بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی
واضح ہو کہ اس عاجزکے لڑکے بشیر احمد کی وفات سے جو ۷؍ اگست ۱۸۸۷ ء روز یکشنبہ میں پیدا ہوا تھا اور ۴ نومبر ۱۸۸۸ ء کو اُسی روز یکشنبہ میں ہی اپنی عمر کے سولہویں مہینے میں بوقت نماز صبح اپنے معبود حقیقی کی طرف واپس بُلایا گیا عجیب طور کا شورو غوغا خام خیال لوگوں میں اٹھا اور رنگا رنگ کی باتیں خویشوں وغیرہ نے کیں اور طرح طرح کی نافہمی اور کج دلی کی رائیں ظاہر کی گئیں مخالفین مذہب جن کا شیوہ بات بات میں خیانت و افترا ہے انہوں نے اِس بچے کی وفات پر انواع و اقسام کی افترا گھڑنی شروع کی۔سو ہر چند ابتدا میں ہمارا ارادہ نہ تھا کہ اس پسر معصوم کی وفات پر کوئی اشتہار یا تقریر شائع کریں اور نہ شائع کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ کوئی ایسا امر درمیان نہ تھا کہ کسی فہیم آدمی کے ٹھوکر کھانے کا موجب ہو سکے۔لیکن جب یہ شورو غوغا انتہا کو پہنچ گیا اور کچے اور ابلہ مزاج مسلمانوں کے دلوں پر بھی اس کا مضر اثر پڑتا ہوا نظر آیا تو ہم نے محض لِلّٰہ یہ تقریر شائع کرنا مناسب سمجھا۔اب ناظرین پر منکشف ہو کہ بعض مخالفین پسرِ متوفی کی وفات کا ذکر کر کے اپنے اشتہارات و اخبارات میں طنز سے لکھتے ہیں کہ یہ وہی بچہ ہے جس کی نسبت اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ ء و ۸ ؍اپریل ۱۸۸۶ ء اور ۷؍ اگست ۱۸۸۷ ء میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ صاحبِ شکوہ اور عظمت اور دولت ہو گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔بعضوں نے اپنی طرف سے افترا ٭ کر کے یہ بھی اپنے اشتہار میں لکھا کہ اِس بچہ کی نسبت یہ الہام بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ بادشاہوں کی بیٹیاں بیاہنے والا ہو گا لیکن ناظرین پر منکشف ہو کہ جن لوگوں نے یہ نکتہ چینی کی ہے اُنہوں نے بڑا دھوکا کھایا ہے یا دھوکا دینا چاہا ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ ماہِ اگست ۱۸۸۷ ء تک جو پسرِ متوفی کی پیدائش کا مہینہ ہے جس قدر اس عاجز کی طرف سے اشتہار چھپے ہیں جن کا لیکھ رام پشاوری نے و جہ ثبوت کے طور پر اپنے اشتہار میں حوالہ دیا ہے۔اُن میں سے کوئی شخص ایک ایسا حرف بھی پیش نہیں کر سکتا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہو۔کہ مصلح موعود اور عمر پانے والا یہی لڑکا تھا جو فوت ہو گیا ہے بلکہ ۸؍ اپریل ۱۸۸۶ ء کا اشتہار اور نیز ۷؍ اگست ۱۸۸۷ ء کا اشتہار کہ جو ۸؍ اپریل ۱۸۸۶ ء کی بنا پر اور اُس کے حوالہ سے بروز تولد بشیر شائع کیا گیاتھا صاف بتلا رہا ہے کہ ہنوز الہامی طور پر یہ تصفیہ نہیں ہوا کہ آیا یہ لڑکا مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے یاکوئی اور ہے تعجب کہ لیکھرام پشاوری نے جوشِ تعصّب میں آ کر اپنے اُس اشتہار میں جو اُس کی جبلّی خصلت بدگوئی و بدزبانی سے بھرا ہوا ہے اشتہارات مذکورہ کے حوالہ سے اعتراض تو کر دیا مگر ذرا آنکھیں کھول کر اُن تینوں اشتہاروں کو پڑھ نہ لیا تا جلد بازی کی ندامت سے بچ جاتا۔نہایت افسوس ہے کہ ایسے دروغ باف لوگوں کو آریوں کے وہ پنڈت کیوں دروغگوئی سے منع نہیں کرتے جو بازاروں میں کھڑے ہو کر اپنا اصول یہ بتلاتے ہیں کہ جھوٹ کو چھوڑنا اور تیاگنا اور سچ کو ماننا اور قبول کرنا آریوں کا دھرم ہے۔پس عجیب بات ہے کہ یہ دھرم قول کے ذریعہ سے تو ہمیشہ ظاہر کیا جاتا ہے مگر فعل کے وقت ایک مرتبہ بھی کام میں نہیں آتا۔افسوس ہزار افسوس۔اب خلاصہ کلام یہ کہ ہر دو اشتہار ۸ ؍اپریل ۱۸۸۶ ء اور ۷؍ اگست ۱۸۸۷ ء مذکورہ بالا اس ذکر و حکایت سے بالکل خاموش ہیں کہ لڑکا پیدا ہونے والا کیسا اورکِن صفات کا ہے۔بلکہ یہ دونوں اشتہار صاف شہادت دیتے ہیں کہ ہنوز یہ امر الہام کے رُو سے غیر منفصل اور غیر مصرح ہے ٭ ہاں یہ تعریفیں جو اُوپر گذر چکی ہیں ایک آنے والے لڑکے کی نسبت عام طور پر بغیر کسی تخصیص و تعیین کے اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ء میں ضرور بیان کی گئی ہیں لیکن اُس اشتہار میں یہ تو کسی جگہ نہیں لکھا کہ جو ۷؍ اگست ۱۸۸۷ ء کو لڑکا پَیدا ہو گا وہی مصداق ان تعریفوں کا ہے بلکہ اِس اشتہار میں اُس لڑکے کے پَیدا ہونے کی کوئی تاریخ مندرج نہیں کہ کب اور کس وقت ہو گا پس ایسا خیال کرناکہ ان اشتہارات میں مصداق ان تعریفوں کا اِسی پسر متوفی کو ٹھہرایا گیا تھا سراسر ہٹ دھرمی اور بے ایمانی ہے۔یہ سب اشتہارات ہمارے پاس موجود ہیں اور اکثر ناظرین کے پاس موجود ہوں گے مناسب ہے کہ ان کو غور سے پڑھیں اور پھر آپ ہی انصاف کریں۔