
بعالی خدمت تمام معزز اور بزرگ خریداران کتاب براھین احمدیہ کے گزارش کی جاتی ہے کہ کتاب ھٰذا بڑی مبسوط کتاب ہے یہاں تک کہ جس کی ضخامت سو جز سے کچھ زیادہ ہوگی اور تا اختتام طبع وقتاً فوقتاً حواشی لکھنے سے اور بھی بڑھ جائے گی اور ایسی عمدگی کاغذ اور پاکیزگی خط اور دیگر لوازم حسن اور لطافت اور موزونیت سے چھپ رہی ہے کہ جس کے مصارف کا حساب جو لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ اصل اصل قیمت اس کی یعنی جو اپنا خرچ آتا ہے فی جلد پچیس روپیہ ہے۔ مگر ابتدا میں پانچ روپیہ قیمت اسکی اس غرض سے مقرر ہوئی تھی اور یہ تجویز اٹھائی گئی تھی جو کسی طرح سے مسلمانوں میں یہ کتاب عام طور پر پھیل جائے اور اسکا خریدنا کسی مسلمان پر گراں نہ ہو اور یہ امید کی گئی تھی کہ امراء اسلام جو ذی ہمت اور اولی العزم ہیں ایسی ضروری کتاب کی اعانت میں دلی ارادت سے مدد کریں گے تب جبر اس نقصان کا ہوجائے گا۔ پر اتفاق ہے کہ اب تک وہ امید پوری نہیں ہوئی بلکہ بجز عالی جناب حضرت خلیفہ سید محمد حسن خان صاحب بہادر وزیراعظم و دستور معظم ریاست پٹیالہ پنجاب کہ جنہوں نے مسکین طالب علموں کو تقسیم کرنے کیلئے پچاس جلدیں اس کتاب کی خریدیں اور جو قیمت بذریعہ اشتہار شائع ہوچکی تھی وہ سب بھیج دی اور نیز فراہمی خریداروں میں بڑی مدد فرمائی اور کئی طرح سے اور بھی مدد دینے کا وعدہ فرمایا (خدا ان کو اس فعل خیر کا ثواب دے اور اجر عظیم بخشے) اور اکثر صاحبوں نے ایک یا دو نسخہ سے زیادہ نہیں خریدا۔ اب حال یہ ہے کہ اگرچہ ہم نے بموجب اشتہار مشتہرہ سوم دسمبر ۱۸۷۹ء بجائے پانچ روپیہ کے دس روپیہ قیمت کتاب کی مقرر کردی مگر تب بھی وہ قیمت اصل قیمت سے ڈیڑھ حصہ کم ہے۔ علاوہ اس کے اس قیمت ثانی سے وہ سب صاحب مستثنیٰ ہیں جو اس اشتہار سے پہلے قیمت ادا کرچکے لہٰذا بذریعہ اس اعلان کے بخدمت ان عالی مراتب خریداروں کے کہ جن کے نام نامی حاشیہ میں بڑے فخر سے درج ہیں۔ اور دیگر ذی ہمت امراء کے جو حمایت دین اسلام میں مصروف ہورہے ہیں عرض کی جاتی ہے۔ کہ وہ ایسے کار ثواب میں کہ جس سے اعلائے کلمہ اسلام ہوتا ہے اور جس کا نفع صرف اپنے ہی نفس میں محدود نہیں بلکہ ہزارہا بندگان خدا کو ہمیشہ پہنچتا رہے گا۔
۱۔جناب نواب شاہ جہان بیگم صاحبہ بالقابہ فرمان فرمائے بھوپال۔
۲۔ جناب نواب علائو الدین احمد خان بہادر والی لوہارو۔
۳۔ جناب مولوی محمد چراغ علی خان صاحب نائب معتمد مدار المہام دولت آصفیہ حیدر آباد دکن۔
۴۔ جناب غلام قادر خان صاحب وزیر ریاست نالہ گڈھ پنجاب۔
۵۔ جناب نواب مکرم الدولہ بہادر حیدر آباد۔
۶۔ جناب نواب نظیر الدولہ بہادر بھوپال۔
۷۔ جناب نواب سلطان الدولہ بہادر بھوپال۔
۸۔ جناب نواب علی محمد خان صاحب بہادر لودھیانہ پنجاب۔
۹۔ جناب نواب غلام محبوب سبحانی خان صاحب بہادر رئیس اعظم لاہور۔
۱۰۔ جناب سردار غلام محمد خان صاحب رئیس واہ۔
۱ ۱ ۔ جناب مرزا سعید الدین احمد خان صاحب بہادر اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر فیروزپور
اعانت سے دریغ نہ فرماویں کہ بموجب فرمودہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس سے کوئی اور بڑا عمل صالح نہیں کہ انسان اپنی طاقتوں کو ان کاموں میں خرچ کرے کہ جن سے عبادالٰہی کو سعادت اخروی حاصل ہو۔ اگر حضرات ممدوحین اس طرف متوجہ ہوں گے تو یہ کام کہ جس کا انجام بہت روپیہ کو چاہتا ہے اور جس کی حالت موجودہ پر نظر کرکے کئی طرح کی زیر باریاں نظر آتی ہیں نہایت آسانی سے انجام پذیر ہوجائے گا اور امید تو ہے کہ خدا ہمارے اس کام کو جو اشد ضروری ہے ضائع ہونے نہیں دے گا اور جیسا کہ اس دین کے ہمیشہ بطور معجزہ کے کام ہوتے رہے ہیں۔ ایسا ہی کوئی غیب سے مرد کھڑا ہوجائے گا وتوکلنا علی اللہ ھو نعم المولی ونعم النصیر۔
المشــــــــــــــــــــــــــــــــــــتھر
مرزا غلام احمد رئیس قادیان ضلع گورداسپور پنجاب مصنف کتاب
یہ کتاب اب تک قریب نصف کے چھپ چکتی مگر بباعث علالت طبع مہتمم صاحب سفیر ہند امرتسر پنجاب کہ جن کے مطبع میں یہ کتاب چھپ رہی ہے اور نیز کئی اور طرح کی مجبوریوں سے جو اتفاقاً ان کو پیش آگئیں سات آٹھ مہینے کی دیر ہوگئی اب انشاء اللہ آئندہ کبھی ایسی توقف نہیں ہوگی۔
غلام احمد
اُس خداوند عالم کا کیا کیا شکر ادا کیا جائے کہ جس نے اوّل مجھ ناچیز کو محض اپنے فضل اور کرم اور عنایت غیبی سے اس کتاب کی تالیف اور تصنیف کی توفیق بخشی اور پھر اس تصنیف کے شائع کرنے اور پھیلانے اور چھپوانے کے لئے اسلام کے عمائد اور بزرگوں اور اکابر اور امیروں اور دیگر بھائیوں مومنوں اور مسلمانوں کو شائق اور راغب اور متوجہ کردیا۔ پس اس جگہ ان تمام حضرات معاونین کا شکر کرنا بھی واجبات سے ہے کہ جن کی کریمانہ توجہات سے میرے مقاصد دینی ضائع ہونے سے سلامت رہے اور میری محنتیں برباد جانے سے بچ رہیں۔ میں ان صاحبوں کی اعانتوں سے ایسا ممنون ہوں کہ میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ جن سے میں ان کا شکر ادا کرسکوں بالخصوص جب میں دیکھتا ہوں کہ بعض صاحبوں نے اس کارخیر کی تائید میں بڑھ بڑھ کے قدم رکھے ہیں اور بعض نے زائد اعانتوں کے لئے اور بھی مواعید فرمائے ہیں تو یہ میری ممنونی اور احسان مندی اور بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔
میں نے اسی تقریر کے ذیل میں اسماء مبارک ان تمام مردانِ اہل ہمت اور اولی العزم کے کہ جنہوں نے خریداری اور اعانت طبع اس کتاب میں کچھ کچھ عنایت فرمایا مع رقوم عنایت شدہ ان کی کے زیب تحریر کئے ہیں اور ایسا ہی آئندہ بھی تا اختتام طبع کتاب عملدرآمد رہے گا کہ تا جب تک صفحۂ روزگار میں نقش افادہ اور افاضہ اس کتاب کا باقی رہے ہر یک مستفیض کہ جس کا اس کتاب سے وقت خوش ہو مجھ کو اور میرے معاونین کو دعائے خیر سے یاد کرے۔
اور اس جگہ بطور تذکرہ خاص کے اس بات کا ظاہر کرنا بھی ضروری ہے کہ اس کار خیر میں آج تک سب سے زیادہ حضرت خلیفہ سید محمد حسن خان صاحب بہادر وزیراعظم و دستور معظم ریاست پٹیالہ سے اعانت ظہور میں آئی یعنے حضرت ممدوح نے اپنی عالی ہمتی اور کمال محبت دینی سے مبلغ دو سو پچاس روپیہ اپنی جیب خاص سے اور پچھتر روپیہ اپنے اور دوستوں سے فراہم کرکے تین سو پچیس روپیہ بوجہ خریداری کتابوں کے عطا فرمایا عالی جناب سیدنا وزیر صاحب ممدوح الاوصاف نے اپنے والا نامہ میں یہ بھی وعدہ فرمایا ہے کہ تا اختتام کتاب فراہمی چندہ اور بہم رسانی خریداروں میں اور بھی سعی فرماتے رہیں گے اور نیز اسی طرح حضرت فخرالدولہ نواب مرزا محمد علاؤ الدین احمد خان بہادر فرمانروائے ریاست لوہارو نے مبلغ چالیس روپیہ کہ جن میں سے بیس روپیہ محض بطور اعانت کتاب کے ہیں مرحمت فرمائے اور آئندہ اس بارہ میں مدد کرنے کا اور بھی وعدہ فرمایا اور علیٰ ہذا القیاس توجہ خاص جناب نواب شاہجہان بیگم صاحبہ کرون آف انڈیا رئیس دلاور اعظم طبقہ اعلائے ستارہ ہندو رئیسہ بھوپال دام اقبالہا کی بھی قابل بے انتہا شکر گزاری کے ہے کہ جنہوں نے عادات فاضلہ ہمدردی مخلوق اللہ کے تقاضا سے خریداری کتب کا وعدہ فرمایا اور مجھ کو بہت توقع ہے کہ حضرت مفتخر الیہا تائید اس کام بزرگ میں کہ جس میں صداقت اور شان و شوکت حضرت خاتم الانبیا صلی اللہ وسلم کی ظاہر ہوتی ہے اور دلائل حقیت اسلام کی مثل روز روشن کے جلوہ گر ہوتی ہیں اور بندگان الٰہی کو غایت درجہ کا فائدہ پہنچتا ہے کامل توجہ فرماویں گی۔
