُن کے عقیدہ کے موافق ختم نبوت اور ختم وحی نبوت کہاں باقی رہا بلکہ ماننا پڑا کہ خاتم الانبیاء حضرت عیسیٰ ہیں۔ چنانچہ نواب مولوی صدیق حسن خان صاحب نے اپنی کتاب حجج الکرامہ کے ۴۳۲ صفحہ میں یہی لکھا ہے کہ یہ عقیدہ باطل ہے کہ گویا حضرت عیسیٰ امتی بن کر آئیں گے بلکہ وہ بدستور نبی ہوں گے اور ان پر وحی نبوت نازل ہوگی اور ظاہر ہے کہ جبکہ وہ اپنی نبوت پر قائم رہے اور وحی نبوت بھی پینتالیس برس تک نازل ہوتی رہی تو پھر بخاری کی یہ حدیث کہ امامکم منکم کیوں کر اُن پر صادق آئے گی اور یہ خیال کہ امام سے مراد اس جگہ مہدی ہے اوّل تو سیاق سباق کلام کا اس کے برخلاف ہے کیونکہ وہ حدیث مسیح موعود کے حق میں ہے اور اسی کی اس حدیث کے سر پر تعریف ہے۔ ماسوا اس کے بقول علماء مخالفین مہدی تو صرف چند سال رہ کر مر جائے گا اور پھر عیسیٰ پینتالیس سال برابر دنیا میں رہے گا حالانکہ وہ نہ اُمتی ہے اور نہ قرآنی وحی کا پیرو ہے بلکہ اُس پر آپ وحی نبوت نازل ہوتی ہے۔ سو سوچو اور فکر کرو کہ ایسا عقیدہ رکھنا دین میں کچھ تھوڑا فساد نہیں ڈالتا بلکہ تمام اسلام کو زیر وزبر کرتا ہے اور کس قدر ظلم ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خود بخود آسمان پر چڑھانا اور خود بخود آسمان سے اُتارنا حالانکہ قرآن نہ ان کے آسمان پر چڑھنے کا مصدق ہے اور نہ اُن کے اُترنے کو جائز رکھنے والا کیونکہ قرآن تو عیسیٰ کو مار کر زمین میں دفن کرتا ہے پھر حضرت مسیح کا زندہ بجسمہ العنصری آسمان پر چڑھانا قرآن سے کیونکر ثابت ہو سکے۔ کیا مردے آسمان پر چڑھیں گے۔ پس قرآن کے برخلاف حضرت عیسیٰ کو آسمان پر چڑھانا یہ صریح قرآن شریف کی تکذیب ہے۔ ایسا ہی پھر ان کو نبوت اور وحی نبوت کے ساتھ زمین پر اُتارنا یہ بھی صریح منطوق کلام الہی کے مخالف ہے کیونکہ موجب ابطال ختم وحی نبوت ہے تو پھر افسوس ہزار افسوس کہ اس لغو حرکت سے کیا فائدہ ہوا کہ محض اپنی حکومت سے حضرت مسیح کو آسمان پر چڑھایا اور پھر اپنے ہی خیال سے کسی وقت اُترنا بھی مان لیا۔ اگر حضرت مسیح سچ مچ زمین پر اُتریں گے اور پینتالیس برس تک جبرئیل وحی نبوت لے کر اُن پر نازل ہوتا رہے گا تو کیا ایسے عقیدہ سے دین اسلام باقی رہ جائے گا؟ اور آنحضرت کی ختم نبوت اور قرآن کی ختم وحی پر کوئی داغ نہیں لگے گا؟ بعض مسلمانوں میں سے تنگ آکر اور ہر ایک پہلو سے لا جواب ہو کر یہ بھی کہتے ہیں کہ کسی مسیح کے آنے کی ضرورت ہی کیا ہے یہ سب بیہودہ لافیں ہیں قرآن نے کہاں لکھا ہے کہ کوئی مسیح بھی دنیا میں آئے گا اور پھر کہتے ہیں کہ یہ دعویٰ نری فضولی اور تکبر سے بھرا ہوا ہے۔ حدیثوں کی صد ہا باتیں سچی نہیں ہوئیں تو پھر کیونکر یقین کریں کہ کسی مسیح کا آنا کوئی حق بات ہے بلکہ ایسا دعویٰ کرنے والے ایک ادنیٰ سی بات ہاتھ میں لے کر اپنی طرف لوگوں کو رجوع دینا چاہتے ہیں حالانکہ ان کی زندگی اچھی نہیں ہے۔ مکر، فریب، جھوٹ، دغابازی، تکبر، بد زبانی، شہوت پرستی، حرام خوری، عہد شکنی، خودستائی، ریا کاری، فاسقانہ زندگی اُن کا طریق ہے اور پھر کہتے ہیں کہ ہم مسیح ہیں ایسے مسیحوں سے فلاں فلاں شخص ہزار درجہ بہتر ہیں جن کی زندگی پاک اور جن کا کام مکر اور فریب اور جھوٹ اور ریا اور حرام خوری نہیں دل اور زبان اور معاملہ کے صاف ہیں کوئی متکبرانہ دعوے نہیں کرتے حالانکہ وہ ایسے شخص سے بدرجہا بہتر اور صحیح طور پر خدا کا الہام پاتے ہیں۔ کئی پیشگوئیاں اُن کی ہم نے بچشم خود پوری ہوتے دیکھیں مگر اس شخص کی ایک بھی پیشگوئی سچی نہیں نکلی وہ لوگ بڑے راستباز ہیں کوئی دعوی نہیں کرتے لیکن یہ شخص تو مکار کذاب جھوٹا مفتری ناحق کا مدعی عہد شکن مال حرام کھانے والا لوگوں کا ناحق روپیہ دبانے والا سخت درجہ کا بے ایمان ہے اور ان راستباز ملہموں پر خدا نے اپنے الہامات کے ذریعہ سے ظاہر کر دیا ہے کہ در حقیقت یہ شخص کافر ہے بلکہ سخت کافر ۔ فرعون اور ہامان سے بھی بدتر اور بعض پاک باطن ملہمین کو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نظر آئے تو آپ نے فرمایا کہ یہ مفتری کذاب دجال ہے اور واجب القتل اور میں اس کا دشمن ہوں اور جلد تباہ کر دوں گا اور ایک بزرگ اپنے ایک واجب التعظیم مرشد کی ایک خواب جس کو اس زمانہ کا قطب الاقطاب و امام الا بدال خیال کرتے ہیں یہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور آپ ایک تخت پر بیٹھے ہوئے تھے اور گردا گرد تمام علماء پنجاب اور ہندوستان گویا بڑی تعظیم کے ساتھ کرسیوں پر بٹھائے گئے تھے اور تب یہ شخص جو مسیح موعود کہلاتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکھڑا ہوا جو نہایت کریہ شکل اور میلے کچیلے کپڑوں میں تھا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ کون ہے تب ایک عالم ربانی اٹھا ( شائد محمود شاہ واعظ یا محمد علی بو پڑی ) اور اُس نے عرض کی کہ یا حضرت یہی شخص مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے ۔ آپ نے فرمایا یہ تو دجال ہے ۔ تب آپ کے فرمانے سے اُسی وقت اُس کے سر پر جوتے لگنے شروع ہوئے جن کا کچھ حساب اور اندازہ نہ رہا اور آپ نے ان تمام علماء پنجاب اور ہندوستان کی بہت تعریف کی جنہوں نے اس شخص کو کافر اور دجال ٹھہرایا اور آپ بار بار پیار کرتے اور کہتے تھے کہ یہ میرے علماء ربانی ہیں جن کے وجود سے مجھے فخر ہے۔ اس جگہ کرسی نشینی کی ترتیب کا کچھ ذکر نہیں کیا مگر میں گمان کرتا ہوں کہ اُس کی ترتیب شائد یہ ہوگی کہ وہ غیر مرئی نورانی وجود جس نے اپنے تئیں اپنی قدیم طاقت کی وجہ سے خواب میں ظاہر کیا تھا کہ میں محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہوں جو ایک سونے کے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ اُس کے اِس سونے کے تخت کے قریب مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی کی کرسی ہوگی ساتھ ہی میاں عبدالحق غزنوی کی اور اس کے پہلو پر مولوی عبدالجبار صاحب کی کرسی اور اس کرسی سے ملی ہوئی ایک اور کرسی جس پر زینت بخش مولوی عبدالواحد صاحب غزنوی تھے اور کچھ فاصلہ سے مولوی رسل بابا امرتسری کی کرسی تھی۔ اور ان دونوں کرسیوں کے درمیان ایک اور کرسی تھی جس کا اندر سے کچھ اور رنگ تھا اور باہر سے کچھ اور تھوڑی سی تحریک کے ساتھ بھی ہل جاتی تھی اور کچھ ٹوٹی ہوئی بھی تھی یہ کرسی مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری کی تھی اس کرسی کے ساتھ ہی ایک چھوٹی سی بنچ پر میاں چٹو لاہوری بیٹھے ہوئے تھے جو اُس دربار کے شریک تھے ۔ اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی کرسی کے پاس ایک اور کرسی تھی جس پر ایک بڈھا نودسالہ بیٹھا ہوا تھا جس کو لوگ نذیر حسین کہتے تھے اُس کی کرسی نے مولوی محمد حسین بٹالوی کو ایک بچہ کی طرح اپنی گود میں لیا ہوا تھا۔ پھر اس کے بعد مولوی محمد اور مولوی عبد العزیز لدھیانوی کی کرسیاں تھیں جن کے اندر سے بڑے زور کے ساتھ آواز آ رہی تھی کہ یہ پنجاب کے تمام مولویوں میں سے تکفیر میں بڑے بہادر ہیں اور پیغمبر صاحب اس آواز سے بڑے خوش ہو رہے تھے اور بار بار پیار سے اُن کے ہاتھ اور نیز مولوی محمد حسین کے ہاتھ چوم کر کہہ رہے تھے کہ یہ ہاتھ مجھے پیارے معلوم ہوتے ہیں جنہوں نے ابھی تھوڑے دنوں میں میری اُمت میں سے تیس ہزار آدمی کا نام کافر اور دجال رکھا اور فرماتے تھے کہ یہ سخت غلطی تھی کہ لوگوں نے ایسا سمجھا ہوا تھا کہ اگر سو میں سے ننانوے کفر کے آثار پائے جائیں اور ایک ایمان کا نشان پایا جائے تو پھر اس کو مومن سمجھو بلکہ حق بات یہ ہے کہ جس شخص میں ننانوے نشان ایمان کے پائے جائیں اور ایک نشان کفر کا خیال کیا جائے یا ظن کیا جائے یا بے تحقیق شہرت دی جائے تو اُس کو بلا شبہ کافر سمجھنا چاہیے یہ فرمایا اور پھر مولوی محمد حسین صاحب کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور کہا یہ عالم ربانی ہے جس نے میرے اس منشاء کو سمجھا تب مولوی محمد علی بو پڑی کھڑا ہوا اور کہا کہ میں تو سب سے زیادہ مسجدوں اور گلیوں اور کو چوں اور لوگوں کے گھروں میں اس شخص کو جو کہتا ہے کہ میں مسیح ہوں گالیاں دیا کرتا ہوں اور لعنت بھیجا کرتا ہوں اور ہر ایک وقت میرا کام ہے کہ ہر مجلس میں لوگوں کو اس شخص کی توہین و تحقیر ولعن و طعن کرنے کے لئے کہتا رہتا ہوں اور ہمیشہ انہی کاموں کے لئے سفر بھی کر کے ترغیب دیتا رہتا ہوں اور کوئی گالی نہیں کہ میں نے اُٹھا نہیں رکھی اور کوئی توہین نہیں جو میں نے نہیں کی ۔ پس میرا کیا اجر ہے۔ تب اس پیغمبر صاحب نے بہت پیار کے جوش سے اُٹھ کر بو پڑی کو اپنے گلے لگا لیا اور کہا کہ تو میرا پیارا بیٹا ہے تو نے میرا منشاء سمجھا۔ غرض جیسا کہ حضرت خواب بین صاحب بیان فرماتے ہیں پنجاب کے تمام مولویوں کی کرسیاں اس دربار میں موجود تھیں اور ہر ایک فاخرہ لباس پہنے ہوئے نوابوں کی طرح بیٹھا تھا اور وہ پیغمبر صاحب ہر وقت اُن کا ہاتھ چومتے تھے کہ یہ ہیں میرے پیارے علماء ربانی خیر الناس علٰی ظهر الارض اور پھر آگے چل کر ایک اور کرسی تھی اُس پر ایک اور مولوی صاحب کرسی پر کچھ چھپ کر بیٹھے ہوئے تھے اور آواز آرہی تھی کہ یہی ہیں خلیفہ شیخ بٹالوی محمد حسن لدھیانوی اور ساتھ اُن کے ایک اور کرسی تھی اور لوگ کہتے تھے کہ یہ مولوی واعظ محمود شاہ کی کرسی ہے جو کسی مناسبت سے مولوی محمد حسن کے ساتھ بچھائی گئی ۔ اور سب سے پیچھے ایک نابینا وزیر آبادی تھا جس کو عبدالمنان کہتے تھے اور اس کی کرسی سے انا المکفّر کی زور کے ساتھ آواز آ رہی تھی ۔ غرض یہ خواب ہے جس میں ان تمام کرسی نشین مولوی صاحبوں کا ذکر ہے مگر یہ کرسیوں کی ترتیب میری طرف سے ہے جو اس خواب کے مناسب حال کی گئی لیکن خواب میں یہ حصہ داخل ہے کہ علماء پنجاب اس پیغمبر صاحب کے دربار میں بڑی تعظیم کے ساتھ کرسیوں پر بٹھائے گئے تھے اور تمام عالم امرتسری بٹالوی لاہوری لدھیانوی دہلوی وزیر آبادی بو پڑی گولڑوی وغیرہ اس دربار میں کرسیوں پر زینت بخش تھے۔ اور پیغمبر صاحب نے میری تکفیر اور ایذا اور توہین کی وجہ سے بڑا پیار اُن سے ظاہر کیا تھا اور بڑی محبت اور تعظیم سے پیش آئے تھے گویا اُن پر فدا ہوتے جاتے تھے۔ یہ خواب کا مضمون ہے جو خط میں میری طرف لکھا گیا تھا جس کی نسبت بیان کیا گیا ہے کہ اس خواب کا دیکھنے والا ایک بڑا بزرگ پاک باطن ہے جس کو دکھلایا کہ یہ سب مولوی پنجاب اور ہندوستان کے اقطاب اور ابدال کے درجہ پر ہیں۔ چونکہ یہ خط اتفاق سے گم ہو گیا ہے اور اس وقت مجھے نہیں ملا اس لئے میں صاحب راقم کی خدمت میں عذر کرتا ہوں کہ اگر کوئی حصہ اُن کے خواب کا جو پنجاب کے مولویوں کی بزرگ شان میں ہے یا جو اس دربار میں مجھے سزا دی گئی میرے لکھنے سے رہ گیا ہو تو معاف فرمائیں اور میں نے حتی المقدور اس خواب کے کسی حصہ کو ترک نہیں کیا۔ یہ تمام ایک اعتراض ہے جو میرے پر کیا گیا ہے اور مجھے کذاب، دجال، کافر، مفتری ، فاسق ، فریبی ، حرام خور، ریا کار، متکبر، بدگو، بد زبان ٹھہرا کر پھر گویا اُس بزرگ کی اس خواب کے ساتھ ان تمام الزاموں کا ثبوت دے کر اثبات دعوی سے سبکدوشی حاصل کر لی گئی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ صرف یہ کشف اور رویا ہی تمہارے کافر ہونے پر دلیل نہیں ہے بلکہ اُمت کا اجماع بھی تو ہو گیا ۔ اور اجماع کے یہ معنے کئے گئے ہیں کہ گولڑہ سے دِلّی تک جس قدر مولوی اور سجادہ نشین تھے سب نے کفر کی گواہی دے دی اب شک کیا رہا بلکہ اب تو کافر کہنا اور لعنت بھیجنا موجب درجات ہے اور بعض نفلی عبادتوں سے بہتر ۔ اعتراض مذکورہ بالا میں جس قدر میری ذاتیات کی نسبت نکتہ چینی کی گئی ہے میں اس سے ناراض نہیں ہوں کیونکہ کوئی رسول اور نبی اور مامور من اللہ نہیں گذرا جس کی نسبت ایسی نکتہ چینیاں نہیں ہوئیں۔ ابھی ایک رسالہ آریہ صاحبوں نے شائع کیا ہے جس میں نعوذ باللہ حضرت موسیٰ کو گویا تمام مخلوقات سے بدتر ٹھہرایا گیا ہے اور جس قدر میرے پر اعتراض کو تہ بینی اور تعصب سے کئے جاتے ہیں وہ سب اُن پر کئے گئے ہیں یہاں تک کہ نعوذ باللہ ان کو عہد شکن دروغ گو اور ظلم سے بیگانہ کا مال حرام کھانے والا اور فریب کرنے والا اور دھوکا دینے والا قرار دیا ہے اور بعض الزام مجھ سے زیادہ لگائے گئے ہیں جیسے یہ کہ موسیٰ نے کئی لاکھ شیر خوار بچے قتل کرائے اب دیکھو کہ جو میرے پر اعتراض کرتے ہیں اُن کے ہاتھ میں تو کچھ ثبوت بھی نہیں محض بدظنی سے جھوٹ کی نجاست ہے مگر جنہوں نے حضرت موسیٰ پر اعتراض کئے وہ تو اپنے الزامات کے ثبوت میں توریت کی آیتیں پیش کرتے ہیں۔ ایسا ہی بہت سے اعتراض یہودیوں نے حضرت مسیح کی زندگی پر بھی کئے ہیں جو نہایت گندے اور نا قابل ذکر ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور ذاتی حالات پر جو جو اعتراضات میزان الحق اور عمادالدین کی کتابوں اور امہات المومنین وغیرہ میں کئے ہیں وہ کسی پر پوشیدہ نہیں ۔ پس اگر ان اعتراضات سے کچھ نتیجہ نکلتا ہے تو بس یہی کہ ہمیشہ نا پاک خیال لوگ ایسے ہی اعتراضات کرتے آئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو بھی منظور تھا کہ ان کا امتحان کرے اس لئے اپنے مقدس لوگوں کے بعض افعال اور معاملات کی حقیقت اُن پر پوشیدہ کردی تا ان کا خبث ظاہر کرے۔ اور جو میری پیشگوئیوں کی نسبت اعتراض کیا ہے میں اس کا جواب پہلے دے چکا ہوں کہ یہ اعتراض بھی سنت اللہ کے موافق میرے پر کیا گیا ہے یعنی کوئی نبی نہیں گذرا جس کی بعض پیشگوئیوں کی نسبت اعتراض نہیں ہوا۔ یہ کس قسم کی بدبختی اور بد قسمتی ہے کہ ہمیشہ سے اندھے لوگ خدا کے روشن نشانوں سے فائدہ نہیں اُٹھاتے رہے اور اگر ان میں کوئی نظری طور پر دقیق پیشگوئی اسی طور پر ظہور میں آئی جس کو موٹی عقلیں سمجھ نہ سکیں تو وہی محل اعتراض بنا لیا جیسا کہ کتاب تریاق القلوب کے پڑھنے والے خوب جانتے ہیں کہ آج تک میرے ہاتھ پر سو سے زیادہ خدا تعالیٰ کا نشان ظاہر ہوا جن کے دنیا میں کئی لاکھ انسان گواہ ہیں مگر کور چشم معترضوں نے ان کی طرف کچھ بھی توجہ نہیں کی اور نہ اُن سے کچھ فائدہ اُٹھایا اور جب ایک دونشان کوتہ اندیشی یا بخل یا فطرتی کور باطنی کی وجہ سے ان کو سمجھ نہ آئے تو بغیر اس کے کہ کچھ سوچتے اور تامل کرتے یا مجھ سے پوچھتے شور مچادیا۔ اسی طرح ابو جہل وغیرہ مخالف انبیا علیہم السلام شور مچاتے رہے ہیں۔ نہ معلوم اس ظلم کا خدا تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے۔ ان لوگوں کا بجز اس کے اور کچھ منشاء نہیں کہ چاہتے ہیں کہ نورالٰہی کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں مگر وہ بجھ نہیں سکتا کیونکہ خدا کے ہاتھ نے اس کو روشن کیا ہے۔ نہ معلوم کہ میری تکذیب کے لئے اس قدر کیوں مصیبتیں اٹھا رہے ہیں اگر آسمان کے نیچے میری طرح کوئی اور بھی تائید یافتہ ہے اور میرے اس دعویٰ مسیح موعود ہونے کا مکذب ہے تو کیوں وہ میرے مقابل پر میدان میں نہیں آتا ؟ عورتوں کی طرح باتیں بنانا یہ طریق کسی کو نہیں آتا ۔ ہمیشہ بے شرم منکر ایسا ہی کرتے رہے ہیں لیکن جبکہ میں میدان میں کھڑا ہوں اور تیس ہزار کے قریب عقلاء اور علماء اور فقراء اور فہیم انسانوں کی جماعت میرے ساتھ ہے اور بارش کی طرح آسمانی نشان ظاہر ہو رہے ہیں تو کیا صرف منہ کی پھونکوں سے یہ الٰہی سلسلہ برباد ہو سکتا ہے؟ کبھی برباد نہیں ہوگا ۔ وہی برباد ہوں گے جو خدا کے انتظام کو نابود کرنا چاہتے ہیں ۔ (۱) خدا نے مجھے قرآنی معارف بخشے ہیں ۔ (۲) خدا نے مجھے قرآن کی زبان میں اعجاز عطا فرمایا ہے (۳) خدا نے میری دُعاؤں میں سب سے بڑھ کر قبولیت رکھی ہے (۴) خدا نے مجھے آسمان سے نشان دیئے ہیں (۵) خدا نے مجھے زمین سے نشان دیئے ہیں (۶) خدا نے مجھے وعدہ دے رکھا ہے کہ تجھ سے ہر ایک مقابلہ کرنے والا مغلوب ہوگا (۷) خدا نے مجھے بشارت دی ہے کہ تیرے پیرو ہمیشہ اپنے دلائل صدق میں غالب رہیں گے اور دنیا میں اکثر وہ اور اُن کی نسل بڑی بڑی عزتیں پائیں گے تا اُن پر ثابت ہو کہ جو خدا کی طرف آتا ہے وہ کچھ نقصان نہیں اٹھاتا (۸) خدا نے مجھے وعدہ دے رکھا ہے کہ قیامت تک اور جب تک کہ دنیا کا سلسلہ منقطع ہو جائے میں تیری برکات ظاہر کرتا رہوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ۔ (۹) خدا نے آج سے بیس برس پہلے مجھے بشارت دی ہے کہ تیرا انکار کیا جائے گا اور لوگ تجھے قبول نہیں کریں گے پر میں تجھے قبول کروں گا اور بڑے زور آور حملوں سے تیری سچائی ظاہر کر دوں گا ۔ (۱۰) اور خدا نے مجھے وعدہ دیا ہے کہ تیری برکات کا دوبارہ نور ظاہر کرنے کے لئے تجھ سے ہی اور تیری ہی نسل میں سے ایک شخص کھڑا کیا جائے گا جس میں میں روح القدس کی برکات پھونکوں گا ۔ وہ پاک باطن اور خدا سے نہایت پاک تعلق رکھنے والا ہوگا اور مظهر الحق والعلا ہوگا گویا خدا آسمان سے نازل ہوا۔ و تلک عشرة كاملة. دیکھو وہ زمانہ چلا آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا اس سلسلہ کی دنیا میں بڑی قبولیت پھیلائے گا اور یہ سلسلہ مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب میں پھیلے گا اور دنیا میں اسلام سے مراد یہی سلسلہ ہوگا ۔ یہ باتیں انسان کی باتیں نہیں یہ اُس خدا کی وحی ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔

اب میں مختصر طور پر اپنے مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کے دلائل ایک جگہ اکٹھے کر کے لکھ دیتا ہوں شائد کسی طالب حق کو کام آئیں یا کوئی سینہ حق کے قبول کرنے کے لئے کھل جائے ۔ رب فاجعل فيها من عندك بركة وتاثيرًا وهداية وتنويرًا واجعل افئدة من الناس تهوى اليها فانّك علٰى كلّ شيءٍ قدير و بالاجابة جدير. ربّنا اغفر لنا ذنوبنا وادفع بلايانا وكروبنا ونجّ من كلّ همٍّ قلوبنا و كفّل خطوبنا وكن معنا حيثما كنا يا محبوبنا واستر عوراتنا و اٰمن روعاتنا. انّا توكلنا علیک و فوّضنا الامر اليك انت مولانا فی الدنيا والاٰخرة وانت ارحم الرّاحمين. اٰمين. يا ربّ العالمين.

(۱) پہلی دلیل اس بات پر کہ میں ہی مسیح موعود اور مہدی معہود ہوں یہ ہے کہ میرا یہ دعویٰ مہدی اور مسیح ہونے کا قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے یعنی قرآن شریف اپنے نصوص قطعیہ سے اس بات کو واجب کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقابل پر جو موسوی خلیفوں کے خاتم الانبیاء ہیں اس امت میں سے بھی ایک آخری خلیفہ پیدا ہوگا تا کہ وہ اسی طرح محمدی سلسلہ خلافت کا خاتم الاولیاء ہو اور مجددانہ حیثیت اور لوازم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مانند ہو اور اسی پر سلسلہ خلافت محمدیہ ختم ہو جیسا کہ حضرت مسیح علیہ السلام پر سلسلہ خلافت موسویہ ختم ہو گیا ہے۔

تفصیل اس دلیل کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مثیل ٹھہرایا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جو مسیح موعود تک سلسلہ خلافت ہے اس سلسلہ کو خلافت موسویہ کے سلسلہ سے مشابہ قرار دیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا یعنی ہم نے یہ پیغمبر اسی پیغمبر کی مانند تمہاری طرف بھیجا ہے کہ جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔ اور یہ اس بات کا گواہ ہے کہ تم کیسی ایک سرکش اور متکبر قوم ہو جیسے کہ فرعون متکبر اور سرکش تھا۔ یہ تو وہ آیت ہے جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مماثلت حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ثابت ہوتی ہے لیکن جس آیت سے دونوں سلسلوں یعنی سلسلہ خلافت موسویہ اور سلسلہ خلافت محمدیہ میں مماثلت ثابت ہے یعنی جس سے قطعی اور یقینی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ سلسلۂ نبوت محمدیہ کے خلیفے سلسلۂ نبوت موسویہ کے مشابہ و مماثل ہیں وہ یہ آیت ہے وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ الخ یعنی خدا نے اُن ایمانداروں سے جو نیک کام بجالاتے ہیں وعدہ کیا ہے جو اُن میں سے زمین پر خلیفے مقرر کرے گا انہی خلیفوں کی مانند جو اُن سے پہلے کئے تھے ۔ اب جب ہم مانند کے لفظ کو پیش نظر رکھ کر دیکھتے ہیں جو محمدی خلیفوں کی موسوی خلیفوں سے مماثلت واجب کرتا ہے تو ہمیں ماننا پڑتا ہے جو ان دونوں سلسلوں کے خلیفوں میں مماثلت ضروری ہے اور مماثلت کی پہلی بنیاد ڈالنے والا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہے اور مماثلت کا آخری نمونہ ظاہر کرنے والا وہ مسیح خاتم خلفاء محمدیہ ہے جو سلسلہ خلافت محمدیہ کا سب سے آخری خلیفہ ہے ۔ سب سے پہلا خلیفہ جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہے وہ حضرت یوشع بن نون کے مقابل اور اُن کا مثیل ہے جس کو خدا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت کے لئے اختیار کیا اور سب سے زیادہ فراست کی روح اُس میں پھونکی یہاں تک کہ وہ مشکلات جو عقیدہ باطلہ حیات مسیح کے مقابلہ میں خاتم الخلفاء کو پیش آنی چاہیے تھی ان تمام شبہات کو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کمال صفائی سے حل کر دیا اور تمام صحابہ میں سے ایک فرد بھی ایسا نہ رہا جس کا گذشتہ انبیاء علیہم السلام کی موت پر اعتقاد نہ ہو گیا ہو بلکہ تمام اُمور میں تمام صحابہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی ایسی ہی اطاعت اختیار کر لی جیسا کہ حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد بنی اسرائیل نے حضرت یشوع بن نون کی اطاعت کی تھی اور خدا بھی موسیٰ اور یشوع بن نون کے نمونہ پر جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور آپ کا حامی اور مؤید تھا۔ ایسا ہی ابو بکر صدیق کا حامی اور مؤید ہو گیا ۔ در حقیقت خدا نے یشوع بن نون کی طرح اس کو ایسا مبارک کیا جو کوئی دشمن اس کا مقابلہ نہ کر سکا اور اسامہ کے لشکر کا نا تمام کام جو حضرت موسیٰ کے ناتمام کام سے مشابہت رکھتا تھا حضرت ابو بکر کے ہاتھ پر پورا کیا۔ اور حضرت ابوبکر کی حضرت یشوع بن نون کے ساتھ ایک اور عجیب مناسبت یہ ہے جو حضرت موسیٰ کی موت کی اطلاع سب سے پہلے حضرت یوشع کو ہوئی اور خدا نے بلا توقف اُن کے دل میں وحی نازل کی جو موسیٰ مر گیا تا یہود حضرت موسیٰ کی موت کے بارے میں کسی غلطی یا اختلاف میں نہ پڑ جائیں جیسا کہ یشوع کی کتاب باب اوّل سے ظاہر ہے اسی طرح سب سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر حضرت ابو بکر نے یقین کامل ظاہر کیا اور آپ کے جسد مبارک پر بوسہ دے کر کہا کہ تو زندہ بھی پاک تھا اور موت کے بعد بھی پاک ہے اور پھر وہ خیالات جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بارے میں بعض صحابہ کے دل میں پیدا ہو گئے تھے ایک عام جلسہ میں قرآن شریف کی آیت کا حوالہ دے کر اُن تمام خیالات کو دور کر دیا اور ساتھ ہی اس غلط خیال کی بھی بیخ کنی کر دی جو حضرت مسیح کی حیات کی نسبت احادیث نبویہ میں پوری غور نہ کرنے کی وجہ سے بعض کے دلوں میں پایا جاتا تھا اور جس طرح حضرت یشوع بن نون نے دین کے سخت دشمنوں اور مفتریوں اور مفسدوں کو ہلاک کیا تھا اسی طرح بہت سے مفسد اور جھوٹے پیغمبر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے مارے گئے اور جس طرح حضرت موسیٰ راہ میں ایسے نازک وقت میں فوت ہو گئے تھے کہ جب ابھی بنی اسرائیل نے کنعانی دشمنوں پر فتح حاصل نہیں کی تھی اور بہت سے مقاصد باقی تھے اور ارد گرد دشمنوں کا شور تھا جو حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد اور بھی خطرناک ہو گیا تھا ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایک خطرناک زمانہ پیدا ہو گیا تھا۔ کئی فرقے عرب کے مرتد ہو گئے تھے بعض نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تھا اور کئی جھوٹے پیغمبر کھڑے ہو گئے تھے اور ایسے وقت میں جو ایک بڑے مضبوط دل اور مستقل مزاج اور قوی الایمان اور دلاور اور بہادر خلیفہ کو چاہتا تھا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر کئے گئے اور ان کو خلیفہ ہوتے ہی بڑے غموں کا سامنا ہوا جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ بباعث چند در چند فتنوں اور بغاوت اعراب اور کھڑے ہونے جھوٹے پیغمبروں کے میرے باپ پر جبکہ وہ خلیفہ رسول اللہ صلعم مقرر کیا گیا وہ مصیبتیں پڑیں اور وہ غم دل پر نازل ہوئے کہ اگر وہ غم کسی پہاڑ پر پڑتے تو وہ بھی گر پڑتا اور پاش پاش ہو جاتا اور زمین سے ہموار ہو جاتا مگر چونکہ خدا کا یہ قانون قدرت ہے کہ جب خدا کے رسول کا کوئی خلیفہ اس کی موت کے بعد مقرر ہوتا ہے تو شجاعت اور ہمت اور استقلال اور فراست اور دل قوی ہونے کی روح اس میں پھونکی جاتی ہے جیسا کہ یشوع کی کتاب باب اول آیت ۶ میں حضرت یشوع کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مضبوط ہو اور دلاوری کر یعنی موسیٰ تو مر گیا اب تو مضبوط ہو جا۔ یہی حکم قضا و قدر کے رنگ میں نہ شرعی رنگ میں حضرت ابو بکر کے دل پر بھی نازل ہوا تھا تناسب اور تشابہ واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا ابو بکر بن قحافہ اور یشوع بن نون ایک ہی شخص ہے۔ استخلافی مماثلت نے اس جگہ کس کر اپنی مشابہت دکھلائی ہے یہ اس لئے کہ کسی دو لمبے سلسلوں میں باہم مشابہت کو دیکھنے والے طبعا یہ عادت رکھتے ہیں کہ یا اول کو دیکھا کرتے ہیں اور یا آخر کو مگر دو سلسلوں کی درمیانی مماثلت کو جس کی تحقیق و تفتیش زیادہ وقت چاہتی ہے دیکھنا ضروری نہیں سمجھتے بلکہ اول اور آخر پر قیاس کر لیا کرتے ہیں اس لئے خدا نے اس مشابہت کو جو یشوع بن نون اور حضرت ابوبکر میں ہے جو دونوں خلافتوں کے اول سلسلہ میں ہیں اور نیز اس مشابہت کو جو حضرت عیسیٰ بن مریم اور اِس اُمت کے مسیح موعود میں ہے جو دونوں خلافتوں کے آخر سلسلہ میں ہیں اجلی بدیهیات کر کے دکھلا دیا مثلاً یشوع اور ابوبکر میں وہ مشابہت درمیان رکھ دی کہ گویا وہ دونوں ایک ہی وجود ہے یا ایک ہی جو ہر کے دوٹکڑے ہیں اور جس طرح بنی اسرائیل حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد یوشع بن نون کی باتوں کے شنوا ہو گئے اور کوئی اختلاف نہ کیا اور سب نے اپنی اطاعت ظاہر کی یہی واقعہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو پیش آیا اور سب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی میں آنسو بہا کر دلی رغبت سے حضرت ابوبکر کی خلافت کو قبول کیا۔ غرض ہر ایک پہلو سے حضرت ابو بکر صدیق کی مشابہت حضرت یشوع بن نون علیہ السلام سے ثابت ہوئی۔ خدا نے جس طرح حضرت یشوع بن نون کو اپنی وہ تائیدیں دکھلائیں کہ جو حضرت موسیٰ کو دکھلایا کرتا تھا ایسا ہی خدا نے تمام صحابہ کے سامنے حضرت ابو بکر کے کاموں میں برکت دی اور نبیوں کی طرح اس کا اقبال چمکا۔ اُس نے مفسدوں اور جھوٹے نبیوں کو خدا سے قدرت اور جلال پا کر قتل کیا تا کہ اصحاب رضی اللہ عنہم جانیں کہ جس طرح خدا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اس کے بھی ساتھ ہے۔ ایک اور عجیب مناسبت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حضرت یشوع بن نون علیہ السلام سے ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت یشوع بن نون کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ایک ہولناک دریا سے جس کا نام یردن ہے عبور مع لشکر کرنا پیش آیا تھا اور یردن میں ایک طوفان تھا اور عبور غیر ممکن تھا اور اگر اس طوفان سے عبور نہ ہوتا تو بنی اسرائیل کی دشمنوں کے ہاتھ سے تباہی متصور تھی اور یہ وہ پہلا امر ہولناک تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد یشوع بن نون کو اپنے خلافت کے زمانہ میں پیش آیا اس وقت خدا تعالیٰ نے اس طوفان سے اعجازی طور پر یوشع بن نون اور اس کے لشکر کو بچا لیا اور یردن میں خشکی پیدا کر دی جس سے وہ بآسانی گذر گیا وہ خشکی بطور جوار بھاٹا تھی یا محض ایک فوق العادت اعجاز تھا۔ بہر حال اس طرح خدا نے ان کو طوفان اور دشمن کے صدمہ سے بچایا اسی طوفان کی مانند بلکہ اس سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر خلیفہ الحق کو مع تمام جماعت صحابہ کے جو ایک لاکھ سے زیادہ تھے پیش آیا یعنی ملک میں سخت بغاوت پھیل گئی۔ اور وہ عرب کے بادیہ نشین جن کو خدا نے فرمایا تھا قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَلٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَلَمَّا یَدۡخُلِ الۡاِیۡمَانُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ(الحجرات: ۱۵)( سورۃ حجرات ) ضرور تھا کہ اس پیشگوئی کے مطابق وہ بگڑتے تا یہ پیشگوئی پوری ہوتی۔ پس ایسا ہی ہوا اور وہ سب لوگ مرتد ہو گئے اور بعض نے زکوۃ سے انکار کیا اور چند شریر لوگوں نے پیغمبری کا دعویٰ کر دیا جن کے ساتھ کئی لاکھ بد بخت انسانوں کی جمعیت ہو گئی اور دشمنوں کا شمار اس قدر بڑھ گیا کہ صحابہ کی جماعت اُن کے آگے کچھ بھی چیز نہ تھی اور ایک سخت طوفان ملک میں بر پا ہوا یہ طوفان اُس خوفناک پانی سے بہت بڑھ کر تھا جس کا سامنا حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو پیش آیا تھا اور جیسا کہ یوشع بن نون حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد نا گہانی طور پر اس سخت ابتلا میں مبتلا ہو گئے تھے کہ دریا سخت طوفان میں تھا اور کوئی جہاز نہ تھا اور ہر ایک طرف سے دشمن کا خوف تھا۔ یہی ابتلا حضرت ابو بکر کو پیش آیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اور ارتداد عرب کا ایک طوفان برپا ہو گیا اور جھوٹے پیغمبروں کا ایک دوسرا طوفان اس کو قوت دینے والا ہو گیا۔ یہ طوفان یوشع کے طوفان سے کچھ کم نہ تھا بلکہ بہت زیادہ تھا اور پھر جیسا کہ خدا کی کلام نے حضرت یوشع کو قوت دی اور فرمایا کہ جہاں جہاں تو جاتا ہے میں تیرے ساتھ ہوں تو مضبوط ہو اور دلاور بن جا اور بے دل مت ہو۔ تب یشوع میں بڑی قوت اور استقلال اور وہ ایمان پیدا ہو گیا جو خدا کی تسلی کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ ایسا ہی حضرت ابو بکر کو بغاوت کے طوفان کے وقت خدا تعالیٰ سے قوت ملی۔ جس شخص کو اس زمانہ کی اسلامی تاریخ پر اطلاع ہے وہ گواہی دے سکتا ہے کہ وہ طوفان ایسا سخت طوفان تھا کہ اگر خدا کا ہاتھ ابو بکر کے ساتھ نہ ہوتا اور اگر در حقیقت اسلام خدا کی طرف سے نہ ہوتا اور اگر در حقیقت ابو بکر خلیفہ حق نہ ہوتا تو اس دن اسلام کا خاتمہ ہو گیا تھا مگر یشوع نبی کی طرح خدا کے پاک کلام سے ابو بکر صدیق کو قوت ملی کیونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اس ابتلا کی پہلے سے خبر دے رکھی تھی۔ چنانچہ جو شخص اس آیت مندرجہ ذیل کو غور سے پڑھے گا وہ یقین کرلے گا کہ بلا شبہ اس ابتلا کی خبر قرآن شریف میں پہلے سے دی گئی تھی اور وہ خبر یہ ہے کہ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا ؕ یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا ؕ وَمَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ یعنی خدا نے مومنوں کو جو نیکو کار ہیں وعدہ دے رکھا ہے جو ان کو خلیفے بنائے گا انہی خلیفوں کی مانند جو پہلے بنائے تھے اور اُسی سلسلہ خلافت کی مانند سلسلہ قائم کرے گا جو حضرت موسیٰ کے بعد قائم کیا تھا اور اُن کے دین کو یعنی اسلام کو جس پر وہ راضی ہوا زمین پر جما دے گا اور اُس کی جڑ لگا دے گا اور خوف کی حالت کو امن کی حالت کے ساتھ بدل دے گا۔ وہ میری پرستش کریں گے کوئی دوسرا میرے ساتھ نہیں ملائیں گے۔ دیکھو اس آیت میں صاف طور پر فرما دیا ہے کہ خوف کا زمانہ بھی آئے گا اور امن جاتا رہے گا مگر خدا اُس خوف کے زمانہ کو پھر امن کے ساتھ بدل دے گا۔ سو یہی خوف یشوع بن نون کو بھی پیش آیا تھا اور جیسا کہ اس کو خدا کی کلام سے تسلی دی گئی ایسا ہی ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بھی خدا کی کلام سے تسلی دی گئی اور چونکہ ہر ایک سلسلہ میں خدا کا یہ قانون قدرت ہے کہ اس کا کمال تب ظاہر ہوتا ہے کہ جب آخر حصہ سلسلہ کا پہلے حصہ سے مشابہ ہو جائے اس لئے ضروری ہوا کہ موسوی اور محمدی سلسلہ کا پہلا خلیفہ موسوی اور محمدی سلسلہ کے آخری خلیفہ سے مشابہ ہو کیونکہ کمال ہر ایک چیز کا استدارت کو چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام بسائط گول شکل پر پیدا کئے گئے ہیں تا خدا کے ہاتھ کی پیدا کی ہوئی چیزیں ناقص نہ ہوں۔ اِسی بنا پر ماننا پڑتا ہے کہ زمین کی شکل بھی گول ہے کیونکہ دوسری تمام شکلیں کمال تام کے مخالف ہیں اور جو چیز خدا کے ہاتھ سے بلا واسطہ نکلی ہے اس میں مناسب حال مخلوقیت کے کمال تام ضرور چاہیے تا اس کا نقص خالق کے نقص کی طرف عائد نہ ہو اور نیز اس لئے بسائط کا گول رکھنا خدا تعالیٰ نے پسند کیا کہ گول میں کوئی جہت نہیں ہوتی۔ اور یہ امر توحید کے بہت مناسب حال ہے۔ غرض صنعت کا کمال مدوّر شکل سے ہی ظاہر ہوتا ہے کیونکہ اس میں انتہائی نقطہ اس قدر اپنے کمال کو دکھلاتا ہے کہ پھر اپنے مبدء کو جا ملتا ہے۔

