یہ کتاب فتح اسلام سات سو (۷۰۰) جلدیں چھپی ہیں اِن میں سے تین سو جلد محض للہ اُن لوگوں کے لیے وقف کردی ہے جو اسلامی واعظین کے گروہ میں سے یا نادار شائقین میں سے یا عیسائیوں یا ہندوؤں کے علماء میں سے ہیں۔ باقی چار سو جلد ایسے لوگوں کو جو قیمت ادا کرنے کی مقدرت رکھتے ہیں فی جلد ۸؍ کی قیمت پر دی جائیگی۔ محصول ڈاک علاوہ ہے۔ جو شخص مفت لینے والوں میں سے ہو یعنی واعظوں یا نادار لوگوں وغیرہ کے گروہ میں سے ہو اُس پر لازم ہے کہ صرف آدھ آنہ کا ٹکٹ بھیج دیوے کتاب روانہ کی جائے گی۔
المعلن
خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ از قادیان
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
نَحْمُدُہٗ وَ نُصَلِّیْ
رَبِّ انْفُخْ رُوْحَ بَرَکَۃٍ فِیْ کَلَامِیْ ھٰذَا وَ اجْعَلْ اَفْئِدَۃً مِنَ النَّاسِ تَھْوِیْ اِلَیْہِ
اے ناظرین ! عافاکم اللّٰہ فی الدنیا والدین۔ آج یہ عاجز ایک مدّت مدید کے بعد اُس الٰہی کارخانہ کے بارے میں جو خدا تعالیٰ نے دین اسلام کی حمایت کے لئے میرے سپرد کیا ہے ایک ضروری مضمون کی طرف آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہے اور میں اس مضمون میں جہاں تک خدا تعالیٰ نے اپنی طرف سے مجھے تقریر کرنے کا مادہ بخشا ہے اس سلسلہ کی عظمت اور اس کارخانہ کی نصرت کی ضرورت آپ صاحبوں پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں تا وہ حق تبلیغ جو مجھ پر واجب ہے اُس سے مَیں سبکدوش ہو جاؤں۔ پس اس مضمون کے بیان کرنے میں مجھے اس سے کچھ غرض نہیں کہ اس تحریر کا دلوں پر کیا اثر پڑے گا۔ صرف غرض یہ ہے کہ جو بات مجھ پر فرض ہے اور جو پیغام پہنچانامیرے پر قرضہ لازمہ کی طرح ہے وہ جیسا کہ چاہیے مجھ سے ادا ہو جائے خواہ لوگ اُس کو بسمع رضا سنیں اور خواہ کراہت اور قبض کی نظر سے دیکھیں اور خواہ میری نسبت نیک گمان رکھیں اور یا بد ظنی کو اپنے دلوں میں جگہ دیں۔ وَاُفَوِّضُ اَمْرِیْ اِلَی اللّٰہِ وَاللّٰہُ بَصِیْرٌ بِالْعِبَادِ۔
اب میں ذیل میں وہ مضمون جس کا اُوپر وعدہ دیا ہے لکھتا ہوں۔
اے حق کے طالبو اور اسلام کے سچے محبّو! آپ لوگو ں پر واضح ہے کہ یہ زمانہ جس میں ہم لوگ زندگی بسر کررہے ہیں یہ ایک ایسا تاریک زمانہ ہے کہ کیا ایمانی اور کیا عملی جس قدر امور ہیں سب میں سخت فساد واقع ہو گیا ہے اور ایک تیز آندھی ضلالت اور گمراہی کی ہر طرف سے چل رہی ہے۔ وہ چیز جس کو ایمان کہتے ہیں اسکی جگہ چند لفظوں نے لے لی ہے جن کا محض زبان سے اقرار کیا جاتا ہے اور وہ امور جن کا نام اعمال صالحہ ہے اُن کا مصداق چند رسوم یا اسراف اور ریا کاری کے کام سمجھے گئے ہیں اور جو حقیقی نیکی ہے اُس سے بکلی بے خبری ہے۔ اس زمانہ کا فلسفہ اور طبیعی بھی روحانی صلاحیت کا سخت مخالف پڑا ہے۔ اُ س کے جذبات اُس کے جاننے والوں پر نہایت بد اثر کرنیوالے اور ظلمت کی طرف کھینچنے والے ثابت ہوتے ہیں۔ وہ زہریلے مواد کو حرکت دیتے اور سوئے ہوئے شیطان کو جگا دیتے ہیں اِن علوم میں دخل رکھنے والے دینی امور میں اکثر ایسی بد عقیدگی پیدا کر لیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ اصولوں اور صوم وصلوٰۃوغیرہ عبادت کے طریقوں کو تحقیر اور استہزا کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ اُن کے دلوں میں خدا تعالیٰ کے وجود کی بھی کچھ وقعت اور عظمت نہیں بلکہ اکثر ان میں سے الحاد کے رنگ سے رنگین اور دہریت کے رگ وریشہ سے پُر اور مسلمانوں کی اولاد کہلا کر پھر دشمن دین ہیں۔ جو لوگ کالجوں میں پڑھتے ہیں اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ ہنوز وہ اپنے علوم ضروریہ کی تحصیل سے فارغ نہیں ہوتے کہ دین اور دین کی ہمدردی سے پہلے ہی فارغ اور مستعفی ہو چکتے ہیں۔ یہ میں نے صرف ایک شاخ کا ذکر کیا ہے جو حال کے زمانہ میں ضلالت کے پھلوں سے لدی ہوئی ہے مگر اس کے سوا صدہا اور شاخیں بھی ہیں جو اس سے کم نہیں ! عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ دنیا سے امانت اور دیا نت ایسی اُٹھ گئی ہے کہ گویا بکلی مفقود ہو گئی ہے۔ دنیا کمانے کے لئے مکر اور فریب حد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ جوشخص سب سے زیادہ شریر ہو وہی سب سے زیادہ لائق سمجھا جاتاہے۔ طرح طرح کی ناراستی، بددیانتی، حرام کاری، دغابازی، دروغ گوئی اور نہایت درجہ کی رُوبہ بازی اور لالچ سے بھرے ہوئے منصوبے اور بدذاتی سے بھری ہوئی خصلتیں پھیلتی جاتی ہیں اور نہایت بے رحمی سے ملے ہوئے کینے اور جھگڑے ترقی پر ہیں۔ اور جذبات بہیمیّہ اور سَبعیّہ کا ایک طوفان اُٹھا ہوا ہے اور جس قدر لوگ اِ ن علوم اور قوانین مروجہ میں چست و چالاک ہوتے جاتے ہیں اُسی قدر نیک گوہری اور نیک کرداری کی طبعی خصلتیں اور حیا اور شرم اور خدا ترسی اور دیانت کی فطرتی خاصیتیں اُن میں کم ہوتی جاتی ہیں۔
عیسائیوں کی تعلیم بھی سچائی اور ایمانداری کے اُڑانے کے لیے کئی قسم کی سرنگیں طیار کر رہی ہے اور عیسائی لوگ اسلام کے مٹادینے کے لئے جھوٹ اور بناوٹ کی تمام باریک باتوں کو نہایت درجہ کی جانکاہی سے پیدا کرکے ہر ایک رہزنی کے موقع اور محل پر کام میں لارہے ہیں اور بہکانے کے نئے نئے نسخے اور گمراہ کرنے کی جدید جدید صورتیں تراشی جاتی ہیں اور اس اِنسانِ کامل کی سخت توہین کررہے ہیں جو تمام مقدّسوں کا فخر اور تمام مقرّبوں کا سرتاج اور تمام بزرگ رسولوں کا سردار تھا۔ یہاں تک کہ ناٹک کے تماشاؤں میں نہایت شیطنت کے ساتھ اسلام اور ھادیٔ پاک اسلام کی برُے برُے پیرائیوں میں تصویریں دکھلائی جاتی ہیں اور سوانگ نکالے جاتے ہیں اور ایسی افترائی تہمتیں تھیئٹر کے ذریعہ سے پھیلائی جاتی ہیں جن میں اسلام اور نبی پاک کی عزت کو خاک میں ملا دینے کے لئے پوری حرم زدگی خرچ کی گئی ہے۔
اَب اے مسلمانو سنو ! اور غور سے سنو ! کہ اسلام کی پاک تاثیروں کے روکنے کے لئے جس قدر پیچیدہ افترا اس عیسائی قوم میں استعمال کئے گئے اور پُر مکر حیلے کام میں لائے گئے اور اُن کے پھیلانے میں جان توڑ کر اور مال کو پانی کی طرح بہا کر کوششیں کی گئیں یہاں تک کہ نہایت شرمناک ذریعے بھی جن کی تصریح سے اس مضمون کو منزّہ رکھنا بہتر ہے اِسی راہ میں ختم کئے گئے۔ یہ کرسچن قوموں اور تثلیث کے حامیوں کی جانب سے وہ ساحرانہ کارروائیاں ہیں کہ جب تک اُن کے اِس سحر کے مقابل پر خدا تعالیٰ وہ پُر زور ہاتھ نہ دکھاوے جو معجزہ کی قدرت اپنے اندر رکھتا ہو اور اُس معجزہ سے اِس طلسمِ سحر کو پاش پاش نہ کرے تب تک اس جادو ئے فرنگ سے سادہ لوح دلوں کو مَخلصی حاصل ہونا بالکل قیاس اور گمان سے باہر ہے۔ سو خدا تعالیٰ نے اس جادو کے باطل کرنے کے لئے اِس زمانہ کے سچے مسلمانوں کو یہ معجزہ دیا کہ اپنے اس بندہ کو اپنے الہام اور کلام اور اپنی برکاتِ خاصہ سے مشرف کر کے اور اپنی راہ کے باریک علوم سے بہرۂ کامل بخش کر مخالفین کے مقابل پر بھیجا اور بہت سے آسمانی تحائف اور علوی عجائبات اور روحانی معارف و دقائق ساتھ دیئے تا اس آسمانی پتھر کے ذریعہ سے وہ موم کا بت توڑ دیا جائے جو سحر فرنگ نے تیار کیا ہے۔ سو اے مسلمانوں !اس عاجز کا ظہور ساحرانہ تاریکیوں کے اُٹھانے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک معجزہ ہے۔ کیا ضرور نہیں تھا کہ سحر کے مقابل پر معجزہ بھی دنیا میں آتا۔ کیا تمہاری نظروں میں یہ بات عجیب اور اَن ہونی ہے کہ خدا تعالیٰ نہایت درجہ کے مکروں کے مقابلہ پر جو سحر کی حقیقت تک پہنچ گئے ہیں ایک ایسی حقانی چمکار دکھاوے جو معجزہ کا اثر رکھتی ہو۔
