یکم جنوری سنہ ۱۸۹۹ء
اگر چہ یہ کتاب بعض متفرق مقامات میں عیسائیوں کے حملوں کا جواب دیتی اور ان کو مخاطب کرتی ہے لیکن یادر ہے کہ باوجود اس بات کے کہ عیسائیوں کی کتاب امہات المومنین نے دلوں میں سخت اشتعال پیدا کیا ہے مگر پھر بھی ہم نے اس کتاب میں جہاں کہیں عیسائیوں کا ذکر آیا ہے بہت نرمی اور تہذیب اور لطف بیان سے ذکر کیا ہے اور گوایسی صورت میں کہ دل دکھانے والی گالیاں ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئیں ہما راحق تھا کہ ہم مدافعت کے طور پر ختی کاسختی سے جواب دیتے لیکن ہم نے محض اس حیا کے تقاضا سے جو مومن کی صفت لازمی ہے ہر ایک تلخ زبانی سے اعراض کیا اور وہی امور لکھے ہیں جو موقعہ اور محل پر چسپاں تھے اور قطع نظر ان سب باتوں کے ہماری اس کتاب میں اور رسالہ فریاد درد میں وہ نیک چلن پادری اور دوسرے عیسائی مخاطب نہیں ہیں جو اپنی شرافت ذاتی کی وجہ سے فضول گوئی اور بد گوئی سے کنارہ کرتے ہیں اور دل دکھانے والے لفظوں سے ہمیں دکھ نہیں دیتے اور نہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتے اور نہ ان کی کتابیں سخت گوئی اور تو ہین سے بھری ہوئی ہیں۔ ایسے لوگوں کو بلا شبہ ہم عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور وہ ہماری کسی تقریر کے مخاطب نہیں ہیں بلکہ صرف وہی لوگ ہمارے مخاطب ہیں خواہ وہ بگفتن مسلمان کہلاتے یا عیسائی ہیں جو حد اعتدال سے بڑھ گئے ہیں اور ہماری ذاتیات پر گالی اور بد گوئی سے حملہ کرتے یا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بزرگ میں تو ہین اور ہتک آمیز باتیں منہ پر لاتے اور اپنی کتابوں میں شائع کرتے ہیں۔ سو ہماری اس کتاب اور دوسری کتابوں میں کوئی لفظ یا کوئی اشارہ ایسے معزز لوگوں کی طرف نہیں ہے جو بد زبانی اور کمینگی کے طریق کو اختیار نہیں کرتے ۔
ہم اس بات کے لئے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا سچا اور پاک اور راستباز نبی مانیں اور ان کی نبوت پر ایمان لاویں۔ سو ہماری کسی کتاب میں کوئی ایسا لفظ بھی نہیں ہے جو اُن کی شان بزرگ کے برخلاف ہو۔ اور اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ دھو کہ کھانے والا اور جھوٹا ہے۔ والسلام على من اتبع الهدى ۔
المشتہر مرزاغلام احمد از قادیاں
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
نَحْمَدُهُ وَ نُصْلِيِّ عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ
پندے ست گوش کن کہ رہی از عذاب و درد
فرخندہ گس کہ پند خردمند گوش کرد
مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض صاحبوں کے دلوں میں میرے اول اشتہار کے پڑھنے سے یہ ایک اعتراض پیدا ہوا ہے کہ لوگوں کو اوّل یہ بتانا کہ اس مرض کے استیصال کے لئے فلاں تدبیر یا دوا ہے اور پھر یہ کہنا کہ شامت اعمال سے یہ مرض پھیلتی ہے ان دونوں باتوں میں تناقض ہے۔ اور تعجب کہ اس اعتراض کے کرنے والے بعض مسلمان ہی ہیں۔ سوایسے سب صاحبوں کو واضح رہے کہ قانونِ قدرت اور صحیفہ فطرت پر نظر ڈالنے سے ان تمام اوہام کا بڑی صفائی سے جواب ملتا ہے۔ خدا کا قانونِ قدرت جو ہماری نظر کے سامنے ہے ہمیں بتلا رہا ہے کہ سلسلہ تدابیر اور معالجات کا طلب اور استدعا سے وابستہ ہے یعنی جب ہم فکر کے ذریعہ سے یا کسی اور طریق جستجو کے ذریعہ سے کسی تدبیر اور علاج کو طلب کرتے ہیں یا اگر ہم طلب کرنے میں احسن طریق کا ملکہ نہ رکھتے ہوں یا اگر اس میں کامل نہ ہوں تو مثلاً اس غور اور فکر کے لئے کسی ڈاکٹر کو منتخب کرتے ہیں اور وہ ہمارے لئے اپنی فکر اور غور کے وسیلہ سے کوئی احسن طریق ہماری شفا کا سوچتا ہے تب اس کو قانون قدرت کی حد کے اندر کوئی طریق سوجھ جاتا ہے جو کسی درجہ تک ہمارے لئے مفید ہوتا ہے سو وہ طریق جو ذہن میں آتا ہے وہ در حقیقت اس خوض اور غور اور فکر اور توجہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔
جس کو ہم دوسرے لفظوں میں دُعا کہہ سکتے ہیں کیونکہ فکر اور غور کے وقت جب کہ ہم ایک مخفی امر کی تلاش میں نہایت عمیق دریا میں اُتر کر ہاتھ پیر مارتے ہیں تو ہم ایسی حالت میں یہ زبانِ حال اُس اعلیٰ طاقت سے فیض طلب کرتے ہیں جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ غرض جب کہ ہماری روح ایک چیز کے طلب کرنے میں بڑی سر گرمی اور سوز و گداز کے ساتھ مبدء فیض کی طرف ہاتھ پھیلاتی ہے اور اپنے تئیں عاجز پا کر فکر کے ذریعہ سے کسی اور جگہ سے روشنی ڈھونڈتی ہے تو در حقیقت ہماری وہ حالت بھی دُعا کی ایک حالت ہوتی ہے۔ اُسی دُعا کے ذریعہ سے دنیا کی کل حکمتیں ظاہر ہوئی ہیں۔ اور ہر ایک بیت العلم کی گنجی دعا ہی ہے اور کوئی علم اور معرفت کا دقیقہ نہیں جو بغیر اس کے ظہور میں آیا ہو۔ ہمارا سوچنا ہمارا فکر کرنا اور ہمارا طلب امر مخفی کے لئے خیال کو دوڑانا یہ سب امور دُعا ہی میں داخل ہیں۔ صرف فرق یہ ہے کہ عارفوں کی دُعا آداب معرفت کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے اور اُن کی روح مبدء فیض کو شناخت کر کے بصیرت کے ساتھ اس کی طرف ہاتھ پھیلاتی ہے اور مجوبوں کی دُعا صرف ایک سرگردانی ہے جو فکر اور غور اور طلب اسباب کے رنگ میں ظاہر ہوتی ہے۔ وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ سے ربط معرفت نہیں اور نہ اس پر یقین ہے وہ بھی فکر اور غور کے وسیلہ سے یہی چاہتے ہیں کہ غیب سے کوئی کامیابی کی بات اُن کے دل میں پڑ جائے اور ایک عارف دُعا کرنے والا بھی اپنے خدا سے یہی چاہتا ہے کہ کامیابی کی راہ اس پر کھلے لیکن محجوب جو خدا تعالیٰ سے ربط نہیں رکھتا وہ مبدء فیض کو نہیں جانتا اور عارف کی طرح اس کی طبیعت بھی سرگردانی کے وقت ایک اور جگہ سے مدد چاہتی ہے اور اسی مدد کے پانے کے لئے وہ فکر کرتا ہے۔ مگر عارف اُس مبدء کو دیکھتا ہے اور یہ تاریکی میں چلتا ہے اور نہیں جانتا کہ جو کچھ فکر اور خوض کے بعد بھی دل میں پڑتا ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ متفکر کے فکر کو بطور دُعا قرار دے کر بطور قبول دعا اس علم کو فکر کرنے والے کے دل میں ڈالتا ہے۔ غرض جو حکمت اور معرفت کا نکتہ فکر کے ذریعہ سے دل میں پڑتا ہے وہ بھی خدا سے ہی آتا ہے اور فکر کرنے والا اگر چہ نہ سمجھے مگر خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ مجھ سے ہی مانگ رہا ہے۔
سو آخر وہ خدا سے اس مطلب کو پاتا ہے اور جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے یہ طریق طلبِ روشنی اگر علیٰ وجہ البصیرت اور ہادیٔ حقیقی کی شناخت کے ساتھ ہو تو یہ عارفانہ دُعا ہے اور اگر صرف فکر اور خوض کے ذریعہ سے یہ روشنی لا معلوم مبدء سے طلب کی جائے اور منورِ حقیقی کی ذات پر کامل نظر نہ ہو تو وہ محجوبانہ دعا ہے۔
اب اس تحقیق سے تو یہی ثابت ہوا کہ تدبیر کے پیدا ہونے سے پہلا مرتبہ دُعا کا ہے جس کو قانونِ قدرت نے ہر ایک بشر کے لئے ایک امرِ لا بدی اور ضروری ٹھہرا رکھا ہے اور ہر ایک طالبِ مقصود کو طبعاً اس پُل پر سے گزرنا پڑتا ہے۔ پھر جائے شرم ہے کہ کوئی ایسا خیال کرے کہ دُعا اور تدبیر میں کوئی تناقض ہے۔ دُعا کرنے سے کیا مطلب ہوتا ہے؟ یہی تو ہوتا ہے کہ وہ عالم الغیب جس کو دقیق در دقیق تدبیریں معلوم ہیں کوئی احسن تدبیر دل میں ڈالے یا بوجہ خالقیت اور قدرت اپنی طرف سے پیدا کرے پھر دُعا اور تدابیر میں تناقض کیونکر ہوا ؟
علاوہ اس کے جیسا کہ تدبیر اور دُعا کا باہمی رشتہ قانونِ قدرت کی شہادت سے ثابت ہوتا ہے ایسا ہی صحیفہ فطرت کی گواہی سے بھی یہی ثبوت ملتا ہے جیسا کہ دیکھا جاتا ہے کہ انسانی طبائع کسی مصیبت کے وقت جس طرح تدبیر اور علاج کی طرف مشغول ہوتی ہیں ۔ ایسا ہی طبعی جوش سے دُعا اور صدقہ اور خیرات کی طرف جھک جاتی ہیں۔ اگر دُنیا کی تمام قوموں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کسی قوم کا کانشنس اس متفق علیہا مسئلہ کے برخلاف ظاہر نہیں ہوا۔ پس یہی ایک رُوحانی دلیل اس بات پر ہے کہ انسان کی شریعت باطنی نے بھی قدیم سے تمام قوموں کو یہی فتویٰ دیا ہے کہ وہ دُعا کو اسباب اور تدابیر سے الگ نہ کریں بلکہ دعا کے ذریعہ سے تدابیر کو تلاش کریں۔ غرض دعا اور تدبیر انسانی طبیعت کے دو طبعی تقاضے ہیں کہ جو قدیم سے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا ہے دو حقیقی بھائیوں کی طرح انسانی فطرت کے خادم چلے آئے ہیں اور تدبیر دُعا کے لئے بطور نتیجہ ضروریہ کے اور دُعا تدبیر کے لئے بطور محرک اور جاذب کے ہے اور انسان کی سعادت اِسی میں ہے کہ وہ تدبیر کرنے سے پہلے دُعا کے ساتھ مبدء فیض سے مدد طلب کرے تا اُس چشمہ لازوال سے روشنی پا کر عمدہ تدبیریں میسر آ سکیں۔☆
ایک اور اعتراض ہے جو پیش کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ ’’کوئی تقدیر معلق نہیں ہو سکتی اور کوئی الہامی پیشگوئی جو شرطی طور پر ہو خدا تعالیٰ کی عادت کے برخلاف ہے۔‘‘ سو واضح رہے کہ یہ اعتراض بھی ایسا ہی دھوکا ہے جیسا کہ پہلا دھوکا تھا۔ انسانوں کی طبیعتیں ہمیشہ سے اس طرف مائل ہیں کہ اگر وہ قبل نزول بلا اطلاع دی جائیں کہ فلاں وقت تک بلا آنے والی ہے تو وہ دُعا اور صدقہ سے ردّ بلا چاہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی باطنی شریعت نے نوع انسان کے صحیفہ فطرت پر یہی نقش لکھا ہے اور یہی فتویٰ دیا ہے کہ دعاؤں اور صدقات کے ساتھ بلائیں دفع ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تمام قو میں طبعاً اس بات کی طرف مائل ہیں کہ کسی بلا کے نزول کے وقت یا خوف نزول کے وقت دعاؤں پر زور مارتے ہیں۔ ایک جہاز پر سوار ہونے والے جب غرق ہونے کے آثار پاتے ہیں تو کس طرح گڑ گڑاتے اور روتے ہیں ۔ قرآن شریف میں حضرت نوح سے لے کر ہمارے سیّد و مولیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تک جس قدر نافرمانوں کے حق میں انذاری پیشگوئیاں ذکر فرمائی گئی ہیں وہ سب شرطی طور پر ہیں جن کے یہی معنے ہیں کہ فلاں عذاب تم پر آنے والا ہے پس اگر تم تو بہ کرو اور نیک کام بجالاؤ تو وہ موقوف رکھا جائے گا اور نہ تم ہلاک کئے جاؤ گے ۔ ایسی پیشگوئیوں سے قرآن شریف بھرا پڑا ہے۔☆ پھر تعجب کہ بعض لوگ مسلمان کہلا کر ایسے اعتراض کرتے ہیں جو قرآنی تعلیم کے بھی مخالف ہیں۔ اس کا یہی سبب ہے کہ اس زمانہ میں بہت سے لوگ دن رات دنیا کی مشغولیوں میں غرق رہ کر اسلامی تعلیم سے سخت غافل ہو گئے ہیں۔
اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ جو کچھ ہم نے دفع طاعون کے بارے میں بطور حفظ ما تقدم اپنے پہلے اشتہار میں ایک تدبیر لکھی تھی اس تدبیر کے بیان کرنے سے ہرگز ہمارا یہ منشا نہ تھا کہ وہ یقینی اور قطعی علاج ہے اور ایسا لا زوال اور تسلی بخش ہے کہ اس کے بعد دعا کی بھی حاجت نہیں بلکہ منشا صرف اس قدر تھا کہ گمان غالب ہے کہ اُس سے فائدہ ہو ۔ ہم یقیناً جانتے ہیں کہ کسی مرض کے متعلق ڈاکٹروں اور طبیبوں کے ہاتھ میں کوئی ایسی دوا نہیں جس پر دعویٰ کر سکیں کہ وہ قضا و قدر کے ساتھ پوری لڑائی کر کے تمام قسم کی طبائع کو ضرور کسی مرض سے حکماً نجات دے دے گی بلکہ ہمارا یقین ہے کہ اب تک طبیبوں کو ایسی دوا میسر ہی نہیں آئی اور نہ آ سکتی ہے کہ جو حکماً ہر ایک طبیعت اور عمر اور ہر ایک ملک کے آدمی کو مفید پڑے اور ہرگز خطا نہ جائے ۔ لہذا با وجود تدبیر کے بہر حال دُعا کا خانہ خالی ہے اور طاعون تو تمام امراضِ مہلکہ میں سے اوّل درجہ پر ہے ۔ پھر کیونکر ایسی مہلک مرض کے بارے میں کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ کوئی تدبیر یا دوا اس کے حملہ قاتلہ سے تمام جانوں کو بچا سکتی ہے ۔ پھر جب کہ قانون قدرت ہی بتلا رہا ہے کہ علم طب ظنی ہے اور تمام تدابیر اور معالجات بھی ظنی تو اس صورت میں کس قدر بد نصیبی ہے کہ ایسے ظنیات پر بھروسہ کر کے مبدء فیض اور رحمت سے بذریعہ دُعا طلب فضل نہ کیا جائے ۔ دُعا سے ہم کیا چاہتے ہیں؟ یہی تو چاہتے ہیں کہ وہ عالم الغیب جس کو اصل حقیقت مرض کی بھی معلوم ہے اور دوا بھی معلوم ہے وہ ہماری دستگیری فرماوے اور چاہے تو وہ دوائیں ہمارے لئے میسر کرے جو نافع ہوں اور یا اپنے فضل اور کرم سے وہ دن ہی ہم کو نہ دکھلاوے کہ ہمیں دواؤں اور طبیبوں کی حاجت پڑے۔ کیا اس میں شک ہے کہ ایک اعلیٰ ذات تمام طاقتوں والی موجود ہے جس کے ارادہ اور حکم سے ہم جیتے اور مرتے ہیں۔ اور جس طرف اس کا ارادہ جھکتا ہے تمام نظام زمین اور آسمان کا اسی طرف جھک جاتا ہے۔ اگر وہ چاہتا ہے کہ کسی ملک کی حالت صحت کسی وقت عمدہ ہو تو ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن سے پانی اُس ملک کا ہر ایک عفونت سے محفوظ رہے اور ہوا میں کوئی تغیر غیر طبعی پیدا نہ ہوا اور غذائیں صالحہ میسر آویں ۔ اور دوسرے تمام مخفی اسباب کیا ارضی اور کیا سماوی جو مضر صحت ہیں ظہور اور بروز نہ کریں۔ اور اگر وہ کسی ملک کے لئے وبا اور موت کو چاہتا ہے تو وباء کے پیدا کرنے والے اسباب پیدا کر دیتا ہے کیونکہ تمام ملكوت السماوات والارض اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ اور ہر ایک ذرہ دوا اور غذا اور اجرام اور اجسام کا اُس کی آواز سنتا ہے یہ نہیں کہ وہ دنیا کو پیدا کر کے معطل اور بے اختیار کی طرح الگ ہو کر بیٹھ گیا ہے بلکہ اب بھی وہ دنیا کا خالق ایسا ہی ہے جیسا کہ پہلے تھا۔ چند سال میں ہمارے جسم کے پہلے اجزا تحلیل پا جاتے ہیں اور دوسرے اجزا اُن کی جگہ آ جاتے ہیں۔ سو یہ سلسلہ خلق اور آفرینش ہے جو برابر جاری رہتا ہے ایک عالم فنا پذیر ہوتا ہے اور دوسرا عالم اُس کی جگہ پکڑتا ہے۔ ایسا ہی ہمارا خدا قيوم العالم بھی ہے جس کے سہارے سے ہر ایک چیز کی بقا ہے۔ یہ نہیں کہ اُس نے کسی روح اور جسم کو پیدا نہیں کیا یا پیدا کر کے الگ ہو گیا بلکہ وہ فی الواقع ہر ایک جان کی جان ہے اور ہر ایک موجود محض اس سے فیض پا کر قائم رہ سکتا ہے اور فیض پا کر ابدی زندگی حاصل کرتا ہے جیسا کہ ہم بغیر اس کے جی نہیں سکتے ایسا ہی بغیر اس کے ہمارا وجود بھی پیدا نہیں ہوا۔ پس جب کہ وہ ایسا خدا ہے کہ ہماری حیات اور زندگی اُسی کے ہاتھ میں ہے اور اُسی کے حکم سے ہمارے وجود کے ذرّات ملتے اور علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں تو پھر اس کے مقابل پر یہ کہنا کہ بغیر اُس کی امداد اور فضل کے ہم محض اپنی تدبیروں پر بھروسہ کر کے جی سکتے ہیں کس قدر فاش غلطی ہے۔ نہیں بلکہ ہماری تدبیریں بھی اُسی کی طرف سے آتی ہیں۔ ہمارے ذہنوں میں تبھی روشنی پیدا ہوتی ہے جب وہ بخشتا ہے۔ پانی اور ہوا پر بھی ہمارا تصرف نہیں۔ بہت سے اسباب ہیں جو ہمارے اختیار سے باہر اور صرف قبضہ قدرت خدائے تعالیٰ میں ہیں جو ہماری صحت یا عدم صحت پر بڑا اثر ڈالنے والے ہیں۔ جیسا کہ اللہ جَلَّ شَانُہٗ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ وَّتَصۡرِیۡفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الۡمُسَخَّرِ بَیۡنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ(البقرة: ۱۶۵) یعنی ہواؤں اور بادلوں کو پھیرنا یہ خدا تعالیٰ کا ہی کام ہے اور اس میں عقل مندوں کو خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کے اختیارِ کامل کا پتہ لگتا ہے۔ اور یہ پھیرنا دو قسم پر ہے ایک ظاہری طور پر اور وہ یہ ہے کہ ہواؤں اور بادلوں کو ایک جہت سے دوسری جہت کی طرف اور ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف پھیرا جائے۔ دوسری قسم پھیرنے کی باطنی طور پر ہے۔ اور وہ یہ کہ ہواؤں اور بادلوں میں ایک کیفیت تریاقی یا سمّی پیدا کر دی جائے تا موجب امن و آسائشِ خلق ہوں یا امراضِ وبائیہ کا موجب ٹھہریں۔ سوان دونوں قسموں کے پھیرنے میں انسان کا دخل نہیں اور بگلی انسانی طاقت سے باہر ہیں۔ اور با ایں ہمہ ایک یہ مشکل بھی پیش ہے کہ ہماری صحت یا عدم صحت کا مدار صرف ان ہی دو چیزوں پر نہیں بلکہ ہزار در ہزار اسباب ارضی و سماوی اور بھی ہیں جو دقیق در دقیق اور انسان کی فکر اور نظر سے مخفی ہیں اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ تمام اسباب اُس کی جد و جہد سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ انسان کو اس خدا کی طرف رجوع کرنے کی حاجت ہے جس کے ہاتھ میں یہ تمام اسباب اور اسباب در اسباب ہیں۔ اور جس طرح خدا تعالیٰ کی کتابوں میں نیک انسان اور بدانسان میں فرق کیا گیا ہے اور اُن کے جُدا جُدا مقام ٹھہرائے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت میں ان دو انسانوں میں بھی فرق ہے جن میں سے ایک خدا تعالیٰ کو چشمۂ فیض سمجھ کر بذریعہ حالی اور قالی دُعاؤں کے اس سے قوت اور امداد مانگتا اور دوسرا صرف اپنی تدبیر اور قوت پر بھروسہ کر کے دُعا کو قابل مضحکہ سمجھتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ سے بے نیاز اور متکبرانہ حالت میں رہتا ہے۔ جو شخص مشکل اور مصیبت کے وقت خدا سے دُعا کرتا اور اس سے حلِ مشکلات چاہتا ہے وہ بشرطیکہ دُعا کو کمال تک پہنچاوے خدا تعالیٰ سے اطمینان اور حقیقی خوشحالی پاتا ہے اور اگر بالفرض وہ مطلب اس کو نہ ملے تب بھی کسی اور قسم کی تسلی اور سکینت خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کو عنایت ہوتی ہے اور وہ ہرگز ہرگز نامراد نہیں رہتا اور علاوہ کامیابی کے ایمانی قوت اس کی ترقی پکڑتی ہے اور یقین بڑھتا ہے لیکن جو شخص دُعا کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف مُنہ نہیں کرتا وہ ہمیشہ اندھا رہتا اور اندھا مرتا ہے اور ہماری اس تقریر میں اُن نادانوں کا جواب کافی طور پر ہے جو اپنی نظرِ خطا کار کی وجہ سے یہ اعتراض کر بیٹھتے ہیں کہ بہتیرے ایسے آدمی نظر آتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ وہ اپنے حال اور قال سے دُعا میں فنا ہوتے ہیں پھر بھی اپنے مقاصد میں نامراد رہتے اور نامراد مرتے ہیں اور بمقابل ان کے ایک اور شخص ہوتا ہے کہ نہ دُعا کا قائل نہ خدا کا قائل وہ اُن پر فتح پاتا ہے اور بڑی بڑی کامیابیاں اُس کو حاصل ہوتی ہیں۔ سو جیسا کہ ابھی میں نے اشارہ کیا ہے اصل مطلب دُعا سے اطمینان اور تسلی اور حقیقی خوشحالی کا پانا ہے۔ اور یہ ہرگز صحیح نہیں کہ ہماری حقیقی خوشحالی صرف اُسی امر میں میسر آ سکتی ہے جس کو ہم بذریعہ دعا چاہتے ہیں بلکہ وہ خدا جو جانتا ہے کہ ہماری حقیقی خوشحالی کس امر میں ہے وہ کامل دُعا کے بعد ہمیں عنایت کر دیتا ہے جو شخص روح کی سچائی سے دُعا کرتا ہے وہ ممکن نہیں کہ حقیقی طور پر نامراد رہ سکے بلکہ وہ خوشحالی جو نہ صرف دولت سے مل سکتی ہے اور نہ حکومت سے اور نہ صحت سے بلکہ خدا کے ہاتھ میں ہے جس پیرایہ میں چاہے وہ عنایت کر سکتا ہے ہاں وہ کامل دعاؤں سے عنایت کی جاتی ہے۔ اگر خدا تعالیٰ چاہتا ہے تو ایک مخلص صادق کو عین مصیبت کے وقت میں دُعا کے بعد وہ لذت حاصل ہو جاتی ہے جو ایک شہنشاہ کو تختِ شاہی پر حاصل نہیں ہو سکتی۔ سو اسی کا نام حقیقی مراد یابی ہے جو آخر دُعا کرنے والوں کو ملتی ہے۔ اور اُن کی آفات کا خاتمہ بڑی خوشحالی کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن اگر اطمینان اور سچی خوشحالی حاصل نہیں ہوئی تو ہماری کامیابی بھی ہمارے لئے ایک دُکھ ہے۔ سو یہ اطمینان اور رُوح کی سچی خوشحالی تدابیر سے ہرگز نہیں ملتی بلکہ محض دُعا سے ملتی ہے۔ مگر جو لوگ خاتمہ پر نظر نہیں رکھتے وہ ایک ظاہری مُراد یابی یا نا مرادی کو دیکھ کر مدارِ فیصلہ اسی کو ٹھہرا دیتے ہیں اور اصل بات یہ ہے کہ خاتمہ بالخیر اُن ہی کا ہوتا ہے جو خدا سے ڈرتے اور دُعا میں مشغول ہوتے ہیں اور وہی بذریعہ حقیقی اور مبارک خوشحالی کے سچی مراد یابی کی دولتِ عظمیٰ پاتے ہیں۔
یہ بڑی بے انصافی اور سخت تاریکی کے نیچے دبا ہوا خیال ہے کہ اُس فیض سے انکار کیا جائے جو محض دُعا کی نالی کے ذریعہ سے آتا ہے اور ان پاک نبیوں کی تعلیم کو بنظرِ استخفاف دیکھا جائے جس کا عملی طور پر نمونہ اُن ہی کے زمانہ میں کھل گیا ہے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اُن مقدسوں کی بد دُعا سے ہمیشہ وہ سرکش اور نا فرمان ذلیل اور ہلاک ہوتے رہے ہیں جنہوں نے اُن کا مقابلہ کیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی بد دُعا کا اثر دیکھو جس کے جوش سے پہاڑ بھی پانی کے نیچے آ گئے تھے اور کروڑ ہا انسان ایک دم میں دارالفنا میں پہنچ گئے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بد دُعا پر غور کرو جس نے فرعون کو اُس کے تمام لشکروں کے ساتھ ہلاک کیا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بد دُعا کی قوت اور اثر کو سوچو جس کے ذریعہ سے یہودیوں کا استیصال رُومی سلطنت کے ہاتھ سے ہوا۔ پھر ہمارے سیّد و مولیٰ کی بد دُعا میں ذرہ فکر کرو کہ کیونکر اس بد دُعا کے بعد شریر ظالموں کا انجام ہوا۔
اب کیا یہ تسلی بخش ثبوت نہیں ہے کہ قدیم سے خدا تعالیٰ کا ایک روحانی قانونِ قدرت ہے کہ دُعا پر حضرتِ احدیّت کی توجہ جوش مارتی ہے اور سکینت اور اطمینان اور حقیقی خوشحالی ملتی ہے اگر ہم ایک مقصد کی طلب میں غلطی پر نہ ہوں تو وہی مقصد مل جاتا ہے اور اگر ہم اس خطا کار بچہ کی طرح جو اپنی ماں سے سانپ یا آگ کا ٹکڑہ مانگتا ہے اپنی دُعا اور سوال میں غلطی پر ہوں تو خدا تعالیٰ وہ چیز جو ہمارے لئے بہتر ہو عطا کرتا ہے۔ اور با ایں ہمہ دونوں صورتوں میں ہمارے ایمان کو بھی ترقی دیتا ہے کیونکہ ہم دُعا کے ذریعہ سے پیش از وقت خدا تعالیٰ سے علم پاتے ہیں اور ایسا یقین بڑھتا ہے کہ گویا ہم اپنے خدا کو دیکھ لیتے ہیں اور دُعا اور استجابت میں ایک رشتہ ہے کہ ابتدا سے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا برابر چلا آتا ہے۔ جب خدا تعالیٰ کا ارادہ کسی بات کے کرنے کے لئے توجہ فرماتا ہے تو سنّت اللہ یہ ہے کہ اُس کا کوئی مخلص بندہ اضطرار اور کرب اور قلق کے ساتھ دُعا کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے اور اپنی تمام ہمت اور تمام توجہ اس امر کے ہو جانے کے لئے مصروف کرتا ہے۔ تب اُس مردِ فانی کی دُعائیں فیوضِ الٰہی کو آسمان سے کھینچتی ہیں اور خدا تعالیٰ ایسے نئے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن سے کام بن جائے۔ یہ دُعا اگر چہ بعالم ظاہر انسان کے ہاتھوں سے ہوتی ہے مگر در حقیقت وہ انسان خدا میں فانی ہوتا ہے اور دُعا کرنے کے وقت میں حضرتِ احدیّت وجلال میں ایسے فنا کے قدم سے آتا ہے کہ اُس وقت وہ ہاتھ اُس کا ہاتھ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ یہی دُعا ہے جس سے خدا پہچانا جاتا ہے اور اُس ذوالجلال کی ہستی کا پتہ لگتا ہے جو ہزاروں پَردوں میں مخفی ہے۔ دُعا کرنے والوں کے لئے آسمان زمین سے نزدیک آ جاتا ہے اور دُعا قبول ہو کر مشکل کشائی کے لئے نئے اسباب پیدا کئے جاتے ہیں اور اُن کا علم پیش از وقت دیا جاتا ہے اور کم سے کم یہ کہ میخ آہنی کی طرح قبولیتِ دُعا کا یقین غیب سے دل میں بیٹھ جاتا ہے۔ سچ یہی ہے کہ اگر یہ دُعا نہ ہوتی تو کوئی انسان خدا شناسی کے بارے میں حق الیقین تک نہ پہنچ سکتا۔ دُعا سے الہام ملتا ہے۔ دُعا سے ہم خدا تعالیٰ کے ساتھ کلام کرتے ہیں۔ جب انسان اخلاص اور توحید اور محبت اور صدق اور صفا کے قدم سے دُعا کرتا کرتا فنا کی حالت تک پہنچ جاتا ہے تب وہ زندہ خدا اُس پر ظاہر ہوتا ہے جو لوگوں سے پوشیدہ ہے دُعا کی ضرورت نہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ہم اپنے دنیوی مطالب کو پاویں بلکہ کوئی انسان بغیر ان قدرتی نشانوں کے ظاہر ہونے کے جو دُعا کے بعد ظاہر ہوتے ہیں اُس سچے ذوالجلال خدا کو پا ہی نہیں سکتا جس سے بہت سے دل دور پڑے ہوئے ہیں۔ نادان خیال کرتا ہے کہ دعا ایک لغو اور بیہودہ امر ہے مگر اُسے معلوم نہیں کہ صرف ایک دُعا ہی ہے جس سے خداوند ذوالجلال ڈھونڈ نے والوں پر تجلی کرتا اور اَنَا الْقَادِر کا الہام اُن کے دلوں پر ڈالتا ہے۔ ہر ایک یقین کا بھوکا اور پیاسا یاد رکھے کہ اس زندگی میں رُوحانی روشنی کے طالب کے لئے صرف دعا ہی ایک ذریعہ ہے جو خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین بخشا اور تمام شکوک و شبہات دور کر دیتا ہے۔ کیونکہ جو مقاصد بغیر دعا کے کسی کو حاصل ہوں وہ نہیں جانتا کہ کیونکر اور کہاں سے اس کو حاصل ہوئے۔ بلکہ صرف تدبیروں پر زور مارنے والا اور دعا سے غافل رہنے والا یہ خیال نہیں کر سکتا کہ یقیناً و حقاً خدا تعالیٰ کے ہاتھ نے اُس کے مقاصد کو اس کے دامن میں ڈالا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص دُعا کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر کسی کامیابی کی بشارت دیا جاتا ہے وہ اس کام کے ہو جانے پر خدا تعالیٰ کی شناخت اور معرفت اور محبت میں آگے قدم بڑھاتا ہے اور اس قبولیت دُعا کو اپنے حق میں ایک عظیم الشان نشان دیکھتا ہے اور اسی طرح وقتاً فوقتاً یقین سے پُر ہو کر جذباتِ نفسانی اور ہر ایک قسم کے گناہ سے ایسا مجتنب ہو جاتا ہے کہ گویا صرف ایک رُوح رہ جاتا ہے۔ لیکن جو شخص دُعا کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کے رحمت آمیز نشانوں کو نہیں دیکھتا وہ باوجود تمام عمر کی کامیابیوں اور بے شمار دولت اور مال اور اسبابِ تنعم کے دولت حق الیقین سے بے بہرہ ہوتا ہے اور وہ کامیابیاں اس کے دل پر کوئی نیک اثر نہیں ڈالتیں بلکہ جیسے جیسے دولت اور اقبال پاتا ہے غرور اور تکبر میں بڑھتا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ پر اگر اس کو کچھ ایمان بھی ہو تو ایسا مُردہ ایمان ہوتا ہے جو اُس کو نفسانی جذبات سے روک نہیں سکتا اور حقیقی پاکیزگی بخش نہیں سکتا۔
یہ بات یاد رہے کہ اگر چہ قضا و قدر میں سب کچھ مقرر ہو چکا ہے مگر قضا و قدر نے علوم کو ضائع نہیں کیا۔ سو جیسا کہ باوجود تسلیم مسئلہ قضا و قدر کے ہر ایک کو علمی تجارب کے ذریعہ سے ماننا پڑتا ہے کہ بے شک دواؤں میں خواص پوشیدہ ہیں اور اگر مرض کے مناسب حال کوئی دوا استعمال ہو تو خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے بے شک مریض کو فائدہ ہوتا ہے سو ایسا ہی علمی تجارب کے ذریعہ سے ہر ایک عارف کو ماننا پڑا ہے کہ دُعا کا قبولیت کے ساتھ ایک رشتہ ہے۔ ہم اس راز کو معقولی طور پر دوسروں کے دلوں میں بٹھا سکیں یا نہ بٹھا سکیں مگر کروڑ ہا راستبازوں کے تجارب نے اور خود ہمارے تجربہ نے اس مخفی حقیقت کو ہمیں دکھلا دیا ہے کہ کہ ہمارا دعا کرنا ایک قوتِ مقناطیسی رکھتا ہے اور فضل اور رحمت الٰہی کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ نماز کا مغز اور رُوح بھی دعا ہی ہے جو سورۂ فاتحہ میں ہمیں تعلیم دی گئی ہے جب ہم اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ☆ کہتے ہیں تو اس دعا کے ذریعہ سے اس نور کو اپنی طرف کھینچنا چاہتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے اُتر تا اور دلوں کو یقین اور محبت سے منور کرتا ہے۔
بعض لوگ جلدی سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم دعا سے منع نہیں کرتے مگر دعا سے مطلب صرف عبادت ہے جس پر ثواب مترتب ہوتا ہے۔ مگر افسوس کہ یہ لوگ نہیں سوچتے کہ ہر ایک عبادت جس کے اندر خدا تعالیٰ کی طرف سے رُوحانیت پیدا نہیں ہوتی اور ہر ایک ثواب جس کی محض خیال کے طور پر کسی آئندہ زمانہ پر اُمید رکھی جاتی ہے وہ سب خیالِ باطل ہے حقیقی عبادت اور حقیقی ثواب وہی ہے جس کے اِسی دُنیا میں انوار اور برکات محسوس بھی ہوں ۔ ہماری پرستش کی قبولیت کے آثار یہی ہیں کہ ہم عین دُعا کے وقت میں اپنے دل کی آنکھ سے مشاہدہ کریں کہ ایک تریاقی نور خدا سے اُتر تا اور ہمارے دل کے زہریلے مواد کو کھوتا اور ہمارے پر ایک شعلہ کی طرح گرتا اور فی الفور ہمیں ایک پاک کیفیتِ انشراح صدر اور یقین اور محبت اور لذّت اور اُنس اور ذوق سے پُر کر دیتا ہے۔ اگر یہ امر نہیں ہے تو پھر دُعا اور عبادت بھی ایک رسم اور عادت ہے۔ ہر ایک دُعا گو ہماری دنیوی مشکل کشائی کے لئے ہو مگر ہماری ایمانی حالت اور عرفانی مرتبت پر گزر کر آتی ہے۔ یعنی اوّل ہمیں ایمان اور عرفان میں ترقی بخشتی ہے اور ایک پاک سکینت اور انشراح صدر اور اطمینان اور حقیقی خوشحالی ہمیں عطا کر کے پھر ہماری دنیوی مکروہات پر اپنا اثر ڈالتی ہے اور جس پہلو سے مناسب ہے اس پہلو سے ہمارے غم کو دور کر دیتی ہے۔ پس اس تمام تحقیقات سے ثابت ہے کہ دُعا اُسی حالت میں دعا کہلا سکتی ہے کہ جب در حقیقت اس میں ایک قوّتِ کشش ہو اور واقعی طور پر دُعا کرنے کے بعد آسمان سے ایک نور اُترے جو ہماری گھبراہٹ کو دور کرے اور ہمیں انشراح صدر بخشے اور سکینت اور اطمینان عطا کرے۔ ہاں حکیم مطلق ہماری دعاؤں کے بعد دو طور سے نصرت اور امداد کو نازل کرتا ہے۔
(۱) ایک یہ کہ اُس بلا کو دور کر دیتا ہے جس کے نیچے ہم دب کر مرنے کو تیار ہیں۔ (۲) دوسرے یہ کہ بلا کی برداشت کے لئے ہمیں فوق العادت قوت عنایت کرتا ہے بلکہ اُس میں لذت بخشا ہے اور انشراح صدر عنایت فرماتا ہے۔ پس ان دونوں طریقوں سے ثابت ہے کہ دُعا سے ضرور نصرت الہی نازل ہوتی ہے۔
یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ دُعا جو خدا تعالیٰ کی پاک کلام نے مسلمانوں پر فرض کی ہے۔ اس کی فرضیت کے چار سبب ہیں ۔ (۱) ایک یہ کہ تا ہر ایک وقت اور ہر ایک حالت میں خدا تعالیٰ کی طرف رجوع ہو کر توحید پر پختگی حاصل ہو ۔ کیونکہ خدا سے مانگنا اس بات کا اقرار کرنا ہے کہ مرادوں کا دینے والا صرف خدا ہے۔ (۲) دوسرے یہ کہ تا دعا کے قبول ہونے اور مراد کے ملنے پر ایمان قوی ہو (۳) تیسرے یہ کہ اگر کسی اور رنگ میں عنایت الہی شامل حال ہو تو علم اور حکمت زیادت پکڑے ۔ (۴) چوتھے یہ کہ اگر دُعا کی قبولیت کا الہام اور رؤیا کے ساتھ وعدہ دیا جائے اور اُسی طرح ظہور میں آوے تو معرفت الہی ترقی کرے اور معرفت سے یقین اور یقین سے محبت اور محبت سے ہر ایک گناہ اور غیر اللہ سے انقطاع حاصل ہو جو حقیقی نجات کا ثمرہ ہے۔ لیکن اگر کسی کو بطور خود مرادیں ملتی جائیں اور خدا تعالیٰ سے دوری اور محجوبی ہو تو وہ تمام مرادیں انجام کار حسرتیں ہیں اور وہ تمام مقاصد جن پر فخر کیا جاتا ہے آخر الا مر جائے افسوس اور تاسف ہیں۔ دنیا کے تمام عیش آخر رنج سے بدل جائیں گے اور تمام راحتیں دُکھ اور درد دکھائی دیں گی۔ مگر وہ بصیرت اور معرفت جو انسان کو دعا سے حاصل ہوتی ہے اور وہ نعمت جو دعا کے وقت آسمانی خزانہ سے ملتی ہے وہ کبھی کم نہ ہوگی اور نہ اس پر زوال آئے گا بلکہ روز بروز معرفت اور محبت الہی میں ترقی ہو کر انسان اس زینہ کے ذریعہ سے جو دُعا ہے فردوس اعلیٰ کی طرف چڑھتا چلا جائے گا ۔ خدا تعالیٰ کی چار اعلیٰ درجہ کی صفتیں ہیں جو اُم الصفات ہیں اور ہر ایک صفت ہماری بشریت سے ایک امر مانگتی ہے اور وہ چار صفتیں یہ ہیں۔
ربوبیت - رحمانیت - رحیمیت - مالكيت يوم الدين۔
(۱) ربوبیت اپنے فیضان کے لئے عدم محض یا مشابہ بالعدم کو چاہتی ہے اور تمام انواع مخلوق کی جاندار ہوں یا غیر جاندار اسی سے پیرائیہ وجود پہنتے ہیں۔
(۲) رحمانیت اپنے فیضان کے لئے صرف عدم کو ہی چاہتی ہے۔ یعنی اُس عدم محض کو جس کے وقت میں وجود کا کوئی اثر اور ظہور نہ ہو اور صرف جانداروں سے تعلق رکھتی ہے اور چیزوں سے نہیں۔
(۳) رحیمیت اپنے فیضان کے لئے موجود ذو العقل کے منہ سے نیستی اور عدم کا اقرار چاہتی ہے اور صرف نوع انسان سے تعلق رکھتی ہے۔
(۴) مالکیت یوم الدین اپنے فیضان کے لئے فقیرانہ تضرع اور الحاح کو چاہتی ہے اور صرف اُن انسانوں سے تعلق رکھتی ہے جو گداؤں کی طرح حضرت احدیت کے آستانہ پر گرتے ہیں اور فیض پانے کے لئے دامن افلاس پھیلاتے ہیں اور سچ مچ اپنے تئیں تہی دست پا کر خدا تعالیٰ کی مالکیت پر ایمان لاتے ہیں۔
یہ چارا الہی صفتیں ہیں جو دنیا میں کام کر رہی ہیں اور ان میں سے جو رحیمیت کی صفت ہے وہ دُعا کی تحریک کرتی ہے اور مالکیت کی صفت خوف اور قلق کی آگ سے گداز کر کے سچا خشوع اور خضوع پیدا کرتی ہے کیونکہ اس صفت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ مالک جزا ہے کسی کا حق نہیں جو دعوے سے کچھ طلب کرے اور مغفرت اور نجات محض فضل پر ہے۔
اب خلاصہ کلام یہ کہ خدا تعالیٰ کی یہ چار صفتیں ہیں جو قرآنی تعلیم اور تحقیق عقل سے ثابت ہوتی ہیں۔ اور منجملہ ان کے رحیمیت کی صفت ہے جو تقاضا کرتی ہے کہ کوئی انسان دعا کرے تا اس دعا پر فیوض الہی نازل ہوں۔ ہم نے براہین احمدیہ اور کرامات الصادقین میں بھی یہ ذکر لکھا ہے کہ کیونکر یہ چاروں صفتیں لف و نشر مرتب کے طور پر سورہ فاتحہ میں بیان کی گئی ہیں اور کیونکر صحیفہ فطرت پر نظر ڈال کر ثابت ہوتا ہے کہ اسی ترتیب سے جو سورہ فاتحہ میں ہے یہ چاروں صفتیں خدا کی فعلی کتاب قانونِ قدرت میں پائی جاتی ہیں۔ اب دعا سے انکار کرنا یا اس کو بے سود سمجھنا یا جذب فیوض کے لئے اس کو ایک محرک قرار نہ دینا گویا خدا تعالیٰ کی تیسری صفت سے جو رحیمیت ہے انکار کرنا ہے ۔ مگر یہ انکار در پردہ دہریت کی طرف ایک حرکت ہے کیونکہ رحیمیت ہی ایک ایسی صفت ہے جس کے ذریعہ سے باقی تمام صفات پر یقین بڑھتا اور کمال تک پہنچتا ہے۔ وجہ یہ کہ جب ہم خدا تعالیٰ کی رحیمیت کے ذریعہ سے اپنی دعاؤں اور تضرعات پر الہی فیضوں کو پاتے ہیں اور ہر ایک قسم کی مشکلات حل ہوتی ہیں تو ہمارا ایمان خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کی قدرت اور رحمت اور دوسری صفات کی نسبت بھی حق الیقین تک پہنچتا ہے اور ہمیں چشم دید ماجرا کی طرح سمجھ آ جاتا ہے کہ خدا تعالی در حقیقت حمد اور شکر کا مستحق ہے اور در حقیقت اس کی ربوبیت اور رحمانیت اور دوسری صفات سب درست اور صحیح ہیں لیکن بغیر رحیمیت کے ثبوت کے دوسری صفات بھی مشتبہ رہتی ہیں ۔
ظاہر ہے کہ امر مقدم اور ایک بھاری مرحلہ جو ہمیں طے کرنا چاہئیے وہ خدا شناسی ہے اور اگر ہماری خدا شناسی ہی ناقص اور مشتبہ اور دھندلی ہو تو ہمارا ایمان ہرگز منور اور چمکیلا نہیں ہو سکتا۔اور یہ خدا شناسی جب تک کہ رحیمیت کی صفت کے ذریعہ سے ہمارا چشم دید واقعہ نہ بن جائے تب تک ہم کسی طرح سے اپنے رب کریم کی حقیقی معرفت کے چشمہ سے آب زلال نہیں پی سکتے۔ اگر ہم اپنے تئیں دھوکا نہ دیں تو ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ ہم تکمیل معرفت کے لئے اس بات کے محتاج ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت کے ذریعہ سے تمام شکوک و شبہات ہمارے دور ہو جائیں اور خدا تعالیٰ کی رحمت اور فضل اور قدرت کی صفات تجربہ میں آکر ہمارے دل پر ایسا قوی اثر پڑے کہ ہمیں اُن نفسانی جذبات سے چھڑائے جو محض کمزوری ایمان اور یقین کی وجہ سے ہمارے پر غالب آتے اور دوسری طرف رُخ کر دیتے ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ انسان اس چند روزہ دنیا میں آ کر بوجہ اس کے کہ خدا شناسی کی پر زور کرنیں اُس کے دل پر نہیں پڑتیں ایک خوفناک تاریکی میں مبتلا ہو جاتا ہے اور جس قدر دنیا اور دنیا کی املاک اور دنیا کی ریاستیں اور حکومتیں اور دولتیں اس کو پیاری معلوم ہوتی ہیں اس قدر عالم معاد کی لذات اور خوشحالی حقیقی کی جستجو اُس کو نہیں ہوتی۔ اور اگر کوئی نسخہ دنیا میں ہمیشہ رہنے کا نکلے تو اپنے منہ سے اس بات کے کہنے کے لئے طیار ہے کہ میں بہشت اور عالم آخرت کی نعمتوں کی خواہش سے باز آیا۔ پس اس کا کیا سبب ہے؟ یہی تو ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت اور رحمت اور وعدوں پر حقیقی ایمان نہیں۔ پس حق کے طالب کے لئے نہایت ضروری ہے کہ اس حقیقی ایمان کی تلاش میں لگا رہے اور اپنے تئیں یہ دھوکا نہ دے کہ میں مسلمان ہوں اور خدا اور رسول پر ایمان لاتا ہوں۔ قرآن شریف پڑھتا ہوں شرک سے بیزار ہوں۔ نماز کا پابند ہوں اور ناجائز اور بد باتوں سے اجتناب کرتا ہوں۔ کیونکہ مرنے کے بعد کامل نجات اور سچی خوشحالی اور حقیقی سرور کا وہ شخص مالک ہوگا جس نے وہ زندہ اور حقیقی نور اس دنیا میں حاصل کر لیا ہے جو انسان کے منہ کو اس کی تمام قوتوں اور طاقتوں اور ارادوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف پھیر دیتا ہے اور جس سے اس سفلی زندگی پر ایک موت طاری ہو کر انسانی روح میں ایک سچی تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ زندہ اور حقیقی نور کیا چیز ہے؟ وہی خداداد طاقت ہے جس کا نام یقین اور معرفت تامہ ہے۔ یہ وہی طاقت ہے جو اپنے زور آور ہاتھ سے ایک خوفناک اور تاریک گڑھے سے انسان کو باہر لاتی اور نہایت روشن اور پُر امن فضا میں بٹھا دیتی ہے اور قبل اس کے جو یہ روشنی حاصل ہو تمام اعمال صالحہ رسم اور عادت کے رنگ میں ہوتے ہیں اور اس صورت میں ادنیٰ ادنی ابتلاؤں کے وقت انسان ٹھوکر کھا سکتا ہے بجز اس مرتبہ یقین کے خدا سے معاملہ صافی کس کا ہو سکتا ہے؟ جس کو یقین دیا گیا ہے وہ پانی کی طرح خدا کی طرف بہتا ہے اور ہوا کی طرح اُس کی طرف جاتا ہے اور آگ کی طرح غیر کو جلا دیتا ہے اور مصائب میں زمین کی طرح ثابت قدمی دکھلاتا ہے۔ خدا کی معرفت دیوانہ بنا دیتی ہے مگر لوگوں کی نظر میں دیوانہ اور خدا کی نظر میں عقلمند اور فرزانہ۔ یہ شربت کیا ہی شیریں ہے کہ حلق سے اُترتے ہی تمام بدن کو شیریں کر دیتا ہے اور یہ دودھ کیا ہی لذیذ ہے کہ ایک دم میں تمام نعمتوں سے فارغ اور لا پرواہ کر دیتا ہے۔ مگر ان دعاؤں سے سے حاصل ہوتا ہے جو جان کو ہتھیلی پر رکھ کر کی جاتی ہیں۔ اور کسی دوسرے کے خون سے نہیں بلکہ اپنی سچی قربانی سے حاصل ہوتا ہے۔ کیسا مشکل کام ہے۔ آہ صد آہ!
