فہرست

ٹائیٹل بار اوّل

Title-Ed1

فہرست مضامین براہین احمدیہ حصۂ چہارم ٭

  1. کلام الٰہی کی ضرورت کے ثبوت میں اور اس بات کے اثبات میں کہ حقیقی اور کامل ایمان اور معرفت جس کو اپنی نجات کے لئے اس دنیا میں حاصل کرنا چاہئے بجز کلام الٰہی غیر ممکن ہے اور اس کی ضمن میں بہت سے خیالات برہمیوں اور فلسفیوں اور نیچریوں کا ردّ صفحہ ۲۷۹ سے ۵۶۲ تک حاشیہ نمبر ۱۱ و نیز متن۔
  2. قرآن شریف کی ایک سورۃ یعنی سورۃ فاتحہ کے بے مثل دقائق و حقائق و خواص کا بیان صفحہ ۳۳۹ سے ۵۲۷ تک۔
  3. قرآن شریف کی بعض دوسری آیات کا بیان کہ جو توحید الٰہی کے مضمون پر مشتمل ہیں صفحہ ۳۴۷ سے صفحہ ۵۶۲ تک حاشیہ نمبر ۱۱۔
  4. اس بات کا بیان کہ وید تعلیمِ توحید اور فصاحت بلاغت سے خالی ہے اور وید کی بعض شرتیوں کا ذکر صفحہ ۳۹۷ سے تا صفحہ ۴۶۸ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳۔
  5. وید کے عقائد باطلہ کا ذکر صفحہ ۳۹۲ سے تا صفحہ ۴۳۳ حاشیہ نمبر ۱۱۔
  6. پنڈت دیانند اور ان کے لاجواب رہنے کا بیان اور ان سوالات کا ذکر جس میں وہ لاجواب رہے اور ان کی وفات کی نسبت پیشگوئی کہ جو قبل از وقوع بعض آریہ کو بتلائی گئی۔ صفحہ ۵۳۱ تا ۳۶ ۵حاشیہ نمبر ۱۱۔
  7. انجیل اور قرآن شریف کی تعلیم کا مقابلہ صفحہ ۳۳۲ سے ۳۶۶ تک۔
  8. ان تمام پیشگوئیوں کا ذکر کہ جو بعض آریوں کو بتلائی گئیں صفحہ ۴۶۸ تا صفحہ۵۱۴ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳۔
  9. آئندہ پیشگوئیوں کا بیان صفحہ ۵۱۴ سے تا صفحہ ۵۶۲ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳۔
  10. مسیح سے کوئی معجزہ ظہور میں آنا یا ان کا کوئی پیشگوئی بتلانا ثابت نہیں۔ صفحہ ۴۳۴ سے تا صفحہ ۴۶۹ متن۔
  11. نجات حقیقی کیا چیز ہے اور کیونکر مل سکتی ہے صفحہ ۲۹۳ سے تا صفحہ ۳۰۶ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۲۔

مسلمانوں کی نازک حالت
اور
انگریزی گورنمنٹ

تر سم کہ بہ کعبہ چوں روی ٭ اے اَعرابی

کیں رہ کہ تومی روی بترکستان است

۔ اے ( عرب ) کے بدو ! مجھے خدشہ ہے کہ تو کس طرح کعبہ تک پہنچے گا کیونکہ جس راستہ پر تو چل رہا ہے وہ تو ترکستان کو جاتا ہے

آج کل ہمارے دینی بھائیوں مسلمانوں نے دینی فرائض کے ادا کرنے اور اخوت اسلامی کے بجالانے اور ہمدردی قومی کے پورا کرنے میں اس قدر سستی اور لاپروائی اور غفلت کررکھی ہے کہ کسی قوم میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ان میں ہمدردی قومی اور دینی کا مادہ ہی نہیں رہا۔ اندرونی فسادوں اور عنادوں اور اختلافوں نے قریب قریب ہلاکت کے ان کو پہنچا دیا ہے اور افراط تفریط کی بے جا حرکات نے اصل مقصود سے ان کو بہت دور ڈال دیا ہے جس نفسانی طرز سے ان کی باہمی خصومتیں برپا ہورہی ہیں۔ اس سے نہ صرف یہی اندیشہ ہے کہ ان کا بے اصل کینہ دن بدن ترقی کرتا جائے گا اور کیڑوں کی طرح بعض کو بعض کھائیں گے اور اپنے ہاتھ سے اپنے استیصال کے موجب ہوں گے بلکہ یہ بھی یقیناً خیال کیا جاتا ہے کہ اگر کوئی دن ایسا ہی ان کا حال رہا تو ان کے ہاتھ سے سخت ضرر اسلام کو پہنچے گا اور ان کے ذریعہ سے بیرونی مفسد مخالف بہت سا موقعہ نکتہ چینی اور فساد انگیزی کا پائیں گے۔ آج کل کے بعض علماء پر ایک یہ بھی افسوس ہے کہ وہ اپنے بھائیوں پر اعتراض کرنے میں بڑی عجلت کرتے ہیں اور قبل اس کے جو اپنے پاس علم صحیح قطعی موجود ہو اپنے بھائی پر حملہ کرنے کو طیار ہوجاتے ہیں اور کیونکر طیار نہ ہوں بباعث غلبہ نفسانیت یہ بھی تو مدنظر ہوتا ہے کہ کسی طرح ایک مسلمان کو کہ جو مقابل پر نظر آرہا ہے نابود کیا جائے اور اس کو شکست اور ذلت اور رسوائی پہنچے اور ہماری فتح اور فضیلت ثابت ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بات بات میں ان کو فضول جھگڑے کرنے پڑتے ہیں۔ خدا نے یکلخت ان سے عجز اور فروتنی اور حسن ظن اور محبت برادرانہ کو اٹھالیا۔ انا للّہ وانا الیہ راجعون

تھوڑا عرصہ گزرا ہے کہ بعض صاحبوں نے مسلمانوں میں سے اس مضمون کی بابت کہ جو حصہ سوم کے ساتھ گورنمنٹ انگریزی کے شکر کے بارے میں شامل ہے اعتراض کیا اور بعض نے خطوط بھی بھیجے اور بعض نے سخت اور درشت لفظ بھی لکھے کہ انگریزی عملداری کو دوسری عملداریوں پر کیوں ترجیح دی لیکن ظاہر ہے کہ جس سلطنت کو اپنی شائستگی اور حسن انتظام کے رو سے ترجیح ہو۔ اس کو کیونکر چھپا سکتے ہیں۔ خوبی باعتبار اپنی ذاتی کیفیت کے خوبی ہی ہے گو وہ کسی گورنمنٹ میں پائی جائے۔ الحکمۃ ضالّۃ المؤمن۔ الخ۔ اور یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اسلام کا ہرگز یہ اصول نہیں ہے کہ مسلمانوں کی قوم جس سلطنت کے ماتحت رہ کر اس کا احسان اٹھاوے اس کے ظل حمایت میں باَمن و آسائش رہ کر اپنا رزق مقسوم کھاوے۔ اس کے انعامات متواترہ سے پرورش پاوے پھر اسی پر عقرب کی طرح نیش چلاوے اور اس کے سلوک اور مروّت کا ایک ذرہ شکر بجا نہ لاوے بلکہ ہم کو ہمارے خداوند کریم نے اپنے رسول مقبول کے ذریعہ سے یہی تعلیم دی ہے کہ ہم نیکی کا معاوضہ بہت زیادہ نیکی کے ساتھ کریں اور مُنعم کا شکر بجالاویں اور جب کبھی ہم کو موقعہ ملے تو ایسی گورنمنٹ سے بدلی صدق کمال ہمدردی سے پیش آویں اور بہ طیب خاطر معروف اور واجب طور پر اطاعت اٹھاویں۔ سو اس عاجز نے جس قدر حصہ سوم کے پرچہ مشمولہ میں انگریزی گورنمنٹ کا شکر ادا کیا ہے وہ صرف اپنے ذاتی خیال سے ادا نہیں کیا بلکہ قرآن شریف و احادیث نبوی کی ان بزرگ تاکیدوں نے جو اس عاجز کے پیش نظر ہیں مجھ کو اس شکر ادا کرنے پر مجبور کیا ہے۔ سو ہمارے بعض ناسمجھ بھائیوں کی یہ افراط ہے جس کو وہ اپنی کوتہ اندیشی اور بخل فطرتی سے اسلام کا جز سمجھ بیٹھے ہیں۔

اے جفاکیش نہ عذرست طریق عشاق

ہرزہ بدنام کنی چند نکو نامے را

۔ اے ظالم عذر کرنا عاشقوں کا شیوہ نہیں ، تو فضول چند نیک نام لوگوں (عاشقوں) کو بدنام کررہا ہے

اور جیسا کہ ہم نے ابھی اپنے بعض بھائیوں کی افراط کا ذکر کیا ہے ایسا ہی بعض ان میں سے تفریط کی مرض میں بھی مبتلا ہیں اور دین سے کچھ غرض واسطہ ان کا نہیں رہا بلکہ ان کے خیالات کا تمام زور دنیا کی طرف لگ رہا ہے مگر افسوس کہ دنیا بھی ان کو نہیں ملتی۔ خسر الدنیا والعاقبۃ بن رہے ہیں۔ اور کیونکر ملے۔ دین تو ہاتھ سے گیا اور دنیا کمانے کے لئے جو لیاقتیں ہونی چاہئیں وہ حاصل نہیں کیں۔ صرف شیخ چلی کی طرح دنیا کے خیالات دل میں بھرے ہیں۔ اور جس لکیر پر چلنے سے دنیا ملتی ہے اس پر قدم نہ رکھا۔ اور اس کے مناسب حال اپنے تئیں نہ بنایا۔ سو اب ان کا یہ حال ہے کہ نہ اِدھر کے رہے اور نہ اُدھر کے رہے۔ انگریز جو انہیں نیم وحشی کہتے ہیں یہ بھی ان کا احسان ہی سمجھیئے ورنہ اکثر مسلمان وحشیوں سے بھی بدتر نظر آتے ہیں۔ نہ عقل رہی نہ ہمت رہی نہ غیرت رہی نہ محبت رہی۔ فی الحقیقت یہ سچ ہے کہ جس قدر ان کے ہمسائیوں آریوں کی نظر میں ایک ادنیٰ حیوان گائے کی عزت اور توقیر ہے ان کے دلوں میں اپنی قوم اور اپنے بھائیوں اور اپنے سچے دین کی مہمات کی اس قدر بھی عزت نہیں۔ کیونکہ ہم ہمیشہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ اولوالعزم قوم آریہ گائے کی عزت قائم رکھنے کے لئے اس قدر کوششیں کرکے لکھو کھہا روپیہ جمع کرلیتے ہیں کہ مسلمان لوگ اللہ اور رسول کی عزت ظاہر کرنے کے لئے اس کا ہزارم حصہ بھی جمع نہیں کرسکتے بلکہ جہاں کہیں اعانت دینی کا ذکر آیا تو وہیں عورتوں کی طرح اپنا مونہہ چھپالیتے ہیں۔ اور آریہ قوم کی اولوالعزمی غور کرنے سے اور بھی زیادہ ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ گائے کی جان بچانے کے لئے کوشش کرنا حقیقت میں ان کے مذہب کے رو سے ایک ادنیٰ کام ہے کہ جو مذہبی کتب سے ثابت نہیں۔ بلکہ ان کے محقق پنڈتوں کو خوب معلوم ہے کہ کسی وید میں گائے کا حرام ہونا نہیں پایا جاتا۔ بلکہ رگ وید کے پہلے حصہ سے ہی ثابت ہوتا ہے کہ وید کے زمانہ میں گائے کا گوشت عام طور پر بازاروں میں بکتا تھا اور آریہ لوگ بخوشی خاطر اس کو کھاتے تھے۔ اور حال میں جو ایک بڑے محقق یعنے آنریبل مونٹ اسٹورٹ انفنشٹن ٭ صاحب بہادر سابق گورنر بمبئی نے واقعات آریہ قوم میں ہندوؤں کے مستند پستکوں کے رو سے ایک کتاب بنائی ہے جس کا نام تاریخ ہندوستان ہے اس کے صفحہ نواسی میں منوکے مجموعہ کی نسبت صاحب موصوف لکھتے ہیں کہ اس میں بڑے بڑے تیوہاروں میں بیل کا گوشت کھانے کے لئے برہمنوں کو تاکید کی گئی ہے یعنے اگر نہ کھاویں تو گنہگار ہوں۔ اور ایسی ہی ایک اَورکتاب انہیں دنوں میں ایک پنڈت صاحب نے بمقام کلکتہ چھپوائی ہے جس میں لکھا ہے کہ وید کے زمانہ میں گائے کا کھانا ہندوؤں کے لئے دینی فرائض میں سے تھا اور بڑے بڑے اور عمدہ عمدہ ٹکڑے برہمنوں کو کھانے کے لئے ملتے تھے۔ اور علیٰ ھٰذا القیاس مہابھارت کے پرب تیرھویں میں بھی صاف تصریح ہے کہ گوشت گائے کا نہ صرف حلال اور طیب بلکہ اس کا اپنے پتروں کے لئے برہمنوں کو کھلانا تمام جانوروں میں سے اولیٰ اور بہتر ہے اور اس کے کھلانے سے پتر دس ماہ تک سیر رہتے ہیں۔ غرض وید کے تمام رشیوں اور منوجی اور بیاس جی نے گوشت گائے کا استعمال کرنا فرائض دینی میں داخل کیا ہے اور موجب ثواب سمجھا ہے اور اس جگہ ہمارا بیان بعض کی نظر میں ناقص رہ جاتا اگر ہم پنڈت دیانند صاحب کو کہ جو ۳۰ ؍اکتوبر ۱۸۸۳ء میں اس جہان کو چھوڑ گئے رائے متفقہ بالا سے باہر رکھ لیتے۔ سو غور سے دیکھنا چاہیے کہ پنڈت صاحب موصوف نے بھی کسی اپنی کتاب میں گائے کا حرام یا پلید ہونا نہیں لکھا اور نہ وید کے رو سے اس کی حرمت اور ممانعت ذبح کو ثابت کیا بلکہ بنظر ارزانی دودھ اور گھی کے اس رواج کی بنیاد بیان کی اور بعض ضرورت کے موقعوں میں گاؤ کشی کو مناسب بھی سمجھا جیسا کہ ان کی ستیارتھ پرکاش اور وید بھاش سے ظاہر ہے۔

اب اس تمام تقریر سے ہماری یہ غرض ہرگز نہیں کہ آریہ لوگ اپنے وید مقدس اور اپنے بزرگ رشیوں اور بیاس جی اور منوجی کے قابل تعظیم فرمان اور اپنے محقق اور فاضل پنڈتوں کے قول سے کیوں خلاف ورزی اور انحراف کرتے ہیں بلکہ اس جگہ صرف یہ غرض ہے کہ آریہ قوم کیسی اولوالعزم اور باہمت اور اتفاق کرنے والی قوم ہے کہ ایک ادنیٰ بات پر بھی کہ جس کی مذہب کے رو سے کچھ بھی اصلیت نہیں پائی جاتی وہ اتفاق کرلیتے ہیں اور ہزارہا روپیہ چندہ ہاتھوں ہاتھ جمع ہوجاتا ہے۔ پس جس قوم کا ناکارہ خیالات پر یہ اتفاق اور جوش ہے اس قوم کی عالی ہمتی اور دلی جوش کا مہمات عظیمہ پر خود اندازہ کرلینا چاہیے۔ پست ہمت مسلمانوں کو لازم ہے کہ جیتے ہی مرجائیں۔ اگر محبت خدا اور رسول کی نہیں تو اسلام کا دعویٰ کیوں کرتے ہیں کیا خباثت کے کاموں میں اور نفس امارہ کی پیروی میں اور ناک کے بڑھانے کی نیت سے بے اندازہ مال ضائع کرنا اور اللہ اور رسول کی محبت میں اور ہمدردی کی راہ میں ایک دانہ ہاتھ سے نہ چھوڑنا یہی اسلام ہے، نہیں یہ ہرگز اسلام نہیں۔ یہ ایک باطنی جذام ہے۔ یہی ادبار ہے کہ مسلمانوں پر عاید ہورہا ہے۔ اکثر مسلمان امیروں نے مذہب کو ایک ایسی چیز سمجھ رکھا ہے کہ جس کی ہمدردی غریبوں پر ہی لازم ہے اور دولت مند اس سے مستثنیٰ ہیں جنہیں اس بوجھ کو ہاتھ لگانا بھی منع ہے۔ اس عاجز کو اس تجربہ کا اسی کتاب کے چھپنے کے اثناء میں خوب موقعہ ملا کہ حالانکہ بخوبی مشتہر کیا گیا تھا کہ اب بباعث بڑھ جانے ضخامت کے اصل قیمت کتاب کی سو روپیہ ہی مناسب ہے کہ ذی مقدرت لوگ اس کی رعایت رکھیں کیونکہ غریبوں کو یہ صرف دس روپیہ میں دی جاتی ہے سو جبر نقصان کا واجبات سے ہے مگر بجز سات آٹھ آدمی کے سب غریبوں میں داخل ہوگئے۔ خوب جبر کیا ہم نے جب کسی منی آرڈر کی تفتیش کی کہ یہ پانچ روپیہ بوجہ قیمت کتاب کس کے آئے ہیں یا یہ دس روپیہ کتاب کے مول میں کس نے بھیجے ہیں تو اکثر یہی معلوم ہوا کہ فلاں نواب صاحب نے یا فلاں رئیس اعظم نے ہاں نواب اقبال الدولہ صاحب حیدر آبادنے اور ایک اور رئیس نے ضلع بلند شہر سے جس نے اپنا نام ظاہر کرنے سے منع کیا ہے ایک نسخہ کی قیمت میں سو سو روپیہ بھیجا ہے اور ایک عہدہ دار محمد افضل خان نام نے ایک سو دس اور نواب صاحب کوٹلہ مالیر نے تین نسخہ کی قیمت میں سو روپیہ بھیجا اور سردار عطر سنگھ صاحب رئیس اعظم لودھیانہ نے کہ جو ایک ہندو رئیس ہیں اپنی عالی ہمتی اور فیاضی کی وجہ سے بطور اعانت بھیجے ہیں۔ سردار صاحب موصوف نے ہندو ہونے کی حالت میں اسلام سے ہمدردی ظاہر کی۔ بخیل اور ممسک مسلمانوں کو جو بڑے بڑے لقبوں اور ناموں سے بلائے جاتے ہیں اور قارون کی طرح بہت سا روپیہ دبائے بیٹھے ہیں اس جگہ اپنی حالت کو سردار صاحب کے مقابلہ پر دیکھ لینا چاہیے جس حالت میں آریوں میں ایسے لوگ بھی پائے گئے ہیں کہ جو دوسری قوم کی بھی ہمدردی کرتے ہیں اور مسلمانوں میں ایسے لوگ بھی کم ہیں کہ جو اپنی ہی قوم سے ہمدردی کرسکیں تو پھر کہو کہ اِس قوم کی ترقی کیونکر ہو۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ (الرعد: ۱۲) دینی ہمدردی بجز مسلمانوں کے ہر ایک قوم کے امراء میں پائی جاتی ہے۔ ہاں اسلامی امیروں میں ایسے لوگ بہت ہی کم پائے جائیں گے کہ جن کو اپنے سچے اور پاک دین کا ایک ذرّہ خیال ہو۔ کچھ تھوڑا عرصہ گزرا ہے کہ اس خاکسار نے ایک نواب صاحب کی خدمت میں کہ جو بہت پارسا طبع اور متقی اور فضائل علمیہ سے متصف اور قال اللہ اور قال الرسول سے بدرجہ غایت خبر رکھتے ہیں کتاب براہین احمدیہ کی اعانت کے لئے لکھا تھا۔ سو اگر نواب صاحب ممدوح اس کے جواب میں یہ لکھتے کہ ہماری رائے میں کتاب ایسی عمدہ نہیں جس کے لئے کچھ مدد کی جائے تو کچھ جائے افسوس نہ تھا مگر صاحب موصوف نے پہلے تو یہ لکھا کہ پندرہ بیس کتابیں ضرور خریدیں گے اور پھر دوبارہ یاد دہانی پر یہ جواب آیا کہ دینی مباحثات کی کتابوں کا خریدنا یا ان میں کچھ مدد دینا خلاف منشاء گورنمنٹ انگریزی ہے اس لئے اس ریاست سے خرید وغیرہ کی کچھ امیدنہ رکھیں۔ سو ہم بھی نواب صاحب کو امیدگاہ نہیں بناتے بلکہ امیدگاہ خداوند کریم ہی ہے اور وہی کافی ہے (خدا کرے گورنمنٹ انگریزی نواب صاحب پر بہت راضی رہے) لیکن ہم بادب تمام عرض کرتے ہیں کہ ایسے ایسے خیالات میں گورنمنٹ کی ہجو ملیح ہے۔ گورنمنٹ انگریزی کا یہ اصول نہیں ہے کہ کسی قوم کو اپنے مذہب کی حقانیت ثابت کرنے سے روکے یا دینی کتابوں کی اعانت کرنے سے منع کرے۔ ہاں اگر کوئی مضمون مخلِ امن یا مخالف انتظام سلطنت ہو تو اس میں گورنمنٹ مداخلت کرے گی۔ ورنہ اپنے اپنے مذہب کی ترقی کیلئے وسائل جائزہ کو استعمال میں لانا ہریک قوم کو گورنمنٹ کی طرف سے اجازت ہے۔ پھر جس قوم کا مذہب حقیقت میں سچا ہے اور نہایت کامل اور مضبوط دلائل سے اس کی حقیت ثابت ہے۔ وہ قوم اگر نیک نیتی اور تواضع اور فروتنی سے خلق اللہ کو نفع پہنچانے کیلئے اپنے دلائل حقہ شائع کرے تو عادل گورنمنٹ کیوں اس پر ناراض ہوگی۔ ہمارے اسلامی امراء کو اس بات سے بہت کم خبر ہے کہ گورنمنٹ کی عادلانہ مصلحت کا یہی تقاضا ہے کہ وہ دلی انشراح سے آزادی کو قائم رکھے اور خود ہم نے بچشم خود ایسے لائق اور نیک فطرت انگریز کئی دیکھے ہیں کہ جو مداہنہ اور منافقانہ سیرت کو پسندنہیں کرتے اور تقویٰ اور خدا ترسی اور یک رنگی کو اچھا سمجھتے ہیں اور حقیقت میں تمام برکتیں یکرنگی اور خدا ترسی میں ہی ہیں جن کا عکس کبھی نہ کبھی خویش اور بیگانہ پر پڑجاتا ہے۔ اور جس پر خدا راضی ہے آخر اس پر خلق اللہ بھی راضی ہوجاتی ہے۔ غرض نیک نیتی اور صالحانہ قدم سے دینی اور قومی ہمدردی میں مشغول ہونا اور فی الحقیقت دنیا اور دین میں دلی جوش سے خلق اللہ کا خیر خواہ بننا ایک ایسی نیک صفت ہے کہ اس قسم کے لوگ کسی گورنمنٹ میں پائے جانا اس گورنمنٹ کا فخر ہے اور اس زمین پر آسمان سے برکات نازل ہوتی ہیں جس میں ایسے لوگ پائے جائیں لیکن سخت بدنصیب وہ گورنمنٹ ہے جس کے ماتحت سب منافق ہی ہوں کہ جو گھر میں کچھ کہیں اور روبرو کچھ کہیں۔ سو یقیناً سمجھنا چاہیے کہ لوگوں کا یک رنگی میں ترقی کرتے جانا اور گورنمنٹ کو ایک محسن دوست سمجھ کر بے تکلف اس کے ساتھ پیش آنا یہی خوش قسمتی گورنمنٹ انگریزی کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے مربی حکام نہ صرف قول سے آزادی کا سبق ہم کو دیتے ہیں بلکہ دینی امور میں خود آزادانہ افعال بجالاکر اپنی فعلی نصیحت سے ہم کو آزادی پر قائم کرنا چاہتے ہیں اور بطور نظیر کے یہی کافی ہے کہ شاید ایک ماہ کا عرصہ ہوا ہے کہ جب ہمارے ملک کے نواب لفٹنٹ گورنر پنجاب سر چارلس ایچیسن صاحب بہادر بٹالہ ضلع گورداسپورہ میں تشریف لائے تو انہوں نے گرجا گھر کی بنیاد رکھنے کے وقت نہایت سادگی اور بے تکلفی سے عیسائی مذہب سے اپنی ہمدردی ظاہر کرکے فرمایا کہ مجھ کو امید تھی کہ چند روز میں یہ ملک دینداری اور راستبازی میں بخوبی ترقی پائے گا لیکن تجربہ اور مشاہدہ سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ بہت ہی کم ترقی ہوئی (یعنی ابھی لوگ بکثرت عیسائی نہیں ہوئے اور پاک گروہ کرسچنوں کا ہنوز قلیل المقدار ہے) تو بھی ہم کو مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ پادری صاحبان کا کام بے فائدہ نہیں اور ان کی محنت ہرگز ضائع نہیں بلکہ خیر کے موافق دلوں میں اثر کرتی ہے اور باطن میں بہت سے لوگوں کے دل طیار ہوتے جاتے ہیں مثلاً ایک مہینہ سے کم گزرا ہوگا کہ ایک معزز رئیس میرے پاس آیا اور مجھ سے ایک گھنٹہ تک دینی گفتگو کی۔ معلوم ہوتا تھا کہ اس کا دل کچھ طیاری چاہتا ہے۔ اس نے کہا کہ میں نے دینی کتابیں بہت دیکھیں لیکن میرے گناہوں کا بوجھ ٹلا نہیں اور میں خوب جانتا ہوں کہ میں نیک کام نہیں کرسکتا۔ مجھے بہت بے چینی ہے۔ میں نے جواب میں اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو زبان میں اس کو اس لہو کی بابت سمجھایا جو سارے گناہوں سے پاک و صاف کرتا ہے اور اس راستبازی کی بابت سمجھایا کہ جو اعمال سے حاصل نہیں ہوسکتی بلکہ مفت ملتی ہے۔ اس نے کہا کہ میں نے سنسکرت میں انجیل دیکھی ہے اور ایک دو دفعہ یسوع مسیح سے دعا مانگی ہے اور اب میں خوب انجیل کو دیکھوں گا اور زور زور سے عیسیٰ مسیح سے دعا مانگوں گا۔ (یعنی مجھ کو آپکے وعظ سے بڑی تاثیر ہوئی اور عیسائی مذہب کی کامل رغبت پیدا ہوگئی) اب دیکھنا چاہیے کہ نواب لفٹنٹ گورنر بہادر نے کس محنت سے ہندو رئیس کو اپنے مذہب کی طرف مائل کیا اور اگرچہ ایسے ایسے رئیس اپنے مطلب نکالنے کے لئے حکام کے روبرو ایسی ایسی منافقانہ باتیں کیا کرتے ہیں تاحکام ان پر خوش ہوجائیں اور ان کو اپنا دینی بھائی بھی خیال کرلیں لیکن اس تقریر سے مطلب تو صرف اس قدر ہے کہ صاحب موصوف کی اس گفتگو سے گورنمنٹ انگریزی کی آزادی کو سمجھ لینا چاہیے کیونکہ جب خودنواب لفٹنٹ گورنر بہادر اپنے خوش عقیدہ کا ہندوستان میں پھیلانا بدلی رغبت چاہتے ہیں بلکہ اس کے لئے کبھی کبھی موقعہ پاکر تحریک بھی کرتے ہیں تو پھر وہ دوسروں پر اپنے اپنے دین کی ہمدردی کرنے میں کیوں ناراض ہوں گے اور حقیقت میں یکرنگی سے ہمدردی بجا لانا ایک نیک صفت ہے جس پر نفاق کی سیرت کو قربان کرنا چاہیے۔ اسی یکرنگی کے جوش سے بمبئی کے سابق گورنر سر رچرڈ ٹیمپل صاحب نے مسلمانوں کی نسبت ایک مضمون لکھا ہے چنانچہ وہ ولایت کے ایک اخبار ایوننگ سٹینڈرڈ نامی میں چھپ کر اردو اخباروں میں بھی شائع ہوگیا ہے۔ صاحب موصوف لکھتے ہیں کہ افسوس ہے کہ مسلمان لوگ عیسائی نہیں ہوتے اور وجہ یہ ہے کہ ان کا مذہب ان ناممکن باتوں سے لبریز نہیں ہے جن میں ہندو مذہب ڈوبا ہوا ہے۔ ہندو مذہب اور بدھ مذہب کے قائل کرنے کیلئے ممکن ہے کہ ہنسی ہنسی میں عام دلائل سے قائل کرکے ان کو مذہب سے گرایا جائے لیکن اسلامی مذہب عقل کا مقابلہ بخوبی کرتا ہے اور دلائل سے نہیں ٹوٹ سکتا ہے۔ عیسائی لوگ آسانی سے دوسرے مذہبوں کے ناممکنات ظاہر کرکے ان کے پیرؤں کو مذہب سے ہٹاسکتے ہیں مگر محمدیوں کے ساتھ ایسا کرنا ان کیلئے ٹیڑھی لکیر ہے۔ سو یہ یکرنگی مسلمان امیروں میں نہیں پائی جاتی چہ جائیکہ وہ اس مضمون پر غور کریں۔

