فہرست

ستارہ قیصرہ

بحضور عالی شان قیصرہ ہند ملکہ معظمہ

شهنشاه هندوستان و انگلستان

ادام اللہ اقبالها

سب سے پہلے یہ دعا ہے کہ خدائے قادر مطلق اس ہماری عالیجاہ قیصرہ ہند کی عمر میں بہت بہت برکت بخشے اور اقبال اور جاہ و جلال میں ترقی دے اور عزیزوں اور فرزندوں کی عافیت سے آنکھ ٹھنڈی رکھے ۔ اس کے بعد اس عریضہ کے لکھنے والا جس کا نام میرزاغلام احمد قادیانی ہے جو پنجاب کے ایک چھوٹے سے گانو قادیان نام میں رہتا ہے جو لاہور سے تخمیناً بفاصلہ ستر میل مشرق اور شمال کے گوشہ میں واقع اور گورداسپورہ کے ضلع میں ہے یہ عرض کرتا ہے کہ اگر چہ اس ملک کے عموماً تمام رہنے والوں کو بوجہ اُن آراموں کے جو حضور قیصرہ ہند کے عدل عام اور رعایا پروری اور دادگستری سے حاصل ہو رہے ہیں اور بوجہ اُن تدابیر امن عامہ اور تجاویز آسائش جميع طبقات رعایا کے جو کروڑہا روپیہ کے خرچ اور بے انتہا فیاضی سے ظہور میں آئی ہیں ۔ جناب ملکہ معظمہ دام اقبالہا سے بقد را بقدر اپنی فہم اور عقل اور شناخت احسان کے درجہ بدرجہ محبت اور دلی اطاعت ہے بجز بعض قلیل الوجود افراد کے جو میں گمان کرتا ہوں کہ در پردہ کچھ ایسے بھی ہیں جو وحشیوں اور درندوں کی طرح بسر کرتے ہیں لیکن اس عاجز کو بوجہ اس معرفت اور علم کے جو اس گورنمنٹ عالیہ کے حقوق کی نسبت مجھے حاصل ہے جس کو میں اپنے رسالہ تحفہ قیصریہ میں مفصل لکھ چکا ہوں وہ اعلیٰ درجہ کا اخلاص اور محبت اور جوش اطاعت حضور ملکہ معظمہ اور اس کے معزز افسروں کی نسبت حاصل ہے جو میں ایسے الفاظ نہیں پاتا جن میں اس اخلاص کا اندازہ بیان کر سکوں اس سچی محبت اور اخلاص کی تحریک سے جشن شصت سالہ جو بلی کی تقریب پر میں نے ایک رسالہ حضرت قیصرہ ہند دام اقبالہا کے نام سے تالیف کر کے اور اس کا نام تحفہ قیصریہ رکھ کر جناب ممدوحہ کی خدمت میں بطور درویشانہ تحفہ کے ارسال کیا تھا اور مجھے قوی یقین تھا کہ اس کے جواب سے مجھے عزت دی جائے گی اور اُمید سے بڑھ کر میری سرافرازی کا موجب ہوگا ۔ اور اس امید اور یقین کا موجب حضور قیصرہ ہند کے وہ اخلاق فاضلہ تھے جن کی تمام ممالک مشرقیہ میں دھوم ہے اور جو جناب ملکہ معظمہ کے وسیع ملک کی طرح وسعت اور کشادگی میں ایسے بے مثل ہیں جو ان کی نظیر دوسری جگہ تلاش کرنا خیال محال ہے مگر مجھے نہایت تعجب ہے کہ ایک کلمہ شاہانہ سے بھی میں ممنون نہیں کیا گیا اور میرا کانشنس ہرگز اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ وہ ہر یہ عاجزانہ یعنی رساله تحفه قیصریہ حضور ملکہ معظمہ میں پیش ہوا ہوا اور پھر میں اس کے جواب سے ممنون نہ کیا جاؤں۔ یقیناً کوئی اور باعث ہے جس میں جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کے ارادہ اور مرضی اور علم کو کچھ دخل نہیں ۔ لہذا اس حسن ظن نے جو میں حضور ملکہ معظمہ دام اقبالہا کی خدمت میں رکھتا ہوں ۔ دوبارہ مجھے مجبور کیا کہ میں اُس تحفہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ کی طرف جناب ممدوحہ کو توجہ دلاؤں اور شاہانہ منظوری کے چند الفاظ سے خوشی حاصل کروں ۔ اسی غرض سے یہ عریضہ روانہ کرتا ہوں ۔ اور میں حضور عالی حضرت جناب قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں یہ چند الفاظ بیان کرنے کے لئے جرات کرتا ہوں کہ میں پنجاب کے ایک معزز خاندان مغلیہ میں سے ہوں اور سکھوں کے زمانہ سے پہلے میرے بزرگ ایک خود مختار ریاست کے والی تھے اور میرے پڑدادا صاحب مرزا گل محمد اس قدر دانا اور مدبر اور عالی ہمت اور نیک مزاج اور ملک داری کی خوبیوں سے موصوف تھے کہ جب دہلی کے چغتائی بادشاہوں کی سلطنت بباعث نالیاقتی اور عیاشی اور سستی اور کم ہمتی کے کمزور ہو گئی تو بعض وزراء اس کوشش میں لگے تھے کہ مرزا صاحب موصوف کو جو تمام شرائط بیدار مغزی اور رعایا پروری کے اپنے اندر رکھتے تھے اور خاندان شاہی میں سے تھے دہلی کے تخت پر بٹھایا جائے لیکن چونکہ چغتائی سلاطین کی قسمت اور عمر کا پیالہ لبریز ہو چکا تھا۔ اس لئے یہ تجویز عام منظوری میں نہ آئی اور ہم پر سکھوں کے عہد میں بہت سی سختیاں ہوئیں اور ہمارے بزرگ تمام دیہات ریاست سے بے دخل کر دیئے گئے اور ایک ساعت بھی امن کی نہیں گزرتی تھی اور انگریزی سلطنت کے قدم مبارک کے آنے سے پہلے ہی ہماری تمام ریاست خاک میں مل چکی تھی اور صرف پانچ گاؤں باقی رہ گئے تھے اور میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضی مرحوم جنہوں نے سکھوں کے عہد میں بڑے بڑے صدمات دیکھے تھے۔ انگریزی سلطنت کے آنے کے ایسے منتظر تھے جیسا کہ کوئی سخت پیاسا پانی کا منتظر ہوتا ہے۔ اور پھر جب گورنمنٹ انگریزی کا اس ملک پر دخل ہو گیا ، تو وہ اس نعمت یعنی انگریزی حکومت کی قائمی سے ایسے خوش ہوئے کہ گویا ان کو ایک جواہرات کا خزانہ مل گیا اور وہ سرکار انگریزی کے بڑے خیر خواہ جان شار تھے اسی وجہ سے انہوں نے ایام غدر ۱۸۵۷ء میں پچاس گھوڑے مع سواران بہم پہنچا کر سرکار انگریزی کو بطور مدد دیئے تھے ۔ اور وہ بعد اس کے بھی ہمیشہ اس بات کے لئے مستعد رہے کہ اگر پھر بھی کسی وقت ان کی مدد کی ضرورت ہو تو بدل و جان اس گورنمنٹ کو مدد دیں ۔ اور اگر ۵۷ء کے غدر کا کچھ اور بھی طول ہوتا تو وہ سو سوار تک اور بھی مدد دینے کو تیار تھے۔ غرض اس طرح ان کی زندگی گذری۔ اور پھر ان کے انتقال کے بعد یہ عاجز دنیا کے شغلوں سے بکلی علیحدہ ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف مشغول ہوا اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے لہذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے۔ اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو فارسی ۔ عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں بھی بخوبی شائع کر دیں۔ اور روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کر دی گئی جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلط خیالات چھوڑ دیئے جو نا فہم ملاؤں کی تعلیم سے اُن کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے رہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا اور میں اس قدر خدمت کر کے جو بائیس برس تک کرتا رہا ہوں اس محسن گورنمنٹ پر کچھ احسان نہیں کرتا کیونکہ مجھے اس بات کا اقرار ہے کہ اس با برکت گورنمنٹ کے آنے سے ہم نے اور ہمارے بزرگوں نے ایک لوہے کے جلتے ہوئے تنور سے نجات پائی ہے اس لئے میں مع اپنے تمام عزیزوں کے دونوں ہاتھ اُٹھا کر دعا کرتا ہوں کہ یا الہی اس مبارکہ قیصرہ ہند دام ملکھا کو دیر گاہ تک ہمارے سروں پر سلامت رکھ اور اس کے ہر ایک قدم کے ساتھ اپنی مدد کا سایہ شامل حال فرما اور اس کے اقبال کے دن بہت لمبے کر۔

