ٹائیٹل بار اول
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالْمِنَّةُ
کہ یہ رسالہ مبارکہ جسمین اخوندزادہ سرآمد علماء کابل اور شیخ اجل افغانستان اور رئیس اعظم خوست مولوی محمد عبد اللطیف صاحب مرحوم کی شہادت کا ذکر ہے اور نیز اُن کے شاگرد رشید میاں عبدالرحمٰن کے شہید ہونے کے حالات کو متضمن تالیف ہوکر نام اُسکا مندرجہ ذیل رکھا گیا ہے یعنی
مع رسالہ عربی و علامات المقربین
اور یہ رسالہ مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم مولوی فضل الدین صاحب مالک مطبع اکتوبر کے مہینہ میں چھاپ کر شائع کیا گیا
تعداد جلد ۸۰۰
قیمت فی جلد ۷؍
نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ
الْحَمْدُ لِلَّہِ وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفٰى
اس زمانہ میں اگرچہ آسمان کے نیچے طرح طرح کے ظلم ہو رہے ہیں مگر جس ظلم کو ابھی میں ذیل میں بیان کروں گا وہ ایک ایسا دردناک حادثہ ہے کہ دل کو ہلا دیتا ہے۔ اور بدن پر لرزہ ڈالتا ہے ۔
اس امر کو با ترتیب بیان کرنے کے لئے پہلے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے زمانہ کی موجودہ حالت کو دیکھ کر اور زمین کو طرح طرح کے فسق اور معصیت اور گمراہی سے بھرا ہوا پا کر مجھے تبلیغ حق اور اصلاح کے لئے مامور فرمایا۔ اور یہ زمانہ بھی ایسا تھا کہ .... اس دنیا کے لوگ تیرھویں صدی ہجری کو ختم کر کے چودھویں صدی کے سر پر پہنچ گئے تھے۔ تب میں نے اُس حکم کی پابندی سے عام لوگوں میں بذریعہ تحریری اشتہارات اور تقریروں کے یہ ندا کرنی شروع کی کہ اس صدی کے سر پر جو خدا کی طرف سے تجدید دین کے لئے آنے والا تھا وہ میں ہی ہوں تا وہ ایمان جو زمین پر سے اُٹھ گیا ہے اُس کو دوبارہ قائم کروں اور خدا سے قوت پا کر اُسی کے ہاتھ کی کشش سے دنیا کو صلاح اور تقویٰ اور راستبازی کی طرف کھینچوں اور ان کی اعتقادی اور عملی غلطیوں کو دور کروں اور پھر جب اس پر چند سال گزرے تو بذریعہ وحی الٰہی میرے پر بتصریح کھولا گیا کہ وہ مسیح جو اس اُمت کے لئے ابتدا سے موعود تھا۔ اور وہ آخری مہدی جو تنزل اسلام کے وقت اور گمراہی کے پھیلنے کے زمانہ میں براہ راست خدا سے ہدایت پانے والا اور اُس آسمانی مائدہ کو نئے سرے انسانوں کے آگے پیش کرنے والا تقدیر الٰہی میں مقرر کیا گیا تھا۔ جس کی بشارت آج سے تیرہ سو۱۳۰۰ برس پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی ۔ وہ میں ہی ہوں ۔ اور مکالمات الٰہیہ اور مخاطبات رحمانیہ اس صفائی اور تواتر سے اس بارے میں ہوئے کہ شک و شبہ کی جگہ نہ رہی ۔ ہر ایک وحی جو ہوتی تھی ایک فولادی میخ کی طرح دل میں دھنستی تھی اور یہ تمام مکالمات الٰہیہ ایسی عظیم الشان پیشگوئیوں سے بھرے ہوئے تھے کہ روز روشن کی طرح وہ پوری ہوتی تھیں ۔ اور اُن کے تواتر اور کثرت اور اعجازی طاقتوں کے کرشمہ نے مجھے اس بات کے اقرار کے لئے مجبور کیا کہ یہ اُسی وحدہ لاشریک خدا کا کلام ہے جس کا کلام قرآن شریف ہے۔ اور میں اس جگہ توریت اور انجیل کا نام نہیں لیتا کیونکہ توریت اور انجیل تحریف کرنے والوں کے ہاتھوں سے اس قدر محرف و مبدل ہوگئی ہیں کہ اب ان کتابوں کو خدا کا کلام نہیں کہہ سکتے ۔ غرض وہ خدا کی وحی جو میرے پر نازل ہوئی ایسی یقینی اور قطعی ہے کہ جس کے ذریعہ سے میں نے اپنے خدا کو پایا۔ اور وہ وحی نہ صرف آسمانی نشانوں کے ذریعہ مرتبہ حق الیقین تک پہنچی بلکہ ہر ایک حصہ اُس کا جب خدا تعالیٰ کے کلام قرآن شریف پر پیش کیا گیا تو اس کے مطابق ثابت ہوا اور اس کی تصدیق کے لئے بارش کی طرح نشان آسمانی برسے ۔ انہیں دنوں میں رمضان کے مہینہ میں سورج اور چاند کا گرہن بھی ہوا جیسا کہ لکھا تھا کہ اس مہدی کے وقت میں ماہ رمضان میں سورج اور چاند کا گرہن ہوگا ۔ اور انہیں ایام میں طاعون بھی کثرت سے پنجاب میں ہوئی جیسا کہ قرآن شریف میں یہ خبر موجود ہے۔ اور پہلے نبیوں نے بھی یہ خبر دی ہے کہ ان دنوں میں مری بہت پڑے گی اور ایسا ہوگا کہ کوئی گاؤں اور شہر اُس مری سے باہر نہیں رہے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ہو رہا ہے۔ اور خدا نے اُس وقت کہ اِس ملک میں طاعون کا نام و نشان نہ تھا قریباً بائیس۲۲ برس طاعون کے پھوٹنے سے پہلے مجھے اُس کے پیدا ہونے کی خبر دی ۔ پھر اس بارہ میں الہامات بارش کی طرح ہوئے اور تکرار ان فقرات کا مختلف پیرایوں میں ہوا چنانچہ مندرجہ ذیل وحی میں اس طرح پر مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔
اتّیٰ امرُ اللّٰہ فلا تستعجلوه بشارة تلقاها النبيون. ان اللّٰہ مع الذين اتقوا والذين هم محسنون. انه قوى عزيز. وانه غالب على امره ولكن اكثر الناس لا يعلمون. انما امره اذا اراد شيئًا ان يقول له كن فيكون. ا تفرون منى وانا من المجرمين منتقمون. يقولون ان هذا الا قول البشر و اعانه عليه قوم آخرون. جاهل او مجنون. قل ان كنتم تحبون اللہ فاتبعوني يحببكم اللہ. انا كفيناك المستهزئين اني مهين من اراد اهانتك واني معين من اراد اعانتك وانى لايخاف لدى المرسلون. اذا جاء نصر اللہ والفتح وتمت كلمة ربك هذا الذي كنتم به تستعجلون. واذا قيل لهم لا تفسدوا في الارض قالوا انما نحن مصلحون. الا انهم هم المفسدون وان يتخذونك الاهزوا اهذا الذي بعث اللہ بل اتيناهم بالحق فهم للحق كارهون. وسيعلم الذين ظلموا أي منقلب ينقلبون. سبحانه وتعالى عما يصفون. ويقولون لست مرسلا. قل عندى شهادة من اللہ فهل انتم تؤمنون. انت وجيه في حضرتي اخترتك لنفسي. اذا غضبت غضبت وكلما احببت احببت. يحمدك اللہ من عرشه. يحمدك اللہ ويمشى اليك. انت مني بمنزلة لا يعلمها الخلق. انت منى بمنزلة توحيدي وتفريدى. انت من ماء نا وهم من فشل. الحمد للہ الذي جعلك المسيح ابن مريم و علمك مالم تعلم. قالوا انى لك هذا قل هو اللہ عجيب لا راد لفضله. لا يسئل عما يفعل وهم يسئلون. ان ربك فعّال لما يريد خلق آدم فاكرمه. اردت ان استخلف فخلقت ادم. وقالوا اتجعل فيها من يفسد فيها قال اني اعلم ما لا تعلمون . يقولون ان هذا الا اختلاق. قل اللہ ثم ذرهم في خوضهم يلعبون. وبالحق انزلناه وبالحق نزل. وما ارسلناك الارحمة للعالمين. يا احمدى انت مرادي و معي. سرك سري شانك عجيب و اجرك قريب اني انرتك و اخترتك ياتي عليك زمن كمثل زمن موسى. ولا تخاطبني في الذين ظلموا انهم مغرقون. ويمكرون ويمكر اللہ واللہ خير الماكرين. انه كريم تمشي امامك و عادي لك من عادي وسوف يعطيك ربك فترضى. انا نرث الارض ناكلها من اطرافها. لتنذر قوما ما انذراباء هم ولتستبين سبيل المجرمين. قل انى امرت وانا اول المومنين. قل يوحى الى انما الهكم اله واحد. والخير كله في القرآن. لا يمسه الا المطهرون. فباي حديث بعده تؤمنون يريدون ان لا يتم امرك. واللہ يابى الا ان يتم امرك. وما كان اللہ ليتركك حتى يميز الخبيث من الطيب. هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله وكان وعد اللہ مفعولا . ان وعد اللہ اتى. وركل وركي. يعصمك اللہ من العدا. ويسطو بكل من سطا . حلّ غضبه على الارض . ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون الامراض تشاع والنفوس تضاع. امر من السماء. امر من اللہ العزيز الاكرم. ان اللہ لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بانفسهم. انه اوى القرية. لا عاصم اليوم الا اللہ. اصنع الفلك باعيننا ووحينا . انه معك ومع اهلك انى احافظ كل من في الدار. الا الذين علوا من استكبار واحافظك خاصة سلام قولا من رب رحيم. سلام عليكم طبتم وامتازوا اليوم ايها المجرمون. انى مع الرسول اقوم وافطر و اصوم والوم من يلوم. واعطيك مايدوم. واجعل لك انوار القدوم. ولن ابرح الارض الى الوقت المعلوم. اني انا الصاعقة وانى انا الرحمن ذو اللطف والندىٰ.
ترجمہ : خدا کا امر آ رہا ہے۔ پس تم جلدی مت کرو۔ یہ خوشخبری ہے جو قدیم سے نبیوں کو ملتی رہی ہے۔ خدا اُن کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں یعنی ادب اور حیا اور خوف الہی کی پابندی سے ان فنی راہوں کو بھی چھوڑتے ہیں۔ جن میں معصیت اور نافرمانی کا گمان ہو سکتا ہے۔ اور دلیری سے کوئی قدم نہیں اُٹھاتے بلکہ ڈرتے ڈرتے کسی فعل یا قول کے بجالانے کا قصد کرتے ہیں ۔ اور خدا ان کے ساتھ ہے جو اس کے ساتھ اخلاص اور اُس کے بندوں سے نیکی بجالاتے ہیں۔ وہ قومی اور غالب ہے۔ وہ ہر یک امر پر غالب ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے ۔ جب وہ ایک بات کو چاہتا ہے تو کہتا ہے کہ ہو۔ پس وہ بات ہو جاتی ہے۔ کیا تم مجھ سے بھاگ سکتے ہو۔ اور ہم مجرموں سے انتقام لیں گے۔ کہتے ہیں کہ یہ تو صرف انسان کا قول ہے۔ اور ان باتوں میں دوسروں نے اس شخص کی مدد کی ہے۔ یہ تو جاہل ہے یا مجنون ہے۔ ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تمہیں دوست رکھے۔ اور جو لوگ تجھے ٹھٹھا کرتے ہیں ہم اُن کے لئے کافی ہیں۔ میں اس شخص کی اہانت کروں گا جو تیری اہانت کے درپے ہے۔ اور میں اُس شخص کی مدد کروں گا جو تیری مدد کرنا چاہتا ہے۔ میں ہوں جو میرے پاس ہو کر میرے رسول ڈرا نہیں کرتے ۔ جب خدا کی مدد اور فتح آئے گی اور تیرے رب کا کلمہ پورا ہو جائے گا تو کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے۔ اور جب اُن کو کہا جاتا ہے کہ زمین پر فساد مت کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرتے ہیں۔ خبردار رہو کہ وہی مفسد ہیں۔ اور تجھے انہوں نے ہنسی اور ٹھٹھے کی جگہ بنا رکھا ہے۔ اور ٹھٹھا مار کر کہتے ہیں کہ کیا یہ وہی شخص ہے کہ جو خدا نے مبعوث فرمایا۔ یہ تو ان کی باتیں ہیں ۔ اور اصل بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے سامنے حق پیش کیا۔ پس وہ حق کے قبول کرنے سے کراہت کر رہے ہیں۔ اور جن لوگوں نے ظلم کیا ہے وہ عنقریب جان لیں گے کہ وہ کس طرف پھیرے جائیں گے۔ خدا ان تہمتوں سے پاک اور برتر ہے جو اُس پر لگا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو خدا کی طرف سے بھیجا ہوا نہیں ۔ ان کو کہہ دے کہ خدا کی میرے پاس گواہی موجود ہے۔ پس کیا تم ایمان لاتے ہو۔ تو میری درگاہ میں وجیہ ہے میں نے اپنے لئے تجھے چن لیا۔ جب تو کسی پر ناراض ہو تو میں اُس پر ناراض ہوتا ہوں اور ہر ایک چیز جس سے تو پیار کرتا ہے میں بھی اُس سے پیار کرتا ہوں ۔ خدا اپنے عرش سے تیری تعریف کرتا ہے۔ خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔ تو مجھ سے اُس مرتبہ پر ہے جس کو دنیا نہیں جانتی۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید ۔ تو ہمارے پانی سے ہے اور وہ لوگ فشل سے۔ اُس خدا کو حمد ہے جس نے تجھے مسیح ابن مریم بنایا اور تجھے وہ باتیں سکھلائیں جن کی تجھے خبر تھی ۔ لوگوں نے کہا کہ یہ مرتبہ تجھے کہاں سے اور کیونکر مل سکتا ہے۔ ان کو کہہ دے کہ میرا خدا عجیب ہے اس کے فضل کو کوئی رد نہیں کر سکتا۔ جو کام وہ کرتا ہے اُس سے پوچھا نہیں جاتا کہ ایسا کیوں کیا مگر لوگ اپنے اپنے کاموں سے پوچھے جاتے ہیں۔ تیرا رب جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اُس نے اس آدم کو پیدا کر کے اُس کو بزرگی دی۔ میں نے اس زمانہ میں ارادہ کیا کہ اپنا ایک خلیفہ زمین پر قائم کروں ۔ پس میں نے اس آدم کو پیدا کیا۔ اور لوگوں نے کہا کہ کیا تو ایسا شخص اپنا خلیفہ بناتا ہے جو زمین پر فساد کرتا ہے یعنی پھوٹ ڈالتا ہے تو خدا نے انہیں کہا کہ جن باتوں کا مجھے علم ہے تمہیں وہ باتیں معلوم نہیں ۔ اور کہتے ہیں کہ یہ ایک بناوٹ ہے۔ کہہ خدا ہے جس نے یہ سلسلہ قائم کیا۔ پھر یہ کہہ کر ان کو اپنے لہو و لعب میں چھوڑ دے۔
اور ہم نے حق کے ساتھ اس کو اُتارا اور ضرورت حقہ کے موافق وہ اُترا۔ اور ہم نے تجھے تمام دنیا کے لئے ایک عام رحمت کر کے بھیجا ہے۔ اے میرے احمد تو میری مراد ہے۔ اور میرے ساتھ ہے۔ تیرا بھید میرا بھید ہے۔ تیری شان عجیب ہے اور اجر قریب ہے۔ میں نے تجھے روشن کیا اور میں نے تجھے چنا۔ تیرے پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جیسا کہ موسیٰ پر زمانہ آیا تھا ۔ اور تو ان لوگوں کے بارے میں میری جناب میں شفاعت مت کر جو ظالم ہیں کیونکہ وہ غرق کئے جائیں گے اور یہ لوگ مکر کریں گے اور خدا بھی اُن سے مکر کرے گا اور خدا تعالیٰ بہتر مکر کرنے والا ہے۔ وہ کریم ہے جو تیرے آگے آگے چلتا ہے اور اُس کو وہ اپنا دشمن قرار دیتا ہے جو تجھ سے دشمنی کرتا ہے۔ اور وہ عنقریب تجھے وہ چیزیں دے گا جن سے تو راضی ہو جائے گا ۔ ہم زمین کے وارث ہوں گے ۔ اور ہم اُس کو اُس کے طرفوں سے کھاتے جاتے ہیں تا کہ تو اس قوم کو ڈراوے جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے اور تاکہ مجرموں کی راہ کھل جائے ۔ کہہ میں مامور ہوں اور میں سب سے پہلے مومن ہوں ۔ کہہ میرے پر یہ وحی نازل ہوتی ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے اور تمام خیر قرآن میں ہے۔ اس کے حقائق معارف تک وہی لوگ پہنچتے ہیں جو پاک کئے جاتے ہیں۔ پس تم اُس کے بعد یعنی اُس کو چھوڑ کر کس حدیث پر ایمان لاؤ گے ۔ یہ لوگ ارادہ کرتے ہیں کہ کچھ ایسی کوشش کریں کہ تیرا امر نا تمام رہ جائے لیکن خدا تو یہی چاہتا ہے کہ تیری بات کو کمال تک پہنچاوے۔ اور خدا ایسا نہیں ہے کہ قبل اس کے جو پاک اور پلید میں فرق کر کے دکھلاوے تجھے چھوڑ دے۔ خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو (یعنی اس عاجز کو) ہدایت اور دین حق دے کر اس غرض سے بھیجا ہے تا وہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کرے اور خدا کا وعدہ ایک دن ہونا ہی تھا۔ خدا کا وعدہ آگیا اور ایک پیر اُس نے زمین پر مارا اور خلل کی اصلاح کی ۔ خدا تجھے دشمنوں سے بچائے گا اور اُس شخص پر حملہ کرے گا کہ جو ظلم کی راہ سے تیرے پر حملہ کرے گا۔ اُس کا غضب زمین پر اتر آیا کیونکہ لوگوں نے معصیت پر کمر باندھی اور وہ حد سے گزر گئے ۔ بیماریاں ملک میں پھیلائی جائیں گی اور طرح طرح کے اسباب سے جانیں تلف کی جائیں گی۔ یہ امر آسمان پر قرار پا چکا ہے۔ یہ اُس خدا کا امر ہے جو غالب اور بزرگ ہے۔ جو کچھ قوم پر نازل ہوا۔ خدا اُس کو نہیں بدلائے گا۔ جب تک کہ وہ لوگ اپنے دلوں کی حالتیں نہ بدلا لیں ۔
وہ اُس گاؤں کو جو قادیان ہے کسی قدر ابتلا کے بعد اپنی پناہ میں لے لے گا☆۔ آج خدا کے سوا کوئی بچانے والا نہیں۔ ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے کشتی بنا۔ وہ قادر خدا تیرے ساتھ اور تیرے لوگوں کے ساتھ ہے۔ میں ہر ایک کو جو تیرے گھر کے اندر ہے بچاؤں گا مگر وہ لوگ جو میرے مقابل پر تکبر سے اپنے تئیں نافرمان اور اونچا رکھتے ہیں یعنی پورے طور پر اطاعت نہیں کرتے ۔ اور خاص کر میری حفاظت تیرے شامل حال رہے گی ۔ خدائے رحیم کی طرف سے سلامتی ہے۔ تم پر سلامتی ہے تم پاک نفس ہو۔ اور اسے مجرمو! آج تم الگ ہو جاؤ۔ میں اس رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور افطار کروں گا اور روزہ بھی رکھوں گا اور اُس کو ملامت کروں گا جو ملامت کرتا ہے اور تجھے وہ نعمت دوں گا جو ہمیشہ رہے گی اور اپنی تجلی کے نور تجھ میں رکھ دوں گا اور میں اس زمین سے وقت مقدر تک علیحدہ نہیں ہوں گا یعنی میری قہری تجلی میں فرق نہ آئے گا۔ میں صاعقہ ہوں اور میں رحمان ہوں صاحب لطف اور بخشش ۔
انہیں دنوں میں جبکہ متواتر یہ وحی خدا کی مجھ پر ہوئی اور نہایت زبردست اور قومی نشان ظاہر ہوئے اور میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا دلائل کے ساتھ دنیا میں شائع ہوا۔ خوست علاقہ حدود کابل میں ایک بزرگ تک جن کا نام اخوند زادہ مولوی عبداللطیف ہے کسی اتفاق سے میری کتابیں پہنچیں ۔ اور وہ تمام دلائل جو نقل اور عقل اور تائیدات سماوی سے میں نے اپنی کتابوں میں لکھے تھے وہ سب دلیلیں اُن کی نظر سے گزریں اور چونکہ وہ بزرگ نہایت پاک باطن اور اہل علم اور اہل فراست اور خدا ترس اور تقویٰ شعار تھے۔ اس لئے اُن کے دل پر ان دلائل کا قومی اثر ہوا اور ان کو اس دعوے کی تصدیق میں کوئی دقت پیش نہ آئی۔ اور اُن کی پاک کانشنس نے بلا توقف مان لیا کہ یہ شخص منجانب اللہ اور یہ دعویٰ صحیح ہے۔ تب انہوں نے میری کتابوں کو نہایت محبت سے دیکھنا شروع کیا اور اُن کی روح جو نہایت صاف اور مستعد تھی میری طرف کھینچی گئی یہاں تک کہ ان کے لئے بغیر ملاقات کے دور بیٹھے رہنا نہایت دشوار ہو گیا ۔ آخر اس زبردست کشش اور محبت اور اخلاص کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اس غرض سے کہ ریاست کابل سے اجازت حاصل ہو جائے حج کے لئے مصمم ارادہ کیا اور امیر کابل سے اس سفر کے لئے درخواست کی۔ چونکہ وہ امیر کابل کی نظر میں ایک برگزیدہ عالم اور تمام علماء کے سردار سمجھے جاتے تھے۔ اس لئے نہ صرف اُن کو اجازت ہوئی بلکہ امداد کے طور پر کچھ روپیہ بھی دیا گیا۔ سو وہ اجازت حاصل کر کے قادیان میں پہنچے۔ اور جب مجھ سے اُن کی ملاقات ہوئی تو قسم اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ان کو اپنی پیروی اور اپنے دعوے کی تصدیق میں ایسا فنا شدہ پایا کہ جس سے بڑھ کر انسان کے لئے ممکن نہیں۔ اور جیسا کہ ایک شیشہ عطر سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ ایسا ہی میں نے ان کو اپنی محبت سے بھرا ہوا پایا۔ اور جیسا کہ اُن کا چہرہ نورانی تھا ایسا ہی اُن کا دل مجھے نورانی معلوم ہوتا تھا۔ اس بزرگ مرحوم میں نہایت قابل رشک یہ صفت تھی کہ در حقیقت وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتا تھا۔ اور وہ در حقیقت اُن راستبازوں میں سے تھا جو خدا سے ڈر کر اپنے تقویٰ اور اطاعت الٰہی کو انتہا تک پہنچاتے ہیں اور خدا کے خوش کرنے کے لئے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنی جان اور عزت اور مال کو ایک ناکارہ خس و خاشاک کی طرح اپنے ہاتھ سے چھوڑ دینے کو طیار ہوتے ہیں۔ اُس کی ایمانی قوت اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ اگر میں اُس کو ایک بڑے سے بڑے پہاڑ سے تشبیہ دوں تو میں ڈرتا ہوں کہ میری تشبیہ ناقص نہ ہو۔ اکثر لوگ باوجود بیعت کے اور باوجود میرے دعوے کی تصدیق کے پھر بھی دنیا کو دین پر مقدم رکھنے کے زہر یلے تخم سے بکلی نجات نہیں پاتے بلکہ کچھ ملونی اُن میں باقی رہ جاتی ہے۔ اور ایک پوشیدہ بخل خواہ وہ جان کے متعلق ہو خواہ آبرو کے متعلق اور خواہ مال کے اور خواہ اخلاقی حالتوں کے متعلق ان کے نامکمل نفسوں میں پایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ان کی نسبت ہمیشہ میری یہ حالت رہتی ہے کہ میں ہمیشہ کسی خدمت دینی کے پیش کرنے کے وقت ڈرتا رہتا ہوں کہ ان کو ابتلا پیش نہ آوے۔ اور اس خدمت کو اپنے پر ایک بوجھ سمجھ کر اپنی بیعت کو الوداع نہ کہہ دیں لیکن میں کن الفاظ سے اس بزرگ مرحوم کی تعریف کروں جس نے اپنے مال اور آبرو اور جان کو میری پیروی میں یوں پھینک دیا کہ جس طرح کوئی رڈی چیز پھینک دی جاتی ہے۔ اکثر لوگوں کو میں دیکھتا ہوں کہ ان کا اول اور آخر برابر نہیں ہوتا اور ادنیٰ سی ٹھوکر یا شیطانی وسوسہ یا بد صحبت سے وہ گر جاتے ہیں مگر اس جوانمرد مرحوم کی استقامت کی تفصیل میں کن الفاظ سے بیان کروں کہ وہ نورِ یقین میں دمبدم ترقی کرتا گیا اور جب وہ میرے پاس پہنچا تو میں نے اُن سے دریافت کیا کہ کن دلائل سے آپ نے مجھے شناخت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ سب سے پہلے قرآن ہے جس نے آپ کی طرف میری رہبری کی اور فرمایا کہ میں ایک ایسی طبیعت کا آدمی تھا کہ پہلے سے فیصلہ کر چکا تھا کہ یہ زمانہ جس میں ہم ہیں۔ اِس زمانہ کے اکثر مسلمان اسلامی روحانیت سے بہت دور جا پڑے ہیں۔ وہ اپنی زبانوں سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے مگر اُن کے دِل مومن نہیں۔ اور اُن کے اقوال اور افعال بدعت اور شرک اور انواع و اقسام کی معصیت سے پُر ہیں۔ ایسا ہی بیرونی حملے بھی انتہا تک پہنچ گئے ہیں۔ اور اکثر دل تاریک پردوں میں ایسے بے حس و حرکت ہیں کہ گویا مر گئے ہیں ۔ اور وہ دین اور تقویٰ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے جس کی تعلیم صحابہ رضی اللہ عنہم کو دی گئی تھی اور وہ صدق اور یقین اور ایمان جو اس پاک جماعت کو ملا تھا بلا شبہ اب وہ بباعث کثرت غفلت کے مفقود ہے اور شاذ نا در حکم معدوم کا رکھتا ہے۔ ایسا ہی میں دیکھ رہا تھا کہ اسلام ایک مردہ کی حالت میں ہو رہا ہے اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ پردہ غیب سے کوئی منجانب اللہ مجدد دین پیدا ہو۔ بلکہ میں روز بروز اس اضطراب میں تھا کہ وقت تنگ ہوتا جاتا ہے۔ اُنہیں دنوں میں یہ آواز میرے کانوں تک پہنچی کہ ایک شخص نے قادیان ملک پنجاب میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میں نے بڑی کوشش سے چند کتابیں آپ کی تالیف کردہ بہم پہنچائیں۔ اور انصاف کی نظر سے ان پر غور کر کے پھر قرآن کریم پر ان کو عرض کیا تو قرآن شریف کو ان کے ہر ایک بیان کا مصدق پایا۔ پس وہ بات جس نے پہلے پہلے مجھے اس طرف حرکت دی وہ یہی ہے کہ میں نے دیکھا کہ ایک طرف تو قرآن شریف بیان کر رہا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے اور واپس نہیں آئیں گے۔ اور دوسری طرف وہ موسوی سلسلہ کے مقابل پر اس امت کو وعدہ دیتا ہے کہ وہ اس امت کی مصیبت اور ضلالت کے دنوں میں ان خلیفوں کے رنگ میں خلیفے بھیجتا رہے گا جو موسوی سلسلہ کے قائم اور بحال رکھنے کے لئے بھیجے گئے تھے۔ سو چونکہ ان میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ایسے خلیفے تھے جو موسوی سلسلہ کے آخر میں پیدا ہوئے اور نیز وہ ایسے خلیفے تھے کہ جو لڑائی کے لئے مامور نہیں ہوئے تھے اس لئے خدا تعالیٰ کے کلام سے ضرور یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کے رنگ پر بھی اِس اُمت میں آخری زمانہ میں کوئی پیدا ہو۔ اِسی طرح بہت سے کلمات معرفت اور دانائی کے اُن کے منہ سے میں نے سنے جو بعض یاد رہے اور بعض بھول گئے اور وہ کئی مہینے تک میرے پاس رہے۔ اور اس قدر اُن کو میری باتوں میں دلچسپی ہوئی کہ انہوں نے میری باتوں کو حج پر ترجیح دی اور کہا کہ میں اس علم کا محتاج ہوں جس سے ایمان قوی ہو اور علم عمل پر مقدم ہے۔ سو میں نے اُن کو مستعد پا کر جہاں تک میرے لئے ممکن تھا اپنے معارف اُن کے دل میں ڈالے اور اس طرح پر ان کو سمجھایا کہ دیکھو یہ بات بہت صاف ہے۔ کہ اللہ جلّ شانۂ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا(المزمل: ۱۶) جس کے یہ معنی ہیں کہ ہم نے ایک رسول کو جو تم پر گواہ ہے یعنی اس بات کا گواہ کہ تم کیسی خراب حالت میں ہو تمہاری طرف اسی رسول کی مانند بھیجا ہے جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔ سو اس آیت میں اللہ جلّ شانۂ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسیٰ ٹھہرایا ہے۔ پھر سورۂ نور میں سلسلہ خلافت محمدیہ کو سلسلہ خلافت موسویہ کا مثیل ٹھہرا دیا ہے۔ سو کم سے کم تحقق مشابہت کے لئے یہ ضروری ہے کہ دونوں سلسلوں کے اوّل اور آخر میں نمایاں مشابہت ہو یعنی یہ ضروری ہے کہ اس سلسلہ کے اوّل پر مثیل موسیٰ ہو اور اس سلسلہ کے آخیر میں مثیل عیسیٰ ۔ اور ہمارے مخالف علماء یہ تو مانتے ہیں کہ سلسلہ ملت اسلامیہ مثیل موسیٰ سے شروع ہوا مگر وہ سراسر ہٹ دھرمی سے اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ خاتمہ اس سلسلہ کا مثیل عیسیٰ پر ہوگا۔ اور اس صورت میں وہ عمداً قرآن شریف کو چھوڑتے ہیں کیا یہ سچ نہیں ہے کہ قرآن شریف نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسیٰ قرار دیا ہے اور کیا یہ سچ نہیں ہے کہ قرآن کریم نے نہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسیٰ قرار دیا بلکہ آیت کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ(النور: ۵۶) میں تمام سلسلہ خلافت محمدیہ کو سلسلہ خلافت موسویہ کا مثیل قرار دے دیا ہے۔ پس اس صورت میں قطعاً و وجوباً لازم آتا ہے کہ سلسلۂ خلافت اسلامیہ کے آخر میں ایک مثیل عیسیٰ پیدا ہو اور چونکہ اوّل اور آخر کی مشابہت ثابت ہونے سے تمام سلسلہ کی مشابہت ثابت ہو جاتی ہے اس لئے خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں کی کتابوں میں جا بجا انہیں دونوں مشابہتوں پر زور دیا گیا ہے بلکہ اوّل اور آخر کے دشمنوں میں بھی مشابہت ثابت کی گئی ہے جیسا کہ ابو جہل کو فرعون سے مشابہت دی گئی ہے اور آخری مسیح کے مخالفین کو یہود مغضوب عليهم سے اور آیت کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ میں یہ بھی اشارہ کر دیا ہے کہ آخری خلیفہ اس امت کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسے زمانہ میں آئے گا جو وہ زمانہ اپنی مدت میں اس زمانہ کی مانند ہوگا جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد آئے تھے یعنی چودھویں صدی کیونکہ کما کا لفظ جس مشابہت کو چاہتا ہے اس میں زمانہ کی مشابہت بھی داخل ہے تمام فرقے یہودیوں کے اس بات پر متفق ہیں کہ عیسیٰ بن مریم نے جس زمانہ میں دعوٰے نبوت کیا وہ زمانہ حضرت موسیٰ سے چودھویں صدی تھی۔ اور عیسائیوں میں سے پروٹسٹنٹ مذہب والے خیال کرتے ہیں ۔ کہ پندرھویں۱۵۰۰ صدی موسوی سے کچھ سال گزر چکے تھے جب حضرت عیسیٰ نے دعوٰے نبوت کیا۔ اور پروٹسٹنٹ کا قول یہودیوں کے متفق علیہ قول کے مقابل پر کچھ چیز نہیں اور اگر اس کی صحت مان بھی لیں تو اس قدر قلیل فرق سے مشابہت میں کچھ فرق نہیں آتا بلکہ مشابہت ایک قلیل فرق کو چاہتی ہے۔ ایسا ہی قرآن شریف کی رو سے سلسلہ محمدیہ سلسلہ موسویہ سے ہر یک نیکی اور بدی میں مشابہت رکھتا ہے۔ اسی کی طرف ان آیتوں میں اشارہ ہے کہ ایک جگہ یہود کے حق میں لکھا ہے۔ فَیَنۡظُرَ کَیۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ(الاعراف: ۱۳۰) ۔ دوسری جگہ مسلمانوں کے حق میں لکھا ہے۔ لِنَنۡظُرَ کَیۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ(یونس: ۱۵) ۔ ان دونوں آیتوں کے یہ معنے ہیں کہ خدا تمہیں خلافت اور حکومت عطا کر کے پھر دیکھے گا کہ تم راستبازی پر قائم رہتے ہو یا نہیں۔ ان آیتوں میں جو الفاظ یہود کے لئے استعمال کئے ہیں وہی مسلمانوں کے لئے یعنی ایک ہی آیت کے نیچے ان دونوں کو رکھا ہے۔ پس ان آیتوں سے بڑھ کر اِس بات کے لئے اور کونسا ثبوت ہو سکتا ہے کہ خدا نے بعض مسلمانوں کو یہود قرار دیدیا ہے اور صاف اشارہ کر دیا ہے کہ جن بدیوں کے یہود مرتکب ہوئے تھے یعنی علماء اُن کے۔ اس اُمت کے علماء بھی انہیں بدیوں کے مرتکب ہوں گے۔ اور اسی مفہوم کی طرف آیت غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحۃ: ۷) میں بھی اشارہ ہے کیونکہ اس آیت میں باتفاق کل مفسرین مغضوب علیہم سے مُراد وہ یہود ہیں جن پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے انکار کی وجہ سے غضب نازل ہوا تھا۔ اور احادیث صحیحہ میں مغضوب علیہم سے مراد وہ یہود ہیں جو موردِ غضب الٰہی دنیا میں ہی ہوئے تھے۔ اور قرآن شریف یہ بھی گواہی دیتا ہے کہ یہود کو مغضوب علیہم ٹھہرانے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان پر لعنت جاری ہوئی تھی۔ پس یقینی اور قطعی طور پر مغضوب علیہم سے مراد وہ یہود ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر ہلاک کرنا چاہا تھا۔ اب خدا تعالیٰ کا یہ دعا سکھلانا کہ خدایا ایسا کر کہ ہم وہی یہودی نہ بن جائیں جنہوں نے عیسیٰ کو قتل کرنا چاہا تھا صاف بتلا رہا ہے کہ اُمت محمدیہ میں بھی ایک عیسیٰؑ پیدا ہونے والا ہے۔ ورنہ اس دعا کی کیا ضرورت تھی۔ اور نیز جبکہ آیات مذکورہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی زمانہ میں بعض علماء مسلمان بالکل علماءِ یہود سے مشابہ ہو جائیں گے اور یہود بن جائیں گے۔ پھر یہ کہنا کہ ان یہودیوں کی اصلاح کے لئے اسرائیلی عیسیٰؑ آسمان سے نازل ہوگا بالکل غیر معقول بات ہے کیونکہ اوّل تو باہر سے ایک نبی کے آنے سے مُہر ختم نبوت ٹوٹتی ہے اور قرآن شریف صریح طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء ٹھہراتا ہے ۔ ماسوا اس کے قرآن شریف کے رُو سے یہ اُمت خیر الامم کہلاتی ہے۔ پس اس کی اس سے زیادہ بے عزتی اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ یہودی بننے کے لئے تو یہ اُمت ہو مگر عیسیٰ باہر سے آوے۔ اگر یہ سچ ہے کہ کسی زمانہ میں اکثر علماء اس اُمت کے یہودی بن جائیں گے یعنی یہود خصلت ہو جائیں گے۔ تو پھر یہ بھی سچ ہے کہ ان یہود کے درست کرنے کے لئے عیسیٰ باہر سے نہیں آئے گا بلکہ جیسا کہ بعض افراد کا نام یہود رکھا گیا ہے۔ ایسا ہی اس کے مقابل پر ایک فرد کا نام عیسیٰ بھی رکھا جائے گا ۔ اس بات کا انکار نہیں ہو سکتا کہ قرآن اور حدیث دونوں نے بعض افراد اس اُمت کا نام یہود رکھا ہے۔ جیسا کہ آیت غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحة: ۷) سے بھی ظاہر ہے کیونکہ اگر بعض افراد اس اُمت کے یہودی بننے والے نہ ہوتے تو دُعا مذکورہ بالا ہر گز نہ سکھلائی جاتی ۔ جب سے دنیا میں خدا کی کتابیں آئی ہیں۔ خدا تعالیٰ کا ان میں یہی محاورہ ہے کہ جب کسی قوم کو ایک بات سے منع کرتا ہے کہ مثلاً تم زنا نہ کرو۔ یا چوری نہ کرو۔ یا یہودی نہ بنو۔ تو اس منع کے اندر یہ پیشگوئی مخفی ہوتی ہے کہ بعض ان میں سے ارتکاب ان جرائم کا کریں گے۔ دنیا میں کوئی شخص ایسی نظیر پیش نہیں کر سکتا کہ ایک جماعت یا ایک قوم کو خدا تعالیٰ نے کسی ناکردنی کام سے منع کیا ہو۔ اور پھر وہ سب کے سب اس کام سے باز رہے ہوں بلکہ ضرور بعض اس کام کے مرتکب ہو جاتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے توریت میں یہودیوں کو یہ حکم دیا کہ تم نے توریت کی تحریف نہ کرنا سو اس حکم کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض یہود نے توریت کی تحریف کی مگر قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو کہیں یہ حکم نہیں دیا کہ تم نے قرآن کی تحریف نہ کرنا بلکہ یہ فرمایا کہ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ(الحجر: ۱۰) یعنی ہم نے ہی قرآن شریف کو اتارا اور ہم ہی اس کی محافظت کریں گے۔ اسی وجہ سے قرآن شریف تحریف سے محفوظ رہا۔ غرض یہ قطعی اور یقینی اور مسلّم سنت الٰہی ہے کہ جب خدائے تعالیٰ کسی کتاب میں کسی قوم یا جماعت کو ایک بُرے کام سے منع کرتا ہے یا نیک کام کے لئے حکم فرماتا ہے تو اُس کے علم قدیم میں یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ اس کے حکم کی مخالفت بھی کریں گے پس خدا تعالیٰ کا سورہ فاتحہ میں یہ فرمانا کہ تم دعا کیا کرو کہ تم وہ یہودی نہ بن جاؤ جنہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دینا چاہا تھا جس سے دنیا میں ہی اُن پر غضب الٰہی کی مار پڑی۔ اس سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے علم میں یہ مقدر تھا کہ بعض افراد اس اُمت کے جو علماءِ اُمت کہلائیں گے اپنی شرارتوں اور تکذیب مسیح وقت کی وجہ سے یہودیوں کا جامہ پہن لیں گے ورنہ ایک لغو دعا کے سکھلانے کی کچھ ضرورت نہ تھی یہ تو ظاہر ہے کہ علماءِ اِس اُمّت کے اس طرح کے یہودی نہیں بن سکتے کہ وہ اسرائیل کے خاندان میں سے بن جائیں اور پھر اس عیسیٰ بن مریم کو جو مدت سے اس دنیا سے گزر چکا ہے سولی دینا چاہیں کیونکہ اب اس زمانہ میں نہ وہ یہودی اس زمین پر موجود ہیں نہ وہ عیسیٰ موجود ہے۔ پس ظاہر ہے کہ اس آیت میں ایک آئندہ واقعہ کی طرف اشارہ ہے اور یہ بتلانا منظور ہے کہ اس اُمت میں عیسیٰ مسیح کے رنگ میں آخری زمانہ میں ایک شخص مبعوث ہوگا اور اس کے وقت کے بعض علماءِ اسلام ان یہودی علماء کی طرح اس کو دکھ دیں گے جو عیسیٰ علیہ السلام کو دکھ دیتے تھے اور ان کی شان میں بد گوئی کریں گے بلکہ احادیث صحیحہ سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ یہودی بننے کے یہ معنی ہیں کہ یہودیوں کے بداخلاق اور بد عادات علماءِ اسلام میں پیدا ہو جائیں گی اور گو بظاہر مسلمان کہلائیں گے مگر اُن کے دل مسخ ہو کر ان یہودیوں کے رنگ سے رنگین ہو جائیں گے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دکھ دے کر مورد غضب الٰہی ہوئے تھے پس جبکہ یہودی یہی لوگ بنیں گے جو مسلمان کہلاتے ہیں تو کیا یہ اس امت مرحومہ کی بے عزتی نہیں کہ یہودی بننے کے لئے تو یہ مقرر کئے جائیں مگر مسیح جو ان یہودیوں کو درست کرے گا وہ باہر سے آوے یہ تو قرآن شریف کے منشاء کے سراسر بر خلاف ہے۔ قرآن شریف نے سلسلہ محمدیہ کو ہر یک نیکی اور بدی میں سلسلہ موسویہ کے مقابل رکھا ہے نہ صرف بدی میں ۔ ماسوا اس کے آیت غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحۃ: ۷) کا صریح یہ منشاء ہے کہ وہ لوگ یہودی اس لئے کہلائیں گے کہ خدا کے مامور کو جوان کی اصلاح کے لئے آئے گا بنظر تحقیر و انکار دیکھیں گے اور اس کی تکذیب کریں گے اور اس کو قتل کرنا چاہیں گے اور اپنے قومی غضبیہ کو اس کی مخالفت میں بھڑکائیں گے۔ اِس لئے وہ آسمان پر مغضوب عليهم کہلائیں گے اُن یہودیوں کی مانند جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مکذب تھے جس تکذیب کا آخر کار نتیجہ یہ ہوا تھا کہ سخت طاعون یہود میں پڑی تھی اور بعد اس کے طیطوس رومی کے ہاتھ سے وہ نیست و نابود کئے گئے تھے۔ پس آیت غير المغضوب عليهم سے ظاہر ہے کہ دنیا میں ہی کوئی غضب اُن پر نازل ہوگا کیونکہ آخرت کے غضب میں تو ہر ایک کافر شریک ہے اور آخرت کے لحاظ سے تمام کافر مغضوب عليهم ہیں پھر کیا وجہ کہ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں خاص کر کے اُن یہودیوں کا نام مغضوب عليهم رکھا جنہوں نے حضرت عیسیٰؑ کو سولی دینا چاہا تھا بلکہ اپنی دانست میں سولی دے چکے تھے۔ پس یاد رہے کہ ان یہودیوں کو مغضوب علیہم کی خصوصیت اس لئے دی گئی کہ دنیا میں ہی اُن پر غضب الہٰی نازل ہوا تھا اور اسی بنا پر سورہ فاتحہ میں اس اُمت کو یہ دعا سکھلائی گئی کہ خدایا ایسا کر کہ وہی یہودی ہم نہ بن جائیں یہ ایک پیشگوئی تھی جس کا یہ مطلب تھا کہ جب اس اُمت کا مسیح مبعوث ہوگا تو اس کے مقابل پر وہ یہود بھی پیدا ہو جائیں گے جن پر اِسی دنیا میں خدا کا غضب نازل ہوگا۔ پس اس دعا کا یہ مطلب تھا کہ یہ مقدّر ہے کہ تم میں سے بھی ایک مسیح پیدا ہوگا اور اس کے مقابل پر یہود پیدا ہوں گے جن پر دنیا میں ہی غضب نازل ہوگا۔ سو تم دعا کرتے رہو کہ تم ایسے یہود نہ بن جاؤ۔
یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ یوں تو ہر ایک کافر قیامت میں مورد غضب الہٰی ہے لیکن اِس جگہ غضب سے مراد دنیا کا غضب ہے جو مجرموں کے سزا دینے کے لئے دنیا میں ہی نازل ہوتا ہے اور وہ یہودی جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دکھ دیا تھا اور بموجب نص قرآن کریم ان کی زبان پر لعنتی کہلائے تھے وہ وہی لوگ تھے جن پر دنیا میں ہی عذاب کی مار پڑی تھی یعنی اوّل سخت طاعون سے وہ ہلاک کئے گئے تھے اور پھر جو باقی رہ گئے تھے وہ طیطوس رومی کے ہاتھ سے سخت عذاب کے ساتھ ملک سے منتشر کئے گئے تھے۔ پس غير المغضوب عليهم میں یہی عظیم الشان پیشگوئی مخفی ہے کہ وہ لوگ جو مسلمانوں میں سے یہودی کہلائیں گے وہ بھی ایک مسیح کی تکذیب کریں گے جو اُس پہلے مسیح کے رنگ پر آئے گا یعنی نہ وہ جہاد کرے گا اور نہ تلوار اُٹھائے گا بلکہ پاک تعلیم اور آسمانی نشانوں کے ساتھ دین کو پھیلائے گا اور اس آخری مسیح کی تکذیب کے بعد بھی دنیا میں طاعون پھیلے گی اور وہ سب باتیں پوری ہوں گی جو ابتدا سے سب نبی کہتے چلے آئے ہیں۔ اور یہ وسوسہ کہ آخری زمانہ میں وہی مسیح ابن مریم دوبارہ دنیا میں آجائے گا۔ یہ تو قرآن شریف کے منشاء کے سراسر برخلاف ہے جو شخص قرآن شریف کو ایک تقویٰ اور ایمان اور انصاف اور تدبر کی نظر سے دیکھے گا اُس پر روز روشن کی طرح کھل جائے گا کہ خداوند قادر کریم نے اس اُمت محمدیہ کو موسوی اُمت کے بالکل بالمقابل پیدا کیا ہے۔ ان کی اچھی باتوں کے بالمقابل پر اچھی باتیں دی ہیں اور اُن کی بُری باتوں کے مقابل پر بُری باتیں۔ اِس اُمت میں بعض ایسے ہیں جو انبیاء بنی اسرائیل سے مشابہت رکھتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو مغضوب علیہم یہود سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اس کی ایسی مثال ہے جیسے ایک گھر ہے جس میں عمدہ عمدہ آراستہ کمرے موجود ہیں جو عالیشان اور مہذب لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہیں اور جس کے بعض حصے میں پائخانے بھی ہیں اور بدر رو بھی اور گھر کے مالک نے چاہا کہ اس محل کے مقابل پر ایک اور محل بناوے کہ تا جو سامان اس پہلے محل میں تھا اس میں بھی موجود ہو۔ سو یہ دوسرا محل اسلام کا محل ہے اور پہلا محل موسوی سلسلہ کا محل تھا۔ یہ دوسرا محل پہلے محل کا کسی بات میں محتاج نہیں۔ قرآن شریف توریت کا محتاج نہیں اور یہ اُمت کسی اسرائیلی نبی کی محتاج نہیں۔ ہر ایک کامل جو اس اُمت کے لئے آتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے پرورش یافتہ ہے اور اس کی وحی محمدی وحی کی ظل ہے۔ یہی ایک نکتہ ہے جو سمجھنے کے لائق ہے۔ افسوس ہمارے مخالف حضرت عیسیٰ کو دوبارہ لاتے ہیں نہیں سمجھتے کہ مطلب تو یہ ہے کہ اسلام کو فخر مشابہت حاصل ہو نہ یہ ذلت کہ کوئی اسرائیلی نبی آوے تا اُمت اصلاح پاوے۔
علاوہ اس کے یہ نہایت بیہودہ خیال ہے کہ ایسے لغو اعتقاد پر زور دیا جاوے جس کی خدا کی کتاب میں کوئی نظیر نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آسمان پر چڑھنے کی درخواست کی گئی جیسا کہ قرآن شریف میں مذکور ہے مگر وہ یہ کہہ کر نامنظور کی گئی کہ قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا۱ تو کیا عیسیٰ بشر نہ تھا کہ اُس کو بغیر درخواست کے آسمان پر چڑھایا گیا۔ پھر قرآن شریف سے تو صرف رفع الی اللہ ثابت ہے جو ایک روحانی امر ہے نہ رفع الی السّماء اور یہودیوں کا اعتراض تو یہ تھا کہ جو شخص لکڑی پر لٹکایا جاوے اُس کا رفع روحانی دوسرے نبیوں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف نہیں ہوتا اور یہی اعتراض دفع کرنے کے لائق تھا۔ پس قرآن شریف نے کہاں اس اعتراض کو دفع کیا ہے یعنی اس تمام نزاع کی بنیاد یہ تھی کہ یہودی کہتے تھے کہ عیسیٰ مصلوب ہو گیا ہے اور جو شخص مصلوب ہو اُس کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوتا اس لئے عیسیٰ کا اور نبیوں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف رفع روحانی نہیں ہوا لہذا وہ مومن نہیں ہے اور نہ نجات یافتہ ہے اور چونکہ قرآن اِس بات کا ذمہ دار ہے کہ پہلے جھگڑوں کا تصفیہ فرماوے لہذا اُس نے یہ فیصلہ فرمایا کہ عیسیٰ کا بھی دوسرے نبیوں کی طرح رفع ہوا ہے۔ خدا نے تو ایک جھگڑے کا فیصلہ کرنا تھا۔ پس اگر خدا تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہ فیصلہ نہیں کیا تو پھر بتلاؤ کہ کس مقام میں یہ فیصلہ کیا۔ کیا نعوذ باللہ اس طرح کی بدفہمی خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہو سکتی ہے کہ جھگڑا تو یہود کی طرف سے روحانی رفع کا تھا اور خدا یہ کہے کہ عیسیٰ مع جسم دوسرے آسمان پر بیٹھا ہے۔ ظاہر ہے کہ نجات کے لئے مع جسم آسمان پر جانا شرط نہیں صرف روحانی رفع شرط ہے۔
پس اس جگہ اس جھگڑے کے فیصلہ کے لئے یہ بیان کرنا تھا کہ نعوذ باللہ عیسیٰ لعنتی نہیں ہے بلکہ ضرور رفع روحانی اس کو نصیب ہوا ہے۔ ماسوا اِس کے قرآن شریف میں جو رفع کے پہلے توفّی کا لفظ لایا گیا ہے یہ صریح اس بات پر قرینہ ہے کہ یہ وہ رفع ہے جو ہر ایک مومن کو موت کے بعد نصیب ہوتا ہے۔ اور توفّی کے یہ معنی کرنا کہ زندہ آسمان پر حضرت عیسیٰ اٹھائے گئے یہ بھی یہودیوں کی طرح قرآن شریف کی تحریف ہے۔ قرآن شریف اور تمام حدیثوں میں توفّی کا لفظ قبض روح کے بارہ میں استعمال پاتا ہے کسی مقام میں ان معنوں پر استعمال نہیں ہوا کہ کوئی شخص مع جسم زندہ آسمان پر اٹھایا گیا۔
ماسوا اس کے ان معنوں سے تو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ قرآن شریف میں عیسیٰ کی موت کا کہیں ذکر نہیں اور اس نے کبھی مرنا ہی نہیں کیونکہ جس جگہ اور جس مقام میں حضرت عیسیٰ کی نسبت توفّی کا لفظ ہوگا وہاں یہی معنی کرنے پڑیں گے کہ مع جسم آسمان پر چلا گیا یا جائے گا۔ پھر موت اس کی کس طرح ثابت ہوگی۔
علاوہ اس کے اگر دنیا میں دوبارہ انسان آسکتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو یہودیوں کے سامنے شرمندہ کیوں کیا کیونکہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دعوٰی مسیحیت کیا تو یہودیوں نے یہ حجت پیش کی تھی کہ تجھے ہم سچا مسیح نہیں مان سکتے کیونکہ ملا کی نبی کی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ سچا مسیح جس کے آنے کا وعدہ دیا گیا ہے جب وہ آئے گا تو ضرور ہے کہ اُس سے پہلے الیاس نبی دوبارہ دنیا میں آوے مگر الیاس نبی اب تک دوبارہ دنیا میں نہیں آیا اس لئے ہم تجھے سچا نہیں سمجھ سکتے۔ تب حضرت مسیح نے اُن کو یہ جواب دیا کہ وہ الیاس جو آنے والا تھا وہ یوحنا نبی ہے جس کو اہل اسلام یحییٰ کر کے پکارتے ہیں۔ اس جواب پر یہود سخت ناراض ہو گئے اور حضرت عیسیٰ کو مفتری اور کاذب قرار دیا۔ چنانچہ اب تک وہ اپنی کتابوں میں جو بعض میرے پاس موجود ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تکذیب کرتے ہیں اور اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ قیامت کے دن ہمیں پوچھے گا کہ اس شخص کو تم نے قبول نہیں کیا تو ہم ملا کی نبی کی کتاب اُس کے آگے رکھ دیں گے اور عرض کریں گے کہ یا الہی جبکہ تو نے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ جب تک الیاس نبی دوبارہ دنیا میں نہ آوے وہ سچا مسیح جس کا بنی اسرائیل سے وعدہ ہے مبعوث نہیں ہوگا۔ پس الیاس نبی دوبارہ دنیا میں نہ آیا اس لئے ہم نے اس شخص کو قبول نہ کیا۔ ہمیں یہ نہیں کہا گیا تھا کہ جب تک الیاس کا مثیل نہ آوے سچا مسیح نہیں آئے گا بلکہ ہمیں کہا گیا تھا کہ سچے مسیح کے پہلے سچ مچ الیاس کا دوبارہ آنا ضروری ہے سو وہ بات پوری نہ ہوئی۔
پھر اس کے بعد یہ فاضل یہودی جس کی کتاب میرے پاس ہے اپنی اس دلیل پر بڑا فخر کر کے پبلک کے سامنے اپیل کرتا ہے کہ کیا ایسے مفتری کو کوئی قبول کر سکتا ہے جو تاویلوں سے کام لیتا ہے اور اپنے استاد یوحنا کو خواہ نخواہ الیاس ٹھہراتا ہے۔ پھر اس کے بعد اس نے بڑا جوش ظاہر کیا ہے اور ایسے تحقیر کے الفاظ سے حضرت مسیح کو یاد کرتا ہے جن کی نقل ہم اس جگہ کر نہیں سکتے۔ اور اگر قرآن نازل نہ ہوا ہوتا تو اس حجت میں بظاہر یہود حق بجانب معلوم ہوتے تھے کیونکہ ملا کی نبی کے صحیفہ میں در حقیقت یہ الفاظ نہیں ہیں کہ سچے مسیح کے پہلے مثیل الیاس آئے گا بلکہ صاف لکھا ہے کہ اس مسیح سے پہلے خود الیاس کا دوبارہ آنا ضروری ہے۔ اس صورت میں اگر چہ عیسائی حضرت مسیح کی خدائی کے لئے روتے ہیں مگر نبوت بھی ثابت نہیں ہو سکتی۔ اور یہودی سچے معلوم ہوتے ہیں۔ پس یہ احسان قرآن شریف کا عیسائیوں پر ہے کہ حضرت مسیح کی سچائی ظاہر کر دی۔
اس جگہ ایک سوال باقی رہتا ہے اور وہ یہ کہ جس حالت میں ملا کی نبی کے صحیفہ میں صاف لفظوں میں لکھا ہے کہ جب تک الیاس نبی دوبارہ دنیا میں نہ آوے تب تک وہ سچا مسیح جس کا بنی اسرائیل کو وعدہ دیا گیا ہے دنیا میں نہیں آوے گا تو پھر اس صورت میں یہود کا کیا قصور تھا جو اُنہوں نے حضرت مسیح کو قبول نہیں کیا اور اس کو کافر اور مرتد اور ملحد قرار دیا۔ کیا ان کی صحت نیت کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ کتاب اللہ کی نص کے موافق انہوں نے عملدرآمد کیا۔ ہاں اگر ملا کی نبی کے صحیفہ میں مثیل الیاس کے دوبارہ آنے کا ذکر ہوتا تو اس صورت میں یہود ملزم ہو سکتے تھے کیونکہ یہ امر زیادہ بحث کے لائق نہیں تھا کہ یحییٰ نبی کو مثیل الیاس قرار دیا جاوے۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہود خوب جانتے تھے کہ خدائے تعالیٰ کی یہ عادت نہیں ہے کہ کوئی شخص دوبارہ دنیا میں آوے اور اس کی کوئی نظیر پہلے سے موجود نہیں تھی لہٰذا یہ صرف ایک استعارہ تھا جس طرح اور صدہا استعارات خدائے تعالیٰ کی کتابوں میں استعمال پاتے ہیں اور ایسے استعارات سے یہود بے خبر نہ تھے۔ پھر علاوہ اس کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تائیدات الٰہیہ بھی شامل تھیں اور فراست صحیحہ کے لئے کافی ذخیرہ تھا کہ یہود ان کو شناخت کر لیتے اور ان پر ایمان لاتے مگر وہ دن بدن شرارت میں بڑھتے گئے اور وہ نور جو صادقوں میں ہوتا ہے وہ ضرور انہوں نے حضرت عیسیٰ میں مشاہدہ کر لیا تھا مگر تعصب اور بخل اور شرارت نے ان کو نہ چھوڑا لیکن یاد رہے کہ یہ سوال تو صرف یہود کے بارہ میں ہوتا ہے جن کو پہلے پہل یہ ابتلا پیش آیا تھا مگر مسلمان اگر تقویٰ کو اختیار کرتے تو قرآن شریف نے اس ابتلا سے اُن کو بچا لیا تھا کیونکہ صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ عیسیٰ فوت ہو گیا۔ اور نہ صرف یہی بلکہ سورہ مائدہ میں صاف طور پر سمجھا دیا تھا کہ وہ دوبارہ نہیں آئے گا کیونکہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ(المائدة: ۱۱۸) میں یہی ذکر ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ قیامت کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھے گا کہ کیا تو نے ہی کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے ماننا تو حضرت عیسیٰ جواب دیں گے کہ یا الٰہی اگر میں نے ایسا کہا ہے تو تجھے معلوم ہوگا کیونکہ تیرے علم سے کوئی چیز باہر نہیں۔ میں نے تو صرف وہی کہا تھا جو تو نے فرمایا تھا پھر جبکہ تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر صرف تو ہی ان کا نگہبان تھا مجھے اُن کے حال کا کیا علم تھا۔
اب ظاہر ہے کہ اگر یہ بات سچ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور چالیس برس دنیا میں ٹھہریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور عیسائیوں کے ساتھ لڑائیاں کریں گے تو وہ قیامت کو خدائے تعالیٰ کے حضور میں کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ جب تو نے مجھے وفات دی تو اس کے بعد مجھے کیا علم ہے کہ عیسائیوں نے کونسی راہ اختیار کی ۔ اگر وہ یہی جواب دیں گے کہ مجھے خبر نہیں تو ان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی جھوٹا نہیں ہوگا کیونکہ جس شخص کو یہ علم ہے کہ وہ دنیا میں دوبارہ آیا تھا اور عیسائیوں کو دیکھا تھا کہ اس کو خدا سمجھ رہے ہیں اور اس کی پرستش کرتے ہیں اور ان سے لڑائیاں کیں اور پھر وہ خدا تعالیٰ کے روبرو انکار کرتا ہے کہ مجھے کچھ بھی خبر نہیں کہ میرے بعد انہوں نے کیا کیا اس سے زیادہ کاذب کون ٹھہر سکتا ہے۔ جواب صحیح تو یہ تھا کہ ہاں میرے خداوند مجھے عیسائیوں کی گمراہی کی خوب خبر ہے کیونکہ میں دوبارہ دنیا میں جا کر چالیس برس تک وہاں رہا اور صلیب کو توڑا پس میرا کچھ گناہ نہیں ہے۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ مشرک ہیں تو میں اُسی وقت ان کا دشمن ہو گیا بلکہ ایسی صورت میں کہ جبکہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس۴۰ برس تک دنیا میں رہ چکے ہوں گے اور اُن سب کو سزائیں دی ہوں گی جو اُن کو خدا سمجھتے تھے خدا تعالیٰ کا ایسا سوال اُن سے ایک لغوسوال ہوگا کیونکہ جبکہ خدا تعالیٰ کے علم میں یہ بات ہے کہ اُس شخص نے اپنے معبود ٹھہرائے جانے کی اطلاع پا کر ایسے لوگوں کو خوب سزا دی تو پھر ایسا سوال کرنا اس کی شان سے بعید ہے۔ غرض جس قدر مسلمانوں کو خدا تعالیٰ نے یہ کھول کر سنا دیا ہے کہ عیسیٰ فوت ہو گیا ہے اور پھر دنیا میں نہیں آئے گا۔ ہاں اس کا مثیل آنا ضروری ہے۔ اگر اس قسم کی تصریح ملا کی نبی کے صحیفہ میں ہوتی تو یہود ہلاک نہ ہوتے ۔ پس بلا شبہ وہ لوگ یہود سے بدتر ہیں کہ جو اس قدر تصریحات خدا تعالیٰ کے پاک کلام میں پا کر پھر حضرت عیسیٰ کے دوبارہ آنے کے منتظر ہیں۔
ماسوا اس کے ہمارے مخالف مولوی لوگوں کو دھوکہ دے کر یہ کہا کرتے ہیں کہ قرآن شریف سے اگر چہ نہیں مگر حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے مگر ہمیں معلوم نہیں کہ حدیثوں میں کہاں اور کس جگہ لکھا ہے کہ وہی اسرائیلی نبی جس کا عیسیٰ نام تھا جس پر انجیل نازل ہوئی تھی با وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے کے پھر دنیا میں آجائے گا۔ اگر صرف عیسیٰ یا ابن مریم کے نام پر دھوکہ کھانا ہے تو قرآن کریم کی سورۃ تحریم میں اس امت کے بعض افراد کا نام عیسیٰ اور ابن مریم رکھ دیا گیا ہے۔ ایماندار کے لئے اس قدر کافی ہے کہ اس امت کے بعض افراد کا نام بھی عیسیٰ یا ابن مریم رکھا گیا ہے کیونکہ جب خدا تعالیٰ نے سورۂ موصوفہ میں بعض افرادِ اُمت کو مریم سے مشابہت دی اور پھر اس میں نفخ روح کا ذکر کیا تو صاف ظاہر ہے کہ وہ روح جو مریم میں پھونکی گئی وہ عیسٰی تھا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اِس اُمت کا کوئی فرد اوّل اپنے خدا داد تقوٰی کی وجہ سے مریم بنے گا اور پھر عیسٰی ہو جائے گا جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدائے تعالیٰ نے پہلے میرا نام مریم رکھا اور پھر نفخ روح کا ذکر کیا اور پھر آخر میں میرا نام عیسٰی رکھ دیا۔
اور حدیثوں میں تو صاف لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات میں حضرت عیسٰی کو مردہ روحوں میں ہی دیکھا۔ آپ عرش تک پہنچ گئے مگر کوئی عیسٰی نام ایسا نظر نہ آیا جو معہ جسم عنصری علیحدہ تھا۔ دیکھا تو وہی روح دیکھی جو یحیٰ وفات یافتہ کے پاس تھی ظاہر ہے کہ زندوں کو مُردوں کے مکان میں گزر نہیں ہو سکتا۔ غرض خدا نے اپنے قول سے حضرت عیسٰی کی وفات پر گواہی دی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فعل سے یعنی رویت سے وہی گواہی دے دی ۔ اگر اب بھی کوئی نہ سمجھے تو پھر اس سے خدا سمجھے گا۔
ماسوا اس کے یہود سے زیادہ اُن کو تجربہ ہو چکا ہے کہ خدا تعالیٰ کی عادت نہیں ہے کہ دوبارہ دنیا میں لوگوں کو بھیجا کرے ورنہ ہمیں تو عیسٰی کی نسبت حضرت سیدنا محمد مصطفےؐ کے دوبارہ دنیا میں آنے کی زیادہ ضرورت تھی اور اسی میں ہماری خوشی تھی مگر خدا تعالیٰ نے اِنَّکَمَیِّتٌ(الزّمر: ۳۱) کہہ کر اس امید سے محروم کر دیا۔ یہ بات سوچنے کے لائق ہے کہ اگر دوبارہ دنیا میں آنے کا دروازہ کھلا تھا تو خدا تعالیٰ نے کیوں چند روز کے لئے الیاس نبی کو دوبارہ دنیا میں نہ بھیجا اور اس طرح پر لاکھوں یہودیوں کو واصل جہنم کیا۔ آخر حضرت مسیح نے آپ ہی یہ فیصلہ دیا کہ دوبارہ آنے سے کسی مثیل کا آنا مراد ہے۔ یہ فیصلہ اب تک انجیلوں میں لکھا ہوا موجود ہے۔ پھر جو بات ایک مرتبہ طے پا چکی ہے اور جو راہ خطرناک ثابت ہو چکا ہے اسی راہ پر پھر قدم مارنا عقلمندوں کا کام نہیں ہے۔ یہودیوں نے اس بات پر ضد کر کے کہ الیاس نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا بجز کفر اور روسیاہی کے کیا فائدہ اُٹھایا تا اِس زمانہ کے مسلمان اُس فائدہ کی توقع رکھیں ۔ جس سوراخ سے ایک بڑا گروہ کاٹا گیا اور ہلاک ہو چکا ہے پھر کیوں یہ لوگ اسی سوراخ میں ہاتھ ڈالتے ہیں۔ کیا حدیث لا یلدغ المؤمن من جحر واحد مرّتین یاد نہیں ۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے مرنا بھلا دیا ہے۔ وہ لوگ جس سورت کو پانچ وقت اپنی نمازوں میں پڑھتے ہیں یعنی غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ(الفاتحۃ: ۷) کیوں اس کے معنوں میں غور نہیں کرتے اور کیوں یہ نہیں سوچتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر بھی بعض صحابہ کو یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ دنیا میں آئیں گے مگر حضرت ابوبکر نے یہ آیت پڑھ کر کہ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ(آل عمران: ۱۴۵) اس خیال کو رفع دفع کر دیا۔ اور اس آیت کے یہ معنے سمجھائے کہ کوئی نبی نہیں جو فوت نہیں ہو چکا پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی فوت ہو جائیں تو کوئی افسوس کی جگہ نہیں یہ امر سب کے لئے مشترک ہے۔
ظاہر ہے کہ اگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے دلوں میں یہ خیال ہوتا کہ عیسٰی آسمان پر چھ سو برس سے زندہ بیٹھا ہے تو وہ ضرور حضرت ابوبکر کے آگے یہ خیال پیش کرتے لیکن اس روز سب نے مان لیا کہ سب نبی مر چکے ہیں اور اگر کسی کے دل میں یہ خیال بھی تھا کہ عیسٰیؑ زندہ ہے تو اُس نے اس خیال کو ایک ردّی چیز کی طرح اپنے دل سے باہر پھینک دیا۔ یہ میں نے اس لئے کہا کہ ممکن ہے کہ عیسائی مذہب کے قرب وجوار کے اثر کی وجہ سے کوئی ایسا شخص جو نبی ہو اور جس کی درایت صحیح نہ ہو یہ خیال رکھتا ہو کہ شاید عیسٰی اب تک زندہ ہی ہے مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ اس وعظ صدیقی کے بعد کل صحابہ اس بات پر متفق ہو گئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے جتنے نبی تھے سب مر چکے ہیں اور یہ پہلا اجماع تھا جو صحابہ میں ہوا۔ اور صحابہ رضی اللہ عنہم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں محو تھے کیوں کر اس بات کو قبول کر سکتے تھے کہ باوجودیکہ ان کے بزرگ نبی نے جو تمام نبیوں کا سردار ہے چوسٹھ برس کی بھی پوری عمر نہ پائی مگر عیسٰی چھ سو برس سے آسمان پر زندہ بیٹھا ہے۔ ہرگز ہرگز محبت نبوی فتوٰی نہیں دیتی کہ وہ عیسٰی علیہ السلام کی نسبت بالتخصیص ایسی فضیلت قائم کرتے۔ لعنت ہے ایسے اعتقاد پر جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین لازم آوے۔ وہ لوگ تو عاشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ وہ تو اس بات کے سننے سے زندہ ہی مر جاتے کہ اُن کا پیارا رسول فوت ہو گیا مگر عیسٰی آسمان پر زندہ بیٹھا ہے۔ وہ رسول نہ اُن کو بلکہ خدا تعالیٰ کو بھی تمام نبیوں سے زیادہ پیارا تھا۔ اسی وجہ سے جب عیسائیوں نے اپنی بدقسمتی سے اس رسول مقبول کو قبول نہ کیا اور اُس کو اتنا اُڑایا کہ خدا بنا دیا تو خدا تعالیٰ کی غیرت نے تقاضا کیا کہ ایک غلام غلمان محمدی سے یعنی یہ عاجز اس کا مثیل کر کے اس اُمت میں سے پیدا کیا اور اس کی نسبت اپنے فضل اور انعام کا زیادہ اُس کو حصہ دیا تا عیسائیوں کو معلوم ہو کہ تمام فضل خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
غرض عیسٰی بن مریم کے مثیل آنے کی ایک یہ بھی غرض تھی کہ اُس کی خدائی کو پاش پاش کر دیا جائے۔ انسان کا آسمان پر جا کر مع جسم عنصری آباد ہونا ایسا ہی سنت اللہ کے خلاف ہے جیسے کہ فرشتے مجسم ہو کر زمین پر آباد ہو جائیں ۔ وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا(الفتح: ۲۴) ۔
پھر یہ نادان قوم نہیں سوچتی کہ جس حالت میں صلیب دینے کے وقت ابھی تبلیغ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی نا تمام تھی اور ابھی دس قومیں یہود کی دوسرے ملکوں میں باقی تھیں جو اُن کے نام سے بھی بے خبر تھیں تو پھر حضرت عیسٰی کو یہ کیا سوجھی کہ اپنا منصبی کام نا تمام چھوڑ کر آسمان پر جا بیٹھے۔ پھر تعجب کہ اسلامی کتابوں میں تو حضرت عیسٰی کو نبی سیاح لکھا ہے مگر وہ تو صرف ساڑھے تین برس اپنے ہی گاؤں میں رہ کر راہیٔ ملک سماوی ہوئے۔
ظاہر ہے کہ جبکہ صرف بیہودہ قصوں پر بھروسہ کر کے حضرت عیسٰی کو خدا مانا جاتا ہے پھر اگر وہ یہ کرشمہ بھی دکھلا دیں کہ آسمان سے معہ فرشتوں کے اُتریں تو اس وقت کیا حال ہوگا۔ یاد رہے کہ جو شخص اترنے والا تھا وہ عین وقت پر اُتر آیا اور آج تمام نوشتے پورے ہو گئے تمام نبیوں کی کتابیں اسی زمانہ کا حوالہ دیتی ہیں ۔ عیسائیوں کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ اسی زمانہ میں مسیح موعود کا آنا ضروری تھا اُن کتابوں میں صاف طور پر لکھا تھا کہ آدم سے چھٹے ہزار کے اخیر پر مسیح موعود آئے گا۔ سو چھٹے ہزار کا اخیر ہو گیا۔ اور لکھا تھا کہ اس سے پہلے ذوالسنین ستارہ نکلے گا۔ سو مدت ہوئی کہ نکل چکا۔ اور لکھا تھا کہ اس کے ایام میں سورج اور چاند کو ایک ہی مہینہ میں جو رمضان کا مہینہ ہوگا گرہن لگے گا۔ سو مدت ہوئی کہ یہ پیشگوئی بھی پوری ہو چکی اور لکھا تھا کہ اس کے زمانہ میں ایک بڑے جوش سے طاعون پیدا ہوگی اس کی خبر انجیل میں بھی موجود ہے سو دیکھتا ہوں کہ طاعون نے اب تک پیچھا نہیں چھوڑا۔ اور قرآن شریف اور احادیث اور پہلی کتابوں میں لکھا تھا کہ اس کے زمانہ میں ایک نئی سواری پیدا ہوگی جو آگ سے چلے گی اور انہیں دنوں میں اونٹ بیکار ہو جائیں گے اور یہ آخری حصہ کی حدیث صحیح مسلم میں بھی موجود ہے سو وہ سواری ریل ہے جو پیدا ہوگئی۔ اور لکھا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا۔ سو صدی میں سے بھی اکیس برس گزر گئے۔ اب ان تمام نشانوں کے بعد جو شخص مجھے رد کرتا ہے وہ مجھے نہیں بلکہ تمام نبیوں کو رد کرتا ہے اور خدا تعالیٰ سے جنگ کر رہا ہے اگر وہ پیدا نہ ہوتا تو اس کے لئے بہتر تھا۔ خوب یاد رکھو کہ تمام خرابی اور تباہی جو اسلام میں پیدا ہوئی یہاں تک کہ اسی ملک ہندوستان میں ۲۹ لاکھ انسان مرتد ہو کر عیسائی ہو گیا۔ اس کا سبب یہی تھا کہ مسلمان حضرت عیسیٰ کی نسبت بے جا اور مبالغہ آمیز امیدیں رکھ کر اور ان کو ہر یک صفت میں خصوصیت دے کر قریب قریب عیسائیوں کے پہنچ گئے۔ یہاں تک کہ جو کچھ بعض انسانی صفات وہ حضرت سیدنا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت تجویز کرتے ہیں اگر کسی تاریخی کتاب میں اسی قسم کے صفات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت لکھے ہوں تو توبہ توبہ کر اُٹھتے ہیں۔ مثلاً ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات بیمار بھی ہو جاتے تھے اور آپ کو تپ بھی آجاتا تھا اور آپ دوا بھی کرتے تھے اور بسا اوقات سنگیاں پچھ کے ساتھ لگواتے تھے لیکن اگر اسی کے مشابہ حضرت مسیح کی نسبت لکھا ہو کہ وہ تپ میں یا کسی اور بیماری میں گرفتار ہو گئے اور ان کو اٹھا کر کسی ڈاکٹر کے پاس لے گئے تو فی الفور چونک اُٹھیں گے کہ یہ مسیح کی شان سے بعید ہے حالانکہ وہ صرف ایک عاجز انسان تھا اور تمام انسانی ضعفوں سے پورا حصہ رکھتا تھا اور وہ اپنے چار بھائی حقیقی اور رکھتا تھا جو بعض اس کے مخالف تھے۔ اور اس کی حقیقی ہمشیرہ دو تھیں۔ کمزور سا آدمی تھا جس کو صلیب پر محض دو میخوں کے ٹھوکنے سے غش آگیا۔ ہائے افسوس اگر مسلمان حضرت عیسیٰ کی نسبت قرآن شریف کے قول پر چلتے اور ان کو وفات یافتہ یقین رکھتے اور جیسا کہ قرآن کا منشا ہے ان کا دوبارہ آنا ممتنع سمجھتے تو اسلام میں یہ تباہی نہ آتی جو آگئی اور عیسائیت کا جلد تر خاتمہ ہو جاتا۔ شکر اللہ کہ اس وقت خدا نے آسمان سے اسلام کا ہاتھ پکڑ لیا۔
یہ وہ باتیں تھیں جو میں نے صاحبزادہ مولوی عبداللطیف صاحب سے کیں اور وہ امر جو آخر میں ان کو سمجھایا وہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں مذہبی پہلو کے رو سے سولہ۱۶ خصوصیتیں ہیں (۱) اوّل یہ کہ وہ بنی اسرائیل کے لئے ایک موعود نبی تھا جیسا کہ اس پر اسرائیلی نبیوں کے صحیفے گواہ ہیں۔ (۲) دوسری یہ کہ مسیح ایسے وقت میں آیا تھا جبکہ یہودی اپنی سلطنت کھو چکے تھے یعنی اس ملک میں یہودیوں کی کوئی سلطنت نہیں رہی تھی گو ممکن تھا کہ کسی اور ملک میں جہاں بعض فرقے یہود کے چلے گئے تھے کوئی حکومت ان کی قائم ہو گئی ہو جیسا کہ سمجھا جاتا ہے کہ افغان اور ایسا ہی کشمیری بھی یہود میں سے ہیں جن کا اسلام قبول کرنے کے بعد سلاطین میں داخل ہونا ایک ایسا واقعہ ہے جس سے انکار نہیں ہو سکتا۔ بہر حال حضرت مسیح کے ظہور کے وقت اس حصہ ملک سے یہود کی سلطنت جاتی رہی تھی اور وہ رومی سلطنت کے ماتحت زندگی بسر کرتے تھے اور رومی سلطنت کو انگریزی سلطنت سے بہت مشابہت تھی (۳) تیسری یہ کہ وہ ایسے وقت میں آیا تھا کہ جبکہ یہودی بہت سے فرقوں پر منقسم ہو چکے تھے اور ہر یک فرقہ دوسرے فرقہ کا مخالف تھا اور ان سب میں با ہم سخت عناد اور خصومتیں پیدا ہو گئی تھیں اور توریت کے اکثر احکام بباعث ان کے کثرت اختلافات کے مشتبہ ہو گئے تھے صرف وحدانیت الٰہی میں وہ باہم اتفاق رکھتے تھے باقی اکثر مسائل جزئیہ میں وہ ایک دوسرے کے دشمن تھے اور کوئی واعظ ان میں باہم صلح نہیں کر سکتا تھا اور نہ ان کا فیصلہ کر سکتا تھا۔ اس صورت میں وہ ایک آسمانی حَکَم یعنی فیصلہ کنندہ کے محتاج تھے جو خدا اسے جدید وحی پا کر اہل حق کی حمایت کرے اور قضاء و قدر سے ایسی ضلالت کی ملونی ان کے کل فرقوں میں ہو گئی تھی جو خالص طور پر ان میں ایک بھی اہل حق نہیں کہلا سکتا تھا۔ ہر ایک فرقہ میں کچھ نہ کچھ جھوٹ اور افراط و تفریط کی آمیزش تھی۔ پس یہی وجہ پیدا ہوگئی تھی کہ یہود کے تمام فرقوں نے حضرت مسیح کو دشمن پکڑ لیا تھا اور ان کی جان لینے کی فکر میں ہو گئے تھے کیونکہ ہر یک فرقہ چاہتا تھا کہ حضرت مسیح پورے طور پر ان کا مصدق ہو اور ان کو راستباز اور نیک چلن خیال کرے اور ان کے مخالف کو جھوٹا کہے اور ایسا مداہنہ خدا تعالیٰ کے نبی سے غیر ممکن تھا۔ (۴) چہارم یہ کہ مسیح ابن مریم کے لئے جہاد کا حکم نہ تھا اور حضرت موسٰی کا مذہب یونانیوں اور رومیوں کی نظر میں اس وجہ سے بہت بدنام ہو چکا تھا کہ وہ دین کی ترقی کے لئے تلوار سے کام لیتا رہا ہے گو کسی بہانہ سے۔ چنانچہ اب تک ان کی کتابوں میں موسٰیؑ کے مذہب پر برابر یہ اعتراض ہیں کہ کئی لاکھ شیر خوار بچے اس کے حکم اور نیز اس کے خلیفہ یشوع کے حکم سے جو اس کا جانشین تھا قتل کئے گئے اور پھر داؤدؑ اور دوسرے نبیوں کی لڑائیاں بھی اس اعتراض کو چمکاتی تھیں پس انسانی فطرتیں اس سخت حکم کو برداشت نہ کر سکیں اور جب یہ خیالات غیر مذہب والوں کے انتہا تک پہنچ گئے تو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ ایک ایسا نبی بھیج کر جو صرف صلح اور امن سے مذہب کو پھیلائے تو ریت پر سے وہ نکتہ چینی اُٹھا دے جو غیر قوموں نے کی تھی۔ سو وہ صلح کا نبی عیسیٰ ابن مریم تھا (۵) پانچویں یہ کہ حضرت عیسیٰ کے وقت میں یہودیوں کے علماء کا عموماً چال چلن بہت بگڑ چکا تھا اور اُن کا قول اور فعل باہم مطابق نہ تھا۔ ان کی نمازیں اور ان کے روزے محض ریا کاری سے پُر تھے اور وہ جاہ طلب علماء رومی سلطنت کے نیچے ایسے دنیا کے کیڑے ہو چکے تھے کہ تمام ہمتیں ان کی اسی میں مصروف ہوگئی تھیں کہ مکر سے یا خیانت سے یا دعا سے یا جھوٹی گواہی سے یا جھوٹے فتووں سے دنیا کماویں۔ ان میں بجز زاہدانہ لباس اور بڑے بڑے جُبّوں کے ایک ذرہ روحانیت باقی نہیں رہی تھی۔ وہ رومی سلطنت کے حکام سے بھی عزت پانے کے بہت خواہاں تھے اور طرح طرح کے جوڑ توڑ اور جھوٹی خوشامد سے سلطنت سے عزت اور کسی قدر حکومت حاصل کر لی تھی اور چونکہ ان کی دنیا ہی دنیا رہ گئی تھی اس لئے وہ اس عزت سے جو تو ریت پر عمل کرنے سے آسمان پر مل سکتی تھی بالکل لا پروا ہو کر دنیا پرستی کے کیڑے بن گئے تھے اور تمام فخر دنیا کی وجاہت میں ہی سمجھتے تھے اور اسی وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک کے گورنر پر جو رومی سلطنت کی طرف سے تھا کسی قدر ان کا دباؤ بھی تھا کیونکہ ان کے بڑے بڑے دنیا پرست مولوی دور دراز سفر کر کے قیصر کی ملاقات بھی کرتے تھے اور سلطنت سے تعلقات بنا رکھے تھے اور کئی لوگ ان میں سے سلطنت کے وظیفہ خوار بھی تھے اسی بنا پر وہ لوگ اپنے تئیں سلطنت کے بڑے خیر خواہ جتلاتے تھے اس لئے وہ اگر چہ ایک نظر سے زیر نگرانی بھی تھے مگر خوشامدانہ طریقوں سے انہوں نے قیصر اور اس کے بڑے حکام کو اپنی نسبت بہت نیک ظن بنا رکھا تھا۔ انہیں چال بازیوں کی وجہ سے علماء ان میں سے سلطنت کے حکام کی نظر میں معزز سمجھے جاتے تھے اور کرسی نشین تھے۔ لہذا وہ غریب گلیل کا رہنے والا جس کا نام یسوع بن مریم تھا۔ ان شریر لوگوں کے لئے بہت کوفتہ خاطر کیا گیا۔ اس کے منہ پر نہ صرف تھوکا گیا بلکہ گورنر کے حکم سے اس کو تازیانے بھی مارے گئے۔ وہ چوروں اور بدمعاشوں کے ساتھ حوالات میں دیا گیا حالانکہ اس کا ایک ذرہ قصور نہ تھا۔ صرف گورنمنٹ کی طرف سے یہودیوں کی ایک دل جوئی تھی کیونکہ سلطنت کی حکمت عملی کا یہ اصول ہے کہ گروہ کثیر کی رعایت رکھی جائے سو اس غریب کو کون پوچھتا تھا۔ یہ عدالت تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخر وہ یہودیوں کے مولویوں کے سپرد ہوا اور انہوں نے اس کو صلیب پر چڑھا دیا ایسی عدالت پر خدا جو زمین و آسمان کا مالک ہے لعنت کرتا ہے مگر افسوس ان حکومتوں پر جن کی آسمان کے خدا پر نظر نہیں ۔ یوں بگفتن پیلاطوس جو اس ملک کا گورنر تھا مع اپنی بیوی کے حضرت عیسیٰؑ کا مرید تھا اور چاہتا تھا کہ اسے چھوڑ دے مگر جب زبر دست یہودیوں کے علماء نے جو قیصر کی طرف سے باعث اپنی دنیا داری کے کچھ عزت رکھتے تھے اس کو یہ کہہ کر دھمکایا کہ اگر تو اس شخص کو سزا نہیں دے گا تو ہم قیصر کے حضور میں تیرے پر فریاد کریں گے تب وہ ڈر گیا کیونکہ بزدل تھا۔ اپنی ارادت پر قائم نہ رہ سکا۔ یہ خوف اس لئے اس کے دامن گیر ہوا کہ بعض معزز علماء یہود نے قیصر تک اپنی رسائی بنا رکھی تھی اور پوشیدہ طور پر حضرت عیسیٰ کی نسبت یہ مخبری کرتے تھے کہ یہ مفسد اور در پردہ گورنمنٹ کا دشمن ہے اور اپنی ایک جمعیت بنا کر قیصر پر حملہ کرنا چاہتا ہے بظاہر یہ مشکلات بھی پیش تھیں کہ اس سادہ اور غریب انسان کو قیصر اور اس کے حکام سے کچھ تعلق نہ تھا اور ریا کاروں اور دنیا طلبوں کی طرح ان سے کچھ تعارف نہ تھا اور خدا پر بھروسہ رکھتا تھا اور اکثر علمائے یہود اپنی دنیا پرستی اور چالبازی اور خوشامدانہ وضع سے سلطنت میں دھنس گئے تھے وہ سلطنت کے در حقیقت دوست نہ تھے مگر معلوم ہوتا ہے کہ سلطنت اس دھوکے میں ضرور آگئی تھی کہ وہ دوست ہیں اس لئے ان کی خاطر سے ایک بے گناہ خدا کا نبی ہر ایک طرح سے ذلیل کیا گیا مگر وہ جو آسمان سے دیکھتا اور دلوں کا مالک ہے وہ تمام شرارت پیشہ اس کی نظر سے محجوب نہ تھے آخر انجام یہ ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھا دیئے جانے کے بعد خدا نے مرنے سے بچالیا اور ان کی وہ دعا منظور کر لی جو انہوں نے دردِ دل سے باغ میں کی تھی جیسا کہ لکھا ہے کہ جب مسیح کو یقین ہو گیا کہ یہ خبیث یہودی میری جان کے دشمن ہیں اور مجھے نہیں چھوڑتے تب وہ ایک باغ میں رات کے وقت جا کر زار زار رویا اور دعا کی کہ یا الٰہی اگر تو یہ پیالہ مجھ سے ٹال دے تو تجھ سے بعید نہیں تو جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس جگہ عربی انجیل میں یہ عبارت لکھی ہے۔ فبكى بدموع جارية و عبرات متحدّرة فسُمِع لتقواه یعنی یسوع مسیح اس قدر رویا کہ دعا کرتے کرتے اس کے منہ پر آنسو رواں ہو گئے اور وہ آنسو پانی کی طرح اُس کے رخساروں پر بہنے لگے اور وہ سخت رویا اور سخت دردناک ہوا تب اُس کے تقوی کی وجہ سے اس کی دعا سنی گئی اور خدا کے فضل نے کچھ اسباب پیدا کر دیئے کہ وہ صلیب پر سے زندہ اُتارا گیا اور پھر پوشیدہ طور پر باغبانوں کی شکل بنا کر اس باغ سے جہاں وہ قبر میں رکھا گیا تھا باہر نکل آیا اور خدا کے حکم سے دوسرے ملک کی طرف چلا گیا اور ساتھ ہی اس کی ماں گئی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَّاٰوَیۡنٰہُمَاۤ اِلٰی رَبۡوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیۡنٍ(المومنون: ۵۱) یعنی اس مصیبت کے بعد جو صلیب کی مصیبت تھی ہم نے مسیح اور اس کی ماں کو ایسے ملک میں پہنچا دیا جس کی زمین بہت اونچی تھی اور صاف پانی تھا اور بڑے آرام کی جگہ تھی ۔ اور احادیث میں آیا ہے کہ اس واقعہ کے بعد عیسی ابن مریم نے ایک سو بیس برس عمر پائی اور پھر فوت ہو کر اپنے خدا کو جاملا اور دوسرے عالم میں پہنچ کر یحیی کا ہم نشین ہوا کیونکہ اس کے واقعہ اور یحییٰ نبی کے واقعہ کو با ہم مشابہت تھی۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ نیک انسان تھا اور نبی تھا مگر اسے خدا کہنا کفر ہے۔ لاکھوں انسان دنیا میں ایسے گزر چکے ہیں اور آئندہ بھی ہوں گے۔ خدا کسی کے برگزیدہ کرنے میں کبھی نہیں تھکا اور نہ تھکے گا (۶) چھٹی خصوصیت یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام قیصر روم کی عملداری کے ماتحت مبعوث ہوئے تھے ۔ (۷) ساتویں خصوصیت یہ ہے کہ رومی سلطنت کو مذہب عیسوی سے مخالفت تھی مگر اخیری نتیجہ یہ ہوا کہ مذہب عیسائی قیصری قوم میں گھس گیا یہاں تک کہ کچھ مدت کے بعد خود قیصر روم عیسائی ہو گیا ۔ (۸) آٹھویں خصوصیت یہ ہے کہ یسوع مسیح کے وقت میں جس کو اہل اسلام عیسی کہتے ہیں ایک نیا ستارہ نکلا تھا (۹) نویں خصوصیت یہ ہے کہ جب اس کو صلیب پر چڑھایا گیا تو سورج کو گرہن لگا تھا (۱۰) دسویں خصوصیت یہ ہے کہ اس کو دکھ دینے کے بعد یہودیوں میں سخت طاعون پھیلی تھی (۱۱) گیارہویں خصوصیت یہ ہے کہ اس پر مذہبی تعصب سے مقدمہ بنایا گیا اور یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ وہ سلطنت روم کا مخالف اور بغاوت پر آمادہ ہے (۱۲) بارہویں خصوصیت یہ ہے کہ جب وہ صلیب پر چڑھایا گیا تو اس کے ساتھ ایک چور بھی صلیب پر لٹکایا گیا (۱۳) تیرھویں خصوصیت یہ ہے کہ جب وہ پیلاطوس کے سامنے سزائے موت کے لئے پیش کیا گیا تو پیلاطوس نے کہا کہ میں اس کا کوئی گناہ نہیں پاتا۔ (۱۴) چودھویں خصوصیت یہ کہ اگر چہ وہ باپ کے نہ ہونے کی وجہ سے بنی اسرائیل میں سے نہ تھا مگر ان کے سلسلہ کا آخری پیغمبر تھا جو موسیٰؑ کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوا۔ (۱۵) پندرھویں خصوصیت یہ کہ یسوع بن مریم کے وقت میں جو قیصر تھا اس کے عہد میں بہت سی نئی باتیں رعایا کے آرام اور ان کے سفر و حضر کی سہولت کے لئے نکل آئی تھیں۔ سڑکیں بنائی گئی تھیں اور سرائیں تیار کی گئی تھیں اور عدالت کے نئے طریقے وضع کئے گئے تھے جو انگریزی عدالت سے مشابہ تھے (۱۶) سولہویں خصوصیت مسیح میں یہ تھی کہ بن باپ پیدا ہونے میں آدم سے مشابہ تھے۔ یہ سولہ خصوصیتیں ہیں جو موسوی سلسلہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں رکھی گئی تھیں۔ پھر جبکہ خدا تعالیٰ نے موسوی سلسلہ کو ہلاک کر کے محمدی سلسلہ قائم کیا جیسا کہ نبیوں کے صحیفوں میں وعدہ دیا گیا تھا تو اس حکیم و علیم نے چاہا کہ اس سلسلہ کے اوّل اور آخر دونوں میں مشابہت تامہ پیدا کرے تو پہلے اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر مثیل موسیٰ قرار دیا جیسا کہ آیت اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا(المزمل: ۱۶) سے ظاہر ہے۔ حضرت موسیٰؑ نے کافروں کے مقابل پر تلوار اُٹھائی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس وقت جبکہ مکہ سے نکالے گئے اور تعاقب کیا گیا مسلمانوں کی حفاظت کے لئے تلوار اُٹھائی۔ ایسا ہی حضرت موسیٰؑ کی نظر کے سامنے سخت دشمن ان کا جو فرعون تھا غرق کیا گیا۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سخت دشمن آپ کا جو ابو جہل تھا ہلاک کیا گیا۔ ایسا ہی اور بہت سی مشابہتیں ہیں جن کا ذکر کرنا موجب طول ہے۔ یہ تو سلسلہ کے اوّل میں مشابہتیں ہیں مگر ضروری تھا کہ سلسلہ محمدیؐ کے آخری خلیفہ میں بھی سلسلہ موسویہ کے آخری خلیفہ سے مشابہت ہو تا خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ سلسلہ محمدیہ باعتبار امام سلسلہ اور خلفاء سلسلہ کے سلسلہ موسویہ سے مشابہ ہے ٹھیک ہو اور ہمیشہ مشابہت اوّل اور آخر میں دیکھی جاتی ہے اور درمیانی زمانہ جو ایک طویل مدت ہوتی ہے گنجائش نہیں رکھتا کہ پوری پوری نظر سے اس کو جانچا جائے مگر اوّل اور آخر کی مشابہت سے یہ قیاس پیدا ہو جاتا ہے کہ درمیان میں بھی ضرور مشابہت ہوگی گو نظر عقلی اس کی پوری پڑتال سے قاصر رہے اور ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں مذہبی پہلو کے رو سے سولہ خصوصیتیں تھیں جن کا اسلام کے آخری خلیفہ میں پایا جانا ضروری ہے تا اس میں اور حضرت عیسیٰ میں مشابہت تامہ ثابت ہو۔ پس اوّل موعود ہونے کی خصوصیت ہے۔ اسلام میں اگر چہ ہزار ہا ولی اور اہل اللہ گزرے ہیں مگر ان میں کوئی موعود نہ تھا۔ لیکن وہ جو مسیح کے نام پر آنے والا تھا وہ موعود تھا۔ ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پہلے کوئی نبی موعود نہ تھا صرف مسیح موعود تھا۔ دوم۲۔ خصوصیت سلطنت کے برباد ہو چکنے کی ہے۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ جیسا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم سے کچھ دن پہلے اس ملک سے اسرائیلی سلطنت جاتی رہی تھی ایسا ہی اس آخری مسیح کی پیدائش سے پہلے اسلامی سلطنت بباعث طرح طرح کی بد چلنیوں کے ملک ہندوستان سے اُٹھ گئی تھی اور انگریزی سلطنت اس کی جگہ قائم ہوگئی تھی۔ سوم۳۔ خصوصیت جو پہلے مسیح میں پائی گئی وہ یہ ہے کہ اس کے وقت میں یہود لوگ بہت سے فرقوں پر منقسم ہو گئے تھے اور بالطبع ایک حکم کے محتاج تھے تا ان میں فیصلہ کرے ایسا ہی آخری مسیح کے وقت میں مسلمانوں میں کثرت سے فرقے پھیل گئے تھے۔ چہارم۴ خصوصیت جو پہلے مسیح میں تھی وہ یہ ہے کہ وہ جہاد کے لئے مامور نہ تھا۔ ایسا ہی آخری مسیح جہاد کے لئے مامور نہیں ہے اور کیونکر مامور ہو زمانہ کی رفتار نے قوم کو متنبہ کر دیا ہے کہ تلوار سے کوئی دل تسلی نہیں پاسکتا اور اب مذہبی اُمور کے لئے کوئی مہذب تلوار نہیں اُٹھاتا۔ اور اب زمانہ جس صورت پر واقع ہے خود شہادت دے رہا ہے کہ مسلمانوں کے وہ فرقے جو مہدی خونی یا مسیح خونی کے منتظر ہیں وہ سب غلطی پر ہیں۔ اور ان کے خیالات خدا تعالیٰ کی منشاء کے برخلاف ہیں اور عقل بھی یہی گواہی دیتی ہے کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کا یہ منشاء ہوتا کہ مسلمان دین کے لئے جنگ کریں تو موجودہ وضع کی لڑائیوں کے لئے سب سے فائق مسلمان ہوتے وہی توپوں کی ایجاد کرتے وہی نئی نئی بندوقوں کے موجد ٹھہرتے اور انہیں کو فنون حرب میں ہر ایک پہلو سے کمال بخشا جاتا۔ یہاں تک کہ آئندہ زمانہ کے جنگوں کے لئے انہیں کو غبارہ بنانے کی سوجھتی اور وہی آب دوز کشتیاں جو پانی کے اندر چوٹیں کرتی ہیں بناتے اور دنیا کو حیران کرتے حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ دن بدن عیسائی ان باتوں میں ترقی کر رہے ہیں اس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ منشاء نہیں ہے کہ لڑائیوں کے ذریعہ سے اسلام پھیلے ہاں عیسائی مذہب دلائل کے رو سے دن بدن سست ہوتا جاتا ہے اور بڑے بڑے محقق تثلیث کے عقیدہ کو چھوڑتے جاتے ہیں یہاں تک کہ جرمن کے بادشاہ نے بھی اس عقیدہ کے ترک کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ محض دلائل کے ہتھیار سے عیسائی تثلیث کے عقیدہ کو زمین پر سے نابود کرنا چاہتا ہے۔ یہ قاعدہ ہے کہ جو پہلو ہو نہار ہوتا ہے پہلے سے اس کے علامات شروع ہو جاتے ہیں۔ سو مسلمانوں کے لئے آسمان سے حربی فتوحات کی کچھ علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔ البتہ مذہبی دلائل کی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔ اور عیسائی مذہب خود بخود پگلتا جاتا ہے۔ اور قریب ہے کہ جلد تر صفحہ دنیا سے نابود ہو جائے ۔ (۵) پنجم خصوصیت جو پہلے مسیح میں تھی وہ یہ ہے کہ اس کے زمانہ میں یہودیوں کا چال چلن بگڑ گیا تھا۔ بالخصوص اکثر ان کے جو علماء کہلاتے تھے وہ سخت مکار اور دنیا پرست اور دنیا کے لالچوں میں اور دنیوی عزتوں کی خواہشوں میں غرق ہو گئے تھے۔ ایسا ہی آخری مسیح کے وقت میں عام لوگوں اور اکثر علماء اسلام کی حالت ہو رہی ہے مفصل لکھنے کی کچھ حاجت نہیں ۔ (۶) چھٹی خصوصیت یعنی یہ کہ حضرت مسیح قیصر روم کے ماتحت مبعوث ہوئے تھے سو اس خصوصیت میں آخری مسیح کا بھی اشتراک ہے۔ کیونکہ میں بھی قیصر کی عملداری کے ماتحت مبعوث ہوا ہوں یہ قیصر اس قیصر سے بہتر ہے جو حضرت مسیح کے وقت میں تھا کیونکہ تاریخ میں لکھا ہے کہ جب قیصر روم کو خبر ہوئی کہ اس کے گورنر پیلاطوس نے حیلہ جوئی سے مسیح کو اس سزا سے بچالیا ہے کہ وہ صلیب پر مارا جائے اور روپوش کر کے کسی طرف فراری کر دیا ہے تو وہ بہت ناراض ہوا اور یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ مخبری یہودیوں کے مولویوں نے ہی کی تھی کہ پیلاطوس نے ایک قیصر کے باغی کو مفرور کرا دیا ہے تو اس مخبری کے بعد فی الفور پیلاطوس قیصر کے حکم سے جیل خانہ میں ڈالا گیا اور آخری نتیجہ یہ ہوا کہ جیل خانہ میں ہی اس کا سر کاٹا گیا اور اس طرح پر پیلاطوس مسیح کی محبت میں شہید ہوا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل حکم اور سلطنت اکثر دین سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس نادان قیصر نے یہودیوں کے علماء کو بہت معتبر سمجھا اور ان کی عزت افزائی کی اور اُن کی باتوں پر عمل کیا اور حضرت مسیح کے قتل کئے جانے کو مصلحت ملکی قرار دیا مگر جہاں تک میرا خیال ہے اب زمانہ بہت بدل گیا ہے اس لئے ہمارا قیصر بمراتب اس قیصر سے بہتر ہے جو ایسا جاہل اور ظالم تھا۔
(۷) ساتویں خصوصیت یہ کہ مذہب عیسائی آخر قیصری قوم میں گھس گیا۔ سو اس خصوصیت میں بھی آخری مسیح کا اشتراک ہے کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ یورپ اور امریکہ میں میرے دعوٰی اور دلائل کو بڑی دلچسپی سے دیکھا جاتا ہے اور ان لوگوں نے خود بخود صدہا اخبار میں میرے دعوٰی اور دلائل کو شائع کیا ہے اور میری تائید اور تصدیق میں ایسے الفاظ لکھے ہیں کہ ایک عیسائی کے قلم سے ایسے الفاظ کا نکلنا مشکل ہے یہاں تک کہ بعض نے صاف لفظوں میں لکھ دیا ہے کہ یہ شخص سچا معلوم ہوتا ہے۔ اور بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ در حقیقت یسوع مسیح کو خدا بنانا ایک بھاری غلطی ہے۔ اور بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس وقت مسیح موعود کا دعوٰی عین وقت پر ہے اور وقت خود ایک دلیل ہے۔ غرض اُن کے اِن تمام بیانات سے صاف ظاہر ہے کہ وہ میرے دعوے کے قبول کرنے کے لئے تیاری کر رہے ہیں۔ اور ان ملکوں میں سے دن بدن عیسائی مذہب خود بخود برف کی طرح پگلتا جاتا ہے ۔ (۸) آٹھویں خصوصیت مسیح میں یہ تھی کہ اُس کے وقت میں ایک ستارہ نکلا تھا۔ اِس خصوصیت میں بھی میں آخری مسیح بننے میں شریک کیا گیا ہوں کیونکہ وہی ستارہ جو مسیح کے وقت میں نکلا تھا دوبارہ میرے وقت میں نکلا ہے۔ اس بات کی انگریزی اخباروں نے بھی تصدیق کی ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ مسیح کے ظہور کا وقت نزدیک ہے (۹) نویں خصوصیت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ جب اس کو صلیب پر چڑھایا گیا تو سورج کو گرہن لگا تھا سو اس واقعہ میں بھی خدا نے مجھے شریک کیا ہے کیونکہ جب میری تکذیب کی گئی تو اس کے بعد نہ صرف سورج بلکہ چاند کو بھی ایک ہی مہینہ میں جو رمضان کا مہینہ تھا گرہن لگا تھا اور نہ ایک دفعہ بلکہ حدیث کے مطابق دو دفعہ یہ واقعہ ہوا۔ ان دونوں گرہنوں کی انجیلوں میں بھی خبر دی گئی ہے اور قرآن شریف میں بھی یہ خبر ہے اور حدیثوں میں بھی جیسا کہ دار قطنی میں (۱۰) دسویں خصوصیت یہ ہے کہ یسوع مسیح کو دکھ دینے کے بعد یہودیوں میں سخت طاعون پھیلی تھی سو میرے وقت میں بھی سخت طاعون پھیل گئی (۱۱) گیارہویں خصوصیت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ یہودیوں کے علماء نے کوشش کی کہ وہ باغی قرار پاوے اور اس پر مقدمہ بنایا گیا اور زور لگایا گیا کہ اُس کو سزائے موت دی جائے سو اس قسم کے مقدمہ میں بھی قضاء و قدر الٰہی نے مجھے شریک کر دیا کہ ایک خون کا مقدمہ مجھ پر بنایا گیا اور اسی کے ضمن میں مجھے باغی بنانے کی کوشش کی گئی۔ یہ وہی مقدمہ ہے جس میں فریق ثانی کی طرف سے مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی گواہ بن کر آئے تھے (۱۲) بارھویں خصوصیت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ جب وہ صلیب پر چڑھایا گیا تو اُس کے ساتھ ایک چور بھی صلیب پر لٹکایا گیا تھا سو اس واقعہ میں بھی میں شریک کیا گیا ہوں کیونکہ جس دن مجھ کو خون کے مقدمہ سے خدا تعالیٰ نے رہائی بخشی۔ اور اس پیشگوئی کے موافق جو میں خدا تعالیٰ سے وحی یقینی پا کر صد ہا لوگوں میں شائع کر چکا تھا مجھ کو بری فرمایا اس دن میرے ساتھ ایک عیسائی چور بھی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ یہ چور عیسائیوں کی مقدس جماعت مکتی فوج میں سے تھا جس نے کچھ روپیہ چرا لیا تھا۔ اس چور کو صرف تین مہینہ کی سزا ملی۔ پہلے مسیح کے رفیق چور کی طرح سزائے موت اس کو نہیں ہوئی (۱۳) تیرھویں خصوصیت مسیح میں یہ تھی کہ جب وہ پیلاطوس گورنر کے سامنے پیش کیا گیا اور سزائے موت کی درخواست کی گئی تو پیلاطوس نے کہا کہ میں اس کا کوئی گناہ نہیں پاتا جس سے یہ سزا دوں۔ ایسا ہی کپتان ڈگلس صاحب ضلع مجسٹریٹ نے میرے ایک سوال کے جواب میں مجھ کو کہا کہ میں آپ پر کوئی الزام نہیں لگاتا۔
میرے خیال میں ہے کہ کپتان ڈگلس اپنی استقامت اور عادلانہ شجاعت میں پیلاطوس سے بہت بڑھ کر تھا کیونکہ پیلاطوس نے آخر کار بزدلی دکھائی اور یہودیوں کے شریر مولویوں سے ڈر گیا مگر ڈگلس ہرگز نہ ڈرا۔ اس کو مولوی محمد حسین نے کرسی مانگ کر کہا کہ میرے پاس صاحب لفٹنٹ گورنر بہادر کی چٹھیاں ہیں مگر کپتان ڈگلس نے اس کی کچھ پروانہ کی۔ اور میں باوجود یکہ ملزم تھا مجھے کرسی دی اور اس کو کرسی کی درخواست پر چھڑک دیا اور کرسی نہ دی اگر چہ آسمان پر کرسی پانے والے زمین کی کرسی کے کچھ محتاج نہیں ہیں مگر یہ نیک اخلاق اس ہمارے وقت کے پیلاطوس کے ہمیشہ ہمیں اور ہماری جماعت کو یاد رہیں گے اور دنیا کے اخیر تک اس کا نام عزت سے لیا جائے گا۔
(۱۴) چودھویں خصوصیت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ وہ باپ کے نہ ہونے کی وجہ سے بنی اسرائیل میں سے نہ تھا مگر با ایں ہمہ موسوی سلسلہ کا آخری پیغمبر تھا۔ جو موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں پیدا ہوا۔ ایسا ہی میں بھی خاندان قریش میں سے نہیں ہوں اور چودھویں صدی میں مبعوث ہوا ہوں اور سب سے آخر ہوں۔ (۱۵) پندرھویں خصوصیت حضرت مسیح میں یہ تھی کہ اُن کے عہد میں دنیا کی وضع جدید ہوگئی تھی۔ سڑکیں ایجاد ہو گئی تھیں۔ ڈاک کا عمدہ انتظام ہو گیا تھا۔ فوجی انتظام میں بہت صلاحیت پیدا ہوگئی تھی اور مسافروں کے آرام کے لئے بہت کچھ باتیں ایجاد ہوگئی تھیں اور پہلے کی نسبت قانون معدلت نہایت صاف ہو گیا تھا۔ ایسا ہی میرے وقت میں دنیا کے آرام کے اسباب بہت ترقی کر گئے ہیں۔ یہاں تک کہ ریل کی سواری پیدا ہو گئی جس کی خبر قرآن شریف میں پائی جاتی ہے۔ باقی امور کو پڑھنے والا خود سمجھ لے۔ (۱۶) سولہویں خصوصیت حضرت مسیح میں یہ تھی کہ بن باپ ہونے کی وجہ سے حضرت آدم سے وہ مشابہ تھے ایسا ہی میں بھی توام پیدا ہونے کی وجہ سے حضرت آدم سے مشابہ ہوں اور اس قول کے مطابق جو حضرت محی الدین ابن عربی لکھتے ہیں کہ خاتم الخلفاء صینی الاصل ہو گا یعنی مغلوں میں سے اور وہ جوڑہ یعنی توام پیدا ہوگا۔ پہلے لڑکی نکلے گی بعد اس کے وہ پیدا ہو گا۔ ایک ہی وقت میں اسی طرح میری پیدائش ہوئی کہ جمعہ کی صبح کو بطور توام میں پیدا ہوا۔ اوّل لڑکی اور بعدۂ میں پیدا ہوا۔ نہ معلوم کہ یہ پیشگوئی کہاں سے ابن عربی صاحب نے لی تھی جو پوری ہوگئی۔ ان کی کتابوں میں اب تک یہ پیشگوئی موجود ہے۔
یہ سولہ مشابہتیں ہیں جو مجھ میں اور مسیح میں ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا تو مجھ میں اور مسیح ابن مریم میں اس قدر مشابہت ہرگز نہ ہوتی۔ یوں تو تکذیب کرنا قدیم سے ان لوگوں کا کام ہے جن کے حصہ میں سعادت نہیں مگر اس زمانہ کے مولویوں کی تکذیب عجیب ہے۔ میں وہ شخص ہوں جو عین وقت پر ظاہر ہوا۔ جس کے لئے آسمان پر رمضان کے مہینہ میں چاند اور سورج کو قرآن اور حدیث اور انجیل اور دوسرے نبیوں کی خبروں کے مطابق گرہن لگا۔ اور میں وہ شخص ہوں جس کے زمانہ میں تمام نبیوں کی خبر اور قرآن شریف کی خبر کے موافق اس ملک میں خارق عادت طور پر طاعون پھیل گئی۔ اور میں وہ شخص ہوں جو حدیث صحیح کے مطابق اس کے زمانہ میں حج روکا گیا۔ اور میں وہ شخص ہوں جس کے عہد میں وہ ستارہ نکلا جو مسیح ابن مریم کے وقت میں نکلا تھا۔ اور میں وہ شخص ہوں جس کے زمانہ میں اس ملک میں ریل جاری ہو کر اونٹ بیکار کئے گئے۔ اور عنقریب وہ وقت آتا ہے بلکہ بہت نزدیک ہے جبکہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ریل جاری ہو کر وہ تمام اُونٹ بیکار ہو جائیں گے جو تیرہ سو برس سے یہ سفر مبارک کرتے تھے۔ تب اس وقت ان اُونٹوں کی نسبت وہ حدیث جو صحیح مسلم میں موجود ہے۔ صادق آئے گی یعنی یہ کہ ليتر كنّ القلاص فلا يُسْعٰى عليها یعنی مسیح کے وقت میں اُونٹ بیکار کئے جائیں گے اور کوئی اُن پر سفر نہیں کرے گا۔ ایسا ہی میں وہ شخص ہوں جس کے ہاتھ پر صدہا نشان ظاہر ہوئے۔ کیا زمین پر کوئی ایسا انسان زندہ ہے کہ جو نشان نمائی میں میرا مقابلہ کر کے مجھ پر غالب آ سکے۔ مجھے اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اب تک دو لاکھ سے زیادہ میرے ہاتھ پر نشان ظاہر ہو چکے ہیں اور شاید دس ہزار کے قریب یا اس سے زیادہ لوگوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور آپ نے میری تصدیق کی اور اس ملک میں جو بعض نامی اہل کشف تھے جن کا تین تین چار چار لاکھ مرید تھا۔ اُن کو خواب میں دکھلایا گیا کہ یہ انسان خدا کی طرف سے ہے۔ اور بعض ان میں سے ایسے تھے کہ میرے ظہور سے تیس برس پہلے دنیا سے گزر چکے تھے۔ جیسا کہ ایک بزرگ گلاب شاہ نام ضلع لدہانہ میں تھا۔ جس نے میاں کریم بخش مرحوم ساکن جمال پور کو خبر دی تھی کہ عیسیٰ قادیان میں پیدا ہو گیا اور وہ لدہانہ میں آئے گا۔ میاں کریم بخش ایک صالح موحد اور بڑھا آدمی تھا۔ اُس نے مجھ سے لدہانہ میں ملاقات کی اور یہ تمام پیشگوئی مجھے سنائی۔ اس لئے مولویوں نے اُس کو بہت تکلیف دی مگر اُس نے کچھ پروا نہ کی۔ اُس نے مجھے کہا کہ گلاب شاہ مجھے کہتا تھا کہ عیسیٰ بن مریم زندہ نہیں وہ مر گیا ہے۔ وہ دنیا میں واپس نہیں آئے گا۔ اِس اُمت کے لئے مرزا غلام احمد عیسیٰ ہے۔ جس کو خدا کی قدرت اور مصلحت نے پہلے عیسیٰ سے مشابہ بنایا ہے اور آسمان پر اس کا نام عیسیٰ رکھا ہے اور فرمایا کہ اے کریم بخش جب وہ عیسیٰ ظاہر ہوگا تو تو دیکھے گا کہ مولوی لوگ کس قدر اُس کی مخالفت کریں گے وہ سخت مخالفت کریں گے لیکن نامراد رہیں گے۔ وہ اس لئے دنیا میں ظاہر ہو گا کہ تا وہ جھوٹے حاشیے جو قرآن پر چڑھائے گئے ہیں اُن کو دُور کرے اور قرآن کا اصل چہرہ دنیا کو دکھاوے۔ اِس پیشگوئی میں اس بزرگ نے صاف طور پر یہ اشارہ کیا تھا کہ تو اِس قدر عمر پائے گا کہ اس عیسیٰ کو دیکھ لے گا۔
اب باوجود ان تمام شہادتوں اور معجزات اور زبردست نشانوں کے مولوی لوگ میری تکذیب کرتے ہیں اور ضرور تھا کہ ایسا ہی کرتے تا پیشگوئی آیت غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحة: ۷) کی پوری ہو جاتی۔ یاد رہے کہ اصل جڑھ اس مخالفت کی ایک حماقت ہے اور وہ یہ کہ مولوی لوگ یہ چاہتے ہیں کہ جو کچھ ان کے پاس رطب و یابس کا ذخیرہ ہے وہ سب علامتیں مسیح موعود میں ثابت ہونی چاہئیں اور ایسے مدعی مسیحیت یا مہدویت کو ہرگز نہیں ماننا چاہئے کہ ان کی تمام حدیثوں میں سے گو ایک حدیث اس پر صادق نہ آوے حالانکہ قدیم سے یہ امر غیر ممکن چلا آیا ہے۔ یہود نے جو جو علامتیں حضرت عیسیٰ کے لئے اپنی کتابوں میں تراش رکھی تھیں وہ پوری نہ ہوئیں۔ پھر انہیں بد بخت لوگوں نے ہمارے سیّد و مولیٰ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو جو علامتیں تراشی تھیں اور مشہور کر رکھی تھیں وہ بھی بہت ہی کم پوری ہوئیں۔ اُن کا خیال تھا کہ یہ آخری نبی بنی اسرائیل سے ہوگا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسماعیل میں پیدا ہوئے۔ اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو توریت میں لکھ دیتا کہ اس نبی کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوگا اور باپ کا نام عبداللہ اور دادا کا نام عبدالمطلب اور مکہ میں پیدا ہوگا اور مدینہ اُس کی ہجرت گاہ ہوگی مگر خدا تعالیٰ نے یہ نہ لکھا کیونکہ ایسی پیشگوئیوں میں کچھ امتحان بھی منظور ہوتا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ مسیح موعود کے لئے پہلے سے خبر دی گئی ہے کہ وہ اسلام کے مختلف فرقوں کے لئے بطور حَکَم کے آئے گا۔ اب ظاہر ہے کہ ہر ایک فرقہ کی جدا جدا حدیثیں ہیں۔ پس یہ کیونکر ممکن ہو کہ سب کے خیالات کی وہ تصدیق کرے۔ اگر اہل حدیث کی تصدیق کرے تو حنفی ناراض ہوں گے۔ اگر حنفیوں کی تصدیق کرے تو شافعی بگڑ جائیں گے۔ اور شیعہ جدا یہ اصول ٹھہرائیں گے کہ اُن کے عقیدہ کے موافق وہ ظاہر ہو۔ اس صورت میں وہ کیونکر سب کو خوش کر سکتا ہے۔ علاوہ اس کے خود حَکَم کا لفظ چاہتا ہے کہ وہ ایسے وقت میں آئے گا کہ جب تمام فرقے کچھ نہ کچھ حق سے دور جا پڑیں گے۔ اِس صورت میں اپنی اپنی حدیثوں کے ساتھ اُس کو آزمانا سخت غلطی ہے بلکہ قاعدہ یہ چاہیے کہ جونشان اور قراردادہ علامتیں اس کے وقت میں ظاہر ہو جائیں اُن سے فائدہ اُٹھائیں اور باقی کو موضوع اور انسانی افترا سمجھیں، یہی قاعدہ ان نیک بخت یہودیوں نے برتا جو مسلمان ہو گئے تھے کیونکہ جو جو باتیں مقرر کردہ احادیث یہود وقوع میں آگئیں اور آنحضرت پر صادق آگئیں۔ ان حدیثوں کو انہوں نے صحیح سمجھا اور جو پوری نہ ہوئیں ان کو موضوع قرار دیا۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو پھر نہ حضرت عیسیٰ کی نبوت یہودیوں کے نزدیک ثابت ہو سکتی نہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت۔ جو لوگ مسلمان ہوئے تھے انہیں یہود کی صد ہا جھوٹی حدیثوں کو چھوڑنا پڑا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ایک طرف بعض علامات قرار دادہ پوری ہو گئیں اور ایک طرف تائیدات الہیہ کا خدا کے رسول میں ایک دریا جاری ہے تو انہوں نے ان حدیثوں سے فائدہ اُٹھایا جو پوری ہو گئیں اگر ایسا نہ کرتے تو ایک شخص بھی اُن میں سے مسلمان نہ ہو سکتا۔
یہ تمام وہ باتیں ہیں کہ کئی دفعہ اور کئی پیرایوں میں مَیں نے مولوی عبداللطیف صاحب کو سنائی تھیں اور تعجب کہ انہوں نے میرے پاس بیان کیا کہ یہ باتیں پہلے سے میرے علم میں ہیں اور بہت سے ایسے عجیب دلائل حضرت مسیح کی وفات اور اِس بات پر سُنائے کہ اسی زمانہ میں اور اسی اُمت سے مسیح موعود ہونا چاہیے جس سے مجھے بہت تعجب ہوا اور اس وقت شعر حسن ز بصرہ بلال از جبش یاد آیا۔ اور اکثر ان کا استدلال قرآن شریف سے تھا اور وہ بار بار کہتے تھے کہ کیسے نادان وہ لوگ ہیں جن کا خیال ہے کہ مسیح موعود کی پیشگوئی صرف حدیثوں میں ہے حالانکہ جس قدر قرآن شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ فوت ہو گیا اور مسیح موعود اسی اُمت میں سے آنے والا ہے اس قدر ثبوت حدیثوں سے نہیں ملتا۔ غرض خدا تعالیٰ نے اُن کے دل کو حق الیقین سے پُر کر دیا تھا اور وہ پوری معرفت سے اِس طرح پر مجھے شناخت کرتے تھے جس طرح در حقیقت ایک شخص کو آسمان سے اُترتا مع فرشتوں کے دیکھا جاتا ہے۔ اس وقت سے مجھے یہ خیال آیا ہے کہ حدیثوں میں جو مسیح موعود کے نزول کا ذکر ہے اگر چہ یہ لفظ اکرام اور اعزاز کے لئے محاورہ عرب میں آتا ہے جیسا کہ کہتے ہیں کہ فلاں لشکر فلاں جگہ اُترا ہے اور جیسا کہ کسی شہر کے نو وارد کو کہا جاتا ہے کہ آپ کہاں اُترے ہیں اور جیسا کہ قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے ہی اس رسول کو اُتارا ہے اور جیسا کہ انجیل میں آیا ہے کہ عیسیٰ اور یحیٰی آسمان سے اُترے لیکن با ایں ہمہ یہ نزول کا لفظ اِس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ اس قدر اُس مسیح کی سچائی پر دلائل جمع ہو جائیں گے کہ اہلِ فراست کو اس کے مسیح موعود ہونے میں یقین تام ہو جائے گا گویا وہ ان کے روبرو آسمان سے ہی اُترا ہے۔ چنانچہ ایسے یقین کامل کا نمونہ شہزادہ مولوی عبداللطیف شہید نے دکھا دیا۔ جان دینے سے بڑھ کر کوئی امر نہیں اور ایسی استقامت سے جان دینا صاف بتلا رہا ہے کہ انہوں نے مجھے آسمان سے اُترتے دیکھ لیا اور دوسرے لوگوں کے لئے بھی یہ امر صاف ہے کہ میرے دعوٰی کے تمام پہلو آفتاب کی طرح چمک رہے ہیں۔ اوّل قرآن شریف نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ عیسیٰ بن مریم فوت ہو گیا ہے اور پھر دنیا میں نہیں آئے گا۔ اور اگر بفرضِ محال قرآن کریم کے مخالف ایک لاکھ حدیث بھی ہو وہ سب باطل اور جھوٹ اور کسی باطل پرست کی بناوٹ ہے۔ حق وہی ہے جو قرآن نے فرمایا۔ اور حدیثیں وہ ماننے کے لائق ہیں جو اپنے قصوں میں قرآن کے بیان کردہ قصوں سے مخالف نہیں پھر بعد اس کے یہ فیصلہ بھی قرآن شریف نے ہی سورۃ نور میں لفظ منکم کے ساتھ ہی کر دیا ہے کہ اس دین کے تمام خلیفے اسی اُمت میں سے پیدا ہوں گے اور وہ خلفاء سلسلہ موسوی کے مثیل ہوں گے اور صرف ایک ان میں سے سلسلہ کے آخر میں موعود ہوگا جو عیسی بن مریم کے مشابہ ہو گا باقی موعود نہیں ہوں گے یعنی نام لے کر ان کے لئے کوئی پیشگوئی نہیں ہوگی اور یہ منکم کا لفظ بخاری میں بھی موجود ہے اور مسلم میں بھی ہے جس کے یہی معنے ہیں کہ وہ مسیح موعود اسی امت میں سے پیدا ہو گا۔ پس اگر ایک غور کرنے والا اس جگہ پورا غور کرے اور طریق خیانت اختیار نہ کرے تو اس کو ان تین منکم کے لفظوں پر نظر ڈالنے سے یقین ہو جائیگا کہ یہ امر قطعی فیصلہ تک پہنچ چکا ہے کہ مسیح موعود اسی اُمت میں سے پیدا ہوگا۔ اب رہا میرا دعوئی سو میرے دعوئی کے ساتھ اس قدر دلائل ہیں کہ کوئی انسان برا بے حیا نہ ہو تو اُس کے لئے اس سے چارہ نہیں ہے کہ میرے دعوی کو اسی طرح مان لے جیسا کہ اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو مانا ہے۔ کیا یہ دلائل میرے دعواے کے ثبوت کے لئے کم ہیں کہ میری نسبت قرآن کریم نے اس قدر پورے پورے قرائن اور علامات کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ ایک طور سے میرا نام بتلا دیا ہے اور حدیثوں میں کدعہ کے لفظ سے میرے گاؤں کا نام موجود ہے اور حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اس مسیح موعود کی تیرھویں صدی میں پیدائش ہوگی اور چودھویں صدی میں اُس کا ظہور ہوگا۔ اور صحیح بخاری میں میرا تمام حلیہ لکھا ہے اور پہلے مسیح کی نسبت جو میرے حلیہ میں فرق ہے وہ ظاہر کر دیا ہے اور ایک حدیث میں صریح یہ اشارہ ہے کہ وہ مسیح موعود ہند میں ہوگا کیونکہ دجال کا بڑا مرکز مشرق یعنی ہند قرار دیا ہے۔ اور یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح موعود دمشق سے مشرق کی طرف ظاہر ہوگا۔ سو قادیان دمشق سے مشرق کی طرف ہے اور پھر دعوی کے وقت میں اور لوگوں کی تکذیب کے دنوں میں آسمان پر رمضان کے مہینہ میں کسوف خسوف ہونا۔ زمین پر طاعون کا پھیلنا۔ حدیث اور قرآن کے مطابق ریل کی سواری پیدا ہو جانا۔ اونٹ بیکار ہو جانے۔ حج روکا جانا۔ صلیب کے غلبہ کا وقت ہونا۔ میرے ہاتھ پر صد ہا نشانوں کا ظاہر ہونا۔ نبیوں کے مقرر کردہ وقت مسیح موعود کے لئے یہی وقت ہونا۔ صدی کے سر پر میرا مبعوث ہونا۔ ہزار ہا نیک لوگوں کا میری تصدیق کے لئے خوابیں دیکھنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف کا یہ فرمانا کہ وہ مسیح موعود میری اُمت میں سے پیدا ہوگا اور خدا تعالیٰ کی تائیدات کا میرے شامل حال ہونا اور ہزار ہا لوگوں کا دولاکھ کے قریب میرے ہاتھ پر بیعت کر کے راستبازی اور پاکدلی اختیار کرنا۔ اور میرے وقت میں عیسائی مذہب میں ایک عام تزلزل پڑنا یہاں تک کہ تثلیث کی طلسم کا برف کی طرح گداز ہونا شروع ہو جانا اور میرے وقت میں مسلمانوں کا بہت سے فرقوں پر منقسم ہو کر تنزل کی حالت میں ہونا اور طرح طرح کی بدعات اور شرک اور میخواری اور حرامکاری اور خیانت اور دروغگو ئی دنیا میں شائع ہو کر ایک عام تغیر دنیا میں پیدا ہو جانا اور ہر ایک پہلو سے انقلاب عظیم اس عالم میں پیدا ہو جانا۔ اور ہر ایک دانشمند کی شہادت سے دنیا کا ایک مصلح کا محتاج ہونا۔ اور میرے مقابلہ سے خواہ اعجازی کلام میں اور خواہ آسمانی نشانوں میں تمام لوگوں کا عاجز آجانا اور میری تائید میں خدا تعالیٰ کی لاکھوں پیشگوئیاں پوری ہونا۔ یہ تمام نشان اور علامات اور قرائن ایک خداترس کے لئے میرے قبول کرنے کے لئے کافی ہیں۔ بعض جاہل اس جگہ اعتراض کرتے ہیں کہ بعض پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں جیسا کہ آتھم کے مرنے کی اور احمد بیگ کے داماد کی پیشگوئی مگر اُن کو خدا تعالیٰ سے شرم کرنی چاہیے کیونکہ جس حالت میں کئی لاکھ پیشگوئی روز روشن کی طرح پوری ہو چکی ہے اور دن بدن نئے نئے نشان ظاہر ہوتے جاتے ہیں تو اس صورت میں اگر ایک دو پیشگوئیاں ان کی سمجھ میں نہیں آئیں تو یہ ان کی سراسر شقاوت ہے کہ باعث اس بدفہمی کے جس میں خود ان کا قصور ہے خدا تعالیٰ کے ہزار ہا نشانوں اور دلیلوں اور معجزات سے انکار کر دیں۔ اور اگر اسی طرح پر انکار ہو سکتا ہے تو پھر ہمیں کسی پیغمبر کا پتہ بتلاویں جس کی بعض پیشگوئیوں کے پورا ہونے کی نسبت انکار نہیں کیا گیا۔ چنانچہ ملا کی نبی کی پیشگوئی اپنے ظاہری معنوں کے رو سے اب تک پوری نہیں ہوئی۔ کہاں الیاس نبی دنیا میں آیا جس کا یہود کو آج تک انتظار ہے حالانکہ مسیح آچکا ہے جس سے پہلے اُس کا آنا ضروری تھا۔ کہاں یہ پیشگوئی مسیح کی پوری ہوئی کہ اس زمانہ کے لوگ ابھی زندہ ہی ہوں گے کہ میں واپس آجاؤں گا۔ کہاں اس کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ پطرس کے ہاتھ میں آسمان کی کنجیاں ہیں۔ کہاں اُس کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ وہ داؤد کا تخت قائم کرے گا۔ اور کب یہ پیشگوئی ظہور میں آئی کہ اس کے بارہ۱۲ حواری بارہ۱۲ تختوں پر بیٹھیں گے۔ کیونکہ یہودا اسکر یوطی مرتد ہو گیا اور جہنم میں جاپڑا اور اس کی بجائے جس کے لئے تخت کا وعدہ تھا ایک نیا حواری تراشا گیا جو مسیح کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ ایسا ہی حدیثوں میں لکھا ہے۔ چنانچہ در منثور میں بھی ہے کہ یونس نبی نے یہ پیشگوئی قطعی طور پر بغیر کسی شرط کے کی تھی کہ نینوہ کے رہنے والوں پر چالیس دن کے اندر عذاب نازل ہوگا جو اُن کو اس میعاد کے اندر ہلاک کر دے گا مگر کوئی عذاب نازل نہ ہوا اور نہ وہ ہلاک ہوئے۔ آخر یونس کو شرمندہ ہو کر اُس جگہ سے بھاگنا پڑا۔ یہ پیشگوئی بائبل میں یونہ نبی کی کتاب میں بھی موجود ہے جس کو عیسائی خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھتے ہیں۔ پھر باوجود ان سب باتوں کے مسلمان ان پیغمبروں پر ایمان بھی لاتے ہیں اور ان چند اعتراضات کی کچھ پروانہیں کرتے اور وہ دو۲ پیشگوئیاں مذکورہ بالا جن کی نسبت اُن کا اعتراض ہے یعنی آتھم کے متعلق اور احمد بیگ کے داماد کے متعلق ان کی نسبت ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ آتھم کی موت کی پیشگوئی تمام تر صفائی سے پوری ہو گئی ۔ اب تلاش کرو آتھم کہاں ہے۔ کیا وہ زندہ ہے یا مر گیا ۔ پیشگوئی کا ماحصل یہ تھا کہ ہم دونوں فریق میں سے جو جھوٹا ہے وہ سچے سے پہلے مرے گا سو مدت ہوئی کہ آتھم مر گیا اور یہ فقرہ جو اس پیشگوئی میں موجود تھا کہ آتھم پندرہ مہینہ کے اندر مرے گا۔ اس کے ساتھ یہ شرط بھی شائع کی گئی تھی کہ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے مگر آتھم نے اُسی مجلس بحث میں اپنی بے ادبی سے رجوع کر لیا تھا کیونکہ جب میں نے اُس کو کہا کہ یہ پیشگوئی اس لئے کی گئی ہے کہ تم نے آنحضرت صلعم کو اپنی کتاب میں دجال لکھا ہے تو سنتے ہی اُس کا چہرہ زرد ہو گیا اور نہایت تضرع سے اُس نے اپنی زبان منہ سے باہر نکالی اور دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ لئے اور کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ہرگز ایسا نہیں کہا۔ اور بڑی عاجزی اور تضرع ظاہر کی ۔ اُس وقت ساٹھ۶۰ سے زیادہ مسلمان اور عیسائی وغیرہ موجود تھے۔ کیا یہ ایسا لفظ نہیں تھا جس کو شوخی اور بے ادبی سے رجوع سمجھا جائے اور پھر وہ پندرہ۱۵ مہینہ تک مخالفت سے بالکل چپ رہا اور اکثر گریہ و بکا میں رہا اور اپنی حالت اُس نے بالکل بدل لی۔ پس ایک نیک دل ایماندار کے لئے یہ کافی ہے کہ اُس نے پندرہ مہینہ کے اندر کسی حد تک اپنی تبدیلی کر لی تھی ۔ اور چونکہ اُس نے خدا تعالیٰ سے خوف کھا کر نرمی اور تضرع اختیار کیا اور قطعاً شوخی اور گستاخی چھوڑ دی بلکہ امرتسر میں جو ایسے لوگوں کی صحبت اُسے میسر تھی اُس صحبت کو ترک کر کے اور وہ مکان چھوڑ کر وہ فیروز پور میں جا کر مقیم ہو گیا ۔ پس ضرور تھا کہ وہ اس قدر خوف سے فائدہ اُٹھاتا ۔ پس اگر چہ اس بات سے محفوظ نہ رہا کہ میرے پہلے بہت جلد انہیں دنوں میں مر گیا مگر کسی قدر شرط کے پورا کرنے سے فائدہ اُٹھا لیا۔ اُس کے مقابل لیکھر ام تھا جس نے پیشگوئی کی میعاد میں کوئی تضرع اور خوف ظاہر نہ کیا بلکہ پہلے سے بھی زیادہ گستاخ ہو کر بازاروں اور کوچوں اور شہروں اور دیہات میں توہین اسلام کرنے لگا تب وہ میعاد کے اندر ہی اپنی اس بداعمالی کی وجہ سے پکڑا گیا اور وہ زبان اُس کی جو گالی اور بدزبانی میں چھری کی طرح چلتی تھی اُسی چھری نے اس کا کام تمام کر دیا۔