خاکسار غلام احمد

نوٹ: مضمون کے تسلسل کے لئے دیکھئے ... براہین احمدیہ حصہ سوم (شمس)


یعنی اس کی ذات اور صفات اور افعال کا شرکت غیر سے پاک ہونا اور قدرت کاملہ سے بھرے ہوئے ہونا یہ ایسا امر نہیں ہے کہ جو فقط تجربہ سے ثابت ہوا ہو بلکہ دلائل عقلیہ بھی خدا کا اپنی ذات اور جمیع صفات اور افعال میں واحد لاشریک ہونا ضروری اور واجب ٹھہراتے ہیں۔ اور اس کی الوہیّت کے تحقق کو انہیں خواص کے تحقق سے مشروط قرار دیتے ہیں۔ پس اب ان نادانوں کو ذرا حیا اور شرم کو کام میں لاکر غور کرنی چاہئے جنہوں نے کلام الٰہی کی بے نظیری کی عدم تسلیم میں صرف یہ اعتراض بنا رکھا ہے کہ جس حالت میں خدا کا کلام بھی ہمارے کلام کی جنس میں سے ہے اور انہیں کلمات اور الفاظ سے مرکب ہے جن سے ہمارا کلام مرکب ہے تو پھر کیا وجہ کہ اس کی مثل بنانے پر ہم قادر نہ ہوسکیں۔ ایسے لوگوں کی حالت پر رونا آتا ہے جن کو ایسی مستحکم اور بدیہی صداقت کہ جو دلائل قاطعہ سے ثابت ہے سمجھ آنے سے رہ گئی۔ اگر ان میں ذرا عقلِ خداداد ہوتی تو اس بیہودہ اعتراض کرنے کے وقت اول یہی سوچتے کہ کیا خدا کا اپنی ذات اور صفات اور جمیع افعال میں واحد لاشریک ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ اور اگر اس دلیل کو نہیں سوچا تھا تو کاش اس دوسری دلیل کو ہی سوچا ہوتا کہ جس ذات کو علمی اور قدرتی طاقتوں میں سب سے زیادہ اور بے مثل و مانند تسلیم کرتے ہیں ان طاقتوں کے آثار کو بھی بے مثل و مانند ماننا چاہئے کیونکہ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کلام کی عظمت و شوکت متکلم کی علمی طاقتوں کے تابع ہے جو کوئی علمی طاقتوں میں زیادہ تر ہے اس کی تقریر کی عظمت و شوکت بھی زیادہ تر ہے اور اگر اس دلیل کو بھی نظر سے ساقط کردیا تھا تو کاش مسئلہ خواص الاشیاء حق کا یاد رکھتے۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ صدہا چیزیں ایک ہی جنس کی ہوتی ہیں بلکہ ایک ہی صنف کے تحت میں داخل ہوتی ہیں مگر پھر بھی حکیم مطلق نے ہریک چیز میں جدا جدا خواص مودّع کئے ہیں۔ بعض لوگ اس دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں کہ بولی انسان کی ایجاد ہے۔ اور جبکہ انسان کی ایجاد ہوئی تو پھر بلاغت اور فصاحت اور دوسرے کمالاتِ متعلقہ کلام میں جیسا کہ چاہئے انسان مراتب اقصیٰ تک پہونچ سکتا ہے کیونکہ یہ بات بالکل غیر معقول اور خلاف قیاس ہے کہ انسان اپنی ایجاد میں ترقیات کرنے سے قاصر اور عاجز رہے اور جب کلام کی بلاغت اور فصاحت میں ہر قسم کی ترقی کرنا اور مرتبۂ کمال تک پہونچ جانا عندالعقل ممنوع نہیں ہے تو اس صورت میں قرآنی بلاغت کی نظیر بنانا بھی ممنوع نہ ہوگا سو واضح ہو کہ یہ وسوسہ اول تو ہماری اس تقریر متذکرہ بالا سے دور ہوتا ہے جس میں ہم نے بتوضیح تمام لکھ دیا ہے کہ انسان کی علمی طاقتیں خدا تعالیٰ کی علمی طاقتوں سے ہرگز برابر نہیں ہو سکتیں اور جو علمی طاقتوں میں ادنیٰ اور اعلیٰ اور قوی اور ضعیف کا فرق ہوتا ہے وہ ضرور ہے کہ کلام میں ظاہر ہو یعنے جو کلام اعلیٰ طاقت سے صادر ہوئی ہے وہ اعلیٰ اور جو ادنیٰ طاقت سے صادر ہوئی ہے وہ ادنیٰ ہو جیسا کہ خود انسان کے افراد متفاوت الاستعداد پر نظر کرنے سے یہ فرق ظاہر اور ہویدا ہے اور ضعیف الاستعداد قوی الاستعداد کا مقابلہ نہیں کرسکتا حالانکہ سب انسان ایک ہی نوع میں داخل ہیں ماسوا اس کے یہ خیال بھی صحیح نہیں کہ ہر یک بولی انسان کی ہی ایجاد ہے بلکہ بکمال تحقیق ثابت ہے کہ موجد اور خالق انسان کی بولیوں کا وہی خدائے قادر مطلق ہے جس نے اپنی قدرت کاملہ سے انسان کو پیدا کیا اور اس کو اسی غرض سے زبان عطا فرمائی کہ تا وہ کلام کرنے پر قادر ہوسکے۔ اگر بولی انسان کی ایجاد ہوتی تو اس صورت میں کسی بچہ نوزاد کو تعلیم کی کچھ بھی حاجت نہ ہوتی بلکہ بالغ ہوکر آپ ہی کوئی بولی ایجاد کرلیتا لیکن بہ بداہت عقل ظاہر ہے کہ اگر کسی بچہ کو بولی نہ سکھائی جائے تو وہ کچھ بول نہیں سکتا۔ اور خواہ تم اس بچہ کو یونان کے کسی جنگل میں پرورش کرو یا انگلینڈ کے جزیرہ میں چھوڑ دو۔ خواہ تم اس کو خط استوا کے نیچے لے جاؤ تب بھی وہ بولی سیکھنے میں تعلیم کا محتاج ہو گا اور بغیر سکھانے کے بے زبان رہے گا۔

اور اس خیال کی تائید میں یہ وہم پیش کرنا کہ ہم بچشم خود دیکھتے ہیں کہ بولیوں میں ہمیشہ صدہا طرح کے تغیر و تبدل خود بخود ہوتے رہتے ہیں جن سے بولیوں میں انسانی تصرّف کا ثبوت ملتا ہے۔ سو واضح ہو کہ یہ وہم سراسر دھوکا ہے۔ تغیرات کہ جو ہمیشہ بولیوں کو لگے ہوئے ہیں یہ انسان کے ارادہ اور اختیار سے ظہور میں نہیں آتے۔ اور نہ یہ کچھ قاعدہ مقرر ہو سکتا ہے کہ خود انسان کی طبیعت کسی خاص خاص وقتوں میں بولیوں میں تغیر تبدل کرتی رہتی ہے۔ بلکہ عمیق نظر سے معلوم ہوگا کہ یہ تغیرات بھی اس علت العلل کے ارادہ اور اختیار سے وقوع میں آتے رہتے ہیں جیسے تمام تغیرات سماوی و اَرضی اس کے خاص ارادہ سے ظہور پذیر ہیں ۔ یہ امر کبھی ثابت نہیں ہوسکتا کہ کبھی انسانوں نے متفق ہوکر یا الگ الگ ان تمام بولیوں کو ایجاد کیا تھا جو دنیا میں بولی جاتی ہیں۔ اور اگر کوئی یہ وہم پیش کرے کہ جس طرح طبعی طور پر خدا تعالیٰ بولیوں میں ہمیشہ تغیر تبدل کرتا رہتا ہے کیوں جائز نہیں کہ ابتدا میں بھی اسی طور پر بولیاں ایجاد ہو گئی ہوں اور کوئی خاص الہام نہ ہوا ہو۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ابتدا زمانہ کے لئے عام قانون قدرت یہی ہے کہ خدا نے ہریک چیز کو اپنی قدرتِ محض سے پیدا کیا تھا۔ آسمان اور زمین اور سورج اور چاند اور خود انسان کی فطرت پر نظر کرنے سے معلوم ہوگا کہ وہ ابتدائی زمانہ محض قدرت نمائی کا زمانہ تھا جس میں اسباب معتادہ کی ذرہ آمیزش نہ تھی۔ اور اس زمانہ میں جو کچھ خدا نے پیدا کیا وہ ایسی اعلیٰ قدرت سے کیا جس میں عقل انسان حیران ہے۔ زمین آسمان اور سورج و چاند وغیرہ اجرام پر نظر ڈال کر دیکھو کہ کیونکر اتنا بڑا کام بغیر مدد اسباب اور معماروں اور مزدوروں کے محض ارادہ سے بہ مجرد حکم کے انجام دے دیا۔ پھر جس حالت میں اس ابتدائی زمانہ میں خدا کا سارا کام قدرتی پایا جاتا ہے کہ جو آمیزش طبیعت اور سبب سے بہ کلی پاک اور خالص ربانی ارادہ سے نکلا ہوا ہے تو پھر کیونکر بے ایمانوں کی طرح بولیوں کے بارہ میں خدا کو اس بات سے عاجز سمجھا جائے کہ جس طرح اس نے تمام چیزوں کو محض قدرت سے پیدا کیا تھا وہ بولیوں کے پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جس نے خود انسان کو بغیر باپ اور ما کے پیدا کرکے اپنی قدرت تامہ کا ثبوت دے دیا ہے۔ پھر بولیوں کے بارہ میں کیوں اس کی قدرت کو ناقص خیال کیا جائے۔ غرض جبکہ ہریک عاقل کو یہ ماننا پڑتا ہے کہ پہلا زمانہ خالص قدرت نمائی کا زمانہ تھا اور اس میں عام طور پر قانون قدرت یہی تھا کہ ہریک کام بغیر آمیزش اسباب معتادہ کے کیا جائے تو پھر بولیوں کو اس عام قانون سے باہر نکال کر قانون قدرت کو توڑنا سراسر جہالت اور نادانی ہے۔ اُس زمانہ کی نظیر میں اِس زمانہ کے حالات پیش کرنا درست نہیں ہے۔ مثلاً اب کوئی بچہ انسان کا بغیر ذریعہ ما اور باپ کے پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن اگر اس ابتدائی زمانہ میں بھی انسان کا پیدا ہونا والدین کے وجود پر ہی موقوف ہوتا تو پھر کیونکر یہ دنیا پیدا ہوسکتی۔ علاوہ اس کے جو تغیرات بولیوں میں طبعی طور پر ہوتے رہتے ہیں۔ ان تغیرات میں اور اس دوسری صورت میں کہ جب بولی عدمِ محض سے پیدا کی جائے بڑا فرق ہے۔ کسی موجودہ بولی میں کچھ تغیر ہونا شے دیگر ہے اور عدم محض سے ایک بولی کا من کل الوجوہ پیدا ہوجانا یہ اور بات ہے۔ ماسوا ان سب باتوں کے جبکہ اب بھی خدائے تعالیٰ بذریعہ اپنے الہام کے مختلف بولیوں کو اپنے بندوں پر القا کرتا ہے اور ایسی زبانوں میں الہام کرسکتا ہے جن زبانوں کا ان بندوں کو کچھ بھی علم حاصل نہیں جیسا کہ ہم حاشیہ در حاشیہ نمبر ۱ میں اس کا ثبوت دے چکے ہیں۔ تو اس صورت میں کس قدر حماقت ہے کہ یہ خیال کیا جائے کہ اس القا کی خداوند علیم مطلق کو ابتدائی زمانہ میں قدرت حاصل نہیں تھی کیونکہ جس حالت میں اس کی غیر محدود قدرت کا اب بھی بدیہی طور پر ثبوت ملتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ایسی بولیوں کا الہام کردیتا ہے جن بولیوں سے وہ بندے ناآشنا محض ہیں اور جن کو نہ انہوں نے اپنے ما باپ سے سیکھا اور نہ کسی استاد سے تعلیم پائی۔ تو پھر کیا وجہ کہ ابتداء پیدائش میں جو عین حاجت کا زمانہ ہے۔ انسان کو بولیاں تعلیم کرنا خدائے تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے بعید خیال کیا جائے اور کیوں خدا کو کمزور اور عاجز ٹھہرا کر انسان پر اس قدر مصیبتیں ڈالی جائیں جن کی تفصیل میں یہ بیان کیا جائے کہ انسان پیدا ہوکر پھر ایک مدت دراز تک گونگا اور بے زبان رہا اور اُس بدبختی کے زمانہ میں بصد دقّت و مصیبت صرف اشارات سے کام نکالتا رہا۔ اور جو لمبی تقریریں یا باریک باتیں اشارات سے ادا نہ ہوسکیں ان کے ادا کرنے سے قاصر رہ کر ان نقصانوں کو اٹھاتا رہا کہ جو ان تقریروں کی عدم تفہیم اور تفہّم سے عائد حال ہونی ضروری تھی اور باوجود ان سب تکالیف کے کہ جو انسان پر پیدا ہوتی ہے ٭ پڑگئیں خدا نے اس کے دردوں کا کچھ علاج نہ کیا اور اس کی حاجتوں کو پورا نہ کرسکا اور اگرچہ خدا نے اپنی قُدرت کاملہ سے انسان کو عدم محض سے بنایا۔ پھر اس کو زبان عطا کی۔ آنکھیں دیں۔ کان دیئے اور طرح طرح کی ترقیات کے لئے استعداد بخشی اسی طرح اپنی قدرت کاملہ سے اس قدر نعمتیں عطا فرمائیں جن کو انسان گن نہیں سکتا لیکن وہی قادر خدا بولی جو انسان کے لئے نہایت ضروری تھی انسان کو سکھلا نہ سکا۔ یہاں تک کہ انسان نے مدت دراز تک بے زبانی کی تکلیفیں اٹھا کر آپ بولی کو ایجاد کیا۔ کیا یہ ایسا اعتقاد ہے جس سے خدا کی قدرت الُوہیّت قابل تعریف ٹھہرسکتی ہے۔ کیا کوئی ایماندار اس کامل اور قادر مطلق کی نسبت ایسی بدظنی کرسکتا ہے کہ وہ اپنی قدرت نمائی کے پہلے زمانہ میں ہے جبکہ خدائی کی طاقتیں بے خبر بندوں پر ظاہر کرنا منظور تھا بعض ضروری قدرتوں کے دکھلانے سے عاجز رہا۔ کیا قریب قیاس ہے کہ جس نے چندیں ہزار مخلوقات کو بغیر مدد مادہ اور ہیولیٰ کے ایک حکم سے پیدا کردکھایا وہ بولیوں کی ایجاد پر قادر نہیں ہوسکتا تھا۔ کیا کوئی عقل اس بات کو قبول کرسکتی ہے کہ جس نے انسان کو ایک بڑی مصلحت کے لئے پیدا کیا اور اپنے خاص ارادہ سے اُس کو اشرف المخلوقات بنایا وہ اس کی پیدائش کو ادھورا چھوڑ دیتا اور پھر انسان اتفاقی طور پر اپنے نقصان کی آپ تکمیل کرتا۔ کیا جس ذات کو ان تمام بولیوں کا قدیم سے علم حاصل ہے۔ اور جس کی نظر عمیق کے آگے سب موجود ہونے والی چیزیں موجود بالفعل کا حکم رکھتی ہیں اور جس کی قدرت تامہ ہریک طور کی تعلیم و تفہیم کرسکتی ہے وہ اس لائق ہے کہ اس کی نسبت یہ گمان کیا جائے کہ اس نے دیدہ و دانستہ انسان کو بے زبانی کی حالت میں دیکھ کر پھر اس کو زبان سکھلانے سے دریغ کیا یہاں تک کہ انسان اس کی کم التفاتی کی وجہ سے مدّت دراز تک حیوانوں اور وحشیوں کی طرح اپنی زندگی کو بسر کرتا رہا اور پھر آخرکار اس کو آپ ہی سوجھی کہ کوئی بولی ایجاد کرنی چاہئے۔ یہ خیال ایسا بدیہی البطلان ہے کہ خدا کی وہ کامل قدرتیں اور کامل رحم اور کامل تربیت کہ جو ہریک زمانہ میں مشہود چلی آئی ہے وہ اس کی تکذیب کررہے ہیں۔ جس خدا کے عجائب الہامات اب بھی نامعلوم بولیوں کو اپنے بندوں پر منکشف کردیتے ہیں۔ اس کی نسبت یہ گمان کہ ایسے الہامات سے ابتداء زمانہ میں جبکہ ان کی نہایت ضرورت تھی۔ خدا نے دریغ کیا سخت نادانی اور کور باطنی ہے۔ اور اگر کسی کے دل میں یہ وہم گزرے کہ اب جنگلی آدمیوں کو جو بے زبانی کی حالت میں محض اشارات سے گزارہ کرتے ہیں کیوں بذریعہ الہام کے کسی بولی سے مطلع نہیں کیا جاتا اور کیوں کوئی بچۂ نوزاد جنگل میں رکھنے سے خدا کی طرف سے کوئی الہام نہیں پاتا۔ تو یہ خدا کے صفات کی ایک غلط فہمی ہے۔ کیونکہ القا اور الہام ایسا امر نہیں ہے کہ جو ہرجگہ جا بے جا بلالحاظ مادہ ٔقابلہ کے ہوجایا کرے۔ بلکہ القا اور الہام کے لئے مادۂ قابلہ کا ہونا نہایت ضروری شرط ہے اور دوسری شرط یہ بھی ہے کہ اس الہام کے لئے ضرورت حقہ بھی پائی جائے۔ ابتدا میں جب خدا نے انسان کو پیدا کیا۔ اس وقت بذریعہ الہام بولیوں کی تعلیم کرنا ایسا امر تھا کہ جس میں دونوں طور کی شرائط موجود تھی۔ اوّل ذاتی قابلیت پہلے انسان میں جیسا کہ چاہئیے الہام پانے کیلئے موجود تھی۔ دوسری ضرورت حقہ بھی الہام کی مقتضی تھی۔ کیونکہ اس وقت بجز خدائے تعالیٰ کے اور کوئی حضرت آدم کے لئے رفیق شفیق نہ تھا کہ جو ان کو بولنا سکھاتا۔ پھر اپنی تعلیم سے شائستگی اور تہذیب کے مرتبہ تک پہنچاتا۔ بلکہ حضرت آدم کے لئے صرف ایک خدائے تعالیٰ تھا جس نے تمام ضروری حوائج آدم کو پورا کیا اور اُس کو آپ حُسنِ تربیت اور حسن تادیب سے بمرتبۂ حقیقی انسانیت کے پہنچایا۔ ہاں بعد اس کے جب اولاد حضرت آدم کی دنیا میں پھیل گئی۔ اور جو علوم خدائے تعالیٰ نے آدم کو سکھلائے تھے۔ وہ اس کی اولاد میں بخوبی رواج پکڑگئے۔ تب بعض انسان بعض انسانوں کے استاد اور معلّم بن بیٹھے اور ہریک بچہ کے لئے اس کے والدین بولی سکھانے کے لئے رفیق شفیق نکل آئے۔ مگر آدم کے لئے بجز ایک خدا کے اور کوئی نہ تھا جو اسکو بولی سکھاتا اور ادب انسانیت سے ادب آموز کرتا۔ اس کے لئے بجائے استاد اور معلّم اور ما اور باپ کے اکیلا خدا ہی تھا۔ جس نے اس کو پیدا کرکے آپ سب کچھ اس کو سکھایا۔ غرض آدم کے لئے یہ ضرورت حقاً و وجوباً پیش آگئی تھی کہ خدا اس کی تربیّت آپ فرماتا اور اس کے مایحتاج کا آپ بندوبست کرتا۔ لیکن اس کی اولاد کے لئے یہ ضرورت پیش نہیں آئی کیونکہ اب کروڑہا انسان مختلف بولیاں بولتے اور اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں۔ ماسوا اس کے جیسا کہ ہم نے ابھی اوپر بیان کیا ہے۔ ذاتی قابلیّت بھی کہ جو الہام پانے کے لئے ضروری شرط ہے۔ ہریک فرد بنی آدم میں نہیں پائی جاتی۔ اور اگر کسی میں ذاتی قابلیت پائی جائے تو وہ اب بھی بذریعہ الہام اپنے مایحتاج میں خدائے تعالیٰ سے اطلاع پاسکتا ہے اور خدا اس کو ہرگز ضائع نہیں چھوڑتا۔ خدا کی نظر عمیق ہر یک انسان کی استعداد کے گہراؤ تک پہنچی ہوئی ہے وہ صاحب استعداد کو اپنی استعداد ظاہر کرنے سے کبھی محروم نہیں رکھتا اور ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ایک شخص خدا کے علم میں استعداد معرفت اور ولایت یا نبوت اور رسالت کی رکھتا ہے اور پھر بعض حوادث ارضی کے باعث سے یا جنگلی پیدائش ہونے کی و جہ سے وہ اسی حالت میں مرجائے اور خدا اس کو اُس مرتبہ اقصیٰ تک نہ پُہنچاوے جس تک پہنچنے کے لئے اس کو استعداد دی گئی تھی بلکہ جنگلی اور بے زبان اور وحشی اور جاہل وہی رہتا ہے کہ جو اپنی فطرت میں ناقص اور ناکارہ اور چارپایوں کی طرح ہے۔ ماسوا اس کے جبکہ خدا نے کروڑہا انسانوں کو طرح طرح کی بولیاں عطا کرکے دوسرے لوگوں کے لئے عام تعلیم کا دروازہ کھول دیا ہے۔ تو اس صورت میں بجز اس صورت خاص کے کہ جس میں کوئی نشان ظاہر کرنا منظور ہو اور سب صورتوں میں بطور الہام بولی سیکھنے کی کچھ بھی ضرورت نہیں۔ اور خدائے تعالیٰ کہ جو حکیم مطلق ہے۔ بغیر ضرورت کے کوئی کام نہیں کرتا اور عبث اور بے فائدہ طریقوں کو خواہ نخواہ لازم نہیں پکڑتا۔

