ٹائٹل بار اول
مطبوعہ مطبع ضیاء الاسلام قادیان دارالامان
نَحمدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْم
پیشتر اس کے کہ ہم اس روئیداد کو ناظرین کے سامنے پیش کریں اوّل اس امر کا جتلا دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ جناب امام المتقین حجۃ اللہ بر زمین حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان مسیح زمان علیہ الصلٰوۃ والسلام جس طرح عام مخلوقات کے خیر خواہ ہیں اسی طرح وہ گورنمنٹ وقت کے سچے دِل سے وفادار اور خیر خواہ ہیں۔ یہ انہیں کی ذات مبارک ہے جس نے حقوق رعایا و حقوق گورنمنٹ کو روزِ روشن کی طرح کھول کر دکھا دیا اور اپنی جماعت کے دلوں میں اس محسن گورنمنٹ کے احسانات کو ایسے مؤثر اور گوناگوں پیرایوں میں کوٹ کوٹ کر بھر دیا جس سے اس سلطنت کے ساتھ منافقانہ رنگ کا دھبہ اس پاک جماعت کے دلوں سے ایسا یک لخت اُڑ گیا کہ اس کا نام و نشان تک نہ رہا یہ وہی رنگ تھا جو معصّب اور جاہل مُلاؤں کی صحبت سے بے چارہ سادہ دل اور نادان مسلمانوں کے رگ و ریشہ میں چڑھتا جاتا ہے۔ اور وہ اسی طرح صدق دل سے گورنمنٹ برطانیہ کے وفادار اور نمک حلال ہو گئے ہیں جس طرح کسی اسلامی حکومت کے ہونے چاہیے تھے۔
یہ بات خود گورنمنٹ پر بھی مخفی نہیں کہ جناب موصوف کا خاندان ہمیشہ سے اس گورنمنٹ کا وفادار اور جاں نثار رہا ہے اور ہر آڑے وقت پر اپنی حیثیت سے بڑھ کر خدمات بجا لاتا رہا ہے جس سے حکام گورنمنٹ خود نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ جناب مرزا صاحب کے خاندان کو پہلے ہی سے اس گورنمنٹ سے تعلقات یگانگت حاصل ہیں گو حضرت موصوف کے بزرگ سپاہ اور سواروں سے مدد فرماتے تھے تاہم یہ اپنے رنگ میں پرسوز دعاؤں کے لشکر سے امداد دینے میں فروگذاشت نہیں کرتے ۔ چنانچہ جب کبھی سرحد افغانستان یا بلوچستان یا برہما میں جنگ اور لڑائی پیش آئی تو یہ دعا کرتے رہے۔ حضرت ملکہ معظّمہ قیصرہ کی جوبلی پر بڑی خوشی منائی اور جلسہ منعقد کر کے ان کی طول عمر اور اقبال کی دعا جناب الٰہی میں کی اور وہ اپنی اس طرز زندگی میں جو محض فقیرانہ زندگی ہے اور ہمیشہ سے گوشہ گزینی اور خلوت نشینی ان کی عادت ہو رہی ہے بجز دعا کے اور کس طرح اپنی محسن اور مہربان گورنمنٹ کی مدد کر سکتے ہیں ۔ لہٰذا اس موقع پر بھی جبکہ سرکار برطانیہ کو ایک ایسی قوم سے جس کو در پردہ اور قومیں مدد دے رہی ہیں جس سے ہماری گورنمنٹ کو ناحق تکلیف پہنچ رہی ہے اس ہمدرد خلائق نے مناسب سمجھا کہ فتح یابی کے لئے دعا کی جائے چنانچہ یکم فروری کو حضرت اقدس موصوف نے اپنی جماعت کے لوگوں کو جو افغانستان ۔ عراق ۔ ہندوستان کے مختلف بلاد مثلاً مدراس ۔ کشمیر ۔ شاہجہاں پور ۔ جموں ۔ متھرا ۔ جھنگ ۔ ملتان ۔ پٹیالہ ۔ کپورتھلہ ۔ مالیر کوٹلہ ۔ لدھیانہ ۔ شاہ پور ۔ سیالکوٹ ۔ گجرات ۔ لاہور ۔ امرتسر ۔ گورداسپور وغیرہ اضلاع سے آئے ہوئے تھے ارشاد فرمایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ عید کے روز سرکار برطانیہ کی کامیابی کے لئے دعا کی جائے جس کو سب نے سن کر خندہ پیشانی سے پسند کیا۔
بنابریں عید کے روز قریب ۸ بجے کے حضرت مسیح علیہ السلام مع اپنی جماعت کے اس وسیع میدان میں جو قصبہ قادیان کی جانب مغرب ہے اور جو قدیمی عید گاہ ہے تشریف لے گئے اور نو۹ بجے تک دور و نزدیک کے دیہات کے لوگ بھی وہاں جمع ہوتے رہے۔ پھر علامة الدهر وحید العصر حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب نے نماز عید الفطر پڑھائی اور بعد فراغت نماز عالی جناب حضرت امام الزّمان نے کھڑے ہو کر خطبہ نہایت فصاحت و بلاغت سے پڑھا اور تقریر اِس قدر پر تاثیر تھی کہ تمام لوگ جو تعداد میں ہزار سے کم نہ تھے ہمہ تن گوش ہو رہے تھے اور اِس قدر واضح اور عام فہم تھی کہ دیہاتی آدمی بھی جو مویشیوں کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں متاثر ہو کر بول اُٹھے۔ حضرت اقدس سب سچ کہہ رہے ہیں۔ اس تقریر میں جیسے کہ اصل تقریر سے واضح ہوگا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساتھ حکام مجازی کے حقوق کا کس قدر فوٹو کھینچا گیا ہے اور کس طرح رعایا کو بتلایا گیا ہے کہ اس گورنمنٹ برطانیہ کے کس قدر احسانات ہم مسلمانوں پر ہیں اور ہم مسلمان اپنے قرآن کی رو سے کس حد تک گورنمنٹ کی وفاداری اور جاں نثاری کے لئے پابند کئے گئے ہیں۔ کیا کوئی دنیا میں ہے کہ اِس طرح پر از روئے مذہب گورنمنٹ برطانیہ کے حقوق صدق دلی اور نیک نیتی سے ثابت کر سکے۔ یہ اسی جوانمرد کا کام ہے کہ جس نے اپنی جماعت کے دِلوں میں گورنمنٹ کی نسبت سچی محبت بٹھا دی ہے اور بارہا اپنی جماعت کو تحریراً وتقریراً بتاکید فرمایا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی اپنی گورنمنٹ سے منافقانہ روش اختیار کرے گا وہ ہماری جماعت میں شمار نہیں ہوگا اور وہ خدا اور رسول کا نافرمان ہوگا۔ کیونکہ ہم لوگ گورنمنٹ برطانیہ کی کسی ذاتی منافع یا کسی خود غرضی کی بنا پر تعریف و توصیف نہیں کرتے بلکہ از روئے مذہب اسلام ہم مامور ہیں کہ ہم نہایت صفائی باطن اور صدق دل سے عملاً وقولاً وفاداری کا ثبوت دیں۔ ہم کسی خطاب یا زمین یا جاگیر کے حاصل کرنے کے لیے منافقانہ چالیں یا خوشامدیں کرنی حرام سمجھتے ہیں چونکہ تقریر بجنسہٖ ذیل میں لکھی جاتی ہے اس لئے ہمیں زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں۔
مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کا بہت شکر کرنا چاہیے جس نے اُن کو ایک ایسا دین بخشا ہے جو علمی اور عملی طور پر ہر ایک قسم کے فساد اور مکروہ باتوں اور ہر ایک نوع کی قباحت سے پاک ہے اگر انسان غور اور فکر سے دیکھے تو اُس کو معلوم ہوگا کہ ’’واقعی طور پر تمام محامد اور صفات کا مستحق اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی انسان یا مخلوق واقعی اور حقیقی طور پر حمد و ثنا کا مستحق نہیں ہے ۔ ‘‘ اگر انسان بغیر کسی قسم کی غرض کی ملونی کے دیکھے تو اُس پر بدیہی طور پر کھل جاوے گا کہ کوئی شخص جو مستحق حمد قرار پاتا ہے وہ یا تو اِس لئے مستحق ہوسکتا ہے کہ کسی ایسے زمانہ میں جبکہ کوئی وجود نہ تھا اور نہ کسی وجود کی خبر تھی وہ اس کا پیدا کرنے والا ہو ۔ یا اس وجہ سے کہ ایسے زمانہ میں کہ کوئی وجود نہ تھا اور نہ معلوم تھا کہ وجود اور بقاء وجود اور حفظِ صحت اور قیامِ زندگی کے لئے کیا کیا اسباب ضروری ہیں اس نے وہ سب سامان مہیا کئے ہوں یا ایسے زمانہ میں کہ اُس پر بہت سی مصیبتیں آسکتی تھیں اُس نے رحم کیا ہو اور اُس کو محفوظ رکھا ہو ۔ اور یا اِس وجہ سے مستحق تعریف ہوسکتا ہے کہ محنت کرنے والے کی محنت کو ضائع نہ کرے اور محنت کرنے والوں کے حقوق پورے طور پر ادا کرے ۔ اگرچہ بظاہر اجرت کرنے والے کے حقوق کا دینا معاوضہ ہے لیکن ایسا شخص بھی محسن ہوسکتا ہے جو پورے طور پر حقوق ادا کرے ۔ یہ صفات اعلیٰ درجہ کی ہیں جو کسی کو مستحق حمد وثنا بنا سکتی ہیں اب غور کر کے دیکھ لو کہ حقیقی طور پر اِن سب محامد کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو کامل طور پر ان صفات سے متصف ہے اور کسی میں یہ صفات نہیں ہیں ۔
اوّل ۔ دیکھو صفت خلق اور پرورش ۔ یہ صفت اگرچہ انسان گمان کرسکتا ہے کہ ماں باپ اور دیگر محسنوں کے اغراض و مقاصد ہوتے ہیں ۔ جن کی بنا پر وہ احسان کرتے ہیں ۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ مثلاً بچہ تندرست خوبصورت توانا پیدا ہو تو ماں باپ کو خوشی ہوتی ہے ۔
