سنہ ۱۹۰۲ء بماہ اکتوبر
نحمدہٗ ونصلّی
☆
اے پئے تحقیر من بستہ کمر
نیستت جز ہجو من کارِ دگر
می کشائی ہر دمے برمن زباں
چوں نترسی از خدائے رازداں
از سر تقویٰ ہمی باید جدال
تا کجا دشنام ہا اے بدخصال
نیستی گرگِ بیابانی نہ مار
ترک کن ایں خوئی و از حق شرم دار
اے عجب از سیرتت اے پُر غضب
از حقیقت بے خبر دُور از ادب
خیز و اوّل فہمِ خود را کُن درست
نکتہ چیں را چشم می باید نخست
دل شود از بد زبانی ہا سیاہ
بد زباناں را در آنجا نیست راہ
کم نشیں با زمرۂ مُستھزئین
تا بیابی حصۂ از مھتدین
روز و شب بدگفتنم کارِ تو شد
لعنت و تحقیر کردارِ تو شد
لعنت آں باشد کہ از رحماں بود
لعنت نا اہل و دوں آساں بود
گر سفیہے لعنتے بر ما کند
او نہ بر ما خویش را رُسوا کند
ہر کہ مے دارد دلِ پرہیزگار
چوں عجب دارد زِ کارِ کردگار
آنکہ از یک قطرہ انسانے کند
و از دو مُشتِ تخم بستانے کند
چوں منے را گر مسیحائی کند
یا گدائے را شھنشاھی کند
نیست از فضل و عطائے او بعید
کور باشد ہرکہ از انکار دید
ہاں مشو نومید زاں عالی جناب
بندہ باش و ہرچہ می خواہی بیاب
قادر است و خالق و ربِّ مجید
ہر چہ خواہد می کند عجزش کہ دید
نطفہ را روئے درخشاں می دہد
سنگ را لعل بدخشاں می دہد
بر کسے چوں مہربانی مے کند
از زمینی آسمانی مے کند
ہم چنیں بر من عطائے کردہ است
فضل ہا بے انتہائے کردہ است
مظہرِ انوارِ آں بے چوں شدم
در معارف از ہمہ افزوں شدم
یارِ من بر من کرم دارد بسے
صد نشاں دارم اگر آید کسے
بشنوید اے مردگاں من زندہ ام
اے شبانِ تیرہ من تابندہ ام
ایں دو چشم من کہ زیب ایں سرم
بیند آں یارے کہ یارے دلبرم
ایں قدم تا عرش حق دارد گذر
وایں دو گوشم را رسد از حق خبر
صد ہزاراں نعمتم بخشیدہ اند
و ایں رُخم از غیر حق پوشیدہ اند
می دہم فرعونیاں را ہر زماں
چوں ید بیضائے موسیٰ صد نشاں
زیں نشانہا بدرگاں کور و کر اند
صد نشاں بینند و غافل بگذرند
دور افتادم ز چشمانِ بشر
از مقامم کس نمے دارد خبر
در من افتادند از نقص عقول
بخت برگردیدہ محروم از قبول
کس ز راز جان من آگاہ نیست
عقل شاں را تا در ما راہ نیست
از سر حمق است جوش و جنگ شاں
و از پئے اطفاء حق آہنگ شاں
اے مزوّر گر بیائی سُوئے ما
و از وفا رخت افگنی در کوئے ما
و از سر صدق و صداقت پروری
روزگارے در حضور ما بری
عالمے بینی ز ربّانی نشاں
سوئے رحماں خلق و عالم را کشاں
من نہ مے خواہم کہ آزارے دہم
بر سر ہر ماہ دینارے دہم
ہم چنیں یک سال می باید قیام
از من ایں عہد است و از تو التزام
گر گذشت ایں سال و عدم بے نشاں
ہر چہ میگوئی ہے گو بعد زاں
صالحاں را ایں طریق و سنت است
راہ استعجال راہِ لعنت است
ہر کہ روشن شد دروں از حضرتش
کیمیا باشد دمے در صحبتش
ہر کہ او را ظلمتے گیرد بہ راہ
دامن پاکاں است او را عذرخواہ
آں خدا با یارِ خود یاری کند
با وفاداراں وفاداری کند
ہر کہ عشقش در دل و جانش فتاد
ناگہاں جانے در ایمانش فتاد
عشق حق گردد عیاں بر رُوئے او
بُوئے او آید ز بام و کُوئے او
دید او باشد بحکم دید او
خود نشیند حق پئے تائید او
بس نمایاں کارہا کاندر جہاں
مے نماید بہر اکرامش عیاں
صد شعاعش مے دہد چوں آفتاب
تا مگر جانے بر آید از حجاب
ایں چنیں برمن کرمہا کردہ است
منکرم برخود ستمہا کردہ است
علمِ قرآں علم آں طیب زباں
علم غیب از وحی خلّاقِ جہاں
ایں سہ علمم چوں نشانہا دادہ اند
ہر سہ ہمچوں شاہداں استادہ اند
آدمی زادے ندارد ہیچ فن
تا در آویزد دریں میداں بمن
حجتِ رحماں بر ایشاں شد تمام
یاوہ گوئی ماند در دست لئام
از کسوف و ترک آں نورے کہ بود
مہر و مہ ہم پیشم آمد در سجود
ایں نشاں بر آسماں رحماں نمود
بر زمیں ہم دست ہیبت ہا کشود
ہست لطف یارِ من برمن اتم
او مرا شد من ہم از بہرش شدم
دِلبرم در شد بجان و مغز و پوست
راحت جانم بیاد روئے اوست
رازہا دارم بیارِ دلبرم
شد عیاں از من بہارِ دلبرم
ہر کسے دستے بہ دامانے زند
ما بہ ذیل حیّ و قیّوم واَحَد
اے دریغا قوم من نشناختند
نقد ایماں در حسدہا باختند
ایں جہانِ پُرستم کور و کر است
چشم شاں از چشم بوماں کمتر است
ذرّۂ بودم مرا بنواختند
چوں خورے گشتم زچشم انداختند
میاں عبدالحق صاحب غزنوی نے ایک اشتہار نکالا ہے جو درحقیقت مولوی عبدالجبار اور اُن کے بھائیوں کی طرف سے معلوم ہوتا ہے واللہ اعلم ۔ اس اشتہار میں جس قدر سخت زبانی اور ٹھٹھا اور ہنسی ہے جو قدیم سے طریق سفہاء کا ہے اس کو ہم خدا تعالیٰ کے عدل کے سپرد کر کے اصل باتوں کا جواب دیتے ہیں وَ بِاللّٰہ التّوفیق ۔
یہ اشتہار دو رنگ کے حملوں پر مشتمل ہے ۔ اوّل میاں عبدالحق نے بعض گذشتہ نشانوں اور پیشگوئیوں کو جو فی الواقع پوری ہوچکیں یا وہ جو عنقریب پوری ہونے کو ہیں پیش کر کے عام لوگوں کو یہ دھوکہ دینا چاہا ہے کہ گویا وہ پوری نہیں ہوئیں ۔ مثلاً وہ اپنے اشتہار میں لکھتا ہے کہ ڈپٹی آتھم اور احمد بیگ ہوشیار پوری اور اس کے داماد والی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی مگر ہمیں تعجب ہے کہ مولوی کہلا کر پھر ایسا گندہ جھوٹ بولنا ان لوگوں کی طبیعت کیونکر گوارا کر لیتی ہے کس کو معلوم نہیں کہ یہ دونوں پیشگوئیاں رجوع الی الحق اور توبہ کی شرط کے ساتھ مشروط تھیں ۔ مگر احمد بیگ بباعث اس کے کہ اس کی نظر کے سامنے کوئی ہیبت ناک نمونہ موجود نہیں تھا اس شرط سے فائدہ اٹھا نہ سکا اور پیشگوئی کی منشاء کے موافق عین میعاد کے اندر فوت ہوگیا اور اس کی موت نے صفائی سے پیشگوئی کی ایک ٹانگ کو پورا کر کے دکھلا دیا ۔ احمد بیگ وہ شخص تھا جس کی موت نے مخالف مولویوں میں بڑا ماتم پیدا کیا اور محمد حسین نے لکھا کہ یقیناً اس شخص کو علم نجوم آتا ہے جس کی پیشگوئی ایسی صفائی سے پوری ہوگئی‘‘ ۔ مگر احمد بیگ کے داماد اور اس کے والدین اور اقارب نے جب یہ ہولناک نمونہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو ایسا خوف طاری ہوا کہ قبل از مُردن مُردہ سمجھ لیا گیا اس لئے جیسا کہ انسان کی فطرت میں داخل ہے اس مشاہدہ سے بہت رجوع الی اللہ ان کے دلوں میں پیدا ہوا اور بعض نے مجھ کو خط لکھے کہ تقصیر معاف کریں اور ان کے گھروں میں دن رات ماتم شروع ہوا اور صدقہ خیرات اور نماز روزہ میں لگ گئے اور اس گاؤں کے لوگ عورتوں کا رونا اور چیخنا سنتے رہے غرض وہ تمام زن و مرد خوف سے بھر گئے اور یونس کی قوم کی طرح اُس عذاب کو دیکھ کر توبہ اور صدقہ اور خیرات میں مشغول ہو گئے ۔ پھر سوچ لو کہ ایسی حالت میں ان کے ساتھ خدا تعالیٰ کا کیا معاملہ ہونا چاہیئے تھا۔ ایسا ہی ڈپٹی آتھم بھی احمد بیگ والے نشان کو سن چکا تھا اور بذریعہ اخبارات اور اشتہارات کے یہ نشان لاکھوں انسانوں میں مشہور ہو چکا تھا اس لئے اس نے بھی پیشگوئی کے سننے کے بعد خوف اور ہراس کے آثار ظاہر کئے ۔ لہذا پیشگوئی کی شرط کے موافق خدا نے تاخیر دی کیونکہ شرط خدا کا وعدہ تھا اور وہ اپنے وعدہ کے برخلاف نہیں کرتا ۔ یہ تمام دنیا کا مانا ہوا مسئلہ اور اہل اسلام اور نصاریٰ اور یہود کا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ وعید یعنی عذاب کی پیشگوئی بغیر شرط توبہ اور استغفار اور خوف کے بھی ٹل سکتی ہے جیسا کہ یونس نبی کی چالیس دن کی پیشگوئی جس کے ساتھ کوئی شرط نہ تھی ٹل گئی اور نینوا کے رہنے والے جو ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھے ان میں سے ایک بچہ بھی نہ مرا اور یونس نبی اس خیال اور اس ندامت سے کہ میری پیشگوئی جھوٹی نکلی اپنے ملک سے بھاگ گیا ۔ اب سوچو کہ کیا یہ ایمانداری ہے کہ اس اعتراض کرتے وقت اس قصّہ کو یاد نہیں کرتے اور اس جگہ حدیث کے لفظ یہ ہیں کہ قال لن ارجع اليهم كذّابًا یعنی یونس نے کہا کہ اب میں جھوٹا کہلا کر پھر اس قوم کی طرف ہرگز نہیں جاؤں گا ۔ اگر حدیث پر اعتبار ہے تو در منثور میں اس موقع کی تفسیر میں حدیثیں دیکھ لو اور اگر عیسائیوں کی بائبل پر اعتبار ہے تو یونہ نبی کی کتاب کو دیکھو آخر کسی وقت تو شرم چاہیے ۔ بے حیائی اور ایمان جمع نہیں ہو سکتے اس نا انصافی اور ظلم کا خدا تعالیٰ کے پاس کیا جواب دو گے کہ تم لوگوں نے سو۱۰۰ پیشگوئی صفائی سے پوری ہوتے دیکھی اس سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا اور ایک دو پیشگوئیاں جن کو تم لوگ اپنی ہی جہالت سے سمجھ نہ سکے جو مشروط بشرائط تھیں ان پر شور مچا دیا مگر یہ شور مجھ سے اور میری پیشگوئیوں سے خاص نہیں ہے۔ بھلا کسی ایسے نبی کا تو نام لو جس کی بعض پیشگوئیوں کی نسبت جاہلوں نے شور نہ مچایا ہو کہ وہ پوری نہیں ہوئیں ۔ میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ وعید یعنی عذاب کی پیشگوئیوں کی نسبت خدا تعالیٰ کی یہی سنت ہے کہ خواہ پیشگوئی میں شرط ہو یا نہ ہو تضرع اور توبہ اور خوف کی وجہ سے ٹال دیتا ہے۔ اس پر صرف یونس کا قصہ ہی گواہ نہیں بلکہ قرآن اور حدیث اور تمام نبیوں کی کتابوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ جب کسی کو عذاب دینے کا ارادہ فرماتا ہے اور اُس پر کوئی بلا نازل کرنا چاہتا ہے تو وہ بلا دعا اور توبہ اور صدقات سے ٹل سکتی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ جو عذاب دینے کا ارادہ کرتا ہے اگر اپنے اس ارادہ پر کسی نبی یا رسول یا محدث کو مطلع کر دے تو اس صورت میں وہی ارادہ پیشگوئی کہلاتا ہے ۔ پس جبکہ مانا گیا ہے کہ وہ ارادہ دعا اور صدقہ اور خیرات سے ٹل سکتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ محض اس سبب سے کہ اس ارادہ کی کسی ملہم کو اطلاع بھی دی گئی ہے ٹل نہیں سکتا۔ کیا وہ ارادہ اطلاع دینے کے بعد کچھ اور چیز بن جاتا ہے یا خدا کو اطلاع دینے کے بعد دعا اور توبہ اور صدقہ کے ذریعہ سے اس کو ٹال دینا ناگوار معلوم ہونے لگتا ہے اور قبل از اطلاع اس کو ٹالنا ناگوار معلوم نہیں ہوتا ۔ افسوس کہ نادان لوگ خدا تعالیٰ کے وعدہ اور اس کی وعید میں کچھ فرق نہیں سمجھتے ۔ وعید میں دراصل کوئی وعدہ نہیں ہوتا صرف اس قدر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدوسیت کی وجہ سے تقاضا فرماتا ہے کہ شخص مجرم کو سزا دے اور بسا اوقات اس تقاضا سے اپنے ملہمین کو اطلاع بھی دے دیتا ہے پھر جب شخص مجرم توبہ اور استغفار اور تضرع اور زاری سے اُس تقاضا کا حق پورا کر دیتا ہے تو رحمت الٰہی کا تقاضا غضب کے تقاضا پر سبقت لے جاتا ہے اور اس غضب کو اپنے اندر محجوب ومستور کر دیتا ہے ۔ یہی معنے ہیں اس آیت کے کہ عَذَابِیۡۤ اُصِیۡبُ بِہٖ مَنۡ اَشَآءُ ۚ وَرَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ(الاعراف: ۱۵۷) یعنی رحمتی سبقت غضبی ۔ اگر یہ اصول نہ مانا جائے تو تمام شریعتیں باطل ہو جاتی ہیں ۔ پس کس قدر ہمارے مخالفوں پر افسوس ہے کہ وہ میرے کینہ کے لئے شریعت اسلامیہ پر تبر چلاتے ہیں ۔ وہ جب حق بات سنتے ہیں تو تقویٰ سے کام نہیں لیتے بلکہ اس فکر میں لگ جاتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس کو رد کرنا چاہیے ۔ نہ معلوم کہ وہ معارف حقہ کو رد کرتے کرتے کہاں تک پہنچیں گے ۔ یہ جو لکھا ہے کہ اولیاء کے مقابلہ سے سلب ایمان کا خطرہ ہے وہ خطرہ اس وجہ سے بھی پیدا ہوتا ہے کہ صدیقوں اور اولیاء کی باتیں سچائی کے چشمہ سے نکلتی ہیں اور ستون ایمان ہوتی ہیں مگر اُن کا مخالف اپنا یہ اصول مقرر کر لیتا ہے کہ ان کی ہر ایک بات کو رد کرتا جائے اور کسی کو قبول نہ کرے کیونکہ حسد اور عداوت بُری بلا ہے لہذا ایک دن کسی ایسے مسئلہ میں مخالفت کر بیٹھتا ہے جس سے ایمان فی الفور رخصت ہو جاتا ہے مثلاً جیسا کہ یہ مسئلہ کہ خدا کا عذاب کا ارادہ خواہ اُس ارادہ کو کسی ملہم پر ظاہر کیا ہو یا نہ کیا ہو دعا اور صدقہ اور توبہ اور استغفار سے ٹل سکتا ہے کس قدر سچا اور مغز شریعت اور تمام نبیوں کا متفق علیہ مسئلہ ہے مگر کیا ممکن ہے کہ ایک نفسانی آدمی جو مجھ سے مخالفت رکھتا ہے وہ اس نکتہ معرفت کو میرے منہ سے سن کر قبول کر لے گا ؟ ہرگز نہیں ۔ وہ تو سنتے ہی اس فکر میں لگ جائے گا کہ اس کا کسی طرح رد کرنا چاہیے تا کسی پیشگوئی کی تکذیب کا یہ ذریعہ ٹھہر جائے ۔ اگر اس شخص کو خدا کا خوف ہوتا تو لوگوں کی طرف نہ دیکھتا اور ریا کاری سے غرض نہ رکھتا بلکہ اپنے تئیں خدا کے سامنے کھڑا سمجھتا اور وہی بات منہ پر لاتا جو بپابندی تقویٰ بیان کرنے کے لائق ہوتی ۔ اور ملامت اٹھاتا اور لوگوں کی لعنت سنتا مگر سچائی کی گواہی دے دیتا۔ ولكن اذا غلبت الشقوة فاين السعادة ۔
دوسرا حملہ میاں عبدالحق کا یہ ہے کہ وہ تجویز جو میں نے خدا تعالیٰ کے الہام سے بطور اتمام حجت پیش کی تھی جس کو میں اس سے پہلے بھی بذریعہ اشتہار شائع کر چکا تھا یعنی بیماروں کی شفا کے ذریعہ سے استجابت دعا کا مقابلہ اس تجویز کو میاں عبدالحق منظور نہیں فرماتے اور یہ عذر کرتے ہیں کہ بھلا سارے مشائخ اور علماء ہندوستان و پنجاب کس طرح جمع ہوں اور ان کے اخراجات کا کون متکفل ہو۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ کیا فضول اور لچر عذر ہے۔ جس حالت میں یہ لوگ قوم کا ہزار ہا روپیہ کھاتے ہیں تو ایسے ضروری کام کے لئے دو چار روپیہ تک کرایہ خرچ کرنا کیا مشکل ہے یہ تو ہم نے قبول کیا کہ یہ لوگ دین کے لئے کوئی تکلیف اپنے پر گوارا نہیں کر سکتے لیکن ایسی ضروری مہم کے لئے کہ ہزار ہا لوگ ان کے پنجہ سے نکلتے جاتے ہیں اور بزعم ان کے وہ کافر بنتے جاتے ہیں چند درہم کرایہ کے لئے جیب سے نکالنا کوئی بڑی مصیبت نہیں اور اگر کوئی شخص ایسا ہی ضُرِبَتْ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ(اٰل عمران: ۱۱۳) کا مصداق ہے تو اس کو عبدالحق کی وکالت کی ضرورت نہیں میں دوسو کوس تک کے کرایہ کا خود ذمہ وار ہو سکتا ہوں چاہیے کہ وہ کسی سے قرض لے کر لاہور پہنچ جائے اور اپنے شہر کے کسی رئیس کا سارٹیفکیٹ مجھے دکھلا دے کہ حقیقت میں اس مولوی یا پیرزادہ پر سخت رزق کی مار نازل ہے قرضہ لے کر لاہور میں پہنچا ہے۔ تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ وہ کرایہ میں دے دوں گا بشرطیکہ کوئی نام کا مولوی یا پیرزادہ نہ ہو نامی ہو جیسے نذیر حسین دہلوی وغیرہ۔ اور اگر یہ تجویز منظور نہیں تو صرف ضلع لاہور امرتسر گورداسپورہ لدھیانہ کے مولوی اور مشائخ اکٹھے ہو جائیں ان میں سے بھی بشرط مذکورہ بالا ہر ایک مصیبت زدہ کا کرایہ میں دے دوں گا۔ و ان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاعلموا انکم سترجعون الی اللّٰہ ثم تُسئَلون۔