اب ہم پھر اپنے اصل مدعا کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ ہمارے مذکورہ بالا بیان سے یقینی اور قطعی طور پر ثابت ہو گیا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو جو حضرت سیدنا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے پہلے خلیفہ تھے حضرت یوشع بن نون علیہ السلام سے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کے پہلے خلیفہ ہیں اشد مشابہت ہے تو پھر اس سے لازم آیا کہ جیسا کہ سلسلہ محمدیہ کی خلافت کا پہلا خلیفہ سلسلہ موسویہ کی خلافت کے پہلے خلیفہ سے مشابہت رکھتا ہے ایسا ہی سلسلہ محمدیہ کی خلافت کا آخری خلیفہ جو مسیح موعود سے موسوم ہے سلسلۂ موسویہ کے آخری خلیفہ سے جو حضرت عیسیٰ بن مریم ہے مشابہت رکھے تا دونوں سلسلوں کی مشابہت تامہ میں جو نص قرآنی سے ثابت ہوتی ہے کچھ نقص نہ رہے کیونکہ جب تک دونوں سلسلے یعنی سلسلہ موسویہ وسلسلہ محمدیہ اوّل سے آخر تک باہم مشابہت نہ دکھلائیں تب تک وہ مماثلت جو آیت کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ میں کَمَا کے لفظ سے مستنبط ہوتی ہے ثابت نہیں ہو سکتی۔ اور پھر چونکہ ہم ابھی حاشیہ میں اکمل اور اتم طور پر ثابت کر چکے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مسیح موعود سے مشابہت رکھتے ہیں اور دوسری طرف یہ بھی ثابت ہو گیا کہ حضرت ابو بکر حضرت یوشع بن نون سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اور حضرت یوشع بن نون اس قاعدہ کے رو سے جو دائرہ کا اول نقطہ دائرہ کے آخر نقطہ سے اتحاد رکھتا ہے جیسا کہ ابھی ہم نے حاشیہ میں لکھا ہے حضرت عیسیٰ بن مریم سے مشابہت رکھتے ہیں تو اس سلسلۂ مساوات سے لازم آیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسلام کے مسیح موعود سے جو شریعت اسلامیہ کا آخری خلیفہ ہے مشابہت رکھتے ہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ حضرت یشوع بن نون سے مشابہ ہیں اور حضرت یشوع بن نون حضرت ابو بکر سے مشابہ۔ اور پہلے ثابت ہو چکا ہے کہ حضرت ابوبکر اسلام کے آخری خلیفہ یعنی مسیح موعود سے مشابہ ہیں تو اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ اسلام کے آخری خلیفہ سے جو مسیح موعود ہے مشابہ ہیں۔ کیونکہ مشابہ کا مشابہ مشابہ ہوتا ہے۔ مثلاً اگر خط |(د) خط |(ن) سے مساوی ہے اور خط |(ن) خط |(ل) سے مساوی تو ماننا پڑے گا کہ خط |(د) خط |(ل) سے مساوی ہے اور یہی مدعا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ مشابہت مِنْ وَجْہٍ مغائرت کو چاہتی ہے اس لئے قبول کرنا پڑا کہ اسلام کا مسیح موعود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں ہیں بلکہ اس کا غیر ہے۔ اور عوام جو باریک باتوں کو سمجھ نہیں سکتے اُن کے لئے اسی قدر کافی ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے دو رسول ظاہر کر کے اُن کو دو مستقل شریعتیں عطا فرمائی ہیں۔ ایک شریعت موسویہ۔ دوسری شریعت محمدیہ اور ان دونوں سلسلوں میں تیرہ تیرہ خلیفے مقرر کئے ہیں اور درمیانی باراں خلیفے جو ان دونوں شریعتوں میں پائے جاتے ہیں وہ ہر دو نبی صاحب الشریعت کی قوم میں سے ہیں یعنی موسوی خلیفے اسرائیلی ہیں اور محمدی خلیفے قریشی ہیں مگر آخری دو خلیفے ان دونوں سلسلوں کے وہ ان ہر دو نبی صاحب الشریعت کی قوم میں سے نہیں ہیں۔ حضرت عیسیٰ اس لئے کہ ان کا کوئی باپ نہیں اور اسلام کے مسیح موعود کی نسبت جو آخری خلیفہ ہے خود علماءِ اسلام مان چکے ہیں کہ وہ قریش میں سے نہیں ہے اور نیز قرآن شریف فرماتا ہے کہ یہ دونوں مسیح ایک دوسرے کا عین نہیں ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں اسلام کے مسیح موعود کو موسوی مسیح موعود کا مثیل ٹھہراتا ہے نہ عین۔ پس محمدی مسیح موعود کو موسوی مسیح کا عین قرار دینا قرآن شریف کی تکذیب ہے۔ اور تفصیل اس استدلال کی یہ ہے کہ کَمَا کا لفظ جو آیت کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ میں ہے جس سے تمام محمدی سلسلہ کے خلیفوں کی موسوی سلسلہ کے خلیفوں کے ساتھ مشابہت ثابت ہوتی ہے ہمیشہ مماثلت کے لئے آتا ہے اور مماثلت ہمیشہ مِن وجہٍ مغایرت کو چاہتی ہے یہ ممکن نہیں کہ ایک چیز اپنے نفس کی مثیل کہلائے بلکہ مشبہ اور مشبہ بہ میں کچھ مغایرت ضروری ہے اور عین کسی وجہ سے اپنے نفس کا مغایر نہیں ہو سکتا۔ پس جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ کے مثیل ہو کر اُن کے عین نہیں ہو سکتے ایسا ہی تمام محمدی خلیفے جن میں سے آخری خلیفہ مسیح موعود ہے وہ موسوی خلیفوں کے جن میں سے آخری خلیفہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں کسی طرح عین نہیں ہو سکتے اس سے قرآن شریف کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ کَمَا کا لفظ جیسا کہ حضرت موسیٰ اور آنحضرت کی مشابہت کے لئے قرآن نے استعمال کیا ہے وہی کَمَا کا لفظ آیت کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ میں وارد ہے جو اسی قسم کی مغائرت چاہتا ہے جو حضرت موسیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے۔ یاد رہے کہ اسلام کا بارھواں خلیفہ جو تیرھویں صدی کے سر پر ہونا چاہیے وہ یحییٰ نبی کے مقابل پر ہے جس کا ایک پلید قوم کے لئے سر کاٹا گیا ( سمجھنے والا سمجھ لے ) اس لئے ضروری ہے کہ بارھواں خلیفہ قریشی ہو جیسا کہ حضرت یحییٰ اسرائیلی ہیں لیکن اسلام کا تیرھواں خلیفہ جو چودھویں صدی کے سر پر ہونا چاہیے جس کا نام مسیح موعود ہے اس کے لئے ضروری تھا کہ وہ قریش میں سے نہ ہو جیسا کہ حضرت عیسیٰ اسرائیلی نہیں ہیں۔ سید احمد صاحب بریلوی سلسلہ خلافت محمدیہ کے بارھویں خلیفہ ہیں جو حضرت یحییٰ کے مثیل ہیں اور سید ہیں۔

(۲) اور منجملہ ان دلائل کے جو میرے مسیح موعود ہونے پر دلالت کرتے ہیں خدا تعالیٰ کے وہ دو نشان ہیں جو دنیا کو کبھی نہیں بھولیں گے یعنی ایک وہ نشان جو آسمان میں ظاہر ہوا اور دوسرا وہ نشان جو زمین نے ظاہر کیا۔ آسمان کا نشان خسوف کسوف ہے جو ٹھیک ٹھیک مطابق آیت کریمہ وَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ اور نیز دارقطنی کی حدیث کے موافق رمضان میں واقع ہوا۔ اور زمین کا نشان وہ ہے جس کی طرف یہ آیت کریمہ قرآن شریف کی یعنیوَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ اشارہ کرتی ہے جس کی تصدیق میں مسلم میں یہ حدیث موجود ہے ویترک القلاص فلا یسعیٰ علیها۔ خسوف کسوف کا نشان تو کئی سال ہوئے جو دو مرتبہ ظہور میں آگیا۔ اور اونٹوں کے چھوڑے جانے اور نئی سواری کا استعمال اگر چہ بلاد اسلامیہ میں قریباً سو برس سے عمل میں آرہا ہے لیکن یہ پیشگوئی اب خاص طور پر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی ریل طیار ہونے سے پوری ہو جائے گی کیونکہ وہ ریل جو دمشق سے شروع ہو کر مدینہ میں آئے گی وہی مکہ معظمہ میں آئے گی اور اُمید ہے کہ بہت جلد اور صرف چند سال تک یہ کام تمام ہو جائے گا۔ تب وہ اونٹ جو تیرہ سو برس سے حاجیوں کو لے کر مکہ سے مدینہ کی طرف جاتے تھے یکدفعہ بے کار ہو جائیں گے اور ایک انقلاب عظیم عرب اور بلا دشام کے سفروں میں آجائے گا۔ چنانچہ یہ کام بڑی سرعت سے ہو رہا ہے اور تعجب نہیں کہ تین سال کے اندر اندر یہ ٹکڑا مکہ اور مدینہ کی راہ کا طیار ہو جائے اور حاجی لوگ بجائے بکروں کے پتھر کھانے کے طرح طرح کے میوے کھاتے ہوئے مدینہ منورہ میں پہنچا کریں بلکہ غالباً معلوم ہوتا ہے کہ کچھ تھوڑی ہی مدت میں اونٹ کی سواری تمام دنیا میں سے اُٹھ جائے گی اور یہ پیشگوئی ایک چمکتی ہوئی بجلی کی طرح تمام دنیا کو اپنا نظارہ دکھائے گی اور تمام دنیا اس کو بچشم خود دیکھے گی اور سچ تو یہ ہے کہ مکہ اور مدینہ کی ریل کا طیار ہو جانا گویا تمام اسلامی دنیا میں ریل کا پھر جانا ہے کیونکہ اسلام کا مرکز مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ ہے۔

اگر سوچ کر دیکھا جائے تو اپنی کیفیت کی رو سے خسوف کسوف کی پیشگوئی اور اونٹوں کے متروک ہونے کی پیشگوئی ایک ہی درجہ پر معلوم ہوتی ہیں کیونکہ جیسا کہ خسوف کسوف کا نظارہ کروڑ ہا انسانوں کو اپنا گواہ بنا گیا ہے ایسا ہی اونٹوں کے متروک ہونے کا نظارہ بھی ہے بلکہ یہ نظارہ کسوف خسوف سے بڑھ کر ہے کیونکہ خسوف کسوف صرف دو مرتبہ ہو کر اور صرف چند گھنٹہ تک رہ کر دنیا سے گزر گیا مگر اس نئی سواری کا نظارہ جس کا نام ریل ہے ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا کہ پہلے اونٹ ہوا کرتے تھے۔ ذرہ اس وقت کو سوچو کہ جب مکہ معظمہ سے کئی لاکھ آدمی ریل کی سواری میں ایک ہیئت مجموعی میں مدینہ کی طرف جائے گا یا مدینہ سے مکہ کی طرف آئے گا تو اس نئی طرز کے قافلہ میں عین اس حالت میں جس وقت کوئی اہل عرب یہ آیت پڑھے گا کہ وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ یعنی یاد کر وہ زمانہ جب کہ اونٹنیاں بیکار کی جائیں گی اور ایک حمل دار اونٹنی کا بھی قدر نہ رہے گا جو اہل عرب کے نزدیک بڑی قیمتی تھی اور یا جب کوئی حاجی ریل پر سوار ہو کر مدینہ کی طرف جاتا ہوا یہ حدیث پڑھے گا کہ ویترک القلاص فلا یسعیٰ علیها یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹنیاں بے کار ہو جائیں گی اور اُن پر کوئی سوار نہیں ہوگا تو سننے والے اس پیشگوئی کو سن کر کس قدر وجد میں آئیں گے اور کس قدر ان کا ایمان قوی ہوگا۔ جس شخص کو عرب کی پرانی تاریخ سے کچھ واقفیت ہے وہ خوب جانتا ہے کہ اونٹ اہل عرب کا بہت پرانا رفیق ہے اور عربی زبان میں ہزار کے قریب اونٹ کا نام ہے اور اونٹ سے اس قدر قدیم تعلقات اہل عرب کے پائے جاتے ہیں کہ میرے خیال میں بیس ہزار کے قریب عربی زبان میں ایسا شعر ہوگا جس میں اونٹ کا ذکر ہے اور خدا تعالیٰ خوب جانتا تھا کہ کسی پیشگوئی میں اونٹوں کے ایسے انقلابِ عظیم کا ذکر کرنا اس سے بڑھ کر اہل عرب کے دلوں پر اثر ڈالنے کے لئے اور پیشگوئی کی عظمت اُن کی طبیعتوں میں بٹھانے کے لئے اور کوئی راہ نہیں۔ اسی وجہ سے یہ عظیم الشان پیشگوئی قرآن شریف میں ذکر کی گئی ہے جس سے ہر ایک مومن کو خوشی سے اچھلنا چاہیے کہ خدا نے قرآن شریف میں آخری زمانہ کی نسبت جو مسیح موعود اور یا جوج ماجوج اور دجال کا زمانہ ہے یہ خبر دی ہے کہ اُس زمانہ میں یہ رفیق قدیم عرب کا یعنی اونٹ جس پر وہ مکہ سے مدینہ کی طرف جاتے تھے اور بلادِ شام کی طرف تجارت کرتے تھے ہمیشہ کے لئے اُن سے الگ ہو جائے گا۔ سبحان اللہ! کس قدر روشن پیشگوئی ہے یہاں تک کہ دل چاہتا ہے کہ خوشی سے نعرے ماریں کیونکہ ہماری پیاری کتاب اللہ قرآن شریف کی سچائی اور منجانب اللہ ہونے کے لئے یہ ایک ایسا نشان دنیا میں ظاہر ہو گیا ہے کہ نہ توریت میں ایسی بزرگ اور کھلی کھلی پیشگوئی پائی جاتی ہے اور نہ انجیل میں اور نہ دنیا کی کسی اور کتاب میں۔ ہندؤوں کے ایک پنڈت دیانند نام نے ناحق فضولی کے طور پر کہا تھا کہ وید میں ریل کا ذکر ہے۔ یعنی پہلے زمانہ میں آریہ ورت (ملک ہند) میں ریل جاری تھی مگر جب ثبوت مانگا گیا تو بجز بیہودہ باتوں کے اور کچھ جواب نہ تھا۔ اور دیانند کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وید میں پیشگوئی کے طور پر ریل کا ذکر ہے کیونکہ دیانند اس بات کا معترف ہے کہ وید میں کوئی پیشگوئی نہیں بلکہ اس کا صرف یہ مطلب تھا کہ ہندؤوں کے عہد سلطنت میں بھی یورپ کے فلاسفروں کی طرح ایسے کاریگر موجود تھے اور اُس زمانہ میں بھی ریل موجود تھی یعنی ہمارے بزرگ بھی انگریزوں کی طرح کئی صنعتیں ایجاد کرتے تھے لیکن قرآن شریف یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ کسی زمانہ میں ملک عرب میں ریل موجود تھی بلکہ آخری زمانہ کے لئے ایک عظیم الشان پیشگوئی کرتا ہے کہ اُن دنوں میں ایک بڑا انقلاب ظہور میں آئے گا اور اونٹوں کی سواری بیکار ہو جائے گی اور ایک نئی سواری دنیا میں پیدا ہو جائے گی جو اونٹوں سے مستغنی کر دے گی۔ یہ پیشگوئی جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں حدیث مسلم میں بھی موجود ہے جو مسیح موعود کے زمانہ کی علامت بیان کی گئی ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیشگوئی کو قرآن شریف کی اس آیت سے ہی استنباط کیا ہے یعنی وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ(التکویر: ۵) سے۔ یاد رہے کہ قرآن شریف میں دو قسم کی پیشگوئیاں ہیں ایک قیامت کی اور ایک زمانہ آخری کی مثلاً جیسے یا جوج ماجوج کا پیدا ہونا اور اُن کا تمام ریاستوں پر فائق ہونا۔ یہ پیشگوئی آخری زمانہ کے متعلق ہے۔ اور حدیث مسلم نے پیشگوئی یترک القلاص میں صاف تشریح کر دی ہے اور کھول کر بیان کر دیا ہے کہ مسیح کے وقت میں اونٹ کی سواری ترک کر دی جائے گی۔

(۳) تیسری دلیل جو دلائل گذشتہ مذکورہ کی طرح وہ بھی قرآن شریف سے ہی مستنبط ہے سورہ فاتحہ کی اس آیت کی بنا پر ہے کہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ یعنی اے ہمارے خدا ہمیں وہ سیدھی راہ عنایت کر جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرا انعام ہے اور بچا ہم کو ان لوگوں کی راہ سے جن پر تیرا غضب ہے اور جو راہ کو بھول گئے ہیں۔ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ اسلام کے تمام اکابر اور ائمہ کے اتفاق سے مغضوب علیهم سے مراد یہودی لوگ ہیں اور ضالین سے مراد نصاریٰ ہیں اور قرآن شریف کی آیت یا عیسٰی انی متوفّیک الخ سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودیوں کے مغضوب علیهم ہونے کی بڑی وجہ جس کی سزا ان کو قیامت تک دی گئی اور دائمی ذلت اور محکومیت میں گرفتار کئے گئے یہی ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ کے نشان بھی دیکھ کر پھر بھی پورے عناد اور شرارت اور جوش سے اُن کی تکفیر اور توہین اور تفسیق اور تکذیب کی اور اُن پر اور اُن کی والدہ صدیقہ پر جھوٹے الزام لگائے جیسا کہ آیت وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ سے صریح سمجھا جاتا ہے کیونکہ ہمیشہ کی محکومیت جیسی اور کوئی ذلت نہیں۔ اور دائمی ذلت کے ساتھ دائمی عذاب لازم پڑا ہوا ہے۔ اور اسی آیت کی تائید ایک دوسری آیت کرتی ہے جو جز ونمبر 9 سورہ اعراف میں ہے اور وہ یہ ہے وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّکَ لَیَبۡعَثَنَّ عَلَیۡہِمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ مَنۡ یَّسُوۡمُہُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ یعنی خدا نے یہود کے لئے ہمیشہ کے لئے یہ وعدہ کیا ہے کہ ایسے بادشاہ اُن پر مقرر کرتا رہے گا جو انواع واقسام کے عذاب ان کو دیتے رہیں گے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بڑی وجہ یہود کے مغضوب علیهم ہونے کی یہی ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سخت ایذا دی اُن کی تکفیر کی اُن کی تفسیق کی اُن کی توہین کی۔ اُن کو مصلوب قرار دیا تا وہ نعوذ باللہ لعنتی قرار دیئے جائیں اور ان کو اس حد تک دکھ دیا کہ حسب منطوق آیت وَقَوۡلِہِمۡ عَلٰی مَرۡیَمَ بُہۡتَانًا عَظِیۡمًا(النساء: ۱۵۷)۔ اُن کی ماں پر بھی سخت بہتان لگایا۔ غرض جس قدر ایذا کی قسمیں ہو سکتی ہیں کہ تکذیب کرنا، گالیاں دینا اور افترا کے طور پر کئی تہمتیں لگانا اور کفر کا فتویٰ دینا اور ان کی جماعت کو متفرق کرنے کے لئے کوشش کرنا اور حکام کے حضور میں ان کی نسبت جھوٹی مخبریاں کرنا اور کوئی دقیقہ توہین کا نہ چھوڑنا اور بالآخر قتل کے لئے آمادہ ہونا یہ سب کچھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہود بد قسمت سے ظہور میں آیا اور آیت وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ(ال عمران: ۵۶) کو غور سے پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ آیت وَضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ وَالۡمَسۡکَنَۃُ(البقرۃ: ۶۲) کی سزا بھی حضرت مسیح کی ایذا کی وجہ سے ہی یہود کو دی گئی ہے کیونکہ آیت موصوفہ بالا میں یہود کے لئے یہ دائمی وعید ہے کہ وہ ہمیشہ محکومیت میں جو ہر ایک عذاب اور ذلت کی جڑ ہے زندگی بسر کریں گے جیسا کہ اب بھی یہود کی ذلت کے حالات کو دیکھ کر یہ ثابت ہوتا ہے کہ اب تک خدا تعالیٰ کا وہ غصہ نہیں اترا جو اُس وقت بھڑکا تھا جبکہ اُس وجیہ نبی کو گرفتار کرا کر مصلوب کرنے کے لئے کھوپری کے مقام پر لے گئے تھے۔ اور جہاں تک بس چلا تھا ہر ایک قسم کی ذلت پہنچائی تھی اور کوشش کی گئی تھی کہ وہ مصلوب ہو کر توریت کی نصوص صریحہ کے رو سے ملعون سمجھا جائے اور اُس کا نام اُن میں لکھا جائے جو مرنے کے بعد تحت الثریٰ کی طرف جاتے ہیں اور خدا کی طرف اُن کا رفع نہیں ہوتا۔ غرض جبکہ یہ مقدمہ قرآن شریف کے نصوص صریحہ سے ثابت ہو گیا کہ مغضوب علیھم سے مراد یہود ہیں اور ضالین سے مراد نصاریٰ۔ اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ مغضوب علیھم کا پُر غضب خطاب جو یہودیوں کو دیا گیا یہ اُن یہودیوں کو خطاب ملا تھا جنہوں نے شرارت اور بے ایمانی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تکذیب کی اور اُن پر کفر کا فتویٰ لکھا اور ہر ایک طرح سے اُن کی توہین کی اور اُن کو اپنے خیال میں قتل کر دیا اور ان کے رفع سے انکار کیا بلکہ ان کا نام لعنتی رکھا تو اب اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے کیوں مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی؟ بلکہ قرآن شریف کا افتتاح بھی اسی دعا سے کیا اور اس دعا کو مسلمانوں کے لئے ایک ایسا ورد لازمی اور وظیفۂ دائمی کر دیا کہ پانچ وقت قریباً نوے کروڑ مسلمان مختلف دیار اور بلاد میں یہی دعا اپنی نمازوں میں پڑھتے ہیں اور باوجود بہت سے اختلافات کے جو اُن میں اور اُن کے نماز کے طریق میں پائے جاتے ہیں کوئی فرقہ مسلمانوں کا ایسا نہیں ہے کہ جو اپنی نماز میں یہ دعا نہ پڑھتا ہو۔ اس سوال کا جواب خود قرآن شریف نے اپنے دوسرے مقامات میں دے دیا ہے مثلاً جیسا کہ آیت کَمَا اسۡتَخۡلَفَ(النور: ۵۶) الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ سے صریح اور صاف طور پر سمجھا جاتا ہے جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے یعنی جبکہ مماثلت کی ضرورت کی وجہ سے واجب تھا کہ اس اُمت کے خلیفوں کا سلسلہ ایک ایسے خلیفہ پر ختم ہو جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مثیل ہو تو منجملہ وجوہ مماثلت کے ایک یہ وجہ بھی ضروری الوقوع تھی کہ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت کے فقیہ اور مولوی اُن کے دشمن ہو گئے تھے اور اُن پر کفر کا فتویٰ لکھا تھا اور ان کو سخت سخت گالیاں دیتے اور اُن کی اور اُن کی پردہ نشین عورتوں کی توہین کرتے اور اُن کے ذاتی نقص نکالتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ اُن کو لعنتی ثابت کریں ایسا ہی اسلام کے مسیح موعود پر اس زمانہ کے مولوی کفر کا فتویٰ لکھیں اور اس کی توہین کریں اور اس کو بے ایمان اور لعنتی قرار دیں اور گالیاں دیں اور اس کے پرائیویٹ امور میں دخل دیں اور طرح طرح کے اس پر افترا کریں اور قتل کا فتویٰ دیں پس چونکہ یہ امت مرحومہ ہے اور خدا نہیں چاہتا کہ ہلاک ہوں۔ اِس لئے اُس نے یہ دعا غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ کی سکھلا دی اور اس کو قرآن میں نازل کیا اور قرآن اسی سے شروع ہوا اور یہ دعا مسلمانوں کی نمازوں میں داخل کر دی تا وہ کسی وقت سوچیں اور سمجھیں کہ کیوں ان کو یہود کی اس سیرت سے ڈرایا گیا جس سیرت کو یہود نے نہایت بُرے طور سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ظاہر کیا تھا۔ یہ بات صاف طور پر سمجھ آتی ہے کہ اس دُعا میں جو سورۃ فاتحہ میں مسلمانوں کو سکھائی گئی ہے فرقہ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ سے مسلمانوں کا بظاہر کچھ بھی تعلق نہ تھا کیونکہ جبکہ قرآن شریف اور احادیث اور اتفاق علماءِ اسلام سے ثابت ہو گیا ہے کہ مغضوب علیھم سے یہود مراد ہیں اور یہود بھی وہ جنہوں نے حضرت مسیح کو بہت ستایا اور دکھ دیا تھا اور ان کا نام کافر اور لعنتی رکھا تھا اور اُن کے قتل کرنے میں کچھ فرق نہیں کیا تھا اور توہین کو اُن کی مستورات تک پہنچا دیا تھا تو پھر مسلمانوں کو اس دعا سے کیا تعلق تھا اور کیوں یہ دعا ان کو سکھلائی گئی۔ اب معلوم ہوا کہ یہ تعلق تھا کہ اس جگہ بھی پہلے مسیح کی مانند ایک مسیح آنے والا تھا اور مقدر تھا کہ اُس کی بھی ویسی ہی توہین اور تکفیر ہو لہذا یہ دعا سکھلائی گئی جس کے یہ معنے ہیں کہ اے خدا ہمیں اس گناہ سے محفوظ رکھ کہ ہم تیرے مسیح موعود کو دکھ دیں اور اُس پر کفر کا فتویٰ لکھیں اور اس کو سزا دلانے کیلئے عدالتوں کی طرف کھینچیں اور اس کی پاکدامن اہل بیت کی توہین کریں اور اُس پر طرح طرح کے بہتان لگائیں اور اس کے قتل کے لئے فتوے دیں۔ غرض صاف ظاہر ہے کہ یہ دعا اسی لئے سکھلائی گئی کہ تا قوم کو اس یادداشت کے پرچہ کی طرح جس کو ہر وقت اپنی جیب میں رکھتے ہیں یا اپنی نشست گاہ کی دیوار پر لگاتے ہیں اس طرف توجہ دی جائے کہ تم میں بھی ایک مسیح موعود آنے والا ہے اور تم میں بھی وہ مادہ موجود ہے جو یہودیوں میں تھا۔ غرض اس آیت پر ایک محققانہ نظر کے ساتھ غور کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک پیشگوئی ہے جو دعا کے رنگ میں فرمائی گئی چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ حسب وعدہ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ(النور: ۵۶) آخری خلیفہ اس امت کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رنگ میں آئے گا۔ اور ضرور ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح قوم کے ہاتھ سے دکھ اُٹھائے اور اس پر کفر کا فتویٰ لکھا جاوے اور اس کے قتل کے ارادے کئے جائیں اس لئے ترحم کے طور پر تمام مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی کہ تم خدا سے پناہ چاہو کہ تم اُن یہودیوں کی طرح نہ بن جاؤ جنہوں نے موسوی سلسلہ کے مسیح موعود کو کافر ٹھہرایا تھا اور اس کی توہین کرتے تھے اور اُن کو گالیاں دیتے تھے اور اس دعا میں صاف اشارہ ہے کہ تم پر بھی یہ وقت آنے والا ہے اور تم میں سے بھی بہتوں میں یہ مادہ موجود ہے۔ پس خبردار رہو اور دعا میں مشغول رہو تا ٹھوکر نہ کھاؤ۔ اور اس آیت کا دوسرا فقرہ جو الضالین ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ ہمیں اے ہمارے پروردگار اس بات سے بھی بچا کہ ہم عیسائی بن جائیں یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اُس زمانہ میں جب کہ مسیح موعود ظاہر ہوگا عیسائیوں کا بہت زور ہوگا اور عیسائیت کی ضلالت ایک سیلاب کی طرح زمین پر پھیلے گی۔ اور اِس قدر طوفان ضلالت جوش مارے گا کہ بجز دعا کے اور کوئی چارہ نہ ہوگا اور تثلیث کے واعظ اس قدر مکر کا جال پھیلائیں گے کہ قریب ہوگا کہ راستبازوں کو بھی گمراہ کریں لہذا اس دعا کو بھی پہلی دعا کے ساتھ شامل کر دیا گیا۔ اور اِسی ضلالت کے زمانہ کی طرف اشارہ ہے جو حدیث میں آیا ہے کہ جب تم دجال کو دیکھو تو سورہ کہف کی پہلی آیتیں پڑھو اور وہ یہ ہیں:۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِہِ الْکِتٰبَ وَلَمْ یَجْعَلْ لَّہٗ عِوَجًا ۙ قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْہُ ........ وَّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا ۫ مَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ وَّلَا لِاٰبَآئِہِمْ ؕ کَبُرَتْ کَلِمَۃً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاہِہِمْ ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا کَذِبًا۔

اِن آیتوں سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال سے کسی گروہ کو مراد رکھا ہے اور عِوَج کے لفظ سے اس جگہ مخلوق کو شریک الباری ٹھہرانے سے مراد ہے جس طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ٹھہرایا ہے۔ اور اِسی لفظ سے فیج اعوج مشتق ہے۔ اور فیج اعوج سے وہ درمیانی زمانہ مراد ہے جس میں مسلمانوں نے عیسائیوں کی طرح حضرت مسیح کو بعض صفات میں شریک الباری ٹھہرا دیا۔ اس جگہ ہر ایک انسان سمجھ سکتا ہے کہ اگر دجال کا بھی کوئی علیحدہ وجود ہوتا تو سورۃ فاتحہ میں اُس کے فتنہ کا بھی ذکر ضرور ہوتا اور اُس کے فتنہ سے بچنے کے لئے بھی کوئی علیحدہ دعا ہوتی مگر ظاہر ہے کہ اس جگہ یعنی سورۃ فاتحہ میں صرف مسیح موعود کو ایذا دینے سے بچنے کے لئے اور نصاریٰ کے فتنے سے محفوظ رہنے کے لئے دعا کی گئی ہے۔ حالانکہ بموجب خیالات حال کے مسلمانوں کا دجال ایک اور شخص ہے اور اس کا فتنہ تمام فتنوں سے بڑھ کر ہے تو گویا نعوذ باللہ خدا بھول گیا کہ ایک بڑے فتنہ کا ذکر بھی نہ کیا اور صرف دو فتنوں کا ذکر کیا ایک اندرونی یعنی مسیح موعود کو یہودیوں کی طرح ایذا دینا دوسرے عیسائی مذہب اختیار کرنا۔ یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ سورۃ فاتحہ میں صرف دو فتنوں سے بچنے کے لئے دُعا سکھلائی گئی ہے (۱) اوّل یہ فتنہ کہ اسلام کے مسیح موعود کو کافر قرار دینا۔ اُس کی توہین کرنا۔ اُس کی ذاتیات میں نقص نکالنے کی کوشش کرنا۔ اُس کے قتل کا فتویٰ دینا جیسا کہ آیت غیر المغضوب عليهم میں انہی باتوں کی طرف اشارہ ہے (۲) دوسرے نصاریٰ کے فتنے سے بچنے کے لئے دُعا سکھلائی گئی اور سورۃ کو اسی کے ذکر پر ختم کر کے اشارہ کیا گیا ہے کہ فتنہ نصاریٰ ایک سیل عظیم کی طرح ہوگا اس سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں۔ غرض اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ اس عاجز کی نسبت قرآن شریف نے اپنی پہلی سورۃ میں ہی گواہی دے دی ورنہ ثابت کرنا چاہئے کہ کن مغضوب عليهم سے اِس سورۃ میں ڈرایا گیا ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ حدیث اور قرآن شریف میں آخری زمانہ کے بعض علماء کو یہود سے نسبت دی ہے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ مغضوب عليهم سے مراد وہ یہود ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو سلسلہ موسویہ کے آخری خلیفہ اور مسیح موعود تھے کافر ٹھہرایا تھا اور اُن کی سخت توہین کی تھی اور اُن کے پرائیویٹ امور میں افترائی طور پر نقص ظاہر کئے تھے۔ پس جبکہ یہی لفظ مغضوب عليهم کا اُن یہودیوں کے مثیلوں پر بولا گیا جن کا نام بوجہ تکفیر و توہین حضرت مسیح مغضوب عليهم رکھا گیا تھا۔ پس اس جگہ مغضوب عليهم کے پورے مفہوم کو پیش نظر رکھ کر جب سوچا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ آنے والے مسیح موعود کی نسبت صاف اور صریح پیشگوئی ہے کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھ سے پہلے مسیح کی طرح ایذا اُٹھائے گا۔ اور یہ دعا کہ یا الٰہی ہمیں مغضوب عليهم ہونے سے بچا۔ اس کے قطعی یقینی یہی معنے ہیں کہ ہمیں اس سے بچا کہ ہم تیرے مسیح موعود کو جو پہلے مسیح کا مثیل ہے ایذا نہ دیں اُس کو کافر نہ ٹھہرائیں۔ ان معنوں کے لئے یہ قرینہ کافی ہے کہ مغضوب عليهم صرف اُن یہودیوں کا نام ہے جنہوں نے حضرت مسیح کو ایذا دی تھی اور حدیثوں میں آخری زمانہ کے علماء کا نام یہود رکھا گیا ہے یعنی وہ جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تکفیر و توہین کی تھی۔ اور اس دعا میں ہے کہ یا الٰہی ہمیں وہ فرقہ مت بنا جن کا نام مغضوب عليهم ہے۔ پس دعا کے رنگ میں یہ ایک پیشگوئی ہے جو دو خبر پر مشتمل ہے۔ ایک یہ کہ اس اُمت میں بھی ایک مسیح موعود پیدا ہوگا اور دوسری یہ پیشگوئی ہے کہ بعض لوگ اس امت میں سے اُس کی بھی تکفیر اور توہین کریں گے اور وہ لوگ مورد غضب الٰہی ہوں گے اور اس وقت کا نشان یہ ہے کہ فتنہ نصاریٰ بھی اُن دنوں میں حد سے بڑھا ہوا ہوگا جن کا نام ضالین ہے اور ضالین پر بھی یعنی عیسائیوں پر بھی اگر چہ خدا تعالیٰ کا غضب ہے کہ وہ خدا کے حکم کے شنوا نہیں ہوئے مگر اس غضب کے آثار قیامت کو ظاہر ہوں گے۔ اور اس جگہ مغضوب عليهم سے وہ لوگ مراد ہیں جن پر بوجہ تکفیر و توہین و ایذا و ارادہ قتل مسیح موعود کے دنیا میں ہی غضب الٰہی نازل ہوگا۔ یہ میرے جانی دشمنوں کیلئے قرآن کی پیشگوئی ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر چہ جو شخص راہ راست کو چھوڑتا ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے آتا ہے مگر خدا تعالیٰ کا اپنے مجرموں سے دو قسم کا معاملہ ہے۔ اور مجرم دو قسم کے ہیں (۱) ایک وہ مجرم ہیں جو حد سے زیادہ نہیں بڑھتے اور گو نہایت درجہ کے تعصب سے ضلالت کو نہیں چھوڑتے مگر وہ ظلم اور ایذا کے طریقوں میں ایک معمولی درجہ تک رہتے ہیں اپنے جور و ستم اور بے باکی کو انتہا تک نہیں پہنچاتے۔ پس وہ تو اپنی سزا قیامت کو پائیں گے اور خدائے حلیم اُن کو اس جگہ نہیں پکڑتا کیونکہ ان کی روش میں حد سے زیادہ سختی نہیں۔ لہذا ایسے گناہوں کی سزا کے لئے صرف ایک ہی دن مقرر ہے جو یوم المجازات اور یوم الدین اور یوم الفصل کہلاتا ہے (۲) دوسری قسم کے وہ مجرم ہیں جو ظلم اور ستم اور شوخی اور بیباکی میں حد سے بڑھ جاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خدا کے ماموروں اور رسولوں اور راستبازوں کو درندوں کی طرح پھاڑ ڈالیں اور دنیا پر سے ان کا نام و نشان مٹا دیں اور ان کو آگ کی طرح بھسم کر ڈالیں۔ ایسے مجرموں کے لئے جن کا غضب انتہا تک پہنچ جاتا ہے سنت اللہ یہی ہے کہ اسی دنیا میں خدا تعالیٰ کا غضب اُن پر بھڑکتا ہے اور اِسی دنیا میں وہ سزا پاتے ہیں علاوہ اس سزا کے جو قیامت کو ملے گی۔ اس لئے قرآنی اصطلاح میں اُن کا نام مغضوب عليهم ہے اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں حقیقی مصداق اس نام کا ان یہودیوں کو ٹھہرایا ہے جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نابود کرنا چاہا تھا۔ پس ان کے دائمی غضب کے مقابل پر خدا نے بھی ان کو دائمی غضب کے وعید سے پامال کیا جیسا کہ آیت وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِسے سمجھا جاتا ہے اس قسم کا غضب جو قیامت تک منقطع نہ ہو اس کی نظیر قرآن شریف میں بجز حضرت مسیح کے دشمنوں کے یا آنے والے مسیح موعود کے دشمنوں کے اور کسی قوم کے لئے پائی نہیں جاتی۔ اور مغضوب عليهم کے لفظ میں دنیا کے غضب کی وعید ہے جو دونوں مسیحوں کے دشمنوں کے متعلق ہے۔ یہ ایسی نص صریح ہے کہ اس سے انکار قرآن سے انکار ہے۔