اب میں اس جگہ بخدمت عالی دیگر امرائے اور اکابر کے بھی کہ جن کو اب تک اس کتاب سے کچھ اطلاع نہیں اس قدر گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ بھی اگر اشاعت اس کتاب کی غرض سے کچھ مدد فرماویں گے تو ان کی ادنیٰ توجہ سے پھیلنا اور شائع ہونا اس کتاب کا جو دلی مقصد اور قلبی تمنا ہے نہایت آسانی سے ظہور میں آجائے گا۔ اے بزرگان و چراغانِ اسلام! آپ سب صاحب خوب جانتے ہوں گے کہ آج کل اشاعت دلائل حقیت اسلام کی نہایت ضرورت ہے اور تعلیم دینا اور سکھلانا براہین ثبوت اس دین متین کا اپنی اولاد اور عزیزوں کو ایسا فرض اور واجب ہوگیا ہے اور ایسا واضح الوجوب ہے کہ جس میں کسی قدر ایما کی بھی حاجت نہیں جس قدر ان دنوں میں لوگوں کے عقائد میں برہمی درہمی ہورہی ہے اور خیالات اکثر طبائع کے حالت خرابی اور ابتری میں پڑے ہوئے ہیں کسی پر پوشیدہ نہ ہوگا۔ کیا کیا رائیں ہیں جو نکل رہی ہیں کیا کیا ہوائیں ہیں جو چل رہی ہیں۔ کیا کیا بخارات ہیں جو اٹھ رہے ہیں پس جن جن صاحبوں کو ان اندھیریوں سے جو بڑے بڑے درختوں کو جڑھ سے اُکھیڑتی جاتی ہیں کچھ خبر ہے وہ خوب سمجھتے ہوں گے جو تالیف اس کتاب کی بلا خاص ضرورت کے نہیں۔ ہر زمانہ کے باطل اعتقادات اور فاسد خیالات الگ رنگوں اور وضعوں میں ظہور پکڑتے ہیں اور خدا نے ان کے ابطال اور ازالہ کے لئے یہی علاج رکھا ہوا ہے جو اسی زمانہ میں ایسی تالیفات مہیا کردیتا ہے جو اُس کی پاک کلام سے روشنی پکڑ کر پوری پوری قوت سے ان خیالات کی مدافعت کے لئے کھڑی ہوجاتی ہیں اور معاندین کو اپنی لاجواب براہین سے ساکت اور ملزم کرتی ہیں پس ایسے انتظام سے پودہ اسلام کا ہمیشہ سرسبز اور تروتازہ اور شاداب رہتا ہے۔
اے معزز بزرگان اسلام!! مجھے اس بات پر یقین کلی ہے کہ آپ سب صاحبان پہلے سے اپنے ذاتی تجربہ اور عام واقفیت سے ان خرابیوں موجودہ زمانہ پر کہ جن کا بیان کرنا ایک درد انگیز قصہ ہے بخوبی اطلاع رکھتے ہوں گے اور جو جو فساد طبائع میں واقعہ ہو رہے ہیں اور جس طرح پر لوگ بباعث اغوا اور اضلال وسوسہ اندازوں کے بگڑتے جاتے ہیں آپ پر پوشیدہ نہ ہوگا پس یہ سارے نتیجے اسی بات کے ہیں کہ اکثر لوگ دلائل حقیت اسلام سے بے خبر ہیں اور اگر کچھ پڑھے لکھے بھی ہیں تو ایسے مکاتب اور مدارس میں کہ جہاں علوم دینیہ بالکل سکھائے نہیں جاتے اور سارا عمدہ زمانہ ان کے فہم اور ادراک اور تفکر اور تدبر کا اور اور علوم اور فنون میں کھویا جاتا ہے اور کوچۂ دین سے محض ناآشنا رہتے ہیں پس اگر ان کو دلائل حقیت اسلام سے جلد تر باخبر نہ کیا جائے تو آخر کار ایسے لوگ یا تو محض دنیا کے کیڑے ہوجاتے ہیں کہ جن کو دین کی کچھ بھی پروا نہیں رہتی اور یا الحاد اور ارتداد کا لباس پہن لیتے ہیں۔ یہ قول میرا محض قیاسی بات نہیں بڑے بڑے شرفا کے بیٹے میں نے اپنی آنکھ سے دیکھے ہیں جو بباعث بے خبری دینی کے اصطباغ پائے ہوئے گرجا گھروں میں بیٹھے ہیں اگر فضل عظیم پروردگار کا ناصر اور حامی اسلام کا نہ ہوتا اور وہ بذریعہ پرزور تقریرات اور تحریرات علماء اور فضلاء کے اپنے اس سچے دین کی نگہداشت نہ کرتا تو تھوڑا زمانہ نہ گزرنا پاتا جو دنیا پرست لوگوں کو اتنی خبر بھی نہ رہتی جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس ملک میں پیدا ہوئے تھے بالخصوص اس پرآشوب زمانہ میں کہ چاروں طرف خیالات فاسدہ کی کثرت پائی جاتی ہے اگر محققان دین اسلام جو بڑی مردی اور مضبوطی سے ہریک منکر اور ملحد کے ساتھ مناظرہ اور مباحثہ کررہے ہیں اپنی اس خدمت اور چاکری سے خاموش رہیں تو تھوڑی ہی مدت میں اس قدر شعار اسلام کا ناپدید ہوجائے کہ بجائے سلام مسنون کے گڈبائی اور گڈ مارننگ کی آواز سنی جائے پس ایسے وقت میں دلائل حقیت اسلام کی اشاعت میں بَدِل مشغول رہنا حقیقت میں اپنی ہی اولاد اور اپنی ہی نسل پر رحم کرنا ہے کیونکہ جب وبا کے ایام میں زہرناک ہوا چلتی ہے تو اس کی تاثیر سے ہریک کو خطرہ ہوتا ہے۔
شاید بعض صاحبوں کے دل میں اس کتاب کی نسبت یہ وسوسہ گزرے کہ جواب تک کتابیں مناظرات مذہبی میں تصنیف ہوچکی ہیں کیا وہ الزام اور افحام مخاصمین کے لئے کافی نہیں ہیں کہ اس کی حاجت ہے لہذا میں اس بات کو بخوبی منقوش خاطر کردینا چاہتا ہوں جو اس کتاب اور ان کتابوں کے فوائد میں بڑا ہی فرق ہے وہ کتابیں خاص خاص فرقوں کے مقابلہ پر بنائی گئی ہیں اور ان کی وجوہات اور دلائل وہاں تک ہی محدود ہیں جو اس فرقہ خاص کے ملزم کرنے کے لئے کفایت کرتی ہیں اور گو وہ کتابیں کیسی ہی عمدہ اور لطیف ہوں مگر ان سے وہی خاص قوم فائدہ اٹھا سکتی ہے کہ جن کے مقابلہ پر وہ تالیف پائی ہیں لیکن یہ کتاب تمام فرقوں کے مقابلہ پر حقیت اسلام اور سچائی عقائد اسلام کی ثابت کرتی ہے اور عام تحقیقات سے حقانیت فرقان مجید کی بپایہ ثبوت پہنچاتی ہے اور ظاہر ہے کہ جو جو حقائق اور دقائق عام تحقیقات میں کھلتے ہیں خاص مباحثات میں انکشاف ان کا ہرگز ممکن نہیں کسی خاص قوم کے ساتھ جو شخص مناظرہ کرتا ہے اس کو ایسی حاجتیں کہاں پڑتی ہیں کہ جن امور کو اس قوم نے تسلیم کیا ہوا ہے ان کو بھی اپنی عمیق اور مستحکم تحقیقات سے ثابت کرے بلکہ خاص مباحثات میں اکثر الزامی جوابات سے کام نکالا جاتا ہے اور دلائل معقولہ کی طرف نہایت ہی کم توجہ ہوتی ہے اور خاص بحثوں کا کچھ مقتضاہی ایسا ہوتا ہے جو فلسفی طور پر تحقیقات کرنے کی حاجت نہیں پڑتی اور پوری دلائل کا تو ذکر ہی کیا ہے بستم حصہ دلائل عقلیہ کا بھی اندراج نہیں پاتا مثلاً جب ہم ایسے شخص سے بحث کرتے ہیں جو وجود صانع عالم کا قائل ہے الہام کا مقر ہے خالقیت باری تعالیٰ کو مانتا ہے تو پھر ہم کو کیا ضرور ہوگا جو دلائل عقلیہ سے اس کے روبرو اثبات وجود صانع کریں یا ضرورت الہام کی وجوہ دکھلاویں یا خالقیت باری تعالیٰ پر دلائل لکھیں بلکہ بالکل بیہودہ ہوگا کہ جس بات کا کچھ تنازع ہی نہیں اس کا جھگڑا لے بیٹھیں مگر جس شخص کو مختلف عقائد، مختلف عندیات، مختلف عذرات، مختلف شبہات کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے اس کی تحقیقاتوں میں کسی قسم کی فروگذاشت باقی نہیں رہتی۔
