فہرست

توضیح مرام

ٹائیٹل بار اوّل

Title-Ed1

اعلان

اس رسالہ کے بعد ایک اور رسالہ بھی چند روز میں طبع ہو کر طیار ہو جائے گا جس کا نام ازالہ اوہام ہے

وہ رسالہ فتح اسلام کا تیسرا حصہ ہے

المعلن
مرزا غلام احمد عفی عنہ

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

مسیح کا دوبارہ دنیا میں آنا

مسلمانوں اور عیسائیوں کا کسی قدر اختلاف کے ساتھ یہ خیال ہے کہ ’’حضرت مسیح بن مریم اسی عنصری وجود سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور پھر وہ کسی زمانہ میں آسمان سے اتریں گے‘‘ میں اس خیال کا غلط ہونا اپنے اسی رسالہ میں لکھ چکا ہوں اور نیز یہ بھی بیان کر چکا ہوں کہ اس نزول سے مراد درحقیقت مسیح بن مریم کا نزول نہیں بلکہ استعارہ کے طور پر ایک مثیل مسیح کے آنے کی خبر دی گئی ہے جس کا مصداق حسب اعلام و الہام الٰہی یہی عاجز ہے اور مجھے یقینا معلوم ہے کہ میری اس رائے کے شائع ہونے کے بعد جس پر میں بینات الہام سے قائم کیا گیا ہوں بہت سی قلمیں مخالفانہ طور پر اٹھیں گی اور ایک تعجب اور انکار سے بھرا ہوا شور عوام میں پیدا ہو گااور میرا ارادہ تھا کہ بالفعل میں کلام کو طول دینے سے مجتنب رہوں اور اعتراضات کے پیش ہونے کے وقت ان کے دفع رفع کے لیے مفصل وجوہات و دلائل جیسے معترضین کے خیالات کے حالات موجود ہوں پیش کروں لیکن اب مجھے اس ارادہ میں یہ نقص معلوم ہوتا ہے کہ میری کوتاہ قلمی کی حالت میں نہ صرف عوام الناس بلکہ مسلمانوں کے خواص بھی جو اُن کے بعض مولوی ہیں بباعث اپنے قصور فہم کے جو ان کی حالت متنزّلہ کو لازم پڑا ہوا ہے اور نیز بوجہ متاثر ہونے کے ایک پورانے خیال سے خواہ نخواہ میری بات کو رد کرنے کے لیے مدعیانہ کھڑے ہوں گے اور اپنے دعویٰ کے طرف دار بن کر بہرحال اُسی دعویٰ کی سچائی ثابت ہو جانا چاہیں گے۔ پس مدعی ہو کر مقابل پر کھڑے ہو جانا اُن کے لیے سخت حجاب ہو جائے گا جس سے باہر نکلنا اور اپنی مشہور کردہ رائے سے رجوع کرنا ان کے لیے مشکل بلکہ محال ہو گاکیونکہ ہمیشہ یہی دیکھا جاتا ہے کہ جب کوئی مولوی ایک رائے کو علیٰ رُء ُوس الاشہاد ظاہر کر دیتاہے اور اپنا فیصلہ ناطق اُس کو قرار دیتا ہے تو پھر اس رائے سے عود کرنا اس کو موت سے بدتر دکھائی دیتا ہے۔ لہٰذامیں نے ترحماً للہ یہ چاہا کہ قبل اس کے کہ وہ مقابل پر آ کر ہٹ اور ضد کی بلا میں پھنس جائیں آپ ہی ان کو ایسے صاف اور مدلل طور پر سمجھا دیا جائے کہ جو ایک دانا اور منصف اور طالب حق کی تسلی کے لیے کافی ہو اگر بعد میں پھر لکھنے کی ضرورت پڑے گی تو شائد ایسے لوگوں کے لئے وہ ضرورت پیش آوے کہ جو غائت درجہ کے سادہ لوح اور غبی ہیں جن کو آسمانی کتابوں کے استعارات مصطلحات و دقائق تاویلات کی کچھ بھی خبر بلکہ مس تک نہیں اور لَا یَمَسُّہٗ کی نفی کے نیچے داخل ہیں۔

اب پہلے ہم صفائی بیان کے لئے یہ لکھنا چاہتے ہیں کہ بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کے رو سے جن نبیوں کا اسی وجودِ عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو نبی ہیں ایک یوحنّا جس کا نام ایلیا اور ادریس ۱؎ بھی ہے۔ دوسرے مسیح بن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔ ان دونوں نبیوں کی نسبت عہدقدیم اور جدید کے بعض صحیفے بیان کررہے ہیں کہ وہ دونوں آسمان کی طرف اُٹھائے گئے اور پھر کسی زمانہ میں زمین پر اُتریں گے اور تم ان کو آسمان سے آتے دیکھو گے ان ہی کتابوں سے کسی قدر ملتے جلتے الفاظ احادیث نبویہ میں بھی پائے جاتے ہیں لیکن حضرت ادریس ۲؎ کی نسبت جو بائیل میں یوحنا یا ایلیا کے نام سے پکارے گئے ہیں انجیل میں یہ فیصلہ دیا گیا ہے کہ یحییٰ بن زکریا کے پیدا ہونے سے اُن کا آسمان سے اُترنا وقوع میں آگیا ہے چنانچہ حضرت مسیح صاف صاف الفاظ میں فرماتے ہیں کہ ’’یوحنّا جو آنے والا تھا یہی ہے چاہو تو قبول کرو‘‘ ۔ سو ایک نبی کے محکمہ سے ایک آسمان پر جانے والے اور پھر کسی وقت اُترنے والے یعنی یوحنّا کا مقدمہ تو انفصال پاگیا اور دوبارہ اُترنے کی حقیقت اور کیفیت معلوم ہوگئی چنانچہ تمام عیسائیوں کا متفق علیہ عقیدہ جو انجیل کے رو سے ہونا چاہیے یہی ہے کہ یوحنّا جس کے آسمان سے اُترنے کا انتظار تھا وہ حضرت مسیح کے وقت میں آسمان سے اِس طرح پر اتر آیا کہ زکریا کے گھر میں اُسی طبع اور خاصیت کا بیٹا ہوا جس کا نام یحییٰ تھا۔ البتہ یہودی اُس کے اُترنے کے اب تک منتظر ہیں اُن کا بیان ہے کہ وہ سچ مچ آسمان سے اترے گا۔ اوّل بیت المقدس کے مناروں پر اس کا نزول ہوگا پھر وہاں سے یہودی لوگ اکٹھے ہو کر اس کو کسی نردبان وغیرہ کے ذریعہ سے نیچے اتار لیں گے اور جب یہودیوں کے سامنے وہ تاویل پیش کی جائے جو حضرت مسیح علیہ السلام نے یوحنا کے اترنے کے بارہ میں کی ہے تو وہ فی الفور غصہ سے بھر کر حضرت مسیح اور ایسے ہی حضرت یحییٰ کے حق میں ناگفتنی باتیں سناتے ہیں اور اس نبی کے فرمودہ کو ایک ملحدانہ خیال تصور کرتے ہیں بہرحال آسمان سے اترنے کا لفظ جو تاویل رکھتا ہے مسیح کے بیان سے اس کی حقیقت ظاہر ہوئی اور انہی کے بیان سے یوحنا کے آ سمان سے اُترنے کا جھگڑا طے ہوا اور یہ بات کھل گئی کہ آخر اترے تو کس طرح اترے مگر مسیح کے اترنے کے بارہ میں اب تک بڑے جوش سے بیان کیا جاتا ہے کہ وہ عمدہ اور شاہانہ پوشاک قیمتی پارچات کی پہنے ہوئے ٭ فرشتوں کے ساتھ آسمان سے اتریں گے مگر ان دو قوموں کا اس پر اتفاق نہیں کہ کہاں اتریں گے۔ آیا مکہ معظمہ میں یا لنڈن کےکسی گرجا میں یا ماسکو کے شاہی کلیسیا میں۔ اگر عیسائیوں کو پرانے خیالات کی تقلید رہزن نہ ہو تو وہ مسلمانوں کی نسبت بہت جلد سمجھ سکتے ہیں کہ مسیح کا اترنا اُسی تشریح کے موافق چاہیے جو خود حضرت مسیح کے بیان سے صاف لفظوں میں معلوم ہو چکی ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ایک ہی صورت کے دو امر دو متناقض معنوں پر محمول ہوسکیں یہ بات اہل الرائے کے غور کے قابل ہے کہ اگر حضرت مسیح کی وہ تاویل جو انہوں نے یوحنا کے آسمان سے اترنے کی نسبت کی ہے فی الواقع صحیح ہے تو کیا حضرت مسیح کے نزول کے مقدمہ میں جو اسی پہلے مقدمہ کا ہم شکل ہے اسی تاویل کو کام میں نہیں لانا چاہیے۔ جس حالت میں ایک نبی اس سربستہ راز کی اصل حقیقت کھول چکا ہے اور قانون قدرت بھی اُسی کو چاہتا اور اُسی کو مانتا ہے تو پھر اس صاف اور سیدھی راہ کوچھوڑ کر ایک پیچیدہ اور قابل اعتراض راہ اپنی طرف سے کھودنا کیوں کر قبول کرنے کے لائق ٹھہر سکتا ہے۔ کیاذِی علم اور ایماندار لوگوں کا کانشنس جس کو مسیح کے بیان سے بھی پوری پوری مدد مل گئی ہے کسی اور طرف اپنا رخ کر سکتا ہے اور مسیحی لوگ تو اس وقت سے دس برس پہلے اپنی یہ پیشگوئی بھی انگریزی اخباروں کے ذریعہ سے شائع کر چکے ہیں کہ تین برس تک مسیح آسمان سے اترنے والا ہے۔ اب جو خدائے تعالیٰ نے اُس اُترنے والے کا نشان دیا تو مسیحیوں پرلازم ہے کہ سب سے پہلے وہی اس کو قبول کریں تااپنی پیشگوئی کے آپ ہی مکذب نہ ٹھہریں۔

عیسائی لوگ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ حضرت مسیح اٹھائے جانے کے بعد بہشت میں داخل ہو گئے۔ لوکا کی انجیل میں خود حضرت مسیح ایک چور کو تسلی دے کر کہتے ہیں کہ ’’آج تو میرے ساتھ بہشت میں داخل ہوگا۔‘‘ ٭ اور عیسائیوں کا یہ عقیدہ بھی متفق علیہ ہے کہ کوئی شخص بہشت میں داخل ہو کر پھر اس سے نکالانہیں جائے گا گو کیسا ہی ادنیٰ درجہ کا آدمی ہوچنانچہ یہی عقیدہ مسلمانوں کا بھی ہے۔ اللہ جل شانہٗ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَّمَا ہُمۡ مِّنۡہَا بِمُخۡرَجِیۡنَ (الحجر: ۴۹) یعنی جو لوگ بہشت میں داخل کئے جائیں گے پھر اس سے نکالے نہیں جائیں گے اور قرآن شریف میں اگرچہ حضرت مسیح کے بہشت میں داخل ہونے کا بہ تصریح کہیں ذکر نہیں لیکن ان کے وفات پا جانے کا تین جگہ ذکر ہے ٭ اور مقدس بندوں کے لئے وفات پانا اور بہشت میں داخل ہونا ایک ہی حکم میں ہے کیونکہ برطبق آیت قِیۡلَ ادۡخُلِ الۡجَنَّۃَ (یٰس: ۲۷) وَادۡخُلِیۡ جَنَّتِیۡ (الفجر: ۳۱) وہ بلا توقف بہشت میں داخل کئے جاتے ہیں۔ اب مسلمانوں میں اور عیسائیوں دونوں گروہ پر واجب ہے کہ اس امر کو غور سے جانچیں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک مسیح جیسا مقرب بندہ بہشت میں داخل کرکے پھر اُس سے باہر نکال دیا جائے؟کیا اِس میں خدا ئے تعالیٰ کے اس وعدہ کا تخلف نہیں جو اس کی تمام پاک کتابوں میں بتواتر و تصریح موجود ہے؟ کہ بہشت میں داخل ہونے والے پھر اس سے نکالے نہیں جائیں گے۔ کیا ایسے بزرگ اور حتمی وعدہ کا ٹوٹ جانا خدائے تعالیٰ کے تمام وعدوں پر ایک سخت زلزلہ نہیں لاتا؟ پس یقیناً سمجھو کہ ایسا اعتقاد رکھنے میں نہ صرف مسیح پر ناجائز مصیبت وارد کروگے بلکہ ان لغو باتوں سے خدائے تعالیٰ کی کسر شان اور کمال درجہ کی بے ادبی بھی ہوگی اس امر کو ایک بڑے غور اور دیدۂ تعمق سے دیکھنا چاہیے کہ ایک ادنیٰ اعتقاد سے جس سے نجات پانے کے لئے استعارہ کی راہ موجود ہے بڑی بڑی دینی صداقتیں آپ کے ہاتھ سے فوت ہوتی ہیں اور درحقیقت یہ ایک ایسا فاسد اعتقاد ہے جس میں ہزاروں خرابیاں سخت اُلجھن کے ساتھ گرہ در گرہ لگی ہوئی ہیں اور مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے کے لئے موقعہ ہاتھ آتا ہے۔ میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ یہی معجزہ کفارِ مکہ نے ہمارے سیّد و مولیٰ حضرت خاتم الانبیاء صلے اللہ علیہ وسلم سے مانگا تھا کہ آسمان پر ہمارے روبرو چڑھیں اور روبرو ہی اتریں اور انہیں جواب ملا تھا کہ قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ (بنی اسرائیل: ۹۴) یعنی خدائے تعالیٰ کی حکیمانہ شان اِس سے پاک ہے کہ ایسے کھلے کھلے خوارق اس دارالابتلا میں دکھاوے اور ایمان بالغیب کی حکمت کو تلف کرے۔

اب میں کہتا ہوں کہ جو امر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے لئے جوا فضل الانبیاء تھے جائز نہیں اور سنت اللہ سے باہر سمجھا گیا وہ حضرت مسیح کے لئے کیوں کر جائز ہو سکتا ہے؟ یہ کمال بے ادبی ہو گی کہ ہم آنحضرت صلے اللہ علیہ و سلم کی نسبت ایک کمال کومستبعد خیال کریں اور پھر وہی کمال حضرت مسیح کی نسبت قرین قیاس مان لیں۔ کیا کسی سچے مسلمان سے ایسی گستاخی ہو سکتی ہے؟ہرگز نہیں اور یہ امر بھی قابل اظہار ہے کہ یہ خیال مذکورہ بالا جو کچھ عرصہ سے مسلمانوں میں پھیل گیا ہے صحیح طور پر ہماری کتابوں میں اس کا نام و نشان نہیں بلکہ احادیث نبویہ کی غلط فہمی کا یہ ایک غلط نتیجہ ہے جس کے ساتھ کئی بے جا حاشیے لگا دیئے گئے ہیں اور بے اصل موضوعات سے ان کو رونق دی گئی ہے اور تمام وہ امور نظرانداز کر دیئے گئے ہیں جو مقصود اصلی کی طرف رہبر ہو سکتے ہیں۔ اس بارے میں نہایت صاف اور واضح حدیث نبوی وہ ہے جو امام محمد اسمٰعیل بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں بروایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ لکھی ہے اور وہ یہ ہے کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم یعنی اس دن تمہارا کیا حال ہو گا جب ابن مریم تم میں اترے گا وہ کون ہے؟ وہ تمہارا ہی ایک امام ہو گا جو تم ہی میں سے پیدا ہو گا۔ پس اس حدیث میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے صاف فرما دیا کہ ابن مریم سے یہ مت خیال کرو کہ سچ مچ مسیح بن مریم ہی اتر آئے گا بلکہ یہ نام استعارہ کے طور پربیان کیا گیا ہے ورنہ درحقیقت وہ تم میں سے تمہاری ہی قوم میں سے تمہارا ایک امام ہو گا جو ابن مریم کی سیرت پر پیدا کیا جائے گا۔ اس جگہ پرا نے خیالات کے لوگ اس حدیث کے معنے اس طرح پر کرتے ہیں کہ جب حضرت مسیح آسمان سے اُتریں گے تو وہ اپنے منصب نبوت سے مستعفی ہو کر آئیں گے۔ انجیل سے انہیں کچھ غرض نہیں ہو گی۔ امت محمدیہ میں داخل ہو کر قرآن شریف پر عمل کریں گے۔ پنج وقت نماز پڑھیں گے اور مسلمان کہلائیں گے!!!مگر یہ بیان نہیں کیا گیا کہ کیوں اور کس وجہ سے یہ تنزل کی حالت انہیں پیش آئے گی بہر حال اس قدر ہمارے بھائیوں مسلمان محمدیوں نے آپ ہی مان لیاہے کہ ابن مریم اس دن ایک مرد مسلمان ہو گا جو اپنے تئیں امت محمدیہ میں سے ظاہر کرے گا اور اپنی نبوت کا نام بھی نہ لے گا جو پہلے اس کو عطاکی گئی تھی۔ اور درحقیقت یہی ایک بھاری مشکل ہے کہ جو استعارہ کو حقیقت پر حمل کرنے سے ہمارے بھائیوں کو پیش آگئی ہے جس کی وجہ سے اُنہیں ایک نبی کا اپنے منصب نبوت سے محروم ہو جانا تجویز کرنا پڑا۔ اگر وہ ان صاف اور سیدھے معنوں کو مان لیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک الفاظ سے پائے جاتے ہیں جن کے مطابق پہلے حضرت مسیح یوحنّا نبی کے بارے میں بیان فرماچکے ہیں تو ان تمام پُر تکلف مشکلات سے مخلصی پاجائیں گے نہ حضرت مسیح کی روح کو بہشت سے نکالنے کی حاجت پڑے گی اور نہ اس مقدس نبی کی نبوت کا خلع تجویز کرنا پڑے گا اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ہجو ملیح کے مرتکب ہوں گے اور نہ احکام قرآنی کے منسوخ ہونے کا اقرار کیا جائے گا۔

