ماہ اگست ۱۹۰۹ء
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّى عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰہِ بِاَفۡوَاہِہِمۡ
یہ لوگ ارادہ کر رہے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے مُنہ کی پھونکوں سے بجھا دیں اور خدا تو باز نہیں رہے گا جب تک کہ اپنے نور کو پورا نہ کرے اگر چہ کافر لوگ کراہت ہی کریں
ہم نے طاعون کے بارے میں جو رسالہ دافِعُ البَلاء لکھا تھا اُس سے یہ غرض تھی کہ تا لوگ متنبہ ہوں اور اپنے سینوں کو پاک کریں اور اپنی زبانوں اور آنکھوں اور کانوں اور ہاتھوں کو ناگفتنی اور نادیدنی اور ناشنیدنی اور ناکردنی سے روکیں اور خدا سے خوف کریں تا خدا تعالیٰ اُن پر رحم کرے اور وہ خوفناک وَبا جو اُن کے مُلک میں داخل ہو گئی ہے دُور فرمادے ۔ مگر افسوس کہ شوخیاں اور بھی زیادہ ہو گئیں اور زبانیں اور بھی دراز ہو گئیں ۔ اُنہوں نے ہمارے مقابل پر اپنے اشتہاروں میں کوئی بھی دقیقہ ایذا اور سبّ وشتم کا اُٹھا نہیں رکھا اور کسی قسم کی ایذا سے دستکش نہیں ہوئے مگر اُسی سے جس تک ہاتھ نہیں پہنچ سکا۔ لعنت اور سبّ وشتم میں وہ ترقی کی کہ شیعہ مذہب کے لوگوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا کیونکہ شیعہ نے تو اپنے خیال میں لعنت بازی کے فن کو حرف الف سے شروع کر کے حرف یا تک پہنچا دیا تھا یعنی ابوبکر سے یزید تک مگر یہ لوگ جو اہل حدیث اور حنفی کہلاتے ہیں انہوں نے اس کارروائی کو ناکامل سمجھ کر لعنت بازی کے دائرے کو اس طرح پر پورا کیا کہ جس شخص کو خدا نے آدم سے لے کر یسوع مسیح تک مظہر جمیع انبیاء قرار دیا تھا یعنی الف سے حرف یا تک اور پھر تکمیل دائرہ کی غرض سے الف آدم سے لے کر الف احمد تک صفت مظہریت کا خاتم بنایا تھا اُسی پر لعنتوں کی مشق کی ۔
وَسَیَعۡلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ(الشعراء: ۲۲۸)
لیکن یاد رکھیں کہ یہ گالیاں جو اُن کے مُنہ سے نکلتی ہیں اور یہ تحقیر اور یہ توہین کی باتیں جو اُن کے ہونٹھوں پر چڑھ رہی ہیں اور یہ گندے کاغذ جو حق کے مقابل پر وہ شائع کر رہے ہیں یہ اُن کے لئے ایک رُوحانی عذاب کا سامان ہے جس کو اُنہوں نے اپنے ہاتھوں سے طیار کیا ہے۔ دروغگوئی کی زندگی جیسی کوئی لعنتی زندگی نہیں۔ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اپنے منصوبوں سے اور اپنے بے بنیاد جھوٹوں سے اور اپنے افتراؤں سے اور اپنی ہنسی ٹھٹھے سے خدا کے ارادے کو روک دیں گے یا دنیا کو دھوکہ دے کر اس کام کو معرض التوا میں ڈال دیں گے جس کا خدا نے آسمان پر ارادہ کیا ہے۔ اگر کبھی پہلے بھی حق کے مخالفوں کو اِن طریقوں سے کامیابی ہوئی ہے تو وہ بھی کامیاب ہو جائیں گے۔ لیکن اگر یہ ثابت شدہ امر ہے کہ خدا کے مخالف اور اُس کے ارادہ کے مخالف جو آسمان پر کیا گیا ہو ہمیشہ ذلّت اور شکست اُٹھاتے ہیں تو پھر ان لوگوں کے لئے بھی ایک دن ناکامی اور نامرادی اور رُسوائی درپیش ہے خدا کا فرمودہ کبھی خطا نہیں گیا اور نہ جائے گا۔ وہ فرماتا ہے:۔
کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیۡ(المجادلة: ۲۲)
یعنی خدا نے ابتداء سے لکھ چھوڑا ہے اور اپنا قانون اور اپنی سنّت قرار دے دیا ہے کہ وہ اور اُس کے رسول ہمیشہ غالب رہیں گے ۔ پس چونکہ مَیں اُس کا رسول یعنی فرستادہ ہوں مگر بغیر کسی نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے بلکہ اُسی نبی کریم خاتم الانبیاء کا نام☆ پا کر اور اُسی میں ہو کر اور اُسی کا مظہر بن کر آیا ہوں ۔ اِس لئے مَیں کہتا ہوں کہ جیسا کہ قدیم سے یعنی آدم کے زمانہ سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک ہمیشہ مفہوم اس آیت کا سچا نکلتا آیا ہے ایسا ہی اب بھی میرے حق میں سچا نکلے گا ۔ کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ جس زمانہ میں ان مولویوں اور اُن کے چیلوں نے میرے پر تکذیب اور بد زبانی کے حملے شروع کئے اُس زمانہ میں میری بیعت میں ایک آدمی بھی نہیں تھا ۔ گو چند دوست جو انگلیوں پر شمار ہو سکتے تھے میرے ساتھ تھے ۔ اور اِس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے ستر ہزار کے قریب بیعت کرنے والوں کا شمار پہنچ گیا ہے کہ جو نہ میری کوشش سے بلکہ اُس ہَوا کی تحریک سے جو آسمان سے چلی ہے میری طرف دَوڑے ہیں ۔ اب یہ لوگ خود سوچ لیں کہ اس سلسلہ کے برباد کرنے کے لئے کس قدر انہوں نے زور لگائے اور کیا کچھ ہزار جان کا ہی کے ساتھ ہر ایک قسم کے مکر کئے یہاں تک کہ حکام تک جھوٹی مخبریاں بھی کیں خون کے جھوٹے مقدموں کے گواہ بن کر عدالتوں میں گئے اور تمام مسلمانوں کو میرے پر ایک عام جوش دلایا اور ہزار ہا اشتہار اور رسالے لکھے اور کفر اور قتل کے فتوے میری نسبت دئے ۔ اور مخالفانہ منصوبوں کے لئے کمیٹیاں کیں مگر ان تمام کوششوں کا نتیجہ بجز نامرادی کے اور کیا ہوا ۔ پس اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا تو ضرور اُن کی جان توڑ کوششوں سے یہ تمام سلسلہ تباہ ہو جاتا ۔ کیا کوئی نظیر دے سکتا ہے کہ اس قدر کوششیں کسی جھوٹے کی نسبت کی گئیں اور پھر وہ تباہ نہ ہوا بلکہ پہلے سے ہزار چند ترقی کر گیا ۔ پس کیا یہ عظیم الشان نشان نہیں کہ کوششیں تو اس غرض سے کی گئیں کہ یہ تخم جو بویا گیا ہے اندر ہی اندر نابود ہو جائے اور صفحۂ ہستی پر اس کا نام و نشان نہ رہے مگر وہ تخم بڑھا اور پھولا اور ایک درخت بنا اور اس کی شاخیں دور دور چلی گئیں اور اب وہ درخت اِس قدر بڑھ گیا ہے کہ ہزار ہا پرند اس پر آرام کر رہے ہیں۔ اور اس نشان کے ساتھ ایک عظیم الشان نشان یہ ہے کہ آج سے تیئیس برس پہلے براہین احمدیہ میں یہ الہام موجود ہے کہ لوگ کوشش کریں گے کہ اس سلسلہ کو مٹا دیں اور ہر ایک مکر کام میں لائیں گے مگر مَیں اس سلسلہ کو بڑھاؤں گا اور کامل کروں گا اور وہ ایک فوج ہو جائے گی ۔ اور قیامت تک اُن کا غلبہ رہے گا اور مَیں تیرے نام کو دنیا کے کناروں تک شہرت دُوں گا اور جَوق در جوق لوگ دُور سے آئیں گے اور ہر ایک طرف سے مالی مدد آئے گی ۔ مکانوں کو وسیع کرو کہ یہ طیاری آسمان پر ہو رہی ہے۔ اب دیکھو کس زمانہ کی یہ پیشگوئی ہے جو آج پوری ہوئی ۔ یہ خدا کے نشان ہیں جو آنکھوں والے ان کو دیکھ رہے ہیں مگر جو اندھے ہیں اُن کے نزدیک ابھی تک کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا۔
اِس صدی میں سے بیسواں سال بھی شروع ہو گیا مگر اُن کا مجدّد اب تک نہ آیا ۔ آسمان نے رمضان کے کسوف خسوف سے گواہی دی اور یہ گواہی نہ صرف سُنیوں کی کتاب دار قُطنی میں درج ہے بلکہ شیعوں کی کتاب اکمال الدین نے بھی جو نہایت معتبر سمجھی جاتی ہے۔ یہی حدیث کسوف و خسوف کی مہدی موعود کی علامت لکھی ہے مگر پھر بھی ان لوگوں نے صریح بے ایمانی سے اِس حدیث کو بھی ردّ کر دیا۔ کیا باوجود اتفاق دو فرقوں کے پھر بھی یہ حدیث صحیح نہیں؟ ایسا ہی طاعون کی حدیث کتاب اکمال الدین میں بھی موجود ہے اور سُنیوں کی کتابوں میں بھی کہ مسیح کے زمانہ میں طاعون پھیلے گی ۔ مگر افسوس کہ ان لوگوں کے نزدیک یہ نشان بھی کچھ نشان نہیں ۔ صلیبی جوش کی حالت موجودہ نے بھی تقاضا کیا کہ آسمان سے کوئی ایسا پیدا ہو کہ جو اس فتنہ کو فرو کرے مگر اُن کے نزدیک ابھی کچھ حرج نہیں ایسا ہی خدا تعالیٰ نے اس اپنے بندہ کی تائید میں ڈیڑھ سو کے قریب نشانات دکھلائے جس کے مُلک میں لاکھوں انسان گواہ ہیں جو عنقریب ایک نقشہ کی صورت میں شائع کئے جائیں گے مگر ان لوگوں کے نزدیک اب تک کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا اب نہ معلوم یہ نشان کس کو کہتے ہیں؟ اس کا جواب خدائے قادر خود ہی دے گا کیونکہ اگر وہ ارادہ کرے تو بڑے سے بڑے کج طبع کو قائل کر سکتا ہے۔ چونکہ اس رسالہ میں اختصار منظور ہے اس لئے ہم اس سے زیادہ لکھنا نہیں چاہتے ہمارا اور اِن لوگوں کا آسمان پر مقدمہ دائر ہے۔ وہ حقیقی بادشاہ جو آسمان اور زمین کا مالک ہے وہ ایک دن اس مقدمہ کو فیصلہ کر دے گا۔ یہ بات ہر ایک راستباز کے نزدیک مسلّم ہے کہ دو گروہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ضرور لعنتی زندگی رکھتے ہیں ۔ (۱) اوّل وہ شخص اور اُس کی جماعت جو خدا تعالیٰ پر افترا کرتے ہیں اور جھوٹ اور دجّالی طریق سے دنیا میں فساد اور پھوٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔ (۲) دُوسرے وہ گروہ جو ایک سچے منجانب اللہ کی تکذیب اور تحقیر کرتے ہیں۔ اس کا زمانہ پاتے ہیں اُس کے نشان دیکھتے ہیں اور اُس کی حجت کو اپنے پر سے اُٹھا نہیں سکتے مگر پھر بھی اُس کو ایذا دینے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں اور ہر ایک پہلو سے کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح اُس کو نابود کر دیں ۔ اب اس بات کا خدا سے بڑھ کر کس کو علم ہے کہ یہ دو گروہ جو اس وقت موجود ہیں یعنی مَیں اور میرے وہ مخالف جو مجھے گالیاں دیتے اور ہر ایک طور سے دُکھ پہنچاتے ہیں اور میری موت چاہتے ہیں۔ اِن دونوں گروہوں میں سے وہ گروہ کون ہے جس کی لعنتی زندگی ہے اور وہ گروہ کون ہے جس کو بہت برکتیں دی جائیں گی ۔ اِس راز کو بجز خدا کوئی نجومی نہیں جانتا نہ رمّال اور نہ کوئی قیافہ سے کام لینے والا ۔ یہ راز میرے خدائے قادر کا ایک سربستہ راز ہے۔ اسی راز کے انکشاف پر سب فیصلے ہو جائیں گے۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ پر اگر وہ خدا کی طرف سے ہے تو کیا خدا اس کو چھوڑ دے گا نہیں بلکہ وہ دن نزدیک ہیں جو خدا اپنے زبردست حملوں سے اُس کی سچائی ثابت کر دے گا۔ جہنم کے عذابوں میں سے کوئی عذاب حسرت جیسا نہیں۔ وہ حسرت جو سچے کے ردّ کرنے میں ہوتی ہے اور وقت گذر جاتا ہے۔ لیکن اب جس امر کے لکھنے کے لئے ہم نے ارادہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارا رسالہ دافع البلاء جو طاعون کے بارے میں شائع ہوا تھا اس کے مقابل پر ہمارے ظالم طبع مخالفوں نے طرح طرح کے افتراؤں سے کام لیا ہے اور اس قدر جھوٹ کی نجاست کھائی ہے کہ کوئی نجاست خور جانور اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گا ہمیں تعجب ہے کہ کہاں تک ان لوگوں کی نوبت پہنچ گئی کہ وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے اور سُنتے ہوئے نہیں سنتے اور سمجھتے ہوئے نہیں سمجھتے۔ اُن میں سے جھوٹ بولنے کا سرغنہ پیسہ اخبار کا ایڈیٹر ہے جو بارہا دروغ گوئی کی رسوائی اُٹھا چکا ہے اور پھر باز نہیں آتا ۔ وہ میری نسبت آپ ہی اقرار کرتا ہے کہ انہوں نے قادیان کے بارے میں صرف اِس قدر الہام شائع کیا ہے کہ اس میں تباہی ڈالنے والی طاعون نہیں آئے گی ہاں اگر کچھ کیس ہو جائیں جو موجب افراتفری نہ ہوں تو یہ ہو سکتا ہے اور پھر اپنے دوسرے پرچوں میں فریاد پر فریاد کر رہا ہے کہ قادیان میں طاعون آ گئی۔ اگر اس کی فطرت کو ایمانداری اور انصاف اور شرم میں سے کچھ حصہ ہوتا تو اس فضول بحث کا نام ہی نہ لیتا۔ کیونکہ اگر قادیان میں بباعث عام بخار کے جو موسمی تھا دو تین آدمی مر بھی گئے تو کس ڈاکٹر نے تصدیق کی تھی کہ وہ طاعون ہے۔ کیا قادیان کے احمق اور جاہل اور کمینہ طبع بعض آریہ یا اور کوئی اُن کا ہم مادہ جو حق اور سچائی سے دِلی کینہ رکھتے ہیں اور اُن کی کھوپری میں یہ عقل ہی نہیں جو طاعون کس کو کہتے ہیں اُن کی شرارت آمیز کسی تحریر سے یہ ثابت ہو گیا جو قادیان میں طاعون پھوٹ پڑی اُن کے ایمان اور دیانت پر خود طاعون کا پھوڑا نکلا ہوا ہے جس سے جان بری مشکل ہے۔ ماسوا اِس کے اگر ایڈیٹر پیسہ اخبار کو دیانت اور سچائی سے کچھ غرض ہوتی تو اس کو ثابت کرنا چاہیے تھا کہ کس طرح اشتہار یا رسالہ میں ہم نے یہ بھی لکھا ہے کہ قادیان میں کبھی طاعون نہیں آئے گی اور کبھی ایک کیس بھی نہ ہوگا بلکہ رسالہ دافع البلاء جو پانچ ہزار شائع کیا گیا ہے اس کے صفحہ ۵ کے حاشیہ میں بتصریح تمام یہ عبارتیں لکھی گئی ہیں اور وہ یہ ہیں :۔
طاعون کی قسموں میں سے وہ طاعون سخت بربادی بخش ہے جس کا نام طاعون جارف ہے یعنی جھاڑو دینے والی جس سے لوگ جا بجا بھاگتے ہیں اور کتوں کی طرح مرتے ہیں یہ حالت انسانی برداشت سے بڑھ جاتی ہے ( اور کم سے کم آبادی کا ایک عشر لیتی ہے ورنہ نصف تک یا تین حصے پانچ حصوں میں سے کھا جاتی ہے ) پس اس کلام الٰہی میں یہ وعدہ ہے کہ یہ حالت کبھی قادیان پر وارد نہیں ہوگی ۔ اسی کی تشریح دُوسرا الہام کرتا ہے لولا الاکرام لهلک المقام یعنی اگر مجھے اِس سلسلہ کی عزت ملحوظ نہ ہوتی تو مَیں قادیان کو بھی ہلاک کر دیتا۔ اِس الہام سے دو باتیں سمجھی جاتی ہیں (۱) اوّل یہ کہ کچھ حرج نہیں کہ انسانی برداشت کی حد تک کبھی قادیان میں کوئی واردات شاذ و نادر طور پر ہو جائے جو بربادی بخش نہ ہو اور موجب فرار و انتشار نہ ہو کیونکہ شاذ و نادر معدوم کا حکم رکھتا ہے (۲) دوسرے یہ امر ضروری ہے کہ جن دیہات اور شہروں میں بمقابلہ قادیان کے سخت سرکش اور شریر اور ظالم اور بد چلن اور مفسد اور اس سلسلہ کے خطرناک دشمن رہتے ہیں اُن کے شہروں اور دیہات میں ضرور بربادی بخش طاعون پھوٹ پڑے گی (اگر توبہ نہ کریں) اور یہاں تک ہوگا کہ لوگ بے حواس ہو کر ہر طرف بھاگیں گے۔ اور ہم دعویٰ سے لکھتے ہیں کہ قادیان میں کبھی طاعون جارف نہیں پڑے گی جو گاؤں کو ویران کرنے والی اور کھا جانے والی ہوتی ہے مگر اس کے مقابل پر دوسرے شہروں اور دیہات میں جو ظالم اور مفسد ہیں ضرور ہولناک صورتیں پیدا ہوں گی (اگر توبہ نہ کریں ) تمام دنیا میں ایک قادیان ہی ہے جس کے لئے ”اب یہ وعدہ ہوا گو پہلے سے حرم رسول کے لئے بھی ایک وعدہ ہے ۔“ یہ عبارت ہے جو صفحہ مذکور میں درج ہے جس کو ہم نے لفظ بلفظ اس جگہ نقل کر دیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ہمارا ہرگز یہ دعویٰ نہ تھا کہ قادیان طاعون سے بالکل محفوظ رہے گی۔ ہم نے عام لوگوں کے سامنے یہ عبارت جو دافع البلاء میں شائع ہو چکی ہے رکھ دی ہے تا خود لوگ پڑھ لیں اور پھر انصافاً بتلا دیں کہ ہمارے پر یہ الزام کہ گویا ہم نے اس رسالہ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ قادیان کے نزدیک طاعون نہیں آئے گی اور ایک بھی کیس نہیں ہوگا ۔ کیا یہ ایمانداری ہے یا بے ایمانی ؟ ہم خود منتظر ہیں کہ اس وحی اللہ کے مطابق قادیان میں صاف اور صریح طور پر بعض کیس طاعون ہوں لیکن اب تک جو کچھ پیسہ اخبار اور بعض دوسرے جلد باز اڈیٹروں نے لکھا ہے کہ قادیان میں سات کیس ہو چکے ہیں وہ تحریریں صرف تین قسم کے واقعات کا مجموعہ ہیں۔ (۱) اوّل ایسی تحریریں جو محض جھوٹ اور افترا ہیں یعنی ایسے لوگوں کی نسبت خواہ نخواہ جھوٹی خبریں موت کی شائع کی گئی ہیں جو اب تک زندہ موجود ہیں ۔ نہ وہ بیمار ہوئے نہ اُن کو طاعون ہوئی۔ یہ اوّل درجہ کا جھوٹ ہے جس کے ارتکاب سے پیسہ اخبار نے بے ایمانی کا بڑا حصہ لیا ہے اور ناحق شریف اور عزیز لوگوں کا دِل دُکھایا ہے۔ اُس کو سوچنا چاہیے کہ اگر یہ خلاف واقعہ خبر اُس کے عزیزوں تک پہنچائی جائے کہ محبوب عالم ایڈیٹر پیسہ اخبار طاعون سے مر گیا تو کیا ان کو کچھ صدمہ پہنچے گا یا نہیں تو پھر وہ جواب دے کہ ایسا جھوٹ اُس نے کیوں بولا اور کس غرض سے بولا اور کیوں خلاف گوئی کی نجاست کھا کر شریف اور معزز لوگوں کو دُکھ دیا۔ کیا یہ لعنتی زندگی نہیں کہ ناحق کینہ وری کی راہ سے جھوٹ بولا جائے؟ جن کو وہ کمال بے حیائی سے مُردوں میں داخل کرتا ہے وہ تو ایک دن کے لئے بھی بیمار نہ ہوئے اور نہ گاؤں سے باہر نکالے گئے ۔ مثلاً جیسا کہ پیسہ اخبار نے اخویم مکرم مولوی حکیم نوردین صاحب کی نسبت شائع کیا کہ ان کی کوئی رشتہ دار عورت طاعون سے مرگئی اور بعض نے یہ مشہور کیا کہ وہ مولوی صاحب کی ساس تھی۔ اور بعض خبیثوں نے یہ شہرت دی کہ وہ آپ کی بیوی تھی حالانکہ نہ ساس نہ بیوی نہ کوئی اور رشتہ دار مولوی صاحب موصوف کا طاعون سے فوت ہوا اور نہ گاؤں سے باہر نکالا گیا۔ یہ کس قدر خباثت اور بے ایمانی ہے کہ ایسے صریح جھوٹ جن کی کچھ بھی اصلیت نہیں ایسے اخبار میں درج کئے جائیں جس کے کئی ہزار پر چے ہفتہ وار شائع ہوتے ہیں۔ افسوس کہ اس شخص نے ناحق مولوی صاحب موصوف کے عزیزوں اور رشتہ داروں کو رنج پہنچایا اور بے وجہ دلوں کو صدمہ پہنچا کر سخت دل آزاری کا موجب ہوا ۔ اس کو کیا خبر نہیں تھی کہ قادیان میں اکثر آریہ وغیرہ مذہب اسلام سے اور بالخصوص اِس جماعت سے سخت عداوت رکھتے ہیں اور اِن لوگوں کے نزدیک جھوٹ بولنا شیر مادر ہے شیاطین ہیں نہ انسان ۔ پھر کیوں اور کس وجہ سے ان کی ایسی جھوٹی خبروں کو اخبار میں درج کر کے شائع کیا گیا اب جواب کا کون ذمہ دار ہے کہ اس قدر گندے جھوٹ سے ایک جماعت کا دِل دکھایا گیا۔ ایسا شخص جو ملک میں بے امنی پھیلانا چاہتا اور زندوں کو مار رہا ہے اور اپنے اندرونی کینوں کی وجہ سے امن عامہ کا دشمن ہے۔ بے شک وہ اس لائق ہے کہ قانون کی حد تک اس سے مواخذہ ہو کہ اس نے ایسا گندہ اور دل آزار جھوٹ ملک میں پھیلایا۔ اور اخویم مکرم مولوی نوردین صاحب کے اقارب کی نسبت ایک بے اصل صدمہ پہنچانے والی بات کو شہرت دی اور بہت سے دلوں کو صدمہ پہنچایا اور نہ صرف اِسی قدر بلکہ پہلے فرضی طور پر زندہ کو مارا اور پھر اُس فرضی میّت کی تذلیل کی۔
کیا اخبار کا یہی فرض ہوتا ہے کہ ہر ایک روایت بغیر تفتیش اور تنقید کے شائع کر دی جائے۔ ہمیں تو کچھ انگریزی قانون کا حال معلوم نہیں اگر گورنمنٹ نے اپنے قانون میں اخبار نویسوں کو یہ اجازت دے رکھی ہے کہ ایسے بے اصل جھوٹ جن سے دلوں کو آزار اور صدمہ پہنچتا ہے بے دھڑک شائع کر دیا کریں تب تو کوئی چون و چرا کی جگہ نہیں ورنہ گورنمنٹ پبلک پر احسان کرے گی اگر ایسے گندے اور نا پاک اور دِلآزار جھوٹوں کے شائع کرنے کی وجہ سے پیسہ اخبار سے باز پُرس کرے اور ایسی جھوٹی موتوں کا اُس سے ثبوت طلب کرے اور قانون کی حد تک اُس کو پوری سزا کا مزا چکھاوے۔
غور کا مقام ہے کہ ایک تو واقعی طور پر ملک میں طاعون نے تشویش پھیلا رکھی ہے اور دُوسرے اس جھوٹی طاعون کے شائع کرنے کا پیسہ اخبار نے ٹھیکہ لے لیا ہے۔ پھر اگر ایسی صورت میں یہ گورنمنٹ جو رعایا کی ہمدرد ہے ایسے کھلے کھلے جھوٹ کے وقت میں جس کا نہایت دلیری سے ارتکاب کیا گیا ہے ایسے مُنہ پھٹے انسان سے مواخذہ نہ کرے تو نہ معلوم دروغگوئی میں کس حد تک اس شخص کا حال پہنچ جائے گا اور کن کن دِلوں کو بے وجہ دُکھائے گا ۔ ہنوز ابتدائی حالت ہے تھوڑی سزا سے بھی متنبہ ہو سکتا ہے پس کم سے کم دروغگوئی کی یہ سزا ہے کہ بلا توقف اس کی یہ اخبار بند کر دی جاوے یا علاوہ اس کے اور کوئی مناسب سزادی جاوے اور اگر گورنمنٹ کو اس ہماری تحریر میں شبہ ہو تو اپنے کسی افسر کو قادیان میں بھیج کر تحقیق اور تفتیش کر لیں کہ کیا یہ تحریر واقعی ہے یا غیر واقعی ۔ بدقسمت اڈیٹر نے اس گندے جُھوٹ سے خود اپنے تئیں پبلک کے سامنے اور نیز گورنمنٹ کے سامنے ایک دروغگو اور مُفتری ثابت کر دیا ہے اور افسوس تو یہ ہے کہ اس جھوٹ سے اس کو کچھ فائدہ نہیں ہوا کیونکہ اصل مطلب اس دروغگوئی سے اُس کا یہ تھا کہ تا اِس بات کو ثابت کرے کہ گویا ہم نے اپنے رسالہ دافع البلاء میں یہ لکھا ہے کہ قادیان میں طاعون ہرگز نہیں آئے گی اور طاعون آگئی۔ کاش اگر وہ رسالہ دافع البلاء کو ذرہ غور سے پڑھ لیتا اور اس کے صفحہ پانچ کے حاشیہ کو دیکھ لیتا جس کو ہم نے اس رسالہ میں نقل کر دیا ہے تو اس دروغگوئی کی لعنت سے بچ جاتا ۔ اس کا یہ عذر صحیح نہیں ہوگا کہ بد بخت شریروں اور جھوٹوں نے قادیان سے مجھے خبر دی اس لئے مَیں نے جھوٹ کو شائع کر دیا کیونکہ شائع کرنے کا ذمّہ دار وہ ہے نہ کوئی اور شخص بلکہ اس نے تو ساتھ ہی دوسرے چند اخباروں کو بھی آلودہ کیا۔ اس کو خوب معلوم تھا کہ قادیان کے آریہ اُس وقت سے جبکہ لیکھر ام کے حق میں پیشگوئی پوری ہوئی دِل سے اس سلسلہ کے ساتھ عناد رکھتے ہیں اور بعض دوسرے مذہب بھی ان کے ہمرنگ ہیں پھر وہ کیونکر ایسے امین ٹھہر سکتے ہیں کہ اُن کے بیان کی تفتیش ضروری نہیں اور با ایں ہمہ پیسہ اخبار اِس بات کو بھی مخفی نہیں رکھ سکتا کہ وہ آدم کے سانپ کی طرح اس سلسلہ کا پرانا دشمن اور معاند ہے پس اس میں کیا شک ہے کہ اُسی عناد کی وجہ سے یہ انبار جھوٹ کا اُس نے اپنے اخبار میں درج کر دیا ہے۔
پھر اسی پر چہ میں وہ لکھتا ہے کہ مولا چوکیدار کی بیوی بھی طاعون سے فوت ہوگئی حالانکہ وہ اس وقت تک قادیان میں زندہ موجود ہے۔ ہر ایک شخص سوچ لے کہ اس شخص نے کیا وتیرہ اختیار کر رکھا ہے کہ زندوں کو مار رہا ہے۔ کیا ایک ایڈیٹر اخبار کی قلم سے ایسے خطر ناک جھوٹ شائع ہونا اور دلوں کو آزار پہنچانا موجب نقض امن نہیں ہے جس شخص کے اخبار کے ہر ہفتہ میں ہزار ہا پرچے شائع ہوتے ہیں قیاس کرنے کی جگہ ہے کہ وہ کس قدر خلاف واقعہ ماتم کی خبروں سے بے گناہ دلوں کو دکھ دے رہا ہے اور دنیا میں بے امنی پھیلا رہا ہے۔ ایک تو آسمان سے انسانوں پر واقعی مصیبت ہے اب دوسری مصیبت یہ پیدا ہوگئی ہے جو پیسہ اخبار کے ذریعہ سے ملک میں پھیلتی جاتی ہے نہ معلوم اس ملک کے لوگ ایسے گندے اخبار سے کیا فائدہ اُٹھاتے ہیں اور کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کیوں گورنمنٹ عالیہ اس موذی اخبار کے بند کرنے میں توقف کر رہی ہے کیونکہ ایک گندے اخبار کا بند ہونا لاکھوں دلوں کو آزار پہنچنے سے بہتر ہے۔
(۲) دوسرا طریق افترا کا جو پیسہ اخبار نے اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ صرف فرضی نام لکھ کر ظاہر کرتا ہے کہ یہ لوگ قادیان میں طاعون سے مرے ہیں حالانکہ ان ناموں کا کوئی انسان قادیان میں نہیں مرا۔ مثلاً وہ لکھتا ہے کہ مسمّی مولا کی لڑکی طاعون سے مری ہے حالانکہ مولا مذکور کے گھر میں کوئی لڑکی پیدا ہی نہیں ہوئی۔ ایسا ہی وہ لکھتا ہے کہ ایک صدر و بافندہ طاعون سے مرا ہے حالانکہ اس گاؤں میں صدر و نام کوئی بافندہ ہی نہیں جو کہ طاعون سے مر گیا ہو۔ نہ معلوم اس کو یہ کیا سوجھی کہ فرضی طور پر نام لکھ کر ان کو طاعونی اموات میں داخل کر دیا۔ شاید اس لئے ایسا کیا گیا کہ تا کچھ پتہ نہ چل سکے اور جاہل لوگ سمجھ لیں کہ ضرور ان ناموں کے کوئی لوگ ہوں گے جو مَرے ہوں گے۔
(۳) تیسرا طریق افترا کا جو پیسہ اخبار نے اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ بعض آدمی فی الحقیقت مرے تو ہیں مگر وہ کسی اور حادثہ سے مرے ہیں نہ طاعون سے اور اس نے محض چالا کی اور شرارت سے طاعون کی اموات میں داخل کر دیا ہے مثلاً وہ اپنے اخبار میں بڈھا تیلی کے لڑکے کی نسبت لکھتا ہے کہ وہ طاعون سے مرا ہے حالانکہ تمام گاؤں جانتا ہے کہ وہ دیوانہ کُتے کے کاٹنے سے مرا تھا اور جیسا کہ معمول ہے سرکاری طور پر اس کی موت کا نقشہ طیار کیا گیا اور کُتے کے کاٹنے کی تاریخ وغیرہ اس میں لکھی گئی پھر یہ کیسی پیسہ اخبار کی ایمانداری ہے کہ ایسے جھوٹوں کو جن سے گورنمنٹ پر بھی حملہ ہے اپنے اخبار میں شائع کیا گویا گورنمنٹ نے اپنے ملازموں کے ذریعہ سے عمداً طاعون کے کیس کو چھپایا اور اپنے نقشوں میں دیوانہ کُتّے سے مرنا درج کیا۔ مگر پیسہ اخبار نے گورنمنٹ کا یہ جھوٹ پکڑ لیا۔ پس جبکہ پیسہ اخبار کی یہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ وہ بلا دھڑک گورنمنٹ کے تحقیق کردہ امور کے برخلاف جھوٹ بولتا ہے تو کس قدر وجود اس کا خطرناک ہے۔ اڈیٹروں کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ وہ سچائی کو دنیا میں پھیلا ویں نہ جھوٹ کو ۔ اس لئے ہم بار بار کہتے ہیں کہ ایسے گندے اور ناپاک اخبار دنیا کو بجائے فائدہ کے نقصان پہنچاتے ہیں اور جھوٹ جو ایک نہایت پلید اور ناپاک چیز ہے اس کو دنیا میں رائج کرتے ہیں۔ ابھی ہمیں معلوم نہیں کہ ہماری مخالفت کے جوش میں کہاں تک یہ شخص جھوٹ سے کام لے گا اور کس قدر فرضی طور پر نامُردہ لوگوں کو طاعون سے مارے گا۔ اِسی افترا کی قسم میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ نتّھو چوکیدار کی موت کو بھی طاعون سے لکھتا ہے حالانکہ ایک عرصہ ہوا کہ وہ غریب کچھ مدت تپ سے بیمار رہ کر بقضائے الٰہی فوت ہوا ہے چنانچہ سرکاری کتاب میں اس کی موت اور مولا چوکیدار کی موت کا باعث بخار ہی لکھا ہے۔ پھر کیا ممکن ہے کہ سرکار میں جھوٹی خبر دی گئی ۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ جیسا کہ ہمیشہ گرمی کی شدت کی وجہ سے بخار ہوتا ہے قادیان میں بھی بخار رہا ہے اور اندازہ کیا گیا ہے کہ ایک سو سے زیادہ لوگوں کو بخار ہوا ہو گا اور خود ایک دو دن مجھے اور ہمارے بچوں کو بھی بخار ہوا۔ مدرسہ کے بعض لوگوں کو بھی بخار ہوا اور عام طور پر گاؤں میں بہتوں کو بخار ہوا۔ اسی کثرت بخار کے سلسلہ میں چند آدمی بخار سے فوت بھی ہو گئے جن میں سے بعض چند ماہ کے بیمار تھے اور بعض تپ محرقہ سے فوت ہوئے اور جہاں تک ہمیں علم ہے ایسے آدمی دو یا تین سے زیادہ نہیں جو قریباً سو آدمی میں سے جو مبتلائے بخار تھے جانبر نہ ہو سکے ۔ اب کیا اس کو طاعون کہنا چاہیے؟ جائے شرم ہے کیا گرمی کے موسم میں اس سے پہلے کبھی بخار نہیں ہوئے بلکہ بعض برسوں میں جبکہ طاعون کا دنیا میں نام ونشان نہ تھا اسی موسم میں اسی گاؤں قادیان میں بعض لوگ تپ محرقہ سے تیس تیس کے قریب مر گئے تھے اب تو خدا کا فضل ہے موت بہت کم ہے۔ غرض یہ معمولی وبائیں ہیں جو اس موسم میں آتی ہیں۔ اور جاہل لوگ جن کو فن طبابت کی کچھ بھی خبر نہیں ہر ایک بیماری کو ناحق طاعون بنا دیتے ہیں اور ایسے اڈیٹر جو اجہل الجہلاء ہیں وہ جاہلوں کی باتوں کو ایسا قبول کر لیتے ہیں کہ گویا ایک بڑے اور تجربہ کار ڈاکٹر نے ان کو خبر دی ہے۔ حالانکہ طاعون کی مرض ایسی ہے کہ اس کی تشخیص کرنے میں بڑے بڑے ڈاکٹروں کی عقل بھی چکّر کھا جاتی ہے۔ عجیب تر یہ ہے کہ بعض وقت بیماروں کو پھوڑےنکلتے ہیں پھر بھی وہ طاعون نہیں ہوتی ۔ اس لئے یہ امر بڑا مشکل امر ہے۔ گذشتہ دنوں میں مشہور ہوا تھا کہ دہلی میں طاعون پھوٹ پڑی لیکن تحقیقات کے بعد یہی ثابت ہوا کہ وہ ایک قسم کے محرقہ تپ ہیں نہ طاعون ۔ اور خود طاعو نیں بھی دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وبائی اور ایک غیر وبائی ۔ وبائی وہ ہوتی ہیں جو جلد جلد پھیلتی ہیں اور متعدی ہوتی ہیں اور موتیں تیز قدم کے ساتھ بڑھتی جاتی ہیں اور غیر وبائی طاعونیں خوفناک طور پر نہیں پھیلتیں وہ زہر ناک پھنسیاں ہیں جو کبھی کان میں نکلتی ہیں اور کبھی ہتھیلی میں اور کبھی چھاتی پر اور کبھی ناک پر اور کبھی کان کے پیچھے اور کبھی لب پر اور کبھی کسی اُنگلی پر اور کبھی کسی اور حصہ بدن پر ۔ یہ سب طاعونیں ہیں اگر یہ انسانوں میں زور کے ساتھ نہ پھیلیں اور کثرت موت کا موجب نہ ہوں تو اُس وقت تک یہ وبائی طاعون نہیں کہلا تیں غرض اِس مرض کی تشخیص بہت مشکل ہے اور خود بڑے بڑے طبیب اِس میں غلطیاں کھا سکتے ہیں چہ جائیکہ جاہل بازاری جو اِس کو چہ سے محض نا واقف اور انسانیت سے بہت ہی تھوڑا حصہ رکھتے ہیں۔ اِس مرض میں ایک اور خاصیت ہے کہ تیزی کے زمانہ میں جبکہ موتوں کا گرم بازار ہوتا ہے ہولناک حملے اس کے ہوتے ہیں اور پھر جب موسم کی تبدیلی سے اور یا اندرونی اسباب سے جن کا انسانوں کو پورا علم نہیں اس کی تیزی کم ہوتی جاتی ہے تو بعض انسانوں پر اس کا ایسا اثر خفیف ہوتا ہے کہ اس کا پھوڑا ایک معمولی پھوڑا اور اس کا تپ ایک معمولی تپ ہوتا ہے اور در حقیقت اس حالت کا نام طاعون نہیں بلکہ وہ زہریلی مرض ایک معمولی مرض کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔
اب ہم نصیحتاً کہتے ہیں کہ آئندہ پیسہ اخبار ایسے افتراؤں اور قابل شرم جھوٹوں سے باز آ جائے ور نہ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ یہ جھوٹ ہمیشہ اس کو ہضم ہو سکیں اور افسوس کہ بعض امرتسر کے سفلہ طبع بھی اپنے اشتہاروں میں پیسہ اخبار کے نقش قدم پر چلے ہیں ۔ بعض نے یہاں تک جھوٹ بولا ہے کہ گویا ہماری جماعت میں ہی طاعون پھوٹ پڑی ہے اور گویا قادیان میں وہ طاعون پیدا ہوگئی ہے جو طاعون جارف کہلاتی ہے۔ ان کے جواب میں بجُز اس کے ہم کیا کہیں کہ لَعْنَةُ اللّٰہِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ ۔ وہ یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ کی یہی قدیم سنت ہے کہ جس گاؤں یا شہر میں خدا کی طرف سے کوئی مرسل آتا ہے وہ جگہ نسبتی طور پر دارالامن ہو جاتی ہے اور اس میں وہ بے حواس اور دیوانہ کرنے والی تباہی نہیں پڑتی جس میں لوگ پروانوں کی طرح مرتے ہیں ہاں موت کا درازہ بھی بند نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ باوجود یکہ مکہ معظّمہ اور مدینہ منورہ کے دارالامان ہونے میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں اور قُرآن کریم نے بھی اس کی تصدیق کی ہے مگر پھر بھی بعض اوقات انسانی برداشت تک مکّہ معظّمہ میں ہیضہ پھوٹ پڑتا ہے اور ایسا ہی مدینہ منورہ میں بھی کئی وارداتیں ہو جاتی ہیں مگر ان وارداتوں سے ان دونوں حرمین شریفین کے دار الامن ہونے میں فرق نہیں آتا ۔ اِسی طرح ہمیں اس سے انکار نہیں کہ قادیان میں بھی کبھی وبا پڑے یا کسی معمولی حد تک طاعون سے جانوں کا نقصان ہو لیکن یہ ہرگز نہیں ہو گا کہ جیسا کہ قادیان کے ارد گر د تباہی ہوئی یہاں تک کہ بعض گاؤں موت کی وجہ سے خالی ہو گئے یہی حالت قادیان پر بھی آوے۔ کیونکہ وہ خدا جو قادر خدا ہے اپنے پاک کلام میں وعدہ کر چکا ہے جو قادیان میں تباہ کرنے والی طاعون نہیں پڑے گی۔ جیسا کہ اُس نے فرمایا لَوْ لَا الْإِكْرَامُ. لَهَلَكَ المقَامُ. یعنی اگر مجھے تمہاری عزت ظاہر کرنا ملحوظ نہ ہوتا تو مَیں اس مقام کو یعنی قادیان کو طاعون سے فنا کر دیتا یعنی اس گاؤں میں بھی بڑے بڑے خبیث اور شریر اور نا پاک طبع اور کذاب اور مفتری رہتے ہیں اور وہ اس لائق تھے کہ قہر الٰہی سب کو ہلاک کر دیوے مگر میں ایسا کرنا نہیں چاہتا کیونکہ درمیان میں تمہارا وجود بطور شفیع کے ہے اور تمہارا اکرام مجھے منظور ہے اس لئے میں اس مرتبہ سزا سے درگزر کرتا ہوں کہ ایک خوفناک تباہی اور موت ان لوگوں پر ڈال دوں تا ہم بکلی بے سزا نہیں چھوڑوں گا اور کسی حد تک وہ بھی عذاب طاعون میں سے حصہ لیں گے تا شریروں کی آنکھیں کھلیں ۔ ماسوا اس کے اگر قادیان میں ایسی طاعون آوے جیسا کہ گردو نواح میں بعض جگہ یہ صورتیں پیدا ہوئیں کہ دیہات میں صد ہا لوگ مرے اور کئی دیہات تباہ ہو گئے اور بہت سے گھر ایسے ہو گئے کہ بجز شیر خوار بچوں کے ان میں کوئی بھی نہ رہا۔
تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ یہ جماعت جو قادیان میں بیٹھی ہے وہ سب مع اِن کے امام کے تباہ ہوں گے اور سب طاعون سے مریں گے اور یہ خدا کو منظور نہیں کیونکہ یہ اس کی قوم ہے جو اس نے طیار کی ہے۔ اور یہ جو بھیجا گیا ہے یہ اُس کے ہاتھ کا پودہ لگایا ہوا ہے۔ پس کیونکر وہ اپنے باغ کو خود کاٹ دیوے جو اُس نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔ پس اس لئے اور اسی غرض سے تمام گاؤں کو تخفیف عذاب کی رعایت دی گئی ہے یہ ایسی ہی مثال ہے کہ مثلاً ایک جہاز میں ایک خدا کا برگزیدہ سوار ہو۔ تا وہ کسی ملک میں جا کر تبلیغ کرے اور اِس حالت میں سمندر میں طوفان آوے۔ پس سنت اللہ کے موافق یہ ضروری امر ہے کہ اس جہاز میں بہت سے ایسے لوگ سوار ہوں کہ جو غرق کرنے کے لائق ہوں مگر وہ اس شخص کے لئے غرق نہیں کئے جاویں گے کیونکہ اُن کے غرق ہونے سے اس برگزیدہ پر بھی صدمہ آتا ہے اور یہ خدا کو منظور نہیں ۔ یادر ہے کہ معمولی حد تک موتیں ایک محفوظ جہاز میں بھی ہو جاتی ہیں ۔ مگر وہ جہاز کے مسافروں کی بے امنی کو اس حد تک نہیں پہنچاتیں کہ وہ بے حواس ہو کر جہاز پر سے کود پڑیں اور سب ایک زبان سے ہائے وائے کے نعرے نکالیں ۔ مگر یہ خوفناک موتیں جو جہاز کسی ٹھوکر سے یکدفعہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور اس میں بیٹھنے والے بیکبارگی پانی میں بہ جائیں اور سمندر کی لہریں ان کو ڈھانک لیں یہ عظیم حادثہ ہے اور ایسا مہلک حادثہ کبھی اس حالت میں نہیں ہوتا جبکہ ایسے جہاز میں خدا کا کوئی نبی اور رسول اور برگزیدہ بیٹھا ہو بلکہ اس کے طفیل اور اس کی شفاعت سے دوسرے لوگ بھی کنارہ پر سلامت پہنچائے جاتے ہیں تا خدا کا ایک کامل بندہ جو خدا کے جلال کے لئے سفر کر رہا ہے اس تشویش اور تباہی میں شریک نہ ہو اور تا وہ کام معطل نہ رہ جائے جس کام کے لئے اس نے سفر کیا ہے ۔ اسی سنت اللہ کے موافق قادیان کے لئے انّه اوى القرية کا الہام صادر ہوا تا خدا کے کاموں میں حرج نہ ہو ورنہ قادیان سب سے پہلے فنا کرنے کے لائق تھی کیونکہ یہ لوگ نزدیک ہو کر پھر دور ہیں اور بہتوں کا خدا پر ایمان نہیں اور نہ چاہتے ہیں کہ اپنا نا پاک چولہ اتار کر حق کو قبول کریں ۔ غرض یہ سنت اللہ ہے کہ جس گاؤں یا شہر میں خدا کا کوئی فرستادہ نازل ہو تو وہ گاؤں یا شہر نہ تو طاعون سے تباہ اور ہلاک ہوتا ہے اور نہ کسی اور وبا سے اور نہ کسی آتش فشاں پہاڑ سے ہلاک کیا جاتا ہے۔ ہاں معمولی موتیں خواہ طاعون سے ہوں خواہ ہیضہ سے خواہ کسی اور سبب سے وہ سب انسانی برداشت کی حد تک اُس میں ہو سکتی ہیں کیونکہ وہ اس مامور کی کارروائی کی خارج نہیں ہیں۔ پس جس الہام کو ہم نے قادیان کے بارے میں شائع کیا ہے اس کا یہی مطلب ہے اس سے زیادہ نہیں۔
بعض آدمی یہ اعتراض پیش کرتے ہیں کہ مسیح موعود کے وقت میں امن اور آسائش کا زمانہ ہونا چاہیے تھا نہ کہ طاعون ملک میں پھیلے اور قحط پڑے اور طرح طرح کے اسباب سے کثرت موت ہو۔ ان اوہام باطلہ کا یہ جواب ہے کہ انسان کا اختیار نہیں ہے کہ اپنی طرف سے حکم چلاوے کہ یوں ہونا چاہیے تھا اور اس طرح ہونا چاہیے تھا۔ خدا تعالیٰ کی کتابوں میں بہت تصریح سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ضرور طاعون پڑے گی اور اس مَرِی کا انجیل میں بھی ذکر ہے اور قرآن شریف میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاِنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اِلَّا نَحۡنُ مُہۡلِکُوۡہَا قَبۡلَ یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ اَوۡ مُعَذِّبُوۡہَا الخ(بنی اسرائیل: ۵۹) یعنی کوئی بستی ایسی نہیں ہو گی جس کو ہم کچھ مدت پہلے قیامت سے یعنی آخری زمانہ میں جو مسیح موعود کا زمانہ ہے ہلاک نہ کر دیں یا عذاب میں مبتلا نہ کریں۔
یادر ہے کہ اہل سنت کی صحیح مسلم اور دوسری کتابوں اور شیعہ کی کتاب اکمال الدین میں بتصریح لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں طاعون پڑے گی بلکہ اکمال الدین جو شیعہ کی بہت معتبر کتاب ہے اُس کے صفحہ ۳۴۸ میں اوّل چار حدیثیں کسوف خسوف کے بارہ میں لایا ہے اور امام باقر سے روایت کرتا ہے کہ مہدی کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ قبل اس کے کہ وہ قائم ہو یعنی عام طور قبول کیا جاوے رمضان میں کسوف خسوف ہو گا☆۔
اور پھر بعد اس کے لکھا ہے کہ یہ بھی اس کے ظہور کی ایک نشانی ہے کہ قبل اس کے کہ قائم ہو یعنی عام طور پر قبول کیا جائے دنیا میں سخت طاعون پڑے گی یہاں تک کہ ایک گھر میں جو سات آدمی ہوں گے اُن میں سے صرف دو رہ جائیں گے اور پانچ مر جائیں گے۔ پس اس کی اس عبارت سے ظاہر ہے کہ یہ دونوں نشان اُس وقت ظہور میں آئیں گے جبکہ اس کی دنیا میں تکذیب ہوگی ۔ کیونکہ مسیح کے بھی یہ دونوں نشان تھے جبکہ عیسیٰ علیہ السلام کی تکذیب ہو کر اُن کے لئے صلیب تیار کیا گیا تھا تب آفتاب و ماہتاب دونوں تاریک ہو گئے تھے اور طاعون بھی پڑی تھی۔ غرض اس کتاب میں لکھا ہے کہ رمضان میں خسوف کسوف ہونا اور ملک میں طاعون پھیلنا مہدی معہود کا ایک معجزہ ہوگا ۔ پس بلا شبہ یہ امر تواتر کے درجہ پر پہنچ چکا ہے کہ مسیح موعود کے نشانوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے وقت میں اور اس کی توجہ اور دُعا سے ملک میں طاعون پھیلے گی آسمان اس کے لئے چاند اور سورج کو رمضان میں تاریک کرے گا اور زمین اُس کے لئے طاعون کی تاریکی اور مصیبت پھیلائے گی کیونکہ وہ ابتدا میں قبول نہیں کیا جائے گا اس لئے انذاری نشان اُس کے لئے ظاہر ہوں گے اور اُس کے نفس سے یعنی توجہ اور دعا اور اتمام حجت سے کافر مریں گے۔☆ اور وہ مرنا دوقسم کا ہوگا (۱) ایک تو روحانی طور پر کہ اس کے وقت میں تمام مذاہب بجز اسلام مُردہ ہو جائیں گے (۲) دوسرے جسمانی طور پر ۔ چونکہ وہ ستایا جائے گا اور دکھ دیا جائے گا اس لئے خدا کا غضب مخلوق پر بھڑ کے گا۔ تب وہ ایسی موتوں کا سلسلہ جاری کر دے گا کہ نمونہ قیامت ہو جائیں گی۔ تب انجام کار لوگ سوچیں گے کہ کیوں یہ آفتیں ہم پر پڑ گئیں اور سعیدوں کا راہ دِکھلایا جائے گا۔ غرض عام موتوں کا پڑنا مسیح موعود کی علامات خاصہ میں سے ہے اور تمام انبیاء علیہم السلام گواہی دیتے آئے ہیں۔
اور اگر کہو کہ اگر تم ہی مسیح موعود ہو اور تمہارے لئے ہی یہ طاعون بطور نشان ظاہر کی گئی ہے تو چاہیے تھا کہ قبل اس سے جو ملک میں طاعون پھیلتی پہلے ہی خدا تعالیٰ تمہیں خبر دے دیتا کہ طاعون آئے گی ؟
اِس کا جواب یہ ہے کہ در حقیقت خدا نے طاعون کی پہلے ہی سے مجھے خبر دی ہے اور یہ ایسی یقینی خبر ہے جس سے کسی کو مسلمانوں عیسائیوں ہندوؤں میں سے انکار نہیں ہو سکتا بلکہ اُس نے نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ خبر دی ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے:۔
(۱) اوّل خدائے عزّو جلّ نے آج سے تیئیس برس پہلے عام موت کے نشان کی براہین احمدیہ میں مجھے خبر دی جیسا کہ براہین احمدیہ کے صفحہ پانچ سو اٹھارہ میں یہ خدائے عزّو جلّ کا کلام بطور پیشگوئی ہے وقالوا انّیٰ لک هٰذا ان هٰذا الا سحر یؤثر. لن نؤمن لک حتّیٰ نریٰ اللّٰہ جهرة. لا یصدق السفیه الاسیفة الهلاک عدولی و عدولک. قل اَتیٰ امر اللّٰہ فلا تستعجلوه. اذاجاء نصر اللّٰہ الست بربکم قالوا بلیٰ ۔ ترجمہ۔ اور کہیں گے کہ یہ مرتبہ تجھے کیسے مل سکتا ہے یہ تو ایک مکر ہے جو اختیار کیا جاتا ہے۔ ہم ہرگز تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک خدا کو آشکارا طور پر نہ دیکھ لیں ۔ سفیہ آدمی بجز موت کے نشان کے کسی نشان کو نہ مانیں گے کیونکہ وہ میرے دشمن اور تمہارے بھی دشمن ہیں انہیں کہہ کہ موت کا نشان بھی آنے والا ہے یعنی طاعون مگر کچھ دیر سے سو تم جلدی مت کرو۔ پھر اس کے ساتھ ہی صفحہ ۵۱۹ میں یہ الہام درج ہے امراض الناس وبرکاتہ یعنی لوگوں میں مرض پھیلے گی اور اس کے ساتھ ہی خدا کی برکتیں نازل ہوں گی اور وہ اس طرح پر کہ وہ بعض کو نشان کے طور پر اس بلا سے محفوظ رکھے گا اور دوسرے یہ کہ یہ بیماریاں جو آئیں گی یہ دینی برکات کا موجب ہو جائیں گی اور بہتیرے لوگ اُن خوفناک دنوں میں دینی برکات سے حصہ لیں گے اور سلسلہ حقہ میں داخل ہو جائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور طاعون کا خوفناک نظارہ دیکھ کر بڑے بڑے متعصب اِس سلسلہ میں داخل ہو گئے ہیں اور اس وقت تک بذریعہ طاعون دو ہزار سے بھی زیادہ مخالف ہمارے سلسلہ میں داخل ہو چکا ہے سو یہی وہ برکتیں ہیں جن سے بموجب پیشگوئی کے بذریعہ طاعون لوگوں نے حصہ لیا ہے۔
اور پھر صفحہ ۵۵۷ میں خدائے عزّو جلّ کا یہ کلام ہے جو ایک عام عذاب کے نازل ہونے کے بارے میں ہے اور وہ یہ ہے۔ مَیں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اُٹھاؤں گا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ دیکھو صفحہ ۵۷۷ براہین احمدیہ۔ اس وحی مقدس میں خدائے ذوالجلال نے میرا نام نذیر رکھا جو اصطلاح قرآنی میں اس کو کہتے ہیں جس کے ساتھ عذاب بھی آ وے اور فرمایا کہ مَیں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔ یعنی ایک خاص قہری تجلّی ظاہر کروں گا۔ خدا کی کتابوں میں چمکار دکھلانے سے مراد ہمیشہ عذاب ہوا کرتا ہے اور پھر فرمایا کہ اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اُٹھاؤں گا۔ اس فقرے کے معنی کی نسبت واضح ہو کہ یوں تو خدا تعالیٰ کی قدرتیں ہمیشہ ظاہر ہوتی رہتی ہیں کون سا وقت ہے کہ کوئی قدرت ظاہر نہیں ہوتی مگر اس جگہ قدرت نمائی سے وہ قدرتیں مراد ہیں جو خارق عادت ہیں یعنی عام طور پر وقوع اُن کا نہیں خاص خاص وقتوں میں نشان کے طور پر اُن کا ظہور ہوتا ہے۔ اس سے بھی یہی اشارہ نکلتا ہے کہ وہ ایک قہری قدرت ہوگی۔ اور یہ جو فرمایا کہ تجھ کو اٹھاؤں گا اس سے یہ مراد نہیں کہ زندہ بجسم عنصری آسمان پر اٹھالوں گا۔ یہ گذشتہ لوگوں کی غلطیاں ہیں کہ بعض انسانوں کی نسبت ایسے لفظوں سے یہ معنی نکالتے رہے خدا ان کے قصور معاف کرے بلکہ مراد یہ ہے کہ تیرے مخالف بہت شور ہوگا اور چاہیں گے کہ تحت الثریٰ میں تیری جگہ ہو مگر میں آخر کار ثابت کر دوں گا کہ تیرا مقام بلند ہے اور تو آسمانی لوگوں میں سے ہے نہ زمینی کیڑوں میں سے۔ اور پھر فرمایا کہ دنیا نے اس کو قبول نہ کیا یعنی ردّکر دیا اور کافر اور دجّال اس کا نام رکھا اور جو چاہا اس کے حق میں کہا مگر مَیں اُن کے مخالف ہو جاؤں گا۔ وہ تیری ذلت تلاش کریں گے اور مَیں عزت دوں گا اور وہ تجھے گمنام کرنا چاہیں گے اور مَیں زمین کے کناروں تک تیری شہرت پھیلا دوں گا اور وہ تجھے جاہل کہیں گے اور مَیں تیرا علم ثابت کروں گا اور وہ تجھ پر لعنت کریں گے اور مَیں تجھ پر برکتیں نازل کروں گا اور وہ تجھ پر باب معیشت تنگ کرنا چاہیں گے اور مَیں تیرے پر تمام نعمتوں کے دروازے کھول دوں گا اور پھر فرمایا کہ بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ سو خدا کے زور آور حملوں میں سے یہ طاعون ہے جو ملک میں پھیل گئی اور نہ معلوم کہ کب تک اس کا دور ہے۔ غرض براہین احمدیہ میں آج سے تیئیس برس پہلے اس عذاب کی خبر دی گئی ہے بلکہ صفحہ ۵۱۰ براہین احمدیہ میں یہ بھی وحی الٰہی ہے ولا تخاطبنی فی الذین ظلموا انهم مغرقون ۔ یعنی جب عذاب کا وقت آوے تو ظالموں کی میری جناب میں شفاعت مت کر کہ مَیں اُن کو غرق کروں گا۔ اس الہام کا دوسرا حصہ یہ ہے وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا ۔ یعنی ہمارے حکم اور ہماری آنکھوں کے سامنے کشتی تیار کر۔ کشتی سے مراد سلسلہ بیعت ہے جو خاص وحی الٰہی اور امرالٰہی سے قائم کیا گیا۔ اور پھر صفحہ ۵۰۶ براہین احمدیہ میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی ہے ۔ لم یکن الذین کفروا من اهل الکتاب والمشرکین منفکّین حتّی تاتیهم البیّنۃ و کان کیدهم عظیمًا اگر خدا ایسا نہ کرتا تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا۔ اس وحی الٰہی سے بھی ثابت ہے کہ دنیا کو شرک اور کفر اور مخلوق پرستی کی عادت ہو گئی تھی اور وہ کسی آسمانی گوشمالی کی محتاج تھی اور اسی وحی کے ساتھ صفحہ ۵۰۷ میں یہ خدا کا کلام ہے تلطف بالنّاس و ترحم علیهم انت فیهم بمنزلۃ موسیٰ و اصبر علیٰ مایقولون یعنی لوگوں کے ساتھ رفق اور نرمی کر اور اُن پر رحم کر ۔ تو ان میں بمنزلہ موسیٰ کے ہے اور اُن کی باتوں پر صبر کر ۔ پس اگر چہ حضرت موسیٰ بردباری اور حلم اور تہذیب اخلاق میں تمام بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے اوّل درجہ پر تھے اور توریت خود اُن کے اخلاق فاضلہ کی تعریف کرتی ہے اور ان کو اسرائیلی نبیوں میں سے بے نظیر ٹھہراتی ہے لیکن اُن کے کمال حلم کا آخر یہ نتیجہ ہوا کہ جب قوم اسرائیل کے مفسد کسی طرح درست نہ ہوئے تو آخر خدا نے موسیٰ اپنے بندہ کی حیات میں ہی اُن کو طاعون سے ہلاک کیا جیسا کہ توریت میں یہ قصہ موجود ہے سو اسی کی طرف یہ اشارہ ہے کہ تو موسیٰ کی طرح صبر کر اور آخر ہماری طرف سے تنبیہ نازل ہوگی ۔
اور پھر براہین احمدیہ میں یہ الہام الم نجعل لک سهولۃ فی کل امر☆ بیت الفکر و بیت الذکر و من دخلهٗ کَان اٰمنًا یعنی ہم نے تیرے لئے بیت الفکر اور بیت الذکر بنایا ہے اور جو ان میں داخل ہو گا وہ امن میں آ جائے گا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ملک میں عام طاعون پڑے گی اور کسی کم مقدار کی حد تک قادیان بھی اس سے محفوظ نہیں رہے گی اس لئے اس نے آج کے دنوں سے تیئیس برس پہلے فرما دیا کہ جو شخص اس مسجد اور اس گھر میں داخل ہوگا یعنی اخلاص اور اعتقاد سے وہ طاعون سے بچایا جائے گا۔ اسی کے مطابق ان دنوں میں خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا انی احافظ کل من فی الدار. الا الذین علوا من استکبار. واحافظک خاصۃ سلام قولا من ربّ رحیم یعنی میں ہر ایک ایسے انسان کو طاعون کی موت سے بچاؤں گا جو تیرے گھر میں ہو گا مگر وہ لوگ جو تکبر سے اپنے تئیں اونچا کریں اور میں تجھے خصوصیت کے ساتھ بچاؤں گا۔ خدائے رحیم کی طرف سے تجھے سلام ۔
جاننا چاہیے کہ خدا کی وحی نے اس ارادہ کو جو قادیان کے متعلق ہے دو حصوں پر تقسیم کر دیا ہے۔ (۱) ایک وہ ارادہ جو عام طور پر گاؤں کے متعلق ہے اور وہ ارادہ یہ ہے کہ یہ گاؤں اس شدت طاعون سے جو افراتفری اور تباہی ڈالنے والی اور ویران کرنے والی اور تمام گاؤں کو منتشر کرنے والی ہو محفوظ رہے گا۔ (۲) دوسرے یہ ارادہ کہ خدائے کریم خاص طور پر اس گھر کی حفاظت کرے گا اور اس تمام عذاب سے بچائے گا جو گاؤں کے دوسرے لوگوں کو پہنچے گا اور اس وحی اللہ کا اخیر فقرہ اُن لوگوں کے لئے منذر ہے جن کے دلوں میں بے جا تکبر ہے۔
اِس لئے میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ تکبر سے بچو کیونکہ تکبر ہمارے خداوند ذوالجلال کی آنکھوں میں سخت مکروہ ہے۔ مگر تم شاید نہیں سمجھو گے کہ تکبر کیا چیز ہے۔ پس مجھ سے سمجھ لو کہ میں خدا کی روح سے بولتا ہوں ۔
ہر ایک شخص جو اپنے بھائی کو اِس لئے حقیر جانتا ہے کہ وہ اس سے زیادہ عالم یا زیادہ عقلمند یا زیادہ ہنرمند ہے وہ متکبر ہے کیونکہ وہ خدا کو سر چشمہ عقل اور علم کا نہیں سمجھتا اور اپنے تئیں کچھ چیز قرار دیتا ہے۔ کیا خدا قادر نہیں کہ اُس کو دیوانہ کر دے اور اُس کے اُس بھائی کو جس کو وہ چھوٹا سمجھتا ہے اُس سے بہتر عقل اور علم اور ہنر دے دے۔ ایسا ہی وہ شخص جو اپنے کسی مال یا جاہ و حشمت کا تصور کر کے اپنے بھائی کو حقیر سمجھتا ہے وہ بھی متکبر ہے کیونکہ وہ اِس بات کو بھول گیا ہے کہ یہ جاہ و حشمت خدا نے ہی اُس کو دی تھی اور وہ اندھا ہے اور وہ نہیں جانتا کہ وہ خدا قادر ہے کہ اُس پر ایک ایسی گردش نازل کرے کہ وہ ایک دم میں اسفل السافلین میں جا پڑے اور اس کے اس بھائی کو جس کو وہ حقیر سمجھتا ہے اس سے بہتر مال و دولت عطا کر دے۔ ایسا ہی وہ شخص جو اپنی صحت بدنی پر غرور کرتا ہے یا اپنے حسن اور جمال اور قوت اور طاقت پر نازاں ہے اور اپنے بھائی کا ٹھٹھے اور استہزا سے حقارت آمیز نام رکھتا ہے اور اُس کے بدنی عیوب لوگوں کو سناتا ہے وہ بھی متکبر ہے اور وہ اس خدا سے بے خبر ہے کہ ایک دم میں اُس پر ایسے بدنی عیوب نازل کرے کہ اس بھائی سے اس کو بدتر کر دے اور وہ جس کی تحقیر کی گئی ہے ایک مدت دراز تک اس کے قویٰ میں برکت دے کہ وہ کم نہ ہوں اور نہ باطل ہوں کیونکہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ ایسا ہی وہ شخص بھی جو اپنی طاقتوں پر بھروسہ کر کے دعا مانگنے میں سست ہے وہ متکبر ہے کیونکہ قوتوں اور قدرتوں کے سرچشمہ کو اُس نے شناخت نہیں کیا اور اپنے تئیں کچھ چیز سمجھا ہے۔ سو تم اے عزیزو ان تمام باتوں کو یاد رکھو ایسا نہ ہو کہ تم کسی پہلو سے خدا تعالیٰ کی نظر میں متکبر ٹھہر جاؤ اور تم کو خبر نہ ہو۔ ایک شخص جو اپنے ایک بھائی کے ایک غلط لفظ کی تکبر کے ساتھ تصحیح کرتا ہے اُس نے بھی تکبر سے حصہ لیا ہے۔ ایک شخص جو اپنے بھائی کی بات کو تواضع سے سننا نہیں چاہتا اور منہ پھیر لیتا ہے اُس نے بھی تکبر سے حصہ لیا ہے۔ ایک غریب بھائی جو اس کے پاس بیٹھا ہے اور وہ کراہت کرتا ہے اس نے بھی تکبر سے حصہ لیا ہے۔ ایک شخص جو دعا کرنے والے کو ٹھٹھے اور ہنسی سے دیکھتا ہے اُس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔ اور وہ جو خدا کے مامور اور مرسل کی پورے طور پر اطاعت کرنا نہیں چاہتا اُس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔ اور وہ جو خدا کے مامور اور مرسل کی باتوں کو غور سے نہیں سنتا اور اس کی تحریروں کو غور سے نہیں پڑھتا اُس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔ سو کوشش کرو کہ کوئی حصہ تکبر کا تم میں نہ ہو تا کہ ہلاک نہ ہو جاؤ اور تا تم اپنے اہل و عیال سمیت نجات پاؤ۔ خدا کی طرف جھکو اور جس قدر دنیا میں کسی سے محبت ممکن ہے تم اُس سے کرو اور جس قدر دنیا میں کسی سے انسان ڈر سکتا ہے تم اپنے خدا سے ڈرو۔ پاک دل ہو جاؤ اور پاک ارادہ اور غریب اور مسکین اور بے شر تا تم پر رحم ہو۔
اب ہم پھر اپنے پہلے بیان کی طرف رُجوع کر کے لکھتے ہیں کہ طاعون کے بارے میں پیشگوئی صرف براہین احمدیہ میں ہی نہیں بلکہ براہین کے زمانہ سے جس کو بیس برس سے زیادہ عرصہ گزر گیا ۔ اس زمانہ تک جس قدر کتابیں تالیف ہوئی ہیں یا اشتہار شائع ہوئے ہیں اکثر میں یہ پیشگوئی موجود ہے چنانچہ آج سے آٹھ برس پہلے یہی پیشگوئی رسالہ نور الحق میں جو عربی رسالہ ہے اس کے صفحہ ۳۵ ۔ ۳۶ ۔ ۳۷ ۔ ۳۸ میں کی گئی ہے اور پھر آج سے پانچ برس پہلے یہی پیشگوئی رسالہ سراج منیر کے صفحہ ۵۹ و ۶۰ میں کی گئی۔ اور پھر آج سے چار برس چھ ماہ پہلے اشتہار طاعون مورخہ ۶ فروری ۱۸۹۸ء میں یہ پیشگوئی کی گئی جس کے یہ الفاظ تھے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ خدائے تعالیٰ کے ملائک ملک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بد شکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں۔ بعض درخت لگانے والوں سے میں نے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔ دیکھو اشتہار طاعون مورخہ ۶ فروری ۱۸۹۸ء اور یہ رسائل اور یہ اشتہار لاکھوں انسانوں میں مشتہر ہو چکے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس قدر عظیم الشان پیشگوئی کہ ایک مدت دراز طاعون کے وجود سے پہلے کی گئی یہ انسان کا کام نہیں اور اس سے یہ ثابت ہے کہ یہ طاعون محض اس لئے ملک پنجاب میں سب ملکوں سے زیادہ حملہ آور ہے کہ اسی ملک نے سب سے زیادہ خدا کی باتوں پر حملہ کیا اور اسی ملک نے خدا کے مامور اور مرسل کے مقابل پر طریقہ رہزنی اختیار کیا۔ نہ آپ سلسلہ حقہ میں داخل ہوئے نہ ہندوستان کے لوگوں کو داخل ہونے دیا۔ پس چونکہ خدائے تعالیٰ کی نظر میں اوّل درجہ کا مخالف یہی ملک تھا اس لئے اوّل درجہ کے طاعون سے اسی ملک نے حصہ لیا اور اسی ملک کے لئے وہ دُعا تھی جو طاعون کے لئے آج سے ایک مدت دراز پہلے میں نے مانگی تھی جو قبول کی گئی جس کے صدہا پرچے ملک میں شائع کئے گئے تھے مگر افسوس کہ اس ملک کے لوگوں نے بڑی سنگدلی ظاہر کی۔ خدا کے کُھلے کُھلے نشان دیکھے اور انکار کیا۔ وہ نشان جو ملک میں ظاہر ہوئے جن کے ہزاروں بلکہ لاکھوں انسان گواہ ہیں جن میں سے کسی قدر بطور نمونہ اسی کتاب میں لکھے جائیں گے وہ ڈیڑھ سو سے بھی کچھ زیادہ ہیں لیکن اس ملک کے لوگ ابھی تک کہے جاتے ہیں کہ کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا۔ تو اب بتلاؤ کہ کیا اب بھی طاعون ملک میں ظاہر نہ ہو۔ نشانوں کو دیکھنا اور پھر تکذیب کرنا کیا اس سے زیادہ کوئی اور شرارت ہوگی ۔ کیا خسوف کسوف رمضان میں نہیں ہوا؟ کیا شیعہ اور سُنّی دونوں فریق کی کتابوں میں یہ حدیثیں موجود نہیں! کیا بجز میرے کسی اور مدعی کے وقت ہوا ؟ اور کون ہے جس نے کہا کہ یہ میرے لئے ہوا؟ اور یہ کہنا کہ یہ حدیث صحیح نہیں یہ دوسرا ظلم ہے۔ اے نادانوں جبکہ یہ حدیث سنیوں اور شیعوں دونوں فریق کی کتابوں میں موجود ہے اور پھر علاوہ اس کے خدا نے حدیث کے مضمون کو واقع کر کے اس کی صحت ثابت کر دی تو یہ حدیث تو اور تمام حدیثوں کی نسبت اوّل درجہ کی قوی ہو گئی کیونکہ نہ صرف یہ کہ دو فریق اس کے محافظ چلے آئے ہیں بلکہ خدا نے اس حدیث کی پیشگوئی کو پورا کر کے اس کی سچائی پر مُہر کر دی اور اس سے علاوہ یہ کہ پہلی کتابوں میں بھی مسیح موعود کی علامت خسوف و کسوف لکھا ہے اور یہ حدیث کتاب دار قطنی اور اکمال الدین میں ہے جس پر انہوں نے کوئی جرح نہیں کی۔ اور یہ امر کہ خسوف کسوف مہدی موعود کی علامت کیوں ٹھہرایا گیا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کا انکار جو زمین پر ہو رہا ہے یہ موجب غضب الٰہی ہے چنانچہ بعد اس کے زمین پر وہ غضب بذریعہ طاعون ظاہر ہو گیا ۔ غرض اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ لوگوں کی تنبیہ اور یاد دہانی کے لئے یہ نمونہ آسمان پر قائم کرے اور نمونہ کے لئے کسوف خسوف دونوں کو اختیار کیا گیا ہے کیونکہ آفتاب کی سلطنت دن پر ہے اور ماہتاب کی سلطنت رات پر اسی طرح یہ امام موعود دونوں سلطنتوں کا مالک کیا گیا ہے۔ یعنی دین اسلام جو بطور دن کے ہے اور دوسرے ادیان جو بطور رات کے ہیں۔ ان سب پر حکمرانی کرنے کے لئے یہ موعود آیا ہے پس ایسے وقت میں کہ اس کے دن کی سلطنت میں بھی روکیں اور حجاب ہیں اور نیز رات کی سلطنت میں بھی روکیں ہیں حکمت الٰہی نے چاہا کہ آسمان پر کسوف خسوف کا انذاری نمونہ پیش کرے اور اس نشان میں ظاہر کیا گیا ہے کہ جیسا کہ کسوف خسوف کچھ تھوڑی مدت کے بعد رفع اور دور ہو جاتا ہے اور یہ دونوں نیّر اپنی اپنی سلطنت پر قائم ہو جاتے ہیں ۔ ایسا ہی اس جگہ بھی ہوگا ۔ سُنی اور شیعہ دونوں گروہ اس کسوف خسوف کے تیرہ سو برس سے منتظر تھے مگر جب وہ ظاہر ہوا تو اُس کی تکذیب کی ۔ کیا یہودیت کے کچھ اور بھی معنی ہیں ۔ پھر دیکھو کہ قرآن اور حدیث دونوں بتلا رہے ہیں کہ مسیح کے زمانہ میں اونٹ بیکار ہو جائیں گے یعنی اُن کے قائم مقام کوئی اور سواری پیدا ہو جائے گی یہ حدیث مُسلم میں موجود ہے اس کے الفاظ یہ ہیں ویترکن القلاص فلا یسعٰی علیہا اور قرآن کے الفاظ یہ ہیں وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ(التکویر: ۵) شیعوں کی کتابوں میں بھی یہ حدیث موجود ہے مگر کیا کسی نے اس نشان کی کچھ بھی پروا کی ۔ ابھی عنقریب اس پیشگوئی کا دلکش نظارہ مکہ اور مدینہ کے درمیان نمایاں ہونے والا ہے جبکہ اونٹوں کی ایک لمبی قطار کی جگہ ریل کی گاڑیاں نظر آئیں گی اور تیرہ سو برس کی سواریوں میں انقلاب ہو کر ایک نئی سواری پیدا ہو جائے گی۔ اس وقت ان مسافروں کے سر پر جب یہ آیت وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ اور یہ حدیث ویترکن القلاص فلا یسعٰی علیہا پڑھی جائے گی تو کیسے انشراح صدر سے ان کو ماننا پڑے گا کہ یہ در حقیقت آج کے دن کے لئے ایک نشان تھا اور ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی جو ہمارے نبی کریم ؐکے مبارک لبوں سے نکلی اور آج پُوری ہوئی مگر افسوس اے تکذیب کرنے والو تم کب باز آؤ گے وہ کب دن آئے گا جو تمہاری بھی آنکھیں کھلیں گی ۔ خدا کے نشان یُوں برسے جیسے برسات میں مینہ برستا ہے مگر تمہاری خشکی دور نہ ہوئی ۔ دیکھتے دیکھتے صدی کا پانچواں حصہ بھی گزر گیا مگر تمہارا کوئی مجدّد ظاہر نہ ہوا۔ خدا نے نشانوں کے دکھلانے میں کمی نہ رکھی ۔ کسوف خسوف رمضان میں بھی ہوا اور بموجب حدیث کے ستارہ ذوالسنین بھی مُدّت ہُوئی کہ نکل چکا۔ اور قرآن اور پہلی کتابوں اور سُنّیوں اور شیعوں کی حدیثوں کے موافق طاعون بھی ملک میں ظاہر ہوگئی اور حج بھی روکا گیا ۔ اور بجائے اونٹوں کے نئی سواریاں بھی پیدا ہو گئیں اور کسر صلیب کی ضرورت بھی سخت محسوس ہونے لگی کیونکہ انتیس لاکھ نو مرتد عیسائی پنجاب اور ہندوستان میں ظاہر ہو گیا اور آدم سے چھ ہزار برس بھی گذر گیا مگر اب تک تمہارا مسیح نہ آیا۔ کیا خدا نے نشان نمائی میں کچھ کسر رکھی۔ کیا اُس نے پیشگوئی کی شرطوں کے موافق آتھم کی زندگی کا خاتمہ نہ کیا۔ کیا اُس نے قطعی مدت اور میعاد کے موافق لیکھر ام کے فتنہ سے زمین کو پاک نہ کیا۔ کیا اُس وقت جبکہ اعتراض کیا گیا کہ اخویم مولوی نوردین صاحب کا لڑکا فوت ہو گیا ہے خدا نے یہ خبر نہ دی کہ ایک اور لڑکا اُن کے گھر میں پیدا ہو گا اور دیکھو نشان یہ ہے کہ اُس کے بدن پر خوفناک پھوڑے ہوں گے۔ پس کس قدر کھلا کھلا نشان تھا کہ وہ لڑکا پیدا ہوا جس کا نام عبدالحی ہے اور اُس کے بدن پر خوفناک پھوڑے تھے جن کے نشان اب تک موجود ہیں ۔ اور یہ پیشگوئی صدہا اشتہاروں کے ذریعہ سے ملک میں شائع کی گئی۔ اور نیز یہ پیشگوئی کہ اس عاجز کے گھر میں چار لڑکے پیدا ہوں گے اور عبد الحق غزنوی ابھی زندہ ہو گا کہ چوتھا لڑکا پیدا ہو جائے گا کس زور سے بذریعہ اشتہارات شائع کی گئی تھی اور کیسی صفائی سے پُوری ہوئی مگر کون اس پر ایمان لایا اور یہ سب نشان صرف دو چار نہیں بلکہ ڈیڑھ سو سے بھی زیادہ نشان ہیں۔ اگر ان نشانوں کے گواہ جنہوں نے یہ نشان دیکھے جو اب تک زندہ موجود ہیں صف باندھ کر کھڑے کئے جائیں تو ایک بھاری گورنمنٹ کے لشکر کے موافق اُن کی تعداد ہوگی ۔ اب کس قدر ظلم ہے کہ اس قدر نشانوں کو دیکھ کر پھر کہے جاتے ہیں کہ کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا اور مولویوں کے لئے تو خود ان کی بے علمی کا نشان اُن کے لئے کافی تھا کیونکہ ہزار ہا روپے کے انعامی اشتہار دئے گئے کہ اگر وہ بالمقابل بیٹھ کر کسی سورۃ قرآنی کی تفسیر عربی فصیح بلیغ میں میرے مقابل پر لکھ سکیں تو وہ انعام پاویں ۔ مگر وہ مقابلہ نہ کر سکے تو کیا یہ نشان نہیں تھا کہ خدا نے اُن کی ساری علمی طاقت سلب کر دی۔ باوجود اس کے کہ وہ ہزاروں تھے تب بھی کسی کو حوصلہ نہ پڑا کہ سیدھی نیت سے میرے مقابل پر آوے اور دیکھے کہ خدا تعالیٰ اس مقابلہ میں کس کی تائید کرتا ہے۔ پھر ایک اور نشان اُن کے لئے تھا کہ انہوں نے میرے تباہ کرنے کے لئے جان توڑ کر کوششیں کیں اور کوئی مکر اور فریب اُٹھا نہ رکھا جو اس کو استعمال نہ کیا اور مخالفت کے اظہار میں تمام زور اپنا انواع اقسام کے وسائل سے خرچ کر دیا اور ناخنوں تک زور لگایا اور جائز نا جائز طریق سب اختیار کئے اور سبّ و شتم اور تحقیر اور توہین سے پورا کام لیا۔ حکام تک مقدمات پہنچائے خون کے الزام لگائے لیکن آخر نتیجہ یہ ہوا کہ جو جماعت پہلے دنوں میں چالیس آدمیوں سے بھی کم تھی آج ستر ہزار کے قریب پہنچ گئی ۔ اور باوجود سخت مخالفانہ مزاحمتوں کے براہین احمدیہ کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی جو آج سے بیس برس پہلے دنیا میں شائع ہو چکی تھی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ لوگ مزاحمتیں کریں گے اور اس سلسلہ کو نابود کرنا چاہیں گے لیکن خدا ان کے ارادوں کے مخالف کرے گا اور اس سلسلہ کو ایک بڑی جماعت بنا دے گا یہاں تک کہ یہ سلسلہ بہت ہی جلد دنیا میں پھیل جائے گا اور اُن لوگوں کے ارادوں پر لعنت کا داغ ظاہر ہو جائے گا جنہوں نے روکنا چاہا تھا اب بتلاؤ کہ کیا اب تک خدا کی معجزانہ تائید ثابت نہ ہوئی۔ اگر یہ کاروبار کسی مکار کا ہوتا تو کیا اس کا نتیجہ یہی ہونا چاہیے تھا۔ اُٹھو اور دنیا میں اس بات کی تلاش کرو کہ کون مکار تاریخ کے صفحہ سے تم بتلا سکتے ہو جس کے ہلاک کرنے کے لئے یہ کوششیں کی گئیں اور پھر وہ تباہ نہ ہوا۔ اے سخت دل قوم تمہیں کس نے چاند پر تھوکنا سکھلایا ۔ کیا تم اُس سے لڑو گے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ اپنے دلوں میں غور کرو کہ کبھی خدا نے کسی جھوٹے کے ساتھ ایسی رفاقت کی کہ قوموں کے ارادوں اور کوششوں کو اس کے مقابل پر ہر ایک میدان میں نابود کر دیا۔ اور اُن کو ہر ایک کو اس کے حملہ میں نامراد رکھا۔ باز آ جاؤ اور اُس کے قہر سے ڈرو اور یقیناً سمجھو کہ تم اپنی مفسدانہ حرکات پر مُہر لگا چکے۔ اگر خدا تمہارے ساتھ ہوتا تو اس قدر فریبوں کی تمہیں کچھ بھی حاجت نہ ہوتی۔ تم میں سے صرف ایک شخص کی دعا ہی مجھے نابود کر دیتی ۔ مگر تم میں سے کسی کی دُعا بھی آسمان پر نہ چڑھ سکی۔ بلکہ دعاؤں کا اثر یہ ہوا کہ دن بدن تمہارا ہی خاتمہ ہوتا جاتا ہے۔ تم نے میرا نام مسیلمہ کذّاب رکھا۔ لیکن مسیلمہ تو وہ تھا جس کا ایک ہی جنگ میں خاتمہ ہو گیا مگر تم تو بیس برس تک جنگ کئے گئے اور ہر جنگ میں نامراد رہے کیا سچوں اور مومنوں کے یہی نشان ہوا کرتے ہیں؟ کیا تم دیکھتے نہیں کہ تم گھٹتے جاتے اور ہم بڑھتے جاتے ہیں۔ اگر تمہارا قدم کسی سچائی پر ہوتا تو کیا اس مقابلہ میں تمہارا انجام ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ کس نے تم میں سے مباہلہ کیا کہ آخر اُس نے ذِلت یا موت کا مزہ نہ چکھا۔
