فہرست

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ

جلسۂ احباب

برتقریب جشن جوبلی بغرض دعا و شکر گذاری

جناب ملکہ معظّمہ قیصرہ ہند دام ظلّہا

ہم بڑی خوشی سے اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ جناب ملکہ معظّمہ قیصرہ ہند دام ظلّہا کے جشن جوبلی کی خوشی اور شکریہ کے ادا کرنے کے لئے میری جماعت کے اکثر احباب دور دور کی مسافت قطع کر کے ۱۹؍جون ۱۸۹۷ء کو ہی قادیان میں تشریف لائے اور یہ سب ۲۲۵ آدمی تھے۔ اور اس جگہ کے ہمارے مرید اور مخلص بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے جن سے ایک گروہ کثیر ہوگیا اور وہ سب ۲۰؍جون ۱۸۹۷ء کو اس مبارک تقریب میں باہم مل کر دعا اور شکر باری تعالیٰ میں مصروف ہوئے اور جیسا کہ اشتہار وائس پریذیڈنٹ جنرل کمیٹی اہل اسلام ہند جناب خانصاحب محمد حیات خان صاحب سی ایس آئی میں اس بارے میں ہدایتیں تھیں۔ بفضلہٖ تعالیٰ اسی کے موافق سب مراسم خوشی عمدہ طور پر ظہور میں آئیں چنانچہ ۲۰؍جون ۱۸۹۷ء کو ہماری طرف سے مبارکبادی کا تار برقی بحضور وائسرائے گورنر جنرل کشورِ ہند بمقام شملہ روانہ کی گئی اور اسی روز سے ۲۲؍جون ۱۸۹۷ء تک غریبوں اور درویشوں کو برابر کھانا دیا گیا مگر ۲۱؍جون ۱۸۹۷ء کو اس خوشی کے اظہار کے لئے ایک بڑی دعوت کا سامان ہوا۔ اور اس قصبہ کے غربا اور درویش دعوت کے لئے بلائے گئے اور جیسا کہ شادیوں کے موقع پر کھانے پکائے جاتے ہیں ایسا ہی بڑے تکلف سے کھانے طیار ہوئے اور تمام حاضرین کو کھلائے گئے۔ اس روز تین سو سے زیادہ آدمی تھے جو دعوت میں شریک ہوئے پھر ۲۲؍جون کی رات کو چراغاں ہوئی اور کوچوں اور گلیوں اور مسجدوں اور گھروں میں شام ہوتے ہی نظر گاہ عام پر چراغ روشن کرائے گئے اور غریبوں کو اپنے پاس سے تیل دیا گیا اور علاوہ اس کے اظہار مسرت کے لئے عام دعوت میں لوگوں کو شامل کیا گیا۔

غرض یہ مبارک جلسہ تمام احباب کا جنہوں نے بڑی خوشی سے باہم چندہ کر کے اس کا اہتمام کیا۔ ۲۰؍جون ۱۸۹۷ء سے شروع ہوا اور ۲۲؍جون ۱۸۹۷ء کی شام تک بڑی دھوم دھام سے اس کا اہتمام رہا چنانچہ پہلے روز میں تمام جماعت نے جو ہمارے مریدوں کی جماعت ہے جن کے ذیل میں نام درج ہوں گے بڑے صدق دل سے حضور قیصرہ اور خاندان شاہی اور برٹش گورنمنٹ کے حق میں اقبال اور شمول فضل الٰہی کی دعائیں کیں اور پھر جیسا کہ بیان کیا گیا وقتاً فوقتاً تمام مراسم ادا کئے گئے اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہماری جماعت نے جس میں معزز ملازم سرکاری بھی شامل تھے ایسے صدق دل اور محبت اور پوری ارادت اور پورے شوق اور انبساط سے دعائیں کیں اور شکر گزاری ظاہر کی اور اہتمام غرباء کی دعوت میں چندے دیئے اور ایک رقم کثیر باہمی چندہ سے جمع کر کے بڑی سرگرمی اور مستعدی اور دلی خوشی سے تمام تجاویز جنرل کمیٹی کو انجام تک پہنچایا کہ اس سے بڑھ کر خیال میں نہیں آ سکتا۔

اور وہ تقریر جو دعا اور شکر گذاری جناب ملکہ معظّمہ قیصرہ ہند میں سنائی گئی جس پر لوگوں نے بڑی خوشی سے آمین کے نعرے مارے وہ چھ زبانوں میں بیان کی گئی تا ہمارے پنجاب کے ملک میں جس قدر مسلمان کسی زبان میں دسترس رکھتے ہیں ان تمام زبانوں سے شکر ادا ہو۔ ان میں سے ایک اردو میں تقریر تھی جو شکر اور دعا پر مشتمل تھی جو عام جلسہ میں سنائی گئی اور پھر عربی اور فارسی اور انگریزی اور پنجابی اور پشتو میں تقریریں قلمبند ہو کر پڑھی گئیں۔ اردو میں اس لئے کہ وہ عدالت کی بولی اور شاہی تجویز کے موافق دفتروں میں رواج یافتہ ہے۔ اور عربی میں اس لئے کہ وہ خدا کی بولی ہے جس سے دنیا کی تمام زبانیں نکلیں اور جو اُمّ الالسنہ اور دنیا کی تمام زبانوں کی ماں ہے جس میں خدا کی آخری کتاب قرآن شریف خلقت کی ہدایت کے لئے آیا۔ اور فارسی میں اس لئے کہ وہ گذشتہ اسلامی بادشاہوں کی یادگار ہے جنہوں نے اس ملک میں قریباً سات سو برس تک فرمان روائی کی اور انگریزی میں اس لئے کہ وہ ہماری جناب ملکہ معظّمہ قیصرہ ہند اور اسکے معزز ارکان کی زبان ہے جس کے عدل اور احسان کے ہم شکر گذار ہیں اور پنجابی میں اس لئے کہ وہ ہماری مادری زبان ہے جس میں شکر کرنا واجب ہے اور پشتو میں اس لئے کہ وہ ہماری زبان اور فارسی زبان میں ایک برزخ اور سرحدی اقبال کا نشان ہے۔

اسی تقریب پر ایک کتاب شکر گذاری جناب قیصرہ ہند کے لئے تالیف کر کے اور چھاپ کر اس کا نام تحفۂ قیصریہ رکھا گیا اور چند جلدیں اس کی نہایت خوبصورت مجلد کرا کے ان میں سے ایک حضرت قیصرہ ہند کے حضور میں بھیجنے کیلئے بخدمت صاحب ڈپٹی کمشنر بھیجی گئی اور ایک کتاب بحضور وائسرائے گورنر جنرل کشور ہند روانہ ہوئی اور ایک بحضور جناب نواب لیفٹنٹ گورنر پنجاب بھیج دی گئی۔ اب وہ دعائیں جو چھ زبانوں میں کی گئیں ذیل میں لکھی جاتی ہیں۔ اور بعد اس کے ان تمام دوستوں کے نام درج کئے جائیں گے جو تکالیف سفر اٹھا کر اس جلسہ کے لئے قادیان میں تشریف لائے اور اس سخت گرمی میں اس خوشی کے جوش میں مشقتیں اٹھائیں یہاں تک کہ بباعث ایک گروہ کثیر جمع ہونے کے اس قدر چار پائیاں نہ مل سکیں تو بڑی خوشی سے تین دن تک اکثر احباب زمین پر سوتے رہے۔ جس اخلاص اور محبت اور صدق دل کے ساتھ میری جماعت کے معزز اصحاب نے اس خوشی کی رسم کو ادا کیا میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ میں بیان کر سکوں۔

میں اپنے پہلے بیان میں یہ ذکر بھول گیا تھا کہ اس تقریب جلسہ میں ۲۲؍جون ۱۸۹۷ء کو ہماری جماعت کے چار مولوی صاحبان نے اٹھ کر عام لوگوں کو جناب ملکہ معظّمہ قیصرہ ہند کی اطاعت اور سچی وفاداری کی ترغیب دی۔ چنانچہ پہلے اخویم مولوی عبدالکریم صاحب نے اٹھ کر اس بارے میں بہت تقریر کی پھر اخویم حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب بھیروی نے تقریر کی اور پھر بعد ان کے اخویم مولوی برہان الدین صاحب جہلمی اٹھے اور انہوں نے پنجابی میں تقریر کر کے عام لوگوں کو اطاعت ملکہ معظّمہ کے لئے بہت ترغیب دی بعد ان کے مولوی جمال الدین صاحب سید والہ ضلع منٹگمری نے اٹھ کر پنجابی میں تقریر کی مگر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام جن کو نادان مسلمان اب تک خونریز کی صورت میں انتظار کر رہے ہیں وہ درحقیقت فوت ہو گئے ہیں۔ یعنی ایسے خیال کہ کسی وقت مہدی اور مسیح کے آنے سے مسلمان خونریزیاں کریں گے صحیح نہیں ہے اور عام لوگوں کو نیک بختی اور نیک چلنی کی ترغیب دی گئی اور اس مبارک موقعہ پر ساٹھ ستر آدمیوں نے ہر ایک گناہ اور بدچلنی سے رورو کر توبہ کی یہاں تک کہ ان کی گریہ وزاری سے مسجد گونج رہی تھی۔