اے دانشمندو!تم اس سے تعجب مت کرو کہ خدا تعالیٰ نے اس ضرورت کے وقت میں اور اس گہری تاریکی کے دنوں میں ایک آسمانی روشنی نازل کی اور ایک بندہ کو مصلحتِ عام کے لئے خاص کرکے بغرض اعلائے کلمۂ اسلام واشاعت ِنور حضرت خیرالانام اور تائید مسلمانوں کے لئے اور نیزاُن کی اندرونی حالت کے صاف کرنے کے ارادہ سے دنیا میں بھیجا۔ تعجب تو اس بات میں ہو تاکہ وہ خدا جو حامی دین اسلام ہے جس نے وعدہ کیا تھا کہ میں ہمیشہ تعلیم قرآنی کا نگہبان رہوں گا اور اسے سرد اور بے رونق اور بے نور ہونے نہیں دوں گا۔ وہ اس تاریکی کو دیکھ کر اور اِن اندرونی اور بیرونی فسادوں پر نظر ڈال کر چپ رہتا اور اپنے اُس وعدہ کو یادنہ کرتا جس کو اپنے پاک کلام میں مؤکد طور پربیان کر چکا تھا۔ پھر میں کہتا ہوں کہ اگر تعجب کی جگہ تھی تو یہ تھی کہ اُس پاک رسول کی یہ صاف اور کھلی کھلی پیشگوئی خطا جاتی جس میں فرمایا گیا تھا کہ ہر ایک صدی کے سر پر خدا تعالیٰ ایک ایسے بندہ کو پیدا کرتا رہے گا کہ جو اس کے دین کی تجدید کرے گا ٭ سو یہ تعجب کا مقام نہیں بلکہ ہزار در ہزار شکر کا مقام اور ایمان اور یقین کے بڑھانے کا وقت ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے وعدہ کو پورا کر دیا اور اپنے رسول کی پیشگوئی میں ایک منٹ کابھی فرق پڑنے نہیں دیا اور نہ صرف اس پیشگوئی کو پوری کرکے دکھلایا بلکہ آئندہ کے لئے بھی ہزا روں پیشگوئیوں اور خوارق کا دروازہ کھول دیا۔ اگر تم ایماندار ہو تو شکر کرو اور شکر کے سجدات بجا لاؤ کہ وہ زمانہ جس کا انتظار کرتے کرتے تمہارے بزرگ آبا ء گزرگئے اور بیشمار روحیں اُس کے شوق میں ہی سفر کر گئیں وہ وقت تم نے پا لیا۔ اب اس کی قدر کرنا یا نہ کرنا اور اس سے فائدہ اُٹھانا یا نہ اُٹھانا تمہارے ہاتھ میں ہے۔ میں اس کو بار بار بیان کروں گا اور اِس کے اظہار سے میں رُک نہیں سکتا کہ میں وہی ہوں جو وقت پر اصلاح خلق کے لئے بھیجا گیا تا دین کو تازہ طور پر دلوں میں قائم کر دیا جائے۔ میں اس طرح بھیجا گیا ہوں جس طرح سے وہ شخص بعد کلیم االلہ مردخدا کے بھیجا گیا تھا جس کی روح ہیرو ڈیس کے عہد حکومت میں بہت تکلیفوں کے بعد آسمان کی طرف اٹھائی گئی۔ سوجب دوسرا کلیم االلہ جو حقیقت میں سب سے پہلا اور سیّدالانبیاء ہے دوسرے فرعونوں کی سرکوبی کے لئے آیا جس کے حق میں ہے اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا (المزمل: ۱۶) تو اس کو بھی جو اپنی کارروائیوں میں کلیم اوّل کا مثیل مگر رتبہ میں اس سے بزرگ تر تھا ایک مثیل المسیح کا وعدہ دیا گیا اور وہ مثیل المسیح قوت اور طبع اور خاصیت مسیح ابن مریم کی پا کر اسی زمانہ کی مانند اور اسی مدت کے قریب قریب جو کلیم اول کے زمانہ سے مسیح ابن مریم کے زمانہ تک تھی یعنی چودھویں صدی میں آسمان سے اُترا اور وہ اُترنا روحانی طور پر تھا جیسا کہ مکمل لوگوں کا صعود کے بعد خلق االلہکی اصلاح کے لئے نزول ہوتا ہے اور سب باتوں میں اُسی زمانہ کے ہم شکل زمانہ میں اُترا جو مسیح ابن مریم کے اُترنے کا زمانہ تھا تا سمجھنے والوں کے لئے نشان ہو۔ ٭ پس ہر ایک کو چا ہیے کہ اس سے انکار کرنے میں جلدی نہ کرے تا خدا تعالیٰ سے لڑنے والا نہ ٹھہرے۔ دنیا کے لوگ جو تاریک خیال اور اپنے پُرانے تصورات پر جمے ہوئے ہیں وہ اس کو قبول نہیں کریں گے مگر عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے جو اُن کی غلطی اُن پر ظاہر کردے گا۔ ’’دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہیں کیا لیکن خدا اُسے قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دیگا۔‘‘ یہ انسان کی بات نہیں خدا تعالیٰ کا الہام اور رب جلیل کا کلا م ہے۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اُن حملوں کے دن نزدیک ہیں۔ مگر یہ حملے تیغ و تبر سے نہیں ہوں گے اور تلواروں اور بندوقوں کی حاجت نہیں پڑے گی۔ بلکہ روحانی اسلحہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی مدد اترے گی اور یہودیوں سے سخت لڑائی ہوگی۔ وہ کون ہیں؟ اس زمانہ کے ظاہر پرست لوگ جنہوں نے بالا تفاق یہودیوں کے قدم پر قدم رکھا ہے اُن سب کو آسمانی سیف اللہ دو ٹکڑے کرے گی اور یہودیت کی خصلت مٹا دی جائے گی اور ہر ایک حق پوش دجال دنیا پرست یک چشم جو دین کی آنکھ نہیں رکھتا حُجت قاطعہ کی تلوار سے قتل کیا جائے گااور سچائی کی فتح ہو گی اور اسلام کے لئے پھر اُ س تازگی اور روشنی کا دن آئے گا جو پہلے وقتوں میں آچکا ہے اور وہ آفتاب اپنے پورے کمال کے ساتھ پھر چڑھے گا جیسا کہ پہلے چڑھ چکا ہے لیکن ابھی ایسا نہیں۔ ضرور ہے کہ آسمان اُسے چڑھنے سے روکے رہے جب تک کہ محنت اور جانفشانی سے ہمارے جگر خون نہ ہو جائیں اور ہم سارے آراموں کو اُس کے ظہور کے لئے نہ کھو دیں اور اعزاز اسلام کے لیے ساری ذلّتیں قبول نہ کرلیں۔ اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے۔ وہ کیا ہے؟ ہمارا اسی راہ میں مرنا۔ یہی موت ہے جس پر اسلام کی زندگی مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تجلّی موقوف ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کا دوسرے لفظوں میں اسلام نام ہے۔ اسی اسلام کا زندہ کرنا خدا تعالیٰ اَب چاہتا ہے اور ضرور تھا کہ وہ اس مہم عظیم کے روبراہ کرنے کے لئے ایک عظیم الشان کارخانہ جو ہر ایک پہلو سے مؤثر ہو اپنی طرف سے قائم کرتا۔ سو اُس حکیم وقدیر نے اس عاجز کو اصلاح خلائق کے لئے بھیج کر ایسا ہی کیا اور دنیا کو حق اور راستی کی طرف کھینچنے کے لئے کئی شاخوں پر امر تائید حق اور اشاعت اسلام کو منقسم کر دیا۔ چنانچہ منجملہ ان شاخوں کے ایک شاخ تالیف اور تصنیف کا سلسلہ ہے جس کا اہتمام اِس عاجز کے سپرد کیا گیا۔ اور وہ معارف و دقائق سکھلائے گئے جو انسان کی طاقت سے نہیں بلکہ صر ف خداتعالیٰ کی طاقت سے معلوم ہو سکتے ہیں اور انسانی تکلف سے نہیں بلکہ روح القدس کی تعلیم سے مشکلات حل کر دیئے گئے۔
دوسری شاخ اس کارخانہ کی اشتہارات جاری کرنے کا سلسلہ ہے جو بحکمِ الٰہی اتمامِ حجّت کی غرض سے جاری ہے اور اب تک بیس (۲۰) ہزار سے کچھ زیادہ اشتہارات اسلامی حجّتوں کو غیر قوموں پر پورا کرنے کے لئے شائع ہو چکے ہیں اور آئندہ ضرورت کے وقتوں میں ہمیشہ ہوتے رہیں گے۔
تیسری شاخ اس کارخانہ کی واردین اور صادرین اور حق کی تلاش کے لئے سفر کرنے والے اور دیگر اغراض متفرّقہ سے آنیوالے ہیں جو اس آسمانی کار خانہ کی خبر پا کر اپنی اپنی نیّتوں کی تحریک سے ملاقات کے لئے آتے رہتے ہیں۔ یہ شاخ بھی برابر نشوونما میں ہے۔ اگرچہ بعض دنوں میں کچھ کم مگر بعض دنوں میں نہایت سرگرمی سے اس کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ان سات برسوں میں ساٹھ (۶۰) ہزار سے کچھ زیادہ مہمان آئے ہوں گے اور جس قدر اُن میں سے مستعد لوگوں کو تقریری ذریعوں سے روحانی فائدہ پہنچایا گیا اور اُن کے مشکلات حل کر دئے گئے۔ اور اُن کی کمزوری کو دور کر دیا گیا اس کا علم خدا تعالیٰ کو ہے۔ مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ زبانی تقریریں جو سائلین کے سوالات کے جواب میں کی گئیں یا کی جاتی ہیں یا اپنی طرف سے محل اور موقعہ کے مناسب کچھ بیان کیا جاتا ہے یہ طریق بعض صورتوں میں تالیفات کی نسبت نہایت مفید اور مؤ ثر اور جلد تر دلوں میں بیٹھنے والا ثابت ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام نبی اس طریق کو ملحوظ رکھتے رہے ہیں اور بجُز خدا تعالیٰ کے کلام کے جوخاص طور پر بلکہ قلم بند ہو کر شائع کیا گیا باقی جس قدر مقالات انبیاء ہیں وہ اپنے اپنے محل پر تقریروں کی طرح پھیلتے رہے ہیں ۔ عام قاعدہ نبیوں کا یہی تھا کہ ایک محل شناس لیکچرار کی طرح ضرورتوں کے وقتوں میں مختلف مجالس اور محافل میں اُن کے حال کے مطابق روح سے قوت پا کر تقریریں کرتے تھے مگر نہ اِس زمانہ کے متکلّموں کی طرح کہ جن کو اپنی تقریر سے فقط اپنا علمی سرمایہ دکھلانا منظور ہوتا ہے۔ یا یہ غرض ہوتی ہے کہ اپنی جھوٹی منطق اور سو فسطائی حُجّتوں سے کسی سادہ لوح کو اپنے پیچ میں لاویں اور پھر اپنے سے زیادہ جہنّم کے لائق کریں بلکہ انبیاء نہایت سادگی سے کلام کرتے اور جو اپنے دل سے اُبلتا تھا وہ دوسروں کے دلوں میں ڈالتے تھے۔ اُن کے کلمات قدسیہ عین محل اور حاجت کے وقت پر ہوتے تھے اور مخا طبین کو شغل یا افسانہ کی طرح کچھ نہیں سناتے تھے بلکہ اُن کو بیمار دیکھ کر اور طرح طرح کے آفات ِ روحانی میں مبتلا پا کر علاج کے طور پر اُن کو نصیحتیں کرتے تھے یا حُججِ قاطعہ سے اُن کے اوہام کو رفع فرماتے تھے۔ اور اُن کی گفتگو میں الفاظ تھوڑے اور معانی بہت ہوتے تھے۔ سو یہی قاعدہ یہ عاجز ملحوظ رکھتا ہے اور وار دین اور صادرین کی استعداد کے موافق اور اُن کی ضرورتوں کے لحاظ سے اور اُن کے امراض لاحقہ کے خیال سے ہمیشہ باب ِ تقریر کھلا رہتا ہے ٭ کیونکہ بُرائی کو نشانہ کے طور پردیکھ کر اس کے روکنے کے لئے نصائح ضروریہ کی تیر اندازی کرنا اور بگڑے ہوئے اخلاق کو ایسے عضو کی طرح پا کر جو اپنے محل سے ٹل گیا ہو اپنی حقیقی صورت اور محل پر لانا۔ جیسے یہ علاج بیمار کے روبرو ہونے کی حالت میں متصور ہے اور کسی حالت میں کماحقّہ ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے چندیں ہزار نبی اور رسول بھیجے اور ان کی شرفِ صحبت میں مشرف ہونے کا حکم دیاتا ہر ایک زمانہ کے لوگ چشم دیدنمونوں کو پا کر اور ان کے وجود کو مجسم کلام الٰہی مشاہدہ کر کے اُن کی اقتدا کے لئے کوشش کریں۔ اگر صحبت صادقین میں رہنا واجبات دین میں سے نہ ہوتا تو خدا تعالیٰ اپنے کلام کو بغیر بھیجنے رسولوں اور نبیوں کے اور طور پر بھی نازل کر سکتا تھا یا صرف ابتدائی زمانہ میں ہی رسالت کے امر کو محدود رکھتا اور آئندہ ہمیشہ کے لئے سلسلۂ نبوت اور رسالت اور وحی کا منقطع کر دیتا لیکن خدا تعالیٰ کی عمیق حکمت اور دانائی نے ہر گز ایسا منظور نہیں رکھا اور ضرورت کے وقتوں میں یعنی جب کبھی محبت الٰہی اور خدا پرستی اور تقویٰ طہارت وغیرہ امور واجبہ میں فرق آتا رہاہے مقدس لوگ خدا تعالیٰ سے وحی پا کر نمونہ کے طور پر دنیا میں آتے رہے ہیں اور یہ دونوں قضئے باہم لازم ملزوم ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کو ہمیشہ کے لیے اصلاحِ خلائق کی طرف توجہ ہے تو یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ ایسے لوگ بھی ہمیشہ کی لئے آتے رہیں کہ جن کو خدا تعالیٰ نے اپنی خاص توجہ سے بینائی بخشی ہو اور اپنی مرضیات کی راہ پرثابت قدم کیا ہو۔ بلاشبہ یہ بات یقینی اور امور مسلّمہ میں سے ہے کہ یہ مہم عظیم اصلاح خلائق کی صرف کاغذوں کے گھوڑے دوڑانے سے روبراہ نہیں ہو سکتی۔ اسکے لئے اِ سی راہ پر قدم مارنا ضروری ہے جس پر قدیم سے خدا تعالیٰ کے پاک نبی مارتے رہے ہیں۔ اور اسلام نے اپناقدم رکھتے ہی اس مؤثر طریق کو ایسی مضبوطی اور استحکام سے رواج دیا ہے کہ اُس کی نظیر دوسرے مذہبوں میں ہر گز نہیں پائی جاتی۔ کون اس جماعت کثیر کا دوسری جگہ وجود دکھلا سکتا ہے جو تعداد میں دس ہزار سے بھی زیادہ بڑھ گئی تھی اور کمال اعتقاد اور انکسار اور جانفشانی اور پوری محویت سے سچائی کے حاصل کرنے اور راستی کے سیکھنے کے لئے آستانہ نبوی پر دن رات پڑی رہتی تھی بے شک حضرت موسیٰ کو بھی ایک جماعت ملی تھی مگر وہ کیسی اور کس قدر سر کش اور متمرّد اور روحانی صحبت اور صدق قدم سے دُور اور مہجور رہنے والی تھی اس بات کو بائبل کے پڑھنے والے اور یہودیوں کی تاریخ پر نظر ڈالنے والے خوب جانتے ہیں مگر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی جماعت نے اپنے رسول مقبول کی راہ میں ایسا اتحاد اور ایسی روحانی یگانگت پیدا کر لی تھی کہ اسلامی اخوت کی رو سے سچ مچ عضو واحد کی طرح ہو گئی تھی اور اُن کے روزانہ برتاؤ اور زندگی اور ظاہر و باطن میں انوارِ نبوت ایسے رچ گئے تھے کہ گویا وہ سب آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی عکسی تصویریں تھے۔ سو یہ بھاری معجزہ اندرونی تبدیلی کا جس کے ذریعہ سے فحش بت پرستی کرنے والے کامل خدا پرستی تک پہنچ گئے اور ہر دم دنیا میں غرق رہنے والے محبوب حقیقی سے ایسا تعلق پکڑ گئے کہ اس کی راہ میں پانی کی طرح اپنے خونوں کو بہا دیا یہ دراصل ایک صادق اور کامل نبی کی صحبت میں مخلصانہ قدم سے عمر بسر کرنے کا نتیجہ تھا۔ سو اِسی بنا پر یہ عاجز اس سلسلہ کے قائم رکھنے کے لئے مامور کیا گیا ہے اور چاہتا ہے کہ صحبت میں رہنے والوں کا سِلسلہ اور بھی زیادہ وسعت سے بڑھا دیا جائے اور ایسے لوگ دن رات صحبت میں رہیں کہ جو ایمان اور محبت اور یقین کے بڑھانے کے لیے شوق رکھتے ہوں اور اُن پر وہ انوار ظاہر ہوں کہ جو اس عاجز پر ظاہر کئے گئے ہیں اور وہ ذوق اُن کو عطا ہو جو اس عاجز کو عطا کیا گیا ہے تا اسلام کی روشنی عام طور پر دنیا میں پھیل جائے اور حقارت اور ذلت کا سیہ داغ مسلمانوں کی پیشانی سے دھویا جائے۔ اِسی کی بشارت دے کر خداوند خدا نے مجھے بھیجا اور کہا کہ بخرام کہ وقت تونزدیک رسیدو پائے محمدیاں بر منار بلند تر محکم اُفتاد۔ چوتھی شاخ اس کارخانہ کی وہ مکتوبات ہیں جو حق کے طالبوں یا مخالفوں کی طرف لکھے جاتے ہیں۔ چنانچہ اب تک عرصہ مذکورہ بالا میں نوے (۹۰) ہزار سے بھی کچھ زیادہ خط آئے ہوں گے جن کا جواب لکھا گیا بجز بعض خطوط کے جو فضول یا غیر ضروری سمجھے گئے اور یہ سلسلہ بھی بدستور جاری ہے اور ہر ایک مہینے میں غالباً تین سو (۳۰۰) سے سات سو (۷۰۰) یا ہزار تک خطوط کی آمد ورفت کی نوبت پہنچتی ہے۔
پانچویں شاخ اس کارخانہ کی جو خدا تعالیٰ نے اپنی خاص وحی اور الہام سے قائم کی مریدوں اور بیعت کرنے والوں کا سلسلہ ہے۔ چنانچہ اُس نے اس سلسلہ کے قائم کرنے کے وقت مجھے فرمایا کہ زمین میں طوفانِ ضلالت برپا ہے تو اس طوفان کے وقت میں یہ کشتی طیار کر جو شخص اس کشتی میں سوا رہو گا وہ غرق ہونے سے نجات پا جائے گا اور جو انکار میں رہے گا اس کے لئے موت درپیش ہے۔ اور فرمایا کہ جوشخص تیرے ہاتھ میں ہاتھ دے گااُس نے تیرے ہاتھ میں نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہاتھ دیا۔ اور اُس خداوند خدا نے مجھے بشارت دی کہ میں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اُٹھا لوں گا مگر تیرے سچے متبعین اور محبین قیامت کے دن تک رہیں گے اور ہمیشہ منکرین پر اُنہیں غلبہ رہے گا۔
یہ پانچ طور کا سلسلہ ہے جو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا اگرچہ ایک سرسری نگاہ والا آدمی صرف تالیف کے سلسلہ کو ضروری سمجھے گا اور دوسری شاخوں کو غیر ضروری اور فضول خیال کرے گا مگر خدا تعالیٰ کی نظر میں یہ سب ضروری ہیں اور جس اصلاح کے لئے اُس نے ارادہ فرمایا ہے وہ اصلاح بجزاستعمال اِ ن پانچوں طریقوں کے ظہور پذیر نہیں ہو سکتی۔ اگرچہ یہ تمام کارو بار خدا تعالیٰ کی خاص امداد اور خاص فضل پر چھوڑا گیا ہے اور اس کے انجام پہنچانے کے لئے وہی کافی اور اُسی کے مبشرانہ وعدے اطمینان بخش ہیں لیکن اُسی کے حکم اور تحریک سے مسلمانوں کو امداد کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے جیسا خدا تعالیٰ کے تمام نبی جو گذر چکے ہیں مشکلات پیش آمدہ کے وقت پر توجہ دلاتے رہے ہیں سو اُسی توجہ دہی کی غرض سے کہتا ہوں کہ یہ بات ظاہر ہے کہ اِن پنجگانہ شاخوں کے احسن طریق اور وسیع طورپر جاری رہنے کے لئے کس قدر مسلمانوں کی جمہوری امداد درکار ہے۔ مثلاً ایک تالیف کے ہی سلسلہ کو غور کر کے دیکھو کہ اگرہم پوری پوری اشاعت کی غرض سے اس خدمت کو اپنے ذمہ لیں تو اس کی تکمیل کے لئے کیا کچھ مالی وسائل کی ہمیں ضرورت پڑے گی کیونکہ اگر درحقیقت تکمیل اشاعت ہی ہماری غرض ہے تو ہمارا مدعا یہ ہونا چاہیے کہ ہماری دینی تالیفات جو جواہرات تحقیق اور تدقیق سے پُر اور حق کے طالبوں کو راہ راست پر کھینچنے والی ہیں جلدی سے اور نیز کثرت سے ایسے لوگوں کو پہنچ جائیں جو بُری تعلیموں سے متاثر ہو کر مہلک بیماریوں میں گرفتار یا قریب قریب موت کے پہنچ گئے ہیں اور ہر وقت یہ امر ہماری مدِ نظر رہنا چاہیے کہ جس ملک کی موجودہ حالت ضلالت کے سم قاتل سے نہایت خطرہ میں پڑ گئی ہو بلا توقف ہماری کتابیں اس ملک میں پھیل جائیں اور ہر ایک متلاشی حق کے ہاتھ میں وہ کتابیں نظر آویں لیکن ظاہر ہے کہ اس مدعا کا بوجہ اکمل و اتم اس طور سے حاصل ہونا ہر گز ممکن نہیں کہ ہم ہمیشہ یہی امر پیش نہاد خاطر رکھیں کہ ہماری کتابیں فروخت کے ذریعہ سے شائع ہوتی رہیں۔ اور محض فروخت کے طور پر کتابوں کو شائع کرنا اور نفسانی ملونی کی وجہ سے دنیا کو دین میں گھسیڑ دینا نہایت نکما اور قابل اعتراض طریق ہے جس کی شامت کی وجہ سے نہ ہم جلدی سے اپنی کتابیں دنیا میں پھیلا سکتے ہیں اور نہ کثرت سے وہ کتابیں لوگوں کودے سکتے ہیں۔ بلا شبہ یہ بات سچ اور بالکل سچ ہے کہ جس طرح ہم مثلاً ایک لاکھ کتاب کو مفت تقسیم کرنے کی حالت میں صرف بیس روز میں وہ سب کتابیں دور دور ملکوں میں پہنچا سکتے ہیں اور عام طور پر ہر ایک فرقہ میں اور ہر جگہ پھیلا سکتے ہیں اور ہر ایک حق کے طالب اور راستی کے متلاشی کو دے سکتے ہیں ایسی اور اس طرح کی اعلیٰ درجہ کی کارروائی قیمت پر دینے کی حالت میں شاید بیس برس کی مدت تک بھی ہم نہیں کر سکیں گے۔ فروخت کی حالت میں کتابوں کو صندوقوں میں بند کر کے ہم کو خریداروں کی راہ دیکھنا چاہیے کہ کب کوئی آتا ہے یا خط بھیجتا ہے اور ممکن ہے کہ اس انتظار دراز کے زمانہ میں ہم آپ ہی اس دنیا سے رخصت ہو جائیں اور کتابیں صندوقوں میں بند کی بند ہی رہیں ! سو چونکہ فروخت کا دائرہ نہایت تنگ اور اصل مدعا کا سخت حارج اور چند سال کے کام کو صد ہا برسوں پر ڈالتا ہے۔ اور مسلمانوں میں سے ایسا کوئی فراخ حوصلہ اور عالی ہمت امیر بھی اب تک اس طرف متوجہ نہیں ہوا کہ ہماری تالیفاتِ جدیدہ کے بہت سے نسخے خرید کر کے محض للہ تقسیم کیا کرتا۔ اور اسلام میں عیسائی مشن کی طرح کوئی ایسی سوسائٹی بھی نہیں جو اس کام کے لئے مدد دے سکے ٭ اور عمر کا بھی اعتبار نہیں۔ تاہم لمبی عمر کی امید پر کسی دور دراز وقت کے منتظر رہیں۔ لہٰذا میں نے اپنی تمام تالیفات میں ابتدا سے التزامی طور پر یہی مقررکر رکھا ہے کہ جہاں تک بس چل سکتا ہے بہت سا حصہ کتابوں کا مفت تقسیم کر دیا جائے تا جلدی سے اور عام طور پر یہ کتابیں جو سچائی کے نور سے بھری ہوئی ہیں دنیا میں پھیل جائیں مگر چونکہ میری ذاتی مقدرت ایسی نہیں تھی کہ میں اس بارِ عظیم کو تن تنہا اُٹھا سکتا اور دوسری شاخوں کے مصارف عظیمہ بھی اس شاخ کے ساتھ لاحق تھے اس لئے یہ کام طبع تالیفات کا ایک حد تک چل کر آگے رک گیا جو آج تک رکا ہوا ہے۔ خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کی تمام شاخوں کو ایک ہی نظر سے دیکھا ہے اور بنظر مساوات ان سب کی تکمیل اور ان سب کا قیام چاہتا ہے لیکن ان پنجگانہ شاخوں کے مصارف اس قدر ہیں کہ جن کے لئے مخلصین کی خاص توجہ اور ہمدردی کی ضرورت ہے۔ اگر میں اِن دینی مصارف کی مفصل حقیقت لکھوں تو بہت طول ہو جائے گا مگر اے بھائیو! تم نمونہ کے طور پر صرف واردین اور صادرین کے ہی سلسلہ پر نظر ڈال کردیکھو کہ اب تک سات سال کے عرصہ میں ساٹھ ہزار کے قریب یا اس سے کچھ زیادہ مہمان آیا ہے۔ اب تم اندازہ کر سکتے ہو کہ ان عزیز مہمانوں کی خدمت اور دعوت اور ضیافت میں کیا کچھ خرچ ہوا ہو گا اور اُن کے سرما اور گرما کے آرام کے لئے ضروری طور پر کیا کچھ بنانا پڑا ہوگا۔ بے شک ایک دور اندیش آدمی تعجب میں پڑے گا کہ اس قدر گروہ کثیرکی مہمانداری کے تمام لوازم اور مراتب وقتاً فوقتاً کیوں کر انجام پذیر ہوئے ہوں گے اور آئندہ کس بنا پر ایسا بڑا کام جاری ہے۔ ایسا ہی وہ بیس ہزار اشتہار جو انگریزی اور اُردو میں چھاپے گئے۔ اور پھر بارہ ہزار سے کچھ زیادہ مخالفین کے سرگروہوں کے نام رجسٹری کراکر بھیجے گئے اور ملک ہند میں ایک بھی ایسا پادری نہ چھوڑا جس کے نام وہ رجسٹری شدہ اشتہار نہ بھیجے گئے ہوں بلکہ یورپ اور امریکہ کے ممالک میں بھی یہ اشتہار ات بذریعہ رجسٹری بھیج کر حجت کو تمام کر دیا گیا۔ کیا اِن اخراجات پر غور کرنے سے یہ تعجب کا مقام نہیں کہ اس بضاعت مزجاۃ کے ساتھ کیوں کرتحمل اِن مصارف کا ہو رہا ہے اور یہ تو بڑے بڑے اخراجات ہیں۔اگر ان اخراجات کو ہی جانچا جائے کہ جو ہر مہینہ میں خطوط کے بھیجنے میں اُٹھانے پڑتے ہیں تو وہ بھی ایسی رقم کثیر نکلے گی جس کے مسلسل جاری رہنے کے لئے ابھی تک کوئی امدادی سبیل نہیں۔ اورجو لوگ سلسلہ بیعت میں داخل ہو کر حق کی طلب کی غرض سے اصحاب الصّفّہ کی طرح میرے پاس ٹھہرنا چاہتے ہیں اُن کے گزارہ کے لئے بھی مجھے آسمان کی طر ف نظر ہے اور میں جانتا ہوں کہ اِ ن پنجگانہ شاخوں کے قائم رکھنے کی سبیل آپ وہ قادر مطلق نکال دے گا جس کے ارادۂ خاص سے اس کارخانہ کی بنا ہے مگر بنظر تبلیغ ضروری ہے کہ قوم کو اس سے مطلع کر دیں۔ میں نے سنا ہے کہ بعض ناواقف یہ الزام میری نسبت شائع کرتے ہیں کہ کتاب براہین احمدیہ کی قیمت اورکسی قدر چندہ بھی قریب تین ہزار روپیہ کے لوگوں سے وصول ہوا۔ مگر اب تک کتاب بتمام وکمال طبع نہیں ہوئی۔ میں اِس کے جواب میں اُن پر واضح کرتا ہوں کہ روپیہ جو لوگوں سے وصول ہوا وہ صرف تین ہزار نہیں بلکہ علاوہ اس کے اور روپیہ بھی شاید قریب دس ہزار کے آیا ہوگا کہ جو نہ کتاب کے لئے چندہ تھا اور نہ کتاب کی قیمت میں دیا گیا تھا بلکہ بعض دعا کے خواستگاروں نے محض نذر کے طور پر دیا یا بعض دوستوں نے محض محبت کی راہ سے خدمت کی۔ سو وہ سب اس کارخانہ کے لابدی اور پیش آمدہ کاموں میں وقتاً فوقتاً خرچ ہوتا رہا اور چونکہ حکمت الٰہی نے سلسلہ تالیف کتاب کو تاخیر میں ڈالا ہوا تھااِس واسطے اُس کے لئے دوسری اہم شاخوں سے جو بامرالٰہی قائم تھیں کچھ بچت نکل نہ سکی اور تاخیرطبع کتاب میں حکمت یہی تھی کہ تا اس فترت کی مدت میں بعض دقائق و حقائق مؤلف پر کامل طور سے کھل جائیں اور نیز مخالفین کا سارا بخار باہر نکل آوے۔ اب جو ارادۂ الٰہی پھر اس طرف متعلق ہوا کہ بقیہ تالیفات کی تکمیل ہو تو اُس نے اِس مضمون دعوت کے لکھنے کی طرف مجھے توجہ دی۔ سو اس وقت مجھ کو تکمیل تالیفات کی سخت ضرورت ہے۔ براہین کا بہت ساحصہ ہنوز طبع کے لائق ہے۔ اگر وہ طیا ر ہو جائے تو خریداروں کو اور اُن سب کو پہنچایا جائے جن کو محض للہ پہلے حصے دیئے گئے ہیں اور آئندہ دینے کا وعدہ ہے۔ ایسا ہی دوسرے رسائل جیسے اَشعۃُالقرآن ،سراج منیر، تجدید دین، اربعین فی علامات المقربین اور قرآن شریف کی ایک تفسیر لکھنے کا بھی ارادہ ہے اور یہ بھی دل میں جوش ہے کہ عیسائی وغیرہ مذاہب باطلہ کے رد میں اور اُن کے اخبارات کے مقابل پر ماہواری ایک رسالہ نکلا کرے۔ اوران سب کاموں کے مسلسل اجراء کے لئے بجز انتظام سرمایہ اور مالی امداد کے اور کوئی روک درمیان نہیں۔ اگر ہم کو یہ میسر آ جائے کہ ایک مطبع ہمارا ہو اور ایک کاپی نویس ہمیشہ کے لئے ہمارے پاس رہے اور تمام ضروری مصارف کی وجوہ ہمیں حاصل ہوں یعنی جو کچھ کاغذات اورچھپوائی اور کاپی نویسوں کی تنخواہ میں خرچ ہوتا ہے وہ سارے اخراجات وقتاًفوقتاًبہم پہنچتے رہیں تو ان پنج شاخوں میں سے اس ایک شاخ کی پورے طور پر نشوونما پانے کا کافی انتظام ہو جائے گا۔
اے ملک ہند کیا تجھ میں کوئی ایسا باہمت امیر نہیں کہ اگر اور نہیں تو فقط اِسی شاخ کے اخراجات کا متحمل ہو سکے۔ اگر پانچ مومن ذی مقدرت اس وقت کو پہچان لیں تو اِن پانچ شاخوں کا اہتمام اپنے اپنے ذمہ لے سکتے ہیں۔ اے خدا وند خدا تو آپ اِن دلوں کو جگا۔ اسلام پر ابھی ایسی مفلسی طاری نہیں ہوئی۔ تنگدلی ہے ایسی تنگدستی نہیں۔ اور وہ لوگ جو کامل استطاعت نہیں رکھتے وہ بھی اس طور پر اس کارخانہ کی مدد کر سکتے ہیں جو اپنی اپنی طاقت مالی کے موافق ماہواری امداد کے طور پر عہد پختہ کے ساتھ کچھ کچھ رقوم نذر اس کارخانہ کی کیا کریں۔ کسل اور سردمہری اور بدظنّی سے کبھی دین کو فائدہ نہیں پہنچتا۔ بدظنی ویران کرنے والی گھروں کی اور تفرقہ میں ڈالنے والی دلوں کی ہے۔ دیکھو جنہوں نے انبیاء کا وقت پایا انہوں نے دین کی اشاعت کے لئے کیسی کیسی جانفشانیاں کیں جیسے ایک مالدار نے دین کی راہ میں اپنا پیارا مال حاضر کیا ایسا ہی ایک فقیر دریوزہ گر نے اپنی مرغوب ٹکڑوں کی بھری ہوئی زنبیل پیش کر دی۔ اور ایسا ہی کئے گئے جب تک کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے فتح کا وقت آگیا۔ مسلمان بننا آسان نہیں۔ مومن کا لقب پانا سہل نہیں۔ سو اے لوگو اگر تم میں وہ راستی کی روح ہے جو مومنوں کو دی جاتی ہے تو اس میری دعوت کو سرسری نگاہ سے مت دیکھو۔ نیکی حاصل کرنے کی فکر کرو کہ خدا تعالیٰ تمہیں آسمان پر دیکھ رہا ہے کہ تم اس پیغام کو سن کر کیاجواب دیتے ہو۔