جب یہ لڑکا جو فوت ہو گیا ہے پَیدا ہواتھا تو اس کی پَیدائش کے بعد صدہا خطوط اطرافِ مختلفہ سے بدیں استفسار پہنچے تھے کہ کیا یہ وُہی مصلح موعود ہے جس کے ذریعہ سے لوگ ہدایت پائیں گے تو سب کی طرف یہی جواب لکھا گیا تھا کہ اس بارے میں صفائی سے اب تک کوئی الہام نہیں ہوا ہاں اجتہادی طور پر گمان کیا جاتا تھا کہ کیا تعجب کہ مصلح موعود یہی لڑکا ہو اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس پسر متوفی کی بہت سی ذاتی بزرگیاں الہامات میں بیان کی گئی تھیں جو اس کی پاکیزگی رُوح اور بلندی فطرت اور علوّ استعداد اور روشن جوہری اور سعادتِ جبلّی کے متعلق تھیں اور اس کی کاملیّت استعدادی سے علاقہ رکھتی تھیں۔سو چونکہ وہ استعدادی بزرگیاں ایسی نہیں تھیں جن کے لئے بڑی عمر پانا ضروری ہوتا اسی باعث سے یقینی طور پر کسی الہام کی بنا پر اِس رائے کو ظاہر نہیں کیا گیاتھا کہ ضرور یہ لڑکا پختہ عمر تک پہنچے گا اور اسی خیال اورانتظار میں سراج منیر کے چھاپنے میں توقف کی گئی تھی تا جب اچھی طرح الہامی طور پر لڑکے کی حقیقت کُھل جاوے تب اس کا مفصّل اور مبسوط حال لکھا جائے۔سو تعجب اور نہایت تعجب کہ جس حالت میں ہم اب تک پسر متوفی کی نسبت الہامی طور پر کوئی قطعی رائے ظاہر کرنے سے بکلّی خاموش اور ساکت رہے اور ایک ذرا سا الہام بھی اس بارے میں شائع نہ کیا تو پھر ہمارے مخالفوں کے کانوں میں کس نے پھونک مار دی کہ ایسا اشتہار ہم نے شائع کردیا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ اگر ہم اس خیال کی بنا پر کہ الہامی طور پر ذاتی بزرگیاں پسر متوفی کی ظاہر ہوئی ہیں اور اس کا نام مُبشر اور بشیر اور نور اللہ صیب اور چراغ دین وغیرہ اسماء مشتمل کاملیت ذاتی اورروشنی فطرت کے رکھے گئے ہیں کوئی مفصّل و مبسُوط اشتہار بھی شائع کرتے اور اس میں بحوالہ اُن ناموں کے اپنی یہ رائے لکھتے کہ شاید مصلح موعود اور عمر پانے والا یہی لڑکا ہو گا۔تب بھی صاحبانِ بصیرت کی نظر میں یہ اجتہادی بیان ہمارا قابل اعتراض نہ ٹھہرتا کیونکہ ان کا منصفانہ خیال اور اُن کی عارفانہ نگاہ فی الفور اِنہیں سمجھا دیتی کہ یہ اجتہاد صرف چند ایسے ناموں کی صورت پر نظر کر کے کیا گیا ہے جو فی حد ذاتہ ٖ صاف اور کُھلے کُھلے نہیں ہیں بلکہ ذوالوجوہ اور تاویل طلب ہیں سو اُن کی نظر میں اگر یہ ایک اجتہادی غلطی بھی متصور ہوتی تو وہ بھی ایک ادنیٰ درجہ کی اور نہایت کم وزن اور خفیف سی اُن کے خیال میں دکھائی دیتی کیونکہ ہر چند ایک غبی اور کور دل انسان کو خدا تعالیٰ کا وہ قانون قدرت سمجھانا بہت مشکل ہے جو قدیم سے اُس کے متشابہات وحی اور رویا اور کشوف اور الہامات کے متعلق ہے لیکن جو عارف اور با بصیرت آدمی ہیں وہ خود سمجھے ہوئے ہیں کہ پیش گوئیوں وغیرہ کے بارہ میں اگر کوئی اجتہادی غلطی بھی ہو جائے تو وہ محل نکتہ چینی نہیں ہو سکتی کیونکہ اکثر نبیوں اور اولوالعزم رسولوں کو بھی اپنے مجمل مکاشفات اور پیشگوئیوں کی تشخیص وتعیین میں ایسی ہلکی ہلکی غلطیاں پیش آتی رہی ہیں ٭ اور اُن کے بیدار دِل اور روشن ضمیر پیرو ہرگز اُن غلطیو ں سے حیرت و سرگردانی میں نہیں پڑے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ غلطیاں نفسِ الہامات و مکاشفات میں نہیں ہیں بلکہ تاویل کرنے میں غلطی وقوع میں آ گئی ہے۔اب ظاہر ہے کہ جس حالت میں اجتہادی غلطی علماء ظاہر و باطن کی اُن کی کسرِ شان کا موجب نہیں ہو سکتی اور ہم نے کوئی ایسی اجتہادی غلطی بھی نہیں کی جس کو ہم قطعی و یقینی طور پر کسی اشتہار کے ذریعہ سے شائع کرتے تو کیوں بشیر احمدکی وفات پر ہمارے کوتہ اندیش مخالفوں نے اس قدر زہر اُگلا ہے کیا اُن کے پاس اُن تحریرات کا کوئی کافی و قانونی ثبوت بھی ہے یا ناحق بار بار اپنے نفسِ امّارہ کے جذبات لوگوں پر ظاہر کر رہے ہیں اور اس جگہ بعض نادان مسلمانوں کی حالت پر بھی تعجب ہے کہ وہ کس خیال پر وساوس کے دریا میں ڈوبے جاتے ہیں کیا کوئی اشتہار ہمارا اُن کے پاس ہے کہ جو اُن کو یقین دلاتا ہے کہ ہم اس لڑکے کی نسبت الہامی طور پر قطع کر چکے تھے کہ یہی عمر پانے والا اور مصلح موعود ہے اگر کوئی ایسا اشتہارہے تو کیوں پیش نہیں کیا جاتا۔ہم اُن کو باور دلاتے ہیں کہ ایسا اشتہار ہم نے کوئی شائع نہیں کیا ہاں خدا تعالیٰ نے بعض الہامات میں یہ ہم پر ظاہر کیا تھا کہ یہ لڑکا جو فوت ہو گیا ہے ذاتی استعدادوں میں اعلیٰ درجہ کا ہے اور دنیوی جذبات بکلّی اس کی فطرت سے مسلوب اور دین کی چمک اس میں بھری ہوئی ہے اور روشن فطرت اور عالی گوہر اور صدیقی رُوح اپنے اندر رکھتا ہے اور اس کا نام بارانِ رحمت اور مبشر اور بشیر اور یداللہ بجلال و جمال وغیرہ اسماء بھی ہیں۔سو جو کچھ خدا تعالیٰ نے اپنے الہامات کے ذریعہ سے اُس کی صفات ظاہر کیں یہ سب اُس کی صفائی استعداد کے متعلق ہیں جن کے لئے ظہور فی الخارج کوئی ضروری امر نہیں۔