بعض نادان آریا ایک سنسکرت کو پرمیشر کی بولی ٹھہرا کر دوسری تمام بولیاں جو صدہا عجائب اور غرائب صنع باری سے بھری ہوئی ہیں انسان کا ایجاد قرار دیتے ہیں۔ گویا انسان کے ہاتھ میں بھی ایک قسم کی خدائی ہے کہ پرمیشر نے تو صرف ایک بولی ظاہر کی۔ مگر آدمیوں نے وہ قوت دکھلائی کہ بیسیوں بولیاں اس سے بہتر ایجاد کرلیں۔ بھلا ہم آریہ لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر یہی سچ ہے کہ سنسکرت ہی پرمیشر کے مونہہ سے نکلی ہے اور دوسری زبانیں انسانوں کی صنعت ہیں اور پرمیشر کے مونہہ سے دور رہی ہوئی ہیں۔ تو ذرا بتلاؤ تو سہی کہ وہ کون سے کمالاتِ خاصہ ہیں، جو سنسکرت میں پائے جاتے ہیں۔ اور دوسری زبانیں ان سے عاری ہیں۔ کیونکر پرمیشر کی کلام کو انسان کے مصنوع پر ضرور فضیلت ہونی چاہئے۔ کیونکہ وہ اُسی سے خدا کہلاتا ہے کہ اپنی ذات میں، اپنی صفات میں، اپنے کاموں میں سب سے افضل اور بے مثل و مانند ہے۔ اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ سنسکرت پرمیشر کا کلام ہے جو ہندوؤں کے باپ دادوں پر نازل ہوا ہے۔ اور دوسری زبانیں دوسرے لوگوں کے باپ دادوں نے بو جہ اس کے کہ وہ ہندوؤں کے باپ دادوں سے زیادہ زیرک اور دانا تھے، آپ بنالی ہیں۔ مگر کیا ہم یہ بھی فرض کرسکتے ہیں کہ وہ لوگ ہندوؤں کے پرمیشر سے بھی کچھ بڑھ کر تھے جن کی قدرت کاملہ نے صدہا عمدہ زبانیں بناکر دکھلادیں اور پرمیشر صرف ایک ہی بولی بناکر رہ گیا۔ جن لوگوں کی تار وپود میں شرک گھسا ہوا ہے انہوں نے اپنے پرمیشر کو بہت سی باتوں میں ایک برابر درجہ کا شخص سمجھ رکھا ہے۔ کیوں نہ ہو۔ انادی جو ہوئے۔ خدا کے شریک جو ٹھہرے۔ اور اگر کسی کے دل میں یہ وہم پیدا ہو کہ خدا نے ایک بولی پر کفایت کیوں نہ کی۔ یہ وہم بھی قلت تدبر سے ناشی ہے۔ اگر کوئی دانا اقالیم مختلفہ کے اوضاع متفاوتہ اور طبائع متفرقہ پر نظر کرے۔ توبہ یقینِ کامل اس کو معلوم ہوگا کہ ایک ہی بولی ان سب کے مناسب حال نہیں تھی۔ بعض ملکوں کے لوگ بعض طور کے حروف اور الفاظ کے بولنے پر بہ آسانی قادر ہیں۔ اور بعض ملکوں کے لوگوں کو ان حروف اور الفاظ کا بولنا ایک مصیبت ہے پس کیونکر ممکن تھا کہ حکیم مطلق صرف ایک ہی بولی سے پیار کرکے قاعدہ وضع الشیء فی موضعہ کی رعایت نہ کرتا اور طبائع مختلفہ کے لئے جو مصلحت عامہ تھی، اس کو ترک کردیتا۔ کیا مناسب تھا کہ وہ جُدا جُدا طبیعتوں کے لوگوں کو ایک ہی بولی کے تنگ پنجرہ میں قید کردیتا۔ علاوہ اس کے انواع و اقسام کی بولیوں کے بنانے میں خداوند تعالیٰ کی زیادتِ قدرت ثابت ہوتی ہے۔ اور عاجز بندوں کا مختلف زبانوں میں اس کی تعریف کرنا عبودیت کے بازار کی ایک رونق ہے۔

تمہید چہارم :۔ خداوند تعالیٰ کے تمام مصنوعات پر نظر کرنے سے یہ اصول ثابت ہوتا ہے کہ جو عجائب اور غرائب اس نے اپنے مصنوعات میں رکھے ہیں وہ دو قسم کے ہیں۔ ایک تو عام فہم ہیں۔ مثلاً سارے لوگ جانتے ہیں کہ انسان کی دو آنکھ اور دو کان ایک ناک اور دو پاؤں وغیرہ اعضاء ہیں۔ یہ تو وہ امور ہیں کہ جو نظر سرسری سے معلوم ہوتے ہیں۔ دوسرے وہ امور ہیں جن میں دقّتِ نظر درکار ہے۔ مثلاً آنکھ کی وہ ترکیب جس کے ذریعہ سے دونوں آنکھیں شے واحد کی طرح بالاتفاق کام کرتی ہیں اور ہریک چھوٹی بڑی چیز کو دیکھ سکتے ہیں۔ یا کانوں کی بناوٹ کی وہ طرز جس سے وہ مختلف آوازوں کو بہ حیثیت اختلاف سن سکتے ہیں۔ یہ وہ امور ہیں جو سرسری نظر سے دریافت نہیں ہوسکتے۔ بلکہ جو لوگ ماہر فن طبعی و طبابت ہیں۔ انہوں نے زمانہ دراز تک تدبّر اور تفکّر کرکے ان صداقتوں کو دریافت کیا ہے۔ اور ابھی صدہا دقائق اور حقائق ترکیب انسان کے ایسے بھی مخفی ہیں جن پر کسی حکیم کا ذہن آج تک محیط نہیں ہوا۔ اور کچھ شک نہیں کہ ان دقائق اور حقائق سے اعلیٰ غرض یہ ہے کہ انسان اُس حکیم علی الاطلاق کی قدرت کاملہ کا اعتراف کرے جس نے اس کی پیدائش میں ایسے عجائب غرائب کام کئے ہیں۔ لیکن اس جگہ کوئی بے سمجھ آدمی یہ اعتراض کرسکتا ہے کہ خدا نے اس کام کو جس کی غرض معرفت الٰہی تھی۔ ایسا اَدَقّ اور باریک کیوں بنایا۔ جس کی سمجھ کے لئے ایک زمانہ دراز تک فکر اور نظر کی ورزش بکار ہے۔ اور پھر بھی یہ توقع نہیں کہ تمام اسرار حکمیہ باستیفاءِ تام حاصل ہوجائیں گے اور اسی دقّت کے باعث سے اب تک انسان کو گویا دریا میں سے ایک قطرہ بھی حاصل نہیں ہوا۔ چاہئے تھا کہ سب عجائب اور غرائب واضح ہوتے۔ تاکہ جس غرض کے لئے حکیم مطلق نے بدن انسان میں مودَّع کئے تھے وہ غرض حاصل ہوجاتی۔ سو اس وہم کا جواب اور اسی قسم کے اور وہموں کا جواب جو مصنوعات الٰہیہ کے عجائبات اور خواص دقیقہ اور مخفیہ کی نسبت کسی کے دل میں خلجان کریں۔ یہ ہے کہ بلاشبہ خدا کا اپنے تمام مصنوعات میں اور ہریک چیز میں جو اس کی طرف سے صادر ہو۔ قانون قدرت یہی ہے کہ اس نے عجائبات بدیہہ پر کفایت نہیں کی۔ بلکہ ہریک چیز میں (جو اس کے دست قدرت سے ظہور پذیر ہے) عجائبات دقیقہ بھی (جو نہایت گہرے اور عمیق ہیں) مخفی رکھے ہیں۔ مگر خدا کے اس کام کو عبث اور بے سود سمجھنا سراسر نادانی ہے۔ جاننا چاہئے کہ خدا نے انسان کو دوسرے حیوانات کی طرح اس وضع فطرت پر پیدا نہیں کیا۔ کہ اس کا علم چند بدیہی اور محسوس باتوں میں محصور اور محدود رہے۔ بلکہ اس کو یہ استعداد بخشی ہے کہ وہ نظر اور فکر سے غیر متناہی علوم میں ترقیات کرتا رہے۔ اور اسی غرض سے اس کو عقل کا گوہر شب چراغ جو دوسرے حیوانات کو نہیں ملا عطا ہوا۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ تمام عجائب غرائب الٰہی بدیہی طور پر واضح اور لایح ہوتے جن میں نظر اور فکر کی کچھ بھی حاجت نہ ہوتی تو پھر انسان جس کا کمال اس کی قوت نظریہ کی تکمیل پر موقوف ہے۔ کن چیزوں میں نظر اور فکر کرتا اور اگر نظر اور فکر نہ کرتا تو پھر کیونکر اپنے کمال کو پہنچتا۔ سو چونکہ تمام انسانیت انسان کے استعمال قوت نظریہ سے وابستہ ہے۔ اس لئے اس حکیم مطلق نے اکثر دقائق اور حقائق کو ایسے طور پر مخفی رکھا ہے کہ جب تک انسان اپنی خداداد قوت کو بکمال اجتہاد استعمال میں نہ لاوے۔ ان دقائق کا انکشاف نہیں ہوتا۔ اس سے حکیم مطلق کا یہ ارادہ ہے کہ ترقی کرنے کا راستہ کھلا رہے۔ اور جس سعادت کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے۔ اس سعادت تک وہ پہنچ جائے۔ غرض خدا کے جتنے کام ہیں۔ وہ صرف موٹی صنعت پر ختم نہیں ہوسکتے۔ بلکہ ان میں جس قدر کھودتے جاؤ۔ زیادہ سے زیادہ باریکیاں نکلتی ہیں۔ پس جبکہ ان تمام چیزوں کی نسبت جو خدا کی طرف سے ہیں۔ یہ عام قانون ثابت ہوچکا کہ وہ سب نکاتِ دقیقہ اور اسرارِ عمیقہ سے پُر ہیں۔ تو اسے قانون قدرت کی متابعت سے یہ بھی ہریک عاقل کو ماننا پڑا کہ خدا کا کلام بھی نکات دقیقہ سے خالی نہیں ہونا چاہئے۔ بلکہ اس میں سب سے زیادہ لطائف چاہئیں۔ کیونکہ وہ خدا کا کلام ہے۔ اور حکیم مطلق کے علوم قدیم کا مخزن ہے جس کو خدا نے اس بات کا آلہ بنایا ہے کہ تمام قوانین قدرتیہ جو فی السموات والارض پائے جاتے ہیں۔ ان کی اصلاح کے لئے اس میں سامان موجود ہو۔ پس اگر وہ ناقص ہو تو اتنے بڑے کام اس سے کیونکر انصرام ہوسکیں۔ اگر وہ تمام غلطیوں سے انسان کو پاک نہ کرسکتا تو پھر صرف بعض غلطیوں سے پاک کرنا حقیقت میں ایسا تھا کہ گویا منزل تک پہنچانے سے پہلے راستہ میں ہی چھوڑ دیتا۔ غرض جب خدا کا قانون قدرت (ہریک چیز میں جو اس کی طرف سے صادر ہے) یہی ثابت ہوا کہ ان سب میں خداوند تعالیٰ نے دقائق عمیقہ بھی ضرور رکھے ہیں۔ صرف موٹی باتوں پر ختم نہیں کیا۔ تو اس تحقیق سے جھوٹ ان لوگوں کا کھل گیا۔ جن کا یہ دعویٰ ہے کہ خدا کے کلام میں صرف چند احکام سریع الفہم چاہئیں۔ اور لطائف دقیقہ اس میں نہیں چاہئیں اور نہ ہیں، اس جگہ انہوں نے اپنے اس وہم کے مضبوط کرنے کی غرض سے ایک دلیل بنائی ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ کتب الہامیہ کم علموں اور کم فہموں یا امیوں اور بدوؤں کے لئے نازل ہوئی ہیں۔ پس ان کی تعلیم ویسی ہی چاہئے جو کہ بقدر عقول ان لوگوں کے ہو کیونکہ امی اور ناخواندہ آدمی نکاتِ دقیقہ سے منتفع نہیں ہوسکتے۔ اور نہ ان پر مطلع ہوسکتے ہیں۔ لیکن واضح ہو کہ یہ وہم محض کوتہ اندیشی سے ان کے دلوں کو پکڑتا ہے اور اس پست اور ناچیز خیال سے بغایت درجہ سفاہت اور جہالت کی بدبو آتی ہے۔ کاش کہ وہ کلام الٰہی کو غور سے دیکھتے۔ تاکہ انہیں معلوم ہوتا کہ خدا کی مقدس اور کامل کلام پر ایسا گمان کرنا گویا چاند پر خاک ڈالنا ہے۔ اور اب بھی ایسے لوگ اگر اس کتاب کو ذرا آنکھ کھول کر پڑھیں اور وہ صدہا دقائق عمیقہ اور حقائق دقیقہ کلام الٰہی کے جو ہم نے اس کتاب میں اپنے موقعہ پر کمال وضاحت سے لکھے ہیں بنظر تامل و تیقظ مشاہدہ کریں تو ان کا خیال فاسد ایسا دور ہوجائے گا جیسا کہ آفتاب کے نکلنے سے تاریکی دور ہوجاتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ امر محسوس اور مشہود کے مقابلہ پر کسی قیاس کی پیش نہیں جاتی۔ جب متواتر تجربہ سے ایک چیز کی کوئی خاصیت معلوم ہوگئی تو پھر مجرد قیاس کو اپنی دستاویز بنا کر اس امر واقعی سے جو بہ پایہ ثبوت پہنچ چکا ہے۔ انکار کرنا اسی کا نام جنون اور سودا ہے۔ اگر یہ لوگ عقل خداداد کو ذرا کام میں لاویں۔ تو ان پر ظاہر ہو کہ خود وہ قیاس ہی فاسد ہے اور بعینہ وہ ایسا مقولہ ہے جیسے کوئی نباتات کے خواص دقیقہ سے انکار کرکے یہ کہے کہ اگر خدا نے بالارادہ خلق اللہ کی نفع رسانی کی غرض سے یہ کام کیا ہے کہ انسان کی شفا کے لئے نباتات و جمادات وغیرہ میں طرح طرح کے خواص رکھے ہیں تو پھر ان خواص کو اس قدر تہ در تہ کیوں چھپایا کہ ان کی ناواقفیت سے ایک زمانۂ دراز تک لوگ بے علاج ہی مرتے رہے اور اب تک جمیع خواص مخفیہ پر احاطہ نہ ہوا۔ لیکن ظاہر ہے کہ بعد تحقق خدا کے عام قانون کے (جو کہ زمین و آسمان میں ایک ہی طرز پر پایا جاتا ہے) ایسے ایسے شبہات میں مبتلا ہونا انہیں لوگوں کا کام ہے جو قوانین قدرتیہ میں ذرہ غور نہیں کرتے۔ اور قبل اس کے کہ خدا کی صفات اور عادات کو (جس طرز سے وہ آئینہ فطرت میں ظاہر ہورہی ہیں) بخوبی دریافت کریں پہلے ہی اس کی ذات اور اس کی صفات کا حلیہ لکھنے کو بیٹھ جاتے ہیں۔ ورنہ اگر انسان ذرا بھی آنکھ کھول کر ہریک طرف نظر ڈالے تو عادت اللہ کسی ایک یا دو چیز میں محصور نہیں اور نہ ایسی پوشیدہ ہے جس کا سمجھنا مشکل ہو بلکہ یہ بات اجلیٰ بدیہات ہے کہ جواہر لطیفہ اور مصنوعات عالیہ تو یک طرف رہے۔ ایک ادنیٰ مکھی بھی (جو حقیر اور ذلیل اور مکروہ جانور ہے) اس قانون قدرت سے باہر نہیں۔ تو پھر نعوذ باللہ کیا یہ گمان ہوسکتا ہے کہ خدا کا کلام کہ جو اس کی ذات کی طرح مقدّس اور کمال رنگ سے رنگین چاہئے۔ ایسا اَدنیٰ اور اَرذل ہے کہ دقائق مخفیہ میں ایک مکھی کے مرتبہ تک بھی نہیں پہنچتا۔ اور اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ خدا نے ضروریات دین میں سے کسی امر کا اخفا نہیں کیا۔ اور دقائق عمیقہ وہ دقائق ہیں جو ماسوا اصل اعتقاد کے بالائی امور ہیں اور ان نفوس کے لئے مقرر کئے گئے ہیں جن میں صلاحیت اور استعداد تحصیل کمالات فاضلہ کی پائی جاتی ہے۔ اور جو لوگ ہریک غبی اور بلید کی طرح اس مسائل پر کفایت کرنا نہیں چاہتے وہ بذریعہ ان دقائق کے حکمت اور معرفت میں ترقی کرتے ہیں اور حق الیقین کے اس بلند مینار تک پہنچ جاتے ہیں جو انسانی استعدادوں کے لئے اقصیٰ مراتب سے ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اگر اسرارِ علمیہ سارے کے سارے بدیہات ہی ہوتے تو پھر دانا اور نادان میں فرق کیا ہوتا۔ اس طور سے تو سارے علم ہی برباد ہوجاتے۔ اور جو عمدہ معیار استعدادوں کی شناخت کے لئے ہے اور جس ذریعہ سے انسان کی قوت نظریہ بڑھتی ہے اور استکمالِ نفس ہوتا ہے وہ مفقود ہوجاتا۔ اور جب وہ ذریعہ ہی مفقود ہوجاتا تو پھر انسان کن امور میں نظر اور فکر کرتا۔ اور اگر وہ نظر اور فکر نہ کرتا تو ایک حدّ معلوم اور محدود پر اس کو بھی مثل اور جانداروں کے ٹھہرنا پڑتا اور ترقیات غیر متناہی کی قابلیت نہ رکھتا۔ پس اس صورت میں جس سعادت کے لئے وہ پیدا کیا گیا تھا اس سعادت سے محروم رہ جاتا۔ سو جس خدا نے انسان کو نظر اور فکر کرنے کی قوتیں عنایت کیں ہیں اور اس کو ایک کمال حاصل کرنے کی استعداد بخشی ہے اس کی نسبت یہ کیونکر بدگمان کیا جائے کہ وہ اپنی کتاب نازل کرکے انسان کو کسی کمال تک پہنچانا نہیں چاہتا بلکہ کمال سے روکتا ہے۔ کیا یہ بات سچ نہیں ہے کہ خدا نے اپنے کلام کو اس لئے بھیجا ہے کہ تا انسانوں کو ظلمات سے نور کی طرف نکالے۔ پس اگر خدا کی کتاب ظلمتوں سے نہیں نکال سکتی بلکہ ارسطو اور افلاطون کی کتابیں نکال سکتی ہیں۔ تو پھر کیا خدا کا یہ فرمانا کہ ساری تاریکیوں سے میری کتاب ہی نجات دیتی ہے نرا دعویٰ ہی ہوا۔ جب ایک بات کی سچائی تجربہ اور قیاس سے بالکل کھل جائے تو اس کے سامنے کس کی پیش جاسکتی ہے۔ ہم نے جس قدر صداقتیں کہ نہایت نازک اور اعلیٰ درجہ کی ہیں۔ قرآن شریف سے نکال کر اس کتاب میں لکھی ہیں۔ اس کا دیکھنا ہمارے اس بیان کے لئے شاہدناطق اور قولِ فیصل ہے اور ان سب دقائق حقائق قرآنیہ پر مطلع ہونے سے ہریک شخص کو بشرطیکہ نرا اندھا نہ ہو۔ یہ ماننا پڑے گا کہ صدہا حقائق اور معارف جو افلاطون اور ارسطو وغیرہ کے خواب میں بھی نہیں آئے تھے۔ ان سب پر قرآن شریف محیط ہے۔ پس کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ خدا کا کلام جامع دقائقِ دینیہ ہے اور میں اس بات کو مکرر لکھتا ہوں کہ خدا نے اس طرز کے اختیار کرنے میں انسان پر کوئی مصیبت نہیں ڈالی بلکہ اول اس کو قوت نظریہ عنایت کی اور پھر نظر کرنے کا سامان بھی عطا فرمایا۔ یہی عطیات الٰہی ہیں جن سے انسان کا ستارہ اقبال چمکتا ہے اور انسان اور حیوان میں امتیاز حاصل ہوتی ہے۔ حیوانات کو خدا نے سوچنے کی طاقت نہیں دی اور نہ انہوں نے کچھ سوچا۔ پھر دیکھو کہ وہ ویسے کے ویسے رہے یا نہیں۔ اور یہ وسواس کہ خدا نے اپنی کتاب امّیوں اور بدوؤں کے لئے بھیجی ہے (ان کی سمجھ کے موافق چاہئے) ٹھیک نہیں ہے۔ اول تو اس میں یہ جھوٹ ہے کہ وہ کلام نرا امیوں کی تعلیم کے لئے نازل ہوا ہے۔ خدا نے تو آپ ہی فرما دیا ہے کہ تمام دنیا اور مختلف طبائع کی اصلاح کے لئے یہ کتاب نازل ہوئی ہے جیسے اُمّی اس کتاب میں مخاطب ہیں ایسے ہی عیسائی اور یہودی اور مجوسی اور صابئین اور لا مذہب اور دہریہ وغیرہ تمام فرقے مخاطب ہیں اور سب کے خیالات فاسدہ کا اس میں ردّ موجود ہے سب کو سنایا گیا ہے قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا (الاعراف: ۱۵۹) ۔ الجزو نمبر ۹۔ پھر جب کہ ثابت ہے کہ قرآن شریف کو تمام دنیا کے طبائع سے کام پڑا تو تم خود ہی سوچو کہ اس صورت میں لازم تھا یا نہیں کہ وہ ہریک طور کی طبیعت پر اپنی عظمت اور حقانیت کو ظاہر کرتا اور ہریک طور کے شبہات کو مٹاتا۔ ماسوا اس کے اگرچہ اس کلام میں اُمّی بھی مخاطب ہیں مگر یہ تو نہیں کہ خدا اُمّیوں کو اُمّی ہی رکھنا چاہتا تھا۔ بلکہ وہ یہ چاہتا تھا کہ جو طاقتیں انسانیت اور عقل کی ان کی فطرت میں موجود ہیں۔ وہ مکمن قوت سے حیّز فعل میں آجائیں۔ اگر نادان کو ہمیشہ کے لئے نادان ہی رکھنا ہے تو پھر تعلیم کا کیا فائدہ ہوا۔ خدانے توعلم اور حکمت کی طرف آپ ہی رغبت دے دی ہے۔ دیکھواس آیت میں علم اور حکمت کی کیسی تاکید ہے ۔ یُّؤۡتِی الۡحِکۡمَۃَ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَمَنۡ یُّؤۡتَ الۡحِکۡمَۃَ فَقَدۡ اُوۡتِیَ خَیۡرًا کَثِیۡرًا (البقرة: ۲۷۰) یعنے خداجس کو چاہتاہے حکمت عنایت کرتا ہے اور جس کو حکمت دی گئی اس کو بہت سا مال دیا گیا۔ اور پھر فرمایا ہے۔ وَیُعَلِّمُکُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمۡ مَّا لَمۡ تَکُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ (البقرة: ۱۵۲) ۔ الجزو نمبر ۲۔ یعنے رسولؐ تم کو کتاب اور حکمت اور وہ تمام حقائق اور معارف سکھاتا ہے۔ جن کا خودبخود معلوم کرلینا تمہارے لئے ممکن نہ تھا۔ اور پھر فرمایا ہے۔ اِنَّمَا یَخۡشَی اللّٰہَ مِنۡ عِبَادِہِ الۡعُلَمٰٓؤُا (فاطر: ۲۹) الجزو نمبر۲۲۔ یعنے خدا سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو اہل علم ہیں۔ اور پھر فرماتا ہے وَقُلۡ رَّبِّ زِدۡنِیۡ عِلۡمًا (طٰہٰ: ۱۱۵) ۔ الجزو نمبر۱۶۔ دعا کر کہ خدایا مجھے مراتب علمیہ میں ترقی بخش۔ اور پھر فرماتا ہے۔ وَمَنۡ کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعۡمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعۡمٰی وَاَضَلُّ سَبِیۡلًا (بنی اسرآئیل: ۷۳) الجزو نمبر ۱۵۔ یعنی جو شخص اس جہان میں اندھا رہا اور علم الٰہی میں بصیرت پیدا نہ کی وہ اُس دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا بلکہ اندھوں سے بدتر ہوگا۔ اور پھر یہ دعا سکھاتا ہے۔ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ (الفاتحة: ۶،۷) الجزو نمبر ۱ یعنے اے باری تعالیٰ ہم پر وہ صراط مستقیم ظاہر کر جو تو نے اُن تمام اہل کمال لوگوں پر ظاہر کیا جن پر تیرا فضل اور کرم تھا چونکہ اہل کمال لوگوں کا صراط مستقیم یہی ہے کہ وہ علیٰ وجہ البصیرت حقائق کو معلوم کرتے ہیں نہ اندھوں کی طرح۔ پس اس دعا کا ماحصل تو یہی ہوا کہ خداوندا وہ تمام علومِ حقّہ اور معارفِ صحیحہ اور اسرارِ عمیقہ اور حقائقِ دقیقہ جو دنیا کے تمام اہلِ کمال لوگوں کو متفرق طور پر وقتاً فوقتاً تو عنایت کرتا رہا ہے اب وہ سب ہم میں جمع کر۔ سو دیکھئے کہ اس دعا میں بھی علم اور حکمت ہی خدا سے چاہی ہے اور وہ علم مانگا ہے جو تمام دنیا میں متفرّق تھا۔ خلاصہ یہ کہ گو خدائے تعالیٰ نے اصولِ نجات کو بہت واضح اور آسان طور پر اپنی کتاب میں بیان کردیا ہے جس کے معلوم کرنے اور جاننے میں کسی نوع کی دقت اور ابہام نہیں اور سب خواندہ اور ناخواندہ اُس میں برابر ہیں۔ لیکن اس حکیم مطلق نے علمِ الٰہی کے دقائق اور اسرار عالیہ میں یہ چاہا ہے کہ انسان محنت کرکے ان کو دریافت کرے تا یہی محنت اس کے لئے موجب تکمیل نفس ہوجائے کیونکہ تمام قویٰ انسانیہ کا قیام اور بقا محنت اور ورزش پر ہی موقوف ہے۔ اگر انسان ہمیشہ آنکھ بند رکھے اور کبھی اس سے دیکھنے کا کام نہ لے (تو جیسا کہ تجارب طِبّیہ سے ثابت ہوگیا ہے) تھوڑے ہی دنوں کے بعد اندھا ہوجائے گا اور اگر کان بند رکھے تو بہرہ ہوجائے گا۔ اور اگر ہاتھ پاؤں حرکت سے بند رکھے تو آخر یہ نتیجہ ہوگا کہ ان میں نہ حس باقی رہے گی اور نہ حرکت۔ اسی طرح اگر قوت حافظہ سے کبھی کام نہ لے تو حافظہ میں فتور پڑے گا۔ اور اگر قوتِ متفکّرہ کو بیکار چھوڑ دے تو وہ بھی گھٹتے گھٹتے کالعدم ہوجائے گی۔ سو یہ اس کا فضل و کرم ہے کہ اس نے بندوں کو اس طریقہ پر چلانا چاہا جس پر ان کی قوت نظریہ کا کمال موقوف ہے۔ اور اگر خدائے تعالیٰ محنت کرنے سے بکلّی آزاد رکھنا چاہتا تو پھر یہ بھی مناسب نہ تھا کہ اپنی آخری کتاب کو تمام لوگوں کے لئے (جو مختلف زبانیں رکھتے ہیں) ایک ہی زبان میں جس سے وہ ناآشنا ہیں بھیجتا۔ کیونکہ غیر زبان کا دریافت کرنا بھی بغیر محنت کے گو تھوڑی ہی ہو ممکن نہیں۔

