فہرست

عصمتِ انبیاء علیہم السلام

نجات کس طرح مل سکتی ہے

اور اُس کی حقیقی فلاسفی کیا ہے

تصنیف

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

مضمون کے ذیلی عنوانات اصل مسودہ میں موجود نہیں بلکہ ایڈیٹر ریویو نے دئے ہیں۔

(ناشر)

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

نحمدہ و نصلّی علٰی رسولہ الکریم

نجات کس طرح مل سکتی ہے

اور اُس کی حقیقی فلاسفی کیا ہے

مذہبی مسائل میں سے نجات اور شفاعت کا مسئلہ ایک ایسا عظیم الشان اور مدارالمہام مسئلہ ہے کہ مذہبی پابندی کے تمام اغراض اسی پر جا کر ختم ہوجاتے ہیں۔ اور کسی مذہب کے صدق اور سچائی کے پرکھنے کے لئے وہی ایک ایسا صاف اور کھلا کھلا نشان ہے جس کے ذریعہ سے پوری تسلی اور اطمینان سے معلوم ہوسکتا ہے کہ فلاں مذہب درحقیقت سچا اور خدا کی طرف سے ہے اور یہ بات بالکل راست اور درست ہے کہ جس مذہب نے اس مسئلہ کو صحیح طور پر بیان نہیں کیا یا اپنے فرقہ میں نجات یافتہ لوگوں کے موجودہ نمونے کھلے کھلے امتیاز کے ساتھ دکھلا نہیں سکا اس مذہب کے باطل ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔ مگر جس مذہب نے کمال صحت سے نجات کی اصل حقیقت دکھلائی ہے اور نہ صرف اس قدر بلکہ اپنے موجودہ زمانے میں ایسے انسان بھی پیش کئے ہیں جن میں کامل طور پر نجات کی روح پھونکی گئی ہے اس نے مہر لگا دی ہے کہ وہ سچا اور منجانب اللہ ہے۔

یہ تو ظاہر ہے کہ ہر ایک انسان طبعاً اپنے دل میں محسوس کرتا ہے کہ وہ صد ہا طرح کی غفلتوں اور پردوں اور نفسانی حملوں اور لغزشوں اور کمزوریوں اور جہالتوں اور قدم قدم پر تاریکیوں اور ٹھوکروں اور مسلسل خطرات اور وساوس کی وجہ سے اور نیز دنیا کی انواع اقسام کی آفتوں اور بلاؤں کے سبب سے ایک ایسے زبردست ہاتھ کا ضرور محتاج ہے جو اُس کو اِن تمام مکروہات سے بچاوے۔ کیونکہ انسان اپنی فطرت میں ضعیف ہے اور وہ کبھی ایک دم کے لئے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہیں کر سکتا کہ وہ خود بخود نفسانی ظلمات سے باہر آ سکتا ہے۔ یہ تو انسانی کانشنس کی شہادت ہے اور ماسوا اس کے اگر غور اور فکر سے کام لیا جائے تو عقل سلیم بھی اسی کو چاہتی ہے کہ نجات کے لئے شفیع کی ضرورت ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نہایت درجہ تقدّس اور تطہّر کے مرتبہ پر ہے اور انسان نہایت درجہ ظلمت اور معصیت اور آلودگی کے گڑھے میں ہے اور بوجہ فقدان مناسبت اور مشابہت عام طبقہ انسانی گروہ کا اس لائق نہیں کہ وہ براہ راست خدا تعالیٰ سے فیض پا کر مرتبہ نجات کا حاصل کر لیں پس اس لئے حکمت اور رحمت الٰہی نے یہ تقاضا فرمایا کہ نوع انسان اور اس میں بعض افراد کاملہ جو اپنی فطرت میں ایک خاص فضیلت رکھتے ہوں درمیانی واسطہ ہوں اور وہ اس قسم کے انسان ہوں جن کی فطرت نے کچھ حصہ صفات لاہوتی سے لیا ہو اور کچھ حصہ صفات ناسوتی سے تا بباعث لاہوتی مناسبت کے خدا سے فیض حاصل کریں۔ اور بباعث ناسوتی مناسبت کے اس فیض کو جو اوپر سے لیا ہے نیچے کو یعنی بنی نوع کو پہنچاویں اور یہ کہنا واقعی صحیح ہے کہ اس قسم کے انسان بوجہ زیادت کمال لاہوتی اور ناسوتی کے دوسرے انسانوں سے ایک خاص امتیاز رکھتے ہیں گویا یہ ایک مخلوق ہی الگ ہے کیونکہ جس قدر ان لوگوں کو خدا کے جلال اور عظمت ظاہر کرنے کے لئے جوش دیا جاتا ہے اور جس قدر ان کے دلوں میں وفاداری کا مادہ بھرا جاتا ہے اور پھر جس قدر بنی نوع کی ہمدردی کا جوش ان کو عطا کیا جاتا ہے وہ ایک ایسا امر فوق العادت ہے جو دوسرے کے لئے اس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ ہاں یہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ یہ تمام اشخاص ایک مرتبہ پر نہیں ہوتے بلکہ ان فطرتی فضائل میں کوئی اعلیٰ درجہ پر ہے کوئی اس سے کم اور کوئی اس سے کم۔ اور ایک سلیم العقل کا پاک کانشنس سمجھ سکتا ہے کہ شفاعت کا مسئلہ کوئی بناوٹی اور مصنوعی مسئلہ نہیں ہے بلکہ خدا کے مقرر کردہ انتظام میں ابتدا سے اس کی نظریں موجود ہیں اور قانون قدرت میں اس کی شہادتیں صریح طور پر ملتی ہیں۔

اب شفاعت کی فلاسفی یوں سمجھنی چاہئے کہ شفع لُغت میں جُفت کو کہتے ہیں پس شفاعت کے لفظ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ضروری امر جو شفیع کی صفات میں سے ہوتا ہے یہ ہے کہ اس کو دو طرفہ اتحاد حاصل ہو یعنی ایک طرف اس کے نفس کو خدا تعالیٰ سے تعلق شدید ہو ایسا کہ گویا وہ کمال اتحاد کے سبب حضرت احدیت کے لئے بطور جفت اور پیوند کے ہو اور دوسری طرف اس کو مخلوق سے بھی شدید تعلق ہو گویا وہ ان کے اعضا کی ایک جز ہو۔ پس شفاعت کا اثر مترتب ہونے کے لئے درحقیقت یہی دو جز ہیں جن پر ترتب اثر موقوف ہے۔ یہی راز ہے جو حکمت الٰہیہ نے آدم کو ایسے طور سے بنایا کہ فطرت کی ابتدا سے ہی اس کی سرشت میں دو قسم کے تعلق قائم کر دیئے یعنی ایک تعلق تو خدا سے قائم کیا جیسا قرآن شریف میں فرمایا فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَنَفَخۡتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ یعنی جب میں آدم کو ٹھیک ٹھیک بنالوں اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو اے فرشتو اسی وقت تم سجدہ میں گر جاؤ۔ اس مذکورہ بالا آیت سے صاف ثابت ہے کہ خدا نے آدم میں اس کی پیدائش کے ساتھ ہی اپنی روح پھونک کر اس کی فطرت کو اپنے ساتھ ایک تعلق قائم کر دیا۔ سو یہ اس لئے کیا گیا کہ تا انسان کو فطرتاً خدا سے تعلق پیدا ہو جائے ایسا ہی دوسری طرف یہ بھی ضروری تھا کہ ان لوگوں سے بھی فطرتی تعلق ہو جو بنی نوع کہلائیں گے کیونکہ جبکہ ان کا وجود آدم کی ہڈی میں سے ہڈی اور گوشت میں سے گوشت ہوگا تو وہ ضرور اس روح میں سے بھی حصہ لیں گے جو آدم میں پھونکی گئی پس اس لئے آدم طبعی طور پر ان کا شفیع ٹھہرے گا۔ کیونکہ بباعث نفخِ روح جو راستبازی آدم کی فطرت کو دی گئی ہے ضرور ہے کہ اس کی راستبازی کا کچھ حصہ اس شخص کو بھی ملے جو اس میں سے نکلا ہے جیسا کہ ظاہر ہے کہ ہر یک جانور کا بچہ اس کی صفات اور افعال میں سے حصہ لیتا ہے اور دراصل شفاعت کی حقیقت بھی یہی ہے کہ فطرتی وارث اپنے مورث سے حصہ لے کیونکہ ابھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ شفاعت کا لفظ شفع کے لفظ سے نکلا ہے جو زوج کو کہتے ہیں پس جو شخص فطرتی طور پر ایک دوسرے شخص کا زوج ٹھہر جائے گا ضرور اس کی صفات میں سے حصہ لے گا۔ اسی اصول پر تمام سلسلہ خلقی توارث کا جاری ہے یعنے انسان کا بچہ انسانی قویٰ میں سے حصہ لیتا ہے اور گھوڑے کا بچہ گھوڑے کے قویٰ میں سے حصہ لیتا ہے اور بکری کا بچہ بکری کے قویٰ میں سے حصہ لیتا ہے اور اسی وارثت کا نام دوسرے لفظوں میں شفاعت سے فیضیاب ہونا ہے کیونکہ جبکہ شفاعت کی اصل شفع یعنی زوج ہے۔ پس تمام مدار شفاعت سے فیض اٹھانے کا اس بات پر ہے کہ جس شخص کی شفاعت سے مستفیض ہونا چاہتا ہے اُس سے فطرتی تعلق اُس کو حاصل ہو تا جو کچھ اُس کی فطرت کو دیا گیا ہے اس کی فطرت کو بھی وہی ملے یہ تعلق جیسا کہ وہبی طور پر انسانی فطرت میں موجود ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کی ایک جز ہے ایسا ہی کسبی طور پر بھی یہ تعلق زیادت پذیر ہے یعنی جب ایک انسان یہ چاہتا ہے کہ جو فطرتی محبت اور فطرتی ہمدردی بنی نوع کی اس میں موجود ہے اس میں زیادت ہو تو اس میں بقدر دائرۂ فطرت اور مناسبت کے زیادت بھی ہو جاتی ہے اسی بنا پر قوت عشقی کا تموّج بھی ہے کہ ایک شخص ایک شخص سے اس قدر محبت بڑھاتا ہے کہ بغیر اس کے دیکھنے کے آرام نہیں کر سکتا۔ آخر اس کی شدت محبت اس دوسرے شخص کے دل پر بھی اثر کرتی ہے اور جو شخص انتہا درجہ پر کسی سے محبت کرتا ہے وہی شخص کامل طور پر اور سچے طور پر اس کی بھلائی کو بھی چاہتا ہے چنانچہ یہ امر بچوں کی نسبت ان کی ماؤں کی طرف سے مشہود اور محسوس ہے۔ پس اصل جڑ شفاعت کی یہی محبت ہے جب اس کے ساتھ فطرتی تعلق بھی ہو کیونکہ بجز فطرتی تعلق کے محبت کا کمال جو شرطِ شفاعت ہے غیر ممکن ہے اس تعلق کو انسانی فطرت میں داخل کرنے کے لئے خدا نے حوّا کو علیحدہ پیدا نہ کیا بلکہ آدم کی پسلی سے ہی اس کو نکالا۔ جیسا کہ قرآن شریف میں فرمایا ہے وَّخَلَقَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا یعنے آدم کے وجود میں سے ہی ہم نے اس کا جوڑا پیدا کیا جو حوّا ہے۔ تا آدم کا یہ تعلق حوّا اور اس کی اولاد سے طبعی ہو نہ بناوٹی۔ اور یہ اس لئے کیا کہ تا آدم زادوں کے تعلق اور ہمدردی کو بقا ہو کیونکہ طبعی تعلقات غیر منفک ہوتے ہیں مگر غیر طبعی تعلقات کے لئے بقا نہیں ہے کیونکہ ان میں وہ باہمی کشش نہیں ہے جو طبعی میں ہوتی ہے۔ غرض خدا نے اس طرح پر دونوں قسم کے تعلق جو آدم کے لئے خدا سے اور بنی نوع سے ہونے چاہئے تھے طبعی طور پر پیدا کئے پس اس تقریر سے صاف ظاہر ہے کہ کامل انسان جو شفیع ہونے کے لائق ہو وہی شخص ہو سکتا ہے جس نے ان دونوں تعلقوں سے کامل حصہ لیا ہو اور کوئی شخص بجز ان ہر دو قسم کے کمال کے انسان کامل نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے آدم کے بعد یہی سنت اللہ ایسے طرح پر جاری ہوئی کہ کامل انسان کے لئے جو شفیع ہو سکتا ہے یہ دونوں تعلق ضروری ٹھہرائے گئے یعنی ایک یہ تعلق کہ ان میں آسمانی روح پھونکی گئی۔ اور خدا نے ایسا ان سے اتّصال کیا کہ گویا ان میں اتر آیا اور دوسرے یہ کہ بنی نوع کی زوجیت کا وہ جوڑ جو حوّا اور آدم میں باہمی محبت اور ہمدردی کے ساتھ مستحکم کیا گیا تھا ان میں سب سے زیادہ چمکایا گیا اسی تحریک سے ان کو بیویوں کی طرف بھی رغبت ہوئی اور یہی ایک اول علامت اس بات کی ہے کہ ان میں بنی نوع کی ہمدردی کا مادہ ہے اور اسی کی طرف وہ حدیث اشارہ کرتی ہے جس کے یہ الفاظ ہیں کہ خَیْرُ کُمْ خَیْرُ کُمْ بِاَہْلِہِ یعنے تم میں سے سب سے زیادہ بنی نوع کے ساتھ بھلائی کرنے والا وہی ہو سکتا ہے کہ پہلے اپنی بیوی کے ساتھ بھلائی کرے مگر جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ ظلم اور شرارت کا برتاؤ رکھتا ہے ممکن نہیں کہ وہ دوسروں سے بھی بھلائی کر سکے کیونکہ خدا نے آدم کو پیدا کر کے سب سے پہلے آدم کی محبت کا مصداق اس کی بیوی کو ہی بنایا ہے۔ پس جو شخص اپنی بیوی سے محبت نہیں کرتا اور یا اس کی خود بیوی ہی نہیں وہ کامل انسان ہونے کے مرتبہ سے گرا ہوا ہے اور شفاعت کی دو شرطوں میں سے ایک شرط اس میں مفقود ہے۔ اس لئے اگر عصمت اس میں پائی بھی جائے تب بھی وہ شفاعت کرنے کے لائق نہیں لیکن جو شخص کوئی بیوی نکاح میں لاتا ہے وہ اپنے لئے بنی نوع کی ہمدردی کی بنیاد ڈالتا ہے کیونکہ ایک بیوی بہت سے رشتوں کا موجب ہو جاتی ہے اور بچے پیدا ہوتے ہیں ان کی بیویاں آتی ہیں اور بچوں کی نانیاں اور بچوں کے ماموں وغیرہ ہوتے ہیں اور اس طرح پر ایسا شخص خواہ نخواہ محبت اور ہمدردی کا عادی ہو جاتا ہے اور اس کی اس عادت کا دائرہ وسیع ہو کر سب کو اپنی ہمدردی سے حصہ دیتا ہے لیکن جو لوگ جوگیوں کی طرح نشوونما پاتے ہیں ان کو اس عادت کے وسیع کرنے کا کوئی موقع نہیں ملتا۔ اس لئے ان کے دل سخت اور خشک رہ جاتے ہیں۔