شاید آخری عذر ہمارے بھائیوں کا یہ ہو گا کہ بعض الفاظ جو صحیح حدیثوں میں حضرت مسیح کی علامات میں بیان کئے گئے ہیں ان کی تطبیق کیونکر کریں۔ مثلاً لکھاہے کہ مسیح جب آئے گا تو صلیب کو توڑے گا اور جزیہ کو اٹھا دے گا اور خنزیروں کو قتل کر دے گا اور اس وقت آئے گا کہ جب یہودیت اور عیسائیت کی بد خصلتیں مسلمانوں میں پھیلی ہوئی ہوں گی۔ مَیں کہتا ہوں کہ صلیب کے توڑنے سے مراد کوئی ظاہری جنگ نہیں بلکہ روحانی طور پر صلیبی مذہب کا توڑ دینا اور اُس کا بطلان ثابت کر کے دکھا دینا مراد ہے جزیہ اٹھا دینے کی مراد خود ظاہر ہے جس سے یہ اشارہ ہے کہ ان دنوں میں دل خود بخود سچائی اور حق کی طرف کھینچے جائیں گے کسی لڑائی کی حاجت نہیں ہو گی۔ خود بخود ایسی ہوا چلے گی کہ جوق در جوق اور فوج در فوج لوگ دین اسلام میں داخل ہوتے جائیں گے پھر جب دین اسلام میں داخل ہونے کا دروازہ کھل جائے گا اور ایک عالم کا عالم اس دین کو قبول کر لے گا تو پھر جزیہ کس سے لیا جائے گا مگر یہ سب کچھ ایک دفعہ واقع نہیں ہو گا۔ ہاں ابھی سے اس کی بنا ڈالی جائے گی اور خنزیروں سے مراد وہ لوگ ہیں جن میں خنزیروں کی عادتیں ہیں وہ اس روز حجت اور دلیل سے مغلوب کئے جائیں گے اور دلائل بینہ کی تلوار انھیں قتل کرے گی نہ یہ کہ ایک پاک نبی جنگلوں میں خنزیروں کا شکار کھیلتا پھرے گا۔

اے میری پیاری قوم! یہ سب استعارے ہیں جن کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے فہم دیا گیا ہے وہ نہ صرف آسانی سے بلکہ ایک قسم کے ذوق سے اُن کو سمجھ جائیں گے۔ ایسے عمدہ اور بلیغ مجازی کلمات کو حقیقت پر اُتارنا گویا ایک خوبصورت معشوق کا ایک دیو کی شکل میں خاکہ کھینچنا ہے بلاغت کا تمام مدار استعارات لطیفہ پر ہوتا ہے اسی وجہ سے خدائے تعالیٰ کے کلام نے بھی جو ابلغ الکلم ہے جس قدر استعاروں کو استعمال کیا ہے اور کسی کے کلام میں یہ طرز لطیف نہیں ہے۔ اب ہر جگہ اور ہر محل میں ان پاکیزہ استعاروں کو حقیقت پر حمل کرتے جانا گویا اس کلام معجز نظام کو خاک میں ملا دینا ہے۔ پس اِس طریق سے نہ صرف خدائے تعالیٰ کے پُربلاغت کلام کا اصلی منشا درہم برہم ہوتا ہے بلکہ ساتھ ہی اس کلام کی اعلیٰ درجہ کی بلاغت کو برباد کر دیا جاتا ہے خوبصورت اور دلچسپ طریقے تفسیر کے وہ ہوتے ہیں جن میں متکلم کی اعلیٰ شان بلاغت اور اس کے روحانی اور بلند ارادوں کا بھی خیال رہے نہ یہ کہ نہایت درجہ کے سفلی اور بدنما اور بے طرح موٹے معنے جو ہجو ملیح کے حکم میں ہوں اپنی طرف سے گھڑے جائیں اور خدائے تعالیٰ کے پاک کلام کو جو پاک اور نازک دقائق پر مشتمل ہے صرف دَہقانی لفظوں تک محدود خیال کرلیا جائے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ ان نہایت دقیق اسرار کے مقابلہ پر جو خدائے تعالیٰ کے کلام میں ہونے چاہئیں اور بکثرت ہیں کیوں بد شکل اور موٹے اور کریہہ معنے پسند کئے جاتے ہیں؟ اور کیوں ان لطیف معنوں کی وقعت نہیں جو خدا ئے تعالیٰ کی حکیمانہ شان کے موافق اور اس کے عالی مرتبہ کلام کے مناسب حال ہیں؟ اور ہمارے علماء کے دماغ اس بے وجہ سرکشی سے کیوں پُر ہیں کہ وہ الٰہی فلسفہ کے نزدیک آنا نہیں چاہتے! جن لوگوں نے ان تحقیقوں میں اپنا خون اور پسینہ ایک کر دیا ہے ان کو بے شک ہمارے اس بیان سے نہ انکار بلکہ مزہ آئے گا۔ اور ایک تازہ صداقت ان کو ملے گی جس کو وہ بڑی مدوشد کے ساتھ قوم میں بیان کریں گے اور پبلک کو ایک روحانی فائدہ پہنچائیں گے لیکن جنہوں نے صرف سرسری نگاہ تک اپنی فکر اور عقل کو ختم کر رکھا ہے وہ بجز اس کے کہ ناحق کے اعتراضات کی میزان بڑھاویں اور بے جا رست خیز قائم کریں اور کچھ اسلا م کو اپنے وجود سے فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔

اب ہم یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے ہادی اور سیّد مولیٰ جناب ختم المرسلین نے مسیح اوّل اور مسیح ثانی میں مابہ الامتیاز قائم کرنے کے لئے صرف یہی نہیں فرمایا کہ مسیح ثانی ایک مرد مسلمان ہو گا اور شریعت قرآنی کے موافق عمل کرے گا اور مسلمانوں کی طرح صوم و صلوٰۃ وغیرہ احکام فرقانی کا پابند ہو گا اور مسلمانوں میں پیدا ہو گا اور ان کا امام ہو گا اور کوئی جداگانہ دین نہ لائے گا اور کسی جداگانہ نبوت کا دعویٰ نہیں کرے گا بلکہ یہ بھی ظاہر فرمایا ہے کہ مسیح اوّل اور مسیح ثانی کے حلیہ میں بھی فرق بیّن ہو گا۔ چنانچہ مسیح اوّل کا حلیہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو معراج کی رات میں نظر آیا وہ یہ ہے کہ درمیانہ قد اور سرخ رنگ، گھنگروالے بال اور سینہ کشادہ ہے دیکھو صحیح بخاری صفحہ۴۸۹ لیکن اسی کتاب میں مسیح ثانی کا حلیہ جناب ممدوح نے یہ فرمایا ہے کہ وہ گندم گوں ہے اور اس کے بال گھنگر والے نہیں ہیں اور کانوں تک لٹکتے ہیں۔ اب ہم سوچتے ہیں کہ کیا یہ دونوں ممیز علامتیں جو مسیح اوّل اور ثانی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے بیان فرمائی ہیں کافی طور پریقین نہیں دلاتیں کہ مسیح اوّل اور ہے اور مسیح ثانی اور ان دونوں کو ابن مریم کے نام سے پکارنا ایک لطیف استعارہ ہے جو باعتبار مشابہت طبع اور روحانی خاصیت کے استعمال کیا گیا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ اندرونی خاصیت کی مشابہت کی رو سے دو نیک آدمی ایک ہی نام کے مستحق ہو سکتے ہیں اور ایسا ہی دو بد آدمی بھی ایک ہی بد مادہ میں شریک مساوی ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے قائم مقام کہلا سکتے ہیں مسلمان لوگ جو اپنے بچوں کے نام احمد اور موسیٰ اور عیسیٰ اور سلیمان اور داؤد وغیرہ رکھتے ہیں تو درحقیقت اسی تفاول کا خیال انہیں ہوتا ہے جس سے نیک فال کے طور پر یہ ارادہ کیا جاتا ہے کہ یہ بچے بھی ان بزرگوں کی روحانی شکل اور خاصیت ایسی اتم اور اکمل طور سے پیدا کرلیں کہ گویا انہی کا روپ ہوجائیں۔

اِس جگہ اگر یہ اعتراض پیش کیا جائے کہ مسیح کا مثل بھی نبی چاہیے کیونکہ مسیح نبی تھا۔ تو اس کا اوّل جواب تو یہی ہے کہ آنے والے مسیح کے لئے ہمارے سید و مولیٰ نے نبوت شرط نہیں ٹھہرائی بلکہ صاف طور پر یہی لکھا ہے کہ وہ ایک مسلمان ہوگا اور عام مسلمانوں کے موافق شریعت فرقانی کا پابند ہوگا اور اس سے زیادہ کچھ بھی ظاہر نہیں کرے گا کہ میں مسلمان ہوں اور مسلمانوں کا امام ہوں۔ ماسوا اس کے اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدا ئے تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنے سے نبی ہی ہوتا ہے گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں مگر تاہم جزئی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے کیونکہ وہ خدا ئے تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے۔ امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے اور مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے اور بعینہٖ انبیا کی طرح مامور ہوکر آتا ہے اور انبیا کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے اور نبوت کے معنے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں۔

اور اگر یہ عذر پیش ہو کہ باب نبوت مسدود ہے اور وحی جو انبیاء پر نازل ہوتی ہے اس پر مہر لگ چکی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ نہ من کل الوجوہ باب نبوّت مسدود ہوا ہے اور نہ ہر یک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے بلکہ جزئی طور پر وحی اور نبوت کا اِس امت مرحومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے۔ مگر اس بات کو بحضور دل یاد رکھنا چاہیے کہ یہ نبوت جس کا ہمیشہ کے لئے سلسلہ جاری رہے گا نبوت تامہ نہیں ہیں ٭ بلکہ جیسا کہ میں ابھی بیان کرچکا ہوں وہ صرف ایک جزئی نبوت ہے جو دوسرے لفظوں میں محدثیت کے اسم سے موسوم ہے جو انسان کامل کے اقتدا سے ملتی ہے جو مستجمع جمیع کمالات نبوت تامہ ہے یعنی ذات ستودہ صفات حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فاعلم ارشدک اللّٰہ تعالٰی انَّ النبی محدث والمحدّث نبی باعتبار حصول نوع من انواع النبوت و قد قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لم یبق من النبوت الا المبشرات ای لم یبق من انواع النبوت الا نوع واحد وھی المبشرات من اقسام الرؤیا الصادقۃ والمکاشفات الصحیحۃ و الوحی الذی ینزل علی خواص الاولیاء والنور الذی یتجلّٰی علٰی قلوب قومٍ مُوجع۔ فانظر ایھاالناقد البصیر أ یُفْھَمُ من ھٰذا سد باب النبوۃ علی وجہ کلی بل الحدیث یدل علی ان النبوۃ التامۃ الحاملۃ لوحی الشریعۃ قد انقطعت ولٰٰکن النبوۃ التی لیس فیھا الا المبشرات فھی باقیۃ الی یوم القیامۃ لا انقطاع لھا ابدًا۔ و قد علمتَ و قراتَ فی کتب الحدیث ان الرؤیا الصالحۃ جزء من ستۃ واربعین جزء من النبوّۃ ای من النبوۃ التامۃ فلما کان للرویا نصیبا من ھٰذہِ المرتبۃ فکیف الکلام الذی یوحٰی من اللّٰہ تعالٰی الی قلوب المحدثین فاعلم ایدک اللّٰہ ان حاصل کلامنا ان ابواب النبوۃ الجزئیۃ مفتوحۃ ابدًا و لیس فی ھٰذا النوع الا المبشرات او المنذرات من الامور المغیبۃ او اللطائف القرآنیۃ والعلوم اللدنیۃ۔ و اما النبوۃ التی تامۃ کاملۃ جامعۃ لجمیع کمالات الوحی فقد آمنّا بانقطاعھا من یوم نزل فیہ۔ مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ (الاحزاب: ۴۱) اگریہ استفسار ہو کہ جس خاصیت اور قوت روحانی میں یہ عاجز اور مسیح بن مریم مشابہت رکھتے ہیں وہ کیا شے ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ایک مجموعی خاصیت ہے جو ہم دونوں کے روحانی قویٰ میں ایک خاص طور پر رکھی گئی ہے جس کے سلسلہ کی ایک طرف نیچے کو اور ایک طرف اوپر کو جاتی ہے۔ نیچے کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی دل سوزی اور غم خواری خلق اللہ ہے جو داعی الی اللہ اور اس کے مستعد شاگردوں میں ایک نہایت مضبوط تعلق اور جوڑ بخش کر نورانی قوت کو جو داعی الی اللہ کے نفس پاک میں موجود ہے ان تمام سرسبز شاخوں میں پھیلاتی ہے۔ اوپر کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی محبت قوی ایمان سے ملی ہوئی ہے جو اوّل بندہ کے دل میں بارادہ الٰہی پیدا ہو کرربّ قدیر کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور پھر اُن دونوں محبتوں کے ملنے سے جو درحقیقت نر اور مادہ کا حکم رکھتی ہیں ایک مستحکم رشتہ اور ایک شدید مواصلت خالق اور مخلوق میں پیدا ہو کر الٰہی محبت کی چمکنے والی آگ سے جو مخلوق کی ہیزم مثال محبت کے پکڑ لیتی ہے۔ ایک تیسری چیز پیدا ہو جاتی ہے جس کا نام روح القدس ہے سو اس درجہ کے انسان کی روحانی پیدائش اس وقت سے سمجھی جاتی ہے جب کہ خدائے تعالیٰ اپنے ارادہ خاص سے اس میں اس طور کی محبت پیدا کردیتا ہے اور اس مقام اور اس مرتبہ کی محبت میں بطور استعارہ یہ کہنا بے جا نہیں ہے کہ خدا ئے تعالیٰ کی محبت سے بھری ہوئی روح اس انسانی روح کو جو باارادۂ الٰہی اب محبت سے بھر گئی ہے ایک نیا تولد بخشتی ہے۔ اسی وجہ سے اس محبت کی بھری ہوئی روح کو خدائے تعالیٰ کی روح سے جو نافخ المحبت ہے استعارہ کے طور پر ابنیت کا علاقہ ہوتا ہے اور چونکہ روح القدس ان دونوں کے ملنے سے انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لئے بطور ابن ہے اور یہی پاک تثلیث ہے جو اس درجہ محبت کے لئے ضروری ہے جس کو ناپاک طبیعتوں نے مشرکانہ طور پر سمجھ لیا ہے اور ذرّہ امکان کو جو ھالکۃ الذات، باطلۃ الحقیقت ہے حضرت اعلیٰ واجب الوجود کے ساتھ برابر ٹھہرا دیا ہے۔