تمہید پنجم :۔ جس معجزہ کو عقل شناخت کرکے اس کے منجانب اللہ ہونے پر گواہی دے وہ ان معجزات سے ہزارہا درجہ افضل ہوتا ہے کہ جو صرف بطور کتھا یا قصہ کے مدمنقولات میں بیان کئے جاتے ہیں اِس ترجیح کے دو باعث ہیں۔ ایک تو یہ کہ منقولی مُعجزات ہمارے لئے جو صدہا سال اس زمانہ سے پیچھے پیدا ہوئے ہیں جب معجزات دکھلائے گئے تھے مشہود اور محسوس کا حکم نہیں رکھتے اور اخبار منقولہ ہونے کے باعث سے وہ درجہ ان کو حاصل بھی نہیں ہوسکتا جو مشاہدات اور مرئیات کو حاصل ہوتا ہے دوسرے یہ کہ جن لوگوں نے منقولی معجزات کو جو تصرفِ عقل سے بالاتر ہیں مشاہدہ کیا ہے ان کے لئے بھی وہ تسلّی تام کا موجب نہیں ٹھہر سکتی کیونکہ بہت سے ایسے عجائبات بھی ہیں کہ ارباب شعبدہ بازی ان کو دکھلاتے پھرتے ہیں گو وہ مکر اور فریب ہی ہیں مگر اب مخالف بداندیش پر کیونکر ثابت کرکے دکھلاویں کہ انبیاء سے جو عجائبات اس قسم کے ظاہر ہوئے ہیں کہ کسی نے سانپ بنا کر دکھلا دیا اور کسی نے مردہ کو زندہ کرکے دکھلا دیا یہ اس قسم کی دست بازیوں سے منزّہ ہیں جو شعبدہ باز لوگ کیا کرتے ہیں یہ مشکلات کچھ ہمارے ہی زمانہ میں پیدا نہیں ہوئیں بلکہ ممکن ہے کہ انہیں زمانوں میں یہ مشکلات پیدا ہوگئی ہوں مثلاً جب ہم یوحنا کی انجیل کے پانچویں باب کی دوسری آیت سے پانچویں آیت تک دیکھتے ہیں تو اس میں یہ لکھا ہوا پاتے ہیں اور اور شلیم میں باب الضان کے پاس ایک حوض ہے جو عبرانی میں بیت حسدا کہلاتا ہے اس کے پانچ اُسارے ہیں۔ ان میں ناتوانوں اور اندھوں اور لنگڑوں اور پژمُردوں کی ایک بڑی بھیڑ پڑی تھی جو پانی کے ہلنے کی منتظر تھی کیونکہ ایک فرشتہ بعض وقت اس حوض میں اتر کر پانی کو ہلاتا تھا اور پانی ہلنے کے بعد جو کوئی کہ پہلے اس میں اترتا کیسی ہی بیماری میں کیوں نہ ہو اس سے چنگا ہوجاتا تھا اور وہاں ایک شخص تھا کہ جو اٹھتیس برس سے بیمار تھے یسوع نے جب اُسے پڑے ہوئے دیکھا اور جانا کہ وہ بڑی مدت سے اس حالت میں ہے تو اُس سے کہا کہ کیا تو چاہتا ہے کہ چنگا ہوجائے بیمار نے اسے جواب دیا کہ اے خداوند مجھ پاس آدمی نہیں کہ جب پانی ہلے تو مجھے اس میں ڈال دے اور جب تک میں آپ سے آؤں دوسرا مجھ سے پہلے اتر پڑتا ہے اب ظاہر ہے کہ وہ شخص جو حضرت عیسیٰ کی نبوت کا منکر ہے اور اُن کے معجزات کا انکاری ہے جب یوحنا کی یہ عبارت پڑھے گا اور ایسے حوض کے وجود پر اطلاع پائے گا کہ جو حضرت عیسیٰ کے ملک میں قدیم سے چلا آتا تھا اور جس میں قدیم سے یہ خاصیت تھی کہ اس میں ایک ہی غوطہ لگانا ہریک قسم کی بیماری کو گو وہ کیسی ہی سخت کیوں نہ ہو دور کردیتا تھا خواہ نخواہ اس کے دل میں ایک قوی خیال پیدا ہوگا کہ اگر حضرت مسیح نے کچھ خوارق عجیبہ دکھلائے ہیں تو بلاشبہ ان کا یہی موجب ہوگا کہ حضرتِ ممدوح اُسی حوض کے پانی میں کچھ تصرف کرکے ایسے ایسے خوارق دکھلاتے ہوں گے کیونکہ اس قسم کے اقتباس کی ہمیشہ دنیا میں بہت سی نظیریں پائی گئی ہیں اور اب بھی ہیں اور عندالعقل یہ بات نہایت صحیح اور قرین قیاس ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ کے ہاتھ سے اندھوں لنگڑوں وغیرہ کو شفا حاصل ہوئی ہے تو بالیقین یہ نسخہ حضرتِ مسیح نے اسی حوض سے اڑایا ہوگا اور پھر نادانوں اور سادہ لوحوں میں کہ جو بات کی تہ تک نہیں پہنچتے اور اصل حقیقت کو نہیں شناخت کرسکتے یہ مشہور کردیا کہ ایک روح کی مدد سے ایسے ایسے کام کرتا ہوں بالخصوص جبکہ یہ بھی ثابت ہے کہ حضرت مسیح اسی حوض پر اکثر جایا بھی کرتے تھے تو اس خیال کو اَور بھی قوت حاصل ہوتی ہے۔ غرض مخالف کی نظر میں ایسے معجزوں سے کہ جو قدیم سے حوض دکھلاتا رہا ہے حضرت عیسیٰ کی نسبت بہت سے شکوک اور شبہات پیدا ہوتے ہیں اور اس بات کے ثبوت میں بہت سی مشکلات پڑتی ہیں کہ یہودیوں کی رائے کے موافق مسیح مکّار اور شعبدہ باز نہیں تھا اور نیک چلن آدمی تھا جس نے اپنے عجائبات کے دکھلانے میں اس قدیمی حوض سے کچھ مددنہیں لی اور سچ مچ معجزات ہی دکھائے ہیں اور اگرچہ قرآنِ شریف پر ایمان لانے کے بعد ان وساوس سے نجات حاصل ہوجاتی ہے مگر جو شخص ابھی قُرآنِ شریف پر ایمان نہیں لایا اور یہودی یا ہندو یا عیسائی ہے وہ کیونکر ایسے وساوس سے نجات پاسکتا ہے اور کیونکر اس کا دل اطمینان پکڑ سکتا ہے کہ باوجود ایسے عجیب حوض کے جس میں ہزاروں لنگڑے اور لُولے اور مادر زاد اندھے ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہوجاتے تھے اور جو صدہا سال سے اپنے خواص عجیبہ کے ساتھ یہودیوں اور اس ملک کے تمام لوگوں میں مشہور اور زبان زد ہورہا تھا اور بے شمار آدمی اُس میں غوطہ مارنے سے شفا پاچکے تھے اور ہر روز پاتے تھے اور ہر وقت ایک میلہ اُس پر لگا رہتا تھا اور مسیح بھی اکثر اُس حوض پر جایا کرتا تھا اور اُس کی ان عجیب و غریب خاصیتوں سے باخبر تھا مگر پھر بھی مسیح نے ان معجزات کے دکھلانے میں جن کو قدیم سے حوض دکھلا رہا تھا اُسی حوض کی مٹی یا پانی سے کچھ مددنہیں لی اور اُسی میں کچھ تصرّف کرکے اپنا نیا نسخہ نہیں نکالا۔ بلاشُبہ ایسا خیال بے دلیل بات ہے کہ جو مخالف کے روبرو کارگر نہیں اور بلاریب اس حوض عجیب الصفات کے وجود پر خیال کرنے سے مسیح کی حالت پر بہت سے اعتراضات عائد ہوتے ہیں جو کسی طرح اٹھ نہیں سکتے اور جس قدر غور کرواُسی قدر داروگیر بڑھتی ہے اور مسیحی جماعت کیلئے کوئی راستہ مَخلصی کانظر نہیں آتاکیونکہ دنیا کی موجودہ حالت کودیکھ کریہ وساوس اور بھی زیادہ تقویت پکڑتے ہیں اور بہت سی نظیریں ایسے ہی مکروں اور فریبوں کے اپنی ہی قُوّت حافظہ پیش کرتی ہے بلکہ ہریک انسان ان مکروں کے بارے میں چشم دید باتوں کا ایک ذخیرہ رکھتا ہے اور خود اس قسم کے مکر جیسے سادہ لوحوں اور جاہلوں کے سامنے چل جاتے ہیں اور زیر پردہ رہتے ہیں یہ ایک ایسا امر ہے جو مکّاروں کو اُن کی کارسازیوں پر دلیر کرتا ہے۔ عوام النّاس کو جو اکثر چارپایوں کی طرح ہوتے ہیں اس طرف خیال بھی نہیں ہوتا کہ لمبی چوڑی تفتیش کریں اور بات کی تہہ تک پہنچ جائیں اور ایسے تماشوں کے دکھلانے کا عرصہ بھی نہایت ہی تھوڑا ہوتا ہے جس میں غور اور فکر کرنے کے لئے کافی فرصت نہیں مل سکتی اس لئے مکّاروں کے لئے دست بازی کی بہت گنجائش رہتی ہے اور ان کے پوشیدہ بھیدوں پر اطلاع پانے کا کم موقع ملتا ہے۔ علاوہ اس کے عوام بیچارے علومِ طبعی وغیرہ فنونِ فلاسفہ سے کچھ خبر نہیں رکھتے اور جو کائنات میں حکیمِ مُطلق نے طرح طرح کے عجیب خواص رکھے ہیں اُن خواص کی انہیں کچھ بھی خبر نہیں ہوتی۔ پس وہ ہریک وقت اور ہر زمانہ میں دھوکا کھانے کو طیّار ہیں۔ اور کیونکر دھوکا نہ کھاویں خواص اشیاءکے ایسے ہی حیرت افزا ہیں اور بے خبری کی حالت میں موجبِ زیادتِ حیرت ہوتے ہیں۔ مثلاً مکھی اور دوسرے بعض جانوروں میں یہ خاصیّت ہے کہ اگر ایسے طور پر مرجائیں کہ اُن کے اعضا میں کچھ زیادہ تفرّق اتصال واقع نہ ہو اور اعضا اپنی اصلی ہیئت اور وضع پر سلامت رہیں اور متعفن ہونے بھی نہ پاویں بلکہ ابھی تازہ ہی ہوں اور موت پر دو تین گھنٹہ سے زیادہ عرصہ نہ گذرا ہو جیسے پانی میں مری ہوئی مکھیاں ہوتی ہیں تو اس صورت میں اگر نمک باریک پیس کر اس مکھی وغیرہ کو اس کے نیچے دبایا جاوے اور پھر اسی قدر خاکستر بھی اس پر ڈالی جاوے تو وہ مکھی زندہ ہوکر اڑ جاتی ہے اور یہ خاصیت مشہور و معروف ہے جس کو اکثر لڑکے بھی جانتے ہیں لیکن اگر کسی سادہ لوح کو اس نسخہ پر اطلاع نہ ہو اور کوئی مکار اس نادان اور بے خبر کے سامنے مگس مسیح ہونے کا دعویٰ کرے اور اسی حکمت عملی سے مکھیوں کو زندہ کرے اور بظاہر کوئی منتر جنتر پڑھتا رہے جس سے یہ جتلانا منظور ہو کہ گویا وہ اسی منتر کے ذریعہ سے مکھیوں کو زندہ کرتا ہے تو پھر اس سادہ لوح کو اس قدر عقل اور فرصت کہاں ہے کہ تحقیقاتیں کرتا پھرے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ مکار لوگ اسی زمانے میں دنیا کو ہلاک کررہے ہیں۔ کوئی سونا بنا کر دکھلاتا ہے اور کیمیا گری کا دعویٰ کرتا ہے۔ اور کوئی آپ ہی زمین کے نیچے پتھر دبا کر پھر ہندوؤں کے سامنے دیوی نکالتا ہے۔ بعض نے ایسا بھی کیا ہے کہ جمال گوٹہ کا روغن اپنی دوات کی سیاہی میں ملایا اور پھر اس سیاہی سے کسی سادہ لوح کو تعویذ لکھ کر دیا تا دست آنے پر تعویذ کا اثر ظاہر ہو۔ ایسے ہی ہزاروں اور مکر اور فریب ہیں کہ جو اسی زمانہ میں ہورہے ہیں اور بعض مکر ایسے عمیق ہیں جن سے بڑے بڑے دانشمند دھوکا کھا جاتے ہیں اور علوم طبعی کے دقائق عمیقہ اور جسمی تراکیب اور قوتوں کے خواص عجیبہ جو حال کے زمانہ میں نئے تجارب کے ذریعہ سے روزبروز پھیلتے جاتے ہیں یہ جدید باتیں ہیں جن سے جھوٹے معجزے دکھلانے والے نئے نئے مکر اور فریب دکھا سکتے ہیں سو اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ جو معجزات بظاہر صورت ان مکروں سے متشابہ ہیں۔ گو وہ سچے بھی ہوں تب بھی محجوب الحقیقت ہیں اور ان کے ثبوت کے بارے میں بڑی بڑی دقتیں ہیں۔