اوّل تم میں سے مولوی اسمٰعیل علیگڑھ نے میرے مقابل پر کہا کہ ہم میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مر جائے گا۔ سو تم جانتے ہو کہ شاید دس سال کے قریب ہو چکے کہ وہ مر گیا ۔ اور اب خاک میں اُس کی ہڈیاں بھی نہیں مل سکتیں۔ پھر پنجاب میں مولوی غلام دستگیر قصوری اُٹھا اور اپنے تئیں کچھ سمجھا اور اُس نے اپنی کتاب میں میرے مقابلہ میں یہ لکھا کہ ہم دونوں میں سے جو جُھوٹا ہے وہ پہلے مَر جائے گا سوکئی سال ہو گئے کہ غلام دستگیر بھی مر گیا ۔ وہ کتاب چھپی ہوئی موجود ہے۔ اسی طرح مولوی رشید احمد گنگوہی اُٹھا اور ایک اشتہار میرے مقابل پر نکالا اور جھوٹے پر لعنت کی اور تھوڑے دنوں کے بعد اندھا ہو گیا ۔ دیکھو اور عبرت پکڑو۔ پھر بعد اس کے مولوی غلام محی الدین لکھو کے والا اُٹھا۔ اُس نے بھی ایسے ہی الہام شائع کئے آخر وہ بھی جلد دنیا سے رخصت ہو گیا۔ پھر عبدالحق غزنوی اُٹھا اور بالمقابل مباہلہ کر کے دُعائیں کیں کہ جو جھوٹا ہے خدا کی اُس پر لعنت ہو برکتوں سے محروم ہو دنیا میں اُس کی قبولیت کا نام و نشان نہ رہے۔ سو تم خود دیکھ لو کہ ان دعاؤں کا کیا انجام ہوا اور اب وہ کس حالت میں اور ہم کس حالت میں ہیں ۔ دیکھو اس مباہلہ کے بعد ہر یک بات میں خدا نے ہماری ترقی کی اور بڑے بڑے نشان ظاہر کئے آسمان سے بھی اور زمین سے بھی اور ایک دنیا کو میری طرف رجوع دے دیا اور جب مباہلہ ہوا تو شاید چالیس ۴۰آدمی میرے دوست تھے☆ اور آج ستر ہزار کے قریب اُن کی تعداد ہے اور مالی فتوحات اب تک دو لاکھ روپیہ سے بھی زیادہ اور ایک دنیا کو غلام کی طرح ارادت مند کر دیا اور زمین کے کناروں تک مجھے شہرت دے دی ۔ لطف تب ہو کہ اوّل قادیان میں آؤ اور دیکھو کہ ارادت مندوں کا لشکر کس قدر اِس جگہ خیمہ زن ہے اور پھر امرتسر میں عبدالحق غزنوی کو کسی دوکان پر یا بازار میں چلتا ہوا دیکھو کہ کس حالت میں چل رہا ہے۔ بڑا افسوس ہے کہ خدا کی طاقت کھلے کھلے طور پر میری تائید میں آسمان سے نازل ہو رہی ہے مگر یہ لوگ شناخت نہیں کرتے ۔ ٹرنسوال اور دولت برطانیہ کی صلح ہو گئی ۔ مگر ان لوگوں کا اب تک جنگ باقی ہے ٹرنسوال نے عقلمندی کر کے انگریزی گورنمنٹ کو طاقتور پایا اور اطاعت قبول کر لی مگر یہ لوگ اب تک آسمانی گورنمنٹ کے باغی ہیں۔ خدا کے نشانوں کو نہیں دیکھتے۔ اُمّت ضعیفہ کی ضرورت پر نظر نہیں ڈالتے۔ صلیبی غلبہ کا مشاہدہ نہیں کرتے اور ہر روزہ ارتداد کا گرم بازار دیکھ کر اُن کے دل نہیں کانپتے ۔ اور جب اُن کو کہا جائے کہ عین ضرورت کے وقت میں عین صدی کے سر پر عین غلبہ صلیب کے ایام میں یہ مجدّد آیا جس کا نام ان معنوں سے مسیح موعود ہے کہ جو اسی صلیبی فتنہ کے وقت میں ظاہر ہوا تو کہتے ہیں کہ حدیثوں میں ہے کہ اس اُمت میں تیس دجّال آویں گے کہ تا اُمت کا اچھی طرح خاتمہ کر دیں۔ کیا خوب عقیدہ ہے!!! اے نادانوں کیا اس اُمت کی ایسی ہی پھوٹی ہوئی قسمت اور ایسے ہی بد طالع ہیں کہ اُن کے حصہ میں تیس دجّال ہی رہ گئے ۔ دجّال تو تیس مگر طوفانِ صلیب کے فرو کرنے کے لئے ایک بھی مجدد نہ آ سکا زہے قسمت۔ خدا نے پہلی امتوں کے لئے تو پے در پے نبی اور رسول بھیجے لیکن جب اس امت کی نوبت آئی تو اس کو تیس دجّال کی خوشخبری سنائی گئی اور پھر یہ بھی ثابت شدہ پیشگوئی ہے کہ آخر کار اس اُمت کے علماء بھی یہودی بن جائیں گے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اب تک لاکھوں آدمی مُرتد ہو چکے جنہوں نے دین اسلام کو ترک کر دیا پس کیا اس درجہ کی ضلالت تک ابھی خدا خوش نہ ہوا اور اس کے دل کو سیری نہ ہوئی جب تک اُس نے خود اسی اُمت میں سے صدی کے سر پر ایک دجّال بھیج نہ دیا۔ خوب اُمت مرحومہ ہے جس کے حق میں یہ عنایات ہیں اور پھر یہ کہ باوجود یکہ اس دجّال کے مارنے کے لئے مومنوں کے سجدات میں ناک گھس گئے ۔ لاکھوں دعائیں اور تدبیریں اُس کی ہلاکت اور تباہی کے لئے کی گئیں مگر خدا نہیں سنتا منہ پھیر لیتا ہے بلکہ برعکس اس کے یہ دجّال برابر تیس برس سے ترقی کر رہا ہے اور دنیا میں آسمان کے نور کی طرح پھیلتا جاتا ہے۔ اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ یہ امت نہایت ہی بد قسمت ہے اور خدا کا پختہ ارادہ ہے کہ اس کو ہلاک کر دے یہ کیسی موردِ غضب الٰہی ہے کہ ایک تو دجّال کے قبضہ میں دی گئی اور اب تک سچے مسیح اور مہدی کا نہ آسمان پر کچھ پتہ ملتا ہے نہ زمین پر ۔ ہزار چیخیں بھی مارو وہ دونوں گمشدہ جواب بھی نہیں دیتے کہ زندہ ہیں یا مردہ اور کدھر ہیں اور کہاں ہیں۔ نبیوں کے مقرر کردہ وقت بھی گزر گئے اور اُمّت کو عیسائی مذہب نے کھا لیا مگر نہ خدا کو رحم آیا اور نہ مہدی اور مسیح کے دِل نرم ہوئے ۔ بعض نادان کہتے ہیں کہ بے شک قرآن سے مسیح ابن مریم کی وفات ثابت ہوتی ہے اور سورۃ نور اور سورۃ فاتحہ وغیرہ سورتوں پر نظر غائر کر کے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس اُمت کے کل خلفاء اسی اُمّت میں سے ہوں گے اور ہم مانتے ہیں کہ صلیبی مذہب نے بھی بہت کچھ فتنہ پیدا کیا ہے اور یہ وہ مصیبت ہے کہ اسلام پر اس سے پہلے کبھی نہیں آئی ۔ وقت اور زمانہ بے شک ایسے مصلح کو چاہتا ہے جو صلیبی طوفان کا مقابلہ کرے اور صدی کا سر بھی اسی کو چاہتا تھا اور صدی میں سے بھی قریبا پانچواں حصّہ گزر گیا۔ سب کچھ سچ لیکن ہم کیونکر مان لیں کیونکہ اس شخص کے عقائد ہمارے علماء کے عقائد سے مختلف ہیں اگر یہ اُن کا ہمزبان ہوتا تو ہم قبول کر سکتے۔ اب دیکھو کہ یہ خیالات اُن کے کس قدر دیوانگی کے ہیں۔ جب آپ ہی قائل ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم کی حیات اور نزول میں علماء غلطی پر ہیں تو پھر خدا کا مُرسل کیونکر اس غلطی کو مان لے ماسوا اس کے جبکہ مسیح موعود کا نام حَکم ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اسلام کے بہتّر ۷۲فرقوں میں فیصلہ کرے اور بعض خیالات رڈ کرے اور بعض کی تصدیق کرے۔ یہ کیونکر ہو سکے کہ جو حکم کہلاتا ہے وہ تمہارا سب رطب یا بس کا ذخیرہ مان لے اور پھر اس کے وجود سے فائدہ کیا ہوا اور کس وجہ سے اس کا نام حَکم رکھا گیا ۔ اس لئے ضروری تھا کہ وہ رطب یا بس کے ذخیرہ میں سے بعض ردّ کرے اور بعض قبول کرے۔ اور اگر سب کچھ قبول کرتا جائے تو پھر حکم کس بات کا ہوا ۔ مثلاً دیکھو تم میں ایک فرقہ تو اس بات کا قائل ہے کہ عیسیٰ ابن مریم دوبارہ آسمان سے واپس آئے گا مگر اس کے مقابل پر معتزلہ اور بعض صوفیہ کا یہ فرقہ ہے کہ دوبارہ آنا غلط ہے بلکہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے اور آنے والا اِسی اُمت میں سے ہوگا ۔ اب بتلاؤ کہ میں نے کونسی زیادتی اور مخالفت اسلام کی۔ صرف یہ کیا کہ خدا سے وحی پا کر مسلمانوں کے دو عقیدوں میں سے ایک عقیدے کو ردّ کر دیا اور اس کو مخالف قراٰن اور مخالف اجماع صحابہ بتلایا اور دوسرے عقیدہ کی تصدیق کی اور اس کے موافق اپنے تئیں ظاہر کیا۔ کیا حکم کے لئے ضروری تھا کہ تمہارے کئی فرقوں میں سے صرف اہلحدیث کی بات مانتا یا صرف حنفیوں کی بات قبول کرتا اور باقی تمام فرقوں کے تمام اجتہادی عقائد کو ردّ کر دیتا تو اس صورت میں تو تم ہی حکم ٹھہرے نہ وہ ۔ ہاں سچ ہے کہ ہر ایک عقیدہ جب عادت میں داخل ہو جاتا ہے تو اس کا چھوڑ نا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح جو مُدّت کے فوت ہو چکے آپ لوگوں کے خیال میں وہ اب تک بجسم عنصری آسمان پر بیٹھے ہیں۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ آسمان پر نہیں بلکہ آپ لوگوں کے دل پر بیٹھے ہیں اور پرانے عقیدوں کی وجہ سے ہر دم زبان پر نزول کر رہے ہیں ۔ تم سے پہلے یہودیوں کو بھی یہی بلا پیش آئی تھی کہ اُن کے نزدیک صحیح عقیدہ یہی تھا کہ الیاس آسمان سے نازل ہو گا تب مسیح آئے گا لیکن جب حضرت مسیح آئے اور الیاس آسمان سے نازل نہ ہوا تو یہودیوں نے تکذیب کا وہ شور مچایا کہ آپ لوگوں کے شور اور ان کے شور میں فرق کرنا مشکل☆ ہے اور بڑے جوش سے حضرت عیسیٰ سے یہودیوں نے سوال کیا کہ ابھی الیاس تو دوبارہ دنیا میں آیا نہیں تو تم کیونکر سچا مسیح ٹھہر سکتے ہو۔ تب انہوں نے جواب دیا کہ الیاس تم میں موجود ہے جو یوحنّا نبی ہے یعنی یحییٰ مگر کسی نے یہ جواب پسند نہ کیا اور آج تک حضرت عیسیٰ کو اسی وجہ سے کافر کہا جاتا ہے کہ اُنہوں نے یہودیوں کے اجماعی عقیدہ کے برخلاف رائے ظاہر کی ۔ اور عجیب تریہ بات ہے کہ ہمارے مخالف قطع نظر اس سے جو ہماری دعوت کو مان لیں وہ اپنا ذخیرہ ظنون شکوک کا ہمیں منوانا چاہتے ہیں حالانکہ وہ اس خدا سے بالکل بے خبر ہیں جس سے نجات ملتی ہے۔ جس حالت میں خدا نے ہم پر فضل کر کے ہمیں اپنی طرف سے نور بخشا جس نور سے ہم نے اُس کو پہچانا اور ہمیں نشان عطا فرمائے جن نشانوں سے ہم نے اُس کی ہستی اور صفات کاملہ پر یقین کر لیا تو کیونکر ہم اس نور اور معرفت اور یقین کو اپنے آپ سے دور کر دیں۔ ہم سچ سچ کہتے ہیں اور خدا ہمارے اس قول پر گواہ ہے کہ اگرچہ خدائے تعالیٰ کی ہستی اور اسلام کی سچائی کا یقین قرآن کے ذریعہ سے ہمارے پاس آیا مگر خدا نے اپنی وحی تازہ کے ذریعہ سے ہمیں اپنی خاص چمکاریں دکھلائیں یہاں تک کہ ہم نے اُس خدا کو دیکھ لیا جس سے ایک دنیا غافل ہے۔ اس کے دلکش نشانوں نے جو میرے علم میں ہزاروں تک پہنچ گئے گو دنیا کو ابھی صرف ڈیڑھ سو نشان سے اطلاع ہوئی مجھ میں وہ یقین اور بصیرت اور معرفت کا نور پیدا کیا جو مجھے اس تاریک دنیا سے ہزاروں کوس دُور تر کھینچ کر لے گیا اب اگرچہ میں دنیا میں ہوں مگر دنیا میں سے نہیں ہوں ۔ اگر دنیا مجھے نہیں پہچانتی تو کچھ تعجب نہیں کیونکہ ہر ایک چیز جو بہت دور اور بہت بلند ہے اس کا پہچاننا مشکل ہے۔ میں کبھی امید نہیں کرتا کہ دنیا مجھ سے محبت کرے کیونکہ دنیا نے کبھی کسی راستباز سے محبت نہیں کی ۔ مجھے اس سے خوشی ہے کہ مجھے گالیاں دی گئیں دجّال کہا گیا کافر ٹھہرایا گیا کیونکہ سورۃ فاتحہ میں ایک مخفی پیشگوئی موجود ہے اور وہ یہ کہ جس طرح یہودی لوگ حضرت عیسیٰ کو کافر اور دجّال کہہ کر مغضوب علیہم بن گئے بعض مسلمان بھی ایسے ہی بنیں گے۔ اسی لئے نیک لوگوں کو یہ دعا سکھلائی گئی کہ وہ منعم علیہم میں سے حصہ لیں اور مغضوب علیہم نہ بنیں ۔ سورۃ فاتحہ کا اعلیٰ مقصود مسیح موعود اور اس کی جماعت اور اسلامی یہودی اور اُن کی جماعت اور ضالین یعنی عیسائیوں کے زمانہ ترقی کی خبر ہے۔ سوکس قدر خوشی کی بات ہے کہ وہ باتیں آج پوری ہوئیں۔
بالآخر میں ایک اور رؤیا لکھتا ہوں جو طاعون کی نسبت مجھے ہوئی اور وہ یہ کہ میں نے ایک جانور دیکھا جس کا قد ہاتھی کے قد کے برابر تھا مگر منہ آدمی کے منہ سے ملتا تھا اور بعض اعضاء دوسرے جانوروں سے مشابہ تھے اور میں نے دیکھا کہ وہ یوں ہی قدرت کے ہاتھ سے پیدا ہو گیا اور میں ایک ایسی جگہ پر بیٹھا ہوں جہاں چاروں طرف بن ہیں جن میں بیل گدھے گھوڑے کتے سور بھیڑیے اونٹ وغیرہ ہر ایک قسم کے موجود ہیں اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ سب انسان ہیں جو بد عملوں سے اِن صورتوں میں ہیں ۔ اور پھر میں نے دیکھا کہ وہ ہاتھی کی ضخامت کا جانور جو مختلف شکلوں کا مجموعہ ہے جو محض قدرت سے زمین میں سے پیدا ہو گیا ہے وہ میرے پاس آ بیٹھا ہے اور قطب کی طرف اُس کا منہ ہے خاموش صورت ہے آنکھوں میں بہت حیا ہے اور بار بار چند منٹ کے بعد اُن بنوں میں سے کسی بن کی طرف دوڑتا ہے اور جب بن میں داخل ہوتا ہے تو اُس کے داخل ہونے کے ساتھ ہی شور قیامت اُٹھتا ہے اور ان جانوروں کو کھانا شروع کرتا ہے اور ہڈیوں کے چابنے کی آواز آتی ہے۔ تب وہ فراغت کر کے پھر میرے پاس آ بیٹھتا ہے اور شاید دس منٹ کے قریب بیٹھا رہتا ہے اور پھر دوسرے بن کی طرف جاتا ہے اور وہی صورت پیش آتی ہے جو پہلے آئی تھی اور پھر میرے پاس آ بیٹھتا ہے۔ آنکھیں اُس کی بہت لمبی ہیں اور میں اس کو ہر ایک دفعہ جو میرے پاس آتا ہے خوب نظر لگا کر دیکھتا ہوں اور وہ اپنے چہرہ کے اندازہ سے مجھے یہ بتلاتا ہے کہ میرا اس میں کیا قصور ہے میں مامور ہوں اور نہایت شریف اور پر ہیز گار جانور معلوم ہوتا ہے اور کچھ اپنی طرف سے نہیں کرتا بلکہ وہی کرتا ہے جو اس کو حکم ہوتا ہے۔ تب میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہی طاعون ہے اور یہی وہ دابّة الارض ہے جس کی نسبت قرآن شریف میں وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں ہم اس کو نکالیں گے اور وہ لوگوں کو اس لئے کاٹے گا کہ وہ ہمارے نشانوں پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَاِذَا وَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَیۡہِمۡ اَخۡرَجۡنَا لَہُمۡ دَآبَّۃً مِّنَ الۡاَرۡضِ تُکَلِّمُہُمۡ ۙ اَنَّ النَّاسَ کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوۡقِنُوۡنَ۔(النمل: ۸۳) اور جب مسیح موعود کے بھیجنے سے خدا کی حجت اُن پر پوری ہو جائے گی تو ہم زمین میں سے ایک جانور نکال کر کھڑا کریں گے وہ لوگوں کو کاٹے گا اور زخمی کرے گا اس لئے کہ لوگ خدا کے نشانوں پر ایمان نہیں لائے تھے۔ دیکھو سورۃ النمل الجز و نمبر ۲۰۔
اور پھر آگے فرمایا ہے وَیَوۡمَ نَحۡشُرُ مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍ فَوۡجًا مِّمَّنۡ یُّکَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمۡ یُوۡزَعُوۡنَ حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡ قَالَ اَکَذَّبۡتُمۡ بِاٰیٰتِیۡ وَلَمۡ تُحِیۡطُوۡا بِہَا عِلۡمًا اَمَّاذَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ وَوَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَیۡہِمۡ بِمَا ظَلَمُوۡا فَہُمۡ لَا یَنۡطِقُوۡنَ(النمل: ۸۴تا۸۶) ترجمہ ۔ اُس دن ہم ہر ایک اُمت میں سے اس گروہ کو جمع کریں گے جو ہمارے نشانوں کو جھٹلاتے تھے اور اُن کو ہم جدا جدا جماعتیں بنادیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ عدالت میں حاضر کئے جائیں گے تو خدائے عزّ و جلّ اُن کو کہے گا کہ کیا تم نے میرے نشانوں کی بغیر تحقیق کے تکذیب کی یہ تم نے کیا کیا اور ان پر بوجہ اُن کے ظالم ہونے کے حجت پوری ہو جائے گی اور وہ بول نہ سکیں گے۔ سورۃ النمل الجز و نمبر ۲۰۔
اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہی دابّة الارض جو ان آیات میں مذکور ہے جس کا مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہر ہونا ابتدا سے مقررہے۔ یہی وہ مختلف صورتوں کا جانور ہے جو مجھے عالم کشف میں نظر آیا اور دل میں ڈالا گیا کہ یہ طاعون کا کیڑا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کا نام دابّة الارض رکھا کیونکہ زمین کے کیڑوں میں سے ہی یہ بیماری پیدا ہوتی ہے اسی لئے پہلے چوہوں پر اس کا اثر ہوتا ہے اور مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے اور جیسا کہ انسان کو ایسا ہی ہر ایک جانور کو یہ بیماری ہو سکتی ہے اسی لئے کشفی عالم میں اس کی مختلف شکلیں نظر آئیں ۔ اور اس بیان پر کہ دابة الارض در حقیقت مادہ طاعون کا نام ہے جس سے طاعون پیدا ہوتی ہے مفصلہ ذیل قرائن اور دلائل ہیں۔
(۱) اوّل یہ کہ دابة الارض کے ساتھ عذاب کا ذکر کیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاِذَا وَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَیۡہِمۡ اَخۡرَجۡنَا لَہُمۡ دَآبَّۃً مِّنَ الۡاَرۡضِ(النمل: ۸۳) یعنی جب اُن پر آسمانی نشانوں اور عقلی دلائل کے ساتھ حجت پوری ہو جائے گی تب دابة الارض زمین میں سے نکالا جائے گا۔ اب ظاہر ہے کہ دابة الارض عذاب کے موقعہ پر زمین سے نکالا جائے گا نہ یہ کہ یوں ہی بیہودہ طور پر ظاہر ہوگا جس کا نہ کچھ نفع نہ نقصان ۔ اور اگر کہو کہ طاعون تو ایک مرض ہے مگر دابة الارض لغوی معنوں کے رُو سے ایک کیڑا ہونا چاہیے جو زمین میں سے نکلے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حال کی تحقیقات سے یہی ثابت ہوا ہے کہ طاعون کو پیدا کرنے والا وہی ایک کیڑا ہے جو زمین میں سے نکلتا ہے بلکہ ٹیکا لگانے کے لئے وہی کیڑے جمع کئے جاتے ہیں اور اُن کا عرق نکالا جاتا ہے اور خورد بین سے ثابت ہوتا ہے کہ اُن کی شکل یوں ہے (۰۰) یعنی بہ شکل دو نقطہ ۔ گویا آسمان پر بھی نشان کسوف خسوف دو کے رنگ میں ظاہر ہوا اور ایسا ہی زمین میں ۔
(۲) دوسرا قرینہ یہ ہے کہ قرآن شریف کے بعض مقامات بعض کی تفسیر ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن شریف میں جہاں کہیں یہ مرکب لفظ آیا ہے ۔ اس سے مراد کیڑا لیا گیا ہے مثلاً یہ آیت فَلَمَّا قَضَیۡنَا عَلَیۡہِ الۡمَوۡتَ مَا دَلَّہُمۡ عَلٰی مَوۡتِہٖۤ اِلَّا دَآبَّۃُ الۡاَرۡضِ تَاۡکُلُ مِنۡسَاَتَہٗ(سبا: ۱۵) یعنی ہم نے سلیمان پر جب موت کا حکم جاری کیا تو جنات کو کسی نے اُن کے مرنے کا پتہ نہ دیا مگر گھن کے کیڑے نے کہ جو سلیمان کے عصا کو کھاتا تھا۔ سورۃ السبا الجز و نمبر ۲۲ ۔ اب دیکھو اس جگہ بھی ایک کیڑے کا نام دابة الارض رکھا گیا بس اس سے زیادہ دابة الارض کے اصلی معنوں کی دریافت کے لئے اور کیا شہادت ہو گی کہ خود قرآن شریف نے اپنے دوسرے مقام میں دابة الارض کےمعنے کیڑا کیا ہے۔ سو قرآن کے برخلاف اس کے اور معنی کرنا یہی تحریف اور اِلحاد اور دَجل ہے۔
(۳) تیسرا قرینہ یہ ہے کہ آیت میں صریح معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے نشانوں کی تکذیب کے وقت میں کوئی امام الوقت موجود ہونا چاہیے کیونکہ وَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَیۡہِمۡ کا فقرہ یہی چاہتا ہے کہ اتمام حجت کے بعد یہ عذاب ہو اور یہ تو متفق علیہ عقیدہ ہے کہ خروج دابة الارض آخری زمانہ میں ہو گا جبکہ مسیح موعود ظاہر ہوگا تا کہ خدا کی حجت دنیا پر پوری کرے ۔ پس ایک منصف کو یہ بات جلد تر سمجھ آ سکتی ہے کہ جبکہ ایک شخص موجود ہے جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور آسمان اور زمین میں بہت سے نشان اس کے ظاہر ہو چکے ہیں تو اب بلا شبہ دابة الارض یہی طاعون ہے جس کا مسیح کے زمانہ میں ظاہر ہونا ضروری تھا اور چونکہ یا جوج ماجوج موجود ہے اور مِّنۡ کُلِّ حَدَبٍ یَّنۡسِلُوۡنَ(الانبیاء: ۹۷) کی پیشگوئی تمام دنیا میں پوری ہو رہی ہے اور دجالی فتنے بھی انتہا تک پہنچ گئے ہیں اور پیشگوئی یترکن القلاص فلا یُسْعٰی علیہا بھی بخوبی ظاہر ہو چکی ہے اور شراب اور زنا اور جھوٹ کی بھی کثرت ہو گئی ہے اور مسلمانوں میں یہودیت کی فطرت بھی جوش مار رہی ہے تو صرف ایک بات باقی تھی جو دابة الارض زمین میں سے نکلے سو وہ بھی نکل آیا۔ اس بات پر جھگڑنا جہالت ہے کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فلاں جگہ پھٹے گی اور دابة الارض وہاں سے سر نکالے گا پھر تمام دنیا میں چکر مارے گا کیونکہ اکثر پیشگوئیوں پر استعارات کا رنگ غالب ہوتا ہے جب ایک بات کی حقیقت کھل جائے تو ایسے اوہام باطلہ کے ساتھ حقیقت کو چھوڑ نا کمال جہالت ہے اسی عادت سے بد بخت یہودی قبول حق سے محروم رہ گئے ۔
(۴) قرینہ چہارم دابة الارض کے طاعون ہونے پر یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ میں ایک رنگ میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ کسی وقت بعض مسلمان بھی وہ یہودی بن جائیں گے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں تھے جو آخر کار طاعون وغیرہ بلاؤں سے ہلاک کئے گئے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سے یہ عادت ہے کہ جب ایک قوم کو کسی فعل سے منع کرتا ہے تو ضرور اس کی تقدیر میں یہ ہوتا ہے کہ بعض ان میں سے اس فعل کے ضرور مرتکب ہوں گے جیسا کہ اُس نے توریت میں یہودیوں کو منع کیا تھا کہ تم نے توریت اور دوسری خدا کی کتابوں کی تحریف نہ کرنا۔ سو آخر اُن میں سے بعض نے تحریف کی مگر قرآن میں یہ نہیں کہا گیا کہ تم نے قرآن کی تحریف نہ کرنا بلکہ یہ کہا گیا اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ(الحجر: ۱۰) سو سورۃ فاتحہ میں خدا نے مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ(الفاتحۃ: ۶-۷) ۔ اس جگہ احادیث صحیحہ کے رُو سے بکمال تواتر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ المغضوب علیہم سے مراد بد کار اور فاسق یہودی ہیں جنہوں نے حضرت مسیح کو کافر قرار دیا اور قتل کے درپے رہے اور اُس کی سخت توہین و تحقیر کی اور جن پر حضرت عیسیٰ نے لعنت بھیجی جیسا کہ قرآن شریف میں مذکور ہے اور الضآلین سے مراد عیسائیوں کا وہ گمراہ فرقہ ہے جنہوں نے حضرت عیسیٰ کو خدا سمجھ لیا اور تثلیث کے قائل ہوئے اور خون مسیح پر نجات کا حصر رکھا اور ان کو زندہ خدا کے عرش پر بٹھا دیا۔ اب اس دعا کا مطلب یہ ہے کہ خدایا ایسا فضل کر کہ ہم نہ تو وہ یہودی بن جائیں جنہوں نے مسیح کو کافر قرار دیا تھا اور ان کے قتل کے درپے ہوئے تھے اور نہ ہم مسیح کو خدا قرار دیں اور تثلیث کے قائل ہوں چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ آخری زمانہ میں اِسی اُمت میں سے مسیح موعود آئے گا اور بعض یہودی صفت مسلمانوں میں سے اس کو کافر قرار دیں گے اور قتل کے درپے ہوں گے اور اس کی سخت توہین و تحقیر کریں گے اور نیز جانتا تھا کہ اس زمانہ میں تثلیث کا مذہب ترقی پر ہوگا اور بہت سے بدقسمت انسان عیسائی ہو جائیں گے اس لئے اُس نے مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی اور اس دعا میں مَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ کا جو لفظ ہے وہ بلند آواز سے کہہ رہا ہے کہ وہ لوگ جو اسلامی مسیح کی مخالفت کریں گے وہ بھی خدا تعالیٰ کی نظر میں مغضوب علیہم ہوں گے جیسا کہ اسرائیلی مسیح کے مخالف مغضوب علیہم تھے اور حضرت مسیح خود انجیل میں اشارہ کرتے ہیں کہ میرے منکروں پر مری یعنی طاعون پڑے گی☆ اور بعد اس کے دُوسرے عذاب بھی نازل ہوں گے۔ اس لئے ضروری تھا کہ مسیح اسلامی کی تائید میں بھی یہ باتیں ظہور میں آتیں۔ اور بھی دلائل اس بات پر بہت ہیں کہ یہی دابّۃ الارض جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے طاعون ہے اور بلاشبہ یہ زمینی بیماری ہے اور زمین میں سے ہی نکلتی ہے اس سے محفوظ رہنے کے لئے بعد اس کے جو ایک شخص اس جماعت میں داخل ہوا اور تقویٰ اختیار کرے تکرار سورۃ فاتحہ کا حضور دل سے اور اس کے معنوں پر قائم ہونے سے بہت مؤثر ہے جو شخص طاعون کی ناگہانی آفات سے بچنا چاہتا ہے اس کے لئے اس سے بہتر اور کوئی ذریعہ نہیں جو خدائے قادر ذوالجلال پر سچا ایمان لائے اور اپنے تمام اعضا کو معاصی سے بچاوے اور دین کو اور دینی خدمات کو دنیا پر مقدم رکھ لے اور اس سلسلہ حقہ میں صدق اور اخلاص کے ساتھ داخل ہو جائے اور دلی جوش کے ساتھ دعا میں لگا رہے اور اپنی عورتوں کو جن کے شر کے بداثر میں وہ بھی شریک ہو سکتا ہے غافلانہ زندگی سے بچاوے اور کوشش کرے کہ اُس کے گھر میں ذکر الہٰی ہو پھر اس کے ساتھ قرآن شریف کے جمیع احکام کا پابند ہو کر ظاہری پلیدیوں اور ناپاکیوں سے بھی اپنے گھر کو صاف رکھے جو شخص ظاہری پلیدیوں سے نفرت نہیں رکھتا اور اس کا گھر اور اس کے گھر کا صحن نا پاک رہتے ہیں وہ اندرونی پاکیزگی میں بھی سُست ہو سکتا ہے سو تم کوشش کرو کہ تمہارے گھر کا کوئی بھی حصہ نا پاک نہ ہو اور نہ نا پاک پانی اور کیچڑ بدر رؤں میں کھڑا رہے اور نہ کپڑے میلے کچیلے رہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے جو قرآن شریف میں آ چکا ہے۔ ایسے احکام جو خدا تعالیٰ کی کتاب میں آئے ہیں وہ اس لئے آئے ہیں تا تم سمجھو کہ جسمانی سلسلہ کو روحانی سلسلہ سے ایک تعلق ہے سو تم نہ تو ظاہری طور پر زمین کے نجس حصوں کی طرف جھکو اور نہ روحانی طور پر بلکہ اگر ممکن ہو تو اوپر کے مکانوں میں رہو اور ہوا دار اور روشن مکان اختیار کرو اور نہ تم باطنی طور پر زمین کی طرف جھکو بلکہ آسمان میں سے حصہ لو۔ یہ جو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا کہ وہ دابّۃ الارض یعنی طاعون کا کیڑا زمین میں سے نکلے گا اس میں یہی بھید ہے کہ تا وہ اس بات کی طرف اشارہ کرے کہ وہ اُس وقت نکلے گا کہ جب مسلمان اور ان کے علماء زمین کی طرف جھک کر خود دابّۃ الارض بن جائیں گے۔ ہم اپنی بعض کتابوں میں یہ لکھ آئے ہیں کہ اس زمانہ کے ایسے مولوی اور سجادہ نشین جو متقی نہیں ہیں اور زمین کی طرف جھکے ہوئے ہیں یہ دابّۃ الارض ہیں اور اب ہم نے اِس رسالہ میں یہ لکھا ہے کہ دابّۃ الارض طاعون کا کیڑا ہے۔ ان دونوں بیانوں میں کوئی شخص تناقض نہ سمجھے۔ قرآن شریف ذوالمعارف ہے اور کئی وجوہ سے اس کے معنی ہوتے ہیں☆ جو ایک دوسرے کی ضد نہیں اور جس طرح قرآن شریف یک دفعہ نہیں اُترا اسی طرح اس کے معارف بھی دِلوں پر یکدفعہ نہیں اُترتے ۔ اسی بنا پر محققین کا یہی مذہب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معارف بھی یکدفعہ آپ کو نہیں ملے بلکہ تدریجی طور پر آپ نے علمی ترقیات کا دائرہ پورا کیا ہے۔ ایسا ہی مَیں ہوں جو بروزی طور پر آپ کی ذات کا مظہر ہوں ۔ آنحضرت کی تدریجی ترقی میں سر یہ تھا کہ آپ کی ترقی کا ذریعہ محض قرآن تھا پس جبکہ قرآن شریف کا نزول تدریجی تھا اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکمیل معارف بھی تدریجی تھی اور اسی قدم پر مسیح موعود ہے جو اِس وقت تم میں ظاہر ہوا۔ علم غیب خدا تعالیٰ کا خاصہ ہے جس قدر وہ دیتا ہے اُسی قدر ہم لیتے ہیں۔ پہلے اُسی نے غیب سے مجھے یہ فہم عطا کیا کہ ایسے سُست زندگی والے جو خدا اور اُس کے رسول پر ایمان تو لاتے ہیں مگر عملی حالت میں بہت کمزور ہیں یہ لوگ دابّۃ الارض ہیں یعنی زمین کے کیڑے ہیں آسمان سے ان کو کچھ حصہ نہیں ۔ اور مقدر تھا کہ آخری زمانہ میں یہ لوگ بہت ہو جائیں گے اور اپنے ہونٹوں سے اسلام کی شہادت دیں گے مگر ان کے دل تاریکی میں ہوں گے۔ یہ تو وہ معنی ہیں جو پہلے ہم نے شائع کئے اور یہ معنے بجائے خود صحیح اور درست ہیں۔ اب ایک اور معنے خدا تعالیٰ کی طرف سے اس آیت کے متعلق کھلے جن کو ابھی ہم نے بیان کر دیا ہے یعنی یہ کہ دابّۃ الارض سے مراد وہ کیڑا بھی ہے جو مقدر تھا جو مسیح موعود کے وقت میں زمین میں سے نکلے اور دنیا کو ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے تباہ کرے۔ یہ خوب یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جیسے یہ آیت دو معنوں پر مشتمل ہے ایسے ہی صد ہا نمونے اسی قسم کے کلام الہٰی میں پائے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے اُس کو معجزانہ کلام کہا جاتا ہے جو ایک ایک آیت دس۱۰ دس ۱۰پہلو پر مشتمل ہوتی ہے اور وہ تمام پہلو صحیح ہوتے ہیں بلکہ قرآن شریف کے حروف اور اُن کے اعداد بھی معارف مخفیہ سے خالی نہیں ہوتے مثلاً سورۃ والعصر کی طرف دیکھو کہ ظاہری معنوں کی رُو سے یہ بتلاتی ہے کہ یہ دُنیوی زندگی جس کو انسان اس قدر غفلت سے گذار رہا ہے آخر یہی زندگی ابدی خُسران اور وبال کا موجب ہو جاتی ہے اور اس خُسران سے وہی بچتے ہیں جو خدائے واحد پر سچے دِل سے ایمان لے آتے ہیں کہ وہ موجود ہے اور پھر ایمان کے بعد کوشش کرتے ہیں کہ اچھے اچھے عملوں سے اس کو راضی کریں اور پھر اسی پر کفایت نہیں کرتے بلکہ چاہتے ہیں کہ اس راہ میں ہمارے جیسے اور بھی ہوں جو سچائی کو زمین پر پھیلا دیں اور خدا کے حقوق پر کار بند ہوں اور بنی نوع پر بھی رحم کریں۔ لیکن اس سورۃ کے ساتھ یہ ایک عجیب معجزہ ہے کہ اس میں آدم کے زمانہ سے لے کر آنحضرتؐ کے زمانہ تک دنیا کی تاریخ اَبْجَدْ کے حساب سے یعنی حساب جمل سے بتلائی گئی ہے۔ غرض قرآن شریف میں ہزار ہا معارف و حقائق ہیں اور در حقیقت شمار سے باہر ہیں۔ اسی بناء پر قرآن شریف فرماتا ہے کہ آخری زمانہ میں دو قسم کے دابّۃ الارض پیدا ہو جائیں گے (۱) ایک تو علماء بے عمل جن کے دل زمین کے ساتھ چسپاں ہوں گے زمین کی شہرت چاہیں گے۔ (۲) دوسرے طاعون کا کیڑا جو بطور سزا دہی ظاہر ہوگا۔ سو اس زمانہ میں دونوں باتیں ظہور میں آ گئیں اور دراصل حدیثوں میں اِن دونوں باتوں کی طرف اشارہ ہے صحیح مسلم کی ایک حدیث میں صاف لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں ملک میں طاعون پھوٹے گی اور شیعہ کی کتابوں کی حدیثوں میں بھی طاعون کا ذکر ہے اور پھر ساتھ اس کے یہ بھی ذکر ہے کہ اس وقت اکثر علماء یہودی صفت ہو جائیں گے یعنی محض زمین کے کیڑے بن جائیں گے۔ دیکھو یہ دونوں پہلو جو قرآن شریف میں سے نکلتے ہیں حدیث سے ثابت ہوئے۔
بعض نادان شیعہ نے جنہوں نے حسین کی پرستش کو اسلام کا مغز سمجھ لیا ہے ہمارے رسالہ دافع البلاء کے دیکھنے سے بہت زہر اگلا ہے اور گالیاں دے کر یہ اعتراض کیا ہے کہ کیونکر ممکن ہے کہ یہ شخص امام حسین سے افضل ہوا اور جوش میں آ کر یہ بھی لکھ دیا ہے کہ امام حسین کی وہ شان ہے کہ تمام نبی اپنی مصیبتوں کے وقت میں اسی امام کو اپنا شفیع ٹھہراتے تھے اور اس کی طفیل اُن کی مصیبتیں دُور ہوتی تھیں ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مصیبت کے وقت میں امام حسین☆ کے ہی دستِ نگر تھے اور آپ کی مصیبتیں بھی امام حسین کی شفاعت سے ہی دور ہوتی تھیں ۔ افسوس یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ قرآن نے تو امام حسین کو رتبہ ابنیت کا بھی نہیں دیا بلکہ نام تک مذکور نہیں اُن سے تو زید ہی اچھا رہا جس کا نام قرآن شریف میں موجود ہے ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا کہنا قرآن شریف کے نص صریح کے برخلاف ہے جیسا کہ آیت مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡا سے سمجھا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ حضرت امام حسین رجال میں سے تھے عورتوں میں سے تو نہیں تھے حق تو یہ ہے کہ اس آیت نے اس تعلق کو جو امام حسین کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بوجہ پسر دختر ہونے کے تھا نہایت ہی ناچیز کر دیا ہے تو پھر اس قدر ان کو آسمان پر چڑھانا کہ وہ جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل ہیں۔ یہ قرآن شریف پر بھی تقدم ہے ہر ایک کو فضیلت وہ دینی چاہیے کہ قرآن سے ثابت ہے قرآن تو ان کی ابنیت کی بھی نفی کرتا ہے مگر یہاں حضرات شیعہ تمام انبیاء کا انہیں کو شفیع ٹھہراتے ہیں یہ کیسی فضولی ہے یہ قول کس قدر حیا سے دُور ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام امام حسین کے ہی طفیلی ہیں اگر وہ نہ ہوتے تو تمام نبیوں کا نجات پانا مشکل بلکہ غیر ممکن تھا۔ ہائے افسوس کہاں ہے اسلام ان لوگوں کا جو عیسائیوں کی طرح حسین کی خاطر اس رسول پر بھی زبان دراز کر رہے ہیں جو تمام انبیاء سے افضل ہے ۔ کیا تعجب نہیں کہ قرآن ابوبکر کی تعریف کرے اور اس کی خلافت کی صریح لفظوں میں بشارت دے مگر حسین جو تمام انبیاء کا شفیع ہے اس کا سارے قرآن میں ذکر ندارد۔ پھر عجیب تر یہ بات ہے کہ حسین کو یہ شرف بھی نصیب نہیں ہوا کہ وہ موت کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے قریب دفن کیا جاتا مگر ابوبکر و عمر جن کو حضرات شیعہ کافر کہتے ہیں بلکہ تمام کافروں سے بدتر سمجھتے ہیں ان کو یہ مرتبہ ملا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ملحق ہو کر دفن کئے گئے کہ گویا ایک ہی قبر ہے اگر وہ کافر تھے تو خدا نے ایسا کیوں کیا۔ کافر سے بدتر دنیا میں کوئی نہیں ہوتا ۔ کیا کوئی شیعہ راضی ہو سکتا ہے کہ اُس کی پاکدامن ماں ایک زانیہ کنجری کے ساتھ دفن کر دی جائے اور کافر تو زنا کار سے بدتر ہے پھر خدا نے کیوں ایسا کیا کوئی عقلمند اور خدا سے ڈرنے والا اس کا جواب دے۔ غرض حسین کو نبیوں پر فضیلت دینا بیہودہ خیال ہے ہاں یہ سچ ہے کہ وہ بھی خدا کے راستباز بندوں میں سے تھے لیکن ایسے بندے تو کروڑ ہا دنیا میں گذر چکے ہیں اور خدا جانے آگے کس قدر ہوں گے۔ پس بلا وجہ ان کو تمام انبیاء کا سردار بنا دینا خدا کے پاک رسولوں کی سخت ہتک کرنا ہے۔ ایسا ہی خدا تعالیٰ نے اور اُس کے پاک رسول نے بھی مسیح موعود کا نام نبی اور رسول رکھا ہے اور تمام خدا تعالیٰ کے نبیوں نے اس کی تعریف کی ہے اور اس کو تمام انبیاء کے صفات کاملہ کا مظہر☆ ٹھہرایا ہے۔
اب سوچنے کے لائق ہے کہ امام حسین کو اس سے کیا نسبت ہے یہ اور بات ہے کہ سُنّی یا شیعہ مجھ کو گالیاں دیں یا میرا نام کذّاب دجّال بے ایمان رکھیں لیکن جس شخص کو خدا تعالیٰ بصیرت عطا کرے گا وہ مجھے پہچان لے گا کہ میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نام سرور انبیاء نے نبی اللہ رکھا ہے اور اس کو سلام کہا ہے۔ اور اپنا دوسرا بازو اس کو قرار دیا ہے اور خاتم الخلفاء ٹھہرایا ہے وہ مجھے اسی طرح افضل سمجھے گا جس طرح خدا اور رسول نے مجھے فضیلت دی ہے کیا یہ سچ نہیں ہے کہ قرآن اور احادیث اور تمام نبیوں کی شہادت سے مسیح موعود حسین سے افضل ہے اور جامع کمالات متفرقہ ہے پھر اگر در حقیقت مَیں وہی مسیح موعود ہوں تو خود سوچ لو کہ حسین کے مقابل مجھے کیا درجہ دینا چاہیے اور اگر مَیں وہ نہیں ہوں تو خدا نے صد ہا نشان کیوں دکھلائے اور کیوں وہ ہر دم میری تائید میں ہے۔
یہ کتاب مجھ کو یکم جولائی ۱۹۰۲ء کو بذریعہ ڈاک ملی ہے جس کو پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے شاید اس غرض سے بھیجا ہے کہ تا وہ اِس بات سے اطلاع دیں کہ انہوں نے میری کتاب اعجاز المسیح اور نیز شمس بازغہ کا جواب لکھ دیا ہے اور اس کتاب کے پہنچنے سے پہلے ہی مجھ کو یہ خبر پہنچ چکی تھی کہ اعجاز المسیح کے مقابل پر وہ ایک کتاب لکھ رہے ہیں مگر مجھ کو یہ امید نہ تھی کہ وہ میری عربی کتاب کا جواب اُردو میں لکھیں گے بلکہ مجھے یہ خیال تھا کہ چونکہ اکثر با سمجھ لوگوں نے پیر صاحب کی اس مکارانہ کارروائی کو پسند نہیں کیا جو انہوں نے لاہور میں کی تھی☆ اس لئے ندامت مذکورہ بالا کا داغ دھونے کے لئے ضرور انہوں نے یہ ارادہ کیا ہوگا کہ میرے مقابل تفسیر نویسی کے لئے کچھ طبع آزمائی کریں اور میری کتاب اعجاز المسیح کی مانند سورۃ فاتحہ کی تفسیر عربی فصیح بلیغ میں شائع کر دیں تا لوگ یقین کر لیں کہ پیر جی عربی بھی جانتے ہیں اور تفسیر بھی لکھ سکتے ہیں لیکن افسوس کہ میرا یہ خیال صحیح نہ نکلا جب ان کی کتاب سیف چشتیائی مجھے ملی تو پہلے تو اُس کتاب کو ہاتھ میں لے کر مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ اب ہم ان کی عربی تفسیر دیکھیں گے اور بمقابل اُس کے ہماری تفسیر کی قدرومنزلت لوگوں پر اور بھی کھل جائے گی مگر جب کتاب کو دیکھا گیا اور اُس کو اردو زبان میں لکھا ہوا پایا اور تفسیر کا نام ونشان نہ تھا تب تو بے اختیار اُن کی حالت پر رونا آیا یہ کتاب اگر چہ اس لائق نہ تھی کہ ایک نظر بھی اس کو دیکھ سکیں کیونکہ مؤلف کتاب نے جیسا کہ اُس کو چاہیے تھا بالمقابل عربی تفسیر لکھ کر اپنی معجزانہ طاقت کا کچھ ثبوت نہیں دیا اور جس فرض کو ادا کرنا تھا اور اس قدر لمبی مدت میں بھی اس کو ادا نہیں کر سکا بلکہ مقابلہ سے منہ پھیر کر اپنی در ماندگی کی نسبت اپنے ہاتھ سے مہر لگا دی☆ اور آپ گواہی دے دی کہ در حقیقت اعجاز المسیح خدا کی طرف سے ایک نشان ہے جس کی نظیر پر وہ قادر نہ ہو سکا۔ تاہم مَیں نے اس اردو کتاب کو غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ بجز بیہودہ نکتہ چینیوں کے کوئی امر بھی اس میں قابل التفات نہیں اور نکتہ چینی بھی ایسی کمینہ پن اور جہالت کی کہ اگر اس کو ایک جائز اعتراض سمجھا جائے تو نہ اس سے قرآن شریف باہر رہ سکتا ہے اور نہ احادیث نبویہ اور نہ اہل ادب کی کتابوں میں سے کوئی کتاب ۔
اب نکتہ چینی کو غور سے سنو کہ پیر صاحب فرماتے ہیں کہ اس کتاب اعجاز المسیح میں جو دوسو صفحہ کی کتاب ہے چند فقرے جو اکٹھا کرنے کی حالت میں چار ۴سطر سے زیادہ نہیں ہیں ان میں سے بعض مقامات حریری اور بعض قرآن شریف سے اور بعض کسی اور کتاب سے مسروقہ ہیں اور بعض کسی قدر تغییر تبدیل کے ساتھ لکھے گئے ہیں اور بعض عرب کی مشہور مثالوں میں سے ہیں یہ ہماری چوری ہوئی جو پیر صاحب نے پکڑی کہ بیس ہزار فقرہ میں سے دس باراں فقرے جن میں سے کوئی آیت قرآن شریف کی اور کوئی عرب کی مثال اور کوئی بقول اُن کے حریری یا ہمدانی کے کسی فقرہ سے توارد تھا۔ افسوس کہ اُن کو اس اعتراض کے کرتے ہوئے ذرہ شرم نہیں آئی اور ذرہ خیال نہیں کیا کہ اگر ان قلیل اور دو چار فقروں کو توارد نہ سمجھا جائے جیسا کہ ادیبوں کے کلام میں ہوا کرتا ہے اور یہ خیال کیا جائے کہ یہ چند فقرے بطور اقتباس کے لکھے گئے تو اس میں کون سا اعتراض پیدا ہو سکتا ہے خود حریری کی کتاب میں بعض آیات قرآنی بطور اقتباس موجود ہیں ایسا ہی چند عبارات اور اشعار دوسروں کے بغیر تغییر تبدیل کے اس میں پائے جاتے ہیں اور بعض عبارتیں ابوالفضل بدیع الزمان کی اس میں بعینہ ملتی ہیں تو کیا اب یہ رائے ظاہر کی جائے کہ مقامات حریری سب کی سب مسروقہ ہے بلکہ بعض نے تو ابو القاسم حریری پر یہاں تک بدظنی کی ہے کہ اس کی ساری کتاب ہی کسی غیر کی تالیف ٹھہرائی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ وہ ایک دفعہ فن انشاء میں کامل سمجھ کر ایک امیر کے پاس پیش کیا گیا اور امتحاناً حکم ہوا کہ ایک اظہار کو عربی فصیح بلیغ میں لکھے مگر وہ لِکھ نہ سکا اور یہ امر اُس کے لئے بڑی شرمندگی کا موجب ہوا مگر تاہم وہ اُدباء میں بڑی عظمت کے ساتھ شمار کیا گیا اور اُس کی مقامات حریری بڑی عزّت کے ساتھ دیکھی جاتی ہے حالانکہ وہ کسی دینی یا علمی خدمت کے لئے کام نہیں آ سکتی کیونکہ حریری اِس بات پر قادر نہیں ہو سکا کہ کسی سچے اور واقعی قصہ یا معارف اور حقائق کے اسرار کو بلیغ فصیح عبارت میں قلمبند کر کے یہ ثابت کرتا کہ وہ الفاظ کو معانی کا تابع کر سکتا ہے۔ بلکہ اُس نے اوّل سے آخر تک معانی کو الفاظ کا تابع کیا ہے جس سے ثابت ہوا کہ وہ ہرگز اس بات پر قادر نہ تھا کہ واقعہ صحیحہ کا نقشہ عربی فصیح بلیغ میں لکھ سکے لہٰذا ایسا شخص جس کو معانی سے غرض ہے اور معارف حقائق کا بیان کرنا اُس کا مقصد ہے وہ حریری کی جمع کردہ ہڈیوں سے کوئی مغز حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ اور بات ہے کہ کسی کے کلام کا اتفاقً خدا تعالیٰ کی طرف سے بعض فقرات میں کسی سے توارد ہو جائے کیونکہ بعض محاورات ادبیہ کا کوچہ ایسا تنگ ہے کہ یا تو اُس میں بعض اُدباء کو بعض سے توارد ہو گا اور یا ایک شخص ایک ایسے محاورہ کو ترک کرے گا جو واجب الاستعمال ہے ظاہر ہے کہ جس مقام پر خصوصیات بلاغت کے لحاظ سے ایک جگہ پر مثلاً اقتحم کا لفظ اختیار کرنا ہے نہ اور کوئی لفظ تو اس لفظ پر تمام اُدباء کا بالضرور توارد ہو جائے گا اور ہر ایک کے منہ سے یہی لفظ نکلے گا۔ ہاں ایک جاہل غبی جو اسالیب بلاغت سے بے خبر اور فروق مفردات سے نا واقف ہے وہ اس کی جگہ پر کوئی اور لفظ بول جائے گا اور اُدباء کے نزدیک قابل اعتراض ٹھہرے گا۔ ایسا ہی اُدباء کو یہ اتفاق بھی پیش آ جاتا ہے کہ گو بیس شخص ایک مضمون کے ہی لکھنے والے ہوں جو بیس ہی ادیب اور بلیغ ہوں مگر بعض صورتوں کے ادائے بیان میں ایک ہی الفاظ اور ترکیب کے فقرہ پر اُن کا توارد ہو جائے گا اور یہ باتیں اُدباء کے نزدیک مسلّمات میں سے ہیں جن میں کسی کو کلام نہیں اور اگر غور کر کے دیکھو تو ہر ایک زبان کا یہی حال ہے اگر اُردو میں بھی مثلاً ایک فصیح شخص تقریر کرتا ہے اور اُس میں کہیں مثالیں لاتا ہے کہیں دلچسپ فقرے بیان کرتا ہے تو دُوسرا فصیح بھی اُسی رنگ میں کہہ دیتا ہے اور بجز ایک پاگل آدمی کے کوئی خیال نہیں کرتا کہ یہ سرقہ ہے انسان تو انسان خدا کے کلام میں بھی یہی پایا جاتا ہے۔ اگر بعض پُر فصاحت فقرے اور مثالیں جو قرآن شریف میں موجود ہیں شعرائے جاہلیت کے قصائد میں دیکھی جائیں تو ایک لَنبی فہرست طیار ہوگی اور ان امور کو محققین نے جائے اعتراض نہیں سمجھا بلکہ اسی غرض سے ائمہ راشدین نے جاہلیت کے ہزار ہا اشعار کو حفظ کر رکھا تھا اور قرآن شریف کی بلاغت فصاحت کے لئے ان کو بطور سند لاتے تھے۔
یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ مَیں خاص طور پر خدائے تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیونکہ جب مَیں عربی میں یا اُردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو مَیں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے اور ہمیشہ میری تحریر گو عربی ہو یا اُردو یا فارسی دو حصہ پر منقسم ہوتی ہے۔ (۱) ایک تو یہ کہ بڑی سہولت سے سلسلہ الفاظ اور معانی کا میرے سامنے آتا جاتا ہے اور مَیں اُس کو لکھتا جاتا ہوں اور گو اُس تحریر میں مجھے کوئی مشقت اُٹھانی نہیں پڑتی مگر دراصل وہ سلسلہ میری دماغی طاقت سے کچھ زیادہ نہیں ہوتا یعنی الفاظ اور معانی ایسے ہوتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کی ایک خاص رنگ میں تائید نہ ہوتی تب بھی اس کے فضل کے ساتھ ممکن تھا کہ اس کی معمولی تائید کی برکت سے جو لازمہ فطرت خواص انسانی ہے کسی قدر مشقت اُٹھا کر اور بہت سا وقت لے کر اُن مضامین کو مَیں لکھ سکتا۔ واللہ اعلم ۔ (۲) دوسرا حصہ میری تحریر کا محض خارق عادت کے طور پر ہے☆ اور وہ یہ ہے کہ جب مَیں مثلاً ایک عربی عبارت لکھتا ہوں اور سلسلہ عبارت میں بعض ایسے الفاظ کی حاجت پڑتی ہے کہ وہ مجھے معلوم نہیں ہیں تب اُن کی نسبت خدا تعالیٰ کی وحی رہنمائی کرتی ہے اور وہ لفظ وحی متلو کی طرح روح القدس میرے دل میں ڈالتا ہے اور زبان پر جاری کرتا ہے اور اس وقت مَیں اپنی حس سے غائب ہوتا ہوں ۔ مثلاً عربی عبارت کے سلسلہ تحریر میں مجھے ایک لفظ کی ضرورت پڑی جو ٹھیک ٹھیک بسیاری عیال کا ترجمہ ہے اور وہ مجھے معلوم نہیں اور سلسلہ عبارت اُس کا محتاج ہے تو فی الفور دل میں وحی متلو کی طرح لفظ ضفف ڈالا گیا جس کے معنے ہیں بسیاری عیال ۔ یا مثلاً سلسلہ تحریر میں مجھے ایسے لفظ کی ضرورت ہوئی جس کے معنی ہیں غم و غصہ سے چپ ہو جانا اور مجھے وہ لفظ معلوم نہیں تو فی الفور دل پر وحی ہوئی کہ وجوم ۔ ایسا ہی عربی فقرات کا حال ہے۔ عربی تحریروں کے وقت میں صدہا بنے ہوئے فقرات وحی متلو کی طرح دِل پر وارد ہوتے ہیں اور یا یہ کہ کوئی فرشتہ ایک کاغذ پر لکھے ہوئے وہ فقرات دکھا دیتا ہے اور بعض فقرات آیات قرآنی ہوتے ہیں یا اُن کے مشابہ کچھ تھوڑے تصرف سے۔ اور بعض اوقات کچھ مُدّت کے بعد پتہ لگتا ہے کہ فلاں عربی فقرہ جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے برنگ وحی متلو القا ہوا تھا وہ فلاں کتاب میں موجود ہے چونکہ ہر ایک چیز کا خدا مالک ہے اس لئے وہ یہ بھی اختیار رکھتا ہے کہ کوئی عمدہ فقرہ کسی کتاب کا یا کوئی عمدہ شعر کسی دیوان کا بطور وحی میرے دل پر نازل کرے۔ یہ تو زبان عربی کے متعلق بیان ہے مگر اس سے زیادہ تر تعجب کی یہ بات ہے کہ بعض الہامات مجھے اُن زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ جیسا کہ براھین احمدیہ میں کچھ نمونہ اُن کا لکھا گیا ہے اور مجھے اُس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہی عادت اللہ میرے ساتھ ہے اور یہ نشانوں کی قسم میں سے ایک نشان ہے جو مجھے دیا گیا ہے جو مختلف پیرایوں میں امور غیبیہ میرے پر ظاہر ہوتے رہتے ہیں اور میرے خدا کو اس کی کچھ بھی پرواہ نہیں کہ کوئی کلمہ جو میرے پر بطور وحی القا ہو وہ کسی عربی یا انگریزی یا سنسکرت کی کتاب میں درج ہو کیونکہ میرے لئے وہ غیب محض ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں بہت سے توریت کے قصے بیان کر کے ان کو علم غیب میں داخل کیا ہے کیونکہ وہ قصے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے علمِ غیب تھا گو یہودیوں کے لئے وہ غیب نہ تھا۔ پس یہی راز ہے جس کی وجہ سے مَیں ایک دنیا کو معجزہ عربی بلیغ کی تفسیر نویسی میں بالمقابل بلاتا ہوں ورنہ انسان کیا چیز اور ابن آدم کیا حقیقت کہ غرور اور تکبر کی راہ سے ایک دنیا کو اپنے مقابل پر بُلا وے یہ عجیب بات ہے کہ بعض اوقات بعض فقروں میں خدا تعالیٰ کی وحی انسانوں کے بنائے ہوئے صرفی نحوی قواعد کی بظاہر اتباع نہیں کرتی مگر ادنیٰ توجہ سے تطبیق ہو سکتی ہے اسی وجہ سے بعض نادانوں نے قرآن شریف پر بھی اپنی مصنوعی نحو کو پیش نظر رکھ کر اعتراض کئے ہیں مگر یہ تمام اعتراض بیہودہ ہیں۔ زبان کا علم وسیع خدا کو ہے نہ کسی اور کو۔ اور زبان جیسا کہ تغیر مکانی سے کسی قدر بدلتی ہے ایسا ہی تغیر زمانی سے بھی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ آج کل کی عربی زبان کا اگر محاورہ دیکھا جائے جو مصر اور مکہ اور مدینہ اور دیارِ شام وغیرہ میں بولی جاتی ہے تو گویا وہ محاورہ صَرف و نحو کے تمام قواعد کی بیخ کنی کر رہا ہے اور ممکن ہے کہ اسی قسم کا محاورہ کسی زمانہ میں پہلے بھی گذر چکا ہو۔ پس خدا تعالیٰ کی وحی کو اس بات سے کوئی روک نہیں ہے کہ بعض فقرات سے گذشتہ محاورہ یا موجودہ محاورہ کے موافق بیان کرے اِسی وجہ سے قرآن میں بعض خصوصیات ہیں۔ علاوہ اس کے اس ملک میں صرفی نحوی قواعد سے بھی لوگوں کو اچھی طرح واقفیت نہیں اصل بات یہ ہے کہ جب تک زبان عرب میں پورا پورا توغل نہ ہو اور جاہلیت کے تمام اشعار نظر سے نہ گذر جائیں اور کتب قدیمہ مبسوطہ لغت جو محاورات عرب پر مشتمل ہیں غور سے نہ پڑھے جائیں اور وسعت علمی کا دائرہ کمال تک نہ پہنچ جائے تب تک عربی محاورات کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا اور نہ اُن کی صرف اور نحو کا باستیفاء علم ہو سکتا ہے۔ ایک نادان نکتہ چینی کرتا ہے کہ فلاں صلہ درست نہیں یا ترکیب غلط ہے اور اسی قسم کا صلہ اور اسی قسم کی ترکیب اور اسی قسم کا صیغہ قدیم جاہلیت کے کسی شعر میں نکل آتا ہے اور اس مُلک میں جو لوگ علماء کہلاتے ہیں بڑی دوڑ اُن کی قاموس تک ہے حالانکہ قاموس کی تحقیق پر بہت جرح ہوئی ہیں اور کئی مقامات میں اُس نے دھوکہ کھایا ہے۔ یہ بیچارے جو علماء یا مولوی کہلاتے ہیں ان کو تو قدیم معتبر کتابوں کے نام بھی یاد نہیں اور نہ اُن کو تحقیق اور توغل زبان عربی سے کچھ دلچسپی ہے۔ مشکوٰۃ یا ہدایہ پڑھ لیا تو مولوی کہلائے اور پھر دِہ بدہ پیٹ کے لئے وعظ کرنا شروع کر دیا۔ اگر وعظ سے کوئی عورت دام میں پھنس گئی تو اُس سے نکاح کر لیا۔ یا کسی گدّی پر بیٹھ کر تعویذ گنڈوں سے اپنا معاش چلایا۔ پس اغراض نفسانیہ کے ساتھ زبان پر کیونکر احاطہ ہو سکے اور معارف قرآنیہ کیونکر حاصل ہو سکیں اور لغت عرب جو صرف نحو کی اصل کنجی ہے وہ ایک ایسا ناپیدا کنار دریا ہے جو اس کی نسبت امام شافعی رحمۃ اللہ کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے کہ لا يعلمه الا نبیّ یعنی اس زبان کو اور اس کے انواع اقسام کے محاورات کو بجز نبی کے اور کوئی شخص کامل طور پر معلوم ہی نہیں کر سکتا۔ اس قول سے بھی ثابت ہوا کہ اس زبان پر ہریک پہلو سے قدرت حاصل کرنا ہر ایک کا کام نہیں بلکہ اس پر پورا احاطہ کرنا معجزات انبیاء علیہم السلام سے ہے۔
یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ یہ نکتہ چینی مذکورہ بالا ایک مُلْھَم کے مقابل پر کہ جو عربی نویسی میں بہت سے فقرے خدائے تعالیٰ کی طرف سے بطور الہام کے پاتا ہے بالکل بے محل ہے کیونکہ اگر خدائے تعالیٰ اپنے بندوں کو اس طرح پر بھی مدد دے کہ کبھی ایک مسلسل تقریر میں کسی کتاب کا کوئی عمدہ فقرہ بطور وحی اُس کے دل پر القا کر دے تو ایسا القاء اس عبارت کو اعجازی طاقت سے باہر نہیں کر سکتا۔ باہر تب ہو کہ جب دُوسرا شخص اس کی مثل پر قادر ہو سکے مگر اب تک کون قادر ہوا؟ اور کس نے مقابلہ کیا۔ اور خود اُدباء کے نزدیک اس قدر قلیل توارد نہ جائے اعتراض ہے اور نہ جائے شک ۔ بلکہ مستحسن ہے کیونکہ طریق اقتباس بھی ادبیہ طاقت میں شمار کیا گیا ہے اور ایک جُز بلاغت کی سمجھی گئی ہے۔ جو لوگ اس فن کے رجال ہیں وہی اقتباس پر بھی قدرت رکھتے ہیں ہر یک جاہل اور غبی کا یہ کام نہیں ہے۔ ماسوا اس کے ہمارا تو یہ دعویٰ ہے کہ معجزہ کے طور پر خدا تعالیٰ کی تائید سے اس انشاء پردازی کی ہمیں طاقت ملی ہے تا معارف حقائق قرآنی کو اس پیرایہ میں بھی دنیا پر ظاہر کریں۔ اور وہ بلاغت جو ایک بیہودہ اور لغو طور پر اسلام میں رائج ہو گئی تھی اس کو کلام الٰہی کا خادم بنایا جائے اور جبکہ ایسا دعویٰ ہے تو محض انکار سے کیا ہو سکتا ہے جب تک کہ اس کی مثل پیش نہ کریں یوں تو بعض شریر اور بد ذات انسانوں نے قرآن شریف پر بھی یہ الزام لگایا ہے کہ اس کے مضامین توریت اور انجیل میں سے مسروقہ ہیں اور اس کی امثلہ قدیم عرب کی امثلہ ہیں جو بالفاظها سرقہ کے طور پر قرآن شریف میں داخل کی گئی ہیں ۔ ایسا ہی یہودی بھی کہتے ہیں کہ انجیل کی عبارتیں طالمود میں سے لفظ بلفظ چُرائی گئی ہیں۔ چنانچہ ایک یہودی نے حال میں ایک کتاب بنائی ہے جو اس وقت میرے پاس موجود ہے اور بہت سی عبارتیں طالمود کی پیش کی ہیں جو بجنسہٖ بغیر کسی تغیر تبدّل کے انجیل میں موجود ہیں اور یہ عبارتیں صرف ایک دو فقرے نہیں ہیں بلکہ ایک بڑا حصہ انجیل کا ہے اور وہی فقرات اور وہی عبارتیں ہیں جو انجیل میں موجود ہیں اور اس کثرت سے وہ عبارتیں ہیں جن کے دیکھنے سے ایک محتاط آدمی بھی شک میں پڑے گا کہ یہ کیا معاملہ ہے اور دِل میں ضرور کہے گا کہ کہاں تک اس کو توارد پر حمل کرتا جاؤں اور اس یہودی فاضل نے اِسی پر بس نہیں کی بلکہ باقی حصہ انجیل کی نسبت اُس نے ثابت کیا ہے کہ یہ عبارتیں دوسرے نبیوں کی کتابوں میں سے لی گئی ہیں اور بعینہٖ وہ عبارتیں بائبل میں سے نکال کر پیش کی ہیں اور ثابت کیا ہے کہ انجیل سب کی سب مسروقہ ہے اور یہ شخص خدا کا نبی نہیں ہے بلکہ اِدھر اُدھر سے فقرے چُرا کر ایک کتاب بنالی اور اس کا نام انجیل رکھ لیا۔ اور اس فاضل یہودی کی طرف سے یہ اس قدر سخت حملہ کیا گیا ہے کہ اب تک کوئی پادری اِس کا جواب نہیں دے سکا۔ یہ کتاب ہمارے پاس موجود ہے جو ابھی ملی ہے۔ اب چونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ حضرت مسیح نے ایک یہودی استاد سے سبقاً سبقاً توریت پڑھی تھی اور طالمود کو بھی پڑھا تھا اِس لئے ایک شکی مزاج کے انسان کو اِس شبہ سے نکلنا مشکل ہے کہ کیوں اِس قدر عبارتیں پہلی کتابوں کی انجیل میں بلفظہا داخل ہو گئیں اور نہ صرف وہی عبارتیں جو خدا کی کلام میں تھیں بلکہ وہ عبارتیں بھی جو انسانوں کے کلام میں تھیں مگر اس سنت اللہ پر نظر کرنے سے جس کو ابھی ہم لکھ چکے ہیں یہ شبہ ہیچ ہے کیونکہ خدا تعالیٰ باعث اپنی مالکیّت کے اختیار رکھتا ہے کہ دوسری کتابوں کی بعض عبارتیں اپنی جدید وحی میں داخل کرے اس پر کوئی اعتراض نہیں چنانچہ براہین احمدیہ کے دیکھنے سے ہر ایک پر ظاہر ہوگا کہ اکثر قرآنی آیتیں اور بعض انجیل کی آیتیں اور بعض اشعار کسی غیر ملہم کے اس وحی میں داخل کئے گئے ہیں جو زبردست پیشگوئیوں سے بھری ہوئی ہے جس کے منجانب اللہ ہونے پر یہ قوی شہادت ہے کہ تمام پیشگوئیاں اُس کی آج پوری ہو گئیں اور پوری ہو رہی ہیں۔ غرض خدائے تعالیٰ کی یہ قدیم سے عادت ہے کہ وہ اپنی وحی کی عبارتوں اور مضمونوں کو دوسرے مقام سے بھی لے لیتا ہے اور پھر جاہلوں کو اعتراض پیدا ہوتے ہیں چنانچہ ان دنوں میں ایک اور شخص نے تالیف کی ہے جس سے وہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ توریت کی کتاب پیدائش جو گویا توریت کے فلسفہ کی ایک جڑھ مانی گئی ہے ایک اور کتاب میں سے چرائی گئی ہے جو موسیٰ کے وقت میں موجود تھی تو گویا ان لوگوں کے خیال میں موسیٰ اور عیسیٰ سب چور ہی تھے۔ یہ تو انبیاء علیہم السلام پر شک کئے گئے ہیں مگر دوسرے ادیبوں اور شاعروں پر نہایت قابلِ شرم الزام لگائے گئے ہیں۔ متنبّی جو ایک مشہور شاعر ہے اس کے دیوان کے ہر ایک شعر کی نسبت ایک شخص نے ثابت کیا ہے کہ وہ دوسرے شاعروں کے شعروں کا سرقہ ہے۔ غرض سرقہ کے الزام سے کوئی بچا نہیں نہ خدا کی کتابیں اور نہ انسانوں کی کتابیں ۔ اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ کیا در حقیقت ان لوگوں کے الزامات صحیح ہیں؟ اس کا جواب یہی ہے کہ خدا کے ملہموں اور وحی یابوں کی نسبت ایسے شبہات دِل میں لانا تو بدیہی طور پر بے ایمانی ہے اور لعنتیوں کا کام۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ کے لئے کوئی عار کی جگہ نہیں کہ بعض کتابوں کی بعض عبارتیں یا بعض فقرات اپنے ملہموں کے دِل پر نازل کرے بلکہ ہمیشہ سے سنت اللہ اسی پر جاری ہے۔