اب ذیل میں وہ دعائیں چھ زبانوں میں درج کی جاتی ہیں:

الراقم میرزا غلام احمد قادیانی ۲۳؍جون ۱۸۹۷ء

دعا اور آمین اردو زبان میں

اے مخلصان با صدق و صفا و محبان بے ریا جس امر کے لئے آپ سب صاحبان تکلیف فرما ہو کر اس عاجز کے پاس قادیان میں پہنچے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم جناب ملکہ معظّمہ قیصرہ ہند کے احسانات کو یاد کر کے ان کی سلطنت دراز شصت سالہ کے پوری ہونے پر اس خدائے عَزَّ وَ جَلَّ کا شکر کریں جس نے محض لطف و احسان سے ایک لمبے زمانہ تک ایسی ملکہ محسنہ کے زیر سایہ ہمیں ہر ایک طرح کے امن سے رکھا جس سے ہماری جان و مال و آبرو جابروں اور ظالموں کے حملہ سے امن میں رہی اور ہم تمام تر آزادی سے خوشی اور راحت کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے اور نیز اس وقت ہمیں بغرض ادائے فرض شکر گذاری جناب ملکہ معظّمہ قیصرہ ہند کے لئے جناب الٰہی میں دعا کرنی چاہیے کہ جس طرح ہم نے ان کی سلطنت میں امن پایا اور ان کے زیر سایہ رہ کر ہر ایک شریر کی شرارت سے محفوظ رہے اسی طرح خدا تعالیٰ جناب ممدوحہ کو بھی جزاءِ خیر بخشے اور ان کو ہر ایک بلا اور صدمہ سے محفوظ رکھے اور اقبال اور کامیابی میں ترقیات عطا فرمائے اور ان سب مرادوں اور اقبالوں اور خوشیوں کے ساتھ ایسا فضل کرے کہ انسان پرستی سے ان کے دل کو چھڑا دیوے۔ اے دوستو! کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتے ہو اور کیا تم اس بات کو بعید سمجھتے ہو کہ ہماری ملکہ معظّمہ قیصرہ ہند کے دین اور دنیا دونوں پر خدا کا فضل ہو جائے۔ اے عزیزو! اس ذات قادر مطلق کی عظمتوں پر کامل ایمان لاؤ جس نے وسیع آسمانوں کو بنایا اور زمین کو ہمارے لئے بچھایا اور دو چمکتے ہوئے چراغ ہمارے آگے رکھ دیئے جو آفتاب اور ماہتاب ہے۔ سو سچے دل سے حضرت احدیت میں اپنی محسنہ ملکہ قیصرہ ہند کے دین اور دنیا دونوں کے لئے دعا کرو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جب تم سچے دل سے اور روح کے جوش کے ساتھ اور پوری امید کے ساتھ دعا کرو گے تو خدا تمہاری سنے گا۔ سو ہم دعا کرتے ہیں اور تم آمین کہو کہ اے قادر توانا جس نے اپنی حکمت اور مصلحت سے اس محسنہ ملکہ کے زیر سایہ ایک لمبا حصہ ہماری زندگی کا بسر کرایا اور اس کے ذریعہ سے ہمیں صدہا آفتوں سے بچایا اس کو بھی آفتوں سے بچا کہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ اے قادر توانا! جیسا کہ ہم اس کے زیر سایہ رہ کر کئی صدموں سے بچائے گئے اس کو بھی صدمات سے بچا کہ سچی بادشاہی اور قدرت اور حکومت تیری ہی ہے۔ اے قادر توانا ہم تیری بے انتہا قدرت پر نظر کر کے ایک اور دعا کے لئے تیری جناب میں جرأت کرتے ہیں کہ ہماری محسنہ قیصرہ ہند کو مخلوق پرستی کی تاریکی سے چھڑا کر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر اس کا خاتمہ کر۔ اے عجیب قدرتوں والے! اے عمیق تصرفوں والے! ایسا ہی کر۔ یا الٰہی یہ تمام دعائیں قبول فرما۔ تمام جماعت کہے کہ آمین۔ اے دوستو اے پیارو۔ خدا کی جناب بڑی قدرتوں والی جناب ہے۔ دعا کے وقت اس سے نومید مت ہو کیونکہ اس ذات میں بے انتہا قدرتیں ہیں اور مخلوق کے ظاہر اور باطن پر اسکے عجیب تصرف ہیں سو تم نہ منافقوں کی طرح بلکہ سچے دل سے یہ دعائیں کرو۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ بادشاہوں کے دل خدا کے تصرف سے باہر ہیں؟ نہیں بلکہ ہر ایک امر اس کے ارادہ کے تابع اور اس کے ہاتھ کے نیچے ہے۔ سو تم اپنی محسنہ قیصرہ ہند کے لئے سچے دل سے دنیا کے آرام بھی چاہو اور عاقبت کے آرام بھی۔ اگر وفادار ہو تو راتوں کو اٹھ کر دعائیں کرو اور صبح کو اٹھ کر دعائیں کرو۔ اور جو لوگ اس بات کے مخالف ہوں ان کی پرواہ نہ کرو۔ چاہیے کہ ہر ایک بات تمہاری صدق اور صفائی سے ہو اور کسی بات میں نفاق کی آمیزش نہ ہو۔ تقویٰ اور راستبازی اختیار کرو۔ اور بھلائی کرنے والوں سے سچے دل سے بھلائی چاہو تا تمہیں خدا بدلہ دے کیونکہ انسان کو ہر ایک نیکی کے کام کا نیک بدلہ ملے گا۔

اب زیادہ الفاظ جمع کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہی دعا ہے کہ خدا ہماری یہ دعائیں سنے۔ والسلام

الدّعَاءُ والتَّامین فی العَرَبِیَّة

ایّها الاحبّاء المخلصون. والاصدقاء المسترشدون. جزاکم اللّٰہ خیر الجزاء. وحفظکم فی الکونین من البلاء. انکم قاسیتم متاعب السّفر و شوائبه. و ذُقتم شدائد الحرّ و نوائبه. وجئتمونی مُدلجین مُدّلجین مُکابدین. لتشکروا اللّٰہ فی مکانی هٰذا مجتمعین. وتکثروا الدّعاء لقیصرة الهند شاکرین ذاکرین. وتدعون دعوة المخلصین. یا عباد اللّٰہ لا تعجبوا لدعواتنا وشکرنا فی تقریب الجوبلی. وتعلمون ما قال سیّدنا امام کل نبیّ وولیّ ۔ وخاتم النبیّین. انه مَنْ لم یشکر الناس فما شکر اللّٰہ وَ اللّٰہ یحبّ المحسنین. ثمّ تعلمون انّ اموالنا واعراضنا ودماءنا قد حفظتها العنایة الالٰهیّة بهٰذه الملکة المعظمة. وجعلها اللّٰہ مؤیّدة لنا فی المهمّات الدنیویّة والدّینیّة. فالشکر واجب علٰی ما فعل ربّنا ذوالجلال والعزة ومن اعرض فقد کفر بالنعم الرحمانیة. واللّٰہ یحبّ الشاکرین. ایّها النّاس هذا یوم یجب فیه اظهار الشکر والمسرّة مع الدّعاء باخلاص النیّة. فاردنا اَنْ نقبله بمراسم التهانی والتبریک والتهنیّة. ورفع اکفّ الابتهال والضراعة. وتذلّل یلیق بحضرة الاحدیة. وانارة المآذن والمساجد والسکک والبیوت بالمصابیح والشهب النورانیّة. وانما الاعمال بالنیات المخفیة من اعین العامة. واللّٰہ یری مافی قلوب العالمین. یاعباد اللّٰہ الرحمان. هل جزاء الاحسان الّا الاحسان. فلا تظنوا ظنّ السوء. مستعجلین والاٰن ادعو للقیصرة بخلوص النیّة. فامّنو علٰی دعائی یامعشر الاحبّة. واتّقوا اللّٰہ ولا تنسوا منّ اللّٰہ و منّ عباده من الخواص والعامة. ولا تعثوا مفسدین.

یا ربّ اَحسِنْ الٰی هٰذه الملکة. کما احسنت الینا بانواع العطیّة. واحفظها مِن شرّ الظالمین. یاربّ شیّد واعضد دعائم سریرها. واجعلها فائزة فی مهمّاتها وصُنها من نوائب الدنیا و آفاتها. وبارک فی عمرها و حیاتها یا ارحم الراحمین. یاربّ ادخل الایمان فی جذر قلبها ونجّها و ذراریها مِن ان یعبدوا المسیح ویکونوا من المشرکین. یاربّ لا تتوفّها اِلّا بعد ان تکون من المسلمین. یاربّ انا ندعو لها بأَلسنة صادقة وقلوب ملئت اخلاصا وحسن طویّة فاستجب یا اَحکم الحاکمین.

