فہرست

ٹائیٹل بار اوّل

Title Page Edition 1

نمونہ دعائے مستجاب ٭

انیس ہند میرٹھ اور ہماری پیشگوئی پر اعتراض

اس اخبار کا پرچہ مطبوعہ ۲۵ مارچ ۱۸۹۳ء جس میں میری اس پیشگوئی کی نسبت جو لیکھرام پشاوری کے بارے میں میں نے شائع کی تھی کچھ نکتہ چینی ہے مجھ کو ملا۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض اور اخباروں پر بھی یہ کلمۃ الحق شاق گذرا ہے اور حقیقت میں میرے لئے خوشی کا مقام ہے کہ یوں خود مخالفوں کے ہاتھوں اس کی شہرت اور اشاعت ہو رہی ہے سو میں اس وقت اس نکتہ چینی کے جواب میں صرف اس قدر لکھنا کافی سمجھتا ہوں کہ جس طور اور طریق سے خدا تعالیٰ نے چاہا اسی طور سے کیا میرا اس میں دخل نہیں ہاں یہ سوال کہ ایسی پیشگوئی مفید نہیں ہوگی اور اس میں شبہات باقی رہ جائیں گے اس اعتراض کی نسبت میں خوب سمجھتا ہوں کہ یہ پیش از وقت ہے میں اس بات کا خود اقراری ہوں اور اب پھر اقرار کرتا ہوں کہ اگر جیسا کہ معترضوں نے خیال فرمایا ہے پیشگوئی کا ماحصل آخر کار یہی نکلا کہ کوئی معمولی تپ آیا یا معمولی طور پر کوئی درد ہوا یا ہیضہ ہوا اور پھر اصلی حالت صحت کی قائم ہوگئی تو وہ پیشگوئی متصور نہیں ہوگی اور بلاشبہ ایک مکر اور فریب ہوگا کیونکہ ایسی بیماریوں سے تو کوئی بھی خالی نہیں ہم سب کبھی نہ کبھی بیمار ہو جاتے ہیں پس اس صورت میں بلاشبہ میں اس سزا کے لائق ٹھہروں گا جس کا ذکر میں نے کیا ہے لیکن اگر پیشگوئی کا ظہور اس طور سے ہوا کہ جس میں قہر الٰہی کے نشان صاف صاف اور کھلے طور پر دکھائی دیں تو پھر سمجھو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ پیشگوئی کی ذاتی عظمت اور ہیبت دنوں اوروقتوں کے مقرر کرنے کی محتاج نہیں اس بارے میں تو زمانہ نزول عذاب کی ایک حدمقرر کردینا کافی ہے پھر اگر پیشگوئی فی الواقعہ ایک عظیم الشان ہیبت کے ساتھ ظہورپذیر ہوتو وہ خود دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے اوریہ سارے خیالات اوریہ تمام نکتہ چینیاں جوپیش از وقت دلوں میں پیدا ہوتی ہیں ایسی معدوم ہوجاتی ہیں کہ منصف مزاج اہل الرائے ایک انفعال کے ساتھ اپنی رایوں سے رجوع کرتے ہیں۔ ماسوا اس کے یہ عاجز بھی تو قانون قدرت کے تحت میں ہے اگرمیری طرف سے بنیاد اس پیشگوئی کی صرف اسی قدر ہے کہ میں نے صرف یاوہ گوئی کے طورپر چند احتمالی بیماریوں کو ذہن میں رکھ کراور اٹکل سے کام لے کریہ پیشگوئی شائع کی ہے توجس شخص کی نسبت یہ پیشگوئی ہے وہ بھی توایسا کرسکتا ہے کہ انہی اٹکلوں کی بنیاد پر میری نسبت کوئی پیشگوئی کردے بلکہ میں راضی ہوں کہ بجائے چھ برس کے جو میں نے اس کے حق میں میعاد مقرر کی ہے وہ میرے لئے دس برس لکھ دے لیکھرام کی عمراس وقت شاید زیادہ سے زیادہ تیس برس کی ہوگی اور وہ ایک جوان قوی ہیکل عمدہ صحت کاآدمی ہے اور اس عاجز کی عمراس وقت پچاس برس سے کچھ زیادہ ہے اور ضعیف اوردائم المرض اور طرح طرح کے عوارض میں مبتلا ہے پھرباوجود اس کے مقابلہ میں خود معلوم ہوجائے گا کہ کونسی بات انسان کی طرف سے ہے اورکونسی بات خدا تعالیٰ کی طرف سے۔ اور معترض کا یہ کہناکہ ایسی پیشگوئیوں کا اب زمانہ نہیں ہے ایک معمولی فقرہ ہے جواکثر لوگ منہ سے بول دیاکرتے ہیں میری دانست میں تو مضبوط اور کامل صداقتوں کے قبول کرنے کیلئے یہ ایک ایسا زمانہ ہے کہ شائد اسکی نظیرپہلے زمانوں میں کوئی بھی نہ مل سکے۔ ہاں اس زمانہ سے کوئی فریب اورمکر مخفی نہیں رہ سکتامگر یہ تو را ستبازوں کیلئے اور بھی خوشی کا مقام ہے کیونکہ جو شخص فریب اورسچ میں فرق کرنا جانتاہے وہی سچائی کی دل سے عزت کرتا ہے اوربخوشی اور دوڑکر سچائی کو قبول کرلیتا ہے اور سچائی میں کچھ ایسی کشش ہوتی ہے کہ وہ آپ قبول کرالیتی ہے۔ ظاہر ہے کہ زمانہ صدہاایسی نئی باتوں کو قبول کرتاجاتا ہے جو لوگوں کے باپ دادوں نے قبول نہیں کی تھیں اگر زمانہ صداقتوں کا پیاسا نہیں تو پھر کیوں ایک عظیم الشان انقلاب اس میں شروع ہے زمانہ بیشک حقیقی صداقتوں کا دوست ہے نہ دشمن اور یہ کہنا کہ زمانہ عقلمند ہے اور سیدھے سادے لوگوں کا وقت گذر گیا ہے یہ دوسرے لفظوں میں زمانہ کی مذمت ہے گویا یہ زمانہ ایک ایسا بد زمانہ ہے کہ سچائی کو واقعی طور پر سچائی پاکر پھر اس کو قبول نہیں کرتا لیکن میں ہرگز قبول نہیں کروں گا کہ فی الواقع ایسا ہی ہے کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ زیادہ تر میری طرف رجوع کرنے والے اور مجھ سے فائدہ اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جو نو تعلیم یافتہ ہیں جو بعض ان میں سے بی اے اور ایم اے تک پہنچے ہوئے ہیں اور میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ یہ نو تعلیم یافتہ لوگوں کا گروہ صداقتوں کو بڑے شوق سے قبول کرتا جاتا ہے اور صرف اسی قدر نہیں بلکہ ایک نو مسلم اور تعلیم یافتہ یوریشین انگریزوں کا گروہ جن کی سکونت مدراس کے احاطہ میں ہے ہماری جماعت میں شامل اور تمام صداقتوں پر یقین رکھتے ہیں۔ اب میں خیال کرتا ہوں کہ میں نے وہ تمام باتیں لکھ دی ہیں جو ایک خدا ترس آدمی کے سمجھنے کیلئے کافی ہیں آریوں کا اختیار ہے کہ میرے اس مضمون پر بھی اپنی طرف سے جس طرح چاہیں حاشیے چڑھاویں مجھے اس بات پر کچھ بھی نظر نہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس وقت اس پیشگوئی کی تعریف کرنا یا مذمت کرنا دونوں برابر ہیں اگر یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور میں خوب جانتا ہوں کہ اسی کی طرف سے ہے تو ضرور ہیبت ناک نشان کے ساتھ اس کا وقوعہ ہوگا اور دلوں کو ہلا دے گا اور اگر اس کی طرف سے نہیں تو پھر میری ذلت ظاہر ہوگی اور اگر میں اس وقت رکیک تاویلیں کروں گا تو یہ اور بھی ذلت کا موجب ہوگا وہ ہستی قدیم اور وہ پاک و قدوس جو تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے وہ کاذب کو کبھی عزت نہیں دیتا یہ بالکل غلط بات ہے کہ لیکھرام سے مجھ کو کوئی ذاتی عداوت ہے مجھ کو ذاتی طور پر کسی سے بھی عداوت نہیں بلکہ اس شخص نے سچائی سے دشمنی کی اور ایک ایسے کامل اور مقدس کو جو تمام سچائیوں کا چشمہ تھا توہین سے یاد کیا اس لئے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے ایک پیارے کی دنیا میں عزت ظاہر کرے۔

وَالسّلام علٰی من اتبع الھدیٰ


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

سیّد احمد خان صاحب کے۔ سی۔ ایس ۔آئی ۔کے رسالہ الدعا والاستجابۃ اور رسالہ تحریر فی اصول التفسیر پر ایک نظر