رہا احمد بیگ کا داماد پس ہر ایک شخص کو معلوم ہے کہ یہ پیشگوئی دو شخصوں کی نسبت تھی۔ ایک احمد بیگ کی نسبت اور دوسری اُس کے داماد کی نسبت۔ سو ایک حصہ اس پیشگوئی کا میعاد کے اندر ہی پورا ہو گیا یعنی احمد بیگ میعاد کے اندر مر گیا اور اس طرح پر ایک ٹانگ پیشگوئی کی پوری ہوگئی۔ اب دوسری ٹانگ جو باقی ہے اس کی نسبت جو اعتراض ہے افسوس کہ وہ دیانت کے ساتھ پیش نہیں کیا جاتا اور آج تک کسی معترض کے منہ سے میں نے یہ نہیں سنا کہ وہ اس طرح پر اعتراض کرے کہ اگر چہ اس پیشگوئی کا ایک حصہ پورا ہو چکا ہے اور ہم بصدق دل اعتراف کرتے ہیں کہ وہ پورا ہوا مگر دوسرا حصہ اب تک پورا نہیں ہوا بلکہ یہودیوں کی طرح پورا ہونے والا حصہ بالکل مخفی رکھ کر اعتراض کرتے ہیں۔ کیا ایسا شیوہ ایمان اور حیا اور راستبازی کے مطابق ہے؟ اب قطع نظر ان کی خائنانہ طرز گفتگو کے جواب یہ ہے کہ یہ پیشگوئی بھی آتھم کی پیشگوئی کی طرح مشروط بشرط ہے یعنی یہ لکھا گیا تھا کہ اس شرط سے وہ میعاد کے اندر پوری ہوگی کہ ان دونوں میں سے کوئی شخص خوف اور خشیت ظاہر نہ کرے سو احمد بیگ کو یہ خوفناک علامت پیش نہ آئی اور وہ پیشگوئی کو خلاف واقعہ سمجھتا رہا مگر احمد بیگ کے داماد اور اُس کے عزیزوں کو یہ خوفناک حالت پیش آگئی کیونکہ احمد بیگ کی موت نے ان کے دلوں پر ایک لرزہ ڈال دیا جیسا کہ انسانی فطرت میں داخل ہے کہ سخت سے سخت انسان نمونہ دیکھنے کے بعد ضرور ہراساں ہو جاتا ہے سو ضرور تھا کہ اس کو بھی مہلت دی جاتی۔ سو یہ تمام اعتراضات جہالت اور نابینائی اور تعصب کی وجہ سے ہیں نہ دیانت اور حق طلبی کی وجہ سے جس شخص کے ہاتھ سے اب تک دس لاکھ سے زیادہ نشان ظاہر ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ کیا اگر ایک یا دو پیشگوئیاں اُس کی کسی جاہل اور بد فہم اور غبی کو سمجھ میں نہ آویں تو اس سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ وہ تمام پیشگوئیاں صحیح نہیں۔ میں یہ بات حتمی وعدہ سے لکھتا ہوں کہ اگر کوئی مخالف خواہ عیسائی ہو خواہ بگفتن مسلمان۔ میری پیشگوئیوں کے مقابل پر اُس شخص کی پیشگوئیوں کو جس کا آسمان سے اُترنا خیال کرتے ہیں۔ صفائی اور یقین اور بداہت کے مرتبہ پر زیادہ ثابت کر سکے تو میں اُس کو نقد ایک ہزار روپیہ دینے کو طیار ہوں مگر ثابت کرنے کا یہ طریق نہیں ہوگا کہ وہ قرآن شریف کو پیش کرے کہ قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی مان لیا ہے اور یا اس کو نبی قرار دے دیا ہے کیونکہ اس طرح پر تو میں بھی زور سے دعویٰ کرتا ہوں کہ قرآن شریف میری سچائی کا بھی گواہ ہے۔ تمام قرآن شریف میں کہیں یسوع کا لفظ نہیں ہے مگر میری نسبت منکم کا لفظ موجود ہے اور دوسرے بہت سے علامات موجود ہیں بلکہ اس جگہ میرا صرف یہ مطلب ہے کہ قرآن شریف سے قطع نظر کر کے محض میری پیشگوئیوں اور یسوع کی پیشگوئیوں پر عدالتوں کی عام تحقیق کے رنگ میں نظر ڈالی جائے اور دیکھا جائے کہ ان دونوں میں سے کون سی پیشگوئیاں یا اکثر حصہ اُن کا بحکم عقل کمال صفائی سے پورا ہو گیا اور کون سا اس درجہ پر نہیں یعنی یہ تحقیقات اور مقابلہ ایسے طور سے ہونا چاہیے کہ اگر کوئی شخص قرآن شریف سے منکر ہو تو وہ بھی رائے ظاہر کر سکے کہ ثبوت کا پہلو کس طرف ہے۔
ماسوا اس کے اس جگہ مجھے افسوس آتا ہے کہ ہمارے مخالف مسلمان تو کہلاتے ہیں لیکن اسلام کے اُصول سے بے خبر ہیں۔ اسلام میں یہ مسلّم امر ہے کہ جو پیشگوئی وعید کے متعلق ہو اس کی نسبت ضروری نہیں کہ خدا اس کو پورا کرے یعنی جس پیشگوئی کا یہ مضمون ہو کہ کسی شخص یا گروہ پر کوئی بلا پڑے گی۔ اس میں یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ اس بلا کو ٹال دے جیسا کہ یونس کی پیشگوئی کو جو چالیس دن تک محدود تھی ٹال دیا لیکن جس پیشگوئی میں وعدہ ہو یعنی کسی انعام اکرام کی نسبت پیشگوئی ہو وہ کسی طرح ٹل نہیں سکتی ۔ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ(اٰل عمران: ۱۰) مگر کسی جگہ یہ نہیں فرمایا کہ اِنَّ اللّٰہ لا يخلف الوعيد ۔ پس اِس میں راز یہی ہے کہ وعید کی پیشگوئی خوف اور دعا اور صدقہ خیرات سے ٹل سکتی ہے۔ تمام پیغمبروں کا اس پر اتفاق ہے کہ صدقہ اور دعا اور خوف اور خشوع سے وہ بلا جو خدا کے علم میں ہے جو کسی شخص پر آئے گی وہ ردّ ہو سکتی ہے۔ اب سوچ لو کہ ہر ایک بلا جو خدا کے علم میں ہے اگر کسی نبی یا ولی کو اس کی اطلاع دی جائے تو اس کا نام اُس وقت پیشگوئی ہو گا جب وہ نبی یا ولی دوسروں کو اُس بلا سے اطلاع دے اور یہ ثابت شدہ بات ہے کہ بلا ٹل سکتی ہے ۔ پس ضرورتاً یہ نتیجہ نکلا کہ ایسی پیشگوئی کے ظہور میں تاخیر ہو سکتی ہے جو کسی بلا کی پیش خبری کرے۔
پھر ہم اپنے پہلے کلام کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ مولوی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب جب قادیان میں آئے تو صرف ان کو یہی فائدہ نہ ہوا کہ انہوں نے مفصل طور پر میرے دعوے کے دلائل سنے بلکہ اُن چند مہینوں کے عرصہ میں جو وہ قادیان میں میرے پاس رہے اور ایک سفر جہلم تک بھی میرے ساتھ کیا۔ بعض آسمانی نشان بھی میری تائید میں انہوں نے مشاہدہ کئے ۔ ان تمام براہین اور انوار اور خوارق کے دیکھنے کی وجہ سے وہ فوق العادت یقین سے بھر گئے ۔ اور طاقت بالا اُن کو کھینچ کر لے گئی۔ میں نے ایک موقعہ پر ایک اعتراض کا جواب بھی اُن کو سمجھایا تھا جس سے وہ بہت خوش ہوئے تھے۔ اور وہ یہ کہ جس حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہیں ۔ اور آپ کے خلفاء مثیل انبیاء بنی اسرائیل ہیں تو پھر کیا وجہ کہ مسیح موعود کا نام احادیث میں نبی کر کے پکارا گیا ہے مگر دوسرے تمام خلفاء کو یہ نام نہیں دیا گیا ۔ سو میں نے اُن کو یہ جواب دیا کہ جب کہ آنحضرت صلی اللہ خاتم الانبیاء تھے اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں تھا۔ اس لئے اگر تمام خلفاء کو نبی کے نام سے پکارا جاتا تو امر ختم نبوت مشتبہ ہو جاتا اور اگر کسی ایک فرد کو بھی نبی کے نام سے نہ پکارا جاتا تو عدم مشابہت کا اعتراض باقی رہ جاتا کیونکہ موسیٰ کے خلفاء نبی ہیں۔ اس لئے حکمت الٰہی نے یہ تقاضا کیا کہ پہلے بہت سے خلفاء کو برعایت ختم نبوت بھیجا جائے اور اُن کا نام نبی نہ رکھا جائے اور یہ مرتبہ ان کو نہ دیا جائے تا ختم نبوت پر یہ نشان ہو۔ پھر آخری خلیفہ یعنی مسیح موعود کو نبی کے نام سے پکارا جائے تا خلافت کے امر میں دونوں سلسلوں کی مشابہت ثابت ہو جائے۔ اور ہم کئی دفعہ بیان کر چکے ہیں کہ مسیح موعود کی نبوت ظلی طور پر ہے کیونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز کامل ہونے کی وجہ سے نفس نبی سے مستفیض ہو کر نبی کہلانے کا مستحق ہو گیا ہے۔ جیسا کہ ایک وحی میں خدا تعالیٰ نے مجھ کو مخاطب کر کے فرمایا تھا۔ یا احمد جُعلتَ مُرسلا ۔ اے احمد تو مرسل بنایا گیا یعنی جیسے کہ تو بروزی رنگ میں احمد کے نام کا مستحق ہوا حالانکہ تیرا نام غلام احمد تھا سو اسی طرح بروز کے رنگ میں نبی کے نام کا مستحق ہے۔
کیونکہ احمد نبی ہے۔ نبوت اس سے منفک نہیں ہو سکتی۔ اور ایک دفعہ یہ ذکر آیا کہ احادیث میں ہے کہ مسیح موعود دو زرد رنگ چادروں میں اترے گا۔ ایک چادر بدن کے اوپر کے حصہ میں ہوگی اور دوسری چادر بدن کے نیچے کے حصہ میں۔ سو میں نے کہا کہ یہ اس طرف اشارہ تھا کہ مسیح موعود دو بیماریوں کے ساتھ ظاہر ہوگا کیونکہ تعبیر کے علم میں زرد کپڑے سے مراد بیماری ہے۔ اور وہ دونوں بیماریاں مجھ میں ہیں یعنی ایک سر کی بیماری اور دوسری کثرت پیشاب اور دستوں کی بیماری۔ ابھی وہ اسی جگہ تھے کہ بہت سے یقین اور بھاری تبدیلی کی وجہ سے اُن پر الہام اور وحی کا دروازہ کھولا گیا۔ اور خدا تعالیٰ کی طرف سے کھلے لفظوں میں میری تصدیق کے بارے میں اُنہوں نے شہادتیں پائیں جن کی وجہ سے آخر کار اُنہوں نے اس شہادت کا شربت اپنے لئے منظور کیا جس کے مفصل لکھنے کے لئے اب وقت آگیا ہے۔ یقیناً یاد رکھو کہ جس طرز سے انہوں نے میری تصدیق کی راہ میں مرنا قبول کیا اِس قسم کی موت اسلام کے تیرہ سو برس کے سلسلہ میں بجز نمونہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اور کسی جگہ نہیں پاؤ گے۔ پس بلا شبہ اس طرح ان کا مرنا اور میری تصدیق میں نقد جان خدا تعالیٰ کے حوالہ کرنا یہ میری سچائی پر ایک عظیم الشان نشان ہے مگر اُن کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں۔ انسان شک و شبہ کی حالت میں کب چاہتا ہے کہ اپنی جان دے دے اور اپنی بیوی اور اپنے بچوں کو تباہی میں ڈالے۔ پھر عجب تر یہ کہ یہ بزرگ معمولی انسان نہیں تھا بلکہ ریاست کابل میں کئی لاکھ کی ان کی اپنی جاگیر تھی اور انگریزی عملداری میں بھی بہت سی زمین تھی۔ اور طاقت علمی اس درجہ تک تھی کہ ریاست نے تمام مولویوں کا ان کو سردار قرار دیا تھا۔ وہ سب سے زیادہ عالم علم قرآن اور حدیث اور فقہ میں سمجھے جاتے تھے اور نئے امیر کی دستار بندی کی رسم بھی انہیں کے ہاتھ سے ہوتی تھی۔ اور اگر امیر فوت ہو جائے تو اُس کے جنازہ پڑھنے کے لئے بھی وہی مقرر تھے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو ہمیں معتبر ذریعہ سے پہنچی ہیں۔ اور اُن کی خاص زبان سے میں نے سنا تھا کہ ریاست کابل میں پچاس ہزار کے قریب اُن کے معتقد اور ارادت مند ہیں جن میں سے بعض ارکان ریاست بھی تھے۔ غرض یہ بزرگ ملک کابل میں ایک فرد تھا۔ اور کیا علم کے لحاظ سے اور کیا تقویٰ کے لحاظ سے اور کیا جاہ اور مرتبہ کے لحاظ سے اور کیا خاندان کے لحاظ سے اُس ملک میں اپنی نظیر نہیں رکھتا تھا۔ اور علاوہ مولوی کے خطاب کے صاحبزادہ اور اخون زادہ اور شاہزادہ کے لقب سے اُس ملک میں مشہور تھے۔ اور شہید مرحوم ایک بڑا کتب خانہ حدیث اور تفسیر اور فقہ اور تاریخ کا اپنے پاس رکھتے تھے۔ اور نئی کتابوں کے خریدنے کے لئے ہمیشہ حریص تھے۔ اور ہمیشہ درس تدریس کا شغل جاری تھا۔ اور صدہا آدمی اُن کی شاگردی کا فخر حاصل کر کے مولویت کا خطاب پاتے تھے لیکن با ایں ہمہ کمال یہ تھا کہ بے نفسی اور انکسار میں اس مرتبہ تک پہنچ گئے تھے کہ جب تک انسان فنافی اللہ نہ ہو یہ مرتبہ نہیں پاسکتا۔ ہر ایک شخص کسی قدر شہرت اور علم سے محجوب ہو جاتا ہے۔ اور اپنے تئیں کچھ چیز سمجھنے لگتا ہے۔ اور وہی علم اور شہرت حق طلبی سے اُس کو مانع ہو جاتی ہے مگر یہ شخص ایک ایسا بے نفس تھا کہ باوجودیکہ ایک مجموعہ فضائل کا جامع تھا مگر تب بھی کسی حقیقت حقہ کے قبول کرنے سے اُس کو اپنی علمی اور عملی اور خاندانی وجاہت مانع نہیں ہو سکتی تھی۔ اور آخر سچائی پر اپنی جان قربان کی اور ہماری جماعت کے لئے ایسا نمونہ چھوڑ گیا جس کی پابندی اصل منشاء خدا کا ہے۔ اب ہم ذیل میں اس بزرگ کی شہادت کے واقعہ کو لکھتے ہیں کہ کس دردناک طریق سے وہ قتل کیا گیا اور اس راہ میں کیا استقامت اُس نے دکھلائی کہ بجز کامل قوتِ ایمانی کے اس دار الغرور میں کوئی نہیں دکھلا سکتا۔ اور بالآخر ہم یہ بھی لکھیں گے کہ ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا کیونکہ آج سے تئیس۲۳ برس پہلے اُن کی شہادت اور ان کے ایک شاگرد کی شہادت کی نسبت خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی تھی جس کو اُسی زمانہ میں مَیں نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں شائع کیا تھا۔ سو اس بزرگ مرحوم نے نہ فقط وہ نشان دکھلایا جو کامل استقامت کے رنگ میں اُس سے ظہور میں آیا بلکہ یہ دوسرا نشان بھی اُس کے ذریعہ سے ظاہر ہو گیا جو ایک مدّت دراز کی پیشگوئی اس کی شہادت سے پوری ہو گئی جیسا کہ ہم انشاء اللہ اخیر میں اس پیشگوئی کو درج کریں گے۔
واضح رہے کہ براہین احمدیہ کی پیشگوئی میں دو شہادتوں کا ذکر ہے۔ اور پہلی شہادت میاں عبدالرحمٰن مولوی صاحب موصوف کے شاگرد کی تھی۔ جس کی تکمیل امیر عبدالرحمٰن یعنی اس امیر کے باپ سے ہوئی۔ اِس لئے ہم بلحاظ ترتیب زمانی پہلے میاں عبدالرحمٰن مرحوم کی شہادت کا ذکر کرتے ہیں۔
مولوی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب مرحوم کی شہادت سے تخمیناً دو برس پہلے اُن کے ایما اور ہدایت سے میاں عبدالرحمٰن شاگرد رشید اُن کے قادیان میں شاید دو یا تین دفعہ آئے اور ہر یک مرتبہ کئی کئی مہینہ تک رہے اور متواتر صحبت اور تعلیم اور دلائل کے سننے سے اُن کا ایمان شہداء کا رنگ پکڑ گیا اور آخری دفعہ جب کابل واپس گئے تو وہ میری تعلیم سے پورا حصہ لے چکے تھے اور اتفاقاً اُن کی حاضری کے ایام میں بعض کتابیں میری طرف سے جہاد کی ممانعت میں چھپی تھیں جن سے اُن کو یقین ہو گیا تھا کہ یہ سلسلہ جہاد کا مخالف ہے۔ پھر ایسا اتفاق ہوا کہ جب وہ مجھ سے رخصت ہو کر پشاور میں پہنچے تو اتفاقاً خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر سے جو پشاور میں تھے اور میرے مرید ہیں ملاقات ہوئی۔ اور اُنہیں دنوں میں خواجہ کمال الدین صاحب نے ایک رسالہ جہاد کی ممانعت میں شائع کیا تھا۔ اس سے اُن کو بھی اطلاع ہوئی۔ اور وہ مضمون ایسا اُن کے دل میں بیٹھ گیا کہ کابل میں جا کر جا بجا اُنہوں نے یہ ذکر شروع کیا کہ انگریزوں سے جہاد کرنا درست نہیں کیونکہ وہ ایک کثیر گروہ مسلمانوں کے حامی ہیں اور کئی کروڑ مسلمان امن و عافیت سے اُن کے زیر سایہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ تب یہ خبر رفتہ رفتہ امیر عبدالرحمٰن کو پہنچ گئی۔ اور یہ بھی بعض شریر پنجابیوں نے جو اس کے ساتھ ملازمت کا تعلق رکھتے ہیں۔ اس پر ظاہر کیا کہ یہ ایک پنجابی شخص کا مرید ہے جو اپنے تئیں مسیح موعود ظاہر کرتا ہے۔ اور اُس کی یہ بھی تعلیم ہے کہ انگریزوں سے جہاد درست نہیں بلکہ اس زمانہ میں قطعاً جہاد کا مخالف ہے۔ تب امیر یہ بات سن کر بہت برافروختہ ہو گیا اور اُس کو قید کرنے کا حکم دیا تا مزید تحقیقات سے کچھ زیادہ حال معلوم ہو۔ آخر یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ ضرور یہ شخص مسیح قادیانی کا مرید اور مسئلہ جہاد کا مخالف ہے۔ تب اُس مظلوم کو گردن میں کپڑا ڈال کر اور دم بند کر کے شہید کیا گیا۔ کہتے ہیں کہ اس کی شہادت کے وقت بعض آسمانی نشان ظاہر ہوئے۔
یہ تو میاں عبدالرحمٰن شہید کا ذکر ہے۔ اب ہم مولوی صاحبزادہ عبداللطیف کی شہادت کا دردناک ذکر کرتے ہیں اور اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہیں کہ اِس قسم کا ایمان حاصل کرنے کے لئے دعا کرتے رہیں کیونکہ جب تک انسان کچھ خدا کا اور کچھ دنیا کا ہے تب تک آسمان پر اُس کا نام مومن نہیں۔
ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ مولوی صاحب خوست علاقہ کابل سے قادیان میں آکر کئی مہینہ میرے پاس اور میری صحبت میں رہے۔ پھر بعد اس کے جب آسمان پر یہ امر قطعی طور پر فیصلہ پاچکا۔ کہ وہ درجہ شہادت پاویں تو اُس کے لئے یہ تقریب پیدا ہوئی کہ وہ مجھ سے رخصت ہو کر اپنے وطن کی طرف واپس تشریف لے گئے ۔ اب جیسا کہ معتبر ذرائع سے اور خاص دیکھنے والوں کی معرفت مجھے معلوم ہوا ہے قضا و قدر سے یہ صورت پیش آئی کہ مولوی صاحب جب سرزمین علاقہ ریاست کابل کے نزدیک پہنچے تو علاقہ انگریزی میں ٹھہر کر بر گیڈیر محمد حسین کوتوال کو جو اُن کا شاگرد تھا ایک خط لکھا کہ اگر آپ امیر صاحب سے میرے آنے کی اجازت حاصل کر کے مجھے اطلاع دیں تو امیر صاحب کے پاس بمقام کابل میں حاضر ہو جاؤں ۔ بلا اجازت اس لئے تشریف نہ لے گئے کہ وقت سفر امیر صاحب کو یہ اطلاع دی تھی کہ میں حج کو جاتا ہوں مگر وہ ارادہ قادیان میں بہت دیر تک ٹھہرنے سے پورا نہ ہو سکا اور وقت ہاتھ سے جاتا رہا۔ اور چونکہ وہ میری نسبت شناخت کر چکے تھے کہ یہی شخص مسیح موعود ہے۔ اس لئے میری صحبت میں رہنا اُن کو مقدم معلوم ہوا۔ اور بموجب نص اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَاَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ(النساء: ۶۰) حج کا ارادہ انہوں نے کسی دوسرے سال پر ڈال دیا۔ اور ہر ایک دل اس بات کو محسوس کر سکتا ہے کہ ایک حج کے ارادہ کرنے والے کے لئے اگر یہ بات پیش آ جائے کہ وہ اس مسیح موعود کو دیکھ لے جس کا تیرہ سو۱۳۰۰ برس سے اہل اسلام میں انتظار ہے۔ تو بموجب نص صریح قرآن اور احادیث کے وہ بغیر اس کی اجازت کے حج کو نہیں جا سکتا ۔ ہاں باجازت اس کے دوسرے وقت میں جا سکتا ہے۔ غرض چونکہ وہ مرحوم سید الشہداء اپنی صحت نیت سے حج نہ کر سکا اور قادیان میں ہی دن گزر گئے ۔ تو قبل اس کے کہ وہ سرزمین کابل میں وارد ہوں اور حدود ریاست کے اندر قدم رکھیں احتیاطاً قرین مصلحت سمجھا کہ انگریزی علاقہ میں رہ کر امیر کابل پر اپنی سرگذشت کھول دی جائے کہ اس طرح پر حج کرنے سے معذوری پیش آئی۔ سو اُنہوں نے مناسب سمجھا کہ برگیڈیر محمد حسین کو خط لکھا تا وہ مناسب موقعہ پر اصل حقیقت مناسب لفظوں میں امیر کے گوش گذار کر دیں۔ اور اس خط میں یہ لکھا کہ اگر چہ میں حج کرنے کے لئے روانہ ہوا تھا مگر مسیح موعود کی مجھے زیارت ہوگئی۔ اور چونکہ مسیح کے ملنے کے لئے اور اس کی اطاعت مقدم رکھنے کے لئے خدا و رسول کا حکم ہے۔ اس مجبوری سے مجھے قادیان میں ٹھہرنا پڑا۔ اور میں نے اپنی طرف سے یہ کام نہ کیا بلکہ قرآن اور حدیث کی رو سے اسی امر کو ضروری سمجھا۔ جب یہ خط برگیڈیر محمد حسین کوتوال کو پہنچا تو اس نے وہ خط اپنے زانو کے نیچے رکھ لیا اور اُس وقت پیش نہ کیا مگر اس کے نائب کو جو مخالف اور شریر آدمی تھا کسی طرح پتہ لگ گیا کہ یہ مولوی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کا خط ہے۔ اور وہ قادیان میں ٹھہرے رہے تب اس نے وہ خط کسی تدبیر سے نکال لیا اور امیر صاحب کے آگے پیش کر دیا۔ امیر صاحب نے برگیڈیر محمد حسین کوتوال سے دریافت کیا کہ کیا یہ خط آپ کے نام آیا ہے۔ اُس نے امیر کے موجودہ غیظ و غضب سے خوف کھا کر انکار کر دیا۔ پھر ایسا اتفاق ہوا کہ مولوی صاحب شہید نے کئی دن پہلے خط کے جواب کا انتظار کر کے ایک اور خط بذریعہ ڈاک محمد حسین کوتوال کو لکھا۔ وہ خط افسر ڈاکخانہ نے کھول لیا اور امیر صاحب کو پہنچا دیا۔ چونکہ قضا و قدر سے مولوی صاحب کی شہادت مقدر تھی۔ اور آسمان پر وہ برگزیدہ بزمرۂ شہداء داخل ہو چکا تھا۔ اس لئے امیر صاحب نے اُن کے بلانے کے لئے حکمت عملی سے کام لیا اور اُن کی طرف خط لکھا کہ آپ بلا خطرہ چلے آؤ۔ اگر یہ دعویٰ سچا ہوگا تو میں بھی مرید ہو جاؤں گا۔ بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ خط امیر صاحب نے ڈاک میں بھیجا تھا یا دستی روانہ کیا تھا۔ بہرحال اس خط کو دیکھ کر مولوی صاحب موصوف کابل کی طرف روانہ ہو گئے اور قضا و قدر نے نازل ہونا شروع کر دیا۔ راویوں نے بیان کیا ہے کہ جب شہید مرحوم کابل کے بازار سے گزرے تو گھوڑے پر سوار تھے۔ اور ان کے پیچھے آٹھ سرکاری سوار تھے اور اُن کی تشریف آوری سے پہلے عام طور پر کابل میں مشہور تھا کہ امیر صاحب نے اخوند زادہ صاحب کو دھوکہ دے کر بلایا ہے۔ اب بعد اس کے دیکھنے والوں کا یہ بیان ہے کہ جب اخوند زادہ صاحب مرحوم بازار سے گزرے تو ہم اور دوسرے بہت سے بازاری لوگ ساتھ چلے گئے ۔ اور یہ بھی بیان کیا کہ آٹھ سرکاری سوار خوست سے ہی اُن کے ہمراہ کئے گئے تھے کیونکہ اُن کے خوست میں پہنچنے سے پہلے حکم سرکاری اُن کے گرفتار کرنے کے لئے حاکم خوست کے نام آچکا تھا۔ غرض جب امیر صاحب کے روبرو پیش کئے گئے تو مخالفوں نے پہلے سے ہی اُن کے مزاج کو بہت کچھ متغیر کر رکھا تھا۔ اس لئے وہ بہت ظالمانہ جوش سے پیش آئے اور حکم دیا کہ مجھے ان سے بو آتی ہے۔ ان کو فاصلہ پر کھڑا کرو۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد حکم دیا کہ ان کو اس قلعہ میں جس میں خود امیر صاحب رہتے ہیں قید کر دو اور زنجیر غراغراب لگا دو۔ یہ زنجیر وزنی ایک من چوبیس سیر انگریزی کا ہوتا ہے۔ گردن سے کمر تک گھیر لیتا ہے۔ اور اس میں ہتھکڑی بھی شامل ہے۔ اور نیز حکم دیا کہ پاؤں میں بیڑی وزنی آٹھ۸ سیر انگریزی کی لگا دو۔ پھر اس کے بعد مولوی صاحب مرحوم چار مہینہ قید میں رہے اور اس عرصہ میں کئی دفعہ ان کو امیر کی طرف سے فہمائش ہوئی کہ اگر تم اس خیال سے توبہ کرو کہ قادیانی درحقیقت مسیح موعود ہے تو تمہیں رہائی دی جائے گی مگر ہر ایک مرتبہ انہوں نے یہی جواب دیا کہ میں صاحب علم ہوں اور حق اور باطل کی شناخت کرنے کی خدا نے مجھے قوت عطا کی ہے۔ میں نے پوری تحقیق سے معلوم کر لیا ہے کہ یہ شخص درحقیقت مسیح موعود ہے۔ اگرچہ میں جانتا ہوں کہ میرے اس پہلو کے اختیار کرنے میں میری جان کی خیر نہیں ہے۔ اور میرے اہل و عیال کی بربادی ہے مگر میں اس وقت اپنے ایمان کو اپنی جان اور ہر ایک دنیوی راحت پر مقدم سمجھتا ہوں ۔ شہید مرحوم نے نہ ایک دفعہ بلکہ قید ہونے کی حالت میں بارہا یہی جواب دیا۔ اور یہ قید انگریزی قید کی طرح نہیں تھی جس میں انسانی کمزوری کا کچھ کچھ لحاظ رکھا جاتا ہے۔ بلکہ ایک سخت قید تھی جس کو انسان موت سے بدتر سمجھتا ہے۔ اس لئے لوگوں نے شہید موصوف کی اس استقامت اور استقلال کو نہایت تعجب سے دیکھا۔ اور درحقیقت تعجب کا مقام تھا کہ ایسا جلیل الشان شخص کہ جو کئی لاکھ روپیہ کی ریاست کابل میں جاگیر رکھتا تھا اور اپنے فضائل علمی اور تقویٰ کی وجہ سے گویا تمام سرزمین کابل کا پیشوا تھا۔ اور قریباً پچاس برس کی عمر تک تنعم اور آرام میں زندگی بسر کی تھی۔ اور بہت سا اہل و عیال اور عزیز فرزند رکھتا تھا۔ پھر ایک دفعہ وہ ایسی سنگین قید میں ڈالا گیا جو موت سے بدتر تھی اور جس کے تصور سے بھی انسان کے بدن پر لرزہ پڑتا ہے۔ ایسا نازک اندام اور نعمتوں کا پروردہ انسان وہ اُس روح کے گداز کرنے والی قید میں صبر کر سکے اور جان کو ایمان پر فدا کرے۔ بالخصوص جس حالت میں امیر کابل کی طرف سے بار بار اُن کو پیغام پہنچتا تھا کہ اُس قادیانی شخص کے تصدیق دعوٰی سے انکار کر دو تو تم ابھی عزت سے رہا کئے جاؤ گے مگر اُس قوی الایمان بزرگ نے اس بار بار کے وعدہ کی کچھ بھی پروا نہ کی اور بار بار یہی جواب دیا کہ مجھ سے یہ امید مت رکھو کہ میں ایمان پر دنیا کو مقدم رکھ لوں۔ اور کیونکر ہو سکتا ہے کہ جس کو میں نے خوب شناخت کر لیا اور ہر ایک طرح سے تسلی کر لی اپنی موت کے خوف سے اُس کا انکار کر دوں۔ یہ انکار تو مجھ سے نہیں ہوگا۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ میں نے حق پالیا۔ اس لئے چند روزہ زندگی کے لئے مجھ سے یہ بے ایمانی نہیں ہوگی کہ میں اُس ثابت شدہ حق کو چھوڑ دوں۔ میں جان چھوڑنے کے لئے طیار ہوں اور فیصلہ کر چکا ہوں مگر حق میرے ساتھ جائے گا۔ اُس بزرگ کے بار بار کے یہ جواب ایسے تھے کہ سرزمین کابل کبھی اُن کو فراموش نہیں کرے گی اور کابل کے لوگوں نے اپنی تمام عمر میں یہ نمونہ ایمانداری اور استقامت کا کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ اس جگہ یہ بھی ذکر کرنے کے لائق ہے کہ کابل کے امیروں کا یہ طریق نہیں ہے کہ اس قدر بار بار وعدہ معافی دے کر ایک عقیدہ کے چھوڑانے کے لئے توجہ دلائیں لیکن مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم کی یہ خاص رعایت اس وجہ سے تھی کہ وہ ریاست کابل کا گویا ایک بازو تھا اور ہزار ہا انسان اُس کے معتقد تھے اور جیسا کہ ہم اوپر لکھ چکے ہیں وہ امیر کابل کی نظر میں اس قدر منتخب عالم فاضل تھا کہ تمام علماء میں آفتاب کی طرح سمجھا جاتا تھا۔ پس ممکن ہے کہ امیر کو بجائے خود یہ رنج بھی ہو کہ ایسا برگزیدہ انسان علماء کے اتفاق رائے سے ضرور قتل کیا جائے گا اور یہ تو ظاہر ہے کہ آج کل ایک طور سے عنان حکومت کابل کی مولویوں کے ہاتھ میں ہے۔ اور جس بات پر مولوی لوگ اتفاق کر لیں پھر ممکن نہیں کہ امیر اُس کے برخلاف کچھ کر سکے۔ پس یہ امر قرین قیاس ہے کہ ایک طرف اس امیر کو مولویوں کا خوف تھا اور دوسری طرف شہید مرحوم کو بے گناہ دیکھتا تھا۔ پس یہی وجہ ہے کہ وہ قید کی تمام مدت میں یہی ہدایت کرتا رہا کہ آپ اس شخص قادیانی کو مسیح موعود مت مانیں۔ اور اس عقیدہ سے توبہ کریں تب آپ عزت کے ساتھ رہا کر دیئے جاؤ گے۔ اور اسی نیت سے اس نے شہید مرحوم کو اس قلعہ میں قید کیا تھا جس قلعہ میں وہ آپ رہتا تھا تا متواتر فہمائیش کا موقعہ ملتا رہے۔ اور اس جگہ ایک اور بات لکھنے کے لائق ہے۔ اور دراصل وہی ایک بات ہے جو اس بلا کی موجب ہوئی اور وہ یہ ہے کہ عبدالرحمن شہید کے وقت سے یہ بات امیر اور مولویوں کو خوب معلوم تھی کہ قادیانی جو مسیح موعود کا دعوی کرتا ہے جہاد کا سخت مخالف ہے۔ اور اپنی کتابوں میں بار بار اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس زمانہ میں تلوار کا جہاد درست نہیں اور اتفاق سے اس امیر کے باپ نے جہاد کے واجب ہونے کے بارے میں ایک رسالہ لکھا تھا جو میرے شائع کردہ رسالوں کے بالکل مخالف ہے اور پنجاب کے شرانگیز بعض آدمی جو اپنے تئیں موحد یا اہل حدیث کے نام سے موسوم کرتے تھے امیر کے پاس پہنچ گئے تھے۔ غالباً اُن کی زبانی امیر عبدالرحمن نے جو امیر حال کا باپ تھا میری اُن کتابوں کا مضمون سن لیا ہو گا اور عبد الرحمن شہید کے قتل کی بھی یہی وجہ ہوئی تھی کہ امیر عبدالرحمن نے خیال کیا تھا کہ یہ اُس گروہ کا انسان ہے جو لوگ جہاد کو حرام جانتے ہیں۔ اور یہ بات یقینی ہے کہ قضا و قدر کی کشش سے مولوی عبداللطیف مرحوم سے بھی یہ غلطی ہوئی کہ اس قید کی حالت میں بھی جتلا دیا کہ اب یہ زمانہ جہاد کا نہیں اور وہ مسیح موعود جو در حقیقت مسیح ہے اس کی یہی تعلیم ہے کہ اب یہ زمانہ دلائل کے پیش کرنے کا ہے تلوار کے ذریعہ سے مذہب کو پھیلانا جائز نہیں۔ اور اب اس قسم کا پودہ ہرگز بارور نہیں ہوگا بلکہ جلد خشک ہو جائے گا۔ چونکہ شہید مرحوم سچ کے بیان کرنے میں کسی کی پروا نہیں کرتے تھے۔ اور در حقیقت اُن کو سچائی کے پھیلانے کے وقت اپنی موت کا بھی اندیشہ نہ تھا۔ اس لئے ایسے الفاظ اُن کے منہ سے نکل گئے اور عجیب بات یہ ہے کہ اُن کے بعض شاگرد بیان کرتے ہیں کہ جب وہ وطن کی طرف روانہ ہوئے تو بار بار کہتے تھے کہ کابل کی زمین اپنی اصلاح کے لئے میرے خون کی محتاج ہے۔ اور در حقیقت وہ سچ کہتے تھے کیونکہ سرزمین کابل میں اگر ایک کروڑ اشتہار شائع کیا جاتا۔ اور دلائل قویہ سے میرا مسیح موعود ہونا اُن میں ثابت کیا جاتا تو اُن اشتہارات کا ہرگز ایسا اثر نہ ہوتا جیسا کہ اس شہید کے خون کا اثر ہوا۔ کابل کی سرزمین پر یہ خون اُس تخم کی مانند پڑا ہے جو تھوڑے عرصہ میں بڑا درخت بن جاتا ہے۔ اور ہزار ہا پرندے اس پر اپنا بسیرا لیتے ہیں۔ اب ہم اس دردناک واقعہ کا باقی حصہ اپنی جماعت کے لئے لکھ کر اس مضمون کو ختم کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب چار مہینے قید کے گزر گئے۔ تب امیر نے اپنے رو برو شہید مرحوم کو بلا کر پھر اپنی عام کچہری میں توبہ کے لئے فہمائش کی اور بڑے زور سے رغبت دی کہ اگر تم اب بھی قادیانی کی تصدیق اور اُس کے اصولوں کی تصدیق سے میرے روبرو انکار کرو تو تمہاری جان بخشی کی جائے گی اور تم عزت کے ساتھ چھوڑے جاؤ گے۔ شہید مرحوم نے جواب دیا کہ یہ تو غیر ممکن ہے کہ میں سچائی سے توبہ کروں۔ اس دنیا کے حکام کا عذاب تو موت تک ختم ہو جاتا ہے لیکن میں اُس سے ڈرتا ہوں جس کا عذاب کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ ہاں چونکہ میں سچ پر ہوں اس لئے چاہتا ہوں کہ ان مولویوں سے جو میرے عقیدہ کے مخالف ہیں میری بحث کرائی جائے۔ اگر میں دلائل کے رو سے جھوٹا نکلا تو مجھے سزا دی جائے۔ راوی اس قصہ کے کہتے ہیں کہ ہم اس گفتگو کے وقت موجود تھے۔ امیر نے اس بات کو پسند کیا اور مسجد شاہی میں خان ملّا خان اور آٹھ مفتی بحث کے لئے منتخب کئے گئے۔ اور ایک لاہوری ڈاکٹر جو خود پنجابی ہونے کی وجہ سے سخت مخالف تھا بطور ثالث کے مقرر کر کے بھیجا گیا۔ بحث کے وقت مجمع کثیر تھا اور دیکھنے والے کہتے ہیں کہ ہم اُس بحث کے وقت موجود تھے۔ مباحثہ تحریری تھا صرف تحریر ہوتی تھی۔ اور کوئی بات حاضرین کو سنائی نہیں جاتی تھی۔ اس لئے اُس مباحثہ کا کچھ حال معلوم نہیں ہوا۔ سات بجے صبح سے تین بجے سہ۳ پہر تک مباحثہ جاری رہا۔ پھر جب عصر کا آخری وقت ہوا تو کفر کا فتویٰ لگایا گیا۔ اور آخر بحث میں شہید مرحوم سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اگر مسیح موعود یہی قادیانی شخص ہے تو پھر تم عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کیا کہتے ہو۔ کیا وہ واپس دنیا میں آئیں گے یا نہیں تو انہوں نے بڑی استقامت سے جواب دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اب وہ ہرگز واپس نہیں آئیں گے۔ قرآن کریم اُن کے مرنے اور واپس نہ آنے کا گواہ ہے۔ تب تو وہ لوگ ان مولویوں کی طرح جنہوں نے حضرت عیسیٰؑ کی بات کو سن کر اپنے کپڑے پھاڑ دیئے تھے گالیاں دینے لگے اور کہا اب اس شخص کے کفر میں کیا شک رہا۔ اور بڑی غضبناک حالت میں یہ کفر کا فتویٰ لکھا گیا۔ پھر بعد اس کے اخوند زادہ حضرت شہید مرحوم اسی طرح پابزنجیر ہونے کی حالت میں قید خانہ میں بھیجے گئے اور اس جگہ یہ بات بیان کرنے سے رہ گئی ہے کہ جب شاہزادہ مرحوم کی اُن بدقسمت مولویوں سے بحث ہورہی تھی تب آٹھ آدمی برہنہ تلواریں لے کر شہید مرحوم کے سر پر کھڑے تھے۔ پھر بعد اس کے وہ فتویٰ کفر رات کے وقت امیر صاحب کی خدمت میں بھیجا گیا اور یہ چالاکی کی گئی کہ مباحثہ کے کاغذات ان کی خدمت میں عمداً نہ بھیجے گئے اور نہ عوام پر اُن کا مضمون ظاہر کیا گیا۔ یہ صاف اس بات پر دلیل تھی کہ مخالف مولوی شہید مرحوم کے ثبوت پیش کردہ کا کوئی رد نہ کر سکے مگر افسوس امیر پر کہ اُس نے کفر کے فتویٰ پر ہی حکم لگا دیا اور مباحثہ کے کاغذ طلب نہ کئے حالانکہ اُس کو چاہیے تو یہ تھا کہ اُس عادلِ حقیقی سے ڈر کر جس کی طرف عنقریب تمام دولت و حکومت کو چھوڑ کر واپس جائے گا خود مباحثہ کے وقت حاضر ہوتا۔ بالخصوص جبکہ وہ خوب جانتا تھا کہ اس مباحثہ کا نتیجہ ایک معصوم بے گناہ کی جان ضائع کرنا ہے تو اس صورت میں مقتضا خدا ترسی کا یہی تھا کہ بہر حال اُفتاں و خیزاں اُس مجلس میں جاتا اور نیز چاہیے تھا کہ قبل ثبوت کسی جرم کے اس شہید مظلوم پر یہ سختی روا نہ رکھتا کہ ناحق ایک مدت تک قید کے عذاب میں ان کو رکھتا اور زنجیروں اور ہتھکڑیوں کے شکنجہ میں اُس کو دبایا جاتا اور آٹھ سپاہی برہنہ شمشیروں کے ساتھ اس کے سر پر کھڑے کئے جاتے اور اس طرح ایک عذاب اور رعب میں ڈال کر اُس کو ثبوت دینے سے روکا جاتا۔ پھر اگر اُس نے ایسا نہ کیا تو عادلانہ حکم دینے کے لئے یہ تو اُس کا فرض تھا کہ کاغذات مباحثہ کے اپنے حضور میں طلب کرتا بلکہ پہلے سے یہ تاکید کر دیتا کہ کاغذات مباحثہ کے میرے پاس بھیج دینے چاہئیں۔ اور نہ صرف اس بات پر کفایت کرتا کہ آپ ان کاغذات کو دیکھتا بلکہ چاہیے تھا کہ سرکاری طور پر ان کاغذات کو چھپوا دیتا کہ دیکھو کیسے یہ شخص ہمارے مولویوں کے مقابل پر مغلوب ہو گیا اور کچھ ثبوت قادیانی کے مسیح موعود ہونے کے بارے میں اور نیز جہاد کی ممانعت میں اور حضرت مسیحؑ کے فوت ہونے کے بارے میں نہ دے سکا۔ ہائے وہ معصوم اس کی نظر کے سامنے ایک بکرے کی طرح ذبح کیا گیا اور باوجود صادق ہونے کے اور باوجود پورا ثبوت دینے کے اور باوجود ایسی استقامت کے کہ صرف اولیاء کو دی جاتی ہے پھر بھی اُس کا پاک جسم پتھروں سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا۔ اور اُس کی بیوی اور اُس کے یتیم بچوں کو خوست سے گرفتار کر کے بڑی ذلت اور عذاب کے ساتھ کسی اور جگہ حراست میں بھیجا گیا۔ اے نادان! کیا مسلمانوں میں اختلاف مذہب اور رائے کی یہی سزا ہوا کرتی ہے۔ تو نے کیا سوچ کر یہ خون کر دیا۔ سلطنت انگریزی جو اس امیر کی نگاہ میں اور نیز اُس کے مولویوں کے خیال میں ایک کافر کی سلطنت ہے کس قدر مختلف فرقے اس سلطنت کے زیر سایہ رہتے ہیں ۔ کیا اب تک اس سلطنت نے کسی مسلمان یا ہندو کو اس قصور کی بنا پر پھانسی دے دیا کہ اس کی رائے پادریوں کی رائے کے مخالف ہے۔ ہائے افسوس آسمان کے نیچے یہ بڑا ظلم ہوا کہ ایک بے گناہ معصوم با وجود صادق ہونے کے با وجود اہل حق ہونے کے اور باوجود اس کے کہ وہ ہزار ہا معزز لوگوں کی شہادت سے تقویٰ اور طہارت کے پاک پیرایہ سے مزین تھا۔ اس طرح بے رحمی سے محض اختلاف مذہب کی وجہ سے مارا گیا ۔ اس امیر سے وہ گورنر ہزار ہا درجہ اچھا تھا جس نے ایک مخبری پر حضرت مسیحؑ کو گرفتار کر لیا تھا یعنی پیلاطوس جس کا آج تک انجیلوں میں ذکر موجود ہے کیونکہ اس نے یہودیوں کے مولویوں کو جبکہ انہوں نے حضرت مسیحؑ پر کفر کا فتویٰ لکھ کر یہ درخواست کی کہ اس کو صلیب دی جائے یہ جواب دیا کہ اس شخص کا میں کوئی گناہ نہیں دیکھتا۔ افسوس اس امیر کو کم سے کم اپنے مولویوں سے یہ تو پوچھنا چاہیے تھا کہ یہ سنگساری کا فتویٰ کس قسم کے کفر پر دیا گیا۔ اور اس اختلاف کو کیوں کفر میں داخل کیا گیا اور کیوں انہیں یہ نہ کہا گیا کہ تمہارے فرقوں میں خود اختلاف بہت ہیں ۔ کیا ایک فرقہ کو چھوڑ کر دوسروں کو سنگسار کرنا چاہیے ۔ جس امیر کا یہ طریق اور یہ عدل ہے نہ معلوم وہ خدا کو کیا جواب دے گا ۔
بعد اس کے کہ فتویٰ کفر لگا کر شہید مرحوم قید خانہ میں بھیجا گیا۔ صبح روز شنبہ کو شہید موصوف کو سلام خانہ یعنی خاص مکان دربار امیر صاحب میں بلایا گیا ۔ اُس وقت بھی بڑا مجمع تھا۔ امیر صاحب جب ارک یعنی قلعہ سے نکلے تو راستہ میں شہید مرحوم ایک جگہ بیٹھے تھے اُن کے پاس ہو کر گزرے اور پوچھا کہ اخوند زادہ صاحب کیا فیصلہ ہوا۔ شہید مرحوم کچھ نہ بولے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان لوگوں نے ظلم پر کمر باندھی ہے مگر سپاہیوں میں سے کسی نے کہا کہ ملامت ہو گیا یعنی کفر کا فتویٰ لگ گیا۔ پھر امیر صاحب جب اپنے اجلاس پر آئے تو اجلاس میں بیٹھتے ہی پہلے اخوند زادہ صاحب مرحوم کو بلایا اور کہا کہ آپ پر کفر کا فتویٰ لگ گیا ہے۔ اب کہو کہ کیا توبہ کرو گے یا سزا پاؤ گے تو انہوں نے صاف لفظوں میں انکار کیا اور کہا کہ میں حق سے توبہ نہیں کر سکتا۔ کیا میں جان کے خوف سے باطل کو مان لوں ۔ یہ مجھ سے نہیں ہوگا ۔ تب امیر نے دوبارہ توبہ کے لئے کہا اور توبہ کی حالت میں بہت امید دی اور وعدہ معافی دیا مگر شہید موصوف نے بڑے زور سے انکار کیا اور کہا کہ مجھ سے یہ امید مت رکھو کہ میں سچائی سے توبہ کروں ۔ ان باتوں کو بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ سنی سنائی باتیں نہیں بلکہ ہم خود اس مجمع میں موجود تھے اور مجمع کثیر تھا۔ شہید مرحوم ہر ایک فہمائش کا زور سے انکار کرتا تھا اور وہ اپنے لئے فیصلہ کر چکا تھا کہ ضرور ہے کہ میں اس راہ میں جان دوں تب اُس نے یہ بھی کہا کہ میں بعد قتل چھ۶ روز تک پھر زندہ ہو جاؤں گا ۔ یہ راقم کہتا ہے کہ یہ قول وحی الہی کی بنا پر ہوگا جو اس وقت ہوئی ہوگی کیونکہ اس وقت شہید مرحوم منقطعین میں داخل ہو چکا تھا اور فرشتے اس سے مصافحہ کرتے تھے۔ تب فرشتوں سے یہ خبر پا کر ایسا اُس نے کہا اور اس قول کے یہ معنے تھے کہ وہ زندگی جو اولیاء اور ابدال کو دی جاتی ہے چھ۶ روز تک مجھے مل جائے گی اور قبل اس کے جو خدا کا دن آوے یعنی ساتواں دن میں زندہ ہو جاؤں گا اور یاد رہے کہ اولیاء اللہ اور وہ خاص لوگ جو خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوتے ہیں وہ چند دنوں کے بعد پھر زندہ کئے جاتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتًا ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ(اٰل عمران: ۱۷۰) یعنی تم ان کو مردے مت خیال کرو جو اللہ کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں وہ تو زندے ہیں ۔ پس شہید مرحوم کا اسی مقام کی طرف اشارہ تھا اور میں نے ایک کشفی نظر میں دیکھا کہ ایک درخت سرو کی ایک بڑی لمبی شاخ جو نہایت خوبصورت اور سرسبز تھی ہمارے باغ میں سے کاٹی گئی ہے اور وہ ایک شخص کے ہاتھ میں ہے تو کسی نے کہا کہ اس شاخ کو اس زمین میں جو میرے مکان کے قریب ہے اُس بیری کے پاس لگا دو جو اس سے پہلے کاٹی گئی تھی اور پھر دوبارہ اُگے گی اور ساتھ ہی مجھے یہ وحی الہی ہوئی کہ کابل سے کاٹا گیا اور سیدھا ہماری طرف آیا۔ اس کی میں نے یہ تعبیر کی کہ تخم کی طرح شہید مرحوم کا خون زمین پر پڑا ہے اور وہ بہت بارور ہو کر ہماری جماعت کو بڑھاوے گا۔ اس طرف میں نے یہ خواب دیکھی اور اس طرف شہید مرحوم نے کہا کہ چھ روز تک میں زندہ کیا جاؤں گا۔ میری خواب اور شہید مرحوم کے اس قول کا مآل ایک ہی ہے۔ شہید مرحوم نے مر کر میری جماعت کو ایک نمونہ دیا ہے اور در حقیقت میری جماعت ایک بڑے نمونہ کی محتاج تھی۔ اب تک ان میں ایسے بھی پائے جاتے ہیں کہ جو شخص ان میں سے ادنیٰ خدمت بجالاتا ہے وہ خیال کرتا ہے کہ اس نے بڑا کام کیا ہے اور قریب ہے کہ وہ میرے پر احسان رکھے حالانکہ خدا کا اس پر احسان ہے کہ اس خدمت کے لئے اس نے اس کو توفیق دی ۔ بعض ایسے ہیں کہ پورے زور اور پورے صدق سے اس طرف نہیں آئے اور جس قوت ایمان اور انتہا درجہ کے صدق وصفا کا وہ دعویٰ کرتے ہیں آخر تک اس پر قائم نہیں رہ سکتے اور دنیا کی محبت کے لئے دین کو کھو دیتے ہیں اور کسی ادنیٰ امتحان کی بھی برداشت نہیں کر سکتے ۔ خدا کے سلسلے میں بھی داخل ہو کر اُن کی دنیا داری کم نہیں ہوتی لیکن خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ ایسے بھی ہیں کہ وہ سچے دل سے ایمان لائے اور سچے دل سے اس طرف کو اختیار کیا اور اس راہ کے لئے ہر ایک دکھ اُٹھانے کے لئے طیار ہیں لیکن جس نمونہ کو اس جواں مرد نے ظاہر کر دیا اب تک وہ قوتیں اس جماعت کی مخفی ہیں۔ خدا سب کو وہ ایمان سکھاوے اور وہ استقامت بخشے جس کا اس شہید مرحوم نے نمونہ پیش کیا ہے۔ یہ دنیوی زندگی جو شیطانی حملوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے کامل انسان بننے سے روکتی ہے اور اس سلسلہ میں بہت داخل ہوں گے مگر افسوس کہ تھوڑے ہیں کہ یہ نمونہ دکھائیں گے۔
پھر ہم اصل واقعہ کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ جب شہید مرحوم نے ہر ایک مرتبہ توبہ کرنے کی فہمائش پر توبہ کرنے سے انکار کیا تو امیر نے اُن سے مایوس ہو کر اپنے ہاتھ سے ایک لمبا چوڑا کاغذ لکھا اور اس میں مولویوں کا فتویٰ درج کیا اور اس میں یہ لکھا کہ ایسے کافر کی سنگسار کرنا سزا ہے۔ تب وہ فتویٰ اخوندزادہ مرحوم کے گلے میں لٹکا دیا گیا اور پھر امیر نے حکم دیا کہ شہید مرحوم کے ناک میں چھید کر کے اس میں رسّی ڈال دی جائے اور اُسی رسی سے شہید مرحوم کو کھینچ کر مقتل یعنی سنگسار کرنے کی جگہ تک پہنچایا جائے ۔ چنانچہ اس ظالم امیر کے حکم سے ایسا ہی کیا گیا اور ناک کو چھید کر سخت عذاب کے ساتھ اُس میں رسی ڈالی گئی ۔ تب اُس رسی کے ذریعہ سے شہید مرحوم کو نہایت ٹھٹھے ہنسی اور گالیوں اور لعنت کے ساتھ مقتل تک لے گئے اور امیر اپنے تمام مصاحبوں کے ساتھ اور مع قاضیوں ، مفتیوں اور دیگر اہلکاروں کے یہ درد ناک نظارہ دیکھتا ہوا مقتل تک پہنچا اور شہر کی ہزار ہا مخلوق جن کا شمار کرنا مشکل ہے اس تماشا کے دیکھنے کے لئے گئی ۔ جب مقتل پر پہنچے تو شاہزادہ مرحوم کو کمر تک زمین میں گاڑ دیا اور پھر اس حالت میں جبکہ وہ کمر تک زمین میں گاڑ دیئے گئے تھے امیر اُن کے پاس گیا اور کہا کہ اگر تو قادیانی سے جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے انکار کرے تو اب بھی میں تجھے بچالیتا ہوں ۔ اب تیرا آخری وقت ہے اور یہ آخری موقعہ ہے جو تجھے دیا جاتا ہے اور اپنی جان اور اپنے عیال پر رحم کر ۔ تب شہید مرحوم نے جواب دیا۔ کہ نعوذ باللہ سچائی سے کیونکر انکار ہو سکتا ہے اور جان کیا حقیقت ہے اور عیال واطفال کیا چیز ہیں جن کے لئے میں ایمان کو چھوڑ دوں ۔ مجھ سے ایسا ہر گز نہیں ہوگا اور میں حق کے لئے مروں گا ۔ تب قاضیوں اور فقیہوں نے شور مچایا کہ کافر ہے کافر ہے اس کو جلد سنگسار کرو۔ اس وقت امیر اور اُس کا بھائی نصر اللہ خاں اور قاضی اور عبدالاحد کمیدان یہ لوگ سوار تھے اور باقی تمام لوگ پیادہ تھے۔ جب ایسی نازک حالت میں شہید مرحوم نے بار بار کہہ دیا کہ میں ایمان کو جان پر مقدم رکھتا ہوں ۔ تب امیر نے اپنے قاضی کو حکم دیا کہ پہلا پتھر تم چلاؤ کہ تم نے کفر کا فتویٰ لگایا ہے۔ قاضی نے کہا کہ آپ بادشاہ وقت ہیں آپ چلاویں۔ تب امیر نے جواب دیا کہ شریعت کے تم ہی بادشاہ ہو اور تمہارا ہی فتویٰ ہے اس میں میرا کوئی دخل نہیں ۔ تب قاضی نے گھوڑے سے اُتر کر ایک پتھر چلایا جس پتھر سے شہید مرحوم کو زخم کاری لگا اور گردن جھک گئی۔ پھر بعد اس کے بدقسمت امیر نے اپنے ہاتھ سے پتھر چلایا۔ پھر کیا تھا اس کی پیروی سے ہزاروں پتھر اس شہید پر پڑنے لگے۔ اور کوئی حاضرین میں سے ایسا نہ تھا جس نے اس شہید مرحوم کی طرف پتھر نہ پھینکا ہو۔ یہاں تک کہ کثرت پتھروں سے شہید مرحوم کے سر پر ایک کوٹھہ پتھروں کا جمع ہو گیا۔ پھر امیر نے واپس ہونے کے وقت کہا کہ یہ شخص کہتا تھا کہ میں چھ روز تک زندہ ہو جاؤں گا ۔ اس پر چھ روز تک پہرہ رہنا چاہیے ۔ بیان کیا گیا ہے کہ یہ ظلم یعنی سنگسار کرنا ۱۴؍جولائی کو وقوع میں آیا۔ اس بیان میں اکثر حصہ اُن لوگوں کا ہے جو اس سلسلہ کے مخالف تھے جنہوں نے یہ بھی اقرار کیا کہ ہم نے بھی پتھر مارے تھے اور بعض ایسے آدمی بھی اس بیان میں داخل ہیں کہ شہید مرحوم کے پوشیدہ شاگرد تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اس سے زیادہ دردناک ہے جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کیونکہ امیر کے ظلم کو پورے طور پر ظاہر کرنا کسی نے روا نہیں رکھا اور جو کچھ ہم نے لکھا ہے بہت سے خطوط کے مشترک مطلب سے ہم نے خلاصۃً لکھا ہے۔ ہر ایک قصہ میں اکثر مبالغہ ہوتا ہے لیکن یہ قصہ ہے کہ لوگوں نے امیر سے ڈر کر اُس کا ظلم پورا پورا بیان نہیں کیا اور بہت سی پردہ پوشی کرنی چاہی۔ شاہزادہ عبداللطیف کے لئے جو شہادت مقدر تھی وہ ہو چکی ۔ اب ظالم کا پاداش باقی ہے ۔ اِنَّہٗ مَنۡ یَّاۡتِ رَبَّہٗ مُجۡرِمًا فَاِنَّ لَہٗ جَہَنَّمَ ؕ لَا یَمُوۡتُ فِیۡہَا وَلَا یَحۡیٰی(طٰہٰ: ۷۵) افسوس کہ یہ امیر زیر آیت وَمَنۡ یَّقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا(النساء: ۹۴) داخل ہو گیا اور ایک ذرہ خدا تعالیٰ کا خوف نہ کیا۔ اور مومن بھی ایسا مومن کہ اگر کابل کی تمام سرزمین میں اُس کی نظیر تلاش کی جائے تو تلاش کرنا لا حاصل ہے۔ ایسے لوگ اکسیر احمر کے حکم میں ہیں جو صدق دل سے ایمان اور حق کے لئے جان بھی فدا کرتے ہیں اور زن و فرزند کی کچھ بھی پروا نہیں کرتے ۔ اے عبداللطیف تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا اور جو لوگ میری جماعت میں سے میری موت کے بعد رہیں گے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کام کریں گے۔
آں جواں مرد و حبیبِ کردگار
جوہر خود کرد آخر آشکار
نقد جاں از بہر جاناں باختہ
دل ازیں فانی سرا پرداختہ
پُر خطر ہست ایں بیابانِ حیات
صد ہزاراں اژدہائش در جہات
صد ہزاراں آتشے تا آسماں
صد ہزاراں سیل خوں خوار و دماں
صد ہزاراں فرسخے تا کوئے یار
دشت پُرخار و بلائش صد ہزار
بنگر ایں شوخی ازاں شیخ عجم
ایں بیاباں کرد طے از یک قدم
ایں چنیں باید خدا را بندۂ
سر پئے دلدار خود افگندۂ
او پئے دلدار از خود مردہ بود
از پئے تریاق زہرے خوردہ بود
تا نہ نوشد جام ایں زہرے کسے
کے رہائی یابد از مرگ آں خسے
زیر ایں موت است پنہاں صد حیات
زندگی خواہی بخور جام ممات
تو کہ گشتی بندۂ حرص و ہوا
ایں طلب در نفس دون تو کجا
دل بدیں دنیائے دوں آویختی
آبرو از بہر عصیاں ریختی
صد ہزاراں فوج شیطاں در پست
تا بسوزد در جہنم چوں خست
از پئے امید یا بہر خطر
مے شود ایمان تو زیر و زبر
از برائے ایں سرائے بے وفا
مے نہی دین خدا را زیر پا
دیں بود دین فدائے آں نگار
اے سیہ باطن ترا با دیں چہ کار
پست ہستی لاف اِستعلا مزن
وز گلیم خویش بیروں پا مزن
خویشتن را نیک اندیشیدۂ
اے ہداک اللہ چہ بد فہمیدۂ
خوش نہ گردد دلستاں از قیل و قال
تا نمیری زندگی باشد محال
کبر و کیس را ترک کن اے بدخصال
تا بتابد بر تو نورِ ذوالجلال
ایں چنیں بالا ز بالا چوں پری
یا مگر زاں ذات بے چوں منکری
کاخ دنیا را چہ دیداستی بنا
کت خوشت افتاد ایں فانی سرا
دل چرا عاقل بہ بندد اندریں
نا گہاں باید شدن بیروں ازیں
از پئے دنیا بریدن از خدا
بس ہمیں باشد نشانِ اشقیا
چوں شود بخشائش حق بر کسے
دل نمے ماند بدنیائش بسے
خوشترش آید بیابانِ تپاں
تا در و نالد زِ بہر دلستاں
پیش از مردن بمیرد حق شناس
زینکہ محکم نیست دنیا را اساس
ہوش کن ایں جائیگہ جائے فناست
با خدا مے باش چوں آخر خداست
زہر قاتل گر بدستِ خود خوری
من چساں دانم کہ تو دانشوری
بیں کہ ایں عبداللطیف پاک مرد
چوں پئے حق خویشتن برباد کرد
جاں بصدق آں دلستان را دادہ است
تا کنوں در سنگہا افتادہ است
ایں بود رسم و رہِ صدق و وفا
ایں بود مردانِ حق را انتہا
از پئے آں زندہ از خود فانی اند
جاں فشاں بر مسلک ربانی اند
فارغ اُفتادہ زِ نام و عز و جاہ
دِل ز کف و ز فرق افتادہ کلاہ
دور تر از خود بہ یار آمیختہ
آبرو از بہر روئے ریختہ
ذکر شاں ہم مے دہد یاد از خدا
صدق ورزاں در جنابِ کبریا
گر بجوئی ایں چنیں ایمان بود
کار بر جوئندگاں آسان بود
لیک تو افتادہ در دنیا اسیر
تا نمیری کے رہی زیں دار و گیر
تا نمیری اے سگ دنیا پرست
دامنِ آں یار کے آید بدست
نیست شو تا بر تو فیضانے رسد
جاں بیفشاں تا دِگر جانے رسد
تو گذاری عمر خود در کبر و کیس
چشم بستہ از رہ صدق و یقیں
نیک دل با نیکواں دارد سرے
بر گُہر تف مے زند بد گوہرے
ہست دیں تخم فنا را کاشتن
وز سر ہستی قدم برداشتن
چوں بیفتی با دو صد درد و نفیر
کس ہمے خیزد کہ گردد دستگیر
با خبر را دل تپد بر بے خبر
رحم بر کورے کند اہل بصر
ہم چنیں قانونِ قدرت اوفتاد
مر ضعیفاں را قوی آرد بیاد
اے میری جماعت خدا تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو۔ وہ قادر کریم آپ لوگوں کو سفر آخرت کے لئے ایسا طیار کرے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب طیار کئے گئے تھے۔ خوب یاد رکھو کہ دنیا کچھ چیز نہیں ہے۔ لعنتی ہے وہ زندگی جو محض دنیا کے لئے ہے اور بد قسمت ہے وہ جس کا تمام ہم و غم دنیا کے لئے ہے۔ ایسا انسان اگر میری جماعت میں ہے تو وہ عبث طور پر میری جماعت میں اپنے تئیں داخل کرتا ہے کیونکہ وہ اس خشک ٹہنی کی طرح ہے جو پھل نہیں لائے گی ۔
اے سعادتمند لوگو تم زور کے ساتھ اس تعلیم میں داخل ہو جو تمہاری نجات کے لئے مجھے دی گئی ہے۔ تم خدا کو واحد لاشریک سمجھو اور اُس کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت کرو نہ آسمان میں سے نہ زمین میں سے۔ خدا اسباب کے استعمال سے تمہیں منع نہیں کرتا لیکن جو شخص خدا کو چھوڑ کر اسباب پر ہی بھروسہ کرتا ہے وہ مشرک ہے۔ قدیم سے خدا کہتا چلا آیا ہے کہ پاک دل بننے کے سوا نجات نہیں ۔ سو تم پاک دل بن جاؤ اور نفسانی کینوں اور غصوں سے الگ ہو جاؤ۔ انسان کے نفس امارہ میں کئی قسم کی پلیدیاں ہوتی ہیں مگر سب سے زیادہ تکبر کی پلیدی ہے۔ اگر تکبر نہ ہوتا تو کوئی شخص کافر نہ رہتا سو تم دل کے مسکین بن جاؤ۔ عام طور پر بنی نوع کی ہمدردی کرو جبکہ تم انہیں بہشت دلانے کے لئے وعظ کرتے ہو۔ سو یہ وعظ تمہارا کب صحیح ہو سکتا ہے اگر تم اس چند روزہ دنیا میں ان کی بدخواہی کرو۔ خدا تعالیٰ کے فرائض کو دلی خوف سے بجالاؤ کہ تم اُن سے پوچھے جاؤ گے۔ نمازوں میں بہت دعا کرو کہ تا خدا تمہیں اپنی طرف کھینچے اور تمہارے دلوں کو صاف کرے کیونکہ انسان کمزور ہے۔ ہر ایک بدی جو دور ہوتی ہے وہ خدا تعالیٰ کی قوت سے دور ہوتی ہے اور جب تک انسان خدا سے قوت نہ پاوے کسی بدی کے دور کرنے پر قادر نہیں ہو سکتا۔ اسلام صرف یہ نہیں ہے کہ رسم کے طور پر اپنے تئیں کلمہ گو کہلاؤ بلکہ اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ تمہاری روحیں خدا تعالیٰ کے آستانہ پر گر جائیں اور خدا اور اس کے احکام ہر ایک پہلو کے رو سے تمہاری دنیا پر تمہیں مقدم ہو جائیں ۔
اے میری عزیز جماعت یقیناً سمجھو کہ زمانہ اپنے آخر کو پہنچ گیا ہے اور ایک صریح انقلاب نمودار ہو گیا ہے۔ سو اپنی جانوں کو دھوکہ مت دو اور بہت جلد راستبازی میں کامل ہو جاؤ ۔ قرآن کریم کو اپنا پیشوا پکڑو اور ہر ایک بات میں اس سے روشنی حاصل کرو اور حدیثوں کو بھی ردی کی طرح مت پھینکو کہ وہ بڑی کام کی ہیں اور بڑی محنت سے اُن کا ذخیرہ طیار ہوا ہے لیکن جب قرآن کے قصوں سے حدیث کا کوئی قصہ مخالف ہو تو ایسی حدیث کو چھوڑ دو تا گمراہی میں نہ پڑو ۔ قرآن شریف کو بڑی حفاظت سے خدا تعالیٰ نے تمہارے تک پہنچایا ہے سو تم اس پاک کلام کا قدر کرو اس پر کسی چیز کو مقدم نہ سمجھو کہ تمام راست روی اور راستبازی اسی پر موقوف ہے ۔ کسی شخص کی باتیں لوگوں کے دلوں میں اُسی حد تک مؤثر ہوتی ہیں جس حد تک اس شخص کی معرفت اور تقویٰ پر لوگوں کو یقین ہوتا ہے۔
اب دیکھو خدا نے اپنی حجت کو تم پر اس طرح پر پورا کر دیا ہے کہ میرے دعوٰی پر ہزار ہا دلائل قائم کر کے تمہیں یہ موقعہ دیا ہے کہ تا تم غور کرو کہ وہ شخص جو تمہیں اس سلسلہ کی طرف بلاتا ہے وہ کس درجہ کی معرفت کا آدمی ہے اور کس قدر دلائل پیش کرتا ہے اور تم کوئی عیب افترا یا جھوٹ یا دغا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے تا تم یہ خیال کرو کہ جو شخص پہلے سے جھوٹ اور افترا کا عادی ہے یہ بھی اُس نے جھوٹ بولا ہوگا ۔ کون تم میں ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا ہے ۔ پس یہ خدا کا فضل ہے کہ جو اس نے ابتدا سے مجھے تقویٰ پر قائم رکھا اور سوچنے والوں کے لئے یہ ایک دلیل ہے۔
پھر ماسوا اس کے میرے خدا نے عین صدی کے سر پر مجھے مامور فرمایا اور جس قدر دلائل میرے سچا ماننے کے لئے ضروری تھے وہ سب دلائل تمہارے لئے مہیا کر دیئے اور آسمان سے لے کر زمین تک میرے لئے نشان ظاہر کئے اور تمام نبیوں نے ابتدا سے آج تک میرے لئے خبریں دی ہیں ۔ پس اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا تو اس قدر دلائل اس میں کبھی جمع نہ ہو سکتے ۔ علاوہ اس کے خدا تعالیٰ کی تمام کتابیں اس بات پر گواہ ہیں کہ مفتری کو خدا جلد پکڑتا ہے اور نہایت ذلت سے ہلاک کرتا ہے مگر تم دیکھتے ہو کہ میرا دعوٰی منجانب اللہ ہونے کا تئیس برس سے بھی زیادہ کا ہے جیسا کہ براہین احمدیہ کے پہلے حصہ پر نظر ڈال کر تم سمجھ سکتے ہو پس ہر ایک عقلمند سوچ سکتا ہے کہ کیا کبھی خدا کی یہ عادت ہوئی اور جب سے انسان کو اُس نے پیدا کیا ہے کیا کبھی اُس نے ایسا کام کیا کہ جو شخص ایسا بد طینت اور چالاک اور گستاخ اور مفتری ہے کہ تئیس برس تک ہر روز نئے دن اور نئی رات میں خدا تعالیٰ پر افترا کر کے ایک نئی وحی اور نیا الہام اپنے دل سے تراشتا ہے اور پھر لوگوں کو یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی نازل ہوئی ہے۔ اور خدا تعالیٰ بجائے اس کے کہ ایسے شخص کو ہلاک کرے اپنے زبردست نشانوں سے اس کی تائید کرے اُس کے دعویٰ کے ثبوت کے لئے آسمان پر چاند اور سورج کو پیشگوئی کے موافق گرہن میں ڈالے اور اس طرح پر وہ پیشگوئی جو پہلی کتابوں اور قرآن شریف اور حدیثوں میں اور خود اس کی کتاب براہین احمدیہ میں تھی پوری کر کے دنیا میں دکھاوے اور سچوں کی طرح عین صدی کے سر پر اُس کو مبعوث کرے اور عین صلیبی غلبہ کے وقت میں جس کے لئے کاسر صلیب مسیح موعود آنا چاہیے تھا اُس کو اس دعویٰ کے ساتھ کھڑا کر دے اور ہر ایک قدم میں اس کی تائید کرے اور دس لاکھ سے زیادہ اس کی تائید میں نشان دکھاوے اور اس کو دنیا میں عزت دے اور زمین پر اُس کی قبولیت پھیلاوے اور صدہا پیشگوئیاں اُس کے حق میں پوری کرے اور نبیوں کے مقرر کردہ دنوں میں جو مسیح موعود کے ظہور کے لئے مقرر ہیں اس کو پیدا کرے اور اُس کی دعائیں قبول فرماوے اور اُس کے بیان میں تاثیر ڈال دے اور ایسا ہی ہر ایک پہلو سے اُس کی تائید کرے حالانکہ جانتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے اور ناحق عمداً اُس پر افترا کر رہا ہے۔ کیا بتا سکتے ہو کہ یہ کرم و فضل کا معاملہ پہلے مجھ سے خدا تعالیٰ نے کسی مفتری سے کیا۔
پس اے بندگانِ خدا غافل مت ہو اور شیطان تمہیں وساوس میں نہ ڈالے۔ یقیناً سمجھو کہ یہ وہی وعدہ پورا ہوا ہے جو قدیم سے خدا کے پاک نبی کرتے آئے ہیں۔ آج خدا کے مرسل اور شیطان کا آخری جنگ ہے اور یہ وہی وقت اور وہی زمانہ ہے جیسا کہ دانیال نبی نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا تھا۔ میں ایک فضل کی طرح اہل حق کے لئے آیا پر مجھ سے ٹھٹھا کیا گیا اور مجھے کافر اور دجال ٹھہرایا گیا اور بے ایمانوں میں سے مجھے سمجھا گیا۔ اور ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا تا وہ پیشگوئی پوری ہوتی جو آیت غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحۃ: ۷) کے اندر مخفی ہے کیونکہ خدا نے منعم علیہم کا وعدہ کر کے اس آیت میں بتا دیا ہے کہ اس امت میں وہ یہودی بھی ہوں گے جو یہود کے علماء سے مشابہ ہوں گے جنہوں نے حضرت عیسیٰ کو سولی دینا چاہا اور جنہوں نے عیسیٰ کو کافر اور دجال اور ملحد قرار دیا تھا۔ اب سوچو کہ یہ کس بات کی طرف اشارہ تھا۔ اسی بات کی طرف اشارہ تھا کہ مسیح موعود اس امت میں سے آنے والا ہے اس لئے اس کے زمانہ میں یہود کے رنگ کے لوگ بھی پیدا کئے جائیں گے جو اپنے زعم میں علماء کہلائیں گے۔ سو آج تمہارے ملک میں وہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔ اگر یہ علماء موجود نہ ہوتے تو اب تک تمام باشندے اس ملک کے جو مسلمان کہلاتے ہیں مجھے قبول کر لیتے۔ پس تمام منکروں کا گناہ ان لوگوں کی گردن پر ہے۔ یہ لوگ راستبازی کے محل میں نہ آپ داخل ہوتے ہیں نہ کم فہم لوگوں کو داخل ہونے دیتے ہیں۔ کیا کیا مکر ہیں جو کر رہے ہیں اور کیا کیا منصوبے ہیں جو اندر ہی اندر اُن کے گھروں میں ہو رہے ہیں مگر کیا وہ خدا پر غالب آجائیں گے اور کیا وہ اُس قادر مطلق کے ارادہ کو روک دیں گے جو تمام نبیوں کی زبانی ظاہر کیا گیا ہے۔ وہ اس ملک کے شریر امیروں اور بد قسمت دولت مند دنیا داروں پر بھروسا رکھتے ہیں مگر خدا کی نظر میں وہ کیا ہیں۔ صرف ایک مرے ہوئے کیڑے۔
اے تمام لوگو سن رکھو کہ یہ اُس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔ وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔ خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامراد رکھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔ اگر اب مجھ سے ٹھٹھا کرتے ہیں تو اس ٹھٹھے سے کیا نقصان کیونکہ کوئی نبی نہیں جس سے ٹھٹھا نہیں کیا گیا۔ پس ضرور تھا کہ مسیح موعود سے بھی ٹھٹھا کیا جاتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یٰحَسۡرَۃً عَلَی الۡعِبَادِ ۚؑ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا کَانُوۡا بِہٖیَسْتَہْزِءُوْنَ(یٰسٓ: ۳۱) پس خدا کی طرف سے یہ نشانی ہے کہ ہر ایک نبی سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے مگر ایسا آدمی جو تمام لوگوں کے روبرو آسمان سے اُترے اور فرشتے بھی اُس کے ساتھ ہوں اُس سے کون ٹھٹھا کرے گا۔ پس اس دلیل سے بھی عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ مسیح موعود کا آسمان سے اُترنا محض جھوٹا خیال ہے۔ یاد رکھو کہ کوئی آسمان سے نہیں اُترے گا۔ ہمارے سب مخالف جو اب زندہ موجود ہیں وہ تمام مریں گے اور کوئی اُن میں سے عیسیٰؑ بن مریم کو آسمان سے اُترتے نہیں دیکھے گا۔ اور پھر ان کی اولاد جو باقی رہے گی وہ بھی مرے گی اور اُن میں سے بھی کوئی آدمی عیسیٰؑ بن مریم کو آسمان سے اُترتے نہیں دیکھے گا اور پھر اولاد کی اولاد مرے گی اور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اُترتے نہیں دیکھے گی۔ تب خدا اُن کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبہ کا بھی گزر گیا۔ اور دنیا دوسرے رنگ میں آگئی مگر مریم کا بیٹا عیسیٰؑ اب تک آسمان سے نہ اُترا۔ تب دانشمند یک دفعہ اس عقیدہ سے بیزار ہو جائیں گے۔ اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ عیسیٰ کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بدظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔ مَیں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اُس کو روک سکے۔
اور یہ خیال مت کرو کہ آریہ یعنی ہندو دیانندی مذہب والے کچھ چیز ہیں۔ وہ صرف اُس زنبور کی طرح ہیں جس میں بجز نیش زنی کے اور کچھ نہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ توحید کیا چیز ہے اور روحانیت سے سراسر بے نصیب ہیں۔ عیب چینی کرنا اور خدا کے پاک رسولوں کو گالیاں دینا اُن کا کام ہے اور بڑا کمال ان کا یہی ہے کہ شیطانی وساوس سے اعتراضات کے ذخیرے جمع کر رہے ہیں اور تقویٰ اور طہارت کی روح اُن میں نہیں۔ یاد رکھو کہ بغیر روحانیت کے کوئی مذہب چل نہیں سکتا۔ اور مذہب بغیر روحانیت کے کچھ بھی چیز نہیں۔ جس مذہب میں روحانیت نہیں اور جس مذہب میں خدا کے ساتھ مکالمہ کا تعلق نہیں اور صدق وصفا کی روح نہیں اور آسمانی کشش اُس کے ساتھ نہیں اور فوق العادت تبدیلی کا نمونہ اس کے پاس نہیں وہ مذہب مردہ ہے۔ اس سے مت ڈرو۔ ابھی تم میں سے لاکھوں اور کروڑوں انسان زندہ ہوں گے کہ اس مذہب کو نابود ہوتے دیکھ لو گے کیونکہ یہ مذہب آریا کا زمین سے ہے نہ آسمان سے اور زمین کی باتیں پیش کرتا ہے نہ آسمان کی۔ پس تم خوش ہو اور خوشی سے اچھلو کہ خدا تمہارے ساتھ ہے اگر تم صدق اور ایمان پر قائم رہو گے تو فرشتے تمہیں تعلیم دیں گے اور آسمانی سکینت تم پر اُترے گی اور روح القدس سے مدد دیئے جاؤ گے اور خدا ہر ایک قدم میں تمہارے ساتھ ہوگا۔ اور کوئی تم پر غالب نہیں ہو سکے گا۔ خدا کے فضل کی صبر سے انتظار کرو۔ گالیاں سنو اور چپ رہو۔ ماریں کھاؤ اور صبر کرو اور حتی المقدور بدی کے مقابلہ سے پرہیز کرو تا آسمان پر تمہاری قبولیت لکھی جاوے۔ یقیناً یاد رکھو کہ جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں اور دل اُن کے خدا کے خوف سے پگھل جاتے ہیں اُنہیں کے ساتھ خدا ہوتا ہے اور وہ اُن کے دشمنوں کا دشمن ہو جاتا ہے۔ دنیا صادق کو نہیں دیکھتی پر خدا جو علیم وخبیر ہے وہ صادق کو دیکھ لیتا ہے۔ پس اپنے ہاتھ سے اُس کو بچاتا ہے۔ کیا وہ شخص جو سچے دل سے تم سے پیار کرتا ہے اور سچ مچ تمہارے لئے مرنے کو بھی طیار ہوتا ہے اور تمہاری منشاء کے موافق تمہاری اطاعت کرتا ہے اور تمہارے لئے سب کچھ چھوڑتا ہے۔ کیا تم اُس سے پیار نہیں کرتے اور کیا تم اُس کو سب سے عزیز نہیں سمجھتے۔ پس جبکہ تم انسان ہو کر پیار کے بدلہ میں پیار کرتے ہو پھر کیونکر خدا نہیں کرے گا۔ خدا خوب جانتا ہے کہ واقعی اس کا وفادار دوست کون ہے اور کون غدار اور دنیا کو مقدم رکھنے والا ہے۔ سو تم اگر ایسے وفادار ہو جاؤ گے تو تم میں اور تمہارے غیروں میں خدا کا ہاتھ ایک فرق قائم کر کے دکھلائے گا۔
واضح ہو کہ براہین احمدیہ کے صفحہ پانچسو دس۵۱۰ اور صفحہ پانچسو گیارہ۵۱۱ میں یہ پیشگوئیاں ہیں:۔
وان لم يعصمك الناس يعصمك اللہ من عنده. يعصمك اللہ من عنده وان لم يعصمك الناس. شاتان تذبحان. وكلّ من عليها فان. ولا تهنوا ولا تحزنوا. اليس اللہ بكافٍ عبده. الم تعلم انّ اللہ علىٰ كلّ شَیْءٍ قدير. وجئنابك على هؤلاء شهيدا. وفى اللہ اجرك. ويرضىٰ عنك ربّك. ويتمّ اسمك وعسىٰ ان تحبّوا شيئًا وهو شرّ لكم. وعسى ان تكرهوا شيئا وهو خير لكم واللہ يعلم وانتم لا تعلمون.
