جس پیغام کو ہم اس وقت اپنے عزیزانِ ملک کے پاس اس رسالہ کے ذریعہ سے پہنچانا چاہتے ہیں اُس کی نسبت ہمیں انبیاء علیہم السلام کے قدیم تجربہ کے رُو سے یہ ثابت ہے کہ سر دست اس ہماری ہمدردی کا قدر یہی ہوگا کہ پھر دوبارہ ہم اسلام کے مولویوں اور عیسائی مذہب کے پادریوں اور ہندو مذہب کے پنڈتوں سے گالیاں سنیں اور طرح طرح کے رنج وہ خطابوں سے یاد کئے جاویں اور ہمیں پہلے سے خوب معلوم ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔ لیکن ہم نے نوع انسان کی ہمدردی کو اس بات سے مقدم رکھا ہے۔ کہ عام بد زبانی سے ہم ستائے جائیں کیونکہ باوجوداس کے یہ بھی احتمال ہے کہ ان صد ہا اور ہزار ہا گالیاں دینے والوں میں سے بعض ایسے بھی پیدا ہو جائیں کہ ایسے وقت میں کہ جب آسمان پر سے ایک آگ برس رہی ہے بلکہ اگلے جاڑے میں تو اور بھی زیادہ برسنے کی توقع ہے۔ اس رسالہ کو غور سے پڑھیں اور اس اپنے ناصح شفیق پر جلد ناراض نہ ہوں۔ اور جس نسخہ کو وہ پیش کرتا ہے اُس کو آزما لیں۔ کیونکہ اس ہمدردی کے صلہ میں کوئی اُجرت یا پاداش اُن سے طلب نہیں کی گئی۔ محض سچے خلوص اور نیک نیتی سے انسانوں کی جان چھوڑانے کے لئے ایک آزمودہ اور پاک تجویز پیش کی گئی ہے۔ پس جس حالت میں لوگ بیماریوں میں علاج کی غرض سے بعض جانوروں کا پیشاب بھی پی لیتے ہیں اور بہت سی پلید چیزوں کو استعمال کر لیتے ہیں۔ تو اس صورت میں اُن کا کیا حرج ہے کہ اپنی جان چھوڑانے کے لئے اس پاک علاج کو اپنے لئے اختیار کرلیں اور اگر وہ نہیں کریں گے تب بھی بہر حال اس مقابلہ کے وقت میں ایک دن اُن کو معلوم ہوگا کہ ان تمام مذاہب میں سے کون سا ایسا مذہب ہے جس کا شفاعت کرنا اور منجی کے بزرگ لفظ کا مصداق ہونا ثابت ہو سکتا ہے۔ سچے منجی کو ہر ایک شخص چاہتا ہے اور اُس سے محبت کرتا ہے ۔ پس بلا شبہ اب دِن آ گئے ہیں کہ ثابت ہو کہ سچا منجی کون ہے ۔ ہم مسیح ابن مریم کو بے شک ایک راستباز آدمی جانتے ہیں کہ اپنے زمانہ کے اکثر٭ لوگوں سے البتہ اچھا تھا۔ واللہ اعلم ۔ مگر وہ حقیقی منجی نہیں تھا ۔ یہ اُس پر تہمت ہے کہ وہ حقیقی منجی تھا ۔ حقیقی منجی ہمیشہ اور قیامت تک نجات کا پھل کھلانے والا وہ ہے جو زمینِ حجاز میں پیدا ہوا تھا اور تمام دنیا اور تمام زمانوں کی نجات کے لئے آیا تھا اور اب بھی آیا مگر بروز کے طور پر۔ خدا اُس کی برکتوں سے تمام زمین کو متمتع کرے۔ آمین
خاکسار مرزا غلام احمد از قادیاں
نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ
چو آمد از خدا طاعوں بہ بیں از چشمِ اکرامش
تو خود ملعونی اے فاسق چرا ملعوں نہی نامش
زمان توبہ و وقتِ صلاح و ترکِ خبث است ایں
کسے کو بر بدی چسپد نہ بینم نیک انجامش
اس ہولناک مرض کے بارے میں جو ملک میں پھیلتی جاتی ہے لوگوں کی مختلف رائیں ہیں۔ ڈاکٹر لوگ جن کے خیالات فقط جسمانی تدابیر تک محدود ہیں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ زمین میں محض قدرتی اسباب سے ایسے کیڑے پیدا ہو گئے ہیں کہ اول چوہوں پر اپنا بداثر پہنچاتے ہیں۔٭ اور پھر انسانوں میں سلسلہ موت کا جاری ہو جاتا ہے۔ اور مذہبی خیالات سے اس بیماری کو کچھ تعلق نہیں بلکہ چاہیئے کہ اپنے گھروں اور نالیوں کو ہر ایک قسم کی گندگی اور عفونت سے بچاویں اور صاف رکھیں اور فنائل وغیرہ کے ساتھ پاک کرتے رہیں اور مکانوں کو آگ سے گرم رکھیں اور ایسا بناویں جن میں ہوا بھی پہنچ سکے اور روشنی بھی۔ اور کسی مکان میں اس قدر لوگ نہ رہیں کہ اُن کے منہ کی بھاپ اور پاخانہ پیشاب وغیرہ سے کیڑے بکثرت پیدا ہو جائیں۔ اور رڈی غذائیں نہ کھائیں۔ اور سب سے بہتر علاج یہ ہے کہ ٹیکا کرالیں۔ اور اگر مکانوں میں چوہے مردہ پاویں تو ان مکانوں کو چھوڑ دیں۔ اور بہتر ہے کہ باہر کھلے میدانوں میں رہیں اور میلے کچیلے کپڑوں سے پرہیز کریں۔ اور اگر کوئی شخص کسی متاثر اور آلودہ مکان سے اُن کے شہر یا گاؤں میں آوے تو اُس کو اندر نہ آنے دیں۔ اور اگر کوئی ایسے گاؤں یا شہر کا اس مرض سے بیمار ہو جائے تو اُس کو باہر نکالیں اور اُس کے اختلاط سے پرہیز کریں۔ پس طاعون کا علاج اُن کے نزدیک جو کچھ ہے یہی ہے۔ یہ تو دانشمند ڈاکٹروں اور طبیبوں کی رائے ہے جس کو ہم نہ تو ایک کافی اور مستقل علاج کے رنگ میں سمجھتے ہیں اور نہ محض بے فائدہ قرار دیتے ہیں۔ کافی اور مستقل علاج اس لئے نہیں سمجھتے کہ تجربہ بتلا رہا ہے کہ بعض لوگ باہر نکلنے سے بھی مرے ہیں اور بعض صفائی کا التزام رکھتے رکھتے بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اور بعض نے بڑی اُمید سے ٹیکا لگوایا اور پھر قبر میں جا پڑے۔ پس کون کہہ سکتا ہے یا کون ہمیں تسلی دے سکتا ہے کہ یہ تمام تدبیریں کافی علاج ہیں بلکہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ گو یہ تمام طریقے کسی حد تک مفید ہیں لیکن یہ ایسی تدبیر نہیں ہے جس کو طاعون کو ملک سے دفع کرنے کے لئے پوری کامیابی کہہ سکیں۔
اسی طرح یہ تدبیریں محض بے فائدہ بھی نہیں ہیں کیونکہ جہاں جہاں خدا کی مرضی ہے وہاں وہاں اس کا فائدہ بھی محسوس ہو رہا ہے مگر وہ فائدہ کچھ بہت خوشی کے لائق نہیں مثلاً گو سیچ ہے کہ اگر مثلاً سو آدمی نے ٹیکا لگوایا ہے اور دوسرے اسی قدر لوگوں نے ٹیکا نہیں لگوایا ہے تو جنہوں نے ٹیکا نہیں لگوایا اُن میں موتیں زیادہ پائی گئیں اور ٹیکا والوں میں کم لیکن چونکہ ٹیکے کا اثر غایت کار دو مہینے یا تین مہینے تک ہے، اس لئے ٹیکے والا بھی بار بار خطرہ میں پڑے گا جب تک اس دنیا سے رخصت نہ ہو جائے۔ صرف اتنا فرق ہے کہ جو لوگ ٹیکا نہیں لگواتے وہ ایک ایسے مرکب پر سوار ہیں کہ جو مثلاً چوبیس گھنٹہ تک اُن کو دار الفناء تک پہنچا سکتا ہے۔ اور جو لوگ ٹیکا لگواتے ہیں وہ گویا ایسے آہستہ روٹٹو پر چل رہے ہیں کہ جو چوبیس دن تک اُسی مقام میں پہنچا دے گا۔ بہر حال یہ تمام طریقے جو ڈاکٹری طور پر اختیار کئے گئے ہیں نہ تو کافی اور پورے تسلی بخش ہیں اور نہ محض نکمے اور بے فائدہ ہیں اور چونکہ طاعون جلد جلد ملک کو کھاتی جاتی ہے اس لئے بنی نوع کی ہمدردی اسی میں ہے کہ کسی اور طریق کو سوچا جائے جو اس تباہی سے بچا سکے۔