اجد الانام ببهجة مستکثره

عید اتٰی او جوبلی القیصرة

نشر التهانی فی المحافل کلها

فاری الوجوه تهللت مُستبشره

انّی اراها نعمةً من رَبّنا

فالشکر حق واجب لا بربره

لا شک ان سرورنا من شکرها

خیر فمن یعمله اخلاصًا یره

اَمَرَ النّبیُّ لشکر رجل محسن

قُتل العنود المعتدی ما اکفره


دعا و آمین در زبانِ فارسی

اے گروہ دوستان و جماعت مخلصان خدا شمارا جزاءِ خیر دهد شما تکالیف گرمی موسم و صعوبت سفر برداشته نزد من در قادیان بدین غرض رسیده اید که تا بر تقریب جشن جوبلی باجتماع اخوان خود شکر خدائے عزّ وجل بجا آرید و برائے خیرِ دُنیا و دین ملکہ معظّمہ قیصرہ ہند دعاها کنید۔ می دانم که موجب ایں تکالیف و آنچه برائے انعقاد ایں جلسہ با ہم چندہ فراہم کرده رسوم جلسہ بجا آورده اید باعث ایں همه بجز اخلاص و محبّت چیزے دیگر نبوده۔ پس دعا می کنم که خدا تعالےٰ شمارا پاداش ایں تکالیف دهد که محض برائے حصول مرضات او کشیده اید۔ اے دوستان می دانید که ما در عهد سعادت مهد قیصرہ ہند چه آرامها دیدیم و می بینیم و چه قدر زندگی خود در امن و عافیت گذرانیده ایم و می گذرانیم۔ پس شرط انصاف این است که ما برائے ایں ملکہ مبارکہ از ته دل دعا کنیم چرا که ہر که شکر مردم محسن نه کند شکر خدا بجا نیاورده است۔ پس ایں دعاها میکنم شما آمین بگوئید۔ اے قادر توانا بدیں ملکہ تو نیکی کن چنانکه او بما کرد۔ و از شرِ ظالمان او را محفوظ دار۔ اے قادر توانا ستونهائے سریر او بلند کن و در مهمات خود او را فائز گردان و از حوادث دنیا و دین او را نگه دار۔ و در عمر و زندگی او برکت بخش۔ اے قادر توانا اسلام در دِل او داخل کُن و اُو را و اولاد اُو را از پرستش مسیح که بندهٔ عاجز است نجات دِه و از مشرکان او را بیرون آر که همه قدرت تو داری۔ اے قادر توانا او را تا آن وقت وفات مده که بر راهِ راست اسلام ثابت قدم بوده باشد۔ اے ربِّ جلیل دعاهائے ما قبول کُن۔ آمین۔

دعا نورُ آمِیُن پُو پَشُتو ژبَه کِے

اَیٔ دمابُلُ دِ خُدای دُوستُونُ خُدا تاسِتَه دِ خَیُر جَزا ورُ کِے تاسِه خَلق تکلیفُون پُخپُلُ زَان بَاندِ آخِستَیُ دَهُ دِ مَا څخه پُو قَادِیَان لِپَاره دِ دِغَرَضُ رَاغُلِے وُه کِه دِ مَلِکَهُ مُعَظّمه اِشپِے تِرُ کالُ جَشُن اِستَاسُو اوُرُوُ رُوُن سَرَهُ دِے خُدائِے عَزَّ وَجَلّ شُکرَ اَدا وُکرُوُ اَوُر دِے مَلِکَهُ معظّمه قَیُصَره هِنُد دُنُیائی خَیُرِ لِپَارَهُ دُعا وکُو زَ پُوئِے گُمُ کِه دِدِ تکلیفونَ سَبَبُ څه جَلسَهُ دِپارَهُ چِنُدَه ټوله کړے وُه بُلُ دِ جَلسَه رَسُم بَهَمُ پُوُرَهُ کړے وُه دِ اِخُلاص اَور دِے محبّتُ سِوا بُل شِے نِدَے نورُ زِ دُعا کَوُمُ کِهُ خُدا صاحِبُ تاسُتَه دِدِ تکلیفونَ اَجر وَرُکِیُ چه صرُف دِ آغَهُ لِپارَهُ تاسوُ آخِستَیُ دَه. اَے دوسُتونَ پویگیٔ چه مُنگَهُ دِ مَلِکه کِے پُو زمَانِے مِیُن سِرِنگَهُ آرام مُنگَهُ لِیُدِلَے دَهُ اَوُرَه سِرِنگَهُ دِخپُلُ زِندگی سَرَهُ بَسَرُ کَړِیُ هَمُ دَهُ اَوُر بَسَرُبَه اوکُوُ بَیا اِنُصافُ دَادَهُ چِهُ مُنگَهُ دِ مَلِکَهُ دِ پارَهُ دُعا وَکُو وَلِے چِه هَرُ چَا چِه دِ نیک سَرَیُ شُکر نَکِیُ اَغَهُ دِ خُدای شُکر سِرِنگَه کَوُلِےُ شِیُ. پَسُ زِ دُعَا کَوُمُ تَاسِهُ آمِیُن وَه وَائی اِےُ لوئِے خُدایا دِ مَلِکَهُ سَرَهُ نِیکی وُه کَهُ اَغَهُ سِےُ چه مُنگَهُ سَرِهُ اَغَهُ کړے دِے اَوُر دِ ظالمون دِ شَرَه اَغَه اُوسَاتَه یا لُوئِے خُدایا دِ اَغَه دِ تَخُت اِسُتِنِ تهُ بِلُنُد اُو کړه بُل ددین اَوُر دَ دنیا شَرُونَ اَغه اُوسَاتَه اَوُر پُوعُمُر بُلُ پُو اغَهَ زِنُدگی بَرَکَتُ کَړَهُ یا لوئِے خُدَایَا اِسُلَامُ پُو اَغَهُ زِرَهُ نَنَهُ کَړه یا لوئِے خُدایا مَلِکَهُ بُلُ دِ اَغَه زویِے بُلُ دِ اَغَهَ عَیَالَ دِے مِسِیحُ دِے پَرسُتش چِه یَوُ عَاجِزُ سَرِے دَه اوسَاتَه اَورُ دِ مُشرِکُونَ دِ گَرُوهُنَه اَغَه اوباسَهُ چِه تَه قُدرَتُ لَرَے اَیٔ لوئِے خُدایَا تِرُ اَغَه وقُت مَلِکَه مُرمُگَهُ چِه مُسُلمَان شِیُ یالوئِے خَدایَا اِمنگ دُعَاته قَبُول کَړَه.

مہارانی قیصرہ ہند دیاں ساریاں مُراداں پوریاں ہون دی پنجابی وِچہ بَینتی

سنو میریو سچے دوستو تے پکے یارو جس گل واسطے تُسیں سارے بھائی اپنے سارے کم کُسا کے تے کشالہ کر کے میرے کول قادیان وِچہ آئے او اوہ اک پھارا متبل ایہ ہے جے اسیں سارے دربار رانی ملکہ معظّمہ قیصرہ ہند دیاں احساناں تے مہربانیاں نوں یاد کر کے اوہدے سٹھ ورھیاں دے راج دے پورا ہونے دی اپنے ربّ دے درگاہے شکر کریئے تے ایس دے بے اوڑک کرم دا گاون گائیے جس نے آپنیاں فضلاں تے کرماں دے نال ایڈے لمّے زمانے توڑیں سانوں اجیہی ملکہ معظّمہ دے راج دے چھاویں پھاگاں سہاگاں نال رکھیا۔ جس تھیں اساں غریباں مسلماناں دیاں جاناں تے پُتاں تے مال ہتھیاریاں تے انیائیاں دے پنجیاں تھیں بچ گئے تے اسیں ہُن توڑیں من پھاؤندیاں خوشیاں تے انگنیاں چیناں دے نال اپنی زندگانی پوری کر دے رہے۔ تے دوجا متبل وڈا ایہ جے ہن اسیں اس ویلے جناب ملکہ معظّمہ دا شکر پورا کرنے واسطے سچّے ربّ صاحب دی سچّی درگاہے ترلیاں تے جھیر گیان نال دعا کریئے کہ جس طرح ایس جگت دی رانی تے دھرمی تے لاڈ لڈیانے والی ماتا دے راج وِچ رہ کے اساں آرام پایا تے اوس دی بادشاہی دی ٹھنڈی تے سنگھنی چھاں وچ ہر انرتھی دے انرتھوں بچکے مٹھّیاں نیندراں سُتّے ہاں اوسے طرح دھرتی انبر دا راجا سچّا ربّ ایسی ملکہ معظّمہ نوں اینہاں پُنّاں داناں دا بدلہ دے۔ تے اوہنو ہر اک تھکے تھوڑے تے ساریاں درداں تھیں آپنا ہتھ دے کے بچا رکھے۔ تے اقبال تے وڈیائی تے آساں امیداں دے پورا ہوون وِچہ وادھا بخشے تے ساریاں مُراداں پوریاں کرنے سمیت اوستے ایسا فضل کرے تے اجیہا ترٹّھے جے بندہ پرستی تھیں اوسدے دِل نوں مٹھی نیندروں جگاوے تا ایہ ماتا آپنی جاؤ واسمیت اک وحدہٗ لاشریک لہٗ جیوندے جاگدے دھرتی انبر تے ایس سارے اڈنبر دے سائیں دی پوجا ول آوے۔ تے دوہاں جگاں دا سدا سرگ پاوے۔ میریو پیاریو یارو تسیں خدا دی قدرت تھیں اوپرا جاندے ہو۔ بھلا تسیں ایسی گل نوں اچرج تے انہونی سمجھیدے ہو جے ساڈی جگ رانی ملکہ معظّمہ دے دین تے دُنیاں تے خدا دا فضل ہو جائے۔ او پیاریو اُس ذات سگت واندیاں وڈیائیاں تے پُورا ایمان لیاؤ جس نے ایڈا چوڑا تے اُچّا آسمان بنایا تے دھرتی نوں ساڈے واسطے وچھایا تے دو چمکدے دیوے انملے جگ چمکان والے ساڈیاں اکھیاں اگے رکھے۔ اک چندر ماہ دوجا سورج ماہ سوتر لیاں تے ہاڑیاں تے دندیاں لہلکنے نال ربّ صاحب سچّے دی درگاہ وچہ اپنے سدا پُنّاں داناں والی ملکہ معظّمہ دے دین تے دُنیاں واسطے دُعا منگو۔