پھر میاں عبدالحق نے یہ کارروائی کی ہے کہ یہ عذر کر کے جس کا ابھی ہم نے جواب دیا ہے اپنی طرف سے ٹھٹھے اور ہنسی سے ایک نشان مانگا ہے اور اس ٹھٹھے میں گذشتہ منکرین سے کم نہیں رہے۔ کیونکہ عرب کے لوگوں نے اس قسم کے ہنسی اور ٹھٹھے سے کبھی نشان نہیں مانگا کہ فلاں صحابی کی ٹانگ کمزور ہے وہ درست ہو جائے یا اس کی کسی آنکھ میں بصارت نہیں وہ ٹھیک ہو جائے۔ ہاں مکہ کے لوگوں نے یہ نشان مانگا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر سونے کا ہو جائے اور اس کے ارد گرد نہریں بھی جاری ہوں اور نیز یہ کہ آپ ان کے دیکھتے ہوئے آسمان پر چڑھ جائیں اور دیکھتے دیکھتے آسمان پر سے اتر آئیں اور خدا کی کتاب ساتھ لاویں اور وہ اس کو ہاتھ میں لے کر ٹٹول بھی لیں تب ایمان لائیں گے۔ اس درخواست میں اگر چہ جہالت تھی لیکن میاں عبدالحق کی طرح ایذا دینے والی شرارت نہ تھی۔ ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے لوگوں نے نشان مانگے تھے لیکن ظاہر ہے کہ اُن درخواست کنندہ لوگوں کو ان کے مُنہ مانگے نشان نہیں دیئے گئے تھے بلکہ زجر اور توبیخ سے جواب دیا گیا تھا اور قرآن شریف میں اقتراحی نشانوں کے مانگنے والوں کو یہ جواب دیا گیا تھا کہ قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا(بنی اسرائیل: ۹۴) یعنی خدا تعالیٰ کی شان اس تہمت سے پاک ہے کہ کسی اس کے رسول یا نبی یا ملہم کو یہ قدرت حاصل ہو کہ جو الوہیّت کے متعلق خارق عادت کام ہیں ان کو وہ اپنی قدرت سے دکھلائے اور فرمایا کہ ان کو کہہ دے کہ مَیں تو صرف آدمیوں میں سے ایک رسول ہوں جو اپنی طرف سے کسی کام کے کرنے کا مجاز نہیں ہوں ۔ محض امر الٰہی کی پیروی کرتا ہوں ۔ پھر مجھ سے یہ درخواست کرنا کہ یہ نشان دکھلا اور یہ نہ دکھلا سراسر حماقت ہے۔ جو کچھ خدا نے کہا وہی دکھلا سکتا ہوں نہ اور کچھ۔ اور انجیل میں خود تراشیدہ نشان مانگنے والوں کو صاف لفظوں میں حضرت مسیح مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ اس زمانہ کے حرام کار لوگ مجھ سے نشان مانگتے ہیں ان کو بجز یونس نبی کے نشان کے اور کوئی نشان دکھلایا نہیں جائے گا یعنی نشان یہ ہوگا کہ باوجود دشمنوں کی سخت کوشش کے جو مجھے سولی پر ہلاک کرنا چاہتے ہیں مَیں یونس نبی کی طرح قبر کے پیٹ میں جو مچھلی سے مشابہ ہے زندہ ہی داخل ہوں گا اور زندہ ہی نکلوں گا اور پھر یونس کی طرح نجات پا کر کسی دوسرے ملک کی طرف جاؤں گا ۔ یہ اشارہ اس واقعہ کی طرف تھا جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے جیسا کہ اُس حدیث سے ثابت ہے کہ جو کنز العمال میں ہے یعنی یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب سے نجات پا کر ایک سرد ملک کی طرف بھاگ گئے تھے یعنی کشمیر جس کے شہر سری نگر میں ان کی قبر موجود ہے۔ غرض جب حضرت مسیح سے ان کے دشمنوں نے نشان مانگا اور میاں عبدالحق کی طرح بعض خود تراشیدہ نشان پیش کئے کہ ہمیں یہ دکھلاؤ اور یہ دکھلاؤ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وہی جواب تھا جو ابھی ہم نے تحریر کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ میاں عبد الحق کا ایسے اقتراحی نشان کے مانگنے میں کچھ قصور نہیں ہے بلکہ حسب آیت تَشَابَہَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ(البقرة: ۱۱۹) ان کی طبیعت ہی اُن بد بخت کفار کے مشابہ واقع ہوئی ہے جو خدا تعالیٰ کے نشانوں کو قبول نہیں کرتے تھے اور اپنی طرف سے اختراع کر کے درخواستیں کرتے تھے کہ ایسے ایسے نشان دکھاؤ لیکن اگر افسوس ہے تو صرف یہ ہے کہ ان لوگوں نے مولوی کہلا کر ہنسی ٹھٹھا اپنا شیوہ بنا لیا ہے ۔ جو شخص عبدالحق کے اشتہار کو غور سے پڑھے گا اس کو قبول کرنا پڑے گا کہ انہوں نے اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کا شرارت اور بے ادبی سے ذکر کر کے ان کی ٹانگ کی درستی یا آنکھ کی نظر کی نسبت جو نشان مانگا ہے یہ ایک اوباشانہ طریق پر ٹھٹھا کیا ہے جو کسی پرہیزگار اور نیک بخت کا کام نہیں ہے ۔ پلید دل سے پلید باتیں نکلتی ہیں اور پاک دل سے پاک باتیں ۔ انسان اپنی باتوں سے ایسا ہی پہچانا جاتا ہے جیسا کہ درخت اپنے پھلوں سے ۔ جس حالت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں صاف فرمادیا کہ وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ(الحجرات: ۱۲) یعنی لوگوں کے ایسے نام مت رکھو جو ان کو بُرے معلوم ہوں تو پھر برخلاف اس آیت کے کرنا کن لوگوں کا کام ہے لیکن اب تو نہ ہم عبدالحق پر افسوس کرتے ہیں نہ اس کے دوسرے رفیقوں پر کیونکہ ان لوگوں کا ظلم اور نا انصافی اور دروغ گوئی اور افترا حد سے گذر گیا ہے اسی اشتہار کو پڑھ کر دیکھ لو کہ کس قدر جھوٹ سے کام لیا ہے کیا کسی جگہ بھی خدا تعالیٰ سے حیا کی ہے چنانچہ ہم بطور نمونہ بطرز قولہ واقول اس ظالم شخص کے جھوٹوں کا ذخیرہ ذیل میں لکھ دیتے ہیں جو اسی اشتہار میں اس نے استعمال کئے ہیں اور وہ یہ ہیں ۔
قولہ ۔ مرزا بار ہا متفرق مواضع کے مباحثات میں شرمندہ اور لا جواب ہوا اور ہر مجمع میں خائب اور خاسر اور نامراد رہا۔
اقول ۔ کیوں میاں عبدالحق کیا یہ تم نے سچ بولا ہے۔ کیا اب بھی ہم لعنة اللّٰہ علی الکاذبین نہ کہیں۔ شاباش! عبداللہ غزنوی کا خوب تم نے نمونہ ظاہر کیا۔ شاگرد ہوں تو ایسے ہوں بھلا اگر سچے ہی۔ تو ان مجامع اور مجالس کی ذرہ تشریح تو کرو جن میں میں شرمندہ ہوا اس قدر کیوں جھوٹ بولتے ہو کیا مرنا نہیں ہے؟ بھلا ان مباحثات کی عبارات تو لکھو جن میں تم یا تمہارا کوئی اور بھائی غالب رہا ورنہ نہ میں بلکہ آسمان بھی یہی کہہ رہا ہے کہ لعنة اللّٰہ علی الکاذبین۔ میری طرف سے اتمام حجت اس سے زیادہ کیا ہو سکتا تھا کہ میں نے قرآن سے ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ حدیث سے ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے اور ان کی عمر ایک سو پچیس برس کی تھی۔ معراج کی حدیث نے ثابت کر دیا کہ وہ مردوں میں جاملے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے آسمان پر حضرت یحییٰ کے پاس انہیں دیکھا۔ کیا اب بھی ان کے مرنے میں کسر باقی رہ گئی۔ تمام صحابہ کا اُن کی موت پر اجماع ہو گیا اور اگر اجماع نہیں ہوا تھا تو ذرہ بیان تو کرو کہ جب حضرت عمر کے غلط خیال پر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے اور پھر دوبارہ دنیا میں آئیں گے حضرت ابوبکر نے یہ آیت پیش کی کہ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ(اٰل عمران: ۱۴۵) تو حضرت ابوبکر نے کیا سمجھ کر یہ آیت پیش کی تھی اور کونسا استدلال مطلوب تھا جو مناسب محل بھی تھا اور صحابہ نے اس کے معنے کیا سمجھے تھے اور کیوں مخالفت نہیں کی تھی اور کیوں اس جگہ لکھا ہے کہ جب یہ آیت صحابہ نے سنی تو اپنے خیالات سے رجوع کر لیا۔ اسی طرح میں نے حدیثوں سے ثابت کر دیا ہے کہ آنے والا مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا اور اس کے ظہور کا یہی زمانہ ہے جیسا کہ حدیث یَکسر الصَّلیب سے سمجھا جاتا ہے۔
پھر آنکھیں کھولو اور دیکھو کہ میری ہی دعوت کے وقت میں آسمان پر رمضان میں خسوف کسوف عین حدیث کے موافق وقوع میں آیا اور میرے ہاتھ پر سو۱۰۰ کے قریب نشان ظاہر ہوا جن کے لاکھوں انسان گواہ ہیں جن کی تفصیل کتاب تریاق القلوب میں درج ہے کوئی طریق باقی نہیں رہا جس سے میں نے اتمام حجت نہیں کیا۔ نقلی طور پر میں نے اتمام حجت کیا ۔ عقلی طور پر میں نے اتمام حجت کیا ۔ آسمانی نشانوں کے ساتھ میں نے اتمام حجت کیا اب اگر کچھ حیا ہے تو خود سوچ لو کہ کون شرمندہ اور خائب اور خاسر اور نا مراد رہا اور میں نے صرف اسی پر بس نہیں کی ۔ بارہا اشتہار دیئے کہ اگر آپ لوگوں میں کچھ سچائی ہے تو میرے مقابلہ پر آؤ قرآن سے دکھلاؤ یا حدیث سے دکھلاؤ کہاں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر زندہ مع جسم عنصری آسمان پر سے اتریں گے ۔ میں تو اب بھی ماننے کو طیار ہوں اگر آیت فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ(المائدة: ۱۱۸) کے معنے بجز مارنے اور ہلاک کرنے کے کسی حدیث سے کچھ اور ثابت کر سکو یا کسی آیت یا حدیث سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مع جسم عنصری آسمان پر چڑھنا یا مع جسم عنصری آسمان سے اترنا ثابت کر سکو ۔ یا اگر اخبار غیبیہ میں جو خدا تعالیٰ سے مجھ پر ظاہر ہوتی ہیں میرا مقابلہ کر سکو یا استجابت دعا میں میرا مقابلہ کر سکو یا تحریر زبان عربی میں میرا مقابلہ کر سکو یا اور آسمانی نشانوں میں جو مجھے عطا ہوئے ہیں میرا مقابلہ کر سکو تو میں جھوٹا ہوں ۔ آپ لوگ تو ان سوالات کے وقت مردہ کی طرح ہو گئے یہی وجہ تو ہے کہ آپ لوگوں کو چھوڑ کر ہزار ہا نیک مرد اور عالم فاضل اس جماعت میں داخل ہوتے جاتے ہیں ۔ اے عزیز ! یہ اوباشانہ فضولیاں کچھ کام نہیں دے سکتیں ۔ کیا حق کے طالب ایسی بیہودہ باتوں سے رک سکتے ہیں ؟ یہ غزنی نہیں ہے یہ پنجاب ہے جس میں بفضلہٖ تعالیٰ دن بدن لوگ زیرک اور اہل فراست ہوتے جاتے ہیں ۔ اور میں نے دیکھا ہے کہ انہی اوباشانہ جھوٹوں کی وجہ سے عقلمند لوگ آپ لوگوں سے بد اعتقاد ہوتے جاتے ہیں یہاں تک کہ اب اگرچہ خاص لوگ اہل علم و اہل جاہ و ثروت دس ہزار کے قریب ہماری جماعت میں موجود ہیں مگر عام تعداد تیس ہزار سے بھی زیادہ ہے اس کا کیا سبب ہے یہی تو ہے کہ آپ لوگ صرف ٹھٹھے ہنسی اور گالیوں سے کام نکالتے ہیں کوئی راست روی کا پہلو اختیار نہیں کرتے ۔ سیدھی بات تھی کہ آپ لوگ ملہم کہلاتے ہیں استجابت دعا کا بھی دعویٰ ہے چند پیشگوئیاں جو استجابت دعا پر بھی مشتمل ہوں بذریعہ اشتہار شائع کر دیں اور اس طرف سے میں بھی شائع کردوں ایک برس سے زیادہ میعاد نہ ہو پھر اگر آپ لوگوں کی پیشگوئیاں سچی نکلیں تو ایک دم میں ہزار ہا لوگ میری جماعت کے آپ کے ساتھ شامل ہو جائیں گے اور جھوٹے کا منہ کالا ہو جائے گا۔ کیا آپ اس درخواست کو قبول کر لیں گے؟ ممکن نہیں ۔ پس یہی وجہ ہے کہ حق کے طالب آپ لوگوں سے بیزار ہوتے جاتے ہیں ۔ صرف گالیوں اور بے ثبوت افتراؤں سے کون مان لے گا ۔ اب بھی میں نے آپ لوگوں پر رحم کر کے ایک اشتہار شائع کیا ہے اور ایک اشتہار میری جماعت کی طرف سے شائع ہوا ہے مگر کیا ممکن ہے کہ آپ لوگ اس تصفیہ کے لئے کسی مجمع میں حاضر ہو سکیں گے آپ لوگوں کی نیت بخیر نہیں ۔ مونہہ سے گالیاں دینا تحقیر کرنا کافر اور دجال کہنا لعنت بھیجنا جھوٹ بولنا اور جھوٹی فتح کا اظہار کرنا کیا اس سے کوئی فتح حاصل ہو سکتی ہے بلکہ ہمیشہ نبی اور راستباز شریر لوگوں سے ایسے ہی الفاظ سنتے رہے ہیں ۔ اگر خدا پر بھروسہ ہے کہ وہ تمہارے ساتھ ہے تو اس کی طرف سے کوئی پیشگوئی شائع کرو اور بالمقابل ہم سے دیکھ لو ورنہ مردہ کی طرح پڑے رہو اور انتظار وقت کرو۔ اگر صرف گالیاں دینا ہے تو میں آپ کا منہ بند نہیں کر سکتا ۔ نہ حضرت موسیٰ ایسی بیہودہ گوئیوں کا منہ بند کر سکے نہ حضرت عیسیٰ بند کر سکے اور نہ ہمارے سیّد و مولیٰ حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم بند کر سکے لیکن آپ لوگوں میں اگر کوئی رشید ہو تو اُس کو سوچنا چاہیے کہ میری دعوت کے قبول کرنے کے لئے کس قدر مسلمانوں میں پُر جوش حرکت ہو رہی ہے۔ پشاور سے چل کر راولپنڈی، جہلم، گجرات، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، وزیر آباد، امرتسر، لاہور، جالندھر، لدھیانہ، انبالہ، پٹیالہ، دہلی، الہ آباد، بمبئی، کلکتہ، مدراس، حیدر آباد دکن غرض کہاں تک بیان کریں پنجاب اور ہندوستان کے تمام شہروں اور دیہات کو دیکھو شاذ نادر ایسا کوئی شہر ہوگا کہ جو اس جماعت کے کسی فرد سے خالی ہوگا۔ اب اگر مسلمانوں کی سچی ہمدردی ہے تو صرف یہ اوباشانہ باتیں کافی نہیں ہیں کہ مرزا بارہا لاجواب ہو چکا ہے اور خائب اور خاسر اور نامراد رہا ہے۔ اب ایسے جھوٹ سے تو واقف کار لوگوں کو مردار سے زیادہ بدبو آتی ہے اور کوئی شریف اس کو پسند نہیں کرے گا۔ یوں تو ہندو اور چوہڑے اور چمار اور ادنیٰ سے ادنیٰ لوگ بارہا کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے مسلمانوں سے مذہب میں گفتگو کر کے لاجواب کر دیا اور وہ ہمارے ہر مجمع میں لاجواب اور خائب اور خاسر اور نامراد رہے مگر شریف انسان کو ایسے ناپاک جھوٹ سے نفرت چاہیے۔ اے عزیز اگر ایمان اور مسلمانوں کی ہمدردی کا حصہ ایک ذرّہ بھی دِل میں موجود ہے تو اِن فضول گوئیوں کا اب یہ وقت نہیں ہے۔ اب واقعی طور پر کوئی مقابلہ کر کے دِکھلانا چاہیے۔ تا سیہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد۔
قولہ ۔ مباہلہ میں کما حقہ علٰی رؤس الاشہاد رسوا اور ذلیل ہو کر قابل خطاب اور لائق جواب علماء عظام و صوفیہ کرام نہیں رہا۔