اور مسلمان لوگ جیسا کہ میاں شمس الدین سکرٹری انجمن حمایت اسلام لاہور کے اشتہار سے سمجھا جاتا ہے جس کو اُنہوں نے ماہ حال یعنی اپریل ۱۹۰۲ء میں شایع کیا ہے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تمام فرقے مسلمانوں کے شیعہ سنی مقلد اور غیر مقلد میدانوں میں جا کر اپنے اپنے طریقہ مذہب میں دُعائیں کریں اور ایک ہی تاریخ میں اکٹھے ہو کر نماز پڑھیں تو بس یہ ایسا نسخہ ہے کہ معاً اس سے طاعون دور ہو جائے گی مگر اکٹھے کیونکر ہوں اس کی کوئی تدبیر نہیں بتلائی گئی۔ ظاہر ہے کہ فرقہ وہابیہ کے مذہب کے رُو سے تو بغیر فاتحہ خوانی کے نماز درست ہی نہیں پس اس صورت میں اُن کے ساتھ حنفیوں کی نماز کیونکر ہو سکتی ہے۔ کیا با ہم فساد نہیں ہوگا۔ ماسوا اس کے اس اشتہار کے لکھنے والے نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ ہندو اس مرض کے دفع کے لئے کیا کریں۔ کیا اُن کو اجازت ہے یا نہیں کہ وہ بھی اس وقت اپنے بتوں سے مدد مانگیں۔ اور عیسائی کس طریق کو اختیار کریں۔ اور جو فرقے حضرت حسین یا علی رضی اللہ عنہ کو قاضی الحاجات سمجھتے ہیں اور٭ محرم میں تعزیوں پر ہزاروں درخواستیں مرادوں کے لئے گزارا کرتے ہیں اور یا جو مسلمان سید عبدالقادر جیلانی کی پوجا کرتے ہیں یا جو شاہ مدار یا سخی سرور کو پوجتے ہیں وہ کیا کریں اور کیا اب یہ تمام فرقے دُعائیں نہیں کرتے بلکہ ہر ایک فرقہ خوفزدہ ہو کر اپنے اپنے معبود کو پکار رہا ہے۔ شیعوں کے محلوں کی سیر کرو کوئی ایسا گھر نہیں ہوگا جس کے دروازہ پر یہ شعر چسپاں نہیں ہوگا :۔
لِي خَمْسَۃٌ أُطْفِي بِہَا حَرَّ الْوَبَاءِ الحَاطِمَۃ
الْمُصْطَفَى وَالْمُرْتَضَى وَ ابْنَاہُمَا وَالْفَاطِمَۃ
میرے استاد ایک بزرگ شیعہ تھے۔ اُن کا مقولہ تھا کہ وباء کا علاج فقط تولا اور تبری ہے۔ یعنی ائمہ اہل بیت کی محبت کو پرستش کی حد تک پہنچا دینا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو گالیاں دیتے رہنا اس سے بہتر کوئی علاج نہیں اور میں نے سنا ہے کہ بمبئی میں جب طاعون شروع ہوئی ہے تو پہلے لوگوں میں یہی خیال پیدا ہوا تھا کہ یہ امام حسین کی کرامت ہے کیونکہ جن ہندوؤں نے شیعہ سے کچھ تکرار کیا تھا اُن میں طاعون شروع ہو گئی تھی۔ پھر جب اسی مرض نے شیعہ میں بھی قدم رنجہ فرمایا تب تو یا حسین کے نعرے کم ہو گئے۔
یہ تو مسلمانوں کے خیالات ہیں جو طاعون کے دُور کرنے کے لئے سوچے گئے ہیں۔
اور عیسائیوں کے خیالات کے اظہار کے لئے ابھی ایک اشتہار پادری وائٹ بریخت صاحب اور اُن کی انجمن کی طرف سے نکلا ہے اور وہ یہ کہ طاعون کے دُور کرنے کے لئے اور کوئی تدبیر کافی نہیں بجز اس کے کہ حضرت مسیح کو خدا مان لیں اور ان کے کفارہ پر ایمان لے آویں۔
اور ہندوؤں میں سے آریہ دھرم کے لوگ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ یہ بلائے طاعون وید کے ترک کرنے کی وجہ سے ہے۔ تمام فرقوں کو چاہیے کہ ویدوں کی ست و دیا پر ایمان لاویں اور تمام نبیوں کو نعوذ باللہ مفتری قرار دے دیں تب اس تدبیر سے طاعون دور ہو جائے گی۔
اور ہندوؤں میں سے جو سناتن دھرم فرقہ ہے اُس فرقہ میں دفع طاعون کے بارے میں جو رائے ظاہر کی گئی ہے اگر ہم پرچہ اخبار عام نہ پڑھتے تو شاید اس عجیب رائے سے بے خبر رہتے اور وہ رائے یہ ہے کہ یہ بلائے طاعون گائے کی وجہ سے آئی ہے۔ اگر گورنمنٹ یہ قانون پاس کر دے کہ اس ملک میں گائے ہرگز ہرگز ذبح نہ کی جائے تو پھر دیکھئے کہ طاعون کیونکر دفع ہو جاتی ہے۔ بلکہ اسی اخبار میں ایک جگہ لکھا ہے کہ ایک شخص نے گائے کو بولتے سنا کہ وہ کہتی ہے کہ میری وجہ سے ہی اس ملک میں طاعون آیا ہے۔
اب اے ناظرین خود سوچ لو کہ اس قدر متفرق اقوال اور دعاوی سے کس قول کو دنیا کے آگے صریح اور بدیہی طور پر فروغ ہو سکتا ہے۔ یہ تمام اعتقادی امور ہیں اور اس نازک وقت میں جب تک کہ دنیا ان عقائد کا فیصلہ کرے خود دنیا کا فیصلہ ہو جائے گا۔ اس لئے وہ بات قبول کے لائق ہے جو جلد تر سمجھ میں آ سکتی ہے اور جو اپنے ساتھ کوئی ثبوت رکھتی ہے سو میں وہ بات مع ثبوت پیش کرتا ہوں۔ چار سال ہوئے کہ میں نے ایک پیشگوئی شائع کی تھی کہ پنجاب میں سخت طاعون آنے والی ہے اور میں نے اس ملک میں طاعون کے سیاہ درخت دیکھے ہیں جو ہر ایک شہر اور گاؤں میں لگائے گئے ہیں۔ اگر لوگ توبہ کریں تو یہ مرض دو جاڑہ سے بڑھ نہیں سکتی خدا اس کو رفع کر دے گا مگر بجائے توبہ کے مجھ کو گالیاں دی گئیں اور سخت بد زبانی کے اشتہار شائع کئے گئے جس کا نتیجہ طاعون کی یہ حالت ہے جو اب دیکھ رہے ہو۔ خدا کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوئی۔ اس کی یہ عبارت ہے۔ إِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَومٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا مَا بِأَنْفُسِہِمْ إِنَّہُ أوَی الْقَرْیَۃَ۔ یعنی خدا نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ اس بلائے طاعون کو ہرگز دور نہیں کرے گا جب تک لوگ ان خیالات کو دور نہ کر لیں جو اُن کے دلوں میں ہیں یعنی جب تک وہ خدا کے مامور اور رسول کو مان نہ لیں تب تک طاعون دور نہیں ہوگی اور وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی٭ سے محفوظ رکھے گا تا تم سمجھو کہ قادیان اسی لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔ اب دیکھو تین برس سے ثابت ہو رہا ہے کہ وہ دونوں پہلو پورے ہو گئے یعنی ایک طرف تمام پنجاب میں طاعون پھیل گئی اور دوسری طرف باوجود اس کے کہ قادیاں کے چاروں طرف دو دو میل کے فاصلہ پر طاعون کا زور ہو رہا ہے مگر قادیاں طاعون سے پاک ہے بلکہ آج تک جو شخص طاعون زدہ باہر سے قادیاں میں آیا وہ بھی اچھا ہو گیا۔ کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور ثبوت ہوگا کہ جو باتیں آج سے چار برس پہلے کہی گئی تھیں وہ پوری ہو گئیں بلکہ طاعون کی خبر آج سے بائیس برس پہلے براہین احمدیہ میں بھی دی گئی ہے٭ اور یہ علم غیب بجز خدا کے کسی اور کی طاقت میں نہیں۔ پس اس بیماری کے دفع کے لئے وہ پیغام جو خدا نے مجھے دیا ہے وہ یہی ہے کہ لوگ مجھے سچے دل سے مسیح موعود مان لیں۔ اگر میری طرف سے بھی بغیر کسی دلیل کے صرف دعوئی ہوتا۔ جیسا کہ میاں شمس الدین سکریٹری حمایت اسلام لاہور نے اپنے اشتہار میں یا پادری وائٹ بریخت صاحب نے اپنے اشتہار میں کیا ہے تو میں بھی ان کی طرح ایک فضول گو ٹھہرتا لیکن میری وہ باتیں ہیں جن کو میں نے قبل از وقت بیان کیا اور آج وہ پوری ہو گئیں