اے اسیر عقل خود بر ہستی خود کم بناز

کین سپہر بوالعجائب چون تو بسیار آورد

غیر را ہرگز نمی باشد گزر در کویٔ حق

ہر کہ آید ز آسمان او رازِ آن یار آورد

خودبخود فہمیدن قرآن گمانِ باطل است

ہر کہ از خود آورد او نجس و ُمردار آورد

سیّد صاحب اپنے رسالہ مندرجہ عنوان میں دعا کی نسبت اپنا یہ عقیدہ ظاہر کرتے ہیں کہ استجابت دعا کے یہ معنے نہیں ہیں کہ جو کچھ دعا میں مانگا گیا ہے وہ دیا جائے کیونکہ اگر استجابت دعا کے یہی معنے ہوں کہ وہ سوال بہرحال پورا کر دیا جائے تو دو مشکلیں پیش آتی ہیں اوّل یہ کہ ہزاروں دعائیں نہایت عاجزی اور اضطراری سے کی جاتی ہیں مگر سوال پورا نہیں ہوتا جس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ دعا قبول نہیں ہوئی حالانکہ خدا نے استجابت دعا کا وعدہ کیا ہے۔ دوسری یہ کہ جو امور ہونے والے ہیں وہ مقدّر ہیں اور جو نہیں ہونے والے وہ بھی مقدّر ہیں۔ اُن مقدرات کے برخلاف ہرگز نہیں ہو سکتا پس اگر استجابت دعا کے معنے سوال کا پورا کرنا قرار دئیے جائیں تو خدا کا یہ وعدہ کہ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ (المؤمن: ۶۱) ان سوالوں پر جن کا ہونا مقدر نہیں ہے صادق نہیں آ سکتا یعنی ان معنوں کی رو سے یہ عام وعدہ استجابت دعا کا باطل ٹھہرے گا کیونکہ سوالوں کا وہی حصہ پورا کیا جاتا ہے جس کا پورا کیا جانا مقدر ہے۔ لیکن استجابت دعا کا وعدہ عام ہے جس میں کوئی بھی استثناء نہیں پھر جس حالت میں بعض آیتیں ظاہر کر رہی ہیں کہ جن چیزوں کا دیا جانا مقدّر نہیں وہ ہرگز دی نہیں جاتیں اور بعض آیتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی دعا رد نہیں ہوتی اور سب کی سب قبول کی جاتی ہیں اور نہ صرف اسی قدر بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمام دعاؤں کے قبول کرنے کا وعدہ کرلیا ہے جیسا کہ آیت ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ ظاہر ہے پھر اس تناقض اور تعارض آیات سے بجز اس کے کیونکر مَخلصی حاصل ہو کہ استجابت دعا سے عبادت کا قبول کرنا مراد لیا جائے یعنی یہ معنے کئے جائیں کہ دعا ایک عبادت ہے اور جب وہ دل سے اور خشوع اور خضوع سے کی جائے تو اُس کے قبول کرنے کا خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے پس استجابت دعا کی حقیقت بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ وہ دعا ایک عبادت متصور ہو کر اس پر ثواب مترتب ہوتا ہے ہاں اگر مقدّر میں ایک چیز کا ملنا ہے اور اتفاقاً اس کے لئے دعا بھی کی گئی تو وہ چیز مل جاتی ہے مگر نہ دعا سے بلکہ اس کاملنا مقدّر تھا اور دعا میں بڑا فائدہ یہ ہے کہ جب دعا کرنے کے وقت خدا کی عظمت اور بے انتہا قدرت کا خیال اپنے دل میں جمایا جاتا ہے تو وہ خیال حرکت میں آکر ان تمام خیالات پر جن سے اضطرار پیدا ہوا ہے غالب ہو جاتا ہے اور انسان کو صبر اور استقلال پیدا ہو جاتا ہے اور ایسی کیفیت کا دل میں پیدا ہو جانا لازمہ عبادت ہے اور یہی دعا کا مستجاب ہونا ہے پھر سیّد صاحب اپنے رسالہ کے اخیر میں لکھتے ہیں کہ جو لوگ حقیقت دعا سے ناواقف اور جو حکمت اس میں ہے اس سے بے خبر ہیں وہ کہہ سکتے ہیں کہ جب یہ امر مسلّم ہے کہ جو مقدر نہیں ہے وہ نہیں ہونے کا تو دعا سے کیا فائدہ ہے یعنی جب کہ مقدر بہرحال مل رہے گا خواہ دعا کرو یا نہ کرو اور جس کا ملنا مقدر نہیں اس کے لئے ہزاروں دعائیں کئے جاؤ کچھ فائدہ نہیں تو پھر دعا کرنا ایک امر عبث ہے اس کے جواب میں سیّد صاحب فرماتے ہیں کہ اضطرار کے وقت اِستمداد کی خواہش رکھنا انسان کی فطرت کا خاصہ ہے سو انسان اپنے فطرتی خاصہ سے دعا کرتا ہے بلا خیال اس کے کہ وہ ہوگا یا نہیں اور بمقتضائے اس کی فطرت کے اس کو کہا گیا ہے کہ خدا ہی سے مانگو جو مانگو۔

اس تمام تحریر سے جس کو ہم نے بطور خلاصہ اوپر لکھ دیا ہے ثابت ہوا کہ سیّد صاحب کا یہ مذہب ہے کہ دعا ذریعہ حصولِ مقصود نہیں ہو سکتی اور نہ تحصیل مقاصد کے لئے اس کا کچھ اثر ہے اور اگر دعا کرنے سے کسی داعی کا فقط یہی مقصد ہو کہ بذریعہ دعا کوئی سوال پورا ہوجائے تو یہ خیال عبث ہے کیونکہ جس امر کا ہونا مقدر ہے اس کے لئے دعا کی حاجت نہیں اور جس کا ہونا مقدر نہیں ہے اس کے لئے تضرع و ابتہال بے فائدہ ہے۔ غرض اس تقریر سے بتمام تر صفائی کھل گیا کہ سیّد صاحب کا یہی عقیدہ ہے کہ دعا صرف عبادت کے لئے موضوع ہے اور اس کو کسی دنیوی مطلب کے حصول کا ذریعہ قرار دینا طمع خام ہے۔

اب واضح ہو کہ سیّد صاحب کو قرآنی آیات کے سمجھنے میں سخت دھوکا لگا ہوا ہے مگر ہم انشاء اللہ تعالیٰ اس دھوکے کی کیفیت کو اس مضمون کے اخیر میں بیان کریں گے اس وقت ہم نہایت افسوس سے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگر سیّد صاحب قرآن کریم کے سمجھنے میں فہم رسا نہیں رکھتے تھے تو کیا وہ قانونِ قدرت بھی جس کی پیروی کا وہ دم مارتے ہیں اور جس کو وہ خدا تعالیٰ کی فعلی ہدایت اور قرآن کریم کے اسرار غامضہ کا مفسر قرار دیتے ہیں اس مضمون کے لکھنے کے وقت ان کی نظر سے غائب تھا؟ کیا سیّد صاحب کو معلوم نہیں کہ اگرچہ دنیا کی کوئی خیر و شر مقدر سے خالی نہیں تاہم قدرت نے ا س کے حصول کے لئے ایسے اسباب مقرر کر رکھے ہیں جن کے صحیح اور سچے اثر میں کسی عقلمند کو کلام نہیں مثلاً اگرچہ مقدر پر لحاظ کر کے دوا کا کرنا نہ کرنا درحقیقت ایسا ہی ہے جیسا کہ دعا یا ترک دعا مگر کیا سیّد صاحب یہ رائے ظاہر کر سکتے ہیں کہ مثلاً علم طب سراسر باطل ہے اور حکیم حقیقی نے دواؤں میں کچھ بھی اثر نہیں رکھا۔ پھر اگر سیّد صاحب باوجود ایمان بالتقدیر کے اس بات کے بھی قائل ہیں کہ دوائیں بھی اثر سے خالی نہیں تو پھر کیوں خدا تعالیٰ کے یکساں اور متشابہ قانون میں فتنہ اور تفریق ڈالتے ہیں؟ کیا سیّد صاحب کا یہ مذہب ہے کہ خداتعالیٰ اس بات پر تو قادر تھا کہ تربد اور سقمونیا اور سنا اور حب الملوک میں تو ایسا قوی اثر رکھے کہ ان کی پوری خوراک کھانے کے ساتھ ہی دست چھوٹ جائیں یا مثلاً سم الفار اور بیش اور دوسری ہلاہل زہروں میں وہ غضب کی تاثیر ڈال دی کہ ان کا کامل قدر شربت چند منٹوں میں ہی اس جہان سے رخصت کر دے لیکن اپنے برگزیدوں کی توجہ اور عقد ہمت اور تضرع کی بھری ہوئی دعاؤں کو فقط مردہ کی طرح رہنے دے جن میں ایک ذرّہ بھی اثر نہ ہو؟ کیا یہ ممکن ہے کہ نظامِ الٰہی میں اختلاف ہو اور وہ ارادہ جو خدا تعالیٰ نے دواؤں میں اپنے بندوں کی بھلائی کے لئے کیا تھا وہ دعاؤں میں مرعی نہ ہو؟ نہیں نہیں ! ہرگز نہیں ! بلکہ خود سیّد صاحب دعاؤں کی حقیقی فلاسفی سے بے خبر ہیں اور ان کی اعلیٰ تاثیروں پر ذاتی تجربہ نہیں رکھتے اور ان کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی ایک مدت تک ایک پرانی اور سال خوردہ اور مسلوب القویٰ دوا کو استعمال کرے اور پھر اس کو بے اثر پاکر اس دوا پر عام حکم لگادے کہ اسمیں کچھ بھی تاثیر نہیں۔ افسوس ! صد افسوس کہ سیّد صاحب باوجودیکہ پیرانہ سالی تک پہنچ گئے مگر اب تک اُن پر یہ سلسلۂ نظام قدرت مخفی رہا کہ کیونکر قضا و قدر کو اسباب سے وابستہ کر دیا گیا ہے اور کس قدر یہ سلسلہ اسباب اور مسببات کا باہم گہرے اور لازمی تعلقات رکھتاہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس دھوکے میں پھنس گئے کہ انہوں نے خیال کرلیا کہ گویا بغیر ان اسباب کے جو قدرت نے روحانی اور جسمانی طور پر مقرر کر رکھے ہیں کوئی چیز ظہور پذیرہو سکتی ہے۔ یوں تو دنیا میں کوئی چیز بھی مقدر سے خالی نہیں مثلاً جو انسان آگ اور پانی اور ہوا اور مٹی اور اناج اور نباتات اور حیوانات و جمادات وغیرہ سے فائدہ اٹھاتا ہے وہ سب مقدرات ہی ہیں لیکن اگر کوئی نادان ایسا خیال کرے کہ بغیر ان تمام اسباب کے جو خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھے ہیں اور بغیر ان راہوں کے جو قدرت نے معیّن کر دی ہیں ایک چیز بغیر توسط جسمانی یا روحانی وسائل کے حاصل ہو سکتی ہے تو ایسا شخص گویا خدا تعالیٰ کی حکمت کو باطل کرنا چاہتا ہے۔ میں نہیں دیکھتا کہ سیّد صاحب کی تقریر کا بجز اس کے کچھ اور بھی ماحصل ہے کہ وہ دعا کو منجملہ ان اسباب مؤثرہ کے نہیں سمجھتے جن کو انہوں نے بڑی مضبوطی سے تسلیم کیا ہوا ہے بلکہ اس راہ میں حد سے زیادہ آگے قدم رکھ دیا ہے مثلاً اگر سیّد صاحب کے پاس آگ کی تاثیر کا ذکر کیا جائے تو وہ ہرگز اس سے منکر نہیں ہوں گے اور ہرگز یہ نہیں کہیں گے کہ اگر کسی کا جلنا مقدّر ہے تو بغیر آگ کے بھی جل رہے گا تو پھر میں حیران ہوں کہ وہ باوجود مسلمان ہونے کے دعا کی تاثیروں سے جو آگ کی طرح کبھی اندھیرے کو روشن کر دیتی ہیں اور کبھی گستاخ دست انداز کا ہاتھ جلا دیتی ہیں کیوں منکر ہیں کیا ان کو دعاؤں کے وقت تقدیر یاد آجاتی ہے اور جب آگ وغیرہ کا ذکر کریں تو پھر تقدیر بھول جاتی ہے؟ کیا ان دونوں چیزوں پر ایک ہی تقدیر حاوی نہیں ہے؟ پھر جس حالت میں باوجود تقدیر ماننے کے وہ اسباب مؤثرہ کو اس شدت سے مانتے ہیں کہ اس کے غلومیں وہ بدنام بھی ہوگئے ہیں تو پھر اس کا کیا موجب ہے کہ وہ نظام قدرت جس کو وہ تسلیم کر چکے ہیں دعا میں ان کو یاد نہیں رہا یہاں تک کہ مکھی میں تو کچھ تاثیر ہے مگر دعا میں اتنی بھی نہیں۔ پس اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ اس کوچہ سے بے خبر ہیں اور نہ ذاتی تجربہ اور نہ تجربہ والوں کی ان کو صحبت ہے۔

