
آج کل غربت اسلام کی علامتیں اور دین متین محمدی پر مصیبتیں ایسی ظاہر ہورہی ہیں کہ جہاں تک زمانہ بعثت حضرتِ نبویؐ کے بعد میں ہم دیکھتے ہیں کسی قرن میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی۔ اس سے زیادہ تر اور کیا مصیبت ہوگی کہ مسلمان لوگ دینی غمخواری میں بغایت درجہ سست اور مخالف لوگ اپنے اعتقادوں کی ترویج اور اشاعت میں چاروں طرف سے کمربستہ اور چست نظر آتے ہیں۔ جس سے دن بدن ارتداد اور بدعقیدگی کا دروازہ کھلتا جاتا ہے۔ اور لوگ فوج در فوج مرتد ہوکر ناپاک عقائد اختیار کرتے جاتے ہیں۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے مخالف جن کے عقائد فاسدہ بدیہی البطلان ہیں۔ دن رات اپنے اپنے دین کی حمایت میں سرگرم ہیں بحدیکہ یورپ اور امریکہ میں عیسائی دین کے پھیلانے کے لئے بیوہ عورتیں بھی چندہ دیتی ہیں اور اکثر لوگ مرتے وقت وصیت کرجاتے ہیں کہ اس قدر ترکہ ہمارا خالص مسیحی مذہب کے رواج دینے میں خرچ ہو مگر مسلمانوں کا حال کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ ان کی غفلت اس حد تک پہنچ گئی ہے۔ کہ نہ وہ آپ دین کی کچھ غمخواری کرتے ہیں اور نہ کسی غمخوار کو نیک ظنی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ خیال کرنا چاہیے کہ غمخواری ٔدینی کا کیسا موقعہ تھا۔ اور خدمت گزاری کا کیا ضروری محل تھا کہ کتاب براہین احمدیہ کہ جس میں تین سو مضبوط دلیل سے حقیت اسلام ثابت کی گئی ہے اور ہرایک مخالف کے عقائد باطلہ کا ایسا استیصال کیا گیا ہے کہ گویا اس مذہب کو ذبح کیا گیا کہ پھر زندہ نہیں ہوگا۔ اس کتاب کے بارے میں بجز چند عالی ہمت مسلمانوں کے جن کی توجہ سے دو حصے اور کچھ تیسرا حصہ چھپ گیا۔ جو کچھ اور لوگوں نے اعانت کی وہ ایسی ہے کہ اگر بجائے تصریح کے صرف اسی پر قناعت کریں کہ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ تو مناسب ہے۔ ایھا الاخوان المؤمنون۔ مالکم لا تتوجھون۔ شوقناکم فلم تشتاقوا۔ ونبھناکم فلم تتنبھوا۔ اسمعوا عباداللّٰہ اسمعوا۔ انصروا توجروا۔ وفی الانصار تبعثوا۔ وفی الدارین تُرحموا۔ وفی مقعد صدق تقعدوا۔ رحمنا اللّٰہ وایاکم ھو مولانا نعم المولی ونعم النصیر۔ اور اگر کوئی اب بھی متوجہ نہ ہو تو خیر ہم بھی ارحم الراحمین سے کہتے ہیں اور اس کے پاک وعدے ہم غریبوں کو تسلی بخش ہیں اور اس جگہ یہ امر بھی واجب الاطلاع ہے کہ پہلے یہ کتاب صرف تیس پینتیس جز تک تالیف ہوئی تھی اور پھر سو جز تک بڑھا دی گئی اور دس روپیہ عام مسلمانوں کے لئے اور پچیس روپے دوسری قوموں اور خواص کے لئے مقرر ہوئی مگر اب یہ کتاب بوجہ احاطہ جمیع ضروریات تحقیق و تدقیق اور اتمام حجت کے لئے تین سو جز تک پہنچ گئی ہے جسکے مصارف پر نظر کرکے یہ واجب معلوم ہوتا تھا کہ آئندہ قیمت کتاب سو روپیہ رکھی جائے۔ مگر بباعث پست ہمتی اکثر لوگوں کے یہی قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اب وہی قیمت مقررہ سابقہ کہ گویا کچھ بھی نہیں ایک دوامی قیمت قرار پاوے اور لوگوں کو ان کے حوصلہ سے زیادہ تکلیف دے کر پریشان خاطر نہ کیا جائے لیکن خریداروں کو یہ استحقاق نہیں ہوگا کہ جو بطور حق واجب کے اس قدر اجزا کا مطالبہ کریں بلکہ جو اجزا زائد ازحق واجب ان کو پہنچیں گی وہ محض للہ فی اللہ ہوں گی اور ان کا ثواب ان لوگوں کو پہنچے گا کہ جو خالصاً للہ اس کام کے انجام کے لئے مدد کریں گے۔ اور واضح رہے کہ اب یہ کام صرف ان لوگوں کی ہمت سے انجام پذیر نہیں ہوسکتا کہ جو مجرد خریدار ہونے کی وجہ سے ایک عارضی جوش رکھتے ہیں بلکہ اس وقت کئی ایک ایسے عالی ہمتوں کی توجہات کی حاجت ہے کہ جنکے دلوں میں ایمانی غیوری کے باعث سے حقیقی اور واقعی جوش ہے اور جن کا بے بہا ایمان صرف خرید و فروخت کے تنگ ظرف میں سمانہیں سکتا بلکہ اپنے مالوں کے عوض میں بہشت جاودانی خریدنا چاہتے ہیں و ذٰلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء۔ بالآخر ہم اس مضمون کو اس دعا پر ختم کرتے ہیں۔ کہ اے خداوند کریم تو اپنے خالص بندوں کو اس طرف کامل توجہ بخش۔ اے رحمان و رحیم تو آپ اُن کو یاد دلا۔ اے قادرِ توانا تو ان کے دلوں میں آپ الہام کر۔ آمین ثم آمین۔ ونتوکّل علٰی ربّنا ربّ السموات والارض ربّ العالمین۔
اعلام اب کی دفعہ ان صاحبوں کے نام جنہوں نے کتاب کو خرید فرما کر قیمت پیشگی بھیجی یا محض للہ اعانت کی بوجہ عدم گنجائش نہیں لکھے گئے۔ اور بعض صاحبوں کی یہ بھی رائے ہے کہ لکھنا کچھ ضرورت نہیں۔ بہرحال حصہ چہارم میں جو کچھ اکثر صاحبوں کی نظر میں قرین مصلحت ہوگا اس پر عمل کیا جائے گا۔
خاکسار میرزا غلام احمدؐ
عُذر۔ اب کی دفعہ کہ جو حصہ سوم کے نکلنے میں قریب دو (۲) برس کے توقف ہوگئی غالباً اس توقف سے اکثر خریدار اور ناظرین بہت ہی حیران ہوں گے۔ لیکن واضح رہے کہ یہ تمام توقف مہتمم صاحب سفیرہند کی بعض مجبوریوں سے جنکے مطبع میں کتاب چھپتی ہے ظہور میں آئی ہے۔
خاکسار
غلام احمدؐ عفی اللہ عنہ
چونکہ کتاب اب تین سو جز تک بڑھ گئی ہے لہٰذا ان خریداروں کی خدمت میں جنہوں نے اب تک کچھ قیمت نہیں بھیجی یا پوری قیمت نہیں بھیجی التماس ہے کہ اگر کچھ نہیں تو صرف اتنی مہربانی کریں کہ بقیہ قیمت بلا توقف بھیج دیں کیونکہ جس حالت میں اب اصلی قیمت کتاب کی سو روپیہ ہے اور اس کے عوض دس یا پچیس روپیہ قیمت قرار پائی پس اگر یہ ناچیز قیمت بھی مسلمان لوگ بطور پیشگی ادا نہ کریں تو پھر گویا وہ کام کے انجام سے آپ مانع ہوں گے اور اس قدر ہم نے برعایت ظاہر لکھا ہے ورنہ اگر کوئی مددنہیں کرے گا۔ یا کم توجہی سے پیش آئے گا حقیقت میں وہ آپ ہی ایک سعادت عظمیٰ سے محروم رہے گا۔ اور خدا کے کام رک نہیں سکتے اور نہ کبھی رکے۔ جن باتوں کو قادرِ مطلق چاہتا ہے وہ کسی کی کم توجہی سے ملتوی نہیں رہ سکتیں۔ والسَّلام عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الھُدٰی۔
خاکسار میرزا غلام احمد
ایک خط انجمن اسلامیہ لاہور کے سیکرٹری صاحب کی طرف سے اور ایسا ہی ایک تحریر مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب کی طرف سے کہ جو انجمن ہمدردی اسلامی لاہور کے سیکرٹری ہیں موصول ہوکر اس عاجز کے ملاحظہ سے گزری جس سے یہ مطلب تھا کہ ان عرضداشتوں پر معزز برادران اہل اسلام و منصفین اہل ہنود کے دستخط کرائے جائیں کہ جو مسلمانوں کی ترقی تعلیم و ملازمت و نیز مدارس کی تعلیم میں اردو زبان قائم رکھنے کے لئے گورنمنٹ میں پیش کرنے کے لئے طیار کی گئی ہیں مگر افسوس کہ میں اوّل بوجہ علالت اپنی طبیعت کے اور پھر بوجہ قیام ضروری امرتسر کے اس خدمت کو ادا نہیں کرسکا لیکن بحکم الدین النصیحۃ اس قدر عرض کرنا اپنے بھائیوں کے دین اور دنیا کی بہبودی کا موجب سمجھتا ہوں کہ اگرچہ گورنمنٹ کی رحیمانہ نظر میں مسلمانوں کی شکستہ حالت بہرحال قابل رحم ٹھہرے گی۔ جس گورنمنٹ نے اپنے قوانین میں مویشی اور چارپایوں سے بھی ہمدردی ظاہر کی ہے وہ کیونکر ایک گروہِ کثیر انسانوں کی ہمدردی سے کہ جو اس کی رعیت اور اس کی زیردست ہیں اور ایک غربت اور مصیبت کی حالت میں پڑے ہیں غافل رہ سکتی ہے۔ لیکن ہمارے معزز بھائیوں پر صرف یہی واجب نہیں کہ وہ مسلمانوں کو افلاس اور تنزل اور ناتربیت یافتہ ہونے کی حالت میں دیکھ کر ہمیشہ اسی بات پر زور مارا کریں کہ کوئی میموریل طیار کرکے اور بہت سے دستخط اس پر کرا کر گورنمنٹ میں بھیجا جائے۔ ہریک کام دینی ہو یا دنیوی۔ اس میں استمداد سے پہلے اپنی خداداد طاقت اور ہمت کا خرچ کرنا ضروری ہے اور پھر اس فعل کی تکمیل کے لئے مدد طلب کرنا۔ خدا نے ہم کو ہماری ہرروزہ عبادت میں بھی یہی تعلیم دی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ ہم اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُکہیں نہ یہ کہ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ وَ اِیَّاکَ نَعْبُدُ۔ مسلمانوں پر جن امور کا اپنی اصلاح حال کے لئے اپنی ہمت اور کوشش سے انجام دینا لازم ہے وہ انہیں فکر اور غور کے وقت آپ ہی معلوم ہوجائیں گے۔ حاجت بیان و تشریح نہیں مگر اس جگہ ان امروں میں سے یہ امر قابل تذکرہ ہے جس پر گورنمنٹ انگلشیہ کی عنایات اور توجہات موقوف ہیں کہ گورنمنٹ ممدوحہ کے دل پر اچھی طرح یہ امر مرکوز کرنا چاہیے کہ مسلمانان ہند ایک وفادار رعیت ہے کیونکہ بعض ناواقف انگریزوں نے خصوصاً ڈاکٹر ہنٹر صاحب نے کہ جو کمیشن تعلیم کے اب پریسیڈنٹ ہیں اپنی ایک مشہور تصنیف میں اس دعویٰ پر بہت اصرار کیا ہے کہ مسلمان لوگ سرکار انگریزی کے دلی خیر خواہ نہیں ہیں اور انگریزوں سے جہاد کرنا فرض سمجھتے ہیں۔ گو یہ خیال ڈاکٹر صاحب کا شریعت اسلام پر نظر کرنے کے بعد ہریک شخص پر محض بے اصل اور خلاف واقعہ ثابت ہوگا لیکن افسوس کہ بعض کوہستانی اور بے تمیز سفہاء کی نالائق حرکتیں اس خیال کی تائید کرتی ہیں۔ اور شاید انہیں اتفاقی مشاہدات سے ڈاکٹر صاحب موصوف کا وہم بھی مستحکم ہوگیا ہے۔ کیونکہ کبھی کبھی جاہل لوگوں کی طرف سے اس قسم کی حرکات صادر ہوتی رہتی ہیں لیکن محقق پر یہ امر پوشیدہ نہیں رہ سکتا کہ اس قسم کے لوگ اسلامی تدین سے دور و مہجور ہیں اور ایسے ہی مسلمان ہیں جیسے مکلین عیسائی تھا۔ پس ظاہر ہے کہ ان کی یہ ذاتی حرکات ہیں نہ شرعی پابندی سے۔ اور ان کے مقابل پر ان ہزارہا مسلمانوں کو دیکھنا چاہیے کہ جو ہمیشہ جان نثاری سے خیر خواہی دولت انگلشیہ کی کرتے رہے ہیں اور کرتے ہیں۔ ۱۸۵۷ء میں جو کچھ فساد ہوا اس میں بجز جہلاء اور بدچلن لوگوں کے اور کوئی شائستہ اور نیک بخت مسلمان جو باعلم اور باتمیز تھا ہرگز مفسدہ میں شامل نہیں ہوا۔ بلکہ پنجاب میں بھی غریب غریب مسلمانوں نے سرکار انگریزی کو اپنی طاقت سے زیادہ مدد دی۔ چنانچہ ہمارے والد صاحب مرحوم نے بھی باوصف کم استطاعتی کے اپنے اخلاص اور جوش خیر خواہی سے پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کرکے اور پچاس مضبوط اور لائق سپاہی بہم پہنچا کر سرکار میں بطور مدد کے نذر کی اور اپنی غریبانہ حالت سے بڑھ کر خیر خواہی دکھلائی۔ اور جو مسلمان لوگ صاحب دولت و ملک تھے۔ انہوں نے تو بڑے بڑے خدمات نمایاں ادا کئے۔ اب پھر ہم اس تقریر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ گو مسلمانوں کی طرف سے اخلاص اور وفاداری کے بڑے بڑے نمونہ ظاہر ہوچکے ہیں مگر ڈاکٹر صاحب نے مسلمانوں کی بدنصیبی کی وجہ سے ان تمام وفاداریوں کو نظر انداز کردیا اور نتیجہ نکالنے کے وقت ان مخلصانہ خدمات کو نہ اپنے قیاس کے صغریٰ میں جگہ دی اور نہ کبریٰ میں۔ بہرحال ہمارے بھائی مسلمانوں پر لازم ہے کہ گورنمنٹ پر ان کے دھوکوں سے متاثر ہونے سے پہلے مجدد طور پر اپنی خیر خواہی ظاہر کریں۔ جس حالت میں شریعت اسلام کا یہ واضح مسئلہ ہے جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ ایسی سلطنت سے لڑائی اور جہاد کرنا جس کے زیر سایہ مسلمان لوگ امن اور عافیت اور آزادی سے زندگی بسر کرتے ہوں اور جس کے عطیات سے ممنون منت اور مرہون احسان ہوں اور جس کی مبارک سلطنت حقیقت میں نیکی اور ہدایت پھیلانے کے لئے کامل مددگار ہو۔ قطعی حرام ہے۔ تو پھر بڑے افسوس کی بات ہے کہ علمائے اسلام اپنے جمہوری اتفاق سے اس مسئلہ کو اچھی طرح شائع نہ کرکے ناواقف لوگوں کی زبان اور قلم سے موردِ اعتراض ہوتے رہیں۔ جن اعتراضوں سے ان کے دین کی سستی پائی جائے۔ اور ان کی دنیا کو ناحق کا ضرر پہنچے۔ سو اس عاجز کی دانست میں قرین مصلحت یہ ہے کہ انجمن اسلامیہ لاہور و کلکتہ و بمبئی وغیرہ یہ بندوبست کریں کہ چندنامی مولوی صاحبان جن کی فضیلت اور علم اور زہد اور تقویٰ اکثر لوگوں کی نظر میں مسلم الثبوت ہو۔ اس امر کے لئے چن لئے جائیں کہ اطراف اکناف کے اہل علم کہ جو اپنے مسکن کے گرد ونواح میں کسی قدر شہرت رکھتے ہوں اپنی اپنی عالمانہ تحریریں جن میں برطبق شریعت حقہ سلطنت انگلشیہ سے جو مسلمانان ہند کی مربی و محسن ہے جہاد کرنے کی صاف ممانعت ہو۔ ان علماء کی خدمت میں بہ ثبت مواہیر بھیج دیں کہ جو بموجب قرارداد بالا اس خدمت کے لئے منتخب کئے گئے ہیں اور جب سب خطوط جمع ہوجائیں تو یہ مجموعہ خطوط کہ جو مکتوبات علماء ہند سے موسوم ہوسکتا ہے۔ کسی خوشخط مطبع میں بہ صحت تمام چھاپا جائے اور پھر دس بیس نسخہ اسکے گورنمنٹ میں اور باقی نسخہ جات متفرق مواضع پنجاب و ہندوستان خاص کر سرحدی ملکوں میں تقسیم کئے جائیں۔ یہ سچ ہے کہ بعض غمخوار مسلمانوں نے ڈاکٹر ہنٹر صاحب کے خیالات کا رد لکھا ہے۔ مگر یہ دوچار مسلمانوں کا ردّ جمہوری ردّ کا ہرگز قائم مقام نہیں ہوسکتا۔ بلاشبہ جمہوری ردّ کا اثر ایسا قوی اور پرزور ہوگا جس سے ڈاکٹر صاحب کی تمام غلط تحریریں خاک سے مل جائیں گی اور بعض ناواقف مسلمان بھی اپنے سچے اور پاک اصول سے بخوبی مطلع ہوجائیں گے اور گورنمنٹ انگلشیہ پر بھی صاف باطنی مسلمانوں کی اور خیر خواہی اس رعیت کی کماحقہ کھل جائے گی اور بعض کوہستانی جہلا کے خیالات کی اصلاح بھی بذریعہ اسی کتاب کی وعظ اور نصیحت کے ہوتی رہے گی۔ بالآخر یہ بات بھی ظاہر کرنا ہم اپنے نفس پر واجب سمجھتے ہیں کہ اگرچہ تمام ہندوستان پر یہ حق واجب ہے کہ بنظر اُن احسانات کے کہ جو سلطنت انگلشیہ سے اس کی حکومت اور آرام بخش حکمت کے ذریعہ سے عامۂ خلائق پر وارد ہیں۔ سلطنت ممدوحہ کو خداوند تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھیں اور مثل اور نعماء الٰہی کے اس کا شکر بھی ادا کریں۔ لیکن پنجاب کے مسلمان بڑے ناشکر گزار ہوں گے اگر وہ اس سلطنت کو جو ان کے حق میں خدا کی ایک عظیم الشان رحمت ہے نعمت عظمیٰ یقین نہ کریں۔ ان کو سوچنا چاہئیے کہ اس سلطنت سے پہلے وہ کس حالت پر ملالت میں تھے اور پھر کیسے امن و امان میں آگئے۔ پس فی الحقیقت یہ سلطنت ان کیلئے ایک آسمانی برکت کا حکم رکھتی ہے جسکے آنے سے سب تکلیفیں ان کی دور ہوئیں اور ہریک قسم کے ظلم اور تعدی سے نجات حاصل ہوئی اور ہریک ناجائز روک اور مزاحمت سے آزادی میسر آئی۔ کوئی ایسا مانع نہیں کہ جو ہم کو نیک کام کرنے سے روک سکے یا ہماری آسائش میں خلل ڈال سکے۔ پس حقیقت میں خداوند کریم و رحیم نے اس سلطنت کو مسلمانوں کیلئے ایک باران رحمت بھیجا ہے جس سے پودہ اسلام کا پھر اس ملک پنجاب میں سرسبز ہوتا جاتا ہے اور جس کے فوائد کا اقرار حقیقت میں خدا کے احسانوں کا اقرار ہے۔ یہی سلطنت ہے جس کی آزادی ایسی بدیہی اور مسلم الثبوت ہے کہ بعض دوسرے ملکوں سے مظلوم مسلمان ہجرت کرکے اس ملک میں آنا بدل و جان پسند کرتے ہیں۔ جس صفائی سے اس سلطنت کے ظل حمایت میں مسلمانوں کی اصلاح کے لئے اور ان کی بدعات مخلوطہ دور کرنے کے لئے وعظ ہوسکتا ہے۔ اور جن تقریبات سے علماء اسلام کو ترویج دین کے لئے اس گورنمنٹ میں جوش پیدا ہوتے ہیں اور فکر اور نظر سے اعلیٰ درجہ کا کام لینا پڑتا ہے اور عمیق تحقیقاتوں سے تائید دین متین میں تالیفات ہوکر حجت اسلام مخالفین پر پوری کی جاتی ہے وہ میری دانست میں آج کل کسی اور ملک میں ممکن نہیں۔ یہی سلطنت ہے جس کی عادلانہ حمایت سے علماء کو مدتوں کے بعد گویا صدہا سال کے بعد یہ موقعہ ملا کہ بے دھڑک بدعات کی آلودگیوں سے اور شرک کی خرابیوں سے اور مخلوق پرستی کے فسادوں سے نادان لوگوں کو مطلع کریں اور اپنے رسول مقبول کا صراط مستقیم کھول کر ان کو بتلاویں۔ کیا ایسی سلطنت کی بدخواہی جس کے زیرسایہ تمام مسلمان امن اور آزادی سے بسر کرتے ہیں اور فرائض دین کو کماحقہ بجا لاتے ہیں اور ترویج دین میں سب ملکوں سے زیادہ مشغول ہیں جائز ہوسکتی ہے۔ حاشا و کلّا ہرگز جائز نہیں۔ اور نہ کوئی نیک اور دیندار آدمی ایسا بدخیال دل میں لاسکتا ہے۔ ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ دنیا میں آج یہی ایک سلطنت ہے جس کے سایہ عاطفت میں بعض بعض اسلامی مقاصد ایسے حاصل ہوتے ہیں کہ جو دوسرے ممالک میں ہرگز ممکن الحصول نہیں۔ شیعوں کے ملک میں جاؤ تو وہ سنت جماعت کے وعظوں سے افروختہ ہوتے ہیں۔ اور سنت جماعت کے ملکوں میں شیعہ اپنی رائے ظاہر کرنے سے خائف ہیں۔ ایسا ہی مقلدین موحدین کے شہروں میں اور موحدین مقلدین کی بلاد میں دم نہیں مارسکتے۔ اور گو کسی بدعت کو اپنی آنکھ سے دیکھ لیں منہ سے بات نکالنے کا موقعہ نہیں رکھتے۔ آخر یہی سلطنت ہے جس کی پناہ میں ہریک فرقہ امن اور آرام سے اپنی رائے ظاہر کرتا ہے۔ اور یہ بات اہل حق کے لئے نہایت ہی مفید ہے۔ کیونکہ جس ملک میں بات کرنے کی گنجائش ہی نہیں۔ نصیحت دینے کا حوصلہ ہی نہیں۔ اس ملک میں کیونکر راستی پھیل سکتی ہے۔ راستی پھیلانے کے لئے وہی ملک مناسب ہے جس میں آزادی سے اہل حق وعظ کرسکتے ہیں۔ یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ دینی جہادوں سے اصلی غرض آزادی کا قائم کرنا اور ظلم کا دور کرنا تھا۔ اور دینی جہاد انہیں ملکوں کے مقابلہ پر ہوئے تھے جن میں واعظین کو اپنے وعظ کے وقت جان کا اندیشہ تھا۔ اور جن میں امن کے ساتھ وعظ ہونا قطعی محال تھا۔ اور کوئی شخص طریقہ حقہ کو اختیار کرکے اپنی قوم کے ظلم سے محفوظ نہیں رہ سکتا تھا۔ لیکن سلطنت انگلشیہ کی آزادی نہ صرف ان خرابیوں سے خالی ہے۔ بلکہ اسلامی ترقی کی بدرجہ غایت ناصر اور مؤید ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس خدادادنعمت کا قدر کریں۔ اور اس کے ذریعہ سے اپنی دینی ترقیات میں قدم بڑھاویں۔ اور اس طرف بھی توجہ کریں کہ اس مربی سلطنت کی شکر گزاری کے لئے یہ بھی پرضرور ہے کہ جیسا اُن کی دولت ظاہری کی خیرخواہی کی جائے ایسا ہی اپنے وعظ اور معقول بیان اور عمدہ تالیفات سے یہ کوشش کی جائے کہ کسی طرح دین اسلام کی برکتیں بھی اس قوم کے حصہ میں آجائیں۔ اور یہ امر بجز رفق اور مدارا اور محبت اور حلم کے انجام پذیر نہیں ہوسکتا۔ خدا کے بندوں پر رحم کرنا اور عرب اور انگلستان وغیرہ ممالک کا ایک ہی خالق سمجھنا اور اس کی عاجز مخلوق کی دل و جان سے غمخواری کرنا اصل دین و ایمان کا ہے۔ پس سب سے اول بعض ان ناواقف انگریزوں کے اس وہم کو دور کرنا چاہئیے کہ جو بوجہ ناواقفیت یہ سمجھ رہے ہیں کہ گویا قوم مسلمان ایک ایسی قوم ہے کہ جو نیکی کرنے والوں سے بدی کرتی ہے اور اپنے محسنوں سے ایذا کے ساتھ پیش آتی ہے اور اپنی مربی گورنمنٹ کی بدخواہ ہے۔ حالانکہ اپنے محسن کے ساتھ باحسان پیش آنے کی تاکید جس قدر قرآن شریف میں ہے اور کسی کتاب میں اس کا نام و نشان نہیں پایا جاتا۔ وَقَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَالۡاِحۡسَانِ وَاِیۡتَآیِٔ ذِی الۡقُرۡبٰی (النحل: ۹۱) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنِ اصْطَنَعَ اِلَیْکُمْ مَعْرُوْفًا فَجَازُوْہُ فَاِنْ عَجَزْتُمْ عَنْ مُجَازَاتِہٖ فَادْعُوْا لَہٗ حَتّٰی یَعْلَمَ اَنَّکُمْ قَدْ شَکَرْتُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ یُّحِبُّ الشَّاکِرِیْنَ۔
الـمـلتمس خاکسار غلام احمد عفی عنہ
قبل از تحریر براہین فصل ھٰذا کے چند ایسے امور کا بطور تمہید بیان کرنا ضروری ہے جو دلائل آتیہ کے اکثر مطالب دریافت کرنے اور ان کی کیفیت اور ماہیت سمجھنے کے لئے قواعد کلیہ ہیں۔ چنانچہ ذیل میں وہ سب تمہیدیں لکھی جاتی ہیں۔
تمہید اوّل۔ بیرونی شہادتوں سے وہ واقعات خارجیہ مراد ہیں جو ایک ایسی حالت پر واقعہ ہوں کہ جس حالت پر نظر کرنے سے کسی کتاب کا منجانب اللہ ہونا ثابت ہوتا ہو۔ یا اس کے منجانب اللہ ہونے کی ضرورت ثابت ہوتی ہو۔ اور اندرونی شہادتوں سے وہ ذاتی کمالات کسی کتاب کی مراد ہیں کہ خود اسی کتاب میں موجود ہوں جن پر نظر کرنے سے عقل اس بات پر قطع واجب کرتی ہو کہ وہ خدا کی کلام ہے اور انسان اس کے بنانے پر قادر نہیں۔
تمہید دوم۔ وہ براہین جو قرآن شریف کی حقیت اور افضلیت پر بیرونی شہادتیں ہیں چار قسم پر ہیں۔ ایک وہ جو امور محتاج الاصلاح سے ماخوذ ہیں۔ دوسری وہ جو امور محتاج التکمیل سے ماخوذ ہیں۔ تیسری وہ جو امور قدرتیہ سے ماخوذ ہیں۔ چوتھی وہ جو امور غیبیہ سے ماخوذ ہیں۔ لیکن وہ براہین جو قرآن شریف کی حقیت اور افضلیت پر اندرونی شہادتیں ہیں۔ وہ تمام امور قدرتیہ ہی سے ماخوذ ہیں۔ اور تعریف اقسام مذکورہ کی بہ تفصیل ذیل ہے:۔
امور محتاج الاصلاح سے وہ امور کفر اور بے ایمانی اور شرک اور بدعملی کے مراد ہیں۔ جن کو بنی آدم نے بجائے عقائد حقہ اور اعمال صالحہ کے اختیار کر رکھا ہو۔ اور جو عام طور پر تمام دنیا میں پھیلنے کی وجہ سے اس لائق ہوگئے ہوں کہ عنایت ازلیہ ان کی اصلاح کی طرف توجہ کرے۔
امور محتاج التکمیل سے وہ امور تعلیمیہ مراد ہیں جو کتب الہامیہ میں ناقص طور پر پائے جاتے ہوں اور حالت کاملہ تعلیم پر نظر کرنے سے ان کا ناقص اور ادھورا ہونا ثابت ہوتا ہو۔ اور اس وجہ سے وہ ایک ایسی کتاب الہامی کے محتاج ہوں جو ان کو مرتبہ کمال تک پہنچاوے۔ امور قدرتیہ دو طور پر ہیں:۔
۱۔ بیرونی شہادتیں۔ ان سے وہ امور مراد ہیں جو بغیر وسیلہ انسانی تدبیروں کے خدا کی طرف سے پیدا ہوجائیں۔ اور ہر ایک ذرہ بے مقدار کو وہ شوکت و شان اور عظمت و بزرگی بخشیں جس کا حاصل ہونا عندالعقل محالاتِ عادیہ سے متصور ہو اور جس کی نظیر صفحۂ دنیا میں کہیں نہ پائی جاتی ہو۔
۲۔ اندرونی شہادتیں۔ ان سے وہ محاسن صوری اور معنوی کتاب الہامی کے مراد ہیں جن کا مقابلہ کرنے سے قویٰ بشریہ عاجز ہوں اور جو فی الواقعہ بے مثل و مانند ہوکر ایسے قادر یکتا پر دلالت کرتی ہوں کہ گویا آئینہ خدا نما ہوں۔
امور غیبیہ سے وہ اُمور مراد ہیں جو ایک ایسے شخص کی زبان سے نکلیں جس کی نسبت یہ یقین کیا جائے کہ ان امور کا بیان کرنا من کل الوجوہ اس کی طاقت سے باہر ہے یعنی ان امور پر نظر کرنے اور اس شخص کے حال پر نظر کرنے سے یہ بات بہ بداہت واضح ہو کہ نہ وہ امور اس کے لئے حکم بدیہی اور مشہود کا رکھتے ہیں اور نہ بذریعہ نظر اور فکر کے اس کو حاصل ہوسکتے ہیں اور نہ اس کی نسبت عندالعقل یہ گمان جائز ہے کہ اس نے بذریعہ کسی دوسرے واقف کار کے ان امور کو حاصل کرلیا ہوگا۔ گو وہی امور کسی دوسرے شخص کی طاقت سے باہر نہ ہوں۔ پس اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ امور غیبیہ اضافی اور نسبتی امور ہیں۔ یعنے ایسے امور ہیں کہ جب بعض خاص اشخاص کی طرف ان کو نسبت دی جاتی ہے تو اس قابل ہوجاتے ہیں کہ امور غیبیہ ہونے کا ان پر اطلاق ہو۔ اور پھر جب وہی امور بعض دیگر کی طرف منسوب کئے جائیں۔ تو یہ قابلیت ان میں متحقق نہیں ہوتی۔
(الف) زید ایک شخص ہے جو ہمارے اس زمانہ میں پیدا ہوا۔ اور بکر ایک شخص ہے جو پچاس برس بعد زید کے پیدا ہوا۔ جس کا زمانہ زید نے نہیں پایا اور نہ اس کے واقعات سے مطلع ہونے کا زید کو کوئی خارجی ذریعہ حاصل ہوا۔ سو وہ واقعات جو بکر پر گزرے اگرچہ وہ بکر کی نسبت امور غیبیہ نہیں ہیں۔ کیونکہ وہ اسی کے واقعات ہیں اور اس کے لئے مشہود اور محسوس ہیں۔ لیکن اگر انہیں واقعات سے زید ٹھیک ٹھیک اطلاع دے۔ ایسا کہ سرمو فرق نہ ہو۔ تو کہا جائے گا کہ زید نے امور غیبیہ سے اطلاع دی۔ کیونکہ وہ امور زید کے لئے مشہود اور محسوس نہیں ہیں اور نہ ممکن تھا کہ ان کے حصول کے لئے زید کو کوئی ذریعہ خارجی حاصل ہوتا۔
(ب) بکر ایک فلاسفر ہے جس نے کتب فلسفیہ میں ایک زمانہ دراز تک بغور تمام نظر اور فکر کرکے دقائق حکمیہ کے جاننے اور معلوم کرنے میں ملکہ کاملہ پیدا کیا ہے۔ اور بوجہ تحصیل علوم عقلیہ اور مطالعہ تالیفات اولین اور حصول ذخائر تحقیقات متقدمین اور نیز بباعث ہمیشہ کے سوچ اور بچار اور مشق اور مغز زنی اور استعمال قواعد مقررہ صناعت منطق کے بہت سے حقائق علمیہ اور دلائل یقینیہ اس کو مستحضر ہوگئے ہیں۔ اور زید ایک شخص ہے جس کی نسبت یہ واقعہ ثابت ہے کہ نہ اس نے کچھ منطق و فلسفہ وغیرہ سے کوئی حرف پڑھا ہے اور نہ کتب فلسفہ سے اس کو کچھ اطلاع ہے۔ اور نہ طریقہ نظر اور فکر میں اس کو کچھ مشق ہے۔ اور نہ کسی اہل علم اور حکمت سے اس کی مخالطت اور صحبت ہے بلکہ محض اُمّی ہے اور اُمّیوں میں ہمیشہ بودوباش رکھتا ہے۔ پس وہ علوم جو بکر نے بتمامتر محنت و کلفت و مشقت حاصل کئے ہیں۔ وہ بکر کی نسبت امور غیبیہ نہیں ہیں۔ کیونکہ بکر نے ان کو ایک مدت مدید تک جہد شدید سے تعلیم پاکر حاصل کیا ہے۔ لیکن زید جو بالکل ناخواندہ ہے۔ اگر حکمت اور فلسفہ کے باریک اور دقیق علوم کو ایسا صاف اور صحیح بیان کرے جس میں سرمو تفاوت نہ ہو۔ اور علوم عالیہ کی نازک اور اعلیٰ صداقتوں کو ایسے کامل طور پر ظاہر کرے جس میں کسی نوع کا فتور اور نقصان نہ پایا جائے۔ اور دقائق حکمیہ کا ایسا مکمل مجموعہ پیش کرے۔ جن کا باستیفاء بیان کرنا پہلے اس سے کسی حکیم کو میسر نہ ہوا ہو تو ہر یک امر کی نسبت مکمل بیان اس کا جس میں شرائط مذکورہ بالا پائی جائیں امور غیبیہ میں داخل ہوگا۔ کیونکہ اس نے ان امور کو بیان کیا جن کا بیان کرنا اس کی طاقت اور استعداد اور اندازہ علم اور فہم سے باہر تھا اور جن کے بیان کرنے میں اس کے پاس اسباب عادیہ میں سے کوئی ذریعہ موجودنہ تھا۔