اور اگر لڑکا ہو تو پھر یہ خوشی اور بھی بڑی ہوتی ہے شادیانے بجائے جاتے ہیں لیکن اگر لڑکی ہو تو گویا وہ گھر ماتم کدہ اور وہ دن سوگ کا دن ہو جاتا ہے اور اپنے تئیں منہ دکھانے کے قابل نہیں سمجھتے۔ بسا اوقات بعض نادان مختلف تدابیر سے لڑکیوں کو ہلاک کر دیتے یا اُن کی پرورش میں کم التفات کرتے ہیں۔ اور اگر بچہ لُنجہ اندھا اپاہج پیدا ہو تو چاہتے ہیں کہ وہ مر جاوے اور اکثر دفعہ تعجب نہیں کہ خود بھی وبالِ جان سمجھ کر مار دیتے ہوں۔ میں نے پڑھا ہے کہ یونانی لوگ ایسے بچوں کو عمداً ہلاک کر دیتے تھے بلکہ اُن کے ہاں شاہی قانون تھا کہ اگر کوئی بچہ ناکارہ۔ اپاہج۔ اندھا وغیرہ پیدا ہو تو اُس کو فوراً مار دیا جائے اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ انسانی خیالات میں پرورش اور خبر گیری کے ساتھ ذاتی اور نفسانی اغراض ملے ہوئے ہوتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی اس قدر مخلوق کی (جس کے تصور اور بیان سے وہم اور زبان قاصر ہے اور جو زمین اور آسمان میں بھری پڑی ہے) خلق اور پرورش سے کوئی غرض نہیں ہے۔ وہ والدین کی طرح خدمت اور رزق نہیں چاہتا بلکہ اس نے مخلوق کو محض ربوبیت کے تقاضہ سے پیدا کیا ہے۔ ہر ایک شخص مان لے گا کہ پودا لگانا پھر آبپاشی کرنا اور اس کی خبر گیری رکھنا اور ثمر دار درخت ہونے تک محفوظ رکھنا ایک بڑا احسان ہے۔ پس انسان اور اس کی حالت اور غور و پرداخت پر غور کرو تو معلوم ہوگا کہ خدا تعالیٰ نے کتنا بڑا احسان کیا ہے کہ اس قدر انقلابات اور بیکسیوں کی گھڑیوں میں کیسے کیسے تغیرات میں اس کی دستگیری فرمائی ہے۔
دوسرا پہلو جو ابھی میں نے بیان کیا ہے کہ قبل از پیدایش وجود ایسے سامان ہوں کہ تمدنی زندگی اور قویٰ کے کام کے لئے پورا سامان موجود ہو۔ دیکھو ہم ابھی پیدا ہی نہ ہوئے تھے کہ سامان پہلے ہی کر دیا۔ منور سورج جو اب چڑھا ہوا ہے اور جس کی وجہ سے عام روشنی پھیلی ہوئی ہے اور دن چڑھا ہوا ہے اگر نہ ہوتا تو کیا ہم دیکھ سکتے تھے یا روشنی کے ذریعہ جو فوائد اور منافع ہمیں پہنچ سکتے ہیں ہم کس ذریعہ سے حاصل کر سکتے۔ اگر سورج اور چاند یا اور کسی قسم کی روشنی نہ ہوتی تو بینائی بے کار ہوتی اگرچہ آنکھوں میں ایک قوّت دیکھنے کی ہے مگر وہ بیرونی اور خارجی روشنی کے بدوں نکمی ہے۔ پس یہ کس قدر احسان ہے کہ قویٰ سے کام لینے کے لئے اس نے اُن ضروری سامانوں کو پہلے سے مہیّا کر دیا۔ اور پھر یہ کس قدر اس کی رحمت ہے کہ اُس نے ایسے قویٰ دیئے ہیں اور ان میں بالقوہ ایسی استعدادات رکھ دی ہیں جو انسان کی تکمیل اور وصول الى الغاية کے لئے از بس ضروری ہیں۔ دماغ میں، اعصاب میں، عروق میں، ایسے خواص رکھے ہیں کہ انسان ان سے کام لیتا ہے اور ان کی تکمیل کر سکتا ہے اس لئے کہ قوتوں کی تکمیل کا سامان ساتھ ہی پیدا کر دیا ہے۔ یہ تو اندرونی نظام کا حال ہے کہ ہر ایک قوت اُس منشاء اور مفاد سے پوری مناسبت رکھتی ہے جس میں انسان کی فلاح ہے اور بیرونی طور پر بھی ایسا ہی انتظام رکھا ہے کہ ہر شخص جس قسم کا حرفہ رکھتا ہے اس کے مناسب حال ادوات و آلات قبل از وجود مہیا کر رکھے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی جوتا بنانے والا ہے تو اُس کو چمڑا اور دھاگا نہ ملے تو وہ کہاں سے لائے اور کیونکر اپنے حرفہ کی تکمیل کرے اسی طرح درزی کو اگر کپڑا نہ ملے تو کیونکر سیئے۔ اِسی طرح ہر متنفس کا حال ہے طبیب کیسا ہی حاذق اور عالم ہو لیکن اگر ادویہ نہ ہوں تو وہ کیا کر سکتا ہے۔ بڑی سوچ اور فکر سے ایک نسخہ لکھ کر دے گا لیکن بازار میں دوا نہ ملے تو کیا کرے گا۔ کس قدر خدا کا فضل ہے کہ ایک طرف تو اُس نے علم دیا ہے اور دوسری طرف نباتات، جمادات، حیوانات جو مریضوں کے مناسب حال تھے پیدا کر دیئے ہیں اور اُن میں قسم قسم کے خواص رکھے ہیں جو ہر زمانہ میں نااندیشیدہ ضروریات کے کام آسکتے ہیں۔ غرض خدا تعالیٰ نے کوئی چیز بھی غیر مفید پیدا نہیں کی۔ کتب طِب میں لکھا ہے کہ اگر کسی کا پیشاب بند ہو جائے تو بعض وقت جُوں کو احلیل میں دینے سے پیشاب جاری ہو جاتا ہے۔ انسان ان اشیاء کی مدد سے کہاں تک فائدہ اُٹھاتا ہے کوئی اندازہ کر سکتا ہے ہرگز نہیں بلکہ کسی کے تصور میں نہیں آسکتا پھر چوتھی بات پاداش محنت ہے اس کے لئے بھی خدا کا فضل درکار ہے مثلاً انسان کس قدر محنت و مشقت سے زراعت کرتا ہے اگر خدا تعالیٰ کی مدد اُس کے ساتھ نہ ہو تو کیونکر اپنے گھر میں غلہ لا سکے۔ اُسی کے فضل و کرم سے اپنے وقت پر ہر ایک چیز ہوتی ہے۔ چنانچہ اب قریب تھا کہ اس خشک سالی میں لوگ ہلاک ہو جاتے مگر خدا نے اپنے فضل سے بارش کر دی اور بہت سے حصہ مخلوق کو سنبھال لیا۔ غرض اوّلاً بالذّات اکمل اور اعلیٰ طور سے خدا تعالیٰ ہی مستحق تعریف ہے اس کے مقابلہ میں کسی دوسرے کا ذاتی طور پر کوئی بھی استحقاق نہیں۔ اگر کسی دوسرے کو استحقاق تعریف کا ہے تو صرف طفیلی طور پر ہے۔ یہ بھی خدا تعالیٰ کا رحم ہے کہ باوجود یکہ وہ وحدہٗ لاۤ شریک ہے۔ مگر اُس نے طفیلی طور پر بعض کو اپنے محامد میں شریک کر لیا ہے۔ جیسے اس سورہ شریفہ میں بیان فرمایا ہے:۔
اس میں اللہ تعالیٰ نے حقیقی مستحق حمد کے ساتھ عارضی مستحق حمد کا بھی اشارۃً ذکر فرمایا ہے اور یہ اس لئے ہے کہ اخلاق فاضلہ کی تکمیل ہو۔ چنانچہ اِس سورہ میں تین۳ قسم کے حق بیان فرمائے ہیں۔ اوّل فرمایا کہ تم پناہ مانگو اللہ کے پاس جو جامع جمیع صفات کاملہ ہے۔ اور جو ربّ ہے لوگوں کا۔ اور ملک بھی ہے اور معبود ومطلوب حقیقی بھی ہے۔ یہ سورہ اِس قسم کی ہے کہ اِس میں اصل توحید کو تو قائم رکھا ہے مگر معًا یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ دُوسرے لوگوں کے حقوق بھی ضائع نہ کریں جو اِن اسماء کے مظہرِ ظلی طور پر ہیں۔ ربّ کے لفظ میں اشارہ ہے کہ گو حقیقی طور پر خدا ہی پرورش کرنے والا اور تکمیل تک پہنچانے والا ہے لیکن عارضی اور ظلی طور پر دو اور بھی وجود ہیں جو ربوبیّت کے مظہر ہیں۔ ایک جسمانی طور پر دوسرا روحانی طور پر۔ جسمانی طور پر والدین ہیں اور روحانی طور پر مُرشد اور ہادی ہے۔
دوسرے مقام پر تفصیل کے ساتھ بھی ذکر فرمایا ہے:۔
وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَبِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا(بنی اسرائیل: ۲۴)
یعنی خدا نے یہ چاہا ہے کہ کسی دوسرے کی بندگی نہ کرو اور والدین سے احسان کرو۔ حقیقت میں کیسی ربوبیت ہے کہ انسان بچہ ہوتا ہے اور کسی قسم کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس حالت میں ماں کیا کیا خدمات کرتی ہے اور والد اس حالت میں ماں کی مہمات کا کیسا متکفّل ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ناتواں مخلوق کی خبر گیری کے لئے دو محل پیدا کر دیئے ہیں اور اپنی محبت کے انوار سے ایک پَرَتَو محبت کا اُن میں ڈال دیا ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ماں باپ کی محبت عارضی ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت حقیقی ہے اور جب تک قلوب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا القا نہ ہو کوئی فرد بشر خواہ دوست ہو یا کوئی برابر درجہ کا ہو یا کوئی حاکم ہو کسی سے محبت نہیں کر سکتا اور یہ خدا کی کمال ربوبیت کا راز ہے کہ ماں باپ بچوں سے ایسی محبت کرتے ہیں کہ اُن کے تکفّل میں ہر قسم کے دکھ شرح صدر سے اُٹھاتے ہیں یہاں تک کہ اُن کی زندگی کے لئے مرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ پس خدا تعالیٰ نے تکمیل اخلاق فاضلہ کے لئے ربِّ النَّاس کے لفظ میں والدین اور مرشد کی طرف ایما فرمایا ہے تا کہ اس مجازی اور مشہود سلسلہ شکر گذاری سے حقیقی ربّ و ہادی کی شکر گذاری میں قدم اُٹھائیں۔ اِسی راز کے حل کی یہ کلید ہے کہ اِس سورہ شریفہ کو ربّ النّاس سے شروع فرمایا ہے۔ اِلٰہِ النَّاسِ سے آغاز نہیں کیا۔ چونکہ مرشد روحانی خدا تعالیٰ کے منشاء کے موافق اس کی توفیق و ہدایت سے تربیت کرتا ہے اس لئے وہ بھی اِسی میں شامل ہے پھر دوسرا ٹکڑا اس میں مَلِکِ النَّاسِ ہے یعنی تم پناہ مانگو خدا کے پاس جو تمہارا بادشاہ ہے۔ یہ ایک اور اشارہ ہے تا لوگوں کو متمدّن دنیا کے اصول سے واقف کیا جاوے اور مہذب بنایا جاوے۔ حقیقی طور پر تو اللہ تعالیٰ ہی بادشاہ ہے مگر اِس میں اشارہ ہے کہ ظلی طور پر بادشاہ ہوتے ہیں اور اِسی لئے اِس میں اشارۃً مَلِک وقت کے حقوق کی نگہداشت کی طرف بھی ایما ہے۔ یہاں کافر اور مشرک اور موحّد بادشاہ یعنی کسی قسم کی قید نہیں بلکہ عام طور پر ہے خواہ کسی مذہب کا بادشاہ ہو، مذہب اور اعتقاد کے حصے جدا ہیں۔ قرآن میں جہاں جہاں خدا نے محسن کا ذکر فرمایا ہے وہاں کوئی شرط نہیں لگائی کہ وہ مسلمان ہو اور موحّد ہو اور فلاں سلسلہ کا ہو بلکہ عام طور پر محسن کی نسبت ذکر ہے۔ خواہ وہ کوئی مذہب رکھتا ہو اور پھر خدا تعالیٰ اپنے کلام پاک میں محسن کے ساتھ احسان کرنے کی سخت تاکید فرماتا ہے جیسے آیت ذیل سے ہویدا ہے:۔
ہَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ(الرحمٰن: ۶۱)
کیا احسان کا بدلا احسان کے سوا بھی ہو سکتا ہے
اَب ہم اپنی جماعت کو اور تمام سننے والوں کو بڑی صفائی اور وضاحت سے سناتے ہیں کہ سلطنت انگریزی ہماری محسن ہے اُس نے ہم پر بڑے بڑے احسان کئے ہیں ۔ جس کی عمر ساٹھ یا ستّر برس کی ہوگی وہ خوب جانتا ہوگا کہ ہم پر سکھوں کا ایک زمانہ گذرا ہے اس وقت مسلمانوں پر جس قدر آفتیں حائل تھیں وہ پوشیدہ نہیں ہیں اُن کی یاد سے بدن پر لرزہ پڑتا ہے اور دل کانپ اٹھتا ہے ۔ اُس وقت مسلمانوں کو عبادات اور فرائض مذہبی کی بجا آوری سے جن کا بجا لانا ان کو جان سے عزیز تر ہے روکا گیا تھا ۔ بانگ نماز جو نماز کا مقدمہ ہے اس کو بآواز بلند پکارنے سے منع کیا گیا تھا۔ اگر کبھی مؤذّن کے منہ سے سہواً اللّٰہ اکبر بآواز بلند نکل جاتا تو اُس کو مار ڈالا جاتا تھا اِسی طرح پر مسلمانوں کے حلال وحرام کے معاملہ میں بے جا تصرف کیا گیا تھا ۔ ایک گائے کے مقدمہ میں ایک دفعہ پانچ ہزار غریب مسلمان قتل کئے گئے ۔
بٹالہ کا واقعہ ہے کہ ایک سیّد وہیں کا رہنے والا باہر سے دروازہ پر آیا وہاں گائیوں کا ہجوم تھا اس نے تلوار کی نوک سے ذرہ ہٹایا ایک گائے کے چمڑے کو اتفاق سے خفیف سی خراش پہنچ گئی اس بے چارہ کو پکڑ لیا گیا اور اِس امر پر زور دیا گیا کہ اس کو قتل کر دیا جائے ۔ آخر بڑی سفارشوں کے بعد جان سے بچ گیا لیکن اُس کا ہاتھ ضرور کاٹا گیا مگر اب دیکھو کہ ہر قوم و مذہب کے لوگوں کو کیسی آزادی ہے ہم صرف مسلمانوں ہی کا ذکر کرتے ہیں فرائض مذہبی اور عبادات کے بجا لانے میں سلطنت نے پوری آزادی دے رکھی ہے اور کسی کے مال و جان و آبرو سے کوئی ناحق کا تعرض نہیں برخلاف اُس پُرفتن وقت کے کہ ہر ایک شخص کیسا ہی اس کا حساب پاک ہو اپنی جان و مال پر لرزتا رہتا تھا۔ اب اگر کوئی خود اپنا چلن آپ خراب کر لے اور اپنی کج روی اور بے اندامی اور ارتکاب جرائم سے خود مستوجب عقوبت ٹھہر جائے تو اور بات ہے۔ یا خود ہی سوء اعتقاد اور غفلت کی وجہ سے عبادت میں کوتاہی کرے تو جدا امر ہے لیکن گورنمنٹ کی طرف سے ہر طرح کی پوری آزادی ہے۔ اس وقت جس قدر عابد بننا چاہو بنو کوئی روک نہیں گورنمنٹ خود معابد مذہبی کی حرمت کرتی ہے اور اُن کی مرمت وغیرہ پر ہزاروں روپیہ خرچ کر دیتی ہے۔ سکھوں کے زمانہ میں اس کے خلاف یہ حال تھا کہ مسجدوں میں بھنگ گھٹتی تھی اور گھوڑے بندھتے تھے جس کا نمونہ خود یہاں قادیان میں موجود ہے اور پنجاب کے بڑے بڑے شہروں میں اِس کے بکثرت نمونے ملیں گے۔ لاہور میں آج تک کئی ایک مسجدیں سکھوں کے قبضہ میں ہیں۔ آج اس کے مقابل میں گورنمنٹ انگلشیہ ان بزرگ مکانوں کی ہر قسم کی واجب عزت کرتی ہے اور مذہبی مکانات کی تعظیم و تکریم اپنے فرائض میں سے سمجھتی ہے جیسا کہ ان ہی دنوں حضور وائسرائے لارڈ کرزن صاحب بہادر بالقابہ نے دہلی کی جامع مسجد میں جوتا پہن کر جانے کی مخالفت اپنی عملی حالت سے ثابت کر دی اور قابل اقتدا نمونہ بادشاہانہ اخلاق فاضلہ کا دیا اور اُن کی اُن تقریروں سے جو وقتاً فوقتاً انہوں نے مختلف موقعوں پر کی ہیں صاف معلوم ہو گیا ہے کہ وہ مذہبی مکانات کی کیسی عزت کرتے ہیں پھر دیکھو کہ گورنمنٹ نے کہیں منادات نہیں کی کہ کوئی بآوازِ بلند بانگ نہ دے یا روزہ نہ رکھے بلکہ انہوں نے ہر قسم کے تغذیہ کے سامان مہیا کئے ہیں جس کا سکھوں کے ذلیل زمانہ میں نام ونشان تک نہ تھا ۔ برف سوڈا واٹر اور بسکٹ ڈبل روٹی وغیرہ ہر قسم کی غذائیں بہم پہنچائیں اور ہر قسم کی سہولت دے رکھی ہے ۔ یہ ایک ضمنی امداد ہے جو اِن لوگوں سے ہمارے شعائر اسلام کو پہنچی ہے ۔ اب اگر کوئی خود روزہ نہ رکھے تو یہ اور بات ہے افسوس کی بات ہے کہ مسلمان خود شریعت کی توہین کرتے ہیں ۔ چنانچہ دیکھو جنہوں نے اِن دنوں روزے رکھے ہیں ۔ وہ کچھ دبلے نہیں ہو گئے اور جنہوں نے استخفاف کے ساتھ اِس مہینہ کو گذارا ہے وہ کچھ موٹے نہیں ہو گئے ان کا بھی وقت گذر گیا اور ان کا بھی زمانہ گذر گیا ۔ جاڑہ کے روزے تھے صرف غذا کے اوقات کی ایک تبدیلی تھی سات آٹھ بجے نہ کھائی چار پانچ بجے کھالی با وجود اِس قدر رعایت کے پھر بھی بہتوں نے شعائر اللہ کی عظمت نہیں کی اور خدا تعالیٰ کے اِس واجب التکریم مہمان ماہِ رمضان کو بڑی حقارت سے دیکھا ۔ اِس قدر آسانی کے مہینوں میں رمضان کا آنا ایک قسم کا معیار تھا اور مطیع و عاصی میں فرق کرنے کے لئے یہ روزے میزان کا حکم رکھتے تھے خدا تعالیٰ کی طرف سے سلطنت نے ہر قسم کی آزادی دے رکھی ہے طرح طرح کے پھل اور غذائیں میسر آتی ہیں کوئی آسایش و آرام کا سامان نہیں جو آج مہیا نہ ہو سکتا ہو۔ با ایں ہمہ جو پرواہ نہیں کی گئی اِس کی کیا وجہ ہے یہی کہ دلوں میں ایمان نہیں رہا۔ افسوس خدا کا ایک ادنیٰ بھنگی کے برابر بھی لحاظ نہیں کیا جاتا گویا یہ خیال ہے کہ خدا سے کبھی واسطہ ہی نہ ہوگا اور نہ کبھی اُس سے پالا پڑے گا۔ اور اُس کی عدالت کے سامنے جانا ہی نہیں ہوگا۔ کاش منکر غور کریں اور سوچیں کہ کروڑوں سورجوں کی روشنی سے بھی بڑھ کر خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت ہیں افسوس کی جگہ ہے کہ ایک جوتہ کو دیکھ کر یقینی طور پر سمجھ لیا جاتا ہے کہ اِس کا کوئی بنانے والا ہے مگر یہ کس قدر بدبختی ہے کہ خدا تعالیٰ کی بے انتہا مخلوق کو دیکھ کر بھی اُس پر ایمان نہ ہو یا ایسا ایمان ہو جو نہ ہونے میں داخل ہے خدا تعالیٰ کی ہم پر بہت رحمتیں ہیں ازاں جملہ ایک یہ ہے کہ اُس نے ہم کو جلتے ہوئے تنور سے نکالا سکھوں کا زمانہ ایک آتشی تنور تھا اور انگریزوں کا قدم رحمت و برکت کا قدم ہے۔ میں نے سنا ہے کہ جب اوّل ہی اوّل انگریز آئے تو ہوشیار پور میں کسی مؤذّن نے اُونچی اذان کہی چونکہ ابھی ابتدا تھی اور ہندوؤں اور سکھوں کا خیال تھا کہ یہ بھی اُونچی اذان کہنے پر روکیں گے یا ان کی طرح اگر گائے کو کسی سے زخم لگ جائے تو اُس کا ہاتھ کاٹیں گے اُس اونچی اذان کہنے والے مؤذن کو پکڑ لیا۔ ایک بڑا بھاری ہجوم ہو کر ڈپٹی کمشنر کے سامنے اُسے لے گئے بڑے بڑے رئیس مہاجن جمع ہوئے اور کہا حضور ہمارے آٹے بھرشٹ ہو گئے ہمارے برتن ناپاک ہو گئے جب یہ باتیں اُس انگریز کو سنائی گئیں تو اُسے بڑا تعجب ہوا کہ کیا بانگ میں ایسی خاصیت ہے کہ کھانے کی چیزیں ناپاک ہو جاتی ہیں اُس نے سررشتہ دار سے کہا کہ جب تک تجربہ نہ کر لیا جائے اِس مقدمہ کو نہ کرنا چاہیے چنانچہ اُس نے مؤذن کو حکم دیا کہ تو پھر اُسی طرح بانگ دے وہ ڈرا کہ شاید دوسرا جرم قائم نہ ہو بانگ دینے سے ذرہ جھجکا مگر جب اُس کو تسلی دی گئی اُس نے اُسی قدر زور سے بانگ دی صاحب بہادر نے کہا کہ ہم کو تو اِس سے کوئی ضرر نہیں پہنچا سررشتہ دار سے پوچھا کہ تم کو کوئی ضرر پہنچا اُس نے بھی کہا کہ حقیقت میں کوئی ضرر نہیں ہوا آخر اُس کو چھوڑ دیا گیا اور کہا گیا کہ جاؤ جس طرح چاہو بانگ دو ۔