اس عاجز کا مدلل اور معقول طور پر یہ دعویٰ ہے کہ جو بنی آدم کے بچّے طرح طرح کی قوّتیں لے کر اِس مسافر خانہ میں آتے ہیں خواہ وہ بڑی عمر تک پہنچ جائیں اور خواہ وہ خورد سالی میں ہی فوت ہو جائیں اپنی فطرتی استعدادات میں ضرور باہم متفاوت ہوتے ہیں اور صاف طور پر امتیاز بیّن ان کی قوّتوں اور خصلتوں اور شکلوں اور ذہنوں میں دکھائی دیتا ہے جیسا کہ کسی مدرسہ میں اکثر لوگوں نے بعض بچے ایسے دیکھے ہوں گے کہ جو نہایت ذہین اور فہیم اور تیز طبع اور زود فہم ہیں اور علم کو ایسی جلدی سے حاصل کرتے ہیں کہ گویا جلدی سے ایک صف لپیٹتے جاتے ہیں لیکن اُن کی عمر وفا نہیں کرتی اور چھوٹی عمر میں ہی مَر جاتے ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ نہایت غبی اور بلید اور انسانیت کا بہت کم حصّہ اپنے اندر رکھتے ہیں اور مُنہ سے رال ٹپکتی ہے اور وحشی سے ہوتے ہیں اور بہت سے بوڑھے اور پِیر فرتوت ہو کر مَرتے ہیں اور بباعث سخت نالیاقتی فطرت کے جیسے آئے ویسے ہی جاتے ہیں غرض ہمیشہ اس کا نمونہ ہر ایک شخص اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے کہ بعض بچے ایسے کامل الخِلقت ہوتے ہیں کہ صدیقوں کی پاکیزگی اور فلاسفروں کی دماغی طاقتیں اور عارفوں کی روشن ضمیری اپنی فطرت میں رکھتے ہیں اور ہونہار دکھائی دیتے ہیں مگر اس عالمِ بے ثبات پر رہنا نہیں پاتے اور کئی ایسے بچّے بھی لوگوں نے دیکھے ہوں گے کہ اُن کے لچھن اچھے نظر نہیں آتے اور فراست حکم کرتی ہے کہ اگر وہ عمر پاویں تو پرلے درجے کے بد ذات اور شریر اور جاہل اور ناحق شناس نکلیں۔ابراہیم لختِ جگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم جو خورد سالی میں یعنی سولہویں مہینے میں فوت ہو گئے اس کی صفائی استعداد کی تعریفیں اور اس کی صدیقانہ فطرت کی صفت و ثنا احادیث کے رُو سے ثابت ہے ایسا ہی وہ بچہ جو خورد سالی میں حضرت خضر نے قتل کیا تھا اُس کی خباثت جبلّی کا حال قرآن شریف کے بیان سے ظاہر و باہر ہے کفار کے بچوں کی نسبت کہ جو خورد سالی میں مر جائیں جو کچھ تعلیم اسلام ہے وہ بھی درحقیقت اسی قاعدہ کی رو سے ہے کہ بوجہ اس کے کہ اَلْوَلَدُ سِرٌّ لِا بِیْہِ ان کی استعدادات ناقصہ ہیں غرض بلحاظ صفائی استعداد اور نورانیت اصل جوہر و مناسبت تامہ دینے کے پسر متوفی کے الہام میں وہ نام رکھے گئے تھے جو ابھی ذکر کئے گئے ہیں۔اب اگر کوئی تحکم کی راہ سے کھینچ تان کر اُن ناموں کو عمر دراز ہونے کے ساتھ وابستہ کرنا چاہے تو یہ اُس کی سراسر شرارت ہوگی جس کی نسبت کبھی ہم نے کوئی یقینی اور قطعی رائے ظاہر نہیں کیا۔ہاں یہ سچ ہے اور بالکل سچ کہ ان فضائل ذاتیہ کے تصوّر کرنے سے شک کیا جاتا تھا کہ شاید یہی لڑکا مصلح موعود ہوگا۔مگر وہ شکّی تقریر ہے جو کسی اشتہار کے ذریعہ سے شائع نہیں کی گئی ہندوؤں کی حالت پر سخت تعجب ہے کہ وہ باوصف اس کے کہ اپنے نجومیوں اور جوتشیوں کے منہ سے ہزارہا ایسی باتیں سنتے ہیں کہ بالآخر وہ سراسر پوچ اور لغو اور جھوٹ نکلتی ہیں اور پھر اُن پر اعتقاد رکھنے سے باز نہیں آتے اور عذر پیش کردیتے ہیں کہ حساب میں غلطی ہوگئی ہے ورنہ جوتش کے سچا ہونے میں کچھ کلام نہیں۔پھر باوصف ایسے اعتقادات سخیفہ اور ردیہ کے الہامی پیشگوئیوں پر بغیر کسی صریح اور صاف غلطی پکڑنے کے متعصبانہ حملہ کرتے ہیں پھر ہندو لوگ اگر ایسی بے اصل باتیں منہ پر لاویں تو کچھ مضائقہ بھی نہیں کیونکہ وہ دشمن دین ہیں اور اسلام کے مقابل پر ہمیشہ سے اُن کے پاس ایک ہی ہتھیار ہے یعنی جھوٹ و افترا لیکن نہایت تعجب میں ڈالنے والا واقعہ مسلمانوں کی حالت ہے کہ باوجود دعویٰ دینداری و پرہیزگاری اور باوجود عقائد اسلامیہ کے ایسے ہذیانات زبان پر لاتے ہیں اگر ہمارے ایسے اشتہارات ان کی نظر سے گزرے ہوتے جن میں ہم نے قیاسی طور پر پسر متوفی کو مصلح موعود اور عمر پانے والا قرار دیا ہوتا۔تب بھی ان کی ایمانی سمجھ اور عرفانی واقفیت کا مقتضا یہ ہونا چاہیئے تھا کہ یہ ایک اجتہادی غلطی ہے کہ جو کبھی کبھی علماء ظاہر و باطن دونوں کو پیش آجاتی ہے یہاں تک کہ اولوالعزم رسول بھی اُس سے باہر نہیں ہیں مگر اس جگہ تو کوئی ایسا اشتہار بھی شائع نہیں ہوا تھا محض دریا ندیدہ موزہ از پاکشیدہ پر عمل کیا گیا اور یاد رہے کہ ہم نے یہ چند سطریں جو عام مسلمانوں کی نسبت لکھی ہیں محض سچی ہمدردی کے تقاضا سے تحریر کی گئی ہیں تا وہ اپنے بے بُنیاد وساوس سے باز آجائیں اور ایسا ردی اور فاسد اعتقاد دل میں پیدا نہ کرلیں جس کا کوئی اصل صحیح نہیں ہے بشیر احمد کی وفات پر اُنہیں وساوس اور اوہام میں پڑنا انہیں کی بے سمجھی و نادانی ظاہر کرنا ہے ورنہ کوئی محل آویزش و نُکتہ چینی نہیں ہے ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ ہم نے کوئی اشتہار نہیں دیا جس میں ہم نے قطع اور یقین ظاہر کیا ہو کہ یہی لڑکا مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے اور گو ہم اجتہادی طور پر اس کی ظاہری علامات سے کسی قدر اس خیال کی طرف جھک بھی گئے تھے مگر اسی وجہ سے اِس خیال کی کھلے کھلے طور پر بذریعہ اشتہارات اشاعت نہیں کی گئی تھی کہ ہنوز یہ امر اجتہادی ہے اگر یہ اجتہاد صحیح نہ ہوا تو عوام الناس جو دقائق و معارف علم الٰہی سے محض بے خبر ہیں وہ دھوکا میں پڑ جائیں گے۔