اب ہم فائدہ عام کے لئے کچھ استجابت دعا کی حقیقت ظاہر کرتے ہیں سو واضح ہو کہ استجابت دعا کا مسئلہ درحقیقت دعا کے مسئلہ کی ایک فرع ہے اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس شخص نے اصل کو سمجھا ہوا نہیں ہوتا اس کو فرع کے سمجھنے میں پیچیدگیاں واقع ہوتی ہیں اور دھوکے لگتے ہیں پس یہی سبب سیّد کی غلط فہمی کا ہے۔ اور دعا کی ماہیت یہ ہے کہ ایک سعید بندہ اور اس کے ربّ میں ایک تعلق مجاذبہ ہے یعنی پہلے خدا تعالیٰ کی رحمانیت بندہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے پھر بندہ کے صدق کی کششوں سے خدا تعالیٰ اس سے نزدیک ہو جاتا ہے اور دعا کی حالت میں وہ تعلق ایک خاص مقام پر پہنچ کر اپنے خواصِ عجیبہ پیدا کرتا ہے سو جس وقت بندہ کسی سخت مشکل میں مبتلا ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف کامل یقین اور کامل امید اور کامل محبت اور کامل وفاداری اور کامل ہمت کے ساتھ جھکتا ہے اور نہایت درجہ کا بیدار ہو کر غفلت کے پردوں کو چیرتا ہوا فنا کے میدانوں میں آگے سے آگے نکل جاتا ہے پھر آگے کیا دیکھتا ہے کہ بارگاہ الوہیت ہے اور اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں تب اس کی روح اس آستانہ پر سر رکھ دیتی ہے اور قوتِ جذب جو اس کے اندر رکھی گئی ہے وہ خدا تعالیٰ کی عنایات کو اپنی طرف کھینچتی ہے تب اللہ جل شانہٗ اس کام کے پورا کرنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس دعا کا اثر ان تمام مبادی اسباب پر ڈالتا ہے جن سے ایسے اسباب پیدا ہوتے ہیں جو اس مطلب کے حاصل ہونے کے لئے ضروری ہیں۔ مثلاً اگر بارش کے لئے دعا ہے تو بعد استجابت دعا کے وہ اسباب طبعیہ جو بارش کے لئے ضروری ہوتے ہیں اس دعا کے اثر سے پیدا کئے جاتے ہیں۔ اور اگر قحط کے لئے بد دعا ہے تو قاد رمطلق مخالفانہ اسباب کو پیدا کر دیتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ بات اربابِ کشف اور کمال کے نزدیک بڑے بڑے تجارب سے ثابت ہوچکی ہے کہ کامل کی دعا میں ایک قوتِ تکوین پیدا ہو جاتی ہے یعنی بِاذنہٖ تعالیٰ وہ دعا عالم سفلی اور علوی میں تصرف کرتی ہے اور عناصر اور اجرام فلکی اور انسانوں کے دلوں کو اس طرف لے آتی ہے جو طرف مؤیّد مطلوب ہے۔ خدا تعالیٰ کی پاک کتابوں میں اس کی نظیریں کچھ کم نہیں ہیں بلکہ اعجاز کی بعض اقسام کی حقیقت بھی دراصل استجابت دعا ہی ہے اور جس قدر ہزاروں معجزات انبیا سے ظہور میں آئے ہیں یا جو کچھ کہ اولیائے کرام ان دنوں تک عجائب کرامات دکھلاتے رہے اس کا اصل اور منبع یہی دُعا ہے اور اکثر دعاؤں کے اثر سے ہی طرح طرح کے خوارق قدرت قادر کا تماشا دکھلا رہے ہیں وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گزرا کہ لاکھوں مُردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہوگئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الٰہی رنگ پکڑ گئے۔ او رآنکھوں کے اندھے بینا ہوئے۔ اور گونگوں کی زبان پر الٰہی معارف جاری ہوئے۔ اور دنیا میں یکدفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا ۔اور نہ کسی کان نے سنا ۔ کچھ جانتے ہو کہ وہ کیاتھا ؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچا دیا۔اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اُس اُمی بیکس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔ اللھم صل و سلم و بارک علیہ وآلہ بعدد ھمہ و غمہ وحزنہ لھٰذہ الا مۃ و انزل علیہ انوار رحمتک الی الابد۔اور میں اپنے ذاتی تجربہ سے بھی دیکھ رہا ہوں کہ دعاؤں کی تاثیر آب و آتش کی تاثیر سے بڑھ کر ہے۔ بلکہ اسباب طبعیہ کے سلسلہ میں کوئی چیز ایسی عظیم التاثیر نہیں جیسی کہ دعا ہے ۔

اور اگر یہ شبہ ہو کہ بعض دعائیں خطا جاتی ہیں اور اُن کا کچھ اثرمعلوم نہیں ہوتا تو میں کہتا ہوں کہ یہی حال دواؤں کا بھی ہے ۔ کیا دوا ؤں نے موت کادروازہ بند کر دیا ہے؟ یا اُن کا خطا جانا غیر ممکن ہے ؟ مگر کیا باوجود اس بات کے کوئی اُن کی تاثیر سے انکار کرسکتا ہے ؟یہ سچ ہے کہ ہر ایک امر پر تقدیر محیط ہو رہی ہے۔ مگر تقدیر نے علوم کو ضائع اور بے حرمت نہیں کیا اور نہ اسباب کو بے اعتبار کر کے دکھلایا۔بلکہ اگر غور کر کے دیکھو تو یہ جسمانی اور روحانی اسباب بھی تقدیر سے باہر نہیں ہیں۔ مثلاً اگر ایک بیمار کی تقدیر نیک ہو تو اسباب علاج پورے طور میسر آجاتے ہیں اور جسم کی حالت بھی ایسے درجہ پر ہوتی ہے کہ وہ ان سے نفع اٹھانے کے لئے مستعد ہوتا ہے۔ تب دوا نشانہ کی طرح جا کر اثر کرتی ہے۔ یہی قاعدہ دعا کا بھی ہے۔ یعنی دعا کے لئے بھی تمام اسباب وشرائط قبولیت اُسی جگہ جمع ہوتے ہیں جہاں ارادۂ الٰہی اُس کے قبول کرنے کا ہے ۔ خدا تعالیٰ نے اپنے نظام جسمانی اور روحانی کو ایک ہی سلسلہ مؤثرات اور متأثرات میں باندھ رکھا ہے ۔ پس سیّد صاحب کی سخت غلطی ہے کہ وہ نظامِ جسمانی کا تو اقرار کرتے ہیں مگر نظامِ روحانی سے منکر ہو بیٹھے ہیں!

بالآخر میں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر سیّد صاحب اپنے اس غلط خیال سے توبہ نہ کریں اور یہ کہیں کہ دعاؤں کے اثر کا ثبوت کیا ہے۔ تو میں ایسی غلطیوں کے نکالنے کے لیے مامور ہوں ۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اپنی بعض دعاؤں کی قبولیت سے پیش از وقت سیّد صاحب کو اطلاع دوں گا۔ اور نہ صرف اطلاع بلکہ چھپوا دوں گا مگر سیّد صاحب ساتھ ہی یہ بھی اقرار کریں کہ وہ بعد ثابت ہوجانے میرے دعویٰ کے اپنے اس غلط خیال سے رجوع کریں گے ۔