اللہ اکبر ۔ یہ کس قدر آزادی ہے اور کس قدر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے پھر ایسے احسان پر اور ایسے انعام صریح پر بھی اگر کوئی دل گورنمنٹ انگریزی کا احسان محسوس نہیں کرتا تو وہ دل بڑا کافر نعمت اور نمک حرام اور سینہ سے چیر کر نکال ڈالنے کے لائق ہے ۔
خود ہمارے اِس گاؤں میں جہاں ہماری مسجد ہے کارداروں کی جگہ تھی اُس وقت ہمارے بچپن کا زمانہ تھا لیکن میں نے معتبر آدمیوں سے سنا ہے کہ جب انگریزوں کا دخل ہو گیا تو چند روز تک وہی سابقہ قانون رہا انہی ایام میں ایک کاردار یہاں آیا ہوا تھا اُس کے پاس ایک مسلمان سپاہی تھا وہ مسجد میں آیا اور مؤذن کو کہا کہ بانگ دو اُس نے وہی ڈرتے ڈرتے گنگنا کر اذان دی سپاہی نے کہا کہ کیا تم اِسی طرح پر بانگ دیا کرتے ہو مؤذن نے کہا ہاں اِسی طرح دیتے ہیں سپاہی نے کہا کہ نہیں کوٹھے پر چڑھ کر اُونچی آواز سے اذان دو اور جس قدر زور سے ممکن ہوسکتا ہے بانگ دو وہ ڈرا آخر اُس نے سپاہی کے کہنے پر زور سے بانگ دی اِس پر تمام ہندو اکٹھے ہوگئے اور مُلّا کو پکڑ لیا، وہ بیچارہ بہت ڈرا اور گھبرایا کہ کاردار مجھے پھانسی دے دے گا سپاہی نے کہا کہ میں تیرے ساتھ ہوں آخر سنگ دِل چھری مار برہمن اُس کو پکڑ کر کاردار کے پاس لے گئے۔ اور کہا کہ مہاراج اِس نے ہم کو بھرشٹ کر دیا کاردار تو جانتا تھا کہ سلطنت تبدیل ہوگئی ہے اور اب وہ سکھا شاہی نہیں رہی مگر ذرا دبی زبان سے پوچھا کہ تو نے اُونچی آواز سے کیوں بانگ دی؟ سپاہی نے آگے بڑھ کر کہا کہ اُس نے نہیں میں نے بانگ دی کاردار نے کہا۔ کم بختو! کیوں شور ڈالتے ہو لاہور میں تو اب کھلے طور سے گائیاں ذبح ہوتی ہیں تم اذان کو روتے ہو جاؤ چپکے ہوکر بیٹھ رہو۔ الغرض یہ واقعی اور سچی بات ہے جو ہمارے دل سے نکلتی ہے جس قوم نے ہم کو تحت الثریٰ سے نکالا ہے اُس کا احسان ہم نہ مانیں تو پھر یہ کس قدر ناشکری اور نمک حرامی ہے۔
اِس کے علاوہ پنجاب میں بڑی جہالت پھیلی ہوئی تھی ایک بوڑھے آدمی کمّے شاہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے اُستاد کو دیکھا ہے کہ وہ بڑے تضرع سے دعا کیا کرتے تھے کہ صحیح بخاری کی ایک دفعہ زیارت ہو جائے اور بعض وقت اِس خیال سے کہ کہاں اس کی زیارت ممکن ہے دعا کرتے کرتے اتنا روتے کہ ان کی ہچکیاں بندھ جاتی تھیں اب وہی بخاری دو چار روپے میں امرت سر اور لاہور سے ملتی ہے ۔ ایک مولوی شیر محمد صاحب تھے کہیں سے دو چار ورق احیاء العلوم کے اُن کو مل گئے تھے کتنی مدت تک ہر نماز کے بعد نمازیوں کو بڑی خوشی اور فخر سے دکھایا کرتے تھے کہ یہ احیاء العلوم ہے اور تڑپتے تھے کہ پوری کتاب کہیں سے مل جائے اب جابجا احیاء العلوم مطبوعہ موجود ہے ۔ غرض انگریزی مقدم کی برکت سے لوگوں کی دینی آنکھ بھی کھل گئی ہے اور خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اسی سلطنت کے ذریعہ دین کی کس قدر اعانت ہوئی ہے کہ کسی اور سلطنت میں ممکن ہی نہیں ۔ پریس کی برکت اور قسم قسم کے کاغذ کی ایجاد سے ہر قسم کی کتابیں تھوڑی تھوڑی قیمت پر میسر آ سکتی ہیں اور پھر ڈاک خانہ کے طفیل کہیں سے کہیں گھر بیٹھے بٹھائے پہنچ جاتی ہیں اور یوں دین کی صداقتوں کی تبلیغ کی راہ کس قدر سہل اور صاف ہو گئی ہے ۔ پھر منجملہ اور برکات کے جو تائید دین کے لئے اس گورنمنٹ کے عہد میں ملی ہیں ایک یہ بھی ہے کہ عقلی قویٰ اور ذہنی طاقتوں میں بڑی ترقی ہوئی ہے اور چونکہ گورنمنٹ نے ہر ایک قوم کو اپنے مذہب کی اشاعت کی آزادی دے رکھی ہے اِس لئے ہر طرح پر لوگوں کو ہر ایک مذہب کے اصول اور دلائل پرکھنے اور اُن پر غور کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ اسلام پر جب مختلف مذہب والوں نے حملے کئے تو اہل اسلام کو اپنے مذہب کی تائید اور صداقت کے لئے اپنی مذہبی کتابوں پر غور کرنے کا موقع ملا اور اُن کی عقلی قوتوں میں ترقی ہوئی قاعدہ کی بات ہے کہ جیسے جسمانی قویٰ ریاضت کرنے سے بڑھتے ہیں ایسا ہی روحانی قویٰ بھی ریاضت سے نشو و نما پاتے ہیں جیسا گھوڑا چابک سوار کے نیچے آ کر درست ہوتا ہے اسی طرح سے انگریزوں کے آنے سے مذہب کے اُصولوں پر غور کرنے کا موقع ملا ہے اور تدبّر کرنے والوں کو استقامت اور استحکام اپنے مذہبِ حق میں زیادہ مل گیا اور جس جس موقع پر قرآن کریم کے مخالفوں نے انگشت رکھی وہیں سے غور کرنے والوں کو ایک گنجِ معارف ہاتھ لگا اور اس آزادی کی وجہ سے علم کلام نے بھی معتد بہ ترقی کی اور یہ ترقی مخصوصًا اِسی جگہ پر ہوئی ہے اب اگر کوئی روم یا شام کا رہنے والا خواہ وہ کیسا ہی عالم و فاضل کیوں نہ ہو آ جائے تو وہ عیسائیوں یا آریوں کے اعتراضات کا کافی جواب نہ دے سکے گا کیونکہ اس کو ایسی آزادی اور وسعت کے ساتھ مختلف مذاہب کے اصولوں کے موازنہ کرنے کا موقع نہیں ملا غرض جیسے جسمانی طور پر گورنمنٹ انگلشیہ سے ملک میں امن ہوا ایسے ہی روحانی امن بھی پوری طرح پھیلا چونکہ ہمارا تعلق دینی اور روحانی باتوں سے ہے اس لئے ہم زیادہ تر ان امور کا ذکر کریں گے جو فرائض مذہب کے ادا کرنے میں گورنمنٹ کی طرف سے ہم کو بطور احسان ملے ہیں پس یاد رکھنا چاہیے کہ انسان پوری آزادی اور اطمینان کے ساتھ عبادات کو جب ہی بجا لاسکتا ہے کہ اس میں چار شرطیں موجود ہوں اور وہ یہ ہیں:-
اوّل صحت: اگر کوئی شخص ایسا ضعیف ہو کہ چار پائی سے اٹھ نہ سکے وہ صوم وصلوٰۃ کا کیا پابند ہوسکتا ہے اور پھر وہ اسی طرح پر حج زکوٰۃ وغیرہ بہت سے ضروری امور کی بجا آوری سے قاصر رہے گا۔ اب دیکھنا چاہیے کہ گورنمنٹ کے طفیل سے ہم کو صحت جسمانی کے بحال رکھنے کے لئے کس قدر سامان ملے ہیں ہر بڑے شہر اور قصبہ میں کوئی نہ کوئی ہسپتال ضرور ہے جہاں مریضوں کا علاج نہایت دلسوزی اور ہمدردی سے کیا جاتا ہے اور دوا اور غذا وغیرہ مفت دی جاتی ہیں بعض بیماروں کو ہسپتال میں رکھ کر ایسے طور پر اُن کی نگہداشت اور غور و پرداخت کی جاتی ہے کہ کوئی اپنے گھر میں بھی ایسی آسانی اور سہولت اور آرام کے ساتھ علاج نہیں کراسکتا۔ حفظان صحت کا ایک الگ محکمہ بنا رکھا ہے جس پر کروڑہا روپیہ سالانہ خرچ ہوتا ہے قصبات اور شہروں کی صفائی کے بڑے بڑے سامان بہم پہنچائے ہیں گندے پانی اور مواد ردیہ مضر صحت کے دفع کرنے کے لئے الگ انتظام ہیں۔ پھر ہر قسم کی سریع الاثر ادویہ طیار کر کے بہت کم قیمت پر مہیا کی جاتی ہیں یہاں تک کہ ہر ایک آدمی چند دوائیں اپنے گھر میں رکھ کر بوقت ضرورت علاج کر سکتا ہے۔ بڑے بڑے میڈیکل کالج جاری کر کے طبی تعلیم کو کثرت سے پھیلایا گیا ہے یہاں تک کہ دیہات میں بھی ڈاکٹر ملتے ہیں ۔ بعض خطرناک امراض مثلاً چیچک ۔ ہیضہ ۔ طاعون وغیرہ کے دفعیہ کے لئے حال ہی میں طاعون کے متعلق جس قدر کارروائی گورنمنٹ کی طرف سے عمل میں آئی ہے ۔ وہ بہت ہی کچھ شکر گذاری کے قابل ہے غرض صحت کے لحاظ سے گورنمنٹ نے ہر قسم کی ضروری امداد دی ہے اور اِس طرح پر عبادت کے لئے پہلی اور ضروری شرط کے پورا کرنے کے واسطے بہت بڑی تائید کی ہے ۔