تمہید ششم ۔ جس طرح محجوب الحقیقت معجزاتِ عقلی معجزات سے برابری نہیں کرسکتے۔ ایسا ہی پیشین گوئیاں اور اخبار ازمنہ گذشتہ جو نجومیوں اور رمّالوں اور کاہنوں اور مؤرّخوں کے طریقہٴ بیان سے مشابہ ہیں ان پیشین گوئیوں اور اخبار غیبیہ سے مساوی نہیں ہوسکتیں کہ جو محض اخبار نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ قُدرتِ الوہیّت بھی شامل ہے کیونکہ دنیا میں بجز انبیاء کے اور بھی ایسے لوگ بہت نظر آتے ہیں کہ ایسی ایسی خبریں پیش از وقوع بتلایا کرتے ہیں کہ زلزلے آویں گے وبا پڑے گی لڑائیاں ہوں گی قحط پڑے گا ایک قوم دوسری قوم پر چڑھائی کرے گی یہ ہوگا وہ ہوگا اور بارہا کوئی نہ کوئی ان کی خبر بھی سچی نکل آتی ہے پس ان شبہات کے مٹانے کے لئے وہ پیشین گوئیاں اور اخبار غیبیہ زبردست اور کامل مُتصوّر ہوں گے جن کے ساتھ ایسے نشان قُدرتِ الٰہیہ کے ہوں جن میں رمّالوں اور خواب بینوں اور نجومیوں وغیرہ کا شریک ہونا ممتنع اور محال ہو یعنی ان میں خداوند تعالیٰ کے کامل جلال کا جوش اور اُس کی تائیدات کا ایسا بزرگ چمکارا نظر آتا ہو جو بدیہی طور پر اس کی توجّہاتِ خاصہ پر دلالت کرتا ہو اور نیز وہ ایک ایسی نصرت کی خبر پر مشتمل ہوں جس میں اپنی فتح اور مخالف کی شکست اور اپنی عزت اور مخالف کی ذلت اور اپنا اقبال اور مخالف کا زوال بہ تفصیل تمام ظاہر کیا گیا ہو اور ہم اپنے موقعہ پر بیان کریں گے اور کچھ بیان بھی کرچکے ہیں کہ یہ اعلیٰ درجہ کی پیشین گوئیاں صرف قرآن شریف سے مخصوص ہیں کہ جن کے پڑھنے سے جلال الٰہی کا ایک عالم نظر آتا ہے۔

تمہید ہفتم ۔ قرآن شریف میں جس قدر باریک صداقتیں علم دین کی اور علوم دقیقہ الٰہیّات کے اور براہینِ قاطعہ اُصولِ حقّہ کے معہ دیگر اسرار اور معارف کے مُندرج ہیں اگرچہ وہ تمام فی حدّ ذاتہا ایسے ہیں کہ قویٰ بشریہ اُن کو بہ ہیئت مجموعی دریافت کرنے سے عاجز ہیں اور کسی عاقل کی عقل ان کے دریافت کرنے کے لئے بطور خود سبقت نہیں کرسکتی کیونکہ پہلے زمانوں پر نظر استقراری ڈالنے سے ثابت ہوگیا ہے کہ کوئی حکیم یا فیلسوف اُن علوم و معارف کا دریافت کرنے والا نہیں گزرا۔ لیکن اِس جگہ عجیب بر عجیب اَور بات ہے یعنے یہ کہ وہ علوم اور معارف ایک ایسے اُمّی کو عطا کی گئی کہ جو لکھنے پڑھنے سے ناآشنا محض تھا جس نے عمر بھر کسی مکتب کی شکل نہیں دیکھی تھی اور نہ کسی کتاب کا کوئی حرف پڑھا تھا اور نہ کسی اہل علم یا حکیم کی صحبت میسّر آئی تھی بلکہ تمام عمر جنگلیوں اور وحشیوں میں سکونت رہی اُنہیں میں پرورش پائی اور اُنہیں میں سے پیدا ہوئے اور انہیں کے ساتھ اختلاط رہا۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمّی اور اَن پڑھ ہونا ایک ایسا بدیہی امر ہے کہ کوئی تاریخ دان اسلام کا اُس سے بے خبر نہیں لیکن چونکہ یہ امر آئندہ فصلوں کے لئے بہت کارآمد ہے اس لئے ہم کسی قدر آیاتِ قرآنی لکھ کر اُمیّت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ثابت کرتے ہیں سو واضح ہو کہ وہ آیات بہ تفصیل ذیل ہیں:۔

وہ خدا ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا ان پر وہ اُس کی آیتیں پڑھتا ہے اور اُن کو پاک کرتا ہے اور اُنہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے صریح گمراہی میں پھنسے ہوئے تھے۔ مَیں جس کوچاہتا ہوں عذاب پہنچاتا ہوں اور میری رحمت نے ہر چیز پر احاطہ کر رکھا ہے سو میں اُن کے لیے جو ہر یک طرح کے شرک اور کفر اور فواحش سے پرہیز کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور نیز اُن کیلئے جو ہماری نشانیوں پر ایمان کامل لاتے ہیں اپنی رحمت لکھوں گا وہ وہی لوگ ہیں جو اُس رسول نبی پر ایمان لاتے ہیں کہ جس میں ہماری قدرت کاملہ کی دو نشانیاں ہیں۔ ایک توبیرونی نشانی کہ توریت اور انجیل میں اس کی نسبت پیشین گوئیاں موجود ہیں جن کو وہ آپ بھی اپنی کتابوں میں موجود پاتے ہیں۔ دوسری وہ نشانی کہ خود اُس نبی کی ذات میں موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ باوجود اُمّی اور ناخواندہ ہونے کے ایسی ہدایت کامل لایا ہے کہ ہر یک قسم کی حقیقی صداقتیں جن کی سچائی کو عقل و شرع شناخت کرتی ہے اور جو صفحۂ دُنیا پر باقی نہیں رہی تھیں لوگوں کی ہدایت کے لئے بیان فرماتا ہے اور اُنکو اسکے بجالانے کیلئے حکم کرتا ہے اور ہریک نامعقول بات سے کہ جس کی سچائی سے عقل و شرع انکار کرتی ہے منع کرتا ہے اور پاک چیزوں کو پاک اور پلید چیزوں کو پلید ٹھہراتا ہے اور یہودیوں اور عیسائیوں کے سر پر سے وہ بھاری بوجھ اتارتا ہے جو ان پر پڑی ہوئی تھی اور جن طوقوں میں وہ گرفتار تھے ان سے خلاصی بخشتا ہے۔ سو جو لوگ اس پر ایمان لاویں اور اس کو قوت دیں اور اس کی مدد کریں اور اس نور کی بکلّی متابعت اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل ہوا ہے وہی لوگ نجات یافتہ ہیں۔ لوگوں کو کہہ دے کہ میں خدا کی طرف سے تم سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ وہ خدا جو بلا شرکت الغیری آسمان اور زمین کا مالک ہے جس کے سوا اور کوئی خدا اور قابل پرستش نہیں زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے پس اس خدا پر اور اس کے رسول پر جو نبی اُمّی ہے ایمان لاؤ۔ وہ نبی جو اللہ اور اس کے کلموں پر ایمان لاتا ہے اور تم اس کی پیروی کرو تاتم ہدایت پاؤ۔ اور اسی طرح ہم نے اپنے امر سے تیری طرف ایک روح نازل کی ہے تجھے معلوم نہ تھا کہ کتاب اور ایمان کسے کہتے ہیں پر ہم نے اس کو ایک نور بنایا ہے جس کو ہم چاہتے ہیں بذریعہ اس کے ہدایت دیتے ہیں اور بہ تحقیق سیدھے راستہ کی طرف تو ہدایت دیتا ہے۔ اور اس سے پہلے تو کسی کتاب کو نہیں پڑھتا تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتا تھا تا باطل پرستوں کو شک کرنے کی کوئی وجہ بھی ہوتی بلکہ وہ آیات بینات ہیں جو اہل علم لوگوں کے سینوں میں ہیں اور ان سے انکار وہی لوگ کرتے ہیں جو ظالم ہیں۔

قال اللّٰہ تعالی : ۔ سورۂ جمعہ الجزو نمبر ۲۸۔ ۔ سورہ اعراف الجزو نمبر ۹ سورۃ الشوریٰ الجزو نمبر ۲۵۔ سورۃ العنکبوت الجزو نمبر ۲۱ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیۡہِمۡ وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ ٭ وَاِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ(الجمعة: ۳)عَذَابِیۡۤ اُصِیۡبُ بِہٖ مَنۡ اَشَآءُ ۚ وَرَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ ؕ فَسَاَکۡتُبُہَا لِلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ وَیُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَالَّذِیۡنَ ہُمۡ بِاٰیٰتِنَا یُؤۡمِنُوۡنَ اَلَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِیَّ الۡاُمِّیَّ الَّذِیۡ یَجِدُوۡنَہٗ مَکۡتُوۡبًا عِنۡدَہُمۡ فِی التَّوۡرٰٮۃِ وَالۡاِنۡجِیۡلِ ۫ یَاۡمُرُہُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَیَنۡہٰہُمۡ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَیُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیۡہِمُ الۡخَبٰٓئِثَ وَیَضَعُ عَنۡہُمۡ اِصۡرَہُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِیۡ کَانَتۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِہٖ وَعَزَّرُوۡہُ وَنَصَرُوۡہُ وَاتَّبَعُوا النُّوۡرَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ مَعَہٗۤ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا ۣالَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحۡیٖ وَیُمِیۡتُ ۪ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَرَسُوۡلِہِ النَّبِیِّ الۡاُمِّیِّ الَّذِیۡ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَکَلِمٰتِہٖ وَاتَّبِعُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ(الاعراف: ۱۵۷تا۱۵۹)وَکَذٰلِکَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ رُوۡحًا مِّنۡ اَمۡرِنَا ؕ مَا کُنۡتَ تَدۡرِیۡ مَا الۡکِتٰبُ وَلَا الۡاِیۡمَانُ وَلٰکِنۡ جَعَلۡنٰہُ نُوۡرًا نَّہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَا ؕ وَاِنَّکَ لَتَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ(الشوریٰ: ۵۳)وَمَا کُنۡتَ تَتۡلُوۡا مِنۡ قَبۡلِہٖ مِنۡ کِتٰبٍ وَّلَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیۡنِکَ اِذًا لَّارۡتَابَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ بَلۡ ہُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیۡ صُدُوۡرِ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ ؕ وَمَا یَجۡحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوۡنَ(العنکبوت: ۴۹،۵۰)

ان تمام آیات سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمّی ہونا بکمال وضاحت ثابت ہوتا ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ اگر آنحضرت فی الحقیقت اُمّی اور ناخواندہ نہ ہوتے۔ تو بہت سے لوگ اس دعویٰ اُمیّت کی تکذیب کرنے والے پیدا ہوجاتے کیونکہ آنحضرت نے کسی ایسے ملک میں یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ جس ملک کے لوگوں کو آنحضرت کے حالات اور واقعات سے بے خبر اور ناواقف قرار دے سکیں بلکہ وہ تمام لوگ ایسے تھے جن میں آنحضرت نے ابتداء عمر سے نشوونما پایا تھا اور ایک حصۂ کلاں عمر اپنی کا ان کی مخالطت اور مصاحبت میں بسر کیا تھا پس اگر فی الواقعہ جناب ممدوح اُمّی نہ ہوتے تو ممکن نہ تھا کہ اپنے اُمّی ہونے کا ان لوگوں کے سامنے نام بھی لے سکتے جن پر کوئی حال ان کا پوشیدہ نہ تھا اور جو ہر وقت اس گھات میں لگے ہوئے تھے کہ کوئی خلاف گوئی ثابت کریں اور اُس کو مُشتہر کردیں۔ جن کا عناد اس درجہ تک پہنچ چکا تھا کہ اگر بس چل سکتا تو کچھ جھوٹ موٹ سے ہی ثبوت بنا کر پیش کردیتے اور اسی جہت سے ان کو ان کی ہریک بدظنی پر ایسا مسکت جواب دیا جاتا تھا کہ وہ ساکت اور لاجواب رہ جاتے تھے مثلاً جب مکہ کے بعض نادانوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ قرآن کی توحید ہمیں پسندنہیں آتی کوئی ایسا قرآن لاؤ جس میں بتوں کی تعظیم اور پرستش کا ذکر ہو یا اسی میں کچھ تبدّل تغیّر کرکے بجائے توحید کے شرک بھر دو تب ہم قبول کرلیں گے اور ایمان لے آئیں گے۔ تو خدا نے ان کے سوال کا جواب اپنے نبی کو وہ تعلیم کیا جو آنحضرت کے واقعات عمری پر نظر کرنے سے پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے:۔

وہ لوگ جو ہماری ملاقات سے ناامید ہیں یعنی ہماری طرف سے بکلی علاقہ توڑ چکے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کے برخلاف کوئی اور قرآن لا جس کی تعلیم اس کی تعلیم سے مغایر اور منافی ہو یا اسی میں تبدیل کر ان کو جواب دے کہ مجھے یہ قدرت نہیں اور نہ روا ہے کہ میں خدا کے کلام میں اپنی طرف سے کچھ تبدیل کروں۔ میں تو صرف اُس وحی کا تابع ہوں جو میرے پر نازل ہوتی ہے اور اپنے خداوند کی نافرمانی سے ڈرتا ہوں اگر خدا چاہتا تو میں تم کو یہ کلام نہ سناتا اور خدا تم کو اس پر مطلع بھی نہ کرتا پہلے اس سے اتنی عمر یعنی چالیس برس تک تم میں ہی رہتا رہا ہوں پھر کیا تم کو عقل نہیں یعنی کیا تم کو بخوبی معلوم نہیں کہ افترا کرنا میرا کام نہیں اور جھوٹ بولنا میری عادت میں نہیں اور پھر آگے فرمایا کہ اس شخص سے زیادہ تر اور کون ظالم ہوگا جو خدا پر افترا باندھے یا خدا کے کلام کو کہے کہ یہ انسان کا افترا ہے بلاشبہ مجرم نجات نہیں پائیں گے۔

سورۃ یونس الجزو نمبر ۱۱۔قَالَ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا ائۡتِ بِقُرۡاٰنٍ غَیۡرِ ہٰذَاۤ اَوۡ بَدِّلۡہُ ؕ قُلۡ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنۡ اُبَدِّلَہٗ مِنۡ تِلۡقَآیِٔ نَفۡسِیۡ ۚ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ ۚ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَیۡتُ رَبِّیۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ قُلۡ لَّوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا تَلَوۡتُہٗ عَلَیۡکُمۡ وَلَاۤ اَدۡرٰٮکُمۡ بِہٖ ۫ۖ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ(یونس: ۱۶تا۱۸)

غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمّی ہونا عربوں اور عیسائیوں اور یہودیوں کی نظر میں ایسا بدیہی اور یقینی امر تھا کہ اس کے انکار میں کچھ دم نہیں مار سکتے تھے بلکہ اسی جہت سے وہ توریت کے اکثر قصے جو کسی خواندہ آدمی پر مخفی نہیں رہ سکتے بطور امتحان نبوت آنحضرت پوچھتے تھے اور پھر جواب صحیح اور درست پاکر ان فاش غلطیوں سے مبرا دیکھ کر جو توریت کے قصوں میں پڑ گئے ہیں وہ لوگ جو ان میں راسخ فی العلم تھے بصدق دلی ایمان لے آتے تھے جن کا ذکر قرآن شریف میں اس طرح پر درج ہے:۔

سب فرقوں میں سے مسلمانوں کی طرف زیادہ تر رغبت کرنے والے عیسائی ہیں کیونکہ ان میں بعض بعض اہلِ علم اور راہب بھی ہیں جو تکبر نہیں کرتے اور جب خدا کے کلام کو جو اُس کے رسول پر نازل ہوا سنتے ہیں تب تُو دیکھتا ہے کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں اس وجہ سے کہ وہ حقّانیّت کلام الٰہی کو پہچان جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدایا ہم ایمان لائے ہم کو اُن لوگوں میں لکھ لے جو تیرے دین کی سچائی کے گواہ ہیں اور کیوں ہم خدا اور خدا کے سچے کلام پر ایمان نہ لاویں۔ حالانکہ ہماری آرزو ہے کہ خدا ہم کو ان بندوں میں داخل کرے جو نیکوکار ہیں۔

سورۃ المائدۃ الجزو نمبر ۷۔وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَہُمۡ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰی ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنۡہُمۡ قِسِّیۡسِیۡنَ وَرُہۡبَانًا وَّاَنَّہُمۡ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ وَاِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَی الرَّسُوۡلِ تَرٰۤی اَعۡیُنَہُمۡ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ مِمَّا عَرَفُوۡا مِنَ الۡحَقِّ ۚ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاکۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰہِدِیۡنَ وَمَا لَنَا لَا نُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَمَا جَآءَنَا مِنَ الۡحَقِّ ۙ وَنَطۡمَعُ اَنۡ یُّدۡخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الصّٰلِحِیۡنَ(المآئدة: ۸۳تا۸۵)

جو لوگ عیسائیوں اور یہودیوں میں سے صاحب علم ہیں جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ کرتے ہوئے ٹھوڑیوں پر گر پڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا خدا تخلّفِ وعدہ سے پاک ہے ایک دن ہمارے خداوند کا وعدہ پورا ہونا ہی تھا اور روتے ہوئے مونہہ پر گر پڑتے ہیں اور خدا کا کلام اُن میں فروتنی اور عاجزی کو بڑھاتا ہے۔

بنی اسرائیل الجزو نمبر ۱۵۔اِنَّ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِہٖۤ اِذَا یُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ یَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا وَّیَقُوۡلُوۡنَ سُبۡحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنۡ کَانَ وَعۡدُ رَبِّنَا لَمَفۡعُوۡلًا وَیَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ یَبۡکُوۡنَ وَیَزِیۡدُہُمۡ خُشُوۡعًا(بنی اسرآئیل: ۱۰۸تا۱۱۰)

پس یہ تو ان لوگوں کا حال تھا جو عیسائیوں اور یہودیوں میں اہل علم اور صاحب انصاف تھے کہ جب وہ ایک طرف آنحضرت کی حالت پر نظر ڈال کر دیکھتے تھے کہ محض اُمّی ہیں کہ تربیت اور تعلیم کا ایک نقطہ بھی نہیں سیکھا اور نہ کسی مہذّب قوم میں بودوباش رہی اور نہ مجالسِ علمیہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اور دوسری طرف وہ قرآن شریف میں صرف پہلی کتابوں کے قصے نہیں بلکہ صدہا باریک صداقتیں دیکھتے تھے جو پہلی کتابوں کی مکمل اور متمم تھیں تو آنحضرت کی حالت اُمیّت کو سوچنے سے اور پھر اس تاریکی کے زمانہ میں ان کمالات علمیہ کو دیکھنے سے اور نیز انوار ظاہری و باطنی کے مشاہدہ سے نبوت آنحضرتؐ کی ان کو اظہر من الشّمس معلوم ہوتی تھی اور ظاہر ہے کہ اگر ان مسیحی فاضلوں کو آنحضرت کے اُمّی اور مؤیّد من اللہ ہونے پر یقین کامل نہ ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ وہ ایک ایسے دین سے جس کی حمایت میں ایک بڑی سلطنت قیصر روم کی قائم تھی اور جو نہ صرف ایشیا میں بلکہ بعض حصوں یورپ میں بھی پھیل چکا تھا اور بوجہ اپنی مشرکانہ تعلیم کے دنیا پرستوں کو عزیز اور پیارا معلوم ہوتا تھا صرف شک اور شبہ کی حالت میں الگ ہوکر ایسے مذہب کو قبول کرلیتے جو بباعث تعلیم توحید کے تمام مشرکین کو بُرا معلوم ہوتا تھا اور اُس کے قبول کرنے والے ہر وقت چاروں طرف سے معرض ہلاکت اور بلا میں تھے پس جس چیز نے ان کے دلوں کو اسلام کی طرف پھیرا وہ یہی بات تھی جو انہوں نے آنحضرتؐ کو محض اُمّی اور سراپا مؤیّد من اللہ پایا اور قرآن شریف کو بشری طاقتوں سے بالاتر دیکھا اور پہلی کتابوں میں اس آخری نبی کے آنے کے لئے خود بشارتیں پڑھتے تھے سو خدا نے ان کے سینوں کو ایمان لانے کے لئے کھول دیا۔ اور ایسے ایماندار نکلے جو خدا کی راہ میں اپنے خونوں کو بہایا اور جو لوگ عیسائیوں اور یہودیوں اور عربوں میں سے نہایت درجہ کے جاہل اور شریر اور بدباطن تھے ان کے حالات پر بھی نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی بہ یقینِ کامل آنحضرت کو اُمّی جانتے تھے اور اسی لئے جب وہ بائیبل کے بعض قصے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو بطور امتحان نبوّت پوچھ کر ان کا ٹھیک ٹھیک جواب پاتے تھے تو یہ بات ان کو زبان پر لانے کی مجال نہ تھی کہ آنحضرت کچھ پڑھے لکھے ہیں ۔ آپ ہی کتابوں کو دیکھ کر جواب بتلا دیتے ہیں بلکہ جیسے کوئی لاجواب رہ کر اور گھسیانا بن کر کچے عذر پیش کرتا ہے ایسا ہی نہایت ندامت سے یہ کہتے تھے کہ شاید در پردہ کسی عیسائی یا یہودی عالم بائیبل نے یہ قصے بتلا دیئے ہوں گے۔ پس ظاہر ہے اگر آنحضرت کا اُمّی ہونا ان کے دلوں میں بہ یقین کامل متمکن نہ ہوتا تو اسی بات کے ثابت کرنے کے لئے نہایت کوشش کرتے کہ آنحضرت اُمّی نہیں ہیں فلاں مکتب یا مدرسہ میں انہوں نے تعلیم پائی ہے۔ واہیات باتیں کرنا جن سے اُن کی حماقت ثابت ہوتی تھی کیا ضرور تھا۔ کیونکہ یہ الزام لگانا کہ بعض عالم یہودی اور عیسائی درپردہ آنحضرت کے رفیق اور معاون ہیں بدیہی البطلان تھا۔ اس وجہ سے کہ قرآن تو جابجا اہلِ کتاب کی وحی کو ناقص اور اُن کی کتابوں کو محرّف اور مبدّل اور ان کے عقائد کو فاسد اور باطل اور خود ان کو بشرطیکہ بے ایمان مریں ملعون اور جہنمی بتلاتا ہے۔ اور اُن کے اصولِ مصنوعہ کو دلائل قویّہ سے توڑتا ہے تو پھر کس طرح ممکن تھا کہ وہ لوگ قرآن شریف سے اپنے مذہب کی آپ ہی مذمّت کرواتے۔ اور اپنی کتابوں کا آپ ہی ردّ لکھاتے اور اپنے مذہب کی بیخ کنی کے آپ ہی موجب بن جاتے پس یہ سست اور نادرست باتیں اس لئے دنیا پرستوں کو بکنی پڑیں کہ اُن کو عاقلانہ طور پر قدم مارنے کا کسی طرف راستہ نظر نہیں آتا تھا اور آفتاب صداقت کا ایسی پرزور روشنی سے اپنی کرنیں چاروں طرف چھوڑ رہا تھا کہ وہ اس سے چمگادڑ کی طرح چُھپتے پھرتے تھے اور کسی ایک بات پر ان کو ہرگز ثبات و قیام نہ تھا بلکہ تعصّب اور شدّت عنادنے ان کو سودائیوں اور پاگلوں کی طرح بنا رکھا تھا۔ پہلے تو قرآن کے قصوں کو سن کر جن میں بنی اسرائیل کے پیغمبروں کا ذکر تھا اس وہم میں پڑے کہ شاید ایک شخص اہل کتاب میں سے پوشیدہ طور پر یہ قصے سکھاتا ہوگا جیسا اُن کا یہ مقولہ قرآن شریف میں درج ہے۔ اِنَّمَا یُعَلِّمُہٗ بَشَرٌ (النحل: ۱۰۴) ۔ سورۃ النحل الجزو نمبر ۱۴۔ اور پھر جب دیکھا کہ قرآن شریف میں صرف قصے ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے حقائق ہیں تو پھر یہ دوسری رائے ظاہر کی وَاَعَانَہٗ عَلَیۡہِ قَوۡمٌ اٰخَرُوۡنَ (الفرقان: ۵) ۔ سورۃ الفرقان الجزو نمبر ۱۸۔ یعنی ایک بڑی جماعت نے متفق ہوکر قرآن شریف کو تالیف کیا ہے ایک آدمی کا کام نہیں۔ پھر جب قرآن شریف میں ان کو یہ جواب دیا گیا کہ اگر قرآن کو کسی جماعت علماء فضلاء اور شعرا نے اکٹھے ہوکر بنایا ہے تو تم بھی کسی ایسی جماعت سے مدد لے کر قرآن کی نظیر بنا کر دکھلاؤ تا تمہارا سچا ہونا ثابت ہو تو پھر لاجواب ہوکر اس رائے کو بھی جانے دیا اور ایک تیسری رائے ظاہر کی اور وہ یہ کہ قرآن کو جِنّات کی مدد سے بنایا ہے یہ آدمی کا کام نہیں پھر خدا نے اس کا جواب بھی ایسا دیا کہ جس کے سامنے وہ چون و چرا کرنے سے عاجز ہوگئے جیسا فرمایا ہے۔