اور عصمت کو شفاعت سے کوئی حقیقی تعلق نہیں کیونکہ عصمت کا مفہوم صرف اس حد تک ہے کہ انسان گناہ سے بچے اور گناہ کی تعریف یہ ہے کہ انسان خدا کے حکم کو عمداً توڑ کر لائق سزا ٹھہرے۔ پس صاف ظاہر ہے کہ عصمت اور شفاعت میں کوئی تلازم ذاتی نہیں کیونکہ تعریف مذکورہ بالا کے رو سے نابالغ بچے اور پیدائشی مجنوں بھی معصوم ہیں وجہ یہ کہ وہ اس لائق نہیں ہیں کہ کوئی گناہ عمداً کریں اور نہ وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک کسی فعل کے ارتکاب سے قابل سزا ٹھہرتے ہیں۔ پس بلا شبہ وہ حق رکھتے ہیں کہ ان کو معصوم کہا جائے مگر کیا وہ یہ حق بھی رکھتے ہیں کہ وہ انسانوں کے شفیع ہوں اور مُنَجِّی کہلائیں پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ مُنَجِّی ہونے اور معصوم ہونے میں کوئی حقیقی رشتہ نہیں اور ہرگز عقل سمجھ نہیں سکتی کہ عصمت کو شفاعت سے کوئی حقیقی تعلق ہے ہاں عقل اس بات کو خوب سمجھتی ہے کہ شفیع کے لئے یہ ضروری ہے کہ مذکورہ بالا دو قسم کے تعلق اس میں پائے جائیں اور عقل بلا تردد یہ حکم کرتی ہے کہ اگر کسی انسان میں یہ دو صفتیں موجود ہوں کہ ایک خدا سے تعلق شدید ہو اور دوسری طرف مخلوق سے بھی محبت اور ہمدردی کا تعلق ہو تو بلا شبہ ایسا شخص ان لوگوں کے لئے جنہوں نے عمداً اُس سے تعلق نہیں توڑا دلی جوش سے شفاعت کرے گا اور وہ شفاعت اس کی منظور کی جائے گی کیونکہ جس شخص کی فطرت کو یہ دو تعلق عطا کئے گئے ہیں ان کا لازمی نتیجہ یہی ہے کہ وہ خدا کی محبت تامہ کی وجہ سے اس فیض کو کھینچے اور پھر مخلوق کی محبت تامہ کی وجہ سے وہ فیض ان تک پہنچاوے اور یہی وہ کیفیت ہے جس کو دوسرے لفظوں میں شفاعت کہتے ہیں۔ شخص شفیع کے لئے جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے ضروری ہے کہ خدا سے اس کو ایک ایسا گہرا تعلق ہو کہ گویا خدا اس کے دل میں اترا ہوا ہو اور اس کی تمام انسانیّت مر کر بال بال میں لاہوتی تجلّی پیدا ہو گئی ہو اور اس کی روح پانی کی طرح گداز ہو کر خدا کی طرف بہ نکلی ہو اور اس طرح پر الٰہی قرب کے انتہائی نقطہ پر جا پہنچی ہو۔ اور اسی طرح شفیع کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جس کے لئے وہ شفاعت کرنا چاہتا ہے اس کی ہمدردی میں اس کا دل اڑا جاتا ہو ایسا کہ گویا عنقریب اس پر غشی طاری ہوگی اور گویا شدت قلق سے اس کے اعضا اس سے علیحدہ ہوتے جاتے ہیں اور اس کے حواس منتشر ہیں اور اس کی ہمدردی نے اس کو اس مقام تک پہنچایا ہو کہ جو باپ سے بڑھ کر اور ماں سے بڑھ کر اور ہر ایک غمخوار سے بڑھ کر ہے پس جبکہ یہ دونوں حالتیں اس میں پیدا ہو جائیں گی تو وہ ایسا ہو جائے گا کہ گویا وہ ایک طرف سے لاہوت کے مقام سے جُفت ہے اور دوسری طرف ناسوت کے مقام سے جُفت تب دونوں پلہ میزان اس میں مساوی ہوں گے۔ یعنی وہ مظہر لاہوت کامل بھی ہوگا اور مظہر ناسوت کامل بھی اور بطور برزخ دونوں حالتوں میں واقع ہوگا۔ اس طرح پر............

لاہوت

نقطہ برزخ مقام شفع

ناسوت

اسی مقام شفاعت کی طرف قرآن شریف میں اشارہ فرما کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شفیع ہونے کی شان میں فرمایا ہے دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوۡسَیۡنِ اَوۡ اَدۡنٰی یعنی یہ رسول خدا کی طرف چڑھا اور جہاں تک امکان میں ہے خدا سے نزدیک ہوا اور قرب کے تمام کمالات کو طے کیا اور لاہوتی مقام سے پورا حصہ لیا اور پھر ناسوت کی طرف کامل رجوع کیا یعنی عبودیت کے انتہائی نقطہ تک اپنے تئیں پہنچایا اور بشریت کے پاک لوازم یعنی بنی نوع کی ہمدردی اور محبت سے جو ناسوتی کمال کہلاتا ہے پورا حصہ لیا لہٰذا ایک طرف خدا کی محبت میں اور دوسری طرف بنی نوع کی محبت میں کمال تام تک پہنچا۔ پس چونکہ وہ کامل طور پر خدا سے قریب ہوا اور پھر کامل طور پر بنی نوع سے قریب ہوا اس لئے دونوں طرف کے مساوی قرب کی وجہ سے ایسا ہو گیا جیسا کہ دو قوسوں میں ایک خط ہوتا ہے لہٰذا وہ شرط جو شفاعت کے لئے ضروری ہے اس میں پائی گئی اور خدا نے اپنے کلام میں اس کے لئے گواہی دی کہ وہ اپنے بنی نوع میں اور اپنے خدا میں ایسے طور سے درمیان ہے جیسا کہ وتر دو قوسوں کے درمیان ہوتا ہے۔

اور پھر ایک اور مقام میں اُس کے الہٰی قرب کی نسبت یوں فرمایا قُلۡ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَنُسُکِیۡ وَمَحۡیَایَ وَمَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَیعنی لوگوں کو اطلاع دے دے کہ میری یہ حالت ہے کہ میں اپنے وجود سے بالکل کھویا گیا ہوں میری تمام عبادتیں خدا کے لئے ہو گئی ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہر یک انسان جب تک وہ کامل نہیں خدا کے لئے خالص طور پر عبادت نہیں کر سکتا بلکہ کچھ عبادت اس کی خدا کے لئے ہوتی ہے اور کچھ اپنے نفس کے لئے کیونکہ وہ اپنے نفس کی عظمت اور بزرگی چاہتا ہے جیسا کہ خدا کی عظمت اور بزرگی کرنی چاہئے اور یہی عبادت کی حقیقت ہے اور ایسا ہی ایک حصہ اس کی عبادت کا مخلوق کے لئے ہوتا ہے کیونکہ جس عظمت اور بزرگی اور قدرت اور تصرف کو خدا سے مخصوص کرنا چاہئے اس عظمت اور قدرت کا حصہ مخلوق کو بھی دیتا ہے۔ اس لئے جیسا کہ وہ خدا کی پرستش کرتا ہے نفس اور مخلوق کی بھی پرستش کرتا ہے بلکہ عام طور پر جمیع اسباب سفلیہ کو اپنی پرستش سے حصہ دیتا ہے کیونکہ خدا کے ارادہ اور تقدیر کے مقابل پر ان اسباب کو بھی کارخانہ محو اور اثبات میں دخیل سمجھتا ہے۔ پس ایسا انسان خدا تعالیٰ کا سچا پرستار نہیں ٹھہر سکتا جو کبھی خدا کی عظمت کا اپنے نفس کو شریک ٹھہراتا ہے اور کبھی مخلوق اور کبھی اسباب کو بلکہ سچا پرستار وہ ہے جو خدا کی تمام عظمتیں اور تمام بزرگیاں اور تمام تصرف خدا کو ہی دیتا ہے نہ کسی اور کو۔ اور جب اس مرتبہ توحید پر انسان کی پرستش پہنچ جائے تب اس وقت وہ حقیقی طور پر خدا کا پرستار کہلا سکتا ہے اور ایسا انسان جیسا کہ زبان سے کہتا ہے کہ خدا واحد لاشریک ہے ایسا ہی وہ اپنے فعل سے یعنی اپنی عبادت سے بھی خدا کی توحید پر گواہی دیتا ہے پس اسی مرتبہ کاملہ کی طرف اشارہ ہے جو آیت مذکورہ بالا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا گیا کہ تو لوگوں کو کہہ دے کہ میری تمام عبادتیں خدا کے لئے ہیں یعنی نفس کو اور مخلوق کو اور اسباب کو میری عبادت میں سے کوئی حصہ نہیں۔

اور پھر بعد اس کے فرمایا کہ میری قربانی بھی خاص خدا کے لئے ہے اور میرا جینا بھی خدا کے لئے اور میرا مرنا بھی خدا کے لئے۔ یاد رہے کہ نَسِیْکَہ لغت عرب میں قربانی کو کہتے ہیں اور لفظ نُسُک جو آیت میں موجود ہے اُس کی جمع ہے اور نیز دوسرے معنی اس کے عبادت کے بھی ہیں پس اس جگہ ایسا لفظ استعمال کیا گیا۔ جس کے معنے عبادت اور قربانی دونوں پر اطلاق پاتے ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کامل عبادت جس میں نفس اور مخلوق اور اسباب شریک نہیں ہیں درحقیقت ایک قربانی ہے اور کامل قربانی درحقیقت کامل عبادت ہے اور پھر بعد اس کے جو فرمایا کہ میرا جینا بھی خدا کے لئے ہے اور میرا مرنا بھی خدا کے لئے یہ آخری فقرہ قربانی کے لفظ کی تشریح ہے تا کوئی اس وہم میں نہ پڑے کہ قربانی سے مراد بکرے کی قربانی یا گائے کی قربانی یا اونٹ کی قربانی ہے اور تا اس لفظ سے کہ میرا جینا اور میرا مرنا خاص خدا کے لئے ہے صاف طور پر سمجھا جائے کہ اس قربانی سے مراد روح کی قربانی ہے اور قربانی کا لفظ قرب سے لیا گیا ہے اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کا قرب تب حاصل ہوتا ہے کہ جب تمام نفسانی قویٰ اور نفسانی جنبشوں پر موت آ جائے غرض یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب تام پر ایک بڑی دلیل ہے اور یہ آیت بتلا رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر خدا میں گم اور محو ہو گئے تھے کہ آپ کی زندگی کے تمام انفاس اور آپ کی موت محض خدا کے لئے ہوگئی تھی اور آپ کے وجود میں نفس اور مخلوق اور اسباب کا کچھ حصہ باقی نہیں رہا تھا اور آپ کی روح خدا تعالیٰ کے آستانہ پر ایسے اخلاص سے گری تھی کہ اس میں غیر کی ایک ذرّہ آمیزش نہیں رہی تھی پس اس طرح پر آپ نے اس شرط کے ایک حصہ کو پورا کیا جو شفیع کے لئے ایک لازمی شرط ہے اور آخری فقرہ آیت مذکورہ بالا کا یہ ہے کہ میرا جینا اور مرنا اس خدا کے لئے ہے جو تمام جہان کی پرورش میں لگا ہوا ہے اس میں یہ اشارہ ہے کہ میری قربانی بھی تمام جہان کی بھلائی کے لئے ہے ایسا ہی دوسرا حصہ شرط شفاعت کا ہمدردیٔ مخلوق ہے اور ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ آیت دَنٰی فَتَدَلّٰی کا دوسرا لفظ یعنی تَدَلّٰی اسی ہمدردی پر دلالت کرتا ہے۔ یاد رہے کہ تَدَلّٰی کا ثلاثی مجرّد دَلو ہے اور دَلو کہتے ہیں ڈول کو کوئیں کے اندر ڈبونا تا پانی اس میں بھر جائے اور دوسرے معنے دَلو کے یہ ہیں کہ کسی کو اپنا شفیع پکڑنا۔ پس تَدَلّٰی کے یہ معنی ہیں کہ شفاعت کے لئے دور افتادہ لوگوں کی طرف بکمال ہمدردی و غمخواری توجہ کرنا اور ان سے بہت نزدیک ہو کر ان کا مکدر پانی اٹھانا اور پاک پانی ان کو عطا کرنا۔

اور چونکہ خدا سے محبت کرنا اور اس کی محبت میں اعلیٰ مقام قرب تک پہنچنا ایک ایسا امر ہے جو کسی غیر کو اُس پر اطلاع نہیں ہو سکتی اس لئے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے افعال ظاہر کئے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے درحقیقت تمام چیزوں پر خدا کو اختیار کر لیا تھا اور آپ کے ذرہ ذرہ اور رگ اور ریشہ میں خدا کی محبت اور خدا کی عظمت ایسے رچی ہوئی تھی کہ گویا آپ کا وجود خدا کی تجلّیات کے پورے مشاہدہ کے لئے ایک آئینہ کی طرح تھا۔ خدا کی محبت کاملہ کے آثار جس قدر عقل سوچ سکتی ہے وہ تمام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود تھے۔ یہ ظاہر ہے کہ ایک شخص جو کسی دوسرے شخص سے محبت کرتا ہے وہ یا تو اس کے کسی احسان کی وجہ سے اُس سے محبت کرتا ہے اور یا اُس کے حسن کی وجہ سے کیونکہ جب سے کہ انسان پیدا ہوا ہے اُس وقت سے آج تک تمام بنی آدم کا متفق علیہ یہ تجربہ ہے کہ احسان محبت کی تحریک کرتا ہے اور باوجود اس کے کہ بنی آدم اپنی طبائع میں بہت سا اختلاف رکھتے ہیں تا ہم جمیع افراد انسانی کے اندر یہ خاصیّت پائی جاتی ہے کہ وہ احسان سے ضرور بقدر اپنی استعداد کے متاثر ہو کر محسن کی محبت دل میں پیدا کر لیتے ہیں یہاں تک کہ نہایت خسیس اور سنگدل اور کمینہ فرقہ انسانوں کا جو چور اور ڈاکو اور دیگر جرائم پیشہ لوگ ہیں جو بذریعہ مختلف قسم کے جرائم کے وجہ معاش پیدا کرتے ہیں وہ بھی احسان سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ایک چور جس کا نقب زنی کام ہے اگر اس کو رات کے وقت دو گھروں میں نقب لگانے کا موقع ملے اور ان دونوں میں سے ایک ایسا شخص ہو جو کبھی اس نے اس کے ساتھ نیکی کی تھی اور دوسرا محض اجنبی ہو تو اس چور کی فطرت باوجود سخت ناپاک ہونے کے ہرگز اس بات کو پسند نہیں کرے گی کہ نقب کے وقت اجنبی کے گھر کو تو عمداً چھوڑ دے اور اپنے اس دوست کے گھر میں نقب لگاوے بلکہ انسان تو انسان حیوانات اور درندوں میں بھی یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ وہ احسان کرنے والے پر حملہ نہیں کرتے چنانچہ اس بارہ میں کتے کی سیرت اور خصلت اکثر انسانوں کے تجربہ میں آچکی ہے کہ کس قدر وہ اپنے محسن کی اطاعت اختیار کرتا ہے پس اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ احسان موجب محبت ہے ایسا ہی حسن کا موجب محبت ہونا بھی ظاہر ہے کیونکہ حسن کے مشاہدہ میں ایک لذت ہے اور انسان ایسی چیز کی طرف طبعاً میل کرتا ہے جس سے اس کو لذت پیدا ہوتی ہے اور حسن سے مراد صرف جسمانی نقوش نہیں ہیں کہ آنکھ ایسی ہو اور ناک ایسا ہو اور پیشانی ایسی ہو اور رنگ ایسا ہو بلکہ اس سے مراد ایک ذاتی خوبی اور ذاتی کمال اور ذاتی لطافت ہے جو کمال اعتدال اور بے نظیری سے ایسے مرتبہ پر واقع ہو جو اس میں ایک کشش پیدا ہو جائے پس تمام وہ خوبیاں جن کو انسانی فطرت تعریف میں داخل کرتی ہے حسن میں داخل ہیں اور انسان کا دل ان کی طرف کھنچا جاتا ہے مثلاً ایک شخص ایک ایسا پہلوان بہادر سر آمد روزگار نکلا ہے کہ کوئی شخص کُشتی میں اُس کے ساتھ برابری نہیں کر سکتا اور نہ صرف اسی قدر بلکہ وہ شیروں کو بھی ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور میدان جنگ میں اپنی شجاعت اور طاقت سے ہزار آدمی کو بھی شکست دے سکتا ہے اور ہزاروں دشمنوں کے محاصرہ میں آ کر جان بچا کر نکل جاتا ہے تو ایسا شخص بالطبع دلوں کو اپنی طرف کھینچے گا اور لوگ ضرور اُس سے محبت کریں گے اور گو لوگوں کو اس کی اس بے مثل پہلوانی اور شجاعت سے کچھ بھی فائدہ نہ ہو بلکہ وہ کسی دور دراز ملک کا رہنے والا ہو جس کو دیکھا بھی نہ ہو یا اس زمانہ سے وہ پہلے گزر چکا ہو مگر تاہم لوگ اس کے قصوں کو محبت سے سنیں گے اور اس کے ان کمالات کی وجہ سے اس سے محبت کریں گے سو اس محبت کی کیا وجہ ہے؟!! کیا اس نے کسی پر احسان کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ احسان تو اس نے کسی پر نہیں کیا پس بجز حسن کے اس کی کوئی اور وجہ نہیں پس کچھ شک نہیں کہ یہ تمام روحانی خوبیاں حسن میں داخل ہیں اور اُن کا نام حسنِ اخلاق اور حسنِ صفات ہے جو حسنِ اعضا کے مقابل پر واقع ہے اور احسان میں اور حسن اخلاق اور حسن صفات میں یہ فرق ہے کہ کسی شخص کے نیک خُلق یا نیک صفت کو اُس وقت اور اُس شخص کی نسبت احسان کے نام سے موسوم کیا جائے گا جبکہ ایک شخص اس نیک خلق یا نیک صفت کے اثر سے متمتع ہو جائے اور اس سے کوئی فائدہ اٹھالے پس وہ شخص جو اس نیک خلق یا نیک صفت سے فائدہ اٹھائے گا۔ اس کی نسبت وہ نیک خلق اور نیک صفت احسان ہوگا جس کا ذکر بطور مدح اور شکر کے وہ کرے گا لیکن دوسرے لوگوں کی نسبت وہ نیک خلق اس کا حسن میں داخل ہوگا۔ مثلاً صفت فیاضی اور سخاوت اس شخص کے حق میں احسان ہے جو فیضیاب ہوا مگر دوسروں کی نظر میں حسن صفات سمجھا جائے گا۔