(ج) بکر ایک پادری یا پنڈت یا کسی اور مذہب کا عالم اور فاضل اور ماہر جزو کل ہے۔ جس نے ایک کلاں حصہ اپنی عمر کا خرچ کرکے اور بیسیوں برس محنت اور مشقت اٹھا کر اس مذہب کے متعلق جو نہایت دقیق باتیں ہیں دریافت کیں۔ اور جو کچھ اس مذہب کی کتاب میں صواب یا خطا ہے یا جو غایت درجہ کی باریک صداقتیں ہیں۔ وہ سب مدت دراز کے تفکر اور تدبر سے معلوم کرلیں۔ اور زید ایک شخص ہے جس کی نسبت یہ واقعہ ثابت ہے کہ بباعث ناخواندہ ہونے کے کسی کتاب کو پڑھ نہیں سکتا ہے سو اگر بکر ان کتابوں میں سے کچھ امور یا مسائل یا واقعات بیان کرے تو وہ امور غیبیہ نہیں ہیں کیونکہ بکر بذریعہ تعلیم کامل اور عرصۂِ دراز کی مشق کے ان کتابوں کے مضامین پر بخوبی مطلع اور حاوی ہے۔ لیکن اگر زید جو محض اُمی ہے ان حقائق عمیقہ کو بیان کردے جن کا جاننا بجز واقفیت تام کے محال عادی ہے اور ان کتابوں کی ایسی باریک صداقتوں کو کھول دے جو بجز خواص علماء کے کسی پر منکشف نہیں ہوتیں اور ان کے وہ تمام معائب اور نقصانات ظاہر کردے جن کا ظاہر کرنا بجز نہایت درجہ کی دقت نظر کے عادتاً ممتنع ہے۔ اور پھر اس منصب تدقیق اور تحقیق میں ایسا کامل ہو جو اپنی نظیر نہ رکھتا ہو۔ تو اس صورت میں اس کی نسبت یہ کہنا حق اور راست ہوگا کہ اس نے امور غیبیہ کو بیان کیا۔
شاید کوئی معترض اس تمہید پریہ اعتراض کرے کہ ان سہل اور آسان منقولات کا بیان کرنا جو مذہبی کتابوں میں مدوّن اور مرقوم ہیں۔ بذریعہ سماعت بھی ممکن ہے جس میں لکھا پڑھا ہونا کچھ ضروری نہیں کیونکہ ناخواندہ آدمی کسی واقعہ کو کسی خواندہ آدمی سے سن کر بیان کرسکتا ہے۔ یہ کچھ مسائل دقیقہ علمیہ نہیں ہیں جن کا جاننا بغیر تعلّم باقاعدہ کے محال ہو۔ ایسے معترض سے یہ سوال کیا جائے گا کہ تمہاری کتابوں میں کوئی ایسی باریک صداقتیں بھی ہیں یا نہیں جن کو بجز اعلیٰ درجہ کے عالم اور اجل فاضل کے ہریک شخص کا کام نہیں کہ دریافت کرسکے بلکہ انہیں لوگوں کے ذہن ان کی طرف سبقت کرنے والے ہیں جنہوں نے زمانہ دراز تک ان کتابوں کے مطالعہ میں خون جگر کھایا ہے اور مکاتب علمیہ میں کامل استادوں سے پڑھا سیکھا ہے پس اگر اس سوال کا یہ جواب دیں کہ ایسی اعلیٰ درجے کی دقیق صداقتیں ہماری کتابوں میں موجودنہیں ہیں بلکہ ان میں تمام موٹی اور سرسری اور بے مغز باتیں بھری ہوئی ہیں جن کو عوام الناس بھی ادنیٰ التفات سے معلوم کرسکتے ہیں۔ اور جن پر ایک کم فہم لڑکا بھی سرسری نظر مارکر ان کی تہ تک پہنچ سکتا ہے۔ اور جن کا جاننا کچھ فضیلت علمیہ میں داخل نہیں۔ بلکہ غایت کار مثل ان کتابوں کے ہیں جن میں قصے کہانیاں لکھی جاتی ہیں یا جو محض اطفال اور عوام کے مطالعہ کے لئے بنائے جاتے ہیں۔ تو افسوس ایسی گئی گزری کتابوں پر۔ کیونکہ یہ امر نہایت صاف اور واضح ہے کہ اگر مضامین کسی کتاب کے صرف عوام الناس کی موٹی عقل تک ہی ختم ہوں اور حقائق دقیقہ کے مرتبہ سے بکلی متنزل ہوں۔ تو وہ کتاب بھی کوئی عمدہ کتاب نہیں کہلاتی۔ بلکہ وہ بھی عقلمندوں کی نظر میں ایسی ہی موٹی اور کم عزت ہوتی ہے۔ جیسے اس کے مضامین موٹے ہیں۔ اور اس کا مضمون کوئی ایسی شے نہیں ہوتا جس کو علوم حکمیہ کی سلک میں منسلک کیا جائے یا حقائق عالیہ کے رتبہ پر سمجھا جائے۔ پس جو شخص اپنی الہامی کتاب کی نسبت ایسا دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی تمام باتیں موٹی اور خفیف ہیں اور ان جمیع صداقتوں سے خالی اور عاری ہیں جو نہایت باریک اور دقیق ہیں اور جن کا جاننا ارباب علم اور نظر اور فکر سے مخصوص ہے تو وہ آپ ہی اپنی کتاب کی توہین کرتا ہے اور اس سے اس کی شیخی بھی قائم نہیں رہ سکتی کیونکہ جس چیز کی تہ تک پہنچنے میں عوام الناس بھی اس کے ساتھ شریک اور مساوی ہیں۔ اس چیز کے حاصل کرنے سے وہ کسی ایسی فضیلت علمیہ کو حاصل نہیں کرسکتا کہ عوام الناس سے اس کو امتیاز بخشے یا کوئی لقب عالم یا فاضل کا اس کو عطا کرے۔ بلکہ وہ بھی بلاشبہ عوام کالاَنعام میں سے ہوگا۔ کیونکہ اس کے علم اور معرفت کا اندازہ عوام سے زیادہ نہیں۔ اور بلاریب ایسی بیہودہ اور ذلیل کتابوں کا علم امور غیبیہ میں داخل نہیں ہوگا۔ لیکن پھر بھی یہ شرط ہے کہ تعلیمات ان کی ایسی شائع اور متعارف ہوں جن کی نسبت یہ باور کرنے کی وجہ ہو کہ ہریک اُمی اور ناخواندہ آدمی بھی ادنیٰ توجہ سے اُن کے مضامین پر مطلع ہوسکتا ہے کیونکہ اگر مضامین ان کے شائع اور مشہور نہ ہوں تو گو وہ کیسی ہی بے مغز اور موٹی باتیں ہوں تب بھی اس شخص کے لئے جو اس زبان سے ناواقف ہے جس زبان میں مضامین ان کتابوں کے لکھے گئے ہیں حکم امور غیبیہ کا رکھتے ہیں۔ یہ تو اس صورت میں ہے کہ جب کوئی قوم اپنی کتب الہامیہ کی نسبت آپ قبول کرلے کہ وہ باریک صداقتوں سے عاری اور بے نصیب ہیں۔ لیکن اگر کسی قوم کی یہ رائے ہو کہ ان کی الہامی کتابوں میں باریک صداقتیں بھی ہیں جن پر احاطہ کرنا بجز ان اعلیٰ درجہ کے اہل علم لوگوں کے جن کی عمریں انہیں میں تدبر تفکر کرتے کرتے فرسودہ ہوگئی ہیں اور جن میں ایسی صداقتیں بھی ہیں جن کی تہ اور مغز تک وہی لوگ پہنچتے ہیں جو نہایت درجہ کے زیرک اور عمیق الفکر اور راسخ فی العلم ہیں تو اس جواب سے خود ہمارا مطلب ثابت ہے۔ کیونکہ اگر ایک اُمّی اور ناخواندہ آدمی ان حقائق دقیقہ کو ان کی کتابوں میں سے بیان کرے جن کو باقرار ان کے عوام اہل علم بھی بیان نہیں کرسکتے۔ صرف خواص کا کام ہے۔ تو بلاشبہ بیان اس اُمّی کا بعد ثبوت اس بات کے کہ وہ اُمّی ہے امور غیبیہ میں داخل ہوگا۔ اور یہی تمثیل سیوم کا مطلب ہے۔
اُمورِ غیبیہ کو منجانب اللہ ہونے پر دلالت کامل ہے۔ کیونکہ یہ بات بہ بداہت عقل ثابت ہے کہ غیب کا دریافت کرنا مخلوق کی طاقتوں سے باہر ہے۔ اور جو امر مخلوق کی طاقتوں سے باہر ہو وہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ پس اس دلیل سے ظاہر ہے کہ امور غیبیہ خدا کی طرف سے ظہور پذیر ہوتے ہیں اور ان کا منجانب اللہ ہونا یقینی اور قطعی ہے۔
تمہید سیوم: جو چیز محض قدرت کاملہ خدائے تعالیٰ سے ظہور پذیر ہو خواہ وہ چیز اس کی مخلوقات میں سے کوئی مخلوق ہو۔ اور خواہ وہ اس کی پاک کتابوں میں سے کوئی کتاب ہو۔ جو لفظاً اور معناً اسی کی طرف سے صادر ہو۔ اس کا اس صفت سے متصف ہونا ضروری ہے۔ کہ کوئی مخلوق اس کی مثل بنانے پر قادر نہ ہو۔ اور یہ اصول عام جو ہر یک صادر من اللہ سے متعلق ہے۔ دو طور سے ثابت ہوتاہے۔ اول قیاس سے۔ کیونکہ ازروئے قیاس صحیح و مستحکم کے خدا کا اپنی ذات اور صفات اور افعال میں واحد لاشریک ہونا ضروری ہے اور اس کی کسی صنعت یا قول یا فعل میں شراکت مخلوق کی جائز نہیں۔ دلیل اس پر یہ ہے کہ اگر اس کی کسی صنعت یا قول ٭ یا فعل میں شراکت مخلوق کی جائز ہو تو البتہ پھر سب صفات اور افعال میں جائز ہو۔ اور اگر سب صفات اور افعال میں جائز ہو تو پھر کوئی دوسرا خدا بھی پیدا ہونا جائز ہو۔ کیونکہ جس چیز میں تمام صفات خدا کی پائی جائیں۔ اسی کا نام خدا ہے اور اگر کسی چیز میں بعض صفات باری تعالیٰ کی پائی جائیں تب بھی وہ بعض میں شریک باری تعالیٰ کے ہوئے۔ اور شریک الباری بہ بداہت عقل ممتنع ہے۔ پس اس دلیل سے ثابت ہے کہ خدا کا اپنی تمام صفات اور اقوال اور افعال میں واحد لا شریک ہونا ضروری ہے اور ذات اس کی ان تمام نالائق امور سے متنزہ ہے جو شریک الباری پیدا ہونے کی طرف منجر ہوں۔ دوسرے ثبوت اس دعویٰ کا استقراء تام سے ہوتا ہے جو ان سب چیزوں پر جو صادر من اللہ ہیں نظر تدبر کرکے بہ پایہ صحت پہنچ گیا ہے۔ کیونکہ تمام جزئیات عالم جو خدا کی قدرت کاملہ سے ظہور پذیر ہیں جب ہم ہریک کو اُن میں سے عمیق نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اعلیٰ سے ادنیٰ تک بحدیکہ حقیر سے حقیر چیزوں کو جیسے مکھی اور مچھر اور عنکبوت وغیرہ ہیں۔ خیال میں لاتے ہیں تو ان میں سے کوئی بھی ایسی چیز ہم کو معلوم نہیں ہوتی جس کے بنانے پر انسان بھی قدرت رکھتا ہو بلکہ ان چیزوں کی بناوٹ اور ترکیب پر غور کرنے سے ایسے عجائب کام دست قدرت کے اُن کے جسم میں مشہود اور موجود پاتے ہیں جو صانع عالم کے وجود پر دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ ہیں۔ علاوہ ان سب دلائل کے یہ بات بھی ہریک دانشمند پر روشن ہے کہ اگر یہ جائز ہوتا کہ جو چیزیں خدا کے دست قدرت سے ظہور پذیر ہیں اُن کے بنانے پر کوئی دوسرا شخص بھی قادر ہوسکتا تو کسی مصنوع کو اس خالق حقیقی کے وجود پر دلالت کامل نہ رہتی اور امر معرفت صانع عالم کا بالکل مشتبہ ہوجاتا۔ کیونکہ جب بعض ان اشیاء کو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے صادر ہوئی ہیں بجز خدا کے کوئی اور بھی بنا سکتا ہے تو پھر اس بات پر کیا دلیل ہے جو کل اشیاء کو کوئی اور نہیں بناسکتا۔ اب جبکہ دلائل مستحکمہ سے ثابت ہوگیا کہ جو چیزیں خدا کی طرف سے ہیں اُن کا بے نظیر ہونا اور پھر ان کی بے نظیری ان کی منجانب اللہ ہونے پر دلیل قاطع ہونا ان کی صادر من اللہ ہونے کے لئے شرط ضروری ہے۔ تو اِس تحقیق سے جھوٹ اُن لوگوں کا صاف کھل گیا جن کی یہ رائے ہے کہ کلام الٰہی کا بے نظیر ہونا ضروری نہیں یا اس کے بے نظیر ہونے سے اس کا خدا کی طرف سے ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔ لیکن اس جگہ بغرض اتمامِ حجت ان کا ایک وہم جو ان کے دلوں کو پکڑتا ہے دور کرنا قرین مصلحت ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کو بباعث کوتہ اندیشی یہ خیال فاسد دل میں متمکن ہے کہ بہت سی کلام انسان کی دنیا میں ایسی موجود ہیں جن کی مثل آج تک دوسرا کلام نہیں ہوا مگر وہ خدا کی کلام تسلیم نہیں ہوسکتی۔ سو واضح ہو کہ یہ وہم قلت تفکر اور تدبر سے ناشی ہوا ہے۔ ورنہ صاف ظاہر ہے کہ گو کسی بشر کا کلام کیسا ہی صاف اور شستہ ہو مگر اس کی نسبت یہ کہنا جائز نہیں ہوسکتا کہ فی الواقعہ تالیف اُس کی انسانی طاقتوں سے باہر ہے اور مؤلّف نے ایک خدائی کا کام کیا ہے۔ بلکہ جس کو ذرا بھی عقل ہے وہ خوب جانتا ہے کہ جس چیز کو قوائے بشریہ نے بنایا ہے اُس کا بنانا بشری طاقت سے باہر نہیں ورنہ کوئی بشر اس کے بنانے پر قادر نہ ہوسکتا۔ جب تم نے ایک کلام کو بشر کی کلام کہا تو اس ضمن میں تم نے آپ ہی قبول کرلیا کہ بشری طاقتیں اس کلام کو بناسکتی ہیں۔ اور جس صورت میں بشری طاقتیں اس کو بناسکتی ہیں تو پھر وہ بے نظیر کاہے کی ہوئی۔ پس یہ خیال تو سراسر سودائیوں اور مخبط الحواسوں کا سا ہے کہ پہلے ایک چیز کو اپنے منہ سے قویٰ بشریہ کی بنائی ہوئی مان لیں اور پھر آپ ہی بڑبڑائیں کہ اب قویٰ بشریہ اس چیز کی مثل بنانے سے قاصر اور عاجز ہیں اور اس مجنونانہ قول کا خلاصہ یہ ہوگا کہ قویٰ بشریہ ایک چیز کے بنانے پر قادر ہیں اور نہیں۔ اور علاوہ اس کے آج تک کسی انسان نے یہ دعویٰ بھی نہیں کیا کہ میرے کلمات اور مصنوعات خدا کے کلمات اور مصنوعات کی طرح بے مثل و مانند ہیں اور اگر کوئی نادان مغرور ایسا دعویٰ کرتا تو ہزاروں اُس سے بہترتالیفیں کرنے والے اور اس کے منہ میں ذلّت کی خاک بھرنے والے پیدا ہوجاتے۔ یہ خدا ہی کی شان ہے کہ سارے جہان کو اپنی کلام کی مثل پیش کرنے سے عاجز اور قاصر ٹھہراوے اور سخت سخت لفظوں بے ایمان اور ملعون اور جہنمی کہنے سے بلکہ نہ بنانے والوں کے لئے بحالت انکار سزاء موت مقرر کرنے سے خود بار بار اس بات کی طرف جوش دلاوے کہ وہ نظیر بنانے میں کوئی دقیقہ سعی اور کوشش اور اتفاق باہمی کا اٹھا نہ رکھیں اور اپنی جان بچانے کے لئے جان لڑا کر مقابلہ کریں ورنہ اگر یونہی بلاپیش کرنے نظیر کے انکار کرتے رہیں تو اپنے گھر کو غارت اور اپنی عورتوں کی ٭ کنیز کیں اور اپنے آپ کو مقتول سمجھیں۔ کیا ایسا دعویٰ اور پھر اس زور و شور کا کبھی کسی انسان نے بھی کیا؟ ہرگز نہیں۔ پس جس حالت میں کسی بشر نے اپنی کلام کے بے مثل ہونے میں دم بھی نہ مارا۔ اور نہ اپنی قویٰ کو قویٰ بشریہ سے کچھ زیادہ خیال کیا بلکہ صدہا نامی گرامی شاعروں نے لڑ کر مرنا اختیار کیا مگر قرآن شریف جیسا کوئی کلام بقدر ایک سورت بھی نہ بناسکے تو پھر خواہ نخواہ ان بیچاروں کی کلام خام کو بے نظیر ٹھہرانا اور صفت کاملہ خاصہ الٰہیہ میں انہیں شریک کرنا پرلے درجے کی نادانی و کوری ہے۔ کیونکہ جو شخص اِس قدر دلائل واضحہ سے خدا اور انسان کے کاموں میں صریح فرق دیکھے اور پھر نہ دیکھے۔ وہ اندھا اور نادان ہی ہوا اَور کیا ہوا۔ پس اس تمام تحقیقات سے ظاہر ہے کہ بے نظیر ہونے کی حقیقت اور کیفیت ربانی کام اور کلام سے مختص ہے اور ہریک دانشمند جانتا ہے کہ خدا کی خدائی ماننے کے لئے بڑا بھارا ذریعہ جو کہ عقل کے ہاتھ میں ہے وہ یہی ہے کہ ہریک صادر من اللہ ایسی بے نظیری کے رتبہ پر ہے کہ اس صانع وحید کے وجود پر دلالت کامل کررہا ہے۔ اور اگر یہ ذریعہ نہ ہوتا تو پھر عقل کو خدا تک پہنچنے کا راستہ مسدود تھا۔ اور جبکہ خدا کو شناخت کرنا اسی اُصول سے وابستہ ہے کہ جو کچھ اس کی طرف سے ہے وہ بے نظیر مان لیں۔ تو پھربندوں کے لئے بھی وہی صفت تجویز کرنا جو کہ خدا کی صفت خاصہ ہے عقل اور ایمان کی بیخ کنی ہے۔ جبکہ یہ بات نہایت واضح اور مضبوط دلائل سے ثابت ہوتی ہے کہ بندوں کا کوئی کام بے نظیر نہیں اور خدا کے سارے کام اور جو کچھ اُس سے صادر ہوا بے نظیر ہے تو پھر اگر تم کو ایسی استقراء تام پر بھی اعتبار نہیں کہ جو خدا کے سارے قانون قدرت پر نظر کرکے بنایا گیا ہے تو عقل اور قانون قدرت کا نام نہ لو اور منطق اور فلسفہ کی بیسود کتابوں کو چاک کرکے دریا برد کرو۔ کیا تم کو یہ بات منہ سے نکالتے ہوئے شرم نہیں آتی کہ ایک مکھی جس کے دیکھنے سے بھی طبیعتیں کراہت کرتی ہیں وہ اپنی ظاہری صورت اور باطنی ترکیب میں ایسی بے مثل ہے کہ اس پر نظر کرنے سے اس کا خدا کی طرف سے ہونا ثابت ہوتا ہے۔ لیکن خدا کے کلام کی فصاحت اور بلاغت ایسی بے نظیر نہیں ہوسکتی جس پر نظر کرنے سے اس کلام کا خدا کی طرف سے ہونا ثابت ہو۔ غافلو! اور عقل کے اندھو! کیا تمہارے نزدیک خدا کے کلام کی فصاحت بلاغت مکھی کے پروں اور پاؤں سے بھی درجہ میں کمتر اور خوبی میں فروتر ہے۔ کیا افسوس کا مقام ہے کہ ایک مچھر کی ترکیب جسمی کی نسبت تم صاف اقرار کرتے ہو کہ ایسی ترکیب انسان سے نہیں بن سکتی اور نہ آئندہ بنے گی لیکن کلام الٰہی کی نسبت کہتے ہو کہ وہ بن سکتی ہے۔ بلکہ بطور بحث اور مجادلہ کے یہ حجت پیش کرتے ہو کہ گو اب تک کوئی انسان اس کے بنانے پر قادر نہیں ہوا مگر اس کا کیا ثبوت ہے کہ آئندہ بھی قادر نہ ہو۔ نادانو!اس کا وہی ثبوت ہے جس کو تم مچھر اور مکھی میں اور درختوں کے ہر یک پتے میں خوب سمجھتے اور تسلیم کرتے ہو۔ مگر اس ربانی نورکے دیکھنے کے وقت تمہاری آنکھیں الو کی طرح اندھی ہوجاتی ہیں یا دھندلا جاتی ہیں۔ اس لئے تم مگس طینتی سے مگس ہی کی عظمت کے قائل ہو خدا کے نور کی عظمت کے قائل نہیں۔ جن لفظوں کو کہتے ہو کہ معانی کی طرح وہ بھی خدا ہی کے مونہہ سے نکلے ہیں اُن کو تم اس لعاب کے برابر نہیں سمجھتے کہ جو مکھی کے منہ سے نکلتا ہے یعنے تمہارے نزدیک انسان شہد بنانے پر تو قادر نہیں پر خدا کی کلام کے بنانے پر قادر ہے۔ تمہاری نگاہ میں کیڑے مکوڑے کیسے جچ گئے اور ایسے من کو بھاگئے کہ خدا کی کلام ان کی مانند بھی نہیں۔ جاہلو! اگر خدا کی کلام بے مثل نہیں تو کیڑوں اور درختوں کے پتوں کے بے مثل ہونے کی تم کو کہاں سے خبر پہنچ گئی۔ تم ذرا سوچتے نہیں کہ اگر کلام ربانی کی ترکیب میں ایک کیڑے کی ترکیب جتنی بھی کمالیت نہیں تو گویا یہ خدا پر ہی اعتراض ٹھہرا جس نے ادنیٰ کو اعلیٰ سے زیادہ تر شرف دے دیا اور ادنیٰ کو اپنی ذات پر وہ دلالتیں بخشیں کہ جو اعلیٰ کو نہیں۔
جمال و حسن قرآں نور جانِ ہر مسلماں ہے
قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے
نظیر اس کی نہیں جمتی نظر میں فکر کر دیکھا
بھلا کیونکر نہ ہو یکتا کلامِ پاک رحماں ہے
بہار جاوداں پیدا ہے اس کی ہر عبارت میں
نہ وہ خوبی چمن میں ہے نہ اس سا کوئی بستاں ہے
کلام پاک یزداں کا کوئی ثانی نہیں ہرگز
اگر لولوئے عماں ہے وگر لعل بدخشاں ہے
خدا کے قول سے قول بشر کیونکر برابر ہو
وہاں قدرت یہاں درماندگی فرق نمایاں ہے
ملائک جس کی حضرت میں کریں اقرار لاعلمی
سخن میں اس کے ہمتائی کہاں مقدور انساں ہے
بنا سکتا نہیں اک پاؤں کیڑے کا بشر ہرگز
تو پھر کیونکر بنانا نور حق کا اُس پہ آساں ہے
ارے لوگو کرو کچھ پاس شان کبریائی کا
زباں کو تھام لو اب بھی اگر کچھ بوئے ایماں ہے
خدا سے غیر کو ہمتا بنانا سخت کفراں ہے
خدا سے کچھ ڈرو یا رویہ کیسا کذب و بہتاں ہے
اگر اقرار ہے تم کو خدا کی ذات واحد کا
توپھر کیوں اسقدر دل میں تمہارے شرک پنہاں ہے