یعنی قرآن ہریک قسم کے امور غیبیہ پر مشتمل ہے اور اس قدر بتلانا جنات کا کام نہیں۔ ان کو کہہ دے کہ اگر تمام جن متفق ہوجائیں اور ساتھ ہی بنی آدم بھی اتفاق کرلیں اور سب مل کر یہ چاہیں کہ مثل اس قرآن کے کوئی اور قرآن بنادیں تو ان کے لئے ہرگز ممکن نہیں ہوگا اگرچہ ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں۔

سورۃ بنی اسرائیل الجزو نمبر ۱۵۔وَمَا ہُوَ عَلَی الۡغَیۡبِ بِضَنِیۡنٍ وَمَا ہُوَ بِقَوۡلِ شَیۡطٰنٍ رَّجِیۡمٍ فَاَیۡنَ تَذۡہَبُوۡنَ(التکویر: ۲۵تا۲۷)قُلۡ لَّئِنِ اجۡتَمَعَتِ الۡاِنۡسُ وَالۡجِنُّ عَلٰۤی اَنۡ یَّاۡتُوۡا بِمِثۡلِ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لَا یَاۡتُوۡنَ بِمِثۡلِہٖ وَلَوۡ کَانَ بَعۡضُہُمۡ لِبَعۡضٍ ظَہِیۡرًا(بنی اسرآئیل: ۸۹)

پھر جب ان بدبختوں پر اپنے تمام خیالات کا جھوٹ ہونا کھل گیا اور کوئی بات بنتی نظر نہ آئی تو آخرکار کمال بے حیائی سے کمینہ لوگوں کی طرح اس بات پر آگئے کہ ہر طرح پر اس تعلیم کو شائع ہونے سے روکنا چاہئے جیسا اس کا ذکر قرآن شریف میں فرمایا ہے:۔

یعنی کافروں نے یہ کہا کہ اس قرآن کو مت سنو۔ اور جب تمہارے سامنے پڑھا جاوے توتم شور ڈال دیاکرو۔ تا شاید اسی طرح غالب آجاؤ۔ اور بعضوں نے عیسائیوں اور یہودیوں میں سے یہ کہا کہ یوں کرو کہ اول صبح کے وقت جاکر قرآن پر ایمان لے آؤ۔ پھر شام کو اپنا ہی دین اختیار کرلو۔ تاشاید اس طور سے لوگ شک میں پڑجائیں اور دینِ اسلام کوچھوڑ دیں۔ کیا تو نے دیکھا نہیں کہ یہ عیسائی اور یہودی جنہوں نے انجیل اور تورات کوکچھ ادھورا سا پڑھ لیا ہے ایمان ان کا دیوتوں اور بُتوں پر ہے اور مشرکوں کو کہتے ہیں کہ ان کا مذہب جو بُت پرستی ہے وہ بہت اچھا ہے اور توحید کا مذہب جو مسلمان رکھتے ہیں یہ کچھ نہیں یہ وہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس پر خدا لعنت کرے اس کے لئے کوئی مددگار نہیں۔

سورۃ النساء الجزو نمبر ۵۔وَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ وَالۡغَوۡا فِیۡہِ لَعَلَّکُمۡ تَغۡلِبُوۡنَ(حٰمٓ السجدة: ۲۷)وَقَالَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡہَ النَّہَارِ وَاکۡفُرُوۡۤا اٰخِرَہٗ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ(اٰل عمران: ۷۳)اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الۡکِتٰبِ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡجِبۡتِ وَالطَّاغُوۡتِ وَیَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ہٰۤؤُلَآءِ اَہۡدٰی مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِیۡلًا اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ ؕ وَمَنۡ یَّلۡعَنِ اللّٰہُ فَلَنۡ تَجِدَ لَہٗ نَصِیۡرًا(النسآء: ۵۲تا۵۳)

اب خلاصہ اس تقریر کا یہ ہے کہ اگر آنحضرت اُمّی نہ ہوتے تو مخالفین اسلام بالخصوص یہودی اور عیسائی جن کو علاوہ اعتقادی مخالفت کے یہ بھی حسد اور بغض دامنگیر تھا کہ بنی اسرائیل میں سے رسول نہیں آیا بلکہ ان کے بھائیوں میں سے جو بنی اسماعیل ہیں آیا وہ کیونکر ایک صریح امر خلاف واقعہ پاکر خاموش رہتے بلاشبہ ان پر یہ بات بکمال درجہ ثابت ہوچکی تھی کہ جو کچھ آنحضرت کے مونہہ سے نکلتا ہے وہ کسی اُمی اور ناخواندہ کا کام نہیں اور نہ دس بیس آدمیوں کا کام ہے تب ہی تو وہ اپنی جہالت سے ۔ وَاَعَانَہٗ عَلَیۡہِ قَوۡمٌ اٰخَرُوۡنَ (الفرقان: ۵) کہتے تھے اور جو اُن میں سے دانا اور واقعی اہل علم تھے وہ بخوبی معلوم کرچکے تھے کہ قرآن انسانی طاقتوں سے باہر ہے اور اُن پر یقین کا دروازہ ایسا کھل گیا تھا کہ ان کے حق میں خدا نے فرمایا یَعۡرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَہُمۡ (البقرة: ۱۴۷) یعنی اس نبی کو ایسا شناخت کرتے ہیں کہ جیسا اپنے بیٹوں کو شناخت کرتے ہیں اور حقیقت میں یہ دروازہ یقین اور معرفت کا کچھ ان کے لئے ہی نہیں کھلا بلکہ اس زمانہ میں بھی سب کے لئے کھلا ہے کیونکہ قرآن شریف کی حقّانیّت معلوم کرنے کے لئے اب بھی وہی معجزات قرآنیہ اور وہی تاثیرات فرقانیہ اور وہی تائیدات غیبی اور وہی آیات لاریبی موجود ہیں جو اُس زمانہ میں موجود تھی خدا نے اس دین قویم کو قائم رکھنا تھا اِس لئے اِس کی سب برکات اور سب آیات قائم رکھیں اور عیسائیوں اور یہودیوں اور ہندوؤں کے ادیان مُحرّفہ اور باطلہ اور ناقصہ کا استیصال منظور تھا اس جہت سے انکے ہاتھ صرف قصے ہی قصے رہ گئے اور برکت حقّانیّت اور تائیداتِ سماویہ کا نام و نشان نہ رہا۔ ان کی کتابیں ایسے نشان بتلا رہی ہیں جن کے ثبوت کا ایک ذرا نشان اُن کے ہاتھ میں نہیں صرف گزشتہ قصوں کا حوالہ دیا جاتا ہے مگر قرآنِ شریف ایسے نشان پیش کرتا ہے جن کو ہریک شخص دیکھ سکتا ہے۔

تمھید ہشتم ۔ جو امر خارق عادت کسی ولی سے صادر ہوتا ہے۔ وہ حقیقت میں اس نبی متبوع کا معجزہ ہے جس کی وہ اُمّت ہے اور یہ بدیہی اور ظاہر ہے کیونکہ جب کسی امر کا ظاہر ہونا کسی شخص اور کسی خاص کتاب کی متابعت سے وابستہ ہے اور بدون متابعت کے وہ ظہور میں آ ہی نہیں سکتا۔ تو بہ بداہت ثابت ہے کہ اگرچہ وہ امر بظاہر صورت کسی تابع سے ظہور میں آیا ہو۔ لیکن درحقیقت مظہر اس امر کا نبی متبوع ہے جس کی متابعت سے ظہور اُس کا مشروط ہے اور سِرّ اِس بات کا کہ کیوں معجزہ نبی کا دوسرے کے توسّط سے ظہور پذیر ہوجاتا ہے یہ ہے کہ جب ایک شخص وہی امر بجالاتا ہے کہ جو اُس کے شارع نے فرمایا ہے اور اُس امر سے پرہیز کرتا ہے کہ جو اُس کے شارع نے منع کیا ہے اور اُسی کتاب کا پابند رہتا ہے جو اُس کے شارع نے دی ہے تو وہ اِس صورت میں بالکل اپنے نفس سے محو ہوکر اپنے شارع کی ذمہ واری میں جاپڑتا ہے۔ پس اگر شارع طبیب حاذق کی طرح ٹھیک ٹھیک صراطِ مستقیم کا رہنما ہے اور وہ مبارک کتاب لایا ہے جس میں شخص پیرو کی امراضِ روحانی کا علاج ہے اور اس کی علمی اور عملی تکمیل کے لئے پورا سامان موجود ہے۔ اور پھر اُس کے پیرو نے بغیر کسی اعراض صوری یا معنوی کے اُن تعلیمات کو بصدق دل قبول کرلیا ہے تو جو کچھ انوار وآثار بعد متابعت کامل کے مترتب ہوں گے۔ وہ حقیقت میں اُس نبی متبوع کے فیوض ہیں۔ سو اِسی جہت سے اگر ولی سے کوئی امر خارق عادت ظاہر ہو تو اُس نبی متبوع کا معجزہ ہوگا۔ اب اِن تمہیدات کے بعد دلائل حقیت قرآن شریف کے لکھے جاتے ہیں۔ و نسئل اللّٰہ التوفیق والنصرۃ ھو نعم المولی ونعم النصیر۔

