

اشتہار واجب الاظہار از طرف ایں خاکسار
دوستو!! جاگو کہ اب پھر زلزلہ آنے کو ہے
پھر خدا قدرت کو اپنی جلد دکھلانے کو ہے
وہ جو ماہِ فروری میں تم نے دیکھا زلزلہ
تم یقیں سمجھو کہ وہ اک زَجر سمجھانے کو ہے
آنکھ کے پانی سے یارو کچھ کرو اس کا علاج
آسماں اے غافلو اب آگ برسانے کو ہے
کیوں نہ آویں زلزلے تقویٰ کی رہ گم ہو گئی
اِک مسلماں بھی مسلماں صرف کہلانے کو ہے
کس نے مانا مجھ کو ڈر کر کس نے چھوڑا بغض و کیں
زندگی اپنی تو اُن سے گالیاں کھانے کو ہے
کافر و دجال اور فاسق ہمیں سب کہتے ہیں
کون ایماں صدق اور اخلاص سے لانے کو ہے
جس کو دیکھو بدگمانی میں ہی حد سے بڑھ گیا
گر کوئی پوچھے تو سو سو عیب بتلانے کو ہے
چھوڑتے ہیں دیں کو اور دنیا سے کرتے ہیں پیار
سو کریں وعظ و نصیحت کون پچھتانے کو ہے
ہاتھ سے جاتا ہے دل دیں کی مصیبت دیکھ کر
پر خدا کا ہاتھ اب اس دل کو ٹھہرانے کو ہے
اس لئے اب غیرت اس کی کچھ تمہیں دکھلائے گی
ہر طرف یہ آفتِ جاں ہاتھ پھیلانے کو ہے
موت کی رہ سے ملے گی اب تو دیں کو کچھ مدد
ورنہ دیں اے دوستو! اک روز مرجانے کو ہے
یا تو اک عالم تھا قرباں اس پہ یا آئے یہ دن
ایک عبد العبد بھی اس دیں کو جھٹلانے کو ہے
المشـــــــــــــــتھر
میرزا غلام احمدؐ قادیانی مسیح موعود۔ ۹؍مارچ ۱۹۰۶ ء

وہ کتاب جس کا میں نے عنوان میں چشمۂ مسیحی نام رکھا ہے۔ درحقیقت وہ یہی کتاب ہے جس کو ہم ذیل میں لکھیں گے۔ ہمیں کچھ ضرور نہ تھا کہ حضرات پادری صاحبوں کے عقائد کی نسبت کچھ تحریر کرتے کیونکہ ان دنوں میں ان کے اکابر یورپ اور امریکہ کے محققوں نے وہ کام خود اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے جو ہمیں کرنا چاہیے تھا اور وہ لوگ اس خدمت کو بہت خوبی سے ادا کررہے ہیں کہ عیسائی مذہب کیا چیز ہے اور اس کی اصلیت کیا ہے مگر ان دنوں میں ایک ناواقف مسلمان کا بانس بریلی سے مجھ کو خط پہنچا ہے۔ اور وہ اپنے خط میں کتاب ینابیع الاسلام کی نسبت جو ایک عیسائی کی کتاب ہے ایک خوفناک ضرر کا اظہار کرتے ہیں۔ افسوس کہ اکثر مسلمان اپنی غفلت کی وجہ سے ہماری کتابوں کو نہیں دیکھتے اور وہ برکات جو خدا تعالیٰ نے ہم پر نازل کئے یہ لوگ بالکل اس سے بے خبر ہیں۔ اور نادان مولویوں نے ہمیں کافر کافر کہنے سے ہم میں اور عام مسلمانوں میں ایک دیوار کھینچ دی ہے۔ ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ اب وہ زمانہ جاتا رہا کہ جس میں عیسائیت کے مکرو فریب کچھ کام کرتے تھے۔ اور اب چھٹا (۶) ہزار آدم کی پیدائش سے آخر پر ہے جس میں خدا کے سلسلہ کو فتح ہوگی اور روشنی اور تاریکی میں یہ آخری جنگ ٭ ہے جس میں روشنی مظفر اور منصور ہو جائے گی اور تاریکی کا خاتمہ ہے۔ اور کچھ ضرور نہ تھا کہ پادری صاحبوں کے ان بوسیدہ خیالات پر کچھ لکھا جاتا لیکن ایک شخص کے اصرار سے جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے یہ مختصر رسالہ لکھنا پڑا۔ خدا تعالیٰ اس میں برکت ڈالے اور لوگوں کی ہدایت کا موجب کرے۔ آمین
اور یاد رہے کہ ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عزت کرتے ہیں اور ان کو خدا تعالیٰ کا نبی سمجھتے ہیں ٭ اور ہم ان یہودیوں کے ان اعتراضات کے مخالف ہیں جو آج کل شائع ہوئے ہیں مگر ہمیں یہ دکھلانا منظور ہے کہ جس طرح یہود محض تعصّب سے حضرت عیسٰیؑ اور اُن کی انجیل پر حملے کرتے ہیں اسی رنگ کے حملے عیسائی قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے ہیں۔ عیسائیوں کو مناسب نہ تھا کہ اس بدطریق میں یہودیوں کی پیروی کرتے لیکن یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان سچائی اور انصاف کے رُو سے کسی مذہب پر حملہ نہیں کر سکتا تو بہتیرے ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ ناحق کی تہمتوں کے ذریعہ سے حملہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ سو اسی قسم کے صاحب ینا بیع الاسلام کے حملے ہیں۔ دنیا کی محبت سے یہ خراب عادتیں پیدا ہوتی ہیں ورنہ اس زمانہ میں آسمانی دین اور آسمانی مذہب صرف اسلام ہی ہے جس کی برکات تازہ بتازہ موجود ہیں۔ اور یہ اسلام کے پاک چشمہ کی ہی برکت ہے کہ وہ زندہ خدا تعالیٰ تک پہنچاتا ہے ورنہ وہ مصنوعی خدا جو سری نگر (محلہ خانیار) کشمیر میں مدفون ہے وہ کسی کی دستگیری نہیں کر سکتا۔
اب ہم بریلی کے صاحب راقم کی طرف متوجہ ہو کر اپنے مختصر رسالہ کو تحریر کرتے ہیں۔ واللّٰہ الموفق
الراقم
میرزا غلام احمدؐ مسیح موعود قادیانی
یکم مارچ ۱۹۰۶ء

السلام علیکم ! بعدھٰذا واضح ہو کہ میں نے آپ کا خط بڑے افسوس سے پڑھا جس کو آپ نے ایک عیسائی کی کتاب ینا بیع الاسلام نام کی پڑھنے کے بعد لکھا۔ مجھے تعجب ہے کہ وہ قوم جن کا خدا مردہ۔ جن کا مذہب مردہ۔ جن کی کتاب مردہ اور جو روحانی آنکھ کے نہ ہونے سے خود مردے ہیں۔ اُن کی دروغ اور پُر افترا باتوں سے اسلام کی نسبت آپ تردّد میں پڑگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
آپ کو یاد رہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صرف خدا کی کتابوں کی تحریف نہیں کی بلکہ اپنے مذہب کو ترقی دینے کے لئے افترا اور مفتریانہ تحریروں میں ہر ایک قوم سے سبقت لے گئے۔ چونکہ ان لوگوں کے پاس وہ نور نہیں جو سچائی کی تائید میں آسمان سے اترتا اور سچے مذہب کو اپنی متواتر شہادتوں سے دنیا میں ایک صریح امتیاز بخشتا ہے۔ اس لئے یہ لوگ ان باتوں کے لئے مجبور ہوئے کہ لوگوں کو ایک زندہ مذہب یعنی اسلام سے بیزار کرنے کے لئے طرح طرح کے افتراؤں اور مکروں اور فریبوں اور دھوکا دہی اور محض جعلی اور بناوٹی باتوں سے کام لیا جاوے۔
اے عزیز!یہ لوگ سیاہ دل لوگ ہیں جن کو خدا کا خوف نہیں اور جن کے منصوبے دن رات اِسی کوشش میں ہیں کہ کسی طرح لوگ تاریکی سے پیار کریں اور روشنی کو چھوڑ دیں۔ میں سخت تعجب میں ہوں کہ آپ ایسے شخص کی تحریروں سے کیوں متاثر ہوئے۔ یہ لوگ ان ساحروں سے بڑھ کر ہیں جنہوں نے موسٰیؑ نبی کے سامنے رسیوں کے سانپ بنا کر دکھادیئے تھے مگر چونکہ موسٰیؑ خدا کا نبی تھا اس لئے اس کا عصا ان تمام سانپوں کو نگل گیا۔ اسی طرح قرآن شریف خدا تعالیٰ کا عصا ہے وہ دن بدن رسیوں کے سانپوں کو نگلتا جاتا ہے اور وہ دن آتا ہے بلکہ نزدیک ہے کہ ان رسیوں کے سانپوں کا نام و نشان نہیں رہے گا۔ صاحب ینابیع الاسلام نے اگر یہ کوشش کی ہے کہ قرآن شریف فلاں فلاں قصوں یا کتابوں سے بنایا گیا ہے۔ یہ کوشش اس کی اس کوشش کے ہزارم حصہ پر بھی نہیں جو ایک فاضل یہودی نے انجیل کی اصلیت دریافت کرنے کے لئے کی ہے۔ اس فاضل نے اپنے خیال میں اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ انجیل کی اخلاقی تعلیم یہودیوں کی کتاب طالمود اور بعض اور چند بنی اسرائیل کی کتابوں سے لی گئی ہے اور یہ چوری اس قدر صریح طور پر عمل میں آئی ہے کہ عبارتوں کی عبارتیں بعینہٖ نقل کر دی گئی ہیں۔ اور اس فاضل نے دکھلا دیا ہے کہ درحقیقت انجیل مجموعہ مال مسروقہ ہے۔ درحقیقت اس نے حد کر دی اور خاص کر پہاڑی تعلیم کو جس پر عیسائیوں کا بہت کچھ ناز ہے طالمود سے اخذ کرنا لفظ بلفظ ثابت کر دیا ہے اور دکھلا دیا ہے کہ یہ طالمود کی عبارتیں اور فقرے ہیں۔ اور ایسا ہی دوسری کتابوں سے وہ مسروقہ عبارتیں نقل کر کے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ چنانچہ خود یورپ کے محقق بھی اس طرف دلچسپی سے متوجہ ہوگئے ہیں۔ اور ان دنوں میں میں نے ایک ہندو کا رسالہ دیکھا ہے جس نے یہ کوشش کی ہے کہ انجیل بدھ کی تعلیم کا سرقہ ہے اور بدھ کی اخلاقی تعلیم کو پیش کر کے اس کا ثبوت دینا چاہا ہے۔ اور عجیب تریہ کہ بدھ لوگوں میں وہی قصہ شیطان کا مشہور ہے جو اس کو آزمانے کے لئے کئی جگہ لئے پھرا۔ پس ہر ایک کو یہ خیال دل میں لانے کا حق ہے کہ تھوڑے سے تغیر سے وہی قصہ انجیل میں بھی بطور سرقہ داخل کر دیا گیا ہے۔ یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ ضرور حضرت عیسٰی علیہ السلام ہندوستان میں آئے تھے اور حضرت عیسٰیؑ کی قبر سری نگر کشمیر میں موجود ہے جس کو ہم نے دلائل سے ثابت کیا ہے۔ اس صورت میں ایسے معترضین کو اور بھی حق پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایسا خیال کریں کہ اناجیل موجودہ درحقیقت بدھ مذہب کا ایک خاکہ ہے۔ یہ شہادتیں اس قدر گزر چکی ہیں کہ اب مخفی نہیں ہو سکتیں۔ ایک اور امر تعجب انگیز ہے کہ یوز آسف کی قدیم کتاب (جس کی نسبت اکثر محقق انگریزوں کے بھی یہ خیالات ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے بھی پہلے شائع ہو چکی ہے) جس کے ترجمے تمام ممالک یورپ میں ہو چکے ہیں انجیل کو اس کے اکثر مقامات سے ایسا توارد ہے کہ بہت سی عبارتیں باہم ملتی ہیں اور جو انجیلوں میں بعض مثالیں موجود ہیں وہی مثالیں انہیں الفاظ کے ساتھ اس کتاب میں بھی موجود ہیں۔ اگر ایک شخص ایسا جاہل ہو کہ گویا اندھاہووہ بھی اس کتاب کو دیکھ کریقین کرے گا کہ انجیل اُسی میں سے چورائی گئی ہے۔ بعض لوگوں کی یہ رائے ہے کہ یہ کتاب گوتم بدھ کی ہے اور اوّل سنسکرت میں تھی اور پھر دوسری زبانوں میں ترجمے ہوئے۔ چنانچہ بعض محقق انگریز بھی اس بات کے قائل ہیں۔ مگر اس بات کے ماننے سے انجیل کا کچھ باقی نہیں رہتا اور نعوذباللہ حضرت عیسیٰ ؑ اپنی تمام تعلیم میں چور ثابت ہوتے ہیں۔ کتاب موجود ہے۔ جو چاہے دیکھ لے مگر ہماری رائے تو یہ ہے کہ خود حضرت عیسٰیؑ کی یہ انجیل ہے جو ہندوستان کے سفر میں لکھی گئی اور ہم نے بہت سے دلائل سے اس بات کو ثابت بھی کر دیا ہے کہ یہ درحقیقت حضرت عیسیٰ ؑ کی انجیل ہے اور دوسری انجیلوں سے زیادہ پاک و صاف ہے مگر وہ بعض محقق انگریز جو اس کتاب کو بدھ کی کتاب ٹھہراتے ہیں وہ اپنے پاؤں پر آپ تبر مارتے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سارق قرار دیتے ہیں۔
اب یہ بھی یاد رہے کہ پادریوں کا مذہبی کتابوں کا ذخیرہ ایک ایسا ردّی ذخیرہ ہے جو نہایت قابل شرم ہے۔ وہ لوگ صرف اپنی ہی اٹکل سے بعض کتابوں کو آسمانی ٹھہراتے ہیں اور بعض کو جعلی قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ ان کے نزدیک یہ چار انجیلیں اصلی ہیں اور باقی اناجیل جو چھپن (۵۶) کے قریب ہیں جعلی ہیں مگر محض گمان اور شک کے رو سے۔ نہ کسی مستحکم دلیل پر اس خیال کی بنا ہے چونکہ مروجہ انجیلوں اور دوسری انجیلوں میں بہت تناقض ہے اس لئے اپنے گھر میں ہی یہ فیصلہ کر لیا ہے اور محققین کی یہی رائے ہے کہ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ انجیلیں جعلی ہیں یا وہ جعلی ہیں۔ اسی لئے شاہ ایڈورڈ قیصر کے تخت نشینی کی تقریب پر لنڈن کے پادریوں نے وہ تمام کتابیں جن کو یہ لوگ جعلی تصور کرتے ہیں ان چار انجیلوں کے ساتھ ایک ہی جلد میں مجلّد کر کے مبارکبادی کے طور پر بطور نذر پیش کی تھیں اور اس مجموعہ کی ایک جلد ہمارے پاس بھی ہے۔ پس غور کا مقام ہے کہ اگر درحقیقت وہ کتابیں گندی اور جعلی اور ناپاک ہوتیں تو پھر پاک اور ناپاک دونوں کو ایک جلد میں مجلد کرنا کس قدر گناہ کی بات تھی۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ دلی اطمینان سے نہ کسی کتاب کو جعلی کہہ سکتے ہیں نہ اصلی ٹھہرا سکتے ہیں۔ اپنی اپنی رائیں ہیں ۔ اور سخت تعصب کی وجہ سے وہ انجیلیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اُن کو یہ لوگ جعلی قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ برنباس کی انجیل جس میں نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت پیشگوئی ہے وہ اسی وجہ سے جعلی قرار دی گئی ہے کہ اُس میں کھلے کھلے طور پر آنحضرتؐ کی پیشگوئی موجود ہے۔ چنانچہ سیل صاحب نے اپنی تفسیر میں اس قصہ کو بھی لکھا ہے کہ ایک عیسائی راہب اسی انجیل کو دیکھ کر مسلمان ہوگیا تھا۔ غرض یہ بات خوب یاد رکھنی چاہیے کہ یہ لوگ جس کتاب کی نسبت کہتے ہیں کہ یہ جعلی ہے یا جھوٹا قصہ ہے۔ ایسی باتیں صرف دو خیال سے ہوتی ہیں (۱)ایک یہ کہ وہ قصہ یا وہ کتاب انا جیل مروجہ کے مخالف ہوتی ہے (۲)دوسرے یہ کہ وہ قصہ یا وہ کتاب قرآن شریف سے کسی قدر مطابق ہوتی ہے اور بعض شریر اور سیاہ دل انسان ایسی کوشش کرتے ہیں کہ اوّل اصول ٭ مسلّمہ کے طور پر یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ یہ جعلی کتابیں ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ قرآن میں ان کا قصہ درج ہے۔ اور اس طرح پر نادان لوگوں کو دھوکہ میں ڈالتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے نوشتوں کا جعلی یا اصلی ثابت کرنا بجز خدا کی وحی کے اور کسی کا کام نہ تھا۔ پس خدا کی وحی کا جس کسی قصہ سے توارد ہوا وہ سچا ہے گو بعض نادان انسان اس کو جھوٹا قصہ قرار دیتے ہوں اور جس واقعہ کی خدا کی وحی نے تکذیب کی وہ جھوٹا ہے اگرچہ بعض انسان اس کو سچا قرار دیتے ہوں اور قرآن شریف کی نسبت یہ گمان کرنا کہ ان مشہور قصوں یا افسانوں یا کتبوں یا اناجیل سے بنایا گیا ہے نہایت قابل شرم جہالت ہے۔ کیا ممکن نہیں کہ خدا کی کتاب کا کسی گذشتہ مضمون سے توارد ہو جائے۔ چنانچہ ہندوؤں کے وید جو اس زمانہ میں مخفی تھے اُن کی کئی سچائیاں قرآن شریف میں پائی جاتی ہیں۔ پس کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وید بھی پڑھا تھا۔ اناجیل وغیرہ کا ذخیرہ جو چھاپہ خانہ کے ذریعہ سے اب ملا ہے عرب میں ان کوکوئی جانتا بھی نہیں تھا اور عرب کے لوگ محض امی تھے۔ اور اگر اس ملک میں شاذ و نادر کے طور پر کوئی عیسائی بھی تھا وہ بھی اپنے مذہب کی کوئی وسیع واقفیت نہیں رکھتا تھا ٭ تو پھر یہ الزام کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سرقہ کے طور پر ان کتابوں سے وہ مضمون لئے تھے ایک لعنتی خیال ہے۔ آنحضرتؐ محض اُمی تھے۔ آپ عربی بھی نہیں پڑھ سکتے تھے چہ جائیکہ یونانی یا عبرانی۔ یہ بار ثبوت ہمارے مخالفوں کے ذمہ ہے کہ اس زمانہ کی کوئی پرانی کتاب پیش کریں جس سے مطالب اخذ کئے گئے۔ اگر فرض محال کے طور پر قرآن شریف میں سرقہ کے ذریعہ سے کوئی مضمون ہوتا تو عرب کے عیسائی لوگ جو اسلام کے سخت دشمن تھے فی الفور شور مچاتے کہ ہم سے سن کر ایسا مضمون لکھا ہے۔