میں نے تحفہ قیصریہ میں جو حضور قیصرہ ہند کی خدمت میں بھیجا گیا یہی حالات اور خدمات اور دعوات گزارش کئے تھے اور میں اپنی جناب ملکہ معظمہ کے اخلاق وسیعہ پر نظر رکھ کر ہر روز جواب کا امیدوار تھا اور اب بھی ہوں ۔ میرے خیال میں یہ غیر ممکن ہے کہ میرے جیسے دعا گو کا وہ عاجزانہ تحفہ جو بوجہ کمال اخلاص خون دل سے لکھا گیا تھا اگر وہ حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پیش ہوتا تو اس کا جواب نہ آتا بلکہ ضرور آتا ضرور آتا۔ اس لئے مجھے بوجہ اس یقین کے کہ جناب قیصرہ ہند کے پُر رحمت اخلاق پر کمال وثوق سے حاصل ہے اس یاد دہانی کے عریضہ کو لکھنا پڑا اور اس عریضہ کو نہ صرف میرے ہاتھوں نے لکھا ہے بلکہ میرے دل نے یقین کا بھرا ہوا زور ڈال کر ہاتھوں کو اس پر ارادت خط کے لکھنے کے لئے چلایا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ خیر اور عافیت اور خوشی کے وقت میں خدا تعالیٰ اس خط کو حضور قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پہنچاوے اور پھر جناب ممدوحہ کے دل میں الہام کرے کہ وہ اس سچی محبت اور سچے اخلاص کو جو حضرت موصوفہ کی نسبت میرے دل میں ہے اپنی پاک فراست سے شناخت کر لیں اور رعیت پروری کے رو سے مجھے پُر رحمت جواب سے ممنون فرماویں اور میں اپنی عالی شان جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی عالی خدمت میں اس خوشخبری کو پہنچانے کے لئے بھی مامور ہوں کہ جیسا کہ زمین پر اور زمین کے اسباب سے خدا تعالیٰ نے اپنی کمال رحمت اور کمال مصلحت سے ہماری قیصرہ ہند دام اقبالہا کی سلطنت کو اس ملک اور دیگر ممالک میں قائم کیا ہے تا کہ زمین کو عدل اور امن سے بھرے۔ ایسا ہی اس نے آسمان سے ارادہ فرمایا ہے کہ اس شہنشاہ مبارکہ قیصرہ ہند کے دلی مقاصد کو پورا کرنے کے لئے جو عدل اور امن اور آسودگی عامہ خلائق اور رفع فساد اور تہذیب اخلاق اور وحشیانہ حالتوں کا دور کرنا ہے ۔

اس کے عہد مبارک میں اپنی طرف سے اور غیب سے اور آسمان سے کوئی ایسا روحانی انتظام قائم کرے جو حضور ملکہ معظمہ کے دلی اغراض کو مدد دے ۔ اور جس امن اور عافیت اور صلح کاری کے باغ کو آپ لگانا چاہتی ہیں آسمانی آبپاشی سے اس میں امداد فرماوے۔ سو اس نے اپنے قدیم وعدہ کے موافق جو مسیح موعود کے آنے کی نسبت تھا ۔ آسمان سے مجھے بھیجا ہے تا میں اُس مرد خدا کے رنگ میں ہو کر جو بیت اللحم میں پیدا ہوا اور ناصرہ میں پرورش پائی ۔ حضور ملکہ معظمہ کے نیک اور بابرکت مقاصد کی اعانت میں مشغول ہوں اُس نے مجھے بے انتہا برکتوں کے ساتھ چھوا اور اپنا مسیح بنایا تا وہ ملکہ معظمہ کے پاک اغراض کو خود آسمان سے مدد دے۔

اے قیصرہ مبارکہ ! خدا تجھے سلامت رکھے اور تیری عمر اور اقبال اور کامرانی سے ہمارے دلوں کو خوشی پہنچاوے ۔ اس وقت تیرے عہد سلطنت میں جو نیک نیتی کے نور سے بھرا ہوا ہے مسیح موعود کا آنا خدا کی طرف سے یہ گواہی ہے کہ تمام سلاطین میں سے تیرا وجود امن پسندی اور حسن انتظام اور ہمدردی رعایا اور عدل اور دادگستری میں بڑھ کر ہے۔ مسلمان اور عیسائی دونوں فریق اس بات کو مانتے ہیں کہ مسیح موعود آنے والا ہے مگر اُسی زمانہ اور عہد میں جبکہ بھیڑیا اور بکری ایک ہی گھاٹ میں پانی پیئیں گے اور سانپوں سے بچے کھیلیں گے ۔ سو اے ملکہ مبارکہ معظمہ قیصرہ ہند وہ تیرا ہی عہد اور تیرا ہی زمانہ ہے جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جو تعصب سے خالی ہو وہ سمجھ لے۔ اے ملکہ معظمہ یہ تیرا ہی عہد سلطنت ہے جس نے درندوں اور غریب چرندوں کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے ۔ راستباز جو بچوں کی طرح ہیں وہ شریر سانپوں کے ساتھ کھیلتے ہیں اور تیرے پُر امن سایہ کے نیچے کچھ بھی ان کو خوف نہیں ۔ اب تیرے عہد سلطنت سے زیادہ پُر امن اور کونسا عہد سلطنت ہوگا جس میں مسیح موعود آئے گا ؟ اے ملکہ معظمہ تیرے وہ پاک ارادے ہیں جو آسمانی مدد کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں اور تیری نیک نیتی کی کشش ہے جس سے آسمان رحمت کے ساتھ زمین کی طرف جھکتا جاتا ہے اس لئے تیرے عہد سلطنت کے سوا اور کوئی بھی عہد سلطنت ایسا نہیں ہے جو مسیح موعود کے ظہور کے لئے موزوں ہو۔ سو خدا نے تیرے نورانی عہد میں آسمان سے ایک نور نازل کیا کیونکہ نور نور کو اپنی طرف کھینچتا اور تاریکی تاریکی کو کھینچتی ا ہے اے مبارک اور با اقبال ملکہ زمان جن کتابوں میں مسیح موعود کا آنا لکھا ہے ان کتابوں میں صریح تیرے پُر امن عہد کی طرف اشارات پائے جاتے ہیں مگر ضرور تھا کہ اسی طرح مسیح موعود دنیا میں آتا جیسا کہ ایلیا نبی یوحنا کے لباس میں آیا تھا یعنی یوحنا ہی اپنی خو اور طبیعت سے خدا کے نزدیک ایلیا بن گیا ۔ سو اس جگہ بھی ایسا ہی ہوا کہ ایک کو تیرے با برکت زمانہ میں عیسیٰ (علیہ السلام ) کی خو اور طبیعت دی گئی ۔ اس لئے وہ مسیح کہلایا اور ضرور تھا کہ وہ آتا کیونکہ خدا کے پاک نوشتوں کا ٹلنا ممکن نہیں ۔ اے ملکہ معظمہ اے تمام رعایا کی فخریہ قدیم سے عادت اللہ ہے کہ جب شاہ وقت نیک نیت اور رعایا کی بھلائی چاہنے والا ہو تو وہ جب اپنی طاقت کے موافق امن عامہ اور نیکی پھیلانے کے انتظام کر چکتا ہے اور رعیت کی اندرونی پاک تبدیلیوں کے لئے اس کا دل دردمند ہوتا ہے تو آسمان پر اس کی مدد کے لئے رحمت الہی جوش مارتی ہے اور اس کی ہمت اور خواہش کے مطابق کوئی روحانی انسان زمین پر بھیجا جاتا ہے اور اُس کامل ریفارمر کے وجود کو اس عادل بادشاہ کی نیک نیتی اور ہمت اور ہمدردی عامہ خلائق پیدا کرتی ہے۔ یہ تب ہوتا ہے کہ جب ایک عادل بادشاہ ایک زمینی منجی کی صورت میں پیدا ہو کر اپنی کمال ہمت اور ہمدردی بنی نوع کے رو سے طبعا ایک آسمانی منجی کو چاہتا ہے۔ اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں ہوا کیونکہ اُس وقت کا قیصر روم ایک نیک نیت انسان تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ زمین پر ظلم ہو اور انسانوں کی بھلائی اور نجات کا طالب تھا تب آسمان کے خدا نے وہ روشنی بخشنے والا چاند ناصرہ کی زمین سے چڑھایا یعنی عیسی مسیح تا جیسا کہ ناصرہ کے لفظ کے معنے عبرانی میں طراوت اور تازگی اور سرسبزی ہے یہی حالت انسانوں کے دلوں میں پیدا کرے۔ سواے ہماری پیاری قیصرہ ہند خدا تجھے دیرگاه تک سلامت رکھے۔ تیری نیک نیتی اور رعایا کی سچی ہمدردی اس قیصر روم سے کم نہیں ہے بلکہ ہم زور سے کہتے ہیں کہ اس سے بہت زیادہ ہے کیونکہ تیری نظر کے نیچے جس قدر غریب رعایا ہے جس کی تو اے معظمہ قیصرہ ہمدردی کرنا چاہتی ہے اور جس طرح تو ہر ایک پہلو سے اپنی عاجز رعیت کی خیر خواہ ہے اور جس طرح تو نے اپنی خیر خواہی اور رعیت پروری کے نمونے دکھلائے ہیں۔ یہ کمالات اور برکات گذشتہ قیصروں میں سے کسی میں بھی نہیں پائے جاتے اس لئے تیرے ہاتھ کے کام جو سراسر نیکی اور فیاضی سے رنگین ہیں سب سے زیادہ اس بات کو چاہتے ہیں کہ جس طرح تو اسے ملکہ معظمہ اپنی تمام رعیت کی نجات اور بھلائی اور آرام کے لئے دردمند ہے اور رعیت پروری کی تدبیروں میں مشغول ہے اسی طرح خدا بھی آسمان سے تیرا ہاتھ بٹاوے سو یہ مسیح موعود جو دنیا میں آیا تیرے ے ہی وجود کی برکت اور دلی نیک نیتی اور سچی ہمدردی کا ایک نتیجہ ہے ۔ خدا نے تیرے عہد سلطنت میں دنیا کے دردمندوں کو یاد کیا اور آسمان سے اپنے مسیح کو بھیجا اور وہ تیرے ہی ملک میں اور تیری ہی حدود میں پیدا ہوا تا دنیا کے لئے یہ ایک گواہی ہو کہ تیری زمین کے سلسلہ عدل نے آسمان کے سلسلہ عدل کو اپنی طرف کھینچا اور تیرے رحم کے سلسلہ نے آسمان پر ایک رحم کا سلسلہ بپا کیا اور چونکہ اس مسیح کا پیدا ہونا حق اور باطل کی تفریق کے لئے دنیا پر ایک آخری حکم ہے جس کے رو سے مسیح موعود حکم کہلاتا ہے اس لئے ناصرہ کی طرح جس میں تازگی اور سرسبزی کے زمانہ کی طرف اشارہ تھا اس مسیح کے گاؤں کا نام اسلام پور قاضی ما جبھی رکھا گیا تا قاضی کے لفظ سے خدا کے اس آخری حکم کی طرف اشارہ ہو جس سے برگزیدوں کو دائمی فضل کی بشارت ملتی ہے اور تا مسیح موعود کا نام جو حکم ہے۔ اس کی طرف بھی ایک لطیف ایما ہو اور اسلام پور قاضی ما جبھی اُس وقت اس گاؤں کا نام رکھا گیا تھا جبکہ بابر بادشاہ کے عہد میں اس ملک ماجھ کا ایک بڑا علاقہ حکومت کے طور پر میرے بزرگوں کو ملا تھا اور پھر رفتہ رفتہ یہ حکومت خود مختار ریاست بن گئی اور پھر کثرت استعمال سے قاضی کا لفظ قادی سے بدل گیا اور پھر اور بھی تغیر پا کر قادیاں ہو گیا۔ غرض ناصرہ اور اسلام پور قاضی کا لفظ ایک بڑے پر معنی نام ہیں جو ایک ان میں سے روحانی سرسبزی پر دلالت کرتا ہے اور دوسرا روحانی فیصلہ پر جو مسیح موعود کا کام ہے۔ اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند خدا تجھے اقبال اور خوشی کے ساتھ عمر میں برکت دے۔ تیرا عہد حکومت کیا ہی مبارک ہے کہ آسمان سے خدا کا ہاتھ تیرے مقاصد کی تائید کر رہا ہے۔ تیری ہمدردی رعایا اور نیک نیتی کی راہوں کو فرشتے صاف کر رہے ہیں ۔ تیرے عدل کے لطیف بخارات بادلوں کی طرح اُٹھ رہے ہیں تا تمام ملک کو رشک بہار بناویں۔ شریر ہے وہ انسان جو تیرے عہد سے ر سلطنت کا قدر نہیں کرتا اور بدذات ہے وہ نفس جو تیرے احسانوں کا شکر گزار نہیں ۔ چونکہ یہ مسئلہ تحقیق شدہ ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتا ہے اس لئے مجھے ضرورت نہیں کہ میں اپنی زبان کی لفاظی سے اس بات کو ظاہر کروں کہ میں آپ سے دلی محبت رکھتا ہوں اور میرے دل میں خاص طور پر آپ کی محبت اور عظمت ہے ۔ ہماری دن رات کی دعائیں آپ کیلئے آب رواں کی طرح جاری ہیں اور ہم نہ سیاست قہری کے نیچے ہو کر آپ کے مطیع ہیں بلکہ آپ کی انواع اقسام کی خوبیوں نے ہمارے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے ۔ اے بابرکت قیصرہ ہند تجھے یہ تیری عظمت اور نیک نامی مبارک ہو۔ خدا کی نگاہیں اُس ملک پر ہیں جس پر تیری نگا ہیں ہیں ۔ خدا کی رحمت کا ہاتھ اُس رعایا پر ہے جس پر تیرا ہاتھ ہے ۔ تیری ہی پاک نیتوں کی تحریک سے خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ تا پر ہیز گاری اور پاک اخلاق اور صلح کاری کی راہوں کو دوبارہ دنیا میں قائم کروں ۔ اے عالی جناب قیصرہ ہند ۔ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے علم دیا گیا ہے کہ ایک عیب مسلمانوں اور ایک عیب عیسائیوں میں ایسا ہے جس سے وہ سچی روحانی زندگی سے دور پڑے ہوئے ہیں اور وہ عیب اُن کو ایک ہونے نہیں دیتا بلکہ ان میں باہمی پھوٹ ڈال رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں یہ دو مسئلے نہایت خطرناک اور سرا سر غلط ہیں کہ وہ دین کے لئے تلوار کے جہاد کو اپنے مذہب کا ایک رکن سمجھتے ہیں اور اس جنون سے ایک بے گناہ کو قتل کر کے ایسا خیال کرتے ہیں کہ گویا انہوں نے ایک بڑے ثواب کا کام کیا ہے اور گو اس ملک برٹش انڈیا میں یہ عقیدہ اکثر مسلمانوں کا بہت کچھ اصلاح پذیر ہو گیا ہے اور ہزارہا مسلمانوں کے دل میری بائیس تیس سال کی کوششوں سے صاف ہو گئے ہیں لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ بعض غیر ممالک میں یہ خیالات اب تک سرگرمی سے پائے جاتے ہیں گویا ان لوگوں نے اسلام کا مغز اور عطر لڑائی اور جبر کو ہی سمجھ لیا ہے۔ لیکن یہ رائے ہر گز صحیح نہیں ہے ۔ قرآن میں صاف حکم ہے کہ دین کے پھیلانے کے لئے تلوارمت اُٹھاؤ اور دین کی ذاتی خوبیوں کو پیش کرو اور نیک نمونوں سے اپنی طرف کھینچو اور یہ مت خیال کرو کہ ابتدا میں اسلام میں تلوار کا حکم ہوا کیونکہ وہ تلوار دین کو پھیلانے کے لئے نہیں کھینچی گئی تھی بلکہ دشمنوں کے حملوں سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے اور یا امن قائم کرنے کے لئے کھینچی گئی تھی مگر دین کے لئے جبر کرنا کبھی مقصد نہ تھا۔ افسوس کہ یہ عیب غلط کار مسلمانوں میں اب تک موجود ہے جس کی اصلاح کے لئے میں نے پچاس ہزار سے کچھ زیادہ اپنے رسالے اور مبسوط کتا بیں اور اشتہارات اس ملک اور غیر ملکوں میں شائع کئے ہیں اور امید رکھتا ہوں کہ جلد تر ایک زمانہ آنے والا ہے کہ اس عیب سے مسلمانوں کا دامن پاک ہو جائے گا۔