میں سچو سچ کہنا ہاں جیکر تُسیں کچیاں تے دو۲ گلّیاں نوں سنگوں ہٹا کے تے سچّیاں تے اکولّیاں نوں ساتھ لے کے تے پوری امید نال نہیچہ بنّہ کے دُعا کرو گے تاں جگاں دا سچّا داتا تہاڈی دُعا ضرور سُنے گا۔ سو اسیں دُعا کرنے ہاں تے تسیں آمین آکھو۔ ہے سچّیا سگتاں والیا سچّیا سائیاں جد توں آپنی حکمت تے مصلحت نال ایس دیاوان رانی دے راج دے ٹھنڈی چھاویں ساڈے جیونی دا اک لمّا حصّہ پورا کیتائی تے اوس دے سببّوں ہزاراں آفتاں تے بلاواں تھیں سانوں بچایائی۔ تُوں اُوسنوٗ بھی آفتاں تھیں بچا جے توں ہر شَے تے سگت تے وسّ رکھنائیں۔ ہے قدرتاں والیاں جس طرح اسیں اوسدے راج وچہ دھکیاں دھوڑیاں تے ٹھینے ڈگنے تھیں بچائے گئے ہاں اوسنوں بھی ساریاں چنتاں تے چھوریاں تھیں بچا جے سچّی بادشاہی تے پکّی زور آوری تے پوری حکومت تیری ہئے۔ ہے جتناں والیا مالکا اسیں تیری بے انت قدرت تے تہان رکھ کے اک ہور دُعا دے واسطے تیری درگاہے دلیری کرنے ہاں جے توں ساڈی اَن گنت دَیاوان رانی ملکہ معظّمہ نوں بندہ پوجن دی انھیری کوٹھڑی تھیں باہر کڈھ کے اُچّے تے سنہری تے لاٹاں مارنے والے لا الٰہ اِلّا اللّٰہ محمّد رسول اللّٰہ دے چبوترے تے موجاں ماننے والی کر کے اوسّے تے اوہدا پورن کر۔ ہے اچرج زوراں والیا۔ ہے ڈوھنگیاں نگاہاں والیا۔ ہے پوریاں پہچان والیا۔ ہے بے اوڑک کابواں والیا اینویں کر۔ ہے ربّاں دیا ربّا ایہ ساریاں دُعاواں منظور کر۔ سارے دوست آمین آکھو۔ اے پیاریو سچّے ربّ دی درگاہ وَڈِّی قدرتاں تے پہنیاں والی درگاہ ئے دعا دے ویلے اوس تھیں بے امید نہ ہووو۔ کیوں جی اوس دے دربار دے بے اوڑ سدا دَر توں کسے سمے کوئی پھکھارا پھکھا تے خالی ہتھ نہیں گیا۔ تے اپنے سربت جیا جنت دے اندر باہر اوہدے اچرج کابو تے قبضے ہین۔ تسیں دوگلیاں تے دورنگیاں تے کھوٹیاں وانگر دعا نہ کرو۔ سگوں سچیاں چیلیاں تے سوچیاں چیریاں وانگوں اوہدے من دھن تے جت ست تے پت واسطے دھن شاوا کھو تے سدا سُکھ منگو۔ ہین تسین سمجھدے ہو جے سربت راجیاں دے دِل اُس مہاراج سرب شکتی مان سدا دیاوان دے کابوؤں باہر نہیں سگوں سارے کم تے انیک تے ان گنی کرتب اُسیدے اوڈاؤ ہتھ وچہ نے۔ سو تسیں اپنے ان گنت داناں والی مہارانی ملکہ معظّمہ دے دُنیا تے عاقبت واسطے آنند تے آرام منگو جے تسیں وفادار ٹھیلیے تے مَن وارنے والے چاکر ہو تاں شامیں تے پہر راتیں تے پچھلی راتیں نیندراں گنوا کے اوبھڑ وائی اُٹھ اُٹھ کے بینتیاں کرو تے جہڑے مُنکھ اس گل دے دوتی تے دوکھی ہون اُنہاں ہتھ یاریاں دی پرواہ نہ کرو۔

لوڑیدائی جے سبھّو گلّاں تہاڈیاں نتریاں ہوئیاں تے سُتھریاں ہون تے کسے گل تھہاڈّی وچہ رلا رول نہ ہووے سُرت تے سچ ملّو پھلا کرن والیاں دا پھلا چاہو تاں تھہانوں تھہاڈا جانی جان سچّا رب صاحب چنگا بدلہ دیوے۔ کیوں جے ہر منکھ بے حیائی کیدائی تے کیتائی پاندائے۔ نریاں گلاں کجھ پھل نہیں دیندیاں۔ تِھڑیاں تے تُھڑیاں نوں پکڑنے والیا بَھوَڑیدا ویلائی۔

English Translation of
the prayer recited by
Mirza Ghulam Ahmad
Rais of Qadian

on the occasion of the Diamond Jubilee

My friends - The object which has brought you here is to convene a meeting of thanksgiving on the happy occasion of the Diamond Jubilee of Her Majesty's reign in rememberance of the manifold blessings enjoyed by us during Her Majesty's time. We offer our heartfelt thanks to God who out of His special kindness has been pleased to place us under this sovereign rule, protecting thereby our life, property and honour from the hands of tyranny and persecution and enabling us to live a life of peace and freedom. We have also to tender our thanks to our gracious Empress, and this we do by our prayers for Her Majesty's welfare. May God protect our beneficient sovereign from all evils and hardships as Her Majesty's rule has protected us from the mischief of evil doers. May our blessed ruler be graced with glory and success and be saved at the same time from the evil consequences of believing in the divinity of a man and his worship. My friends do not wonder at this, nor entertain any doubt as to the wonderful powers of the Almighty, because it is quite possible for him to confer His choicest blessings upon our gracious Queen in this world and the next. Hence the strong and firm belief in the omnipotence of the Supreme Being who made this spacious firmament on high and spread the earth beneath our feet illuminating them both with the sun and the moon. Let your sincere prayers as to the good of Her Majesty in matters spiritual and temporal, reach His holy throne. And I assure you that prayers that come from hearts sincere earnest and hopeful are sure to be listened to. Let me pray then & you may say Amen:

Almighty God! As Thy Wisdom & Providence has been pleased to put us under the rule of our blessed Empress enabling us to lead lives of peace and prosperity, we pray Thee that our ruler may in return be saved from all evils and dangers as thine is the kingdom, glory and power. Believing in Thy unlimited powers we earnestly ask Thee all powerful Lord to grant us one more prayer that our benefactoress the Empress, before leaving this world. May probe her way out of the darkness of man-worship with the light of "La-ilaha-illallaho Muhammad-al-Rasul-ullah." {There is no God but Allah & Muhammad is His Prophet}, Do Almighty God as we desire, and grant us this humble prayer of ours as Thy will alone governs all minds. Amen!

My Friends! Trust in God and feel not hopeless. Do not even imagine that the minds of wordly potentates and earthly kings are beyond His control. Nay, They are all subservants to His Holy Will. Let therefore your prayers for the welfare of your Empress in this world and the next, come from the bottom of your hearts. If you are loyal subjects remember Her Majesty in your night and morning prayers. Pay no heed to opposition. Let Your words and deeds be true and free from hypocrisy. Lead lives of virtue and righteousness, and pray for the good of your well-wishers, because no virtue goes unrewarded. I conclude with earnest desire that God may grant our prayer. Amen.