اور یہ معنے جو ابھی میں نے سورۃ فاتحہ کی دعا غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَکے متعلق بیان کئے ہیں انہی کی طرف قرآن شریف کی آخری چار سورتوں میں اشارہ ہے جیسا کہ سورۃ تبّت کی پہلی آیت یعنی تَبَّتۡ یَدَاۤ اَبِیۡ لَہَبٍ وَّتَبَّ اُس موذی کی طرف اشارہ کرتی ہے جو مظہر جمال احمدی یعنی احمد مہدی کا مکفر اور مکذب اور مہین ہوگا چنانچہ آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۰ میں یہی آیت بطور الہام اس عاجز کے حق میں موجود ہے اور وہ الہام جو صفحہ مذکورہ کی ۱۹ اور ۲۲ سطر میں ہے یہ ہے۔ اذ يمكربك الذي كفر. اوقد لي يا هامان. لعلّى اطّلع على اله موسىٰ. وانّي لاظنّه من الكاذبين. تبّت يدا أبي لهب وتب. ما كان له ان يدخل فيها الّا خائفا وما اصابك فمن اللہ یعنی یاد کر وہ زمانہ جبکہ ایک مولوی تجھ پر کفر کا فتویٰ لگائے گا اور اپنے کسی حامی کو جس کا لوگوں پر اثر پڑ سکے کہے گا کہ میرے لئے اِس فتنہ کی آگ بھڑکا یعنی ایسا کر اور اس قسم کا فتویٰ دے دے کہ تمام لوگ اس شخص کو کافر سمجھ لیں تا میں دیکھوں کہ اس کا خدا سے کیا تعلق ہے یعنی یہ جو موسیٰ کی طرح اپنا کلیم اللہ ہونا ظاہر کرتا ہے کیا خدا اس کا حامی ہے یا نہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ جھوٹا ہے۔ ہلاک ہو گئے دونوں ہاتھ ابی لہب کے (جب کہ اُس نے یہ فتویٰ لکھا) اور وہ آپ بھی ہلاک ہو گیا اُس کو نہیں چاہیے تھا کہ اس کام میں دخل دیتا مگر ڈر ڈر کر اور جو رنج تجھے پہنچے گا وہ تو خدا کی طرف سے ہے۔ یہ پیشگوئی قریباً فتویٰ تکفیر سے بارہ برس پہلے براہین احمدیہ میں شائع ہو چکی ہے یعنی جبکہ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب نے یہ فتویٰ تکفیر لکھا اور میاں نذیر حسین صاحب دہلوی کو کہا کہ سب سے پہلے اِس پر مُہر لگاوے اور میرے کفر کی نسبت فتویٰ دیدے اور تمام مسلمانوں میں میرا کافر ہونا شائع کر دے۔ سو اس فتویٰ اور میاں صاحب مذکور کے مُہر سے بارہ برس پہلے یہ کتاب تمام پنجاب اور ہندوستان میں شائع ہو چکی تھی اور مولوی محمد حسین جو بارہ برس کے بعد اوّل المکفّرین بنے بانی تکفیر کے وہی تھے اور اس آگ کو اپنی شہرت کی وجہ سے تمام ملک میں سلگانے والے میاں نذیر حسین صاحب دہلوی تھے۔ اس جگہ سے خدا کا علم غیب ثابت ہوتا ہے کہ ابھی اِس فتویٰ کا نام و نشان نہ تھا بلکہ مولوی محمد حسین صاحب میری نسبت خادموں کی طرح اپنے تئیں سمجھتے تھے اُس وقت خدا تعالیٰ نے یہ پیشگوئی فرمائی جس کو کچھ بھی حصہ عقل اور فہم سے ہے وہ سوچے اور سمجھے کہ کیا انسانی طاقتوں میں یہ بات داخل ہو سکتی ہے کہ جو طوفان بارہ برس کے بعد آنے والا تھا جس کا پُر زور سیلاب مولوی محمد حسین جیسے مدعی اخلاص کو درجہ ضلالت کی طرف کھینچ لے گیا اور نذیر حسین جیسے مخلص کو جو کہتا تھا کہ براہین احمدیہ جیسی اسلام میں کوئی کتاب تالیف نہیں ہوئی اس سیلاب نے دبا لیا اِس طوفان کی پہلے مجھے یا کسی اور کو محض عقلی قرائن سے خبر ہوتی۔ سو یہ خالص علم الٰہی ہے جس کو معجزہ کہتے ہیں۔ غرض براہین احمدیہ کے اس الہام میں سورۃ تبّت کی پہلی آیت کا مصداق اس شخص کو ٹھہرایا ہے جس نے سب سے پہلے خدا کے مسیح موعود پر تکفیر اور توہین کے ساتھ حملہ کیا اور یہ دلیل اس بات پر ہے کہ قرآن شریف نے بھی اسی سورۃ میں ابولہب کے ذکر میں علاوہ دشمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسیح موعود کے دشمن کو بھی مراد لیا ہے۔ اور یہ تفسیر اس الہام کے ذریعہ سے کھلی ہے جو آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں درج ہو کر کروڑ ہا انسانوں یعنی عیسائیوں اور ہندوؤں اور مسلمانوں میں شائع ہو چکا تھا۔ اس لئے یہ تفسیر سراسر حقانی ہے اور تکلف اور تصنع سے پاک ہے اور ہر ایک صاحب عقل و انصاف کو اس بات میں شبہ نہ ہوگا کہ جبکہ خدا کے الہام نے آج سے بیس برس پہلے ایک عظیم الشان پیشگوئی میں جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۰ میں درج ہے اور کمال صفائی سے پوری ہو چکی ہے یہی معنے کئے ہیں تو یہ معنے اجتہادی نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہو کر یقینی اور قطعی ہیں اور اس الہامی پیشگوئی کے وثوق پر مبنی ہیں جس نے بکمال صفائی اپنی سچائی ظاہر کر دی ہے۔ غرض آیت تَبَّتۡ یَدَاۤ اَبِیۡ لَہَبٍ وَّتَبَّ جو قرآن شریف کے آخری سپارہ میں چار آخری سورتوں میں سے پہلی سورۃ ہے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موذی دشمنوں پر دلالت کرتی ہے ایسا ہی بطور اشارۃ النص اسلام کے مسیح موعود کے ایذا دہندہ دشمنوں پر اس کی دلالت ہے اور اس کی مثال یہ ہے کہ مثلاً آیت ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَدِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ہے اور پھر یہی آیت مسیح موعود کے حق میں بھی ہے جیسا کہ تمام مفسر اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ پس یہ بات کوئی غیر معمولی امر نہیں ہے کہ ایک آیت کا مصداق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور پھر مسیح موعود بھی اسی آیت کا مصداق ہو بلکہ قرآن شریف جو ذوالوجوہ ہے اُس کا محاورہ اسی طرز پر واقع ہو گیا ہے کہ ایک آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مراد اور مصداق ہوتے ہیں اور اسی آیت کا مصداق مسیح موعود بھی ہوتا ہے جیسا کہ آیت ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی سے ظاہر ہے۔ اور رسول سے مراد اس جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں اور مسیح بھی مراد ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ آیت تَبَّتۡ یَدَاۤ اَبِیۡ لَہَبٍ جو قرآن شریف کے آخر میں ہے آیت مغضوب علیھم کی ایک شرح ہے جو قرآن شریف کے اوّل میں ہے کیونکہ قرآن شریف کے بعض حصے بعض کی تشریح ہیں ، پھر اُس کے بعد جو سورۃ فاتحہ میں ولا الضالین ہے اس کے مقابل پر اور اس کی تشریح میں سورہ تبّت کے بعد سورۃ اخلاص ہے۔ میں بیان کر چکا ہوں کہ سورۃ فاتحہ میں تین دعائیں سکھلائی گئی ہیں (۱) ایک یہ دعا کہ خدا تعالیٰ اُس جماعت میں داخل رکھے جو صحابہ کی جماعت ہے اور پھر اس کے بعد اس جماعت میں داخل رکھے جو مسیح موعود کی جماعت ہے جن کی نسبت قرآن شریف فرماتا ہے وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ(الجمعۃ: ۴) غرض اسلام میں یہی دو جماعتیں منعم علیھم کی جماعتیں ہیں اور انہیں کی طرف اشارہ ہے آیت صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ میں کیونکہ تمام قرآن پڑھ کر دیکھو جماعتیں دو ہی ہیں۔ ایک لصحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت۔ دوسری و اٰخرین منہم کی جماعت جو صحابہ کے رنگ میں ہے اور وہ مسیح موعود کی جماعت ہے۔ پس جب تم نماز میں یا خارج نماز کے یہ دعا پڑھو کہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ تو دل میں یہی ملحوظ رکھو کہ میں صحابہ اور مسیح موعود کی جماعت کی راہ طلب کرتا ہوں یہ تو سورۃ فاتحہ کی پہلی دعا ہے (۲) دوسری دعا غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ ہے جس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسیح موعود کو دکھ دیں گے اور اس دُعا کے مقابل پر قرآن شریف کے اخیر میں سورۃ تَبَّتۡ یَدَاۤ اَبِیۡ لَہَبٍ(اللّھب: ۲) ہے (۳) تیسری دعا وَلَا الضَّآلِّیۡنَ(الفاتحۃ: ۶،۷) ہے اور اس کے مقابل پر قرآن شریف کے اخیر میں سورہ اخلاص ہے یعنی قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اَللّٰہُ الصَّمَدُ لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَلَمۡ یُوۡلَدۡ وَلَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ(الاخلاص: ۲تا۵) اور اس کے بعد دو اور سورتیں جو ہیں یعنی سورۃ الفلق اور سورۃ الناس یہ دونوں سورتیں سورۃ تبّت اور سورۃ اخلاص کے لئے بطور شرح کے ہیں اور ان دونوں سورتوں میں اس تاریک زمانہ سے خدا کی پناہ مانگی گئی ہے جب کہ لوگ خدا کے مسیح کو دکھ دیں گے اور جبکہ عیسائیت کی ضلالت تمام دنیا میں پھیلے گی۔ پس سورہ فاتحہ میں اُن تینوں دعاؤں کی تعلیم بطور براعت الاستہلال ہے یعنی وہ اہم مقصد جو قرآن میں مفصل بیان کیا گیا ہے سورہ فاتحہ میں بطور اجمال اس کا افتتاح کیا ہے اور پھر سورہ تبت اور سورہ اخلاص اور سورہ فلق اور سورہ الناس میں ختم قرآن کے وقت میں انہی دونوں بلاؤں سے خدا تعالیٰ کی پناہ مانگی گئی ہے پس افتتاح کتاب اللہ بھی انہی دونوں دعاؤں سے ہوا اور پھر اختتام کتاب اللہ بھی انہی دونوں دعاؤں پر کیا گیا۔

اور یاد رہے کہ ان دونوں فتنوں کا قرآن شریف میں مفصل بیان ہے اور سورہ فاتحہ اور آخری سورتوں میں اجمالاً ذکر ہے۔ مثلاً سورہ فاتحہ میں دعا ولا الضّالین میں صرف دو لفظ میں سمجھایا گیا ہے کہ عیسائیت کے فتنہ سے بچنے کے لئے دعا مانگتے رہو جس سے سمجھا جاتا ہے کہ کوئی فتنہ عظیم الشان در پیش ہے جس کے لئے یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ نماز کے پنج وقت میں یہ دعا شامل کر دی گئی اور یہاں تک تاکید کی گئی کہ اس کے بغیر نماز ہو نہیں سکتی جیسا کہ حدیث لا صلوٰۃ الّا بالفاتحۃ سے ظاہر ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ دنیا میں ہزار ہا مذہب پھیلے ہوئے ہیں جیسا کہ پارسی یعنی مجوسی اور براہمہ یعنی ہندو مذہب اور بدھ مذہب جو ایک بڑے حصہ دنیا پر قبضہ رکھتا ہے اور چینی مذہب جس میں کروڑ ہا لوگ داخل ہیں اور ایسا ہی تمام بت پرست جو تعداد میں سب مذہبوں سے زیادہ ہیں اور یہ تمام مذہب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بڑے زور و جوش سے پھیلے ہوئے تھے اور عیسائی مذہب ان کے نزدیک ایسا تھا جیسا کہ ایک پہاڑ کے مقابل پر ایک تنکا۔ پھر کیا وجہ کہ سورۃ فاتحہ میں یہ دعا نہیں سکھلائی کہ مثلاً خدا چینی مذہب کی ضلالتوں سے پناہ میں رکھے یا مجوسیوں کی ضلالتوں سے پناہ میں رکھے یا بدھ مذہب کی ضلالتوں سے پناہ میں رکھے یا آریہ مذہب کی ضلالتوں سے پناہ میں رکھے یا دوسرے بت پرستوں کی ضلالتوں سے پناہ میں رکھے بلکہ یہ فرمایا گیا کہ تم دعا کرتے رہو کہ عیسائی مذہب کی ضلالتوں سے محفوظ رہو۔ اس میں کیا بھید ہے؟ اور عیسائی مذہب میں کون سا عظیم الشان فتنہ آئندہ کسی زمانہ میں پیدا ہونے والا تھا جس سے بچنے کے لئے زمین کے تمام مسلمانوں کو تاکید کی گئی۔ پس سمجھو اور یاد رکھو کہ یہ دعا خدا کے اُس علم کے مطابق ہے کہ جو اُس کو آخری زمانہ کی نسبت تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ تمام مذہب بت پرستوں اور چینیوں اور پارسیوں اور ہندوؤں وغیرہ کے تنزل پر ہیں اور اُن کے لئے کوئی ایسا جوش نہیں دکھلایا جائے گا جو اسلام کو خطرہ میں ڈالے مگر عیسائیت کے لئے وہ زمانہ آتا جاتا ہے کہ اُس کی حمایت میں بڑے بڑے جوش دکھلائے جائیں گے اور کروڑ ہا روپیہ سے اور ہر ایک تدبیر اور ہر ایک مکر اور حیلہ سے اُس کی ترقی کے لئے قدم اٹھایا جائے گا اور یہ تمنا کی جائے گی کہ تمام دنیا مسیح پرست ہو جائے تب وہ دن اسلام کے لئے سخت دن ہوں گے اور بڑے ابتلا کے دن ہوں گے۔ سو اب یہ وہی فتنہ کا زمانہ ہے جس میں تم آج ہو۔ تیرہ سو برس کی پیشگوئی جو سورۃ فاتحہ میں تھی آج تم میں اور تمہارے ملک میں پوری ہوئی اور اس فتنہ کی جڑ مشرق ہی نکلا اور جیسا کہ اس فتنہ کا ذکر قرآن کے ابتدا میں فرمایا گیا ایسا ہی قرآن شریف کے انتہا میں بھی ذکر فرما دیا تا یہ امر مؤکد ہو کر دلوں میں بیٹھ جائے۔ ابتدائی ذکر جو سورۃ فاتحہ میں ہے وہ تو تم بار بار سن چکے ہو اور انتہائی ذکر یعنی جو قرآن شریف کے آخر میں اس فتنہ عظیمہ کا ذکر ہے اس کی ہم کچھ اور تفصیل کر دیتے ہیں۔ چنانچہ وہ سورتیں یہ ہیں۔

(۱۔ سورۃ) قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اَللّٰہُ الصَّمَدُ لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَلَمۡ یُوۡلَدۡ وَلَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ

(۲۔ سورۃ) قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الۡفَلَقِ مِنۡ شَرِّ مَا خَلَقَ وَمِنۡ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ وَمِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الۡعُقَدِ وَمِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ

(۳۔ سورۃ) قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِکِ النَّاسِ اِلٰہِ النَّاسِ مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ ۬ۙ الۡخَنَّاسِ الَّذِیۡ یُوَسۡوِسُ فِیۡ صُدُوۡرِ النَّاسِ مِنَ الۡجِنَّۃِ وَالنَّاسِ

ترجمہ:۔ تم اے مسلمانو! نصارٰی سے کہو کہ وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے۔ اور تم جو نصارٰی کا فتنہ دیکھو گے اور مسیح موعود کے دشمنوں کا نشانہ بنو گے یوں دعا مانگا کرو کہ میں تمام مخلوق کے شر سے جو اندرونی اور بیرونی دشمن ہیں اس خدا کی پناہ مانگتا ہوں جو صبح کا مالک ہے یعنی روشنی کا ظاہر کرنا اس کے اختیار میں ہے اور میں اس اندھیری رات کے شر سے جو عیسائیت کے فتنہ اور انکار مسیح موعود کے فتنہ کی رات ہے خدا کی پناہ مانگتا ہوں اُس وقت کے لئے یہ دعا ہے جبکہ تاریکی اپنے کمال کو پہنچ جائے اور میں خدا کی پناہ اُن زن مزاج لوگوں کی شرارت سے مانگتا ہوں جو گنڈوں پر پڑھ پڑھ کر پھونکتے ہیں یعنی جو عقدے شریعت محمدیہ میں قابل حل ہیں اور جو ایسے مشکلات اور معضلات ہیں جن پر جاہل مخالف اعتراض کرتے ہیں اور ذریعہ تکذیب دین ٹھہراتے ہیں اُن پر اور بھی عناد کی وجہ سے پھونکیں مارتے ہیں یعنی شریر لوگ اسلامی دقیق مسائل کو جو ایک عقدہ کی شکل پر ہیں دھوکہ دہی کے طور پر ایک پیچیدہ اعتراض کی صورت پر بنا دیتے ہیں تا لوگوں کو گمراہ کریں اُن نظری اُمور پر اپنی طرف سے کچھ حاشیے لگا دیتے ہیں اور یہ لوگ دو قسم کے ہیں ایک تو صریح مخالف اور دشمن دین ہیں جیسے پادری جو ایسی تراش خراش سے اعتراض بناتے رہتے ہیں اور دوسرے وہ علمائے اسلام ہیں جو اپنی غلطی کو چھوڑنا نہیں چاہتے اور نفسانی پھونکوں سے خدا کے فطری دین میں عقدے پیدا کر دیتے ہیں اور زنانہ خصلت رکھتے ہیں کہ کسی مردِ خدا کے سامنے میدان میں نہیں آسکتے صرف اپنے اعتراضات کو تحریف تبدیل کی پھونکوں سے عقدہ لا ینحل کرنا چاہتے ہیں اور اِس طرح پر زیادہ تر مشکلات خدا کے مصلح کی راہ میں ڈال دیتے ہیں۔ وہ قرآن کے مکذب ہیں کہ اس کی منشاء کے برخلاف اصرار کرتے ہیں اور اپنے ایسے افعال سے جو مخالف قرآن ہیں اور دشمنوں کے عقائد سے ہم رنگ ہیں دشمنوں کو مدد دیتے ہیں۔ پس اس طرح اُن عقدوں میں پھونک مار کر ان کو لا ینحل بنانا چاہتے ہیں پس ہم ان کی شرارتوں سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں اور نیز ہم ان لوگوں کی شرارتوں سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں جو حسد کرتے اور حسد کے طریقے سوچتے ہیں اور ہم اس وقت سے پناہ مانگتے ہیں جب وہ حسد کرنے لگیں۔ اور کہو کہ تم یوں دعا مانگا کرو کہ ہم وسوسہ انداز شیطان کے وسوسوں سے جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے اور اُن کو دین سے برگشتہ کرنا چاہتا ہے کبھی بطور خود اور کبھی کسی انسان میں ہو کر خدا کی پناہ مانگتے ہیں وہ خدا جو انسانوں کا پرورندہ ہے انسانوں کا بادشاہ ہے انسانوں کا خدا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک زمانہ آنے والا ہے جو اُس میں نہ ہمدردی انسانی رہے گی جو پرورش کی جڑ ہے اور نہ سچا انصاف رہے گا جو بادشاہت کی شرط ہے تب اُس زمانہ میں خدا ہی خدا ہو گا جو مصیبت زدوں کا مرجع ہوگا۔ یہ تمام کلمات آخری زمانہ کی طرف اشارات ہیں جبکہ امان اور امانت دنیا پر سے اُٹھ جائے گی۔ غرض قرآن نے اپنے اوّل میں بھی مغضوب علیھم اور ضالّین کا ذکر فرمایا ہے اور اپنے آخر میں بھی جیسا کہ آیت لم یلد ولم یولد بصراحت اس پر دلالت کر رہی ہے اور یہ تمام اہتمام تاکید کے لئے کیا گیا اور نیز اس لئے کہ تا مسیح موعود اور غلبہ نصرانیت کی پیشگوئی نظری نہ رہے اور آفتاب کی طرح چمک اُٹھے۔ یاد رہے کہ قرآن شریف کے ایک موقعہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح کو جو انسان ہے خدا کر کے ماننا یہ امر اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسا گراں اور اُس کے غضب کا موجب ہے کہ قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائیں۔ پس یہ بھی مخفی طور پر اسی امر کی طرف اشارہ ہے کہ جب دنیا خاتمہ کے قریب آجائے گی تو یہی مذہب ہے جس کی وجہ سے انسانوں کی زندگی کی صف لپیٹ دی جائے گی۔ اس آیت سے بھی یقینی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ گو کیسا ہی اسلام غالب ہوا اور گو تمام ملتیں ایک ہلاک شدہ جانور کی طرح ہو جائیں لیکن یہ مقدر ہے کہ قیامت تک عیسائیت کی نسل منقطع نہیں ہوگی بلکہ بڑھتی جائے گی اور ایسے لوگ بکثرت پائے جائیں گے کہ جو بہائم کی طرح بغیر سوچنے سمجھنے کے حضرت مسیح کو خدا جانتے رہیں گے یہاں تک کہ اُن پر قیامت برپا ہو جائے گی۔ یہ قرآن شریف کی آیت کا ترجمہ اور اس کا منشاء ہے۔ ہماری طرف سے نہیں۔ پس ہمارے مخالف مسلمانوں کا یہ عقیدہ کہ آخری زمانہ میں ایک خونی مہدی ظاہر ہوگا اور وہ تمام عیسائیوں کو ہلاک کر دے گا اور زمین کو خون سے بھر دے گا اور جہاد ختم نہیں ہوگا جب تک وہ ظاہر نہ ہو اور اپنی تلوار سے ایک دنیا کو ہلاک نہ کرے۔ یہ سب جھوٹی باتیں ہیں جو قرآن کے نص صریح وَاَلۡقَیۡنَا بَیۡنَہُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَالۡبَغۡضَآءَ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ سے مخالف اور منافی ہیں ہر ایک مسلمان کو چاہیے کہ اِن باتوں پر ہرگز اعتقاد نہ رکھے بلکہ جہاد اب قطعاً حرام ہے اُسی وقت تک جہاد تھا کہ جب اسلام پر مذہب کے لئے تلوار اُٹھائی جاتی تھی اب خود بخود ایک ایسی ہوا چلی ہے جو ہر ایک فریق اس کارروائی کو نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے جو مذہب کے لئے خون کیا جائے پہلے زمانوں میں صرف مسلمانوں میں ہی جہاد نہیں تھا بلکہ عیسائیوں میں بھی جہاد تھا اور انہوں نے بھی مذہب کے لئے ہزار ہا بندگان خدا کو اِس دنیا سے رخصت کر دیا تھا مگر اب وہ لوگ بھی ان بیجا کارروائیوں سے کنارہ کش ہو گئے ہیں اور عام طور پر تمام لوگوں میں عقل اور تہذیب اور شائستگی آگئی ہے اس لئے مناسب ہے کہ اب مسلمان بھی جہاد کی تلوار کو توڑ کر کلبہ رانی کے ہتھیار بنا لیں کیونکہ مسیح موعود آگیا اور اب تمام جنگوں کا خاتمہ زمین پر ہو گیا ہاں آسمانی جنگ ابھی باقی ہیں جو معجزات اور نشانوں کے ساتھ ہوں گے نہ تلوار اور بندوق کے ساتھ اور وہی حقیقی جنگ ہیں جن سے ایمان قوی ہوتے ہیں اور نور یقین بڑھتا ہے ورنہ تلوار کا جنگ ایسا جائے اعتراض ہے کہ اگر اسلام کے صدر اور ابتدائی حالت میں یہ عذر اہل اسلام کے ہاتھ میں نہ ہوتا کہ وہ مخالفوں کے بے جا حملوں سے پیسے گئے اور نابود ہونے تک پہنچ گئے تب تلوار اُٹھائی گئی تو بغیر اس عذر کے اسلام پر جہاد کا ایک داغ ہوتا۔ خدا اُن بزرگوں اور راستبازوں پر ہزاراں ہزار رحمت کی بارش کرے جنہوں نے موت کا پیالہ پینے کے بعد پھر اپنی ذریت اور اسلام کے بقا کے لئے وہی پیالہ دشمنوں کا اُن کو واپس کیا مگر اب مسلمانوں پر کون سی مصیبت ہے اور کون اُن کو ہلاک کر رہا ہے کہ وہ بے جا طور پر تلوار اُٹھاتے ہیں اور دلوں میں جہاد کی خواہش رکھتے ہیں انہی مخفی خواہشوں کی وجہ سے جو اکثر مولویوں کے دلوں میں ہیں آئے دن سرحد میں بے گناہ لوگوں کے خون ہوتے ہیں۔ یہ خون کس گروہ کی گردن پر ہیں؟ میں بے دھڑک کہوں گا کہ انہی مولویوں کی گردن پر جو اخلاص سے اس بدعت کے دور کرنے کے لئے پوری کوشش نہیں کرتے۔