اے مسلمانو ! جو اولوالعزم مومنوں کے آثار باقیہ ہو اور نیک لوگوں کی ذریت ہو انکار اور بدظنی کی طرف جلدی نہ کرو اور اس خوفناک وبا سے ڈرو جو تمہارے اردگر پھیل رہی ہے اور بے شمار لوگ اس کے دامِ فریب میں آگئے ہیں۔ تم دیکھتے ہو کہ کس قدر زور سے دین اسلام کے مٹانے کے لئے کوشش ہو رہی ہے۔ کیا تم پر یہ حق نہیں کہ تم بھی کوشش کرو۔ اسلام انسان کی طرف سے نہیں کہ تا انسانی کوششوں سے برباد ہو سکے مگر افسوس اُن پر ہے کہ جو اس کی بیخ کنی کے لئے درپے ہیں اور پھر دوسرا افسوس اُن پر ہے جو اپنی عورتوں اور اپنے بچوں اور اپنے نفس کی عیاشیوں کے لئے تو اُن کے پاس سب کچھ ہے مگر اسلام کے حصہ کا اُن کی جیب میں کچھ نہیں۔ کاہلو تم پر افسوس !کہ آپ تو تم اعلاء کلمۂ اسلام اور دینی انوار کے دکھلانے کی کچھ قوت نہیں رکھتے مگر خدا تعالیٰ کے قائم کردہ کارخانہ کو بھی جو اسلام کی چمکار ظاہر کرنے کے لئے آیا ہے شکر کے ساتھ قبول نہیں کر سکتے۔ آج کل اسلام اس چراغ کی طرح ہے جو ایک صندوق میں بند کر دیا جائے یا اُس چشمہ شیریں کی طرح ہے جو خس وخاشاک سے چھپا دیا جائے۔ اِسی وجہ سے اسلام تنزّل کی حالت میں پڑا ہے۔ اُس کا خوبصورت چہرہ دکھائی نہیں دیتا۔ اس کا دلکش اندام نظر نہیں آتا۔ مسلمانوں کا فرض تھا کہ اس کی محبوبانہ شکل دکھلانے کے لئے جان توڑ کر کوشش کرتے اور مال کیا بلکہ خون کو بھی پانی کی طرح بہاتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ اپنی غایت درجہ کی نادانی سے اس غلطی میں بھی پھنسے ہوئے ہیں کہ کیا پہلی تالیفات کافی نہیں۔ نہیں جانتے کہ جدید فسادوں کے دُور کرنے کے لئے جو جدید در جدید پیرائیوں میں ظاہر ہوتے جاتے ہیں مدافعت بھی جدید طور کی ہی ضروری ہے اور نیز ہر ایک زمانہ کی تاریکی پھیلنے کے وقت میں جو نبی اور رسول اور مصلح آتے رہے کیا اُس وقت پہلی کتابیں نہیں تھیں۔ سو بھائیو یہ تو ضروری ہے کہ تاریکی پھیلنے کے وقت میں روشنی آسمان سے اُترے۔ میں اِسی مضمون میں بیان کر چکا ہوں کہ خداتعالیٰ سورۃ القدر میں بیان فرماتا ہے بلکہ مومنین کو بشارت دیتا ہے کہ اُس کا کلام اور اس کا نبی لیلۃ القدر میں آسمان سے اُتارا گیا ہے اور ہر ایک مصلح اور مجدد جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے وہ لیلۃ القدر میں ہی اُترتا ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے؟ لیلۃ القدر اُس ظلمانی زمانہ کا نام ہے جس کی ظلمت کمال کی حد تک پہنچ جاتی ہے اس لئے وہ زمانہ بالطبع تقاضا کرتا ہے کہ ایک نور نازل ہو جو اس ظلمت کو دور کرے۔ اس زمانہ کا نام بطور استعارہ کے لیلۃالقدر رکھا گیا ہے۔ مگر درحقیقت یہ رات نہیں ہے۔ یہ ایک زمانہ ہے جو بوجہ ظلمت رات کا ہم رنگ ہے۔ نبی کی وفات یا اُس کے روحانی قائم مقام کی وفات کے بعد جب ہزار مہینہ جو بشری عمر کے دَور کو قریب الاختتام کرنے والا اور انسانی حواس کے الوداع کی خبر دینے والا ہے گذر جاتا ہے تو یہ رات اپنا رنگ جمانے لگتی ہے تب آسمانی کارروائی سے ایک یا کئی مصلحوں کی پوشیدہ طو ر پر تخم ریزی ہوجاتی ہے جو نئی صدی کے سر پر ظاہر ہونے کے لئے اندر ہی اندر طیار ہو رہتے ہیں۔ اسی کی طرف اللہ جلّشانہ اشارہ فرماتا ہے کہ لَیۡلَۃُ الۡقَدۡرِ ۬ۙ خَیۡرٌ مِّنۡ اَلۡفِ شَہۡرٍ (القدر: ۴) یعنی اس لیلۃ القدرکے نور کو دیکھنے والا اور وقت کے مصلح کی صحبت سے شرف حاصل کرنے والا اس اسّی (۸۰) برس کے بڈھے سے اچھا ہے جس نے اس نورانی وقت کونہیں پایا اور اگر ایک ساعت بھی اس وقت کو پا لیا ہے تو یہ ایک ساعت اس ہزار مہینے سے بہتر ہے جو پہلے گذر چکے۔ کیوں بہتر ہے؟ اس لئے کہ اس لیلۃ القدر میں خدا تعالیٰ کے فرشتے اور روح القدس اس مصلح کے ساتھ رب جلیل کے اذن سے آسمان سے اترتے ہیں نہ عبث طور پر بلکہ اس لئے کہ تامستعد دلوں پر نازل ہوں اور سلامتی کی راہیں کھولیں۔ سو وہ تمام راہوں کے کھولنے اور تمام پردوں کے اٹھانے میں مشغول رہتے ہیں یہاں تک کہ ظلمتِ غفلت دور ہو کر صبح ہدایت نمودار ہو جاتی ہے۔
اب اے مسلمانو غور سے اِن آیات کو پڑھو کہ کس قدر خدا تعالیٰ اس زمانہ کی تعریف بیان فرماتا ہے جس میں ضرورت کے وقت پر کوئی مصلحؔ دنیا میں بھیجاتا ہے کیا تم ایسے زمانہ کا قدر نہیں کرو گے کیا تم خدا تعالیٰ کے فرمودوں کو بنظر استہزاء دیکھو گے؟
سو اے اسلام کے ذی مقدرت لوگو! دیکھو !میں یہ پیغام آپ لوگو ں تک پہنچا دیتا ہوں کہ آپ لوگوں کو اس اصلاحی کارخانہ کی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نکلا ہے اپنے سارے دل اور ساری توجہ اور سارے اخلاص سے مدد کرنی چاہیے اور اس کے سارے پہلوؤں کو بنظر عزت دیکھ کر بہت جلد حق خدمت ادا کرنا چاہیے۔ جو شخص اپنی حیثیت کے موافق کچھ ماہواری دینا چاہتا ہے وہ اس کو حق واجب اور دَین لازم کی طرح سمجھ کر خود بخود ماہوار اپنی فکر سے ادا کرے اور اس فریضہ کو خالصۃً للّٰہ نذرمقرر کر کے اُس کے ادا میں تخلف یا سہل انگاری کو روا نہ رکھے۔ اور جو شخص یکمشت امداد کے طور پر دینا چاہتا ہے وہ اسی طرح ادا کرے لیکن یاد رہے کہ اصل مدعا جس پر اس سلسلہ کے بلا انقطاع چلنے کی امید ہے وہ یہی انتظام ہے کہ سچے خیر خواہ دین کے اپنی بضاعت اور اپنی بساط کے لحاظ سے ایسی سہل رقمیں ماہواری کے طور پر ادا کرنا اپنے نفس پر ایک حتمی وعدہ ٹھہرالیں جن کو بشرط نہ پیش آنے کسی اتفاقی مانع کے بآسانی ادا کر سکیں۔ ہاں جس کواللہ جلّشانہ توفیق اور انشراح صدر بخشے وہ علاوہ اس ماہواری چندہ کے اپنی وسعت ہمّت اور اندازہ مقدرت کے موافق یک مشت کے طور پر بھی مدد کر سکتا ہے۔ اور تم اے میرے عزیزو ! میرے پیارو !میرے درخت وجود کی سر سبز شاخو ! جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے جو تم پر ہے میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو اور اپنی زندگی ، اپنا آرام ، اپنا مال اس راہ میں فدا کر رہے ہو۔ اگرچہ میں جانتا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں تم اُسے قبول کرنا اپنی سعادت سمجھو گے اور جہاں تک تمہاری طاقت ہے دریغ نہیں کروگے لیکن میں اس خدمت کے لئے معین طور پر اپنی زبان سے تم پر کچھ فرض نہیں کر سکتا تاکہ تمہاری خدمتیں نہ میرے کہنے کی مجبوری سے بلکہ اپنی خوشی سے ہوں۔ میرا دوست کون ہے ؟ اورمیرا عزیز کون ؟ وہی جو مجھے پہچانتا ہے۔ مجھے کون پہنچاتا ہے؟ صرف وہی جو مجھ پر یقین رکھتا ہے کہ میں بھیجا گیا ہوں۔ اور مجھے اُس طرح قبول کرتا ہے جس طرح وہ لوگ قبول کئے جاتے ہیں جو بھیجے گئے ہوں۔ دنیا مجھے قبول نہیں کر سکتی کیونکہ میں دنیا میں سے نہیں ہوں۔ مگر جن کی فطرت کو اُس عالم کا حصہ دیا گیا ہے وہ مجھے قبول کرتے ہیں اور کریں گے۔ جو مجھے چھوڑتا ہے وہ اُس کو چھوڑتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جو مجھ سے پیوند کرتا ہے وہ اُس سے کرتا ہے جس کی طرف سے میں آیا ہوں میرے ہاتھ میں ایک چراغ ہے جو شخص میرے پاس آتا ہے ضرور وہ اُس روشنی سے حصہ لے گا مگر جو شخص وہم اور بدگمانی سے دور بھاگتا ہے وہ ظلمت میں ڈال دیا جا ئے گا۔ اس زمانہ کا حصن حصین میں ہوں جو مجھ میں داخل ہوتا ہے وہ چوروں اور قزاقوں اور درندوں سے اپنی جان بچائے گا مگر جو شخص میری دیواروں سے دور رہنا چاہتا ہے ہر طرف سے اس کو موت درپیش ہے ! اور اُس کی لاش بھی سلامت نہیں رہے گی۔ مجھ میں کون داخل ہوتا ہے ؟ وہی جو بدی کو چھوڑتا اور نیکی کو اختیار کرتا ہے اور کجی کو چھوڑتا اور راستی پر قدم مارتا ہے اور شیطان کی غلامی سے آزاد ہوتا اور خدا تعالیٰ کا ایک بندہٴ مطیع بن جاتاہے۔ ہر ایک جو ایسا کرتا ہے وہ مجھ میں ہے اور میں اُس میں ہوں مگر ایسا کرنے پر فقط وہی قادر ہوتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نفس مزکی کے سایہ میں ڈال دیتا ہے۔ تب وہ اُس کے نفس کی دوزخ کے اندر اپنا پیر رکھ دیتا ہے تووہ ایسا ٹھنڈا ہو جاتا ہے کہ گویا اُس میں کبھی آگ نہیں تھی۔ تب وہ ترقی پر ترقی کرتا ہے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی روح اُس میں سکونت کرتی ہے اور ایک تجلی خاص کے ساتھ رب العالمین کا استویٰ اس کے دل پر ہوتا ہے تب پورانی انسانیت اس کی جل کر ایک نئی اور پاک انسانیت اُس کو عطا کی جاتی ہے اور خدا تعالیٰ بھی ایک نیا خدا ہو کر نئے اور خاص طور پر اُس سے تعلق پکڑتا ہے اور بہشتی زندگی کا تمام پاک سامان اسی عالم میں اُس کو مل جاتا ہے۔
