اے آریہ سماج پھنسو مت عذاب میں
کیوں مبتلا ہو یارو خیالِ خراب میں
اے قوم آریہ ترے دل کو یہ کیا ہوا
تو جاگتی ہے یا ترے باتیں ہیں خواب میں
کیا وہ خدا جو ہے تری جاں کا خدا نہیں
ایماں کی بو نہیں ترے ایسے جواب میں
گر عاشقوں کی روح نہیں اس کے ہاتھ سے
پھر غیر کے لئے ہیں وہ کیوں اضطراب میں
گر وہ الگ ہے ایسا کہ چھو بھی نہیں گیا
پھر کس نے لکھ دیا ہے وہ دل کی کتاب میں
جس سوز میں ہیں اس کے لئے عاشقوں کے دل
اتنا تو ہم نے سوز نہ دیکھا کباب میں
جامِ وصال دیتا ہے اس کو جو مر چکا
کچھ بھی نہیں ہے فرق یہاں شیخ و شاب میں
ملتا ہے وہ اُسی کو جو وہ خاک میں ملا
ظاہر کی قیل و قال بھلا کس حساب میں
ہوتا ہے وہ اُسی کا جو اُس کا ہی ہو گیا
ہے اُس کی گود میں جو گرا اُس جناب میں
پھولوں کو جاکے دیکھو اسی سے وہ آب ہے
چمکے اسی کا نور مہ و آفتاب ٭ میں
خوبوں کے حسن میں بھی اُسی کا وہ نور ہے
کیا چیز حسن ہے وہی چمکا حجاب میں
اس کی طرف ہے ہاتھ ہر اک تارِ زلف کا
ہجراں سے اس کے رہتی ہے وہ پیچ و تاب میں
ہر چشم مست دیکھو اُسی کو دکھاتی ہے
ہر دل اُسی کے عشق سے ہے التہاب میں
جن مورکھوں کو کاموں پہ اس کے یقیں نہیں
پانی کو ڈھونڈتے ہیں عبث وہ سراب میں
قدرت سے اس قدیر کے انکار کرتے ہیں
بکتے ہیں جیسے غرق کوئی ہو شراب میں
دل میں نہیں کہ دیکھیں وہ اس پاک ذات کو
ڈرتے ہیں قوم سے کہ نہ پکڑیں عتاب میں
ہم کو تو اے عزیز دکھا اپنا وہ جمال
کب تک وہ مونہہ رہے گا حجاب و نقاب میں
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
اگرچہ مَیں نے کتاب نسیم دعوت میں نیوگ کے بارے میں جہاں تک مناسب تھا کچھ ذکر کیا ہے۔اور مَیں جانتا ہوں کہ وہ ایک طالب حق کے لئے بہت مفید اور کافی ہے۔لیکن مَیں نے بعض لوگوں کی زبانی سنا ہے کہ پنڈت رام بھجدت صاحب پریزیڈنٹ آریہ مذہبی سبھا پنجاب آریہ سماج کے جلسہ قادیان میں میری کتاب نسیم دعوت پہنچنے کے بعد اپنی آخری تقریر میں میرا ذکر کرکے فرماتے تھے کہ اگر وہ مجھ سے اس بارے میں گفتگو کرتے تو جو کچھ نیوگ کرانے کے فائدے ہیں مَیں سب اُن کے پاس بیان کرتا۔
لہٰذا بادب گزارش ہے کہ مَیں نے جس قدر انسانی غیرت اور انسانی پاک کانشنس کا تقاضا ہے وہ نیک نیّتی سے اپنی کتاب نسیمِ دعوت میں بیان کیا ہے.میری غرض اس سے کوئی بحث مباحثہ نہیں تھا صرف ہمدردی کی راہ سے ایک نصیحت تھی۔اور مَیں اس بات میں اکیلا نہیں ہزارہا شریف ہندو اور شریف خالصہ مذہب کے پابند سکھ اس بات کو ہرگز جائز نہیں سمجھتے کہ ایک خاوند والی اور خاندان والی عورت محض اولاد کے لالچ سے دوسرے سے مونہہ کالا کراوے اور خاوندزندہ موجود ہو۔
رہے نیوگ کے فائدے اور غالباً پنڈت صاحب کا فوائد سے مطلب نیوگ کی اولاد ہوگی کہ مفت میں گیارہ (۱۱) لڑکے پیدا ہو جاتے ہیں اور اس طرح پر اولاد بڑھتی ہے لیکن پنڈت صاحب ناراض نہ ہوں ایسی اولاد تو شریف آدمی کے لئے ایک داغ ہے نہ جائے فخر میرے نزدیک ایک پاک دامن عورت اگر تمام عمر بے اولاد رہے تو بے اولاد مرنا اس سے بہتر ہے کہ غیر سے ہمبستر ہو کر ایسی اولاد حاصل کرے کہ عند العقل ناجائز اولاد کہلاوے.اور اگر سچائی کچھ چیز ہے تو پھر کیا وجہ کہ بچوں کو اُس بدقسمت دیّوث کی اولاد سمجھی جائے جس کے نطفہ سے وہ بچے نہیں ہیں بلکہ وہ تو اُن لوگوں کی اولاد ہیں جس کا وہ نطفہ ہیں۔ کاش اگر ایسی عورت ایسی اولاد حا صل کرنے سے پہلے ہی مر جائے تو بہتر ہے۔پنڈت رام بھجدت صاحب کو اس قابل شرم نیوگ کے مسئلہ میں بہت ضِدّ نہیں کرنی چاہئے بلکہ چونکہ یہ مسئلہ انسانی حیا کے مخالف ہے اسلئے مناسب ہے کہ اس مسئلہ کو آریہ سماج کے مسائل میں سے کاٹ دیا جائے۔اور عام اشتہاردیا جائے کہ دیانند نے بوجہ مجردانہ زندگی اور نہ محسوس کرنے اُس غیرت کے کہ جو خانہ داری کی حالت میں ہر ایک شریف مرد کو اپنی بیوی کی نسبت ہوتی ہے سخت غلطی کھائی۔اس لئے آریہ سماج اپنے اصولوں سے اس کو خارج کرتا ہے اور اس پر بہت سے دستخط ہو جانے چاہئے تا پھر کسی معترض کو دم مارنے کی جگہ نہ رہے ورنہ یاد رکھیں کہ نیوگ کا اصول ان کے مذہب کے لئے ایک روگ ہے اور مَیں نہیں قبول کر سکتا کہ پاکدامن عورتیں نیوگ کے لئے تیار ہو جائیں گی بلکہ مجھے تو یہ اندیشہ ہے کہ اس پرزور دینے سے کوئی عورت زہر کھا کر مر نہ جائے ٭ ۔ اے صاحبان اور تو ہوا جو ہوا اس بلا کو تو اپنی قوم میں سے جلد دفع کرو اور خواہ نخواہ اُس کو وید کے ذمہ مت لگاؤ۔ یہ امید مت رکھو کہ آریہ ورت کے شریف مرد اور شریف عورتیں اس کو قبول کرلیں گے بلکہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ ہندو مذہب میں متبنّٰی کی رسم نیوگ کی وجہ سے ہی پیدا ہوئی ہے.یعنی جب شریف مردوں اور شریف عورتوں نے دیکھا کہ یہ ناپاک رسم ہے تو اس کی جگہ متبنّٰی پکڑنے کی رسم جاری کردی.اور مردوں کی شرافت نے نہ چاہا کہ اس قابل شرم طریق یعنی نیوگ پر اپنی عورتوں کا عملدرآمد کراویں.اس لئے انہوں نے اس بات کو پسند کرلیا کہ متبنّٰی کرلیں.اور اگرچہ متبنّٰی کرنا بھی ایک بناوٹ ہے.مگر تا ہم اس بے حیائی اور ناپاک رسم سے تو ہزارہا درجہ بہتر ہے.یہ تو ایسا ناپاک طریق ہے کہ اگر کسی چوہڑے یا چمار کو بھی کہا جائے کہ اپنی عورتوں سے ایسا کراوے تو وہ بھی مرنے مارنے کو طیّار ہو جائے گا.پس ہمیں آریہ صاحبان پر کیوں افسوس نہ ہو کہ انہوں نے آنکھ بند کر کے دیانند کی باتیں قبول کرلیں.آخر سناتن دھرم والے بھی قوم کی رُو سے اُن کے بھائی تھے.کیا قدیم سے وہ وید نہیں پڑھتے تھے پھر کیوں وہ اس بے حیائی کے طریق کو پسند نہیں کرتے.افسوس تو یہ ہے کہ جب خیرخواہی کی رُو سے آریہ صاحبوں کو کہا جائے کہ آپ لوگ اس طریق کو چھوڑ دیں اور ایسے کام اپنی عورتوں سے مت کراویں تو وہ اُلٹے غصّہ کرنے لگتے ہیں.عجیب حالت آریہ سماج والوں کی ہے کہ ان کو اس کام میں کچھ بھی شرم نہیں آتی.گذشتہ دنوں میں مَیں نے چند آریوں کو اپنے مکان پر بلایا تھا اِن میں سے ایک آریہ کشن سنگھ نام تھا جو باوانانک صاحب کی پیروی سے ناراض ہو کر اب آریہ بنا ہوا ہے اور ایسے شخص کو چھوڑ کر جو روحانیت اور پاکیزگی اپنے اندر رکھتا تھا اور اپنے کرتار کی محبت سے اس کا دل بھرا ہوا تھا.پنڈت دیانند کا ہر وقت جپ کرنا شروع کر دیا ہے اس کے ساتھ لالہ شرم پت اور لالہ ملاوامل قادیان بھی تھے اور پنڈت سوم راج سکرٹری آریہ سماج قادیان بھی ہمراہ تھے.اور چند سناتن دھرم کے ہندو تھے.تب ہم نے ان لوگوں کو بہت سمجھایا کہ ایسے کام اپنی عورتوں سے کرانے مناسب نہیں.