اس جگہ ایک بات کسی قدر زیادہ تفصیل کے لائق ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کو سورہ فاتحہ میں یہ دعا سکھلائی ہے کہ وہ اس فریق کی راہ خدا تعالیٰ سے طلب کرتے رہیں جو منعم علیہم کا فریق ہے اور منعم علیہم کے کامل طور پر مصداق باعتبار کثرت کمیّت اور صفائی کیفیت اور نعماءِ حضرت احدیت از روئے نص صریح قرآنی اور احادیث متواترہ حضرت مرسلِ یزدانی دو گروہ ہیں۔ ایک گروہ صحابہ اور دوسرا گروہ جماعت مسیح موعود کیونکہ یہ دونوں گروہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کے تربیت یافتہ ہیں کسی اپنے اجتہاد کے محتاج نہیں وجہ یہ کہ پہلے گروہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے جو خدا سے براہ راست ہدایت پا کر وہی ہدایت نبوت کی پاک توجہ کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے دل میں ڈالتے تھے اور ان کے لئے مربی بے واسطہ تھے۔ اور دوسرے گروہ میں مسیح موعود ہے جو خدا سے الہام پاتا اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت سے فیض اٹھاتا ہے لہذا اس کی جماعت بھی اجتہاد خشک کی محتاج نہیں ہے۔ جیسا کہ آیت وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ سے سمجھا جاتا ہے۔ اور درمیانی گروہ جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیج اعوج کے نام سے موسوم کیا ہے اور جن کی نسبت فرمایا ہے لیسوا منّی ولستُ منہم یعنی وہ لوگ مجھ میں سے نہیں ہیں اور نہ میں اُن میں سے ہوں۔ یہ گروہ حقیقی طور پر منعم علیہم نہیں ہیں۔ اور اگر چہ زمانہ فیج اعوج میں بھی جماعت کثیر گمراہوں کے مقابل نیک اور اہل اللہ اور ہر صدی کے سر پر مجدد بھی ہوتے رہے ہیں لیکن حسب منطوق آیت ثُلَّۃٌ مِّنَ الۡاَوَّلِیۡنَ وَثُلَّۃٌ مِّنَ الۡاٰخِرِیۡنَ(الواقعۃ: ۴۰،۴۱) خالص محمدی گروہ جو ہر ایک پلید ملونی اور آمیزش سے پاک اور توبہ نصوح سے غسل دیئے ہوئے ایمان اور دقائق عرفان اور علم اور عمل اور تقویٰ کے لحاظ سے ایک کثیر التعداد جماعت ہے یہ اسلام میں صرف دو گروہ ہیں یعنی گروہ اوّلین و گروہ آخرین جو صحابہ اور مسیح موعود کی جماعت سے مراد ہے اور چونکہ حکم کثرت مقدار اور کمال صفائی انوار پر ہوتا ہے اس لئے اس سورۃ میں انعمت علیھم کے فقرہ سے مراد یہی دونوں گروہ ہیں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنی جماعت کے اور مسیح موعود مع اپنی جماعت کے۔ خلاصہ کلام یہ کہ خدا نے ابتدا سے اس اُمت میں دوگروہ ہی تجویز فرمائے ہیں اور انہی کی طرف سورہ فاتحہ کے فقرہ انعمت علیھم میں اشارہ ہے (۱) ایک اوّلین جو جماعتِ نبوی ہے (۲) دوسرے آخرین جو جماعت مسیح موعود ہے اور افراد کاملہ جو درمیانی زمانہ میں ہیں جو فیج اعوج کے نام سے موسوم ہے جو بوجہ اپنی کمی مقدار اور کثرت اشرار وفجار و ہجوم افواج بد مذاہب و بدعقائد و بداعمال شاذ و نادر کے حکم میں سمجھے گئے گو دوسرے فرقوں کی نسبت درمیانی زمانہ کے صلحاء اُمتِ محمدیہ بھی با وجود طوفانِ بدعات کے ایک دریائے عظیم کی طرح ہیں۔ بہر حال خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کا علم جس میں غلطی کو راہ نہیں یہی بتلاتا ہے کہ درمیانی زمانہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے بلکہ تمام خیر القرون کے زمانہ سے بعد میں ہے اور مسیح موعود کے زمانہ سے پہلے ہے یہ زمانہ فیج اعوج کا زمانہ ہے یعنی ٹیڑھے گروہ کا زمانہ جس میں خیر نہیں مگر شاذ و نادر۔ یہی فیج اعوج کا زمانہ ہے جس کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہے ليسوا منى ولست منهم یعنی نہ یہ لوگ مجھ میں سے ہیں اور نہ میں ان میں سے ہوں یعنی مجھے اُن سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ یہی زمانہ ہے جس میں ہزار ہا بدعات اور بے شمار نا پاک رسومات اور ہر ایک قسم کے شرک خدا کی ذات اور صفات اور افعال میں اور گروہ در گروہ پلید مذہب جو تہتر تک پہنچ گئے پیدا ہو گئے اور اسلام جو بہشتی زندگی کا نمونہ لے کر آیا تھا اس قدر نا پاکیوں سے بھر گیا جیسے ایک سڑی ہوئی اور پُر نجاست زمین ہوتی ہے۔ اِس فیج اعوج کی مذمت میں وہ الفاظ کافی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے اس کی تعریف میں نکلے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی دوسرا انسان اِس فیج اعوج کے زمانہ کی بدی کیا بیان کرے گا۔ اسی زمانہ کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ زمین جور اور ظلم سے بھر جائے گی لیکن مسیح موعود کا زمانہ جس سے مراد چودھویں صدی من اوّلہٖ الیٰ آخرہٖ ہے اور نیز کچھ اور حصہ زمانہ کا جو خیر القرون سے برابر اور فیج اعوج کے زمانہ سے بالا تر ہے یہ ایک ایسا مبارک زمانہ ہے کہ فضل اور جودِ الٰہی نے مقدر کر رکھا ہے کہ یہ زمانہ پھر لوگوں کو صحابہ کے رنگ میں لائے گا اور آسمان سے کچھ ایسی ہوا چلے گی کہ یہ تہتر فرقے مسلمانوں کے جن میں سے بجز ایک کے سب عار اسلام اور بد نام کنندہ اس پاک چشمہ کے ہیں خود بخود کم ہوتے جائیں گے اور تمام نا پاک فرقے جو اسلام میں مگر اسلام کی حقیقت کے منافی ہیں صفحۂ زمین سے نابود ہو کر ایک ہی فرقہ رہ جائے گا جو صحابہ رضی اللہ عنہم کے رنگ پر ہوگا۔ اب ہر ایک انسان سوچ سکتا ہے کہ اس وقت ٹھیک ٹھیک قرآن پر چلنے والے فرقے مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے کس قدر کم ہیں۔ جو مسلمانوں کے تہتر گروہ میں سے صرف ایک گروہ ہے اور پھر اس میں سے بھی وہ لوگ جو درحقیقت تمام اقسامِ ہوا اور نفس اور خلق سے منقطع ہو کر محض خدا کے ہو گئے ہیں اور ان کے اعمال اور اقوال اور حرکات اور سکنات اور نیات اور خطرات میں کوئی ملونی خباثت کی باقی نہیں ہے وہ کس قدر اس زمانہ میں کبریت احمر کے حکم میں ہیں۔ غرض تمام مفاسد کی تفصیلات کو زیر نظر رکھ کر بخوبی سمجھ آسکتا ہے کہ در حقیقت موجودہ حالت اسلام کی کسی خوشی کے لائق نہیں اور وہ بہت سے مفاسد کا مجموعہ ہو رہا ہے۔ اور اسلام کے ہر ایک فرقہ کو ہزارہا کیڑے بدعات اور افراط اور تفریط اور خطا اور بیبا کی اور شوخی کے چمٹ رہے ہیں اور اسلام میں بہت سے مذہب ایسے پیدا ہو گئے ہیں کہ جو اسلام کا دعویٰ کر کے پھر اسلام کے مقاصد توحید و تقوی و تہذیب اخلاق و اتباع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت دشمن ہیں۔ غرض یہ وجوہ ہیں جن کے رو سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثُلَّۃٌ مِّنَ الۡاَوَّلِیۡنَ وَثُلَّۃٌ مِّنَ الۡاٰخِرِیۡنَ(الواقعۃ: ۴۰،۴۱) یعنی ابرارا خیار کے بڑے گروہ جن کے ساتھ بد مذاہب کی آمیزش نہیں وہ دو ہی ہیں ایک پہلوں کی جماعت یعنی صحابہ کی جماعت جو زیرِ تربیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے دوسری پچھلوں کی جماعت جو بوجہ تربیت روحانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جیسا کہ آیت وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ سے سمجھا جاتا ہے صحابہ کے رنگ میں ہیں۔ یہی دو جماعتیں اسلام میں حقیقی طور پر منعم علیھم ہیں اور خدا تعالیٰ کا انعام اُن پر یہ ہے کہ اُن کو انواع اقسام کی غلطیوں اور بدعات سے نجات دی ہے اور ہر ایک قسم کے شرک سے ان کو پاک کیا ہے اور خالص اور روشن توحید ان کو عطا فرمائی ہے جس میں نہ دجال کو خدا بنایا جاتا ہے اور نہ ابن مریم کو خدائی صفات کا شریک ٹھہرایا جاتا ہے اور اپنے نشانوں سے اس جماعت کے ایمان کو قوی کیا ہے اور اپنے ہاتھ سے ان کو ایک پاک گروہ بنایا ہے ان میں سے جو لوگ خدا کا الہام پانے والے اور خدا کے خاص جذبہ سے اس کی طرف کھنچے ہوئے ہیں نبیوں کے رنگ میں ہیں اور جو لوگ اُن میں سے بذریعہ اپنے اعمال کے صدق اور اخلاص دکھلانے والے اور ذاتی محبت سے بغیر کسی غرض کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے ہیں وہ صدیقوں کے رنگ میں ہیں۔ اور جو لوگ اُن میں سے آخری نعمتوں کی امید پر دکھ اُٹھانے والے اور جزا کے دن کا بچشم دل مشاہدہ کر کے جان کو ہتھیلی پر رکھنے والے ہیں وہ شہیدوں کے رنگ میں ہیں اور جو لوگ اُن میں سے ہر ایک فساد سے باز رہنے والے ہیں وہ صلحاء کے رنگ میں ہیں اور یہی سچے مسلمان کا مقصود بالذات ہے کہ اِن مقامات کو طلب کرے اور جب تک حاصل نہ ہوں تب تک طلب اور تلاش میں سُست نہ ہو اور وہ دوگروہ جو ان لوگوں کے مقابل پر بیان فرمائے گئے ہیں وہ مغضوب علیهم اور ضالین ہیں جن سے محفوظ رہنے کے لئے خدا تعالیٰ سے اِسی سورۃ فاتحہ میں دعا مانگی گئی ہے اور یہ دعا جس وقت اکٹھی پڑھی جاتی ہے یعنی اس طرح پر کہا جاتا ہے کہ اے خدا ہمیں منعم علیهم میں داخل کر اور مغضوب علیهم اور ضالین سے بچا تو اُس وقت صاف سمجھ آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے علم میں منعم علیھم میں سے ایک وہ فریق ہے جو مغضوب علهیم اور ضالین کا ہم عصر ہے اور جبکہ مغضوب علیهم سے مراد اس سورۃ میں بالیقین وہ لوگ ہیں جو مسیح موعود سے انکار کرنے والے اور اس کی تکفیر اور تکذیب اور توہین کرنے والے ہیں تو بلاشبہ اُن کے مقابل پر منعم علیھم سے وہی لوگ اس جگہ مراد رکھے گئے ہیں جو صدق دل سے مسیح موعود پر ایمان لانے والے اور اُس کی دل سے تعظیم کرنے والے اور اس کے انصار ہیں اور دنیا کے سامنے اس کی گواہی دیتے ہیں۔ رہے ضالین۔ پس جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت اور تمام اکابر اسلام کی شہادت سے ضالین سے مراد عیسائی ہیں اور ضالین سے پناہ مانگنے کی دعا بھی ایک پیشگوئی کے رنگ میں ہے کیونکہ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عیسائیوں کا کچھ بھی زور نہ تھا بلکہ فارسیوں کی سلطنت بڑی قوت اور شوکت میں تھی۔ اور مذاہب میں سے تعداد کے لحاظ سے بدھ مذہب دنیا میں تمام مذاہب سے زیادہ بڑھا ہوا تھا اور مجوسیوں کا مذہب بھی بہت زور و جوش میں تھا اور ہندو بھی علاوہ قومی اتفاق کے بڑی شوکت اور سلطنت اور جمعیت رکھتے تھے اور چینی بھی اپنی تمام طاقتوں میں بھرے ہوئے تھے تو پھر اس جگہ طبعاً یہ سوال ہوتا ہے کہ یہ تمام قدیم مذاہب جن کی بہت پرانی اور زبردست سلطنتیں تھیں اور جن کی حالتیں قومی اتفاق اور دولت اور طاقت اور قدامت اور دوسرے اسباب کی رو سے بہت ترقی پر تھیں اُن کے شر سے بچنے کے لئے کیوں دعا نہیں سکھلائی؟ اور عیسائی قوم جو اُس وقت نسبتی طور پر ایک کمزور قوم تھی کیوں اُن کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے دعا سکھلائی گئی؟ اس سوال کا یہی جواب ہے جو بخوبی یاد رکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے علم میں یہ مقدر تھا کہ یہ قوم روز بروز ترقی کرتی جائے گی یہاں تک کہ تمام دنیا میں پھیل جائے گی اور اپنے مذہب میں داخل کرنے کے لئے ہر ایک تدبیر سے زور لگائیں گے اور کیا علمی سلسلہ کے رنگ میں اور کیا مالی ترغیبوں سے اور کیا اخلاق اور شیرینی کلام دکھلانے سے اور کیا دولت اور شوکت کی چمک سے اور کیا نفسانی شہوات اور اباحت اور بے قیدی کے ذرائع سے اور کیا نکتہ چینیوں اور اعتراضات کے ذریعہ سے اور کیا بیماروں اور ناداروں اور در ماندوں اور یتیموں کا متکفل بننے سے ناخنوں تک یہ کوشش کریں گے کہ کسی بد قسمت نادان یا لالچی یا شہوت پرست یا جاہ طلب یا بیکس یا کسی بچہ بے پدر و مادر کو اپنے قبضہ میں لا کر اپنے مذہب میں داخل کریں سو اسلام کے لئے یہ ایک ایسا فتنہ تھا کہ کبھی اسلام کی آنکھ نے اس کی نظیر نہیں دیکھی اور اسلام کے لئے یہ ایک عظیم الشان ابتلا تھا جس سے لاکھوں انسانوں کے ہلاک ہو جانے کی امید تھی۔ اس لئے خدا نے سورہ فاتحہ میں جس سے قرآن کا افتتاح ہوتا ہے اس مہلک فتنہ سے بچنے کے لئے دعا سکھلائی اور یاد رہے کہ قرآن شریف میں یہ ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے جس کی نظیر اور کوئی پیشگوئی نہیں کیونکہ اگر چہ قرآن شریف میں اور بہت سی پیشگوئیاں ہیں جو اس ہمارے زمانہ میں پوری ہو گئی ہیں جیسے اجتماع کسوف قمر و شمس کی پیشگوئی جو آیت وَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ(القیامۃ: ۱۰) سے معلوم ہوتی ہے۔ اور اونٹوں کے بیکار ہونے اور مکہ اور مدینہ میں ریل جاری ہونے کی پیشگوئی جو آیت وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ(التکویر: ۵) سے صاف طور پر سمجھی جاتی ہے لیکن اس پیشگوئی کے مشہور کرنے اور ہمیشہ امت کے پیش نظر رکھنے میں سب سے زیادہ خدا تعالیٰ نے اہتمام فرمایا ہے کیونکہ اس سورۃ میں یعنی سورۃ فاتحہ میں بطور دعا اسے تعلیم فرمایا ہے جس کو پنج وقت کروڑہا مسلمان اپنے فرائض اور نمازوں میں پڑھتے ہیں۔ اور ممکن نہیں کہ زیرک مسلمانوں کے دلوں میں اس جگہ یہ خیال نہ گذرے کہ جس حالت میں اس زمانہ کے عام مسلمانوں کے خیال کے موافق اس اُمت کے لئے دجال کا فتنہ سب فتنوں سے بڑھ کر ہے جس کی نظیر حضرت آدم سے دنیا کے اخیر تک کوئی نہیں تو خدا تعالیٰ نے ایسی عظیم الشان دعا میں جو بوجہ کثرت تکرار و دائمی مناجات اوقات متبرکہ اکثر احتمال قبولیت کا رکھتی ہے اِس بزرگ فتنہ کا ذکر کیوں چھوڑ دیا اس طرح پر سورہ فاتحہ میں دعا کیوں نہ سکھلائی کہ غیر المغضوب علیهم ولا الدّجال۔ اس کا جواب یہی ہے کہ دجال کوئی علیحدہ فرقہ نہیں ہے اور نہ کوئی ایسا شخص ہے کہ جو عیسائیوں اور مسلمانوں کو پامال کر کے دنیا کا مالک ہو جائے گا۔ ایسا خیال کرنا قرآن شریف کی تعلیم کے مخالف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔ وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ یعنی اے عیسیٰ خدا تیرے حقیقی تابعین کو جو مسلمان ہیں اور ادعائی تابعین کو جو عیسائی ہیں ادعائی طور پر قیامت تک ان لوگوں پر غالب رکھے گا جو تیرے دشمن اور منکر اور مکذب ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ ہمارے مخالف مولویوں کا دجال مفروض بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا منکر ہوگا۔ پس اگر عیسائیوں اور مسلمانوں پر اس کو غالب کیا گیا اور تمام زمین کی عنان سلطنت اور حکومت اُس کے ہاتھ میں دی گئی تو اس سے قرآن شریف کی تکذیب لازم آتی ہے اور نہ صرف ایک پہلو سے بلکہ نعوذ باللہ دو پہلو سے خدا تعالیٰ کا کلام جھوٹا ٹھہرتا ہے (۱) ایک یہ کہ جن قوموں کے قیامت تک غالب اور حکمران رہنے کا وعدہ تھا وہ اِس صورت میں غالب اور حکمران نہیں رہیں گے (۲) دوسرے یہ کہ جن دوسری قوموں کے مغلوب ہونے کا وعدہ تھا وہ غالب ہو جائیں گے اور مغلوب نہ رہیں گے اور اگر یہ کہا جائے کہ اگر چہ ان قوموں کی سلطنت اور قوت اور دولت قیامت تک قائم رہے گی اور ہم اس کو قبول کرتے ہیں مگر دجال بھی کسی چھوٹے سے راجہ یا رئیس کی طرح دس ہیں یا سو پچاس گاؤں کا والی اور فرمانروا بن جائے گا تو یہ قول بھی ایسا ہی قرآن شریف کے مخالف ہے جیسا کہ پہلا قول مخالف ہے کیونکہ جب کہ دجال تمام انبیاء علیھم السلام کا اس قدر دشمن ہے کہ ان کو مفتری سمجھتا ہے اور خود خدائی کا دعویٰ کرتا ہے تو بموجب منطوق آیت کے چاہیے تھا کہ ایک ساعت کے لئے بھی وہ خود سر حاکم نہ بنایا جاتا تا مضمون فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا(اٰل عمران: ۵۶) میں کچھ حرج اور خلل عائد نہ ہوتا۔ ماسوا اس کے جب کہ یہ مانا گیا ہے کہ بجز حرمین شریفین کے ہر ایک ملک میں دجال کی سلطنت قائم ہو جائے گی تو پھر آیت وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ(اٰل عمران: ۵۶) دجال کی عام سلطنت کی صورت میں کیونکر بچی رہ سکتی ہے بلکہ دجالی سلطنت کے قائم ہونے سے تو ماننا پڑتا ہے کہ جو حضرت مسیح کے تابعین کے لئے فوقیت اور غالبیت کا دائمی وعدہ تھا وہ چالیس برس تک دجال کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ جو شخص قرآن شریف کو خدا کا کلام اور سچا مانتا ہے وہ تو اس بات کو صریح کفر سمجھے گا کہ ایسا عقیدہ رکھا جائے جس سے خدا تعالیٰ کی پاک کلام کی تکذیب لازم آتی ہے۔ تم آپ ہی فکر کرو اور سوچو کہ جبکہ بموجب آیت وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ(اٰل عمران: ۵۶) ہمارا یہ ایمان ہونا چاہیے کہ قیامت تک دولت اور سلطنت مسلمانوں اور عیسائیوں میں قائم رہے گی اور وہ لوگ جو حضرت مسیح کے منکر ہیں وہ کبھی بلاد اسلامیہ کے مالک اور بادشاہ نہیں بنیں گے یہاں تک کہ قیامت آجائے گی تو اس صورت میں دجال کی کہاں گنجائش ہے؟ قرآن کو چھوڑنا اور ایسی حدیث کو پکڑنا جو اس کے صریح منطوق کے مخالف ہے اور محض ایک ظنی امر ہے کیا یہی اسلام ہے؟ اور اگر یہ سوال ہو کہ جب کہ دجال کا بھی حدیثوں میں ذکر پایا جاتا ہے کہ وہ دنیا میں ظاہر ہوگا اور پہلے نبوت کا دعویٰ کرے گا اور پھر خدائی کا دعویدار بن جائے گا تو اس حدیث کی ہم کیا تاویل کریں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اب تمہاری تاویل کی کچھ ضرورت نہیں۔ واقعات کے ظہور نے خود اس حدیث کے معنے کھول دیئے ہیں۔ یعنی یہ حدیث ایک ایسی قوم کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اپنے افعال سے دکھلا دیں گے کہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ بھی کیا ہے اور خدائی کا دعویٰ بھی۔ نبوت کا دعویٰ اس طرح پر کہ وہ لوگ خدا تعالیٰ کی کتابوں میں اپنی تحریف اور تبدیل اور انواع و اقسام کی بیجا دست اندازیوں سے جو نہایت جرأت اور بیبا کی اور شوخی سے ہوں گی اس قدر دخل دیں گے اور اس قدر اپنی طرف سے تصرفات کریں گے اور ترجموں کو عمداً بگاڑیں گے کہ گویا وہ خود نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ پس یہ تو نبوت کا دعویٰ ہوا۔ اب خدائی کے دعوے کی بھی تشریح سنیئے اور وہ یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ لوگ ایجاد اور صنعت اور خدائی کے کاموں کی کُنہ معلوم کرنے میں اور اس ڈھن میں کہ الوہیت کے ہر ایک کام اور صنعت کی نقل اتار لیں اس قدر حریص ہوں گے کہ گویا وہ خدائی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ وہ چاہیں گے کہ مثلاً کسی طرح بارش کرنا اور بارش کو بند کر دینا اور پانی بکثرت پیدا کرنا اور پانی کو خشک کر دینا۔ اور ہوا کا چلانا اور ہوا کو بند کر دینا اور کانوں کے ہر ایک قسم کے جواہر کو اپنی دستکاری سے پیدا کر لینا غرض مخلوقات کے تمام افعال طبعیہ پر قبضہ کر لینا۔ یہاں تک کہ انسانی نطفہ کو کسی پچکاری کے ذریعہ سے جس رحم میں چاہیں ڈال دینا اور اس سے حمل ٹھہرانے کے لئے کامیاب ہو جانا اور کسی طور سے مُردوں کو زندہ کر دینا اور عمروں کو بڑھا دینا اور غیب کی باتیں معلوم کر لینا اور تمام نظام طبعی پر تصرفِ تام کر لینا اُن کے ہاتھ میں آجائے اور کوئی بات اُن کے آگے انہونی نہ ہو۔ پس جبکہ ادب ربوبیت اور عظمت الوہیت اُن کے دلوں پر سے بکلی اُٹھ جائے گی اور خدائی تقدیروں کو ٹالنے کے لئے بالمقابل جنگ کرنے والے کی طرح تدابیر اور اسباب تلاش کرتے رہیں گے تو وہ آسمان پر ایسے ہی سمجھے جائیں گے کہ گویا وہ خدائی کا دعویٰ کر رہے ہیں اور مجھے اُس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہی معنے حق ہیں۔ اور جو دجال کی آنکھوں کی نسبت حدیثوں میں آیا ہے کہ ایک آنکھ اُس کی بالکل اندھی ہوگی اور ایک میں پھولا ہوگا اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ گروہ جو دجالی صفات سے موسوم ہوگا اُس کا یہ حال ہوگا کہ ایک آنکھ اُس کی تو کم دیکھے گی اور حقائق کے چہرے اُس کو دھندلے نظر آئیں گے مگر دوسری آنکھ بالکل اندھی ہوگی وہ کچھ بھی دیکھ نہیں سکے گی جیسا کہ یہ قوم جو نظر کے سامنے ہے توریت پر تو کسی قدر ایمان لاتی ہے گو ناقص اور غلط طور پر مگر قرآن شریف کو دیکھ نہیں سکتے گویا اُن کی ایک آنکھ میں انگور کے دانے کی طرح ٹینٹ پڑا ہوا ہے مگر دوسری آنکھ جس سے قرآن شریف کو دیکھنا تھا بالکل اندھی ہے۔ یہ کشفی رنگ میں دجال کی صورت ہے اور اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ لوگ خدا تعالیٰ کی آخری کتاب کو بالکل شناخت نہیں کریں گے۔ اور ظاہر ہے کہ اِس تاویل کی رو سے جو بالکل معقول اور قرین قیاس ہے کسی نئے دجال کی تلاش کی ضرورت نہیں بلکہ جس گروہ نے قرآن شریف کی تکذیب کی اور جن کو خدا نے کتاب دی اور پھر انہوں نے اِس کتاب پر عمل نہ کیا اور اپنی طرف سے اِس قدر تحریف کی کہ گویا نئی کتاب نازل ہو رہی ہے اور نیز کارخانہ قضاء و قدر میں اس قدر دست اندازی کی کہ خدا کی عظمت دلوں پر سے بکلی اُٹھ گئی وہی لوگ دجال ہیں۔ ایک پہلو سے نبوت کے مدعی اور دوسرے پہلو سے خدائی کے دعویدار۔ تمام حدیثوں کا منشاء یہی ہے اور یہی قرآن شریف سے مطابق ہے اور اسی سے وہ اعتراض دور ہوتا ہے جو و لا الضالین کی دعا پر عائد ہو سکتا تھا اور یہ وہ امر ہے کہ جس پر واقعات کے سلسلہ کی ایک زبردست شہادت پائی جاتی ہے اور ایک منصف انسان کو بجز ماننے کے بن نہیں پڑتا اور گو لفظ دجال کے ایک غلط اور خطر ناک معنے کرنے میں بہت سی تعداد مسلمانوں کی آلودہ ہے مگر جو امر قرآن کے نصوص صریحہ اور اُن احادیث کے نصوص واضحہ سے جو قرآن کے مطابق ہیں غلط ثابت ہو گیا اور عقلِ سلیم نے بھی اسی کی تصدیق کی تو ایسا امر ایک انسان یا کروڑ انسان کے غلط خیالات کی وجہ سے غلط نہیں ٹھہر سکتا اور نہ لازم آتا ہے کہ جس مذہب کا دنیا میں تعداد کثیر ہو وہی سچا ہو۔ غرض اب یہ ثبوت کمال کو پہنچ گیا ہے اور اگر اب بھی کوئی منہ زوری سے باز نہ آوے تو وہ حیا سے عاری اور قرآن شریف کی تکذیب پر دلیر ہے اور وہ احادیث واضحہ جو قرآن کی منشاء کے موافق دجال کی حقیقت ظاہر کرتی ہیں وہ اگر چہ بہت ہیں مگر ہم اس جگہ بطور نمونہ ایک اُن میں سے درج کرتے ہیں۔ وہ حدیث یہ ہے يخرج في آخر الزمان دجال يختلون الدنيا بالدين. يلبسون للناس جلود الضّأن من الدين. السنتهم احلىٰ من العسل و قلوبهم قلوب الذياب يقول اللہ عزّ وجلّ أبي يغترون ام علىّ يجترءون. حتّىٰ حلفت لأبعثن علىٰ اولٰئک منهم فتنۃ۔ الخ ۔ کنز العمال جلد نمبر ۷ صفحہ ۱۷۴ یعنی آخری زمانہ میں دجال ظاہر ہوگا وہ ایک مذہبی گروہ ہوگا جو زمین پر جابجا خروج کرے گا اور وہ لوگ دنیا کے طالبوں کو دین کے ساتھ فریب دیں گے یعنی ان کو اپنے دین میں داخل کرنے کے لئے بہت سا مال پیش کریں گے اور ہر قسم کے آرام اور لذات دنیوی کی طمع دیں گے اور اس غرض سے کہ کوئی اُن کے دین میں داخل ہو جائے بھیڑوں کی پوستین پہن کر آئیں گے۔ اُن کی زبانیں شہد سے زیادہ میٹھی ہوں گی اور ان کے دل بھیڑیوں کے دل ہوں گے اور خدائے عزّ و جلّ فرمائے گا کہ کیا یہ لوگ میرے حلم پر مغرور ہور ہے ہیں کہ میں اُن کو جلد تر نہیں پکڑتا اور کیا یہ لوگ میرے پر افترا کرنے میں دلیری کر رہے ہیں یعنی میری کتابوں کی تحریف کرنے میں کیوں اس قدر مشغول ہیں۔ میں نے قسم کھائی ہے کہ میں انہی میں سے اور انہی کی قوم میں سے ان پر ایک فتنہ برپا کروں گا ۔ دیکھو کنز العمال جلد نمبر ۷ صفحہ نمبر ۱۷۴۔ اب بتلاؤ کہ کیا اس حدیث سے دجال ایک شخص معلوم ہوتا ہے اور کیا یہ تمام اوصاف جو دجال کے لکھے گئے ہیں یہ آج کل کسی قوم پر صادق آ رہے ہیں یا نہیں؟ اور ہم پہلے اس سے قرآن شریف سے بھی ثابت کر چکے ہیں کہ دجال ایک گروہ کا نام ہے نہ یہ کہ کوئی ایک شخص اور اس حدیث مذکورہ بالا میں جو دجال کے لئے جمع کے صیغے استعمال کئے گئے ہیں جیسے يَختلّون اور يَلبسون اور يغترّون اور يَجترءُون اور اولٰئک اور منهم یہ بھی بآواز بلند پکار رہے ہیں کہ دجال ایک جماعت ہے نہ ایک انسان ۔ اور قرآن شریف میں جو یا جوج ماجوج کا ذکر ہے جن کو خدا کی پہلی کتابوں نے یورپ کی قومیں قرار دیا ہے اور قرآن نے اس بیان کی تکذیب نہیں کی یہ دجال کے اُن معنوں پر جو ہم نے بیان کئے ہیں ایک بڑا ثبوت ہے بعض حدیثیں بھی تو ریت کے اس بیان کی مصدق ہیں اور لندن میں یا جوج ماجوج کی پتھر کی ہیکلیں کسی پرانے زمانہ سے اب تک محفوظ ہیں ۔ یہ تمام امور جب یکجائی نظر سے دیکھے جائیں تو عین الیقین کے درجہ پر یہ ثبوت معلوم ہوتا ہے اور تمام دجالی خیالات ایک ہی لمحہ میں منتشر ہو جاتے ہیں ۔ اگر اب بھی یہ بات قبول نہ کی جائے کہ حقیقت حقہ صرف اِسی قدر ہے جو سورۃ فاتحہ کے آخری فقرہ یعنی لا الضالین سے سمجھی جاتی ہے تو گویا اس بات کا قبول کرنا ہوگا کہ قرآن کی تعلیم کو ماننا کچھ ضروری نہیں بلکہ اس کے مخالف قدم رکھنا بڑے ثواب کی بات ہے۔ پس وہ لوگ جو ہماری اس مخالفت پر خون پینے کو طیار ہیں مناسب ہے کہ اس موقعہ پر ذرہ خدا تعالیٰ سے خوف کر کے سوچیں کہ وہ کس قدر خدا تعالیٰ کی پاک کلام سے دشمنانہ لڑائی کر رہے ہیں گو فرض کے طور پر اُن کے پاس ایسی حدیثیں انبار در انبار ہوں جن سے دجال معہود کا ایک خوفناک وجود ظاہر ہوتا ہو جو اپنی جسامت کی وجہ سے ایک ایسی سواری کا محتاج ہے جس کے دونوں کانوں کا فاصلہ قریباً تین سو ہاتھ ہے اور زمین و آسمان اور چاند اور سورج اور دریا اور ہوائیں اور مینہ اس کے حکم میں ہیں لیکن ایسا ہیبت ناک وجود پیش کرنے سے کوئی ثبوت پیدا نہیں ہوگا۔ اس عقل اور قیاس کے زمانہ میں ایسا خلاف قانون قدرت وجود ماننا اسلام پر ایک داغ ہوگا اور غایت کار ہندوؤں کے مہادیو اور بشن اور برہما کی طرح مسلمانوں کے ہاتھ میں بھی لوگوں کے ہنسانے کے لئے یہ ایک لغو کہانی ہوگی جو قرآن کی پیشگوئی لا الضالین کے بھی مخالف ہے اور نیز اس کی تعلیم توحید کے بھی سراسر مخالف ۔ اور اس میں کچھ شبہ نہیں کہ ایسے وجود کو ماننا جس کے ہاتھ میں گو تھوڑے عرصہ کے لئے تمام خدائی قوت اور خدائی انتظام ہوگا اس قسم کے شرک کو اختیار کرنا ہے جس کی نظیر ہندوؤں اور چینیوں اور پارسیوں میں بھی کوئی نہیں ۔ افسوس کہ اہل حدیث جو موحد کہلاتے ہیں۔ اس شرک کی قسم سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں جو چوہے سے بھی کمتر ہے اور اس شرک کو اپنے گھر میں داخل کرتے ہیں جو ہاتھی سے بھی زیادہ ہے۔ ان لوگوں کی توحید بھی عجیب طور کی پختہ ہے کہ عیسٰی بن مریم کو خالقیت میں خدا کا قریباً نصف کا شریک مان کر پھر توحید میں کچھ خلل نہیں آیا۔ تعجب کہ یہ لوگ جو اسلام کی اصلاح اور توحید کا دم مارتے ہیں وہی اس قسم کے شرکوں پر زور مار رہے ہیں اور خدا کی طرح مسیح کو بلکہ دجال کو بھی بے انت اور بے انتہا کمالاتِ الوہیت سے موصوف سمجھتے ہیں ۔ عجیب بات ہے کہ اُن کی نظر میں خدا کی سلطنت بھی ایسے ہمسر شریکوں سے پاک نہیں ہے اور پھر خاصے موحد اور اہل حدیث ہیں ۔ کون کہہ سکتا ہے کہ مشرک ہیں اور گو عیسائی مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ لوگ در حقیقت مشنریوں پر بہت ہی احسان کر رہے ہیں کہ ایک مسلمان کو اگر وہ اُن کے اِن عقیدوں کا پابند ہو جائے جن کو یہ مولوی مسیح اور دجال کی نسبت سکھلا رہے ہیں بہت آسانی سے عیسائی مذہب کے قریب لے آتے ہیں یہاں تک کہ ایک پادری صرف چند منٹ میں ہی ہنسی خوشی میں ان کو مرتد کر سکتا ہے۔ یہ نہیں خیال کرنا چاہیے کہ دجال کو الوہیت کی صفات دینے سے عیسائیوں کو کیا فائدہ پہنچتا ہے گو مسیح میں ایسی صفات قائم کرنے سے تو فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ جبکہ دجال جیسے دشمن دین اور نا پاک طبع کی نسبت مان لیا گیا کہ وہ اپنے اختیار سے بارش برسانے اور مردوں کے زندہ کرنے اور بارش کے روکنے اور دوسری صفاتِ الوہیت پر قادر ہوگا تو اس سے بہت صفائی کے ساتھ یہ راہ کھل جاتی ہے کہ جبکہ ایک خدا کا دشمن خدائی کے مرتبہ پر پہنچ سکتا ہے اور جبکہ خدائی کارخانہ میں ایسی بدانتظامی اور گڑ بڑ پڑا ہوا ہے کہ دجال بھی اپنی جھوٹی خدائی چالیس برس تک یا چالیس دن تک چلائے گا تو پھر حضرت عیسٰی کی خدائی میں کون سا اشکال عائد حال ہو سکتا ہے۔ پس ایسے لوگوں کے بپتسمہ پانے پر بڑی بڑی اُمیدیں پادری صاحبوں کو دلوں میں رکھنی چاہئیں ۔ اور در حقیقت اگر خدا تعالیٰ آسمان سے اپنے اس سلسلہ کی بنیاد اس نازک وقت میں نہ ڈالتا تو اِن اعتقادوں کے طفیل سے ہزاروں مولویوں کی روحیں پادری عمادالدین کی روح سے مل جاتیں مگر مشکل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی غیرت اور اس کا وہ وعدہ جو صدی کے سر سے متعلق تھا وہ پادری صاحبوں کی اِس کامیابی میں حائل ہو گیا مگر مولوی صاحبوں کی طرف سے کوئی فرق نہیں رہا تھا۔ دانشمند خوب جانتے ہیں کہ اسلام کی آئندہ ترقی کے لئے اور نیز پادریوں کے حملوں سے اسلام کو بچانے کے لئے یہ نہایت نیک فال ہے کہ وہ تمام باتیں جس سے مسیح کو زندہ آسمان پر چڑھایا گیا اور فقط اُسی کو زندہ رسول اور معصوم رسول مس شیطان سے پاک اور ہزاروں مردوں کو زندہ کرنے والا اور بے شمار پرندوں کو پیدا کرنے والا اور قریباً نصف میں خدا کا شریک سمجھا گیا تھا اور دوسرے تمام نبی مردے اور عاجز اور مس شیطان سے آلودہ سمجھے گئے تھے جنہوں نے ایک مکھی بھی پیدا نہ کی یہ تمام افترا اور جھوٹ کے طلسم خدا نے مجھے مبعوث فرما کر ایسے توڑ دیئے کہ جیسے ایک کاغذ کا تختہ لپیٹ دیا جائے اور خدا نے عیسٰی بن مریم سے تمام زوائد کو الگ کر کے معمولی انسانی درجہ پر بٹھا دیا اور اُس کو دوسرے نبیوں کے افعال اور خوارق کی نسبت ایک ذرہ خصوصیت نہ رہی اور ہر ایک پہلو سے ہمارے سیّد و مولیٰ نبی الوریٰ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے محامد عالیہ آفتاب کی طرح چمک اُٹھے ۔ اے خدا! ہم تیرے احسانوں کا کیونکر شکر کریں کہ تو نے ایک تنگ و تاریک قبر سے اسلام اور مسلمانوں کو باہر نکالا اور عیسائیوں کے تمام فخر خاک میں ملا دیئے اور ہمارا قدم جو ہم محمدی گروہ ہیں ایک بلند اور نہایت اونچے منار پر رکھ دیا ۔ ہم نے تیرے نشان جو محمدی رسالت پر روشن دلائل ہیں اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ ہم نے آسمان پر رمضان میں اُس خسوف کسوف کا مشاہدہ کیا جس کی نسبت تیری کتاب قرآن اور تیرے نبی کی طرف سے تیرہ سو برس سے پیشگوئی تھی ہم نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر لیا کہ تیری کتاب اور تیرے نبی کی پیشگوئی کے مطابق اونٹوں کی سواری ریل کے جاری ہونے سے موقوف ہو گئی اور عنقریب مکہ اور مدینہ کی راہ سے بھی یہ سواریاں موقوف ہونے والی ہیں ۔ ہم نے تیری کتاب قرآن کی پیشگوئی لا الضالین کو بھی بڑے زور شور سے پورے ہوتے دیکھ لیا اور ہم نے یقین کر لیا کہ در حقیقت یہی وہ فتنہ ہے جس کی آدم سے لے کر قیامت تک اسلام کی ضرر رسانی میں کوئی نظیر نہیں ۔ اسلام کی مزاحمت کے لئے یہی ایک بھاری فتنہ تھا جو ظہور میں آگیا ۔ اب اس کے بعد قیامت تک کوئی ایسا بڑا فتنہ نہیں ۔ اے کریم ! تو ایسا نہیں ہے کہ اپنے مذہب اسلام پر دو موتیں جمع کرے ایک موت جو عظیم ابتلا تھا اور جو مسلمانوں اور اسلام کے لئے مقدّر تھا وہ ظہور میں آگیا ۔ اب اے ہمارے رحیم خدا ! ہماری رُوح گواہی دیتی ہے کہ جیسا کہ تو نے نوح کے دنوں میں کیا کہ بہت سے آدمیوں کو ہلاک کر کے پھر تجھے رحم آیا اور تو نے توریت میں وعدہ کیا کہ میں پھر اس طرح انسانوں کو طوفان سے ہلاک نہیں کروں گا۔ پس دیکھ اے ہمارے خدا کہ اس امت پر یہ طوفان نوح کے دنوں سے کچھ کم نہیں آیا۔ لاکھوں جانیں ہلاک ہو گئیں اور تیرے نبی کریم کی عزت ایک نا پاک کیچڑ میں پھینک دی گئی۔ پس کیا اس طوفان کے بعد اس امت پر کوئی اور بھی طوفان ہے یا کوئی اور بھی دجال ہے جس کے خوف سے ہماری جانیں گداز ہوتی رہیں ۔ تیری رحمت بشارات دیتی ہے کہ ”کوئی نہیں“ کیونکہ تو وہ نہیں کہ اسلام اور مسلمانوں پر دو موتیں جمع کرے مگر ایک موت جو واقع ہو چکی ۔ اب اس ایک دفعہ کے قتل کے بعد اس خوبصورت جوان کے قتل پر کوئی دجال قیامت تک قادر نہیں ہوگا ۔ یاد رکھو اس پیشگوئی کو ۔ اے لوگو! خوب یاد رکھو کہ یہ خوبصورت پہلوان کہ جو جوانی کی تمام قوتوں سے بھرا ہوا ہے یعنی اسلام یہ صرف ایک ہی دفعہ دجال کے ہاتھ سے قتل ہونا تھا۔ سوجیسا کہ مقدر تھا یہ مشرقی زمین میں قتل ہو گیا اور نہایت بے دردی سے اس کے جسم کو چاک کیا گیا اور پھر دجال نے یعنی اس کی عمر کے خاتمہ نے چاہا کہ یہ جوان زندہ ہو چنانچہ اب وہ خدا کے مسیح کے ذریعہ سے زندہ ہو گیا اور اب سے اپنی تمام طاقتوں میں دوبارہ بھرتا جائے گا اور پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جائے گا و لا ترد علیه موتة الاموتته الاولىٰ. واذا هلك الدجّال فلا دجّال بعده الى يوم القيامة امر من لدن حكيم عليم ونبأ من عند ربّنا الكريم وبشارة من اللّہ الرء وف الرحيم. لا يأتي بعد هذا الا نصر من اللّہ وفتح عظيم. اے قادر خدا! تیری شان کیا ہی بلند ہے تو نے اپنے بندہ کے ہاتھ پر کیسے کیسے بزرگ نشان دکھلائے ۔ جو کچھ تیرے ہاتھ نے جمالی رنگ میں آٹھم کے ساتھ کیا اور پھر جلالی رنگ میں لیکھرام کے ساتھ کیا یہ چمکتے ہوئے نشان عیسائیوں میں کہاں ہیں اور کس ملک میں ہیں کوئی دکھلاوے۔ اے قادر خدا! جیسا تو نے اپنے اس بندہ کو کہا کہ میں ہر میدان میں تیرے ساتھ ہوں گا اور ہر ایک مقابلہ میں روح القدس سے میں تیری مدد کروں گا آج عیسائیوں میں ایسا شخص کون ہے جس پر اس طور سے غیب اور اعجاز کے دروازے کھولے گئے ہوں ۔ اس لئے ہم جانتے ہیں اور بچشم خود دیکھتے ہیں کہ تیرا وہی رسول فضل اور سچائی لے کر آیا ہے جس کا نام محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ حضرت عیسیٰ کی نبوت کو بھی اسی کے وجود سے رنگ اور رونق ہے۔ ورنہ حضرت مسیح کی نبوت پر اگر گذشتہ قصوں کو الگ کر کے کوئی زندہ ثبوت مانگا جائے تو ایک ذرہ کے برابر بھی ثبوت نہیں مل سکتا اور قصے تو ہر ایک قوم کے پاس ہیں کیا ہندوؤں کے پاس نہیں ہیں؟

اور منجملہ اُن دلائل کے جو میرے مسیح موعود ہونے پر دلالت کرتے ہیں وہ ذاتی نشانیاں ہیں جو مسیح موعود کی نسبت بیان فرمائی گئی ہیں اور ان میں سے ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ مسیح موعود کے لئے ضروری ہے کہ وہ آخری زمانہ میں پیدا ہو جیسا کہ یہ حدیث ہے یکون فی اخر الزمان عند تظاهر من الفتن وانقطاع من الزمن اور اس بات کے ثبوت کے لئے کہ در حقیقت یہ آخری زمانہ ہے جس میں مسیح ظاہر ہو جانا چاہیے دو طور کے دلائل موجود ہیں (۱) اول وہ آیاتِ قرآنیہ اور آثار نبویہ جو قیامت کے قرب پر دلالت کرتے ہیں اور پورے ہو گئے ہیں جیسا کہ خسوف کسوف کا ایک ہی مہینہ میں یعنی رمضان میں ہونا۔ جس کی تصریح آیت وَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ(القیامۃ: ۱۰)میں کی گئی ہے اور اونٹوں کی سواری کا موقوف ہو جانا جس کی تشریح آیت وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ(التکویر: ۵)سے ظاہر ہے اور ملک میں نہروں کا بکثرت نکلنا جیسا کہ آیت وَاِذَا الۡبِحَارُ فُجِّرَتۡ(الانفطار: ۴)سے ظاہر ہے اور ستاروں کا متواتر ٹوٹنا جیسا کہ آیتوَاِذَا الۡکَوَاکِبُ انۡتَثَرَتۡ(الانفطار: ۳)سے ظاہر ہے اور قحط پڑنا اور وبا پڑنا اور امساک باراں ہونا جیسا کہ آیت اِذَا السَّمَآءُ انۡفَطَرَتۡ(الانفطار: ۲) سے منکشف ہے اور سخت قسم کا کسوف شمس واقع ہونا جس سے تاریکی پھیل جائے جیسا کہ آیت اِذَا الشَّمۡسُ کُوِّرَتۡ(التکویر: ۲) سے ظاہر ہے اور پہاڑوں کو اپنی جگہ سے اُٹھا دینا جیسا کہ آیت وَاِذَا الۡجِبَالُ سُیِّرَتۡ(التکویر: ۴)سے سمجھا جاتا ہے اور جو لوگ وحشی اور اراذل اور اسلامی شرافت سے بے بہرہ ہیں ان کا اقبال چمک اُٹھنا جیسا کہ آیت وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ(التکویر: ۶) سے مترشح ہو رہا ہے ۔ اور تمام دنیا میں تعلقات اور ملاقاتوں کا سلسلہ گرم ہو جانا اور سفر کے ذریعہ سے ایک کا دوسرے کو ملنا سہل ہو جانا جیسا کہ بدیہی طور پر آیت وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ(التکویر: ۸) سے سمجھا جاتا ہے اور کتابوں اور رسالوں اور خطوط کا ملکوں میں شائع ہو جانا جیسا کہ آیت وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتۡ(التکویر: ۱۱) سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اور علماء کی باطنی حالت کا جو نجوم اسلام ہیں مکدر ہو جانا جیسا کہ وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡکَدَرَتۡ(التکویر: ۳) سے صاف معلوم ہوتا ہے۔ اور بدعتوں اور ضلالتوں اور ہر قسم کے فسق و فجور کا پھیل جانا جیسا کہ آیت اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ(الانشقاق: ۲) سے مفہوم ہوتا ہے۔ یہ تمام علامتیں قرب قیامت کی ظاہر ہو چکی ہیں اور دنیا پر ایک انقلابِ عظیم آگیا ہے۔ اور جبکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ قرب قیامت کا زمانہ ہے جیسا کہ آیت اِقۡتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانۡشَقَّ الۡقَمَرُ(القمر: ۲) سے سمجھا جاتا ہے تو پھر یہ زمانہ جس پر تیرہ سو برس اور گذر گیا اس کے آخری زمانہ ہونے میں کس کو کلام ہو سکتا ہے اور علاوہ نصوصِ صریحہ قرآن شریف اور احادیث کے تمام اکابر اہل کشوف کا اس پر اتفاق ہے کہ چودھویں صدی وہ آخری زمانہ ہے جس میں مسیح موعود ظاہر ہوگا ہزار ہا اہل اللہ کے دل اسی طرف مائل رہے ہیں کہ مسیح موعود کے ظہور کا زمانہ غایت کار چودھویں صدی ہے اِس سے بڑھ کر ہر گز نہیں چنانچہ نواب صدیق حسن خاں نے بھی اپنی کتاب حجج الکرامہ میں اِس بات کو لکھا ہے ۔ اور پھر ماسوا اس کے سورہ مرسلات میں ایک آیت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرب قیامت کی ایک بھاری علامت یہ ہے کہ ایسا شخص پیدا ہو جس سے رسولوں کی حد بست ہو جائے یعنی سلسلہ استخلاف محمدیہ کا آخری خلیفہ جس کا نام مسیح موعود اور مہدی معہود ہے ظاہر ہو جائے اور وہ آیت یہ ہے وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتۡ یعنی وہ آخری زمانہ جس سے رسولوں کے عدد کی تعیین ہو جائے گی یعنی آخری خلیفہ کے ظہور سے قضاء و قدر کا اندازہ جو مرسلین کی تعداد کی نسبت مخفی تھا ظہور میں آجائے گا ۔ یہ آیت بھی اس بات پر نص صریح ہے کہ مسیح موعود اسی اُمت میں سے ہوگا کیونکہ اگر پہلا مسیح ہی دوبارہ آجائے تو وہ افادہ تعیین عدد نہیں کر سکتا کیونکہ وہ تو بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک رسول ہے جو فوت ہو چکا ہے اور اس جگہ خلفائے سلسلہ محمدیہ کی تعیین مطلوب ہے اور اگر یہ سوال ہو کہ اُقِّتَتْ کے یہ معنے یعنی معین کرنا اس عدد کا جو ارادہ کیا گیا ہے کہاں سے معلوم ہوا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کتب لغت لسان العرب وغیرہ میں لکھا ہے کہ قد یجیُٔ التوقیت بمعنی تبیین الحد والعدد والمقدار کما جاء فی حدیث ابن عباس رضی اللّٰہ عنه لم یقت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم فی الخمر حدّا ای لم یقدّر ولم یحدّہ بِعَدَدٍ مخصوصٍ یعنی لفظ توقیت جس سے اُقِّتَتْ نکلا ہے کبھی حد اور شمار اور مقدار کے بیان کرنے کے لئے آتا ہے جیسا کہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمر کی کچھ توقیت نہیں کی یعنی خمر کی حد کی کوئی تعداد اور مقدار بیان نہیں کی اور تعیین عدد بیان نہیں فرمائی۔ پس یہی معنے آیت وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتۡ(المرسلات: ۱۲) کے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر فرمایا اور یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسولوں کی آخری میزان ظاہر کرنے والا مسیح موعود ہے اور یہ صاف بات ہے کہ جب ایک سلسلہ کا آخر ظاہر ہو جاتا ہے تو عند العقل اس سلسلہ کی پیمائش ہو جاتی ہے اور جب تک کہ کوئی خط ممتد کسی نقطہ پر ختم نہ ہو ایسے خط کی پیمائش ہونا غیر ممکن ہے کیونکہ اس کی دوسری طرف غیر معلوم اور غیر معیّن ہے۔ پس اس آیت کریمہ کے یہ معنے ہیں کہ مسیح موعود کے ظہور سے دونوں طرف سلسلہ خلافت محمدیہ کے معین اور مشخص ہو جائیں گے گویا یوں فرماتا ہے واذا الخلفاء بیّن تعدادهم وحُدّد عددهم بخلیفة هو اخر الخلفاء الذی هو المسیح الموعود فان اخر کل شیءٍ یعین مقدار ذالک الشیٔ وتعدادہ فهذا هو معنی واذا الرسل اُقِّتت.