اِس جگہ میں اس بات کے اظہار اور اس شکر کے ادا کرنے کے بغیر رہ نہیں سکتا کہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا۔ میرے ساتھ تعلق اخوت پکڑنے والے اور اس سلسلہ میں داخل ہو نے والے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے محبت اور اخلاص کے رنگ سے ایک عجیب طرز پر رنگین ہیں۔ نہ میں نے اپنی محنت سے بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص احسان سے یہ صدق سے بھری ہوئی روحیں مجھے عطا کی ہیں۔ سب سے پہلے میں اپنے ایک روحانی بھائی کے ذکر کرنے کے لئے دل میں جوش پاتا ہوں جن کا نام اُن کے نورِ اخلاص کی طرح نور دین ہے میں اُن کی بعض دینی خدمتوں کو جو اپنے مال حلال کے خرچ سے اعلاء کلمہ اسلام کے لئے وہ کر رہے ہیں ہمیشہ حسرت کی نظر سے دیکھتا ہوں کہ کاش وہ خدمتیں مجھ سے بھی ادا ہو سکتیں۔ اُن کے دل میں جو تائید دین کے لئے جوش بھرا ہے اُس کے تصور سے قدرت الٰہی کا نقشہ میری آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے کہ وہ کیسے اپنے بندوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ وہ اپنے تمام مال اور تمام زور اور تمام اسباب مقدرت کے ساتھ جو اُن کو میسر ہیں ہر وقت اللہ رسول کی اطاعت کے لئے مستعد کھڑے ہیں اور میں تجربہ سے نہ صرف حسن ظن سے یہ علم صحیح واقعی رکھتا ہوں کہ اُنہیں میری راہ میں مال کیا بلکہ جان اور عزت تک دریغ نہیں۔ اور اگر میں اجازت دیتا تو وہ سب کچھ اس راہ میں فدا کر کے اپنی روحانی رفاقت کی طرح جسمانی رفاقت اور ہر دم صحبت میں رہنے کا حق ادا کرتے۔ اُن کے بعض خطوط کی چند سطریں بطورنمونہ ناظرین کو دکھلاتا ہوں تا انہیں معلوم ہو کہ میرے پیارے بھائی مولوی حکیم نور دین بھروی معالج ریاست جموں نے محبت اور اخلاص کے مراتب میں کہاں تک ترقی کی ہے اور وہ سطریں یہ ہیں۔
مولانا، مرشدنا، امامنا۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و بر کاتہ ’۔ عالی جناب میری دعا یہ ہے کہ ہر وقت حضور کی جناب میں حاضر رہوں اور امام زمان سے جس مطلب کے واسطے وہ مجدد کیا گیا وہ مطالب حاصل کروں۔ اگر اجازت ہو تو میں نوکری سے استعفا دے دوں اور دن رات خدمت عالی میں پڑا رہوں یا اگر حکم ہو تو اس تعلق کو چھوڑ کر دنیا میں پھروں اور لوگوں کو دین حق کی طر ف بلاؤں اور اسی راہ میں جان دوں۔ میں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔ میرا جو کچھ ہے میرا نہیں آپ کا ہے۔ حضرت پیرو مرشد میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال ودولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہو جائے تو میں مراد کو پہنچ گیا۔ اگر خریدار براہین کے توقف طبع کتاب سے مضطرب ہوں تو مجھے اجازت فرمائیے کہ یہ ادنیٰ خدمت بجالاؤں کہ اُن کی تمام قیمت ادا کر دہ اپنے پاس سے واپس کر دُوں۔ حضرت پیرو مرشدنابکار شرمسار عرض کرتا ہے اگر منظور ہو تو میری سعادت ہے۔ میرا منشاء ہے کہ براہین کے طبع کاتمام خرچ میرے پر ڈال دیا جائے پھر جو کچھ قیمت میں وصول ہو وہ روپیہ آپ کی ضروریات میں خرچ ہو۔ مجھے آپ سے نسبت فاروقی ہے اور سب کچھ اس راہ میں فدا کرنے کے لئے طیار ہوں۔ دعا فرماویں کہ میری موت صدیقوں کی موت ہو۔
مولوی صاحب ممدوح کا صدق اور ہمّت اور اُن کی غمخواری اور جان نثاری جیسے اُن کے قال سے ظاہر ہے اس سے بڑھ کر اُن کے حال سے اُن کی مخلصانہ خدمتوں سے ظاہر ہو رہا ہے اور وہ محبت اور اخلاص کے جذبہ کاملہ سے چاہتے ہیں کہ سب کچھ یہاں تک کہ اپنے عیال کی زندگی بسر کرنے کی ضروری چیزیں بھی اسی راہ میں فدا کر دیں۔ اُن کی روح محبت کے جوش اور مستی سے اُن کی طاقت سے زیادہ قدم بڑھانے کی تعلیم دے رہی ہے اور ہر دم اور ہر آن خدمت میں لگے ہوئے ہیں ٭ لیکن یہ نہایت درجہ کی بے رحمی ہے کہ ایسے جان نثار پر وہ سارے فوق الطاقت بوجھ ڈال دیئے جائیں جن کو اُٹھانا ایک گروہ کا کام ہے۔ بیشک مولوی صاحب اس خدمت کو بہم پہنچانے کے لئے تمام جائداد سے دست بردار ہوجا نا اور ایوب نبی کی طرح یہ کہنا کہ ’’میں اکیلا آیا اور اکیلا جاؤں گا‘‘ قبول کر لیں گے لیکن یہ فریضہ تمام قوم میں مشترک ہے اور سب پر لازم ہے کہ اس پُر خطر اور پُرفتنہ زمانہ میں کہ جو ایمان کے ایک نازک رشتہ کو جو خدا اور اُس کے بندے میں ہونا چاہیے بڑے زور و شور کے ساتھ جھٹکے دے کر ہلا رہا ہے اپنے اپنے حسن خاتمہ کی فکر کریں اور وہ اعمال صالحہ جن پر نجات کا انحصار ہے اپنے پیارے مالوں کے فدا کرنے اور پیارے وقتوں کو خدمت میں لگانے سے حاصل کریں اور خدا تعالیٰ کے اُس غیر متبدل اور مستحکم قانون سے ڈریں جو وہ اپنے کلام عزیز میں فرماتا ہے لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ (اٰل عمران: ۹۳) یعنی تم حقیقی نیکی کو جو نجات تک پہنچاتی ہے ہر گز پا نہیں سکتے بجز اس کے کہ تم خدا تعالیٰ کی راہ میں وہ مال اور وہ چیزیں خرچ کرو جو تمہاری پیاری ہیں۔ اِس جگہ میں اپنے چنداور دلی دوستوں کا بھی ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں جو اس الٰہی سلسلہ میں داخل اور میرے ساتھ سرگرمی سے دلی محبت رکھتے ہیں۔ از آں جملہ اخویم شیخ محمد حسین مراد آبادی ہیں جو اس وقت مراد آباد سے قادیان میں آ کر اس مضمون کی کاپی محض للہ لکھ رہے ہیں۔ شیخ صاحب ممدوح کا صاف سینہ مجھے ایسا نظر آتا ہے جیسا آئینہ۔ وہ مجھ سے محض للہ غایت درجہ کا خلوص و محبت رکھتے ہیں اُن کا دل حب للہ سے پُر ہے اور نہایت عجیب مادہ کے آدمی ہیں۔ میں اُنہیں مراد آباد کے لئے ایک شمع منور سمجھتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ محبت اور اخلاص کی روشنی جو اُن میں ہے وہ کسی دن دوسروں میں بھی سرایت کرے گی۔ شیخ صاحب اگرچہ قلیل البضاعت ہیں مگر دل کے سخی اور منشرح الصدر ہیں۔ ہر طرح سے اس عاجز کی خدمت میں مشغول رہتے ہیں اور محبت سے بھرا ہوا اعتقاد اُن کے رگ وریشہ میں رچا ہوا ہے۔ از آں جملہ اخویم حکیم فضل دین بھیروی ہیں۔ حکیم صاحب ممدوح جس قدر مجھ سے محبت اور اخلاص اور حسن ارادت اور اندرونی تعلق رکھتے ہیں میں اُس کے بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ وہ میرے سچے خیر خواہ اور دلی ہمدرد اور حقیقت شناس مرد ہیں۔ بعد اس کے جو خدا تعالیٰ نے اس اشتہار کے لکھنے کے لئے مجھے توجہ دی اور اپنے الہامات خاصہ سے امیدیں دلائیں میں نے کئی لوگوں سے اس اشتہار کے لکھنے کا تذکرہ کیا کوئی مجھ سے متفق الرائے نہیں ہوا لیکن میرے یہ عزیز بھائی بغیر اس کے کہ میں اِن سے ذکر کرتا خود مجھے اس اشتہار کے لکھنے کے لئے محرک ہوئے اور اس کے اخراجات کے واسطے اپنی طرف سے سو روپیہ دیا۔ میں ان کی فراست ایمانی سے متعجب ہوں کہ اُن کے ارادہ کو خدا تعالیٰ کے ارادہ سے توارد ہو گیا۔ وہ ہمیشہ در پردہ خدمت کرتے رہتے ہیں اور کئی سو روپیہ پوشیدہ طور پر محض ابتغاءً لمرضات اللّٰہ اس راہ میں دے چکے ہیں۔ خدا تعالیٰ اُنہیں جزائے خیر بخشے۔ از آنجملہ میرے نہایت پیارے بھائی اپنی جدائی سے ہمارے دل پر داغ ڈالنے والے میرزا عظیم بیگ صاحب مرحوم و مغفور رئیس سا مانہ علاقہ پٹیالہ کے ہیں جو دوسری ربیع الثانی ۱۳۰۸ھ میں اس جہانِ فانی سے انتقال کر گئے اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ اَلْعَیْنُ تَدْمَعُ وَ الْقَلْبُ یَحْزُنُ وَ اِنَّا بِفِرَاقِہٖ لَمَحْزُوْنُوْنَ میرزاصاحب مرحوم جس قدر مجھ سے محض للہ محبت رکھتے اور جس قدر مجھ میں فنا ہو رہے تھے میں کہاں سے ایسے الفاظ لاؤں تا اُس عشقی مرتبہ کو بیان کر سکوں اور جس قدر اُن کی بےوقت مفارقت سے مجھے غم اور اندوہ پہنچا ہے میں اپنے گذشتہ زمانہ میں اُس کی نظیر بہت ہی کم دیکھتا ہوں۔ وہ ہمارے فرط اور ہمارے میر منزل ہیں جو ہمارے دیکھتے دیکھتے ہم سے رخصت ہو گئے۔ جب تک ہم زندہ رہیں گے اُن کی مفارقت کا غم ہمیں کبھی نہیں بھولے گا۔