Dated  23-6-1897

فہرست

اسمائے حاضرین جلسۂ ڈائمنڈ جوبلی بمقام قادیان ضلع گورداسپورہ بحضور امام ہمام حضرت مسیح موعود و مہدی مسعود معہ چندہ و بلا چندہ و اسمائے غیر حاضرین جنہوں نے چندہ دیا از ۲۰؍جون ۱۸۹۷ تا ۲۲؍جون ۱۸۹۷ء

نمبر نام سکونت رقم چندہ کیفیت
۱حضرت اقدس جناب میرزا غلام احمد صاحب مہدی و مسیح موعود رئیس قادیان۔ معہ اہل بیتقادیان
۲حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب بھیروی؍؍
۳مولوی عبدالکریم صاحبسیالکوٹ
۴مولوی بُرہان الدین صاحبجہلم
۵مولوی محمد احسن صاحبامروہا ضلع مراد آبادبباعث مجبوری حاضر نہ ہو سکے
۶حکیم فضل الدین صاحب معہ ہر دو قبائلبھیرہ
۷خواجہ کمال الدین صاحب بی۔اے پروفیسر اسلامیہ کالجلاہور
۸مفتی محمد صادق صاحب بھیروی کلرک اکونٹنٹ جنرل؍؍
۹میرزا ایوب بیگ صاحب بی اے کلاس لاہور کالج معہ قبیلہ خودکلانور
۱۰خلیفہ رجب الدین صاحب تاجر برنجلاہور
۱۱حکیم محمد حسین صاحب؍؍
۱۲خواجہ جمال الدین صاحب بی۔اے رنبیر کالج ریاست جموں؍؍
۱۳حکیم فضل الٰہی صاحب؍؍
۱۴منشی مولا بخش صاحب کلرک دفتر ریلوے؍؍
۱۵منشی نبی بخش صاحب ؍؍ ؍؍ ؍؍لاہور
۱۶منشی محمد علی صاحب ؍؍ ؍؍؍؍
۱۷منشی محمد علی صاحب ایم اے پروفیسر اورینٹل کالج؍؍
۱۸شیخ رحمت اللہ صاحب سوداگر رخت؍؍
۱۹منشی کرم الٰہی صاحب مہتمم مدرسہ نصرت اسلام؍؍
۲۰میاں محمد عظیم صاحب کلرک دفتر ریلوےلاہور
۲۱حافظ فضل احمد صاحب معہ فرزند؍؍
۲۲حافظ علی احمد صاحب ؍؍؍؍
۲۳شیخ عبداللہ صاحب نو مسلم منصرم شفاخانہ انجمن حمایت اسلام؍؍
۲۴علی محمد صاحب طالب علم بی اے کلاس کالج؍؍
۲۵منشی عبدالرحمٰن صاحب کلرک دفتر ریلوے؍؍
۲۶منشی معراج الدین صاحب جنرل ٹھیکہ دار؍؍
۲۷منشی تاج الدین صاحب کلرک دفتر ریلوے؍؍
۲۸شیخ دین محمد صاحب؍؍
۲۹حکیم شیخ نور محمد صاحب نو مسلم؍؍
۳۰حکیم محمد حسین صاحب پروپرائٹر کارخانہ رفیق الصحت؍؍
۳۱تاج الدین صاحب طالب علم مدرسہ اسلامیہ؍؍
۳۲عبداللہ صاحب ؍؍؍؍
۳۳مولا بخش صاحب پٹولی؍؍بباعث مجبوری حاضر نہ ہو سکے
۳۴قاضی غلام حسین صاحب بھیروی طالب علم آرٹ سکول؍؍؍؍
۳۵حاجی شہاب الدین صاحب؍؍؍؍
۳۶چراغ الدین صاحب وارث میاں محمد سلطان؍؍؍؍
۳۷احمد الدین صاحب ڈوری باف؍؍؍؍
۳۸جمال الدین صاحب کاتب؍؍؍؍
۳۹محمد اعظم صاحب کاتب؍؍؍؍
۴۰سیف الملوک صاحب؍؍؍؍
۴۱میاں سلطان صاحب ٹیلر ماسٹر؍؍؍؍
۴۲میاں غلام محمد صاحب کلرک چھاپہ خانہ؍؍؍؍
۴۳مظفر الدین صاحب؍؍؍؍
۴۴خواجہ محی الدین صاحب تاجر پشمینہ؍؍؍؍
۴۵محمد شریف صاحب طالب علم اسلامیہ کالج؍؍؍؍
۴۶عبدالحق صاحب ۔ اسلامیہ کالجلاہورباعث مجبوری شامل نہ ہوسکے
۴۷عبدالمجید صاحب ؍؍؍؍؍؍
۴۸غلام محی الدین صاحب جلد بند سول ملٹری گزٹ؍؍؍؍
۴۹تاج الدین صاحب؍؍؍؍
۵۰بشیر احمد صاحب؍؍؍؍
۵۱نذیر احمد صاحب؍؍؍؍
۵۲ڈاکٹر کرم الٰہی صاحب؍؍
۵۳شیر محمد خان صاحب طالب العلم بی اے کلاس؍؍
۵۴غلام محی الدین صاحب طالب علم بی اے کلاس؍؍
۵۵شیر علی صاحب ؍؍ ؍؍ ؍؍؍؍
۵۶صاحبزادہ سراج الحق صاحب جمالی نعمانی ابن حضرت شاہ حبیب الرحمٰن صاحب مرحوم سجادہ نشین چہار قطب ہانسوی حال وارد قادیانسرساوہ
۵۷قاضی محمد یوسف علی صاحب نعمانی معہ اہل بیت سارجنٹ پولس ریاست جنید۔ اولاد حضرت امام اعظم صاحبتوسام ضلع حصار
۵۸شیخ فیض اللہ صاحب خالدی القریشی نائب داروغہریاست نابہغیر حاضر
۵۹سید ناصر نواب صاحب دہلوی پنشنرقادیان
۶۰میر محمد اسماعیل صاحب طالب علم اسلامیہ کالج لاہور؍؍
۶۱محمد اسمٰعیل صاحب سرساوی طالب علم؍؍
۶۲شیخ عبدالرحیم صاحب نومسلم ؍؍؍؍
۶۳شیخ عبدالرحمٰن صاحب ؍؍ ؍؍؍؍
۶۴شیخ عبدالعزیز صاحب ؍؍ ؍؍؍؍
۶۵خدایار صاحب ؍؍ ؍؍؍؍
۶۶گلاب الدین صاحب لوئی باف؍؍
۶۷اسمٰعیل بیگ صاحب پریسمین؍؍
۶۸امام الدین صاحب؍؍
۶۹صاحبزادہ افتخار احمد صاحب لدھیانویقادیان
۷۰صاحبزادہ منظور محمد صاحب ؍؍؍؍
۷۱صاحبزادہ مظہر قیوم صاحب؍؍
۷۲مولوی عبدالرحمٰن صاحبکھیوال ضلع جہلم
۷۳سید خصیلت علی شاہ صاحب ڈپٹی انسپکٹرڈنگہ ضلع گجرات
۷۴سید امیر علی شاہ صاحب سارجنٹ اوّلسیالکوٹ
۷۵حکیم محمد الدین صاحب نقل نویس صدر؍؍
۷۶منشی عبدالعزیز صاحب ٹیلر ماسٹر؍؍
۷۷شیخ فضل کریم صاحب عطّار؍؍
۷۸غلام محی الدین صاحب تاجر چوب؍؍
۷۹شیخ حسین بخش خیاطقادیاں
۸۰عبداللہ صاحب ؍؍؍؍
۸۱عبدالرحمٰن صاحب ؍؍؍؍
۸۲حافظ احمد اللہ خان صاحب؍؍
۸۳کرم داد صاحب؍؍
۸۴سیّد ارشاد علی صاحب طالب علمسیالکوٹ
۸۵مولوی محمد عبداللہ خان صاحب وزیرآبادی مدرس کالجریاست پٹیالہ
۸۶حافظ نور محمد صاحب سارجنٹ پلٹن نمبر۴؍؍
۸۷محمد یوسف صاحب خراطی؍؍
۸۸حافظ ملک محمد صاحب ؍؍؍؍
۸۹عبدالحمید صاحب طالب علم؍؍
۹۰محمد اکبر خان صاحب سنوری؍؍
۹۱خلیفہ نور الدین صاحب تاجر کتبریاست جموں
۹۲اللہ دتا صاحب ؍؍؍؍
۹۳مولوی محمد صادق صاحب مدرس؍؍
۹۴میاں نبی بخش صاحب رفوگرامرتسر
۹۵محمد اسمٰعیل صاحب تاجر پشمینہ کٹڑہ اہلووالیہامرتسر
۹۶میاں محمد الدین صاحب اپیل نویسسیالکوٹ
۹۷میاں الٰہی بخش صاحب۔ محلّہ ماشکیاںگجرات
۹۸میاں چراغ الدین صاحب کٹڑہ اہلووالیہامرتسر
۹۹منشی روڑا صاحب نقشہ نویس عدالتریاست کپورتھلہ
۱۰۰منشی ظفر احمد صاحب اپیل نویس؍؍
۱۰۱منشی رستم علی صاحب کورٹ انسپکٹرگورداسپور