غرض خدا کا قانون قدرت اور ایسا ہی صحیفہ فطرت جس کا سلسلہ قدیم سے اور انسان کی بنیاد کے وقت سے چلا آتا ہے وہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خدا کے ساتھ تعلق شدید پیدا ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کے احسان اور حسن سے تمتع اٹھایا ہو اور ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ احسان سے مراد خدا تعالیٰ کے وہ اخلاقی نمونے ہیں جو کسی انسان نے اپنی ذات کی نسبت بچشم خود دیکھے ہوں مثلاً بیکسی اور عاجزی اور کمزوری اور یتیمی کے وقت میں خدا اس کا متولّی ہوا ہو اور حاجتوں اور ضرورتوں کے وقت میں خدا نے خود اس کی حاجت براری کی ہو اور سخت اور کمر شکن غموں کے وقت میں خدا نے خود اس کی مدد کی ہو اور خدا طلبی کے وقت میں بغیر توسط کسی مرشد اور ہادی کے خود خدا نے اُس کو رہنمائی کی ہو اور حسن سے مراد بھی وہی خدا کی صفات حسنہ ہیں جو احسان کے رنگ میں بھی ملاحظہ ہوتی ہیں۔ مثلاً خدا کی قدرت کاملہ اور وہ رفق اور وہ لطف اور وہ ربوبیت اور وہ رحم جو خدا میں پایا جاتا ہے اور وہ عام ربوبیت اُس کی جو مشاہدہ ہو رہی ہے اور وہ عام نعمتیں اس کی جو انسانوں کے آرام کے لئے بکثرت موجود ہیں اور وہ علم اس کا جس کو انسان نبیوں کے ذریعہ سے حاصل کرتا اور اس کے ذریعہ سے موت اور تباہی سے بچتا ہے اور اس کی یہ صفت کہ وہ بیقراروں درماندوں کی دعائیں قبول کرتا ہے اور اس کی یہ خوبی کہ جو لوگ اس کی طرف جھکتے ہیں وہ اُن سے زیادہ اُن کی طرف جھکتا ہے یہ تمام صفات خدا کی اس کے حسن میں داخل ہیں اور پھر وہی صفات ہیں کہ جب ایک شخص خاص طور پر ان سے فیضیاب بھی ہو جاتا ہے تو وہ اُس کی نسبت احسان بھی کہلاتی ہیں گو دوسرے کی نسبت فقط حُسن میں داخل ہیں۔ اور جو شخص خدا تعالیٰ کی ان صفات کو جو در حقیقت اُس کا حُسن اور جَمال ہے احسان کے رنگ میں بھی دیکھ لیتا ہے تو اُس کا ایمان نہایت درجہ قوی ہو جاتا ہے اور وہ خدا کی طرف ایسا کھنچا جاتا ہے جیسا کہ ایک لوہا آہن رُبا کی طرف کھنچا جاتا ہے اُس کی محبت خدا سے بہت بڑھ جاتی ہے اور اس کا بھروسا خدا پر بہت قوی ہو جاتا ہے اور چونکہ وہ اس بات کو آزما لیتا ہے جو اُس کی تمام بھلائی خدا میں ہے اس لئے اس کی امیدیں خدا پر نہایت مضبوط ہو جاتی ہیں اور وہ طبعًا نہ کسی تکلّف اور بناوٹ سے خدا کی طرف جھکا رہتا ہے اور اپنے تئیں ہر دم خدا سے مدد پانے کا محتاج دیکھتا ہے اور اس کی ان صفات کاملہ کے تصور سے یقین رکھتا ہے کہ وہ ضرور کامیاب ہوگا کیونکہ خدا کے فیض اور کرم اور جود کے بہت سے نمونے اس کا چشم دید مشاہدہ ہوتا ہے اس لئے اس کی دعائیں قُوّت اور یقین کے چشمہ سے نکلتی ہیں اور اس کا عقد ہمت نہایت مضبوط اور مستحکم ہوتا ہے اور آخر کار بمشاہدہ آلاء اور نعماءِ الٰہی کے نُورِ یقین بہت زور کے ساتھ اس کے اندر داخل ہو جاتا ہے اور اس کی ہستی بکلّی جل جاتی ہے اور بباعث کثرت تصوّرِ عظمت اور قُدرتِ الٰہی کے اس کا دل خدا کا گھر ہو جاتا ہے اور جس طرح انسان کی روح اس کے زندہ ہونے کی حالت میں کبھی اس کے جسم سے جدا نہیں ہوتی اسی طرح خدائے قادر ذوالجلال کی طرف سے جو یقین اس کے اندر داخل ہوا ہے وہ کبھی اس سے علیحدہ نہیں ہوتا اور ہر وقت پاک روح اس کے اندر جوش مارتی رہتی ہے اور اُسی پاک روح کی تعلیم سے وہ بولتا اور حقائق اور معارف اُس کے اندر سے نکلتے ہیں اور خدائے ذو العزّت و الجَبُرُوت کی عظمت کا خیمہ ہر وقت اُس کے دل میں لگا رہتا ہے اور یقین اور صدق اور محبت کی لذّت ہر وقت پانی کی طرح اس کے اندر بہتی رہتی ہے جس کی آبپاشی سے ہر یک عضو اس کا سیراب نظر آتا ہے آنکھوں میں ایک جدا سیرابی مشہود ہوتی ہے پیشانی پر الگ ایک نور اُس سیرابی کا لہراتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور چہرہ پر محبت الٰہی کی ایک بارش برستی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور زبان بھی اُس نور کی سیرابی سے پورا حصہ لیتی ہے۔ اسی طرح تمام اعضاء پر ایک ایسی شَگفتگی نظر آتی ہے جیسا کہ ابر بہار کے برسنے کے بعد موسم بہار میں ایک دلکش تازگی درختوں کی ٹہنیوں اور پتوں اور پھولوں اور پھلوں میں محسوس ہوتی ہے لیکن جس شخص میں یہ روح نہیں اُتری اور یہ سیرابی اُس کو حاصل نہیں ہوئی اُس کا تمام جسم مردار کی طرح ہوتا ہے اور یہ سیرابی اور تازگی اور شَگُفتَگی جس کی قلم تشریح نہیں کر سکتی یہ اس مردار دل کو مل ہی نہیں سکتی جس کو نور یقین کے چشمہ نے شاداب نہیں کیا بلکہ ایک طرح کی سڑی ہوئی بد بو اس سے آتی ہے مگر وہ شخص جس کو یہ نور دیا گیا ہے اور جس کے اندر یہ چشمہ پھوٹ نکلا ہے اس کی علامات سے یہ ایک علامت ہے کہ اس کا جی ہر وقت یہی چاہتا ہے کہ ہر یک بات میں اور ہر یک قول میں اور ہر یک فعل میں خدا سے قوّت پاوے اُسی میں اُس کی لذّت ہوتی ہے اور اسی میں اس کی راحت ہوتی ہے وہ اس کے بغیر جی ہی نہیں سکتا۔ اور قوت پانے کے لئے جو الفاظ خدا کے کلام میں مقرر کئے گئے ہیں وہی ہیں جو استغفار کے نام سے مشہور ہیں ۔

استغفار کے حقیقی اور اصلی معنے یہ ہیں کہ خدا سے درخواست کرنا کہ بشریت کی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہو اور خدا فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے اور اپنی حمایت اور نصرت کے حلقہ کے اندر لے لے یہ لفظ غَفُر سے لیا گیا ہے جو ڈھانکنے کو کہتے ہیں سو اس کے یہ معنے ہیں کہ خدا اپنی قوت کے ساتھ شخص مُسْتَغْفِر کی فطرتی کمزوری کو ڈھانک لے۔ لیکن بعد اس کے عام لوگوں کے لئے اس لفظ کے معنے اور بھی وسیع کئے گئے اور یہ بھی مراد لیا گیا کہ خدا گناہ کو جو صادر ہو چکا ہے ڈھانک لے۔ لیکن اصل اور حقیقی معنی یہی ہیں کہ خدا اپنی خدائی کی طاقت کے ساتھ مستغفر کو جو استغفار کرتا ہے فطرتی کمزوری سے بچاوے اور اپنی طاقت سے طاقت بخشے اور اپنے علم سے علم عطا کرے اور اپنی روشنی سے روشنی دے کیونکہ خدا انسان کو پیدا کر کے اس سے الگ نہیں ہوا بلکہ وہ جیسا کہ انسان کا خالق ہے اور اس کے تمام قویٰ اندرونی اور بیرونی کا پیدا کرنے والا ہے ویسا ہی وہ انسان کا قیّوم بھی ہے یعنی جو کچھ بنایا ہے اس کو خاص اپنے سہارے سے محفوظ رکھنے والا ہے پس جبکہ خدا کا نام قیّوم بھی ہے یعنی اپنے سہارے سے مخلوق کو قائم رکھنے والا اس لئے انسان کے لئے لازم ہے کہ جیسا کہ وہ خدا کی خالقیّت سے پیدا ہوا ہے ایسا ہی وہ اپنی پیدائش کے نقش کو خدا کی قیّومیّت کے ذریعہ سے بگڑنے سے بچاوے کیونکہ خدا کی خالقیّت نے انسان پر یہ احسان کیا کہ اس کو خدا کی صورت پر بنایا۔ پس اسی طرح خدا کی قیّومیت نے تقاضا کیا کہ وہ اس پاک نقشِ انسانی کو جو خدا کے دونوں ہاتھوں سے بنایا گیا ہے پلید اور خراب نہ ہونے دے لہٰذا انسان کو تعلیم دی گئی کہ وہ استغفار کے ذریعہ سے اُس کی قیّومیت سے قوت طلب کرے پس اگر دنیا میں گناہ کا وجود بھی نہ ہوتا تب بھی استغفار ہوتا کیونکہ دراصل استغفار اس لئے ہے کہ جو خدا کی خالقیّت نے بشریت کی عمارت بنائی ہے وہ عمارت مسمار نہ ہو اور قائم رہے اور بغیر خدا کے سہارے کے کسی چیز کا قائم رہنا ممکن نہیں۔ پس انسان کے لئے یہ ایک طبعی ضرورت تھی جس کے لئے استغفار کی ہدایت ہے اسی کی طرف قرآن شریف میں یہ اشارہ فرمایا گیا ہے اللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۙ الۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُیعنی وہ خدا ہی ہے جو قابل پرستش ہے کیونکہ وہی زندہ کرنے والا ہے اور اسی کے سہارے سے انسان زندہ رہ سکتا ہے یعنی انسان کا ظہور ایک خالق کو چاہتا تھا اور ایک قیّوم کو تا خالق اس کو پیدا کرے اور قیّوم اس کو بگڑنے سے محفوظ رکھے سو وہ خدا خالق بھی ہے اور قیّوم بھی۔ اور جب انسان پیدا ہو گیا تو خالقیت کا کام تو پورا ہو گیا مگر قیّومیت کا کام ہمیشہ کے لئے ہے اسی لئے دائمی استغفار کی ضرورت پیش آئی غرض خدا کی ہر ایک صفت کے لئے ایک فیض ہے پس استغفار صفت قیّومیت کا فیض حاصل کرنے کے لئے کرتے رہنے کی طرف اشارہ سورۃ فاتحہ کی اس آیت میں ہے اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ یعنی ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی اس بات کی مدد چاہتے ہیں کہ تیری قیّومیت اور ربوبیت ہمیں مدد دے اور ہمیں ٹھوکر سے بچاوے تا ایسا نہ ہو کہ کمزوری ظہور میں آوے اور ہم عبادت نہ کر سکیں۔

