نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ
ہم بڑی خوشی سے اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ جناب ملکہ معظّمہ قیصرہ ہند دام ظلّہا کے جشن جوبلی کی خوشی اور شکریہ کے ادا کرنے کے لئے میری جماعت کے اکثر احباب دور دور کی مسافت قطع کر کے ۱۹؍جون ۱۸۹۷ء کو ہی قادیان میں تشریف لائے اور یہ سب ۲۲۵ آدمی تھے۔ اور اس جگہ کے ہمارے مرید اور مخلص بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے جن سے ایک گروہ کثیر ہوگیا اور وہ سب ۲۰؍جون ۱۸۹۷ء کو اس مبارک تقریب میں باہم مل کر دعا اور شکر باری تعالیٰ میں مصروف ہوئے اور جیسا کہ اشتہار وائس پریذیڈنٹ جنرل کمیٹی اہل اسلام ہند جناب خانصاحب محمد حیات خان صاحب سی ایس آئی میں اس بارے میں ہدایتیں تھیں۔ بفضلہٖ تعالیٰ اسی کے موافق سب مراسم خوشی عمدہ طور پر ظہور میں آئیں چنانچہ ۲۰؍جون ۱۸۹۷ء کو ہماری طرف سے مبارکبادی کا تار برقی بحضور وائسرائے گورنر جنرل کشورِ ہند بمقام شملہ روانہ کی گئی اور اسی روز سے ۲۲؍جون ۱۸۹۷ء تک غریبوں اور درویشوں کو برابر کھانا دیا گیا مگر ۲۱؍جون ۱۸۹۷ء کو اس خوشی کے اظہار کے لئے ایک بڑی دعوت کا سامان ہوا۔ اور اس قصبہ کے غربا اور درویش دعوت کے لئے بلائے گئے اور جیسا کہ شادیوں کے موقع پر کھانے پکائے جاتے ہیں ایسا ہی بڑے تکلف سے کھانے طیار ہوئے اور تمام حاضرین کو کھلائے گئے۔ اس روز تین سو سے زیادہ آدمی تھے جو دعوت میں شریک ہوئے پھر ۲۲؍جون کی رات کو چراغاں ہوئی اور کوچوں اور گلیوں اور مسجدوں اور گھروں میں شام ہوتے ہی نظر گاہ عام پر چراغ روشن کرائے گئے اور غریبوں کو اپنے پاس سے تیل دیا گیا اور علاوہ اس کے اظہار مسرت کے لئے عام دعوت میں لوگوں کو شامل کیا گیا۔
غرض یہ مبارک جلسہ تمام احباب کا جنہوں نے بڑی خوشی سے باہم چندہ کر کے اس کا اہتمام کیا۔ ۲۰؍جون ۱۸۹۷ء سے شروع ہوا اور ۲۲؍جون ۱۸۹۷ء کی شام تک بڑی دھوم دھام سے اس کا اہتمام رہا چنانچہ پہلے روز میں تمام جماعت نے جو ہمارے مریدوں کی جماعت ہے جن کے ذیل میں نام درج ہوں گے بڑے صدق دل سے حضور قیصرہ اور خاندان شاہی اور برٹش گورنمنٹ کے حق میں اقبال اور شمول فضل الٰہی کی دعائیں کیں اور پھر جیسا کہ بیان کیا گیا وقتاً فوقتاً تمام مراسم ادا کئے گئے اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہماری جماعت نے جس میں معزز ملازم سرکاری بھی شامل تھے ایسے صدق دل اور محبت اور پوری ارادت اور پورے شوق اور انبساط سے دعائیں کیں اور شکر گزاری ظاہر کی اور اہتمام غرباء کی دعوت میں چندے دیئے اور ایک رقم کثیر باہمی چندہ سے جمع کر کے بڑی سرگرمی اور مستعدی اور دلی خوشی سے تمام تجاویز جنرل کمیٹی کو انجام تک پہنچایا کہ اس سے بڑھ کر خیال میں نہیں آ سکتا۔
اور وہ تقریر جو دعا اور شکر گذاری جناب ملکہ معظّمہ قیصرہ ہند میں سنائی گئی جس پر لوگوں نے بڑی خوشی سے آمین کے نعرے مارے وہ چھ زبانوں میں بیان کی گئی تا ہمارے پنجاب کے ملک میں جس قدر مسلمان کسی زبان میں دسترس رکھتے ہیں ان تمام زبانوں سے شکر ادا ہو۔ ان میں سے ایک اردو میں تقریر تھی جو شکر اور دعا پر مشتمل تھی جو عام جلسہ میں سنائی گئی اور پھر عربی اور فارسی اور انگریزی اور پنجابی اور پشتو میں تقریریں قلمبند ہو کر پڑھی گئیں۔ اردو میں اس لئے کہ وہ عدالت کی بولی اور شاہی تجویز کے موافق دفتروں میں رواج یافتہ ہے۔ اور عربی میں اس لئے کہ وہ خدا کی بولی ہے جس سے دنیا کی تمام زبانیں نکلیں اور جو اُمّ الالسنہ اور دنیا کی تمام زبانوں کی ماں ہے جس میں خدا کی آخری کتاب قرآن شریف خلقت کی ہدایت کے لئے آیا۔ اور فارسی میں اس لئے کہ وہ گذشتہ اسلامی بادشاہوں کی یادگار ہے جنہوں نے اس ملک میں قریباً سات سو برس تک فرمان روائی کی اور انگریزی میں اس لئے کہ وہ ہماری جناب ملکہ معظّمہ قیصرہ ہند اور اسکے معزز ارکان کی زبان ہے جس کے عدل اور احسان کے ہم شکر گذار ہیں اور پنجابی میں اس لئے کہ وہ ہماری مادری زبان ہے جس میں شکر کرنا واجب ہے اور پشتو میں اس لئے کہ وہ ہماری زبان اور فارسی زبان میں ایک برزخ اور سرحدی اقبال کا نشان ہے۔