ترجمہ۔ اگر چہ لوگ تجھے قتل ہونے سے نہ بچائیں لیکن خدا تجھے بچائے گا۔ خدا تجھے ضرور قتل ہونے سے بچائے گا اگر چہ لوگ نہ بچائیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ لوگ تیرے قتل کے لئے سعی اور کوشش کریں گے خواہ اپنے طور سے اور خواہ گورنمنٹ کو دھوکہ دے کر مگر خدا اُن کو اُن کی تدبیروں میں نامراد رکھے گا۔ یہ ارادہ الٰہی اس غرض سے ہے کہ اگر چہ قتل ہونا مومن کے لئے شہادت ہے لیکن عادت اللہ اسی طرح ہے کہ دو قسم کے مرسل من اللہ قتل نہیں ہوا کرتے۔ (۱) ایک وہ نبی جو سلسلہ کے اول پر آتے ہیں جیسا کہ سلسلہ موسویہ میں حضرت موسیٰ اور سلسلہ محمدیہ میں ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (۲) دوسرے وہ نبی اور مامور من اللہ جو سلسلہ کے آخر میں آتے ہیں جیسے کہ سلسلہ موسویہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور سلسلہ محمدیہ میں یہ عاجز۔ یہی راز ہے کہ جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت قرآن شریف میں یعصمک اللہ کی بشارت ہے ایسا ہی اس خدا کی وحی میں میرے لئے یعصمک اللہ کی بشارت ہے اور سلسلہ کے اوّل اور آخر کے مرسل کو قتل سے محفوظ رکھنا اس حکمت الٰہی کے تقاضا سے ہے کہ اگر اوّل سلسلہ کا مرسل جو صدر سلسلہ ہے شہید کیا جائے تو عوام کو اس مرسل کی نسبت بہت شبہات پیدا ہو جاتے ہیں کیونکہ ہنوز وہ اس سلسلہ کی پہلی اینٹ ہوتا ہے پس اگر سلسلہ کی بنیاد پڑتے ہی اس سلسلہ پر یہ پتھر پڑیں کہ جو بانی سلسلہ ہے وہی قتل کیا جائے تو یہ ابتلا عوام کی برداشت سے برتر ہوگا اور ضرور وہ شبہات میں پڑیں گے اور ایسے بانی کو نعوذ باللہ مفتری قرار دیں گے مثلاً اگر حضرت موسیٰ فرعون کے رو برو جا کر اُسی روز قتل کئے جاتے یا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس روز جس دن قتل کے لئے مکہ میں آپ کے گھر کا محاصرہ کیا گیا تھا کافروں کے ہاتھ سے شہید کئے جاتے تو شریعت اور سلسلہ کا وہیں خاتمہ ہو جاتا اور بعد اس کے کوئی نام بھی نہ لیتا۔ پس یہی حکمت تھی کہ باوجود ہزاروں جانی دشمنوں کے نہ حضرت موسیٰ شہید ہو سکے اور نہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو سکے۔ اور اگر آخر سلسلہ کا مُرسل شہید کیا جائے تو عوام کی نظر میں خاتمہ سلسلہ پر ناکامی اور نامرادی کا داغ لگایا جائے گا اور خدا تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ خاتمہ سلسلہ کا فتح اور کامیابی کے ساتھ ہو کیونکہ حکم خواتیم پر ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کا منشاء ہرگز نہیں ہے کہ خاتمہ سلسلہ پر دشمن ملعون کو کوئی خوشی پہنچے جیسا کہ اس کا منشاء نہیں ہے کہ سلسلہ کی ابتدا میں ہی پہلی اینٹ کے ٹوٹنے سے ہی دشمن لعنتی خوشی سے بغلیں بجاویں۔ پس اس لئے حکمت الٰہیہ نے سلسلہ موسویہ کے آخر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب کی موت سے بچالیا۔ اور سلسلہ محمدیہ کے آخر میں بھی اسی غرض سے کوشش کی گئی یعنی خون کا دعویٰ کیا گیا تا محمدی مسیح کو صلیب پر کھینچا جائے مگر خدا کا فضل پہلے مسیح کی نسبت بھی اس مسیح پر زیادہ جلوہ نما ہوا اور سزائے موت سے اور ہر ایک سزا سے محفوظ رکھا۔ غرض چونکہ اول اور آخر سلسلہ کے دو دیواریں ہیں اور دو پشتیبان ہیں اس لئے عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ اول سلسلہ اور آخر سلسلہ کے مرسل کو قتل سے محفوظ رکھتا ہے۔ اگر چہ شریر اور خبیث آدمی بہت کوشش کرتے ہیں کہ قتل کر دیں مگر خدا کا ہاتھ اُن کے ساتھ ہوتا ہے۔ بعض وقت نادان دشمن دھوکہ سے یہ خیال کرتا ہے کہ کیا میں نیک نہیں ہوں اور کیا میں نماز اور روزہ کا پابند نہیں جیسا کہ یہود کے فقیہوں اور فریسیوں کو یہی خیال تھا بلکہ بعض اُن میں سے حضرت عیسیٰؑ کے وقت میں ملہم ہونے کا بھی دعویٰ کرتے تھے مگر ایسا نادان یہ نہیں جانتا کہ جو خدا کے صادق بندے ہوتے ہیں اور گہرے تعلق اُس کے ساتھ رکھتے ہیں وہ اُس صدق اور وفا اور محبت الٰہیہ سے رنگین ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو اُن کا ساتھ دینا پڑتا ہے اور اُن کے دشمن کو ہلاک کرتا ہے جیسا کہ بلعم نے تکبر اور غرور سے یہ خیال کیا کہ کیا موسیٰ مجھ سے بہتر ہے مگر موسیٰ کا خدا کے ساتھ ایک تعلق تھا جس کو لفظ ادا نہیں کر سکتے اور جو بیان کرنے میں نہیں آسکتا۔ اس لئے اندھا بلعم اس تعلق سے بے خبر رہا اور جو اپنے سے بہت بڑا تھا اُس کا مقابلہ کر کے مارا گیا۔ سو ہمیشہ یہ امر واقع ہوتا ہے کہ جو خدا کے خاص حبیب اور وفادار بندے ہیں۔ اُن کا صدق خدا کے ساتھ اُس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ یہ دنیا دار اندھے اُس کو دیکھ نہیں سکتے۔ اس لئے ہر ایک سجادہ نشینوں اور مولویوں میں سے اُن کے مقابلہ کے لئے اُٹھتا ہے اور وہ مقابلہ اُس سے نہیں بلکہ خدا سے ہوتا ہے۔ بھلا یہ کیونکر ہو سکے کہ جس شخص کو خدا نے ایک عظیم الشان غرض کے لئے پیدا کیا ہے اور جس کے ذریعہ سے خدا چاہتا ہے کہ ایک بڑی تبدیلی دنیا میں ظاہر کرے ایسے شخص کو چند جاہل اور بزدل اور خام اور نا تمام اور بے وفا زاہدوں کی خاطر سے ہلاک کر دے۔ اگر دو کشتیوں کا باہم ٹکراؤ ہو جائے جن میں سے ایک ایسی ہے کہ اُس میں بادشاہِ وقت جو عادل اور کریم الطبع اور فیاض اور سعید النفس ہے مع اپنے خاص ارکان کے سوار ہے۔ اور دوسری کشتی ایسی ہے جس میں چند چوہڑے یا چمار یا سائنسی بدمعاش بد وضع بیٹھے ہیں۔ اور ایسا موقع آپڑا ہے کہ ایک کشتی کا بچاؤ اس میں ہے کہ دوسری کشتی مع اس کے سواروں کے تباہ کی جائے تو اب بتلاؤ کہ اس وقت کون سی کار روائی بہتر ہوگی۔ کیا اُس بادشاہ عادل کی کشتی تباہ کی جائے گی یا ان بد معاشوں کی کشتی کہ جو حقیر و ذلیل ہیں تباہ کر دی جائے گی۔ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ بادشاہ کی کشتی بڑے زور اور حمایت سے بچائی جائے گی اور اُن چوہڑوں چماروں کی کشتی تباہ کر دی جائے گی اور وہ بالکل لا پرواہی سے ہلاک کر دیئے جائیں گے اور اُن کے ہلاک ہونے میں خوشی ہوگی کیونکہ دنیا کو بادشاہ عادل کے وجود کی بہت ضرورت ہے اور اس کا مرنا ایک عالم کا مرنا ہے۔ اگر چند چوہڑے اور چمار مر گئے تو اُن کی موت سے کوئی خلل دنیا کے انتظام میں نہیں آ سکتا۔ پس خدا تعالیٰ کی یہی سنت ہے کہ جب اُس کے مرسلوں کے مقابل پر ایک اور فریق کھڑا ہو جاتا ہے تو گو وہ اپنے خیال میں کیسے ہی اپنے تئیں نیک قرار دیں انہیں کو خدا تعالیٰ تباہ کرتا ہے اور انہیں کی ہلاکت کا وقت آجاتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ جس غرض کے لئے اپنے کسی مرسل کو مبعوث فرماتا ہے اس کو ضائع کرے کیونکہ اگر ایسا کرے تو پھر وہ خود اپنی غرض کا دشمن ہوگا اور پھر زمین پر اُس کی کون عبادت کرے گا۔ دنیا کثرت کو دیکھتی ہے اور خیال کرتی ہے کہ یہ فریق بہت بڑا ہے۔ سو یہ اچھا ہے۔ اور نادان خیال کرتا ہے کہ یہ لوگ ہزاروں لاکھوں مساجد میں جمع ہوتے ہیں کیا یہ بُرے ہیں مگر خدا کثرت کو نہیں دیکھتا وہ دلوں کو دیکھتا ہے۔ خدا کے خاص بندوں میں محبت الٰہی اور صدق اور وفا کا ایک ایسا خاص نور ہوتا ہے کہ اگر میں بیان کر سکتا تو بیان کرتا لیکن میں کیا بیان کروں جب سے دنیا ہوئی اس راز کو کوئی نبی یا رسول بیان نہیں کر سکا۔ خدا کے باوفا بندوں کی اس طور سے آستانہ الٰہی پر روح گرتی ہے کہ کوئی لفظ ہمارے پاس نہیں کہ اس کیفیت کو دکھلا سکے۔
اب بعد اس کے بقیہ ترجمہ کر کے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگرچہ میں تجھے قتل سے بچاؤں گا مگر تیری جماعت میں سے دو بکریاں ذبح کی جائیں گی اور ہر ایک جو زمین پر ہے آخر فنا ہوگا یعنی بے گناہ اور معصوم ہونے کی حالت میں قتل کی جائیں گی ۔ یہ خدا تعالیٰ کی کتابوں میں محاورہ ہے کہ بے گناہ اور معصوم کو بکرے یا بکری سے تشبیہ دی جاتی ہے اور کبھی گائیوں سے بھی تشبیہ دی جاتی ہے۔ سو خدا تعالیٰ نے اس جگہ انسان کا لفظ چھوڑ کر بکری کا لفظ استعمال کیا کیونکہ بکری میں دو ہنر ہیں وہ دودھ بھی دیتی ہے اور پھر اُس کا گوشت بھی کھایا جاتا ہے اور یہ پیشگوئی شہید مرحوم مولوی محمد عبداللطیف اور اُن کے شاگرد عبدالرحمٰن کے بارے میں ہے کہ جو براہین احمدیہ کے لکھے جانے کے بعد پورے تئیس۲۳ برس بعد پوری ہوئی ۔ اب تک لاکھوں کروڑوں انسانوں نے اس پیشگوئی کو میری کتاب براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۱ میں پڑھا ہوگا اور ظاہر ہے کہ جیسا کہ ابھی میں نے لکھا ہے بکری کی صفتوں میں سے ایک دودھ دینا ہے اور ایک اُس کا گوشت ہے جو کھایا جاتا ہے۔ یہ دونوں بکری کی صفتیں مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم کی شہادت سے پوری ہوئیں کیونکہ مولوی صاحب موصوف نے مباحثہ کے وقت انواع اقسام کے معارف اور حقائق بیان کر کے مخالفوں کو دودھ دیا۔ گو بد قسمت مخالفوں نے وہ دودھ نہ پیا اور پھینک دیا اور پھر شہید مرحوم نے اپنی جان کی قربانی سے اپنا گوشت دیا اور خون بہایا۔ تا مخالف اس گوشت کو کھاویں اور اس خون کو پیویں یعنی محبت کے رنگ میں اور اس طرح اُس پاک قربانی سے فائدہ اُٹھاویں اور سوچ لیں کہ جس مذہب اور جس عقیدہ پر وہ قائم ہیں اور جس پر اُن کے باپ دادے مر گئے کیا ایسی قربانی کبھی انہوں نے کی ۔ کیا ایسا صدق اور اخلاص کبھی کسی نے دکھلایا ۔ کیا ممکن ہے کہ جب تک انسان یقین سے بھر کر خدا کو نہ دیکھے وہ ایسی قربانی دے سکے ۔ بے شک ایسا خون اور ایسا گوشت ہمیشہ حق کے طالبوں کو اپنی طرف دعوت کرتا رہے گا جب تک کہ دنیا ختم ہو جاوے۔ غرض چونکہ صاحبزادہ مولوی عبداللطیف صاحب کو ان دو صفتوں کی وجہ سے بکری سے بہت مشابہت تھی اور میاں عبدالرحمٰن بھی بکری سے مشابہت رکھتا تھا اس لئے ان کو بکری کے نام سے یاد کیا گیا اور چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ اس راقم اور اس کی جماعت پر اس ناحق کے خون سے بہت صدمہ گزرے گا اس لئے اس وحی کے مابعد آنے والے فقروں میں تسلّی اور عزا پُرسی کے رنگ میں کلام نازل فرمایا جو ابھی عربی میں لکھ چکا ہوں جس کا یہ ترجمہ ہے کہ اس مصیبت اور اُس سخت صدمہ سے تم غمگین اور اُداس مت ہو کیونکہ اگر دو آدمی تم میں سے مارے گئے تو خدا تمہارے ساتھ ہے۔ وہ دو کے عوض ایک قوم تمہارے پاس لائے گا اور وہ اپنے بندہ کے لئے کافی ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے اور یہ لوگ جو ان دو مظلوموں کو شہید کریں گے ہم تجھ کو ان پر قیامت میں گواہ لائیں گے اور کہ کس گناہ سے انہوں نے شہید کیا تھا اور خدا تیرا اجر دے گا اور تجھ سے راضی ہوگا اور تیرے نام کو پورا کرے گا یعنی احمد کے نام کو جس کے یہ معنے ہیں کہ خدا کی بہت تعریف کرنے والا اور وہی شخص خدا کی بہت تعریف کرتا ہے جس پر خدا کے انعام اکرام بہت نازل ہوتے ہیں۔ پس مطلب یہ ہے کہ خدا تجھ پر انعام اکرام کی بارش کرے گا اس لئے تو سب سے زیادہ اس کا ثناخواں ہوگا ۔ تب تیرا نام جو احمد ہے پورا ہو جائے گا پھر بعد اس کے فرمایا کہ ان شہیدوں کے مارے جانے سے غم مت کرو۔ ان کی شہادت میں حکمت الہی ہے اور بہت باتیں ہیں جو تم چاہتے ہو کہ وہ وقوع میں آویں حالانکہ ان کا واقع ہونا تمہارے لئے اچھا نہیں ہوتا۔ اور بہت امور ہیں جو تم چاہتے ہو کہ وہ واقع نہ ہوں حالانکہ اُن کا واقع ہونا تمہارے لئے اچھا ہوتا ہے اور خدا خوب جانتا ہے کہ تمہارے لئے کیا بہتر ہے مگر تم نہیں جانتے اس تمام وحی الٰہی میں یہ سمجھایا گیا ہے کہ صاحبزادہ مولوی عبداللطیف مرحوم کا اس بے رحمی سے مارا جانا اگرچہ ایسا امر ہے کہ اس کے سننے سے کلیجہ منہ کو آتا ہے (وما رئينا ظلمًا اغيظ من هذا) لیکن اس خون میں بہت برکات ہیں کہ بعد میں ظاہر ہوں گے اور کابل کی زمین دیکھ لے گی کہ یہ خون کیسے کیسے پھل لائے گا۔ یہ خون کبھی ضائع نہیں جائے گا۔ پہلے اس سے غریب عبدالرحمٰن میری جماعت کا ظلم سے مارا گیا اور خدا چپ رہا مگر اس خون پر اب وہ چپ نہیں رہے گا اور بڑے بڑے نتائج ظاہر ہوں گے۔ چنانچہ سنا گیا ہے کہ جب شہید مرحوم کو ہزاروں پتھروں سے قتل کیا گیا تو انہیں دنوں میں سخت ہیضہ کابل میں پھوٹ پڑا اور بڑے بڑے ریاست کے نامی اس کا شکار ہو گئے اور بعض امیر کے رشتہ دار اور عزیز بھی اس جہان سے رخصت ہوئے مگر ابھی کیا ہے یہ خون بڑی بے رحمی کے ساتھ کیا گیا ہے اور آسمان کے نیچے ایسے خون کی اس زمانہ میں نظیر نہیں ملے گی۔ ہائے اس نادان امیر نے کیا کیا کہ ایسے معصوم شخص کو کمال بے دردی سے قتل کر کے اپنے تئیں تباہ کر لیا۔ اے کابل کی زمین تو گواہ رہ کہ تیرے پر سخت جرم کا ارتکاب کیا گیا۔ اے بد قسمت زمین تو خدا کی نظر سے گر گئی کہ تو اس ظلم عظیم کی جگہ ہے۔
جب میں نے اس کتاب کو لکھنا شروع کیا تو میرا ارادہ تھا کہ قبل اس کے جو ۱۶؍اکتوبر ۱۹۰۳ء کو بمقام گورداسپور ایک مقدمہ پر جاؤں جو ایک مخالف کی طرف سے فوجداری میں میرے پر دائر ہے یہ رسالہ تالیف کرلوں اور اس کو ساتھ لے جاؤں تو ایسا اتفاق ہوا کہ مجھے درد گردہ سخت پیدا ہوا۔ میں نے خیال کیا کہ یہ کام نا تمام رہ گیا صرف دو چار دن ہیں۔ اگر میں اسی طرح درد گردہ میں مبتلا رہا جو ایک مہلک بیماری ہے تو یہ تالیف نہیں ہو سکے گا تب خدا تعالیٰ نے مجھے دعا کی طرف توجہ دلائی۔ میں نے رات کے وقت میں جبکہ تین گھنٹے کے قریب بارہ بجے کے بعد رات گزر چکی تھی اپنے گھر کے لوگوں سے کہا کہ اب میں دعا کرتا ہوں تم آمین کہو۔ سو میں نے اُسی دردناک حالت میں صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف کے تصور سے دعا کی کہ یا الٰہی اس مرحوم کے لئے میں اس کو لکھنا چاہتا تھا تو ساتھ ہی مجھے غنودگی ہوئی اور الہام ہوا۔ سلامٌ قولًا من ربّ رحيم یعنی سلامتی اور عافیت ہے یہ خدائے رحیم کا کلام ہے۔ پس قسم ہے مجھے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابھی صبح کے چھ نہیں بجے تھے کہ میں بالکل تندرست ہو گیا اور اُسی روز نصف کے قریب کتاب کو لکھ لیا۔ فالحمد للّٰہ علٰی ذالک۔
اگر چہ میں خوب جانتا ہوں کہ جماعت کے بعض افراد ابھی تک اپنی روحانی کمزوری کی حالت میں ہیں یہاں تک کہ بعض کو اپنے وعدوں پر بھی ثابت رہنا مشکل ہے لیکن جب میں اس استقامت اور جانفشانی کو دیکھتا ہوں جو صاحبزادہ مولوی محمد عبد اللطیف مرحوم سے ظہور میں آئی تو مجھے اپنی جماعت کی نسبت بہت امید بڑھ جاتی ہے کیونکہ جس خدا نے بعض افراد اس جماعت کو یہ توفیق دی کہ نہ صرف مال بلکہ جان بھی اس راہ میں قربان کر گئے اُس خدا کا صریح یہ منشاء معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت سے ایسے افراد اس جماعت میں پیدا کرے جو صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف کی روح رکھتے ہوں۔ اور ان کی روحانیت کا ایک نیا پودہ ہوں جیسا کہ میں نے کشفی حالت میں واقعہ شہادت مولوی صاحب موصوف کے قریب دیکھا کہ ہمارے باغ میں سے ایک بلند شاخ سرو کی کاٹی گئی☆ اور میں نے کہا کہ اس شاخ کو زمین میں دوبارہ نصب کر دو تا وہ بڑھے اور پھولے۔ سو میں نے اس کی یہی تعبیر کی کہ خدا تعالیٰ بہت سے اُن کے قائم مقام پیدا کر دے گا۔ سو میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی وقت میرے اس کشف کی تعبیر ظاہر ہو جائے گی مگر ابھی تک یہ حال ہے کہ اگر میں ایک تھوڑی سی بات بھی اس سلسلہ کے قائم رکھنے کے لئے جماعت کے آگے پیش کرتا ہوں تو ساتھ ہی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ مبادا اس بات سے کسی کو ابتلا پیش نہ آوے۔ اب ایک ضروری بات جو اپنی جماعت کے آگے پیش کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ لنگر خانہ کے لئے جس قدر میری جماعت وقتاً فوقتاً مدد کرتی رہتی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ ہاں اس مدد میں پنجاب نے بہت حصہ لیا ہوا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پنجاب کے لوگ اکثر میرے پاس آتے جاتے ہیں۔ اور اگر دلوں میں غفلت کی وجہ سے کوئی سختی آجائے تو صحبت اور پے درپے ملاقات کے اثر سے وہ سختی بہت جلد دور ہوتی رہتی ہے اس لئے پنجاب کے لوگ خاص کر بعض افراد اُن کی محبت اور صدق اور اخلاص میں ترقی کرتے جاتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے ہر ایک ضرورت کے وقت وہ بڑی سرگرمی دکھلاتے ہیں اور سچی اطاعت کے آثار ان سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اور یہ ملک دوسرے ملکوں سے نسبتاً کچھ نرم دل بھی ہے۔ باایں ہمہ انصاف سے دور ہو گا اگر میں تمام دور کے مریدوں کو ایسے ہی سمجھ لوں کہ وہ ابھی اخلاص اور سرگرمی سے کچھ حصہ نہیں رکھتے کیونکہ صاحبزادہ مولوی عبداللطیف جس نے جاں نثاری کا یہ نمونہ دکھایا وہ بھی تو دور کی زمین کا رہنے والا تھا جس کے صدق اور وفا اور اخلاص اور استقامت کے آگے پنجاب کے بڑے بڑے مخلصوں کو بھی شرمندہ ہونا پڑتا ہے اور کہنا پڑتا ہے کہ وہ ایک شخص تھا کہ ہم سب سے پیچھے آیا اور سب سے آگے بڑھ گیا۔ اسی طرح بعض دور دراز ملک کے مخلص بڑی بڑی خدمت مالی کر چکے ہیں اور اُن کے صدق و وفا میں کبھی فتور نہ آیا جیسا کہ اخویم سیٹھ عبدالرحمٰن تاجر مدراس اور چند ایسے اور دوست لیکن کثرت تعداد کے لحاظ سے پنجاب کو مقدم رکھا گیا ہے کیونکہ پنجاب میں ہر ایک طبقہ کے آدمی خدمت دینی سے بہت حصہ لیتے جاتے ہیں اور دور کے اکثر لوگ اگر چہ ہمارے سلسلہ میں داخل تو ہیں مگر بوجہ اس کے کہ ان کو صحبت کم نصیب ہوتی ہے اُن کے دل بکلّی دنیا کے گند سے صاف نہیں ہیں۔ امر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو آخرکار وہ گند سے صاف ہو جائیں گے اور یا خدا تعالیٰ ان کو اس پاک سلسلہ سے کاٹ دے گا اور ایک مردار کی طرح مریں گے۔ بڑی غلطی انسان کی دنیا پرستی ہے۔ یہ بد بخت اور منحوس دنیا کبھی خوف دلانے سے اور کبھی امید دینے سے اکثر لوگوں کو اپنے دام میں لے لیتی ہے اور یہ اُسی میں مرتے ہیں۔ نادان کہتا ہے کہ کیا ہم دنیا کو چھوڑ دیں اور یہ غلطی انسان کو نہیں چھوڑتی جب تک کہ اس کو بے ایمان کر کے ہلاک نہ کرے۔ اے نادان کون کہتا ہے کہ تو اسباب کی رعایت چھوڑ دے مگر دل کو دنیا اور دنیا کے فریبوں سے الگ کر ورنہ تو ہلاک شدہ ہے اور جس عیال کے لئے تو حد سے زیادہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ خدا کے فرائض کو بھی چھوڑتا ہے اور طرح طرح کی مکاریوں سے ایک شیطان بن جاتا ہے۔ اس عیال کے لئے تو بدی کا بیج بوتا ہے اور ان کو تباہ کرتا ہے۔ اس لئے کہ خدا تیری پناہ میں نہیں کیونکہ تو پارسا نہیں۔ خدا تیرے دل کی جڑھ کو دیکھ رہا ہے۔ سو تو بے وقت مرے گا اور عیال کو تباہی میں ڈالے گا لیکن وہ جو خدا کی طرف جھکا ہوا ہے اُس کی خوش قسمتی سے اُس کے زن و فرزند کو بھی حصہ ملے گا اور اس کے مرنے کے بعد کبھی وہ تباہ نہیں ہوں گے۔ جو لوگ مجھ سے سچا تعلق رکھتے ہیں وہ اگرچہ ہزار کوس پر بھی ہیں تاہم ہمیشہ مجھے لکھتے رہتے ہیں اور دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ انہیں موقعہ دے تا وہ برکات صحبت حاصل کریں مگر افسوس کہ بعض ایسے ہیں کہ میں دیکھتا ہوں کہ قطع نظر ملاقات کے سالہا سال گزر جاتے ہیں اور ایک کارڈ بھی اُن کی طرف سے نہیں آتا اس سے میں سمجھتا ہوں کہ اُن کے دل مر گئے ہیں اور اُن کے باطن کے چہرہ پر کوئی داغ جذام ہے۔ میں تو بہت دعا کرتا ہوں کہ میری سب جماعت اُن لوگوں میں ہو جائے جو خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور نماز پر قائم رہتے ہیں اور رات کو اُٹھ کر زمین پر گرتے ہیں اور روتے ہیں اور خدا کے فرائض کو ضائع نہیں کرتے اور بخیل اور ممسک اور غافل اور دنیا کے کیڑے نہیں ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ یہ میری دعائیں خدا تعالیٰ قبول کرے گا اور مجھے دکھائے گا کہ اپنے پیچھے میں ایسے لوگوں کو چھوڑتا ہوں لیکن وہ لوگ جن کی آنکھیں زنا کرتی ہیں اور جن کے دل پاخانہ سے بدتر ہیں اور جن کو مرنا ہرگز یاد نہیں ہے۔ میں اور میرا خدا اُن سے بیزار ہیں۔ میں بہت خوش ہوں گا اگر ایسے لوگ اس پیوند کو قطع کر لیں کیونکہ خدا اس جماعت کو ایک ایسی قوم بنانا چاہتا ہے جس کے نمونہ سے لوگوں کو خدا یاد آوے اور جو تقویٰ اور طہارت کے اوّل درجہ پر قائم ہوں اور جنہوں نے در حقیقت دین کو دنیا پر مقدم رکھ لیا ہو لیکن وہ مفسد لوگ جو میرے ہاتھ کے نیچے ہاتھ رکھ کر اور یہ کہہ کر کہ ہم نے دین کو دنیا پر مقدم کیا۔ پھر وہ اپنے گھروں میں جا کر ایسے مفاسد میں مشغول ہو جائیں کہ صرف دنیا ہی دنیا اُن کے دلوں میں ہوتی ہے۔ نہ ان کی نظر پاک ہے نہ اُن کا دل پاک ہے اور نہ اُن کے ہاتھوں سے کوئی نیکی ہوتی ہے اور نہ ان کے پیر کسی نیک کام کے لئے حرکت کرتے ہیں اور وہ اُس چوہے کی طرح ہیں جو تاریکی میں ہی پرورش پاتا ہے اور اُسی میں رہتا اور اُسی میں مرتا ہے وہ آسمان پر ہمارے سلسلہ میں سے کاٹے گئے ہیں۔ وہ عبث کہتے ہیں کہ ہم اس جماعت میں داخل ہیں کیونکہ آسمان پر وہ داخل نہیں سمجھے جاتے۔ جو شخص میری اس وصیت کو نہیں مانتا کہ در حقیقت وہ دین کو دنیا پر مقدم کرے اور در حقیقت ایک پاک انقلاب اُس کی ہستی پر آجائے اور در حقیقت وہ پاک دل اور پاک ارادہ ہو جائے اور پلیدی اور حرامکاری کا تمام چولہ اپنے بدن پر سے پھینک دے اور نوع انسان کا ہمدرد اور خدا کا سچا تابعدار ہو جائے اور اپنی تمام خودروی کو الوداع کہہ کر میرے پیچھے ہو لے۔ میں اُس شخص کو اُس کتے سے مشابہت دیتا ہوں جو ایسی جگہ سے الگ نہیں ہوتا جہاں مردار پھینکا جاتا ہے اور جہاں سڑے گلے مُردوں کی لاشیں ہوتی ہیں۔ کیا میں اس بات کا محتاج ہوں کہ وہ لوگ زبان سے میرے ساتھ ہوں اور اس طرح پر دیکھنے کے لئے ایک جماعت ہو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تمام لوگ مجھے چھوڑ دیں اور ایک بھی میرے ساتھ نہ رہے۔ تو میرا خدا میرے لئے ایک اور قوم پیدا کرے گا جو صدق اور وفا میں ان سے بہتر ہوگی۔ یہ آسمانی کشش کام کر رہی ہے جو نیک دل لوگ میری طرف دوڑتے ہیں۔ کوئی نہیں جو آسمانی کشش کو روک سکے۔ بعض لوگ خدا سے زیادہ اپنے مکر اور فریب پر بھروسہ رکھتے ہیں شاید اُن کے دلوں میں یہ بات پوشیدہ ہو کہ نبوتیں اور رسالتیں سب انسانی مکر ہیں۔ اور اتفاقی طور پر شہرتیں اور قبولیتیں ہو جاتی ہیں۔ اس خیال سے کوئی خیال پلید تر نہیں اور ایسے انسان کو اس خدا پر ایمان نہیں جس کے ارادہ کے بغیر ایک پتہ بھی گر نہیں سکتا۔ لعنتی ہیں ایسے دل اور ملعون ہیں ایسی طبیعتیں خدا اُن کو ذلت سے مارے گا کیونکہ وہ خدا کے کارخانہ کے دشمن ہیں۔ ایسے لوگ در حقیقت دہریہ اور خبیث باطن ہوتے ہیں۔ وہ جہنمی زندگی کے دن گزارتے ہیں اور مرنے کے بعد بجز جہنم کی آگ کے اُن کے حصہ میں کچھ نہیں۔
اب مختصر کلام یہ ہے کہ علاوہ لنگر خانہ اور میگزین کے جو انگریزی اور اُردو میں نکلتا ہے جس کے لئے اکثر دوستوں نے سرگرمی ظاہر کی ہے ایک مدرسہ بھی قادیان میں کھولا گیا ہے۔ اس سے یہ فائدہ ہے کہ نو عمر بچے ایک طرف تو تعلیم پاتے ہیں اور دوسری طرف ہمارے سلسلہ کے اصولوں سے واقفیت حاصل کرتے جاتے ہیں۔ اس طرح پر بہت آسانی سے ایک جماعت طیار ہو جاتی ہے بلکہ بسا اوقات اُن کے ماں باپ بھی اس سلسلہ میں داخل ہو جاتے ہیں لیکن ان دنوں میں ہمارا یہ مدرسہ بڑی مشکلات میں پڑا ہوا ہے اور باوجود یکہ محبّی عزیزی اخویم نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ اپنے پاس سے اسی روپیہ ماہوار اس مدرسہ کی مدد کرتے ہیں مگر پھر بھی اُستادوں کی تنخواہیں ماہ بماہ ادا نہیں ہو سکتیں صد ہا روپیہ قرضہ سر پر رہتا ہے۔ علاوہ اس کے مدرسہ کے متعلق کئی عمارتیں ضروری ہیں جواب تک طیار نہیں ہوسکیں۔ یہ غم علاوہ اور غموں کے میری جان کو کھا رہا ہے۔ اس کی بابت میں نے بہت سوچا کہ کیا کروں آخر یہ تدبیر میرے خیال میں آئی کہ میں اس وقت اپنی جماعت کے مخلصوں کو بڑے زور کے ساتھ اس بات کی طرف توجہ دلاؤں کہ وہ اگر اس بات پر قادر ہوں کہ پوری توجہ سے اس مدرسہ کے لئے بھی کوئی ماہانہ چندہ مقرر کریں تو چاہیے کہ ہر ایک اُن میں سے ایک مستحکم عہد کے ساتھ کچھ نہ کچھ مقرر کرے جس کے لئے وہ ہرگز تخلف نہ کرے مگر کسی مجبوری سے جو قضاء وقدر سے واقع ہو اور جو صاحب ایسا نہ کر سکیں ان کے لئے بالضرورت یہ تجویز سوچی گئی ہے کہ جو کچھ وہ لنگر خانہ کے لئے بھیجتے ہیں اس کا چہارم حصہ براہ راست مدرسہ کے لئے نواب صاحب موصوف کے نام بھیج دیں۔ لنگر خانہ میں شامل کر کے ہرگز نہ بھیجیں بلکہ علیحدہ منی آرڈر کرا کر بھیجیں۔ اگر چہ لنگر خانہ کا فکر ہر روز مجھے کرنا پڑتا ہے اور اس کا غم براہ راست میری طرف آتا ہے اور میری اوقات کو مشوش کرتا ہے لیکن یہ غم بھی مجھ سے دیکھا نہیں جاتا۔ اس لئے میں لکھتا ہوں کہ اس سلسلہ کے جوانمرد لوگ جن سے میں ہر طرح امید رکھتا ہوں کہ وہ میری اس التماس کو ردی کی طرح نہ پھینک دیں اور پوری توجہ سے اس پر کار بند ہوں۔ میں اپنے نفس سے کچھ نہیں کہتا بلکہ وہی کہتا ہوں جو خدا تعالیٰ میرے دل میں ڈالتا ہے۔ مَیں نے خوب سوچا ہے اور بار بار مطالعہ کیا ہے میری دانست میں اگر یہ مدرسہ قادیان کا قائم رہ جائے تو بڑی برکات کا موجب ہوگا اور اُس کے ذریعہ سے ایک فوج نئے تعلیم یافتوں کی ہماری طرف آسکتی ہے اگر چہ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اکثر طالب علم نہ دین کے لئے بلکہ دنیا کے لئے پڑھتے ہیں اور اُن کے والدین کے خیالات بھی اسی حد تک محدود ہوتے ہیں مگر پھر بھی ہر روز کی صحبت میں ضرور اثر ہوتا ہے۔ اگر بیس۲۰ طالب علموں میں سے ایک بھی ایسا نکلے جس کی طبیعت دینی امور کی طرف راغب ہو جائے اور وہ ہمارے سلسلہ اور ہماری تعلیم پر عمل کرنا شروع کرے تب بھی میں خیال کروں گا کہ ہم نے اس مدرسہ کی بنیاد سے اپنے مقصد کو پالیا۔ آخر میں یہ بھی یاد رہے کہ یہ مدرسہ ہمیشہ اس سقم اور ضعف کی حالت میں نہیں رہے گا بلکہ یقین ہے کہ پڑھنے والوں کی فیس سے بہت سی مدد مل جائے گی یا وہ کافی ہو جائے گی۔ پس اس وقت ضروری نہیں ہوگا کہ لنگر خانہ کی ضروری رقوم کاٹ کر مدرسہ کو دی جائیں۔ سو اس وسعت کے حاصل ہونے کے وقت ہماری یہ ہدایت منسوخ ہو جائے گی اور لنگر خانہ جو وہ بھی در حقیقت ایک مدرسہ ہے اپنے چہارم حصہ کی رقم کو پھر واپس پالے گا اور یہ مشکل طریق جس میں لنگر خانہ کو حرج پہنچے گا محض اس لئے میں نے اختیار کیا کہ بظاہر مجھے معلوم ہوتا ہے کہ جس قدر مدد کی ضرورت ہے شاید جدید چندہ میں وہ ضرورت پوری نہ ہو سکے لیکن اگر خدا کے فضل سے پوری ہو جائے تو پھر اس قطع بُرید کی ضرورت نہیں اور میں نے یہ جو کہا کہ لنگر خانہ بھی ایک مدرسہ ہے۔ یہ اس لئے کہا کہ جو مہمان میرے پاس آتے جاتے ہیں جن کے لئے لنگر خانہ جاری ہے وہ میری تعلیم سنتے رہتے ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جو لوگ ہر وقت میری تعلیم سنتے ہیں خدا تعالیٰ اُن کو ہدایت دے گا اور ان کے دلوں کو کھول دے گا۔ اب میں اسی قدر پر بس کرتا ہوں اور خدا تعالیٰ سے چاہتا ہوں کہ جو مدعا میں نے پیش کیا ہے میری جماعت کو اُس کے پورا کرنے کی توفیق دے اور ان کے مالوں میں برکت ڈالے اور اس کارخیر کے لئے ان کے دلوں کو کھول دے۔ آمین ثم آمین
والسَّلام علٰى من اتَّبع الهُدٰى.
۱۶؍اکتوبر سنہ ۱۹۰۳ء
نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
اعلموا أرشدكم اللہ أن الأمر قد خرج من أن يتهيّأ القوم للجهاد ، ويُهلّوا له أهل الاستعداد، ويستحضروا الغزو ، من الحضر والبدو ، ويفوزوا في استنجاد الجنود ، واستحشاد الحشود ، وإصحار الأسود . فإنّا نرى المسلمين أضعف الأقوام، في مُلكِنا هذا والعرب والروم والشام، ما بقيت فيهم قوة الحرب، ولا عِلمُ الطعن والضرب، وأمّا الكفّار فقد استبصروا في فنون القتال، وأعدّوا للمسلمين كلّ عدّة لِلاِستيصال ، ونرى أن العِدا من كل حدَبٍ ينسلون ، وما يلتقي جمعان إلا وهم يغلبون. فظهر مِمّا ظَهَرَ أن الوقت وقت الدعاء ، والتضرّع في حضرة الكبرياء لا وقت الملاحم وقتل الأعداء ، ومن لا يعرف الوقت فيُلقي نفسه إلى التهلكة ، ولا يرى إلّا أنواع النّكبة والذلة . وقد نُكِّست أعلام حروب المسلمين ألا ترى؟ وأين رجال الطعن والسيف والمُدى ؟ السيوف أُغمِدَت ، وَالرّماح كُسِّرَت، وأُلْقِيَ الرعب في قلوب المسلمين، فتراهم في كل موطنٍ فارّين مدبرين. وإنّ الحرب نهبت أعمارهم، وأضاعت عسجدهم وعقارهم، وما صلح بها أمر الدين إلى هذا الحين، بل الفتن تموّجت وزادت، وصراصر الفساد أهلكت الملّة وأبادت، وترون قصر الإسلام قد خرّت شَعفاته، وعُفِّرت شَرَفاته، فأي فائدة ترتّبت من تقلّد السيف والسنان، وأي مُنية حصلت إلى هذا الأوان، من غير أن الدماء سُفكت، والأموال أُنفِدَت، والأوقات ضُيّعت، والحسرات أُضعفت. ما نفعكم الخميس، ووُطِئتم إذا حمى الوطيس.
فاعلموا أن الدعاء حَرُبَةٌ أُعطيت من السماء لِفتح هذا الزمان، ولن تغلبوا إلّا بهذه الحربة يا معشر الخلّان، وقد أخبر النبيّون من أوّلهم إلى آخرهم بهذه الحربة، وقالوا إنّ المسيح الموعود ينال الفتح بالدعاء والتضرع في الحضرة، لا بالملاحم وسفك دماء الأمّة. إنّ حقيقة الدعاء. الإقبال على اللہ بجميع الهمّة، والصدق والصبر لدفع الضرّاء، وإن أولياء اللہ إذا توجّهوا إلى ربهم لدفع موذٍ بالتضرّع والابتهال، جرت عادة اللہ أنه يسمع دعاءهم ولو بعد حين أو في الحال، وتوجّهت العناية الصمدية ليدفع ما نزل بهم من البلاء والوبال، بعد ما أقبلوا على اللہ كل الاقبال، وإنّ أعظم الكرامات استجابة الدعوات، عند حلول الآفات.
فكذالك قُدِّرَ لآخر الزمان، أعني زمن المسيح الموعود المرسل من الرحمان، إن صفّ المصاف يُطوىٰ، وتُفتح القلوب بالكَلِمِ وتُشرَح الصّدُورُ بالهُدىٰ، أو يُنقل النّاس إلى المقابر من الطاعون أو قارعةٍ أخرىٰ، وكذالك اللہ قضىٰ، ليجعل الهزيمة على الكفر ويُعلي في الأرض دينًا هو في السماء علا، وإن قدمي هذه على مصارع المنكرين، وسأُنصَرُ من ربي ويُقضى الأمر ويتمّ قول ربّ العالمين.
وَ هذه هي حقيقة نزولي من السماء ، فإني لا أغلب بالعساكر الأرضية بل بملائكة من حضرة الكبرياء. قيل ما معنى الدعاء بعد قدرٍ لا يُردّ، وقضاءٍ لا يُصَدّ؟ فاعلم أنّ هذا السرّ مَوْرٌ تضلّ به العقول، ويغتال فيه الغول، ولا يبلغه إلّا من يتوب، ومن التوبة يذوب، فلا تزيدوا الخصام أيها اللئام، وتلقّفوا منّي ما أقول، فإني عليم ومن الفحول ، وليس لكم حظّ من الإسلام إلَّا مِيْسمه ، أولبوسه ورسمه، فمن أرهف أُذنه لسمع هذه الحقائق، وحفد إلينا كاللهيف الشائق ، فسأخفره بما يَسُرُو ريبته، ويَمُلأ عيبته ، وهو أنّ اللہ جعل بعض الأشياء معلّقًا ببعضها من القديم، وكذالك علّق قدرَه بدعوة المضطر الأليم. فمن نهض مُهرولًا إلى حضرة العزّة ، بعبرات متحدّرة ودموع جارية من المقلة ، وقلب يضجر كأنه وُضع على الجمرة ، تحرك له موج القبول من الحضرة، ونُجّيَ من كرب بلّغ أمره إلى الهلكة ، بيد أن هذا المقام، لا يحصل إلا لمن فني في اللہ وآثر الحبيب العلّام، وترك كُلما يُشابه الأصنام، ولبّى نداء القرآن، وحضر حريم السلطان ، وأطاع المولى حتى فنٰى ، ونهى النفس عن الهوىٰ ، وتيقّظ في زمنٍ نعس النّاس، وعاث الوسواس ، ورضي عن ربه وما قضىٰ، وألقى إليه العُرَى ، وما دَنّس نفسه بالذنوب ، بعد ما أُدخِلَ في ديار المحبوب، بقلبٍ نقيّ، وعزمٍ قويّ، وصدقٍ جليّ، أولئك لا تُضاع دعواتهم، ولا تُردّ كلماتهم، ومن آثر الموت لِرَبّه يُرَدّ إليه الحياةُ، ومن رضي له ببخسٍ ترجع إليه البركات، فلا تتمنّوه وأنتم تقومون خارج الباب، ولا يُعطى هذا العلم إلّا لمن دخل حضرة ربّ الأرباب، ثم يُؤخذ هذا اليقين عن التجاريب ، والتجربة شيء يفتح على الناس باب الأعاجيب، والذي لا يقتحم تنوفة السلوك، ولا يجوب موامي الغربة لرؤية ملك الملوك، فكيف تُكشَف عليه أسرار الحضرة، مع عدم العلم وعدم التجربة؟ وأمّا من سلك مسلك العارفين، فسَوْف يرى كل أطروفة من رب العالمين. و مِنْ أحسنِ ما يُلمِحُ السالكُ هو قبولُ الدعاء، فسبحان الذي يُجيبُ دعوات الأولياء، ويكلّمهم ككلام بعضكم بعضًا بل أصفى منه بالقوة الروحانية، ويجذبهم إلى نفسه بالكلمات اللذيذة البهيّة، فيرتحلون عن عرسهم وغرسهم إلى ربهم الوحيد، راكبين على طِرُفٍ لا يشمس ولا يحيد. إنّهم قوم عاهدوا اللّہ بِحَلفَةٍ أن لا يؤثروا إلّا ذاته، وأن لا يطلبوا إلّا آياته، وأن لا يتّبعوا إلّا آياته، فإذ ارى اللہ أنهم وفق شرطه في كتابه الفرقان، كشف عليهم كل بابٍ من أبواب العرفان. ثم اعلم أنّ أعظم ما يزيد المعرفة هو من العبد باب الدعاء، ومن الرب باب الإيحاء، فإن العيون لا تنفتح إلّا برؤية اللہ بإجابته عند الدعاء، وعند التضرّع والبكاء، ومن لم يُكشف عليه هذه الباب فليس هو إلّا مغترّا بالأباطيل، ولا يعلم ما وجه الرب الجليل. فلذالك يترك ربّه ويعطف إلى مراتب الدنيا الدنيّة، ويشغف قلبه بالأمتعة الفانية، ولا يتنبّه على انقراض العمر وعلى الحسرات عند ترك الأماني، والرحلة من البيت الفاني، ولا يذكر هادِمًا يجعل رَبعه دار الحرمان والحسرة، وأوهن مِن بيت العنكبوت وأبعد من أسباب الراحة. وإذا أراد اللہ لعبدٍ خيرا يهتف في قلبه داعي الفلاح، فإذا الليل أبرق من الصباح، وكل نفسٍ طُهَّرَت هي صنيعة إحسان الرب الكريم، وليس الإنسان إلّا كدودة من غير تربية الخلّاق الرحيم. وأوّل ما يبدأ في قلوب الصالحين، هو التبرّى من الدنيا والانقطاع إلى رب العالمين. وإن هذا هو مرادٌ أنقض ظهر السالكين، وأمطر عليهم مطر الحزن والبكاء والأنين، فإن النفس الأمّارة ثعبان تبسط شَرك الهوى، ويهلك الناس كلهم إلّا من رحم ربُّه وبسط عليه جناحه باللطف والهدى. وإن الدعاء بذرٌ ينمّيه اللہ عند الزِراعة بِالضراعة، وليس عند العبد بضاعة من دون هذه البضاعة، وإنه من أعظم دواعي تُرجَى منها النجاة وَ تُدفعُ الآفات. ومن كان زيرًا للأبدال، وأذنًا لأهل الحال، تُفتح عينه لرؤية هذا النور، ويُشاهد ما فيه من السرّ المستور. ولا يشقى جليس أولياء الجناب، ولو كان كالدواب. أو في غلواء الشباب، بل يُبَدّلُ ويُجعَلُ كالشيخ المذاب. فطوبى للذين لا يبرحون أرض المقبولين، ويحفظون كلمهم كخلاصة النضّ ويجمعونها كالممسكين. والذين يُشجّعون قلوبهم لتحقير عباد الرحمان، ويقولون كل ما يخطر في قلوبهم من السبّ والشتم والهذيان، إنهم قوم أهلكوا أنفسهم وأزواجهم وذراريهم بهٰذه الجرأة، ويموتون ولا يتركون خلفهم إلا قلادة اللعنة. يُريدون أن يُطفئوا نور اللہ وكيف شمس الحق تجب؟ وكيف ضياء اللہ يحتجب؟ يسعون لكتمان الحق وهل لنور اللہ كتمٌ؟ أكذب هٰذا بل علٰى قلوبهم ختم؟ وإنّ الذين لا يقبلونني ويقولون إنّا نحن علماء هذا الزمان، إن هم إلّا أعداء الرحمان، لا يقربون إلا سُخط الديّان. يتفوّهون بمائة كلمة ما أُسّس أحدٌ منها على التقوى، هذه سيرة قوم يقولون إنّا نحن العلماء ويُعادون الحق والهدىٰ، ولا ينتهجون إلا سُبُل الرّدىٰ. فما أدراهم أنهم لا يموتون، وإلى اللہ لا يُرجعون، وعن الأعمال لا يُسألون، وسيعلم الذين ظلموا أي منقلبٍ ينقلبون. فقوموا أيها العباد، قبل يومٍ يسوقكم إلى المعاد، فادعوا ربّكم بصوت رقيق، وزفير وشهيق، وأبرزوا بالتوبة إلى الرب الغفور، قبل أن تبرزوا إلى القبور، ولا تلقوا عصا التسيار في أرض الأشرار، ولا تقعدوا إلّا مع الأبرار، وكونوا مع الصادقين، وتوبوا مع التوّابين. ولا تيأسوا من رَوْحِ الله، ولا تمدّوا ظنونكم كالكافرين، ولا تُعرضوا إعراض المتكبّرين، ولا تُصرّوا على الكذب كالأرذلين. اَلَا ترون إن كنتُ على الحق ولا تقبلونني فكيف مآل المنكرين؟ وإني أفوّض أمري إلى اللہ. هو يعلم ما في قلبي وما في قلوبكم. وإنّا أو إيّاكم لعلى هُدًى أو في ضلال مبين.
وإنّي أرى أن العِدا لا ينكرونني إلّا علوّا وفسادًا ، وإنهم رأوا آيات ربّي فما زادوا إلّا عنادًا، ألا يرون الحالة الموجودة، والبركات المفقودة؟ أفلا يدعو الزمان بأيديه مصلحًا يُصلح حاله ويدفع ما ناله؟ أما ظهرت البيّنات وتجلّت الآيات، وحان أن يُؤتىٰ ما فات؟ بل قلوبهم مظلمة، وصدورهم ضيّقة، قوم فظاظ غلاظ ، خُلُقُهم نار يسعر في الألفاظ ، وكلِمُهُم تتطاير كالشواظ ، ما بقي فيهم أثر رقّة، وما مس خدودهم غروب مسكنة ، يُكفّرونني وما أدري على ما يُكفّرونني؟ وما قلتُ إلّا ما قيل في القرآن، وما قرأت عليهم إلا آيات الرحمان، وما كان حديث يُفترى، بل واقعة جلّاها اللہ لأوانها ، ويعرفها من يعرف رحمة الرب مع شأنها. وكان اللہ قد وعد في البراهين ، الذي هو تأليف هذا المسكين، أن الناس يأتونني أفواجًا وعليّ يجمعون، وإليّ الهدايا يُرسلون، ولا أُترَكُ فردًا بل يسعى إليّ فوج من بعد فوج ويقبلون، وتُفتح عليّ خزائن من أيدي الناس ومما لا يعلمون، وأُعصَم من شر الأعداء وما يمكرون، وأُعطىٰ عمرًا أُكمّل فيه كلّما أراد اللہ ولو يستنكف العدا ويكرهون ، ويُوضَع لي قبولٌ في الأرض ويُفديني قوم يهتدون، فتمّ كلّما قال ربّي كما أنتم تنظرون. أفسحر هذا أم أنتم لا تبصرون؟ ولو كان هذا الأمر من عند غير اللہ لما تمّ هذه الأنباء ولهلَكْتُ كما يهلك المفترون. وترون أن جماعتي في كل عام يتزايدون، وما ترك الأعداء دقيقة في إطفاء نور اللہ فتمّ نور اللہ وهم يفزعون، فانسابوا إلى جحورهم وما تركوا الغلّ وهم يعلمون. أهذا من عند غير اللہ. ما لكم لا تستحيون ولا تتأمّلون؟ أتحاربون اللہ بأسلحةٍ منكسرة وأيدٍ مغلولة ؟ ويلٌ لكم ولما تفعلون . أهٰذا فعل مفترى كذّاب؟ أو مثل ذالك أُيّد الكاذبون؟ أهٰذه الكلم من كذّاب ما لكم لا تتقون.
أَلَا تُردّون إلى اللہ أو تُتركون فيما تشتهون؟ وكلّما أوقدوا نارًا أطفأها اللہ ثم لا يتدبّرون. وقالوا لولا سُمّى خلفاء نبيّنا أنبياء كما أنتم تزعمون، كذالك لئلا يشتبه على الناس حقيقة ختم النبوة. ولعلّهم يتأدّبون، ثم لمّا مرّ على ذالك دهرٌ أراد اللہ أن يُظهر مشابهة السلسلتين في نبوّة الخلفاء لئلا يعترض المعترضون، وليزيل اللہ وساوس قوم يريدون أن يروا مشابهةً في النبوة وكذالك يُصرّون، فأرسلني وسمّاني نبيّا بمعنًى فصّلته من قبل. لا بمعنى يظن المفسدون، ودفع الاعتراضين ورعَى جنب هذا وذالك. إن في هذه لهدًى لقومٍ يتفكّرون. وإنّي نبي من معنًى، وفرد من الأمّة بمعنًى، وكذالك ورد في أمري أفلا يقرءون؟ ألا يقرءون فيما عندهم أنّه "منكم" وإنه "نبيّ"؟ أهاتان صفتان توجدان في عيسى أو ذُكرتا له في القرآن؟ فأرونا إن كنتم تَصدُقون. بل آثرتم الكفر على الإيمان، فكيف أهدى قومًا نبذوا الفرقان وراء ظهرهم ولا يُبالون؟ وكان اللہ قد قدّر كسر الصليب على يد المسيح فقد ظهرت آثارها فالعجب أنّ المعترضين لا يتنبّهون. ألا يرون أنّ النصرانية تذوب في كلّ يوم ويتركها قوم بعد قومٍ؟ ألا يأتيهم الأخبار أو لا يسمعون؟ إنّ العلماء هم يُقوّضون بأيديهم خيامهم، وتهدى إلى التوحيد كرامهم، ويذوب مذهبهم كلّ يوم وتنكسر سهامهم، حتى إنّا سمعنا أن قيصر جرمن ترك هذه العقيدة، وأرى الفطرة السعيدة، وكذالك علماؤهم المحققون، يُخربون بيوتهم بأيديهم وكما دخلوا يخرجون، فَوَيْل لعيون لا تُبصر وآذان لا تَسمع. ووَيْل للذين يقرءون كتاب اللہ ثم لا يفهمون.
أينزل عيسى من السماء وقد حبسه القرآن؟ هيهات هيهات لما تزعمون، إنّ حبس القرآن أشدّ من حبس الحديد، فويلٌ للعُمى الذين لا يتدبّرون كتاب اللہ ولا يخشعون، وإنّ موته خير لهم ولدينهم لو كانوا يعلمون. قد جاءكم رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم بعد عيسٰى في مائةٍ سابعةٍ ، وجئتكم في مائةٍ هي ضعفها إن في ذالك لبشرى لقوم يتفقّهون، فاعلموا أن اللہ إذ بعث الحَكَمَ الكبير. أعني نبيّنا صلى اللہ عليه و سلم في مائةٍ سابعةٍ بعد عيسٰى، فأي استبعاد يأخذكم أن يُرسل في ضعفها هذا الحَكَمَ ليصلح فسادًا عمّ الورَى ، ففكروا يا أولى النُّهٰى. وتعلم أن فساد هذا العصر عمّ جميع الأمم مسلمًا وغير مسلمٍ كما ترٰى، فهو أكبر من فسادٍ ظهر في النصارى الذين ضلّوا قبل نبيّنا المجتبٰى ، بل تجدهم اليوم أضلّ وأخبث مِمّا مضٰى، فإن زماننا هذا زمان طوفان كل بدعة وشرك وضلالة كما لا يخفٰى. وإنّي ما أرسلتُ بالسيف ومع ذالك أُمِرتُ لملحمةٍ عُظمٰى. و ما ادراك ما ملحمة عظمٰى، إنها ملحمة سلاحها قلم الحديد لا السيف ولا المُدٰى، فتقلّدنا هذا السلاح وجئنا العدا، فلا تنكروا من جاءكم على وقته من اللہ ذي الجبروت والعزة والعُلٰى . أَافتريتُ على الله؟ وقد خاب من افترى. أتلومونني بترك الجهاد بالكفّار وترك قتلهم بالسيف البتّار ؟ ما لكم لا ترون الوقت وتنطقون كمن هَذَى؟ ثم أنتم عند اللہ أوّل كفرة. تركتم كتاب اللہ وآثرتم سبلا أُخرٰى، فإن كان الجهاد واجبًا كما هو زعمكم يا أيها الرّاضون بالصّرَى ، فأنتم أحقّ أن تُقتلوا بما عصيتم نبي اللہ وليس عندكم حجّة من كتاب اللہ الأجلٰى . وأي شيءٍ بقي فيكم من دينكم يا أهل الهوٰى؟ وأي شيء تركتموه من الدنيا ومن هذه الجيفة الكبرٰى ؟ إنّكم تستَقُرُون حِيَلًا لتقرّبكم إلى الحكام زُلفٰى ، ونسيتم مليككم الذي خلق الأرض والسماوات العُلٰى، فكيف تقربون رضا الحضرة الأحديّة وقد قدّمتم على الملّة هذه الحياة الدنيا؟ وما بقي فيكم إلّا رسم المشاعر الإسلامية، و نسيتم ما أمر اللہ ونهٰى، وهدّمتم بأيديكم بنيان الإسلام والملّة الحنيفية، بما خالفتم طرق المسكنة والانزواء والغربة، وقصدتم عُلُوًّا عند الناس وأكلتم سمّ هذه الدنيا، وتمايلتم على الأهواء والرياء والنخوة، وسَرّكم قُرب الملوك وطلب الدرجات منهم والمرتبة، وما تركتم عادة من عادات اليهود وقد رأيتم مآلهم يا أولى الفطنة، أتحاربون الكفار مع هذه العِفّة؟ فلا تفرحوا إنّ اللہ يرىٰ. ولو كانت إرادة اللہ أن تحاربوا الكفّار لأعطاكم أزيَدَ ممّا أعطاهم ولغلبتم كل من بارزكم وبارا، وترون ان فنون الحرب كلّها أُعطيتها الكفرة من الحكمة الإلٰهية، ففاقوكم فى مصافّ البحر والبرّ، ولستم فى أعينهم إلا كالذرّة، فليس لكم أن تسدّوا ما كشف اللہ أو تفتحوا ما أغلق، فادخلوا رحمة اللہ من أبوابها ولا تكونوا كمن أغضب ربّه وأحنق، ولا تكونوا كمن حارب اللہ وعصى، ولا تنتظروا مسيحًا ينزل من السماء ويسفك دماء الورٰى، ويُعطيكم غنائم من فتوحات شَتّى. أتضاهئون الذين ظنوا كمثل ذالك قبلكم؟ ومِنْ خُلُق المؤمن أن يعتبر بغيره وينتفع ممّا رأى، ولا يقتحم تنوفةً هلك فيها نفس أُخرٰى. ألم يكفِكم أن اللہ بعث فيكم ومنكم مسيحكم فى الأيام المنتظرة؟ وكنتم على شفا حفرة فأراد أن يُنجيكم من الحفرة، وأدرككم بمنّة عُظمٰى. ألا تنظرون كيف نزلت الآيات وجُمعت العلامات؟ أتزدرى أعينكم آيات اللہ أو تعرضون من الحق إذا أتٰى؟ أعجبتم أن جاءكم منذر منكم وكفرتم وما شكرتم لربكم الأعلٰى؟ وما آمنتم بحجج اللہ وكذلك سلكها اللہ فى قلوب قوم آثروا الشقا. وكنتم ضلّ رأيكم فى إمامٍ أتٰى، وخِلْتُم أنّه من اليهود وما ظننتم أنّه منكم فما أرداكم إلا هذا العَمٰى، وكذالك هَلَكَت أحزابٌ من قبلكم وجاءتكم الأخبار فنسيتموها وسلكتم مسلكهم ليتمّ قول ربنا فيكم كمن مضٰى، وما منع الناس أن يؤمنوا إذ جاءهم الهدٰى محدَثًا إلّا أنْ قالوا إنّا لا نجد فيه كُلّما بلغنا من الأوّلين، فلن نؤمن إلا بمن يأتى وفق ما أوتينا ولا نتّبع المبتدعين، هذه هى عادة السابقين واللاحقين، أتواصوا به؟ بل هم قوم لا يؤمنون بالمرسلين.