در دیست در دلم کہ گر از پیش آب چشم
بر دارم آستین برود تا بدامنم
اے خدا اے چارہ سازِ ہر دل اندوہگیں
اے پناہ عاجزان آمرز گارِمُذنبین
از کرم آں بندۂ خودرا بہ بخشش ہا نواز
ایں جدا افتاد گاں را ازترحم ہا بہ بین
اور میں اس جگہ اس بات کا اظہار بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ جس قدر لوگ میرے سلسلۂ بیعت میں داخل ہیں وہ سب کے سب ابھی اس بات کے لائق نہیں کہ میں اُن کی نسبت کوئی عمدہ رائے ظاہر کرسکوں بلکہ بعض خشک ٹہنیوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ جن کو میرا خداوند جو میرا متولّی ہے مجھ سے کاٹ کر جلنے والی لکڑیوں میں پھینک دے گا۔ بعض ایسے بھی ہیں کہ اوّل اُن میں دلسوزی اور اخلاص بھی تھا مگر اب اُن پر سخت قبض وارد ہے اور اخلاص کی سرگرمی اور مریدانہ محبت کی نورانیت باقی نہیں رہی بلکہ صرف بَلْعَمْ کی طرح مکاریاں باقی رہ گئی ہیں اور بوسیدہ دانت کی طرح اب بجزاس کے کسی کام کے نہیں کہ منہ سے اُکھاڑ کر پیروں کے نیچے ڈال دئیے جائیں۔ وہ تھک گئے اور درماندہ ہوگئے اور نابکار دنیا نے اپنے دام تزویر کے نیچے اُنہیں دبا لیا۔ سو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ عنقریب مجھ سے کاٹ دئیے جائیں گے بجز اس شخص کے کہ خدا تعالیٰ کا فضل نئے سرے اُس کا ہاتھ پکڑ لیوے۔ ایسے بھی بہت ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے مجھے دیا ہے اور وہ میرے درختِ وجود کی سر سبز شاخیں ہیں اور میں انشاء اللہ کسی دوسرے وقت میں اُن کا تذکرہ لکھوں گا۔
اس جگہ میں بعض اُن لوگوں کا وسوسہ بھی دور کر نا چاہتا ہوں جو ذی مقدرت لوگ ہیں اور اپنے تئیں بڑا فیاض اور دین کی راہ میں فدا شدہ خیال کرتے ہیں لیکن اپنے مالوں کو محل پر خرچ کرنے سے بکلّی منحرف ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ہم کسی صادق مؤید من اللہ کا زمانہ پاتے جو دین کی تائید کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوتا تو ہم اُس کی نصرت کی راہ میں ایسے جھکتے کہ قربان ہی ہو جاتے مگر کیا کریں ہر طرف فریب اور مکر کا بازار گرم ہے مگر اے لوگو تم پر واضح رہے کہ دین کی تائید کے لئے ایک شخص بھیجا گیا لیکن تم نے اُسے شناخت نہیں کیا۔ وہ تمہارے درمیان ہے اور یہی ہے جو بول رہا ہے۔ پر تمہاری آنکھوں پر بھاری پردے ہیں۔ اگر تمہارے دل سچائی سے طلب گار ہوں تو جو شخص خدا تعالیٰ کے ہم کلام ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اُس کا آزمانا بہت سہل ہے۔ اُس کی خدمت میں آؤ۔ اس کی صحبت میں دو تین ہفتے رہو تا اگر خدا تعالیٰ چاہے تو اُن برکات کی بارشیں جو اُس پر ہو رہی ہیں اور وہ حقانی وحی کے انوار جو اُس پر اُتر رہے ہیں اُن میں سے تم بچشم خود دیکھ لو۔ جو ڈھونڈتا ہے وہی پاتا ہے جو کھٹکھٹاتا ہے اُسی کے لئے کھولا جاتا ہے۔ اگر تم آنکھیں بند کر کے اور اندھیری کوٹھری میں چھپ کر یہ کہو کہ آفتاب کہاں ہے تو یہ تمہاری عبث شکایت ہے۔ اے نادان اپنی کوٹھری کے کواڑ کھول اور اپنی آنکھوں پر سے پردہ اُٹھا تا تجھے آفتاب نہ صرف نظر آوے بلکہ اپنی روشنی سے تجھے منور بھی کرے۔
بعض کہتے ہیں کہ انجمنیں قائم کرنا اور مدارس کھولنا ہی تائید دین کے لئے کافی ہے مگر وہ نہیں سمجھتے کہ دین کس چیزکا نام ہے اور اس ہماری ہستی کی انتہائی اغراض کیا ہیں اور کیوں کر اور کن راہوں سے وہ اغراض حاصل ہو سکتے ہیں۔ سو اُنہیں جاننا چاہیے کہ انتہائی غرض اس زندگی کی خدا تعالیٰ سے وہ سچا اور یقینی پیوند حاصل کرنا ہے جو تعلقات نفسانیہ سے چھوڑ اکر نجات کے سر چشمہ تک پہنچاتا ہے۔ سو اس یقین کامل کی راہیں انسانی بناوٹوں اور تدبیروں سے ہر گز کھل نہیں سکتیں اور انسانوں کا گھڑا ہوا فلسفہ اس جگہ کچھ فائدہ نہیں پہنچاتا بلکہ یہ روشنی ہمیشہ خدا تعالیٰ اپنے خاص بندوں کے ذریعہ سے ظلمت کے وقت میں آسمان سے نازل کرتا ہے اور جو آسمان سے اُترا وہی آسمان کی طرف لے جاتا ہے۔ سو اے وے لوگو جو ظلمت کے گڑھے میں دبے ہوئے اور شکوک و شبہات کے پنجہ میں اسیر اور نفسانی جذبات کے غلام ہو صرف اِسمی اور رَسمی اسلام پر ناز مت کرو اور اپنی سچی رفاہیت اور اپنی حقیقی بہبودی اور اپنی آخری کامیابی انہی تدبیروں میں نہ سمجھو جو حال کی انجمنوں اور مدارس کے ذریعہ سے کی جاتی ہیں۔ یہ اشغال بنیادی طور پر فائدہ بخش تو ہیں اور ترقیات کا پہلا زینہ متصور ہو سکتے ہیں مگر اصل مدعا سے بہت دور ہیں۔ شاید ان تدبیروں سے دماغی چالاکیاں پیدا ہوں یا طبیعت میں پُرفنی اور ذہن میں تیزی اور خشک منطق کی مشق حاصل ہو جائے یا عالمیت اور فاضلیت کا خطاب حاصل کر لیا جائے اور شاید مدت دراز کی تحصیل علمی کے بعد اصل مقصود کے کچھ ممد بھی ہو سکیں مگر تا تر یاق از عراق آوردہ شود مار گزیدہ مردہ شود۔ سو جاگو اور ہوشیار ہوجاؤ ایسا نہ ہو کہ ٹھوکر کھاؤ۔ مبادا سفر آخرت ایسی صورت میں پیش آوے جو درحقیقت الحاد اور بے ایمانی کی صورت ہو یقیناً سمجھو کہ فلاح عاقبت کی امیدوں کا تمام مدارو انحصار اِن رسمی علوم کی تحصیل پر ہر گز نہیں ہو سکتا اور اُس آسمانی نور کے اُترنے کی ضرورت ہے جو شکوک و شہبات کی آلائشوں کو دور کرتا اور ہوا و ہوس کی آگ کو بجھاتااور خدا تعالیٰ کی سچی محبت اور سچے عشق اور سچی اطاعت کی طرف کھینچتا ہے۔ اگر تم اپنی کانشنس سے سوال کرو تو یہی جواب پاؤ گے کہ وہ سچی تسلی اور سچا اطمینان کہ جو ایک دم میں روحانی تبدیلی کا موجب ہوتا ہے وہ ابھی تک تم کو حاصل نہیں۔ پس کمال افسوس کی جگہ ہے کہ جس قدر تم رسمی باتوں اور رسمی علوم کی اشاعت کے لئے جوش رکھتے ہو اس کا عشر عشیر بھی آسمانی سلسلہ کی طرف تمہارا خیال نہیں۔ تمہاری زندگی اکثر ایسے کاموں کے لئے وقف ہو رہی ہے کہ اوّل تو وہ کام کسی قسم کا دین سے علاقہ ہی نہیں رکھتے اور اگر ہے بھی تو وہ علاقہ ایک ادنیٰ درجہ کا اور اصل مدعا سے بہت پیچھے رہا ہوا ہے۔ اگر تم میں وہ حواس ہوں اور وہ عقل جو ضروری مطلب پر جا ٹھہرتی ہے تو تم ہر گز آرام نہ کرو جب تک وہ اصل مطلب تمہیں حاصل نہ ہو جائے۔ اے لوگو تم اپنے سچے خداوند خدا اپنے حقیقی خالق اپنے واقعی معبود کی شناخت اور محبت اور اطاعت کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔ پس جب تک یہ امر جو تمہاری خِلقت کی علت غائی ہے بیّن طور پر تم میں ظاہر نہ ہو تب تک تم اپنی حقیقی نجات سے بہت دور ہو۔ اگر تم انصاف سے بات کرو تو تم اپنی اندرونی حالت پر آپ ہی گواہ ہو سکتے ہو کہ بجائے خدا پرستی کے ہر دم دنیا پرستی کا ایک قوی ہیکل بت تمہارے دل کے سامنے ہے جس کو تم ایک ایک سکنڈ میں ہزارہزار سجدہ کر رہے ہو اور تمہارے تمام اوقات عزیز دنیاکی جق جق بک بک میں ایسے مستغرق ہو رہے ہیں کہ تمہیں دوسری طرف نظر اُٹھانے کی فرصت نہیں۔ کبھی تمہیں یاد بھی ہے کہ انجام اس ہستی کا کیا ہے۔ کہاں ہے تم میں انصاف !کہاں ہے تم میں امانت !کہاں ہے تم میں وہ راستبازی اور خدا ترسی اور دیانتداری اور فروتنی جس کی طرف تمہیں قرآن بلاتا ہے تمہیں کبھی بھولے بسرے برسوں میں بھی تو یادنہیں آتا کہ ہمار اکوئی خدا بھی ہے۔ کبھی تمہارے دل میں نہیں گذرتا کہ اُس کے کیا کیا حقوق تم پر ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ تم نے کوئی غرض کوئی واسطہ کوئی تعلق اُس قیوم حقیقی سے رکھا ہوا ہی نہیں اور اُس کا نام تک لینا تم پر مشکل ہے۔ اب چالاکی سے تم لڑ وگے کہ ہر گز ایسا نہیں لیکن خدا تعالیٰ کا قانون قدرت تمہیں شرمندہ کرتا ہے جبکہ وہ تمہیں جتلاتا ہے کہ ایمانداروں کی نشانیاں تم میں نہیں۔ اگرچہ تم اپنی دنیوی فکروں اور سوچوں میں بڑے زور سے اپنی دانشمندی اور متانتِ رائے کے مدعی ہو مگر تمہاری لیاقت تمہاری نکتہ رسی تمہاری دور اندیشی صرف دنیا کے کناروں تک ختم ہو جاتی ہے اور تم اپنی اس عقل کے ذریعہ سے اُس دوسرے عالم کا ایک ذرہ سا گوشہ بھی نہیں دیکھ سکتے جس کی سکونت ابدی کے لئے تمہاری روحیں پیداکی گئی ہیں۔ تم دنیا کی زندگی پر ایسے مطمئن بیٹھے ہو جیسے کوئی شخص ایک چیز ہمیشہ رہنے والی پر مطمئن ہو تا ہے مگر وہ دوسرا عالم جس کی خوشیاں سچے اطمینان کے لائق اور دائمی ہیں وہ ساری عمر میں ایک مرتبہ بھی تمہیں یا دنہیں آتا۔ کیا بد قسمتی ہے کہ ایک بڑے امر اہم سے تم قطعاً غافل اور آنکھیں بند کئے بیٹھے ہو اور جو گزشتنی گزاشتنی امور ہیں اُن کی ہوس میں دن رات سرپٹ دوڑ رہے ہو تمہیں خوب خبر ہے کہ بلاشبہ وہ وقت تم پر آنے والا ہے کہ جو ایک دم میں تمہاری زندگی اور تمہاری ساری آرزوؤں کا خاتمہ کر دے گا مگر یہ عجیب شقاوت ہے کہ باوجود اس علم کے پھر اپنے تمام اوقات دنیا طلبی میں ہی برباد کر رہے ہو۔ اور دنیا طلبی بھی صرف وسائل جائزہ تک محدودنہیں بلکہ تمام ناجائز وسیلے جھوٹ اور دغا سے لے کر ناحق کے خون تک تم نے حلال کر رکھے ہیں۔ اور اِن تمام شرمناک جرائم کے ساتھ جو تم میں پھیلے ہوئے ہیں کہتے ہو کہ آسمانی نوراور آسمانی سلسلہ کی ہمیں ضرورت نہیں بلکہ اس سے سخت عداوت رکھتے ہو اور تم نے خدا تعالیٰ کے آسمانی سلسلہ کو بہت ہلکا سمجھ رکھا ہے یہاں تک کہ اُس کے ذکر کرنے میں بھی تمہاری زبانیں کراہت سے بھرے ہوئے الفاظ کے ساتھ اور بڑی رعونت اور ناک چڑھانے کی حالت میں ہجو کا حق ادا کرتی ہیں اور تم بار بار کہتے ہو کہ ہمیں کیوں کر یقین آوے کہ یہ سلسلہ منجانب اللہ ہے۔ میں ابھی اس کا جواب دے چکا ہوں کہ اس درخت کو اس کے پھلوں سے اور اس نیر کو اُس کی روشنی سے شناخت کروگے۔ میں نے ایک دفعہ یہ پیغام تمہیں پہنچادیا ہے۔ اب تمہارے اختیار میں ہے کہ اس کو قبول کرو یا نہ کرو اور میری باتوں کو یاد رکھو یا لوحِ حافظہ سے بھلا دو۔
جیتے جی قدر بشر کی نہیں ہوتی پیارو
یاد آئیں گے تمہیں میرے سخن میرے بعد
مے سزد گر خوں ببار د دیدۂ ہر اہل دیں
بر پریشاں حالیِ اسلام و قحط المسلمین
دین حق را گردش آمد صعبناک وسہمگیں
سخت شورے او فتاد اندر جہاں از کفر و کیں
آنکہ نفس او ست از ہر خیر وخوبی بے نصیب
مے تراشد عیب ہا در ذات خیر المرسلین
آنکہ در زندانِ ناپاکی ست محبوس وا سیر
ہست در شانِ امامِ پاکبازاں نکتہ چِیں
تیر بر معصوم مے بارد خبیثے بد گُہر
آسماں را می سزد گر سنگ باردبر زمیں
پیش چشمانِ شما اسلام در خاک اُوفتاد
چیست عذرے پیش حق اے مجمع المتنعمین
ہر طرف کفر ست جو شاں ہمچو افواجِ یزید
دین حق بیمارو بیکس ہمچو زین العابدین
مردمِ ذی مقدرت مشغولِ عشرت ہائے خویش
خرم و خنداں نشستہ بابُتانِ نازنین
عالماں را روز و شب باہم فساد از جوش نفس
زاہداں غافل سراسر از ضرورت ہائے دیں
ہر کسے از بہر نفسِ دُونِ خود طرفے گرفت
طرفِ دیں خالی شدو ہر دشمنے جست از کمیں
اے مسلماناں چہ آثارِ مسلمانی ہمیں ست
دیں چنیں ابتر شما در جیفہء دنیا رہیں
کاخِ دنیا راچہ استحکام در چشمِ شماست
یا مگر از دل بروں کر دید موتِ اوّلیں
دورِ موت آمد قریب اے غافلاں فکرش کنید
دَورِ مے تاکے بخوبانِ لطیف و مہ جبیں
نفس خود رابستہ دنیا مدار اے ہوشمند
ورنہ تلخی ہا بہ بینی وقت انفاسِ پسیں
دل مدِہ اِلاّ بدلدارے کہ حسنش دایم ست
تا سرورِ دائمی یابی زِ خیر المحسنین
آن خرد مندے کہ او دیوانۂ راہش بود
ہوشیارے آنکہ مست روئے آن یارِ حسیں
ہست جامِ عشق اُو آبِ حیاتِ لازوال
ہر کہ نوشید ست اُو ہر گز نہ میرد بعد زیں
اے برادر دل َمنہِ در دولت دنیاءِ دُوں
زہر خوں ریزست در ہر قطرۂ ایں انگبیں
تاتوانی جہد کُن از بہر ِ دیں باجان و مال
تا زِ ربّ العرش یابی خلعتِ صد آفریں
از عمل ثابت کن آں نورے کہ در ایمانِ تُست
دل چو دادی یوسفے را راہِ کنعاں را گزیں
یاد ایامیکہ ایں دیں مرجع ہر کیش بود
عالمے را وا رہانید از رہِ دیو لعیں
بر زمیں گسترد ظلِ تربیت از نورِ علم
پائے خود مے زد ز عز و جاہ بر چرخِ بریں
این زمانے آنچناں آمد کہ ہر ابن الجَہول
از سفاہت میکند تکذیب ایں دین متیں
صد ہزاراں ابلہاں از دیں بُروں بر دند رخت
صد ہزاراں جاہلاں گشتند صید الماکریں
بر مسلماناں ہمہ ادبار زِیں رہ اوفتاد
کزپئے دیں ہمت شاں نیست باغیرت قریں
گربگردد عالمے از راہِ دینِ مصطفیٰ
از رہِ غیرت نمے جنبند ہم مثلِ جنیں
فکر ایشاں غرق ہر دم در رہِ دنیائِ دوں
مال ایشاں غارت اندر راہِ نسوان و بنیں
ہرکجا در مجلسے فسق ست ایشاں صدرِ شاں
ہر کجا ہست از معاصی حلقۂ ایشاں نگیں
باخرابات آشنا بیگانہ از کوئے ہدیٰ
نفرت از ار بابِ دیں بامیَ پرستاں ہم نشیں
رو بگرانید دلدارے کہ صد اخلاص داشت
چوں ندید اندر دل ایں قوم صدق المخلصیں
آں زمانِ دولت واقبالِ ایشاں در گزشت
شومیء اعمالِ شاں آوُرد ایامی چنیں
از رہِ دِیں پرورے آمد عروج اندر نخست
باز چوں آید بیا ید ہم ازیں رہ بالیقیں
یا الٰہی باز کے آید زِ تو وقت مدد
باز کے بینیم آں فرخندہ ایام وسنیں
ایں دو فکر دین احمد مغزِ جانِ ماگداخت
کثرتِ اَعدائے ملت قلت انصارِ دیں
اے خدا زود آ و برما آبِ نصرت ہا ببار
یا مرا بردار یا ربّ زِیں مقامِ آتشیں
اے خدا نورِ ہُدیٰ از مشرق رحمت برار
گُمر ہاں را چشم کن روشن ز آ یاتے مبیں
چوں مرا بخشیدۂٖ صدق اندریں سوزوگداز
نیست اُمیدم کہ ناکامم بمیرانی دریں
کاروبار صادقاں ہر گز نماندناتمام
صادقاں را دست حق باشدنہاں در آستیں
ہم نے ارادہ کیا ہے کہ موجودہ زمانہ میں جس قدر مختلف فرقے اور مختلف رائے کے آدمی اسلام پر یا تعلیم قرآنی پر یا ہمارے سیّد ومولیٰ جناب عالی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرتے ہیں یا جو کچھ ہمارے ذاتی امور کے متعلق نکتہ چینیاں کر رہے ہیں یا جو کچھ ہمارے الہامات او رہمارے الہامی دعاوی کی نسبت اُن کے دلوں میں شبہات اور وساوس ہیں اُن سب اعتراضات کو ایک رسالہ کی صورت پر نمبروار مرتب کر کے چھاپ دیں اور پھر اُنہیں نمبروں کی ترتیب کے لحاظ سے ہر ایک اعتراض اور سوال کا جواب دینا شروع کریں۔ لہٰذا عام طور پر تمام عیسائیوں اور ہندوؤں اور آریوں اور یہودیوں اور مجوسیوں اور دہریوں اور برہمیوں اور طبعیوں اور فلسفیوں اور مخالف الرّائے مسلمانوں وغیرہ کو مخاطب کر کے اشتہار دیا جاتا ہے کہ ہر ایک شخص جو اسلام کی نسبت یا قرآن شریف اور ہمارے سیّداور مقتدا ء خیر الرسل کی نسبت یا خود ہماری نسبت ہمارے منصب خداداد کی نسبت ہمارے الہامات کی نسبت کچھ اعتراضات رکھتا ہے تو اگر وہ طالب حق ہے تو اس پر لازم و واجب ہے کہ وہ اعتراضات خوشخط قلم سے تحریر کر کے ہمارے پاس بھیج دے تا وہ تمام اعتراضات ایک جگہ اکٹھے کر کے ایک رسالہ میں نمبروار ترتیب دے کر چھاپ دیئے جائیں اور پھر نمبروار ایک ایک کا مفصل جواب دیا جائے۔
وَالسَّلامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی
المشتھر
خاکسار مرزا غلام احمد از قادیاں ضلع گور داسپور پنجاب
۱۰؍ جمادی الثانی ۱۳۰۸ ہجری