مگر نہایت افسوس ہے کہ پھر بھی عوام کالانعام دھوکا کھانے سے باز نہیں آئے اور اپنی طرف سے حاشیئے چڑھا لئے انہیں اس بات کا ذرا بھی خیال نہیں کہ ان کے اعتراضات کی بنا صرف یہ وہم ہے کہ کیوں اجتہادی غلطی وقوع میں آئی۔ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ اول تو کوئی ایسی اجتہادی غلطی ہم سے ظہور میں نہیں آئی جس پر ہم نے قطع اور یقین اور بھروسہ کرکے عام طور پر اس کو شائع کیا ہو پھر بطور تنزل ہم یہ پوچھتے ہیں کہ اگر کسی نبی یا ولی سے کسی پیش گوئی کی تشخیص و تعیین میں کوئی غلطی وقوع میں آجائے تو کیا ایسی غلطی اس کے مرتبہ نبوت یا ولایت کو کچھ کم کرسکتی یا گھٹا سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔یہ سب خیالات نادانی و ناواقفیت کی وجہ سے بصورت اعتراض پیدا ہوتے ہیں چونکہ اس زمانہ میں جہالت کا انتشار ہے اور علوم دینیہ سے سخت درجہ کی لوگوں کو لاپروائی ہے اس وجہ سے سیدھی بات بھی الٹی دکھائی دیتی ہے ورنہ یہ مسئلہ بالاتفاق مانا گیا اور قبول کیا گیا ہے کہ ہر یک نبی اور ولی سے اپنے ان مکاشفات اور پیشگوئیوں کی تشخیص و تعیین میں کہ جہاں خدا تعالیٰ کی طرف سے بخوبی تفہیم نہیں ہوئی غلطی واقع ہوسکتی ہے اور اِس غلطی سے اُن انبیاء اور اصفیا کی شان میں کچھ بھی فرق نہیں آتا کیونکہ علم وحی بھی منجملہ علوم کے ایک علم ہے اور جو قاعدہ فطرت اور قانون قدرت قُوّتِ نظریہ کے دخل دینے کے وقت تمام علوم و فنون کے متعلق ہے اُس قاعدہ سے یہ علم باہر نہیں رہ سکتا اور جن لوگوں کو انبیا اور اولیا میں سے یہ علم دیا گیا ہے اُن کو مجبوراً اس کے تمام عوارض و لوازم بھی لینے پڑتے ہیں۔یعنی اُن پر وارد ہوتے ہیں جن میں سے ایک اجتہادی غلطی ہی ہے پس اگر اجتہادی غلطی قابل الزام ہے تو یہ الزام جمیع انبیاء و اولیاء و علماء میں مشترک ہے۔
یہ بھی نہیں سمجھنا چاہیئے کہ کسی اجتہادی غلطی سے ربانی پیش گوئیوں کی شان و شوکت میں فرق آجاتا ہے یا وہ نوع انسان کے لئے چنداں مفید نہیں رہتیں یا وہ دین اور دینداروں کے گروہ کو نقصان پہنچاتی ہیں کیونکہ اجتہادی غلطی اگر ہو بھی تو محض درمیانی اوقات میں بطور ابتلاء کے وارد ہوتی ہے اور پھر اس قدر کثرت سے سچائی کے نور ظہور پذیر ہوتے ہیں اور تائیدات الٰہیہ اپنے جلوے دکھاتے ہیں کہ گویا ایک دن چڑھ جاتا ہے اور مخاصمین کے سب جھگڑے ان سے انفصال پاجاتے ہیں۔لیکن اس روز روشن کے ظہور سے پہلے ضرور ہے کہ خدائے تعالیٰ کے فرستادوں پر سخت سخت آزمائشیں وارد ہوں اور ان کے پیرو اور تابعین بھی بخوبی جانچے اور آزمائے جائیں تا خدا تعالیٰ سچوں اور کچوں اور ثابت قدموں اور بزدلوں میں فرق کرکے دکھلا دیوے۔
عشق اوّل سرکش و خونی بود
تا گریزد ہر کہ بیرونی بود
شروع میں عشق بہت منہ زور اور خون خوار ہوتا ہے تا وہ شخص جو صرف تماشائی ہے بھاگ جائے
ابتلاء جو اوائل حال میں انبیاء اور اولیاء پر نازل ہوتا ہے اور باوجود عزیز ہونے کے ذلّت کی صورت میں ان کو ظاہر کرتا ہے اور باوجود مقبول ہونے کے کچھ مردود سے کرکے اُن کو دکھاتا ہے یہ ابتلاء اس لئے نازل نہیں ہوتا کہ ان کو ذلیل اور خوار اور تباہ کرے یا صفحۂ عالم سے ان کا نام و نشان مٹا دیوے کیونکہ یہ تو ہرگز ممکن ہی نہیں کہ خداوند عزوجل اپنے پیار کرنے والوں سے دشمنی کرنے لگے اور اپنے سچے اور وفادار عاشقوں کو ذلّت کے ساتھ ہلاک کر ڈالے بلکہ حقیقت میں وہ ابتلاء کہ جو شیر ببر کی طرح اور سخت تاریکی کی مانند نازل ہوتا ہے اس لئے نازل ہوتا ہے کہ تا اس برگزیدہ قوم کو قبولیت کے بلند مینار تک پُہنچاوے اور الٰہی معارف کے باریک دقیقے اُن کو سکھاوے۔یہی سنت اللہ ہے۔جو قدیم سے خدائے تعالیٰ اپنے پیاروں بندوں کے ساتھ استعمال کرتا چلا آیا ہے زبور میں حضرت داؤد کی ابتلائی حالت میں عاجزانہ نعرے اس سنت کو ظاہر کرتے ہیں اور انجیل میں آزمائش کے وقت میں حضرت مسیح کی غریبانہ تضرّعات اسی عادت اللہ پر دال ہیں اور قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں جناب فخر الرسل کی عبودیت سے ملی ہوئی ابتہالات اسی قانون قُدرت کی تصریح کرتے ہیں ٭ اگر یہ ابتلاء درمیان میں نہ ہوتا تو انبیاء اور اولیاء اُن مدارج عالیہ کو ہرگز نہ پا سکتے کہ جو ابتلاء کی برکت سے اُنہوں نے پالئے۔