خاص کر اس گاؤں میں تب اس وقت سب چُپ رہے اور سب کو شرم دامن گیر ہوئی مگر پنڈت سوم راج بول اُٹھے کہ اس کام میں کچھ مضائقہ نہیں تب سناتن دھرم والے جو موجود تھے اس بات کو سن کر کہ اس شخص نے ایک بھری مجلس میں اپنی عورت کی نسبت ایسا ناپاک کام روا رکھا اور حیا سے کچھ کام نہ لیا سب نے بے اختیار رام رام کہنا شروع کر دیا اور باقی آریہ صاحبان اپنی چادروں میں اپنا منہ چھپا کر ہنسنے لگے اور غالباً اُس وقت تیس۳۰ آدمی کے قریب گواہ ہوں گے جب کہ اِس پنڈت نے یہ قابل شرم کلمہ اپنے منہ سے نکالا۔
سخت افسوس ہے کہ آریہ صاحبان یہ تو نہیں کرتے کہ اس رسم کو دور کردیں بلکہ اُلٹے جوش میں آکر کہتے ہیں کہ کیا مسلمان ُ متعہ نہیں کرتے یعنی منکوحہ عورتوں کو طلاق نہیں دیتے بہتیرا سمجھایا گیا کہ اے حضرات کجا طلاق دینا جو ضرورتوں کے وقت تمام دنیا میں جاری ہے اور کجایہ کام کہ ایک مرد زندہ موجود اپنی عورت سے ایسا کام کراوے مگر یہ لوگ نہیں سمجھتے.سناتن دھرم کے لوگ کہ جو باحیا اور باغیرت لوگ ہیں وہ ندامت سے مرے جاتے ہیں گناہ اِن کا اور ندامت اُن کو.بارہا کہا گیا اگر ایک انسان جو نکاح کر کے کسی وقت عورت کو طلاق دے دیتا ہے اور یا طلاق کا وقت مقرر کردیتا ہے کہ اتنی مدّت کے بعد میں طلاق دے دوں گا جس کا نام بعض شیعہ کے نزدیک مُتعہ ہے.اس نکاح کو آپ لوگوں کے طریق سے کچھ مناسبت نہیں اور ایسا نکاح بھی جس کا وقت طلاق ٹھہرایا جائے ہمارے مذہب میں منع ہے قرآن شریف صاف اس کی ممانعت فرماتا ہے.عرب کے لوگوں میں اسلام سے پہلے ایک وقت تک ایسے نکاح ہوتے تھے قرآن شریف نے منع کر دیا اور قرآن شریف کے اُترنے سے وہ حرام ہوگئے صرف بعض شیعوں کے فرقے اس کے پابند ہیں مگر وہ جاہلیت کی رسم میں گرفتار ہیں کسی دانشمند کے لئے جائز نہیں کہ اپنی غلطی کی پردہ پوشی کے لئے کسی دوسرے کی غلطی کا حوالہ دیں.کیا ایک مجرم کسی دوسرے مجرم کے حوالہ سے رہائی پاسکتا ہے.خدا کے کلام میں نکاح کرنے کے بارے میں تصریح کے ساتھ ہدایت موجود ہے اس میں ایسے نکاح کا ذکر نہیں جس میں بیان کیا جاتا ہے کہ اتنی مدت کے بعد میں طلاق دے دوں گا ماسوا اس کے اس صورت میں اصل اعتراض تو طلاق پر ہوا اور دنیا میں کوئی فرقہ نہیں جو طلاق کا مخالف ہو کسی نہ کسی ضرورت سے بعض وقت طلاق دینی پڑتی ہے.غرض جب آریہ صاحبوں کو ایسے قابل شرم کام سے منع کیا جاتا ہے تو کھسیانے بن کر یہی جواب دیتے ہیں کہ مسلمانوں میں بھی تو طلاق کی رسم ہے.اے حضرات یہ رسم کس مذہب میں نہیں.جب مرد وعورت میں سخت مخالفت ہوگی تو بجز طلاق اور کیا چارہ ہوگا.مناسب ہے کہ آپ صاحبان ایسی باتیں نہ کریں اور نیوگ کو چھوڑ دیں.ان باتوں سے بھی کیا فائدہ کہ نیوگ میں بڑے فائدے اور بڑے بھید ہیں.اے حضرات اگر زیادہ نہیں تو طاعون کے دنوں تک ہی ایسی رسم سے دست بردار رہو ایسا نہ ہو کہ ایسے کاموں سے اور بھی یہ بلا پھیلے.افسوس کہ باوجود اس رسم نیوگ کے جس سے شرمندہ ہونا چاہئے تھا آریہ صاحبوں میں بدزبانی بہت بڑھ گئی ہے بعض شریف آریہ صاحبان اس جلسہ قادیان کی تقریب پر خود آکر مجھے ملے ہیں اور خود انہوں نے اقرار کیا ہے کہ اس جلسہ میں بہت سی گندہ زبانی سے کام لیا گیا ہے خاص کر ایک شخص کا اکثر آریہ صاحبوں نے ذکر کیا کہ وہ تیز اور گندہ زبان تھا.