مَیں مناسب دیکھتا ہوں کہ صفائی بیان کے لئے صفاتِ اربعہ مذکورہ کی تشریح بذیل تفسیر سورۂ فاتحہ اس جگہ لکھ دوں تا معلوم ہو کہ کیونکر اللہ جَلَّ شَانُہٗ نے اپنی کتاب کی پہلی سُورۃ میں ہی دعا کے لئے ترغیب دی ہے۔ اور وہ یہ ہے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ۔ اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ ۔(الفاتحة: ۱تا۷) آمین ۔
ترجمہ: خدا جس کا نام اللہ☆ ہے تمام اقسام تعریفوں کا مستحق ہے۔ اور ہر ایک تعریف اُسی کی شان کے لائق ہے کیونکہ وہ رب العالمین ہے۔ وہ رحمان ہے، وہ رحیم ہے، وہ مالک یوم الدین ہے۔ ہم (اے صفات کاملہ والے ) تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور مدد بھی تجھ سے ہی چاہتے ہیں۔ ہمیں وہ سیدھی راہ دکھلا جو اُن لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرا انعام ہے۔ اور ان راہوں سے بچا جو اُن لوگوں کی راہیں ہیں جن پر تیرا غضب طاعون وغیرہ عذابوں سے دُنیا ہی میں وارد ہوا اور نیز اُن لوگوں کی راہوں سے بچا کہ جن پر اگر چہ دنیا میں کوئی عذاب وارد نہیں ہوا ۔ مگر اُخروی نجات کی راہ سے وہ دور جا پڑے ہیں اور آخر عذاب میں گرفتار ہوں گے۔
اب واضح رہے کہ یہ سورۃ قرآن شریف کی پہلی سورۃ ہے جس کا نام سورۃ فاتحہ ہے کیونکہ ابتدا اس سے ہے اور اس کا نام اُمّ الکتاب بھی ہے کیونکہ قرآن شریف کی تمام تعلیم کا اِس میں خلاصہ اور عطر موجود ہے۔ اور اس سورۃ میں ہدایت پانے کے لئے ایک دُعا سکھلائی گئی ہے تا معلوم ہو کہ فیوض ربانی حاصل کرنے کے لئے دُعا کرنا ضروری ہے اور اس سورۃ کو اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ سے شروع کیا گیا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ ہر ایک حمد اور تعریف اس ذات کے لئے مسلّم ہے جس کا نام اللہ ہے ۔ اور اس فقرہ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ سے اس لئے شروع کیا گیا کہ اصل مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی عبادت رُوح کے جوش اور طبیعت کی کشش سے ہو اور ایسی کشش جو عشق اور محبت سے بھری ہوئی ہو ہرگز کسی کی نسبت پیدا نہیں ہو سکتی جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ وہ شخص ایسی کامل خوبیوں کا جامع ہے جن کے ملاحظہ سے بے اختیار دل تعریف کرنے لگتا ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ کامل تعریف دو قسم کی خوبیوں کے لئے ہوتی ہے۔ ایک کمال حُسن اور ایک کمال احسان اور اگر کسی میں دونوں خوبیاں جمع ہوں تو پھر اُس کے لئے دل فدا اور شیدا ہو جاتا ہے۔ اور قرآن شریف کا بڑا مطلب یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی دونوں قسم کی خوبیاں حق کے طالبوں پر ظاہر کرے تا اُس بے مثل و مانند ذات کی طرف لوگ کھینچے جائیں اور رُوح کے جوش اور کشش سے اُس کی بندگی کریں۔ اس لئے پہلی سورۃ میں ہی یہ نہایت لطیف نقشہ دکھلانا چاہا ہے کہ وہ خدا جس کی طرف قرآن بُلاتا ہے وہ کیسی خوبیاں اپنے اندر رکھتا ہے۔ سواسی غرض سے اس سورۃ کو اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ سے شروع کیا گیا جس کے یہ معنے ہیں کہ سب تعریفیں اس کی ذات کے لئے لائق ہیں جس کا نام اللہ ہے۔ اور قرآن کی اصطلاح کی رُو سے اللہ اُس ذات کا نام ہے جس کی تمام خوبیاں حُسن واحسان کے کمال کے نقطہ پر پہنچی ہوئی ہوں اور کوئی مَنقصت اُس کی ذات میں نہ ہو۔ قرآن شریف میں تمام صفات کا موصوف صرف اللہ کے اسم کو ہی ٹھہرایا ہے تا اِس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اللہ کا اسم تب متحقق ہوتا ہے کہ جب تمام صفات کاملہ اس میں پائی جائیں ۔ پس جبکہ ہر ایک قسم کی خوبی اُس میں پائی گئی تو حسن اس کا ظاہر ہے۔ اِسی حُسن کے لحاظ سے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ کا نام نور ہے۔ جیسا کہ فرمایا ہے ۔ اَللّٰہُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ☆ یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا نُور ہے۔ ہر ایک نور اُسی کے نور کا پرتوہ ہے۔
اور احسان کی خوبیاں اللہ تعالیٰ میں بہت ہیں جن میں سے چار بطور اصل الاصول ہیں اور ان کی ترتیب طبعی کے لحاظ سے پہلی خوبی وہ ہے جس کو سُورہ فاتحہ میں ربّ العالمین کے فقرہ میں بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ربوبیت یعنی پیدا کرنا اور کمال مطلوب تک پہنچانا تمام عالموں میں جاری وساری ہے۔ یعنی عالم سماوی اور عالم ارضی اور عالم اجسام اور عالم ارواح اور عالم جواہر اور عالم اعراض اور عالم حیوانات اور عالم نباتات اور عالم جمادات اور دوسرے تمام قسم کے عالم اس کی ربوبیت سے پرورش پا رہے ہیں یہاں تک کہ خود انسان پر ابتدا نطفہ ہونے کی حالت سے یا اس سے پہلے بھی جو جو عالم موت تک یا دوسری زندگی کے زمانہ تک آتے ہیں وہ سب چشمۂ ربوبیت سے فیض یافتہ ہیں۔ پس ربوبیت الٰہی بوجہ اس کے کہ وہ تمام ارواح واجسام و حیوانات و نباتات و جمادات وغیرہ پر مشتمل ہے فیضان اَعَمّ سے موسوم ہے کیونکہ ہر ایک موجود اس سے فیض پاتا ہے اور اسی کے ذریعہ سے ہر ایک چیز وجود پذیر ہے ہاں البتہ ربوبیت الٰہی اگر چہ ہر ایک موجود کی موجد اور ہر ایک ظہور پذیر چیز کی مربی ہے لیکن بحیثیت احسان کے سب سے زیادہ فائدہ اس کا انسان کو پہنچتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی تمام مخلوقات سے انسان فائدہ اُٹھاتا ہے۔ اس لئے انسان کو یاد دلایا گیا ہے کہ تمہارا خدا ربّ العالمین ہے تا انسان کی اُمید زیادہ ہو اور یقین کرے کہ ہمارے فائدہ کے لئے خدا تعالیٰ کی قدرتیں وسیع ہیں اور طرح طرح کے عالم اسباب ظہور میں لاسکتا ہے۔ دوسری خوبی خدا تعالیٰ کی جو دوسرے درجہ کا احسان ہے جس کو فیضانِ عام سے موسوم کر سکتے ہیں رحمانیت ہے جس کو سورۃ فاتحہ میں الرّحمٰن کے فقرہ میں بیان کیا گیا ہے اور قرآن شریف کی اصطلاح کی رُو سے خدا تعالیٰ کا نام رحمٰن اس وجہ سے ہے کہ اُس نے ہر ایک جاندار کو جن میں انسان بھی داخل ہے اُس کے مناسب حال صورت اور سیرت بخشی یعنی جس طرز کی زندگی اس کے لئے ارادہ کی گئی اس زندگی کے مناسب حال جن قوتوں اور طاقتوں کی ضرورت تھی یا جس قسم کی بناوٹ جسم اور اعضاء کی حاجت تھی وہ سب اس کو عطا کئے اور پھر اس کی بقا کے لئے جن جن چیزوں کی ضرورت تھی وہ اس کے لئے مہیّا کیں۔ پرندوں کے لئے پرندوں کے مناسب حال اور چرندوں کے لئے چرندوں کے مناسب حال اور انسان کے لئے انسان کے مناسب حال طاقتیں عنایت کیں اور صرف یہی نہیں بلکہ ان چیزوں کے وجود سے ہزار ہا برس پہلے بوجہ اپنی صفت رحمانیت کے اجرام سماوی وارضی کو پیدا کیا تا وہ ان چیزوں کے وجود کی محافظ ہوں۔ پس اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ کی رحمانیت میں کسی کے عمل کا دخل نہیں بلکہ وہ رحمت محض ہے جس کی بنیاد ان چیزوں کے وجود سے پہلے ڈالی گئی۔ ہاں انسان کو خدا تعالیٰ کی رحمانیت سے سب سے زیادہ حصہ ہے کیونکہ ہر ایک چیز اس کی کامیابی کے لئے قربان ہو رہی ہے اس لئے انسان کو یاد دلایا گیا کہ تمہارا خدا رحمٰن ہے۔ تیسری خوبی خدا تعالیٰ کی جو تیسرے درجہ کا احسان ہے رحیمیت ہے جس کو سورہ فاتحہ میں الرحیم کے فقرہ میں بیان کیا گیا ہے اور قرآن شریف کی اصطلاح کے رُو سے خدا تعالیٰ رحیم اس حالت میں کہلاتا ہے جبکہ لوگوں کی دُعا اور تضرع اور اعمال صالحہ کو قبول فرما کر آفات اور بلاؤں اور تضییع اعمال سے ان کو محفوظ رکھتا ہے۔ یہ احسان دوسرے لفظوں میں فیض خاص سے موسوم ہے اور صرف انسان کی نوع سے مخصوص ہے۔ دوسری چیزوں کو خدا نے دعا اور تضرع اور اعمال صالحہ کا ملکہ نہیں دیا مگر انسان کو دیا ہے۔ انسان حیوان ناطق ہے اور اپنی نطق کے ساتھ بھی خدا تعالیٰ کا فیض پا سکتا ہے۔ دوسری چیزوں کو نطق عطا نہیں ہوا۔ پس اس جگہ سے ظاہر ہے کہ انسان کا دعا کرنا اس کی انسانیت کا ایک خاصہ ہے جو اس کی فطرت میں رکھا گیا ہے اور جس طرح خدا تعالیٰ کی صفات ربوبیت اور رحمانیت سے فیض حاصل ہوتا ہے اسی طرح صفت رحیمیت سے بھی ایک فیض حاصل ہوتا ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ ربوبیت اور رحمانیت کی صفتیں دُعا کو نہیں چاہتیں کیونکہ وہ دونوں صفات انسان سے خصوصیت نہیں رکھتیں اور تمام پرند چرند کو اپنے فیض سے مستفیض کر رہی ہیں بلکہ صفت ربوبیت تو تمام حیوانات اور نباتات اور جمادات اور اجرام ارضی اور سماوی کو فیض رسان ہے اور کوئی چیز اس کے فیض سے باہر نہیں۔ برخلاف صفت رحیمیت کے کہ وہ انسان کے لئے ایک خلعت خاصہ ہے۔ اور اگر انسان ہو کر اس صفت سے فائدہ نہ اٹھاوے تو گویا ایسا انسان حیوانات بلکہ جمادات کے برابر ہے جبکہ خدا تعالیٰ نے فیض رسانی کی چار صفت اپنی ذات میں رکھی ہیں اور رحیمیت کو جو انسان کی دعا کو چاہتی ہے خاص انسان کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ پس اس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ میں ایک قسم کا وہ فیض ہے جو دُعا کرنے سے وابستہ ہے اور بغیر دعا کے کسی طرح مل نہیں سکتا ۔ یہ سنت اللہ اور قانونِ الہی ہے جس میں تخلف جائز نہیں یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السّلام اپنی اپنی اُمتوں کے لئے ہمیشہ دُعا مانگتے رہے۔ توریت میں دیکھو کہ کتنی دفعہ بنی اسرائیل خدا تعالیٰ کو ناراض کر کے عذاب کے قریب پہنچ گئے اور پھر کیونکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا اور تضرع اور سجدہ سے وہ عذاب ٹل گیا حالانکہ بار بار وعدہ بھی ہوتا رہا کہ میں ان کو ہلاک کروں گا ۔
اب ان تمام واقعات سے ظاہر ہے کہ دعا محض لغو امر نہیں ہے۔ اور نہ صرف ایسی عبادت جس پر کسی قسم کا فیض نازل نہیں ہوتا۔ یہ ان لوگوں کے خیال ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کا وہ قدر نہیں کرتے جو حق قدر کرنے کا ہے اور نہ خدا کی کلام کو نظر عمیق سے سوچتے ہیں اور نہ قانونِ قدرت پر نظر ڈالتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ دعا پر ضرور فیض نازل ہوتا ہے جو ہمیں نجات بخشتا ہے۔ اسی کا نام فیض رحیمیت ہے۔ جس سے انسان ترقی کرتا جاتا ہے۔ اِسی فیض سے انسان ولایت کے مقامات تک پہنچتا ہے اور خدا تعالیٰ پر ایسا یقین لاتا ہے کہ گویا آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے۔ مسئلہ شفاعت بھی صفت رحیمیت کی بناء پر ہے۔ خدا تعالیٰ کی رحیمیت نے ہی تقاضا کیا کہ اچھے آدمی بُرے آدمیوں کی شفاعت کریں ۔
چوتھا احسان خدا تعالیٰ کا جو قسم چہارم کی خوبی ہے جس کو فیضان اخص سے موسوم کر سکتے ہیں مالکیت یوم الدین ہے جس کو سورۃ فاتحہ میں فقرہ مالک یوم الدین میں بیان فرمایا گیا ہے اور اس میں اور صفت رحیمیت میں یہ فرق ہے کہ رحیمیت میں دعا اور عبادت کے ذریعہ سے کامیابی کا استحقاق قائم ہوتا ہے اور صفت مالکیت یوم الدین کے ذریعہ سے وہ ثمرہ عطا کیا جاتا ہے۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے ایک انسان گورنمنٹ کا ایک قانون یاد کرنے میں محنت اور جدو جہد کر کے امتحان دے اور پھر اس میں پاس ہو جائے۔ پس رحیمیت کے اثر سے کسی کامیابی کے لئے استحقاق پیدا ہو جانا پاس ہو جانے سے مشابہ ہے اور پھر وہ چیز یا وہ مرتبہ میسر آ جانا جس کے لئے پاس ہوا تھا اُس حالت سے مشابہ انسان کے فیض پانے کی وہ حالت ہے جو پر توہ صفت مالکیت یوم الدین سے حاصل ہوتی ہے۔ ان دونوں صفتوں رحیمیت اور مالکیت یوم الدین میں یہ اشارہ ہے کہ فیض رحیمیت خدا تعالیٰ کے رحم سے حاصل ہوتا ہے۔ اور فیض مالکیت یوم الدین خدا تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوتا ہے اور مالکیت یوم الدین اگر چہ وسیع اور کامل طور پر عالم معاد میں متجلی ہوگی مگر اس عالم میں بھی اس عالم کے دائرہ کے موافق یہ چاروں صفتیں تجلی کر رہی ہیں۔ ربوبیت عام طور پر ایک فیض کی بناڈالتی ہے اور رحمانیت اس فیض کو جانداروں میں گھلے طور پر دکھلاتی ہے اور رحیمیت ظاہر کرتی ہے کہ خط ممتد فیض کا انسان پر جا کر ختم ہو جاتا ہے اور انسان وہ جانور ہے جو فیض کو نہ صرف حال سے بلکہ منہ سے مانگتا ہے اور مالکیت یوم الدین فیض کا آخری ثمرہ بخشتی ہے۔ یہ چاروں صفتیں دنیا میں ہی کام کر رہی ہیں مگر چونکہ دنیا کا دائرہ نہایت تنگ اور نیز جہل اور بے خبری اور کم نظری انسان کے شامل حال ہے اس لئے یہ نہایت وسیع دائرے صفات اربعہ کے اس عالم میں ایسے چھوٹے نظر آتے جیسے بڑے بڑے گولے ستاروں کے دور سے صرف نقطے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن عالم معاد میں پورا نظارہ ان صفات اربعہ کا ہوگا۔ اس لئے حقیقی اور کامل طور پر یوم الدین وہی ہو گا جو عالم معاد ہے۔ اُس عالم میں ہر ایک صفت ان صفات اربعہ میں سے دوہری طور پر اپنی شکل دکھائے گی یعنی ظاہری طور پر اور باطنی طور پر اس لئے اس وقت یہ چار صفتیں آٹھ صفتیں معلوم ہوں گی۔ اسی کی طرف اشارہ ہے جو فرمایا گیا ہے کہ اس دنیا میں چار فرشتے خدا تعالیٰ کا عرش اٹھا رہے ہیں اور اُس دن آٹھ فرشتے خدا تعالیٰ کا عرش اٹھائیں گے۔ یہ استعارہ کے طور پر کلام ہے۔ چونکہ خدا تعالیٰ کی ہر صفت کے مناسب حال ایک فرشتہ بھی پیدا کیا گیا ہے اس لئے چار صفات کے متعلق چار فرشتے بیان کئے گئے ۔ اور جب آٹھ صفات کی تجلی ہو گی تو ان صفات کے ساتھ آٹھ فرشتے ہوں گے۔ اور چونکہ یہ صفات الوہیت کی ماہیت کو ایسا اپنے پر لئے ہوئے ہیں کہ گویا اُس کو اُٹھا رہے ہیں اس لئے استعارہ کے طور پر اُٹھانے کا لفظ بولا گیا ہے۔ ایسے استعارات لطیفہ خدا تعالیٰ کی کلام میں بہت ہیں جن میں روحانیت کو جسمانی رنگ میں دکھایا گیا ہے۔ غرض خدا تعالیٰ میں یہ چار صفات عظیمہ ہیں جن پر ہر ایک مسلمان کو ایمان لانا چاہئیے اور جو شخص دعا کے ثمرات اور فیوض سے انکار کرتا ہے گویا وہ بجائے چار صفتوں کے صرف تین صفتوں کو مانتا ہے۔
اب واضح رہے کہ اللہ جل شانہٗ نے سورۃ فاتحہ میں الحمد للہ کے بعد ان صفات اربعہ کو چار سر چشمہ فیض قرار دے کر اس سورۃ کے مابعد کی آیتوں میں بطور لف ونشر مرتب ہر ایک چشمہ سے فیض مانگنے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ چنانچہ ظاہر ہے کہ فقرہ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ سے فقرہ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ تک پانچ جدا جدا امر ہیں ۔ (۱) اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ (۲) دوسرے رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ (۳) تیسرے اَلرَّحْمٰنِ (۴) چوتھے اَلرَّحِیْمِ (۵) مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ اور مابعد کے پانچ فقرے ان پانچوں کے لحاظ سے بصورت لف و نشر مرتب ان کے مقابل پر واقع ہیں ۔ جیسا کہ فقرہ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ فقرہ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ کے مقابل پر ہے۔ جس سے یہ اشارہ ہے کہ عبادت کے لائق وہی ذات کامل الصفات ہے جس کا نام اللہ ہے اور فقرہ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ فقرہ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ کے مقابل پر واقع ہے جس سے یہ اشارہ مقصود ہے کہ سر چشمہ ربوبیت سے جو ایک نہایت عام سر چشمہ ہے ہم مدد طلب کرتے ہیں کیونکہ بغیر خدا تعالیٰ کے فیض ربوبیت کے ظاہری یا باطنی طور پر نشو و نما پانا یا کوئی پاک تبدیلی حاصل کرنا اور روحانی پیدائش سے حصہ لینا امر محال ہے۔ اور فقرہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ فقرہ اَلرَّحْمٰنِ کے مقابل پر واقع ہے اور اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ کا ورد کرنے والا اَلرَّحْمٰنِ کے چشمہ سے فیض طلب کرتا ہے ۔ کیونکہ ہدایت پانا کسی کا حق نہیں ہے بلکہ محض رحمانیت الہی سے یہ دولت حاصل ہوتی ہے۔ اور فقرہ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ فقرہ اَلرَّحِیْمِ کے مقابل پر واقع ہے۔ اور صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ کا ورد کرنے والا چشمہ الرّحیم سے فیض طلب کرتا ہے کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ اے دعاؤں کو رحم خاص سے قبول کرنے والے ان رسولوں اور صدیقوں اور شہیدوں کی راہ ہمیں دکھلا جنہوں نے دُعا اور مجاہدات میں مصروف ہو کر تجھ سے انواع اقسام کے معارف اور حقائق اور کشوف اور الہامات کا انعام پایا اور دائمی دعا اور تضرع اور اعمال صالحہ سے معرفت تامہ تک پہنچ گئے ۔ اور فقرہ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ فقرہ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ کے مقابل پر واقع ہے اور غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ کا ورد کرنے والا چشمہ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ سے فیض طلب کرتا ہے۔ اور اس کے یہ معنے ہیں کہ اے جزا وسزا کے دن کے مالک ہمیں اس سزا سے بچا کہ ہم دنیا میں یہودیوں کی طرح طاعون وغیرہ بلاؤں میں تیرے غضب کی وجہ سے مبتلا ہوں یا نصاری کی طرح نجات کی راہ گم کر کے آخرت میں عذاب کے مستحق ہوں ۔ اس آیت میں نصاری کا نام ضالین اس لئے رکھا ہے کہ دنیا میں ان پر کوئی غضب الہی کا عذاب نازل نہیں ہوا صرف وہ لوگ اُخروی نجات کی راہ گم کر بیٹھے ہیں اور آخرت میں قابل مواخذہ ہیں۔ مگر یہود کا نام مغضوب علیھم اس واسطے رکھا ہے کہ یہود پر دنیا میں ہی اُن کی شامت اعمال سے بڑے بڑے عذاب نازل ہوئے ہیں۔ منجملہ اُن کے عذاب طاعون ہے چونکہ یہود نے خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں اور راستباز بندوں کی صرف تکذیب نہیں کی بلکہ بہتوں کو ان میں سے قتل کیا یا قتل کا ارادہ کیا اور بد زبانی سے بھی بہت تکلیفیں پہنچاتے رہے اس لئے غیرت الہی نے بعض اوقات جوش میں آ کر اُن کو طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا کیا۔ بسا اوقات لاکھوں یہودی طاعون کے عذاب سے مارے گئے اور کئی دفعہ ہزاروں اُن میں سے قتل کئے گئے اور یا اسیر ہو کر دوسرے ملکوں میں نکالے گئے ۔ غرض وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد ہمیشہ مغضوب علیہم رہے چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ یہ ایک ٹیڑھی قوم ہے اس لئے توریت میں اکثر دنیا کے عذابوں سے ان کو ڈرایا گیا تھا۔ غرض اُن پر ہولناک طور پر خدا تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا رہا کیونکہ وہ لوگ خدا تعالیٰ کے نیک بندوں کو ہاتھ اور زبان سے دکھ دیتے تھے اسی وجہ سے دنیا میں ہی ان پر غضب بھڑ کا تا وہ ان لوگوں کے لئے نمونہ عبرت ہوں کہ جو آئندہ کسی زمانہ میں خدا کے ماموروں اور راست باز بندوں کو عمد اڈکھ دیں اور اُن کو ستاویں اور ان کے قتل کرنے یا ذلیل کرنے کے لئے ہدارا دے دل میں رکھیں ۔ سو اس دعا کے سکھلانے میں در پردہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ تم یہودیوں کے خُلق اور خُو سے باز رہو اور اگر کوئی مامور من اللہ تم میں پیدا ہو تو یہودیوں کی طرح اُس کی ایذا اور توہین اور تکفیر میں جلدی نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم سچے کو جھوٹا ٹھہرا کر اور پھر طرح طرح کے دُکھ اس کو دے کر اور بد زبانی سے اس کی آبروریزی کر کے یہودیوں کی طرح موردِ غضب الٰہی ہو جاؤ لیکن افسوس کہ اس امت کے لوگ بھی ہمیشہ ٹھوکر کھاتے رہے اور انہوں نے بد قسمت یہودیوں کے قصوں سے کوئی عبرت حاصل نہیں کی ۔ یہ کیسی عبرت پکڑنے کی بات تھی کہ یہودیوں کو ایلیا نبی کے واپس آنے کا وعدہ دیا گیا تھا اور لکھا گیا تھا کہ جب تک ایلیا نہ آوے مسیح نہیں آئے گا لیکن یہود نے کتبِ مقدسہ کے نصوص کے ظاہر معنے پر زور دے کر یہ عقیدہ اجماعی قائم کیا کہ در حقیقت ایلیا نبی کا ہی دوبارہ دنیا میں آنا ضروری ہے۔ اسی عقیدہ کے رُو سے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قبول نہ کر سکے اور یہ حُجّت پیش کی کہ ایلیا اب تک وعدہ کے موافق دوبارہ دنیا میں نہیں آیا پھر مسیح کیسے آگیا۔ اس ظاہر پرستی سے وہ بڑی مصیبت میں پڑے اور در حقیقت ان کی تمام بدبختی کی یہی جڑ تھی کہ انہوں نے کتاب مقدس کے ایک استعارہ کو حقیقت پر حمل کیا اور اُن کے تمام علماء کا اس پر اتفاق ہو گیا کہ مسیح نبی اللہ سے پہلے ایلیا کا دوبارہ دنیا میں آنا ضروری ہے اور اس تاویل پر انہوں نے ٹھٹھا کیا کہ ایلیا سے مراد یوحنا یعنی یحییٰ نبی ہے جو اپنے اندر ایلیا کی خُو اور طبیعت رکھتا ہے۔ اور کہا کہ اگر یہ مطلب تھا کہ ایلیا نبی دنیا میں واپس نہیں آئے گا بلکہ اس کا مثیل آئے گا تو خدا نے پیشگوئی میں یوں کیوں نہ فرمایا کہ مسیح سے پہلے ایلیا کا مثیل آئے گا ۔☆ غرض اس طرح پر اُن کے دل سخت ہو گئے اور ایک راستباز کو کذّاب اور کافر اور ملحد قرار دیا۔ اِسی شامت سے وہ غضبِ الٰہی کے مورد ہو کر سخت سخت عذابوں میں مبتلا ہوئے ۔ اسلام میں بھی یہودی صفت لوگوں نے یہی طریق اختیار کیا اور اپنی غلط فہمی پر اصرار کر کے ہر ایک زمانہ میں خدا کے مقدس لوگوں کو تکلیفیں دیں۔ دیکھو کیسے امام حسین رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر ہزاروں نادان یزید کے ساتھ ہو گئے اور اس امام معصوم کو ہاتھ اور زبان سے دُکھ دیا آخر بجر قتل کے راضی نہ ہوئے اور پھر وقتا فوقتاً ہمیشہ اس اُمت کے اماموں اور راستبازوں اور مجددوں کو ستاتے رہے اور کافر اور بے دین اور زندیق نام رکھتے رہے۔ ہزاروں صادق ان کے ہاتھ سے ستائے گئے اور نہ صرف یہ کہ ان کا نام کا فر رکھا بلکہ جہاں تک بس چل سکا قتل کرنے اور ذلیل کرنے اور قید کرانے سے فرق نہیں کیا۔ یہاں تک کہ اب ہمارا زمانہ پہنچا اور تیرھویں صدی میں جابجا خود وہ لوگ یہ وعظ کرتے تھے کہ چودھویں صدی میں امام مہدی یا مسیح موعود آئے گا اور کم سے کم یہ کہ ایک بڑا مجد د پیدا ہوگا لیکن جب چودھویں صدی کے سر پر وہ مجدد پیدا ہوا اور نہ صرف خدا تعالیٰ کے الہام نے اس کا نام مسیح موعود رکھا بلکہ زمانہ کے فتن موجودہ نے بھی بزبانِ حال یہی فتویٰ دیا کہ اس کا نام مسیح موعود چاہیے تو اس کی سخت تکذیب کی اور جہاں تک ممکن تھا اس کو ایذا دی اور طرح طرح کے حیلوں اور مکروں سے اس کو ذلیل اور نابود کرنا چاہا اور اگر خدا تعالیٰ کے فضل سے گورنمنٹ برطانیہ کی اس ملک ہند میں سلطنت نہ ہوتی تو مدت سے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے معدوم کر دیتے۔
اور یہ بات ظاہر تھی کہ یہ زمانہ ایمانی اور اعتقادی فتنوں کا زمانہ تھا اور لاکھوں انسانوں کے اعتقاد توحید سے برگشتہ ہو کر مخلوق پرستی کی طرف جھک گئے تھے اور زیادہ تر حصہ مخلوق پرستی کا جس پر زور دیا جاتا تھا وہ یہی تھا کہ صلیبی نجات کی حمایت میں قلموں اور زبانوں سے وہ کام لیا گیا تھا کہ اگر نسخہ عالم کے تمام صفحات میں تلاش کریں تو تائید باطل میں یہ سرگرمی کسی اور زمانہ میں کبھی ثابت نہیں ہوگی۔ اور جبکہ صلیبی نجات کے حامیوں کی تحریریں انتہا درجہ کی تیزی تک پہنچ گئی تھیں اور اسلامی تو حید اور نبی عربی خیر الرسل علیہ السلام کی عفت اور عزت اور حقانیت اور کتاب اللہ قرآن شریف کے منجانب اللہ ہونے پر کمال ظلم اور تعدی سے حملے کئے گئے تھے اور وہ بیجا حملے جن کتابوں اور رسالوں اور اخباروں میں کئے گئے تھے ان کی تعداد کی سات کروڑ تک نوبت پہنچ گئی تھی اور یہ سب کچھ تیرھویں صدی کے ختم ہونے تک ظہور میں آچکا تھا تو کیا ضرور نہ تھا کہ وہ خدا جس نے فرمایا تھا کہ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ(الحجر: ۱۰) وہ ان بے جا حملوں کے فرو کرنے کے لئے چودھویں صدی کے سر پر اپنی قدیم سنت کے موافق کوئی آسمانی سلسلہ قائم کرتا ؟ پس اگر یہ سچ ہے کہ ہر ایک مجدد فتن موجودہ کے مناسب حال آنا چاہیے تو یہ دوسری بات بھی سچی ہے کہ چودھویں صدی کا مجدد کسر فتن صلیبہ کے لئے آنا چاہیے تھا۔ کیونکہ یہی وہ فتن ہیں جن کے لاکھوں دلوں پر خطرناک اثر پڑے ہیں اور یہی وہ فتن ہیں جن کو اس زمانہ کے تمام فتنوں کی نسبت عظیم الشان کہنا چاہیے اور جبکہ ثابت ہوا کہ چودھویں صدی کے مجدد کا کام صلیبی فتنوں کا توڑنا اور اس کے حامیوں کے حملوں کا جواب دینا ہے☆ تو اب طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس مجدد کا یہ کام ہو کہ وہ صلیبی فتنوں کو توڑے اور کسر صلیب کا منصب اپنے ہاتھ میں لے کر حقیقی نجات کی راہ دکھلاوے ۔ اور وہ نجات جو صلیب کی طرف منسوب کی گئی ہے اُس کا بطلان ثابت کرے ۔ اس مجدد کا کیا نام ہونا چاہیے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مجدد کا نام مسیح موعود رکھا ہے؟ پس جبکہ زمانہ کی حالت موجودہ ہی بتلا رہی ہے کہ چودھویں صدی کے مجدد کا نام مسیح موعود ہونا چاہیے یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہو کہ ایسی صدی کا مسیح موعود ہی مجدد ہوگا جس میں فتنہ صلیبہ کا جوش وخروش ہو تو پھر کیوں انکار ہے ۔ بہر حال جب فتن صلیبہ اپنے کمال کو پہنچ گئے اور ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ کروڑ ہا کتابیں صلیبی نجات کی تائید اور اسلام کی توہین اور ابطال میں شائع کی گئیں اور اِس پُر فتن صدی کے سر پر ایک شخص کھڑا ہوا اور اُس نے دعویٰ کیا کہ ان فتنوں کی اصلاح کے لئے میں مامور ہوں تو کیا ایسا دعویٰ غیر محل پر تھا ؟ اور کیا ضرور نہ تھا کہ ان خطرناک فتنوں کے وقت میں وہ خدا جو اسلام کو ذلت کی حالت میں دیکھ نہیں سکتا آسمان سے کوئی سلسلہ قائم کرتا اور اس مجروح اور زخمی کے لئے کوئی آسمانی مرہم نازل فرماتا ؟ کیا یہ تعجب کی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کے رحم نے تقاضا کیا کہ ایسے ضعف اور ذلّت کے وقت میں اسلام کی خبر لے؟ کیا اس سے بڑھ کر کسی اور وقت کا انتظار کرو گے؟ اور اس چودھویں صدی کو کسی مجدد کے آنے سے بے نصیب قرار دے کر کسی اور نامعلوم صدی کی انتظار میں رہو گے؟ کیا یہ تقویٰ کا طریق ہے کہ باوجود یکہ صدی میں سے چودہ سال بھی گزر گئے اور صلیبی فتنے دائرے کی طرح محیط ہو گئے مگر پھر بھی اعتقاد یہ ہو کہ آنے والا اب تک نہ آیا اور بد قسمت چودھویں صدی کسی معمولی مجدد سے بھی خالی رہی اور اگر آیا تو ایک دجال آیا ؟ کیا یہی امانت ہے کہ ایسے خیالات رکھے جائیں کہ چودھویں صدی تو مجدد سے خالی گئی اور کسوف خسوف رمضان کا مہدی کے ظہور سے خالی گیا ۔ اور صلیبی فتنوں کا زمانہ مسیح موعود کے ظہور سے خالی رہا گو یا نعوذ باللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تینوں پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی میں یہ بھی تھا کہ مسیح موعود کے وقت میں اونٹ بیکار ہو جائیں گے یہ ریل کی طرف اشارہ تھا۔ سوریل کے جاری ہونے پر بھی پچاس سال گزر گئے مگر ہمارے مخالفوں کا فرضی مسیح اب تک نہیں آیا۔ اللہ اکبر ۔ یہ لوگ کیسے دل کے سخت ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں سے یوں انکار کیا اور میری پیشگوئیوں میں سے وہ پیشگوئیاں جو نظری طور پر پوری ہوئیں اُن کی نسبت کہتے ہیں کہ جھوٹی نکلیں اور جو بد یہی طور پر پوری ہوئیں اُن کی نسبت یہ خیال ہے کہ نجوم یا رمل سے کام لیا گیا۔ اور یا کسی مجرمانہ سازش سے پوری کی گئیں ۔☆
غرض ہمارے اندرونی مخالفوں نے کسی پہلو سے فائدہ نہ اٹھایا اور وہ سب کام کر دکھائے جو یہودیوں نے کئے تھے۔ وہ اعتراض جو بار بار ہم پر کیا گیا وہ یہی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ان کا ذہنی مہدی یا مسیح خونریزوں کے طور پر آئے گا مگر یہ شخص لڑائیوں اور خونریزیوں سے منع کرتا ہے۔ اس کا بار بار جواب دیا گیا کہ یہ خیال سرا سر غلط ہے بلکہ يَضَعُ الْحَرب کی حدیث سے بکمال وضوح ثابت ہے کہ مسیح موعود خونریزوں کے رنگ میں ہرگز نہیں آئے گا اور صرف معارف اور حقائق اور نشانوں سے اتمام حجت کرے گا اور امن کے ساتھ حق کو پھیلائے گا☆۔ یہ باتیں ایسی صاف تھیں کہ قرآن اور حدیث پر غور کرنے سے کمال آسانی سے سمجھ آ سکتی تھیں ۔ مگر پُرانے خیالات جو عادات راسخہ ہو گئے تھے غافل دلوں سے نکل نہ سکے ۔ یہ تو سچ ہے کہ ہمارا مقصد صرف اسی قدر ہے کہ نرمی اور ملائمت سے لوگوں کے دھو کے دور کریں اور نوع انسان سے خواہ وہ عیسائی ہوں یا ہندو یا یہودی ہمدردی سے پیش آویں اور دلائل عقلیہ اور آیات سماویہ کی روشنی سے اُن کو دکھلاویں کہ وہ اپنے اعتقادات میں غلطی پر ہیں۔ اگر ہمارے اس طریق اور طرز سے ہمارے مخالف مسلمان ناراض ہیں اور کسی سخت گیر خونریز کا انتظار کرتے ہیں تو یہ اُن کی غلطی ہے اور ایسے خیال سے وہ قرآن اور حدیث سے دُور جا پڑے ہیں۔اب یہ زمانہ ہے کہ ہم ہر ایک قوم کو اپنی اخلاقی حالت دکھلاویں اور اُن کے ظلم برداشت کریں اور آپ ظالمانہ حملہ ان پر نہ کریں ۔ اخلاقی حالت بھی ایک معجزہ ہے اور بردباری سے زندگی بسر کرنا ایک آسمانی نشان ہے۔ اور جب ہم کسی دوسری قوم سے احسان دیکھیں تب تو زیادہ تر فرض ہو جاتا ہے کہ ہم احسان کے عوض میں احسان کریں اور نیکی کے عوض میں نیکی بجالا ویں ۔ جیسا کہ اب ہم عیسائی گورنمنٹ سے بہر طرح امن اور راحت دیکھ رہے ہیں۔ کیا اس کا عوض یہ ہے کہ ہم منافقانہ زندگی اُن سے بسر کریں اور دل میں کچھ اور زبان پر کچھ ہو ؟ ہاں جس طرح مادر مہربان یہ چاہتی ہے کہ اس کا بیٹا کسی ایسی حالت میں گرفتار نہ ہو جس کا خطرناک نتیجہ ہے۔ اسی طرح ہم عیسائیوں اور ہندوؤں کے ساتھ شفقت اور رحمت سے معاملہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں یہ دلی آرزو ہے کہ کوئی محبت اور آرام سے ہماری باتیں سنے اور دلائل میں غور کرے اور پھر اپنے نفس کا خیر خواہ ہو کر اپنے عقائد کی اصلاح کرے۔
یہ تفسیر سورۃ فاتحہ محض اس غرض سے یہاں لکھی گئی ہے کہ یہ قرآن شریف کی تمام تعلیم کا مغز ہے اور جو شخص قرآن سے اس کے برخلاف کچھ نکالنا چاہتا ہے وہ جھوٹا ہے اور اس سورہ فاتحہ میں جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں مسلمانوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ دُعا میں مشغول رہیں بلکہ دُعا اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ سکھلائی گئی ہے☆۔ اور فرض کیا گیا ہے کہ پنج وقت یہ دعا کریں پھر کس قدر غلطی ہے کہ کوئی شخص دُعا کی رُوحانیت سے انکار کرے۔ قرآن شریف نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ دُعا اپنے اندر ایک روحانیت رکھتی ہے اور دُعا سے ایک فیض نازل ہوتا ہے جو طرح طرح کے پیرایوں میں کامیابی کا ثمرہ بخشتا ہے۔
ہماری تقریر مذکورہ بالا سے ہر ایک منصف سمجھ سکتا ہے کہ جس طرح با وجود تسلیم مسئلہ قضا و قدر کے صدہا امور میں یہی سنت اللہ ہے کہ جد و جہد سے ثمرہ مترتب ہوتا ہے اسی طرح دعا میں بھی جو جد و جہد کی جائے وہ بھی ہرگز ضائع نہیں جاتی ۔ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ایک جگہ پر اپنی شناخت کی یہ علامت ٹھہرائی ہے کہ تمہارا خدا وہ خدا ہے جو بے قراروں کی دعا سنتا ہے۔
جیسا کہ وہ فرماتا ہے اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ پھر جبکہ خدا تعالیٰ نے دُعا کی قبولیت کو اپنی ہستی کی علامت ٹھہرائی ہے تو پھر کس طرح کوئی عقل اور حیا والا گمان کر سکتا ہے کہ دُعا کرنے پر کوئی آثار صریحہ اجابت کے مترتب نہیں ہوتے اور محض ایک رسمی امر ہے جس میں کچھ بھی روحانیت نہیں؟ میرے خیال میں ہے کہ ایسی بے ادبی کوئی سچے ایمان والا ہرگز نہیں کرے گا جبکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ جس طرح زمین و آسمان کی صفت پر غور کرنے سے سچا خدا پہچانا جاتا ہے اسی طرح دعا کی قبولیت کو دیکھنے سے خدا تعالیٰ پر یقین آتا ہے۔ پھر اگر دعا میں کوئی روحانیت نہیں اور حقیقی اور واقعی طور پر دُعا پر کوئی نمایاں فیض نازل نہیں ہوتا تو کیونکر دُعا خدا تعالیٰ کی شناخت کا ایسا ذریعہ ہو سکتی ہے جیسا کہ زمین و آسمان کے اجرام و اجسام ذریعہ ہیں؟ بلکہ قرآن شریف سے تو معلوم ہوتا ہے کہ نہایت اعلیٰ ذریعہ خدا شناسی کا دُعا ہی ہے اور خدا تعالیٰ کی ہستی اور صفات کاملہ کی معرفت تامہ یقینیہ کاملہ صرف دُعا سے ہی حاصل ہوتی ہے اور کسی ذریعہ سے حاصل نہیں ہوتی ۔ وہ امر جو ایک بجلی کی چمک کی طرح یک دفعہ انسان کو تاریکی کے گڑھے سے کھینچ کر روشنی کی کھلی فضا میں لاتا اور خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر دیتا ہے وہ دعا ہی ہے۔ دعا کے ذریعہ سے ہزاروں بدمعاش صلاحیت پر آ جاتے ہیں۔ ہزاروں بگڑے ہوئے درست ہو جاتے ہیں۔ ہاں دعا کی راہ میں دو بڑے مشکل امر ہیں جن کی وجہ سے اکثر دلوں سے عظمت دعا کی پوشیدہ رہتی ہے (۱) اول تو شرط تقویٰ اور راستبازی اور خدا ترسی ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الۡمُتَّقِیۡنَ یعنی اللہ تعالیٰ پر ہیز گار لوگوں کی دعا قبول کرتا ہے۔ اور پھر فرماتا ہے وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَلۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ لَعَلَّہُمۡ یَرۡشُدُوۡنَیعنی جب میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں کہ خدا کے وجود پر دلیل کیا ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ میں بہت نزدیک ہوں یعنی کچھ بڑے دلائل کی حاجت نہیں۔ میرا وجود نہایت اقرب طریق سے سمجھ آ سکتا ہے اور نہایت آسانی سے میری ہستی پر دلیل پیدا ہوتی ہے اور وہ دلیل یہ ہے کہ جب کوئی دُعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اُس کی سنتا ہوں اور اپنے الہام سے اس کی کامیابی کی بشارت دیتا ہوں جس سے نہ صرف میری ہستی پر یقین آتا ہے بلکہ میرا قادر ہونا بھی بپایۂ یقین پہنچتا ہے لیکن چاہیے کہ لوگ ایسی حالت تقویٰ اور خدا ترسی کی پیدا کریں کہ میں اُن کی آواز سنوں۔ اور نیز چاہئیے کہ وہ مجھ پر ایمان لاویں اور قبل اس کے جو اُن کو معرفتِ تامہ ملے اس بات کا اقرار کریں کہ خدا موجود ہے اور تمام طاقتیں اور قدرتیں رکھتا ہے کیونکہ جو شخص ایمان لاتا ہے اُسی کو عرفان دیا جاتا ہے۔
ایمان کی تعریف ۔ ایمان اس بات کو کہتے ہیں کہ اس حالت میں مان لینا کہ جبکہ ابھی علم کمال تک نہیں پہنچا اور شکوک وشبہات سے ہنوز لڑائی ہے ۔ پس جو شخص ایمان لاتا ہے یعنی باوجود کمزوری اور نہ مہیا ہونے کل اسباب یقین کے اس بات کو اغلب احتمال کی وجہ سے قبول کر لیتا ہے وہ حضرت احدیت میں صادق اور راستباز شمار کیا جاتا ہے اور پھر اس کو موہبت کے طور پر معرفتِ تامہ حاصل ہوتی ہے اور ایمان کے بعد عرفان کا جام اس کو پلایا جاتا ہے۔ اسی لئے ایک مرد متقی رسولوں اور نبیوں اور مامورین من اللہ کی دعوت کو سن کر ہر ایک پہلو پر ابتداء امر میں ہی حملہ کرنا نہیں چاہتا بلکہ وہ حصہ جو کسی مامور من اللہ کے منجانب اللہ ہونے پر بعض صاف اور کھلے کھلے دلائل سے سمجھ آ جاتا ہے اُسی کو اپنے اقرار اور ایمان کا ذریعہ ٹھہرا لیتا ہے اور وہ حصہ جو سمجھ نہیں آتا اُس میں سنتِ صالحین کے طور پر استعارات اور مجازات قرار دیتا ہے ۔ اور اس طرح تناقض کو درمیان سے اُٹھا کر صفائی اور اخلاص کے ساتھ ایمان لے آتا ہے تب خدا تعالیٰ اُس کی حالت پر رحم کر کے اور اس کے ایمان پر راضی ہو کر اور اُس کی دعاؤں کو سن کر معرفتِ تامہ کا دروازہ اُس پر کھولتا ہے اور الہام اور کشوف کے ذریعہ سے اور دوسرے آسمانی نشانوں کے وسیلہ سے یقین کامل تک اُس کو پہنچاتا ہے لیکن متعصب آدمی جو عناد سے پر ہوتا ہے ایسا نہیں کرتا اور وہ ان اُمور کو جو حق کے پہچاننے کا ذریعہ ہو سکتے ہیں تحقیر اور توہین کی نظر سے دیکھتا ہے اور ٹھٹھے اور ہنسی میں اُن کو اُڑا دیتا ہے اور وہ امور جو ہنوز اس پر مشتبہ ہیں اُن کو اعتراض کرنے کی دستاویز بناتا ہے اور ظالم طبع لوگ ہمیشہ ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔
چنانچہ ظاہر ہے کہ ہر ایک نبی کی نسبت جو پہلے نبیوں نے پیشگوئیاں کیں اُن کے ہمیشہ دو حصے ہوتے رہے ہیں ایک بینات اور محکمات جن میں کوئی استعارہ نہ تھا اور کسی تاویل کی محتاج نہ تھیں ۔ اور ایک متشابہات جو محتاج تاویل تھیں اور بعض استعارات اور مجازات کے پردے میں محجوب تھیں۔ پھر ان نبیوں کے ظہور اور بعثت کے وقت جو ان پیشگوئیوں کے مصداق تھے دو فریق ہوتے رہے ہیں۔ ایک فریق سعیدوں کا جنہوں نے بینات کو دیکھ کر ایمان لانے میں تاخیر نہ کی اور جو حصہ متشابہات کا تھا اس کو استعارات اور مجازات کے رنگ میں سمجھ لیا یا آئندہ کے منتظر رہے☆ اور اس طرح پر حق کو پالیا اور ٹھوکر نہ کھائی ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بھی ایسا ہی ہوا۔ پہلی کتابوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت دوطور کی پیشگوئیاں تھیں۔ ایک یہ کہ وہ مسکینوں اور عاجزوں کے پیرایہ میں ظاہر ہو گا اور غیر سلطنت کے زمانہ میں آئے گا اور داؤد کی نسل سے ہوگا اور حلم اور نرمی سے کام لے گا اور نشان دکھلائے گا۔ اور دوسری قسم کی یہ پیشگوئیاں تھیں کہ وہ بادشاہ ہوگا اور بادشاہوں کی طرح لڑے گا اور یہودیوں کو غیر سلطنت کی ماتحتی سے چھڑا دے گا۔ اور اس سے پہلے ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا۔ اور جب تک ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں نہ آوے وہ نہیں آئے گا ۔ پھر جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ظہور فرمایا تو یہود دو فریق ہو گئے ۔ ایک فریق جو بہت ہی کم اور قلیل التعداد تھا۔ اس نے حضرت مسیح کو داؤد کی نسل سے پا کر اور پھر اُس کی مسکینی اور عاجزی اور راستبازی دیکھ کر اور پھر آسمانی نشانوں کو ملاحظہ کر کے اور نیز زمانہ کی حالتِ موجودہ کو دیکھ کر کہ وہ ایک نبی مصلح کو چاہتی ہے اور پہلی پیشگوئیوں کے قرارداد وقتوں کا مقابلہ کر کے یقین کر لیا کہ یہ وہی نبی ہے جس کا اسرائیل کی قوم کو وعدہ دیا گیا تھا۔ سو وہ حضرت مسیح پر ایمان لائے اور اُن کے ساتھ ہو کر طرح طرح کے دُکھ اُٹھائے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک اپنا صدق ظاہر کیا۔ لیکن جو بدبختوں کا گروہ تھا اُس نے کھلی کھلی علامتوں اور نشانوں کی طرف ذرہ التفات نہ کیا یہاں تک کہ زمانہ کی حالت پر بھی ایک نظر نہ ڈالی اور شریرانہ حجت بازی کے ارادے سے دوسرے حصے کو جو متشابہات کا حصہ تھا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور نہایت گستاخی سے اس مقدس کو گالیاں دینی شروع کیں اور اس کا نام ملحد اور بے دین اور کافر رکھا اور یہ کہا کہ یہ شخص پاک نوشتوں کے اُلٹے معنے کرتا ہے اور اس نے ناحق ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کی تاویل کی ہے اور نص صریح کو اس کے ظاہر سے پھیرا ہے اور ہمارے علماء کو مکار اور ریا کار کہتا ہے اور کتب مقدسہ کے الٹے معنے کرتا ہے اور نہایت شرارت سے اس بات پر زور دیا کہ نبیوں کی پیشگوئیوں کا ایک حرف بھی اس پر صادق نہیں آتا ۔ وہ نہ بادشاہ ہو کر آیا اور نہ غیر قوموں سے لڑا اور نہ ہم کو ان کے ہاتھ سے چھڑایا اور نہ اس سے پہلے ایلیا نبی نازل ہوا۔ پھر وہ مسیح موعود کیونکر ہو گیا۔ غرض ان بد قسمت شریروں نے سچائی کے انوار اور علامات پر نظر ڈالنا نہ چاہا اور جو حصہ متشابہات کا پیشگوئیوں میں تھا اس کو ظاہر پر حمل کر کے بار بار پیش کیا۔ یہی ابتلا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اکثر یہودیوں کو پیش آیا۔ انہوں نے بھی اپنے اسلاف کی عادت کے موافق نبیوں کی پیشگوئیوں کے اس حصہ سے فائدہ اٹھانا نہ چاہا جو بینات کا حصہ تھا۔ اور متشابہات جو استعارات تھے اپنی آنکھ کے سامنے رکھ کر یا تحریف شدہ پیشگوئیوں پر زور دے کر اس نبی کریم کی دولت اطاعت سے جو سید الکونین ہے محروم رہ گئے اور اکثر عیسائیوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ انجیل کی کھلی کھلی پیشگوئیاں جس قدر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں تھیں اُن کو تو ہاتھ تک نہ لگایا اور جو سنت اللہ کے موافق پیشگوئیوں کا دوسرا حصہ یعنی استعارات اور مجازات تھے اُن پر گر پڑے اس لئے حقیقت کی طرف راہ نہ پا سکے۔ لیکن ان میں سے وہ لوگ جو حق کے طالب تھے اور جو پیشگوئیوں کی تحریر میں طرز عادت الہی ہے اس سے واقف تھے انہوں نے انجیل کی ان پیشگوئیوں سے جو آنے والے بزرگ نبی کے بارے میں تھیں فائدہ اُٹھایا اور مشرف باسلام ہوئے اور جس طرح یہود میں سے اُس گروہ نے جو حضرت عیسی پر ایمان لائے تھے پیشگوئیوں کے بینات سے دلیل پکڑی تھی اور متشابہات کو چھوڑ دیا تھا ایسا ہی اُن بزرگ عیسائیوں نے بھی کیا اور ہزار ہا نیک بخت انسان اُن میں سے اسلام میں داخل ہوئے ۔ غرض ان دونوں قوموں یہود اور نصاریٰ میں سے جس گروہ نے متشابہات پر جم کر انکار پر زور دیا اور بینات پیشگوئیوں سے جو ظہور میں آئیں فائدہ نہ اٹھایا اُن دونوں گروہ کا قرآن شریف میں جا بجا ذکر ہے اور یہ ذکر اس لئے کیا گیا کہ تا اُن کی بدبختی کے ملاحظہ سے مسلمانوں کو سبق حاصل ہو اور اس بات سے متنبہ رہیں کہ یہود و نصاری کی مانند بینات کو چھوڑ کر اور متشابہات میں پڑ کر ہلاک نہ ہو جائیں ۔ اور ایسی پیشگوئیوں کے بارے میں جو مامورین من اللہ کے لئے پہلے سے بیان کی جاتی ہیں اُمید نہ رکھیں کہ وہ اپنے تمام پہلوؤں کے رُو سے ظاہری طور پر ہی پوری ہوں گی بلکہ اس بات کے ماننے کے لئے تیار رہیں کہ قدیم سنت اللہ کے موافق بعض حصے ایسی پیشگوئیوں کے استعارات اور مجازات کے رنگ میں بھی ہوتے ہیں۔ اور اسی رنگ میں وہ پوری بھی ہو جاتی ہیں ۔ مگر غافل اور سطحی خیال کے انسان ہنوز انتظار میں لگے رہتے ہیں کہ گویا ابھی وہ باتیں پوری نہیں ہوئیں بلکہ آئندہ ہوں گی ۔ جیسا کہ ابھی تک یہود اسی بات کو روتے ہیں کہ ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا اور پھر ان کا مسیح موعود بڑے بادشاہ کی طرح ظاہر ہوگا اور یہودیوں کو امارت اور حکومت بخشے گا۔ حالانکہ یہ سب باتیں پوری ہو چکیں اور اس پر انیس سو برس کے قریب گذر گیا اور آنے والا آ بھی گیا۔ اور اس دنیا سے اُٹھایا بھی گیا۔
یہ بات نہایت کار آمد اور یاد رکھنے کے لائق تھی کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے مامور ہو کر آتے ہیں خواہ وہ رسول ہوں یا نبی یا محدث اور مجدد ان کی نسبت جو پہلی کتابوں میں یا رسولوں کی معرفت پیشگوئیاں کی جاتی ہیں اُن کے دو حصے ہوتے ہیں ۔ ایک وہ علامات جو ظاہری طور پر وقوع میں آتی ہیں اور بینات کا حکم رکھتی ہیں۔ اور ایک وہ متشابہات جو استعارات اور مجازات کے رنگ میں ہوتی ہیں پس جن کے دلوں میں زیغ اور کجی ہوتی ہے وہ متشابہات کی پیروی کرتے ہیں اور طالب صادق بینات اور محکمات سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ یہود اور عیسائیوں کو یہ ابتلا پیش آچکے ہیں ۔ پس مسلمانوں کے اولوالابصار کو چاہیے کہ ان سے عبرت پکڑیں اور صرف متشابہات پر نظر رکھ کر تکذیب میں جلدی نہ کریں اور جو باتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے گھل جائیں اُن سے اپنی ہدایت کے لئے فائدہ اُٹھاویں ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ شک یقین کو رفع نہیں کر سکتا ۔ پس پیشگوئیوں کا وہ حصہ جو ظاہری طور پر ابھی پورا نہیں ہوا وہ ایک امر شکی ہے کیونکہ ممکن ہے کہ ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کی طرح وہ حصہ استعارہ یا مجاز کے رنگ میں پورا ہو گیا ہو مگر انتظار کرنے والا اس غلطی میں پڑا ہو کہ وہ ظاہری طور پر کسی دن پورا ہوگا ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعض احادیث کے الفاظ محفوظ نہ رہے ہوں کیونکہ احادیث کے الفاظ وحی متلو کی طرح نہیں اور اکثر احادیث احاد کا مجموعہ ہیں ۔ اعتقادی امر تو الگ بات ہے۔ جو چاہو اعتقاد کرو مگر واقعی اور حقیقی فیصلہ یہی ہے کہ احاد میں عند العقل امکان تغیر الفاظ ہے۔ چنانچہ ایک ہی حدیث جو مختلف طریقوں اور مختلف راویوں سے پہنچتی ہے اکثر ان کے الفاظ اور ترتیب میں بہت سا فرق ہوتا ہے ۔ حالانکہ وہ ایک ہی وقت میں ایک ہی منہ سے نکلی ہے۔ پس صاف سمجھ آتا ہے کہ چونکہ اکثر راویوں کے الفاظ اور طرز بیان جدا جدا ہوتے ہیں اس لئے اختلاف پڑ جاتا ہے ۔ اور نیز پیشگوئیوں کے متشابہات کے حصہ میں یہ بھی ممکن ہے کہ بعض واقعات پیشگوئیوں کے جن کا ایک ہی دفعہ ظاہر ہونا امید رکھا گیا ہے وہ تدریجاً ظاہر ہوں یا کسی اور شخص کے واسطہ سے ظاہر ہوں جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی کہ قیصر و کسری کے خزانوں کی گنجیاں آپ کے ہاتھ پر رکھی گئی ہیں ۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ پیشگوئی کے ظہور سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے تھے اور آنجناب نے نہ قیصر اور کسری کے خزانہ کو دیکھا اور نہ گنجیاں دیکھیں ۔ مگر چونکہ مقدر تھا کہ وہ گنجیاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملیں کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وجود ظلی طور پر گویا آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی تھا ۔ اس لئے عالم وحی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ قرار دیا گیا ۔ خلاصہ کلام یہ کہ دھوکا کھانے والے اسی مقام پر دھوکا کھاتے ہیں وہ اپنی بدقسمتی سے پیشگوئی کے ہر ایک حصہ کی نسبت یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ظاہری طور پر ضرور پورا ہوگا اور پھر جب وقت آتا ہے اور کوئی مامور من اللہ پیدا ہوتا ہے تو جو جو علامتیں اُس کے صدق کی نسبت ظاہر ہو جائیں اُن کی کچھ پرواہ نہیں رکھتے اور جو علامتیں ظاہری صورت میں پوری نہ ہوں یا ابھی اُن کا وقت نہ آیا ہو ان کو بار بار پیش کرتے ہیں۔ ہلاک شدہ اُمتیں جنہوں نے سچے نبیوں کو نہیں مانا اُن کی ہلاکت کا اصل موجب یہی تھا اپنے زعم میں تو وہ لوگ اپنے تئیں بڑے ہوشیار جانتے رہے ہیں مگر اُن کے اس طریق نے حق کے قبول سے اُن کو بے نصیب رکھا۔