ابتلاء نے اُن کی کامل وفاداری اور مستقل ارادے اور جانفشانی کی عادت پر مہر لگا دی اور ثابت کر دکھایا کہ وہ آزمائش کے زلازل کے وقت کس اعلیٰ درجہ کا استقلال رکھتے ہیں اور کیسے سچّے وفادار اور عاشق صادق ہیں کہ ان پر آندھیاں چلیں اور سخت سخت تاریکیاں آئیں اور بڑے بڑے زلزلے اُن پر وارد ہوئے اور وہ ذلیل کئے گئے اور جھوٹوں اور مکّاروں اور بے عزّتوں میں شمار کئے گئے اور اکیلے اور تنہا چھوڑے گئے یہاں تک کہ ربّانی مددوں نے بھی جن کا ان کو بڑا بھروسہ تھا کچھ مُدّت تک منہ چھپالیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی مربیانہ عادت کو بہ یکبارگی کچھ ایسا بدل دیا کہ جیسے کوئی سخت ناراض ہوتا ہے اور ایسا انہیں تنگی و تکلیف میں چھوڑ دیا کہ گویا وہ سخت مورد غضب ہیں اور اپنے تئیں ایسا خشک سا دکھلایا کہ گویا وہ اُن پر ذرا مہربان نہیں بلکہ اُن کے دشمنوں پر مہربان ہے اور اُن کے ابتلاؤں کا سلسلہ بہت طول کھینچ گیا ایک کے ختم ہونے پر دوسرا اور دوسرے کے ختم ہونے پر تیسرا ابتلاء نازل ہوا غرض جیسے بارش سخت تاریک رات میں نہایت شدّت و سختی سے نازل ہوتی ہے ایسا ہی آزمائشوں کی بارشیں اُن پر ہوئیں پر وہ اپنے پکے اور مضبوط ارادہ سے باز نہ آئے اور سُست اور دل شکستہ نہ ہوئے بلکہ جتنا مصائب و شدائد کا بار اُن پر پڑتا گیا اتنا ہی انہوں نے آگے قدم بڑھایا اور جس قدر وہ توڑے گئے اُسی قدر وہ مضبوط ہوتے گئے اور جس قدر اُنہیں مشکلات راہ کا خوف دلا یا گیا اُسی قدر اُن کی ہمت بلند اور ان کی شجاعت ذاتی جوش میں آتی گئی بالآخر وہ ان تمام امتحانات سے اول درجہ کے پاس یافتہ ہوکر نکلے اور اپنے کامل صدق کی برکت سے پورے طور پر کامیاب ہوگئے اور عزّت اور حُرمت کا تاج اُن کے سر پر رکھا گیا اور تمام اعتراضات نادانوں کے ایسے حباب کی طرح معدوم ہوگئے کہ گویا وہ کچھ بھی نہیں تھے غرض انبیاء و اولیاء ابتلاء سے خالی نہیں ہوتے بلکہ سب سے بڑھ کر انہیں پر ابتلاء نازل ہوتے ہیں اور انہیں کی قُوّت ایمانی ان آزمائشوں کی برداشت بھی کرتی ہے عوام الناس جیسے خدائے تعالیٰ کو شناخت نہیں کرسکتے ویسے اس کے خالص بندوں کی شناخت سے بھی قاصر ہیں بالخصوص اُن محبوبان الٰہی کی آزمائش کے وقتوں میں تو عوام الناس بڑے بڑے دھوکوں میں پڑ جاتے ہیں گویا ڈوب ہی جاتے ہیں اور اتنا صبر نہیں کرسکتے کہ ان کے انجام کے منتظر رہیں۔عوام کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ جل شانہ جس پودے کو اپنے ہاتھ سے لگاتا ہے اُس کی شاخ تراشی اس غرض سے نہیں کرتا کہ اس کو نابود کردیوے بلکہ اِس غرض سے کرتا ہے کہ تا وہ پودا پھول اور پھل زیادہ لاوے اور اُس کے برگ اور بار میں برکت ہو۔پس خلاصہ کلام یہ کہ انبیاء اور اولیاء کی تربیت باطنی اور تکمیل روحانی کے لئے ابتلاء کا ان پر وارد ہونا ضروریات سے ہے اور ابتلاء اس قوم کے لئے ایسا لازم حال ہے کہ گویا ان ربّانی سپاہیوں کی ایک روحانی وردی ہے جس سے یہ شناخت کئے جاتے ہیں اور جس شخص کو اس سنت کے برخلاف کوئی کامیابی ہو وہ استدراج ہے نہ کامیابی۔اور نیز یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ نہایت درجہ کی بدقسمتی و ناسعادتی ہے کہ انسان جلدتر بدظنی کی طرف جھک جائے اور یہ اُصول قرار دے دیوے کہ دنیا میں جس قدر خدائے تعالیٰ کی راہ کے مدعی ہیں وہ سب مکار اور فریبی اور دوکاندار ہی ہیں کیونکہ ایسے ردی اعتقاد سے رفتہ رفتہ وجود ولایت میں شک پڑے گا اور پھر ولایت سے انکاری ہونے کے بعد نبوّت کے منصب میں کچھ کچھ ترددات پیدا ہوجاویں گے اور پھر نبوت سے منکر ہونے کے پیچھے خدائے تعالیٰ کے وجود میں کچھ دغدغہ اور خلجان پیدا ہوکر یہ دھوکا دل میں شروع ہوجائے گا کہ شاید یہ ساری بات ہی بناوٹی اور بے اصل ہے اور شاید یہ سب اوہام باطلہ ہی ہیں کہ جو لوگوں کے دلوں میں جمتے ہوئے چلے آئے ہیں۔سو اے سچائی کے ساتھ بجان و دل پیار کرنے والو! اوراے صداقت کے بھوکو اور پیاسو! یقیناً سمجھو کہ ایمان کو اس آشوب خانہ سے سلامت لے جانے کیلئے ولایت اور اسکے لوازم کا یقین نہایت ضروریات سے ہے۔ولایت نبوّت کے اعتقاد کی پناہ ہے اور نبوت اقرار وجود باری تعالیٰ کیلئے پناہ۔پس اولیاء انبیاء کے وجود کیلئے سیخوں کی مانند ہیں اور انبیاء خدا تعالیٰ کا وجود قائم کرنے کیلئے نہایت مستحکم کیلوں کے مشابہ ہیں سو جس شخص کو کسی ولی کے وجود پر مشاہدہ کے طور پر معرفت حاصل نہیں اُس کی نظر نبی کی معرفت سے بھی قاصر ہے اور جس کو نبی کی کامل معرفت نہیں وہ خدا تعالیٰ کی کامل معرفت سے بھی بے بہرہ ہے اور ایک دن ضرور ٹھوکر کھائے گا اور سخت ٹھوکر کھائے گا اور مجرد دلائل عقلیہ اور علوم رسمیہ کسی کام نہیں آئیں گی۔