پس واضح ہو کہ مذہب اس بات کا نام نہیں کہ بغیر سوچے سمجھے اعتراض کر دینا اور ٹھٹھے سے جلسہ کو رونق دینا اور بہروپیوں کی طرح ہنسی کرنا اس طرح پر کوئی مذہب قائم نہیں ہو سکتا نیک انسانوں کے لئے بہتر طریق یہ ہے کہ کسی فرقہ کے شائع کردہ اصولوں پر اعتراض کریں مگر کسی قوم کی آسمانی کتاب پر اُس وقت تک اعتراض نہ کریں جب تک کہ اُن کو پوری واقفیت اور پورے دلائل سے علم نہ ہو.مثلاً نیوگ کا مسئلہ ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ باوجود خاوند کے زندہ ہونے کے اس کی عورت کا دوسرے سے ہم بستر ہونا نہ ایک دفعہ نہ دو دفعہ بلکہ بارہ تیرہ برس تک جب تک گیار ہ ۱۱ بچے پیدا ہو جائیں انسانی کانشنس اس بے حیائی کو قبول نہیں کرتا اور ہر ایک نیک فطرت اس طریق سے دور بھاگتی ہے.اور درحقیقت اس سے زیادہ کوئی بے حیائی نہیں اور کوئی حیا والا آدمی اِس کو پسند نہیں کرے گا کہ اپنے جیتے جی اپنی عورت کی یہ حالتیں دیکھے مگر ہماری جماعت کو جو تقویٰ کے لئے قائم کی گئی ہے.خوب یاد رہے کہ وہ یہ نہ سمجھ لیں کہ یہ وید کی تعلیم ہے.میری رائے یہی ہے کہ یہ وید کی ہرگز تعلیم نہیں میں خوب جانتا ہوں کہ کبھی ایک شرتی یا ایک آیت کے بیس۲۰ معنے ہو سکتے ہیں.پس ایسے موقعہ پر ایک گندہ آدمی گندے معنے کرلیتا ہے اور ایک پاک طبع آدمی پاک معنے کرتا ہے بعض آدمی اس قسم کے بھی ہوتے ہیں کہ اپنے بعض نفسانی اغراض کے لئے قوم میں بدچلنی پھیلانی چاہتے ہیں.پس وہ بہانہ ڈھونڈنے کے لئے کسی ایسی کتاب میں سے جو قوم اس کو آسمانی سمجھتی ہے کوئی شُرتی یا آیت پیش کردیتے ہیں اور اس طرح پر نادانوں کو ہلاک کردیتے ہیں.پس ہماری جماعت کو چاہئے کہ اس قسم کے طریقوں سے دست کش رہیں کہ یہ طریقے احتیاط اور پرہیزگاری کے برخلاف ہیں.ایسی مشترک باتیں جو کم و بیش تمام قوموں میں پائی جاتی ہیں اُن کو اعتراض کے طور پر پیش کرنا سراسر جہالت یا تعصب ہے جس کو آریہ صاحبان دکھلارہے ہیں.مثلاً بیویاں کرنا یا ضرورت کے وقت طلاق دینا یا اور ایسے امور جن کا اشتراک سب قوموں میں پایا جاتا ہے ان کو بطور اعتراض پیش کرنا کسی شریف آدمی کا کام نہیں کہ یہ باتیں ہر ایک قوم میں پائی جاتی ہیں.درحقیقت اعتراض کے لائق دو باتیں ہیں.اوّل یہ کہ ارواح اور اجسام یعنی جیو اور پرمانو خدا سے نکلے ہوئے نہیں یعنی خدا کی مخلوق نہیں بلکہ خدا کی طرح اپنے وجود کے آپ خدا ہیں اور انادی ہیں.دوسری یہ قابل شرم طریق جس کا نام نیوگ ہے.سو یہ اعتراض وید پر نہیں بلکہ پنڈت دیانند پر ہے جس نے ایسا مذہب شائع کیا.ہماری جماعت خبردار رہے کہ خواہ نخواہ احتیاط سے بڑھ کر کوئی بات منہ سے نہ نکالے.یہ درست ہے کہ آریہ سماجیوں میں تیز زبان بہت لوگ ہیں جو اعتراض کرتے وقت یہ نہیں دیکھتے کہ کہاں تک ہمیں اس اعتراض کے بارے تحقیق ہے بلکہ جو کچھ منہ میں آیاکہہ دیتے ہیں غرض تو ہنسی ٹھٹھا ہے نہ تحقیق.بعض سرسری نظر سے خدا کی کتاب کو دیکھ کربغیر اس کے جوپوری سمجھ سے کام لیں فی الفور اعتراض کر دیتے ہیں.خدا کی کلام میں کئی جگہ استعارہ ہوتا ہے کئی جگہ مجاز ہوتا ہے اور کئی جگہ حقیقت کا دکھلانا مقصود ہوتا ہے پس جب پورا علم نہ ہو اور اس کے ساتھ اپنا دل صاف نہ ہو تو اعتراض کرنا جہالت ہے.خدا کے کلام کے صحیح معنے سمجھنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو خدا سے ملتے ہیں.ایک شخص سراپا دنیا کی پلیدی میں غرق آنکھیں اندھی اور دل ناپاک ہے وہ اس حالت میں خدا کے کلام پر کیا اعتراض کرے گا.اوّل چاہئے کہ اپنے دل کو پاک بناوے، نفسانی جذبات سے اپنے تئیں الگ کرے پھراعتراض کرے.مثلاً قرآن شریف میں لکھا ہے..مَنۡ کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعۡمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعۡمٰی (بَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ 73)یعنی جو اس جہان میں اندھا ہے وہ دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا.اب ایک ایسا معترض جس کو خدا کے کلام کا منشاء معلوم نہیں یہ اعتراض کرے گا کہ دیکھو مسلمانوں کے مذہب میں لکھا ہے کہ اندھوں کو نجات نہیں.غریب اندھے کا کیا قصور ہے.مگر جو تعصب دور کر کے غور سے قرآن شریف کوپڑھے گا وہ سمجھ لے گا کہ اس جگہ پر آنکھوں سے اندھے مراد نہیں ہیں بلکہ دل کے اندھے مراد ہیں.غرض یہ ہے کہ جن کو اِسی دنیا میں خدا کا درشن نہیں ہوتا اُنہیں دوسرے جہاں میں بھی درشن نہیں ہوگا اسی طرح صدہا خدا کے کلام میں مجاز اور استعارے ہوتے ہیں.ایک نفسانی جوش والا آدمی جلدی سے سب کو جائے اعتراض بناوے گا.مَیں خدا کی قسم کھا کرکہتا ہوں کہ یہی سچ بات ہے کہ خدا کا کلام سمجھنے کے لئے اوّل دِل کو ایک نفسانی جوش سے پاک بنانا چاہئے تب خدا کی طرف سے دل پرروشنی اُترے گی.بغیر اندرونی روشنی کے اصل حقیقت نظر نہیں آتی.جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے..لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ (سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ 80)یعنی یہ پاک کا کلام ہے.جب تک کوئی پاک نہ ہو جائے وہ اس کے بھیدوں تک نہیں پہنچے گا.مَیں جوان تھا اور اب بوڑھا ہوگیا اور اگر لوگ چاہیں تو گواہی دے سکتے ہیں کہ مَیں دنیاداری کے کاموں میں نہیں پڑا اور دینی شغل میں ہمیشہ میری دلچسپی رہی.مَیں نے اس کلام کو جس کا نام قرآن ہے نہایت درجہ تک پاک اور روحانی حکمت سے بھرا ہوا پایا نہ وہ کسی انسان کوخدا بناتااور نہ روحوں اور جسموں کو اس کی پیدائش سے باہر رکھ کر اس کی مذمّت اور نندیا کرتا ہے اور وہ برکت جس کے لئے مذہب قبول کیا جاتا ہے اُس کو یہ کلام آخر انسان کے دل پروارد کر دیتا ہے اور خدا کے فضل کا اس کو مالک بنا دیتاہے.پس کیوں کر ہم روشنی پاکر پھر تاریکی میں آویں اور آنکھیں پاکر پھر اندھے بن جاویں.
اور اس جگہ مجھے محض سچائی کی حمایت سے جو میرا فرض ہے اس قدر اور کہنا پڑا ہے کہ سناتن دھرم والے ان کی چند باتوں کو الگ کر کے آریہ سماجیوں سے ہزارہا درجہ بہتر ہیں وہ اپنے پرمیشر کی اس طرح بے حرمتی نہیں کرتے کہ ہم انادی اور غیر مخلوق ہونے کی وجہ سے اس کے برابر ہیں وہ نیوگ کے قابل شرم مسئلہ کو نہیں مانتے.وہ اسلام پربیہودہ اعتراض نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اسلام کی باتیں سب قوموں میں مشترک ہیں وہ اکثر ملنسار ہیں ان میں خطرناک شوخی اور تیزی نہیں ہے اور ان کے مقابل پر آریہ صاحبوں کو اس خیال سے بھی خود ستائی نہیں کرنی چاہئے کہ ہم مورتی پوجا نہیں کرتے اوتاروں کو نہیں مانتے کیونکہ سناتن دھرم کے جوگی جو مذہب کے اعلیٰ مقام پر ہوتے ہیں وہ بھی مورتی پوجا سے دستکش ہوتے ہیں.رہے اوتار سو اصل میں سنسکرت کی زبان میں نبیوں اور رسولوں کو اوتار کہتے ہیں.