رہی یہ بات کہ دوسرے شاعروں اور ادیبوں کی کتابوں پر بھی یہی اعتراض آتا ہے کہ بعض کی عبارتیں یا اشعار بلفظها یا بتغیّر ما بعض کی تحریرات میں پائے جاتے ہیں تو اس کا جواب جو ایک کامل تجربہ کی روشنی سے ملتا ہے یہی ہے کہ ایسی صورتوں کو بجز توارد کے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ جن لوگوں نے ہزار ہا جزیں اپنی بلیغ عبارت کی پیش کر دیں ان کی نسبت یہ ظلم ہو گا کہ اگر پانچ سات یا دس بیس فقرات اُن کی کتابوں میں ایسے پائے جائیں کہ وہ یا اُن کے مشابہ کسی دوسری کتاب میں بھی ملتے ہیں تو اُن کی ثابت شدہ لیاقتوں سے انکار کر دیا جائے اِسی طرح اُن لوگوں کو انصاف سے دیکھنا چاہیے کہ اب تک ہماری طرف سے بائیس ۲۲ کتابیں عربی فصیح بلیغ میں بطلب مقابلہ تصنیف و شائع ہو چکی ہیں اور عربی کے اشتہارات اِس کے علاوہ ہیں اور کتابوں کے نام یہ ہیں۔ تبلیغ۱، نورالحق۲ حصہ اوّل، نورالحق۳ حصہ ثانی، اتمام الحجہ۴، خطبہ الہامیہ۵، الھدیٰ۶، اعجاز المسیح۷، کرامات الصادقین۸، سرالخلافہ۹، انجام آتھم۱۰، نجم الھدیٰ۱۱، منن الرحمٰن۱۲، حمامۃ البشریٰ۱۳، تحفہ بغداد۱۴، البلاغ۱۵، ترغیب المومنین۱۶، لجّۃ النور۱۷☆ اس قدر تصانیف عربیہ جو مضامین دقیقہ علمیہ حکمیہ پر مشتمل ہیں بغیر ایک کامل علمی وسعت کے کیونکر انسان ان کو انجام دے سکتا ہے۔ کیا یہ تمام علمی کتابیں حریری یا ہمدانی کے سرقہ سے طیار ہو گئیں اور ہزار ہا معارف اور حقائق دینی و قرآنی جو ان کتابوں میں لکھے گئے ہیں وہ حریری اور ہمدانی میں کہاں ہیں۔ اس قدر بے شرمی سے منہ کھولنا کیا انسانیت ہے۔ یہ لوگ اگر کچھ شرم رکھتے ہوں تو اس شرمندگی سے جیتے ہی مر جائیں کہ جس شخص کو جاہل اور علم عربی سے قطعاً بے خبر کہتے تھے اُس نے تو اس قدر کتابیں فصیح بلیغ عربی میں تالیف کر دیں مگر خود اُن کی استعداد اور لیاقت کا یہ حال ہے کہ قریباً دس برس ہونے لگے برابر اُن سے مطالبہ ہو رہا ہے کہ ایک کتاب ہی بالمقابل اِن کتابوں کے تالیف کر کے دکھلائیں مگر کچھ نہیں کر سکے صرف مکہ کے کفار کی طرح یہی کہتے رہے کہ لَوۡ نَشَآءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ ہٰذَاۤ کہ اگر ہم چاہیں تو اس کی مانند کہہ دیں لیکن جس حالت میں ان کو گالیاں دینے کے لئے تو خوب فرصت ہے تو پھر کیا وجہ کہ ایک عربی رسالہ کی تالیف کے لئے فرصت نہیں ہے اور جس حالت میں ہزاروں اشتہار گالیوں کے چھاپ کر شائع کر رہے ہیں تو پھر کیا وجہ کہ عربی کتاب کے چھاپنے کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔ مَیں خیال نہیں کرتا کہ کوئی عاقل ایسے عذرات اِن کے کو قبول کر سکے اور صرف چند فقرے بیس ہزار فقروں میں سے پیش کر کے یہ کہنا کہ یہ مسروقہ ہیں یہ اِس درجہ کی بے حیائی ہے جو بجز پیر مہر علی شاہ کے کون ایسا کمال دِکھلا سکتا ہے۔
اے نادان! اگر علمی اور دینی کتابیں جو ہزار ہا معارف اور حقائق پر مندرج ہوتی ہیں صرف فرضی افسانوں کی عبارتوں کے سرقہ سے تالیف ہو سکتی ہیں تو اس وقت تک کس نے آپ لوگوں کا منہ بند کر رکھا ہے کیا ایسی کتابیں بازاروں میں ملتی نہیں ہیں جن سے سرقہ کر سکو۔ اُن لعنتوں کو کیوں آپ لوگوں نے ہضم کیا جو در حالت سکوت ہماری طرف سے آپ کے نذر ہوئیں اور کیوں ایک سورۃ کی بھی تفسیر عربی بلیغ فصیح میں تالیف کر کے شائع نہ کر سکے تا دنیا دیکھتی کہ کس قدر آپ عربی دان ہیں۔ اگر آپ کی نیت بخیر ہوتی تو میرے مقابل تفسیر لکھنے کے لئے ایک مجلس میں بیٹھ جاتے تا دروغ گو بے حیا کا منہ ایک ہی ساعت میں سیاہ ہو جاتا۔ خیر تمام دنیا اندھی نہیں ہے آخر سوچنے والے بھی موجود ہیں ۔ ہم نے کئی مرتبہ یہ بھی اشتہار دیا کہ تم ہمارے مقابلہ پر کوئی عربی رسالہ لکھو پھر عربی زبان جاننے والے اُس کے منصف ٹھہرائے جائیں گے پھر اگر تمہارا رسالہ فصیح بلیغ ثابت ہوا تو میرا تمام دعویٰ باطل ہو جائے گا اور مَیں اب بھی اقرار کرتا ہوں کہ بالمقابل تفسیر لکھنے کے بعد اگر تمہاری تفسیر لفظاً و معناً اعلیٰ ثابت ہوئی تو اُس وقت اگر تم میری تفسیر کی غلطیاں نکالو تو فی غلطی پانچ روپیہ انعام دوں گا۔ غرض بیہودہ نکتہ چینی سے پہلے یہ ضروری ہے کہ بذریعہ تفسیر عربی اپنی عربی دانی ثابت کرو کیونکہ جس فن میں کوئی شخص دخل نہیں رکھتا اس فن میں اُس کی نکتہ چینی قبول کے لائق نہیں ہوتی ۔ معمار معمار کی نکتہ چینی کر سکتا ہے اور حدّاد حدّاد کی مگر ایک خاکروب کو حق نہیں پہنچتا کہ ایک دانا معمار کی نکتہ چینی کرے۔ آپ کی ذاتی لیاقت تو یہ ہے کہ ایک سطر بھی عربی نہیں لکھ سکتے ۔ چنانچہ سیف چشتیائی میں بھی آپ نے چوری کے مال کو اپنا مال قرار دیا تو پھر اس لیاقت کے ساتھ کیوں آپ کے نزدیک شرم نہیں آتی ۔ اے بھلے آدمی پہلے اپنی عربی دانی ثابت کر پھر میری کتاب کی غلطیاں نکال اور فی غلطی ہم سے پانچ روپیہ لے اور بالمقابل عربی رسالہ لکھ کر میرے اس کلامی معجزہ کا باطل ہونا دِکھلا ۔ افسوس کہ دس برس کا عرصہ گذر گیا کسی نے شریفانہ طریق سے میرا مقابلہ نہیں کیا۔ غایت کار اگر کیا تو یہ کیا کہ تمہارے فلاں لفظ میں فلاں غلطی ہے اور فلاں فقرہ فلاں کتاب کا مسروقہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر صاف ظاہر ہے کہ جب تک خود انسان کا صاحب علم ہونا ثابت نہ ہو کیونکر اُس کی نکتہ چینی صحیح مان لی جائے کیا ممکن نہیں کہ وہ خود غلطی کرتا ہو اور جو شخص بالمقابل لکھنے پر قادر نہیں وہ کیوں کہتا ہے کہ کتاب میں بعض فقرے بطور سرقہ ہیں اگر سرقہ سے یہ امر ممکن ہے تو کیوں وہ مقابل پر نہیں آتا اور لونمبری کی طرح بھاگا پھرتا ہے۔ اے نادان اوّل کسی تفسیر کو عربی فصیح میں لکھنے سے اپنی عربی دانی ثابت کر پھر تیری نکتہ چینی بھی قابلِ توجہ ہو جاوے گی ورنہ بغیر ثبوت عربی دانی کے میری نکتہ چینی کرنا اور کبھی سرقہ کا الزام دینا اور کبھی صرفی نحوی غلطی کا۔ یہ صرف گُوہ کھانا ہے۔ اے جاہل بے حیا اوّل عربی بلیغ فصیح میں کسی سُورۃ کی تفسیر شائع کر پھر تجھے ہر ایک کے نزدیک حق حاصل ہو گا کہ میری کتاب کی غلطیاں نکالے یا مسروقہ قرار دے۔ جو شخص ہزار ہا جُز عربی بلیغ فصیح کی لکھ چکا ہے نہ صرف بیہودہ طور پر بلکہ معارف حقیقی کے بیان میں، تو کیا صرف انکار سے اس کا جواب ہو سکتا ہے یا جب تک کام کے مقابل پر کام نہ دکھلایا جاوے۔ صرف زبان کی بک بک حجت ہو سکتی ہے اور اس بات سے کونسی لیاقت ثابت ہو سکتی ہے کہ صرف مُنہ سے یہ کہہ دیں کہ یہ کتاب غلط ہے یا فلاں کتاب سے بعض فقرے اس کے چُرائے گئے ہیں۔ بھلا اس سے اپنا کمال کیا ثابت ہوا اور اگر کمال ثابت نہیں تو کیونکر قبول کیا جائے کہ نکتہ چینی صحیح ہو گی ۔ بلکہ جو شخص ایسے لائق اور کامل انسانوں پر اعتراض کرتا ہے کہ جو لوگ اپنے کمال کا کچھ نمونہ دکھا دیتے ہیں اُس سے زیادہ کوئی دیوانہ اور پاگل نہیں ہوتا۔ اگر انسان ایسا سُلطان القلم ہو جائے کہ امور علمیہ اور حکمیہ کو انواع اقسام کی رنگین عبارتوں اور بلیغ فصیح استعارات میں ادا کر سکے اور اُس کو موہبت الہیہ سے نظم اور نثر میں ایک ملکہ ہو جائے اور تکلف اور عجز باقی نہ رہے تو پھر ایسے کمال تام کی حالت میں اگر اُس کی عبارتوں میں مناسب مقاموں اور محلوں میں بعض آیات قرآنی آ جائیں یا متقدمین کے بعض امثال یا فقرات آ جاویں تو جائے اعتراض نہ ہو گا کیونکہ اس کی طلاقت لسانی کا کمال ایک ثابت شدہ امر ہے جو دریا کی طرح بہتا اور ہوا کی طرح چلتا ہے۔ وہ لعنتی کیڑا ہے نہ آدمی جو خود بے ہنر ہو کر ایسے شخص کی بلاغت اور فصاحت پر اعتراض کرے جس نے بہت سی عربی کتابیں تالیف کر کے بلیغ فصیح عبارت کا معجزہ ثابت کر دکھایا اور ظاہر کر دیا کہ اس کو بلیغ عبارت کی آمد کا معجزہ بَحرِ ذخار کی طرح دیا گیا ہے۔ اس قسم کے خبیث طبع ہمیشہ ہوتے رہے ہیں جو خدا کی کلام پر بھی اعتراض کرتے ہوئے نہیں ڈرے اور باوجود تہی مغز ہونے کے نکتہ چینی سے باز نہ آئے ۔ مثلاً جن خبیث لوگوں نے اعتراض کیا کہ قرآن شریف کی سورۃ اِقۡتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانۡشَقَّ الۡقَمَرُ(القمر: ۲) کے بعض فقرات دیوان امرء القیس کے ایک قصیدہ کا اقتباس ہے یعنی وہ فقرات اس سے لئے گئے ہیں ان کو یہ خیال آنا چاہیے تھا کہ قرآن شریف کے وہ تمام قصے پہلی کتابوں کے جو نہایت رنگین عبارت میں بیان کئے گئے ہیں اور وہ الہیات کے معارف حقائق جو اس میں معجزانہ عبارت میں بیان کئے گئے ہیں وہ عرب کے کس شاعر کی کلام کا اقتباس ہے۔ پس ایسے شخص اندھے ہیں نہ سوجاکھے جو اس کمال کو نہیں دیکھتے جو ایک دریا کی طرح بہتا ہے اور ایک دو فقرہ میں توارد پا کر بدظنی پیدا کرتے ہیں یہ لوگ اسی مادہ کے آدمی ہیں جیسا کہ وہ شخص تھا جس کے منہ سے فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحۡسَنُ الۡخٰلِقِیۡنَ(المؤمنون: ۱۵) نکلا تھا اور اتفاقاً وہی آیت نازل ہو گئی تب وہ مرتد ہو گیا کہ میرا ہی فقرہ قرآن میں داخل کیا گیا ۔ اب پیر مہر علی شاہ صاحب کی کرتوت کو دیکھنا چاہیے کہ خود تو بمقابلہ ساڑھے باراں جُز کی کتاب کے ایک جُز بھی نہ لکھ سکے اور اتنی ضخیم کتاب میں سے دو چار فقرے پیش کر دئے کہ یہ فلاں کتاب میں موجود ہیں ۔ اب سوچو کہ یہ کس قدر کمینگی ہے۔ کیا کوئی اہل ادب اس کو پسند کرے گا۔ ادیب جانتے ہیں کہ ہزار ہا فقرات میں سے اگر دو چار فقرات بطور اقتباس ہوں تو اُن سے بلاغت کی طاقت میں کچھ فرق نہیں آ تا بلکہ اس طرح کے تصرفات بھی ایک طاقت ہے۔ دیکھو سبعہ مُعلقہ کے دو شاعروں کا ایک مصرعہ پر توارد ہے اور وہ یہ ہے۔
ایک شاعر کہتا ہے یقولون لا تهلک اسًی و تجمّلٖ
اَور دُوسرا شاعر کہتا ہے یقولون لا تهلک اسًی و تجلّدٖ
اب بتلاؤ کہ ان دونوں میں سے چور کون قرار دیا جائے ۔ نادان انسان کو اگر یہ بھی اجازت دی جاوے کہ وہ چُرا کر ہی کچھ لکھے تب بھی وہ لکھنے پر قادر نہیں ہو سکتا کیونکہ اصلی طاقت اُس کے اندر نہیں مگر وہ شخص جو مسلسل اور بے روک آمد پر قادر ہے اس کا تو بہر حال یہ معجزہ ہے کہ اُمور علمیہ اور حکمیہ اور معارف حقائق کو بلا توقف رنگین اور بلیغ فصیح عبارتوں میں بیان کر دے گو محل پر چسپاں ہو کر دس ہزار فقرات بھی کسی غیر کی عبارتوں کا اُس کی تحریر میں آ جائے کیا ہر یک نادان غبی بلید ایسا کر سکتا ہے اور اگر کر سکتا ہے تو کیا وجہ کہ باوجود اتنی مدّت مدید گزرنے کے پیر مہر علی شاہ صاحب کتاب اعجاز المسیح کی مثل بنانے پر قادر نہ ہو سکے اور نہایت کار کام یہ کیا کہ دو سو صفحہ کی کتاب میں سے کہ جو چار ہزار سطر اور ساڑھے باراں جُز ہے ایسے دو چار فقرے پیش کر دئے کہ وہ☆ بعض امثلہ مشہورہ سے یا مقامات وغیرہ کے بعض فقرات سے توارد رکھتے ہیں یا مشابہ ہیں بھلا بتلاؤ کہ اِس میں اُنہوں نے اپنا کمال کیا دِکھلایا۔ ایک منصف انسان سمجھ سکتا ہے کہ جس شخص نے اِتنی مدت تک موقعہ پا کر اپنے گوشۂ خلوت میں دو چار ورق تک بھی اعجاز المسیح کا نمونہ پیش نہیں کیا تو وہ لاہور کے مقابلہ پر اگر اتفاق ہوتا کیا لِکھ سکتا تھا۔ وہ پیر فرتوت جو اس قدر سہارے کے ساتھ بھی اُٹھ نہ سکا وہ بے سہارے کیونکر اٹھ سکتا یقیناً سمجھو کہ پیر مہر علی شاہ صاحب محض جھوٹ کے سہارے سے اپنی کوڑ مغزی پر پردہ ڈال رہے ہیں اور وہ نہ صرف دروغگو ہیں بلکہ سخت دروغگو ہیں اُن کا یہ آخری جھوٹ بھی ہمیں کبھی نہ بھولے گا جس پر انہوں نے دوبارہ اس کتاب میں بھی اصرار کیا کہ مَیں لاہور میں وعدہ کے موافق آیا مگر تم قادیان سے باہر نہ نکلے لیکن جن لوگوں نے اُن کا اشتہار دیکھا ہو گا وہ اگر چاہیں تو گواہی دے سکتے ہیں کہ انہوں نے کمال رو بہ بازی سے مقابلہ سے گریز اختیار کی تھی کیا یہ دیانت کا طریق تھا کہ پیر مہر علی صاحب نے اپنے اشتہار میں لکھا کہ مَیں بالمقابل تفسیر عربی فصیح میں لکھنے کے لئے لاہور میں پہنچ گیا ہوں مگر میری طرف سے یہ شرط ہے کہ اوّل اختلافی عقائد میں زبانی گفتگو ہو اور مولوی محمد حسین منصف ہوں ۔ پھر اگر منصف مذکور یہ بات کہہ دے کہ عقائد پیر مہر علی شاہ کے درست اور صحیح ہیں اور انہوں نے اپنے عقائد کا خوب ثبوت دے دیا ہے تو فریق مخالف یعنی مجھ پر لازم ہو گا کہ بلا توقف پیر مہر علی شاہ سے بیعت کروں پھر بعد اس کے تفسیر نویسی کا بھی مقابلہ ہو جائے گا۔ اب دیکھو یہ کس قدر مکاری ہے جبکہ مولوی محمد حسین اور پیر مہر علی شاہ صاحب نزول مسیح اور صعود مسیح کے عقیدہ میں اتفاق رکھتے ہیں تو پھر کیونکر ممکن تھا کہ مولوی محمد حسین کے منہ سے یہ نکلتا کہ مہر علی کے عقائد صحیح نہیں ہیں یا اُس کے دلائل باطل ہیں جبکہ دونوں کے عقائد ایک ہیں تو پھر وہ پیر مہر علی کی تکذیب کیونکر کر سکتا تھا۔ ہاں بلاغت فصاحت کے امور میں جس کو اہل اسلام و غیر اہل اسلام جانچ سکتے ہیں کسی دشمن سے بھی دلیری نہیں ہو سکتی کہ ایسے فریق کو اعلیٰ درجہ کا سارٹیفکیٹ عطا کرے جس کی عبارت گندی اور بودی اور اغلاط نحوی صرفی سے بھری ہوئی ہو۔ سو کتاب اعجاز المسیح کی اشاعت سے پیر مہر علی صاحب کو دوبارہ موقعہ دیا گیا تھا کہ وہ اگر ممکن ہو تو اب بھی اپنی علمی لیاقت سے میری اس شان کو کالعدم کر دیں جس سے صد ہا آدمی سلسلہ بیعت میں داخل ہو رہے ہیں مگر وہ بالکل اُس گنگے کی طرح رہ گئے جس پر اشارہ سے بات کرنا بھی مشکل ہوتا ہے اور اگر کیا تو یہ کیا کہ دو چار فقرے دو سو صفحہ کی کتاب میں سے پیش کر دیئے کہ یہ مقامات حریری وغیرہ کے چند فقرات کا سرقہ ہے اور صرف ایک یا دو سہو کاتب کو صرفی نحوی غلطی قرار دے دیا اور اپنی جہالت سے بعض بلیغ اور صحیح ترکیبوں کو یونہی غیر فصیح اور غلط سمجھ لیا ہے۔ یہ ہیں گدی نشین اِس ملک کے جنہوں نے خواہ مخواہ مولویت کا دم بھر کر ہمیشہ کے لئے ایک سیاہ داغ اپنے چہرے پر لگا لیا☆ مگر چونکہ پیر مہر علی صاحب نے مجھے مفتری ٹھہرایا ہے اور چور قرار دیا ہے اور بار بار بطور مباہلہ میرے پر لعنت بھیجی ہے اِس لئے مَیں اپنی بریت پبلک پر ظاہر کرنے کے لئے تیسری دفعہ پیر مہر علی شاہ صاحب کو موقعہ دیتا ہوں اور وہ یہ کہ ہم نے ارادہ کیا ہے کہ ہم اس رسالہ کے آخر میں اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو چند عربی اشعار لکھیں گے اور پیر مہر علی صاحب سے اور نیز ایک اور شخص سے جو شیعہ ہے اور علی حائری کے نام سے موسوم ہے اِن اشعار کی مثل کا مطالبہ کریں گے ۔ اور درخواست یہ ہے کہ ان اشعار کی برعایت تعداد و پابندی مضمون نظیر پیش کر کے پیر صاحب اپنی کرامت دکھلاویں۔ اور علی حائری صاحب امام حسین کی کرامت ۔ اگر ایسا کر دکھائیں اور جس قدر تعداد میں ہم نے یہ شعر لکھے ہیں اور جن مضامین کے متعلق یہ اشعار ہیں ۔ اگر ان دونوں شرطوں کو بلاغت فصاحت کے پیرایہ میں یہ دونوں بزرگ یا کوئی اُن میں سے پورا کر دکھائیں گے تو ہم قبول کر لیں گے کہ اِس بارے میں ہمارا معجزہ کا دعویٰ باطل ہے۔
مگر شرط یہ ہے کہ اُس تاریخ سے کہ یہ رسالہ شائع ہو ٹھیک ٹھیک عرصہ بیس یوم تک اِسی مقدار اور اسی بلاغت فصاحت کے لحاظ سے اور انہیں مضامین کے مقابل پر اشعار بنا کر اور طبع کرا کر ملک میں شائع کر دیں ورنہ اخبار کے ذریعہ سے اُن کا عجز شائع کر دیا جائے گا۔ اور ہم دوبارہ اقرار کرتے ہیں کہ اگر ان اشعار میں تاریخ معیّنہ کے اندر وہ ہمارا مقابلہ کر سکیں گے۔ اور اہل علم کی شہادت سے اُن کے اشعار ہمارے اشعار کے ہم مرتبہ ہوں گے اور تعداد میں بھی برابر ہونگے تو پھر بلا شبہ ہمارا یہ دعویٰ باطل ہو جائے گا کہ اعجازی طاقت جو انشاء پردازی اور نظم اور نثر میں ہے یہ بھی خدا کا ایک نشان ہے جو ہمارے مسیح موعود ہونے پر ایک گواہ ہے بلکہ ہم خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر حلفی وعدہ کرتے ہیں کہ اگر اس عرصہ میں اسی تعداد کے لحاظ سے انہیں مضامین کی پابندی سے ان کے اشعار مقرر کردہ منصفوں کی شہادت سے جو اہل علم ہوں گے ہمارے اشعار سے فصاحت بلاغت کے رُو سے بہتر ثابت ہوں تو دونوں مخاطبین کو ایک ایک سو روپیہ انعام دیا جائے گا ان کا اختیار ہے کہ یہ انعام کسی بینک میں پہلے جمع کرا دیں۔ اب بالخصوص میاں مہر علی صاحب کو اس مقابلہ سے بالکل نہیں ڈرنا چاہیے کیونکہ ان کو معلوم ہو گیا ہے کہ سرقہ کے ذریعہ سے نظم اور نثر طیار ہو سکتی ہے تو گویا اب ان کو اس کام کی کل ہاتھ آ گئی ہے سو اب یقین ہے کہ اس کل کی وجہ سے ان کی تمام بزدلی دور ہو جائے گی بلکہ وہ اِس لائق بھی ہو جائیں گے کہ بالمقابل حوصلہ کر کے کسی سورۃ کی تفسیر بھی لکھ سکیں کیونکہ اب تو بات بہت سہل ہو گئی دوسرے لوگوں کی عبارتیں چرا لیں اور تفسیر کو لکھ مارا لیکن اوّل ہم اُن اشعار کے مقابل پر ان بزرگوں کی علمی طاقت کا نمونہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر اس نمونہ میں پیر مہر علی صاحب نے اپنی کرامت دِکھلا دی تو پھر یقین ہے کہ وہ تفسیر نویسی میں بھی گذشتہ بزدلی کو دور کر کے سیدھی نیت سے میرے مقابل پر آ جائیں گے لیکن کل کے دن جبکہ ہمیں موضع بھیں سے پیر مہر علی کی اس کرتوت پر اطلاع ہوئی۔ جس کی تفصیل حاشیہ میں درج ہے تب سے ہم ایسا سمجھتے ہیں کہ گویا پیر صاحب فوت ہو گئے اور اب اُن کو مخاطب کرنا بھی اُن کو وہ عزت دینا ہے جس کے وہ ہرگز لائق نہیں ہیں لیکن ہم نے مناسب دیکھا کہ ایک شروع کئے ہوئے مضمون کو انجام دے دیں اور حاشیہ کے پڑھنے سے ناظرین کو بخوبی معلوم ہو جائے گا کہ جس قدر پیر مہر علی نے اعجاز المسیح پر نکتہ چینی کی ہے یا جو شمس بازغہ پر نکتہ چینی ہے یہ اُس کی طرف سے نکتہ چینی نہیں ہے بلکہ اصل نکتہ چینی کرنے والا محمد حسن بھیں ہے اور جب وہ دونوں کتابوں پر نکتہ چینی کر چکا تو اُس نے میری کتاب کے حاشیہ پر مباہلہ کی دعا لکھی یعنی یہ کہ جو شخص ہم دونوں میں سے جھوٹا ہے اُس کے لئے خدا تعالیٰ کی لعنت☆ اور اُس کا قہر مانگا اور اب تک وہ دعاءِ مباہلہ کتاب کے حاشیہ پر خاص اُس کی قلم سے درج ہے چنانچہ فی الفور دعا قبول ہوگئی اور بعد اس کے وہ ایک سخت بیماری اور سرسام میں مبتلا ہو کر چند روز میں ہی قبر میں جا پڑا اور کتاب کے چھپنے کی نوبت نہ آئی۔ وہی مضمون اُس کا پیر مہر علی نے اپنے نام سے چھپوایا اور جس پر حسب درخواست اُس کی جو مباہلہ کے رنگ میں تھی خدا کا قہر گرا یعنی اپنی عزیز زندگی سے خلاف خواہش اپنی فوت ہو گیا اُسی کے مضمون کی چوری کی۔ افسوس کہ اس قدر عظیم الشان معجزہ کے ظاہر ہونے کے بعد بھی پیر مہر علی اپنی شوخی سے باز نہ آیا اور وہ شخص جو اپنے مباہلہ کے اثر سے مر گیا اُسی کے پلید مال کی چوری کی۔
اب ہم بعض دوسرے اعتراضات اور شبہات پیر مہر علی شاہ صاحب کے جو در حقیقت محمد حسن متوفی کے ہیں مع جواب ذیل میں درج کرتے ہیں اور ناظرین سے امیدوار ہیں کہ وہ انصافاً گواہی دیں کہ کیا یہ اعتراضات دیانت اور تقویٰ اور حق پرستی کی راہ سے کئے گئے ہیں یا بد دیانتی اور ترک تقویٰ اور دھوکہ دہی اور ظلم اور تعصب کے طریق سے لکھے گئے ہیں اور ہم اُن کے تمام اعتراضات اس جگہ بجنسہ اُن کی عبارت میں ہی نقل کر دیتے ہیں تا خلاصہ کرنے کی حالت میں شبہات پیدا نہ ہوں اور وہ یہ ہیں :۔
’’دیکھو اشتہار مذکور‘‘ (۵؍ نومبر ۱۹۰۱ء جس کا عنوان ہے ایک غلطی کا ازالہ) صفحہ (۱) سطر (۱۳) چنانچہ وہ مکالماتِ الٰہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں۔ اُن میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے هو الّذى ارسل رسُولهٗ بالهُدىٰ و دين الحقّ ليظهره على الدّين كلّه دیکھو صفحہ ۴۹۸ براہین احمدیہ۔ اِس میں صاف طور پر اِس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔
’’اقول۔ یہ آیت سورۂ فتح کے رکوع اخیر میں موجود ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت اور آپ کے دین پاک کے غالب کر دینے کا ذکر ہے کوئی عاقل کہہ سکتا ہے کہ اگر کسی شخص کو خواب میں یا بیداری میں آیت مذکورہ سنائی دے جیسا کہ اکثر حفاظ اور شاغلین کو کثرت استعمال و خیال کے سبب سے ایسا ہوا کرتا ہے۔ فرض کیا بذریعہ الہام ہی سہی۔ تو کیا وہ شخص بشہادت اس آیت کے رسول کہلوانے کا مجاز ہو سکتا ہے ۔ ہرگز نہیں۔ ورنہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِوَالَّذِیْنَمَعَہٗاَشِدَّآءُعَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡا کے سننے سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اور اصحاب کبار بھی ، ہر ایک سننے والا کیوں نہ ہو جبکہ (رسولہ) کے سننے سے رسول بن گیا تو (محمد رسول اللّٰہ) کے سننے سے محمد رسول اللہ اور (والذین معہ) کے سننے سے اصحاب کبار اور (الکفار) کے سننے سے کفار کیوں نہیں بن سکتا۔ ایسا ہی (وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ)(المزمل: ۲۱) کے سننے سے کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ مَیں نبی و رسول ہوں اور نئی نماز و زکوٰۃ کا حکم میرے پر نازل ہوا ہے ہرگز نہیں۔ اگر یہ نہیں کر سکتا تو پھر آیت اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی(الفتح: ۲۹) کے الہام ہونے سے بروزی رسالت کو (رسولہ) کے لفظ سے کس طرح مراد لے سکتا ہے۔ بینوا و انصفوا ۔ الغرض بر تقدیر تسلیم الہام بآیۃ مذکورہ کا دیانی کو استحقاق (رسول) کہلوانے کا ہرگز نہیں پہنچتا۔ بفرض محال اگر آیت مذکورہ کے سننے سے (رسول) کہلوانے کے مستحق بنیں تو اُسی معنے سے رسول ہوں گے جو معنے آیت مذکورہ میں مراد ہے یعنی رسول اصلی ورنہ دلیل دعویٰ پر منطبق نہ ہو گی کیونکہ دعویٰ میں رسول ظلّی اور دلیل یعنی (ارسل رسولہ) میں رسول اصلی ع
ببیں تفاوت راہ از کجاست تا بہ کجا☆
اور نیز (رسولہ) سے رسول ظلّی مراد لینے کی تقدیر پر تحریف معنوی کلام الٰہی میں لازم آوے گی۔ لہذا استدلال بآیت مسطورہ بلند آواز سے پکار رہا ہے کہ کا دیانی رسول اصلی ہونے کا مدعی ہے۔ چنانچہ اس کا للکار کر کہلوانا بھی اِس پر شاہد ہے۔ کیونکہ صرف فنافی الرسول ہونا اس کا مقتضی انہیں۔
پھر اُسی اشتہار میں متصل عبارت منقولہ بالا کے لکھتے ہیں۔ ’’پھر اس کے بعد اسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی اللہ ہے۔ جَری اللہ فی حلل الانبیاء یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلّوں میں۔ دیکھو براہین صفحہ ۵۰۴۔‘‘
اوّل یہ وسوسہ پیر جی کا کہ کیوں یہ تمہاری وحی از قبیل اضغاث احلام اور حدیث النفس نہیں ہے۔
اس کا یہی جواب ہے کہ جیسا کہ وحی تمام انبیاء علیہم السلام کی حضرت آدم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک از قبیل اضغاث احلام وحدیث النفس نہیں ہے۔ ایسا ہی یہ وحی بھی اُن شبہات سے پاک اور منزہ ہے۔ اور اگر کہو کہ اُس وحی کے ساتھ جو اس سے پہلے انبیاء علیہم السلام کو ہوئی تھی معجزات اور پیشگوئیاں ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ اکثر گذشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیشگوئیاں موجود ہیں بلکہ بعض گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور پیشگوئیوں کو ان معجزات اور پیشگوئیوں سے کچھ نسبت ہی نہیں اور نیز ان کی پیشگوئیاں اور معجزات اس وقت محض بطور قصوں اور کہانیوں کے ہیں مگر یہ معجزات اور پیشگوئیاں ہزار ہا لوگوں کے لئے واقعات چشم دید ہیں اور اس مرتبہ اور شان کے ہیں کہ اس سے بڑھ کر متصوّر نہیں یعنی دنیا میں ہزار ہا انسان اُن کے گواہ ہیں مگر گذشتہ نبیوں کے معجزات اور پیشگوئیوں کا ایک بھی زندہ گواہ پیدا نہیں ہو سکتا باستثناء ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ کے معجزات اور پیشگوئیوں کا میں زندہ گواہ موجود ہوں اور قرآن شریف زندہ گواہ موجود ہے اور میں وہ ہوں جس کے بعض معجزات اور پیشگوئیوں کے کروڑہا انسان گواہ ہیں۔ پھر اگر درمیان میں تعصب نہ ہو تو کون ایماندار ہے جو واقعات پر اطلاع پانے کے بعد اِس بات کی گواہی نہ دے کہ در حقیقت اکثر گذشتہ نبیوں کے معجزات کی نسبت یہ معجزات اور پیشگوئیاں ہر ایک پہلو سے بہت قوی اور بہت زیادہ ہیں۔ اور اگر کوئی اندھا انکار کرے تو ہم موجود ہیں اور ہمارے گواہ موجود ہیں وَلَیْسَ الْخَبَرُ کَالْمُعَایَنَۃ۔ پھر جس حالت میں صدہا نبیوں کی نسبت ہمارے معجزات اور پیشگوئیاں سبقت لے گئی ہیں تو اب خود سوچ لو کہ اس وحی الٰہی کو اضغاث احلام اور حدیث النفس کہنا در حقیقت تمام انبیاء علیہم السلام کی نبوت سے انکار کرنا ہے اور اگر شک ہو تو خدا تعالیٰ کا خوف کر کے ایک جلسہ کرو اور ہمارے معجزات اور پیشگوئیاں سنو اور ہمارے گواہوں کی شہادت رویت جو حلفی شہادت ہو گی قلمبند کرتے جاؤ اور پھر اگر آپ لوگوں کے لئے ممکن ہو تو باستثناء ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں کسی نبی یا ولی کے معجزات کو ان کے مقابل پیش کرو لیکن نہ قصوں کے رنگ میں بلکہ رویت کے گواہ پیش کرو۔ کیونکہ قصے تو ہندؤں کے پاس بھی کچھ کم نہیں۔ قصوں کو پیش کرنا تو ایسا ہے جیسا کہ ایک گوبر کا انبار مشک اور عنبر کے مقابل پر۔ مگر یاد رکھو کہ ان معجزات اور پیشگوئیوں کی نظیر جو میرے ہاتھ پر ظاہر ہوئے اور ہو رہے ہیں کمیت اور کیفیت اور ثبوت کے لحاظ سے ہرگز پیش نہ کر سکو گے۔ خواہ تلاش کرتے کرتے مر بھی جاؤ۔ پھر اگر یہ وحی جس کی تائید میں یہ نشان ظاہر ہوئے خدا کا کلام نہیں ہے تو پھر تو تمہیں لازم ہے کہ دہریہ بن جاؤ اور خدا تعالیٰ کے تمام نبیوں سے انکار کر دو کیونکہ نبوت کی عمارت کی شکست ریخت جس قدر ہو چکی ہے اب خدا تعالیٰ ان تازہ معجزات اور پیشگوئیوں سے سب کی مرمت کر رہا ہے اور اب وہ گزشتہ قصوں کو واقعات کے رنگ میں دکھلا رہا ہے۔ اور منقولات کو مشہودات کا پیرایہ پہنا رہا ہے تا جو لوگ شکوک کے گڑھے میں گر گئے ہیں دوبارہ ان کو یقین کا لباس پہناوے لہذا جو شخص مجھے قبول کرتا ہے وہ تمام انبیاء اور ان کے معجزات کو بھی نئے سرے قبول کرتا ہے اور جو شخص مجھے قبول نہیں کرتا اس کا پہلا ایمان بھی کبھی قائم نہیں رہے گا کیونکہ اس کے پاس نرے قصے ہیں نہ مشاہدات۔ خدا نمائی کا آئینہ میں ہوں جو شخص میرے پاس آئے گا اور مجھے قبول کرے گا وہ نئے سرے اُس خدا کو دیکھ لے گا جس کی نسبت دوسرے لوگوں کے ہاتھ میں صرف قصے باقی ہیں۔ میں اُس خدا پر ایمان لایا ہوں جس کو میرے منکر نہیں پہچانتے اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جس پر وہ ایمان لاتے ہیں اُن کے وہ خیالی بت ہیں نہ خدا۔ اسی وجہ سے وہ بت ان کی کچھ مدد نہیں کر سکتے۔ ان کو کچھ قوت نہیں دے سکتے۔ ان میں کوئی پاک تبدیلی پیدا نہیں کر سکتے۔ ان کے لئے کوئی تائیدی نشان نہیں دکھلا سکتے۔ اور یاد رہے کہ یہ اندھوں کے بیہودہ شکوک اور شبہات ہیں جو اس وحی الٰہی کی نسبت ان کے دلوں کو پکڑتے ہیں جو میرے پر نازل ہو رہی ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ ممکن ہے کہ یہ خدا کا کلام نہ ہو بلکہ انسان کے اپنے دل کے ہی اوہام ہوں مگر ان کو یاد رہے کہ خدا اپنی قدرتوں میں کمزور نہیں وہ یقین دلانے کے لئے ایسے خارق عادت طریقے اختیار کر لیتا ہے کہ انسان جیسے آفتاب کو دیکھ کر پہچان لیتا ہے کہ یہ آفتاب ہے ایسا ہی خدا کے کلام کو پہچان لیتا ہے۔ کیا ان کا یہ خیال ہے کہ آدم سے لے کر آنحضرت تک خدا تعالیٰ اس بات پر قادر تھا کہ اپنی پاک وحی کے ذریعہ سے حق کے طالبوں کو سر چشمۂ یقین تک پہنچاوے مگر پھر بعد اس کے اُس فیضان پر قادر نہ رہا یا قادر تو تھا مگر دانستہ اس امت غیر مرحومہ کے ساتھ بخل کیا اور اس دعا کو بھول گیا جو آپ ہی سکھلائی تھی۔ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحۃ: ۶،۷)
اگر مجھ سے سوال کیا جاوے کہ تم نے کیونکر پہچانا اور یقین کیا کہ وہ کلمات جو تمہاری زبان پر جاری کئے جاتے ہیں وہ خدا کا کلام ہے حدیث النفس یا شیطانی القاء نہیں تو میری روح اس سوال کا مندرجہ ذیل جواب دیتی ہے:۔
(۱) اوّل جو کلام مجھ پر نازل ہوتا ہے اس کے ساتھ ایک شوکت اور لذت اور تاثیر ہے۔ وہ ایک فولادی میخ کی طرح میرے دل کے اندر دھنس جاتا ہے اور تاریکی کو دور کرتا ہے اور اس کے ورود سے مجھے ایک نہایت لطیف لذت آتی ہے۔ کاش اگر میں قادر ہو سکتا تو میں اس کو بیان کرتا۔ مگر روحانی لذتیں ہوں خواہ جسمانی ان کی کیفیات کا پورا نقشہ کھینچ کر دکھلانا انسانی طاقت سے بڑھ کر ہے۔ ایک شخص ایک محبوب کو دیکھتا ہے اور اس کی ملاحت حُسن سے لذت اٹھاتا ہے مگر وہ بیان نہیں کر سکتا کہ وہ لذت کیا چیز ہے اسی طرح وہ خدا جو تمام ہستیوں کا علّت العلل ہے۔ جیسا کہ اس کا دیدار اعلیٰ درجہ کی لذت کا سرچشمہ ہے ایسا ہی اس کی گفتار بھی لذات کا سر چشمہ ہے۔ اگر ایک کلام انسان سنے یعنی ایک آواز اس کے دل پر پہنچے اور اس کی زبان پر جاری ہو اور اس کو شبہ باقی رہ جاوے کہ شائد یہ شیطانی آواز ہے یا حدیث النفس ہے تو در حقیقت وہ شیطانی آواز ہو گی یا حدیث النفس ہو گی کیونکہ خدا کا کلام جس قوت اور برکت اور روشنی اور تاثیر اور لذت اور خدائی طاقت اور چمکتے ہوئے چہرہ کے ساتھ دل پر نازل ہوتا ہے خود یقین دلا دیتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور ہرگز مردہ آوازوں سے مشابہت نہیں رکھتا بلکہ اس کے اندر ایک جان ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک طاقت ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک کشش ہوتی ہے اور اس کے اندر یقین بخشنے کی ایک خاصیت ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک لذت ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک روشنی ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک خارق عادت تجلی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ذرہ ذرہ وجود پر تصرف کرنے والے ملایک ہوتے ہیں اور علاوہ اس کے اس کے ساتھ خدائی صفات کے اور بہت سے خوارق ہوتے ہیں اس لئے ممکن ہی نہیں ہوتا کہ ایسی وحی کے مورد کے دل میں شبہ پیدا ہو سکے بلکہ وہ شبہ کو کفر سمجھتا ہے اور اگر اس کو کوئی اور معجزہ نہ دیا جاوے تو وہ اس وحی کو جو ان صفات پر مشتمل ہے بجائے خود ایک معجزہ قرار دیتا ہے۔ ایسی وحی جس شخص پر نازل ہوتی ہے اس شخص کو خدا کی راہ میں اور خدا کی محبت میں ایسے عاشق زار کی طرح بنا دیتی ہے جو اپنے تئیں صدق و ثبات کے کمال کی وجہ سے دیوانہ کی طرح بنا دیتا ہے اس کا یقین اس کے دل کو شہنشاہ کر دیتا ہے وہ میدان کا بہادر اور استغناء کے تخت کا مالک بن جاتا ہے۔ یہی میرا حال ہے جس کو دنیا نہیں جانتی۔ قبل اس کے جو میں معجزات دیکھوں اور آسمانی تائیدوں کا مشاہدہ کروں میں اس کی کلام سے ہی اس کی طرف ایسا کھینچا گیا کہ کچھ اٹکل نہیں آتی کہ مجھے کیا ہو گیا تیز تلواریں میرے اس پیوند کو چھڑا نہیں سکتیں۔ کوئی آگ مجھے ڈرا نہیں سکتی۔ وہ کشش جس نے میرے دل پر کام کیا وہ دلائل سے باہر ہے اور بیان سے بلند تر اور براہین سے بالاتر۔ ابتدا میں کلام تھا اُس کلام نے جو کچھ کیا سو کیا۔ وہ خدا جو نہاں در نہاں ہے اس نے میری روح پر ابتدا میں محض کلام کے ساتھ تجلی کی اور اپنے مکالمات کا دروازہ میرے پر کھولا۔ پس وہی ایک بات تھی جو بالخصوص میرے لئے کافی کشش ہوئی اور حضرت احدیّت کی طرف مجھے کھینچ کر لے گئی۔ اور یہ کہ کلام کی طاقت نے میرے دل پر کیا کیا اثر ڈالے اور مجھے کہاں تک پہنچا دیا اور کیا کیا تبدیلیاں کیں اور کیا میرے دل میں سے لے لیا اور کیا دے دیا۔ ان باتوں کو میں کن لفظوں میں ادا کروں اور کس پیرایہ میں دلوں پر بٹھا دوں۔ جن خارق عادت عنایات کے ساتھ وہ مجھ سے نزدیک ہوا کوئی نہیں جانتا مگر میں۔ اور جس محبت کے مقام پر میرا قدم ہے کوئی نہیں جانتا مگر وہ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ابتدا اس ترقی اور تعلق کا خدا کا کلام ہے جس کی ناگہانی کشش نے مجھے ایسا اٹھا لیا جیسا کہ ایک زبردست بگولہ ایک تنکے کو ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ پھینک دیتا ہے۔ پس میرے پاس یہ ذکر کرنا کہ کیوں وہ کلام جو تم پر نازل ہوا حدیث النفس نہیں۔ یہ بات ایسی ہی ہے جیسا کہ کوئی کہے کہ کیوں ممکن نہیں کہ تمہارا یہ خیال کہ تم آنکھوں سے دیکھتے ہو اور زبان سے بولتے ہو اور کانوں سے سنتے ہو یہ غلط خیال ہو۔ پس عزیزو! تم سوچو اور سمجھ لو کہ کیا وہ شخص جس کو معلوم ہے کہ میں آنکھ بند کرنے سے پھر کچھ دیکھ نہیں سکتا اور کانوں کے بند کرنے سے پھر کچھ سن نہیں سکتا اور زبان کے کاٹے جانے سے پھر کچھ بول نہیں سکتا وہ ایسے منکرانہ جرح کو کچھ حقیقت نہیں سمجھے گا یا شک میں پڑے گا کہ شاید میں آنکھ سے نہیں دیکھتا اور کان سے نہیں سنتا اور زبان سے نہیں بولتا۔ سو اسی طرح میرا حال ہے۔ خدا کا کلام جو میرے پر نازل ہوا اور ہوتا ہے وہ میری روحانی والدہ ہے جس سے میں پیدا ہوا۔ اس نے مجھے ایک وجود بخشا ہے جو پہلے نہ تھا اور ایک روح عطا کی ہے جو پہلے نہ تھی۔ میں نے ایک بچہ کی طرح اس کی گود میں پرورش پائی اور اس نے مجھے ہر ایک ٹھوکر سے سنبھالا اور ہر ایک گرنے کی جگہ سے بچا لیا۔ وہ کلام ایک شمع کی طرح میرے آگے آگے چلا یہاں تک کہ میں منزل مقصود تک پہنچ گیا۔ اس سے زیادہ کوئی بد ذاتی نہیں ہو گی کہ میں یہ کہوں کہ وہ خدا کا کلام نہیں۔ میں اسی طرح اس کو خدا کا کلام جانتا ہوں جس طرح میں یقین رکھتا ہوں کہ میں زبان سے بولتا ہوں اور کانوں سے سنتا ہوں اور میں کیونکر اس سے انکار کروں اس نے تو مجھے خدا دکھلایا اور چشمہ شیریں کی طرح معارف کا پانی مجھے پلاتا رہا۔ اور ایک ٹھنڈی ہوا کی طرح ہر ایک حبس کے وقت میں مجھے راحت بخش ہوا۔ وہ ان زبانوں میں بھی مجھ پر نازل ہوا جن زبانوں کو میں نہیں جانتا تھا جیسا کہ زبان انگریزی اور سنسکرت اور عبرانی۔ اس نے بڑی بڑی پیشگوئیوں اور عظیم الشان نشانوں سے ثابت کر دیا کہ وہ خدا کا کلام ہے اور اس نے حقائق و معارف کا ایک خزانہ میرے پر کھول دیا جس سے میں اور میری تمام قوم بے خبر تھی۔ وہ کبھی کبھی زبان عربی یا انگریزی یا کسی دوسری زبان کے ان دقیق اور نامعلوم الفاظ میں میرے پر نازل ہوا جن سے میں بے خبر تھا۔ تو کیا باوجود ان روشن ثبوتوں کے کوئی شک کا مقام ہو سکتا ہے کیا یہ باتیں پھینک دینے کے لائق ہیں کہ ایک کلام جس نے معجزہ کی طاقت دکھلائی اور اپنی قوی کشش☆ ثابت کی اور غیب کے بیان کرنے میں وہ بخیل نہیں نکلا بلکہ ہزار ہا امور غیبیہ اس نے ظاہر کیے۔ اور ایک باطنی کمند سے مجھے اپنی طرف کھینچا اور ایک کمند دنیا کے سعید دلوں پر ڈالا اور میری طرف ان کو لایا اور ان کو آنکھیں دیں جن سے وہ دیکھنے لگے اور کان دیئے جن سے وہ سننے لگے اور صدق و ثبات بخشا جس سے وہ اس راہ میں قربانی ہونے کے لئے موجود ہو گئے تو کیا یہ تمام کاروبار شیطانی یا وسوسہ نفسانی ہے۔ کیا شیطان خدا کے برابر ہو سکتا ہے تو پھر کیوں وہ تمہاری مدد نہیں کرتا۔ سنو وہ جس نے یہ کلام نازل کیا وہ کیا کہتا ہے اس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ سو ضرور ہے کہ یہ زمانہ گذر نہ جائے اور ہم اس دنیا سے کوچ نہ کریں جب تک خدا کے وہ تمام وعدے پورے نہ ہوں۔ جو شخص تاریکی میں پڑا ہوا ہے اور اس سے بے خبر ہے کہ خدا کا یقینی اور قطعی کلام بھی اس کے بندوں پر نازل ہوا کرتا ہے وہ خدا کے وجود سے ہی بے خبر ہے لہذا وہ اپنی طرح تمام دنیا کو وساوس کے نیچے پامال دیکھتا ہے اور اس کا یہی عقیدہ ہوتا ہے کہ بجز وساوس اور اضغاث احلام اور حدیث النفس کے اور کچھ نہیں اور غایت کار وہ ظنی طور پر نہ یقینی اور قطعی طور پر الہام الٰہی کا خیال دل میں لاتا ہے مگر ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ جس دل پر در حقیقت آفتاب وحی الٰہی تجلی فرماتا ہے اس کے ساتھ ظن اور شک کی تاریکی ہرگز نہیں رہتی۔ کیا خالص نور کے ساتھ ظلمت رہ سکتی ہے۔ پھر جس حالت میں موسیٰ کی ماں کو بھی یقینی الہام ہوا جس پر پورا یقین رکھ کر اس نے اپنے بچہ کو معرض ہلاکت میں ڈال دیا اور خدا تعالیٰ کے نزدیک بجرم اقدام قتل مجرم نہ ہوئی تو کیا یہ امت اسرائیل کے خاندان کی عورتوں سے بھی گئی گذری ہے اور پھر اسی طرح مریم کو بھی یقینی الہام ہوا جس پر بھروسہ کر کے اس نے قوم کی کچھ پرواہ نہیں کی تو حیف ہے اس امت مخذول پر جوان عورتوں سے بھی کم تر ہے۔ پس اس صورت میں یہ امت خیر الامم کا ہے کو ہوئی بلکہ شر الامم اور اجہل الامم ہوئی۔ اسی طرح خضر جو نبی نہیں تھا اور اس کو علم لدُنّی دیا گیا تو کیا اگر اس کا الہام ظنی تھا یقینی نہیں تھا تو کیوں اس نے ایک ناحق بچہ کو قتل کر دیا۔ اور اگر صحابہ رضی اللہ عنہم کا یہ الہام کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینا چاہیے یقینی اور قطعی نہ تھا تو کیوں انہوں نے اس پر عمل کیا۔ پس اگر ایک شخص اپنی نابینائی سے میری وحی سے منکر ہے تاہم اگر وہ مسلمان کہلاتا ہے اور پوشیدہ دہریہ نہیں تو اس کے ایمان میں یہ بات داخل ہونی چاہیے کہ یقینی قطعی مکالمہ الٰہیہ ہو سکتا ہے اور جیسا کہ خدا تعالیٰ کی وحی یقینی پہلی امتوں میں اکثر مردوں اور عورتوں کو ہوتی رہی ہے اور وہ نبی بھی نہ تھے اس امت میں بھی اس یقینی اور قطعی وحی کا وجود ضروری ہے تا یہ امت بجائے افضل الامم ہونے کے احقر الامم نہ ٹھہر جائے۔ سو خدا نے آخری زمانہ میں اکمل اور اتم طور پر یہ نمونہ دکھایا ان واقعات سے تعجب نہیں کرنا چاہئے بلکہ در حقیقت انسان کی نجات اسی پر موقوف ہے کہ یا تو وہ خود ایسا شخص ہو جو براہ راست خدا تعالیٰ سے شرف مکالمہ اور مخاطبت رکھتا ہو مگر ایسا مکالمہ مخاطبہ نہ ہو کہ جس میں قطعی فیصلہ نہ ہو کہ وہ رحمانی ہے یا شیطانی ہے اور یا وہ شخص نجات پا سکتا ہے جو ایسے شخص کا ہم صحبت اور اس کے دامن سے وابستہ ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ جس قدر دنیا میں گناہ پیدا ہوئے ہیں ان کی یہی وجہ ہے کہ جس قدر انسان کو دنیا کی لذّات اور دنیا کی عزت اور دنیا کے مال و متاع پر یقین ہے یہ یقین آخرت پر نہیں ہے اور جیسا کہ وہ ایک ایسے صندوق پر توکل کر سکتا ہے جو قیمتی جواہرات اور خالص سونے سے بھرا ہوا ہے اور اس کے قبضے میں ہے ایسا وہ خدا پر توکل نہیں کر سکتا۔ اور جیسا کہ دنیا کی گورنمنٹ اور دنیا کے حکام سے لوگ ڈرتے ہیں اور مداہنہ سے زندگی بسر کرتے ہیں ایسا خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتے۔ اس کا کیا سبب ہے؟ یہی سبب ہے کہ دنیا کے پیش افتادہ اسباب اور وسائل ان کی نظر میں ایسے یقینی ہیں کہ دینی عقائد ان کے آگے کچھ بھی چیز نہیں۔ اب اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چونکہ نجات بجز حق الیقین کے ممکن نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنۡ کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعۡمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعۡمٰی وَاَضَلُّ سَبِیۡلًا(بنی اسرائیل: ۷۳) یعنی جو شخص اس جہان میں اندھا ہے وہ اس دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا بلکہ اس سے بھی بدتر۔ تو بغیر یقین کامل کے کیونکر نجات ہو اور اگر ایک مذہب کی پابندی سے نجات نہیں تو اس مذہب سے حاصل کیا۔ صحابہ رضی اللّٰہ عنہم کے زمانہ میں تو یقین کے چشمے جاری تھے اور وہ خدائی نشانوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے اور انہیں نشانوں کے ذریعہ سے خدا کی کلام پر انہیں یقین ہو گیا تھا اس لئے ان کی زندگی نہایت پاک ہو گئی تھی لیکن بعد میں جب وہ زمانہ جاتا رہا اور اس زمانہ پر صدہا سال گزر گئے تو پھر ذریعہ یقین کا کون سا تھا۔ سچ ہے کہ قرآن شریف ان کے پاس تھا اور قرآن شریف اس ذوالفقار تلوار کی مانند ہے جس کے دو طرف دھاریں ہیں ایک طرف کی دھار مومنوں کی اندرونی غلاظت کو کاٹتی ہے اور دوسری طرف کی دھار دشمنوں کا کام تمام کرتی ہے مگر پھر بھی وہ تلوار اس کام کے لئے ایک بہادر کے دست و بازو کی محتاج ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیۡہِمۡ وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ ۔(آل عمران: ۱۶۵) پس قرآن سے جو تزکیہ حاصل ہوتا ہے اس کو اکیلا بیان نہیں کیا بلکہ وہ نبی کی صفت میں داخل کر کے بیان کیا یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام یوں ہی آسمان پر سے کبھی نازل نہیں ہوا بلکہ اس تلوار کو چلانے والا بہادر ہمیشہ ساتھ آیا ہے جو اس تلوار کا اصل جو ہر شناس ہے لہذا قرآن شریف پر سچا اور تازہ یقین دلانے کے لئے اور اس کے جو ہر دکھلانے کے لئے اور اس کے ذریعہ سے اتمام حجت کرنے کے لئے ایک بہادر کے دست و بازو کی ہمیشہ حاجت ہوتی رہی ہے اور آخری زمانہ میں یہ حاجت سب سے زیادہ پیش آئی کیونکہ دجالی زمانہ ہے اور زمین و آسمان کی باہمی لڑائی ہے۔ غرض جب خدا تعالیٰ نے فرما دیا کہ جو شخص اس جہان میں اندھا ہے وہ دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا تو ہر ایک طالب حق کے لئے ضروری ہوا کہ اسی جہاں میں آنکھوں کا نور تلاش کرے اور اس زندہ مذہب کا طالب ہو جس میں زندہ خدا کے انوار نمایاں ہوں ۔ وہ مذہب مردار ہے جس میں ہمیشہ کے لئے یقینی وحی کا سلسلہ جاری نہیں کیونکہ وہ انسانوں پر یقین کی راہ بند کرتا ہے اور ان کو قصوں کہانیوں پر چھوڑتا ہے اور ان کو خدا سے نومید کرتا اور تاریکی میں ڈالتا ہے اور کیونکر کوئی مذہب خدا نما ہو سکتا اور کیونکر گناہوں سے چھڑا سکتا ہے جب تک کوئی یقین کا ذریعہ اپنے پاس نہیں رکھتا اور جب تک سورج نہ چڑھے کیونکر دن چڑھ سکتا ہے۔ پس دنیا میں سچا مذہب وہی ہے جو بذریعہ زندہ نشانوں کے یقین کی راہ دکھلاتا ہے باقی لوگ اسی زندگی میں دوزخ میں گرے ہوئے ہیں بھلا بتاؤ کہ ظن بھی کوئی چیز ہے جس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنی ہیں کہ شائد یہ بات صحیح ہے یا غلط ۔ یاد رکھو کہ گناہ سے پاک ہونا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں ۔ فرشتوں کی سی زندگی بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں ۔ دنیا کی بے جا عیاشیوں کو ترک کرنا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔ ایک پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کر لینا اور خدا کی طرف ایک خارق عادت کشش سے کھینچے جانا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں ۔ زمین کو چھوڑنا اور آسمان پر چڑھ جانا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔ خدا سے پورے طور پر ڈرنا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔ تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مارنا اور اپنے عمل کو ریا کاری کی ملونی سے پاک کر دینا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں ۔ ایسا ہی دنیا کی دولت اور حشمت اور اس کی کیمیا پر لعنت بھیجنا اور بادشاہوں کے قرب سے بے پرواہ ہو جانا اور صرف خدا کو اپنا ایک خزانہ سمجھنا بجز یقین کے ہرگز ممکن نہیں۔ اب بتلاؤ اے مسلمان کہلانے والو کہ ظلماتِ شک سے نور یقین کی طرف تم کیونکر پہنچ سکتے ہو۔ یقین کا ذریعہ تو خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو یُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ(البقرة: ۲۵۸) کا مصداق ہے۔ سو چونکہ عہد نبوت پر تیرہ سو برس گزر گئے اور تم نے وہ زمانہ نہیں پایا جب کہ صدہا نشانوں اور چمکتے ہوئے نوروں کے ساتھ قرآن اترتا تھا اور وہ زمانہ پایا جس میں خدا کی کتاب اور اس کے رسول اور اس کے دین پر ہزار ہا اعتراض عیسائی اور دہریہ اور آریہ وغیرہ کر رہے ہیں اور تمہارے پاس بجز لکھے ہوئے چند ورقوں کے جن کی اعجازی طاقت سے تمہیں خبر نہیں اور کوئی ثبوت نہیں اور جو معجزات پیش کرتے ہو وہ محض قصوں کے رنگ میں ہیں تو اب بتلاؤ کہ تم کسی راہ سے اپنے تئیں یقین کے بلند مینار تک پہنچا سکتے ہو اور کس طریق سے دشمن کو بتلا سکتے ہو کہ تمہارے پاس خدا پر یقین لانے کے لئے اور گناہ سے بچنے کے لئے ایک ایسی چیز ہے جو دشمن کے پاس نہیں تا وہ انصاف کر کے تمہارے مذہب کا طالب ہو جائے اس حرکت سے ایک عقلمند کو کیا فائدہ کہ ایک گوبر کو چھوڑ دے اور دوسرے گوبر کو کھا لے۔ سچائی کو ہر یک سعید دل لینے کو طیار ہے بشرطیکہ سچائی اپنے نور کو ثابت کر کے دکھلا دے جس اسلام کو آج یہ مخالف مولوی اور ان کا گروہ غیر مذہب کے لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ صرف پوست ہے نہ مغز اور محض افسانہ ہے نہ حقیقت ۔ پھر کوئی کیونکر اس کو قبول کرے اور جس بیماری سے نجات حاصل کرنے کے لئے ایک شخص مذہب کو تبدیل کرنا چاہتا ہے اگر وہی بیماری اس دوسرے مذہب میں بھی ہے تو اس تبدیلی سے بھی کیا فائدہ۔ یوں تو برہمو بھی دعوی کرتے ہیں کہ ہم ایک خدا کے قائل ہیں مگر خدا کا قائل وہی ہے جس کی یقین کی آنکھیں کھل گئی ہیں اور وہی گناہ سے بچ سکتا ہے۔
کہ جو یقین کی آنکھ سے خدا کو دیکھتا ہے باقی سب قصے جھوٹ ہیں اور سب کفارے باطل ہیں سو وہی زندہ خدا اس آخری زمانہ میں اپنے تئیں پیش کرتا ہے تا لوگ ایمان لاویں اور ہلاک نہ ہوں ۔ قرآن شریف خدا کا کلام تو ہے بلکہ سب سے بڑا کلام مگر وہ تم سے بہت دور ہے تمہاری آنکھیں اس کو دیکھ نہیں سکتیں اب وہ تمہارے ہاتھ میں ایسا ہی ہے جیسا کہ توریت یہودیوں کے ہاتھ میں ۔ اسی وجہ سے اگر تم انصاف کرو تو گواہی دے سکتے ہو کہ باعث اس کے کہ اس پاک کلام کے یقینی انوار تمہاری آنکھوں سے پوشیدہ ہیں تم اس سے باطنی تقدس کا کچھ بھی فائدہ حاصل نہیں کر سکتے اور اگر واقعات خارجیہ کی شہادت کچھ چیز ہے تو تم انصافاً آپ ہی شہادت دے سکتے ہو کہ اس موجودہ زمانہ میں تمہاری کیا حالتیں ہیں سچ کہو کہ کیا تم گناہوں سے اور تمام ان حرکات سے جو تقویٰ کے برخلاف ہیں ایسے ڈرتے ہو جیسا کہ ایک زہر ہلاہل کے استعمال سے انسان ڈرتا ہے۔ سچ کہو کہ کیا تم اس تقویٰ پر قائم ہو جس تقویٰ کے لئے قرآن شریف میں ہدایت کی گئی تھی ۔ سچ کہو کہ وہ آثار جو سچے یقین کے بعد ظاہر ہوتے ہیں وہ تم میں ظاہر ہیں ۔ تم اس وقت جھوٹ نہ بولو اور بالکل سچ کہو کہ کیا وہ محبت جو خدا سے کرنی چاہئے اور وہ صدق و ثبات جو اس کی راہ میں دکھلانا چاہیے وہ تم میں موجود ہے ۔ تم خدائے عزّوجلّ کی قسم کھا کر کہو کہ اس مردار دنیا کو جس صفائی سے ترک کرنا چاہئے کیا تم اُسی صفائی سے ترک کر چکے ہو اور جس اخلاص اور توحید اور تفرید سے خدائے واحد لاشریک کی طرف دوڑنا چاہیے کیا تم اُسی اخلاص سے اُس کی راہ میں دوڑ رہے ہو۔ ریا کاری سے بات مت کرو اور لاف زنی سے لوگوں کو خوش کرنا مت چاہو کہ وہ خدا در حقیقت موجود ہے جو تمہارے ہر ایک قول اور فعل کو دیکھ رہا ہے۔ تم بات کرتے وقت اس قادر کا خیال کر لو جس کا غضب کھا جانے والی آگ ہے وہ جھوٹی شیخیوں کو ایک دم جہنم کا ہیزم کر سکتا ہے۔ سو تم سچ سچ کہو کہ تمہارے قدم دنیا کی خواہشوں یا دنیا کی آبروؤں یا دنیا کے مال و متاع میں پھنسے ہوئے ہیں یا نہیں۔ پس اگر تمہیں خدا پر یقین حاصل ہوتا تو تم اس زہر کو ہرگز نہ کھاتے اور قریب تھا کہ دنیا اس زہر سے مر جاتی اگر خدا یہ آسمانی سلسلہ اپنے ہاتھ سے قائم نہ کرتا اور اگر تم چالاکی سے کہو کہ ہم ایسے ہی ہیں جیسا کہ بیان کیا گیا اور ہم میں گناہ کی کوئی تاریکی نہیں اور پورے یقین کے انجن سے ہم کھنچے جا رہے ہیں تو تم نے جھوٹ بولا ہے اور آسمان اور زمین کے بنانے والے پر تہمت لگائی ہے اس لئے قبل اس کے جو تم مرو خدا کی لعنت تمہاری پردہ دری کرے گی ۔ یقین اپنے نوروں کے سمیت آتا ہے۔ کوئی آسمان تک نہیں پہنچا سکتا ہے مگر وہی جو آسمان سے آتا ہے۔ اگر تم جانتے کہ خدا کا تازہ بتازہ اور یقینی اور قطعی کلام تمہاری بیماریوں کا علاج ہے تو تم اس سے انکار نہ کرتے جو عین صدی کے سر پر تمہارے لئے آیا ۔ اے غافلو یقین کے بغیر کوئی عمل آسمان پر جا نہیں سکتا اور اندرونی کدورتیں اور دل کی مہلک بیماریاں بغیر یقین کے دور نہیں ہو سکتیں ۔ جس اسلام پر تم فخر کرتے ہو یہ رسم اسلام ہے نہ حقیقت اسلام ۔ حقیقی اسلام سے شکل بدل جاتی ہے اور دل میں ایک نور پیدا ہو جاتا ہے اور سفلی زندگی مر جاتی ہے اور ایک اور زندگی پیدا ہوتی ہے جس کو تم نہیں جانتے یہ سب کچھ یقین کے بعد آتا ہے اور یقین اس یقینی کلام کے بعد جو آسمان سے نازل ہوتا ہے ۔ خدا ، خدا کے ذریعہ سے ہی پہچانا جاتا ہے نہ کسی اور ذریعہ سے ۔ تم میں سے کون ہے جو اپنے ہم کلام کو شناخت نہیں کر سکتا ۔ پس اسی طرح مکالمات کی حالت میں معرفت میں ترقی ہوتی جاتی ہے۔ بندہ کا دعا کرنا اور خدا تعالیٰ کا لطف اور رحم سے اس دعا کا جواب دینا نہ ایک دفعہ نہ دو دفعہ بلکہ بعض موقعہ پر بیس بیس دفعہ یا تیس تیس دفعہ یا پچاس پچاس دفعہ یا قریباً تمام رات یا قریباً تمام دن اسی طرح ہر یک دعا کا جواب پانا اور جواب بھی فصیح تقریر میں ۔ اور بعض دفعہ مختلف زبانوں میں اور بعض دفعہ ایسی زبانوں میں جن کا علم بھی نہیں اور پھر اس کے ساتھ ایسے نشانوں کی بارش اور معجزات اور تائیدوں کا سلسلہ۔ کیا یہ ایسا عمل ہے کہ اس قدر مسلسل مکالمات اور مخاطبات اور آیات بینات کے بعد پھر خدا کے کلام میں شک رہے۔ نہیں نہیں بلکہ یہ ایسا امر ہے کہ اس کے ذریعہ سے بندہ اسی عالم میں اپنے خدا کو دیکھ لیتا ہے اور دونوں عالم اس کے لئے بلا تفاوت یکساں ہو جاتے ہیں اور جس طرح نورہ کے استعمال سے یکدفعہ بال گر جاتے ہیں ایسا ہی اس نور کے نزول جلال سے وحشیانہ زندگی کے بال جو جرائم اور معاصی سے مراد ہے کالعدم ہو جاتے ہیں اور انسان مُردوں سے بیزار ہو کر اس دل آرام زندہ کا عاشق ہو جاتا ہے جس کو دنیا نہیں جانتی اور جیسا کہ تم دنیا کی چیزوں سے بے صبر ہو ویسا ہی وہ خدا کی دوری پر صبر نہیں کر سکتا غرض تمام برکات اور یقین کی کنجی وہ کلام قطعی اور یقینی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بندہ پر نازل ہوتا ہے۔ جب خدائے ذوالجلال کسی اپنے بندہ کو اپنی طرف کھینچنا چاہتا ہے تو اپنا کلام اس پر نازل کرتا ہے اور اپنے مکالمات کا اس کو شرف بخشتا ہے اور اپنے خارق عادت نشانوں سے اُس کو تسلی دیتا ہے اور ہر ایک پہلو سے اس پر ثابت کر دیتا ہے کہ وہ اس کا کلام ہے تب وہ کلام قائم مقام دیدار کا ہو جاتا ہے اس روز انسان سمجھتا ہے کہ خدا ہے کیونکہ انا الموجود کی آواز سنتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی کلام سے پہلے اگر انسان کا خدا تعالیٰ کے وجود پر ایمان ہوتا ہے تو بس اسی قدر کہ وہ مصنوعات پر نظر کر کے یہ خیال کر لیتا ہے کہ اس ترکیب محکم ابلغ کا کوئی صانع ہونا چاہئے لیکن یہ کہ در حقیقت وہ صانع موجود بھی ہے یہ مرتبہ ہرگز بجز مکالمات الٰہیہ کے حاصل نہیں ہو سکتا اور گندی زندگی جو تحت الثریٰ کی طرف ہر لمحہ کھینچ رہی ہے وہ ہرگز دور نہیں ہوتی ۔ اسی جگہ سے عیسائیوں کے خیالات کا بھی باطل ہونا ثابت ہوتا ہے کیونکہ وہ خیال کرتے ہیں کہ ابن مریم کی خودکشی نے ان کو نجات دے دی ہے حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ تنگ و تاریک دوزخ میں پڑے ہوئے ہیں جو محجوبیت اور شکوک اور شبہات اور گناہ کا دوزخ ہے۔ پھر نجات کہاں ہے۔ نجات کا سرچشمہ یقین سے شروع ہو جاتا ہے سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ انسان کو اس بات کا یقین دیا جائے کہ اس کا خدا در حقیقت موجود ہے جو مجرم اور سرکش کو بے گناہ☆ نہیں چھوڑتا اور رجوع کرنے والے کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہی یقین تمام گناہوں کا علاج ہے بجز اس کے دنیا میں نہ کوئی کفارہ ہے نہ کوئی خون ہے جو گناہ سے بچاوے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ ہر یک جگہ تمہیں یقین ہی ناکردنی باتوں سے روک دیتا ہے تم آگ میں ہاتھ نہیں ڈال سکتے کہ وہ مجھے جلا دے گی۔ تم شیر کے آگے اپنے تئیں کھڑا نہیں کرتے کیونکہ تم یقین رکھتے ہو کہ وہ مجھے کھا لے گا ۔ تم کوئی زہر نہیں کھاتے کیونکہ تم یقین رکھتے ہو کہ وہ مجھے ہلاک کر دے گی ۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ بے شمار تجارب سے تم پر ثابت ہو چکا ہے کہ جس جگہ تمہیں یقین ہو جاتا ہے کہ یہ فعل یا یہ حرکت بلا شبہ مجھے ہلاکت تک پہنچائے گی تم فی الفور اس سے رک جاتے ہو اور پھر وہ گناہ تم سے سرزد نہیں ہوتا ۔ پھر خدا تعالیٰ کے مقابل پر تم کیوں اس ثابت شدہ فلسفہ سے کام نہیں لیتے کیا تجربہ نے اب تک گواہی نہیں دی کہ بجز یقین کے انسان گناہ سے رک نہیں سکتا۔ ایک بکری یقین کی حالت میں اس مرغزار میں چر نہیں سکتی جس میں شیر سامنے کھڑا ہے پس جب کہ یقین لا یعقل حیوانات پر بھی اثر ڈالتا ہے اور تم تو انسان ہو۔ اگر کسی دل میں خدا کی ہستی اور اس کی ہیبت اور عظمت اور جبروت کا یقین ہے تو وہ یقین ضرور اسے گناہ سے بچالے گا اور اگر وہ نہیں بچ سکا تو اسے یقین نہیں کیا خدا پر یقین لانا اس یقین سے کم تر ہے کہ جو شیر اور سانپ اور زہر کے وجود کا یقین ہوتا ہے۔ سو وہ گناہ جو خدا سے دور ڈالتا ہے اور جہنمی زندگی پیدا کرتا ہے اس کا اصل سبب عدم یقین ہے۔ کاش میں کس دف کے ساتھ اس کی منادی کروں کہ گناہ سے چھڑانا یقین کا کام ہے۔ جھوٹی فقیری اور مشیخت سے توبہ کرانا یقین کا کام ہے۔ خدا کو دکھلانا یقین کا کام ہے۔ وہ مذہب کچھ بھی نہیں اور گندہ ہے اور مردار ہے اور ناپاک ہے اور جہنمی ہے اور خود جہنم ہے جو یقین کے چشمہ تک نہیں پہنچا سکتا۔ زندگی کا چشمہ یقین سے ہی نکلتا ہے اور وہ پر جو آسمان کی طرف اڑاتے ہیں وہ یقین ہی ہے۔ کوشش کرو کہ اس خدا کو تم دیکھ لو جس کی طرف تم نے جانا ہے۔ اور وہ مرکب یقین ہے جو تمہیں خدا تک پہنچائے گا۔ کس قدر اس کی تیز رفتار ہے کہ وہ روشنی جو سورج سے آتی ہے اور زمین پر پھیلتی ہے وہ بھی اس کی سرعت رفتار کے ساتھ مقابلہ نہیں کرسکتی اے پاکیزگی کے ڈھونڈنے والو اگر تم چاہتے ہو کہ پاک دل بن کر زمین پر چلو اور فرشتے تم سے مصافحہ کریں تو تم یقین کی راہوں کو ڈھونڈو۔ اور اگر تمہیں اس منزل تک ابھی رسائی نہیں تو اس شخص کا دامن پکڑو جس نے یقین کی آنکھ سے اپنے خدا کو دیکھ لیا ہے اور یہ کہ کیونکر یقین کی آنکھ سے خدا کو دیکھا جاوے اس کا جواب کوئی مجھ سے سنے یا نہ سنے مگر میں یہی کہوں گا کہ اس یقین کے حاصل کرنے کا ذریعہ خدا کا زندہ کلام ہے جو زندہ نشان اپنے اندر اور ساتھ رکھتا ہے جب وہ آسمان پر سے اترتا ہے تو نئے سرے مردوں کو قبروں میں سے نکالتا ہے۔ تم دیکھتے ہو کہ باوجود آنکھوں کے بینا ہونے کے تم آسمانی آفتاب کے محتاج ہو اسی طرح خدا شناسی کی بینائی محض اپنی اٹکلوں سے حاصل نہیں ہو سکتی وہ بھی ایک آفتاب کی محتاج ہے۔ اور وہ آفتاب بھی آسمان پر سے اپنی روشنی زمین پر نازل کرتا ہے یعنی خدا کا کلام ۔ کوئی معرفت خدا کے کلام کے بغیر کامل نہیں ہو سکتی ۔ خدا کا کلام بندہ اور خدا میں ایک دلالہ ہے وہ اترتا ہے اور خدا کا نور اس کے ساتھ ہوتا ہے اور جس پر وہ اپنے پورے کرشمہ اور پوری تجلی اور پوری خدائی عظمت اور قدرت اور برہنہ کرشمہ کے ساتھ اترتا ہے اس کو وہ آسمان پر لے جاتا ہے۔ غرض خدا تک پہنچنے کے لئے بجز خدا تعالیٰ کے کلام کے اور کوئی سبیل نہیں۔
کے شوی عاشق رخ یارے
تا نہ بر دل رخش کند کارے
ہم چنین زان لبے دو ۲ گفتارے
آن کند کارہا کہ دیدارے
لاجرم عشق دلبر خوش خو
خیزد از گفتگو چو دیدن رُو
گفتگو را کشش بود بسیار
بے سخن کم اثر کند دیدار
ہر کہ ذوق کلام یافتہ است
راز این رہ تمام یافتہ است
زیر لب گفتگوئے جانانے
زندگی بخشدت بیک آنے
دوزخی کز عذاب پُر چون خُم
اصل آن ہست لا یکلمہم
دل نہ گردد صفا نہ خیزد بیم
تا چو موسیٰ نمیشوی تو کلیم
ہست داروئے دل کلام خدا
کے شوی مست جز بجام خدا
تا نہ او گفت خود انا الموجود
عقدہ ہستیش کسے نہ کشود
تا نشد مشعلے زغیب پدید
از شب تار جہل کس نرہید
تا نہ خود را نمود خود دادار
کس ندانست کوئے آن دلدار
تا نہ خود از سخن یقین بخشید
کس ز زندانِ ریب و شک نرہید
ہر چہ باشد ز زہد و صدق و سداد
بے یقین سست باشدش بنیاد
گر یقین نیست بر خدائے یگان
از محالاتِ قوتِ ایمان
بے یقین دین و کیش بیہودہ است
بے یقین ہیچ دل نیاسودہ ست
بے یقین و تجلیاتِ یقین
کس نہ رستہ زدام دیو لعین
بے یقین از گنہ نہ رست کسے
دانم احوال شیخ و شاب بسے
آن خدائے کہ ذات اوست نہان
دور تر از دو چشم عالمیان
بر وجودش یقین چسان آید
گر نظر نیست گفتگو باید
زین سبب ہست حاجت گفتار
گر میسر نمے شود دیدار
بے کلام و شہادت آیات
کے یقین میشود کہ ہست آن ذات
بے یقین کے ہمین شود دل پاک
مُردہ چون سر بر آرد از تہِ خاک
گر یقین نیست نیز ایمان نیست
زہد و صدق و ثبات و عرفان نیست
جز یقین مشکلت صدق و ثبات
سخت دشوار ترک منہیات
زین سبب خلق شد چو مردارے
سر تہی گشت از سرِ یارے
روز شب کار و بار فسق و فجور
حاصل عمر کفر و کبر و غرور
دین و مذہب برائے آن باشد
کز یقین سوئے حق کشان باشد
این چہ دینے کہ می کشد ہر آن
سوئے شیطان و سیرت شیطان
از ریا عیب خویش مے پوشند
ہر دم از حرص و آز می جوشند