سیّد صاحب کا یہ قول ہے کہ گویا قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے تمام دعاؤں کے قبول کرنے کاوعدہ فرمایا ہے حالانکہ تمام دعائیں قبول نہیں ہوتیں یہ اُن کی سخت غلط فہمی ہے۔ اور یہ آیت ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ اُن کے مدعا کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتی کیونکہ یہ دعا جو آیت ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ میں بطور امر کے بجالانے کے لئے فرمائی گئی ہے۔ اس سے مراد معمولی دعائیں نہیں ہیں بلکہ وہ عبادت ہے جو انسان پر فرض کی گئی ہے کیونکہ امر کا صیغہ یہاں فرضیت پر دلالت کرتاہے۔ اور ظاہر ہے کہ کل دعائیں فرض میں داخل نہیں ہیں بلکہ بعض جگہ اللہ جَلّ شانہ نے صابرین کی تعریف کی ہے جو اِنَّالِلّٰہ پر ہی کفایت کرتے ہیں۔ اور اس دعا کی فرضیت پر بڑا قرینہ یہ ہے کہ صرف امر پر ہی کفایت نہیں کی گئی بلکہ اس کو عبادت کے لفظ سے یاد کرکے بحالت نافرمانی عذاب جہنم کی وعید اس کے ساتھ لگا دی گئی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ دوسری دعاؤں میں یہ وعیدنہیں بلکہ بعض اوقات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو دعا مانگنے پر زجر و توبیخ کی گئی ہے چنانچہ اِنِّیۡۤ اَعِظُکَ اَنۡ تَکُوۡنَ مِنَ الۡجٰہِلِیۡنَ (ھود: ۴۷) اس پر شاہد ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر ہر دعا عبادت ہوتی تو حضرت نوح علیہ السلام کو لَا تَسْئَلْنِ ۳؎ کا تازیانہ کیوں لگایا جاتا ! اور بعض اوقات اولیا اور انبیا دعاکرنے کو سوء ادب سمجھتے رہے ہیں اور صلحاء نے ایسی دعاؤں میں استفتاء قلب پر عمل کیا ہے یعنی اگر مصیبت کے وقت دل نے دعا کرنے کا فتویٰ دیا تو دعا کی طرف متوجہ ہوئے اور اگر صبر کے لئے فتویٰ دیا تو پھر صبر کیا اور دعا سے منہ پھیر لیا۔ ماسوا اس کے اللہ تعالیٰ نے دوسری دعاؤں میں قبول کرنے کا وعدہ نہیں کیا بلکہ صاف فرمادیا ہے کہ چاہوں تو قبول کروں اور چاہوں تو ردّ کروں جیسا کہ یہ آیت قرآن کی صاف بتلا رہی ہے اور وہ یہ ہے بَلۡ اِیَّاہُ تَدۡعُوۡنَ فَیَکۡشِفُ مَا تَدۡعُوۡنَ اِلَیۡہِ اِنۡ شَآءَ (الانعام: ۴۲) سورۃ الانعام الجزء نمبر۷ اور اگر ہم تنزّلًا مان بھی لیں کہ اس مقام میں لفظ اُدْعُوْ سے عام طور پر دعا ہی مرادہے تو ہم اس بات کے ماننے سے چارہ نہیں دیکھتے کہ یہاں دعا سے وہ دعا مراد ہے جو بجمیع شرائط ہو۔ اور تمام شرائط کو جمع کرلینا انسان کے اختیار میں نہیں جب تک توفیق ازلی یاور نہ ہو اور یہ بھی یاد رہے کہ دعا کرنے میں صرف تضرع کافی نہیں ہے بلکہ تقویٰ اور طہارت اور راست گوئی اور کامل یقین اور کامل محبت اور کامل توجہ اور یہ کہ جو شخص اپنے لئے دعا کرتاہے یا جس کے لئے دعا کی گئی ہے اُس کی دنیا اور آخرت کے لئے اس بات کا حاصل ہونا خلاف مصلحت الٰہی بھی نہ ہو کیونکہ بسا اوقات دعا میں اور شرائط تو سب جمع ہو جاتے ہیں مگر جس چیز کو مانگا گیا ہے وہ عند اللہ سائل کے لئے خلاف مصلحت الٰہی ہوتی ہے۔ اور اس کے پورا کرنے میں خیر نہیں ہوتی۔ مثلاً اگر کسی ماں کا پیارا بچہ بہت الحاح اور رونے سے یہ چاہے کہ وہ آگ کا ٹکڑا یا سانپ کا بچہ اس کے ہاتھ میں پکڑا دے یا ایک زہر جو بظاہر خوبصورت معلوم ہوتی ہے اس کو کھلا دے تو یہ سوال اس بچہ کا ہرگز اُس کی ماں پورا نہیں کرے گی۔ اور اگر پورا کردیوے اور اتفاقاََ بچہ کی جان بچ جاوے لیکن کوئی عضو اس کا بے کار ہو جاوے تو بلوغ کے بعد وہ بچہ اپنی اس احمق والدہ کا سخت شاکی ہوگا اور بجز اس کے اور بھی کئی شرائط ہیں کہ جب تک وہ تمام جمع نہ ہوں اُس وقت تک دعا کو دعا نہیں کہہ سکتے۔ اور جب تک کسی دعا میں پوری روحانیت داخل نہ ہو اور جس کے لئے دعا کی گئی ہے اور جو دعا کرتا ہے ان میں استعدادِ قریبہ پیدا نہ ہو تب تک توقع اثرِدعا امید موہوم ہے۔ اور جب تک ارادہ ٔ الٰہی قبولیت دعا کے متعلق نہیں ہوتاتب تک یہ تمام شرائط جمع نہیں ہوتیں۔ اور ہمتیں پوری توجہ سے قاصر رہتی ہیں۔ سیّد صاحب اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ دارِ آخرت کی سعادتیں او رنعمتیں اور لذتیں اور راحتیں جن کی نجات سے تعبیر کی گئی ہے ایمان اور ایمانی دعاؤں کا نتیجہ ہیں پھر جبکہ یہ حال ہے تو سیّد صاحب کو ماننا پڑا کہ بلاشبہ ایک مومن کی دعائیں اپنے اندر اثر رکھتی ہیں اور آفات کے دور ہونے اور مرادات کے حاصل ہونے کا موجب ہوجاتی ہیں کیونکہ اگر موجب نہیں ہوسکتیں تو پھر کیا وجہ کہ قیامت میں موجب ہوجائیں گی۔ سوچو اور خوب سوچو کہ اگر درحقیقت دعا ایک بے تاثیر چیز ہے اور دنیا میں کسی آفت کے دور ہونے کا موجب نہیں ہو سکتی تو کیا وجہ کہ قیامت کو موجب ہوجائے گی؟ یہ بات تو نہایت صاف ہے کہ اگر ہماری دعاؤں میں آفات سے بچنے کے لئے درحقیت کوئی تاثیر ہے تو وہ تاثیر اس دنیا میں بھی ظاہر ہونی چاہیے تا ہمارا یقین بڑھے اور امید بڑھے اور تا آخرت کی نجات کے لئے ہم زیادہ سرگرمی سے دعائیں کریں۔ اور اگر درحقیقت دعا کچھ چیز نہیں صرف پیشانی کا نوشتہ پیش آنا ہے تو جیسا دنیا کی آفات کے لئے بقول سیّد صاحب دعا عبث ہے اسی طرح آخرت کے لئے بھی عبث ہوگی اور اس پر اُمید رکھنا طمع خام۔ اب میں اس بارے میں اس سے زیادہ لکھنا نہیں چاہتا کیونکہ ناظرین باانصاف میرے اس بیان کو غور سے پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں کہ میں نے سیّد صاحب کی غلط فہمی کا ثبوت کافی دے دیا ہے۔ ماسوا اس کے اگر سیّد صاحب اب بھی اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آویں تو ایک دوسرا طریق بھی اُن پر حجت پورا کرنے کے لئے لکھا گیا ہے۔ اگر وہ طالب حق ہونگے تو اعراض نہیں کریں گے۔ اور سیّد صاحب کی دوسری کتاب جس کا نام تحریر فی اصول التفسیر ہے۔ اُن کی اس کتاب سے بالکل مناقض اور مغائر پڑی ہوئی ہے۔ گویا سیّد صاحب نے کسی مدہوشی کی حالت میں یہ دونوں رسالے لکھے ہیں۔ کیونکہ سیّد صاحب استجابت دعا کے رسالہ میں تو تقدیر کو مقدم رکھتے ہیں۔ اور اسباب عادیہ کو گویا ہیچ خیال کرتے ہیں اور اسی بنا پر استجابت دعا سے انکار کرتے ہیں کیونکہ دعا منجملہ اسباب عادیہ کے ہے جس پر ایک لاکھ سے زیادہ نبی اور کئی کروڑ ولی گواہی دیتا چلا آیا ہے ٭ اور نبیوں کے ہاتھ میں بجز دعا کے اور کیا تھا۔ اور دوسرے رسالہ میں گویا سیّد صاحب تقدیر کو کچھ چیز ہی نہیں سمجھتے کیونکہ تمام اشیاء کو انہوں نے ایک مستقل وجود قرار دے دیا ہے کہ گویا وہ تمام چیزیں خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے نکل گئی ہیں۔ اب اس کو ان کی تبدیل اور تغییر پر کچھ بھی اختیار نہیں۔ اورگویا اُس کی خدائی فقط ایک تنگ دائرہ میں محدود ہے اور اُس کے قادرانہ تصرفات آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئے ہیں۔ اور جو اشیاء پر حالت وارد ہے وہ اُس کی تقدیر نہیں بلکہ اب وہ مخلوقات کی ایک ذاتی خاصیت ہے جو قابل تغیر و تبدیل نہیں کیونکہ تقدیر کے مفہوم کو اختیار مقدّر لازم پڑا ہوا ہے۔ پس ظاہر ہے کہ جن خواص پر خدا تعالیٰ کا کچھ بھی اختیار باقی نہیں رہا۔ تو پھر اُن خواص کو اُس کی تقدیر کیونکر کہنا چاہیے اور اگر اختیار ہے تو پھر امکان تبدیل باقی ہے ۔غرض سیّد صاحب نے اس دوسرے رسالہ میں مقدّر حقیقی کی حکومت تمام چیزوں کے سر پر سے ایسی اُٹھا دی ہے کہ وہ اپنے خواص میں (بقول سیّد صاحب ) تابع مرضی مالک نہیں رہیں۔ بلکہ ایکٹ مزارعان کی پانچویں دفعہ کے موروثیوں کے لئے جو حقوق انگریزوں نے قائم کئے ہیں یعنی یہ کہ مالک کو کسی قسم کے تصرف کا اُن پر اختیار نہیں ہوگا۔ اسی قسم کے موروثی سیّد صاحب نے بھی تمام چیزوں آگ وغیرہ کو ٹھہرا دیا ہے بلکہ سیّد صاحب کے قانون میں انگریزوں کے قانون سے زیادہ تشدّد ہے کیونکہ انگریزوں نے پانچویں دفعہ کے موروثی کے اخراج کے لئے ایک صورت قائم بھی کر دی ہے اور وہ یہ کہ جب موروثی ایک سال تک لگان واجب کا ایک حصہ خواہ ۲؍(دو آنہ) بھی ہوں ادا نہ کرے تو خارج ہوسکتا ہے مگر سیّد صاحب نے تو ہر حال میں حقوق مالک کو تلف کردیا۔ اور یہ ظلم عظیم ہے ۔

اور سیّد صاحب نے جو اپنے دوست حریف سے تفسیر قرآن کریم کا معیار مانگا ہے سو میں نے مناسب سمجھا کہ اس جگہ بھی سیّد صاحب کی کسی قدر میں ہی خدمت کردوں کیونکہ بھولے کو راہ بتانا سب سے پہلے میرا فرض ہے ۔ سو جاننا چاہیے کہ سب سے اوّل معیار تفسیر صحیح کا شواہد قرآنی ہیں ۔ یہ بات نہایت توجہ سے یاد رکھنی چاہیے کہ قرآن کریم اور معمولی کتابوں کی طرح نہیں جو اپنی صداقتوں کے ثبوت یا انکشاف کے لئے دوسرے کا محتاج ہو ۔ وہ ایک ایسی متناسب عمارت کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ ہلانے سے تمام عمارت کی شکل بگڑ جاتی ہے ۔ اس کی کوئی صداقت ایسی نہیں ہے جو کم سے کم دس یا بیس شاہد اس کے خود اُسی میں موجود نہ ہوں ۔ سو اگر ہم قرآن کریم کی ایک آیت کے ایک معنے کریں تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ان معنوں کی تصدیق کے لئے دوسرے شواہد قرآن کریم سے ملتے ہیں یا نہیں ۔ اگر دوسرے شواہد دستیاب نہ ہوں بلکہ ان معنے کے دوسری آیتوں سے صریح معارض پائے جاویں تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ وہ معنی بالکل باطل ہیں کیونکہ ممکن نہیں کہ قرآن کریم میں اختلاف ہو۔ اور سچے معنوں کی یہی نشانی ہے کہ قرآن کریم میں سے ایک لشکر شواہد بینہ کا اس کا مصدق ہو۔

دوسرا معیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر ہے ۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ سب سے زیادہ قرآن کریم کے معنے سمجھنے والے ہمارے پیارے اور بزرگ نبی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تفسیر ثابت ہو جائے تو مسلمان کا فرض ہے کہ بلا توقف اور بلادغدغہ قبول کرے نہیں تو اُس میں الحاد اور فلسفیت کی رگ ہوگی ۔

تیسرا معیار صحابہ کی تفسیر ہے ۔ اِس میں کچھ شک نہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم آنحضرت کے نوروں کو حاصل کرنے والے اور علم نبوت کے پہلے وارث تھے اور خدا تعالیٰ کا اُن پر بڑا فضل تھا اور نصرتِ الٰہی اُن کی قوتِ مدرکہ کے ساتھ تھی کیونکہ اُن کا نہ صرف قال بلکہ حال تھا۔

چوتھا معیار خود اپنا نفس مطہر لے کر قرآن کریم میں غور کرنا ہے کیونکہ نفس مطہرہ سے قرآن کریم کو مناسبت ہے ۔اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ (الواقعة: ۸۰) یعنی قرآن کریم کے حقائق صرف اُن پر کھلتے ہیں جو پاک دل ہوں کیونکہ مطہر القلب انسان پر قرآن کریم کے پاک معارف بوجہ مناسبت کھل جاتے ہیں اور وہ اُن کو شناخت کرلیتا ہے اور سونگھ لیتا ہے اور اُس کا دل بول اُٹھتا ہے کہ ہاں یہی راہ سچی ہے۔ اور اُس کا نورِ قلب سچائی کی پرکھ کے لئے ایک عمدہ معیار ہوتا ہے ۔ پس جب تک انسان صاحب ِحال نہ ہو اور اِس تنگ راہ سے گزرنے والا نہ ہو جس سے انبیاء علیہم السلام گزرے ہیں تب تک مناسب ہے کہ گستاخی اور تکبر کی جہت سے مفسرالقرآن نہ بن بیٹھے ورنہ وہ تفسیر بالرائے ہوگی جس سے نبی علیہ السلام نے منع فرمایا ہے اور کہا ہے کہ مَنْ فَسَّرَ الْقُرْاٰنَ بِرَأْیِہٖ فَاَصَابَ فَقَدْ اَخْطَأَ یعنی جس نے صرف اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کی اور اپنے خیال میں اچھی کی تب بھی اُس نے بری تفسیر کی ۔

پانچواں معیار لغت عرب بھی ہے لیکن قرآن کریم نے اپنے وسائل آپ اس قدر قائم کردیئے ہیں کہ چنداں لغات عرب کی تفتیش کی حاجت نہیں ہاں موجب زیادت ِ بصیرت بے شک ہے بلکہ بعض اوقات قرآن کریم کے اسرار مخفیہ کی طرف لغت کھودنے سے توجہ پیدا ہوجاتی ہے اور ایک بھید کی بات نکل آتی ہے ۔

چھٹا معیار روحانی سلسلہ کے سمجھنے کے لئے سلسلہ جسمانی ہے کیونکہ خداوند تعالیٰ کے دونوں سلسلوں میں بکلّی تطابق ہے ۔