اسی تقریب پر ایک کتاب شکر گذاری جناب قیصرہ ہند کے لئے تالیف کر کے اور چھاپ کر اس کا نام تحفۂ قیصریہ رکھا گیا اور چند جلدیں اس کی نہایت خوبصورت مجلد کرا کے ان میں سے ایک حضرت قیصرہ ہند کے حضور میں بھیجنے کیلئے بخدمت صاحب ڈپٹی کمشنر بھیجی گئی اور ایک کتاب بحضور وائسرائے گورنر جنرل کشور ہند روانہ ہوئی اور ایک بحضور جناب نواب لیفٹنٹ گورنر پنجاب بھیج دی گئی۔ اب وہ دعائیں جو چھ زبانوں میں کی گئیں ذیل میں لکھی جاتی ہیں۔ اور بعد اس کے ان تمام دوستوں کے نام درج کئے جائیں گے جو تکالیف سفر اٹھا کر اس جلسہ کے لئے قادیان میں تشریف لائے اور اس سخت گرمی میں اس خوشی کے جوش میں مشقتیں اٹھائیں یہاں تک کہ بباعث ایک گروہ کثیر جمع ہونے کے اس قدر چار پائیاں نہ مل سکیں تو بڑی خوشی سے تین دن تک اکثر احباب زمین پر سوتے رہے۔ جس اخلاص اور محبت اور صدق دل کے ساتھ میری جماعت کے معزز اصحاب نے اس خوشی کی رسم کو ادا کیا میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ میں بیان کر سکوں۔
میں اپنے پہلے بیان میں یہ ذکر بھول گیا تھا کہ اس تقریب جلسہ میں ۲۲؍جون ۱۸۹۷ء کو ہماری جماعت کے چار مولوی صاحبان نے اٹھ کر عام لوگوں کو جناب ملکہ معظّمہ قیصرہ ہند کی اطاعت اور سچی وفاداری کی ترغیب دی۔ چنانچہ پہلے اخویم مولوی عبدالکریم صاحب نے اٹھ کر اس بارے میں بہت تقریر کی پھر اخویم حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب بھیروی نے تقریر کی اور پھر بعد ان کے اخویم مولوی برہان الدین صاحب جہلمی اٹھے اور انہوں نے پنجابی میں تقریر کر کے عام لوگوں کو اطاعت ملکہ معظّمہ کے لئے بہت ترغیب دی بعد ان کے مولوی جمال الدین صاحب سید والہ ضلع منٹگمری نے اٹھ کر پنجابی میں تقریر کی مگر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام جن کو نادان مسلمان اب تک خونریز کی صورت میں انتظار کر رہے ہیں وہ درحقیقت فوت ہو گئے ہیں۔ یعنی ایسے خیال کہ کسی وقت مہدی اور مسیح کے آنے سے مسلمان خونریزیاں کریں گے صحیح نہیں ہے اور عام لوگوں کو نیک بختی اور نیک چلنی کی ترغیب دی گئی اور اس مبارک موقعہ پر ساٹھ ستر آدمیوں نے ہر ایک گناہ اور بدچلنی سے رورو کر توبہ کی یہاں تک کہ ان کی گریہ وزاری سے مسجد گونج رہی تھی۔
اب ذیل میں وہ دعائیں چھ زبانوں میں درج کی جاتی ہیں:
الراقم میرزا غلام احمد قادیانی ۲۳؍جون ۱۸۹۷ء
اے مخلصان با صدق و صفا و محبان بے ریا جس امر کے لئے آپ سب صاحبان تکلیف فرما ہو کر اس عاجز کے پاس قادیان میں پہنچے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم جناب ملکہ معظّمہ قیصرہ ہند کے احسانات کو یاد کر کے ان کی سلطنت دراز شصت سالہ کے پوری ہونے پر اس خدائے عَزَّ وَ جَلَّ کا شکر کریں جس نے محض لطف و احسان سے ایک لمبے زمانہ تک ایسی ملکہ محسنہ کے زیر سایہ ہمیں ہر ایک طرح کے امن سے رکھا جس سے ہماری جان و مال و آبرو جابروں اور ظالموں کے حملہ سے امن میں رہی اور ہم تمام تر آزادی سے خوشی اور راحت کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے اور نیز اس وقت ہمیں بغرض ادائے فرض شکر گذاری جناب ملکہ معظّمہ قیصرہ ہند کے لئے جناب الٰہی میں دعا کرنی چاہیے کہ جس طرح ہم نے ان کی سلطنت میں امن پایا اور ان کے زیر سایہ رہ کر ہر ایک شریر کی شرارت سے محفوظ رہے اسی طرح خدا تعالیٰ جناب ممدوحہ کو بھی جزاءِ خیر بخشے اور ان کو ہر ایک بلا اور صدمہ سے محفوظ رکھے اور اقبال اور کامیابی میں ترقیات عطا فرمائے اور ان سب مرادوں اور اقبالوں اور خوشیوں کے ساتھ ایسا فضل کرے کہ انسان پرستی سے ان کے دل کو چھڑا دیوے۔ اے دوستو! کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتے ہو اور کیا تم اس بات کو بعید سمجھتے ہو کہ ہماری ملکہ معظّمہ قیصرہ ہند کے دین اور دنیا دونوں پر خدا کا فضل ہو جائے۔ اے عزیزو! اس ذات قادر مطلق کی عظمتوں پر کامل ایمان لاؤ جس نے وسیع آسمانوں کو بنایا اور زمین کو ہمارے لئے بچھایا اور دو چمکتے ہوئے چراغ ہمارے آگے رکھ دیئے جو آفتاب اور ماہتاب ہے۔ سو سچے دل سے حضرت احدیت میں اپنی محسنہ ملکہ قیصرہ ہند کے دین اور دنیا دونوں کے لئے دعا کرو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جب تم سچے دل سے اور روح کے جوش کے ساتھ اور پوری امید کے ساتھ دعا کرو گے تو خدا تمہاری سنے گا۔ سو ہم دعا کرتے ہیں اور تم آمین کہو کہ اے قادر توانا جس نے اپنی حکمت اور مصلحت سے اس محسنہ ملکہ کے زیر سایہ ایک لمبا حصہ ہماری زندگی کا بسر کرایا اور اس کے ذریعہ سے ہمیں صدہا آفتوں سے بچایا اس کو بھی آفتوں سے بچا کہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ اے قادر توانا! جیسا کہ ہم اس کے زیر سایہ رہ کر کئی صدموں سے بچائے گئے اس کو بھی صدمات سے بچا کہ سچی بادشاہی اور قدرت اور حکومت تیری ہی ہے۔ اے قادر توانا ہم تیری بے انتہا قدرت پر نظر کر کے ایک اور دعا کے لئے تیری جناب میں جرأت کرتے ہیں کہ ہماری محسنہ قیصرہ ہند کو مخلوق پرستی کی تاریکی سے چھڑا کر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر اس کا خاتمہ کر۔ اے عجیب قدرتوں والے! اے عمیق تصرفوں والے! ایسا ہی کر۔ یا الٰہی یہ تمام دعائیں قبول فرما۔ تمام جماعت کہے کہ آمین۔ اے دوستو اے پیارو۔ خدا کی جناب بڑی قدرتوں والی جناب ہے۔ دعا کے وقت اس سے نومید مت ہو کیونکہ اس ذات میں بے انتہا قدرتیں ہیں اور مخلوق کے ظاہر اور باطن پر اسکے عجیب تصرف ہیں سو تم نہ منافقوں کی طرح بلکہ سچے دل سے یہ دعائیں کرو۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ بادشاہوں کے دل خدا کے تصرف سے باہر ہیں؟ نہیں بلکہ ہر ایک امر اس کے ارادہ کے تابع اور اس کے ہاتھ کے نیچے ہے۔ سو تم اپنی محسنہ قیصرہ ہند کے لئے سچے دل سے دنیا کے آرام بھی چاہو اور عاقبت کے آرام بھی۔ اگر وفادار ہو تو راتوں کو اٹھ کر دعائیں کرو اور صبح کو اٹھ کر دعائیں کرو۔ اور جو لوگ اس بات کے مخالف ہوں ان کی پرواہ نہ کرو۔ چاہیے کہ ہر ایک بات تمہاری صدق اور صفائی سے ہو اور کسی بات میں نفاق کی آمیزش نہ ہو۔ تقویٰ اور راستبازی اختیار کرو۔ اور بھلائی کرنے والوں سے سچے دل سے بھلائی چاہو تا تمہیں خدا بدلہ دے کیونکہ انسان کو ہر ایک نیکی کے کام کا نیک بدلہ ملے گا۔
اب زیادہ الفاظ جمع کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہی دعا ہے کہ خدا ہماری یہ دعائیں سنے۔ والسلام
ایّها الاحبّاء المخلصون. والاصدقاء المسترشدون. جزاکم اللّٰہ خیر الجزاء. وحفظکم فی الکونین من البلاء. انکم قاسیتم متاعب السّفر و شوائبه. و ذُقتم شدائد الحرّ و نوائبه. وجئتمونی مُدلجین مُدّلجین مُکابدین. لتشکروا اللّٰہ فی مکانی هٰذا مجتمعین. وتکثروا الدّعاء لقیصرة الهند شاکرین ذاکرین. وتدعون دعوة المخلصین. یا عباد اللّٰہ لا تعجبوا لدعواتنا وشکرنا فی تقریب الجوبلی. وتعلمون ما قال سیّدنا امام کل نبیّ وولیّ ۔ وخاتم النبیّین. انه مَنْ لم یشکر الناس فما شکر اللّٰہ وَ اللّٰہ یحبّ المحسنین. ثمّ تعلمون انّ اموالنا واعراضنا ودماءنا قد حفظتها العنایة الالٰهیّة بهٰذه الملکة المعظمة. وجعلها اللّٰہ مؤیّدة لنا فی المهمّات الدنیویّة والدّینیّة. فالشکر واجب علٰی ما فعل ربّنا ذوالجلال والعزة ومن اعرض فقد کفر بالنعم الرحمانیة. واللّٰہ یحبّ الشاکرین. ایّها النّاس هذا یوم یجب فیه اظهار الشکر والمسرّة مع الدّعاء باخلاص النیّة. فاردنا اَنْ نقبله بمراسم التهانی والتبریک والتهنیّة. ورفع اکفّ الابتهال والضراعة. وتذلّل یلیق بحضرة الاحدیة. وانارة المآذن والمساجد والسکک والبیوت بالمصابیح والشهب النورانیّة. وانما الاعمال بالنیات المخفیة من اعین العامة. واللّٰہ یری مافی قلوب العالمین. یاعباد اللّٰہ الرحمان. هل جزاء الاحسان الّا الاحسان. فلا تظنوا ظنّ السوء. مستعجلین والاٰن ادعو للقیصرة بخلوص النیّة. فامّنو علٰی دعائی یامعشر الاحبّة. واتّقوا اللّٰہ ولا تنسوا منّ اللّٰہ و منّ عباده من الخواص والعامة. ولا تعثوا مفسدین.