اور دوسری دلیل زمانہ کے آخری ہونے پر یہ ہے کہ قرآن شریف کی سورہ عصر سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا یہ زمانہ حضرت آدم علیہ السلام سے ہزار ششم پر واقع ہے۔ یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے یہ چھٹا ہزار جاتا ہے۔ اور ایسا ہی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ آدم سے لے کر اخیر تک دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے ۔ لہذا آخر ہزار ششم وہ آخری حصہ اِس دنیا کا ہوا جس سے ہر ایک جسمانی اور روحانی تکمیل وابستہ ہے کیونکہ خدائی کارخانہ قدرت میں چھٹے دن اور چھٹے ہزار کو الہی فعل کی تکمیل کے لئے قدیم سے مقرر فرمایا گیا ہے۔ مثلاً حضرت آدم علیہ السلام چھٹے دن میں یعنی بروز جمعہ دن کے اخیر حصے میں پیدا ہوئے یعنی آپ کے وجود کا تمام و کمال پیرایہ چھٹے دن ظاہر ہوا گو خمیر آدم کا آہستہ آہستہ طیار ہو رہا تھا اور تمام جمادی نباتی حیوانی پیدائشوں کے ساتھ بھی شریک تھا لیکن کمال خلقت کا دن چھٹا دن تھا۔ اور قرآن شریف بھی گو آہستہ آہستہ پہلے سے نازل ہو رہا تھا مگر اس کا کامل وجود بھی چھٹے دن ہی بروز جمعہ اپنے کمال کو پہنچا اور آیت اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ نازل ہوئی اور انسانی نطفہ بھی اپنے تغیرات کے چھٹے مرتبہ ہی خلقتِ بشری سے پورا حصہ پاتا ہے جس کی طرف آیت ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰہُ خَلۡقًا اٰخَرَ میں اشارہ ہے۔ اور مراتب ستہ یہ ہیں (۱) نطفہ (۲) علقہ (۳) مضغہ (۴) عظام (۵) لحم محیط العظام (۶) خلق آخر، اس قانون قدرت سے جو روز ششم اور مرتبہ ششم کی نسبت معلوم ہو چکا ہے ماننا پڑتا ہے کہ دنیا کی عمر کا ہزار ششم بھی یعنی اس کا آخری حصہ بھی جس میں ہم ہیں کسی آدم کے پیدا ہونے کا وقت اور کسی دینی تکمیل کے ظہور کا زمانہ ہے جیسا کہ براہین احمدیہ کا یہ الہام کہ اردت ان استخلف فخلقتُ اٰدم اور یہ الہام کہ لیظہرہ علی الدین کلّہ اس پر دلالت کر رہا ہے۔ اور یاد رہے کہ اگر چہ قرآن شریف کے ظاہر الفاظ میں عمر دنیا کی نسبت کچھ ذکر نہیں لیکن قرآن میں بہت سے ایسے اشارات بھرے پڑے ہیں جن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ عمر دنیا یعنی دَور آدم کا زمانہ سات ہزار سال ہے چنانچہ منجملہ ان اشارات قرآنی کے ایک یہ بھی ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ایک کشف کے ذریعہ سے اطلاع دی ہے کہ سورۃ العصر کے اعداد سے بحساب ابجد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک عصر تک جو عہد نبوت ہے یعنی تیئیس برس کا تمام و کمال زمانہ یہ کل مدت گذشتہ زمانہ کے ساتھ ملا کر ۴۷۳۹ برس ابتدائے دنیا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روز وفات تک قمری حساب سے ہیں۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم الف خامس میں جو مریخ کی طرف منسوب ہے مبعوث ہوئے ہیں اور شمسی حساب سے یہ مدت ۴۵۹۸ ہوتی ہے اور عیسائیوں کے حساب سے جس پر تمام مدار بائبل کا رکھا گیا ہے ۴۶۳۶ برس ہیں یعنی حضرت آدم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے اخیر زمانہ تک ۴۶۳۶ برس ہوتے ہیں اس سے ظاہر ہوا کہ قرآنی حساب جو سورۃ العصر کے اعداد سے معلوم ہوتا ہے اور عیسائیوں کی بائبل کے حساب میں جس کے رو سے بائبل کے حاشیہ پر جا بجا تاریخیں لکھتے ہیں صرف اٹھتیس برس کا فرق ہے۔ اور یہ قرآن شریف کے علمی معجزات میں سے ایک عظیم الشان معجزہ ہے جس پر تمام افرادِ امت محمدیہ میں سے خاص مجھ کو جو میں مہدی آخر الزمان ہوں اطلاع دی گئی ہے تا قرآن کا یہ علمی معجزہ اور نیز اس سے اپنے دعوے کا ثبوت لوگوں پر ظاہر کروں۔ اور ان دونوں حسابوں کے رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ جس کی خدا تعالیٰ نے سورۃ والعصر میں قسم کھائی الف خامس ہے یعنی ہزار پنجم جو مریخ کے اثر کے ماتحت ہے۔ اور یہی سر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن مفسدین کے قتل اور خونریزی کے لئے حکم فرمایا گیا جنہوں نے مسلمانوں کو قتل کیا اور قتل کرنا چاہا اور اُن کے استیصال کے درپے ہوئے اور یہی خدا تعالیٰ کے حکم اور اذن سے مریخ کا اثر ہے۔ غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعث اوّل کا زمانہ ہزار پنجم تھا جو اسم محمد کا مظہر تجلی تھا یعنی یہ بعث اوّل جلالی نشان ظاہر کرنے کے لئے تھا مگر بعث دوم جس کی طرف آیت کریمہ وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ میں اشارہ ہے وہ مظہر تجلی اسم احمد ہے جو اسم جمالی ہے جیسا کہ آیت وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِی اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ(الصف: ۷)اِسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ مہدی معہود جس کا نام آسمان پر مجازی طور پر احمد ہے جب مبعوث ہوگا تو اس وقت وہ نبی کریم جو حقیقی طور پر اس نام کا مصداق ہے اس مجازی احمد کے پیرایہ میں ہو کر اپنی جمالی تجلی ظاہر فرمائے گا۔ یہی وہ بات ہے جو اس سے پہلے میں نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں لکھی تھی یعنی یہ کہ میں اسم احمد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا شریک ہوں۔ اور اس پر نادان مولویوں نے جیسا کہ اُن کی ہمیشہ سے عادت ہے شور مچایا تھا حالانکہ اگر اس سے انکار کیا جائے تو تمام سلسلہ اس پیشگوئی کا زیر و زبر ہو جاتا ہے بلکہ قرآن شریف کی تکذیب لازم آتی ہے جو نعوذ باللہ کفر تک نوبت پہنچاتی ہے لہذا جیسا کہ مومن کے لئے دوسرے احکام الہی پر ایمان لانا فرض ہے ایسا ہی اس بات پر بھی ایمان فرض ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں (۱) ایک بعث محمدی جو جلالی رنگ میں ہے جو ستارہ مریخ کی تاثیر کے نیچے ہے جس کی نسبت بحوالہ توریت قرآن شریف میں یہ آیت ہے مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕ وَالَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ(الفتح: ۳۰) (۲) دوسرا بعث احمدی جو جمالی رنگ میں ہے جو ستارہ مشتری کی تاثیر کے نیچے ہے جس کی نسبت بحوالہ انجیل قرآن شریف میں یہ آیت ہے وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِی اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ(الصّف: ۷) اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو باعتبار اپنی ذات اور اپنے تمام سلسلہ خلفاء کے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایک ظاہر اور کھلی کھلی مماثلت ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے بلا واسطہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ کے رنگ پر مبعوث فرمایا لیکن چونکہ آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عیسیٰ سے ایک مخفی اور باریک مماثلت تھی اس لئے خدا تعالیٰ نے ایک بروز کے آئینہ میں اُس پوشیدہ مماثلت کا کامل طور پر رنگ دکھلا دیا۔ پس در حقیقت مہدی اور مسیح ہونے کے دونوں جوہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں موجود تھے۔ خدا تعالیٰ سے کامل ہدایت پانے کی وجہ سے جس میں کسی استاد کا انسانوں میں سے احسان نہ تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کامل مہدی تھے اور آپ سے دوسرے درجہ پر موسیٰ مہدی تھا جس نے خدا سے علم پا کر بنی اسرائیل کے لئے شریعت کی بنیاد ڈالی اور نیز آنحضرت اس وجہ سے بھی مہدی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام کامیابیوں کی راہیں آپ پر کھول دیں اور جو لوگ مخالفوں میں سے سنگ راہ تھے ان کا استیصال کیا اور ان معنوں کے رو سے بھی آپ سے دوسرے درجہ پر حضرت موسیٰ بھی مہدی تھے کیونکہ خدا نے موسیٰ کے ہاتھ پر بنی اسرائیل کی راہ کھول دی اور فرعون وغیرہ دشمنوں سے ان کو نجات دے کر منزل مقصود تک پہنچایا اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ کے مہدی ہونے میں دونوں معنوں کے رو سے مماثلت تھی یعنی ان دونوں پاک نبیوں کے لئے کامیابی کی راہ بھی دشمنوں کے استیصال سے کھولی گئی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت کی تمام راہیں سمجھائی گئیں اور قرونِ اولیٰ کو کالعدم کر کے دونوں شریعتوں کی نئی بنیاد ڈالی گئی اور نئے سرے تمام عمارت بنائی گئی لیکن کامل اور حقیقی مہدی دنیا میں صرف ایک ہی آیا ہے جس نے بغیر اپنے ربّ کے کسی استاد سے ایک حرف نہیں پڑھا مگر بہر حال چونکہ قرون اولیٰ کے ہلاک کے بعد جن کا مفصل علم ہمیں دیا نہیں گیا شریعت کی بنیاد ڈالنے والا اور خدا سے علم پا کر ہدایت یافتہ موسیٰ تھا جس نے حتی الوسع غیر معبودوں کا نقش مٹایا اور دین پر حملہ کرنے والوں کو ہلاک کیا اور اپنی قوم کو امن بخشا اس لئے حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ کی نسبت ہر ایک پہلو سے مہدیٔ کامل ہے لیکن وہ موسیٰ کی زمانی سبقت کی وجہ سے موسیٰ کا مثیل کہلاتا ہے کیونکہ جس طرح حضرت موسیٰ نے مخالفین کو ہلاک کر کے اور خدا سے ہدایت پا کر ایک بھاری شریعت کی بنیاد ڈالی اور خدا نے موسیٰ کی راہ کو ایسا صاف کیا کہ کوئی اس کے مقابل ٹھہر نہ سکا اور نیز ایک لمبا سلسلہ خلفاء کا اس کو عطا کیا۔ یہی رنگ اور یہی صورت اور اسی سلسلہ کے مشابہ سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا۔ پس موسیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک مماثلت عظمٰی ہے اور اس مماثلت میں عجیب تر یہ بات ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس وقت نئی شریعت ملی جبکہ پہلی شریعت یہود کی بباعث طرح طرح کی ملونی کے جو اُن کے عقائد میں داخل ہو گئی اور نیز باعث تحریف تبدیل کے بکلی تباہ ہو چکی تھی اور توحید اور خدا پرستی کی جگہ شرک اور دنیا پرستی نے لے لی تھی ۔ غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت موسیٰ سے کھلی کھلی مماثلت ہے اور دونوں نبی یعنی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ دونوں معنوں کے رو سے مہدی ہیں یعنی اس رو سے بھی مہدی کہ خدا سے ان کو نئی شریعت ملی اور نئی ہدایت عطا کی گئی اُس وقت میں جبکہ پہلی ہدایتیں اپنی اصلیت پر باقی نہیں رہی تھیں۔ اور اس رُو سے بھی مہدی ہیں کہ خدا نے دشمنوں کا قلع قمع کر کے کامیابی کی راہوں کی ان کو ہدایت کی اور فتح اور اقبال کی راہیں اُن پر کھول دیں۔ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عیسیٰ سے بھی دو مشابہتیں رکھتے ہیں (۱) ایک یہ کہ وہ مسیح کی طرح مکہ میں مخالفوں کے حملوں سے بچائے گئے اور مخالف قتل کے ارادہ میں ناکام رہے (۲) دوسرے یہ کہ آپ کی زندگی زاہدانہ تھی اور آپ بکلی خدا کی طرف منقطع تھے اور آپ کی تمام خوشی اور قرۃ عین صلوٰۃ اور عبادت میں تھی اور ان دونوں صفات کی وجہ سے آپ کا نام احمد تھا یعنی خدا کا سچا پرستار اور اس کے فضل اور رحم کا شکر گذار ۔ اور یہ نام اپنی حقیقت کے رو سے یسوع کے نام کا مترادف ہے اور اس کے یہی معنے ہیں کہ دشمنوں کے حملہ سے اور نیز نفس کے حملہ سے نجات دیا گیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی حضرت عیسیٰ سے مشابہت رکھتی ہے اور مدنی زندگی حضرت موسیٰ سے مشابہ ہے۔ اور چونکہ تکمیل ہدایت کے لئے آپ نے دو بروزوں میں ظہور فرمایا تھا ایک بروز موسوی اور دوسرے بروز عیسوی۔ اور اسی غرض کے لئے ان دونوں ہدایتوں توریت اور انجیل کا قرآن شریف جامع نازل ہوا۔ اور ہر ایک ہدایت کی پابندی اس کے موقع اور محل پر واجب ٹھہرائی گئی اور اس طرح پر ہدایت الہی اپنے کمال تام کو پہنچی اس لئے تکمیل ہدایت کے بعد جو بلا واسطہ کسی بروز کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس نفیس سے ظہور میں آئی تکمیل اشاعت ہدایت کی ضرورت تھی اور وہ ایک ایسے زمانہ پر موقوف تھی جس میں تمام وسائل اشاعت احسن اور اکمل طور پر میسر ہوں ۔ لہذا تکمیل اشاعت ہدایت کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دو بروزوں کی حاجت پڑی (۱) ایک بروز محمدی موسوی (۲) دوسرا بروز احمدی عیسوی۔ بروز محمدی موسوی کے لحاظ سے مظہر حقیقت محمدیہ کا نام مہدی رکھا گیا ۔ اور اہلاک ملل باطلہ کے لئے بجائے سیف کے قلم سے کام لیا گیا کیونکہ جب انسانوں نے اپنے طریق کو بدلا اور تلوار کے ساتھ حق کا مقابلہ نہ کیا تو خدا نے بھی اپنا طریق بدلا ۔ اور تلوار کا کام قلم سے لیا کیونکہ خدا اپنے مکافات میں انسان کے قدم بقدم چلتا ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ(الرعد: ۱۲) اور بروز احمدی عیسوی کے لحاظ سے مظہر حقیقتِ احمدیہ کا نام مسیح اور عیسیٰ رکھا گیا اور جیسا کہ مسیح نے اس صلیب پر فتح پائی تھی جس کو یہودیوں نے اس کے قتل کے لئے کھڑا کیا تھا اس مسیح کا یہ کام ہے کہ اس صلیب پر فتح پاوے کہ جو اس کے بنی نوع کے ہلاک کرنے کے لئے عیسائیوں نے کھڑی کی ہے۔ اور نیز ایک یہ بھی کام ہے کہ یہود سیرت لوگوں کے حملوں سے بچ کر ان کی اصلاح بھی کرے اور آخر دشمنوں کے تمام افتراؤں سے پاک ہو کر نیک نامی کے ساتھ خدا کی طرف اٹھایا جائے ۔ جیسا کہ براہین میں میری نسبت یہ الہام ہے۔ یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ۔ اور یہ بعث محمدی جو تکمیل اشاعت کے لئے تھا جو بروز موسوی اور عیسوی کے پیرایہ میں تھا اس کے لئے بھی خدا کی حکمت نے یہی چاہا کہ چھٹے دن میں ظہور میں آوے جیسا کہ تکمیل ہدایت چھٹے دن میں ہوئی تھی سو اس کام کے لئے ہزار ششم لیا گیا جو خدا کا چھٹا دن ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں جیسا کہ آدم علیہ السلام خاتم المخلوقات ہیں۔ پس خدا تعالیٰ نے چاہا کہ جیسا کہ اُس نے حضور نبوی کی مشابہت حضرت آدم سے مکمل کرنے کے لئے تکمیل ہدایت قرآنی کا چھٹا دن مقرر کیا یعنی روز جمعہ اور اسی دن یہ آیت نازل ہوئی کہ اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ(المائدۃ: ۴) ایسا ہی تکمیل اشاعت ہدایت کے لئے الف سادس یعنی چھٹا ہزار مقرر فرمایا جو حسب تصریح آیات قرآنی بمنزلہ روز ششم ہے۔

اب میں دوبارہ یاد دلاتا ہوں کہ تکمیل ہدایت کے دن میں تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں موجود تھے اور وہ روز یعنی جمعہ کا دن جو دنوں میں سے چھٹا دن تھا مسلمانوں کے لئے بڑی خوشی کا دن تھا جب آیت اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ نازل ہوئی اور قرآن جو تمام آسمانی کتابوں کا آدم اور جمیع معارف صحف سابقہ کا جامع تھا اور مظہر جمیع صفات الہیہ تھا اُس نے آدم کی طرح چھٹے دن یعنی جمعہ کے دن اپنے وجود باجود کو اتم اور اکمل طور پر ظاہر فرمایا۔ یہ تو تکمیل ہدایت کا دن تھا مگر تکمیل اشاعت کا دن اس دن کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ ابھی وہ وسائل پیدا نہیں ہوئے تھے جو تمام دنیا کے تعلقات کو باہم ملا دیتے اور بَرِّی اور بحری سفروں کو مسافروں کے لئے سہل کر دیتے اور دینی کتابوں کی ایک کثیر مقدار قلمبند کرنے کے لئے جو تمام دنیا کے حصہ میں آ سکے آلات زود نویسی کے مہیا کر دیتے اور نہ مختلف زبانوں کا علم نوع انسان کو حاصل ہوا تھا اور نہ تمام مذاہب ایک دوسرے کے مقابل پر آشکارا طور پر ایک جگہ موجود تھے۔ اس لئے وہ حقیقی اشاعت جو اتمام حجت کے ساتھ ہر ایک قوم پر ہو سکتی ہے اور ہر ایک ملک تک پہنچ سکتی ہے نہ اس کا وجود تھا اور نہ معمولی اشاعت کے وسائل موجود تھے۔ لہذا تکمیل اشاعت کے لئے ایک اور زمانہ علم الہی نے مقرر فرمایا۔ جس میں کامل تبلیغ کے لئے کامل وسائل موجود تھے اور ضرور تھا کہ جیسا کہ تکمیل ہدایت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ہوئی ایسا ہی تکمیل اشاعت ہدایت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہو کیونکہ یہ دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منصبی کام تھے لیکن سنت اللہ کے لحاظ سے اس قدر خلود آپ کے لئے غیر ممکن تھا کہ آپ اُس آخری زمانہ کو پاتے اور نیز ایسا خلود شرک کے پھیلنے کا ایک ذریعہ تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خدمت منصبی کو ایک ایسے امتی کے ہاتھ سے پورا کیا کہ جو اپنی خُو اور روحانیت کے رو سے گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کا ایک ٹکڑا تھا یا یوں کہو کہ وہی تھا اور آسمان پر ظلی طور پر آپ کے نام کا شریک تھا اور ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ تکمیل ہدایت کا دن چھٹا دن تھا یعنی جمعہ ۔ اس لئے رعایت تناسب کے لحاظ سے تکمیل اشاعت ہدایت کا دن بھی چھٹا دن ہی مقرر کیا گیا یعنی آخر الف ششم جو خدا کے نزدیک دنیا کا چھٹا دن ہے جیسا کہ اس وعدہ کی طرف آیت لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖاشارہ فرما رہی ہے اور اس چھٹے دن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خُو اور رنگ پر ایک شخص جو مظہر تجلیات احمدیہ اور محمدیہ تھا مبعوث فرمایا گیا تا تکمیل اشاعت ہدایت فرقانی اس مظہر نام کے ذریعہ سے ہو جائے۔ غرض خدا تعالیٰ کی حکمت کاملہ نے اس بات کا التزام فرمایا کہ جیسا کہ تکمیل ہدایت قرآنی چھٹے دن ہوئی تھی ایسا ہی تکمیل اشاعت ہدایت قرآنی کے لئے الف ششم مقرر کیا گیا جو بموجب نص قرآنی چھٹے دن کے حکم میں ہے اور جیسا کہ تکمیل ہدایت قرآنی کا چھٹا دن جمعہ تھا ایسا ہی ہزار ششم میں بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے جمعہ کا مفہوم مخفی ہے یعنی جیسا کہ جمعہ کا دوسرا حصہ تمام مسلمانوں کو ایک مسجد میں جمع کرتا ہے اور متفرق ائمہ کو معطل کر کے ایک ہی امام کا تابع کر دیتا ہے اور تفرقہ کو درمیان سے اٹھا کر اجتماعی صورت مسلمانوں میں پیدا کر دیتا ہے۔ یہی خاصیت الف ششم کے آخری حصہ میں ہے یعنی وہ بھی اجتماع کو چاہتا ہے۔ اسی لئے لکھا ہے کہ اس وقت اسم ھادی کا پر تو ایسے زور میں ہوگا کہ بہت دور افتادہ دلوں کو بھی خدا کی طرف کھینچ لائے گا۔ اور اسی کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے کہ وَّنُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَجَمَعۡنٰہُمۡ جَمۡعًا(الکہف: ۱۰۰)۔ پس یہ جمع کا لفظ اسی روحانی جمعہ کی طرف اشارہ ہے۔ غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دو بعث مقدر تھے۔ (۱) ایک بعث تکمیل ہدایت کے لئے (۲) دوسرا بعث تکمیل اشاعت ہدایت کے لئے اور یہ دونوں قسم کی تکمیل روز ششم سے وابستہ تھی تا خاتم الانبیاء کی مشابہت خاتم المخلوقات سے اتم اور اکمل طور پر ہو جائے ۔ اور تا دائرہ خلقت اپنے استدارت کاملہ کو پہنچ جائے ۔ سو ایک تو وہ روز ششم تھا جس میں آیت اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ(المائدة: ۴)نازل ہوئی ۔ اور دوسرے وہ روز ششم ہے جس کی نسبت آیتلِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖمیں وعدہ تھا یعنی آخری حصہ ہزار ششم ۔ اور اسلام میں جو روز ششم کو عید کا دن مقرر کیا گیا یعنی جمعہ کو یہ بھی درحقیقت اسی کی طرف اشارہ ہے کہ روز ششم تکمیل ہدایت اور تکمیل اشاعت ہدایت کا دن ہے۔ اس وقت کے تمام مخالف مولویوں کو ضرور یہ بات ماننی پڑے گی کہ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء تھے اور آپ کی شریعت تمام دنیا کے لئے عام تھی اور آپ کی نسبت فرمایا گیا تھا وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ(الاحزاب: ۴۱) اور نیز آپ کو یہ خطاب عطا ہوا تھا قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا(الاعراف: ۱۵۹) سو اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد حیات میں وہ تمام متفرق ہدایتیں جو حضرت آدم سے حضرت عیسیٰ تک تھیں قرآن شریف میں جمع کی گئیں لیکن مضمون آیت قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا(الاعراف: ۱۵۹) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں عملی طور پر پورا نہیں ہو سکا کیونکہ کامل اشاعت اس پر موقوف تھی کہ تمام ممالک مختلفہ یعنی ایشیا اور یورپ اور افریقہ اور امریکہ اور آبادی دنیا کے انتہائی گوشوں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی تبلیغ قرآن ہو جاتی اور یہ اس وقت غیر ممکن تھا بلکہ اسوقت تک تو دنیا کی کئی آبادیوں کا ابھی پتہ بھی نہیں لگا تھا اور دور دراز سفروں کے ذرائع ایسے مشکل تھے کہ گویا معدوم تھے بلکہ اگر وہ ساٹھ برس الگ کر دیئے جائیں جو اس عاجز کی عمر کے ہیں تو ۱۲۵۷ ہجری تک بھی اشاعت کے وسائل کاملہ گویا کالعدم تھے اور اس زمانہ تک امریکہ کل اور یورپ کا اکثر حصہ قرآنی تبلیغ اور اس کے دلائل سے بے نصیب رہا ہوا تھا بلکہ دور دور ملکوں کے گوشوں میں تو ایسی بے خبری تھی کہ گویا وہ لوگ اسلام کے نام سے بھی ناواقف تھے غرض آیت موصوفہ بالا میں جو فرمایا گیا تھا کہ اے زمین کے باشندو ! میں تم سب کی طرف رسول ہوں عملی طور پر اس آیت کے مطابق تمام دنیا کو ان دنوں سے پہلے ہرگز تبلیغ نہیں ہو سکی اور نہ اتمام حجت ہوا کیونکہ وسائل اشاعت موجود نہیں تھے اور نیز زبانوں کی اجنبیت سخت روک تھی اور نیز یہ کہ دلائل حقانیت اسلام کی واقفیت اس پر موقوف تھی کہ اسلامی ہدایتیں غیر زبانوں میں ترجمہ ہوں اور یا وہ لوگ خود اسلام کی زبان سے واقفیت پیدا کر لیں اور یہ دونوں امر اس وقت غیر ممکن تھے لیکن قرآن شریف کا یہ فرمانا کہ وَمَنۡۢ بَلَغَ یہ امید دلاتا تھا کہ ابھی اور بہت سے لوگ ہیں جو ابھی تبلیغ قرآنی اُن تک نہیں پہنچی ۔ ایسا ہی آیت وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡاس بات کو ظاہر کر رہی تھی کہ گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ہدایت کا ذخیرہ کامل ہو گیا مگر ابھی اشاعت ناقص ہے اور اس آیت میں جو مِنْہُمْ کا لفظ ہے وہ ظاہر کر رہا تھا کہ ایک شخص اس زمانہ میں جو تکمیل اشاعت کے لئے موزوں ہے مبعوث ہوگا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ میں ہوگا اور اس کے دوست مخلص صحابہ کے رنگ میں ہوں گے۔ غرض اس میں کسی کو متقدمین اور متاخرین میں سے کلام نہیں کہ اسلامی اقبال کے زمانہ کے دو حصے کئے گئے (۱) ایک تکمیل ہدایت کا زمانہ جس کی طرف یہ آیت اشارہ فرماتی ہے کہ یَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً فِیۡہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ(۲) دوسرے تکمیل اشاعت کا زمانہ جس کی طرف آیت لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ اشارہ فرما رہی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جیسا کہ یہ فرض تھا کہ بوجہ ختم نبوت تکمیل ہدایت کریں ایسا ہی بوجہ عموم شریعت یہ بھی فرض تھا کہ تمام دنیا میں تکمیل اشاعت بھی کریں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اگر چہ تکمیل ہدایت ہو گئی جیسا کہ آیت اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ(المائدة: ۴) اور نیز آیت یَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً فِیۡہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ(البیّنۃ: ۳،۴) اس پر گواہ ہے لیکن اس وقت تکمیل اشاعت ہدایت غیر ممکن تھی اور غیر زبانوں تک دین کو پہنچانے کے لئے اور پھر اس کے دلائل سمجھانے کے لئے اور پھر ان لوگوں کی ملاقات کے لئے کوئی احسن انتظام نہ تھا اور تمام دیار بلاد کے تعلقات ایسے ایک دوسرے سے الگ تھے کہ گویا ہر ایک قوم یہی سمجھتی تھی کہ اُن کے ملک کے بغیر اور کوئی ملک نہیں جیسا کہ ہندو بھی خیال کرتے تھے کہ کوہ ہمالہ کے پار اور کوئی آبادی نہیں اور نیز سفر کے ذریعے بھی سہل اور آسان نہیں تھے اور جہاز کا چلنا بھی صرف باد شرط پر موقوف تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے تکمیل اشاعت کو ایک ایسے زمانہ پر ملتوی کر دیا جس میں قوموں کے باہم تعلقات پیدا ہو گئے اور بَرِّی اور بحری مرکب ایسے نکل آئے جن سے بڑھ کر سہولت سواری کی ممکن نہیں اور کثرت مطابع نے تالیفات کو ایک ایسی شیرینی کی طرح بنا دیا جو دنیا کے تمام مجمع میں تقسیم ہو سکے سو اس وقت حسب منطوق آیت وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ(الجمعۃ: ۴) اور نیز حسب منطوق آیت قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا(الاعراف: ۱۵۹) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے بعث کی ضرورت ہوئی اور ان تمام خادموں نے جو ریل اور تار اور اگن بوٹ اور مطابع اور احسن انتظام ڈاک اور باہمی زبانوں کا علم اور خاص کر ملک ہند میں اردو نے جو ہندوؤں اور مسلمانوں میں ایک زبان مشترک ہو گئی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بزبان حال درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تمام خدام حاضر ہیں اور فرض اشاعت پورا کرنے کے لئے بدل و جان سرگرم ہیں ۔ آپ تشریف لائے اور اس اپنے فرض کو پورا کیجئے کیونکہ آپ کا دعویٰ ہے کہ میں تمام کافہ ناس کیلئے آیا ہوں اور اب یہ وہ وقت ہے کہ آپ اُن تمام قوموں کو جو زمین پر رہتی ہیں قرآنی تبلیغ کر سکتے ہیں اور اشاعت کو کمال تک پہنچا سکتے ہیں اور اتمام حجت کے لئے تمام لوگوں میں دلائل حقانیت قرآن پھیلا سکتے ہیں تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے جواب دیا کہ دیکھو میں بروز کے طور پر آتا ہوں مگر میں ملک ہند میں آؤں گا کیونکہ جوش مذاہب و اجتماع جمیع ادیان اور مقابلہ جمیع ملل و نحل اور امن اور آزادی اسی جگہ ہے اور نیز آدم علیہ السلام اسی جگہ نازل ہوا تھا۔ پس ختم دور زمانہ کے وقت بھی وہ جو آدم کے رنگ میں آتا ہے اسی ملک میں اس کو آنا چاہیے تا آخر اور اوّل کا ایک ہی جگہ اجتماع ہو کر دائرہ پورا ہو جائے اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حسب آیت واٰخرین منہم دوبارہ تشریف لانا بجز صورت بروز غیر ممکن تھا اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو اپنے لئے منتخب کیا جو خلق اور خو اور ہمت اور ہمدردی خلائق میں اس کے مشابہ تھا اور مجازی طور پر اپنا نام احمد اور محمد اس کو عطا کیا تا یہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا ظہور بعینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور تھا لیکن یہ امر کہ یہ دوسرا بعث کسی زمانہ میں چاہیے تھا ؟ اس کا یہ جواب ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ کے کاموں میں تناسب واقع ہے اور وَضْعُ شَیْءٍ فِیْ مَحَلِّہٖ اس کی عادت ہے جیسا کہ اسم حکیم کے مفہوم کا مقتضا ہونا چاہیے اور نیز وہ بوجہ واحد ہونے کے وحدت کو پسند کرتا ہے اس لئے اُس نے یہی چاہا کہ جیسا کہ تکمیل ہدایت قرآن خلقت آدم کی طرح چھٹے دن کی گئی یعنی بروز جمعہ ایسا ہی تکمیل اشاعت کا زمانہ بھی وہی ہو جو چھٹے دن سے مشابہ ہو لہذا اُس نے اس بعث دوم کے لئے ہزار ششم کو پسند فرمایا اور وسائل اشاعت بھی اسی ہزار ششم میں وسیع کئے گئے اور ہر ایک اشاعت کی راہ کھولی گئی۔ ہر ایک ملک کی طرف سفر آسان کئے گئے جا بجا مطبع جاری ہو گئے ۔ ڈاک خانہ جات کا احسن انتظام ہو گیا اکثر لوگ ایک دوسرے کی زبان سے بھی واقف ہو گئے اور یہ امور ہزار پنجم میں ہرگز نہ تھے بلکہ اس ساٹھ سال سے پہلے جو اس عاجز کی گذشتہ عمر کے دن ہیں ان تمام اشاعت کے وسیلوں سے ملک خالی پڑا ہوا تھا اور جو کچھ ان میں سے موجود تھا وہ ناتمام اور کم قدر اور شاذ و نادر کے حکم میں تھا۔

یہ وہ ثبوت ہیں جو میرے مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے پر کھلے کھلے دلالت کرتے ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ ایک شخص بشرطیکہ متقی ہو جس وقت ان تمام دلائل میں غور کرے گا تو اس پر روز روشن کی طرح کھل جائے گا کہ میں خدا کی طرف سے ہوں ۔ انصاف سے دیکھو کہ میرے دعوے کے وقت کس قدر میری سچائی پر گواہ جمع ہیں (۱) زمین پر وہ مفاسد موجود ہیں جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی قریباً بیخ کنی کر دی ہے اسلام کی اندرونی حالت ایسی نازک ہو رہی ہے کہ دین مطہر ہزار ہا بدعات کے نیچے دب گیا ہے ۔ بارہ سو برس میں تو صرف تہتر فرقے اسلام کے ہو گئے تھے لیکن تیرھویں صدی نے اسلام میں وہ بدعات اور نئے فرقے پیدا کئے جو بارہ سو برس میں پیدا نہیں ہوئے تھے اور اسلام پر بیرونی حملے اس قدر زور شور سے ہو رہے ہیں کہ وہ لوگ جو صرف حالات موجودہ سے نتیجہ نکالتے ہیں اور آسمانی ارادوں سے ناواقف ہیں انہوں نے رائیں ظاہر کر دیں کہ اب اسلام کا خاتمہ ہے۔ ایسا عالی شان دین جس میں ایک شخص کے مرتد ہونے سے بھی شور قیامت قوم میں برپا ہوتا تھا اب لاکھوں انسان دین سے باہر ہوتے جاتے ہیں اور صدی کا سر جس کی نسبت یہ بشارت تھی کہ اس میں مفاسد موجودہ کی اصلاح کے لئے کوئی شخص امت میں سے مبعوث ہوتا رہے گا اب مفاسد تو موجود ہیں بلکہ نہایت ترقی پر مگر بقول ہمارے مخالفوں کے ایسا شخص کوئی مبعوث نہیں ہوا جو ان مفاسد کی اصلاح کرتا جو ایمان کو کھاتے جاتے ہیں اور صدی میں سے قریباً پانچواں حصہ گذر بھی گیا گویا ایسی ضرورت کے وقت میں یہ پیشگوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خطا گئی حالانکہ یہی وہ صدی تھی جس میں اسلام غریب تھا اور سراسر آسمانی تائید کا محتاج تھا اور یہی وہ صدی تھی جس کے سر پر ایسا شخص مبعوث ہونا چاہیے تھا جو عیسائی حملوں کی مدافعت کرتا اور صلیب پر فتح پاتا یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہو کہ مسیح موعود ہو کر آتا اور کسر صلیب کرتا ۔ سو خدا نے اس صدی پر یہ طوفانِ ضلالت دیکھ کر اور اس قدر روحانی موتوں کا مشاہدہ کر کے کیا انتظام کیا ؟ کیا کوئی شخص اس صدی کے سر پر صلیبی مفاسد کے توڑنے کے لئے پیدا ہوا ؟ اس میں کیا شک ہے کہ مرکز ضلالت ہندوستان تھا کیونکہ اس ملک میں صد ہا مذاہب فاسدہ اور ہزار ہا بدعات مہلکہ جن کی نظیر کسی ملک میں نہیں پیدا ہو گئے۔ اور آزادی نے جیسا کہ بدی کے لئے راہ کھولی ایسا ہی نیکی کے لئے بھی۔ لیکن چونکہ بدی کے مواد بہت جمع ہو رہے تھے اس لئے پہلے پہل بدی کو ہی اس آزادی نے قوت دی اور زمین میں اس قدر خار و خسک پیدا ہوا کہ قدم رکھنے کی جگہ نہ رہی ہر ایک عقل جو صاف اور پاک اور روح القدس سے مدد یافتہ ہے وہ سمجھ سکتی ہے کہ یہی زمانہ مسیح موعود کے پیدا ہونے کا تھا اور یہی صدی اس لائق تھی کہ اس میں وہ عیسیٰ ابن مریم مبعوث ہوتا جو زمانہ حال کی صلیب پر فتح پاتا جو عیسائیوں کے ہاتھ میں ہے جیسا کہ گذشتہ عیسیٰ ابن مریم نے اس صلیب پر فتح پائی تھی جو یہودیوں کے ہاتھ میں تھا۔ احادیث نبویہ میں اسی فتح کو کسر صلیب کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ فتنہ صلیبیہ جس مرتبہ تک پہنچ چکا ہے وہ ایک ایسا مرتبہ ہے کہ غیرت الہی نہیں چاہتی کہ اس سے بڑھ کر اس کی ترقی ہو اس پر یہ دلیل کافی ہے کہ جس کمال سیلاب تک اس وقت یہ فتنہ موجود ہے اور جن انواع اقسام کے پہلوؤں سے اس فتنہ نے دین اسلام پر حملہ کیا ہے اور جس دلیری اور بیبا کی کے ہاتھ سے عزت جناب نبوی پر اِس فتنہ نے ہاتھ ڈالا ہے اور جن کامل تدبیروں سے اطفاءِ نورِ اسلام کے لئے اس فتنہ نے کام لیا ہے اس کی نظیر زمانہ کی کسی تاریخ میں موجود نہیں۔ اور جن فتنوں کے وقت میں بنی اسرائیل میں نبی اور رسول آیا کرتے تھے یا اس امت میں مجد دظاہر ہوتے تھے وہ تمام فتنے اس فتنہ کے آگے کچھ بھی چیز نہیں۔ اور یہ امر اُن امورِ محسوسہ بدیہیہ میں سے ہے جن کا انکار نہیں ہو سکتا۔ اسلام کی تکذیب اور رد میں اس تیرھویں صدی میں بیس کروڑ کے قریب کتاب اور رسالے تالیف ہو چکے ہیں اور ہر ایک گھر میں نصرانیت داخل ہو گئی ہے تو کیا اس سو سال کے حملہ کے بعد خدا کے ایک حملہ کا وقت اب تک نہیں آیا۔ اور اگر آ گیا تو اب تم آپ ہی بتلاؤ کہ صلیب پر فتح پانے کے لئے یا حسب اصطلاح قدیم صلیب کی کسر کے لئے جو اس صدی پر مجدد آتا اس کا نام کیا چاہیے تھا؟ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کاسر الصلیب کا کیا نام رکھا ہے؟ کیا کاسر الصلیب کا نام مسیح موعود اور عیسیٰ بن مریم نہیں ہے؟ پھر کیونکر ممکن تھا کہ اس صدی کے سر پر بجز مسیح موعود کے کوئی اور مجدد آ سکتا؟

☆☆☆

خاتمہ کتاب

اِس خاتمہ میں ہم ناظرین کے توجہ دلانے کے لئے یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ قرآن شریف اور خدا تعالیٰ کی پہلی کتابوں کے رُو سے نہایت صفائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب تین قسم کی مخلوق دنیا میں ظاہر ہو جائے تو سمجھو کہ مسیح موعود آ گیا یا دروازے پر ہے۔