دوسرا عیب ہماری قوم مسلمانوں میں یہ بھی ہے کہ وہ ایک ایسے خونی مسیح اور خونی مہدی کے منتظر ہیں جو اُن کے زعم میں دنیا کو خون سے بھر دے گا ۔ حالانکہ یہ خیال سراسر غلط ہے۔ ہماری معتبر کتابوں میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کوئی لڑائی نہیں کرے گا اور نہ تلوار اُٹھائے گا بلکہ وہ تمام باتوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کے خو اور خلق پر ہوگا اور ان کے رنگ سے ایسا رنگین ہو گا کہ گویا ہو بہو وہی ہوگا ۔ یہ دو غلطیاں حال کے مسلمانوں میں ہیں جن کی وجہ سے اکثر اُن کے دوسری قوموں سے بغض رکھتے ہیں مگر مجھے خدا نے اس لئے بھیجا ہے کہ ان غلطیوں کو دور کر دوں اور قاضی یا حکم کا لفظ جو مجھے عطا کیا گیا ہے وہ اسی فیصلہ کے لئے ہے۔

اور ان کے مقابل پر ایک غلطی عیسائیوں میں بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ مسیح جیسے مقدس اور بزرگوار کی نسبت جس کو انجیل شریف میں نور کہا گیا ہے نعوذ باللہ لعنت کا لفظ اطلاق کرتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ لعن اور لعنت ایک لفظ عبرانی اور عربی میں مشترک ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ ملعون انسان کا دل خدا سے بکلی برگشتہ اور دور اور مہجور ہو کر ایسا گندہ اور ناپاک ہو جائے جس طرح جذام سے جسم گندہ اور خراب ہو جاتا ہے اور عرب اور عبرانی کے اہل زبان اس بات پر متفق ہیں کہ ملعون یا لعنتی صرف اُسی حالت میں کسی کو کہا جاتا ہے جبکہ اس کا دل در حقیقت خدا سے تمام تعلقات محبت اور معرفت اور اطاعت کے توڑ دے اور شیطان کا ایسا تابع ہو جائے کہ گویا شیطان کا فرزند ہو جائے اور خدا اس سے بیزار اور وہ خدا سے بیزار ہو جائے اور خدا اس کا دشمن اور وہ خدا کا دشمن ہو جائے اسی لئے لعین شیطان کا نام ہے ۔ پس وہی نام حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے تجویز کرنا اور ان کے پاک اور منور دل کو نعوذ باللہ شیطان کے تاریک دل سے مشابہت دینا اور وہ جو بقول ان کے خدا سے نکلا ہے اور وہ جو سراسر نور ہے اور وہ جو آسمان سے ہے اور وہ جو علم کا دروازہ اور خدا شناسی کی راہ اور خدا کا وارث ہے اُسی کی نسبت نعوذ باللہ یہ خیال کرنا کہ وہ لعنتی ہو کر یعنی خدا سے مردود ہو کر اور خدا کا دشمن ہو کر اور دل سیاہ ہو کر اور خدا سے برگشتہ ہو کر اور معرفت الہی سے نابینا ہو کر شیطان کا وارث بن گیا اور اس لقب کا مستحق ہو گیا جو شیطان کے لئے خاص ہے یعنی لعنت ۔ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے کہ اس کے سننے سے دل پاش پاش ہوتا ہے اور بدن پر لرزہ پڑتا ہے ۔ کیا خدا کے مسیح کا دل خدا سے ایسا برگشتہ ہو گیا جیسے شیطان کا دل ؟ کیا خدا کے پاک مسیح پر کوئی ایسا زمانہ آیا جس میں وہ خدا سے بیزار اور در حقیقت خدا کا دشمن ہو گیا ؟ یہ بڑی غلطی اور بڑی بے ادبی ہے قریب ہے جو آسمان اس سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے ۔ غرض مسلمانوں کے جہاد کا عقیدہ مخلوق کے حق میں ایک بداندیشی ہے اور عیسائیوں کا یہ عقیدہ خود خدا کے حق میں بداندیشی ہے ۔