علاوہ اس کے جو خاص قوم کے مقابلہ پر کچھ لکھا جاتا ہے وہ اکثر اس قسم کی دلائل ہوتی ہیں جو دوسری قوم پر حجت نہیں ہوسکتیں مثلاً جب ہم بائبل شریف سے چند پیشین گوئی نکال کر صدقِ نبوت حضرت خاتم انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بذریعہ ان کے ثابت کریں تو گو ہم اُس ثبوت سے عیسائیوں اور یہودیوں کو ملزم کردیں مگر جب ہم وہ ثبوت کسی ہندو یا مجوسی یا فلسفی یا برہمو سماجی کے روبرو پیش کریں گے تو وہ یہی کہے گا کہ جس حالت میں مَیں ان کتابوں کو ہی نہیں مانتا تو پھر ایسا ثبوت جو انہیں سے لیا گیا ہے کیونکر مان لوں۔ اسی طرح جو بات مفید مطلب ہم وید سے نکال کر عیسائیوں کے سامنے پیش کریں گے تو وہ بھی یہی جواب دیں گے پس بہرحال ایسی کتاب کی اشد ضرورت تھی کہ جو ہر ایک فرقہ کے مقابلہ پر سچائی اور حقیت اسلام کی دلائل عقلیہ سے ثابت کرے کہ جن کے ماننے سے کسی انسان کو چارہ نہیں۔ سو الحمدللہ کہ ان تمام مقاصد کے پورا کرنے کے لئے یہ کتاب طیار ہوئی۔ دوسری اس کتاب میں یہ بھی خوبی ہے جو اس میں معاندین کے بیجا عذرات رفع کرنے کے لئے اور اپنی حجت ان پر پوری کرنے کے لئے خوب بندوبست کیا گیا ہے یعنی ایک اشتہار تعدادی دس ہزار روپیہ کا اسی غرض سے اس میں داخل کیا گیا ہے کہ تا منکرین کو کوئی عذر اور حیلہ باقی نہ رہے اور یہ اشتہار مخالفین پر ایک ایسا بڑا بوجھ ہے کہ جس سے سبکدوشی حاصل کرنا قیامت تک ان کو نصیب نہیں ہوسکتا اور نیز یہ ان کی منکرانہ زندگی کو ایسا تلخ کرتا ہے جو انہیں کا جی جانتا ہوگا۔ غرض یہ کتاب نہایت ہی ضروری اور حق کے طالبوں کے لئے نہایت ہی مبارک ہے کہ جس سے حقیت اسلام کی مثل آفتاب کے واضح اور نمایاں اور روشن ہوتی ہے اور شان اور شوکت اُس مقدس کتاب کی کھلتی ہے کہ جس کے ساتھ عزت اور عظمت اور صداقت اسلام کی وابستہ ہے۔
فہرست معاونین کی کہ جنہوں نے ہمدردی دینی سے اشاعت کتاب براہین احمدیہ میں اعانت کی اور خریداری کتابوں سے ممنون اور مشکور فرمایا۔



بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
سبحانک ما اقوی برھانک العظمۃ کلھالک والقدرۃ کلھا لک العالم کلہٗ ضعیف والقوۃ کلھالک انت الاحد الصمد الذی توحد فی وجوب وجودہ و تفرد فی فضلہ وجودہ جلت حکمتک و تجلت حجتک و تمت نعمتک وعمت رحمتک و تنزہ ذاتک عن کل منقصۃ و نقصان و تعالٰی شانک من جمیع ما یشان انت المتوحد المتفرد بجلال ذاتہ و کمال صفاتہ المنزہ عن شوائب النقص و سماتہ نحمدک علٰی ما تفضلت علینا بتنزیل کتاب لاریب فیہ ولا خطاء ولا نسیان و کشفت بہ علی نفوسنا الخاطئۃ المخطئۃ سبیل الحق و العرفان فانت ھدیتنا بالفضل والجود والاحسان وما کنا لنھتدی لولا ھداک یا رحمٰن۔
ونسئلک ان تصلی علی رسولک النبی الامی الذی نجیتنا بہ من سُبُل الضلالۃ والطغیان واخرجتنا بہ من ظلمات العمی والحرمان الذی ظھر دینہ الحق علی کل دین من الادیان و تقدست ملتہ عن کلّ شرک و بدعۃ و عدوان و سبقت شریعتہ فی کل معرفۃ و حکمۃ و برھان ھو العبد المخلص الذی اصطنعتہ لمجتک٭ و توحیدک وجعلت احب الیہ من نفسہ ذکر تقدیسک و تمجیدک ارسلتہ رحمۃ للعالمین وحجۃ علی المنکرین و سراجًا منیرًا للسالکین وداعیًا الی اللّٰہ للطالبین و بشیرًا و مبشرًا للمؤمنین و انسانًا کاملًا للناظرین جاء بکتاب یحیط علی القوانین الحکمیۃ ویھدی الی جمیع السعادات الدینیۃ اکمل کثیرا من الناس فی القوی النظریۃ و العملیۃ فجعلھم المتحلین بالاخلاق المرضیۃ الالٰھیۃ والمتخلین عن الادناس البشریۃ السفلیۃ فاصبحوا بتعلیمہ المترقین فی العلوم الحقیقیۃ الیقینیۃ والمتلذذین بالمحبۃ الربانیۃ الاحدیۃ والمستعدّین لحظیرۃ القُدس والتجلّیات القدّوسیۃ۔ اللّٰھم فصلّ علیہ وعلٰی جمیع اخوانہ من الرسل و النبیین واٰلہ الطیبین الطاھرین واصحابہ الصالحین الصدّیقین۔
ہر دم از کاخِ عالم آوازیست
کہ یکش بانی و بنا سازیست
نہ کس او را شریک و انبازیست
نے بکارش دخیل و ہمرازیست
این جہان را عمارت اندازیست
واز جہان برتر است و ممتازیست
وحدہٗ لا شریک حی و قدیر
لم یزل لایزال فرد و بصیر
کارسازِ جہان و پاک و قدیم
خالق و رازق و کریم و رحیم
رہنماء و معلم رہِ دین
ہادی و ملہمِ علومِ یقین
متصف باہمہ صفاتِ کمال
برتر از احتیاجِ آل و عیال
بریکے حال ہست درہمہ حال
رہ نیابد بدو فنا و زوال
نیست از حکم او برون چیزے
نہ ز چیزیست او نہ چون چیزے
نتوان گفت لامس اشیاست
نے توان گفتن این کہ دور از ماست
ذات او گرچہ ہست بالاتر
نتوان گفت زیر اوست دگر
ہرچہ آید بفہم و عقل و قیاس
ذاتِ او برترست زان وسواس
ذاتِ بے چون و چند افتادست
واز حدود و قیود آزاد ست
نہ وجودے بذاتِ او انباز
نہ کسے در صفات او انباز
ہمہ پیدا ز دست قدرتِ او
کثرت شان گواہ وحدت او
گر شریکش بُدی ز خلق دگر
گشتی این جملہ خلق زیر و زبر
ہرچہ از وصف خاکی و خاک ست
ذاتِ بیچون او ازان پاک ست
بند بر پائے ہر وجود نہاد
خود زہر قید و بند ہست آزاد
آدمی بندہ ہست و نفسش بند
در دو صد حرص و آز سر بکمند
ہمچنیں بندہ آفتاب و قمر
بند در سیرگاہِ خویش و مقر
ماہ را نیست طاقت این کار
کہ بتابد بروز چون احرار
نیز خورشید را نہ یارائے
کہ نہد بر سریر شب پائے
آب ہم بندہ ہست زین کہ مدام
بند در سروے است نے خود کام
آتشے تیز نیز بندہٴ او
در چنین سوزشے فگندہٴ او
گر برآری بہ پیش او فریاد
گرمیش کم نہ گردد اے استاد
پائے اشجار در زمین بندست
سخت درپا سلاسل افگندست
پائے اشجار در زمین بندست
سخت درپا سلاسل افگندست
این ہمہ بستگان آن یک ذات
بروجودش دلائل و آیات
اے خداوند خلق و عالمیان
خلق و عالم ز قدرتت حیران
چہ مہیب ست شان و شوکت تو
چہ عجیب ست کار و صنعت تو
حمد را باتو نسبت از آغاز
نے دراں کس شریک نے انباز
تو وحیدی و بے نظیر و قدیم
متنزہ ز ہر قسیم و سہیم
کس نظیر تو نیست در دو جہان
بر دو عالم توئی خدائے یگان
زور تو غالب ست برہمہ چیز
ہمہ چیزے بہ جنب تو ناچیز
ترست ایمن کند ز ترس و خطر
ہر کہ عارف ترست ترسان تر
خلق جوید پناہ و سایہ کس
واں پناہِ ہمہ تو ہستی وبس
ہست یادت کلید ہر کارے
خاطرے بے تو خاطر آزارے
ہر کہ نالد بدر گہت بہ نیاز
بخت گم کردہ را بیابد باز
لطف تو ترکِ طالبان نکند
کس بکارِ رہت زیان نکند
ہر کہ باذات تو سرے دارد
پشت بر روئے دیگرے دارد
زینکہ چون کار بر تو بگذارد
رو بہ اغیار ازچہ رو آرد
ذاتِ پاکت بس ست یار یکے
دل یکے جان یکے نگار یکے
ہر کہ پوشیدہ با تو در سازد
رحمتت آشکار بنوازد
ہر کہ گیرد درت بصدق و حضور
از در و بام او ببارد نور
ہر کہ راحت گرفت کارش شد
صد امیدے بروز گارش شد
ہر کہ راہ تو جُست یافتہ است
تافت آن رو کہ سرنتافتہ است
وانکہ از ظل قربت تو رمید
بردر ہر کہ رفت ذلت دید
اے خداوندِ من گناہم بخش
سوئے درگاہِ خویش راہم بخش
روشنی بخش در دل و جانم
پاک کُن از گناہِ پنہانم
دلستانی و دلربائی کن
بہ نگاہے گرہ کشائی کن
در دو عالم مرا عزیز توئی
و آنچہ میخواہم از تو نیز توئی
۔ یہ نظام عالم اس بات کی ہر دم گواہی دے رہا ہے کہ اس جہان کا کوئی بانی اور صانع ضرور ہے
۔ نہ کوئی اس کا شریک ہے نہ ساجھی، نہ اس کے کام میں کوئی دخیل ہے نہ کوئی اس کا ہمراز ہے
۔ وہ اس جہان کا بنانے والا ہے مگر وہ خود جہان سے بالاتر اور ممتاز ہے
۔ وہ اکیلا لاشریک زندہ اور قادر ہے ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا۔یگانہ اور باخبر ہے
۔ جہان کا کارساز پاک اور قدیم ہے۔پیدا کرنے والا، روزی پہنچانے والا، مہربان اور رحیم ہے
۔ وہ رہنما اور معلم دین ہے۔ وہ ہادی اور یقینی علوم کا الہام کرنے والا ہے