(۱) مسیح الدجّال جس کا ترجمہ ہے کہ خلیفۂ ابلیس کیونکہ دجال ابلیس کے ناموں میں سے ایک نام ہے جو اس کا اسم اعظم ہے جس کے معنے ہیں کہ حق کو چُھپانے والا اور جھوٹ کو رونق اور چمک دینے والا اور ہلاکت کی راہوں کو کھولنے والا اور زندگی کی راہوں پر پردہ ڈالنے والا اور یہی مقصود اعظم شیطان ہے اس لئے یہ اسم اس کا اسم اعظم ہے اور اس کے مقابل پر ہے مسيح اللّٰہ الحيّ القيّوم۔ جس کا ترجمہ ہے خدائے حیّ و قیوم کا خلیفہ۔ اللّٰہ حيّ قيّوم بالاتفاق خدا کا اسم اعظم ہے جس کے معنے ہیں روحانی اور جسمانی طور پر زندہ کرنے والا اور ہر دو قسم کی زندگی کا دائمی سہارا اور قائم بالذات اور سب کو اپنی ذاتی کشش سے قائم رکھنے والا اور اللہ جس کا ترجمہ ہے وہ معبود۔ یعنی وہ ذات جو غیر مدرک اور فوق العقول اور وراء الوراء اور دقیق در دقیق ہے جس کی طرف ہر ایک چیز عابدانہ رنگ میں یعنی عشقی فنا کی حالت میں جو نظری فنا ہے یا حقیقی فنا کی حالت میں جو موت ہے رجوع کر رہی ہے جیسا کہ ظاہر ہے کہ یہ تمام نظام اپنے خواص کو نہیں چھوڑتا گویا ایک حکم کا پابند ہے۔ اس تفصیل سے ظاہر ہے کہ جو خدا تعالیٰ کا اسم اعظم ہے یعنی اللّٰہ الحيّ القيّوم اس کے مقابل پر شیطان کا اسم اعظم الدجال ہے اور خدا تعالیٰ نے چاہا کہ آخری زمانہ میں اس کے اسم اعظم اور شیطان کے اسم اعظم کی ایک کشتی ہو جیسا کہ پہلے بھی آدم کی پیدائش کے وقت میں ایک کشتی ہوئی ہے۔ پس جیسا کہ ایک زمانہ میں خدا نے شیطان کو ایوب پر مسلط کر دیا ایسا ہی اُس نے اس کشتی کے وقت اسلام پر شیطان کو مسلط کیا اور اس کو اجازت دے دی کہ اب تُو اپنے تمام سواروں اور پیادوں کے ساتھ اسلام پر بے شک حملہ کر۔” تب شیطان نے جیسا کہ اس کی عادت ہے ایک قوم کو

اپنا مظہر بنایا اور اسلام پر ایک سخت حملہ کیا اور خدا نے اپنے اسم اعظم کا ایک شخص کو

مظہر بنایا اور اس کو ایک حالت فنا عطا کر کے اپنی طرف رجوع دیا تا حقیقی عبادت

کے رنگ میں المعبود کے ساتھ اس کا تعلق ہوا اور اس کا نام احمد رکھا کیونکہ الطف

اور اعلیٰ اقسام عبادت کی حمد ہے جو صفات باری کی معرفت تامہ کو چاہتی ہے اور بغیر معرفت تامہ کے حمد تام ہو ہی نہیں سکتی اور خدا تعالیٰ کے محامد دو قسم کے ہیں (۱) ایک وہ جو اس کے ذاتی علو اور رفعت اور قدرت اور تنزہ تام کے متعلق ہیں (۲) دوسرے وہ جن کا اثر از قسم آلاء و نعماء مخلوق پر نمایاں ہے اور جس کو آسمان سے احمد کا نام عطا کیا جاتا ہے اول اُس پر بمقتضائے اسم رحمانیت تواتر سے نزول آلاء اور نعماء ظاہری اور باطنی کا ہوتا ہے اور پھر بوجہ اس کے جو احسان موجب محبت محسن ہے اس شخص کے دل میں اس محسنِ حقیقی کی محبت پیدا ہو جاتی ہے اور پھر وہ محبت نشو و نما پاتے پاتے ذاتی محبت کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے اور پھر ذاتی محبت سے قرب حاصل ہوتا ہے اور پھر قرب سے انکشاف تمام صفات جلالیہ جمالیہ حضرت باری عزاسمہ ہو جاتا ہے پس جس طرح اللہ کا نام جامع صفات کاملہ ہے اِسی طرح احمد کا نام جامع تمام معارف بن جاتا ہے اور جس طرح اللہ کا نام خدا تعالیٰ کے لئے اسم اعظم ہے اسی طرح احمد کا نام نوع انسان میں سے اس انسان کا اسم اعظم ہے جس کو آسمان پر یہ نام عطا ہوا اور اس سے بڑھ کر انسان کے لئے اور کوئی نام نہیں کیونکہ یہ خدا کی معرفت تامہ اور خدا کے فیوض تامہ کا مظہر ہے اور جب خدا تعالیٰ کی طرف سے زمین پر ایک تجلی عظمیٰ ہوتی ہے اور وہ اپنے صفاتِ کاملہ کے کنز مخفی کو ظاہر کرنا چاہتا ہے تو زمین پر ایک انسان کا ظہور ہوتا ہے جس کو احمد کے نام سے آسمان پر پکارتے ہیں غرض چونکہ احمد کا نام خدا تعالیٰ کے اسم اعظم کا کامل ظلّ ہے اس لئے احمد کے نام کو ہمیشہ شیطان کے مقابل پر فتحیابی ہوتی ہے اور ایسا ہی آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا کہ ایک طرف شیطانی قوی کا کمال درجہ پر ظہور اور بروز ہو اور شیطان کا اسم اعظم زمین پر ظاہر ہو اور پھر اس کے مقابل پر وہ اسم ظاہر ہو جو خدا تعالیٰ کے اسم اعظم کا ظلّ ہے یعنی احمد اور اس آخری کشتی کی تاریخ ہزار ششم کا آخری حصہ مقرر کیا گیا اور جیسا کہ قرآن شریف میں اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ ہر ایک چیز کو خدا نے چھ دن کے اندر پیدا کیا مگر اس انسان کو جس پر دائرہ مخلوق ختم ہوتا تھا چھٹے دن کے آخری حصے میں پیدا کیا اسی طرح اس آخری انسان کے لئے ہزار ششم کا آخری حصہ تجویز کیا گیا اور وہ اس وقت پیدا ہوا جبکہ قمری حساب کے رُو سے صرف چند سال ہی ہزار ششم کے پورا ہونے میں باقی رہتے تھے۔ اور اس کا وہ بلوغ جو مرسلین کے لئے مقرر کیا گیا ہے یعنی چالیس سال اُس وقت ہوا جبکہ چودھویں صدی کا سر آگیا اور اس آخری خلیفہ کے لئے یہ ضروری تھا کہ آخر حصہ ہزار ششم میں آدم کی طرح پیدا ہو اور سن چالیس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح مبعوث ہو اور نیز صدی کا سر ہو اور یہ تین شرطیں ایسی ہیں کہ اس میں کاذب اور مفتری کا دخل غیر ممکن ہے۔ اور پھر امر چہارم اُن کے ساتھ خسوف کسوف کا رمضان میں واقع ہونا ہے جو مسیح موعود کی نشانی ٹھہرائی گئی ہے۔

دوسری قسم کی مخلوق جو مسیح موعود کی نشانی ہے یا جوج ماجوج کا ظاہر ہونا ہے۔ توریت میں ممالک مغربیہ کی بعض قوموں کو یا جوج ماجوج قرار دیا ہے۔ اور ان کا زمانہ مسیح موعود کا زمانہ ٹھہرایا ہے۔ قرآن شریف نے اس قوم کے لئے ایک نشانی یہ لکھی ہے کہ مِّنۡ کُلِّ حَدَبٍ یَّنۡسِلُوۡنَ یعنی ہر ایک فوقیت ارضی اُن کو حاصل ہو جائے گی اور ہر ایک قوم پر وہ فتحیاب ہو جائیں گے۔ دوسرے اس نشانی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ آگ کے کاموں میں ماہر ہوں گے یعنی آگ کے ذریعہ سے اُن کی لڑائیاں ہوں گی اور آگ کے ذریعہ سے اُن کے انجن چلیں گے اور آگ سے کام لینے میں وہ بڑی مہارت رکھیں گے اسی وجہ سے اُن کا نام یا جوج ماجوج ہے کیونکہ اجیج آگ کے شعلہ کو کہتے ہیں اور شیطان کے وجود کی بناوٹ بھی آگ سے ہے جیسا کہ آیت خَلَقۡتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ سے ظاہر ہے۔ اس لئے قوم یا جوج ماجوج سے اس کو ایک فطرتی مناسبت ہے اسی وجہ سے یہی قوم اس کے اسم اعظم کی تجلی کے لئے اور اس کا مظہر اتم بننے کے لئے موزوں ہے۔ لیکن خدا کے اسم اعظم کی تجلی اعظم جس کا مظہر اتم اسم احمد ہے جیسا کہ ابھی بیان ہو چکا ہے ایسے وجود کو چاہتی تھی جو لڑائی اور خونریزی کا نام نہ لے اور آشتی اور محبت اور صلح کاری کو دنیا میں پھیلا دے۔ ایسا ہی ستارہ مشتری کی تاثیر کا بھی یہی تقاضا تھا کہ خونریزی کے لئے تلوار نہ پکڑی جائے ایسا ہی ہزار ششم کا آخری حصہ جو جمعیت کا مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے اور تمام تفرقوں اور نقصانوں کو درمیان سے اٹھا کر اس مجموعہ مخلوقات کو مع ان کے امام کے دکھلاتا ہے جو نظیر گذشتہ کے لحاظ سے تمام و کمال آشتی اور صلح سے بھرا ہوا ہے یہی چاہتا تھا کہ تفرقہ اور مخالفت مع اپنے لوازم کے جو جنگ و جدل ہے درمیان سے اُٹھ جائے جیسا کہ کتاب اللہ ظاہر کرتی ہے کہ خدا نے زمین اور آسمان کو چھ دن میں پیدا کر کے اور چھٹے دن آدم کو خلعت وجود پہنا کر نظام عالم کو باہم تالیف دے دی اور آدم کو مشتری کے اثر عظیم کے نیچے پیدا کیا تا آشتی اور صلح کو دنیا میں لاوے۔

تیسری قسم مخلوق کی جو مسیح موعود کی نشانی ہے دابۃ الارض کا خروج ہے اور دابۃ الارض سے وہ لوگ مراد ہیں جن کی زبانوں پر خدا ہے اور دل بھی عقلی طور پر اس کے ماننے سے خوش ہوتے ہیں لیکن آسمان کی رُوح اُن کے اندر نہیں محض دنیا کے کیڑے ہیں وہ روح کے بُلائے نہیں بولتے بلکہ کورانہ تقلید یا نفسانی اغراض اُن کی زبان کھولتے ہیں۔ خدا نے دابۃ الارض اُن کا نام اسی وجہ سے رکھا ہے کہ کوئی آسمانی مناسبت ان کے اندر نہیں۔

عجب تر یہ کہ آخری زمانہ میں وہ سچے دین کے گواہ ہیں۔ خود مُردہ ہیں مگر زندہ کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ تین چیزیں ہیں یعنی دجال اور یا جوج ماجوج اور دابۃ الارض جو مسیح موعود کے آنے کی علامتیں زمین پر ہیں اور ان کے سوا اور بھی زمینی علامتیں ہیں چنانچہ اونٹ کی سواری اور بار برداری کا اکثر حصہ زمین سے موقوف ہو جانا ایک خاص علامت مسیح کے آجانے کی ہے۔ حجج الکرامہ میں ابن واطیل سے روایت لکھی ہے کہ مسیح عصر کے وقت آسمان پر سے نازل ہوگا اور عصر سے ہزار کا آخری حصہ مراد لیا ہے۔ دیکھو حجج الکرامہ صفحہ ۴۲۸۔ اس قول سے ظاہر ہے کہ اس جگہ ہزار سے مراد ہزار ششم ہے اور ہزار ششم کے عصر کا وقت اس عاجز کی پیدائش کا زمانہ ہے جو حضرت آدم کی پیدائش کے زمانہ کے مقابل پر ہے۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ آخری زمانہ کا جو ہزار ہے وہ آدم کے چھٹے دن کے مقابل پر ہزار ششم ہے جس میں مسیح موعود کا آنا ضروری ہے اور آخری حصہ اس کا وقت عصر کہلاتا ہے پس ابن واطیل کا اصل قول جو سر چشمہ نبوت سے لیا گیا ہے اس طرح پر معلوم ہوتا ہے نزول عيسىٰ يكون فى وقت صلوٰة العصر فى اليوم السادس من الايام المحمدية حين تمضى ثلثة ارباعه۔

یعنی نزول عیسیٰ محمدی دن کے عصر کے وقت میں ہوگا جب تین حصے اُس دن کے گذر چکیں گے۔ یعنی ہزار ششم کا آخری حصہ کچھ باقی رہے گا اور باقی سب گزر چکے گا اس وقت عیسیٰ کی رُوح زمین پر آئے گی۔ یاد رہے کہ صوفیہ کی اصطلاح میں یوم محمدی سے مراد ہزار سال ہے جو روز وفات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شمار کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ہم اسی حساب سے سورۃ والعصر کے اعداد لکھ کر ثابت کر چکے ہیں کہ اس عاجز کی پیدائش اس وقت ہوئی تھی جبکہ یوم محمدی میں سے صرف گیارہ سال باقی رہتے تھے جو اس دن کا آخری حصہ ہے۔ یاد رہے کہ اکثر صوفی جو ہزار سے بھی کچھ زیادہ ہیں اپنے مکاشفات کے ذریعہ سے اس بات کی طرف گئے ہیں کہ مسیح موعود تیرھویں صدی میں یعنی ہزار ششم کے آخر میں پیدا ہوگا چنانچہ شاہ ولی اللہ صاحب کا الہام ”چراغ دین“ جو مہدی معہود کی پیدائش کے بارے میں ہے صاف دلالت کرتا ہے کہ ظہور کا وقت ہزار ششم کا آخر ہے۔ اسی طرح بہت سے اکابر امت نے پیدائش مسیح موعود کے لئے ہزار ششم کا آخر لیا ہے اور چودھویں صدی اس کے بعث اور ظہور کی تاریخ لکھی ہے اور چونکہ مومن کے لئے خدا تعالیٰ کی کتاب سے بڑھ کر کوئی گواہ نہیں اس لئے اس بات سے انکار کرنا کہ مسیح موعود کے ظہور کا وقت ہزار ششم کا آخر ہے خدا تعالیٰ کی کتاب سے انکار ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سلسلہ خلافت محمدیہ کو سلسلہ خلافت موسویہ سے مشابہت دے کر خود ظاہر فرما دیا ہے کہ پیدائش مسیح موعود ہزار ششم کے آخر میں ہے۔ پھر ماسوا اس کے صورت عالم پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہزار ششم میں زمین پر ایک انقلاب عظیم آیا ہے۔ بالخصوص اس ساٹھ برس کی مدت میں کہ جو تخمیناً میری عمر کا اندازہ ہے اس قدر صریح تغیر صفحہ ہستی پر ظہور پذیر ہے کہ گویا وہ دنیا ہی نہیں رہی نہ وہ سواریاں رہیں اور نہ وہ طریق تمدن رہا اور نہ بادشاہوں میں وہ وسعتِ اقدار حکومت رہی نہ وہ راہ رہی اور نہ وہ مرکب۔ اور یہاں تک ہر ایک بات میں جدّت ہوئی کہ انسان کی پہلی طرزیں تمدن کی گویا تمام منسوخ ہو گئیں اور زمین اور اہل زمین نے ہر ایک پہلو میں گویا پیرایہ جدید پہن لیا اور بُدّلت الارض غیر الارض کا نظارہ آنکھوں کے سامنے آ گیا اور ایک دوسرے رنگ میں بھی انقلاب نے اپنا نظارہ دکھلایا یعنی جیسا کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں پیشگوئی کے طور پر فرمایا تھا کہ ایک وہ نازک وقت آنے والا ہے کہ قریب ہے کہ تثلیث کے غلبہ کے وقت آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گر جائیں۔ یہ سب باتیں ظہور میں آگئیں اور اس قدر حد سے زیادہ عیسائیت کی دعوت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب میں غلو کیا گیا کہ قریب ہے کہ وہ راستباز جو اخلاص کی وجہ سے آسمانی کہلاتے ہیں گمراہ ہو جائیں اور زمین پھٹ جائے یعنی تمام زمینی آدمی بگڑ جائیں۔ اور وہ ثابت قدم لوگ جو جبال راسخہ کے مشابہ ہیں گر جائیں اور قرآن شریف کی وہ آیت جس میں یہ پیشگوئی ہے یہ ہے:- تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرۡنَ مِنۡہُ وَتَنۡشَقُّ الۡاَرۡضُ وَتَخِرُّ الۡجِبَالُ ہَدًّا۔اور آیت چونکہ ذوالوجہین ہے اس لئے دوسرے معنے اس کے یہ بھی ہیں کہ قیامت کبریٰ کے قریب عیسائیت کا زمین پر بہت غلبہ ہو جائے گا۔ جیسا کہ آج کل ظاہر ہو رہا ہے اور اس آیت کریمہ کا منشاء یہ ہے کہ اگر اس فتنہ کے وقت خدا تعالیٰ اپنے مسیح کو بھیج کر اصلاح اس فتنہ کی نہ کرے تو فی الفور قیامت آجائے گی اور آسمان پھٹ جائیں گے۔ مگر چونکہ باجود اس قدر عیسائیت کے غلو کے اور اس قدر تکذیب کے جو اب تک کروڑہا کتابیں اور رسالے اور دو ورقہ کاغذات ملک میں شائع ہو چکے ہیں قیامت نہیں آئی تو یہ دلیل اس بات پر ہے کہ خدا نے اپنے بندوں پر رحم کر کے اپنے مسیح کو بھیج دیا ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ خدا کا وعدہ جھوٹا نکلے۔ اور گذشتہ تقریر کے رو سے جبکہ دنیا پر انقلاب عظیم آچکا ہے اور قریباً کل ایسی روحیں جو سچائی سے خدا کو طلب کر سکتیں ہلاک ہو گئیں اس لئے اس زمانہ میں روحانی زندگی دوبارہ قائم کرنے کے لئے ایک جدید آدم کی ضرورت پڑی اس آدم کی قدر و منزلت اس سے ظاہر ہے کہ وہ آدم ایمان جیسے جوہر کو دوبارہ دنیا میں لانے والا اور زمین کو پلیدی سے صاف کرنے والا ہے اور اس کی ضرورت اس سے ظاہر ہے کہ اب اسلام اپنے دونوں پہلوؤں اعتقادی اور عملی کے رُو سے غربت کی حالت میں ہے لہذا نبیوں کی تمام پیشگوئیوں کے ظہور کا اب یہ وقت ہے اور آسمانی برکتوں کا انتظار۔

اب ہم اس خاتمہ میں دانیال کی کتاب میں سے ایک پیشگوئی اور ایسا ہی یسعیا نبی کی کتاب میں سے بھی ایک پیشگوئی لکھتے ہیں کہ جو مسیح موعود کے ظہور کے

بارے میں ہے اور وہ یہ ہے۔

دانیال باب ۱۲

ובעתההיאיעמדמיכאלהשר
و باعیتههیایعمودمیکائیلهَسَّار
اور اس وقتہوگامبعوثوہ جو خدا کی مانند ہےحاکم
הגדולהעמדעל-בניעמך
هجادولهاعومیٔدعَلُ بَنِیُعمیک
اعلیٰوہ مبعوث ہوگاتیری قوم کیحمایت میں
והיתהעתצרהאשר
وهایِتاهعیتضارهاَشِیُر
اور ہوگازمانہدشمنوں کاایسا زمانہ
לא-נהיתהמהיותגויעדהעת
لونهی تاهمهیؤتگویعدهاعت
کہ نہ ہوا ہوگاامتکےابتداسے لے کر
ההיאובעתההיאימלט
ههیاو باعیتههیایمالیط
اس وقت تکاور اس وقتایسا ہوگاکہ نجات پائے گا
עמךכל-הנמצאכהתבבספר
عمیکاکول هنمصاکاتوببسیفر
تیری قوممیں سے ہر ایک کہ پایا جائے گالکھا ہواکتاب میں
ורביםמישניאדמת-עפר
و ربیممشینیادمتعافار
اور بہت جوسست پڑے ہیںزمین کے اندر

יקיצואלהלהבייעולםואלה
یا قیضوایلیهلحیّےعولامایلیه
جاگاٹھیں گےیہہمیشہ کیزندگی کے
לחרפותלדראוןעולם
لحرافوتلدر اونعولام
واسطے اوریہ انکار اورابدی لعنت کے واسطے
והמשכילימיזהירוכזהר
و هَمَسْکِیْلِیْمیَزْهِیْ رُوْکزوهر
اور اہل دانشچمکیں گےمانند چمک
הרקיעומצדיקיהרביםככוכבים
هارقیعهو مَصَدِیقِیُها رَبِّیمککو کابیم
آسمان کیاور صادقوں سےبہت ہوں گےمانند ستاروں کے
לעולםועדואתהדניאלסתם
لعولامو عادواتاهدانی ایلستوم
ہمیشہاور ہمیشہاور تو اےدانیالپوشیدہ رکھ
הדבריםוחתםהספרלד-עת
هَدِّ باریمو ختُوْمهَسِّیفرعد عیت
ان باتوں کواور سر بمہر رکھاس کتابکو وقت
קץישטטורביםותרבההדעת
قیصیشططو ربیمو تربیههداعت
آخر تک جبکہ لوگ زمین پر یشططو ہوں گے اور ادھر ادھر دوڑیں گے اور سیر کریں گے اور ملیں گے اور علم بہت بڑھ جائے گا
וראיתיאנידניאלןהנהשנים
و رائیتیانیدانی ایلو هنیهشنے یم
اور نظر کیمیںدانی ایل نےاور دیکھےدو

אחריםעמדיםאחדהנהלשפת
احے ریمعومدیماحادهیناهلشؤفت
اورکھڑے ہوں گےایکاس طرفدریا کے
היארואחדהבהלשפתהיאר
هیورو احادهیناهلشوفتهیور
اوردوسرااس طرفدریا کےدریا
ויאמרלאישלבושהבדיםאשר
و یؤمیرلا ایشلبوشهبدیماشیر
اور کہااس آدمی کوجس کا لباسلمبے تاگوں کا تھاجو کہ
ממעללמימיהיארעד-מתי
لمعللمے مئےهیورعدماتی
اوپردریا کے پانیکے تھاکبہوگا
קץהפלאותואשמעאת-האיש
قیصهفلا اوتو اشمعایتها ایش
انجاممصائب کااور میں نے سنااس آدمی کو جو لمبے تاگوں والا
לבושהבדיםאשרממעללמימי
لبوشهیدیماشیرممعللمے مے
لباسپہنے تھاجو کہاوپرپانیوں
היארוירםימינוושמאלואל
هیورو یارامیمینوو شمولوال
دریا کے تھااور اس نے بلند کیااپنا دایاںاور بایاںآسمان
השמיםוישבעבחיהעולםכילמועד
هشامیمو یشابعبحےهاعولامکیلموعیٔد
کی طرفاور قسم کھائیابدیزندہ خدا کیکہ اس زمانہ کی مدت ہے
מועדיםוחציוככלותנפץידעם
موعدیمو حیصیو ککلوتنفیٔصیدعم
دو زمانے ہیںاور ایک زمانہ کا حصہاور یہ پورا ہوگااور مقدس جماعت میں تفرقہ پڑے گا
קדשתכלינהכל-אלהואנישמעתי
قودیشتک لیے ناهکولاے لیهدانیشامعتی
اور ان کازور ٹوٹ جائے گااور یہسب باتیں پوری ہوں گیاور میںسنا
ולאאביןואמרהאדנימהאחרית
ولوابینواومراهادونیماهاحریت
پرنہ جانااور میں نے کہااے خداوندکیا ہےانجام
אלהויאמרלךדנישלכיסתמים
ایلیهو یومئرلیکدانی ایلکیستومیم
ان سب باتوں کااور کہاچلا جادانیالکیونکہپوشیدہ رہیں گی
וחתמיםהדבריםעד-עת-קץיתבררו
و حتومیمهد باریمعدعیتقیصیت باررو
اور سر بمہر رہیں گییہ باتیںوقتآخر تک بہتوں کا ابرا کیا جائے گا
ויתלבנוויצרפורביםוהרשיעורשעים
و یت لب نوو یصارفوربیمو هر شیعورشاعیم
اور بہتوں کو سفید کیا جائے گا اور بہتوں کو آزمائش میں ڈالا جائے گااور شریر شرارت سے شور و غوغا
ולאיבינוכל-רשעיםוהמשכילים
و لویابی نوکولرشاعیمو همسکیلیم
مچائیں گےاور شریروں میںسےکوئی نہ سمجھے گاپر اہل دانش
יבינוומעתהוסרהתמידולתת
یابی نوو مے عیتهو سرهتامیدو لاتیت
سمجھ لیں گے۔اور اس وقت سے جبکہ دائمی قربانیموقوف ہوگیاور بتوں کو

שקרץשמםימיםאלףמאתים
شقوصشومیمیامیمایلیفماتیم
تباہکیا جائے گااس وقت تکبارہ سونوے
ותשעיםאשריהמחכהויגיע
و تش عیماشرےهمحکاهو یجیع
دن ہوں گےمبارک ہےجو انتظار کیا جائے گااور اپنا کام
לימעםאלףשלשמאותשלשים
لیامیمایلیفشلوشمے اوتشلوشیم
محنت سےکرے گاتیرہ سوپینتیسروز تک
וחמשהואתהלךלקץותנוח
و حمی شاہو اتاہلیکلقیصو تانوح
۱۳۳۵اور توچلا جاآخر تکاے دانیال
ותעמדלגרלךלקץהימין
و تعمودلجور الکلقیصهیامین
اور آرام کراور اپنے حصے پراخیر پرکھڑا ہوگا

החרישואליאייםולאמים
هحر یشواے لَیُایّیموُل اُومِیم
خاموش ہو جاؤمیرے آگےاے جزیروامت
יחליפוכחיגשואזידברו
و حلی فوکواحیج شوآزیَدَبِّیرو
از سر نو سرسبز ہوگیاور قوت پکڑے گیوے قریب پہنچیں گےپھر سب ایک بات پر
יחדולמשפטנק רבה מיהעיר
یجدَاُلشفاطنِقرِیبَاه مِیُهی عیر
متفق ہوں گےہم قضیٰ (فیصلہ)کے قریب آئیں گے کس نےمبعوث کیا
ממזרחצדקיקראהולרגלויתן
مِمزرَاحصدیقیقراء هولرجلویتّین
مشرق کی طرف سےصادق کواسے اپنےحضور میںبلایا دھر دیا
לפניוגויםומלכיםירדיתן
لفانا یوگویمو ملاکیمیریٔدیتین
اس کے منہ کے آگےقوموں کواور بادشاہوںپر اسے حاکم کیا۔ اس نے کر دیا
כעפרחרבוכקשנדףקשתו
کعافارحَرُبُوکقاشنِدّافقشتو
خاک کی ماننداس کی تلوار کومانند بھوسےاڑتے ہوئے کیاس کی کمان کو

ירדפםיעברשלוםארחברגליו
یردفیمیعبورشالوماورحبرَجُلایو
اس نے ان کا تعاقب کیااور گذر گیاسلامتایسی راہ سےجس پر کہ وہ
לאיבואמי-פעלועשה
لویابومِیفاعَلُوعَاسَاهُ
اپنے پاؤںپر نہیں چلاکس نے یہ کام کیااور اسے انجام دیا
קראהדרותמראשאנייהוה
قوریهدّوروتمے روشانییهوواه
وہ جس نےساری پشتوں کو ابتدا سے پڑھ سنایامیںوہی پہلا خدا ہوں
ראשוןואת-אחרוניםאני-הוא
رِیُ شؤنوَاِئتُاَحَرونِیْماَنِيهُو
اور آخرین کے ساتھ ہوں