یہ عجیب بات ہے کہ پیشگوئیوں کی نافہمی کے بارے میں جو کچھ پہلے زمانہ میں یہود اور نصاری سے وقوع میں آیا اور انہوں نے سچوں کو قبول نہ کیا۔ ایسا ہی میری قوم مسلمانوں نے میرے ساتھ معاملہ کیا۔ یہ تو ضروری تھا کہ قدیم سنت اللہ کے موافق وہ پیشگوئیاں جو مسیح موعود کے بارے میں کی گئیں وہ بھی دو حصوں پر مشتمل ہوتیں۔ ایک حصہ بینات کا جو اپنی ظاہر صورت پر واقع ہونے والا تھا اور ایک حصہ متشابہات کا جو استعارات اور مجازات کے رنگ میں تھا۔ لیکن افسوس کہ اس قوم نے بھی پہلے خطا کار لوگوں کے قدم پر قدم مارا اور متشابہات پر اڑ کر اُن بینات کو رڈ کر دیا جو نہایت صفائی سے پوری ہو گئی تھیں۔ حالانکہ شرط تقویٰ یہ تھی کہ پہلی قوموں کی ابتلاؤں کو یاد کرتے متشابہات پر زور نہ مارتے اور بینات سے یعنی ان باتوں اور اُن علامتوں سے جو روز روشن کی طرح کھل گئی تھیں فائدہ اُٹھاتے ۔ مگر وہ ایسا نہیں کرتے بلکہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی وہ پیشگوئیاں پیش کی جاتی ہیں جن کے اکثر حصے نہایت صفائی سے پورے ہو چکے ہیں تو نہایت لاپرواہی سے اُن سے منہ پھیر لیتے ہیں اور پیشگوئیوں کی بعض باتیں جو استعارات کے رنگ میں تھیں پیش کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حصہ پیشگوئیوں کا کیوں ظاہری طور پر پورا نہیں ہوا؟ اور بایں ہمہ جب پہلے مکذبوں کا ذکر آوے جنہوں نے بعینہ ان ہی لوگوں کی طرح واقع شدہ علامتوں پر نظر نہ کی اور متشابہات کا حصہ جو پیشگوئیوں میں تھا اور استعارات کے رنگ میں تھا اس کو دیکھ کر کہ وہ ظاہری طور پر پورا نہیں ہوا حق کو قبول نہ کیا۔ تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم اُن کے زمانہ میں ہوتے تو ایسا نہ کرتے حالانکہ اب یہ لوگ ایسا ہی کر رہے ہیں جیسا کہ اُن پہلے مکذبوں نے کیا۔ جن ثابت شدہ علامتوں اور نشانوں سے قبول کرنے کی روشنی پیدا ہو سکتی ہے۔ ان کو قبول نہیں کرتے اور جو استعارات اور مجازات اور متشابہات ہیں اُن کو ہاتھ میں لئے پھرتے ہیں اور عوام کو دھوکا دیتے ہیں کہ یہ باتیں پوری نہیں ہوئیں حالانکہ سنت اللہ کی تعلیم ،طریق کے موافق ضرور تھا کہ وہ باتیں اس طرح پوری نہ ہوتیں جس طرح اُن کا خیال ہے یعنی ظاہری اور جسمانی صورت پر بے شک ایک حصہ ظاہری طور پر اور ایک حصہ مخفی طور پر پورا ہو گیا۔ لیکن اس زمانہ کے متعصب لوگوں کے دلوں نے نہیں چاہا کہ قبول کریں۔ وہ تو ہر ایک ثبوت کو دیکھ کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ وہ خدا کے نشانوں کو انسان کی مکاری خیال کرتے ہیں۔ جب خدائے قدوس کے پاک الہاموں کو سنتے ہیں تو کہتے ہیں کہ انسان کا افترا ہے مگر اس بات کا جواب نہیں دے سکتے کہ کیا کبھی خدا پر افترا کرنے والے کو مفتریات کے پھیلانے کے لئے وہ مہلت ملی جو سچے ملہموں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی ؟ کیا خدا نے نہیں کہا کہ الہام کا افترا کے طور پر دعویٰ کرنے والے ہلاک کئے جائیں گے اور خدا پر جھوٹ باندھنے والے پکڑے جائیں گے؟ یہ تو توریت میں بھی ہے کہ جھوٹا نبی قتل کیا جائے گا اور انجیل میں بھی ہے کہ جھوٹا جلد فنا ہو گا اور اس کی جماعت متفرق ہو جائے گی ۔ کیا کوئی ایک نظیر بھی ہے کہ جھوٹے ملہم نے جو خدا پر افترا کرنے والا تھا ایام افترا میں وہ عمر پائی جو اس عاجز کو ایام دعوت الہام الہی میں ملی ؟ بھلا اگر کوئی نظیر ہے تو پیش تو کرو۔ میں نہایت پر زور دعوے سے کہتا ہوں کہ دنیا کی ابتدا سے آج تک ایک نظیر بھی نہیں ملے گی ۔ پس کیا کوئی ایسا ہے کہ اس محکم اور قطعی دلیل سے فائدہ اُٹھاوے اور خدا تعالیٰ سے ڈرے؟ میں نہیں کہتا کہ بت پرست عمر نہیں پاتے یا دہریہ اور اَنَا الْحَق کہنے والے جلد پکڑے جاتے ہیں کیونکہ ان غلطیوں اور ان ضلالتوں کی سزا دینے کے لئے دوسرا عالم ہے لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص خدا تعالیٰ پر الہام کا افترا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ الہام مجھ کو ہوا حالانکہ جانتا ہے کہ وہ الہام اُس کو نہیں ہوا وہ جلد پکڑا جاتا ہے اور اس کی عمر کے دن بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ قرآن اور انجیل اور توریت نے یہی گواہی دی ہے۔ عقل بھی یہی گواہی دیتی ہے اور اس کے مخالف کوئی منکر کسی تاریخ کے حوالہ سے ایک نظیر بھی پیش نہیں کر سکتا اور نہیں دکھلا سکتا کہ کوئی جھوٹا الہام کا دعویٰ کرنے والا پچیس برس تک یا اٹھارہ برس تک جھوٹے الہام دنیا میں پھیلاتا رہا اور جھوٹے طور پر خدا کا مقرب اور خدا کا مامور اور خدا کا فرستادہ اپنا نام رکھا اور اُس کی تائید میں سالہائے دراز تک اپنی طرف سے الہامات تراش کر مشہور کرتا رہا اور پھر وہ باجودان مجرمانہ حرکات کے پکڑا نہ گیا کیا اُمید کی جاتی ہے کہ کوئی ہمارا مخالف اس سوال کا جواب دے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ۔ اُن کے دل جانتے ہیں کہ وہ ان سوالات کے جواب دینے سے عاجز ہیں مگر پھر بھی انکار سے باز نہیں آتے بلکہ بہت سے دلائل سے اُن پر حجت وارد ہو گئی مگر وہ خواب غفلت میں سورہے ہیں ۔
اہل حق کے نزدیک اس امر میں اتمام حجت اور کامل تسلّی کا ذریعہ چار طریق ہیں (۱) اول نصوص صریحہ کتاب اللہ یا احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ جو آنے والے شخص کی ٹھیک ٹھیک علامات بتلاتی ہوں اور بیان کرتی ہوں کہ وہ کس وقت ظاہر ہو گا اور اس کے ظاہر ہونے کے نشان کیا ہیں اور نیز حضرت عیسیٰ کی وفات یا عدم وفات کا جھگڑا فیصلہ کرتی ہوں (۲) دوم وہ دلائل عقلیہ اور مشاہدات حسیہ جو علوم قطعیہ پر مبنی ہوں جن سے گریز کی کوئی راہ نہیں (۳) وہ تائیدات سماویہ جو نشانوں اور کرامات کے رنگ میں مدعی صادق کے لئے اُس کی دعا اور کرامت سے ظہور میں آئی ہوں تا اس کی سچائی پرنشان آسمانی کی زندہ گواہی کی مہر ہو۔ (۴) چہارم اُن ابرار اور اخیار کی شہادتیں جنہوں نے خدا سے الہام پا کر ایسے وقت میں گواہی دی ہو کہ جبکہ مدعی کا نشان نہ تھا کیونکہ وہ گواہی بھی ایک غیب کی خبر ہونے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا نشان ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ یہ چاروں طریق اتمام حجت اور کامل تسلّی کے اس جگہ جمع ہو گئے ہیں ۔ مگر پھر بھی ہمارے اندرونی مخالفوں کو اس کی کچھ بھی پر واہ نہیں ۔ ہم ذیل میں ان چاروں اتمام حجت کے طریقوں کو لکھتے ہیں اور حق کے طالبوں کو اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ وہ ان مخالفوں سے پوچھیں کہ ان دلائلِ بینہ سے کیوں روگردانی کرتے ہیں؟ کیا ضرور نہ تھا کہ وہ ان سے فائدہ اٹھاتے یہ تو ظاہر ہے کہ جو امر وقوع میں آ جائے وہ یقینی ہے اور جو وقوع میں نہیں آیا وہ ہنوز ظنی ہے اور معلوم نہیں کہ کس پہلو سے وقوع میں آوے آیا ظاہری طور پر یا مجازات کے رنگ میں ۔ کیونکہ پیشگوئیوں میں دونوں احتمال ہوتے ہیں لیکن جو حصہ وقوع میں آ کر یقینی مرتبہ تک پہنچ گیا ہے۔ وہ یہی چاہتا ہے کہ جو امور اس کے نقیض واقع ہوں وہ استعارات کے رنگ میں ظاہر ہوں ۔ تا خدا کی پیشگوئیوں میں تناقض لازم نہ آوے۔ اور وہ دلائل یہ ہیں :۔
(۱) حق کے طالبوں کے لئے سب سے پہلے میں یہ امر پیش کرتا ہوں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات قرآن شریف سے ثابت ہے۔ اس سے زیادہ کیا ثبوت ہو گا کہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡنے صاف اس بات کا فیصلہ کر دیا ہے کہ عیسائی عقیدہ میں جس قدر بگاڑ اور فساد ہوا ہے وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے بعد ہوا۔ اب اگر حضرت عیسیٰ کو زندہ مان لیں اور کہیں کہ اب تک وہ فوت نہیں ہوئے تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ نصاری نے بھی اب تک اپنے عقائد کو نہیں بگاڑا کیونکہ آیت موصوفہ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ نصاری کے عقیدوں کا بگڑنا حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے بعد ہوگا۔ رہی یہ بات کہ توفی کے اس جگہ کیا معنے ہیں؟ اس کا فیصلہ نہایت صفائی سے صحیح بخاری میں ہو گیا ہے کہ توفی مارنے کو کہتے ہیں ۔ یہ قول ابن عباس ہے جس کو حدیث كما قَالَ الْعَبُدُ الصَّالِحِ کے ساتھ بخاری میں اور بھی تقویت دی گئی ہے اور شارح عینی نے اس قول کا اسناد بیان کیا ہے۔ اب ایک تسلّی ڈھونڈ نے والا سمجھ سکتا ہے کہ قرآن شریف اور اس کتاب میں جو اَصَحُ الْكُتُبِ بَعْدَ كِتَابِ اللہ ہے صاف گواہی دی گئی ہے کہ حضرت عیسی فوت ہو گئے اور اس شہادت میں صرف امام بخاری رضی اللہ عنہ متفرد نہیں بلکہ امام ابن حزم اور امام مالک رضی اللہ عنہما بھی موت عیسی علیہ السلام کے قائل ہیں اور ان کا قائل ہونا گویا اُمت کے تمام اکابر کا قائل ہونا ہے کیونکہ اس زمانہ کے اکابر علماء سے مخالفت منقول نہیں اور اگر مخالفت کرتے تو البتہ کسی کتاب میں اُس کا ذکر ہوتا ۔
اس جگہ یادر ہے کہ ہمارے دعوی کی بنیاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہے ۔ اب دیکھو یہ بنیاد کس قدر مضبوط اور محکم ہے جس کی صحت پر قرآن۱ شریف گواہی دے رہا ہے۔
حدیث۲ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دے رہی ہے۔ قول ابن۳ عباس رضی اللہ عنہ گواہی دے رہا ہے۔ اور ائمہ۴ اسلام گواہی دے رہے ہیں اور ان سب کے بعد عقل۵ بھی گواہی دیتی ہے۔ اور ایلیا۶ نبی کے دوبارہ آنے کا قصہ یہی گواہی دے رہا ہے جس کی تاویل خود حضرت مسیح کے منہ سے یہ ثابت ہوئی کہ ایلیا سے مراد یوحنا یعنی یحیی ہے اور اس تاویل نے یہود کے اس اجماعی عقیدہ کو خاک میں ملا دیا کہ در حقیقت ایلیا نبی جو دنیا سے گذر گیا تھا پھر دنیا میں آئے گا۔ حق کے طالب اس مقام میں خوب سوچیں کہ نصوص قرآنیہ سے نصوص حدیثیہ سے پہلی کتابوں کی شہادت سے ائمہ کی گواہی سے دلائل عقلیہ سے یہی مذہب سچا ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور اب ان کے دوبارہ آنے کی اُمید اسی قسم کی اُمید ہے جس اُمید کے سہارے پر یہودیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت سے انکار کیا ۔ ہم ثالثوں کے آگے یہ مقدمہ پیش کرتے ہیں وہ جواب دیں کہ اب اس فیصلہ میں کون سی کسر باقی رہ گئی ہے۔ تمام قرآن یہ گواہی دے رہا ہے کہ توفی کے یہ معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ کسی انسان کی روح کو اپنے قبضہ میں لے لے نہ یہ کہ جسم کو اپنے قبضہ میں لے لے ۔ ہاں روح کو اپنے قبضہ میں لے لینا دوطور سے ہو سکتا ہے ایک یہ کہ خواب کی حالت میں روح کو اپنے قبضہ میں لے اور پھر اس کو بدن میں واپس بھیج دے۔ اور یا یہ کہ موت کی حالت میں روح کو اپنے قبضہ میں لے اور پھر اُس کو بدن میں واپس نہ بھیجے ۔ یہی دو صورتیں ہیں جو قرآن شریف میں بیان فرمائی گئی ہیں مگر جسم کو قبضہ میں لینا کہیں بیان نہیں فرمایا گیا اور نہ کسی لغت والے نے لکھا کہ توفی کے یہ معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ کسی جسم کو اپنے قبضہ میں لے لے بلکہ بالا تفاق تمام اہلِ لغت یہی کہتے ہیں کہ جب یہ مثلاً کہا جائے کہ تَوَفَّى اللہُ زَيْدًا تو اس کے یہی معنے ہوں گے کہ خدا تعالیٰ نے زید کی روح کو قبض کر لیا۔ ہاں محاورہ قرآنی میں یہ دونوں باتیں آگئی ہیں کہ خواہ اللہ تعالیٰ کسی کے جسم کو نیند کی حالت میں اس کے بستر پر چھوڑ کر روح کو قبض کرلے اور پھر واپس جسم میں لاوے اور خواہ موت کی حالت میں ہمیشہ کے لئے قبض کرے اور حشر تک واپس نہ لاوے۔ مگر قبض کا فعل ہمیشہ روح سے تعلق رکھے گا نہ کہ جسم سے ۔ ہمارے مخالف علماء یہ بھی غلطی کرتے ہیں کہ توفی کے معنے نیند بھی لیتے ہیں ۔ خدا اُن کی حالت پر رحم کرے ۔
ان کو سمجھنا چاہیے کہ توفی نیند کو ہر گز نہیں کہتے اور کبھی یہ لفظ نیند پر اطلاق نہیں کیا گیا اور نہ قرآن میں نہ کسی لغت کی کتاب میں نہ حدیث کی کتابوں میں نیند کے معنے لئے گئے ۔ بلکہ توفی کے دوہی معنے ہیں جیسا کہ ابھی میں نے ذکر کیا۔ یعنی اول یہ کہ ہمیشہ کے لئے رُوح کو قبض کرنا اور یہ معنے موت سے متعلق ہیں اور دوسرے یہ معنے کہ تھوڑے عرصہ کے لئے روح کو قبض کرنا اور پھر بدن کی طرف واپس بھیج دینا اور یہ قبض روح کی صورت نیند کی حالت سے تعلق رکھتی ہے۔ اور یہ قبض روح کی صورت اس وقت کسی پر صادق آئے گی جب خدا تعالیٰ کسی شخص کی نیند کی حالت میں اُس کی روح کو قبض کرے جیسا کہ ہر روز رات کو اسی طرح ہماری روح قبض کی جاتی ہے۔ ہمارا جسم کسی چار پائی یا چٹائی پر پڑا ہوا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ ہماری روح کو تمام رات یا جس وقت تک چاہے اپنے قبضہ میں کر لیتا ہے۔ تب رُوح کے افعال میں ہماری خود اختیاری معطل پڑ جاتی ہے۔ پھر رات گزرنے کے بعد یا جس وقت خدا تعالیٰ چاہے ہماری روح پھر ہمارے بدن کی طرف پھیری جاتی ہے گویا ہم رات کو مرتے اور دن کو زندہ کئے جاتے ہیں۔ پس نیند کی حالت میں جو قبض روح ہوتا ہے اس کی یہی مثال ہے جو ہم تمام لوگوں کا چشم دید ماجرا ہے ۔ مگر ہم اور ہمارے تمام مخالف جانتے ہیں کہ جب رات کو ہماری روح قبض کی جاتی ہے تب اگر چہ خدا تعالیٰ جہاں چاہتا ہے ہماری روح کو لے جاتا ہے مگر ہمارا جسم اپنی جگہ سے ایک بالشت بھی حرکت نہیں کرتا ۔ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ نیند کی حالت میں ہمارا جسم آسمان پر چلا جاتا ہے یا اپنی قرارگاہ سے کچھ حرکت کرتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ غرض یہ فیصلہ نہایت صفائی سے ہو گیا ہے کہ توفی کے معنے رُوح کا قبض کرنا ہے خواہ نیند کے عالم کی طرح تھوڑی مدت تک ہو یا موت کے عالم کی طرح حشر کے وقت تک ۔
اس جگہ یادر ہے کہ میں نے براہین احمدیہ میں غلطی سے توفی کے معنے ایک جگہ پورا دینے کے کئے ہیں جس کو بعض مولوی صاحبان بطور اعتراض پیش کیا کرتے ہیں مگر یہ امر جائے اعتراض نہیں ۔ میں مانتا ہوں کہ وہ میری غلطی ہے الہامی غلطی نہیں ۔ میں بشر ہوں اور بشریت کے عوارض مثلاً جیسا کہ سہو اور نسیان اور غلطی یہ تمام انسانوں کی طرح مجھ میں بھی ہیں گومیں جانتا ہوں کہ کسی غلطی پر مجھے خدا تعالیٰ قائم نہیں رکھتا مگر یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ مَیں اپنے اجتہاد میں غلطی نہیں کرسکتا ۔ خدا کا الہام غلطی سے پاک ہوتا ہے مگر انسان کا کلام غلطی کا احتمال رکھتا ہے کیونکہ سہو ونسیان لازمۂ بشریت ہے ۔ مَیں نے براہین احمدیہ میں یہ بھی اعتقاد ظاہر کیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پھر واپس آئیں گے مگر یہ بھی میری غلطی تھی جو اس الہام کے مخالف تھی جو براہین احمدیہ میں ہی لکھا گیا ۔ کیونکہ اس الہام میں خدا تعالیٰ نے میرا نام عیسیٰ رکھا اور مجھے اس قرآنی پیشگوئی کا مصداق ٹھہرایا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے خاص تھی۔☆ اور آنے والے مسیح موعود کے تمام صفات مجھ میں قائم کئے سو خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت تھی جو مَیں باوجودان الہامی تصریحات کے ان الہامات کے منشاء پر اطلاع نہ پاسکا اور ایسے عقیدہ کو جو ان الہامات کے مخالف تھا براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ اس تحریر سے میری بریّت ثابت ہوتی ہے کیونکہ اگر وہ الہامات براہین احمدیہ کے میری بناوٹ ہوتے جن میں واقعی طور پر مجھے مسیح موعود قرار دیا گیا تھا تو مَیں اپنے بیان میں ان الہامات سے اختلاف نہ کرتا بلکہ اُسی وقت مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کر دیتا لیکن ظاہر ہے کہ میرا اپنا عقیدہ جو مَیں نے براہین احمدیہ میں لکھا ان الہامات کی منشا سے جو براہین احمدیہ میں درج ہیں صریح نقیض پڑا ہوا ہے ۔ جس سے ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ وہ الہامات میری بناوٹ اور منصوبہ سے مبرّا اور منزہ ہیں ۔ اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ یہ انسان کا کام نہیں کہ بارہ برس پہلے ایک دعویٰ سے الہامی عبارت لکھ کر اس دعوے کی تمہید قائم کرے اور پھر سالہا سال کے بعد ایسا دعویٰ کرے جس کی بنیاد ایک مدت دراز پہلے قائم کی گئی ہے۔ ایسا باریک مکر نہ انسان کر سکتا ہے نہ خدا اس کو ایسے افتراؤں میں اس قدر مہلت دے سکتا ہے ۔
اس تمام تقریر سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات حیات کی بحث میں حق میری طرف ہے۔ پھر اس ثبوت کے ساتھ اور بہت سے دلائل ہیں کہ اس مسئلہ موتِ مسیح کو حق الیقین تک پہنچاتے ہیں جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایک سو بیس برس کی عمر پائی۔ اور حضرت۲ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا آیت قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُکو اس استدلال کی غرض سے عام صحابہ کے مجمع میں پڑھنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام نبی فوت ہو چکے ہیں☆ اور اللہ جل شانہٗ کا قرآن شریف میں فرمانا فِیۡہَا تَحۡیَوۡنَ وَفِیۡہَا تَمُوۡتُوۡنَجس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کرہ زمین کے سوا دوسری جگہ نہ زندگی بسر کر سکتا ہے اور نہ مرسکتا ہے اور حضرت۴ عیسیٰ علیہ السلام کا نام مسیح یعنی نبی سیاح ہونا بھی اُن کی موت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ سیاحت زمین تقاضا کرتی ہے کہ وہ صلیب سے نجات پا کر زمین پر ہی رہے ہوں ۔ ورنہ بجز اس زمانہ کے جو صلیب سے نجات پاکر ملکوں کا سیر کیا ہو اور کوئی زمانہ سیاحت ثابت نہیں ہو سکتا صلیب کے زمانہ تک نبوت کا زمانہ صرف ساڑھے تین برس تھے۔ یہ زمانہ تبلیغ کے لئے بھی تھوڑا تھا چہ جائیکہ اس میں تمام ملک کی سیاحت کرتے ۔ ایسا ہی مرہم۵ عیسیٰ جو قریباً طبّ کی ہزار کتاب میں لکھی ہے ثابت کرتی ہے کہ صلیب کے واقعہ کے وقت حضرت عیسیٰ آسمان پر نہیں اٹھائے گئے بلکہ اپنے زخموں کا اس مرہم کے ساتھ علاج کراتے رہے۔ اس کا نتیجہ بھی یہی نکلا کہ زمین پر ہی رہے اور زمین پر ہی فوت ہوئے ۔ معراج۶ کی رات میں بھی اُن کی روح وفات شدہ ارواح میں پائی گئی۔ ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اگر موسیٰ و عیسیٰ زندہ ہوتے تو میری پیروی کرتے اب اس قدر دلائل موت کے بعد کوئی خدا ترس اُن کے زندہ ہونے کا عقیدہ نہیں رکھ سکتا۔
(۲) اَب جب وفات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ثابت ہوگئی تو مسیح موعود کی پیشگوئی کے بجز اس کے اور کوئی معنے نہ ہوئے کہ جناب موصوف کی خواور طبیعت پر کوئی اور شخص اس امت میں سے پیدا ہو۔ جیسا کہ حضرت ایلیا کے نام پر حضرت یحییٰ علیہ السلام آگئے ۔ اس بات کے ماننے سے مسیح موعود کی پیشگوئی میں کچھ بھی دقتیں اور مشکلات پیدا نہیں ہوئیں بلکہ ایک ذخیرہ غیر معقول باتوں کا معقولی رنگ میں آ گیا۔ اب کچھ ضرورت نہ رہی کہ نزول کے لفظ سے یہ سمجھا جائے کہ آسمان سے کوئی نازل ہوگا بلکہ لفظ نزول اپنے عام معنوں میں رہا کہ مسافروں کے لئے بولا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ ہر ایک آنے والا عظمت کی نگاہ سے نازل سمجھا جاتا ہے اور نزیل جو مسافر کو کہتے ہیں۔ اور اگر فرض کے طور پر حدیث میں آسمان کا لفظ بھی ہو تب بھی حرج نہیں کیونکہ تمام مامور من اللہ آسمانی کہلاتے ہیں اور آسمانی نور ساتھ لاتے ہیں اور جھوٹے آدمی زمینی کہلاتے ہیں۔ یہ عام محاورہ خدا تعالیٰ کی کتابوں کا ہے لیکن اس جگہ یہ ضروری بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ یہ قصہ نزول مسیح جو مسلم میں ایک لمبی حدیث میں جو نواس بن سمعان سے ہے لکھا ہے جس کے معنے ہمارے مخالف یہ کرتے ہیں کہ گویا آسمان سے کوئی نازل ہوگا یہ معنے ثبوت مذکورہ بالا سے جو ہم نے قرآن اور حدیث اور دیگر شواہد سے دیا ہے بالکل کالعدم ہو کر ان کا بطلان ظاہر ہو گیا ہے۔ کیونکہ اگر یہ معنے کئے جائیں تو ان معنوں اور بیان قرآن شریف اور دوسری احادیث میں سخت تناقض لازم آتا ہے اس صورت میں بجز اس بات کے ماننے کے چارہ نہیں ہے کہ یہ حدیث اور اس کے امثال استعارات کے رنگ میں ہیں۔ کیونکہ اگر اس مضمون کو ظاہر پر حمل کیا جائے تو بوجہ تناقض یہ تمام حدیث ردّ کرنے کے لائق ٹھہرے گی۔ مگر الحمد للہ یہ بات فیصلہ پا چکی ہے کہ پیشگوئیوں میں یہی اصول ہے کہ ایک حصہ ان کا ظاہر پر حمل کیا جاتا ہے اور ایک حصہ استعارات کا ہوتا ہے۔ اس لئے حدیث کو ردّ کرنے کی حاجت نہیں بلکہ گنجائش تاویل وسیع ہے۔ چونکہ وہ عقیدہ باطلہ جس کے ابطال کے لئے مسیح موعود نے آنا تھا دمشق سے ہی پیدا ہوا ہے یعنی عقائد تثلیث و نجات صلیبی ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے علم میں دمشق کو مسیح سے ایک تعلق تھا اور مسیح کی روحانیت کا ازل سے دمشق کی طرف رُخ تھا۔ پس جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عالم کشف میں دجال کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور وہ طواف چوروں کی طرح اس نیت سے تھا کہ تا موقعہ پا کر خانہ کعبہ کو منہدم کرے ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عالم کشف میں مسیح موعود کو دمشق کے منارہ مشرقی پر نازل ہوتے☆ دیکھا سو یہ ایسا ہی ایک کشفی امر تھا جیسا کہ دجال کا طواف کرنا ایک کشفی امر تھا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ دجال فی الحقیقت مسلمان ہو جائے گا اور خانہ کعبہ کا طواف کرے گا بلکہ ہر ایک دانا اس وحی کے یہی معنے لے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر عالم کشف میں دجال کی روحانیت منکشف ہوئی اور یہ تمثیل کشفی نظر میں آنکھوں کے سامنے آئی کہ گویا دجال ایک شخص کی صورت میں خانہ کعبہ کا طواف کر رہا ہے اور اس کی تاویل یہ تھی کہ دجال دینِ اسلام کا سخت دشمن ہو گا اور اُس کی نظر بد نیتی سے خانہ کعبہ کے گرد پھرتی رہے گی جیسا کہ کوئی اس کا طواف کرتا ہے ظاہر ہے کہ جیسا کہ رات کے وقت چوکیدار گھروں کا طواف کرتا ہے ویسا ہی چور بھی کرتا ہے لیکن چوکیدار کی نیت گھر کی حفاظت اور چوروں کا گرفتار کرنا ہوتا ہے ایسا ہی چور کی نیت نقب زنی اور نقصان رسانی ہوتی ہے۔ سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کشف میں دجال کی روحانیت جو طواف کعبہ میں پائی گئی اس سے یہی مطلب تھا کہ دجال اس فکر میں لگا رہے گا کہ خانہ کعبہ کی عزت کو دور کرے ۔ اور مسیح موعود جو خانہ کعبہ کا طواف کرتا دیکھا گیا اس سے یہ مطلب ہے کہ مسیح موعود کی روحانیت بیت اللہ کی حفاظت اور دجال کی گرفتاری میں مصروف پائی گئی۔ یہی تشریح اس مقام کی ہے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کو دمشق کے منارہ شرقی میں نازل ہوتے دیکھا۔ چونکہ مبدء تثلیث اور مخلوق پرستی اور صلیبی نجات کا دمشق ہی ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی مبارک میں یہ ظاہر کیا گیا کہ مسیح موعود منارہ شرقی دمشق کے پاس نازل ہوا۔ اور نیز جبکہ مسیح موعود کی روحانیت اس طرف متوجہ تھی کہ تثلیث کی بنیاد کو درہم برہم کرے اور ظاہری مثال میں تثلیث کی بنیاد دمشق سے شروع ہوئی تھی اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم کشف میں یہ دکھایا گیا کہ گویا مسیح موعود دمشق کے منارہ مشرقی کے قریب نازل ہوا۔☆ یہ بعینہ ایسا ہی تھا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کا طواف کرنا کشفی عالم میں دکھایا گیا۔ اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ ظاہر کیا گیا کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کی ازواج میں سے وہ بیوی پہلے فوت ہوگی جس کے لمبے ہاتھ ہوں گے اور دراصل لمبے ہاتھوں سے مراد سخاوت تھی ۔ دراصل بات یہ ہے کہ بسا اوقات انبیاء علیہم السلام اور دوسرے ملہمین پر ایسے امور ظاہر کئے جاتے ہیں کہ وہ سراسر استعارات کے رنگ میں ہوتے ہیں اور انبیاء علیہم السلام ان کو اسی طرح لوگوں پر ظاہر کر دیتے ہیں جس طرح وہ سنتے ہیں یاد یکھتے ہیں۔ اور ایسا بیان کرنا غلطی میں داخل نہیں ہوتا کیونکہ اُسی رنگ اور طرز سے وحی نازل ہوتی ہے اور یہ بھی ضروری نہیں ہوتا کہ الہامی اور کشفی پیشگوئیوں کے تمام استعارات کا نبی کو علم دیا جائے کیونکہ بعض ابتلا جو پیشگوئیوں کے ذریعہ سے کسی زمانہ کے لئے مقدر ہوتے ہیں وہ علم کی اشاعت کی وجہ سے قائم نہیں رہ سکتے اور یہ بھی ممکن ہے کہ پیشگوئیوں کے بعض اسرار سے نبیوں کو اطلاع تو دی جائے مگر اُن کو اُن اسرار کے افشا سے منع کیا جائے۔ بہر حال یہ امور نبوت کی شان سے ہرگز منافی نہیں ہیں۔ کیونکہ کامل اور غیر محدود علم خدا تعالیٰ کی ذات سے خاص ہے اور نزول مسیح موعود میں یہ احتمال بھی ہے کہ ایسی جگہ اُس موعود کا ظہور ہو گا جو دمشق سے شرق کی طرف واقع ہوگی اور بموجب تحقیق جغرافیہ کے وہ قادیاں ہے کیونکہ دمشق سے اگر ایک خط مستقیم مشرق کی طرف کھینچا جائے تو ٹھیک ٹھیک مشرقی طرف اس کی وہ نقطہ ہے جہاں لاہور ہے جو صدر مقام پنجاب کا ہے اور قادیاں لاہور کے مضافات میں سے ہے۔ کیونکہ دائرہ پنجاب کا مرکز حکومت قدیم سے لاہور ہی ہے اور قادیاں لاہور سے تقریباً ستر میل کے فاصلہ پر ہے۔
اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ نصوص صریحہ سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت ہو چکی ہے اور حق کھل گیا ہے اور اس کے مقابل پر یہ دوسرا حصہ احادیث کا جس میں نزول مسیح کی خبر دی گئی ہے یہ سب استعارات لطیفہ ہیں جو از قبیل وحی وراء الحجاب ہیں جس کا قرآن شریف میں ذکر کیا گیا ہے۔ اور وحی وراء الحجاب کی خدا تعالیٰ کی کلام میں ہزاروں مثالیں ہیں اس سے انکار کرنا منصف کا کام نہیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دو جھوٹے نبیوں کو دوکڑوں کی شکل میں دیکھنا اسی قسم کی وجی تھی ۔ گائیں ذبح ہوتے دیکھنا بھی اسی قسم کی وحی تھی لمبے ہاتھوں والی بیوی کا سب بیویوں سے پہلے فوت ہو نا دیکھنا بھی اسی قسم کی وحی تھی اور ملا کی نبی کی وحی میں یہ ظاہر کیا جانا کہ ایلیا نبی دوبارہ آئے گا اور یہود کی بستیوں میں سے فلاں مقام میں نازل ہوگا یہ بھی اسی قسم کی وحی تھی اور مدینہ کی وبا کا عورت پراگندہ شکل کے طور پر نظر آنا یہ بھی اسی قسم کی وحی تھی ۔ اسی طرح دجال بھی جو ایک دجل کرنے والا گر وہ ہے ایک شخص مقرر کی طرح نظر آیا۔ یہ بھی اسی قسم کی وحی ہے۔ نبیوں کی وحیوں میں ہزاروں ایسے نمونے ہیں جن میں روحانی امور جسمانی رنگ میں نظر آئے یا ایک جماعت ایک شخص کی صورت میں نظر آئی ۔ تمام نوع انسان کے لئے جس میں انبیاء علیہم السلام بھی داخل ہیں خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ الہام اور وحی اور رؤیا اور کشف پر اکثر استعارات غالب ہوتے ہیں ۔ مثلاً دو چار سو آدمی جمع کر کے اُن کی خوا ہیں سنو تو اکثر اُن میں استعارات ہوں گے۔ کسی نے سانپ دیکھا ہو گا اور کسی نے بھیڑیا اور کسی نے سیلاب اور کسی نے باغ اور کسی نے پھل اور کسی نے آگ اور تمام یہ امور قابل تاویل ہوں گے۔ حدیثوں میں ہے کہ قبر میں عمل صالح اور غیر صالح انسان کی صورت پر دکھائی دیتے ہیں۔ سو یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس سے تمام تناقض دور ہوتے ہیں اور حقیقت کھلتی ہے۔ مبارک وہ جو اس میں غور کریں ۔
اور جبکہ کامل تحقیقات سے یہ فیصلہ ہو چکا کہ حضرت عیسی علیہ السلام در حقیقت فوت ہو گئے ہیں اور ہر ایک پہلو سے اُن کی وفات بپایہ ثبوت پہنچ گئی بلکہ حدیث صحیح سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ انہوں نے ایک سو بین برس عمر پائی اور واقعہ صلیب کے بعد ستاسی برس اور زندہ رہے تو یہ سوال باقی رہا کہ پھر ان حدیثوں کے کیا معنے ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم آخری زمانہ میں نازل ہو گا ؟ اس کا جواب ہم ابھی دے چکے ہیں کہ یہ حدیثیں ظاہری معنوں پر ہرگز محمول نہیں ہوسکتیں کیونکہ قرآن شریف میں یعنی آیت قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا(بنی اسرائیل: ۹۴) میں صاف فرمایا گیا ہے کہ عادت اللہ میں یہ امر داخل نہیں کہ کوئی انسان اسی جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلا جائے اور پھر آسمان سے نازل ہو اور نہ اب تک کسی زمانہ میں یہ عادت اللہ ثابت ہوئی کہ کوئی شخص دنیا سے جا کر پھر واپس آیا ہو۔ اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی آج تک ایک بھی نظیر اس قسم کی واپسی کی پائی نہیں گئی۔ مگر اس بات کی نظیر پہلی کتابوں میں موجود ہے کہ جس شخص کے پھر دوبارہ دنیا میں آنے کا وعدہ دیا گیا وہ وعدہ اس طرح پر پورا ہوا کہ کوئی اور شخص اُس کی خُو اور طبیعت پر آ گیا۔ جیسا کہ ایلیا نبی کا دوبارہ دنیا میں آنا یہود کو وعدہ دیا گیا تھا بلکہ لکھا گیا تھا کہ ضرور ہے کہ مسیح سے پہلے ایلیا دوبارہ دنیا میں آ جائے مگر وہ وعدہ اپنی ظاہری صورت میں آج تک پورا نہیں ہوا حالانکہ مسیح یعنی حضرت عیسی علیہ السلام جس کے آنے کا وعدہ تھا وہ دنیا میں آ کر دنیا سے اُٹھایا بھی گیا۔ پس کچھ شک نہیں کہ وہ وعدہ جیسا کہ حضرت مسیح نے اس پیشگوئی کے معنے کئے باطنی طور پر پورا ہو گیا یعنی حضرت یوحنا جس کا نام یحییٰ بھی ہے ایلیا کی خو اور طبیعت پر دنیا میں آیا گویا ایلیا آ گیا ۔ اب نظیر مذکورہ بالا کے لحاظ سے ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ ضرور ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا وعدہ بھی اسی رنگ اور طرز سے ظہور پذیر ہو جیسا کہ ایلیا کے دوبارہ آنے کا وعدہ ظہور پذیر ہوا اور نہ یہودیوں کی طرز پر مسیح کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی کو ظاہری معنوں پر محمول کرنا گویا حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت سے انکار کرنا ہے۔ کیونکہ اگر کسی کا دوبارہ دنیا میں آنا سنت اللہ میں داخل تھا تو اس صورت میں یہودیوں کا یہ اعتراض نہایت درست اور بجا ہوگا کہ ایلیا نبی حسب وعدہ ملا کی نبی کے کیوں مسیح سے پہلے دوبارہ دنیا میں نہ آیا ؟ اور جس صورت میں سنت الہی میں یہ داخل تھا کہ کوئی شخص دنیا سے گیا ہوا پھر دنیا میں آوے تو گویا نعوذ باللہ اللہ جل شانہ نے دانستہ یہودیوں کے سامنے حضرت مسیح کو خفیف اور نادم کیا کہ اُن سے پہلے ایلیا نبی کو دوبارہ دنیا میں نہ بھیجا اور تاویلوں کی حاجت پڑی اور ظاہر الفاظ کے رو سے یہودیوں کا یہ عذر بہت معقول تھا کہ جس حالت میں سچّے مسیح کے آنے کے لئے یہ شرط تھی کہ پہلے ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں آ جائے تو پھر بغیر ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کے کیونکر مسیح ابن مریم دنیا میں آ گیا ۔ اب جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے یہودیوں کو یہ جواب ملا ہے کہ ایلیا نبی کے دوبارہ آنے سے یوحنّا نبی یعنی یحیٰی کا آنا مراد تھا تو ایک دیندار آدمی سمجھ سکتا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم کا دوبارہ آنا بھی اسی طرز سے ہوگا کیونکہ یہ وہی سنّت اللہ ہے جو پہلے گذر چکی ہے۔ وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا
علاوہ ان باتوں کے مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کو یہ آیت بھی روکتی ہے وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ(الاحزاب: ۴۱) اور ایسا ہی یہ حدیث بھی کہ لَا نَبِیَّ بَعْدِی ۔ یہ کیونکر جائز ہو سکتا ہے کہ باوجود یکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں پھر کسی وقت دوسرا نبی آ جائے اور وحیٔ نبوت شروع ہو جائے ؟ کیا یہ سب امور حکم نہیں کرتے کہ اس حدیث کے معنے کرنے کے وقت ضرور ہے کہ الفاظ کو ظاہر سے پھیرا جائے ۔ ماسوا اس کے ایک بڑا قرینہ اس بات پر کہ آنے والا مسیح موعود غیر اس مسیح کا ہے جو گذر چکا اختلاف حلیوں کا ہے۔ کیونکہ صحیح بخاری میں جو اَصَحُّ الکُتُبِ بَعْدَ کِتَابِ اللہ ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ سُرخ رنگ لکھا ہے ۔ جیسا کہ بلادِ شام کے لوگوں کا رنگ ہوتا ہے اور جیسا کہ تصویروں میں دکھایا گیا ہے اور گھنگریالے بال لکھے ہیں ۔ لیکن مسیح موعود جس کی اس اُمت میں آنے کی خبر دی گئی ہے اُس کا حلیہ گندم گوں اور سیدھے بالوں والا بیان کیا ہے اور علاوہ اس کے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ اِسی اُمت میں سے ہو گا بخاری کے یہ لفظ ہیں کہ اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ اور مسلم کے یہ لفظ ہیں فَاَمَّکُمْ مِنْکُمْ دونوں سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ آنے والا مسیح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں سے ہے اور اگر یہ کہو کہ ”کیوں جائز نہیں کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہوں اور آنے والا کوئی بھی نہ ہو ۔“ تو مَیں کہتا ہوں کہ ایسا خیال بھی سراسر ظلم ہے۔ کیونکہ یہ حدیثیں ایسے تواتر کی حد تک پہنچ گئی ہیں کہ عند العقل ان کا کذب محال ہے اور ایسے متواترات بدیہیات کے رنگ میں ہو جاتے ہیں ۔ ماسوا اس کے ان حدیثوں میں جو بڑی بڑی پیشگوئیاں تھیں جو امور غیبیہ پر مشتمل تھیں وہ ہمارے اس زمانہ میں پوری ہوگئی ہیں۔ پس اگر یہ حدیثیں جھوٹی اور انسان کا افترا ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ اُن کی وہ غیب کی باتیں پوری ہو سکتیں جو انسانی طاقت سے باہر ہیں ۔ دیکھو یہ پیشگوئی جو یعلٰی اور حاکم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ قیامت کے قریب یعنی مسیح موعود کے وقت میں لوگ حج سے روکے جائیں گے کیسی صفائی سے ان دنوں میں پوری ہو رہی ہے جو باعث طاعون ہر ایک سلطنت نے حج کے ارادہ کرنے والوں کو سفرِ مکّہ معظّمہ سے روک دیا۔☆ کیا ایسا واقعہ پہلے بھی کبھی وقوع میں آیا ؟ پھر دیکھو کہ یہ دوسری پیشگوئی جس کا یہ مضمون ہے کہ اس مہدی موعود کے زمانہ میں رمضان میں خسوف گُسوف ہوگا اور چاند اپنے گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات میں اور سورج اپنے خسوف کے دنوں میں سے بیچ کے دنوں میں منخسف ہوگا۔ یہ کس قدر عظیم الشان پیشگوئی ہے کہ دار قطنی میں آج سے گیارہ سو برس پہلے مندرج ہو کر تمام دنیا میں شائع ہو گئی تھی اور اب نہایت وضاحت سے پوری ہو گئی ۔ ایسا ہی حاکم وغیرہ میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ ان دنوں میں ایک نئی سواری پیدا ہوگی جو رات دن میں صدہا کوس چلی جائے گی اور لوگ اس پر رات اور دن میں سفر کریں گے۔ اور ان دنوں میں اونٹ بے کار ہو جائیں گے۔ دیکھو یہ کیسی اعلیٰ درجہ کی پیشگوئی ہے جو مسیح موعود کے زمانہ کے بارے میں کی گئی۔ کیا کسی انسان کی طاقت ہے کہ صدہا برس پہلے افترا کے طور پر ان پیشگوئیوں کو لکھ لے؟ ایسا ہی حدیثوں میں یہ بھی مندرج تھا کہ ان دنوں میں طاعون بھی پھوٹے گی۔ اب آنکھ کھول کر دیکھو کہ یہ وہی دن ہیں اور طاعون روز بروز زور مار رہی ہے اور حدیثوں میں یہ پیشگوئی بھی لکھی گئی تھی کہ اُن دنوں میں سورج میں بھی ایک نشان ظاہر ہوگا اور سب کو معلوم ہے کہ ان ایام میں کیسے کامل اور عجیب طور پر سورج گرہن ہوا۔ یہاں تک کہ اس کے عجیب نظارہ کے دیکھنے کے لئے یورپ اور امریکہ سے لوگ آئے۔ کیا یہ امور غیبیہ انسان کی طاقت میں ہیں؟ ایک یہ بھی پیشگوئی تھی کہ اُن دنوں میں ذو السنین ستارہ بھی نکلے گا جو مسیح کے وقت اور اُس سے پہلے نوح کے وقت میں نکلا تھا۔ اب سب کو معلوم ہے کہ وہ ستارہ نکل آیا۔ اور انگریزی اور اردو اخباروں میں اُس کا نکلنا شائع کیا گیا۔ اور حدیثوں میں جاوا کی آگ کی نسبت بھی خبر دی گئی تھی کہ مسیح موعود کے زمانہ میں نکلے گی ۔ اب سب کو معلوم ہے کہ وہ آگ بھی نکل آئی اور کسی واقف کار کو اس سے انکار نہیں۔ اور حدیثوں میں عدن میں طاعون پیدا ہونے کا بھی اشارہ کیا گیا ہے چنانچہ یہ سب باتیں اب پوری ہو گئیں۔ پھر ایسی حدیثیں جن میں اس قدر امور غیبیہ بھرے پڑے ہیں جو اپنے وقت پر پورے ہو گئے کیونکر جھوٹی ٹھہر سکتی ہیں؟ یہ ہم قبول کرتے ہیں کہ ان حدیثوں کے درمیانی زمانہ کے بعض علماء نے غلط معنے کئے ہیں اور اُن کی غلط فہمیوں کا عوام پر بہت ہی بُرا اثر ہوا۔ اور جو لوگ معقول پسند تھے مثلاً معتزلہ وہ ایسے غیر معقول معنے سن کر سرے سے حدیثوں کی صحت سے ہی انکاری ہو گئے۔ لیکن اس انکار سے جو کسی تاریخی جرح پر مبنی نہ تھا بلکہ محض اس خیال پر مبنی تھا کہ مضمون غیر معقول ہے حدیثوں کی صحت میں فرق نہیں آسکتا بلکہ باوجود انکار کے پھر بھی اس قسم کی حدیثیں اس درجۂ تواتر پر تھیں کہ وہ لوگ بھی تواتر کو ردّ نہ کر سکے اور سراسیمہ رہ گئے ۔ اگر اسی زمانہ میں ان حدیثوں کے وہ معنے کئے جاتے جو اب کئے جاتے ہیں تو اسلام کا ایک بھی فرقہ اُن سے منکر نہ ہوتا۔ لیکن افسوس کہ ہر ایک استعارہ کو حقیقت پر حمل کر کے اور ہر ایک مجاز کو واقفیت☆ کا پیرایہ پہنا کر ان حدیثوں کو ایسے دشوار گزار راہ کی طرح بنایا گیا جس پر کسی محقق معقول پسند کا قدم ٹھہر نہ سکے۔ سو حدیثوں پر کوئی الزام نہیں بلکہ یہ ان لوگوں کا قصور فہم ہے جنہوں نے ایسے معنے کئے اور عوام کو افسوس ناک غلطیوں میں مبتلا کیا اور بعض حال کے زمانہ کے معقول پسند بھی جو ان حدیثوں کی صحت سے انکار کرتے ہیں ان کے ہاتھ میں بجز اس کے کوئی وجہ انکار نہیں کہ وہ ان معنوں کو جو اس زمانہ کے علماء کرتے ہیں معقولیت اور سنّت اللہ اور قانون قدرت سے خارج پاتے ہیں ۔
لیکن ایسے منکر اُسی وقت تک معذور تھے جب تک کہ صحیح معنے جو سراسر سنّت اللہ میں داخل ہیں اُن پر ظاہر نہیں کئے گئے تھے۔ اور اب تو یہ بہت شرمناک اور نا انصافی کا طریق ہے کہ باوجود معقول اور قریب قیاس معنوں کے اور باوجود اعلیٰ درجہ کے تواتر احادیث اور باوجود اتفاقِ اسلام اور نصرانیت کے اِن حدیثوں کو ردّ کیا جائے ۔ جو لوگ اِن حدیثوں سے جو مسیح موعود کے ظہور کی خبر دے رہی ہیں انکار کرتے ہیں ان کا فرض ہے کہ پہلے وہ اُس تواتر اور ہر ایک پہلو کے ثبوت سے واقفیت حاصل کریں جو ان حدیثوں کو حاصل ہے اور اس بات کو سوچیں کہ یہ خبر صرف حدیث کی کتابوں میں نہیں بلکہ اول یہودیوں کی کتب مقدسہ میں پھر انجیل میں پھر قرآن میں اس کی خبر دی گئی ہے اور پھر سب کے بعد حدیثوں میں اس کی تفصیل آئی ہے اور تین قومیں اس خبر کو قطعی اور یقینی مانتی آئی ہیں۔ اور خدا کا قانونِ قدرت جس کا منشاء یہ ہے کہ ہر ایک فساد کے وقت اس فساد کے مناسب حال کوئی مصلح آنا چاہئیے اس خبر کی تصدیق کرتا ہے۔ اور وہ دین کی رہزن بلائیں اور آفتیں جو قدم قدم پر پیش آ رہی ہیں جن کے مقابلہ میں تیرہ سو برس کی تمام بدعات اور آفات اور فتن کا مجموعہ ہیچ محض ہے۔ وہ بھی اس بات کو چاہتی ہیں کہ خدا تعالیٰ آسمانی اسباب سے حمایت دین کرے۔ پھر بجز تعصّب اور ناحق کی نفسانیت کے کونسی مشکلات ہیں جو اس پیشگوئی کے قبول کرنے سے روکتی ہیں؟ کیا اس بات کا باور کرنا مشکل ہے کہ اگر خدا بر حق ہے اور دین کچھ چیز ہے تو ان دنوں میں غیرتِ الہی ضرور اس بات کے لئے جوش زن ہونی چاہئیے کہ جس قدر کفر اور شرک کے پھیلانے اور توحید کے ذلیل کرنے کے لئے زور لگایا گیا ہے اُسی قدر یا اس سے بڑھ کر اُس زندہ خدا کی طرف سے بھی زور آور حملے ہوں؟ تا لوگ یقین کریں کہ وہ موجود ہے اور اُس کا دین سچا ہے۔ کیا اب تک اس بات کے دیکھنے کا موقعہ نہیں ملا کہ در حقیقت دین اسلام نہایت غربت کی حالت میں ہے؟ اندرونی طور پر عملی حالت کی یہ صورت ہے کہ گویا قرآن آسمان پر اُٹھ گیا ہے اور بیرونی طور پر مخالفوں نے غلط فہمیوں سے ہزار ہا اعتراض اسلام پر کئے ہیں اور لاکھوں دلوں کو سیاہ کر دیا ہے ۔ پس اب اس بات سے کس طرح انکار ہو سکتا ہے کہ ایک مصلح عظیم الشان کی ضرورت ہے جس سے اسلام کی روحانیت بحال ہو اور بیرونی حملے کرنے والے پسپا ہوں ۔ ہاں اس قدر ہم ضرور کہیں گے کہ یہ دن دین کی حمایت کے لئے لڑائی کے دن نہیں ہیں۔ کیونکہ ہمارے مخالفوں نے بھی کوئی حملہ اپنے دین کی اشاعت میں تلوار اور بندوق سے نہیں کیا بلکہ تقریر اور قلم اور کاغذ سے کیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہمارے حملے بھی تحریر اور تقریر تک ہی محدود ہوں جیسا کہ اسلام نے اپنے ابتدائی زمانہ میں ہی کسی قوم پر تلوار سے حملہ نہیں کیا جب تک پہلے اس قوم نے تلوار نہ اٹھائی ۔ سو اس وقت دین کی حمایت میں تلوار اٹھانا نہ صرف بے انصافی ہے بلکہ اس بات کو ظاہر کرنا ہے کہ ہم تقریر اور تحریر کے ساتھ اور دلائل شافیہ کے ساتھ دشمن کو ملزم کرنے میں کمزور ہیں۔ کیونکہ یہ جھوٹوں اور کمزوروں کا کام ہے کہ جب جواب دینے سے عاجز آ جائیں تو لڑنا شروع کر دیں۔ پس اس وقت ایسی لڑائی سے خدا تعالیٰ کے سچے اور روشن دین کو بد نام کرنا ہے۔ دیکھو کس طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ میں تیرہ برس تک کفار کے ہاتھ سے دُکھ اُٹھاتے رہے اور دلائل شافیہ سے اُن کو لا جواب کرتے رہے اور ہرگز تلوار نہ اٹھائی جب تک دشمنوں نے تلوار اٹھا کر بہت سے پاک لوگوں کو شہید نہ کیا۔ سو جنگِ لسانی کے مقابل پر جنگ سِنانی شروع کر دینا اسلام کا کام نہیں ہے کمزوروں اور کم حوصلہ لوگوں کا کام ہے۔ اور جیسا کہ ابھی مَیں نے بیان کیا ہے مسیح موعود کی پیشگوئی صرف حدیثوں میں نہیں ہے بلکہ قرآن شریف نے نہایت لطیف اشارات میں آنے والے مسیح کی خوشخبری دی ہے جیسا کہ اُس نے وعدہ فرمایا ہے کہ جس طرز اور طریق سے اسرائیلی نبوتوں میں سلسلۂ خلافت قائم کیا گیا ہے وہی طرز اسلام میں ہو گی ۔☆ یہ وعدہ مسیح موعود کے آنے کی خوشخبری اپنے اندر رکھتا ہے۔ کیونکہ جب سلسلۂ خلافت انبیاء بنی اسرائیل میں غور کی جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ سلسلہ حضرت موسیٰ سے شروع ہوا اور پھر چودہ سو برس بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہو گیا ۔ اور اِس نظامِ خلافت پر نظر ڈال کر معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کا مسیح موعود جس کے آنے کی یہود کو خوشخبری دی گئی تھی چودہ سو برس بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے آیا اور غریبوں اور مسکینوں کی شکل میں ظاہر ہوا اور اس مماثلت کے پورا کرنے کے لئے جو قرآن شریف میں دونوں سلسلۂ خلافت اسرائیلی اور خلافت محمدی میں قائم کی گئی ہے ضروری ہے کہ ہر ایک منصف اِس بات کو مان لے کہ سلسلۂ خلافتِ محمدیہ کے آخر میں بھی ایک مسیح موعود کا وعدہ ہو جیسا کہ سلسلۂ خلافت موسویہ کے آخر میں ایک مسیح موعود کا وعدہ تھا اور نیز تکمیل مشابہت دونوں سِلسلوں کے لئے یہ بھی لازم آتا ہے کہ جیسا کہ خلافت موسویہ کے چودہ سو برس کی مدت پر مسیح موعود بنی اسرائیل کے لئے ظاہر ہوا تھا ایسا ہی اور اسی مدّت کے مشابہ زمانہ میں خلافتِ محمدیہ کا مسیح موعود ظاہر ہو۔ اور نیز تکمیل مشابہت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جیسا کہ یہودیوں کے علماء نے خلافت موسویہ کے مسیح موعود کو نعوذ باللہ کافر اور ملحد اور دجال قرار دیا تھا ایسا ہی خلافت محمدیہ کے مسیح موعود کو اسلامی قوم کے علماء کافر اور ملحد اور دجال قرار دیں۔ اور نیز تکمیل مشابہت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جیسا کہ خلافتِ موسویہ کا مسیح موعود ایسے وقت میں آیا تھا کہ جبکہ یہودیوں کی اخلاقی حالت نہایت ہی خراب ہو گئی تھی اور دیانت اور امانت اور تقویٰ اور طہارت اور باہمی محبت اور صلح کاری میں بہت فتور پڑ گیا تھا اور اُن کی اس ملک کی بھی سلطنت جاتی رہی تھی جس ملک میں مسیح موعود اُن کی دعوت کے لئے ظاہر ہوا تھا۔ ایسا ہی خلافتِ محمدیہ کا مسیح موعود قوم کی ایسی حالت اور ایسے ادبار کے وقت ظاہر ہو۔
اور ایک وجہ تکمیل مشابہت کی یہ بھی ہے کہ سلسلہ موسویہ کی آخری خلافت کے بارے میں توریت میں لکھا تھا کہ وہ سلسلہ مسیح موعود پر ختم ہوگا ۔ یعنی اس مسیح پر جس کا یہودیوں کو وعدہ دیا گیا تھا کہ وہ اس سِلسلہ کے آخر میں چودہ سو برس کی مدت کے سر پر آئے گا۔ اور اس کے آنے کا یہ نشان لکھا تھا کہ اس وقت یہودیوں کی سلطنت جاتی رہے گی ۔ جیسا کہ توریت پیدائش باب ۴۹ آیت دَسْ میں لکھا تھا کہ یہودا سے ریاست کا عصا جدا نہ ہو گا اور نہ حُکم اُس کے پاؤں کے درمیان سے جاتا رہے گا جب تک سیلا نہ آوے یعنی عیسیٰ علیہ السلام ۔ اور قومیں اُس کے پاس اکٹھی ہوں گی۔ اس آیت کا یہی مطلب تھا کہ یہودیوں کی سلطنت جو خدا تعالیٰ کی بہت نافرمانی کریں گے مسیح موعود تک بہر حال قائم رہے گی اور اُن کا عصائے حکومت نہیں ٹوٹے گا جب تک ان کا مسیح موعود یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ آوے اور جب وہ آ جائے گا تو وہ عصا ٹوٹے گا اور دنیا میں ان کی سلطنت باقی نہیں رہے گی۔ اِسی طرح سلسلۂ خلافت محمدیہ کے مسیح موعود کو صحیح بخاری میں عیسائی مذہب کی انتہا اور شروع انحطاط کا نشان قرار دیا ہے۔ چنانچہ بخاری کے لفظ یَکْسِرُ الصَّلِیْبَ کا یہ مطلب ہے کہ عیسائی مذہب کی ترقی کم نہ ہوگی ۔☆ اور نہ اس کا قدم آگے بڑھنے سے ضعیف ہوگا اور نہ وہ گھٹے گا جب تک خلافتِ محمدیہ کا مسیح موعود نہ آوے۔ اور وہی ہے جو صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو ہلاک کرے گا۔ جب وہ آئے گا تو وہی زمانہ صلیبی مذہب کے تنزل کا ہوگا اور وہ اگرچہ اس دجال کو یعنی دجالی خیالات کو اپنے حربہ براہین سے معدوم بھی نہ کرے۔ تب بھی وہ زمانہ ایسا ہو گا کہ خود بخود وہ خیالات دُور ہوتے چلے جائیں گے۔ اور اُس کے ظہور کے وقت تثلیثی مذہب کے زوال کا وقت پہنچ جائے گا اور اس کا آنا اس مذہب کے گم ہونے کا نشان ہوگا۔ یعنی اس کے ظہور کے ساتھ وہ ہَوا چلے گی جو دلوں اور دماغوں کو تثلیثی مذہب کے مخالف کھینچے گی ۔☆اور ہزاروں دلائل اس مذہب کے بطلان کے لئے پیدا ہو جائیں گے اور بجز عقلی اور آسمانی نشانوں کے مذہب کے لئے اور کوئی لڑائی نہیں ہوگی ۔ خود زمانہ ہی اس تبدیلی کو چاہے گا۔ اگر وہ مسیح موعود آیا بھی نہ ہوتا تب بھی زمانہ کی نئی ہوا ہی اُس دجالی ترقی کو پگھلا پگھلا کر نابود کر دیتی۔ مگر یہ عزت اس کو دی جائے گی ۔ کام سب خدا تعالیٰ کا ہوگا ۔ قومیں ہلاک نہیں ہوں گی بلکہ ایک نئی تبدیلی سے جو دلوں میں پیدا ہو گی باطل ہلاک ہو گا ۔ یہی تفسیر لفظ یَکْسِرُ الصَّلِیْبَ اور یَضَعُ الْحَرْبَ کی ہے۔ یہ غلط اور جھوٹا خیال ہے کہ جھاد ہوگا ۔ بلکہ حدیث کے معنے یہ ہیں کہ آسمانی حربہ جو مسیح موعود کے ساتھ نازل ہو گا یعنی آسمانی نشان اور نئی ہوا یہ دونوں باتیں دجالیت کو ہلاک کریں گی اور سلامتی اور امن کے ساتھ حق اور توحید اور صدق اور ایمان کی ترقی ہوگی اور عداوتیں اُٹھ جائیں گی ۔ اور صلح کے ایام آئیں گے۔ تب دنیا کا اخیر ہوگا۔ اسی وجہ سے ہم نے اس کتاب کا نام بھی ایّام الصُّلح رکھا۔