لیکن اگر اس جگہ یہ استفسار ہو کہ اگر یہ درجہ اس عاجز اور مسیح کے لئے مسلّم ہے تو پھر جناب سیّدنا و مولانا سیّد الکل و افضل الرسل حضرت خاتم النبیین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کون سا درجہ باقی ہے۔ سو واضح ہو کہ وہ ایک اعلیٰ مقام اور برتر مرتبہ ہے جو اُسی ذات کامل الصفات پر ختم ہوگیا ہے جس کی کیفیت کو پہنچنا بھی کسی دوسرے کا کام نہیں چہ جائیکہ وہ کسی اور کو حاصل ہو سکے۔

شان احمد را کہ داند جز خداوند کریم

آنچناں از خود جدا شد کز میاں افتادمیم

زاں نمط شد محودلبر کز کمال اتحاد

پیکر او شد سراسر صورتِ ربّ رحیم

بوئے محبوبِ حقیقی میدہد زاں روئے پاک

ذات حقانی صفاتش مظہرِ ذات قدیم

گرچہ منسوبم کند کس سوئے الحادو ضلال

چوں دلِ احمدنمے بینم دگر عرشِ عظیم

منت ایزد راکہ من برر غم اہل روزگار

صد بلا را مے خرم از ذوق آں عین النعیم

از عنایاتِ خدا و از فضل آں دادار پاک

دشمن فرعونیانم بہر عشق آں کلیم

آں مقام و رتبت خاصش کہ برمن شدعیاں

گفتمے گر دید مے طبعے دریں راہے سلیم

در رہِ عشق محمدؐ ایں َسر و جانم رَود

ایں تمنا ایں دعا ایں در دِلم عزم صمیم

اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ عالیہ کی شناخت کے لئے اس قدر لکھنا ضروری ہے کہ مراتب قرب و محبت باعتبار اپنے روحانی درجات کے تین قسم پر منقسم ہیں۔ سب سے ادنیٰ درجہ جو درحقیقت وہ بھی بڑا ہے یہ ہے کہ آتش محبت الٰہی لوح قلب انسان کو گرم تو کرے اور ممکن ہے کہ ایسا گرم کرے کہ بعض آگ کے کام اُس محرور سے ہو سکیں لیکن یہ کسر باقی رہ جائے کہ اُس متأثر میں آگ کی چمک پیدا نہ ہو اِس درجہ کی محبت پر جب خدائے تعالیٰ کی محبت کا شعلہ واقع ہو تو اِس شعلہ سے جس قدر روح میں گرمی پیدا ہوتی ہے اس کو سکینت واطمینان اور کبھی فرشتہ و ملک کے لفظ سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔

دوسرا درجہ محبت کا وہ ہے جو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں جس میں دونوں محبتوں کے ملنے سے آتش محبت الٰہی لوح قلب انسان کو اس قدر گرم کر تی ہے کہ اُس میں آگ کی صورت پر ایک چمک پیدا ہوجاتی ہے۔ لیکن اُس چمک میں کسی قسم کا اشتعال یا بھڑک نہیں ہوتی۔ فقط ایک چمک ہوتی ہے جس کو روح القدس کے نام سے موسوم کیا جاتاہے۔

تیسرا درجہ محبت کا وہ ہے جس میں ایک نہایت افروختہ شعلہ محبت الٰہی کا انسانی محبت کے مستعد فتیلہ پر پڑ کر اُس کو افروختہ کر دیتا ہے اور اس کے تمام اجزا اور تمام رگ و ریشہ پر استیلا پکڑ کر اپنے وجود کا اتم اور اکمل مظہر اس کو بنا دیتا ہے اور اس حالت میں آتشِ محبتِ الٰہی لوحِ قلب انسان کو نہ صرف ایک چمک بخشتی ہے بلکہ معاً اس چمک کے ساتھ تمام وجود بھڑک اٹھتا ہے اور اس کی لوئیں اور شعلے اردگرد کو روزروشن کی طرح روشن کر دیتے ہیں اور کسی قسم کی تاریکی باقی نہیں رہتی اور پورے طور پر اور تمام صفاتِ کاملہ کے ساتھ وہ سارا وجود آگ ہی آگ ہو جاتا ہے اور یہ کیفیت جو ایک آتش افروختہ کی صورت پر دونوں محبتوں کے جوڑ سے پیدا ہو جاتی ہے اس کو روح امین کے نام سے بولتے ہیں کیونکہ یہ ہریک تاریکی سے امن بخشتی ہے اور ہر یک غبار سے خالی ہے اور اس کا نام شدید القویٰ بھی ہے کیونکہ یہ اعلیٰ درجہ کی طاقت وحی ہے جس سے قوی تر وحی متصور نہیں۔ اور اس کا نام ذوالافق الاعلٰی بھی ہے کیونکہ یہ وحی الٰہی کے انتہائی درجہ کی تجلی ہے اور اس کو رَأَیٰ مَارَأَیٰ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے کیونکہ اس کیفیت کا اندازہ تمام مخلوقات کے قیاس اور گمان اور وہم سے باہر ہے اور یہ کیفیت صرف دنیا میں ایک ہی انسان کو ملی ہے جو انسان کامل ہے جس پر تمام سلسلہ انسانیہ کا ختم ہو گیا ہے۔ اور دائرہ استعدادت بشریہ کا کمال کو پہنچا ہے اور وہ درحقیقت پیدائش الٰہی کے خط ممتد کی اعلیٰ طرف کا آخری نقطہ ہے جو اِرتفاع کے تمام مراتب کا انتہا ہے۔ حکمت الٰہی کے ہاتھ نے ادنیٰ سے ادنیٰ خِلقت سے اور اَسفل سے اسفل مخلوق سے سلسلہ پیدائش کا شروع کر کے اس اعلیٰ درجہ کے نقطہ تک پہنچا دیا ہے جس کا نام دوسرے لفظوں میں محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم جس کے معنے یہ ہیں کہ نہایت تعریف کیا گیا یعنی کمالاتِ تامہ کا مظہر سو جیسا کہ فطرت کے رو سے اس نبی کا اعلیٰ اور ارفع مقام تھا ایسا ہی خارجی طور پر بھی اعلیٰ و ارفع مرتبہ وحی کا اس کو عطا ہوا اور اعلیٰ و ارفع مقام محبت کا ملا یہ وہ مقام عالی ہے کہ میں اور مسیح دونوں اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس کا نام مقام جمع اور مقام وحدت تامہ ہے۔ پہلے نبیوں نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خبر دی ہے اسی پتہ و نشان پر خبر دی ہے اور اسی مقام کی طرف اشارہ کیا ہے اور جیسا مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طورپر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ ایسا ہی یہ وہ مقام عالی شان مقام ہے کہ گذشتہ نبیوں نے استعارہ کے طور پر صاحب مقام ہذا کے ظہور کو خدائے تعالیٰ کا ظہور قرار دے دیااور اس کا آنا خدائے تعالیٰ کا آنا ٹھہرایا ہے۔ جیسا کہ حضرت مسیح نے بھی ایک مثال کو پیش کرکے فرمایا ہے کہ انگورستان کا پھل لینے کے لئے اوّل باغ کے مالک نے (جو خدائے تعالیٰ ہے) اپنے نوکروں کو بھیجا یعنی ابتدائی * کے قرب والوں کو جس سے مراد وہ تمام صلحا ہیں جو حضرت مسیح کے زمانہ میں اور اُسی صدی میں مگر کسی قدر ان سے پہلے آئے پھر جب باغبانوں نے باغ کا پھل دینے سے انکار کیا تو باغ کے مالک نے تاکید کے طور پر اپنے بیٹے کو ان کی طرف روانہ کیا تا اُس کو بیٹا سمجھ کر باغ کا پھل اس کے حوالہ کریں۔ بیٹے سے مراد اس جگہ مسیح ہے جن کو دوسرا درجہ قرب اور محبت کا حاصل ہے مگر باغبانوں نے اُس بیٹے کو بھی باغ کا پھل نہ دیا بلکہ اپنے زعم میں اسے قتل کردیا بعد اِس کے حضرت مسیح فرماتے ہیں کہ اب باغ کا مالک خود آئے گا یعنی خدائے تعالیٰ خود ظہور فرمائے گاتا باغبانوں کو قتل کرکے باغ کو ایسے لوگوں کو دیدے کہ اپنے وقت پر پھل دے دیا کریں اس جگہ خدائے تعالیٰ کے آنے سے مراد حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا ہے جو قرب اور محبت کا تیسرا درجہ اپنے لئے حاصل رکھتے ہیں ٭ اور یہ سب روحانی مراتب ہیں کہ جو استعارہ کے طور پر مناسب حال الفاظ میں بیان کئے گئے ہیں یہ نہیں کہ حقیقی ابنیت اس جگہ مراد ہے یا حقیقی الوہیت مراد لی گئی ہے۔

اس جگہ اس بات کا بیان کرنا بھی بے موقعہ نہ ہوگا کہ جو کچھ ہم نے روح القدس اور روح الامین وغیرہ کی تعبیر کی ہے یہ درحقیقت ان عقائد سے جو اہل اسلام ملائک کی نسبت رکھتے ہیں منافی نہیں ہے کیوں کہ محققین اہل اسلام ہر گز اس بات کے قائل نہیں کہ ملائک اپنے شخصی وجود کے ساتھ انسانوں کی طرح پیروں سے چل کر زمین پر اتر تے ہیں اور یہ خیال ببداہت باطل بھی ہے۔ کیوں کہ اگر یہی ضرور ہوتا کہ ملائک اپنی اپنی خدمات کی بجاآوری کے لئے اپنے اصل وجود کے ساتھ زمین پر اُترا کرتے تو پھر ان سے کوئی کام انجام پذیر ہونا بغایت درجہ محال تھا۔ مثلاً فرشتہ ملک الموت جو ایک سیکنڈ میں ہزار ہا ایسے لوگوں کی جانیں نکالتا ہے جو مختلف بلادو امصار میں ایک دوسرے سے ہزاروں کوسوں کے فاصلہ پر رہتے ہیں۔ اگر ہر یک کے لئے اس بات کا محتاج ہو کر اوّل پیروں سے چل کر اس کے ملک اور شہر اور گھر میں جاوے اور پھر اتنی مشقت کے بعد جان نکالنے کا اس کو موقع ملے تو ایک سیکنڈ کیا اتنی بڑی کارگزاری کے لئے تو کئی مہینے کی مہلت بھی کافی نہیں ہو سکتی کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص انسانوں کی طرح حرکت کرکے ایک طُرفۃ العَین کے یا اس کے کم عرصہ میں تمام جہان گھوم کر چلا آوے ہرگز نہیں بلکہ فرشتے اپنے اصلی مقامات سے جو ان کے لئے خدائے تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں ایک ذرہ کے برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے جیسا کہ خدائے تعالیٰ ان کی طرف سے قرآن شریف میں فرماتا ہے وَمَا مِنَّاۤ اِلَّا لَہٗ مَقَامٌ مَّعۡلُوۡمٌ وَّاِنَّا لَنَحۡنُ الصَّآفُّوۡنَ ۸؎ سورۃ صافات جزو ۲۳ پس اصل بات یہ ہے کہ جس طرح آفتاب اپنے مقام پر ہے اور اُس کی گرمی و روشنی زمین پر پھیل کر اپنے خواص کے موافق زمین کی ہریک چیز کو فائدہ پہنچاتی ہے اسی طرح روحانیات سماویہ خواہ اُن کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس فلکیہ کہیں یا دساتیر اور وید کی اصطلاحات کے موافق ارواح ِکواکب سے اُن کو نامزد کریں یا نہایت سیدھے اور موحدانہ طریق سے ملائک اللہ کا ان کو لقب دیں ٭ درحقیقت یہ عجیب مخلوقات اپنے اپنے مقام میں مستقر اور قرار گیر ہے اور بہ حکمت کاملہ خداوند تعالیٰ زمین کی ہریک مستعد چیز کو اس کے کمال مطلوب تک پہنچانے کے لئے یہ روحانیات خدمت میں لگی ہوئی ہیں ظاہری خدمات بھی بجا لاتے ہیں اور باطنی بھی۔ جیسے ہمارے اجسام اور ہماری تمام ظاہری قوتوں پر آفتاب اور ماہتاب اور دیگر سیاروں کا اثر ہے ایسا ہی ہمارے دل اور دماغ اور ہماری تمام روحانی قوتوں پر یہ سب ملائک ہماری مختلف استعدادوں کے موافق اپنا اپنا اثر ڈال رہے ہیں۔ جو چیز کسی عمدہ جوہر بننے کی اپنے اندر قابلیت رکھتی ہے وہ اگرچہ خاک کا ایک ٹکڑہ ہے یا پانی کا وہ قطرہ جو صدف میں داخل ہوتا ہے یا پانی کا وہ قطرہ جو رحم میں پڑتا ہے وہ ان ملائک اللہ کی روحانی تربیت سے لعل اور الماس اور یاقوت اور نیلم وغیرہ یا نہایت درجہ کا آبدار اور وزنی موتی یا اعلیٰ درجہ کے دل اور دماغ کا انسان بن جاتا ہے۔ دساتیر جس کو مجوسی لوگ الہامی مانتے ہیں جس نے اپنی مدت ظہور کی وہ لمبی تاریخ بتلائی ہے جس کا کروڑواں حصہ بھی وید کی مدت ظہور کی نسبت بیان نہیں کیا گیایعنی وید کی نسبت تو صرف ایک ارب چھیانویں کروڑ مدت ظہور محض دوسروں کے وہم اور گمان سے قرار دی گئی ہے مگر دساتیر تین سنکھ سے کچھ زیادہ اپنی مدت ظہور آپ بیان کرتا ہے بلکہ یہ تو ہم نے ڈرتے ڈرتے لکھا ہے وہاں تو سنکھوں کی حد سے زیادہ تین صفر اور بھی درمیان ہیں۔ یہ کتاب ان روحانیات کوجو کواکب اور سماوَات سے تعلق رکھتی ہیں نہ صرف ملائک قرار دیتی ہے بلکہ ان کی پرستش کے لئے بھی تاکید کرتی ہے ایسا ہی وید بھی ان روحانیات کو صرف وسائط اور درمیانی خدمت گذار نہیں مانتابلکہ جابجا اُن کی اُستت اور مہما کرتا ہے اور ان سے مرادیں مانگنے کی تعلیم دیتا ہے اور ممکن ہے کہ ان کتابوں میں تحریف اور الحاق کے طور پریہ پُرکفر تعلیمیں زائد کی گئی ہوں جیسی وید میں ایسی اور بھی بہت سی بے جا تعلیمیں پائی جاتی ہیں مثلاً یہ تعلیم کہ اس جہان کا کوئی خالق نہیں ہے اور ہر ایک چیز اپنے اصل مادہ اور اصل حیات کے رو سے قدیم اور واجب الوجود اور اپنے وجود کی آپ ہی خدا ہے یا یہ تعلیم کہ کسی وجود کو تناسخ کے منحوس چکر سے کبھی اور کسی زمانہ میں مَخلصی حاصل ہو ہی نہیں سکتی یا یہ تعلیم کہ ایک شوہر دار عورت اولادنرینہ نہ ہونے کی حالت میں کسی غیر آدمی سے ہم بستر ہو سکتی ہے تا اس سے اولاد حاصل کرے یا یہ تعلیم کہ بڑے بڑے مقدس لوگ بھی گو وید کے ہی رشی کیوں نہ ہوں جن پر چاروں وید اُترے ہوں ہمیشہ کی نجات کبھی نہیں پا سکتے اور نہ لازمی طور پر ہمیشہ بزرگوار اور عزت کے ساتھ یاد کرنے کے لائق ٹھہر سکتے ہیں بلکہ ممکن ہے کہ تناسخ کے چکر میں آکر اور اور جانداروں کی طرح کچھ کا کچھ بن جائیں بلکہ شایدبن گئے ہوں اور ان کے زعم میں خواہ کوئی انسان اوتاروں سے بھی زیادہ مرتبہ رکھتا ہو یا وید کے رشیوں سے بھی بڑھ کر ہو اس کے لئے ممکن بلکہ قانون قدرت کے رو سے ضروری پڑا ہوا ہے کہ کسی وقت وہ کیڑا مکوڑہ یا نہایت مکروہ اور قابل نفرت جانور بن کر کسی خسیس مخلوق کی نوع میں جنم لیوے۔ یہ سب باطل تعلیمیں ہیں جو انسانوں کے رذیل خیالات نے ایجاد کی ہیں اور جن لوگوں نے یہ تمام بے شرمی کے کام اور دور از عزت انتقالات اپنے بنی نوع بلکہ اپنے بزرگوں اور پیشواؤں کے لئے جائز رکھے ہیں انہوں نے یہ بھی جائزرکھ لیا کہ کواکب کی روحوں سے مرادیں مانگی جائیں ان کی ایسی پرستش کی جائے جیسی خدائے تعالیٰ کی کرنی چاہیے لیکن قرآن شریف جو ہر یک طور سے توحید اور تہذیب کی راہ کھولتا ہے اس نے ہرگز روا نہیں رکھا کہ اس کے ساتھ کسی مخلوق کی پرستش ہو یا اس کی ربوبیت کی قدرت صرف ناقص اور ناکارہ طور پر تسلیم کریں اور اس کو ہر یک چیز کا مبدء اور سرچشمہ نہ ٹھہرائیں یا کوئی اور بے شرمی کا کام اپنے طریق معاشرت میں داخل کر لیں۔