اقول ۔ افسوس کہ مباہلہ کا ذکر کر کے اور اس قدر قابل نفرت جھوٹ بول کر اور بھی تم نے اپنی رسوائی اور پردہ دری کرائی ۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ آپ لوگوں کا حیا کہاں گیا اور تقویٰ اور راست گوئی سے اس قدر کیوں دشمنی ہوگئی ۔ سوچ کر دیکھ لو کہ جس قدر تم پر اور تمہاری جماعت پر ادبار ہے وہ مباہلہ کے دن کے بعد ہی شروع ہوا ہے۔ یہ تو میری سچائی کا ایک بڑا نشان تھا جس سے آپ نے اپنی بدقسمتی سے ذرہ فائدہ نہیں اُٹھایا۔ نہ معلوم آپ لوگ کس غار کے اندر بیٹھے ہو کہ زمانہ کے حالات کی کچھ بھی خبر نہیں ۔ ہزارہا لوگ بول اُٹھے ہیں اور بے شمار روحیں محسوس کر گئی ہیں کہ ہمارے اقبال اور ترقی اور تمہارے ادبار اور تنزل کا دِن مباہلہ کا دِن ہی تھا۔ ایک ادنیٰ مثال دیکھ لو کہ مباہلہ کے دن بلکہ اسی وقت علی رؤس الاشہاد جبکہ مباہلہ ختم ہی ہوا تھا اور ابھی تم اور ہم دونوں اُسی میدان میں موجود تھے اور تمام مجمع موجود تھا خدا تعالیٰ نے میری عزت اُس مجمع پر ظاہر کرنے کے لئے ایک فوری ذلت اور فوری رسوائی تمہارے نصیب کی یعنی فی الفور ایک گواہ تمہاری جماعت میں سے کھڑا کر دیا وہ کون تھا منشی محمد یعقوب جو حافظ محمد یوسف کا بھائی ہے۔ اُس نے قسم کھائی اور رو رو کر مجھے مخاطب کر کے بیان کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم سچے ہو کیونکہ میں نے مولوی عبداللہ غزنوی سے سنا ہے کہ ایک خواب کی تعبیر کے موقع پر انہوں نے آپ کی تصدیق کی اور کہا کہ ایک نور آسمان سے اُترا ہے اور وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ اب دیکھو کہ تم ابھی مباہلہ کے مکان سے علیحدہ نہیں ہوئے تھے کہ خدا نے تمہیں ذلیل کر دیا اور جس شخص کی استادی کا تم فخر کرتے ہو اُسی نے گواہی دے دی کہ تم جھوٹے اور غلام احمد قادیانی سچا ہے۔ اب اس سے زیادہ مباہلہ کا فوری اثر کیا ہوگا کہ میرے لئے خدا کا اکرام و اعزاز اُسی وقت ظاہر ہو گیا اور اُسی وقت میری سچائی کی گواہی مل گئی اور گواہی بھی تمہارے اُس اُستاد کی یعنی عبداللہ غزنوی کی کہ اگر اُس کی بات نہ مانو تو عاق کہلاؤ کیونکہ تمہارا سارا شرف اُسی کے طفیل ہے اگر اُس کو تم نے جھوٹا سمجھا تو پھر تم نا خلف شاگرد ہو ۔ غرض یہ خدا کا ایک نشان تھا کہ مباہلہ ہوتے ہی اُسی میدان میں اُسی گھڑی اُسی ساعت خدا نے تمہیں تمہارے ہی اُستاد کی گواہی سے تمہاری ہی جماعت کے آدمی کے ذریعہ سے ذلیل اور رسوا کر دیا اور نامرادی ظاہر کر دی ۔ پھر مباہلہ کے بعد ایک اور نشان میری عزت کا پیدا ہوا جس کے لاکھوں انسان گواہ ہیں اور وہ یہ کہ ہمارے سلسلہ کے لئے مجھے وہ فتوحات مالی ہوئیں کہ اگر میں چاہتا تو اُن سے ایک غزنی کا بڑا حصہ خرید سکتا ۔ چنانچہ اس پر سرکاری ڈاک خانجات کے وہ رجسٹر گواہ ہیں جن میں منی آرڈر درج ہوا کرتے ہیں ۔ مگر کیا تمہیں اِس کے بعد کوئی ۲؍ کا منی آرڈر بھی آیا اگر آیا تو اِس کا ثبوت دو ۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ ہزارہا روپیہ جو مباہلہ کے بعد مجھے بھیجا گیا جو تیس۳۰۰۰۰ ہزار روپیہ سے کم نہ تھا کیا اِس بات پر دلیل نہیں ہے جو مسلمان لوگوں نے مجھے عزت اور بزرگی کی نظر سے دیکھا اور مجھے عزیز رکھ کر میرے پر اپنے مال فدا کئے ۔ یہ ایک عظیم الشان نشان ہے جس سے انکار کرنا آفتاب پر تھوکنا ہے ۔ پھر مباہلہ کی تاثیر کا نشان یہ ہے کہ یہ تیس ہزار آدمی کی جماعت جو اب میرے ساتھ ہے یہ مباہلہ کے بعد ہی مجھ کو ملی ۔ آتھم کا وفات پا کر ہمیشہ کے لئے اسلامی مخالفت کو ختم کر کے دنیا سے رخصت ہو جانا مباہلہ کے بعد ہی پیشگوئی کے موافق ظہور میں آیا ۔ پیشگوئی کا یہ منشاء تھا کہ جو ہم دونوں میں سے جھوٹا مذہب رکھتا ہے وہ پہلے مرے گا ۔ سو آتھم نے مجھ سے پہلے وفات پا کر میری سچائی پر مہر لگا دی ۔ پھر بعد اس کے لیکھرام کے قتل کا وہ نشان ظاہر ہوا جس پر تخمیناً تین ہزار مسلمان اور ہندوؤں نے ایک محضر نامہ پر جو ہماری طرف سے طیار ہوا تھا یہ گواہی اپنی قلم سے ثبت کر دی کہ یہ پیشگوئی نہایت صفائی سے ظہور میں آئی ۔ اسی محضر نامہ پر سیّد فتح علی شاہ صاحب ڈپٹی کلکٹر نہر کے دستخط ہیں جو مخالف جماعت میں سے ہو کر تصدیق کرتا ہے ۔
یہ یقینی امر ہے کہ تیس ہزار کے قریب لوگ اس پیشگوئی کو دیکھ کر ایمان لائے۔ ورنہ ہماری جماعت مباہلہ سے پہلے تین سو سے زیادہ نہ تھی۔ پھر بعد اس کے خدا تعالیٰ کے نشانوں کی اِس قدر بارش ہوئی کہ سو سے زیادہ نشان ظہور میں آیا جن کے لاکھوں انسان گواہ ہیں ۔ بڑے بڑے امراء اور تاجر اِس جماعت میں داخل ہوئے اور ایک دنیا ارادت اور اعتقاد کے ساتھ میری طرف دوڑی اور ایک عظیم الشان قبولیت زمین پر پھیل گئی۔ کیا اس میں تمہاری ذلت نہ تھی۔ انسان دور بیٹھا ہوا اندھے کے حکم میں ہوتا ہے اگر ایک دو ہفتہ قادیاں میں آ کر دیکھو کہ کیونکر ہزارہا کوس سے ہر طرف سے لوگ آ رہے ہیں اور کیونکر ہزارہا روپیہ میرے قدموں پر ڈال رہے ہیں اور کیونکر ہر ایک ملک سے قیمتی تحفے اور سوغاتیں اور پھل چلے آتے ہیں اور کیونکر صدہا لوگوں کے لئے ایک وسیع لنگر خانہ طیار ہے اور کیونکر ہماری جامع مسجد میں صدہا آدمی جو بیعت میں داخل ہیں جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں اور کیونکر بے شمار زیارت کرنے والے قدموں پر گرے جاتے ہیں تو غالباً یہ نظارہ آپ کے لئے بباعث شدت غم نا گہانی موت کا موجب ہوگا۔ اب ذرہ انصاف سے سوچو کہ مباہلہ کے بعد کون رسوا اور ذلیل ہوا اور کس نے عزت پائی۔ اگر تمہیں خبر ہوتی کہ مباہلہ کے پہلے میری جماعت کیا تھی اور قبولیت کس قدر تھی اور پھر مباہلہ کے بعد کس قدر قبولیت زمین پر پھیل گئی اور کس قدر فوج در فوج لوگ اِس مبارک سلسلہ میں داخل ہوئے تو یقین تھا کہ تم شدّت غم سے مدقوق یا مسلول ہو کر مُدّت سے مر بھی جاتے ۔ مَیں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتی کا کام ہے اور اِس قسم کو سچ نہ سمجھنا بھی لعنتی کا کام کہ میری عزت اور قبولیت مباہلہ سے پہلے ایک قطرہ کے موافق تھی اور اب مباہلہ کے بعد ایک دریا کی مانند ہے ۔
غرض ہر ایک پہلو سے خدا نے میری مدد کی یہاں تک کہ میں نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر ایک پیشگوئی اپنی کتابوں میں شائع کی تھی کہ عبدالحق غزنوی نہیں مرے گا جب تک میرا چوتھا بیٹا پیدا نہ ہو۔ سو الحمد للہ کہ وہ بھی تمہاری زندگی میں ہی پیدا ہو گیا جس کا نام مبارک احمد ہے اور اسی طرح سو کے قریب اور نشان ظاہر ہوا اور عزت پر عزت حاصل ہوتی گئی یہاں تک کہ دشمنوں نے میری عزت کو اپنے لئے ایک عذاب دیکھ کر درد حسد سے مقدمات بھی بنائے لیکن ہر میدان میں مخذول اور مردود رہے۔ اب بتلاؤ کہ تمہیں مباہلہ کے بعد کونسی عزت اور قبولیت ملی اور کس قدر جماعت نے تمہاری بیعت کی اور کس قدر فتوحات مالی نصیب ہوئیں اور کس قدر اولاد ہوئی بلکہ تمہارا مباہلہ تو تمہاری جماعت کے مولوی عبدالواحد کو بھی لے ڈوبا اور اس کی بھی بیوی کے فوت ہونے سے خانہ بربادی ہوئی۔ مجھے خدا نے وعدہ دیا تھا کہ مباہلہ کے بعد دو اور لڑکے تمہارے گھر پیدا ہوں گے سو دو اور پیدا ہو گئے اور وہ دونوں پیشگوئیاں جو صد ہا انسانوں کو سنائی گئی تھیں پوری ہو گئیں۔ اب بتلاؤ کہ تمہاری پیشگوئیاں کہاں گئیں۔ ذرہ جواب دو کہ اِس فضول گوئی کے بعد کس قدر لڑکے پیدا ہوئے۔ ذرہ انصاف سے کہو کہ جبکہ تم منہ سے دعوے کر کے اور اشتہار کے ذریعہ سے لڑکے کی شہرت دے کر پھر صاف نامراد اور خائب و خاسر رہے۔ کیا یہ ذلت تھی یا عزت تھی؟ اور اس میں کچھ شک نہیں کہ مباہلہ کے بعد جو کچھ قبولیت مجھ کو عطا ہوئی وہ سب تمہاری ذلت کا موجب تھی۔
قوله ۔ کیا آتھم اور داماد مرزا احمد بیگ اور آپ کے فرزند موعود کا کوئی نتیجہ ظہور میں آیا۔
اقول ۔ ہزار ہا دانشمند انسان اِس بات کو مان گئے ہیں کہ آتھم پیشگوئی کے مطابق مرگیا اور اگر زندہ ہے تو پیش کرو اور اگر یہ کہو کہ میعاد کے اندر فوت نہیں ہوا تو یہ تمہارا حمق ہے کہ ایسا خیال کرو کیونکہ پیشگوئی شرطی تھی اور شرط کے تحقق نے میعاد کی رعایت کو باطل کر دیا تھا اور نیز میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ یونس نبی کو سچا نبی مانتے ہو یا نہیں اس کی پیشگوئی کیوں خطا گئی اس میں تو کوئی شرط بھی نہ تھی پھر اگر حیا اور ایمان ہے تو شرطی پیشگوئیوں پر کیوں اعتراض کرتے ہو۔ دیکھو یونہ نبی کی کتاب اور دُرِّ منثور کہ کیسے یونہ نبی کو پیشگوئی کے خطا جانے سے تکالیف اٹھانی پڑیں ۔ اب یونس کو مجھ سے زیادہ تر برا کہو کہ اُس کی قطعی پیشگوئی جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہ تھی خطا گئی ۔ اے نادانو! اسلام پر کیوں تبر چلاتے ہو حق یہی ہے کہ وعید کی پیشگوئی میں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہوتا ہے کہ توبہ اور استغفار اور رجوع سے اس میں تاخیر ڈال دے گو اس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہ ہو ۔ اگر ایسا نہ ہو تو تمام صدقات اور خیرات اور دعوات باطل ہو جائیں گی اور یہ اصول جو تمام نبیوں کا مانا ہوا ہے کہ يُرَدُّ القَضَاءُ بِالصَّدَقَاتِ وَالدُّعَاء صحیح نہیں رہے گا ۔ ماسوا اس کے ہر ایک عقلمند سوچ سکتا ہے کہ میرا اور ڈپٹی آتھم کا مقابلہ کسی میرے دعوے کے متعلق نہ تھا۔ اِس تمام بحث کا خلاصہ مطلب یہی تھا کہ آتھم یہ کہتا تھا کہ عیسائی دین سچا ہے اور نعوذ باللہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مفتری ہیں اور قرآن خدا کا کلام نہیں بلکہ انسان کا افترا ہے ۔ اور میں کہتا تھا کہ عیسائی مذہب اپنی اصلیت پر قائم نہیں اور تثلیث و کفارہ وغیرہ سب باطل ہیں ۔ پس جب پندرہ دن بحث کے ختم ہو گئے تو آخری دن میں جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے الہام کیا میں نے اُسی مجلس بحث میں جس میں ستر ۷۰ سے زیادہ مسلمان اور عیسائی موجود ہوں گے آتھم کو مخاطب کر کے کہا کہ تم نے اپنی کتاب میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کا نام دجال رکھا ہے اور اِسلام کو جھوٹا مذہب ٹھہرایا ہے اور دیکھو اس وقت تم نے عیسائی مذہب کے حامی ہو کر بحث کی ہے اور میں نے اسلام کو حق سمجھ کر اس کی حمایت میں بحث کی ہے۔ اب میں خدا سے الہام پا کر کہتا ہوں کہ ہم دونوں میں سے جو شخص جھوٹے مذہب کا حامی ہے وہ سچّے کے زندہ ہونے کی حالت میں ہی ہاویہ میں گرایا جاوے گا یعنی مرے گا مگر جو سچّے مذہب کا حامی ہے وہ سلامت رہے گا۔ اور جھوٹے کی موت پندرہ مہینہ کے اندر اِس حالت میں ہو گی جبکہ وہ حق کی طرف کچھ بھی رجوع نہ کرے گا۔ جب میں یہ پیشگوئی بیان کر چکا جس کا یہ خلاصہ ہے تو اُسی وقت آتھم نے زبان نکالی اور توبہ کرنے والوں کی طرح دونوں ہاتھ اُٹھائے اور دجال کہنے سے اپنی پشیمانی ظاہر کی ۔ پس بلا شبہ ایک عیسائی کی طرف سے یہ ایک رجوع ہے جس کے ستر۷۰ سے زیادہ مسلمان اور عیسائی گواہ ہیں اور بعد اس کے برابر پندرہ مہینے تک عبد اللہ آتھم کا گوشۂ تنہائی میں بیٹھنا اور امرتسر کے عیسائیوں کا ترک صحبت کرنا اور قانوناً نالش کرنے کا حق رکھ کر پھر بھی نالش نہ کرنا اور اقرر کرنا کہ میں ان لوگوں کی طرح حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا نہیں مانتا اور باوجود چار ہزار روپیہ انعام پیش کرنے کے قسم کھانے سے انکار کرنا اور میعاد پیشگوئی میں ایک حرف بھی ردِّ اسلام میں نہ لکھنا اور روتے رہنا اور برخلاف اپنی قدیم عادت کے ترک مباحثہ مسلمانوں سے کرنا یہ تمام ایسی باتیں ہیں کہ اگر انسان مفسد اور سیہ دل نہ ہو تو ضرور ان سے نتیجہ نکالے گا کہ بلا شبہ عبد اللہ آتھم پیشگوئی کے سننے کے بعد ڈرا اور اسلامی عظمت کو دِل میں بٹھایا۔ لہذا ضرور تھا کہ بقدر اپنے رجوع کے الہامی شرط سے فائدہ اُٹھاتا۔ پھر ان سب باتوں سے قطع نظر کر کے وہ شخص کیسا مسلمان ہے کہ جو اس قسم کے مذہبی مباحثہ میں جس کا نعوذ باللہ میرے مغلوب ہونے کی حالت میں اثر بد اسلام پر پڑتا ہے پھر بھی کہے جاتا ہے کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی اور پیشگوئی جھوٹی نکلی ۔ اے نادان اگر پیشگوئی جھوٹی نکلی تو پھر تجھے عیسائی ہو جانا چاہیے کیونکہ اس صورت میں عیسائی مذہب کا سچا ہونا ثابت ہوا۔ تم لوگوں کے لئے کیسے فخر کی بات تھی کہ دو شخص دو قوموں میں سے اسلام کے مقابل پر اُٹھے یعنی آتھم اور لیکھرام ۔ اور اُن کو ایک آسمانی فیصلہ کے طور پر سنایا گیا کہ جو شخص جھوٹے مذہب پر ہوگا وہ اُس فریق سے پہلے مر جائے گا کہ جو سچے مذہب پر قائم ہے چنانچہ میری زندگی میں ہی آتھم اور لیکھرام دونوں مر گئے اور میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اب تک زندہ ہوں اور اگر اسلام سچا نہ ہوتا تو ممکن تھا بلکہ ضروری تھا کہ میں پہلے ان سے مر جاتا ۔ پس خدا سے ڈرو اور اُس فتح کو جو خدا کے کمال فضل سے اِسلام کو نصیب ہوئی میرے حسد کے لئے شکست کے پیرایہ میں بیان مت کرو ۔ دیکھو اِس وقت آتھم کہاں ہے اور لیکھرام کس ملک میں ہے ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ کئی برس ہوئے کہ آتھم فوت ہو گیا اور فیروز پور میں اُس کی قبر ہے ۔ پس جبکہ پیشگوئی کی اصل غرض جو میری زندگی میں ہی آتھم کا فوت ہو جانا تھا پوری ہو چکی تو کیوں بار بار میعاد کا ذکر کر کے روتے ہو اور کہتے ہو کہ فوت تو ہوا مگر میعاد کے اندر فوت نہیں ہوا یہ کیسا بیہودہ عذر ہے ۔ اے نادانوں اور خدا کی شریعت کے اسرار سے غافلو ! جبکہ وعید کی پیشگوئی میں خدا کو یہ بھی اختیار ہے کہ توبہ اور رجوع کرنے سے سرے سے عذاب کو ہی ٹال دیتا ہے تو کیا میعاد کی کمی و بیشی اس پر کوئی اعتراض پیدا کر سکتی ہے ۔ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوۡنَ(المؤمنون: ۹۲) اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی رحمت اور رحیمانہ رعایت کو مخفی رکھنا نہیں چاہتا ۔ پس جبکہ آتھم نے پیشگوئی کو سن کر اُسی وقت سر جھکا دیا اور زبان نکال کر اور دونوں ہاتھ اُٹھا کر توبہ اور ندامت کے آثار ظاہر کئے جس کے گواہ ڈاکٹر مارٹن کلارک بھی ہیں اور بہت سے معزز مسلمان اور عیسائی جن میں سے میرے خیال میں خان محمد یوسف خاں صاحب رئیس امرتسر بھی ہیں جو اُس وقت موجود تھے تو کیا اس رجوع نے کوئی حصہ شرط کا پورا نہ کیا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اعتراض اس صورت میں ہوتا تھا جبکہ باوجود اس قدر انکسار اور خوف اور تذلّل آتھم کے جو اُس نے ظاہر کیا اور باوجود اس کے کہ وہ مارے غم کے دیوانہ وار ہو گیا اور آئندہ مقابلہ اور مباحثہ سے زبان بند کر لی پھر بھی خدا تعالیٰ اپنی شرط کا کچھ بھی اس کو فائدہ نہ پہونچاتا اور سخت گیری سے میعاد کے اندر ہی اُس کی زندگی کو ختم کر دیتا ۔ کیا اِس سے خدا کی پاک صفات کی معرفت حاصل نہیں ہوتی کہ اُس نے آتھم کی تضرع اور خوف کا بھی اُسے فائدہ پہنچا دیا اور پھر پیشگوئی کی منشاء کے موافق اُس کے رشتہ حیات کو بھی توڑ دیا تا ثابت ہو کہ جس قدر آتھم نے انکسار اور خوف ظاہر کیا بظاہر اس کی پاداش یہ تھی کہ کم سے کم دس سال اس کو اور زندگی دی جاتی تا بموجب آیت فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ(الزلزال: ۸) وہ اپنے دِلی خوف کی پوری پاداش کو پا لیتا لیکن خدا تعالیٰ نے اس لئے اس کو جلد ہلاک کر دیا کہ تا پادری لوگ نادان لوگوں کو دھوکہ نہ دیں اور اپنے مذہب کی حقانیت پر اس کی زندگی کو دلیل نہ ٹھہرائیں ۔ میں تو اُسی وقت ڈر گیا تھا جبکہ عام مجمع میں آتھم نے اپنی زبان منہ سے باہر نکالی اور رونے والی صورت بنا کر دونوں ہاتھ اُٹھائے اور ظاہر کیا کہ مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرتا ہوں ۔ اور اُسی وقت مجھے خیال آیا تھا کہ اب یہ شخص اپنی اس ندامت کے اقرار سے خدائے رحیم کے آستانہ پر گرا ہے دیکھئے اس کا نتیجہ کیا ہو گا کیونکہ میں جانتا تھا کہ خدا رحیم ہے اور اُس کی اِسی صفت کی وجہ سے یونس نبی پر ابتلا آیا اور جن کے لئے اُس نے چالیس دن تک ایک مہلک عذاب کا وعدہ کیا تھا اُن کے دامن کا ایک ذرہ گوشہ بھی چاک نہ ہوا۔ اور یاد رہے کہ حق کے طالبوں کو اِس پیشگوئی اور لیکھرام والی پیشگوئی سے ایک علمی فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے اور وہ یہ کہ آتھم کی پیشگوئی بباعث اُس کے ڈرنے اور خوف کھانے کے جمالی رنگ پر ظاہر ہوئی اور لیکھرام کی نسبت جو پیشگوئی تھی وہ بباعث اس کی شوخی اور بیباکی اور بد زبانی کے جو پیشگوئی کے بعد اور بھی زیادہ ہو گئی تھی جلالی رنگ میں ظاہر ہوئی اور اُس کی زبان کی چھری آخر اُسی پر چل گئی ۔