۱۰۲نواب خاں صاحبجموں
۱۰۳میاں عبدالخالق صاحب رفوگرامرتسر
۱۰۴شیخ عبدالحق صاحب ٹھیکہ دارلدھیانہ
۱۰۵محمد حسن صاحب عطار؍؍
۱۰۶منشی محمد ابراہیم صاحب تاجر لنگی گبرون؍؍
۱۰۷مستری حاجی عصمت اللہ صاحب؍؍
۱۰۸قاضی خواجہ علی صاحب ٹھیکہ دار شکرم؍؍
۱۰۹مولوی ابو یوسف مبارک علی صاحب امام مسجد صدرسیالکوٹ
۱۱۰عبدالعزیز خاں طالب علم بن عبدالرحمٰن خان صاحب اتالیق سردار ایوب خان صاحبراولپنڈی
۱۱۱شیخ نور احمد صاحب مالک مطبع ریاض ہندامرتسر
۱۱۲شیخ ظہور احمد صاحب سنگساز مطبع؍؍
۱۱۳میرزا رسول بیگ صاحبکلانور ضلع گورداسپور
۱۱۴حافظ عبدالرحیم صاحببٹالہ
۱۱۵ڈاکٹر فیض قادر صاحب؍؍
۱۱۶شیخ محمد جان صاحب تاجروزیر آباد
۱۱۷منشی نواب الدین صاحب ماسٹردینانگر
۱۱۸خلیفہ اللہ دتا صاحب؍؍
۱۱۹میاں خدا بخش صاحب خیاطچھوکر ضلع گجرات
۱۲۰مولوی حافظ احمد الدین صاحب ۔ چک سکندرضلع گجرات
۱۲۱میاں احمد الدین صاحب امام مسجد قلعہ دیدار سنگھگوجرانوالہ
۱۲۲میاں جمال الدین صاحب پشمینہ بافسیکھواں ضلع گورداسپور
۱۲۳محمد اکبر صاحب ٹھیکہ داربٹالہ
۱۲۴ماسٹر غلام محمد صاحب بی اے مدرسسیالکوٹ
۱۲۵میاں باغ حسین صاحببٹالہ
۱۲۶میاں نبی بخش صاحب پاندہ؍؍
۱۲۷چودھری منشی نبی بخش صاحب نمبردار؍؍
۱۲۸مولوی خان ملک صاحب کھیوالضلع جہلم
۱۲۹میاں خیر الدین صاحب پشمینہ باف سیکھواںضلع گورداسپورہ
۱۳۰حکیم محمد اشرف صاحببٹالہ ؍؍
۱۳۱شیخ غلام محمد صاحب طالب علمضلع جالندھر
۱۳۲حافظ غلام محی الدین صاحب جلد سازقادیاں
۱۳۳میاں امام الدین صاحب پشمینہ بافسیکھواں
۱۳۴اللہ دین صاحب ۔ بٹھیاںضلع گورداسپور
۱۳۵شیخ عبدالرحیم صاحب ملازم ریاستکپورتھلہ
۱۳۶شیخ محمد الدین صاحب بوٹ فروشجموں
۱۳۷محمد شاہ صاحب ٹھیکہ دار؍؍
۱۳۸نظام الدین صاحب دوکاندار تھہ غلام نبیضلع گورداسپورہ
۱۳۹امام الدین صاحب ؍؍ ؍؍؍؍
۱۴۰شیخ فقیر علی صاحب زمیندار ؍؍؍؍
۱۴۱شیخ شیر علی صاحب ؍؍؍؍
۱۴۲شیخ چراغ علی صاحب ؍؍؍؍
۱۴۳شہاب الدین صاحب دوکاندار ؍؍؍؍
۱۴۴منشی عبدالعزیز پٹواری سیکھواںضلع گورداسپور
۱۴۵میاں قطب الدین صاحب خیاط بدہیچہ؍؍
۱۴۶میاں سلطان احمد طالب علمگجرات
۱۴۷شیخ امیر بخش ۔ تھہ غلام نبیضلع گورداسپور
۱۴۸سید نظام شاہ صاحب بازید چک؍؍
۱۴۹حافظ محمد حسین صاحب ڈنگہضلع گجرات
۱۵۰بابو گل حسن صاحب کلرک دفتر ریلوےلاہور
۱۵۱حافظ نور محمد صاحب ۔ فیض اللہ چکضلع گورداسپورہ
۱۵۲حسن خاں صاحب ملازم توپخانہ ریاستکپورتھلہ
۱۵۳مرزا جھنڈا بیگ ۔ پیرووالضلع گورداسپور
۱۵۴محمد حسین طالب علم ۔ مدہضلع امرتسر
۱۵۵میاں محمد امیر ۔ کنڈتحصیل خوشاب
۱۵۶غلام محمد طالب علمامرتسر
۱۵۷محمد اسمٰعیل ۔ تھہ غلام نبیضلع گورداسپورہ
۱۵۸شیخ قطب الدین صاحب کوٹلہ فقیرضلع جہلم
۱۵۹میاں غلام حسین نانبائی ڈیرہ حضرت اقدسقادیان
۱۶۰شیخ مولا بخش صاحب تاجر چرم ۔ ڈنگہضلع گجرات
۱۶۱قاضی محمد یوسف صاحب قاضی کوٹضلع گوجرانوالہ
۱۶۲عبداللہ سوداگر برنجلاہور
۱۶۳مولوی حافظ کرم الدین صاحب ۔ پوڑان والہضلع گجرات
۱۶۴حافظ احمد الدین خیاط ۔ ڈنگہ؍؍
۱۶۵عبادت علی شاہ سوداگر ۔ ڈوڈہضلع گورداسپورہ
۱۶۶محمد خان صاحب نمبردار ۔ جسر والضلع امرتسر
۱۶۷میاں علم الدین صاحب ۔ کالوسائیضلع گجرات
۱۶۸میاں کرم الدین صاحب ۔ ڈنگہ؍؍
۱۶۹شیخ احمد الدین صاحب ؍؍؍؍
۱۷۰میاں احمد الدین صاحب ؍؍؍؍
۱۷۱میاں محمد صدیق صاحب پشمینہ بافسیکھواں
۱۷۲میاں صادق حسین صاحبریاست پٹیالہغیر حاضر
۱۷۳مولوی فقیر جمال الدین صاحب سیّد والہضلع منٹگمری
۱۷۴مولوی عبداللہ صاحب ٹھٹھہ شیر کا؍؍
۱۷۵میاں عبدالعزیز طالب علمقادیاں
۱۷۶میاں عبداللہ ۔ تھہ غلام نبیضلع گورداسپور
۱۷۷مہر الدین صاحب خانساماں ۔ لالہ موسیٰضلع گجرات
۱۷۸کرم الدین صاحب خانساماں ؍؍؍؍
۱۷۹امام الدین صاحب پٹواری ۔ لوچبضلع گورداسپور
۱۸۰فضل الٰہی صاحب نمبردار ۔ چک فیض اللہ؍؍
۱۸۱غلام نبی صاحب ؍؍؍؍
۱۸۲چراغ الدین معمار ۔ موضع منڈی کراں؍؍
۱۸۳قاضی نعمت علی صاحب ۔ خطیب بٹالہ؍؍
۱۸۴احمد علی صاحب نمبردار چک وزیر؍؍
۱۸۵امام الدین صاحب ۔ تھہ غلام نبی؍؍
۱۸۶میاں فقیر دری باف ۔ چک فیض اللہ؍؍
۱۸۷میاں امیر دری باف ؍؍؍؍
۱۸۸شیخ برکت علی دوکاندار ؍؍؍؍
۱۸۹برکت علی صاحب پٹواری ؍؍؍؍
۱۹۰میاں امام الدین ؍؍؍؍
۱۹۱سیّد امیر حسین چک بازید؍؍
۱۹۲شیخ فیروز الدین صاحب ؍؍؍؍
۱۹۳شیخ شیر علی ؍؍؍؍
۱۹۴شیخ عطا محمد صاحب ؍؍؍؍
۱۹۵سید محمد شفیع صاحب ؍؍؍؍
۱۹۶عمر چوکیدار ؍؍؍؍
۱۹۷مولوی امیر الدین صاحب ۔ محلّہ خوجہ والہگجرات
۱۹۸مستری محمد عمرجموں
۱۹۹سید وزیر حسین صاحب ۔ بازید چکضلع گورداسپور
۲۰۰مہر اللہ شاہ ڈوڈاں؍؍
۲۰۱سلطان بخش بدیچہ؍؍
۲۰۲منشی عبدالعزیز صاحب عرف وزیر خان سب اوورسیربلب گڑہ
۲۰۳نور محمد صاحب ۔ دھونیضلع منٹگمری
۲۰۴عبدالرشید ۔ سیّدوالہ؍؍
۲۰۵مولوی احمد الدین صاحب امام مسجد ۔ نامدارضلع لاہور
۲۰۶حافظ معین الدین صاحبقادیان
۲۰۷عبدالمجید صاحبکپورتھلہ
۲۰۸محمد خان صاحب؍؍بباعث مجبوری شامل نہ ہو سکے
۲۰۹مولوی محمد حسین صاحب ۔ بھاگورائین؍؍
۲۱۰نظام الدین ؍؍؍؍
۲۱۱فیض محمد نجّارسیالکوٹ
۲۱۲سیّد گوہر شاہ صاحب پھیروچیچیضلع گورداسپور
۲۱۳حکیم دین محمد طالب علمقادیان