بابِ اوّل

اُن براہین کے بیان میں جو قرآن شریف کی حقیّت اور افضلیت پر بیرونی شہادتیں ہیں


برھان اوّل۔ قال اللّٰہ تعالی تَاللّٰہِ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ فَہُوَ وَلِیُّہُمُ الۡیَوۡمَ وَلَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِی اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ۙ وَہُدًی وَّرَحۡمَۃً لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ وَاللّٰہُ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّسۡمَعُوۡنَ (النحل: ۶۴تا۶۶) ۔ الجزو نمبر ۱۴ سورہ النحل۔ وَہُوَ الَّذِیۡ یُرۡسِلُ الرِّیٰحَ بُشۡرًۢا بَیۡنَ یَدَیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَقَلَّتۡ سَحَابًا ثِقَالًا سُقۡنٰہُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنۡزَلۡنَا بِہِ الۡمَآءَ فَاَخۡرَجۡنَا بِہٖ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ ؕ کَذٰلِکَ نُخۡرِجُ الۡمَوۡتٰی لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ وَالۡبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخۡرُجُ نَبَاتُہٗ بِاِذۡنِ رَبِّہٖ ۚ وَالَّذِیۡ خَبُثَ لَا یَخۡرُجُ اِلَّا نَکِدًا ؕ کَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّشۡکُرُوۡنَ (الاعراف: ۵۸تا۵۹) الجزو نمبر ۸ سورہ الاعراف۔ اَللّٰہُ الَّذِیۡ یُرۡسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیۡرُ سَحَابًا فَیَبۡسُطُہٗ فِی السَّمَآءِ کَیۡفَ یَشَآءُ وَیَجۡعَلُہٗ کِسَفًا فَتَرَی الۡوَدۡقَ یَخۡرُجُ مِنۡ خِلٰلِہٖ ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖۤ اِذَا ہُمۡ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ وَاِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یُّنَزَّلَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ قَبۡلِہٖ لَمُبۡلِسِیۡنَ فَانۡظُرۡ اِلٰۤی اٰثٰرِ رَحۡمَتِ اللّٰہِ کَیۡفَ یُحۡیِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ اِنَّ ذٰلِکَ لَمُحۡیِ الۡمَوۡتٰی ۚ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ (الروم: ۴۹تا۵۱) الجزو نمبر ۲۱ سورۃ الروم۔ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتۡ اَوۡدِیَۃٌۢ بِقَدَرِہَا (الرعد: ۱۸) الجزو نمبر ۱۳ سورہ الرعد۔ ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ بِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِی النَّاسِ لِیُذِیۡقَہُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلُ ؕ کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّشۡرِکِیۡنَ (الروم: ۴۲تا۴۳) اَوَلَمۡ یَرَوۡا اَنَّا نَسُوۡقُ الۡمَآءَ اِلَی الۡاَرۡضِ الۡجُرُزِ فَنُخۡرِجُ بِہٖ زَرۡعًا تَاۡکُلُ مِنۡہُ اَنۡعَامُہُمۡ وَاَنۡفُسُہُمۡ ؕ اَفَلَا یُبۡصِرُوۡنَ (السجدة: ۲۸) الجزو نمبر ۲۱ سورۃ سجدۃ۔ وَجَعَلۡنَا الَّیۡلَ وَالنَّہَارَ اٰیَتَیۡنِ فَمَحَوۡنَاۤ اٰیَۃَ الَّیۡلِ وَجَعَلۡنَاۤ اٰیَۃَ النَّہَارِ مُبۡصِرَۃً (بنی اسرآئیل: ۱۳) اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الۡقَدۡرِ وَمَاۤ اَدۡرٰٮکَ مَا لَیۡلَۃُ الۡقَدۡرِ لَیۡلَۃُ الۡقَدۡرِ ۬ۙ خَیۡرٌ مِّنۡ اَلۡفِ شَہۡرٍ تَنَزَّلُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوۡحُ فِیۡہَا بِاِذۡنِ رَبِّہِمۡ ۚ مِنۡ کُلِّ اَمۡرٍ سَلٰمٌ ۟ۛ ہِیَ حَتّٰی مَطۡلَعِ الۡفَجۡرِ (القدر: ۲تا۶) اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا (المزّمّل: ۱۶) وَبِالۡحَقِّ اَنۡزَلۡنٰہُ وَبِالۡحَقِّ نَزَلَ (بنی اسرآئیل: ۱۰۶) یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ قَدۡ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمۡ عَلٰی فَتۡرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا جَآءَنَا مِنۡۢ بَشِیۡرٍ وَّلَا نَذِیۡرٍ ۫ فَقَدۡ جَآءَکُمۡ بَشِیۡرٌ وَّنَذِیۡرٌ ؕ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ (المائدة: ۲۰) الجزو نمبر ۶ سورۂ مائدہ ۔ وَکُنۡتُمۡ عَلٰی شَفَا حُفۡرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَکُمۡ مِّنۡہَا ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ (اٰل عمران: ۱۰۴) الجزو نمبر ۴ سورہ اٰل عمران وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِیۡبَہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ فَیَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَیۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ وَنَکُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ (القصص: ۴۸) وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الۡاَرۡضُ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ تِلۡکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتۡلُوۡہَا عَلَیۡکَ بِالۡحَقِّ ؕ وَاِنَّکَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ (البقرة: ۲۵۲تا۲۵۳) وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ (الانبیآء: ۱۰۸) لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُہُمۡ فَہُمۡ غٰفِلُوۡنَ (یس: ۷) اَمۡ تَحۡسَبُ اَنَّ اَکۡثَرَہُمۡ یَسۡمَعُوۡنَ اَوۡ یَعۡقِلُوۡنَ ؕ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ سَبِیۡلًا (الفرقان: ۴۵) وَلَوۡ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوۡا مَا تَرَکَ عَلٰی ظَہۡرِہَا مِنۡ دَآبَّۃٍ (فاطر: ۴۶) وَہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ الرِّیٰحَ بُشۡرًۢا بَیۡنَ یَدَیۡ رَحۡمَتِہٖ ۚ وَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَہُوۡرًا لِّنُحۡیِ یَ بِہٖ بَلۡدَۃً مَّیۡتًا وَّنُسۡقِیَہٗ مِمَّا خَلَقۡنَاۤ اَنۡعَامًا وَّاَنَاسِیَّ کَثِیۡرًا (الفرقان: ۴۹تا۵۰) وَلَوۡ شِئۡنَا لَبَعَثۡنَا فِیۡ کُلِّ قَرۡیَۃٍ نَّذِیۡرًا فَلَا تُطِعِ الۡکٰفِرِیۡنَ وَجَاہِدۡہُمۡ بِہٖ جِہَادًا کَبِیۡرًا (الفرقان: ۵۲تا۵۳) وَہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ الَّیۡلَ وَالنَّہَارَ خِلۡفَۃً لِّمَنۡ اَرَادَ اَنۡ یَّذَّکَّرَ اَوۡ اَرَادَ شُکُوۡرًا (الفرقان: ۶۳) وَہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ مِنَ الۡمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَہٗ نَسَبًا وَّصِہۡرًا ؕ وَکَانَ رَبُّکَ قَدِیۡرًا (الفرقان: ۵۵) اَلَمۡ تَرَ اِلٰی رَبِّکَ کَیۡفَ مَدَّ الظِّلَّ ۚ وَلَوۡ شَآءَ لَجَعَلَہٗ سَاکِنًا ۚ ثُمَّ جَعَلۡنَا الشَّمۡسَ عَلَیۡہِ دَلِیۡلًا ثُمَّ قَبَضۡنٰہُ اِلَیۡنَا قَبۡضًا یَّسِیۡرًا وَہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الَّیۡلَ لِبَاسًا وَّالنَّوۡمَ سُبَاتًا وَّجَعَلَ النَّہَارَ نُشُوۡرًا (الفرقان: ۴۶تا۴۸) اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یُحۡیِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ قَدۡ بَیَّنَّا لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ (الحدید: ۱۸) الجزو نمبر ۲۷ سورہ الحدید یعنی ہم کو اپنی ذات الوہیّت کی قسم ہے جو مبدء فیضان ہدایت و پرورش اور جامع تمام صفات کاملہ ہے جو ہم نے تجھ سے پہلے دنیا کے کئی فرقوں اور قوموں میں پیغمبر بھیجے۔ پس وہ لوگ شیطان کے دھوکا دینے سے بگڑ گئے اور برے کام ان کو اچھے دکھائی دینے لگے سو وہی شیطان آج اُن سب کا رفیق ہے جو ان کو جادۂ استقامت سے مُنحرف کررہا ہے اور یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی ہے کہ تا ان لوگوں کا رفع اختلافات کیا جائے اور تا مومنوں کے لئے وہ ہدایتیں جو پہلے کتابوں میں ناقص رہ گئی تھیں کامل طور پر بیان کی جائیں تا وہ کامل رحمت کا موجب ہو اور حقیقت حال یہ ہے کہ زمین ساری کی ساری مر گئی تھی خدا نے آسمان سے پانی اتارا اور نئے سرے اُس مردہ زمین کو زندہ کیا یہ ایک نشانِ صداقت اُس کتاب کا ہے پر ان لوگوں کے لئے جو سنتے ہیں یعنی طالب حق ہیں۔ اور پھر فرمایا کہ خدائے تعالیٰ وہ ذات کریم و رحیم ہے جس کا قدیم سے یہ قانون قدرت ہے کہ وہ ہواؤں کو اپنی رحمت سے پہلے یعنی بارش سے پہلے چلاتا ہے یہاں تک کہ جب ہوائیں بھاری بدلیوں کو اٹھالاتی ہیں تو ہم کسی مُردہ شہر کی طرف یعنی جس ضلع میں بباعث اِمساکِ باران زمین مُردہ کی طرح خشک ہوگئی ہو اُن ہواؤں کو ہانک دیتے ہیں پھر اس سے پانی اتارتے ہیں اور اس کے ذریعہ سے قسم قسم کے میوے پیدا کردیتے ہیں۔ اسی طرح روحانی مردوں کو موت کے گڑھے سے نکالا کرتے ہیں اور یہ مثال اس لئے بیان کی گئی تو کہ تم دھیان کرو اور اس بات کو سمجھ جاؤ کہ جیسا کہ ہم امساک باران کی شدت کے وقت مردہ زمین کو زندہ کردیا کرتے ہیں ایسا ہی ہمارا قاعدہ ہے کہ جب سخت درجہ پر گمراہی پھیل جاتی ہے اور دل جو زمین سے مشابہ ہیں مرجاتے ہیں تو ہم ان میں زندگی کی روح ڈال دیتے ہیں اور جو زمین پاکیزہ ہے اُس کی تو کھیتی اللہ کے اذن سے جیسی کہ چاہئے نکلتی ہے اور جو خراب زمین ہے اس کی صرف تھوڑی سی کھیتی نکلتی ہے اور عمدہ کھیتی نہیں نکلتی اسی طرح سے ہم پھیر پھیر کر بتاتے ہیں تا جو شکر کرنے والے ہیں شکر کریں۔ اور پھر فرمایا کہ خدائے تعالیٰ وہ ذاتِ کریم و رحیم ہے کہ جو بروقت ضرورت ایسی ہوائیں چلاتا ہے جو بدلی کو ابھارتی ہیں پھر خدائے تعالیٰ اس بدلی کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور اس کو تہہ بہ تہہ رکھتا ہے۔ پھر تو دیکھتا ہے کہ اس کے بیچ میں سے مینہ نکلتا ہے پھر جن بندوں کو اپنے بندوں میں سے اس مینہ کاپانی پہنچاتا ہے تو وہ خوش وقت ہوجاتے ہیں اور ناگہانی طور پرخدا ان کے غم کوخوشی کے ساتھ مُبدّل کردیتا ہے اور مینہ کے اترنے سے پہلے ان کو بباعث نہایت سختی کے کچھ امید باقی نہیں رہتی پھر یکدفعہ خدائے تعالیٰ ان کی دستگیری فرماتا ہے یعنی ایسے وقت میں بارانِ رحمت نازل ہوتاہے جب لوگوں کے دل ٹوٹ جاتے ہیں اور مینہ برسنے کی کوئی امید باقی نہیں رہتی اور پھر فرمایا کہ تو خدا کی رحمت کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ اور اس کی رحمت کی نشانیوں پر غور کر کہ وہ کیونکر زمین کو اس کے مرنے کے پیچھے زندہ کرتا ہے بے شک وہی خدا ہے جس کی یہ بھی عادت ہے کہ جب لوگ روحانی طور پر مرجاتے ہیں اور سختی اپنی نہایت کو پہنچ جاتی ہے تو اسی طرح وہ ان کو بھی زندہ کرتا ہے اور وہ ہرچیز پر قادر اور توانا ہے اسی نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہریک وادی اپنے اپنے اندازہ اور قدر کے موافق بہ نکلا یعنی ہریک شخص نے اپنی استعداد کے موافق فائدہ اٹھایا اور پھر فرمایا کہ وہ رسول اس وقت آیا کہ جب جنگل اور دریا میں فساد ظاہر ہوگیایعنی تمام روئے زمین پر ظلمت اور ضلالت پھیل گئی اور کیا اُمّی لوگ اور کیا اہل کتاب اور اہل علم سب کے سب بگڑ گئے اور کوئی حق پر قائم نہ رہا اور یہ سب فساد اس لئے ہوا کہ لوگوں کے دلوں سے خلوص اور صدق اٹھ گیا اور اُن کے اعمال خدا کے لئے نہ رہے بلکہ اُن میں بہت سا خلل واقعہ ہوگیا اور وہ سب رو بدنیا ہوگئے اور رو بحق نہ رہے اس لئے امداد الٰہی اُن سے منقطع ہوگئی۔ سو خدا نے اپنی حجت پوری کرنے کے لئے ان کے لئے اپنا رسول بھیجا تا ان کو ان کے بعض عملوں کا مزہ چکھاوے اور تا ایسا ہو کہ وہ رجوع کریں۔ کہہ زمین پر سیر کرو پھر دیکھو کہ جو تم سے پہلے کافر اور سرکش گزر چکے ہیں ان کا کیا انجام ہوا اور اکثر ان میں سے مشرک ہی تھے کیا انہوں نے کبھی نہیں دیکھا کہ ہمارا یہی دستور اور طریق ہے کہ ہم خشک زمین کی طرف پانی روانہ کردیا کرتے ہیں پھر اس سے کھیتی نکالتے ہیں تا ان کے چارپائے اور خود وہ کھیتی کو کھاویں اور مرنے سے بچ جائیں سو تم کیوں نظر غور سے ملاحظہ نہیں کرتے تاتم اس بات کو سمجھ جاؤ کہ وہ کریم و رحیم خدا کہ جو تم کو جسمانی موت سے بچانے کے لئے شدّتِ قحط اور اِمساک باران کے وقت بارانِ رحمت نازل کرتا ہے وہ کیونکر شدت ضلالت کے وقت جو روحانی قحط ہے زندگی کا پانی نازل کرنے سے جو اس کا کلام ہے تم سے دریغ کرے۔ اور پھر فرمایا کہ ہم نے رات اور دن دو نشانیاں بنائی ہیں یعنی انتشار ضلالت جو رات سے مشابہ ہے اور انتشار ہدایت جو دن سے مشابہ ہے۔ رات جو اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے تو دن کے چڑھنے پر دلالت کرتی ہے اور دن جب اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے تو رات کے آنے کی خبر دیتا ہے سو ہم نے رات کا نشان محو کرکے دن کا نشان رہنما بنایا یعنی جب دن چڑھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے اندھیرا تھا۔ سو دن کا نشان ایسا روشن ہے کہ رات کی حقیقت بھی اسی سے کھلتی ہے اور رات کا نشان یعنی ضلالت کا زمانہ اس لئے مقرر کیا گیا کہ دن کے نشان یعنی انتشارِ ہدایت کی خوبی اور زیبائی اسی سے ظاہر ہوتی ہے کیونکہ خوبصورت کا قدر و منزلت بدصورت سے ہی معلوم ہوتا ہے اس لئے حکمت الٰہیہ نے یہی چاہا کہ ظلمت اور نور علیٰ سبیل التبادل دنیا میں دَور کرتے رہیں۔ جب نور اپنے کمال کو پہنچ جائے تو ظلمت قدم بڑھاوے۔ اور جب ظلمت اپنے انتہائی درجہ تک پہنچ جائے تو پھر نور اپنا پیارا چہرہ دکھاوے سو استیلا ظلمت کا نور کے ظہور پر ایک دلیل ہے اور استیلانور کا ظلمت کے آنے کا ایک سبیل ہے۔ ہر کمالِ رَا زَوَالے مثل مشہور ہے سو اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب ظلمت اپنے کمال کو پہنچ گئی اور برّ وبحر ظلمت سے بھرگئے توہم نے مطابق اپنے قانون قدیم کے نورکے نشان کوظاہر کیا تادانشمند لوگ قادر مطلق کی قدرت نمایاں کو ملاحظہ کرکے اپنے یقین اور معرفت کو زیادہ کریں۔ اور پھر بعد اس کے فرمایا اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الۡقَدۡرِ الخ (القدر: ۲) اِس سورۃ کا حقیقی مطلب جوایک بھاری صداقت پر مشتمل ہے جیسا کہ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں اس قاعدۂ کُلّی کا بیان فرمانا ہے کہ دنیا میں کب اور کس وقت میں کوئی کتاب اور پیغمبر بھیجا جاتا ہے۔ سو وہ قاعدہ یہ ہے کہ جب دلوں پر ایک ایسی غلیظ ظلمت طاری ہوجاتی ہے کہ یکبارگی تمام دل رو بدنیا ہوجاتے ہیں اور پھر رو بدُنیا ہونے کی شامت سے ان کے تمام عقائد و اعمال و افعال و اخلاق و آداب اور نیّتوں اور ہمتوں میں اختلال کلّی راہ پاجاتا ہے اور محبتِ الٰہیہ دلوں سے بکُلّی اٹھ جاتی ہے اور یہ عام وبا ایسا پھیلتا ہے کہ تمام زمانہ پر رات کی طرح اندھیرا چھا جاتا ہے تو ایسے وقت میں یعنی جب وہ اندھیرا اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے رحمتِ الٰہیہ اس طرف متوجہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو اس اندھیری سے خلاصی بخشے اور جن طریقوں سے ان کی اصلاح قرین مصلحت ہے ان طریقوں کو اپنے کلام میں بیان فرماوے سو اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے آیت ممدوحہ میں اشارہ فرمایا کہ ہم نے قرآن کو ایک ایسی رات میں نازل کیا ہے جس میں بندوں کی اصلاح اور بھلائی کے لئے صراط مستقیم کی کیفیت بیان کرنا اور شریعت اور دین کی حدود کو بتلانا از بس ضروری تھا یعنی جب گمراہی کی تاریکی اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ جیسی سخت اندھیری رات ہوتی ہے تو اس وقت رحمت الٰہی اس طرف متوجہ ہوئی کہ اس سخت اندھیری کے اٹھانے کے لئے ایسا قوی نُور نازل کیا جائے کہ جو اس اندھیری کو دور کرسکے۔ سو خدا نے قرآن شریف کو نازل کرکے اپنے بندوں کو وہ عظیم الشان نور عطا کیا کہ جو شکوک اور شبہات کی اندھیری کو دور کرتا ہے اور روشنی کو پھیلاتا ہے۔ اس جگہ جاننا چاہئے کہ اس باطنی لیلۃالقدر کو ظاہری لیلۃ القدر سے کہ جو عندالعوام مشہور ہے کچھ منافات نہیں بلکہ عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ وہ ہریک کام مناسبت سے کرتا ہے اور حقیقت باطنی کے لئے جو ظاہری صورت مناسب ہو وہ اس کو عطا فرماتا ہے۔ سو چونکہ لیلۃ القدر کی حقیقت باطنی وہ کمال ضلالت کا وقت ہے جس میں عنایت الٰہیہ اصلاح عالم کی طرف متوجہ ہوتی ہے سو خدائے تعالیٰ نے بغرض تحقق مناسبت اس زمانہ ضلالت کی آخری جز کو جس میں ضلالت اپنے نکتہ کمال تک پہنچ گئی تھی خارجی طور پر ایک رات میں مقرر کیا اور یہ رات وہ رات تھی جس میں خداوند تعالیٰ نے دنیا کو کمال ضلالت میں پاکر اپنے پاک کلام کو اپنے نبی پر اتارنا ارادہ فرمایا۔ سو اس جہت سے نہایت درجہ کی برکات اس رات میں پیدا ہوگئیں یا یوں کہو کہ قدیم سے اسی ارادۂ قدیم کے رو سے پیدا تھی اور پھر اُس خاص رات میں وہ قبولیت اور برکت ہمیشہ کے لئے باقی رہی اور پھر بعد اس کے فرمایا کہ وہ ظلمت کا وقت کہ جو اندھیری رات سے مشابہ تھا جس کی تنویر کے لئے کلام الٰہی کا نور اترا اُس میں بباعث نزولِ قرآن کی ایک رات ہزار مہینہ سے بہتر بنائی گئی۔ اور اگر معقولی طور پر نظر کریں تب بھی ظاہر ہے کہ ضلالت کا زمانہ عبادت اور طاعت الٰہی کے لئے دوسرے زمانہ سے زیادہ تر موجب قربت و ثواب ہے پس وہ دوسرے زمانوں سے زیادہ تر افضل ہے اور اس کی عبادتیں بباعث شدت و صعوبت اپنی قبولیت سے قریب ہیں اور اس زمانہ کے عابد رحمت الٰہی کے زیادہ تر مستحق ہیں کیونکہ سچے عابدوں اور ایمانداروں کا مرتبہ ایسے ہی وقت میں عنداللہ متحقّق ہوتا ہے کہ جب تمام زمانہ پر دنیا پرستی کی ظلمت طاری ہو اور سچ کی طرف نظر ڈالنے سے جان جانے کا اندیشہ ہو اور یہ بات خود ظاہر ہے کہ جب دل افسردہ اور مردہ ہوجائیں اور سب کسی کو جیفۂ دنیا ہی پیارا دکھائی دیتا ہو اور ہر طرف اس روحانی موت کی زہرناک ہوا چل رہی ہو اور محبت الٰہیہ یک لخت دلوں سے اٹھ گئی ہو اور رو بحق ہونے میں اور وفادار بندہ بننے میں کئی نوع کے ضرر متصوّر ہوں نہ کوئی اس راہ کا رفیق نظر آوے اور نہ کوئی اس طریق کا ہمدم ملے بلکہ اس راہ کی خواہش کرنے والے پر موت تک پہنچانے والی مصیبتیں دکھائی دیں اور لوگوں کی نظر میں ذلیل اور حقیر ٹھہرتا ہو تو ایسے وقت میں ثابت قدم ہوکر اپنے محبوب حقیقی کی طرف رخ کرلینا اور ناہموار عزیزوں اور دوستوں اور خویشوں اور اقارب کی رفاقت چھوڑ دینا اور غربت اور بے کسی اور تنہائی کی تکلیفوں کو اپنے سر پر قبول کرلینا اور دکھ پانے اور ذلیل ہونے اور مرنے کی کچھ پرواہ نہ کرنا حقیقت میں ایسا کام ہے کہ بجز اولوالعزم مرسلوں اور نبیوں اور صدیقوں کے جن پر فضلِ احدیت کی بارشیں ہوتی ہیں اور جو اپنے محبوب کی طرف بلااختیار کھینچے جاتے ہیں اور کسی سے انجام پذیر نہیں ہوسکتا اور حقیقت میں ایسے وقت کی ثابت قدمی اور صبر اور عبادت الٰہی کا ثواب بھی وہ ملتا ہے کہ جو کسی دوسرے وقت میں ہرگز نہیں مل سکتا۔ سو اسی جہت سے لیلۃ القدرکی ایسے ہی زمانہ میں بنا ڈالی گئی کہ جس میں بباعث سخت ضلالت کے نیکی پر قائم ہونا کسی بڑے جوانمرد کا کام تھا یہی زمانہ ہے جس میں جوانمردوں کی قدرومنزلت ظاہر ہوتی ہے اور نامردوں کی ذلت بہ پایۂ ثبوت پہنچتی ہے یہی پرظلمت زمانہ ہے جو اندھیری رات کی طرح ایک خوفناک صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ سو اس طغیانی کی حالت میں کہ جو بڑے ابتلا کا وقت ہے وہی لوگ ہلاکت سے بچتے ہیں جن پر عنایات الٰہیہ کا ایک خاص سایہ ہوتا ہے پس انہیں موجبات سے خدائے تعالیٰ نے اسی زمانہ کی ایک جز کو جس میں ضلالت کی تاریکی غایت درجہ تک پہنچ چکی تھی لیلۃ القدر مقرر کیا اور پھر بعد اس کے جس سماوی برکات سے اس ضلالت کا تدارک کیا جاتا ہے اس کی کیفیت ظاہر فرمائی اور بیان فرمایا کہ اس ارحم الراحمین کی یوں عادت ہے کہ جب ظلمت اپنے کمال تک پہنچ جاتی ہے اور خط تاریکی کا اپنے انتہائی نقطہ پر جا ٹھہرتا ہے یعنی اس غایت درجہ پر جس کا نام باطنی طور پر لیلۃ القدر ہے۔ تب خداوند تعالیٰ رات کے وقت میں کہ جس کی ظلمت باطنی ظلمت سے مشابہ ہے عالم ظلمانی کی طرف توجہ فرماتا ہے اور اس کے اذن خاص سے ملائکہ اور روح القدس زمین پر اترتے ہیں اور خلق اللہ کی اصلاح کے لئے خدا تعالیٰ کا نبی ظہور فرماتا ہے تب وہ نبی آسمانی نور پاکر خلق اللہ کو ظلمت سے باہر نکالتا ہے اور جب تک وہ نُور اپنے کمال تک نہ پہنچ جائے تب تک ترقی پر ترقی کرتا جاتا ہے اور اسی قانون کے مطابق وہ اولیاء بھی پیدا ہوتے ہیں کہ جو ارشاد اور ہدایت خلق کے لئے بھیجے جاتے ہیں کیونکہ وہ انبیا کے وارث ہیں سو ان کے نقش قدم پر چلائے جاتے ہیں۔ اب جاننا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ نے اِس بات کو بڑے پُرزور الفاظ سے قرآن شریف میں بیان کیا ہے کہ دنیا کی حالت میں قدیم سے ایک مدّوجزر واقعہ ہے اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو فرمایا ہے۔ تُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَتُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ (اٰل عمران: ۲۸) یعنی اے خدا کبھی تو رات کو دن میں اور کبھی دن کو رات میں داخل کرتا ہے یعنی ضلالت کے غلبہ پر ہدایت اور ہدایت کے غلبہ پر ضلالت کو پیدا کرتا ہے۔ اور حقیقت اس مدوجزر کی یہ ہے کہ کبھی بامراللہ تعالیٰ انسانوں کے دلوں میں ایک صورت انقباض اور محجوبیت کی پیدا ہوجاتی ہے اور دنیا کی آرائشیں ان کو عزیز معلوم ہونے لگتی ہیں اور تمام ہمتیں ان کی اپنی دنیا کے درست کرنے میں اور اس کے عیش حاصل کرنے کی طرف مشغول ہوجاتی ہیں۔ یہ ظلمت کا زمانہ ہے جس کے انتہائی نقطہ کی رات لیلۃ القدر کہلاتی ہے اور وہ لیلۃ القدر ہمیشہ آتی ہے مگر کامل طور پر اس وقت آئی تھی کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کا دن آپہنچا تھا کیونکہ اس وقت تمام دنیا پر ایسی کامل گمراہی کی تاریکی پھیل چکی تھی جس کی مانند کبھی نہیں پھیلی تھی اور نہ آئندہ کبھی پھیلے گی جب تک قیامت نہ آوے۔ غرض جب یہ ظلمت اپنے اس انتہائی نقطہ تک پہنچ جاتی ہے کہ جو اس کے لئے مقدر ہے تو عنایت الٰہیہ تنویر عالم کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور کوئی صاحب نور دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا جاتا ہے اور جب وہ آتا ہے تو اس کی طرف مستعد روحیں کھینچی چلی آتی ہے اور پاک فطرتیں خودبخود رو بحق ہوتی چلی جاتی ہیں اور جیسا کہ ہرگز ممکن نہیں کہ شمع کے روشن ہونے سے پروانہ اس طرف رخ نہ کرے ایسا ہی یہ بھی غیر ممکن ہے کہ بروقت ظہور کسی صاحبِ نُور کے صاحب فطرت سلیمہ کا اس کی طرف بارادت متوجہ نہ ہو۔ ان آیات میں جو خدائے تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے جو بنیاد دعویٰ ہے اُس کا خلاصہ یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت ایک ایسی ظلمانی حالت پر زمانہ آچکا تھا کہ جو آفتاب صداقت کے ظاہر ہونے کے متقاضی تھے اسی جہت سے خدائے تعالیٰ نے قرآنِ شریف میں اپنے رسول کا بار بار یہی کام بیان کیا ہے کہ اس نے زمانہ کو سخت ظلمت میں پایا اور پھر ظلمت سے ان کو باہر نکالا جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ اِلَیۡکَ لِتُخۡرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ (ابراھیم: ۲) الجزو نمبر ۱۳ سورۃ ابراہیم اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۙ یُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ (البقرة: ۲۵۸) الجزو نمبر ۳ ہُوَ الَّذِیۡ یُصَلِّیۡ عَلَیۡکُمۡ وَمَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخۡرِجَکُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ (الاحزاب: ۴۴) الجزو نمبر ۲۲ قَدۡ جَآءَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ نُوۡرٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیۡنٌ یَّہۡدِیۡ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَیُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ بِاِذۡنِہٖ وَیَہۡدِیۡہِمۡ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ (المائدة: ۱۶تا۱۷) الجزو نمبر۶ سورۂ مائدہ قَدۡ اَنۡزَلَ اللّٰہُ اِلَیۡکُمۡ ذِکۡرًا رَّسُوۡلًا یَّتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخۡرِجَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ (الطلاق: ۱۱تا۱۲) الجزو نمبر ۲۸۔ یعنی یہ ہماری کتاب ہے جس کو ہم نے تیرے پر اس غرض سے نازل کیا ہے کہ تا تو لوگوں کو کہ جو ظلمت میں پڑے ہوئے ہیں نور کی طرف نکالے سو خدا نے اُس زمانہ کا نام ظلمانی زمانہ رکھا اور پھر فرمایا کہ خدا مومنوں کا کارساز ہے ان کو ظلمات سے نور کی طرف نکال رہا ہے اور پھر فرمایا کہ خدا اور اس کے فرشتے مومنوں پر درود بھیجتے ہیں تا خدا ان کو ظلمت سے نور کی طرف نکالے اور پھر فرمایا کہ ظلمانی زمانہ کے تدارک کے لئے خدائے تعالیٰ کی طرف سے نور آتا ہے وہ نور اس کا رسول اور اس کی کتاب ہے خدا اس نور سے ان لوگوں کو راہ دکھلاتا ہے کہ جو اس کی خوشنودی کے خواہاں ہیں سو ان کو خدا ظلمات سے نور کی طرف نکالتا ہے اور سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ خدا نے اپنی کتاب اور اپنا رسول بھیجا وہ تم پر کلام الٰہی پڑھتا ہے تا وہ ایمانداروں اور نیک کرداروں کو ظلمات سے نور کی طرف نکالے پس خدائے تعالیٰ نے ان تمام آیات میں کھلا کھلی بیان فرما دیا کہ جس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے اور قرآن شریف نازل کیا گیا اُس زمانہ پر ضلالت اور گمراہی کی ظلمت طاری ہورہی تھی اور کوئی ایسی قوم نہیں تھی کہ جو اس ظلمت سے بچی ہوئی ہو پھر بقیہ ترجمہ آیات ممدوحہ بالا کا یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے کہ تمہاری حالت معصیت اور ضلالت پر شاہد ہے اور یہ رسول اُسی رسول کی مانند ہے کہ جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا اور ہم نے اس کلام کو ضرورت حقہ کے ساتھ اتارا ہے اور ضرورت حقہ کے ساتھ یہ اترا ہے یعنی یہ کلام فِی حدِّ ذَاتہٖ حق اور راست ہے اور اس کا آنا بھی حقاًّ و ضرورتاً ہے یہ نہیں کہ فضول اور بے فائدہ اور بے وقت نازل ہوا ہے اے اہل کتاب تمہارے پاس ایسے وقت میں ہمارا رسول آیا ہے کہ جبکہ ایک مدت سے رسولوں کا آنا منقطع ہو رہا تھا۔ سو وہ رسول فَترت کے زمانہ میں آکر تم کو وہ راہِ راست بتلاتا ہے جس کو تم بھول گئے تھے تا تم یہ نہ کہو کہ ہم یونہی گمراہ رہے اور خدا کی طرف سے کوئی بشیر و نذیر نہ آیا جو ہم کو متنبہ کرتا۔ سو اب سمجھو کہ وہ بشیر نذیر جس کی ضرورت تھی آگیا اور خدا جو ہر چیز پر قادر ہے اُس نے تم کو گمراہ پاکر اپنا کلام اور اپنا رسول بھیج دیا۔ اور تم آگ کے گڑھے کے کنارہ تک پہنچ چکے تھے سو خدا نے تم کو اے ایماندارو نجات دی اسی طرح وہ اپنے نشان کو بیان فرماتا ہے تا تم ہدایت پا جاؤ اور تا عذاب کے نازل ہونے پر گمراہ لوگ یہ نہ کہیں کہ اے خداتو نے قبل از عذاب اپنا رسول کیوں نہ بھیجا تا ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور مومن بن جاتے اور اگر خدا صالح لوگوں کے ذریعہ سے گمراہوں کا تدارک نہ فرماتا اور بعض کو بعض سے دفعہ نہ کرتا تو زمین بگڑ جاتی پر یہ خدا کا فضل ہے کہ وہ گمراہی کے پھیلنے کے وقت اپنی طرف سے ہادی بھیجتا ہے کیونکہ تفضل اور احسان اُس کی عادت ہے اور تجھ کو ہم نے اس لیے بھیجا ہے کہ تمام عالم پر نظرِ رحمت کریں اور نجات کا راستہ اُن پر کھول دیں اور تا تُو لوگوں کو کہ غفلت کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں حق کی طرف توجہ دلاوے اور اُن کو خبردار کرے۔ کیا تُو یہ خیال کرتا ہے کہ اکثر لوگ اُن میں سے سُنتے اور سمجھتے ہیں نہیں یہ تو چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ اُن سے بھی بدتر اور اگر خدا ان لوگوں سے ان کے گناہوں کا مواخذہ کرتا تو زمین پر ایک بھی زندہ نہ چھوڑتا اور خدا وہ ذات کریم و رحیم ہے کہ جو بارش سے پہلے ہواؤں کو چھوڑتا ہے پھر ہم ایک پاک پانی آسمان سے اتارتے ہیں تا اس سے مری ہوئی بستی کو زندہ کریں اور پھر بہت سے آدمیوں اور ان کے چارپایوں کو پانی پلاویں اور ہم پھیر پھیر کر مثالیں بتلاتے ہیں تا لوگ یاد کرلیں کہ نبیوں کے بھیجنے کا یہی اصول ہے اور اگر ہم چاہتے تو ہریک بستی کے لئے جُدا جُدا رسول بھیجتے مگر یہ اس لئے کیا گیا کہ تا تجھ سے بھاری کوششیں ظہور میں آویں یعنی جب ایک مرد ہزاروں کا کام کرے گا تو بلاشبہ وہ بڑا اجر پائے گا اور یہ امر اس کی افضلیت کا موجب ہوگا سو چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم افضل الانبیاء اور سب رسولوں سے بہتر اور بزرگتر تھے اور خدائے تعالیٰ کو منظور تھا کہ جیسے آنحضرت اپنے ذاتی جوہر کے رو سے فی الواقعہ سب انبیاء کے سردار ہیں ایسا ہی ظاہری خدمات کے رو سے بھی ان کا سب سے فائق اور برتر ہونا دنیا پر ظاہر اور روشن ہوجائے اس لئے خدائے تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو کافہ بنی آدم کے لئے عام رکھا تا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محنتیں اور کوششیں عام طور پر ظہور میں آویں۔ موسیٰ اور ابن مریم کی طرح ایک خاص قوم سے مخصوص نہ ہوں اور تاہریک طرف سے اور ہریک گروہ اور قوم سے تکالیفِ شاقہ اٹھا کر اس اجر عظیم کے مستحق ٹھہرجائیں کہ جو دوسرے نبیوں کو نہیں ملے گا۔ اور پھر فرمایا کہ خدا وہ ہے کہ جو رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات لاتا ہے تا جس نے یاد کرنا ہو وہ یاد کرے یا شکر کرنا ہو تو شکر کرے یعنی دن کے بعد رات کا آنا اور رات کے بعد دن کا آنا اس بات پر ایک نشان ہے کہ جیسے ہدایت کے بعد ضلالت اور غفلت کا زمانہ آجاتا ہے ایسا ہی خدا کی طرف سے یہ بھی مقرر ہے کہ ضلالت اور غفلت کے بعد ہدایت کا زمانہ آتا ہے اور پھر فرمایا کہ خدا وہ ذات قادر مطلق ہے جس نے بشر کو اپنی قدرتِ کاملہ سے پیدا کیا پھر اُس کے لئے نسل اور رشتہ مقرر کردیا اِسی طرح وہ انسان کی روحانی پیدائش پر بھی قادر تھا یعنی اس کا قانون قدرت روحانی پیدائش میں بعینہٖ جسمانی پیدائش کی طرح ہے کہ اول وہ ضلالت کے وقت میں کہ جو عدم کا حکم رکھتا ہے کسی انسان کو روحانی طور پر اپنے ہاتھ سے پیدا کرتا ہے اور پھر اس کے متبعین کو کہ جو اس کی ذُرّیت کا حکم رکھتے ہیں بہ برکت متابعت اس کی کے روحانی زندگی عطا فرماتا ہے سو تمام مرسل روحانی آدم ہیں اور اُن کی اُمت کے نیک لوگ اُن کی روحانی نسلیں ہیں اور روحانی اور جسمانی سلسلہ بالکل آپس میں تطابق رکھتا ہے اور خدا کے ظاہری اور باطنی قوانین میں کسی نوع کا اختلاف نہیں۔ اور پھر فرمایا کہ کیا تُو خدا کی طرف دیکھتا نہیں کہ وہ کیونکر سایہ کو لمبا کھینچتا ہے یہاں تک کہ تمام زمین پر تاریکی ہی دکھائی دیتی ہے اور اگر وہ چاہتا تو ہمیشہ تاریکی رکھتا اور کبھی روشنی نہ ہوتی لیکن ہم آفتاب کو اس لئے نکالتے ہیں کہ تا اس بات پر دلیل قائم ہوکہ اُس سے پہلے تاریکی تھی یعنی تا بذریعہ روشنی کے تاریکی کا وجود شناخت کیا جائے کیونکہ ضد کے ذریعہ سے ضد کا پہچاننا بہت آسان ہوجاتا ہے اور روشنی کا قدرومنزلت اُسی پرکھلتا ہے کہ جو تاریکی کے وجود پر علم رکھتا ہو اور پھر فرمایا کہ ہم تاریکی کو روشنی کے ذریعہ سے تھوڑا تھوڑا دور کرتے جاتے ہیں تا اندھیرے میں بیٹھنے والے اُس روشنی سے آہستہ آہستہ منتفع ہوجائیں اور جو یکدفعی انتقال میں حیرت ووحشت مُتصوّر ہے وہ بھی نہ ہو سو اسی طرح جب دنیا پر روحانی تاریکی طاری ہوتی ہے تو خلقت کو روشنی سے منتفع کرنے کے لئے اور نیز روشنی اور تاریکی میں جو فرق ہے وہ فرق ظاہر کرنے کے لئے خدائے تعالیٰ کی طرف سے آفتابِ صداقت نکلتا ہے اور پھر وہ آہستہ آہستہ دنیا پر طلوع کرتا جاتا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ خدائے تعالیٰ کا یہ قانون قدرت ہے کہ جب زمین مر جاتی ہے تو وہ نئے سرے زمین کو زندہ کرتا ہے۔ ہم نے کھول کر یہ نشان بتلائے ہیں تاہو کہ لوگ سوچیں اور سمجھیں۔