یاد رہے کہ دنیا میں صرف قرآن شریف ٭ ہی ایک ایسی کتاب ہے جس کی طرف سے معجزہ ہونے کا دعویٰ پیش ہوا اور بڑے زور سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس کی خبریں اور اس کے قصّے سب غیب گوئی ہے اور آئندہ کی خبریں بھی قیامت تک اس میں درج ہیں۔ اور وہ اپنی فصاحت بلاغت کے رُوسے بھی معجزہ ہے۔ پس عیسائیوں کے لئے اس وقت یہ بات نہایت سہل تھی کہ وہ بعض قصّے نکال کر پیش کرتے کہ اِن کتابوں سے قرآن شریف نے چوری کی ہے۔ اس صورت میں اسلام کا تمام کاروبار سرد ہو جاتا مگراب تو بعد از مرگ واویلا ہے۔ عقل ہرگز ہرگز قبول نہیں کر سکتی کہ اگر عرب کے عیسائیوں کے پاس درحقیقت ایسی کتابیں موجود تھیں جن کی نسبت گمان ہو سکتا تھا کہ ان کتابوں سے قرآن شریف نے قصے لئے ہیں خواہ وہ کتابیں اصلی تھیں یا فرضی تھیں تو عیسائی اس پردہ دری سے چپ رہتے پس بلاشبہ قرآن شریف کا سارا مضمون وحی الٰہی سے ہے۔ اور وہ وحی ایسا عظیم الشان معجزہ تھا کہ اس کی نظیر کوئی شخص پیش نہ کر سکا۔ اور سوچنے کا مقام ہے کہ جو شخص دوسری کتابوں کا چور ہو اور خود مضمون بناوے۔ اور جانتا ہے کہ فلاں فلاں کتاب سے میں نے یہ مضمون لیا ہے اور غیب کی باتیں نہیں ہیں اس کو کب جرأت اور حوصلہ ہو سکتا ہے کہ تمام جہان کو مقابلہ کے لئے بلاوے اور پھر کوئی بھی مقابلہ نہ کرے اور کوئی اس کی پردہ دری پر قادر نہ ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ عیسائی قرآن شریف پر بہت ہی ناراض ہیں اور ناراض ہونے کی وجہ یہی ہے کہ قرآن شریف نے تمام پروبال عیسائی مذہب کے توڑ دیئے ہیں۔ ایک انسان کا خدا بننا باطل کر کے دکھلا دیا۔ صلیبی عقیدہ کو پاش پاش کر دیا اور انجیل کی وہ تعلیم جس پر عیسائیوں کو ناز تھا نہایت درجہ ناقص اور نکمّا ہونا اس کا بپایۂ ثبوت پہنچا دیا۔ تو پھر عیسائیوں کا جوش ضرور نفسانیت کی وجہ سے ہونا چاہئے تھا۔ پس جو کچھ وہ افترا کریں تھوڑا ہے جو شخص مسلمان ہو کر پھر عیسائی بننا چاہے اُس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کوئی ماں کے پیٹ سے پیدا ہو کر اور بالغ ہو کر پھر یہ چاہے کہ ماں کے پیٹ میں داخل ہو جائے اور وہی نطفہ بن جائے جو پہلے تھا۔ مجھے تعجب ہے کہ عیسائیوں کو کس بات پرناز ہے۔ اگر ان کا خدا ہے تو وہ وہی ہے جو مدت ہوئی کہ مرگیا اور سری نگر محلہ خان یار کشمیر میں اس کی قبر ہے اور اگر اس کے معجزات ہیں تو وہ دوسرے نبیوں سے بڑھ کر نہیں ہیں بلکہ الیاس نبی کے معجزات اس سے بہت زیادہ ہیں۔ اور بموجب بیان یہودیوں کے اس سے کوئی معجزہ نہیں ہوا محض فریب اور مکر ٭ تھا۔ اور پیشگوئیوں کا یہ حال ہے جو اکثر جھوٹی نکلی ہیں۔ کیا باراں (۱۲) حواریوں کو وعدہ کے موافق باراں (۱۲) تخت بہشت میں نصیب ہوگئے کوئی پادری صاحب تو جواب دیں؟ کیا دنیا کی بادشاہت حضرت عیسٰیؑ کو اُن کی اپنی پیشگوئی کے موافق مل گئی جس کے لئے ہتھیار بھی خریدے گئے تھے کوئی تو بولے؟ اور کیا اسی زمانہ میں حضرت مسیحؑ اپنے دعوے کے موافق آسمان سے اُتر آئے؟ میں کہتا ہوں اُترنا کیا اُن کو تو آسمان پر جانا ہی نصیب نہیں ہوا۔ یہی رائے یورپ کے محقق علماء کی بھی ہے بلکہ وہ صلیب پر سے نیم مردہ ہو کر بچ گئے اور پھر پوشیدہ طور پر بھاگ کر ہندوستان کی راہ سے کشمیر میں پہنچے۔ اور وہیں فوت ہوئے۔ ٭
پھر تعلیم کا یہ حال ہے کہ قطع نظر اس سے کہ اس پر چوری کا الزام لگایا گیا ہے انسانی قویٰ کی تمام شاخوں میں سے صرف ایک شاخ حلم اور درگزر پر انجیل کی تعلیم زور دیتی ہے اور باقی شاخوں کا خون کیا ہے حالانکہ ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ جو کچھ انسان کو قدرتِ قادر نے عطا کیا ہے کوئی چیز اس میں سے بیکار نہیں ہے۔ اور ہر ایک انسانی قوت اپنی اپنی جگہ پر عین مصلحت سے پیدا کی گئی ہے اور جیسے کسی وقت اور کسی محل پر حلم اور درگزر عمدہ اخلاق میں سے سمجھے جاتے ہیں ایسا ہی کسی وقت غیرت اور انتقام اور مجرم کو سزا دینا اخلاق فاضلہ میں سے شمار کیا جاتا ہے۔ نہ ہمیشہ درگزر اور عفو قرین مصلحت ہے اور نہ ہمیشہ سزا۔ اور انتقام مصلحت کے مطابق ہے یہی قرآنی تعلیم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَجَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثۡلُہَا ۚ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ (الشوریٰ: ۴۱) ۔ یعنی بدی کی جزا اسی قدر ہے جس قدر بدی کی گئی مگر جو کوئی عفو کرے اور اس عفو میں کوئی اصلاح مقصود ٭ ہو تو اس کا اجرخدا کے پاس ہے یہ تو قرآن شریف کی تعلیم ہے مگر انجیل میں بغیر کسی شرط کے ہر ایک جگہ عفو اور درگزر کی ترغیب دی گئی ہے اور انسانی دوسرے مصالح کو جن پر تمام سلسلہ تمدن کا چل رہا ہے پامال کر دیا ہے اور انسانی قویٰ کے درخت کی تمام شاخوں میں سے صرف ایک شاخ کے بڑھنے پر زور دیا ہے اور باقی شاخوں کی رعایت قطعاً ترک کر دی گئی ہے۔ پھر تعجب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔ انجیر کے درخت کو بغیر پھل کے دیکھ کر اُس پر بددعا کی اور دوسروں کو دعا کرنا سکھلایا۔ اور دوسروں کو یہ بھی حکم دیا کہ تم کسی کو احمق مت کہو مگر خود اس قدر بدزبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیں اور بُرے بُرے اُن کے نام رکھے۔ اخلاقی معلّم کا فرض یہ ہے کہ پہلے آپ اخلاقِ کریمہ دکھلاوے۔ پس کیا ایسی تعلیم ناقص جس پر انہوں نے آپ بھی عمل نہ کیا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتی ہے؟ پاک اور کامل تعلیم قرآن شریف کی ہے جو انسانی درخت کی ہر ایک شاخ کی پرورش کرتی ہے اور قرآن شریف صرف ایک پہلو پر زور نہیں ڈالتا بلکہ کبھی تو عفو اور درگزر کی تعلیم دیتا ہے مگر اس شرط سے کہ عفو کرنا قرین مصلحت ہو اور کبھی مناسب محل اور وقت کے مجرم کو سزا دینے کے لئے فرماتا ہے۔ پس درحقیقت قرآن شریف خدا تعالیٰ کے اس قانون قدرت کی تصویر ہے جو ہمیشہ ہماری نظرکے سامنے ہے۔ یہ بات نہایت معقول ہے کہ خدا کا قول اور فعل دونوں مطابق ہونے چاہئیں یعنی جس رنگ اور طرز پر دنیا میں خدا تعالیٰ کا فعل نظر آتا ہے ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ کی سچی کتاب اپنے فعل کے مطابق تعلیم کرے۔ نہ یہ کہ فعل سے کچھ اور ظاہر ہو اور قول سے کچھ اور ظاہر ہو۔ خدا تعالیٰ کے فعل میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہمیشہ نرمی اور درگزر نہیں بلکہ وہ مجرموں کو طرح طرح کے عذابوں سے سزایاب بھی کرتا ہے ایسے عذابوں کا پہلی کتابوں میں بھی ذکر ہے۔ ہمارا خدا صرف حلیم خدا نہیں بلکہ وہ حکیم بھی ہے اور اس کا قہر بھی عظیم ہے۔ سچی کتاب وہ کتاب ہے جو اس کے قانون قدرت کے مطابق ہے اور سچا قولِ الٰہی وہ ہے جو اس کے فعل کے مخالف نہیں۔ ہم نے کبھی مشاہدہ نہیں کیا کہ خدا نے اپنی مخلوق کے ساتھ ہمیشہ حلم اور درگزر کا معاملہ کیا ہو اور کوئی عذاب نہ آیا ہو۔ اب بھی ناپاک طبع لوگوں کے لئے خداتعالیٰ نے میرے ذریعہ سے ایک عظیم الشان اور ہیبت ناک زلزلہ کی خبر دے رکھی ہے جو ان کو ہلاک کرے گا اور طاعون بھی ابھی دور نہیں ہوئی۔ پہلے اس سے نوحؑ کی قوم کا کیا حال ہوا۔ لوطؑ کی قوم کو کیا پیش آیا؟ سو یقیناً سمجھو کہ شریعت کا ما حصل تَخَلُّقْ باخلاق اللّٰہ ہے یعنی خدائے عزّ و جلّ کے اخلاق اپنے اندر حاصل کرنا۔ یہی کمالِ نفس ہے۔ اگر ہم یہ چاہیں کہ خدا سے بھی بڑھ کر کوئی نیک خُلق ہم میں پیدا ہو تویہ بے ایمانی اور پلید رنگ کی گستاخی ہے اور خدا کے اخلاق پر ایک اعتراض ہے۔
اور پھر ایک اور بات پر بھی غور کرو کہ خدا کا قدیم سے قانونِ قدرت ہے کہ وہ توبہ اور استغفار سے گناہ معاف کرتا ہے اور نیک لوگوں کی شفاعت کے طور پر دعا بھی قبول کرتا ہے مگر یہ ہم نے خدا کے قانون قدرت میں کبھی نہیں دیکھا کہ زید اپنے سر پر پتھر مارے اور اس سے بکر کی دردِ سر جاتی رہے۔ پھر ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ مسیح کی خودکشی سے دوسروں کی اندرونی بیماری کا دور ہونا کس قانون پر مبنی ہے اور وہ کون سا فلسفہ ہے جس سے ہم معلوم کر سکیں کہ مسیح کا خون کسی دوسرے کی اندرونی ناپاکی کو دور کر سکتا ہے بلکہ مشاہدہ اس کے برخلاف گواہی دیتا ہے کیونکہ جب تک مسیح نے خودکشی کا ارادہ نہیں کیا تھا تب تک عیسائیوں میں نیک چلنی اور خدا پرستی کا مادہ تھا مگر صلیب کے بعد تو جیسے ایک بند ٹوٹ کر ہر ایک طرف دریا کا پانی پھیل جاتا ہے۔ یہی عیسائیوں کے نفسانی جوشوں کا حال ہوا۔ کچھ شک نہیں کہ اگر یہ خود کشی مسیح سے بالا رادہ ظہور میں آئی تھی تو بہت بے جا کام کیا۔ اگر وہی زندگی وعظ و نصیحت میں صرف کرتا تو مخلوق خدا کو فائدہ پہنچتا۔ اِس بے جاحرکت سے دوسروں کو کیا فائدہ ہوا۔ ہاں اگر مسیح خودکشی کے بعد زندہ ہو کر یہودیوں کے روبرو آسمان پر چڑھ جاتا تو اس سے یہودی ایمان لے آتے مگر اب تو یہودیوں اور تمام عقلمندوں کے نزدیک مسیح کا آسمان پر چڑھنا محض ایک فسانہ اور گپ ہے۔
اور پھر تثلیث کا عقیدہ بھی ایک عجیب عقیدہ ہے۔ کیاکسی نے سنا ہے کہ مستقل طور پر اور کامل طور پر تین بھی ہوں اور ایک بھی ہو اور ایک بھی کامل خدا اور تین بھی کامل خدا ہو۔ عیسائی مذہب بھی عجیب مذہب ہے کہ ہر ایک بات میں غلطی اور ہرایک امر میں لغزش ہے اور پھر باوجود ان تمام تاریکیوں کے آئندہ زمانہ کے لئے وحی اور الہام پر مُہر لگ گئی ہے۔ اور اب ان تمام اناجیل کی غلطیوں کا فیصلہ حسب اعتقاد عیسائیوں کی وحی جدیدکی رو سے تو غیر ممکن ہے کیونکہ اُن کے عقیدہ کے موافق اب وحی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے۔ اب تمام مدار صرف اپنی اپنی رائے پر ہے جو جہالت اور تاریکی سے مبرا نہیں۔ اور ان کی انجیلیں اس قدر بیہودگیوں کا مجموعہ ہیں جو ان کا شمار کرنا غیر ممکن ہے۔ مثلاًایک عاجز انسان کو خدا بنانا اور دوسروں کے گناہوں کی سزا میں اس کے لئے صلیب تجویز کرنا اور تین (۳) دن تک اُس کو دوزخ میں بھیجنا اور پھر ایک طرف خدا بنانا اور ایک طرف کمزوری اور دروغگوئی کی عادت کو اُس کی طرف منسوب کرنا۔ چنانچہ انجیلوں میں بہت سے ایسے کلمات پائے جاتے ہیں جن سے نعوذ باللہ حضرت مسیحؑ کا دروغگوہونا ثابت ہوتا ہے مثلاً وہ ایک چور کو وعدہ دیتے ہیں کہ آج بہشت میں تومیرے ساتھ روزہ کھولے گا۔ اور ایک طرف وہ خلاف وعدہ اُسی دن دوزخ میں جاتے ہیں اور تین دن دوزخ میں ہی رہتے ہیں۔ ایسا ہی انجیلوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ شیطان آزمائش کے لئے مسیح کو کئی جگہ لئے پھرا۔ یہ عجیب بات ہے کہ مسیح خدا بن کر بھی شیطان کی آزمائش سے بچ نہ سکا اور شیطان کو خداکی آزمائش کی جرأت ہوگئی۔ یہ انجیل کا فلسفہ تمام دنیا سے نرالا ہے۔ اگر درحقیقت شیطان مسیح کے پاس آیا تھا تو مسیحؑ کے لئے بڑا عمدہ موقع تھا کہ یہودیوں کو شیطان دکھلا دیتا کیونکہ یہودی حضرت مسیحؑ کی نبوت کے سخت انکاری تھے۔ وجہ یہ کہ ملاکی نبی کی کتاب میں سچے مسیح کی یہ علامت لکھی تھی کہ اس سے پہلے الیاسؑ ٭ نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا۔ پس چونکہ الیاس نبی دوبارہ دنیا میں نہ آیا اس لئے یہودی اب تک حضرت عیسٰیؑ کو مفتری اور مکار کہتے ہیں۔ یہ یہودیوں کی ایسی حجت ہے کہ عیسائیوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔ اور شیطان کا مسیح کے پاس آنا یہ بھی یہودیوں کے نزدیک مجنونانہ خیال ہے۔ اکثر مجانین ایسی ایسی خوابیں دیکھا کرتے ہیں۔ یہ مرض کابوس کی ایک قسم ہے۔ اس جگہ ایک محقق انگریز نے یہ تاویل کی ہے کہ شیطان کے آنے سے مراد یہ ہے کہ مسیحؑ کو تین مرتبہ شیطانی الہام ہوا تھا مگر مسیحؑ شیطانی الہام سے متاثر نہیں ہوا۔ ایک شیطانی الہاموں میں سے یہ تھا کہ مسیحؑ کے دل میں شیطان کی طرف سے یہ ڈالا گیا کہ وہ خدا کو چھوڑ دے اور محض شیطان کے تابع ہو جائے مگر تعجب کہ شیطان خدا کے بیٹے پر مسلط ہوا اور دنیا کی طرف اس کو رجوع دیا حالانکہ وہ خدا کا بیٹا کہلاتا ہے۔ اور پھر خدا ہونے کے برخلاف وہ مرتا ہے۔ کیا خدا بھی مرا کرتا ہے؟ اور اگر محض انسان مرا ہے تو پھر کیوں یہ دعویٰ ہے کہ ابن اللہ نے انسانوں کے لئے جان دی۔ اور پھر وہ ابن اللہ کہلا کر قیامت کے وقت سے بھی بے خبر ہے جیسا کہ مسیح کا اقرار انجیل میں موجود ہے کہ وہ باوجود ابن اللہ ہونے کے نہیں جانتا کہ قیامت کب آوے گی۔ باوجود خدا کہلانے کے قیامت کے علم سے بے خبر ہونا کس قدر بیہودہ بات ہے بلکہ قیامت تو دُور ہے اس کو تو یہ بھی خبر نہ تھی کہ جس درخت انجیر کی طرف چلا اُس پر کوئی پھل نہیں۔