ساتواں معیار وحی ولایت اور مکاشفاتِ محدثین ٭ ہیں اور یہ معیار گویا تمام معیاروں پر حاوی ہے کیونکہ صاحب وحی محدثیت اپنے نبی متبوع کا پورا ہمرنگ ہوتاہے اور بغیر نبوت اور تجدید احکام کے وہ سب باتیں اُس کو دی جاتی ہیں جو نبی کو دی جاتی ہیں اور اُس پر یقینی طور پر سچی تعلیم ظاہر کی جاتی ہے اور نہ صرف اس قدر بلکہ اُس پر وہ سب امور بطور انعام و اکرام کے وارد ہوجاتے ہیں جو نبی متبوع پر وارد ہوتے ہیں۔ سو اس کا بیان محض اٹکلیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ دیکھ کر کہتا ہے۔ اور سن کر بولتا ہے اور یہ راہ اس اُمت کے لئے کھلی ہے ایساہرگز نہیں ہو سکتا کہ وارث حقیقی کوئی نہ رہے اور ایک شخص جو دنیا کا کیڑا اور دنیا کے جاہ و جلال اور ننگ وناموس میں مبتلا ہے وہی وارث علم نبوت ہو کیونکہ خداتعالیٰ وعدہ کر چکا ہے کہ بجز مطہرین کے علم نبوت کسی کو نہیں دیا جائے گا بلکہ یہ تو اس پاک علم سے بازی کرنا ہے کہ ہر ایک شخص باوجود اپنی آلودہ حالت کے وارث النبی ہونے کا دعویٰ کرے اور یہ بھی ایک سخت جہالت ہے کہ ان وارثوں کے وجود سے انکار کیا جائے اور یہ اعتقاد رکھا جائے کہ اسرار نبوت کو اب صرف بطور ایک گذشتہ قصہ کے تسلیم کرنا چاہیے جن کا وجود ہماری نظر کے سامنے نہیں ہے اور نہ ہونا ممکن ہے اور نہ ان کا کوئی نمونہ موجود ہے۔ بات یوں نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اسلام زندہ مذہب نہ کہلا سکتا بلکہ اور مذہبوں کی طرح یہ بھی مردہ مذہب ہوتا اور اس صورت میں اعتقاد مسئلہ نبوت بھی صرف ایک قصہ ہوتا جس کا گذشتہ قرنوں کی طرف حوالہ دیا جاتا مگر خدا تعالیٰ نے ایسا نہیں چاہا کیونکہ وہ خوب جانتا تھا کہ اسلام کے زندہ ہونے کا ثبوت اور نبوت کی یقینی حقیقت جو ہمیشہ ہر ایک زمانہ میں منکرین وحی کو ساکت کرسکے اُسی حالت میں قائم رہ سکتی ہے کہ سلسلہ وحی برنگ محدثیت ہمیشہ کے لئے جاری رہے۔ سو اُس نے ایسا ہی کیا۔ محدث وہ لوگ ہیں جو شرف مکالمہ الٰہی سے مشرف ہوتے ہیں اور اُن کا جوہر نفس انبیاء کے جوہر نفس سے اشد مشابہت رکھتا ہے۔ اور وہ خواص عجیبہ نبوت کے لئے بطور آیات باقیہ کے ہوتے ہیں تا یہ دقیق مسئلہ نزول وحی کا کسی زمانہ میں بے ثبوت ہو کر صرف بطور قصہ کے نہ ہوجائے اور یہ خیال ہرگز درست نہیں کہ انبیاء علیہم السلام دنیا سے بے وارث ہی گذر گئے اور اب اُن کی نسبت کچھ رائے ظاہر کرنا بجز قصہ خوانی کے اور کچھ زیادہ وقعت نہیں رکھتا بلکہ ہر ایک صدی میں ضرورت کے وقت اُن کے وارث پیدا ہوتے رہے ہیں اور اس صدی میں یہ عاجز ہے۔ خدا تعالیٰ نے مجھ کو اس زمانہ کی اصلاح کیلئے بھیجاہے تا وہ غلطیاں جو بجز خدا تعالیٰ کی خاص تائید کے نکل نہیں سکتی تھیں وہ مسلمانوں کے خیالات سے نکالی جائیں اور منکرین کو سچے اور زندہ خدا کا ثبوت دیا جائے اور اسلام کی عظمت اور حقیقت تازہ نشانوں سے ثابت کی جائے سو یہی ہو رہا ہے۔ قرآن کریم کے معارف ظاہر ہو رہے ہیں لطائف اور دقائق کلام ربانی کھل رہے ہیں نشان آسمانی اور خوارق ظہور میں آ رہے ہیں اور اسلام کے حسنوں اور نوروں اور برکتوں کا خدا تعالیٰ نئے سرے جلوہ دکھا رہا ہے جس کی آنکھیں دیکھنے کی ہیں دیکھے اور جس میں سچا جوش ہے وہ طلب کرے اور جس میں ایک ذرّہ حبّ اللہ اور رسول کریم کی ہے وہ اُٹھے اور آزمائے اور خدا تعالیٰ کی اس پسندیدہ جماعت میں داخل ہووے جس کی بنیادی اینٹ اُس نے اپنے پاک ہاتھ سے رکھی ہے۔ اور یہ کہنا کہ اب وحی ولایت کی راہ مسدود ہے اور نشان ظاہر نہیں ہو سکتے اور دعائیں قبول نہیں ہوتیں یہ ہلاکت کی راہ ہے نہ سلامتی کی۔ خدا تعالیٰ کے فضل کو رد مت کرو۔ اُٹھو آزماؤ اور پرکھو پھر اگر یہ پاؤ کہ معمولی سمجھ اور معمولی عقل اور معمولی باتوں کا انسان ہے تو قبول نہ کرو لیکن اگرکرشمہ قدرت دیکھو اور اُسی ہاتھ کی چمک پاؤ جو مؤیدان حق اور مکلمان الٰہی میں ظاہر ہوتا رہا ہے تو قبول کرلو اور یقینا سمجھو کہ خدا تعالیٰ کا اپنے بندوں پر بڑا احسان یہی ہے کہ وہ اسلام کو مردہ مذہب رکھنا نہیں چاہتا بلکہ ہمیشہ یقین اور معرفت اور الزام خصم کے طریقوں کو کھلا رکھنا چاہتا ہے۔ بھلا تم آپ ہی سوچو کہ اگر کوئی وحی نبوت کا منکر ہو اور یہ کہے کہ ایسا خیال تمہارا سراسر وہم ہے تو اس کے منہ بند کرنے والی بجز اس کے نمونہ دکھلانے کے اور کونسی دلیل ہو سکتی ہے؟ کیا یہ خوشخبری ہے یا بد خبری کہ آسمانی برکتیں صرف چند سال اسلام میں رہیں اور پھر وہ خشک اور مردہ مذہب ہوگیا؟ اور کیا ایک سچے مذہب کے لئے یہی علامتیں ہونی چاہئیں !!!

غرض صحیح تفسیر کے لئے یہ معیار ہیں۔ اور اس میں کچھ شک نہیں کہ سیّد صاحب کی تفسیر ان ساتوں معیاروں سے اپنے اکثر مقامات میں محروم و بے نصیب ہے۔ اور اس وقت اس سے تعرض کرنا ہمارا مقصودنہیں۔ سیّد صاحب کو قانون قدرت پر بڑا ہی ناز تھا مگر اپنی تفسیر میں وہ قانون قدرت کا لحاظ بھی چھوڑ گئے۔ مثلاََ اُن کا یہ اعتقاد کہ وحی نبوت بجز اپنے ہی فطرت کے ملکہ کے اور کچھ چیز نہیں اور اس میں اور خدا تعالیٰ میں ملائکہ کا واسطہ نہیں۔ کس قدر خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کے مخالف ہے۔ ہم صریح دیکھتے ہیں کہ ہم اپنے جسمانی قویٰ کی تکمیل کے لئے آسمانی توسط کے محتاج ہیں۔ ہمارے اس بدنی سلسلہ کے قیام اور اغراض مطلوبہ تک پہنچانے کے لئے خدا تعالیٰ نے آفتاب اور مہتاب اور ستاروں اور عناصر کو ہمارے لئے مسخر کیا ہے۔ او رکئی وسائط کے پیرایہ میں ہو کر اس علت العلل کا فیض ہم تک پہنچتا ہے اور بے واسطہ ہر گز نہیں پہنچتا۔ مثلاً اگرچہ ہماری آنکھوں کو تو نور خدا وند تعالیٰ ہی سے ملتا ہے کیونکہ وہی تو علت العلل ہے مگر وہ آفتاب کے واسطے سے ہماری آنکھوں تک پہنچاتا ہے ہم ایک چیز بھی نظام ظاہری میں ایسی نہیں دیکھتے جس کو خدا تعالیٰ بلاواسطہ آپ ہی اپنا مبارک ہاتھ لمبا کرکے ہمیں دے دے۔ بلکہ ہر ایک چیز وسائط کے ذریعہ سے ہی ملتی ہے۔ پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ہمارے ظاہری قویٰ کی خلقت تام نہیں ہے یعنی ایسانہیں ہے کہ مثلاََ مستقل طور پر روشن ہوں اور آپ کے مجوزہ ملکہ وحی کی طرح ایسا اُن میں ملکہ موجود ہو جو آفتاب کے واسطہ سے ہم کو مستغنی کردے۔ پھر اس نظام کے برخلاف بے اصل باتیں آپ کی کیونکر صحیح ٹھہرسکیں۔ ماسوا اس کے ذاتی تجارب کی شہادت جو سب شہادتوں سے بڑھ کر ہے آپ کی اس رائے کی سخت تکذیب کرتی ہے کیونکہ یہ عاجز قریباََ گیارہ برس سے شرف مکالمہ الٰہیہ سے مشرف ہے اور اس بات کو بخوبی جانتا ہے۔ کہ وحی درحقیقت آسمان سے ہی نازل ہوتی ہے۔ وحی کی مثال اگر دنیا کی چیزوں میں سے کسی چیز کے ساتھ دی جائے۔ تو شاید کسی قدر تار برقی سے مشابہ ہے جو اپنے ہر یک تغیر کی آپ خبر دیتی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ اس وحی کے وقت جو برنگ وحی ولایت میرے پرنازل ہوتی ہے۔ ایک خارجی اور شدید الاثر تصرف کا احساس ہوتا ہے۔ اور بعض دفعہ یہ تصرف ایسا قوی ہوتا ہے کہ مجھ کو اپنے انوار میں ایسا دبا لیتا ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ میں اُس کی طرف ایسا کھینچا گیا ہوں کہ میری کوئی قوت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ اس تصرف میں کھلا اور روشن کلام سنتا ہوں۔ بعض وقت ملائکہ کو دیکھتاہوں ٭ اور سچائی میں جو اثر اور ہیبت ہوتی ہے مشاہدہ کرتا ہوں اور وہ کلام بسا اوقات غیب کی باتوں پر مشتمل ہوتا ہے اور ایسا تصرف اور اخذ خارجی ہوتا ہے جس سے خدا تعالیٰ کا ثبوت ملتا ہے۔ اب اس سے انکار کرنا ایک کھلی کھلی صداقت کا خون کرنا ہے۔