ان آیات میں خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف کی ضرورت نزول کی اور اس کے منجانب اللہ ہونے کی یہ دلیل پیش کی ہے کہ قرآن شریف ایسے وقت میں آیا ہے کہ جب تمام اُمتوں نے اُصولِ حقہ کو چھوڑ دیا تھا اور کوئی دین روئے زمین پر ایسا نہ تھا کہ جو خدا شناسی اور پاک اعتقادی اور نیک عملی پر قائم اور بحال ہوتا بلکہ سارے دین بگڑگئے تھے اور ہریک مذہب میں طرح طرح کا فساد دخل کرگیا تھا اور خود لوگوں کے طبائع میں دنیا پرستی کی محبت اس قدر بھر گئی تھی کہ بجز دنیا اور دنیا کے ناموں اور دنیاکے آراموں اور دنیا کی عزتوں اور دنیا کی راحتوں اور دنیا کے مال و متاع کے اور کچھ ان کا مقصدنہیں رہا تھا اور خدائے تعالیٰ کی محبت اور اس کے ذوق اور شوق سے بکُلّی بے بہرہ اور بے نصیب ہوگئے تھے اور رسوم اور عادت کو مذہب سمجھا گیا تھا پس خدا نے جس کا یہ قانون قدرت ہے کہ وہ شدتوں اور صعوبتوں کے وقت اپنے عاجز بندوں کی خبرلیتا ہے اور جب کسی سختی سے جیسے اِمساکِ باراں وغیرہ سے اس کے بندے قریب ہلاکت کے ہوجاتے ہیں بارانِ رحمت سے اُن کی مشکل کشائی کرتا ہے نہ چاہا کہ خلق اللہ ایسی بلا میں مبتلا رہے جس کا نتیجہ ہلاکت دائمی اور ابدی ہے سو اُس نے بہ تعمیل اپنے قانون قدیم کے کہ جو جسمانی اور روحانی طور پر ابتدا سے چلا آتا ہے قرآن شریف کو خلق اللہ کی اصلاح کے لئے نازل کیا اور ضرور تھا کہ ایسے وقت میں قرآن شریف نازل ہوتا کیونکہ اس پرظلمت زمانہ کی حالت موجودہ کو ایسی عظیم الشان کتاب اور ایسے عظیم الشان رسول کی حاجت تھی اور ضرورتِ حقّہ اس بات کی متقاضی ہورہی تھی کہ اس تاریکی کے وقت میں جو تمام دنیا پر چھا گئی تھی اور اپنے انتہائی درجہ تک پہنچ چکی تھی آفتاب صداقت کا طلوع کرے کیونکہ بجز طلوع اُس آفتاب کے ہرگز ممکن نہ تھا کہ ایسی اندھیری رات خودبخود روز روشن کی صورت پکڑ جائے اور اسی کی طرف ایک دوسرے مقام میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے اور وہ یہ ہے۔ لَمۡ یَکُنِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ وَالۡمُشۡرِکِیۡنَ مُنۡفَکِّیۡنَ حَتّٰی تَاۡتِیَہُمُ الۡبَیِّنَۃُ رَسُوۡلٌ مِّنَ اللّٰہِ یَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً فِیۡہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ (البیّنة: ۲تا۴) یعنی جو لوگ اہل کتاب اور مشرکین میں سے کافر ہوگئے اُن کا راہ راست پر آنا بجز اس کے ہرگز ممکن نہ تھا کہ ان کی طرف ایسا عظیم الشان نبی بھیجا جاوے جو ایسی عظیم الشان کتاب لایا ہے کہ جو سب الٰہی کتابوں کے معارف اور صداقتوں پر محیط اور ہریک غلطی اور نقصان سے پاک اور منزّہ ہے۔ اب اس دلیل کا ثبوت دو مقدموں کے ثبوت پر موقوف ہے اوّل یہ کہ خدائے تعالیٰ کا یہی قانون قدیم ہے کہ وہ جسمانی یا روحانی حاجتوں کے وقت مدد فرماتا ہے یعنی جسمانی صعوبتوں کے وقت بارش وغیرہ سے اور روحانی صعوبتوں کے وقت اپنا شفا بخش کلام نازل کرنے سے عاجز بندوں کی دستگیری کرتا ہے۔

سو یہ مقدمہ بدیہی الصداقت ہے کیونکہ کسی عاقل کو اس سے انکار نہیں کہ یہ دونوں سلسلے روحانی اور جسمانی اسی وجہ سے اب تک صحیح و سالم چلے آتے ہیں کہ خداوند کریم نیست و نابود ہونے سے ان کو محفوظ رکھتا ہے مثلاً اگر خدائے تعالیٰ جسمانی سلسلہ کی حفاظت نہ کرتا اور سخت سخت قحطوں کے وقت میں باران رحمت سے دستگیری نہ فرماتا تو بالآخر نتیجہ اس کا یہی ہوتا کہ لوگ پہلی فصلوں کی جس قدر پیداوار تھی سب کی سب کھالیتے اور پھر آگے اناج کے نہ ہونے سے تڑپ تڑپ کر مرجاتے اور نوع انسان کا خاتمہ ہوجاتا یا اگر خدائے تعالیٰ عین وقتوں پر رات اور دن اور سورج اور چاند اور ہوا اور بادل کو خدماتِ مقررہ میں نہ لگاتا تو تمام سلسلہ عالم کا درہم برہم ہوجاتا اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے آپ اشارہ فرما کر کہا ہے۔ اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ۚ فَاِنۡ یَّشَاِ اللّٰہُ یَخۡتِمۡ عَلٰی قَلۡبِکَ ؕ وَیَمۡحُ اللّٰہُ الۡبَاطِلَ وَیُحِقُّ الۡحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ (الشوریٰ: ۲۵) وَہُوَ الَّذِیۡ یُنَزِّلُ الۡغَیۡثَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا قَنَطُوۡا وَیَنۡشُرُ رَحۡمَتَہٗ ؕ وَہُوَ الۡوَلِیُّ الۡحَمِیۡدُ (الشوریٰ: ۲۹) الجزو نمبر ۲۵۔ یعنی کیا یہ منکر لوگ کہتے ہیں کہ یہ خدا کا کلام نہیں اور خدا پر جھوٹ باندھا ہے۔ اگر خدا چاہے تو اس کا اترنا بند کردے پر وہ بندنہیں کرتا کیونکہ اس کی عادت اسی پر جاری ہے کہ وہ احقاقِ حق اور ابطال باطل اپنے کلمات سے کرتا ہے۔ اور یہ منصب اُسی کو پہنچتا ہے کیونکہ امراض روحانی پر اُسی کو اطلاع ہے اور ازالۂ مرض اور استرداد صحت پر وہی قادر ہے پھر بعد اس کے بطور استدلال کے فرمایا کہ اللہ وہ ذات کامل الرحمت ہے کہ اُس کا قدیم سے یہی قانون قدرت ہے کہ اس تنگ حالت میں وہ ضرور مینہ برساتا ہے کہ جب لوگ ناامید ہوچکتے ہیں پھر زمین پر اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے اور وہی کارسازِ حقیقی اور ظاھراً و باطنًا قابل تعریف ہے یعنی جب سختی اپنی نہایت کو پہنچ جاتی ہے اور کوئی صورت مَخلصی کی نظر نہیں آتی تو اس صورت میں اس کا یہی قانون قدیم ہے کہ وہ ضرور عاجز بندوں کی خبر لیتا ہے اور اُن کو ہلاکت سے بچاتا ہے اور جیسے وہ جسمانی سختی کے وقت رحم فرماتا ہے اسی طرح جب روحانی سختی یعنی ضلالت اور گمراہی اپنی حد کو پہنچ جاتی ہے اور لوگ راہِ راست پر قائم نہیں رہتے تو اِس حالت میں بھی وہ ضرور اپنی طرف سے کسی کو مشرّف بوحی کرکے اور اپنے نور خاص کی روشنی عطا فرما کر ضلالت کی مہلک تاریکی کو اس کے ذریعہ سے اٹھاتا ہے اور چونکہ جسمانی رحمتیں عام لوگوں کی نگاہ میں ایک واضح امر ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آیت ممدوحہ میں اول ضرورت فرقان مجید کی نازل ہونے کی بیان کرکے پھر بطور توضیح جسمانی قانون کا حوالہ دیا تادانشمند آدمی جسمانی قانون کو دیکھ کر کہ ایک واضحہ اور بدیہی امر ہے خدائے تعالیٰ کے روحانی قانون کو بآسانی سمجھ سکے اور اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ جو لوگ بعض کتابوں کا منزل من اللہ ہونا مانتے ہیں اُن کو تو خود اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ کتابیں ایسے وقتوں میں نازل ہوئی ہیں کہ جب ان کے نزول کی ضرورت تھی۔ پس اسی اقرار کے ضمن میں ان کو یہ دوسرا اقرار کرنا بھی لازم آیا کہ ضرورت کے وقتوں میں کتابوں کا نازل کرنا خدائے تعالیٰ کی عادت ہے لیکن ایسے لوگ کہ جو ضرورت کتبِ الٰہیہ سے منکر ہیں جیسے برہمو سماج والے سو ان کے ملزم کرنے کیلئے اگرچہ بہت کچھ ہم لکھ چکے ہیں لیکن اگران میں ایک ذرا انصاف ہوتو ان کو وہی ایک دلیل کافی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے آیات گذشتہٴ بالا میں آپ بیان فرمائی ہے کیونکہ جس حالت میں وہ لوگ مانتے ہیں کہ حیاتِ ظاہری کا تمام انتظام خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہے اور وہی اپنی آسمانی روشنی اور بارانی پانی کے ذریعہ سے دنیا کو تاریکی اور ہلاکت سے بچاتا ہے تو پھر وہ اس اقرار سے کہاں بھاگ سکتے ہیں کہ حیات باطنی کے وسائل بھی آسمان ہی سے نازل ہوتے ہیں اور خود یہ نہایت کوتہ اندیشی اور قلّتِ معرفت ہے کہ ناپائیدار حیات کا اہتمام تصرّف خاص الٰہی سے تسلیم کرلیا جاوے لیکن جو حقیقی حیات اور لازوال زندگی ہے یعنی معرفت الٰہی اور نور باطنی یہ صرف اپنی ہی عقلوں کا نتیجہ قرار دیا جائے۔ کیا وہ خدا جس نے جسمانی سلسلہ کے برپا رکھنے کے لئے اپنی الوہیت کی قوی طاقتوں کو ظاہر کیا ہے اور بغیر وسیلہ انسانی ہاتھوں کے زبردست قدرتیں دکھائی ہیں وہ روحانی طور پر اپنی طاقت ظاہر کرنے کے وقت ضعیف اور کمزور خیال کیا جاسکتا ہے کیا ایسا خیال کرنے سے وہ کامل رہ سکتا ہے یا اس کی روحانی طاقتوں کا ثبوت میسر آسکتا ہے۔ حقیقی تسلی جس کی بنیاد ایک محکم یقین پر ہونی چاہئے صرف قیاسی خیالات سے ممکن نہیں بلکہ خیالات قیاسی کی بڑی سے بڑی ترقی ظنِّ غالب تک ہے اور وہ بھی اس حالت میں کہ جب قیاس انکار کی طرف جھک نہ جائے غرض عقلی وجوہ بالکل غیر تسلی بخش اور آخری حدِّ عرفان سے پیچھے رہے ہوئے ہیں اور اُن کی اعلیٰ سے اعلیٰ پہنچ صرف ظاہری اٹکلوں تک ہے جن سے روح کو حقیقی انشراح اور عرفان حاصل نہیں ہوتا اور اندرونی آلائشوں سے پاکیزگی میسر نہیں آتی بلکہ ایسا انسان فقط سفلی خیالات کا بندہ بن کر مقاماتِ حریری کے ابوزید کی طرح اپنے علوم و فنون کو مکرو فریب کا آلہ بناتا ہے اور سب لسانی اور خوش بیانی اُس کی دام تزویر ہی ہوتی ہے۔ کیا انسان کی کمزور عقل اپنی تنہائی کی حالت میں اس کو اس محبس سے نکال سکتی ہے کہ جو جذباتِ نفس اور جہل اور غفلت کی وجہ سے اس کے نصیب ہورہا ہے۔ کیا انسانی خیالات میں کوئی ایسی طاقت بھی موجود ہے کہ جو خدائے تعالیٰ کے علم اور قوت سے برابر ہوسکے کیا خدا کے پاک انوار جو جو روح پر اثر ڈال سکتے ہیں اور عمیق شکوک سے نجات بخش سکتے ہیں یہ بات خدا کے غیر کو بھی حاصل ہے ہرگز نہیں ہرگز نہیں بلکہ ایسے دھوکے ان لوگوں کو لگے ہوئے ہیں جنہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ ہماری حقیقی نجات کس درجہ عرفان پر موقوف ہے اور طاقتِ الٰہی ہمارے روح پر کہاں تک کام کرسکتی ہے اور خدا کے بے غایت فضل سے کس درجہ قربت اور شناخت پر ہم پہنچ سکتے ہیں اور وہ کس درجہ تک ہمارے آگے سے حجاب اٹھا سکتا ہے۔ ان کی معرفت صرف ناکارہ وہموں تک ختم ہے اور جو معرفت یقینی اور قطعی اور انسان کی نجات کے لئے ازبس ضروری ہے وہ ان کی عقل عجیب کے نزدیک محال اور ممتنع ہے لیکن جاننا چاہئے کہ یہ ان کی سخت غلطی ہے کہ جو عقلی خیالات پر قناعت کررہے ہیں۔ حقّانی معرفت کی راہ میں بے شمار راز ہیں جن کو انسان کی کمزور اور دود آمیز عقل دریافت نہیں کرسکتی اور قیاسی طاقت بباعث اپنی نہایت ضُعف کی الوہیّت کے بلند اسرار تک ہرگز پہنچ نہیں سکتی۔ سو اُس بلندی تک پہنچنے کے لئے بجز خدا کے عالی کلام کے اور کوئی زینہ نہیں۔ جو شخص دلی سچائی سے خدا کا طالب ہے اُس کو اُسی زینہ کی حاجت پڑتی ہے اور تاوقتیکہ وہ محکم اور بلند زینہ اپنی ترقیات کا ذریعہ نہ ٹھہرایا جاوے تب تک انسان حقّانی معرفت کے بلند مینار تک ہرگز پہنچ نہیں سکتا بلکہ ایسے تاریک اور پرظلمت خیالات میں گرفتار رہتا ہے کہ جو غیر تسلی بخش اور بعید از حقیقت ہیں اور بباعث فقدان اس حقانی معرفت کے اس کے سب معلومات بھی ناقص اور ادھورے رہتے ہیں اور جیسی سوئی بغیر دھاگہ کے نکمی اور ناکارہ ہے اور کوئی کام سینے کا اُس سے انجام پذیر نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح عقلی فلسفہ بغیر تائید خدا کی کلام کے نہایت متزلزل اور غیر مستحکم اور بے ثبات اور بے بنیاد ہے۔

پائے استدلالیاں چوبین بود

پائے چوبین سخت بے تمکین بود

ہم اور ہماری کتاب

ابتداء میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اُس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی پھر بعد اُس کے قدرت الٰہیہ کی ناگہانی تجلی نے اس احقر عباد کو موسیٰ کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کررہا تھا کہ ایک دفعہ پردہ غیب سے اِنِّیْ اَنَا رَبُّکَ کی آواز آئی اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی سو اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہرًا و باطنًا حضرت ربّ العالمین ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ کس اندازہ اور مقدار تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر اس نے جلد چہارم تک انوار حقیت اسلام کے ظاہر کئے ہیں یہ بھی اتمام حجت کے لئے کافی ہیں اور اس کے فضل و کرم سے امید کی جاتی ہے کہ وہ جب تک شکوک اور شبہات کی ظلمت کو بکلّی دور نہ کرے اپنی تائیدات غیبیہ سے مددگار رہے گا اگرچہ اس عاجز کو اپنی زندگی کا کچھ اعتبار نہیں لیکن اس سے نہایت خوشی ہے کہ وہ حیُّ و قیُّوم کہ جو فنا اور موت سے پاک ہے ہمیشہ تا قیامت دین اسلام کی نصرت میں ہے اور جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ ایسا اس کا فضل ہے کہ جو اس سے پہلے کسی نبی پر نہیں ہوا۔ اس جگہ ان نیک دل ایمانداروں کا شکر کرنا لازم ہے جنہوں نے اس کتاب کے طبع ہونے کے لئے آج تک مدد دی ہے خدا تعالیٰ ان سب پر رحم کرے اور جیسا انہوں نے اس کے دین کی حمایت میں اپنی دلی محبت سے ہریک دقیقہ کوشش کے بجالانے میں زور لگایا ہے خداوند کریم ایسا ہی ان پر فضل کرے۔ بعض صاحبوں نے اس کتاب کو محض خرید وفروخت کا ایک معاملہ سمجھا ہے اور بعض کے سینوں کو خدا نے کھول دیا اور صدق اور ارادت کو ان کے دلوں میں قائم کردیا ہے لیکن موخر الذکر ہنوز وہی لوگ ہیں کہ جو استطاعت مالی بہت کم رکھتے ہیں اور سنت اللہ اپنے پاک نبیوں سے بھی یہی رہی ہے کہ اوّل اوّل ضعفاء اور مساکین ہی رجوع کرتے رہے ہیں اگر حضرت احدیت کا ارادہ ہے تو کسی ذی مقدرت کے دل کو بھی اس کام کے انجام دینے کے لئے کھول دے گا۔ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