اگر یہ ممکن ہے کہ نور کے ہوتے ہی اندھیرا ہو جائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ نعوذ باللہ کسی وقت مسیح کے دل نے لعنت کی زہر ناک کیفیت اپنے اندر حاصل کی تھی ۔ اگر انسانوں کی نجات اسی بے ادبی پر موقوف ہے تو بہتر ہے کہ کسی کی بھی نجات نہ ہو کیونکہ تمام گنہگاروں کا مرنا بہ نسبت اس بات کے اچھا ہے کہ مسیح جیسے نور اور نورانی کو گمراہی کی تاریکی اور لعنت اور خدا کی عداوت کے گڑھے میں ڈوبنے والا قرار دیا جائے ۔ سو میں یہ کوشش کر رہا ہوں کہ مسلمانوں کا وہ عقیدہ اور عیسائیوں کا یہ عقیدہ اصلاح پذیر ہو جائے ۔ اور میں شکر کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ان دونوں ارادوں میں کامیاب کیا ہے۔ چونکہ میرے ساتھ آسمانی نشان اور خدا کے معجزات تھے اس لئے مسلمانوں کے قائل کرنے کے لئے مجھے بہت تکلیف اٹھانی نہیں پڑی اور ہزارہا مسلمان خدا کے عجیب اور فوق العادت نشانوں کو دیکھ کر میرے تابع ہو گئے اور وہ خطرناک عقائد انہوں نے چھوڑ دیئے جو وحشیانہ طور پر ان کے دلوں میں تھے اور میراگر وہ ایک سچا خیر خواہ اس گورنمنٹ کا بن گیا ہے جو برٹش انڈیا میں سب سے اول درجہ پر جوش اطاعت دل میں رکھتے ہیں جس سے مجھے بہت خوشی ہے اور عیسائیوں کا یہ عیب دور کرنے کے لئے خدا نے میری وہ مدد کی ہے جو میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں شکر کر سکوں اور وہ یہ ہے کہ بہت سے قطعی دلائل اور نہایت پختہ وجوہ سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ خدا نے اس پاک نبی کو صلیب پر سے بچالیا اور آپ خدا تعالیٰ کے فضل سے نہ مرکز بلکہ زندہ ہی قبر میں غشی کی حالت میں داخل کئے گئے ۔ اور پھر زندہ ہی قبر سے نکلے جیسا کہ آپ نے انجیل میں خود فرمایا تھا کہ میری حالت یونس نبی کی حالت سے مشابہ ہوگی ۔ آپ کی انجیل میں الفاظ یہ ہیں کہ یونس نبی کا معجزہ میں دکھلاؤں گا سو آپ نے یہ معجزہ دکھلایا کہ زندہ ہی قبر میں داخل ہوئے اور زندہ ہی نکلے ۔ یہ وہ باتیں ہیں جو انجیلوں سے ہمیں معلوم ہوتی ہیں لیکن اس کے علاوہ ایک بڑی خوشخبری جو ہمیں ملی ہے وہ یہ ہے کہ دلائل قاطعہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر سری نگر کشمیر میں موجود ہے اور یہ امر ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ آپ یہودیوں کے ملک سے بھاگ کر نصیبین کی راہ سے افغانستان میں آئے اور ایک مدت تک کوہ نعمان میں رہے اور پھر کشمیر میں آئے اور ایک سوا بیس برس کی عمر پا کر سری نگر میں آپ کا انتقال ہوا اور سری نگر محلہ خان یار میں آپ کا مزار ہے چنانچہ اس بارے میں میں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے مسیح ہندوستان میں یہ ایک بڑی فتح ہے جو مجھے حاصل ہوئی ہے اور میں جانتا ہوں کہ جلد تر یا کچھ دیر سے اس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ یہ دو بزرگ قو میں عیسائیوں اور مسلمانوں کی جو مدت سے بچھڑی ہوئی ہیں باہم شیر و شکر ہو جائیں گی اور بہت سے نزاعوں کو خیر باد کہہ کر محبت اور دوستی سے ایک دوسرے سے ہاتھ ملائیں گی ۔ چونکہ آسمان پر یہی ارادہ قرار پایا ہے اس لئے ہماری گورنمنٹ انگریزی کو بھی قوموں کے اتفاق کی طرف بہت توجہ ہو گئی ہے جیسا کہ قانون سڈیشن کے بعض دفعات سے ظاہر ہے۔ اصل بھید یہ ہے کہ جو کچھ آسمان پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک تیاری ہوتی ہے زمین پر بھی ویسے ہی خیالات گورنمنٹ کے دل میں پیدا ہو جاتے ہیں۔ غرض ہماری ملکہ معظمہ کی نیک نیتی کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے آسمان سے یہ اسباب پیدا کر دیئے ہیں کہ دونوں قوموں عیسائیوں اور مسلمانوں میں وہ اتحاد پیدا ہو جائے کہ پھر ان کو دو قوم نہ کہا جائے۔