اب ہم اصل امر کی طرف رجوع کر کے مختصر طور پر بیان کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ایک وحی اگر کسی گذشتہ قصہ یا کتاب کے مطابق آجائے یا پوری مطابق نہ ہو یا فرض کرو کہ وہ قصہ یا وہ کتاب لوگوں کی نظر میں ایک فرضی کتاب یا فرضی قصہ ہے تو اس سے خدا تعالیٰ کی وحی پر کوئی حملہ نہیں ہو سکتا۔ جن کتابوں کا نام عیسائی لوگ تاریخی کتابیں رکھتے یا آسمانی وحی کہتے ہیں یہ تمام بے بنیاد باتیں ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں۔ اور کوئی کتاب ان کی شکوک و شبہات کے گند سے خالی نہیں اور جن کتابوں کو وہ جعلی اور فرضی کہتے ہیں ممکن ہے کہ وہ جعلی نہ ہوں اور جن کتابوں کو وہ صحیح مانتے ہیں ممکن ہے کہ وہ جعلی ہوں۔ خدا تعالیٰ کی کتاب ان کی مطابقت یا مخالفت کی محتاج نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ کی سچی کتاب کا یہ معیار نہیں ہے کہ ایسی کتابوں کی مطابقت یا مخالفت دیکھی جائے۔ عیسائیوں کا کسی کتاب کو جعلی کہنا ایسا امر نہیں ہے کہ جو جوڈیشل تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے اور نہ ان کا کسی کتاب کو صحیح کہنا کسی باضابطہ ثبوت پر مبنی ہے۔ نری اٹکلیں اور خیالات ہیں۔ لہٰذا ان کے یہ بیہودہ خیالات خدا کی کتاب کے معیار نہیں ہو سکتے بلکہ معیار یہ ہے کہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کتاب خدا کے قانونِ قدرت ٭ اور قوی معجزات سے اپنا منجانب اللہ ہونا ثابت کرتی ہے یا نہیں۔ ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تین ہزار سے زیادہ معجزات ہوئے ہیں اور پیشگوئیوں کا تو شمار نہیں مگر ہمیں ضرورت نہیں کہ ان گذشتہ معجزات کو پیش کریں بلکہ ایک عظیم الشان معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ہے کہ تمام نبیوں کی وحی منقطع ہوگئی اور معجزات نابود ہوگئے اور ان کی اُمت خالی اور تہی دست ہے۔ صرف قصے ان لوگوں کے ہاتھ میں رہ گئے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی منقطع نہیں ہوئی اور نہ معجزات منقطع ہوئے بلکہ ہمیشہ بذریعہ کا ملینِ اُمت جو شرفِ اتباع سے مشرف ہیں ظہور میں آتے ہیں۔ اِسی وجہ سے مذہب اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور اس کا خدا زندہ خدا ہے۔ چنانچہ اس زمانہ میں بھی اس شہادت کے پیش کرنے کے لئے یہی بندۂ حضرت عزت موجود ہے۔ اور اب تک میرے ہاتھ پر ہزارہا نشان تصدیق رسول اللہؐ اور کتاب اللہ کے بارہ میں ظاہر ہو چکے ہیں اور خدا تعالیٰ کے پاک مکالمہ سے قریباً ہر روز میں مشرف ہوتا ہوں۔ اب ہوشیار ہو جاؤ اور سوچ کر دیکھ لو کہ جس حالت میں دنیا میں ہزارہا مذہب خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں تو کیوں کر ثابت ہو کہ وہ درحقیقت منجانب اللہ ہیں۔ آخر سچے مذہب کے لئے کوئی تومابہ الامتیاز چاہیے اور صرف معقولیت کا دعویٰ کسی مذہب کے منجانب اللہ ہونے پر دلیل نہیں ہو سکتی کیونکہ معقول باتیں انسان بھی بیان کر سکتا ہے اور جو خدا محض انسانی دلائل سے پیدا ہوتا ہے وہ خدا نہیں ہے بلکہ خدا وہ ہے جو اپنے تئیں قوی نشانوں کے ساتھ آپ ظاہر کرتا ہے۔ وہ مذہب جو محض خدا کی طرف سے ہے اس کے ثبوت کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ منجانب اللہ ہونے کے نشان اور خدائی مُہر اپنے ساتھ رکھتا ہو تا معلوم ہو کہ وہ خاص خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے ہے۔ سو یہ مذہب اسلام ہے۔ وہ خدا جو پوشیدہ اور نہاں درنہاں ہے اسی مذہب کے ذریعہ سے اس کا پتہ لگتا ہے اور اسی مذہب کے حقیقی پیروؤں پر وہ ظاہر ہوتا ہے جو درحقیقت سچا مذہب ہے۔ سچے مذہب پر خدا کا ہاتھ ہوتا ہے اور خدا اس کے ذریعہ سے ظاہر کرتا ہے کہ میں موجود ہوں۔ جن مذاہب کی محض قصوں پر بناہے وہ بت پرستی سے کم نہیں ان مذاہب میں کوئی سچائی کی روح نہیں ہے۔ اگر خدا اب بھی زندہ ہے جیسا کہ پہلے تھا اور اگر وہ اب بھی بولتا اور سنتا ہے جیسا کہ پہلے تھا تو کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ وہ اس زمانہ میں ایسا چپ ہو جائے کہ گویا موجود نہیں۔ اگر وہ اس زمانہ میں بولتا نہیں تو یقیناً وہ اب سنتا بھی نہیں گویا اب کچھ بھی نہیں۔ سو سچا وہی مذہب ہے کہ جو اس زمانہ میں بھی خدا کا سننا اور بولنا دونوں ثابت کرتا ہے۔ غرض سچے مذہب میں خدا تعالیٰ اپنے مکالمہ مخاطبہ سے اپنے وجود کی آپ خبر دیتا ہے۔ خدا شناسی ایک نہایت مشکل کام ہے دنیا کے حکیموں اور فلاسفروں کا کام نہیں ہے جو خدا کا پتہ لگاویں کیونکہ زمین و آسمان کو دیکھ کر صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ اِس ترکیب محکم اور ابلغ کا کوئی صانع ہونا چاہیے مگر یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ فی الحقیقت وہ صانع موجود بھی ہے اور ہونا چاہیے اور ہے میں جو فرق ہے وہ ظاہر ہے۔ پس اس وجود کا واقعی طور پر پتہ دینے والا صرف قرآن شریف ہے جو صرف خدا شناسی کی تاکید نہیں کرتا بلکہ آپ دکھلا دیتا ہے۔ اور کوئی کتاب آسمان کے نیچے ایسی نہیں ہے کہ اس پوشیدہ وجودکا پتہ دے۔
مذہب سے غرض کیا ہے ! !بس یہی کہ خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفاتِ کاملہ پر یقینی طور پر ایمان حاصل ہو کر نفسانی جذبات سے انسان نجات پاجاوے اور خدا تعالیٰ سے ذاتی محبت پیدا ہو کیونکہ درحقیقت وہی بہشت ہے جو عالم آخرت میں طرح طرح کے پیرایوں میں ظاہر ہوگا اور حقیقی خدا سے بے خبر رہنا اور اس سے دور رہنا اور سچی محبت اُس سے نہ رکھنا درحقیقت یہی جہنم ہے جو عالم آخرت میں انواع و اقسام کے رنگوں میں ظاہر ہوگا اور اصل مقصود اس راہ میں یہ ہے کہ اس خدا کی ہستی پر پورا یقین حاصل ہو اور پھر پوری محبت ہو۔ اب دیکھنا چاہیے کہ کون سا مذہب اور کون سی کتاب ہے جس کے ذریعہ سے یہ غرض حاصل ہو سکتی ہے۔ انجیل تو صاف جواب دیتی ہے کہ مکالمہ اور مخاطبہ کا دروازہ بند ہے اور یقین کرنے کی راہیں مسدود ہیں۔ اور جو کچھ ہوا وہ پہلے ہو چکا اور آگے کچھ نہیں مگر تعجب کہ وہ خدا جو اب تک اس زمانہ میں بھی سنتا ہے وہ اس زمانہ میں بولنے سے کیوں عاجزہوگیا ہے؟ کیا ہم اس اعتقاد پر تسلی پکڑ سکتے ہیں کہ پہلے کسی زمانہ میں وہ بولتا بھی تھا اور سنتا بھی تھامگر اب وہ صرف سنتا ہے مگر بولتا نہیں۔ ایسا خدا کس کام کا جو ایک انسان کی طرح جو بڈھا ہو کر بعض قویٰ اس کے بے کار ہو جاتے ہیں۔ امتداد زمانہ کی وجہ سے بعض قویٰ اس کے بھی بے کارہوگئے اور نیز ایسا خدا کس کام کا کہ جب تک ٹکٹکی سے باندھ کر اس کو کوڑے نہ لگیں اور اُس کے منہ پر نہ تھوکا جائے اور چندروز اس کو حوالات میں نہ رکھا جائے اور آخر اس کو صلیب پر نہ کھینچا جائے تب تک وہ اپنے بندوں کے گناہ نہیں بخش سکتا۔ ہم تو ایسے خدا سے سخت بیزار ہیں جس پر ایک ذلیل قوم یہودیوں کی جو اپنی حکومت بھی کھو بیٹھی تھی غالب آگئی۔ ہم اس خدا کو سچا خدا جانتے ہیں جس نے ایک مکہ کے غریب، بے کس کواپنا نبی بنا کر اپنی قدرت اور غلبہ کا جلوہ اسی زمانہ میں تمام جہان کو دکھا دیا یہاں تک کہ جب شاہِ ایران نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کے لئے اپنے سپاہی بھیجے تو اس قادر خدا نے اپنے رسول کو فرمایا کہ سپاہیوں کو کہہ دے کہ آج رات میرے خدا نے تمہارے خداوند کو قتل کر دیا ہے۔ اب دیکھنا چاہیے کہ ایک طرف ایک شخص خدائی کا دعویٰ کرتا ہے اور اخیر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گورنمنٹ رومی کا ایک سپاہی اس کو گرفتار کر کے ایک دو گھنٹہ میں جیل خانہ میں ڈال دیتا ہے اور تمام رات کی دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں اور دوسری طرف وہ مرد ہے کہ صرف رسالت کا دعویٰ کرتا ہے اور خدا اس کے مقابلہ پر باشادہوں کو ہلاک کرتا ہے۔ یہ مقولہ طالب حق کے لئے نہایت نافع ہے کہ ’’ یار غالب شوکہ تا غالب شوی ‘‘۔ ہم ایسے مذہب کو کیا کریں جو مردہ مذہب ہے۔ ہم ایسی کتاب سے کیا فائدہ اُٹھا سکتے ہیں جو مردہ کتاب ہے اور ہمیں ایسا خدا کیا فیض پہنچا سکتا ہے جو مردہ خدا ہے۔ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اپنے خدائے پاک کے یقینی اور قطعی مکالمہ سے مشرف ہوں اور قریباً ہر روز مشرف ہوتا ہوں اور وہ خدا جس کو یسوع مسیح کہتا ہے کہ تونے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ میں دیکھتا ہوں کہ اُس نے مجھے نہیں چھوڑا اور مسیحؑ کی طرح میرے پر بھی بہت حملے ہوئے مگر ہر ایک حملہ میں دشمن ناکام رہے اور مجھے پھانسی دینے کے لئے منصوبہ کیا گیا مگر میں مسیح کی طرح صلیب پر نہیں چڑھا بلکہ ہر ایک بلا کے وقت میرے خدا نے مجھے بچایا اور میرے لئے اس نے بڑے بڑے معجزات دکھلائے اور بڑے بڑے قوی ہاتھ دکھلائے اور ہزارہا نشانوں سے اس نے مجھ پر ثابت کر دیا کہ خدا وہی خدا ہے جس نے قرآن کو نازل کیا اور جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا اور میں عیسیٰ مسیحؑ کو ہرگز ان امور میں اپنے پر کوئی زیادت نہیں دیکھتا یعنی جیسے اس پر خدا کا کلام نازل ہوا ایسا ہی مجھ پر بھی ہوا اور جیسے اس کی نسبت معجزات منسوب کئے جاتے ہیں میں یقینی طور پر ان معجزات کا مصداق اپنے نفس کو دیکھتا ہوں بلکہ ان سے زیادہ۔ اور یہ تمام شرف مجھے صرف ایک نبی کی پیروی سے ملا ہے جس کے مدارج اور مراتب سے دنیا بے خبر ہے یعنی سیدنا حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔ یہ عجیب ظلم ہے کہ جاہل اور نادان لوگ کہتے ہیں کہ عیسٰیؑ آسمان پر زندہ ہے حالانکہ زندہ ہونے کے علامات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں پاتا ہوں۔ وہ خدا جس کو دنیا نہیں جانتی ہم نے اس خدا کو اس کے نبی کے ذریعہ سے دیکھ لیا اور وہ وحی الٰہی کا دروازہ جو دوسری قوموں پر بند ہے ہمارے پر محض اسی نبیؐ کی برکت سے کھولا گیا۔ اور وہ معجزات جو غیر قومیں صرف قصوں اور کہانیوں کے طور پر بیان کرتے ہیں ہم نے اس نبی کے ذریعہ سے وہ معجزات بھی دیکھ لئے۔ اور ہم نے اس نبیؐ کا وہ مرتبہ پایا جس کے آگے کوئی مرتبہ نہیں مگر تعجب کہ دنیا اس سے بے خبر ہے۔ مجھے کہتے ہیں کہ مسیح موعودؑ ہونے کا کیوں دعویٰ کیا مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس نبی کی کامل پیروی سے ایک شخص عیسٰیؑ سے بڑھ کر بھی ہو سکتا ہے۔ اندھے کہتے ہیں یہ کفر ہے۔ میں کہتا ہوں کہ تم خود ایمان سے بے نصیب ہو پھر کیا جانتے ہو کہ کفر کیا چیز ہے۔ کفر خود تمہارے اندر ہے۔ اگر تم جانتے کہ اس آیت کے کیا معنے ہیں کہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ (الفاتحة: ۶،۷) تو ایسا کفر منہ پر نہ لاتے۔ خدا تو تمہیں یہ ترغیب دیتا ہے کہ تم اس رسولؐ کی کامل پیروی کی برکت سے تمام رسولوں کے متفرق کمالات اپنے اندر جمع کر سکتے ہو۔ اور تم صرف ایک نبی کے کمالات حاصل کرنا کفر جانتے ہو۔
غرض آپ پر لازم ہے کہ اس راہ کی طرف توجہ کرو کہ کیوں کر ایک سچا مذہب جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے شناخت ہو سکتا ہے۔ پس یاد رہے کہ وہی سچا مذہب ہے جس کے ذریعہ سے خدا کا پتہ لگتا ہے۔ دوسرے مذاہب میں صرف انسانی کوششیں پیش کی جاتی ہیں گویا انسان کا خدا پر احسان ہے جو اس نے اس کا پتہ دیا مگر اسلام میں خود خدا تعالیٰ ہر ایک زمانہ میں اپنی اَنَا الْمَوْجُوْدُ کی آواز سے اپنی ہستی کا پتہ دیتا ہے جیسا کہ اس زمانہ میں بھی وہ مجھ پر ظاہر ہوا۔پس اس رسولؐ پر ہزاروں سلام اور برکات جس کے ذریعہ سے ہم نے خدا کو شناخت کیا۔