یہ تو آتھم کی نسبت ہم نے بیان کیا اور احمد بیگ کے داماد کی نسبت ہم بار بار بیان کر چکے ہیں کہ اس پیشگوئی کی دو ٹانگیں تھیں ۔ ایک احمد بیگ کی موت کے متعلق اور ایک اُس کے داماد کے متعلق ۔ سو تم سن چکے ہو کہ احمد بیگ مدت ہوئی کہ پیشگوئی کی منشاء کے موافق فوت ہو چکا ہے اور اس کی قبر ہوشیار پور میں موجود ہے۔ رہا اس کا داماد سو پیشگوئی کی شرط کی وجہ سے اس کی موت میں تاخیر ڈال دی گئی اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ پیشگوئی شرطی تھی ۔ پھر جب احمد بیگ شرط سے لاپروا رہ کر مر گیا تو اس کی موت نے اس کے داماد اور دوسرے اقارب کو یہ موقع دیا کہ وہ ڈریں اور شرط سے فائدہ اُٹھائیں سو ایسا ہی ہوا اور احمد بیگ اور اُس کے داماد کے متعلق جو شرطی الہام تھا اس کی یہ عبارت تھی ۔ ایّها المرأة توبی توبی فان البلاء علٰی عقبک ۔ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ یہ الہام قبل از وقت بمقام ہوشیار پور شیخ مہر علی کے مکان پر بحاضری حافظ محمد یوسف یا منشی محمد یعقوب و نیز بحاضری منشی الٰہی بخش صاحب آپ کی جماعت میں سے ایک شخص کو جس کا نام عبد الرحیم تھا یا عبد الواحد تھا سنایا گیا تھا اور بعد میں یہ الہام چھپ بھی گیا تھا۔ غرض یہ پیشگوئی شرطی تھی جیسا کہ آتھم کی پیشگوئی شرطی تھی اور اگر وہ شرطی بھی نہ ہوتی تاہم بوجہ وعید ہونے کے یونس نبی کی پیشگوئی سے مشابہ ہوتی ۔ اور خدا کی باتوں کا صبر سے انجام دیکھنا چاہیے نہ شرارت سے اعتراض ۔
اور فرزند موعود کی نسبت جو اعتراض تھا اس سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ ہمارے مخالفوں کی کچھ ایسی عقل ماری گئی ہے کہ اعتراض کرنے کے وقت اُن کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اعتراض کا کوئی موقع بھی ہے یا نہیں ۔ اے نادان ! خدا تعالیٰ نے جیسا کہ وعدہ فرمایا تھا مجھے چار لڑکے عطا فرمائے اور ہر ایک لڑکے کی پیدائش سے پہلے مجھے اپنی خاص وحی کے ذریعہ سے اس کے پیدا ہونے کی بشارت دی اور وہ ہر چہار بشارتیں ہر چہار اشتہار کے ذریعہ سے قبل از وقت دنیا میں شایع کی گئیں جن کے لاکھوں انسان ان ملکوں میں گواہ ہیں ۔ پھر میں سمجھ نہیں سکتا کہ اعتراض کیا ہوا ۔ اعتراض تو تمہاری حالت پر واقع ہوتا ہے کہ منہ سے نکالا کہ خدا کے فضل سے میرے لڑکا ہوگا اور اس پیشگوئی کو اشتہار میں شائع کیا اور پھر وہ لڑکا اندر ہی اندر تحلیل پا گیا ۔ باہر آنا اُس کو نصیب نہ ہوا ۔ کاش وہ مردہ ہی پیدا ہوتا تا تمہارے ہاتھ میں کچھ تو بات رہ جاتی ۔ یہ بھی مباہلہ کا بداثر تم پر پڑا کہ اولاد سے نامراد رہے ۔ غرض میرے گھر میں تو اولاد کی بشارت کے بعد چار لڑکے ہوئے اور ہر ایک لڑکے کی پیدایش سے پہلے خدا نے خبر دی جس کو میں نے ہزار ہا لوگوں میں شائع کیا مگر تم بتلاؤ کہ تمہارے گھر میں کیا پیدا ہوا۔ تم تو اب تک اس اعتراض کے نیچے ہو۔ کاش ایک صادق سے مباہلہ نہ کرتے تو شاید اب تک لڑکا ہو جاتا ۔ سو آئینہ لے کر اپنا عیب دیکھو۔ میرے پر نکتہ چینی کا کوئی محل نہیں ۔ ہاں اگر میں نے کوئی ایسا الہام شائع کیا ہے جس کے یہ معنے ہوں کہ اسی الہام کے قریب حمل سے اور اسی سال میں لڑکا پیدا ہوگا تو وہ میرا الہام شائع کر دو مگر خبردار کوئی اس قسم کا اعتراض پیش نہ کرنا جو اس سے پہلے بعض منافقوں نے حدیبیہ کے قصے پر پیش کیا تھا جس سے عمر فاروق کو خدا نے بچایا اور منافق ہلاک ہوئے ۔ اے عزیز کیوں میرے کینہ کے لئے شریعت محمدیہ سے دست بردار ہوتے ہو ۔ اس جگہ تو کوئی ہاتھ ڈالنے کی تمہیں جگہ نہیں اور با وصف اس کے یہ متفق علیہ عقیدہ ہے کہ کبھی نبی اپنی پیشگوئی کے محل اور موقع کے سمجھنے میں غلطی بھی کر سکتا ہے چنانچہ علماء اس پر دلیل حدیث ذَهَبَ وَهْلِیْ کو پیش کرتے ہیں جو بخاری میں موجود ہے۔ اور اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ کسی تاویل کی غلطی سے پیشگوئی غلط نہیں ٹھہر سکتی اور نہ غیر الہامی ٹھہر سکتی ہے پس جب نبیوں کی پیشگوئی میں یہاں تک وسعت ہے کہ نبی کے غلط معنے پیشگوئی کو کچھ حرج نہیں پہنچاتے تو پھر اعتراض اُسی صورت میں ہوگا جبکہ الہام کا اسی کے الفاظ سے غلط ہونا ثابت ہو جائے ۔
قوله ۔ مرزا یقیناً جانتا ہے کہ اِس فضول کام کے لئے نہ کسی نے آنا ہے اور نہ یہ کام ہونا ہے مفت کی میری شیخی مشہور ہو جائے گی ۔
اقول ۔ اے ناسمجھ خدا سے ڈر کیا دین کے کام کو فضول کام کہتا ہے کیا خدا کے نبی فضول کام میں ہی مشغول رہے۔ اے عزیز ! کیا یہ کام فضول ہے جس سے ہزار ہا جانیں جھوٹ اور ضلالت سے نجات پاتی ہیں اور اندرونی تفرقہ اس اُمت کا جس نے مسلمانوں کو کمزور کر دیا ہے دور ہوتا ہے۔ اگر یہ کام فضول ہے تو کیا دوسرے کام شریعت کے لئے ضروری تھے جو آپ لوگ کر رہے ہیں۔ مثلاً نذیر حسین دہلوی باوجود پیرانہ سالی کے شیخ محمد حسین بٹالوی کے لڑکے کی شادی پر بٹالہ آیا اور سیالکوٹ کے ضلع تک گیا ۔ بجز کھانے پینے کے اور کیا غرض تھی ۔ اِس زمانہ میں مسلمانوں کی حالت اِسی وجہ سے انحطاط میں ہے کہ حال کے مولوی ضروری کاموں کا نام فضول کام رکھتے ہیں اور اپنی نفسانی تجارتوں کے لئے عدن اور مسقط تک سیر کر آتے ہیں اس کو کوئی فضول نہیں سمجھتا مگر تائید اسلام کے کاموں کو غیر ضروری سمجھتے ہیں اور یوں گوشت پلاؤ کھانے اور شادیوں کی دعوتوں میں شامل ہونے کے لئے صد ہا کوس چلے جاتے ہیں۔ یہ خوب دینداری ہے کہ یوں تو ملک میں شور مچا رہے ہیں کہ گویا اِس جماعت میں داخل ہو کر تیس ہزار آدمی کافر ہوگیا اور ہوتا جاتا ہے اور جب کہا جائے کہ آؤ فیصلہ کرو تو جواب ملتا ہے کہ اس فضول کام کے لئے علماء کو فرصت کہاں ہے اور کرایہ کے لئے خرچ کہاں ۔ ہم اس وقت ایسے علماء کو خدا کی حجت پوری کرنے کے لئے کرایہ کی مدد دینے کو بھی حسب شرائط مذکورہ بالا طیار ہیں۔ کاش کسی طرح اُن کے دل سیدھے ہوں ۔ اسلام سب مذہبوں پر غالب ہوتا ہے۔ یہ کیسا اسلام ان کے ہاتھ میں ہے جو ان کو تسلی نہیں دے سکتا۔ غرض اب ہم نے ان کا یہ عذر بھی توڑ دیا۔
قوله ۔ اے نئے عیسائیو اور نیا گرجا بنانے والو۔ ہم ایک سہل اور نہایت آسان طریق بتلاتے ہیں ۔
اقول ۔ اے حد سے بڑھنے والے کیا اُن مسلمانوں کا نام عیسائی رکھتا ہے جو اسلام کے حامی اور زمین پر حُجّت اللّٰہ ہیں۔ اگر مسلمان تیرے جیسے ہی ہوتے تو اسلام کا خاتمہ تھا۔ پھر اس کے بعد آپ نے تمسخر اور ٹھٹھے سے مولوی عبدالکریم صاحب کا ذکر کیا ہے اور نشان یہ مانگا ہے کہ مولوی صاحب موصوف کو جو ایک ٹانگ میں کچھ کمزوری ہے اور ایک آنکھ کی بصارت میں خلل ہے یہ دونوں عارضے جاتے رہیں ۔ اور اس ذکر سے اصل غرض آپ کی صرف ٹھٹھا اور ہنسی ہے اور یہ مقولہ محض اُن کافروں کی طرح ہے جو نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہتے تھے اور یہ نشان مانگتے تھے کہ اگر یہ سچا نبی ہے تو اس کے لڑکے جس قدر مر گئے ہیں اُن کو زندہ کر دے ۔ مگر ہم اِس ٹھٹھے کا ابھی جواب دے چکے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ انسان بوجہ اپنی انسانیت کے کسی نہ کسی نقص سے خالی نہیں ہوتا اور ہمیشہ امراض آفات بھی لاحق رہتے ہیں ۔ عزیز واقارب بھی مرتے ہیں لیکن کوئی شریف نشان مانگنے کے بہانہ سے اِس طرح پر دِل نہیں دکھاتا ۔ یہ قدیم سے رذیلوں اور سفیہوں کا کام ہے اور ہمارے ملک میں اِس قسم کا ٹھٹھا ہنسی اکثر مراسی کیا کرتے ہیں ۔ ہمیں معلوم نہیں کہ میاں عبدالحق نے کیوں یہ طریق اختیار کیا ہے ۔ بھلا اگر ابھی کوئی میاں عبداللہ غزنوی پر چند ایسے اعتراض کر دے کہ اگر وہ ملہم تھا تو اُس کو چاہیے تھا کہ اپنے فلاں فلاں ذاتی نقص دُور کرتا اور لوگوں کو یہ نشان دکھلاتا تو مجھے معلوم نہیں کہ غزنوی صاحبان کیا جواب دیں گے ۔ اے عزیز ! اگر تم دوسرے کو اِس طرح پر دکھ دو گے تو وہ تمہارے باپ اور تمہارے مرشد تک پہنچے گا ۔ پس اِن فتنہ انگیز باتوں سے فائدہ کیا ہوا بلکہ خدا کے نزدیک اپنے باپ اور اپنے مرشد کی تحقیر کرنے والے تم خود ٹھہرو گے ۔ اور اگر خدا کی قضا و قدر سے خود تمہاری دونوں آنکھوں پر نزول الماء نازل ہو جائے یا ٹانگوں پر فالج پڑے تو یہ ساری ہنسی یاد آ جائے ۔ اے غافلو ! دوسروں پر کیوں عیب لگاتے ہو ۔ کیا ممکن نہیں کہ خود تم کسی وقت ایسے بدنی نقص میں مبتلا ہو جاؤ کہ لوگ تم پر ہنسیں یا تمہارے چھونے سے پرہیز کریں ۔ خدا سے ڈرو اور کفار کا شعار اختیار نہ کرو ۔ یاد رکھو کہ تمام نبیوں نے اُن لوگوں کو ملعون ٹھہرایا ہے جو نبیوں اور ماموروں سے اقتراحی نشان مانگتے ہیں ۔ دیکھو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کیا فرمایا کہ اِس زمانہ کے حرامکار مجھ سے نشان مانگتے ہیں انہیں کوئی نشان دکھلایا نہیں جائے گا ۔ ایسا ہی قرآن نے ان لوگوں کا نام ملعون رکھا جو لوگ حضرت سیّدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تجویز سے نشان مانگا کرتے تھے جن کا بار بار لعنت کے ساتھ قرآن شریف میں ذکر ہے جیسا کہ وہ لوگ کہتے تھے فَلۡیَاۡتِنَا بِاٰیَۃٍ کَمَاۤ اُرۡسِلَ الۡاَوَّلُوۡنَ(الانبیاء: ۶) یعنی ہمیں حضرت موسیٰ کے نشان دکھلائے جائیں یا حضرت مسیح کے اور کبھی آسمان پر چڑھ جانے کی درخواست کرتے تھے اور کبھی یہ نشان مانگتے تھے کہ سونے کا گھر آپ کے لئے بن جائے اور ہمیشہ انہیں نفی میں جواب ملتا تھا۔ تمام قرآن شریف کو اوّل سے آخر تک دیکھو کہیں اِس بات کا نام ونشان نہ پاؤ گے کہ کسی کافر نے اپنی طرف سے یہ نشان مانگا ہو کہ کسی کی ٹانگ درست کر دو یا آنکھ درست کر دو یا مردہ زندہ کر دو۔ تو آنحضرت نے وہی کام کر دیا ہو اور نہ انجیل میں اس کی کوئی نظیر ملے گی کہ کفار نشان مانگنے آئے اور اُنہیں دکھایا گیا بلکہ ایک دفعہ خود صحابہ رضی اللہ عنہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ فلاں شخص جس کی نئی شادی ہوئی تھی اور سانپ کے کاٹنے سے مر گیا تھا اُس کو زندہ کر دو تو آپ نے فرمایا کہ جاؤ اپنے بھائی کو دفن کرو۔ غرض قرآن شریف اس بات سے بھرا پڑا ہے کہ مکہ کے پلید اور حرامکار کافر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے طرح طرح کے نشان مانگا کرتے تھے اور ہمیشہ اس سوال کی منظوری سے محروم رہتے اور خدا تعالیٰ سے لعنتیں سنتے تھے ایسا ہی تمام انجیل پڑھ کر دیکھ لو کہ اقتراحی نشان مانگنے والے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے گالیاں سنا کرتے تھے۔ سواے عزیز! کچھ خدا کا خوف کرو عمر کا اعتبار نہیں۔ خدا تعالیٰ میرے ہاتھ پر نشان ظاہر کرتا ہے مگر اُس سنت کے موافق جو قدیم سے اپنے مامورین سے رکھتا ہے۔ اور بلاشبہ اس سنت کے التزام سے ایک شخص اگر شیطان بن کر بھی آوے تب بھی اُس کو الٰہی نشانوں سے قائل کر دیا جائے گا لیکن اگر خدا کی سنت قدیمہ کے مخالف دیکھنا چاہے تو اس کا اُس نعمت سے کچھ حصہ نہیں اور بالیقین وہ ایسا ہی محروم مرے گا جیسا کہ ابوجہل وغیرہ محروم مر گئے۔ اے عزیز آپ کا اختیار ہے کہ اُس طرح پر جو خدا نے مجھے مامور کیا ہے ایک جماعت لنگڑوں لولوں اندھوں اور کانوں اور دوسرے بیماروں کی لے آؤ اور پھر اُن میں سے قرعہ اندازی کے طریق پر جس جماعت کو خدا میرے حوالہ کرے گا اگر اُن میں مَیں مغلوب رہا تو جس قدر تم نے اپنے اشتہار میں گالیاں دی ہیں اُن سب کا میں مستحق ہوں گا ورنہ وہ تمام گالیاں تمہاری طرف رجوع کریں گی ۔ دیکھو اِس طریق سے بھی وہی تمہارا مطلب حاصل ہے پھر اگر دل میں مادہ فساد نہیں تو ایسا اُلٹا طریق کیوں اختیار کرتے ہو جس طریق کے اختیار کرنے والے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان پر حرامکار کہلائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جہنمی اور لعنتی کہلائے ۔ اگر تمہارے دِل میں ایک ذرہ ایمان ہے تو یہ طریق جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میں پیش کرتا ہوں اِس میں حرج کیا ہے ۔ کیا تم گالیوں اور دہریہ کہنے سے فتح پا جاؤ گے ۔ یقیناً اُسی گروہ کی فتح ہے جو دہریہ نہیں ہیں اور خدا تعالیٰ پر سچا ایمان رکھتے ہیں اور ہنسی ٹھٹھے سے پرہیز کرتے ہیں اور گذشتہ کافروں کی طرح اپنے اقتراح سے نشان نہیں مانگتے بلکہ خدا کے پیش کردہ نشانوں میں غور کرتے ہیں ۔