مناسب ہے کہ سیّد صاحب موت سے پہلے اس صداقت کو آج مان لیں۔ اور آسمانی وحی کی توہین نہ کریں۔ تعجب ہے کہ وہ نظامِ ظاہری کو تو دیکھتے ہیں اور پھر نظام باطنی کا اس پر قیاس نہیں کرتے۔ نہیں سمجھتے کہ وہ خدا جس نے ہمارے نظام جسمانی کو اس طرح بنایا کہ آسمان سے ظاہری روشنی ہمارے لئے اترتی ہے اور حقیقی مؤثر آسمانی وسائط کے ذریعہ سے ہمارے جسمانی قویٰ پر اپنا فیض نازل کرتا ہے۔ اور بغیر واسطہ علل کے کوئی فیض نازل کرنا اس کی عادت ہی نہیں تو پھر کیونکر وہ خدا ہمارے روحانی نظام میں اس سلسلہ وسائط سے بالکل ہم کو منقطع کر دیوے۔ کیا جسمانی طور سے ہم اس سلسلہ سے منقطع ہیں یا درحقیقت ایک سلسلہ وسائط میں بندھے ہوئے ہیں جو علت العلل سے شروع ہو کر ہم تک پہنچتا ہے۔ اس بحث پر غور کرنے کے لئے ہماری کتاب توضیح مرام اور آئینہ کمالات اسلام دیکھنی چاہیے خاص کر فرشتوں کی ضرورت میں جس قدر مبسوط بحث آئینہ کمالات اسلام میں ہے اس کی نظیر کسی دوسری کتاب میں نہیں پاؤ گے۔ اور سیّد صاحب کی خدا شناسی کا اندازہ معلوم کرنے کے لئے یہ ان کے اقوال کافی ہیں کہ وہ مخلوقات کو مقدر حقیقی کے تصرفوں اور حکومتوں سے بے نیاز کر بیٹھے ہیں۔ نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ کی خدائی اس کی قدرت کاملہ سے وابستہ ہے۔ اور قدرت اِسی کا نام ہے کہ اُس کے تصرفات اُس کی مخلوقات پر ہر آن غیر محدود ہوں۔ بلاشبہ یہ سچ ہے کہ اگر اس مخلوقات کو اس نے پیدا کیا ہے تو اپنی غیر محدود ذات کی طرح غیرمحدود تصرفات کی گنجائش بھی رکھ لی ہوگی تا کسی درجہ پر اس کی خدائی کا تعطل لازم نہ آوے ٭ اور اگر نعوذ باللہ آریہ ہندوؤں کا قول صحیح ہے کہ پرمیشور ارواح اور ذرات عالم کا پیدا کرنے والا نہیں تو اس صورت میں بلاشبہ ایسا کمزور پرمیشور کسی حد تک کچھ ضعیف سی حکومت کر کے پھر ٹھہر جائے گا۔ اور ایک رسوائی کے ساتھ اس کی پردہ دری ہوگی۔ مگر ہمارا خداوند قادر مطلق ایسا نہیں ہے۔ وہ تمام ذرات عالم اور ارواح اور جمیع مخلوقات کو پیدا کرنے والا ہے۔ اس کی قدرت کی نسبت اگر کوئی سوال کیا جائے تو بجز اُن خاص باتوں کے جو اسکی صفات کاملہ اور مواعید صادقہ کے منافی ہوں۔ باقی سب امور پر وہ قادر ہے اور یہ بات کہ گو وہ قادر ہو مگر کرنا نہیں چاہتا یہ عجیب بے ہودہ الزام ہے جب کہ اس کی صفات میں کُلَّ یَوۡمٍ ہُوَ فِیۡ شَاۡنٍ (الرحمٰن: ۳۰) بھی داخل ہے۔ اور ایسے تصرفات کہ پانی سے برودت دور کرے یا آگ سے خاصیت احراق زائل کر دیوے اس کی صفات کاملہ اور مواعید صادقہ کی منافی نہیں ہیں تو پھر کیوں تحکم کی راہ سے کہا جائے کہ ہمیشہ کے لئے اس پر لازم ہوگیا ہے کہ ان چیزوں کی خاصیت میں کبھی تصرف نہ کرے!!! اس لزوم پر دلیل کیا ہے۔ اور وجہ کیا اور خدا تعالیٰ کو اس بے وجہ التزام کی جو اس کی خدائی کو بھی داغ لگاتا ہے ضرورت کیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس رسالہ میں سیّد صاحب بھی اس کمزور خیال کے بودے پن کو سمجھ گئے ہیں اس لئے اپنے رکیک قول کے قائم رکھنے کے لئے انہوں نے ایک اور رکیک عذر پیش کیا ہے۔ اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں کسی جگہ آگ کے گرم ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اور کسی جگہ پانی کے سرد ہونے کی طرف ایما فرمایا ہے۔ اور کبھی کہا ہے کہ سورج مشرق سے مغرب کی طرف جاتا ہے تو یہ بیانات جو حالات موجودہ کے اظہار کے لئے ہیں سیّد صاحب کی نظر میں بطور وعدہ کے ہیں جن میں تغییر تبدیل ممکن نہیں اگر استخراجِ دلائل کا یہی طریق ہے تو سیّد صاحب پر بڑی مشکل پڑے گی اور اُن کو ماننا پڑے گا کہ تمام بیانات قرآن کریم کے مواعید میں داخل ہیں۔ مثلاً خدا تعالیٰ نے جو حضرت زکریاکو بشارت دے کر فرمایا اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمِ (مریم: ۸) تو بموجب قاعدہ سیّد صاحب کے چاہیے تھا کہ حضرت یحییٰ ہمیشہ غلام یعنی لڑکے ہی رہتے کیونکہ خدا تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کو غلام کر کے پکارا ہے۔ اور یہ وعدہ ہوگیا۔ ایسی ہی اور بیسوں مثالیں ہیں سب کو بیان کرنا صرف وقت ضائع کرنا ہے۔ اگر سیّد صاحب کی نظر میں واقعات موجودہ کے بیان کرنے سے آئندہ کے لئے اور ہمیشہ کے لئے کوئی وعدہ لازم آجاتا ہے تو ان سے ڈرنا چاہیے کہ ایسا ہی وہ بات بات میں انسانوں پر الزام لگائیں گے۔ اور ایک موجودہ واقعہ کے بیان کرنے کو وہ ایک دائمی وعدہ سمجھ لیں گے۔ میرے نزدیک بہتر ہے کہ سیّد صاحب اپنے آخری دن کو یادکرکے چند ماہ اس عاجز کی صحبت میں رہیں۔ اور چونکہ میں مامور ہوں اور مبشر ہوں اس لئے میں وعدہ کرتا ہوں کہ سیّد صاحب کے اطمینان کے لئے توجہ کروں گا اور اُمید رکھتا ہوں کہ خداتعالیٰ کوئی ایسا نشان دکھلائے کہ سیّد صاحب کے مجوزہ قانون قدرت کو ایک دم میں خاک میں ملادیوے اور اس قسم کے کام اب تک بہت ظہور میں آئے ہیں کہ جو سیّد صاحب کی نظر میں قانون قدرت کے مخالف ہیں۔ مگر اُن کا بیان کرنا بے فائدہ ہے کہ سیّدصاحب اس کو ایک قصہ سمجھیں گے۔ سیّد صاحب وحی ٔ ولایت کی ایسی پیشگوئیوں سے بھی تو منکر ہیں جو بذریعہ الہام اولیا ء اللہ کو معلوم ہوتے ہیں۔ اور اُن کی نظر میں وہ ایسی ہی خلافِ قانون قدرت ہیں جیسا کہ آگ کا اپنی خاصیت احراق کو چھوڑ دینا۔ ایسا ہی دعا کی ذاتی تاثیرات بھی جن کے ذریعہ سے وہ مطلب حاصل ہوجاتا ہے۔ جس کے لئے دعا کی گئی سیّد صاحب کی نظر میں خلاف قانون قدرت ہیں۔ سو اگر سیّد صاحب میرے پاس آ نہیں سکتے تو ان دونوں باتوں میں ہی وعدہ قبولِ حق کر کے مجھ کو اجازت دیں کہ اُن کی نسبت جناب الٰہی میں توجہ کر کے جو کچھ ظاہر ہو وہ شائع کروں اس سے عام لوگوں کو فائدہ ہوجائے گا۔ اگر سیّد صاحب کی رائے درحقیقت درست ہے تو میں اپنے مطلب میں کامیاب نہیں ہوں گا۔ ورنہ عقلمند لوگ سیّد صاحب کے خراب عقیدوں سے نجات پا کر پھر اپنے عظیم الشان خدا تعالیٰ کو پہچان لیں گے اور محبت سے اُس کی طرف رجوع کریں گے۔ اور دعا کے وقت اُس کی رحمتوں سے نااُمیدنہیں ہوں گے اور ہاتھ اُٹھانے کے وقت لذت اٹھا ئیں گے اور خدا تعالیٰ کے وجود کا فائدہ بھی تو یہی ہے کہ ہماری دعائیں سنے اور آپ اپنے وجود سے ہمیں خبر دے نہ کہ ہم ہزار ہزار تکلیف سے ایک بت کی طرح ایک فرضی خدا دل میں قائم کریں جس کی ہم آواز نہیں سن سکتے۔ اور اُس کی نمایاں قدرت کا کوئی جلوہ نہیں دیکھ سکتے۔ یقیناً سمجھو کہ وہ قادر خدا موجود ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔ وما غلت ایدیہ بل یداہ مبسوطتان ینفق کیف یشاء و یفعل مایرید۔ و ھو علٰی کل شیء قدیر۔ واٰخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین۔

رُوئی دلبر از طلبگاراں نمی دارد حجاب

می درخشددر خورو می تابد اندر ماہتاب

لیکن آن روئی حسین از غافلاں ماندنہاں

عاشقی باید کہ بردارند از بہرش نقاب

دامن پاکش زِ نخوت ہا نمی آید بَدَست

ہیچ راہی نیست غیر از عجزودرد و اِضطراب

بس خطرناک است راہِ کوچہ یارِ قدیم

جاں سلامت بایدت از خودروی ہا سربتاب

تا کلامش فہم و عقلِ ناسزایاں کم رسد

ہر کہ از خود گم شود اویا بداں راہِ صواب

مشکل ِ قرآن نہ از ابناء دنیا حل شود

ذوق آں می داندآں مستی کہ نوشدآں شراب

اَیکہ آگاہی ندادندت ز انوارِ دروں

درحقِ ماہر چہ گوئی نیستی جائے عتاب

از سرِ وعظ و نصیحت این سخن ہا گفتہ ایم

تا مگر زین مرہمی بہ گردد آں زخمی خراب

از دعا کن چارۂ آزارِ انکارِ دعا

چون علاج می زمی وقت خمارو التہاب

اَیکہ گوئی گر دعاہا را اثربودی کجاست

سوئی من بشتاب بنمایم ترا چون آفتاب

ہان مکن انکار زین اسرار قدرت ہائی حق

قصہ کوتہ کن بہ بیں از ما دعائے مستجاب

دیکھوصفحہ ۲۔ ۳۔ ۴ سرورق

لیکھرام پشاوری کی نسبت ایک اور خبر

آج ۲؍ اِپریل ۱۸۹۳ء؁ مطابق ۱۴ ماہ رمضان ۱۳۱۰ھ؁ ہے صبح کے وقت تھوڑی سی غنودگی کی حالت میں میں نے دیکھا کہ میں ایک وسیع مکان میں بیٹھا ہو اہوں اور چند دوست بھی میرے پاس موجود ہیں۔ اتنے میں ایک شخص قوی ہیکل مہیب شکل گویا اُس کے چہرے پر سے خون ٹپکتا ہے میرے سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔ میں نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک نئی خلقت اور شمائل کا شخص ہے گویا انسان نہیں ملائک شدا د غلاظ میں سے ہے اور اس کی ہیبت دلوں پر طاری تھی اور میں اُس کو دیکھتا ہی تھا کہ اُس نے مجھ سے پوچھا کہ لیکھرام کہاں ہے اور ایک اور شخص کا نام لیا کہ وہ کہاں ہے تب میں نے اُس وقت سمجھا کہ یہ شخص لیکھرام اور اس دوسرے شخص کی سزا دہی کے لئے مامور کیا گیا ہے مگر مجھے معلوم نہیں رہا کہ وہ دوسرا شخص کون ہے ہاں یہ یقینی طور پر یاد ہے کہ وہ دوسرا شخص انہیں چند آدمیوں میں سے تھا جن کی نسبت میں اشتہار دے چکا ہوں اور یہ یکشنبہ کا دن اور ۴ بجے صبح کا وقت تھا۔ فالحمد للّٰہ علٰی ذالک۔