چون یقین نیست بر خدائے وحید
لا جرم نفس شد خبیث و پلید
نفس دون تا نہ بیند آن انوار
کے شود سرد خواہش مُردار
ہست واللہ کلامِ ربّانی
از خدا آلہ خدا دانی
اژدہائے دمان کہ نفسش نام
بے کلامِ خدا نہ گردد رام
این فسون است بہر این مارے
کز لبِ یار یک دو گفتارے
وہ چہ دارد اثر کلام خدا
دیو بگریزد از پیامِ خدا
دُزد را کار ہست با شب تار
چون سحر شد گریزد آن غدار
ہمچو قول خدا کدام سحر
کہ رود تیرگی از و یکسر
ہر کہ این در بر و خدا بکشاد
بے توقف خدائش آمد یاد
آنچنان دور شد ز خبث و فساد
کہ نماندہ اثر ز استعداد
وان کہ در عمر خود ندید آن نور
کور ماند و ز نورِ حق مہجور
کس نیابد از ان یگان اسرار
جز سعیدے کہ یابد آن گفتار
ہر کہ این مہر بر سرِ او تافت
ذوق مہر خدا ہمان کس یافت
ہیچ دانی کلامِ رحمان چیست
وان کہ آن خور بیافت آن مہ کیست
آن کلامش کہ نورہا دارد
شک و ریب از قلوب بردارد
نور در ذات خویش و نور دہد
رگِ ہر شک و ہر گمان ببرد
دل کہ باشد گرفتۂ اوہام
یابد از وے سکینت و آرام
ہمچو میخے کہ ہست فولادی
در دل آید فزائدت شادی
زور ہد عادت فساد و شقاق
چارۂ زہر نفس چون تریاق
کارہا میکند بانسانی
ہمچو باد صبا بہ بستانی
مے کشاید دو چشم انسان را
مے نماید جمال رحمان را
درِ وحی خدا چو گردد باز
بستہ گردد بر آدمی درِ آز
یک کشش کار میکند بدرون
در دل آید فرو رُخ بیچون
زان کشش دل ہمی شود بیدار
متنفّر ز غیر و طالبِ یار
روز ہر حرص و آز تابندہ
سوئے یارِ ازل شتابندہ
میوہ از روضۂ فنا خوردہ
و از خود و آرزوئے خود مُردہ
سیلِ عشقش زِ جائے خود بُردہ
رخت در جائے دیگر آوردہ
پاک و طیب بچشم بیچونی
پیش کوران خبیث و ملعونی
از یقین پُر چو شیشۂ عطّار
لا اُبالی زِ لعنتِ اغیار
دست غیبی کشیدہ دامنِ دل
بر کشیدہ دو دست یار زِ گل
پاک دل پاک جان و پاک ضمیر
دور تر از مکائد و تزویر
آنچنان عشق تیز مرکب راند
کہ از ان مشت خاک ہیچ نماند
کشتۂ دلبر و دلآرامے
رُستہ یکسر ز ننگ و از نامے
پُر زِ عشق و تہی زِ ہر آزے
قصہ کوتاہ کرد آوازے
آن ندائے یقین کہ گوش شنید
کرد کار و ز غیر حق ببرید
رفتہ بیرون ز حلقۂ اغیار
دل بریدہ ز غیر آن دلدار
پاک گشتہ ز لوثِ ہستی خویش
رستہ از بند خود پرستی خویش
آنچنان یار در کمند انداخت
کہ نداند بدیگرے پرداخت
قدم خود زدہ براہ عدم
گم بیادش ز فرق تا بقدم
ذکرِ دلبر غذائے او گشتہ
ہمہ دلبر برائے او گشتہ
سوختہ ہر غرض بجز دلدار
دوختہ چشم دل ز غیر نگار
دل و جان بر رُخے فدا کردہ
وصل او اصل مدعا کردہ
مردہ و خویشتن فنا کردہ
عشق جوشید و کارہا کردہ
از خودی ہائے خود فتاد جُدا
سیل پُر زور بود بُرد از جا
تن چو فرسود دلستان آمد
دل چو از دست رفت جان آمد
عشق دلبر بروئے او بارید
ابر رحمت بکوئے او بارید
از یقینے کہ شد ز گفتارے
در دلِ او برست گلزارے
ہر ظہورے یکے سبب دارد
داند آن کو بدل طلب دارد
پس چنین شورش محبت یار
کہ بشوئد ہم از خودی آثار
این میسر نمے شود ز نہار
جز سخن ہائے دلبر و دلدار
عشق کور و نمائد از دیدار
نیز گہ گہ بہ خیزد از گفتار
بالخصوص آن سخن کہ از دلدار
خاصیت دارد اندر این اسرار
کشتہ او نہ یک نہ دو نہ ہزار
این قتیلان او برون ز شمار
ہر زمانے قتیل تازہ بخواست
غازۂ روئے او دمِ شہد است
این سعادت چو بود قسمت ما
رفتہ رفتہ رسید نوبت ما
کربلائے است سَیرِ ہر آنم
صد حسین است در گریبانم
آدمم نیز احمدِ مختار
در برم جامۂ ہمہ ابرار
کار ہائے کہ کرد با من یار
برتر آن دفتر است از اظہار
آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آن جام را مرا بتمام
دل من بر دو اُلفتِ خود دار
خود مرا شد بوحی خود اُستاد
وحی او را عجب اثر دیدم
روئے آن مہر زان قمر دیدم
دیدم از خلق رنج و مکروہات
و آنچہ چیز است پیش این لذات
دیدم از ہجر خلق جلوۂ یار
کار دیگر برامد از یک کار
آنچہ من بشنوم زوحی خدا
بخدا پاک دانمش ز خطا
ہمچو قرآن منزّہ اش دانم
از خطاہا ہمین است ایمانم
من خدا را بدو شناختہ ام
دل بدین آتشش گداختہ ام
بخدا ہست این کلام مجید
از دہان خدائے پاک و وحید
آنچہ بر من عیان شد از دادار
آفتابے است با دو صد انوار
این خدائیست ربّ اربابم
بکہ رو آرم ار از و تابم
انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفان نہ کمترم ز کسے
وارث مصطفیٰ شدم بہ یقین
شدہ رنگین برنگ یار حسین
آن یقینے کہ بود عیسیٰ را
بر کلامے کہ شد برو القاء
وان یقین کلیم بر تورات
وان یقین ہائے سید السادات
کم نیم زان ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین
لیک آئینہ ام زربّ غنی
از پئے صورتِ مہِ مدنی
ہر چہ آن یار بر دلِ من ریخت
نہ شیاطین بدونہ نفس آمیخت
خالص آمد کلام آن دادار
زین سبب شد دلِم پُر از انوار
ہست آن وحی تیرہ سوختنی
کہ نبود است بر یقین مبنی
لیکن این وحی بالیقین زخداست
ہمہ کارم از ان یقین شدہ راست
آمدم آن زمان کہ بادِ خزان
کرد یکسر ریاض دین ویران
در مشائخ نماند جز تزویر
عالمان ہم نشستہ ہم چو ضریر
عاشق زر شدند و دولت و جاہ
دل تہی از محبت آن شاہ
اندرین روز ہائے چون شب تار
قوم را دید حق بحالتِ زار
پس مرا از جہانیان بگزید
در دلم روح پاک خویش دمید
در دل من ز عشق شور افگند
خود مرا شد گسست ہر پیوند
کرد دیوانہ و خردہا داد
بست یک در ہزار در بکشاد
خلق و مردم نصیحتم بکنند
تا ببرم ز یار خود پیوند
من نیم کور تا چو کورانی
بگزینم چہے ز بستانی
آن بر تازہ کان عطیہ یار
چون ز دست افگنم پئے مُردار
گر جہانے بدشمنی خیزد
تیغ گیرد کہ خون من ریزد
من نہ آنم کہ ترک او گوئم
جان من ہست یار مہ روئم
رخت ہرگز ز کوچہ اش نبرم
بزدلان دیگر اند و من دگرم
فارغم کرد عشق صورت یار
از غم حملہ ہائے این اغیار
شورش عشق ہست ہر آنے
تا بکے خیر این گریبانے
ناصحان را خبر ز حالم نیست
گذرے سوئے آن زلالم نیست
آمدم چون سحر بلجّۂ نور
تا شود تیرگی ز نورم دور
شورا فگندہ ام کہ تا زین کار
خلق گردد ز خواب خود بیدار
غافلان من ز یار آمدہ ام
ہمچو بادِ بہار آمدہ ام
این زمانم زمانۂ گلزار
موسمِ لالہ زار و وقت بہار
آمدم تا نگار باز آید
بے دلان را قرار باز آید
دست غیبم پر ورد ہر دم
کرد و حیش بمن ظہور اتم
نور الہام ہمچو باد صبا
نزدم آرد ز غیب خوشبوہا
زندہ شد ہر نبی بآمدنم
ہر رسولے نہان بہ پیرہنم
پُر شد از نور من زمان و زمین
سر ہنوزت بر آسمان از کین
با خدا جنگہا کنی ہیہات
این چہ جور و جفا کنی ہیہات
از توزّع برون نہادی پا
ہوش کن اے بریدہ زان یکتا
از پئے خلق و ننگ و نام و رسوم
تافتی رو ز حضرتِ قیوم
رو بدو کن کہ رو رخِ یار است
ہمہ رو ہا فدائے دلدار است
وحی حق را چو بشنوی از ما
این مگو ما نیافتیم چرا
تا نہ کارِ دلت بجان برسد
چون پیامت ز دلستان برسد
تا نہ از خود روی جُدا گردی
تا نہ قربان آشنا گردی
تا نیائی ز نفس خود بیرون
تا نہ گردی بروئے او مجنون
تا نہ خاکت شود بسان غبار
تا نہ گردد غبار تو خونبار
تا نہ خونت چکد برائے کسے
تا نہ جانت شود فدائے کسے
چون دہندت بکوئے جانان راہ
چون ندا آیدت از ان درگاہ
تو حریص دراہم و دینار
روز و شب چون سگان بران مردار
با چنین حرص و آز و کبر و غرور
چون نمانی زکوئے جانان دور
گر بجوئی سوار این رہ راست
اندر آنجا بجو کہ گرد بخاست
اندر آنجا بجو کہ زور نماند
خود نمائی و کبر و شور نماند
اندر آنجا بجو کہ مرگ آمد
چون خزان رفت بار و برگ آمد
فانیان را جہانیان نرسند
جانیان را زبانیان نرسند
لاف ہائے زبان بود مردار
جز سگان کس نجویدش زنہار
در دلے چون بروئد آن گلزار
بُلبلش اہلِ دل شوند ہزار
این قبولیت از خدا آید
نہ بتزویر و افترا آید
چادرے کاندر و خدا باشد
صد عزیزے برو فدا باشد
ور بود زیر جامہ شیطانے
زود بینی تباہ و ویرانے
میخوری زہر گر تو بخل و حسد
میکنی با عباد ربّ احد
تا نہ میری بتر ز مردارے
دور از فضل حضرت بارے
تا نہ گردد سرت نگون از نیاز
پردہ از نفس تو نہ گردد باز
تا نہ ریزد ترا ہمہ پر و بال
اندر این جا پریدن است محال
پردہ نیست بر رخ دلدار
تو ز خود پردۂ خودی بردار
ہر کہ را دولتِ ازل شد یار
کار او شد تذلل اندر کار
آن سعیدان لقائے او دیدند
کہ بلاہا برائے او دیدند
آبرو ریختہ پئے آن شاہ
دل ز کف و از سر اوفتادہ کلاہ
گر نیابند سوئے یار گذر
از غمش جان کنند زیر و زبر
کردہ بنیاد خود ہمہ ویران
ہم ملایک ز صدق شان حیران
چون دلے سوئے دل رہے دارد
یار چون یار خویش بگذارد
لا جرم این چنین وفا دارے
جام عزت خورد از ان یارے
ہمچو دیوانہ یک جہان خیزد
تا بیک لحظہ خون او ریزد
لیکن آن یار خود فرود آید
تا عدو را دو دست بنماید
ہمچنین صادقان نشان دارند
قدسیان بہرشان بہ پیکاراند
این نہان جنگ گر بشر دیدے
راہ مردان راہ بگزیدے
ہر عدوے کہ خیزد از سرِ کین
خود بکوبد سرش خدائے معین
چون شود بندہ یار آن جانان
بر کابش دوند سلطانان
ہر کہ جان بہر یار باختہ است
یارِ ما قدر او شناختہ است
از سگان کمتر است دشمن او
بد گہر کوفتہ ز ہاون او
ہست از عادت خدائے علیم
میکند فرق در سعید ولئیم
ہیچ دانی لئیم را چہ نشان
آنکہ او دشمن امام زمان
آنکہ او آمد از خدائے یگان
پیش چشمش زخیل مفتریان
گر نبودے شقی و کرمِ زمین
تو بہ کردی ز گفتگوئے چنین
آنچہ با من کند عنایتِ یار
کے بغیرے شنیدی اے مردار
گر شعارِ تو اِتّقا بودے
مشعلِ غیب رہنما بودے
اتقا را بود ز صدق آثار
اے سیہ دل ترا بصدق چہ کار
نیستی از خدا تو راز شناس
ہمہ برظن و وہم ہست اساس
آنچہ گوئی زراہ کبر و جحود
پیش از این گفتہ اند قوم یہود
نفسِ تو فربہ روحِ تو خستہ
ہمہ ابواب آسمان بستہ
این چہ غفلت کہ خوش بدین کیشے
و از خدا ہیچ گہ نیندیشے
اے بسا رازہا کہ عین صواب
پیش کوران مقام استعجاب
راہ طلب کن بگریہ و زاری
تا بجوشد ترحم باری
یک شب از صدق نعرہ ہا بردار
پیش آن عالمِ حقیقت کار
از ادب نے براہ استکبار
زو مدد خواہ اندر این اسرار
تر کن از اشک خویش بستر خویش
باز لب را کشائے با دل ریش
کائی خدائے علیم راز نہان
کے بعلمت رسد دل انسان
چوں ملائک ندیدہ اند آن نور
کان در آدم تو داشتی مستور
ما چہ چیزیم و علم ما است چہ چیز
بے تو در صد خطر قیاس و تمیز
ما خطا کار و کار ما است خطا
شد تنبہ کار ما ز عجلت ہا
گرزِ شست این کہ سوئے تو خواند
وز تو بہتر کدام کس داند
گنہِ ما بہ بخش و چشم کشا
تا نہ میریم از خلاف و ابا
ورنہ این ابتلا ز ما بردار
کہ رحیمی و قادر و غفّار
اہل اخلاص چون کنند دعا
از سرِ صدق و ابتہال و بکا
شور افتد ازان در اہل سما
زان رسد حکم نصرت و ایوا
پس کجائی چرا نمے آئی
اندر این بارگاہِ یکتائی
تو دعا کن بصدق و سوز و گداز
تا شود بر دلت درِ حق باز
از خودی حالِ خود خراب مکن
شب پری کار آفتاب مکن
چون رسد عجز کس بحد تمام
نصرۃ یار را رسد ہنگام
پس چرا نصرتش نمی خواہی
دور رفتی بکام گمراہی
نہ زمان بینی و نہ حالت قوم
دل چو کوران زبان کشادہ بلوم
ایکہ چشمت ز کبر پوشیدہ
چہ کنم تا کشایدت دیدہ
گر ترا در دلست صدق و طلب
خودروی ہا مکن ز ترک ادب
راز راہ خدا بجو از خدا
تو نہ چون خدا بجائے خود آ
ہوش دار اے بشر کہ عقل بشر
دارد اندر نظر ہزار خطر
سرکشیدن طریق شیطانی است
بر خلاف سرشت انسانی است
تا نہ فضلش درِ تو بکشائد
صد فضولی بکن چہ کار آید
آن خدائے کہ وعدۂ حَکَمے
داد از راہ رحم و لطف ہمے
او بدانست از ازل کہ انام
راہ خود گم کنند از اوہام
ورنہ کار حکم چہ خواہد بود
رہ نمائی بمرد راہ چہ سود
راہ گم کردہ را حکم باید
تابد و راہ راست بنماید
این مگو ما خودیم عالم دین
تو بہ کن از مکالمات چنین
کور را کور کے نماید راہ
ہر کہ آگاہ از خدا آگاہ
دین نیاید بغیر دیندارے
سگ نداند بغیر مردارے
سخنِ یار و سینۂ افسردہ
جامۂ زندہ است بر مردہ
گر بری ریگ را رفیع و بلند
جنبشِ بادِ خواہدش افگند
خانہ آنست کان ز معمارے
ورنہ افتد ز سیل دیوارے
این زمانِ ہزار طوفان است
خانہ از پائے بست ویران است
این عجب قوم ہست ناہنجار
با چنین خانہ فارغ از معمار
آنچہ با دین نمود قوم پلید
با امامان نہ کردہ است یزید
باز گوئی کہ من نے بینم
حاجت دیگرے پئے دینم
ایکہ راضی شدی بنقص و زیان
این نہ دین است بلکہ دشمن آن
دین بیاموزدت خدائے قدیر
ورنہ رسمے است خام و زشت و حقیر
مسلمت☆ مسلمی نہ کرداے دون
واز بخاری بخارِ سرافزون
این ہمہ استخوان بد امانت
نیست یک ذرہ مغز در جانت
کورئی و باز در دلت ہوسے
کہ بخواند ترا بصیر کسے
زین خیال تو مُردنت بہتر
زین غذا ز ہر خوردنت بہتر
اے نشستہ بصدر سجادہ
این چہ سودات در سر افتادہ
ناید اندر قیاس و فہم کسے
کہ شود کارِ پیل از مگسے
از خدا چون رسید پیغامت
چون نترسی ز خبث انجامت
بس ہمین است طاعتت اے غول
کہ دلت حکمِ حق نہ کرد قبول
حجت لغو درمیان آری
خبثِ نفس است اصل بیزاری
ہر چہ ثابت شد است از قرآن
تو از و سر بہ پیچی اے نادان
صد نشان شد عیان چو مہرِ منیر
نزدِ تُست این دروغ یا تزویر
دیدہ آخر برائے آن باشد
کہ بدو مرد راہ دان باشد
وہ چہ این چشم ہست و این دیدہ
کہ برو آفتاب پوشیدہ
گر بدل باشدت خیال خدا
این چنین ناید از تو استغنا
از دل و جان طریق او جوئی
و از سرِ صدق سوئے او پوئی
ہر کرا دل بود بدلدارے
خبرش پُرسد از خبردارے
گر نباشد لقائ محبوبے
جوئد از نزدِ یار مکتوبے
بے دلآرام نایدش آرام
کہ بروئش نظر گہی بکلام
آنکہ داری بدل محبت او
نایدت صبر جز بصحبت او
فرقت او گر اتفاق افتد
در تن و جان تو فراق افتد
دست از ہجر او کباب شود
چشمت از رفتنش پُر آب شود
باز چون آن جمال و آن روئے
شد نصیب دو چشم در کوئے
دست در دامنش زنی بجنون
کہ ز نا دیدنت دلم شد خون
این محبت بذرۂ امکان
و از دل افگندۂ خدائے جہان
این وفاہا بذرۂ ناچیز
فارغ افتادۂ ز یار عزیز
او فرستاد بندۂ از جود
تا رہاندتر از ریب و جحود
آن قدر بارہا نشان بنمود
کہ ز صد معرفت درے بکشود
باز سر میزنی بانکارے
سہل پنداشتی چنین کارے
لا ابالی فتادۂ زان یار
فارغی زان جمال و زان گفتار
مردگان را ہمین کشی بکنار
و از دلآرام زندۂ بیزار
کش شنیدی کہ قانع از یار است
عشق و صبر این دو کار دشوار است
این بود حال و طورِ عاشق زار
این بود قدرِ دلبر اے مُردار
عاشقان را بود ز صدق آثار
اے سیہ دل ترا بہ عشق چہ کار
نزدتر چون رسید زان کوئے
پیک آن دلستان خوش روئے
عزتش این کہ کافرش خوانی
و از سرِ زجر از درش رانی
صد ہزاران نشان ہمے بینی
باز منکر شوی ز بے دینی
خویشتن را تو عالم انگاری
زین فضولی کنی بغدّاری
تا ز تو ہستی ات بدر نرود
این رگ شرک از تو بر نرود
پائے سعیت بلند تر نرود
تا ترا دود دل بسر نرود
یار پیدا شود در آن ہنگام
کہ تو گردی نہان ز خود بتمام
تا نہ سوزی ز سوز و غم نرہی
تا نہ میری ز موت ہم نرہی
چیست آن ہرزہ جان و تن کہ سوخت
آتش اندر دلی بزن کہ نسوخت
کلبۂ جسم خود بکن برباد
چون نمی گردد از خدا آباد
پائے خود را جدا کن از تنِ خویش
چون نگیرد رہ صداقت پیش
آفرین خدا بران جانے
کہ ز خود شد برائے جانانے
منزل یار خویش کرد بدل
و از ہواہا رمید صد منزل
از خودی دور شد و خدا را یافت
گم شد و دست رہنما را یافت
ایکہ دیوانۂ پئے اموال
وہ کہ در کار دین چنین اہمال
وقت عیش ست و موسم شادی
تو چہ در سوگ و ماتم افتادی
از خدایت رسید رہبر دین
مرد دین باش و چون زنان منشین
خیز و از بہر یار کارے کن
یک نظر سوئے این بہارے کن
ورنہ مرگ است اژدہائے دمان
زود میگیردت مشو نادان
آن صبا نگہتی زِ یار آورد
در دمے موسمِ بہار آورد
تو خزان بہر خود پسندیدے
من نہ دانم چہ در خزان دیدے
از پئے زندہ کردن آمد یار
تو ہم از دست خود شدی مُردار
قصہ ہا پیش میکنی زِ ضلال
کاین کرامات ہائے اہل کمال
گر در این قصہ ہا اثر بودے
دلت از رجس دُورتر بودے
قصہ ہا گر بیان کنی تو ہزار
کے رمد از تو خبث دل زنہار
زین قصص ہیچ راہ نکشاید
صد ہزاران بگو چہ کار آید
بنشین مُدّتے باہل یقین
تا دہندت دو دیدۂ حق بین
اندرون تو ہست دیو خصال
بر زبان قصہ ہائے از ابدال
روز چون روشن است از دادار
چشم بکشا و شب پری بگذار
در خور و مہ شکے نہ گیرد راہ
تو ز دادار خویش دیدہ بخواہ
نیستی طالبِ حقیقت راز
پس ہمین مشکلست اے ناساز
این مگو من محافظ دینم
خود شفا بخش دین مسکینم
در دلت صد ہزار بیماری
چہ از این دل توقعی داری
تند بادِ بخواہ از دادار
تا خس و خار تو برد یکبار
جز خدا راہ چارہ سازی نیست
باز کن دیدہ جائے بازی نیست
خبری نیستت ز جانانہ
مے زنی ہرزہ کام کورانہ
ہمچو کرمے بجُز کلام خدا
مُردہ ہستی بغیر جام خدا
آن یقینے کہ بخشدت دادار
چون خیال خودت نہد بکنار
آن یکے از دہان دلدارے
نکتہ ہائے شنید و اسرارے
وان دگر از خیال خود بگمان
پس کجا باشد این دو کس یکسان
ذوق این مے چو تو نمیدانی
ہرزہ عو عو کنی بنادانی
آن خدادان کہ خود دہد آواز
نہ کہ از وہم کس نمائد باز
واجب آمد ازین بہر دوران
کہ تکلّم کند خدائے یگان
ورنہ دین ست محض افسانہ
این چنین دین ز صدق بیگانہ
آن ز شیطان بود نہ از حق دین
کہ نہ دارد دوام وحی یقین
دین ہمان دین بود کہ وحی خدا
نشود زو بہ ہیچ وقت جُدا
وحی و دین خداست چون توام
یک چو گم شد دگر شود گم ہم
بے یقین چون نجات یابد خلق
بیگمان رُو ز حق بتابد خلق
بے خدا چو یقین بدل آید
گفتگو یا لقا ہمے باید
ایکہ مغرور راہ مظنونے
تو نہ عاقل کہ سخت مجنونے
نفس امّارہ بندۂ صد آز
جز یقین کے بگردد از وے باز
چون بہ بینی بہ بیشۂ شیرے
نہ کنی در گریختن دیرے
ہم چنین پیش تو چو گرگ آید
دل تپد ہیبتِ سُترگ آید
پس بدین دعوٰی یقین کہ ترا
ہست بر کردگار و روز جزا
باز چون میکنی گناہِ بزرگ
چہ خدا نیست نزدِ تو چون گرگ
بر خدا نیستت یقین زنہار
زین چو گرگان خوشایدت مردار
آن یقینے کہ مانعے ز خطاست
گر بخواہی رہش بگوئم راست
آن کلامِ خدا بقطع و یقین
پاک و برتر ز دخل دیو لعین
پس ہمان چارۂ خطا کاریست
راہ دیگر طریق مکاریست
کس شنیدی کہ بالیقین ہلاک
باز در بیشۂ رود بیباک
پس چہ ممکن کہ با یقین خدا
باز گردد ولے بگرد خطا
شک و ظن را یقین نہادی نام
زین شدی با جرائمت بدنام
اندکے سوئے خود نظر انداز
از سرِ غور دیدہ را کن باز
تا بدانی کہ کور و محجوبی
سخت محروم ماندہ زین خوبی
ذرۂ نیست در تو از انوار
شب دیجور را بماہ چہ کار
این خدائے عجیب در دل تست
کہ از و صد نبات ظلمت رست
شب تارست و دشت و بیم دوان
چون بخوابے غفلت اے نادان
خیزد بر حال خود نگاہ بکن
خطرِ رہ بہ بین و آہ بکن
خیزد از نفس خود بپرس نشان
کہ چہ خواہد مراتبِ عرفان
چہ یقین نزدِ اوست ز آبحیات
یا پسندید ورطۂ شبہات
گر دلت می تپد برائے یقین
بخل چون کرد آن کریم و معین
ہر چہ در فطرت تو ریختہ است
باز زان عزم چون گریختہ است
زین عیان شد کہ آن کریم و رحیم
داد ہر مقتضائے این تقویم
باز انسان ز قصر ہمت اُو
گشت غافل ز نور فطرت اُو
گر یقین نیست خواہش انسان
پس چہ باعث کہ جویدش ہر آن
آنچہ در فطرتِ بشر مکتوم
چون بماند بشر از و محروم
بحرِ فیض است چون روان ہر دم
تا رسانند تا یقینِ اتم
پس اگر قانعی بمظنونے
تو نہ عاقل کہ سخت مجنونے
دل تپد از برائے رفع حجاب
جز دلے کان شد است ہمچو کلاب
افلا تبصرون گفت خدا
خیزد در نفس جو تعطش ہا
ہمتِ دون مدار چون دونان
رو بجو یار را چو مجنونان
ہر کہ جویائے اوست یافتہ است
تافت آنِ رو کہ سر نتافتہ است
آفرین خدا بران مردے
کہ برین در شدت چون گردے
از پئے وصل آن مہیمن پاک
اوفتادہ سرِ نیاز بخاک
ہر زمان با خدائے یکتائے
بر زمین و بر آسمان جائے
ذرہ ذرہ جُدا شدہ ز زمین
دل پریدہ بسوئے عرش برین
بر رُخِ او تجلّیات خدا
در دلش جلوہ گاہ ذات خدا
این ہمہ حالت از خدا آید
چون یقین از کلامش افزاید
تو نفہمی ہنوز این سخنم
در دلت چون فروشوم چہ کنم
اے دریغا کہ دل ز درد گداخت
درد ما را مخاطبے نشناخت
اے خورِ روئے یار زود بر آ
کہ دل آزرد از شبِ یلدا
عمرِ ما ہم رسید تا بکنار
بکنارم در آئی اے دلدار
ایکہ تو طالبِ خدا ہستی
آن یقین جو کہ بخشدت مستی
آن یقین جو کہ سیل تو گردد
ہمہ در یار میل تو گردد
آن یقین جو کہ آتش افروزد
ہر چہ غیر خدا ہمہ سوزد
از یقین ست زہد و عرفان ہم
گفتمت آشکار و پنہان ہم
جز یقین دینِ تو چو مردارے
سر پُر از کبر و دل ریا کارے
بے یقین نفس گرددت چو سگے
جنبدش نزد ہر فساد رگے
ہر کہ دور از نگار خواہد ماند
نفس دون را شکار خواہد ماند
گر ترا آرزوئے دیدار است
پاک دل شو نہ مشکل این کار است
این مراد از خرد چہ می جوئی
وحی حق شوید از سیہ روئی
این خرد جملہ خلق میدارند
ناز کم کن کہ چون تو بسیار اند
چارۂ دل کلام دلدار است
ہر چہ غیرش کنند بیکار است
زہرِ فرقت چشی و ناکامی
باز منکر ز وحی و الہامی
جان تو بر لب از نخوردن آب
باز از آب زندگی رو تاب
داروئے ہر شکے کہ در دل ہاست
آن بدارالشفاءِ وحی خداست
ہست بر عقل منت الہام
کہ از و پخت ہر تصور خام
آن گمان برد و این نمود فراز
آن نہان گفت و این کشود آنراز
آن فرو ریخت این بکف بسپرد
آن طمع داد و این بجا آورد
آنکہ بشکست ہر بت دل ما
ہست وحی خدائے بے ہمتا
آنکہ ما را رُخ نگار نمود
ہست الہام آن خدائے وُدود
آنکہ داد از یقینِ دل جامے
ہست گفتار آن دلآرامے
وصل دلدار و مستی از جامش
ہمہ حاصل شدہ ز الہامش
اے بریدہ امیدہا ز خدا
توبہ کن از فساد خود باز آ
عیش دنیائے دون دمے چند است
آخرش کار با خداوند است
ترک کن کین و کبر و ناز و دلال
تا نہ کارت کشد بسوئے ضلال
چوں از این دام گہ ببندی بار
باز نائی درین بلاد و دیار
اے ز دین بے خبر بخور غم دین
کہ نجاتت معلّق است بدین
ہاں تغافل مکن از این غم خویش
کہ ترا کار مشکلست بہ پیش
دل از این درد و غم فگار بکن
دل چہ جان نیز ہم نثار بکن
ہست کارت ہمہ بآن یک ذات
چون صبوری کنی از و ہیہات
بخت گردد چو ز و بگردی باز
دولت آید ز آمدن بہ نیاز
اے رسن ہائے آز کردہ دراز
زین ہوس ہا چرا نیائی باز
دولتِ عمر دمبدم بزوال
تو پریشان بفکرِ دولت و مال
خویش و قوم و قبیلہ پُر ز دعا
تو بریدہ برائے شان ز خدا
این ہمہ را بکشتنت آہنگ
گہ بصلحت کشند و گاہ بجنگ
ہست آخر بآن خدا کارت
نہ تو یارِ کسے نہ کس یارت
ہر کہ دارد یکے دلآرامے
جز بوصلش نیابد آرامے
تا نہ بیند صبوریش نائد
ہر دمش سیل عشق بر باید
در دلِ عاشقان قرار کجا
توبہ کردن ز روئے یار کجا
حُسن جانان بگوش خاطرشان
گفت رازے کہ گفتنش نتوان
کامیابان و زین جہان ناکام
زیرکان دورتر پریدہ ز دام
از خود و نفس خود خلاص شدہ
مہبطِ فیض نور خاص شدہ
در خداوند خویش دل بستہ
باطن از غیر یار بگسستہ
پاک از دخل غیر منزل دل
یار کردہ بجان و دل منزل
ریزہ ریزہ شد آبگینۂ شان
بوئے دلبر دمد ز سینۂ شان
نقش ہستی بشُست جلوہ یار
سرزد آخر ز جیب دل دلدار
فانیان و پر از خدائے وحید
پاک و رنگین برنگ ربّ مجید
آن خدا دیگر و دگر انسان
لیکن اینان درو شدند نہان
نے ز سر ہوش نے ز پا خبرے
در سرِ دلستان بخاک سرے
ہر کسے را بخود سرو کارے
کار دلدادگان بدلدارے
عالمِ دیگر است عالم شان
دور از غیر حق معالم شان
خفتہ اند و بچشم تو بیدار
جز خدا کس نہ محرمِ اسرار
فارغان از مذمت و تحسین
نے زِ مدحے خبر نہ از نفرین
ہر کہ باذات او سرے دارد
پشت بر روئے دیگرے دارد
ہر کہ گیرد درش بصدق و حضور
از در و بام او ببارد نور
نور تابان چو مہ ز پیشانی
پر ہمہ روز عشق ربّانی
عشق آن یار مدعا گشتہ
دل ز غیر خدا جدا گشتہ
لطف او ترک طالبان نکند
کس بکار رہش زیان نکند
ہر کہ آن در گرفت کارش شد
صد امیدے بروزگارش شد
مثل آن دلستان کجا دیدی
پس چرا ہجر او پسندیدی
بہ کہ تو زودتر رہش گیری
این نہ باشد کہ پیش از ان میری
عمرِ اول ببین کجا رفت است
رفت و بنگر ز تو چہا رفت است
پارۂ عمر رفت در خُردی
پارۂ را بسر کشی بُردی
تازہ رفت و بماند پس خوردہ
دشمنان شاد و یار آزردہ
بشنو از وضع عالم گذران
چون کند از زبان حال بیان
کین جہان با کسے وفا نکند
نکند صبر تا جدا نہ کند
گر بود گوش بشنوی صد آہ
از دل مردۂ درون تباہ
کہ چرا رو بتافتم ز خدا
دل نہادم در آنچہ گشت جدا
ہمچنین ساعتے ترا در پیش
گور آواز ہا دہد چون خویش
یاد کن وقتِ کوچ و ترک جہان
جان بلب خانہ پُر ز شور و فغان
زن بنالد بدیدۂ خونبار
پسرے گرید از پسِ دیوار
دخترے سر برہنہ اشک روان
ہمہ خویشان شدہ تنِ بیجان
ناگہان بانگ آمد از سر درد
کہ فلان زین سرائے رحلت کرد
چند فرزند را گذاشت یتیم
بیوہ بیچارہ ماندہ باصد بیم
این مآل ست عیش دنیا را
گر ندانی بپرس دانا را
بر سرِ گور پائے تُست اے خام
ہوش کن تا نہ بد شود انجام
این جہان است مثل مُردارے
ہر طرف چون سگے طلبگارے
رُست آنکس کہ رُست زین مُردار
خاک شد تا مگر شود خوش یار
لطف او ترک طالبان نہ کنند☆
کس بکار رہش زیان نہ کنند☆
ہر کہ از خود شد ایزدش خواند
نکتۂ ہست گر کسے داند
ما حصل اس تمام تقریر کا یہ ہے کہ انسان اس دار الظلمات میں آ کر کبھی نجات نہیں پا سکتا بجز اس کے کہ خود خدا تعالیٰ کے مکالمات سے مشرف ہو کر یا کسی اہل مکالمہ یقینیہ اور اہل آیات بینہ کی صحبت میں رہ کر اس ضروری اور قطعی علم تک پہنچ جائے کہ اس کا ایک خدا ہے جو قادر اور کریم اور رحیم ہے اور یہ دین یعنی اسلام جس پر یہ قائم ہے در حقیقت یہ سچا ہے۔
اور روز جزا اور بہشت اور دوزخ سب سچ ہے کیونکہ اگر چہ قصہ اور نقل کے طور پر تمام اہل اسلام اس بات کو مانتے ہیں کہ خدا موجود ہے اور اس کا رسول برحق مگر یہ ایمان کوئی یقینی بنیاد نہیں رکھتا اس لئے ایسے ضعیف ایمان کے ذریعہ سے یقینی رنگ کے آثار ظاہر ہونا اور گناہ سے سچی نفرت کرنا غیر ممکن ہے اور بوجہ اس کے کہ اسلام پر تیرہ سو برس گذر گئے تمام معجزات گزشتہ برنگ نقول اور قصص ہو گئے ہیں اور قرآن شریف اگر چہ عظیم الشان معجزہ ہے مگر ایک کامل کے وجود کو چاہتا ہے کہ جو قرآن کے اعجازی جواہر پر مطلع ہو اور وہ اس تلوار کی طرح ہے جو درحقیقت بے نظیر ہے لیکن اپنا جوہر دکھلانے میں ایک خاص دست و بازو کی محتاج ہے۔ اس پر دلیل شاہد یہ آیت ہے کہ لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَا پس وہ ناپاکوں کے دلوں پر معجزہ کے طور پر اثر نہیں کر سکتا بجز اس کے کہ اس کا اثر دکھلانے والا بھی قوم میں ایک موجود ہو اور وہ وہی ہوگا جس کو یقینی طور پر نبیوں کی طرح خدا تعالیٰ کا مکالمہ اور مخاطبہ نصیب ہوگا۔ غرض تمام برکات اور یقین کے حصول کا ذریعہ خدا کا مکالمہ اور مخاطبہ ہے اور انسان کی یہ زندگی جو شکوک اور شبہات سے بھری ہوئی ہے بجز مکالمات الہیہ کے سرچشمہ صافیہ کے یقین تک ہرگز نہیں پہنچ سکتی مگر خدا تعالیٰ کا وہ مکالمہ یقین تک پہنچاتا ہے جو یقینی اور قطعی ہو جس پر ایک ملہم قسم کھا کر کہہ سکتا ہے کہ وہ اسی رنگ کا مکالمہ ہے جس رنگ کا مکالمہ آدم سے ہوا اور پھر شیث سے ہوا اور پھر نوح سے ہوا اور پھر ابراہیم سے اور پھر اسحاق سے اور پھر اسماعیل سے اور پھر یعقوب سے ہوا اور پھر یوسف سے اور پھر چار سو برس کے بعد موسیٰ سے اور پھر یسوع بن نون سے ہوا اور پھر داؤد سے ہوا اور سلیمان سے اور الیسع نبی سے اور دانیال سے اور اسرائیلی سلسلہ کے آخر میں عیسیٰ بن مریم سے ہوا اور سب سے اتم اور اکمل طور پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا۔ لیکن اگر کوئی کلام یقین کے مرتبہ سے کمتر ہو تو وہ شیطانی کلام ہے نہ ربّانی۔ کیونکہ تم جانتے ہو کہ جب آفتاب طلوع کرتا ہے اور اپنی کرنیں زمین پر چھوڑتا ہے تو اس کی روشنی ایسی صاف دنیا پر پڑتی ہے کہ کسی دیکھنے والے کو اس کے نکلنے میں شک باقی نہیں رہتا اور نہ وہ کہہ سکتا ہے کہ کل کا سورج تو یقینی تھا مگر آج کا شکی۔ پس کیا تم اس الہام میں شک کر سکتے ہو کہ خدائی چہرہ کا نور اپنے اندر رکھتا ہے کیا خدا کی کلام کا طلوع سورج کے طلوع سے کچھ کمتر ہے کوئی چیز اپنی صفات ذاتیہ سے الگ نہیں ہو سکتی۔ پھر خدا کا کلام جو زندہ کلام ہے کیونکر الگ ہو سکے۔ پس کیا تم کہہ سکتے ہو کہ آفتاب وحی الہی اگر چہ پہلے زمانوں میں یقینی رنگ میں طلوع کرتا رہا ہے مگر اب وہ صفائی اس کو نصیب نہیں۔ گویا یقینی معرفت تک پہنچنے کا کوئی سامان آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گیا ہے اور گویا خدا کی سلطنت اور حکومت اور فیض رسانی کچھ تھوڑی مدت تک رہ کر ختم ہو چکی ہے لیکن خدا کا کلام اس کے برخلاف گواہی دیتا ہے کیونکہ وہ یہ دعا سکھلاتا ہے کہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡا اس دعا میں اُس انعام کی امید دلائی گئی ہے جو پہلے نبیوں اور رسولوں کو دیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ اُن تمام انعامات میں سے بزرگ تر انعام وحی یقینی کا انعام ہے کیونکہ گفتار الہی قائمقام دیدار الہی ہے کیونکہ اسی سے پتہ لگتا ہے کہ خدا موجود ہے۔ پس اگر کسی کو اس اُمت میں سے وحی یقینی نصیب ہی نہیں اور وہ اس بات پر جرأت ہی نہیں کر سکتا کہ اپنی وحی کو قطعی طور پر مثل انبیاء علیہم السلام کے یقینی سمجھے اور نہ اس کی ایسی وحی ہو کہ انبیاء کی طرح اس کے ترک متابعت اور ترک عمل پر یقینی طور پر دنیا کا ضرر متصور ہو سکے ، تو ایسی دعا سکھلانا محض دھوکا ہوگا کیونکہ اگر خدا کو یہ منظور ہی نہیں کہ بموجب دعا اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ انبیاء علیہم السلام کے انعامات میں اس امت کو بھی شریک کرے تو اس نے کیوں یہ دعا سکھلائی اور ایک ناشدنی امر کیلئے دعا کرنے کی ترغیب کیوں دی۔ پس اگر یہ دعا سکھلانا یقین اور معرفت کا انعام دینے کی نیت سے نہیں بلکہ محض لفظوں سے خوش کرنا ہے پس اسی سے فیصلہ ہو گیا کہ یہ امت اپنے نصیبوں میں سب اُمتوں سے گری ہوئی ہے اور خدا تعالیٰ کی مرضی نہیں ہے کہ اس امت کو یقینی چشمہ کا پانی پلا کر نجات دے بلکہ وہ ان کو شکوک اور شبہات کے ورطہ میں چھوڑ کر ہلاک کرنا چاہتا ہے لیکن یاد رہے کہ ضرور ان انعامات میں جو نبیوں کو دیئے گئے اس امت کے لئے حصہ رکھا گیا ہے کیونکہ اگر مسلمانوں کے کامل افراد کی فطرتوں میں یہ حصہ نہ ہوتا تو ان کے دلوں میں یہ خواہش نہ پائی جاتی کہ وہ خدا شناسی کے درجہ میں حق الیقین کے درجہ تک پہنچ جائیں اور ان انعامات سے سب سے بڑھ کر یقینی مخاطبات اور مکالمات کا انعام ہے جس سے انسان اپنی خدا شناسی میں پوری ترقی کرتا ہے گویا ایک طور سے خدا تعالیٰ کو دیکھ لیتا ہے اور اس کی ہستی پر رویت کے رنگ میں ایمان لاتا ہے تب الٰہی ہیبت پورے طور پر اس کے دل پر کام کرتی ہے اور جیسا کہ ہر ایک جگہ رویت اور یقین کا خاصہ ہے وہ خاصہ اس کے اندر اپنا کام کرنے لگتا ہے اور شکوک اور شبہات کی تاریکی اس طرح دور ہو جاتی ہے جیسا کہ آفتاب سے ظلمت۔ تب روئے زمین پر اس جیسا کوئی اتقٰی نہیں ہوتا اور اس جیسا کوئی گناہ سے بیزار نہیں ہوتا اور اس جیسا اس خالق یگانہ سے کوئی محبت کرنے والا نہیں ہوتا اور اس جیسا اس یار کا کوئی وفادار نہیں ہوتا۔ اور اس جیسا کوئی ڈرنے والا نہیں ہوتا اور اس جیسا کوئی توکل کرنے والا نہیں ہوتا۔ اور اس جیسا پیوند میں کوئی صادق نہیں ہوتا۔ اور جیسا کہ خدا تعالیٰ کے کلام سے ظاہر ہے یقینی اور قطعی وحی کا قیامت کے دن تک اس امت کو وعدہ کیا گیا ہے ایسا ہی عقل بھی نوع انسان کے لئے اس کو ضروری سمجھتی ہے کیونکہ گناہ اور فسق و فجور کا علاج اور چارہ بجز اس کے اور کوئی نہیں کہ خدا کا جمال اور جلال یقینی طور پر انسان پر مکشوف ہو۔ وجہ یہ کہ تجربہ گواہی دے رہا ہے کہ یا تو سچی محبت گناہ اور مخالفت سے روکتی ہے یا سچی ہیبت نافرمانیوں سے باز رکھتی ہے اور سچی محبت میں بھی ایک خوف ہوتا ہے اور وہ یہی کہ یار مہربان سے تعلق نہ ٹوٹ جائے اور جس پر سچی محبت اور سچی ہیبت کی کیفیت یقینی طور پر وارد ہو اور یا وہ شخص کہ جو کامل طور پر اس شخص کا شناسندہ اور محبت کنندہ اور اس کا زیر اثر ہو وہ بلا شبہ گناہ سے روک لیا جاتا ہے اور دوسرے لوگ دنیا میں جس قدر ہیں ان میں سے کوئی بھی گناہ کے زہر سے خالی نہیں۔ ہاں مکاری سے بہت لوگ کہتے ہیں کہ ہم بے گناہ ہیں اور ہمارے دلوں میں کوئی ناپاکی نہیں مگر وہ جھوٹے ہیں اور خدا اور مخلوق کو دھوکا دینا چاہتے ہیں گناہ سے پاک ہونا بجز اس کے ممکن ہی نہیں کہ ہیبت اللہ کی موت یقین کی تیز شعاعوں کی وجہ سے انسان کے دل پر وارد ہو جائے اور سچی محبت اور سچی ہیبت دل میں بس جائے اور دل خدا کے جمال اور جلال سے رنگین ہو جائے اور یہ دونوں کیفیتیں کبھی اور ہرگز دل میں آ ہی نہیں سکتیں جب تک کہ خدا کی ہستی اور اس کی ان دونوں قسم کے صفات پر یقین پیدا نہ ہو۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ نجات کی جڑ اور نجات کا ذریعہ صرف یقین ہے۔ وہ یقین ہی ہے کہ باوجود بلاؤں کے سامنے کے اطاعت کے لئے گردن جھکا دیتا اور آگ میں داخل ہونے کے لئے کھڑا کر دیتا ہے وہ یقینی نظارہ ہی ہے جو عاشق بنا دیتا ہے اور مرنے کے لئے تیار کر دیتا ہے۔ وہ یقینی نظارہ ہی ہے کہ جس سے انسان خدا کے لئے آرام کا پہلو چھوڑتا اور مخلوق کی تعریف اور تحسین سے لا پرواہ ہو جاتا اور ایک کے لیے تمام دنیا کو اپنا خطرناک دشمن بنا لیتا ہے۔ انسان یقینی ہیبت کی وجہ سے مباح چیزوں کو بھی ڈرتا ڈرتا ہی استعمال کرتا ہے اور زبان کو نا گفتنی باتوں سے روکتا ہے گویا اس کے منہ میں سنگریزے ہیں اور یہ یقین یا تو دیدار سے میسر آتا ہے اور یا اس گفتار سے جو خدا کا یقینی کلام ہے جو اپنی طاقت اور شوکت اور دلکش خاصیت اور خوارق سے ثابت کر دیتا ہے کہ وہ خدا کا کلام ہے بجز اس صورت کے نہ خدا کی ہستی پر یقین آسکتا ہے اور نہ اس کی صفات پر ۔ اب جس حالت میں یہ مانا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ یقینی کلام کسی بندہ پر نازل فرمادے اور اس کا وعدہ انعمت عليهم اس امکان کو ضروری ٹھہراتا ہے اور نجات بھی اسی کلام الہی پر موقوف ہے جو یقینی ہو اور انسانی فطرت بھی اس کی پیاسی پائی جاتی ہے تو کیوں اور کیا وجہ کہ خدا اس فیض سے امت کو محروم رکھے ۔ کیا انسان کی فطرت میں یہ جوش نہیں ڈالا گیا کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین پیدا کرے اور کوئی ایسا ذریعہ اس کو حاصل ہو جس سے وہ سمجھ لے کہ وہ اپنی تمام پاک صفات کے ساتھ در حقیقت موجود ہے مگر کیا وہ ذریعہ صرف آسمان اور زمین کی صنعتیں ہو سکتی ہیں ہرگز نہیں کیونکہ غایت درجہ ان سے صرف ضرورت خالق محسوس ہوتی ہے نہ کہ یہ کہ خالق در حقیقت موجود بھی ہے اور ضرورت خالق پر دلیل قائم ہونا اس خالق کی واقعی ہستی پر قطعی دلیل نہیں ہو سکتی اسی لئے انبیاء اور آسمانی نشانوں کی حاجت پڑی کیونکہ دلائل عقلیہ صرف اس حد تک خدا تعالیٰ کی نسبت علم بخشتے ہیں کہ ان مصنوعات پر نظر کر کے جن میں ایک ابلغ اور محکم ترکیب پائی جاتی ہے یہ ضرورت ثابت ہوتی ہے کہ ان کا ایک صانع ہونا چاہئے لیکن یہ دلائل یہ ثابت نہیں کرتیں کہ وہ صانع فی الواقع ہے بھی۔ اور ہے اور ہونا چاہئے میں ایک فرق ہے جو اس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح نہیں کہہ سکتے کہ پہلی کتابیں اور پہلے معجزات خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایک قطعی دلیل ہے کیونکہ اس وقت نہ وہ معجزات بدیہی طور پر مشاہدات میں سے ہیں اور نہ اس وقت وہ کلام نازل ہو رہا ہے ۔ ہاں قرآن شریف معجزہ ہے مگر وہ اس بات کو چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ ایک ایسا شخص ہو کہ اس معجزہ کے جو ہر ظاہر کرے اور وہ وہی ہوگا جو بذریعہ الہامی کلام کے پاک کیا جائے گا ۔ اب جب کہ انسانی فطرت اور انسانی کانشنس اور انسانی روح شکوک و شبہات کی موت سے مرنا پسند نہیں کرتی اور خدا تعالیٰ کی راہ میں ایک کھلے کھلے یقین کی پیاسی ہے تو اس سے ظاہر ہے کہ جس قادر اور حکیم نے انسان کو یقین حاصل کرنے کی پیاس لگا دی ہے اس نے پہلے سے اس بات کا انتظام بھی کر لیا ہے کہ انسان یقین کے مرتبہ تک پہنچ جائے۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سا انتظام ہے جو یقین تک پہنچاتا ہے سو مجھے چھوڑ وتا میں صاف صاف کہہ دوں کہ وہ انتظام ابتدا دنیا سے آج تک ایک ہی چلا آیا ہے یعنی خدا کا قول جس کی تائید اور تصدیق اس کا خارق عادت فعل کرتا ہے اور یہ دھو کا مت کھاؤ کہ خدا کا کلام ایک مرتبہ یا چند مرتبہ جو گزشتہ زمانہ میں نازل ہو چکا ہے وہ یقین عطا کرنے کے لئے کافی ہے بار بار کی کیا ضرورت ہے اسی شبہ میں آریہ سماج والے گرفتار ہیں ۔ کیونکہ ان کے نزدیک وید خدا کا کلام ہے اور وہ ایک دفعہ اس موجودہ دور دنیا کے لئے نازل ہو چکا ہے پھر بار بار کی کیا ضرورت ہے۔ لیکن وہ اور ایسا ہی ان کے سب ہم خیال دھوکا کھاتے ہیں اور اس دھوکا میں عیسائی بھی شریک ہیں جو کہتے ہیں کہ توریت نے تعلیم کے حق کو پورا کر دیا تھا پھر قرآن کی کیا ضرورت تھی ۔ ان تمام تو ہمات کا جواب یہی ہے کہ خدا کی غرض کتابوں کے نازل کرنے سے افادہ یقین ہے کہ تا اس کی ذات اور صفات اور اس کی پسندیدہ اور ناپسند راہوں پر لوگوں کو یقین آجاوے اور پھر یقین کی برکت سے وہ اپنے خدا پر پورا ایمان لاویں اور بدی سے پورے طور پر پر ہیز کریں اور نیکی کو پورے طور پر حاصل کریں سو جب نبوت کا زمانہ گذر جاتا ہے اور خدا کا کلام قصوں کے رنگ میں پڑھا جاتا ہے تب یہ غرض مفقود ہو جاتی ہے اور دلوں میں اس کلام پر یقین نہیں رہتا جیسا کہ تم یہودیوں کا حال دیکھتے ہو کہ توریت ان کے ہاتھ میں ہے اور کھوٹ ان کے دلوں میں ۔ اور کیا تم عیسائیوں میں بتا سکتے ہو کہ ایسے لوگ ان میں کتنے ہیں کہ ایک طرف مارکھا کر دوسری طرف بھی پھیر دیتے ہیں اور چادر لینے والے کو کر تہ دینے کے لئے طیار ہیں اور آنکھوں کو بد نظری سے روکتے ہیں اور لوگوں پر عیب نہیں لگاتے اور ان کے دل ٹیڑھے اور مکار اور منصوبہ باز نہیں مگر شاذ و نا در جس نے نہ انجیل سے بلکہ اپنی فطرت کی ہدایت سے بدی سے پر ہیز کی ہو۔ غرض جس طرح ہر یک صبح تازہ کھانے کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح جب مرور زمانہ سے نور ایمان جو یقین ہے کم ہو جاتا ہے تو وہ خدا کی کلام کو پڑھتے تو ہیں مگر وہ پڑھنا ان کے حلق کے نیچے نہیں اترتا۔ تب خدا کا کلام جو ان سے دور ہو جاتا ہے اور انہیں چھوتا نہیں کوئی نیک اثر ان پر ڈال نہیں سکتا گویا وہ کلام ان کو چھوڑ کر آسمان پر اٹھ جاتا ہے تب ایک جو ہر قابل پیدا کیا جاتا ہے جس کو کلام اپنی طرف کھینچتا ہے اور خدا کی کلام کی طاقت اس کو یقین کے کامل مرتبہ تک پہنچاتی ہے تب وہ علم جو آسمان پر اٹھ گیا تھا پھر اس کے ذریعہ سے زمین پر واپس آجاتا ہے اسی طرح ہمیشہ یقین خدا کے تازہ مکالمہ سے تازہ پیدا ہوتا رہتا ہے اور جس شریعت کو خدا تعالیٰ منسوخ کر دیتا ہے اس شریعت کی پیروی کرنے والوں کے دل ممسوخ ہو جاتے ہیں اور ان میں کوئی باقی نہیں رہتا جس پر تازہ کلام وارد ہو۔ تب وہ کتاب ایک متعفن پانی کی طرح ہو جاتی ہے جس کے ساتھ بہت کیچڑ اور گندمل گیا ہے اور ایسی شریعت سے انسانوں کو کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا کیونکہ ان کے ہاتھ میں صرف قصے رہ جاتے ہیں اور آسمان کا تازہ پانی یعنی تازہ کلام الہی ان کے پاس نہیں آتا ۔ پس اس سے سمجھا جاتا ہے کہ خدا نے ان کو چھوڑ دیا ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ مردود مذہب کی یہ نشانی ہے کہ تازہ کلام کا نور اس میں پایا نہیں جاتا اور وہ لوگ ہمیشہ اسی کلام پر بھروسہ رکھتے ہیں جس کو تازہ الہی کلام تصدیق نہیں کرتا اور نہ تازہ نشان تصدیق کرتے ہیں ۔ اس لئے ان کے دل مردہ رہتے ہیں اور نور یقین جو گناہوں کو جلاتا ہے ان کے نزدیک نہیں آتا۔ اس تمام بیان کا خلاصہ درخلاصہ یہ ہے کہ تازہ کلام الہی خدا کی شریعت کا پشتیبان ہے اور اس کشتی کو جو گناہوں کے سبب سے غرق ہونے لگتی ہے جلد تر کنارا من تک پہنچانے والا ہے مگر شائد کوئی بھول نہ جائے اس لئے بار بار کہا جاتا ہے کہ کلام الہی سے مراد وہی کلام ہے کہ جو زمانہ کے لئے تازہ طور پر اترتا ہے اور اپنی طبعی خاصیت سے ملہم اور اس کے ہم نشینوں پر ثابت کرتا ہے کہ میں یقینی طور پر خدا کا کلام ہوں۔ اور ایسا ملہم طبعا اس میں اور خدا کے دوسرے کلمات میں جو پہلے نبیوں پر نازل ہوئے من حیث الوحی کچھ فرق نہیں سمجھتا گو دوسری وجوہ سے کچھ فرق ہو۔ لیکن یادرہے کہ عوام الناس کے ایسے شکی وہمی الہام ہماری اس بحث سے خارج ہیں جن کے ساتھ نہ تو خدائی نشان اور آسمانی متواتر تائیدیں ہوتی ہیں کہ تا اس قول کو فعل کی شہادت کے ساتھ قوت دیں اور نہ خود ملہم کو ان کی نسبت یقین کامل ہوتا ہے بلکہ وہ ہمیشہ دبدہا میں رہتا ہے کہ آیا یہ شیطانی ہیں یا رحمانی۔ اس جگہ یہ نقطہ خوب توجہ سے یا د رکھنے کے لائق ہے کہ جو الہامات ایسے کمزور اور ضعیف الاثر ہوں جو ملہم پر مشتبہ رہتے ہیں کہ خدا کی طرف سے ہیں یا شیطان کی طرف سے ۔ وہ در حقیقت شیطان کی طرف سے ہی ہوتے ہیں یا شیطان کی آمیزش سے ۔ اور گمراہ ہے وہ شخص جوان پر بھروسہ کرتا ہے اور بد بخت ہے وہ شخص جو اس خطرناک ابتلا میں ماخوذ ہے کیونکہ شیطان اس سے بازی کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کو ہلاک کرے۔ اکثر لوگ پوچھا کرتے ہیں کہ پھر رحمانی الہام کی نشانی کیا ہے اس کا جواب یہی ہے کہ اس کی کئی نشانیاں ہیں ۔ (۱) اول یہ کہ الٰہی طاقت اور برکت اس کے ساتھ ایسی ہوتی ہے کہ اگرچہ اور دلائل ابھی ظاہر نہ ہوں وہ طاقت بڑے جوش اور زور سے بتلاتی ہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور ملہم کے دل کو ایسا اپنا مسخر بنا لیتی ہے کہ اگر اس کو آگ میں کھڑا کر دیا جاوے یا ایک بجلی اس پر پڑنے لگے وہ کبھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ الہام شیطانی ہے یا حدیث النفس ہے یا شکی ہے یا ظنی ہے بلکہ ہر دم اس کی روح بولتی ہے کہ یہ یقینی ہے اور خدا کا کلام ہے۔ (۲) دوسرے خدا کے الہام میں ایک خارق عادت شوکت ہوتی ہے (۳) تیسری وہ پُر زور آواز اور قوت سے نازل ہوتا ہے (۴) چوتھی اس میں ایک لذت ہوتی ہے (۵) اکثر اس میں سلسلہ سوال و جواب پیدا ہو جاتا ہے۔ بندہ سوال کرتا ہے خدا جواب دیتا ہے اور پھر بندہ سوال کرتا خدا جواب دیتا ہے۔ خدا کا جواب پانے کے وقت بندہ پر ایک غنودگی طاری ہوتی ہے لیکن صرف غنودگی کی حالت میں کوئی کلام زبان پر جاری ہونا وحی الٰہی کی قطعی دلیل نہیں کیونکہ اس طرح پر شیطانی الہام بھی ہو سکتا ہے (۶) چھٹی وہ الہام کبھی ایسی زبانوں میں بھی ہو جاتا ہے جن کا ملہم کو کچھ بھی علم نہیں ۔ (۷) خدائی الہام میں ایک خدائی کشش ہوتی ہے۔ اول وہ کشش ملہم کو عالم تفرید اور انقطاع کی طرف کھینچ لے جاتی ہے اور آخر اس کا اثر بڑھتا بڑھتا طبائع سلیمہ مبائعین پر جا پڑتا ہے تب ایک دنیا اس کی طرف کھینچی جاتی ہے اور بہت سی روحیں اس کے رنگ میں بقدر استعداد آجاتی ہیں (۸) آٹھویں سچا الہام غلطیوں سے نجات دیتا اور بطور حکم کے کام کرتا ہے اور قرآن شریف سے کسی بیان میں مخالف نہیں ہوتا ۔ (۹) سچے الہام کی پیشگوئی فی حد ذاتہ سچی ہوتی ہے ۔ گو اس کے سمجھنے میں لوگوں کو دھوکا ہو۔ (۱۰) دسویں سچا الہام تقویٰ کو بڑھاتا اور اخلاقی قوتوں کو زیادہ کرتا اور دنیا سے دل برداشتہ کرتا اور معاصی سے متنفر کر دیتا ہے (۱۱) سچا الہام چونکہ خدا کا قول ہے اس لئے وہ اپنی تائید کے لئے خدا کے فعل کو ساتھ لاتا ہے اور اکثر بزرگ پیشگوئیوں پر مشتمل ہوتا ہے جو سچی نکلتی ہیں اور قول اور فعل دونوں کی آمیزش سے یقین کے دریا جاری ہو جاتے ہیں اور انسان سفلی زندگی سے منقطع ہو کر ملکوتی صفات بن جاتا ہے۔ یقینی الہام میں سے جو اس عاجز کو عطا کیا گیا ہے وہ حصہ جو خوارق اور پیشگوئیوں پر مشتمل ہے ہم کسی قدر اس میں سے بطور نمونہ ذیل میں لکھتے ہیں۔
یعنی ہم نمونہ کے طور پر چند وہ نشان لکھتے ہیں جو اس وحی کے ساتھ وقتاً فوقتاً ظاہر ہوئے جو میرے پر نازل ہوئی اور وہ یہ ہیں :۔
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی وحی نے یہ خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں اور ہزار ہا ان کے گواہ ہیں جن میں سے بعض اس جگہ لکھے گئے ۔ | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پہلی پیشگوئی | ☆۱۸۷۴ء | پہلی پیشگوئی معہ تفصیل واقعہ۔ میرے والد صاحب میرزا غلام مرتضیٰ مرحوم اس نواح میں ایک مشہور رئیس تھے گورنمنٹ انگریزی میں وہ پنشن پاتے تھے اور اس کے علاوہ چار سو روپیہ انعام ملتا تھا اور چار گاؤں زمینداری کے تھے پنشن اور انعام ان کی ذات تک وابستہ تھے اور زمینداری کے دیہات کے متعلق شرکاء کے مقدمات شروع ہونے کو تھے اتنے میں وہ قریباً اسی برس کی عمر میں بیمار ہو گئے اور پھر بیماری سے شفا بھی ہوگئی ۔ کچھ خفیف سی زحیر باقی تھی۔ ہفتہ کا روز تھا اور دو پہر کا وقت تھا کہ مجھے کچھ غنودگی ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا ۔ وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِق جس کے معنی مجھے یہ سمجھائے گئے کہ قسم ہے آسمان کی اور قسم ہے اس حادثہ کی کہ غروب آفتاب کے بعد پڑیگا اور دل میں ڈالا گیا کہ یہ پیشگوئی میرے والد کے متعلق ہے اور وہ آج ہی غروب آفتاب کے بعد وفات پائیں گے اور یہ قول خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور ماتم پرسی کے ہے۔ اس وحی الہی کے ساتھ ہی میرے دل میں بمقتضائے بشریت | آج تک ظاہر ہو رہی ہے |
| زندہ گواہ رویت کے | اس وحی الہی کی گواہ رویت ایک بڑی جماعت ہے۔ اگر میں تفصیل سے لکھوں تو ایک ہزار سے بھی زیادہ ہو گا مگر چونکہ حضرت مرزا صاحب مرحوم کی وفات کے بعد ہی جس کو آج اٹھائیس برس گذر چکے ہیں اس الہام کو ایک نگینہ پر کھدوا کر ایک مہر بنوائی گئی تھی جواب تک موجود ہے جس کا یہ نشان ہے اس لئے زیادہ ثبوت کی |
||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکی ہیں ہزار ہا اُن کے گواہ ہیں جن میں سے بعض اس جگہ لکھے گئے | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۱ | یہ گذرا کہ ان کی وفات سے مجھے بڑا ابتلا پیش آئے گا کیونکہ جو وجوہ آمدنی ان کی ذات سے وابستہ ہیں وہ سب ضبط ہو جائیں گی اور زمینداری کا حصہ کثیرہ شرکاء لے جائیں گے اور پھر نا معلوم ہمارے لئے کیا کیا مقدر ہے میں اس خیال میں ہی تھا کہ پھر یکدفعہ غنودگی آئی اور یہ الہام ہوا الیس اللہ بکاف عبدہ ۔ یعنی کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ۔ پھر اس کے بعد میرے دل میں سکینت نازل کی گئی اور نماز ظہر کے بعد میں نیچے اترا اور جون کا مہینہ اور سخت گرمی کے دن تھے اور میں نے جا کر دیکھا کہ میرے والد صاحب تندرست کی طرح بیٹھے تھے اور نشست برخاست اور حرکت میں کسی سہارے کے محتاج نہ تھے اور حیرت تھی کہ آج واقعہ وفات کیونکر پیش آئے گا۔ لیکن جب غروب آفتاب کے قریب وہ پاخانہ میں جا کر واپس آئے تو آفتاب غروب ہو چکا تھا اور پلنگ پر بیٹھتے کے ساتھ ہی غرغرہ نزع شروع ہو گیا۔ شروع غرغرہ میں مجھے انہوں نے کہا دیکھا یہ کیا حالت ہے اور پھر آپ ہی لیٹ گئے اور بعد اس کے کوئی کلام نہ کی اور چند منٹ میں ہی اس ناپائدار دنیا سے گذر گئے ۔ آج تک جو دس اگست ۱۹۰۲ء ہے مرزا صاحب مرحوم | ||
| زندہ گواہ رویت کے | کچھ ضروت نہیں کیونکہ یہ مہر ایک آریہ کی معرفت بنوائی گئی تھی جواب تک زندہ موجود ہے جس کا نام ملا وامل ہے اور اسکا دوسرا ہم قوم بھائی شرمپت نام بھی اس بات کا گواہ ہے اور وہ آریہ میرے اس الہام کو بذریعہ میرے ایک خط کے امرتسر میں حکیم محمد شریف کلانوری مرحوم کے پاس لے گیا تھا اور وہاں ایک مہر کن سے یہ مہر بنوائی | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکی ہیں ہزار ہا اُن کے گواہ ہیں جن میں سے بعض اس جگہ لکھے گئے | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| کے انتقال کو اٹھائیس برس ہو چکے ہیں بعد اس کے میں نے مرزا صاحب کی تجہیز تکفین سے فراغت کر کے وہ وحی الہی جو تکفل الہی کے بارہ میں ہوئی تھی یعنی الیس اللہ بکاف عبدہ اس کو ایک نگینہ پر کھدوا کر وہ مہر اپنے پاس رکھی اور مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ خارق عادت طور پر یہ پیشگوئی پوری ہوئی اور نہ صرف میں بلکہ ہر ایک شخص جو میرے اس زمانہ کا واقف ہے جب کہ میں اپنے والد صاحب کے زیر سایہ زندگی بسر کرتا تھا وہ گواہی دے سکتا ہے کہ مرزا صاحب مرحوم کے وقت میں کہ کوئی مجھے جانتا بھی نہیں تھا اُن کی☆ وفات کے بعد خدا تعالیٰ نے اس طور سے میری دستگیری کی اور ایسا میرا متکفل ہوا کہ کسی شخص کے وہم اور خیال میں بھی نہیں تھا کہ ایسا ہونا ممکن ہے ہریک پہلو سے وہ میرا ناصر اور معاون ہوا مجھے صرف اپنے دستر خوان اور روٹی کی فکر تھی مگر اب تک اس نے کئی لاکھ آدمی کو میرے دستر خوان پر روٹی کھلائی۔ ڈاکخانہ والوں کو خود پوچھ لو کہ کس قدر اس نے روپیہ بھیجا ۔ میری دانست میں دس لاکھ سے کم نہیں اب ایمانا کہو کہ یہ معجزہ ہے یا نہیں۔ | |||
| زندہ گواہ رویت کے | گئی تھی حکیم صاحب مرحوم کے دوستوں اور اولاد کو بھی یہ واقعہ معلوم ہے اب جو شخص ذرا حیا کو کام میں لا کر یہ سوچے اور تحقیق کرے کہ آج سے ۲۸ برس پہلے یعنی حضرت والد صاحب کے زمانہ میں میں کیا چیز تھا پھر خدا کی اس وحی الیس اللہ بکاف عبدہ کے بعد خدا نے میری کیسی پرورش کی تو میں یقین نہیں رکھتا کہ اس معجزہ سے بجز اس شخص کے کہ سخت درجہ کا بے حیا ہو انکار کر سکے ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں ہزار ہا اُن کے گواہ ہیں جن میں سے بعض اس جگہ لکھے گئے | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| ۲ | ۱۸۸۰ء و ۱۸۸۲ء | لا تیئس من روح اللہ الا ان روح اللہ قریب . الا ان نصر اللہ قریب . یاتیک من کل فج عمیق. یأتون من کل فج عمیق. ینصرک اللہ من عندہ . ینصرک رجال نوحی الیهم من السماء . لا مبدل لکلمات اللہ. دیکھو صفحہ ۲۴۱ براہین احمد یہ مطبوعہ سنہ ۱۸۸۰ء و سنہ ۱۸۸۲ء سفیر ہند پر لیس امرتسر ۔ ترجمہ۔ خدا کے فضل سے نوامید مت ہو یعنی یہ خیال مت کر کہ کوئی میری طرف التفات نہیں کرتا اور نہ کوئی میری نصرت کرتا ہے یہ بات سن رکھ کہ خدا کا فضل قریب ہے خبر دار ہو کہ خدا کی مدد قریب ہے۔ وہ مدد ہر ایک ایسی راہ سے تجھے پہنچے گی کہ کبھی بند نہیں ہوگا اور لوگ ہر یک راہ سے آتے رہیں گے جو بند نہیں ہوگا بلکہ لوگوں کے چلنے سے عمیق ہوتا رہے گا یعنی لوگ ہر ایک راہ سے بکثرت تیرے پاس آئیں گے یہاں تک کہ راہیں عمیق ہو جائیں گی۔ یہ استعارہ اس منشاء کے ادا کرنے کے لئے ہے کہ سلسلہ رجوع خلائق کا کبھی بند نہیں ہوگا اور یہ اُس زمانہ کی پیشگوئی ہے جبکہ مجھے کوئی بھی نہیں جانتا تھا مگر شاذ و نادر جو صرف چند ابتدائی زمانہ کے تعارف والے تھے اور نہ گورنمنٹ کو میری طرف کچھ |
اس پیشگوئی سے بیس سال بعد ہر ایک پہلو سے نصرت الہی اور نیز رجوع خلائق ظہور میں آیا۔ |
| زندہ گواہ رویت کے | اس پیشگوئی کا بیان کرنا اور پھر پورا ہونا براہین احمدیہ کی شہادت سے ثابت ہے کیونکہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۱ میں یہ پیشگوئی مندرج ہے اور براہین احمد یہ وہ کتاب ہے جو قریباً بائیس برس سے ملک میں شائع ہو گئی ہے ۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب میں گوشہء تنہائی میں پڑا ہوا تھا نہ مہمان تھے اور نہ کوئی مہمان خانہ تھا ۔ اس واقعہ کو تمام یہ قصبہ جانتا ہے۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دُنیا پر ظاہر ہوچکیں ہزارہا ان کے گواہ ہیں جن میں سے بعض اس جگہ لکھے گئے | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۲ | خیال تھا کہ اس کا اتنا بڑا سلسلہ قائم ہوگا اور نہ اس ملک کے لوگوں میں سے کوئی پیشگوئی کر سکتا تھا کہ یہ غیر معمولی ترقی ایک دن ضرور ہو گی مگر یہ خدا کا فعل ہے جو باوجود ہزار ہا روکوں کے جو قوم کی طرف سے اور مولویوں کی طرف سے ہوئیں خدا نے میری اس دعا کو قبول کر کے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۲ میں ہے یعنی یہ کہ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرُدًا اپنے بندوں کو میری طرف رجوع دیا۔ جب میں نے کہا کہ اے میرے پروردگار مجھے اکیلا مت چھوڑ تو جواب دیا کہ میں اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔ اور جب میں نے کہا کہ میں نادار ہوں مجھے مالی مدد دے تو اس نے کہا کہ ہر ایک راہ سے تجھے مدد آئے گی اور وہ راہیں عمیق ہو جائیں گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یکوں کی کثرت سے قادیان کی سڑک کئی دفعہ ٹوٹ گئی اُس میں گڑھے پڑ گئے اور کئی دفعہ سرکار انگریزی کو وہ سڑک مٹی ڈال کر درست کرانی پڑی اور پہلے اس سے قادیان کی سٹرک کا یہ حال تھا کہ ایک یکہ بھی اُس پر چلنا شاذ و نادر کے حکم میں تھا اب ہر یک سال راہ یکوں کے باعث سے عمیق ہو جاتا ہے اور نیز خدا نے اسی سال میں قریب ستر ہزار کے اس جماعت کو پہنچا دیا۔ کون مخالف ہے جو اس بات کو ثابت کر سکتا ہے کہ جب ابتدا میں یہ وحی الہی نازل ہوئی | ||
| زندہ گواہ رویت کے | کون ایسا بے ایمان ہے جو اس سے انکار کرے گا اور کون کہہ سکتا ہے کہ یہ صدہا انسان جواب آتے جاتے اور موجود رہتے ہیں یہ اس وقت بھی موجود تھے ڈاکخانوں کی کتابوں کو دیکھو کہ کیا یہ مالی آمدن پہلے بھی کبھی تھی اور کیا پہلے بھی اس کثرت سے لوگ آتے تھے۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ مضمون پیشگوئی نمبر ۲ | تو اس وقت سات آدمی بھی میرے ساتھ تھے مگر اس کے بعد ان دنوں میں ہزار ہا انسانوں نے بیعت کی خاص کر طاعون کے دنوں میں جس قدر جوق در جوق بیعت میں داخل ہوئے اس کا تصور خدا کی قدرت کا ایک نظارہ ہے۔ گویا طاعون دوسروں کو کھانے کے لئے اور ہمارے بڑھانے کے لئے آئی ۔ ابھی معلوم نہیں کہ طاعون کی برکت سے کیا کچھ ترقی ہو گی ۔ اسی برس میں تمام بیعت کرنے والوں نے اپنے ذمہ لے لیا کہ کچھ نہ کچھ ماہانہ اس سلسلہ کی مدد میں نذر کیا کریں سو اس ایک ہی برس میں ہزار ہا روپیہ کی آمدن ہوئی اور ہزار ہا لوگ بیعت میں داخل ہوئے اور داخل ہوتے ہیں اور وہ الہام کہ یأتیک من کل فج عمیق و یأتون من کل فج عمیق ۔ عین طاعون کے دنوں میں پورا ہوا۔ اگر کوئی شخص براہین احمدیہ کو ہاتھ میں پکڑے اور میری پہلی حالت غربت اور تنہائی کو جو براہین احمدیہ کے زمانہ میں تھی قادیان میں آکر تمام ہندو مسلمانوں سے دریافت کرے یا گورنمنٹ انگریزی کے کاغذات میں دیکھے کہ کب سے گورنمنٹ نے میرے سلسلہ کو ایک جماعت عظیم قرار دیا ہے تو بلا شبہ وہ یقینی اور قطعی طور پر سمجھ لے گا کہ اس قدر خدا کی طرف سے حسب منشاء پیشگوئی کے نصرت ہونا اور ستر ہزار سے بھی زیادہ لوگوں کا بیعت میں داخل ہونا با وجود تمام مولویوں کے شور | ||
| زندہ گواہ رویت کے | اور وہ معزز احباب جو بچشم خود دیکھ رہے ہیں کہ کیونکر اس پرانے زمانہ کی پیشگوئی بڑے زور و شور سے ان دنوں میں پوری ہو رہی ہے ان احباب کے بطور گواہان رویت ذیل میں چند نام لکھے جاتے ہیں اور وہ یہ ہیں۔ مولوی حکیم نور الدین صاحب بھیروی | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| و فریاد کرنے کے بے شک ایک معجزہ ہے ورنہ خدا قادر تھا کہ اس سلسلہ کو ترقی سے روک دیتا اور مولویوں کے منصوبوں کو پورا کر دیتا یا مجھے ہلاک کر دیتا اور خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ یأتیک من کل فج عمیق و یأتون من کل فج عمیق ۔ اس طرح پر بھی ہر ایک پر ثابت ہو سکتا ہے کہ بیس برس کے بعد ان دنوں میں پنجاب اور ہندوستان کے شہروں میں سے کوئی شہر خالی نہیں رہا جس کے باشندوں میں سے کوئی نہ کوئی قادیان میں نہیں آیا اور نہ کوئی ایسی طرف ہے جس سے مالی مدد نہ آئی۔ اب سوچ لو کہ کیا اس قدر دور دراز عرصہ کے بعد غیب کی باتیں پورا ہونا کیا بجز خدا کی وحی کے کسی اور کے کلام میں یہ طاقت ہے اور اگر انسان ایسا کر سکتا ہے تو نظیر کے طور پر پیش کرو کہ کس نے میری طرح گمنامی کی حیثیت میں ہو کر ظہور پیشگوئی کے دنوں سے بیس برس پہلے بذریعہ تحریر تمام دنیا میں شائع کیا کہ ایک دن وہ آنے والا ہے کہ میری یہ حالت گمنامی جاتی رہے گی اور ہزار ہا تحائف میرے پاس آئیں گے اور ہزار ہا لوگ دور دراز ملکوں کا سفر کر کے میرے ملنے کے لئے آئیں گے میں جانتا ہوں کہ ایسی نظیر پیش کرنے پر ہرگز انسان قادر نہیں ۔ | |||