اے موت سے غافل امانت اور دیانت کے طریق سے کیوں باہر جاتا ہے اور ایسی باتیں کیوں زبان پر لاتا ہے جن میں تیرا دِل ہی تجھے ملزم کر رہا ہے کہ تو جھوٹ بولتا ہے ۔ سچ کہہ کیا اب تک تجھے خبر نہیں کہ خدا کو محکوم بنا کر کوئی بات امتحان کے طور پر اس سے مانگنا یہ طریق صلحاء کا نہیں ہے بلکہ خدا کی کلام میں اِس طریق کو ایک معصیت اور ترکِ ادب قرار دیا گیا ہے ۔ قرآن کو غور سے پڑھ اور پھر سوچ کہ جو لوگ اقتراحی نشان مانگتے تھے یعنی اپنے اپنے خود تراشیدہ نشانوں کو طلب کرتے تھے ان کو قرآن میں کیا جواب ملتا تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں موردِ غضب تھے یا موردِ رحم تھے اور اگر کچھ حیا اور شرم اور شوقِ تحقیق حق ہے اور اگر اپنے دعوے میں سچے ہو تو اپنے اُن علماء سے جو دین سے کچھ خبر رکھتے ہیں یہ فتویٰ لو کہ کیا خدا پر یہ حق واجب ہے کہ جب اس کے کسی نبی یا محدث یا رسول سے کوئی فرقہ کفار اور بے ایمانوں کا خود تراشیدہ نشان مانگے تو وہ نشان اس کو دکھلاوے اور اگر نہ دکھلاوے تو وہ نبی جس سے ایسا نشان طلب کیا جائے جھوٹا ٹھہرے گا پس اگر یہ فتویٰ تجھے علماء سے مل گیا تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ پھر تجھے تیرا پیش کردہ نشان دکھلا دوں گا اور اگر نہ ملا تو تیرے جھوٹ کی یہ سزا تجھے کافی ہے کہ تیری ہی قوم کے نامی علماء نے تیری تکذیب کی اور ہماری طرف سے یہ پیشگوئی یاد رکھو کہ نامی علماء جیسے نذیر حسین دہلوی اور رشید احمد گنگوہی ہرگز تجھے یہ فتویٰ نہیں دیں گے اگرچہ تو اُن کے سامنے روتا روتا مر بھی جائے اور ناظرین کو چاہیے کہ اِس شخص کا جو خدا کی شریعت میں تحریف اور تلبیس کرتا ہے پیچھا نہ چھوڑیں جب تک ایسا فتویٰ علماء کا پیش نہ کرے۔ کیونکہ وہ طریق جو نشان مانگنے میں اُس نے اختیار کیا ہے وہ خدا سے ہنسی اور ٹھٹھا ہے۔ یاد رہے کہ سب سے پہلے دنیا میں شیطان نے حضرت عیسیٰ سے بیت المقدس میں نشان مانگا تھا اور کہا تھا کہ اپنے تئیں اس عمارت سے نیچے گرا دے اگر زندہ بچ رہا تو میں تجھ پر ایمان لاؤں گا مگر حضرت مسیح نے فرمایا کہ دور ہو اے شیطان کیونکہ لکھا ہے کہ خدا کا امتحان نہ کر۔ اس جگہ ایک پادری صاحب انجیل کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ درحقیقت وہ انسان ہی تھا جس نے حضرت مسیح سے اقتراحی نشان مانگا تھا اور حضرت مسیح نے خود اُس کا نام شیطان رکھا کیونکہ اُس نے خدا کو اپنی مرضی کا محکوم بنانا چاہا۔ پس انجیل کے اِس قصے کی رُو سے میاں عبدالحق کے لئے بھی بڑی خوف کی جگہ ہے جب انسان امانت سے بات نہیں کرتا تو اُس وقت شیطان کا محکوم ہوتا ہے گویا خود وہی ہوتا ہے چنانچہ آیت مِنَ الۡجِنَّۃِ وَالنَّاسِ(الناس: ۷) اِس کی شاہد ہے۔
قوله ۔ مرزا اور مرزائیوں کو قیامت اور حساب اور جنت اور دوزخ پر ایمان نہیں دہریہ مذہب معلوم ہوتے ہیں کیونکہ جس کو قیامت پر ایمان ہوتا ہے وہ ایسا آزاد دھوکہ باز مفترى على اللّٰہ وعلى الرسول وعلى الناس نہیں ہوتا۔
اقول ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ سب صفات آپ لوگوں میں ہیں بلکہ آپ لوگ دہریوں سے بدتر ہیں کیونکہ دہریہ تو خدا تعالیٰ کی ہستی پر اپنے زعمِ باطل میں دلیل نہیں پاتا مگر آپ لوگ ایمان کا دعویٰ کر کے بھی پھر قابل نفرت جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ آپ لوگ جب یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے تو اس وقت آپ لوگ صریح خدا اور اس کے رسول پر افترا کرتے ہیں اور اگر افترا نہیں کرتے تو تمہیں خدا کی قسم ہے کہ بتلاؤ کہ قرآن شریف میں کہاں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے ۔ افسوس کہ قرآن شریف میں فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ(المائدة: ۱۱۸) کی آیت پڑھتے ہو اور خوب جانتے ہو کہ سارے قرآن شریف میں ہر جگہ توفّی بمعنی قبض روح ہے ۔ اور ایسا ہی یقین رکھتے ہو کہ تمام حدیثوں میں بھی توفّی بمعنی قبض روح ہے اور پھر افترا کے طور پر کہتے ہو کہ اِس جگہ پر توفّی بمعنی زندہ اُٹھا لینے کے ہیں ۔ پس اگر تم اِس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر افترا نہیں کرتے تو بتلاؤ اور پیش کرو کہ کس حدیث میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے ۔ ہائے افسوس اس قدر جھوٹ اور افترا ۔اے لوگو! کیا تم نے مرنا نہیں کیا کبھی بھی قبر کا منہ نہیں دیکھو گے ۔
از افتراء و کذب شما خوں شدست دل
داند خدا کہ زیں غم دیں چوں شدست دل
ہیچم عیاں نشد کہ شما را بکینہ ام
زینساں چرا دلیر و دگرگوں شدست دل
پھر جبکہ حدیث نبوی سے یہ ثابت نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مع جسم خاکی آسمان پر چلے گئے تھے یا جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر سے اُترنے والے ہیں اور قرآن اُن کو اُن لوگوں میں داخل کرتا ہے جو توفّی کے حکم کے نیچے ہیں اور معراج کی حدیث اِس بات کی تائید کرتی ہے کیونکہ آنحضرت نے معراج کی رات میں حضرت عیسیٰ کو وفات یافتہ روحوں میں دیکھا ہے اور ایک سو پچیس برس کی عمر جو حدیثوں میں بیان کی گئی ہے وہ صاف کہتی ہے کہ حضرت عیسیٰ اِس قدر زمانہ گذرنے کے بعد ضرور فوت ہو گئے ہیں ایسا ہی وہ حدیث کنز العمال کی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ صلیب کے بعد حضرت عیسیٰ دوسرے ملک میں چلے گئے اس کی مؤید ہے تو پھر یہ کس قدر خدا اور اُس کے رسول پر افترا ہے کہ آپ لوگ اب تک اِس جھوٹے عقیدہ سے باز نہیں آتے ۔ اگر دنیا میں وہی مسیحؑ دوبارہ آنے والا ہوتا تو خدا تعالیٰ اس کو وفات یافتہ نہ کہتا اور حدیث میں کسی جگہ اس بات کی صراحت ہوتی کہ حضرت عیسیٰ زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے ہیں اور کسی وقت زندہ مع جسم عنصری اُتریں گے ۔ مگر اب تو تمام حدیثیں دیکھ لی گئیں اِس بات کا پتہ نہیں ملتا کہ کسی وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر زندہ مع جسم آسمان پر سے اُتریں گے ۔ اور اُترنے والے کی صفت میں یہ تو لکھا ہے کہ امامکم منکم مگر یہ نہیں لکھا کہ امامکم من انبیاء بنی اسرائیل ۔ اب سوچو کہ افترا کی لعنت کس پر قرآن اور حدیث دونوں کرتے ہیں ہم پر یا تم پر ۔ اگر ہمارے اِس ثبوت کا کچھ جواب ہے تو پیش کرو ورنہ تم بلاشبہ خدا کے نزدیک مفتری ہو ۔ اور پھر اسی پر بس نہیں بات بات میں تمہارے افترا ظاہر ہیں اور تمہاری زبانیں جھوٹ سے پلید ہیں ۔ بھلا بتلاؤ کہ مباہلہ کے بارے میں جو میرے ساتھ تم نے کیا تھا کس قدر بار بار تم نے جھوٹ بولا اور کہا کہ مباہلہ میں مجھ کو فتح ہوئی ۔ اے سچائی کے دشمن اور حیا کے ترک کرنے والے سوچ اور سمجھ کہ خدا نے تو اُسی وقت اُسی مقام میں منشی محمد یعقوب کی گواہی سے تجھے ذلیل کیا ۔ کیا یہی تیری فتح تھی کہ تیرے ہی اُستاد عبداللہ غزنوی نے میری سچائی کی گواہی دے دی ۔ اب اگر میں مفتری ہوں اور قیامت اور حساب اور دوزخ پر مجھے ایمان نہیں تو تجھے ساتھ ہی ماننا پڑے گا کہ عبداللہ غزنوی تیرا اُستاد مجھ سے بڑھ کر مفتری تھا اور قیامت اور حساب اور دوزخ اور جنت پر ایمان نہیں رکھتا تھا کیونکہ بقول تمہارے اُس نے ایک ایسے آدمی کو سچا اور منجانب اللہ قرار دیا جو خدا پر افترا کرتا تھا ۔ اے نادان یہ تمام تیری گالیاں تیری طرف ہی عود کرتی ہیں جب تک تو یہ ثابت نہ کرے کہ جو کچھ تیرے استاد عبداللہ نے گواہی دی وہ صحیح نہیں ہے ۔ اے ظالم تو کیوں استاد کا عاق بنتا ہے تجھے تو چاہیئے تھا کہ سب سے پہلے تو ہی مجھے قبول کرتا کیونکہ تو نے اپنے اس اشتہار میں بھی اپنے نام کے ساتھ یہ لفظ لکھے ہیں ۔ ’’عبدالحق غزنوی تلمیذ حضرت مولانا مولوی عبداللہ صاحب غزنوی‘‘ ۔ اے بے ادب تو نے اپنے اُستاد کو یہی صِلہ دینا تھا کہ جس شخص کو وہ راستباز کہتا ہے تو نے اُس کو کذاب قرار دیا اور جبکہ تیری اِس مخالفت کے رو سے عبداللہ غزنوی مفتری ٹھہرا۔ اور اُس نے ناحق دروغ کے طور پر مجھے مظہر انوار الٰہی ٹھہرایا تو اب تجھے تو شرم سے مر جانا چاہیے کہ تو اُسی مفتری کا شاگرد ہے ۔ میں نہیں کہتا کہ مولوی عبد اللہ غزنوی مفتری تھا اور نہ میں اِس کا نام کذاب اور دھوکہ باز رکھتا ہوں لیکن تو نے بلا شبہ اس کو مفتری بنا دیا ۔ خدا تجھ کو اس کی مکافات دے کہ ایسے عبد صالح کو تو نے عبد طالح قرار دیا کیونکہ جس حالت میں وہ مجھے صادق اور خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھتا ہے اور میں بقول تیرے مفتری اور کذاب اور دجال ہوں تو یہی نام عبد اللہ کو بھی تیری طرف سے تحفہ پہنچا مگر تیرے پر کوئی کیا افسوس کرے کیونکہ عبد اللہ تو عبد اللہ تو نے تو اُس کے مرشد کو بھی مفتری ٹھہرایا کیونکہ میاں صاحب کوٹھہ والے جو مولوی عبداللہ صاحب کے مرشد تھے قریب موت کے وصیت کر گئے تھے کہ پنجاب میں مہدی عنقریب ظاہر ہونے والا ہے بلکہ پیدا ہو چکا اور اب ہم اُس کے زمانہ میں ہیں☆ وہ لوگ اب تک زندہ موجود ہیں جن کو یہ کشف سنایا گیا تھا ۔ مگر اے ناحق شناس تو نے مرشد کے مرشد کا بھی ادب نگہ نہ رکھا ۔ پس آفرین تیرے پر کہ تو نے اپنے مرشد اور مرشد کے مرشد سے خوب نیکی کی اور اُن کا نام مفتری اور کذاب رکھا اگر مولوی عبداللہ صاحب کی اولاد اپنے باپ کی کچھ عزت کرتے ہیں تو چاہیے کہ ایسے آدمی کو فی الفور اپنی جماعت میں سے نکال دیں کیونکہ جو اُستاد اور مرشد کا مخالف ہو اُس کے وجود میں خیر نہیں ۔ اے بے ادب کیا تو ایسے بزرگ کی بے ادبی کرتا ہے جس کی شاگردی کا تو خود قائل ہے اور اگر تو یہ جواب دے کہ منشی محمد یعقوب صرف ایک گواہ ہے تو یہ دوسری بشارت بھی سن لے کہ چونکہ ضرور تھا کہ مباہلہ کے بعد ہر طرح سے خدا تجھے ذلیل کرے اور تیری رسوائی دنیا پر ظاہر ہو ۔ اِس لئے اُسی دن جبکہ ہم مباہلہ سے فراغت پا چکے یا شاید دوسرے دن بوقت شام حافظ محمد یوسف داروغہ انہار نے جن کی بزرگی کے تم سب لوگ قائل ہو مجھ سے ملاقات کی اور ایک بڑی جماعت میں جو سو کے قریب آدمی تھا گواہی دی کہ مولوی عبداللہ صاحب نے ایک کشف اپنا مجھے سنایا ہے کہ ایک نور آسمان سے گرا اور وہ قادیاں پر نازل ہوا اور میری اولاد اس سے محروم رہ گئی یعنی وہ لوگ اس کو قبول نہیں کریں گے اور مخالف ہو جائیں گے ۔ اور اس فیض سے بے نصیب رہ جائیں گے☆ حافظ محمد یوسف صاحب اب تک زندہ ہیں ایک مجلس مقرر کرو اور مجھے اس میں بلاؤ اور پھر ان دونوں بزرگوں کو خدا کی قسم دے کر پوچھو کہ یہ دونوں واقعات اُنہوں نے بیان کئے ہیں یا نہیں اور یہ لوگ تمہاری جماعت میں سے ہیں اور نیز مولوی عبداللہ کے مربی اور محسن بھی ۔ اب بتلاؤ کہ کیسی تمہاری جان شکنجہ میں آ گئی اور کس طرح صفائی سے ثابت ہوگیا کہ تم ہی مفتری ہو خدا اپنی مخلوق کو تمہارے افتراؤں سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین
قولہ ۔ مرزا کی کتابیں اس قسم کے جھوٹ اور افتراؤں سے بھری ہوئی ہیں کہ کوئی مومن باللہ ایسی دلیری نہیں کرسکتا ۔
اقول ۔ اس تقریر کا دوسرے لفظوں میں مآل یہ ہے کہ عبداللہ غزنوی نے ایسے مفتری کا نام صادق اور منجانب اللہ رکھ کر ایک ایسے جھوٹ اور افترا سے کام لیا ہے کہ کوئی مومن باللہ ایسی دلیری نہیں کرسکتا ۔ اب سچ کہہ اے میاں عبدالحق کیا کوئی مومن باللہ ایسی دلیری کرسکتا ہے جو میاں عبداللہ نے کی کہ مفتری کا نام صادق اور آسمانی نور رکھا ۔ خدا تعالیٰ تو مفتریوں پر لعنت بھیجتا ہے پس جس شخص نے ایسا جھوٹا الہام اور کشف بنایا کہ یہ بیان کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی پر خدا تعالیٰ کا نور نازل ہوا اور میری اولاد اُس سے بے نصیب رہ گئی اُس کی نسبت آپ لوگوں کا کیا فتویٰ ہے ۔ ضرور یہ فتویٰ شائع کرنا چاہیئے ۔ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا(الانعام: ۹۴) ۔ آپ تو یہ رونا روتے تھے کہ نعوذ باللہ میں نے جھوٹ بولا ہے ۔ اب آپ کے اقرار سے یہ ثابت ہوا کہ عبداللہ غزنوی کئی مرتبہ خدا پر جھوٹ بول کر اور حضرت احدیت پر افترا کر کے اِس دنیا سے گذر گیا ہے اور جو خدا پر افترا کرے اُس سے بدتر کون ہوسکتا ہے ۔
مرا خواندی و خود بدام آمدی
نظر پختہ تر کن کہ خام آمدی
قولہ ۔ تین صریح جھوٹ ثابت کرتا ہوں جو کسی ایماندار بلکہ ذرہ شرم و حیا والے آدمی کا کام نہیں ۔
اقول ۔ اے شرم اور حیا سے دور اِس تیرے قول سے بھی میں کچھ رنج نہیں کرتا کیونکہ پہلے بے ایمانوں کے طریق اور عادت کو تو نے پورا کیا ۔ ہر ایک نبی اور خدا کا مامور اور صادق اور صدیق جو دنیا میں آیا اُس کو بد بخت کفار نے جھوٹا کہا بلکہ کذاب نام رکھا اور تو نے ساری جانکاہی سے تین مقام پیش کئے جن میں تیرے زعم باطل میں میں نے جھوٹ بولا ہے اور وہ تین مقام یہ ہیں جن کا جواب دیتا ہوں ۔
قولہ ۔ اوّل جھوٹ یہ ہے کہ صفحہ پانچ سطر ۲۰ و ۲۱ میں لکھا ہے کیونکہ قرآن شریف میں حضرت مسیح کی نسبت لمّا توفّیتنی فرمانا اور حدیثوں میں جیسا کہ بخاری میں ہے۔ اس کے معنے امتّنی بیان کرنا ۔