دو۲سری شرط ایمان ہے ۔ اگر خدا تعالیٰ اور اس کے احکام پر ایمان ہی نہ رہا ہو اور اندر ہی اندر بے دینی اور الحاد کا جذام لگ گیا ہو تو بھی تعمیل احکامِ الٰہی نہیں ہوسکتی یہی وجہ ہے کہ بہت لوگ کہا کرتے ہیں ۔ ایہہ جگ مِٹھا تے اگلا کِن ڈِٹھا ۔ افسوس ہے دو آدمیوں کی شہادت پر ایک مجرم کو پھانسی مل سکتی ہے مگر باوجودیکہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اور بے انتہا ولیوں کی شہادت موجود ہے لیکن ابھی تک اس قسم کا الحاد لوگوں کے دِلوں سے نہیں گیا ۔ ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ اپنے مقتدر نشانوں اور معجزات سے اَنَا المَوجُود کہتا ہے مگر یہ کمبخت کان رکھتے ہوئے بھی نہیں سنتے ۔ غرض یہ شرط بھی بہت بڑی ضروری شرط ہے اِس کے لئے بھی ہمیں گورنمنٹ انگلشیہ کا شکر گذار ہونا چاہیے کیونکہ ایمان و اعتقاد پختہ کرنے کے لئے عام تعلیم مذہبی کی ضرورت تھی اور مذہبی تعلیم کا انحصار مذہبی کتابوں کی اشاعت سے وابستہ تھا۔ پریس اور ڈاکخانہ کی برکت سے ہر قسم کی مذہبی کتابیں مل سکتی ہیں اور اخبارات کے ذریعہ تبادلہ خیالات کا موقع بھی ملتا ہے سعید الفطرت لوگوں کے لئے بڑا بھاری موقع حاصل ہے کہ ایمان و اعتقاد میں رسوخ حاصل کریں۔ ان باتوں کے علاوہ جو ضروری اور اشد ضروری بات ایمان کے رسوخ کے لئے ہے وہ خدا تعالیٰ کے نشانات ہیں جو اس شخص کے ہاتھ پر سرزد ہوتے ہیں جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر آتا ہے اور اپنے طرز عمل سے گم شدہ صداقتوں اور معرفتوں کو زندہ کرتا ہے سو خدا کا شکر کرنا چاہیے کہ اُس نے اِس زمانہ میں ایسے شخص کو پھر ایمان زندہ کرنے کے لئے مامور کیا اور اس لئے بھیجا کہ تا لوگ قوتِ یقین میں ترقی کریں وہ اسی مبارک گورنمنٹ کے عہد میں آیا وہ کون ہے؟ وہی جو تم میں کھڑا ہوا بول رہا ہے چونکہ یہ مسلّم بات ہے کہ جب تک پورے طور پر ایمان نہ ہو نیکی کے اعمال انسان علٰی وجه الاتم بجا نہیں لاسکتا۔ جس قدر کوئی پہلو یا کنگرہ ایمان کا گرا ہوا ہو اُسی قدر انسان اعمال میں سُست اور کمزور ہو گا اس بنا پر ولی وہ کہلاتا ہے جس کا ہر پہلو سالم ہو اور وہ کسی پہلو سے کمزور نہ ہو اس کی عبادات اکمل واتم طور پر صادر ہوتی ہوں غرض دوسری شرط ایمان کی سلامتی ہے۔
تیسری شرط انسان کے لئے طاقت مالی ہے ۔ مساجد کی تعمیر اور اُمور متعلقہ اسلام کی بجا آوری مالی طاقت پر منحصر ہے ۔ اس کے سوا تمدنی زندگی اور تمام اُمور کا اور خصوصاً مساجد کا انتظام بہت مشکل سے ہوتا ہے اب اِس پہلو کے لحاظ سے گورنمنٹ انگلشیہ کو دیکھو ۔ گورنمنٹ نے ہر قسم کی تجارت کو ترقی دی ۔ تعلیم پھیلا کر ملک کے باشندوں کو نوکریاں دیں اور بعض کو بڑے بڑے عہدے بھی دیئے سفر کے وسائل بہم پہنچا کر دوسرے ملکوں میں جا کر روپیہ کما لانے میں مدد دی چنانچہ ڈاکٹر پلیڈر عدالتوں کے عہدہ دار سرشتہ تعلیم کے ملازموں کو دیکھو غرض بہت سے ذریعوں سے لوگ معقول روپیہ کماتے ہیں اور تجارت کرنے والے سودا گر قسم قسم کے تجارتی مال ولایت اور دور دراز ملکوں افریقہ اور آسٹریلیا وغیرہ میں جا کر مالا مال ہو کر آتے ہیں غرض گورنمنٹ نے روزگار عام کر دیا ہے اور روپیہ کمانے کے بہت سے ذریعے پیدا کر دیئے ہیں ۔
چوتھی شرط امن ہے ۔ یہ امن کی شرط انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہے جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے اس کا انحصار علی الخصوص سلطنت پر رکھا گیا ہے ۔ جس قدر سلطنت نیک نیت اور اس کا دل کھوٹ سے پاک ہو گا اسی قدر یہ شرط زیادہ صفائی سے پوری ہوگی اب اس زمانہ میں امن کی شرط اعلیٰ درجہ پر پوری ہو رہی ہے ۔ میں خوب یقین رکھتا ہوں کہ سِکھوں کے زمانہ کے دن انگریزوں کے زمانہ کی راتوں سے بھی کم درجہ پر تھے یہاں سے قریب ہی بوٹر☆ ایک گاؤں ہے وہاں اگر یہاں سے کوئی عورت جایا کرتی تھی تو رو رو کر جایا کرتی تھی کہ خدا جانے پھر واپس آنا ہو گا یا نہیں۔ اب یہ حالت ہو گئی ہے کہ انسان زمین کی انتہا تک چلا جائے اس کو کسی قسم کا خطرہ نہیں سفر کے وسائل ایسے آسان کر دیئے گئے ہیں کہ ہر ایک قسم کا آرام حاصل ہے گویا گھر کی طرح ریل میں بیٹھا ہوا یا سویا ہوا جہاں چاہے چلا جائے۔ مال و جان کی حفاظت کے لئے پولیس کا وسیع صیغہ موجود ہے۔ حقوق کی حفاظت کے لئے عدالتیں کھلی ہیں جہاں تک چاہے چارہ جوئی کرتا چلا جائے۔ یہ کس قدر احسان ہیں جو ہماری عملی آزادی کا موجب ہوئے ہیں۔ پس اگر ایسی حالت میں جبکہ جسم و روح پر بے انتہا احسان ہو رہے ہوں ہم میں صلح کاری اور شکرگزاری کا مادہ پیدا نہیں ہوتا تو تعجب کی بات ہے؟ جو مخلوق کا شکر نہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کر سکتا۔ وجہ کیا ہے؟ اس لئے کہ وہ مخلوق بھی تو خدا ہی کا فرستادہ ہوتا ہے اور خدا ہی کے ارادہ کے تحت میں چلتا ہے۔ الغرض یہ سب اُمور جو میں نے بیان کئے ہیں ایک نیک دل انسان کو مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ ایسے محسن کا شکر گذار ہو یہی وجہ ہے کہ ہم بار بار اپنی تصنیفات میں اور اپنی تقریروں میں گورنمنٹ انگلشیہ کے احسانوں کا ذکر کرتے ہیں کیونکہ ہمارا دل واقعی اس کے احسانات کی لذّت سے بھرا ہوا ہے احسان فراموش نادان اپنی منافقانہ فطرتوں پر قیاس کر کے ہمارے اِس طریق عمل کو جو صدق و اخلاص سے پیدا ہوتا ہے جھوٹی خوشامد پر حمل کرتے ہیں۔
اب میں پھر اصل بات کی طرف عود کر کے بتلانا چاہتا ہوں کہ پہلے اس سورۃ میں خدا تعالیٰ نے رَبِّ النَّاس فرمایا پھر مَلِکِ النَّاسِ ۔ آخر میں اِلٰہِ النَّاسِ فرمایا جو اصلی مقصود اور مطلوب انسان ہے ۔ اِلٰه کہتے ہیں معبود ۔ مقصود ۔ مطلوب کو ۔ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ کے معنی یہی ہیں کہ لَا مَعْبُوْدَ لِیْ وَلَا مَقْصُوْدَ لِیْ وَلَا مَطْلُوْبَ لِیْ اِلَّا اللّٰہُ یہی سچی توحید ہے کہ ہر مدح وستایش کا مستحق اللہ تعالیٰ ہی کو ٹھہرایا جاوے ۔ پھر فرمایا مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ ۬ۙ الۡخَنَّاسِ(الناس: ۵) یعنی وسوسہ ڈالنے والے خنّاس کے شر سے پناہ مانگو۔ خنّاس عربی میں سانپ کو کہتے ہیں جسے عبرانی میں نحاش کہتے ہیں اس لئے کہ اس نے پہلے بھی بدی کی تھی۔ یہاں ابلیس یا شیطان نہیں فرمایا تا کہ انسان کو اپنی ابتدا کی ابتلا یاد آوے کہ کس طرح شیطان نے اُن کے اَبَوَیْن کو دھوکا دیا تھا اس وقت اس کا نام خنّاس ہی رکھا گیا تھا یہ ترتیب خدا نے اس لئے اختیار فرمائی ہے تا کہ انسان کو پہلے واقعات پر آگاہ کرے کہ جس طرح شیطان نے خدا کی اطاعت سے انسان کو فریب دے کر روگرداں کیا ویسے ہی وہ کسی وقت ملکِ وقت کی اطاعت سے بھی عاصی اور روگرداں نہ کرا دے۔ یوں انسان ہر وقت اپنے نفس کے ارادوں اور منصوبوں کی جانچ پڑتال کرتا رہے کہ مجھ میں ملکِ وقت کی اطاعت کس قدر ہے اور کوشش کرتا رہے اور خدا تعالیٰ سے دعا مانگتا رہے کہ کسی مدخل سے شیطان اُس میں داخل نہ ہو جائے ۔ اب اس سورۃ میں جو اطاعت کا حکم ہے وہ خدا تعالیٰ ہی کی اطاعت کا حکم ہے کیونکہ