اس کو غور سے پڑھو کہ اس میں آپ لوگوں کے لئے خوشخبری ہے

بخدمت امراء و رئیسان و منعمان ذی مقدرت و والیان
ارباب حکومت ومنزلت

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ

اے بزرگانِ اسلام خدا تعالیٰ آپ لوگوں کے دلوں میں تمام فرقوں سے بڑھ کر نیک ارادے پیدا کرے اور اس نازک وقت میں آپ لوگوں کو اپنے پیارے دین کاسچا خادم بناوے۔ میں اس وقت محض للّٰہ اس ضروری امر سے اطلاع دیتا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس چودھویں صدی کے سر پر اپنی طرف سے مامور کرکے دین متین اسلام کی تجدید اور تائید کے لئے بھیجا ہے تا کہ میں اس پُرآشوب زمانہ میں قرآن کی خوبیاں اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتیں ظاہر کروں اور اُن تمام دشمنوں کو جو اسلام پر حملہ کر رہے ہیں اُن نوروں اور برکات اور خوارق اور علوم لدنیہ کی مدد سے جواب دوں جو مجھ کو عطا کئے گئے ہیں سو یہ کام برابر دس برس سے ہو رہا ہے لیکن چونکہ وہ تمام ضرورتیں جو ہم کو اشاعت اسلام کے لئے درپیش ہیں بہت سی مالی امدادات کی محتاج ہیں اس لئے میں نے یہ ضروری سمجھا کہ بطور تبلیغ آپ صاحبوں کو اطلاع دوں۔ سو سنو اے عالیجاہ بزرگو۔ ہمارے لئے اللہ جلّ شانہٗ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں یہ مشکلات درپیش ہیں کہ ایسی تالیفات کے لئے جو لاکھوں آدمیوں میں پھیلانی چاہیے بہت سے سرمایہ کی حاجت ہے اور اب صورت یہ ہے کہ اوّل تو ان بڑے بڑے مقاصد کے لئے کچھ بھی سرمایہ کا بندوبست نہیں اور اگر بعض پُرجوش مردانِ دین ٭ کی ہمت اور اعانت سے کوئی کتاب تالیف ہو کر شائع ہو تو بباعث کم توجہی اور غفلت زمانہ کے وہ کتاب بجز چندنسخوں کے زیادہ فروخت نہیں ہوتی اور اکثر نسخے اس کے یا تو سالہا سال صندوقوں میں بند رہتے ہیں یا لِلّٰہ مفت تقسیم کئے جاتے ہیں اور اس طرح اشاعت ِ ضروریاتِ دین میں بہت سا حرج ہورہا ہے اور گو خدا تعالیٰ اس جماعت کو دن بدن زیادہ کرتا جاتا ہے مگر ابھی تک ایسے دولتمندوں میں سے ہمارے ساتھ کوئی بھی نہیں کہ کوئی حصہ معتدبہ اس خدمت اسلام کا اپنے ذمہ لے لے اور چونکہ یہ عاجز خدا تعالیٰ سے مامور ہو کر تجدید دین کے لئے آیا ہے اور مجھے اللہ جلّ شانہٗ نے یہ خوشخبری بھی دی ہے کہ وہ بعض امراء اور ملوک کو بھی ہمارے گروہ میں داخل کرے گا اور مجھے اُس نے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ سو اسی بنا پر آج مجھے خیال آیا کہ میں ارباب دولت اور مقدرت کو اپنے کام کی نصرت کے لئے تحریک کروں۔

اور چونکہ یہ دینی مدد کا کام ایک عظیم الشان کام ہے اور انسان اپنے شکوک اور شبہات اور وساوس سے خالی نہیں ہوتا اور بغیر شناخت وہ صدق بھی پیدا نہیں ہوتا جس سے ایسی بڑی مددوں کا حوصلہ ہوسکے اس لئے میں تمام امراء کی خدمت میں بطور عام اعلان کے لکھتا ہوں کہ اگر ان کو بغیر آزمائش ایسی مدد میں تامل ہو تو وہ اپنے بعض مقاصد اور مہمات اور مشکلات کو اس غرض سے میری طرف لکھ بھیجیں کہ تا میں اُن مقاصد کے پورا ہونے کے لئے دعا کروں مگر اس بات کو تصریح سے لکھ بھیجیں کہ وہ مطلب کے پورا ہونے کے وقت کہاں تک ہمیں اسلام کی راہ میں مالی مدد دیں گے اور کیا انہوں نے اپنے دلوں میں پختہ اور حتمی وعدہ کر لیا ہے کہ ضرور وہ اس قدر مدد دینگے اگر ایسا خط ٭ کسی صاحب کی طرف سے مجھ کو پہنچا تو میں اُس کے لئے دعا کروں گا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ بشرطیکہ تقدیر مبرم نہ ہو ضرور خدا تعالیٰ میری دعا سنے گا اور مجھ کو الہام کے ذریعہ سے اطلاع دے گا۔ اس بات سے نومید مت ہو کہ ہمارے مقاصد بہت پیچیدہ ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے بشرطیکہ ارادہ ازلی اُس کے مخالف نہ ہو۔ اور اگر ایسے صاحبوں کی بہت سی درخواستیں آئیں تو صرف اُن کو اطلاع دی جائے گی جن کے کشود کار کی نسبت از جانب حضرت عزو جل خوشخبری ملے گی۔ اور یہ امور منکرین کے لئے نشان بھی ہوں گے اور شاید یہ نشان اس قدر ہو جائیں کہ دریا کی طرح بہنے لگیں۔ بالآخر میں ہر ایک مسلمان کی خدمت میں نصیحتًا کہتا ہوں کہ اسلام کے لئے جاگو کہ اسلام سخت فتنہ میں پڑا ہے اس کی مدد کرو کہ اب یہ غریب ہے اور میں اسی لئے آیا ہوں اور مجھے خدا تعالیٰ نے علم قرآن بخشا ہے اور حقائق معارف اپنی کتاب کے میرے پر کھولے ہیں اور خوارق مجھے عطا کئے ہیں سو میری طرف آؤ تا اس نعمت سے تم بھی حصہ پاؤ۔ مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں کیا ضرور نہ تھا کہ ایسی عظیم الفتن صدی کے سر پر جس کی کھلی کھلی آفات ہیں ایک مجدد کھلے کھلے دعویٰ کے ساتھ آتا سو عنقریب میرے کاموں کے ساتھ تم مجھے شناخت کروگے ہر ایک جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا اُسوقت کے علماء کی ناسمجھی اُس کی سد راہ ہوئی آخرجب وہ پہچانا گیا تو اپنے کاموں سے پہچانا گیا کہ تلخ درخت شیریں پھل نہیں لا سکتا اور خدا غیر کو وہ برکتیں نہیں دیتاجو خاصوں کو دی جاتی ہیں۔ اے لوگو ! اسلام نہایت ضعیف ہو گیا ہے او راعداء دین کا چاروں طرف سے محاصرہ ہے اور تین ہزار سے زیادہ مجموعہ اعتراضات کا ہوگیا ہے ایسے وقت میں ہمدردی سے اپنا ایمان دکھاؤ اور مردانِ خدا میں جگہ پاؤ۔ والسلام علٰی من اتبع الھدٰی

بیکسے شد دین احمدؐ ہیچ خویش و یارنیست

ہر کسے درکار خود بادین احمدؐ کارنیست

ہر طرف سیلِ ضلالت صد ہزاران تن ربود

حیف بر چشمے کہ اکنون نیز ہم ہشیار نیست

اے خدا وندانِ نعمت ایں چنیں غفلت چراست

بیخود از خوابید یا خود بخت ِ دین بیدار نیست

اے مسلمانان خدا را یک نظر برحالِ دین

آنچہ می بینم بلاہا حاجت اظہار نیست

آتش افتاد است دررختش بخیزید اے یلان

دیدنش از دور کارِ مردمِ دیندار نیست

ہر زمان از بہرِ دین درخون دلِ من می تپد

محرمِ این درد ماجز عالمِ اسرار نیست

آنچہ برما می رود از غم کہ داند جز خدا

زہر می نوشیم لیکن زہرہء گفتار نیست

ہر کسے غمخواری اہل و اقارب می کند

اے دریغ این بیکسی راہیچ کس غمخوار نیست

خونِ دین بینم روان چون کشتگانِ کربلا

اے عجب ایں مرد مان رامہرآن دلدار نیست

حیر تم آید چو بینم بذل شان درکار نفس

کاین ہمہ جود و سخاوت در رہِ دادار نیست

اے کہ داری مقدرت ہم عزم تائیداتِ دیں

لطف کن مارا نظر براندک و بسیار نیست

بین کہ چون درخاک می غلطدز جورِ ناکساں

آنکہ مثل او بزیر گنبدِ دوّار نیست

اندرین وقتِ مصیبت چارۂ ما بیکساں

جز دعاء بامداد و گریہ اسحار نیست

اے خدا ہر گز مکن شادآن دلِ تاریک را

آنکہ او را فکر دین احمدؐ مختار نیست

اے برادرپنج روز ایام عشرت ہا بود

دائماً عیش و بہار گلشن و گلزار نیست

راقم مرزا غلام احمدؐ از قادیان ضلع گورداسپورہ پنجاب

آئینہ کمالات اسلام شائقین کے لئے اطلاع

اس وقت ایک کتاب آئینہ کمالات اسلام نام میں نے تالیف کی ہے جس میں بڑی تحقیق و تدقیق سے اسلام اور قرآن کریم کی خوبیوں اور کمالات کا بیان ہے اور علاوہ اس کے مخالفین مذاہب کے عقائد باطلہ کا رد ہے اور فرقہ نیچریہ کے خیالات باطلہ کا بھی اچھی طرح استیصال کیا گیا ہے۔ ضخامت اس کی ساڑھے چھ سو صفحہ سے زیادہ ہے قیمت دو روپیہ ہے۔ محصول علاوہ ہے اور ماسوا اس کے مفصلہ ذیل کتابیں بھی موجود ہیں۔ فتح اسلام، توضیح مرام، ازالہ اوہام محصول علاوہ ہے اور فتح اسلام اور توضیح مرام کی قیمت آٹھ آٹھ آنہ تھی اب ہم نے چار چار آنہ کم کر دیئے ہیں۔