| زندہ گواہ رویت کے | مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی ۔ مولوی محمد علی ایم اے۔ نواب محمد علی خان صاحب مالیر کوٹلہ ۔ خواجہ کمال الدین صاحب بی اے پلیڈر ۔ میر ناصر نواب صاحب دہلوی۔ مولوی محمد احسن صاحب امروہی ۔ مرزا خدا بخش صاحب جھنگ ۔ سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدراس ۔ مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹ چھاؤنی ۔ شیخ رحمت اللہ صاحب سوداگر بمبئی ہؤس لاہور ۔ خلیفہ نورالدین صاحب جموں وغیرہ گواہان جو دس ہزار سے بھی زیادہ ہیں۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| الہام سوم | ۸۲ و سنہ ۱۸۸۰ء | لَا تُصَعِّرْ لِخَلْقِ اللّٰہِ وَلَا تَسْئَمْ مِنَ النَّاسِ ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۲۴۲۔ ترجمہ : خلق اللہ تیری طرف رجوع کرے گی سو تجھے چاہئے کہ تو اُن سے منہ نہ پھیرے اور نہ ان کی کثرت کو دیکھ کر تھک جائے ۔ اس الہام میں یہ بشارت دی گئی تھی کہ لوگ فوج در فوج تیرے پاس آئیں گے اور اس قدر آئیں گے کہ انسان بمقتضائے بشریت ان کی متواتر ملاقاتوں سے ملول ہو سکتا ہے اور اُن کے ہجوم سے تھک سکتا ہے کیونکہ بہت کثرت ہوگی ۔ سو تو ایسا مت کرنا اور کثرت مخلوقات سے گھبرانا مت۔ اب جس حد تک کوئی انسان چاہے ثابت کر لے کہ براہین احمدیہ کے زمانہ میں جس کو بیس بائیس برس گزر گئے لوگوں کا میری طرف رجوع نہ تھا بلکہ میں ان لوگوں میں سے نہیں تھا جن کا دنیا میں کچھ ذکر کیا جاتا ۔ پس خدا کا یہ فرمانا کہ تم نے کثرت خلق اللہ کو دیکھ کر تھکنا مت ۔ یہ خبر پورے بیس برس بعد اس پیشگوئی کے ظہور میں آئی یعنی حال میں جب کہ ہزار ہا لوگ قادیان میں آنے لگے اور آرہے ہیں۔ | یہ پیشگوئی اس وقت سے بطور اتم اکمل ظہور میں آئی جب پنجاب میں طاعون پڑی۔ |
| الہام چہارم | ۸۲ و سنہ ۱۸۸۰ء | اصحاب الصُّفۃ وما ادراک ما اصحاب الصُّفۃ. ترٰی اعینهم تفیض من الدمع. یصلّون علیک. ربّنا اننا سمعنا | یہ پیشگوئی قریباً دس برس |
| زندہ گواہ رویت کے | ان تمام پیشگوئیوں کا گواہ ناطق براہین احمدیہ ہے اور اس قصہ کو تمام لوگ اس گاؤں اور گردو نواح کے جانتے ہیں کہ جس زمانہ کی یہ پیشگوئیاں ہیں اس زمانہ میں میری شہرت کا نام و نشان نہ تھا اور پنجاب کے لوگ بآسانی | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ مضمون پیشگوئی نمبر ۴ | منادیا ینادی للایمان. وداعیًا الی اللہ وسراجا منیرا . املوا. دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۲۴۲۔ ترجمہ :۔ صفہ کے دوست اور تو کیا جانتا ہے کہ کیا ہیں صفہ کے دوست تو ان کی آنکھوں کو دیکھے گا کہ ان سے آنسو جاری ہیں ۔ تیرے پر درود بھیجیں گے ۔ یہ کہتے ہوئے کہ اے ہمارے خدا ہم نے ایک آواز دینے والے کی آواز کو سنا جو کہتا تھا کہ اپنے ایمان کو درست کرو اور قوی کرو اور وہ خدا کی طرف بلاتا تھا اور شرک سے دور کرتا تھا اور وہ ایک چراغ تھا زمین پر روشنی پھیلانے والا ( لکھ لو ) یہ پیشگوئی جس زمانہ میں براہین احمدیہ میں شائع کی گئی اُس وقت نہ کوئی صفہ تھا نہ اصحاب الصفہ ۔ پھر بعد اس کے جو مخلصین قادیان میں ہجرت کر کے آئے ان کے لئے صفے اور مہمان خانے طیار کئے گئے ۔ دیکھو یہ کس قدر عظیم الشان پیشگوئی ہے کہ اس زمانہ میں یہ باتیں بتلائی گئیں جب کہ کسی کو اس طرف خیال بھی نہیں آسکتا تھا کہ ایسا وقت بھی آئے گا کہ قادیان میں ایسے مخلص جمع ہوں گے اور ان کے لئے صفے تیار کئے جاویں گے۔ |
بعد اظہار اس کے کے ظہور میں آگئی | |
| پیشگوئی نمبر ۵ | ۸۲ و سنہ ۱۸۸۰ء | سبحان اللہ تبارک و تعالی زاد مجدک ینقطع اباء ک و یبدأ منک دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۴۹۰۔ ترجمہ۔ پاک ہے خدا ہر ایک تہمت سے جو بہت برکت والا اور بہت بلند ہے وہ تیری بزرگی کو زیادہ کرے گا۔ تیرے باپ دادے کا |
اس کا اظہار سنہ ۱۸۸۸ء سے شروع ہو گیا |
| زندہ گواہ رویت کے | سمجھ سکتے ہیں کہ وہ اس زمانہ میں نہ خود کبھی قادیان آئے اور نہ لوگوں کو قادیان آتے دیکھا اور نہ سنا اور نیز بڑا ثبوت اس کا کاغذات گورنمنٹ ہیں اور پیشگوئی نمبر پنجم کا ثبوت خود ظاہر ہے کہ بعد اس پیشگوئی کے خدا نے چارلڑ کے مجھے دئے اور وہ عزت اور شہرت مجھے دی کہ میرے خاندان میں کسی کو نہیں دی گئی۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ مضمون پیشگوئی نمبر ۵ | ذکر منقطع ہو جائے گا ۔ اور خدا اس خاندان کی بزرگی کی بنیاد تجھ سے ڈالے گا۔ اب بتلاؤ کیا یہ سچ نہیں کہ میری شہرت میرے خاندان کی شہرت سے بہت زیادہ بڑھ گئی اور ہزار ہا مخلوقات کو خدا نے ربقہ اطاعت میں داخل کر دیا اور آج کے دن سے پہلے کون جانتا تھا کہ اس سلسلہ کی اس قدر ترقی ہو جائے گی خاص کر براہین احمدیہ کے زمانہ میں جبکہ نہ کوئی سلسلہ تھا نہ دعوت تھی نہ جماعت تھی نہ شہرت تھی۔ پس افسوس ان پر جو نہیں سمجھتے اور خدا کی عجائب قدرتوں پر غور نہیں کرتے۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۶ | ۸۲ و سنہ ۱۸۸۰ء | اردت ان استخلف فخلقت اٰدم . انی جاعل فی الارض خلیفة ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۴۹۲ ۔ یہ پیشگوئی باعتبار مفہوم لفظ آدم کے ہے کیونکہ فرشتوں نے آدم کی خلافت کو منظور نہ کیا ۔ مگر آخر وہی جس کو رد کیا گیا تھا خلیفہ ٹھہرایا گیا اور نامنظور کرنے والوں کی کچھ پیش نہ گئی بلکہ سخت منکر ان میں سے شیطان کہلایا۔ پس لفظ آدم میں اس قصہ کی طرف اشارہ ہے کہ اس جگہ بھی ایسا ہی ہوگا اور خدا اس خلافت کو اپنے ہاتھوں سے زمین پر جمائے گا۔ اور اس پیشگوئی کا ایک حصہ ازالہ اوہام میں ایک الہام ہے اور وہ یہ ہے ۔ قالوا أتجعل فیها من یفسد فیها و یسفک الدماء قال انی اعلم مالا تعلمون ۔ ان تمام الہامات کا ترجمہ یہ ہے کہ میں نے ارادہ کیا کہ اپنا خلیفہ زمین پر پیدا کروں ۔ | آج سے آٹھ سال پہلے |
| زندہ گواہ رویت کے | پیشگوئی نمبر ۵ کا ثبوت گذر چکا اور پیشگوئی نمبر ۶ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آدم کے رنگ پر میرے پر بھی اعتراض ہوں گے اور میری معائب شماری ہو گی اور آخر خدا میری عزت ظاہر کرے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور عیب شمار لوگوں کو خائب و خاسر ہونا پڑا اور خدا نے میری تائید کی اور اگر چہ تائید الہی بجائے خود | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۶ | سو میں نے آدم کو یعنی اس عاجز کو اپنا خلیفہ مقرر کیا۔ میں اسی آدم کو زمین پر اپنی خلافت کے لئے مامور کرنے والا ہوں اور لوگ کہیں گے کہ کیوں ایسا خلیفہ مقرر کیا جاتا ہے کہ مفسد ہے اور خونریز ہے یعنی خونریزی کی تہمت لگائیں گے۔ چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق آخر کار نادان لوگوں نے ایسا ہی کیا جیسا کہ لیکھرام کے معاملہ کے بارے میں اور ڈاکٹر کلارک کے بارے میں اور آٹھم کے بارے میں ۔ پھر فرماتا ہے کہ خدا کہے گا کہ تم غلطی کرتے ہو اس شخص کی نسبت جو کچھ میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ یہ پیشگوئی صاف طور پر دلالت کرتی ہے کہ لوگ انکار کریں گے اور جھوٹے الزام لگائیں گے اور منظور نہیں کریں گے سو ایسا ہی ظہور میں آیا اور خدا نے میرا نام آدم رکھا تا آخر کو اول سے نسبت ہو اور نیز یہ بھی مشابہت درمیان تھی کہ آدم توام کے طور پر پیدا کیا گیا پہلے نر اور پیچھے مادہ ہوا۔ تا ترقی کرنے والے انسانی سلسلہ کی طرف اشارہ کرے اور میں بھی آدم کی طرح توام پیدا کیا گیا مگر پہلے لڑکی پیدا ہوئی اور بعد اس کے میں ۔ تا یہ وضع پیدائش انسانی سلسلہ کے ختم ہونے پر اشارہ کرے۔ سو میں اس طور سے آخر ہوں جیسا کہ آدم اول تھا اور عیسی بن مریم کو آدم سے صرف ایک مناسبت تھی کہ بغیر باپ کے پیدا ہوا اور وہ مناسبت بھی ناقص | ||
| زندہ گواہ رویت کے | ایک نشان ہوتا ہے لیکن جب قبل از وقت پیشگوئی کے رنگ میں اس کو بیان کیا جاوے تو وہ نشان نور علی نور ہو جاتا ہے کیونکہ پیشگوئی کا پورا ہونا اس بات پر مہر کر دیتا ہے کہ وہ تائید جو ظہور میں آئی ہے وہ در حقیقت منجانب اللہ ہے۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۶ | کیونکہ ماں موجود تھی مگر میں روحانی طور پر بغیر باپ اور ماں دونوں کے ہوں کیونکہ نہ کوئی مرشد رکھتا ہوں جو بجائے باپ کے ہو اور نہ خاندان نبوت جو بجائے ماں کے ہو اور میں آدم کی طرح توام ہوں اور حضرت عیسی توام نہیں تھا اور آدم کی طرح خونریزی کی میرے پر تہمت لگائی گئی اور حضرت عیسی پر یہ تہمت نہیں لگائی گئی ۔ اور آدم کی طرح میں جمالی اور جلالی دونوں رنگ رکھتا ہوں مگر حضرت عیسی محض جمالی رنگ تھا۔ اس لئے میں آدم کے لئے مظہر اتم ہوں مگر حضرت عیسی مظہر اتم نہیں تھا چونکہ نوع انسان جس نقطہ سے شروع ہوئی اسی نقطہ پر اس کو بلحاظ وضع دوری ختم ہونا چاہئے اس لئے آخر سلسلہ نوع انسان میں آدم کا مظہر اتم پیدا کیا گیا تا اس طرح پر دائرہ خلقت انسان پورا ہو جائے اور چونکہ آدم نر اور مادہ پیدا کیا گیا تھا اسلئے خدا نے مجھے نر اور مادہ یعنی بطور توام پیدا کیا تا آخر کو اول سے مشابہت ہو اور نیز مجھے اس نے نہ خاندان نبوت سے پیدا کیا جو بطور ماں کے ہے اور نہ مرشد جو روحانی تعلیم دیتا مجھے عطا کیا تا بطور روحانی باپ کے ٹھہرتا اور یہ ضرور نہ تھا کہ میں عیسی کی طرح بغیر باپ کے پیدا ہوتا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ضرور نہ تھا کہ عصا کا سانپ بناتے بلکہ قرآن شریف کے معجزہ کو قائمقام عصا ٹھہرایا گیا کیونکہ خدا نہیں چاہتا کہ گذشتہ نشانوں کو دوبارہ ظاہر کرے مگر برنگ دیگر | ||
| زندہ گواہ رویت کے | نہ کہ اتفاقی طور پر ۔ غرض ایک مرسل اور مامور کے لئے خلافت اور نبوت کا منصب ثابت کرنا کسی ایسی تائید الہی کو چاہتا ہے جس کے ساتھ پیشگوئی ہوا اور اس پیشگوئی کی ضرورت سمجھتا ہے جس کے ساتھ تائید ہو اور اثبات مدعا کے لئے بجز اس کے اور کوئی ضرورت نہیں | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| ساتویں پیشگوئی | وان یرو ا اٰیة یعرضوا و یقولو ا سحر مستمر . واستیقنتها انفسهم وقالوا لات حین مناص ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۴۹۸۔ ترجمہ ۔ جب دیکھیں گے کوئی نشان تو منہ پھیر لیں گے اور کہیں گے کہ یہ ایک مکر ہے اور یہ تو ابتدا سے چلا آتا ہے کوئی انوکھی بات نہیں کوئی خارق عادت امر نہیں اور ان کے دل یقین کر گئے اور کہا کہ اب گریز کی جگہ نہیں ۔ یہ آیت یعنی وَاِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَیَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّا یہ سورۃ قمر کی آیت ہے شق القمر کے معجزہ کے بیان میں اس وقت کافروں نے شق القمر کے نشان کو ملاحظہ کر کے جو ایک قسم کا خسوف تھا یہی کہا تھا کہ اس میں کیا | ۱۳۱۱ ہجری | |
| زندہ گواہ رویت کے | براہین احمدیہ کا الہام صفحہ ۴۹۸۔ اس بات کا گواہ ہے کہ یہ پیشگوئی بارہ برس پہلے خسوف سے کی گئی تھی اور باوجود اسکے کہ یہ پیشگوئی کتاب دار قطنی میں قریباً ہزار برس پہلے اور کتاب اکمال الدین میں جو شیعہ کی نہایت معتبر کتاب ہے اسی قدر مدت پہلے کی گئی تھی مگر تب بھی لوگوں نے قبول نہ کیا اور کہا کہ خسوف قمر مہینہ کی پہلی رات میں یعنی ہلال کو ہونا چاہئے تھا اور کسوف شمس ٹھیک ٹھیک مہینہ کے وسط میں ہونا چاہئے تھا یعنی پندرھویں تاریخ مگر جس طرح پر یہ ہوا یہ تو ایک مستمر امر ہے یعنی قدیم سے اسی طرح چلا آتا ہے حالانکہ حدیث میں خارق عادت کا کوئی لفظ نہیں صرف اپنی نادانی سے فقرہ اول شب اور فقرہ درمیانی روز سے یہ غلط معنی نکالتے ہیں اور حدیث کا مطلب ظاہر ہے اور وہ یہ کہ خسوف قمر اس کی مقررہ راتوں میں سے جو قانون قدرت میں مقرر ہیں اول رات میں ہوگا اور کسوف شمس اس کے مقررہ دنوں میں سے درمیان کے دن میں یعنی اٹھائیس تاریخ ہو گا اور اسی طرح وقوع میں آیا یہ ایک سچے مہدی موعود کیلئے ایک علامت مقرر کی گئی تھی کہ اس کے دعویٰ کے دنوں میں جب اس کی تکذیب ہوگی اور وہ نشان کا محتاج ہو گا تب ماہ رمضان میں ان تاریخوں میں خسوف | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکی ہیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۷ | انوکھی بات ہے قدیم سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے کوئی خارق عادت امر نہیں ۔ پس خدا تعالیٰ نے اس الہام میں وہی آیت پیش کر کے یہ اشارہ کیا ہے کہ ان لوگوں کو بھی خسوف کا نشان دکھلایا جاوے گا اور منکر لوگ وہی کہیں گے جو ابو جہل وغیرہ نے کہا تھا یعنی ” اس طرح پر قدیم سے خسوف کسوف ہوتا آیا ہے‘‘ خارق عادت ہونا چاہئے تھا تا ہم مانتے ۔ پس دیکھو یہ پیشگوئی کیسی عظیم الشان ہے جو خسوف کسوف سے بارہ برس پہلے لکھی گئی ۔ | ||
| بقیہ زندہ گواہ رویت متعلق نمبر ۷ | کسوف ہو جائیگا ۔ اب ظاہر ہے کہ ہمیشہ رمضان میں خسوف کسوف نہیں ہوتا اگر ہوتا ہو گا تو صد ہا برس کے بعد اور پھر یہ کہ خسوف بھی انہیں تاریخوں میں ہو یہ خصوصیت بھی صد ہا سال کو ہی چاہتی ہے۔ اب حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب تک مہدی معہود ظاہر نہ ہو یہ خصوصیتیں کسی زمانہ میں کسی کاذب مدعی کے وقت میں جمع نہیں ہوں گی صرف مہدی کے وقت میں جمع ہوں گی ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا تو اب ظاہر ہے کہ مہدی معہود کی علامت کے لئے اسی قدر کافی تھا کہ اس کے ابتدائی زمانہ میں رمضان میں ان تاریخوں میں خسوف کسوف ہوگا قانون قدرت کو توڑنے کی کچھ ضرورت نہ تھی۔ رہا یہ امر کہ دار قطنی کی حدیث ضعیف ہے۔ اگر ہم فرض کر لیں تو پھر کتاب اکمال الدین میں بھی تو یہی حدیث ہے ماسوا اس کے اصل بات تو یہ ہے کہ محدثین کی نہ تو تصدیق یقینی ہے اور نہ تکذیب۔ اس لئے خدا نے اس حدیث کی تصدیق خود کر دی اب کسی محدث کی مجال ہے کہ اس کی تکذیب کرے۔ پیشگوئی تو انجیل اور تورات کی بھی ماننی پڑے گی اگر وہ صفائی سے پوری ہو جاوے گو وہ کتابیں محرف مبدل ہیں بلکہ اگر سکھوں کے گرنتھ میں بھی کوئی پیشگوئی ہو جو بے حد رطب و یابس کا ذخیرہ ہے اور وہ پیشگوئی پوری ہو جائے تب بھی ماننی پڑے گی۔ کیا انسان کی تنقید خدا کی تنقید سے بہتر ہے۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۸ | ۸۲ و ۱۸۸۰ء | یا عبد القادر انی معک اسمع وارٰی غرست لک بیدی رحمتی و قدرتی. والقیت علیک محبة منّی . ولتصنع علٰی عینی. کزرع اخرج شطأه فاستغلط فاستوٰی علٰی سوقهٖ ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۱۴ ۔ ترجمہ۔ اے قادر کے بندے میں تیرے ساتھ ہوں۔ میں دیکھتا ہوں اور سنتا ہوں۔ میں نے اپنی محبت تیرے پر ڈال دی تا کہ تو میری آنکھوں کے روبرو پرورش کیا جائے۔ تو ایک بیج کی طرح ہے یعنی اکیلا ہے جس کی ابھی کوئی شاخ نہیں نکلی ۔ صرف ایک سبزہ نکلا مگر بعد اس کے ایسا ہو گا کہ وہ سبزہ موٹا ہو جاوے گا اور اس کی شاخیں تنا پر قائم ہوں گی اور وہ ایک بڑا درخت بن جائے گا اب دیکھو کہ یہ پیشگوئی کس قدر صفائی سے پوری ہوئی اور باوجود سخت مخالفوں کی سخت مزاحمتوں کے یہ سلسلہ ایک عظیم بزرگی کے ساتھ قائم ہو گیا اور جیسا کہ پیشگوئی کا منشاء تھا اس تخم کی بہت سی شاخیں نکل آئیں اور پنجاب اور ہندوستان میں پھیل گئیں اور پھیلتی جاتی ہیں۔ براہین احمدیہ میں بارہا یہ ذکر آچکا ہے کہ تو اس وقت اکیلا ہے اور تیرے ساتھ کوئی نہیں جیسا کہ ایک جگہ میری دعا کا خود خدا تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوَارِثِیْنَ یعنی اے خدا مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تو بہترین ورثاء ہے پس اس جگہ خدا گواہی دیتا ہے کہ اس الہام کے وقت میں اکیلا تھا سو خدا نے وعدہ دیا کہ تو اکیلا نہیں رہے گا اور ایک جہان تیری شاخوں میں داخل ہو جائے گا۔ | یہ پیشگوئی بیس برس بعد طاعون کے زمانہ میں پوری ہوئی |
| زندہ گواہ رویت کے | براہین احمدیہ ان تمام پیشگوئیوں کی گواہ ہے اور کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ یہ اس زمانہ کی پیشگوئیاں ہیں کہ جبکہ اس اقبال اور عزت اور کامیابی کے کچھ بھی آثار نہ تھے کہ جو اب سنہ ۱۹۰۱ء و سنہ ۱۹۰۲ء میں ظہور میں آئے ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۹ | ۸۲ و ۱۸۸۰ء | أَلَيْسَ اللَّہُ بِكَافٍ عَبْدَهُ فَبَرَّأَهُ اللَّہُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللہِ وَجِيهًا ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۱۶۔ ترجمہ ۔ کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں۔ پس وہ اس کو ان تمام الزاموں سے بری کرے گا جو اس پر لگائے جائیں گے اور وہ خدا کے نزدیک وجاہت رکھتا ہے۔ یہ پیشگوئی اس طرح پر پوری ہوئی کہ کپتان ڈگلس ڈپٹی کمشنر کے وقت میں میرے پر خون کا الزام لگایا گیا خدا نے اس سے مجھے بری کر دیا اور پھر مسٹر ڈوئی ڈپٹی کمشنر کے وقت میں مجھ پر الزام لگایا گیا اس سے بھی خدا نے مجھے بری کر دیا۔ اور پھر مجھ پر جاہل ہونے کا الزام لگایا سو مخالف مولویوں کی خود جہالت ثابت ہوئی اور پھر مہر علی نے مجھ پر سارق ہونے کا الزام لگایا سو اس کا خود سارق ہونا ثابت ہوا۔ ایسا ہی یہ دن کبھی نہیں گذریں گے جب تک خدا کج دل انسانوں کو نہ دکھلا دے کہ یہ میرا بندہ میری طرف سے تھا۔ تب بہتوں کی آنکھیں کھلیں گی مگر کیا فائدہ۔ اکنوں ہزار عذر بیاری گناہ را۔ مرشوی کردہ را نبود زیب دخترے | یہ پیشگوئی اس زمانہ سے پوری ہونی شروع ہوئی جبکہ میرے پر قتل وغیرہ کے جھوٹے مقدمے کئے گئے |
| پیشگوئی نمبر ۱۰ | ۸۲ و ۱۸۸۰ء | إِنَّا أَعْطَيْتُكَ الْكَوْثَرَ یعنی ہم تجھے بہت سے ارادتمند عطا کریں گے اور ایک کثیر جماعت تجھے دی جاوے گی ۔ دیکھو اس پیشگوئی کو بیس برس گذر گئے ۔ اور اب وہ کثیر جماعت ہوئی اور نہ صرف ستر ہزار بلکہ اب تو یہ جماعت لاکھ کے قریب ہوگئی اور اُن دنوں میں ایک بھی نہ تھا۔ | طاعون کے دنوں میں کامل ظہور ہوا |
| زندہ گواہ رویت کے | جن مقدمات میں خدا نے مجھے بری کیا جو بڑے افترا اور اتفاق سے پیدا کئے گئے تھے ان کے لکھنے کی کچھ ضرورت نہیں سرکاری کاغذات موجود ہیں اور جن صدہا نشانوں کے ساتھ تہمت اور کذب اور افترا اور جہل سے خدا نے مجھے بری کیا ان نشانوں میں سے بطور نمونہ اسی فہرست میں موجود ہیں اور منصف کے لئے کافی ہو سکتے ہیں۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکی ہیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۱۱ | ۸۲ و ۱۸۸۰ء | یا احمد فاضت الرحمت علی شفتیک. دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۱۷۔ ترجمہ۔ اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری کی جاویگی۔ بلاغت اور فصاحت اور حقائق اور معارف تجھے عطا کئے جاویں گے سو ظاہر ہے کہ میری کلام نے وہ معجزہ دکھلایا کہ کوئی مقابلہ نہیں کر سکا۔ اس الہام کے بعد بیس سے زیادہ کتابیں اور رسائل میں نے عربی بلیغ فصیح میں شائع کئے مگر کوئی مقابلہ نہ کر سکا۔ خدا نے ان سے زبان اور دل دونو چھین لئے اور مجھے دے دئے۔ | جس وقت سے عربی کتابیں تالیف ہوئیں |
| پیشگوئی نمبر ۱۲ | ۸۲ و ۱۸۸۰ء | وقالوا انى لك هذا ان هذا الا سحر يؤثر. لن نؤمن لك حتى نرى اللہ جهرة لا يصدق السفيه الاسيفة الهلاك عدولي وعدو لك. قل اتى امر اللہ فلا تستعجلوہ ۔ دیکھو صفحہ ۵۱۸ و ۵۱۹ براہین احمدیہ ۔ ترجمہ۔ اور کہتے ہیں کہ یہ مقام تجھے کہاں سے ملا یہ تو ایک فریب ہے ۔ ہم تیرے پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک خدا کو نہ دیکھ لیں یہ لوگ تو بجز موت کے نشان کے کبھی مانیں گے نہیں ۔ ان کو کہہ دے کہ مری یعنی طاعون بھی چلی آتی ہے سو تم مجھ سے جلدی مت کرو۔ یہ پیشگوئی بیس برس پہلے طاعون کے کی گئی تھی ۔ | طاعون کے دنوں میں یہ پیشگوئی پوری ہوئی |
| پیشگوئی نمبر ۱۳ | " | امراض الناس وبركاته. لوگوں کی مرضیں اور خدا کی برکتیں ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۱۹ ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک | طاعون کے دنوں میں |
| زندہ گواہ رؤیت کے | جیسا کہ ہم اوپر لکھ آئے ہیں کہ یہ تمام پیشگوئیاں براہین احمدیہ میں درج ہیں اور وہ گواہ بھی درج ہیں جن کے روبرو بعض پیشگوئیاں پوری ہوئیں اور طاعون پھیلنے کی خبر جو براہین احمدیہ میں تھی وہ اب ملک میں پھیل رہی ہے اس وقت بھی جو ۲۰ اگست سنہ ۱۹۰۲ء ہے بعض حصوں پنجاب میں | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۱۳ | سخت وبا کا زمانہ آئے گا اور آخر یہ ہوگا کہ جو لوگ خدا اور اس کے مامور کی طرف سچے دل سے اور پورے اخلاص سے توجہ کریں گے وہ بچائے جائیں گے اور بہر حال نسبتاً عافیت سے حصہ لینے والے سب سے زیادہ وہی ہوں گے سو یہ طاعون کے زمانہ کی طرف اشارہ ہے اور جو لوگ انجام تک جیتے رہیں گے وہ دیکھیں گے کہ وباء طاعون کے دنوں میں خدا کی خاص برکات اس سلسلہ کے مخلصوں کے شامل حال رہیں گی اور وہ نسبتاً جلتی ہوئی آگ سے بہت دور رہیں گے۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۱۴ | ۸۲ و ۱۸۸۰ء | بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیان بر منار بلند تر محکم افتاد۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۲۲ ۔ یعنی اب ظہور کر اور نکل کہ تیرا وقت نزدیک آگیا اور اب وہ وقت آ رہا ہے کہ محمدی گڑھے میں سے نکال لئے جاویں گے اور ایک بلند اور مضبوط مینار پر ان کا قدم پڑے گا ۔ اس کے ساتھ ہی براہین احمدیہ میں ایک انگریزی الہام ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ دن آ رہے ہیں کہ جب خدا تمہاری مدد کرے گا خدائے ذوالجلال آفرینندہ زمین و آسمان ۔ یہ ان دنوں کی پیشگوئی ہے جب کہ اس سلسلہ کا نام و نشان نہ تھا کیا یہ انسان کی قدرت میں سے ہے۔ | بیس برس بعد طاعون کے دنوں میں |
| زندہ گواہ رویت کے | طاعون زور پر ہے اور معلوم نہیں کہ موسم سرما میں کیا صورت پیش آئے گی اب سوچ لو کہ کیا یہ امور غیبیہ انسان کے ہاتھ میں ہیں کیا آج سے بیس برس پہلے کسی کو خبر بھی تھی کہ اس ملک میں اس زور سے طاعون آئے گی ایسا ہی ان پیشگوئیوں میں ترقی کے زمانہ کی اس وقت خبر دی گئی ہے جب کہ یہ عاجز گوشہ گمنامی میں پڑا ہوا تھا۔ اب سوچ لو کہ کیا انسان بھی یہ قدرت رکھتا ہے۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۱۵ | ۸۲ و ۱۸۸۰ء | ایک دفعہ مجھے قطعی طور پر الہام ہوا کہ آج ۲۱ آئیں گے آ نہ کم نہ زیادہ۔ چنانچہ قادیان کے آریوں کو ملزم کرنے کے لئے اس روپیہ کے آنے کی اطلاع دی گئی تب تفتیش کے لئے ایک آریہ گیا اور ہنستا ہوا آیا کہ صرف پانچ روپیہ آئے ہیں پھر الہام ہوا کہ اکیس روپیہ آئے ہیں ۔ ایک اور آریہ پھر ڈاکخانہ میں گیا اور وہ خبر لایا کہ دراصل ۲۰ روپیہ آئے ہیں ڈاکخانہ والے نے غلطی سے پانچ روپیہ کہے تھے اور اسی موقع پر ایک شخص وزیر سنگھ نامی نے علاج کرانے کی غرض سے ایک روپیہ دے دیا۔ اس طرح پر پورے اکیس روپیہ ہو گئے ۔ یہ بیس روپیہ منشی الہی بخش صاحب اکونٹنٹ نے مجھے بھیجے تھے اور جب ایسی صفائی سے یہ پیشگوئی پوری ہوئی اور آریہ اس کے گواہ ہو گئے تب میں نے ایک روپیہ کی شیرینی آریوں کو کھلا دی تا ہمیشہ اس پیشگوئی کو یاد رکھیں ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۲۴ ۔ | اسی دن جس دن پیشگوئی کی گئی |
| پیشگوئی نمبر ۱۶ | ۸۲ و ۱۸۸۰ء | براہین احمدیہ چھپ رہی تھی اور روپیہ نہیں تھا چھاپنے والے کا تقاضا تھا۔ تب دعا کی گئی اور یہ الہام ہوا۔ ”دس دن کے بعد موج دکھاتا ہوں” ساتھ اس کے یہ بھی الہام ہوا ۔ ”دن ول یو گوٹو امرت سر” یعنی اس دن تم امرتسر بھی جاؤ گے ۔ یہ الہام آریوں کو سنایا گیا خوب کان کھولے گئے چنانچہ دس دن تک ایک پیسہ نہ آیا جب گیارہواں دن ہوا تو ایک سوبیس روپیہ محمد افضل خان صاحب ایک شخص نے راولپنڈی سے بھیجے اسی دن ۲۰ ایک اور شخص نے بھیج دیئے اسی دن سرکاری سمن آیا اور ایک گواہی کے لئے امرتسر جانا پڑا۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۴۶۹۔ | بیان پیشگوئی سے گیارہویں دن |
| زندہ گواہ رویت کے | پیشگوئی نمبر ۱۵ میں جس قدر خدا کی قدرت اور غیب کی خبر پائی جاتی ہے اس کو غور سے پڑھو اور پیشگوئی نمبر ۱۶ خود ظاہر ہے ۔ کیا ایسی صاف غیب گوئی کہ دس دن تک کوئی روپیہ نہیں آئے گا اور دس کے بعد گیارہویں | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۱۷ | ۸۲ و ۱۸۸۰ء | ایک شخص نور احمد نام مولوی غلام علی صاحب امرتسری کے شاگردوں میں سے قادیان میں آیا اور اس سے منکر تھا کہ اس امت کے بعض افراد خدا تعالیٰ سے سچی اور یقینی وحی پاسکتے ہیں۔ اس کو یہ کہ کر ٹھہرایا گیا کہ ہم دعا کرتے ہیں شائد اللہ تعالیٰ کوئی ایسا الہام کرے جو کسی پیشگوئی پر مشتمل ہو۔ سو دعا منظور ہو کر یہ الہام حکایتاً عن الغیر انگریزی میں ہوا آئی ایم گورکر یعنی میں مقدمہ کرنے والا ہوں اور جھگڑنے والا ہوں اور ساتھ ہی یہ الہام ہوا هذا شاهد نزاغ ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۴۷۲ ۔ یعنی یہ گواہ تباہی ڈالنے والا ہے اور تفہیم کی گئی ہے کہ کسی کا مقدمہ ہے اور وہ مجھے گواہ بنانا چاہتا ہے یہ تمام مراتب میاں نوراحمد کو قبل از ظہور پیشگوئی سنائے گئے اس دن حافظ نور احمد امرت سر جانے کو تیار تھا بارش ہوئی اور وہ روک لیا گیا ۔ شام کو اس کے روبرو رجب علی نام اڈیٹر مطبع سفیر ہند کا امرتسر سے خط آیا اور ساتھ ہی ایک سمن شہادت میرے نام آیا جس سے معلوم ہوا کہ پادری رجب علی نے مجھے اپنا گواہ لکھوایا ہے۔ اور دعوئی صحیح تھا اور میری شہادت موجب تباہی مدعا علیہ تھی یہی معنے | یہ پیشگوئی فجر کو بیان کی گئی اور تیسرے پہر پوری ہوگئی |
| زندہ گواہ رویت کے | دن روپیہ ضرور آئیگا اور اس دن کسی مجبوری سے امرتسر بھی جانا پڑے گا کیا ایسی پیشگوئیوں پر انسان بھی قادر ہو سکتا ہے اور اس سے زبردست اور کیا ثبوت ہوگا کہ آریہ جو دین کے پکے دشمن ہیں اس پیشگوئی کے گواہ ہیں۔ منجملہ ان کے لالہ شرمپت اور لالہ ملاوامل ساکنان قادیان جواب تک زندہ موجود ہیں اس نشان سے خوب واقف ہیں ان کے لئے بڑی مصیبت ہے کہ اسلام کی گواہی دیں لیکن اگر یہ مقام براہین احمدیہ کا ان کو دکھلایا جاوے اور ان کی اولاد کی ان کو قسم دی جاوے کیونکہ ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کا خوف نہیں تو ممکن نہیں کہ جھوٹ بولیں کیا دعا قبول ہو کر پھر خدا کا پیشگوئی کرنا اور اپنی تائید دکھلانا اور امرتسر جانے کا نشان ساتھ رکھنا یہ معجزہ نہیں۔ اور پیشگوئی نمبر ۱۷ کا حافظ نور احمد اور حافظ حامد علی وغیرہ گواہ ہیں۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۱۷ | اس الہام کے تھے کہ ھذا شاهد نزاغ سو اس طرح پر حافظ نور احمد امرتسری نے جو ہمارے مخالف تھا پیشگوئی کو سن بھی لیا اور پھر اس کو پورے ہوتے دیکھ بھی لیا۔ مذکورہ بالا آریہ جو میرے پاس ہر روز آتے تھے وہ بھی اس بات کے گواہ ہیں میرے ملازم اور متعلقین بھی گواہ ہیں اب دیکھو کہ علم غیب تو خاصہ خدا ہے اگر یہ الہامات خدا کی طرف سے نہیں تو کیا نعوذ باللہ شیطان ایسے صاف اور صریح غیب پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(الجن: ۲۷و۲۸) یعنی صاف اور صریح غیب محض برگزیدہ رسولوں کو دیا جاتا ہے اگر کوئی ان بیانات کو جھوٹا سمجھتا ہے تو اُسے سمجھنا چاہئے کہ ۲۰ برس کے یہ الہامات شائع ہیں اور کتاب میں گواہوں کے نام درج ہیں مگر کسی نے تکذیب شائع نہ کی اور انسان جھوٹ پر صبر نہیں کر سکتا اور اب بھی اکثر گواہ زندہ ہیں اور اگر اب بھی تسلی نہیں تو ایسے مکذب کو اختیار ہے کہ لعنة اللہ علی الکاذبین سے ہی فیصلہ کرلے۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۱۸ | ۱۸۸۲ و ۱۸۸۰ء | ایک دفعہ فجر کے وقت الہام ہوا کہ آج حاجی ارباب محمد لشکر خان کے قرابتی کا روپیہ آتا ہے چنانچہ میں نے شرمپت اور ملاوامل مذکور بالا آریوں کو یہ پیشگوئی بتلائی مگر اُن آریوں نے اس بات پر ضد کی کہ انہیں میں سے | |
| زندہ گواہ رویت کے | براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۷۴ و ۴۷۵ میں یہ ہر دو پیشگوئیاں الفاظ مذکورہ بالا کی موجود ہیں وہ ہر دو آریہ مخالف دین اور ہندو ہیں اب تک زندہ موجود ہیں دشمن دین ہیں قسم کے ساتھ جھوٹ نہیں بولیں گے ۔ پس دیکھو خوارق اور معجزات اس کو کہتے ہیں جس کے دشمن گواہ ہوں ۔ ایسا ہی | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس کی خارق عادت پیشگویاں جو ظہور میں آچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۱۸ | کوئی ڈاکخانہ میں جائے تا معلوم کرے کہ اسی دن کسی ایسے شخص کی طرف سے کوئی روپیہ آیا ہے یا نہیں چنانچہ ملاوامل آریہ اس کام کے لئے گیا اور ایک خط لایا جس میں لکھا تھا کہ مبلغ دس روپیہ ارباب سرور خان نے بھیجے ہیں مگر آریوں نے اس بات سے انکار کیا کہ سرور خان کو محمد لشکر خان کا کوئی قرابتی سمجھا جائے۔ ناچار منشی الہی بخش اکونٹنٹ مصنف عصائے موسیٰ جو ہوتی مردان میں تھے ان کو خط لکھنا پڑا کہ اس جگہ یہ بحث در پیش ہے اور دریافت طلب یہ امر ہے کہ سرور خان کی محمد لشکر خان سے کچھ قرابت ہے یا نہیں۔ ہوتی مردان سے منشی الہی بخش صاحب نے لکھا کہ سرور خان ارباب لشکر خان کا بیٹا ہے اور آریہ لا جواب ہو گئے ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۴۷۴ و صفحہ ۴۷۵۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۱۹ | ۸۰ و ۱۸۸۲ء | جس کے زمانہ میں براہین چھپ رہی تھی روپیہ کی آمدن میں قدم قدم پر تنگی تھی۔ کوئی جماعت نہ تھی جن سے چندہ لیا جائے اس لئے مدت تک مسودہ کتاب کا معطل پڑا رہا اور الہامات تسلی دیتے | اسی زمانہ میں بعد طاعون کے |
| بقیہ گواہان رویت نمبر ۱۸ | منشی الہی بخش صاحب مصنف عصائے موسیٰ دشمنوں میں سے ہیں مگر ان کو بھی قسم سے سچ بولنا پڑے گا۔ علاوہ اس کے یہ پیشگوئی بیس برس کی ہے اگر اس میں کوئی امر خلاف واقعہ ہوتا تو آریہ باوجود اس قدر مذہبی عداوت کے اس پر صبر نہیں کر سکتے تھے ضرور اس کا ردّ قسم کے ساتھ شائع کرتے کہ یہ امور خلاف واقعہ ہیں۔ اور پیشگوئی نمبر ۱۹ کے گواہ اول تو براہین احمدیہ ہے جس میں یہ پیشگوئی لکھی گئی پھر اس زمانہ |
||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس کی خارق عادت پیشگوئیاں جو ظہور میں آچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۱۹ | تھے کہ یہ تمام کام ہو جائیں گے اور ایک جماعت بھی ہو جائے گی چنانچہ منجملہ ان کے بعض انگریزی الہامات ہیں اور میں انگریزی نہیں جانتا ۔ اس کو چہ سے بالکل نا واقف ہوں ایک فقرہ تک مجھے معلوم نہیں مگر خارق عادت طور پر مندرجہ ذیل الہامات ہوئے ۔ آئی لو یو۔ آئی ایم وڈ یو۔ آئی شیل ہیلپ یو ۔ آئی کین ویٹ آئی ول ڈو۔ وی کین ویٹ وی ول ڈو۔ صفحہ ۴۸۰ و ۴۸۱ گاڈ از کمنگ بائی ہز آرمی ۔ صفحہ ۴۸۴ ۔ ہی از وڈ یوٹو کل اینیمی صفحہ ۴۸۴ ۔ دی ڈیز شل کم دین گاڈ شیل ہیلپ یو گلوری بی ٹو دس لارڈ ۔ گارڈ میکر اوف ارتھ اینڈ ہون ۔ صفحہ ۵۲۲ ۔ دوہ آل مین شڈ بی اینگری بٹ گاڈ از وڈ یو ہی شیل ہیلپ یو۔ وارڈس آف گاڈ کین ناٹ ایکس چینج صفحہ ۵۵۴ ۔ آئی لو یو۔ آئی شیل گو یو لارج پارٹی آف اسلام صفحہ ۵۵۶ ۔ دیکھو صفحات مذکورہ براہین احمدیہ۔ ترجمہ۔ میں تم سے محبت رکھتا ہوں ۔ میں تمہارے ساتھ ہوں ۔ میں تمہاری مدد کروں گا۔ میں کر سکتا ہوں جو چاہوں گا ۔ ہم کر سکتے ہیں جو چاہیں گے۔ خدا ایک لشکر لے کر چلا آتا ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہے تا تمہارے دشمن کو ہلاک کرے۔ یعنی اس کو مغلوب و مخذول کرے | ||
| بقیہ گواہان رویت نمبر ۱۹ | اور براہین کے زمانہ کو پیش نظر رکھ کر ہر ایک عاقل سوچ سکتا ہے کہ براہین کے وقت میں کیا حالت تھی اور بعد میں کیا حالت ہوئی اور جیسا کہ ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں یہ پیشگوئیاں جن میں یہ ذکر ہے کہ میں اس سلسلہ کو ایک بڑی قوم بناؤں گا۔ ان کا ۱۹۰۱ء و ۱۹۰۲ء میں پورا ہو جانا اظہر من الشمس ہے اول یہ بات ظاہر ہے کہ جس زمانہ میں براہین احمدیہ میں یہ پیشگوئیاں لکھی گئی ہیں کہ یہ ایک بڑی جماعت بنائی جائیگی ۔ اس | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس کی خارق پیشگوئیاں جو ظہور میں آ چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۱۹ | وہ دن آتے ہیں کہ خدا تمہاری مدد کرے گا خدائے ذوالجلال آفرینندہ زمین و آسمان ۔ اگر تمام آدمی تم سے ناراض ہو جائیں گے مگر خدا تمہارے ساتھ رہے گا۔ وہ انجام کار تمہاری مدد کرے گا۔ خدا کی باتیں بدل نہیں سکتیں ۔ میں ایک بھاری جماعت اسلام کی تمہیں دوں گا اور میں تم سے محبت رکھتا ہوں ۔ اب دیکھو جس زمانہ میں یہ انگریزی الہام ہوئے تھے کیسی گمنامی اور کس مپرس کا زمانہ تھا اور آج وہ تمام وعدے پورے ہو گئے اور اس زمانہ میں جماعت کا وعدہ ہوا جب کہ میرے ساتھ ایک بھی نہ تھا اور اب یہ جماعت ستر ہزار سے بھی کچھ زیادہ ہے اور انگریزی الہام میں یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تمام آدمی تم سے ناراض ہو جائیں گے مگر خدا تمہارے ساتھ رہے گا اور وہ انجام کار تمہارا مددگار ہوگا ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کا ایک خاص فضل تمہارے شامل حال ہے جو محبین اور محبوبین کے شامل حال ہوا کرتا ہے۔ بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ دنیا میں تین قسم کے کام کیا کرتا ہے (۱) خدائی کی حیثیت سے (۲) دوسری دوست کی حیثیت سے (۳) تیسرے دشمن کی حیثیت سے۔ جو کام عام مخلوقات سے ہوتے ہیں وہ محض خدائی حیثیت سے ہوتے ہیں۔ اور جو کام محبین اور محبوبین سے ہوتے ہیں وہ نہ صرف خدائی حیثیت سے |
||
| بقیہ گواہان رویت نمبر ۱۹ | وقت جماعت کا نام و نشان نہ تھا جیسا کہ خود براہین احمدیہ میں بار بار اس کا ذکر ہے۔ اور یہ دعا بھی ہے رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَ أَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ ۔ یعنی اے میرے خدا مجھے اکیلا مت چھوڑ یو اور تو بہتر وارث ہے۔ ماسوا اس کے کون پنجاب یا ہندوستان سے دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ براہین احمدیہ کے | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس کی خارق عادت پیشگوئیاں جو ظہور میں آچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۱۹ | بلکہ دوستی کی حیثیت کا رنگ ان پر غالب ہوتا ہے اور صریح دنیا کو محسوس ہوتا ہے کہ خدا اس شخص کی دوستانہ طور پر حمایت کر رہا ہے ۔ اور جو کام دشمنوں کی حیثیت سے ہوتے ہیں ان کے ساتھ ایک موذی عذاب ہوتا ہے اور ایسے نشان ظاہر ہوتے ہیں جن سے صریح دکھائی دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس قوم یا اس شخص سے دشمنی کر رہا ہے اور خدا جو اپنے دوست کے ساتھ کبھی یہ معاملہ کرتا ہے جو تمام دنیا کو اس کا دشمن بنا دیتا ہے اور کچھ مدت کے لئے ان کی زبانوں یا ان کے ہاتھوں کو اس پر مسلط کر دیتا ہے۔ یہ اس لئے خدائے غیور نہیں کرتا کہ اس اپنے دوست کو ہلاک کرنا چاہتا ہے یا بے عزت اور ذلیل کرنا چاہتا ہے بلکہ اس لئے کرتا ہے کہ تا دنیا کو اپنے نشان دکھاوے اور تا شوخ دیدہ مخالفوں کو معلوم ہو کہ انہوں نے دشمنی میں ناخنوں تک زور لگا کر نقصان کیا پہنچایا۔ | سنہ ۱۹۰۱ء و سنہ ۱۹۰۲ء میں کامل طور پر پیشگوئی پوری ہوئی | |
| پیشگوئی نمبر ۲۰ | ۸۰ و ۱۸۸۲ء | ثلة من الأولين وثلة من الآخرين صفحہ ۵۵۶۔ ترجمہ ۔ دو گروہ یعنی دو جماعتیں تمہیں عطا کی جاویں گی ایک وہ جماعت ہے جو نزول آفات | |
| بقیہ رویت گواہ نمبر ۱۹ | زمانہ میں مریدانہ طور پر مجھ سے کوئی تعلق رکھتا تھا بلکہ میرے روشناس بھی صرف چند آدمی ہی نکلیں گے اور خود گورنمنٹ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ قادیان میں میرے لئے کسی کی آمد ورفت نہ تھی ۔ اور پیشگوئی نمبر بیس کا ثبوت بھی براہین احمدیہ پر غور کرنے سے کھلتا ہے کیونکہ براہین احمدیہ جس میں یہ پیشگوئی ہے بتلا رہی ہے کہ براہین کا زمانہ تنہائی کا زمانہ تھا اور اب ہمارے سلسلہ میں ہزار ہا آدمی شامل ہیں ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس کی خارق عادت پیشگوئیاں جو ظہور میں آ چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۲۰ | سے پہلے قبول کرلے گی اور دوسری وہ جماعت ہے جو نشانوں کو دیکھ کر بکثرت جوق جوق سلسلہ بیعت میں داخل ہوگی ۔ اب بتلاؤ کہ کیا حسب اس پیشگوئی کے وقوع میں آگیا یا نہیں ایسی آنکھیں تو بند نہیں کرنی چاہئیں جیسا کہ اندھوں کی آنکھیں ہوتی ہیں ذرہ دریافت کرو خواہ سرکاری کاغذات دیکھ لو کہ کیا براہین احمدیہ کے وقت سات آدمی بھی تھے اور کیا اب ستر ہزار آدمی میرے ساتھ داخل بیعت ہیں یا نہیں یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں بلکہ تائید اور رحمت سے ملی ہوئی پیشگوئی ہے۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۲۱ | ۱۸۶۵ء | قریباً پندرہ برس پہلے براہین احمدیہ کی تالیف سے مجھے بذریعہ زیارت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں اطلاع دی گئی کہ میں ایک کتاب تالیف کروں گا اور اس کتاب کو مسلمانوں میں عام قبولیت کا مرتبہ حاصل ہو گا اور مخالف اس کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ چنانچہ پندرہ برس کے بعد براہین احمد یہ تالیف کی گئی اور اس میں یہ تمام تذکرہ موجود ہے۔ دیکھو براہین احمد یہ صفحہ ۲۴۸ و ۲۴۹ | پندرہ سال بعد ۱۸۸۰ء میں |
| پیشگوئی نمبر ۲۲ | ۱۸۶۸ء | شرمپت آریہ جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے اس کا بھائی بشمبر داس نامی اور ایک دوسرا شخص خوشحال نامی ایک مقدمہ میں دونوں قید ہو گئے تھے جب | چھ ماہ بعد |
| زندہ گواہ رویت کے | پیشگوئی نمبر ۲۰ کا ثبوت ہم لکھ چکے ہیں۔ اور پیشگوئی نمبر ۲۱ کا ثبوت وہ گواہ ہیں جن کے پاس یہ خواب بیان کی گئی تھی اور اب تک ان میں سے بعض زندہ ہیں اور نیز خود براہین احمد یہ بھی گواہ ہے کیونکہ جس قبولیت کی یہ رویا بشارت دیتی تھی جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۸ اور ۲۴۹ میں چھپ گئی ۔ چھپنے کے وقت اس قبولیت کا کوئی نشان ظاہر نہ تھا بلکہ مالی مشکلات پیش آئی تھی مگر ایک مدت کے بعد براہین احمدیہ کے لوگوں میں شہرت اور قبولیت پھیل گئی اور پیشگوئی نمبر ۲۲ اس تمام گاؤں میں ایک مشہور واقعہ ہے اور کئی مسلمان اس پیشگوئی پر اطلاع رکھتے ہیں مگر | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس کی خارق عادت پیشگوئیاں جو ظہور میں آ چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۲۲ | اپیل گذار شرمپت نے جیسا کہ اضطرار کے وقت ہندوؤں کا حال ہوا کرتا ہے مجھ سے دعا کی درخواست کی اور انجام دریافت کیا۔ تب دعا کرنے کے بعد رات کے وقت خدا تعالیٰ نے رویا میں کل حقیقت مقدمہ کی مجھ پر کھول دی اور ظاہر کیا کہ دعا اس طور پر قبول ہو گی کہ بشمبر داس کی نصف قید تخفیف کر دی جائے گی اور یوں ہوگا کہ اس مقدمہ کی مثل عدالت چیف کورٹ سے پھر ماتحت عدالت میں واپس آئے گی اور اس عدالت سے بشمبر داس کی قید صرف آدھی رہ جائے گی اور آدھی معاف کر دی جائے گی اور اس کا دوسرا رفیق خوشحال نامی پوری قید بھگت کر خلاصی پائے گا اور ایک دن بھی کم نہیں ہوگا اور وہ بھی بری نہیں ہوگا ۔ اسی وقت اس رویا سے بہت سے آدمیوں کو اطلاع دی گئی اور شرمپت کو بھی بلا کر اطلاع دی گئی اور آخر اسی طرح وقوع میں آیا جس طرح پیشگوئی کی گئی تھی ۔ دیکھو براہین احمد یہ صفحہ ۲۵۱۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۲۳ | ۱۸۶۸ء | مقدمہ مذکورہ بالا جس میں بشمبر داس قید ہوا تھا بصورت اپیل چیف کورٹ میں دائر کیا گیا تو بشمبر داس کے بھائی مسمّی دھنپت نے گاؤں میں آ کر مشہور کر دیا کہ ہماری اپیل منظور ہو گئی اور بشمبر داس بری ہو گیا ۔ یہ خبر عشاء کے وقت مشہور | دو ماہ بعد پوری ہوئی |
| بقیہ گواہان رویت نمبر ۲۲ | پیشگوئی نمبر ۲۲ ، پیشگوئی نمبر ۲۳ کی نسبت بشمبر داس کے حقیقی بھائی شرمپت کی گواہی کافی ہے جس نے مجھ سے دعا کرائی تھی اور جس کا نتیجہ نصف قید کی تخفیف ہوئی تھی شرمپت کو قبل از وقت خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر مقدمہ کا انجام میں نے بتلا دیا تھا کہ مثل واپس آگئی اور بشمبر داس کی نصف قید تخفیف کی جائے گی بری نہیں ہوگا ۔ اس قدر تخفیف دعا کا نتیجہ ہے۔ مگر خوشحال اس کا رفیق بالکل بری نہیں ہوگا ایک دن بھی اس کا کم نہیں ہوگا۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس کی خارق عادت پیشگوئیاں جو ظہور میں آ چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۲۳ | ہوئی اور اس وقت میں مسجد میں تھا اور چونکہ یہ صورت میری پیشگوئی کے مخالف تھی اس لئے سخت گھبراہٹ کا موجب ہوئی میں اس بیقراری میں تھا کہ عین سجدہ کے وقت میں مجھے الہام ہوا لا تخف انک انت الاعلیٰ یعنی کچھ خوف نہ کر تو ہی غالب ہے۔ آخر وہ خبر غلط ثابت ہوئی اور بشمبر داس کی قید تو تخفیف ہوئی مگر وہ بری نہ ہوا۔ دیکھو براہین احمد یہ صفحہ ۵۵۰۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۲۴ | ۱۸۶۸ء | ہمارا ایک مقدمہ تحصیل بٹالہ میں موروثی اسامیوں پر بابت درود درختوں کے تھا مجھے معلوم کرایا گیا کہ اس مقدمہ میں ڈگری ہوگی مگر حکم سنانے کے وقت فریق ثانی تو عدالت میں موجود تھا اور ہماری طرف سے اتفاقاً کوئی حاضر نہ تھا۔ شام کو فریق ثانی اور اس کے گواہوں نے جو قریب پندرہ آدمی کے تھے بازار میں آکر بیان کیا کہ مقدمہ خارج ہو گیا۔ شرمپت اور دیگر آریہ لوگوں کو جو میں نے یہ پیشگوئی سنائی تھی وہ بہت خوش ہوئے کہ آج ہمارا ہاتھ پڑ گیا اور مجھے سخت اضطراب ہوا اس لئے کہ بیان کرنے والے پندرہ آدمی ہیں۔ عصر کا وقت تھا اور میں مسجد میں اکیلا تھا اور کوئی نہ تھا اتنے میں ایک آواز گونج کر آئی۔ میں نے خیال کیا کہ یہ باہر سے آواز ہے آواز کے یہ لفظ تھے کہ ڈگری ہو گئی مسلمان ہے یعنی تو کیوں باور نہیں کرتا | |
| زندہ گواہ رویت کے | پیشگوئی نمبر ۲۴ کے متعلق مثل دفتر سرکاری میں موجود ہے اور شرمپت وغیرہ آریہ گواہ ہیں ۔ حاکم مجوز نے جس کا نام حافظ ہدایت علی تھا صرف مدعا علیہ کے بیان پر کہ ہمیں حسب فیصلہ صاحب کمشنر درخت کاٹ لینے کا حق حاصل ہے، مقدمہ کو خارج کر دیا اور مدعا علیہ کو حکم سنا کر معہ اس کے گواہوں کے رخصت کر دیا۔ اس پر انہوں نے گاؤں میں آکر مشہور کر دیا کہ مقدمہ خارج ہو گیا ہے لیکن جب وہ عدالت کے کمرہ سے نکل گئے تو اس وقت مثل خوان نے جو اتفاقاً باہر گیا ہوا تھا حاکم کو کہا کہ آپ نے اس مقدمہ میں دھوکا کھایا ہے اور جو فریق ثانی نے نقل رو بکار صاحب کمشنر پیش | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس کی خارق عادت پیشگوئیاں جو ظہور میں آ چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۲۴ | کیا خدا سے کوئی زیادہ معتبر ہے آخر یہی سچ نکلا کہ ڈگری ہو گئی تھی اور اُس فریق کو دھوکا لگا تھا۔ دیکھو براہین احمد یہ صفحہ ۵۵۲ | ||
| پیشگوئی نمبر ۲۵ | ۸۲ و ۱۸۸۰ء | میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا ۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا الفتنة ههنا فاصبر کما صبر اولو العزم (یعنی انہیں ایام میں ایک فتنہ ہوگا پس تو اولوالعزم رسولوں کی طرح صبر کر☆) یہ پیشگوئی لیکھرام کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے کیونکہ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ میں تجھے قدرت نمائی سے اٹھاؤں گا چنانچہ آتھم کی نسبت شور و ہنگامہ کے بعد لیکھرام والی پیشگوئی ایسے شوکت اور ہیبت کے ساتھ پوری ہوئی کہ تمام دشمنوں کے منہ کالے ہو گئے اور مجھ کو انہوں نے گرانا چاہا تھا خدا نے اپنے ہاتھ سے مجھے اٹھایا اور ایک چمکتا ہوا نشان دکھلا دیا اور لیکھرام کے متعلق جو پیشگوئی ظہور میں آئی وہ در حقیقت خدا کی ایک چمکار تھی گویا خدا اپنے رسول کے لئے خود اتر کر لڑا۔ اور اس پیشگوئی کے بعد بد قسمت آریوں کی دشمنی بڑھ گئی یہاں تک کہ انہوں نے اس نادان برہمن کے مرنے کے بعد ہمارے گھر کی تلاشی بھی کرائی۔ اسی کی طرف پیشگوئی میں بھی اشارہ ہے کہ فرمایا | پندرہ برس کے بعد |
| بقیہ رویت گواہ نمبر ۲۴ | کی ہے وہ حکم تو فنانشل صاحب کے حکم سے منسوخ ہو چکا ہے اور اس نے روبکار دکھلا دی ۔ تب ہدایت علی کی عقل نے چکر کھایا اور اسی وقت اپنی رو بکار پھاڑ دی اور ڈگری کی ۔ یہ خدا کی قدرت کے نظارے ہیں ۔ پیشگوئی نمبر ۲۵ کا پورا ثبوت لیکھرام والی پیشگوئی میں ابھی آئے گا۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگویاں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۲۵ | ۸۲ و ۱۸۸۰ء | الفتنة ههنا فاصبر کما صبر اولو العزم ۔ دیکھو براہین احمد یہ صفحہ ۵۵۷۔ اور خدا تعالیٰ نے اس پیشگوئی میں دو امر کی خبر دی ہے (۱) اول یہ کہ دنیا سخت مقابلہ کرے گی اور کسی طرح قبول نہیں کرے گی اور وہ اپنی طرف سے زمین پر گرا دے گی اور جھوٹا ہونے کا الزام دے گی جیسا کہ آتھم کے شرطی میعاد کے بعد نادان مسلمانوں نے عیسائیوں کے ساتھ مل کر شور برپا کیا اور اپنے خیال میں گرا دیا اور خدا نے لیکھرام کو قتل کر کے گرنے کے بعد پھر اٹھایا (۲) دوسری یہ کہ خدا اس پیشگوئی میں وعدہ کرتا ہے کہ میں زور آور حملوں سے اس مرسل کی سچائی ظاہر کروں گا۔ سو وہی زور آور حملے ہیں کہ کھلے کھلے نشان ظاہر ہو رہے ہیں اور دشمن خود بخود مر رہے ہیں۔ قوم کے دشمنوں نے اس نور کو بجھانے کے لئے ناخنوں تک زور لگائے مگر یہ جماعت جو اول صرف دو تین آدمی تھے اب ستر ہزار تک پہنچ گئی اور خدا کے قہر کے ہاتھ نے سرغنہ مخالفوں کے پانچ حصوں میں سے تین حصے دنیا پر سے اٹھا لئے۔ اسمعیل مولوی علیگڑھ جس نے کہا تھا کہ ہم دونوں میں سے (یعنی وہ اور میں ) جو شخص جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ چنانچہ خود وہ پہلے مر گیا اور غلام دستگیر قصوری نے اپنی کتاب فتح رحمانی میں مجھے جھوٹا قرار دے کر خدا تعالیٰ سے جھوٹے کی موت چاہی سو وہ اس مباہلہ کو شائع کر کے پھر زندہ نہ رہ سکا اور چند ہی روز میں فوت ہو گیا۔ دیکھو کتاب فتح رحمانی صفحہ ۲۶ و ۲۷ | |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۲۵ | اس پیشگوئی کا ثبوت ظاہر ہے کیونکہ خدا نے لیکھر ام کو مار کر ثابت کر دیا کہ اس کا یہ بندہ اس کی طرف سے ہے۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۲۵ | اور محی الدین لکھو کے والے نے بھی اسی مضمون کا الہام شائع کیا یعنی یہ الہام شائع کیا کہ مرزا صاحب فرعون مگر جیسا کہ الحکم ۲۴ جولائی ۱۹۰۱ء کے صفحہ ۵ دوسرے کالم میں شائع ہو چکا ہے میری پیشگوئی کے مطابق وہ فوت ہو گیا ۔ ایسا ہی رشید احمد گنگوہی اپنے اشتہار کے بعد اندھا ہو گیا۔ شاہدین مخالف لدھانوی دیوانہ ہو گیا اور محمد حسن بھیں میرے مقابلہ اعجاز المسیح پر یہ کلمہ لکھتے ہی کہ لعنت اللہ علی الکاذبین اپنے منہ کی لعنت سے ہی پکڑا گیا اور مر گیا۔ ایسا ہی لدھانہ کے تین مولوی بھی یعنی عبداللہ ۔ عبدالعزیز ۔ محمد وہ تینوں میرے مقابل پر گندے اشتہار لکھنے کے بعد مر گئے ۔ یہ خدا کے زور آور حملے ہیں جن سے سچائی ظاہر ہے اور انہی پر ختم نہیں ابھی اور حملے بھی ہیں آسمان نہیں تھکے گا جب تک زمین اپنی شوخیاں نہیں چھوڑتی ۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۲۶ | ۸۲ و ۱۸۸۰ء | اشکر نعمتی رئیت خدیجتی ۔ براہین احمد یہ صفحہ ۵۵۸۔ ترجمہ۔ میرا شکر کر کہ تو نے میری خدیجہ کو پایا۔ یہ ایک بشارت کئی سال پہلے اس نکاح کی طرف تھی جو سادات کے گھر میں دہلی میں ہوا جس سے بفضلہ تعالیٰ چار لڑکے پیدا ہوئے اور خدیجہ اس لئے میری بیوی کا نام رکھا کہ وہ ایک مبارک نسل | ایک برس بعد |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۲۶ | پیشگوئی نمبر ۲۵ پر تو ایک دنیا گواہ ہے کہ پہلے کیا تھا اور پھر کیا ہو گیا ۔ اور پیشگوئی نمبر ۲۶ یعنی شادی کے معاملے میں جو آج سے اٹھارہ برس ہوئے دہلی میں ہوئی تھی آریہ شرمپت اور ملا وامل اور اکثر دوست گواہ ہیں کہ ان کو اس پیشگوئی کی پہلے خبر دی گئی تھی ۔ اس شادی کے متعلق تین الہام تھے ۔ ایک یہی کہ جو براہین احمد یہ میں صفحہ ۵۵۸ میں درج ہو گیا ۔ دوسرا الہام تھا | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۲۶ | کی ماں ہے جیسا کہ اس جگہ بھی مبارک نسل کا وعدہ تھا اور نیز یہ اس طرف اشارہ تھا کہ وہ بیوی سادات کی قوم میں سے ہو گی اسی کے مطابق دوسرا الہام ہے اور وہ یہ ہے الحمد للہ الذی جعل لكم الصهر والنسب یعنی وہ خدا جس نے با عتبار رشتہ دامادی اور باعتبار نسب تمہیں عزت بخشی ۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۲۷ | ۸۲ و ۱۸۸۰ء | مبارک و مبارک و کل امرٍ مبارک یجعل فیه. ومن دخله کان آمِنًا ۔ براہین احمد یہ صفحہ ۵۵۹ ۔ ترجمہ ۔ یہ مسجد برکت دی گئی ہے اور برکت دینے والی ہے اور ہر ایک کام جو برکت دیا گیا ہے وہ اس میں کیا جائے گا۔ اور جو اس میں داخل ہو وہ امن میں آجائے گا۔ اس الہام میں تین قسم کے نشان ہیں (۱) اوّل یہ کہ اس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مادہ تاریخ بنائے مسجد ہے (۲) دوم یہ کہ یہ پیشگوئی بتلا رہی ہے کہ ایک بڑے سلسلہ کے کاروبار اسی مسجد میں ہوں گے چنانچہ اب تک اسی مسجد میں بیٹھ کر ہزار ہا آدمی بیعت توبہ کر چکے ہیں اسی میں بیٹھ کر صد ہا معارف بیان کیے جاتے ہیں اور اسی میں بیٹھ کر کتب جدیدہ کی تالیف کی بنیاد پڑتی ہے اور اسی میں ایک گروہ کثیر مسلمانوں کا پنج وقت نماز پڑھتا ہے اور وعظ سنتے ہیں اور دلی سوز سے دعائیں کی جاتی ہیں اور بنائے مسجد کے وقت | طاعون کے زمانہ کے قریب |
| بقیہ زندہ گواہ رویت نمبر ۲۶ | الحمد للہ الذی جعل لكم الصهر والنسب ۔ تیسرا الہام تھا بکر و ثیب یعنی تمہارے لئے مقدر ایک بکر ہے اور ایک بیوہ ۔ یہ الہام بخوبی یاد ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب کو میں نے بمقام بٹالہ انہی کے مکان پر سنایا تھا اتفاقاً انہوں نے دریافت کیا تھا کہ کوئی تازہ الہام ہے تب میں نے سنا دیا تھا۔ اور پیشگوئی نمبر ۲۷ کے مطابق پچاس ہزار سے بھی زیادہ اب تک اس مسجد میں نماز پڑھ چکے ہیں اور ان کو خدا نے طاعون اور ہر یک وبا سے بچایا ہے۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۲۷ | میں ان باتوں میں سے کسی بات کی علامت موجود نہ تھی (۳) سوم یہ کہ یہ الہام دلالت کر رہا ہے کہ آئندہ زمانہ میں کوئی آفت آنے والی ہے۔ اور جو شخص اخلاص کے ساتھ اس میں داخل ہو گا وہ اس آفت سے بچ جاوے گا اور براہین احمد یہ کے دوسرے مقامات سے ثابت ہو چکا ہے کہ وہ آفت طاعون ہے سو یہ پیشگوئی بھی اس سے نکلتی ہے کہ جو شخص پوری ارادت اور اخلاص سے جس کو خدا پسند کر لیوے اس مسجد میں داخل ہو گا وہ طاعون سے بھی بچایا جائے گا یعنی طاعونی موت سے ۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۲۸ | ۸۲ و ۱۸۸۰ء | یُرِیدُونَ اَنْ یُطْفِئُوا نُورَ اللہِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللہُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ کَرِهَ الْکَافِرُونَ . دیکھو براہین احمد یہ صفحہ ۲۴۰۔ ترجمہ۔ مخالف لوگ ارادہ کریں گے کہ خدا کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھاویں۔ یعنی بہت سے مکر کام میں لاویں گے۔ مگر خدا اپنے نور کو کمال تک پہنچائے گا اگر چہ کافر لوگ کراہت ہی کریں ۔ یہ اُس زمانہ کی پیشگوئی ہے کہ جب کہ اس سلسلہ کے مقابل پر مخالفوں کو کچھ جوش اور اشتعال نہ تھا اور پھر اس پیشگوئی سے دینا برس بعد وہ جوش دکھلایا کہ انتہا تک پہنچ گیا یعنی تکفیر نامہ لکھا گیا قتل کے فتوے لکھے گئے اور صدہا کتابیں اور رسالے چھاپ دئے گئے | چار برس ہوئے کہ یہ پیشگوئی پوری ہوئی |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۲۸ | پیشگوئی نمبر ۲۷ کا ثبوت بیان ہو چکا اور پیشگوئی نمبر ۲۸ کا ثبوت خود ظاہر ہے کہ مخالف مولویوں نے اس سلسلہ کی بیخ کنی کے لئے ناخنوں تک زور لگایا مگر یہ سلسلہ آخر ترقی کر گیا۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۲۸ | اور قریباً تمام مولوی مخالف ہو گئے اور کوئی ذلیل سے ذلیل منصوبہ نہ چھوڑا جو میرے تباہ کرنے کے لئے نہ کیا گیا مگر نتیجہ برعکس ہوا اور یہ سلسلہ فوق العادت ترقی کر گیا۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۲۹ | ۸۲ و ۱۸۸۰ء | وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَهُودُ وَ لَا النَّصَارٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ وَخَرَقُوا لَهُ بَنِینَ وَبَنَاتٍ بِغَیْرِ عِلْمٍ قُلْ هُوَ اللہُ اَحَد اَللہُ الصَّمَد لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُوًا اَحَد . وَیَمْکُرُونَ وَیَمْکُرُ اللہُ وَاللہُ خَیْرُ الْمَاکِرِینَ اَلْفِتْنَةُ هَهُنَا فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُو الْعَزْمِ. دیکھو براہین احمد یہ صفحہ ۲۴۱ ترجمہ ۔ یعنی پادری صفت عیسائی جو اپنے زعم میں عیسائیت کے ناصر ہیں اور یہودی صفت مسلمان جو اپنے زعم میں یہودیوں کی طرح عامل بالحدیث ہیں ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک تو ان کے مذہب میں داخل نہ ہو۔ کہہ وہ خدا ایک ہے۔ اور بے نیاز ہے۔ نہ وہ کسی کا بیٹا ہے نہ کوئی اس کا بیٹا اور یہ لوگ باہم مل کر کچھ مکر کریں گے اور خدا بھی مکر کرے گا اور خدا بہتر مکر کرنے والا ہے۔ اور اس وقت تیرے لئے ایک فتنہ برپا ہوگا سو صبر کر جیسا کہ اولوالعزم نبیوں نے صبر کیا ہے۔ یہ پیشگوئی اس فتنہ کے متعلق ہے کہ جو عیسائیوں اور مسلمانوں نے اول آتھم کے وقت کیا۔ اور پھر کلارک کے دعویٰ اقدام قتل کے وقت کیا اور | |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۲۹ | براہین احمد یہ کے صفحہ ۲۴۱ میں مجھے مخاطب کر کے یہ پیشگوئی موجود ہے کہ پادری اور یہودی صفت مسلمان مل کر کوئی مکر کریں گے اور تم پر ایک فتنہ برپا کریں گے مگر خدا اصلیت ظاہر کر دے گا سو اول آتھم کے مقدمہ میں ایسا ہی ہوا کہ ان لوگوں نے مل کر پیشگوئی کو جھوٹی قرار دینا چاہا مگر خدا نے اس کی سچائی ظاہر کر دی۔ آتھم نے پیشگوئی کی شرط کے موافق دجال کہنے سے عین مجمع میں رجوع کیا اور بہت سا ہراساں اور خائف ہوا۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۲۹ | کلارک کے مقدمہ میں سب نے اتفاق کر لیا اور ممکن ہے کہ کوئی اور فتنہ بھی ان لوگوں کے ہاتھ سے مقدر ہو کیونکہ ان کا جوش ابھی کم نہیں ہے ۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۳۰ | ۸۲ و ۱۸۸۰ء | ان لم یعصمک الناس فیعصمک اللہ من عنده. یعصمک اللہ من عنده و ان لم یعصمک الناس ۔ دیکھو براہین احمد یہ صفحہ ۵۱۰۔ ترجمہ۔ اگر چہ لوگ تجھے نہ بچاویں یعنی تباہ کرنے میں کوشش کریں مگر خدا اپنے پاس سے اسباب پیدا کر کے تجھے بچائے گا۔ خدا تجھے ضرور بچا لے گا اگر چہ لوگ بچانا نہ چاہیں ۔ اب دیکھو کہ یہ کس قوت اور شان کی پیشگوئی ہے اور بچانے کے لئے مکر وعدہ کیا گیا ہے اور اس میں صاف وعدہ کیا گیا ہے کہ لوگ تیرے تباہ اور ہلاک کرنے کے لئے کوشش کریں گے اور طرح طرح کے منصوبے تراشیں گے مگر خدا تیرے ساتھ ہوگا اور وہ ان منصوبوں کو توڑ دے گا اور تجھے بچائے گا۔ اب سوچو کہ کونسا منصوبہ ہے جو نہیں کیا گیا بلکہ میرے تباہ کرنے اور ہلاک کرنے کے لئے طرح طرح کے مکر کئے گئے چنانچہ خون کے مقدمے بنائے گئے بے آبرو کرنے کے لئے بہت جوڑ توڑ عمل میں لائے گئے اور ٹکس لگانے کے لئے منصوبے کئے گئے کفر کے فتوے لکھے گئے، قتل کے فتوے لکھے گئے لیکن خدا نے سب کو نا مراد رکھا۔ وہ اپنے کسی فریب میں کامیاب نہ ہوئے۔ پس اس قدر زور کا طوفان جو بعد میں آیا | ۱۸۹۲ء کے بعد |