اب پھر میں ملائک کے ذکر کی طرف عود کر کے کہتا ہوں کہ قرآن شریف نے جس طرز سے ملائک کا حال بیان کیا ہے وہ نہایت سیدھی اور قریب قیاس راہ ہے اور بجز اس کے ماننے کے انسان کو کچھ بن نہیں پڑتا۔ قرآن شریف پر بدیدہ تعمق غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان بلکہ جمیع کائنات الارض کی تربیت ظاہری و باطنی کے لئے بعض وسائط کا ہونا ضروری ہے اور بعض بعض اشارات قرآنیہ سے نہایت صفائی سے معلوم ہوتاہے کہ بعض وہ نفوس طیّبہ جو ملائک سے موسوم ہیں اُن کے تعلقات طبقات سماویہ سے الگ الگ ہیں۔ بعض اپنی تاثیرات خاصہ سے ہوا کے چلانے والے اور بعض مینہ کے برسانے والے اور بعض بعض اور تاثیرات کو زمین پر اتارنے والے ہیں پس اس میں کچھ شک نہیں کہ بوجہ مناسبت نوری وہ نفوس طیّبہ ان روشن اور نورانی ستاروں سے تعلق رکھتے ہوں گے کہ جو آسمانوں میں پائے جاتے ہیں مگر اس تعلق کو ایسا نہیں سمجھنا چاہیے کہ جیسے زمین کا ہر یک جاندار اپنے اندر جان رکھتاہے بلکہ ان نفوس طیبہ کو بوجہ مناسبت اپنی نو رانیت اور روشنی کے جو روحانی طور پر انہیں حاصل ہے روشن ستاروں کے ساتھ ایک مجہول الکُنہ تعلق ہے اور ایسا شدید تعلق ہے کہ اگر اُن نفوس طیّبہ کا ان ستاروں سے الگ ہونا فرض کر لیا جائے توپھر اُن کے تمام قویٰ میں فرق پڑجائے گا انہیں نفوس کے پوشیدہ ہاتھ کے زور سے تمام ستارے اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں اور جیسے خدائے تعالیٰ تمام عالم کے لئے بطور جان کے ہے ایسا ہی (مگر اس جگہ تشبیہ کامل مرادنہیں ) وہ نفوس نورانیہ کواکب اور سیارات کے لئے جان کا ہی حکم رکھتے ہیں اور ان کے جدا ہو جانے سے ان کی حالت وجودیہ میں بکلی فساد راہ پاجانالازمی و ضروری امر ہے اور آج تک کسی نے اس امر میں اختلاف نہیں کیا کہ جس قدر آسمانوں میں سیارات اور کواکب پائے جاتے ہیں وہ کائنات الارض کی تکمیل و تربیت کے لئے ہمیشہ کام میں مشغول ہیں غرض یہ نہایت جچی ہوئی اور ثبوت کے چرخ پر چڑھی ہوئی صداقت ہے کہ تمام نباتات اور جمادات اور حیوانات پر آسمانی کواکب کا دن رات اثر پڑ رہا ہے اور جاہل سے جاہل ایک دہقان بھی اس قدر تو ضرور یقین رکھتا ہو گا کہ چاند کی روشنی پھلوں کے موٹا کرنے کے لئے اور سورج کی دھوپ ان کو پکانے اور شیریں کرنے کے لئے اور بعض ہوائیں بکثرت پھل آنے کے لئے بلاشبہ مؤثر ہیں اب جبکہ ظاہری سلسلہ کائنات کا ان چیزوں کی تاثیرات مختلہ ٭ سے تربیت پارہا ہے تو اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ باطنی سلسلہ پر بھی باذنہٖ تعالیٰ وہ نفوس نورانیہ اثر کر رہی ہیں جن کا اجرام نورانیہ سے ایسا شدید تعلق ہے کہ جیسے جان کو جسم سے ہوتا ہے۔

اب اِس کے بعد یہ بھی جاننا چاہیے کہ اگرچہ بظاہر یہ بات نہایت دورازادب معلوم ہوتی ہے کہ خدائے تعالیٰ اور اُس کے مقدس نبیوں میں افاضہ انوار وحی کے لئے کوئی اور واسطہ تجویز کیا جائے لیکن ذرا غور کرنے سے بخوبی سمجھ آجائے گا کہ اس میں کوئی سوء ادب کی بات نہیں بلکہ سراسر خدائے تعالیٰ کے اس عام قانون قدرت کے مطابق ہے جو دنیا کی ہریک چیز کے متعلق کھلے کھلے طور پر مشہود و محسوس ہو رہا ہے کیوں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام بھی اپنے ظاہری جسم اور ظاہری قویٰ کے لحاظ سے انہیں وسائط کے محتاج ہیں اور نبی کی آنکھ بھی گو کیسی ہی نورانی اور بابرکت آنکھ ہے مگر پھر بھی عوام کی آنکھوں کی طرح آفتاب یا اس کے کسی دوسرے قائم مقام کے بغیر کچھ دیکھ نہیں سکتی اور بغیر توسط ہوا کے کچھ سن نہیں سکتے لہٰذایہ بات بھی ضروری طور پر ماننی پڑتی ہے کہ نبی کی روحانیت پر بھی ان سیارات کے نفوس نورانیہ کا ضرور اثر پڑتا ہو گا بلکہ سب سے زیادہ اثر پڑتا ہوگا کیوں کہ جس قدر استعداد صافی اور کامل ہوتی ہے اُسی قدر اثر بھی صافی اور کامل طور پر پڑتا ہے۔ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ یہ سیارات اور کواکب اپنے اپنے قالبوں کے متعلق ایک ایک روح رکھتے ہیں جن کو نفوس کواکب سے بھی نامزد کر سکتے ہیں اور جیسے کواکب اور سیاروں میں باعتبار اُن کے قالبوں کے طرح طرح کے خواص پائے جاتے ہیں جو زمین کی ہریک چیز پر حسب استعداد اثر ڈال رہے ہیں ایسا ہی ان کے نفوس نورانیہ میں بھی انواع اقسام کے خواص ہیں جو باذن حکیم مطلق کائنات الارض کے باطن پر اپنا اثر ڈالتے ہیں اور یہی نفوس نورانیہ کامل بندوں پر بشکل جسمانی متشکل ہو کر ظاہرہو جاتے ہیں اور بشری صورت سے متمثل ہو کر دکھائی دیتے ہیں اور یاد رکھنا چاہیے کہ یہ تقریر از قبیل خطابیات نہیں بلکہ یہ وہ صداقت ہے جو طالب حق اور حکمت کو ضرور ماننی پڑ ے گی کیونکہ جب ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ ضرور کائنات الارض کی تربیت اجرام سماویہ کی طرف سے ہو رہی ہے اور جہاں تک ہم بطور استقراء اجسام ارضیہ پر نظر ڈالتے ہیں اس تربیت کے آثار ہر یک جسم پر خواہ وہ نباتات میں سے ہے خواہ جمادات میں سے خواہ حیوانات میں سے ہے بدیہی طور پر ہمیں دکھائی دیتے ہیں۔ پس اس صریح تجربہ کے ذریعہ سے ہم اس بات کے ماننے کے لئے بھی مجبور ہیں کہ روحانی کمالات اور دل اور دماغ کی روشنی کا سلسلہ بھی جہاں تک ترقی کرتا ہے بلاشبہ ان نفوس نورانیہ کا اُس میں بھی دخل ہے۔ اسی دخل کی رو سے شریعت غرانے استعارہ کے طور پر اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولوں میں ملائک کا واسطہ ہونا ایک ضروری امر ظاہر فرمایا ہے جس پر ایمان لانا ضروریات دین میں سے گردانا گیا ہے۔ جن لوگوں نے اپنی نہایت مکروہ نادانی سے اس الٰہی فلسفہ کو نہیں سمجھا جیسے آریہ مذہب والے یا برہمو مذہب والے انہوں نے جلدی سے بباعث اپنے بے وجہ بخل اور بغض کے جو ان کے دلوں میں بھرا ہوا ہے تعلیم فرقانی پر یہ اعتراض جڑدیا کہ وہ اللہ اور اس کے رسولوں میں ملائک کا واسطہ ضروری ٹھہراتا ہے اور اس بات کو نہ سمجھا اور نہ خیال کیاکہ خدائے تعالیٰ کا عام قانون تربیت جو زمین پر پایا جاتا ہے اِسی قاعدہ پر مبنی ہے۔ ہندوؤں کے رشی جن پر بقول ہندوؤں کے چاروں ویدنازل ہوئے کیا وہ اپنے جسمانی قویٰ کے ٹھیک ٹھیک طور پر قائم رہنے میں تاثیرات اجرام سماویہ کے محتاج نہیں تھے کیا وہ بغیر آفتاب کی روشنی کے صرف آنکھوں کی روشنی سے دیکھنے کا کام لے سکتے تھے یا بغیر ہوا کے ذریعہ کے کسی آواز کو سن سکتے تھے تو اس کا جواب بدیہی طور پر یہی ہو گا کہ ہرگز نہیں بلکہ وہ بھی اجرام سماویہ کی تربیت اور تکمیل کے بہت محتاج تھے۔ ہندوؤں کے ویدوں نے ان ملائک کے بارے میں کہاں انکار کیا ہے بلکہ انہوں نے تو ان وسائط کے ماننے اور قابل قدر جاننے میں بہت ہی غلو کیا ہے یہاں تک کہ خدائے تعالیٰ کے درجہ سے ان کا درجہ برابر ٹھہرا دیا ہے ایک رگوید پر ہی نظر ڈال کر دیکھو کہ کس قدر اس میں اجرام سماویہ اور عناصر کی پرستش موجود ہے اور کیسی ان کی اُستت اور مہما اور مدح اور ثنا میں ورقوں کے ورق سیاہ کر دیئے ہیں اور کس عاجزی اور گڑگڑانے سے ان سے دعائیں مانگی گئی ہیں جو قبول بھی نہیں ہوئیں مگر شریعت فرقانی نے تو ایسا نہیں کیا بلکہ اُن نفوس نورانیہ کو جو اجرام سماویہ سے یا عناصر یا دُخانات سے ایساتعلق رکھتے ہیں جیسے جان کا جسم سے تعلق ہوتا ہے صرف ملائک یا جنّات کے نام سے موسوم کیا ہے اور ان نورانی فرشتوں کو جو نورانی ستاروں اور سیاروں پر اپنا مقام رکھتے ہیں اپنی ذات پاک میں اور اپنے رسولوں میں ایسے طور کا واسطہ نہیں ٹھہرایا جس کے رو سے ان فرشتوں کو بااقتدار یا بااختیار مان لیا جاوے بلکہ ان کو اپنی نسبت ایسا ظاہر فرمایا ہے کہ جیسے ایک بے جان چیز ایک زندہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے جس سے وہ زندہ جس طور سے کام لینا چاہتا ہے لیتاہے اسی بناء پر بعض مقامات قرآن شریف میں اجسام کے ہر یک ذرّہ پر بھی ملائک کا نام اطلاق کر دیا گیا ہے کیونکہ وہ سب ذرات اپنے رب کریم کی آواز سنتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا گیا ہو مثلاً جو کچھ تغیرات بدن انسان میں مرض کی طرف یا صحت کی طرف ہوتے ہیں ان تمام مواد کا ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق آگے پیچھے قدم رکھتا ہے۔

اب ذرا آنکھ کھول کر دیکھ لینا چاہیے کہ اس قسم کے وسائط کے ماننے میں جو قرآن شریف میں قرار دیئے گئے ہیں کونسا شرک لازم آتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی شان قدرت میں کونسا فرق آجاتاہے بلکہ یہ تو اسرار معرفت و دقائق حکمت کی وہ باتیں ہیں جو قانون قدرت کے صفحہ صفحہ میں لکھی ہوئی نظر آتی ہیں اور بغیر اس انتظام کے ماننے کے خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ ثابت ہی نہیں ہو سکتی اور نہ اس کی خدائی چل سکتی ہے بھلا جب تک ذرہ ذرہ اُس کا فرشتہ بن کر اس کی اطاعت میں نہ لگا ہوا ہو تب تک یہ سارا کارخانہ اُس کی مرضی کے موافق کیوں کر چل سکتا ہے؟ کوئی ہمیں سمجھائے تو سہی اور نیز اگر ملائک سماویہ کے نظام روحانی سے خداتعالیٰ کی قادرانہ شان پر کچھ دھبہ لگ سکتاہے توپھر کیا وجہ ہے کہ انہیں ملائک کے نظام جسمانی کے ماننے سے کہ جو نظام روحانی کا بعینہٖ ہم رنگ و ہم شکل ہے خدائے تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر کوئی دھبہ نہیں لگ سکتا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ آریہ وغیرہ ہمارے مخالفوں نے فرط نابینائی سے ایسے ایسے بے جا اعتراضات کر دیئے ہیں جن کی اصل بناء بہت سے مشرکانہ حواشی کے ساتھ ان کے گھر میں بھی موجود ہے اور ناحق بوجہ اپنی بے بصیرتی کے ایک عمدہ صداقت کو بطالت کی شکل میں سمجھ لیا ہے۔