اس تمام تفصیل سے ظاہر ہے کہ استغفار کی درخواست کے اصل معنی یہی ہیں کہ وہ اس لئے نہیں ہوتی کہ کوئی حق فوت ہو گیا ہے بلکہ اس خواہش سے ہوتی ہے کہ کوئی حق فوت نہ ہو اور انسانی فطرت اپنے تئیں کمزور دیکھ کر طبعاً خدا سے طاقت طلب کرتی ہے جیسا کہ بچہ ماں سے دودھ طلب کرتا ہے پس جیسا کہ خدا نے ابتدا سے انسان کو زبان آنکھ دل کان وغیرہ عطا کئے ہیں ایسا ہی استغفار کی خواہش بھی ابتدا سے ہی عطا کی ہے اور اس کو محسوس کرایا ہے کہ وہ اپنے وجود کے ساتھ خدا سے مدد پانے کا محتاج ہے اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے وَاسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۡۢبِکَ وَلِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ(محمّد: ۲۰) یعنی خدا سے درخواست کر کہ تیری فطرت کو بشریت کی کمزوری سے محفوظ رکھے اور اپنی طرف سے فطرت کو ایسی قوت دے کہ وہ کمزوری ظاہر نہ ہونے پاوے اور ایسا ہی اُن مردوں اور اُن عورتوں کے لئے جو تیرے پر ایمان لاتے ہیں بطور شفاعت کے دعا کرتا رہ کہ تا جو فطرتی کمزوری سے ان سے خطائیں ہوتی ہیں ان کی سزا سے وہ محفوظ رہیں اور آئندہ زندگی ان کی گناہوں سے بھی محفوظ ہو جائے یہ آیت معصومیت اور شفاعت کے اعلیٰ درجہ کی فلاسفی پر مشتمل ہے اور یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان اعلیٰ درجہ کے مقام عصمت پر اور مرتبہ شفاعت پر تبھی پہنچ سکتا ہے کہ جب اپنی کمزوری کے روکنے کے لئے اور نیز دوسروں کو گناہ کے زہر سے نجات دینے کے لئے ہر دم اور ہر آن دعا مانگتا رہتا ہے اور تضرعات سے خدا تعالیٰ کی طاقت کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور پھر چاہتا ہے کہ اس طاقت سے دوسروں کو بھی حصہ ملے جو بوسیلہ ایمان اس سے پیوند کرتے ہیں۔ معصوم انسان کو خدا سے طاقت طلب کرنے کی اس لئے ضرورت ہے کہ انسانی فطرت اپنی ذات میں تو کوئی کمال نہیں رکھتی بلکہ ہر دم خدا سے کمال پاتی ہے اور اپنی ذات میں کوئی قوت نہیں رکھتی بلکہ ہر دم خدا سے قوت پاتی ہے اور اپنی ذات میں کوئی کامل روشنی نہیں رکھتی بلکہ خدا سے اُس پر روشنی اترتی ہے۔ اس میں اصل راز یہ ہے کہ کامل فطرت کو صرف ایک کشش دی جاتی ہے تا وہ طاقت بالا کو اپنی طرف کھینچ سکے مگر طاقت کا خزانہ محض خدا کی ذات ہے اسی خزانہ سے فرشتے بھی اپنے لئے طاقت کھینچتے ہیں اور ایسا ہی انسان کامل بھی اسی سرچشمۂ طاقت سے عبودیت کی نالی کے ذریعہ سے عصمت اور فضل کی طاقت کھینچتا ہے لہٰذا انسانوں میں سے وہی معصوم کامل ہے جو استغفار سے الٰہی طاقت کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس کشش کے لئے تضرع اور خشوع کا ہر دم سلسلہ جاری رکھتا ہے تا اس پر روشنی اترتی رہے اور ایسے دل کو اس گھر سے تشبیہ دے سکتے ہیں جس کے شرق اور غرب سے اور ہر ایک طرف سے تمام دروازے آفتاب کے سامنے ہیں پس ہر وقت آفتاب کی روشنی اس میں پڑتی ہے لیکن جو شخص خدا سے طاقت نہیں مانگتا وہ اس کوٹھڑی کی مانند ہے جس کے چاروں طرف سے دروازے بند ہیں اور جس میں ایک ذرہ روشنی نہیں پڑ سکتی۔ پس استغفار کیا چیز ہے یہ اس آلہ کی مانند ہے جس کی راہ سے طاقت اترتی ہے تمام راز توحید اسی اصول سے وابستہ ہے کہ صفت عصمت کو انسان کی ایک مستقل جائیداد قرار نہ دیا جائے بلکہ اس کے حصول کے لئے محض خدا کو سر چشمہ سمجھا جائے۔ ذات باری تعالیٰ کو تمثیل کے طور پر دل سے مشابہت ہے جس میں مصفّٰی خون کا ذخیرہ جمع رہتا ہے اور انسانِ کامل کا استغفار ان شرائین اور عروق کی مانند ہے جو دل کے ساتھ پیوستہ ہیں اور خون صافی اس میں سے کھینچتی ہیں اور تمام اعضا پر تقسیم کرتی ہیں جو خون کے محتاج ہیں۔

ذَنُب اور جرم میں فرق

یہ کہنا بالکل غلطی ہے کہ آیت وَّاسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۡۢبِکَ میں ذَنُب کا لفظ موجود ہے جو گناہ کو کہتے ہیں کیونکہ ذَنُب اور جرم میں فرق ہے جرم کا لفظ تو ہمیشہ ایسے گناہ کے لئے آتا ہے جو سزا کے لائق ہوتا ہے مگر ذَنُب کا لفظ بشریت کی کمزوری کے لئے بھی آ جاتا ہے اسی لئے نبیوں پر انسانی کمزوری کی وجہ سے ذَنُب کا لفظ اطلاق پایا ہے مگر جرم کا لفظ اطلاق نہیں پایا اور خدا کی کتاب میں کسی نبی کو مجرم کے لفظ سے نہیں پکارا گیا اور نیز خدا کی کتاب میں یعنی قرآن شریف میں مجرم کے لئے تو جہنم کی وعید ہے یعنی خدا کی طرف سے عہد ہے کہ وہ جہنم میں ڈالا جائے گا مگر مُذْنِبُ کے لئے کوئی وعید نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنۡ یَّاۡتِ رَبَّہٗ مُجۡرِمًا فَاِنَّ لَہٗ جَہَنَّمَ ؕ لَا یَمُوۡتُ فِیۡہَا وَلَا یَحۡیٰی(طٰہٰ: ۷۵) یعنی جو شخص خدا کے پاس مجرم ہو کر آئے گا۔ اس کی سزا جہنم ہے نہ اس میں وہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔ سو اس جگہ خدا نے مُجْرِمًا کہا مُذْنِبًا نہیں کہا کیونکہ بعض صورتوں میں معصوم کو بھی مُذْنِب کہہ سکتے ہیں مگر مجرم نہیں کہہ سکتے اس پر ایک اور دلیل ہے اور وہ یہ ہے کہ سورۃ آل عمران میں یہ آیت ہے وَاِذۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیۡتُکُمۡ مِّنۡ کِتٰبٍ وَّحِکۡمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمۡ لَتُؤۡمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنۡصُرُنَّہٗ ؕ قَالَ ءَاَقۡرَرۡتُمۡ وَاَخَذۡتُمۡ عَلٰی ذٰلِکُمۡ اِصۡرِیۡ ؕ قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا(ال عمران: ۸۲) اس آیت سے بنصِّ صریح ثابت ہوا کہ تمام انبیاء جن میں حضرت مسیح بھی شامل ہیں مامور تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاویں اور انہوں نے اقرار کیا کہ ہم ایمان لائے اور پھر جب آیت وَاسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۡۢبِکَ وَلِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ(محمّد: ۲۰) کو اس آیت کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے اور ذَنْب سے مراد نعوذ باللہ جرم لیا جائے تو حضرت عیسیٰ بھی اس آیت کی رو سے مجرم ٹھہریں گے کیونکہ وہ بھی اس آیت کی رو سے ان مومنین میں داخل ہیں جو آنحضرت پر ایمان لائے پس بلاشبہ وہ بھی مُذْنِب ٹھہرے۔ یہ مقام عیسائیوں کو غور سے دیکھنا چاہئے۔ پس ان آیات سے بوضاحت تمام ثابت ہوا کہ اس جگہ ذَنْب بمعنی جرم نہیں ہے بلکہ انسانی کمزوری کا نام ذَنْب ہے جو قابل الزام نہیں۔ اور مخلوق کی فطرت کے لئے ضروری ہے کہ یہ کمزوری اس میں موجود ہو اور کمزوری کا نام اس لئے ذَنْب رکھا ہے کہ انسان کی فطرت میں طبعًا یہ قصور اور کمی واقع ہے تا وہ ہر وقت خدا کا محتاج رہے اور تا اس کمزوری کے دبانے کے لئے ہر وقت خدا سے طاقت مانگتا رہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ بشری کمزوری ایک ایسی چیز ہے کہ اگر خدا کی طاقت اس کے ساتھ شامل نہ ہو تو نتیجہ اس کا بجز ذَنْب کے اور کچھ نہیں پس جو چیز مُوصِل اِلی الذَنب ہے بطور استعارہ اس کا نام ذَنب رکھا گیا اور یہ محاورہ شائع متعارف ہے کہ جو اعراض بعض امراض کو پیدا کرتے ہیں کبھی انہیں اعراض کا نام امراض رکھ دیتے ہیں پس کمزوریٔ فطرت بھی ایک مرض ہے جس کا علاج استغفار ہے۔

غرض خدا کی کتاب نے بشریت کی کمزوری کو ذَنب کے محل پر استعمال کیا ہے اور خود گواہی دی ہے کہ انسان میں فطرتی کمزوری ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَخُلِقَ الۡاِنۡسَانُ ضَعِیۡفًا یعنی انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے یہی کمزوری ہے کہ اگر الٰہی طاقت اس کے ساتھ شامل نہ ہو تو انواع اقسام کے گناہوں کا موجب ہو جاتی ہے پس استغفار کی حقیقت یہ ہے کہ ہر وقت اور ہر دم اور ہر آن خدا سے مدد مانگی جائے اور اس سے درخواست کی جائے کہ بشریت کی کمزوری جو بشریت کا ایک ذَنب ہے جو اس کے ساتھ لگا ہوا ہے ظاہر نہ ہو سو مداومت استغفار دلیل اس بات پر ہے کہ اس ذَنب پر فتح پائی اور وہ ظہور میں نہ آ سکا اور خدا کا نور اترا اور اس کو دبا لیا۔ اس جگہ یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ استغفار کا لفظ غَفر سے نکلا ہے اور اس کے اصل معنی دبانے اور ڈھانکنے کے ہیں یعنی یہ درخواست کرنا کہ بشریت کی کمزوری ظاہر ہو کر کوئی نقصان نہ پہنچاوے اور وہ ڈھکی رہے کیونکہ بشر چونکہ خدا نہیں ہے اور نہ خدا سے مستغنی ہے اس لئے وہ اس بچہ کی طرح ہے جو ہر قدم میں ماں کا محتاج ہوتا ہے تا وہ اس کو گرنے سے بچاوے اور ٹھوکر سے محفوظ رکھے ایسا ہی یہ بھی ہر قدم میں خدا کا محتاج ہوتا ہے تا وہ اس کو ٹھوکر اور لغزش سے بچاوے سو اس علاج کے لئے استغفار ہے۔

اور کبھی یہ لفظ توسّع کے طور پر ان لوگوں پر بھی اطلاق پاتا ہے جو اوّل کسی گناہ کے مرتکب ہو جاتے ہیں اور اس جگہ استغفار کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ جو گناہ صادر ہو چکا ہے اس کی سزا سے خدا بچاوے لیکن یہ دوسرے معنی خدا کے مقرب لوگوں کے حق میں درست اور روا نہیں ہیں وجہ یہ کہ خدا نے تو پہلے سے ان پر ظاہر کیا ہوا ہوتا ہے کہ وہ کوئی سزا نہیں پائیں گے اور جنت کے اعلیٰ مقام ان کو ملیں گے اور خدا کی رحمت کی گود میں وہ بٹھائے جائیں گے اور نہ ایک دفعہ بلکہ صد ہا دفعہ ایسے وعدے ان کو دئے جاتے ہیں اور ان کو بہشت دکھایا جاتا ہے پھر اگر وہ ان معنوں کے رو سے استغفار کریں کہ وہ اپنے گناہوں کے سبب سے دوزخ میں نہ پڑیں تو ایسا استغفار تو خود ان کے لئے ایک گناہ ہو گا کہ وہ خدا کے وعدوں پر یقین نہیں کرتے اور خدا کی رحمت سے اپنے تئیں دور سمجھتے ہیں پھر ایسا شخص جس کے حق میں خدا تعالیٰ یہ فرماوے وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ یعنی تمام دنیا کے لئے تجھے ہم نے رحمت کر کے بھیجا ہے اور تو رحمت مجسم ہے۔ وہ اگر اپنی نسبت ہی یہ شک کرے کہ خدا کی رحمت میرے شامل ہوگی یا نہیں تو پھر دوسروں کے لئے کیونکر رحمت کا باعث ہوگا۔

یہ تمام قرینے ان لوگوں کے لئے جو انصاف سے سوچتے ہیں صریح اس حقیقت کو کھولتے ہیں جو استغفار کے دوسرے معنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا سخت خطا کاری اور شرارت ہے بلکہ معصوم کے لئے اول علامت یہی ہے کہ وہ سب سے زیادہ استغفار میں مشغول رہے اور ہر آن اور ہر حالت میں بشریت کی کمزوری سے محفوظ رہنے کے لئے خدا تعالیٰ سے طاقت طلب کرتا رہے جس کو دوسرے لفظوں میں استغفار کہتے ہیں کیونکہ اگر ایک بچہ ہر وقت ماں کے ہاتھ کے سہارے سے چلتا ہے اور روا نہیں رکھتا کہ ایک سیکنڈ بھی ماں سے دور ہو وہ بچہ بلاشبہ ٹھوکر سے بچ رہے گا لیکن وہ بچہ جو ماں سے علیحدہ ہو کر چلتا ہے اور خود بخود کبھی کسی خوفناک زینہ پر چڑھتا ہے اور کبھی کسی خوفناک زینہ سے اترتا ہے وہ ضرور ایک دن گرے گا اور اس کا گرنا سخت ہوگا۔ پس جس طرح خوش قسمت بچہ کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ اپنی پیاری ماں سے ہرگز علیحدگی اختیار نہ کرے اور ہرگز اس کی گود سے جدا نہ ہو اور اس کے دامن کو نہ چھوڑے یہی عادت ان مبارک مقدسوں کی ہوتی ہے کہ وہ خدا کے آستانہ پر ایسے جاپڑتے ہیں جیسا کہ ماں کی گود میں بچے اور جیسا کہ ایک بچہ اپنا تمام کام اپنی ماں کی طاقت سے نکالتا ہے اور ہر ایک دوسرا بچہ جو اس سے مخالفت کرتا ہے یا کوئی کتا اس کے سامنے آتا ہے یا کوئی اور خوف نمودار ہوتا ہے یا کسی لغزش کی جگہ پر اپنے تئیں پاتا ہے تو فی الفور اپنی ماں کو پکارتا ہے تا وہ جلد تر اس کی طرف دوڑے اور اس آفت سے اس کو بچاوے۔ یہی حال ان روحانی بچوں کا ہوتا ہے کہ بعینہٖ اپنے ربّ کو ماں کی طرح سمجھ کر اس کی طاقتوں کو اپنا ذخیرہ سمجھتے ہیں اور ہر وقت اور ہر دم اس کی طاقتوں کو طلب کرتے رہتے ہیں اور جس طرح شیر خوار بچہ جب بھوک کے وقت اپنا منہ اپنی ماں کے پستان پر رکھ دیتا ہے اور اپنی طبعی کشش سے دودھ کو اپنی طرف کھینچنا چاہتا ہے تو جبھی کہ ماں محسوس کرتی ہے کہ گریہ اور زاری کے ساتھ اس بچہ کے نرم نرم ہونٹ اس کے پستان پر جا لگے ہیں تو طبعاً اس کا دودھ جوش مارتا ہے اور اس بچہ کے منہ میں گرتا جاتا ہے پس یہی قانون ان بچوں کے لئے بھی ہے جو روحانی دودھ کے طالب اور جویاں ہیں۔