| بقیہ زندہ گواہ رویت نمبر ۲۹ | جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا اور پھر با وجود وعدہ چار ہزار روپیہ کے انعام کے جو قسم کھانے پر ہماری طرف سے تھا قسم نہیں کھائی اور پھر پیشگوئی کے مفہوم کے مطابق میری زندگی میں ہی مر گیا اور پیشگوئی کا خلاصہ یہی تھا کہ فریقین میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا سو مدت ہوئی کہ وہ اس جہان سے گزر گیا اور اس بات پر مہر لگا گیا کہ وہ مباحثہ میں جھوٹا تھا (۲) دوسرا مکر پادریوں اور مسلمانوں کا یہ تھا کہ ڈاکٹر کلارک نے ایک جھوٹا مقدمہ میرے اقدام | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۳۰ | مدت دراز پہلے خدا نے اس کی خبر دے دی تھی خدا سے ڈرو اور سچ بولو کہ کیا یہ علم غیب اور تائید الہی ہے یا نہیں اور اگر کہو کہ عصمت کا وعدہ چاہتا تھا کہ وہ لوگ کسی قسم کی تکلیف نہ دیں مگر انہوں نے جھوٹے مقدمات کر کے عدالت میں جانے کی تکلیف دی بہت سی گالیاں دیں مقدمات کے خرچ سے نقصان کرایا اس کا جواب یہ ہے کہ عصمت سے مراد یہ ہے کہ بڑی آفتوں سے جو دشمنوں کا اصل مقصود تھا بچایا جاوے۔ دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی عصمت کا وعدہ کیا گیا تھا حالانکہ اُحد کی لڑائی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت زخم پہنچے تھے اور یہ حادثہ وعدہ عصمت کے بعد ظہور میں آیا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو فرمایا تھا وَاِذۡ کَفَفۡتُ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ عَنۡکَا یعنی یاد کر وہ زمانہ کہ جب بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے میں نے تجھ سے روک دیا حالانکہ تواتر قومی سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح کو یہودیوں نے گرفتار کر لیا تھا اور صلیب پر کھینچ دیا تھا لیکن خدا نے آخر جان بچادی۔ پس یہی معنے اِذْ کَفَفْتُ کے ہیں جیسا کہ وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ کے ہیں | ||
| بقیہ زندہ گواہ رویت نمبر ۲۹ | قتل کی نسبت دائر کیا اور تمام مخالف مسلمان اس کے حامی ہو گئے اور بعض مولویوں نے عدالت میں اس کی طرف سے میرے بر خلاف گواہی دی مگر آخر وہ مقدمہ جھوٹا ثابت ہوا اور خارج ہو گیا سو تم اس پیشگوئی کی شان دیکھو کہ ان مقدمات سے کئی سال پہلے خبر دی گئی کہ اس طرح پر پادری اور مسلمان باہم مل کر تیرے پر مقدمات کریں گے اور خدا ان کے مکر کو پاش پاش کر دے گا ایسا ہی ظہور میں آیا۔ اور پیشگوئی نمبر ۳۰ جو اوپر بیان ہو چکی ہے اس کا ثبوت بھی اسی سے ملتا ہے کہ دشمنوں نے خون کے مقدمات بھی کئے مگر خدا نے مجھے ان سے بھی بچایا۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۳۱ | ۸۲ و ۱۸۸۰ء | وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْ کَفَرَ اَوْقِدْلِیْ یَا هَامَانِ لَعَلِّیْ اَطَّلِعُ عَلٰی اِلٰهِ مُوْسٰی وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهُ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ۔ تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَهَبٍ وَّتَبَّ۔ مَا کَانَ لَهٗ اَنْ یَّدْخُلَ فِیْهَا اِلَّا خَائِفًا۔ وَمَا اَصَابَکَ فَمِنَ اللّٰهِ۔ اَلْفِتْنَةُ هٰهُنَا فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُو الْعَزْمِ اَلَآ اِنَّهَا فِتْنَةٌ مِّنَ اللّٰهِ۔ لِیُحِبَّ حُبًّا جَمًّا۔ حُبًّا مِنَ اللّٰہ العزیز الاکرم عَطَاءً ا غَیْر مجذوذ۔ شاتان تذبحان و کُلّ من علیها فان۔ ترجمہ۔ اور یاد کر وہ زمانہ جب کہ ایک ایسا شخص تجھ سے مکر کرے گا کہ جو تیری تکفیر کا بانی ہوگا اور اقرار کے بعد منکر ہو جائے گا (یعنی مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی) اور وہ اپنے رفیق کو کہے گا (یعنی مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی کو) کہ اے ہامان میرے لئے آگ بھڑ کا یعنی کافر بنانے کے لئے فتویٰ دے میں چاہتا ہوں کہ موسیٰ کے خدا کی تفتیش کروں اور میں گمان کرتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے۔ اس جگہ خدا تعالیٰ نے میرا نام موسیٰ رکھا تا اس بات کی طرف اشارہ کرے کہ جس نظر سے یعنی نہایت تحقیر اور استخفاف سے فرعون نے موسیٰ کو دیکھا تھا اور کہتا تھا کہ یہ میرا ہی پرورش یافتہ ہے اور میں ہی اس کو ہلاک کروں گا یہی طریق محمد حسین نے اختیار کیا اور نیز اس فتح کی طرف اشارہ ہے جو مقدر تھا کہ مجھے موسیٰ کی مانند فرعون پر حاصل ہو گی اور پھر مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرا کر تبّت یدا ابی لهب وتبّ فرمادیا یعنی | جب مولوی محمد حسین بٹالوی نے فتویٰ تکفیر میری نسبت شائع کیا اور نذیر حسین دہلوی نے فتویٰ دیا۔ |
| زندہ گواہ رویت کے نمبر ۳۱ | پیشگوئی نمبر ۳۱ کا ثبوت خود مولوی محمد حسین بٹالوی نے اپنے ہاتھ سے دیا کہ میرے لئے کفر نامہ لکھا اور کافر ٹھہرایا۔ پھر بعد اس کے بحکم حاکم تکذیب اور تکفیر سے روکا گیا۔ جیسا کہ پیشگوئی میں بیان تھا۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۳۱ | ہلاک ہو گئے دونوں ہاتھ ابی لہب کے یعنی بے کار ہو گئے اور وہ بھی ہلاک ہو گیا یعنی ضلالت کے گڑھے میں گرا اس کو نہیں چاہئے تھا کہ اس معاملہ میں دخل دیتا مگر ڈرتے ڈرتے ۔ اور جو کچھ تجھے دکھ پہنچے گا وہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے یہ تیرے لئے ایک فتنہ ہوگا ۔ پس صبر کر جیسا کہ اولوالعزم نبیوں نے صبر کیا وہ خدا کی طرف سے اس لئے فتنہ ہے تا وہ بہت ہی تجھ سے پیار کرے اس خدا کا پیار جو عزیز اور بزرگ ہے اور یہ وہ نعمت ہے جو کبھی نہیں چھینی جائے گی ۔ اس جماعت میں سے دو بکریاں ذبح کی جائیں گی ہر ایک جاندار آخر مرنے کو ہے۔ دیکھو اب اس پیشگوئی پر انصاف سے غور کرو کہ اس زمانہ سے پہلے کی یہ پیشگوئی ہے کہ جب مولوی محمد حسین نے براہین احمد یہ پر ریویو لکھا تھا اور یہ پیشگوئی بھی پڑھی تھی کیا بغیر خدا کے کسی کا کام ہے کہ اس پوشیدہ غیب کی خبر دیدے جس کی کسی کو بھی اطلاع نہیں تھی ۔ براہین احمد یہ صفحہ ۱۵۰۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۳۲ | ۶؍ فروری ۱۸۹۸ء | خدا نے عالم رویا میں اپنی وحی خاص سے میرے پر ظاہر کیا کہ پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگائے جا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بد شکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں میں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں انہوں نے جواب | |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۳۲ | پیشگوئی نمبر ۳۱ کا ثبوت گذر چکا ہے اور پیشگوئی نمبر ۳۲ کو ہم نے اپنے اشتہار ۶ فروری ۱۸۹۸ء اور ۱۷ مارچ ۱۹۰۱ء میں شائع کیا تھا جو بہت صفائی سے پوری ہو گئی۔ جب یہ پیشگوئی ۶ فروری ۱۸۹۸ء میں شائع ہوئی تب پنجاب میں صرف دو ضلع آلودہ تھے۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں میری تائید میں بیان فرمائیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۳۲ | دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے اور الہام ہوا کہ الامراض تشاع والنفوس تضاع انّ اللہ لا یغیّر ما بقوم حتّٰی یغیّروا ما بأنفسهم انّهٗ أوی القَرْیة یعنی یہ طاعون جو ملک میں شروع ہوگئی ہے یہ کبھی دور نہیں ہوگی اور یہ مرض پھیل جائے گی اور بہت موتیں ہوں گی اور کم نہیں ہوں گی جب تک لوگ اپنے اعمال کی اصلاح نہ کریں مگر اس قادر خدا نے قادیان کو متفرق اور منتشر ہونے سے بچالیا ہے یعنی قادیان پر ایسی تباہی نہیں آئے گی کہ اس قصبہ کو بکلی برباد کر دے اور فنا کر دے اور منتشر کر دے اور قادیان بکلی طاعون سے محفوظ بھی رہ سکتی ہے مگر بشرط توبہ یعنی اس شرط سے کہ تمام لوگ اپنی بد زبانیوں اور بداعمالیوں اور خباثتوں سے توبہ کر لیں۔ دیکھو اشتہار طاعون شائع کردہ ۶ فروری ۱۸۹۸ء و ۱۷ مارچ ۱۹۰۱ء ۔ یہ رویا اور الہام تھا کہ مجھے دکھایا گیا اور بتایا گیا اور پھر اشتہار ۶؍ فروری ۱۸۹۸ء سے اور ۴ برس کے بعد عام طور پر پنجاب میں طاعون پھیل گئی چنانچہ یکم اکتوبر ۱۹۰۱ء سے ۱۹ جولائی ۱۹۰۲ء تک عرصہ پونے دس ماہ میں اس قدر پھیل گئی کہ کل ۲۳ اضلاع پنجاب کے اس سے آلودہ ہو گئے ۔ دیکھو سرکاری نقشجات متعلقہ طاعون پنجاب ۔ پس یہ پیشگوئی ایسے وقت میں کی گئی تھی یعنی فروری ۱۸۹۸ء میں جبکہ تمام پنجاب میں صرف دو ضلعے طاعون سے آلودہ تھے۔ دیکھو اخبار عام ۲؍ اگست ۱۹۰۲ء جس میں یہ سرکاری شہادت درج ہے۔ | ||
| بقیہ زندہ گواہ رویت نمبر ۳۲ | مگر بعد اس کے پنجاب کے ۲۳ ضلعے اس مرض سے آلودہ ہو گئے اور پونے دس ماہ میں تین لاکھ سولہ ہزار کیس ہوئے اور دو لاکھ اٹھارہ ہزار سات سوننانوے فوتیاں ہوئیں۔ دیکھو سرکاری نقشجات ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں میری تائید میں بیان فرمائیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۳۳ | آج سے نو برس پہلے | اسی طرح اس زمانہ میں جب کہ بمبئی میں بھی طاعون کا نام و نشان نہ تھا طاعون کے آنے کے لئے دعا کی گئی اور وہ دعا منظور ہو گئی چنانچہ ۱۳۱۱ ہجری میں جس کو نو برس ہو گئے یہ دعائیہ شعر حمامة البشرىٰ میں موجود ہے۔
فَلَمَّا طَغَی الْفِسْقُ الْمُبِیْدُ بِسَیْلِهٖ تَمَنَّیْتُ لَوْ کَانَ الْوَبَاءُ الْمُتَبَّرُ |
چند سال کے بعد اول بمبئی میں طاعون پھوٹ پڑی |
| پیشگوئی نمبر ۳۴ | ۱۸۹۷ء | ایسا ہی طاعون کے بارے میں رسالہ سراج منیر صفحہ ۵۹ میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ جن لوگوں نے لیکھرام کے متعلق کی پیشگوئی کو قبول نہیں کیا تھا ان پر بھی طاعون کی بلا نازل ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوا الۡعِجۡلَ سَیَنَالُہُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَذِلَّۃٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَاا یعنی جنہوں نے گوسالہ کو عزت دی اور اس کی پرستش کی ان پر غضب آئے گا اور ذلت کی ماران پر پڑے گی سو دنیا میں غضب نازل ہونے سے مراد طاعون ہے اور اسی کتاب کے صفحہ ۶۰ میں طاعون کی نسبت یہ الہام بھی لکھا تھا یا مسیح الخلق عدوانا یعنی طاعون کے غلبہ کے وقت لوگ کہیں گے کہ اے مسیح ہماری شفاعت کر ۔ اور اس کتاب کے شائع کرنے پر آج سے جو ۱۸ جولائی ۱۹۰۲ء ہے پانچ برس گذر گئے | اس پیشگوئی سے چند سال بعد پنجاب میں طاعون پھیل گئی |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۳۳ و ۳۴ | ان دونوں پیشگوئیوں نمبر ۳۳ و ۳۴ کے ثبوت میں سرکاری نقشجات کافی ہیں جن کا ہم صفحہ ۱۵۳ و ۱۵۴ میں ذکر کر آئے ہیں۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۳۴ | اور اس زمانہ میں طاعون کے پھیلنے کی کچھ بھی امید نہ تھی پس دیکھو یہ کس قدر عظیم الشان غیب کی خبریں ہیں جو برابر بائیس برس سے مسلسل طور پر شائع ہو رہی ہیں اور متواتر خبر دی گئی کہ ملک میں طاعون آنے والی ہے۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۳۵ | محرم ۱۳۱۲ ہجری | عرصہ نو برس کا جاتا ہے کہ کتاب سر الخلافة کے صفحہ ۶۲ میں مخالفوں پر تباہی پڑنے اور نیز طاعون نازل ہونے کے لئے دعا کی گئی تھی سواب تک ہزار ہا مخالف طاعون اور دوسری آفات سے ہلاک اور تباہ ہو چکے ہیں اور وہ دعا یہ ہے۔
وخذ ربّ مَن عادى الصّلاح و مُفسدًا و نزّل علیه الرِجْز حقًّا و دَمِّرْ وَفَرِّجْ کُرُوْبِیْ یَا کَرِیْمِیْ وَ نَجِّنِیْ و مزّق خصیمی یا الٰهی و عَفِّرْ |
طاعون کے دنوں میں |
| زندہ گواہ رویت کے | پیشگوئی نمبر ۳۵ کے ثبوت کے لئے بھی سرکاری نقشجات کافی ہیں اور یہ پیشگوئی کتاب سر الخلافہ میں موجود ہے۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۳۵ | محمد بخش۳ طاعون سے مرا۔ تینوں مولوی لدھیانہ کے ہلاک کئے گئے۔ محمد حسن۷ بھیں ہلاک کیا گیا۔ غلام۸ دستگیر قصوری ہلاک کیا گیا۔ محی۹ الدین لکھو کے والا ہلاک کیا گیا۔ اور اصغر علی کی ایک آنکھ جاتی رہی اور مولوی محمد حسین عَفِّرْ کی دعا کے نیچے آگیا کیونکہ عَفَرَ لغت عرب میں خاک آلودہ کرنے کو کہتے ہیں ۔ سو وہ تکفیر کی جمعداری سے بحکم حاکم روکا گیا اور زمینداری کی گرد و غبار میں آلودہ کیا گیا کیونکہ خاک میں غلطاں پیچاں ہونا لوازم زمینداری میں سے ہے۔ وجہ یہ کہ ہر وقت خاک سے ہی کام پڑتا ہے۔ اس قدر تو وقوع میں آگیا ابھی معلوم نہیں کہ اس کا حصہ اور کس قدر باقی ہے۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۳۶ | ۱۳۱۱ھ | کتاب نور الحق کے صفحہ ۳۵ سے ۳۸ تک بذریعہ الہام الہی طاعون کی خبر دی گئی ہے جو چھ برس بعد ظہور میں آئی ۔ صفحہ ۳۵ میں یہ عبارت ہے ۔ اِعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ نَفَثَ فِیْ رَوْعِیْ اِنَّ هٰذَا الْخَسُوْفُ وَالْکُسُوْفُ فِیْ رَمَضَان اٰیَتَانِ مَخْوفتانِ لِقَوْمٍ اتّبَعُوا الشَّیْطَان ...... وَلَئِنْ اَبَوْا فَاِنَّ الْعَذَابَ قَدْ حَان. ترجمہ ۔ خدا نے اپنے الہام کے ساتھ میرے دل میں پھونکا ہے کہ خسوف کسوف ایک عذاب کا مقدمہ ہے یعنی طاعون کا جو قریب ہے۔ | طاعون کے دنوں میں |
| زندہ گواہ رویت کے | پیشگوئی نمبر ۳۵ کا ثبوت گذر چکا ہے وہی ثبوت پیشگوئی نمبر ۳۶ کا ہے۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۳۷ | ۱۸۸۳ء | پنڈت دیانند آریوں کے سرگروہ کی وفات کی خبر تین ماہ اس کے مرنے سے پہلے دی گئی اور لالہ شرمپت وغیرہ آریوں ساکنان قادیان کو وہ پیشگوئی سنائی گئی۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۳۵۔ یہ لوگ اگر حلف دی جاوے تو سچ سچ کہہ دیں گے۔ پنڈت دیانند کے مرنے پر ہمیں بہت افسوس ہوا اس لئے کہ وہ ہمارے چند سوالات کے جواب دینے سے پہلے ہی گزر گیا۔ ایک۱ یہ سوال تھا کہ اواگون یعنی شامت اعمال سے جون بدلنا یہاں تک کہ کیڑے مکوڑے کتے بلے بن جانا ۔ یہ تو بقول آریہ صاحبان کروڑ ہا برسوں سے ان کے گلے پڑا ہوا ہے لیکن باوجود یکہ وہ معدودے چند تھے غیر محدود نہ تھے اب تک نجات نہیں ہوئی۔ یا تو پر میشر نجات دینا نہیں چاہتا یا کوئی قاعدہ نجات کا وید میں مقرر نہیں اور ظاہر ہے کہ بغیر یقین کے انسان گناہ سے رک نہیں سکتا سو وید نے کوئی ذریعہ پر میشر پر یقین لانے کا پیش نہیں کیا اس لئے آریوں کے پاس خدا شناسی کا کوئی یقینی طریق نہیں پس شائد اسی وجہ سے کیڑوں مکوڑوں کی اب تک خلاصی نہیں ہوتی ایک تو یہی سوال تھا۔ دوسرا۲ یہ کہ آریہ کی عورت ایک ہی وقت میں ایک خاوند اور ایک اور شخص بطور یارانہ رکھ سکتی ہے۔ کیا یہ دیوّثی نہیں۔ تیسرا۳ یہ کہ اگر پر میشر روحوں کا پیدا کرنے والا نہیں اور روحیں کسی وقت گناہ سے نجات پاسکتی ہیں تو جیسا کہ وید کا اصول ہے دنیا کا سلسلہ ہمیشہ | ۳۰؍ اکتوبر ۱۸۸۳ء بیان پیشگوئی سے قریباً تین ماہ بعد |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۳۷ | اس پیشگوئی کا گواہ لالہ شرمپت آریہ اور چند مسلمان ہیں لیکن شرمپت کی گواہی مضبوط ہے صرف قسم کی حاجت ہے۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں میری تائید میں بیان فرمائیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۳۷ | کے لئے چل نہیں سکتا اور پر میشر خالی ہاتھ رہ جاتا ہے کیونکہ جو شخص گناہ سے نجات پا گیا وہ تو پر میشر کے ہاتھ سے گیا اس لئے کہ اس کا کوئی گناہ نہیں رہا۔ لہذا وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آ سکتا اور اس سے وید کا یہ اصول جھوٹا ہوتا ہے کہ روحیں بار بار دنیا میں آتی ہیں ۔ ان باتوں میں سے کسی بات کا جواب دیانند نے نہ دیا اور اجمیر میں جا کرنا مرادی کی حالت میں مر گیا۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۳۸ | ۸۲ و ۱۸۸۰ء | ایک دفعہ یہ وحی الہی میری زبان پر جاری ہوئی کہ عبداللہ خان ڈیرہ اسماعیل خان ۔ وہ صبح کا وقت تھا اور اتفاقاً چند ہندو اس وقت موجود تھے ۔ ان میں سے ایک ہندو کا نام بشند اس تھا میں نے سب کو اطلاع دی کہ خدا نے مجھے یہ سمجھایا ہے کہ آج اس نام کے ایک شخص کی طرف سے کچھ روپیہ آئے گا۔ بشند اس بول اٹھا کہ میں اس بات کا امتحان کروں گا اور میں ڈاکخانہ میں جاؤں گا۔ چونکہ قادیان میں ڈاک ان دنوں میں دو پہر کے بعد دو بجے آتی تھی وہ اسی وقت ڈاکخانہ میں گیا اور جواب لایا کہ ڈاک منشی کی زبانی معلوم ہوا کہ در حقیقت ڈیرہ اسماعیل خان سے ایک شخص عبداللہ خان نے جو اکسٹرا اسٹنٹ ہے روپیہ بھیجا ہے۔ اور پھر اس نے بہت متعجب اور حیرت زدہ ہو کر پوچھا کہ یہ کیونکر معلوم ہو گیا | |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۳۸ | اس پیشگوئی نمبر ۳۸ کا وہی بشند اس گواہ ہے جو ساکن قادیان ہے اور اب تک زندہ موجود ہے۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| میں نے جواب دیا کہ وہ خدا جس کو تم لوگ نہیں پہچانتے اس نے یہ خبر دی ہے۔ دیکھو براہین احمد یہ صفحہ ۲۲۶۔ | |||
| پیشگوئی نمبر ۳۹ | ۸۲ و ۱۸۸۰ء | ایک دفعہ قادیان کا ایک آریہ جو سر گرم آریہ ہے ملا وامل نام مرض دق میں مبتلا ہو گیا اور تپ پیچھا نہیں چھوڑتا تھا اور آثار نومیدی ظاہر ہوتے جاتے تھے چنانچہ وہ ایک دن میرے پاس آکر علاج کا طلبگار ہوا اور پھر اپنی زندگی سے نومید ہو کر بیقراری سے رویا اور میں نے اس کے حق میں دعا کی خدا تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا قلنا یا نار کونی بردًا وسلامًا ۔ یعنی ہم نے کہا کہ اے تپ کی آگ سرد اور سلامتی ہو جا چنانچہ بعد اس کے اسی ہفتہ میں وہ ہندو اچھا ہو گیا اور اب تک زندہ موجود ہے۔ براہین احمد یہ صفحہ ۲۲۷ ۔ | ایک ہفتہ کے اندر |
| پیشگوئی نمبر ۴۰ | ۸۲ و ۱۸۸۰ء | جب کتاب براہین احمدیہ کے بعض حصے طیار ہو گئے تو مجھے خیال آیا کہ ان کو چھاپ دیا جاوے مگر میرے پاس کچھ سرمایہ نہیں تھا تب میں نے جناب الہی میں دعا کی کہ لوگ مدد کی طرف متوجہ ہوں اُسی وقت تھوڑی سی غنودگی ہو کر جواب ملا (بالفعل نہیں) تب با وجود بہت سی کوشش کے کسی نے ایک پیسہ بھی نہیں بھیجا اور ایک مدت گزرگئی ۔ دیکھو براہین صفحہ ۲۲۵ ۔ | تین برس تک کتاب کے چھپنے میں توقف رہا۔ |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۳۹ و ۴۰ | پیشگوئی نمبر ۳۹ کا گواہ خود ملا وامل آریہ ہے اس کو خوب یاد ہوگا کہ کیسی نومیدی کے وقت میں یہ الہام اس کو بتلایا گیا اور پھر ایک ہفتہ تک اچھا ہو گیا۔ اور پیشگوئی نمبر ۴۰ کے تو بہت گواہ ہیں اور بعض اسی جگہ موجود ہیں ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۴۱ | ۸۲ و ۱۸۸۰ء | جب مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ اطلاع ملی کہ بالفعل تمہاری کچھ مدد نہیں کی جاوے گی تو ایک مدت تک کوئی بھی میری طرف متوجہ نہ ہوا اور لوگ لا پروائی سے پیش آئے اور کتاب کا چھپنا معرض التوا میں رہا۔ تب ایک دن قریب مغرب کے پھر دعا کے لئے دل میں جوش پیدا ہوا تو خدائے عز و جل کی طرف سے یہ وحی میری زبان پر جاری ہوئی ۔ هُزِّ اِلَیْکَ بجذع النخلة تسَاقط عَلَیْکَ رطبًا جنیًّا . دیکھو براہین صفحہ ۲۲۶ ۔ یعنی کھجور کے تنہ کو ہلا تیرے پر تازہ بتازہ کھجوریں گریں گی ۔ تب میں نے چند مشہور لوگوں کی طرف خط لکھے تو اس قدر روپیہ آگیا کہ میں پہلا اور دوسرا حصہ براہین احمدیہ کا اس روپیہ کے ذریعہ سے چھاپ سکا۔ مگر ابھی میری حالت معمولی تھی اور صرف ایک پرانے خاندان کی کسی قدر شہرت بعض دلوں کو متوجہ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کے اذن اور حکم سے محرک ہو گئی تھی ۔ پھر بعد اس کے خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ ایک ذاتی وجاہت کے لحاظ سے مجھے دنیا میں قبولیت بخشے تب اس کے بعد یہ تمام الہام ہوئے جو کہ براہین احمد یہ میں درج ہیں یعنی القیت علیک محبّةً مِنِّی ولتصنع علٰی عینی سینصرک رجال نوحی الیهم من السّماءِ یأتون من کل فج عمیق. یأتیک من کل فج عمیق . ولا تصعّر لخلق اللہ ولا تسئم من الناس ۔ براہین احمد یہ صفحہ ۲۴۱ و ۲۴۲ ۔ ترجمہ یعنی میں نے اپنی طرف سے تیری | تین برس بعد |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۴۱ | ڈاکخانوں کے رجسٹر اس بات کے گواہ ہیں کہ اس کے بعد کس قدر روپیہ آیا اور سرکاری تحریریں گواہ ہیں کہ کس قدر مہمان آئے۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگویاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۱ | محبت مستعد دلوں میں ڈال دی تا کہ میری آنکھوں کے سامنے تو پرورش پاوے عنقریب تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کی طرف میں وحی بھیجوں گا وہ ہر ایک دور کی راہ سے تیرے پاس آئیں گے اور انواع اقسام کے تحائف از قسم نقد و جنس ہر ایک راہ سے تیرے پاس لائیں گے۔ سو اس کے بعد یہ پیشگوئی ایک تخم کی طرح بڑھتی گئی یہاں تک کہ ان دنوں میں جو ۱۳۲۰ ہجری ہے بمقابل اس زمانہ کے کہ جب دو تین آدمی مجھ سے تعلق رکھتے تھے اور وہ بھی بعد میں اب ایک لاکھ سے کچھ☆ زیادہ اس جماعت کا عدد پہنچ گیا ہے اور ہر ایک طرف سے جب کوئی انسان آتا ہے یا کسی نئے شخص کی طرف سے کوئی تحفہ آتا ہے تو وہ ایک نشان ظاہر ہوتا ہے اور چونکہ اس جگہ آ کر بیعت کرنے والے پچاس ہزار سے کم نہیں ہوں گے اور جو روپیہ اور تحائف متفرق وقتوں میں آئے وہ دس لاکھ سے کم نہیں ہوں گے اس لئے یہ بات بالکل صحیح اور سچ ہے کہ علاوہ ان نشانوں کے جو اس نقشہ میں لکھے گئے ہیں کم سے کم دس لاکھ اور ایسے نشان ہیں جو الہام یاتون من کل فج عمیق اور یاتیک من کل فج عمیق سے ثابت ہوتے ہیں اور ایک سلسلہ ان نشانوں کا وہ ہے جو الہام اِنِّیْ مُهِیْنٌ مَنْ اَرَادَ اِهَانَتَکَ کے ذریعہ سے ظہور میں آئے ہیں۔ اس جگہ ایک اور نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ وحی |
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| یعنی هزی الیک بجذع النخلة تساقط علیک رطبًا جنیّا . یہ حضرت مریم کو اس وقت وحی ہوئی تھی کہ جب ان کا لڑکا عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوا تھا اور وہ کمزور ہوئی تھیں اور خدا تعالیٰ نے اسی کتاب براہین احمد یہ میں میرا نام بھی مریم رکھا اور مریم صدیقہ کی طرح مجھے بھی حکم دیا کہ و کن من الصالحین الصدّیقین ۔ دیکھو ۲۴۲ براہین احمد یہ۔ پس یہ میری وحی یعنی هزّ الیک اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ صدیقیت کا جو حمل تھا اس سے بچہ پیدا ہوا جس کا نام عیسیٰ رکھا گیا اور جب تک وہ کمزور رہا صفات مریمیہ اس کی پرورش کرتی رہیں اور جب وہ اپنی طاقت میں آیا تو اس کو پکارا گیا یَا عِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ دیکھو صفحہ ۵۵۶ براہین احمد یہ ۔ یہ وہی وعدہ تھا جو سورہ تحریم میں کیا گیا اور ضرور تھا کہ اس وعدہ کے موافق اس امت میں سے کسی کا نام مریم ہوتا اور پھر اس طرح پر ترقی کر کے اس سے عیسیٰ پیدا ہوتا اور وہ ابن مریم کہلاتا سو وہ میں ہوں ۔ وحی هزّی الیک مریم کو بھی ہوئی اور مجھے بھی مگر باہم فرق یہ ہے کہ اس وقت مریم ضعف بدنی میں مبتلا تھی اور میں ضعف مالی میں مبتلا تھا۔ | |||
| پیشگوئی نمبر ۴۲ | منجملہ اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان نشانوں کے وہ نشان ہے جو اس خدائے قادر نے ڈپٹی عبد اللہ آتھم عیسائی کی نسبت ظاہر فرمایا اور اس کے لئے یہ تقریب پیش آئی کہ مئی اور جون سنہ ۱۸۹۳ء میں ڈاکٹر مارٹن کلارک کی تحریک سے اسلام اور عیسائیت میں ایک مباحثہ قرار پایا اس مباحثہ میں | ||
| زندہ گواہ رویت نمبر ۴۲ | پیشگوئی نمبر ۴۲ یعنی عبداللہ آتھم کے متعلق جو میں نے پیشگوئی کی تھی اس کا ثبوت اس رسالہ مباحثہ میں موجود ہے جس کا نام جنگ مقدس ہے اور اسی سے ثابت ہے کہ یہ پیشگوئی کیوں کی گئی یعنی آتھم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کہا تھا اور پھر پیشگوئی کو سن کر قریباً | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۲ | عیسائیوں کی طرف سے ڈپٹی عبداللہ آتھم انتخاب کیا گیا اور مسلمانوں کی طرف سے میں پیش ہوا اور عبد اللہ آتھم نے مباحثہ سے کچھ دن پہلے اپنی کتاب اندرونہ بائبل میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت دجال کا لفظ لکھا تھا جیسا کہ کتاب جنگ مقدس کے آخری صفحہ میں اس کا ذکر ہے وہ شرارت اور شوخی اس کی مجھے تمام ایام بحث میں یاد رہی اور میں دل و جان سے چاہتا تھا کہ اس کی سرزنش کی نسبت کوئی پیشگوئی خدا تعالیٰ سے پاؤں ۔ چنانچہ میں نے آتھم سے ایک دستخطی تحریر بھی اسی غرض سے لے لی تھی تا وہ پیشگوئی کے وقت عام عیسائیوں کی طرح میری آزار دہی کے لئے کسی عدالت کی طرف نہ دوڑے۔ سو میں پندرہ دن تک بحث میں مشغول رہا۔ اور پوشیدہ طور پر آتھم کی سرزنش کے لئے دعا مانگتا رہا۔ جب بحث کے دن ختم ہو گئے تو میں نے خدا تعالیٰ کی طرف سے اطلاع پائی کہ اگر آتھم اس شوخی اور گستاخی سے توبہ اور رجوع نہیں کرے گا جو اس نے دجال کا لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اپنی کتاب میں لکھا تو وہ ہاویہ میں پندرہ مہینہ کے اندر گرایا جائے گا ۔ سو یہ امر الہی پا کر بحث کے خاتمہ کے دن ایک جماعت کثیر کے روبرو جس میں عیسائیوں کی طرف سے ڈاکٹر مارٹن کلارک اور تیس کے قریب اور عیسائی تھے اور میری جماعت کے لوگ بھی تیس یا چالیس کے قریب تھے جن میں سے اخویم مولوی حکیم نور دین صاحب اور اخویم مولوی عبدالکریم اور اخویم | ||
| بقیہ زندہ گواہ رویت نمبر ۴۲ | ستر آدمیوں کے روبرو رجوع کیا۔ جن میں اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب اور اخویم مولوی عبدالکریم صاحب اور اخویم شیخ رحمت اللہ صاحب مالک بمبئی ہوس لاہور | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگویاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۲ | شیخ رحمت اللہ صاحب اور اخویم منشی تاج الدین صاحب اکونٹنٹ دفتر ریلوے لاہور اور اخویم عبدالعزیز خان صاحب کلارک دفتر اگزیمینر ریلوے لاہور اور اخویم خلیفہ نوردین صاحب وغیرہ احباب موجود تھے۔ میں نے ڈپٹی عبد اللہ آتھم کو کہا کہ آج یہ مباحثہ منقولی اور معقولی رنگ میں تو ختم ہو گیا مگر ایک اور رنگ کا مقابلہ باقی رہا جو خدا کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی کتاب اندرونہ بائبل میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کے نام سے پکارا ہے اور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق اور سچا رسول جانتا ہوں اور دین اسلام کو منجانب اللہ یقین رکھتا ہوں ۔ پس یہ وہ مقابلہ ہے کہ آسمانی فیصلہ اس کا تصفیہ کرے گا اور وہ آسمانی فیصلہ یہ ہے کہ ہم دونوں میں سے جو شخص اپنے قول میں جھوٹا ہے اور ناحق رسول صادق کو کاذب اور دجال کہتا ہے اور حق کا دشمن ہے وہ آج کے دن سے پندرہ مہینہ تک اس شخص کی زندگی میں ہی جو حق پر ہے ہاویہ میں گرے گا۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے یعنی راستباز اور صادق نبی کو دجال کہنے سے باز نہ آوے اور بیباکی اور بد زبانی نہ چھوڑے۔ یہ اس لئے کہا گیا کہ صرف کسی مذہب کا انکار کرنا دنیا میں مستوجب سزا نہیں ٹھہرتا بلکہ بے باکی اور شوخی اور بد زبانی مستوجب سزا ٹھہراتی ہے۔ غرض جب آتھم کو ایسی مجلس میں جس میں ستر سے زیادہ آدمی ہوں گے یہ پیشگوئی سنائی گئی تو اس کا رنگ فق اور چہرہ زرد ہو گیا اور ہاتھ کانپنے لگے تب اس نے | ||
| بقیہ زندہ گواہ رویت نمبر ۴۲ | اور اخویم خلیفہ نور الدین صاحب تاجر جموں اور اخویم منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلہ اور اخویم خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر پشاور اور خلیفہ رجب الدین صاحب لاہور | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگویاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۲ | بلا توقف اپنی زبان مُنہ سے نکالی اور دونوں ہاتھ کانوں پر دھر لئے اور ہاتھوں کو معہ سر کے ہلانا شروع کیا جیسا کہ ایک ملزم خائف ایک الزام سے سخت انکار کر کے توبہ اور انکسار کے رنگ میں اپنے تئیں ظاہر کرتا ہے اور بار بار لرزتے ہوئے زبان سے کہتا تھا کہ توبہ توبہ میں نے بے ادبی اور گستاخی نہیں کی اور میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز ہرگز دجال نہیں کہا اور کانپ رہا تھا اس نظارہ کو نہ صرف مسلمانوں نے دیکھا بلکہ ایک جماعت کثیر عیسائیوں کی بھی اس وقت موجود تھی جو اس عجز و نیاز کو بھی دیکھ رہی تھی۔ اس انکار سے اس کا یہ مطلب معلوم ہوتا تھا کہ میری اس عبارت کے جو میں نے اندرونہ بائیبل میں لکھی ہے اور معنی ہیں بہر حال اس نے اس مجلس میں قریباً ستر آدمی کے روبرو دجال کہنے کے کلمہ سے رجوع کر لیا اور یہی وہ کلمہ تھا جو اصل موجب اس پیشگوئی کا تھا اس لئے وہ پندرہ مہینہ کے اندر مرنے سے بچ رہا کیونکہ جس گستاخی کے کلمہ پر پیشگوئی کا مدار تھا وہ کلمہ اس نے چھوڑ دیا اور ممکن نہ تھا کہ خدا اپنی شرط کو یاد نہ کرے اور اگر چہ رجوع کی شرط سے فائدہ اٹھانے کے لئے اسی قدر کافی تھا مگر آتھم نے صرف یہی نہیں کیا کہ اپنے قول دجال کہنے سے باز آیا بلکہ اسی دن سے جو اس نے پیشگوئی کو سنا اسلام پر حملہ کرنا اس نے بکلی چھوڑ دیا اور پیشگوئی کا خوف اس کے دل پر روز بروز بڑھتا گیا یہاں تک کہ وہ مارے ڈر کے سراسیمہ ہو گیا اور اس کا آرام اور قرار جاتا رہا اور یہاں تک اس نے اپنی حالت میں تبدیلی | ||
| بقیہ رویت گواہ نمبر ۴۲ | میاں محمد چٹو صاحب لاہور اور منشی تاج الدین صاحب لاہور اور مولوی الہ دیا صاحب از لودیانہ اور منشی محمد اروڑا صاحب از کپورتھلہ اور میاں محمد خان صاحب از کپورتھلہ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگویاں بتلائیں ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۲ | کی کہ اپنے پہلے طریق کو جو ہمیشہ مسلمانوں سے مذہبی بحث کرتا تھا اور اسلام کے رد میں کتابیں لکھتا تھا بالکل چھوڑ دیا اور ہر یک کلمہ توہین اور استخفاف سے اپنا منہ بند کر لیا بلکہ اس کے منہ پر مہر لگ گئی اور خاموش اور غمگین رہنے لگا اور اس کا غم اس درجہ تک پہنچ گیا کہ آخر وہ زندگی سے نومید ہو کر بے قراری کے ساتھ اپنے عزیزوں کی آخری ملاقات کے لئے شہر بشہر دیوانہ پن کی حالت میں پھرتا رہا اور اسی مسافرانہ حالت میں انجام کار فیروز پور میں فوت ہو گیا۔ اور یہ سوال کہ باوجود اس کے کہ اس نے اپنی بے باکی کے لفظ سے عام مجلس میں رجوع کر لیا اور بار بار عجز و نیاز سے دجال کہنے کے کلمہ سے بیزاری ظاہر کی تو پھر کیوں وہ پکڑا گیا اور کیوں جلد انہیں دنوں میں فوت ہو گیا ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ وہ مباہلہ کا نشانہ ہو چکا تھا لہذا ان پیشگوئیوں کے موافق جو کتاب انجام آتھم کے پہلے صفحہ میں موجود ہیں جو آتھم کی زندگی میں ہی پندرہ مہینے گزر نے کے بعد کی گئی تھیں اس کا مرنا ضروری تھا کیونکہ ان پیشگوئیوں میں صاف لفظوں میں لکھا گیا تھا کہ آتھم انکار قسم اور اخفاء شہادت اور اعادہ بے باکی کے بعد جلد تر فوت ہو جائے گا ۔ پس جب کہ اس نے ارتکاب ان جرائم کا کیا تو ہمارے آخری اشتہار سے سات مہینے بعد فوت ہو گیا اور نیز اس لئے اس کا مرنا بہر حال ضروری تھا کہ پیشگوئی کے مضمون میں یہ بات داخل تھی کہ جو جھوٹا ہے وہ صادق سے پہلے مرے گا لہذا رجوع کا فائدہ اس نے صرف اس قدر اٹھایا کہ پندرہ میں نہ مرا لیکن بعد میں جب کہ وہ پندرہ مہینہ | ||
| بقیہ گواہ رویت نمبر ۴۲ | اور شیخ نور احمد صاحب اڈیٹر اخبار ریاض ہند امرتسر و مالک مطبع ریاض ہند امرتسر اور میاں نبی بخش صاحب تاجر پشمینہ امرت سر اور میاں قطب الدین مس گر امرت سر | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۲ | کے گزرنے کے پیچھے اپنے رجوع پر بھی قائم نہ رہ سکا اور اس کے دل میں وہ خوف نہ رہا جو پندرہ مہینہ کی میعاد کے اندر تھا اور جھوٹ بولا اور کہا کہ میں پیشگوئی سے ہرگز نہیں ڈرا اور جب چار ہزار روپیہ نقد دینے کے وعدہ سے قسم کے لئے بلایا گیا تو قسم بھی نہ کھائی ۔ لہذا خدا نے انکار اور اخفاء شہادت اور بے باکی کے بعد ہمارے آخری اشتہار سے سات ماہ کے اندر یعنی پندرہ مہینہ کے اندر ہی مار دیا اور ۲۷؍ جولائی سنہ ۱۸۹۶ء کو بمقام فیروز پور اس کی زندگی کا خاتمہ ہو گیا۔ اس صورت میں جو پندرہ مہینہ پیشگوئی کے لئے مقرر ہوئے تھے آخر آتھم اس دائرہ کے اندر ہی مرا اور پندرہ مہینہ کی میعاد بہر صورت قائم رہی ۔ یہ پیشگوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے جمالی رنگ میں تھی یعنی رفق اور نرمی کے لباس میں ۔ چونکہ آتھم نے اپنی روش میں نرمی اختیار کی اور اس سخت گندہ زبانی کو اختیار نہ کیا جس کو لیکھرام نے اختیار کیا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے بھی اس سے نرمی کا ہی برتاؤ کیا اور اس کو مہلت دینے اور آخر مارنے سے جمالی رنگ کا نشان دکھلایا لیکن لیکھر ام نہایت دریدہ دہن اور بد زبان تھا اس لئے خدا نے جلالی رنگ کا نشان اس میں دکھلا دیا اور جب نادانوں اور اندھوں نے اس جمالی نشان کا قدر نہ کیا کہ جو بذریعہ آتھم ظاہر ہوا تو خدا نے اس کے بعد لیکھرام کی موت کا نشان جو ہیبت ناک اور جلالی تھا ظاہر کر دیا۔ | ||
| زندہ گواہ رویت نمبر ۴۲ | مفتی محمد صادق صاحب ۔ صاحبزادہ سراج الحق صاحب ۔ قاضی ضیاء الدین صاحب۔ مولوی عبد اللہ سنوری صاحب ۔ شیخ چراغ علی صاحب وغیرہ اس پیشگوئی کے گواہ ہیں۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہوئیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۴۳ | ۲۰؍ فروری سنہ ۱۸۸۶ء و ۲۰؍ فروری سنہ ۱۸۹۳ء | جب عیسائیوں نے آتھم کے نشان کو جو صاف اور روشن تھا اپنے ظلم اور افترا سے پوشیدہ کرنا چاہا اور نادان مسلمان بھی ان کے ساتھ مل گئے اور خدا کے بزرگ نشان کو قبول نہ کیا بلکہ بڑا فتنہ برپا کیا اور اس بات کو کسی نے نہ سوچا کہ پیشگوئی کا اصل مدعا تو یہ تھا کہ کاذب صادق کی زندگی میں ہی مرے گا اور وہ وقوع میں آگیا اور نہ یہ سوچا کہ آتھم نے تو ایک بھری مجلس میں دجال کہنے سے رجوع کر لیا جو اس پیشگوئی کا اصل موجب تھا تو پھر وہ شرط سے کیوں فائدہ نہ اٹھاتا۔ غرض جب خدا کی پیشگوئی کو لوگوں نے مشتبہ کرنا چاہا تو خدا تعالیٰ نے گواہی کے طور پر ایک دوسری پیشگوئی کو ظاہر فرمایا یعنی لیکھرام کی نسبت پیشگوئی جو بہت قوت اور شوکت سے جلالی رنگ میں ظاہر ہوئی ۔ پس واضح ہو کہ منجملہ ہیبت ناک اور عظیم الشان نشانوں کے پنڈت لیکھرام کی موت کا نشان ہے جس کی بنیاد پیشگوئی میری کتابیں برکات الدعاء اور کرامات الصادقین اور آئینہ کمالات اسلام ہیں جن میں قبل از وقوع خبر دی گئی کہ لیکھر ام قتل کے ذریعہ سے چھ سال کے اندر اس دنیا سے کوچ کرے گا اور وہ عید سے دوسرا دن ہوگا تا یہ صورت اس بات پر دلالت کرے کہ جس دن مسلمانوں کے گھر میں عید ہو گی اس سے دوسرے دن ہندوؤں کے گھر میں ماتم ہو گا اور یہ پیشگوئی نہ صرف میری کتابوں میں درج ہو گئی بلکہ لیکھرام نے خود اپنی کتاب میں نقل کر کے | ہمارے آخری اشتہار سے چھ ماہ بعد پیشگوئی پُوری ہوئی۔ ۶؍ مارچ سنہ ۱۸۹۷ء کو یہ پیشگوئی چار سال کے بعد پوری ہوئی ۔ |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۴۳ | پیشگوئی نمبر ۴۳ کے گواہ لاکھوں ہیں کیونکہ بذریعہ اشتہارات و کتب جن کا حوالہ متن میں آیا ہے۔ اس کو کثرت سے شائع کیا گیا تھا اور لیکھرام نے خود بھی اس کو اپنی کتاب میں | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۴۳ | اپنی قوم میں اس پیشگوئی کی قبل از وقوع شہرت دے دی اور جس قدر اس پیشگوئی کے وقوع کی شہرت ہوئی اس کے بیان کی اس سے کم شہرت نہ تھی البتہ وقوع کے وقت آریوں میں سخت ماتم ہوا اور ماتم کے ذریعہ سے انہوں نے اور بھی شہرت دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ برٹش انڈیا کے تمام ہند و مسلمان اور عیسائی بلکہ ہماری گورنمنٹ خود اس نشان کی گواہ بن گئی ۔ اللہ اللہ یہ کیسا ہیبت ناک اور دہشت ناک نشان ظاہر ہوا جس نے آنکھوں والوں کو خدا کا چہرہ دکھا دیا۔ واضح ہو کہ لیکھر ام ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت دشمن اور بد زبان تھا وہ آریوں کا ایک بڑا ایڈوکیٹ اور لیکچرار تھا اور جا بجا تقریریں کرتا پھرتا تھا اور کئی ایک کتابیں بھی اسلام کے برخلاف لکھی تھیں لیکن نرا گوسالہ تھا فہم اور علم اس کے نزدیک نہیں آیا تھا اور اس کے پاس بجز بد زبانی اور فحش گوئی اور نہایت قابل شرم گالیوں کے اور کچھ نہ تھا اور یہاں قادیان میں بھی مباحثہ کے لئے آیا اور پھر نشان کا طلب گار ہوا۔ اور جب اشتہار ۲۰؍ فروری سنہ ۱۸۸۶ء میں یہ لکھا گیا کہ لیکھر ام پشاوری اور بعض دیگر آریوں کے قضاء قدر کے متعلق کچھ تحریر ہوگا۔ اگر کسی صاحب پر ایسی پیشگوئی شاق گزرے تو وہ اطلاع دیں تا اس کی نسبت کوئی پیشگوئی شائع نہ کی جائے تو اس پر پنڈت لیکھرام کا کارڈ پہنچا کہ میں اجازت دیتا ہوں کہ میری موت کی نسبت پیشگوئی کی جائے مگر معیاد مقرر ہونی چاہئے ۔ پھر رسالہ کرامات الصادقین مطبوعہ صفر ۱۳۱۱ ہجری میں یہ پیشگوئی درج | ||
| بقیہ زندہ گواہ رویت نمبر ۴۳ | شائع کیا تھا اور کئی اخباروں میں یہ پیشگوئی بھی شائع ہوئی تھی اور اس کے پورا ہونے پر کئی سو آدمیوں نے جو ہماری جماعت میں سے نہ تھے اور جن میں سے بہت سے ہندو | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگویاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۳ | کی گئی جس کے الفاظ یہ ہیں وعدنی ربّی و استجاب دعائی فی رجل مفسد عدو اللّٰہ ورسوله المسمّٰی لیکھرام الفشاوری واخبرنی انه من الهالکین - انه کان یسب نبی اللہ ویتکلم فی شانه بکلمات خبیثة. فدعوت علیه فبشرنی ربّی بموته فی ست سنین ان فی ذٰلک لأیة للطالبین ۔ یعنی خدا تعالیٰ نے ایک اللہ اور رسول کے دشمن کے بارے میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالتا ہے اور نا پاک کلمے زبان پر لاتا ہے جس کا نام لیکھرام ہے مجھے وعدہ دیا اور میری دعا سنی اور جب میں نے اس پر بددعا کی تو خدا نے مجھے بشارت دی کہ وہ چھ سال کے اندر ہلاک ہو جائے گا۔ یہ ان کے لئے ایک نشان ہے جو سچے مذہب کو ڈھونڈتے ہیں پھر اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۹۳ء مشمولہ کتاب آئینہ کمالات اسلام میں یہ پیشگوئی شائع کی گئی تھی کہ ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار پر لیکھرام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ ہمارے نام لکھا تھا کہ جو موت کی پیشگوئی میری نسبت چاہو شائع کرو سو اس کی نسبت جب توجہ کی گئی تو اللہ جلّ شانہ کی طرف سے یہ الہام ہوا عجل جسد له خوار . له نصب و عذاب یعنی یہ ایک گوسالہ سامری ہے جو مردہ ہو کر پھر آواز نکالتا ہے یعنی روحانیت سے بے بہرہ اور بے جان ہے اور اس گوسالہ سامری کی طرح اس کا انجام عذاب ہے۔ یہ اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ جیسا گوسالہ سامری شنبہ کے | ||
| بقیہ زندہ گواہ رویت نمبر ۴۳ | بھی تھے ۔ یہ شہادت دی کہ واقعی یہ پیشگوئی پوری ہوئی ۔ ان میں سے چند ایک کے نام کتاب تریاق القلوب میں (قریباً تین سو کے) ہم نے لکھے ہیں | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۳ | دن ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا ویسا ہی یہ بھی ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے گا اور پھر آگ میں جلایا جائے گا۔ غرض یہ اس کے قتل کی طرف اشارہ تھا یعنی یہ کہ وہ گوسالہ سامری کی طرح نہایت سختی سے ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا لیکھرام نہایت سختی سے کاٹا گیا اور اس کے کاٹے جانے کا دن شنبہ تھا اور شنبہ سے پہلے مسلمانوں کی عید تھی اور گوسالہ سامری کے کاٹے جانے کی بھی یہی تاریخ تھی یعنی شنبہ کا دن تھا اور یہودیوں کی عید بھی تھی اور گوسالہ سامری ٹکڑے کرنے کے بعد جلایا گیا تھا۔ ایسا ہی سارا معاملہ لیکھرام کے ساتھ ہوا کیونکہ اول قاتل نے اس کی انتڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا پھر ڈاکٹر نے اس کے زخم کو چھری کے ساتھ زیادہ کھولا ۔ پھر لاش پر ڈاکٹری امتحان کی چھری چلی پھر وہ آگ میں جلایا گیا اور بالآخر گوسالہ سامری کی طرح دریا میں ڈالا گیا ۔ اور جیسا کہ گوسالہ سامری کے بعد قوم اسرائیل میں سخت طاعون پڑی تھی کہ انہوں نے اس بت کو خدا کے مقابل عظمت دی ایسا ہی جب قوم نے لیکھرام کو بہت عظمت دی تو پھر بعد اس کے طاعون پڑی کیونکہ انہوں نے خدائے ذوالجلال کی پیشگوئی کو تحقیر کی نظر سے دیکھا اور اس شخص کو جس کا نام خدا نے گوسالہ سامری رکھا تھا بہت بزرگی کے ساتھ یاد کیا اور اشتہار میں اس الہام کے بعد یہ لکھا گیا تھا کہ آج ۲۰؍ فروری ۱۸۹۳ء کو جب لیکھرام کے عذاب کا وقت معلوم کرنے کے لئے توجہ کی گئی تو خداوند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج سے چھ برس | ||
| بقیہ زندہ گواہ رویت نمبر ۴۳ | اس جگہ بطور نمونہ چند ایک کے نام درج کرتے ہیں ورنہ اصل میں ہندوؤں مسلمانوں یا عیسائیوں کا اور دیگر مذاہب کا کوئی گھر ہو گا جس میں اس | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے خارق عادت پیشگوئیاں مجھے بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۳ | کے عرصہ تک اس شخص پر ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کی ہیں ایک ایسا عذاب نازل ہوگا جو معمولی تکالیف سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الہی ہیبت رکھتا ہو گا اور تاکیداً اس اشتہار میں لکھا گیا تھا کہ اگر میں اس پیشگوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا کے بھگتنے کے لئے طیار ہوں اور میں اس عذاب پر راضی ہوں گا کہ میرے گلے میں رسہ ڈال کر مجھے پھانسی دیا جاوے اور اس پیشگوئی کے ساتھ آتھم کی پیشگوئی کی طرح کوئی شرط نہ تھی بلکہ قطعی اور اٹل طور پر در صورت تخلف سخت سے سخت سزا اپنے لئے قبول کر کے پیشگوئی شائع کی گئی تھی اور اسی اشتہار مورخہ ۲۰؍ فروری ۱۸۹۳ء کے سرے پر ایک نظم بھی لکھی گئی تھی جو لیکھرام کی صورت موت پر بلند آواز سے دلالت کرتی ہے اور اسی نظم میں اس مقام پر جہاں بطور پیشگوئی تیغ برّاں کا فقرہ لکھا گیا ہے ایک ہاتھ بنایا گیا تھا جو لیکھرام کی طرف اشارہ کرتا تھا اور ظاہر کرتا تھا کہ یہ شخص قتل کی موت سے مرے گا ۔ اب ہم اس نظم کو جو ہماری کتاب آئینہ کمالات اسلام میں معہ نشان ہاتھ نو برس سے شائع ہو چکی ہے اس جگہ دوبارہ لفظ بلفظ نقل کر دیتے ہیں اور وہ اس طرح پر ہے۔
عجب نوریست در جانِ محمد عجب لعلیست در کانِ محمد ز ظلمت ہا دلے آنگہ شود صاف کہ گردد از محبّانِ محمد عجب دارم دلِ آن ناکسان را کہ رُو تا بند از خوانِ محمد |
||
| بقیہ زندہ رویت نمبر ۴۳ | پیشگوئی کی خبر نہ پہنچی ہو ۔ اور وہ نام یہ ہیں ۔ خان بہادر سید فتح علی شاہ صاحب ڈپٹی کلکٹر انہار ضلع شاہ پور۔ حکیم علاؤ الدین صاحب ساکن شیخو پور تحصیل بھیرہ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
|
ندانم ہیچ نفسے در دو عالم کہ دارد شوکت و شانِ محمد خدا زان سینہ بیزارست صد بار کہ ہست از کینہ دارانِ محمد خدا خود سوزد آن کرم دنی را کہ باشد از عدوانِ محمد اگر خواہی نجات از مستیٔ نفس بیا در ذیلِ مستانِ محمد اگر خواہی کہ حق گوید ثنایت بشو از دل ثنا خوانِ محمد اگر خواہی دلیلے عاشقش باش محمد ہست برہانِ محمد سرے دارم فدائے خاکِ احمد دِلم ہر وقت قربانِ محمد بگیسوئے رسول اللہ کہ ہستم نثارِ روئے تابانِ محمد درین رہ گر کشندم و در بسوزند نتابم رُوز ایوانِ محمد بکارِ دین نترسم از جہانے کہ دارم رنگِ ایمانِ محمد بسے سہل است از دنیا بریدن بیادِ حسن و احسانِ محمد فدا شد در رہش ہر ذرّۂ من کہ دیدم حسن پنہانِ محمد دِگر استاد را نامے ندانم کہ خواندم در دبستانِ محمد بدیگر دلبرے کارے ندارم کہ ہستم کشتۂ آنِ محمد مرا آن گوشۂ چشمے باید نخواہم جُز گلستانِ محمد دلِ زارم بہ پہلویم مجوئید کہ بستیمش بدامانِ محمد من آن خوش مرغ از مرغانِ قدسم کہ دارد جا بہ بستانِ محمد تو جانِ ما منور کردی از عشق فدایت جانم اے جانِ محمد دریغا گر دہم صد جان دریں راہ نباشد نیز شایانِ محمد چہ ہیبت ہا بدادند این جوان را کہ ناید کس بمیدانِ محمد رہِ مولے کہ گم کردند مردم بجو در آل و اعوانِ محمد |
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
|
الا اے دشمنِ نادان و بے راہ بترس از تیغِ بُرّانِ محمد الا اے منکر از شانِ محمد ہم از نورِ نمایانِ محمد کرامت گرچہ بے نام و نشان است بیا بنگر ز غلمانِ محمد |
|||
|
یہ جس کی لاش اس تصویر میں دیکھ رہے ہو یہ ایک ہندو متعصب آریہ دشمن اسلام تھا جس نے میری نسبت ![]() |
لیکھرام پشاوری کی لاش کی وہ تصویر جس کو آریوں نے اپنے ہاتھ سے شائع کیا ہے |
||
|
اپنی کتاب میں پیشگوئی کی تھی کہ یہ شخص تین برس تک ہیضہ سے مر جائے گا اور میں نے بھی اس کی نسبت موت کی پیشگوئی کی تھی کہ چھ برس تک چھری سے مارا جائے گا ۔ اب دیکھ لو کہ مسلمانوں کا خدا ہندوؤں کے مصنوعی پر میشر پر غالب آ گیا ۔ مَیں زندہ موجود ہوں اور یہ مر گیا اور اس کی شیطانی پیشگوئی جھوٹی نکلی اس شخص کی لاش اسلام کی سچائی کا کھلا کھلا ثبوت دے رہی ہے ۔ پس خدا سے ڈرو۔ اے آریو ۔ اور کمزور پر میشر کو چھوڑو۔ |
|||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مجھے خارق عادت پیشگویاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۳ | یاد رہے کہ یہ وہی اشعار اور وہی آخر پر نشان ہاتھ کا ہے جو لیکھرام کی موت کی طرف پیشگوئی کرتا ہے جس کو ہم نے لیکھرام کی موت اور اس کے مجروح ہونے سے پانچ برس پہلے آئینہ کمالات اسلام میں لکھا ہے اور اس نقل میں کوئی تصرف نہیں بجز اس کے کہ آئینہ کمالات اسلام میں لیکھرام کا لفظ موٹے قلم سے لکھ کر تصویر کی طرح لٹا دیا گیا ہے اور اس جگہ وہ لاش کی تصویر ہی لکھ دی ہے جس کو خود آریوں نے نظارہ کے لئے شائع کیا ہے۔ اب ان تمام اشعار سے ظاہر ہے کہ لیکھرام کی موت کے لئے ایک تیغ بُرّان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ پھر اس پیشگوئی کو نہایت وضاحت کے ساتھ ٹائٹل پیج برکات الدعا میں اخبار انیس ہند میرٹھ کے بعض اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے بیان کیا گیا ہے چنانچہ ہم اس جگہ بجنسہ وہ عبارت جو لیکھرام کی موت سے کئی برس پہلے شائع ہو چکی ہے ٹائٹل پیج برکات الدعا سے نقل کرتے ہیں اور وہ یہ ہے۔ نمونہ دعائے مستجاب انیس ھند میرٹھ اور ھماری پیشگوئی پر اعتراض اس اخبار کا پرچہ مطبوعہ ۲۵؍ مارچ ۱۸۹۳ء جس میں میری اس پیشگوئی کی نسبت جو لیکھرام پشاوری کے بارے میں میں نے شائع کی تھی کچھ نقطہ چینی ہے مجھ کو ملا ۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض اور اخباروں پر بھی یہ کلمۃ الحق شاق گذرا ہے اور حقیقت میں میرے لئے خوشی کا مقام ہے کہ یوں خود مخالفوں کے ہاتھوں اس کی شہرت اور اشاعت ہو رہی ہے۔ سو میں اس وقت اس نکتہ چینی کے جواب |
||
| بقیہ زندہ گواہ رویت نمبر ۴۳ | شیخ فضل الہی آنریری مجسٹریٹ بھیرہ۔ جیون سنگھ نمبردار بھاٹا نوالہ۔ ملا وامل۔ شرمپت آریہ قادیان۔ ملا وامل لاہوری۔ جوالا سنگھ نمبردار کوٹلومان تحصیل رعیہ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اس وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۳ | میں صرف اس قدر لکھنا کافی سمجھتا ہوں کہ جس طور اور طریق سے خدا تعالیٰ نے چاہا اسی طور سے کیا میرا اس میں دخل نہیں ہاں یہ سوال کہ ایسی پیشگوئی مفید نہیں ہوگی اور اس میں شبہات باقی رہ جائیں گے اس اعتراض کی نسبت میں خوب سمجھتا ہوں کہ یہ پیش از وقت ہے میں اس بات کا خود اقراری ہوں اور اب پھر اقرار کرتا ہوں کہ اگر جیسا کہ معترضوں نے خیال فرمایا ہے پیشگوئی کا ماحصل آخر کار یہی نکلا کہ کوئی معمولی تپ آیا یا معمولی طور پر کوئی درد ہوا یا ہیضہ ہوا اور پھر اصلی حالت صحت کی قائم ہوگئی تو وہ پیشگوئی متصور نہیں ہوگی اور بلا شبہ ایک مکر اور فریب ہوگا کیونکہ ایسی بیماریوں سے تو کوئی بھی خالی نہیں ہم سب کبھی نہ کبھی بیمار ہو جاتے ہیں پس اس صورت میں بلا شبہ میں اس سزا کے لائق ٹھہروں گا جس کا ذکر میں نے کیا ہے لیکن اگر پیشگوئی کا ظہور اس طور سے ہوا کہ جس میں قہر الہی کے نشان صاف صاف اور کھلے طور پر دکھائی دیں تو پھر سمجھو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ پیشگوئی کی ذاتی عظمت اور ہیبت دنوں اور وقتوں کے مقرر کرنے کی محتاج نہیں۔ اس بارے میں تو زمانہ نزول عذاب کی ایک حد مقرر کر دینا کافی ہے پھر اگر پیشگوئی فی الواقعہ ایک عظیم الشان ہیبت کے ساتھ ظہور پذیر ہو تو وہ خود دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے اور یہ سارے خیالات اور یہ تمام نکتہ چینیاں جو پیش از وقت دلوں میں پیدا ہوتی ہیں ایسی معدوم ہو جاتی ہیں کہ منصف مزاج اہل الرائے ایک انفعال کے ساتھ اپنی رایوں | ||
| حکیم مولوی نور الدین صاحب بھیروی ۔ مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ۔ خواجہ کمال الدین صاحب بی اے ایل ایل بی پلیڈر پشاوری۔ مولوی | |||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۳ | سے رجوع کرتے ہیں ماسوا اس کے یہ عاجز بھی تو قانون قدرت کے تحت میں ہے اگر میری طرف سے بنیاد اس پیشگوئی کی صرف اسی قدر ہے کہ میں نے صرف یاوہ گوئی کے طور پر چند احتمال بیماریوں کو ذہن میں رکھ کر اور اٹکل سے کام لے کر یہ پیشگوئی شائع کی ہے تو جس شخص کی نسبت یہ پیشگوئی ہے وہ بھی تو ایسا کر سکتا ہے کہ انہی اٹکلوں کی بنیاد پر میری نسبت کوئی پیشگوئی کر دے بلکہ میں راضی ہوں کہ بجائے چھ برس کے جو میں نے اس کے حق میں میعاد مقرر کی ہے وہ میرے لئے دس برس لکھ دے۔ لیکھرام کی عمر اس وقت شاید زیادہ سے زیادہ تیس برس کی ہوگی اور وہ ایک جوان قوی ہیکل عمدہ صحت کا آدمی ہے اور اس عاجز کی عمر اس وقت پچاس برس سے کچھ زیادہ ہے اور ضعیف اور دائم المرض اور طرح طرح کے عوارض میں مبتلا ہے پھر باوجود اس کے مقابلے میں خود معلوم ہو جائے گا کہ کون سی بات انسان کی طرف سے ہے اور کون سی بات خدا تعالیٰ کی طرف سے۔ اور معترض کا یہ کہنا کہ ایسی پیشگوئیوں کا اب زمانہ نہیں ہے ایک معمولی فقرہ ہے جو اکثر لوگ مُنہ سے بول دیا کرتے ہیں۔ میری دانست میں تو مضبوط اور کامل صداقتوں کے قبول کرنے کے لئے یہ ایک ایسا زمانہ ہے کہ شائد اس کی نظیر پہلے زمانوں میں کوئی بھی مل نہ سکے ۔ ہاں اس زمانہ سے کوئی فریب اور مکر مخفی نہیں رہ سکتا مگر یہ تو راستبازوں کے لئے اور بھی خوشی کا مقام ہے کیونکہ جو شخص فریب اور سچ میں فرق کرنا جانتا ہے وہی سچائی کی دل سے عزت کرتا ہے اور بخوشی اور دوڑ کر سچائی کو قبول کر لیتا ہے | ||
| زندہ گواہ رویت | محمد علی صاحب ایم اے ایل ایل بی پلیڈر قادیان۔ مولوی غلام قادر صاحب سب رجسٹرار پشاور۔ میر ناصر نواب صاحب دہلوی۔ مفتی محمد صادق صاحب | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۳ | اور سچائی میں کچھ ایسی کشش ہوتی ہے کہ وہ آپ قبول کرا لیتی ہے۔ ظاہر ہے کہ زمانہ صدہا ایسی نئی باتوں کو قبول کرتا جاتا ہے جو لوگوں کے باپ دادوں نے قبول نہیں کی تھیں اگر زمانہ صداقتوں کا پیاسا نہیں تو پھر کیوں ایک عظیم الشان انقلاب اس میں شروع ہے زمانہ بے شک حقیقی صداقتوں کا دوست ہے نہ دشمن اور یہ کہنا کہ زمانہ عقلمند ہے اور سیدھے سادھے لوگوں کا وقت گزر گیا ہے۔ یہ دوسرے لفظوں میں زمانہ کی مذمت ہے گویا یہ زمانہ ایک ایسا بد زمانہ ہے کہ سچائی کو واقعی طور پر سچائی پا کر پھر اس کو قبول نہیں کرتا لیکن میں ہرگز قبول نہیں کروں گا کہ فی الواقع ایسا ہی ہے کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ زیادہ تر میری طرف رجوع کرنے والے اور مجھ سے فائدہ اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جو نو تعلیم یافتہ ہیں جو بعض ان میں سے بی اے اور ایم اے تک پہنچے ہوئے ہیں اور میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ یہ نو تعلیم یافتہ لوگوں کا گروہ صداقتوں کو بڑے شوق سے قبول کرتا جاتا ہے اور صرف اسی قدر نہیں بلکہ ایک نو مسلم اور تعلیم یافتہ یوریشین انگریزوں کا گروہ جن کی سکونت مدراس کے احاطہ میں ہے ہماری جماعت میں شامل اور تمام صداقتوں پر یقین رکھتے ہیں ۔ اب میں خیال کرتا ہوں کہ میں نے وہ تمام باتیں لکھ دی ہیں جو ایک خدا ترس آدمی کے سمجھنے کے لئے کافی ہیں ۔ آریوں کا اختیار ہے کہ میرے اس مضمون پر بھی اپنی طرف سے جس طرح چاہیں حاشیے چڑھاویں مجھے اس بات پر کچھ بھی نظر نہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس وقت اس پیشگوئی کی تعریف کرنا یا مذمت کرنا دونوں برابر ہیں اگر یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور میں خوب جانتا ہوں کہ اسی کی طرف سے ہے تو ضرور ہیبت ناک | ||
| زندہ گواہ رویت | خلیفہ نور الدین صاحب تاجر کتب جموں۔ منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلہ ۔ شیخ رحمت اللہ صاحب بمبئی ہوس لاہور ۔ منشی تاج دین صاحب لاہور۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۳ | نشان کے ساتھ اس کا وقوعہ ہوگا اور دلوں کو ہلا دے گا اور اگر اس کی طرف سے نہیں تو پھر میری ذلت ظاہر ہوگی اور اگر میں اس وقت رکیک تاویلیں کروں گا تو یہ اور بھی ذلت کا موجب ہو گا وہ ہستی قدیم اور وہ پاک و قدوس جو تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے وہ کاذب کو کبھی عزت نہیں دیتا۔ یہ بالکل غلط بات ہے کہ لیکھرام سے مجھ کو کوئی ذاتی عداوت ہے مجھ کو ذاتی طور پر کسی سے بھی عداوت نہیں بلکہ اس شخص نے سچائی سے دشمنی کی اور ایک ایسے کامل اور مقدس کو جو تمام سچائیوں کا چشمہ تھا توہین سے یاد کیا اس لئے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے ایک پیارے کی دنیا میں عزت ظاہر کرے۔ والسّلام علٰی من اتبع الهدٰی ۔ پھر اسی کتاب برکات الدعاء کے حاشیہ پر وہ کشف درج ہے جو ۲؍ اپریل ۹۳ء کو میں نے دیکھا کہ ایک شخص قوی ہیکل مہیب شکل گویا اس کے چہرے پر سے خون ٹپکتا ہے گویا وہ انسان نہیں ملا یک شداد غلاظ سے ہے وہ میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اور اس کی ہیبت دلوں پر طاری تھی اور میں اس کو دیکھتا تھا کہ اس نے مجھ سے پوچھا کہ لیکھرام کہاں ہے اور ایک اور شخص کا نام لیا جو یاد نہیں رہا اور کہا کہ وہ کہاں ہے۔ تب میں نے سمجھ لیا کہ یہ شخص لیکھرام اور اس دوسرے کی سزا دہی کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ دیکھو ٹائٹل پیج برکات الدعاء مطبوعہ اپریل ۱۸۹۳ء اس کے بعد ۶؍ مارچ ۱۸۹۷ء کو لیکھرام بذریعہ قتل فوت ہو گیا اور اس وقت کہ جب یقینی اور قطعی طور پر مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ میری دعا کے قبول ہونے پر آسمان پر یہ قرار پا چکا ہے کہ لیکھرام ایک درد ناک عذاب سے قتل کیا جائے گا میں نے اسی کتاب برکات الدعا میں سید احمد خان کو جو اپنے باطل عقیدہ کے | ||
| زندہ گواہ رویت | میاں نبی بخش صاحب رفوگر امرت سر۔ ڈاکٹر قاضی کرم الہی صاحب امرت سر۔ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اسٹنٹ سرجن رڑکی ۔ سید حامد شاہ صاحب سیالکوٹ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۳ | رو سے دعاؤں کے قبول ہونے سے منکر تھا اس طرف توجہ دلائی اور اس کے سامنے اپنی دعا سے لیکھرام کے مارے جانے کی نظیر پیش کی حالانکہ لیکھرام ابھی زندہ پھرتا تھا اور میں نے سید احمد خان کو مخاطب کر کے کتاب برکات الدعا میں لکھا کہ لیکھرام کی موت کے لئے میں نے دعا کی ہے اور وہ دعا قبول ہو گئی سو آپ کے لئے نمونہ کے طور پر یہ دعائے مستجاب کافی ہے مگر اس تحریر پر ہنسی کی گئی کیونکہ لیکھرام ابھی زندہ اور ہر طرح سے تندرست اور توہین اسلام میں سخت سرگرم تھا اور میں نے اس مراد سے کہ لوگ پیشگوئی کو یاد کر لیں اشعار میں سید احمد خان کو مخاطب کیا اور وہ اشعار یہ ہیں جو برکات الدعا میں درج ہیں۔
روئے دلبر از طلبگاران نمیدارد حجاب میدرخشد در خور و مَے تابد اندر ماہتاب لیکن این روئے حسین از غافلان ماند نہان عاشقے باید کہ بردارند از بہرش نقاب دامن پاکش زنخوت ہانے آید بدست ہیچ راہے نیست غیر از عجز و درد و اضطراب بس خطرناک است راہ کوچۂ یار قدیم جان سلامت بایدت از خود روی ہا سر بتاب تا کلامش عقل و فہم ناسزایان کم رسد ہر کہ از خود گم شود او یا بد آن راہ صواب مشکل قرآن نہ از ابنائے دُنیا حل شود ذوق آن میداند آن مستی کہ نوشد آن شراب اے کہ آگاہی ندادندت ز انوار درون در حقِ ما ہر چہ گوئی نیستی جائے عتاب از سرِ وعظ و نصیحت ایں سخن ہا گفتہ ایم تا مگر زیں مرہمے بہ گردد آن زخمِ خراب از دعا کن چارۂ آزارِ انکارِ دعا چوں علاجِ مَے ز مَے وقتِ خمار و التہاب ایکہ گوئی گر دعاہا را اثر بودے کجاست سوئے من بشتاب بنمایم ترا چوں آفتاب ہاں مکن انکار زیں اسرار قدرتہائے حق قصہ کوتاہ کن بہ بین از ما دعائے مستجاب |
یعنی دعائے موت لیکھرام | |