جن میں پرمیشر کا نور اُترتا ہے.سو اصل مذہب سناتن دھرم کا یہ نہیں ہے کہ اوتار کی پوجا کرنی چاہئے.ہاں ان کو وہ بہت مقدس جانتے ہیں اور اُن کی تعظیم کرتے ہیں اور اُن سے محبت رکھتے ہیں٭.مگر مَیں نے آریہ سماج کے بعض رسالوں اور اخباروں میں دیکھا ہے کہ اُن کے بعض شوخ دیدہ لوگوں نے اوتاروں سے ٹھٹھا کیا اور سوءِ ادب کے لفظ کہے ہیں.یہ اچھے آدمیوں کا کام نہیں.سچ یہی ہے کہ بعض آریہ صاحبوں کی شوخی حد سے بڑھ گئی ہے.یہی شوخی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ وہ بوٹی ہے جس کی جڑھ نہیں.روحانیت کی طرف یہ قوم متوجہ نہیں.دین صرف شوخیوں اور زبان کی چالاکیوں سے حاصل نہیں ہوتا.دین تو ایک موت چاہتا ہے جس کے بعد زندہ روح دی جاتی ہے.افسوس کہ آریہ صاحبوں کے بعض بارود طبع ممبروں نے جلسہ قادیاں میں بغیر اس کے کہ دین کے کوچہ میں کچھ بھی دخل ہو نقالوں کی طرح اسلام کو گالیاں دیں .اگر اس میں ان کی نیت نیک ہوتی تو میری طرف لکھتے کہ ٭ اسلام پر ہمارا فلاں اعتراض ہے.سو اگر چہ میں ایسی مجلسوں میں حاضر نہیں ہو سکتاتھا تاہم میں اُن کے شبہات کا نرمی اور روشن تقریر سے جواب دے کر ان کی تسلّی کر دیتا مگر اب وہ جیسے قادیان میں آئے تھے ویسے ہی واپس گئے اور شوخیوں اور بدزبانیوں کا انبار سر پر لے گئے.مگر پھر بھی مَیں نے کتاب نسیم دعوت چند روز میں تالیف کر کے اُن کی دعوت کر دی اگر ان میں سے ایک بھی سمجھ جائے تو مجھے اجر ملے گا.
میں رسالہ نسیم دعوت میں بیان کر چکا ہوں کہ ہر ایک مذہب تین طور سے پرکھا جاتا ہے.اوّل یہ کہ اُس نے خدا کے بارے میں کیا لکھا ہے. سو افسوس ہے کہ آریہ سماج کے اصول پرمیشر کو تمام موجود چیزوں کا سرچشمہ نہیں ٹھہراتے بلکہ ہر ایک چیز کو پرمیشر کی طرح قدیم اور انادی اور خود بخود مانتے ہیں اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ نہ تو ان چیزوں کو پرمیشر نے پیدا کیا اور نہ ان کی قوتوں کو. پس ظاہر ہے کہ آریہ سماج کا پرمیشر درحقیقت پرمیشر نہیں ورنہ چاہئے تھا کہ سب چیزوں کا ابتدااُسی سے ہوتا. یہ کیا ہوا کہ وہ پرمیشر تو کہلاوے اور دوسری چیزیں خود بخود ہوں. جو چیز اُس کی پیدائش نہیں وہ کیسے اُس کی ہوگئی. اس ناجائز قبضہ کی کوئی آریہ صاحب وجہ تو بتلاوے؟ جن چیزوں کو پرمیشر نے پیدا ہی نہیں کیا اُن پرحکومت کرنا محض ظلم ہے. پس اگر آریہ سماج والے سناتن دھرم والوں کو مورتی پوجا کا الزام دیتے ہیں تو اُن کے اس اعتقاد کی رُو سے اُن پر الزام زیادہ ہے کیونکہ بُت پرست اپنے بُتوں اور دیوتاؤں کو پرمیشر اور خود بخود نہیں سمجھتے. صرف یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اُن کے دیوتاؤں اور اوتاروں کو پرمیشر نے بڑی بڑی طاقتیں دے رکھی ہیں جن کی وجہ سے وہ لوگوں کی مراد پوری کرتے ہیں. سو اگرچہ یہ بات غلط ہے بلکہ مرادیں دینے والا صرف ایک ہے یعنی خدا جس کو پرمیشر کہتے ہیں اور دنیا اور آخرت میں وہی شخص عزّت پاتا ہے اور اُسی کو برکت دی جاتی ہے جو سب کو چھوڑ کر سچے دل سے اپنے خدا کا فرمانبردار ہو جاتا ہے. ہر ایک وقت اُس پاک پرمیشر سے یہ آواز آتی ہے کہ جے تو میرا ہو رہے سب جگ تیرا ہو. اور یہی ہم نے آزمایا اور ہم اس کے گواہ ہیں. جو شخص اس کی محبت میں محو ہوجاتا ہے اور اس کی آتشِ محبت سے جل کر ایک نیا وجود لیتا ہے پس جب وہ اس آگ میں داخل ہو جاتا ہے تو زمین آسمان کی تمام