غرض فقرہ حدیث یَکْسِرُ الصَّلِیْبَ کا اِسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس مسیح موعود کے ظہور تک عیسائی مذہب خوب ترقی کرتا جائے گا اور ہر طرف پھیلے گا اور بڑی قوت اور شوکت اُس میں پیدا ہو جائے گی۔ یہاں تک کہ مذاہب کے حصّوں میں سے ایک بڑا حصہ ٹھہر جائے گا۔ لیکن جب مسیح موعود کا ظہور ہو گا تب وہ دن عیسائی مذہب کے لئے تنزل کے ہوں گے اور خدا تعالیٰ ایک ایسی ہوا چلائے گا اور ایسا فہم و فراست دلوں میں پیدا کرے گا جس سے تمام سلیم دل سمجھ جائیں گے کہ انسان کو خدا بنانا غلطی اور کسی کی پھانسی سے حقیقی نجات ڈھونڈ نا خطا ہے۔ اور ان دنوں میں یہ امر ثابت بھی ہو گیا کیونکہ بڑے بڑے پادری صاحبوں نے یہ اشتہار شائع کر دیئے ہیں کہ اس زمانہ میں یکدفعہ عیسائی مذہب تنزل کی صورت میں آ گیا ہے اور اسلام کے مقابل پر اگر دیکھا جائے تو باوجود کروڑ ہا روپیہ خرچ کرنے کے اسلام دن بدن ترقی میں بڑھا ہوا ہے اور یورپ کے روشن دماغ لوگ تثلیثی مذہب سے نفرت کرتے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس ملک میں بھی چوہڑوں چماروں کی طرف توجہ کرنی پڑی۔ اور حدیثوں میں جو ہے کہ مسیح موعود صلیب کو توڑے گا اس سے یہ مطلب نہیں کہ وہ در حقیقت صلیب کی صورت کو توڑ دے گا بلکہ یہ مطلب ہے کہ وہ ایسے دلائل اور براہین ظاہر کرے گا جن سے صلیبی اصول کی غلطیاں ظاہر ہو جائیں گی۔ اور دانشمند لوگ اِس مذہب کا کذب یقین کر جائیں گے۔ اور اس حدیث میں یہ صاف اشارہ ہے کہ اس مسیح موعود کا زمانہ ہی ایسا زمانہ ہو گا کہ صلیبی مذہب کا بطلان دن بدن کھلتا جائے گا اور خود بخود لوگوں کے خیال اس طرف منتقل ہوتے جائیں گے کہ مذہب تثلیث باطل ہے۔ ایسا اعتقاد سچائی کا خون کرنا ہے کہ اس وقت عیسائیوں کے ساتھ لڑائیاں ہوں گی۔ اسلام اور قرآن نے کبھی اور کہیں اجازت نہیں دی کہ جو لوگ صرف زبان سے اور مال سے اپنے دین کو ترقی دیتے ہیں اور مذہب کے لئے لڑائی نہیں کرتے اُن سے لڑائی کی جائے۔ یہ خیالات قرآنی تعلیم کے سخت مخالف ہیں۔ خدا تعالیٰ ہمارے علماء کے حال پر رحم کرے وہ کیسی غلطی پر ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ مسیح کے وقت اسلام محض اپنی روحانی طاقت سے ترقی کرے گا۔ اور اپنی تریاقی قوت سے زہریلے مواد کو دور کر دے گا اور مسیح موعود کے ظہور کے ساتھ آسمان سے ایسے فرشتے دلوں میں سچائی کا القا کرنے والے نازل ہوں گے کہ جو خیالات کو تبدیل کریں گے۔ اِسی لئے لکھا ہے کہ مسیح موعود دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے نازل ہوگا۔ اِس کا یہی مطلب ہے کہ اس کے ظہور کے ساتھ ملائک کے تصرفات شروع ہو جائیں گے اور لوگ رفتہ رفتہ خواب غفلت سے جاگتے جائیں گے۔ اور چونکہ یہ سب کچھ مسیح کے ظہور کے ساتھ شروع ہو جائے گا۔ اس لئے یہ تمام کارروائی کسر صلیب کی مسیح موعود کی طرف منسوب ہوگی اور کفر کے مقابلہ پر مثلاً زید یا بکر یا خالد یا کوئی اور شخص جو کچھ عمدہ معارف بیان کرے گا وہ سب معارف مسیح موعود کے طفیل ہوں گے اور اُس کی طرف منسوب کئے جائیں گے کیونکہ وہی ہے جس کے ساتھ فرشتے آئے اور وہی ہے جو رُوحانی انوار کے لحاظ سے آسمان سے نازل ہوا اور وہی ہے جو باز کی طرح دمشقی تثلیث کے شکار کے لئے اُترا۔☆ لیکن نہ سختی سے بلکہ امن اور صلح کاری سے۔ خدا تعالیٰ جو ارحم الراحمین اور ماں باپ سے زیادہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے ہرگز ممکن نہیں کہ وہ اپنے غافل اور کمزور بندوں کے لئے یہ پہلو اختیار نہ کرے کہ اُن کو تیرہ سو برس سے غافل پا کر دلائل اور براہین سے سمجھاوے اور آسمانی نشانوں سے تسکین بخشے اور یہ پہلو اختیار کرے کہ کسی کو بھیج کر غافل بندوں کو فنا کرنے کے لئے طیار ہو جائے۔ یہ عادت اس کی ان صفات کے مخالف ہے جن کی قرآن شریف میں تعلیم دی گئی ہے۔ اور قرآن شریف میں یہ وعدہ تھا کہ خدا تعالیٰ فتنوں اور خطرات کے وقت میں دین اسلام کی حفاظت کرے گا۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ سو خدا تعالیٰ نے بموجب اس وعدہ کے چار قسم کی حفاظت اپنی کلام کی کی ۔ اوّل حافظوں کے ذریعہ سے اُس کے الفاظ اور ترتیب کو محفوظ رکھا۔ اور ہر ایک صدی میں لاکھوں ایسے انسان پیدا کئے جو اُس کی پاک کلام کو اپنے سینوں میں حفظ رکھتے ہیں۔ ایسا حفظ کہ اگر ایک لفظ پوچھا جائے تو اس کا اگلا پچھلا سب بتا سکتے ہیں۔ اور اس طرح پر قرآن کو تحریف لفظی سے ہر ایک زمانہ میں بچایا۔ دوسرے ایسے ائمہ اور اکابر کے ذریعہ سے جن کو ہر ایک صدی میں فہم قرآن عطا ہوا ہے جنہوں نے قرآن شریف کے اجمالی مقامات کی احادیثِ نبویہ کی مدد سے تفسیر کر کے خدا کی پاک کلام اور پاک تعلیم کو ہر ایک زمانہ میں تحریف معنوی سے محفوظ رکھا۔ تیسرے متکلّمین کے ذریعہ سے جنہوں نے قرآنی تعلیمات کو عقل کے ساتھ تطبیق دے کر خدا کی پاک کلام کو کوتہ اندیش فلسفیوں کے استخفاف سے بچایا ہے۔ چوتھے روحانی انعام پانے والوں کے ذریعہ سے جنہوں نے خدا کی پاک کلام کو ہر ایک زمانہ میں معجزات اور معارف کے منکروں کے حملہ سے بچایا ہے۔
سو یہ پیشگوئی کسی نہ کسی پہلو کی وجہ سے ہر ایک زمانہ میں پوری ہوتی رہی ہے اور جس زمانہ میں کسی پہلو پر مخالفوں کی طرف سے زیادہ زور دیا گیا تھا اُسی کے مطابق خدا تعالیٰ کی غیرت اور حمایت نے مدافعت کرنے والا پیدا کیا ہے۔ لیکن یہ زمانہ جس میں ہم ہیں یہ ایک ایسا زمانہ تھا جس میں مخالفوں نے ہر چہار پہلو کے رُو سے حملہ کیا تھا۔ اور یہ ایک سخت طوفان کے دن تھے کہ جب سے قرآن شریف کی دنیا میں اشاعت ہوئی ایسے خطرناک دن اسلام نے کبھی نہیں دیکھے بد بخت اندھوں نے قرآن شریف کی لفظی صحت پر بھی حملہ کیا اور غلط ترجمے اور تفسیریں شائع کیں۔ بہتیرے عیسائیوں اور بعض نیچریوں اور کم فہم مسلمانوں نے تفسیروں اور ترجموں کے بہانہ سے تحریف معنوی کا ارادہ کیا۔☆ اور بہتوں نے اس بات پر زور دیا کہ قرآن اکثر جگہ میں علوم عقلیہ اور مسائل مسلّمہ مثبتہ طبعی اور ہیئت کے مخالف ہے اور نیز یہ کہ بہت سے دعاوی اس کے عقلی تحقیقاتوں کے برعکس ہیں اور نیز یہ کہ اس کی تعلیم جبر اور ظلم اور بے اعتدالی اور نا انصافی کے طریقوں کو سکھاتی ہے۔ اور نیز یہ کہ بہت سی باتیں اس کی صفاتِ الہیہ کے مخالف اور قانون قدرت اور صحیفۂ فطرت کے منافی ہیں۔ اور بہتوں نے پادریوں اور آریوں میں سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور قرآن کریم کے نشانوں اور پیشگوئیوں سے نہایت درجہ کے اصرار سے انکار کیا اور خدا تعالیٰ کی پاک کلام اور دین اسلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایسی صورت کھینچ کر دکھلائی اور اس قدر افترا سے کام لیا جس سے ہر ایک حق کا طالب خواہ نخواہ نفرت کرے۔ لہذا اب یہ زمانہ ایسا زمانہ تھا کہ جو طبعاً چاہتا تھا کہ جیسا کہ مخالفوں کے فتنہ کا سیلاب بڑے زور سے چاروں پہلوؤں پر حملہ کرنے کے لئے اُٹھا ہے ایسا ہی مدافعت بھی چاروں پہلوؤں کے لحاظ سے ہو۔ اور اس عرصہ میں چودھویں صدی کا آغاز بھی ہو گیا۔ اِس لئے خدا نے چودھویں صدی کے سر پر اپنے وعدہ کے موافق جو اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ(الحجر: ۱۰)ہے اس فتنہ کی اصلاح کے لئے ایک مجدد بھیجا۔ مگر چونکہ ہر ایک مجدد کا خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک خاص نام ہے اور جیسا کہ ایک شخص جب ایک کتاب تالیف کرتا ہے تو اس کے مضامین کے مناسب حال اس کتاب کا نام رکھ دیتا ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ نے اس مجدد کا نام خدماتِ مفوضہ کے مناسب حال مسیح رکھا۔ کیونکہ یہ بات مقرر ہو چکی تھی کہ آخر الزمان کے صلیبی فتنوں کی مسیح اصلاح کرے گا۔ پس جس شخص کو یہ اصلاح سپرد ہوئی ضرور تھا کہ اس کا نام مسیح موعود رکھا جائے۔ پس سوچو کہ یَکْسِرُ الصَّلِیْبَ کی خدمت کس کو سپرد ہے؟ اور کیا اب یہ وہی زمانہ ہے یا کوئی اور ہے؟ سو چو خدا تمہیں تھام لے۔
اس تمام تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں مسیح موعود کا ذکر نہیں ہے وہ نہایت غلطی پر ہیں۔ بلکہ حق یہ ہے کہ مسیح موعود کا ذکر نہایت اکمل اور اتم طور پر قرآن شریف میں پایا جاتا ہے۔ دیکھو اوّل قرآن شریف نے آیت کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًامیں صاف طور پر ظاہر کر دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیلِ موسیٰ ہیں۔ کیونکہ اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ ہم نے اس نبی کو اُس نبی کی مانند بھیجا ہے جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔ اور واقعات نے ظاہر کر دیا کہ یہ بیان اللہ جلّ شانہٗ کا بالکل سچا ہے۔ وجہ یہ کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے موسیٰ کو فرعون کی طرف بھیج کر آخر فرعون کو بنی اسرائیل کی نظر کے سامنے ہلاک کیا اور نہ خیالی اور وہمی طور پر بلکہ واقعی اور مشہود اور محسوس طور پر فرعون کے ظلم سے بنی اسرائیل کو نجات بخشی اسی طرح یعنی بنی اسرائیل کی مانند خدا تعالیٰ کے راستباز بندے مکہ معظمہ میں تیرہ برس تک کفار کے ہاتھ سے سخت تکلیف میں رہے اور یہ تکلیف اُس تکلیف سے بہت زیادہ تھی جو فرعون سے بنی اسرائیل کو پہنچی۔ آخر یہ راستباز بندے اُس برگزیدہ راستبازوں کے ساتھ اور اس کی ایما سے مکہ سے بھاگ نکلے اُسی بھاگنے کی مانند جو بنی اسرائیل مصر سے بھاگے تھے۔ پھر مکہ والوں نے قتل کرنے کے لئے تعاقب کیا اُسی تعاقب کی مانند جو فرعون کی طرف سے بنی اسرائیل کے قتل کے لئے کیا گیا تھا۔ آخر وہ اُسی تعاقب کی شامت سے بدر میں اُس طرح پر ہلاک ہوئے جس طرح فرعون اور اس کا لشکر دریائے نیل میں ہلاک ہوا تھا اسی رمز کے کھولنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جہل کی لاش بدر کے مردوں میں دیکھ کر فرمایا تھا کہ یہ شخص اِس اُمت کا فرعون تھا۔ غرض جس طرح فرعون اور اس کا لشکر دریائے نیل میں ہلاک ہونا امور مشہودہ محسوسہ میں سے تھا جس کے وقوع میں کسی کو کلام نہیں ہوسکتا اسی طرح ابو جہل اور اُس کے لشکر کا تعاقب کے وقت بدر کی لڑائی میں ہلاک ہونا امورِ مشہودہ محسوسہ میں سے تھا جس سے انکار کرنا حماقت اور دیوانگی میں داخل ہے۔
سو یہ دونوں واقعات اپنے تمام سوانح کے لحاظ سے باہم ایسی مشابہت رکھتے ہیں کہ گویا دو توام بھائیوں کی طرح ہیں۔ اور عیسائیوں کا یہ قول کہ یہ مثیل موسیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں بالکل مردود اور قابلِ شرم ہے کیونکہ مماثلت امورِ مشہودہ محسوسہ یقینیہ قطعیہ میں ہونی چاہئے نہ ایسے فضول اور وہمی دعوے کے ساتھ جو خود جائے بحث اور سخت انکار کی جگہ ہے۔ یہ دعویٰ کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے منجی تھے اور ایسا ہی یسوع بھی عیسائیوں کا منجی تھا کس قدر بودہ اور بے ثبوت خیال ہے۔ کیونکہ یہ محض اپنے دل کے بے اثر تصوّرات ہیں جن کے ساتھ کوئی بدیہی اور روشن علامت نہیں ہے۔ اور اگر نجات دینے کی کوئی علامت ہوتی تو یہود بکمال شکر گذاری اُسی طرح حضرت عیسیٰ کو قبول کرتے اور اُن کے منجی ہونے کا اُسی قدر شکر کے ساتھ اقرار کرتے جیسا کہ دریائے نیل کے واقعہ کے بعد انہوں نے شکر گزاری کے گیت گائے تھے۔ لیکن ان کے دلوں نے تو کچھ بھی محسوس نہ کیا کہ یہ کیسی نجات ہے کہ یہ شخص ہمیں دیتا ہے۔ مگر وہ اسرائیلی یعنی خدا کے بندے جن کو ہمارے سیّد و مولیٰ نے مکّہ والوں کے ظلم سے چھڑایا انہوں نے بدر کے واقعہ کے بعد اسی طرح گیت گائے جیسے کہ بنی اسرائیل نے دریائے مصر کے سر پر گائے تھے اور وہ عربی گیت اب تک کتابوں میں محفوظ چلے آتے ہیں جو بدر کے میدان میں گائے گئے۔
ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اِس پیشگوئی کی رُوح تو یہی مماثلت ہے۔ پھر اگر یہ مماثلت امورِ مشہودہ محسوسہ میں سے نہ ہو اور مخالف کی نظر میں ایک امر ثابت شدہ اور بدیہیات اور مسلّمات کے رنگ میں نہ ہو تو کیونکر ایسا بیہودہ دعویٰ ایک طالب حق کے ہدایت پانے کے لئے رہبر ہو سکتا ہے۔ اِس میں کیا شک ہے کہ یسوع کا منجی ہونا عیسائیوں کا صرف ایک دعویٰ ہے جس کو وہ دلائلِ عقلیہ کے رُو سے ثابت نہیں کر سکے اور نہ بدیہیات کے رنگ میں دکھلا سکے اور پوچھ کر دیکھ لو کہ وہ لوگ عیسائیت اور دوسری قوموں میں کوئی مابہ الامتیاز دکھلا نہیں سکتے جس سے معلوم ہو کہ صرف یہ قوم نجات یافتہ اور دوسرے سب لوگ نجات سے محروم ہیں۔ بلکہ ثابت تو یہ ہے کہ یہ قوم روحانیت اور فیوضِ سماوی اور نجات کی روحانی علامات اور برکات سے بالکل بے بہرہ ہے۔ پھر مماثلت کیونکر اور کس صورت سے ثابت ہو مماثلت تو امور بدیہیہ اور محسوسہ اور مشہودہ میں ہونی چاہئیے تا لوگ اُس کو یقینی طور پر شناخت کر کے اس سے شخصِ مثیل کو شناخت کریں۔ کیا اگر آج ایک شخص مثیلِ موسیٰ ہونے کا دعویٰ کرے اور مماثلت یہ پیش کرے کہ میں رُوحانی طور پر قوم کا منجی ہوں اور نجات دینے کی کوئی محسوس اور مشہود علامت نہ دکھلاوے تو کیا عیسائی صاحبان اُس کو قبول کر لیں گے کہ درحقیقت یہی مثیلِ موسیٰ ہے؟ پس سچا فیصلہ اور ایمان کا فیصلہ اور انصاف کا فیصلہ یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مثیلِ موسیٰ ہرگز نہیں ہیں اور خارجی واقعات کا نمونہ کوئی انہوں نے ایسا نہیں دکھلایا جس سے مومنوں کی نجات دہی اور کفار کی سزا دہی میں حضرت موسیٰ سے اُن کی مشابہت ثابت ہو بلکہ برعکس اس کے اُن کے وقت میں مومنوں کو سخت تکالیف پہنچیں☆ جن تکالیف سے خود حضرت عیسیٰ بھی باہر نہ رہے۔ پس ہم ایمان کو ضائع کریں گے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک خائن ٹھہریں گے اگر ہم یہ اقرار نہ کریں کہ وہ مثیل جس کا توریت کتاب استثنا میں ذکر ہے وہ وہی نبی مؤیدِ الٰہی ہے جو معہ اپنی جماعت کے تیرہ برس برابر دکھ اٹھا کر اور ہر ایک قسم کی تکلیف دیکھ کر آخر معہ اپنی جماعت کے بھاگا۔ اور اس کا تعاقب کیا گیا آخر بدر کی لڑائی میں چند گھنٹوں میں فیصلہ ہو کر ابو جہل اور اس کا لشکر تلوار کی دھار سے ایسے ہی مارے گئے جیسا کہ دریائے نیل کی دھار سے فرعون اور اس کے لشکر کا کام تمام کیا گیا۔ دیکھو کیسی صفائی اور کیسے مشہود اور محسوس طور پر یہ دونوں واقعات مصر اور مکّہ اور دریائے نیل اور بدر کے آپس میں مماثلت رکھتے ہیں۔
غرض جبکہ یہ ثابت ہوا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم درحقیقت مثیلِ موسیٰ ہیں تو تکمیلِ مماثلت کا یہ تقاضا تھا کہ اُن کے پَیروؤں اور خلفاء میں بھی مماثلت ہو۔ اور یہ بات ضروری تھی کہ جیسا کہ موسیٰ اور سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک اَشد اور اَکمل مشابہت مومنوں کے نجات دینے اور کافروں کو عذاب دینے کے بارے میں پائی گئی ان دونوں بزرگ نبیوں کے آخری خلیفوں میں بھی کوئی مشابہت باہم پائی جائے۔ سو جب ہم سوچتے ہیں تو جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے نہ صرف ایک مشابہت بلکہ کئی مشابہتیں ثابت ہوتی ہیں جو مجھ میں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں پائی جاتی ہیں☆۔
اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ برگزیدہ انسان جس کا یہودیوں کو توریت میں وعدہ دیا گیا تھا کہ وہ اُن کے زوالِ سلطنت کے وقت میں ظاہر ہوگا اور وہ سِلسلہ خلافتِ موسویہ کا آخری خلیفہ ہوگا ایسا ہی وہ انسان جس کا قرآن شریف اور حدیثوں میں وعدہ دیا گیا تھا کہ وہ آخری زمانہ میں غلبۂ صلیب کے وقت ظاہر ہوگا اِن دونوں انسانوں کا مسیح کیوں نام رکھا گیا ؟
اِس کا جواب یہ ہے کہ دراصل مسیح اس صدیق کو کہتے ہیں جس کے مَسْح یعنی چُھونے میں خدا نے برکت رکھی ہو اور اُس کے اَنفاس اور وعظ اور کلام زندگی بخش ہوں۔ اور پھر یہ لفظ خصوصیّت کے ساتھ اس نبی پر اطلاق پا گیا جس نے جنگ نہ کیا اور محض رُوحانی برکت سے اصلاحِ خلائق کی۔ اور اس کے مقابل پر مسیح اس معہود دجّال کو بھی کہتے ہیں جس کی خبیث طاقت اور تاثیر سے آفات اور دہریّت اور بے ایمانی پیدا ہو اور بغیر اس کے کہ وہ سچائی کے نابود کرنے کے لئے کوئی اور جابرانہ وسائل استعمال کرے صرف اس کی توجہ باطنی یا تقریر یا تحریر یا مخالطت سے محض شیطانی رُوح کی تاثیر سے نیکی اور محبتِ الٰہی ٹھنڈی ہوتی چلی جائے۔ اور بدکاری، شراب خوری۔ دروغگوئی۔ اباحت۔ دُنیا پرستی۔ مکر۔ ظلم۔ تعدّی۔ قحط اور وبا پھیلے۔ یہی معنے ہیں جو لسان العرب وغیرہ اعلیٰ درجہ کی لُغت کی کتابوں سے اُن کے بیان کو یکجائی نظر سے دیکھنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ اور یہی معنے ہیں جو خدا تعالیٰ نے میرے دل میں القا کئے ہیں اور اگر چہ دوسرے انبیاء بھی مسیحیت کی صفت اپنے اندر رکھتے ہیں مگر جس نبی نے ایسا زمانہ پایا اور جہاد وغیرہ وسائل کو اُس نے استعمال نہ کیا اور صرف دعا اور روحانی طاقت سے کام لیا اس کا بالخصوصیت یہ نام ہے۔ سو ایسا مسیح اعلیٰ درجہ کا بنی اسرائیل میں صرف ایک ہی گذرا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے چودہ سو برس بعد تشریف لائے۔ اور سلسلہ خلافتِ موسویہ کے آخری خلیفہ ٹھہرے اور بموجب توریت کی پیشگوئی اور قرآن شریف کی پیشگوئی کے خدا تعالیٰ کو منظور ہوا جو اُسی کی مانند سِلسلہ خلافتِ محمدیّہ کے اخیر پر ایک مسیح پیدا کرے سو اُس نے اسی مدّت کی مانند اس مسیح کو بھی چودھویں صدی کے سر پر پیدا کیا۔ اور پہلے مسیح کی طرح دوسرے مسیح کی نسبت بھی احادیثِ صحیحہ میں حضرت سیّد الکائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی گئی کہ وہ ایسے وقت میں آئے گا کہ جب قرآن آسمان پر اُٹھ جائے گا یعنی لوگ طرح طرح کے شکوک اور شبہات میں مبتلا ہوں گے اور اکثر روز جزاء کی نسبت نہایت ضعیف الاعتقاد اور دہریہ کی طرح ہو جائیں گے اور وہ اپنی کلام اور معجزات اور نشانوں اور روحانی طاقت سے دوبارہ ان میں ایمان قائم کرے گا اور شبہات سے نجات دے گا۔ اور اپنے آسمانی حربہ سے بغیر کسی ظاہری جہاد کے مسیح الدّجال کی رونق کو مٹا دے گا اور روح القدس کی پاک تاثیریں بغیر وسیلہ ہاتھوں کے دنیا میں پھیلیں گی۔ اور حق بینی کی ٹھنڈی ہوا دلوں پر چلے گی اور صلح کاری اور امن اور بنی نوع کی محبت کے ساتھ ایک بھاری تبدیلی ظہور میں آئے گی۔ اور شیطان شکست کھائے گا اور رُوح القدس غالب ہو گا۔ اس آخری زمانہ کے لئے بہت سے نبیوں نے پیشگوئی کی ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے نادان مولویوں نے جہاد کا مسئلہ خواہ نخواہ اس میں گھسیڑ دیا۔ خدا تعالیٰ کے پاک نبی کا ہرگز یہ منشا نہ تھا۔ یاد رہے کہ اگر کوئی جہاد کرے تو وہ مسیح موعود ہی نہیں بلکہ تریاقی ہَوا کا زہریلی ہوا سے ایک رُوحانی جنگ ہوگا۔ آخر تریاقی ہوا فتح پائے گی اور مسیح موعود صرف اس جنگ روحانی کی تحریک کے لئے آیا۔ ضرور نہیں کہ اُس کے روبروئی اس کی تکمیل بھی ہو۔ بلکہ یہ تخم جو زمین میں بویا گیا آہستہ آہستہ نشو و نما پائے گا یہاں تک کہ خدا کے پاک وعدوں کے موافق ایک دن یہ ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔ اور تمام سچائی کے بھوکے اور پیاسے اس کے سایہ کے نیچے آرام کریں گے۔ دلوں سے باطل کی محبت اُٹھ جائے گی گویا باطل مر جائے گا اور ہر ایک سینہ میں سچائی کی روح پیدا ہو گی اس روز وہ سب نوشتے پورے ہو جائیں گے جن میں لکھا ہے کہ زمین سمندر کی طرح سچائی سے بھر جائے گی۔☆ مگر یہ سب کچھ جیسا کہ سنّت اللہ ہے تدریجاً ہو گا۔ اس تدریجی ترقی کے لئے مسیح موعود کا زندہ ہونا ضروری نہیں بلکہ خدا کا زندہ ہونا کافی ہوگا۔ یہی خدا تعالیٰ کی قدیم سنّت ہے اور الٰہی سنتوں میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ پس ایسا آدمی سخت جاہل ہوگا کہ جو مسیح موعود کی وفات کے وقت اعتراض کرے کہ وہ کیا کر گیا۔ کیونکہ اگر چہ یکدفعہ نہیں مگر انجام کار وہ تمام بیج جو مسیح موعود نے بویا تدریجی طور پر بڑھنا شروع کرے گا اور دلوں کو اپنی طرف کھینچے گا یہاں تک کہ ایک دائرہ کی طرح دنیا میں پھیل جائے گا۔ وہ وقت اور گھڑی خدا تعالیٰ کے علم میں ہے جب یہ اَکمل اور اتم تبدیلی ظہور میں آئے گی۔ جس طرح تم دیکھتے ہو کہ دجّالیت بھی یکدفعہ زمین میں نہیں پھیلی بلکہ اس کا بیج آہستہ آہستہ بڑھتا اور پھولتا گیا ایسا ہی آہستہ آہستہ سچائی کی طرف دنیا اپنی کروٹ بدلے گی۔ تماشا بینوں کی طرح یہ خیال نہیں رکھنا چاہیے کہ یکدفعہ دنیا اُلٹ پلٹ ہو جائے گی بلکہ جس طرح پر کھیت اور درخت بڑھتے ہیں ایسا ہی ہوگا۔!!!
یاد رہے کہ جس مسیح یعنی روحانی برکات والے کی مسلمانوں کو آخری زمانہ میں بشارت دی گئی ہے اُسی کی نسبت یہ بھی لکھا ہے کہ وہ دجّال معہود کو قتل کرے گا۔ لیکن یہ قتل تلوار یا بندوق سے نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ دجّالی بدعات اس کے زمانہ میں نابود ہو جائیں گی۔
حدیثوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل دجّال شیطان کا نام ہے پھر جس گروہ سے شیطان اپنا کام لے گا اُس گروہ کا نام بھی استعارہ کے طور پر دجّال رکھا گیا کیونکہ وہ اُس کے اعضاء کی طرح ہے۔ قرآن شریف میں جو یہ آیت ہے لَخَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اَکۡبَرُ مِنۡ خَلۡقِ النَّاسِ یعنی انسانوں کی صنعتوں سے خدا کی صنعتیں بہت بڑی ہیں یہ اشارہ ان انسانوں کی طرف ہے جن کی نسبت لکھا گیا تھا کہ وہ آخری زمانہ میں بڑی بڑی صنعتیں ایجاد کریں گے اور خدائی کاموں میں ہاتھ ڈالیں گے۔ اور مفسّرین نے لکھا ہے کہ اس جگہ انسانوں سے مراد دجّال ہے اور یہ قول دلیل اس بات پر ہے کہ دجّال معہود ایک شخص نہیں ہے ورنہ نَاس کا نام اُس پر اطلاق نہ پاتا۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ نَاس کا لفظ صرف گروہ پر بولا جاتا ہے سو جو گروہ شیطان کے وساوس کے نیچے چلتا ہے وہ دجّال کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔ اِسی کی طرف قرآن شریف کی اس ترتیب کا اشارہ ہے کہ وہ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَسے شروع کیا گیا اور اِس آیت پر ختم کیا گیا ہے۔ الَّذِیۡ یُوَسۡوِسُ فِیۡ صُدُوۡرِ النَّاسِ مِنَ الۡجِنَّۃِ وَالنَّاسِ۔ پس لفظ ناس سے مراد اس جگہ بھی دجّال ہے۔ ماحصل اِس سورۃ کا یہ ہے کہ تم دجّال کے فتنہ سے خدا تعالیٰ کی پناہ پکڑو۔ اس سورۃ سے پہلے سورۃ اخلاص ہے جو عیسائیت کے اصول کے رڈ میں ہے۔ بعد اس کے سورۃ فَلَق ہے جو ایک تاریک زمانہ اور عورتوں کی مکّاری کی خبر دے رہی ہے اور پھر آخر ایسے گروہ سے پناہ مانگنے کا حکم ہے جو شیطان کے زیر سایہ چلتا ہے اس ترتیب سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی گروہ ہے جس کو دوسرے لفظوں میں شیطان کہا ہے اور اخیر میں اس گروہ کے ذکر سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آخری زمانہ میں اس گروہ کا غلبہ ہوگا جن کے ساتھ نَفَّاثَاتِ فِی الْعُقَدْ ہوں گی۔ یعنی ایسی عیسائی عورتیں جو گھروں میں پھر کر کوشش کریں گی کہ عورتوں کو خاوندوں سے علیحدہ کریں اور عقدِ نکاح کو توڑیں۔ خوب یاد رکھنا چاہیے کہ یہ تینوں سورتیں قرآن شریف کی دجّالی زمانہ کی خبر دے رہی ہیں اور حکم ہے کہ اِس زمانہ سے خدا کی پناہ مانگو تا اس شر سے محفوظ رہو۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ شرور صرف آسمانی انوار اور برکات سے دور ہوں گے جن کو آسمانی مسیح اپنے ساتھ لائے گا۔
غرض یہ نہایت عجیب بات ہے کہ جیسے ایک مسیح یعنی محض رُوحانی طاقت سے دین کو قائم کرنے والا اور محض روح القدس سے یقین اور ایمان کو پھیلانے والا موسوی سِلسلہ کے آخر میں آیا ایسا ہی اور اسی مدّت کی مانند مثیلِ موسیٰ کے سِلسلہ خلافت کے آخر میں آیا۔ اور یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ہمارے سیّد و مولیٰ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم مثیلِ موسیٰ ہیں کیونکہ حضرت موسیٰ نے یہودیوں کو فرعون کے ہاتھ سے نجات دی اور نہ صرف نجات بلکہ ایمان لانے کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ یہودی قوم کو سلطنت اور بادشاہی بھی مل گئی۔ اِسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت میں آئے کہ جب یہودی لوگ سخت ذلّت میں پڑے ہوئے تھے۔ اور آپ نے جیسا کہ دوسرے ایمان لانے والوں پر آزادی اور نجات کا دروازہ کھولا اور کفار کے ظلم اور تعدّی سے چھڑایا اور آخر خلافت اور بادشاہت اور حکومت☆ تک پہنچایا۔ ایسا ہی یہودیوں پر بھی آپ نے آزادی اور نجات کا دروازہ کھولا اور پھر حکومت اور امارت تک پہنچایا۔ یہاں تک کہ چند صدیوں کے بعد ہی وہ رُوئے زمین کے بادشاہ ہو گئے کیونکہ یہ قوم افغان جن کی اب تک افغانستان میں بادشاہت پائی جاتی ہے۔
یہ لوگ دراصل یہودی ہی ہیں۔ اور بر نیر صاحب اپنی کتاب وقائع عالمگیر میں یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ تمام کشمیری بھی دراصل یہودی ہیں اور اُن میں بھی ایک بادشاہ گذرا ہے اور افغانوں کی بادشاہت مسلسل کئی صدیوں سے چلی آتی ہے۔ اب جبکہ یہودیوں کی کُتب مقدسہ میں نہایت صفائی سے بیان کیا گیا ہے کہ موسیٰ کی مانند ایک منجی ان کے لئے بھیجا جائے گا یعنی وہ ایسے وقت میں آئے گا کہ جب قوم یہود فرعون کے زمانہ کی طرح سخت ذلّت اور دُکھ میں ہو گی ۔ اور پھر اُس منجی پر ایمان لانے سے وہ تمام دُکھوں اور ذلّتوں سے رہائی پائیں گے تو کچھ شک نہیں کہ یہ پیشگوئی جس کی طرف یہود کی ہر زمانہ میں آنکھیں لگی رہی ہیں وہ ہمارے سیّد و مولیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کے ذریعہ سے توریت کی پیشگوئی کمال وضاحت سے پوری ہوگئی۔ کیونکہ جب یہودی ایمان لائے تو اُن میں سے بڑے بڑے بادشاہ ہوئے یہ اس بات پر دلیل واضح ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسلام لانے سے اُن کا گناہ بخشا اور اُن پر رحم کیا جیسا کہ توریت میں وعدہ تھا۔
پھر ہم اپنی پہلی کلام کی طرف عود کر کے کہتے ہیں کہ مسیح موعود کے لئے قرآن شریف میں صرف وہی پیشگوئی نہیں جو ہم پہلے لکھ چکے ہیں بلکہ ایک اور پیشگوئی ہے جو بڑی وضاحت سے آنے والے مسیح کی خبر دیتی ہے اور وہ یہ ہے ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیۡہِمۡ وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ ٭ وَاِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ ؕ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُاِس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ خدا وہ خدا ہے جس نے ایسے وقت میں رسول بھیجا کہ لوگ علم اور حکمت سے بے بہرہ ہو چکے تھے اور علومِ حکمیہ دینیہ جن سے تکمیل نفس ہو اور نفوس انسانیہ علمی اور عملی کمال کو پہنچیں بالکل گم ہو گئی تھی اور لوگ گمراہی میں مبتلا تھے۔ یعنی خدا اور اس کی صراطِ مستقیم سے بہت دُور جا پڑے تھے۔ تب ایسے وقت میں خدا تعالیٰ نے اپنا رسول اُمّی بھیجا اور اُس رسول نے اُن کے نفسوں کو پاک کیا اور علم الکتاب اور حکمت سے اُن کو مملو کیا یعنی نشانوں اور معجزات سے مرتبہ یقینِ کامل تک پہنچایا اور خدا شناسی کے نُور سے اُن کے دلوں کو روشن کیا اور پھر فرمایا کہ ایک گروہ اَور ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہو گا وہ بھی اوّل تاریکی اور گمراہی میں ہوں گے اور علم اور حکمت اور یقین سے دُور ہوں گے تب خدا اُن کو بھی صحابہ کے رنگ میں لائے گا یعنی جو کچھ صحابہ نے دیکھا وہ اُن کو بھی دکھایا جائے گا یہاں تک کہ اُن کا صدق اور یقین بھی صحابہ کے صدق اور یقین کی مانند ہو جائے گا اور حدیث صحیح میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس آیت کی تفسیر کے وقت سلمان فارسی کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا ۔ لَوْ کَانَ الْاِیْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَیَّا لَنَالَہٗ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ یعنی اگر ایمان ثریا پر یعنی آسمان پر بھی اُٹھ گیا ہو گا تب بھی ایک آدمی فارسی الاصل اُس کو واپس لائے گا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ ایک شخص آخری زمانہ میں فارسی الاصل پیدا ہو گا اس زمانہ میں جس کی نسبت لکھا گیا ہے کہ قرآن آسمان پر اُٹھایا جائے گا یہی وہ زمانہ ہے جو مسیح موعود کا زمانہ ہے۔ اور یہ فارسی الاصل وہی ہے جس کا نام مسیح موعود ہے کیونکہ صلیبی حملہ جس کے توڑنے کے لئے مسیح موعود کو آنا چاہئیے وہ حملہ ایمان پر ہی ہے اور یہ تمام آثار صلیبی حملہ کے زمانہ کے لئے بیان کئے گئے ہیں اور لکھا ہے کہ اِس حملہ کا لوگوں کے ایمان پر بہت بُرا اثر ہوگا۔ وہی حملہ ہے جس کو دوسرے لفظوں میں دجّالی حملہ کہتے ہیں۔ آثار میں ہے کہ اُس دجّال کے حملہ کے وقت بہت سے نادان خدائے واحد لاشریک کو چھوڑ دیں گے اور بہت سے لوگوں کی ایمانی محبت ٹھنڈی ہو جائے گی اور مسیح موعود کا بڑا بھاری کام تجدید ایمان ہوگا کیونکہ حملہ ایمان پر ہے اور حدیث لَوْ کَانَ الْاِیْمَانُ سے جو شخص فارسی الاصل کی نسبت ہے یہ ثابت ہے کہ وہ فارسی الاصل ایمان کو دوبارہ قائم کرنے کے لئے آئے گا ۔ پس جس حالت میں مسیح موعود اور فارسی الاصل کا زمانہ بھی ایک ہی ہے اور کام بھی ایک ہی ہے یعنی ایمان کو دوبارہ قائم کرنا اس لئے یقینی طور پر ثابت ہوا کہ مسیح موعود ہی فارسی الاصل ہے اور اُسی کی جماعت کے حق میں یہ آیت ہے وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡاس آیت کے معنے یہ ہیں کہ کمال ضلالت کے بعد ہدایت اور حکمت پانے والے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور برکات کو مشاہدہ کرنے والے صرف دو ہی گروہ ہیں اوّل صحابۂ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے سخت تاریکی میں مبتلا تھے اور پھر بعد اس کے خدا تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے زمانہ نبوی پایا اور معجزات اپنی آنکھوں سے دیکھے اور پیشگوئیوں کا مشاہدہ کیا اور یقین نے اُن میں ایک ایسی تبدیلی پیدا کی کہ گویا صرف ایک رُوح رہ گئے ۔ دوسرا گروہ جو بموجب آیت موصوفہ بالا صحابہ کی مانند ہیں مسیح موعود کا گروہ ہے۔ کیونکہ یہ گروہ بھی صحابہ کی مانند آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کو دیکھنے والا ہے اور تاریکی اور ضلالت کے بعد ہدایت پانے والا۔ اور آیت وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ(الجمعۃ: ۴) میں جو اس گروہ کو مِنْہُمْ کی دولت سے یعنی صحابہ سے مشابہ ہونے کی نعمت سے حصہ دیا گیا ہے۔ یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے یعنی جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات دیکھے اور پیشگوئیاں مشاہدہ کیں ایسا ہی وہ بھی مشاہدہ کریں گے اور درمیانی زمانہ کو اس نعمت سے کامل طور پر حصّہ نہیں ہو گا ۔ چنانچہ آج کل ایسا ہی ہوا کہ تیرہ سو برس بعد پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا دروازہ کھل گیا اور لوگوں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا کہ خسوف کسوف رمضان میں موافق حدیث دار قطنی اور فتاویٰ ابن حجر کے ظہور میں آ گیا یعنی چاند گرہن اور سورج گرہن رمضان میں ہوا۔ اور جیسا کہ مضمون حدیث تھا۔ اُسی طرح پر چاند گرہن اپنے گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات میں اور سورج گرہن اپنے گرہن کے دنوں میں سے بیچ کے دن میں وقوع میں آیا۔ ایسے وقت میں کہ جب مہدی ہونے کا مدعی موجود تھا اور یہ صورت جب سے کہ زمین اور آسمان پیدا ہوا کبھی وقوع میں نہیں آئی کیونکہ اب تک کوئی شخص نظیر اس کی صفحۂ تاریخ میں ثابت نہیں کر سکا۔ سو یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ تھا جو لوگوں نے آنکھوں سے دیکھ لیا۔ پھر ذو السنین ستارہ بھی جس کا نکلنا مہدی اور مسیح موعود کے وقت میں بیان کیا گیا تھا۔ ہزاروں انسانوں نے نکلتا ہوا دیکھ لیا۔ ایسا ہی جاوا کی آگ بھی لاکھوں انسانوں نے مشاہدہ کی ایسا ہی طاعون کا پھیلنا اور حج سے روکے جانا بھی سب نے بچشم خود ملاحظہ کر لیا۔ ملک میں ریل کا طیار ہونا اونٹوں کا بے کار ہونا یہ تمام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات تھے جو اس زمانہ میں اسی طرح دیکھے گئے جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے معجزات کو دیکھا تھا۔ اسی وجہ سے اللہ جلّ شانۂ نے اس آخری گروہ کو مِنْہُمْ کے لفظ سے پکارا تا یہ اشارہ کرے کہ معائنہ معجزات میں وہ بھی صحابہ کے رنگ میں ہی ہیں۔ سوچ کر دیکھو کہ تیرہ سو برس میں ایسا زمانہ منہاج نبوت کا اور کس نے پایا۔ اِس زمانہ میں جس میں ہماری جماعت پیدا کی گئی ہے کئی وجوہ سے اِس جماعت کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشابہت ہے۔ وہ معجزات اور نشانوں کو دیکھتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے دیکھا۔ وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں اور تازہ بتازہ تائیدات سے نُور اور یقین پاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے پایا۔ وہ خدا کی راہ میں لوگوں کے ٹھٹھے اور ہنسی اور لعن طعن اور طرح طرح کی دلآزاری اور بد زبانی اور قطع رحم وغیرہ کا صدمہ اُٹھا رہے ہیں جیسا کہ صحابہ نے اٹھایا۔ وہ خدا کے کھلے کھلے نشانوں اور آسمانی مددوں اور حکمت کی تعلیم سے پاک زندگی حاصل کرتے جاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے حاصل کی ۔ بہتیرے اُن میں ایسے ہیں کہ نماز میں روتے اور سجدہ گاہوں کو آنسوؤں سے تر کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم روتے تھے۔ بہتیرے اُن میں ایسے ہیں جن کو سچی خوابیں آتی ہیں اور الہام الٰہی سے مشرف ہوتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔ بہتیرے اُن میں ایسے ہیں کہ اپنے محنت سے کمائے ہوئے مالوں کو محض خدا تعالیٰ کی مرضات کے لئے ہمارے سلسلہ میں خرچ کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم خرچ کرتے تھے۔ اُن میں ایسے لوگ کئی پاؤ گے کہ جو موت کو یاد رکھتے اور دلوں کے نرم اور سچی تقویٰ پر قدم مار رہے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی سیرت تھی ۔ وہ خدا کا گروہ ہے جن کو خدا آپ سنبھال رہا ہے اور دن بدن اُن کے دلوں کو پاک کر رہا ہے اور ان کے سینوں کو ایمانی حکمتوں سے بھر رہا ہے۔ اور آسمانی نشانوں سے اُن کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ جیسا کہ صحابہ کو کھینچتا تھا۔ غرض اس جماعت میں وہ ساری علامتیں پائی جاتی ہیں جو وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ(الجمعۃ: ۳،۴) کے لفظ سے مفہوم ہو رہی ہیں ۔ اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا فرمودہ ایک دن پورا ہوتا۔!!!
اور آیت وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ جیسا کہ یہ جماعت مسیح موعود کی صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت سے مشابہ ہے ایسا ہی جو شخص اس جماعت کا امام ہے وہ بھی ظلّی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتا ہے جیسا کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی موعود کی صفت فرمائی کہ وہ آپ سے مشابہ ہو گا اور دو مشابہت اُس کے وجود میں ہوں گی ۔ ایک مشابہت حضرت مسیح علیہ السلام سے جس کی وجہ سے وہ مسیح کہلائے گا اور دوسری مشابہت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جس کی وجہ سے وہ مہدی کہلائے گا۔ اِسی راز کی طرف اشارہ کرنے کے لئے لکھا ہے کہ ایک حصہ اس کے بدن کا اسرائیلی وضع اور رنگ پر ہوگا اور دوسرا حصہ عربی وضع اور رنگ پر ۔ حضرت مسیح علیہ السلام ایسے وقت میں آئے تھے جبکہ ملّتِ موسوی یونانی حکماء کے حملوں سے خطرناک حالت میں تھی ۔ اور تعلیم توریت اور اُس کی پیشگوئیوں اور معجزات پر سخت حملہ کیا جاتا تھا اور یونانی خیالات کے موافق خدا تعالیٰ کے وجود کو بھی ایک ایسا وجود سمجھا گیا تھا کہ جو صرف مخلوق میں مخلوط ہے اور مدّبر بالارادہ نہیں ۔ اور سلسلہ نبوت سے ٹھٹھا کیا جاتا تھا۔ لہذا حضرت عیسیٰ کے مبعوث کرنے سے جو حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد آئے خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ تھا کہ موسوی نبوت کی صحت اور اس سلسلہ کی حقانیت پر تازہ شہادت قائم کرے اور نئی تائیدات اور آسمانی گواہوں سے موسوی عمارت کی دوبارہ مرمت کر دیوے۔ اِسی طرح جو اس اُمّت کے لئے مسیح موعود بھی چودھویں صدی کے سر پر بھیجا گیا اُس کی بعثت سے بھی یہی مطلب تھا کہ جو یورپ کے فلسفہ اور یورپ کی دجالیت نے اسلام پر طرح طرح کے حملے کئے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت اور پیشگوئیوں اور معجزات سے انکار اور تعلیم قرآنی پر اعتراض اور برکات اور انوارِ اسلام کو سخت استہزا کی نظر سے دیکھا ہے ان تمام حملوں کو نیست و نابود کرے اور نبوتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا الف الف سلام کو تازہ تصدیق اور تائید سے حق کے طالبوں پر چمکاوے اور یہی سر ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۲۲ میں آج سے سترہ برس پہلے ایک الہام اسی بارہ میں ہوا وہ الہام خدا تعالیٰ کا لاکھوں انسانوں میں شائع ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے :۔ ’’بخرام کہ وقتِ تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں برمنار بلند تر محکم افتاد۔ پاک محمد مصطفے نبیوں کا سردار ۔ خدا تیرے سب کام درست کرے گا اور تیری ساری مُرادیں تجھے دے گا۔ ربّ الافواج اس طرف توجہ کرے گا۔ اس نشان کا مدّعا یہ ہے کہ قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے مُنہ کی باتیں ہیں۔‘‘ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۲۲۔ اور خوب غور کرو کہ میرے نشانوں سے کیا مدعا ٹھہرایا گیا۔ ابھی میں بیان کر چکا ہوں کہ اسی مطلب کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئے تھے تا تکذیب کی حالت میں نئے نشانوں کے ساتھ توریت کی تصدیق کریں۔ اور اسی مطلب کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے تا نئے نشانوں کے ساتھ قرآن شریف کی سچائی غافل لوگوں پر ظاہر کی جائے۔ اِسی کی طرف الہامِ الٰہی میں اشارہ ہے کہ پائے محمدیاں برمنار بلند تر محکم افتاد۔ اور یہی اشارہ اِس دوسرے الہام براہین احمدیہ میں ہے۔ الرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُراٰنَ. لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا اُنْذِرَ اٰبَآءُ ہُمْ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلَ الْمُجْرِمِیْنَ. قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ. اگر کوئی کہے کہ ’’حضرت عیسیٰ نبی اللہ ہو کر توریت کی تصدیق کے لئے آئے ۔ پس اُن کے مقابل پر تمہاری گواہی کیا قدر رکھتی ہے۔ اس جگہ بھی تصدیق جدید کے لئے کوئی نبی ہی چاہیے تھا،‘‘ سو اِس کا جواب یہ ہے کہ اسلام میں اس نبوت کا دروازہ تو بند ہے جو اپنا سکّہ جماتی ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ(الاحزاب: ۴۱) اور حدیث میں ہے لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ ۔ اور با ایں ہمہ حضرت مسیح کی وفات نصوص قطعیہ سے ثابت ہو چکی لہٰذا دنیا میں اُن کے دوبارہ آنے کی اُمید طمع خام ۔ اور اگر کوئی اور نبی نیا یا پُرانا آوے تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیونکر خاتم الانبیاء رہیں۔ ہاں وحی ولایت اور مکالمات الہیہ کا دروازہ بند نہیں ہے جس حالت میں مطلب صرف یہ ہے کہ نئے نشانوں کے ساتھ دینِ حق کی تصدیق کی جائے اور سچے دین کی شہادت دی جائے تو جونشان خدا تعالیٰ کے نشان ہیں خواہ وہ نبی کے ذریعہ سے ظاہر ہوں اور خواہ ولی کے ذریعہ سے وہ سب ایک درجہ کے ہیں کیونکہ بھیجنے والا ایک ہی ہے۔ ایسا خیال کرنا سراسر جہالت اور حمق ہے کہ اگر خدا تعالیٰ نبی کے ہاتھ سے اور نبی کے ذریعہ سے کوئی تائید سماوی کرے تو وہ قوت اور شوکت میں زیادہ ہے۔ اور اگر ولی کی معرفت وہ تائید ہو تو وہ قوت اور شوکت میں کم ہے بلکہ بعض نشان تو تائید اسلام کے ایسے ظاہر ہوتے ہیں کہ اس وقت نہ کوئی نبی ہوتا ہے اور نہ ولی جیسا کہ اصحاب الفیل کے ہلاک کرنے کا نشان ظاہر ہوا۔ یہ تو مسلم ہے کہ ولی کی کرامت نبی متبوع کا معجزہ ہے پھر جبکہ کرامت بھی معجزہ ہوئی تو معجزات میں تفریق کرنا ایمانداروں کا کام نہیں۔ ماسوا اس کے حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ محدث بھی نبیوں اور رسولوں کی طرح خدا کے مرسلوں میں داخل ہے۔ بخاری میں وما ارسلنا من رسول ولا نبيّ ولا محدث کی قراءت غور سے پڑھو۔ اور نیز ایک دوسری حدیث میں ہے کہ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل ۔ صوفیا نے اپنے مکاشفات سے بھی اس حدیث کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تصحیح کی ہے۔ یہ بھی یادر ہے کہ مسلم میں مسیح موعود کے حق میں نبی کا لفظ بھی آیا ہے یعنی بطور مجاز اور استعارہ کے۔ اسی وجہ سے براہین احمدیہ میں بھی ایسے الفاظ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے حق میں ہیں۔ دیکھو صفحہ ۴۹۸ میں یہ الہام ہے ۔ هو الذي ارسل رسوله بالهدىٰ ۔ اس جگہ رسول سے مراد یہ عاجز ہے۔ اور پھر دیکھو صفحہ ۵۰۴ براہین احمدیہ میں یہ الہام جرى اللہ في حلل الانبیاء ۔ جس کا ترجمہ ہے خدا کا رسول نبیوں کے لباس میں ۔ اس الہام میں میرا نام رسول بھی رکھا گیا اور نبی بھی ۔ پس جس شخص کے خود خدا نے یہ نام رکھے ہوں اس کو عوام میں سے سمجھنا کمال درجہ کی شوخی ہے ۔ اور خدا کے نشانوں کی شہادتیں کسی طرح کمزور نہیں ہو سکتیں ۔ خواہ نبی کے ذریعہ سے ہوں یا محدث کے ذریعہ سے ۔ اصل تو یہ ہے کہ خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور آپ کا فیض ایک مظہر پیدا کر کے اپنی گواہی آپ دلاتا ہے اور ولی کو مفت کا نام حاصل ہوتا ہے۔ سو در حقیقت ولی جو مصدّق ہے وہ آپ سے زینت پاتا ہے آپ اس سے زینت نہیں پاتے ۔ واللہ درّ القائل ؎
ہمہ خوبانِ عالم را بہ زیور ہا بیارایند
تو سیمیں تن چناں خوبی کہ زیور ہا بیارائی
ہم بیان کر چکے ہیں کہ مسیح موعود کے ظہور کی علامات جو پوری ہونے والی تھیں وہ پوری ہو چکیں ۔ صحیح بخاری میں ایک بڑی علامت یہی لکھی گئی تھی کہ وہ غلبہ صلیب کے وقت میں ظاہر ہوگا۔ چنانچہ حدیث يَكْسِرُ الصَّلِيْبَ صریح اس امر پر دلالت کر رہی ہے ۔ اب کس عقلمند کو اس بات میں کلام ہو سکتا ہے کہ صلیبی عقائد کی اشاعت کمال کو پہنچ گئی☆ ۔ فقرہ یکسر الصلیب کے الفاظ وہ الفاظ ہیں جن پر کمال وثوق سے یقین کیا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے تھے اور جس قدر ہم ان لفظوں میں غور کریں اُسی قدر ایک روشنی بخش ثبوت اس بات کا پیدا ہوتا ہے کہ اس امر میں کچھ بھی شک نہیں کہ یہ پیشگوئی تمام تر صراحت یہی بتلا رہی ہے کہ مسیح آنے والا عیسائی مذہب کے غلبہ میں آئے گا ۔ پس طالب حق کو یہ امر ایک فیصلہ شدہ مان لینا چاہئیے کہ مسیح موعود کا ظہور عیسائیت کے غلبہ کے وقت سے وابستہ ہے اور کچھ شک نہیں ہے کہ یہ علامت ظہور میں آچکی ہے اور پادریوں کے حملوں سے اور اُن کی کروڑ ہا کتابوں کی اشاعت سے جس قدرنا دانوں اور غافلوں اور بے خبروں کو دھو کے لگے ہیں اور جس قدر ارتداد کے بازار گرم ہوئے ہیں اور جس قدر سيدنا امام الطيبين خير المرسلین کی توہین کی گئی ہے اور جس قدر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم اور تعلیم اسلام یہاں تک کہ امہات المومنین ازواج مطہرات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹے الزام لگائے گئے ہیں کیا کوئی مومن یہ رائے ظاہر کر سکتا ہے کہ ابھی یہ ظالمانہ حملے کمال کو نہیں پہنچے اور ابھی تو ہین اور جھوٹے الزامات کے لگانے اور مخلوق کو دھوکا دینے اور ارتداد کا بازار گرم کرنے میں کچھ کسر باقی رہ گئی ہے۔ میں خیال کرتا ہوں کہ ایسا خیال بجز کسی سیاہ دل نادان کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔ اور سچا محبّ اللہ رسول کا جس وقت وہ کتابیں دیکھے گا جو صلیب کی تائید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین میں لکھی گئی ہیں تو بے شک اس کا جگر پاش پاش ہو گا اور وہ ضرور سمجھ لے گا کہ یہ وہ غلوّ ہے جو توہینِ اسلام اور تائیدِ باطل میں انتہا تک پہنچ گیا ہے۔ اور جب یہ قبول کر لیا گیا کہ غلوّ انتہا تک پہنچ گیا ہے تو ساتھ ہی ماننا پڑا کہ کسرِ صلیب کا وقت آگیا اور جب وقت آ گیا تو ساتھ اس کے یہ بھی ماننا پڑا کہ اب وہ دن ہیں کہ جن میں ضرور ہے کہ مسیح موعود ظاہر ہو چکا ہو کیونکہ خدا کے وعدوں کا ٹلنا محال ہے۔ ہاں ہم بار بار یاد دلاتے ہیں کہ کسرِ صلیب کا وقت تو آ گیا لیکن یہ کسر محض رُوحانی طریق سے ہوگا ۔ خدا تعالیٰ نے یہی ارادہ فرمایا ہے کہ جس طرز پر مخالف کے حملے ہوں اُسی طرز پر اُن حملوں کا ذَبّ اور دفع کیا جائے ۔ پس جبکہ محض قلم اور تحریر اور تقریر کے رُو سے حملے ہیں اِس لئے مناسب ہے کہ اسلام کی طرف سے بھی تحریر اور تقریر تک حملے محدود ہوں اور کوئی اشتعال اور غضب جہادی لڑائیوں کے رنگ میں ظاہر نہ ہو بلکہ نرمی اور بردباری سے دشمن کی غلطیوں کو دُور کر دیا جائے اور یہ بھی مناسب نہیں کہ عیسائیوں کی سخت گوئی سُن کر حکّام کے آگے استغاثہ کریں کیونکہ یہ بھی ضعف کی نشانی ہے۔ مذہبی آزادی سے جیسا کہ عیسائی فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ ایسا ہی مسلمان بھی اُٹھا سکتے ہیں مگر تہذیب اور نرمی کے ساتھ ۔ یاد رکھو کہ عیسائیوں اور آریوں کی طرف سے ہزار سختی کی جائے گو وہ کیسی ہی بدگوئی کریں گالیاں نکالیں لیکن اگر نرمی سے کام لو گے اور بردباری سے سختی کا جواب دو گے تو ایک دن ضرور ایسا آئے گا کہ نادان معترض سمجھ جائیں گے کہ یہ تمام اعتراضات اُن کی اپنی ہی غلط کاریاں تھیں تب ندامت کے ساتھ اپنی شوخیوں اور بد زبانیوں سے توبہ کریں گے۔
اَب ہم پھر اصل مطلب کی طرف عود کر کے کہتے ہیں کہ حدیثوں کے رُو سے مسیح موعود کے ظہور کی یہ علامت ہے کہ اُس وقت صلیبی مذہب کی تائید میں بڑی بڑی کوششیں کی جائیں گی اور نادان لوگ اس قدر بد گوئی اور گالیوں اور فحش بولنے کی نجاست کھا ئیں گے کہ خنزیر بن جائیں گے۔ تب مسیح ظہور کرے گا اور رُوحانی حربہ یعنی اتمام حجت سے اُن خنزیروں کا کام تمام کر دے گا۔ اور اس کے ساتھ فرشتے نازل ہوں گے یعنی سچائی کی تائید میں کچھ ایسی ہوا چلے گی کہ دلوں کو اسلامی توحید کی طرف پھیرے گی اور لوگ باطل عقیدوں سے بالطبع متنفّر ہوتے جائیں گے اور اس طرحِ ملل باطلہ پر موت آ جائے گی ۔ اِن حدیثوں کے یہی معنے واقعی طور پر صحیح ہیں ۔ نہ یہ کہ تلوار چلے گی اور تمام دنیا خون میں غرق کی جائے گی ۔ !!