| زندہ گواہ رویت | شیخ محمد خان صاحب وزیر آباد۔ ڈاکٹر میرزا یعقوب بیگ صاحب پروفیسر میڈیکل کالج لاہور۔ منشی نواب خان صاحب تحصیلدار گوجرات ۔ میاں معراج الدین صاحب لاہور | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۳ | پھر اس پیشگوئی کی وضاحت صرف اس حد تک نہیں کہ تیغ بران کے ذریعہ سے ایک ہیبت ناک موت کی خبر دی گئی ہو بلکہ کتاب کرامات الصادقین کے ایک عربی شعر میں جو واقعہ قتل پنڈت لیکھرام سے چار سال پہلے تمام قوموں میں شائع ہو چکا تھا اس کی موت کا دن اور تاریخ بھی بتلائی گئی تھی چنانچہ اس شعر پر ہندو اخبار نے لیکھرام کے قتل کے وقت بڑا شور مچایا تھا اور وہ شعر یہ ہے:۔
وبَشَّرني ربّي و قال مبشرا ستعرف يوم العيد والعيد اقرب |
||
| زندہ گواہ رویت | چوہدری رستم علی صاحب کورٹ انسپکٹر انبالہ ۔ منشی عبدالعزیز صاحب محافظ دفتر دہلی۔ سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراس ۔ زین الدین محمد ابراہیم صاحب انجنئیر بمبئی۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۳ | کرائیں اور ہر جگہ اس مقتول کی ہمدردی کے لئے بڑے بڑے جلسے کئے اور تجویزیں قرار پائیں کہ سال بسال اس ماتم کا ایک دن مقرر کیا جائے تا یہ واقعہ ہمارے دلوں سے بھولنے نہ پائے اور نظموں اور نثروں میں مرثیے اور بین لکھے اور ملک میں شائع کئے اور خدا نے یہ سب کچھ اس لئے ہونے دیا تا پیشگوئی کی عظمت دلوں میں پھیل جائے کیونکہ جس قدر مقتول کو عظمت دی جاوے در حقیقت وہ پیشگوئی کی عظمت ہے وجہ یہ کہ اگر مقتول ایک ذلیل اور حقیر آدمی ہو تو پیشگوئی کو بہت توجہ سے ذکر نہیں کیا جاتا اور اس طرح پر جلد تر وہ بھول جاتی ہے پس خدا نے چاہا کہ لیکھرام کو اس کی قوم بہت کچھ عظمت دیوے تا اس عظمت سے پیشگوئی کی عظمت ثابت ہو۔ اور نیز آریوں کے دل میں ڈال دیا کہ انہوں نے ہمیشہ کے لئے اس کی یادگاریں قائم کیں۔☆ غرض یہ پیشگوئی ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے اور | ||
| زندہ گواہ رویت | شیخ نور احمد صاحب مالک مطبع ریاض ہند امرت سر۔ میاں عبد الخالق صاحب امرتسر ۔ میاں قطب الدین صاحب مس گر امرتسر ۔ ڈاکٹر عباداللہ صاحب امرتسر۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۳ | حضرت رسول کریم کے اس معجزے کے ساتھ مشابہ ہے جس میں کسری ہلاک ہوا تھا اور جس قدر کوئی طالب حق اس میں غور کرے گا اسی قدر حق الیقین کے مرتبہ سے نزدیک ہوتا جائے گا۔ اس پیشگوئی کے متعلق آئینہ کمالات اسلام والا اشتہار پڑھو پھر برکات الدعاء کی عبارت غور سے پڑھو پھر وہ اشتہار دیکھو جس میں ایک ہاتھ بنا ہوا ہے جو لیکھرام کی طرف اشارہ کرتا ہے پھر وہ کشف غور سے پڑھو جو برکات الدعا کے اخیر صفحہ کے حاشیہ پر ہے پھر ستعرف والا عربی شعر پڑھو ۔ پھر وہ عربی پیشگوئی پڑھو جو کرامات الصادقین کے اخیر ٹائیٹل پیج کے صفحہ پر ہے پھر انصاف سے سوچو کہ اس قدر امور غیبیہ کا بیان کرنا کیا کسی مفتری انسان کا کام ہے اور کسی کی قدرت اور اختیار میں ہے کہ محض اپنے منصوبہ سے ایسی خارق عادت اور فوق الطاقت باتیں بیان کر سکے جو آخر اسی طرح پوری بھی ہو جائیں ہم اس جگہ آئینہ کمالات اسلام کا اشتہار جو لیکھرام کی موت کے بارے میں قبل از وقت شائع کیا گیا تھا ذیل میں لکھ دیتے ہیں تا ناظرین کو معلوم ہو کہ کس قوت اور شوکت سے یہ اشتہار لکھا گیا تھا اور وہ یہ ہے۔ لیکھرام پیشاوری کی نسبت ایک پیشگوئی واضح ہو کہ اس عاجز نے اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء میں جو اس کتاب کے ساتھ شامل |
||
| زندہ گواہ رویت | شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی - شیخ عبدالرحیم صاحب۔ پیر منظور احمد صاحب ۔ صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی۔ میاں نجم الدین صاحب بھیروی۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۳ | کیا گیا تھا اندر من مراد آبادی اور لیکھرام پشاوری کو اس بات کی دعوت کی تھی کہ اگر وہ خواہش مند ہوں تو ان کی قضا و قدر کی نسبت بعض پیشگوئیاں شائع کی جائیں سو اس اشتہار کے بعد اندرمن نے تو اعراض کیا اور کچھ عرصہ کے بعد فوت ہو گیا لیکن لیکھرام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اس عاجز کی طرف روانہ کیا کہ میری نسبت جو پیشگوئی چاہو شائع کر دو میری طرف سے اجازت ہے سو اس کی نسبت جب توجہ کی گئی تو اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ الہام ہوا۔ عجل جسد لهٗ خوار . لهٗ نصب و عذاب یعنی یہ صرف ایک بے جان گوسالہ ہے جس کے اندر سے ایک مکروہ آواز نکل رہی ہے اور اس کے لئے ان گستاخیوں اور بد زبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب مقدر ہے جو ضرور اس کو مل رہے گا اور اس کے بعد آج جو ۲۰؍ فروری ۱۸۹۳ء روز دوشنبہ ہے اس عذاب کا وقت معلوم کرنے کے توجہ کی گئی تو خداوند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج کی تاریخ سے جو ۲۰؍ فروری ۱۸۹۳ء ہے چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بد زبانیوں کی سزا میں یعنی ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کی ہیں عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔ سواب میں اس پیشگوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی |
||
| زندہ گواہ رویت نمبر ۴۳ | ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب پروفیسر میڈیکل کالج لاہور۔ منشی نواب خان صاحب تحصیلدار گوجرات۔ چوہدری رستم علی صاحب کورٹ انسپکٹر انبالہ۔ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اسٹنٹ سرجن رڑ کی۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۳ | تاریخ سے کوئی ایسا عذاب☆ نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے اور اگر میں اس پیشگوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا کے بھگتنے کے لئے میں تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسہ ڈال کر سولی پر کھینچا جائے اور باوجود میرے اس اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی انسان کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے زیادہ اس سے کیا لکھوں ۔ واضح رہے کہ اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت بے ادبیاں کی ہیں جن کے تصور سے بدن کانپتا ہے اس کی کتابیں عجیب طور کی تحقیر اور توہین اور دشنام دہی سے بھری ہوئی ہیں کون مسلمان ہے جو ان کتابوں کو سنے اور اس کا دل اور جگر ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو با این ہمہ شوخی و خیرگی یہ شخص سخت جاہل ہے عربی سے ذرا مس نہیں بلکہ دقیق اردو لکھنے کا بھی مادہ نہیں۔ اور یہ پیشگوئی اتفاقی نہیں بلکہ اس عاجز نے خاص اسی مطلب کے لئے دعا کی جس کا یہ جواب ملا اور یہ پیشگوئی مسلمانوں کے لئے بھی نشان ہے کاش وہ حقیقت کو سمجھتے اور ان کے دل نرم ہوتے ۔ اب میں اسی خدائے عزوجل کے نام پر ختم کرتا ہوں جس کے نام سے شروع کیا تھا۔ والحمد للہ والصّلوٰة والسلام علٰی رسوله محمد المصطفٰی افضل الرسل وخير الورٰی سيدنا وسيد كلّ مافى الارض والسّما. خاکسار میرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ۲۰؍ فروری ۱۸۹۳ء | ||
| زندہ گواہ رویت نمبر ۴۳ | لیکھرام والی پیشگوئی قبل از وقت بہت سی کتابوں اور اشتہاروں میں درج ہو چکی تھی جن کا ذکر اوپر آ چکا ہے اور اس کے گواہ ساری برٹش انڈیا ہے ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۴۴ | ۲۴؍ مئی ۱۸۹۷ء | میں نے اپنے اشتہار مورخہ ۲۴؍ مئی ۱۸۹۷ء میں یہ پیشگوئی کی تھی کہ رومی سلطنت کے ارکانِ دولت بکثرت ایسے ہیں جن کا چال و چلن سلطنت کو مضرّ ہے اور جیسا اسی اشتہار میں درج ہے۔ اس امر کی اشاعت کا یہ باعث ہوا تھا کہ ایک شخص مسمی حسین بک کامی وائس قونصل مقیم کرانچی جو سفیر روم کہلاتا تھا قادیان میں میرے پاس آیا اور وہ خیال رکھتا تھا کہ وہ اور اس کے باپ سلطنت ٹرکی کے بڑے خیر خواہ اور امین اور دیانت دار ہیں مگر جب وہ میرے پاس آیا تو میری فراست نے گواہی دی کہ یہ شخص امین اور پاک باطن نہیں اور ساتھ ہی میرے خدا نے مجھے القا کیا کہ رومی سلطنت انہی لوگوں کی شامتِ اعمال کے سبب خطرہ میں ہے سو میں اس سے بیزار ہوا لیکن اس نے خلوت میں کچھ باتیں کرنے کے لئے درخواست کی چونکہ وہ مہمان تھا اس لئے اخلاقی حقوق کی وجہ سے اس کی درخواست کو رد نہ کیا گیا پس خلوت میں اس نے دعا کے لئے درخواست کی تب اس کو وہی جواب دیا گیا جو اشتہار ۲۴؍ مئی ۱۸۹۷ء میں درج کیا گیا تھا اور اس تقریر میں دو پیشگوئیاں تھیں (۱) ایک یہ کہ تم لوگوں کا چال چلن اچھا نہیں اور دیانت اور امانت کے نیک صفات سے تم محروم ہو۔ (۲) دوم یہ کہ اگر تیری یہی حالت رہی تو تجھے اچھا پھل نہیں ملے گا اور تیرا انجام بد ہوگا۔ پھر اسی اشتہار میں یہ لکھا تھا کہ بہتر تھا کہ یہ میرے پاس نہ آتا میرے پاس سے ایسی بدگوئی سے واپس جانا اس کی سخت بد قسمتی ہے | اکتوبر ۱۸۹۹ء |
| اس پیشگوئی کے گواہ شیخ رحمت اللہ صاحب سوداگر بمبئی ہوس لاہور۔ مفتی محمد صادق صاحب۔ صاحبزادہ سراج الحق صاحب نعمانی۔ شیخ عبدالرحیم | |||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۴ | یہی وجہ تھی کہ میری نصیحت اس کو بُری لگی اور اس نے جا کر میری بدگوئی کی۔ پھر اشتہار ۲۵؍ جون ۱۸۹۷ء میں یہ لکھا گیا تھا کہ کیا ممکن نہ تھا کہ جو کچھ میں نے رومی سلطنت کے اندرونی نظام کی نسبت بیان کیا وہ دراصل صحیح ہو اور ترکی گورنمنٹ کے شیرازہ میں ایسے دھاگے بھی ہوں جو وقت پر ٹوٹنے والے اور غداری سرشت ظاہر کرنے والے ہوں ۔ یہ تو میرے الہامات تھے جو لاکھوں انسانوں میں بذریعہ اشتہارات شائع کئے گئے تھے مگر افسوس کہ ہزار ہا مسلمان اور اسلامی اڈیٹر مجھ پر جوش کے ساتھ ٹوٹ پڑے اور حسین کامی کی نسبت لکھا کہ وہ نائب خلیفۃ اللہ سلطان روم ہے اور پاک باطنی سے سراپا نور ہے اور میری نسبت لکھا کہ یہ واجب القتل ہے۔ سو واضح ہو کہ اس واقع کے دو سال بعد یہ پیشگوئیاں ظہور میں آئیں۔ اور حسین کامی کی خیانت اور غبن کا ہندوستان میں شور مچ گیا۔ چنانچہ ہم اخبار نیر آصفی مدراس مورخہ ۱۲؍ اکتوبر ۱۸۹۹ء میں سے تھوڑا سا نقل کرتے ہیں ۔ ”حسین کامی نے بڑی بے شرمی کے ساتھ (چندہ مظلومان کریٹ جو ہند میں جمع ہوا تھا اس کے تمام) روپیہ کو بغیر ڈکار لینے کے ہضم کر لیا اور کارکن کمیٹی نے بڑی فراست اور عرقریزی سے اُگلوایا۔ یہ روپیہ ایک ہزار چھ سو کے قریب تھا جو کہ حسین کامی کی اراضیات مملوکہ کو نیلام کرا کر وصول کیا گیا اور اس غبن کے سبب حسین کامی کو موقوف کیا گیا ۔” | ||
| زندہ گواہ رویت نمبر ۴۴ | ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب۔ خواجہ کمال الدین صاحب۔ مولوی نورالدین صاحب۔ مولوی عبدالکریم صاحب شیخ یعقوب علی صاحب وغیرہ احباب ہیں۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۴۵ | ستمبر ۱۸۹۴ء | حبّی فی اللہ اخویم حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب کا ایک شیر خوار بچہ فوت ہو گیا تھا۔ جس پر مخالفین نے طعن کیا تب میں نے مولوی صاحب موصوف کے لئے دعا کی ۔ تو خواب میں دکھایا گیا کہ مولوی صاحب کی گود میں ایک لڑکا کھیلتا ہے اور اس کے بدن پر خطرناک بڑے بڑے پھوڑے ہیں پس یہ پیشگوئی اشتہار انوار الاسلام کے صفحہ ۲۶ میں درج کی گئی اور اس کے ذریعہ سے یہ الہام شائع کیا گیا کہ مولوی صاحب کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہو گا جس کے بدن پر پھوڑے ہوں گے۔ چنانچہ اس کے پانچ سال بعد مولوی صاحب کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور اس کا نام عبدالحی رکھا گیا اور ساتھ ہی اس کے بدن پر خطر ناک پھوڑے نکلے جن کے نشان اب تک موجود ہیں جو چاہے دیکھ لے۔ یہ کتنا بڑا معجزہ ظاہر ہوا جو پیرانہ سالی اور نومیدی کے بعد ایک لڑکے کی خبر دی گئی اور بتلایا گیا کہ اس کے پیدا ہوتے ہی بڑے بڑے پھوڑے اس کے بدن پر نمودار ہوں گے یہ اس کا نشان ہوگا۔ | ۱۸۹۹ء |
| پیشگوئی نمبر ۴۶ | ۱۸۸۰ء | انی مهین من اراد اهانتک یعنی میں اس کی اہانت کروں گا جو تیری اہانت کا ارادہ کرے گا ۔ یہ ایک نہایت پر شوکت وحی اور پیشگوئی ہے جس کا ظہور مختلف پیرایوں اور مختلف قوموں میں ہوتا رہا ہے اور جس کسی نے اس سلسلہ کو ذلیل کرنے کی کوشش کی وہ خود ذلیل اور ناکام ہوا۔ مثلاً مولوی محمد حسین نے کپتان ڈگلس کے روبرو میرے برخلاف گواہی دی اور میری توہین چاہی تو اس کو کرسی کے مانگنے پر ڈپٹی کمشنر نے سخت جھڑکا | یہ پیشگوئی ہمیشہ پوری ہوتی رہتی ہے |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۴۵ | ان پیشگوئیوں کے گواہ صاحبزادہ سراج الحق صاحب۔ حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب۔ مفتی محمد صادق صاحب۔ مولوی عبدالکریم صاحب۔ مولوی حاجی حکیم فضل الدین صاحب۔ خلیفہ رجب الدین صاحب لاہور | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۶ | اور ذلیل کیا ۔ جب مخالف مولوی لوگوں نے مجھے جاہل کہا تو خدا نے مجھے ایسی عربی فصیح بلیغ کتابیں لکھنے اور مقابلہ کے لئے سب کو چیلنگ کرنے کی توفیق دی کہ آج تک کوئی مولوی جواب نہیں دے سکا۔ پیر مہر علی شاہ نے میری اہانت چاہی تو اول اعجاز المسیح کا جواب عربی میں نہ لکھنے پر وہ ذلیل ہوا اور پھر ایک مردہ کی تحریرات اپنے نام پر بطور سرقہ شائع کر کے ذلیل ہوا اور کیسا ذلیل ہوا کہ چوری بھی کی اور وہ بھی نجاست کی چوری۔ کیونکہ محمد حسن مردہ کی کل تحریر غلط تھی اور مہر علی اس کا چور تھا اس چوری سے کیا کیا ذلتیں اٹھائیں (۱) اول مردہ کے مال کا چور (۲) دوسرا چونکہ مال سب کھوٹا تھا اس لئے دوسری ذلت یہ ثابت ہوئی کہ علمی رنگ میں بصیرت کی آنکھ ایک ذرہ اس کو حاصل نہیں تھی ۔ (۳) تیسری یہ ذلت کہ سیف چشتیائی میں اقرار کر چکا کہ یہ میری تصنیف ہے بعد ازاں ثابت ہو گیا کہ جھوٹا کذاب ہے یہ اس کی تصنیف نہیں بلکہ محمد حسن متوفی کی تحریر ہے جو مر کر اپنی نادانی کا نمونہ چھوڑ گیا۔ مہر علی نے خواہ نخواہ اس کی پیشانی کا سیہ داغ اپنے ماتھے پر لگا لیا۔ لگا مولوی بننے اگلی حیثیت بھی جاتی رہی یہی پیشگوئی تھی کہ انی مهین من اراد اهانتک ۔ محمد حسن مردہ نے جبھی کہ میری کتاب اعجاز المسیح کا جواب لکھنے کا ارادہ کیا اس کو خدا نے فوراً ہلاک کیا۔ غلام دستگیر نے اپنی کتاب فتح رحمانی کے صفحہ ۲۷ میں مجھ پر بددعا کی اس کو خدا نے ہلاک کیا۔ مولوی محمد اسمعیل علیگڑھ نے مجھ پر | ||
| بقیہ زندہ گواہ رویت کے | قاضی ضیاء الدین صاحب اور یہ پیشگوئی کتاب انوارالاسلام میں درج ہو کر ہزاروں لوگوں میں شائع ہو چکی ہے۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اوسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۶ | بددعا کی اس کو خدا نے مار دیا۔ محی الدین لکھو کے والا نے مجھ پر بددعا کی اس کو خدا نے مار دیا۔ مہر علی نے مجھ کو چور بنانا چاہا وہ خود چور بن گیا۔ محمد حسن بھیں نے میری کتاب کا رد لکھ کر مجھے ذلیل کرنا چاہا خود ایسا ذلیل ہوا کہ خدا نے اس کی سزا صرف اس کی موت تک کافی نہ سمجھی بلکہ ہر ایک غلطی میری جو اس نے نکالی وہ ان کی خود غلطی ثابت ہوئی بد قسمت مہر علی کو بھی ساتھ ہی لے ڈوبا۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۴۷ | ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء | ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء میں ابتداءً اور ۱۲؍ مارچ ۱۸۹۷ء میں ثانیاً یعنی بذریعہ اشتہار ایک پیشگوئی شائع کی تھی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ سید احمد خان صاحب کے۔ سی۔ ایس۔ آئی کو کئی قسم کی بلائیں اور مصائب پیش آئیں گی۔ چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا کہ اول تو اخیر عمر میں سید صاحب کو ایک جوان بیٹے کی موت کا جانکاہ صدمہ پہنچا اور پھر قوم مسلمانان کا ڈیڑھ لاکھ روپیہ جو ان کی امانت میں تھا ان کا ایک معتمد علیہ شریر ہندو خیانت سے غبن کر کے ان کو ایسا صدمہ اور ھم و غم پہنچا گیا جس سے ان کی تمام اندرونی طاقتیں اور قوتیں ایک دفعہ سلب ہو گئیں اور جلد انہوں نے راہ عدم دیکھا۔ | ۹۷ و ۹۸ء |
| پیشگوئی نمبر ۴۸ | ۱۲؍ مارچ ۱۸۹۷ء | خداوند علیم وخبیر سے خبر پا کر میں نے اپنے اشتہار ۱۲؍ مارچ ۱۸۹۷ء میں اس امر کو ظاہر کر دیا تھا کہ اب سید احمد خان صاحب کے۔ سی۔ ایس۔ آئی کی موت کا وقت | ۲۵؍ مارچ ۱۸۹۷ء |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۴۷ | یہ پیشگوئیاں قبل از وقت بذریعہ اشتہاروں کے ہزار ہا لوگوں میں شائع ہو چکی تھیں۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| قریب ہے ۔ افسوس ہے کہ ایک نظر دیکھنا بھی نصیب نہ ہوا۔ سید صاحب غور سے پڑھیں کہ اب ملاقات کے عوض میں یہی اشتہار ہے چنانچہ اس اشتہار کے ایک سال بعد سید صاحب وفات پاگئے ۔ | |||
| پیشگوئی نمبر ۴۹ | یکم جنوری ۱۸۸۸ء | مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک لڑکے کے پیدا ہونے کی بشارت دی چنانچہ قبل ولادت بذریعہ اشتہار کے وہ پیشگوئی شائع ہوئی پھر بعد اس کے وہ لڑکا پیدا ہوا جس کا نام بھی رؤیا کے مطابق محمود احمد رکھا گیا اور یہ پہلا لڑکا ہے جو سب سے بڑا ہے۔ | ۱۲؍ جنوری ۱۸۸۹ء |
| پیشگوئی نمبر ۵۰ | ۱۰ دسمبر ۱۸۹۲ء | پھر مجھے دوسرے لڑکے کے پیدا ہونے کی نسبت الہام ہوا کہ جو قبل از ولادت بذریعہ اشتہار شائع کیا گیا الہام یہ تھا سیولد لک الولد. ویُدنی منک الفضل اور وہ الہام آئینہ کمالات اسلام کے صفحہ ۲۶۶ میں بھی درج کیا گیا تھا اور اس کے بعد دوسرا بیٹا پیدا ہوا جس کا نام بشیر احمد ہے۔ | ۲۰؍ اپریل ۱۸۹۳ء |
| پیشگوئی نمبر ۵۱ | ۵ ستمبر ۱۸۹۴ء | پھر تیسرے بیٹے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے مجھے بشارت دی کہ انا نبشّرک بغلام اور یہ پیشگوئی رسالہ انوار الاسلام میں قبل از وقت شائع کی گئی۔ چنانچہ اس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے تیسرا بیٹا عطا فرمایا جس کا نام شریف احمد ہے۔ | ۲۴؍ مئی ۱۸۹۵ء |
| پیشگوئی نمبر ۵۲ | جنوری ۹۷ء | پھر چوتھے لڑکے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے مجھے الہام میں بشارت دی۔ | ۱۴؍ جون ۱۸۹۹ء |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۴۹ و ۵۰ و ۵۱ | یہ پیشگوئیاں بذریعہ مطبوعہ اشتہاروں کے ہزار ہا لوگوں میں شائع ہو چکی ہیں اور پھر پوری ہوئیں اور ہزاروں زندہ گواہ موجود ہیں مثلاً مولوی حکیم نورالدین صاحب ۔ مولوی عبد الکریم صاحب ۔ مولوی محمد علی صاحب ایم اے ۔ مفتی محمد صادق صاحب ۔ قاضی ضیاء الدین صاحب۔ صاحبزادہ سراج الحق صاحب وغیرہ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۵۲ | جس کی اشاعت پر عبد الحق غزنوی نے کچھ اعتراض کئے تو دوبارہ کتاب ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ۵۸ پر اس بات کو بڑے زور سے شائع کیا گیا کہ یہ پیشگوئی جب تک پوری ہو ضرور ہے کہ اس وقت تک عبدالحق غزنوی زندہ رہے چنانچہ چوتھا لڑکا بھی جون ۱۸۹۹ء کو پیشگوئی کے مطابق پیدا ہوا جس کا نام مبارک احمد ہے۔ والحمد للّٰہ علٰی ذالک یہ پیشگوئی کس قدر خدا کے ہاتھ سے خصوصیت رکھتی ہے کہ ایک کے تولد کو ایک سن رسیدہ آدمی کے زندہ ہونے کے ایام سے وابستہ کیا اور ایسا ہی ظہور میں آیا جیسا کہ ایک لڑکے کی پیدائش کو پھوڑوں کے ساتھ منسوب کیا اور ایسا ہی ظہور میں آیا۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۵۳ | ۱۵؍ مارچ ۱۸۹۷ء | جب میری پیشگوئی کے مطابق لیکھرام کے قتل ہو جانے پر آریوں میں میری نسبت بہت شور مچا اور میرے قتل یا گرفتار ہونے کیلئے سازشیں کیں چنانچہ بعض اخبار والوں نے ان باتوں کو اپنی اخباروں میں بھی درج کیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے الہام ہوا۔ سلامت بر تو اے مرد سلامت۔ چنانچہ یہ الہام بذریعہ اشتہار کے شائع کیا گیا اور اس وعدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے مجھے مخالفین کے مکر و فریب اور منصوبوں سے محفوظ رکھا۔ | یہ پیشگوئی اب تک ہر روز ظہور میں آ رہی ہے |
| پیشگوئی نمبر ۵۴ | ۱۹۰۱ء | کتاب اعجاز المسیح کے بارے میں یہ الہام ہوا تھا کہ ”من قام للجواب وتنمّر فسوف یریٰ انه تندم و تذمر“ یعنی جو شخص غصہ سے بھر کر اس کتاب کا جواب | ۱۹۰۱ء و ۱۹۰۲ء |
| زندہ گواہ رویت کے | پیشگوئی نمبر ۵۲ ضمیمہ انجام آتھم میں شائع ہو کر لاکھوں آدمیوں میں مشہور ہو چکی تھی ۔ باقی اس صفحہ کی پیشگوئیوں کے گواہ ہماری جماعت کے اور بہت آدمی ہیں ۔ مثلاً صاحبزادہ سراج الحق صاحب ۔ مولوی حکیم نور الدین صاحب وغیرہ وغیرہ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| لکھنے کے لئے طیار ہو گا وہ عنقریب دیکھ لے گا کہ وہ نادم ہوا اور حسرت کے ساتھ اس کا خاتمہ ہوا۔ چنانچہ محمد حسن فیضی ساکن موضع بھیں تحصیل چکوال ضلع جہلم مدرس مدرسہ نعمانیہ واقعہ شاہی مسجد لاہور نے عوام میں شائع کیا کہ میں اس کتاب کا جواب لکھتا ہوں اور ایسی لاف مارنے کے بعد جب اس نے جواب کے لئے نوٹ تیار کرنے شروع کئے اور ہماری کتاب کے اندر بعض صداقتوں پر جو ہم نے لکھی تھیں لعنة اللّٰہ علی الکاذبین لکھا تو جلد ہلاک ہو گیا۔ دیکھو مجھ پر لعنت بھیج کر ایک ہفتہ کے اندر ہی آپ لعنتی موت کے نیچے آگیا۔ کیا یہ نشان الٰہی نہیں۔ | |||
| پیشگوئی نمبر ۵۵ | ۲۰؍ فروری ۱۹۰۲ء | پیر مہر علیشاہ گولڑی نے جب اس کتاب اعجاز المسیح کا بہت عرصہ کے بعد جواب اردو میں لکھا تو اس بات کے ثابت ہو جانے سے کہ یہ اردو عبارت بھی لفظ بہ لفظ مولوی محمد حسن بھینی کی کتاب کا سرقہ ہے مہر علی شاہ کی بڑی ذلت ہوئی اور مذکورہ بالا الہام اس کے حق میں بھی پورا ہوا۔ | اگست ۱۹۰۲ء |
| پیشگوئی نمبر ۵۶ | مئی ۱۸۹۳ء | صدہا مخالف مولویوں کو مباہلہ کے لئے بلایا گیا تھا جن میں سے عبدالحق غزنوی میدان میں نکلا اور مباہلہ کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس وقت تو صرف چند آدمی ہمارے ساتھ تھے اور اب ایک لاکھ سے بھی کچھ زیادہ ہیں اور دن بدن ترقی کر رہے ہیں اور اس کے مقابل جا کر دیکھنا چاہئے کہ عبدالحق کے ساتھ کتنے ساتھی ہیں اور اس کی کیا عزت ہے کیا یہ خدا کا نشان نہیں۔ | یہ پیشگوئی ہر وقت ظہور میں آ رہی ہے |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۵۵ و ۵۶ | ان پیشگوئیوں کے گواہ ہزاروں ہزار آدمی ہیں ۔ مثلاً شیخ رحمت اللہ صاحب۔ منشی ظفر احمد صاحب۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی۔ شیخ نور احمد صاحب ایڈیٹر ریاض ہند امر تسر۔ مفتی محمد صادق صاحب ۔ حکیم فضل الدین صاحب بھیروی۔ سید حامد شاہ صاحب وغیرہ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۵۷ | ۲۱؍ دسمبر ۱۸۹۷ء ☆ | دسمبر ۱۸۹۶ء☆ میں پنجاب کے صدر مقام لاہور میں ایک بڑا بھاری جلسہ مذاہب ہوا جس میں تمام مذاہب کے وکلاء اور نامی آدمی دور و نزدیک سے اس بات کا فیصلہ کرنے کے لئے جمع ہوئے کہ مذاہب مروجہ میں سے کون سا مذہب حق اور بنی آدم کے لئے سب سے زیادہ مفید اور اصل مقصد زندگی انسانی کا حاصل کر ا دینے والا ہے۔ ہم نے بھی اس جلسہ میں سنانے کے لئے ایک مضمون لکھا اور اس مضمون کے متعلق ہمیں قبل از وقت یہ الہام ہوا کہ مضمون سب پر بالا رہا یعنی تمہارا یہ وہ مضمون ہے جو سب پر غالب آئے گا اور پھر یہ الہام تھا اللّٰہ اکبر خربت خیبر . ان اللّٰہ معک. ان اللّٰہ یقوم اَینما کنت۔ چنانچہ یہ الہام بذریعہ ایک چھپے ہوئے اشتہار مورخہ ۲۱؍ دسمبر کے قبل جلسہ ہذا ہی دو روز کے اندر ہی دور و نزدیک شائع کیا گیا اور سب لوگوں کو اس بات سے آگاہی دی گئی کہ ہمارا ہی مضمون غالب رہے گا۔ پس ایسا ہی ہوا کہ اس جلسہ میں جس قدر مضامین پڑھے گئے تھے ان سب پر ہمارا مضمون غالب اور فائق رہا اور خود اس جلسہ میں غیر مذاہب کے وکلاء نے بھی پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر گواہیاں دیں کہ مرزا صاحب کا مضمون سب پر غالب رہا اور انگریزی اخبار سول ملٹری گزٹ اور پنجاب ابز رور اور دیگر اخباروں نے بڑے زور سے گواہی دی کہ ہمارا مضمون سب مضامین پر غالب رہا۔ | ۲۷؍ دسمبر ۱۸۹۷ء ☆ |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۵۷ | یہ پیشگوئی قبل از وقت بذریعہ اشتہار کے شائع کی گئی تھی اور موقع پر اس کو پورا ہوتے ہوئے دیکھنے والے ہزاروں آدمی اس وقت ہر ملت و مذہب کے میدان جلسہ میں موجود تھے جنہوں نے اقرار کیا کہ یہ مضمون غالب رہا اور نیز انگریزی واردو اخباروں نے اس امر کی تصدیق کی کہ یہی مضمون سب سے بالا رہا۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۵۸ | ۱۸۸۶ء | سنہ ۱۸۸۳ء میں مجھ کو الہام ہوا کہ تین کو چار کرنے والا مبارک اور وہ الہام قبل از وقت بذریعہ اشتہار شائع کیا گیا تھا اور اس کی نسبت تفہیم یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ اس دوسری بیوی سے چار لڑکے مجھے دے گا اور چوتھے کا نام مبارک ہوگا اور اس الہام کے وقت منجملہ ان چاروں کے ایک لڑکا بھی اس نکاح سے موجود نہ تھا اور اب چاروں لڑکے بفضلہ تعالیٰ موجود ہیں۔ | چوتھا لڑکا ۱۴؍ جون ۱۸۹۹ء کو پیدا ہوا |
| پیشگوئی نمبر ۵۹ | ۱۰؍ جولائی ۱۸۸۸ء | اشتہار مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۸۸۸ء میں بذریعہ الہام مشتہر کیا گیا تھا کہ احمد بیگ ہوشیار پوری اگر اپنی لڑکی کا نکاح کسی اور کے ساتھ کرے گا تو تین سال کے اندر فوت ہو جائے گا اور اس سے پہلے اس کے کئی اور عزیز فوت ہوں گے چنانچہ اس لڑکی کے دوسری جگہ نکاح کے بعد ایسا ہی ہوا کہ احمد بیگ جلد میعاد کے اندر فوت ہو گیا اور اس سے پہلے کئی ایک اور اس کے عزیز فوت ہوئے ہاں اس پیشگوئی کے تین حصوں سے ابھی ایک باقی ہے اور قابل انتظار ہے مگر چونکہ تینوں حصے پیشگوئی کے ایک ہی الہام میں تھے اس لئے دو کے پورا ہونے نے پیشگوئی کی سچائی ظاہر کر دی ہے۔ | چھ ماہ نکاح کے بعد |
| پیشگوئی نمبر ۶۰ | ۲۹؍ جولائی ۱۸۹۷ء | ۲۹؍ جولائی ۱۸۹۷ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک صاعقہ مغرب کی طرف سے میرے مکان کی طرف چلی آتی ہے جو بے آواز اور بے ضرر ایک روشن ستارہ | خواب سے چند روز بعد |
| زندہ گواہ رویت کے نمبر ۵۸ و ۵۹ و ۶۰ | پیشگوئی نمبر ۵۸ و ۵۹ پوری ہونے سے پہلے بذریعہ اشتہار شائع کی گئی تھیں اشتہار موجود ہیں اور تینوں پیشگوئیوں کے گواہ بھی بہت ہیں جیسے حامد علی منشی ظفر احمد صاحب میاں محمد خان صاحب منشی رستم علی صاحب وغیرہ وغیرہ۔ پیشگوئی نمبر ۶۰ سے قبل از وقت قریباً پانسو آدمیوں کو اطلاع دی گئی تھی چنانچہ بعض کے نام یہ ہیں ۔ حضرت مولوی نورالدین صاحب۔ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب ۔ مولوی محمد علی صاحب ایم اے۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۶۰ | کی مانند آہستہ حرکت کرتی ہوئی میرے مکان کی طرف متوجہ ہوئی ہے اور جب قریب پہنچی تو میری آنکھوں نے صرف ایک چھوٹا ستارہ دیکھا جس کو میرا دل صاعقہ سمجھتا تھا۔ پھر الہام ہوا ما هذا الا تهدید الحکام یعنی یہ ایک مقدمہ ہوگا اور صرف حکام کی باز پرس تک پہنچ کر پھر نابود ہو جائے گا اور بعد اس کے الہام ہوا انّی مع الافواج اتیک بغتة. یاتیک نصرتی اِبُراء انّی انا الرحمٰن ذو المجد والعُلٰی ۔ یعنی میں اپنی فوجوں (یعنی ملائکہ ) کے ساتھ ناگہانی طور پر تیرے پاس آؤں گا اور اس مقدمہ میں میری مدد تجھے پہنچے گی۔ میں انجام کار تجھے بری کروں گا اور بے قصور ٹھہراؤں گا۔ میں ہی وہ رحمان ہوں جو بزرگی اور بلندی سے مخصوص ہے۔ اور پھر ساتھ اس کے یہ بھی الہام ہوا بلجت آیاتی یعنی میرے نشان ظاہر ہوں گے اور ان کے ثبوت زیادہ سے زیادہ ظاہر ہوں گے اور پھر الہام ہوا لواء فتح یعنی فتح کا جھنڈا۔ پھر الہام ہوا انما امرنا اذا اردنا شیئا ان نقول له کن فیکون. اس پیشگوئی سے قبل از وقت پانسو آدمیوں کو خبر دی گئی تھی کہ ایسا ابتلا آنے والا ہے مگر آخر بریت ہوگی اور خدا تعالیٰ کا فضل ہوگا چنانچہ میرے رسالہ کتاب البریت میں یہ تمام الہامات درج ہیں جو قبل از وقت دوستوں کو سنائے گئے اور پھر انہیں کے لئے | ||
| مفتی محمد صادق صاحب۔ حکیم فضل الدین صاحب۔ خواجہ کمال الدین صاحب۔ مولوی شیر علی صاحب ۔ حافظ عبدالعلی صاحب بی اے۔ میر ناصر نواب صاحب۔ منشی تاجدین صاحب ۔ حکیم فضل الہی صاحب ۔ خلیفہ رجب الدین صاحب۔ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ برادر مرزا ایوب بیگ صاحب ۔ منشی تاج الدین صاحب کلرک و دیگر جماعت لاہور۔ حکیم حسام الدین صاحب | |||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۶۰ | کتاب البریّت بھی تالیف ہوئی تا ہمیشہ کے لئے ان کو یاد رہے کہ جو کچھ قبل از مقدمہ ان دوستوں کو خبر دی گئی وہ سب باتیں کیسی صفائی سے ان کے روبرو ہی پوری ہو گئیں ۔ یہ مقدمہ اس طرح سے ہوا کہ ایک شخص عبدالحمید نام نے عیسائیوں کے سکھلانے پر مجسٹریٹ ضلع امرتسر کے روبرو اظہار دئے کہ مجھے مرزا غلام احمد نے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے قتل کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ اس پر مجسٹریٹ امرتسر نے میری گرفتاری کے لئے یکم اگست کو وارنٹ جاری کیا جس کی خبر سن کر ہمارے مخالفین امرتسر و بٹالہ میں ریل کے پلیٹ فارموں اور سڑکوں پر آ آ کر کھڑے ہوتے تھے تا کہ میری ذلت دیکھیں لیکن خدا کی قدرت ایسی ہوئی کہ اول تو وہ وارنٹ خدا جانے کہاں گم ہو گیا ۔ دوم مجسٹریٹ ضلع امرتسر کو بعد میں خبر لگی کہ اس نے غیر ضلع میں وارنٹ جاری کرنے میں بڑی غلطی کھائی ہے پس اس نے ۶؍ اگست کو جلدی سے صاحب ضلع گورداسپور کو تار دیا کہ وارنٹ فوراً روک دو جس پر سب حیران ہوئے کہ وارنٹ کیسا۔ لیکن مثل مقدمہ کے آنے پر صاحب ضلع گورداسپور نے ایک معمولی سمن کے ذریعہ سے مجھے بلایا اور عزت کے ساتھ اپنے پاس کرسی دی یہ صاحب ضلع جس کا نام کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس تھا بسبب زیرک اور دانشمند اور منصف مزاج ہونے کے فوراً سمجھ گیا کہ مقدمہ بے اصل اور جھوٹا ہے اس لئے میں نے ایک دوسرے مقام میں اس کو پیلاطوس سے نسبت دی ہے۔ | ||
| زندہ گواہ رویت نمبر ۶۰ | سید حامد شاہ صاحب سپرنٹنڈنٹ دفتر صاحب ضلع ۔ شیخ مولا بخش صاحب سوداگر و دیگر جماعت سیالکوٹ ۔ شیخ رحمت اللہ صاحب لاہور ۔ منشی ظفر احمد صاحب۔ میاں محمد خان صاحب۔ منشی محمد اروڑا صاحب و دیگر جماعت کپورتھلہ ۔ خلیفہ نورالدین صاحب و دیگر جماعت جموں ۔ چوہدری رستم علی صاحب کورٹ انسپکٹر ۔ سید امیر شاہ صاحب ڈپٹی انسپکٹر وغیرہ یہ چند ایک نام بطور نمونہ کے لکھے گئے ہیں۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۶۰ | بلکہ مردانگی اور انصاف میں اس سے بڑھ کر ۔ لیکن خدا کا اور فضل یہ ہوا کہ خود عبد الحمید نے عدالت میں اقرار کر لیا کہ عیسائیوں نے مجھے سکھلا کر یہ اظہار دلایا تھا ورنہ یہ بیان سراسر جھوٹ ہے کہ مجھے قتل کے لئے ترغیب دی گئی تھی پس صاحب ضلع نے اس آخری بیان کو صحیح سمجھا اور بڑے زور وشور کا چٹھا لکھ کر مجھے بری کر دیا اور تبسم کے ساتھ عدالت میں مجھے مبارکباددی۔ فالحمد للّٰہ علٰی ذالک. | ||
| پیشگوئی نمبر ۶۱ | ۲۹؍ جولائی ۱۸۹۷ء | اسی مذکورہ بالا سلسلہ الہام میں ایک الہام یہ تھا کہ مخالفوں میں پھوٹ اور ایک شخص متنافس کی ذلت اور اہانت اور ملامت خلق ۔ چنانچہ اس الہام کا ایک حصہ تو اس طرح پر پورا ہوا کہ ہمارے مخالفین یعنی عبدالحمید اور اس کو سکھانے والے عیسائیوں میں پھوٹ پڑی کہ عبدالحمید نے صاف اقرار کر لیا کہ مجھے ان لوگوں نے یہ جھوٹی بات سکھائی تھی ورنہ اصل میں یہ کچھ بات نہ تھی صرف ان کے بہکانے پر میں نے ایسا کہا اور یہ الہام قبل از وقت تین سو سے زیادہ اشخاص کو سنایا گیا تھا اور وہ زندہ ہیں۔ | ۲۰؍ اگست ۱۸۹۷ء |
| نمبر ۶۲ | ۲۹؍ جولائی ۹۷ء | اور دوسرا حصہ الہام کا اس طرح سے پورا ہوا کہ دوران مقدمہ میں جب موحدین کے ایڈوکیٹ مولوی محمد حسین میری مخالفت میں عیسائیوں کے گواہ بن کر پیش ہوئے تو بر خلاف اپنی امیدوں کے میری عزت دیکھ کر اس طمع خام میں پڑے کہ ہم بھی کرسی مانگیں چنانچہ آتے ہی انہوں نے سوال کیا کہ مجھے | ۱۳؍ اگست ۱۸۹۷ء |
| زندہ گواہ رویت کے | ان پیشگوئیوں کے گواہ ہزاروں آدمی موافق و مخالف موجود ہیں چنانچہ بعض کے نام یہ ہیں ۔ حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب ۔ شیخ رحمت اللہ صاحب۔ صاحبزادہ سراج الحق صاحب ۔ مفتی محمد صادق صاحب ۔ خلیفہ نورالدین صاحب۔ خواجہ کمال الدین صاحب۔ مولوی شیر علی صاحب بی اے۔ مولوی محمد علی صاحب ایم ۔اے۔ وغیرہ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۶۲ | کرسی ملنی چاہئے مگر افسوس کہ صاحب ڈپٹی کمشنر نے ان کو جھڑک دیا۔ اور سخت جھڑ کا کہ تم کو کرسی نہیں مل سکتی ۔ سو یہ خدا کا ایک نشان تھا کہ جو کچھ انہوں نے میرے لئے چاہا وہ خودان کو پیش آگیا۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۶۳ | ۲۹؍ مارچ ۱۸۹۷ء | اسی سلسلہ الہامات میں ایک یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ بلجت آیاتی یعنی میرے نشان ظاہر ہوں گے اور ان کے ثبوت زیادہ سے زیادہ ظاہر ہوں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اس واقعہ سے قریباً ڈیڑھ سال بعد عبد الحمید ملزم کو پھر گرفتار کیا گیا اور کتنی مدت زیر حراست رکھ کر اس سے پھر اظہار لئے گئے مگر اس نے یہی گواہی دی کہ میرا پہلا بیان ہی جھوٹا تھا جو عیسائیوں کے سکھلانے پر میں نے کہا تھا پس اس طرح خدا نے میری بریت کو مکمل کر دیا۔ اس الہام کے یہ معنی تھے کہ میری بریت کے لئے اور بھی خدا کی طرف سے نشان ظاہر ہوں گے سوایسا ہی ظہور میں آیا۔ | ۱۲؍ ستمبر ۱۸۹۹ء |
| پیشگوئی نمبر ۶۴ | ۱۸۷۹ء | اسی مقدمہ کے ذریعہ سے جو خون کے الزام کا مقدمہ تھا وہ الہامی پیشگوئی پوری ہوئی جو براہین احمدیہ میں اس مقدمہ سے ۲۰ برس پہلے درج تھی اور وہ الہام یہ ہے فبرّأہُ اللّٰہ ممّا قالوا و کان عند اللّٰہ وجیها. یعنی خدا اس شخص کو اس الزام سے جو اس پر لگایا جائے گا بری کر دے گا کیونکہ وہ خدا کے نزدیک وجیہہ ہے سو یہ خدا تعالیٰ کا ایک بھاری نشان ہے کہ باوجود یکہ قوموں نے میرے ذلیل کرنے کے لئے اتفاق کر لیا تھا مسلمانوں | ۱۸۹۷ء |
| زندہ گواہ رویت | ان پیشگوئیوں کے گواہ بہت سے احباب ہیں مثلاً منشی تاج الدین صاحب۔ میر ناصر نواب صاحب۔ مولوی عبدالکریم صاحب۔ مولوی سید محمد احسن صاحب۔ مولوی قطب الدین صاحب ۔ حافظ عبدالعلی صاحب بی اے۔ میر محمد اسمعیل صاحب۔ صاحبزادہ منظور احمد صاحب وغیرہ وغیرہ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکی ہیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۶۴ | کی طرف سے مولوی محمد حسین صاحب تھے ہندوؤں کی طرف سے لالہ رام بھجدت وکیل تھے اور عیسائیوں کی طرف سے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب مع اپنی تمام جماعت آئے اور جنگ احزاب کی طرح ان قوموں نے بالا تفاق میرے پر چڑھائی کی تھی لیکن خدا تعالیٰ نے سب کو ذلیل کیا اور مجھے بری کیا اور عبد الحمید کے منہ سے اس طرح سچ نکلوایا جس طرح یوسف کے مقابلہ میں زلیخا کے منہ سے سچ نکل گیا تھا اور یا جس طرح حضرت موسیٰ کے مقابلہ میں اس مفتری عورت کے منہ سے سچ نکل گیا تھا تا وہ بات پوری ہو جس کی طرف اس الہامی پیشگوئی میں اشارہ تھا کہ برأه اللہ مما قالوا ۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۶۵ | ۱۸۸۶ء | ایک دفعہ مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ شیخ مہر علی۱ صاحب رئیس ہوشیار پور کے فرش کو آگ لگی ہوئی ہے اور اس آگ کو اس عاجز نے بار بار پانی ڈال کر بجھایا ہے اسی وقت میرے دل میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یقین کامل یہ تعبیر ڈالی گئی کہ شیخ صاحب پر اور ان کی عزت پر سخت مصیبت آوے گی اور وہ مصیبت اور بلا صرف میری دعا سے دور کی جاوے گی۔ میں نے اس خواب سے شیخ صاحب موصوف کو بذریعہ ایک مفصل خط کے اطلاع دیدی تھی چنانچہ اس کے چھ ماہ بعد شیخ مہر علی صاحب ایک ایسے الزام میں پھنس گئے کہ انہیں پھانسی کا حکم دیا گیا۔ ایسے نازک وقت میں اس کے بیٹے کی درخواست سے دعا کی گئی اور رہائی کی بشارت ان کے بیٹے کو لکھی گئی چنانچہ اس کے بعد وہ بالکل رہا ہو گئے ۔ | ۱۸۸۷ء |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۶۵ | ۱ اس نشان کے گواہ خود شیخ مہر علی صاحب اور ان کے بیٹے اور دیگر سینکڑوں لوگ ضلع ہوشیار پور وغیرہ کے ہیں دیکھو اشتہار ۲۵؍ فروری ۱۸۹۳ء۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۶۶ | قریباً ۱۸۸۰ء | ایک دفعہ کشفی طور پر مجھے ایل یا للہ روپیہ دکھائے گئے اور پھر یہ الہام ہوا کہ ماجھے خان کا بیٹا اور شمس الدین پٹواری ضلع لاہور بھیجنے والے ہیں پھر بعد اس کے کارڈ آیا جس میں لکھا تھا کہ اللہ ماجھے خان کے بیٹے کی طرف سے ہیں اور اللہ ریاسے شمس الدین پٹواری کی طرف سے ہیں پھر اسی تشریح سے روپیہ آئے۱ | قریباً ۱۸۸۰ |
| پیشگوئی نمبر ۶۷ | یکم فروری ۹۷ء | جب میری لڑکی مبارکہ والدہ کے پیٹ میں تھی تو حساب کی غلطی سے فکر دامنگیر ہوا اور اس کا غم حد سے بڑھ گیا کہ شاید کوئی اور مرض ہو۔ تب میں نے جناب الہی میں دعا کی تو الہام ہوا کہ آید آن روزے کہ مستخلص شود ۔ اور مجھے تفہیم ہوئی کہ لڑکی پیدا ہوگی ۔ چنانچہ اس کے مطابق ۲۷؍ رمضان ۱۳۱۴ھ کو لڑکی پیدا۲ ہوئی جس کا نام مبارکہ رکھا گیا۔ | مارچ ۱۸۹۷ء |
| پیشگوئی نمبر ۶۸ | ۱۸۹۷ء | ایک اور زبردست نشان جو میری صداقت میں ظاہر ہوا یہ ہے کہ ایک مولوی نے کتاب نبراس تالیف صاحب زمرد کا حاشیہ لکھتے ہوئے میرے حق میں کسرہ اللہ کی بددعا کی اس بددعا کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے حق میں یہ بددعا کی جائے وہ ایسا تباہ ہو جائے کہ اس کی ساری اولاد مر جائے اور وہ ابتر رہ جائے سوا بھی مولوی مذکور حاشیہ ختم کرنے نہ پایا تھا کہ اس کی سب اولا د مر گئی اور وہ خود بھی ابتر ہو گیا اور مجھے خدا نے ایک اور بیٹا عطا فرمایا۔ | ۱۸۹۷ء |
| رویت کے زندہ گواہ نمبر ۶۶ و ۶۷ | ۱ اس کرامت کے گواہ شیخ حامد علی صاحب ساکن تھہ غلام نبی ۔ کوڈا باشندہ ضلع امرتسر اور قادیان کے اکثر باشندے ہیں ۔ ۲ اس کے گواہ مولوی نور الدین صاحب ۔ مولوی عبدالکریم صاحب اور دیگر بہت سے احباب ہیں ۔ |
||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۶۹ | ۱۸۹۷ء | ایسا ہی مولوی غلام دستگیر قصوری نے اس عاجز کے لئے اپنی کتاب فتح رحمانی کے صفحہ ۲۷ میں میرے پر بددعا کی تھی آخر اس بد دعا کا یہ اثر ہوا کہ وہ بہت جلد مر گیا۔ | اپنے رسالہ بنانے کے قریباً تین ماہ بعد |
| پیشگوئی نمبر ۷۰ | قریباً ۱۸۹۳ء | ایسا ہی مولوی اسمعیل علیگڑھی نے اپنی کتاب میں مجھے ظالم اور مفتری قرار دے کر بطور مباہلہ کے اپنی کتاب میں میرے حق میں بد دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ہلاک کر دیا۔ دیکھو رسالہ مولوی اسمعیل۔ | قریباً ۱۸۹۴ء |
| پیشگوئی نمبر ۷۱ | قریباً ۱۸۹۰ء | ایسا ہی محی الدین لکھو کے والے نے اپنا ایک الہام میرے متعلق شائع کیا کہ مرزا صاحب فرعون اور فرعون کی طرح میری تباہی چاہی تو اللہ تعالیٰ نے جلد تر اس کو پکڑا اور ہلاک کر دیا اور اس کی وفات سے پہلے بذریعہ خط اس کو اطلاع دی گئی تھی ۔ | قریباً ۱۸۹۳ء |
| پیشگوئی نمبر ۷۲ | ۱۹۰۱ء | ایسا ہی مولوی محمد حسن فیضی ساکن بھیں نے ہمارے متعلق ہماری کتاب اعجاز لمسیح پر الفاظ لعنت اللہ علی الکاذبین کے ساتھ مباہلہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ایک دو ماہ کے اندر اندر اس کو ہیبت ناک بیماری کے ساتھ ہلاک کر دیا اور اس قسم کے اور بہت سے نشان ہیں مگر سب کے بیان کی یہاں گنجائش نہیں۔ | ۱۹۰۲ء |
| پیشگوئی نمبر ۷۳ | قریباً ۱۸۷۸ء | منجملہ ان نشانات کے جو خالق ارض و سماء نے میرے ہاتھ پر ظاہر فرمائے ایک یہ بھی ہے کہ ایک دفعہ میں نے باوانا تک صاحب کو خواب میں دیکھا کہ | ۱۸۹۵ء |
| زندہ گواہ رویت کے | ان نشانات کے پورا ہونے کے گواہ ان متوفی لوگوں کی اپنی کتابیں اور رسالے اور اشتہار ہیں جو کہ انہوں نے ہماری مخالفت میں شائع کئے اور ہمارے وہ الہامات ہیں جو قبل از وقت ایسے لوگوں کی ہلاکت کے متعلق ہزاروں لوگوں میں شائع ہو چکے تھے اور دیگر زندہ گواہ ان کے متعلق مولوی عبدالکریم و صاحبزادہ سراج الحق وغیرہ احباب اور لالہ شرمپت اور ملا وامل آریہ قادیان ہیں ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۷۳ | انہوں نے اپنے تئیں مسلمان ظاہر کیا ہے اور میں نے دیکھا کہ ایک ہندوان کے چشمہ سے پانی پی رہا ہے پس میں نے اس ہندو کو کہا کہ یہ چشمہ گدلا ہے ہمارے چشمے سے پانی پیو۔ تیس برس کا عرصہ ہوا ہے جب کہ میں نے یہ خواب یعنی باوانا تک صاحب کو مسلمان دیکھا اسی وقت اکثر ہندوؤں کو سنایا گیا تھا اور مجھے یقین تھا کہ اس کی کوئی تصدیق پیدا ہو جائے گی چنانچہ ایک مدت کے بعد وہ پیشگوئی بکمال صفائی پوری ہو گئی اور تین سو برس کے بعد وہ چولہ ہمیں دستیاب ہو گیا کہ جو ایک صریح دلیل با واصاحب کے مسلمان ہونے پر ہے یہ چولہ جو ایک قسم کا پیراہن ہے بمقام ڈیرہ نانک باوا نا نک صاحب کی اولاد کے پاس بڑی عزت اور حرمت سے بطور تبرک محفوظ ہے اور سکھوں کی تاریخی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس چولہ کو باوانا تک صاحب پہنا کرتے تھے اس پر بہت سی قرآنی آئتیں لکھی ہوئی ہیں جن میں سے ایک یہ سورۃ ہے قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اَللّٰہُ الصَّمَدُ لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَلَمۡ یُوۡلَدۡ وَلَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ(الاخلاص: ۲تا۵) اور ایک یہ آیت ہے اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ(آل عمران: ۲۰) وَمَنۡ یَّبۡتَغِ غَیۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡہُ ۚ وَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ(آل عمران: ۸۶) ایسے چولے باوانا تک صاحب کے زمانہ میں وہ فقیر بنایا کرتے تھے جن کا دعوی تھا کہ ہم اسلام میں محو ہیں پس باوا صاحب کا یہ چولہ آپ کو صرف مسلمان ہی نہیں بناتا بلکہ کامل مسلمان بناتا ہے بعض سکھوں کا | ||
| زندہ گواہ رویت نمبر ۷۳ | اس نشان کے متعلق الہامات کے قبل از وقت سننے والے بہت سارے لوگ ہیں ۔ منجملہ ان کے صاحبزادہ سراج الحق صاحب نعمانی اور شیخ حامد علی صاحب اور شیخ عبداللہ صاحب سنوری ۔ منشی تاج الدین صاحب | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۷۳ | یہ جواب کہ یہ چولہ با وا صاحب نے ایک قاضی سے زبردستی چھینا تھا یہ بہت بیہودہ جواب ہے سکھوں کو اب تک خبر نہیں کہ قاضیوں کا کام نہیں کہ چولے اپنے پاس رکھیں اسلام میں چولے رکھنا اس زمانہ میں فقیروں کی ایک رسم تھی پس یہ بات بہت صحیح ہے کہ باوا صاحب کے مرشد نے جو مسلمان تھا یہ چولہ ان کو دیا تھا ہاں یہ بھی ہو سکتا ہے بلکہ جنم ساکھیوں میں بھی لکھا ہے کہ چونکہ باوا صاحب نیک بخت آدمی تھے اور بڑی مردانگی سے ہندوؤں سے قطع تعلق کر بیٹھے تھے مرد میدان بھی بڑے تھے اور ایک شخص حیات خان نامی افغان کی لڑکی سے نکاح بھی کیا تھا اور ملتان اور چند دوسرے اولیاء اسلام کے مقبروں پر چلہ کشی بھی کی تھی اس لئے خدا سے الہام پا کر یہ چولہ انہوں نے بنایا تھا یہ ان کی کرامت ہے گویا چولہ آسمان سے اترا۔ اور میری خواب میں جو باوانا تک صاحب نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اس سے یہی مراد تھی کہ ایک زمانہ میں ان کا مسلمان ہونا پبلک پر ظاہر ہو جائے گا۔ چنانچہ اس امر کے لئے کتاب ست بچن تصنیف کی گئی تھی اور یہ جو میں نے ہندوؤں کو کہا کہ یہ چشمہ گدلا ہے ہمارے چشمہ سے پانی پیو اس سے یہ مراد تھی کہ ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ اہل ہنود اور سکھوں پر اسلام کی حقانیت صاف طور سے کھل جائے گی۔ اور باوا صاحب کا چشمہ جس کو حال کے سکھوں نے اپنی کم فہمی سے گدلا بنا رکھا ہے وہ میرے ذریعہ صاف کیا جائے گا اور جس تعلق کو باوا صاحب نے ہندو قوم سے بڑی مردی اور مردانگی | ||
| بقیہ زندہ گواہ رویت نمبر ۷۳ | مولوی نورالدین صاحب وغیرہ بہت سے احباب ہیں اور اس کے پورا ہونے کا ثبوت خود چولہ ڈیرہ بابا نانک میں اب تک موجود ہے جو چاہے جا کر خود دیکھ سکتا ہے اور ان آیات کو پڑھ سکتا ہے جو ہم نے اپنی کتاب ست بچن میں لکھ دی ہیں ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۷۳ | کے ساتھ توڑ دیا تھا وہ توڑنا دوبارہ ثابت کر دیا جائے گا اور با واصاحب کا اپنے چولہ پر یہ لکھنا کہ اسلام کے بغیر کسی جگہ نجات نہیں اگر سکھ مذہب کے لوگ اسی ایک فقرے پر توجہ کرتے تو وہ مدت سے وہی پاک رنگ اختیار کر لیتے جو باوا صاحب نے اختیار کیا تھا ۔ با وانا تک در حقیقت ایک ایسا شخص سکھوں میں گذرا ہے جس کو سکھوں نے شناخت نہیں کیا۔ اکثر لوگ اسلام کی سچائی بذریعہ کتابوں کے دریافت کرتے ہیں مگر باوانا تک نے خدا کے الہام سے سچائی اسلام کی معلوم کر لی۔ تعجب جس قوم کا پیشوا ایسا صاف دل اور حامی اسلام ہو جس نے اسلام کی گواہی دے کر تکلیفیں بھی بہت اٹھائیں اسی کی قوم اور اسی کے پیرو اسلام سے اس قدر دور اور مہجور ہیں۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۷۴ | قریباً ۱۸۷۸ء | ایک دفعہ مولوی محمد حسین بٹالوی کا ایک دوست انگریزی خوان نجف علی نام ( جو کہ کابل میں بھی گیا تھا اور شائد اب بھی وہاں ہے ) میرے پاس آیا اور اس کے ہمراہ محبی مرزا خدا بخش صاحب بھی تھے۔ ہم تینوں سیر کے لئے باہر گئے تو راستہ میں کشفی طور پر مجھے معلوم ہوا کہ نجف علی نے میری مخالفت اور نفاق میں کچھ باتیں کی ہیں چنانچہ یہ کشف اس کو سنایا گیا تو اس نے اقرار کیا کہ یہ بات صحیح۱ ہے۔ | قریباً ۱۸۷۸ء |
| پیشگوئی نمبر ۷۵ | ۱۸۷۴ء | عرصہ قریباً اٹھائیس برس کا گذرا ہے کہ میں نے خواب میں ایک فرشتہ ایک لڑکے کی صورت میں دیکھا جو ایک اونچے چبوترے پر بیٹھا ہوا تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک پاکیزہ نان تھا جو نہایت چمکیلا تھا وہ نان اس نے مجھے دیا | قریباً ۲۵ سال بعد اس کا ظہور شروع ہوا |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۷۴ | ۱ اس نشان کے گواہ مرزا خدا بخش صاحب ہیں۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۷۵ | اور کہا کہ یہ تیرے لئے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لئے ہے۔ یہ اس زمانہ کی خواب ہے جب کہ میں نہ کوئی شہرت اور نہ کوئی دعویٰ رکھتا تھا اور نہ میرے ساتھ درویشوں کی کوئی جماعت تھی مگر اب میرے ساتھ بہت سی وہ جماعت ہے جنہوں نے خود دین کو دنیا پر مقدم رکھ کر اپنے تئیں درویش بنا دیا ہے اور اپنے وطنوں سے ہجرت کر کے اور اپنے قدیم دوستوں اور اقارب سے علیحدہ ہو کر ہمیشہ کے لئے میری ہمسائیگی میں آ آباد ہوئے ہیں۔ اور نان سے میں نے یہ تعبیر کی تھی کہ خدا ہمارا اور ہماری جماعت کا آپ متکفل ہوگا اور رزق کی پریشانگی ہم کو پراگندہ نہیں کرے گی۔ چنانچہ سالہائے دراز سے ایسا ہی ظہور میں آ رہا ہے۔۱ | ||
| پیشگوئی نمبر ۷۶ | ۲۰؍ اگست☆ ۱۸۷۵ء | میرے والد میرزا غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم کی وفات کا وقت جب قریب آیا اور صرف چند پہر باقی رہ گئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کی وفات سے بدیں الفاظ خبر دی و السماء والطارق یعنی قسم ہے آسمان کی اور اس حادثہ کی جو آفتاب کے غروب کے بعد ظہور میں آوے گا۔ سو یہ پیشگوئی اس طرح پوری ہوئی کہ بعد غروب آفتاب میرے والد صاحب مرحوم نے وفات پائی۔۲ | ۲۰؍ اگست ۱۸۷۵ء |
| پیشگوئی نمبر ۷۷ | ۱۸۸۰ء | ایک مرتبہ میں ایسا سخت بیمار ہوا کہ میرا آخری وقت سمجھ کر مجھ کو مسنون طریقہ سے تین دفعہ سورہ یٰسٓ سنائی گئی اور میری زندگی سے سب مایوس ہو چکے تھے ۔ | ۱۸۸۰ء |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۷۵ و ۷۶ | ۱ اس خواب کے گواہ حافظ حامد علی صاحب و دیگر ساکنان قادیان ہیں ۔ ۲ اس پیشگوئی کے گواہ لالہ شرمپت و ملا وامل ہیں ۔ |
||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۷۷ | اور بعض عزیز دیواروں کے پیچھے روتے تھے تب اللہ تعالیٰ نے الہاماً مجھے یہ دعا سکھلائی سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم اللهم صل علی محمد وعلی ال محمد اور القا ہوا کہ دریا کے پانی میں جس کے ساتھ ریت بھی ہو ہاتھ ڈال اور یہ کلمات طیبہ پڑھ اور اپنے سینے اور پشت سینہ اور دونوں ہاتھوں اور منہ پر اس کو پھیر کہ تو اس سے شفا پائے گا چنانچہ اس پر عمل کیا گیا اور ابھی پیالہ ختم نہ ہونے پایا تھا کہ مجھے بکلی صحت ہوگئی ۔ پھر یہ الہام ہوا۔ وان کنتم فی ریب ممّا نزلنا علیٰ عبدنا فأتوا بشفاء من مثلہ یعنی اگر تمہیں اس نشان میں شک ہو جو ہم نے شفا دے کر دکھایا ہے تو تم اس کی نظیر پیش کرو۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۷۸ | قریباً ۱۸۸۰ء | خدائے عز وجل کے زبر دست نشانوں میں سے ایک یہ ہے کہ عرصہ تخمیناً بیس سال کا گذر چکا ہے کہ جب مجھے ایک مقدس وحی کے ذریعہ سے خبر دی گئی تھی کہ خدا تعالیٰ ایک شریف خاندان میں میری شادی کرے گا اور وہ قوم کے سید ہوں گے اور اس بیوی کو خدا مبارک کرے گا اور اس سے اولاد پیدا ہوگی ۔ اور پھر یہ الہام ہوا هر چه باید نو عروسی را همه سامان کنم یعنی اس شادی کے تمام ضروریات کا پورا کرنا میرے ذمہ ہو گا۔ چنانچہ اس نے اس وعدہ کے موافق شادی کے بعد اس کے ہر ایک بوجھ سے مجھے سبکدوش کر دیا اور ہمیشہ کرتا رہا اور سب سامان میسر آئے اور حسن معاشرت کے لئے سب سامان میسر آتے گئے ۔ | ۱۸۸۴ء |
| اس نشان کے گواہ شیخ حامد علی اور لالہ شرمپت اور ملا وامل کھتری اور دیگر بہت سے لوگ ہیں جن کو پہلے سے اس وحی کی خبر دی گئی تھی ۔ | |||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۷۸ | اور کسی طرح کی تکلیف پیش نہ آئی بلکہ ہر طرح کا آرام پہنچا اور دوسرا بڑا نشان یہ ہے کہ جب شادی کے متعلق مجھ پر مقدس وحی نازل ہوئی تھی تو اس وقت میرا دل و دماغ اور جسم نہایت کمزور تھا اور علاوہ ذیا بیطس اور دوران سر اور تشنج قلب کے دق کی بیماری کا اثر ابھی بکلی دور نہ ہوا تھا۔ اس نہایت درجہ کے ضعف میں جب نکاح ہوا تو بعض لوگوں نے افسوس کیا کیونکہ میری حالت مردمی کالعدم تھی۔ اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی ۔ چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے مجھے خط لکھا تھا جو اب تک موجود ہے کہ آپ کو شادی نہیں کرنی چاہئے تھی ایسا نہ ہو کہ کوئی ابتلا پیش آوے مگر باوجود ان کمزوریوں کے خدا نے مجھے پوری قوت صحت اور طاقت بخشی اور چار لڑکے عطا کئے۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۷۹ | فروری ۱۸۹۷ء | ایک شخص اہل تشیع میں سے جو اپنے آپ کو شیخ نجفی کے نام سے مشہور کرتا تھا ایک دفعہ لاہور میں آ کر ہمارے مقابلہ میں بہت شور مچانے لگا اور نشان کا طلبگار ہوا۔ چنانچہ ہم نے با شاعت اشتہار یکم؍ فروری ۱۸۹۷ء اس کو یہ وعدہ دیا کہ چالیس روز تک تجھے اللہ تعالیٰ کوئی نشان دکھلائے گا۔ سو خدا کا احسان ہے کہ ابھی چالیس دن پورے نہ ہوئے تھے کہ نشان ہلاکت لیکھرام پشاوری وقوع میں آ گیا تب تو شیخ ضال نجفی فوراً لاہور سے بھاگ گیا۔ | مارچ ۱۸۹۷ء |
| زندہ گواہ رویت | ان پیشگوئیوں کے گواہ حکیم فضل دین صاحب ۔ منشی تاج دین صاحب۔ مفتی محمد صادق صاحب مولوی نور الدین صاحب شیخ حامد علی صاحب۔ میاں عبداللہ صاحب سنوری۔ منشی ظفر احمد صاحب ۔ مولوی محمد حسین صاحب وغیرہ ہیں ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۸۰ | قریباً ۱۸۷۷ء | مارٹن کلارک والے مقدمہ سے قریباً پچیس سال پہلے میں ایک دفعہ خواب میں دیکھ چکا تھا کہ میں ایک عدالت میں کسی حاکم کے سامنے حاضر ہوں اور نماز کا وقت آ گیا ہے تو میں نے اس حاکم سے نماز کے لئے اجازت طلب کی تو اس نے کشادہ پیشانی سے مجھے اجازت دیدی۔ چنانچہ اس کے مطابق اس مقدمہ میں عین دوران مقدمہ میں جبکہ میں نے کپتان ڈگلس سے نماز کے لئے اجازت چاہی تو اس نے بڑی خوشی سے مجھے اجازت دی۔ | ۱۸۹۷ء |
| پیشگوئی نمبر ۸۱ | ۱۱؍ اپریل ۱۹۰۰ء | عید اضحیٰ کی صبح کو مجھے الہام ہوا کہ کچھ عربی میں بولو چنانچہ بہت احباب کو اس بات سے اطلاع دی گئی اور اس سے پہلے میں نے کبھی عربی زبان میں کوئی تقریر نہیں کی تھی لیکن اس دن میں عید کا خطبہ عربی زبان میں پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ایک بلیغ فصیح پر معانی کلام عربی میں میری زبان میں جاری کی جو کتاب خطبہ الہامیہ میں درج ہے۔ وہ کئی جز کی تقریر ہے جو ایک ہی وقت میں کھڑے ہو کر زبانی فی البدیہہ کہی گئی ۔ اور خدا نے اپنے الہام میں اس کا نام نشان رکھا کیونکہ وہ زبانی تقریر محض خدائی قوت سے ظہور میں آئی ۔ میں ہرگز یقین نہیں مانتا کہ کوئی فصیح اور اہل علم اور ادیب عربی بھی زبانی طور پر ایسی تقریر کھڑا ہو کر کر سکے یہ تقریر وہ ہے جس کے اس وقت قریباً ڈیڑھ سو آدمی گواہ ہوں گے۱ | ۱۱؍ اپریل ۱۹۰۰ء |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۸۱ | ۱ اس الہام سے قبل از وقت بہت سے احباب کو اطلاع دی گئی چنانچہ شیخ رحمت اللہ صاحب ۔ مفتی محمد صادق صاحب۔ مولوی عبدالکریم صاحب۔ مولوی نورالدین صاحب ۔ مولوی محمد علی صاحب ۔ شیخ عبدالرحمن صاحب ۔ ماسٹر عبد الرحمن صاحب ۔ مولوی شیر علی ۔ حافظ عبدالعلی وغیرہ کثیر التعداد دوست اس کے گواہ ہیں جنہوں نے اس نشان کو بچشم خود دیکھا۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں ہیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۸۲ | قریباً فروری ۱۹۰۲ء | ایک رات کو مجھے اس طرح الہام ہوا کہ جیسے اخبار عن الغائب ہوتا ہے اور وہ یہ الفاظ تھے انّی أَفِرُّ مع اهلی الیک ۔ یہ الہام سب دوستوں کو سنایا گیا چنانچہ اسی دن خلیفہ نورالدین صاحب کا جموں سے خط آیا کہ اس شہر میں طاعون کا زور پڑ گیا ہے اور میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں کہ اپنے سب بال بچے کو ساتھ لے کر قادیان چلا آؤں ۔۱ | قریباً فروری ۱۹۰۲ء |
| پیشگوئی نمبر ۸۳ | ۲۰؍ مارچ ۱۸۸۸ء | ایک دفعہ قادیان کے آریوں نے بہت اصرار کیا کہ کوئی نشان دکھلاؤ اور ہمارے مخالف شرکاء مرزا نظام الدین اور مرزا امام الدین بھی نشان دیکھنے کے طلبگار تھے۔ تب ان سب پر حجت ملزمہ قائم کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ سے الہام پا کر میں نے یہ پیشگوئی کی کہ مرزا امام الدین اور مرزا نظام الدین پر اکتیس ماہ کے اندر ایک سخت مصیبت پڑے گی یعنی ان کی اولاد میں سے کوئی ایسا آدمی مر جائے گا جس کا مرنا ان کے لئے تکلیف اور تفرقہ کا موجب ہو گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جب اکتیس ماہ کے پورا ہونے میں ابھی پندرہ دن باقی تھے تو مرزا نظام الدین کی لڑکی جو کہ امام الدین کی برادر زادی تھی ۲۵ سال کی عمر میں ایک چھوٹا سا بچہ چھوڑ کر مر گئی جس کا صدمہ ان سب پر بہت سخت ہوا اور یہ امر ان کے واسطے اور نیز آریوں کے واسطے ایک بڑا نشان ہوا۔۲ | اکتوبر ۱۸۹۰ء |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۸۲ و ۸۳ | ۱ اس الہام کے گواہ بہت سے آدمی ہیں جو اس وقت قادیان میں موجود تھے۔ منجملہ ان کے مولوی نورالدین صاحب ۔ مولوی عبدالکریم صاحب ۔ مولوی محمد علی صاحب ۔ مفتی محمد صادق صاحب ۔ حکیم فضل دین صاحب ۔ مولوی شیر علی صاحب وغیرہ ہیں ۔ ۲ اس کے گواہ مرزا امام الدین نظام الدین اور قادیان کے بہت سے آریہ ہیں ۔ |
||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۸۴ | ۱۸۸۴ء | قریباً ۱۸۸۴ء میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اس وحی سے مشرف فرمایا کہ ولقد لبثت فيكم عمرًا من قبله افلا تعقلون ۔ اور اس میں عالم الغیب خدا نے اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ کوئی مخالف کبھی تیری سوانح پر کوئی داغ نہیں لگا سکے گا۔ چنانچہ اس وقت تک جو میری عمر قریباً پینسٹھ سال ہے کوئی شخص دور یا نزدیک رہنے والا ہماری گذشتہ سوانح پر کسی قسم کا کوئی داغ ثابت نہیں کر سکتا بلکہ گذشتہ زندگی کی پاکیزگی کی گواہی اللہ تعالیٰ نے خود مخالفین سے بھی دلوائی ہے جیسا کہ مولوی محمد حسین صاحب نے نہایت پر زور الفاظ میں اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ میں کئی بار ہماری اور ہمارے خاندان کی تعریف کی ہے اور دعوی کیا ہے کہ اس شخص کی نسبت اور اس کے خاندان کی نسبت مجھ سے زیادہ کوئی واقف نہیں اور پھر انصاف کی پابندی سے بقدر اپنی واقفیت کے تعریفیں کی ہیں۔ پس ایک ایسا مخالف جو تکفیر کی بنیاد کا بانی ہے، پیشگوئی ولقد لبثت فیکم کا مصدق ہے۔ | یہ پیشگوئی ہمیشہ پوری ہو رہی ہے |