وإذا قيل لهم آمنوا بمن بعث اللہ وبما أعطاه من العلم قالوا أنؤمن بما خالف علماؤنا من قبل؟ ولو كان علماؤهم من الخاطئين؟ إنهم قوم اطمئنوا بالحياة الدنيا وما كانوا خائفين . وقالوا لستَ مرسلًا ، وسيعلم الذين ظلموا يوم يُردّون إلى اللہ كيف كان عاقبة الظالمين . وقالوا إنْ هذا إلّا اختلاق، كَلَّا بل ران على قلوبهم ما كسبوا فزادوا في شقاق، وما كانوا مستبصرين . وإنّ علاجهم أن يقوموا في آناء الليالي لصلواتهم، ويخلّوا لهم فناء حجراتهم، ويُغلّقوا الأبواب ويُرسلوا عبراتهم، ويضجروا لنجاتهم ويصلّوا صلاة الخاشعين ، ويسجدوا سجدة المتضرّعين، لعلّ اللہ يرحمهم وهو أرحم الراحمين.
وأنّى لهم ذالك وإنهم يؤثرون الضحك والاستهزاء على الخشية والبكاء ، وكذّبوا كِذَّابًا ، ويُنادون من بعيدٍ فلا يقرع اذنهم حرف من النداء ، لا يرون إلٰى مصائب صُبّت على الملّة، وإلى جروحٍ نالت الدين من الكفرة، وإن مَثَل الإسلام في هذه الأيام كمثل رجلٍ كان أجمل الرجال وأقواهم، وأحسن النّاس وأبهاهم، فرمى تقلّب الزمان جفنه بالعمش ، وخدّه بالنمش ، وأزالت شنب أسنانه قلوحة عَلَتهَا ، وعِلّةٌ قبّحتها ، فأراد اللہ أن يمنّ على هذا الزمان، بردّ جمال الإسلام إليه والحُسن واللمعان . وكان الناس ما بقي فيهم روح المخلصين، ولا صدق الصالحين، ولا محبّة المنقطعين ، وأفرطوا وفرّطوا وصاروا كالدهريّين ، وما كان إسلامهم إلا رسومٌ أخذوها عن الآباء ، من غير بصيرة ومعرفة وسكينة تنزل من السماء .
فبعثني ربي ليجعلني دليلًا على وجوده، وليُصيّرني أزهر الزهر من رياض لطفه وجوده، فجئتُ وقد ظهر بي سبيله، واتّضح دليله، وعلمتُ مجاهله، ووردت مناهله. إنّ السماوات والأرض كانتا رتقًا ففتقا بقدومي، وعُلم الطلباء بعلومي، فأنا الباب للدخول في الهُدٰى، وأنا النور الذي يُرِي ولا يُرٰى، وإني من أكبر نعماء الرحمان، وأعظم آلاء الديّان . رُزقتُ من ظواهر الملة وخوافيها ، وأُعطيتُ علم الصحف المطَهّرة وما فيها، وليس أحدٌ أشقى من الذي يجهل مقامي، ويُعرض عن دعوتي وطعامي. وما جئتُ من نفسي بل أرسلني ربي لِأُمَوّن الإسلام، وأُراعي شؤونه والأحكام، وأُنزِلتُ وقد تقوّضت الآراء، وتشتت الأهواء، وأُختير الظلام وتُرِك الضياءُ، وترى الشيوخ والعلماء كرجل عاري الجلدة، بادي الجردة، وليس عندهم إلا قشرٌ من القرآن، وفتيلٌ من الفرقان. غاض دَرّهم، وضاع دُرّهم، ومع ذالك أعجبني شدّة استكبارهم مع جهلهم ونتن عُوارهم، يؤذون الصادق بسبّ وتكذيب وبهتان عظيم، ويحسبون أنّ أجره جنّة النعيم، مع أنّه جاءهم لينجّيهم من الخنّاس، ويخلّص الناس من النعاس. يتُوقون إلى مناصب، ويتركون العليم المُحاسب، يُعرضون عن الذي جاء من اللہ الرحيم، وقد جاء كالأُساةِ إلى السقيم، يلعنونه بالقلب القاسي، ذالك أجرهم للمواسي. يُحبّون أن يُكرموا عند الملوك بالمدارج العلية، وقد أُمِروا أن يرفضوا علائق الدنيا الدنيّة، وينفضوا عوائق الملّة البهيّة. يجفلون نحو الأماني إجفال النعامة، وألقوا فيها عصا الإقامة.
قد أُمِروا أن يمرّوا على الدنيا كعابر سبيل، ويجعلوا أنفسهم كغريب ذليل، فاليوم تراهم يبتغون العزّة عند الحكّام، وما العزّة إلّا من اللہ العلّام وبينما نحن نُذكّر الناس أيام الرحمان، ونجذبهم إلى اللہ من الشيطان، إذ رأيناهم يصولون علينا كصول السرحان، ويُخوّفوننا بفحيحهم كالثعبان، وما حضروا قطّ نادينا بصحّة النيّة وصدق الطويّة.
ثم مع ذالك يعترضون كاعتراض العليم الخبير، فلا نعلم ما بالهم وأي شيء أصبرهم على السعير؟ لا يشبعون من الدنيا وفي قلبهم لها أسيس، مع أنّ حظّهم من الدين خسيس. يقرءون غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحة: ۷) ثم يسلكون مسلك سخط الرحمان، كأنّهم آلوا أن لا يطيعوا من جاءهم من الديّان. ولم أزل أتأوّه لكفرهم بالحق الذي أتىٰ، ثم يُكفرونني من العمىٰ، فيا للعجب! ما هذا النّهىٰ؟ واللہ هو القاضي وهو يرٰى امتعاضي وحرّار تماضي. يدعون ربهم لاستيصالي، وما يعلمون ما في قلبي وبالي، وما دعاؤهم إلا كخبط عشواء، فيُرَدُّ عليهم ما يبغون عليّ من دائرة ومن بلاء. أيُستجابُ دعاؤهم في أمر شجرة طيبة غُرست بأيدى الرحمن ليأوى إليها كل طائر يريد ظلها وثمرتها كالجوعان، ويريد الأمن من كل صقر مثيل الشيطان؟ أيؤمنون بالقرآن؟ كلّا إنّهم قوم رضوا بخضرة الدنيا ونضرتها واللمعان، وصعدوا إليها وغفلوا مما يصيبهم من هذا الثعبان. يجرّون ذيل الطرب عند حصول الأمانى الدنيوية، ويذكرونها بالخيلاء والكلم الفخرية، ولا يتألّمون على ذهاب العمر و فوت المدارج الأخروية، وإن الدنيا ملعونة وملعون ما فيها، وحُلُوّ ظواهرها وسمّ خوافيها.
فيا حسرة عليهم! إنهم يبيعون الرطب بالحطب، وينسون في البيوت ما يقرءون واعظين في الخُطب، ويقولون ما لا يفعلون، ويؤتون النّاس ما لا يمسّون، ويهدون إلى سُبل لا يسلكونها، وإلى مهجّةٍ لا يعرفونها، ويعظون لإيثار الحق ولا يؤثرون، يسقطون على الدنيا كالكلاب على الجيفة، ويحبّون أن يُحمدوا بمالم يفعلوا من الأهواء الخسيسة، ويريدون أن يُقال أنهم من الأبدال وأهل التقوى والعفّة، ولن يُجمعُ الدنيا مع الدين ولا الملائكة مع الشياطين.
ومن آخر وصايا أردتُها للمخالفين، وقصدتها لدعوة المنكرين، هو إظهار أمرٍ ابتلى اللّہ بهٖ من قبل اليهود، فضلّوا وسوّدوا القلب المردود، فإن اللہ وعدهم لإرجاع إلياس إليهم من السماء، فما جاءهم قبل عيسىٰ فكذّبوا عيسىٰ لهٰذا الاِبتلاء، فلو فرضنا أن معنى النزول من السّماء هو النزول في الحقيقة، فما كان عيسىٰ إلّا كاذبًا ونعوذ باللہ من هذه التُّهمة. فأعجبني أن أعداء نا من العلماء، لِمَ يسلكون مسلك اليهود، وكيف نسوا قصّة تلك القوم ونزول الغضب عليهم من اللہ الودود؟ أيريدون أن يُلعَنوا على لساني كما لُعن اليهود على لسان عيسىٰ؟ أوَجَب عندهم نزول عيسىٰ حقيقة وما وجب نزول إلياس فيما مضىٰ؟ تِلکَ إِذًا قِسْمَۃٌ ضِیُزٰی.
أَلَا يقرءون القرآن كيف قال حكاية عن نبيّنا المصطفىٰ. قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا(بنی اسرائیل: ۹۴)، فما زعمكم ألم يكن عيسىٰ بشرًا فصعد إلى السماء ومُنِع نبيّنا الْمُجتبىٰ؟ وكل من عارض خبر نزول المسيح بخبر نزول إلياس فلم يبق له في اتّحاد معناهما شك والتباس، فاسألوا أهل الكتاب: أَ أُنزِل إلياس في زمان المسيح؟ واتقوا اللہ ولا تُصرّوا على الكذب الصريح. ليس في عادة اللہ اختلاف، فالمعنى واضح ليس فيه خلاف، وما نزل من بدو آدم إلى هذا الزمان أحدٌ من السماء، وما نزل إلياس مع شدة حاجةِ نزوله لرفع الشك وظن الافتراء.
وإن فرّقنا بين هذا النزول وذالك النزول، وسلكنا في موضعٍ مسلك قبول الاستعارة وفي آخر مسلك عدم القبول، فهذا ظلم لا يرضى به العقل السليم، ولا يُصدّقه الطبع المستقيم. وكيف يُنسب إلى اللہ أنه أضلّ الناس بأفعالٍ شتّى، وأراد في مقامٍ أمرًا وفي مقامٍ سُنَّةً أخرى؟ ففكّر إن كنتَ تطلب الحق وما أخال أن تتفكّر إن كنتَ من العِدا، وما لك تقدم بين يدي اللہ ورسوله من غير علم نالك، أوَ كان عندك من يقين أجلىٰ؟ أهذا طريق التقوى؟ والهزيمة خير لك من فتحٍ تريده إن كنتَ من أهل التّقى. وما في يديك من غير آثار معدودة ليس عليها ختم اللہ ولا ختم رسوله، وإن هي إلا قراطيس أُملئت بعد قرونٍ من سيد الورىٰ. ولا نؤمن بقِصصها التي لم توافق بقصص كتاب ربنا الأعلىٰ. وقد ضلّت اليهود بهذه العقيدة من قبل، فلا تضعوا أقدامكم على أقدامهم ولا تتبعوا طرق الهوىٰ، واتقوا أن يحلّ عليكم غضب اللہ من ربكم ومن حلّ عليه غضبه فقد هوىٰ.
ولآ شك أن اليهود كان عندهم كتابٌ من اللہ ذي العزّة فاتّبعوه بزعمهم واتّبعوا ما فهموا من الآية. وقالوا لن نصرف آيات اللہ من ظواهرها من غير القرينة، فقد نحتوا لأنفسهم معذرة هي خير من معاذير كم بالبداهة، فإنهم وجدوا كلّما وجدوا من كتاب اللہ بالصراحة. وليس عندكم كتاب بل كتاب اللہ يُكذّبكم ويلطم وجوهكم بالمخالفة، ولذالك تتخذونه مهجورًا وتنبذونه وراء ظهوركم من الشقوة، وإن اليهود لم ينبذوا الكتاب ظهريّا ولم يأتوا فيما دوّنوه أمرًا فريًّا، ولذالك صدّق قولهم عيسىٰ بيد أنه أوّل قولهم وقال النازل قد نزل وهو يحيىٰ، وأما أنتم فتصرّون على قول يخالف كتاب اللہ الودود، فلا شك أنكم شر مكانًا من اليهود. وأقل ما يُستفاد من تلك القصّة هو معرفة سُنّة اللہ في هذه الأمور المتنازعة. فما لكم لا تخافون ربًّا جليلًا؟ أوجدتم في سُنّة اللہ تبديلا؟ وما لكم لا تبكون في حجراتكم ولا تُكثرون عويلا، ليرحمكم اللہ ويُريكم سبيلا؟ وإن اللہ سيفتح بيني وبينكم فلا تستعجلوه واصبروا صبرًا جميلًا. أيها الناس ما لكم لا تتّقون ولا تُعالجون داءً ا دخيلا؟ أتظنون انّي افتريتُ على الله؟ ما لكم لا تخافون يومًا ثقيلا؟
إن الذين يفترون على اللہ لا يكون لهم خير العاقبة، ويُعاديهم اللہ فيُقَتَّلون تقتيلًا، ويُطوَى أمرُهم بأسرع حين فلا تسمع ذكرهم إلّا قليلا، وأما الذين صدقوا وجاء وا من ربّهم فمن ذا الذي يقتلهم أو يجعلهم ذليلا؟ إن ربهم معهم في صباحهم وضحاهم وهجيرهم وإذا دخلوا أصيلا، وأمّا الذين كذّبوا رسل اللہ وعادوا عبدًا اتخذه اللہ خليلا، أولئك الذي ليس لهم في الآخرة إلّا النار ولا يرون ظلًّا ظليلا، وإذا دخلوا جهنم يقولون ما لنا لا نرى رجالًا كُنّا نعدّهم من الأشرار فيُفصّل لهم الأمر تفصيلا.
ثم نرجع إلى الأمر الأول ونقول ان قصة نزول إلياس، ثم قصة تأويل عيسىٰ عند الأناس، أمر قد اشتهر بين فِرَقِ اليهود كلهم والنصارىٰ، وما نازع فيه أحدٌ منهم وما بارىٰ، بل لكلهم فيها اتّفاق، من غير اختلافٍ وشقاق، وما من عالم منهم يجهل هذه القصة، أو يخفى في قلبه الشك والشبهة، فانظروا ان اليهود مع أنهم كانوا عُلّموا من الأنبياءِ، و ما جاء عليهم زمن إلّا كان معهم نبي من حضرة الكبرياء، ثم مع ذالك جهلوا حقيقة هذه القصّة، وما فهموا السرّ وحملوها على الحقيقة.
ولمّا جاء هم عيسى لم يجدوا فيه علامة ممّا كان منقوشًا في أذهانهم، ومُنقّشًا في جَنانهم، فكفروا به وظنّوا أنه من الكاذبين. وفعلوا به ما فعلوا وأدخلوه في المفترين. فلو كان معنى النزول هو النزول في نفس الأمر و في الحقيقة، فعلى ذالك ليس عيسىٰ صادقا ويلزم منه أن الحقّ مع اليهود الذين ذكرهم اللہ باللعنة. هذا بال قومٍ أصرّوا على نصّ الكتاب والقول الصريح الواضح من ربّ الأناس، فما بالكم في عقيدة نزول عيسىٰ وليس عندكم إلا أخبار ظنية مختلطة بالأدناس، ومخالفة لقول رب الناس؟
ما لكم تتّبعون اليهود وتُشبهون فطرتكم بفطرتهم؟ أتبغون نصيبا من لعنتهم؟ توبوا ثم توبوا وإلى اللہ ارجعوا، وعلى ما سبق تندّموا، فإنّ الموت قريب، واللہ حسيب. أيها الناس قد أخذكم بلاء عظيم فقوموا في الحجرات، وتضرّعوا في حضرة ربّ الكائنات، واللہ رحيم كريم، وسبق رحمته غضبه لمن جاء بقلب سليم. وإن شئتم فاسألوا يهود هذا الزمان، أو أتوني بقدم التقوى واعرضوا عليّ شبهة يأخذ الجنان، ما لكم لا تخافون هذا الابتلاء، وتتركون سُنّة اللہ من غير برهان من حضرة الكبرياء؟ وتصرّون على أقوال ما نزل معها من برهان، وما وجدتموها في القرآن. اعلموا أنكم لا تتّبعون إلّا ظنونا، وإنّ الظنّ لا يُغني من الحق شيئا ولا يحصل به اطمئنان. أتريدون أن يتّبع حَكَمُ اللہ ظنونكم بعد ما أُوتي علمًا من الله؟ ما لكم جاوزتم الحد من العدوان؟ وقد تركتم اليقين للشكّ، أهذا هو الإيمان؟ وإنما آلدنيا لهو ولعب فلا تغرّنكم عيشة الصحة والأمن والأمان، ويتقضّى الموتُ مُفاجئًا ولو كنتم في بروج مشيّدة، وما يُنجيكم نصير من أيدي الديّان. أتقدّمون الشكوك على القرآن؟ بئسما أخذتم سبيلا، وعُمّيت أَبْصَارُكم فما ترون ما جاء
من الرحمان. وإني جُعلتُ مسيحًا منذ نحو عشرين أعوام من ربّ علّام،
وما كنتُ أريد أن أُجتبىٰ لذالك، وكنتُ أكره من الشهرة في العوام،
فأخرجني ربّي من حجرتي كرهًا، فأطعتُ أمر ربّي العلّام، وهذا
كله من ربي الوهّاب، وإني أُجرّد نفسي من أنواع الخطاب.
وما لي وللشهرة وكفاني ربّي، ويعلم ربّي ما في عيبتي
و هو جُنّتي وجَنّتي، في هذه وفي يوم الحساب.
و إني كتبتُ قصّة نزول إلياس لقوم يوجد فيهم
العقل والقياس، وقد اجتمعتُ ببعض
العلماء المخالفين، وعرضتُ عليهم ما
عرضتُ عليكم في هذا الحين،
فوجموا كل الوجوم، وما تفوّهوا
بكلمة من العلوم، وبُهِتوا
وفرّوا كالمتندّم الملوم.
الآن نختم هذه الرسالة على ذكر سُبُحات الوحي و فضائله. و نقاب حصوله و وسائله. فاعلم هداك اللہ انّ الوحي شمس من كلم الحضرة تطلع من افق قلوب الابدال. ليزيل اللہ بها ظلمة خزعبيل الضلال. و هو عين لا تنفد سواعدها. ولا تنقطع انشاجها. و منارة لا ينطفي من عدوٍّ سراجها. و قلعة متسلّحة لا تعد افواجها و ارض مقدسة لا تعرف فجاجها. و روضة يزيد بها قرة العين وابتهاجها. ولا يناله الّا الذين طهّروا من الادناس البشريّة. ورزقوا من الاخلاق الالٰهية. والّذين اَثّلوا التقوىٰ و ما مزقوها. وضَفَّروا اشعار التقاة و ما شعثوها. و الذين نوّروا و اثمروا كالشجرة الطيبة. وسارعوا الى ربهم كالعيهلة. و الذين ما فرّطوا و ما افرطوا في سبل الرحمان. وتخشعوا خوفا منه و جعلوا له حلم اللسان وقاية ما في الجنان. و الذين تشمروا في سبل اللہ بالهمة القويّة. و تكأكأوا على الحق بجميع القوى الانسية. و قصموا ظهر وساوس و قصدوا فلاةً عوراء للمياه السماوية. والّذين لا يتثائبون في اللہ و لا يتردّدون. و يمشون في الارض هونا و لا يتبخترون. والّذين ما يقنعون على الحتامة و يطلبون. و يُقدمون في موطن الدين ولا يحجمون. و الذين لا تحتدم صدورهم و تجد فيهم تؤدة و هم لا يستعجلون. وليس نطقهم كآجنٍ و اذا نطقوا يجدّون. و الّذين تبتّلوا الى اللہ و صمتوا و لا ينطقون الا بعد ما يُستنطقون. و ليسوا كَبَسِيلٍ بل هم يتلألأون. والذين لا يختأهم قارع عن حبّ اللہ و كل لمح الى اللہ يجلوذون. وخذئ له قلبهم و عينهم و اذنهم ففي اثره يدأدءون. و اَدفأهم اللّہ ما يدفع البرد فهم في كل آن يُسخّنون و الذين يُداكِأُون ابليس و يردءون بالحق وله ينتصرون. و ما رطأوا الدنيا و ما نشفوا من ماءها و حسبوها كَقَمِيْءٍ و ما كانوا اليها ينظرون. و الذين ما رمأوا نفوسهم بما كانت عليها بل كل آن الى اللہ يحفدون و يتزأزءون من اللہ و له يتصاغرون. و الذين زنَّأوا على نفوسهم حَبْلها و ضيّقوا باب عيشتها و لا يُوسّعون. والذين اذا دُعوا الى شواظٍ من ربّهم فهم لا يبعلون. و ما اجبأوا زرعهم بل هم يحرسون. و الذين يجاهدون في اللہ و يبتهلون. و لا يخافون الثكل و لو جفأتهم البلية و للہ يجسأون. والّذين عندهم غمرٌ و ليس علمهم كثميلة و اوتوا معارف و فيها يتزايدون. و غلبوا الدنيا و جعفلوها و جمأوا عليها و قصموها بكرتيم☆ فهم عن زهزمتها مبعدون. و الّذين ترى هممهم كجنعدلٍ يجوبون موامي و لا يلغبون. لا يتجأّلون عن امر ربهم و هم له مسلمون. والّذين حنأت ارضهم و التفت نبتها باللہ فهم على شجرة القدس يداومون. و خبأت رداء اللہ صورهم فهم تحت رداءه متسترون. والّذين يبذءون الدنيا و ما فيها و يبدَّلون كصبي ابدء و لا يتركون. لا يوجد فيهم غشمٌ و لا سخفٌ و لا غيهقة و عند كل كرب الى اللہ يرجعون. و الذين لا يمغثون عرضا بغير حق و لا باَحَدٍ يهجرون. و لا يخافون عقبة نطّاءَ و لا فلاةً عوراءَ. و لا هم يحزنون. والذين يعلهضون قارورة الفطرة ليستخرجوا ما يخزنون استوكثوا من الدنيا فلا يبالون قريح زمن و جابر زمن و يتخذون اللہ عضدا و عليه يتوكلون. والذين جاحوا من بواطنهم اصول النفسانية و تجد فيهم شعوذة و الى اللہ يسارعون. مُلئوا من ارج اللہ و محبّته الذاتية. تحسبهم ايقاظًا و هم ينامون. والذين عُصموا من شصاص العفة الرسمية و صُبّغوا بالتقاة الحقيقية و افنتهم نار المحبة و ليسوا كالذين يضبحون. و الذين ليس مقولهم كشفرة اذوذٍ و اذا نزل بهم اُفُرَّةٌ فهم يصبرون. و يحسنون الى من آذى من الفجرة. و لو كان من زمر القرافصة. و يمكتون بحضرة اللہ و لا يبرحون بل هم يمكدون. و الذين علٰى ايمانهم يخافون و يحسبون انه اخف طيرورةً من العصفور. و الخوف ابلغ انقاءً من اليَسُتعور فلا يقنعون على رُذاذٍ و يعبّدون عَرُوُنَةً بجرآء ليجعلوها بهرة. و كذالك يجرذون. والّذين يخافون ثائب الابتلاء اذا ادلجوا و حين يدلّجون و يبكون بعين سُهُدٍ و قلبٍ حِجُزٍ حين يُمسون و حين يُصبحون. و الذين يؤاسون و لا يقترون و يخلصون غريمهم و لا يخلسون. و الذين ليسوا كَضَبُسٍ و لا كهقلس و لاهم يتفجّسون. والذين يجتنبون اللطث. و النكث و لا تجد فيهم وثوثة في الدين و لاهم يداهنون. والذين سلكوا و في السلوك اجرهدّوا و الرحال للحبيب شدّوا. و قطعوا عُلَق الدّنيا و في اللہ يرغبون. و ما يقعدون كالذين يئسوا من الآخرة و الى اللہ يهرولون. و الذين لا يحطّون الرحال و لا يريحون الجمال و يجتنبون الوبد و لا يركدون.
ويبيتون لربهم سجدًا وقيامًا و لا يتنعّمون. و الذين يضجرون لكشف الحجب و رؤية الحق و يسعون كل السعي لعلهم يُرحمون. و ما يحجأون في اللہ بالنفس و لو يُسُفكون. و حضأوا في نفوسهم نارا فكل آنٍ يوقدون. واحكأوا عُقدة الوفاء فهم عليه ولو يقتّلون. اولئك الذين رحمهم اللہ واراهم وجهه من كل باب ورزقهم من حيث لا يحتسبون. بما كانوا يحبّون اللہ ويتّقونه حق تقاته و بما كانوا يفرقون. ان الذين تجانأوا على حُذّة الدنيا وصراها و يئسوا من جَزُح اللہ. اولئك الذين لا يكلمهم اللہ و يلقون في فلاةٍ بديدٍ و يموتون و هم عمون. انهم لا يفتحون العيون مع أَيَاةٍ اجبأً عليهم و لاهم يصأصأون كانّ الشمس ما صمأت عليهم و كانّهم لا يعلمون. و كذالك جرت عادة اللہ لا يستوي عنده من جاءه يبغي الرضا. و من عَصَا وغَوٰى انه لا يبالي الغافلين. و انه يهرول الى من يمشي اليه و انه يحب المتقين. وله سنة لا تُخبأ كَخُثّ مخلّف. الا ان السنة لَيَاحٌ يُرىٰ في كل حين. الكاذب تبّ. و الصادق صعد و ثبّ. فطوبىٰ للذي اليه باء و ابّ. و تناء بعتبته و ايّاه احبّ. انه يحبّ من دق له ولا يحبّ الببّ. فويل للذين قعدوا كجلذٍ وكثرت وساوسهم كإمرأةٍ اضنأت. ما بقي لهم ظمأ في طلب اللہ و انواع بَغُر الدنيا على القلب طسأت. ضعفت نفوسهم فشق عبأ الايمان و هم مثقلون. و لا يزالون يذكرون الدنيا و هم لها يقلقون. يكادون اَنُ يفسّأوا ثوب الدّين و يزهفون الى اللہ احاديث و هم يتعمدون فقأوا عيونهم بمكر آثروه ثم يقولون نحن قومٌ مُبصرون. و قد سطحوا الفطنة ثم ذبحوها و يُصفدهم القرآن فهم عنه معرضون. انما مثلهم كمثل ارضٍ قفأت. او كنبتٍ كَدَء و اراد اللہ ان يزيدهم علمًا فنسوا ما يدرسون. او مثلهم كمثل رجل قعد في مقنوءةٍ فطلعت الشمس حتّى جاءت علىٰ رأسه و هو من الذين يغتهبون. و قوم آخرون رضوا بالحماذي. وقع بعضهم لبعض كالمحاذي. و اني انا الاحوذي كذي القرنين. وجدتُ قومًا في اُوارٍ و قومًا آخرين في زمهريرٍ و عين كدرةٍ لفقد العين. و اِنّي انا الغيذان و من اللہ ارىٰ. و اعلم ان القدر اخرج سهمه وقذّا. فاذكروا اللہ بعينٍ ثرةٍ يا اولي النهىٰ لعلكم تجدوا حِتُرًا و كَثِيُرًا من الندىٰ. و السّلام علىٰ من اتّبع الهدىٰ. و انا العبد المفتقر الى اللہ الاحد.
غلام احمد القادياني المسيح الربّاني
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
أيها الناس احشدوا فإني سأقرأ عليكم علامات المقرّبين. إنهم قوم حفظ اللہ غضوضة روحهم وليسوا كجامس ولا كَأَفِين، تجدهم حسن الحِبر والسِبر وكشاب بهكن ولا تجدهم كمن نُخِشَ وصار كالمدقوقين. قوم شُرِحَتْ صدورهم. وأُزِّرت ظهورهم، ونُضّر نورهم، فأسلموا وجوههم للہ وما بَالوا أذًى في اللہ ولو قُطع حبل المتين، ولا يحائصون الموت إلّا لِرَبّ العالمين. يُربَّى الخلقُ من ألبانهم، وتُقوّى القلوب من فيضانهم، وليسوا كشاةٍ مُمغرٍ، ولا كرجل مُشَتّرٍ، و يُبعثون في أرضٍ مزبرةٍ ومعقرةٍ وَمَثْعَلة وعند كثرة الباغزين. تجدهم أكثر قزازةً ولا تجد فيهم كزازةً ولا تراهم كضنين. وتجدهم يبيعون أنفسهم لِلّٰہِ ولمصافاته، ويواسون خلقه لمرضاته، ولا تجد أنفسهم كَالْمُبَرْطِسِين، يحسبهم الزَوْشُ العِنْقَاشُ من المخترصين، وإن هم إلا نور السماء وأمان الأرض وائمة الصادقين. تعافُ الأرض لُقْيَانهم وتُنير السماء برهانهم، وإنهم حجة اللہ على من عصٰى من المخلوقين. وإنهم عاهدوا اللہ بحلفةٍ أن لا يُحبّوا ولا يُعادوا بأمر أنفسهم، وانصلتوا منها انصلات الفارين. وأحضروا ربهم ظاهرهم و باطنهم وجاءوه منقطعين. وأفنوا أنفسهم لاستثمار السعادة وماتوا لتجديد الولادة، وأرضوا ربهم باقتحام الأخطار والصبر تحت مجاري الأقدار، وأدّوا كلما يقتضي الخلوص وما هو من شروط المخلصين. إنهم قوم أخفاهم اللہ كما أخفٰى ذاته، وذرّ عليهم لمعاته، ومع ذالك يُعرفون من سَمتهم ومن جباههم ومن سيماهم، ونور اللہ يتلألأ على وجوههم ويُرى من روائهم ولهم بصيص يخزي الخاطلين. ومن شِقوة أعدائهم أنهم يظنون فيهم ظن السَّوُء ولا يحقّون ما ظنّوا وما كانوا متقين. إن هم إلا كأخُوَص أو أعُمَى وليسوا من المبصرين. لهم جبهةٌ خشباء ونفس كعوجاء وقلوبهم مُسودّة ولو ابيضّ إزارهم كخرجاء، وليسوا إلا كتنّين. يُعادون أهل اللہ ولا يظلمون إلا أنفسهم، فلو لم يتولّدوا كان خيرا لهم، لم يعرفوا إمام زمانهم، ورضوا بميتة الجاهلية فتعسًا لقوم عمين. غرّتهم رضاضة التنعّم فنسوا عَلَزَ القلقِ وغصص الجَرَضِ، ولم يصبهم داهية من حَبَضِ الدهر فلذالك يمشون في الأرض فرحين، ويمرّون بعباد الرحمن مختالين متكبّرين.
إن أولياء اللہ لا يُريدون مُخَرٗفَجًا في الحياة الدنيا ويؤثرون للہ خصاصة ويُطهّرون نفوسهم ويشوصُون، ويقبلون دواهي هذه ويتقون نهابر الآخرة ولها يجاهدون، ولا يأتي عليهم أُبُضٌ إلا وهم في العرفان يتزايدون. ولا تطلع عليهم شمس إلا وتجد يومهم أمثل من أمسهم، ولا ينكصون وفي كل آنٍ يُقدِمون. ويزيدهم اللہ نورًا على نورٍ حتى لا يُعرفون. ويحسبهم الجاهل بشرًا متلطخا وهم عن أنفسهم يُبعدون. وإذا مسّهم طائف من الشيطان أقبلوا على اللہ مُتضرّعين، وسعوا إلى كهفهٖ فإذا هم مبصرون. ولا يقومون إلى الدعاء كسالىٰ بل كادوا أن يموتوا في دعائهم فيُسمع لتقواهم ويُدركون. وكذالك يُعطَون قوةً بعد ضعفٍ عند الدعاء وتنزل عليهم السكينة وتقوّيهم الملائكة فيُعصمون من كل خطيئة ويُحفظون، ويصعدون إلى اللہ ويغيبون في مرضاته فلا يعلمهم غير اللہ وهم من أعينهم يُسترون. قومٌ أخفياء فلذالك هلك في أمرهم الهالكون. ينظر إليهم عُميُ هذه الدنيا وهم يستهزءون. أهذا الذي بعثّه اللہ بل هم قومٌ عمون. ولهم علامات يُعرفون بها ولا يعرفهم إلا المتفرّسون المتطهّرون.
فمن علاماتهم أنهم يُبعدون عن الدنيا، ويُضرب على الصماخ، لا تبقى الدنيا في قلوبهم مثقال ذرّة ويكونون كالسحاب المنضاخ، وفي اللہ ينفقون. ولا يمسّهم وَسَخٌ ولا درنٌ منها وكل آنٍ من النور يُغسلون.
ومن علاماتهم أن اللہ يُودع قلوبهم الجذب، فالخلق إليهم يُجذبون، ويكونون كعينٍ نَضَّاخةٍ باردٌ ماؤها فالخلق إليهم يُهرولُون. وينتضخ عليهم ماء وحي الرحمان فالناس من ماءهم يشربون. ومن علاماتهم أنهم لا يعيشون كَهَبِّيخٍ بل في بحار البلاء يسبحون. ويتهيأ للنحر وريدهم وبه تُفضَخ عناقيدهم فالخلق منها يعصرون. ومن علاماتهم أنهم يُسَبِّحون للہ ويسبحون في ذكره كحوت رضراض، ويُقبلون عليه كل الاقبال ويصرخون كصرخة الحبلى عند المخاض، وبه يتلذّذون. ومن علاماتهم تزجية عيشة الدنيا ببذاذةٍ وتصالجٍ على الأغيار وصارخة المستصرخين، والذكر كغادرات الاوكار وبه يَتضمّخُون.
ومن علاماتهم تنزّههم من كل صَنْخَةٍ وصلاخٍ، وكونهم فتيان المواطن لا كلابسات الفتاخ، بما يفسخون عنهم ثوب الجُبن ويُبلّغون الحق ولا يخافون.
ومن علاماتهم أنّهم يُربّون من بايعهم مخلصا تربية الأفراخ، وينجّونهم من الفخاخ، ويقومون ويسجدون لهم في ليلةٍ قاخ، فيدركهم غيث الرحمة ويُرحَمون. ومن علاماتهم أنهم لا يُتَوَفَّوْن إلّا بعد ما أَفْرخ أمرهم واجتمعت زُمرهم وتبيّن الحق كالفَرُّوْخ، ومُلِأَ دلوهم ولم يبق ماؤه كالوَضُوخ، فظهروا بالجسد الممضوخ، وكَمَّلوا زينتهم كعتيدة العرائس لينظر الخلق إليهم فَيُحْمَدُون.
ومن علاماتهم أن الدنيا لا تُفَنِّخهُم بأفكارها، بَلْ هم يَقْفَخُونَها ويزيلون شفّرة أوزارها وعلى اللہ يتوكّلون. ومن علاماتهم أنّهم يقومون في ليالٍ كاخٍ ابتغاء رضا الحضرة، ويزرعون بذر الحسنات ويتخذون تقواهم كوخًا لحفاظة تلك الزراعة، فيحصدون في هذه وبعدها ما يزرعون.
ومن علاماتهم أنّهم لا يُقطّبون ولا يتشزّنون ولا يُصَعّرون للناس. ولا يُخرّجون مرعى الهُدٰى ولا يكونون كأرضٍ مخرّجةٍ، ولا يوَلّون الدُّبر عند العماس ولو مشوا في العماس، ولا يفرّون ولو يُقتّلون. ومن علاماتهم أنهم لا يمطخون عِرضًا بغير الحق، ويُغمِدون اللسان ولا يمتلخون، ولا يُمْلخون بالباطل ويميخ غضبهم ولو يوقدون، وإذا بلغهم قول يؤذيهم لا يَنْبَخُونَ نَبُوخ العجين، ولا ينتخون الاستقامة بل عليها يُحافظون. ولا تجدهم كمُنَدّخٍ بل هم قوم غيَارٰى وعن أخلاق اللہ يستنسخون. ويستنسخون عن أخلاق نبيهم كَاكْتِتَابِكُمُ كتابا عن كتاب وكذالك يفعلون.
ومن علاماتهم أنّهم يشابهون عامّة الناس من جهة ظاهر الصورة، ويغايرونهم في الجواهر المستورة، ويجعل اللہ لهم فرقانا كنفخاء رابية، في بلادٍ خاوية، ويُخضّرون ويُثمرون. وكشجرة النهداء يرتفعون. ومن علاماتهم أنّهم يُعطون نُقاخ الأخلاق كلها من غير مزاج الرياء، ويُنوّخ اللہ ارض قلوبهم طروقةً لذالك الماء ويُعرفون بالرواءِ ويُطيّبون ويُعطّرون.
ومن علاماتهم أنّهم يكونون كُمَشَاءَ الموطن ولا يكونون كرجل وَخُوَاخ، وتجذبهم القوة السماوية فيُزَكّون من الأوساخ، وَيَنقَخُ أهواءهم ضربٌ من اللہ فيودّعُونها من النُّقاخ، فلا يمسّهم لوثٌ من الدنيا ولا يتألّمون بتركها ولا هم يتخزّبون.
ومن علاماتهم أنّ صحبتهم حرزٌ حافظ لأهل الأرض من السماء عند نزّول البلاء، ودواء لقساوةٍ تتولّد من أماني الدنيا والأهواء، وكما يعلو الجِلد درنٌ من قلّة التعهّد بالماء، كذالك تتّسخ القلوب من قلّة صحبة الأولياء، ويعلمها العالمون.
ومن علاماتهم أنّ صحبتهم تُحي القلوب، وتقلّل الذنوب، وتُقوّي الوَشْخَ اللغوب، فيثبت الناس بهم على المنهاج ولا يتقدّدون.
ومن علاماتهم أنّهم لا يناضلون أعداءهم كإبلٍ تواضَخَتْ، ولا يكون وَضاخَهم إلا إذا الحرب عند ربّهم حُتِمت، ولا يجادلون إلا إذا الحقيقة ائتَلَخَتْ، ولا يؤذون ظالمًا بغير الإذن وإنْ يُمَوَّتُوا كشاةٍ عُبِطَتْ، وبأخلاق اللہ يتخلّقون. ومن علاماتهم أنّهم يتّقون الكذب والشحناء، والأهواء والرياء، والسبّ والإيذاء، ولا يُحرّكون يدًا ولا رِجْلًا إلا بأمر ربهم ولا يجترءون. لا يُبالون لعنة الدنيا ويتّقون افتضاحًا هو عند ربهم، ويستغفرونه حين يُمسون وحين يُصبحون، وإذا اتّسخوا بغفلة فبذكره يَبْتَرِدُون. لباسهم التقوى فإيّاه يُبيّضون، ويعافون أثوابًا جُرودًا و في التُّقٰى يُجَرْهِدُون. ويتأبّدون من صحبة الأغيار ولا يبرحون حضرة العزّة ولا يُفارقون، وما شجّعهم على ترك الدنيا وأهلها إلَّا الوجه الذي له يَسْهدُون.
ومن علاماتهم أنّهم لا ينطقون بآبدةٍ ولا يَهْذَرُون، ويتّقون الهزل ولا يستهزءون. ويزجّون عيشتهم محزونين، ويخافون حبط أعمالهم بقول يتفوّهون، أو بفعلٍ يفعلون. ولا يكون نطقهم إلّا كبناءٍ مؤجّد ولا يَخطلون. ومن علاماتهم أنّك تراهم آجدهم اللہ بعد ضعفٍ وأوجدهم بعد فقر وهم لا يُتركون. ومن علاماتهم أنّهم يرون إدَدًا و اَوَدًا من أيدي الناس ويتراءى الياس من كل طرفٍ ثم يُدركهم اللہ ويُعصمون، وإذا نزلت بهم آفة رزقوا من عند اللہ صبرًا يُعجب الملائكة ثم ينزل الفضل فيُخلَّصون.
ومن علاماتهم أنّهم لا يتّكئون على طِرفٍ ولا تالد ولا ابن ولا والِدٍ وعلى اللہ ربهم يتّكئون. ولا يسرّهم إلّا مستودعاته من المعارف وكل آنٍ منها يُرزَقون. ويسأمون تكاليف في سبل اللہ مُتَنَشِّطِين ولا يَتَجَشَّمون. ويشكرون للہ ولو لم يُعطوا ثَعدًا ولا مَعْدًا وبحب اللہ يَفْرُحُون. ذالك بأنهم يُعطون معارف كَثَفَافِيدَ، ويُرزَقُون لها مقاليدَ، فمن كل باب يدخلون. ويُعطيهم اللہ قلوبًا كأنهارٍ تتفَجَّر، لا كثَمَدٍ يركد في الركايا ويتكدّر ولا ينقطع المدد وفي كل آنٍ يُنصرون.
ومن علاماتهم أنّهم يُعطون رُعْبًا من ربهم فتفرّ العِدا من مباراتهم، ويخفون وينكرون أنفسهم عند ملاقاتهم ويهربون. ويتستّرون كمثل رجل جُدِعَت ثندؤته للجريمة فيعاف اللُّقيان لوصمة الروثة، هٰذا رعب من اللہ لقومٍ له يكونون. ومن علاماتهم أنّهم قومٌ يسعون في سُبل اللہ كثوهدٍ فَوْهَدٍ وإذا قاموا لأوامره فهم ينشطون، ولا ترٰى فيهم كسلًا ولا وهنًا ولا هم يتردّدُون، وتُشرق الأرض بنورهم ولا يجهل مقامهم إلا المتجاهلون، ولا ينكرونهم أعداؤهم بل هم يجحدون.
ومن علاماتهم أنّهم قوم يقربهم جُدّة فيوض اللہ فكل ساعة منها يغترفون، ويسارعون إليه كأجاليد ولا يمسّهم من لغوب ولا يضعفون، وإذا أخذهم قَبْضٌ تألّموا ولا كجلدات المخاض، وترٰى قلوبهم كَأَرْضٍ مَجْلُودَةٍ من علومٍ يُفَاض، ومن علاماتهم أنهم إذا مرّوا برجلٍ جَلَنْدَدٍ يمرّون وهم يستغفرون، ولا تزدري أعينهم أحدًا من التقوٰى ولاهم يستكبرون. يعيشون كغريبٍ ويرضون بنَكَدٍ ويقنعون علٰى جُهدٍ وجَندٍ، أولئك قومٌ آثروا ربّهم ورجالٌ مُسَدِّدُون.
ومن علاماتهم أنّهم قوم لا يجهد عيشهم ولا يُعذّبون بمعيشةٍ ضَنْكٍ ويُرزقون من حيث لا يحتسبون، ويجيدهم اللہ معارف فهم بها يفرحون. ومن علاماتهم أنّهم لا يرضون ببضاعةٍ مُزجاةٍ وقليل مما يعملون، وإذا ركبوا أَجْوَدُوا وإذا عملوا كمّلوا، ويتَجَنّبون ثَعْط العمل وخداجه، ولكشف الحجب يخبطون، وإذا عادوا أو أحبّوا أجهدوا ولا ينافقون. ومن علاماتهم أنّ قلوبهم أرضٌ جِيدَتْ، ولهم فراسةٌ زِيدَتْ، يُعصمون من ضلالٍ وفسادٍ، وما وقعوا في أبي جَاد، ويُبعدون من كُلّ دَجْوٍ ويُنَوّرون.
ومن علاماتهم أنّ رقابهم تحمل أعباءَ أمانات اللہ أكثر من كل حامل أمانةٍ، ثم لا تتأوّدُ رقابهم بل تجعلهم كامرأةٍ جَيْدانةٍ، ويتراءى منه حسن الاستقامة، ويُرَى كالكرامة، فعند اللہ والناس يُكرَمُون. ومن علاماتهم أنّهم يُوفَّقون لارتداعهم عن كل أمرٍ حَدَدٍ، ويُعْطَوْنَ أَسِدَّةً لدفع الوساوس ويردف لهم مددٌ خلف مَدَدٍ، ذالك بأنهم قومٌ مُنْحَرِدون، وإلى اللہ مُنْقَطِعون. يُجَرّدون أنفسهم ويَسْعون إلى اللہ وُحدانا، ولا ترى مثلهم حَرْدانًا، وتسفت حَرافدهُم إلى حِبِّهم ويُقدّمون على كل شيء لُقيانًا، ومن خوف الهجر يذوبون. الحكمة تنبت من حَرْقدتهم، والفراسة تتلألأ من جَبهتهم، وكَالْقُلَيْذَمِ يفيضون.