۲۱۴شیخ فضل الٰہی صاحب چٹھی رسان؍؍
۲۱۵سلطان محمد صاحب ۔ بکرالہضلع جہلم
۲۱۶اللہ دیا صاحب کمبوضلع امرتسر
۲۱۷سید عالم شاہ صاحب موضع سیدملوضلع جہلم
۲۱۸مستری حسن الدین صاحبسیالکوٹ
۲۱۹میراں بخش صاحب چوڑی گربٹالہ
۲۲۰مہر سانون صاحب سیکھواںضلع گورداسپور
۲۲۱حکیم جمال الدین صاحب تاجرقادیاں
۲۲۲محمد اسمٰعیل صاحب طالب علم؍؍
۲۲۳محمد اسحٰق صاحب ؍؍؍؍
۲۲۴عبداللہ خان صاحب ہریانہضلع ہوشیار پور
۲۲۵کریم بخش مستری بیل چکضلع گورداسپور
۲۲۶مرزا بوٹا بیگقادیان
۲۲۷مرزا احمد بیگ؍؍
۲۲۸محمد حیات صاحببٹالہ
۲۲۹نور محمد ملازم ڈاکٹر فیض قادر صاحب؍؍
۲۳۰شیخ غلام محمد صاحب تاجرامرتسر
۲۳۱برکت علی صاحب نیچہ بندبٹالہ
۲۳۲غلام حسین صاحب ککہ زئی؍؍
۲۳۳رحیم بخش صاحب شانہ گرجہلم
۲۳۴شیخ غلام احمد صاحب امام مسجد بھڑیالضلع سیالکوٹ
۲۳۵شیخ اسمٰعیل امام مسجد ؍؍؍؍
۲۳۶شیخ کریم بخش صاحب کاہنے چکریاست جموں
۲۳۷شیخ چراغ الدین صاحب؍؍
۲۳۸میاں کنو تیلی تتلاضلع گورداسپور
۲۳۹شیخ مولا بخش صاحب تاجر بوٹسیالکوٹ
۲۴۰مرزا نظام الدینقادیان
۲۴۱سید عبدالعزیز صاحبانبالہ
۲۴۲مولوی فضل الدین صاحب ۔کھاریاںضلع گجراتبباعث مجبوری شامل نہ ہو سکے
۲۴۳مولوی فضل الدین صاحب ۔خوشابضلع شاہپور؍؍
۲۴۴حافظ رحمت اللہ صاحب ۔کرن پورضلع ڈیرہ دون؍؍
۲۴۵نورالدین صاحب نقشہ نویس بارگ ماسٹریجہلم؍؍
۲۴۶میاں عبداللہ صاحب پٹواری سنوریریاست پٹیالہ؍؍
۲۴۷میاں عبدالعزیز صاحب محرر دفتر نہر جمن غربیدہلی؍؍
۲۴۸ڈاکٹر بوڑے خاں صاحب اسسٹنٹ سرجنقصور؍؍
۲۴۹مولوی محمد حسین مدرسہ اسلامیہراولپنڈی؍؍
۲۵۰مولوی خادم حسین صاحب ۔ اسلامیہ سکولراولپنڈیحاضر نہ ہو سکے
۲۵۱بابو اللہ دین صاحب فائرس محکمہ روشنی؍؍؍؍
۲۵۲سید عنایت علی شاہ صاحبلدھیانہ؍؍
۲۵۳منشی غلام حیدر صاحب ڈپٹی انسپکٹر پولسنارووال؍؍
۲۵۴مولوی علم الدین صاحب؍؍؍؍
۲۵۵منشی محرم علی صاحب محرر سارجنٹ پولس؍؍؍؍
۲۵۶بابو شاہ دین صاحب سٹیشن ماسٹر دینہضلع جہلم؍؍
۲۵۷منشی اللہ دتا صاحبسیالکوٹ؍؍
۲۵۸منشی فتح محمد صاحب بزدار پوسٹ ماسٹر لیّہضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان؍؍
۲۵۹شیخ غلام نبی صاحب دوکاندارراولپنڈی؍؍
۲۶۰منشی مظفر علی صاحب برادر مولوی محمد احسن صاحب امروہیڈیرہ دون؍؍
۲۶۱میاں احمد حسین صاحب ملازم میاں محمد حنیف سوداگر؍؍؍؍
۲۶۲مولوی محمد یعقوب صاحب؍؍؍؍
۲۶۳منشی علی گوہر خاں صاحب برانچ پوسٹ ماسٹرجالندھر؍؍
۲۶۴منشی محمد اسمٰعیل صاحب نقشہ نویس کالکا ریلوےانبالہ چھاونی؍؍
۲۶۵مولوی غلام مصطفٰے صاحب مالک مطبع شعلہ طوربٹالہ؍؍
۲۶۶بابو محمد افضل صاحب ملازم ریلوے ممباسہملک افریقہ؍؍
۲۶۷چودھری محمد سلطان صاحب والد مولوی عبدالکریم صاحبسیالکوٹ؍؍
۲۶۸سید حامد شاہ صاحب قائم مقام سپرنٹنڈنٹ ڈپٹی کمشنر بہادر؍؍؍؍
۲۶۹سید حکیم حسام الدین صاحب رئیس؍؍؍؍
۲۷۰فضل الدین صاحب زرگر؍؍؍؍
۲۷۱حکیم احمد الدین صاحب؍؍؍؍
۲۷۲شیخ نور محمد صاحب کلاہ ساز؍؍؍؍
۲۷۳محمد الدین صاحب پٹواری ۔ ترگڑیضلع گوجرانوالہ؍؍
۲۷۴سید نواب شاہ صاحب مدرسسیالکوٹ؍؍
۲۷۵سید چراغ شاہ صاحب؍؍؍؍
۲۷۶چودھری نبی بخش صاحب سارجنٹ پولسسیالکوٹحاضر نہ ہو سکے
۲۷۷محمد الدین صاحب؍؍؍؍
۲۷۸محمد الدین صاحب جلد ساز؍؍؍؍
۲۷۹اللہ بخش صاحب؍؍؍؍
۲۸۰شادی خاں صاحب سوداگر؍؍؍؍
۲۸۱چودھری الہ بخش صاحب؍؍؍؍
۲۸۲چودھری فتح دین صاحب؍؍؍؍
۲۸۳اللہ رکھا صاحب شالبافبٹالہ
۲۸۴کرم الہی صاحب کانسٹبللدھیانہحاضر نہ ہو سکے
۲۸۵پیر بخش صاحب؍؍؍؍
۲۸۶منشی الہ بخش صاحبسیالکوٹ؍؍
۲۸۷کرم الدین صاحب ۔ بھپال والہ؍؍؍؍
۲۸۸منشی کرم الہی صاحب ریکارڈ کلرکپٹیالہ؍؍
۲۸۹مرزا نیاز بیگ صاحب ضلعدار نہر ۔ رشیدہضلع ملتان؍؍
۲۹۰اللہ دتا صاحب شالبافبٹالہ
۲۹۱ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحبریاست پٹیالہحاضر نہ ہو سکے
۲۹۲عزیز اللہ صاحب سرہندی برانچ پوسٹماسٹرنادون؍؍
۲۹۳نواب خان صاحب تحصیلدارجہلم؍؍
۲۹۴عبدالصمد صاحب ملازم نواب خان صاحب موصوف؍؍؍؍
۲۹۵مولوی نور محمد صاحب موکلضلع لاہور؍؍
۲۹۶سید مہدی حسن صاحب پنسال نویس چوکی لوہلہ؍؍؍؍
۲۹۷مولوی شیر محمد صاحب بجنضلع شاہ پور؍؍
۲۹۸بابو نواب الدین صاحب ہیڈ ماسٹر سکول دینانگرضلع گورداسپور
۲۹۹والدہ خیرالدین سیکھواں؍؍
۳۰۰رحیم بخش صاحب محرر اصطبلسنگرورحاضر نہ ہو سکے
۳۰۱قاری محمد صاحب امام مسجدجہلم؍؍
۳۰۲شرف الدین صاحب ۔ کوٹلہ فقیرضلع جہلمغیر حاضر
۳۰۳علم الدین صاحب ؍؍؍؍؍؍
۳۰۴مولوی محمد یوسف صاحب سنورپٹیالہ؍؍
۳۰۵احمد بخش صاحب ؍؍؍؍؍؍
۳۰۶محمد ابراہیم صاحب ؍؍؍؍؍؍
۳۰۷امام الدین پٹواری ؍؍حلقہ لوچپ؍؍
۳۰۸غلام نبی عرف نبی بخش ۔ فیض اللہ چکضلع گورداسپور؍؍
۳۰۹منشی احمد صاحب محرر باڑہ سرکاریپٹیالہ؍؍
۳۱۰مولوی محمود حسن خان صاحب مدرس؍؍؍؍
۳۱۱شیخ محمد حسین صاحب مراد آبادی؍؍؍؍
۳۱۲مستری احمد الدین صاحببھیرہ؍؍
۳۱۳مستری اسلام احمد؍؍؍؍
۳۱۴میاں فیاض علی صاحبکپورتھلہ؍؍
۳۱۵میاں صاحب دین صاحب کھاریاںضلع گجرات؍؍
۳۱۶میاں عالم دین حجامبھیرہ؍؍
۳۱۷بابو کرم الٰہی صاحب ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پاگل خانہ معرفت شیخ رحمت اللہ صاحبلاہور؍؍
۳۱۸بابو غلام محمد صاحبلدھیانہ؍؍