اور پھر اس کے بعد ان دنوں میں بھی خدا نے مجھے خبر دی۔ چنانچہ وہ عز و جل فرماتا ہے :۔
مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَ اَنْتَ فِیْہِمْ اِنَّہُ اٰوَی الْقَرْیَۃَ ۔ لَوْلَا الْاِکْرَامُ لَہَلَکَ الْمَقَامُ اِنِّی اَنَا الرَّحْمَنُ دَافِعُ الْاَذٰی۔ اِنِّی لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ۔ اِنِّی حَفِیْظٌ۔ اِنِّی مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ۔ وَ اَلُوْمُ مَنْ یَّلُوْمُ۔ اَفْطُرُ وَ اَصُوْمُ۔ غَضِبْتُ غَضَبًا شَدِیْدًا۔ الْاَمْرَاضُ تَشَاعُ۔ وَ النُّفُوْسُ تُضَاعُ۔ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولٰئِکَ لَہ٭ الْاَمْنُ وَ ہُمْ مُہْتَدُوْنَ۔ اِنَّا نَأْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُہَا مِنْ اَطْرَافِہَا۔ اِنِّی اُجَہِّزُ الْجَیْشَ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِہِمْ جَاثِمِیْنَ۔ سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْ اَنْفُسِہِمْ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَتْحٌ مُّبِیْنٌ۔ اِنِّی بَایَعْتُکَ بَایَعَنِیْ رَبِّیْ۔ اَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ اَوْلَادِیْ٭ اَنْتَ مِنِّی وَ اَنَا مِنْکَ۔ عَسٰی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۔ اَلْفَوْقُ مَعَکَ وَ التَّحْتُ مَعَ اَعْدَائِکَ فَاصْبِرْ حَتّٰی یَأْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ۔ یَأْتِیْ عَلٰی جَہَنَّمَ زَمَانٌ لَیْسَ فِیْہَا اَحَدٌ۔
ترجمہ۔ خدا ایسا نہیں کہ قادیاں کے لوگوں کو عذاب دے حالانکہ تو اُن میں رہتا ہے۔ وہ اس گاؤں کو طاعون کی دست برد اور اس کی تباہی سے بچالے گا۔ اگر تیرا پاس مجھے نہ ہوتا اور تیرا اکرام مد نظر نہ ہوتا تو میں اس گاؤں کو ہلاک کر دیتا۔ میں رحمان ہوں جو دکھ کو دور کرنے والا ہے۔ میرے رسولوں کو میرے پاس کچھ خوف اور غم نہیں میں نگہ رکھنے والا ہوں۔ میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور اُس کو ملامت کروں گا جو میرے رسول کو ملامت کرتا ہے۔ میں اپنے وقتوں کو تقسیم کر دوں گا کہ کچھ حصہ برس کا تومیں افطار کروں گا یعنی طاعون سے لوگوں کو ہلاک کروں گا اور کچھ حصہ برس کا میں روزہ رکھوں گا۔ یعنی امن رہے گا اور طاعون کم ہو جائے گی یا بالکل نہیں رہے گی۔ میرا غضب بھڑک رہا ہے بیماریاں پھیلیں گی اور جانیں ضائع ہوں گی مگر وہ لوگ جو ایمان لائیں گے اور ایمان میں کچھ نقص نہیں ہو گا وہ امن میں رہیں گے اور اُن کو مخلصی کی راہ ملے گی۔ یہ خیال مت کرو کہ جرائم پیشہ بچے ہوئے ہیں ہم اُن کی زمین کے قریب آتے جاتے ہیں۔ میں اندر ہی اندر اپنا لشکر طیار کر رہا ہوں یعنی طاعونی کیڑوں کو پرورش دے رہا ہوں پس وہ اپنے گھروں میں ایسے سو جائیں گے جیسا کہ ایک اونٹ مرا رہ جاتا ہے۔ ہم اُن کو اپنے نشان پہلے تو دور دور کے لوگوں میں دکھائیں گے اور پھر خود انہی میں ہمارے نشان ظاہر ہوں گے یہ دن خدا کی مدد اور فتح کے ہوں گے۔ میں نے تجھ سے ایک خرید و فروخت کی ہے یعنی ایک چیز میری تھی جس کا تو مالک بنایا گیا اور ایک چیز تیری تھی جس کا میں مالک بن گیا۔ تو بھی اس خرید و فروخت کا اقرار کر اور کہہ دے کہ خدا نے مجھ سے خرید و فروخت کی۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ اولاد۔ تو مجھ میں سے ہے اور میں تجھ میں سے ہوں۔ وہ وقت قریب ہے کہ میں ایسے مقام پر تجھے کھڑا کروں گا کہ دنیا تیری حمد و ثنا کرے گی۔ فوق تیرے ساتھ ہے اور تحت تیرے دشمنوں کے ساتھ۔ پس صبر کر جب تک کہ وعدہ کا دن آ جائے۔ طاعون پر ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے کہ کوئی بھی اس میں گرفتار نہیں ہو گا یعنی انجام کار خیر و عافیت ہے٭ اب اس تمام وحی سے تین باتیں ثابت ہوئی ہیں (۱) اوّل یہ کہ طاعون دُنیا میں اس لئے آئی ہے کہ خدا کے مسیح موعود سے نہ صرف انکار کیا گیا بلکہ اُس کو دُکھ دیا گیا۔ اُس کے قتل کرنے کے لئے منصوبے کئے گئے۔ اُس کا نام کافر اور دجال رکھا گیا۔ پس خدا نے نہ چاہا کہ اپنے رسول کو بغیر گواہی چھوڑے۔ اس لئے اُس نے آسمان اور زمین دونوں کو اس کی سچائی کا گواہ بنا دیا۔ آسمان نے کسوف خسوف سے گواہی دی جو رمضان میں ہوا۔ اور زمین نے طاعون کے ساتھ گواہی دی تا کہ خدا کا وہ کلام پورا ہو جو براہین احمدیہ میں ہے اور وہ یہ ہے۔ قُلْ عِنْدِیْ شَہَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَہَلْ اَنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ۔ قُلْ عِنْدِیْ شَہَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَہَلْ اَنْتُمْ تُسْلِمُوْنَ۔ یعنی میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم ایمان لاؤ گے یا نہیں۔ اور پھر میں کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم قبول کرو گے یا نہیں۔ پہلی گواہی سے مراد آسمان کی گواہی ہے جس میں کوئی جبر نہیں۔ اس لئے اس میں تُؤْمِنُوْنَ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ اور دوسری گواہی زمین کی ہے۔ یعنی طاعون کی جس میں جبر موجود ہے کہ خوف دے کر اس جماعت میں داخل کرتی ہے۔ اس لئے اس میں تُسْلِمُوْنَ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ (۲) دوسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی وہ یہ ہے کہ یہ طاعون اس حالت میں فرو ہو گی جب کہ لوگ خدا کے فرستادہ کو قبول کر لیں گے اور کم سے کم یہ کہ شرارت اور ایذا اور بد زبانی سے باز آ جائیں گے۔ کیونکہ براہین احمدیہ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں آخری دنوں میں طاعون بھیجوں گا تا کہ میں ان خبیثوں اور شریروں کا منہ بند کر دوں جو میرے رسول کو گالیاں دیتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ محض انکار اِس بات کا موجب نہیں ہوتا کہ ایک رسول کے انکار سے دنیا میں کوئی تباہی بھیجی جائے بلکہ اگر لوگ شرافت اور تہذیب سے خدا کے رسولوں کا انکار کریں اور دست درازی اور بد زبانی نہ کریں تو ان کی سزا قیامت میں مقرر ہے۔ اور جس قدر دنیا میں رسولوں کی حمایت میں مری بھیجی گئی ہے وہ محض انکار سے نہیں بلکہ شرارتوں کی سزا ہے۔ اسی طرح اب بھی جب لوگ بد زبانی اور ظلم اور تعدی اور اپنی خباثتوں سے باز آ جائیں گے اور شریفانہ برتاؤ اُن میں پیدا ہو جائے گا۔ تب یہ تنبیہ اُٹھالی جائے گی مگر اس تقریب پر بہت سے سعادت مند خدا کے رسول کو قبول کر لیں گے اور آسمانی برکتوں سے حصہ لیں گے اور زمین سعادتمندوں سے بھر جائے گی (۳) تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالی بہر حال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے قادیاں کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اُس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔
اب اگر خدا تعالیٰ کے اس رسول اور اس نشان سے کسی کو انکار ہو اور خیال ہو کہ فقط رسمی نمازوں اور دعاؤں سے یا مسیح کی پرستش سے یا گائے کے طفیل سے یا ویدوں کے ایمان سے باوجود مخالفت اور دشمنی اور نافرمانی اس رسول کے طاعون دور ہو سکتی ہے تو یہ خیال بغیر ثبوت کے قابل پذیرائی نہیں۔ پس جو شخص ان تمام فرقوں میں سے اپنے مذہب کی سچائی کا ثبوت دینا چاہتا ہے تو اب بہت عمدہ موقع ہے۔ گویا خدا کی طرف سے تمام مذاہب کی سچائی یا کذب پہچاننے کے لئے ایک نمایش گاہ مقرر کیا گیا ہے۔ اور خدا نے سبقت کر کے اپنی طرف سے پہلے قادیاں کا نام لے دیا ہے۔ اب اگر آریہ لوگ وید کو سچا سمجھتے ہیں تو اُن کو چاہیے کہ بنارس کی نسبت جو وید کے درس کا اصل مقام ہے ایک پیشگوئی کر دیں کہ اُن کا پرمیشر بنارس کو طاعون سے بچالے گا۔ اور سناتن دھرم والوں کو چاہیے کہ کسی ایسے شہر کی نسبت جس میں گائیاں بہت ہوں مثلاً امرتسر کی نسبت پیشگوئی کر دیں کہ گئو کے طفیل اس میں طاعون نہیں آئے گی اگر اس قدر گئو اپنا معجزہ دکھاوے تو کچھ تعجب نہیں کہ اس معجزہ نما جانور کی گورنمنٹ جان بخشی کر دے۔ اسی طرح عیسائیوں کو چاہیے کہ کلکتہ کی نسبت پیشگوئی کر دیں کہ اس میں طاعون نہیں پڑے گی کیونکہ بڑا بشپ برٹش انڈیا کا کلکتہ میں رہتا ہے۔ اسی طرح میاں شمس الدین اور اُن کی انجمن حمایت اسلام کے ممبروں کو چاہیے کہ لاہور کی نسبت پیشگوئی کر دیں کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گا۔ اور منشی الہی بخش اکونٹنٹ جو الہام کا دعویٰ کرتے ہیں اُن کے لئے بھی یہی موقع ہے کہ اپنے الہام سے لاہور کی نسبت پیشگوئی کر کے انجمن حمایت اسلام کو مدد دیں۔ اور مناسب ہے کہ عبدالجبار اور عبدالحق شہر امرتسر کی نسبت پیشگوئی کر دیں اور چونکہ فرقہ وہابیہ کی اصل جڑ دلی ہے اس لئے مناسب ہے کہ نذیر حسین اور محمد حسین دلی کی نسبت پیشگوئی کریں کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گی۔ پس اس طرح سے گویا تمام پنجاب اس مہلک مرض سے محفوظ ہو جائے گا۔ اور گورنمنٹ کو بھی مفت میں سبکدوشی ہو جائے گی۔ اور اگر ان لوگوں نے ایسا نہ کیا تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیاں میں اپنا رسول بھیجا۔
اور بالآخر یاد رہے کہ اگر یہ تمام لوگ جن میں مسلمانوں کے ملہم اور آریوں کے پنڈت اور عیسائیوں کے پادری داخل ہیں چپ رہے تو ثابت ہو جائے گا کہ یہ سب لوگ جھوٹے ہیں اور ایک دن آنے والا ہے جو قادیاں سورج کی طرح چمک کر دکھلا دے گی کہ وہ ایک سچے کا مقام ہے۔ بالآخر میاں شمس الدین صاحب کو یاد رہے کہ آپ نے جو اپنے اشتہار میں آیت اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ(النمل: ۶۳) لکھی ہے اور اس سے قبولیت دعا کی امید کی ہے۔ یہ امید صحیح نہیں ہے کیونکہ کلام الہی میں لفظ مضطر سے وہ ضرریافتہ مراد ہیں جو محض ابتلا کے طور پر ضرریافتہ ہوں نہ سزا کے طور پر لیکن جو لوگ سزا کے طور پر کسی ضرر کے تختہ مشق ہوں وہ اس آیت کے مصداق نہیں ہیں ورنہ لازم آتا ہے کہ قوم نوح اور قوم لوط اور قوم فرعون وغیرہ کی دعائیں اس اضطرار کے وقت میں قبول کی جاتیں مگر ایسا نہیں ہوا اور خدا کے ہاتھ نے اُن قوموں کو ہلاک کر دیا۔ اور اگر میاں شمس الدین کہیں کہ پھر ان کے مناسب حال کون سی آیت ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ آیت مناسب حال ہے کہ وَمَا دُعَآءُ الۡکٰفِرِیۡنَ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ(المؤمن: ۵۱) اور چونکہ احتمال ہے کہ بعض غیبی الطبع اس اشتہار کا اصل منشاء سمجھنے میں غلطی کھائیں اس لئے ہم مکررا اپنے فرض دعوت کا اظہار کر دیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ یہ طاعون جو ملک میں پھیل رہی ہے کسی اور سبب سے نہیں بلکہ ایک ہی سبب ہے اور وہ یہ کہ لوگوں نے خدا کے اس موعود کے ماننے سے انکار کیا ہے جو تمام نبیوں کی پیشگوئی کے موافق دنیا کے ساتویں ہزار میں ظاہر ہوا ہے اور لوگوں نے نہ صرف انکار بلکہ خدا کے اس مسیح کو گالیاں دیں کافر کہا اور قتل کرنا چاہا اور جو کچھ چاہا اُس سے کیا۔ اس لئے خدا کی غیرت نے چاہا کہ اُن کی اس شوخی اور بے ادبی پر ان پر تنبیہ نازل کرے اور خدا نے پہلے پاک نوشتوں میں خبر دی تھی کہ لوگوں کے انکار کی وجہ سے اُن دنوں میں جب مسیح ظاہر ہوگا ملک میں سخت طاعون پڑے گی۔ سو ضرور تھا کہ طاعون پڑتی۔ اور طاعون کا نام طاعون اس لئے رکھا گیا کہ یہ طعن کرنے والوں کا جواب ہے۔ اور بنی اسرائیل میں ہمیشہ طعن کے وقت میں ہی پڑا کرتی تھی اور طاعون کے لغت عرب میں معنے ہیں بہت طعن کرنے والا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ طاعون طعن تشنیع شنیع کی ابتدائی حالت میں نہیں پڑتی بلکہ جب خدا کے مامور اور مرسل کو حد سے زیادہ ستایا جاتا ہے اور تو ہین کی جاتی ہے تو اُس وقت پڑتی ہے۔ سو اے عزیزو اس کا بجز اس کے کوئی بھی علاج نہیں کہ اس مسیح کو سچے دل اور اخلاص سے قبول کر لیا جاوے۔ یہ تو یقینی علاج ہے اور اس سے کمتر درجہ کا یہ علاج ہے کہ اس کے انکار سے منہ بند کر لیا جائے اور زبان کو بدگوئی سے روکا جائے۔ اور دل میں اس کی عظمت بٹھائی جائے۔ اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ لوگ یہ کہتے ہوئے کہ یَا مَسِیْحَ الْخَلْقِ عُدْوَانًا میری طرف دوڑیں گے۔ یہ جو میں نے ذکر کیا ہے۔ یہ خدا کا کلام ہے اس کے یہ معنے ہیں کہ اے جو خلقت کے لئے مسیح کر کے بھیجا گیا ہے ہماری اس مہلک بیماری کے لئے شفاعت کر۔ تم یقیناً سمجھو کہ آج تمہارے لئے بجز اس مسیح کے اور کوئی شفیع نہیں باستثناء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور یہ شفیع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہیں ہے بلکہ اس کی شفاعت در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی شفاعت ہے۔ اے عیسائی مشنریو! اب رَبَّنَا الْمَسِیْحَ مت کہو اور دیکھو کہ آج تم میں ایک ہے جو اُس مسیح سے بڑھ کر ہے۔ اور اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔ اور اگر میں اپنی طرف سے یہ باتیں کہتا ہوں تو میں جھوٹا ہوں لیکن اگر میں ساتھ اس کے خدا کی گواہی رکھتا ہوں تو تم خدا سے مقابلہ مت کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم اس سے لڑنے والے ٹھہرو۔ اب میری طرف دوڑو کہ وقت ہے جو شخص اس وقت میری طرف دوڑتا ہے میں اس کو اس سے تشبیہ دیتا ہوں کہ جو عین طوفان کے وقت جہاز پر بیٹھ گیا۔ لیکن جو شخص مجھے نہیں مانتا میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ طوفان میں اپنے تئیں ڈال رہا ہے اور کہ رہا ہے اور کوئی بچنے کا سامان اس کے پاس نہیں۔ سچا شفیع میں ہوں جو اس بزرگ شفیع کا سایہ ہوں اور اس کا ظل جس کو اس زمانہ کے اندھوں نے قبول نہ کیا اور اس کی بہت ہی تحقیر کی یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس لئے خدا نے اس وقت اس گناہ کا ایک ہی لفظ کے ساتھ پادریوں سے بدلہ لے لیا کیونکہ عیسائی مشنریوں نے عیسی بن مریم کو خدا بنایا اور ہمارے سید و مولی حقیقی شفیع کو گالیاں دیں اور بد زبانی کی کتابوں سے زمین کو نجس کر دیا اس لئے اس مسیح کے مقابل پر جس کا نام خدا رکھا گیا خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔ تا یہ اشارہ ہو کہ عیسائیوں کا مسیح کیسا خدا ہے جو احمد کے ادنی غلام سے بھی مقابلہ نہیں کر سکتا یعنی وہ کیسا مسیح ہے جو اپنے قرب اور شفاعت کے مرتبہ میں احمد کے غلام سے بھی کمتر ہے۔ اے عزیزو! یہ بات غصہ کرنے کی نہیں۔ اگر اس احمد کے غلام کو جو مسیح موعود کر کے بھیجا گیا ہے تم اس پہلے مسیح سے بزرگتر نہیں سمجھتے اور اسی کو شفیع اور منجی قرار دیتے ہو تو اب اپنے اس دعوئی کا ثبوت دو۔ اور جیسا کہ اس احمد کے غلام کی نسبت خدا نے فرمایا اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ لَوْلَا الْاِکْرَامُ لَہَلَکَ الْمَقَامُ جس کے یہ معنے ہیں کہ خدا نے اس شفیع کی عزت ظاہر کرنے کے لئے اس گاؤں قادیاں کو طاعون سے محفوظ رکھا جیسا کہ دیکھتے ہو کہ وہ پانچ چھ برس سے محفوظ چلی آتی ہے اور نیز فرمایا کہ اگر میں اس احمد کے غلام کی بزرگی اور عزت ظاہر نہ کرنا چاہتا تو آج قادیاں میں بھی تباہی ڈال دیتا۔ ایسا ہی آپ بھی اگر مسیح ابن مریم کو در حقیقت سچا شفیع اور منجی قرار دیتے ہیں تو قادیاں کے مقابل پر آپ بھی کسی اور شہر کا پنجاب کے شہروں میں سے نام لے دیں٭ کہ فلاں شہر ہمارے خداوند مسیح کی برکت اور شفاعت سے طاعون سے پاک رہے گا اور اگر ایسا نہ کر سکیں تو پھر آپ سوچ لیں کہ جس شخص کی اسی دنیا میں شفاعت ثابت نہیں وہ دوسرے جہان میں کیونکر شفاعت کرے گا۔ اور میاں شمس الدین صاحب یاد رکھیں کہ ان کا اشتہار محض بے سود ہے اور کوئی فائدہ اس پر مرتب نہیں ہوگا۔ اور علاج یہی ہے جو ہم نے لکھا ہے۔ وہ یاد کریں کہ پہلے اس سے انسانی گورنمنٹ میں وہ اور ان کی انجمن میرا مقابلہ کر کے ذلت اٹھا چکی ہے کہ انہوں نے مؤلف امہات المؤمنین کی نسبت گورنمنٹ سے سزا طلب کی اور میں نے اس سے منع کیا۔ آخر میری رائے ہی صحیح ہوئی۔ اسی طرح اب بھی جو کچھ انہوں نے آسمانی گورنمنٹ میں میموریل بھیجنا چاہا ہے وہ بھی محض بے سود اور لغو اور بے اثر ہے جیسا کہ پہلا میموریل تھا۔ سچا میموریل یہی ہے جو میں نے مرتب کیا ہے آخر آپ کو یہی ماننا پڑے گا۔
ہر چہ دانا کند کند نادان
لیک بعد از کمال رسوائی
اس جگہ مولوی احمد حسن صاحب امروہی کو ہمارے مقابلہ کے لئے خوب موقع مل گیا ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ وہ بھی دوسرے مولویوں کی طرح اپنے مشرکانہ عقیدہ کی حمایت میں کہ تاکسی طرح حضرت مسیح ابن مریم کو موت سے بچالیں اور دوبارہ اتار کر خاتم الانبیاء بنادیں بڑی جانکاہی سے کوشش کر رہے ہیں اور ان کو بُرا معلوم ہوتا ہے کہ سورہ نور کی منشاء کے موافق اور صحیح بخاری کی حدیث اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ کے مطابق اور مسلم کی حدیث اَمُّکُمْ مِنْکُمْ کے رو سے اسی امت مرحومہ میں سے مسیح موعود پیدا ہو تا موسوی سلسلہ کے مسیح کے مقابل پر محمدی سلسلہ کا مسیح ظاہر ہو کر نبوت محمدیہ کی شان کو دنیا میں چمکاوے بلکہ یہ مولوی صاحب اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح یہی چاہتے ہیں کہ وہی ابن مریم جس کو خدا بنا کر قریبا پچاس کروڑ انسان گمراہی کے دلدل میں ڈوبا ہوا ہے دوبارہ فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اترے اور ایک نیا نظارہ خدائی کا دکھلا کر پچاس کروڑ کے ساتھ پچاس کروڑ اور ملا دے کیونکہ آسمان پر چڑھتے ہوئے تو کسی نے نہیں دیکھا تھا وہی مقولہ تھا کہ پیراں نمی پرند مریداں می پرانند۔ مگر اب تو ساری دنیا فرشتوں کے ساتھ اترتے دیکھے گی اور پادری لوگ آ کر مولویوں کا گلا پکڑ لیں گے کہ کیا ہم کہتے تھے یا نہیں کہ یہی خدا ہے۔ اس منحوس دن میں اسلام کا کیا حال ہوگا۔ کیا اسلام دنیا میں ہو گا ؟ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَى الْکَاذِبِیْنَ۔ جو شخص کشمیر سری نگر محلہ خان یار میں مدفون ہے اس کو ناحق آسمان پر بٹھایا گیا۔ کس قدر ظلم ہے۔ خدا تو بپابندی اپنے وعدوں کے ہر چیز پر قادر ہے لیکن ایسے شخص کو کسی طرح دوبارہ دنیا میں نہیں لاسکتا جس کے پہلے فتنے نے ہی دنیا کو تباہ کر دیا ہے۔ یہ مولوی اسلام کے نادان دوست کیا جانتے ہیں کہ ایسے عقیدوں سے کس قدر عیسائیوں کو مدد پہنچ چکی ہے۔ اب خدا تعالیٰ کوئی نئی عظمت ابن مریم کو دینا نہیں چاہتا بلکہ یہاں تک کہ جس قدر پہلے اس سے حضرت مسیح کی نسبت اطراء کیا گیا ہے وہ بھی خدا کو سخت ناگوار گزرا ہے اور اسی وجہ سے اس کو کہنا پڑا ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ(المائدۃ: ۱۱۷)۔ اب آسمان کی طرف دیکھنا کہ کب آسمان سے ابن مریم اترتا ہے سخت جہالت ہے۔ مگر مجھ سے پہلے جو جو علماء اپنی اجتہادی غلطی سے ایسا خیال کرتے رہے کہ ابن مریم آسمان سے آئے گا وہ خدا کے نزدیک معذور ہیں ان کو برا نہیں کہنا چاہئے ان کی نیتوں میں فساد نہیں تھا بوجہ بشریت بھول گئے۔ خدا ان کو معاف کرے کیونکہ ان کو علم نہیں دیا گیا تھا اور ان کی اجتہادی غلطی ایسی تھی جیسا کہ داؤد نے غنم القوم کے مسئلہ میں اجتہادی غلطی کی تھی مگر ان کے بیٹے سلیمان کو خدا نے فہم عطا کر دیا تھا جیسا کہ اس کے بارے میں براہین احمدیہ میں آج سے بائیس برس پہلے یہ الہام فَفَہَّمْنَاہَا سُلَیْمَانَ کتاب کے آخری صفحہ میں موجود ہے اس کے یہ معنے ہیں جیسا کہ براہین کے اوپر کے الہامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ کیا یہ معنے قرآن اور حدیثوں کے جو تم کرتے ہو ہمارے پہلے علماء اور اکابر کو معلوم نہ تھے اور تمہیں معلوم ہو گئے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ یہ دیتا ہے کہ ہاں حقیقت میں یہی ہوا مگر ایسا ہونا بعید نہیں ہے۔ تمہارے علماء تو کچھ نبی نہیں تھے مگر داؤد نے نبی ہو کر ایک فیصلہ دینے میں غلطی کی اور خدا نے سلیمان اس کے بیٹے کو سچے فیصلہ کا طریق سمجھا دیا۔ سو یہ سلیمان جو مسیح موعود بنایا گیا ہے اسی طرح تمہارے بزرگوں کے مقابلہ پر حق بجانب ہے جس طرح سلیمان نبی اس فیصلہ میں اپنے باپ داؤد کے مقابل پر حق بجانب تھا۔
اور اگر مولوی احمد حسن صاحب کسی طرح باز نہیں آتے تو اب وقت آ گیا ہے کہ آسمانی فیصلہ سے ان کو پتہ لگ جائے یعنی اگر وہ در حقیقت مجھے جھوٹا سمجھتے ہیں اور میرے الہامات کو انسان کا افترا خیال کرتے ہیں نہ خدا کا کلام تو سہل طریق یہ ہے کہ جس طرح میں نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر کہا ہے اِنَّہٗ اٰوَى الْقَرْیَۃَ لَوْ لَا الْاِکْرَامُ لَہَلَکَ الْمَقَامُ. وَہٗ اِنَّہٗ اٰوٰى امروہہ لکھ دیں مومنوں کی دعا تو خدا سنتا ہے۔ وہ شخص کیسا مومن ہے کہ ایسے شخص کی دعا اس کے مقابل پر تو سنی جاتی ہے جس کا نام اس نے دجال اور بے ایمان اور مفتری رکھا ہے مگر اس کی اپنی دعا نہیں سنی جاتی۔ پس جس حالت میں میری دعا قبول کر کے اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ میں قادیاں کو اس تباہی سے محفوظ رکھوں گا خصوصا ایسی تباہی سے کہ لوگ کتوں کی طرح طاعون کی وجہ سے مریں یہاں تک کہ بھاگنے اور منتشر ہونے کی نوبت آوے۔ اسی طرح مولوی احمد حسن صاحب کو چاہئے کہ اپنے خدا سے جس طرح ہو سکے امروہہ کی نسبت دعا قبول کرالیں کہ وہ طاعون سے پاک رہے گا اور اب تک یہ دعا قریب قیاس بھی ہے کیونکہ ابھی تک امروہہ طاعون سے دو سو کوس کے فاصلہ پر ہے لیکن قادیاں سے طاعون چاروں طرف سے بفاصلہ دو کوس آگ لگا رہی ہے یہ ایک ایسا صاف صاف مقابلہ ہے کہ اس میں لوگوں کی بھلائی بھی ہے اور نیز صدق اور کذب کی شناخت بھی۔ کیونکہ اگر مولوی احمد حسن صاحب لعنت بازی کا مقابلہ کر کے دنیا سے گزر گئے تو اس سے امروہہ کو کیا فائدہ ہوگا۔ لیکن اگر انہوں نے اپنے فرضی مسیح کی خاطر دعا قبول کرا کر خدا سے یہ بات منوالی کہ امروہہ میں طاعون نہیں پڑے گی تو اس صورت میں نہ صرف ان کو فتح ہو گی بلکہ تمام امروہہ پر ان کا ایسا احسان ہوگا کہ لوگ اس کا شکر نہیں کر سکیں گے۔ اور مناسب ہے کہ ایسے مباہلہ کا مضمون اس اشتہار کے شائع ہونے سے پندرہ دن تک بذریعہ چھپے ہوئے اشتہار کے دنیا میں شائع کر دیں جس کا یہ مضمون ہو کہ میں یہ اشتہار مرزا غلام احمد کے مقابل پر شائع کرتا ہوں جنہوں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میں جو مومن ہوں دعا کی قبولیت پر بھروسہ کر کے یا الہام پا کر یا خواب دیکھ کر یہ اشتہار دیتا ہوں کہ امروہہ ضرور بالضرور طاعون کی دست برد سے محفوظ رہے گا لیکن قادیاں میں تباہی پڑے گی کیونکہ مفتری کے رہنے کی جگہ ہے۔ اس اشتہار سے غالباً آئندہ جاڑے تک فیصلہ ہو جائے گا یا حد دوسرے تیسرے جاڑے تک اور گو اب مئی کے مہینہ سے سنت اللہ کے موافق ملک میں طاعون کم ہوتی جائے گی اور خدائی روزہ کے دن آتے جائیں گے مگر امید ہے کہ پھر ابتدا نومبر ۱۹۰۲ء سے خدا تعالیٰ اپنا روزہ کھولے گا۔ اس وقت معلوم ہو جائے گا کہ اس افطار کے وقت کون کون ملک الموت کے قبضہ میں آیا چونکہ مسیح موعود کی رہائش کے قریب تر پنجاب ہے اور مسیح موعود کی نظر کا پہلا محل پنجابی ہیں اس لئے اول یہ کارروائی پنجاب میں شروع ہوئی لیکن امروہہ بھی مسیح موعود کی محیط ہمت سے دور نہیں ہے۔ اس لئے اس مسیح کا کافرکش دم ضرور امروہہ تک بھی پہنچے گا یہی ہماری طرف سے دعویٰ ہے اگر مولوی احمد حسن اس اشتہار کے شائع ہونے کے بعد جس کو وہ قسم کے ساتھ شائع کرے گا امروہہ کو طاعون سے بچا سکا اور کم سے کم تین جاڑے امن سے گزر گئے تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔
پس اس سے بڑھ کر اور کیا فیصلہ ہوگا۔ اور میں بھی خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نبیوں نے وعدہ دیا ہے اور میری نسبت اور میرے زمانہ کی نسبت توریت اور انجیل اور قرآن شریف میں خبر موجود ہے کہ اس وقت آسمان پر خسوف کسوف ہوگا اور زمین پر سخت طاعون پڑے گی اور میرا یہی نشان ہے کہ ہر ایک مخالف خواہ وہ امروہہ میں رہتا ہے اور خواہ امرتسر میں اور خواہ دہلی میں اور خواہ کلکتہ میں اور خواہ لاہور میں اور خواہ گولڑہ میں اور خواہ بٹالہ میں۔ اگر وہ قسم کھا کر کہے گا کہ اس کا فلاں مقام طاعون سے پاک رہے گا تو ضرور وہ مقام طاعون میں گرفتار ہو جائے گا کیونکہ اس نے خدا تعالیٰ کے مقابل پر گستاخی کی اور یہ امر کچھ مولوی احمد حسن صاحب تک محدود نہیں بلکہ اب تو آسمان سے عام مقابلہ کا وقت آگیا اور جس قدر لوگ مجھے جھوٹا سمجھتے ہیں جیسے شیخ محمد حسین بٹالوی جو مولوی کر کے مشہور ہیں اور پیر مہر علی شاہ گولڑی جس نے بہتوں کو خدا کی راہ سے روکا ہوا ہے اور عبدالجبار اور عبد الحق اور عبد الواحد غزنوی جو مولوی عبداللہ صاحب کی جماعت میں سے ملہم کہلاتے ہیں اور منشی الہی بخش صاحب اکونٹنٹ جنہوں نے میرے مخالف الہام کا دعویٰ کر کے مولوی عبداللہ صاحب کو سید بنا دیا ہے اور اس قدر صریح جھوٹ سے نفرت نہیں کی اور ایسا ہی نذیر حسین دہلوی جو ظالم طبع اور تکفیر کا بانی ہے۔ ان سب کو چاہئے کہ ایسے موقع پر اپنے الہاموں اور اپنے ایمان کی عزت رکھ لیں اور اپنے اپنے مقام کی نسبت اشتہار دے دیں کہ وہ طاعون سے بچایا جائے گا اس میں مخلوق کی سراسر بھلائی اور گورنمنٹ کی خیر خواہی ہے اور ان لوگوں کی عظمت ثابت ہوگی اور ولی سمجھے جائیں گے ورنہ وہ اپنے کاذب اور مفتری ہونے پر مہر لگا دیں گے۔ اور ہم عنقریب انشاء اللہ اس بارے میں ایک مفصل اشتہار شائع کریں گے۔