| پیشگوئی نمبر ۸۵ | ۱۸۷۷ء | مرزا اعظم بیگ سابق اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر نے ہمارے بعض بیدخل شرکاء کی طرف سے ہماری جائیداد کی ملکیت میں حصہ دار بننے کے لئے ہم پر نالش دائر کی اور ہمارے بھائی مرزا غلام قادر صاحب مرحوم اپنی فتح یابی کا یقین رکھ کر جوابدہی میں مصروف ہوئے ۔ میں نے جب اس بارہ میں دعا کی تو خدائے علیم کی طرف سے مجھے الہام ہوا کہ اجیب کل دعائك الا فی شرکائک | ۱۸۷۷ء |
| زندہ گواہ نمبر ۸۵ | اس کے گواہ قادیان کے کئی آدمی ہیں ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۸۵ | پس میں نے سب عزیزوں کو جمع کر کے کھول کر سنا دیا کہ خدائے علیم نے مجھے خبر دی ہے کہ تم اس مقدمہ میں ہرگز فتح یاب نہ ہو گے ۔ اس لئے اس سے دستبردار ہو جانا چاہئے ۔ لیکن انہوں نے ظاہری وجوہات اور اسباب پر نظر کر کے اور اپنی فتح یابی کو متیقن خیال کر کے میری بات کی قدر نہ کی اور مقدمہ کی پیروی شروع کر دی اور عدالت ماتحت میں میرے بھائی کو فتح بھی ہو گئی لیکن خدائے عالم الغیب کی وحی کے بر خلاف کس طرح ہو سکتا تھا بالآخر چیف کورٹ میں میرے بھائی کو شکست ہوئی اور اس طرح اس الہام کی صداقت سب پر ظاہر ہوگئی۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۸۶ | ۱۸۹۸ء | خواجہ جمال الدین صاحب بی اے جو ہماری جماعت میں داخل ہیں جب امتحان منصفی میں فیل ہوئے اور ان کو بہت نا کامی اور نا امیدی لاحق ہوئی اور سخت غم ہوا تو ان کی نسبت مجھے یہ الہام ہوا کہ سَیُغْفَرُ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے اس غم کا تدارک کرے گا۔ چنانچہ اس کے مطابق وہ جلد ریاست کشمیر میں ایک ایسے عہدہ پر ترقی یاب ہوئے جو عہدہ منصفی سے ان کے لئے بہتر ہوا یعنی وہ تمام ریاست جموں و کشمیر کے انسپکٹر مدارس ہو گئے اور اب تک اسی عہدہ پر قائم ہیں ۔۱ | ۱۹۰۰ء |
| پیشگوئی نمبر ۸۷ | ۱۸۸۷ء | ایک دفعہ ہم ریل گاڑی پر سوار تھے اور لدھیانہ کی طرف جا رہے تھے کہ الہام ہوا کہ ”نصف ترا نصف عمالیق را“ اور اس کے ساتھ یہ تفہیم ہوئی | تقریباً ۱۸۸۷ء |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۸۶ | ۱ اس نشان کے گواہ بہت سارے احباب ہیں مثلاً مولوی حکیم نورالدین صاحب۔ مولوی عبد الکریم صاحب ۔ خواجہ کمال الدین صاحب ۔ مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی محمد علی صاحب ۔ مولوی شیر علی صاحب ۔ حکیم فضل دین صاحب وغیرہ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۸۷ | کہ امام بی بی جو ہمارے جدّی شرکاء میں سے ایک عورت تھی مر جائے گی اور اس کی زمین نصف ہمیں اور نصف دیگر شرکاء کو مل جائے گی۔ یہ الہام ان دوستوں کو جو اس وقت ہمارے ساتھ تھے سنا دیا گیا تھا۔ چنانچہ بعد میں ایسا ہی ہوا کہ عورت مذکور مر گئی اور اس کی نصف زمین ہمیں اور نصف بعض دیگر شرکاء کو ملی ۔ مرنے کو تو ہر ایک شخص مرتا ہے مگر اس میں تین بڑے نشان تھے (۱) قبل از وقت اس واقعہ کی خبر دینا اور پھر اس عورت کا معمولی عمر میں ہی مر جانا ۔ (۲) ہمارا اس وقت تک زندہ رہنا (۳) زمین کا مطابق الہام کے تقسیم ہونا ۔۱ | ||
| پیشگوئی نمبر ۸۸ | ۱۸۹۵ء | مجھے اپنے مرض ذیا بیطس کی وجہ سے آنکھوں کا بہت اندیشہ تھا کیونکہ اس مرض کے غلبہ سے آنکھ کی بینائی کم ہو جایا کرتی ہے اور نزول الماء ہو جاتا ہے اس اندیشہ کی وجہ سے دعا کی گئی تو الہام ہوا کہ ”نزلت الرحمة علٰی ثلثٍ . العین وعلی الأُخریین .“ یعنی رحمت تین اعضاء پر نازل ہوگی ۔ ایک تو آنکھ اور دو اور عضو ۔ اس جگہ آنکھ کا ذکر تو کر دیا لیکن دو باقی اعضاء کی تصریح نہیں فرمائی مگر لوگ کہا کرتے ہیں کہ زندگی کا لطف تین عضو کے بقا میں ہے۔ آنکھ۔ کان ۔ پران ۔ اس الہام کے پورا ہونے کی کیفیت اس سے معلوم ہو سکتی ہے کہ قریباً اٹھارہ سال سے یہ مرض مجھے لاحق ہے اور ڈاکٹر اور حکیم لوگ جانتے ہیں کہ اس مرض | ۱۸۹۵ء |
| زندہ گواہ رؤیت نمبر ۸۷ | ۱ اس نشان کے گواہ مولوی حکیم نور الدین صاحب ۔ شیخ حامد علی صاحب اور ہمارے کنبہ کے اکثر مرد اور عورتیں ہیں ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۸۸ | میں آنکھوں کو کیسا اندیشہ ہوتا ہے ۔ پھر کون سی طاقت ہے جس نے پہلے سے خبر دے دی کہ یہ قانون تجھ پر توڑ دیا جائے گا اور بعد میں ایسا ہی کر کے دکھا دیا۔ کیا یہ انسان کا کام ہے؟ ایسی مرض کی حالت میں دعوی کرنا تو در کنار کون ہے جو عین تندرستی اور جوانی کی حالت میں بھی دعوی کر سکے کہ میری آنکھیں فلاں وقت تک محفوظ رہیں گی ۔۱ | ||
| پیشگوئی نمبر ۸۹ | قریباً ۱۸۹۳ء | ہماری ایک لڑکی عصمت بی بی نام تھی ایک دفعہ اس کی نسبت الہام ہوا کرم الجنة دوحة الجنة ۔ تفہیم یہ تھی کہ وہ زندہ نہیں رہے گی سو ایسا ہی ہوا۔ ہم اس خیال سے کہ مبادا کسی نا عاقبت اندیش کے دل میں ایسے نشانات کی نسبت کچھ اعتراض پیدا ہو کہ عمر بڑھانے کے لئے دعا کیوں نہ کی گئی اور کی گئی ہو تو وہ قبول کیوں نہ ہوئی یہ امر واضح کر دیتے ہیں کہ ایسے الہامات کے بعد ملہم لوگوں کو فطرتاً دو قسم کی حالتیں پیش آتی ہیں کبھی تو دعا کی طرف غیب سے توجہ اور جوش دیا جاتا ہے اور وہ اس بات کا نشان ہوتا ہے کہ خدا نے ارادہ فرمایا ہے کہ دعا قبول کرے اور کبھی خدا دعا کو قبول کرنا نہیں چاہتا اور اپنی مرضی کو ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ تب دعا کرنے والے کی طبیعت پر قبض پیدا کر دیتا ہے اور دعا کے اسباب اور حضور اور جوش کو ظہور میں نہیں آنے دیتا۔۲ | قریباً ۱۸۹۳ء |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۸۸ و ۸۹ | ۱ اس الہام کے لئے گواہوں کی ضرورت نہیں ذیا بیطس کے مرض کا حال ڈاکٹر لوگوں سے دریافت کیا جا سکتا ہے۔ اور آنکھوں پر رحمت نازل ہے۔ ۲ یہ الہام بہت سے مرد اور عورتوں کو سنایا گیا تھا اور اس وقت قادیان میں بہت ہوں گے جو گواہی دے سکیں ۔ |
||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۹۰ | ۶؍ جنوری ۱۹۰۰ء | جب ہمارے شرکاء مخالفین مرزا امام الدین و مرزا نظام الدین نے ہماری مسجد کے دروازہ کے راہ میں ایک ایسی دیوار کھینچی جو کہ ہمارے واسطے اور ہمارے مہمانوں کے واسطے بہت ہی تکلیف کا موجب ہوئی اور اس امر کی چارہ جوئی کے لئے عدالت میں نالش کی گئی اور قریب ڈیڑھ سال تک مقدمہ ہوتا رہا۔ تو اس دیوار کے بنائے جانے سے چند دن پہلے ہمیں اس کے متعلق ایک الہام ہوا کہ جو دلالت کرتا تھا کہ ایسی تکلیف عنقریب پیش آئے گی اور آخر فتح ہوگی اور وہ الہام یہ ہے الرحیٰ تدور و ینزل القضاء ۔ ان فضل اللہ لآت ولیس لاحد ان یرد ما اتیٰ ظفر مبین وانّما یؤخرهم لاجل مسمّی ۔ چکی پھرے گی اور قضا نازل ہو گی یقیناً خدا کا فضل آنے والا ہے اور کسی کی طاقت نہیں جو رد کرے اس کو جب آگیا۔ وہ فتح مبین ہو گی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ ان لوگوں کو خدا نے ایک وقت تک ڈھیل دے رکھی ہے۔ یہ الہامات ۷؍ جنوری کے الحکم میں اور اربعین نمبر ۳ میں شائع ہو گئے اور عین اس وقت سب احباب کو سنائے گئے چنانچہ ۷؍ جنوری ۱۹۰۰ء کو وہ دیوار بنائی گئی جس سے ہمارا راستہ آمد و رفت بند ہو گیا اور ہمارے مہمان بہت تکلیف کے ساتھ دور کے کوچوں سے ہو کر مسجد تک پہنچتے لیکن آخر عدالت کے حکم سے وہ دیوار ۲۰؍ اگست ۱۹۰۱ء کو گرائی گئی اور مقدمہ کا خرچہ بھی ہمارے مخالفین پر پڑا۔ فالحمد للہ۔ | ۲۰؍ اگست ۱۹۰۱ء |
| زندہ گواہ رویت | ان الہامات کے گواہ سید فضل شاہ صاحب۔ مولوی عبدالکریم صاحب ۔ مولوی حکیم نورالدین صاحب ۔ مولوی محمد علی صاحب ۔ مفتی محمد صادق صاحب ۔ مولوی شیر علی صاحب و دیگر بہت سے احباب ہیں ۔ مثلاً شیخ یعقوب علی صاحب۔ حکیم فضل الدین صاحب ۔ میر ناصر نواب صاحب ۔ سید عبدالحی عرب حویزی وغیرہ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۹۱ | سنہ ۱۸۷۱ء آج سے اکتیس برس پہلے | ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے بھائی غلام قادر صاحب سخت بیمار ہیں۔ سو یہ خواب بہت سے آدمیوں کو سنایا گیا چنانچہ اس کے بعد وہ سخت بیمار ہو گئے تب میں نے ان کے لئے دعا شروع کی تو دوبارہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ہمارے ایک بزرگ فوت شدہ ان کو بلا رہے ہیں اس خوب کی تعبیر بھی موت ہوا کرتی ہے چنانچہ ان کی بیماری بہت بڑھ گئی اور وہ ایک مُشتِ اُستخواں سے رہ گئے اس پر مجھے سخت قلق ہوا اور میں نے ان کی شفا کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کی جس سے میری تین غرضیں تھیں (۱) میں دیکھنا چاہتا تھا کہ میری دعا قبول ہوتی ہے یا نہیں (۲) میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایسے بیمار کو بھی تندرست کرتا ہے یا نہیں (۳) میں یہ بھی دیکھنا چاہتا تھا کہ ایسی منذر خواب جو ان کی موت کی نسبت تھی رد ہو سکتی ہے یا نہیں۔ سو جب میں دعا میں مشغول ہوا تو میں نے کچھ دنوں کے بعد خواب میں دیکھا کہ برادر مذکور پورے تندرست کی طرح بغیر سہارے کے مکان میں چل رہے ہیں چنانچہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا بخشی اور وہ اس واقعہ کے بعد پندرہ برس تک زندہ رہے۔۱ | سنہ ۱۸۷۲ء آج سے تیس برس پہلے |
| پیشگوئی نمبر ۹۲ | سنہ ۱۸۸۷ء | مذکورہ بالا واقعہ کے پندرہ برس بعد میرے بھائی صاحب کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں امرتسر میں تھا اسی جگہ میں نے خواب میں دیکھا کہ اب قطعی طور پر ان کی زندگی کا پیالہ پُر ہو چکا ہے چنانچہ میں نے یہ خواب حکیم محمد شریف امرتسری کو سنایا اور اپنے بھائی صاحب کو بھی ایک خط | |
| زندہ گواہ رویت | ۱ اس نشان کے گواہ قادیان کے بہت لوگ ہیں جواب تک زندہ موجود ہیں۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۹۲ | لکھا کہ آپ امور آخرت کی طرف متوجہ ہوں چنانچہ انہوں نے عام گھر والوں کو اس مضمون سے اطلاع دی اور پھر چند ہفتے میں وہ اس جہان سے گزر گئے ۔۱ | ||
| پیشگوئی نمبر ۹۳ | علی محمد خان صاحب نواب جھجر نے لدھیانہ میں ایک غلہ منڈی بنائی تھی۔ کسی شخص کی شرارت کے سبب ان کی منڈی بے رونق ہوگئی اور بہت نقصان ہونے لگا۔ تب انہوں نے دعا کے لئے میری طرف رجوع کیا لیکن پیشتر اس کے کہ نواب صاحب کی طرف سے میرے پاس کوئی خط اس خاص امر کے لئے دعا کے بارے میں آتا میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر پائی کہ اس مضمون کا خط نواب موصوف کی طرف سے آ رہے گا۔ چنانچہ میں نے اس واقعہ کی خبر اپنے خط کے ذریعہ سے نواب محمد علی خان☆ مرحوم کو قبل از وقت دیدی اور ایسا اتفاق ہوا کہ اس طرف سے تو میرا خط روانہ ہوا اور اسی دن ان کی طرف سے اسی مضمون کا خط میری طرف روانہ ہو گیا جو میں نے خواب میں دیکھا تھا جس کی روانگی کی میں نے اسی وقت ان کو خبر دیدی تھی کہ گویا ایک ہاتھ سے انہوں نے ڈاک میں چٹھی ڈالی اور دوسرے ہاتھ سے وہی خط میرا ان کو مل گیا جس میں اس روانہ شدہ چٹھی کا مع مضمون اس کے ذکر تھا تب تو نواب محمد علی خان☆ خط کو پڑھ کر ایک عالم سکتہ میں آگئے اور تعجب کیا کہ یہ راز کا خط جس کو میں نے | پیشگوئی سے چند روز بعد | |
| زندہ گواہ رویت کے نمبر ۹۲ | ۱ قادیان کے کئی مرد اور عورتیں اس بات کے گواہ ہیں کہ ان کی موت کے وقت میرا خط ان کے صندوق سے نکل آیا تھا۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۹۳ | آج سے بارہ برس پہلے | ابھی ڈاک میں روانہ کیا کیونکر اس کا حال ظاہر کیا گیا اس علم غیب نے ان کے ایمان کو بہت قوت دی چنانچہ انہوں نے بارہا مجھے جتلایا کہ اس خط سے خدا پر میرا ایمان بہت بڑھ گیا اس خط کو وہ ہمیشہ اپنی کتاب جیبی میں بطور تبرک رکھا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے خلیفہ محمد حسین کو بھی جو وزیر اعظم پٹیالہ تھے بڑے تعجب سے وہ خط دکھایا اور موت سے ایک دن پہلے پھر اس خط کو مجھے دکھلایا کہ میں نے اپنی جیبی کتاب میں رکھ لیا تھا اور اس نشان کے ساتھ دوسرا نشان یہ ہے کہ جب عالم کشف میں ان کا دوسرا خط مجھ کو ملا جس میں بہت بیقراری ظاہر کی گئی تھی تو میں نے اس جواب کے خط کو پڑھ کر ان کے لئے دعا کی اور مجھ کو الہام ہوا کہ کچھ عرصہ کیلئے یہ روک اٹھا دی جاوے گی اور ان کو اس غم سے نجات دی جائے گی ۔ یہ الہام ان کو اسی خط میں لکھ کر بھیجا گیا تھا جو زیادہ تر تعجب کا موجب ہوا۔ چنانچہ وہ الہام جلد تر پورا ہوا ۔ اور تھوڑے دنوں کے بعد ان کی منڈی بہت عمدہ طور پر بارونق ہو گئی اور روک اُٹھ گئی ۔ اس نشان میں دو نشان ظاہر ہوئے اوّل قبل از وقت اطلاع دینا کہ ایسا واقعہ پیش آنے والا ہے۔ دوّم قبولیت دعا سے اطلاع ہونا کہ منڈی پھر بارونق ہو جائے گی ۔۱ | آج سے بارہ برس پہلے |
| پیشگوئی نمبر ۹۴ | سنہ ۱۹۰۱ء | ایک دفعہ میں نے عالم کشف میں دیکھا کہ مبارک احمد جو پسر چہارم میرا ہے چٹائی | |
| زندہ گواہ رویت | ۱ نواب صاحب نے اس واقعہ کو اپنی نوٹ بک میں درج کیا تھا اور محمد حسین خان صاحب وزیر پٹیالہ کو بھی میرے سامنے اپنی کتاب دکھائی تھی ۔ وزیر صاحب کی مجلس میں بیٹھنے والے لوگ اور لدہانہ کے کئی آدمی اس واقعہ کے گواہ ہیں۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| کے پاس گر پڑا ہے اور سخت چوٹ آئی ہے اور کرتہ خون سے بھر گیا ہے۔ خدا کی قدرت کہ ابھی اس کشف پر شائد تین منٹ سے زیادہ نہیں گذرے ہوں گے کہ میں دالان سے باہر آیا اور مبارک احمد کہ شائد اس وقت سوا دو سال کا ہوگا چٹائی کے پاس کھڑا تھا بچوں کی طرح کوئی حرکت کر کے پیر پھسل گیا اور زمین پر جا پڑا اور کپڑے خون سے بھر گئے اور جس طرح عالم کشف میں دیکھا تھا اسی طرح ظہور میں آگیا۔ اس واقعہ کی بہت سی عورتیں خادمہ وغیرہ جو ہمارے گھر میں ہیں گواہ ہیں ۔ | |||
| پیشگوئی نمبر ۹۵ | سنہ ۱۹۰۱ء | ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا کہ مبارک احمد میرا چوتھا لڑکا فوت ہو گیا ہے۔ اس سے چند دنوں کے بعد مبارک احمد کو سخت تپ ہوا اور آٹھ دفعہ غش ہو کر آخری غش میں ایسا معلوم ہوا کہ جان نکل گئی ہے۔ آخر دعا شروع کی اور ابھی میں دعا میں تھا کہ سب نے کہا کہ مبارک احمد فوت ہو گیا ہے۔ تب میں نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا تو نہ دم تھا نہ نبض تھی آنکھیں میّت کی طرح پتھرا گئیں تھیں۔ لیکن دعا نے ایک خارق عادت اثر دکھلایا اور میرے ہاتھ رکھنے سے ہی جان محسوس ہونے لگی یہاں تک کہ لڑکا زندہ ہو گیا اور زندگی کے علامات پیدا ہو گئے ۔ تب میں نے بلند آواز سے حاضرین کو کہا کہ اگر عیسیٰ بن مریم نے کوئی مردہ زندہ کیا ہے تو اس سے زیادہ ہرگز نہیں یعنی اس طرح کا مردہ زندہ ہوا ہو گا نہ کہ وہ جس کی جان آسمان پر پہنچ چکی ہو اور ملک الموت نے اس کی روح کو قرارگاہ تک پہنچادیا ہو۔۱ | |
| زندہ گواہ رویت کے | ۱ اس واقعہ کے قادیان میں رہنے والے بہت سے مرد اور عورتیں گواہ ہیں ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۹۶ | ایک دفعہ میں خود سخت بیمار ہو گیا اور حالت ایسی بگڑی کہ بیماری سے جانبر ہونا مشکل معلوم ہوتا تھا تب یہ الہام ہوا۔ ” مَا كَان لنفسٍ ان تموت الا باذن اللہ و امّا ما ينفع الناس فيمكث في الارض “ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے وعدہ کے موافق عین نا امیدی کی حالت میں شفا بخشی اور یوں تو ہزار ہا لوگ شفا پاتے ہیں مگر ایسی ناامیدی کی حالت میں سینکڑوں انسانوں میں دعویٰ سے یہ پیش کرنا کہ شفا ضرور حاصل ہو جائے گی یہ انسان کا کام نہیں۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۹۷ | سنہ ۱۸۹۷ء | شروع اکتوبر سنہ ۱۸۹۷ء میں مجھے دکھایا گیا کہ میں ایک گواہی کے لئے ایک انگریز حاکم کے پاس حاضر کیا گیا ہوں اور اس حاکم نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ کے والد کا کیا نام ہے لیکن جیسا کہ شہادت کے لئے دستور ہے مجھے قسم نہیں دی ۔ پھر ۸؍ اکتوبر سنہ ۱۸۹۷ء کو مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ اس مقدمہ کا سپاہی سمن لے کر آیا ہے۔ یہ خواب مسجد میں عام جماعت کو سنا دی گئی تھی آخر ایسا ہی ظہور میں آیا اور سپاہی سمن لے کر آ گیا اور معلوم ہوا کہ اڈیٹر اخبار ناظم الہند لاہور نے مجھے گواہ لکھا دیا ہے جس پر مولوی رحیم بخش پرائیویٹ سکرٹری نواب بہاولپور نے لائبل☆ کا مقدمہ ملتان میں کیا تھا۔ سو جب میں ملتان میں پہنچ کر عدالت میں گواہی کے لئے گیا تو ویسا ہی ظہور میں آیا حاکم کو ایسا سہو ہو گیا کہ قسم دینا بھول گیا اور اظہار شروع کر دیئے ۔۱ | |
| زندہ گواہ رویت | ۱ اس نشان کے گواہ ایک گروہ کثیر ہے جیسا خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر پشاور ۔ مولوی نورالدین صاحب ۔ مولوی عبد الکریم صاحب۔ مولوی شیر علی صاحب۔ شیخ عبد الرحمٰن صاحب ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۹۸ | ۱۹۰۰ء | ہمارے دوست مرزا ایوب بیگ صاحب مرحوم ایک مدت سے بیمار چلے آتے تھے۔ آخر ۱۹۰۰ء میں ان کی حالت بہت بگڑ گئی اور وہ فاضلکا میں اپنے بھائی مرزا یعقوب بیگ صاحب اسسٹنٹ سرجن کے پاس چلے گئے کچھ دنوں کے بعد دعا کے لئے ان کا خط آیا ہم نے دعا کی تو خواب میں دیکھا کہ ایک سڑک ایسی کہ گویا چاند کے ٹکڑے اکٹھے کر کے بنائی گئی ہے اور ایک شخص نہایت خوش شکل عزیز مرحوم کو اس سڑک پر لئے جا رہا ہے اور وہ سڑک آسمان کی طرف جاتی ہے اس خواب کی تعبیر یہی تھی کہ ان کا خاتمہ بخیر ہوگا اور وہ بہشتی ہے اور نورانی چہرہ والا شخص ایک فرشتہ تھا جو اس عزیز کو بہشت کی طرف لے جا رہا تھا۔ ہم نے یہ خواب مرزا یعقوب بیگ صاحب کو لکھ دیا اور اپنی جماعت میں بھی شائع کر دیا چنانچہ ۶ ماہ کے بعد اس عزیز نے وفات پائی اور جب ہمارے پاس تار پہنچا اور ہم نے تعزیت کا خط لکھنا شروع کیا اور ہماری توجہ اس عزیز کی طرف تھی کہ کس طرح وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ناپدید ہو گیا تو اس حالت میں الہام ہوا ” مبارک وہ آدمی جو اس دروازہ کی راہ سے داخل ہوں “ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ عزیز مرحوم کی موت نہایت نیک طور پر ہوئی ۔۱ مرحوم مذکور نیک بخت ۔ جوان صالح اور اولیاء اللہ کی صفات اپنے اندر رکھتا تھا۔ | پیشگوئی سے چھ ماہ بعد |
| زندہ گواہ رویت نمبر ۹۸ | ۱ اس کے گواہ مرزا یعقوب بیگ صاحب اسسٹنٹ سرجن ۔ مولوی حکیم نورالدین صاحب۔ مولوی عبدالکریم صاحب ۔ مولوی محمد علی صاحب ایم اے۔ مفتی محمد صادق صاحب۔ مولوی شیر علی صاحب ۔ حکیم فضل دین صاحب۔ میر ناصر نواب صاحب۔ شیخ عبدالرحمٰن قادیانی صاحب ۔ شیخ عبدالرحیم صاحب اور کثیر جماعت لاہور ۔ کپورتھلہ ۔ سیالکوٹ وغیرہ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۹۹ | جولائی سنہ ۱۸۹۷ء | جولائی ۱۸۹۷ء میں جب عزیزی مرزا یعقوب بیگ صاحب نے اسسٹنٹ سرجنی کا آخری امتحان دیا اور ہم نے ان کے لئے دعا کی تو الہام ہوا ” تم پاس ہو گئے ہو “ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ پاس ہو گیا ہے۔ کیونکہ مخلصوں کے لئے جو یگانگت کی حد تک پہنچتے ہیں ایسے فقرے آجاتے ہیں چنانچہ بائیبل میں بھی اس طرز کی کئی پیشگوئیاں درج ہیں بالآخر عزیز مذکور اپنے امتحان میں بڑی خوبی سے کامیاب ہوا اور لاہور کے میڈیکل کالج میں ہوس سرجن مقرر ہوا۔۱ | جولائی سنہ ۱۸۹۷ء |
| پیشگوئی نمبر ۱۰۰ | ہمارے ایک مخلص دوست مرزا محمد یوسف بیگ صاحب ہیں جو سامانہ علاقہ ریاست پٹیالہ کے رہنے والے ہیں اور ایک مدت دراز سے ہمارے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ وہ اسی تعلق میں تمام عمر رہیں گے۔ اور اسی میں اس دنیا سے گذریں گے۔ ایک دفعہ ان کا لڑکا مرزا ابراہیم بیگ مرحوم بیمار ہوا تو انہوں نے میری طرف دعا کے لئے خط لکھا ہم نے دعا کی تو کشف میں دیکھا کہ ابراہیم ہمارے پاس بیٹھا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے بہشت سے سلام پہنچا دو جس کے معنی یہی دل میں ڈالے گئے کہ اب ان کی زندگی کا خاتمہ ہے ۔ اگر چہ دل نہیں چاہتا تھا تا ہم بہت سوچنے کے بعد میرزا محمد یوسف بیگ صاحب کو اس حادثہ سے اطلاع دی گئی اور تھوڑے دنوں کے بعد وہ جوان غریب مزاج فرمانبردار بیٹا ان کی آنکھوں کے سامنے اس جہان فانی سے چل بسا ۔۲ | چند روز پیشگوئی کے بعد | |
| زندہ گواہ رویت کے | ۱ اس نشان کے گواہ ہماری جماعت کے بہت سے آدمی اور میرزا یعقوب بیگ کے ہم جماعت ہیں۔ ۲ مرزا محمد یوسف بیگ صاحب زندہ موجود ہیں جو اس واقعہ کے گواہ ہیں اور ان کے سوا اور بہت سے آدمی بھی اس کے گواہ ہیں۔ |
||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس وحی نے مفصلہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکی ہیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۱۰۱ | آج سے دو برس پہلے | جب بالمقابل تفسیر نویسی میں مخالف مولوی عاجز آ گئے اور مہر علی شاہ گولڑی نے کئی طرح کی قابل شرم کارروائیاں کیں تو اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کو یک طرفہ طور پر تفسیر القرآن کا معجزہ عطا فرمایا اور سنتر روز کے عرصہ میں رسالہ اعجاز المسیح لکھا گیا ۔ اس عرصہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں پیش آئیں اور بہت سا وقت بیماری میں گذرا۔ اس نشان سے زیادہ تر ہمارے قادیان میں رہنے والے احباب حصہ لے گئے کیونکہ وہ ہماری روز مرہ حالت سے واقف تھے۔ حاصل کلام انہیں دنوں میں اس رسالہ کے متعلق یہ الہام ہوا کہ منعه مانع من السّماء یعنی روک دیا اس کو روکنے والے نے آسمان سے ۔ سو یہ الہام اس صفائی سے پورا ہوا ہے کہ اب تک میاں مہر علی اس کا جواب نہیں دے سکا اور نہ ان کا کوئی حامی جواب دینے پر قادر ہو سکا۔ اگر کارروائی کی تو یہ کی کہ صرف اردو میں ایک کتاب لکھی مگر آخر تحریری ثبوت سے ثابت ہوا کہ وہ بھی اپنی ذاتی لیاقت سے نہیں بلکہ مولوی محمد حسن متوفی کے نوٹوں کا بعینہا سرقہ تھا یہاں تک کہ اس نادان نے اس کی قابل شرم غلطیوں کو بھی صحیح سمجھ لیا اور اس مال مسروقہ اور مجموعہ اغلاط کا نام سیف چشتیائی رکھا۔ وہ ایسی سیف تھی جو انہیں پر چل گئی ۔۱
مر گیا بد بخت اپنے وار سے کٹ گیا سر اپنی ہی تلوار سے کھل گئی ساری حقیقت سیف کی کم کرو اب ناز اس مُردار سے |
آج سے دو برس پہلے |
| ۱ اس نشان کا گواہ اول تو خود کتاب اعجاز المسیح ہے اور بہت سے مخلص جو اس جگہ موجود تھے۔ مثلاً مولوی نورالدین صاحب ۔ مولوی عبدالکریم صاحب ۔ مفتی محمد صادق صاحب۔ مولوی محمد علی صاحب ۔ حکیم فضل دین صاحب۔ پیر منظور محمد صاحب۔ پیر سراج الحق صاحب۔ | |||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۱۰۲ | قریباً سنہ ۱۸۹۲ء | خلیفہ سید محمد حسن صاحب وزیر اعظم پٹیالہ کسی ابتلا اور فکر اور غم میں مبتلا تھے ان کی طرف سے متواتر دعا کی درخواست ہوئی اتفاقاً ایک دن یہ الہام ہوا۔ ” چل رہی ہے نسیم رحمت کی ۔ جو دعا کیجئے قبول ہے آج ۔ “ اس وقت مجھے یاد آیا کہ آج انہیں کے لئے دعا کی جائے چنانچہ دعا کی گئی اور ان کو بذریعہ خط اطلاع دی گئی اور تھوڑے عرصہ کے بعد انہوں نے ابتلاء سے رہائی پائی اور بذریعہ خط اپنی رہائی سے اطلاع دی ان کا خط میرے کسی بستہ میں اب تک پڑا ہو گا اور وہی اس بات کا کامل گواہ ہے۔ | قریباً سنہ ۱۸۹۲ء |
| پیشگوئی نمبر ۱۰۳ | قریباً سنہ ۱۸۸۱ء | ہمارے بھائی مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کی وفات سے ایک دن پہلے الہام ہوا ۔ ” جنازہ “ اور میں نے اس الہام کی بہت لوگوں کو خبر دیدی چنانچہ دوسرے روز بھائی صاحب فوت ہوئے۔ اس واقعہ کے بہت لوگ گواہ ہیں۔ | پیشگوئی کے دوسرے روز |
| پیشگوئی نمبر ۱۰۴ | منجملہ ان نشانوں کے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے میرے ہاتھ پر ظہور میں آئے ایک یہ ہے کہ جب کتاب امہات المومنین عیسائیوں کی طرف سے شائع ہوئی تو انجمن حمایت اسلام لاہور کے ممبروں نے گورنمنٹ میں اس مضمون کا میموریل بھیجا کہ اس مضمون کی اشاعت بند کی جائے اور مصنف سے بازپرس ہو مگر میں ان کے میموریل کے سخت مخالف تھا اور میں نے اپنی تحریر میں صاف طور پر شائع کیا تھا کہ یہ طریق اچھا نہیں مگر ان لوگوں نے میری صلاح کو قبول نہ کیا بلکہ | ||
| زندہ گواہ رویت | ان واقعات کے گواہ بہت سے آدمی ہیں مثلاً مفتی محمد صادق صاحب۔ مولوی محمد علی ۔ مولوی شیر علی صاحبان ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی ۱۰۴ | تخمیناً سنہ ۱۸۹۷ء | بدگوئی کی ۔ اسی اثنا میں مجھے الہام ہوا کہ ستذكرون ما اقول لكم و افوض امری الی اللّٰہ یعنی عنقریب جنہیں یہ بات میری یاد آئے گی یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ تمہیں اپنے میموریل میں ناکامی رہے گی اور جس امر کو میں نے اختیار کیا ہے یعنی مخالفین کے اعتراضات کو رد کرنا اور ان کو جواب دینا۔ اس امر کو میں خدائے تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں ۔ یہ الہام قبل از وقت ایک گروہ کثیر کو سنایا گیا تھا چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا یعنی انجمن کی وہ درخواست نامنظور ہوئی ۔ | پیشگوئی کے چند روز بعد |
| پیشگوئی نمبر ۱۰۵ | سنہ ۱۸۸۲ء | جب کہ دلیپ سنگھ کی پنجاب میں آنے کی خبر مشہور تھی تب مجھے دکھلایا گیا کہ دلیپ سنگھ اپنے اس ارادہ میں ناکام رہے گا اور وہ ہرگز ہندوستان میں قدم نہیں رکھے گا چنانچہ میں نے اس کشف کو لالہ شرمپت ساکن قادیان کو جو آریہ ہے اور کئی ہندو مسلمانوں کو بتلا دیا اور ایک اشتہار بھی شائع کر دیا جو فروری سنہ ۱۸۸۲ء میں چھپ کر تقسیم کر دیا تھا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ دلیپ سنگھ عدن سے واپس ہوا اور اس کی عزت و آسائش میں بہت خطرہ پڑا جیسا کہ میں نے صدہا آدمیوں کو خبر دی تھی ۔۱ | سنہ ۱۸۸۲ء |
| پیشگوئی نمبر ۱۰۶ | قریباً سنہ ۱۸۸۷ء | ایک دفعہ ہمارے مخلص میاں عبداللہ سنوری پٹواری علاقہ ریاست پٹیالہ کے دیکھتے ہوئے یہ نشان الٰہی ظاہر ہوا کہ اول مجھے کشفی طور پر دکھایا گیا کہ میں نے بہت سے احکام قضا و قدر کے اہلِ دنیا کی نیکی و بدی کے | قریباً ۱۸۸۷ء |
| ۱ اس نشان کے گواہ اکثر قادیان کے لوگ ہیں اور علاوہ ان کے اشتہار جو فروری سنہ ۱۸۸۲ء میں چھاپ کر شائع کیا تھا۔ | |||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکی ہیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۱۰۶ | متعلق اپنے لئے اور نیز اپنے دوستوں کے لئے لکھے ہیں اور چاہتا ہوں کہ ایسا ہی ہو جائے پھر تمثل کے طور پر میں نے خدا تعالیٰ بے مثل و بے مانند کو دیکھا اور وہ کاغذ حضرت جل شانہ کے آگے رکھ دیا تا اس پر دستخط کر دے تا وہ سب باتیں جن کے لئے درخواست کی گئی ہے ہو جائیں خدا تعالیٰ نے اس پر سرخی سے دستخط کر دیئے اور قلم کی نوک پر جو سرخی زیادہ تھی اس کو جھاڑ دیا اور جھاڑنے کے ساتھ ہی اس سرخی کے قطرے میرے اور میاں عبداللہ کے کپڑوں پر پڑے اور چونکہ کشفی حالت میں انسان بیداری سے حصہ رکھتا ہے اس لئے میں نے ان قطروں کو بچشم خود دیکھا اور میں اس وقت اس خیال سے کہ خدا نے میرے تجویز کردہ احکام پر دستخط کر دئے چشم پر آب تھا۔ اور ایک رقت میرے دل پر طاری تھی اتنے میں میاں عبداللہ نے یہ کہہ کر کہ یہ کہاں سے سرخ قطرے ہمارے پر پڑے مجھے اس حالت سے جگا دیا اور میں نے اپنے کرتہ اور اس کی ٹوپی پر سرخ اور تر قطرے دیکھے جو ابھی خشک نہیں ہوئے تھے اور تمام حال اس کشف کا سنایا اور اس وقت ہم دونوں نے ادھر اُدھر خوب تلاش کر کے دیکھا مگر کوئی چیز ایسی نظر نہ پڑی جس سے ان قطروں کے گرنے کا گمان ہو سکے تب میاں عبداللہ کو بھی یقین ہوا کہ یہ سرخ قطرے معجزے کے طور پر ہیں ۔ بعض کپڑے اب تک میاں عبداللہ کے پاس موجود ہیں اور وہ خدا کے فضل و کرم سے غوث گڑھ علاقہ پٹیالہ میں زندہ موجود ہیں اور اس کیفیت کو حلفاً بیان کر سکتے ہیں اور یہ بات کہ یہ سرخ قطرے کس بات کی طرف اشارہ | ||
| زندہ گواہ | اس کے گواہ میاں عبداللہ سنوری اور دیگر بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے اس موقعہ پر اس گڑتہ کو دیکھا۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکی ہیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| کرتے تھے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قبل از وقت اس بات کے لئے نشان دیا گیا تھا کہ آسمان سے قہری نشان ظاہر ہوں گے اور بعض ہیبت ناک موتیں نشان کی طرح ہوں گی ۔ جیسا کہ لیکھرام پنڈت کی موت اور جیسا کہ طاعون دنیا کو کھا رہی ہے۔ | |||
| پیشگوئی نمبر ۱۰۷ | قریباً سنہ ۱۸۸۷ء | پنڈت اگنی ہوتری نے جو برہمو سماج کا ایک منتخب معلم ہے لاہور سے میری طرف ایک خط لکھا کہ میں حصہ سوم براہین احمدیہ کا رد لکھنا چاہتا ہوں ۔ ابھی وہ خط اس جگہ نہیں پہنچا تھا کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے اس مضمون سے آگاہی دے دی تھی چنانچہ کئی ہندو آریوں کو بلا کر بتا دیا گیا تھا اور ایک آریہ کو ہی شام کے وقت ڈاکخانہ میں بھیجا گیا تا وہ گواہ بن سکے ۔ چنانچہ جب وہ خط لایا تو اس خط کا وہی مضمون تھا جو الہام الہی سے خبر پا کر پہلے لوگوں پر ظاہر کر دیا گیا تھا اور وہ خط سب کو دکھایا گیا اور پنڈت اگنی ہوتری کو جواب لکھا گیا کہ جس الہام کے سلسلہ کا تم رد لکھنا چاہتے ہو اسی کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے ہم کو پیش از وقت تمہارے خط کے مضمون سے اطلاع دے دی ہے اگر چاہو تو قادیان میں آکر اپنے ہندو بھائیوں سے تصدیق کر لو۱ | قریباً ۱۸۸۷ء |
| پیشگوئی نمبر ۱۰۸ | تخمیناً ۱۸۹۹ء | جب بعض مخالفین کی مخبری سے میرے پر ٹیکس لگانے کے لئے سرکار کی طرف سے مقدمہ ہوا اور میری طرف سے عذرداری کی گئی تو میں ایک دن | پیشگوئی کے کچھ دنوں بعد |
| زندہ گواہ رویت | ۱ اس نشان کے گواہ قادیان کے بہت سے آریہ ہیں ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۱۰۸ | چھوٹی مسجد میں چند احباب کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور آمد خرچ کا حساب کر رہے تھے کہ مجھ پر ایک کشفی حالت طاری ہوئی اور اس میں دکھایا گیا کہ ہند و تحصیلدار بٹالہ جس کے پاس مقدمہ تھا بدل گیا ہے اور اس کے عوض ایک اور شخص کرسی پر بیٹھا ہے جو مسلمان ہے اور اس کشف کے ساتھ بعض امور ایسے ظاہر ہوئے جو فتح کی بشارت دیتے تھے تب میں نے اسی وقت یہ کشف حاضرین کو سنا دیا جن میں سے ایک خواجہ جمال الدین صاحب بی اے انسپکٹر مدارس جموں و کشمیر تھے اور بہت سے جماعت کے لوگ تھے چنانچہ اس کے بعد ایسا ہوا کہ وہ ہندو تحصیلدار یکا یک بدل گیا اور اس کی جگہ میاں تاج الدین صاحب تحصیلدار بٹالہ مقرر ہوئے جنہوں نے نیک نیتی کے ساتھ اصل حقیقت کو دریافت کر لیا اور جو کچھ تحقیقات سے معلوم ہوا اس کی رپورٹ ڈکسن صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور میں بھیج دی اور نیک اتفاق یہ ہوا کہ صاحب موصوف بھی زیرک اور انصاف پسند تھے انہوں نے لکھ دیا کہ مرزاغلام احمد صاحب کا ایک شہرت یافتہ فرقہ ہے جن کی نسبت ہم بدظنی نہیں کر سکتے یعنی جو کچھ عذر کیا گیا ہے وہ واقعی درست ہے اس لئے ٹیکس معاف اور مسل داخل دفتر ہوئے۱ | ||
| پیشگوئی نمبر ۱۰۹ | قریباً ۱۸۸۷ء | ایک دفعہ ہمیں موضع گنجراں ضلع گورداسپور کو جانے کا اتفاق ہوا اور شیخ حامد علی ساکن تھہ غلام نبی ہمارے ساتھ تھا جب صبح کو ہم نے جانے کا | قریباً ۱۸۸۷ء |
| زندہ گواہ رویت | ۱ اس نشان کے گواہ خواجہ جمال الدین صاحب بی اے۔ مولوی محمد علی صاحب ایم اے۔ مولوی عبد الکریم صاحب ۔ مولوی نور الدین صاحب ۔ مولوی شیر علی صاحب۔ شیخ عبد الرحمن صاحب ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکی ہیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| قصد کیا تو الہام ہوا کہ اس سفر میں تمہارا اور تمہارے رفیق کا کچھ نقصان ہو گا چنانچہ راستہ میں شیخ حامد علی کی ایک چادر اور ہمارا ایک رومال گم ہو گیا اس وقت حامد علی کے پاس وہی چادر تھی ۔ | |||
| پیشگوئی نمبر ۱۱۰ | قریباً سنہ ۱۹۰۰ء | ایک دفعہ ڈاکٹر نور محمد صاحب مالک کارخانہ ہمدم صحت کا لڑکا سخت بیمار ہو گیا اس کی والدہ بہت بیتاب تھی اس کی حالت پر رحم آیا اور دعا کی تو الہام ہوا ”اچھا ہو جائے گا‘‘ اسی وقت یہ الہام سب کو سنایا گیا جو پاس موجود تھے آخر ایسا ہی ہوا کہ وہ لڑکا خدا کے فضل سے بالکل تندرست ہو گیا۔۱ | قریباً سنہ ۱۹۰۰ء |
| پیشگوئی نمبر ۱۱۱ | قریباً سنہ ۱۸۹۸ء | ایک دفعہ ہمارے لڑکے بشیر احمد کی آنکھیں بہت خراب ہو گئی تھیں۔ پلکیں گر گئی تھیں اور پانی بہتا رہتا تھا آخر ہم نے دعا کی تو الہام ہوا۔ ”برق طفلی بشیر‘‘ یعنی میرے لڑکے بشیر احمد کی آنکھیں اچھی ہو گئیں ۔ اس الہام کے ایک ہفتہ بعد اللہ تعالیٰ نے اس کو شفا دے دی اور آنکھیں بالکل تندرست ہو گئیں ۔ اس سے پہلے کئی سال انگریزی اور یونانی علاج کیا گیا تھا مگر کچھ فائدہ نہیں ہوتا تھا بلکہ حالت ابتر ہوتی جاتی تھی۔۲ | پیشگوئی کے ایک ہفتے بعد |
| زندہ گواہ رویت کے | ۱ بہت سے مرد اور عورتیں اس نشان کے گواہ ہیں مثلاً مولوی نورالدین صاحب۔ مولوی عبد الکریم صاحب۔ مولوی شیر علی صاحب ۔ شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی وغیرہ۔ ۲ اس الہام کے بہت سے مرد اور عورتیں قادیان میں گواہ ہیں ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۱۱۲ | تخمیناً سنہ ۱۸۹۸ء | ایک دفعہ الہام ہوا ”بے ہوشی پھر غشی پھر موت‘‘ تفہیم ہوئی کہ ہمارے بڑے مخلص مریدوں میں سے کسی کو ایسا واقعہ پیش آئے گا یعنی پہلے بے ہوشی ہو گی پھر غشی طاری ہوگی پھر مر جائے گا۔ یہ الہام یہاں رہنے والے احباب کو سنایا گیا اور خطوط کے ذریعہ سے باہر بھی لکھا گیا تھا آخر ایک دو ہفتہ کے اندر ہمارے مخلص مرید ڈاکٹر بوڑے خان صاحب اسٹنٹ سرجن قصور عین الہام کے الفاظ کے مطابق یک دفعہ بے ہوش ہو کر اور پھر غش میں پڑ کر فوراً فوت ہو گئے اور ان کی وفات کا تار آیا۔۱ | تخمیناً سنہ ۱۸۹۸ء |
| پیشگوئی نمبر ۱۱۳ | قریباً سنہ ۱۸۸۸ء | ایک دفعہ ہمیں لدھیانہ سے پٹیالہ جانے کا اتفاق ہوا روانہ ہونے سے پہلے الہام ہوا کہ ”اس سفر میں کچھ نقصان ہوگا اور کچھ ہم وغم پیش آئے گا‘‘ اس پیشگوئی کی خبر ہم نے اپنے ہمراہیوں کو دے دی چنانچہ جب کہ ہم پٹیالہ سے واپس آنے لگے تو عصر کا وقت تھا ایک جگہ ہم نے نماز پڑھنے کے لئے اپنا چوغہ اتار کر سید محمد حسن خان صاحب وزیر ریاست کے ایک نوکر کو دیا تا کہ وضو کریں پھر جب نماز سے فارغ ہو کر ٹکٹ لینے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالا تو معلوم ہوا کہ جس رومال میں روپے باندھے ہوئے تھے وہ رومال گر گیا ہے تب ہمیں وہ الہام یاد آیا کہ اس نقصان کا ہونا ضروری تھا پھر جب ہم گاڑی پر سوار ہوئے تو راستہ میں ایک اسٹیشن دو راہہ پر ہمارے ایک رفیق کو کسی مسافر انگریز نے | قریباً سنہ ۱۸۸۸ء |
| زندہ گواہ رویت | ۱ اس نشان کے گواہ بہت آدمی یہاں کے اور دیگر مقامات کے ہیں مثلاً مولوی عبد الکریم صاحب۔ مولوی نورالدین صاحب۔ مفتی محمد صادق صاحب۔ مولوی محمد علی صاحب۔ مولوی شیر علی صاحب۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بیان فرمائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۱۱۳ | محض دھوکا دہی سے اپنے فائدہ کے لئے کہہ دیا کہ لودیانہ آ گیا ہے چنانچہ ہم اس جگہ سب اتر پڑے اور جب ریل چل دی تب ہم کو معلوم ہوا کہ یہ کوئی اور اسٹیشن تھا اور ایک بیابان میں اترنے سے سب جماعت کو تکلیف ہوئی اور اس طرح پر الہام مذکورہ کا دوسرا حصہ بھی پورا ہو گیا۔۱ | ||
| پیشگوئی نمبر ۱۱۴ | قریباً سنہ ۱۸۸۷ء | ایک دفعہ میری بیوی کے حقیقی بھائی سید محمد اسمعیل کا (جن کی عمر اس وقت دس برس کی تھی) پٹیالہ سے خط آیا کہ میری والدہ فوت ہو گئی ہے اور اسحاق میرے چھوٹے بھائی کو کوئی سنبھالنے والا نہیں ہے اور پھر خط کے آخیر میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ اسحاق بھی فوت ہو گیا ہے اور بڑی جلدی سے بلایا کہ دیکھتے ہی چلے آویں۔ اس خط کے پڑھنے سے بڑی تشویش ہوئی کیونکہ اس وقت میرے گھر کے لوگ بھی سخت تپ سے بیمار تھے ۔ ایسی ناگہانی دو موتوں کی خبر میں ان کو سنا نہ سکا اور میں سخت بے قراری میں پڑ گیا کہ جن کو بلاتے ہیں وہ خود خطرناک تپ میں مبتلا ہے اور میں ڈرتا تھا کہ اگر میں اس خط کا مضمون اس بیماری کی حالت میں ان کو سناؤں تو جان کا اندیشہ ہے رات کو اس فکر سے نیند میری جاتی رہی کہ کیا کروں اور میں اس خط کو پوشیدہ بھی نہیں رکھ سکتا تھا جب ایک حصہ رات کا گذر گیا تو فکر کرتے کرتے میرا دل نہایت بے قرار ہو گیا جس کا میں اندازہ نہیں کر سکتا تب مجھے اسی تشویش میں ایک دفعہ غنودگی ہوئی اور یہ الہام | قریباً سنہ ۱۸۸۷ء |
| زندہ گواہ رویت | ۱ اس نشان کے گواہ شیخ حامد علی صاحب ۔ شیخ عبدالرحیم صاحب ساکن انبالہ چھاؤنی اور فتح خان ایک افغان ہیں ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۱۱۴ | ہوا۔ ان کید کنّ عظیم یعنی اے عورتو تمہارے فریب بہت بڑے ہیں اور اس حالت میں ہم ان کو خط کا مضمون بھی نہیں سنا سکتے تھے اس مصیبت کو سن کر ان کی جان کا اندیشہ تھا اس کے ساتھ ہی تفہیم ہوئی کہ یہ ایک خلاف واقعہ بہانہ بنایا گیا ہے ۔ تب میں نے اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کے آگے جو اس وقت قادیان میں موجود تھے یہ واقعہ بیان کیا اور ساتھ ہی پوشیدہ طور پر شیخ حامد علی کو جو میرا نوکر تھا پٹیالہ روانہ کیا۔ جس نے واپس آ کر بیان کیا کہ اسحاق اور اس کی والدہ ہر دو زندہ موجود ہیں اور چند روز کی بیماری کی گھبراہٹ اور اشتیاق ملاقات کے سبب یہ خلاف واقعہ خط لکھا کر بھیجا گیا تھا۔۱ | ||
| پیشگوئی نمبر ۱۱۵ | قریباً سنہ ۱۸۹۸ء | ایک دفعہ ہمارے ایک مخلص دوست سیٹھ عبدالرحمن صاحب تاجر مدراس کسی اپنی تشویش میں دعا کے خواستگار ہوئے جب دعا کی گئی تو الہام ہوا ۔ ”قادر ہے وہ بارگاہ ٹوٹا کام بناوے۔ بنا بنایا توڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے۔‘‘ یہ ایک بشارت ان کا غم دور کرنے کے بارے میں تھی۔ چنانچہ چند ہفتہ کے بعد ہی خدا تعالیٰ نے ان کو اس پیش آمدہ غم سے رہائی بخشی۔ پھر ایک مدت کے بعد اس شعر کے دوسرے مصرع کے مطابق ایک اور سخت ابتلا پیش آیا جس سے امید ہے کہ کسی وقت خدا رہائی دے گا جس طرح چاہے گا۔۲ | قریباً سنہ ۱۸۹۸ء |
| زندہ گواہ رویت | ۱ اس نشان کے گواہ مولوی عبدالکریم صاحب ۔ شیخ حامد علی ۔ میر محمد اسماعیل صاحب۔ ان کی والدہ و دیگر کئی مرد اور عورتیں ۔ ۲ اس نشان کے گواہ خود سیٹھ صاحب۔ مولوی عبدالکریم صاحب۔ مولوی نور الدین صاحب ۔ مفتی محمد صادق صاحب ۔ مولوی محمد علی صاحب۔ مولوی شیر علی صاحب و دیگر بہت سے احباب ہیں۔ |
||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۱۱۶ | سنہ ۱۸۸۵ء | میاں عبداللہ سنوری جو علاقہ پٹیالہ میں پٹواری ہیں ایک مرتبہ ان کو ایک کام پیش آیا جس کے ہونے کے لئے انہوں نے ہر طرح سے کوشش کی۔ اور بعض وجوہ سے ان کو اس کام کے ہو جانے کی امید بھی ہوگئی تھی پھر انہوں نے دعا کے لئے ہماری طرف التجا کی ۔ ہم نے جب دعا کی تو بلا توقف الہام ہوا ”اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘‘۔ تب میں نے ان کو کہہ دیا کہ یہ کام ہرگز نہیں ہو گا اور وہ الہام سنا دیا اور آخر کار ایسا ظہور میں آیا اور کچھ ایسے موانع پیش آئے کہ وہ کام ہوتا ہوتا رہ گیا۔۱ | سنہ ۱۸۸۵ء |
| پیشگوئی نمبر ۱۱۷ | سنہ ۱۸۸۸ء | ایک دفعہ ہمیں اتفاقاً پچاس روپیہ کی ضرورت پیش آئی اور جیسا کہ اہل فقر اور توکل پر کبھی کبھی ایسی حالت گذرتی ہے اس وقت ہمارے پاس کچھ نہ تھا سو جب ہم صبح کے وقت سیر کے واسطے گئے تو اس ضرورت کے خیال نے ہم کو یہ جوش دیا کہ اس جنگل میں دعا کریں پس ہم نے ایک پوشیدہ جگہ میں جا کر اس نہر کے کنارہ پر دعا کی جو قادیان سے تین میل کے فاصلہ پر بٹالہ کی طرف واقع ہے جب ہم دعا کر چکے تو دعا کے ساتھ ہی ایک الہام ہوا جس کا ترجمہ یہ ہے۔ ”دیکھ میں تیری دعاؤں کو کیسے جلد قبول کرتا ہوں ۔‘‘ تب ہم خوش ہو کر قادیان کی طرف واپس آئے اور بازار کا رخ کیا تا کہ ڈاکخانہ سے دریافت کریں کہ آج ہمارے نام کچھ روپیہ آیا ہے یا نہیں۔ چنانچہ ہمیں ایک خط ملا جس میں لکھا تھا کہ پچاس روپیہ لدھیانہ سے کسی نے روانہ کئے ہیں اور غالباً وہ روپیہ اسی دن یا دوسرے دن ہمیں مل گیا۔۲ | سنہ ۱۸۸۸ء |
| زندہ گواہ رویت کے | ۱ اس نشان کے گواہ شیخ حامد علی اور عبداللہ سنوری ہیں۔ ۲ اس نشان کے گواہ شیخ حامد علی صاحب ہیں ۔ |
||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| پیشگوئی نمبر ۱۱۸ | سنہ ۱۹۰۰ء | ایک دفعہ مجھے مرض ذیا بیطس کے سبب بہت تکلیف تھی کئی دفعہ سو، سو مرتبہ دن میں پیشاب آتا تھا ۔ دونوں شانوں میں ایسے آثار نمودار ہو گئے ۔ جن سے کار بنکل کا اندیشہ تھا۔ تب میں دعا میں مصروف ہوا تو یہ الہام ہوا ”والموت اذا عسعس‘‘ یعنی قسم ہے موت کی جبکہ ہٹائی جائے۔ چنانچہ یہ الہام بھی ایسا پورا ہوا کہ اس وقت سے لے کر ہمیشہ ہماری زندگی کا ہر ایک سیکنڈ ایک نشان ہے۔ | سنہ ۱۹۰۰ء |
| پیشگوئی نمبر ۱۱۹ | ۱۳؍ اپریل سنہ ۱۸۹۹ء | میرے چوتھے لڑکے مبارک احمد کی پیدائش سے دو ماہ پہلے یہ الہام ہوا تھا ۔ ”ربّ اصح زوجتي هذه‘‘ یعنی اے میرے رب میری اس زوجہ کو بیمار ہونے سے بچا اور بیماری سے شفا دے۔ جس وقت یہ الہام ہوا اس وقت میری بیوی بالکل تندرست تھی گویا اس الہام میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ کسی بیماری کا اندیشہ ہے لیکن بعد میں شفا ہو جائے گی ۔ چنانچہ دو ماہ کے بعد یہ الہام ہر دو پہلو سے پورا ہوا ۔ یعنی میری بیوی کو ایک سخت مرض نے گھیرا اور خطرناک حالت ہوئی لیکن آخر اللہ تعالیٰ نے شفا دی۔۱ | ۱۳؍ جون سنہ ۱۸۹۹ء |
| سنہ ۱۹۰۱ء | ایک دفعہ مجھے الہام ہوا ”ربّ ارنی کیف تحی الموتیٰ رب اغفر و ارحم من السماء ۔‘‘ اے میرے ربّ مجھے دکھا کہ تو مردہ | سنہ ۱۹۰۱ء | |
| زندہ گواہ رویت | ۱ اس کے گواہ مولوی عبدالکریم صاحب ۔ مولوی نور الدین صاحب۔ مولوی محمد علی صاحب ۔ مفتی محمد علی☆ صاحب ۔ مولوی شیر علی صاحب و دیگر احباب ہیں اور دوسرے شہروں میں بذریعہ خطوط کے یہ الہام لکھے گئے ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بیان فرمائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۱۲۰ | کیونکر زندہ کرتا ہے اور آسمان سے اپنی بخشش اور رحمت نازل فرما۔ اس الہام میں یہ خبر دی گئی کہ کبھی ایسا موقع آنے والا ہے کہ ہمیں یہ دعا کرنی پڑے گی اور وہ قبول ہوگی ۔ چنانچہ ایسا ہوا کہ ایک دفعہ ہمارا لڑکا مبارک احمد ایسا سخت بیمار ہوا کہ سب نے کہا وہ مر گیا ہے ہم اٹھے اور دعا کرتے ہوئے لڑکے پر ہاتھ پھیرتے تھے تو لڑکے کو سانس آنا شروع ہو گیا تھا علاوہ ازیں یہ الہام اس طرح سے بھی پورا ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اب تک ہمارے ہاتھ سے ہزار ہا روحانی مردہ زندہ کیے ہیں اور کر رہا ہے۔۱ | ||
| پیشگوئی نمبر ۱۲۱ | قریباً سنہ ۱۸۷۸ء | عرصہ قریباً پچیس برس کا گذرا ہے کہ مجھے گورداسپور میں ایک رؤیا ہوا کہ میں ایک چار پائی پر بیٹھا ہوں اور اسی چار پائی پر بائیں طرف مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی مرحوم بیٹھے ہیں اتنے میں میرے دل میں تحریک پیدا ہوئی کہ میں مولوی صاحب موصوف کو چار پائی سے نیچے اتار دوں ۔ چنانچہ میں نے ان کی طرف کھسکنا شروع کیا یہاں تک کہ وہ چار پائی سے اتر کر زمین پر بیٹھ گئے ۔ اتنے میں تین فرشتے آسمان کی طرف سے ظاہر ہو گئے جن میں سے ایک کا نام خیرائتی تھا۔ وہ تینوں بھی زمین پر بیٹھ گئے اور مولوی عبداللہ بھی زمین پر تھے۔ اور میں چار پائی پر بیٹھا رہا۔ تب میں نے ان سب سے کہا کہ میں دعا کرتا ہوں تم سب آمین کہو تب میں نے یہ دعا کی ربّ اذهب عنی الرجس وطهرنی | پیشگوئی کے چند سال بعد |
| زندہ گواہ رویت | ۱ اس نشان کے گواہ بہت سے مرد اور عورتیں ہیں منجملہ ان کے مولوی نورالدین صاحب۔ مرزا خدا بخش صاحب ۔ صاحبزادہ سراج الحق صاحب ۔ شیخ عبدالرحمٰن قادیانی صاحب اور | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں ہیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۱۲۱ | تطهیرًا ۔ اس دعا پر تینوں فرشتوں اور مولوی عبداللہ نے آمین کہی اس کے بعد وہ تینوں فرشتے اور مولوی عبد اللہ آسمان کی طرف اُڑ گئے اور میری آنکھ کھل گئی۔ آنکھ کھلتے ہی مجھے یقین ہو گیا کہ مولوی عبداللہ کی وفات قریب ہے اور میرے لئے آسمان پر ایک خاص فضل کا ارادہ ہے اور پھر میں ہر وقت محسوس کرتا رہا کہ ایک آسمانی کشش میرے اندر کام کر رہی ہے یہاں تک کہ وحی الہی کا سلسلہ جاری ہو گیا وہی ایک ہی رات تھی جس میں اللہ تعالیٰ نے تمام و کمال میری اصلاح کر دی اور مجھ میں ایک ایسی تبدیلی واقع ہو گئی جو انسان کے ہاتھ سے یا انسان کے ارادے سے نہیں ہو سکتی تھی۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی عبداللہ غزنوی اس نور کی گواہی کے لئے پنجاب کی طرف کھنچا تھا۔ اور اس نے میری نسبت گواہی دی اور اس گواہی کو حافظ محمد یوسف اور ان کے بھائی محمد یعقوب نے بیان بھی کیا مگر پھر دنیا کی محبت ان پر غالب آگئی اور میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھا نا لعنتی کا کام ہے کہ مولوی عبداللہ نے میرے خواب میں میرے دعوی کی تصدیق کی اور میں دعا کرتا ہوں کہ اگر یہ قسم جھوٹی ہے تو اے قادر خدا مجھے ان لوگوں کی ہی زندگی میں جو مولوی عبداللہ صاحب کی اولا دیا ان کے مرید یا شاگرد ہیں سخت عذاب سے مار ورنہ مجھے غالب کر اور ان کو شرمندہ یا ہدایت یافتہ ۔ مولوی عبداللہ صاحب کے اپنے مونہہ کے یہ لفظ تھے کہ | ||
| مفتی محمد صادق صاحب۔ شیخ حامد علی صاحب۔ مولوی عبدالکریم صاحب۔ مولوی محمد علی صاحب۔ شیخ یعقوب علی صاحب۔ منشی ظفر احمد صاحب۔ میر ناصر نواب صاحب۔ | |||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں ہیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| آپ کو آسمانی نشانوں اور دوسرے دلائل کی تلوار دی گئی ہے اور جب میں دنیا پر تھا تو امید رکھتا تھا کہ ایسا انسان خدا کی طرف سے دنیا میں بھیجا جائے گا یہ میری خواب ہے۔ العن من کذب و ایّد من صدق. | |||
| پیشگوئی نمبر ۱۲۲ | قریباً ۱۸۷۸ء | جب مولوی صاحب غزنوی ہماری مذکورہ بالا خواب کے مطابق فوت ہو گئے تو جیسا کہ میں نے ابھی لکھا ہے تھوڑے دنوں کے بعد میں نے ان کو خواب میں دیکھا کہ میں اپنا ایک خواب ان کے آگے بیان کر رہا ہوں اور وہ ایک بازار میں کھڑے ہیں جو ایک بڑے شہر کا بازار ہے اور پھر میں ان کے ساتھ ایک مسجد میں آ گیا ہوں اور ان کے ساتھ ایک گروہ کثیر ہے اور سب سپاہیانہ شکل پر نہایت جسیم مضبوط وردیاں کسے ہوئے اور مسلح ہیں اور انہیں میں سے ایک مولوی عبداللہ صاحب ہیں کہ جو ایک قوی اور جسیم جوان نظر آتے ہیں ۔ وردی کسے ہوئے ہتھیار پہنے ہوئے اور تلوار میان میں لٹک رہی ہے اور میں دل میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ لوگ ایک عظیم الشان حکم کے لئے تیار بیٹھے ہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ باقی سب فرشتے ہیں مگر تیاری ہولناک ہے تب میں نے مولوی عبداللہ صاحب کو اپنا ایک خواب سنایا میں نے انہیں کہا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ ایک نہایت چمکیلی اور روشن تلوار میرے ہاتھ میں ہے جس کی نوک آسمان میں ہے اور قبضہ میرے پنجہ میں اور اس تلوار میں سے ایک نہایت تیز چمک نکلتی ہے جیسا کہ | یہ پیشگوئی ہمیشہ پوری ہو رہی ہے |
| زندہ گواہ رویت | خلیفہ نورالدین صاحب ۔ منشی تاج الدین صاحب۔ شیخ رحمت اللہ صاحب ۔ میر حامد شاہ صاحب ۔ حکیم حسام الدین صاحب ۔ شیخ یعقوب علی صاحب اڈیٹر الحکم | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۱۲۲ | آفتاب کی چمک ہوتی ہے اور میں اسے کبھی اپنے دائیں طرف اور کبھی بائیں طرف چلاتا ہوں اور ہر ایک وار سے ہزار ہا آدمی کٹ جاتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ تلوار اپنی لنبائی کی وجہ سے دنیا کے کناروں تک کام کرتی ہے اور وہ ایک بجلی کی طرح ہے جو ایک دم میں ہزاروں کوس چلی جاتی ہے۔ اور میں دیکھتا ہوں کہ ہاتھ تو میرا ہی ہے مگر قوت آسمان سے اور میں ہر ایک دفعہ اپنے دائیں اور بائیں طرف اس تلوار کو چلاتا ہوں اور ایک مخلوق ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرتی جاتی ہے ۔ یہ خواب تھی جو میں نے مولوی عبداللہ کے پاس بیان کی اور جب میں خواب کو بیان کر چکا اور ان سے تعبیر پوچھی تب مولوی عبداللہ نے اس کی تعبیر یہ بتلائی کہ تلوار سے مراد اتمام حجت اور تکمیل تبلیغ ہے اور میرے دلائل قاطعہ کی تلوار ہے اور یہ جو دیکھا کہ وہ تلوار دائیں طرف زمین کے کناروں تک مار کرتی ہے اس سے مراد دلائل روحانیہ ہیں جو از قسم خوارق اور آسمانی نشانوں کے ہوں گے۔ اور یہ جو دیکھا کہ وہ بائیں طرف زمین کے کناروں تک مار کرتی ہے اس سے مراد دلائل عقلیہ وغیرہ ہیں جن سے ہر ایک فرقہ پر اتمام حجت ہوگا۔ پھر انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ جب میں دنیا میں تھا تو امیدوار تھا کہ ایسا انسان خدا کی طرف سے دنیا میں بھیجا جائے گا۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ اس خواب کے ایک حصہ کے حافظ محمد یوسف صاحب اور ان کے | ||
| زندہ گواہ رویت | میاں محمد جان صاحب کپورتھلہ ۔ میاں فتح دین صاحب ۔ میاں عبداللہ صاحب پشاوری ۔ خواجہ کمال الدین صاحب وغیرہ وغیرہ احباب ہیں ۔ | ||
| نمبر شمار | تاریخ بیان پیشگوئی | جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں | تاریخ ظہور پیشگوئی |
|---|---|---|---|
| بقیہ پیشگوئی نمبر ۱۲۲ | بھائی محمد یعقوب نے بھی تصدیق کی ہے شائد میں نے اس خواب کو سو سے زیادہ لوگوں کو سنایا ہو گا ۔ چنانچہ وہ پیشگوئی آج پوری ہو رہی ہے اور روحانی تلوار نے ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کو فتح کر لیا ہے اور کرتی جاتی ہے۔ | ||
| پیشگوئی نمبر ۱۲۳ | ۱۷؍ فروری سنہ ۱۸۸۳ء و جنوری سنہ ۱۸۸۴ء | سید عباس علی لدھیانوی کو ہم نے اپنے ابتدائی خطوط میں اپنے کشوف کے ذریعہ سے اس بات سے پیش از وقت اطلاع دیدی تھی کہ آپ کا انجام اچھا نہیں معلوم ہوتا ہے حالانکہ وہ اس وقت اپنے تئیں اسی راہ میں فنا شدہ ظاہر کرتے تھے۔ چنانچہ بعض کلمات ان خطوط کے مفصلہ ذیل ہیں ۔ ”بنظر کشفی آپ کے دل میں انقباض معلوم ہوا ۔‘‘ ”آپ کسی نئے امر کے پیش آنے پر مضطرب نہ ہوں آپ ابتلا سے بچ نہیں سکتے ۔‘‘ ”نیک ظن بننا آسان ہے مگر نبھانا مشکل‘‘ ”نہایت بد نصیب وہ انسان ہے جس کا انجام آغاز کا سا جوش نہیں رکھتا ۔‘‘ ان سے صاف ظاہر تھا کہ اس کا انجام اچھا نہیں۔ چنانچہ چند سالوں کے بعد وہ مرتد ہو گیا۔ مکتوب میرا اُن کی خاص دستخطی موجود ہے جس میں اس پیشگوئی سے کئی سال بعد اس کا انجام بد ہوا۔ یہ مکتوب ان کی وفات کے بعد ان کے کتب خانہ سے ملا۔ اس مکتوب کے دیکھنے سے ہر ایک کو معلوم ہوگا کہ دنیا کیسا عبرت کا مقام ہے جب انسان پر شقاوت کے دن آتے ہیں تو وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتا۔ جس شخص کو پہلے سے خبر دی گئی تھی کہ تو برگشتہ ہو جائے گا اور ٹھوکر کھائے گا وہ برگشتہ ہو کر اس پیشگوئی سے کچھ فائدہ اٹھا نہ سکا۔ | خطوط کے قریباً نو سال بعد |
| زندہ گواہ رویت | ان نشانوں کے گواہ منشی ظفر احمد صاحب ۔ حافظ محمد یوسف صاحب ۔ محمد یعقوب صاحب ۔ منشی محمد خان صاحب ۔ عبداللہ سنوری وغیرہ احباب ہیں ۔ | ||
یہ کتاب نزول المسیح زیر طبع تھی کہ مولوی کرم دین ساکن بھین نے جس کے خطوط اس کتاب میں درج کئے گئے ہیں ایک مقدمہ دائر عدالت کیا کہ مجھ کو کذاب اور لئیم مواہب الرحمٰن میں (جو حضرت اقدس کی عربی تالیفات سے ہے ) لکھا گیا ہے اور اس کتاب میں میرے جو خطوط لکھے گئے ہیں وہ جعلی ہیں اور ایک نسخہ اس کا کسی ذریعہ سے حاصل کر کے اس کو عدالت میں پیش کیا جس کی وجہ سے کتاب کے طبع ہونے میں روک پیش آگئی یہ مقدمہ مع دیگر مقدمات کے دو ڈھائی سال تک جاری رہا اور آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں ( نسبت انجام مقدمات ) کے مطابق یہ مقدمات فیصل ہوئے اور حضرت اقدس واطہرؐ نے ان کے فیصلہ کے بعد ایک کتاب اور لکھنی شروع کی جس کا نام نصرۃ الحق رکھا اور جو بعد میں براہین احمدیہ حصہ پنجم کے جلیل القدر نام سے موسوم ہوئی اور اس کے اندر مقدمات میں جو جو تائیدات الہیہ آپ کے شامل حال رہیں ان کا ذکر کرتے ہوئے اوائل کتاب میں ہی کرم دین مدعی کے متعلق یہ شعر تحریر فرمایا کہ ۔
کذاب اس کا نام دفاتر میں رہ گیا
چالاکیوں کا فخر جو رکھتا تھا بَہ گیا
کتاب نصرة الحق ابھی زیر طبع ہی تھی کہ ایک فتنہ ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی کے ارتداد کا اٹھا جس کے دفع کرنے کے واسطے آپ نے حقیقۃ الوحی ایک ضخیم کتاب جو سات سو ۷۰۰صفحہ کی ہے تصنیف فرمائی اور اس میں دو سو آٹھ ۲۰۸ نشانات کا ذکر بھی آپ نے فرمایا جو آپ کی تصدیق میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے فعلی شہادت کے طور پر ظہور پذیر ہوئے اس کے ختم کرنے پر ارادہ تھا کہ یہ کتاب اور نیز نصرۃ الحق کو مکمل کیا جاوے کہ انہیں ایام میں آپ کا ایک مضمون آریوں کے جلسہ میں پڑھا گیا جس کے بالمقابل آریوں کی طرف سے گالیوں سے بھرا ہوا لیکچر حضرت کے خدام کی حاضری میں سنایا گیا اس کے جواب میں کتاب چشمہ معرفت جو ساڑھے تین سو ۳۵۰صفحہ کی پُر معارف کتاب ہے ، آپ نے شائع فرمائی ۔ ابھی اس کو شائع کئے دو تین روز گزرے تھے کہ پیغام صلح کے لکھنے پر ضرورت وقت نے حضور کو توجہ دلائی وہ لکھ ہی رہے تھے اور ختم کیا ہی تھا کہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے آپ کی طلبی کا پیغام آ پہنچا اور رسالہ الوصیت مجریہ ۱۹۰۶ء کی پیشگوئیوں کے مطابق الرّحیل ثم الرّحیل کا نقارہ بج گیا۔
ان حالات کے ماتحت اس کتاب کا شائع ہونا معرض التواء میں رہا۔ چونکہ اس کے شروع میں نیز کشتی نوح میں آپ نے اس کے اندر ڈیڑھ سو ۱۵۰پیشگوئیوں کے لکھنے کا اور شامل کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ اس لئے یہ بات بتا دینے کے لائق ہے کہ حقیقۃ الوحی متذکرہ صدر کتاب حضرتؑ نے اس کے بعد لکھی تھی جس میں دو سو آٹھ نشانات آپ نے قلمبند فرمائے ہیں اور بعض کے گواہان رؤیت بھی تحریر فرمائے ہیں ۔ اس لئے جو شخص حقیقۃ الوحی کا مطالعہ کرے گا وہ بخوبی سمجھ لے گا کہ ڈیڑھ سو نشانات کی تکمیل کی بجائے دو سو آٹھ ۲۰۸نشانات آپ نے اس کتاب میں لکھ کر وعدہ کو پورا فرمادیا ہے اور حقیقۃ الوحی نزول المسیح کا تکملہ کیا بلکہ نأت بخیر منھا کے مطابق بڑھ چڑھ کر معاوضہ ہے۔ اس لئے اب ضرورت نہیں کہ ان نشانات کو لکھ کر اس جگہ ایک سو پچاس پورے کئے جاویں کیونکہ حضرت موعودؑ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے کتاب حقیقۃ الوحی میں وہ ضرورت سے بہت کچھ زیادہ موجود ہیں۔ نظر براں جس قدر کتاب ہذا حضرت اقدس کے رو برو طبع ہوئی تھی اسی کو پبلک کے پیش نظر کیا جاتا ہے اور قیمت بہت ہی کم اس خیال سے رکھی گئی ہے کہ ہر مستطیع و غیر مستطیع اس کو خرید کر پڑھ سکے۔ اللہ تعالیٰ پڑھنے والوں کو فہم و فراست اپنی طرف سے عطا فرماوے۔ اور چونکہ مسیحؑ جس کے نزول کا اس میں تذکرہ ہے وہ دنیا سے چلا گیا ہے اور بہت سے علوم و فیوض کے خزانے چھوڑ گیا ہے۔ پڑھنے والوں کے دلوں کو ان علوم و فیوض کی طرف رغبت بخشے ۔ آمین
واٰخر دعوانا ان الحمد للّٰہ ربّ العالمين
کمترین خادمان مسیح موعودؑ مہدی حسین مہتمم کتب خانہ حضرت ممدوح
از قادیان دارالامان
ضلع گورداسپور پنجاب
۲۵؍ اگست سنہ ۱۹۰۹ء
۸؍ شعبان المعظم سنہ ۱۳۲۷ ہجری