اب جبکہ صلیبی زور اور صلیبی حمایت اور بدگوئی میں قلم زنی انتہا تک پہنچ گئی تو وہ علامت جو ہمارے سیّد و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہورِ مسیح موعود کے لئے مقرر فرمائی تھی ظاہر ہوگئی۔ اور احادیثِ صحیحہ میں لکھا ہے کہ جب علامات کا ظہور شروع ہوگا تو تسبیح کے دانوں کی طرح جبکہ اُن کا دھاگہ توڑ دیا جائے وہ ایک دوسرے کے بعد ظاہر ہوتی جائیں گی۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ غلبۂ صلیب کی علامت کے ساتھ اور تمام علامتیں بلا توقف ظاہر ہونی چاہئیں ۔ اور جو علامتیں اب بھی ظاہر نہ ہوں اُن کی نسبت قطعی طور پر سمجھنا چاہیے کہ وہ علامتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان نہیں فرمائیں یا بیان فرمائیں مگر ان سے ان کے ظاہری معنے مراد نہ تھے کیونکہ جب علامات کا تسبیح کے دانوں کی طرح ایک کے بعد دوسرے کا ظاہر ہونا ضروری ہے، تو جو علامت اِس نظام سے باہر رہ جائے اور ظاہر نہ ہو اس کا باطل ہونا ثابت ہوگا ۔ دیکھو یہ علامتیں کیسی ایک دوسرے کے بعد ظہور میں آئیں (۱) چودھویں صدی میں سے چودہ برس گزر گئے جس کے سر پر ایک مجدّد کا پیدا ہونا ضروری تھا (۲) صلیبی حملے مع فحش گوئی اسلام پر نہایت زور سے ہوئے جو کسرِ صلیب کرنے والے مسیح موعود کو چاہتے تھے ۔☆
(۳) ان حملوں کے کمال جوش کے وقت میں ایک شخص ظاہر ہوا جس نے کہا کہ میں مسیح موعود ہوں ۔ (۴) آسمان پر حدیث کے موافق ماہ رمضان میں سورج اور چاند کا گسوف خسوف ہوا۔ (۵) ستارۂ ذوالسّنین نے طلوع کیا وہی ستارہ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں نکلا تھا جس کی نسبت حدیثوں میں پیشگوئی کی گئی تھی کہ وہ آخر زمان یعنی مسیح موعود کے وقت میں نکلے گا۔ (۶) ملک میں طاعون پیدا ہوا ابھی معلوم نہیں کہاں تک انجام ہو۔ یہ بھی حدیثوں میں تھا کہ آخر زمان یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں طاعون پھوٹے گی ۔ (۷) حج بند کیا گیا۔ یہ بھی حدیثوں میں تھا کہ آخر زمان یعنی مسیح کے زمانہ میں لوگ حج نہیں کر سکیں گے ۔ کوئی روک واقع ہوگی ۔ (۸) ریل کی سواری پیدا ہو گئی۔ یہ بھی حدیثوں میں تھا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ایک نئی سواری پیدا ہو گی جو صبح اور شام اور کئی وقت چلے گی اور تمام مدار اس کا آگ پر ہوگا اور صد ہا لوگ اُس میں سوار ہوں گے (۹) باعث ریل اکثر اونٹ بے کار ہو گئے ۔ یہ بھی حدیثوں اور قرآن شریف میں تھا کہ آخری زمانہ میں جو مسیح موعود کا زمانہ ہوگا اونٹ بے کار ہو جائیں گے ۔ (۱۰) جاوا میں آگ نکلی اور ایک مدت تک کنارۂ آسمان سُرخ رہا۔ یہ بھی حدیثوں میں تھا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ایسی آگ نکلے گی ۔ (۱۱) دریاؤں میں سے بہت سی نہریں نکالی گئیں ۔ یہ قرآن شریف میں تھا کہ آخری زمانہ میں کئی نہریں نکالی جائیں گی۔
ایسا ہی اور بھی بہت سی علامتیں ظہور میں آئیں جو آخری زمانہ کے متعلق تھیں ۔ اب چونکہ ضرور ہے کہ تمام علامتیں یکے بعد از دیگرے واقع ہوں اس لئے یہ ماننا پڑا کہ جو علامت ذکر کردہ عنقریب وقوع میں نہیں آئے گی وہ یا تو جھوٹ ہے جو ملا یا گیا اور یا یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ اور معنوں سے یعنی بطور استعارہ یا مجاز وقوع میں آ گئی ہے۔ اور طریق عقلی بھی یہی چاہتا ہے کہ مسیح موعود کا اسی طرح ظہور ہو کیونکہ عقل کے سامنے ایسی کوئی سنت اللہ نہیں جس سے عقل اس امر کو شناخت کر سکے کہ آسمان سے بھی لوگ صد ہا برس کے بعد نازل ہوا کرتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ کے نئے نشان بھی یہی گواہی دے رہے ہیں۔ کیونکہ اگر یہ کاروبار انسان کی طرف سے ہوتا تو بموجب وعدۂ قرآن شریف چاہیے تھا کہ جلد تباہ ہو جاتا۔ لیکن خدا اس کو ترقی دے رہا ہے۔ بہت سے نشان ایسے ظاہر ہو چکے ہیں کہ اگر ایک منصف سوچے تو بدیہی طور پران نشانوں کی عظمت اُس پر ظاہر ہو سکتی ہے۔ لیکھرام کی موت کی پیشگوئی کس معرکہ کی پیشگوئی تھی اور کس زور شور سے پوری ہوئی ۔ کس قدر پیشگوئیاں ہیں جو پوری ہو چکیں ۔ کہاں ہے آتھم؟ اور کہاں ہے لیکھرام؟ اور کہا ہے احمد بیگ ؟ اگر ذرّہ عقل سے کوئی شخص کام لے تو اُسے معلوم ہوگا کہ یہ تینوں شخص پیشگوئیوں کے مطابق فوت ہوئے ہیں۔ براہین احمدیہ کی پیشگوئیاں جو اس زمانہ سے سترہ سال پہلے لکھی گئیں کس قدر عظمت اپنے اندر رکھتی ہیں۔ ان میں ان تمام امور کا نقشہ کھینچ کر دکھلایا گیا ہے جو آج تک بعد میں ظہور میں آتے رہے۔ براہین احمدیہ میں قبل از وقت بذریعہ الہام یہ بتلایا گیا ہے کہ دُور دُور سے لوگ آئیں گے اور اِس جماعت میں داخل ہوں گے اور خدا بہت سے ممد و معاون پیدا کرے گا جو اپنے مالوں کے ساتھ مدد دیں گے۔ اور یہ بھی براہین احمد یہ میں لکھا ہے کہ تین فتنے تین قوموں مسلمانوں اور پادریوں اور آریوں کی طرف سے برپا ہوں گے۔ اب دیکھو کہ یہ سب باتیں کس صفائی کے ساتھ پوری ہوئیں اور ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ کی نسبت اور اس کے انجام کے بارے میں دو ماہ پیشتر اپنی جماعت میں قریباً دو سو آدمی کو بتلایا گیا۔ دیکھو وہ جیسا کہ بتلایا تھا ویسا ہی ظہور میں آیا ۔ مہوتسو کے جلسہ کی نسبت الہامی اشتہار دیا گیا تھا کہ ہمارا مضمون بالا رہے گا اور وہ اشتہار قبل از وقت ہندوؤں اور مسلمانوں سب کو پہنچایا گیا تھا۔ دیکھو وہ الہام کیسا سچ نکلا ۔ اب خود سوچو کہ کیا اس قدر الہام جو بعض اُن میں سے سترہ سال پہلے بتلائے گئے کیا یہ انسان کا کام ہو سکتا ہے؟ نہیں نہیں بلکہ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے تا وہ اپنے بندے کی سچائی پر گواہی دے ۔ یہ وہی گواہی ہے جس کی نسبت براہین احمدیہ صفحہ ۲۴۰ میں یہ الہام ہے ۔ قل عندى شهادة من اللہ فهل انتم مومنون . قل عندى شهادة من اللہ فهل انتم مسلمون ۔ ترجمہ : ان کو کہہ کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے۔ پس کیا تم مانتے ہو؟ کیا تم اطاعت کرتے ہو؟ دیکھو کس قدر گواہیاں میرے اس دعویٰ پر ہیں ۔ (۱) نئے نشان جو میرے ہاتھ پر ظاہر ہوئے اور ہو رہے ہیں الگ گواہیاں ہیں۔ (۲) ہمارے سیّد و مولیٰ کی علامات مقرر کردہ کا اس وقت پورا ہونا یہ الگ شہادتیں ہیں۔ (۳) اہل کشف کی پیشگوئیوں کا اس زمانہ میں میرے حق میں پورا ہونا ۔ جیسے شاہ ولی اللہ کی پیشگوئی اور نعمت اللہ کی پیشگوئی اور گلاب شاہ کی پیشگوئی یہ تمام الگ شہادتیں ہیں۔ (۴) اور صدی کے سر کا ایک ایسے مجدّد کو چاہنا جو کسرِ صلیب کے لئے مامور ہو یہ الگ شہادت ہے۔ (۵) زمانہ کی حالت موجودہ کا ایسے امام کو چاہنا جو آفاتِ حملہ صلیبہ کے مناسب حال ہو یہ الگ شہادت ہے۔ غرض ہر ایک طریق سے حجت پوری ہوگئی ہے۔ اب جو شخص انکار کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے ارادہ کا مقابلہ کر رہا ہے۔
اگر کوئی شخص تعصب سے الگ ہو کر اور پاک طبیعت لے کر ہمارے ان دلائل کو با معان نظر دیکھے گا وہ نہ صرف یہی دلائل بلکہ دلائل پر دلائل معلوم کرے گا اور ثبوت پر ثبوت اُسے نظر آئے گا ۔ جو لوگ اس بات کو نہیں مانتے کہ یہی وقت مسیح موعود کے ظہور کا وقت ہے اُن کو بڑی دقتیں پیش آئی ہیں اور اُن کا دل ہر وقت انہیں جتلا رہا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے الزام کے نیچے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ زمانہ آ گیا اور بہت سا حصہ اُس میں سے گذر بھی گیا۔ پھر اس وقت مسیح موعود کے ظہور سے انکار گویا خدا اور اُس کے رسول کے فرمودہ سے انکار ہے۔ کیا نہیں دیکھتے کہ وہ آفتیں بر پا ہیں جن کا بر پا ہونا مسیح موعود کے ظہور کے لئے ایک پختہ اور قطعی علامت ٹھہرایا گیا تھا۔ کیا انہیں معلوم نہیں ہوا کہ کسوف خسوف رمضان پر بھی کئی سال گذر گئے جو دارقطنی میں امام باقر سے مہدی موعود کا نشان قرار دیا گیا تھا اور اس کا معجزہ سمجھا جاتا تھا۔ اور یہ نشان مہدی موعود یعنی خسوف کسوف ماہِ رمضان میں فتاویٰ ابن حجر میں لکھا گیا تھا جو حنفیوں کی ایک نہایت معتبر کتاب ہے۔ پھر کیا وجہ کہ زمین کے نشان بھی ظاہر ہو گئے اور آسمان کے بھی ۔ مگر مسیح موعود ظاہر نہ ہوا ؟ کیا ارتداد کی وبا پھوٹ نہیں پڑی ؟ کیا اب تک کئی لاکھ آدمی طعمۂ نہنگ مخلوق پرستی نہیں ہو چکا ؟ کیا عیسائیت آگ کے طوفان کی طرح بہت سے گھروں کو کھا نہیں گئی؟ پس کیا اب تک وہ وقت نہیں پہنچا کہ خدا کی نظر گم گشتہ انسانوں کو رحم کی نظر سے دیکھے اور صلیبی حملوں کی کسر میں مشغول ہو؟ کیا اِسی غرض سے چودھویں صدی کے سر کی انتظار نہیں تھی؟ سچ کہو عام مسلمانوں کا کانشنس بموجب قول مشہور ''زبانِ خلق نقارۂ خدا'' چودھویں صدی کی نسبت کیا بول رہا تھا ؟ سو بھائیو آؤ ! خدا سے صلح کرو! سچی پر ہیز گاری سے کام لو۔ آسمان اپنے غیر معمولی سماوی حوادث سے ڈرا رہا ہے۔ زمین بیماریوں سے انذار کر رہی ہے۔ مبارک وہ جو سمجھے۔
اور یہ عذر جس کو ہمارے کو تاہ اندیش علماء بار بار پیش کیا کرتے ہیں کہ مسیح کا آسمان سے نازل ہونا اور منارۂ دمشقی کے قریب اُترنا ضروری ہے۔ یہ اُن دلائل اور نشانوں اور ثابت شدہ واقعات کے مقابل پر جو اس کتاب میں لکھے گئے ہیں ایسی فضول بات اور کچا خیال ہے جس پر ایک عقلمند نہایت افسوس کے ساتھ تعجب کرے گا ۔ افسوس ان لوگوں کو اب تک یہ خیال نہیں آیا کہ ایسی عبارتیں کہ جو محکمات اور بیّنات کے مقابل میں پڑے ہیں واجب التاویل ہیں ۔ کیا خدا کا کلام نعوذ باللہ اختلافات اور تناقضات کا مجموعہ ہے؟ بلکہ اگر خدا تعالیٰ کا خوف ہے تو ایسی عبارتوں کے جس طور سے چاہو معنے کر سکتے ہو پھر کیا ضرور کہ اِن حدیثوں کے ایسے معنے کئے جائیں جو ثابت شدہ نشانوں اور بیّنات کے مقابل پر پڑیں۔ قرآن شریف میں آیت قَدۡ اَنۡزَلَ اللّٰہُ اِلَیۡکُمۡ ذِکۡرًا رَّسُوۡلًا میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نازل ہی لکھا گیا ہے مگر کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم در حقیقت آسمان سے نازل ہوئے تھے؟ سو اپنے نفسوں پر ظلم مت کرو اور تناقض کو درمیان سے اُٹھاؤ۔ ایسی عبارتوں کی بہت سادہ طور پر تو جیہ ہو سکتی ہے اور وہ یہ کہ مسیح موعود دمشق کے مشرقی طرف خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوگا اور اِس میں کیا شک ہے کہ قادیاں دمشق کی مشرقی طرف ہے اور ایسا ہی کئی اور تو جیہیں ہو سکتی ہیں جو واقعات ثابت شدہ کے منافی نہیں ہیں ۔ بعض نادان کہتے ہیں کہ بعض اقوال صحابہ میں نزول کے ساتھ اِلٰی کا لفظ آیا ہے جو اوپر سے نیچے کی طرف کے لئے مستعمل ہے مگر وہ نہیں سمجھتے کہ جس حالت میں استعارہ کے طور پر خدا تعالیٰ کے ماموروں کی نسبت توریت اور انجیل اور قرآن میں یہ محاورہ آ گیا ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہوتے ہیں تو اس صورت میں استعارہ کے طور پر مسیح موعود کے نزول کے ساتھ اِلٰی کا لفظ ملانا کونسی غیر محل بات ہے؟ کیا قرآن میں نہیں ہےاَنۡزَلَ اللّٰہُ اِلَیۡکُمۡ ذِکۡرًا رَّسُوۡلًا اور جس حالت میں قرآن شریف سے قطعی طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے اور صحیح بخاری میں اِن آیات کے معنے بھی وفات دینا ہی بیان کیا ہے۔ اور بڑے بڑے اماموں جیسے امام مالک اور ابن حزم کا بھی یہی مذہب ہے تو پھر کیوں اسلام کے عقائد میں ناحق تفرقہ اور تناقض پیدا کیا جاتا ہے؟ ہمارے مخالف اِس کا جواب بجز دھوکا اور خیانت کی باتوں کے کچھ بھی نہیں دے سکتے ۔ غایت کار کہتے ہیں کہ بخاری میں جو یہ حدیث ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پانے میں اپنے تئیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مشابہت دی اور فرمایا کَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ اِس سے سمجھا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح فوت نہیں ہوئے کیونکہ مشبّہ اور مشبّہ بہ میں فرق چاہئیے ۔ اب دیکھنا چاہئیے کہ کس قدر مکر اور دجل ہے کہ یہ لوگ استعمال میں لا رہے ہیں۔ عقلمند سوچیں کہ مشبّہ اور مشبّہ بہ میں کسی قدر فرق تو ضرور ہوتا ہے۔ مگر کیا یہ فرق کہ ایک زندہ ہو اور دوسرا مُردہ ۔ مُردہ کو زندہ سے کیا مشابہت ہے اور زندہ کو مُردہ سے کیا مناسبت ۔ بلکہ علمِ معانی میں اس امر کی تصریح کی گئی ہے کہ اصل امر میں مشبّہ اور مشبّہ بہ اشتراک رکھتے ہیں ۔ مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ زید شیر کی مانند ہے تو زید اور شیر دونوں مشبّہ اور مشبّہ بہ ٹھہریں گے۔ لیکن اس تشبیہ سے یہ مراد ہرگز نہیں ہو گی کہ زید بُز دل ہے اور شیر شجاع ہے بلکہ اصل امر جو شجاعت ہے دونوں کا اس میں اشتراک ہوگا۔ اور صرف یہ فرق ہو گا کہ وہ ایک درندہ کی شجاعت ہے اور یہ ایک انسان کی شجاعت ۔ مگر نفس امر شجاعت دونوں میں پایا جائے گا ۔ یا مثلاً یہ جو کہا جاتا ہے کہ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ تو اس سے ہرگز نہیں سمجھا جاتا کہ مفہوم صلوٰۃ کا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت استعمال کیا گیا ہے وہ غیر اس مفہوم کا ہے جو حضرت ابراہیم کی نسبت استعمال کیا گیا ہے۔ ایسا خیال کرنا تو سراسر حماقت ہے پس اسی طرح یہ بھی حماقت ہے کہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کر کے آنجناب کی وفات مراد لی جائے اور پھر جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اِسی آیت کو منسوب کریں تو اُن کی حیات مُراد لی جائے تو یہ تشبیہہ کیونکر ٹھہری ؟ یہ دونوں امر تو ایک دوسرے کے ضدّ واقع ہیں۔ اِس سے زیادہ اَور کوئی حماقت نہیں ہو گی کہ تشبیہہ میں مخالفت اور منافات تلاش کی جائے ہاں جس فرق کا مشبّہ مشبّہ بہ میں باوجود اشتراک امر مشابہت کے ہونا ضروری ہے۔ اس جگہ وہ فرق اِس طرح پر ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اِس بات کا جواب دینا تھا کہ اُن کے مرنے کے بعد ان کی پرستش ہوئی اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا جواب دینا تھا کہ آپ کی وفات کے بعد بعض لوگ اسلام کی سنتوں اور راہوں پر قائم نہ رہے اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دی۔ اس اختلاف سے جو دو اُمتوں کی ضلالت میں پایا جاتا ہے مشبّہ اور مشبّہ بہ کا فرق ظاہر ہو گیا اور یہی ہونا چاہیے تھا نہ یہ کہ مشبّہ اور مشبّہ بہ ایک دوسرے کے نقیض ہوں جیسے مردہ اور زندہ اور بزدل اور شجاع ۔
میں نہیں کہہ سکتا کہ مولوی لوگ با وجود عقل رکھنے کے محض غلطی کی وجہ سے ایسی ایسی بیہودہ باتیں مُنہ پر لاتے ہیں بلکہ عمدًا اُن کا یہ ارادہ معلوم ہوتا ہے کہ عوام کو دھوکا دے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے قبول کرنے سے محروم رکھیں یہاں تک کہ اُن میں سے بعض لوگوں نے عوام میں یہ باتیں مشہور کر رکھی ہیں کہ مہدیٔ موعود کی بڑی بھاری نشانی یہ ہے کہ اُس کے بدن میں بجائے خون کے دودھ ہوگا ۔ اس افترا کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب تک مہدی موعود کو قتل نہ کرو اور اس کی رگوں میں سے دودھ نہ نکلے اس کا سچا ہونا ثابت ہی نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے عوام میں مشہور ہے کہ انگریز جو چیچک کا ٹیکہ لگاتے ہیں وہ ٹیکہ نہیں بلکہ مہدی کی تلاش کر رہے ہیں اور آزماتے ہیں کہ جس کے بدن میں سے بجائے خون دودھ نکلے گا پس وہی مہدی ہے اس کو پکڑ لو ۔ حالانکہ اس گورنمنٹ دانشمند کو اِن واہیات باتوں سے کچھ بھی تعلق نہیں کوئی مہدی ہو یا مسیح ہو اس سے ان کو کچھ غرض واسطہ نہیں جب تک کہ وہ بغاوت کے خیالات پھیلانے سے امورِ سلطنت میں خلل انداز نہ ہو اور مَفْسَدَہ پَردازی نہ کرے۔ غرض ان لوگوں نے ایسی ہی اباطیل اور اکاذیب شائع کر کے بجائے علم اور حکمت کے حمق اور جہالت کو اسلام میں پھیلایا ہے۔ کوئی ان لوگوں کو نہیں پوچھتا کہ اے نیک بختو ! اب تو حضرت مسیح کے دنیا سے جانے پر دو ہزار برس بھی ہونے لگے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو تیرہ سو برس گزر کر چودھویں صدی میں سے بھی چودہ برس گزر گئے ۔ کیا اب تک مسیح موعود اور مہدی معہود کی پیشگوئیاں آگے ہی آگے چلی جاتی ہیں؟ مولویوں کی اس حاسدانہ تکذیب اور تکفیر نے جو ہماری نسبت کی گئی اس امر کو پورے طور پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ در حقیقت تقوی اور خدا ترسی سے خالی تھے کیونکہ خدا تعالیٰ متقی کو ہرگز ضائع نہیں کرتا اور گمراہ ہونے نہیں دیتا۔
ایک بڑے افسوس کے لائق ذکر یہ ہے کہ جیسے ایک مسافر وبا کا اثر اپنے ساتھ لے کر اوروں کو بھی اندیشہ ہلاکت میں ڈالتا ہے اسی طرح ہمارے علماء کا بھی یہی حال ہے۔ ایک شخص بہت سے اسباب حقد اور کینہ کی وجہ سے تکفیر اور تکذیب اور سب اور شتم پر آمادہ ہوتا ہے اور دوسرا آنکھ بند کر کے اُس کی باتیں سنتا اور اس کی اکاذیب سے متاثر ہو کر ایسا ہی ایک زہردار جان دار بن جاتا ہے جیسا کہ پہلا شخص تھا۔ اور اس طرح ایک وبا کی طرح ایک سے دوسرے تک یہ مرض پہنچتا ہے یہاں تک کہ لوگ اپنے تمام ایمان اور تقویٰ کو الوداع کہہ کر شخص مفسد کے پیچھے ہو لیتے ہیں اور جیسا کہ آجکل دریافت کیا گیا ہے کہ مادہ وباء طاعون دراصل کیڑے ہیں جو زمین میں پیدا ہوتے ہیں اور پھر پیروں کے ذریعہ سے انسان کے خون سے ملتے ہیں ۔ ایسا ہی سچائی سے اعراض کرنے کی وبا جو آجکل پھیل رہی ہے اس کا موجب بھی کیڑے ہی معلوم ہوتے ہیں جو مختلف ناموں حسد یا حمق یا تعصب یا کبر سے موسوم ہو سکتے ہیں ۔ جس قدر اسلام میں عیسائی مذہب کے باطل عقیدوں نے دخل پایا ہے وہ دخل بھی در حقیقت ان ہی وجوہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اندرونی فساد ترک تقویٰ اور جہل اور نادانی کا اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ بوجہ مناسبت صوری طبائع فاسدہ ایسے عقائد اور طریقوں کو قبول کرنے کے لئے پہلے سے ہی تیار تھیں ۔ چونکہ ہر ایک شخص کی حالت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اس لئے ہم اپنے ذاتی تجربہ کی بنا پر کہہ سکتے ہیں کہ جن لوگوں نے ہمارے مقابل پر تقویٰ کو ضائع کیا اور راستی سے دشمنی کی وہ نہایت خطرناک حالت میں ہیں اور اگر وہ اس بدسیرت میں اور بھی ترقی کریں اور رفتہ رفتہ کھلے کھلے طور پر قرآن شریف سے منہ پھیر لیں تو ان سے کیا تعجب ہے !!
حالات موجودہ سخت خوف میں ڈالتے ہیں کیونکہ وہ زیر کی جو زمانہ کے مناسب حال ان لوگوں میں پیدا ہونی چاہیے تھی وہ ان کو چھو بھی نہیں گئی ۔ آج تک یہ لوگ اس قابل بھی نہیں ہوئے کہ ان موٹے اور خائنانہ اعتراضات کا جواب دے سکیں جو پادریوں کی طرف سے ہوتے ہیں۔ حالانکہ پادریوں کے اعتراض ایسے بیہودہ ہیں کہ گو بظاہر کیسے ہی ملمع کر کے دکھلائے جائیں لیکن اگر پردہ اُٹھا کر دیکھو تو بالکل کمزور اور ہنسی کے لائق ہیں ۔ یہ لوگ یعنی عیسائی علوم عربیہ اور ہماری کتب دینیہ سے سخت غافل سخت بے خبر اور قابل شرم باتیں پیش کرتے ہیں تاہم ان مولویوں کی حالت پر افسوس جو ہمیں تو کافر اور کاذب قرار دیں لیکن جو واقعی طور پر اُن کو خدمت دینی کرنی چاہیے تھی نہ وہ خدمت کرتے ہیں اور نہ اس لائق ہیں کہ کر سکیں ۔ افسوس ! نہیں سوچتے کہ ایسے دعوے پر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے رُو سے ایک دن ضرور ہی واقع ہونے والا تھا اس قدر تکذیب کا زور دینا پر ہیز گاری کی شان سے بہت ہی بعید تھا۔ پھر جس حالت میں وہ دعوی مجرد دعوی ہی نہ تھا اس کے ساتھ قرآن اور حدیث کی شہادتیں تھیں ۔ اس کے ساتھ ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کردہ شہادتیں تھیں۔ اس کے ساتھ آسمانی نشان تھے اس کے ساتھ صدی کا سر بھی تھا اس کے ساتھ علامات قرار دادہ کا وقوع تھا تو یہ شتاب کاریاں کب مناسب تھیں ! اے زود رنج اور بداخلاقی اور بدظنی میں غرق ہونے والو! وہ پیشگوئی جو بڑے شدّ ومدّ سے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی اور خود اس کا وقت بھی مقرر فرما دیا تھا اور وصیت کی تھی کہ اس شخص کو قبول کرو تو کیا ایسا دعوئی جو رسول کریم کی پیشگوئی کی بنا پر اور عین وقت پر تھا جس میں اس پیشگوئی کی تصدیق تھی ایسی چیز تھی کہ ایک معمولی نظر سے اُس کو دیکھا جائے اور اس سے بے پروائی ظاہر کی جائے ۔ یہ بات تو کوئی نئی نہ تھی کہ آنے والا خواہ محدث ہو یا رسول یا نبی خدا تعالیٰ کی کسی کتاب یا احادیث کے وہ معنے کرے جو اس قوم نے نہیں کئے جن کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ایسا ہی ہوا۔ یہودیوں نے ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کے یہ معنے کئے کہ در حقیقت وہی یعنی ایلیا ہی دوبارہ آجائے گا۔ مگر عیسی علیہ السلام نے ان آیتوں کے یہ معنے نہ کئے بلکہ دوبارہ آنے کو استعارہ اور مجاز قرار دیا۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں یہود نے توریت کے بعض مقام کے یہ معنے کئے کہ آخری نبی جو اُن کو غیر حکومتوں سے چھڑائے گا وہ بنی اسرائیل میں سے ہو گا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ معنے کئے کہ وہ بنی اسمعیل میں سے ہے۔ ایسا ہی اس وقت میں ہوا۔ اور ایک شخص جو ذرہ عقل اور فہم سے کام لے سمجھ سکتا ہے کہ جو بعض مقامات قرآن شریف مثلاً وفات یا حیات حضرت مسیح علیہ السلام اور دوسرے امور جو ہمارے اور مخالف علماء میں متنازعہ فیہ ہیں اُن میں ہماری طرف سے کیسے شافی دلائل بیان کئے گئے ہیں اور کیسے کامل طور پر حضرت عیسی کی وفات کا ثبوت دیا گیا ہے۔
اور اگر کوئی شخص اس بحث میں نہ پڑے تو اُس کو اس مختصر سوال کا جواب دینا چاہیے کہ کیا مسیح موعود کا فہم زیادہ قابل اعتبار ہے یا اُس کے مخالفوں کا فہم؟ فرض کرو کہ مخالف علماؤں کی آرزوؤں کے موافق حضرت عیسی علیہ السلام ہی آسمان سے نازل ہوئے اور کئی مقامات قرآن اور حدیث میں علماء سے ان کا جھگڑا ہے جیسا کہ مجدّد الف ثانی صاحب اپنے مکتوبات میں لکھتے بھی ہیں کہ ضرور مسیح موعود کا بعض مسائل میں علماء وقت سے اختلاف ہوگا اور سخت نزاع واقع ہوگی اور قریب ہو گا کہ علماء ان پر حملہ کریں تو میں آپ صاحبوں سے پوچھتا ہوں کہ ایسے وقت میں کس کا فہم صحیح سمجھا جائے گا اور تقویٰ کا طریق کیا ہوگا ؟ کیا اس مسیحیت کے مدعی کا فہم لائق ترجیح اور تقدیم ہوگا یا علماء مخالف کا فہم ؟ اگر کہو کہ علماء کا فہم ۔ تو یہ امرتو ببداہت واضح البطلان ہے اور اگر کہو کہ مسیحیت کے مدعی کا فہم ! تو پھر تمام منقولی بحثیں ختم ہوگئیں ۔ اس صورت میں تو تمہیں مان لینا چاہیے کہ مسیح موعود جو کچھ قرآن اور حدیث کے معنے کرے وہی ٹھیک ہیں☆ ۔ اور پھر جب کہ آثار میں یہ خبر موجود ہے اور شیخ احمد سرہندی مجد دالف ثانی جیسا بزرگوار بھی شہادت دیتا ہے کہ مسیح موعود سے ضرور علماء کا اختلاف ہو گا حتّٰی کہ آمادہ فساد ہو جائیں گے تو پھر اس جھگڑے کو ذہن میں رکھ کر یہ شہادت دینی ضروری ہے کہ ایسے اختلاف کے وقت مسیح موعود حق پر ہوگا اور اُس کا فہم سند پکڑنے کے لائق ہو گا اور اس کے مقابل پر جو دوسروں نے سمجھا ہے وہ رڈ کرنے کے لائق ہوگا اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ جب پہلی کتابوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کے آنے کی نسبت پیشگوئی کی گئی تھی اس میں بھی یہی لکھا گیا تھا کہ یہود اس مسیح موعود سے بعض مسائل میں اختلاف اور جھگڑا کریں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ اور بڑا جھگڑا یہود نے یہ کیا کہ ایلیا دوبارہ دنیا میں نہیں آیا اور لکھا گیا تھا کہ جب تک ایلیا دوبارہ دنیا میں نہ آوے مسیح موعود نہیں آوے گا پھر یہ شخص کیونکر آ گیا ؟ اس وقت نیک دل انسانوں نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ شخص یعنی عیسی جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یہ نشان دکھلاتا ہے اس لئے اس کا فہم مقدم اور قبول کے لائق ہے اور دوسرے جاہل لوگ مولویوں سے متفق ہو گئے اور آثار میں تھا کہ اسلام میں جو مسیح موعود آئے گا اُس کے ساتھ بھی علماء بعض مسائل میں جھگڑا کریں گے اور قریب ہو گا کہ اس پر حملہ کریں۔ سو وہی جھگڑا اور اسی رنگ میں اب بھی شروع ہو گیا۔ مگر یہ جھگڑا ایسے شخص کے ساتھ کرنا کہ جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور نشان دکھلاتا ہے سراسر نادانی ہے ۔ کیونکہ ہر ایک کو اول تو یہ مان لینا چاہیے کہ مسیح موعود کے ساتھ ضرور جھگڑا ہو گا اور دوسرے یہ کہ اس وقت مسیح موعود کا فہم اعتبار کے لائق ہوگا نہ دوسروں کا فہم کیونکہ وہ خدا کے فرستادہ کا فہم ہے ۔ ہاں اگر یہ شک ہو کہ شاید یہ شخص مسیح موعود نہیں ہے تو اُس کو اسی طرح پر کھنا چاہیے جیسا کہ سجے نبیوں کو نیک نیتی کے ساتھ پر کھا گیا ۔ مگر قرآن اور حدیث کی تفسیر کے وقت بہر حال مسیح موعود کا قول قابل قبول ہوگا۔
بالآخر یادر ہے کہ جس قدر ہمارے مخالف علماء لوگوں کو ہم سے نفرت دلا کر ہمیں کافر اور بے ایمان ٹھہراتے اور عام مسلمانوں کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ یہ شخص معہ اس کی تمام جماعت کے عقائد اسلام اور اصول دین سے برگشتہ ہے۔ یہ اُن حاسد مولویوں کے وہ افترا ہیں کہ جب تک کسی دل میں ایک ذرہ بھی تقوی ہو ایسے افترا نہیں کر سکتا۔ جن پانچ چیزوں پر اسلام کی بنارکھی گئی ہے وہ ہمارا عقیدہ ہے اور جس خدا کی کلام یعنی قرآن کو پنجہ مار نا حکم ہے ہم اس کو پنجہ مار رہے ہیں اور فاروق رضی اللہ عنہ کی طرح ہماری زبان پر حَسْبُنَا کِتَابُ اللہ ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرح اختلاف اور تناقض کے وقت جب حدیث اور قرآن میں پیدا ہو قرآن کو ہم ترجیح دیتے ہیں۔ بالخصوص قصوں میں جو بالا تفاق نسخ کے لائق بھی نہیں ہیں۔ اور ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔ اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ ملائک حق اور حشر اجساد حق اور روز حساب حق اور جنت حق اور جہنم حق ہے اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو کچھ اللہ جل شانہ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اور جو کچھ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب بلحاظ بیان مذکورہ بالاحق ہے۔ اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو شخص اس شریعت اسلام میں سے ایک ذرہ کم کرے یا ایک ذرہ زیادہ کرے یا ترک فرائض اور اباحت کی بنیاد ڈالے وہ بے ایمان اور اسلام سے برگشتہ ہے۔ اور ہم اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ سچے دل سے اس کلمہ طیبہ پر ایمان رکھیں کہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ اوراسی پر مریں اور تمام انبیاء اور تمام کتابیں جن کی سچائی قرآن شریف سے ثابت ہے اُن سب پر ایمان لاویں اور صوم اور صلوٰۃ اور زکوۃ اور حج اور خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے مقرر کردہ تمام فرائض کو فرائض سمجھ کر اور تمام منہیات کو منہیات سمجھ کر ٹھیک ٹھیک اسلام پر کار بند ہوں ۔ غرض وہ تمام امور جن پر سلف صالح کو اعتقادی اور عملی طور پر اجماع تھا اور وہ امور جواہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں اُن سب کا ماننا فرض ہے اور ہم آسمان اور زمین کو اس بات پر گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے اور جو شخص مخالف اس مذہب کے کوئی اور الزام ہم پر لگا تا ہے وہ تقویٰ اور دیانت کو چھوڑ کر ہم پر افترا کرتا ہے۔ اور قیامت میں ہمارا اُس پر یہ دعویٰ ہے کہ کب اُس نے ہمارا سینہ چاک کر کے دیکھا کہ ہم باوجود ہمارے اس قول کے دل سے ان اقوال کے مخالف ہیں ۔ اَلَآ اِنَّ لَعْنَۃَ اللہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ وَ الْمُفْتَرِیْنَ ۔!!
یادر ہے کہ ہم میں اور ان لوگوں میں بجز اس ایک مسئلہ کے اور کوئی مخالفت نہیں ۔ یعنی یہ کہ یہ لوگ نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کو چھوڑ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے قائل ہیں اور ہم بموجب نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ متذکرہ بالا کے اور اجماع ائمہ اہل بصارت کے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں اور نزول سے مراد وہی معنے لیتے ہیں جو اس سے پہلے حضرت ایلیا نبی کے دوبارہ آنے اور نازل ہونے کے بارے میں حضرت عیسی علیہ السلام نے معنے کئے تھے۔ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَاور ہم بموجب نص صریح قرآن شریف کے جو آیت فَیُمۡسِکُ الَّتِیۡ قَضٰی عَلَیۡہَا الۡمَوۡتَ سے ظاہر ہوتی ہے اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ جو لوگ اس دنیا سے گزر جاتے ہیں پھر وہ دنیا میں دوبارہ آباد ہونے کے لئے نہیں بھیجے جاتے اس لئے خدا نے بھی اُن کے لئے قرآن شریف میں مسائل نہیں لکھے کہ دوبارہ آ کر مال تقسیم شدہ ان کا کیونکر ان کو ملے۔ افسوس کہ ہمارے مخالف اب تک کہے جاتے ہیں کہ "حضرت عیسی آسمانوں پر زندہ ہیں اور اُس وقت آئیں گے کہ جب عیسائی مذہب تمام روئے زمین سے اسلام کو نابود کر دے گا اور کہتے ہیں کہ اگر چہ اب تک کروڑ ہا کتا بیں اسلام کے رد میں لکھی گئیں اور کئی لاکھ آدمی مرتد ہو گئے اور کئی کروڑ انسان بے قید اور بد خیال اور ناپار سا طبع ہو گیا مگر ابھی تک اسلام بکلی نابود تو نہیں ہوا اس لئے حضرت عیسیٰ بھی اس صدی کے سر پر نہ آسکے کیونکہ وہ آسمان پر بیٹھے اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ کب پورے طور پر اسلام دنیا سے نابود ہوتا ہے۔" لیکن ان خیالات کے حامیوں کو سب سے پہلے اس بات پر غور کرنی چاہیے کہ خدا نے صریح لفظوں میں حضرت عیسی کی وفات کو قرآن کریم میں ظاہر فرما دیا ہے۔ دیکھو کیسی یہ آیت یعنی فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ حضرت عیسی کی وفات پر نص صریح ہے اور اب اس آیت کے سننے کے بعد اگر کوئی حضرت عیسی کی وفات سے انکار کرتا ہے تو اُسے مانا پڑتا ہے کہ عیسائی اپنے عقائد میں حق پر ہیں کیونکہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ عیسائی لوگ حضرت عیسیٰ کی وفات کے بعد بگڑیں گے۔ پھر جب کہ اس آیت سے موت ثابت ہوئی تو آسمان سے نازل کیونکر ہوں گے؟ آسمان پر مر دے تو نہیں رہ سکتے ۔
ماسوا اس کے جب کہ مسیح کا کام کسر صلیب ہے تو ایسے وقت میں کہ بجائے کسر صلیب کے کسر اسلام ہی ہو جائے مسیح کا آنا کیا فائدہ دے گا ۔"پس از انکہ من نمانم بچہ کار خواہی آمد" اب جب کہ صرف ساٹھ برس سے پنجاب پر عیسائی مذہب کا تسلط ہو کر یہ نوبت ارتداد پہنچ گئی ہے۔ اور چودہ برس چودھویں صدی میں سے گزر گئے اور مسیح موعود نہ آیا تو گویا کم سے کم سو برس کی اور پادریوں کو مہلت دی گئی کیونکہ بموجب آثار صحیحہ کے مسیح موعود کا صدی کے سر پر آنا ضروری ہے پس اس صورت میں خیال کر لینا چاہیے کہ کیا اس مدت تک اسلام میں سے کچھ باقی رہے گا ؟ اس سے تو نعوذ باللہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا خود ارادہ ہے کہ اسلام کو دنیا پر سے اُٹھا دے۔ کیونکہ رحم کرنے کا وقت تو یہی تھا جب کہ اسلام پر سخت حملے کئے گئے سخت بے ادبیاں کی گئیں ۔ لاکھوں انسان مرتد ہو چکے جسمانی وباؤں میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ جب مثلاً کسی حصہ ملک میں طاعون پھیلتی ہے تو دانشمند لوگ خیال کرنے لگتے ہیں کہ اب عنقریب ہم اور ہماری اولاد اور ہمارے عزیز بھی نشانہ طاعون بننے کو ہیں۔ تب اسی وقت سے تدابیر مناسبہ عمل میں لائی جاتی ہیں۔ حکام بھی قلع قمع مرض کے لئے پوری توجہ کرتے ہیں ۔ طبیب جاگ اُٹھتے ہیں۔ لہذا اب انصافاً بتلاؤ کہ کیا ملک میں یہ طاعون نہیں پھیلی ؟ کیا اب تک اسلام کی رڈ میں دس کروڑ کے قریب کتاب نہیں لکھی گئی کیا اس طاعون کی اب تک کئی لاکھ وارداتیں نہیں ہوئیں؟ کیا یہ سچ نہیں کہ کئی لاکھ بیمار نیچریت کے رنگ میں فلسفیت کے رنگ میں اباحت کے رنگ میں مخلوق پرستی کے رنگ میں وساوس اور شبہات کے رنگ میں غفلت اور لا پرواہی کے رنگ میں بستر مرگ پر پڑے ہوئے ہیں؟ پھر کیا سبب کہ اس وقت بھی اللہ تعالیٰ اپنی اس وحی کو یاد نہ کرے کہ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ۔
ہماری آخری نصیحت یہی ہے کہ تم اپنے ایمان کی خبرداری کرو۔ نہ ہو کہ تم تکبر اور لا پروائی دکھلا کر خدائے ذوالجلال کی نظر میں سرکش ٹھہرو ۔ دیکھو خدا نے تم پر ایسے وقت میں نظر کی جو نظر کرنے کا وقت تھا سو کوشش کرو کہ تا تمام سعادتوں کے وارث ہو جاؤ ۔ خدا نے آسمان پر سے دیکھا کہ جس کو عزت دی گئی اس کو پیروں کے نیچے کچلا جاتا ہے۔ اور وہ رسول جو سب سے بہتر تھا اُس کو گالیاں دی جاتی ہیں ۔ اُس کو بدکاروں اور جھوٹوں اور افترا کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اور اُس کی کلام کو جو قرآن کریم ہے بُرے کلموں کے ساتھ یاد کر کے انسان کا کلام سمجھا جاتا ہے۔ سواس نے اپنے عہد کو یاد کیا۔ وہی عہد جو اس آیت میں ہے اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ(الحجر: ۱۰) سو آج اُسی عہد کے پورے ہونے کا دن ہے۔ اُس نے بڑے زور آور حملوں اور طرح طرح کے نشانوں سے تم پر ثابت کر دیا کہ یہ سلسلہ جو قائم کیا گیا اُس کا سلسلہ ہے کیا کبھی تمہاری آنکھوں نے ایسے قطعی اور یقینی طور پر وہ خدا تعالیٰ کے نشان دیکھے تھے جواب تم نے دیکھے؟ خدا تمہارے لئے کشتی کرنے والوں کی طرح غیر قوموں سے لڑا اور ان پر فتح پائی ۔ دیکھو آتھم کے معاملہ میں بھی ایک کشتی تھی۔ تلاش کرو آج آتھم کہاں ہے☆ ؟ سنو ! آج وہ خاک میں ہے ۔ وہ اسی شرط کے موافق جو الہام میں تھی چند روز چھوڑا گیا اور پھر اسی شرط کے موافق جو الہام میں تھی پکڑا گیا۔ دوسری کشتی لیکھر ام کا معاملہ تھا۔ پس سوچ کر دیکھو کہ اس کشتی میں بھی خدا تعالیٰ کیسے غالب آیا ؟ اور تم نے اپنی آنکھ سے دیکھا کہ جس طرح اُس کی موت کی الہامی پیشگوئیوں میں پہلے سے علامتیں مقرر کی گئی تھیں اُسی طرح وہ سب علامتیں ظہور میں آئیں ۔ خدا کے قہری نشان نے ایک قوم پر سخت سوگ وارد کیا۔ کیا کبھی تم نے پہلے اس سے دیکھا کہ تم میں اور تمہارے رو برواس جلال سے خدا کا نشان ظاہر ہوا ہو؟ سواے مسلمانوں کی ذریت ! خدا تعالیٰ کے کاموں کی بے حرمتی مت کرو۔ تیسری کشتی مہوتسو کے جلسہ کا معاملہ تھا۔ دیکھو اس کشتی میں بھی خدا تعالیٰ نے اسلام کا بول بالا کیا اور تمہیں اپنا نشان دکھلایا اور قبل از وقت اپنے بندے پر ظاہر کیا کہ اُسی کا مضمون بالا رہے گا۔ اور پھر ایسا ہی کر کے دکھلا بھی دیا۔ اور مضمون کے بابرکت اثر سے تمام حاضرین کو حیرت میں ڈال دیا۔ کیا یہ خدا کا کام تھایا کسی اور کا ؟ پھر چوتھی کشتی ڈاکٹر کلارک کا مقدمہ تھا جس میں تینوں تو میں آریہ اور عیسائی اور مخالف مسلمان متفق ہو گئے تھے تا میرے پر اقدام قتل کا مقدمہ ثابت کریں۔ اس میں خدا تعالیٰ نے پہلے سے ظاہر کر دیا کہ وہ لوگ اپنے ارادے میں ناکام رہیں گے۔ اور دو سو کے قریب آدمیوں کو قبل از وقت یہ الہام سُنایا گیا اور آخر ہماری فتح ہوئی۔ پانچویں کشتی مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کا مقدمہ تھا جس کے عزیز اور لواحق اسلام سے ٹھٹھا کرتے تھے اور بعض سخت مرتد ان میں سے قرآن شریف کی سخت تکذیب کر کے اور اسلام پر زبان بد کھول کر مجھ سے تصدیق اسلام کا نشان ما نگتے تھے اور اشتہار چھپواتے تھے۔ سوخدا نے انہیں یہ نشان دیا کہ احمد بیگ عزیز اُن کا چند موتوں اور مصیبتوں کے دیکھنے کے بعد تین برس کے اندرفوت ہو جائے گا سوایسا ہی ہوا اور وہ میعاد کے اندرفوت ہو گیا تا معلوم کریں کہ ہر ایک شوخی کی سزا ہے☆ ۔
یہ پانچ کشتیاں اب تک ہوئیں جو ہمارے ذوالجلال خدا کے پُر زور بازو نے دکھلائیں اور بعض اور کشتیاں بھی آسمان پر ہیں۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ بھی عنقریب خدا تعالیٰ تمہیں دکھلائے گا اسی طرح وہ گواہیاں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلی تھیں اور پوشیدہ چلی آتی تھیں اب بہت سی اُن میں سے تمہارے دیکھتے دیکھتے پوری ہو گئیں ۔ اُس دن اور اُس گھڑی کو یاد کرو جب کہ آسمان پر چاند کو اس کے خسوف کی پہلی رات میں رمضان میں گرہن لگا تھا۔ اور ایسا ہی سورج کا وہ کسوف یاد کرو جو ٹھیک ٹھیک حدیث کے لفظوں کے موافق اس کے گرہن کے دنوں میں سے بیچ کے دن میں ہوا تھا۔ اور پھر دار قطنی کھول کر پڑھو کہ یہ وہ علامت تھی جو مہدی موعود کی سچائی کیلئے ایک نشان قرار دیا گیا تھا یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کے وعدوں کے موافق ہو گیا۔ مگر کیا تم نے اس سے کچھ بھی فائدہ اٹھایا ؟ خدا نے تمہیں کھول کر یہ پتہ بھی دیا کہ وہ آنے والا صلیب کے غلبہ کے وقت میں ظاہر ہوگا☆ ۔ جب اسلام کے دشمن نبی علیہ السلام کی سخت بے ادبی کرتے ہوں گے اور اُن میں سے گالیاں نکالنے والے تو ہین اور تحقیر اور دشنام دہی اور افترا اور جھوٹ کی نجاست کھاتے ہوں گے ۔ سو تم نے اپنی آنکھوں سے ایسی نجاست کھانے والوں کو دیکھ لیا۔ کیا پادری عمادالدین نے اس نجاست سے ایک بھاری حصہ نہیں لیا ؟ کیا پادری ٹھا کر داس کے دونوں ہاتھ اس نجاست میں آلودہ نہیں؟ کیا صاحب رسالہ امہات المومنین نے اس بد بو کے ذریعہ سے ہزاروں دماغوں کو پریشان نہیں کیا ؟ تو کیا اب تک تو ہین اور تحقیر میں کچھ کسر باقی ہے؟ اور کیا اب تک وہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی کہ جو صحیح بخاری میں ہے کہ مسیح موعود کا زمانہ وہ زمانہ ہوگا کہ جب صلیبی مذہب کا غلبہ ہوگا اور جو سچائی کے دشمن ہیں وہ اسلام اور نبی علیہ السلام کو فحش گالیاں دے کر خنزیر کی طرح جھوٹ کی نجاست کھائیں گے ۔ دیکھو آسمان نے خسوف کسوف کے ساتھ گواہی دی اور تم نے پروانہیں کی ! اور زمین نے غلبۂ صلیب اور نجاست خواروں کے نمونہ سے گواہی دی اور تم نے پرواہ نہیں کی!! اور خدا تعالیٰ کے پاک اور بزرگ نبی کی عظیم الشان پیشگوئیاں گواہوں کی طرح کھڑی ہو گئیں اور تم نے ذرہ التفات نہیں کی !!! اگر میں خود دعویٰ کرتا ہوں تو بے شک مجھے جھوٹا سمجھو۔ لیکن اگر خدا کا پاک نبی اپنی پیشگوئیوں کے ذریعہ سے میری گواہی دیتا ہے اور خود خدا میرے لئے نشان دکھلاتا ہے تو اپنے نفسوں پر ظلم مت کرو۔ یہ مت کہو کہ ہم مسلمان ہیں ہمیں کسی مسیح وغیرہ کے قبول کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو مجھے قبول کرتا ہے وہ اُسے قبول کرتا ہے جس نے میرے لئے آج سے تیرہ سو برس پہلے لکھا ہے اور میرے وقت اور زمانہ اور میرے کام کے نشان بتلائے ہیں۔ اور جو مجھے رڈ کرتا ہے وہ اُسے رڈ کرتا ہے جس نے حکم دیا ہے کہ ''اُسے مانو'' ۔ تم کیا بلکہ تمہارے باپ دادا بھی منتظر تھے کہ مسیح موعود جلد آئے۔ اور سچائی کی رُوح اُن کے اندر یہ پکارتی تھی کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر آئے گا۔ لیکن جب وہ آیا تو تم نے اُس کو کافر اور دجال ٹھہرایا اور ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا۔ کیونکہ آثار میں یہ بھی لکھا تھا کہ اُسے کافر اور دجال ٹھہرایا جائے گا ۔ اگر میں نہ آیا ہوتا تو تم پر کوئی حجت نہ تھی لیکن میرے آنے سے خدا تعالیٰ کی تم پر حجت پوری ہو گئی ۔ یہ مت گمان کرو کہ تمہارے نہ قبول کرنے سے اب وہ سلسلہ جو خدا نے اپنے ہاتھ سے برپا کیا ہے ضائع ہو جائے گا۔ کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ خدا بہت سی جماعتیں پیدا کرے گا جو اس کو قبول کریں گی اور پھر ان کو برکت دے گا یہاں تک کہ ایک دن اسلام کا عزیز گروہ وہی گروہ ہوگا۔ مگر جو کچھ تم نے کیا یا جو آئندہ خدا کرے گا وہ سب اس الہام کے موافق ہے جو پہلے براہین احمدیہ میں ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے۔
''دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔''
اب ہم پھر کسی قدر طاعون کا ذکر کرنا چاہتے ہیں ۔ سو واضح ہو کہ اکثر ظہور اس مرض کا کانوں کے آگے یا بغل کے نیچے یا گنج ران میں ہوتا ہے۔ اس طرح پر کہ ان مقامات کی غدود میں سوج جاتی ہیں یا بدن پر بڑے بڑے پھوڑے پیدا ہو جاتے ہیں ۔ اور طبری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وقت میں جو طاعون ملک شام میں پھوٹی تھی اس کی صورتِ ظہور یہ تھی کہ صرف چھوٹی سی پُھنسی ہتھیلی کے اندر نکلتی تھی اور اسی سے چند گھنٹوں میں انسان کا خاتمہ ہو جاتا تھا ۔ مگر توریت میں جہاں جہاں طاعون کا ذکر کیا گیا ہے صرف پھوڑوں کے نام سے اُس کو پکارا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں میں جو طاعون پھوٹتی رہی تھی وہ پھوڑے تھے ممکن ہے کہ قوم یا ملک یا زمانہ یا مزاج کے لحاظ سے طاعون کی صورتیں جدا جدا ہوں۔ بہر حال اُس کے ساتھ ایک حُمّٰی شدید کا ہونا ایک لازمی امر ہے جو اکثر اوقات پھوڑوں یا غدودوں کے پھیلنے سے پہلے ظاہر ہوتا ہے اور اکثر شدت تپ سے غشی تک نوبت پہنچتی ہے اور قرآن شریف میں اس مرض کا نام رِجز رکھا گیا ہے اور رِجز لغت عرب میں اُن کاموں کو کہتے ہیں جن کا نتیجہ عذاب ہو۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ بلا اکثر اور اغلب قاعدے پر انسان کی شامتِ اعمال سے ہی آتی ہے اور پھر کبھی نیک انسان بھی اس بلا کے نیچے آ جاتے ہیں اور وہ اس مصیبت سے اجر شہادت پاتے ہیں ۔ بہر حال مبدء اور موجب اس کا عذابِ الٰہی ہے جس سے ملک میں اس کا آغاز ہوتا ہے۔
اس تقریر سے ہمارا مطلب یہ نہیں ہے کہ علمی رنگ پر اس مرض کے اسباب پیدا نہیں کئے جاتے بلکہ علمی سلسلہ یعنی خَلْقِ اسباب کا سلسلہ بجائے خود ہے اور خدا تعالیٰ کے رُوحانی اِرادوں کا سلسلہ بجائے خود ایک سے دوسرا مانع نہیں۔ یہ بڑی بے وقوفی ہے کہ انسان اس حکیم مطلق کے اصل اغراض کو نظر انداز کر دے اور صرف طبعیات کے سلسلہ تک تمام کاروبار اُس ذات جامع الکمالات کا بغیر کسی مطلب اور مقصد اور غرض مطلوب کے محدود سمجھے۔ یہ خود ظاہر ہے کہ وہ ذات مدبّر بالارادہ اور متصرّف بالقصد ہے جس کے تمام کام عمیق در عمیق اسرار اپنے اندر رکھتے ہیں۔ کیا یہ دونوں باتیں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں کہ اس عالم میں جو کچھ امر خیر یا شر منصۂ ظہور میں آتا ہے وہ علومِ طبعیہ اور نظامات حکمیہ کے سلسلہ کے نیچے نیچے ہی چلتا ہو اور اسبابِ مُعتادہ سے وابستہ ہو اور بایں ہمہ اس مدبّر بالارادہ نے اس امر کے ظاہر کرنے سے خاص خاص مقاصد اور اغراض بھی اپنے علم میں مقرر کر رکھے ہوں اور اگر ایسا نہ مانا جائے تو پھر خدا تعالیٰ کا وجود نعوذ باللہ عَبث اور اس کے افعال محض بے ہودہ ہوں گے۔ لہٰذا یہی سچا فلسفہ اور واقعی دقیقۂ حکمت ہے کہ یہ تمام تغیرات ارضی و سماوی خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے علمی سلسلوں کے رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں۔
اور بایں ہمہ ان کا پیدا کرنا اور مٹانا اغراض مطلوبہ کے لئے خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر مثلاً طاعون کا اصل علاج ادویہ اور تدابیر جسمانی پر موقوف ہے تو توبہ اور اعمالِ صالحہ کو اس سے کیا تعلق ہے۔ اور اگر مدار تمام کام کا توبہ اور اعمال صالحہ ہیں تو پھر ادویہ اور تدابیر بیہودہ ہیں کیونکہ تدبیر اور دعا میں کوئی منافات نہیں ہے۔ جو کچھ ہم تدبیر یا دوا کر سکتے ہیں اُس کی تمام شرائط تاثیر بھی ہم اپنے ہی اختیار سے پیدا نہیں کر سکتے وہ بھی دعا کی طرح اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ یہ انسانی بیوقوفیاں ہیں جو ایک کو دوسرے کی ضد سمجھا جائے ۔ خدا تعالیٰ ہر ایک پہلو سے ہمارے لئے مبدء فیض ہے۔ اگر ہم نیکی کی راہیں اختیار کریں تو وہ ہمارے علم اور تدبیر کو خطا سے محفوظ رکھ کر اور تدابیر صائبہ کا ہمیں الہام فرما کر ہمیں بلا سے بچا سکتا ہے اور ہماری سرکشی اور شرارت کی حالت میں ہمارے ہی ہاتھ سے ہمیں ہلاک کر سکتا ہے۔ شریر اور خبیث طبع آدمی اس قدر آزادی پسند ہوتا ہے کہ چاہتا ہے کہ خدا سے بھی آزاد ہو جائے مگر ایسا ہونا اس کے لئے ممکن نہیں ۔ یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے تمام کاموں کو ایک ایک نظام کے رنگ میں رکھا ہے۔ مگر پھر باوجود ان تمام نظامات کے ہر ایک چیز کی کل خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