اب ہم فائدہ عام کیلئے یہ بھی لکھنا مناسب سمجھتے ہیں کہ بشیر احمد کی موت ناگہانی طور پر نہیں ہوئی بلکہ اللہ جل شانہٗ نے اُس کی وفات سے پہلے اس عاجز کو اپنے الہامات کے ذریعہ سے پوری پوری بصیرت بخش دی تھی کہ یہ لڑکا اپنا کام کرچکا ہے ٭ اور اب فوت ہوجاوے گا بلکہ جو الہامات اُس پسر متوفی کی پیدائش کے دن میں ہوئے تھے ان سے بھی اجمالی طور پر اُس کی وفات کی نسبت بو آتی تھی اور مترشح ہوتا تھا کہ وہ خلق اللہ کے لئے ایک ابتلاء عظیم کا موجب ہوگا جیسا کہ یہ الہام اِنَّا اَرْسَلْنَاہُ شَاھِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِیْہِ ظُلُمَاتٌ وَّ رَعْدٌ وََّ برْقٌ کُلُّ شَیْءٍ تَحْتَ قَدَمَیْہِ یعنی ہم نے اس بچہ کو شاہد اور مبشر اور نذیر ہونے کی حالت میں بھیجا ہے اور یہ اس بڑے مینہ کی مانند ہے جس میں طرح طرح کی تاریکیاں ہوں اور رعد اور برق بھی ہو یہ سب چیزیں اس کے دونوں قدموں کے نیچے ہیں یعنی اُس کے قدم اُٹھانے کے بعد جو اس کی موت سے مراد ہے ظہور میں آجائیں گی۔سو تاریکیوں سے مراد آزمائش اور ابتلاء کی تاریکیاں تھیں جو لوگوں کو اس کی موت سے پیش آئیں اور ایسی سخت ابتلاء میں پڑگئے جو ظلمات کی طرح تھا اور آیت کریمہ وَاِذَاۤ اَظۡلَمَ عَلَیۡہِمۡ قَامُوۡا (البقرہ: ۲۱) کے مصداق ہوگئے اور الہامی عبارت میں جیسا کہ ظلمت کے بعد رعد اور روشنی کا ذکر ہے یعنی جیسا کہ اُس عبارت کی ترتیب بیانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پسر متوفی کے قدم اٹھانے کے بعد پہلی ظلمت آئے گی اور پھر رعد اور برق۔اسی ترتیب کے رو سے اس پیشگوئی کا پورا ہونا شروع ہوا یعنی پہلے بشیر کی موت کی وجہ سے ابتلا کی ظلمت وارد ہوئی اور پھر اس کے بعد رعد اور روشنی ظاہر ہونے والی ہے اور جس طرح ظلمت ظہور میں آگئی اسی طرح یقیناً جاننا چاہیئے کہ کسی دن وہ رعد اور روشنی بھی ظہور میں آجائے گی جس کا وعدہ دیا گیا ہے۔جب وہ روشنی آئے گی تو ظلمت کے خیالات کو بالکل سینوں اور دلوں سے مٹا دے گی اور جو جو اعتراضات غافلوں اور مردہ دلوں کے ُ منہ سے نکلے ہیں اُن کو نابود اور ناپدید کردے گی یہ الہام جو ابھی ہم نے لکھا ہے ابتدا سے صدہا لوگوں کو بہ تفصیل سنا دیا گیا تھا چنانچہ منجملہ سامعین کے مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی بھی ہیں اور کئی اور جلیل القدر آدمی بھی۔اب اگر ہمارے موافقین و مخالفین اسی الہام کے مضمون پر غور کریں اور دقتِ نظر سے دیکھیں تو یہی ظاہر کررہا ہے کہ اِس ظلمت کے آنے کا پہلے سے جناب الٰہی میں ارادہ ہوچُکا تھا جو بذریعہ الہام بتلایا گیا اور صاف ظاہر کیا گیا کہ ظلمت اور روشنی دونوں اِس لڑکے کے قدموں کے نیچے ہیں یعنی اس کے قدم اُٹھانے کے بعد جو موت سے مراد ہے اُن کا آنا ضرور ہے سو اے وے لوگو! جنہوں نے ظلمت کو دیکھ لیا حیرانی میں مت پڑو بلکہ خوش ہو اور خوشی سے اُچھلو کہ اس کے بعد اب روشنی آئے گی بشیر کی موت نے جیسا کہ اس پیشگوئی کو پورا کیا ایسا ہی اس پیشگوئی کو بھی کہ جو ۲۰۔فروری کے اشتہار میں ہے کہ بعض بچے کم عمری میں فوت ہوں گے۔
بالآخر یہ بھی اس جگہ واضح رہے کہ ہمارا اپنے کام کے لئے تمام و کمال بھروسہ اپنے مولیٰ کریم پر ہے اس بات سے کچھ غرض نہیں کہ لوگ ہم سے اتفاق رکھتے ہیں یا نفاق اور ہمارے دعویٰ کو قبول کرتے ہیں یا ردّ اور ہمیں تحسین کرتے ہیں یا نفرین بلکہ ہم سب سے اعراض کرکے اور غیر اللہ کو مردہ کی طرح سمجھ کر اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں گو بعض ہم میں سے اور ہماری ہی قوم میں سے ایسے بھی ہیں کہ وہ ہمارے اس طریق کو نظر تحقیر سے دیکھتے ہیں مگر ہم ان کو معذور رکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ جو ہم پر ظاہر کیا گیا ہے وہ ان پر ظاہر نہیں اور جو ہمیں پیاس لگا دی گئی ہے وہ انہیں نہیں۔ کُلٌّ یَّعۡمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ (بنی اسرائیل: ۸۵)
اس محل میں یہ بھی لکھنا مناسب سمجھتا ہوں کہ مجھے بعض اہلِ علم احباب کی ناصحانہ تحریروں سے معلوم ہوا ہے کہ وہ بھی اس عاجز کی یہ کارروائی پسند نہیں کرتے کہ برکات روحانیہ و آیات سماویہ کے سلسلہ کو جو بذریعہ قبولیت ادعیہ و الہامات و مکاشفات تکمیل پذیر ہوتا ہے لوگوں پر ظاہر کیا جائے۔بعض کی ان میں سے اس بارہ میں یہ بحث ہے کہ یہ باتیں ظنّی و شکّی ہیں اور ان کے ضرر کی امید ان کے فائدہ سے زیادہ تر ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حقیقت میں یہ باتیں تمام بنی آدم میں مُشترک و متساوی ہیں۔شاید کسی قدر ادنیٰ کم و بیشی ہو بلکہ بعض حضرات کا خیال ہے کہ قریباً یکساں ہی ہیں۔