اقول ۔ اس نادان معترض کی اس پوچ اور لچر عبارت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ صحیح بخاری میں اس جگہ آیت یا عیسیٰ انّی متوفّیک کی تفسیر میں یہ قول ہے کہ متوفّیک ممیتک یہ قول نہیں کہ لما توفیتنی. اَمتّنی ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ میری کلام کا اصل مقصود احادیث کا خلاصہ مطلب بیان کرنا ہے نہ یہ کہ کسی حدیث کے ٹھیک ٹھیک لفظ لکھنا جیسا کہ میرے اس فقرہ کے ذکر کرنے سے کہ اور حدیثوں میں یعنی بخاری وغیرہ میں ۔ یہ میرا مدعا سمجھا جاتا ہے اور منصف کو میرے کلام پر غور کرنے سے شک نہیں رہے گا کہ میرا مدعا اِس جگہ حرف احادیث کا خلاصہ اور مآل اقوال لکھنا ہے نہ نقل عبارت اور ظاہر ہے کہ جو شخص مثلاً میں ایسی حدیثوں کے معنے بیان کرنے لگتا ہے جو مختلف الفاظ میں آئی ہیں اور مآل واحد ہے تو اُس کو اُن احادیث کا حاصل مطلب لکھنا پڑتا ہے تا وہ لفظ سب پر منطبق ہو اور نیز اصل مقصود کا مفسر ہو جائے ۔ اسی طرح اصل مقصود بخاری وغیرہ کا اَمتّنی ہے جو ذِکر کے قابل تھا اور اگر چہ خاص بخاری کا لفظ متوفّیک ممیتک ہے مگر میرے بیان میں صرف بخاری کے الفاظ پر حصر نہیں رکھا گیا ۔ عموماً احادیث کی بحث ہے بخاری ہو یا غیر بخاری اور پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ خود بخاری نے اسی مقام میں اس آیت یعنی فلمّا توفیتنی کو بغرض تظاہر آیتین ذِکر کر کے جتلا دیا ہے کہ یہی تفسیر فلمّا توفّیتنی کی ہے اور وہی استدلال قول ابن عباس کا اس جگہ صحیح ہے جیسا کہ انّی متوفّیک میں صحیح ہے اور نیز اس جگہ یہ یاد رہے کہ خدا تعالیٰ جو اصدق الصادقین ہے اُس نے اپنی کلام میں صدق کو دو قسم قرار دیا ہے ایک صدق باعتبار ظاہر الاقوال دوسرے صدق باعتبار التاویل والمآل ۔ پہلی قسم صدق کی مثال یہ ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عیسیٰ مریم کا بیٹا تھا اور ابراہیم کے دو بیٹے تھے اسمٰعیل و اسحاق کیونکہ ظاہر واقعات بغیر تاویل کے یہی ہیں۔ دوسری قسم صدق کی مثال یہ ہے کہ جیسے قرآن شریف میں کفار یا گذشتہ مومنوں کے کلمات کچھ تصرف کر کے بیان فرمائے گئے ہیں اور پھر کہا گیا کہ یہ اُنہی کے کلمات ہیں اور یا جو قصّے توریت کے ذکر کئے گئے ہیں اور اُن میں بہت سا تصرف ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ جس اعجازی طرز اور طریق اور فصیح فقروں اور دلچسپ استعارات میں قرآنی عبارات ہیں اِس قسم کے فصیح فقرے کافروں کے منہ سے ہرگز نہیں نکلے تھے اور نہ یہ ترتیب تھی بلکہ یہ ترتیب قصوں کی جو قرآن میں ہے توریت میں بھی بالالتزام ہرگز نہیں ہے۔ حالانکہ فرمایا ہے اِنَّ ہٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰی صُحُفِ اِبۡرٰہِیۡمَ وَمُوۡسٰی(الاعلٰی: ۱۹۔۲۰) اور اگر یہ کلمات اپنی صورت اور ترتیب اور صیغوں کے رُو سے وہی ہیں جو مثلاً کافروں کے مُنہ سے نکلے تھے تو اِس سے اعجاز قرآنی باطل ہوتا ہے کیونکہ اس صورت میں وہ فصاحت کفار کی ہوئی نہ قرآن کی اور اگر وہی نہیں تو بقول تمہارے کذب لازم آتا ہے کیونکہ اُن لوگوں نے تو اور اور لفظ اور اور ترتیب اور اور صیغے اختیار کئے تھے اور جس طرح متوفّیک اور توفّیتنی دو مختلف صیغے ہیں ۔ اِسی طرح صد ہا جگہ ان کے صیغے اور قرآنی صیغے باہم اختلاف رکھتے تھے مثلاً توریت میں ایک قصۂ یوسف ہے نکال کر دیکھ لو اور پھر قرآن شریف کی سورہ یوسف سے اس کا مقابلہ کرو تو دیکھو کہ کس قدر صیغوں میں اختلاف اور بیان میں کمی بیشی ہے بلکہ بعض جگہ بظاہر معنوں میں بھی اختلاف ہے ایسا ہی قرآن نے بیان کیا ہے کہ ابراہیم کا باپ آزر تھا لیکن اکثر مفسر لکھتے ہیں کہ اس کا باپ کوئی اور تھا نہ آزر ۔ اب اے نادان جلد توبہ کر کہ تو نے پادریوں کی طرح قرآن پر بھی حملہ کر دیا۔ صحیح بخاری کی پہلی حدیث ہے کہ اِنَّما الاَعمال بِالنیّات اسی طرح جب ہم نے دیکھا کہ اس محل میں تمام احادیث کا مقصود مشترک یہ ہے کہ توفیتنی کے معنے ہیں اَمتّنی تو بصحت نیت اس کا ذِکر کر دیا۔ اس طرز کے بیان کو جھوٹ سے کیا مناسبت اور جھوٹ کو اس سے کیا نسبت ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ امام بخاری کا مُدعا اس فقرہ متوفّیک ممیتک سے یہ ثابت کرنا ہے کہ لمّا توفّیتنی کے معنے ہیں اَمتّنی اور اسی لئے وہ دو مختلف محل کی دو آیتیں ایک جگہ ذکر کر کے اور ایک دوسرے کو بطور تظاہر قوت دے کر دکھلاتا ہے کہ ابن عباس کا یہ منشاء تھا کہ لمّا توفّیتنی کے معنی ہیں اَمتّنی ۔ اس لئے ہم نے بھی بطور تاویل اور مآل کے یہ کہہ دیا کہ حدیثوں کے رُو سے لمّا توفّیتنی کے معنے اَمتّنی ہے☆ بھلا اگر یہ صحیح نہیں ہے تو تو ہی بتلا کہ جبکہ متوفّیک کے معنے ممیتک ہوئے تو اس قول ابن عباس کے رُو سے لمّا توفّیتنی کے کیا معنے ہوئے؟ کیا ہمیں ضرور نہیں کہ ہم لمّا توفّیتنی کے معنے ایسی حدیث کی رُو سے کریں جیسی کہ حدیث کے رُو سے متوفّیک کے معنے کئے گئے ہیں ۔ اگر ہم اِس بات کے مجاز ہیں کہ ایک ہی محل کی دو آیتوں کی تفسیر میں ایک آیت کی تفسیر کو بطور حجت پیش کر دیں تو اِس میں کیا جھوٹ ہوا کہ ہم نے لکھ دیا کہ حدیث کے رو سے لمّا توفّیتنی کے معنے لمّا اَمتّنی ہیں ۔ جبکہ توفی کے ایک صیغہ میں حدیث کی رو سے یہ مستفاد ہو چکا کہ اس کے معنے وفات دینا ہے تو وہی استدلال دوسرے صیغہ میں بھی جاری کرنا کیوں حدیثی استدلال سے باہر سمجھا جاتا ہے اور یہ کہنا کہ ہم اُسی قول کو حدیث کہیں گے جس کا اسناد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہو یعنی وہ مرفوع متصل ہو یہ اور جہالت ہے کیا جو منقطع حدیث ہو اور مرفوع متصل نہ ہو وہ حدیث نہیں کہلاتی ۔ شیعہ مذہب کے امام اور محدث کسی حدیث کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچاتے تو کیا اُن اخبار کا نام احادیث نہیں رکھتے اور خود سُنیوں کے محدثوں نے بعض اخبار کو موضوع کہہ کر پھر بھی اُن کا نام حدیث رکھا ہے اور حدیث کو کئی قسموں پر منقسم کر کے سب کا نام حدیث ہی رکھ دیا ہے ۔ افسوس کہ تم لوگوں کی کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ اُن باتوں کا نام بھی جھوٹ رکھتے ہو جس طرز کو قرآن شریف نے اختیار کیا ہے اور محض شرارت سے خدا کی پاک کلام پر حملہ کرتے ہو ۔ ظاہر ہے کہ اگر مثلاً کوئی یہ کہے کہ میں نے پلاؤ کی ساری رکابی کھالی تو اُس کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ اُس نے جھوٹ بولا ہے ۔ اور جھوٹ یہ کہ اُس نے چاول کھائے ہیں رکابی کو توڑ کر تو نہیں کھایا ۔ اور جبکہ نصوص حدیثیہ کا استدلال کلّیت کا فائدہ بخشتا ہے تو یہ کہنا کہ حدیث کے رو سے لمّا توفّیتنی کے معنے لمّا اَمتّنی ہیں یعنی اِس بنا پر کہ متوفّیک مُمِیتک آچکا ہے اس میں کون سا کذب اور دروغ ہے لیکن ایسے جاہل کو کون سمجھائے جو اپنی جہالت کے ساتھ تعصب کی زہر بھی مخلوط رکھتا ہے ۔ مگر غنیمت ہے کہ جیسا کہ یہ لوگ تین جھوٹ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے ہیں ایسا ہی تین جھوٹ میری طرف بھی منسوب کئے ۔ ہم اِس ابراہیمی مشابہت پر فخر کرتے ہیں لیکن ان لوگوں کے جھوٹ اور افترا کو ان کے مُنہ پر مارتے ہیں ۔
قولہ ۔ دوسرا جھوٹ اسی صفحہ سطر ۲۳ و ۲۴ میں لکھا ہے ۔ قرآن شریف کا یہ فرمانا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جو فوت نہیں ہو گیا یہ بھی سراسر جھوٹ ہے قرآن شریف میں فقط خَلَتۡ مِنۡ قَبلِهِ الرُّسل موجود ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پیغمبر گذرے۔
اقول ۔ کیا گذرنا بجز مرنے کے کوئی اور چیز بھی ہے۔ جو شخص دنیا سے گذر گیا اُسی کو تو کہتے ہیں کہ مرگیا ۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں ۔
پدر چوں دور عمرش منقضی گشت
مرا ایں یک نصیحت داد و بگذشت
اب بتلاؤ کہ بگذشت کے اس جگہ کیا معنے ہیں کیا یہ کہ شیخ سعدی علیه الرحمة کا باپ زندہ بجسم عنصری آسمان پر چلا گیا تھا یا یہ کہ مرگیا تھا۔ اے عزیز کیا ان تاویلات رکیکہ سے ثابت ہو جائے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے ۔ تمام دنیا کا یہ محاورہ ہے کہ جب مثلاً کہا جائے کہ فلاں بیمار گذر گیا تو کوئی بھی یہ معنے نہیں کرتا کہ وہ آسمان پر مع جسم عنصری چڑھ گیا اور عربی میں بھی گذرنا بمعنی مرنا ایک قدیم محاورہ ہے چنانچہ ایک فاضل کی نسبت جو کسی کتاب کو تالیف کرنا چاہتا تھا اور قبل از تالیف مرگیا کسی کا یہ پورانا شعر ہے ۔
ولم يتفق حتّى مضى بسبيله
وكم حسرات فى بطون المقابر
یعنی اس فاضل کو اس کتاب کا تالیف کرنا اتفاق نہ ہوا یہاں تک کہ گذر گیا اور قبروں کے پیٹ میں بہت سی حسرتیں ہیں یعنی اکثر لوگ قبل اس کے جو اپنے ارادے پورے کریں مر جاتے ہیں اور حسرتوں کو قبروں میں ساتھ لے جاتے ہیں ۔ اب دیکھو کہ اس جگہ بھی گذرنا بمعنی مرنے کے ہے ۔ اور اگر یہ کہو کہ کس تفسیر والے نے یہ معنے لکھے ہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ ہر ایک محقق مفسر جو عقل اور بصیرت اور علم بصیرت سے حصہ رکھتا ہے یہی معنے لکھتا ہے ۔ دیکھو تفسیر مظہری صفحہ ۴۸۵ زیر آیت قد خلت من قبله الرسل یعنی مضت و ماتت من قبله الرسل یعنی پہلے نبی دنیا سے گذر گئے اور مر گئے ۔ اور الف لام سے اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی ان میں سے موت سے خالی نہیں رہا۔ ایسا ہی تفسیر تبصیر الرحمان و تیسیر المنان للشیخ العلامه زین الدین علی المهائمی ۔ زیر آیت قد خلت لکھا ہے قد خلت ۔ منهم من مات ومنهم من قتل فلا منافات بین الرسالة والقتل والموت ۔ دیکھو صفحہ ۱۷۷۔ جلد پہلی ۔ تبصیر الرحمان ۔ یعنی گذشتہ انبیاء دنیا سے اس طرح گذر گئے کہ کوئی مر گیا اور کوئی قتل کیا گیا ۔ پس نبوت اور موت اور قتل میں کچھ منافات نہیں ۔ ایسا ہی تفسیر جامع البیان للشیخ العلامه سیّد معین الدین ابن شیخ سید صفی الدین صفحہ ۲۱ میں زیر آیت قد خلت من قبله الرسل لکھا ہے۔ قد خلت من قبله الرسل بالموت او القتل فیخلو محمد صلی اللہ علیه وسلم ایضًا یعنی تمام نبی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تھے موت کے ساتھ یا قتل کے ساتھ دنیا سے گذر گئے ۔ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی دنیا سے گذر جائیں گے۔ ایسا ہی حاشیه غایة القاضی و کفایة الراضی علیٰ تفسیر البیضاوی جلد۳ صفحہ ۶۸ مقام مذکور کے متعلق یہ لکھا ہے ۔ لیس ( رسولنا صلی اللہ علیه وسلم) متبرءً عن الهلاک کسائر الرسل ویخلو کما خلوا ۔ یعنی ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم موت سے مستثنیٰ نہیں ہیں بلکہ جیسا کہ پہلے اُن سے تمام پیغمبر مر چکے ہیں وہ بھی مریں گے۔ اور جیسا کہ وہ اِس دنیا سے گذر گئے وہ بھی گذر جائیں گے ۔ ایسا ہی تفسیر جمل میں جس کا دوسرا نام فتوحات الہیہ ہے یعنی جلد ایک صفحہ ۳۳۶ میں زیر تفسیر آیت وما محمد. قد خلت یہ لکھا ہے۔ کانهم اعتقدوا انه لیس کسائر الرسل فی انه یموت کما ماتوا ۔ یعنی بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو گویا یہ گمان ہوا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے نبیوں کی طرح نہیں مریں گے بلکہ زندہ رہیں گے سو فرمایا کہ وہ بھی مرے گا جیسا کہ پہلے تمام نبی مر گئے ۔ ایسا ہی تفسیر صافی زیر آیت مذکورہ جلد اوّل میں لکھا ہے ۔ فسیخلوا کما خلوا بالموت او القتل یعنی حضرت سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی دنیا سے ایسا ہی گذر جائے گا جیسا کہ دوسرے نبی موت یا قتل کے ساتھ دنیا سے گذر گئے ۔ اب ظاہر ہے کہ ان تمام تفسیر والوں نے لفظ خلت کے معنے ماتت ہی کیا ہے یعنی اِس آیت کے یہی معنے کئے ہیں کہ جیسے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام فوت ہو گئے ہیں ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی وفات پائیں گے ۔ اب دیکھو کہ حضرت مسیح کی موت پر یہ کس قدر روشن ثبوت ہے جو تمام تفسیروں والے یک زبان ہو کر بول رہے ہیں کہ پہلے جس قدر دنیا میں نبی آئے سب فوت ہو چکے ہیں ۔ ماسوا اِس کے ہر ایک ایماندار کا یہ فرض ہے کہ اِس مقام میں جن معنوں کی طرف خود اللہ جلّ شانہٗ نے اشارہ فرمایا ہے اُنہی معنوں کو درست سمجھے اور اس کے مخالف معنوں کو زَیغ اور الحاد یقین کرے ۔ اور یہ بات نہایت بدیہی اور اظہر من الشّمس ہے کہ اللہ جلّ شانہٗ نے آیت قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ(اٰل عمران: ۱۴۵) کی تفسیر میں آپ ہی فرما دیا ہے اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ؎ پس اِس ساری آیت کے یہ معنے ہوئے کہ پہلے تمام نبی اس دنیا سے موت یا قتل سے گذر چکے ہیں ۔ سو اگر یہ نبی بھی اُنہی کی طرح موت یا قتل سے گذر جائے تو کیا تم دین سے پھر جاؤ گے ۔ اِس جگہ یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اِس مقام میں خدا تعالیٰ نے دنیا سے گذر جانے کے دو ہی طور پر معنے قرار دیئے ہیں ایک یہ کہ بذریعہ موت حتف انف یعنی طبعی موت کے انسان مر جائے اور دوسرے یہ کہ مارا جائے یعنی قتل کیا جائے ۔ غرض خدا تعالیٰ نے خلت کے لفظ کو موت یا قتل میں محصور کر دیا ہے ۔ پس ظاہر ہے کہ اگر کوئی تیسرا شق بھی خدا تعالیٰ کے علم میں ہوتا تو خلت کے معنوں کی تکمیل کے لئے اِس کو بھی بیان فرما تا مثلاً یہ کہنا افائن مات او قُتل او رُفع الی السماء بجسمه کما رُفع عیسٰی انقلبتم علٰی اعقابکم ۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ سارے نبی پہلے اِس سے گذر چکے ہیں پس اگر یہ نبی بھی مر جائے یا قتل کیا جائے یا عیسٰی کی طرح مع جسم آسمان پر اُٹھایا جائے تو کیا تم اِس دین سے پھر جاؤ گے ۔ اب اے عزیز کیا تو خدا پر اعتراض کرے گا کہ وہ اِس تیسری شق کا بیان کرنا بھول گیا اور صرف دو شق بیان کئے ۔ لیکن عقلمند خوب جانتے ہیں کہ لفظ خلت جو ایک تشریح طلب لفظ تھا اس کی تشریح صرف موت یا قتل سے کرنا اس بات پر قطعی دلالت کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک اِس مقام میں خلت کے معنے یا موت یا قتل ہے اور کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا یقینی امر ہے جو اس سے انکار کرنا گویا خدا کی اطاعت سے خارج ہونا اور اس پر افترا کرنا ہے ۔ جبکہ خدا تعالیٰ نے اسی آیت میں اپنے ہی منہ سے بیان فرما دیا کہ خلت کے معنے یا مرنا یا قتل کئے جانا ہے تو اِس سے مخالف بولنا کذب عظیم اور ایک بڑا افترا ہے اور صغائر میں سے نہیں ہے بلکہ کبیرہ گناہ ہے پس جبکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک خلت کے معنے دو میں ہی محصور ٹھہرے یعنی مرنا یا قتل کئے جانا تو اِس سے زیادہ افترا اور دروغ کیا ہوگا کہ جس طرح نصارٰی نے خواہ نخواہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا اِسی طرح خواہ نخواہ بغیر دلیل اور سلطان مبین کے خلت کے معنوں میں آسمان پر بجسم عنصری اُٹھائے جانا داخل سمجھا جائے ہاں اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہو گا کہ جبکہ اَئمہ لغت عرب نے بھی خلت کے معنے کہیں یہ نہیں لکھے کہ کوئی شخص زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلا جائے تو کیا حاجت تھی کہ خدا تعالیٰ نے اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ کے ساتھ لفظ خلت کی تشریح فرمائی تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ فیج اعوج کے زمانہ میں خلت کے یہ معنے بھی کئے جائیں گے کہ حضرت مسیح کو زندہ مع جسم عنصری آسمان پر پہنچا دیا گیا ہے ۔ لہذا اِس تشریح سے بطور حفظ ما تقدم پہلے سے ہی ان خیالاتِ فاسدہ کا ردّ کر دیا ۔ اب اس تمام تحقیق کے رُو سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میں نے ان معنوں میں کوئی جھوٹ نہیں بولا بلکہ آپ ناراض نہ ہوں آپ خود بوجہ ترک معنی قرآن اِس قول شنیع دروغگوئی کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ میں آپ کو ہزار روپیہ بطور انعام دینے کو طیار ہوں اگر آپ کسی قرآن شریف کی آیت یا کسی حدیث قوی یا ضعیف یا موضوع یا کسی قول صحابی یا کسی دوسرے امام کے قول سے یا جاہلیت کے خطبات یا دواوین اور ہر ایک قسم کے اشعار یا اسلامی فصحاء کے کسی نظم یا نثر سے یہ ثابت کر سکیں کہ خلت کے معنوں میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی شخص مع جسم عنصری آسمان پر چلا جائے ۔ خدا تعالیٰ کا قرآن شریف میں اوّل خلت کا بیان کرنا اور پھر ایسی عبارت میں جو بموجب اصول بلاغت و معانی تفسیر کے محل میں ہے صرف مرنا یا قتل کئے جانا بیان فرمانا ۔ کیا مومن کے لئے یہ اِس بات پر حجت قاطع نہیں ہے کہ خلت کے معنے اِس محل میں دو ہی ہیں یعنی مرنا یا قتل کئے جانا ۔ اب خدا کی گواہی کے بعد اور کس کی گواہی کی ضرورت ہے ۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ اسی مقام میں خدا تعالیٰ نے میری سچائی کی گواہی دے دی اور بیان فرما دیا کہ خلت کے معنے مرنا یا قتل کئے جانا ہے ۔ آپ نے تو اِس مقام میں اپنے اس اشتہار میں میری نسبت یہ عبارت لکھی ہے کہ ایسا جھوٹ بولا ہے کہ کسی ایماندار بلکہ ذرہ شرم اور حیا کے آدمی کا کام نہیں ۔ لیکن یہ بھی خدا تعالیٰ کا ایک عظیم الشان نشان ہے کہ وہی جھوٹ قرآنی شہادت سے آپ پر ثابت ہو گیا ۔ اب بتلائیے کہ میں آپ کی نسبت کیا کہوں ۔ آپ نے ناحق جلد بازی کر کے میرا نام دروغگو رکھا لیکن میں نہیں چاہتا کہ بدی کا بدی کے ساتھ جواب دوں بلکہ اگر اسلامی شریعت میں جھوٹ بولنا حرام اور گناہ نہ ہوتا تو میں بعوض آپ کے کذاب کہنے کے آپ کو صدیق کہتا اور بعوض اس کے کہ آپ نے محض دروغگوئی سے مجھے ذلیل اور شکست یافتہ قرار دیا آپ کو معزز اور فتحیاب کے نام سے پکارتا ۔