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰى۔
چونکہ اس شخص نے ہمارے سلسلہ کی تائید کا دعویٰ کر کے اور اس بات کا اظہار کر کے کہ میں فرقہ احمدیہ میں سے ہوں جو بیعت کر چکا ہوں طاعون کے بارے میں شاید ایک یا دو اشتہار شائع کئے ہیں اور میں نے سرسری طور پر کچھ حصہ ان کا سنا تھا اور قابل اعتراض حصہ ابھی سنا نہیں گیا تھا اس لئے میں نے اجازت دی تھی کہ اس کے چھپنے میں کچھ مضائقہ نہیں مگر افسوس کہ بعض خطرناک لفظ اور بیہودہ دعوے جو اس کے حاشیے میں تھے اس کو میں کثرت لوگوں اور دوسرے خیالات کی وجہ سے سن نہ سکا اور محض نیک ظنی سے ان کے چھپنے کے لئے اجازت دی گئی۔ اب جو رات اسی شخص چراغ دین کا ایک اور مضمون پڑھا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ مضمون بڑا خطرناک اور زہریلا اور اسلام کے لئے مضر ہے اور سر سے پیر تک لغو اور باطل باتوں سے بھرا ہوا ہے۔ چنانچہ اس میں لکھا ہے کہ میں رسول ہوں اور رسول بھی اولوالعزم۔ اور اپنا کام یہ لکھا ہے کہ تا عیسائیوں اور مسلمانوں میں صُلْح کرادے اور قرآن اور انجیل کا تفرقہ باہمی دور کر دے اور ابن مریم کا ایک حواری بن کر یہ خدمت کرے اور رسول کہلاوے۔ اور ہر ایک شخص جانتا ہے کہ قرآن شریف نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ انجیل یا توریت سے صلح کرے گا بلکہ ان کتابوں کو محرف مبدل اور ناقص اور ناتمام قرار دیا ہے اور تاج خاص اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ(المائدۃ: ۴) کا اپنے لئے رکھا ہے۔ اور ہمارا ایمان ہے کہ یہ سب کتابیں انجیل توریت قرآن شریف کے مقابل پر کچھ بھی نہیں اور ناقص اور محرف اور مبدل ہیں اور تمام بھلائی قرآن میں ہے جیسا کہ آج سے بائیس برس پہلے براہین احمدیہ میں یہ الہام موجود ہے۔ قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰى اِلَیَّ اِنَّمَا اِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّ الْخَیْرُ کُلُّہٗ فِی الْقُرْآنِ لَا یَمَسُّہٗ اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ۔ دیکھو براہین احمدیہ ص ۵۱۱ یعنی ان کو کہہ دے کہ میں تمہارے جیسا ایک آدمی ہوں مجھ پر یہ وحی ہوتی ہے کہ خدا ایک ہے اس کا کوئی ثانی نہیں اور تمام بھلائی قرآن میں ہے۔ پاک دل لوگ اس کی حقیقت سمجھتے ہیں۔ پس ہم قرآن کو چھوڑ کر اور کس کتاب کو تلاش کریں اور کیونکر اس کو نا کامل سمجھ لیں۔ خدا نے ہمیں تو یہ بتلایا ہے کہ عیسائی مذہب بالکل مر گیا ہے اور انجیل ایک مردہ اور نا تمام کلام ہے۔ پھر زندہ کو مردہ سے کیا جوڑ۔ عیسائی مذہب سے ہماری کوئی صلح نہیں وہ سب کا سب ردی اور باطل ہے اور آج آسمان کے نیچے بجز فرقان حمید کے اور کوئی کتاب نہیں۔ آج سے بائیس برس پہلے براہین احمدیہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے میری نسبت یہ الہام درج ہے جو اس کے صفحہ ۲۴۱ میں پاؤ گے اور وہ یہ ہے:۔
وَلَنْ تَرْضٰى عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلَا النَّصَارٰى وَخَرَقُوْا لَہٗ بَنِیْنَ وَ بَنَاتٍ بِغَیْرِ عِلْمٍ قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اللّٰہُ الصَّمَدُ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ۔ وَ یَمْکُرُوْنَ وَیَمْکُرُ اللّٰہُ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ۔ الْفِتْنَۃُ ہٰہُنَا فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ۔
یعنی تیرا اور یہود اور نصاریٰ کا کبھی مصالحہ نہیں ہو گا اور وہ کبھی تجھ سے راضی نہیں ہوں گے۔ (نصاریٰ سے مراد پادری اور انجیلوں کے حامی ہیں) اور پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے ناحق اپنے دل سے خدا کے لئے بیٹے اور بیٹیاں تراش رکھی ہیں اور نہیں جانتے کہ ابن مریم ایک عاجز انسان تھا۔ اگر خدا چاہے تو عیسیٰ ابن مریم کی مانند کوئی اور آدمی پیدا کر دے یا اس سے بھی بہتر جیسا کہ اس نے کیا۔ مگر وہ خدا تو واحد لاشریک ہے جو موت اور تولد سے پاک ہے اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عیسائیوں نے شور مچا رکھا تھا کہ مسیح بھی اپنے قرب اور وجاہت کے رو سے واحد لاشریک ہے۔ اب خدا بتلاتا ہے کہ دیکھو میں اس کا ثانی پیدا کروں گا جو اس سے بھی بہتر ہے۔ جو غلام احمد ہے یعنی احمد کا غلام۔
زندگی بخش جام احمد ہے
کیا پیارا یہ نام احمد ہے
لاکھ ہوں انبیاء مگر بخدا
سب سے بڑھ کر مقام احمد ہے
باغ احمد سے ہم نے پھل کھایا
میرا بستاں کلام احمد ہے
ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اُس سے بہتر غلام احمد ہے
یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں اور اگر تجربہ کے رو سے خدا کی تائید مسیح ابن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔ خدا نے ایسا کیا نہ میرے لئے بلکہ اپنے نبی مظلوم کے لئے۔ باقی ترجمہ اس الہام کا یہ ہے کہ عیسائی لوگ ایذا رسانی کے لئے مکر کریں گے اور خدا بھی مکر کرے گا اور وہ دن آزمائش کے دن ہوں گے اور کہہ کہ خدایا پاک زمین میں مجھے جگہ دے۔ یہ ایک روحانی طور کی ہجرت ہے اور جیسا کہ اب تک میں سمجھتا ہوں اس کے معنے یہ ہیں کہ انجام کار زمین میں تبدیلی پیدا ہو جائے گی اور زمین راستی اور سچائی سے چمک اٹھے گی۔ اب سوچ لو کہ ہم میں اور عیسائیوں میں کس قدر بُعْدُ الْمَشْرِقَیْنِ ہے۔ جس پاک وجود کو ہم تمام مخلوقات سے بہتر سمجھتے ہیں اس کو یہ مفتری قرار دیتے ہیں۔ صلح تو اس حالت میں ہوتی ہے کہ جب فریقین کچھ کچھ چھوڑنا چاہیں۔ لیکن جس حالت میں ہمارا دین اور ہماری کتاب عیسائی مذہب کو سراپا ناپاک اور نجس سمجھتا ہے اور واقعی ایسا ہی ہے تو پھر ہم کس بات پر صلح کریں۔ اس قدر مذہبی مخالفت کا انجام مصلح ہرگز نہیں ہے بلکہ انجام یہ ہے کہ جھوٹا مذہب بالکل فنا ہو جائے گا اور زمین کے کل نیک طینت انسان سچائی کو قبول کریں گے تب اس دنیا کا خاتمہ ہوگا۔ ہمارا عیسائیوں سے مذہبی رنگ میں کچھ بھی ملاپ نہیں بلکہ ہمارا جواب ان لوگوں کو یہی ہے(الکافرون: ۲) قُلۡ یٰۤاَیُّہَا الۡکٰفِرُوۡنَ لَاۤ اَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُوۡنَ پس یہ کیسی ناپاک رسالت ہے جس کا چراغ دین نے دعوی کیا ہے۔ جائے غیرت ہے کہ ایک شخص میرا مرید کہلا کر یہ ناپاک کلمات منہ پر لاوے کہ میں مسیح ابن مریم کی طرف سے رسول ہوں تا ان دونوں مذہبوں کا مصالحہ کروں۔ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَى الْکَافِرِیْنَ۔ عیسائیت وہ مذہب ہے جس کی نسبت اللہ تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ قریب ہے کہ اس کی شامت سے زمین پھٹ جائے۔ آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔ کیا اس سے صلح ؟ پھر باوجود ناتمام عقل اور ناتمام فہم اور ناتمام پاکیزگی کے یہ بھی کہنا کہ میں رسول اللہ ہوں یہ کس قدر خدا کے پاک سلسلہ کی ہتک عزت ہے گویا رسالت اور نبوت بازیچۂ اطفال ہے۔ نادانی سے یہ نہیں سمجھتا کہ گو پہلے زمانوں میں بعض رسولوں کی تائید میں اور رسول بھی ان کے زمانہ میں ہوئے تھے جیسا کہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ہارون لیکن خاتم الانبیاء اور خاتم الاولیاء اس طریق سے مستثنی ہے اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوسرا کوئی مامور اور رسول نہیں تھا۔ اور تمام صحابہ ایک ہی ہادی کے پیرو تھے۔ اسی طرح اس جگہ بھی ایک ہی ہادی کے سب پیرو ہیں۔ کسی کو دعوی نہیں پہنچتا کہ وہ نعوذ باللہ رسول کہلاوے۔
اور ہمارا آنا صرف دو فرشتوں کے ساتھ نہیں بلکہ ہزاروں فرشتوں کے ساتھ ہے اور خدا کے نزدیک وہ لوگ قابل تعریف ہیں جو سالہائے دراز سے میری نصرت میں مشغول ہیں اور میرے نزدیک اور میرے خدا کے نزدیک ان کی نصرت ثابت ہو چکی ہے۔ مگر چراغ دین نے کونسی نصرت کی اس کا تو وجود اور عدم برابر ہے۔ قریباً تیس سال سے یہ سلسلہ جاری ہے مگر اس نے تو صرف چند ماہ سے پیدائش لی ہے اور میں اس کی شکل بھی اچھی طرح شناخت نہیں کر سکتا کہ وہ کون ہے۔ اور نہ وہ ہماری صحبت میں رہا۔ اور میں نہیں جانتا کہ وہ کس بات میں مجھے مدد دینا چاہتا ہے۔ کیا عربی نویسی کے نشان میں یا معارف قرآنی کے بیان میں میرا مددگار ہوگا یا ان مباحث دقیقہ میں میری اعانت کرے گا جو طبعی اور فلسفہ کے رنگ میں عیسائیوں اور دوسرے فرقوں سے پیش آتے ہیں؟ میں تو جانتا ہوں کہ وہ ان تمام کوچوں سے محروم ہے اور نفس امارہ کی غلطی نے اس کو خودستائی پر آمادہ کیا ہے۔ پس آج کی تاریخ سے وہ ہماری جماعت سے منقطع ہے جب تک کہ مفصل طور پر اپنا توبہ نامہ شائع نہ کرے اور اس ناپاک رسالت کے دعوے سے ہمیشہ کے لئے مستعفی نہ ہو جائے۔
افسوس کہ اس نے بے وجہ اپنی تعلی سے ہمارے سچے انصار کی ہتک کی اور عیسائیوں کے بد بودار مذہب کے مقابل پر اسلام کو ایک برابر درجہ کا مذہب سمجھ لیا۔ سو ہم کو ایسے شخص کی کچھ پروا نہیں۔ ایسے لوگ ہمارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے اور نہ نفع پہنچا سکتے ہیں۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ ایسے انسان سے قطعاً پرہیز کریں۔ اس کی تحریروں سے ہمیں پوری واقفیت نہیں تھی اس لئے اجازت طبع دی تھی۔ اب ایسی تحریروں کو چاک کرنا چاہیے۔ وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰى
المشتہر خاکسار میرزا غلام احمد از قادیاں
تعداد اشاعت ۵۰۰۰
۲۳ راپریل ۱۹۰۲ء
مطبع ضیاء الاسلام قادیان
چراغ دین کی نسبت میں یہ مضمون لکھ رہا تھا کہ تھوڑی سی غنودگی ہو کر مجھ کو خدائے عز وجل کی طرف سے یہ الہام ہوا۔ نَزَلَ بِہٖ جَبِیْز یعنی اس پر جبیز نازل ہوا اور اسی کو اس نے الہام یا رویا سمجھ لیا۔ جبیز دراصل خشک اور بے مزہ روٹی کو کہتے ہیں جس میں کوئی حلاوت نہ ہو اور مشکل سے حلق میں سے اتر سکے اور مرد بخیل اور لئیم کو بھی کہتے ہیں جس کی طبیعت میں کمینگی اور فرومایگی اور بخل کا حصہ زیادہ ہو۔ اور اس جگہ لفظ جبیز سے مراد وہ حَدِیْثُ النَّفْسِ اور اَضْغَاثُ الْاَحْلَامِ ہیں جن کے ساتھ آسمانی روشنی نہیں اور بخل کے آثار موجود ہیں اور ایسے خیالات خشک مجاہدات کا نتیجہ یا تمنا اور آرزو کے وقت القاء شیطان ہوتا ہے اور یا خشکی اور سوداوی مواد کی وجہ سے کبھی الہامی آرزو کے وقت ایسے خیالات کا دل پر القاء ہو جاتا ہے اور چونکہ ان کے نیچے کوئی روحانیت نہیں ہوتی اس لئے الہی اصطلاح میں ایسے خیالات کا نام جبیز ہے اور علاج توبہ اور استغفار اور ایسے خیالات سے اعراض کلی ہے۔ ورنہ جبیز کی کثرت سے دیوانگی کا اندیشہ ہے۔ خدا ہر ایک کو اس بلا سے محفوظ رکھے۔ منہ
رات کو عین خسوف قمر کے وقت میں چراغ دین کی نسبت مجھے یہ الہام ہوا اِنِّیْ اُذِیْبُ مَنْ یَّرِیْب۔ میں فنا کر دوں گا۔ میں غارت کروں گا۔ میں غضب نازل کروں گا اگر اس نے شک کیا اور اس پر ایمان نہ لایا اور رسالت اور مامور ہونے کے دعوے سے توبہ نہ کی۔ اور خدا کے انصار
جو سالہائے دراز سے خدمت اور نصرت میں مشغول اور دن رات صحبت میں رہتے ہیں ان سے عفو تقصیر نہ کرائی کیونکہ اس نے جماعت کے تمام مخلصوں کی توہین کی کہ اپنے نفس کو ان سب پر مقدم کر لیا۔ حالانکہ خدا نے بار بار براہین احمدیہ میں ان کی تعریف کی اور ان کو سابقین قرار دیا اور کہا۔ اَصْحَابُ الصُّفَّۃِ وَ مَا اَدْرَاکَ مَا اَصْحَابُ الصُّفَّۃِ۔
اور جبیز اس روٹی خشک کو کہتے ہیں کہ دانت اس کو توڑ نہ سکیں۔ اور وہ دانت کو توڑے اور حلق سے مشکل سے اترے اور امعاء کو پھاڑے اور قولنج پیدا کرے۔ پس اس لفظ سے بتلایا کہ چراغ دین کی یہ رسالت اور یہ الہام محض جبیز اور اس کے لئے مہلک ہیں۔
مگر دوسرے اصحاب جن کی توہین کرتا ہے اُن پر مائدہ نازل ہو رہا ہے اور اُن کو خدا کی رحمت سے بڑا حصہ ہے۔
مائدہ چیزیست دیگر نان چیزے دگر
خوردنی ہرگز نباشد نان خشک اے بے ہنر
دوستان را مائدہ بدہند از مہر و کرم
پارہ ہاے خشک نان بیگانگان را نیز ہم
نیز ہم پیش سگان آن خشک نان مے افگنند
مائدہ از لطف ہا پیش عزیزان مے برند
ترک کن این خشک نان را ہوش کن فرزانہ باش
گر خردمندی پئے آن مائدہ دیوانہ باش
منہ
اس رسالہ کا نام دَافِعُ البَلَاءِ وَمِعْیَارِ أَهْلِ الإِصْطِفَاءِ رکھا گیا ہے۔