اب اس کے بعد مسیح علیہ السلام کی نسبت کوئی عقلمند یہ عقیدہ ہرگز نہیں رکھے گا کہ نعوذ باللہ کسی وقت اُن کا دل لعنت کی زہر ناک کیفیت سے رنگین ہو گیا تھا کیونکہ لعنت مصلوب ہونے کا نتیجہ تھا ۔ پس جبکہ مصلوب ہونا ثابت نہ ہوا بلکہ یہ ثابت ہوا کہ آپ کی ان دعاؤں کی برکت سے جو ساری رات باغ میں کی گئی تھیں اور فرشتے کی اُس منشاء کے موافق جو پلاطوس کی بیوی کے خواب میں حضرت مسیح علیہ السلام کے بچاؤ کی سفارش کے لئے ظاہر ہوا تھا٭ اور خود حضرت مسیح علیہ السلام کی اس مثال کے موافق جو آپ نے یونس نبی کا تین دن مچھلی کے پیٹ میں رہنا اپنے انجام کار کا ایک نمونہ ٹھہرایا تھا آپ کو خدا تعالیٰ نے صلیب اور اس کے پھل سے جو لعنت ہے نجات بخشی اور آپ کی یہ درد ناک آواز کہ ايلى ايلى لما سبقتانی٭ جناب الہی میں سنی گئی ۔ یہ وہ کھلا کھلا ثبوت ہے جس سے ہر ایک حق کے طالب کا دل بے اختیار خوشی کے ساتھ اچھل پڑے گا۔ سو بلا شبہ یہ ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی برکات کا ایک پھل ہے جس نے حضرت مسیح علیہ السلام کے دامن کو تخمینا انیس سو برس کی بے جا تہمت سے پاک کیا۔

اب میں مناسب نہیں دیکھتا کہ اس عریضہ نیاز کو طول دوں ۔ گو میں جانتا ہوں کہ جس قدر میرے دل میں یہ جوش تھا کہ میں اپنے اخلاص اور اطاعت اور شکرگزاری کو حضور قیصرہ ہند دام ملکہا میں عرض کروں ۔ پورے طور پر میں اس جوش کو ادا نہیں کر سکا نا چار دعا پر ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جو زمین و آسمان کا مالک اور نیک کاموں کی نیک جزا دیتا ہے وہ آسمان پر سے اس محسنہ قیصرہ ہند دام ملکہا کو ہماری طرف سے نیک جزا دے اور وہ فضل اُس کے شامل حال کرے جو نہ صرف دنیا تک محدود ہو بلکہ سچی اور دائمی خوشحالی جو آخرت کو ہو گی وہ بھی عطا فرمادے اور اس کو خوش رکھے اور ابدی خوشی پانے کے لئے اس کے لئے سامان مہیا کرے اور اپنے فرشتوں کو حکم کرے کہ تا اس مبارک قدم ملکہ معظمہ کو کہ اس قدر مخلوقات پر نظر رحم رکھنے والی ہے اپنے اس الہام سے منور کریں جو بجلی کی چمک کی طرح ایک دم میں دل میں نازل ہوتا اور تمام صحن سینہ کو روشن کرتا اور فوق الخیال تبدیلی کر دیتا ہے یا الہی ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو ہمیشہ ہر ایک پہلو سے خوش رکھ اور ایسا کر کہ تیری طرف سے ایک بالائی طاقت اس کو تیرے ہمیشہ کے نوروں کی طرف کھینچ کر لے جائے اور دائمی اور ابدی سرور میں داخل کرے کہ تیرے آگے کوئی بات انہونی نہیں ۔ آمین ۔ اور سب کہیں کہ آمین ۔

الملتمس

خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان

ضلع گورداسپورہ ( پنجاب )

۲۰ اگست ۱۸۹۹ء

☆☆☆