یہ کیسے پڑ گئے دل پر تمہارے جہل کے پردے
خطا کرتے ہو باز آؤ اگر کچھ خوف یزداں ہے
ہمیں کچھ کیں نہیں بھائیو! نصیحت ہے غریبانہ
کوئی جوپاک دل ہووے دل وجاں اُس پہ قرباں ہے
اگرچہ یہاں تک جو کچھ کلام الٰہی کی بے نظیری کے بارے میں بیان کیا گیا ہے وہ اس زمانہ کے بعض ناقص الفہم اور آزاد مشرب مسلمانوں کے لئے بیان ہوا ہے جن کو انگریزی کی سوفسطائی اور مغشوش تعلیموں نے مغرور اور کور باطن کرکے فرقان مجید کے بے مثل و مانند ہونے سے جو کہ اس کے منجانب اللہ ہونے کے لئے خاصہ لازمی ہے روگردان اور منکر کردیا ہے۔ اور جنہوں نے مسلمان کہلا کر اور قرآن شریف پر ایمان لاکر اور کلمہ گو بنکر پھر بھی بے ایمانوں کی طرح کلام الٰہی کو ایک ادنیٰ انسان کی کلام سے اپنی ظاہری اور باطنی خوبیوں میں برابر سمجھا ہے۔ وما قدروا اللہ حق قدرہ کا مصداق ہوکر خدا کی ان عظیم الشان قدرتوں اور باریک حکمتوں کو بھلا دیا ہے جن کے دیکھنے کے لئے ہریک صادر من اللہ آئینہ خدانما ہونا چاہئے لیکن یہ سچائیاں ایسی روشن اور صاف ہیں کہ گو کوئی شخص اسلام کی جماعت میں داخل نہ ہو وہ بھی بطور مفہوم کلی سمجھ سکتا ہے کہ جس کلام کو خدا کا کلام کہا جائے۔ اس کا بے مثل و مانند ہونا نہایت ضروری ہے کیونکہ ہریک عاقل خدا کے قانون قدرت پر نظر ڈال کر اور ہر یک چیز کو جو اس کی طرف سے ہے خواہ وہ کیسی ہی ادنیٰ سے ادنیٰ ہو اُس کو ہزارہا دقائق حکمت سے پُر دیکھ کر اور انسانی طاقتوں کے مقابلہ سے برتر اور بلند پاکر اپنے تئیں اس اقرار کے کرنے کے لئے مجبور پاتا ہے کہ کوئی چیز جو صادر من اللہ ہے ایسی نہیں ہے جس کی مثل بنانے پر انسان قادر ہو اور نہ کسی عاقل کی عقل یہ تجویز کرسکتی ہے کہ خدا کی ذات یا صفات یا افعال میں مخلوق کا شریک ہونا جائز ہے بلکہ صاحب عقل اور بصیرت کے لئے علاوہ دلائل متذکرہ بالا کے کئی ایک اور وجوہ بھی ہیں جن سے خدا کے کلام کا عدیم المثال ہونا اور بھی زیادہ اس پر واضح ہوتا ہے اور مثل اجلیٰ بدیہات کے نظر آتا ہے جیسے منجملہ ان کے ایک وہ وجہ ہے جو ان نتائج متفاوتہ سے ماخوذ ہوتی ہے۔ جن کا مختلف طور پر بحالت عمل صادر ہونا ضروری ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ ہرایک عاقل کی نظر میں یہ بات نہایت بدیہی ہے کہ جب چند متکلمین انشاپرداز اپنی اپنی علمی طاقت کے زور سے ایک ایسا مضمون لکھنا چاہیں کہ جو فضول اور کذب اور حشو اور لغو اور ہزل اور ہر یک مہمل بیانی اور ژولیدہ زبانی اور دوسرے تمام امور مخل حکمت وبلاغت اور آفات منافی کمالیت وجامعیت سے بکلّی منزہ اور پاک ہو۔ اور سراسر حق اور حکمت اور فصاحت اور بلاغت اور حقائق اور معارف سے بھرا ہوا ہو تو ایسے مضمون کے لکھنے میں وہی شخص سب سے اول درجہ پر رہے گا کہ جو علمی طاقتوں اور وسعت معلومات اور عام واقفیت اور ملکہ علوم دقیقہ میں سب سے اعلیٰ اور مشق اور ورزشِ املاء و انشاء میں سب سے زیادہ تر فرسودہ روزگار ہو اور ہرگز ممکن نہ ہوگا کہ جو شخص اس سے استعداد میں، علم میں، لیاقت میں، ملکہ میں، ذہن میں، عقل میں کہیں فروتر اور متنزل ہے وہ اپنی تحریر میں من حیث الکمالات اُس سے برابر ہوجائے مثلاً ایک طبیب حاذق جو علم ابدان میں مہارت تامہ رکھتا ہے جس کو زمانہ دراز کی مشق کے باعث سے تشخیص امراض اور تحقیق عوارض کی پوری پوری واقفیت حاصل ہے اور علاوہ اس کے فن سخن میں بھی یکتا ہے اور نظم اور نثر میں سرآمد روزگار ہے۔ جیسے وہ ایک مرض کے حدوث کی کیفیت اور اُس کی علامات اور اسباب فصیح اور وسیع تقریر میں بکمال صحت و حقانیت اور بہ نہایت متانت و بلاغت بیان کرسکتا ہے۔ اس کے مقابلے پر کوئی دوسرا شخص جس کو فن طبابت سے ایک ذرہ مس نہیں اور فن سخن کی نزاکتوں سے بھی ناآشنا محض ہے ممکن نہیں کہ مثل اسکے بیان کرسکے۔ یہ بات بہت ہی ظاہر اور عام فہم ہے کہ جاہل اور عاقل کی تقریرمیں ضرور کچھ نہ کچھ فرق ہوتا ہے اور جس قدر انسان کمالات علمیہ رکھتا ہے۔ وہ کمالات ضرور اس کی علمی تقریر میں اس طرح پر نظر آتے ہیں۔ جیسے ایک آئینہ صاف میں چہرہ نظر آتا ہے۔ اور حق اور حکمت کے بیان کرنے کے وقت وہ الفاظ کہ جو اس کے مونہہ سے نکلتے ہیں۔ اس کی لیاقت علمی کا اندازہ معلوم کرنے کے لئے ایک پیمانہ تصور کئے جاتے ہیں اور جو بات وسعت علم اور کمالِ عقل کے چشمہ سے نکلتی ہے اور جو بات تنگ اور منقبض اور تاریک اور محدود خیال سے پیدا ہوتی ہے۔ ان دونوں طور کی باتوں میں اس قدر فرق واضح ہوتا ہے کہ جیسے قوتِ شامہ کے آگے بشرطیکہ کسی فطرتی یا عارضی آفت سے ماؤف نہ ہو خوشبو اور بدبو میں فرق واضح ہے۔ جہاں تک تم چاہو فکر کرلو اور جس حد تک چاہو سوچ لو کوئی خامی اس صداقت میں نہیں پاؤ گے۔ اور کسی طرف سے کوئی رخنہ نہیں دیکھو گے۔ پس جبکہ من کل الوجوہ ثابت ہے کہ جو فرق علمی اور عقلی طاقتوں میں مخفی ہوتا ہے۔ وہ ضرور کلام میں ظاہر ہوجاتا ہے اور ہرگز ممکن ہی نہیں کہ جو لوگ من حیث العقل والعلم افضل اور اعلیٰ ہیں وہ فصاحت بیانی اور رفعت معانی میں یکساں ہوجائیں اور کچھ مابہ الامتیاز باقی نہ رہے۔ تو اس صداقت کا ثابت ہونا اس دوسری صداقت کے ثبوت کو مستلزم ہے کہ جو کلام خداکا کلام ہو اس کا انسانی کلام سے اپنے ظاہری اور باطنی کمالات میں برتر اور اعلیٰ اور عدیم المثال ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ خدا کے علم تام سے کسی کا علم برابر نہیں ہوسکتا۔ اور اسی کی طرف خدا نے بھی اشارہ فرما کر کہا ہے۔ فَاِلَّمۡ یَسۡتَجِیۡبُوۡا لَکُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ بِعِلۡمِ اللّٰہِ (ھود: ۱۵) ۔ الجزو نمبر ۱۲۔ یعنے اگر کفار اس قرآن کی نظیر پیش نہ کرسکیں اور مقابلہ کرنے سے عاجز رہیں۔ تو تم جان لو کہ یہ کلام علم انسان سے نہیں بلکہ خداکے علم سے نازل ہوا ہے۔ جس کے علم وسیع اور تام کے مقابلہ پر علوم انسانیہ بے حقیقت اور ہیچ ہیں۔ اس آیت میں بُرہانِ اِنّی کی طرز پر اثر کے وجود کو مؤثر کے وجود کی دلیل ٹھہرائی ہے جس کا دوسرے لفظوں میں خلاصہ مطلب یہ ہے کہ علم الٰہی بوجہ اپنی کمالیّت اور جامعیت کے ہرگز انسان کے ناقص علم سے متشابہ نہیں ہوسکتا۔ بلکہ ضرور ہے کہ جو کلام اس کامل اور بے مثل علم سے نکلا ہے۔ وہ بھی کامل اور بے مثل ہی ہو۔ اور انسانی کلاموں سے بکلّی امتیاز رکھتا ہو۔ سو یہی کمالیت قرآن شریف میں ثابت ہے۔ غرض خدا کے کلام کا انسان کے کلام سے ایسا فرق بین چاہئے۔ جیسا خدا اور انسان کے علم اور عقل اور قُدرت میں فرق ہے۔ جس حالت میں افراد انسانی نوع واحد میں داخل ہوکر پھر بھی بوجہ تفاوت علم اور عقل اور تجربہ اور مشق کے متفاوت البیان پائی جاتی ہیں اور وسیع العلم اور قوی العقل کے فکر رسا تک محدود العلم اور ضعیف العقل ہرگز نہیں پہنچ سکتا۔ تو پھر خدا جو شرکت نوعی سے بکلی پاک اور بلاشُبہ مُستجمع کمالات تامہ اور اپنی جمیع صفات میں واحد لاشریک ہے۔ اس سے مساوات کسی ذرہ امکان کی کیونکر جائز ہو اور کیونکر کوئی مخلوق ہوکر خالق کے علوم غیر متناہیہ سے اپنے ہیچ اور ناچیز علم کو برابر کرسکے۔ کیا اس صداقت کے ثابت ہونے میں ابھی کچھ کسر رہ گئی ہے کہ کلام کی تمام ظاہری باطنی شوکت و عظمت علمی طاقتوں اور عملی قدرتوں کے تابع ہے۔ کیا کوئی ایسا انسان بھی ہے جس نے اپنے ذاتی تجربہ اور مشاہدہ سے کسی جزئی میں اس سچائی کو دیکھ نہیں لیا؟ پس جبکہ یہ صداقت اس قدر قوی اور مستحکم اور شائع اور متعارف ہے کہ کسی درجہ کی عقل اس کے سمجھنے سے قاصر نہیں تو اس صورت میں نہایت درجہ کا نادان وہ شخص ہے کہ جو افرادناقصہ انسانی میں تو اس صداقت کو مانتا ہے مگر اس ذات کامل کے کلام مقدس میں جس کا اپنے علوم تامہ میں یکتا اور بے نظیر ہونا سب کے نزدیک مسلم ہے۔ صداقت مذکورہ کے ماننے سے مونہہ پھیرتا ہے۔ بعض اسلام کے مخالف یہ حجت پیش کرتے ہیں کہ اگرچہ عقلی طور پر یہی واجب معلوم ہوتا ہے کہ کلام خدا بے مثل چاہئے۔ لیکن ایسا کلام کہاں ہے جس کا بے مثل ہونا کسی صریح دلیل سے ثابت ہو۔ اگر قرآن بے نظیر ہے تو اس کی بے نظیری کسی واضح دلیل سے ثابت کرنی چاہئے۔ کیونکہ اس کی بے مثل بلاغت پر صرف وہی شخص مطلع ہوسکتا ہے جس کی اصل زبان عربی ہو۔ اور لوگوں پر اس کی بے نظیری حجت نہیں ہوسکتی اور نہ وہ اس سے منتفع ہوسکتے ہیں۔ اما الجواب واضح ہو کہ یہ عذر خام انہیں لوگوں کا ہے جنہوں نے دلی صدق سے کبھی اس طرف توجہ نہیں کی کہ قرآن کی بے نظیری کو کسی صاحب علم سے معلوم کریں۔ بلکہ فرقانی نوروں کو دیکھ کر دوسری طرف مونہہ پھیر لیتے ہیں تا ایسا نہ ہو کہ کسی قدر پرتَوہ اس نور کا ان پر پڑ جائے۔ ورنہ قرآن شریف کی بے نظیری حق کے طالبوں کے لئے ایسی ظاہر اور روشن ہے کہ جو آفتاب کی طرح اپنی شعاعوں کو ہر طرف پھیلا رہی ہے جس کے سمجھنے اور جاننے کے لئے کوئی دقت اور اشتباہ نہیں۔ اور اگر تعصب اور عناد کی تاریکی درمیان میں نہ ہو۔ تو وہ کامل روشنی ادنیٰ التفات سے معلوم ہوسکتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ فرقان مجید کی بے نظیری کی بعض وجوہ ایسی ہیں کہ ان کے جاننے کے لئے کسی قدر علم عربی درکار ہے۔ مگر یہ بڑی غلطی اور جہالت ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ اعجاز قرآن کی تمام وجوہ عربی دانی پر ہی موقوف ہیں یا تمام عجائبات قرآنیہ اور جمیع خواص عظمیٰ فرقانیہ صرف عربوں پر ہی کھل سکتے ہیں اور دوسروں کے لئے تمام راہیں انکے دریافت کرنے کی مسدود ہیں۔ ہرگز نہیں۔ ہرگز نہیں۔ یہ بات ہریک اہل علم پر واضح ہے کہ اکثر وجوہ بینظیری فرقان کی ایسی سہل اور سریع الفہم ہیں کہ جن کے جاننے اور معلوم کرنے کیلئے کچھ بھی لیاقت عربی درکار نہیں۔ بلکہ اس درجہ پر بدیہی اور واضح ہیں کہ ادنیٰ عقل جو انسانیت کیلئے ضروری ہے اُن کے سمجھنے کیلئے کفایت کرتی ہے۔ مثلاً ایک یہ وجہ بے نظیری کہ وہ باوجود اس قدر ایجاز کلام کے کہ اگر اس کو متوسط قلم سے لکھیں تو پانچ چارجز میں آسکتا ہے۔ پھر تمام دینی صداقتوں پر کہ جو بطور متفرق پہلی کتابوں میں اور انبیاء سلف کے صحیفوں میں پراگندہ اور منتشر تھیں مشتمل ہے۔ اور نیز اس میں یہ کمال ہے کہ جس قدر انسان محنت اور کوشش اور جانفشانی کرکے علم دین کے متعلق اپنے فکر اور ادراک سے کچھ صداقتیں نکالے یا کوئی باریک دقیقہ پیدا کرے یا اسی علم کے متعلق کسی قسم کے اور حقائق اور معارف یا کسی نوع کے دلائل اور براہین اپنی قوت عقلیہ سے پیدا کرکے دکھلاوے یا ایسا ہی کوئی نہایت دقیق صداقت جس کو حکمائے سابقین نے مدت دراز کی محنت اور جانفشانی سے نکالا ہو معرض مقابلہ میں لاوے یا جس قدر مفاسد باطنی اور امراض روحانی ہیں جن میں اکثر افراد مبتلا ہوتے ہیں۔ ان میں سے کسی کا ذکر یا علاج قرآن شریف سے دریافت کرنا چاہے۔ تو وہ جس طور سے اور جس باب میں آزمائش کرنا چاہتا ہے آزما کر دیکھ لے کہ ہریک دینی صداقت اور حکمت کے بیان میں قرآن شریف ایک دائرہ کی طرح محیط ہے جس سے کوئی صداقت دینی باہر نہیں۔ بلکہ جن صداقتوں کو حکیموں نے بباعث نقصان علم و عقل غلط طور پر بیان کیا ہے۔ قرآن شریف ان کی تکمیل و اصلاح فرماتا ہے اور جن دقائق کا بیان کرنا کسی حکیم و فلاسفر کو میسر نہیں آیا۔ اور کوئی ذہن ان کی طرف سبقت نہیں لے گیا اُن کو قرآن شریف بکمال صحت و راستی بیان اور ظاہر فرماتا ہے اور ان دقائق علم الٰہی کو کہ جو صدہا دفتروں اور طویل کتابوں میں لکھے گئے تھے اور پھر بھی ناقص اور ناتمام تھے۔ باستیفا تمام لکھتا ہے اور آئندہ کسی عاقل کیلئے کسی نئے دقیقہ کے پیدا کرنے کی جگہ نہیں چھوڑتا۔ حالانکہ وہ اسقدر قلیل الحجم کتاب ہے کہ جو بہ تحریر میانہ چالیس ورق سے زیادہ نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسی وجہ بینظیری ہے جس کی صداقت میں ایک ادنیٰ عقل کے آدمی کو بھی شک نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ ہریک عقل سلیم پر روشن ہے کہ ہریک نوع کی دینی سچائیاں اور الٰہیات کے تمام حقائق اور معارف اور اصول حقہ کے جمیع دلائل اور وسائل اور تمام اوّلین آخرین کا مغز ایک قلیل المقدار کتاب میں اس احاطہ تام سے درج کرنا جس کے مقابلہ پر کسی ایسی صداقت کا نشان نہ مل سکے کہ جو اس سے باہر رہ گئی ہو۔ یہ انسان کا کام نہیں اور کسی مخلوق کی حد قدرت میں داخل نہیں اور اس کے آزمانے کے لئے بھی ہر یک خواندہ اور ناخواندہ پر صاف اور سیدھا راستہ کھلا ہے۔ کیونکہ اگر اس امر میں شک ہو۔ کہ قرآن شریف کیونکر تمام حقائق الٰہیات پر حاوی ہے۔ تو اس بات کا ہم ہی ذمہ اٹھاتے ہیں کہ اگر کوئی صاحب طالب حق بن کر یعنے اسلام قبول کرنے کا تحریری وعدہ کرکے کسی کتاب عبرانی یونانی، لاطینی، انگریزی، سنسکرت وغیرہ سے کسی قدر دینی صداقتیں نکال کر پیش کریں یا اپنی ہی عقل کے زور سے کوئی الٰہیات کا نہایت باریک دقیقہ پیدا کرکے دکھلاویں تو ہم اسکو قرآن شریف میں سے نکال دیں گے بشرطیکہ اسی کتاب کی اثناء طبع میں ہمارے پاس بھیج دیں تا وہ اس کے کسی مقام مناسب میں بطور حاشیہ مندرج ہوکر شائع ہوجائے۔ مگر ایسے سوال کے پیش کرنے میں یہ شرط بھی بخوبی یاد رہے کہ جو صاحب محرک اس بحث کے ہوں۔ وہ اول صدق اور صفائی سے کسی اخبار میں شائع کرادیں کہ یہ بحث محض طلب حق کی غرض سے کرتے ہیں اور اپنا پورا پورا جواب پانے سے مسلمان ہونے پر مستعد ہیں۔ کیونکہ جس کی نیت میں حق کی طلب نہیں اور دل میں خدا کا خوف نہیں اور محض خبث باطنی سے مفسدوں کی طرح بیہودہ گفتگو کرتا ہے۔ اُس کی طرف متوجہ ہونا تضییع اوقات ہے۔ ایسا ہی ایک دوسری وجہ بے نظیری ہے کہ جوہریک طالب حق کو آسانی سے سمجھ آسکتی ہے۔ یعنے یہ کہ قرآن شریف باوجود اس ایجاز اور اس احاطہ حق اور حکمت کے جس کا پہلی وجہ میں ذکر ہوچکا ہے۔ عبارت میں اس قدر فصاحت اور موزونیت اور لطافت اور نرمی اور آب و تاب رکھتا ہے کہ اگر کسی سرگرم نکتہ چین اور سخت مخالف اسلام کو کہ جو عربی کی املاء انشاء میں کامل دستگاہ رکھتا ہو۔ حاکم بااختیار کی طرف سے یہ پُر تہدید حکم سنایا جائے کہ اگر تم مثلاً بیس برس کے عرصے میں کہ گویا ایک عمر کی میعاد ہے۔ اس طور پر قرآن کی نظیر پیش کرکے نہ دکھلاؤ کہ قرآن کے کسی مقام میں سے صرف دو چار سطر کا کوئی مضمون لے کر اسی کے برابر یا اس سے بہتر کوئی نئی عبارت بنا لاؤ۔ جس میں وہ سب مضمون معہ اپنے تمام دقائق حقائق کے آجائے اور عبارت بھی ایسی بلیغ اور فصیح ہو جیسی قرآن کی تو تم کو اس عجز کی وجہ سے سزائے موت دی جاوے گی تو پھر بھی باوجود سخت عناد اور اندیشہ رسوائی اور خوف موت کی نظیر بنانے پر ہرگز قادر نہیں ہوسکتا اگرچہ دنیا کے صدہا زبان دانوں اور انشا پردازوں کو اپنے مددگار بنالے۔ یہ مثال متذکرہ بالا کوئی خیالی اور فرضی بات نہیں ہے بلکہ یہ واقعہ حقہ ہے جس کا قرآن شریف ہی کے وقت میں امتحان ہوچکا ہے اور جس کی سچائی ابتداء سے ہریک طالب حق پر آج تک ثابت ہوتی چلی آئی ہے اور اب بھی اگر کوئی طالبِ حق اِس معجزۂ قرآنی کو بچشم خود دیکھنا چاہتا ہے تو اس بات کا ہم ہی ذمہ اٹھاتے ہیں کہ یہ معجزہ بھی نہایت آسانی سے اس پر ثابت کر دیں گے۔ اور اس بات کا امتحان کرنا اور حق اور باطل میں فرق معلوم کر لیناکچھ مشکل بات نہیں۔ کوئی ایسا امر نہیں جس میں کچھ خرچ ہوتا ہے یا کسی اور قسم کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ صرف طالب حق پر یہ لازم ہے کہ اپنی حسب مرضی قرآن شریف کے کسی مقام میں سے کوئی مضمون لیکر کسی عربی دان کو کہ جوآج کل اس ملک میں لاکھوں نظر آتے ہیں اس فہمائش سے دیوے کہ وہ اس مضمون کو معہ جمیع لطائف اور نکات اسکے کے اپنی عبارت میں بنادے۔ پس جب ایسا مضمون بن کر طیار ہوجائے تو وہ ہمارے پاس بھیج دینا چاہئے اور ہم اس عبارت کا کمالات قرآنی سے محروم اور بے نصیب ہونا ایسی واضح تقریر سے بیان کردیں گے جس بیان کو ہریک اردو خوان بخوبی سمجھ سکے گا۔ اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جیسے اور چیزوں کے خواص متواتر تجربہ اور آزمائش سے معلوم ہوتے ہیں۔ ایسا ہی بے نظیری کا خاصہ کہ جو قرآن شریف کی فصاحت و بلاغت میں پایا جاتا ہے۔ وہ بھی بذریعہ تجربہ اور آزمائش ہی معلوم ہوتا ہے۔ خدا نے خواص الاشیاء کی سچائی معلوم کرنے کا یہی ایک طریق رکھا ہے کہ جس کسی شے کے کسی خاصہ کے وجود میں شک ہو تو اس کو اس قدر آزمایا جاوے جس سے دلی اطمینان پیدا ہوجائے۔ اور جو شخص بعد آزمائش ایک خاصہ کے کہ جو ایک شے میں پایا جاتا ہے پھر بھی یہ وہم کرے کہ کیوں یہ خاصہ اس شے میں پایا جاتا ہے تو وہ شخص حقیقت میں پاگل اور سودائی ہے۔ مثلاً جب ایک شخص نے کئی دفعہ آزما کر دیکھ لیا۔ اور بار بار تجربہ کرکے معلوم کرلیا کہ سم الفار بالخاصیت قاتل ہے۔ اگر وہ پھر بھی سم الفار کی اس خاصیت سے اس خیال سے انکار کرتا رہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ کیوں وہ قاتل ہے۔ تو ایسا شخص دانشمندوں کی نظر میں دیوانہ بلکہ دیوانوں سے بدتر ہے۔ کیونکہ اول تو یہ صداقت فی حد ذاتہ واقعی اور درست ہے کہ موجودات میں طرح طرح کے خواص پائے جاتے ہیں۔ اور پھر جب ایک شے معین کا خاصہ بذریعہ تجارب متواترہ ثابت بھی ہوگیا تو اس سے انکار کرنا اگر حمق اور دیوانگی نہیں تو اور کیا ہے۔ اور سب سے زیادہ تر حمق یہ ہے کہ حضرت باری کے خواص صفات اور افعال سے انکار کیا جائے۔ کیونکہ دوسری چیزوں کا خاصہ کہ جو ان کے غیر میں نہیں پایا جاتا محض تجربہ سے ثابت ہوتا ہے اور کوئی عقلی دلیل اس کی ضرورت پر قائم نہیں ہوتی۔ مگر جیسا کہ ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں خدا کے خواص کا ضروری ہونا