چشم بد اندیش کہ برکندہ باد

عیب نماید ہنرش در نظر

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اسلامی شریعت کے رو سے خواص ملائک کادرجہ خواص بشر سے کچھ زیادہ نہیں بلکہ خواص الناس خواص الملائک سے افضل ہیں اور نظام جسمانی یا نظام روحانی میں ان کا وسائط قرار پانا اُن کی افضلیت پر دلائل ٭ نہیں کرتا بلکہ قرآن شریف کی ہدایت کے رو سے وہ خدام کی طرح اس کام میں لگائے گئے ہیں۔ جیسا کہ اللہ جل شانہٗ فرماتاہے وَسَخَّرَ لَکُمُ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ (ابراھیم: ۳۴) یعنی وہ خدا جس نے سورج اور چاند کو تمہاری خدمت میں لگا رکھا ہے مثلاً دیکھنا چاہیے کہ ایک چٹھی رساں ایک شاہ وقت کی طرف سے اس کے کسی ملک کے صوبہ یا گورنر کی خدمت میں چٹھیاں پہنچا دیتا ہے تو کیا اِس سے یہ ثابت ہوسکتا ہے کہ وہ چٹھی رساں جو اس بادشاہ اور گورنر جنرل میں واسطہ ہے گورنر جنرل سے افضل ہے سو خوب سمجھ لو یہی مثال ان وسائط کی ہے جو نظام جسمانی اور روحانی میں قادر مطلق کے ارادوں کو زمین پر پہنچاتے اور اُن کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔ اللہ جل شانہٗ قرآن شریف کے کئی مقامات میں بتصریح ظاہر فرماتا ہے کہ جو کچھ زمین و آسمان میں پیدا کیا گیا ہے وہ تمام چیزیں اپنے وجود میں انسان کی طفیلی ہیں یعنی محض انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور انسان اپنے مرتبہ میں سب سے اعلیٰ و ارفع اور سب کا مخدوم ہے جس کی خدمت میں یہ چیزیں لگا دی گئی ہیں جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَسَخَّرَ لَکُمُ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ دَآئِبَیۡنِ ۚ وَسَخَّرَ لَکُمُ الَّیۡلَ وَالنَّہَارَ وَاٰتٰٮکُمۡ مِّنۡ کُلِّ مَا سَاَلۡتُمُوۡہُ ؕ وَاِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ لَا تُحۡصُوۡہَا (ابراھیم: ۳۴،۳۵) ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا (البقرة: ۳۰) اور مسخر کیا تمہارے لئے سورج اور چاند کو جو ہمیشہ پھرنے والے ہیں یعنی جو باعتبار اپنی کیفیات اور خاصیات کے ایک حالت پر نہیں رہتے مثلاً جو ربیع کے مہینوں میں آفتاب کی خاصیت ہوتی ہے وہ خزاں کے مہینوں میں ہرگز نہیں ہوتی پس اس طور سے سورج اور چاند ہمیشہ پھرتے رہتے ہیں کبھی ان کی گردش سے بہار کا موسم آجاتاہے اور کبھی خزاں کا اور کبھی ایک خاص قسم کی خاصیتیں ان سے ظہور پذیر ہوتی ہیں اور کبھی اس کے مخالف خواص ظاہر ہوتے ہیں۔ پھر آگے فرمایا کہ مسخر کیا تمہارے لئے رات اور دن کو اور دیا تم کو ہریک چیز میں سے وہ تمام سامان جس کو تمہاری فطرتوں نے مانگا یعنی اُن سب چیزوں کو دیا جن کے تم محتاج تھے اور اگر تم خدائے تعالیٰ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو ہرگز گن نہیں سکو گے۔ وہ وہی خدا ہے جس نے جو کچھ زمین پر ہے تمہارے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور پھر ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ (التین: ۵) یعنی انسان کو ہم نے نہایت درجہ کے اعتدال پر پیدا کیا ہے اور وہ اس صفت اعتدال میں تمام مخلوقات سے احسن و افضل ہے اور پھر ایک اور مقام میں فرماتا ہے کہ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَیۡنَ اَنۡ یَّحۡمِلۡنَہَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡہَا وَحَمَلَہَا الۡاِنۡسَانُ ؕ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوۡمًا جَہُوۡلًا (الاحزاب: ۷۳) یعنی ہم نے اپنی امانت کو جس سے مراد عشق و محبت الٰہی اور مورد ابتلا ہو کر پھر پوری اطاعت کرنا ہے آسمان کے تمام فرشتوں اور زمین کی تمام مخلوقات اور پہاڑوں پر پیش کیا جو بظاہر قوی ہیکل چیزیں تھیں سو ان سب چیزوں نے اُس امانت کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اُس کی عظمت کو دیکھ کر ڈر گئیں مگر انسان نے اس کو اٹھا لیا کیونکہ انسان میں یہ دو خوبیاں تھیں ایک یہ کہ وہ خدائے تعالیٰ کی راہ میں اپنے نفس پر ظلم کر سکتا تھا۔ دوسری یہ خوبی کہ وہ خدائے تعالیٰ کی محبت میں اس درجہ تک پہنچ سکتا تھا جو غیراللہ کو بکلی فراموش کر دے پھر ایک اور جگہ فرمایا۔ اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِیۡنٍ فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَنَفَخۡتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّہُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ. (ص: ۷۲تا۷۵) یعنی یاد کر وہ وقت کہ جب تیرے خدا نے (جس کا تو مظہر اتم ہے) فرشتوں کو کہا کہ میں مٹی سے ایک انسان پیدا کرنے والا ہوں سو جب میں اس کو کمال اعتدال پر پیدا کرلوں اور اپنی روح میں سے اس میں پھو نک دوں تو تم اُس کے لئے سجدہ میں گرو یعنی کمال انکسار سے اُس کی خدمت میں مشغول ہو جاؤ اور ایسی خدمت گذاری میں جھک جاؤ کہ گویا تم اسے سجدہ کر رہے ہو پس سارے کے سارے فرشتے انسان مکمل کے آگے سجدہ میں گر پڑے مگر شیطان ‘ جو اِس سعادت سے محروم رہ گیا۔ جاننا چاہیے کہ یہ سجدہ کا حکم اُس وقت سے متعلق نہیں ہے کہ جب حضرت آدم پیدا کئے گئے بلکہ یہ علیحدہ ملائک کو حکم کیاگیا کہ جب کوئی انسان اپنی حقیقی انسانیت کے مرتبہ تک پہنچے اور اعتدال انسانی اس کو حاصل ہو جائے اور خدائے تعالیٰ کی روح اس میں سکونت اختیار کرے تو تم اس کامل کے آگے سجدہ میں گرا کرو یعنی آسمانی انوار کے ساتھ اُس پر اُترو اور اُس پر صلوٰۃ بھیجو سو یہ اس قدیم قانون کی طرف اشارہ ہے جو خدائے تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کے ساتھ ہمیشہ جاری رکھتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی زمانہ میں اعتدال روحانی حاصل کر لیتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی روح اُس کے اندر آباد ہوتی ہے یعنی اپنے نفس سے فانی ہو کر بقاباللہ کادرجہ حاصل کرتا ہے تو ایک خاص طور پر نزول ملائکہ کا اُس پر شروع ہو جاتاہے اگرچہ سلوک کی ابتدائی حالات میں بھی ملائک اس کی نصرت اور خدمت میں لگے ہوئے ہوتے ہیں لیکن یہ نزول ایسا اتم اور اکمل ہوتا ہے کہ سجدہ کا حکم رکھتا ہے اور سجدہ کے لفظ سے خدائے تعالیٰ نے یہ ظاہر کر دیا کہ ملائکہ انسان کامل سے افضل نہیں ہیں بلکہ وہ شاہی خادموں کی طرح سجدات تعظیم انسان کامل کے آگے بجا لارہے ہیں ایسا ہی خدائے تعالیٰ نے سورۃ الشمس میں نہایت لطیف اشارات و استعارات میں انسان کامل کے مرتبہ کو زمین آسمان کے تمام باشندوں سے اعلیٰ و برتر بیان فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَالشَّمۡسِ وَضُحٰہَا. وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰٮہَا. وَالنَّہَارِ اِذَا جَلّٰٮہَا. وَالَّیۡلِ اِذَا یَغۡشٰٮہَا. وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰہَا. وَالۡاَرۡضِ وَمَا طَحٰہَا. وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰٮہَا. فَاَلۡہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَتَقۡوٰٮہَا. قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰٮہَا. وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰٮہَا. کَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰٮہَاۤ. اِذِ انۡۢبَعَثَ اَشۡقٰہَا. فَقَالَ لَہُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ نَاقَۃَ اللّٰہِ وَسُقۡیٰہَا. فَکَذَّبُوۡہُ فَعَقَرُوۡہَا فَدَمۡدَمَ عَلَیۡہِمۡ رَبُّہُمۡ بِذَنۡۢبِہِمۡ فَسَوّٰٮہَا. وَلَا یَخَافُ عُقۡبٰہَا. (الشمس: ۲تا۱۶) یعنی قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی اور قسم ہے چاند کی جب وہ سورج کی پیروی کرے اور قسم ہے دن کی جب اپنی روشنی کو ظاہر کرے اور قسم ہے اس رات کی جو بالکل تاریک ہو اور قسم ہے زمین کی اور اُس کی جس نے اسے بچھایا اور قسم ہے انسان کے نفس کی اور اس کی جس نے اسے اعتدال کامل اور وضع استقامت کے جمیع کمالات متفرقہ عنایت کئے اور کسی کمال سے محروم نہ رکھا بلکہ سب کمالات متفرقہ جو پہلی قسموں کے نیچے ذکر کئے گئے ہیں اس میں جمع کر دیے اس طرح پر کہ انسان کامل کا نفس آفتاب اور اس کی دھوپ کا بھی کمال اپنے اندر رکھتا ہے اور چاند کے خواص بھی اس میں پائے جاتے ہیں کہ وہ اکتساب فیض دوسرے سے کر سکتاہے اور ایک نور سے بطور استفادہ اپنے اندر بھی نور لے سکتاہے اور اُس میں روزروشن کے بھی خواص موجود ہیں کہ جیسے محنت اور مزدوری کرنے والے لوگ دن کی روشنی میں کماحقہ اپنے کاروبار کو انجام دے سکتے ہیں ایسا ہی حق کے طالب اور سلوک کی راہوں کو اختیار کرنے والے انسان کامل کے نمونہ پر چل کر بہت آسانی اور صفائی سے اپنی مہمات دینیہ کو انجام دیتے ہیں سو وہ دن کی طرح اپنے تئیں بکمال صفائی ظاہر کر سکتا ہے اور ساری خاصیتیں دن کی اپنے اندر رکھتا ہے ٭ ۔ اندھیری رات سے بھی انسان کامل کو ایک مشابہت ہے کہ وہ باوجود غایت درجہ کے انقطاع اور تبتل کے جو اُس کو منجانب اللہ حاصل ہے بہ حکمت و مصلحت الٰہی اپنے نفس کی ظلمانی خواہشوں کی طرف بھی کبھی کبھی متوجہ ہو جاتاہے یعنی جوجو نفس کے حقوق انسان پر رکھے گئے ہیں جو بظاہر نورانیت کے مخالف اور مزاحم معلوم ہوتے ہیں جیسے کھانا پینا سونا اور بیوی کے حقوق اداکرنا یا بچوں کی طرف التفات کرنا یہ سب حقوق بجا لاتا ہے اور کچھ تھوڑی دیر کے لئے اس تاریکی کو اپنے لئے پسند کر لیتا ہے نہ اس وجہ سے کہ اس کو حقیقی طور پر تاریکی کی طرف میلان ہے بلکہ اس وجہ سے کہ خداوند علیم و حکیم اس کواس طرف توجہ بخشتا ہے تا روحانی تَعب و مشقت سے کسی قدر آرام پا کر پھر ان مجاہدات شاقہ کے اٹھانے کے لئے تیار ہو جائے جیسا کہ کسی کا شعر ہے