ضرورت شفاعت

ممکن ہے کہ اس جگہ کوئی شخص یہ سوال بھی پیش کرے کہ انسان کو شفاعت کی کیوں ضرورت ہے اور کیوں جائز نہیں کہ ایک شخص براہِ راست توبہ اور استغفار کر کے خدا سے معافی حاصل کرلے۔ اس سوال کا جواب قانون قدرت خود دیتا ہے کیونکہ یہ بات مسلّم ہے اور کسی کو اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ انسان بلکہ تمام حیوانات کی نسل کا سلسلہ شفاعت پر ہی چل رہا ہے کیونکہ ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ شفاعت کا لفظ شفع سے نکلا ہے جس کے معنی جفت ہے پس اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ تمام برکات تناسل شفع سے ہی پیدا ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ ایک انسان کے اخلاق اور قوت اور صورت دوسرے انسان میں اسی ذریعہ سے آجاتے ہیں یعنی وہ ایک جوڑ کا ہی نتیجہ ہوتا ہے ایسا ہی ایک حیوان جو دوسرے سے پیدا ہوتا ہے مثلاً بکری بیل گدھا وغیرہ وہ تمام قویٰ جو ایک حیوان سے دوسرے حیوان میں منتقل ہوتے ہیں وہ بھی درحقیقت ایک جوڑ کا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔ پس یہی جوڑ جب ان معنوں سے لیا جاتا ہے کہ ایک ناقص ایک کامل سے روحانی تعلق پیدا کر کے اس کی روح سے اپنی کمزوری کا علاج پاتا ہے اور نفسانی جذبات سے محفوظ رہتا ہے تو اس جوڑ کا نام شفاعت ہے جیسا کہ چاند سورج کے مقابل ہو کر ایک قسم کا اتحاد اور جوڑ اس سے حاصل کرتا ہے تو معاً اس نور کو حاصل کر لیتا ہے جو آفتاب میں ہے اور چونکہ اس روحانی جوڑ کو جو پُر محبت دلوں کو انبیاء کے ساتھ حاصل ہوتا ہے اس جسمانی جوڑ سے ایک مناسبت ہے جو زید کو مثلاً اپنے باپ سے ہے اس لئے یہ روحانی فیضیاب بھی خدا کے نزدیک اولاد کہلاتی ہے اور اس تولّد کو کامل طور پر حاصل کرنے والے وہی نقوش اور اخلاق اور برکات حاصل کر لیتے ہیں جو نبیوں میں موجود ہوتے ہیں پس دراصل یہی حقیقت شفاعت ہے اور جس طرح جسمانی شفع یعنی جوڑ کا یہ لازمہ ذاتی ہے کہ اولاد مناسب حال اس شخص کے ہوتی ہے جس سے یہ جوڑ کیا گیا ہے ایسا ہی روحانی شفع کا بھی خاصہ ہے۔ غرض یہی حقیقت شفاعت ہے کہ خدا کا قانون قدرت جسمانی اور روحانی اس طرح پر قدیم سے واقع ہے کہ تمام برکات جوڑ سے ہی پیدا ہوتی ہیں صرف یہ فرق ہے کہ ایک قسم کو شفع کہا گیا ہے اور دوسری قسم کا نام شفاعت رکھا گیا اور انسان کو جس طرح کہ سلسلہ تناسل کے محفوظ رکھنے کے لئے شفع کی ضرورت ہے ایسا ہی روحانیت کا سلسلہ باقی رکھنے کے لئے شفاعت کی ضرورت ہے اور خدا کے کلام نے دونوں قسموں کو بیان فرما دیا ہے۔ جیسا کہ ایک جگہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں یہ فرماتا ہے کہ خدا نے آدم کو جوڑا پیدا کیا اور پھر اس جوڑا سے بہت سی مخلوق مرد اور عورت پیدا کئے اور ایسا ہی فرماتا ہے کہ خدا نے زمین پر اپنا خلیفہ پیدا کیا جو آدم تھا جس میں خدائی روح تھی پھر وہ نور آدم سے دوسرے نبیوں میں منتقل ہوتا گیا اور ابراہیم اور اسحاق اور اسماعیل اور یعقوب اور موسیٰ اور داؤد اور عیسیٰ وغیرہ سب اس نور کے وارث ہوئے یہاں تک کہ آخری وارث ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے پس ان تمام پاک نبیوں نے جیسا کہ آدم سے وارثت میں جسمانی نقوش پائے ایسا ہی بحیثیت خلیفہ ہونے آدم کے اس سے خدائی روح بھی پایا پھر ان کے ذریعہ سے وقتاً فوقتاً اور لوگ بھی وارث ہوتے گئے ۔

قرآن شریف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا ثبوت

اور قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے بارے میں مختلف مقامات میں ذکر فرمایا گیا ہے جیسا کہ ایک جگہ فرماتا ہے قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَیَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ۔ ترجمہ۔ کہہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے اور تمہارے گناہ بخشے۔ اب دیکھو کہ یہ آیت کس قدر صراحت سے بتلا رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا جس کے لوازم میں سے محبت اور تعظیم اور اطاعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے اس کا ضروری نتیجہ یہ ہے کہ انسان خدا کا محبوب بن جاتا ہے اور اس کے گناہ بخشے جاتے ہیں یعنی اگر کوئی گناہ کی زہر کھا چکا ہے تو محبت اور اطاعت اور پیروی کے تریاق سے اس زہر کا اثر جاتا رہتا ہے اور جس طرح بذریعہ دوا مرض سے ایک انسان پاک ہو سکتا ہے ایسا ہی ایک شخص گناہ سے پاک ہو جاتا ہے اور جس طرح نور ظلمت کو دور کرتا ہے اور تریاق زہر کا اثر زائل کرتا ہے اور آگ جلاتی ہے ایسا ہی سچی اطاعت اور محبت کا اثر ہوتا ہے۔ دیکھو آگ کیونکر ایک دم میں جلا دیتی ہے۔ پس اسی طرح پُر جوش نیکی جو محض خدا کا جلال ظاہر کرنے کے لئے کی جاتی ہے وہ گناہوں کے خس و خاشاک کو بھسم کرنے کے لئے آگ کا حکم رکھتی ہے جب ایک انسان سچے دل سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہے اور آپ کی تمام عظمت اور بزرگی کو مان کر پورے صدق اور صفا اور محبت اور اطاعت سے آپ کی پیروی کرتا ہے یہاں تک کہ کامل اطاعت کی وجہ سے فنا کے مقام تک پہنچ جاتا ہے تب اس تعلق شدید کی وجہ سے جو آپ کے ساتھ ہو جاتا ہے وہ الٰہی نور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اترتا ہے اس سے یہ شخص بھی حصہ لیتا ہے تب چونکہ ظلمت اور نور کی باہم منافات ہے وہ ظلمت جو اس کے اندر ہے دور ہونی شروع ہو جاتی ہے یہاں تک کہ کوئی حصہ ظلمت کا اس کے اندر باقی نہیں رہتا اور پھر اس نور سے قوت پا کر اعلیٰ درجہ کی نیکیاں اس سے ظاہر ہوتی ہیں اور اس کے ہر یک عضو میں سے محبت الٰہی کا نور چمک اٹھتا ہے تب اندرونی ظلمت بکلّی دور ہو جاتی ہے اور علمی رنگ سے بھی اس میں نور پیدا ہو جاتا ہے اور عملی رنگ سے بھی نور پیدا ہو جاتا ہے آخر ان نوروں کے اجتماع سے گناہ کی تاریکی اس کے دل سے کوچ کرتی ہے یہ تو ظاہر ہے کہ نور اور تاریکی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے لہٰذا ایمانی نور اور گناہ کی تاریکی بھی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے اور اگر ایسے شخص سے اتفاقاً کوئی گناہ ظہور میں نہیں آیا تو اس کو اس اتباع سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ آئندہ گناہ کی طاقت اس سے مسلوب ہو جاتی ہے اور نیکی کرنے کی طرف اس کو رغبت پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ اس کی نسبت اللہ تعالیٰ آپ قرآن شریف میں فرماتا ہے حَبَّبَ اِلَیۡکُمُ الۡاِیۡمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ وَکَرَّہَ اِلَیۡکُمُ الۡکُفۡرَ وَالۡفُسُوۡقَ وَالۡعِصۡیَانَ۔ کہ خدا نے تم پر پاک روح نازل کر کے ہر یک نیکی کی تم کو رغبت دی اور کفر اور فسق اور عصیان تمہاری نظر میں مکروہ کر دیا۔

لیکن اگر اس جگہ یہ سوال ہو کہ وہ نور جو بذریعہ نبی علیہ السلام کے پیروی کرنے والے کو ملتا ہے جس سے گناہ کے جذبات دور ہو جاتے ہیں وہ کیا چیز ہے سو اس سوال کا یہ جواب ہے کہ وہ ایک پاک معرفت ہے جس کے ساتھ کوئی تاریکی شک اور شبہ کی نہیں۔ اور وہ ایک پاک محبت ہے جس کے ساتھ کوئی نفسانی غرض نہیں۔ اور وہ ایک پاک لذت ہے جو تمام لذتوں سے بڑھ کر ہے جس کے ساتھ کوئی کثافت نہیں۔ اور وہ ایک زبردست کشش ہے جس پر کوئی کشش غالب نہیں۔ اور ایک قوی الاثر تریاک ہے جس سے تمام اندرونی زہریں دور ہوتی ہیں۔ یہ پانچ چیزیں ہیں جو نور کے طور پر روح القدس کے ساتھ سچی پیروی کرنے والے کے دل پر نازل ہوتی ہیں پس ایسا دل نہ صرف گناہ سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے بلکہ طبعًا اس سے متنفر بھی ہو جاتا ہے۔ ان پانچ۵ چیزوں کی طاقت کا جدا جدا بیان تو بہت طول چاہتا ہے مگر صرف پاک معرفت کی خاصیتوں کو کسی قدر تفصیل سے بیان کرنا اس حقیقت کے سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ کیونکر پاک معرفت گناہ سے روکتی ہے۔

یہ تو ظاہر ہے کہ انسان بلکہ حیوان بھی ہر یک نقصان رساں چیز کی نسبت علم صحیح اور یقینی پا کر پھر اس کے نزدیک نہیں جا سکتا۔ چور کو اگر یہ اطلاع ہو کہ جس جگہ میں نقب لگانا چاہتا ہوں اس جگہ مخفی طور پر ایک جماعت کھڑی ہے جو عین نقب زنی کی حالت میں مجھے پکڑ لے گی تو وہ ہرگز اس بات پر جرأت نہیں کر سکتا کہ نقب لگاوے بلکہ اگر ایک پرند بھی اس بات کو تاڑ جائے کہ یہ چند دانہ جو میرے لئے زمین پر پھیلائے گئے ہیں ان کے نیچے دام ہے تو وہ ان دانوں کے نزدیک نہیں آتا ایسا ہی اگر مثلًا ایک نہایت عمدہ لطیف کھانا پکایا گیا ہو مگر کسی شخص کو یہ علم ہو جائے کہ اس کھانے میں زہر ہے تو وہ کبھی اس کھانے کے نزدیک نہیں آتا پس ان تمام مشاہدات سے صاف ظاہر ہے کہ انسان جب ایک موذی اور نقصان رساں چیز کی نسبت پورا علم حاصل کر لے تو کبھی اس چیز کی طرف رغبت نہیں کرتا بلکہ اس کی شکل سے بھاگتا ہے لہٰذا یہ امر قابل تسلیم ہے کہ اگر انسان کو کسی ذریعہ سے اس بات کا علم ہو جائے کہ گناہ ایسی مہلک زہر ہے جو فی الفور ہلاک کرتی ہے تو بلا شبہ بعد اس علم کے انسان گناہ کا مرتکب ہرگز نہیں ہوگا لیکن اس جگہ طبعًا یہ سوال پیش ہوتا ہے کہ وہ ذریعہ کونسا ہے۔ کیا عقل یہ ذریعہ ہو سکتی ہے۔ تو اس کا یہی جواب ہے کہ عقل ہرگز کامل ذریعہ نہیں ہو سکتی جب تک کوئی آسمانی مدد گار نہ ہو کیونکہ دل میں یہ یقین ہونا کہ گناہ کے لئے واقعی ایک سزا ہے جس سے انسان بھاگ نہیں سکتا۔ یہ یقین کامل طور پر اس وقت ہو سکتا ہے کہ جب کامل طور پر معلوم ہو کہ خدا بھی ہے جو گناہ پر سزا دے سکتا ہے لیکن مجرد عقلمند جس کو آسمان سے کوئی روشنی نہیں ملی خدا تعالیٰ پر کامل طور پر یقین نہیں کر سکتا کیونکہ اس نے خدا کے کلام کو نہیں سنا اور نہ اس کے چہرہ کو دیکھا اس لئے اس کو خدا تعالیٰ کی نسبت بشرطیکہ وہ زمین و آسمان کی مخلوقات پر غور کر کے صحیح نتیجہ تک پہنچ سکے صرف اس قدر علم ہو سکتا ہے کہ ان تمام مصنوعات کا کوئی صانع ہونا چاہئے لیکن اس یقینی قطعی علم تک نہیں پہنچ سکتا کہ وہ صانع موجود بھی ہے اور ظاہر ہے کہ ہونا چاہئے اور ہے میں بڑا فرق ہے یعنی جو شخص صرف اسی قدر علم رکھتا ہے کہ فقط ہونا چاہئے کے مرتبہ پر آ کر ٹھہر گیا ہے پھر ماوراء اس کے اس کی نظر کے سامنے تاریکی ہی تاریکی ہے وہ اس شخص کی مانند اپنے علم کی رو سے ہرگز نہیں کہ جو اس صانع حقیقی کی نسبت صرف یہ نہیں کہتا کہ ہونا چاہئے بلکہ اس نور کی شہادت سے جو اس کو دیا گیا ہے محسوس بھی کر لیتا ہے کہ وہ ہے بھی اور یہ نہیں کہ صرف وہ آسمانی نور سے خدا کی ہستی کا مشاہدہ کرتا ہے بلکہ اس آسمانی نور کی ہدایت سے اس کے عقلی اور ذہنی قویٰ بھی ایسے تیز کئے جاتے ہیں کہ اس کا قیاسی استدلال بھی اعلیٰ سے اعلیٰ ہوتا ہے پس وہ دوہری قوت سے خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین رکھتا ہے۔ اس جگہ آسمانی نور سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا یقینی مکالمہ اسے نصیب ہوتا ہے یا صاحب مکالمہ سے نہایت شدید اور گہرا تعلق اس کو ہوتا ہے اور مکالمہ الہیہ سے یہ مراد نہیں ہے کہ عام لوگوں کی طرح ظنی طور پر وہ الہام کا دعویٰ کرتا ہے کیونکہ ظنی الہام کچھ چیز نہیں ہے بلکہ وہ عقل سے بھی نیچے گرا ہوا ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ درحقیقت وہ یقینی اور قطعی طور پر خدا تعالیٰ کی ایسی پاک اور کامل وحی ہوتی ہے جس کے ساتھ آسمانی نشان ایک لازمی امر کی طرح ہوتے ہیں اور وہ وحی اپنی ذات میں نہایت شوکت اور عظمت رکھتی ہے اور اپنے پُر رعب اور لذیذ الفاظ کے ساتھ ایک فولادی میخ کی طرح دل کے اندر گھس جاتی ہے اور اس پر خدا کے نشانوں اور فوق العادت علامات کی ایک چمکتی ہوئی مہر ہوتی ہے اور انسان کو خدا پر پورا یقین حاصل کرنے کے لئے یہ ایک پہلی ضرورت ہے کہ ایسی وحی سے بذات خود فیضیاب ہو یا ایک فیضیاب سے تعلق شدید رکھتا ہو جو روحانی تاثیر سے دلوں کو اپنی طرف کھینچنے والا ہو پس ہر یک مذہب جو یہ تازہ بتازہ وحی جو زندہ نشان اپنے ساتھ رکھتی ہے پیش نہیں کر سکتا وہ ان بوسیدہ ہڈیوں کی مانند ہے جو خاک نے قریباً ان کو خاک کی مانند کر دیا ہے اور ایسے مذہب سے ہرگز ممکن نہیں کہ کوئی سچی تبدیلی پیدا کر سکے اور اس پر فخر اور ناز کرنے والے صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو محض باپ دادوں کی لکیر پر چلنا چاہتے ہیں اور حق جوئی کی ان کی روح میں کوئی خواہش نہیں اور نہ ایسی خواہش کے وہ آرزومند ہیں بلکہ شدت تعصب اور گمراہی کے پیار سے ان کی اندرونی حالت کی ایک کایا پلٹ ہو رہی ہے ان کو اس بات کی پروا نہیں کہ وہ کیونکر یقینی طور پر خدا پر ایمان لا سکتے ہیں اور وہ خدا کن صفات کا ہونا چاہئے جس پر یقینی ایمان آ سکتا ہے اور وہ کونسے امور ہیں جو خدا تعالیٰ کی ہستی کی نسبت یقین کو پیدا کر سکتے ہیں اور نیز یقین کی علامات کیا ہیں جو صاحبِ یقین کے لئے بطور امتیازی نشان کے ہوتی ہیں۔ یاد رہے کہ اگرچہ کوئی مذہب کسی حد تک معقولیت کے رنگ میں ہو اور ظاہری تہذیب اور شائستگی سے موصوف بھی ہو لیکن صرف اسی حد تک نہیں کہا جائے گا کہ وہ مذہب خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کی صفات کی نسبت یقین کے مرتبہ تک پہنچاتا ہے بلکہ دنیا کے تمام مذہب اس وقت تک سراسر لغو اور بے فائدہ اور بیہودہ اور بے جان اور مردہ ہیں جب تک کہ ایک سالک کو یقین کے صافی چشمہ تک نہ پہنچاویں۔