چیزیں جن کی دوسرے لوگ پرستش کرتے ہیں اس کے چاکر اور خدمت گار ہو جاتے ہیں. غرض یہ تو سناتن دھرم والوں کی غلطی ہے کہ اپنے جیسی چیزوں سے مرادیں مانگتے ہیں اور وہ زندہ اور چمکتا ہوا نور جو ان کے سامنے ہے اور دور نہیں ہے بلکہ خود تراشیدہ پتھروں کی نسبت بہت نزدیک ہے اِس سے فائدہ نہیں اُٹھاتے مگر تاہم وہ مانتے ہیں کہ ہر ایک چیز پرمیشر سے نکلی ہے. اس کے بغیر کوئی چیز خود بخود نہیں. معلوم ہوتا ہے کہ یہی وید کی تعلیم ہوگی جس کو سناتن دھرم والے اب تک بھولے نہیں. اور ہمیں اُن رشیوں مُنیوں کے ان شرتیوں کو دیکھنے سے جنہوں نے بنوں میں جاکر بڑی بڑی ریاضتیں کی تھیں یہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کہ وید کی اصل حقیقت انہیں پر کھلی تھی. اس لئے وہ آریہ سماجیوں کی طرح جیو اور پرمانو کو انادی اور خود بخود خیال نہیں کرتے تھے بلکہ جیسا کہ ان کی تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے اُن کا یہی عقیدہ تھا کہ ہر ایک چیز پرمیشر سے نکلی ہے یعنی اس کے کلمات ہیں. یہی مذہب اسلام کا ہے (سو سیا نے اِکّو مت مو رکھ آپو اپنی) وہ لوگ آریہ صاحبوں کی طرح صرف زبان کی چالاکی پر دھرم کا مدار نہیں رکھتے تھے بلکہ ریاضت سے محنت سے جپ سے تپ سے سچے دل کے ساتھ اپنے پرمیشر کو ڈھونڈتے تھے اور بنوں میں جاکر ریاضت کشی سے بڑی بڑی محنتیں کرتے تھے اور روزوں سے اپنے بدنوں کو خشک کردیتے تھے اور گوشہ گزینی کی حالت میں اپنے پرمیشر سے دل لگاتے تھے تب وہ نور قدیم جس کا نام مختلف زبانوں میں پرمیشر گاڈ خدا اللہ ہے ان پر ظاہر ہوتا تھا وہ ہرگز اس بات کے قائل نہ تھے کہ خدا کا الہام اور وحی وید تک ہی محدود ہے اور آگے ہمیشہ کے لئے انسان پر خدا کے ہم کلام ہونے کے دروازے بند ہوگئے اور قفل لگ گئے بلکہ خدا اُن سے باتیں کرتا تھا اور غیب کی باتیں اُن پر ظاہر ہوتی تھیں. سچ تو یہی ہے کہ خدا کو ڈھونڈنے والے جو اس کی راہ میں مررہے ہیں اور اس کے لئے سب کچھ تیاگ دیتے ہیں اگر خدا اُن سے ایسی خشکی اور لاپرواہی کرے اور اپنے تئیں اُن پر ظاہر نہ کرے اور چھپا رہے اور آواز تک سنائی نہ دے تو وہ جیتے ہی مر جائیں اور دنیا میں کوئی بھی اُن جیسا بدنصیب نہ ہو کہ دنیا چھوڑی پرمیشر کے لئے مگر وہ بھی نہ ملا دونوں جہاں ہاتھ سے گئے مگر کیا کوئی دوست اپنے دوست سے ایسا کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں. مثل مشہور ہے کہ دوستی میں دوستی ہوں. ایک شخص مجازی عشق میں گرفتار ہوتا ہے اور ایک مدت تک درد اور سوزش کے ساتھ دن رات اپنے معشوق کو اندر ہی اندر اپنی طرف کھینچتا ہے. پس ناگاہ ایک شُعلہ محبت کا بشرطیکہ یہ محبت کسی شہوت پرستی پر مبنی نہ ہو اس کے معشوق کے دل پر جو ابھی غافل اور بے خبر تھا گرتا ہے تب وہ معشوق بھی اس کے درد سے ایک حصہ لے لیتا ہے گویا اُس عاشق کی دن رات کی دردیں اور آہیں اُس معشوق پر سحر کا کام کرتی ہیں. تب اس کا دل اُس کی طرف کھینچا جاتا ہے اور لا معلوم اسباب سے اس کے دل میں یہ بات پڑ جاتی ہے کہ یہ شخص مجھ سے پیار کرتا ہے اور نرادل میں ہی پڑتا نہیں بلکہ آخر اُس کا گرفتار ہو جاتا ہے اور دل دل سے مل جاتا ہے. گویا وہ دونوں ایک ہی ہو جاتے ہیں اور عجیب تر یہ کہ ایک عاشق گو ہزار پردوں میں اپنی محبت چھپاوے ضرور اُس کے معشوق کو اُس محبت کی خبر ہو جاتی ہے اور پھر دنیا بھی