ضمیمہ تحفہ گولڑویہ

ہم نے مناسب سمجھا ہے کہ اپنے دعوے کے متعلق جس قدر ثبوت ہیں اجمالی طور پر ان کو اس جگہ اکٹھا کر دیا جائے۔ سو اوّل تمہیدی طور پر اس بات کا لکھنا ضروری ہے کہ میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیشگوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔ ہمارے علماء کا یہ خیال ہے کہ وہی مسیح عیسیٰ ابن مریم جس پر انجیل نازل ہوئی تھی آخری زمانہ میں آسمان پر سے نازل ہوگا۔ لیکن ظاہر ہے کہ قرآن شریف اس خیال کے مخالف ہے اور آیت فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ اور آیت کَانَا یَاۡکُلٰنِ الطَّعَامَ اور آیت وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ اور آیت فِیۡہَا تَحۡیَوۡنَ وَفِیۡہَا تَمُوۡتُوۡنَ اور دوسری تمام آیتیں جن کا ہم اپنی کتابوں میں ذکر کر چکے ہیں اس امر پر قطعی الدلالت ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور ان کی موت کا انکار قرآن سے انکار ہے اور پھر اس کے بعد اگرچہ اس بات کی ضرورت نہیں کہ ہم احادیث سے حضرت مسیح کی وفات کی دلیل ڈھونڈیں لیکن پھر بھی جب ہم حدیثوں پر نظر ڈالتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ کافی حصہ اس قسم کی حدیثوں کا موجود ہے جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک سو بیس برس عمر لکھی ہے اور جن میں بیان کیا گیا ہے کہ اگر عیسیٰ اور موسیٰ زندہ ہوتے تو میری پیروی کرتے۔ اور جن میں لکھا گیا ہے کہ اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات یافتہ روحوں میں داخل ہیں۔ چنانچہ معراج کی تمام حدیثیں جو صحیح بخاری میں ہیں وہ اس بات پر گواہ ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام معراج کی رات میں وفات شدہ روحوں میں دیکھے گئے۔ اور سب سے بڑھ کر حدیثوں کے رو سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ تمام صحابہ کا اس پر اجماع ہو گیا تھا کہ گذشتہ تمام نبی جن میں حضرت عیسیٰ بھی داخل ہیں سب کے سب فوت ہو چکے ہیں۔ اس اجماع کا ذکر صحیح بخاری میں موجود ہے جس سے ایک صحابی بھی باہر نہیں۔ اب اس طالب حق کے لئے جو خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہے حضرت مسیح کی وفات کے بارے میں زیادہ ثبوت کی ضرورت نہیں۔ ماسوا اس کے خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام انجیل میں اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ میری آمد ثانی بروزی رنگ میں ہوگی نہ حقیقی رنگ میں اور وہ اقرار یہ ہے: (۱۰) اور اُس کے شاگردوں نے اُس سے پوچھا پھر فقیہ کیوں کہتے ہیں کہ پہلے الیاس کا آنا ضروری ہے (یعنی مسیح کے آنے سے پہلے الیاس کا آنا کتابوں کے رو سے ضروری ہے) (۱۱) یسوع نے انہیں جواب دیا کہ الیاس البتہ پہلے آوے گا اور سب چیزوں کا بندوبست کرے گا (۱۲) پر میں تم سے کہتا ہوں کہ الیاس تو آ چکا لیکن انہوں نے اس کو نہیں پہچانا بلکہ جو چاہا اُس کے ساتھ کیا۔ اسی طرح ابن آدم بھی اُن سے (آمد ثانی کے وقت میں) دکھ اٹھائے گا۔ دیکھو انجیل متی بات ۱۷۔ آیت ۱۰ و ۱۱ و ۱۲۔ ان آیات میں مسیح نے صاف لفظوں میں فرما دیا کہ اس کا دوبارہ آنا بھی الیاس کے رنگ میں ہوگا۔ چونکہ مسیح اس سے پہلے کئی دفعہ اپنی آمد ثانی کا حواریوں کے سامنے ذکر کر چکا تھا جیسا کہ اسی انجیل متی سے ظاہر ہے۔ اس لئے اُس نے چاہا کہ الیاس کی آمد ثانی کی بحث میں اپنی آمد ثانی کی حقیقت بھی ظاہر کر دے سو اُس نے بتلا دیا کہ میری آمد ثانی بھی الیاس کی آمد ثانی کی مانند ہوگی یعنی محض بروزی طور پر ہوگی۔ اب کس قدر ظلم ہے کہ مسیح تو اپنی آمد ثانی کو بروزی طور پر بتلاتا ہے اور صاف کہتا ہے کہ میں نہیں آؤں گا بلکہ میرے خلق اور خو پر کوئی اور آئے گا اور ہمارے مولوی اور بعض عیسائی یہ خیال کر رہے ہیں کہ سچ مچ خود ہی وہ دوبارہ دنیا میں آجائے گا۔ اس جگہ ایک لطیفہ بیان کرنے کے لائق ہے جس سے ظاہر ہوگا کہ خدا تعالیٰ کے علم میں ایک زمانہ مقدر تھا جس میں فوت شدہ روحیں بروزی طور پر آنے والی تھیں اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یعنی سورۃ انبیاء جزو نمبر ۱۷ میں ایک پیشگوئی کی ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ ہلاک شدہ لوگ یاجوج ماجوج کے زمانہ میں پھر دنیا میں رجوع کریں گے اور وہ یہ آیت ہے۔ وَحَرٰمٌ عَلٰی قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَاۤ اَنَّہُمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ حَتّٰۤی اِذَا فُتِحَتۡ یَاۡجُوۡجُ وَمَاۡجُوۡجُ وَہُمۡ مِّنۡ کُلِّ حَدَبٍ یَّنۡسِلُوۡنَ وَاقۡتَرَبَ الۡوَعۡدُ الۡحَقُّ(الانبیاء: ۹۶تا۹۸) اور اس کے اوپر کی یہ آیتیں ہیں۔وَالَّتِیۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَہَا فَنَفَخۡنَا فِیۡہَا مِنۡ رُّوۡحِنَا وَجَعَلۡنٰہَا وَابۡنَہَاۤ اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ اِنَّ ہٰذِہٖۤ اُمَّتُکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ۫ۖ وَّاَنَا رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡنِ وَتَقَطَّعُوۡۤا اَمۡرَہُمۡ بَیۡنَہُمۡ ؕ کُلٌّ اِلَیۡنَا رٰجِعُوۡنَ فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَہُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَا کُفۡرَانَ لِسَعۡیِہٖ ۚ وَاِنَّا لَہٗ کٰتِبُوۡنَ(الانبیاء: ۹۲تا۹۵)۔ ترجمہ ان آیات کا یہ ہے کہ مریم نے جب اپنے اندامِ نہانی کو نامحرم سے محفوظ رکھا یعنی غایت درجہ کی پاکدامنی اختیار کی تو ہم نے اُس کو یہ انعام دیا کہ وہ بچہ اس کو عنایت کیا جو روح القدس کے نفح سے پیدا ہوا تھا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے جو دنیا میں بچے دو قسم کے پیدا ہوتے ہیں (۱) ایک جن میں نفخ روح القدس کا اثر ہوتا ہے اور ایسے بچے وہ ہوتے ہیں جب عورتیں پاکدامن اور پاک خیال ہوں اور اسی حالت میں استقرار نطفہ ہو وہ بچے پاک ہوتے ہیں اور شیطان کا اُن میں حصہ نہیں ہوتا۔ (۲) دوسری وہ عورتیں ہیں جن کے حالات اکثر گندے اور ناپاک رہتے ہیں۔ پس ان کی اولاد میں شیطان اپنا حصہ ڈالتا ہے جیسا کہ آیت وَشَارِکۡہُمۡ فِی الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَوۡلَادِ(بنی اسرائیل: ۶۵) اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے جس میں شیطان کو خطاب ہے کہ ان کے مالوں اور بچوں میں حصہ دار بن جا یعنی وہ حرام کے مال اکٹھا کریں گی اور ناپاک اولاد جنیں گی۔ ایسا سمجھنا غلطی ہے کہ حضرت عیسیٰ کو نفخ روح سے کچھ خصوصیت تھی جس میں دوسروں کو حصہ نہیں بلکہ نعوذ باللہ یہ خیال قریب قریب کفر کے جا پہنچتا ہے۔ اصل حقیقت صرف یہ ہے کہ قرآن شریف میں انسانوں کی پیدائش میں دو قسم کی شراکت بیان فرمائی گئی ہے (۱) ایک روح القدس کی شراکت جب والدین کے خیالات پر ناپاکی اور خباثت غالب نہ ہو (۲) اور ایک شیطان کی شراکت جب اُن کے خیال پر ناپاکی او پلیدی غالب ہو۔ اِسی کی طرف اشارہ اس آیت میں بھی ہے کہ وَلَا یَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا کَفَّارًا(نوح: ۲۸)۔ پس بلاشبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُن لوگوں میں سے تھے جو مسِ شیطان اور نفخ ابلیس سے پیدا نہیں ہوئے اور بغیر باپ کے ان کا پیدا ہونا یہ امر دیگر تھا جس کو روح القدس سے کچھ تعلق نہیں۔ دنیا میں ہزاروں کیڑے مکوڑے برسات کے دنوں میں بغیر باپ کے بلکہ بغیر ماں اور باپ دونوں کے پیدا ہو جاتے ہیں تو کیا وہ روح القدس کے فرزند کہلاتے ہیں؟ روح القدس کے فرزند وہی ہیں جو عورتوں کی کامل پاکدامنی اور مردوں کے کامل پاک خیال کی حالت میں رحم مادر میں وجود پکڑتے ہیں اور اُن کی ضد شیطان کے فرزند ہیں۔ خدا کی ساری کتابیں یہی گواہی دیتی آئی ہیں۔ اور پھر بقیہ ترجمہ یہ ہے کہ ہم نے مریم اور اس کے بیٹے کو بنی اسرائیل کے لئے اور اُن سب کے لئے جو سمجھیں ایک نشان بنایا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کو بغیر باپ کے پیدا کر کے بنی اسرائیل کو سمجھا دیا کہ تمہاری بداعمالی کے سبب سے نبوت بنی اسرائیل سے جاتی رہی کیونکہ عیسیٰ باپ کے رو سے بنی اسرائیل میں سے نہیں ہے۔ اس مقام میں یہ بات بھی یاد رکھنے لائق ہے کہ اکثر پادری جو کہا کرتے ہیں کہ توریت میں جو مثیل موسیٰ کا وعدہ ہے اور لکھا ہے کہ تمہارے بھائیوں میں سے موسیٰ کی مانند ایک نبی قائم کیا جائے گا وہ نبی یسوع یعنی عیسیٰ بن مریم ہے یہ قول ان کا اسی جگہ سے غلط ثابت ہوتا ہے کیونکہ جس حالت میں بنی اسرائیل میں سے حضرت عیسیٰ کا کوئی باپ نہیں ہے تو وہ بنی اسرائیل کا بھائی کیونکر بن سکتا ہے۔ پس بلاشبہ ماننا پڑا کہ لفظ ”تمہارے بھائیوں میں سے“ جو توریت میں موجود ہے اس سے مراد وہ نبی ہے جو بنی اسمعیل میں سے ظاہر ہوا یعنی محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کیونکہ توریت میں جا بجا بنی اسمعیل کو بنی اسرائیل کے بھائی لکھا ہے لیکن ایسا شخص جو باقرار فریقین کسی اسرائیلی مرد کے نطفہ میں سے نہیں ہے اور نہ اسماعیلی مرد کے نطفہ سے وہ کسی طرح بنی اسرائیل کا بھائی نہیں کہلا سکتا اور نہ حسب ادعائے عیسائیاں وہ موسیٰ کی مانند ہے کیونکہ وہ تو اُن کے نزدیک خدا ہے اور موسیٰ تو خدا نہیں۔ اور ہمارے نزدیک بھی وہ موسیٰ کی مانند نہیں کیونکہ موسیٰ نے ظاہر ہو کر تین بڑے کھلے کھلے کام کئے جو دنیا پر روشن ہو گئے ایسے ہی کھلے کھلے تین کام جو دنیا پر بدیہی طور پر ظاہر ہو گئے ہوں جس نبی سے ظہور میں آئے ہوں وہی نبی مثیل موسیٰ ہوگا۔ اور وہ کام یہ ہیں (۱) اوّل یہ کہ موسیٰ نے اُس دشمن کو ہلاک کیا جو اُن کی اور اُن کی شریعت کی بیخ کنی کرنا چاہتا تھا (۲) دوسرے یہ کہ موسیٰ نے ایک نادان قوم کو جو خدا اور اس کی کتابوں سے ناواقف تھی اور وحشیوں کی طرح چار سو برس سے زندگی بسر کرتے تھے کتاب اور خدا کی شریعت دی یعنی توریت عنایت کی اور ان میں شریعت کی بنیاد ڈالی (۳) تیسرے یہ کہ بعد اس کے کہ وہ لوگ ذلت کی زندگی بسر کرتے تھے ان کو حکومت اور بادشاہت عنایت کی اور اُن میں سے بادشاہ بنائے۔ ان تینوں انعامات کا قرآن شریف میں ذکر ہے۔ جیسا کہ فرمایا۔ قَالَ عَسٰی رَبُّکُمۡ اَنۡ یُّہۡلِکَ عَدُوَّکُمۡ وَیَسۡتَخۡلِفَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرَ کَیۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ(الاعراف: ۱۳۰) ۔ دیکھو سورۃ الاعراف الجزو نمبر ۹ ۔ اور پھر دوسری جگہ فرمایا۔فَقَدۡ اٰتَیۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ وَاٰتَیۡنٰہُمۡ مُّلۡکًا عَظِیۡمًا(النساء: ۵۵)۔ دیکھو سورۃ النساء الجزو نمبر ۵ ۔ اب سوچ کر دیکھ لو کہ اِن تینوں کاموں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایک ذرہ بھی مناسبت نہیں۔ نہ وہ پیدا ہو کر یہودیوں کے دشمنوں کو ہلاک کر سکے اور نہ وہ اُن کے لئے کوئی نئی شریعت لائے اور نہ انہوں نے بنی اسرائیل یا اُن کے بھائیوں کو بادشاہت بخشی۔ انجیل کیا تھی وہ صرف توریت کے چند احکام کا خلاصہ ہے جس سے پہلے یہود بے خبر نہیں تھے گو اس پر کاربند نہ تھے۔ یہود گو حضرت مسیح کے وقت میں اکثر بدکار تھے مگر پھر بھی اُن کے ہاتھ میں توریت تھی۔ پس انصاف ہمیں اس گواہی کے لئے مجبور کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کچھ مماثلت نہیں رکھتے اور یہ کہنا کہ جس طرح حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ہاتھ سے نجات دی اسی طرح حضرت عیسیٰ نے اپنے تابعین کو شیطان کے ہاتھ سے نجات دی یہ ایسا بیہودہ خیال ہے کہ کوئی شخص گو کیسا ہی اغماض کرنے والا ہو اس خیال پر اطلاع پا کر اپنے تئیں ہنسنے سے روک نہیں سکے گا۔ مخالف کے سامنے اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ عیسیٰ نے ضرور اپنے پیروؤں کو شیطان سے اسی طرح نجات دے دی جیسا کہ موسیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ہاتھ سے نجات دی۔ موسیٰ کا بنی اسرائیل کو فرعون کے ہاتھ سے نجات دینا ایک تاریخی امر ہے جس سے نہ کوئی یہودی منکر ہوسکتا ہے نہ عیسائی نہ مسلمان نہ گبر نہ ہندو کیونکہ وہ دنیا کے واقعات میں سے ایک واقعہ مشہورہ ہے مگر عیسیٰ کا اپنے تابعین کو شیطان کے ہاتھ سے نجات دنیا صرف اعتقادی امر ہے جو محض نصاریٰ کے خیالات میں ہے خارج میں اس کا کوئی وجود نہیں جس کو دیکھ کر ہر ایک شخص بدیہی طور پر قائل ہو سکے کہ ہاں یہ لوگ درحقیقت شیطان اور ہر ایک بدکاری سے نجات پا گئے ہیں اور ان کا گروہ ہر ایک بدی سے پاک ہے۔ نہ اُن میں زنا ہے نہ شراب خوری نہ قمار بازی اور نہ خونریزی بلکہ تمام مذاہب کے پیشوا اپنے اپنے خیال میں اپنی اپنی امتوں کو شیطان کے ہاتھ سے نجات دیتے ہیں۔ اس نجات دہی کے دعوے سے کس پیشوا کو انکار ہے۔ اب اس بات کا کون فیصلہ کرے کہ دوسروں نے اپنی امت کو نجات نہیں دی مگر مسیح نے دی۔ پیشگوئی میں تو کوئی کھلا کھلا تاریخی واقعہ ہونا چاہیے جو موسیٰ کے واقعہ سے مشابہ ہو نہ کہ اعتقادی امر کہ جو خود ثبوت طلب ہے۔ ظاہر ہے کہ پیشگوئی سے صرف یہ مقصود ہوتا ہے کہ وہ دوسری کے لئے بطور دلیل کے کام آ سکے لیکن جب ایک پیشگوئی خود دلیل کی محتاج ہے تو کس کام کی ہے مماثلت ایسے امور میں چاہیے کہ جو واقعات مشہورہ میں داخل ہوں نہ یہ کہ صرف اپنے اعتقادیات ہوں جو خود ثبوت طلب ہیں۔ بھلا انصافاً تم آپ ہی سوچو کہ موسیٰ نے تو فرعون کو مع اس کے لشکر کے ہلاک کر کے جہان کو دکھلا دیا کہ اس نے یہودیوں کو اس عذاب اور شکنجہ سے نجات دے دی جس میں وہ لوگ قریباً چار سو برس سے مبتلا چلے آتے تھے اور پھر ان کو بادشاہت بھی دے دی مگر حضرت مسیح نے اس نجات کے یہودیوں کو کیا آثار دکھلائے اور کون سا ملک ان کے حوالہ کیا اور کب یہودی ان پر ایمان لائے اور کب انہوں نے مان لیا کہ اس شخص نے موسیٰ کی طرح ہمیں نجات دے دی اور داؤد کا تخت دوبارہ قائم کیا۔ اور بالفرض اگر وہ ایمان بھی لاتے تو آئندہ جہان کی نجات تو ایک مخفی امر ہے اور ایسا مخفی امر کب اس لائق ہے کہ پیشگوئی میں ایک بدیہی امر کی طرح اس کو دکھلایا جائے۔ جو شخص کسی مدعی نبوت پر ایمان لاتا ہے یہ ایمان تو خود ہنوز جائے بحث ہے کسی کو کیا خبر کہ وہ ایمان لانے سے نجات پاتا ہے یا انجام اس کا عذاب اور مؤاخذۂ الٰہی ہے۔ پیشگوئی میں تو وہ امور پیش کرنے چاہئیں جن کو کھلے کھلے طور پر دنیا دیکھ سکے اور پہچان سکے۔ اس پیشگوئی کا تو یہ مطلب ہے کہ وہ نبی موسیٰ کی طرح بنی اسرائیل کو یا اُن کے بھائیوں کو ایک عذاب سے نجات دے گا اسی طرح جیسا کہ موسیٰ نے بنی اسرائیل کو عذاب سے نجات دی تھی۔ اور نہ صرف نجات دے گا بلکہ ان کو ایام ذلت کے بعد سلطنت بھی عطا کرے گا جیسا کہ موسیٰ نے بنی اسرائیل کو چار سو برس کی ذلت کے بعد نجات دی اور پھر سلطنت عطا کی اور پھر اس وحشی قوم کو موسیٰ کی طرح ایک نئی شریعت سے تہذیب یافتہ کرے گا۔ اور وہ قوم بنی اسرائیل کے بھائی ہوں گے۔ اب دیکھو کہ کیسی صفائی اور روشنی سے یہ پیشگوئی سیدنا محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں پوری ہو گئی ہے اور ایسی صفائی سے پوری ہو گئی ہے کہ اگر مثلاً ایک ہندو کے سامنے بھی جو عقل سلیم رکھتا ہو یہ دونوں تاریخی واقعات رکھے جائیں یعنی جس طرح موسیٰ نے اپنی قوم کو فرعون کے ہاتھ سے نجات دی اور پھر سلطنت بخشی اور پھر ان وحشی لوگوں کو جو غلامی میں بسر کر رہے تھے ایک شریعت بخشی۔ اور جس طرح سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غریبوں اور کمزوروں کو جو آپ پر ایمان لائے تھے عرب کے خونخوار درندوں سے نجات دی اور سلطنت عطا کی اور پھر اس وحشیانہ حالت کے بعد ان کو ایک شریعت عطا کی تو بلا شبہ وہ ہندو دونوں واقعات کو ایک ہی رنگ میں سمجھے گا اور ان کی مماثلت کی گواہی دے گا۔ اور خود ہم جبکہ دیکھتے ہیں کہ کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متبعین کو عرب کے خونریز ظالموں کے ہاتھ سے بچا کر اپنے پروں کے نیچے لے لیا۔ اور پھر ان لوگوں کو جو صدہا سال سے وحشیانہ حالت میں بسر کر رہے تھے ایک نئی شریعت عطا فرمائی اور بعد ایام ذلت اور غلامی کے سلطنت عطا فرمائی تو بلا تکلف موسیٰ کے زمانہ کا نقشہ ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ اور پھر ذرہ اور غور کر کے جب حضرت موسیٰ کے سلسلۂ خلفاء پر نظر ڈالتے ہیں جو چودہ سو برس تک دنیا میں قائم رہا تو اس کے مقابل پر سلسلہ محمدیہ بھی اسی مقدار پر ہمیں نظر آتا ہے یہاں تک کہ حضرت موسیٰ کے سلسلۂ خلفاء کے آخر میں ایک مسیح ہے جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہے ایسا ہی اس سلسلہ کے آخر میں بھی جو مقدار اور مدت میں سلسلہ موسوی کی مانند ہے ایک مسیح دکھائی دیتا ہے اور دونوں سلسلے ایک دوسرے کے مقابل پر ایسے دکھائی دیتے ہیں کہ جس طرح ایک انسان کی دوٹانگیں ایک دوسری کے مقابل پر ہوتی ہیں۔ پس اس سے بڑھ کر مماثلت کے کیا معنے ہیں۔ اور یہی حقیقت یہ آیت ظاہر فرماتی ہے کہ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ(المزّمل: ۱۶)۔ اور اسی مقام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس امت کے آخری زمانہ میں مسیح کے مبعوث ہونے کی کیوں ضرورت تھی یعنی یہی ضرورت تھی کہ جبکہ خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مثیل ٹھہرایا اور نیز سلسلہ خلافت محمدیہ کو سلسلہ خلافت موسویہ کا مثیل مقرر کیا تو جس طرح موسوی سلسلہ موسیٰ سے شروع ہوا اور مسیح پر ختم ہوا یہ سلسلہ بھی ایسا ہی چاہیے تھا۔ سو موسیٰ کی جگہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقرر کئے گئے اور پھر آخر سلسلہ میں جو بالمقابل حساب کے رو سے چودھویں صدی تھی ایسا شخص مسیح کے نام سے ظاہر کیا گیا جو قریش میں سے نہیں تھا۔ جس طرح حضرت عیسیٰ بن مریم باپ کے رو سے بنی اسرائیل میں سے نہیں تھا۔ غرض اس امت کے آخری زمانہ میں مسیح کے آنے کی ضرورت یہی ہے کہ تا دونوں سلسلوں کا اوّل اور آخر با ہم مطابق آجائے اور جیسا کہ ایک سلسلہ چودہ سو برس کی مدت تک موسیٰ سے لے کر عیسیٰ بن مریم تک ختم ہوا ایسا ہی دوسرا سلسلہ جو خدا کی کلام میں اس کے مشابہ کھڑا کیا گیا ہے اسی چودہ سو برس کی مدت تک مثیل موسیٰ سے لے کر مثیل عیسیٰ بن مریم تک ختم ہوا۔ یہی خدا کا ارادہ تھا جس کے ساتھ یہ امر بھی ملحوظ ہے کہ جیسا کہ موسوی سلسلہ کا عیسیٰ اُس صلیب پر فتح یاب ہوا تھا جو یہودیوں نے کھڑا کیا تھا ایسا ہی محمدی سلسلہ کے عیسیٰ کے لئے یہ مقدر تھا کہ وہ اس صلیب پر فتح یاب ہو جو نصاریٰ نے کھڑا کیا ہے۔ غرض اس اُمت میں بھی پورا مقابلہ دکھلانے کے لئے آخری خلیفہ خلفائے محمدیہ میں سے عیسیٰ کے نام پر آنا ضروری تھا جیسا کہ اوّل سلسلہ میں موسیٰ کے نام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور جس طرح یہ اسلامی سلسلہ مثیل موسیٰ سے شروع ہوا اسی طرح ضروری تھا کہ مثیل عیسیٰ پر اس کا خاتمہ ہوتا تا یہ دونوں سلسلے یعنی سلسلہ موسویہ اور سلسلہ محمدیہ ایک دوسرے سے مطابق ہو جاتے۔ سو ایسا ہی ظہور میں آیا اور اسی حقیقت کے سمجھنے پر تمام نزاعوں کا فیصلہ موقوف ہے۔ جو بات خدا نے چاہی انسان اس کو رد نہیں کر سکتا۔ خدا نے دنیا کو اپنے عجائبات قدرت دکھلانے کے لئے ابراہیم کی اولاد سے دو سلسلے قائم کئے۔ اوّل موسوی سلسلہ جو بنی اسرائیل میں قائم کیا گیا اور ایک ایسے شخص پر ختم کیا گیا جو بنی اسرائیل میں سے نہیں تھا یعنی عیسیٰ مسیح۔ اور عیسیٰ مسیح کے دو گروہ دشمن تھے ایک اندرونی گروہ یعنی وہ یہودی جنہوں نے اس کو صلیب دے کر مارنا چاہا جس کی طرف سورۃ فاتحہ میں یعنی آیت غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ میں اشارہ ہے۔ دوسرے بیرونی دشمن یعنی وہ لوگ جو رومی قوم میں سے متعصب تھے جن کو خیال تھا کہ یہ شخص سلطنت کے مذہب اور اقبال کا دشمن ہے۔ ایسا ہی خدا نے آخری مسیح کے لئے دو دشمن قرار دیئے ایک وہی جن کو اُس نے یہودی کے نام سے موسوم کیا وہ اصل یہودی نہیں تھے۔ جس طرح یہ مسیح جو آسمان پر عیسیٰ بن مریم کہلاتا ہے دراصل عیسیٰ بن مریم نہیں ہے بلکہ اُس کا مثیل ہے۔ دوسرے اس مسیح کے وہ دشمن ہیں جو صلیب پر غلو کرتے ہیں اور صلیب کی فتح چاہتے ہیں مگر اس مسیح کی پہلے مسیح کی طرح آسمان پر بادشاہت ہے زمین کی حکومتوں سے کچھ تعلق نہیں۔ ہاں جس طرح رومی قوم میں آخر دین مسیحی داخل ہو گیا اِس جگہ بھی ایسا ہی ہوگا۔

اب خلاصہ کلام یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی انجیل میں یہ دعویٰ نہیں کہ میں موسیٰ کی مانند بھیجا گیا ہوں اور نہ ایسا دعویٰ وہ کر سکتے تھے کیونکہ وہ موسوی سلسلہ کے تحت میں اس سلسلہ کے آخری خلیفہ تھے لہذا وہ موسیٰ کے مثیل کیونکر ٹھہر سکتے تھے مثیل تو وہ تھا جس نے موسیٰ کی طرح امن بخشا اور سلطنت بخشی اور شریعت دی اور پھر موسیٰ کی طرح چودہ سو برس کا ایک سلسلہ قائم کیا۔ اور آپ موسیٰ بن کر اپنے خلفاء کے اخیر سلسلہ میں موسیٰ کی طرح ایک مسیح کی بشارت دی۔ اور جس طرح موسیٰ نے توریت میں لکھا کہ یہودا کی سلطنت جاتی نہیں رہے گی جب تک مسیح نہ آوے۔ اسی طرح مثیل موسیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے وقت میں سلسلہ محمدیہ کا مسیح آئے گا جبکہ رومی طاقتوں کے ساتھ اسلامی سلطنت مقابلہ نہیں کر سکے گی اور کمزور اور پست اور مغلوب ہو جائے گی اور ایسی سلطنت زمین پر قائم ہوگی جس کے مقابل پر کوئی ہاتھ کھڑا نہیں ہو سکے گا۔ اور مسیح نے تمام انجیل میں کہیں دعویٰ نہیں کیا کہ میں موسیٰ کی مانند ہوں مگر قرآن آواز بلند سے فرماتا ہے کہ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا(المزمل: ۱۶)۔ یعنی ہم نے اِس رسول کو اے عرب کے خونخوار ظالمو! اُسی رسول کی مانند بھیجا ہے جو تم سے پہلے فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہ پیشگوئی جو اس شد و مد سے قرآن شریف میں لکھی گئی ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ اس دعویٰ دروغ کے ساتھ جو اپنے تئیں موسیٰ کا مثیل ٹھہرا لیا کبھی اپنے مخالفوں پر فتحیاب نہ ہو سکتے مگر تاریخ گواہی دے رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ فتح عظیم اپنے مخالفوں پر حاصل ہوئی کہ بجز نبی صادق دوسرے کے لئے ہرگز میسر نہیں آسکتی پس مماثلت اس کا نام ہے جس کی تائید میں دونوں طرف سے تاریخی واقعات اس زور شور سے گواہی دے رہے ہیں کہ وہ دونوں واقعات بدیہی طور پر نظر آتے ہیں۔ اور موسیٰ کے یہ تین کام کہ گروہ مخالف کو جو مضر امن تھا ہلاک کرنا اور پھر اپنے گروہ کو حکومت اور دولت بخشنا اور ان کو شریعت عطا کرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انہی تین کاموں کے ساتھ ایسے مشابہ ثابت ہو گئے ہیں کہ گویا وہ دونوں کام ایک ہی ہیں۔ یہ ایک ایسی مماثلت ہے جس سے ایمان قوی ہوتا ہے اور یقین کرنا پڑتا ہے کہ یہ دونوں کتابیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اِس پیشگوئی سے خدا کے وجود کا پتہ لگتا ہے کہ وہ کیسا قادر اور زبردست خدا ہے کہ کوئی بات اس کے آگے انہونی نہیں۔ اِسی جگہ سے طالب حق کے لئے حق الیقین کے درجہ تک یہ معرفت پہنچ جاتی ہے کہ آنے والا مسیح موعود امت محمدیہ میں سے ہے نہ کہ وہی عیسیٰ نبی اللہ دوبارہ دنیا میں آ کر رسالت محمدیہ کی ختمیت کے مسئلہ کو مشتبہ کر دے گا اور نعوذ باللہ فلمّا توفّیتنی کا

کذب ثابت کرے گا۔ جس شخص کے دل میں حق کی تلاش ہے وہ سمجھ سکتا ہے کہ قرآن شریف کے رو سے کئی انسانوں کا بروزی طور پر آنا مقدر تھا۔ (۱) اوّل مثیل موسیٰ کا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جیسا کہ آیت اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا سے ثابت ہے (۲) دوم خلفاء موسیٰ کے مثیلوں کا جن میں مثیل مسیح بھی داخل ہے جیسا کہ آیت کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ سے ثابت ہے (۳) عام صحابہ کے مثیلوں کا جیسا کہ آیت وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ سے ثابت ہے (۴) چہارم اُن یہودیوں کے مثیلوں کا جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کفر کا فتویٰ لکھا اور ان کو قتل کرنے کے لئے فتوے دیئے اور اُن کے ایذا اور قتل کے لئے سعی کی جیسا کہ آیت غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ میں جو دعا سکھائی گئی ہے اس سے صاف مترشح ہو رہا ہے (۵) پنجم یہودیوں کے بادشاہوں کے اُن مثیلوں کا جو اسلام میں پیدا ہوئے جیسا کہ ان دو بالمقابل آیتوں سے جن کے الفاظ باہم ملتے ہیں سمجھا جاتا ہے اور وہ یہ ہیں :

یہودیوں کے بادشاہوں کی نسبت

قَالَ عَسٰی رَبُّکُمۡ اَنۡ یُّہۡلِکَ عَدُوَّکُمۡ وَیَسۡتَخۡلِفَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرَ کَیۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ

الجزو نمبر ۹ سورۃ الاعراف صفحہ ۲۶۵

اسلام کے بادشاہوں کی نسبت

ثُمَّ جَعَلۡنٰکُمۡ خَلٰٓئِفَ فِی الۡاَرۡضِ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ لِنَنۡظُرَ کَیۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ

الجزو نمبر ۱۱ سورۃ یونس صفحہ ۳۳۵

یہ دو فقرے یعنی فینظر کیف تعملون جو یہودیوں کے بادشاہوں کے حق میں ہے اور اُس کے مقابل پر دوسرا فقرہ یعنی لننظر کیف تعملون جو مسلمانوں کے بادشاہوں کے حق میں ہے صاف بتلا رہے ہیں کہ ان دونوں قوموں کے بادشاہوں کے واقعات بھی باہم متشابہ ہوں گے۔ سو ایسا ہی ظہور میں آیا۔ اور جس طرح یہودی بادشاہوں سے قابل شرم خانہ جنگیاں ظہور

میں آئیں اور اکثر کے چال چلن بھی خراب ہو گئے یہاں تک کہ بعض اُن میں سے بدکاری شراب نوشی خونریزی اور سخت بے رحمی میں ضرب المثل ہو گئے۔ یہی طریق اکثر مسلمانوں کے بادشاہوں نے اختیار کئے۔ ہاں بعض یہودیوں کے نیک اور عادل بادشاہوں کی طرح نیک اور عادل بادشاہ بھی بنے جیسا کہ عمر بن عبد العزیز (۶) چھٹے اُن بادشاہوں کے مثیلوں کا قرآن شریف میں ذکر ہے جنہوں نے یہودیوں کے سلاطین کی بدچلنی کے وقت اُن کے ممالک پر قبضہ کیا جیسا کہ آیت غُلِبَتِ الرُّوۡمُ فِیۡۤ اَدۡنَی الۡاَرۡضِ وَہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ غَلَبِہِمۡ سَیَغۡلِبُوۡنَ سے ظاہر ہوتا ہے۔ حدیثوں سے ثابت ہے کہ روم سے مراد نصاریٰ ہیں۔ اور وہ آخری زمانہ میں پھر اسلامی ممالک کے کچھ حصے دبا لیں گے۔ اور اسلامی بادشاہوں کے ممالک اُن کی بدچلنیوں کے وقت میں اُسی طرح نصاریٰ کے قبضے میں آجائیں گے جیسا کہ اسرائیلی بادشاہوں کی بدچلنیوں کے وقت رومی سلطنت نے ان کا ملک دبا لیا تھا پس واضح ہو کہ یہ پیشگوئی ہمارے اس زمانہ میں پوری ہوگئی۔ مثلاً روس نے جو کچھ رومی سلطنت کو خدا کی ازلی مشیت سے نقصان پہنچایا وہ پوشیدہ نہیں۔ اور اس آیت میں جبکہ دوسرے طور پر معنے کئے جائیں غالب ہونے کے وقت میں روم سے مراد قیصر روم کا خاندان نہیں کیونکہ وہ خاندان اسلام کے ہاتھ سے تباہ ہو چکا بلکہ اس جگہ بروزی طور پر روم سے روس اور دوسری عیسائی سلطنتیں مراد ہیں جو عیسائی مذہب رکھتی ہیں۔ یہ آیت اول اس موقعہ پر نازل ہوئی تھی جبکہ کسریٰ شاہ ایران نے بعض حدود پر لڑائی کر کے قیصر شاہ روم کو مغلوب کر دیا تھا۔ پھر جب اس پیشگوئی کے مطابق بضع سنین میں قیصر روم شاہ ایران پر غالب آگیا تو پھر یہ آیت نازل ہوئی کہ غُلِبَتِ الرُّوۡمُ فِیۡۤ اَدۡنَی الۡاَرۡضِ۔ الخ جس کا مطلب یہ تھا کہ رومی سلطنت اب تو غالب آگئی مگر پھر بضع سنین میں اسلام کے ہاتھ سے مغلوب ہوں گے مگر باوجود اس کے کہ دوسری قراءت میں غَلَبَتْ کا صیغہ ماضی معلوم تھا اور سَیُغْلَبُوْنَ کا صیغہ مضارع مجہول تھا مگر پھر بھی پہلی قراءت جس میں غُلِبَتْ کا صیغہ ماضی مجہول تھا اور سَیَغْلِبُوْنَ مضارع معلوم تھا منسوخ التلاوت نہیں ہوئی بلکہ اسی طرح جبرائیل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن شریف سناتے رہے جس سے اس سنت اللہ کے موافق جو قرآن شریف کے نزول میں ہے یہ ثابت ہوا کہ ایک مرتبہ پھر مقدر ہے کہ عیسائی سلطنت روم کے بعض حدود کو پھر اپنے قبضہ میں کرلے گی۔ اسی بنا پر احادیث میں آیا ہے کہ مسیح کے وقت میں سب سے زیادہ دنیا میں روم ہوں گے یعنی نصاریٰ۔

اس تحریر سے ہماری غرض یہ ہے کہ قرآن اور احادیث میں روم کا لفظ بھی بروزی طور پر آیا ہے یعنی روم سے اصل روم مراد نہیں ہیں بلکہ نصاریٰ مراد ہیں۔ پس اس جگہ چھ بروز ہیں جن کا قرآن شریف میں ذکر ہے۔ اب عقلمند سوچ سکتا ہے کہ جبکہ سلسلہ محمدیہ میں موسیٰ بھی بروزی طور پر نام رکھا گیا ہے اور محمد مہدی بھی بروزی طور پر اور مسلمانوں کا نام یہودی بھی بروزی طور پر اور عیسائی سلطنت کے لئے روم کا نام بھی بروزی طور پر تو پھر ان تمام بروزوں میں مسیح موعود کا حقیقی طور پر عیسیٰ بن مریم ہی ہونا سراسر غیر موزوں ہے اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں بار بار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر اسی لئے زور دیا ہے کہ تا آئندہ زمانہ میں ایسے لوگوں پر حجت ہو جائے جو ناحق اس دھوکہ میں مبتلا ہونے والے تھے کہ گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں اور مسیح کی حیات پر کوئی دلیل ان کے پاس نہیں اور جو دلائل پیش کرتی ہیں اُن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُن پر سخت درجہ کی غباوت غالب آگئی ہے مثلاً وہ کہتے ہیں کہ آیت وَاِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ حضرت مسیح کی زندگی پر دلالت کرتی ہے اور اُن کے مرنے سے پہلے تمام اہل کتاب اُن پر ایمان لے آئیں گے مگر افسوس کہ وہ اپنے خود تراشیدہ معنوں سے قرآن میں اختلاف ڈالنا چاہتے ہیں جس حالت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاَلۡقَیۡنَا بَیۡنَہُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَالۡبَغۡضَآءَ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ(المائدۃ: ۶۵) جس کے یہ معنے ہیں کہ یہود اور نصاریٰ میں قیامت تک بغض اور دشمنی رہے گی تو اب بتلاؤ کہ جب تمام یہودی قیامت سے پہلے ہی حضرت مسیح پر ایمان لے آئیں گے تو پھر بغض اور دشمنی قیامت تک کون لوگ کریں گے۔ جب یہودی نہ رہے اور سب ایمان لے آئے تو پھر بغض اور دشمنی کے لئے کون سا موقعہ اور محل رہا۔ اور ایسا ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاَغۡرَیۡنَا بَیۡنَہُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَالۡبَغۡضَآءَ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ(المائدۃ: ۱۵)۔ اس کے بھی یہی معنے ہیں جو اوپر گذر چکے اور وہی اعتراض ہے جو اوپر بیان ہو چکا۔ اور ایسا ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ(ال عمران: ۵۶)۔ اس جگہ کفروا سے مراد بھی یہود ہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام محض یہودیوں کے لئے آئے تھے اور اس آیت میں وعدہ ہے کہ حضرت مسیح کو ماننے والے یہود پر قیامت تک غالب رہیں گے۔ اب بتلاؤ کہ جب ان معنوں کے رو سے جو ہمارے مخالف آیت وَاِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ(النساء: ۱۶۰) کے کرتے ہیں تمام یہودی حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آئیں گے تو پھر یہ آیتیں کیونکر صحیح ٹھہر سکتی ہیں کہ یہود اور نصاریٰ کی قیامت تک باہم دشمنی رہے گی اور نیز یہ کہ قیامت تک یہود ایسے فرقوں کے مغلوب رہیں گے جو حضرت مسیح کو صادق سمجھتے ہوں گے۔ ایسا ہی اگر مان لیا جاوے کہ حضرت مسیح زندہ جسم عنصری آسمان پر تشریف لے گئے تو پھر آیت فلمّا توفیتنی کیونکر صحیح ٹھہر سکتی ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ حضرت مسیح کی وفات کے بعد عیسائی بگڑ گئے جب تک کہ وہ زندہ تھے عیسائی نہیں بگڑے۔ اور پھر اس آیت کے کیا معنے ہو سکتے ہیں کہ فِیۡہَا تَحۡیَوۡنَ وَفِیۡہَا تَمُوۡتُوۡنَ(الاعراف: ۲۶) کہ زمین پر ہی تم زندگی بسر کرو گے اور زمین پر ہی مرو گے۔ کیا وہ شخص جو اٹھارہ سو برس سے آسمان پر بقول مخالفین زندگی بسر کر رہا ہے وہ انسانوں کی قسم میں سے نہیں ہے؟ اگر مسیح انسان ہے تو نعوذ باللہ مسیح کے اس مدت دراز تک آسمان پر ٹھہرنے سے یہ آیت جھوٹی ٹھہرتی ہے اور اگر ہمارے مخالفوں کے نزدیک انسان نہیں ہے بلکہ خدا ہے تو ایسے عقیدہ سے وہ خود مسلمان نہیں ٹھہر سکتے۔ پھر یہ آیت قرآن شریف کی کہ اَمۡوَاتٌ غَیۡرُ اَحۡیَآءٍ(النحل: ۲۲) جس کے یہ معنے ہیں کہ جن لوگوں کی خدا کے سوا تم عبادت کرتے ہو وہ سب مر چکے ہیں اُن میں سے کوئی بھی زندہ نہیں۔ صاف بتلا رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ اور پھر یہ آیت کہ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ(ال عمران: ۱۴۵) بلند آواز سے شہادت دے رہی ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو چکے ہیں کیونکہ یہ آیت وہ عظیم الشان آیت ہے جس پر ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ رضی اللہ عنہم نے اجماع کر کے اقرار کیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سب نبی فوت ہو چکے ہیں جیسا کہ ہم پہلے اس سے اسی کتاب میں مفصّل بیان کر چکے ہیں۔ پھر جب ہم احادیث کی طرف آتے ہیں تو ان سے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہی ثابت ہوتی ہے۔ مثلاً حدیث معراج کو دیکھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات میں حضرت مسیح کو فوت شدہ انبیاء میں دیکھا ہے۔ اگر وہ آسمان پر زندہ ہوتے تو فوت شدہ روحوں میں ہرگز دیکھے نہ جاتے۔ اگر کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی زندہ تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس مشاہدہ کے وقت اس عالم میں نہیں تھے بلکہ جس طرح سویا ہوا آدمی دوسرے عالم میں چلا جاتا ہے اور اس حالت میں بسا اوقات وفات یافتہ لوگوں سے بھی ملاقات کرتا ہے۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کشفی حالت میں اس دنیا سے وفات یافتہ کے حکم میں تھے۔ ایسا ہی حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے ایک سو بیس برس عمر پائی ہے لیکن ہر ایک کو معلوم ہے کہ واقعہ صلیب اُس وقت حضرت عیسیٰ کو پیش آیا تھا جبکہ آپ کی عمر صرف تینتیس برس اور چھ مہینے کی تھی اور اگر یہ کہا جائے کہ باقی ماندہ عمر بعد نزول پوری کر لیں گے تو یہ دعویٰ حدیث کے الفاظ سے مخالف ہے ماسوا اس کے حدیث سے صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود اپنے دعوے کے بعد چالیس برس دنیا میں رہے گا تو اس طرح پر تینتیس برس ملانے سے کل تہتّر برس ہوئے نہ ایک سو بیں برس حالانکہ حدیث میں یہ ہے کہ ایک سو بیس برس اُن کی عمر ہوئی۔

اور اگر یہ کہو کہ ہماری طرح عیسائی بھی مسیح کی آمد ثانی کے منتظر ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ ابھی ہم بیان کر چکے ہیں مسیح نے خود اپنی آمد ثانی کو الیاس نبی کی آمد ثانی سے مشابہت دی ہے۔ جیسا کہ انجیل متی ۱۷ باب آیت ۱۰ و ۱۱ و ۱۲ سے یہی ثابت ہوتا ہے۔ ماسوا اس کے عیسائیوں میں سے بعض فرقے خود اس بات کے قائل ہیں کہ مسیح کی آمد ثانی الیاس نبی کی طرح بروزی طور پر ہے۔ چنانچہ نیولائف آف جیزس جلد اوّل صفحہ ۴۱۰ مصنفہ ڈی. ایف سٹراس میں یہ عبارت ہے :

(جرمن کے بعض عیسائی محققوں کی رائے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا)

Crucifiction they maintain, even if the feet as well as the hands are supposed to have been nailed occasions but very little loss of blood. It kills therefore only very slowly

by convulsions produced by the straining of the limbs or by gradual starvation. So if Jesus supposed indeed to be dead, had been taken down from the cross after about six hours, there is every probability of this supposed death having been only a death-like swoon from which after the descent from the cross Jesus recovered again in the cool cavern covered as he was with healing ointments and strongly scented spices. On this head it is usual to appeal to an account in Josephus, who says that on one occasion, when he was returning from a military recognisance, on which he had been sent, he found several Jewish prisoners who had been crucified. He saw among them three acquaintances whom he begged Titus to give to him. They were immediately taken down and carefully attended to, one was really saved, but two others could not be recovered.

(A New Life of Jesus by D. F. Strauss, Vol I, Page 410)

ترجمہ: ”وہ یہ دلائل دیتے ہیں کہ اگرچہ صلیب کے وقت ہاتھ اور پاؤں دونوں پر میخیں ماری جائیں پھر بھی بہت تھوڑا خون انسان کے بدن سے نکلتا ہے۔ اس واسطے صلیب پر لوگ رفتہ رفتہ اعضاء پر زور پڑنے کے سبب تشنج میں گرفتار ہو کر مر جاتے ہیں یا بھوک سے مر جاتے ہیں۔ پس اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ قریب ۶ گھنٹہ صلیب پر رہنے کے بعد یسوع جب اتارا گیا تو وہ مرا ہوا تھا۔ تب بھی نہایت ہی اغلب بات یہ ہے کہ وہ صرف ایک موت کی سی بیہوشی تھی اور جب شفا دینے والی مرہمیں اور نہایت ہی خوشبو دار دوائیاں مل کر اُسے غار کی ٹھنڈی جگہ میں رکھا گیا تو اُس کی بیہوشی دور ہوئی۔ اس دعوے کی دلیل میں عموماً یوسفس کا واقعہ پیش کیا جاتا ہے جہاں یوسفس نے لکھا ہے کہ میں ایک دفعہ ایک فوجی کام سے واپس آ رہا تھا تو راستہ میں میں نے دیکھا کہ کئی ایک یہودی قیدی صلیب پر لٹکے ہوئے ہیں۔ ان میں سے میں نے پہچانا کہ تین میرے واقف تھے۔ پس میں نے ٹیٹس (حاکم وقت) سے اُن کے اتار لینے کی اجازت حاصل کی اور اُن کو فوراً اتار کر اُن کی خبر گیری کی تو ایک بالآخر تندرست ہو گیا پر باقی دو مر گئے۔“

اور کتاب ”ماڈرن ڈاؤٹ اینڈ کرسچن بیلیف“ کے صفحہ ۳۴۷,۴۵۷,۴۵۵ میں یہ عبارت ہے :

The former of these hypotheses that of apparent death, was employed by the old Rationalists, and more recently by Schleiermacher in his life of Christ ... Schleiermacher's supposition, that Jesus afterwards lived for a time with the disciples, and then retired into entire solitude for his second death ...