یا ربّ اَحسِنْ الٰی هٰذه الملکة. کما احسنت الینا بانواع العطیّة. واحفظها مِن شرّ الظالمین. یاربّ شیّد واعضد دعائم سریرها. واجعلها فائزة فی مهمّاتها وصُنها من نوائب الدنیا و آفاتها. وبارک فی عمرها و حیاتها یا ارحم الراحمین. یاربّ ادخل الایمان فی جذر قلبها ونجّها و ذراریها مِن ان یعبدوا المسیح ویکونوا من المشرکین. یاربّ لا تتوفّها اِلّا بعد ان تکون من المسلمین. یاربّ انا ندعو لها بأَلسنة صادقة وقلوب ملئت اخلاصا وحسن طویّة فاستجب یا اَحکم الحاکمین.
اجد الانام ببهجة مستکثره
عید اتٰی او جوبلی القیصرة
نشر التهانی فی المحافل کلها
فاری الوجوه تهللت مُستبشره
انّی اراها نعمةً من رَبّنا
فالشکر حق واجب لا بربره
لا شک ان سرورنا من شکرها
خیر فمن یعمله اخلاصًا یره
اَمَرَ النّبیُّ لشکر رجل محسن
قُتل العنود المعتدی ما اکفره
اے گروہ دوستان و جماعت مخلصان خدا شمارا جزاءِ خیر دهد شما تکالیف گرمی موسم و صعوبت سفر برداشته نزد من در قادیان بدین غرض رسیده اید که تا بر تقریب جشن جوبلی باجتماع اخوان خود شکر خدائے عزّ وجل بجا آرید و برائے خیرِ دُنیا و دین ملکہ معظّمہ قیصرہ ہند دعاها کنید۔ می دانم که موجب ایں تکالیف و آنچه برائے انعقاد ایں جلسہ با ہم چندہ فراہم کرده رسوم جلسہ بجا آورده اید باعث ایں همه بجز اخلاص و محبّت چیزے دیگر نبوده۔ پس دعا می کنم که خدا تعالےٰ شمارا پاداش ایں تکالیف دهد که محض برائے حصول مرضات او کشیده اید۔ اے دوستان می دانید که ما در عهد سعادت مهد قیصرہ ہند چه آرامها دیدیم و می بینیم و چه قدر زندگی خود در امن و عافیت گذرانیده ایم و می گذرانیم۔ پس شرط انصاف این است که ما برائے ایں ملکہ مبارکہ از ته دل دعا کنیم چرا که ہر که شکر مردم محسن نه کند شکر خدا بجا نیاورده است۔ پس ایں دعاها میکنم شما آمین بگوئید۔ اے قادر توانا بدیں ملکہ تو نیکی کن چنانکه او بما کرد۔ و از شرِ ظالمان او را محفوظ دار۔ اے قادر توانا ستونهائے سریر او بلند کن و در مهمات خود او را فائز گردان و از حوادث دنیا و دین او را نگه دار۔ و در عمر و زندگی او برکت بخش۔ اے قادر توانا اسلام در دِل او داخل کُن و اُو را و اولاد اُو را از پرستش مسیح که بندهٔ عاجز است نجات دِه و از مشرکان او را بیرون آر که همه قدرت تو داری۔ اے قادر توانا او را تا آن وقت وفات مده که بر راهِ راست اسلام ثابت قدم بوده باشد۔ اے ربِّ جلیل دعاهائے ما قبول کُن۔ آمین۔
اَیٔ دمابُلُ دِ خُدای دُوستُونُ خُدا تاسِتَه دِ خَیُر جَزا ورُ کِے تاسِه خَلق تکلیفُون پُخپُلُ زَان بَاندِ آخِستَیُ دَهُ دِ مَا څخه پُو قَادِیَان لِپَاره دِ دِغَرَضُ رَاغُلِے وُه کِه دِ مَلِکَهُ مُعَظّمه اِشپِے تِرُ کالُ جَشُن اِستَاسُو اوُرُوُ رُوُن سَرَهُ دِے خُدائِے عَزَّ وَجَلّ شُکرَ اَدا وُکرُوُ اَوُر دِے مَلِکَهُ معظّمه قَیُصَره هِنُد دُنُیائی خَیُرِ لِپَارَهُ دُعا وکُو زَ پُوئِے گُمُ کِه دِدِ تکلیفونَ سَبَبُ څه جَلسَهُ دِپارَهُ چِنُدَه ټوله کړے وُه بُلُ دِ جَلسَه رَسُم بَهَمُ پُوُرَهُ کړے وُه دِ اِخُلاص اَور دِے محبّتُ سِوا بُل شِے نِدَے نورُ زِ دُعا کَوُمُ کِهُ خُدا صاحِبُ تاسُتَه دِدِ تکلیفونَ اَجر وَرُکِیُ چه صرُف دِ آغَهُ لِپارَهُ تاسوُ آخِستَیُ دَه. اَے دوسُتونَ پویگیٔ چه مُنگَهُ دِ مَلِکه کِے پُو زمَانِے مِیُن سِرِنگَهُ آرام مُنگَهُ لِیُدِلَے دَهُ اَوُرَه سِرِنگَهُ دِخپُلُ زِندگی سَرَهُ بَسَرُ کَړِیُ هَمُ دَهُ اَوُر بَسَرُبَه اوکُوُ بَیا اِنُصافُ دَادَهُ چِهُ مُنگَهُ دِ مَلِکَهُ دِ پارَهُ دُعا وَکُو وَلِے چِه هَرُ چَا چِه دِ نیک سَرَیُ شُکر نَکِیُ اَغَهُ دِ خُدای شُکر سِرِنگَه کَوُلِےُ شِیُ. پَسُ زِ دُعَا کَوُمُ تَاسِهُ آمِیُن وَه وَائی اِےُ لوئِے خُدایا دِ مَلِکَهُ سَرَهُ نِیکی وُه کَهُ اَغَهُ سِےُ چه مُنگَهُ سَرِهُ اَغَهُ کړے دِے اَوُر دِ ظالمون دِ شَرَه اَغَه اُوسَاتَه یا لُوئِے خُدایا دِ اَغَه دِ تَخُت اِسُتِنِ تهُ بِلُنُد اُو کړه بُل ددین اَوُر دَ دنیا شَرُونَ اَغه اُوسَاتَه اَوُر پُوعُمُر بُلُ پُو اغَهَ زِنُدگی بَرَکَتُ کَړَهُ یا لوئِے خُدَایَا اِسُلَامُ پُو اَغَهُ زِرَهُ نَنَهُ کَړه یا لوئِے خُدایا مَلِکَهُ بُلُ دِ اَغَه زویِے بُلُ دِ اَغَهَ عَیَالَ دِے مِسِیحُ دِے پَرسُتش چِه یَوُ عَاجِزُ سَرِے دَه اوسَاتَه اَورُ دِ مُشرِکُونَ دِ گَرُوهُنَه اَغَه اوباسَهُ چِه تَه قُدرَتُ لَرَے اَیٔ لوئِے خُدایَا تِرُ اَغَه وقُت مَلِکَه مُرمُگَهُ چِه مُسُلمَان شِیُ یالوئِے خَدایَا اِمنگ دُعَاته قَبُول کَړَه.
سنو میریو سچے دوستو تے پکے یارو جس گل واسطے تُسیں سارے بھائی اپنے سارے کم کُسا کے تے کشالہ کر کے میرے کول قادیان وِچہ آئے او اوہ اک پھارا متبل ایہ ہے جے اسیں سارے دربار رانی ملکہ معظّمہ قیصرہ ہند دیاں احساناں تے مہربانیاں نوں یاد کر کے اوہدے سٹھ ورھیاں دے راج دے پورا ہونے دی اپنے ربّ دے درگاہے شکر کریئے تے ایس دے بے اوڑک کرم دا گاون گائیے جس نے آپنیاں فضلاں تے کرماں دے نال ایڈے لمّے زمانے توڑیں سانوں اجیہی ملکہ معظّمہ دے راج دے چھاویں پھاگاں سہاگاں نال رکھیا۔ جس تھیں اساں غریباں مسلماناں دیاں جاناں تے پُتاں تے مال ہتھیاریاں تے انیائیاں دے پنجیاں تھیں بچ گئے تے اسیں ہُن توڑیں من پھاؤندیاں خوشیاں تے انگنیاں چیناں دے نال اپنی زندگانی پوری کر دے رہے۔ تے دوجا متبل وڈا ایہ جے ہن اسیں اس ویلے جناب ملکہ معظّمہ دا شکر پورا کرنے واسطے سچّے ربّ صاحب دی سچّی درگاہے ترلیاں تے جھیر گیان نال دعا کریئے کہ جس طرح ایس جگت دی رانی تے دھرمی تے لاڈ لڈیانے والی ماتا دے راج وِچ رہ کے اساں آرام پایا تے اوس دی بادشاہی دی ٹھنڈی تے سنگھنی چھاں وچ ہر انرتھی دے انرتھوں بچکے مٹھّیاں نیندراں سُتّے ہاں اوسے طرح دھرتی انبر دا راجا سچّا ربّ ایسی ملکہ معظّمہ نوں اینہاں پُنّاں داناں دا بدلہ دے۔ تے اوہنو ہر اک تھکے تھوڑے تے ساریاں درداں تھیں آپنا ہتھ دے کے بچا رکھے۔ تے اقبال تے وڈیائی تے آساں امیداں دے پورا ہوون وِچہ وادھا بخشے تے ساریاں مُراداں پوریاں کرنے سمیت اوستے ایسا فضل کرے تے اجیہا ترٹّھے جے بندہ پرستی تھیں اوسدے دِل نوں مٹھی نیندروں جگاوے تا ایہ ماتا آپنی جاؤ واسمیت اک وحدہٗ لاشریک لہٗ جیوندے جاگدے دھرتی انبر تے ایس سارے اڈنبر دے سائیں دی پوجا ول آوے۔ تے دوہاں جگاں دا سدا سرگ پاوے۔ میریو پیاریو یارو تسیں خدا دی قدرت تھیں اوپرا جاندے ہو۔ بھلا تسیں ایسی گل نوں اچرج تے انہونی سمجھیدے ہو جے ساڈی جگ رانی ملکہ معظّمہ دے دین تے دُنیاں تے خدا دا فضل ہو جائے۔ او پیاریو اُس ذات سگت واندیاں وڈیائیاں تے پُورا ایمان لیاؤ جس نے ایڈا چوڑا تے اُچّا آسمان بنایا تے دھرتی نوں ساڈے واسطے وچھایا تے دو چمکدے دیوے انملے جگ چمکان والے ساڈیاں اکھیاں اگے رکھے۔ اک چندر ماہ دوجا سورج ماہ سوتر لیاں تے ہاڑیاں تے دندیاں لہلکنے نال ربّ صاحب سچّے دی درگاہ وچہ اپنے سدا پُنّاں داناں والی ملکہ معظّمہ دے دین تے دُنیاں واسطے دُعا منگو۔
میں سچو سچ کہنا ہاں جیکر تُسیں کچیاں تے دو۲ گلّیاں نوں سنگوں ہٹا کے تے سچّیاں تے اکولّیاں نوں ساتھ لے کے تے پوری امید نال نہیچہ بنّہ کے دُعا کرو گے تاں جگاں دا سچّا داتا تہاڈی دُعا ضرور سُنے گا۔ سو اسیں دُعا کرنے ہاں تے تسیں آمین آکھو۔ ہے سچّیا سگتاں والیا سچّیا سائیاں جد توں آپنی حکمت تے مصلحت نال ایس دیاوان رانی دے راج دے ٹھنڈی چھاویں ساڈے جیونی دا اک لمّا حصّہ پورا کیتائی تے اوس دے سببّوں ہزاراں آفتاں تے بلاواں تھیں سانوں بچایائی۔ تُوں اُوسنوٗ بھی آفتاں تھیں بچا جے توں ہر شَے تے سگت تے وسّ رکھنائیں۔ ہے قدرتاں والیاں جس طرح اسیں اوسدے راج وچہ دھکیاں دھوڑیاں تے ٹھینے ڈگنے تھیں بچائے گئے ہاں اوسنوں بھی ساریاں چنتاں تے چھوریاں تھیں بچا جے سچّی بادشاہی تے پکّی زور آوری تے پوری حکومت تیری ہئے۔ ہے جتناں والیا مالکا اسیں تیری بے انت قدرت تے تہان رکھ کے اک ہور دُعا دے واسطے تیری درگاہے دلیری کرنے ہاں جے توں ساڈی اَن گنت دَیاوان رانی ملکہ معظّمہ نوں بندہ پوجن دی انھیری کوٹھڑی تھیں باہر کڈھ کے اُچّے تے سنہری تے لاٹاں مارنے والے لا الٰہ اِلّا اللّٰہ محمّد رسول اللّٰہ دے چبوترے تے موجاں ماننے والی کر کے اوسّے تے اوہدا پورن کر۔ ہے اچرج زوراں والیا۔ ہے ڈوھنگیاں نگاہاں والیا۔ ہے پوریاں پہچان والیا۔ ہے بے اوڑک کابواں والیا اینویں کر۔ ہے ربّاں دیا ربّا ایہ ساریاں دُعاواں منظور کر۔ سارے دوست آمین آکھو۔ اے پیاریو سچّے ربّ دی درگاہ وَڈِّی قدرتاں تے پہنیاں والی درگاہ ئے دعا دے ویلے اوس تھیں بے امید نہ ہووو۔ کیوں جی اوس دے دربار دے بے اوڑ سدا دَر توں کسے سمے کوئی پھکھارا پھکھا تے خالی ہتھ نہیں گیا۔ تے اپنے سربت جیا جنت دے اندر باہر اوہدے اچرج کابو تے قبضے ہین۔ تسیں دوگلیاں تے دورنگیاں تے کھوٹیاں وانگر دعا نہ کرو۔ سگوں سچیاں چیلیاں تے سوچیاں چیریاں وانگوں اوہدے من دھن تے جت ست تے پت واسطے دھن شاوا کھو تے سدا سُکھ منگو۔ ہین تسین سمجھدے ہو جے سربت راجیاں دے دِل اُس مہاراج سرب شکتی مان سدا دیاوان دے کابوؤں باہر نہیں سگوں سارے کم تے انیک تے ان گنی کرتب اُسیدے اوڈاؤ ہتھ وچہ نے۔ سو تسیں اپنے ان گنت داناں والی مہارانی ملکہ معظّمہ دے دُنیا تے عاقبت واسطے آنند تے آرام منگو جے تسیں وفادار ٹھیلیے تے مَن وارنے والے چاکر ہو تاں شامیں تے پہر راتیں تے پچھلی راتیں نیندراں گنوا کے اوبھڑ وائی اُٹھ اُٹھ کے بینتیاں کرو تے جہڑے مُنکھ اس گل دے دوتی تے دوکھی ہون اُنہاں ہتھ یاریاں دی پرواہ نہ کرو۔
لوڑیدائی جے سبھّو گلّاں تہاڈیاں نتریاں ہوئیاں تے سُتھریاں ہون تے کسے گل تھہاڈّی وچہ رلا رول نہ ہووے سُرت تے سچ ملّو پھلا کرن والیاں دا پھلا چاہو تاں تھہانوں تھہاڈا جانی جان سچّا رب صاحب چنگا بدلہ دیوے۔ کیوں جے ہر منکھ بے حیائی کیدائی تے کیتائی پاندائے۔ نریاں گلاں کجھ پھل نہیں دیندیاں۔ تِھڑیاں تے تُھڑیاں نوں پکڑنے والیا بَھوَڑیدا ویلائی۔
My friends - The object which has brought you here is to convene a meeting of thanksgiving on the happy occasion of the Diamond Jubilee of Her Majesty's reign in rememberance of the manifold blessings enjoyed by us during Her Majesty's time. We offer our heartfelt thanks to God who out of His special kindness has been pleased to place us under this sovereign rule, protecting thereby our life, property and honour from the hands of tyranny and persecution and enabling us to live a life of peace and freedom. We have also to tender our thanks to our gracious Empress, and this we do by our prayers for Her Majesty's welfare. May God protect our beneficient sovereign from all evils and hardships as Her Majesty's rule has protected us from the mischief of evil doers. May our blessed ruler be graced with glory and success and be saved at the same time from the evil consequences of believing in the divinity of a man and his worship. My friends do not wonder at this, nor entertain any doubt as to the wonderful powers of the Almighty, because it is quite possible for him to confer His choicest blessings upon our gracious Queen in this world and the next. Hence the strong and firm belief in the omnipotence of the Supreme Being who made this spacious firmament on high and spread the earth beneath our feet illuminating them both with the sun and the moon. Let your sincere prayers as to the good of Her Majesty in matters spiritual and temporal, reach His holy throne. And I assure you that prayers that come from hearts sincere earnest and hopeful are sure to be listened to. Let me pray then & you may say Amen:
Almighty God! As Thy Wisdom & Providence has been pleased to put us under the rule of our blessed Empress enabling us to lead lives of peace and prosperity, we pray Thee that our ruler may in return be saved from all evils and dangers as thine is the kingdom, glory and power. Believing in Thy unlimited powers we earnestly ask Thee all powerful Lord to grant us one more prayer that our benefactoress the Empress, before leaving this world. May probe her way out of the darkness of man-worship with the light of "La-ilaha-illallaho Muhammad-al-Rasul-ullah." {There is no God but Allah & Muhammad is His Prophet}, Do Almighty God as we desire, and grant us this humble prayer of ours as Thy will alone governs all minds. Amen!
My Friends! Trust in God and feel not hopeless. Do not even imagine that the minds of wordly potentates and earthly kings are beyond His control. Nay, They are all subservants to His Holy Will. Let therefore your prayers for the welfare of your Empress in this world and the next, come from the bottom of your hearts. If you are loyal subjects remember Her Majesty in your night and morning prayers. Pay no heed to opposition. Let Your words and deeds be true and free from hypocrisy. Lead lives of virtue and righteousness, and pray for the good of your well-wishers, because no virtue goes unrewarded. I conclude with earnest desire that God may grant our prayer. Amen.
Dated 23-6-1897
اسمائے حاضرین جلسۂ ڈائمنڈ جوبلی بمقام قادیان ضلع گورداسپورہ بحضور امام ہمام حضرت مسیح موعود و مہدی مسعود معہ چندہ و بلا چندہ و اسمائے غیر حاضرین جنہوں نے چندہ دیا از ۲۰؍جون ۱۸۹۷ تا ۲۲؍جون ۱۸۹۷ء
۱عبدالرحمٰن نو مسلم جالندھری ۔ ۲سید ارشاد علی صاحبزادہ سید خصیلت علی شاہ صاحب، ڈنگہ ۔ ۳اللہ دتا ولد نور محمد کمبوہ ۔ ۴عبداللّٰہ ولد خلیفہ رجب دین لاہور ۔ ۵غلام محمد طالب علم ڈیرہ بابا نانک ۔ ۶روشن الدین بھیرہ، ۷اللہ ودھایا صاحب پنڈی بھٹیاں ۔ ۸شیخ احمد علی، چک بازید ۔ ۹نور محمد، ڈھونی ۔ ۱۰عبدالرشید، سیّدوالہ ۔ ۱۱غلام قادر، قادیان ۔ ۱۲شیخ امیر، تھہ غلام نبی ۔ ۱۳غلام غوث، قادیان ۔ ۱۴گلاب ولد محکم احمد آباد ضلع گورداسپور ۔ ۱۵شاہ نواز، ڈنگہ ۔ ۱۶عیدا ولد شادی، قادیان ۔ ۱۷دین محمد، قادیان ۔ ۱۸صدر الدین، قادیان ۔ ۱۹بڈھا قادیان ۔ ۲۰حسینا، قادیان ۔ ۲۱امام الدین، قادیان ۔ ۲۲خواجہ نور محمد، قادیان ۔ ۲۳حامد علی ارائیں، قادیان ۔ ۲۴میراں بخش، قادیان ۔ ۲۵لسّو، قادیان ۔ ۲۶فقیر محمد، فیض اللہ چک ۔ ۲۷شیخ محمد، قادیان ۔ ۲۸خواجہ کھیون، قادیان ۔ ۲۹شرف دین، قادیان ۔ ۳۰فتح دین، کہار ڈلہ ۔ ۳۱عبداللّٰہ قادیان ۔ لبّھو، قادیان ۔ ۳۲لبّھا ڈوگر، کھارا ۔ ۳۳نتھو، قادیان ۔ ۳۴بوٹا، قادیان ۔
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم
طبیب روحانی مسیح الزمان مکرم معظم سلمکم اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ۔ حسب الحکم حضور کل حال متعلق جوبلی عرض کرتا ہوں:
۲۱ و ۲۲ جون یعنی دو دن جشن جوبلی کے لئے مقرر ہوئے تھے چونکہ گورنمنٹ کا حکم تھا کہ کل رسوم متعلق جوبلی ۲۲؍جون ۱۸۹۷ء کو پوری کی جائیں اس لئے سب کچھ ۲۲ کو کیا جانا قرار پایا۔
ریاست مالیر کوٹلہ میں جیسے رئیس اعظم وفادار رہے ہیں ویسے ہی خوانین بھی وفادار اور عقیدت مند گورنمنٹ کے رہے ہیں اور بہت مواقع میں اس کا ثبوت دیا ہے بلکہ بعض جگہ خود لڑائی میں شریک ہو کر گورنمنٹ کی اعانت کی ہے۔ اب چونکہ لڑائی کا موقع تو جاتا رہا ہے اب بموجب حالت زمانہ ہم لوگ ہر طرح خدمت کے لئے حاضر ہیں اور ہم ایسا کیوں نہ کریں جبکہ اس گورنمنٹ کا ہم پر خاص احسان ہے وہ یہ کہ سکھوں کے عروج کے زمانہ میں سکھوں نے اس ریاست کو بہت دق کیا تھا اور اگر وقت پر جنرل اختر لونی صاحب ابر رحمت کی طرح تشریف نہ لے آتے تو یہ ریاست کبھی کی اس خاندان سے نکل کر سکھوں کے ہاتھ میں ہوتی۔ پس ہمارا خاندان تو ہر طرح گورنمنٹ کا مرہون منّت ہے۔ اور اب یہ سلسلہ بہ سبب حضور اور زیادہ مستحکم ہو گیا اور جو احسانات گورنمنٹ کے ہماری جماعت پر ہیں وہ قند مکرر کا لطف دینے لگے تو مجھ کو ضروری ہوا کہ اپنے ہمسروں سے بڑھ کر کچھ کیا جائے۔
اوّل ۔ چراغانہ قریب کی مسجد پر اور اپنے رہائشی مکان پر بہت زور سے کیا گیا بلکہ ایک مکان بیرون شہر جو ایک گاؤں سروانی کوٹ نام میں میرا ہے اُس پر بھی کیا گیا کل مکانوں پر اوّل سفیدی کی گئی اور مختلف طرز پر چراغ نصب کئے گئے اور ایک دیوار پر چراغوں میں یہ عبارت لکھی گئی۔
God save our Empress
یعنی خدا تعالیٰ ہماری قیصرہ کو سلامت رکھے۔ قریباً تمام شہر سے بڑھ کر ہمارے ہاں روشنی کا اہتمام تھا۔ مگر عین وقت پر ہوا کے ہونے سے ۲۲؍کو وہ روشنی نہ ہو سکی اس لئے تمام شہر میں ۲۳؍کو روشنی ہوئی مگر اُس روز بھی ہوا کے سبب اونچی جگہ روشنی نہ ہو سکی۔
دوم ۔ تین ٹرائفل آرچ۔ ایک بر سر کوچہ اور دو اپنے مکان کے سامنے بنائے گئے اور ان پر مندرجہ ذیل عبارات سنہری لکھ کر لگائی گئیں۔ اوّل بر سر کوچہ ’’جشن ڈائمنڈ جوبلی مبارک باد‘‘۔ دوم اپنے رہائشی مکان کے دروازہ پر انگریزی میں Welcome یعنی خوش آمدید لکھا تھا۔ سوم دروازہ کے مقابل تیسری محراب پر لکھا تھا۔ ’’قیصرہ ہند کی عمر دراز‘‘ اور سروانی کوٹ میں بھی ایک ٹرائفل آرچ بنائی گئی تھی۔
سوم ۔ ۲۲؍جون کو شام کے چھ بجے اپنی جماعت کے اصحاب کو جمع کر کے خداوند تعالیٰ سے حضور ملکہ معظّمہ قیصرہ ہند کے بقائے دولت اور درازی عمر اور یہ کہ جس طرح حضور ممدوحہ نے ہم پر احسان کیا ہے خداوند تعالیٰ بھی حضور ممدوحہ پر احسان کرے اور الذین اٰمنوا میں داخل کرے یعنی اسلام کے آفتاب سے وہ بھی فیضیاب ہوں دعا کی گئی۔
چہارم ۔ میں نے ایک نوٹس اپنی جماعت کے لوگوں کو دے دیا تھا کہ سب صاحب جو کم سے کم مقدرت رکھتے ہوں وہ بھی سو چراغ سے کم نہ جلائیں اور جن کے پاس اتنا خرچ کرنے کو نہ ہو وہ مجھ سے لے لیں۔ چنانچہ پانچ اصحاب کو میں نے خرچ چراغانہ دیا اور باقیوں نے خود چراغانہ کیا۔
پنجم ۔ میرے متعلق جو سروانی کوٹ میں معافیدار تھے اُن کو بھی میں نے حکم دیا کہ چراغانہ کریں۔ چنانچہ انہوں نے بھی کیا اور یہ ایسا امر ہے کہ ریاست کے اور دیہات میں غالباً ایسا نہیں ہوا۔
ششم ۔ ۲۳؍جون کو اس خوشی میں آتش بازی چھوڑی گئی۔
ہفتم ۔ ۲۲؍جون کی شام کو معزز احباب کی دعوت کی گئی۔
ہشتم ۔ ۲۳؍کو مساکین کو غلہ اور نقد خیرات کیا گیا۔
نہم ۔ ایک یادگار کے قائم کرنے کی بھی تجویز ہے۔ جب اس کی بابت فیصلہ ہو گا وہ بھی عرض کروں گا۔
راقم محمد علی خان مالیر کوٹلہ ۲۵؍جون ۱۸۹۷ء
نوٹ ۔ ہم نے اپنی طرف سے سب احباب کے نام کوشش سے درج کرا دیئے ہیں۔ اب اگر ایک دو نام رہ گئے ہوں تو سہو بشریت ہے۔
مطبوعہ ضیاء الاسلام قادیان باہتمام حکیم فضل الدین صاحب مالک مطبع
مورخہ ۲۸؍جون ۱۸۹۷ء