بقیّہ اسماء حاضرین جلسہ جوبلی

۱عبدالرحمٰن نو مسلم جالندھری ۔ ۲سید ارشاد علی صاحبزادہ سید خصیلت علی شاہ صاحب، ڈنگہ ۔ ۳اللہ دتا ولد نور محمد کمبوہ ۔ ۴عبداللّٰہ ولد خلیفہ رجب دین لاہور ۔ ۵غلام محمد طالب علم ڈیرہ بابا نانک ۔ ۶روشن الدین بھیرہ، ۷اللہ ودھایا صاحب پنڈی بھٹیاں ۔ ۸شیخ احمد علی، چک بازید ۔ ۹نور محمد، ڈھونی ۔ ۱۰عبدالرشید، سیّدوالہ ۔ ۱۱غلام قادر، قادیان ۔ ۱۲شیخ امیر، تھہ غلام نبی ۔ ۱۳غلام غوث، قادیان ۔ ۱۴گلاب ولد محکم احمد آباد ضلع گورداسپور ۔ ۱۵شاہ نواز، ڈنگہ ۔ ۱۶عیدا ولد شادی، قادیان ۔ ۱۷دین محمد، قادیان ۔ ۱۸صدر الدین، قادیان ۔ ۱۹بڈھا قادیان ۔ ۲۰حسینا، قادیان ۔ ۲۱امام الدین، قادیان ۔ ۲۲خواجہ نور محمد، قادیان ۔ ۲۳حامد علی ارائیں، قادیان ۔ ۲۴میراں بخش، قادیان ۔ ۲۵لسّو، قادیان ۔ ۲۶فقیر محمد، فیض اللہ چک ۔ ۲۷شیخ محمد، قادیان ۔ ۲۸خواجہ کھیون، قادیان ۔ ۲۹شرف دین، قادیان ۔ ۳۰فتح دین، کہار ڈلہ ۔ ۳۱عبداللّٰہ قادیان ۔ لبّھو، قادیان ۔ ۳۲لبّھا ڈوگر، کھارا ۔ ۳۳نتھو، قادیان ۔ ۳۴بوٹا، قادیان ۔


نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کے خط کی نقل

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم

طبیب روحانی مسیح الزمان مکرم معظم سلمکم اللہ تعالیٰ

السلام علیکم ۔ حسب الحکم حضور کل حال متعلق جوبلی عرض کرتا ہوں:

۲۱ و ۲۲ جون یعنی دو دن جشن جوبلی کے لئے مقرر ہوئے تھے چونکہ گورنمنٹ کا حکم تھا کہ کل رسوم متعلق جوبلی ۲۲؍جون ۱۸۹۷ء کو پوری کی جائیں اس لئے سب کچھ ۲۲ کو کیا جانا قرار پایا۔

ریاست مالیر کوٹلہ میں جیسے رئیس اعظم وفادار رہے ہیں ویسے ہی خوانین بھی وفادار اور عقیدت مند گورنمنٹ کے رہے ہیں اور بہت مواقع میں اس کا ثبوت دیا ہے بلکہ بعض جگہ خود لڑائی میں شریک ہو کر گورنمنٹ کی اعانت کی ہے۔ اب چونکہ لڑائی کا موقع تو جاتا رہا ہے اب بموجب حالت زمانہ ہم لوگ ہر طرح خدمت کے لئے حاضر ہیں اور ہم ایسا کیوں نہ کریں جبکہ اس گورنمنٹ کا ہم پر خاص احسان ہے وہ یہ کہ سکھوں کے عروج کے زمانہ میں سکھوں نے اس ریاست کو بہت دق کیا تھا اور اگر وقت پر جنرل اختر لونی صاحب ابر رحمت کی طرح تشریف نہ لے آتے تو یہ ریاست کبھی کی اس خاندان سے نکل کر سکھوں کے ہاتھ میں ہوتی۔ پس ہمارا خاندان تو ہر طرح گورنمنٹ کا مرہون منّت ہے۔ اور اب یہ سلسلہ بہ سبب حضور اور زیادہ مستحکم ہو گیا اور جو احسانات گورنمنٹ کے ہماری جماعت پر ہیں وہ قند مکرر کا لطف دینے لگے تو مجھ کو ضروری ہوا کہ اپنے ہمسروں سے بڑھ کر کچھ کیا جائے۔

اوّل ۔ چراغانہ قریب کی مسجد پر اور اپنے رہائشی مکان پر بہت زور سے کیا گیا بلکہ ایک مکان بیرون شہر جو ایک گاؤں سروانی کوٹ نام میں میرا ہے اُس پر بھی کیا گیا کل مکانوں پر اوّل سفیدی کی گئی اور مختلف طرز پر چراغ نصب کئے گئے اور ایک دیوار پر چراغوں میں یہ عبارت لکھی گئی۔

God  save  our  Empress

یعنی خدا تعالیٰ ہماری قیصرہ کو سلامت رکھے۔ قریباً تمام شہر سے بڑھ کر ہمارے ہاں روشنی کا اہتمام تھا۔ مگر عین وقت پر ہوا کے ہونے سے ۲۲؍کو وہ روشنی نہ ہو سکی اس لئے تمام شہر میں ۲۳؍کو روشنی ہوئی مگر اُس روز بھی ہوا کے سبب اونچی جگہ روشنی نہ ہو سکی۔

دوم ۔ تین ٹرائفل آرچ۔ ایک بر سر کوچہ اور دو اپنے مکان کے سامنے بنائے گئے اور ان پر مندرجہ ذیل عبارات سنہری لکھ کر لگائی گئیں۔ اوّل بر سر کوچہ ’’جشن ڈائمنڈ جوبلی مبارک باد‘‘۔ دوم اپنے رہائشی مکان کے دروازہ پر انگریزی میں Welcome یعنی خوش آمدید لکھا تھا۔ سوم دروازہ کے مقابل تیسری محراب پر لکھا تھا۔ ’’قیصرہ ہند کی عمر دراز‘‘ اور سروانی کوٹ میں بھی ایک ٹرائفل آرچ بنائی گئی تھی۔

سوم ۔ ۲۲؍جون کو شام کے چھ بجے اپنی جماعت کے اصحاب کو جمع کر کے خداوند تعالیٰ سے حضور ملکہ معظّمہ قیصرہ ہند کے بقائے دولت اور درازی عمر اور یہ کہ جس طرح حضور ممدوحہ نے ہم پر احسان کیا ہے خداوند تعالیٰ بھی حضور ممدوحہ پر احسان کرے اور الذین اٰمنوا میں داخل کرے یعنی اسلام کے آفتاب سے وہ بھی فیضیاب ہوں دعا کی گئی۔

چہارم ۔ میں نے ایک نوٹس اپنی جماعت کے لوگوں کو دے دیا تھا کہ سب صاحب جو کم سے کم مقدرت رکھتے ہوں وہ بھی سو چراغ سے کم نہ جلائیں اور جن کے پاس اتنا خرچ کرنے کو نہ ہو وہ مجھ سے لے لیں۔ چنانچہ پانچ اصحاب کو میں نے خرچ چراغانہ دیا اور باقیوں نے خود چراغانہ کیا۔

پنجم ۔ میرے متعلق جو سروانی کوٹ میں معافیدار تھے اُن کو بھی میں نے حکم دیا کہ چراغانہ کریں۔ چنانچہ انہوں نے بھی کیا اور یہ ایسا امر ہے کہ ریاست کے اور دیہات میں غالباً ایسا نہیں ہوا۔

ششم ۔ ۲۳؍جون کو اس خوشی میں آتش بازی چھوڑی گئی۔

ہفتم ۔ ۲۲؍جون کی شام کو معزز احباب کی دعوت کی گئی۔

ہشتم ۔ ۲۳؍کو مساکین کو غلہ اور نقد خیرات کیا گیا۔

نہم ۔ ایک یادگار کے قائم کرنے کی بھی تجویز ہے۔ جب اس کی بابت فیصلہ ہو گا وہ بھی عرض کروں گا۔

راقم محمد علی خان    مالیر کوٹلہ ۲۵؍جون ۱۸۹۷ء


نوٹ ۔ ہم نے اپنی طرف سے سب احباب کے نام کوشش سے درج کرا دیئے ہیں۔ اب اگر ایک دو نام رہ گئے ہوں تو سہو بشریت ہے۔


مطبوعہ ضیاء الاسلام قادیان باہتمام حکیم فضل الدین صاحب مالک مطبع

مورخہ ۲۸؍جون ۱۸۹۷ء