بالآخر میں دوبارہ افسوس سے لکھتا ہوں کہ آپ کا یہ قول کہ حضرت مریم کا اُخت ہارون ہونا آپ پر بد اثر ڈالتا ہے میری نگاہ میں آپ کی بہت ناواقفیت ظاہر کرتا ہے۔ اس بے ہودہ اعتراض پر پہلے علماء نے بھی بہت کچھ لکھا ہے۔ اگر استعارہ کے رنگ میں یا اور بنا پر خداتعالیٰ نے مریم کو ہارون کی ہمشیرہ ٹھہرایا تو آپ کو اس سے کیوں تعجب ہواجبکہ قرآن شریف بجائے خود بار بار بیان کر چکا ہے کہ ہارون نبی حضرت موسٰیؑ کے وقت میں تھا اور یہ مریم حضرت عیسٰیؑ کی والدہ تھی جو چودہ سو (۱۴۰۰) برس بعد ہارون کے پیدا ہوئی تو کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان واقعات سے بے خبر ہے اور نعوذ باللہ اُس نے مریم کو ہارون کی ہمشیرہ ٹھہرانے میں غلطی کی ہے۔ کس درجہ کے خبیث طبع یہ لوگ ہیں کہ بے ہودہ اعتراض کر کے خوش ہوتے ہیں اور ممکن ہے کہ مریم کا کوئی بھائی ہو جس کا نام ہارون ہو۔ عدم علم سے عدم شے تو لازم نہیں آتا مگر یہ لوگ اپنے گریبان میں منہ نہیں ڈالتے اور نہیں دیکھتے کہ انجیل کس قدر اعتراضات کا نشانہ ہے۔ دیکھو یہ کس قدر اعتراض ہے کہ مریم کو ہیکل کی نذر کر دیا گیاتھا تا وہ ہمیشہ بیت المقدس کی خادمہ ہو اور تمام عمر خاوندنہ کرے لیکن جب چھ سات مہینہ کا حمل نمایاں ہوگیا تب حمل کی حالت میں ہی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نام ایک نجّار سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ کے بعد مریم کو بیٹا پیدا ہوا۔ وہی عیسیٰ یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا۔ اب اعتراض یہ ہے کہ اگردرحقیقت معجزہ کے طور پر یہ حمل تھا تو کیوں وضع حمل تک صبر نہیں کیا گیا؟ دوسرا (۲) اعتراض یہ ہے کہ عہد تو یہ تھا کہ مریم مدت العمر ہیکل کی خدمت میں رہے گی پھر کیوں عہد شکنی کر کے اور اس کو خدمت بیت المقدس سے الگ کر کے یوسف نجّار کی بیوی بنایا گیا؟ تیسرا (۳) اعتراض یہ ہے کہ توریت کے رو سے بالکل حرام اور ناجائز تھا کہ حمل کی حالت میں کسی عورت کا نکاح کیا جائے۔ پھر کیوں خلاف حکم توریت مریم کا نکاح عین حمل کی حالت میں یوسف سے کیا گیا حالانکہ یوسف اس نکاح سے ناراض تھا اور اس کی پہلی بیوی موجود تھی۔ وہ لوگ جو تعدد ازواج سے منکر ہیں شاید اُن کو یوسف کے اس نکاح کی اطلاع نہیں۔ غرض اس جگہ ایک معترض کا حق ہے کہ وہ یہ گمان کرے کہ اس نکاح کی یہی وجہ تھی کہ قوم کے بزرگوں کو مریم کی نسبت ناجائز حمل کا شبہ پیدا ہوگیا تھا۔ اگرچہ ہم قرآن شریف کی تعلیم کے رو سے یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ حمل محض خدا کی قدرت سے تھا تا خدا تعالیٰ یہودیوں کو قیامت کا نشان دے اور جس حالت میں برسات کے دنوں میں ہزارہا کیڑے مکوڑے خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں اور حضرت آدمؑ بھی بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تو پھر حضرت عیسٰیؑ کی اِس پیدائش سے کوئی بزرگی ان کی ثابت نہیں ہوتی بلکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا بعض قویٰ سے محروم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ القصہ حضرت مریم کا نکاح محض شبہ کی وجہ سے ہوا تھا ورنہ جوعورت بیت المقدس کی خدمت کرنے کے لئے نذر ہو چکی تھی اس کے نکاح کی کیا ضرورت تھی۔ افسوس! اس نکاح سے بڑے فتنے پیدا ہوئے اور یہودنابکار نے ناجائز تعلق کے شبہات شائع کئے۔ پس اگر کوئی اعتراض قابل حل ہے تو یہ اعتراض ہے نہ کہ مریم کا ہارون بھائی قرار دینا کچھ اعتراض ہے۔ قرآن شریف میں تو یہ بھی لفظ نہیں کہ ہارون نبی کی مریم ہمشیرہ تھی۔ صرف ہارون کا نام ہے نبی کا لفظ وہاں موجودنہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہودیوں میں یہ رسم تھی کہ نبیوں کے نام تبرکاً رکھے جاتے تھے۔ سو قرین قیاس ہے کہ مریم کا کوئی بھائی ہوگا جس کا نام ہارون ہوگا اور اس بیان کو محل اعتراض سمجھنا سراسر حماقت ہے۔
اور قصہ اصحاب کہف وغیرہ اگر یہودیوں اور عیسائیوں کی پہلی کتابوں میں بھی ہو اور اگر فرض کرلیں کہ وہ لوگ ان قصوں کو ایک فرضی قصے سمجھتے ہوں تو اس میں کیا حرج ہے۔ آپ کو یاد رہے کہ ان لوگوں کی مذہبی اور تاریخی کتابیں اور خود ان کی آسمانی کتابیں تاریکی میں پڑی ہوئی ہیں۔ آپ کو اس بات کا علم نہیں کہ یورپ میں ان کتابوں کے بارے میں آج کل کس قدر ماتم ہورہا ہے۔ اور سلیم طبیعتیں خود بخود اسلام کی طرف آتی جاتی ہیں۔ اور بڑی بڑی کتابیں اسلام کی حمایت میں تالیف ہورہی ہیں۔ چنانچہ کئی انگریز امریکہ وغیرہ ممالک کے ہمارے سلسلہ میں داخل ہوگئے ہیں۔ آخر جھوٹ کب تک چھپا رہے۔ پھر سوچنے کا مقام ہے کہ وحی الٰہی کو ایسی کتابوں کے اقتباس کی کیا ضرورت پیش آئی تھی۔ خوب یاد رکھو کہ یہ لوگ اندھے ہیں اور ان کی تمام کتابیں اندھی ہیں تعجب کہ جس حالت میں قرآن شریف ایسے جزیرہ میں نازل ہوا جس کے لوگ عموماً عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں سے بے خبر تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود اُمی تھے تو پھر یہ تہمتیں آنجنابؐ پر لگانا ان لوگوں کا کام ہے جو خدا سے بالکل بے خوف ہیں۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اعتراض ہو سکتے ہیں تو پھر حضرت عیسٰیؑ پر کس قدر اعتراض ہوں گے جنہوں نے ایک اسرائیلی فاضل سے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا اور یہودیوں کی تمام کتابوں طالمود وغیرہ کا مطالعہ کیا تھا اور جن کی انجیل درحقیقت بائبل اور طالمود کی عبارتوں سے ایسی پُرہے کہ ہم لوگ محض قرآن شریف کے ارشاد کی وجہ سے ان پر ایمان لاتے ہیں ورنہ اناجیل کی نسبت بڑے شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ اور افسوس کہ انجیلوں میں ایک بات بھی ایسی نہیں کہ جو بلفظہٖ پہلی کتابوں میں موجودنہیں۔ اور پھر اگر قرآن نے بائبل کی متفرق سچائیوں اور صداقتوں کو ایک جگہ جمع کر دیا تو اس میں کون سا استبعاد عقلی ہوا۔ اور کیا غضب آگیا۔ کیا آپ کے نزدیک یہ محال ہے کہ یہ تمام قصے قرآن شریف کے بذریعہ وحی کے لئے گئے ہیں جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صاحب وحی ہونا دلائل قاطعہ سے ثابت ہے۔ اور آپ کی نبوت حقہ کے انوار و برکات اب تک ظہور میں آرہے ہیں تو کیوں شیطانی وساوس دل میں داخل کئے جاویں کہ نعوذ باللہ قرآن شریف کا کوئی قصہ کسی پہلی کتاب یا کتبہ سے نقل کیا گیا ہے۔ کیا آپ کو خدا تعالیٰ کے وجود میں کچھ شک ہے یا آپ اس کو علم غیب پر قادر نہیں جانتے۔ اور میں بیان کر چکا ہوں کہ عیسائیوں اور یہودیوں کا کسی کتاب کواصلی قرار دینا اور کسی کو فرضی سمجھنا یہ سب بے بنیاد خیالات ہیں۔ نہ کسی نے اصلی کی اصلیت کا ملاحظہ کیا اور نہ کسی نے کسی جعل ساز کو پکڑا۔ اس کی نسبت خود یورپ کے محققین کی شہادتیں ہمارے پاس موجود ہیں۔ ایک اندھی قوم ہے جن میں ایمانی روشنی باقی نہیں رہی اور عیسائیوں پر تو نہایت ہی افسوس ہے جنہوں نے طبعی اور فلسفہ پڑھ کر ڈبو دیا۔ ایک طرف تو آسمانوں کے منکر ہیں اور ایک طرف حضرت عیسٰیؑ کو آسمان پر بٹھاتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر یہود کی پہلی کتابیں سچی ہیں تو ان کی بنا پر حضرت عیسٰیؑ کی نبوت ہی ثابت نہیں ہوتی۔ مثلاً سچے مسیح موعود کے لئے جس کا حضرت عیسٰیؑ کو دعویٰ ہے ملاکی نبی کی کتاب کے رو سے یہ ضروری تھا کہ اس سے پہلے الیاسؑ نبی دوبارہ دنیا میں آتا مگر الیاسؑ تو اب تک نہ آیا۔ درحقیقت یہودیوں کی طرف سے یہ بڑی حجت ہے جس کا جواب حضرت عیسٰیؑ صفائی سے نہیں دے سکے۔ یہ قرآن شریف کا حضرت عیسٰیؑ پر احسان ہے جو اُن کی نبوت کا اعلان فرمایا۔ اور کفارہ کا مسئلہ تو حضرت عیسٰیؑ نے آپ ردّ کر دیا ہے جبکہ کہا کہ میری یونسؑ نبی کی مثال ہے جو تین دن زندہ مچھلی کے پیٹ میں رہا۔ اب اگر حضرت عیسٰیؑ درحقیقت صلیب پر مر گئے تھے تو اُن کو یونسؑ سے کیا مشابہت اور یونسؑ کو ان سے کیا نسبت؟ اس تمثیل سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسٰیؑ صلیب پر مرے نہیں صرف یونسؑ کی طرح بے ہوش ہوگئے تھے اور نسخہ مرہم عیسیٰ جو قریباً تمام طبّی کتابوں میں پایا جاتا ہے اس کے عنوان میں لکھا ہے کہ یہ نسخہ حضرت عیسٰیؑ کے لئے طیار کیا گیا تھا یعنی اُن کی چوٹوں کے لئے جو صلیب پر آئی تھیں۔ اگر درخانہ کس است ہمیں قدر بس است۔
میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس رسالہ کے اخیر میں نجات حقیقی کا کچھ ذکر کیا جائے کیونکہ تمام اہل مذاہب کا کسی مذہب کی پیروی سے یہی مدعا اور مقصد ہے کہ نجات حاصل ہو مگر افسوس کہ اکثر لوگ نجات کے حقیقی معنوں سے بے خبر اور غافل ہیں۔ عیسائیوں کے نزدیک نجات کے یہ معنی ہیں کہ گناہ کے مؤاخذہ سے رہائی ہو جائے لیکن دراصل نجات کے یہ معنے نہیں ہیں اور ممکن ہے کہ ایک شخص نہ زنا کرے، نہ چوری کرے، نہ جھوٹی گواہی، نہ خون کرے اور نہ کسی اور گناہ کا جہاں تک اس کو علم ہے ارتکاب کرے اور باایں ہمہ نجات کی کیفیت سے بے نصیب اور محروم ہو کیونکہ دراصل نجات اس دائمی خوشحالی کے حصول کا نام ہے جس کی بھوک اور پیاس انسانی فطرت کو لگادی گئی ہے جو محض خدا تعالیٰ کی ذاتی محبت اور اس کی پوری معرفت اور اس کے پورے تعلق کے بعد حاصل ہوتی ہے جس میں شرط ہے کہ دونوں طرف سے محبت جوش مارے لیکن بسا اوقات انسان اپنی غلط کاریوں سے ایسی چیزوں میں اپنی اس خوشحالی کو طلب کرتا ہے کہ جن سے آخرکار تکلیف اور ناخوشی اور بھی بڑھتی ہے۔ چنانچہ اکثر لوگ دنیا کی نفسانی عیاشیوں میں اس خوش حالی کو طلب کرتے ہیں اور دن رات میخواری اور شہوات نفسانیہ کا شغل رکھ کر انجام کار طرح طرح کی مہلک امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور آخرکار سکتہ۔ فالج۔ رعشہ اور کزاز اور یا انتڑیوں یا جگر کے پھوڑوں میں مبتلا ہو کر اور یا آتشک اور سوزاک کی قابل شرم مرض سے اس جہان سے رخصت ہوتے ہیں اور بباعث اس کے کہ اُن کی قوتیں قبل از وقت تحلیل ہو جاتی ہیں اس لئے وہ طبعی عمر سے بھی بے نصیب رہتے ہیں۔ اور انجام کار ان کو اس بات کا پتہ لگ جاتا ہے کہ جن چیزوں کو انہوں نے اپنی خوشحالی کا ذریعہ سمجھا تھا دراصل وہی چیزیں ان کی ہلاکت کاموجب تھیں اور بعض لوگ دنیوی عزت اور ناموری کے بڑھانے اور مراتب مناصب کے طلب کرنے میں اپنی خوشحالی دیکھتے ہیں۔ اور اپنی زندگی کے اصل مطلب سے ناآشنا رہتے ہیں لیکن آخرکار وہ بھی حسرت سے مرتے ہیں اور بعض اسی خواہش سے دنیا کا مال اکٹھا کرتے رہتے ہیں کہ شاید اسی میں خوشحالی پیدا ہو مگر انجام یہ ہوتا ہے کہ اس اپنے تمام اندوختہ کو چھوڑ کر بڑے درد اور دکھ کے ساتھ اور بڑی تلخیوں کے ساتھ موت کا پیالہ پیتے ہیں۔ سو طالب حق کے لئے جو قابل غور سوال ہے وہ یہی سوال ہے کہ سچی خوشحالی کیونکر حاصل ہوجو دائمی مسرّت اور خوشی کا موجب ہواور درحقیقت سچے مذہب کی یہی نشانی ہے کہ وہ اُس خوشحالی تک پہنچاوے۔ سو ہم قرآن شریف کی ہدایت سے اس دقیق دردقیق نکتہ تک پہنچتے ہیں کہ وہ ابدی خوشحالی خدا تعالیٰ کی صحیح معرفت اور پھر اس یگانہ کی پاک اور کامل اور ذاتی محبت اور کامل ایمان میں ہے جو دل میں عاشقانہ بے قراری پیدا کرے۔ یہ چند لفظ کہنے کو تو بہت تھوڑے ہیں لیکن اُن کی کیفیت کو بیان کرنے کے لئے ایک دفتر بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔
یاد رہے کہ صحیح معرفت حضرت عزت جلّ شانہٗ کی کئی نشانیاں ہیں اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اُس کی قدرت اور توحید اور علم اور ہر ایک خوبی اور صفت پر کوئی داغ نقص کا نہ لگایا جائے کیونکہ جس ذات کا ذرہ ذرہ پر حکم ہے اور جس کے تصرف میں تمام فوجیں روحوں کی اور تمام ہیکل زمین و آسمان کی ہے وہ اگر اپنی قدرتوں اور حکمتوں اور قوتوں میں ناقص ہو تو اس عالم جسمانی اور روحانی کا کام چل ہی نہیں سکتا۔ اگر نعوذ باللہ یہ اعتقاد رکھا جائے کہ ذرات اور ان کی تمام طاقتیں اور ارواح اور ان کی تمام قوتیں خود بخود ہیں تو ماننا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا علم اور توحید اور قدرت تینوں ناقص ہیں۔ وجہ یہ کہ اگر تمام ارواح اور ذرات خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے پیدا شدہ نہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں اس بات کا یقین ہو کہ خدا تعالیٰ کو ان کے اندرونی حالات کا علم ہے اور جبکہ اس کے علم پر کوئی دلیل قائم نہیں بلکہ اس کے برخلاف دلیل قائم ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ ہماری طرح خدا تعالیٰ بھی اِن چیزوں کی اصل کنہ سے بے خبر ہے اور اس کا علم ان کے پوشیدہ در پوشیدہ اسرار پر محیط نہیں ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ جیسے مثلاً ایک دوا اپنے ہاتھ سے طیار کی جاتی ہے یا اپنی نظر کے سامنے ایک شربت یا گولیاں یا چند دواؤں کا عرق طیار کیا جاتا ہے تو بوجہ اس کے کہ ہم خود اس نسخہ کے بنانے والے ہیں ہمیں ان تمام دواؤں کا پورا علم ہوتا ہے اور ہم بخوبی جانتے ہیں کہ یہ فلاں فلاں دوا ہے اور فلاں فلاں وزن کے ساتھ اِس مقصد کے لئے بنائی گئی ہے لیکن اگر کوئی عرق یا گولیاں یا شربت ایسا مجہول الکنہ ہو جس کو ہم نے بنایا نہیں اور نہ ہم ان اجزا کو جدا جدا کر سکتے ہیں تو ہم ضرور ان دواؤں سے بے خبر ہوں گے اور یہ بات تو بدیہی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کو ذرات اور ارواح کا بنانے والا مان لیا جائے تو ساتھ ہی ماننا پڑے گا کہ بالضرور خدا تعالیٰ کو ان تمام ذرات اور ارواح کی پوشیدہ قوتوں اور طاقتوں کا علم بھی ہے اور اس پر دلیل یہ ہے کہ وہ خود ان قوتوں اور طاقتوں کا بنانے والا ہے اور بنانے والا اپنی بنائی ہوئی چیز سے بے خبر نہیں ہوتا لیکن اگر یہ صورت ہو کہ وہ ان قوتوں اور طاقتوں کا بنانے والا نہیں ہے تو کوئی بُرہان اس پر قائم نہیں ہو سکتی کہ اس کو ان تمام قوتوں اور طاقتوں کا علم بھی ہے۔ اگر تم بغیر دلیل کے کہہ دو کہ اس کو علم ہے تویہ ایک تحکم ہے اور محض ایک دعویٰ ہے لیکن جیسا کہ یہ دلیل ہمارے ہاتھ میں ہے کہ بنانے والا ضرور اپنی بنائی ہوئی چیز کا علم رکھتا ہے اس کے مقابل پر کونسی دلیل آپ کے ہاتھ میں ہے کہ جو چیزیں اپنے ہاتھ سے خداتعالیٰ نے بنائی نہیں۔ اُس کو ان کی تمام پوشیدہ قوتوں اور طاقتوں کا علم ہے کیونکہ وہ چیزیں خدا تعالیٰ کے وجود کا عین تو نہیں تا جیسا کہ اپنے وجود پر اطلاع ہوتی ہے ان پر بھی اطلاع ہو بلکہ وہ تمام چیزیں آریہ سماج کے اعتقاد کے رو سے اپنے اپنے وجود کی آپ ہی خدا ہیں اور آپ ہی انادی اور قدیم ہیں اور بوجہ غیر مخلوق اور قدیم ہونے کے پرمیشر سے ایسی بے تعلق ہیں کہ اگر اس پرمیشر کا مرنا بھی فرض کرلیں تو اِن چیزوں کا کچھ بھی حرج نہیں کیونکہ جس حالت میں پرمیشر ان قوتوں اور طاقتوں کا پیدا کرنے والا نہیں تو وہ چیزیں اپنی بقاء میں بھی پرمیشر کی محتاج نہیں جیسا کہ اپنے پیدا ہونے میں محتاج نہیں اور خدا تعالیٰ کے دو (۲) نام ہیں۔ ایک (۱) حي دوسرا (۲) قیوم ۔ حي کے یہ معنے ہیں کہ خود بخود زندہ اور دوسری چیزوں کو زندگی بخشنے والا۔ اور قیوم کے یہ معنے ہیں کہ اپنی ذات میں آپ قائم اور اپنی پیدا کردہ چیزوں کو اپنے سہارے سے باقی رکھنے والا۔ پس خدا تعالیٰ کے نام قیوم سے وہ چیز فائدہ اُٹھا سکتی ہے جو پہلے اس سے اس کے نام حي سے فائدہ اُٹھا چکی ہو کیونکہ خدا تعالیٰ اپنی پیدا کردہ چیزوں کو سہارا دیتا ہے۔ نہ ایسی چیزوں کو جن کے وجود اور ہستی کو اس کا ہاتھ ہی نہیں چھوا۔ پس جو شخص خدا تعالیٰ کو حي یعنی پیدا کرنے والا مانتا ہے اُسی کا حق ہے کہ اس کو قیوم بھی مانے یعنی اپنی پیدا کردہ کو اپنی ذات سے سہارا دینے والا لیکن جو شخص خدا تعالیٰ کو حي یعنی پیدا کرنے والا نہیں جانتا اس کا حق نہیں ہے کہ اس کی نسبت یہ اعتقاد رکھے کہ وہ ان چیزوں کو ان کے رہنے میں سہارا دینے والا ہے کیونکہ سہارا دینے کے یہ معنے ہیں کہ اگر اس کا سہارا نہ ہو وہ چیزیں معدوم ہو جائیں اور ظاہر ہے کہ جن چیزوں کا اس کی طرف سے وجودنہیں وہ چیزیں اپنے بقائے وجود میں اس کی محتاج بھی نہیں ہو سکتیں۔ اور اگر وہ بقائے وجود میں محتاج ہیں تو اس وجود کی پیدائش میں بھی محتاج ہیں۔ غرض خدا تعالیٰ کے یہ دونوں اسم حيّ و قیّوم اپنی تاثیر میں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں کبھی علیحدہ علیحدہ نہیں ہوسکتے۔ پس جن لوگوں کا یہ مذہب ہے کہ خدا روحوں اور ذرات کا پیدا کرنے والا نہیں وہ اگر عقل اور سمجھ سے کچھ کام لیں تو اُن کو اقرار کرنا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ اِن چیزوں کا قیوم بھی نہیں یعنی وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ خدا تعالیٰ کے سہارے سے ذرات یا ارواح پیداہوئے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے سہارے کی محتاج وہ چیزیں ہیں جو اس کی پیدا کردہ ہیں۔ غیر کو جو اپنے وجود میں اس کا محتاج نہیں اس کے سہارے کی کیوں حاجت پڑگئی؟ یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ اور ہم ابھی یہ بھی لکھ چکے ہیں کہ اگر ذرات اور ارواح کو قدیم سے انادی اور خود بخود مانا جائے تو اس بات پر کوئی دلیل قائم نہیں ہو سکتی کہ خدا تعالیٰ کو ان کے پوشیدہ خواص اور دقیق در دقیق طاقتوں اور قوتوں کا علم ہے۔ اور یہ کہنا کہ چونکہ وہ ان کا پرمیشر ہے اس لئے اس کو ان کے پوشیدہ خواص اور طاقتوں کا علم ہے یہ صرف ایک دعویٰ ہے جس پر کوئی دلیل قائم نہیں کی گئی اور کوئی برہان پیش نہیں کی گئی اور نہ کوئی رشتہ عبودیت اور الوہیت کا ثابت کیا گیا بلکہ وہ ان کا پرمیشر ہی نہیں۔ بھلا جس کا کوئی رشتہ خالق ہونے کا ذرات اور روحوں سے نہیں وہ ان کا پرمیشر کا ہے کا ہوا۔ اور کن معنوں سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ روحوں اور ذرات کا پرمیشر ہے اور یہ اضافت کس بنا پر ہو سکتی ہے کہ خدا روحوں اور ذرات کا پرمیشر ہے۔ یا تو اضافت مِلک کی ہوتی ہے جیسے کہا جائے کہ غلامِ زید یعنی زید کاغلام۔ سو مملوک ہونے کی کوئی وجوہ چاہئیں اور کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ کیوں آزاد چیزوں کو جو اپنے قویٰ قدیم سے آپ رکھتی ہیں پرمیشر کی بلا وجہ مِلک قرار دیا جائے اور یا اضافت کسی رشتہ کی وجہ سے ہوتی ہے جیسا کہ کہا جائے کہ پسر زید لیکن جب کہ ارواح اور ذرات کا پرمیشر کے ساتھ کوئی رشتہ عبودیت اور ربوبیت نہیں تو یہ اضافت بھی ناجائز ہے اور اس حالت میں یہ بات بالکل سچ ہے کہ ایسے بے تعلق روحوں کے لئے نہ تو پرمیشر کا وجود کچھ مفید ہے اور نہ اس کا عدم کچھ مضر ہے بلکہ ایسی حالت میں نجات جس کو آریہ سماج والے مکتی کہتے ہیں بالکل غیر ممکن اور ممتنع امر ہے کیونکہ نجات کا تمام مدار خدا تعالیٰ کی محبت ذاتیہ پر ہے اور محبت ذاتیہ اس محبت کا نام ہے جو روحوں کی فطرت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مخلوق ہے۔ پھر جس حالت میں ارواح پرمیشر کی مخلوق ہی نہیں ہیں تو پھر اُن کی فطرتی محبت پرمیشر سے کیونکرہو سکتی ہے اور کب اور کس وقت پرمیشر نے ان کی فطرت کے اندر ہاتھ ڈال کر یہ محبت اس میں رکھ دی۔ یہ تو غیر ممکن ہے وجہ یہ کہ فطرتی محبت اُس محبت کا نام ہے جو فطرت کے ساتھ ہمیشہ سے لگی ہوئی ہو اور پیچھے سے لاحق نہ ہو جیسا کہ اِسی کی طرف اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے جیسا کہ اس کا یہ قول ہے اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ قَالُوۡا بَلٰی (الاعراف: ۱۷۳) یعنی میں نے روحوں سے سوال کیا کہ کیا میں تمہارا پیدا کنندہ نہیں ہوں تو روحوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔ اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ انسانی روح کی فطرت میں یہ شہادت موجود ہے کہ اس کا خدا پیدا کنندہ ہے پس روح کو اپنے پیدا کنندہ سے طبعاًو فطرتاً محبت ہے اس لئے کہ وہ اسی کی پیدائش ہے اور اسی کی طرف اس دوسری آیت میں اشارہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فِطۡرَتَ اللّٰہِ الَّتِیۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیۡہَا (الروم: ۳۱) یعنی روح کا خدائے واحد لاشریک کا طلب گار ہونا اور بغیر خدا کے وصال کے کسی چیز سے سچی خوشحالی نہ پانا یہ انسانی فطرت میں داخل ہے یعنی خدا نے اِس خواہش کو انسانی روح میں پیدا کر رکھا ہے جو انسانی روح کسی چیز سے تسلی اور سکینت بجز وصال الٰہی کے نہیں پا سکتی۔ پس اگر انسانی روح میں یہ خواہش موجود ہے تو ضرور ماننا پڑتا ہے کہ روح خدا کی پیدا کردہ ہے جس نے اس میں یہ خواہش ڈال دی مگر یہ خواہش تو درحقیقت انسانی روح میں موجود ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ انسانی روح درحقیقت خدا کی پیدا کردہ ہے۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس قدر دو چیزوں میں کوئی ذاتی تعلق درمیان ہو اسی قدر ان میں اس تعلق کی وجہ سے محبت بھی پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ ماں کو اپنے بچہ سے محبت ہوتی ہے اور بچہ کو اپنی ماں سے کیونکہ وہ اس کے خون سے پیدا ہوا ہے اور اس کے رحم میں پرورش پائی ہے۔ پس اگر روحوں کو خدا تعالیٰ کے ساتھ کوئی تعلق پیدائش کا درمیان نہیں اور وہ قدیم سے خود بخود ہیں تو عقل قبول نہیں کر سکتی کہ اُن کی فطرت میں خدا تعالیٰ کی محبت ہو اور جب ان کی فطرت میں پرمیشر کی محبت نہیں تو وہ کسی طرح نجات پا ہی نہیں سکتیں۔
اصل حقیقت اور اصل سرچشمہ نجات کا محبت ذاتی ہے جو وصال الٰہی تک پہنچاتی ہے۔ وجہ یہ کہ کوئی محب اپنے محبوب سے جدا نہیں رہ سکتا۔ اور چونکہ خدا خودنور ہے اس لئے اس کی محبت سے نورِ نجات پیدا ہو جاتا ہے اور وہ محبت جو انسان کی فطرت میں ہے خدا تعالیٰ کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی محبت ذاتی انسان کی محبت ذاتی میں ایک خارق عادت جوش بخشتی ہے۔ اور ان دونوں محبتوں کے ملنے سے ایک فنا کی صورت پیدا ہو کر بقا باللہ کا نور پیدا ہو جاتا ہے۔ اور یہ بات کہ دونوں محبتوں کا باہم ملنا ضروری طور پر اس نتیجہ کو پیدا کرتا ہے کہ ایسے انسان کا انجام فنافی اللہ ہو اور خاکستر کی طرح یہ وجود ہو کر (جو حجاب ہے) سراسر عشقِ الٰہی میں روح غرق ہو جائے اس کی مثال وہ حالت ہے کہ جب انسان پر آسمان سے صاعقہ پڑتی ہے تو اس آگ کی کشش سے انسان کے بدن کی اندرونی آگ یک دفعہ باہر آجاتی ہے تو اس کا نتیجہ جسمانی فنا ہوتا ہے پس دراصل یہ روحانی موت بھی اسی طرح دو قسم کی آگ کو چاہتی ہے۔ ایک آسمانی آگ اور ایک اندرونی آگ اور دونوں کے ملنے سے وہ فنا پیدا ہو جاتی ہے جس کے بغیر سلوک تمام نہیں ہو سکتا۔ یہی فنا وہ چیز ہے جس پر سالکوں کا سلوک ختم ہو جاتا ہے اور جو انسانی مجاہدات کی آخری حد ہے۔ اِسی فنا کے بعد فضل اور موہبت کے طور پر مرتبہ بقا کا انسان کو حاصل ہوتا ہے اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ (الفاتحة: ۷) اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص کو یہ مرتبہ ملا انعام کے طور پر ملا یعنی محض فضل سے نہ کسی عمل کا اجر ٭ اور یہ عشقِ الٰہی کا آخری نتیجہ ہے جس سے ہمیشہ کی زندگی حاصل ہوتی ہے اور موت سے نجات ہوتی ہے۔ ہمیشہ کی زندگی بجز خدا تعالیٰ کے کسی کا حق نہیں۔ وہی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے۔ پس انسانوں میں سے اسی انسان کو یہ جاودانی زندگی ملتی ہے جو غیروں کی محبت سے اپنا تعلق توڑ کر اور اپنی محبت ذاتی کے ساتھ خدا تعالیٰ میں فنا ہو کر ظلی طور پر اس سے حیات جاودانی کا حصہ لیتا ہے اور ایسے شخص کو مردہ کہنا ناروا ہے کیونکہ وہ خدا میں ہو کر زندہ ہوگیا ہے۔ مردے وہ لوگ ہیں جو خدا سے دور رہ کر مر گئے۔ پس سخت کافر اور بے دین اور مشرک وہ لوگ ہیں جو بغیر پانے محبت ذاتی اور وصال الٰہی کے تمام ارواح کی نسبت انادی اور قدیم زندگی کے قائل ہیں بلکہ حق تو یہ ہے کہ کسی چیز کی بجز خدا کے کوئی ہستی نہیں۔ محض خدا ہے جس کا نام ہست ہے۔ پھر اس کے زیر سایہ ہو کر اور اس کی محبت میں محو ہو کر واصلوں کی روحیں حقیقی زندگی پاتی ہیں۔ اور اس کے وصال کے بغیر زندگی حاصل نہیں ہو سکتی۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں کافروں کا نام مردے رکھتا ہے اور دو زخیوں کی نسبت فرماتا ہے۔ اِنَّہٗ مَنۡ یَّاۡتِ رَبَّہٗ مُجۡرِمًا فَاِنَّ لَہٗ جَہَنَّمَ ؕ لَا یَمُوۡتُ فِیۡہَا وَلَا یَحۡیٰی (طٰہٰ: ۷۵) یعنی جو شخص مجرم ہونے کی حالت میں اپنے رب کو ملے گا۔ اُس کے لئے جہنم ہے نہ اس میں مرے گا اور نہ زندہ رہے گا یعنی اس لئے نہیں مرے گا کہ دراصل وہ تعبد ابدی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ لہٰذا اس کا وجود ضروری ہے اور اس کو زندہ بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ حقیقی زندگی وصال الٰہی سے حاصل ہوتی ہے اور حقیقی زندگی عین نجات ہے اور وہ بجز عشق الٰہی اور وصال حضرت عزت کے حاصل نہیں ہو سکتی اگر غیر قوموں کو حقیقی زندگی کی فلاسفی معلوم ہوتی تو وہ کبھی دعویٰ نہ کرتے کہ تمام ارواح خود بخود قدیم سے اپنا وجود رکھتی ہیں اور حقیقی زندگی سے بہرہ ور ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ علوم آسمانی ہیں اور آسمان سے ہی نازل ہوتے ہیں اور آسمانی لوگ ہی ان کی حقیقت کو جانتے ہیں اور دنیا اُن سے بے خبر ہے۔
اب ہم پھر اصل مضمون کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ چشمہ نجات ابدی کا وصالِ الٰہی ہے اور وہی نجات پاتا ہے کہ جو اس چشمہ سے زندگی کا پانی پیتا ہے۔ اور وہ وصال میسر نہیں آسکتا جب تک کہ کامل معرفت اور کامل محبت اور کامل صدق اور کامل ایمان نہ ہو اور کمال معرفت کی پہلی نشانی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے علم کامل پر کوئی داغ نہ لگایا جائے اور ابھی ہم ثابت کر چکے ہیں کہ جو لوگ روحوں اور ذرّات اجسام کو انادی اور قدیم جانتے ہیں وہ خداتعالیٰ کو کامل طور پر عالم الغیب نہیں سمجھتے۔ اسی وجہ سے فلاسفہ ضالہ یونان کے جو روحوں کو انادی اور قدیم سمجھتے تھے یہ عقیدہ رکھتے تھے جو خدا تعالیٰ کو جزئیات کا علم نہیں کیونکہ جس حالت میں ارواح اور ذرات عالم قدیم اور انادی اور خود بخود ہیں اور ان کے وجود خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں تو کوئی دلیل اس پر قائم نہیں ہو سکتی کہ ان کی دقیق در دقیق طاقتوں اور قوتوں اور پوشیدہ اسرار کا خدا کو علم ہو۔ یہ تو ظاہر ہے کہ وہ علم کامل جو اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئی چیزوں کے پوشیدہ حالات کی نسبت مع تمام کیفیات اور تفاصیل کے ہو سکتا ہے اس کے برابر ممکن نہیں کہ دوسری چیزوں کے پوشیدہ حالات بتمام و کمال معلوم ہو سکیں بلکہ دوسرے علوم میں خطا اور غلطی کا احتمال رہ سکتا ہے۔ پس اس جگہ روحوں اور ذرات کے انادی اور قدیم کہنے والوں کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ علم ارواح اور ذرات کاجو خدا کی شان کے مناسب حال ہو یعنی جیسا کہ خدا کامل ہے وہ علم بھی کامل ہو۔ اس عقیدہ کی رو سے (جو روحوں اور ذرات کو قدیم اور انادی جاننے کا عقیدہ ہے) اُن کے پرمیشر کو حاصل نہیں۔ اور اگر کوئی کہے کہ حاصل ہے تو یہ بار ثبوت اس کے ذمہ ہے کہ دلیل واضح سے اس کو ثابت کرے نہ محض دعویٰ سے۔ ظاہر ہے کہ جس حالت میں روحیں قدیم سے خود بخود اور اپنے وجود کی آپ خدا ہیں تو اس صورت میں گویا وہ تمام روحیں کسی علیحدہ محلہ میں مستقل قبضہ کے ساتھ رہتی ہیں اور پرمیشر علیحدہ رہتا ہے کوئی تعلق درمیان نہیں اور اس امر کی وجہ کچھ نہیں بتلا سکتے کہ تمام روحیں اور تمام ذرّات باوجود انادی اور قدیم اور خود بخود ہونے کے پرمیشر کے ماتحت کیونکر ہوگئیں۔ کیا کسی لڑائی اور جنگ کے بعد یہ صورت ظہور میں آئی یا خود بخود روحوں نے کچھ مصلحت سوچ کر اطاعت قبول کرلی۔ اور بموجب ان کے عقیدہ کے پرمیشر دیالو اور نیا کاری تو ضرور ہے مگر پھر بھی وہ نہ رحم کرتا ہے نہ انصاف کیونکہ وہ محض اپنی کمزوری پر پردہ ڈالنے کے لئے مکتی یافتہ روحوں کو ہمیشہ کے لئے نجات نہیں دیتا۔ وجہ یہ اگر ہمیشہ کے لئے روحوں کو نجات دے دے تو اس سے لازم آتا ہے کہ کسی وقت تمام روحیں نجات پاکر بار بار دنیا میں آنے سے فراغت پا جائیں اور پرمیشر کی یہ خواہش ہے کہ دنیا کا سلسلہ بھی جاری رہے تا اس کی حکومت کی رونق بنی رہے اس لئے وہ کسی روح کو ہمیشہ کی نجات دینا ہی نہیں چاہتا بلکہ گو کوئی روح اوتار یا رشی یا سدھ کے درجہ تک بھی پہنچ گئی ہو پھر بھی بار بار اس کو اواگون کے چکر میں ڈالتا ہے مگر کیا ہم خداوند قادر اور کریم کی طرف ایسے صفات رذیلہ منسوب کر سکتے ہیں؟ کہ ہمیشہ وہ اپنے بندوں کو دکھ دے کر خوش ہوتا ہے مگر کبھی ابدی آرام ان کو دینا نہیں چاہتا۔ خدائے قدوس اور پاک کی نسبت اس قدر بخل منسوب نہیں ہو سکتا۔ افسوس ایسے بخل کی تعلیم عیسائیوں کی کتابوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ وہ اِس بات کے قائل ہیں کہ جو شخص عیسٰیؑ کو خدا نہیں کہے گا وہ جاودانی جہنم میں پڑے گا مگر خداتعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم نہیں دی بلکہ وہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ کفار ایک مدت دراز تک عذاب میں رہ کر آخر وہ خدا تعالیٰ کے رحم سے حصہ لیں گے جیسا کہ حدیث میں بھی ہے یَأْتِیْ عَلٰی جھنّم زمانٌ لَیْسَ فِیْھَا احدٌ و نسیم الصبا تحرّک ابوابھا یعنی جہنم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں کوئی بھی نہیں ہوگا اور نسیم صبا اس کے کواڑہلائے گی۔ اسی کے مطابق قرآن شریف میں یہ آیت ہے اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّکَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیۡدُ (ھود: ۱۰۸) یعنی دوزخی دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے لیکن جب خدا چاہے گا تو ان کو دوزخ سے مخلصی دے گا کیونکہ تیرا رب جو چاہتا ہے کر سکتا ہے۔ یہ تعلیم خدا تعالیٰ کی صفات کاملہ کے مطابق ہے کیونکہ اس کی صفات جلالی بھی ہیں اور جمالی بھی اور وہی زخمی کرتا ہے اور وہی پھر مرہم لگاتا ہے ٭ اور یہ بات نہایت نا معقول اور خدائے عزّوجلّ کے صفاتِ کاملہ کے برخلاف ہے کہ دوزخ میں ڈالنے کے بعد ہمیشہ اس کی صفاتِ قہریہ ہی جلوہ گر ہوتی رہیں اور کبھی صفت رحم اور عفو کی جوش نہ مارے اور صفات کرم اور رحم کے ہمیشہ کے لئے معطل کی طرح رہیں بلکہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز میں فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مدت دراز تک جس کو انسانی کمزوری کے مناسب حال استعارہ کے رنگ میں ابد کے نام سے موسوم کیا گیا ہے دوزخی دوزخ میں رہیں گے۔ اور پھر صفت رحم اور کرم تجلّی فرمائے گی اور خدا اپنا ہاتھ دوزخ میں ڈالے گا اور جس قدر خدا کی مٹھی میں آجائیں گے سب دوزخ سے نکالے جائیں گے۔ پس اس حدیث میں بھی آخرکار سب کی نجات ٭ کی طرف اشارہ ہے کیونکہ خدا کی مٹھی خدا کی طرح غیر محدود ہے جس سے کوئی بھی باہر نہیں رہ سکتا۔
یاد رہے کہ جس طرح ستارے ہمیشہ نوبت بہ نوبت طلوع کرتے رہتے ہیں اسی طرح خدا کے صفات بھی طلوع کرتے رہتے ہیں۔ کبھی انسان خدا کے صفاتِ جلالیہ اور استغناء ذاتی کے پرتوہ کے نیچے ہوتا ہے اور کبھی صفات جمالیہ کا پرتوہ اس پر پڑتا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کُلَّ یَوۡمٍ ہُوَ فِیۡ شَاۡنٍ (الرحمٰن: ۳۰) ۔ پس یہ سخت نادانی کا خیال ہے کہ ایسا گمان کیا جائے کہ بعد اس کے کہ مجرم لوگ دوزخ میں ڈالے جائیں گے پھر صفاتِ کرم اور رحم ہمیشہ کے لئے معطل ہو جائیں گی اور کبھی ان کی تجلی نہیں ہوگی کیونکہ صفاتِ الٰہیہ کا تعطل ممتنع ہے بلکہ حقیقی صفت خدا تعالیٰ کی محبت اور رحم ہے اور وہی اُم الصفات ہے اور وہی کبھی انسانی اصلاح کے لئے صفات جلالیہ اور غضبیہ کے رنگ میں جوش مارتی ہے اور جب اصلاح ہو جاتی ہے تومحبت اپنے رنگ میں ظاہر ہو جاتی ہے اور پھر بطور موہبت ہمیشہ کے لئے رہتی ہے۔ خدا ایک چڑچڑہ انسان کی طرح نہیں ہے جو خواہ نخواہ عذاب دینے کا شائق ہو اور وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ اپنے پر آپ ظلم کرتے ہیں۔ اس کی محبت میں تمام نجات اور اس کو چھوڑنے میں تمام عذاب ہے۔
یہ تو آریہ سماج والوں کی خدا دانی کی تعلیم ہے اور اس تعلیم کے رو سے یہ ماننا پڑتا ہے کہ ہر ایک جو خدا تعالیٰ کی جناب میں کوئی عزت پاتا ہے۔ خواہ اوتار بن جاتا ہے یا رشی اور خواہ خود ایسا شخص جس پر ویدنازل ہوں اس کی عزت کسی بھروسہ کے لائق نہیں ہوتی بلکہ وہ ہزارہا مرتبہ عزت کی کرسی سے نیچے ڈال دیا جاتا ہے۔ اور یا تو وہ پرمیشر کا بڑا پیارا اور مقرب اور اوتار اور رشی اور ایسا ایسا تھا اور یا پھر اواگون کے چکر میں آکر کوئی کیڑا مکوڑا بن جاتا ہے۔ جاودانی نجات کبھی اس کو نصیب نہیں ہوتی۔ اس جگہ بھی مرنے کا دغدغہ۔ پھر مرنے کے بعد دوبارہ اواگون کے عذاب کا دغدغہ۔ غرض یہ تو خدا تعالیٰ کا حق ادا کیا گیا۔ ایک طرف تمام ارواح اور ذرّات قدیم اور خود بخود ہونے میں اس کے شریک ٹھہرائے گئے۔ اور دوسری طرف پرمیشر کو ایسا بخیل قرار دیا گیا کہ باوجودیکہ طاقت رکھتا ہے اور سرب شکتی مان ہے مگر پھر بھی کسی کو نجات ابدی دینا نہیں چاہتا۔
پھرانسانوں کو پاک ہونے کے بارے میں جو کچھ ویدنے سکھلایا ہے اس کی تمام حقیقت تو نیوگ کی تعلیم سے بخوبی ظاہر ہوتی ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ آریہ اپنی منکوحہ عورت کو اولاد کی خواہش سے کسی دوسرے مرد سے ہم بستر کرا سکتا ہے اور جب تک وہ عورت اس شدھ کام سے گیارہ بچے حاصل نہ کرلے وہ اس بیگانہ شخص سے ہر روز ہم بستر رہ سکتی ہے اب ہم اس جملہ معترضہ سے اپنے اصل مطلب کی طرف آتے ہیں اور وہ یہ کہ آریوں کے اصول کے مطابق اُن کا پرمیشر عالم الغیب نہیں ہو سکتا اور ان کے پاس پرمیشر کے عالم الغیب ہونے پر کوئی دلیل نہیں۔
ایسا ہی عیسائی عقیدہ کے رو سے خدا تعالیٰ عالم الغیب نہیں ہے کیونکہ جس حالت میں حضرت عیسیٰ ؑکو خدا قرار دیا گیا ہے اور وہ خود اقرار کرتے ہیں کہ میں جو خدا کا بیٹا ہوں۔ مجھے قیامت کا علم نہیں۔ پس اس سے بجز اس کے کیا نتیجہ نکل سکتا ہے کہ خدا کو قیامت کا علم نہیں کہ کب آئے گی۔
پھر دوسری شاخ معرفت صحیحہ کی خدا تعالیٰ کی کامل قدرت کا شناخت کرنا ہے لیکن اس شاخ میں بھی آریہ سماج والے اور حضرات پادریان اپنے خدا پر داغ لگا رہے ہیں۔
آریہ سماج والے اس طرح سے کہ وہ اپنے پرمیشر کو روحوں اور ذرات عالم کے پیدا کرنے پر قادر ہی نہیں جانتے اور نہ اس بات پر قادر سمجھتے ہیں کہ اُن کا پرمیشر کسی روح کو جاودانی مکتی دے سکے ٭ ۔ ایسا ہی حضرات پادری صاحبان بھی اپنے خدا کو قادر نہیں سمجھتے کیونکہ اُن کا خدا اپنے مخالفوں کے ہاتھ سے ماریں کھاتا رہا۔ زندان میں داخل کیا گیا۔ کوڑے لگے۔ صلیب پر کھینچا گیا۔ اگر وہ قادر ہوتا تو اتنی ذلتیں باوجود خدا ہونے کے ہرگز نہ اُٹھاتا اور نیز اگر وہ قادر ہوتا تو اس کے لئے کیا ضرورت تھی کہ اپنے بندوں کونجات دینے کے لئے یہ تجویز سوچتا کہ آپ مر جائے اور اس طریق سے بندے رہائی پاویں۔ جو شخص خدا ہو کر تین (۳) دن تک مرا رہا اس کی قدرت کا نام لینا ہی قابل شرم بات ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ خدا تو تین (۳) دن تک مرا رہا لیکن اُس کے بندے تین (۳) دن تک بغیر خدا کے ہی جیتے رہے۔
اور پھر ان لوگوں کی توحید کا یہ حال ہے کہ آریہ سماج والے تو ذرّہ ذرّہ اور تمام ارواح کو خودبخود موجود ہونے میں اپنے پرمیشر کے شریک ٹھہراتے ہیں اور اُن کے وجود اور بقاء کو محض انہیں کی طاقت اور قوت کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اور یہ محض شرک ہے۔
رہے عیسائی۔ سو ان کا یہ حال ہے کہ وہ صریح توحید کے برخلاف عقیدہ ٭ رکھتے ہیں۔ یعنی وہ تین (۳) خدا مانتے ہیں یعنی باپ، بیٹا، روح القدس اور یہ جواب ان کا سراسر فضول ہے کہ ہم تین (۳) کو ایک جانتے ہیں۔ ایسے بیہودہ جواب کو کوئی عاقل تسلیم نہیں کرسکتا جبکہ یہ تینوں خدا مستقل طور پر علیحدہ علیحدہ وجود رکھتے ہیں اور علیحدہ علیحدہ پورے خدا ہیں تو وہ کون سا حساب ہے جس کے رو سے وہ ایک ہو سکتے ہیں۔ اس قسم کا حساب کس سکول یا کالج میں پڑھایا جاتا ہے کیا کوئی منطق یا فلاسفی سمجھا سکتی ہے کہ ایسے مستقل تین (۳) ایک کیونکر ہوگئے اور اگر کہو کہ یہ راز ہے کہ جو انسانی عقل سے برتر ہے تو یہ دھوکا دہی ہے کیونکہ انسانی عقل خوب جانتی ہے کہ اگر تین (۳) کو تین (۳) کامل خدا کہا گیا تو تین (۳) کامل کو بہرحال تین (۳) کہنا پڑے گا نہ ایک۔ اور اس تثلیث کے عقیدہ کو نہ صرف قرآن شریف رد کرتا ہے بلکہ توریت بھی رد کرتی ہے کیونکہ وہ توریت جو موسٰیؑ کو دی گئی تھی اس میں اس تثلیث کا کچھ بھی ذکر نہیں۔ اشارہ تک نہیں ورنہ ظاہر ہے کہ اگر توریت میں بھی ان خداؤں کی نسبت تعلیم ہوتی تو ہرگز ممکن نہ تھا کہ یہودی اس تعلیم کو فراموش کر دیتے کیونکہ اوّل تو یہودیوں کو توحید کی تعلیم یاد رکھنے کے لئے سخت تاکید کی گئی تھی یہاں تک کہ حکم تھا کہ ہر ایک یہودی اس تعلیم کو حفظ کرلے اور اپنے گھر کے چوکٹوں پر اس کو لکھ چھوڑیں اور اپنے بچوں کو سکھادیں اور پھر علاوہ اس کے اسی توحید کی تعلیم کے یاد دلانے کے لئے متواتر خدا تعالیٰ کے نبی یہودیوں میں آتے رہے اور وہی تعلیم سکھلاتے رہے پس یہ امر بالکل غیر ممکن اور محال تھا کہ یہودی لوگ باوجود اس قدر تاکید اور اس قدر تواتر انبیاء کے تثلیث کی تعلیم کو بھول جاتے اور بجائے اس کے توحید کی تعلیم اپنی کتابوں میں لکھ لیتے اور وہی بچوں کو سکھاتے اور آنے والے صدہا نبی بھی اسی توحید کی تعلیم کو دوبارہ تازہ کرتے ایسا خیال تو سراسر خلاف عقل و قیاس ہے۔ میں نے اس بارہ میں خود کوشش کر کے بعض یہودیوں سے حلفاً دریافت کیا تھا کہ توریت میں خدا تعالیٰ کے بارے میں آپ لوگوں کو کیا تعلیم دی گئی تھی؟ کیا تثلیث کی تعلیم دی گئی تھی یا کوئی اور۔ تو اُن یہودیوں نے مجھے خط لکھے جواب تک میرے پاس موجود ہیں اور اُن خطوں میں بیان کیا کہ توریت میں تثلیث کی تعلیم کا نام و نشان نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے بارہ میں توریت کی وہی تعلیم ہے جو قرآن کی تعلیم ہے۔ پس افسوس ہے ایسی قوم پر جو ایسے اعتقاد پر اڑی بیٹھی ہے کہ نہ تو وہ تعلیم توریت میں موجود ہے اور نہ قرآن شریف میں ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ تثلیث کی تعلیم انجیل میں بھی موجودنہیں۔ انجیل میں بھی جہاں جہاں تعلیم کا بیان ہے ان تمام مقامات میں تثلیث کی نسبت اشارہ تک نہیں بلکہ خدائے واحد لاشریک کی تعلیم دیتی ہے۔ چنانچہ بڑے بڑے معاند پادریوں کو یہ بات ماننی پڑی ہے کہ انجیل میں تثلیث کی تعلیم نہیں۔ اب یہ سوال ہوگا کہ عیسائی مذہب میں تثلیث کہاں سے آئی؟ اس کا جواب محقق عیسائیوں نے یہ دیا ہے کہ یہ تثلیث یونانی عقیدہ سے لی گئی ہے۔ یونانی لوگ تین (۳) دیوتاؤں کو مانتے تھے جس طرح ہندو ترے مورتی کے قائل ہیں۔ اور جب پولوس نے یہودیوں ٭ کی طرف رخ کیا اور چونکہ وہ یہ چاہتا تھا کہ کسی طرح یونانیوں کو عیسائی مذہب میں داخل کرے اس لئے اُس نے یونانیوں کے خوش کرنے کے لئے بجائے تین (۳) دیوتاؤں کے تین اقنوم اس مذہب میں قائم کر دیئے ورنہ حضرت عیسٰیؑ کی بلا کو بھی معلوم نہ تھا کہ اقنوم کس چیز کا نام ہے۔ ان کی تعلیم خدا تعالیٰ کی نسبت تمام نبیوں کی طرح ایک سادہ تعلیم تھی کہ خدا واحد لاشریک ہے۔ پس یاد رکھنا چاہیے کہ یہ مذہب جو عیسائی مذہب کے نام سے شہرت دیا جاتا ہے۔ دراصل پولوسی مذہب ہے نہ مسیحی کیونکہ حضرت مسیحؑ نے کسی جگہ تثلیث کی تعلیم نہیں دی اور وہ جب تک زندہ رہے خدائے واحد لاشریک کی تعلیم دیتے رہے اور بعد ان کی وفات کے ان کا بھائی یعقوب بھی جو ان کا جانشین تھا اور ایک بزرگوار انسان تھا توحید کی تعلیم دیتا رہا۔ اور پولوس نے خواہ نخواہ اس بزرگ سے مخالفت شروع کر دی اور اس کے عقائد صحیحہ کے مخالف تعلیم دینا شروع کیا۔ اور انجام کار پولوس اپنے خیالات میں یہاں تک بڑھا کہ ایک نیا مذہب قائم کیا اور توریت کی پیروی سے اپنی جماعت کو بکلی علیحدہ کر دیا اور تعلیم دی کہ مسیحی مذہب میں مسیح کے کفارہ کے بعد شریعت کی ضرورت نہیں اور خون مسیح گناہوں کے دور کرنے کے لئے کافی ہے۔ توریت کی پیروی ضروری نہیں اور پھر ایک اور گند اس مذہب میں ڈال دیا کہ اُن کے لئے سؤر کھانا حلال کر دیا حالانکہ حضرت مسیحؑ انجیل میں سؤر کو ناپاک قرار دیتے ہیں تبھی توانجیل میں ان کا قول ہے کہ اپنے موتی سؤروں کے آگے مت پھینکو۔ پس جب کہ پاک تعلیم کا نام حضرت مسیحؑ نے موتی رکھا ہے تو اس مقابلہ سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ پلید کا نام انہوں نے سؤر رکھا ہے اصل بات یہ ہے کہ یونانی سؤر کو کھایا کرتے تھے جیسا کہ آج کل تمام یورپ کے لوگ سؤر کھاتے ہیں۔ اس لئے پولوس نے یونانیوں کے تالیف قلوب کے لئے سؤر بھی اپنی جماعت کے لئے حلال کر دیاحالانکہ توریت میں لکھا ہے کہ وہ ابدی حرام ہے اور اس کا چھونا بھی ناجائز ہے۔ غرض اس مذہب میں تمام خرابیاں پولوس سے پیدا ہوئیں۔ حضرت مسیحؑ تو وہ بے نفس انسان تھے جنہوں نے یہ بھی نہ چاہا کہ کوئی ان کو نیک انسان کہے مگر پولوس نے اُن کو خدا بنا دیا جیسا کہ انجیل میں لکھا ہے کہ کسی نے حضرت مسیح کو کہا کہ اے نیک اُستاد ! انہوں نے اُس کو کہا کہ تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے۔ اُن کا وہ کلمہ جو صلیب پر چڑھائے جانے کے وقت اُن کے منہ سے نکلا کیسا توحید پر دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے نہایت عاجزی سے کہا۔ ایلی ایلی لما سبقتانی یعنی اے میرے خدا ! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ کیا جو شخص اس عاجزی سے خدا کو پکارتا ہے اور اقرار کرتا ہے کہ خدا میرا رب ہے اُس کی نسبت کوئی عقلمند گمان کر سکتا ہے کہ اس نے درحقیقت خدائی کا دعویٰ کیا تھا؟ اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو خداتعالیٰ سے محبت ذاتیہ کا تعلق ہوتا ہے بسا اوقات استعارہ کے رنگ میں خدا تعالیٰ اُن سے ایسے کلمے اُن کی نسبت کہلا دیتا ہے کہ نادان لوگ ان کی ان کلموں سے خدائی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ میری نسبت مسیحؑ سے بھی زیادہ وہ کلمات فرمائے گئے ہیں ٭ جیسا کہ اللہ تعالیٰ مجھے مخاطب کر کے فرماتا ہے: یا قمرُ یا شمسُ انت منّی و انا منک یعنی اے چاند ! اور اے سورج ! تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے۔ اب اس فقرہ کو جو شخص چاہے کسی طرف کھینچ لے مگر اصل معنے اس کے یہ ہیں کہ اوّل خدا نے مجھے قمر بنایا کیونکہ میں قمر کی طرح اس حقیقی شمس سے ظاہر ہوا اور پھر آپ قمر بنا کیونکہ میرے ذریعہ سے اُس کے جلال کی روشنی ظاہر ہوئی اور ہوگی۔ یعقوب حضرت عیسٰیؑ کا بھائی جو مریم کا بیٹا تھا وہ درحقیقت ایک راستباز آدمی تھا۔ وہ تمام باتوں میں توریت پر عمل کرتا تھا اور خدا کو واحد لاشریک جانتا تھا اور سؤر کو حرام سمجھتا تھا۔ اور یہودیوں کی طرح بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتا تھا اور جیسا کہ چاہیے تھا وہ اپنے تئیں ایک یہودی سمجھتا تھا۔ صرف یہ تھا کہ حضرت عیسٰیؑ کی نبوت پر ایمان رکھتا تھا۔ لیکن پولوس نے بیت المقدس سے بھی نفرت دلائی۔ آخر خدا تعالیٰ کی غیرت نے اس کو پکڑا اور ایک بادشاہ نے اس کو سولی دے دیا اور اس طرح پر اس کا خاتمہ ہوا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ صادق اور خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے اس لئے وہ سولی سے نجات پاگئے اور خدا تعالیٰ نے اُن کو سولی پر سے زندہ بچا لیا لیکن چونکہ پولوس نے سچائی کو چھوڑ دیا تھا اس لئے وہ لکڑی پر لٹکایا گیا۔
یاد رہے کہ پولوس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں آپ کا جانی دشمن تھا اور پھر آپ کی وفات کے بعد جیسا کہ یہودیوں کی تاریخ میں لکھا ہے اس کے عیسائی ہونے کا موجب اس کے اپنے بعض نفسانی اغراض تھے جو یہودیوں سے وہ پورے نہ ہو سکے۔ اس لئے وہ ان کو خرابی پہنچانے کے لئے عیسائی ہوگیا اور ظاہر کیا کہ مجھے کشف کے طور پر حضرت مسیحؑ ملے ہیں اور میں اُن پر ایمان لایا ہوں اور اُس نے پہلے پہل تثلیث کا خراب پودہ دمشق میں لگایا۔ اور یہ پولوسی تثلیث دمشق سے ہی شروع ہوئی۔ اسی کی طرف احادیث نبویہ میں اشارہ کر کے کہا گیا کہ آنے والا مسیحؑ دمشق کی مشرقی طرف نازل ہوگا یعنی اس کے آنے پر تثلیث کا خاتمہ ہوگا اور انسانی دل توحید کی طرف رغبت کرتے جائیں گے اور مشرقی طرف سے مسیحؑ کا نازل ہونا اُس کے غلبہ کی طرف اشارہ ہے کیونکہ روشنی جب ظاہر ہوتی ہے تو تاریکی پر غالب آجاتی ہے ٭ ۔
صاف ظاہر ہے کہ اگر پولوس حضرت مسیحؑ کے بعد ایک رسول کے رنگ میں ظاہر ہونے والا تھا جیسا کہ خیال کیا گیا ہے تو ضرور حضرت مسیحؑ اُس کی نسبت کچھ خبر دیتے خاص کر کے اِس وجہ سے تو خبر دینا نہایت ضروری تھا کہ جبکہ پولوس حضرت عیسٰیؑ کی حیات کے تمام زمانہ میں حضرت عیسٰیؑ سے سخت برگشتہ رہا اور ان کے دکھ دینے کے لئے طرح طرح کے منصوبے کرتا رہا تو ایسا شخص ان کی وفات کے بعد کیوں کر امین سمجھا جا سکتا ہے۔ بجز اس کے کہ خود حضرت مسیحؑ کی طرف سے اس کی نسبت کھلی کھلی پیشگوئی پائی جائے اور اس میں صاف طور پر درج ہو کہ اگرچہ پولوس میری حیات میں میرا سخت مخالف رہا ہے اور مجھے دکھ دیتا رہا ہے لیکن میرے بعد وہ خدا تعالیٰ کا رسول اور نہایت مقدس آدمی ہو جائے گا۔ بالخصوص جبکہ پولوس ایسا آدمی تھا کہ اس نے موسٰیؑ کی توریت کے برخلاف اپنی طرف سے نئی تعلیم دی۔ سؤر حلال کیا۔ ختنہ کی رسم تو توریت میں ایک مؤکد رسم تھی اور تمام نبیوں کا ختنہ ہوا تھا اور خود حضرت مسیحؑ کا بھی ختنہ ہوا تھا۔ وہ قدیم حکم الٰہی منسوخ کر دیا اور توریت کی توحید کی جگہ تثلیث قائم کر دی اور توریت کے احکام پر عمل کرنا غیر ضروری ٹھہرایا اور بیت المقدس سے بھی انحراف کیا۔ تو ایسے آدمی کی نسبت جس نے موسوی شریعت کو زیر و زبر کر دیا ضرورکوئی پیشگوئی چاہیے تھی۔ پس جبکہ انجیل میں پولوس کے رسول ہونے کے بارے میں خبر نہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اُس کی عداوت ثابت اور توریت کے ابدی احکام کا وہ مخالف تو اس کو کیوں اپنا مذہبی پیشوا بنایا گیا کیا اس پر کوئی دلیل ہے؟؟
پھر معرفت کے بعد بڑی ضروری نجات کے لئے محبت الٰہی ہے۔ یہ بات نہایت واضح اور بدیہی ہے کہ کوئی شخص اپنے محبت کرنے والے کو عذاب دینا نہیں چاہتا بلکہ محبت محبت کو جذب کرتی اور اپنی طرف کھینچتی ہے۔ جس شخص سے کوئی سچے دل سے محبت کرتا ہے اس کو یقین کرنا چاہیے کہ وہ دوسرا شخص بھی جس سے محبت کی گئی ہے اس سے دشمنی نہیں کر سکتا بلکہ اگر ایک شخص ایک شخص کو جس سے وہ اپنے دل سے محبت رکھتا ہے اپنی اس محبت سے اطلاع بھی نہ دے تب بھی اس قدر اثر تو ضرور ہوتا ہے کہ وہ شخص اس سے دشمنی نہیں کر سکتا۔ اِسی بنا پر کہا گیا ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتا ہے اور خدا کے نبیوں اور رسولوں میں جو ایک قوت جذب اور کشش پائی جاتی ہے اور ہزارہا لوگ ان کی طرف کھینچے جاتے اور ان سے محبت کرتے ہیں یہاں تک کہ اپنی جا ن بھی اُن پر فدا کرنا چاہتے ہیں اس کا سبب یہی ہے کہ بنی نوع کی بھلائی اور ہمدردی اُن کے دل میں ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ ماں سے بھی زیادہ انسانوں سے پیار کرتے ہیں اور اپنے تئیں دکھ اور درد میں ڈال کر بھی اُن کے آرام کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ آخر ان کی سچی کشش سعید دلوں کو اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیتی ہے پھر جبکہ انسان باوجودیکہ وہ عالم الغیب نہیں دوسرے شخص کی مخفی محبت پر اطلاع پا لیتا ہے تو پھر کیونکر خدا تعالیٰ جو عالم الغیب ہے کسی کی خالص محبت سے بے خبر رہ سکتا ہے۔ محبت عجیب چیز ہے اس کی آگ گناہوں کی آگ کو جلاتی اور معصیت کے شعلہ کو بھسم کر دیتی ہے سچی اور ذاتی اور کامل محبت کے ساتھ عذاب جمع ہو ہی نہیں سکتا۔ اور سچی محبت کے علامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کی فطرت میں یہ بات منقوش ہوتی ہے کہ اپنے محبوب کے قطع تعلق کا اُس کو نہایت خوف ہوتا ہے اور ایک ادنیٰ سے ادنیٰ قصور کے ساتھ اپنے تئیں ہلاک شدہ سمجھتا ہے اور اپنے محبوب کی مخالفت کو اپنے لئے ایک زہر خیال کرتا ہے اور نیز اپنے محبوب کے وصال کے پانے کے لئے نہایت بے تاب رہتا ہے اور بعد اور دوری کے صدمہ سے ایسا گداز ہوتا ہے کہ بس مر ہی جاتا ہے اس لئے وہ صرف ان باتوں کو گناہ نہیں سمجھتا کہ جوعوام سمجھتے ہیں کہ قتل نہ کر، خون نہ کر، زنانہ کر، چوری نہ کر، جھوٹی گواہی نہ دے بلکہ وہ ایک ادنیٰ غفلت کو اور ادنیٰ التفات کو جو خدا کو چھوڑ کر غیر کی طرف کی جائے ایک کبیرہ گناہ خیال کرتا ہے۔ اس لئے اپنے محبوب ازلی کی جناب میں دوام استغفار اُس کا ورد ہوتا ہے اور چونکہ اِس بات پر اُس کی فطرت راضی نہیں ہوتی کہ وہ کسی وقت بھی خدا تعالیٰ سے الگ رہے اس لئے بشریت کے تقاضا سے ایک ذرہ غفلت بھی اگر صادر ہو تو اس کو ایک پہاڑ کی طرح گناہ سمجھتا ہے۔ یہی بھید ہے کہ خدا تعالیٰ سے پاک اور کامل تعلق رکھنے والے ہمیشہ استغفار میں مشغول رہتے ہیں کیونکہ یہ محبت کا تقاضا ہے کہ ایک محب صادق کو ہمیشہ یہ فکر لگی رہتی ہے کہ اُس کا محبوب اس پر ناراض نہ ہو جائے اور چونکہ اس کے دل میں ایک پیاس لگا دی جاتی ہے کہ خدا کامل طور پر اس سے راضی ہو اس لئے اگر خدا تعالیٰ یہ بھی کہے کہ مَیں تجھ سے راضی ہوں تب بھی وہ اس قدر پر صبر نہیں کر سکتا کیونکہ جیسا کہ شراب کے دَور کے وقت ایک شراب پینے والا ہر دم ایک مرتبہ پی کر پھر دوسری مرتبہ مانگتا ہے۔ اِسی طرح جب انسان کے اندر محبت کا چشمہ جوش مارتا ہے تو وہ محبت طبعاً یہ تقاضا کرتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔ پس محبت کی کثرت کی وجہ سے استغفار کی بھی کثرت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا سے کامل طور پر پیار کرنے والے ہردم اور ہر لحظہ استغفار کو اپنا ورد رکھتے ہیں اور سب سے بڑھ کر معصوم کی یہی نشانی ہے کہ وہ سب سے زیادہ استغفار میں مشغول رہے اور استغفار کے حقیقی معنے یہ ہیں کہ ہر ایک لغزش اور قصور جو بوجہ ضعف بشریت انسان سے صادر ہو سکتی ہے اس امکانی کمزوری کو دور کرنے کے لئے خدا سے مدد مانگی جائے تا خدا کے فضل سے وہ کمزوری ظہور میں نہ آوے اور مستور و مخفی رہے۔ پھر بعد اس کے استغفار کے معنے عام لوگوں کے لئے وسیع کئے گئے اور یہ امر بھی استغفار میں داخل ہوا کہ جو کچھ لغزش اور قصور صادر ہو چکا خدا تعالیٰ اس کے بدنتائج اور زہریلی تاثیروں سے دنیا اور آخرت میں محفوظ رکھے۔ پس نجات حقیقی کا سرچشمہ محبت ذاتی خدائے عزّوجلّ کی ہے جو عجزو نیاز اور دائمی استغفار کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور جب انسان کمال درجہ تک اپنی محبت کو پہنچاتا ہے اور محبت کی آگ سے اپنے جذباتِ نفسانیت کو جلا دیتا ہے تب یک دفعہ ایک شعلہ کی طرح خدا تعالیٰ کی محبت جو خدا تعالیٰ اس سے کرتا ہے اس کے دل پر گرتی ہے اور اس کو سفلی زندگی کے گندوں سے باہر لے آتی ہے اور خدائے حيّ و قیّوم کی پاکیزگی کا رنگ اس کے نفس پر چڑھ جاتا ہے بلکہ تمام صفاتِ الٰہیہ سے ظلی طور پر اس کو حصہ ملتا ہے۔ تب وہ تجلیات الٰہیہ کا مظہر ہو جاتا ہے اور جو کچھ ربوبیت کے ازلی خزانہ میں مکتوم و مستور ہے اس کے ذریعہ سے وہ اسرار دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں۔ چونکہ وہ خدا جس نے اس دنیا کو پیدا کیا ہے بخیل نہیں ہے بلکہ اس کے فیوض دائمی ہیں اور اس کے اسماء اور صفات کبھی معطّل نہیں ہو سکتے اس لئے وہ بشرط تقویٰ اور مجاہدہ جو کچھ اوّلین کو دیا ہے وہ آخرین کو بھی دیتا ہے جیسا کہ خود اُس نے قرآن شریف میں یہ دعا سکھلائی ہے اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ (الفاتحة: ۶،۷) یعنی اے ہمارے خدا! ہمیں وہ سیدھی راہ دکھلا جو اُن لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرا فضل اور انعام ہوا۔ اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ وہی فضل اور انعام جو تمام نبیوں اور صدیقوں پر پہلے ہو چکا ہے وہ ہم پر بھی کر اور کسی فضل سے ہمیں محروم نہ رکھ۔ یہ آیت اس اُمت کو اس قدر عظیم الشان اُمید دلاتی ہے جس میں گذشتہ اُمتیں شریک نہیں ہیں کیونکہ تمام انبیاء کے متفرق کمالات تھے۔ اور متفرق طور پر اُن پر فضل اور انعام ہوا۔ اب اس امت کو یہ دعا سکھلائی گئی کہ اُن تمام متفرق کمالات کو مجھ سے طلب کرو۔ پس ظاہر ہے کہ جب متفرق کمالات ایک جگہ جمع ہو جائیں گے تو وہ مجموعہ متفرق کی نسبت بہت بڑھ جائے گا۔ اِسی بنا پر کہا گیا کہ کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ (اٰل عمران: ۱۱۱) یعنی تم اپنے کمالات کے رو سے سب اُمتوں سے بہتر ہو۔
اب یہ بھی جاننا چاہیے کہ یہ کمالات متفرقہ اس امت میں جمع کرنے کا کیوں وعدہ دیا گیا؟ اس میں بھید یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جامع کمالاتِ متفرقہ ہیں جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَبِہُدٰٮہُمُ اقۡتَدِہۡ (الانعام: ۹۱) یعنی تمام نبیوں کو جو ہدایتیں ملی تھیں اُن سب کا اقتدا کر۔ پس ظاہر ہے کہ جو شخص ان تمام متفرق ہدایتوں کو اپنے اندر جمع کرے گا اس کا وجود ایک جامع وجود ہو جائے گا اور تمام نبیوں سے وہ افضل ہوگا پھر جو شخص اس نبی جامع الکمالات کی پیروی کرے گا۔ ضرور ہے کہ ظلّی طور پر وہ بھی جامع الکمالات ہو۔ پس اس دعا کے سکھلانے میں جو سورہ فاتحہ میں ہے یہی راز ہے کہ تا کاملین اُمت جو نبی جامع الکمالات کے پیرو ہیں وہ بھی جامع الکمالات ہو جائیں۔ پس افسوس اُن لوگوں پر جو اس اُمت کو ایک مردہ امت خیال کرتے ہیں۔ اور خدا تو جامع الکمالات ہونے کے لئے اُن کو دعا سکھلاتا ہے مگر وہ محض مردہ رہنا چاہتے ہیں۔ اُن کے نزدیک یہ بڑے گناہ کی بات ہے کہ مثلاً کوئی یہ دعویٰ کرے کہ میرے پر مسیحؑ ابن مریم کی طرح وحی نازل ہوتی ہے ٭ ۔ اُن کے نزدیک ایسا شخص کافر ہے کیونکہ قیامت تک خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ کا دروازہ بند ہے۔ تعجب کہ یہ لوگ اس قدر تو مانتے ہیں کہ اب بھی خدا تعالیٰ سنتا ہے جیسا کہ پہلے سنتا تھا مگر یہ نہیں مانتے کہ اب بھی وہ بولتا ہے جیسا کہ پہلے بولتا تھا حالانکہ اگر وہ اس زمانہ میں بولتا نہیں تو پھر سننے پر بھی کوئی دلیل نہیں۔ خدا تعالیٰ کی صفات کو معطل کرنے والے سخت بدقسمت لوگ ہیں اور درحقیقت یہ لوگ اسلام کے دشمن ہیں۔ ختم نبوت کے ایسے معنے کرتے ہیں جس سے نبوت ہی باطل ہوتی ہے۔ کیا ہم ختم نبوت کے یہ معنے کر سکتے ہیں کہ وہ تمام برکات جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے ملنی چاہئیں تھے وہ سب بند ہوگئے اور اب خدا تعالیٰ کے مکالمہ مخاطبہ کی خواہش کرنا لاحاصل ہے۔ لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔ کیا یہ لوگ بتلا سکتے ہیں کہ اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا فائدہ کیا ہوا۔ جن لوگوں کے ہاتھ میں بجز گذشتہ قصوں کے اور کچھ نہیں اُن کا مذہب مردہ ہے اور معرفت الٰہی کا اُن پر دروازہ بند ہے مگر اسلام مذہب زندہ ہے اور خدا تعالیٰ قرآن شریف میں مسلمانوں کو سورہ فاتحہ میں گذشتہ نبیوں کا وارث ٹھہراتا ہے اور دعا سکھلاتا ہے کہ جو پہلے نبیوں کو نعمتیں دی گئی تھیں وہ طلب کریں مگر جس کے ہاتھ میں صرف قصے ہیں وہ کیوں کر وارث کہلا سکتا ہے۔ افسوس ان لوگوں پر کہ ان لوگوں کے آگے تمام برکات کا چشمہ کھولا گیا مگر یہ نہیں چاہتے کہ ایک گھونٹ بھی اس میں سے پئیں۔