اب ہم پھر اپنی پہلی تقریر کی طرف عود کر کے کہتے ہیں کہ لفظ رِجز جو قرآن شریف میں طاعون کے معنوں پر آیا ہے وہ فَتح کے ساتھ اُس بیماری کو بھی کہتے ہیں جو اونٹ کے بُنِ ران میں ہوتی ہے اور اس بیماری کی جڑ ایک کیڑا ہوتا ہے جو اونٹ کے گوشت اور خون میں پیدا ہوتا ہے ۔ سو اس لفظ کے اختیار کرنے سے یہ اشارہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ طاعون کی بیماری کا بھی اصل سبب کیڑا ہے۔ چنانچہ ایک مقام میں صحیح مسلم میں اِسی امر کی کھلی کھلی تائید پائی جاتی ہے کیونکہ اس میں طاعون کا نام نَغَفْ رکھا ہے اور نَغَفْ لُغتِ عرب میں کیڑے کو کہتے ہیں جو اُس کیڑے سے مشابہ ہوتا ہے جو اونٹ کی ناک سے یا بکری کی ناک سے نکلتا ہے ۔ ایسا ہی کلامِ عرب میں رِجز کا لفظ پلیدی کے معنوں پر بھی آتا ہے ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ طاعون کی اصل جڑ بھی پلیدی ہے۔ اس لئے بہ رعایتِ اسباب ظاہر ضرور ہے اور وہ اس طرح پر کہ طاعون کے دنوں میں مکانوں اور کوچوں اور بدرروؤں اور کپڑوں اور بستروں اور بدنوں کو ہر ایک پلیدی سے محفوظ رکھا جائے اور ان تمام چیزوں کو عفونت سے بچایا جائے۔
شریعتِ اسلام نے جو نہایت درجے پر ان صفائیوں کا تقیّد کیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا۔ وَالرُّجۡزَ فَاہۡجُرۡیعنی ''ہر ایک پلیدی سے جُدا رہ'' یہ احکام اِسی لئے ہیں کہ تا انسان حفظانِ صحت کے اسباب کی رعایت رکھ کر اپنے تئیں جسمانی بلاؤں سے بچاوے۔ عیسائیوں کا یہ اعتراض ہے کہ یہ کیسے احکام ہیں جو ہمیں سمجھ نہیں آتے کہ قرآن کہتا ہے کہ تم غسل کر کے اپنے بدنوں کو پاک رکھو اور مسواک کرو ، خلال کرو اور ہر ایک جسمانی پلیدی سے اپنے تئیں اور اپنے گھر کو بچاؤ۔ اور بد بوؤں سے دور رہو اور مُردار اور گندی چیزوں کو مت کھاؤ۔ اِس کا جواب یہی ہے کہ قرآن نے اُس زمانہ میں عرب کے لوگوں کو ایسا ہی پایا تھا اور وہ لوگ نہ صرف رُوحانی پہلو کے رُو سے خطرناک حالت میں تھے بلکہ جسمانی پہلو کے رُو سے بھی اُن کی صحت نہایت خطرہ میں تھی ۔ سو یہ خدا تعالیٰ کا اُن پر اور تمام دنیا پر احسان تھا کہ حفظانِ صحت کے قواعد مقرر فرمائے ۔ یہاں تک کہ یہ بھی فرما دیا کہ وَّکُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا وَلَا تُسۡرِفُوۡا یعنی بے شک کھاؤ پیؤ مگر کھانے پینے میں بے جا طور پر کوئی زیادت کیفیت یا کمیّت کی مت کرو۔ افسوس پادری اِس بات کو نہیں جانتے کہ جو شخص جسمانی پاکیزگی کی رعایت کو بالکل چھوڑ دیتا ہے وہ رفتہ رفتہ وحشیانہ حالت میں گِر کر رُوحانی پاکیزگی سے بھی بے نصیب رہ جاتا ہے۔ مثلاً چند روز دانتوں کا خلال کرنا چھوڑ دو جو ایک ادنیٰ صفائی کے درجہ پر ہے تو وہ فضلات جو دانتوں میں پھنسے رہیں گے اُن میں سے مُردار کی بُو آئے گی ۔ آخر دانت خراب ہو جائیں گے اور اُن کا زہریلا اثر معدہ پر گِر کر معدہ بھی فاسد ہو جائے گا۔ خود غور کر کے دیکھو کہ جب دانتوں کے اندر کسی بوٹی کا رگ وریشہ یا کوئی جُز پھنسا رہ جاتا ہے اور اُسی وقت خلال کے ساتھ نکالا نہیں جاتا تو ایک رات بھی اگر رہ جائے تو سخت بد بو اس میں پیدا ہو جاتی ہے اور ایسی بد بو آتی ہے جیسا کہ چُوہا مرا ہوا ہوتا ہے۔ پس یہ کیسی نادانی ہے کہ ظاہری اور جسمانی پاکیزگی پر اعتراض کیا جائے اور یہ تعلیم دی جائے کہ تم جسمانی پاکیزگی کی کچھ پرواہ نہ رکھو نہ خلال کرو اور نہ مسواک کرو اور نہ کبھی غسل کر کے بدن پر سے میل اتارو اور نہ پاخانہ پھر کر طہارت کرو اور تمہارے لئے صرف روحانی پاکیزگی کافی ہے ۔ ہمارے ہی تجارب ہمیں بتلا رہے ہیں کہ ہمیں جیسا کہ روحانی پاکیزگی کی روحانی صحت کے لئے ضرورت ہے ایسا ہی ہمیں جسمانی صحت کے لئے جسمانی پاکیزگی کی ضرورت ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہماری جسمانی پاکیزگی کو ہماری روحانی پاکیزگی میں بہت کچھ دخل ہے۔ کیونکہ جب ہم جسمانی پاکیزگی کو چھوڑ کر اُس کے بد نتائج یعنی خطرناک بیماریوں کو بھگتنے لگتے ہیں تو اُس وقت ہمارے دینی فرائض میں بھی بہت حرج ہو جاتا ہے اور ہم بیمار ہو کر ایسے نکمے ہو جاتے ہیں کہ کوئی خدمت دینی بجا نہیں لا سکتے ۔ اور یا چند روز دکھ اٹھا کر دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں بلکہ بجائے اس کے کہ بنی نوع کی خدمت کر سکیں اپنی جسمانی ناپاکیوں اور ترکِ قواعدِ حفظانِ صحت سے اوروں کے لئے وبالِ جان ہو جاتے ہیں اور آخر ان ناپاکیوں کا ذخیرہ جس کو ہم اپنے ہاتھ سے اکٹھا کرتے ہیں وبا کی صورت میں مشتعل ہو کر تمام ملک کو کھاتا ہے۔ اور اس تمام مصیبت کا موجب ہم ہی ہوتے ہیں کیونکہ ہم ظاہری پاکی کے اصولوں کی رعایت نہیں رکھتے پس دیکھو کہ قرآنی اصولوں کو چھوڑ کر اور فرقانی وصایا کو ترک کر کے کیا کچھ بلائیں انسانوں پر وارد ہوتی ہیں اور ایسے بے احتیاط لوگ جو نجاستوں سے پرہیز نہیں کرتے اور عفونتوں کو اپنے گھروں اور کوچوں اور کپڑوں اور منہ سے دور نہیں کرتے اُن کی بے اعتدالیوں کی وجہ سے نوعِ انسان کے لئے کیسے خطرناک نتیجے پیدا ہوتے ہیں ۔ اور کیسی یک دفعہ وبائیں پھوٹتی اور موتیں پیدا ہوتیں ہیں اور شور قیامت برپا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ لوگ مرض کی دہشت سے اپنے گھروں اور مال اور املاک اور تمام اس جائیداد سے جو جان کاہی سے اکٹھی کی تھی دست بردار ہو کر دوسرے ملکوں کی طرف دوڑتے ہیں اور مائیں بچوں سے اور بچے ماؤں سے جدا کئے جاتے ہیں ۔ کیا یہ مصیبت جہنم کی آگ سے کچھ کم ہے؟ ڈاکٹروں سے پوچھو اور طبیبوں سے دریافت کرو کہ کیا ایسی لاپروائی جو جسمانی طہارت کی نسبت عمل میں لائی جائے وبا کے لئے عین موزوں اور مؤید ہے یا نہیں؟ پس قرآن نے کیا بُرا کیا کہ پہلے جسموں اور گھروں اور کپڑوں کی صفائی پر زور دے کر انسانوں کو اس جہنم سے بچانا چاہا جو اسی دنیا میں یکدفعہ فالج کی طرح گِرتا اور عدم تک پہنچاتا ہے۔ پھر دوسرے جہنم سے محفوظ رہنے کے لئے وہ صراطِ مستقیم بتلایا جو انسانی فطرت کے تقاضا کے عین موافق اور قانونِ قدرت کے عین مطابق ہے۔ اور ہمیں نجات کی وہ راہ بتلائی جس میں کسی بناوٹی منصوبہ کی بد بُو نہیں آتی ۔ کیا ہم خدا کے قدیم قانون کو جو تمام قوموں پر ظاہر ہوتا آیا ہے ترک کر کے صرف ایک تراشیدہ قصّے پر جو ہزاروں اور بے شمار برسوں کے بعد تراشا گیا ہے بھروسہ کر کے اور ایک عاجز انسان کو خدا قرار دے کر اور پھر لعنتی موت سے اس کو ہلاک کر کے یہ اُمید رکھ سکتے ہیں کہ اس مصنوعی طریق سے ہماری نجات ہو جائے گی اور کیا ایسا آدمی ہمارا منجی ہو سکتا ہے جس کو خود بھی دشمنوں کے ہاتھ سے نجات حاصل نہیں ہوئی اور انہوں نے اس کا پیچھا نہ چھوڑا جب تک اُس کا کام تمام نہ کر دیا۔ ہم بڑے ہی بد قسمت ہیں اگر ہمارا یہی کمزور اور ضعیف اور عاجز خدا ہے جو خود اپنے تئیں ذلتوں اور ناکامیوں اور دُکھوں سے بچا نہ سکا۔ اور جب کہ اس کے حالات کا اِس دُنیا میں یہ نمونہ ظاہر ہوا تو ہم کیونکر اُمید رکھیں کہ مرنے کے بعد اس کو کوئی نئی قوت اور طاقت حاصل ہو گئی ہوگی ۔ جو شخص اپنے تئیں بچا نہ سکا وہ دوسروں کو کیونکر بچا سکتا ہے۔ یہ کیسی نامعقول بات ہے کہ خدا ہمیں نجات نہیں دے سکتا تھا جب تک کہ ایک معصوم کو اپنی جناب سے رڈ نہ کرے اور اس سے بدل بیزار نہ ہو اور اُس کا دشمن نہ ہو جائے اور اس کے دل کو سخت اور اپنی محبت اور معرفت سے دُور اور محروم نہ کر دیوے یعنی جب تک کہ اُس کو لعنتی نہ بناوے اور مجرموں میں اس کو داخل نہ کرے۔ ایسے فرضی خدا سے ہر ایک کو پرہیز کرنا چاہئیے جس کا اپنے ہی بیٹے کے ساتھ یہ معاملہ ہو۔ سچ کہو کیا دنیا میں کوئی عقل قبول کر سکتی ہے کہ جو شخص آپ ہی لعنتی ہو پھر وہ کسی کے لئے خدا تعالیٰ کی جناب میں سفارش کر سکے۔ دیکھو عیسائی مذہب میں کس قدر بے ہودہ اور دُور از عقل و دیانت باتیں ہیں کہ اوّل ایک شخص عاجز مصیبت رسیدہ کو ناحق بے وجہ خدا بنایا جاتا ہے۔ پھر ناحق بے وجہ یہ اعتقاد رکھا جاتا ہے کہ وہ لعنتی ہو گیا۔ خدا اس سے بیزار ہو گیا وہ خدا سے بیزار ہو گیا۔ خدا اس کا دشمن ہو گیا وہ خدا کا دشمن ہو گیا۔ خدا اُس سے دُور ہو گیا وہ خدا سے دور ہو گیا پھر ان سب کے بعد یہ اعتقاد بھی ہے کہ ایسی لعنتی موت پر ایمان لانے سے تمام گناہوں کے مؤاخذہ سے فراغت ہو جاتی ہے۔ چور ہو۔ خونی ہو۔ ڈاکو ہو ۔ بدکار زانی ہو دوسروں کے مال خیانت سے یا غبن سے کھانے والا ہو غرض کچھ ہو اور کوئی گناہ کرنے والا ہو سزا سے بچ رہے گا۔ اب دیکھو یہ کیا مذہب ہے اور کیا تعلیم ہے اور کس قدر ایسے عقیدوں سے خطرناک نتائج پیدا ہوتے ہیں۔ پھر یہ لوگ باوجود اس کے کہ ایسے قابلِ شرم عقائد اُن کے گلے پڑے ہوئے ہیں اسلام پر اعتراض کرتے ہیں۔ نہیں جانتے کہ اسلام نے وہی خدا پیش کیا ہے جس کو زمین آسمان پیش کرتے ہیں جس میں کوئی بناوٹ اور نیا منصوبہ نہیں اور اسی خَالق یکتا کی طرف اسلام رہبری کرتا ہے جس کا کوئی ابتدا نہیں اور کسی عورت کے پیٹ سے پیدا نہیں ہوا اور نہ اُس پر موت آئی اور نہ اس کا کوئی بیٹا ہے تا اُس کی موت سے اُس کو غم پہنچے۔ اور اسلام نے نجات کے طریق بھی وہ سکھلائے ہیں جو ہمیشہ سے اور جب سے کہ دنیا ہے قانونِ قدرت کی شہادتوں کے ساتھ چلے آئے ہیں۔ کوئی بناوٹ کی بات اُن میں نہیں پھر جہالت اور تعصّب ایسی بلا ہے کہ یہ قوم انسان پرست کہ جو غیر خدا کی پرستش میں غرق ہے خدا پرستوں پر اعتراض کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے ہاتھ میں بجز اس کے کیا ہے کہ خدا کی کتابوں کے غلط معنے کر کے اپنے اصرار کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ وہی کتابیں ان عقائد کا رڈ کرتی ہیں اور یہودی اب تک تصدیق کرتے ہیں کہ اسرائیلی توحید ، قرآنی توحید سے متفق ہے اور اس بارے میں ہم اور یہودی اور بعض فرقۂ عیسائیان بھی ، اور خدا کا قانون قدرت بھی ان کے مخالف ہیں۔ یہ تمام پرستشیں یعنی مخلوق کی پوجا انسانی غلط کاریوں سے پیدا ہوئی ہیں ۔ کسی نے پتھر کی پوجا کی کسی نے انسان کی ۔ کسی نے کشلیا کے بیٹے کو خدا سمجھ لیا اور کسی نے مریم کے بیٹے کو خدا قرار دے دیا۔ یہ لوگ مسلمانوں کو کیوں کر جھوٹ کی طرف بلاتے ہیں مسلمانوں کا خدا تو وہ خدا ہے جو زمین آسمان پر نظر ڈال کر ضروری معلوم ہوتا ہے اور ہمیشہ تازہ نشانوں سے اپنا وجود ظاہر کرتا ہے۔ ایک سچا مسلمان اس کی آواز اب بھی اُسی طرح سُن سکتا ہے جس طرح حضرت موسیٰ نے کوہ طُور پر سُنی تھی۔ وہ اُس کے زندہ معجزات براہ راست دیکھ سکتا ہے۔ پھر وہ مُردوں کا نام کیونکر خدا رکھ سکتا ہے۔ یہ لوگ انسان پرست ہونے کی وجہ سے آسمانی تعلقات سے قطعاً محروم ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کی آسمانی تائید میں ان لوگوں کے ساتھ نہیں ہیں۔ صرف بیہودہ قصے بجائے نشانوں کے پیش کئے جاتے ہیں۔ نہ عقل کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہتے ہیں اور نہ آسمانی نشانوں کے ساتھ ۔ شرک اور مخلوق پرستی کو زمین پر پھیلا رہے ہیں اور پھر قرآن شریف پر اعتراض کرتے ہیں کہ اُس نے انسانوں کو جسمانی طہارت کی طرف کیوں توجہ دلائی۔ یہ نہیں جانتے کہ نبی روحانی باپ ہوتا ہے وہ درجہ بدرجہ ہر ایک ناپاکی سے چھڑانا چاہتا ہے اور ہر ایک خطرہ سے بچانا چاہتا ہے۔ سواوّل درجہ کی ناپا کی جو انسان کو وحشیانہ حالت میں ڈالتی ہے جسمانی ناپا کی ہے اور اسی سے خطرناک امراض اور مہلک بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ سوضرور تھا کہ خدا کی کامل کتاب اپنی تعلیم کا ابتدا اسی سے کرتی سوخدا نے ایسا ہی کیا۔ اوّل جسمانی ناپاکیوں اور دوسری وحشیانہ حالتوں سے چھڑا کر وحشیوں کو انسان بنانا چاہا پھر اخلاق فاضلہ اور طہارت باطنی کے احکام سکھلا کر انسانوں کو مہذب انسان بنایا۔ اور پھر محبت اور فنافی اللہ کے باریک دقائق تک پہنچا کر مہذب انسانوں کو باخدا انسان بنا دیا۔ اور پھر یہ سب کچھ کر کے فرمادیا۔ اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یُحۡیِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا(الحدید: ۱۸)یعنی جان لو کہ خدا نے زمین کو مرنے کے بعد پھر زندہ کیا۔ سوخدا کا کلام حکمت کے طریقوں سے انسان کو ترقی کے منار تک پہنچاتا ہے۔ وہ اس سے شرم نہیں کرتا کہ انسان کو جو انسانیت سے گرا ہوا ہے ظاہری ناپاکیوں سے بھی چھڑائے جیسا کہ وہ باطنی ناپاکیوں سے چھڑاتا ہے اُس نے اپنی پاک کلام میں انسانوں کو دونوں قسم کی پاکیزگی کی طرف ترغیب دی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے ۔ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَیُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَیعنی خدا تو بہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور اُن کو بھی دوست رکھتا ہے جو جسمانی طہارت کے پابند رہتے ہیں ۔ سو توابین کے لفظ سے خدا تعالیٰ نے باطنی طہارت اور پاکیزگی کی طرف توجہ دلائی اور متطہرین کے لفظ سے ظاہری طہارت اور پاکیزگی کی ترغیب دی ۔ اور اس آیت سے یہ مطلب نہیں کہ صرف ایسے شخص کو خدا تعالیٰ دوست رکھتا ہے کہ جو محض ظاہری پاکیزگی کا پابند ہو بلکہ توابین کے لفظ کو ساتھ ملا کر بیان فرمایا تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ خدا تعالیٰ کی اپنے بندوں کے لئے اکمل اور اتم محبت جس سے قیامت میں نجات ہوگی اسی سے وابستہ ہے کہ انسان علاوہ ظاہری پاکیزگی کے خدا تعالیٰ کی طرف سچا رجوع کرے۔ لیکن محض ظاہری پاکیزگی کی رعایت رکھنے والا دنیا میں اس رعایت کا فائدہ صرف اس قدر اٹھا سکتا ہے کہ بہت سے جسمانی امراض سے محفوظ رہے۔ اور اگر چہ وہ خدا تعالیٰ کی اعلیٰ درجہ کی محبت کا نتیجہ نہیں دیکھ سکتا مگر چونکہ اُس نے تھوڑا سا کام خدا تعالیٰ کی منشا کے موافق کیا ہے یعنی اپنے گھر اور بدن اور کپڑوں کو ناپاکیوں سے پاک رکھا ہے اس لئے اس قدر نتیجہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ بعض جسمانی بلاؤں سے بچالیا جائے بجز اس صورت کے کہ وہ کثرت گناہوں کی وجہ سے سزا کے لائق ٹھہر گیا ہو۔ کیونکہ اس صورت میں اس کے لئے یہ حالت بھی خدا تعالیٰ میسر نہیں کرے گا کہ وہ ظاہری پاکیزگی کو کماحقہٗ بجالا کر اس کے نتائج سے فائدہ اُٹھا سکے۔ غرض بموجب وعدہ الہی کے محبت کے لفظ میں سے ایک خفیف اور ادنی سے حصہ کا وارث وہ دشمن بھی اپنی دنیا کی زندگی میں ہو جاتا ہے جو ظاہری پاکیزگی کے لئے کوشش کرتا ہو۔ جیسا کہ تجربہ کے رُو سے یہ مشاہدہ بھی ہوتا ہے کہ جو لوگ اپنے گھروں کو خوب صاف رکھتے اور اپنی بدر روؤں کو گندہ نہیں ہونے دیتے اور اپنے کپڑوں کو دھوتے رہتے ہیں اور خلال کرتے اور مسواک کرتے اور بدن پاک رکھتے ہیں اور بدبو اور عفونت سے پرہیز کرتے ہیں وہ اکثر خطرناک وبائی بیماریوں سے بچے رہتے ہیں پس گویا وہ اس طرح پر وَیُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ(البقرۃ: ۲۲۳) کے وعدہ سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ لیکن جو لوگ طہارت ظاہری کی پروا نہیں رکھتے آخر کبھی نہ کبھی وہ بیچ میں پھنس جاتے ہیں اور خطر ناک بیماریاں اُن کو آپکڑتی ہیں۔
اگر قرآن کو غور سے پڑھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ خدا تعالیٰ کے بے انتہا رحم نے یہی چاہا ہے کہ انسان باطنی پاکیزگی اختیار کر کے رُوحانی عذاب سے نجات پاوے اور ظاہری پاکیزگی اختیار کر کے دنیا کے جہنم سے بچا رہے جو طرح طرح کی بیماریوں اور وباؤں کی شکل میں نمودار ہو جاتا ہے اور اس سلسلہ کو قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک بیان فرمایا گیا ہے۔ جیسا کہ مثلاً یہی آیت اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَیُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ(البقرۃ: ۲۲۳)صاف بتلا رہی ہے کہ توّابین سے مراد وہ لوگ ہیں جو باطنی پاکیزگی کے لئے کوشش کرتے رہتے ہیں اور مُتَطَہِّرِین سے وہ لوگ مراد ہیں جو ظاہری اور جسمانی پاکیزگی کے لئے جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک دوسری جگہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کُلُوۡا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًایعنی پاک چیزیں کھاؤ اور پاک عمل کرو۔ اس آیت میں حکم جسمانی صلاحیت کے انتظام کے لئے ہے جس کے لئے کُلُوۡا مِنَ الطَّیِّبٰتِ کا ارشاد ہے ۔ اور دوسرا حکم روحانی صلاحیت کے انتظام کے لئے ہے جس کے لئے وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًا(المؤمنون: ۵۲) کا ارشاد ہے اور ان دونوں کے مقابلہ سے ہمیں یہ دلیل ملتی ہے کہ بدکاروں کے لئے عالم آخرت کی سزا ضروری ہے۔ کیونکہ جب کہ ہم دنیا میں جسمانی پاکیزگی کے قواعد کو ترک کر کے فی الفور کسی بلا میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ اس لئے یہ امر بھی یقینی ہے کہ اگر ہم روحانی پاکیزگی کے اصول کو ترک کریں گے تو اسی طرح موت کے بعد بھی کوئی عذاب مؤلم ضرور ہم پر وارد ہوگا۔ جو وباء کی طرح ہمارے ہی اعمال کا نتیجہ ہوگا☆ ۔ چنانچہ یہی طاعون اس بات کی گواہ ہے کہ جن جن شہروں اور گھروں میں جسمانی پاکیزگی کی ایسی رعایت نہیں کی گئی جیسی کہ چاہیئے تھی آخر وبا نے اُن کو پکڑ لیا۔ اگر چہ یہ عفونتی اجرام کم و بیش ہر وقت موجود تھے لیکن وہ اندازہ غلیانِ سمیّت کا پہلے دنوں میں اکٹھا نہیں تھا۔ اور بعد میں اور اسباب کے ذریعہ سے پیدا ہو گیا۔ یہ کس قدر مشکل بات ہے کہ جب کہ ہم جسمانی ناپاکی اور عفونتِ مہلکہ کا کوئی اندازہ قائم نہیں کر سکتے جب تک وہ خود ہم پر وارد نہ ہو جائے پس کیونکر روحانی سمیّت کا ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کب اور کس وقت ہمیں ہلاک کر سکتی ہے۔ لہذا ہمیں لازم ہے کہ لا پروائی اور غفلت سے زندگی بسر نہ کریں اور دعا میں لگے رہیں۔ خدا سے اُس کا فضل مانگنا اور دُعا میں لگے رہنا اس سے بہتر اور کوئی طریق نہیں ۔ یہی ایک راہ ہے جو نہایت ضروری اور واجب طریق ہے ۔ اسی وجہ سے قرآن شریف میں عذاب سے بچنے کے لئے دعا ہی ہمیں سکھلائی گئی ہے اور وہ دعا سورۃ فاتحہ کی دعا ہے جو پنج وقت نماز میں پڑھی جاتی ہے یہ دونوں قسم کے عذابوں سے بچنے کے لئے دعا ہے۔ کیونکہ آخری فقرہ دعا کا یہ ہے کہ ”یا الہی اُن لوگوں کی راہ سے بچا جن میں طاعون پھوٹی تھی ۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعا اس لئے ہے کہ تا ہم دنیا کے جہنم اور آخرت کے جہنم دونوں سے بچائے جائیں ۔ لہذا میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص یہ دعا یعنی سورہ فاتحہ دفع طاعون کے لئے اخلاص سے نماز میں پڑھتا رہے تو خدا اُس کو اس بلا سے اور اس کے بدنتائج سے بچائے گا۔
اور ہم اس وقت تمام مسلمانوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ اب وہ یقینی طور پر یہ نہ سمجھ لیں کہ طاعون دور ہو گئی اور اس خیال سے پھر غفلت اور گناہ اور معصیت کی طرف جھک نہ جائیں ۔ کیونکہ جیسا کہ ہم اپنے پہلے اشتہار میں شائع کر چکے ہیں ابھی ہم خطرات کے حدود سے باہر نہیں آئے جب تک دو جاڑے کے موسم خیر سے نہ گزر جائیں۔ اور اس ملک کے کسی حصہ میں کوئی واردات کا نمونہ پایا نہ جائے اس وقت تک اندیشہ دامنگیر ہے۔ سو اگر چہ طبابت کی تدبیریں نہایت عمدہ چیزیں ہیں اور جو کچھ ہماری گورنمنٹ نے ہدایتیں پیش کی ہیں وہ قابل شکر و غمخواری ہیں مگر تا ہم تمام فلاح اور نجات کا مدار انہی تدابیر کو نہ سمجھو اپنے خدائے رحیم و کریم سے بھی صلح کرو۔ دیکھو کس قدر ملک میں گناہ اور فریب اور جھوٹ اور ظلم اور حق تلفی اور بدکاری پھیل گئی ہے۔ یہ وہی معاصی ہیں جن کی وجہ سے پہلی قومیں بھی ہلاک ہوتی رہی ہیں۔ سو اس غیور خدا سے ڈرو جس کی غیرت ہمیشہ بدکاروں کو نابود کرتی رہی ہے۔ اگر خداوند ذوالجلال سے خوف کرو گے اور اپنے دلوں میں اُس کی عظمت بٹھا لو گے تو وہ تمہیں ضائع ہونے سے بچالے گا اور تم اور تمہاری اولاد بچ جائے گی اور خدا کا رحم تمہارا حامی ہوگا اور ایسے اسباب پیدا کر دے گا جن سے یہ زہریلا مادہ دُور ہو جائے۔ اور اگر دنیا میں مست ہو کر خدا تعالیٰ کی پروا نہیں رکھو گے اور گناہوں سے باز نہیں آؤ گے تو وہ قادر ہے کہ تمہاری تمام تدبیریں بے کار کر دیوے اور ایسی راہ سے تمہیں پکڑے کہ تمہیں معلوم نہ ہو۔ دیکھو یہود میں جب طاعون مصر اور کنعان کی راہ میں پھوٹی تو وہ لوگ اُس وقت جنگل میں تھے اور شہر کی عفونتوں سے بالکل الگ تھے۔ ترنجبین اور بیٹر اُن کی غذا تھی۔ وہ یقین کرتے تھے کہ اب کوئی بلا ہم پر نہیں آئے گی مگر جب انہوں نے نافرمانی شروع کی اور فسق اور فجور میں مبتلا ہوئے تو وہی ترنجبین اور بیٹر طاعون کا موجب ہو گئے ۔ یہ کیسا باریک بھید خدا کی حکمتوں کا ہے کہ چونکہ اللہ جل شانۂ جانتا تھا کہ یہ قوم عنقریب سرکشی اختیار کرے گی اس لئے اُن کے لئے دن رات کی غذا ترنجبین اور بیٹر مقرر کیا گیا۔ یہ دونوں چیزیں طبّ کے قواعد کی رُو سے بالخاصیّت طاعون پیدا کرتی ہیں اسی وجہ سے طبیب لوگ امراضِ جلدیّہ میں جہاں بثور اور پھوڑوں کی بیماریاں ہوں ترنجبین دینے سے پرہیز کیا کرتے ہیں۔ بد بخت یہود ایک طرف تو ارتکاب جرائم کا کرتے رہے اور دوسری طرف دن رات بیٹر اور ترنجبین کھا کر طاعون کا مادہ اپنے اندر جمع کر لیا۔ جب اُن کے مؤاخذہ کا وقت آیا تو ایک طرف تو جرائم انتہا کو پہنچ چکے تھے جو سزا کو چاہتے تھے اور دوسری طرف طاعونی مادہ بیٹر اور ترنجبین کے استعمال سے اِس قدر اُن کے اندر جمع ہو گیا تھا کہ اب وہ تقاضا کرتا تھا کہ اُن میں طاعون پھوٹے۔ سو اس ایک ہی رات میں جب یہودیوں کے لئے آسمان سے سزا کا حکم نازل ہوا ساتھ اس کے مادۂ طاعون کو بھی جو طیّار بیٹھا تھا یہ حکم آیا کہ ہاں اب نکل اور اس شریر قوم کو ہلاک کر ۔ تب وہ اس جنگل میں کتوں کی طرح مرے۔ فَاعْتَبِرُوْا یَا اُولِی الْاَبْصَار
میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ان لوگوں کا بھی یہی حال ہوگا کہ جو ہر ایک قسم کی زنا کاری اور چوری اور خونریزی اور مال حرام کھانے اور نوع انسان کے دکھ دینے میں درندوں کی طرح دلیری سے قدم رکھتے ہیں نہ خدا تعالیٰ کے حدود اور قوانین سے ڈرتے ہیں اور نہ گورنمنٹ کے مقرر کردہ قانونوں سے اُن کو خوف ہے۔ یہی بات تھی جو میرے پہلے اشتہار میں بطور الہام طاعون کے بارے میں مجھے معلوم ہوئی تھی اور وہ یہ ہے کہ ”اِنَّ اللہَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ۔ اِنَّهُ اَوَى الْقَرْيَةَ ۔ یعنی خدا تعالیٰ اس نیکی یا بدی کو جو کسی قوم کے شاملِ حال ہے دور نہیں کرتا جب تک وہ قوم ان باتوں کو اپنے سے دور نہ کرے جو اُس کے دل میں ہیں ۔ اُس خدا نے اس قریہ کو جو اس کے علم میں ہے انتشار سے محفوظ رکھا ۔“ افسوس کہ بعض نادان کہتے ہیں کہ یہ الہام آپ بنالیا ہے۔ ان کے جواب میں کیا کہیں اور کیا لکھیں ۔ اے بد قسمت بدگمانو ! کیا ممکن ہے کہ کوئی خدا پر جھوٹ باندھے اور پھر اُس کے دستِ قہر سے بچ رہے۔ خدا جھوٹوں کو ہلاک کرے گا اور وہ جو اپنے دل سے باتیں بناتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ خدا کا الہام ہے وہ ہلاک کئے جائیں گے کیونکہ انہوں نے دلیری کر کے خدا پر بہتان باندھا۔ راستبازوں کے لئے بھی دن مقرر ہیں اور جھوٹے مفتریوں کے لئے بھی وقت مقرر کئے گئے ہیں۔ جب وہ وقت آئیں گے تو خدا تعالیٰ دکھا دے گا کہ کس نے شوخی سے باتیں کیں اور کس نے رُوح القدس کی آواز کی پیروی کی ۔ خدا کی باتوں کو خدائی نشانوں سے تم شناخت کرو گے سچائی پوشیدہ نہیں رہے گی اور نہ باطل مخفی رہے گا۔ وہ خدا جو ہمیشہ اپنے تئیں ظاہر کرتا رہا ہے وہ اب بھی دکھلائے گا کہ وہ اُن کے ساتھ ہے جو واقعی طور پر اس سے ڈرتے اور نیکی اور پرہیز گاری کی راہوں کو اختیار کرتے ہیں ۔
اے لوگو! خدا سے ڈرو۔ اور در حقیقت اس سے صلح کر لو۔ اور سچ مچ صلاحیت کا جامہ پہن لو اور چاہئیے کہ ہر ایک شرارت تم سے دور ہو جائے ۔ خدا میں بے انتہا عجیب قدرتیں ہیں ۔ خدا میں بے انتہا طاقتیں ہیں ۔ خدا میں بے انتہا رحم اور فضل ہے ۔ وہی ہے جو ایک ہولناک سیلاب کو ایک دم میں خشک کر سکتا ہے۔ وہی ہے جو مہلک بلاؤں کو ایک ہی ارادے سے اپنے ہاتھ سے اُٹھا کر دُور پھینک دیتا ہے ۔ مگر اس کی یہ عجیب قدرتیں اُن ہی پر کھلتی ہیں جو اس کے ہی ہو جاتے ہیں ۔ اور وہی یہ خوارق دیکھتے ہیں جو اس کے لئے اپنے اندر ایک پاک تبدیلی کرتے ہیں اور اُس کے آستانے پر گرتے ہیں اور اُس قطرے کی طرح جس سے موتی بنتا ہے صاف ہو جاتے ہیں ۔ اور محبت اور صدق اور صفا کی سوزش سے پگھل کر اس کی طرف بہنے لگتے ہیں ۔ تب وہ مصیبتوں میں اُن کی خبر لیتا ہے اور عجیب طور پر دشمنوں کی سازشوں اور منصوبوں سے انہیں بچالیتا ہے اور ذلّت کے مقاموں سے انہیں محفوظ رکھتا ہے۔ وہ اُن کا متولّی اور متعہّد ہو جاتا ہے۔ وہ اُن مشکلات میں جبکہ کوئی انسان کام نہیں آسکتا اُن کی مدد کرتا ہے۔ اور اُس کی فوجیں اس کی حمایت کے لئے آتی ہیں۔ کس قدر شکر کا مقام ہے کہ ہمارا خدا کریم اور قادر خدا ہے۔ پس کیا تم ایسے عزیز کو چھوڑو گے؟ کیا اپنے نفسِ ناپاک کے لئے اُس کی حدود کو توڑ دو گے۔ ہمارے لئے اُس کی رضا مندی میں مرنا ناپاک زندگی سے بہتر ہے۔
قرآن شریف میں تمام احکام کی نسبت تقویٰ اور پرہیز گاری کے لئے بڑی تاکید ہے۔ وجہ یہ کہ تقویٰ ہر ایک بدی سے بچنے کے لئے قوت بخشتی ہے اور ہر ایک نیکی کی طرف دوڑنے کے لئے حرکت دیتی ہے اور اس قدر تاکید فرمانے میں بھید یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک باب میں انسان کے لئے سلامتی کا تعویذ ہے اور ہر ایک قسم کے فتنہ سے محفوظ رہنے کے لئے حصنِ حصین ہے۔ ایک متقی انسان بہت سے ایسے فضول اور خطرناک جھگڑوں سے بچ سکتا ہے جن میں دوسرے لوگ گرفتار ہو کر بسا اوقات ہلاکت تک پہنچ جاتے ہیں اور اپنی جلد بازیوں اور بدگمانیوں سے قوم میں تفرقہ ڈالتے اور مخالفین کو اعتراض کا موقعہ دیتے ہیں۔ مثلاً سوچ کر دیکھو کہ اس زمانہ کے معاند مولویوں نے ہماری تکفیر اور تکذیب کے خیال کو بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے کس حد تک پہنچا دیا ہے کہ اب ہم ان کی نظر میں اپنے کفر کے لحاظ سے عیسائیوں اور ہندوؤں سے بھی بدتر ہیں۔ کیا ایک متقی جو واقعی طور پر شکوک کی پیروی سے اپنے دل کو روکتا ہے وہ اِن بلاؤں میں پھنس سکتا ہے؟ اگر ان لوگوں کے دلوں میں ایک ذرہ بھی تقویٰ ہوتی تو میرے مقابل پر وہ طریق اختیار کرتے جو قدیم سے حق کے طالبوں کا طریق ہے۔ کیونکہ قدیم سے اس اُصول کو ہر ایک قوم مانتی آئی ہے اور اسلام نے بھی اس کو مانا ہے کہ جو لوگ انبیاء اور رسولوں اور مامورِ من اللہ کے منصب سے اپنے تئیں دنیا پر ظاہر کرتے ہیں اُن سے اگر علماء وقت کا کسی حدیث یا کتاب اللہ کے معنے بیان کرنے میں اختلاف ہو جائے تو اُن کے ساتھ طریق تصفیہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ دوسرے معمولی انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے کہ ایک فریق اپنے طور کے معنے میں زیادہ قوت اور ترجیح دے کر دوسرے فریق کی تکذیب پر جلد آمادہ ہو جاتا ہے بلکہ باوجود اختلاف تفسیر اور تاویل کے جو مابین واقع ہو اور باوجود اس بات کے جو بظاہر کسی قول کے وہ معنے قریب قیاس ہوں جو بر خلاف بیان کردہ مامورین ہوں پھر بھی مامورین اور الہام پانے والوں کے مقابل پر سعید لوگ اپنے قرار دادہ معنوں پر ضد اور ہٹ نہیں کرتے بلکہ جب خدا تعالیٰ کی متواتر تائیدات اور طرح طرح کے نشانوں سے ظاہر ہو جائے کہ وہ لوگ مؤید من اللہ ہیں تو اپنے معنے چھوڑ دیتے ہیں اور وہی معنے قبول کرتے ہیں جو انہوں نے کئے ہوں گو بظاہر اس میں کسی قسم کا ضعف بھی معلوم ہو۔ کیونکہ معانی کے بیان کرنے میں بہت توسع ہے اور بسا اوقات ایک شخص جو مجاز کا پہلو اختیار کرتا ہے اور ایک عبارت کے معنے مجازی رنگ میں بتلاتا ہے وہ اس دوسرے کے مقابل پر حق پر ہوتا ہے جو ظاہر معانی کو لیتا ہے اور مجاز کی طرف نہیں جاتا بلکہ ملہمین اور مرسلین کے ساتھ یہ ادب رکھنا لازمی ہے کہ اگر وہ بغیر کسی قرینہ کے بھی صرف عَنِ الظَّاهِر کریں تو اُن سے قرائن کا مطالبہ نہ کیا جائے جیسا کہ دوسرے علماء سے مطالبہ کیا جاتا ہے۔ ہاں اس بات کو دیکھنا ضروری ہوگا کہ وہ در حقیقت مؤید من اللہ اور مقبول الہی ہیں ۔ اور جب یہ ثابت ہو جائے کہ وہ مؤید من اللہ ہیں تو پھر اختلاف کے وقت یعنی جب کہ علماء میں اور اُن میں کسی کتاب الہی کے معنے بیان کرنے میں اختلاف واقع ہو وہی معنے قبول کئے جائیں گے جو مامورین نے کئے ہیں۔ اسی اصول پر ہمیشہ عمل درآمد رہا ہے☆ ۔ مثلاً جب حضرت عیسی علیہ السلام اور یہود میں ملا کی نبی کی اس پیشگوئی کے متعلق اختلاف واقع ہوا کہ جو ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کے متعلق تھی تو باوجود اس کے کہ وہ معنے جو یہود کرتے تھے وہی آیت کے ظاہر معنے تھے اور حضرت عیسی کا یہ کہنا کہ ایلیا نبی کے دوبارہ آنے سے مراد اس کے کسی مثیل کا آنا ہے۔ یہ ایک تاویل رکیک بلکہ الحاد کے رنگ میں معلوم ہوتی تھی اور یہودیوں کی نظر میں ہنسی کے لائق تھی ۔ اور ایسا صرف عن الظاہر تھا جس پر کوئی قرینہ قائم نہ تھا مگر پھر بھی نیک بخت انسانوں نے جب دیکھا کہ یہ شخص مؤید من اللہ ہے اور اس پر وحی کے ذریعہ سے اصل حقیقت کھلی ہے تو انہوں نے ان ہی معنوں کو قبول کیا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کرتے تھے اور یہود کے معنوں کو رڈ کیا۔ اگر چہ ظاہر طور پر وہی صحیح معنے معلوم ہوتے تھے۔ پھر اسی قسم کا جھگڑا یہود کا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا۔ اور وہ یہ کہ یہود لوگ مثیل موسیٰ کی پیشگوئی کی نسبت جو توریت باب استثنا میں موجود ہے یہ معنے کرتے تھے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے آئے گا۔ اور کہتے تھے کہ خدا نے داؤد سے قسم کھائی ہے کہ اُسی کے خاندان سے نبی بھیجتا رہے گا۔ مگر ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ معنے صحیح نہیں ہیں بلکہ صحیح یہ ہے کہ مثیل موسیٰ کا ظاہر ہونا بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے یعنی بنی اسماعیل سے ضروری تھا۔ سو اگرچہ یہود کے وہ معنے دو ہزار برس سے اُن کے علماء میں متفق علیہ چلے آئے تھے اور ایک جاہل آدمی کے لئے ایک قوی حجت تھی کہ جو معنے دو ہزار برس تک ایک گروہ کثیر علماء میں مسلّم الصحت اور ایک اجماعی عقیدہ کی طرح تھے اُن کے برخلاف کیونکر ایک نئے معنے مان لئے جائیں مگر پھر بھی جب عقلمندوں نے دیکھا کہ مؤخر الذکر معنے اُس شخص نے کئے ہیں جو موید من اللہ ہے یعنی ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ نے۔ اور یہ بھی خیال کیا کہ انسانی عقل کے اجتہادی معنوں میں غلطی کا احتمال ممکن ہے مگر جن معنوں کی وحی نے تعلیم کی ہے اُن میں غلطی ممکن نہیں تو جناب نبی علیہ السلام کے معنوں کو قبول کیا۔ اور مخالفوں کے معنے گو وہ اپنے مذہب کے مولوی اور فاضل کہلاتے تھے رڈی کی طرح پھینک دیئے کیونکہ اُن کو یقین ہو گیا کہ یہ شخص مؤید من اللہ اور صاحب خوارق ہے اور آسمانی تائیدیں اس کے شامل حال ہیں لہذا اُن کو ماننا پڑا کہ یہود اور نصاری کے معنے صحیح نہیں ہیں۔ اسی جہت سے صد ہا یہودی اور عیسائی مسلمان ہوئے اور جو معنے دو ہزار برس سے متفق علیہ چلے آتے تھے وہ چھوڑ دیئے ۔ اب ان دونوں نظیروں سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ جب ایک قوم اور مامور من اللہ میں کسی الہی کتاب کے معنے کرنے میں اختلاف پیدا ہو تو وہی معنے قبول کے لائق ہوں گے جو اس مامور من اللہ نے کئے ہیں گو بظاہر وہ ضعیف اور دور از قیاس ہی معلوم ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم لوگ انجیل اور توریت کے اکثر مقامات کے وہ معنے نہیں کرتے جو نصاری اور یہود نے کئے ہیں اور ہم بہر حال ان معنوں کو قبول کریں گے جو قرآن نے کئے ہیں اور جبکہ یہ اصول متحقق ہو گیا تو اب دیکھنا چاہیے کہ اگر ہمارے مخالف علماء میں دیانت اور انصاف کا مادہ ہوتا تو اس صورت میں کہ میں مسیح موعود ہونے کا دعوی کرتا تھا اور اپنے دعوے کی تائید میں بعض احادیث یا قرآنی آیتوں کے وہ معنی کرتا تھا جو میرے مخالف نہیں کرتے۔ خدا ترس لوگوں کو لازم تھا کہ وہ اس اختلاف کے وقت بفرض محال اگر میرے معنی اُن کی نظروں میں کمزور تھے تو وہ مجھ سے اسی طریق معہود سے تصفیہ کرتے جیسا کہ پہلے راستباز آدمی ایسے وقتوں میں تصفیہ کرتے رہے ہیں۔ یعنی صرف یہ تحقیق کرتے کہ آیا یہ شخص مؤید من اللہ ہے یا نہیں۔ لیکن افسوس کہ انہوں نے یہ طریق میرے ساتھ مسلوک نہیں رکھا۔ حالانکہ اگر اُن میں انصاف ہوتا تو ایمانداری کے رُو سے اس طریق کا اختیار کرنا اُن پر لازم تھا۔ اور عجب تر یہ کہ جس پہلو کو عبارات کے معنوں میں ہم نے اختیار کیا ہے وہ نہایت صحیح اور معقولی طور پر بھی قرین قیاس ہے۔ مگر پھر بھی ہمارے مخالفوں نے ان معنوں سے منہ پھیر لیا۔ حالانکہ اُن کا یہ فرض تھا کہ اگر ہمارے معنے اُن کے معنوں کے مقابل ضعیف بھی ہوتے تب بھی تائید الہی کے ثبوت کے بعد اُن ہی معنوں کو قبول کر لیتے ۔ اب بتلاؤ کہ کیا یہ طریق تقویٰ ہے جو انہوں نے اختیار کیا۔ سوچ کر دیکھو کہ جب ایسے اختلافات نبیوں اور دوسری قوموں میں ہوئے ہیں تو سعید لوگوں نے کس طریق کو اختیار کیا ہے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ انہوں نے بہر حال وہ معنے قبول کئے جو نبیوں کے منہ سے نکلے۔
اب پھر ہم کلام سابق کی طرف عود کر کے ظاہر کرتے ہیں کہ ہم نے ہمدردی خلائق کے لئے دو مرکب دوائیں طاعون کے علاج کی طیار کی ہیں۔ ایک وہ دوا ہے جس پر دو ہزار پانچ سو روپیہ خرچ آیا ہے جس میں سے دو ہزار روپیہ کے یاقوت رمانی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب نے عنایت فرمائے ہیں اور چار سو روپیہ شیخ رحمت اللہ صاحب نے دیا ہے اور سو روپیہ اور متفرق دوستوں کی طرف سے ہے۔
اس دوا کا نام تریاق الہی رکھا گیا ہے۔ یہ اس وقت کام آ سکتی ہے کہ جب خدانخواستہ پھر جاڑے کی موسم میں طاعون پھیلے ۔ ابھی ہم بیان نہیں کر سکتے کہ یہ گراں قیمت دوا جس پر اڑھائی ہزار روپیہ خرچ آیا ہے کن لوگوں کو دی جائے گی اور کیا یہ فروخت بھی ہو سکتی ہے یا نہیں ۔ دوا قلیل ہے اور جماعت بہت ہے۔ دل تو چاہتا ہے کہ عام لوگ اس تریاق الہی سے نئی زندگی حاصل کریں مگر گنجائش نہیں ہے۔ مجھے ایک الہام میں یہ فقرات القا ہوئے تھے کہ يَا مَسِيحَ الْخَلْقِ عَدْوَانَا۔ میرے خیال میں ہے کہ عدوی سے مراد یہی طاعون ہے۔ اگر میں اُس الہام کے معنے کرنے میں غلطی نہیں کرتا جس میں یہ لکھا ہے کہ انهُ أَوَى القَرْيَةَ تو کیا تعجب ہے کہ کسی عام زور طاعون کے وقت میں قادیان دارالامن رہے۔ میں ہمیشہ اور پنج وقتہ نماز میں دُعا کرتا ہوں کہ خدا اس بلا کو دنیا سے اُٹھادے اور اپنے بندوں کی تقصیریں معاف کرے مگر پھر بھی مجھے ان الہامات کے لحاظ سے جو ظاہر کر چکا ہوں اس حالت میں کہ لوگ تو بہ نہ کریں سخت اندیشہ ہے کہ یہ آگ جاڑے کے موسم میں یا اس کے ابتدا میں ہی یا برسات کے موسم میں ہی بھڑک نہ اُٹھے۔
یادر ہے کہ کفر اور ایمان کا فیصلہ تو مرنے کے بعد ہو گا اس کے لئے دنیا میں کوئی عذاب نازل نہیں ہوتا اور جو پہلی امتیں ہلاک کی گئیں وہ کفر کے لئے نہیں بلکہ اپنی شوخیوں اور شرارتوں اور ظلموں کی وجہ سے ہلاک ہوئیں ۔ فرعون بھی اپنے کفر کے باعث سے ہلاک نہیں ہوا بلکہ اپنے ظلم اور زیادتی کی وجہ سے ہلاک ہوا۔ محض کفر کے سبب سے اس دنیا میں کسی پر عذاب نازل نہیں ہوتا ۔ اگر کوئی کافر ہو مگر غریب مزاج اور آہستہ رو ہو اور ظالم نہ ہو تو اس کے کفر کا حساب قیامت کے دن ہو گا ۔ اس دنیا میں ہر ایک عذاب ظلم اور بدکاری اور شوخیوں اور شرارتوں کی وجہ سے ہوتا ہے اور ایسا ہی ہمیشہ ہوگا ۔ اگر خدا تعالیٰ کی نظر میں لوگ شوخ طبع اور متکبر اور ظالم اور بے خوف اور مردم آزار ہوں گے خواہ وہ مسلمان ہوں خواہ ہند وخواہ عیسائی عذاب سے بچ نہیں سکیں گے۔ کاش لوگ اس بات کو سمجھیں اور غریب مزاج اور بے شر انسان بن جائیں ۔ خدا تعالیٰ کسی کو عذاب دے کر کیا کرے گا اگر وہ اُس سے ڈرتے رہیں۔ خدا تعالیٰ کے تمام نبی رحمت کے لئے آئے اور جس نے رحمت کو قبول نہ کیا اُس نے عذاب مانگا۔ ہر پاک نبی جو دنیا میں آیا وہ رحمت کا پیغام لے کر آیا اور عذاب خدا سے نہیں بلکہ لوگوں نے اپنی کرتوتوں سے آپ پیدا کیا۔ ہاں وہ سچوں کے لئے ایک علامت بھی ٹھہر گئے کہ اُن کے آنے کے ساتھ ایک عذاب بھی آ تا رہا☆۔
اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ میں نے طاعون کے علاج کے لئے ایک مرہم بھی طیار کی ہے یہ ایک پرانا نسخہ ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت سے چلا آتا ہے اور اس کا نام مرہم عیسی ہے اگر چہ امتداد زمانہ کے سبب سے بعض دواؤں میں تبدیلی ہو گئی ہے یعنی طب کی بہت سی کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک طبیب نے کوئی دوا اس نسخہ میں داخل کی ہے اور دوسرے نے بجائے اس کے کوئی اور داخل کر دی ہے۔ لیکن یہ تغیر صرف ایک دو دواؤں میں ہوا ہے اس کا سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک دوا ہر ایک ملک میں پائی نہیں جاتی یا کم پائی جاتی ہے یا بعض موسموں میں پائی نہیں جاتی۔ سوجس جگہ یہ اتفاق ہوا کہ ایک دوامل نہیں سکی تو کسی طبیب نے اُس کا بدل کوئی اور دوا ڈال دی اور در حقیقت قرابادینوں کے تمام مرکبات میں جو بعض جگہ اختلاف نسخوں کا پایا جاتا ہے اس کا یہی سبب ہے مگر ہم نے بڑی کوشش سے اصل نسخہ طیار کیا ہے۔ اس مرکب کا نام مرہم عیسی ہے اور مرہم حوار بین بھی اسے کہتے ہیں اور مرہم الرسل بھی اس کا نام ہے کیونکہ عیسائی لوگ حواریوں کو مسیح کے رسول یعنی ایلچی کہتے تھے کیونکہ اُن کو جس جگہ جانے کے لئے حکم دیا جاتا تھا وہ ایلچی کی طرح جاتے تھے۔ یہ نہایت عجیب بات ہے کہ جیسا کہ یہ نسخہ طب کے تمام نسخوں سے قدیم اور پُر انا ثابت ہوا ہے ایسا ہی یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ دنیا کی اکثر قوموں کے طبیبوں نے اس نسخہ کو اپنی اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ چنانچہ جس طرح عیسائی طبیب اس نسخہ کو اپنی کتابوں میں لکھتے آئے ہیں ایسا ہی رومی طبابت کی قدیم کتابوں میں بھی یہ نسخہ پایا جاتا ہے۔ اور زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ یہودی طبیبوں نے بھی اس نسخہ کو اپنی کتابوں میں درج کیا ہے اور وہ بھی اس بات کے قائل ہو گئے ہیں کہ یہ نسخہ حضرت عیسی علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے بنایا گیا تھا اور نصرانی طبیبوں کی کتابوں اور مجوسیوں اور مسلمان طبیبوں اور دوسرے تمام طبیبوں نے جو مختلف قوموں میں گزرے ہیں اس بات کو بالاتفاق تسلیم کر لیا ہے کہ یہ نسخہ حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے بنایا گیا تھا۔ چنانچہ ان مختلف فرقوں کی کتابوں میں سے ہزار کتاب ایسی پائی گئی ہے جن میں یہ نسخہ مع وجہ تسمیہ درج ہے اور وہ کتا بیں اب تک موجود ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اکثر وہ کتابیں ہمارے کتب خانہ میں ہیں اور شیخ الرئیس بوعلی سینا نے بھی اس نسخہ کو اپنے قانون میں لکھا ہے۔ چنانچہ میرے کتب خانہ میں شیخ بوعلی سینا کے قانون کا ایک قلمی نسخہ موجود ہے جو پانسو برس کا لکھا ہوا ہے اس میں بھی یہ نسخہ مع وجہ تسمیہ موجود ہے۔ ان تمام کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرہم عیسی اس وقت تیار کی گئی تھی کہ جب نالائق یہودیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو قتل کرنے کے لئے صلیب پر چڑھا دیا تھا اور اُن کے پیروں اور ہاتھوں میں لوہے کے کیل ٹھونک دیئے تھے لیکن خدا تعالیٰ کا ارادہ تھا کہ ان کو صلیبی موت سے بچاوے۔ اس لئے خدائے عز و جل نے اپنے فضل و کرم سے ایسے اسباب جمع کر دیئے جن کی وجہ سے حضرت عیسی علیہ السلام کی جان بچ گئی ۔ منجملہ ان کے ایک یہ سبب تھا کہ آنجناب جمعہ کو قریب عصر کے صلیب پر چڑھائے گئے اور صلیب پر چڑھانے سے پہلے اُسی رات پیلاطوس کی بیوی نے جو اس ملک کا بادشاہ تھا ایک ہولناک خواب دیکھا تھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اگر یہ شخص جو یسوع کہلاتا ہے قتل کیا گیا تو تم پر تباہی آئے گی ۔ اُس نے یہ خواب اپنے خاوند یعنی پیلاطوس کو بتلایا اور چونکہ دنیا دار لوگ اکثر وہمی اور بزدل ہوتے ہیں ۔ اس لئے پیلاطوس خاوند اُس کا اس خواب کوسن کر بہت ہی گھبرایا اور اندر ہی اندر اس فکر میں لگ گیا کہ کسی طرح یسوع کو قتل سے بچا لیا جائے ۔ سو اس دلی منصوبہ کے انجام کے لئے پہلا داؤ جو اُس نے یہودیوں کے ساتھ کھیلا وہ یہی تھا کہ یہ تدبیر کی کہ یسوع کو جمعہ کے روز عصر کے وقت صلیب دی جائے۔ اور اُسے معلوم تھا کہ یہودی صرف اسے صلیب دینا چاہتے ہیں کسی اور طریق سے قتل کرنا نہیں چاہتے کیونکہ یہودیوں کے مذہب کے رُو سے جس شخص کو صلیب کے ذریعہ قتل کیا جائے خدا کی لعنت اُس پر پڑ جاتی ہے اور پھر خدا کی طرف اُس کا رفع نہیں ہوتا۔ اور بعد اس کے یہ امر ممکن ہی نہیں ہوتا کہ خدا اس سے محبت کرے اور یا وہ خدا کی نظر میں ایمانداروں اور راستبازوں میں شمار کیا جائے ۔ لہذا یہودیوں کی یہ خواہش تھی کہ یسوع کو صلیب دے کر پھر توریت کے رُو سے اس بات کا اعلان دے دیں کہ اگر یہ سچا نبی ہوتا تو ہرگز مصلوب نہ ہو سکتا اور اس طرح پر مسیح کی جماعت کو متفرق کر دیں یا جو لوگ اندر ہی اندر کچھ نیک ظن رکھتے تھے اُن کی طبیعتوں کو خراب کر دیں۔ اور خدانخواستہ اگر واقعہ صلیب وقوع میں آجاتا تو حضرت عیسی علیہ السلام پر یہ ایک ایسا داغ ہوتا کہ کسی طرح ان کی نبوت درست نہ ٹھہر سکتی اور نہ وہ راستباز ٹھہر سکتے اس لئے خدا تعالیٰ کی حمایت نے وہ تمام اسباب جمع کر دیئے جن سے حضرت عیسی علیہ السلام مصلوب ہونے سے بچ گئے ۔ ان اسباب میں سے پہلا سبب یہی تھا کہ پیلاطوس کی بیوی کو خواب آیا اور اُس سے ڈر کر پیلاطوس نے یہ تدبیر سوچی کہ یسوع جمعہ کے دن عصر کے وقت صلیب دیا جائے ۔ اس تدبیر میں پیلاطوس نے یہ سوچا تھا کہ غالباً اس قلیل مدت کی وجہ سے جو صرف جمعہ کے ایک دو گھنٹے ہیں یسوع کی جان بچ جائے گی کیونکہ یہ ناممکن تھا کہ جمعہ ختم ہونے کے بعد مسیح صلیب پر رہ سکتا ۔ وجہ یہ کہ یہودیوں کی شریعت کے رُو سے یہ حرام تھا کہ کوئی شخص سبت میں یا سبت سے پہلی رات میں صلیب پر رہے اور صلیب دینے کا یہ طریق تھا کہ صرف مجرم کو صلیب کے ساتھ جوڑ کر اُس کے پیروں اور ہاتھوں میں کیل ٹھونکے جاتے تھے اور تین دن تک وہ اسی حالت میں دھوپ میں پڑا رہتا تھا۔ اور آخر کئی اسباب جمع ہو کر یعنی درد اور دھوپ اور تین دن کا فاقہ اور پیاس ، مجرم مر جاتا تھا مگر جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے جو شخص جمعہ میں صلیب پر کھینچا جاتا تھا وہ اُسی دن اُتار لیا جاتا تھا کیونکہ سبت کے دن صلیب پر رکھنا سخت گناہ اور موجب تاوان اور سزا تھا۔ سو یہ داؤ پیلاطوس کا چل گیا کہ یسوع جمعہ کی آخری گھڑی میں صلیب پر چڑھایا گیا ۔ اور نہ صرف یہی بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل نے چند اور اسباب بھی ایسے پیدا کر دئیے جو پیلاطوس کے اختیار میں نہ تھے اور وہ یہ کہ عصر کے تنگ وقت میں تو یہودیوں نے حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھایا اور ساتھ ہی ایک سخت آندھی آئی جس نے دن کو رات کے مشابہ کر دیا۔ اب یہودی ڈرے کہ شاید شام ہو گئی کیونکہ یہودیوں کو سبت کے دن یا سبت کی رات کسی کو صلیب پر رکھنے کی سخت ممانعت تھی اور یہودیوں کے مذہب کے رُو سے دن سے پہلے جو رات آتی ہے وہ آنے والے دن میں شمار کی جاتی ہے۔ اس لئے جمعہ کے بعد جو رات تھی وہ سبت کی رات تھی ۔ لہذا یہودی آندھی کے پھیلنے کے وقت میں اس بات سے بہت گھبرائے کہ ایسا نہ ہو کہ سبت کی رات میں یہ شخص صلیب پر ہو۔ اس لئے جلدی سے انہوں نے اتار لیا اور دو چور جو ساتھ صلیب دیئے گئے تھے اُن کی ہڈیاں توڑی گئیں لیکن مسیح کی ہڈیاں نہیں توڑیں کیونکہ پیلاطوس کے سپاہیوں نے جن کو پوشیدہ طور پر سمجھایا گیا تھا کہہ دیا کہ اب نبض نہیں ہے اور ’’یسوع مَر چکا ہے۔‘‘ مگر مجھے معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ راستباز کا قتل کرنا کچھ سہل امر نہیں اس لئے اس وقت نہ صرف پیلاطوس کے سپاہی یسوع کے بچانے کے لئے تدبیریں کر رہے تھے بلکہ یہود بھی حواس باختہ تھے اور آثار قہر دیکھ کر یہودیوں کے دل بھی کانپ گئے تھے اور اُس وقت وہ پہلے زمانہ کے آسمانی عذاب جو ان پر آتے رہے اُن کی آنکھوں کے سامنے تھے۔ اس لئے کسی یہودی کو یہ جرأت نہ ہوئی کہ یہ کہے کہ ہم تو ضرور ہڈیاں توڑیں گے اور ہم باز نہیں آئیں گے کیونکہ اُس وقت رَبّ السّماوات والارض نہایت غضب میں تھا اور جلالِ الٰہی یہودیوں کے دلوں پر ایک رُعب ناک کام کر رہا تھا۔