ان کا یہ بھی بیان ہے کہ ان امور میں مذہب اور اتّقا اور تعلّق باللہ کو کچھ دخل نہیں بلکہ یہ فطرتی خواص ہیں جو انسان کی فطرت کو لگے ہوئے ہیں اور ہریک بشر سے مومن ہو یا کافر صالح ہو یا فاسق کچھ تھوڑی سی کمی بیشی کے ساتھ صادر ہوتے رہتے ہیں۔یہ تو اُن کی قیل و قال ہے جس سے ان کی موٹی سمجھ اور سطحی خیالات اور مبلغ علم کا اندازہ ہوسکتا ہے مگر فراست صحیحہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ غفلت اور حُبِ دُنیا کا کیڑا ان کی ایمانی فراست کو بالکل کھا گیا ہے اُن میں سے بعض ایسے ہیں کہ جیسے مجذوم کا جذام انتہا کے درجہ تک پہنچ کر سقوط اعضاء تک نوبت پُہنچاتا ہے اور ہاتھوں پیروں کا گلنا سڑنا شروع ہوجاتا ہے۔ایسا ہی ان کے روحانی اعضاء جو روحانی قوّتوں سے مراد ہیں بباعث غلو محبّت دنیا کے گلنے سڑنے شروع ہوگئے ہیں اور اُن کا شیوہ فقط ہنسی اور ٹھٹھا اور بدظنّی اور بدگمانی ہے دینی معارف اور حقائق پر غور کرنے سے بکلّی آزادی ہے بلکہ یہ لوگ حقیقت اور معرفت سے کچھ سروکار نہیں رکھتے اور کبھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے کہ ہم دُنیا میں کیوں آئے اور ہمارا اصلی کمال کیا ہے بلکہ جیفہ دُنیا میں دن رات غرق ہورہے ہیں ان میں یہ حس ہی باقی نہیں رہی کہ اپنی حالت کو ٹٹولیں کہ وہ کیسی سچائی کے طریق سے گری ہوئی ہے اور بڑی بدقسمتی ان کی یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی اس نہایت خطرناک بیماری کو پوری پوری صحت خیال کرتے ہیں اور جو حقیقی صحت و تندرستی ہے اس کو بہ نظر توہین و استخفاف دیکھتے ہیں اور کمالات ولایت اور قرب الٰہی کی عظمت بالکل ان کے دلوں پر سے اُٹھ گئی ہے اور نومیدی اور حرمان کی سی صورت پیدا ہوگئی ہے بلکہ اگر یہی حالت رہی تو ان کا نبوّت پر ایمان قائم رہنا بھی کچھ معرض خطر میں ہی نظر آتا ہے۔
یہ خوفناک اور گری ہوئی حالت جو میں نے بعض علماء کی بیان کی ہے اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ وہ ان روحانی روشنیوں کو تجربہ کے رو سے غیر ممکن یا شکّی وظنّی خیال کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے ہنوز بالاستیفا تجربہ کرنے کی طرف توجہ نہیں کی اور کامل اور محیط طور پر نظر ڈال کر رائے ظاہر کرنے کا ابھی تک انہوں نے اپنے لئے کوئی موقعہ پیدا نہیں کیا اور نہ پیدا کرنے کی کچھ پرواہ ہے صرف ان مفسدانہ نکتہ چینیوں کو دیکھ کر کہ جو مخالفین تعصّب آئین نے اس عاجز کی دو پیشگوئیوں پر کی ہیں ٭ تحقیق و تفتیش شک میں پڑگئے اور ولایت اور قربت الٰہیہ کی روشنیوں کے بارے میں ایک ایسا اعتقاد دل میں جمالیا کہ جو خشک فلسفہ اور کورانہ نیچریت کے قریب قریب ہے انہیں سوچنا چاہیئے تھا کہ مخالفین نے اپنی تکذیب کی تائید میں کون سا ثبوت دیا ہے؟ پھر اگر کوئی ثبوت نہیں اور نری بک بک ہے تو کیا فضول اور بے بنیاد افتراؤں کا اثر اپنے دلوں پر ڈال لینا عقلمندی یا ایمانی وثاقت میں داخل ہے۔اور اگر فرض محال کے طور پر کوئی اجتہادی غلطی بھی پیشگوئی کے متعلق اس عاجز سے ظہور میں آتی یعنی قطع اور یقین کے طور پر اُس کو کسی اشتہار کے ذریعہ سے شائع کیا جاتا تب بھی کسی دانا کی نظر میں وہ محل آویزش نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ اجتہادی غلطی ایک ایسا امر ہے جس سے انبیاء بھی باہر نہیں ماسوائے اس کے یہ عاجز اب تک قریب سات ہزار مکاشفات صادقہ اور الہامات صحیحہ سے خدا تعالیٰ کی طرف سے مشرف ہوا ہے اور آئندہ عجائبات روحانیہ کا ایسا بے انتہا سلسلہ جاری ہے کہ جو بارش کی طرح شب و روز نازل ہوتے رہتے ہیں۔پس اس صورت میں خوش قسمت انسان وہ ہے کہ جو اپنے تئیں بصدق و صفا اِس ربانی کارخانے کے حوالہ کرکے آسمانی فیوض سے اپنے نفس کو متمتع کرے اور نہایت بدقسمت وہ شخص ہے کہ جو اپنے تئیں ان انوار و برکات کے حصول سے لاپروا رکھ کر بے بنیاد نکتہ چینیاں اور جاہلانہ رائے ظاہر کرنا اپنا شیوہ کر لیوے۔میں ایسے لوگوں کو محض لِلّٰہ متنبہ کرتا ہوں کہ وہ ایسے خیالات کو دل میں جگہ دینے سے حق اور حق بینی سے بہت دور جاپڑے ہیں۔اگران کایہ قول سچ ہو کہ الہامات اور مکاشفات کوئی ایسی عمدہ چیز نہیں ہے جو خاص اور عوام یا کافر اور مومن میں کوئی امتیاز بیّن پیدا کرسکیں توسالکوں کے لئے یہ نہایت دل توڑنے والا واقعہ ہوگا۔میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ یہی ایک روحانی اور اعلیٰ درجہ کی اسلام میں خاصیت ہے کہ سچائی سے اس پر قدم مارنے والے مکالمات خاصہ الٰہیہ سے مشرف ہوجاتے ہیں اور قبولیت کے انوار جن میں ان کا غیر ان کے ساتھ شریک نہیں ہوسکتا ان کے وجود میں پیدا ہوجاتے ہیں یہ ایک واقعی صداقت ہے جو بے شمار راست بازوں پر اپنے ذاتی تجارب سے کھل گئی ہے ان مدارج عالیہ پر وہ لوگ پہنچتے ہیں کہ جو سچی اور حقیقی پیروی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کرتے ہیں اور نفسانی وجود سے نکل کر ربّانی وجود کا پیراہن لیتے ہیں یعنی نفسانی جذبات پر موت وارد کرکے ربّانی طاعات کی نئی زندگی اپنے اندر حاصل کرتے ہیں ناقص الحالت مسلمانوں کو ان سے کچھ نسبت نہیں ہوتی پھر کافر اور فاسق کو ان سے کیا نسبت ہو۔