۔ وہ تمام صفات کاملہ سے متصف او ر آل واولاد کے جھمیلوں سے بے نیاز ہے
۔ وہ ہر زمانہ میں ایک ہی حال پر قائم ہے۔فنا اور زوال کا اس کے حضور گزر نہیں
۔ کوئی شے اس کے حکم سے باہر نہیں ہے۔نہ وہ کسی سے نکلا ہے اور نہ کسی کی مانند ہے
۔ نہیں کہہ سکتے کہ وہ چیزوں کو چھوتا ہے۔نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہم سے دور ہے
۔ اُس کی ذات اگرچہ سب سے بالاتر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی اور چیز بھی ہے
۔ جو کچھ فہم عقل اور قیاس میں آسکتا ہے اُس کی ذات ہر اُس خیال سے بالاتر ہے
۔ اُس کی ذات بے مثل اور یکتا ہے اور حدود وقیود سے آزاد ہے
۔ کوئی وجود اس کا ہمسر نہیں۔ نہ کوئی اس کی صفات میں اس کے برابر ہے
۔ سب کچھ اس کی قدرت سے پیدا ہوا ہے۔ ان کی کثرت اس کی وحدت پر گواہ ہے
۔ اگر مخلوق میں سے کوئی اس کا شریک ہوتا تو یہ تمام دنیا زیر وزبر ہوجاتی
۔ خاک اور خاکی مخلوق کی جو صفات ہیں اُس کی بے مثل ذات ان سے پاک ہے
۔ ہر وجود کے لئے اس نے کچھ پابندیاں لگا دی ہیں مگر خود ہر قید اور پابندی سے آزاد ہے
۔ آدمی غلام ہے اور اُس کا نفس مقید ہے ۔ صدہا خواہشوں اور لالچوں میں پھنسا ہوا ہے
۔ اسی طرح سورج اور چاند بھی حکم کے پابند ہیں وہ اپنے اپنے راستوں کے مکلف اور اسیر ہیں
۔ چاند کو اس امر کی قدرت حاصل نہیں کہ وہ دن کو آزادانہ چمک سکے
۔ اسی طرح سورج کو بھی یہ قوت نہیں کہ وہ رات کے تخت پر قدم رکھ سکے
۔ پانی بھی پابندہ ے کیونکہ وہ ہمیشہ برودت کا پابند ہے اپنی مرضی کا مالک نہیں
۔ تیز آگ بھی اس کی تابعدار ہے اور ایسی جلن میں اسی کی ڈالی ہوئی ہے
۔ اگر تو اُس آگ سے التجا کرے تب بھی اے شخص! اس کی گرمی کم نہ ہو گی
۔ درختوں کے تنے زمین میں پیوست ہیں۔ان کے پاؤں میں مضبوط زنجیریں ڈال دی ہیں
۔ یہ سب چیزیں اُسی ہستی سے وابستہ ہیں اور اُس کے وجود پر دلائل اور نشان ہیں
۔ اے جہانوں اور مخلوقات کے آقا! دنیا اور مخلوق تیری قدرت سے حیران ہے
۔ تیری شان وشوکت کس قدر باعظمت ہے تیری صنعت اور تیرا کام کتنا عجیب ہے
۔ شروع ہی سے حمد کا تیرے ساتھ تعلق ہے اور اس معاملہ میں نہ کوئی تیرا شریک ہے نہ ہمسر
۔ تو اکیلا بے مثل اور ازلی ہے ہر ساجھی اور شریک سے پاک
۔ دونوں جہان میں تیرا کوئی نظیر نہیں۔دونوں عالم میں تو اکیلا ہی خدا ہے
۔ ہر شے پر تیری طاقت غالب ہے اور ہر چیز تیرے مقابل پر ہیچ ہے
۔ تیرا خوف ہر ڈر اور خطرہ سے محفوظ کر دیتا ہے۔ جو تیری معرفت زیادہ رکھتا ہے وہی تجھ سے زیادہ ڈرتا ہے
۔ مخلوق کسی کی پناہ اور سایہ ڈھونڈتی ہے مگر سب کی پناہ صرف تیری ذات ہے
۔ تیری یاد ہر مشکل کی کلید ہے۔تیرے بغیر ہر خیال دل کا دکھ ہے
۔ جو تیرے حضور میں عاجزی سے روتا ہے وہ اپنی گم گشتہ قسمت کو دوبارہ پاتا ہے
۔ تیری مہربانیاں طالبوں کو نہیں چھوڑتیں۔ کوئی تیرے معاملے میں نقصان نہیں اٹھاتا
۔ جو شحض صرف تجھ سے تعلق رکھتا ہے وہ دوسرے کی طرف پیٹھ پھیر لیتا ہے
۔ کیونکہ جب وہ اپنا معاملہ تجھ پر چھوڑ دیتا ہے تو پھر کیوں غیروں کی طرف توجہ کرے
۔ تیری ذات پاک کا ہمارے لئے دوست ہونا کافی ہے۔ دل بھی ایک ہے جان بھی ایک ہے محبوب بھی ایک ہونا چاہیے
۔ جو پوشیدگی میں تجھ سے تعلق رکھتا ہے تیری رحمت کھلم کھلا اس پر مہربانی کرتی ہے
۔ جو صدق اور اخلاص سے تیری چوکھٹ پکڑتا ہے تو اس کے در و بام سے نور کی بارش برستی ہے
۔ جس نے تیرا ہاتھ پکڑا وہ کامیاب ہوگیااور اس کی کامیابی کی سو امیدیں بندھ گئیں
۔ جس نے تیری راہ ڈھونڈی اس نے پا لیا۔وہ چہرہ نورانی ہو گیا جس نے تجھ سے سرکشی نہ کی
۔ مگر جو تیرے قرب کے سایہ سے بھاگا وہ جس دروازہ پر بھی گیا ذلت دیکھی
۔ اے میرے خداوند! میرے گناہ بخش دے اور اپنی درگاہ کی طرف مجھے راستہ دکھا
۔ میری جان اور میرے دل میں روشنی دے اور مجھے میرے مخفی گناہوں سے پاک کر
۔ دل ستانی کر اور دل ربائی دکھا۔ اپنی ایک نظر کرم سے میری مشکل کشائی کر
۔ دونوں عالم میں تو ہی میرا پیارا ہے اور جو چیز میں تجھ سے چاہتا ہوں وہ بھی تو ہی ہے
لاکھ لاکھ حمد اور تعریف اس قادر مطلق کی ذات کے لائق ہے کہ جس نے ساری ارواح اور اجسام بغیر کسی مادہ اور ہیولیٰ کے اپنے ہی حکم اور امر سے پیدا کرکے اپنی قدرت عظیمہ کا نمونہ دکھلایا اور تمام نفوس قدسیہ انبیا کو بغیر کسی استاد اور اتالیق کے آپ ہی تعلیم اور تادیب فرما کر اپنے فیوض قدیمہ کا نشان ظاہر فرمایا سبحان اللہ کیا رحمن اور منان وہ ذات ہے کہ جس نے بغیر کسی استحقاق ہمارے کے سب کام ہم ضعیفوں کا آپ بنایا ہمارے جسمی قیام کے لئے سورج اور چاند اور بادلوں اور ہواؤں کو کام میں لگایا اور ہمارے روحانی انتظام کے لئے توریت اور انجیل اور فرقان اور سب آسمانی کتابوں کو عین وقتوں پر پہنچایا۔ الٰہی تیرا ہزار ہزار شکر کہ تو نے ہم کو اپنی پہچان کا آپ راہ بتایا اور اپنی پاک کتابوں کو نازل کرکے فکر اور عقل کی غلطیوں اور خطاؤں سے بچایا اور درود اور سلام حضرت سید الرسل محمد مصطفی ؐ اور ان کی آل و اصحاب پر کہ جس سے خدا نے ایک عالم گم گشتہ کو سیدھی راہ پر چلایا وہ مربی اور نفع رسان کہ جو بھولی ہوئی خلقت کو پھر راہ راست پر لایا وہ محسن اور صاحب احسان کہ جس نے لوگوں کو شرک اور بتوں کی بلا سے چھوڑایا وہ نور اور نور افشان کہ جس نے توحید کی روشنی کو دنیا میں پھیلایا وہ حکیم اور معالج زمان کہ جس نے بگڑے ہوئے دلوں کا راستی پر قدم جمایا وہ کریم اور کرامت نشان کہ جس نے مردوں کو زندگی کا پانی پلایا وہ رحیم اور مہربان کہ جس نے امت کے لئے غم کھایا اور درد اٹھایا وہ شجاع اور پہلوان جو ہم کو موت کے منہ سے نکال کر لایا وہ حلیم اور بے نفس انسان کہ جس نے بندگی میں سرجھکایا اور اپنی ہستی کو خاک سے ملایا وہ کامل موحد اور بحر عرفان کہ جس کو صرف خدا کا جلال بھایا اور غیر کو اپنی نظر سے گرایا وہ معجزہ قدرت رحمن کہ جو اُمّی ہوکر سب پر علوم حقانی میں غالب آیا اور ہریک قوم کو غلطیوں اور خطاؤں کا ملزم ٹھہرایا۔
در دلم جوشد ثنائے سرورے
آنکہ در خوبی ندارد ہمسرے
آنکہ جانش عاشق یارِ ازل
آنکہ روحش واصل آن دلبرے
آنکہ مجذوب عنایات حق ست
ہمچو طفلے پر وریدہ در برے
آنکہ در برّ و کرم بحر عظیم
آنکہ در لطف اتم یکتا دُرے
آنکہ در جود و سخا ابر بہار
آنکہ در فیض و عطا یک خاورے
آن رحیم و رحم حق را آیتے
آن کریم و جود حق را مظہرے
آن رخ فرخ کہ یک دیدار او
زشت رو را میکند خوش منظرے
آن دل روشن کہ روشن کردہ است
صد درون تیرہ را چون اخترے
آن مبارک پے کہ آمد ذات او
رحمتے زان ذات عالم پرورے
احمدِ آخر زمان کز نور او
شد دل مردم زخور تابان ترے
از بنی آدم فزون تر در جمال
و از لآلے پاک تر در گوہرے
برلبش جاری زحکمت چشمہ
در دلش پُر از معارف کوثرے
بہر حق دامان ز غیرش برفشاند
ثانی او نیست در بحر و برے
آن چراغش دادِ حق کش تا ابد
نے خطر نے غم ز بادِ صرصرے
پہلوان حضرتِ ربِ جلیل
بر میان بستہ ز شوکت خنجرے
تیرِ او تیزی بہر میدان نمود
تیغِ او ہرجا نمودہ جوہرے