جو ہر ایک کے پیچھے جاسوس کی طرح لگی ہوئی ہے سمجھ جاتی ہے کہ اِن دونوں کی باہم محبت ہے اور پھر وہ محبت اگر درحقیقت پاک محبت ہے اور کوئی خباثت ناپاک شہوت کی اُس کے اندر نہیں اُس مرتبہ تک ان دونوں وجودوں کو پہنچنا چاہتی ہے کہ ایک دوسرے کا دل باہم کھینچا جاتا ہے بغیر دیکھنے کے بے آرامی رہتی ہے اور اُن کو کچھ اٹکل نہیں آتی کہ یہ کشش کہاں سے اور کیونکر پیدا ہوگئی آخر اُن کے پاک دل اس قدر ضرور حظّ چاہتے ہیں کہ ایک دوسرے سے کچھ کلام کیا کریں ایک نظر دیکھ لیں. کم سے کم ایک کلام کے لئے اُن کا دل تڑپتا ہے خواہ پیچھے سے مر جائیں. سو یہ تو مجازی عشق کا انجام ہے کہ کمال اس کا باہم کلام ہے. پس لعنت ہے ایسے مذہب پر کہ جو پرمیشر کے عاشق کو اس قدر بخرہ دینے کا بھی وعدہ نہیں کرتا کہ وہ اُس کا ہم کلام ہو جائے گا جیسا کہ ایک انسان کا عاشق اپنے معشوق کا ہم کلام ہو جاتا ہے. افسوس کہ یہ لوگ تو ایسا عقیدہ ہی نہیں رکھتے. مگر ہم قبول نہیں کر سکتے کہ وید انسان کو اس مرتبہ ہم کلامی سے محروم رکھنا چاہتا ہے بلکہ یہ ان لوگوں کی اپنی غلطیاں ہیں وید کا قصور نہیں. مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ مذہب وہی مذہب ہے جو خدا کو ملاوے اور ہم کلامی کا مزہ چکھاوے ورنہ ایک گوبر میں ہاتھ ڈالنا ہے جس میں بجز پلیدی کے اور کچھ نہیں.
دوسرا طریق مذہب کے پرکھنے کا یہ ہے کہ سچا مذہب جیسا کہ خدا سے پیوند کراتا ہے.ایسا ہی قوم میں پاکیزگی پھیلاتا ہے.ہم لکھ چکے ہیں کہ آریہ سماج خدا سے پیوند نہیں کراتا بلکہ اُس پیدائشی پیوند کا بھی انکار کرتا ہے کہ جو بوجہ مخلوق ہونے کے ہر ایک روح کو اپنے پرمیشر سے ہے اور پاکیزگی کا نمونہ نیوگ کی تعلیم سے ظاہر ہے.شاباش اے سناتن دھرم کہ تونے نہ تو ہر ایک ذرہ اور ہر ایک جیو کو اپنے وجود کا اُنہیں کو پرمیشر سمجھا اور نہ تونے نیوگ کے گند کو اپنے اعتقاد میں داخل کیا.سو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تو اس قدر اور آگے قدم بڑھاوے جو خدا رسیدہ جوگیوں کی طرح ہو جائے جو پرمیشر کی محبت سے پُر ہوتے ہیں اور ایسا اس سے نزدیک ہو جائے کہ مورتی پوجا کو بھی اپنے دامن سے پھینک دے تو پھر آریوں کے مقابل پر تیری ہر میدان میں فتح ہے وہ ایک راہ سے تیرے مقابل پر آئیں گے اور سات راہ سے بھاگیں گے اور یہ نئی بات نہیں قدیم سے جوگیوں کا جو محبت کی آگ میں جل جاتے ہیں یہی مذہب ہے کہ بجز پرمیشر اور سب ہیچ ہے.
تیسرا طریق سچے مذہب کے پرکھنے کا یہ ہے کہ وہ کہاں تک دنیا کے گند سے چھڑاتا اور خدا تک پہنچاتا اور اُس پاک ذات کو دکھلاتا ہے.سو آریہ مذہب اس مرتبہ سے بکلّی محروم ہے.اس لئے ان کے حصہ میں بجز گالیوں اور بدزبانیوں اور توہین کے اور کچھ نہیں اور خود ان کا اصول نہ پرمیشر کی نسبت پاک اور نہ قومی پاکیزگی کی نسبت پوتّر ہے.اور نہ ان میں ان برکات کا کچھ حصہ ہے جو خدا رسیدہ لوگوں کو ملتی ہیں.مَیں نے سُنا ہے کہ قادیان کے سناتن دھرم کے لوگ آریہ سماج کے ان دو اصولوں کے رد اور کھنڈن کے لئے جو وہ لوگ پرمیشر کی کم طاقتی اور نیوگ کی نسبت رکھتے ہیں کوئی جلسہ کرنا چاہتے ہیں.میرے نزدیک مناسب ہے کہ دوسرے شہروں کے سناتن دھرم کے لوگ ان کی مدد کریں اور اگر ہم نے موجودہ حالات کے لحاظ سے مناسب سمجھا تو ہم بھی ان کی مدد سے حصہ لیں گے.
والسلام
خاکسار میرزا غلام احمدؐ قادیانی