براہین احمدیہ حصہ سوم یہاں ختم ہوا۔ تسلسل کے لئے ذیل کا مضمون براہین احمدیہ حصہ چہارم سے لیا گیا ہے۔ (ناشر)
یعنی اس کی ذات اور صفات اور افعال کا شرکت غیر سے پاک ہونا اور قدرت کاملہ سے بھرے ہوئے ہونا یہ ایسا امر نہیں ہے کہ جو فقط تجربہ سے ثابت ہوا ہو بلکہ دلائل عقلیہ بھی خدا کا اپنی ذات اور جمیع صفات اور افعال میں واحد لاشریک ہونا ضروری اور واجب ٹھہراتے ہیں۔ اور اس کی الوہیّت کے تحقق کو انہیں خواص کے تحقق سے مشروط قرار دیتے ہیں۔ پس اب ان نادانوں کو ذرا حیا اور شرم کو کام میں لاکر غور کرنی چاہئے جنہوں نے کلام الٰہی کی بے نظیری کی عدم تسلیم میں صرف یہ اعتراض بنا رکھا ہے کہ جس حالت میں خدا کا کلام بھی ہمارے کلام کی جنس میں سے ہے اور انہیں کلمات اور الفاظ سے مرکب ہے جن سے ہمارا کلام مرکب ہے تو پھر کیا وجہ کہ اس کی مثل بنانے پر ہم قادر نہ ہوسکیں۔ ایسے لوگوں کی حالت پر رونا آتا ہے جن کو ایسی مستحکم اور بدیہی صداقت کہ جو دلائل قاطعہ سے ثابت ہے سمجھ آنے سے رہ گئی۔ اگر ان میں ذرا عقلِ خداداد ہوتی تو اس بیہودہ اعتراض کرنے کے وقت اول یہی سوچتے کہ کیا خدا کا اپنی ذات اور صفات اور جمیع افعال میں واحد لاشریک ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ اور اگر اس دلیل کو نہیں سوچا تھا تو کاش اس دوسری دلیل کو ہی سوچا ہوتا کہ جس ذات کو علمی اور قدرتی طاقتوں میں سب سے زیادہ اور بے مثل و مانند تسلیم کرتے ہیں ان طاقتوں کے آثار کو بھی بے مثل و مانند ماننا چاہئے کیونکہ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کلام کی عظمت و شوکت متکلم کی علمی طاقتوں کے تابع ہے جو کوئی علمی طاقتوں میں زیادہ تر ہے اس کی تقریر کی عظمت و شوکت بھی زیادہ تر ہے اور اگر اس دلیل کو بھی نظر سے ساقط کردیا تھا تو کاش مسئلہ خواص الاشیاء حق کا یاد رکھتے۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ صدہا چیزیں ایک ہی جنس کی ہوتی ہیں بلکہ ایک ہی صنف کے تحت میں داخل ہوتی ہیں مگر پھر بھی حکیم مطلق نے ہریک چیز میں جدا جدا خواص مودّع کئے ہیں۔
یہ اعلان ایڈیشن طبع دوم ۱۹۰۰ء میں موجود نہیں ہے طبع اوّل ۱۸۸۴ء و طبع سوم ۱۹۰۵ء میں موجود ہے۔ (شمسؔ)
↩اب ٭ کی دفعہ کہ جو حصہ سوم کے نکلنے میں حد سے زیادہ توقف ہوگئی۔ غالباً اس توقف سے اکثر خریدار اور ناظرین بہت ہی حیران ہوں گے اور کچھ تعجب نہیں کہ بعض لوگ طرح طرح کے شکوک و شبہات بھی کرتے ہوں۔ مگر واضح رہے کہ یہ توقف ہماری طرف سے ظہور میں نہیں آئی بلکہ اتفاق یہ ہوگیا کہ جب مئی ۱۸۸۱ء کے مہینہ میں کچھ سرمایہ جمع ہونے کے بعد مطبع سفیر ہند امرتسر میں اجزاء کتاب کے چھپنے کے لئے دیئے گئے اور امید تھی کہ غایت کار دو ماہ میں حصہ سوم چھپ کر شائع ہوجائے گا۔ لیکن تقدیری اتفاقوں سے جن میں انسان ضعیف البنیان کی کچھ پیش نہیں جاسکتی۔ مہتمم صاحب مطبع سفیر ہند طرح طرح کی ناگہانی آفات اور مجبوریوں میں مبتلا ہوگئے۔ جن مجبوریوں کی وجہ سے ایک مدت دراز تک مطبع بند رہا۔ چونکہ یہ توقف ان کے اختیار سے باہر تھی۔ اس لئے ان کی قائمی جمعیت تک برداشت سے انتظار کرنا مقتضاء انسانیت تھا۔ سو الحمدللہ کہ بعد ایک مدت کے ان کے موانع کچھ رو بہ خفت ہوگئے اور اب کچھ تھوڑے عرصہ سے حصہ سوم کا چھپنا شروع ہوگیا لیکن چونکہ اس حصہ کے چھپنے میں بوجہ موانع مذکورہ بالا ایک زمانہ دراز گزر گیا۔ اس لئے ہم نے بڑے افسوس کے ساتھ اس بات کو قرین مصلحت سمجھا کہ اس حصہ کے مکمل طور پر چھپنے کا انتظار نہ کیا جائے اور جس قدر اب تک چھپ چکا ہے وہی خریداروں کی خدمت میں بھیجا جاوے تا ان کی تسلی و تشفی کا موجب ہو اور جو کچھ اس حصہ میں سے باقی رہ گیا ہے۔ وہ انشاء اللہ القدیر چہارم حصہ کے ساتھ جو ایک بڑا حصہ ہے چھپوا دیا جائے گا۔
طبع اوّل کا ذکر ہے۔
↩شاید ہم بعض دوستوں کی نظر میں اس وجہ سے قابل اعتراض ٹھہریں کہ ایسے مطبع میں جس میں ہر دفعہ لمبی لمبی توقف پڑتی ہے کیوں کتاب کا چھپوانا تجویز کیا گیا۔ سو اس اعتراض کا جواب ابھی عرض کیا گیا ہے کہ یہ مہتمم مطبع کی طرف سے لاچاری توقف ہے نہ اختیاری۔ اور وہ ہمارے نزدیک ان مجبوریوں کی حالت میں قابل رحم ہیں نہ قابل الزام۔ ماسوائے اس کے مطبع سفیر ہند کے مہتمم صاحب میں ایک عمدہ خوبی یہ ہے کہ وہ نہایت صحت اور صفائی اور محنت اور کوشش سے کام کرتے ہیں اور اپنی خدمت کو عرقریزی اور جانفشانی سے انجام دیتے ہیں۔ یہ پادری صاحب ہیں مگر باوجود اختلاف مذہب کے خدا نے ان کی فطرت میں یہ ڈالا ہوا ہے کہ اپنے کام منصبی میں اخلاص اور دیانت کا کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑتے۔ ان کو اس بات کا ایک سودا ہے کہ کام کی عمدگی اور خوبی اور صحت میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔ انہیں وجوہ کی نظر سے باوجود اس بات کے کہ دوسرے مطابع کی نسبت ہم کواس مطبع میں بہت زیادہ حق الطبع دینا پڑتا ہے۔ تب بھی انہیں کا مطبع پسند کیاگیا اور آئندہ امید قوی ہے کہ انکی طرف سے حصہ چہارم کے چھپنے میں کوئی توقف نہ ہو۔ صرف اس قدر توقف ہوگی کہ جب تک کافی سرمایہ اس حصہ کیلئے جمع ہوجائے۔ سو مناسب ہے کہ ہمارے مہربان خریدار اب کی طرح اس حصہ کے انتظار میں مضطرب اور مترددنہ ہوں جب ہی کہ وہ حصہ چھپے گا۔ خواہ جلدی اور خواہ دیر سے جیسا خدا چاہے گا۔ فی الفور تمام خریداروں کی خدمت میں بھیجا جائے گا۔ اور اس جگہ ان تمام صاحبوں کی توجہ اور اعانت کا شکر کرتا ہوں جنہوں نے خالصاً للہ حصہ سوم کے چھپنے کیلئے مدد دی۔ اور یہ عاجز خاکسار اب کی دفعہ ان عالی ہمت صاحبوں کے اسماء مبارکہ لکھنے سے اور نیز دوسرے خریداروں کے اندراج نام سے بوجہ عدم گنجائش اور بباعث بعض مجبوریوں کے مُقصرّ ہے۔ لیکن بعد اسکے اگر خدا چاہے گااور نیت درست ہوگی تو کسی آئندہ حصہ میں بہ تفصیل تمام درج کئے جائیں گے۔
اور نیز اس جگہ یہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس حصۂ سوم میں تمام وہ تمہیدی امور لکھے گئے ہیں جن کا غور سے پڑھنا اور یاد رکھنا کتاب کے آئندہ مطالب سمجھنے کیلئے نہایت ضروری ہے۔ اور اسکے پڑھنے سے یہ بھی واضح ہوگا کہ خدا نے دین حق اسلام میں وہ عزت اور عظمت اور برکت اور صداقت رکھی ہے جس کا مقابلہ کسی زمانہ میں کسی غیر قوم سے کبھی نہیں ہوسکا اور نہ اب ہوسکتا ہے۔ اور اس امر کو مدلل طور پر بیان کرکے تمام مخالفین پر اتمام حجت کیا گیا ہے اور ہریک طالب حق کیلئے ثبوت کامل پانے کا دروازہ کھول دیا گیا ہے تا حق کے طالب اپنے مطلب اور مراد کو پہنچ جاویں اور تا تمام مخالف سچائی کے کامل نوروں کو دیکھ کر شرمندہ اور لاجواب ہوں اور تا وہ لوگ بھی نادم اور مُنفعل ہوں جنہوں نے یورپ کی جھوٹی روشنی کو اپنا دیوتا بنا رکھا ہے اور آسمانی برکتوں کے قائلوں کو جاہل اور وحشی اور ناتربیت یافتہ سمجھتے ہیں اور سماوی نشانوں کے ماننے والوں کا نام احمق اور سادہ لوح اور نادان رکھتے ہیں۔ جن کا یہ گمان ہے کہ یورپ کے علم کی نئی روشنی اسلام کی روحانی برکتوں کو مٹا دے گی اور مخلوق کا مکر خالق کے نوروں پر غالب آجائے گا۔ سو اب ہریک منصف دیکھے گا کہ کون غالب آیا اور کون لاجواب اور عاجز رہا اور کون صادق اور دانشمند ہے اور کون کاذب اور نادان! واللّٰہ المستعان و علیہ التکلان۔
خاکسار غلام احمدؐ عفی اللہ عنہ۔