کرد ثابت بر جہان عجز بتان
وانمودہ زور آن یک قادرے
تا نماند بے خبر از زور حق
بت ستائو بت پرست و بت گرے
عاشق صدق و سداد و راستی
دشمنِ کذب و فساد و ہر شرے
خواجہ و مر عاجزان را بندہ
بادشاہ و بے کسان را چاکرے
آں ترحمہا کہ خلق ازوے بدید
کس ندیدہ در جہان از مادرے
از شرابِ شوق جانان بیخودی
در سرش برخاک بنہادہ سرے
روشنی از وے بہر قومے رسید
نورِ او رخشید بر ہر کشورے
آیت رحمن برائے ہر بصیر
حجت حق بہرِ ہر دیدہ ورے
ناتوانان را برحمت دستگیر
خستہ جانان را بہ شفقت غمخورے
حسن روئش بہ زماہ و آفتاب
خاک کوئش بہ ز مشک و عنبرے
آفتاب و مہ چہ میماند بدو
در دلش از نور حق صد نیرے
یک نظر بہتر ز عمر جاودان
گرفتد کس را برآن خوش پیکرے
منکہ از حسنش ہمی دارم خبر
جان فشانم گر دہد دل دیگرے
یاد آن صورت مرا از خود برد
ہر زمان مستم کند از ساغرے
می پریدم سوئے کوئے او مدام
من اگر میداشتم بال و پرے
لالہ و ریحان چہ کار آید مرا
من سرے دارم بآن روے و سرے
خوبیٔ او دامن دل می کشد
موکشانم می برد زور آورے
دیدہ ام کوہست نور دیدہ ہا
در اثر مہرش چو مہر انورے
تافت آن روئے کزان روسر نتافت
یافت آن درمان کہ بگزیدآن درے
ہر کہ بے او زد قدم در بحرِ دین
کرد در اول قدم گم معبرے
امی و در علم و حکمت بے نظیر
زین چہ باشد حجتی روشن ترے
آن شراب معرفت دادش خدا
کزشعاعش خیرہ شد ہر اخترے
شدعیان ازوے علی الوجہ الاتم
جوہر انسان کہ بود آن مضمرے
ختم شد برنفس پاکش ہر کمال
لا جرم شد ختم ہر پیغمبرے
آفتاب ہر زمین و ہر زمان
رہبر ہر اسود و ہر احمرے
مجمع البحرین علم و معرفت
جامع الاسمین ابر و خاورے
چشم من بسیار گردید و ندید
چشمہ چون دین او صافے ترے
سالکان را نیست غیر ازوے امام
رہروان را نیست جزوے رہبرے
جائے او جائے کہ طیر قدس را
سوزد از انوار آن بال و پرے
آں خداوندش بدادآن شرع و دین
کان نگردد تا ابد متغیرے
تافت اول بُرد بار تازیان
تازیانش را شود درمان گرے
بعد زان آن نور دین و شرع پاک
شد محیط عالمے چون چنبرے
خلق را بخشید از حق کام جان
وا رہانیدہ ز کام اژدرے
یک طرف حیران از و شاہان وقت
نے بعلمش کس رسید ونے بزور
در شکستہ کبر ہر متکبرے
اوچہ میدارد بمدح کس نیاز
مدح او خود فخر ہر مدحت گرے
ہست او در روضۂ قدس و جلال
واز خیال مادحان بالاترے
اے خدا بروے سلام مارسان
ہم برا خوانش زہر پیغمبرے
ہر رسولے آفتاب صدق بود
ہر رسولے بود مہر انورے
ہر رسولے بود ظلے دین پناہ
ہر رسولے بود باغے مثمرے
گر بدنیا نامدے ایں خیل پاک
کار دین ماندے سراسر ابترے
ہر کہ شکر بعث شان نارد بجا
ہست او آلائے حق را کافرے
آں ہمہ ازیک صدف صد گوہر اند
متحد در ذات و اصل و گوہرے
امتے ہرگز نبودہ در جہان
کاندران نامد بوقتے منذرے
اول آدم آخرِ شان احمدست
اے خنک آنکس کہ بیند آخرے
انبیا روشن گہر ہستند لیک
ہست احمد زان ہمہ روشن ترے
آن ہمہ کان معارف بودہ اند
ہر یکے از راہ مولیٰ مخبرے
ہر کہ را علمے ز توحید حق ست
ہست اصل علمش از پیغمبرے
آن رسیدش از رہ تعلیم ہا
گو شود اکنون زنخوت منکرے
ہست قومے کج رو و ناپاک رائے
آنکہ زین پاکان ہمی پیچد سرے
دیدۂ شان روئے حق ہرگز ندید
بس سیہ کردند روئے دفترے
شور بختے ہائے بختِ شان بہ بین
ناز برچشم و گریزان از خورے
چشم گر بودے غنی از آفتاب
کس نبودے تیز بین چون شپرے
ہر کہ کورست و براہش صد مغاک
وائے بروے گر ندارد رہبرے
قوم دیگر را چنین رائے رکیک
در نشستہ از جہالت در سرے
کان خدا ملکے دگر اندر جہان
از دیارِ شان ندیدہ خوشترے
ہمدگر روئے چو روئے خوب شان
نامدش مرغوب طبع و خاطرے
لاجرم از ابتدائش تا ابد
ماند و خواہد ماند آنجا بسترے
ملک دیگر گرچہ میرد در ضلال
مے نگردد زوگہے مستفسرے
داد مَریک ذرہ قومے را کتاب
ترک کردہ صد ہزاران معشرے
چون بروز ابتدا تقسیم کرد
درمیانِ خلق از خیر وشرے
راستی در حصہء او شان فتاد
دیگراں را کذب شد آبشخورے
قول شان این ست کاندر غیر شان
آمدہ صد کاذب و حیلت گرے
لیک نامد نزد شان یک نیزہم
آنکہ بودے از خدا دین گُسترے
آنکہ ایشان را نمودے راہ حق
در کشودے کذب ہر کذب آورے
تاشدے دادار را حجت تمام
برسر ہر مسلم و متنصرے
الغرض نزدیک شان دادارِ پاک
ہست ظالم تر ز ہر ظالم ترے
کو گزارد عالمے را در ضلال
مبتلا در پنجہء ہر ماکرے
خود ہمی دارد بیک قومے مدام
ہمچو شیدائے کسے میل و سرے
اینچنین پر حمق رائے این قوم را
حمق دیگر این کہ بروے فاخرے
عاقبت این رائے زشت و بد خیال
کرد ایشان را عجب کور و کرے
چشم پوشیدند از صد چشمۂ
سرنگون گشتند بریک آخورے
سخت ورزیدند کیں با انبیا
الامان از کینِ ہر متکبرے
آنچہ کین شان بپا کان ثابت ست
از شیاطین کس ندارد باورے
خربود اندر حماقت بے نظیر
لیکن ایشان را بہر موصد خرے
نے سرِ تحقیق دارند و ثبوت
نے زنند از صدق پا بر معبرے
نے دوائے را شناسند از اثر
نے درختے را شناسند از برے
نے زکس پُرسند از روئے نیاز
نے بصرفِ فکرِ خود متفکرے
نے بدل پروائے این تفتیش ہا
کزہمہ دین ہا کدا مین بہترے
بریکے مائل عدو صد ہزار
فارغ از فرق اقل و اکثرے
نے بدل خوف خدائے کردگار
نے بخاطر بیم روزِ محشرے
تیرہ جانان دیدہ ہا را دوختہ
سوختہ در کین وری چوں اژ درے
دیدہ و دانستہ از حق قاصر اند
دل نہادہ در جہان غادرے
از برائے حق تراشیدہ ز جہل
دائما درخانہ خود منبرے
آن خدائے شان عجب باشد خدا
کو تغافل داشت از ہر کشورے
بہر الہام آمدش دایم پسند
یک زبان یک خطہ کوتہ ترے
اینچنیں رائے کجا باشد درست
کے خرد گردد بسویش رہبرے
کے گمان بد کند بر نیکوان
آنکہ باشد نیک و نیکو محضرے
ماہ را گفتن کہ چیزے نیست این
ہست دشنامے نہ زین افزون ترے
کور گر گوئد کجا ہست آفتاب
میشود در کوری اش رسوا ترے
در خور تابان مکن شک و گمان
تا ملامت را نہ گردی در خورے
گر خدا خواہی چرا کج میروی
چون نمی ترسی ز قہر قاہرے
چون نمی ترسی ز روزِ باز پرس
چون نہ ترسی از حضورِ داورے
افترائے شان چسان گشتت یقین
یا خدائت وا نمودہ دفترے
نور شان یک عالمے را در گرفت
تو ہنوز اے کور در شور و شرے
لعل تابان را اگر گوئی کثیف
زین چہ کاہد قدر روشن جوہرے
طعنہ بر پاکان نہ بر پاکان بود
خود کنی ثابت کہ ہستی فاجرے
بغض با مردانِ حق نامردیست
آن بشر باشد کہ باشد بے شرے
وانکہ در کین و کراہت سوخت ست
نفس دون راہست صید لاغرے
صد مراتب بہ زچشم اہل کین
چشم نابینا و کور و اعورے
برسر کین و تعصب خاک باد
ہم بفرقِ کین وران خاکسترے
جز بہ پابندئ حق بند دگر
ورنہ گیرد با خدائے اکبرے
ماہمہ پیغمبران را چاکریم
ہمچو خاکے اوفتادہ بر درے
ہر رسولے کو طریق حق نمود
جانِ ما قربان بران حق پرورے
اے خداوندم بہ خیل انبیا
کش فرستادے بفضل او فرے
معرفت ہم دہ چو بخشیدی دلم
مے بدہ زان سان کہ دادی ساغرے
اے خداوندم بنام مصطفیٰ
کش شدے در ہر مقامے ناصرے
دست من گیر از رہ لطف و کرم
در مہمم باش یار و یاورے
تکیہ بر زورِ تو دارم گرچہ من
ہمچو خاکم بلکہ زان ہم کمترے
۔ میرے دل میں اُس سردار کی تعریف جوش مار رہی ہے جو خوبی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا
۔ وہ جس کی جان خدائے ازلی کی عاشق ہے وہ جس کی روح اُس دلبر میں واصل ہے
۔ وہ جو خدا کی مہربانیوں سے اس کی طرف کھینچا گیا ہے اور خدا کی گود میں ایک بچے کی مانند پلا ہے
۔ وہ جو نیکی اور بزرگی میں ایک بحر عظیم ہے اور کمالِ خوبی میں ایک نایاب موتی ہے
۔ وہ جو بخشش اور سخاوت میں اَبرِ بہار ہے اور فیض وعطا میں ایک سورج ہے
۔ وہ رحیم ہے اور رحمتِ حق کا نشان ہے وہ کریم ہے اور بخشش ِ خداوندی کا مظہر ہے
۔ اُس کا مبارک چہرہ ایسا ہے کہ اُس کا ایک ہی جلوہ بدصورت کو حسین بنا دیتا ہے
۔ وہ ایسا روشن ضمیر ہے جس نے روشن کر دیا سینکڑوں سیاہ دلوں کو ستاروں کی طرح
۔ وہ ایسا مبارک قدم ہے کہ اس کی ذات خدا تعالیٰ کی طرف سے رحمت بن کر آئی ہے
۔ اُس احمد آخر زمان کے نور سے لوگوں کے دل آفتاب سے زیادہ روشن ہو گئے
۔ وہ تمام بنی آدم سے بڑھ کر صاحب جمال ہے اور آب وتاب میں موتیوں سے بھی زیادہ روشن ہے
۔ اُس کے منہ سے حکمت کا چشمہ جاری ہے اور اُس کے دل میں معارف سے پُر ایک کوثر ہے
۔ خدا کے لئے اُس نے ہر وجود سے اپنا دامن جھاڑ دیا بحرو بر میں اُس کا کوئی ثانی نہیں
۔ حق نے اُس کو ایسا چراغ دیا ہے کہ تا ابد اسے ہوائے تُند سے کوئی خوف وخطر نہیں
۔ وہ خدائے جلیل کی درگاہ کا پہلوان ہے اور اُس نے بڑی شان سے کمر میں خنجر باندھ رکھا ہے
۔ اُس کے تیر نے ہر میدان میں تیزی دکھائی ہے اور اُس کی تلوار نے ہر جگہ اپنا جوہر ظاہر کیا ہے
۔ اُس نے دنیا پر بتوں کا عجز ثابت کر دیا اور خدائے واحد کی طاقت کھول کر دکھا دی
۔ تا خدائی طاقت سے بے خبر نہ رہیں بت ستا ، بت پرست اور بت گر
۔ وہ صدق،سچائی اور راستی کا عاشق ہے مگر کذب، فساد اور شر کا دشمن ہے
۔ وہ اگرچہ آقا ہے مگر عاجزوں کے لیے عاجز ۔وہ بادشاہ ہے مگر بے کسوں کا خدمت گزار ہے
۔ وہ مہربانیاں جو مخلوق نے اُس سے دیکھیں وہ کسی نے اپنی ماں میں بھی نہیں پائیں
۔ وہ محبوب کے عشق کی شراب میں بیخود ہے اُس کی محبت میں اُس نے اپنا سر خاک پر رکھا ہوا ہے
۔ اُس سے ہر قوم کو روشنی پہنچی۔ اُس کا نور ہر ملک پر چمکا
۔ وہ ہر صاحبِ بصیرت کے لئے آیت اللہ اور ہراہلِ نظر کے لئے حجتِ حق ہے
۔ کمزوروں کا رحمت سے ہاتھ پکڑنے والا اور نا اُمیدوں کا شفقت کے ساتھ غم خوار
۔ اُس کے چہرہ کا حسن شمس و قمر سے زیادہ ہے اور اُس کے کوچہ کی خاک مشک و عنبر سے بہتر ہے
۔ سورج چاند اس سے کہاں مشابہت رکھ سکتے ہیں اس کے دل میں تو خداکے نور سے سَو سورج روشن ہیں
۔ ہمیشہ کی زندگی سے ایک نظر بہتر ہے اگر اُس پیکرِ حُسن پر پڑ جائے
۔ میں جو اُس کے حُسن سے باخبر ہوں اُس پر اپنی جان قربان کرتا ہوں جب کہ دوسرا صرف دل دیتا ہے
۔ اُس کی یاد مجھے بیخود بنا دیتی ہے وہ ہر وقت مجھے ایک ساغر سے مست رکھتا ہے
۔ میں ہمیشہ اُس کے کوچہ میں اڑتا پھرتا اگر میں پر و بال رکھتا
۔ لالہ و ریحان میرے کس کام کے ہیں؟ میں تو اُس چہرہ و سر سے تعلق رکھتا ہوں
۔ اُس کی خوبی دامن دل کو کھینچتی ہے اور ایک طاقتور ہستی مجھے کشاں کشاں لے جا رہی ہے
۔ میں نے دیکھا کہ وہ آنکھوں کا نور ہے اس کی محبت کا اثر چمکدار سورج کی مانند ہے
۔ وہ چہرہ روشن ہو گیا جس نے اس سے روگردانی نہ کی۔وہ کامیاب ہو گیا جس نے اس کا دروازہ پکڑ لیا
۔ جس نے اس کے بغیر دین کے سمندر میں قدم رکھا۔اس نے پہلے ہی قدم میں گھاٹ کھو دیا
۔ وہ اُمی ہے مگر علم وحکمت میں بے نظیر ہے اُس سے زیادہ اُس کی صداقت پر اور کیا دلیل ہوگی؟
۔ خدا نے اُسے وہ شرابِ معرفت عطا فرمائی کہ اُس کی شعاعوں سے ہر ستارہ ماند پڑ گیا
۔ اُس کے باعث پورے طور پر عیاں ہو گیا انسان کا وہ جوہر جو مخفی تھا
۔ اُس کے پا ک نفس پر ہر کمال ختم ہو گیا اس لئے اُس پر پیغمبروں کا خاتمہ ہو گیا
۔ وہ ہر ملک اور ہر زمانہ کے لئے آفتاب ہے اور ہر اسود واحمر کا رہبر ہے
۔ وہ علم اور معرفت کا مجمع البحرین ہے۔بادل اور آفتاب دونوں ناموں کا جامع ہے
۔ میں نے بہت تلاش کیا مگر کہیں نہیں دیکھا اس کے دین کی مانند مصفّٰی چشمہ
۔ سالکوں کے لئے اُس کے سوا کوئی امام نہیں راہِ حق کے متلاشیوں کے لئے اس کے سوا کوئی رہبر نہیں
۔ اُس کا مقام وہ ہے جہاں جبریل ؑ کے اُس مقام کے انوار کے باعث پرو بال جلتے ہیں
۔ اُس خدا نے اسے وہ شریعت اور دین عطا کیاجو کبھی بھی تبدیل نہ ہو گا
۔ پہلے وہ عرب کے ملک پر چمکا تا کہ اُس ملک کی خرابیوں کا انسداد کرے
۔ بعد ازاں وہ نور اور پاک شریعت تمام عالم پر آسمان کی طرح محیط ہو گئی
۔ مخلوق کو خدا کی طرف سے مقصدِ زندگی بخشا اور ایک اژدھے کے منہ سے اُسے رہائی دلائی
۔ ایک طرف شاہانِ وقت اُس سے حیران تھے دوسری طرف ہر عقل مند ششدر تھا
۔ نہ اس کے علم تک کوئی پہنچا نہ اُس کی طاقت تک۔ اُس نے ہر متکبر کے تکبر کو توڑ کر رکھ دیا
۔ اُسے کسی کی تعریف کی کیا حاجت ہے اُس کی مدح ہرمدحت گر کے لئے باعثِ فخر ہے
۔ وہ پاکیزگی اور جلال کے گلستان میں متمکن ہے اور تعریف کرنے والوں کے وہم سے بالاتر ہے
۔ اے خدا ہمارا سلام اُس تک پہنچا دے نیز اُس کے بھائی ہر پیغمبر ؑپر
۔ ہر رسول سچائی کا سورج تھا۔ ہر رسول نہایت روشن آفتاب تھا
۔ ہر رسول دین کو پناہ دینے والا سایہ تھا اور ہر رسول ایک پھلدار باغ تھا
۔ اگر یہ پاک جماعت دنیا میں نہ آتی تو دین کا کام بالکل ابتر رہ جاتا
۔ جو ان کی بعثت کا شکر بجا نہیں لاتا وہ حق تعالیٰ کی نعمتوں کا منکر ہے
۔ وہ سب ایک سیپی کے سوموتی ہیں جو ذات اور اصل اور چمک میں یکساں ہیں
۔ ایسی کوئی امت بھی دنیا میں نہیں ہوئی جس میں کسی وقت ڈرانے والا نہ آیا ہو
۔ اُن میں پہلا آدم ؑاور آخری احمدؐ ہے۔ مبارک وہ جو آخری کو دیکھ پائے
۔ تمام نبی روشن فطرت رکھنے والے ہیں مگر احمدؐ ان سب سے زیادہ روشن ہے
۔ وہ سب معرفت کی کان تھے اور ہر ایک مولیٰ کے راستے کی خبر دینے والا تھا
۔ جس کسی کو توحید حق کا کچھ علم ہے اس کے علم کی اصل کسی پیغمبر سے ہے
۔ وہ علم اُسے ان کی تعلیم سے ہی پہنچا ہے خواہ اب وہ تکبر سے منکر ہو جائے
۔ ایک گمراہ اور ناپاک قوم ایسی بھی ہے جو ان پاک لوگوں کا انکار کرتی ہے
۔ ان کی آنکھوں نے حق کا منہ کبھی نہیں دیکھا اس لئے اس بحث میں انہوں نے دفتر سیاہ کر ڈالے
۔ اُن کی قسمت کی بدبختی کو دیکھ کہ اپنی آنکھ پر فخر کرتے ہیں اور سورج سے بھاگتے ہیں
۔ اگر آنکھ آفتاب سے بے نیاز ہوتی تو کوئی بھی چمگاڈر سے زیادہ تیز نظر نہ ہوتا
۔ جو کہ اندھا ہے اور اُس کے راستے میں سو گڑھے ہیں اُس پر افسوس اگر اُس کا کوئی رہبر نہیں
۔ ایک اور قوم کی ایسی ہی کمزور رائے ہے جو جہالت سے اُس کے سر میں سما گئی ہے
۔ وہ یہ کہ خدا نے دنیا میں کسی اور ملک کو ان کے ملک سے زیادہ اچھا نہیں بنایا
۔ نیز اُن کے خوبصورت چہرے سے زیادہ کوئی چہرہ اُس کی طبیعت اور دل کو پسند نہیں آیا
۔ اس لئے ازل سے ابد تک اُس کا مقام اسی ملک میں رہا اور رہے گا
۔ کوئی دوسرا ملک خواہ گمراہی میں مر جائے لیکن وہ کبھی اس کو نہیں پوچھتا
۔ صرف ایک چھوٹی سی قوم کو کتاب دے دی اور لاکھوں گروہوں کو اُس نے چھوڑ دیا