المشــــتہر
مرزا غلام احمد
قادیان ضلع گورداسپورہ، پنجاب


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
اللّٰھم صلّ علٰی محمّد و اٰ ل محمّد افضل الرسل و خاتم النبیّین

اشتہار

کتاب براہین احمدیہ جس کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے مؤلف نے ملہم و مامور ہو کر بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کیاہے جس کے ساتھ دس ہزار روپیہ کا اشتہار ہے جس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں منجانب اللہ و سچا مذہب جس کے ذریعہ سے انسان خدا تعالیٰ کو ہریک عیب اور نقص سے بری سمجھ کر اس کی تمام پاک اور کامل صفتوں پر دِلی یقین سے ایمان لاتا ہے وہ فقط اسلام ہے جس میں سچائی کی برکتیں آفتاب کی طرح چمک رہی ہیں اور صداقت کی روشنی دن کی طرح ظاہر ہو رہی ہے اور دوسرے تمام مذہب ایسے بدیہی البطلان ہیں کہ نہ عقلی تحقیقات سے اُن کے اصول صحیح اور درست ثابت ہوتے ہیں اور نہ اُن پر چلنے سے ایک ذرہ روحانی برکت و قبولیت الٰہی مل سکتی ہے بلکہ اُن کی پابندی سے انسان نہایت درجہ کا کور باطن اور سیاہ دل ہو جاتاہے جس کی شقاوت پر اسی جہان میں نشانیاں پیدا ہوجاتی ہیں ۔

اس کتاب میں دین اسلام کی سچائی کو دو طرح پر ثابت کیاگیا ہے ۔

(۱) اوّل تین سو مضبوط اور قوی دلائل عقلیہ سے جن کی شان و شوکت و قدر و منزلت اس سے ظاہر ہے کہ اگر کوئی مخالف اسلام ان دلائل کو توڑدے تو اُس کو دس ہزار روپیہ دینے کااشتہار دیا ہوا ہے اگر کوئی چاہے تو اپنی تسلی کے لئے عدالت میں رجسٹری بھی کرالے۔

(۲) دوم اُن آسمانی نشانوں سے کہ جو سچے دین کی کامل سچائی ثابت ہونے کے لئے از بس ضروری ہیں ۔ اس امر دوم میں مؤلف نے اس غرض سے کہ سچائی دین اسلام کی آفتاب کی طرح روشن ہوجائے تین قسم کے نشان ثابت کر کے دکھائے ہیں ۔ اوّل وہ نشان کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کے زمانہ میں مخالفین نے خود حضرت ممدوح کے ہاتھ سے اور آنجناب کی دعا اور توجّہ اور برکت سے ظاہر ہوتے دیکھے جن کو مؤلف یعنی اس خاکسار نے تاریخی طور پر ایک اعلیٰ درجہ کے ثبوت سے مخصوص و ممتاز کر کے درج کتاب کیا ہے ۔ دوم وہ نشان کہ جو خود قرآن شریف کی ذات بابرکات میں دائمی اور ابدی اور بے مثل طور پر پائے جاتے ہیں جن کو راقم نے بیان شافی اور کافی سے ہر یک عام و خاص پر کھول دیا ہے اور کسی نوع کا عذر کسی کے لئے باقی نہیں رکھا ۔ سوم و ہ نشان کہ جو کتاب اللہ کی پیروی اور متابعت رسولؐ بر حق سے کسی شخص تابع کو بطور وراثت ملتی ہیں جن کے اثبات میں اس بندۂ درگاہ نے بفضل خداوند حضرت قادرِ مطلق یہ بدیہی ثبوت دکھلایا ہے کہ بہت سے سچّے الہامات اور خوارق اور کرامات اور اخبار غیبیہ اور اسرار لدنیہ اور کشوف صادقہ اور دعائیں قبول شدہ کہ جو خود اس خادمِ دین سے صادر ہوئی ہیں اور جن کی صداقت پر بہت سے مخالفین مذہب (آریوں وغیرہ سے) بشہادت رویت گواہ ہیں کتاب موصوف میں درج کئے ہیں اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک کو دوسرے سے بشدّت مناسبت و مشابہت ہے اور اس کو خواص انبیاء ورسل کے نمونہ پر محض ببرکت متابعت حضرت خیر البشر و افضل الرسل صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان بہتوں پر اکابر اولیاء سے فضیلت دی گئی ہے کہ جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں اور اس کے قدم پر چلنا موجب نجات و سعادت و برکت اور اس کے برخلاف چلنا موجب بُعد و حرمان ہے یہ سب ثبوت کتاب براہین احمدیہ کے پڑھنے سے جو منجملہ تین سو (۳۰۰) جزو کے قریب ۳۷ جزو کے چھپ چکی ہے ظاہر ہوتے ہیں اور طالب حق کے لئے خود مصنف پوری پوری تسلی و تشفی کرنے کو ہر وقت مستعد اور حاضر ہے۔ وَ ذَالِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ وَلَا فَخْرَ ۔ وَالسَّلامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۔ اور اگر اس اشتہار کے بعد بھی کوئی شخص سچا طالب بن کر اپنی عقدہ کشائی نہ چاہے اور دلی صدق سے حاضر نہ ہو تو ہماری طرف سے اس پر اتمام حجت ہے جس کا خدا تعالیٰ کے روبرو اُس کو جواب دینا پڑے گا ۔ بالآخر اس اشتہار کو اس دُعا پر ختم کیا جاتا ہے کہ اے خداوند کریم تمام قوموں کے مستعد دلوں کو ہدایت بخش کہ تا تیرے رسول مقبول افضل الرسل محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور تیرے کامل ومقدس کلام قرآن شریف پر ایمان لاویں اور اُس کے حکموں پر چلیں تا اُن تمام برکتوں اور سعادتوں اور حقیقی خوشحالیوں سے متمتع ہوجاویں کہ جو سچے مسلمان کو دونوں جہانوں میں ملتی ہیں اور اس جاودانی نجات اور حیات سے بہرہ ور ہوں کہ جونہ صرف عقبیٰ میں حاصل ہوسکتی ہے بلکہ سچے راستباز اسی دُنیا میں اس کو پاتے ہیں بالخصوص قوم انگریز جنہوں نے ابھی تک اس آفتا ب صداقت سے کچھ روشنی حاصل نہیں کی اور جن کی شائستہ اور مہذب اور بارحم گورنمنٹ نے ہم کو اپنے احسانات اور دوستانہ معاملت سے ممنون کر کے اس بات کے لئے دلی جوش بخشا ہے کہ ہم اُن کے دنیا و دین کے لئے دِلی جوش سے بہبودی و سلامتی چاہیں تا اُن کے گورے و سپید منہ جس طرح دنیا میں خوبصورت ہیں آخرت میں نورانی و منور ہوں ۔ فنسأل اللّٰہ تعالٰی خیرھم فی الدنیا والاخرۃ اللھم اھدھم بروح منک و اجعل لھم حظًا کثیرًا فی دینک و اجذبھم بحولک و قوتک لیؤمنوا بکتابک و رسولک و یدخلوا فی دین اللہ افواجًا۔ اٰمین ثم اٰمین والحمدللّٰہ رب العالمین۔

المشــــــــــــــــــــــــــتھر
خاکسار
مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپورہ ۔ ملک پنجاب

(بیس ہزار اشتہار چھاپے گئے)


(مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر پنجاب)

TRANSLATION OF THE VERNACULAR NOTICE ON REVERSE

Being inspired and commanded by God, I have undertaken the compilation of a book named ''Barahin-i-Ahmadia,'' with the object of reforming and reviewing the religion, and have offered a reward of Rs. 10,000 to any one who would prove the arguments brought forward therein to be false. My object in this Book is to show that only true and the only revealed religion by means of which one might know God to be free from blemish, and obtain a strong conviction as to the perfection of His attributes is the religion of Islam, in which the blessings of truth shine forth like sun, and the impress of veracity is as vividly bright as the day-light. All other religions are so palpably and manifestly false that neither their principles can stand the test of reasoning nor their followers experience least spiritual edification. On the contrary those religions so obscure the mind and divest it of discernment that signs of future misery among the followers become apparent even in this world.

That the Muhammadan religion is the only true religion has been shown in this book in two ways: (1st), By means of 300 very strong and sound arguments based on mental reasoning (their congency and sublimity being inferred from the fact that a reward of Rs. 10,000 has been offered by me to any one refuting them, and from my further readiness to have this offer registered for the satisfaction of any one who might ask for it): (2) From those Divine signs which are essential for the complete and satisfactory proof of a true religion. With a view to establish that Muhammadan religion is the only true religion in the world, I have adduced under this latter head 3 kinds of evidences: (1) The miracles performed by the Prophet during his life time either by deeds or words which were witnessed by people of other persuasions and are inserted in this book in a chronological order (based on the best kind of evidences): (2), The marks which are inseparably adherent in the Al-Quran itself, and are perpetual and everlasting, the nature of which has been fully expounded for facility of comprehension (3), The signs which by way of inheritances devolve on any believer in the Book of God and the follower of the true Prophet. As an illustration of this, I, the humble creature of God, by His help have clearly evinced myself to be possessed of such virtues by the achieving of many unusual and supernatural deeds by foretelling future events and secrets, and by obtaining from God the objects of my prayers to all of which many persons of different persuasions like Aryas, & c., have been eye-witness (A full description of these will be found in the said book).

I am also inspired that I am the Reformer of my time, and that as regards spiritual excellence, my virtues bear a very close similarity and strict analogy to those of Jesus Christ, in the same way as the distinguished chief of Prophets were assigned a higher rank than that of other Prophets, I also by virtue of being a follower of the August Person (the benefactor of mankind, the best of the messangers of God) am favoured with a higher rank than, that assigned to many of the Saints and Holy Personages preceding me. To follow my footsteps will be a blessing and the means of salvation whereas any antogonism to me will result in estrangemen and disappointment. All these evidences will be found by perusal of the book which will consist of nearly 4800 pages of which about 592 pages have been published. I am always ready to satisfy and convince any seeker of truth. "All this is a Grace of God He gives it to whom-soever. He likes and there is no bragging in this." "Peace be to all the followers of righteousness!"

If after the publication of this notice any one does not take the trouble of becoming earnest enquirer after the truth and does not come forward with an unbiassed mind to seek it then my challenging (discussion) with him ends here and he shall be answerable to God. Now I conclude this notice with the following prayer: Oh Gracious God! guide the pliable hearts of all the nations, so that they may have faith on Thy chosen Prophet (Muhammad) and on Thy holy Al-Quran, and that they may follow the commandments contained therein, so that they may thus be benifitted by the peace and the true happiness which are specially enjoyed by the true Muslims in both the worlds, and may obtain absolution and eternal life which is not only procurable in the next world, but is also enjoyed by the truthful and honest people even in this world. Expecially the English nation who have not as yet availed themselves of the sunshine of truth, and whose civilized, prudent and merciful empire has, by obliging us numerous acts of kindness and friendly treatments, exceedingly encouraged us to try our utmost for their numerous acts of welfare, so that their fair faces may shine with heavenly effulgence in the next We beseech God for their well being in this world and the next. Oh God! guide them and help them with Thy grace, and instil in their minds the love for Thy religion, and attract them with Thy power, so that they may have faith on Thy Book and prophet, and embrace Thy religion in groups Amen! Amen!"

"Praise be to God the supporter of creation!"
(Sd) MIRZA GULAM AHMAD Chief of Qadian, District Gurdaspur, Punjab, India