اصلی اطاعت اُسی کی ہے مگر والدین مرشد و ہادی اور بادشاہِ وقت کی اطاعت کا حکم بھی خدا ہی نے دیا ہے اور اطاعت کا فائدہ یہ ہوگا کہ خنّاس کے قابو سے بچ جاؤ گے۔ پس پناہ مانگو کہ خنّاس کی وسوسہ اندازی کے شر سے محفوظ رہو کیونکہ مومن ایک ہی سوراخ سے دو مرتبہ نہیں کاٹا جاتا۔ ایک بار جس راہ سے مصیبت آئے دوبارہ اُس میں نہ پھنسو۔ پس اِس سورۃ میں صریح اشارہ ہے کہ بادشاہ وقت کی اطاعت کرو۔ خنّاس میں خواص اسی طرح ودیعت رکھے گئے ہیں جیسے خدا تعالیٰ نے درخت اور پانی اور آگ وغیرہ چیزوں اور عناصر میں خواص رکھے ہیں۔ عصر کا لفظ اصل میں عَنْ سِرّ ہے۔ عربی میں ص اور س کا بدل ہو جاتا ہے۔ یعنی یہ چیز اسرار الٰہی میں سے ہے درحقیقت یہاں آ کر انسان کی تحقیقات رک جاتی ہے۔ غرض ہر ایک چیز خدا ہی کی طرف سے ہے خواہ وہ بسائط کی قسم سے ہو خواہ مرکبات کی قسم سے۔ جبکہ یہ بات یہ ہے کہ ایسے بادشاہوں کو بھیج کر اُس نے ہزار ہا مشکلات سے ہم کو چھڑایا اور ایسی تبدیلی بخشی کہ ایک آتشی تنور سے نکال کر ایسے باغ میں پہنچا دیا جہاں فرحت افزا پودے ہیں اور ہر طرف ندیاں جاری ہیں اور ٹھنڈی خوشگوار ہوائیں چل رہی ہیں پھر کس قدر ناشکری ہوگی اگر کوئی اس کے احسانات کو فراموش کر دے۔ خاص کر ہماری جماعت کو جس کو خدا نے بصیرت دی ہے اور اُن میں فی الحقیقت نفاق نہیں ہے کیونکہ انہوں نے جس سے تعلق پیدا کیا ہے اُس میں ذرہ بھر نفاق نہیں شکر گذاری کا بڑا عمدہ نمونہ بننا چاہیے۔
اور مجھے کامل یقین ہے کہ میری جماعت میں نفاق نہیں ہے اور میرے ساتھ تعلق پیدا کرنے میں اُن کی فراست نے غلطی نہیں کی اس لئے کہ میں درحقیقت وہی ہوں جس کے آنے کو ایمانی فراست نے ملنے پر متوجہ کیا ہے اور خدا تعالیٰ گواہ اور آگاہ ہے کہ میں وہی صادق اور امین اور موعود ہوں جس کا وعدہ ہمارے سیّد و مولیٰ صادق و مصدوق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے دیا گیا تھا اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جنہوں نے مجھ سے تعلق پیدا نہیں کیا وہ اس نعمت سے محروم ہیں۔ فراست گویا ایک کرامت ہے یہ لفظ فراست بفتح فا بھی ہے اور بکسر فا بھی جب زبر کے ساتھ ہو تو اس کے معنی ہیں گھوڑے پر چڑھنا۔ مومن فراست کے ساتھ اپنے نفس کا چابک سوار ہوتا ہے خدا کی طرف سے اُس کو نور ملتا ہے جس سے وہ راہ پاتا ہے اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اتقوا فراسة المؤمن فانه ينظر بنور اللہ ۔ یعنی مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ غرض ہماری جماعت کی فراست حقہ کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے خدا کے نور کو شناخت کیا۔ اِسی طرح میں امید رکھتا ہوں کہ ہماری جماعت عملی حالت میں بھی ترقی کرے گی کیونکہ وہ منافق نہیں ہے اور وہ ہمارے مخالفوں کے اس طرز عمل سے بالکل پاک ہے کہ جب حکام سے ملتے ہیں تو اُن کی تعریفیں کرتے ہیں اور جب گھر میں آتے ہیں تو کافر بتلاتے ہیں۔ اے میری جماعت سنو اور یاد رکھو کہ خدا اِس طرز عمل کو پسند نہیں فرماتا۔ تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو اور محض خدا کے لئے رکھتے ہو۔ نیکی کرنے والوں کے ساتھ نیکی کرو اور بدی کرنے والوں کو معاف کرو۔ کوئی شخص صدیق نہیں ہو سکتا جب تک وہ یک رنگ نہ ہو۔ جو منافقانہ چال چلتا ہے اور دورنگی اختیار کرتا ہے آخر وہ پکڑا جاتا ہے۔ مثل مشہور ہے۔ دروغگو را حافظہ نباشد۔
اس وقت میں ایک اور ضروری بات کہنی چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ سلاطین کو اکثر مہمیں پیش آتی ہیں اور وہ بھی رعایا ہی کے بچاؤ اور حفاظت کے لئے ہوتی ہیں تم نے دیکھا ہے کہ ہماری گورنمنٹ کو سرحد پر کئی بار جنگ کرنی پڑی ہے گو سرحدی لوگ مسلمان ہیں مگر ہمارے نزدیک وہ حق پر نہیں ہیں۔ اُن کا انگریزوں کے ساتھ جنگ کرنا کسی مذہبی حیثیت اور پہلو سے درست نہیں ہے اور نہ وہ حقیقتاً مذہبی پہلو سے لڑتے ہیں کیا وہ یہ عذر کر سکتے ہیں کہ گورنمنٹ نے مسلمانوں کو آزادی نہیں دے رکھی؟ بے شک دے رکھی ہے اور ایسی آزادی دے رکھی ہے جس کی نظیر کابل اور نواح کابل میں رہ کر بھی نہیں مل سکتی۔ امیر کے حالات اچھے سننے میں نہیں آتے ان سرحدی مجنونوں کے لڑنے کی کوئی وجہ بجز پیٹ بھرنے کے نہیں ہے دس بیس روپے مل جائیں تو اُن کا غازی پن غرق ہو جاتا ہے یہ لوگ ظالم طبع ہیں اور اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔ اِسلام بادشاہِ وقت اور محسن کے حقوق قائم کرتا ہے یہ دنی الطبع لوگ اپنے پیٹ کی خاطر حدود اللہ کو توڑتے ہیں اور اُن کی رذالت اور سفاہت اور سفاکی کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ ایک روٹی کے لئے بہ آسانی ایک انسان کا خون کر دیتے ہیں ایسا ہی آجکل ہماری گورنمنٹ کو ٹرینسوال کی ایک چھوٹی سی جمہوری سلطنت کے ساتھ مقابلہ ہے وہ سلطنت پنجاب سے بڑی نہیں ہے اور یہ سراسر اُس کی حماقت ہے کہ اُس نے اس قدر بڑی سلطنت کے ساتھ مقابلہ شروع کیا ہے لیکن اس وقت جبکہ مقابلہ شروع ہو گیا ہے ہر ایک مسلمان کا حق ہے کہ انگریزوں کی کامیابی کے لئے دعا کرے۔ ہم کو ٹرنسوال سے کیا غرض جس کے ہزاروں ہم پر احسان ہیں ہمارا فرض ہے کہ اس کی خیر خواہی کریں۔ ایک ہمسایہ کے اتنے حقوق ہیں کہ اُس کی تکلیف سن کر اُس کا پتّہ پانی ہو جاتا ہے تو کیا اب ہمارے دلوں کو سرکار انگلشیہ کے وفادار سپاہیوں کے مصائب پڑھ کر صدمہ نہیں پہنچتا۔ میرے نزدیک وہ بڑا سیاہ دل ہے جسے گورنمنٹ کے دکھ اپنے دکھ معلوم نہیں ہوتے۔ یاد رکھو جذام کئی قسم کے ہوتے ہیں ایک جذام جسم کو لگ جاتا ہے جس کو کوڑھ کہتے ہیں اور ایک جذام روح کو لگ جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کو عادت بد ہو جاتی ہے۔
کہ لوگوں کی بدی سے خوش اور بھلائی سے رنج کرتا ہے چنانچہ اس قسم کا ہمارے ہاں ایک شخص بازار میں رہا کرتا تھا اگر کوئی مقدمہ کسی پر ہو جاتا تو پوچھا کرتا تھا کہ مقدمہ کی کیا صورت ہے اگر کسی نے کہہ دیا کہ وہ بَری ہوگیا یا اچھی صورت ہے تو اُس پر آفت آ جاتی اور چپ ہو جاتا اور اگر کوئی کہہ دیتا کہ فرد قرار داد جرم لگ گئی تو بہت خوش ہوتا اور اُس کو پاس بٹھا کر سارا قصہ سنتا۔ غرض بعض آدمیوں کی فطرت میں بداندیشی کا مادہ ہوتا ہے کہ وہ بری خبریں سننا چاہتے ہیں اور لوگوں کی برائی پر خوش ہوتے ہیں کیونکہ شیطان کی سیرت اُن کے اندر ہوتی ہے پس بدخواہی کسی انسان کی بھی اچھی نہیں چہ جائیکہ محسن ہو۔ لہذا میں اپنی جماعت کو کہتا ہوں کہ وہ ایسے لوگوں کا نمونہ اختیار نہ کریں بلکہ پوری ہمدردی اور سچی خیر خواہی کے ساتھ برٹش گورنمنٹ کی کامیابی کے لئے دعا کریں اور عملی طور پر بھی وفاداری کے نمونے دکھائیں۔ ہم یہ باتیں کسی صلہ یا انعام کی خاطر نہیں کرتے ہم کو صلہ اور انعام اور دنیوی خطابات سے کیا غرض۔ ہماری نیات کو علیم خدا خوب جانتا ہے کہ ہمارا کام محض اُس کے لئے اور اُسی کے امر سے ہے۔ اُسی نے ہم کو تعلیم دی ہے کہ محسن کا شکر کرو ہم اِس شکر گذاری میں اپنے مولیٰ کریم کی اطاعت کرتے ہیں اور اُسی سے انعام کی امید رکھتے ہیں سو تم جو میری جماعت ہو اپنی محسن گورنمنٹ کی خوب قدر کرو۔
اب میں چاہتا ہوں کہ ٹرنسوال کے جنگ کے لئے ہم دعا کریں۔ فقط
اُس کے بعد حضرت اقدس نے نہایت جوش اور خلوص کے ساتھ دعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے اور سب حاضرین نے جن کی تعداد ایک ہزار سے متجاوز تھی دعا کی اور بہت دیر تک فتح اور کامیابی کے لئے دعا کی گئی بعد ازاں حضرت اقدس نے تجویز فرمائی کہ زخمیانِ سرکارِ برطانیہ کے لئے چندہ بھی بھیجنا ضروری ہے۔ جس کے لئے ایک اشتہار بھی شائع کیا گیا جو حسب ذیل ہے۔
راقم مرزا خدا بخش از قادیان