ان کی یہ کاملیت اُن کی صحبت میں رہنے سے طالب حق پر کھلتی ہے اسی غرض سے میں نے اتمام حجت کے لئے مختلف فرقوں کے سرگروہوں کی طرف اشتہارات بھیجے تھے اور خط لکھے تھے کہ وہ میرے اس دعویٰ کی آزمائش کریں اگر ان کو سچائی کی طلب ہوتی تو وہ صدق قدم سے حاضر ہوتے سو اُن میں سے کوئی ایک بھی بصدق قدم حاضر نہ ہوا بلکہ جب کوئی پیشگوئی ظہور میں آتی رہی اُس پر خاک ڈالنے کے لئے کوشش کرتے رہے اب اگر ہمارے علماء کو اس حقیقت کے قبول کرنے اور ماننے میں کچھ تامل ہے تو غیروں کے بُلانے کی کیا ضرورت پہلے یہی ہمارے احباب جن میں سے بعض فاضل اور عالم بھی ہیں۔آزمائش کرلیں اور صدق اور صبر سے کُچھ مُدّت میری صحبت میں رہ کر حقیقت حال سے واقف ہوجائیں پھر اگر یہ دعویٰ اس عاجز کا راستی سے معرا نکلے تو انہیں کے ہاتھ پر میں توبہ کروں گا ورنہ امید رکھتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ اُن کے دلوں پر توبہ اور رجوع کا دروازہ کھول دے گا اور اگر وہ میری اس تحریر کے شائع ہونے کے بعد میرے دعاوی کی آزمائش کرکے اپنی رائے کو بہ پایۂ صداقت پہنچاویں تو اُن کی ناصحانہ تحریروں کے کچھ معنے ہوں گے اس وقت تک تو اس کے کچھ بھی معنے نہیں بلکہ اُن کی محجوبانہ حالت قابل رحم ہے۔میں خوب جانتا ہوں کہ آج کل کے عقلی خیالات کے پرزور بخارات نے ہمارے علماء کے دلوں کو بھی کسی قدر دبا لیا ہے کیونکہ وہ ضرورت سے زیادہ انہیں خیالات پر زور دے رہے ہیں اور تکمیل دین و ایمان کے لئے انہیں کو کافی وافی خیال کرتے ہیں اور ناجائز اور ناگوار پیرائیوں میں روحانی برکات کی تحقیر کررہے ہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ تحقیر تکلف سے نہیں کرتے بلکہ فی الواقع اُن کے دلوں میں ایسا ہی جم گیا ہے اور اُن کی فطرتی کمزوری اس نزلہ کو قبول کر گئی ہے کیونکہ اُن کے اندر حقانی روشنی کی چمک نہایت ہی کم اور خشک لفاظی بہت سی بھری ہوئی ہے اور اپنی رائے کو اِس قدر صائب خیال کرتے اور اس کی تائید میں زور دیتے ہیں کہ اگر ممکن ہو تو روشنی حاصل کرنے والوں کو بھی اُس تاریکی کی طرف کھینچ لاویں۔ان علماء کو اسلام کی فتح صوری کی طرف تو ضرور خیال ہے مگر جن باتوں میں اسلام کی فتح حقیقی ہے ان سے بے خبر ہیں۔
اسلام کی فتح حقیقی اس میں ہے کہ جیسے اسلام کے لفظ کا مفہوم ہے اسی طرح ہم اپنا تمام وجود خدا تعالیٰ کے حوالہ کردیں اور اپنے نفس اور اس کے جذبات سے بکلی خالی ہوجائیں اور کوئی بُت ہوا اور ارادہ اور مخلوق پرستی کا ہماری راہ میں نہ رہے اور بکُلی مرضیات الٰہیہ میں محوہوجائیں اور بعد اس فنا کے وہ بقا ہم کو حاصل ہوجائے جو ہماری بصیرت کو ایک دوسرا رنگ بخشے اور ہماری معرفت کو ایک نئی نورانیت عطا کرے اور ہماری محبت میں ایک جدید جوش پیدا کرے اور ہم ایک نئے آدمی ہوجائیں اور ہمارا وہ قدیم خدا بھی ہمارے لئے ایک نیا خدا ہوجائے یہی فتح حقیقی ہے جس کے کئی شعبوں میں سے ایک شعبہ مکالمات الٰہیہ بھی ہیں اگر یہ فتح اس زمانہ میں مسلمانوں کو حاصل نہ ہوئی تو مجرد عقلی فتح انہیں کسی منزل تک پہنچا نہیں سکتی۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اِس فتح کے دن نزدیک ہیں خدا تعالیٰ اپنی طرف سے یہ روشنی پیدا کرے گا اور اپنے ضعیف بندوں کا آمرزگار ہوگا۔
میں اس جگہ ایک اور پیغام بھی خلق اللہ کو عموماً اور اپنے بھائی مسلمانوں کو خصوصاً پہنچاتا ہوں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جو لوگ حق کے طالب ہیں وہ سچا ایمان اور سچی ایمانی پاکیزگی اور محبت مولیٰ کا راہ سیکھنے کے لئے اور گندی زیست اور کاہلانہ اور غدارانہ زندگی کے چھوڑنے کے لئے مجھ سے بیعت کریں۔پس جو لوگ اپنے نفسوں میں کسی قدر یہ طاقت پاتے ہیں انہیں لازم ہے کہ میری طرف آویں کہ میں ان کا غم خوار ہوں گا اور ان کا بار ہلکا کرنے کے لئے کوشش کروں گا اور خدا تعالیٰ میری دعا اور میری توجہ میں ان کے لئے برکت دے گا بشرطیکہ وہ ربّانی شرائط پر چلنے کے لئے بدل و جان طیار ہوں گے یہ ربانی حکم ہے جو آج میں نے پُہنچا دیا ہے اس بارہ میں عربی الہام یہ ہے۔ اذا عزمت فتوکل علی اللہ واصنع الفلک باعیننا ووحینا۔الذین یبایعونک انما یبایعون اللّٰہ یداللّٰہ فوق ایدھم۔والسلام علٰی من اتبع الھدی۔
المبلّغ خاکسار
غلام احمد عفی عنہُ
مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر (یکم دسمبر ۱۸۸۸ ء)