افسوس کہ اکثر لوگ نہیں سمجھتے کہ خدا کے وجود اور اس کی ہستی اور اس کی عظمت اور قدرت اور دیگر صفاتِ حسنہ پر یقین لانا کیا چیز ہے بلکہ اگر ان کی حالت پر افسوس سے یہ رائے ظاہر کی جائے کہ وہ چشمۂ صافیہ یقین سے بے نصیب ہیں لہٰذا وہ سچی پاکیزگی سے بھی بے نصیب ہیں جو یقین کے بعد حاصل ہوتی ہے تو وہ اس بات سے بہت غصہ کرتے ہیں اور جوش میں آ کر کہتے ہیں کہ کیا ہم خدا پر یقین نہیں رکھتے کیا ہم اس کو نہیں مانتے پس ان تمام باتوں کا یہی جواب ہے کہ درحقیقت نہ تم خدا پر یقین رکھتے ہو اور نہ اس کو مانتے ہو۔ افسوس کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایک سوراخ پر جو ان کو دلی یقین ہوتا ہے کہ اس میں ایک زہریلا سانپ ہے وہ اس میں اپنا ہاتھ نہیں ڈالتے کیونکہ اس میں اپنی ہلاکت دیکھتے ہیں لیکن وہ ہر یک گناہ دلیری سے کر لیتے ہیں وہ ایک ہلاہل زہر کو نہیں کھاتے کیونکہ جانتے ہیں کہ ہم مرجائیں گے لیکن بڑے بڑے خوفناک جرائم ان سے ظہور میں آتے ہیں بلکہ یقین تو یقین ظن غالب کے مرتبہ پر بھی وہ کسی ایسے فعل کا ارتکاب نہیں کرتے جس سے کسی ضرر کا احتمال ہے مثلاً وہ کسی ایسی چھت کے نیچے سونا پسند نہیں کرتے جس کا شہتیر کسی قدر ٹوٹ گیا ہے وہ کسی ایسے گاؤں میں رہنا نہیں چاہتے جس میں ہیضہ یا طاعون شروع ہوگئی ہے پھر کیا باعث ہے کہ باوجود دعویٰ یقین کے خدا تعالیٰ کے حکموں کو توڑتے ہیں پس یقیناً سمجھو کہ حق یہی بات ہے کہ درحقیقت ان کو یقین نہیں بلکہ ان کو یہ ظن غالب بھی نہیں کہ ایک مقتدر ذات موجود ہے جو ایک دم میں ہلاک کرسکتی ہے۔

عیسائیوں کا خدا

آج کل یہ بیماری کسی خاص فرقہ سے مخصوص نہیں بلکہ جیسے عیسائیوں میں ہے ایسا ہی مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ہے اور بقدر مراتب مشرقی لوگوں نے بھی اس سے حصہ لیا ہے جیسا کہ مغربی لوگوں میں مسلمانوں اور عیسائیوں میں فرق یہ ہے کہ مسلمان تو لاپروائی سے سچے اور قادر خدا سے لاپروا ہیں تاہم ہمیشہ خدا اپنا نور ان پر ظاہر کرتا رہتا ہے اور ہر زمانہ میں ان کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور بہت سے سعادت کے فرزند اس نور سے حصہ لیتے ہیں لیکن عیسائی تو مدت ہوئی کہ اس خدا کو کھو بیٹھے ہیں جس پر یقین آنے سے پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور اس کی عظمت اور جلال کے تصور سے در حقیقت گناہ سے سچی بیزاری پیدا ہو جاتی ہے اور یہ لوگ بجائے اس حیّ قیّوم کے ایک عاجز انسان کو جو مریم کا بیٹا اور یسوع کہلاتا ہے خدا قرار دیتے ہیں حالانکہ نہ وہ دعاؤں کا جواب دے سکتا ہے اور نہ خود کسی کو پکار سکتا ہے اور نہ کوئی اپنی عظمت اور قدرت ظاہر کر سکتا ہے پس اس کے ذریعہ سے اگر سچی پاکیزگی حاصل ہو تو کیونکر ہو اس کی قدرت کے نمونے جو کتابوں میں لکھے ہیں وہی ہیں جو اس نے یہودیوں کے ہاتھ سے طرح طرح کے دکھ اٹھائے تمام رات کی دعا قبول نہ ہوئی ماں پر قابل شرم الزام قائم ہوا اس کی مدافعت کسی خدائی چمکار سے نہ کر سکا اس کے معجزات میں اگر وہ صحیح بھی مان لئے جائیں کوئی ایسی خوبی نہیں جو دوسرے انبیاء کے معجزات میں نہ ہو بلکہ ایلیا نبی کے معجزات اور اس کا مُردے زندہ کرنا یہ کمال قدرت مسیح کے معجزات سے بہت بڑھ کر ہے ایسا ہی یسعیاہ نبی کے معجزات بھی در حقیقت بعض ایسے ہیں کہ مسیح کے معجزات کو ان سے کچھ بھی نسبت نہیں اور حضرت مسیح کی پیشگوئیاں تو نہایت ردّی حالت میں ہیں کہ بجائے اس کے کہ ان سے کوئی نیک اثر دلوں پر پڑے ان کو پڑھ کر ہنسی آتی ہے کہ یہ کس قسم کی پیشگوئیاں ہیں کہ قحط پڑیں گے، زلزلے آئیں گے، لڑائیاں ہوں گی۔ حالانکہ ان پیشگوئیوں سے پہلے بھی ملک میں سب کچھ ہو رہا تھا۔ پس ایسے خدا پر کیونکر ایک عقلمند ایمان لاوے یہ تو پہلے قصے ہیں خدا جانے ان واقعات میں سچ کس قدر ہے اور جھوٹ کس قدر لیکن اس زمانہ کے لوگوں کے لئے اس نئے خدا کے ماننے میں جس کا یہودیوں کی تعلیم میں بھی نام ونشان نہیں اور بھی مشکلات بڑھ گئے ہیں کیونکہ ان لوگوں نے نہ تو مردے زندہ ہوتے بچشم خود دیکھے اور نہ بیماروں میں سے بھوتوں کا نکلنا بچشم خود مشاہدہ کیا اور نہ وہ وعدے پورے ہوئے جو ان کی نسبت کئے گئے تھے یعنی یہ کہ اگر وہ کوئی زہر کھا لیں تو اثر نہیں کرے گی اور اگر ایک پہاڑ کو کہیں کہ ایک جگہ سے اٹھ جائے تو وہ فی الفور اٹھ جائے گا اور سانپوں کو اپنے ہاتھ میں پکڑیں گے اور وہ نہیں کاٹیں گے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر یورپ کے عیسائی خودکشی سے مرتے ہیں فی الفور زہر ان میں اثر کر جاتی ہے اور پہاڑ کا تو کیا ذکر اگر ایک الٹا پڑا ہوا جوتا ہو تو فقط حکم سے اس کو سیدھا نہیں کر سکتے جب تک ہاتھ ہلا کر سیدھا نہ کریں اور سانپ وغیرہ زہریلے جانوروں سے ہمیشہ مرتے رہتے ہیں۔ اب اگر اس کے جواب میں یہ کہا جائے کہ ان آیات کے حقیقی معنے مراد نہیں لینے چاہئیں بلکہ اس جگہ مجازی معنے مراد ہیں مثلاً زہر سے یہ مراد ہے کہ وہ غصہ کھا لیتے ہیں اور سانپوں سے یہ مراد کہ شریران کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تو قبل اس کے کہ ہم ان تاویلوں میں بھی گفتگو کریں ہم حق رکھتے ہیں کہ اس وقت یہ سوال پیش کر دیں کہ جبکہ یہ تمام دعوے جو نشانوں کے لئے دئے گئے اور بار بار حضرت مسیح نے فرمایا کہ جو کچھ میں نشان دکھاتا ہوں میرے پیرو بھی وہی نشان دکھائیں گے صرف استعارہ اور مجاز کے رنگ میں ہیں اور ان سے نشان مراد نہیں ہیں تو اس سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ جو کچھ حضرت مسیح کی طرف معجزات منسوب کئے جاتے ہیں وہ بھی استعارہ کے رنگ میں ہیں کیونکہ حضرت مسیح بار بار انجیلوں میں فرما چکے ہیں کہ جو کچھ مَیں معجزات دکھاتا ہوں وہی معجزات میرے سچے پیرو بھی دکھاتے رہیں گے اب چونکہ ایسے معجزات کے مطالبہ کے وقت یہ جواب ملتا ہے کہ ان مقامات سے مراد معجزات نہیں ہیں بلکہ محض مسیحی لوگوں کی اخلاقی حالتیں مردا ہیں تو کیوں نہ کہا جائے کہ حضرت مسیح کے معجزات سے بھی ایسے ہی امور مراد ہیں نہ درحقیقت معجزات۔ غرض عیسائیوں کے لئے یہ سوال ایک سخت مصیبت کی جگہ ہے جس کا کوئی بھی جواب ان کے پاس نہیں۔ اب اگر اس مقام میں ذرہ زیادہ سوچا جائے تو درحقیقت یہ ایک مصیبت نہیں بلکہ تین مصیبتیں ہیں (۱) ایک تو یہ کہ مسیح کا فرمانا کہ جو کچھ میں معجزات دکھلاتا ہوں وہی معجزات بلکہ ان سے بڑھ کر میرے پیرو بھی دکھائیں گے یہ بات صریح جھوٹی نکلی (۲) دوسری اس جھوٹ نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ مسیح نے بھی کوئی معجزہ نہیں دکھلایا کیونکہ اگر مسیح نے کوئی معجزہ دکھلایا تھا تو ضروری تھا کہ مسیح کے پیرو بھی معجزات دکھلانے پر قادر ہوتے (۳) تیسری اگر فرض محال کے طور پر ہم قبول بھی کر لیں کہ مسیح سے معجزات ظاہر ہوئے تھے اور ان عبارات کی کچھ پروا نہ کریں جہاں انجیلوں میں لکھا ہے کہ اس زمانہ کے حرام کار نشان مانگتے ہیں ان کو کوئی نشان دکھلایا نہیں جائے گا تاہم ایسے معجزات سے جو پہلے نبیوں کے معجزات سے کچھ زیادہ نہیں ہیں بلکہ کم ہیں مسیح کی خدائی ثابت نہیں ہو سکتی ۔ پس جب کہ مسیح کی خدائی ایسی ہے کہ ایک سلیم العقل آدمی کو کسی طرح اس پر یقین نہیں آ سکتا تو ایسی خدائی کیونکر گناہ سے روک سکتی ہے۔ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ وہ امر جو اول درجہ پر گناہ سے روکتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین ہے یعنی یہ یقین کہ در حقیقت ایک خدا ہے جو گناہ کی سزا دیتا ہے مگر مسیح کی نسبت ایسا یقین کیونکر پیدا ہو بھلا کوئی ہمیں یہ تو بتلاوے کہ اُس میں اور ان لوگوں میں جو مر چکے ہیں ما بہ الامتیاز کیا ہے ۔ ہم اور ہر یک عقلمند خوب جانتا ہے کہ خدا میں اور مخلوق میں ایک ما بہ الامتیاز ضرور چاہئے لیکن اس جگہ اس ما بہ الامتیاز کا تو ذکر کیا یہاں تو اس قدر بھی ما بہ الامتیاز ثابت نہیں جو ایک مردہ انسان اور زندہ انسان میں ہو سکتا ہے۔ افسوس کہ حضرات عیسائی صاحبان تو مسیح کی خدائی کے لئے شور و فریاد کر رہے ہیں لیکن ہم تو اسی قدر پر راضی ہو سکتے ہیں کہ وہ حضرت مسیح کو ایک زندہ انسان کے مرتبہ پر ثابت کر کے دکھلاویں۔ ہمیں کسی مذہب سے بغض نہیں اگر ابن مریم خدا ہے تو ہم سب سے پہلے اسے قبول کرنے کو طیار ہیں اگر در حقیقت وہی شفیع ہے تو ہم چاہتے ہیں کہ اول المومنین ہم ہی ہوں لیکن محض باطل اور سراسر لغو اور جھوٹ کو ہم کیونکر قبول کر لیں ۔ اگر خدا ایسا ہی کمزور اور عاجز ہونا چاہئے جیسا کہ یسوع ابن مریم ہے تو پھر ایسے خدا کے ماننے کی کچھ بھی ضرورت نہیں اور نہ کسی طرح اس پر یقین آ سکتا ہے لیکن اگر یسوع مسیح ایسا خدا ہے کہ ہم اُسی طرز سے اس کو شناخت کر سکتے ہیں جس طرح خدا تعالیٰ ہر یک زمانہ میں نبیوں کی معرفت اور خود بخود بھی اپنے تئیں شناخت کراتا رہا ہے اور وہ بھی اس سے ناشناسا نہیں رہے جن کو آسمانی کتابیں نہیں پہنچیں تو ہم اس کے قبول کرنے کے لئے طیار ہیں۔ پس کیا زمین کے پردہ پر کوئی ایسے صاحب ہیں جو مسیح کا کوئی امتیازی نشان ہمیں دکھلاویں یعنی ہم اس کی آواز سن سکیں اور اس کی خدائی کے نشانوں کو ہم دیکھ سکیں کیونکہ ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ اگر اس سچے خدا پر بھی محض شکی ایمان ہو جو واقعی خدا ہے تب بھی ایسا ایمان گناہوں سے مُنَجّی نہیں ہوسکتا پھر ایسا مصنوعی خدا جو یہودیوں کے ہاتھ سے ماریں کھاتا رہا اس پر اگر محض شکی طور پر خدائی کا خیال جمایا جائے تو ایسا خیال کس مرض سے نجات دے گا۔ یہ یقینی امر ہے کہ وہ خدا جو درحقیقت خدا ہے اُس پر ایمان لانا بھی اسی حالت میں گناہ سے چھوڑا سکتا ہے جبکہ وہ ایمان یقین کے درجہ پر پہنچ گیا ہو تو پھر کسی انسان کو خدا بنانا اور اس کی خدائی پر یقینی دلائل پیش نہ کرنا کس قدر جائے شرم ہے اور درحقیقت ایسے لوگ راستی کے دشمن ہیں۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ ان لوگوں کو اس قابل شرم کارروائی کے لئے کونسی ضرورت پیش آئی تھی اور ازلی ابدی خدا کے ماننے میں کون سے نقصان محسوس ہوئے تھے جن کا تدارک اس مصنوعی خدا سے کیا گیا۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ وہ سچا خدا جو آدم پر ظاہر ہوا اور پھر شیث پر اور پھر نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور تمام نبیوں پر یہاں تک کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ ہمیشہ زندہ اور حیّ قیّوم ہے اور جیسا کہ وہ پہلے زمانوں میں نبیوں کی معرفت اَنَا المَوجود کہتا تھا اب بھی اسی طرح کہتا ہے اور جیسا کہ پہلے نبیوں نے اس کی با شوکت آوازیں سنیں اور اس کے نشان دیکھے ویسا ہی ہم بھی آوازیں سنتے اور نشان دیکھتے ہیں اور جیسا کہ پہلے زمانوں میں وہ اپنے لوگوں کی دعائیں سنتا اور جواب دیتا تھا ایسا ہی اب بھی وہ ہماری دعائیں سنتا اور جواب دیتا ہے۔ اور جیسا کہ پہلے راستباز اس سے محبت کرنے اور اس کا چہرہ دیکھنے سے سچی پاکیزگی حاصل کرتے تھے ویسا ہی ہم بھی حاصل کر رہے ہیں پس اس طاقتور اور مقتدر خدا کو وہی چھوڑے گا جو سخت بدقسمت اور اندھا ہوگا ہم یقین رکھتے ہیں کہ دنیا میں جس قدر جھوٹے طور پر خدا بنائے گئے ہیں جیسا کہ یسوع ابن مریم اور رام چندر اور کرشن اور بدھ وغیرہ یہ محض بے دلیل بنائے گئے ہیں اور اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسا کہ ایک بکری کو انسان کہا جائے حالانکہ نہ وہ بولتی ہے اور نہ انسانوں کی طرح چل سکتی ہے اور نہ انسانوں کی طرح اس کی صورت ہے اور نہ انسانوں کی طرح وہ عقل رکھتی ہے اور نہ کوئی علامت انسانیت کی اس میں پائی جاتی ہے۔ پس کیا تم ایک بکری کو انسان کہہ سکتے ہو حالانکہ بہت سی باتوں میں بکری کو انسان سے شراکت بھی ہے مثلاً بکری کھاتی ہے جیسا کہ انسان کھاتا ہے اور بکری پیشاب اور پاخانہ کرتی ہے جیسا کہ انسان کرتا ہے لیکن کیا کوئی بتلا سکتا ہے کہ مسیح یا رام چندر وغیرہ کو خدا سے کوئی خاص شراکت ہے جو ثابت ہو سکے۔