ترجمہ: ”شلیر میز اور نیز قدیم محققین کا یہ مذہب تھا کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا بلکہ ایک ظاہراً موت کی سی حالت ہو گئی تھی اور قبر سے نکلنے کے بعد

کچھ مدت تک اپنے حواریوں کے ساتھ پھرتا رہا اور پھر دوسری یعنی اصلی موت کے واسطے کسی علیحدگی کے مقام کی طرف روانہ ہو گیا۔“

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب کی موت سے بچنے کے متعلق ایک پیشگوئی یسعیا باب ۵۳ میں اس طرح پر ہے :

ואת-דורדמיישוחחכינגזר
و ایتدوردمییسوحیحکینجزار
اور اس کے بقائے عمر کی جو بات ہے سو کون سفر کر کے جائے گا کیونکہ وہ
מארץחיים:ויתןאתרשעים
مے ایریضحییمویتینایترشاعیم
علیحدہ کیا گیا ہےقبائل کی زمین سےاور کی گئیشریروں کے درمیان
ברוואתעשירבמתיו
قبرووایتعاسیربمو تایو
اس کی قبرپر وہ دولتمندوںکے ساتھ ہوااپنے مرنے میں
אם-תשיםאשםנפשו
امتاسیمآشامنفشو
جب کہتو گناہ کے بدلے میں اس کی جان کو دے گا (تو وہ بچ جائے گا)

יראהזרעיריךימים
یرایہزیرعیے اریکیا میم
اور صاحب اولاد ہوگا۔اس کی عمر لمبی کی جائے گی
מעמנפשויראהישבע
مے عملنفشویرایہیسباع
وہ اپنی جان کی نہایت سخت تکلیف دیکھے گا (یعنی صلیب پر بیہوشی) پر وہ پوری عمر پائے گا۔

اب مختصر طور پر ہم اُن دلائل کو لکھتے ہیں جن کا ہم نے اس کتاب اور اپنی دوسری کتابوں میں اپنے دعوے مسیح موعود کے متعلق ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہیں:

(۱) اوّل اس دلیل سے میرا مسیح موعود ہونا ثابت ہوتا ہے کہ جیسا کہ ہم اپنی کتابوں میں ثابت کر چکے ہیں یاجوج ماجوج کے خروج اور اُن کی فتح اور اقبال کا زمانہ آ گیا ہے اور قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا کے تمام وعدے جن میں سے مسیح موعود کا دنیا میں ظاہر ہونا ہے یاجوج ماجوج کے ظہور اور اقبال کے بعد ظاہر ہو جائیں گے جیسا کہ یہ آیت مندرجہ ذیل اسی پر صریح دلالت کرتی ہے۔ وَحَرٰمٌ عَلٰی قَرۡیَۃٍاَہْلَکْنٰہَاۤاَنَّہُمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ حَتّٰۤی اِذَا فُتِحَتۡ یَاۡجُوۡجُ وَمَاۡجُوۡجُ وَہُمۡ مِّنۡ کُلِّ حَدَبٍ یَّنۡسِلُوۡنَ وَاقۡتَرَبَ الۡوَعۡدُ الۡحَقُّ یعنی جن لوگوں کو ہم نے ہلاک کیا ہے اُن کے لئے ہم نے حرام کر دیا ہے کہ دوبارہ دنیا میں آویں یعنی بروزی طور پر بھی وہ دنیا میں نہیں آ سکتے جب تک وہ دن نہ آویں کہ قوم یاجوج ماجوج زمین پر غالب آ جائے اور ہر ایک طور سے ان کو غلبہ حاصل ہو جائے کیونکہ انسان کے ارضی قویٰ کی کامل ترقیات یاجوج ماجوج پر

ختم ہوتی ہیں اور اس طرح پر انسان کے ارضی قویٰ کا نشو و نما جو ابتدا سے ہوتا چلا آیا ہے وہ محض یاجوج ماجوج کے وجود سے کمال کو پہنچتا ہے لہٰذا یاجوج ماجوج کے ظہور کا زمانہ رَجعتِ بروزی کے زمانہ پر دلیل قاطع ہے کیونکہ یاجوج ماجوج کا ظہور استدارت زمانہ پر دلیل ہے اور استدارت زمانہ رجعت بروزی کو چاہتا ہے۔ سو مسیح عیسیٰ بن مریم کی نسبت رجعت کا جو عقیدہ ہے اُس عقیدہ کے موافق عیسیٰ مسیح کی آمد ثانی کا یہی زمانہ ہے۔ سو وہ آمد ثانی بروزی طور پر ظہور میں آگئی (۲) دوسری دلیل جو میرے مسیح موعود ہونے کی نسبت ہے وہ یہ ہے کہ نہ فقط قرآن شریف ہی مسیح موعود کے ظہور کا یہ زمانہ ٹھہراتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی پہلی کتابیں بھی مسیح موعود کے ظہور کا یہی زمانہ مقرر کرتی ہیں۔ چنانچہ دان ایل کی کتاب میں صاف اس بات کی تصریح ہے کہ اسی زمانہ میں مسیح موعود ظاہر ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ نصاریٰ کے کل فرقے جو دنیا میں موجود ہیں انہی دنوں میں مسیح کے ظہور کا وقت بتلاتے ہیں۔ اور اس کے نزول کی انتظار کر رہے ہیں۔ بلکہ بعض کے نزدیک اس تاریخ پر جب مسیح دوبارہ آنا چاہیے تھا۔ دس سال کے قریب اور بعض کے نزدیک بیس سال کے قریب زیادہ گذر بھی گئے۔ اس لئے وہ لوگ پیشگوئی کے غلط نکلنے کی وجہ سے بڑی حیرت میں پڑے آخر انہوں نے اپنی کم فہمی کی وجہ سے اس طرف تو نظر نہیں کی کہ مسیح موعود پیدا ہو گیا جس کو انہوں نے نہیں پہچانا لیکن تاویل کے طور پر یہ بات بنائی کہ جو کام سرگرمی سے اب ان دنوں میں کلیسیا کر رہی ہے یعنی تثلیث کی طرف دعوت اور کفارہ مسیح کی اشاعت یہی مسیح کی روحانی طور پر آمد ثانی ہے گویا مسیح نے ہی اُن کے دلوں پر نازل ہو کر اُن کو یہ جوش دیا کہ اُس کی خدائی کے مسئلہ کو دنیا میں پھیلا دیں۔ اگر تم یورپ کا سیر کرو تو اس خیال کے ہزار ہا آدمی اُن میں پاؤ گے جنہوں نے زمانہ نزول مسیح کو گذرتا ہوا دیکھ کر یہ اعتقاد دلوں میں گھڑ لیا ہے لیکن مسلمان پیشگوئی کے ان معنوں کو پسند نہیں کرتے اور نہ ایسی تاویلوں سے اپنے دلوں کو تسلی دینا چاہتے ہیں حالانکہ اُن پر بھی یہی مشکلات پڑ گئی ہیں کیونکہ بہت سے اہل کشف مسلمانوں میں سے جن کا شمار ہزار سے بھی کچھ زیادہ ہوگا اپنے مکاشفات کے ذریعہ سے اور نیز خدا تعالیٰ کی کلام کے استنباط سے بالاتفاق یہ کہہ گئے ہیں کہ مسیح موعود کا ظہور چودھویں صدی کے سر سے ہرگز ہرگز تجاوز نہ کرے گا اور ممکن نہیں کہ ایک گروہ کثیر اہل کشف کا کہ جو تمام اولین اور آخرین کا مجمع ہے وہ سب جھوٹے ہوں اور ان کے تمام استنباط بھی جھوٹے ہوں اس لئے اگر مسلمان اس وقت مجھے قبول نہ کریں جو قرآن اور حدیث اور پہلی کتابوں کے رو سے اور تمام اہل کشف کی شہادت کے رو سے چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوا ہوں تو آئندہ ان کی ایمانی حالت کے لئے سخت اندیشہ ہے کیونکہ میرے انکار سے اب اُن کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ جس قدر قرآن شریف سے مسیح موعود کے لئے علماء کبار نے استنباط کئے تھے وہ سب جھوٹے تھے اور جس قدر اہل کشف نے زمانہ مسیح موعود کے لئے خبریں دی تھیں وہ خبریں بھی سب جھوٹی تھیں اور جس قدر آسمانی اور زمینی نشان حدیث کے مطابق ظہور میں آئے جیسے رمضان میں عین تاریخوں کے مطابق خسوف کسوف ہو جانا۔ زمین پر ریل کی سواری کا جاری ہونا اور ذوالسنین ستارہ کا نکلنا اور آفتاب کا تاریک ہو جانا یہ سب نعوذ باللہ جھوٹے تھے۔ ایسے خیال کا نتیجہ آخر یہ ہوگا کہ اس پیشگوئی کو ہی ایک جھوٹی پیشگوئی قرار دے دیں گے اور نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دروغ گو سمجھ لیں گے اور اس طرح پر ایک وقت آتا ہے کہ ایک دفعہ لاکھوں آدمی دین اسلام سے مرتد ہو جائیں گے۔ اب صدی پر بھی سترہ برس گذر گئے۔ ایسی ضرورت کے وقت میں بقول ان کے عیسائیت کے مفاسد دور کرنے کے لئے جو وہی عظیم الشان مفاسد تھے کوئی مجدد خدا کی طرف سے مبعوث نہ ہوا اور یقینی طور پر ماننا پڑا کہ اب کم سے کم اسّی برس اور اسلام تنزل کی حالت میں رہے گا اور جبکہ اسلام میں چند سال میں یہ تغیر پیدا کیا کہ ہزار ہا لوگ مرتد ہو گئے تو کیا اسّی برس تک اسلام کا کچھ وجود باقی رہے گا اور اسلام کے نابود ہونے کے بعد اگر کوئی مسیح آسمان سے بھی اُترا تو کیا فائدہ دے گا بلکہ وہی مصداق ہوگا کہ „پس زانکہ من نمانم بچہ کار خواہی آمد“ اور آخر ایسی باطل پیشگوئیوں کی نسبت بداعتقادی پھیل کر ایک عام ارتداد اور الحاد کا بازار گرم ہو جائے گا اور نعوذ باللہ اسلام کا خاتمہ ہو گا خدا تعالیٰ ہمارے مخالف علماء کے حال پر رحم فرماوے کہ وہ جو کارروائی کر رہے ہیں وہ دین کے لئے اچھی نہیں بلکہ نہایت خطرناک ہے۔ وہ زمانہ ان کو بھول گیا جب وہ منبروں پر چڑھ چڑھ کر تیرھویں صدی کی مذمت کرتے تھے کہ اس صدی میں اسلام کو سخت نقصان پہنچا ہے اور آیت فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا(الم نشرح: ۶،۷) پڑھ کر اس سے استدلال کیا کرتے تھے کہ اس عُسر کے مقابل پر چودھویں صدی یُسر کی آئے گی لیکن جب انتظار کرتے کرتے چودھویں صدی آگئی اور عین صدی کے سر پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک شخص بدعوائے مسیح موعود پیدا ہو گیا اور نشان ظاہر ہوئے اور زمین و آسمان نے گواہی دی تب اوّل المنکرین یہی علماء ہو گئے مگر ضروری تھا کہ ایسا ہوتا کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بھی پہلے منکر یہودیوں کے مولوی تھے جنہوں نے اُن کے لئے دو فتوے طیار کئے تھے ایک کفر کا فتویٰ اور دوسرے قتل کا فتویٰ۔ پس اگر یہ لوگ بھی کفر اور قتل کا فتویٰ نہ دیتے تو غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ کی دعا جو سورۃ فاتحہ میں سکھائی گئی ہے جو پیشگوئی کے رنگ میں تھی کیونکر پوری ہوتی کیونکہ سورہ فاتحہ میں جو غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ کا فقرہ ہے اس سے مراد جیسا کہ فتح الباری اور در منثور وغیرہ میں لکھا ہے یہودی ہیں۔ اور یہودیوں کا بڑا واقعہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے قریب تر زمانہ میں وقوع میں آیا وہ یہی واقعہ تھا جو انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کافر ٹھہرایا اور اس کو ملعون اور واجب القتل قرار دیا اور اس کی نسبت سخت درجہ پر غضب اور غصہ میں بھر گئے اس لئے وہ اپنے ہی غضب کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی نظر میں مغضوب علیهم ٹھہرائے گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعہ سے چھ سو برس بعد میں پیدا ہوئے۔ اب ظاہر ہے کہ آپ کی اُمت کو جو غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ کی دعا سورہ فاتحہ میں سکھلائی گئی اور تاکید کی گئی کہ پانچ وقت کی نماز اور تہجد اور اشراق اور دونوں عیدوں میں یہی دعا پڑھا کریں اس میں کیا بھید تھا جس حالت میں ان یہودیوں کا زمانہ اسلام کے زمانہ سے پہلے مدت سے منقطع ہو چکا تھا تو یہ دعا مسلمانوں کو کیوں سکھلائی گئی اور کیوں اس دعا میں یہ تعلیم دی گئی کہ مسلمان لوگ ہمیشہ خدا تعالیٰ سے پنج وقت پناہ مانگتے رہیں جو یہودیوں کا وہ فرقہ نہ بن جائیں جو مغضوب علیهم ہیں پس اس دعا سے صاف طور پر سمجھ آتا ہے کہ اس اُمت میں بھی ایک مسیح موعود پیدا ہونے والا ہے اور ایک فرقہ مسلمانوں کے علماء کا اس کی تکفیر کرے گا اور اُس کے قتل کی نسبت فتویٰ دے گا۔ لہذا سورہ فاتحہ میں غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ کی دعا کو تعلیم کر کے سب مسلمانوں کو ڈرایا گیا کہ وہ خدا تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں کہ ان یہودیوں کی مثل نہ بن جائیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ بن مریم پر کفر کا فتویٰ لکھا تھا اور اُن پر قتل کا فتویٰ دیا تھا اور نیز ان کے پرائیویٹ اُمور میں دخل دے کر اُن کی ماں پر افترا کیا تھا اور خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں میں یہ سنّت اور عادت مستمرہ ہے کہ جب وہ ایک گروہ کو کسی کام سے منع کرتا ہے یا اس کام سے بچنے کے لئے دعا سکھلاتا ہے تو اس کا اس سے مطلب یہ ہوتا ہے کہ بعض اُن میں سے ضرور اس جرم کا ارتکاب کریں گے لہذا اس اصول کے رو سے جو خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں میں پایا جاتا ہے صاف سمجھ آتا ہے جو غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ کی دعا سکھلانے سے یہ مطلب تھا کہ ایک فرقہ مسلمانوں میں سے پورے طور پر یہودیوں کی پیروی کرے گا اور خدا کے مسیح کی تکفیر کر کے اور اس کی نسبت قتل کا فتویٰ لکھ کر اللہ تعالیٰ کو غضب میں لائے گا اور یہودیوں کی طرح مغضوب علیھم کا خطاب پائے گا۔ یہ ایسی صاف پیشگوئی ہے کہ جب تک انسان عمداً بے ایمانی پر کمر بستہ نہ ہو اس سے انکار نہیں کر سکتا اور صرف قرآن نے ہی ایسے لوگوں کو یہودی نہیں بنایا بلکہ حدیث بھی یہی خطاب اُن کو دے رہی ہے اور صاف بتلا رہی ہے کہ یہودیوں کی طرح اس اُمت کے علماء بھی مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگائیں گے اور مسیح موعود کے سخت دشمن اس زمانہ کے مولوی ہوں گے کیونکہ اس سے ان کی عالمانہ عزتیں جاتی رہیں گی۔ اور لوگوں کے رجوع میں فرق آجائے گا اور یہ حدیثیں اسلام میں بہت مشہور ہیں یہاں تک کہ فتوحات مکی میں بھی اس کا ذکر ہے کہ مسیح موعود جب نازل ہو گا تو اس کی یہی عزت کی جائے گی کہ اس کو دائرہ اسلام سے خارج کیا جائے گا اور ایک مولوی صاحب اٹھیں گے اور کہیں گے اِنّ هٰذا الرجل غیّر دیننا یعنی یہ شخص کیسا مسیح موعود ہے اس شخص نے تو ہمارے دین کو بگاڑ دیا یعنی یہ ہماری حدیثوں کے اعتقاد کو نہیں مانتا اور ہمارے پرانے عقیدوں کی مخالفت کرتا ہے اور بعض حدیثوں میں یہ بھی آیا ہے کہ اس اُمت کے بعض علماء یہودیوں کی سخت پیروی کریں گے یہاں تک کہ اگر کسی یہودی مولوی نے اپنی ماں سے زنا کیا ہے تو وہ بھی اپنی ماں سے زنا کریں گے اور اگر کوئی یہودی فقیہ سوسمار کے سوراخ کے اندر گھسا ہے تو وہ بھی گھسیں گے یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ انجیل اور قرآن شریف میں جہاں یہودیوں کا کچھ خراب حال بیان کیا ہے وہاں دنیا داروں اور عوام کا تذکرہ نہیں بلکہ ان کے مولوی اور فقیہ اور سردار کاہن مراد ہیں جن کے ہاتھ میں کفر کے

فتوے ہوتے ہیں اور جن کے وعظوں پر عوام افروختہ ہو جاتے ہیں۔ اسی واسطے قرآن شریف میں ایسے یہودیوں کی اس گدھے سے مثال دی ہے جو کتابوں سے لدا ہوا ہو۔ ظاہر ہے کہ عوام کو کتابوں سے کچھ سرور کار نہیں۔ کتابیں تو مولوی لوگ رکھا کرتے ہیں۔ لہذا یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جہاں انجیل اور قرآن اور حدیث میں یہودیوں کا ذکر ہے وہاں ان کے مولوی اور علماء مراد ہیں۔ اور اسی طرح غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ کے لفظ سے عام مسلمان مراد نہیں ہیں بلکہ اُن کے مولوی مراد ہیں۔

اور پھر ہم اصل ذکر کی طرف رجوع کر کے کہتے ہیں کہ چونکہ عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں میں بکثرت یہ اشارات پائے جاتے ہیں کہ اسی ہجرت کی چودھویں صدی میں مسیح موعود کا ظہور ہوگا۔ اسی لئے بہتوں نے عیسائیوں میں سے حال کے زمانہ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے یہی دن ہیں چنانچہ اخبار فری تھنکر لنڈن ۷ اکتوبر ۱۹۰۰ء میں یہ خبر لکھی ہے کہ عام انتخاب ممبران پارلیمنٹ کے وقت ایک سینٹ سے جو مقام اسلنگٹن کا باشندہ تھا جب رائے لینے والے نے دریافت کیا تو اس نے انتخاب کے بارے میں کچھ رائے نہ دی اور اپنی رائے نہ دینے کی سنجیدگی سے یہ وجہ بیان کی کہ ”اس سال کے ختم ہونے سے پہلے قیامت کا دن یعنی مسیح کی دوبارہ آمد کا دن آنے والا ہے اس لئے یہ تمام باتیں بے سود ہیں۔“ ایسا ہی کتاب ہز گلوریس اپیئر نگ مطبوعہ لنڈن ساری کتاب اور رسالہ کرائسٹس سیکنڈ کمنگ مطبوعہ لنڈن صفحہ نمبر ۱۵ اور رسالہ دی کمنگ آف دی لارڈ مطبوعہ لنڈن صفحہ نمبر ۱ میں مسیح موعود کی آمد ثانی کی نسبت یہ عبارتیں ہیں :

اب عنقریب دنیا میں ایک نہایت عظیم الشان واقعہ ہونے والا ہے۔ چاروں طرف سے اس کے واسطے نشان جمع ہو رہے ہیں۔ ایسے نشان

We stand on the eve of one of the greatest events the world has ever witnessed. Signs are multiplying on every side of us, compared with

کہ زمانہ نے اس قسم کے پہلے کبھی نہیں دیکھے۔ نہ دنیا کی تواریخ میں اس کی مثال ملتی ہے اور نہ کلیسیا کی تواریخ میں۔ اس واقعہ عظیمہ کے وقوع پر دنیا اور مذہب ہر دو میں ایک تغیر عظیم پیدا ہوگا۔ وہ واقعہ ہمارے خداوند یسوع مسیح کے دوبارہ آنے کا ہے۔ قوت اور جلال کا آنا۔

which there has been no parallel, either in the history of the church or the world. One of the greatest changes to both hangs upon this great event. It is the coming of the Lord Jesus Christ the second time in power and glory.

کیا کوئی عقل والا اس بات میں شک کر سکتا ہے کہ یہ نشانات بلاریب یقیناً اس بات کی خبر دیتے ہیں کہ اب انجام آیا کھڑا ہے۔

Can anyone reasonably doubt that these signs are not a sure and certain warning that the end draweth on apace.

نشانات پورے ہو گئے ہیں۔ وہ پشت آگئی ہے۔ مسیح کا آنا بہت ہی قریب ہے۔ کیسا ہی شان و شوکت اور جلال کا وقت آتا ہے۔

The signs are fulfilled, that generation has come. Christ's coming is at hand, glorious anticipation! Glorious future!

کسی قدر یہ خیال بھی بعض لوگوں کے درمیان پھیلا ہوا ہے کہ جو لوگ مسیح کے جلد آنے کی تعلیم دیتے ہیں وہ لوگوں کو ڈراتے ہیں۔ اگر یہ صحیح ہے تو خود بڑا اُستاد یسوع مسیح اس تعلیم

The impression prevails to some extent that he who teaches that Christ is soon coming is acting the role of alarmist.

کے دینے میں سب سے اوّل نمبر پر ہے اور ہم اس بات کو اوپر ثابت کر چکے ہیں۔

If so, we have seen that the great Teacher has placed himself at the head of the class.

ان عبارات مذکورہ بالا سے ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ عیسائیوں کو حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کا اس زمانہ میں کس قدر انتظار ہے۔ اور وہ اقرار کرتے ہیں کہ یہ وقت وہی وقت ہے جس میں حضرت مسیح کو آسمان پر سے نازل ہونا چاہیے مگر ساتھ اس کے اُن میں سے اکثر کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ وہ در حقیقت فوت ہو گئے ہیں آسمان پر نہیں گئے اس لئے جو لوگ اُن میں سے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ آسمان پر نہیں گئے اور نیز انجیل کے رو سے یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ اسی زمانہ یعنی ہجرت کی چودھویں صدی کے سر پر ان کا آنا ضروری ہے بلا شبہ اُن کو ماننا پڑتا ہے کہ مسیح کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی الیاس نبی کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی کے مطابق ظہور میں آئے گی اور اُن میں سے بعض کا یہ قول بھی ہے کہ آج کل عیسائی کلیسیا جو کام کر رہی ہے یہی مسیح کی آمد ثانی ہے یہ تاویل آسمانی کتابوں کے موافق نہیں ہے اور نہ کسی نبی نے کبھی ایسی تاویل کی ہے۔ تعجب کہ جس حالت میں وہ اپنی انجیلوں کے کئی مقامات میں پڑھتے ہیں کہ ایلیا نبی کا دوبارہ آنا اس طرح ہوا تھا کہ یوحنا نبی اُن کے رنگ اور خو پر آگیا تھا تو کیوں وہ مسیح کے دوبارہ آنے کی تاویل کرنے کے وقت کلیسیا کی سرگرمی کو مسیح کی آمد کا قائم مقام سمجھ لیتے ہیں کیا مسیح نے ایلیا نبی کے دوبارہ آمد کی یہی تاویل کی ہے؟ پس جس پہلو کی تاویل حضرت مسیح کے منہ سے نکلی تھی کیوں اس کو تلاش نہیں کرتے؟ اور ناحق سرگردانی میں پڑتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب ملاکی نبی نے ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی کی تھی۔ مسیح اس کی یہ بھی تاویل کر سکتا تھا کہ جس سرگرمی سے یہودیوں کے فقیہ اور فریسی کام کر رہے ہیں یہی ایلیا کا دوبارہ آنا ہے۔ اس تاویل سے یہودی بھی خوش ہو جاتے اور شائد مسیح کو قبول کر لیتے لیکن انہوں نے اس تاویل کو جو کلیسیا کی تاویل

سے بہت مشابہ تھی پیش نہ کیا ور یوحنا نبی کو جو خود یہودیوں کی نظر میں نعوذ باللہ کاذب اور مفتری تھا پیش کر دیا جس سے یہودیوں کا اور بھی غصہ بھڑ کا اور انہوں نے خیال کیا کہ جب اس شخص کا ہمارے اس سوال کے جواب میں کسی جگہ ہاتھ نہیں پڑا تو اپنے مرشد یعنی الیاس کو ایلیا ٹھہرا دیا اس خیال سے کہ وہ خواہ نخواہ تصدیق کر دے گا کہ میں ہی ایلیا ہوں مگر یہودیوں کی بد قسمتی سے حضرت یوحنا نے ایلیا ہونے سے انکار کیا اور صاف کہا کہ میں ایلیا نہیں ہوں۔ اس جگہ ان دونوں کلاموں میں فرق یہ تھا کہ حضرت مسیح نے حضرت یوحنا یعنی یحییٰ نبی کو مجازی طور پر یعنی بروزی طور پر ایلیا نبی قرار دیا مگر یوحنا نے حقیقی طور کو مد نظر رکھ کر ایلیا ہونے سے انکار کر دیا اور بد قسمت یہودیوں کو یہ بھی ایک ابتلا پیش آیا کہ شاگرد یعنی عیسیٰ کچھ کہتا ہے اور اُستاد یعنی یحییٰ کچھ کہتا ہے اور دونوں کے بیان با ہم متناقض ہیں مگر اس جگہ ہمارا صرف یہ مقصود ہے کہ مسیح کے نزدیک دوبارہ آمدن کے وہی معنے ہیں جو مسیح نے خود بیان کر دیئے گویا یہ ایک تنقیح طلب مسئلہ تھا جو مسیح کی عدالت سے فیصلہ پا گیا اور مسیح نے انجیل متی باب ۱۷ آیت ۱۰ و ۱۱ و ۱۲ میں خود اپنی آمد ثانی کو ایلیا نبی کی آمد ثانی سے مشابہت دے دی اور ایلیا نبی کی آمد ثانی کی نسبت صرف یہ فرمایا کہ یوحنا کو ہی ایلیا سمجھ لو گویا ایک بڑا اعجوبہ جو یہودیوں کی نظر میں تھا کہ اس عجیب طرح پر ایلیا آسمان سے اترے گا اس کو اپنے دو لفظوں سے خاک میں ملا دیا۔ اور اس قسم کے معنے قبول کرنے کے لئے عیسائیوں میں سے وہ فرقہ زیادہ استعداد رکھتا ہے جو آسمان پر جانے سے منکر ہیں چنانچہ ہم اُن محقق عیسائیوں کا ذیل میں ایک قول نقل کرتے ہیں تا مسلمانوں کو معلوم ہو کہ اُن کی طرف سے تو مسیح کے نزول کے بارے میں اس قدر شور انگیزی ہے کہ اس فضول خیال کی حمایت میں تیس ہزار مسلمان کو کافر ٹھہرا رہے ہیں مگر وہ لوگ جو مسیح کو خدا جانتے ہیں اُن میں سے یہ فرقہ بھی ہے جو بہت سے دلائل کے ساتھ ثابت کرتے ہیں کہ مسیح ہرگز

آسمان پر نہیں گیا بلکہ صلیب سے نجات پا کر کسی اور ملک کی طرف چلا گیا اور وہیں مر گیا۔ چنانچہ سوپر نیچرل ریلیجن صفحہ ۵۲۲ میں اس بارے میں جو عبارت ہے اس کو ہم مع ترجمہ ذیل میں لکھتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے :

پہلی تفسیر جو بعض لائق محققین نے کی ہے وہ یہ ہے کہ یسوع دراصل صلیب پر نہیں مرا بلکہ صلیب سے زندہ اتار کر اس کا جسم اس کے دوستوں کے حوالہ کیا گیا اور وہ آخر بچ نکلا۔ اس عقیدہ کی تائید میں یہ دلائل پیش کئے جاتے ہیں کہ اناجیل کے بیان کے مطابق یسوع صلیب پر تین گھنٹے یا چھ گھنٹہ رہ کر فوت ہوا۔ لیکن صلیب پر ایسی جلدی کی موت کبھی پہلے واقع نہیں ہوئی تھی۔ یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ صرف اس کے ہاتھوں پر میخیں ماری گئی تھیں۔ اور پاؤں پر میخیں نہیں لگائی گئی تھیں۔ چونکہ یہ عام قائدہ نہ تھا کہ ہر ایک مصلوب کی ٹانگ توڑی جائے اس واسطے تین انجیل نویسوں نے تو اس کا کچھ ذکر ہی نہیں کیا۔ اور چوتھے نے بھی صرف اپنے طرز بیان کی تکمیل کی خاطر اس امر کا بیان کیا اور جہاں ٹانگ توڑنے کا ذکر نہیں ہے تو ساتھ ہی

The first explanation adopted by some able critics is that Jesus did not really die on the cross but being taken down alive and his body being delivered to friends, he subsequently revived. In support of this theory it is argued that Jesus is represented by Gospels as expiring after having been but three or six hours upon the cross which would have been but unprecedentedly rapid death. It is affirmed that only the hands and not the feet were nailed to the cross. The crucifragian not usually accompanying crucifixion is dismissed as unknown to the three synoptits and only inserted by the fourth evangelist for dogmatic reasons and of course the lance disappears with

برچھی کا واقعہ بھی کالعدم ہو جاتا ہے پس ظاہراً موت جو واقع ہوئی وہ ایک سخت بیہوشی تھی جو کہ چھ گھنٹہ کے جسمانی اور دماغی صدموں کے بعد اس کے جسم پر پڑی کیونکہ گذشتہ شب بھی متواتر تکلیف اور تھکاوٹ میں گذری تھی جب اُسے کافی صحت پھر حاصل ہو گئی۔ تو اپنے حواریوں کو پھر یقین دلانے کے واسطے کئی دفعہ ملا۔ لیکن یہودیوں کے سبب نہایت احتیاط کی جاتی تھی۔ حواریوں نے اس وقت یہ سمجھا کہ یہ مرکر زندہ ہوا ہے۔ اور چونکہ موت کی سی بیہوشی تک پہنچ کر وہ پھر بحال ہوا اس واسطے ممکن ہے کہ اُس نے آپ بھی دراصل یہی سمجھا ہو کہ میں مرکر پھر زندہ ہوا ہوں اب جب اُستاد نے دیکھا کہ اس موت نے میرے کام کی تکمیل کر دی ہے تو وہ پھر کسی نا قابل حصول اور نا معلوم تنہائی کی جگہ میں چلا گیا اور مفقود الخبر ہو گیا۔ گفرورر جس نے شنٹود کے اس مسئلہ کی

the leg-breaking. Thus the apparent death was that profound faintness which might well fall upon an organization after some hours of physical and mental agony on the cross, following the continued strain and fatigue of the previous night. As soon as he had sufficiently recovered it is supposed that Jesus visited his disciples a few times to re-assure them, but with pre-caution on account of the Jews, and was by them believed to have risen from the dead, as indeed he himself may likewise have supposed, reviving as he had done from the faintness of death. Seeing however that his death had set the crown upon his work the master withdrew into impenetrable obscurity and was heard no more.

نہایت قابلیت کے ساتھ تائید کی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ یہود کے حکام کے درمیان یسوع کے مرید تھے جو کہ اس کو اگر چہ اس مخالفت سے بچا نہیں سکتے تھے تا ہم ان کو اُمید تھی کہ ہم اس کو مرنے سے بچالیں گے۔ یوسف ایک دولتمند آدمی تھا۔ اور اُسے مسیح کے بچانے کے وسائل مل گئے۔ نئی قبر بھی اس مقام صلیب کے قریب ہی اُس نے طیار کرالی اور جسم بھی پلاطوس سے مانگ لیا۔ اور نکو میڈس جو بہت سے مصالح خرید لایا تھا تو وہ صرف یہود کی توجہ ہٹانے کے واسطے تھے اور یسوع کو جلدی سے قبر میں رکھا گیا۔ اور ان لوگوں کی سعی سے وہ بچ گیا۔ گفر ورر نے یوحنا باب ۲۰ ۔ آیت ۱۷ کی مشہور آیت کی عجیب تفسیر کی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ مسیح کا جو یہ فقرہ ہے کہ میں ابھی اپنے باپ کے پاس نہیں گیا اس فقرہ میں آسمان پر جانے سے مراد صرف مرنا ہے اور یسوع نے جو یہ کہا کہ مجھے نہ چھوڑ کیونکہ میں ابھی تک گوشت اور خون ہوں۔ اس میں

Gfrorer who maintains the theory of Scheintod with great ability thinks that Jesus had believers amongst the rulers of the Jews who although they could not shield him from the opposition against him still hoped to save him from death. Joseph, a rich man, found the means of doing so. He prepared the new sepulchre close to the place of execution to be at hand, begged the body from Pilate - the immense quantity of spices bought by Nicomedus being merely to distract the attention of the Jesus being quickly carried to the sepulchre was restored to life by their efforts.

He interprets the famous verse John xx:17 curiously. The expression "I have not yet ascended to my father." He takes as meaning simply the act of dying "going to heaven" and the reply of Jesus is

گوشت اور خون ہونے سے بھی یہی مراد ہے کہ میں ابھی مرا نہیں ۔ یسوع اس واقعہ کے بعد پوشیدہ طور پر کئی دفعہ اپنے حواریوں کو ملا اور جب اُسے یقین ہو گیا کہ اس موت نے اُس کے کام کی صداقت پر آخری مہر لگا دی ہے تو وہ پھر کسی نا قابل حصول تنہائی میں چلا گیا۔ دیکھو کتاب سوپر نیچرل ریلیجن صفحہ ۵۲۳ ۔

equivalent to touch me not for i am still flesh & blood .

I am not yet dead, Jesus sees his desciples only a few times mysteriously and believing that he had set the final seal to the truth of his work by his death he then retires into impenetrable gloom. Das Heiligthum and Die Wabrhcit p. 107, p. 231.

(Pg. 523 of the Supernatural Religion)

اور یاد رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے مسئلہ کو مسلمان عیسائیوں سے زیادہ سمجھ سکتے ہیں کیونکہ قرآن شریف میں اُس کی موت کا بار بار ذکر ہے۔ لیکن بعض نادانوں کو یہ دھوکا لگا ہوا ہے کہ اس آیت قرآن شریف میں یعنی وَمَا قَتَلُوۡہُ وَمَا صَلَبُوۡہُ وَلٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡمیں لفظ شُبِّہَ سے مراد یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کی جگہ کسی اور کو سولی دیا گیا اور وہ خیال نہیں کرتے کہ ہر ایک شخص کو اپنی جان پیاری ہوتی ہے پس اگر کوئی اور شخص حضرت عیسیٰ کی جگہ صلیب دیا جاتا تو صلیب دینے کے وقت ضرور وہ شور مچاتا کہ میں تو عیسیٰ نہیں ہوں ۔ اور کئی دلائل اور کئی امتیازی اسرار پیش کر کے ضرور اپنے تئیں بچالیتا نہ یہ کہ بار بار ایسے الفاظ مُنہ پر لاتا جن سے اس کا عیسیٰ ہونا ثابت ہوتا ۔ رہا لفظ شُبِّہَ لَہُمْ ۔ سو اس کے وہ معنے نہیں ہیں جو سمجھے گئے ہیں اور نہ ان معنوں کی تائید میں قرآن اور احادیث نبویہ سے کچھ پیش کیا گیا ہے بلکہ یہ معنی ہیں کہ موت کا وقوعہ یہودیوں پر مشتبہ کیا گیا وہ یہی سمجھ بیٹھے کہ ہم نے قتل کر دیا ہے حالانکہ مسیح قتل ہونے سے بچ گیا۔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ

اس آیت میں شبّہ لھم کے یہی معنے ہیں اور یہ سنت اللہ ہے۔ خدا جب اپنے محبوبوں کو بچانا چاہتا ہے تو ایسے ہی دھوکا میں مخالفین کو ڈال دیتا ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غار ثور میں پوشیدہ ہوئے تو وہاں بھی ایک قسم کے شُبِّهَ لَهُمْ سے خدا نے کام لیا یعنی مخالفین کو اس دھوکا میں ڈال دیا کہ انہوں نے خیال کیا کہ اس غار کے منہ پر عنکبوت نے اپنا جالا بنا ہوا ہے اور کبوتری نے انڈے دے رکھے ہیں۔ پس کیونکر ممکن ہے کہ اس میں آدمی داخل ہو سکے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس غار میں جو قبر کی مانند تھی تین دن رہے جیسا کہ حضرت مسیح بھی اپنی شامی قبر میں جب غشی کی حالت میں داخل کئے گئے تین دن ہی رہے تھے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ کو یونس پر بزرگی مت دو یہ بھی اشارہ اس مماثلت کی طرف تھا کیونکہ غار میں داخل ہونا اور مچھلی کے پیٹ میں داخل ہونا یہ دونوں واقعہ باہم ملتے ہیں ۔ پس نفی تفضیل اس وجہ سے ہے نہ کہ ہر ایک پہلو سے ۔ اس میں کیا شک ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف یونس سے بلکہ ہر ایک نبی سے افضل ہیں۔

اب خلاصہ کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سنتوں اور عادتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب مخالف اُس کے نبیوں اور ماموروں کو قتل کرنا چاہتے ہیں تو اُن کو ان کے ہاتھ سے اس طرح بھی بچا لیتا ہے کہ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے اس شخص کو ہلاک کر دیا حالانکہ موت تک اُس کی نوبت نہیں پہنچتی ۔ اور یا وہ سمجھتے ہیں کہ اب وہ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا حالانکہ وہیں چھپا ہوا ہوتا ہے اور اُن کے شر سے بچ جاتا ہے۔ پس شُبِّهَ لَهُمْ کے یہی معنے ہیں ۔ اور یہ فقرہ شُبِّهَ لَهُمْ صرف حضرت مسیح سے خاص نہیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب آگ میں ڈالے گئے تب بھی یہ عادت اللہ ظہور میں آئی ۔ ابراہیم آگ سے جدا نہیں کیا گیا اور نہ آسمان پر چڑھایا گیا لیکن حسب منطوق آیت قُلۡنَا یٰنَارُ کُوۡنِیۡ بَرۡدًا(الانبیاء: ۷۰) آگ اُس کو جلا نہ سکی ۔ اسی طرح یوسفؑ بھی جب کوئیں میں پھینکا گیا آسمان پر نہیں گیا بلکہ کنواں اس کو ہلاک نہ کر سکا۔ اور ابراہیمؑ کا پیارا فرزند اسماعیل بھی ذبح کے وقت آسمان پر نہیں رکھایا گیا تھا بلکہ چھری اس کو ذبح نہ کرسکی ۔ ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم محاصرہ غار ثور کے وقت آسمان پر نہیں گئے بلکہ خونخوار دشمنوں کی آنکھیں ان کو دیکھ نہیں سکیں ۔ اسی طرح مسیح بھی صلیب کے وقت آسمان پر نہیں گیا بلکہ صلیب اُس کو قتل نہیں کر سکا۔ غرض ان تمام نبیوں میں سے کوئی بھی مصیبتوں کے وقت آسمان پر نہیں گیا ۔ ہاں آسمانی فرشتے اُن کے پاس آئے اور انہوں نے مدد کی ۔ یہ واقعات بہت صاف ہیں ۔ اور صاف طور پر ان سے ثبوت ملتا ہے کہ حضرت مسیح آسمان پر نہیں گئے اور اُن کا اُسی قسم کا رفع ہوا جیسا کہ ابراہیم اور تمام نبیوں کا ہوا تھا۔ اور وہ آخر وفات پا گئے اس لئے آنے والا مسیح اسی امت میں سے ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیے تھا تا دونوں سلسلہ یعنی سلسلہ موسویہ اور سلسلہ محمدیہ اپنے اوّل اور آخر کے لحاظ سے ایک دوسرے کے مطابق ہوں ۔ پس ظاہر ہے کہ جس خدا نے اس دوسرے سلسلہ میں مثیل موسیٰ سے ابتدا کیا اس سے صریح اس کا ارادہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس سلسلہ کو مثیل مسیح پر ختم کرے گا جبکہ اس نے فرما دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہے اور یہ تمام سلسلہ سلسلہ خلافت موسویہ کا مشابہ ہے تو اس میں کیا شک رہ گیا کہ اس سلسلہ کا خاتمہ مثیل مسیح پر چاہیے تھا مگر اب یہ لوگ جو مولوی کہلاتے ہیں اپنے خیالات کو چھوڑ نہیں سکتے یہ اُس مسیح کے منتظر ہیں جو زمین کو خون سے پُر کر دے گا۔ اور ان لوگوں کو زمین کے بادشاہ بنا دے گا ۔ یہی دھوکا یہودیوں کو لگا تھا جنہوں نے حضرت عیسیٰ کو قبول نہیں کیا جیسا کہ ہسٹری آوْ دی کریسچن چرچ فار فرسٹ تھری سنچریز مصنفہ ریورنڈ جے جے بلیٹ ڈی ڈی صفحہ ۱۱۷ میں یہ عبارت ہے۔

اِن سب واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کو کس قدر مسیح کے آنے کا انتظار تھا وہ کس طرح مسیح کی جماعت میں داخل ہونے کے واسطے طیار تھے لیکن اُن کو مسیح کی آمد کے متعلق ایک دھوکا لگا ہوا تھا۔ انبیاء کی پیشگوئیوں کے غلط معنے سمجھ کر وہ یہ خیال کرتے تھے کہ مسیح قوموں کو فتح کرنے والا اور گذشتہ زمانہ کے جنگی سپہ سالاروں کی طرح اپنی قوم کی خاطر لڑائی کرے گا اور ظالموں کے پنجہ سے اُن کو چھڑائے گا جو کہ فلسفیوں کی طرح اُن پر حکمران تھے ۔

المؤلف

میرزا غلام احمد عفی اللہ عنہ از قادیاں

☆☆☆