لہذا انہوں نے جن کے باپ دادے ہمیشہ خدا تعالیٰ کے غضب کا تجربہ کرتے آئے تھے جب سخت اور سیاہ آندھی اور عذاب کے آثار دیکھے اور آسمان پر سے خوفناک آثار نظر آئے تو وہ سراسیمہ ہو کر گھروں کی طرف بھاگے۔
اِس بات پر یقین کرنے کے لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہرگز صلیب پر فوت نہیں ہوئے پہلی دلیل یہ ہے کہ وہ انجیل میں یونس نبی سے اپنی مشابہت بیان فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یونس کی طرح میں بھی قبر میں تین دن رہوں گا جیسا کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں رہا تھا۔ اب یہ مشابہت جو نبی کے منہ سے نکلی ہے قابل غور ہے۔ کیونکہ اگر حضرت مسیح مردہ ہونے کی حالت میں قبر میں رکھے گئے تھے تو پھر مُردہ اور زندہ کی کس طرح مشابہت ہو سکتی ہے؟ کیا یونس مچھلی کے پیٹ میں مرا رہا تھا ؟ سو یہ ایک بڑی دلیل اس بات پر ہے کہ ہر گز مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے اور نہ وہ مردہ ہونے کی حالت میں قبر میں داخل ہوئے۔ پھر دوسری دلیل یہ ہے کہ پیلاطوس کی بیوی کو خواب میں دکھلایا گیا کہ اگر یہ شخص مارا گیا تو اس میں تمہاری تباہی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر حقیقت میں عیسیٰ علیہ السلام صلیب دئیے جاتے یعنی صلیبی موت سے مر جاتے تو ضرور تھا کہ جو فرشتہ نے پیلاطوس کی بیوی کو کہا تھا وہ وعید پورا ہوتا ۔ حالانکہ تاریخ سے ظاہر ہے کہ پیلاطوس پر کوئی تباہی نہیں آئی ۔ تیسری دلیل یہ ہے کہ حضرت مسیح نے خود اپنے بچنے کے لئے تمام رات دعا مانگی تھی اور یہ بالکل بعید از قیاس ہے کہ ایسا مقبول درگاہِ الٰہی تمام رات رو رو کر دعا مانگے اور وہ دعا قبول نہ ہو۔ چوتھی دلیل یہ ہے کہ صلیب پر پھر مسیح نے اپنے بچنے کے لئے یہ دُعا کی ۔ ’’ایلی ایلی لماسبقتانی‘‘ اے میرے خدا! اے میرے خدا! ’’تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔‘‘ اب کیونکر ممکن ہے کہ جب کہ اس حد تک اُن کی گدازش اور سوزش پہنچ گئی تھی پھر خدا اُن پر رحم نہ کرتا۔ پانچویں دلیل یہ ہے کہ حضرت مسیح صلیب پر صرف گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ رکھے گئے اور شاید اس سے بھی کم اور پھر اتارے گئے اور یہ بالکل بعید از قیاس ہے کہ اس تھوڑے عرصہ اور تھوڑی تکلیف میں اُن کی جان نکل گئی ہو اور یہود کو بھی پختہ ظن سے اس بات کا دھڑکا تھا کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا۔ چنانچہ اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ بھی قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ وَمَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا(النساء: ۱۵۸) یعنی یہود قتل مسیح کے بارے میں ظن میں رہے اور یقینی طور پر انہوں نے نہیں سمجھا کہ در حقیقت ہم نے قتل کر دیا۔ چھٹی دلیل یہ ہے کہ جب یسوع کے پہلو میں ایک خفیف سا چھید دیا گیا تو اُس میں سے خون نکلا اور خون بہتا ہوا نظر آیا اور ممکن نہیں کہ مُردہ میں خون بہتا ہوا نظر آئے۔ ساتویں دلیل یہ ہے کہ یسوع کی ہڈیاں توڑی نہ گئیں جو مصلوبوں کے مارنے کے لئے ایک ضروری فعل تھا۔ کیونکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ تین دن صلیب پر رکھ کر پھر بھی بعض آدمی زندہ رہ جاتے تھے پھر کیونکر ایسا شخص جو صرف چند منٹ صلیب پر رہا اور ہڈیاں نہ توڑی گئیں وہ مر گیا ؟ آٹھویں دلیل یہ ہے کہ انجیل سے ثابت ہے کہ یسوع صلیب سے نجات پا کر پھر اپنے حواریوں کو ملا اور اُن کو اپنے زخم دکھلائے اور ممکن نہیں کہ یہ زخم اس حالت میں موجود رہ سکتے کہ جب کہ یسوع مرنے کے بعد ایک تازہ اور نیا جلالی جسم پاتا۔ نویں دلیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیبی موت سے محفوظ رہنے پر یہی نسخہ مرہم عیسیٰ ہے۔ کیونکہ ہرگز خیال نہیں ہو سکتا کہ مسلمان طبیبوں اور عیسائی ڈاکٹروں اور رُومی مجوسی اور یہودی طبیبوں نے باہم سازش کر کے یہ بے بنیاد قصہ بنا لیا ہو۔ بلکہ یہ نسخہ طبابت کی صد ہا کتابوں میں لکھا ہوا اب تک موجود ہے۔ ایک ادنیٰ استعداد کا آدمی بھی قرابادین قادری میں اس نسخہ کو امراض الجلد میں لکھا ہوا پائے گا ۔ یہ بات ظاہر ہے کہ مذہبی رنگ کی تحریروں میں کئی قسم کی کمی زیادتی ممکن ہے کیونکہ تعصبات کی اکثر آمیزش ہو جاتی ہے لیکن جو کتابیں علمی رنگ میں لکھی گئیں ان میں نہایت تحقیق اور تدقیق سے کام لیا جاتا ہے۔ لہذا یہ نسخہ مرہم عیسیٰ اصل حقیقت کے دریافت کے لئے نہایت اعلیٰ درجہ کا ذریعہ ہے اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ خیالات کہ گویا حضرت عیسیٰ آسمان پر چلے گئے تھے کیسے اور کس پایہ کے ہیں ۔ اور خود ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ کے جسم کو آسمان پر اُٹھانے کے لئے کوئی بھی ضرورت نہیں تھی ۔ خدا تعالیٰ حکیم ہے عبث کام کبھی نہیں کرتا۔ جبکہ اُس نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غار ثور میں صرف دو تین میل کے فاصلے پر مکہ سے چھپا دیا اور سب ڈھونڈنے والے ناکام اور نامراد واپس کئے تو کیا وہ حضرت مسیح کو کسی پہاڑ کی غار میں چھپا نہیں سکتا تھا اور بجز دوسرے آسمان پر پہنچانے کے یہودیوں کی ہمت اور تلاش پر اس کو دل میں کھڑکا تھا ؟
ماسوا اس کے کسی آیت یا حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قرآن شریف یا حدیث میں کہیں اور کسی مقام میں حضرت عیسیٰ کی نسبت صَعُوْد کا لفظ بھی لکھا ہے☆ ۔ ہاں رفع کا لفظ ہے جو توفی کے لفظ کے بعد آیا ہے اور ہمیں قرآن اور حدیث کے بہت سے مقامات سے معلوم ہوا ہے کہ توفی کے بعد مومنوں کا رفع ہوتا ہے۔ یعنی مومن کی رُوح جسم کی مفارقت کے بعد رُوحانی طور پر خدا تعالیٰ کی طرف بُلائی جاتی ہے جیسا کہ آیت ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ سے ظاہر ہے۔ اور اگر چہ تمام انبیاء اور رسول اور صدیق اور اولیاء اور تمام مومنین مرنے کے بعد رُوحانی طور پر خدا تعالیٰ کی طرف ہی اُٹھائے جاتے اور رفع کے مرتبہ سے عزت دیئے جاتے ہیں مگر قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کا خصوصیت کے ساتھ اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ یہودی لوگ آپ کے رفع روحانی سے سخت منکر تھے اور اب تک منکر ہیں ۔ اور اُن کی حجت یہ ہے کہ یسوع یعنی عیسیٰ علیہ السلام صلیب دیئے گئے ہیں اور توریت میں لکھا ہے کہ جو شخص صلیب دیا جائے اُس کا رفع روحانی نہیں ہوتا ۔ یعنی اس کی روح خدا تعالیٰ کی طرف جو مقام راحت ہے اٹھائی نہیں جاتی بلکہ ملعون ٹھہرا کر نیچے کی طرف پھینکی جاتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ یہودیوں کے اِس اعتراض کو دور کرے اور حضرت مسیح کے رفع روحانی پر گواہی دے۔ سو اِسی گواہی کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا☆ یعنی اے عیسیٰ میں تجھے وفات دوں گا اور وفات کے بعد تجھے اپنی طرف اُٹھاؤں گا اور تجھے اُن الزاموں سے پاک کروں گا جو تیرے پر اُن لوگوں نے لگائے جنہوں نے تیری راستبازی کو قبول نہ کیا۔ اب ظاہر ہے کہ اس جگہ رفع جسمانی کی کوئی بحث نہ تھی ۔ اور یہودیوں کے عقیدہ میں یہ ہرگز داخل نہیں کہ جس کا رفع جسمانی نہ ہو وہ نبی یا مومن نہیں ہوتا ۔ پس اس بے ہودہ قصے کے چھیڑنے کی کیا حاجت تھی ۔ خدا تعالیٰ کا کلام لغو سے پاک ہے ۔ وہ تو اُن مقدمات کا فیصلہ کرتا ہے جن کا فیصلہ کرنا ضروری ہے۔ یہود نالائق نعوذ باللہ حضرت مسیح کو کافر اور کاذب اور مفتری ٹھہراتے تھے اور کہتے تھے کہ موسیٰ اور تمام راستبازوں کی طرح اُن کو روحانی رفع نصیب نہیں ہوا اور کسی حد تک نصاریٰ بھی اُن کی ہاں میں ہاں ملانے لگے تھے ۔ سو خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا کہ یہ دونوں فریق جھوٹے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام بے شک مرنے کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائے گئے ہیں جیسا کہ اور راستباز اٹھائے گئے ۔ یہ بعینہ ایسا ہی فیصلہ ہے جیسا کہ حدیثوں میں آیا ہے کہ عیسیٰ اور اُس کی ماں مس شیطان سے پاک ہیں ۔ جاہل مولویوں نے اس کے یہ معنے کر لئے کہ بجز حضرت عیسیٰ اور اُن کی ماں کے اور کوئی نبی ہو یا رسول ہو مسّ شیطان سے پاک نہیں یعنی معصوم نہیں اور آیت اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنٌکو بھول گئے اور نیز آیت وَسَلٰمٌ عَلَیۡہِ یَوۡمَ وُلِدَکو پس پُشت ڈال دیا۔ اور بات صرف اتنی تھی کہ اس حدیث میں بھی یہودیوں کا ذبّ اور دفع اعتراض منظور تھا۔ چونکہ وہ لوگ طرح طرح کے ناگفتنی بہتان حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ پر لگاتے تھے اس لئے خدا کے پاک رسول نے گواہی دی کہ یہودیوں میں سے مسّ شیطان سے کوئی پاک نہ تھا اگر پاک تھے تو صرف حضرت عیسیٰ اور اُن کی والدہ تھی۔ نعوذ باللہ اس حدیث کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ ایک حضرت عیسیٰ اور اُن کی والدہ ہی معصوم ہیں اور اُن کے سوا کوئی نبی ہو یا رسول ہو مسّ شیطان سے معصوم نہیں ہے ۔
ہمارے بعض نادان علماء کی جیسی یہ غلطی ہے ویسی ہی یہ غلطی بھی ہے کہ وہ رفع سے مراد جسمانی رفع سمجھ بیٹھے ہیں۔ حالانکہ جسمانی رفع کے بارے میں کوئی بحث نہ تھی اور نہ یہ مسئلہ مُہتمّ بالشان ہو سکتا ہے۔ کیونکہ دنیا کے کسی مذہب کے نزدیک جسمانی رفع شرط نجات نہیں ہے مگر رُوحانی رفع شرط نجات ہے اور یہودیوں کی یہ کوشش تھی کہ جو امر توریت کے رُو سے شرط نجات ہے وہ حضرت عیسیٰ کی ذات سے مسلوب ثابت کر دیا جائے یعنی یہ ثابت کیا جائے کہ وہ امر اُن میں نہیں پایا جاتا۔ اِسی غرض سے انہوں نے اپنی دانست میں صلیب دی تھی ۔ اور صلیب کا نتیجہ جو توریت میں بیان کیا گیا ہے وہ یہ نہیں ہے کہ جو شخص مصلوب ہو وہ مع جسم عنصری آسمان پر نہیں جاتا بلکہ یہ ہے کہ راستبازوں کی طرح اُس کی روح خدا کی طرف اُٹھائی نہیں جاتی ۔ یہودی اب تک زندہ موجود ہیں اگر کسی کو تحقیق حق منظور ہوتی تو اُن سے پوچھتا کہ تم نے صلیب دینے سے کیا نتیجہ نکالا ؟ کیا یہ کہ حضرت عیسیٰ بوجہ صلیب جسمانی طور پر آسمان پر جانے سے روکے گئے اور یا یہ کہ وہ صلیب پانے سے روحانی رفع الی اللہ سے ناکام رہے؟ کیا اس بات کا تصفیہ کچھ مشکل تھا ؟ مگر اس پُر آشوب زمانے میں لاکھوں میں سے کوئی ایسا انسان ہو گا جس کے دل کو یہ بے قراری ہو گی کہ وہ حق کی تلاش کرے۔ خدا تعالیٰ کا یہ ہم بندوں پر احسان ہے کہ وہ سچائی کو ہر ایک پہلو سے ظاہر کر دیتا ہے اور بعض دلائل کو بعض کے گواہ بنا دیتا ہے۔ اور نہیں چھوڑتا جب تک کہ خبیث کو طیّب سے اور طیّب کو خبیث سے الگ کر کے نہ دکھلاوے۔ سو اسی کی حمایت سے یہ ایک کرشمۂ قدرت ہے کہ مرہم عیسیٰ کا نسخہ تمام کتابوں میں نکل آیا۔ اور ثابت ہو گیا کہ دنیا کے قریباً تمام طبیب مرہم عیسیٰ کا نسخہ اپنی کتابوں میں لکھتے آئے ہیں اور یہ بھی تحریر کرتے آئے ہیں کہ یہ مرہم جو چوٹوں اور زخموں کے لئے نہایت درجہ فائدہ مند ہے یہ حضرت عیسیٰ کے لئے بنائی گئی تھی ۔ طبیبوں کی یہ تحقیقات ایک ایسے درجہ کی تحقیقات ہے جس سے تمام اسرارِ الٰہی منکشف ہو جاتے ہیں اور اصل حقیقت کھلتی ہے اور صاف طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے سوانح میں اصل بات صرف اس قدر تھی کہ وہ موافق وعدہ خدا تعالیٰ کے صلیبی قتل سے نجات دیئے گئے اور پھر اس مرہم کے ساتھ چالیس دن تک اُن کے زخموں کا علاج ہوتا رہا جیسا کہ انجیلوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس مقام میں جہاں صلیب پر چڑھائے گئے تھے واقعہ صلیب کے بعد چالیس دن تک پوشیدہ طور پر رہے۔ پھر جیسا کہ اُن کو حکم تھا ان ملکوں کی طرف تشریف لے گئے جہاں جہاں یہودی اپنے وطن سے متفرق ہو کر آباد تھے ۔ چنانچہ اسی نیّت سے وہ کشمیر میں پہنچے اور کشمیر میں ایک سو بیس برس کی عمر میں وفات پائی اور شہر سری نگر محلّہ خانیار میں اُن کا مزار ہے اور اس جگہ شہزادہ یُوز آسف نبی کر کے مشہور ہیں ۔ اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ انیس سو برس اس نبی کے فوت ہونے پر گذر گئے ہیں ۔☆
غرض یہ مرہم عیسیٰ حضرت عیسیٰ کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے اور اس میں اب تک وہ تاثیر زخموں اور چوٹوں کے اچھا کرنے کی باقی ہے ۔ اور یہ مرہم طاعون کو بہت فائدہ کرتی ہے اور طریق استعمال یہ ہے کہ ان مقامات پر اس کی مالش کی جائے جہاں اکثر طاعون کا دانہ نکلتا ہے ۔ جیسا کہ کانوں کے آگے اور گردن کے نیچے اور بغلوں کے اندر اور گنجِ ران ۔ اور ماسوا اس کے جدوار کی سرکہ کے ساتھ گولیاں بنا کر چھ رتّی کے قریب ہر روز وہ گولیاں چھاچھ کے ساتھ کھایا کریں ۔ اور سپرٹ کیمفر اور کلورا فارم اور وائنم پیکاک باہم ملا کر جو بیس بیس قطرہ سے زیادہ نہ ہو ۔ سات تولہ اس میں پانی ڈال دیں اور یاقوت رمانی کی اس دوا کے ساتھ جس کا نام ہم نے تریاق الٰہی رکھا ہے تین وقت صبح دوپہر شام استعمال کریں ۔ اور اگر تریاق الٰہی مل نہ سکے تو صرف ان عرقیات کو طریق مذکورہ بالا کے ساتھ پی لینا اور جدوار کی گولیاں بھی کھاتے رہنا انشاء اللہ فائدہ سے خالی نہ ہوگا ۔ اور بچے جن کی عمر دس بارہ سال تک ہے اُن کے لئے تین تین قطرے کافی ہے ۔
ہم ذیل میں ناظرین کی عام واقفیت کے لئے اپنا پہلا اشتہار جو ۶؍فروری ۱۸۹۸ء کو طاعون کے بارے میں شائع کیا گیا تھا دوبارہ درج کرتے ہیں تا معلوم ہو کہ کیونکر خدا تعالیٰ نے اپنے الہام کے ذریعہ سے پیش از وقت بعض اسرار ربوبیت ہم پر ظاہر فرمائے ہیں اور تا کسی آئندہ وقت میں یہ اشتہار موجبِ تقویّتِ ایمان اور حق کے طالبوں کے لئے یقین کامل کا موجب ٹھہرے ۔ اور وہ یہ ہے :۔
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ
اس مرض نے جس قدر بمبئی اور دوسرے شہروں اور دیہات پر حملے کئے اور کر رہی ہے ان کے لکھنے کی ضرورت نہیں۔ دو سال کے عرصے میں ہزاروں بچے اس مرض سے یتیم ہو گئے اور ہزار ہا گھر ویران ہو گئے ۔ دوست اپنے دوستوں سے اور عزیز اپنے عزیزوں سے ہمیشہ کے لئے جُدا کئے گئے اور ابھی انتہا نہیں ۔ کچھ شک نہیں کہ ہماری گورنمنٹ محسنہ نے کمال ہمدردی سے تدبیریں کیں اور اپنی رعایا پر نظر شفقت کر کے لکھوکھا روپیہ کا خرچ اپنے ذمہ ڈال لیا اور قواعد طبیّہ کے لحاظ سے جہاں تک ممکن تھا ہدایتیں شائع کیں ۔ مگر اس مرض مہلک سے اب تک بکلی امن حاصل نہیں ہوا بلکہ بمبئی میں ترقی پر ہے اور کچھ شک نہیں کہ ملک پنجاب بھی خطرہ میں ہے۔ ہر ایک کو چاہیے کہ اس وقت اپنی اپنی سمجھ اور بصیرت کے موافق نوع انسان کی ہمدردی میں مشغول ہو۔ کیونکہ وہ شخص انسان نہیں جس میں ہمدردی کا مادہ نہ ہو۔ اور یہ امر بھی نہایت ضروری ہے کہ گورنمنٹ کی تدبیروں اور ہدایتوں کو بدگمانی کی نظر سے نہ دیکھا جائے ۔ غور سے معلوم ہوگا کہ اس بارے میں گورنمنٹ کی تمام ہدایتیں نہایت احسن تدبیر پر بنی ہیں گو ممکن ہے کہ آئندہ اس سے بھی بہتر تدابیر پیدا ہوں ۔ مگر ابھی نہ ہمارے ہاتھ میں نہ گورنمنٹ کے ہاتھ میں ڈاکٹری اصول کے لحاظ سے کوئی ایسی تدبیر ہے کہ جو شائع کردہ تدابیر سے عمدہ اور بہتر ہو ۔ بعض اخبار والوں نے گورنمنٹ کی تدابیر پر بہت کچھ جرح کیا مگر سوال تو یہ ہے کہ اِن تدابیر سے بہتر کونسی تدبیر پیش کی ۔ بیشک اِس ملک کے شرفاء اور پردہ داروں پر یہ امر بہت کچھ گراں ہوگا کہ جس گھر میں بلاء طاعون نازل ہو تو گو ایسا مریض کوئی پردہ دار جوان عورت ہی ہو تب بھی فی الفور وہ گھر والوں سے الگ کر کے ایک علیحدہ ہوادار مکان میں رکھا جائے جو اس شہر یا گاؤں کے بیماروں کے لئے گورنمنٹ کی طرف سے مقرر ہو۔ اور اگر کوئی بچہ بھی ہو تو اُس سے بھی یہی معاملہ کیا جائے اور باقی گھر والے بھی کسی ہوادار میدان میں چھپّروں میں رکھے جائیں۔ لیکن گورنمنٹ نے یہ ہدایت بھی تو شائع کی ہے کہ اگر اس بیمار کے تعہد کے لئے ایک دو قریبی اس کے اُسی مکان میں رہنا چاہیں تو وہ رہ سکتے ہیں۔ پس اِس سے زیادہ گورنمنٹ اور کیا تدبیر کر سکتی تھی کہ چند آدمیوں کو ساتھ رہنے کی اجازت بھی دے دے اور اگر یہ شکایت ہو کہ کیوں اُس گھر سے نکالا جاتا ہے اور باہر جنگل میں رکھا جاتا ہے تو یہ ایک احمقانہ شکوہ ہے ۔ میں یقیناً اس بات کو سمجھتا ہوں کہ اگر گورنمنٹ ایسے خطرناک امراض میں مداخلت بھی نہ کرے تو خود ہر ایک انسان کا اپنا وہم وہی کام اس سے کرائے گا جس کام کو گورنمنٹ نے اپنے ذمہ لیا ہے۔ مثلاً ایک گھر میں جب طاعون سے مرنا شروع ہو تو دو تین موتوں کے بعد گھر والوں کو ضرور فکر پڑے گا کہ اس منحوس گھر سے جلد نکلنا چاہئیے ۔ اور پھر فرض کرو کہ وہ اُس گھر سے نکل کر محلّہ کے کسی اور گھر میں آباد ہوں گے اور پھر اس میں بھی یہی آفت دیکھیں گے تب ناچار اُن کو اُس شہر سے علیحدہ ہونا پڑے گا۔ مگر یہ تو شرعاً بھی منع ہے کہ وباء کے شہر کا آدمی کسی دوسرے شہر میں جا کر آباد ہو۔
یا بہ تبدیل الفاظ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا کا قانون بھی کسی دوسرے شہر میں جانے سے روکتا ہے۔ تو اس صورت میں بجز اس تدبیر کے جو گورنمنٹ نے پیش کی ہے کہ اُسی شہر کے کسی میدان میں وہ لوگ رکھے جائیں اور کونسی نئی اور عمدہ تدبیر ہے جو ہم نعوذ باللہ اس خوفناک وقت میں اپنی آزادگی کی حالت میں اختیار کر سکتے ہیں ۔ پس نہایت افسوس ہے کہ نیکی کے عوض بدی کی جاتی ہے اور ناحق گورنمنٹ کی ہدایتوں کو بدگمانی سے دیکھا جاتا ہے۔
ہاں یہ ہم کہتے ہیں کہ ایسے وقت میں ڈاکٹروں اور دوسرے افسروں کو جو اِن خدمات پر مقرر ہوں نہایت درجہ کے اخلاق سے کام لینا چاہیے اور ایسی حکمتِ عملی ہو کہ پردہ داری وغیرہ امور کے بارے میں کوئی شکایت بھی نہ ہو اور ہدایتوں پر عمل بھی ہو جائے ۔ اور مناسب ہوگا کہ بجائے اس کے کہ حکومت اور رُعب سے کام لیا جائے ہدایتوں کے فوائد دلوں میں جمائے جائیں تا بدگمانیاں پیدا نہ ہوں اور مناسب ہے کہ بعض خوش اخلاق ڈاکٹر واعظوں کی طرح مرض پھیلنے سے پہلے دیہات اور شہروں کا دورہ کر کے گورنمنٹ کے مشفقانہ منشاء کو دلوں میں جما دیں تا اس نازک امر میں کوئی فتنہ پیدا نہ ہو۔
واضح رہے کہ اِس مرض کی اصل حقیقت ابھی تک کامل طور پر معلوم نہیں ہوئی اس لئے اس کی تدابیر اور معالجات میں بھی اب تک کوئی کامیابی معلوم نہیں ہوئی۔ مجھے ایک روحانی طریق سے معلوم ہوا ہے کہ اِس مرض اور مرض خارش کا مادہ ایک ہی ہے۔ اور میں گمان کرتا ہوں کہ غالباً یہ بات صحیح ہوگی کیونکہ مرض جَرب یعنی خارش میں ایسی دوائیں مفید پڑتی ہیں جن میں کچھ پارہ کا جزو ہو یا گندھک کی آمیزش ہو۔ اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس قسم کی دوائیں اس مرض کے لئے بھی مفید ہوسکیں ۔ اور جبکہ دونوں مرضوں کا مادہ ایک ہے تو کچھ تعجب نہیں کہ خارش کے پیدا ہونے سے اِس مرض میں کمی پیدا ہو جائے ۔ یہ رُوحانی قواعد کا ایک راز ہے جس سے میں نے فائدہ اٹھایا ہے۔ اگر تجربہ کرنے والے اس امر کی طرف توجہ کریں اور ٹیکا لگانے والوں کی طرح بطور حفظِ ما تقدم ایسے ملک کے لوگوں میں جو خطرۂ طاعون میں ہوں خارش کی مرض پھیلا دیں تو میرے گمان میں ہے کہ وہ مادہ اس راہ سے تحلیل پا جائے اور طاعون سے امن رہے۔ مگر حکومت اور ڈاکٹروں کی توجہ بھی خدا تعالیٰ کے ارادے پر موقوف ہے۔ میں نے محض ہمدردی کی راہ سے اس امر کو لکھ دیا ہے کیونکہ میرے دل میں یہ خیال ایسے زور کے ساتھ پیدا ہوا جس کو میں روک نہیں سکا۔
اور ایک ضروری امر ہے جس کے لکھنے پر میرے جوش ہمدردی نے مجھے آمادہ کیا ہے۔ اور میں خوب جانتا ہوں کہ جو لوگ رُوحانیت سے بے بہرہ ہیں اُس کو ہنسی اور ٹھٹھے سے دیکھیں گے ۔ مگر میرا فرض ہے کہ میں اس کو نوع انسان کی ہمدردی کے لئے ظاہر کروں اور وہ یہ ہے کہ آج جو چھ فروری ۱۸۹۸ء روز یکشنبہ ہے میں نے خواب میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بد شکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں۔ میں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ”یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔“ میرے پر یہ امر مشتبہ رہا کہ اُس نے یہ کہا کہ آئندہ جاڑے میں یہ مرض بہت پھیلے گا یا یہ کہا کہ اس کے بعد کے جاڑے میں پھیلے گا لیکن نہایت خوفناک نمونہ تھا جو میں نے دیکھا۔ اور مجھے اس سے پہلے طاعون کے بارے میں الہام بھی ہوا اور وہ یہ ہے۔ اِنَّ اللہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ . اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ☆ ۔ یعنی جب تک دلوں کی وباءِ معصیت دور نہ ہو تب تک ظاہری وبا بھی دور نہیں ہوگی اور در حقیقت دیکھا جاتا ہے کہ ملک میں بدکاری کثرت سے پھیل گئی ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت ٹھنڈی ہو کر ہوا و ہوس کا ایک طوفان برپا ہو رہا ہے ۔ اکثر دلوں سے اللہ جَلَّ شَانُہٗ کا خوف اُٹھ گیا ہے اور وباؤں کو ایک معمولی تکلیف سمجھا گیا ہے جو انسانی تدبیروں سے دور ہو سکتی ہے۔ ہر ایک قسم کے گناہ بڑی دلیری سے ہو رہے ہیں۔ اور قوموں کا ہم ذکر نہیں کرتے وہ لوگ جو مسلمان کہلاتے ہیں ان میں سے جو غریب اور مفلس ہیں اکثر اُن میں سے چوری اور خیانت اور حرام خوری میں نہایت دلیر پائے جاتے ہیں ۔ جھوٹ بہت بولتے ہیں اور کئی قسم کے خسیس اور مکروہ حرکات اُن سے سرزد ہوتے ہیں اور وحشیوں کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں۔ نماز کا تو ذکر کیا کئی کئی دنوں تک مُنہ بھی نہیں دھوتے اور کپڑے بھی صاف نہیں کرتے۔ اور جو لوگ امیر اور رئیس اور نواب یا بڑے بڑے تاجر اور زمیندار اور ٹھیکہ دار اور دولت مند ہیں وہ اکثر عیاشیوں میں مشغول ہیں اور شراب خوری اور زنا کاری اور بداخلاقی اور فضول خرچی ان کی عادت ہے اور صرف نام کے مسلمان ہیں اور دینی امور میں اور دین کی ہمدردی میں سخت لاپرواہ پائے جاتے ہیں ۔
اب چونکہ اس الہام سے جو ابھی میں نے لکھا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تقدیرِ معلّق ہے اور توبہ اور استغفار اور نیک عملوں اور ترکِ معصیت اور صدقات اور خیرات اور پاک تبدیلی سے دور ہو سکتی ہے لہذا تمام بندگانِ خدا کو اطلاع دی جاتی ہے کہ سچے دل سے نیک چلنی اختیار کریں اور بھلائی میں مشغول ہوں اور ظلم اور بدکاری کے تمام طریقوں کو چھوڑ دیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ سچے دل سے خدا تعالیٰ کے احکام بجالا ویں ۔ نماز کے پابند ہوں ۔ ہر فسق و فجور سے پرہیز کریں۔ توبہ کریں اور نیک بختی اور خدا ترسی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہوں۔ غریبوں اور ہمسایوں اور یتیموں اور بیواؤں اور مسافروں اور در ماندوں کے ساتھ نیک سلوک کریں اور صدقہ اور خیرات دیں اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں اور نماز میں اس بلا سے محفوظ رہنے کے لئے رو رو کر دعا کریں ۔ پچھلی رات اُٹھیں اور نماز میں دعائیں کریں۔ غرض ہر ایک قسم کے نیک کام بجالائیں اور ہر قسم کے ظلم سے بچیں اور اُس خدا سے ڈریں کہ جو اپنے غضب سے ایک دَم میں ہی دنیا کو ہلاک کر سکتا ہے۔ میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ یہ تقدیر ایسی ہے کہ جو دُعا اور صدقات اور خیرات اور اعمالِ صالحہ اور توبہ نصوح سے ٹل سکتی ہے۔ اس لئے میری ہمدردی نے تقاضا کیا کہ میں عام لوگوں کو اس سے اطلاع دوں ۔ یہ بھی مناسب ہے کہ جو کچھ اس بارے میں گورنمنٹ کی طرف سے ہدایتیں شائع ہوئی ہیں خواہ نخواہ اُن کو بدظنّی سے نہ دیکھیں بلکہ گورنمنٹ کو اس کاروبار میں مدد دیں اور اس کے شکر گزار ہوں کیونکہ سچ یہی ہے کہ یہ تمام ہدایتیں محض رعایا کے فائدے کے لئے تجویز ہوئی ہیں اور ایک قسم کی مدد بھی ہے کہ نیک چلنی اور نیک بختی اختیار کر کے اس بلا کے دُور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ سے دُعائیں کریں تا یہ بلا رُک جائے یا اس حد تک نہ پہنچے کہ اس ملک کو فنا کر دیوے۔ یاد رکھو کہ سخت خطرہ کے دن ہیں اور بلا دروازے پر ہے۔ نیکی اختیار کرو۔ اور نیک کام بجالاؤ ۔ خدا تعالیٰ بہت حلیم ہے۔ لیکن اس کا غضب بھی کھا جانے والی آگ ہے اور نیک کو خدا تعالیٰ ضائع نہیں کرتا ۔ مَا یَفۡعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمۡ اِنۡ شَکَرۡتُمۡ وَاٰمَنۡتُمۡ ۔
بترسید از خدائے بے نیاز و سخت قہارے
نہ پندارم کہ بد بیند خدا ترسے نکوکارے
مرا باور نہ می آید کہ رُسوا گردد آں مردے
کہ می ترسد ازاں یارے کہ غفّارست و ستّارے
گر آں چیزے کہ می بینم عزیزاں نیز دیدندے
ز دنیا توبہ کردندے بچشم زار و خونبارے
خور تاباں سیہ گشت است از بدکاریٔ مردم
زمیں طاعوں ہمی آرد پئے تخویف و انذارے
بہ تشویشِ قیامت ماند ایں تشویش گر بِینی
علاجے نیست بہرِ دفعِ آں جُز حُسنِ کردارے
نشاید تافتن سر زاں جنابِ عزّت و غیرت
کہ گر خواہد کشد در یکدمے چوں کرم بیکارے
مَن از ہمدردی است گفتم تو خود ہم فکر کن بارے
خرد از بہرِ ایں روزست اے دانا و ہشیارے
تاریخ طبع اشتہار ھٰذا ۶؍فروری ۱۸۹۸ء
چشم بد اندیش کہ بر کندہ باد
عیب نماید ہنرش در نظر
یہ بات ظاہر ہے کہ جب ایک شخص دشمنی میں انتہا تک پہنچ جاتا ہے تو اس کو اچھی بات بھی بُری معلوم ہوتی ہے اور اپنے دشمن کے ہنر کو عیب کے رنگ میں دیکھتا ہے اور اس کی انصاف پسندی کو ظلم سے بدتر جانتا ہے اسی طرح ہمارے بعض مخالفوں کا حال ہے کہ وہ ہماری دشمنی کے جوش میں جب دیکھتے ہیں کہ ہم گورنمنٹ برطانیہ کی اطاعت کے لئے لوگوں کو رغبت دلاتے ہیں تو وہ خواہ نخواہ مخالفت کر کے گورنمنٹ عالیہ کے حقوق کو بھی جو شرعاً و انصافاً واجب الرعایت ہیں بالائے طاق رکھ دیتے ہیں ۔ چنانچہ حال میں ایک لاہوری شخص نے جس کی عادت گندے اور ناپاک اشتہار جاری کرنا اور محض جھوٹ کی راہ سے ہم پر افترا کرنا ہے جو اپنے تئیں جعفر زٹلی کے نام سے مشہور کرتا ہے اپنے اشتہار مرقوم یکم جون ۱۸۹۸ء میں علاوہ اور بد زبانی اور بد گوئی اور بہتان کے جس کے جواب دینے کی حاجت نہیں ایک یہ الزام بھی لگایا ہے کہ گویا ہم نے محض دروغگوئی کے طور پر گورنمنٹ انگریزی کی تعریف میں وہ خوشامد کے الفاظ استعمال کئے ہیں جن کے وہ لائق نہیں ہے اور اُس کی موجودگی کو خدا تعالیٰ کی ایک بڑی بھاری نعمت مانا ہے اور رومی سلطنت کی توہین کی ہے۔
اس کا جواب ہماری طرف سے یہ ہے کہ ہم نے گورنمنٹ برطانیہ کی کوئی خوشامد نہیں کی صرف وہ الفاظ استعمال کئے ہیں جن کا استعمال کرنا حق اور واجب تھا۔ ہمارا یہ مذہب نہیں کہ دل میں کچھ ہو اور زبان پر کچھ۔ کیونکہ یہ منافقوں کا طریق اور بے ایمانوں کا کام ہے بلکہ واقعی طور پر قدیم سے ہمارا یہ اصول اور عقیدہ ہے کہ اس گورنمنٹ کا وجود فی الحقیقت ہمارے لئے سراسر رحمتِ الٰہی ہے کیونکہ بہت سے دینی اور دنیوی مشکلات سے اسی گورنمنٹ کے ذریعہ سے ہم نے نجات پائی اس گورنمنٹ کے آنے سے ہماری مصیبتیں راحتوں کے ساتھ بدل گئیں اور ہمارے دُکھ آرام کے ساتھ متبدل ہو گئے اور ہماری اسیری کی حالت آزادی کی طرف منتقل ہو گئی ۔ ہم اس گورنمنٹ مُحسنہ کے زمانہ میں امن کے ساتھ زندگی بسر کرنے لگے اور ہمیں دینی ترقی کی نسبت بھی اس گورنمنٹ سے وہ فوائد حاصل ہوئے کہ ہم اپنے فرائض آزادی سے ادا کرنے لگے اور جو دینی کتابیں ہمارے باپ دادوں کی نظر سے پوشیدہ رہتی تھیں وہ ہم نے دیکھیں۔ ہمیں اس گورنمنٹ کے وقت میں کوئی روکتا نہیں کہ ہم پادریوں کا جواب دیں ۔ مگر سکھوں کے وقت میں قطع نظر اس سے کہ سکھ مذہب پر حملہ کرنے کے لئے ہمیں اجازت ہوتی ہم اپنے دین کے شعار ظاہر کرنے سے بھی روکے گئے تھے۔ نماز جو سب سے پہلا مسلمان کے لئے حکم ہے اُس میں بھی ہمیں یہ مصیبتیں پیش آتی تھیں کہ ہمارے اس ملک کے مسلمانوں کی مجال نہ تھی کہ اپنی مساجد میں پوری آزادی سے بانگ نماز دیں حالانکہ بانگ دینے میں سکھوں کا کچھ بھی حرج نہ تھا مضمون بانگ تو یہی تھا کہ خدا واحد لاشریک ہے اُس کی عبادت کی طرف دوڑو تا نجات حاصل کرو ۔ مگر سکھوں پر اس قدر اسلامی اعلان بھی گراں تھا۔ اور اب ہم انگریزی عہد میں یہاں تک دینی امور میں آزادی دیئے گئے ہیں کہ جس طرح پادری صاحبان اپنے مذہب کے لئے دعوت کرتے اور رسائل شائع کرتے ہیں یہی حق ہمیں حاصل ہے کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ جیسا کہ اب ہم عیسائی مذہب کا کمال آزادگی سے ردّ لکھتے اور شائع کرتے ہیں ایسا اختیار کبھی سکھوں کے وقت میں بھی ہمیں ہوا تھا کہ ہم اُن کے مذہب پر کچھ لکھ سکتے ؟ بلکہ اپنے فرائض ادا کرنے بھی محال ہو گئے تھے۔
اب انصافاً کہو کہ سلطنت انگریزی ہمارے لئے خدا تعالیٰ کی بزرگ نعمت ہے یا نہیں جس کے آنے سے ہم اپنی دعوت پر ایسے قادر ہو گئے کہ سلطان روم کے ملک میں بھی ایسے قادر نہیں ہو سکتے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡیعنی ہر ایک نعمت جو خدا سے تجھے پہنچے اُس کا ذکر لوگوں کے پاس کر۔ سو ہمیں اس گورنمنٹ کا شکر کرنا واجب ہے کیونکہ ہم اس گورنمنٹ سے پہلے ایک لوہے کے تنور میں تھے۔ اگر یہ گورنمنٹ ہمارے ملک میں قدم نہ رکھتی تو شاید اب تک تمام مسلمان سکھوں کی طرح ہو جاتے۔ جو شخص ان تمام اُمور پر غور کرے گا کہ سکھوں کے عہد میں اسلام اور اسلامی شعار کے کہاں تک حالات پہنچ گئے تھے اور کس طرح دن بدن جہالت کا کیڑا کھاتا جاتا تھا وہ بے شک گواہی دے گا کہ انگریزوں کا اس ملک میں آنا مسلمانوں کے لئے درحقیقت ایک نہایت بزرگ نعمتِ الٰہی ہے۔ پس جبکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک نعمت ہے تو پھر جو شخص خدا تعالیٰ کی نعمت کو بے عزتی کی نظر سے دیکھے وہ بلا شبہ بدذات اور بد کردار ہوگا۔ کیا حدیث صحیح میں نہیں ہے کہ جو شخص انسان کا شکر نہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کا شکر بھی نہیں کرتا ؟ افسوس کہ اس اشتہار کے لکھنے والے نے نہایت جلے ہوئے دل سے بیان کیا ہے کہ کیوں انگریزوں کی سلطنت کی تعریف کی گئی اور کیوں رومی سلطنت کی شکر گذاری نہیں کی گئی۔ اس کا یہی جواب ہے کہ اگر چہ رومی سلطنت باعث اسلامی سلطنت ہونے کے تعظیم کے لائق ہے لیکن جس قدر اس سلطنت انگریزی کے ہم پر احسان ہیں رومی سلطنت کے ہرگز نہیں ہیں۔ یہ نیکی اسی سلطنت کے ہاتھ سے ہماری نسبت مقدر تھی کہ ہمیں اُس نے ایسی حالت میں پا کر کہ ہمارے مذہب کی آزادی بالکل چھن گئی تھی اور جو واجب الادا شعارِ اسلام تھے اُن سے ہم روکے گئے تھے اور قریب قریب وحشیوں کے ہماری حالت پہنچ گئی تھی اور علم اُٹھ گیا تھا اور جہالت بڑھ گئی تھی ۔ ایسے وقت میں خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ کو دُور سے لایا اور اس کا آنا ہمارے لئے ایسا ہوا کہ ہم یکدفعہ تاریکی سے روشنی میں آ گئے اور قید سے آزادی میں داخل ہوئے اور نبوت کے زمانہ کی طرح اس ملک میں دعوتِ اسلام ہونے لگی اور ہمارے خدا نے بھی جس کی نظر کے سامنے ہر ایک سلطنت ہے اپنے قدیم وعدے کے پورا کرنے کے لئے اسی سلطنت کو موزوں دیکھا اور در حقیقت اس گورنمنٹ سے اِس قدر ہمیں فوائد پہنچے جن کو ہم گن نہیں سکتے تو پھر بڑی بد ذاتی ہو گی کہ ہم دل میں یہ چھپا ہوا عقیدہ رکھیں کہ گورنمنٹ کے ہم دشمن ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ(الرَّحمٰن: ۶۱)یعنی نیکی کرنے کی پاداش نیکی ہے۔ اگر ہم صرف مسلمان نیکی کرنے والے سے نیکی کریں اور غیر مذہب والوں سے نیکی نہ کریں تو ہم خدا تعالیٰ کی تعلیم کو چھوڑتے ہیں کیونکہ اُس نے نیکی کی پاداش میں کسی مذہب کی قید نہیں لگائی بلکہ صاف فرمایا ہے کہ اُس شریر پر خدا راضی نہیں کہ جو نیکی کرنے والوں سے بدی کرتا ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ میں نے سلطانِ روم کی ذاتیات پر کوئی حملہ نہیں کیا اور نہ میں سلطان کے اندرونی حالات سے کچھ واقف ہوں۔ ہاں میں صرف اتنا کہتا ہوں اور کہوں گا کہ دعوتِ دین کے متعلق جس قدر ہم آزادی سے انگریزی سلطنت میں کام کر سکتے ہیں وہ مکّہ اور مدینہ میں بیٹھ کر بھی نہیں کر سکتے نہ وہاں کر سکتے ہیں جہاں سلطان کا پایہ تخت ہے۔ اور ماسوا اِس کے سلطان کی نسبت میں نے کچھ ذکر نہیں کیا میں نے تو صرف اُس سفیرِ روم کے بارے میں لکھا تھا جو قادیاں میں میرے پاس آیا تھا۔ اُس کے حالات کی تصریح سے مجھے خود شرم آتی ہے کہ وہ قسطنطنیہ دارالاسلام کا نمونہ تھا۔ افسوس میں نے اس کو نماز کا پابند بھی نہ پایا اور وہ مجھے ایسا بد نمونہ دکھا گیا جس سے مجھے اس کے دوسرے امثال کی نسبت بھی شُبہ پیدا ہوا۔ غرض سلطان کا اسلامی ممالک کا بادشاہ ہونا یہ امر دیگر ہے اور انگریزوں کے احسان کا شکر ہم پر واجب ہونا یہ اور بات ہے۔ خدا نے انگریزوں کے ہاتھ سے بہت سے غموں سے ہمیں نجات دی اور ہمیں انگریزوں کی سلطنت میں دعوتِ اسلام کا موقعہ دیا ۔ سو یہ احسان جو انگریزوں کی ذات سے ہم پر ہوا اس کا سلطان ہرگز مستحق نہیں ہے ۔ احسان فراموش خدا کے نزدیک گناہ گار ہوتا ہے۔ سلطان روم اُس وقت کہاں تھا جبکہ ہم سکھوں کے عہد میں ذرہ ذرہ سی بات میں کچلے جاتے تھے اور بلند آواز سے بانگ نماز دینا سخت جرم سمجھا جاتا تھا اور ایسے شخص کو کم سے کم ڈکیتی یا ارتکابِ سرقہ کی سزا ملتی تھی جو اپنی بدقسمتی سے بلند آواز سے اذان دیتا تھا۔ اور اگر اتفاقاً کسی مسلمان سے کوئی زخم گائے کو پہنچ جاتا تھا تو اُس کی وہی سزا تھی جو ایک مجرم قتل عمد کی سزا ہوتی تھی ۔ مسلمانوں میں اس قدر جہالت پھیل گئی تھی کہ بہتوں کو صحیح طور پر کلمہ بھی یاد نہ تھا اور دینی کتب کی واقفیت کا یہ حال تھا کہ میں نے سُنا ہے کہ ان دنوں میں ایک بزرگ تھے جو نماز کے بعد یہ دعا کیا کرتے تھے کہ یا الٰہی مجھ پر یہ فضل کر کہ ایک مرتبہ میں صحیح بخاری دیکھ لوں اور پھر عین دعا کے وقت دل پر کچھ نومیدی غالب ہو کر چیخیں مار کر روتے تھے غالباً یہ خیال آتا تھا کہ میری قسمت ایسی کہاں کہ مَیں اپنی عمر میں اس متبرک کتاب کو دیکھ سکوں ۔ اب عہدِ سلطنتِ انگریزی میں وہی کتاب ہے جو تھوڑی سی قیمت پر ہر ایک کتب فروش سے مل سکتی ہے بلکہ حدیث اور تفسیر کی نایاب کتابیں جن کے ہم لوگوں نے کبھی نام بھی نہیں سُنے تھے انگریزوں کے احسن انتظام سے مصر اور قسطنطنیہ اور بلادِ شام اور دور دراز ملکوں اور بعض یورپ کے کتب خانوں اور مطبعوں سے ہمارے ملک میں چلی آتی ہیں۔ اور پنجاب جو مُردہ بلکہ مُردار کی طرح ہو گیا تھا اب علم سے سمندر کی طرح بھرتا جاتا ہے اور یقین ہے کہ وہ جلد تر ہر ایک بات میں ہندوستان سے سبقت لے جائے گا۔ پھر اب انصافاً کہو کہ کس سلطنت کے آنے سے یہ باتیں ہم لوگوں کو نصیب ہوئیں اور کس مبارک گورنمنٹ کے قدم سے ہم وحشیانہ حالت سے باہر ہوئے؟ کیا یہ خوشامد کی باتیں ہیں یا بیانِ واقعہ ہے؟ انصاف اور کلمۃ الحق کو چھوڑنا ایمان نہیں ہے بلکہ بے ایمانی ہے۔ لہذا اصل بات یہی ہے کہ ہمیں ان تمام احسانات کو یاد کر کے سچے دل سے اس سلطنت سے اخلاص رکھنا چاہئیے اور منافقانہ خیالات کو دل سے اُٹھا دینا چاہئیے ۔ ہمیں کوشش کرنی چاہئیے کہ ہم اطاعت اور صدق اور وفاداری کے ساتھ اس احسان کا بدلہ اتاریں جو انگریزوں نے ہم پر اور ہمارے بزرگوں پر کیا ہے۔ ورنہ خوب یاد رکھو کہ ہم خدا تعالیٰ کے گنہگار ٹھہریں گے۔ میں بعض احمق اور متعصب ملّاؤں کے خیالات سے ناواقف نہیں ہوں۔ میں خوب جانتا ہوں کہ کس قدر اُن کے دل غبار آلودہ ہیں۔ اِنہی بیجا تعصّبوں کی وجہ سے نادان زٹلی نے جو اپنے تئیں ایک مُلّا سمجھتا ہے یہ اشتہار یکم جون ۱۸۹۸ء کو نکالا ہے اور گورنمنٹ انگریزی کی شکر گذاری کی وجہ سے میرے پر اعتراض کیا ہے۔ ایسے ہی اس کے بھائی اور بھی ہیں ۔ مگر میں ایسے عقیدے سے ہرگز اتفاق نہیں رکھتا جس کو وہ دل میں رکھتے ہیں اور مجھے سچائی کے بیان کرنے میں اس بات کا کچھ خوف نہیں کہ یہ لوگ مجھے کافر کہیں یا دجّال نام رکھیں میرا حساب خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے۔
اور اسی اشتہار میں یہ شخص میرے پر یہ بھی اعتراض کرتا ہے کہ باوجود یکہ انگریزوں کی اس قدر خوشامد کی گئی ہے پھر بھی اُن کے مذہب پر حملہ کیا ہے مگر یہ کوتاہ اندیش نہیں جانتا کہ میں نے دونوں موقعوں پر پاک کانشنس سے کام لیا ہے نہ وہ خوشامد ہے اور نہ یہ بیجا حملہ ہے۔ میرا کام اصلاح ہے کسی شرارت کو پیدا کرنا میرا کام نہیں ہے اور نہ بیجا خوشامد کرنا میرا طریق ہے۔ پس جیسا کہ میں نے ایک پہلو میں اس بات میں لوگوں کی اصلاح دیکھی کہ وہ سلطنت انگریزی کے ماتحت وفاداری اور اطاعت کے ساتھ زندگی بسر کریں اور دل کو تمام بغاوت کے خیالات سے پاک رکھیں اور واقعی طور پر سرکار انگریزی کے مخلص اور خیر خواہ بنے رہیں اِسی طرح میں نے دوسرے پہلو سے انسانوں کی خیر خواہی اسی میں دیکھی کہ وہ اُس کامل خدا پر ایمان لاویں جس کی عظمت اور قدرت اور لازوال صفات زمین و آسمان پر غور کرنے سے نظر آ رہی ہے۔ انسانوں کو خدا بنانا غلطی ہے ہمیں چاہئیے کہ غلطی کی پیروی نہ کریں اور مخلوق کو خدا بنانے سے پرہیز کریں ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بڑے مقدس ، بڑے راستباز ، بڑے برگزیدہ تھے مگر اُن کو خدا کہنا اس سچے خدا کی توہین ہے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے سچ یہی ہے کہ وہ انسان تھے خدا نہیں تھے اور انسانی کمالات سے بڑھ کر اُن میں کچھ نہ تھا۔ خدا اب بھی ہمیں وہ کمالات دے سکتا ہے جو انہیں دیئے تھے اور دیتا ہے جس کی آنکھیں دیکھنے کی ہوں دیکھے ۔ پس خدا وہی ہے جو ہمارا مددگار ہے جیسا کہ پہلوں کا تھا۔ اُسی کی طرف قرآن رہبری کرتا ہے۔ یہی وہ بات ہے جو خدا نے میرے پر ظاہر کی ہے۔ پس میں بداندیشی کی راہ سے نہیں بلکہ سراسر ہمدردی اور پُوری نیک نیتی سے سچے خدا کی طرف لوگوں کو بُلاتا ہوں اور اس تفرقہ کو دُور کرنا چاہتا ہوں جو غلط فہمی سے پادریوں نے مسلمانوں کے ساتھ ڈال رکھا ہے۔
اور چونکہ اس وقت گورنمنٹ عالیہ انگریزی کا ذکر ہے اِس لئے مَیں قرینِ مصلحت سمجھ کر وہ چٹھی جو جلسۂ طاعون کی خوشنودی میں جناب نواب لفٹیننٹ گورنر بہادر بالقابہ سے پہنچی ہے مع چند سطر اخبار سول ملٹری گزٹ ناظرین کی اطلاع کے لئے ذیل میں لکھتا ہوں ۔ اِس غرض سے کہ جس بات میں ہماری گورنمنٹ عالیہ کی رضا مندی ثابت ہوئی ہے چاہئیے کہ ہر ایک شخص اس کی پیروی کرے۔ میں نے قادیان میں طاعون کے بارے میں اس مراد سے جلسہ کیا تھا کہ تا لوگوں کو اس بات کی طرف رغبت دوں کہ وہ گورنمنٹ کی شائع کردہ ہدایات کو بدل و جان منظور کریں اور میں نے اپنی تمام جماعت کو یہی تعلیم دی تھی اس کے بارے میں یہ چٹھی ہے ۔ میں اُمید رکھتا ہوں کہ اس چٹھی کو پڑھ کر دوسرے معزز مسلمان بھی یہی کارروائی کریں گے۔ اور وہ یہ ہے :
No. 213. S.
From
H. J. Maynard Esquire
Junior Secretary to the Government of the Punjab.
To,
Sheik Rahmatullah Merchant,
Bombay House Lahore
Date Simla, the 11th of June 1898.
Sir
I am directed by His Honour the Lieutenant Governor
to say that he has read with much pleasure the account of the proceedings of a meeting held at Kadian on the 2nd of May 1898. and the address delivered by Mirza Ghulam Ahmad Rais of Kadian, in connection with the measures taken by Government for the suppression of bubonic plague.
2. His Honour desires me to convey his acknowledgement of the supports rendered to the Government by the members Composing the meeting.
I Have the Honour to be
Sir
Your most obedient servant
For Junior Secretary to the Government Punjab.
چٹھی نمبر ۲۱۳۔ ایس
منجانب: ایچ جے۔ مے نارڈ صاحب بہادر جونیئر سیکرٹری گورنمنٹ پنجاب
بطرف: شیخ رحمت اللہ سوداگر بمبئی ہاؤس لاہور
شملہ مؤرخہ ۱۱؍جون ۱۸۹۸ء
جناب
حسب الارشاد جناب نواب لفٹیننٹ گورنر صاحب بہادر میں اطلاع دیتا ہوں کہ جناب ممدوح نے اس جلسہ کے تمام روئداد کو جو ۲؍مئی ۱۸۹۸ء کو قادیان میں متعلقہ اُن قواعد کے جو گورنمنٹ نے انسداد بیماری طاعون کے لئے جاری کئے منعقد ہوا اور نیز اس تقریر کو جو مرزا غلام احمد رئیس قادیان نے اُس وقت کی بڑی خوشی کے ساتھ پڑھا۔
حضور ممدوح کا منشا ہے کہ میں اس مدد کے شکریہ کا اظہار کروں جو کہ اس جلسہ کے ممبروں نے گورنمنٹ کو دی۔
( دستخط )
At an influential meeting of the Muhammadans held recently at Qadian under the auspices of Sheikh Rahmatullah Khan of Lahore, prayers were offered for the cessation of the plague and an address was delivered by Hakim Noor - ud - Din in support of the Government measures of segregation etc, for the suppression of the disease. An acknowledgement of this loyal support has been communicated to the promoters of the meeting. The gist of the address was to the effect that Government was actuated solely by dictates of humanity in its measures for the suppresstion of the disease, that those measures are necessary, that stories that Government desires to poison the people are both lies and foolish and should not be believed for a moment by any body with pretensions of being sensible, and that for females to put aside the
Purdah in so far as to come out of the house into the open for segregation purposes with the face properly veiled is no violation of the principles of (Islam) Muhammadanism in times of imminent danger such as a visitation by the hand of God.