۔ جب ازل میں اُس نے خلقت کے درمیان نیکی اور بدی کو تقسیم کیا
۔ تو راستی ان لوگوں کے حصہ میں آئی اور دوسروں کی قسمت میں جھوٹ ہی آیا
۔ اُن کا قول یہ ہے کہ ان کے سوا اوروں میں سینکڑوں جھوٹے اور مکار آئے ہیں
۔ اور ان کے پاس ایک بھی ایسا نہیں آیا جو خد اکی طرف سے دین کی اشاعت کرنے والا ہوتا
۔ اور اُن کو خدا کا راستہ دکھاتا اور ہر جھوٹے کا جھوٹ کھول کر رکھ دیتا
۔ تا کہ منصف خدا کی حجت پوری ہو جاتی ہر مسلمان اور ہر عیسائی پر
۔ الغرض اُن کے نزدیک خدا تعالیٰ ہر بڑے ظالم سے بھی زیادہ ظالم ہے
۔ کیونکہ وہ ایک جہان کو گمراہی کی حالت میں ہر مکار کے پنجہ میں گرفتار چھوڑ دیتا ہے
۔ اور وہ خود کسی عاشق کی طرح صرف ایک ہی قوم سے ہمیشہ محبت اور تعلق رکھتا ہے
۔ اس قوم کی اس قسم کی احمقانہ رائے ہے، دوسری حماقت یہ کہ اس احمقانہ رائے پر فخر کرتی ہے
۔ آخر کار اس بُری رائے اور بُرے خیال نے ان کو عجیب طرح کا اندھا اور بہرہ بنا دیا
۔ انہوں نے سو چشموں سے تو اپنی آنکھ بند کرلی اور ایک کھرلی پر گر پڑے
۔ انہوں نے نبیوں سے سخت دشمنی اختیار کی، ایسے ہر متکبر کی دشمنی سے خدا کی پناہ
۔ پاکبازوں سے جس قدر ان کی دشمنی ثابت ہے اتنی دشمنی کی تو کوئی شیطانوں سے بھی امید نہیں رکھتا
۔ گدھا بے وقوفی میں بے مثل ہے لیکن ان کے ایک ایک بال میں سو سو گدھے ہیں
۔ نہ تو اُن کوتحقیق اور ثبوت سے کوئی غرض ہے نہ وہ سچے دل سے کشتی پر چڑھتے ہیں
۔ نہ وہ دوا کو اُس کے اثر سے شناخت کرتے ہیں نہ وہ درخت کو اُس کے پھل سے پہچانتے ہیں
۔ نہ خاکساری سے کسی اور سے پوچھتے ہیں اور نہ خود اپنے فکر سے کام لیتے ہیں
۔ نہ دل میں اس تحقیقات کی پروا رکھتے ہیں کہ سب دینوں میں کون سا دین بہتر ہے
۔ صرف ایک (دین) پر مائل اور لاکھوں کے مخالف ہیں قلت اور کثرت میں فرق سے بے فکر ہیں
۔ نہ ان کے دل میں خدا کا خوف ہے نہ قیامت کا ڈر
۔ اُن سیاہ دل والوں نے اپنی آنکھوں کو سی لیا ہے کینہ اور بغض سے اژدھے کی طرح جل بھن رہے ہیں
۔ جان بوجھ کر سچائی سے روگرداں ہیں اور بے وفا دنیا سے دل لگایا ہوا ہے
۔ انہوں نے حق کا مقابلہ کرنے کے لئے جہالت سے اپنے ہی گھر میں ایک مستقل ممبر بنا لیا ہے
۔ ان کا خدا بھی عجب خدا ہے جسے ہر ملک سے لاپروائی رہی
۔ اُسے ہمیشہ اپنے الہام کے لئے پسند آئے ایک زبان اور ایک چھوٹا سا ملک
۔ ایسی رائے کیونکر صحیح ہو سکتی ہے؟ اور عقل کس طرح اس کی طرف رہنمائی کر سکتی ہے؟
۔ ایسا شخص نیکوں پر بدگمانی کیونکر کر سکتا ہے جبکہ وہ خود نیک اور نیک خو ہو
۔ چاند کی نسبت یہ کہنا کہ یہ کچھ بھی نہیں اس سے بڑھ کر کوئی گالی نہیں۔
۔ اگر اندھا کہے کہ سورج کہاں ہے تو وہ اپنے اندھے پن میں زیادہ رسوا ہو گا۔
۔ چمکتے ہوئے سورج کے متعلق شک وشبہ نہ کر۔ تا کہ تو ملامت کے لائق نہ ٹھہرے۔
۔ اگر تو خدا کا طالب ہے تو کج روی نہ کر۔ اس قاہر خدا کے غضب سے کیوں نہیں ڈرتا۔
۔ تو روز قیامت سے کیوں نہیں ڈرتا۔انصاف کرنے والے خدا سے کیوں خوف نہیں کھاتا۔
۔ اُن کے اس افترا پر تجھے کس طرح اعتبار آگیا یا خدا نے ہی تیرے سامنے کوئی دفتر کھول دیا ہے۔
۔ اُن (نبیوں) کے نور نے ایک جہان کوگھیر لیا لیکن اے اندھے! تو ابھی غل وشور میں مبتلا ہے۔
۔ چمکدار لعل کو اگر تو خراب کہہ دے تو اس سے آبدار ہیرے کی قیمت کیونکر گھٹ سکتی ہے۔
۔ پاکوں پر طعنہ زنی کبھی پاک لوگوں پر نہیں پڑتی تو خود ثابت کرتا ہے کہ تو ایک فاسق ہے
۔ مردانِ خدا سے عداوت کرنا نامردی ہے بشر تو وہ ہوتا ہے جو بے شر ہو
۔ اور جو دشمنی اور نفرت سے جلتا ہے وہ نفس دنی کے لئے کمزور شکار ہے
۔ ہزار درجے اچھی کینہ پرور کی آنکھ سے بیوقوف، اندھے اور کانے کی آنکھ ہے
۔ عداوت اور تعصب پر لعنت بھیج اور کینہ وروں کے سر پر دھول ڈال
۔ پابندیِ حق کے سوا کوئی دوسرا ہنر خدائے بزرگ سے نہیں ملاتا
۔ ہم تو سب پیغمبروں کے غلام ہیں اور خاک کی طرح ان کے دروازہ پر پڑے ہیں
۔ ہر رسول نے یقیناً خد اکا راستہ دکھایا مگر ہماری جان تو اس راستباز پر قربان ہے
۔ اے میرے خدا ! ان انبیاء کے گروہ کے طفیل جن کو تو نے بڑے بھاری فضلوں کے ساتھ بھیجا ہے
۔ مجھے معرفت عطا فرما جیسے تو نے دل دیا ہے۔ شراب بھی عطا کر جبکہ تو نے جام دیا ہے
۔ اے میرے خدا ! مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر جس کا تو ہر جگہ مددگار رہا ہے
۔ اپنے ُلطف وکرم سے میرا ہاتھ پکڑ اور میرے کاموں میں میرا دوست اور مددگار بن جا
۔ میں تیری قوت پر بھروسہ رکھتا ہوں اگرچہ میں خاک کی طرح ہوں بلکہ اُس سے بھی کم تر
اما بعد سب طالبان حق پر واضح ہو جو مقصود اس کتاب کی تالیف سے جو موسوم بالبراھین الاحمدیہ علی حقیت کتاب اللّٰہ القراٰن والنبوۃ المحمدیہ ہے یہ ہے جو دین اسلام کی سچائی کے دلائل اور قرآن مجید کی حقیت کے براہین اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی صدق رسالت کے وجوہات سب لوگوں پر بوضاحت تمام ظاہر کئے جائیں اور نیز ان سب کو جو اس دین متین اور مقدس کتاب اور برگزیدہ نبی سے منکر ہیں ایسے کامل اور معقول طریق سے ملزم اور لا جواب کیا جائے جو آئندہ ان کو بمقابلہ اسلام کے دم مارنے کی جگہ باقی نہ رہے۔
اور یہ کتاب مرتب ہے ایک اشتہار اور ایک مقدمہ اور چار فصل اور ایک خاتمہ پر۔ خدا اس کو حق کے طالبوں کے لئے مبارک کرے اور بہتوں کو اس کے پڑھنے سے اپنے سچے دین کی ہدایت دے۔ آمین۔
انعامی دس ہزار روپیہ ان سب لوگوں کے لئے جو مشارکت اپنی کتاب کے فرقان مجید سے ان دلائل اور براہین حقانیہ میں جو فرقان مجید سے ہم نے لکھیں ہیں ثابت کر دکھائیں یا اگر کتاب الہامی اُن کی اُن دلائل کے پیش کرنے سے قطعاً عاجز ہو تو اس عاجز ہونے کا اپنی کتاب میں اقرار کرکے ہمارے ہی دلائل کو نمبروار توڑ دیں۔
میں جو مصنف اس کتاب براہین احمدیہ کا ہوں یہ اشتہار اپنی طرف سے بوعدہ انعام دس ہزار روپیہ بمقابلہ جمیع اربابِ مذہب اور ملت کے جو حقانیت فرقان مجید اور نبوت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے منکر ہیں اتماماً للحُجّۃ شائع کرکے اقرار صحیح قانونی اور عہد جائز شرعی کرتا ہوں کہ اگر کوئی صاحب منکرین میں سے مشارکت اپنی کتاب کی فرقان مجید سے اُن سب براہین اور دلائل میں جو ہم نے دربارہ حقیت فرقان مجید اور صدقِ رسالت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اُسی کتاب مقدس سے اخذ کرکے تحریرکیں ہیں اپنی الہامی کتاب میں سے ثابت کرکے دکھلاوے یا اگر تعداد میں ان کے برابر پیش نہ کرسکے تو نصف اِن سے یا ثلث ان سے یا ربع ان سے یا خمس ان سے نکال کر پیش کرے یا اگر بکلی پیش کرنے سے عاجز ہو تو ہمارے ہی دلائل کو نمبروار توڑ دے تو ان سب صورتوں میں بشرطیکہ تین منصف مقبولۂ فریقین بالاتفاق یہ رائے ظاہرکر دیں کہ ایفاء شرط جیسا کہ چاہئے تھا ظہور میں آگیا میں مشتہر ایسے مجیب کو بلا عذرے وحیلتے اپنی جائیداد قیمتی دس ہزار روپیہ پر قبض و دخل دے دوں گا۔ مگر واضح رہے کہ اگر اپنی کتاب کی دلائل معقولہ پیش کرنے سے عاجز اور قاصر رہیں یا برطبق شرط اشتہار کی خمس تک پیش نہ کر سکیں تو اس حالت میں بصراحت تمام تحریر کرنا ہوگا جو بوجہ ناکامل یا غیر معقول ہونے کتاب کے اس شق کے پورا کرنے سے مجبور اور معذور رہے۔ اور اگر دلائل مطلوبہ پیش کریں تو اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ جو ہم نے خمس دلائل تک پیش کرنے کی اجازت اور رخصت دی ہے اس سے ہماری یہ مرادنہیں ہے جو اس تمام مجموعۂ دلائل کا بغیر کسی تفریق اور امتیاز کے نصف یا ثلث یا ربع یا خمس پیش کردیا جائے بلکہ یہ شرط ہر یک صنف کی دلائل سے متعلق ہے اور ہر صنف کے براہین میں سے نصف یا ثلث یا ربع یا خمس پیش کرنا ہوگا۔