چشم شہباز کاردانانِ شکار

از بہر کشادن ست گردوختہ اند

سو اسی طرح یہ کامل لوگ جب غایت درجہ کی کوفت خاطر اور گدازش اور ہم و غم کے غلبہ کے وقت کسی قدر حظوظ نفسانیہ سے تمتع حاصل کر لیتے ہیں تو پھرجسم ناتواں ان کا روح کی رفاقت کے لئے ازسر نو قوی اور توانا ہو جاتا ہے اور اس تھوڑی سی محجوبیت کی وجہ سے بڑے بڑے مراحل نورانی طے کر جاتاہے اور ماسوااِس کے نفس انسان میں رات کے اور دوسرے خواص دقیقہ بھی پائے جاتے ہیں جن کو علم ہیئت اور نجوم اور طبعی کی باریک نظر نے دریافت کیا ہے ایسا ہی انسان کامل کے نفس کو آسمان سے بھی مشابہت ہے مثلاً جیسے آسمان کا پول اس قدر وسیع اور کشادہ ہے کہ کسی چیز سے پُر نہیں ہو سکتا ایسا ہی ان بزرگوں کا نفس ناطقہ غایت درجہ کی وسعتیں اپنے اندر رکھتا ہے اور باوجود ہزارہا معارف و حقائق کے حاصل کرنے کے پھر بھی ماعرفناک کا نعرہ مارتا ہی رہتا ہے اور جیسے آسمان کا پول روشن ستارو ں سے پُر ہے ایسا ہی نہایت روشن قویٰ اس میں بھی رکھے گئے ہیں کہ جو آسمان کے ستاروں کی طرح چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسا ہی انسان کامل کے نفس کو زمین سے بھی کامل مشابہت ہے یعنی جیسا کہ عمدہ اور اوّل درجہ کی زمین یہ خاصیت رکھتی ہے کہ جب اُس میں تخم ریزی کی جائے اور پھر خوب قلبہ رانی اور آبپاشی ہو اور تمام مراتب محنت کشادزری کے اس پر پورے کر دیئے جائیں تو وہ دوسری زمینوں کی نسبت ہزار گونہ زیادہ پھل لاتی ہے اور نیز اس کا پھل بہ نسبت اور پھلوں کے نہایت لطیف اور شیریں و لذیذاور اپنی کمیت و کیفیت میں انتہائی درجہ تک بڑھا ہوا ہوتاہے اسی طرح انسان کامل کے نفس کا حال ہے کہ احکام الٰہی کی تخم ریزی سے عجیب سرسبزی لے کر اس کے اعمال صالحہ کے پودے نکلتے ہیں اور ایسے عمدہ اور غایت درجہ کے لذیذاس کے پھل ہوتے ہیں کہ ہر یک دیکھنے والے کو خدائے تعالیٰ کی پاک قدرت یاد آکر سبحان اللہ سبحان اللہ کہنا پڑتا ہے سو یہ آیت وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰٮہَا (الشمس: ۸) صاف طور پر بتلا رہی ہے کہ انسان کامل اپنے معنے اور کیفیت کے رو سے ایک عالم ہے اور عالم کبیر کے تمام شیون و صفات و خواص اجمالی طور پر اپنے اندر جمع رکھتاہے جیسا کہ اللہ جل شانہٗ نے شمس کی صفات سے شروع کر کے زمین تک جو ہماری سکونت کی جگہ ہے سب چیزوں کے خواص اشارہ کے طور پر بیان فرمائے یعنی بطور قسموں کے ان کا ذکر کیا بعد اس کے انسان کامل کے نفس کا ذکر فرمایا تا معلوم ہو کہ انسان کامل کا نفس ان تمام کمالات متفرقہ کا جامع ہے جو پہلی چیزوں میں جن کی قسمیں کھائی گئیں الگ الگ طور پر پائی جاتی ہیں اور اگر یہ کہا جائے کہ خدائے تعالیٰ نے ان اپنی مخلوق چیزوں کی جو اس کے وجود کے مقابل پر بے بنیاد و ہیچ ہیں کیوں قسمیں کھائیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ تمام قرآن شریف میں یہ ایک عام عادت و سنت الٰہی ہے کہ وہ بعض نظری امور کے اثبات و احقاق کے لئے ایسے امور کا حوالہ دیتا ہے جو اپنے خواص کا عام طور پر بیّن اور کھلا کھلا اور بدیہی ثبوت رکھتے ہیں جیسا کہ اس میں کسی کو بھی شک نہیں ہو سکتا کہ سورج موجود ہے اور اس کی دھوپ بھی ہے اور چاند موجود ہے اور وہ نور آفتاب سے حاصل کرتا ہے اور روز روشن بھی سب کو نظر آتا ہے اور رات بھی سب کو دکھائی دیتی ہے اور آسمان کا پول بھی سب کی نظر کے سامنے ہے اور زمین تو خود انسانوں کی سکونت کی جگہ ہے اب چونکہ یہ تمام چیزیں اپنا اپنا کھلا کھلا وجود اور کھلے کھلے خواص رکھتی ہیں جن میں کسی کو کلام نہیں ہو سکتا اور نفس انسان کا ایسی چھپی ہوئی اور نظری چیز ہے کہ خود اُس کے وجود میں ہی صد ہا جھگڑے برپا ہو رہے ہیں۔ بہت سے فرقے ایسے ہیں کہ وہ اس بات کو مانتے ہی نہیں کہ نفس یعنی روح انسان بھی کوئی مستقل اور قائم بالذات چیز ہے جو بدن کی مفارقت کے بعد ہمیشہ کے لئے قائم رہ سکتی ہے اور جو بعض لوگ نفس کے وجود اور اس کی بقا اور ثبات کے قائل ہیں وہ بھی اُس کی باطنی استعدادات کا وہ قدر نہیں کرتے جو کرنا چاہیے تھا بلکہ بعض تو اتنا ہی سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم صرف اسی غرض کے لئے دنیا میں آئے ہیں کہ حیوانات کی طرح کھانے پینے اور حظوظِ نفسانی میں عمربسرکریں وہ اس بات کو جانتے بھی نہیں کہ نفس انسانی کس قدر اعلیٰ درجہ کی طاقتیں اور قوتیں اپنے اندر رکھتا ہے اور اگر وہ کسب کمالات کی طرف متوجہ ہو تو کیسے تھوڑے ہی عرصہ میں تمام عالم کے متفرق کمالات و فضائل و انواع پر ایک دائرہ کی طرح محیط ہو سکتا ہے۔ سو اللہ جل شانہٗ نے اس سورہ مبارکہ میں نفس انسان اور پھر اس کے بے نہایت خواص فاضلہ کا ثبوت دینا چاہا ہے پس اوّل اس نے خیالات کو رجوع دلانے کے لئے شمس اور قمر وغیرہ چیزوں کے متفرق خواص بیان کرکے پھر نفس انسان کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ جامع ان تمام کمالات متفرقہ کا ہے اور جس حالت میں نفس انسان میں ایسے اعلیٰ درجہ کے کمالات و خاصیات بہ تمامہا موجود ہیں جو اجرام سماویہ اور ارضیہ میں متفرق طور پر پائے جاتے ہیں تو کمال درجہ کی نادانی ہوگی کہ ایسے عظیم الشان اور مستجمع کمالات متفرقہ کی نسبت یہ وہم کیا جائے کہ وہ کچھ بھی چیز نہیں جو موت کے بعد باقی رہ سکے یعنی جب کہ یہ تمام خواص جو ان مشہود و محسوس چیزوں میں ہیں جن کا مستقل وجود ماننے میں تمہیں کچھ کلام نہیں یہاں تک کہ ایک اندھا بھی دھوپ کا احساس کرکے آفتاب کے وجود کا یقین رکھتا ہے۔ نفس انسان میں سب کے سب یکجائی طور پر موجود ہیں تو نفس کے مستقل اور قائم بالذات وجود میں تمہیں کیا کلام باقی ہے کیا ممکن ہے کہ جو چیز اپنی ذات میں کچھ بھی نہیں وہ تمام موجود بالذات چیزوں کے خواص جمع رکھتی ہو اور اس جگہ قسم کھانے کی طرز کو اس وجہ سے اللہ جل شانہٗ نے پسند کیا ہے کہ قسم قائم مقام شہادت کے ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے حکام مجازی بھی جب دوسرے گواہ موجودنہ ہوں تو قسم پر انحصار کر دیتے ہیں اور ایک مرتبہ کی قسم سے وہ فائدہ اٹھا لیتے ہیں جو کم سے کم دو گواہوں سے اٹھا سکتے ہیں سو چونکہ عقلاً و عرفاً و قانوناً و شرعاً قسم شاہد کے قائم مقام سمجھی جاتی ہے لہٰذا اسی بنا پر خدائے تعالیٰ نے اس جگہ شاہد کے طور پر اس کو قرار دے دیا ہے پس خدائے تعالیٰ کا یہ کہنا کہ قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی درحقیقت اپنے مرادی معنے یہ رکھتا ہے کہ سورج اور اس کی دھوپ یہ دونوں نفس انسان کے موجود بالذات اور قائم بالذات ہونے کے شاہد حال ہیں کیونکہ سورج میں جو جو خواص گرمی اور روشنی وغیرہ پائے جاتے ہیں یہی خواص مع شے زائد انسان کے نفس میں بھی موجود ہیں۔ مکاشفات کی روشنی اور توجہ کی گرمی جو نفوس کاملہ میں پائی جاتی ہے اس کے عجائبات سورج کی گرمی اور روشنی سے کہیں بڑھ کر ہیں سو جب کہ سورج موجود بالذات ہے تو جو خواص میں اِس کا ہم مثل اور ہم پلہ ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یعنی نفس انسان وہ کیوں کر موجود بالذات نہ ہوگا۔ اسی طرح خدائے تعالیٰ کا یہ کہنا کہ قسم ہے چاند کی جب وہ سورج کی پیروی کرے۔ اِس کے مرادی معنے یہ ہیں کہ چاند اپنی اس خاصیت کے ساتھ کہ وہ سورج سے بطور استفادہ نور حاصل کرتا ہے نفس انسان کے موجود بالذات اور قائم بالذات ہونے پر شاہد حال ہے کیونکہ جس طرح چاند سورج سے اکتساب نور کرتاہے اسی طرح نفس انسان کا جو مستعد اور طالب حق ہے ایک دوسرے انسان کامل کی پیروی کرکے اس کے نور میں سے لے لیتا ہے اور اس کے باطنی فیض سے فیضیاب ہو جاتا ہے بلکہ چاند سے بڑھ کر استفادہ نور کرتا ہے کیونکہ چاند تو نور کو حاصل کرکے پھر چھوڑ بھی دیتا ہے مگر یہ کبھی نہیں چھوڑتا۔ پس جبکہ استفادہ نور میں یہ چاند کا شریک غالب ہے اور دوسری تمام صفات اور خواص چاند کے اپنے اندر رکھتاہے تو پھر کیا وجہ کہ چاند کو تو موجود بالذات اور قائم بالذات مانا جائے مگر نفس انسان کے مستقل طور پر موجود ہونے سے بکلی انکار کر دیا جائے۔ غرض اسی طرح خدائے تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کو جن کا ذکر نفس انسان کی پہلے قَسم کھا کر کیا گیا ہے اپنے خواص کے رو سے شواہد اور ناطق گواہ قرار دے کر اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ نفس انسان واقعی طور پر موجود ہے اور اسی طرح ہر یک جگہ جو قرآن شریف میں بعض بعض چیزوں کی قسمیں کھائی ہیں ان قسموں سے ہر جگہ یہی مدعا اور مقصد ہے کہ تا امر بدیہہ کو اسرار مخفیہ کے لئے جو ان کے ہم رنگ ہیں بطور شواہد کے پیش کیا جائے لیکن اس جگہ یہ سوال ہوگا کہ جو نفس انسان کے موجود بالذات ہونے کے لئے قسموں کے پیرایہ میں شواہد پیش کئے گئے ہیں اُن شواہد کے خواص بدیہی طور پر نفس انسان میں کہاں پائے جاتے ہیں اور اس کا ثبوت کیا ہے کہ پائے جاتے ہیں۔ اس وہم کے رفع کرنے کے لئے اللہ جل شانہٗ اسکے بعد فرماتا ہے فَاَلۡہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَتَقۡوٰٮہَا قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰٮہَا وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰٮہَا. (الشمس: ۹تا۱۱) یعنی خدائے تعالیٰ نے نفس انسان کو پیدا کرکے ظلمت اور نورانیت اور ویرانی اور سرسبزی کی دونوں راہیں اس کے لئے کھول دی ہیں جو شخص ظلمت اور فجور یعنی بد کاری کی راہیں اختیار کرے تو اس کو ان راہوں میں ترقی کے کمال درجہ تک پہنچایا جاتاہے یہاں تک کہ اندھیری رات سے اس کی سخت مشابہت ہو جاتی ہے اور بجز معصیت اور بدکاری اور پُرظلمت خیالات کے اور کسی چیز میں اس کو مزہ نہیں آتا۔ ایسے ہی ہم صحبت اس کو اچھے معلوم ہوتے ہیں اور ایسے ہی شغل اس کے جی کو خوش کرتے ہیں اور اس کی بد طبیعت کے مناسب حال بدکاری کے الہامات اس کو ہوتے رہتے ہیں یعنی ہر وقت بدچلنی اور بد معاشی کے ہی خیالات اس کو سوجھتے ہیں کبھی اچھے خیالات اس کے دل میں پیدا ہی نہیں ہوتے اور اگر پرہیز گاری کا نورانی راستہ اختیار کرتا ہے تو اس نور کو مدد دینے والے الہام اس کو ہوتے رہتے ہیں یعنی خدائے تعالیٰ اس کے دلی نو رکو جو تخم کی طرح اس کے دل میں موجود ہے اپنے الہامات خاصہ سے کمال تک پہنچا دیتا ہے اور اس کے روشن مکاشفات کی آگ کو افروختہ کر دیتا ہے تب وہ اپنے چمکتے ہوئے نور کو دیکھ کر اور اس کے افاضہ اور استفاضہ کی خاصیت کو آزما کر پورے یقین سے سمجھ لیتا ہے کہ آفتاب اور ماہتاب کی نورانیت مجھ میں بھی موجود ہے اور آسمان کے وسیع اور بلند اور پُر کواکب ہونے کے موافق میرے سینہ میں بھی انشراح صدر اور عالی ہمتی اور دل اور دماغ میں ذخیرہ روشن قو یٰ کا موجود ہے جو ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں تب اسے اس بات کے سمجھنے کے لئے اور کسی خارجی ثبوت کی کچھ بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس کے اندر سے ہی ایک کامل ثبوت کا چشمہ ہر وقت جوش مارتا ہے اور اس کے پیاسے دل کو سیراب کرتا رہتا ہے اور اگر یہ سوال پیش ہو کہ سلوک کے طور پر کیوں کر ان نفسانی خواص کا مشاہدہ ہو سکے تو اس کے جواب میں اللہ جل شانہٗ فرماتا ہے قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰٮہَا وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰٮہَا (الشمس: ۱۰تا۱۱) یعنی جس شخص نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا اور بکلی رذائل اور اخلاق ذمیمہ سے دست بردار ہو کر خدائے تعالیٰ کے حکموں کے نیچے اپنے تئیں ڈال دیا وہ اس مراد کو پہنچے گا اور اپنا نفس اس کو عالم صغیر کی طرح کمالات متفرقہ کا مجمع نظر آئے گا لیکن جس شخص نے اپنے نفس کو پاک نہیں کیا بلکہ بے جا خواہشوں کے اندر گاڑ دیا وہ اس مطلب کے پانے سے نامراد رہے گا ماحصل اس تقریر کا یہ ہے کہ بلاشبہ نفس انسان میں وہ متفرق کمالات موجود ہیں جو تمام عالم میں پائے جاتے ہیں اور ان پر یقین لانے کے لئے یہ ایک سیدھی راہ ہے کہ انسان حسب منشائے قانون الٰہی تزکیہ نفس کی طرف متوجہ ہو۔ کیوں کہ تزکیہ نفس کی حالت میں نہ صرف علم الیقین بلکہ حق الیقین کے طور پر ان کمالات مخفیہ کی سچائی کھل جائے گی۔ پھر بعد اس کے اللہ جل شانہٗ ایک مثال کے طور پر ثمود کی قوم کا ذکر کر کے فرماتا ہے کہ انہو ں نے بباعث اپنی جبلی سرکشی کے اپنے وقت کے نبی کو جھٹلایا اور اس تکذیب کے لئے ایک بڑا بدبخت ان میں سے پیش قدم ہوا۔ اس وقت کے رسول نے انہیں نصیحت کے طور پر کہا کہ ناقۃ اللہ یعنی خدائے تعالیٰ کی اُٹھنی اور اُس کے پانی پینے کی جگہ کا تعرض مت کرو مگر انہوں نے نہ مانا اور اُٹھنی کے پاؤ ں کاٹے۔ سو اس جرم کی شامت سے اللہ تعالیٰ نے ان پر موت کی مار ڈالی اور انہیں خاک سے ملا دیا اور خدائے تعالیٰ نے اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہ کی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں اور بے کس عیال کا کیا حال ہو گا۔ یہ ایک نہایت لطیف مثال ہے جو خدائے تعالیٰ نے انسان کے نفس کو ناقۃ اللّٰہ سے مشابہت دینے کے لئے اس جگہ لکھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کا نفس بھی درحقیقت اسی غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ تاوہ ناقۃ اللّٰہ کا کام دیوے۔ اس کے فنا فی اللہ ہونے کی حالت میں خدائے تعالیٰ اپنی پاک تجلّی کے ساتھ اس پر سوار ہو جیسے کوئی اُٹھنی پر سوار ہوتاہے۔ سونفس پرست لوگوں کو جو حق سے منہ پھیر رہے ہیں تہدیداور انذار کے طور پر فرمایا کہ تم لوگ بھی قوم ثمود کی طرح ناقۃ اللّٰہ کا سقیا یعنی اس کے پانی پینے کی جگہ جو یاد الٰہی اور معارف الٰہی کا چشمہ ہے جس پر اس ناقہ کی زندگی موقو ف ہے اُس پر بند کر رہے ہو اور نہ صرف بند بلکہ اس کے پیر کاٹنے کی فکر میں ہو تا وہ خدائے تعالیٰ کی راہوں پر چلنے سے بالکل رہ جائے سو اگر تم اپنی خیر مانگتے ہو تو وہ زندگی کا پانی اُس پر بند مت کرو اور اپنی بے جاخواہشوں کے تیروتبر سے اس کے پیر مت کاٹو اگر تم ایسا کرو گے اور وہ ناقہ جو خدائے تعالیٰ کی سواری کے لئے تم کو دی گئی ہے مجروح ہو کر مر جائے گی تو تم بالکل نکمّے اور خشک لکڑی کی طرح متصور ہو کر کاٹ دیئے جاؤ گے اور پھر آگ میں ڈالے جاؤ گے اور تمہارے مرنے کے بعد خدائے تعالیٰ تمہارے پس ماندوں پر ہرگز رحم نہیں کرے گا بلکہ تمہاری معصیت اور بدکاری کا وبال ان کے بھی آگے آئے گا اور نہ صرف تم اپنی شامت اعمال سے مرو گے بلکہ اپنے عیال و اطفال کو بھی اسی تباہی میں ڈالو گے۔

ان آیات بیّنات سے صا ف صاف ثابت ہو گیا کہ خداوند کریم نے انسان کو سب مخلوقات سے بہتر اور افضل بنایا ہے اور ملائک اور کواکب اور عناصر وغیرہ جو کچھ انسان میں اور خدائے تعالیٰ میں بطور وسائط کے دخیل ہو کر کام کر رہے ہیں وہ اُن کا درمیانی واسطہ ہونا ان کی افضلیت پر دلالت نہیں کرتا اور وہ اپنے درمیانی ہونے کی وجہ سے انسان کو کوئی عزت نہیں بخشتے بلکہ خود ان کو عزت حاصل ہوتی ہے کہ وہ ایسی شریف مخلوق کی خدمت میں لگائے گئے ہیں سو درحقیقت وہ تمام خادم ہیں نہ مخدوم اور اس بارہ میں حضرت سعدی شیرازی رحمۃاللہ نے کیا اچھا کہا ہے۔

ابر و باد و َمہ و خورشید و فلک در کاراند

تا تو نانے بکف آری و بغفلت نخوری

ایں ہمہ از بہر تو سرگشتہ و فرمانبردار

شرط انصاف نباشد کہ تو فرمان نہ بری

اور پھر ہم بقیہ تقریر کی طرف عود کرکے کہتے ہیں کہ ملائک اللہ (جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں ) ایک ہی درجہ کی عظمت اور بزرگی نہیں رکھتے نہ ایک ہی قسم کاکام انہیں سپرد ہے بلکہ ہر یک فرشتہ علیحدہ علیحدہ کاموں کے انجام دینے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ دنیا میں جس قدرتم تغیرات و انقلابات دیکھتے ہو یا جو کچھ مُکَمّن قُوَّۃ سے حیّزِ فعل میں آتا ہے یا جس قدر ارواح و اجسام اپنے کمالات مطلوبہ تک پہنچتے ہیں ان سب پر تاثیرات سماویہ کام کررہی ہیں اور کبھی ایک ہی فرشتہ مختلف طور کی استعدادوں پر مختلف طورکے اثر ڈالتا ہے مثلاََ جبریل جو ایک عظیم الشان فرشتہ ہے اور آسمان کے ایک نہایت روشن نیّر سے تعلق رکھتا ہے اس کو کئی قسم کی خدمات سپرد ہیں انہیں خدمات کے موافق جواس کے نیر سے لئے جاتے ہیں سو وہ فرشتہ اگرچہ ہریک ایسے شخص پر نازل ہوتا ہے جو وحی الٰہی سے مشرف کیا گیا ہو (نزول کی اصل کیفیت جو صرف اثر اندازی کے طور پر ہے نہ واقعی طور پر یاد رکھنی چاہیے)۔