اب پھر ہم پہلے کلام کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ نجات کا سرچشمہ جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں محبت اور معرفت ہے۔ اور معرفت ایک ایسی چیز ہے کہ جس قدر معرفت زیادہ ہوتی ہے اسی قدر محبت بھی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ محبت کے جوش مارنے کا باعث حسن یا احسان ہے۔ یہ دونوں چیزیں ہیں جن کی وجہ سے محبت جوش مارتی ہے۔ پس جبکہ انسان کو خدا تعالیٰ کے حسن اور احسان کا علم ہوتاہے اور وہ اس بات کا مشاہدہ کر لیتا ہے کہ وہ ہمارا خدا اپنی نا محدود ذاتی خوبیوں کی وجہ سے کیسا حسین ہے اور پھر کس طرح پر اس کے نامتناہی احسان ہم پر احاطہ کررہے ہیں تو اس علم کے بعد بالطبع انسان کی وہ محبت جو ازل سے اس کی فطرت میں مرکوز ہے جوش مارتی ہے اور جیسا کہ خدا تعالیٰ سب سے زیادہ جمال باکمال سے متّصف اور متواتر احسان اور فیضان کی صفت سے موصوف ہے ایسا ہی بندہ جو اس کا طالب ہے بعد معرفت اِن صفات کے اس سے ایسی محبت کرتا ہے ٭ کہ کسی کو اس کا ثانی نہیں سمجھتا۔ تب نہ صرف زبان سے بلکہ عملی طور پر اس کو واحد لاشریک جانتا ہے اور اُس کی خوبیوں اور اخلاق کا عاشق ہو جاتا ہے اور گو محبت الٰہی کا تخم ازل سے انسان کی سرشت میں رکھا گیا تھا مگر اس تخم کی آب پاشی معرفت ہی کرتی ہے کیونکہ کوئی محبوب بجز معرفت کے اور بجز تجلیات حسن اور جمال اور اخلاق اور وصال کے کسی عاشق کو اپنی طرف کھینچ نہیں سکتا۔ اور جب معرفت تامّہ حاصل ہو جاتی ہے تبھی وہ وقت آتا ہے کہ محبت الٰہی کا ایک چمکتا ہوا شعلہ انسان کے دل پر گرتا ہے اور یکدفعہ اس کو خداتعالیٰ کی طرف کھینچ لیتا ہے۔ تب انسانی روح محبوبِ ازلی کے آستانہ پر عاشقانہ انکسار کے ساتھ گرتی ہے اور حضرتِ احدیت کے دریائے ناپیدا کنار میں غوطہ لگا کر ایسی پاک و صاف ہو جاتی ہے کہ تمام سفلی کثافتیں دور ہو جاتی ہیں اور ایک نورانی تبدیلی اس کے اندر پیدا ہو جاتی ہے۔ تب وہ روح ناپاک باتوں سے ایسی نفرت کرتی ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ کو نفرت ہے اور خدا کی رضا اس کی رضا ہو جاتی ہے اور خدا کی خوشنودی اس کی خوشنودی ہو جاتی ہے لیکن جیسا کہ ہم ابھی لکھ چکے ہیں اس اعلیٰ درجہ کی محبت کے جوش مارنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ سالک جو خدا تعالیٰ کی طلب میں ہے خدا کے حسن اور احسان پر بخوبی اطلاع پاوے۔ اور درحقیقت اس کے دل میں ذہن نشین ہو جائے کہ خدا تعالیٰ اپنی ذات میں وہ خوبیاں اور حسن اور جمال رکھتا ہے کہ جن کی کوئی انتہا نہیں۔ اور ایسا ہی اس قدر اس کے احسان ہیں اور اس قدر احسان کرنے کے لئے وہ طیار ہے کہ اس سے بڑھ کر ممکن ہی نہیں۔ اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس کامل معرفت کا سامان اس اُمت کو کامل طور پر دیا گیا ہے۔ اور ہم خدا تعالیٰ کی خوبیوں کے بیان کرنے میں اُس کی جناب میں شرمندہ نہیں ہیں ٭ ۔ اور جہاں تک خوبی تصور میں آسکتی ہے ہم وہ تمام خوبیاں خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات میں مانتے ہیں۔ نہ ہم آریوں کی طرح یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کسی روح یا کسی ذرہ کے پیدا کرنے پر قادر نہیں اور نہ ان کی طرح ہم یہ کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ وہ ایسا بخیل ہے کہ نجات ابدی کسی کو دینا نہیں چاہتا اور نہ یہ کہتے ہیں کہ وہ دینے پر قادر نہیں اور نہ ہم آریہ سماج والوں کی طرح یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی کا دروازہ بند ہے اور نہ ہم اُن کی طرح یہ کہتے ہیں کہ وہ ایسا سخت دل ہے کہ کسی بندہ کی توبہ قبول نہیں کرتا اور ایک گناہ کے لئے کروڑہا جونوں میں ڈالتا رہتا ہے۔ اور نہ ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ توبہ قبول کرنے پر قادر نہیں اور نہ ہم عیسائیوں کی طرح یہ کہتے ہیں کہ ہمارا خدا ایسا خدا ہے کہ وہ کسی زمانہ میں مربھی گیا تھا اور یہودیوں کے ہاتھ میں گرفتار بھی ہوا اور زندان میں بھی داخل کیا گیا اور صلیب پر کھینچا گیا اور وہ ایک عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا اور اس کے اور بھائی بھی تھے اور نہ ہم عیسائیوں کی طرح نعوذ باللہ یہ کہتے ہیں کہ وہ تین (۳) دن کے لئے گناہوں کا بھار اتارنے کے لئے دوزخ میں بھی گیا تھا اور وہ اپنے بندوں کو گناہوں سے نجات نہیں دے سکتا تھا جب تک آپ ان کے عوض نہ مرتا اور تین (۳) دن کے لئے دوزخ میں نہ جاتا اور نہ ہم عیسائیوں کی طرح یہ کہتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی اور الہام پر مہر لگ گئی ہے اور اب خدا تعالیٰ کے مکالمہ اور مخاطبہ کا دروازہ بند ہے کیونکہ خدا تعالیٰ سورہ فاتحہ میں ہمیں تمام نبیوں کی متفرق نعمتوں کے وارث ٹھہراتا ہے اور اس امت کو خیر الامم قرار دیتا ہے۔ پس بلاشبہ خدا تعالیٰ کا حسن اور احسان جو سرچشمہ محبت کا ہے سب سے زیادہ اس پر ایمان لانا ہمارے حصہ میں آگیا ہے اور مسلمانوں میں سے سخت نادان اور بدقسمت وہ لوگ ہیں جو اس کے کمال حسن اور احسان کے انکاری ہیں۔ ایک طرف تو اس کی مخلوق کو اس کی صفاتِ خاصہ میں حصہ دار ٹھہرا کر توحید باری پر دھبہ لگاتے ٭ اور اُس کے حسن وحدانیت کی چمک کو شراکت غیر سے تاریکی کے ساتھ بدلتے ہیں۔ اور پھر دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ابدی فیض سے ایسا اپنے تئیں محروم جانتے ہیں کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ زندہ چراغ نہیں ہیں بلکہ مُردہ چراغ ہیں جن کے ذریعہ سے دوسرا چراغ روشن نہیں ہو سکتا۔ وہ اقرار رکھتے ہیں کہ موسٰیؑ نبی زندہ چراغ تھا جس کی پیروی سے صدہا نبی چراغ ہو گئے اور مسیحؑ اسی کی پیروی تیس (۳۰) برس تک کر کے اور توریت کے احکام کو بجا لاکر اور موسٰیؑ کی شریعت کا جُوا اپنی گردن پر لے کر نبوت کے انعام سے مشرف ہوا مگر ہمارے سیّد و مولیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کسی کو کوئی روحانی انعام عطا نہ کر سکی بلکہ ایک طرف تو آپ حسب آیت مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ (الاحزاب: ۴۱) اولاد نرینہ سے جو ایک جسمانی یادگار تھی محروم رہے اور دوسری طرف روحانی اولاد بھی آپ کو نصیب نہ ہوئی جو آپ کے روحانی کمالات کی وارث ہوتی اور خدا تعالیٰ کا یہ قول وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ۱۳؎ بے معنی رہا۔ ظاہر ہے کہ زبانِ عرب میں لٰکن کالفظ اِستدراک کے لئے آتا ہے یعنی جو امر حاصل نہیں ہو سکا اس کے حصول کی دوسرے پیرایہ میں خبر دیتا ہے جس کے رو سے اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی نرینہ اولاد کوئی نہیں تھی مگر روحانی طور پر آپ کی اولاد بہت ہوگی اور آپ نبیوں کے لئے مُہر ٹھہرائے گئے ہیں یعنی آئندہ کوئی نبوت کا کمال بجز آپ کی پیروی کی مُہر کے کسی کو حاصل نہیں ہوگا۔ غرض اس آیت کے یہ معنے تھے جن کو اُلٹا کر نبوت کے آئندہ فیض سے انکار کر دیا گیا حالانکہ اس انکار میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سراسر مذمت اور منقصت ہے کیونکہ نبی کا کمال یہ ہے کہ وہ دوسرے شخص کو ظلی طور پر نبوت کے کمالات سے متمتع کردے اور روحانی امور میں اس کی پوری پرورش کر کے دکھلاوے۔ اِسی پرورش کی غرض سے نبی آتے ہیں اور ماں کی طرح حق کے طالبوں کو گود میں لے کر خدا شناسی کا دودھ پلاتے ہیں۔ پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ دودھ نہیں تھا تو نعوذ باللہ آپ کی نبوت ثابت نہیں ہوسکتی مگر خدا تعالیٰ نے تو قرآن شریف میں آپ کا نام سراج منیر رکھا ہے جو دوسروں کو روشن کرتا ہے اور اپنی روشنی کا اثر ڈال کر دوسروں کو اپنی مانند بنا دیتا ہے اور اگر نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں فیض روحانی نہیں تو پھر دنیا میں آپ کا مبعوث ہونا ہی عبث ہوا اور دوسری طرف خدا تعالیٰ بھی دھوکا دینے والا ٹھہرا جس نے دعا تو یہ سکھلائی کہ تم تمام نبیوں کے کمالات طلب کرو مگر دل میں ہرگز یہ ارادہ نہیں تھا کہ یہ کمالات دیئے جائیں گے بلکہ یہ ارادہ تھا کہ ہمیشہ کے لئے اندھا رکھا جائے گا۔
لیکن اے مسلمانو ! ہشیار ہو جاؤ کہ ایسا خیال سراسر جہالت اور نادانی ہے اگر اسلام ایسا ہی مردہ مذہب ہے تو کس قوم کو تم اس کی طرف دعوت کر سکتے ہو؟ کیا اس مذہب کی لاش جاپان لے جاؤگے یا یورپ کے سامنے پیش کروگے؟ اور ایسا کون بیوقوف ہے جو ایسے مردہ مذہب پر عاشق ہو جائے گا جو بمقابلہ گذشتہ مذہبوں کے ہر ایک برکت اور روحانیت سے بے نصیب ہے۔ گذشتہ مذہبوں میں عورتوں کو بھی الہام ہوا جیسا کہ موسٰیؑ کی ماں اور مریم کو مگر تم مرد ہو کر ان عورتوں کے برابر بھی نہیں بلکہ اے نادانو!! اور آنکھوں کے اندھو! !!ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ہمارے سیّد و مولیٰ (اس پر ہزار ہاسلام) اپنے افاضہ کے رو سے تمام انبیاء سے سبقت لے گئے ہیں کیونکہ گذشتہ نبیوں کا افاضہ ایک حد تک آکر ختم ہوگیا اور اب وہ قومیں اور وہ مذہب مردے ہیں۔ کوئی اُن میں زندگی نہیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فیضان قیامت تک جاری ہے۔ اسی لئے باوجود آپ کے اس فیضان کے اس اُمت کے لئے ضروری نہیں کہ کوئی مسیح باہر سے آوے بلکہ آپ کے سایہ میں پرورش پانا ایک ادنیٰ انسان کو مسیح بناسکتا ہے جیسا کہ اُس نے اس عاجز کو بنایا۔
اب پھر ہم اپنے اصل کلام کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ اسلام نے جو طریق نجات کا پیش کیا ہے اُس کی فلاسفی یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں قدیم سے ایک طرف تو ایک زہر رکھا گیا ہے جو گناہوں کی طرف رغبت دیتا ہے اور دوسری طرف قدیم سے انسانی فطرت میں اس زہر کا تریاق رکھا ہے جو خدا تعالیٰ کی محبت ہے۔ جب سے انسان بنا ہے یہ دونوں قوتیں اس کے ساتھ چلی آئی ہیں۔ زہر ناک قوت انسان کے لئے عذاب کا سامان طیار کرتی ہے۔ اور پھر تریاقی قوت جو محبت الٰہی کی قوت ہے وہ گناہ کو یوں جلا دیتی ہے جیسے کہ خس و خاشاک کو آگ جلا دیتی ہے۔ یہ ہرگز نہیں کہ گناہ کی قوت جو عذاب کا سامان تھی وہ تو قدیم سے انسان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے لیکن گناہوں سے نجات پانے کے لئے جو سامان ہے وہ کچھ تھوڑی مدت سے پیدا ہوا ہے یعنی صرف اس وقت سے جبکہ یسوع مسیح نے صلیب پائی۔ ایسا اعتقاد وہی قبول کرے گا جو اپنے دماغ میں ایک ذرہ عقلِ سلیم نہیں رکھتا بلکہ یہ دونوں (۲) سامان قدیم سے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا انسانی فطرت کو دیئے گئے ہیں۔ یہ نہیں کہ گناہ کے سامان تو پہلے سے خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت میں رکھ دیئے مگر نجات دینے کی دوا ابتدائی ایام میں اس کو یادنہ آئی، چار ہزار برس بعد سوجھی۔
اب ہم اس مضمون کو ختم کرتے ہیں اور محض لِلّٰہ آپ کو صلاح دیتے ہیں کہ اگر آپ زندہ برکات کے خواہاں ہیں تو اس مسیح کا نام نہ لو جو مدت ہوئی کہ فوت ہو چکا اور ایک ذرہ اُس کی زندہ برکات موجودنہیں اور اس کی قوم بجائے محبت الٰہی کی مستی کے شراب کی مستی میں سب سے زیادہ سبقت لے گئی ہے اور بجائے اس کے کہ آسمانی مال لیں دنیا کے مال پر فریفتہ ہیں اگرچہ قماربازی سے ہی لیا جائے بلکہ چاہیے کہ محمدؐ ی مسیح کے سلسلہ میں داخل ہو جو امامکم منکم ہے اور نقد برکات پیش کرتا ہے۔ آئندہ اختیار ہے۔
الـــــــــــــــــــــــراقـــــــــــــــم
میرزا غلامِ احمدؐ قادیانی مسیح موعود
------ (از مؤلف) ------
اے سرو جان و دل و ہر ذرّہ ام قربانِ تو
بردلم بکشا زِ رحمت ہر درِ عرفانِ تو
فلسفی کز عقل مے جوید ترا دیوانہ ہست
دور تر ہست از خردہا آں رہِ پنہانِ تو
از حریم تو ازیناں ہیچ کس آگہ نشد
ہر کہ آگہ شد، شداز احسانِ بے پایانِ تو
عاشقانِ روئے خودرا ہر دو عالم مے دہی
ہر دو عالم ہیچ پیشِ دیدۂ غِلمانِ تو
یک نظر فرما کہ تا کوتہ شود جنگ و جدال
خلق محتاج است سوئے جذبۂ بُرہانِ تو
یک نشاں بنماکہ تا نورت درخشد درجہاں
تا شود ہر منکر ملت محامد خوانِ تو
گر زمیں زیر و زبر گردد ندارم ہیچ غم
غم ہمیں دارم کہ گُم گردد رہِ رخشانِ تو
گفتگو و بحث در دیں درد سربسیار ہست
قصّہ کو تہ کن بآیاتِ عظیم الشانِ تو
از زلازل جُنبشے دِہ فطرتِ اغیار را
تا مگر آیند ترساں سوئے آں ایوانِ تو
چشمۂ رحمت رواں کن در لباسِ زلزلہ
تابکے سوزد بغم ایں بندۂ گریانِ تو