شائد کسی صاحب کا فہم اس بات کے سمجھنے سے قاصر رہے جو عبارتِ مذکورہ میں صنف دلائل سے کیا مراد ہے پس بغرض تشریح اس فقرہ کے لکھا جاتا ہے جو دلائل اور براہین فرقانِ مجید کی کہ جن سے حقیت اس کلام پاک کی اور صدق رسالت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ثابت ہوتا ہے دو قسم پر ہیں اوّل وہ دلائل جو اس پاک کتاب اور آنحضرت کی صداقت پر اندرونی اور ذاتی شہادتیں ہیں یعنی ایسی دلائل جو اُسی مقدس کتاب کے کمالات ذاتیہ اور خود آنحضرت کی ہی خصال قدسیہ اور اخلاق مرضیہ اور صفات کاملہ سے حاصل ہوتی ہیں دوسری وہ دلائل جو بیرونی طور پر قرآن شریف اور آنحضرت کی سچائی پر شواہد قاطعہ ہیں یعنی ایسی دلائل جو خارجی واقعات اور حادثات متواترہ مثبتہ سے لی گئی ہیں۔
اور پھر ہر یک ان دونوں قسموں کی دلائل سے دو قسم پر ہے دلیل بسیط اور دلیل مرکب۔ دلیل بسیط وہ دلیل ہے جو اثبات حقیت قرآن شریف اور صدق رسالت آنحضرت کے لئے کسی اور امر کے الحاق اور انضمام کی محتاج نہیں اور دلیل مرکب وہ دلیل ہے جو اُسکے تحقق دلالت کے لئے ایک ایسے کل مجموعے کی ضرورت ہے کہ اگر من حیث الاجتماع اس پر نظر ڈالی جائے یعنی نظر یکجائی سے اس کی تمام افراد کو دیکھا جائے تو وہ کل مجموعی ایک ایسی عالی حالت میں ہو جو تحقق اس حالت کا تحقق حقیت فرقان مجید اور صدق رسالت آنحضرت کو مستلزم ہو اور جب اجزا اِس کی الگ الگ دیکھی جائیں تو یہ مرتبہ برہانیت کا جیسا کہ اُن کو چاہیے حاصل نہ ہو اور وجہ اس تفاوت کی یہ ہے جو کل مجموعی اور کل واحد ہمیشہ متخالف فی الاحکام ہوتے ہیں جیسے ایک بوجھ کو دس آدمی اکٹھے ہوکر اٹھا سکتے ہیں اور اگر وہی دس آدمی ایک ایک ہوکر اٹھانا چاہیں تو یہ امر محال ہوجاتا ہے۔ اور ہر واحد ان دونوں قسم کی دلائل بسیطہ اور مرکبہ سے جب اپنی خاص خاص صورتوں اور ہیئتوں اور وضعوں کے لحاظ سے تصور کئے جائیں تو ان کا نام اس کتاب میں اصناف دلائل ہے۔ اور یہ وہی اصناف ہیں کہ جن کے التزام کے لئے ہم نے صدر اشتہار ھٰذا میں یہ قید لگا دی ہے جو ہر صنف کے براہین میں سے شخص متصدی مقابلہ فرقان مجید کا نصف یا ثلث یا ربع یا خمس پیش کرے یعنی اس صورت میں کہ جب ان کل دلائل کے پیش کرنے سے عاجز ہو جو ایک صنف کے تحت میں داخل ہیں۔ اور نیز اس جگہ یہ امر زیادہ تر قابلِ انکشاف ہے کہ جو صاحب کسی دلیل مرکب کا کہ جس کی تعریف ابھی ہم بیان کرچکے ہیں۔ اپنی کتاب میں سے نمونہ دکھلانا چاہیں تو ان پر واجب ہوگا کہ اگر وہ دلیل مرکب ایسی مجموعہ اجزا سے مرکب ہو جو ہر یک جزو اس کا بجائے خود کسی امر پر دلیل ہو تو ان سب جزوی دلائل کا بھی کم سے کم ایک ایک نمونہ پیش کرنا ہوگا۔
چونکہ سمجھنا اس شرط کا محتاج تمثیل ہے اس لئے ہم بطورِ تمثیل کے اس جگہ اسی قسم کی ایک دلیل دلائل مُرکّبہ مثبتہ حقیتِ فُرقان مجید سے تحریر کرتے ہیں اور وہ یہ ہے جو تعلیم اصولی فرقان مجید کی دلائل حکمیہ پر مبنی اور مشتمل ہے یعنی فرقانِ مجید ہر یک اصولِ اعتقادی کو جو مدار نجات کا ہے محققانہ طور سے ثابت کرتا ہے اور قوی اور مضبوط فلسفی دلیلوں سے بپایۂ صداقت پہنچاتا ہے جیسے وجود صانع عالم کا ثابت کرنا توحید کو بپایۂ ثبوت پہنچانا ضرورتِ اِلہام پر دلائل قاطعہ کا لکھنا اور کسی احقاق حق اور ابطالِ باطل سے قاصر نہ رہنا پس یہ امر فرقانِ مجید کے منجانب اللہ ہونے پر بڑی بزرگ دلیل ہے جس سے حقیت اور افضلیت اُس کی بوجہ کمال ثابت ہوتی ہے کیونکہ دنیا کے تمام عقائد فاسدہ کو ہریک نوع اور ہر صنف کی غلطیوں سے بدلائل واضحہ پاک کرنا اور ہر قسم کے شکوک اور شبہات کو جو لوگوں کے دلوں میں دخل کرگئے ہوں براہین قاطعہ سے مٹا دینا اور ایسا مجموعہ اصولِ مدلّلہ محققہ مثبتہ کا اپنی کتاب میں درج کرنا کہ نہ پہلے اس سے وہ مجموعہ کسی الہامی کتاب میں درج ہو اور نہ کسی ایسے حکیم اور فیلسوف کا پتا مل سکتا ہو کہ جو کبھی کسی زمانہ میں اپنی نظر اور فکر اور عقل اور قیاس اور فہم اور ادراک کے زور سے اس مجموعہ کی حقیقی سچائی کا دریافت کرنے والا ہوچکا ہو اور نہ کبھی کسی بھلے مانس نے ایک ذرہ اس بات کا ثبوت دیا ہو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کوئی ایک آدھ دن کسی مدرسہ یا مکتب میں پڑھنے بیٹھے تھے یا کسی سے کچھ علم معقول یا منقول سیکھا تھا یا کبھی کسی فلسفی اور منطقی سے ان کی صحبت اور مخالطت رہی تھی کہ جس کے اثر سے انہوں نے ہر یک اصول حقہ پر دلائل فلسفہ قائم کرکے تمام عقائد مدار نجات کی حقیقی سچائی کو ایسا کھول دیا کہ جس کی نظیر صفحۂ روزگار میں کہیں نہیں پائی جاتی۔ یہ ایسا کام ہے کہ بجز تائید الٰہی اور الہام ربانی کے ہرگز کسی سے انجام پذیر نہیں ہوسکتا پس ناچار عقل اِس بات پر قطع واجب کرتی ہے جو قرآنِ شریف اس خدائے واحد لاشریک کی کلام ہے کہ جس کے علم کے ساتھ کسی انسان کا علم برابر نہیں۔ یہ دلیل ہے جو ہم نے بطور نمونہ کے ان دلائل مرکبہ میں سے لکھی ہے کہ جن کا مجموعہ اجزا تمام ایسی جزؤں سے مرکب ہے کہ وہ سب جزیں دلائل ہی ہیں چنانچہ اس دلیل کے اجزا سب کے سب وہ دلائل ہیں جو عقائد حقہ پر قائم کی گئی ہیں اور چونکہ یہ دلیل بھی اصناف دلائل میں سے ایک صنف ہے اس لئے جیسا کہ مخاصم پر تمام اصناف دلائل کا پیش کرنا فرض ہے اس لئے اس دلیل کا بھی پیش کرنا فرض ہے مگر اس دلیل کودکھلانے کے لئے ان تمام دلائل کا دکھلانا بھی ضروری ہے کہ جن سے اس دلیل کی تالیف اور ترکیب ہے اور جن کی ہیئت اجتماعی سے اس کا وجود تیار ہوتا ہے جیسی دلیل اثبات وجود صانع دلیل اثبات توحید دلیل اثبات خالقیت باری تعالیٰ وغیرہ وغیرہ کیونکہ یہی دلائل کی اجزا ہیں اور وجود کل کا بغیر وجود اجزا کے ممکن نہیں اور نہ تحصل کسی ماہیت کا بدون اس کی جزوں کے ہو سکتا ہے پس مخاصم پر لازم ہے جو ان تمام جزوی دلائل کو پیش کرے ہاں یہ اختیار ہے کہ جہاں ہم نے مثلاً کسی اصول کے اثبات پر پانچ دلیلیں لکھی ہوں مخاصم صاحب اُس کے اثبات پر یا اس کے ابطال پر یعنی جیسا کہ رائے اور اعتقاد ہو صرف ایک ہی دلیل بپابندی انہیں شرائط اور اُنہیں حدود کے جو اشتہار ھٰذا میں ہم ذکر کرچکے ہیں اپنی الہامی کتاب سے نکال کر دکھلاویں۔
المُشـــــــــــــــــــــــــتھر
خاکسار مِیرزا غلام احمد مقام قادیان ضلع گورداسپور
پنجاب

نوٹ: یہ صفحہ ایڈیشن اوّل میں نہیں ہے البتہ ایڈیشن دوم میں ہے۔ ناشر