ان خداؤں کے بنائے جانے کی بجز اس کے اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ بمقابل ایک تفریط کے افراط کا طریق اختیار کیا گیا ہے۔ مثلاً راجہ راون نے جب ایک نہایت سختی سے راجہ رام چندر کی ذلّت کی اور اس کی عورت کو لنکا لے جانے سے رام چندر کی تمام جماعت کو سخت صدمہ پہنچایا تو جو فریق راجہ رام چندر کا حامی تھا انہوں نے فی الفور راجہ راون کو انسانوں کی نسل سے خارج کیا اور راجہ رام چندر کو ایسے یقین کامل سے پرمیشر بنا دیا کہ اب تک تمام ہندو بجائے اپنے پرمیشر کا نام لینے کے رام رام ہی کیا کرتے ہیں بلکہ ان کے سلام کا لفظ بھی رام رام ہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسائیوں کو یسوع کے خدا بنانے میں ابھی اس قدر غلو نہیں جیسا کہ ہندوؤں کو رام چندر کے خدا بنانے میں غلو ہے یہاں تک کہ ہندوؤں کو اپنے پرمیشر کا نام قریباً بھول ہی گیا ہے اور ہر ایک موقع پر کثرت استعمال رام رام کی ہے۔ پس جس بالمقابل غیرت اور غلو کی وجہ سے راجہ رام چندر کو خدا بنایا گیا ہے انہیں اسباب سے یسوع ابن مریم کو بھی خدا بنایا گیا یعنی اول شریر یہودیوں نے حضرت مسیح کی ولادت کو نا جائز قرار دیا اور حضرت مریم کو آلودہ دامنی کا الزام لگایا اور پھر حضرت مسیح کے چال چلن پر بہت افترا کیا چنانچہ چند فاضل یہودیوں کی کتابیں جو اس وقت ہمارے مطالعہ میں ہیں ان کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح کی زندگی کا بہت ہی بُرا نقشہ کھینچا ہے یہ کتابیں ان فاضل یہودیوں کی ان دنوں میں شام کے وقت ہمارے حلقہ میں محض اس غرض سے پڑھی جاتی ہیں کہ تا ہماری جماعت کو اس بات کا علم ہو جائے کہ آج کل بعض نادان پادری جس قدر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی پر افترا اور بہتان کے طور پر حملے کرتے ہیں ان سے بدتر حملے حضرت مسیح کی زندگی پر کئے گئے ہیں یہاں تک کہ بعض ایسے حملے ہیں جن کے لکھنے سے بھی شرم اور حیا مانع ہے اُن کی ماں پر نہایت نا پاک الزام ہے ایسا ہی ان کی بعض دادیوں یعنی تمر اور راحب اور بنت سبع پر حرامکاری کے الزام ہیں جن کو پادری صاحبان بھی قبول کرتے ہیں اور سب سے بدتر وہ الزام ہیں جو حضرت مسیح کے چال چلن پر ہیں اور یہ کہ انہوں نے کس طرح ہر ایک بات میں فریب سے کام لیا اور کیونکر خدا نے توریت کے وعدہ کے موافق ان کو آخر کار سزائے موت دے دی یہ تمام ذلت اور اہانت اور تہمت کے ایسے الفاظ ہیں جو ایک مسلمان بغیر اس کے جو بے اختیار غصہ میں آ جائے ان کو پڑھ نہیں سکتا۔ پس جب اس قدر حضرت مسیح کی توہین کی گئی کہ جو ایک معمولی انسان کے درجہ پر سے بھی ان کو گرایا گیا تو اس صورت میں یہ واقعہ ایک طبعی امر تھا کہ جو جماعت حضرت مسیح پر ایمان لائی تھی وہ رفتہ رفتہ افراط کی طرف مائل ہو جاتی لہذا پُر جوش آدمی جن کو پہلے سے شرک سے پیار تھا بجز اس کے خوش نہ ہو سکے کہ حضرت مسیح کو خدا بنا دیا جائے گویا وہ اس طرح پر یہودیوں کے اُن حملوں کا بدلہ اتارنا چاہتے تھے جو نہایت سختی سے حضرت مسیح پر کئے گئے تھے۔ اور عجیب تر یہ بات ہے کہ جن انجیلوں سے عیسائی لوگ حضرت مسیح کی خدائی ثابت کرنا چاہتے ہیں انہیں انجیلوں کے حوالہ سے ایک فاضل یہودی نے اپنی کتاب میں یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ نعوذ باللہ یہ انسان درحقیقت ایک دنیا پرست اور مکّار تھا جس سے نہ کوئی معجزہ ہوا اور نہ کوئی پیشگوئی سچی نکلی اور وہ لکھتا ہے کہ انجیلوں میں جو کچھ بیان کیا جاتا ہے کہ گویا مسیح نے بہت سے معجزات یہودیوں کو دکھلائے یہ قول خود انجیلوں کے ہی بیان سے جھوٹ ثابت ہوتا ہے کیونکہ انجیل کی گواہی سے ثابت ہے کہ جب بزرگانِ قوم یسوع سے کوئی معجزہ طلب کرتے تھے تو اس کے جواب میں یسوع کا یہی طریق تھا کہ وہ ان بزرگوں کو گندی گالیاں دے کر یہی کہا کرتا تھا کہ ان کو کوئی معجزہ دکھایا نہیں جائے گا۔ اور پھر کہتا ہے کہ اگر ہم مان بھی لیں کہ بعض بیماروں کو اس نے اچھا کیا تھا تو یہ کوئی مفید دلیل اس کی خدائی کے لئے نہیں کیونکہ اسی زمانہ میں اس کے مخالف بھی ایسے معجزات دکھاتے تھے اور پھر کیا عقل قبول کر سکتی ہے کہ ایسے معجزات جن سے بہت بڑھ کر اور نبی دکھلاتے رہے ان سے یسوع کا خدا ہونا ثابت ہو جائے گا غرض جبکہ یہودیوں نے نہایت سختی سے حضرت مسیح کی توہین کی تو اس کا ایک ضروری نتیجہ تھا کہ اِس تفریط کے مقابل پر افراط بھی کی جاتی پس جب افراط کا سیلاب عیسائیوں میں زور سے چلا اُسی زمانہ میں حضرت مسیح کے خدا بنانے کے لئے بنیاد رکھی گئی یہ بات اُس وقت بخوبی سمجھ آ سکتی ہے جبکہ ایک طرف یہودیوں کے حملوں کو دیکھا جائے اور دوسری طرف ان حملوں سے بچنے کے لئے عیسائیوں کی مبالغہ آمیز باتوں کو غور سے سوچا جائے اب چونکہ یہودیوں کی کتابیں بھی اشاعت پا چکی ہیں اور بعض فاضل یہودیوں نے ان کو فرانسیسی زبان میں شائع کیا ہے اور پھر انگریزی زبان میں بھی وہ چھپ گئی ہیں لہٰذا ان دنوں میں حق کے طالبوں کے لئے اصل حقیقت سمجھنے کے لئے نہایت آسانی ہوگئی ہے۔ یہودیوں کے تمام فرقے اس بات پر متفق ہیں کہ جب سے کہ حضرت موسیٰ کو توریت ملی اور پھر وقتاً فوقتاً نبی آتے رہے کسی نے تثلیث کی تعلیم نہیں دی بلکہ یہی تعلیم دیتے رہے کہ تمہارا خدا ایک ہے اور غائب ہے۔ یہودیوں کا یہ بھی عذر ہے کہ جب موسیٰ نے کوہ سینا پر خدا تعالیٰ سے درخواست کی کہ اپنا چہرہ دکھلا تو خدا نے اس وقت کیوں کہا کہ میرا چہرہ کوئی دیکھ نہیں سکتا چاہئے تھا کہ خدا اسٓ وقت یسوع کی شکل دکھلا دیتا کہ میرا چہرہ یہ ہے۔ غرض یہود نے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ عیسائی مذہب ایک ایسا مذہب ہے کہ توریت کے پرانے وثیقہ کو جس پر تمام نبیوں کی مہریں ہیں چاک کرنا چاہتا ہے اور توریت کا بنیادی پتھر جو توحید ہے اس کے استیصال کے درپے ہے۔ الحاصل عیسائیوں نے ایسے خدا کو پیش کر کے کہ جس کی تعلیم خدا کی بابت ہرگز ہرگز توریت کی تعلیم کے مطابق نہیں اور نہ قرآن کے مطابق ہے ایک مکروہ بدعت کو دنیا میں پھیلانا چاہا ہے ان کو اس بات کی کچھ بھی پروا نہیں کہ ایسے نئے عقیدہ نے اگر توریت اور دوسرے نبیوں کے صحیفوں کی مخالفت کی ہے تو بارے وہ عقل کے ذریعہ سے ہی ثابت کیا جاتا بلکہ ان کو عقل کی راہ سے بھی عجیب لاپرواہی ہے گویا ان کے نزدیک عقلی استدلال کی مذہب پر کوئی حکمرانی نہیں بلکہ ان کے نزدیک عقل کو یہ حق حاصل نہیں کہ توحید اور تثلیث کے بارے میں اپنی کوئی شہادت دے سکے وہ دوسروں کی خوردہ گیری اور نکتہ چینی کے بہت عادی ہیں مگر تعجب کہ اپنے عقیدہ کی نسبت بھول کر بھی ایک غور کی نظر نہیں کرتے۔ ان کا اصلی کام یہ ہونا چاہئے تھا کہ حضرت مسیح کی خدائی کو جس کے تورات۔ قرآن۔ عقل تینوں مکذب ہیں اول ثابت کر لیتے اور پھر کفّارہ اور نجات وغیرہ خود تراشیدہ باتوں پر زور دیتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا اور اپنے عقیدہ کی اصل بنیاد کو نظر انداز کر کے بیہودہ باتوں میں پڑ گئے لیکن اس کے ساتھ مَیں یہ بیان کرنا بھی چاہتا ہوں کہ اس غلطی کی تہ میں ایک سچائی بھی مخفی ہے اور گو بیہودہ توہمات کے حاشیہ سے اُس سچائی کا ایسا منہ کالا کر دیا گیا ہے کہ اب بجائے خوبصورتی کے ایک نہایت بد اور ڈراؤنی شکل نظر آتی ہے تاہم پھر بھی اس سیاہ بادل کے اندر ایک واقعی سچائی کی برقی روشنی ہے جو نہایت دھیمے طور پر اس کی مہلک تعلیم مسیح کو خدا بنانے میں بھی محسوس ہو رہی ہے اور وہ یہ ہے کہ توریت سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا نے انسان کو اپنی شکل پر پیدا کیا اور اپنا نور اس کے اندر رکھا اور اپنی روح اس میں پھونکی اور یہی خبر قرآن شریف سے بھی ملتی ہے پس یہ امر انسانی استعداد اور فطرت سے کچھ بڑھ کر نہیں ہے کہ خدا اپنے بندہ کے صافی دل میں اس طور سے نزول جلالی فرماوے کہ اس کی عظمت کا خیمہ اُس کے دل میں قائم ہو جائے اور بندہ کو خدا سے ایک ایسا تعلق پیدا ہو جائے جیسا کہ مثلاً جب لوہے کو ایک نہایت تیز اور بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈالا جائے تو وہ بظاہر آگ کی صورت پر ہی نظر آ جاتا ہے مگر تاہم درحقیقت وہ لوہا ہے نہ آگ۔ پس درحقیقت یہی تعلق خدا کے کامل محبّوں کو خدا سے ہو جاتا ہے اور وہ اپنے اندر محسوس کرنے لگتے ہیں کہ خدا ان میں اترا ہے اور بسا اوقات اس عالم اتّحاد میں بعض لوگوں کی زبان پر شطحیات بھی جاری ہو جاتی ہیں یعنی وہ لوگ اُس الہٰی تعلق کو ایسے رنگ سے بیان کرتے ہیں کہ عام آدمی اس دھوکے میں پڑتے ہیں کہ گویا وہ خدائی کا دعویٰ کرتا ہے قریباً اس قسم کے کلمات تمام الہٰی کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال

قرآن شریف میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اور فعل کو اسی بنا پر خدا کا قول اور فعل ٹھہرایا گیا ہے مثلاً قول کی نسبت یہ آیت ہے وَمَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی یعنی اس نبی کا قول بشری ہوا و ہوس کے چشمہ سے نہیں نکلتا بلکہ اس کا قول خدا کا قول ہے اب دیکھو کہ اس آیت کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کل اقوال خدا تعالیٰ کے اقوال ثابت ہوتے ہیں پھر اس کے مقابل پر ایک دوسری آیت ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے افعال بھی خدا تعالیٰ کے افعال ہیں جیسا کہ فرمایا ہے وَمَا رَمَیۡتَ اِذۡ رَمَیۡتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی یعنی جو کچھ تو نے چلایا یہ تو نے نہیں بلکہ خدا نے چلایا پس اس آیت سے ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال بھی خدا کے افعال ہیں ۔ پھر جس حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال بھی خدا کے اقوال ہوئے اور افعال بھی خدا کے افعال ہوئے تو اب بتلاؤ کہ بجز اس کے کیا نتیجہ نکلا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مظہر اتم ذات حضرت باری ہیں مگر باوجود اس کے عقلمند مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ قرار نہیں دیتے اور عیسائیوں کی طرح آنجناب کو الوہیت کا کوئی اقنوم نہیں ٹھہراتے حالانکہ اس جگہ عملی طور پر بھی ثبوت ہے اور وہ کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ اپنی ذات کے لئے غیرت رکھتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ آنجناب کے لئے غیرت دکھلاتا ہے اور جن لوگوں نے آنجناب کو دکھ دئے تھے اور ناحق کے خون کئے تھے اور آپ کو وطن سے نکالا تھا خدا تعالیٰ نے آنجناب کو وفات نہیں دی جب تک کہ ان لوگوں کو عذاب کا مزا نہ چکھا لیا۔ اور جن لوگوں نے ساتھ دیا تھا ان کو تختوں پر بٹھا دیا۔ اب جب ہم آنجناب کے ان حالات کا یسوع مسیح کے حالات سے مقابلہ کرتے ہیں تو مجبوراً ہمیں اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عملی طور پر یسوع مسیح کے لئے کوئی اپنی تائید ظاہر نہ کی بلکہ الٹا یہودیوں کی تائید کرتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے یسوع کو صلیب پر چڑھا دیا اور بڑی بڑی ذلتیں پہنچائیں ۔ خسرو پرویز نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے جب ارادہ کیا تو ایک ہی رات میں خود قتل کیا گیا۔ لیکن جب یہودیوں کی جھوٹی مخبری سے یسوع مسیح کی گرفتاری کا وارنٹ جاری ہوا تو صرف ایک دو سپاہیوں نے تین گھنٹہ کے اندر یسوع مسیح کو گرفتار کر کے حوالات میں داخل کر دیا اب کوئی سمجھ سکتا ہے کہ ایسے شخص کے ساتھ کوئی الٰہی جلال بھی تھا جو باوجود تمام رات کی دعاؤں کے گرفتار ہونے سے بچ نہ سکا اور پھر جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے ارادہ پر جس قدر لوگ حملہ کی نیت پر آپ کے گھر جمع ہوئے تھے اور گھر کا محاصرہ کر لیا تھا وہ باوجود سخت در سخت کوششوں کے نامراد رہے اور بغیر اس کے جو آنجناب یسوع مسیح کی طرح تمام رات دعائیں کرتے عنایت ایزدی سے بچائے گئے اور اس جرگہ سے روز روشن میں صاف نکل گئے اور کوئی آپ کو دیکھ نہ سکا لیکن حضرت مسیح کی درد ناک دعا ایلی ایلی لما سبقتانی جس پر اب تک یہودی ہنسی ٹھٹھا مارتے ہیں ایسی نامقبول ہوئی کہ با قرار عیسائیاں اس دعا کے بعد نتیجہ یہی نکلا کہ مصلوب ہو گئے۔ یہ تو حضرت مسیح کی ذات کے ساتھ خدا تعالیٰ کے معاملات تھے پھر حواریوں کے حالات بھی ایسے ہی ہیں ان کو وعدہ دیا گیا تھا کہ ابھی تم زندہ ہو گے کہ میں واپس آؤں گا اب دیکھو یہ پیشگوئی کیسی صفائی سے جھوٹ نکلی اور دو ہزار برس ہونے لگے آنے کا نام ونشان نہیں وہ تمام انتظار کرنے والے ایسی حالتوں میں مرے کہ ہمیشہ یہود اُن سے ٹھٹھا کرتے رہے کہ تمہارا استاد کہاں دوبارہ آیا اور وہ ہمیشہ اس سوال سے شرمندہ رہے اور کوئی جواب نہ دے سکے ان کو بارہ تختوں کا وعدہ دیا گیا تھا مگر خود حضرت مسیح کی زندگی میں ایک حواری مرتد ہو گیا اور دوسرے نے بھی مرتدوں کا سا کام کیا اور اس حساب سے تخت صرف دس رہ گئے حالانکہ پیشگوئی میں بارہ کا وعدہ تھا۔ اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دنیا میں تختوں پر بیٹھنے کا اپنے اصحاب کو وعدہ دیا تھا۔ سو ہمارے مخالف بھی جانتے ہیں کہ وہ وعدہ سچا ہو گیا۔ غرض حضرت مسیح کی تعلیم میں ان الفاظ سے جن سے ان کو خدا بنایا جاتا ہے کوئی نادر اور عجیب لفظ نہیں اس لئے کہ اور نبیوں کی شان میں بھی اس قسم کے الفاظ بہت آئے ہیں آدم کو بھی خدا کا فرزند کہا گیا ہے اور اسرائیل کو بھی خدا کا فرزند کہا گیا بلکہ ایک جگہ لکھا ہے کہ تم سب خدا ہو مگر کیا ایسے لفظوں سے یہ نتیجہ نکال لینا چاہئے کہ جن لوگوں کے حق میں ایسے الفاظ استعمال پائے ہیں وہ در حقیقت خدا ہیں یا خدا کے بیٹے ہیں حضرت مسیح نے بھی تو ایسے الفاظ استعمال کئے ہیں۔

مسیح موعود کا ظہور

غرض بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح کے معاملہ میں ناحق ایک تنکے کا پہاڑ بنایا گیا ہے دیکھو میں بھی خدا سے الہام پاتا ہوں اور بیس برس سے زیادہ عرصہ سے خدا تعالیٰ مجھ سے ہم کلام ہے ڈیڑھ سو کے قریب نشان ظاہر ہوا ہے میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس قسم کے مردے کہ جو سنت اللہ کے رو سے زندہ ہوتے رہے ہیں وہ مجھ سے بھی زندہ ہوئے اسی طرح میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ دس ہزار سے زیادہ میری دعائیں قبول ہوئی ہیں اور جس قسم کے الفاظ انجیلوں میں یسوع مسیح کی نسبت ہیں جن سے ان کی خدائی نکالی جاتی ہے ان سے بہت بڑھ کر خدا تعالیٰ کا کلام میری نسبت ہے اور ایسے کلمات میں نے کتابوں کے ذریعہ سے شائع بھی کر دئے ہیں خدا نے میرا نام آدم رکھا ہے۔ خدا نے میرا نام ابراہیم رکھا ہے۔ خدا نے میرا نام مسیح موعود رکھا ہے اور خبر دی ہے کہ وہ موعود جس کے انتظار میں تمام نبی گزر گئے ہیں وہ تو ہی ہے مگر باوجود اس کے میں یہ نہیں کہتا کہ میں خدا ہوں یا خدا کا بیٹا ہوں حالانکہ میری نسبت خدا کے کلام میں ایسے الفاظ بکثرت موجود ہیں جن کے ذریعہ سے مسیح ابن مریم کی نسبت بآسانی خدا کہلا سکتا ہوں مگر میں جانتا ہوں کہ یہ کفر ہے اسی لئے میں تمام دنیا سے زیادہ حیران ہوں کہ کونسی کوئی خاص فضیلت مسیح ابن مریم میں تھی جس کی وجہ سے اس کو خدا بنایا گیا کیا اس کے کوئی خاص معجزات تھے مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس سے بڑھ کر یہاں معجزات ظاہر ہو رہے ہیں۔ کیا اس کی پیشگوئیاں اعلیٰ قسم کی تھیں مگر میں خلاف واقعہ کہوں گا اگر یہ اقرار نہ کروں کہ جو پیشگوئیاں مجھے عطا کی گئی ہیں وہ مسیح ابن مریم سے بہت بڑھ کر ہیں کیا میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ انجیلوں میں مسیح ابن مریم کی شان میں بڑے اعلیٰ درجہ کے لفظ ہیں جن سے ان کو خدا ماننا پڑتا ہے مگر میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا دنیا اور آخرت میں موجب لعنت ہے کہ وہ الفاظ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میری شان میں وارد ہوئے ہیں جن کی نسبت میں پھر قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ خالص خدا کے الفاظ ہیں نہ انجیلوں کی طرح محرّف ۔ مبدّل ۔ مُغَیَّر ۔ وہ ان الفاظ کی شان سے کہیں بڑھ کر ہیں جو مسیح ابن مریم کی نسبت پادری صاحبان انجیلوں میں دکھلاتے ہیں مگر کیا مجھے جائز ہے کہ میں بھی خدائی کا دعویٰ کروں یا خدا کا بیٹا کہلاؤں پس اسی طرح یقیناً سمجھو کہ مسیح ابن مریم بھی خدا کا بیٹا نہیں نہ خدا ہے میں مسیح محمدؐی ہوں اور وہ مسیح موسوی تھا۔ خدا کی تقدیر نے یہ مقدر کیا تھا کہ اسرائیلی سلسلہ کے آخر میں جس کی شریعت کی ابتدا موسیٰ سے ہے ایک مسیح آوے اور اس کے مقابل پر یہ بھی مقدر کیا تھا کہ اسماعیلی سلسلہ کے آخر میں بھی جس کی شریعت کی ابتدا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے ایک مسیح آوے سو ایسا ہی ہوا۔ موسیٰ خدا کا بندہ اسرائیل کے لئے شریعت لایا خدا کو معلوم تھا کہ موسیٰ سے قریباً چودہویں صدی پر بنی اسرائیل شریعت کے حقائق اور رموز کو چھوڑ دیں گے اور نیز اخلاقی حالت ان کی بہت ابتر ہو جائے گی سو اسی غرض سے خدا نے حضرت موسیٰ سے چودہویں صدی پر مسیح ابن مریم کو پیدا کیا اس ملک میں جس میں بنی اسرائیل کی سلطنت بھی باقی نہیں رہی تھی۔ سو جب توریت کتاب استثنا کے وعدہ کے مطابق دنیا میں مثیل موسیٰ آیا یعنی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تو خدا نے آپ کے بعد بھی جب چودہویں صدی پہنچی تو پہلے مسیح کی مانند ایک مسیح پیدا کیا اور وہ میں ہوں اور جس طرح مثیل موسیٰ بہت سی باتوں میں موسیٰ سے بڑھ کر ہے ایسا ہی مثیل عیسیٰ بھی بہت سی باتوں میں عیسیٰ سے بڑھ کر ہے اور یہ جزئی فضیلت ہے جس کو خدا چاہتا ہے دیتا ہے۔

عصمت کیوں کر ثابت ہوسکتی ہے

اب میں دیکھتا ہوں کہ جس مسئلہ عصمت اور شفاعت کو عیسائیوں کی طرف سے بار بار پیش کیا جاتا ہے وہ ایک سراسر دھوکا ہے جو عیسائیوں کو لگا ہوا ہے اگر معصوم کے یہ معنے ہیں کہ کوئی دشمن کسی کی عملی زندگی کی نسبت کوئی نکتہ چینی نہ کرے تو آؤ ہم یہود کی کتابیں دکھلاتے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح اور ان کی ماں کے چال چلن پر بہت نکتہ چینی کی ہے اور اگر معصوم ہونے کے یہ معنی ہیں کہ کوئی شخص اپنے منہ سے یہ کہے کہ میں نیک ہوں تو آؤ ہم انجیل سے آپ لوگوں کو دکھلاتے ہیں کہ مسیح نے اقرار کیا ہے کہ میں نیک نہیں ہوں پس جبکہ خود مسیح ابن مریم کی عصمت کسی طور سے ثابت نہیں ہو سکتی بلکہ انجیلوں سے بعض حرکات اس کی عصمت کے برخلاف ثابت ہوتی ہیں جیسا کہ شراب پینا، انجیل کے ابدی احکام حرمت خنزیر و ختنہ وغیرہ کا توڑنا، ناحق دوسرے کے مالوں کو نقصان پہنچانا۔ فقیہوں فریسیوں کو گالیاں دینا، بدکردار عورتوں کو جسم چھونے کا موقع دینا، حرام کا تیل سر پر ملوانا۔ شاگردوں کو غیر لوگوں کے کھیتوں سے خوشے توڑنے سے منع نہ کرنا۔ اب بتلاؤ کہ یہ تمام امور گناہ ہیں یا نہیں اگر شراب پینا اچھا کام تھا تو یوحنا نے شراب پینے سے کیوں نفرت کی دانیال نے کہا کہ شراب پینے والوں پر آسمان کے دروازے بند رہتے ہیں۔ ختنہ جو ابدی حکم تھا اس سے کیوں روک دیا۔ حالانکہ آج کل کی تحقیقات کے رو سے بھی وہ بہت سے امراض کو مفید ہے ایسا ہی سؤر ہمیشہ کے لئے حرام تھا اس کو کھانے کا کیوں فتویٰ دیا اور خود کہا کہ توریت منسوخ نہیں ہوئی۔ اور پھر آپ ہی اسے منسوخ کیا اور یاد رکھنا چاہئے کہ مسیح ابن مریم کی عصمت انجیل کی رو سے ثابت کرنا ایسا ہی مشکل ہے جیسا کہ اس مسلول کی صحت ثابت کرنا جس کا مرض ذبول اور دستوں کی حالت تک پہنچ چکا ہے۔ کیا ضروری نہ تھا کہ پہلے حضرت مسیح کی عصمت ثابت کر لیتے پھر دوسروں پر نکتہ چینی کرتے قرآن میں استغفار کا لفظ دیکھ کر فی الفور یہ دعویٰ کر دینا کہ اس سے گنہگار ہونا ثابت ہوتا ہے اور انجیل کے اس لفظ کو ہضم کر جانا کہ میں نیک نہیں کیا یہ ایمانداری ہے۔ پھر ان سب باتوں کے بعد ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ آخرت کا شفیع وہ ثابت ہو سکتا ہے جس نے دنیا میں شفاعت کا کوئی نمونہ دکھلایا ہو۔ سو اس معیار کو آگے رکھ کر جب ہم موسیٰ پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ بھی شفیع ثابت ہوتا ہے کیونکہ بارہا اس نے اترتا ہوا عذاب دعا سے ٹال دیا۔ اس کی توریت گواہ ہے اسی طرح جب ہم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر ڈالتے ہیں تو آپ کا شفیع ہونا اجلٰی بدیهیات معلوم ہوتا ہے کیونکہ آپ کی شفاعت کا ہی اثر تھا کہ آپ نے غریب صحابہ کو تخت پر بٹھا دیا اور آپ کی شفاعت کا ہی اثر تھا کہ وہ لوگ باوجود اس کے کہ بُت پرستی اور شرک میں نشو و نما پایا تھا ایسے موحّد ہو گئے جن کی نظیر کسی زمانہ میں نہیں ملتی اور پھر آپ کی شفاعت کا ہی اثر ہے کہ اب تک آپ کی پیروی کرنے والے خدا کا سچا الہام پاتے ہیں خدا ان سے ہم کلام ہوتا ہے مگر مسیح ابن مریم میں یہ تمام ثبوت کیونکر اور کہاں سے مل سکتے ہیں ۔ ہمارے سیّد و مولیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت پر اس سے بڑھ کر اور زبردست شہادت کیا ہو گی کہ ہم اس جناب کے واسطے سے جو کچھ خدا سے پاتے ہیں ہمارے دشمن وہ نہیں پا سکتے اگر ہمارے مخالف اس امتحان کی طرف آویں تو چند روز میں فیصلہ ہو سکتا ہے مگر وہ فیصلہ کے خواہاں نہیں ہیں وہ اسی خدا کو ماننے کے لئے ہمیں مجبور کرتے ہیں جو نہ بول سکتا ہے، نہ دیکھ سکتا ہے اور نہ پیش از وقت کچھ بتلا سکتا ہے مگر ہمارا خدا ان سب باتوں پر قادر ہے۔ مبارک وہ جو ایسے کا طالب ہو۔

(ماخوذ از ریویو آف ریلیجنز جلد نمبر۵۔مئی ۱۹۰۲ءصفحہ ۱۷۵تا۲۰۹)