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ نَحمدہٗ وَنُصلّی عَلٰی رَسُوْلہ الکریم
چونکہ مسلمانانِ ہند پر علی العموم اور مسلمانان پنجاب پر بالخصوص گورنمنٹ برطانیہ کے بڑے بڑے احسانات ہیں۔ لہٰذا مسلمان اپنی اِس مہربان گورنمنٹ کا جس قدر شکریہ ادا کریں اتنا ہی تھوڑا ہے کیونکہ مسلمانوں کو ابھی تک وہ زمانہ نہیں بھولا جبکہ وہ سکھوں کی قوم کے ہاتھوں ایک دہکتے ہوئے تنور میں مبتلا تھے اور اُن کے دستِ تعدّی سے نہ صرف مسلمانوں کی دنیا ہی تباہ تھی بلکہ اُن کے دین کی حالت اس سے بھی بدتر تھی۔ دینی فرائض کا ادا کرنا تو در کنار بعض اذان نماز کہنے پر جان سے مارے جاتے تھے۔ ایسی حالت زار میں اللہ تعالیٰ نے دور سے اس مبارک گورنمنٹ کو ہماری نجات کے لئے ابرِ رحمت کی طرح بھیج دیا جس نے آن کر نہ صرف ان ظالموں کے پنجہ سے بچایا بلکہ ہر طرح کا امن قائم کر کے ہر قسم کے سامان آسائش مہیا کئے اور مذہبی آزادی یہاں تک دی کہ ہم بلا دریغ اپنے دین متین کی اشاعت نہایت خوش اسلوبی سے کر سکتے ہیں۔ ہم نے عید الفطر کے موقع پر اس مضمون پر مفصل تقریر کی تھی جس کی مختصر کیفیت تو انگریزی اخباروں میں جا چکی ہے اور باقی مفصل کیفیت عنقریب حبّی فی اللّٰہ مرزا خدا بخش صاحب شائع کرنے والے ہیں ہم نے اس مبارک عید کے موقع پر گورنمنٹ کے احسانات کا ذکر کر کے اپنی جماعت کو جو اس گورنمنٹ سے دِلی اخلاص رکھتی ہے اور دیگر لوگوں کی طرح منافقانہ زندگی بسر کرنا گناہ عظیم سمجھتی ہے توجہ دلائی کہ سب لوگ تہ دل سے اپنی مہربان گورنمنٹ کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس جنگ میں جو ٹرانسوال میں ہو رہی ہے فتح عظیم بخشے اور نیز یہ بھی کہا کہ حق اللہ کے بعد اسلام کا اعظم فرض ہمدردی خلائق ہے اور بالخصوص ایسی مہربان گورنمنٹ کے خادموں سے ہمدردی کرنا کار ثواب ہے جو ہماری جانوں اور مالوں اور سب سے بڑھ کر ہمارے دین کی محافظ ہے۔ اس لئے ہماری جماعت کے لوگ جہاں جہاں ہیں اپنی توفیق اور مقدور کے موافق سرکار برطانیہ کے اُن زخمیوں کے واسطے جو جنگ ٹرانسوال میں مجروح ہوئے ہیں چندہ دیں۔ لہٰذا بذریعہ اشتہار ھٰذا اپنی جماعت کے لوگوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ہر ایک شہر میں فہرست مکمل کر کے اور چندہ کو وصول کر کے یکم مارچ سے پہلے مرزا خدا بخش صاحب کے پاس بمقام قادیان بھیج دیں کیونکہ یہ ڈیوٹی ان کے سپرد کی گئی ہے۔ جب آپ کا روپیہ معہ فہرستوں کے آجائے گا تو اس فہرست چندہ کو اُس رپورٹ میں درج کیا جائے گا جس کا ذکر اُوپر ہو چکا ہے ہماری جماعت اِس کام کو ضروری سمجھ کر بہت جلد اس کی تعمیل کرے۔ وَالسَّلام
راقم میرزا غلام احمد از قادیان۔۱۰؍فروری ۱۹۰۰ء
۱۰؍فروری کے اشتہار میں یہ خواہش ظاہر کی گئی تھی کہ روئیداد کے ساتھ فہرست اسمائے چندہ دہندگان شائع کی جائے گی لیکن چونکہ روئیداد کی ضخامت بڑھ گئی ہے لہٰذا حضرت امام ہمام ہادیٔ انام مناسب نہیں سمجھتے کہ فہرست شائع کی جائے۔ بڑی رقوم صرف معدودے چند اصحاب کی طرف سے موصول ہوئی ہیں اور باقی بہت قلیل رقوم ہیں چنانچہ بڑی سے بڑی رقم ۱۵۰ کی ہے جو نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کی طرف سے آئی ہے اور چھوٹی سے چھوٹی رقم ۳ پائی تک ہے۔
چونکہ حضرت اقدس جناب مسیح موعود علیه الصَّلٰوة والسَّلام روپے کے بھیجنے میں زیادہ توقف پسند نہیں فرماتے ہیں اس لئے تاریخ مقررہ اشتہار کی انتظار کر کے پانسو روپے کی رقم جناب چیف سیکرٹری گورنمنٹ پنجاب کی خدمت میں ارسال کر دی گئی چنانچہ جو رسید صاحب بہادر موصوف کی طرف سے آئی ہے وہ آگے ہم درج کرتے ہیں۔ لیکن پیشتر اس کے کہ ہم رسید لکھیں اس امر کا ظاہر کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ حضرت اقدس ان لوگوں پر جنہوں نے اپنی اپنی استطاعت اور حیثیت کے مطابق زخمیان و بیوگان و یتیمان سرکار برطانیہ کی ہمدردی اور امداد کی ہے بہت ہی خوش ہوئے ہیں اور مبارکی ہے اُن لوگوں کو جنہوں نے امامِ برحق کے ارشاد کی تعمیل کر کے نہ صرف اپنے پیرو مرشد کو خوش کیا بلکہ حقیقی مالک الملک اور مجازی حکام کی خوشنودی کے باعث ہوئے کیونکہ زمین و آسمان کے بادشاہ نے اِس کتاب پاک میں جو اہل اسلام کے ہاتھ میں ہے حق اللہ کے بعد حق العباد کے ملحوظ رکھنے کا سخت حکم فرمایا ہے اور بنی نوع انسان کی ہمدردی کو اپنی خوشنودی اور رضامندی کا سبب ٹھہرایا ہے خواہ وہ انسان کسی مذہب اور کسی ملت کا ہو خواہ وہ مشرق کا ہو یا مغرب کا سب کی ہمدردی کا حکم فرمایا ہے اور پھر جو محسن ہو اور ہمارے حقوق کی حفاظت کرتا ہو اُس کی ہمدردی بدرجہ اولیٰ ضروری ہے۔ اس سرکار برطانیہ سے بڑھ کر کون زیادہ محسن اور خیر خواہ ہے جس نے اسلام والوں کی بہت سے موقعوں پر مدد کی ہے اور خطرناک اور جانکاہ مصائب سے نجات دے کر کنارِ امن و عافیت میں جگہ دی ہے۔
جو چندہ کہ اس غریب جماعت کی طرف سے بھیجا گیا تھا وہ عالی شان گورنمنٹ کے مقابلہ میں ایک نہایت ہی قلیل تھا لیکن اُس عالی حوصلہ گورنمنٹ نے اس کو بڑی عزت کے ساتھ قبول فرمایا اور مزید براں مسرت بھی ظاہر کی۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو حکام وقت کی خوشی اور غمی میں شریک ہو کر مراتب حاکمانہ و محکومانہ کو مد نظر رکھتے ہیں اور کیا ہی بلند حوصلہ اور عالی شان ہے وہ گورنمنٹ جو اپنی رعایا کے غریبانہ چندوں اور مبارک بادیوں کو عظمت اور عزّت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ کیا یہ کم قدر افزائی کی بات ہے کہ پانسو کی ذلیل رقم پر جناب نواب لفٹنٹ گورنر صاحب بہادر بالقابہ نے خوشنودی کی رسید ارسال فرمائی اور فتوحات افریقہ جنوبی پر مبارک بادی کی تار دینے پر جناب امام ہمام ہادی انام کو عالی جناب نواب گورنر جنرل وائسرائے بہادر بالقابہ اور جناب لاٹ صاحب پنجاب نے اپنی اپنی چٹھیات میں مسرت ظاہر فرمائی اور شکریہ ادا کیا ہے۔ بہرحال یہ گورنمنٹ قابل شکر گذاری ہے خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ کو جو امن اور آزادی کی حامی ہے دیر پا رکھے اور اس کو آسمانی بادشاہت سے حصہ وافر عطا فرمائے۔
اب تینوں چٹھیوں کا ترجمہ ذیل میں درج کرتے ہیں تاکہ ناظرین ان کو پڑھ کر مسرت حاصل کریں۔
از طرف جے۔ ایم۔ سی۔ ڈوئی صاحب بہادر آئی۔ سی۔ ایس قائم مقام چیف سیکرٹری گورنمنٹ پنجاب۔
بخدمت مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان ضلع گورداسپور مورخہ ۲۶؍مارچ ۱۹۰۰ء از مقام لاہور۔
صاحب من! نواب لفٹنٹ گورنر صاحب بہادر کی طرف سے ہدایت ہوئی ہے کہ ہم آپ کو اطلاع دیں کہ جو فیاضانہ عطیہ تعدادی ۵۰۰ روپیہ کا آپ کے اور آپ کے مریدوں کی جانب سے سرکار برطانیہ کے جنوبی افریقہ کے بیمار اور زخمی بھائیوں کی امداد کے لئے بھیجا ہے وہ پہنچ گیا ہے اور صاحبان کنگ کنگ کمپنی کو بمبئی میں بھیج دیا گیا ہے۔
راقم آپ کا نہایت ہی فرمانبردار سروینٹ جے۔ ایم۔ ڈوئی قائم مقام چیف سیکرٹری گورنمنٹ پنجاب۔
مورخہ ۹؍مارچ ۱۹۰۰ء از مقام لاہور
از جانب ڈبلیو۔ آر۔ ایچ مرک صاحب سی۔ ایس۔ آئی۔ قائم مقام چیف سیکرٹری گورنمنٹ پنجاب
بخدمت مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان ضلع گورداسپور
صاحب من! مجھے نواب لفٹنٹ گورنر صاحب بہادر کی جانب سے ہدایت ہوئی ہے کہ آپ کو اطلاع دوں کہ وہ آپ کو اس مبارک بادی کے عوض میں جو آپ نے ان فتوحات کی نسبت دی ہے جو سرکار برطانیہ کو جنوبی افریقہ میں نصیب ہوئی ہیں مسرت آمیز شکریہ ادا کرتے ہیں۔
آپ کا نہایت ہی فرمانبردار سروینٹ ڈبلیو مرک صاحب قائم مقام چیف سیکرٹری گورنمنٹ پنجاب