لیکن اُس کے نزول کی تاثیرات کا دائرہ مختلف استعدادوں اور مختلف ظروف کے لحاظ سے چھوٹی چھوٹی یا بڑی بڑی شکلوں پر تقسیم ہو جاتا ہے۔ نہایت بڑادائرہ اس کی روحانی تاثیرات کا وہ دائرہ ہے جو حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی سے متعلق ہے۔ اسی وجہ سے جو معارف و حقائق و کمالات حکمت و بلاغت قرآن شریف میں اکمل اور اتم طور پر پائے جاتے ہیں یہ عظیم الشان مرتبہ اور کسی کتاب کو حاصل نہیں اور یہ بھی یادرکھنا چاہیے (جیسا کہ پہلے بھی ہم اس کی طرف اشارہ کر چکے ہیں ) کہ ہریک فرشتہ کی تاثیر انسان کے نفس پر دو قسم کی ہوتی ہے۔ اوّل وہ تاثیر جو رحم میں ہونے کی حالت میں باذنہ ٖ تعالیٰ مختلف طور کے تخم پر مختلف طور کا اثر ڈالتی ہے پھر دوسری وہ تاثیر جو بعد طیاری وجود کے اس وجود کی مخفی استعدادوں کو اپنے کمالات ممکنہ تک پہنچانے کے لئے کام کرتی ہے۔ اس دوسری تاثیر کو جب وہ نبی یا کامل ولی کے متعلق ہو وحی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور یوں ہوتا ہے کہ جب ایک مستعدنفس اپنے نور ایمان اور نور محبت کے کمال سے مبدء فیوض کے ساتھ دوستانہ تعلق پکڑ لیتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی زندگی بخش محبت اُس کی محبت پر پَرتوہ انداز ہوجاتی ہے تو اس حد اور اس وقت تک جو کچھ انسان کو آگے قدم رکھنے کے لئے مقدور حاصل ہوتا ہے یہ دراصل اس پنہانی تاثیر کا اثر ظاہر ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کے فرشتہ نے انسان کے رحم میں ہونے کی حالت میں کی ہوتی ہے پھر بعد اس کے جب انسان اس پہلی تاثیر کی کشش سے یہ مرتبہ حاصل کر لیتا ہے تو پھر وہی فرشتہ ازسر نو اپنا اثر نور سے بھرا ہوا اس پر ڈالتا ہے مگر یہ نہیں کہ اپنی طرف سے بلکہ وہ درمیانی خادم ہونے کی وجہ سے اس نالی کی طرح جو ایک طرف سے پانی کو کھینچتی اور دوسری طرف اس پانی کو پہنچا دیتی ہے خدائے تعالیٰ کا نور فیض اپنے اندر کھینچ لیتا ہے پھر عین اس وقت میں کہ جب انسان بوجہ اقترانِ محبتین روح القدس کی نالی کے قریب اپنے تئیں رکھ دیتا ہے معاََ اس نالی میں سے فیض وحی اس کے اندر گر جاتا ہے یا یوں کہو کہ اس وقت جبرئیل اپنا نورانی سایہ اس مستعد دل پر ڈال کر ایک عکسی تصویر اپنی اس کے اندر لکھ دیتا ہے تب جیسے اس فرشتہ کا جو آسمان پر مستقر ہے جبریل نام ہے اس عکسی تصویر کا نام بھی جبریل ہی ہوتا ہے یا مثلاً اس فرشتہ کا نام روح القدس ہے تو عکسی تصویر کا نام بھی روح القدس ہی رکھا جاتا ہے سو یہ نہیں کہ فرشتہ انسان کے اندر گھس آتا ہے بلکہ اس کا عکس انسان کے آئینہ قلب میں نمودار ہو جاتا ہے مثلاً جب تم نہایت مصفی آئینہ اپنے منہ کے سامنے رکھ دو گے تو موافق دائرہ مقدار اس آئینہ کے تمہاری شکل کا عکس بلا توقف اس میں پڑے گا۔ یہ نہیں کہ تمہارا منہ اور تمہارا سر گردن سے ٹوٹ کر اور الگ ہوکر آئینہ میں رکھ دیا جائے گا بلکہ اس جگہ رہے گا جو رہنا چاہیے صرف اُس کا عکس پڑے گا اور عکس بھی ہریک جگہ ایک ہی مقدار پر نہیں پڑے گا بلکہ جیسی جیسی وسعت آئینہ قلب کی ہوگی اسی مقدار کے موافق اثر پڑے گا مثلاً اگر تم اپنا چہرہ آرسی کے شیشہ میں دیکھنا چاہو کہ جو ایک چھوٹا سا شیشہ ایک قسم کی انگشتری میں لگا ہوا ہوتا ہے تو اگرچہ اس میں بھی تمام چہرہ نظر آئے گا مگر ہر یک عضو اپنی اصلی مقدار سے نہایت چھوٹا ہو کر نظر آئے گا لیکن اگر تم اپنے چہرہ کو ایک بڑے آئینہ میں دیکھنا چاہو جو تمہاری شکل کے پورے انعکاس کے لئے کافی ہے تو تمہارے تمام نقوش اور اعضاء چہرہ کے اپنی اصلی مقدار پر نظر آجائیں گے۔ پس یہی مثال جبریل کی تاثیرات کی ہے۔ ادنیٰ سے ادنیٰ مرتبہ کے ولی پر بھی جبریل ہی تاثیر وحی کی ڈالتا ہے اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر بھی وہی جبریل تاثیر وحی کی ڈالتا رہا ہے لیکن ان دونوں وحیوں میں وہی فرق مذکورہ بالا آرسی کے شیشہ اور بڑے آئینہ کا ہے یعنی اگرچہ بظاہر صورت جبریل وہی ہے اور اس کی تاثیرات بھی وہی مگر ہر یک جگہ مادہ قابلہ ایک ہی وسعت اور صفائی کی حالت پر نہیں اور یہ جو اس جگہ میں نے صفائی کا لفظ بھی لکھ دیا تو یہ اس بات کے اظہار کے لئے ہے کہ جبریلی تاثیرات کا اختلاف صرف کمیت کے ہی متعلق نہیں بلکہ کیفیت کے بھی متعلق ہے یعنی صفائی قلب جو شرط انعکاس ہے تمام افراد ملہمین کے ایک ہی مرتبہ تک ٭ پر کبھی نہیں ہوتے جیسے تم دیکھتے ہو کہ سارے آئینے ایک ہی درجہ کی صفائی ہرگز نہیں رکھتے۔ بعض آئینے ایسے اعلیٰ درجہ کے آبدار اور مصفّٰی ہوتے ہیں کہ پورے طور پر جیسا کہ چاہیے دیکھنے والے کی شکل ان میں ظاہر ہو جاتی ہے اور بعض ایسے کثیف اور مکدراور پُر غبار اور دود آمیز جیسے ہوتے ہیں کہ صاف طور پر ان میں شکل نظر نہیں آتی بلکہ بعض ایسے بگڑے ہوئے ہوتے ہیں کہ اگر مثلاً ان میں دونوں لب نظر آویں تو ناک دکھائی نہیں دیتا اور اگر ناک نظر آگیا تو آنکھیں نظر نہیں آتیں۔ سو یہی حالت دلوں کے آئینہ کی ہے جو نہایت درجہ کا مصفّٰی دل ہے اس میں مصفا طور پر انعکاس ہوتا ہے اور جو کسی قدر مکدر ہے اس میں اسی قدر مکدر دکھائی دیتاہے اور اکمل اور اتم طور پر یہ صفائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو حاصل ہے ایسی صفائی کسی دوسرے دل کو ہرگز حاصل نہیں۔

اس جگہ اس نکتہ کا بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ خدائے تعالیٰ جو علت العلل ہے جس کے وجود کے ساتھ تمام وجودوں کا سلسلہ وابستہ ہے جب وہ کبھی مربیانہ یا قاہرانہ طور پر کوئی جنبش اور حرکت ارادی کسی امر کے پیدا کرنے کے لئے کرتا ہے تو وہ حرکت اگر اتم اور اکمل طور پر ہو تو جمیع موجودات کی حرکت کو مستلزم ہوتی ہے اور اگر بعض شیون کے لحاظ سے یعنی جزئی حرکت ہو تو اسی کے موافق عالم کے بعض اجزاء میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ خدائے عزو جل کے ساتھ اس کی تمام مخلوقات اور جمیع عالموں کا جو علاقہ ہے وہ اس علاقہ سے مشابہ ہے جو جسم کو جان سے ہوتاہے اور جیسے جسم کے تمام اعضاء روح کے ارادوں کے تابع ہوتے ہیں اور جس طرف روح جھکتی ہے اسی طرف وہ جھک جاتے ہیں یہی نسبت خدائے تعالیٰ اور اس کی مخلوقات میں پائی جاتی ہے۔ اگرچہ میں صا حب فصوص کی طرح حضرت واجب الوجود کی نسبت یہ تو نہیں کہتاکہ خلق الاشیاء وھو عینھا مگر یہ ضرور کہتا ہوں کہ خلق الاشیاء و ھو کعینھا۔ ھذا العالم کصرح ممرّد من قواریر و ماء الطاقت العظمٰی یجری تحتھا و یفعل ما یرید یخیّل فی عیون قاصرۃ کانھا ھو یحسبون الشمس والقمر والنجوم مؤثراتٍ بذاتھاولا مؤثر الّا ھو۔

حکیم مطلق نے میرے پر یہ راز سربستہ کھول دیا ہے کہ یہ تمام عالم معہ اپنے جمیع اجزاء کے اس علت العلل کے کاموں او ر ارادوں کی انجام دہی کے لئے سچ مچ اس کے اعضاء کی طرح واقع ہے جو خود بخود قائم نہیں بلکہ ہر وقت اس روح اعظم سے قوت پاتاہے جیسے جسم کی تمام قوتیں جان کی طفیل سے ہی ہوتی ہیں اور یہ عالم جو اس وجود اعظم کے لئے قائم مقام اعضاء کا ہے بعض چیزیں اُس میں ایسی ہیں کہ گویا اُس کے چہرہ کا نور ہیں جو ظاہری یا باطنی طور پر اس کے ارادوں کے موافق روشنی کا کام دیتی ہیں اور بعض ایسی چیزیں ہیں کہ گویا اس کے ہاتھ ہیں اور بعض ایسی ہیں کہ گویا اس کے پیر ہیں اور بعض اس کے سانس کی طرح ہیں۔ غرض یہ مجموعہ عالم خدائے تعالیٰ کے لئے بطور ایک اندام کے واقعہ ہے اور تمام آب و تاب اس اندام کی اور ساری زندگی اس کی اُسی روح اعظم سے ہے جو اُس کی قیوم ہے اور جو کچھ اس قیوم کی ذات میں ارادی حرکت پیدا ہوتی ہے وہی حرکت اس اندام کے کل اعضا یا بعض میں جیسا کہ اس قیوم کی ذات کا تقاضا ہو پیدا ہو جاتی ہے۔

اس بیان مذکورہ بالا کی تصویر دکھلانے کے لئے تخیّلی طور پر ہم فرض کر سکتے ہیں کہ قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے بے شمار ہاتھ بے شمار پیر اور ہر یک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہا عرض اور طول رکھتا ہے اور تندوے کی طرح اس وجوداعظم کی تاریں بھی ہیں جو صفحہ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں اور کشش کا کام دے رہی ہیں۔ یہ وہی اعضا ہیں جن کا دوسرے لفظوں میں عالم نام ہے جب قیوم عالم کوئی حرکت جزوی یا کلی کرے گا تو اس کی حرکت کے ساتھ اس کے اعضا میں حرکت پیدا ہو جانا ایک لازمی امر ہو گا اور وہ اپنے تمام ارادوں کو انہیں اعضاکے ذریعہ سے ظہور میں لائے گا نہ کسی اور طرح سے پس یہی ایک عام فہم مثال اس روحانی امر کی ہے کہ جو کہا گیا ہے کہ مخلوقات کی ہر یک جزو خدائے تعالیٰ کے ارادوں کی تابع اور اس کے مقاصد مخفیہ کو اپنے خادمانہ چہرہ میں ظاہر کر رہی ہے اور کمال درجہ کی اطاعت سے اس کے ارادوں کی راہ میں محو ہو رہی ہے اور یہ اطاعت اس قسم کی ہرگز نہیں ہے جس کی صرف حکومت اور زبردستی پر بنا ہو بلکہ ہر یک چیز کو خدائے تعالیٰ کی طرف ایک مقناطیسی کشش پائی جاتی ہے اور ہر یک ذرہ ایسا بالطبع اس کی طرف جھکا ہوا معلوم ہوتاہے جیسے ایک وجود کے متفرق اعضا اس وجود کی طرف جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ پس درحقیقت یہی سچ ہے اور بالکل سچ کہ یہ تمام عالم اس وجود اعظم کے لئے بطور اعضا کے واقعہ ہے اور اسی وجہ سے وہ قیوم العٰلمین کہلاتا ہے کیونکہ جیسی جان اپنے بدن کی قیوم ہوتی ہے ایسا ہی وہ تمام مخلوقات کا قیوم ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو نظام عالم کا بالکل بگڑ جاتا۔

ہر یک ارادہ اس قیوم کا خواہ وہ ظاہری ہے یا باطنی دینی ہے یا دنیوی اسی مخلوقات کے توسط سے ظہور پذیر ہوتا ہے اور کوئی ایسا ارادہ نہیں کہ بغیر ان وسائط کے زمین پر ظاہر ہوتا ہو۔ یہی قدیمی قانون قدرت ہے کہ جو ابتدا سے بندھا ہوا چلا آتاہے مگر ان لوگوں کی سمجھ پر سخت تعجب ہے کہ وہ ظاہری بارش ہونے کے لئے جو بادلوں کے ذریعہ سے زمین پر ہوتی ہے بخارات مائیہ کا توسط ضروری خیال کرتے ہیں اور خودبخود قدرت سے بغیر بادل کے بارش ہو جانا محال سمجھتے ہیں لیکن الہام کی بارش کے لئے جو صاف دلوں پر ہوتی ہے ملائک کے بادلوں کا توسط جو عند الشرع ضروری ہے اُس پر جہالت کی نظر سے ہنستے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا خدائے تعالیٰ بغیر ملائک کے توسط کے خود بخود الہام نہیں کر سکتاتھا۔ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ بغیر توسط ہوا کے آواز سن لینا خلاف قانون قدرت ہے مگر وہ ہوا جو روحانی طور پر خدائے تعالیٰ کی آواز کو ملہموں کے دلوں تک پہنچاتی ہے اس قانون قدرت سے غافل ہیں۔ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ ظاہری آنکھوں کی بصارت کے لئے آفتاب کی روشنی کی ضرورت ہے مگر وہ روحانی آنکھوں کے لئے کسی آسمانی روشنی کی ضرورت یقین نہیں رکھتے۔