ومن علاماتهم أنّهم يتدهكمون للہ ولا يُحْجِمُون، ولا يوجد لهم حَتْنٌ في ذالك وهم فيه يتفرّدون. ولا يُضاهيهم فردٌ من المحجوبين ولو يحرصون، ولولا حتامتهم لهلكت الناس، ولولا احتدامهم لبردت محبّة اللہ من قلوب الأناس، ولحفدوا إلى الخنّاس، ولقطع اللہ عَسْب العارفين ولهُدِم الإيمان من الأساس، فذالك فضل اللہ على خلقه أنهم يُبْعَثون. وإنّ الناس كُلّهم كَعِلْبٍ ويُصلحهم هؤلاء، ومن فقدهم فهو كَيَتِيمٍ، ومن فقد الفطرة فهو كعَجِيٍّ، ومن فقدهما فهو كلطيم ومن الأشقياء، فطوبىٰ للذين يُعطون الكلّ ويجمعون.
ومن علاماتهم أنّهم يجتنبون الحسد الذي يشابه الحَسْدَل، ذالك بأنهم يتمصّخون من رُوحٍ من ربهم فتُشرَحُ صدُورُهم ويرفَعون إلى العُلىٰ فلا يهوون، ويعصمون من أَسفل ويُحفَظون. ومن علاماتهم أنّهم يُبعَثون في وقت يكون الناس كاليتامى ولا يُواسِيهُم أحدٌ لاحتباكهم، ويهلك الناس بموت الكفر والفسق ويُغَبِّبُ علماء السوء عن هلاكهم ولا يبالون، وكل ذالك يظهر على عدّانهم وبه يُعرفون. فإذا رأيتم أن الناس يَغتهبون ويكذبون ويشركون باللہ ويفسقون ويزنون ويخرجون من الدين ولا ينتهون، فاعلموا أن وقت بعث رسولٍ أتىٰ، وجاء وقت التذكير لمن نسي الهدىٰ، فطوبىٰ لقوم يسمعون.
ومن علاماتهم أنّ القوم إذا اتخذوا سُبُلهم شَذَرَ مَذَرَ فهناك هم يُرسلون، والذين يمئرون عليهم يُعاديهم اللہ فينخرون ويُطردون من الحضرة ويُمترون، وإن لم ينتهوا فيُدمّرون ويُهلكون. ويجعل اللہ جذبًا في قلوب أوليائه فيَكُفَتُونَ الناس وإلى أنفسهم يجلبون، ولو لم يتبعهم الناس لتبعتهم الحجارة والمدارة، وجُعلت أناسًا فللحق يشهدون.
ومن علاماتهم أنّهم قومٌ لهم عُلقٌ شديدة باللہ لا تُثقّب فيها مدريَّةٌ ولا سمهريةٌ، ولا سيف جائبٌ ولا سهمٌ صائبٌ، ولا يموتون إلا وهم مسلمون. ومن علاماتهم أنّهم يتكرّمون عمّا يشينهم، ويُكْرَمون بكل ما يزينهم، ويُبعَدون عن الشائنات، ويُؤيَّدون بالآيات، وتقوم لهم السماء والأرض للشهادات، وتبكيان عليهم عند الوفاة، وكذالك يُبجَلون. ومن علاماتهم أنّ اللہ يجعل بركاتٍ في بيوتهم وثيابهم وفي عمائمهم وقُمصهم وجلبابهم وفي شفاههم وأيديهم واصلابهم، وكذالك في جميع آرابهم وفي حتامتهم والثمد الذي يبقى بعد تشرابهم، ويكون معهم عند هَوْنهم و عند اجلعبابهم، ويُجيبُ دعواتهم فلا يخطئُ ما يُرمٰى من جعابهم، ولا يمسّهم فقرٌ ويُدخل بأيديه مالًا في جرابهم، ويُكرمهم عند مَشِيبِهِم أَزِيدَ مما كان يُكرم في عدّانِ شبابهم، ويخلق فيهم جذبًا قويًّا ويُرجِع خلقًا كثيرًا إلى جنابهم، وإذا سألوا قام لجوابهم، ويُعينهم ليُعرفوا بتحاببه ولتنشرح الصدور لاستحبابهم، ويوغره تحريبهم، ويُهيّج رُحمه اضطرابهم، فسبحان الذي يرفع عباده الذين إليه يَتَبَتَّلُون.
ومن علاماتهم أنّهم يحسبون ربهم خزينةً لا تنفد، وعينًا لا تركد، وحفيظًا لا يرقد، وخفيرًا لا يَعْنُدُ، ومَلِكًا لا يُفْردُ، وحبيبًا لا يُفقَدُ، ومَخْدومًا لا يَكْنَد، وعَليًّا لا يَلْبُدُ، ومحيطًا لا يمكد، وحيًّا لا ينكد، وقويًّا لا يُهوِّد، وديَّانًا يرسل الرسل ويُوفِد، ويرون أن الخلق خُلقوا من كلمه وإليه يَرجعون. ومن علاماتهم أنّهم يبتلون ذات المرار، ثم يُنجّيهم ربّهم ويُنصرون، وما كان ابتلاؤهم إلّا ليظهر فضل اللہ عليهم وليعلم الجاهلون. ومن علاماتهم أنّهم يتمزّرُون من شرابٍ طهورٍ، وتُمْلَأُ قلوبهم من نورٍ، وترٰى في وجههم أثر إكرام اللہ وحُبورٍ، ومن أيدي اللہ يُنعَّمون.
ومن علاماتهم أنّهم بَيِّن المَزْأَرَة يقتحمون موامي لا يقتحمها إلا رجل مزير، وينحرون نفوسهم ابتغاء مرضات اللہ القدير، ولا تجدهم على ما فعلوا كحسير، بل يوقنون أنهم يكنزون أموالهم في السماء، وهناك لا يسرق سارق ولا يُنْهبون. ومن علاماتهم أنّهم قوم كالمستفشار، المعتصر بأيدي الغفّار، يتلقّون من ربهم من غير وساطة الأغيار، ويُعطَون ما يشتهون. أو كالمشيرة التي يمتشرها الراعي بمحجنه لا كَتَفُرَاتٍ تتساقط من غير تضمّنه وينظرون إلىٰ ربّهم ولا يُحْجَبون.
و من علاماتهم أنّهم يسعون حق السعي في اللہ ولا زمام ولا خزام، وتحتدم نار في قلوبهم فيَقْتَدون الضرام، ويكابدون بها الأمور العظام، ويفعلون بقوة نارهم أفعالًا تخرق العادة وتعجب الأنام، وتُحيّر العقول والأَفُهام، وترى الحَذُم في أعمالهم ولا كسل ولا اِلْحام، فإن غَرَوْتَ أيها السامع فلستَ من الذين يُبصرون. ومن علاماتهم أنّهم لا يُعَذّبون، ويُجعَلُ لهم الإيلام كالإنعام فلا يتألّمون. وتُفتح لهم أبواب الرحمة ويرزقون من حيث لَا يحتسبون، ذالك بأنّ لهم زُلفىٰ ومقام في حرم الجليل الجبّار، فكيف يُلقى الحِرميّ في النار، وكيف يُعذّبون. ولا يُعذّب أولادهم بل أولاد أولادهم وكل واحد منهم يُرحمون، ويجعل اللہ بركةً في نسلهم فكل يومٍ يزيدون. ونحن نُخبرُ بالعلّة التي أوجب اللہ من أجلها هذه المراعات، وأراد أن يُكثر أبناءهم وأبناء أبنائهم ويريحهم ويجتنب الإعنات فكان ذالك بأنّهُمْ يبذلون نفوسهم لوجه اللہ ويحبّون أن يموتوا في سبيله ولا يريدون الحياة، فاقتضى كرم اللہ أن يردّ إليهم ما آتوا مع زيادة من عنده، ويوصل ما كانوا يحسمون. وكذالك جرت سنّته في عباده أنه لا يضيع أجر قومٍ يحسنون، ولا يضرب الذلّة على الذين يتذللون له بل هم يُكرمون. ومن صافا ربّه ووفّىٰ، وستر أمره وأخفىٰ، ما كان اللہ ليتركه في زوايا الكتمان، بل يكرمه ويُعزّه ويفور لطفه لإكرامه بين الناس والإخوان. ويحب رفع ذكره إلى أقاصي البلدان كما ينهم الجوعان، وإنّ العبد المقرّب يقنع على بُلسَنٍ ويعاف التنعّم والادّمان، فيخالفه ربه ويُعطيه العناقيد والرُّمّان، وإنه يختار حجرة الاختفاء ليعيش مستورًا إلى يوم الفناء، فيخرجه اللہ من حجرته بالإيحاء، ويرجع مخلوقه إلى حضرته فيأتونه بالهدايا والنعماء ويخدمون. ويوضع له القبول في الأرض ويُنادىٰ في أهل السماء إنه من الذين يُحبّهم اللہ ويحبونه وله يخلصون. ويكون اللہ عينه التي يبصر بها وأذنه التي يسمع بها ويده التي يبطش بها، هذا أجر قوم يكونون للہ بجميع وجودهم ولا يشركون، ويقضون الأمر انهم له ثم بعد ذالك لا يبدّلون القول حتى يموتوا وإليه يرجعون.
ومن علاماتهم أنّهم ينسلخون من نفوسهم كما تنسلخ الحَيواتُ من جلودها، وتَنْطَفِئُ نيرانها بعد وقودها، ثم تجدّد فيهم الأماني المطهّرة، وتُعدّ لهم ما تشتهيها نفوسهم المطمئنة، وتُهَيَّأُ لهم في زمَنٍ ماحِلٍ المآدب الروحانية، فيأكلون كلَّما وُضِع لهم بل يتحطّمون، ويجمعون الخير كامرأة مُمغِلٍ ويجتنبون الغيثَ ولا يقربون، يبدءون من أرض إلى أرض أخرى ولا يتركون النفس كَأَدْلَم بل يبيّضون.
ومن علاماتهم أنّهم لا ينكرون كلمة الحق وإمام الزمان ولو يُلقَون في النّيران، ولا يُضيّعون إيمانهم ولو يُقتّلون بالسيوف المصقولة أو يُرجمون، يُعجب الملائكة صدقهم وفي السماءِ يُحمدون. أولئك قوم سبقوا كل هَدٍّ وليسوا كَهِدٍّ، ودعثروا قصر وجودهم لِحِبٍّ يؤثرون. إن اللہ وملائكته يصلّون عليهم والصلحاء والأبدال أجمعون. صدقوا فيما عاهدوا، وقضوا نحبهم لوجه الله، فالإيمان ذالك الإيمان، فطوبٰى لقوم به يتّصفون.
إن مثلهم كمثل عبد اللطيف الذي كان من حزبي وكان من أرض بلدة كابل، وكان زعيم القوم وسيّدهم وأمثلهم وأعلمهم وأتقاهم وأشجعهم وبَدُؤهم في السؤدد وأبهاهم، إنه أرَى هذا الإيمان. وهدّدُوه بوعيد الرّجم ليترك الحق فآثر الموت وأرضى الرحمان، ورُجِم بحكم الأمير فرفعه اللہ إليه، إن في ذالك لنموذجًا لقوم يُغبطون.
إنّ الذين يُقتلون في سبيل اللہ لا تحسبوهم أمواتا بل أحياءٌ عند اللہ يُرزقون، ومن قتل مؤمنًا متعمّدًا فجزاؤه جهنّم خالدًا فيها وغضب اللہ عليه ولعنه وأعدّ له عذابًا أليما، وسيعلم الذين ظلموا أيّ منقلب ينقلبون. إن السّماء بكت لذالك الشهيد وأبدت له الآيات، وكان قدرًا مفعولًا من اللہ خالق السمٰوات، وقد أنبأني ربي في أمره قبل هذا بِوَحْيِهِ المبين، كما أنتم تقرءونه في البراهين أو تسمعون، وعسى أن تكرهوا شيئا وهو خير لكم واللہ يعلم وأنتم لا تعلمون ولمّا رحل الشهيد المرحوم من دار الفناء، وسلّم روحه إلى ربّه بطيب النفس والرضاء ، فما أصبح الظالمون إلا وابتُلوا برجزٍ من السماء وهم نائمون، وجعلوا يفرّون من ارض بلدة كابل فأُخِذوا أينما ثقفوا وأين تفرّ الفاسقون . إنّ في ذالك لعبرة لقوم يحذرون .
ومن علاماتهم أنّ الملائكة تنزل عليهم بالبركات، ويُكرمهم اللہ بالمكالمات والمخاطبات، ويوحى إليهم أنهم من سُراة الجنّات وأنهم مقرّبون. ولهم فيها ما تدّعي أنفسهم ولهم فيها ما تشتهون☆ . ويُنزل عليهم كلام لذيذ من الحضرة وكلم أُفصِحت مِن لدن ربّ العزّة، ويُنَبَّأون بكل نبأٍ عظيم، وانباء الغيب من القدير الكريم، ويُغاث الناس بهم عند اسناتهم ويُنجّون من آفاتهم، ويُغَيَّرُ ما بقومٍ بتضرّعاتهم، وتُستجاب كثير من دعواتهم، وتظهر الخوارق لإنجاح حاجاتهم، مع إعلامٍ من اللہ وبشارةٍ بتعذيب قومٍ لا يألتون أنفسهم من فأتهم وكذالك يُؤَيَّدون، ويُبَشَّرون ويُنصرون، ويُنَوَّرون ويثمرون، ويُهلَكون مرارًا ثم يُذرءون حتى يروا ربّهم وهم يستيقنون، ولا تطلع عليهم شمس ولا تجنّ عليهم ليلةٌ إلّا ويُقرّبون إلى اللہ ويزيدون في علمهم أكثر مِمّا كانوا يعلمون . وإذا بلغوا الشيب يكمل شبابهم في الإيمان، فيتراءون كرجلٍ مُطهّمٍ كأنّهم فتيان مراهقون، وكذالك يزيد إيمانهم وعرفانهم بزيادة أعمارهم، ويزيدون في التقوٰى حتى لا يبقى منهم شيء ولا من آثارهم، و يبدّلون كل آن، ويُنقَلون من عرفان إلٰى عرفانٍ آخر. هو أقوى من الأول في اللمعان، وكذالك يُربّيهم ربّهم بفضل وإحسان، ولا يتركهم كَسَهْمٍ نِضْوٍ بل يُجدّدهم بتجديد نور الجنان، ويُقلّبهم ذات اليمين وذات الشمال، وتجري عليهم شهوات النفس وهم تتزاورون☆ عنها بمشاهدة الجمال، وتحسبهم أيقاظًا وهم رقودٌ في مهد الوصال، ولا يُتركون سُدًى بل يجعلون عناقيد من القُعال، ويُبدّلون ويُغيّرون ويُبعَدون عن الدنيا ويبلغون من مقامات إلٰى أرفع منها بحكم اللہ الفعّال، وآخر ما ينتهي إليه أمرهم أنهم يُحيَون بعد مماتهم ويوصلون بعد انفتاتهم، ويَرِدُ عليهم موتٌ بعد موتٍ ثم يُعطَون حياةً سرمدًا لمصافاتهم، ويُحفَظون من عُواء إبليس وممن يعشو عن ذكر اللہ ومن معاداتهم، وإذا بلغوا غاياتهم يُعطَون مقامًا لا يعلمه الخلق وينأون عن عَرَصاتهم، ويكونون نورًا تخسأ منه العيون، وفي نور اللہ يغيبون. ولا يعرفهم إلا الذي يُعرّفه اللہ ويكونون غيب الغيب وروح الروح وأخفى من كل أخفى، يرجع البصر منهم خاسئًا ولا يرى. وإذا تمّ اسمهم الذي في السماء وعند ربهم الأعلى، وكمل أمرهم الذي أراد اللہ وقضٰى، نُودِي في السّماء لرجوعهم إلى السّماء، فإلى ربهم يبوءون. وتخرج نفوسهم إلى اللہ راضيةً مرضيّةً فتندلق من أجسامها كما يندلق السيف من جفنه، ويتركون الدنيا وهم لا يشجبون. يرون الدنيا كشاةٍ بكيئةٍ أو ميْتةٍ تعفّن لحمها، فلا تُمَدّ عينهم إليها ولا هم يتأسّفون، ويتبوّءون دار حِبِّهم فبالمرهفات لا يتركون، ولا يلومهم إلّا مجهبٌ ولا ينكرهم إلا قوم عمون.
ويلٌ للعضابين فإنهم يُهلكون. ويلٌ للمغتهبين فإنهم يُنهبون. ويلٌ للمفترين فإنهم يُسألون. ويلٌ للذين تَبْذء عينهم عباد الرحمن فإنهم يموتون وهم عمون. ويلٌ للذين يَتْفَأُون إذا سمعوا الحق فإنهم بنارهم يُحرقون.
ومن علاماتهم أنّهم يُعطَون كلماتٍ تُفصَحُ من عند ربهم، فما كان لبشر أن يقول كمثلها ولا يُبارزون. وإن عباد الرحمن قد يتمنّون كَلِمًا فصيحةً كما يتمنون معارف مليحة فيُرزقون كُلَّمَا يطلبون. وكذالك جرت عادة اللہ في أوليائه أنهم يُعطَوْن لسانًا كما يُعطَون جنانًا، ويُنطقهم اللہ فبإنطاقه ينطقون. وكما أن المرأة إذا وحمت يُعِدّ لها بعلها ما اشتهت، فكذالك إذا نُفخ الروح فيهم خُلِقَتْ فيهم أماني من اللہ لا من النفس الأمّارة، فتُعطَى أمانيّهم ولا يُخيّبون. وكذالك أُعطِيتُ كلامًا من اللہ فأتوا بمثل كتابنا هذا إن كنتم ترتابون.
ومن علاماتهم أنّهم ينزلون من السماء كغيثٍ يساق إلىٰ أرضٍ جُرُزٍ فيدعون الناس إلى ماءهم وهم يُثوّبون. وينتزعون القلوب من الصدور جذبا من عندهم فيهرول الناس إليهم وهم يُغَسْلَبون. ومن علاماتهم أنّهم ليسوا كضنين في إفاضة النور، ولا كالنّاقة الْمَصُور ولا هم يبخلون. قومٌ لَا يشقىٰ جليسهم ولا يخزى أنيسهم مباركون من أنفسهم ويُبَارَكُون الناس ويُسعدون. يُخَضِّرون أرضا أَمْعَرَت، ويحيون قلوبًا ماتت، ويعيدون دُوَلًا ذهبت، ويُردّون بلايا أقبلت، ويوصلون عُلَقًا قُطِعَت، ويسجرون أنهارًا نزف ماؤها وتخلّت، وكلّما خرب من الدين يعمرون. لهم صدورٌ مُلِئت من النور وقلوب مُلِئَت من السرور، وإنهم نجوم السماء، وبحار الغبراء، وأرواح الأجساد، وللأرض كالأوتاد، لا يُبدّلون عهدًا عقدوا مع اللہ وهم يُبَدّلون. وإنهم أبدالٌ يُبَدّلهم اللہ وإنهم أقطابٌ لا يتزلزلون. وإنهم مصطخمون لِلّہِ صلموا الأمّارة من أصلها وعلى أمر اللہ قائمون. يزجون الحياة في همومٍ، ولا يعيشون كَعَيْصُومٍ، ولا يقنعون بظاهر الغسل كَعَيْشُومٍ، بل يسابقون إلى معين يُطهّر نفوسهم ولا يتضيّحون.
وإنهم حفظة اللہ على الناس عند البأس، ولوجود الخلق كالرأس، وفي بحر خلق اللہ كالدرّ المكنون، يفتحون الملحمة العظمى التي هي بالنفس الأمّارة، فيفتحون القلوب بعده بإذن اللہ ذي العزّة ويغلبون. ويُحيون بعد الموت ويعافهم الناس فهم يمضخون. لا تجد بوصيًا كمثلهم إذا طما الماء واشتد البلاء، وَٓارتفع الزفير والبكاء، وعند ذالك هم الشفعاء بإذن اللہ الذي منه يُرسَلون. وإذا بلغت القلوب الحناجر قاموا وهم يتضرّعون وخرّوا وهم يسجدون. هناك تملأ السماءَ دعاؤهم، ويبكي الملائكة بكاؤهم، ويُسمع لهم لتقواهم، فيُنَجَّى الناس من بلاءٍ به يَقْلَقون. وإنهم قومٌ يضمجُون بالأرض ويضبجُون بتوالي السجدات عند توالي الآفات، ويبلونها بالعبرات، ويقومون أمام اللہ دافع البليّات في الليالي المظلمات، ويقبلون إلى ربّهم بصدق يُرضي خالق الكائنات، ويموتون لإحياء قومٍ كانوا على شفا الممات، فيبدّلون القدر وبالموت يشفعون، وبالنَّصَبِ يُريحون، وبالتألّم يبسئون.
يواسون خلق اللہ ويتخونونهم عند الداهيات، ويعملون عملًا يعجب الملائكة في السماوات، ويسبقون في الصالحات، وتُشجّع قلوبهم فيمشون في المائرات، ولو جعلت سرمدًا إلٰى يوم المكافات، ولا يتخوّفون. ولا ينتتمون على أحدٍ بقولِ سوءٍ وعند فُحش النّاس يجمون ويكظمون.
ولا يتمايلون على جيفة الدُّنيا ويتركونها للكلاب، ويحسبونها حَفْنَةً من عظامٍ بل وَنِيْم الذباب، فلا يرتد طَرْفهم إليها ولا يلتفتون. ويجعلون أنفسهم كشجرة شَعْوَاءَ، فيأكل الجوعان ثمارهم من كل طرف جاء، نعم الأضياف ونعم المضيّفون. قومٌ مُطَهّمون، ويدفعون بالحسنة السيّئة ويخدمون الورى ولا يؤذون من آذىٰ، ومن تمخّىٰ إليهم فيقبلون. وإذا لقوا من أعدائهم الأزابي دفعوه بالمنّ ويجتنبون التّساب ولا يعسمون. يدعون لأعدائهم دعاء الخير والسلامة والصحة والعافية والهداية من الله، ولا يتركون لأحدٍ في صدورهم مثقال ذرّة من الغلّ ويدعون لمن قفاهم وازدرىٰ، ويُؤوُون إلى عصاهم من عصىٰ، فيتجلى اللہ عليهم بما كانوا آثروه ورحموا عباده، وبما كانوا يخلصون. أولئك هم الأبدال وأولياء اللہ حقًّا. وأولئك هم المفلحون.
تُبارك الأرض بقدومهم، ويُنجّى الناس عند همومهم، فطوبىٰ لقومٍ بهم يرتبطون. رب اجعلني منهم وكن لي ومعي إلى يوم يُحشر الناس ويُحضرون. ربّ لا تؤاخذ من عاداني فإنهم لا يعرفونني ولا يبصرون. ربّ فارحمهم من عندك واجعلهم من الذين يهتدون. وما يفعل اللہ بعذابكم ان شكرتم وآمنتم أيّها المنكرون. ألا تشكرون للہ وقد أدرككم في وقتٍ تُهلَكُون فيها وتُخطَفون؟ وإن شكرتم ليزيدنّكم، وتُعطَون كلّمَا تتمنّون وتشتهون. وإن تكفروا فإن جهنم حصير لقوم يكفرون.
ومن علاماتهم أنّهم لا يؤذون ذرّة ولا نملة وعلى الضعفاء يترحّمون. ولا يقطعون كل القطع ولو عاداهم الأشرار الذين يؤذون من كل نوع ويعتدون، بل يدعون لأعدائهم لعلّهم يهتدون، ولا تجدهم كَفَظٍّ غليظ القلب ولا تجد كمثلهم ارحم وأنصح للنّاس ولو شَرّقت أو كنت من الذين يُغرّبون. يدعون للذين اصابتهم مصيبة حتى يلقون أنفسهم إلى التهلكة، فإذا وقع الأمر على أنفسهم يُسمع دعاؤهم في الحضرة وبها ينبّئون، ذالك بأنهم يُبلّغون دعواتهم إلى منتهاها ويُتمّون حق المواساة ولا يألتون. يُذيبون أنفسهم ويلقونها إلى الدمار، فينجّون بها نفوسًا كثيرة من التبار، وكذالك تُعطٰى لهم فطرةً وكذالك يفعلون. يقومون في ليل دامسٍ والناس ينامون، ويرون نور أعمالهم في هذه الدنيا وكل يوم في نورهم يزيدون، ويرون نضارة ما قدّموا لأنفسهم ولا يكونون كمهلوسين، ويجتنبون كل معصيةٍ ولو كانت صغيرة فلا يقربونها ولا يغتمصون، ويُمزّزون العمل الصالح ولا يزدرون.
وإني بفضل اللہ من أولياءهٖ أفلا تعرفون؟ وقد جئتكم مع آياتٍ بيّناتٍ أفلا تنظرون؟ أما خُسف القمران؟ أما تُرِكَ القلاص في جميع البلدان، ما لكم لا تتفكّرون؟ وقد جاءت بيّنات من الرحمان، ونزل منه السلطان، فأي شكّ بعد ذالك يختلج في الجنان، أو أي عذر بقي عندكم أيها المعرضون؟ أما أُشيع الطاعون وكثر المنون؟ وشاع الكذب والفسق وغلب قوم مشركون، وبدٰى انقلاب عظيم في العالمْ وظهر أكثر ما تنتظرون، فما لكم لا تحسنون الظنون وتعتدون؟
أيّها الناس لم قدمتم بين يدي اللہ وحَكَمِهِ إن كنتم تتّقون؟ أهٰذه تقاتكم أنّكم كفّرتموني وما علمتم حق العلم وما تسألون بقلوبٍ سليمة وإن سُئِلَ عنكم تتوقّدون؟ أشق عليكم أنّ اللہ بعثني على رأس المائة واختارني لأجدّد دين اللہ صَلَاحًا وأُفْحِم قومًا زاد غُلوّهم في اتّخاذ عيسٰى إلٰهًا، وأكسر صليبا يعلونه ويعبدون؟ أو أغضبكم ما خالفكم ربي في وحيه؟ وكذالك غضب اليهود من قبل فما لكم لا تعتبرون؟
أيها الناس إني أنا المسيح الذي جاء في أوانه، ونزل من السماء مع برهانه، و اراكم آيات اللہ فيكم و في نفسه و في اعوانه و شهد الزمان له بلسانه وشهد اللہ له في قرآنه، فبأي حديث تؤمنون بعد شهادة اللہ وبيانه؟ ألم يأن أن تتقوا اللہ ويوم لُقيانه؟ وان تتّقوا يومًا يُذيب الجلُود بنيرانه؟ ألا تتفكّرون في آيات الله؟ وأي شهادة أكبر من فرقانه؟ ألا ترون إن كنتُ من اللہ وتنكرونني فكيف يصيبكم حظّ من أمانه؟ ألا تقرءون قصص اليهود. كيف جُعلوا من القرود. ألم تكن عندهم معاذير كما أنتم تعتذرون؟ فارحموا أنفسكم إلٰى ما تجترءون؟ ولا تحاربوا اللہ أيها الجاهلون. ما لكم لا تذكرون موتكم ولا تتقون؟ إن الغيور الذي ارسلني وعصيتموه إنه هو الصاعقة ولا يُردّ بأسه عن قومٍ يجرمون. إنه يسمع ما تتفوّهون به ويرىٰ نجواكم ويرى كلّما تمكرون. وسيعلم الذين ظلموا أي منقلب ينقلبون. ويلٌ للذين لا يُفرّقون بين الصادق والكاذب ولا يَفْرُقون. ولا يعرفون الصادقين من وجوههم ولا يتفرّسون. ولا يذوقون الكلمات ولا ينتفعون من الآيات، ختم اللہ على قلوبهم فهم لا يتفقّهون.
أيها الناس لِمَ تستعجلون في تكذيبي فما لكم لا تسلكون كالمتّقين، وتهذون ولا تتزمّتون؟ ما لكم لا تُمعِنُون في قوله عزّ وجل حكايةً عن عيسٰى : فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ(المائدة: ۱۱۸) أو لا تتوفّون وتخلدون؟ أم رأيتم عيسٰى إذ صعد إلى السماء فقلتم كيف نترك ما رأينا وإنّا مشاهدون.
تعسًا لكم لم تضلّون زُمع الناس بغير علم ولا تتقون الذي إليه تُرجعون. تصرّون على الكذب وتعلمون أنكم تكذبون، ثم على الزور تجترءون. ولو كنت لا أُبعث فيكم لكنتم معذورين، ولكن ما بقي عندكم عذر بعد ما بعثني اللہ فما لكم لا تخافون؟ بئسما فعلتم بِحَكَمٍ مِّن اللہ وبئسما تفتعلون.
يا حسراتٍ عليكم ما عرفتم الزمان وما تذكرتم ما قال النبيّون، وقد منّ اللہ عليكم بآيات من عنده فما نظرتم إليها وتصاممتم وتعاميتم، وصرتم من الذين يموتون. وما تركتم ذرّة من ضلالاتكم بل عليها تُصرّون. إنّ اللہ قد صرّح لكم وقت مسيحه وما ترك من أدلّة، ولقد نصركم اللہ ببدرٍ وأنتم أذلّة، فما لكم لا تفهمون هذا السرّ ولا تتوجّهون؟ أليست هذه المائة مائة البدر فما لكم لا تقدرون آي اللہ حقّ القدر ولا بها تنتفعون؟ وقالت السفهاء كيف نتبع الذي شذّ وكيف نترك سوادًا أعظم؟ وما جاء نبي إلا كان من الشاذّين وكان عن الضلال تكرّم، انظر كيف نزيل وساوسهم ثم انظر كيف يتعامون. إنهم نسوا يومًا يرجعون إليه فُرادٰى ثم يُسألون عما كانوا يعملون. مالهم لا يؤانسون موسٰى وعيسٰى ونبيّنا الأكرم، كيف بُعِثوا شاذّين في أوائلهم ثم اجتمع عليهم فوج من الصلحاء، وكل صدّق وسلّم وأمنوا بمن شذّ وتركوا سوادهم الأعظم، إلّا الذي ذُرِءَ لجهنم. فَوَيْلٌ لِلذين تركوا مبعوث وقتهم أولٰئك هم الذين شذّوا وسمّاهم نبيّنا فيْجًا أعوج وأشأم. وقال إنهم ليسوا منّي ولستُ منهم، فهم الشاذون كما تقدم. إذا جاءهم حَكَمٌ من ربّهم فقأوا عيونهم وأصمّوا آذانهم وما سألوا عنه وصاروا كأبكم.
وإن اللہ بعثني علٰى رأس هٰذه المائة، بما رأى الإسلام في وهاد الغربة، ورآه كأرضٍ حشاةٍ سوداء أو كَحشيٍّ مِمّا يُنْبِتُون. أو كلحمٍ نتنٍ وكاد أن يكون كَنيْتُون. ورأى النصارٰى أنهم يُضلّون أهل الحق ويُنَصّرون، ويسبّون نبيّنا ظلما و زورا ولا ينتهون. ورأى العلماء ما بقيت فيهم قوة الإفحام ولا فصاحة الكلام ولا يحتكأُ نطقهم في نفس بما لا ينطقون بروحٍ من اللہ ولا هم يُفصِحون، بل يوجد فيهم تكنّع ويفطفطون. ذالك بما عصوا ربّهم بقولٍ لا يُقارنه فعل وبما كانوا يُراءون، ولما جئتهم من ربّي أعرضوا وقالوا كاذب أو مجنون، وما جئتُهم إلّا وهم يَسْهون في الصالحات وعن الصالحات، وينبذون السُّعْدة وبالنَّيتُونِ يفرحون. وأمليتُ لهم رسائل فيها آيات بيّنات لعلهم يتفكّرون، فما كان جوابهم إلا الهُزء والسُّخر وكذّبوا بآي اللہ وهم يعلمون. وقالوا إن هو إلّا افترى وأعانه عليه قوم آخرون.
وقال بعضهم دهريّ لا يؤمن باللہ فاقرأ أيها النّاظر ما كتبنا وأشعنا ثم انظر كيف يهذرون، وإن السمع والبصر والفؤاد كل أولٰئك كان عنه مسئولا، فويلٌ لهم يوم يلقون اللہ ويُسألون. ومن أظلم ممن افترى على اللہ كذبا أو كذّب بآياته إنه لا يُفلح الظالمون. وقالوا ما جئتَ بسلطانٍ من عند اللہ بل لهم أعين لا يبصرون بها، وقلوب لا يفقهون بها وآذان لا يسمعون بها وإن هم إلّا كسارحة يتيهون خليع الرسن ويرتعون، وتبيّن الحق وهم يعرضون. يكتبون رسائل ليستروا الحق، وإنّا اقتتبنا أيديهم فما يكتبون. وإني اَقتَبْتُهُم يمينًا وقلتُ بارزوني إن كنتم تصدقون، فلكأوا بمكانهم وما خرجوا، كأنّ الأرض تلمّأت بهم وكأنّهم من الذين يَعدمون. ثمّ إنّي قمتُ لهم في ليالِي مباركةٍ ودعوتُ لهم في أسعائها لعلهم يرحمون. وما كان اللہ ليتوب على أحدٍ إلا علٰى قومٍ يتوبون. منهم قومٌ اعتدوا ومنهم كشيءٍ مقارب وليسوا على طريق ناهجةٍ، ولا يستنهجون. ومن تقرّب إلى اللہ شبرًا يتقرّب إليه ذراعًا ولكن الظالمين لا يتوجّهُون. قرضبوا عُلقَ اللہ وهم على الدُّنيا يتمايلون، وأصابهم زمهرير الغفلة فاقرعبَّوا وهم منه كل آنٍ يُقَرْطَبون. قَشَّبوا صالحًا بما فسد وقضبوا كَرَمَ الإيمان ولا يُبالون. وإذا قيل لهم إن اللہ قد اصطخم لكم وأرسل الطاعون، قالوا مرض يأتي ويذهب ولا يأخذنا المنون، انظر كيف يُنبّهون ثم انظر كيف يتناعسون. يرون الموت ولا يتّعظون، تراهم يلهجون بزخارف الدنيا ولا يشبعون.
وإذا قُرء عليهم ما أنزل اللہ ازّوّروا مُهرولين وهم يشتمون. تراهم جيفة ليلهم وقُطرب نهارهم، يهيمون لدنياهم وعن الآخرة يغفلون، ولا تتركهم صواكم الدهر ثم مع ذالك لا يتنبّهون. وإذا عُرضت عليهم كلم الحق سمعوها وهم يتأقّون، ويعافون ما يسمعون ويبذءُوُن ما يُقرءُون. يعلمون أنهم ميّتون ثم يتعامشون. يبكون للدّنيا كالأعمش، وهم عن الآخرة غافلون. زيّن الشيطان لهم أهواءهم فعُنّشوا اليها فأحبط اللہ أعمالهم، وأفسل عليهم متاعهم، ولُعِنوا وهم لا يعلمون. يختارون ثَمَدًا حَمِأَ وَصَرِي ويتركون غَمْرًا غير غَشَشٍ ذالك بأنهم أفشال فعلى الأدنٰى يقنعون. يتركون لونًا لا شِيَة فيها ويختارون الرقش ويقعدون بين الضِّحّ والظِّلّ ولا يتركون مقاعد إبليس ولا ينتهون. وحَبابُهم أن تُفتَح عليهم أبواب الدُّنيا ويُعطوا فيها كلّ ثمرة من ثمارها ويُسَمَّغُون. يُكفّرونني ولا أَدري علٰى ما يكفّرونني، وآلتناهم بيمين أن يقولوا ما يسترون، فما تفوّهوا بقول وشُدَّ وكاء قربتهم فلا يترشحون.
يحسبون وقت نزول المسيح كناقةٍ مُمْجرٍ ويرون أن الأشراط قد ظهرت ثم لا يتيقّظون. أما كُسف القمران، وكان الكسف في رمضان؟ ألا ينظرون كيف تظهر أثقال الأرض وتجري الوابورة وتمخر السفائن، وتُزَوّج النفوس وتُترك القلاص وتُبدّل الظعائن، وظهر كلّما يأمتون.
وإن مرهم عيسٰى آيةٌ بيّنة علٰى موته، فما لهم لا يفكرون في هٰذه الآية ولا به ينتفعون؟ وإنما مثل المسيح الموعود كمثل ذي القرنين، وإليه أشار القرآن يا أولي العينين، فكفاكم هذا المثل إن كنتم تتأمّلون. وإني أنا الأَحْوَذِيّ كَذي القرنين، وجُمعت لي الأرض كلها بتزويج النفوس، فكَمّلتُ أمر سياحتي وما برحتُ موضع هاتين القدمين. ولا سياحة في الإسلام ولا شدّ الرحال من غير الْحَرمين. فرُزِق لي السَّيْحانُ بهذا الطريق من ربّ الكونين. ووجدتُ في سياحتي قومين متضادين. قومٌ صمخت عليهم الشمس ولفحت وجوههم نار أُوارٍ فرجعوا بِخُفَّي حُنين. وقومٌ آخرون في زمهرير وعين حَمِئَةٍ لفقد العين. ذالك مثل الذين يقولون إنّا نحن مسلمون وليس لهم حظّ من شمس الإسلام، يحرقون أبدانهم من غير نفع ويلفحون، ومثل الذين ما بقي عندهم من ضوء شمس التوحيد واتخذوا عيسٰى إلٰهًا واستبدلوا الميت بالذي هو حيّ، ويظنون أنهم إليه يتحوّجون.
هٰذان مثلان لقوم جعلوا أنفسهم كعباديد ما نفعهم ضوء الشمس من غير أن تُلفح وجوههم حرّها فهم يهلكون. ومثل لقومٍ فرّوا من ضوئها فنُهبوا وهم يغتهبون. وإني أدركتُ القرنين من السنوات الهجريّة وكذالك من سني عيسٰى ومن كل سَنةٍ بها يُحاسبون. فلذالك سُمّيتُ ذا القرنين في كتاب اللہ، إن في ذالك لآية لقوم يتدبّرون.
وما جئت إلّا في وقت فُتحت يأجوج ومأجوج فيه وهم من كلّ حَدَبٍ يَنْسلون، فبُعثتُ لأصون المسلمين من صولهم بآياتٍ بيّناتٍ وأدعية تجذب الملائكة إلى الأرض من السماوات، ولأجعل سدًّا لقومٍ يُسلمون.
الحمد للہ الذي أرسل عبدهُ على أوانه، وأنزله من السّماء عند فساد الزمان وخُذلانه، فهل منكم من يردّ قضاءه ويهدّ بناءه؟ سبحانه وتعالٰى عمّا تزعمون. وكفّرتموني وما ظلمتم إلّا أنفسكم، وإني أفوّض أمري إلى اللہ فسوف تعلمون.
تَمَّ الكِتَاب بِعَوْنِ اللّٰہِ الوَهّاب
میاں احمد نور جو حضرت صاحبزادہ مولوی عبداللطیف صاحب کے خاص شاگرد ہیں آج ۸؍نومبر سنہ ۱۹۰۳ء کو مع عیال خوست سے قادیان میں پہنچے۔ ان کا بیان ہے کہ مولوی صاحب کی لاش برابر چالیس٤٠ دن تک ان پتھروں میں پڑی رہی جن میں وہ سنگسار کئے گئے تھے بعد اس کے میں نے چند دوستوں کے ساتھ مل کر رات کے وقت ان کی نعش مبارک نکالی اور ہم پوشیدہ طور پر شہر میں لائے اور اندیشہ تھا کہ امیر اور اس کے ملازم کچھ مزاحمت کریں گے مگر شہر میں وبائے ہیضہ اس قدر پڑ چکا تھا کہ ہر ایک شخص اپنی بلا میں گرفتار تھا اس لئے ہم اطمینان سے مولوی صاحب مرحوم کا قبرستان میں جنازہ لے گئے اور جنازہ پڑھ کر وہاں دفن کر دیا۔ یہ عجیب بات ہے کہ مولوی صاحب جب پتھروں میں سے نکالے گئے تو کستوری کی طرح ان کے بدن سے خوشبو آتی تھی اس سے لوگ بہت متاثر ہوئے۔
اس واقعہ سے پہلے کابل کے علماء امیر کے حکم سے مولوی صاحب کے ساتھ بحث کرنے کے لئے جمع ہوئے تھے۔ مولوی صاحب نے اُن کو فرمایا کہ تمہارے دو خدا ہیں کیونکہ تم امیر سے ایسا ڈرتے ہو جیسا کہ خدا تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے مگر میرا ایک خدا ہے اس لئے میں امیر سے نہیں ڈرتا۔ اور جب گھر میں تھے اور ابھی گرفتار نہیں ہوئے تھے اور نہ اس واقعہ کی کچھ خبر تھی اپنے دونوں ہاتھوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اے میرے ہاتھو! کیا تم ہتکڑیوں کی برداشت کر لو گے۔ ان کے گھر کے لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیا بات آپ کے منہ سے نکلی ہے۔ تب فرمایا کہ نماز عصر کے بعد تمہیں معلوم ہوگا کہ یہ کیا بات ہے۔ تب نماز عصر کے بعد حاکم کے سپاہی آئے اور گرفتار کر لیا اور گھر کے لوگوں کو انہوں نے نصیحت کی کہ میں جاتا ہوں اور دیکھو ایسا نہ ہو کہ تم کوئی دوسری راہ اختیار کرو۔ جس ایمان اور عقیدہ پر میں ہوں چاہیے کہ وہی تمہارا ایمان اور عقیدہ ہو۔ اور گرفتاری کے بعد راہ میں چلتے وقت کہا کہ میں اس مجمع کا نوشاہ ہوں ۔ بحث کے وقت علماء نے پوچھا کہ تو اس قادیانی شخص کے حق میں کیا کہتا ہے جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ تو مولوی صاحب نے جواب دیا کہ ہم نے اُس شخص کو دیکھا ہے اور اُس کے امور میں بہت غور کی ہے اُس کی مانند زمین پر کوئی موجود نہیں اور بیشک اور بلا شبہ وہ مسیح موعود ہے اور وہ مردوں کو زندہ کر رہا ہے۔ تب ملانوں نے شور کر کے کہا کہ وہ کافر اور تو بھی کافر ہے اور ان کو امیر کی طرف سے بحالت نہ توبہ کرنے کے سنگسار کرنے کے لئے دھمکی دی گئی اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اب میں مروں گا تب یہ آیت پڑھی۔ رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ ہَدَیۡتَنَا وَہَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡوَہَّابُ(ال عمران: ۹) یعنی اے ہمارے خدا ہمارے دل کو لغزش سے بچا اور بعد اس کے جو تو نے ہدایت دی ہمیں پھسلنے سے محفوظ رکھ اور اپنے پاس سے ہمیں رحمت عنایت کر کیونکہ ہر ایک رحمت کو تو ہی بخشتا ہے۔
پھر جب ان کو سنگسار کرنے لگے تو یہ آیت پڑھی۔ اَنۡتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنۡیَا وَالۡاٰخِرَۃِ ۚ تَوَفَّنِیۡ مُسۡلِمًا وَّاَلۡحِقۡنِیۡ بِالصّٰلِحِیۡنَ(يوسف: ۱۰۲) یعنی اے میرے خدا تو دنیا اور آخرت میں میرا متولی ہے مجھے اسلام پر وفات دے اور اپنے نیک بندوں کے ساتھ ملا دے۔ پھر بعد اس کے پتھر چلائے گئے اور حضرت مرحوم کو شہید کیا گیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ راجعون ۔ اور صبح ہوتے ہی کابل میں ہیضہ پھوٹ پڑا اور نصر اللہ خان حقیقی بھائی امیر حبیب اللہ خان کا جو اصل سبب اس خونریزی کا تھا اس کے گھر میں ہیضہ پھوٹا اور اس کی بیوی اور بچہ فوت ہو گیا اور چار سو کے قریب ہر روز آدمی مرتا تھا اور شہادت کی رات آسمان سرخ ہو گیا۔ اور اس سے پہلے مولوی صاحب فرماتے تھے کہ مجھے بار بار الہام ہوتا ہے۔ اِذهب اِلٰى فرعون اِنّي معك أسمع و أرٰى و أنت محمّد معنبر معطّر ۔ اور فرمایا کہ مجھے الہام ہوتا ہے کہ آسمان شور کر رہا ہے اور زمین اس شخص کی طرح کانپ رہی ہے جو تپ لرزہ میں گرفتار ہو۔ دنیا اس کو نہیں جانتی یہ امر ہونے والا ہے اور فرمایا کہ مجھے ہر وقت الہام ہوتا ہے کہ اس راہ میں اپنا سر دے دے اور دریغ نہ کر کہ خدا نے کابل کی زمین کی بھلائی کے لئے یہی چاہا ہے۔
اور میاں احمد نور کہتے ہیں کہ مولوی صاحب موصوف ڈیڑھ ماہ تک قید میں رہے۔ اور پہلے ہم لکھ چکے ہیں کہ چار ماہ تک قید میں رہے یہ اختلاف روایت ہے اصل واقعہ میں سب متفق ہیں ۔ وَالسّلام علٰى من اتّبع الهدٰى۔