از جانب ڈبلیو۔ آر۔ ایچ مرک صاحب بہادر سی۔ ایس۔ آئی قائم مقام چیف سیکرٹری گورنمنٹ پنجاب
بخدمت مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان ۔ مورخہ ۲۱؍مارچ ۱۹۰۰ء از مقام لاہور
صاحب من! مجھے اِس امر کی ہدایت کی گئی ہے کہ آپ کو اِطلاع دوں کہ گورنمنٹ ہند نے بڑی مسرت کے ساتھ آپ کی مبارک بادی کو جو آپ نے سرکار برطانیہ کی اُن فتوحات پر دی ہے جو جنوبی افریقہ میں سرکار موصوف کو حاصل ہوئی ہیں قبول فرمایا ہے۔
آپ کا نہایت ہی فرمانبردار سروینٹ ڈبلیو مرک صاحب قائم مقام چیف سیکرٹری گورنمنٹ پنجاب
نمبر ۳۰؍مورخہ ۱۸؍اپریل ۱۹۰۰ء
مرزا غلام احمد صاحب ساکن قادیان ضلع گورداسپور کے پاس رسید بجنسہ بذیل چٹھی دفتر ہذا نمبری ۲۳۴ مورخہ ۲۶؍مارچ ۱۹۰۰ء بھیجی جائے
بحکم صاحب انڈر سکرٹری گورنمنٹ پنجاب دستخط صاحب انڈر سکرٹری
ترجمہ رسید انگریزی ڈی نمبر ۱۴۳۸۔ لارڈ مئر کا فنڈ
جو ٹرانسوال کی بیواؤں یتیموں اور زخمیوں کی امداد کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ از مقام بمبئی مورخہ ۳۱ مارچ ۱۹۰۰ء مرزا غلام احمد ساکن قادیان ضلع گورداسپور اور اس کے مریدوں کی طرف سے ایک رقم تعدادی پانچ سو روپیہ وصول ہوئی۔ چندہ ہذا جو مذکورہ بالا فنڈ کے لئے ہے۔ بسبیل مناسب رائٹ آنریبل لارڈ میئر صاحب بہادر کی خدمت میں مرسل ہو۔
دستخط خزانچی کنگ کنگ کمپنی
مرتبہ مرزا خدا بخش از قادیان
حمد بیحد مر جناب حضرت پروردگار
آنکہ در ہر مظہرے شد حسن رویش آشکار
بر مظاہر از صفات خویشتن پر تو فگند
بہر تکمیل وجود ما بروئے روزگار
در وجود و در بقا ہم در قیام زندگی
حسب حاجت داد ما را جملہ ساماں بیشمار
ہرچہ می بایست ما را بہر جسم و نیز جاں
خود مہیّا کرد از رحمت پئے ما کردگار
آفتاب و ماہ پرویں ایں زمین و آسماں
خورد و پوش دل پسند و میوہائے خوشگوار
ایں ہوائے خوش کہ ہر دم می وزد از لطف او
ایں ہمہ گلزار و لالہ آب ہائے آبشار
ایں ہمہ از رحمت و از لطف ذات کبریا
بے عنایاتش زمانہ میشود تاریک و تار
در حقیقت ہر ثنائے ذاتِ حق را می سزد
آنکہ خوبیہائے لطفش ہست بحر بے کنار
از سرِ فضل و عنایت حکمت و شان بلند
در مظاہر جلوہ گر شد رحمتش بر روزگار
از ربوبیت رُخ خود وانمود از مظہرے
تا کہ گردد بہر جسم و جان ما او فیض بار
ایں وجود والدیں ظِلّے زِ ربّ النّاس ہم
زیں سبب فرزند را مادر گرفتہ در کنار
از پئے تکمیل اخلاق بشر نکتہ شنو
بر مظاہر کن نظر یاد آر ذات کردگار
شکر یزدانست شکر مظہر الطاف او
از سرِ ایمان من لم یشکر النّاس یاد آر
گفت حق اے مومناں با والدین احساں کنید
زیں حقیقت رازِ احساں بر جہاں شد آشکار
رہنمائے دین و توحید خدائے لَمْ یَزَل
از پئے ارواح ما شد مظہر پروردگار
ایں زماں آں آفتاب از مطلع ہندوستاں
سر بر آوردہ بعالم چوں خور نصف النہار
چوں زِ من آید ثنائے آں شہ عالی جناب
من چہ دانم وصف حسن روئے آں عالی تبار
سیّد ما رہبر ما پیشوائے ملک دیں
عاشق روئے محمدؐ ہر زماں شوریدہ وار
می دمد از رُوئے پاکش بوئے دلدارِ ازل
از سر گیسوئے مشکینش وزد مُشکِ تتار
بر جہاں رخشید چوں ایں نیّر عالم فروز
آب حیواں بہر ایماں شد رواں در جوئبار
از نسیم نورِ ایماں تازہ شد گلزارِ دل
بر دماغِ پاک طبعاں می وزد بادِ بہار
در گلستانِ محمد نالہ زد ایں عندلیب
باغ دیں ویران گشتہ بازش آوردہ بہار
بلبلے در روضۂ قدس است ایں فرخندہ خو
از فغانش قدسیاں را چشم دل شد اشکبار
در مقام قرب یزداں پائے او بالا رسید
از مئے عشق محمد شد ز خود بے اختیار
حق بنعمت ہائے خویشش در جہاں ممتاز کرد
شد وجیہ درگہ آں عالم ذوالاقتدار
در مقامِ قادیان از آسماں آمد فرود
بر زمین مردہ بارید ایں زماں ابر بہار
از پئے تصدیق او از آسماں آمد نِدا
مہر و ماہ ماہِ رمضاں نیز نجمِ تاجدار
عیسیٔ فرخ سیر ہم مہدی آخر زماں
آمدہ از بہرِ تردید خیال کارزار
از پئے سرکوبیٔ ایں غازیان جنگ جو
آنکہ شد اسلام از کردارِشاں بس شرمسار
ایں امامِ وقت آمد تا زِ صدق و راستی
رازِ ایماں بر جہانے می نماید آشکار
گفت ملک النّاس در قرآں خدائے ذوالمنن
ایں اشارہ ہست ظاہر بر وجود شہریار
در جہاں بہر خلائق بادشاہ دادگر
از عنایاتِ خدا شد ظلّ لطف کردگار
ہر کہ شکر شاہ عادل را نمی آرد بجا
منکر آلائے حق باشد ذلیل و نیز خوار
آں نبی پاکباز و تاجدارِ انبیاء
عہد کسریٰ را عطا فرمود عزّ و افتخار
نیکوئی با نیکواں فرمودۂ ذاتِ کریم
بدروی ساز و بہ نیکاں بدسگال و بدشعار
حق شناسی فرض باشد بہر مخلوق خدا
کافر آلائے حق ماوائے او بئس القرار
الغرض در عہد پاک ایں شہ ہندوستاں
آنکہ از احسانِ او بادِ خزاں را شد بہار
ہر طرف گسترد ظِلِّ معدلت ایں سلطنت
ایں زماں آمد بدنیا نیز مہدی کامگار
ہست گورنمنٹ بر ما سایۂ یزدان پاک
یاد باید کرد عہد ظالمانِ نابکار
ہر کہ وارد عہد سکھاں ظلم اوشاں در نظر
تا چہ میکردند جور و ہم ستمہا بے شمار
آفتے برپا ہمی شد از پئے بانگ نماز
از پئے یک گاؤ مردم را بسوزندے بنار
از تظلم ہائے شاں دنیا شبے تاریک بود
ناگہاں آمد ز مطلع بادشاہ نور بار
ایں مبارک سلطنت چوں سایۂ بر ما فگند
ناگہاں از لطف حق شد لیل ما مثل نہار
شد مہیا امن و دولت از وجود سلطنت
از پئے ایماں ز بالا نیز آمد شہسوار
آں خداوندش پئے اتمام حجت از سما
داد گنجے از معارف نیز تیغِ آبدار
از سنان آسماں دجال اعور را بکشت
شد مصیر آتھم یک چشم چوں دار البوار
کشتہ شد از تیغ بُرّاں لیکھرام بدگہر
آریاں بدسیر زاں روز از حق شرمسار
بہر امداد وکیل بدزباں طاقت نہ بود
در وجود مُردۂ آں ایشر بے اختیار
از درخت روضہ قدس است شاخی ایں جواں
باغبانش آب دادہ شد درخت میوہ دار
از حماقت میزند ہر کو کہ بر پایش تبر
پائے خود را بشکند جانش ہمی سوزد بنار
در جبینش نور حق تابد مدام از راستی
موئے مشکیں بوئے او شد در جہانے عطربار
در دِلم جو شد ثنائے آں مہ بدرالدجیٰ
لیک در گفتن نیاید شرح بحر بے کنار
ایں غلام آں شہِ خوباں کہ نامش مصطفیٰ
آنکہ از توحید یزداں زد تبر بر پائے دار
کرد ثابت بر جہاں عجز بت نصرانیاں
میّتِ دیرینہ روئے خود نمود از خانیار
عندلیب خوشنوا در روضہ قدس و جلال
نالہ زن از عشق یزداں آمدہ بر شاخسار
پہلوانِ آسمانی باکمال عزّ و شاں
قدسیاں در خدمت او بریمین و بر یسار
کارہائے طاقتِ حق از خدائے وا نمود
بر دریدہ پردہائے منکرین جیفہ خوار
کس بمیدانش نمی آید بروں بہر دغا
دشمناں عوعوکنان و جاگزین در کنج غار
بر در و دیوار عالم سخت لرزہ اوفتاد
چوں بمیدان وغا یک نعرہ زد ایں نامدار
صدر بزم و پیشوا او رہنمائے مؤمنین
از پئے تائید دین آمد نشانے استوار
از فیوضِ آسماں آراستہ دارالاماں
شد منوّر خلق و عالم نیز از گرد و جوار
از سرصدق و صفا شد خیر خواہ سلطنت
نے بمکر و چاپلوسی بل بحکم کردگار
زانکہ فرمودہ است یزداں نیکوئی با نیکواں
زیں سخن پیچد سرخود جاہل آشفتہ کار
جاہل مسجد نشیں برما ملامت می کند
از برائے خیر خواہی با شہان باوقار
ما نمی ترسیم از غوغائے ایں سگ سیرتاں
از نفاق و بدروی داریم شرم و ننگ و عار
از خدا خواہیم اقبال شہ ہندوستاں
باچنیں ناپاک طبعانِ جہاں ما را چہ کار
یا الٰہ النّاس ہر دم جستہ مے باید پناہ
از زیان دشمن جانی کہ باشد مثل مار
اے خدائے ملک و عالم وے پناہ صادقاں
برزمین راست بازاں ابر رحمت را ببار
آن خبیثانی کہ پیچیدند از حق روئے خویش
آتش افشاں برسرشاں بیخ ناپاکاں برآر
کُن نظر برحال زارم از عنایت ہا نواز
از مئے عشق امام عالم مخمور دار
آن مسیح قادیانی عاشق خیر الورا
رحمت حق بر روانش باد اندر ہر دو دار