اب جبکہ یہ قانون الٰہی معلوم ہو چکا کہ یہ عالم اپنے جمیع قویٰ ظاہری و باطنی کے ساتھ حضرت واجب الوجود کے لئے بطور اعضا کے واقعہ ہے اور ہر یک چیز اپنے اپنے محل اور موقعہ پراعضا ہی کا کام دے رہی ہے اور ہر یک ارادہ خدائے تعالیٰ کا انہیں اعضا کے ذریعہ سے ظہور میں آتاہے۔ کوئی ارادہ بغیر ان کے تو سط کے ظہور میں نہیں آتا۔ تو اب جاننا چاہیے کہ خدائے تعالیٰ کی وحی میں جو پاک دلوں پر نازل ہوتی ہے جبریل کا تعلق جو شریعت اسلام میں ایک ضروری مسئلہ سمجھا گیا اور قبول کیا گیا ہے یہ تعلق بھی اسی فلسفہ حقہ پر ہی مبنی ہے جس کا ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ حسب قانون قدرت مذکورہ بالا یہ امر ضروری ہے کہ وحی کے القا یا ملکہ وحی کے عطا کرنے کے لئے بھی کوئی مخلوق خدائے تعالیٰ کے الہامی اور روحانی ارادہ کو بمنصہ ظہور لانے کے لئے ایک عضو کی طرح بن کر خدمت بجا لاوے جیسا کہ جسمانی ارادوں کے پورا کرنے کے لئے بجالا رہے ہیں سو وہ وہی عضو ہے جس کو دوسرے لفظوں میں جبریل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جو بہ تبعیت حرکت اس وجود اعظم کے سچ مچ ایک عضو کی طرح بلا توقف حرکت میں آجاتا ہے یعنی جب خدائے تعالیٰ محبت کرنے والے دل کی طرف محبت کے ساتھ رجوع کرتا ہے توحسب قاعدہ مذکورہ بالا جس کا ابھی بیان ہو چکا ہے جبریل کو بھی جو سانس کی ہوا یا آنکھ کے نور کی طرح خدائے تعالیٰ سے نسبت رکھتاہے اُس طرف ساتھ ہی حرکت کرنی پڑتی ہے یا یوں کہو کہ خدائے تعالیٰ کی جنبش کے ساتھ ہی وہ بھی بلا اختیار و بلاارادہ اسی طور سے جنبش میں آجاتاہے کہ جیسا اصل کی جنبش سے سایہ کا ہلنا طبعی طور پر ضروری امر ہے۔ پس جب جبریلی نور خدائے تعالیٰ کی کشش اور تحریک اور نفخہ نورانیہ سے جنبش میں آجاتاہے تو معاََ اس کی ایک عکسی تصویر جس کو روح القد س کے ہی نام سے موسوم کرنا چاہیے محبت، صادق کے دل میں منقش ہو جاتی ہے اور اس کی محبت صادقہ کا ایک عرض لازم ٹھہر جاتی ہے تب یہ قوت خدائے تعالیٰ کی آواز سننے کے لئے کان کا فائدہ بخشتی ہے اور اس کے عجائبات کے دیکھنے کے لئے آنکھو ں کی قائم مقام ہو جاتی ہے اور اس کے الہامات زبان پر جاری ہونے کے لئے ایک ایسی محرک حرارت کا کام دیتی ہے جو زبان کے پہیہ کو زور کے ساتھ الہامی خط پر چلاتی ہے اور جب تک یہ قوت پیدانہ ہو اس وقت تک انسان کا دل اندھے کی طرح ہوتاہے اور زبان اس ریل کی گاڑی کی طرح ہوتی ہے جو چلنے والے انجن سے الگ پڑی ہو لیکن یاد رہے کہ یہ قوت جو روح القدس سے موسوم ہے ہر یک دل میں یکساں اور برابر پیدا نہیں ہوتی بلکہ جیسے انسان کی محبت کامل یا ناقص طور پر ہوتی ہے اسی اندازہ کے موافق یہ جبریلی نور اس پر اثر ڈالتا ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ روح القدس کی قوت جو دونوں محبتوں کے ملنے سے انسان کے دل میں جبریلی نور کے پَرتوہ سے پیداہو جاتی ہے اس کے وجود کے لئے یہ امر لازم نہیں کہ ہر وقت انسان خدائے تعالیٰ کا پاک کلام سنتا ہی رہے یا کشفی طور پر کچھ دیکھتاہی رہے بلکہ یہ تو انوار سماویہ کے پانے کے لئے اسباب قریبہ کی طرح ہے یا یوں کہو کہ یہ ایک روحانی روشنی روحانی آنکھوں کے دیکھنے کے لئے یا ایک روحانی ہوا روحانی کانوں تک آواز پہنچانے کے لئے منجانب اللہ ہے اور ظاہر ہے کہ جب تک کوئی چیز سامنے موجودنہ ہو مجرد روشنی کچھ دکھا نہیں سکتی۔ اور جب تک متکلّم کے منہ سے کلام نہ نکلے مجرد ہوا کانو ں تک کوئی خبر نہیں پہنچا سکتی۔ سو یہ روشنی یا یہ ہوا روحانی حواس کے لئے محض ایک آسمانی مؤید عطا کیا جاتاہے جیسے ظاہری آنکھو ں کے لئے آفتاب کی روشنی اور ظاہری کانوں کے لئے ہوا کا ذریعہ مقرر کیا گیا ہے اور جب باری تعالیٰ کا ارادہ اس طرف متوجہ ہوتاہے کہ اپنا کلام اپنے کسی ملہم کے دل تک پہنچا وے تو اس کی اس متکلمانہ حرکت سے معاََ جبریلی نور میں القا کے لئے ایک روشنی کی موج یا ہوا کی موج یا ملہم کی تحریک لسان کے لئے ایک حرارت کی موج پیدا ہو جاتی ہے اور اس تموّج یااس حرارت سے بلا توقف وہ کلام ملہم کی آنکھو ں کے سامنے لکھا ہوا دکھائی دیتاہے یا کانوں تک اس کی آواز پہنچتی ہے یا زبان پر وہ الہامی الفاظ جاری ہوتے ہیں اور روحانی حواس اور روحانی روشنی جو قبل از الہام ایک قوت کی طرح ملتی ہے۔ یہ دونوں قوتیں اس لئے عطاکی جاتی ہیں کہ تاقبل از نزول الہام، الہام کے قبول کرنے کی استعداد پیدا ہو جائے کیونکہ اگر الہام ایسی حالت میں نازل کیا جاتا کہ ملہم کا دل حواس روحانی سے محروم ہوتا یا روح القدس کی روشنی دل کی آنکھ کو پہنچی نہ ہوتی تو وہ الہام الٰہی کو کن آنکھوں کی پاک روشنی سے دیکھ سکتا۔ سو اسی ضرورت کی وجہ سے یہ دونوں پہلے ہی سے ملہمین کو عطا کی گئیں اور اس تحقیق سے یہ بھی ناظرین سمجھ لیں گے کہ وحی کے متعلق جبریل کے تین کام ہیں۔ اوّل یہ کہ جب رِحم میں ایسے شخص کے وجود کے لئے نطفہ پڑتا ہے جس کی فطرت کو اللہ جلّشانہٗ اپنی رحمانیت کے تقاضا سے جس میں انسان کے عمل کو کچھ دخل نہیں ملہمانہ فطرت بنانا چاہتا ہے تو اس پر اسی نطفہ ہونے کی حالت میں جبریلی نور کا سایہ ڈال دیتا ہے تب ایسے شخص کی فطرت منجانب اللہ الہامی خاصیت پیدا کر لیتی ہے اور الہامی حواس اس کو مل جاتے ہیں۔

پھر دوسرا کام جبریل کا یہ ہے کہ جب بندہ کی محبت خدائے تعالیٰ کی محبت کے زیر سایہ آپڑتی ہے تو خدائے تعالیٰ کی مربیانہ حرکت کی وجہ سے جبریلی نور میں بھی ایک حرکت پیدا ہو کر محب صادق کے دل پر وہ نور جا پڑتا ہے یعنی اس نور کا عکس محب صادق کے دل پر پڑ کر ایک عکسی تصویر جبریل کی اس میں پیدا ہوجاتی ہے۔ جو ایک روشنی یا ہوا یاگرمی کا کام دیتی ہے اور بطور ملکہ الہامیہ کے ملہم کے اندر رہتی ہے۔ ایک سرا اس کا جبریل کے نور میں غرق ہوتاہے اور دوسرا ملہم کے دل کے اندر داخل ہوجاتا ہے جس کو دوسرے لفظوں میں روح القدس یا اس کی تصویر کہہ سکتے ہیں۔

تیسرا کام جبریل کا یہ ہے کہ جب خدائے تعالیٰ کی طرف سے کسی کلام کا ظہور ہو تو ہوا کی طرح موج میں آ کر اس کلام کو دل کے کانوں تک پہنچا دیتا ہے یا روشنی کے پیرایہ میں افروختہ ہو کر اس کو نظر کے سامنے کر دیتا ہے یا حرارت محرکہ کے پیرایہ میں تیزی پیداکر کے زبان کو الہامی الفاظ کی طرف چلا تا ہے۔

اس جگہ میں ان لوگوں کا وہم بھی دور کرنا چاہتا ہوں جو ان شکوک اور شبہات میں مبتلا ہیں جو اولیاء اور انبیاء کے الہامات اور مکاشفات کو دوسرے لوگوں کی نسبت کیا خصوصیت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اگر نبیوں اور ولیوں پر امور غیبیہ کھلتے ہیں تو دوسرے لوگوں پر بھی کبھی کبھی کھل جاتے ہیں بلکہ بعض فاسقوں اور غایت درجہ کے بدکاروں کو بھی سچی خوابیں آجاتی ہیں اور بعض پرلے درجہ کے بدمعاش اور شریر آدمی اپنے ایسے مکاشفات بیان کیا کرتے ہیں کہ آخر وہ سچے نکلتے ہیں۔ پس جبکہ ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے تئیں نبی یا کسی اور خاص درجہ کے آدمی تصور کرتے ہیں ایسے ایسے بد چلن آدمی بھی شریک ہیں جو بدچلنیوں اور بدمعاشیوں میں چھٹے ہوئے اور شہرہ آفاق ہیں تو نبیوں اور ولیو ں کی کیا فضیلت باقی رہی۔ سو میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ درحقیقت یہ سوال جس قدر اپنی اصل کیفیت رکھتا ہے وہ سب درست اور صحیح ہے اور جبریلی نور کا چھیالیسواں (۴۶) حصہ تمام جہان میں پھیلا ہوا ہے جس سے کوئی فاسق اور فاجر اور پرلے درجہ کا بدکار بھی باہر نہیں۔ بلکہ میں یہاں تک مانتا ہوں کہ تجربہ میں آچکا ہے کہ بعض اوقات ایک نہایت درجہ کی فاسقہ عورت جو کنجریوں کے گروہ میں سے ہے جس کی تمام جوانی بدکاری میں ہی گزری ہے کبھی سچی خواب دیکھ لیتی ہے۔ اور زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ ایسی عورت کبھی ایسی رات میں بھی کہ جب وہ بادہ بسروآشنا ببرکا مصداق ہوتی ہے کوئی خواب دیکھ لیتی ہے اور وہ سچی نکلتی ہے مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا کیونکہ جبریلی نور آفتاب کی طرح جو اس کا ہیڈ کوارٹر ہے تمام معمورہ عالم پر حسب استعداد ان کی اثر ڈال رہا ہے اور کوئی نفس بشر دنیا میں ایسا نہیں کہ بالکل تاریک ہو کم سے کم ایک ذرہ سی محبت وطن اصلی اور محبوب اصلی کی ادنیٰ سے ادنیٰ سرشت میں بھی ہے۔ اس صورت میں نہایت ضروری تھا کہ تمام بنی آدم پر یہاں تک کہ ان کے مجانین پر بھی کسی قدر جبریل کا اثر ہوتا اور فی الواقعہ ہے بھی کیونکہ مجانین بھی جن کو عوام الناس مجذوب کہتے ہیں اپنے بعض حالات میں بوجہ اپنے ایک طور کے انقطاع کے جبریلی نور کے نیچے جاپڑتے ہیں تو کچھ کچھ ان کی باطنی آنکھوں پر اس نور کی روشنی پڑتی ہے جس سے وہ خدائے تعالیٰ کے تصرفات خفیہ کو کچھ کچھ دیکھنے لگتی ہے مگر ایسی خوابوں یا ایسے مکاشفات سے نبوت اور ولایت کو کچھ صدمہ نہیں پہنچتا اور ان کی شان بلند میں کچھ بھی فرق نہیں آتا اور کوئی التباس حیران کرنے والا واقعہ نہیں ہوتا کیونکہ درمیان میں ایک ایسا فرق بیّن ہے کہ جو بدیہی طور پر ہر یک سلیم العقل سمجھ سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خواص اور عام کی خوابیں اور مکاشفات اپنی کیفیت اور کمیت اتصالی و انفصالی میں ہرگزبرابر نہیں ہیں۔ جو لوگ خدائے تعالیٰ کے خاص بندے ہیں وہ خارق عادت کے طور پر نعمت غیبی کا حصہ لیتے ہیں۔ دنیا اُن نعمتوں میں جو انہیں عطا کی جاتی ہیں صرف ایسے طور کی شریک ہے جیسے شاہ وقت کے خزانہ کے ساتھ ایک گدا دریوزہ گر ایک درم کے حاصل رکھنے کی وجہ سے شریک خیال کیا جائے لیکن ظاہر ہے کہ اس ادنیٰ مشارکت کی وجہ سے نہ بادشاہ کی شان میں کچھ شکست آسکتی ہے اور نہ اس گدا کی کچھ شان بڑھ سکتی ہے اور اگر ذرہ غور کرکے دیکھو تو یہ ذرّہ مثال مشارکت ایک کرم شب تاب بھی جس کو پٹ بیجنا یا جگنو بھی کہتے ہیں آفتاب کے ساتھ رکھتا ہے تو کیا وہ اس مشارکت کی وجہ سے آفتاب کی عزت میں سے کوئی حصہ لے سکتا ہے۔ سو جاننا چاہیے کہ درحقیقت تمام فضیلتیں باعتبار اعلیٰ درجہ کے کمال کے جو کمیت اور کیفیت کی رو سے حاصل ہوپیدا ہوتی ہیں یہ نہیں کہ ایک حرف کی شناخت سے ایک شخص ایک فاضل اجل کا ہم پایہ ہو جائے گا یا اتفاقاً ایک مصرعہ بن جانے سے بڑے شاعروں کا ہم پلہ کہلائے گا۔ ذرہ مثال شراکت سے کوئی نوع حکمت یا حکومت کی خالی نہیں۔ اگر ایک بادشاہ سارے جہان کی حکومت کرتا ہے تو ایسا ہی ایک مزدور آدمی اپنی جھونپڑی میں اپنے بچوں اور اپنی بیوی پر حاکم ہے۔ رہی یہ بات کہ خدائے تعالیٰ نے نیک بختوں اور بد بختوں میں مشارکت کیوں رکھی اور تخم کے طور پر غافلین کے گروہ کو نعمت غیبی کا کیوں حصہ دیا۔ اسکا جواب یہ ہے کہ الزام اور اتمام حجت کے لئے تا اس تخمی شراکت کی وجہ سے ہر یک منکر کاملوں کی حالت کا گواہ ہوجائے کیونکہ جب کہ وہ اپنے چھوٹے سے دائرہ استعداد میں کچھ نمونہ ان باتوں کا دیکھتا ہے جو ان کاملوں کی زبان سے سنتا ہے پس اس تھوڑی سی جھلک کی وجہ سے اسکے لئے یہ ممکن نہیں کہ اپنے سچے دل سے ان الہامی امور کو بکلّی غیر ممکن سمجھے۔ سو وہ اس روحانی خاصیت کا ایک ذرا سا نمونہ اپنے اندر رکھنے کی وجہ سے خدائے تعالیٰ کے الزام کے نیچے ہے جس کے رو سے بحالت انکار وہ پکڑا جائے گا۔ جیسا کہ آجکل کے آریہ خیال کررہے ہیں کہ خدا ئے تعالیٰ نے چاروں وید وں کو نازل کرکے پھر یکلخت ہمیشہ کے لئے الہامات کی صف کو لپیٹ دیا ہے مگر خدائے تعالیٰ کا قانونِ قدرت انہیں ملزم کرتا ہے جبکہ وہ بچشم خود دیکھتے ہیں کہ یہ سلسلہ انکشافات غیبیہ کا اب تک جاری ہے اور انمیں سے فاسق آدمی بھی کبھی کبھی سچی خوابیں دیکھ لیتے ہیں۔ پس ظاہر ہے کہ وہ خدا جس نے اپنا روحانی فیض نازل کرنے سے اس زمانہ کے فاسقوں اور دنیا پرستوں کو بھی محروم نہیں رکھا اور ان پر بھی باوجود فقدان کامل مناسبت کے کبھی کبھی رشحاتِ فیض نازل کرتا ہے تواپنے نیک بندوں پر جو اس کی مرضی پر چلیں اور اکمل اور اتم طور پر اس سے مناسبت رکھیں کیا کچھ نازل کرتا نہیں ہوگا اور ایک بھید اس تخمی مشارکت میں یہ ہے کہ تا ہر یک شخص گو وہ کیسا ہی فاسق بدکار یا کافر خونخوار ہو اس مشارکت پر غور کرنے سے سمجھ لیوے کہ خدائے تعالیٰ نے اُسے ہلاک کرنے کے لئے پیدا نہیں کیا بلکہ اُس نے اُس کے اندر ایک ترقی کی راہ رکھی ہے اور اس کو بھی تخم کے طور پر ایک نمود دیا ہے جس میں وہ آگے قدم بڑھا سکتا ہے اور وہ فطرتاً خدائے تعالیٰ کے خوان نعمت سے محروم نہیں ہیں۔ ہاں اگر آپ بے راہی اختیار کرکے اس نور کو جو اس کے اندر رکھا گیا ہے غیر مستعمل چھوڑ کر آپ محروم بن جائے اور ان طبعی طریقوں کو جو نجات پانے کے طریق ہیں دیدہ و دانستہ چھوڑ دیوے تو یہ خود اس کا ساختہ پرداختہ ہے جس کا بدنتیجہ اسے بھگتنا پڑے گا۔

یاد دہانی

جو کچھ ہم نے رسالہ فتح اسلام میں الٰہی کارخانہ کے بارہ میں جو خداوند عزوجل کی طرف سے ہمارے سپرد ہوا ہے پانچ شاخوں کا ذکر کرکے دینی مخلصوں اور اسلامی ہمدردوں کی ضرورت امداد کے لئے لکھا ہے اسکی طرف ہمارے بااخلاص اور پُرجوش بھائیوں کو بہت جلد توجہ کرنی چاہیے کہ تا یہ سب کام باحسن طریق شروع ہوجائیں۔

الراقم

مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور

اطلاع بخدمت علماء اسلام

جو کچھ اس عاجز نے مثیل مسیح کے بارے میں لکھا ہے یہ مضمون متفرق طور پر تین رسالوں میں درج ہے یعنی فتح اسلام اور توضیح مرام اور ازالہ اوہام میں۔ پس مناسب ہے کہ جب تک کوئی صاحب ان تینوں رسالوں کو غور سے نہ دیکھ لیں تب تک کسی مخالفانہ رائے ظاہر کرنے کے لئے جلدی نہ کریں۔

والسلام علٰی من اتبع الھدیٰ
الراقم
خاکسار مرزا غلام احمد