قولہ ۔ تیسرا جھوٹ اسی صفحہ سطر ۲۷ میں جمیع صحابہ رضی اللہ عنہم کا حضرت مسیح علیہ السلام اور تمام نبیوں کی موت پر اجماع ہو جانا یہ بھی سفید جھوٹ ہے۔ اصحاب کرام تو لاکھ سے بھی زیادہ ہوں گے سب سے ثبوت دینا تو مشکل ہے۔
اقول ۔ اس جگہ مجھے آپ لوگوں کی حالت پر رونا آتا ہے کہ کیسے خدا نے عقل و علم اور دیانت کو سینوں میں سے چھین لیا۔ کیا اِسی مایۂ علمی پر آپ لوگ مولوی کہلاتے ہیں اور ایک دُوسرے کا نام علماء کرام اور صوفیہ عظام رکھتے ہیں ۔ اے قابل رحم نادان یہ بات فی الواقع سچ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اور تمام گذشتہ نبیوں کی موت کی نسبت صحابہ کرام کا اجماع ہو گیا تھا اور جس طرح خلافت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر اجماع پایا گیا ہے اسی قسم کا بلکہ اس سے افضل و اعلیٰ یہ اجماع تھا اور اگر کوئی جرح قدح اس اجماع پر ہوتا ہے تو اس سے زیادہ جرح قدح خلافت مذکورہ کے اجماع پر ہوگا ۔ در حقیقت یہ اجماع خلافت ابوبکر کے اجماع سے بہت بڑھ کر ہے کیونکہ اِس میں کوئی ضعیف قول بھی مروی نہیں جس سے ثابت ہو جو کسی صحابی نے حضرت ابوبکر کی مخالفت کی یا تخلف کیا یعنی جب کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر بطور استدلال کے یہ آیت پڑھی کہ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ(اٰل عمران: ۱۴۵) جس کا یہ ترجمہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک رسول ہے اس میں کوئی جز الوہیت کی نہیں اور اس سے پہلے تمام رسول دنیا سے گذر چکے ہیں یعنی مر چکے ہیں ۔ پس ایسا ہی اگر یہ بھی مر کر یا قتل ہو کر دنیا سے گذر گیا تو کیا تم دین سے پھر جاؤ گے تو اس آیت کے سننے کے بعد کسی ایک صحابی نے بھی مخالفت نہیں کی اور اُٹھ کر یہ عرض نہیں کی کہ یہ آپ کا استدلال ناقص اور نا تمام ہے ۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ بعض نبی زندہ بجسم عنصری زمین پر موجود ہیں جیسے الیاس و خضر اور بعض آسمان پر جیسے ادریس اور عیسیٰ تو پھر اس آیت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت موت کیونکر ثابت ہوا اور کیوں جائز نہیں کہ وہ بھی زندہ ہوں بلکہ تمام صحابہ نے اس آیت کو سن کر تصدیق کی اور سب کے سب اس نتیجہ تک پہنچ گئے کہ تمام نبیوں کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی مرنا ضروری تھا پس یہ اجماع بلا توقف اور تردّد واقع ہوا لیکن وہ اجماع جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر مانا جاتا ہے اِس میں بعض صحابہ کی طرف سے بیعت کرنے میں کچھ توقف اور تردّد بھی ہوا تھا گو کچھ دنوں کے بعد بیعت کر لی اور اس ابتلا میں خود حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی مبتلا ہو گئے تھے لیکن گذشتہ انبیاء کی موت پر کسی صحابی کو بعد سننے صدیقی خطبہ کے کوئی ابتلا پیش نہیں آیا اور نہ ماننے میں کچھ بھی توقف اور تردّد کیا بلکہ سنتے ہی مان گئے ۔ لہذا اسلام میں یہ وہ پہلا اجماع ہے جو بلا توقف انشراح صدر کے ساتھ ہوا ۔ خلاصہ کلام یہ کہ بے شک نصوص صریحہ کے رُو سے ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا تمام گذشتہ انبیاء علیہم السلام کی موت پر جس میں حضرت مسیح بھی داخل ہیں اجماع ہو گیا تھا بلکہ حضرت مسیح اس اجماع کا پہلا نشانہ تھے ۔ اب ذیل میں نصوص حدیثیہ کے رُو سے ثبوت لکھتا ہوں تا معلوم ہو کہ ہم دونوں میں سے کون شخص خدا تعالیٰ سے خوف کر کے سچ پر قائم ہے اور کون شخص دلیری سے جھوٹ بولتا اور نصوص صریحہ کو چھوڑتا ہے۔
واضح ہو کہ اس بارے میں صحیح بخاری میں جو اصحّ الکتب کہلاتی ہے مندرجہ ذیل عبارتیں ہیں۔ عن عبد اللّٰہ بن عباس ان ابابكر خرج وعمر يكلم النّاس فقال اجلس يا عمر فابٰى عمر ان يجلس فاقبل الناس اليه و تركوا عمر فقال ابوبكر اما بعد من منكم يعبد محمدًا فان محمدًا قد مات ومن كان منكم يعبد اللّٰہ فان اللّٰہ حيٌّ لايموت قال اللّٰہ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ(اٰل عمران: ۱۴۵). الى الشاكرين. وقال واللّٰہ كانّ الناس لم يعلموا ان اللّٰہ انزل هذه الاٰية حتّى تلاها ابوبكر فتلقاها منه الناس كُلّهم فما اسمع بشرا من الناس الّا يتلوها...... ان عمرًا قال واللّٰہ ماهو الّا ان سمعتُ ابابكر تلاها فعقرت حتّى ما يقلنى رجلاي وحتّى اهويت الى الارض حتّى سمعته تلاها انّ النبى صلى اللّٰہ عليه وسلم قد مات ۔ یعنی ابن عباس سے روایت ہے کہ ابوبکر نکلا (یعنی بروز وفات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) اور عمر لوگوں سے کچھ باتیں کر رہا تھا (یعنی کہہ رہا تھا کہ آنحضرت فوت نہیں ہوئے بلکہ زندہ ہیں ) پس ابوبکر نے کہا کہ اے عمر بیٹھ جا مگر عمر نے بیٹھنے سے انکار کیا۔ پس لوگ ابوبکر کی طرف متوجہ ہو گئے اور عمر کو چھوڑ دیا پس ابوبکر نے کہا کہ بعد حمد وصلوٰۃ واضح ہو کہ جو شخص تم میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پرستش کرتا ہے اس کو معلوم ہو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) فوت ہو گیا اور جو شخص تم میں سے خدا کی پرستش کرتا ہے تو خدا زندہ ہے جو نہیں مرے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر دلیل یہ ہے کہ خدا نے فرمایا ہے کہ محمد صرف ایک رسول ہے اور اس سے پہلے تمام رسول اس دنیا سے گذر چکے ہیں یعنی مر چکے ہیں اور حضرت ابوبکر نے الشاکرین تک یہ آیت پڑھ کر سنائی☆ کہا راوی نے پس بخدا گویا لوگ اس سے بے خبر تھے کہ یہ آیت بھی خدا نے نازل کی ہے اور ابوبکر کے پڑھنے سے اُن کو پتہ لگا ۔ پس اس آیت کو تمام صحابہ نے ابوبکر سے سیکھ لیا اور کوئی بھی صحابی یا غیر صحابی باقی نہ رہا جو اِس آیت کو پڑھتا نہ تھا اور عمر نے کہا کہ بخدا میں نے یہ آیت ابوبکر سے ہی سنی جب اُس نے پڑھی پس میں اُس کے سننے سے ایسا بے حواس اور زخمی ہو گیا ہوں کہ میرے پیر مجھے اُٹھا نہیں سکتے اور میں اُس وقت سے زمین پر گرا جاتا ہوں جب سے کہ میں نے یہ آیت پڑھتے سنا اور یہ کلمہ کہتے سنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ۔ اور اس جگہ قسطلانی شرح بخاری کی یہ عبارت ہے۔ وعمر بن الخطاب یکلّم النّاس یقول لهم مامات رسُول اللّہ صلّی اللّہ علیه وسلم ...... ولا یموت حتّی یقتل المنافقین ۔ یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے باتیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے اور جب تک منافقوں کو قتل نہ کر لیں فوت نہیں ہوں گے اور ملل و نحل شہرستانی❁ میں اس قصّہ کے متعلق یہ عبارت ہے۔ قال عمر بن الخطاب من قال ان محمدا مات فقتلته بسیفی هٰذا. وانما رُفع الى السماء کما رُفع عیسی ابن مریم علیه السلام وقال ابوبکر بن قحافة من کان یعبد محمدًا فان محمدًا قدمات ومن کان یعبد اِلٰه محمدٍ فانه حیّ لا یموت وقرء هذه الاٰیة وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ(آل عمران: ۱۴۵) فرجع القوم الى قوله ۔ دیکھو ملل نحل جلد ثالث ۔
ترجمہ یہ ہے کہ عمر خطاب کہتے تھے کہ جو شخص یہ کہے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو میں اپنی اِسی تلوار سے اُس کو قتل کر دوں گا بلکہ وہ آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں جیسا کہ عیسیٰ بن مریم اُٹھائے☆ گئے اور ابوبکر نے کہا کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے تو وہ تو ضرور فوت ہو گئے ہیں اور جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کی عبادت کرتا ہے تو وہ زندہ ہے نہیں مرے گا یعنی ایک خدا ہی میں یہ صفت ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ ہے اور باقی تمام نوع انسان و حیوان پہلے اس سے مر جاتے ہیں کہ اُن کی نسبت خلود کا گمان ہو ۔ اور پھر حضرت ابوبکر نے یہ آیت پڑھی جس کا یہ ترجمہ ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) رسول ہیں اور سب رسول دُنیا سے گذر گئے کیا اگر وہ فوت ہو گئے یا قتل کئے گئے تو تم مرتد ہو جاؤ گے تب لوگوں نے اس آیت کو سن کر اپنے خیالات سے رجوع کر لیا ۔ اب سوچو کہ حضرت ابوبکر کا اگر قرآن سے یہ استدلال نہیں تھا کہ تمام نبی فوت ہو چکے ہیں اور نیز اگر یہ استدلال صریح اور قطعیة الدلالت نہیں تھا تو وہ صحابہ جو بقول آپ کے ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھے محض ظنی اور شکی امر پر کیونکر قائل ہو گئے اور کیوں یہ حجت پیش نہ کی کہ یا حضرت یہ آپ کی دلیل نا تمام ہے اور کوئی نصّ قطعیة الدلالت آپ کے ہاتھ میں نہیں ۔ کیا آپ اب تک اِس سے بے خبر ہیں کہ قرآن ہی آیت رافعک الیّ میں حضرت مسیح کا بجسمہ العنصری آسمان پر جانا بیان فرماتا ہے ۔ کیا بل رفعه اللہ الیه بھی آپ نے نہیں سنا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمان پر جانا آپ کے نزدیک کیوں مستبعد ہے بلکہ صحابہ نے جو مذاق قرآن سے واقف تھے آیت کو سن کر اور لفظ خلت کی تشریح فقرہ أفأن مات أو قتل میں پا کر فی الفور اپنے پہلے خیال کو چھوڑ دیا ہاں اُن کے دل آنحضرت کی موت کی وجہ سے سخت غمناک اور چور ہو گئے اور اُن کی جان گھٹ گئی اور حضرت عمر نے فرمایا کہ اس آیت کے سننے کے بعد میری یہ حالت ہوگئی ہے کہ میرے جسم کو میرے پیر اُٹھا نہیں سکتے اور میں زمین پر گرا جاتا ہوں ۔ سبحان اللہ کیسے سعید اور وقّاف عندالقرآن تھے کہ جب آیت میں غور کر کے سمجھ آگیا کہ تمام گذشتہ نبی فوت ہو چکے ہیں تب بجز اس کے کہ رونا شروع کر دیا اور غم سے بھر گئے اور کچھ نہ کہا اور تب حضرت حسان بن ثابت نے یہ مرثیہ کہا
کنتَ السواد لناظری فعمی علیک الناظر
من شاء بعدک فلیمت فعلیک کنت احاذرُ
یعنی تو میری آنکھ کی پتلی تھا پس میری آنکھیں تو تیرے مرنے سے اندھی ہو گئیں اب تیرے بعد میں کسی کی زندگی کو کیا کروں ۔ عیسیٰ مرے یا موسیٰ مرے بیشک مرجائیں مجھے تو تیرا ہی غم تھا ۔ یاد رہے کہ اگر حضرت ابوبکر کی نظر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام موت سے باہر ہوتے تو وہ ہرگز اس آیت کو بطور استدلال پیش نہ کرتے اور اگر صحابہ کو اس آیت کے ان معنوں میں جو تمام نبی فوت ہو چکے ہیں کچھ تردّد ہوتا تو وہ ضرور عرض کرتے کہ جس حالت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسم عنصری آسمان پر چلے گئے ہیں تو پھر یہ دلیل ناتمام ہے اور کیا وجہ کہ عیسیٰ کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی زندہ آسمان پر نہ گئے ہوں ۔ لیکن اصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت عیسیٰ کی موت کا بھی اُسی دن فیصلہ ہوا اور صحابہ نے اس آیت کو سن کر بعد اس کے کبھی دم نہیں مارا کہ حضرت عیسیٰ زندہ ہیں ۔ اور چونکہ صحیح بخاری کے لفظ کُلّھم سے ثابت ہو گیا کہ اُس وقت سب صحابہ موجود تھے اور کسی نے اِس آیت کے سننے کے بعد مخالفت نہ کی اس لئے ماننا پڑا کہ اُن سب کا تمام گذشتہ انبیاء کی موت پر اجماع ہو گیا اور یہ پہلا اجماع تھا جو صحابہ میں ہوا ۔ اور خلافت ابوبکر کے اجماع سے جو بعد اس کے ہوا یہ اجماع بہت بڑھ کر تھا کیونکہ اس میں کسی نے دم نہیں مارا اور خلافت ابوبکر میں ابتدا میں اختلاف ہو گیا تھا۔ ہاں اِس جگہ یہ خیال گذرتا ہے کہ اِس آیت کے سننے سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت عیسیٰ کی نسبت یہ مذہب تھا کہ با وجود مر جانے کے وہ بھی دنیا میں واپس آئیں گے کیونکہ انہوں نے ان کا رفع اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رفع ایک ہی طور کا قرار دیا اور جبکہ وہ جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم تو حضرت عایشہ کے گھر میں ہی اب تک پڑا ہے تو وہ با وجود اقرار مشابہت کے کس طرح اِس بات کے قائل ہو سکتے تھے کہ حضرت مسیح کا جسم آسمان پر چلا گیا لیکن آیت کو سن کر یہ خیال بھی انہوں نے چھوڑ دیا اور اس روز تمام صحابہ اس بات پر ایمان لائے کہ اس سے پہلے سب نبی فوت ہو چکے ہیں اور در حقیقت بڑی بے ادبی تھی اور سخت گناہ تھا کہ نبی خاتم الرسل افضل الانبیاء فوت ہو جائیں ان کی میّت سامنے پڑی ہو اور کسی دوسرے نبی کی نسبت یہ خیال ہو کہ وہ فوت نہیں ہوا۔ درحقیقت یہ خیال اور محبت اور تعظیم رسول کریمؐ ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتی ۔ ایمانداری اور تقوٰی سے سوچو کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے بلکہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی طرح آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں ۔ اِس خیال کا ردّ بجز اس کے کب ممکن تھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت مسیح اور تمام گذشتہ نبیوں کی موت ثابت کرتے بھلا اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اس آیت قد خلت کے پڑھنے سے یہ ارادہ نہ تھا کہ حضرت مسیح وغیرہ انبیاء گذشتہ کی موت ثابت کریں تو انہوں نے حضرت عمر کے خیال کا ردّ کیا کیا ۔ حضرت عمر کے اس خیال کا تمام دار مدار حضرت مسیح کے زندہ اُٹھائے جانے پر تھا اور معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ اپنے اجتہاد سے یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں اور پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو حضرت فاروق رضی اللہ عنہ کے دِل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر حضرت مسیح زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں تو پھر ہمارے نبی احق واولٰی ہیں کہ زندہ آسمان پر چلے جائیں کیونکہ یہ ایک عظیم فضیلت ہے کہ خدا تعالٰی کسی نبی کو زندہ آسمان پر اپنے پاس بلا لے اور بلحاظ طریقت وحسن ادب یہ بات کفر کے رنگ میں تھی کہ ایسا سمجھا جائے کہ گویا حضرت مسیح تو زندہ آسمان پر چلے گئے ۔ اور وہ نبی جو خاتم الانبیاء اور افضل الانبیاء ہے جس کے وجود باجود کی بہت سی ضرورتیں ہیں وہ عمر طبعی تک بھی نہ پہنچے اگر بے ایمانی اور تعصب مانع نہ ہو تو یہ آیت مذکورہ بالا ایک بڑی نص صریح اِس بات پر ہے کہ تمام صحابہ کا اِسی پر اتفاق ہوگیا تھا کہ مسیح وغیرہ تمام گذشتہ انبیاء علیہم السلام فوت ہو چکے ہیں اور اگر یہ نہیں تو بھلا ہوش کر کے اور خدا سے ڈر کر بتلاؤ کہ اس مخالفت کے وقت میں جو حضرت ابوبکر کی رائے اور حضرت عمر کی رائے میں واقع ہوئی تھی جس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی رائے کی تائید میں یہی پیش کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ زندہ آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں سو ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھائے جائیں گے اور پھر کیوں ممتنع اور محال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باوجود بہتر اور افضل ہونے کے حضرت مسیح کی طرح آسمان پر نہ اُٹھائے جائیں ۔ اُس وقت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر کی رائے کے ردّ کرنے میں جو آیت قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ(اٰل عمران: ۱۴۵) پڑھی اِس سے اُن کا اگر یہ مطلب نہیں تھا کہ حضرت عیسیٰ بھی جن کا حوالہ دیا جاتا ہے فوت ہو چکے ہیں تو پھر اور کیا مطلب تھا اور کیونکر حضرت عمر کے خیال کا بجز اس کے ازالہ ہوسکتا تھا اور آپ کا یہ کہنا کہ اس پر اجماع نہیں ہوا ۔ یہ ایسا صریح جھوٹ ہے کہ بے اختیار رونا آتا ہے کہ کہاں تک آپ لوگوں کی نوبت پہنچ گئی ہے ۔ اے عزیز ! بخاری میں تو اس جگہ کُلُّهم کا لفظ موجود ہے جس سے ظاہر ہے کہ کل صحابہ اُس وقت موجود تھے اور لشکر اسامہ جو بیس ہزار ۲۰۰۰۰آدمی تھا اس مصیبت عظمٰی واقعہ خیر الرسل سے رُک گیا تھا اور وہ ایسا کون بے نصیب اور بد بخت تھا جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر سنی اور فی الفور حاضر نہ ہوا ۔ بھلا کسی کا نام تو لو ۔ ماسوا اِس کے اگر فرض بھی کر لیں کہ بعض صحابہ غیر حاضر تھے تو آخر مہینہ دو مہینہ چھ مہینہ کے بعد ضرور آئے ہوں گے پس اگر انہوں نے کوئی مخالفت ظاہر کی تھی اور آیت قدخلت کے اور معنے کئے تھے تو آپ اس کو پیش کریں اور اگر پیش نہ کرسکیں تو پس یہی ایمان اور دیانت کے برخلاف ہے کہ ایسے جامع اجماع کے برخلاف آپ عقیدہ رکھتے ہیں حضرت مسیح کی موت پر یہ ایک ایسا زبردست اجماع ہے کہ کوئی بے ایمان اس سے انکار کرے تو کرے نیک بخت اور متقی آدمی تو ہرگز اِس سے انکار نہیں کرے گا اب بتلاؤ کہ حضرت مسیح کی موت پر اجماع تو ہوا زندگی پر کہاں اجماع ثابت ہے برابر تفسیروں والے ہی لکھ جاتے ہیں کہ یہ بھی قول ہے کہ تین دن یا تین گھنٹے کے لئے مسیح مر بھی گیا تھا گویا مسیح کے لئے دو موتیں تجویز کرتے ہیں ۔ ميتته الاولٰى وميتته الاخرٰى اور امام مالک کا قول ہے کہ وہ ہمیشہ کے لئے مر گیا ۔ یہی قول امام ابن حزم کا ہے ۔ معتزلہ برابر اس کی موت کے قائل ہیں اور بعض صوفیہ کرام کے فرقے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح مر گیا اور اس کے خلق اور خو پر کوئی اور شخص اسی اُمت میں سے دنیا میں آئے گا اور بروزی طور پر وہ مسیح موعود کہلائے گا ۔ اب دیکھو جتنے منہ اُتنی ہی باتیں اجماع کہاں رہا ۔ اجماع صرف موت پر ہوا اور یہی اجماع آپ لوگوں کو ہلاک کر گیا ۔ اب روافض کی طرح حضرت ابوبکر کو کوستے رہو جنہوں نے آپ کے اِس عقیدہ کی بیخ کنی کی ۔
اعلموا رحمكم اللّٰہ ان حاصل كلامنا هذا ان الاجماع علٰى موت المسيح عيسى بن مريم وغيره من النبيين الذين بعثوا قبل سيدنا ورسُولنا المصطفٰى صلى اللّٰہ عليه وسلم ثابت متحقق بالنصوص الحديثية القطعية والروايات الصحيحة المتواترة. ويعلم كل من عنده علم الحديث ان هذا الاجماع قد انعقد فى ناد محشود و محفل مشهود عند اجتماع جميع بدور الاصحاب وبحور الالباب. فما تناضلوا بالانكار . وما ردّوا رأى امامهم المختار . وما ذكروا شيئا من هفوته. وما صالوا علٰى فوهته . بل سكنت عند بيان الصديق قلوبهم. ومالت الى السلم حروبهم. ووجدوا البرهان المحكم والدليل القوىّ الجليل . فتحاموا القال والقيل. وصُقِلَ الخواطرُ. وانار القلوبُ ونشط الفاتر . وكانوا قبل ذالك غرضَ اللَّظي. او كرجل التهبت احشاءه بالطوٰي بما عيل صبرهم بموت النبيّ سيدهم المصطفٰي محمدٍ المجتبٰي وبما قلقت قلوبهم وصار فؤادهم فارغا بما فقدوا حبّهم خير الورٰي وكانوا كالمبهوتين فاذا قام عبد اللّٰہ الصديق . فتح عليهم باب التحقيق. و اَروَاهُم من هٰذا الرحيق . و قُضِي الامر وأُزيل الشبهاتُ . وسكنت الاصواتُ. وانعقد الاجماع علٰي موت المسيح وسائر الانبياء الماضين. بل هو اوّل ما اجمع عليه الصحابة بعد موت خاتم النبيين. ولهٰذا الاجماع شان اكبر من اجماعٍ انعقد علٰي خلافة ابي بكرٍ الصديق فان الصحابة اتفقوا عليه كلهم وما بقي من فريق. وقبلوا ذالك الامر من غير تردّد وتوقفٍ بل بأتمّ الاذعان واليقين. وكان كلهم يتلون الآيت ويُقرُّون بموت الرسل ويبكون علي موت سيّد المرسلين. حتّي اذا سمع الفاروق الآية قال عُقِرت وما تقلني رجلاي وكان من الحزن كالمجانين. وقال حسّان وهو يرثي رسُول اللّٰہ صلّي اللّٰہ عليه وسلم.
كنت السواد لناظري فعمي عليك الناظر
من شاء بعدك فليمت فعليك كنت احاذر
يعني اي سيّدي وحبيبي كنت قرّة عيني فَفَقَدَ نُور عيني بفُقدانك ولا ابالي بعدك ان يموت عيسيٰ او مُوسيٰ او نبي آخر فاني كنت عليك اخاف فاذا متَّ فليمت من كان من السّابقين وفي هٰذه اشارة الٰي انّ الآية التي تلاها الصديق نبّهت الصحابة علٰي موت الانبياء كلهم فمابقي لهم همّ في شانهم مثقال ذرّة وما كانوا متأسفين. بل استبشروا بموت الجميع بعد موت رسُولهم الامين ولوكان الامر خلاف ذالك اعني ان ثبت حيٰوة احد من الانبياء السابقين بنصّ القرآن وبآية من
آيات الفرقان فكادوا ان يموتوا اسفا علٰى رسولهم وكادوا ان يلحقوا بالميتين. ولكنهم لمّا علموا ان رسُولنا صلّى اللّٰہ عليه وسلّم ليس بمنفرد بورود الموت من اللّٰہ العلّام بل الانبياء كلهم ماتوا من قبل وسقوا كأس الحمام تهلّلت وجوههم واستبشرت قلوبهم فكانوا يتلون هٰذه الاٰية فى سكك المدينة واسواقها ومات المنافقون ولم يبق لهم سعة ان يعترضوا على الاسلام بموت نبينا الصبيح وحيات المسيح فالحمد للّٰہ علٰى هٰذا العون الصريح . ان كلمة الاسلام هى العليا ويبرق نوره من كل جنب وشفا. واللّٰہ ارسل محمّدًا وهو يكرمه الى يوم الدين. واذا ثبت الاجماع ولم يبق القناع وسطع الصبح وازال الظلمة الشعاع. فاسئل المنكرين مابقى من عذرهم وقد حصحص الحقّ النباعُ وكُرّر الثبوتُ واحكمت الاضلاعُ وكمل الارداء والاهجاعُ. فمن ادعى بعد ذالك علٰى رفع هذاالاجماع . وعزا امرنا الى الابداع. فعليه الدليل القطعى من الكتاب والسنة واثبات اجماعٍ انعقد علٰى حيات المسيح فى عهد الصحابة. وانّى لهم هٰذا ولو ماتوا متفكرين. وكيف وليس عندهم حجة من اللّٰہ وليس معهم سلطان مبين. ان يتبعون الّا آباءهم الذين كانوا مخطئين. قست القلوب ورُفعت الامانت وما بقى فيهم الا فضول الهذر وما بقى فيهم من يطلب كالمتقين. واذا قيل لهم آمنوا بمن جاءكم من عند ربكم علٰى رأس المائة وعند ضرورةٍ احسّها قلوب المؤمنين. قالوا لا نعرف من جاء وما نراه الا احدًا من الدجّالين وقد عُلِّموا انّه يجيئهم حكمًا عدلًا ويحكم بينهم فيما كانوا فيه مختلفين. فكيف يصير حاكمهم محكومهم وكيف يقبل كلما اجمعوا من رطب ويابس مالهم لا يتفكرون كالعاقلين. و يسبّوننى عدوا بغير علم فاللّٰہ خير محاسبا وهو يعلم ما فى صدور العالمين. وقد كانوا يستفتحون من قبل ويعدّون المائين. فلمّا جاء هم من يرقبونه نبذوا وصايا اللّٰہ ورسُوله وراء ظهورهم كانه جاء فى غير وقته وكانهم ما عرفوه من علامة وكانوا من المعذورين. الم يروا كيف يتم اللّٰہ به الحجّة بآيات السماء ويعصم عرض رسُوله من قوم كافرين. بل كفروا به وقالوا فاسقٌ ومن المفترين. فسيعلمون من فسق ومن كان يفترى على اللّٰہ وان اللّٰہ لا يخفى عليه خافية واللّٰہ لا يجعل عاقبة الخير اِلّا لقوم متقين. و ما قيل لى الّا ما قيل للرسل من قبل تشابهت القلوب . وزُيّن لهم اعمالهم وحسبوا انهم يعطون الثواب على ما يؤذوننى ويدخلون الجنّة بالتحقير والتكذيب والتوهين. وكفرونى وفسّقونى وكذبونى وجهّلونى وقالوا كافرٌ شرّ النّاس. ولو شاء اللّٰہ لما قالوا ولكن ليتمّ ما جاء فى نبأ خير المرسلين. وما ينطقون الّا بطرًا ورياءَ الناس ولا يدبّرون الاَمْرَ كالمنصفين. ولا تجد فى قلوبهم احقاق الحق كالصالحين بل تجد كثيرا منهم يكيدون كل كيدٍ ليطفئوا نور اللّٰہ بافواههم وما كانوا خائفين. الا يقرءون القراٰن اَوْلا يجاوز حناجرهم اوصاروا من المعرضين. الا يعلمون كيف قال اللّٰہ يا عيسٰى انّى متوفّيك. وقال فلمّا توفّيتنى فما يقبلون بعد كتاب مبين. الا يذكرون ان اجماع الصحابة قد انعقد على موت الانبياء كلّهم اجمعين. ايرتابون فيه او كانوا من المعتدين. مالهم لا يذكرون يومًا مات فيه رسُول اللّٰہ وثبت معنى التوفّى بموته وجمع فى الصحابة كرب الاوّلين والاٰخرين. ونزلت عليهم مصيبة لن ينال كمثله احد من العالمين. وقال بعضهم لا نسلم موت رسُول اللّٰہ وانه سيرجع لقتل المنافقين. فحينئذ قام منهم عبد كان اعلم بكتاب اللّٰہ وايّده اللّٰہ بروحه فصار من المتيقظين. وقال ايّها الناس ان محمدًا مات كما مات اخوانه من النّبيّين من قبلُ فلا تصرّوا علٰى ما تعلمون ولا تكونوا من المسرفين. وقرء الاٰية وقال وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ ؕ وَمَنۡ یَّنۡقَلِبۡ عَلٰی عَقِبَیۡہِ فَلَنۡ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیۡئًا ؕ وَسَیَجۡزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیۡنَ(اٰل عمران: ۱۴۵) فما كان من الصحابة من خالفه او تصدّى للجدال كالمنكرين. ورُفع النزاع الذى نشا بين الصحابة وقاموا من المجلس معترفين باكين. ولا يخفى انّ مقصود الصديق رضى اللّٰہ عنه من قراءة هٰذه الاٰية ما كان الَّا تعميم الموت وتسكين القلوب المضطرة بعموم هٰذه السنة و تنجية المحزونين ممّا نزل عليهم و تسلية المُضطرين. وافحام المنافقين الضاحكين. ولو فرضنا ان الاٰية تدل علٰى موت زمرة من الانبياء فقط لا علٰى موت سائر النبيين فيفوت المقصود الذى تحرّاه الصديق بقراءة هٰذه الاٰية كما لا يخفى علٰى العالمين . فان ابابكر رضى اللّٰہ عنه ما كان مقصده من قراءتها الا ان يبطل ما زعم عمر ومن معه من حيات نبيّنا صلّى اللّٰہ عليه وسلم وعوده الى الدنيا مرة اخرىٰ ولا يحصل هٰذا المقصود من هٰذه الاٰية التى قرءت اِستدلالًا الَّا بعد ان تُجعل الاٰية دليلًا وبُرهانًا علٰى مَوتِ جميع الانبياء الماضين. وليس بخفى ان مقصد ابى بكر من قراءة هٰذه الاٰية كان تسلية الصحابة بتعميم سنة الموت وتبكيت المنافقين. وازالة ما اخذ الصحابة بموت نبيهم من قلق و كرب وضَجرٍ وبكاء وانين . فلو كان مفهوم الاٰية مقصورا علٰى ذكر موت البعض وحيات
البعض فباىّ غرض قرأها ابوبكر فانها كانت تخالف ما قصده بهٰذا المعنٰى وما كانت قراءتها مفيدةً للسامعين. وما كان حاصلها الا ان يزيد قلق الصحابة ويزيد حُزنهم فوق ما اُحزنوا و يسحّ الاجاج علٰى جرح المجروحين. فان رسولهم الذى كان احبّ الاشياء اليهم و كان جاءهم كالعهاد. و كانوا يرقبون اثمار بركاته رقبة اهلّة الاعياد. مات قبل اتمام آمالهم وقبل قلع المفسدين واقيالهم بل مات قبل اهلاك الكاذبين الذين ادعوا النبوّة وثوّروا الفتن فى الارضين. فلو كان ابن مريم وغيره احياءً من غير ضرورةٍ ومات نبيّنا الذى كانت ضرورته لاُمّةٍ من غير ريبةٍ وشُبهةٍ فاىُّ رُزءٍ كان اكبر من ذالك لهٰؤلاءِ المخلصين. و اىّ مصيبة كانت اصعب من هذه المصيبة لقوم فقدوا نبيهم خير النبيين فلذٰلك كانوا يرجون طول حيات النبى النبيل وما كان احد منهم يظنّ انه يموت بهٰذا الوقت وبهٰذا العمر القليل. ويرجع الٰى ربّه الجليل و يتركهم متألمين. فحسبوا موته فى غير اوانه . وقبل قطع الشوك و ارواء بستانه. وقبل اجاحة مسيلمة الكذّاب واعوانه فاخذهم ما يأخذ اليتامى الصغار عند هلاك المتكفّلين. وهذا اٰخر ما اردنا فى هٰذا الباب
والحمدُ للّٰہ رَبّ العالمين
تمّت
المؤلّف
میرزا غلام احمد عافاہُ اللّٰہ وَ ایّد