مسلمانوں کی ایک بڑی با وقار جماعت کے جلسہ میں جو زیر نگرانی شیخ رحمت اللہ خان لاہوری بمقام قادیان منعقد ہوا بیماری طاعون کے رُک جانے کے لئے دُعائیں مانگی گئیں اور حکیم نور الدین نے قواعد سگریگیشن وغیرہ کی تائید میں جو گورنمنٹ نے بیماری کے انسداد کے لئے نافذ کئے ایک تقریر کی☆ ۔ اس وفادارانہ مدد کے شکریہ کی اطلاع جلسہ منعقد کرنے والوں کو دی گئی ہے ۔ اس تقریر کا لب لباب یہ تھا کہ گورنمنٹ نے محض انسانی ہمدردی سے مجبور ہو کر بیماری کے روکنے کے لئے یہ قواعد جاری کئے ہیں اور یہ قواعد بہت ضروری ہیں اور فرضی قصے کہ گورنمنٹ لوگوں کو زہر دینا چاہتی ہے بالکل جھوٹے اور احمقانہ ہیں اور اس شخص کو جو کہ اپنے اندر عقل رکھتا ہے ایک لحظہ بھر کے لئے بھی انہیں تسلیم نہ کرنا چاہیے۔ اور سخت خطرہ کی حالت میں مثلاً جب کہ خدا کی طرف سے کوئی بیماری نازل ہو عورتوں کا اپنے گھروں سے کھلے میدان میں سگریگیشن کی غرض سے مناسب طور پر چہرہ ڈھانکے ہوئے آنا اسلام کے اصولوں کے برخلاف نہیں۔
شہزادہ والا گوہر اکسٹرا اسسٹنٹ نے جو شہزادہ عبدالمجید صاحب پر جھوٹا الزام لگایا ہے۔ مندرجہ ذیل خط میں جو ہمارے نام ہے صاحب مؤخر الذکر اس الزام کا ردّ لکھتے ہیں یہ دونوں صاحب باہمی قریبی رشتہ داری کا تعلق رکھتے ہیں ۔ لیکن ایک کو خدا تعالیٰ نے ہدایت اور حق کی طرف کھینچا اور دوسرے کو باطل پسند آیا۔ و ذالک فضل اللہ یهدی من یشاء و یضل من یشاء ۔ وہ خط یہ ہے۔
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۔ حَامِدًا وَ مُصَلِّیًا
اے شہِ والا ہم سایۂ فضلِ خدا
جان و دل انبیاء تاجِ سرِ اولیا
جلوۂ حسنِ ازل پرتوِ مہرِ رخت
مصحفِ رخسارِ تو آیتِ نورِ خدا
قامتِ رعنائے تو نخلِ گلستانِ قدس
چہرۂ زیبائے تو چوں خورِ تابانِ صفا
ہر اَلمے را دوا یک نظرِ لطفِ تو
نسخۂ دیدارِ تو ہر مرضے را شفا
آن دم جان پرورت از سرِ اعجازِ خویش
مُردۂ صد سالہ را زندہ کند برملا
تہنیت آمیز گفت ہاتفِ غیبم چنین
کعبۂ گوئے ترا قبلۂ حاجت روا
نگہتِ باغِ ارم بیخت غبارِ رہت
بُوئے جنان میدہد خاکِ درت جابجا
مہبطِ رُوح الامین مطلعِ نورِ مُبین
مسکنِ پاکِ ترا ساختہ ربّ الورا
طُورِ جلالِ خدا عرشِ برینِ دلت
نورِ جمالِ خدا صورتت اے رہنما
اُمّتِ احمدؐ کہ بود بستۂ جور و جفا
احمدِ آخر زمان کرد زِ بندش رہا
قاتلِ اعداءِ دین ناصرِ دینِ متین
عالمِ عالَم پناہ ہادیٔ رُشد و تقا
دید خدا با یقین ہر کہ ترا دیدہ است
دید خدا دیدِ تست نیست غلط این صدا
غاشیۂ بندگیت ہر کہ فگندش بدوش
دولتِ جاوید یافت عزّت و مجد و علا
جان و دلے کز رہت داشت فدایش دریغ
از سرِ فتویٔ عشق بے خبر است از وفا
وَہ چہ خوش آن حالتے وَہ چہ خوش آں ساعتے
کز رہِ شوق و طرب جاں بکنیمت فدا
مہرِ تو در خاطرم مضمحل و سُست نیست
تا کندش منعدم بندۂ فشل و دغا
فضلِ عمیمِ خدا حافظِ ما عاجزان
مردِ مزوّر اگر نالہ کُند یا بُکا
ما بہزار التجا ما بہزار التماس
حلقہ بگوشیت را می طلبیم از خدا
مستِ مئے عشقِ تو بے خبر از غیرِ حق
محو شد از خویشتن ہر کہ بدید آں لقا
آتشِ عشقِ ترا خود بدل و جاں زدیم
تا کہ بسوزیم پاک آنچہ بود ماسوا
اما بعد بخدمت اقدس حضرت امام الوقت گذارش آنکہ اس ناکارۂ دُور افتادہ کو معلوم ہوا کہ آج کل شہزادہ والا گوہر صاحب اکسٹرا اسسٹنٹ جہلم نے اخبار سراج الاخبار میں میری نسبت لکھا ہے کہ فلاں نے اپنے اعتقاد سے توبہ کی ہے اور توبہ اس واسطے نصیب ہوئی کہ شہزادہ صاحب نے میرے عقیدہ کی خرابی مجھ پر ثابت کر دی ۔ سُبْحَانَکَ اِنْ هٰذَا اِلَّا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ بزرگوارا! دو ماہ تک شہزادہ صاحب سے مسیح موعود کی حیات و ممات اور حضور علیہ السلام کے دعاوی پر زبانی بحث ہوتی رہی ۔ چنانچہ مولوی عبدالعزیز ، مولوی مشتاق احمد ، قاضی فضل احمد منشی سعد اللہ مدرس وغیرہ نے جو مدت سے کینۂ نہفتہ کی زہر اُگلنے کی تاک رکھتے تھے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر شہزادہ صاحب سے خوب گت ملائی اور سفہاءِ اُمم ماضیہ کی تقلید ہو بہو ادا کی ۔ میں نے نہ کبھی جبانت اور بُزدلی دکھائی اور نہ میں کبھی اُن سے دبا جس سے اُن کو میری توبہ کا یقین یا احتمال پیدا ہوا ہو ۔ البتہ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡجٰہِلِیۡنَاور وَّاِذَا خَاطَبَہُمُ الۡجٰہِلُوۡنَپر عملدرآمد میرا ہوتا رہا۔ اس کو اگر انہوں نے توبہ سمجھ لیا تو یہ اُن کی فہم رسا کی خوبی ہے۔ لاحول و لا ۔ اس قدر جھوٹ ۔
بزرگوارا اگر چہ نابکار شرفِ زیارت سے محروم ہے مگر آنحضرت کی محبت اور عظمت اور ادب اور اطاعت اور کثرتِ یاد میری رُوح اور جان کا جزو ہو گیا ہے۔ میں اپنی جان سے کس طرح علیحدہ ہو سکتا ہوں۔ میرے پیارے میرے دل کا حال اس سے دریافت فرما جو سب بھیدوں سے واقف ہے۔ وَلَا یُنَبِّئُکَ مِثۡلُ خَبِیۡرٍ ۔ میرے مولیٰ تو نے تو خدا اور رسول کا پتہ دیا۔ تو نے جنت کا راستہ بتلایا تو نے قرآن سکھلایا ہم غفلت میں پڑے سوتے تھے تُو نے ہی آن جگایا ہم اِسمی اور رَسمی مسلمان تھے تُو نے ہی ہم کو حقیقی اسلام سے آگاہی بخشی ہم نہیں جانتے تھے کہ دُعا کیا چیز ہے اور تقویٰ کس شَے کا نام ہے تُو نے ہی تو اُن کا نشان ہم پر ظاہر فرمایا ۔ ہم نہیں جانتے تھے کہ گورنمنٹ عالیہ کے ہم پر کیا کیا حقوق ہیں تُو نے ہی تو وفاداری اور فرمانبرداری کا طریقہ سمجھایا۔ غرض کہاں تک تیرے احسانات کو لکھوں وہ تو بے شمار ہیں تو ہمارا آقا تو ہمارا مولیٰ ہم تیرے خادم ہم تیرے غلام ۔ بھلا تجھ کو چھوڑ کر خدا کی لعنت کماویں۔ میرے ہادی اگر میں ایسا ضعیف الاعتقاد ہوتا تو مخالفوں کی نظروں میں خار کی طرح کیوں چھتا ۔ مخالف سے جب کبھی کسی گذر پر دو چار ہونے کا موقعہ پیش آتا ہے تو وہ مجھ کو دیکھتے ہی غیظ و غضب سے بھر جاتا ہے ۔ میں نے مسجدوں میں نماز پڑھنی ترک کر دی بدیں لحاظ کہ میاں عبداللہ صاحب سنوری سے مجھ کو روایت پہنچی ہے کہ جو لوگ خاموش بیٹھے ہیں گو مخالفت نہیں کرتے اُن کے پیچھے بھی نماز درست نہیں ۔ بزرگوارا قاضی صاحب قاضی خواجہ علی صاحب اور صاحبزادہ افتخار احمد صاحب اور منشی ابراہیم صاحب اور میاں الٰہ دین صاحب وغیرہ وغیرہ احباب لودیانوی سے اپنے غلام کا حال استفسار فرماویں۔ میرے آقا مجھ کو کسی نازک موقعہ اور سخت ابتلا کے وقت بھی لغزش نہیں ہوئی چہ جائیکہ اب اور ان ایّام میں جب کہ آپ کے متواتر کثیر التعداد عظیم القدر و جلیل الشان نشانات علمی و عملی معرضِ ظہور میں آ چکے اور روز روشن کی طرح حق کی صداقت چمک اُٹھی ۔ اور مَیں یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ استقامت محض حضور ہی کی نیم شبی دعاؤں کا ثمرہ ہے۔ ورنہ ہم تو وہی ہیں جو ہیں ۔ مریدوں میں صداقت اور راستی چاہیے پھر انشاء اللہ آپ کی فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ والی تعمیل کے طفیل سے ضائع نہیں ہو سکتے ۔ اگر چہ میں ایک غریب آدمی ہوں لیکن خدا کے فضل سے دل غنی ہے۔ دنیادار دولت مند میری نظروں میں مرے ہوئے کیڑے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا ۔ یہ ہیں ہی کیا بلا ۔ یہ تو مُردے ہیں جن میں جان نہیں۔ ان کی مکروہ صورتیں نفرت کے لائق ہیں۔ اِن سے دبنے والا اور ان کا دست نگر انہی جیسا کوئی اندھا ہوگا۔
اے میرے ہادی! میں ارسالِ عرائض میں اس واسطے دریغ کرتا ہوں کہ میں اپنے اِس فعل کو اَخَف سمجھتا ہوں اور کہتا ہوں کہ میں کیا اور میرے عرائض کیا یونہی بے فائدہ بندگانِ عالی کو کیوں تکلیف دوں عریضہ کے کھولنے میں پڑھنے پڑھانے میں چند منٹ اوقاتِ اشرف میں سے ضائع ہوں گے ناحق کی حرج ہوگی۔ صحبتِ اقدس اور شرفِ زیارت مبارک سے باعث چند در چند موانع غیر مستفیض رہتا ہوں ............... مہربانا حضور کی تصنیفات پُر انوار اور تالیفات حکمت بار جو وقتاً فوقتاً شائع ہوتی رہتی ہیں میرے ازدیادِ ایمان و عرفان کے لئے رہبر کامل کا کام دیتی ہیں۔ جو جو حالات آنجناب پر حضرت کبریا کی طرف سے منکشف ہوتے ہیں اور پھر ان رُوحانیات کو اور ان کشوف و خوارق و رؤیا والہامات کو آپ درج صحفِ مطہّرہ فرماتے ہیں کم و بیش ان رُوحانی کوائف اور تاثیرات کی حلاوت سے میرے مذاقِ جان کو بھی چاشنی نصیب ہوا کرتی ہے اور ایسا احساس ہوتا ہے کہ گویا میں خود ان حالات کا مورد ہوں ۔ لیکن میں اس دُوری و مہجوری کو ہرگز ہرگز اپنے واسطے پسند نہیں کرتا کیونکہ مقربین بساط قدسی آیات کو جو جو برکات اور خوبیاں حاصل ہیں اُس کا عشر عشیر بھی دُور دستوں کو نصیب نہیں ۔ اصحابِ صُفّہ کی جوتی اور دوسروں کا سر ۔ اگرچہ خدا کسی مخلص صادق کو بغیر اجر کے نہیں رکھتا مگر اصحاب الصفه ما اصحاب الصفه ۔ کیا ہی صاحب نصیب ہیں وہ لوگ جن کی نظر ہر صبح و مسا اس منظر اطہر پر پڑتی ہے۔ دولت صحبت کے برکات سے مالا مال ہوتے ہیں۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار کا اطوار کا اخلاق کا عادات کا ریاضات کا مجاہدات کا محاربات کا کامل نمونہ آپ کی ذات میں مشاہدہ کرتے ہیں۔ خدائے قادر ذوالجلال کی جناب سے ہمیشہ یہی دُعا ہے کہ اے قدیر بے نظیر اپنے برگزیدہ مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی شرف ملازمت سے فخر وعزت دے۔ قسم بخدائے لایزال کہ تیرے در کی کنا سی تخت شاہی سے بہت بہتر ہے۔ شہزادہ صاحب نے مجھ پر سخت افترا باندھا ہے اور حضور کو مجھ سے بدگمان کیا ۔ اگر چہ بندگانِ عالی کو مجھ جیسے اَذَلّ کی پر واہ ہی کیا ہے خدا نے آپ کو وہ رفعت و منزلت بخشی ہے کہ آپ کی ذات مجمع البرکات کو مرجع قدوسیاں بنا دیا مگر اخفض جناحك للمؤمنين پر غور کر کے اور بالمؤمنین رؤف الرحیم پر نظر دوڑا کر اس گستاخی کی جرات ہوئی کہ تھوڑی دیر کے واسطے تضییع اوقات بندگانِ عالی کر کے عفو تقصیرات کا ملتجی ہو جاؤں اور دست بستہ عرض پرداز ہوں کہ
ہر چند نیم لائق بخشایش تو
بر من منگر بر کرم خویش نگر
شہزادہ صاحب کی کتاب کے مضامین مختصراً و مجملاً جہاں تک کہ مجھ کو یاد ہیں ذیل میں ہیں وہ مسیح علیہ السلام کو آسمان پر نہیں سمجھتے بلکہ کہتے ہیں کہ اسی جہان میں خدا نے اُن کو چھپایا ہوا ہے۔ اور توفی کے معنے بھرنے کے کرتے ہیں یعنی خدا نے اُن کو بھر پا کر لوگوں سے کنارہ کر لیا ۔ مگر زندہ ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ دو حلیوں کا بیان جو احادیث میں ہے سو چونکہ یہ ایک رؤیا اور کشف ہے پس ممکن ہے کہ ایک ہی شخص کو انسان کئی مختلف صورتوں میں دیکھے ۔ ایک وقت ہم اپنے دوست کو خواب میں کسی صورت میں دیکھتے ہیں اور پھر اُسی دوست کو کبھی خواب میں بصورت دیگر ۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ صرف لفظ عیسیٰ یا مسیح ہی اگر احادیث میں ہوتا تو مثیل کی گنجائش تھی لیکن ابن مریم سے اصل ہی کا آنا ثابت ہوتا ہے☆ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر ایک نبی کی شہادت نبی ہی دیتا چلا آیا ہے جیسا کہ اخیر میں مسیح علیہ السلام کی شہادت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی۔ لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے بھی ایک شاہد کی ضرورت ہے جو نبی ہو۔ اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اس واسطے مسیح نبوت کی حالت میں تو نہیں آئیں گے بلکہ اُمّتی ہوں گے مگر نبوت اُن کی شان میں مضمر ہو گی ۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نبی کا مثیل نبی ہوتا ہے۔ آدم کا مثیل مسیح ۔ موسیٰ کا مثیل محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ایلیا کا مثیل یحییٰ، پس مسیح کا مثیل بھی نبی ہونا چاہیے نہ کہ اُمّتی ۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مسیح موعود کی علامت میں نے ایک نرالی وضع کی نکالی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب مسیح دعویٰ کریں گے تو میں اُن کے والدین کو تلاش کروں گا کیونکہ باپ تو اوّل سے ہی ندارد ہے اور ماں مر چکی ہے۔ پس اگر اس کے والدین ثابت نہ ہو سکے تو پھر اُس کے مسیح ہونے میں کیا شک رہے گا۔
مسیح اسرائیلی کے دوبارہ آنے پر یہ دلیل قطعی پیش کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَجِیۡہًا فِی الدُّنۡیَا وَالۡاٰخِرَۃِ ۔ اور چونکہ مسیح نے اپنی زندگی عُسرت اور ذلت میں گذرانی اس واسطے وہ اس آیت کے مصداق نہیں ہو سکتے کیونکہ وجاہت دنیوی ان کو بالکل نصیب نہیں ہوئی۔ لیکن اس آیت کے مصداق بننے کے لئے خدا ان کو پھر ظاہر کرے گا اور وجاہت دنیوی یعنی سلطنت اور حکومت وغیرہ سب لوازمات اُن کو حاصل ہوں گے۔
اور حضور علیہ السلام کی ذاتیات پر یہ نکتہ چینیاں کرتے ہیں کہ باوجود مقدرت کے حج نہیں کرتے۔ ہزاروں روپوں کے انعامات کے اشتہارات دیتے ہیں لیکن حج کو نہیں جاتے ۔ براہین کا بقیہ نہیں چھاپتے ۔ آتھم کی پیشگوئی غلط نکلی اس کے رجوع کو ہم یقین نہیں کرتے۔ لیکھرام کی پیشگوئی میں اُس کے قتل ہونے کی تصریح نہیں صرف نَصَبٌ وَّ عَذَابٌ کا جملہ ہے جس میں قتل ہونے کا بیان نہیں۔ اور وہ کہتے ہیں کہ اگر بالفرض یہ سچ ہی نکلے تو زہے نصیب لیکھرام کہ وہ ایک کم حیثیت آدمی تھا لیکن اس پیشگوئی کے سبب سے وہ برگزیدہ قوم گنا گیا شہید کے خطاب سے ممتاز ہوا۔ اُس کے پسماندگان کے واسطے ہزاروں روپوں کا چندہ ہوا ۔ یہ ہوا وہ ہوا۔ اور وہ کہتے ہیں کہ اس قسم کی پیشگوئی تو اپنے حق میں مَیں چاہتا ہوں ۔ کسوف خسوف کی حدیث موضوع ہے۔ مسیح کی اور مماثلت تو مرزا صاحب میں کچھ بھی نہیں صرف ایک مماثلت ہے یعنی دُشنام دہی۔ گورنمنٹ کی خوشامد ۔ عربی تصنیفات کی بے نظیری کا دعوٰی ہی غلط ہے کیونکہ قرآن کریم کے سوا یہ دعوٰی توریت وانجیل و زبور واحادیث نبوی نے بھی نہیں کیا۔ حالانکہ وہ بھی الہامی ہیں۔ راولپنڈی والے بزرگ کے حالات سے میرزا صاحب واقف تھے اور جانتے تھے کہ یہ شخص وہمی اور بُزدل ہے اس واسطے اُن کے حق میں جھٹ پیشگوئی کر دی وغیرہ وغیرہ من الخرافات و الهذيانات ۔
خاکسار عبد المجید از لودیانہ محلّہ اقبال گنج ۶؍ جون ۱۸۹۸ء
اَب ہم حق کے طالبوں کے لئے اِن بیہودہ اقوال کا ردّ لکھتے ہیں تا معلوم ہو کہ ہمارے مخالف مولوی اور اُن کے اس قسم کے شاگرد کس قدر سچائی سے دُور جا پڑے ہیں۔
قولہ ۔ مسیح آسمان پر نہیں بلکہ اِسی جہان میں خدا نے اُس کو چھپایا ہوا ہے۔
اقول ۔ یہ دنیا میں کسی کا مذہب نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے بعض مخالف مولوی اب آسمان پر چڑھانے سے نومید ہو کر اپنے فرضی مسیح کو زمین میں چھپانے کی فکر میں لگ گئے ہیں۔
مگر یاد رہے کہ کسی فرقہ متقدمین یا متاخرین نے یہ نہیں لکھا کہ مسیح کو اسی جہان میں خدا تعالیٰ نے چھپایا ہے۔ ہاں مسلمان صوفیوں کے ایک گروہ کا یہ مذہب ہے کہ مسیح کا آسمان سے فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے نازل ہونا باطل ہے کیونکہ یہ صورت ایمان بالغیب کے مخالف ہے اور قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ جب فرشتے زمین پر اُترتے نظر آئیں گے تو اُس وقت دنیا کا خاتمہ ہوگا اور اس وقت کا ایمان منظور نہ ہوگا۔ اور فرماتا ہے کہ فرشتوں کو زمین پر اُترتے دنیا کے لوگ ہر گز دیکھ نہیں سکتے ۔ اور جب دیکھیں گے تو اس وقت یہ دنیا نہیں ہوگی ۔ سو جب کہ قرآن شریف کے نصوص صریحہ اور آیات قطعية الدلالت سے یہ امر ثابت ہو گیا کہ فرشتوں کا نزول اُس وقت ہوگا کہ جب کہ ایمان لانا بے فائدہ ہوگا جیسا کہ جان کندن کے وقت جب فرشتے نظر آتے ہیں تو وہ وقت ایمان لانے کا وقت نہیں ہوتا تو اس صورت میں یا تو یہ عقیدہ رکھنا چاہیئے کہ مسیح کے نزول کے بعد ایمان نفع نہیں دے گا مگر یہ عقیدہ تو صریح باطل ہے کیونکہ اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر کثرت سے پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گی اور راستبازی ترقی کرے گی ۔ پس جب کہ یہ عقیدہ رکھنا درست نہ ہوا تو بالضرورت بر عایت نصوص صریحہ قرآن شریف کے اس دوسرے پہلو کو ماننا پڑا کہ فرشتوں کا اور اُن کے ساتھ مسیح کا نازل ہونا ظاہر طور پر محمول نہیں ہے بلکہ بوجہ قرینہ بیّنہ نص صریح قرآن کے اس نزول کے تاویلی طور پر معنے ہوں گے کیونکہ جسمانی طور پر حضرت عیسیٰ کا آسمان سے فرشتوں کے ساتھ نازل ہونا نص صریح قرآن سے مخالف اور معارض پڑا ہے۔ یہی مشکل تھی جو اکابر اسلام کو پیش آئی اور اسی مشکل کی وجہ سے امام مالک رضی اللہ عنہ نے کھلے کھلے طور پر بیان کر دیا کہ حضرت عیسیٰ فوت ہو گئے ہیں اور اسی وجہ سے امام ابن حزم بھی اُن کی فوت کے قائل ہوئے اور اِسی وجہ سے تمام اکابر علماء معتزلہ کا یہی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ وفات پا چکے ۔ غرض آسمان سے نازل ہونے کا بطلان نہ صرف آیت قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡسے ثابت ہوتا ہے بلکہ یہ تمام آیتیں جہاں لکھا ہے کہ جب فرشتے نازل ہوں گے تو ایمان بے فائدہ ہوگا اور وہ فیصلے کا وقت ہوگا نہ بشارت اور ایمان کا وقت بلند آواز سے پکار رہی ہیں کہ حضرت عیسیٰ کا آسمان سے فرشتوں کے ساتھ اُترنا سراسر باطل ہے اور اگر یہ باطل نہ ہوتا تو دنیا میں یعنی گزشتہ زمانے میں اس کی کوئی نظیر بھی ہوتی☆ ۔ مگر کون بیان کر سکتا ہے کہ کبھی کوئی شخص اِسی جسم عنصری ۔ کے ساتھ عالمِ بیداری میں آسمان پر جا کر پھر واپس آیا ۔ اگر خدا تعالیٰ کی یہ سنت تھی تو گویا دیدہ و دانستہ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو ایلیا کے دوبارہ آنے کے مقدمہ میں یہودیوں کے روبروئی شرمندہ کیا اور یہ کہنا کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے باہم مل کر اس قصے کو تحریف کر دیا ہو گا یہ اس درجہ کی حماقت ہے جس پر بچے بھی ہنسیں گے ۔ غرض مسیح کا آسمان سے اُس طرح پر نازل ہونا جیسا کہ ہمارے مخالف انتظار کر رہے ہیں قرآن کے نصوص صریحہ کے مخالف ہے ۔
ایک گروہ اکابر صوفیہ نے نزولِ جسمانی سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ مسیح موعود کا نزول بطور بروز کے ہوگا ۔ چنانچہ کتاب اقتباس انوار میں جو تصنیف شیخ محمد اکرم صابری ہے جس کو صوفیوں میں بڑی عزّت سے دیکھا جاتا ہے جو حال میں مطبع اسلامیہ لاہور میں ہمارے مخالفوں کے اہتمام سے ہی چھپی ہے یہ عبارت لکھی ہے:۔
‘‘روحانیت کمّل گاہے بر ارباب ریاضت چناں تصرف می فرماید کہ فاعل افعال شاں می گردد ۔ و ایں مرتبہ را صوفیہ بروز می گویند ......... و در شرح فصوص الحکم می نویسد یعنی بغرض بیان کردن نظیر بروز می گوید کہ محمد بود کہ بصورت آدم در مبدء ظہور نمود یعنی بطور بروز در ابتدائے عالم روحانیت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم در آدم متجلّی شد و ہم او باشد کہ در آخر بصورت خاتم ظاہر گردد یعنی در خاتم الولایت کہ مہدی است نیز روحانیّت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم بروز و ظہور خواہد کرد و تصرفہا خواہد نمود و ایں را بروزات کمّل گویند نہ تناسخ و بعضے بر آنند کہ رُوحِ عیسیٰ در مہدی بروز کند ۔ و نزول عبارت ازہمیں بروز است مطابق ایں حدیث کہ لا مهدی الّا عیسی ابن مریم’’
اور یہ بروز کا عقیدہ کچھ نیا نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی پہلی کتابوں میں بھی اس عقیدہ کا ذکر پایا جاتا ہے۔ چنانچہ ملاکی نبی کی کتاب میں جو ایلیا کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی کی گئی ہے جس کو یہود اپنی غلطی سے یہی سمجھتے رہے کہ خود ایلیا نبی ہی آسمان پر سے نازل ہوگا آخر وہ بھی بروز ہی نکلا اور ایلیا کی جگہ آنے والا یحیٰی نبی ثابت ہوا۔ اور یہود کا یہ اجماعی عقیدہ کہ خود ایلیا ہی دوبارہ دنیا میں آ جائے گا جھوٹا پایا گیا۔ ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ ہندوؤں کی کتابوں میں بھی بروز کا عقیدہ تھا اور پھر غلطیوں کے ملنے سے اُسی عقیدہ کو تناسخ سمجھا گیا۔
قولہ ۔ توفّی کے معنے بھرنے کے ہیں۔
اقول ۔ یہ بیہودہ خیالات ہیں۔ بخاری میں عبداللہ بن عباس کے قول سے ثابت ہو چکا ہے کہ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ کے یہ معنے ہیں کہ اے عیسیٰ میں تجھے وفات دوں گا۔ چنانچہ امام بخاری نے اِسی مقام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث لکھ کر جس میں كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحِ ہے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہی معنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کئے ہیں۔ پھر بعد اس کے جو حضرت عیسیٰ کی وفات کے بارے میں قرآن نے فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور عبد اللہ بن عباس کے قول میں بھی یہی آیا دوسرے معنے کرنے یہودیوں کی طرح ایک خیانت ہے۔ غور کر کے دیکھ لو کہ تمام قرآن میں بجز رُوح قبض کرنے کے توفّی کے اور کوئی معنے نہیں۔ تمام حدیثوں میں بجز مارنے کے اور کسی محل میں توفّی کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا ۔ تمام لغت کی کتابوں میں یہی لکھا ہے کہ جب خدا تعالیٰ فاعل ہو اور کوئی انسان مفعول بہ مثلاً یہ قول ہو کہ تَوَفَّى اللہُ زَيْدًا تو بجز رُوح قبض کرنے اور مارنے کے اور کوئی معنے نہیں لئے جاویں گے ۔ پس جب اس صراحت اور تحقیق سے فیصلہ ہو چکا کہ توفّی کے معنے مارنا ہے اور آیت فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ سے ثابت ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی توفّی عیسائیوں کے بگڑنے سے پہلے ہو چکی ہے یعنی وہ خدا بنائے جانے سے پہلے فوت ہو چکے ہیں تو پھر اب تک اُن کی وفات کو قبول نہ کرنا یہ طریق بحث نہیں بلکہ بے حیائی کی قسم ہے ۔ خدا تعالیٰ نے چونکہ ان لوگوں کو ذلیل کرنا تھا کہ جو خواہ مخواہ حضرت عیسیٰ کی حیات کے قائل ہیں اس لئے اُس نے نہ ایک پہلو سے بلکہ بہت سے پہلوؤں سے حضرت عیسیٰ کی موت کو ثابت کیا ۔ توفی کے لفظ سے موت ثابت ہوئی اور پھر آیت وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ(ال عمران: ۱۴۵)سے موت ثابت ہوئی☆ ۔ اور پھر آیت مَا الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ(المآئدۃ: ۷۶)سے موت ثابت ہوئی پھر قرآن شریف کی آیت فِیۡہَا تَحۡیَوۡنَ(الاعراف: ۲۶)سے موت ثابت ہوئی اور پھر قرآن شریف کی آیت وَلَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مُسۡتَقَرٌّسے موت ثابت ہوئی کیونکہ ان دونوں آیتوں سے ثابت ہوا کہ آسمان پر جسمانی زندگی اور قرار گاہ کسی انسان کا نہیں ہو سکتا۔ پھر آیت رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ(النسآء: ۱۵۹)سے موت ثابت ہوئی ۔ کیونکہ تمام قرآن میں یہی محاورہ ہے کہ خدا کی طرف اُٹھائے جانے یا رجوع کرنے سے موت مراد ہوتی ہے جیسا کہ آیت ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرۡضِیَّۃً(الفجر: ۲۹)سے بھی موت ہی مراد ہے اور پھرکَانَا یَاۡکُلٰنِ الطَّعَامَ(المآئدۃ: ۷۶)سے موت ثابت ہوئی کیونکہ اس آیت میں حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم کی نسبت نفی لوازمِ حیات کا بیان ہے جو بدلالت التزامی اُن کی موت کو ثابت کرتا ہے اور پھر آیت وَاَوۡصٰنِیۡ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مَا دُمۡتُ حَیًّا(مریم: ۳۲)سے موت ثابت ہوئی کیونکہ کچھ شک نہیں کہ جیسا کہ کھانے پینے سے اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام بروئے نصِّ قرآنی معطّل ہیں ایسا ہی دوسرے افعالِ جسمانی زکوٰۃ اور صلوٰۃ سے بھی معطّل ہیں ۔ بلکہ زکوٰۃ تو علاوہ جسمانیت کے مال کو بھی چاہتی ہے اور آسمان پر روپیہ پیسہ ہونا معلوم انجیل سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ ایک مالدار آدمی تھے کم سے کم ہزار روپیہ ان کے پاس رہتا تھا جس کا خزانچی یہودا اسکریوطی تھا۔ اب کیا وہ روپیہ آسمان پر ساتھ لے گئے تھے؟ اور ایسا ہی آیت وَمِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّتَوَفّٰی وَمِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرَدُّ اِلٰۤی اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ(الحج: ۶)سے حضرت عیسیٰ کی موت ثابت ہوتی ہے کیونکہ قرآن شریف میں باوجود تکرار مضمون اس آیت کے یہ فقرہ کہیں نہیں آیا کہ مِنْکُمْ مَنْ صَعَدَ اِلَی السَّمَاءِ بِجِسْمِہِ الْعُنْصُرِیْ ثُمَّ یَرْجِعُ فِیْ اٰخِرِ الزَّمَانِ ۔ یعنی تم میں سے ایک وہ بھی ہے جو جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا اور پھر آخری زمانہ میں دنیا میں واپس آئے گا ۔ پس اگر یہ سچ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بجسمِ عنصری آسمان پر چلے گئے تو قرآن شریف کی یہ حصر ناتمام رہے گی ۔ کیونکہ آسمان پر چڑھنے کی نسبت خدا نے اس آیت یا کسی دوسری آیت میں ذکر نہیں کیا اور اگر درحقیقت خدا کی یہ بھی سنّت تھی تو تکمیل بیان کے لئے اس کا ذکر کرنا ضروری تھا ۔ اور جب کہ کئی دفعہ قرآن شریف میں جوان یا بوڑھا کر کے مارنے کا ذکر آ چکا ہے تو اس کے ساتھ اس عادت اللہ کا بیان نہ کرنا کہ کسی کو آسمان پر آباد بھی کیا جاتا ہے اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کسی کو مع جسم آسمان پر آباد کر دینا خدا تعالیٰ کی سنتوں میں سے نہیں ہے۔ اور دین کا اکمال جو آیت اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ(المآئدۃ: ۴)سے سمجھا جاتا ہے اس بات کو چاہتا ہے کہ اس قسم کے تمام اسرار جو خدا تعالیٰ کی سنّت میں داخل ہیں قرآن شریف میں بیان کئے جاتے اور جب کہ آسمان پر مع جسم چڑھانا اور وہاں صد ہا برس تک آباد رکھنا قرآن شریف میں عادت اللہ کے طور پر بیان نہیں کیا گیا اور صرف جوان کرنا اور پھر بڈھا کرنا اور مارنا بیان کیا گیا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ وہ دوسرا امر خدا تعالیٰ کی عادت میں داخل نہیں ہے۔ ایسا ہی آیت وَمَنۡ نُّعَمِّرۡہُ نُنَکِّسۡہُ فِی الۡخَلۡقِ(یٰسٓ: ۶۹)سے حضرت عیسیٰ کی موت ثابت ہوتی ہے کیونکہ جب کہ بموجب تصریح اس آیت کے ایک شخص جو نوے یا سو برس تک پہنچ گیا ہو اس کی پیدائش اس قدر اُلٹا دی جاتی ہے کہ تمام حواس ظاہریہ و باطنیہ قریب الفقدان یا مفقود ہو جاتے ہیں تو پھر وہ جو دو ہزار برس سے اب تک جیتا ہے اُس کے حواس کا کیا حال ہوگا اور ایسی حالت میں وہ اگر زندہ بھی ہوا تو کونسی خدمت دے گا۔ اس آیت میں کوئی استثنا موجود نہیں ہے اور ہمیں نہیں چاہیے کہ بغیر خدا تعالیٰ کے بیان کے آپ ہی ایک استثناء فرض کر لیں۔ ہاں اگر نص صریح سے ثابت ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام باوجود جسمانی حیات کے جسمانی تحلیلوں اور تنزّل حالات اور فقدانِ قویٰ سے منزّہ ہیں تو وہ نص پیش کریں ۔ اور یونہی کہہ دینا کہ خدا ہر ایک بات پر قادر ہے ایک فضول گوئی ہے اور اگر بغیر سند صریح کے اپنا خیال ہی بطور دلیل مستعمل ہو سکتا ہے تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے سیّد و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بعد وفات پھر زندہ ہو کر مع جسم عنصری آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں اور پیرانہ سالی کے لوازم سے مستثنیٰ ہیں اور حضرت عیسیٰ سے بدرجہا بڑھ کر تمام جسمانی قویٰ اور لوازم کاملہ حیات اپنی ذات میں جمع رکھتے ہیں اور آخری زمانہ میں پھر نازل ہوں گے۔ اب بتلاؤ کہ ہمارے اس دعویٰ اور تمہارے دعوے میں کیا فرق ہے۔ اگر قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت توفّی کا لفظ آیا ہے جیسا کہ آیت وَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ(یونس: ۴۷)میں ہے تو یہی توفّی کا لفظ حضرت عیسیٰ کی نسبت دو مرتبہ آ گیا ہے بلکہ اگر سچی گواہی دی جائے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وفات پانا تمام نبیوں کی وفات سے زیادہ تر ثابت ہے ۔ بہت سے نبیوں کی وفات کا خدا تعالیٰ نے ذکر بھی نہیں کیا۔ لیکن حضرت مسیح کی وفات کا بار بار قرآن شریف میں ذکر کیا ہے جیسا کہ اس آیت میں بھی حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کی طرف ہی اشارہ ہے اور وہ یہ ہے۔ وَالَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَا یَخۡلُقُوۡنَ شَیۡئًا وَّہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ اَمۡوَاتٌ غَیۡرُ اَحۡیَآءٍ ۚ وَمَا یَشۡعُرُوۡنَ ۙ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ یعنی جو لوگ بغیر اللہ کے معبود بنائے جاتے ہیں اور پکارے جاتے ہیں وہ کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ آپ ہی پیدا شدہ ہیں اور وہ تمام لوگ مر چکے ہیں زندہ بھی تو نہیں ہیں اور نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ اب بتلاؤ کہ اگر کوئی عیسائی اس جگہ تم پر اعتراض کرے کہ یہ بیان قرآن کا بموجب معتقدات تمہارے خلاف واقعہ ہے کیونکہ قرآن مسیح ابن مریم کو مِنْ دُوْنِ اللہِ سمجھتا ہے اور کل مِنْ دُوْنِ اللہِ معبود کو بغیر کسی استثناء کے مردہ قرار دیتا ہے اور تم مسیح ابن مریم کو زندہ قرار دیتے ہو حالانکہ قرآن کہتا ہے کہ کوئی مِنْ دُوْنِ اللہِ معبود زندہ نہیں ہے ۔ پس اگر تم سچے ہو تو قرآن حق پر نہیں ہے اور اگر قرآن حق پر ہے تو تم دعویٰ حیاتِ مسیح میں سچے نہیں تو اس اعتراض کا کیا جواب ہے؟ اور ظاہر ہے کہ قرآن شریف کا یہ فرمانا کہ تمام معبود غیر اللہ اَمۡوَاتٌ غَیۡرُ اَحۡیَآءٍ(النحل: ۲۱،۲۲) ہیں اس کا اوّل مصداق حضرت عیسیٰ ہی ہیں کیونکہ زمین پر سب انسانوں سے زیادہ وہی پوجے گئے ہیں اور تمام انسانی پرستاروں کی نسبت ان کا گروہ کثرت میں قوت میں شوکت میں سرگرمی میں دعوتِ شرک میں آگے بڑھا ہوا ہے ۔ دیکھو کہ عیسیٰ پرست دنیا میں چالیس کروڑ ہیں اور اس قدر جماعت انسان پرستوں کی کوئی اور نہیں ہے سو اگر قرآن نے اُن کو اس آیت سے مستثنیٰ رکھا ہے تو نعوذ باللہ اس سے پایا جاتا ہے کہ مُنَزِّلِ قرآن کے نزدیک وہ غیر اللہ نہیں ہے اور اگر مستثنیٰ نہیں ہے تو یہ تمہارے عقیدے کے مخالف ہے کیونکہ تمہارے نزدیک عیسیٰ ابن مریم اموات میں داخل نہیں بلکہ آسمان پر بحیات جسمانی زندہ موجود ہے۔ اب بتلاؤ کہ اگر عیسائیوں کی طرف سے یہ سوال پیش ہو تو تمہارے پاس کیا جواب ہے؟۔
پھر ایک جگہ قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ کو داخل بہشت ذکر فرمایا ہے جیسا کہ فرماتا ہے اِنَّ الَّذِیۡنَ سَبَقَتۡ لَہُمۡ مِّنَّا الۡحُسۡنٰۤی ۙ اُولٰٓئِکَ عَنۡہَا مُبۡعَدُوۡنَ لَا یَسۡمَعُوۡنَ حَسِیۡسَہَا ۚ وَہُمۡ فِیۡ مَا اشۡتَہَتۡ اَنۡفُسُہُمۡ خٰلِدُوۡنَیعنی جو لوگ ہمارے وعدہ کے موافق بہشت کے لائق ٹھہر چکے ہیں وہ دوزخ سے دُور کئے گئے ہیں اور وہ بہشت کی دائمی لذّات میں ہیں۔ تمام مفسّرین لکھتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں ہے اور اس سے بصراحت و بداہت ثابت ہے کہ وہ بہشت میں ہیں ۔ پس ثابت ہوا کہ وہ وفات پا چکے ہیں ورنہ قبل از وفات بہشت میں کیونکر پہنچ گئے؟ علاوہ اس کے وہ حدیث جو طبرانی اور کتاب ما ثبت بالسنۃ میں لکھی ہے اس سے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ہی ثابت ہوتی ہے کیونکہ اُن میں لکھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر ایک سو بیس برس کی ہوئی تھی ۔ محدثین نے اس حدیث کو اوّل درجہ کی صحیح مانا ہے اور کوئی جرح نہیں کیا گیا۔
اب بتلاؤ کہ اب بھی حضرت عیسیٰ کی موت ثابت ہوئی یا نہیں؟ اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا کہ بخاری کی معراج کی حدیثوں میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معراج کی رات بزمرۂ اموات دیکھا اور دوسرے عالم میں پایا اگر وہ زندہ ہوتے تو مردوں سے اُن کا کیا تعلق تھا اور یحیٰی نبی فوت شدہ کے پاس کیونکر وہ رہ سکتے تھے۔ مُردوں کے پاس وہی رہتا ہے جو مُردہ ہو۔
کوئی جو مُردوں کے عالم میں جاوے
وہ خود ہو مُردہ تب وہ راہ پاوے
کہو زندوں کا مُردوں سے ہے کیا جوڑ
یہ کیونکر ہو کوئی ہم کو بتاوے
اور اگر یہ قول ثابت ہو کہ حضرت عیسیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا تھا کہ پھر میں دنیا میں آؤں گا تو بروز کے طور پر یہ آنا ہوگا اور اس سے تو یہ ثابت ہوگا کہ وہ دنیا سے خارج اور وفات یافتہ ہیں ۔ اور جب کہ دنیا سے گئے ہوئے لوگوں کا پھر واپس آنا بِجِسْمِهِمُ الْعُنْصُرِی عادت اللہ ثابت نہیں ہوتی تو پھر کیا وجہ کہ اس قول کے اگر صحیح ہو سنّت اللہ کے مخالف معنے نہ کئے جائیں اور کیا وجہ کہ یہ آنا بروزی طور پر نہ مانا جائے جیسا کہ حضرت یوحنا نبی کا دوبارہ دنیا میں آنا تھا کیا حاجت ہے کہ ایسے مجہول الکیفیت معنے لئے جاویں جن کا نمونہ خدا تعالیٰ کی عادتوں میں موجود نہیں اور جن کی پہلی اُمتوں میں کوئی نظیر نہیں ۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں ہمیں حَث اور ترغیب دیتا ہے کہ تم ہر ایک واقعہ اور ہر ایک امر کی جو تمہیں بتلایا گیا ہے پہلی اُمتوں میں نظیر تلاش کرو کہ وہاں سے تمہیں نظیر ملے گی ۔ اب ہم اس عقیدے کی نظیر کہ انسان دنیا سے جا کر پھر آسمان سے دوبارہ دنیا میں آ سکتا ہے کہاں تلاش کریں اور کس کے پاس جا کر روویں کہ خدا کی گذشتہ عادات میں اس کا کوئی نمونہ بتلاؤ؟ ہمارے مخالف مہربانی کر کے آپ ہی بتلاویں کہ اس قسم کا واقعہ کبھی پہلے بھی ہوا ہے اور کبھی پہلے بھی کوئی انسان ہزار دو ہزار برس تک آسمان پر رہا؟ اور پھر فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے اُترا۔ اگر یہ عادت اللہ ہوتی تو کوئی نظیر اس کی گزشتہ قرون میں ضرور ملتی ۔ کیونکہ دُنیا تھوڑی رہ گئی ہے اور بہت گزر گئی اور آئندہ کوئی واقعہ دنیا میں نہیں جس کی پہلے نظیر نہ ہو۔ حالانکہ جو امر سنّت اللہ میں داخل ہے اُس کی کوئی نظیر ہونی چاہیئے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صاف فرماتا ہے۔ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ(النّحل: ۴۴)یعنی ہر ایک نئی بات جو تمہیں بتلائی جائے تم اہل کتاب سے پوچھ لو وہ تمہیں اس کی نظیریں بتلائیں گے لیکن اس واقعہ کی یہود اور نصاریٰ کے ہاتھ میں بجز ایلیا کے قصے کے کوئی اور نظیر نہیں اور ایلیا کا قصہ اس عقیدہ کے برخلاف شہادت دیتا ہے اور دوبارہ آنے کو بروزی رنگ میں بتلاتا ہے۔ اور ایک بڑی خرابی اس عقیدہ میں یہ ہے کہ اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خوارق ذاتی میں ایک خصوصیت پیدا ہو کر نصاریٰ کو اپنے عقائد باطلہ میں اس سے مدد ملتی ہے حالانکہ قرآن بار بار یہی کہتا ہے کہ عیسیٰ میں اور انسانوں کی نسبت کوئی امر زیادہ نہیں ہے ۔ اب بتلاؤ کہ اگر ایک عیسائی تم پر یہ اعتراض کرے کہ اور انسانوں کی نسبت یسوع میں یہ امر زیادہ ہے کہ تم خود مانتے ہو کہ وہ قریباً دو ہزار برس سے آسمان پر زندہ موجود ہے نہ اُس کی قوت میں فرق آیا نہ اُس کا جسم لاغر ہوا نہ اُس کی بینائی میں کچھ فتور پڑا بلکہ بڑے جلال اور پوری قوت کے ساتھ آسمان پر زندہ موجود ہے اور پھر آخری زمانہ میں فرشتوں کے ساتھ جو خدا کا خاص لشکر ہے زمین پر اُترے گا جیسا کہ قرآن کے ایک اور مقام میں بھی ہے کہ خدا فرشتوں کے ساتھ آئے گا تو اس صورت میں خدائی صفات مسیح میں پائی گئیں اور خصوصیت خود توجہ دلاتی ہے کہ وہ عام انسانوں سے الگ ہے تو ذرا سوچ کر کہو کہ ان باتوں کا کیا جواب ہے؟ یہی وہ خیالاتِ باطلہ ہیں جن کی شامت سے اب تک ہندوستان میں ایک لاکھ سے زیادہ اسلام سے مرتد ہو کر عیسائی ہو گیا ہے ان سب کا خون ان نادان علماء کی گردن پر ہے۔ خدا تو اپنی آیات اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ(ال عمران: ۶۰)وغیرہ میں مسیح کی خصوصیت کی بیخ کنی کر رہا ہے تا کوئی جاہل اس کی کسی خصوصیت سے دھوکہ نہ کھائے اور تم لوگ نہ ایک خصوصیت بلکہ بہت سی خارق عادت خصوصیتیں اُس کی ذات میں قائم کرتے ہو۔ تمہارے نزدیک وہ اب تک حیاتِ جسمانی سے بڑی قوت اور طاقت کے ساتھ جیتا ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو ساٹھ برس تک ہی عمر پا کر فوت ہو گئے مگر مسیح ابن مریم اس وقت تک بھی جو دو ہزار تک عدد پہنچنے لگا زندہ آسمان پر موجود ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بقول تمہارے ایک مکھی بھی پیدا نہ کی مگر مسیح ابن مریم کے پیدا کئے ہوئے کروڑ ہا پرندے اب تک موجود ہیں ۔ اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس ایک مُردے کو بھی جو صحابہ کرام میں سے سانپ کے کاٹنے سے مر گیا تھا باوجود اصرار اور الحاح صحابہ کے زندہ نہ کر سکے مگر بقول تمہارے عیسیٰ ابن مریم نے ہزار ہا مردے زندہ کئے اور جو کام حضرت عیسیٰ نے طفولیت میں کئے وہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے زمانہ میں بھی نہ دکھلائے۔
اب بتلاؤ کہ یہ تمام خصوصیتیں جن کے تم خود قائل ہو تمہیں اس بات کے ماننے کے لئے مجبور کرتی ہیں یا نہیں کہ حضرت عیسیٰ کی ذات انسانی صفات سے نرالی تھی یہاں تک کہ بوقت پیدائش کوئی شخص بقول تمہارے مسِّ شیطان سے محفوظ نہ رہ سکا اور یہ اعلیٰ درجہ کی عصمت بھی عیسیٰ ابن مریم کو ہی نصیب ہوئی ۔ ذرا سوچو کہ اِن باتوں سے کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ کیا قرآن اس قسم کی خصوصیتوں کو حضرت عیسیٰ کی نسبت تسلیم کرتا ہے؟ اُس نے تو مسِ شیطان کی نسبت بھی تمام نبیوں اور رسولوں کو عصمت کے بارے میں مساوی حصہ دیا ہے جبکہ کہا اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنٌ غرض حضرت عیسیٰ کی نسبت کوئی خصوصیت قرار دینا قرآنی تعلیم کے مخالف اور عیسائیوں کی تائید ہے اور جیسا کہ نصوص قطعیہ کے رُو سے حضرت عیسیٰ کی وفات ثابت ہوتی ہے ایسا ہی تاریخی سلسلہ کے رُو سے بھی اُن کا مرنا بپایۂ ثبوت پہنچتا ہے۔ دیکھو نسخہ مرہم عیسیٰ جس کا ذکر میں مفصّل لکھ چکا ہوں ۔ کیسی صفائی سے ظاہر کر رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ واقعہ صلیب کے وقت آسمان پر نہیں اُٹھائے گئے ۔ بلکہ زخمی ہو کر ایک مکان میں پوشیدہ پڑے رہے اور چالیس دن تک اُن کی مرہم پٹی ہوتی رہی کیا یہ تمام دنیا کے طبیب اسلامی اور عیسائی اور مجوسی اور روسی اور یہودی جھوٹے ہیں اور تم سچے ہو؟
اب سوچو تمہارا یہ عقیدہ آسمان پر اٹھائے جانے کا کہاں گیا یہ نہ ایک نہ دو بلکہ ہزار کتاب متفرق فرقوں کی ہے جو واقعاتِ صحیحہ کی گواہی دے کر جھوٹے منصوبوں کی قلعی کھول رہی ہیں ۔ یہ کس اعلیٰ درجہ کا ثبوت ہے ذرا خدا سے ڈر کر سوچو۔
پھر یہ بھی آثار میں لکھا ہے کہ مسیح ابن مریم نبی سیّاح تھا بلکہ وہی ایک نبی تھا جس نے دنیا کی سیاحت کی ۔ لیکن اگر یہ عقیدہ تسلیم کیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب کے واقعہ پر جو باتفاق علماء نصاریٰ و یہود و اہلِ اسلام ان کی تینتیس برس کی عمر میں وقوع میں آیا تھا وہ آسمان کی طرف اٹھائے گئے تھے تو وہ کونسا زمانہ ہوگا جس میں انہوں نے سیاحت کی تھی آپ لوگ اس قدر اپنے علم کی پردہ دری کیوں کراتے ہیں اگر تقویٰ ہے تو کیوں حق کو قبول نہیں کرتے ۔ آپ لوگوں کے پاس بجز ایک لفظ نزول کے ہے کیا۔ لیکن اگر اس جگہ نزول کے لفظ سے یہ مقصود تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے دوبارہ آئیں گے تو بجائے نزول کے رجوع کہنا چاہیے تھا کیونکہ جوشخص واپس آتا ہے اُس کو زبانِ عرب میں راجع کہا جاتا ہے نہ نازِل۔ ماسوا اس کے جبکہ قرآن میں نزول کا لفظ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بھی آیا ہے اور صحیح مسلم میں دجال کے حق میں بھی آیا ہے اور عام بول چال اس لفظ کا مسافروں کے حق میں ہے اور نزیل اس مسافر کو کہتے ہیں کہ جو کسی مقام میں فروکش ہو تو پھر خواہ نخواہ نزول سے آسمان سے نازل ہونا سمجھ لینا کس قدر نا سمجھی ہے۔
پھر میں اصل کلام کی طرف عود کر کے کہتا ہوں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم الانبیاء ہونا بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی موت کو ہی چاہتا ہے کیونکہ آپ کے بعد اگر کوئی دوسرا نبی آ جائے تو آپ خاتم الانبیاء نہیں ٹھہر سکتے اور نہ سلسلہ وحی نبوت کا منقطع متصور ہو سکتا ہے۔ اور اگر فرض بھی کر لیں کہ حضرت عیسیٰ اُمتی ہو کر آئیں گے تو شان نبوت تو اُن سے منقطع نہیں ہوگی گو امتیوں کی طرح وہ شریعت اسلام کی پابندی بھی کریں☆ ۔ مگر یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ اس وقت وہ خدا تعالیٰ کے علم میں نبی نہیں ہوں گے اور اگر خدا تعالیٰ کے علم میں وہ نبی ہوں گے تو وہی اعتراض لازم آیا کہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک نبی دنیا میں آ گیا اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا استخفاف اور نص صریح قرآن کی تکذیب لازم آتی ہے۔ قرآن شریف میں مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں بھی ذکر نہیں لیکن ختم نبوت کا بکمال تصریح ذکر ہے اور پرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے اور حدیث لا نَبِی بَعْدِی میں بھی نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرات اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمدا چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحی نبوت منقطع ہو چکی تھی پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کر دیا جائے کیونکہ جس میں شانِ نبوت باقی ہے اُس کی وحی بلا شبہ نبوت کی وحی ہوگی ۔ افسوس یہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ مسلم اور بخاری میں فقرہ اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ اور أَمَّكُمْ مِنْكُمْ صاف موجود ہے۔ یہ جواب سوال مقدر کا ہے یعنی جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں مسیح ابن مریم حکم عدل ہو کر آئے گا تو بعض لوگوں کو یہ وسوسہ دامنگیر ہو سکتا تھا کہ پھر ختم نبوت کیونکر رہے گا۔ اس کے جواب میں یہ ارشاد ہوا کہ وہ تم میں سے ایک امتی ہوگا اور بروز کے طور پر مسیح بھی کہلائے گا☆۔ چنانچہ مسیح کے مقابل پر جو مہدی کا آنا لکھا ہے اس میں بھی یہ اشارات موجود ہیں کہ مہدی بروز کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت کا مورد ہو گا ۔ اسی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا خلق میرے خلق کی طرح ہوگا اور یہ حدیث کہ لَا مَهْدِيَّ الا عیسی ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف کرتی ہے کہ وہ آنے والا ذوالبروزین ہو گا اور دونوں شانیں مہدویت اور مسیحیت کی اُس میں جمع ہوں گی یعنی اس وجہ سے کہ اُس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت اثر کرے گی مہدی کہلائے گا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مہدی تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی(الضحیٰ: ۸) اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی اُستاد سے نہیں پڑھا تھا مگر حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ مکتبوں میں بیٹھے تھے اور حضرت عیسی نے ایک یہودی اُستاد سے تمام توریت پڑھی تھی ۔ غرض اسی لحاظ سے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اُستاد سے نہیں پڑھا خدا آپ ہی اُستاد ہوا اور پہلے پہل خدا نے ہی آپ کو اقرء کہا۔ یعنی پڑھ۔ اور کسی نے نہیں کہا اس لئے آپ نے خاص خدا کے زیر تربیت تمام دینی ہدایت پائی اور دوسرے نبیوں کے دینی معلومات انسانوں کے ذریعہ سے بھی ہوئے ۔ سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن اور حدیث میں کسی اُستاد کا شاگرد نہیں ہوگا ۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے یا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے ۔ پس یہی مہدویت ہے جو نبوت محمدیہ کے منہاج پر مجھے حاصل ہوئی ہے اور اسرار دین بلا واسطہ میرے پر کھولے گئے ۔ اور جس طرح مذکورہ بالا وجہ سے آنے والا مہدی کہلائے گا اسی طرح وہ مسیح بھی کہلائے گا کیونکہ اس میں حضرت عیسی علیہ السلام کی روحانیت بھی اثر کرے گی ۔ لہذا وہ عیسٰی ابن مریم بھی کہلائے گا اور جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے اپنے خاصۂ مہدویت کو اس کے اندر پھونکا☆ اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی روحانیت نے اپنا خاصہ روح اللہ ہونے کا اس کے اندر ڈالا۔
یاد رہے کہ خدا تعالیٰ کے لطف اور احسان اس کے انبیاء علیہم السلام پر گوناگوں پیرایوں میں نازل ہوتے ہیں ۔ کسی نبی کی علمی اور عملی تکمیل بلا واسطہ ہوتی ہے اور کسی کی تکمیل میں بعض وسائط بھی ہوتے ہیں سو یہ خاص فضل کی بات ہے کہ جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ کی علمی تکمیل بغیر واسطہ کسی دوسرے اُستاد کے ہو کر اسی لحاظ سے آپ کو مہدی کا لقب ملا ایسا ہی عملی تکمیل بھی بلا واسطہ ہو کر عبد کا لقب ملا کیونکہ نہ آپ کی تعلیم کسی انسان کی معرفت ہوئی اور نہ آپ کی عملی طاقتیں کسی مہذب مجلس کی صحبت سے پیدا ہوئیں۔ اور اسی خالص مہدویت کے نام کے لحاظ سے آپ کو بہت سے اسرار اور معارف اور کَلِمِ جامِعَہ بخشے گئے یہاں تک کہ قرآن شریف میں اس قدر معارف اور نکات اور علوم حکمیہ الہیہ اور دلائل عقلیہ فلسفیہ اعلیٰ درجہ کی بلاغت اور فصاحت کے ساتھ بیان فرمائے گئے کہ وہ ان تمام معارف اور بلاغت کاملہ کے لحاظ سے ایک اعلیٰ درجے کا علمی معجزہ ٹھہر گیا جس کی نظیر پیش کرنا تمام جن وانس کی طاقت سے باہر ہے ۔ سو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ اعلیٰ کمال جس سے آپ کی خصوصیت تھی مہدویت اور عبودیت ہے۔ آپ کی مہدویت کا ہی اثر تھا کہ اُس زمانہ کو عام خیال ہدایت یابی کا پیدا ہوا اور دلوں کو خود بخود خدا کی طرف توجہ ہوگئی ۔ مہدویت سے مراد وہ بے انتہا معارف الہیہ اور علوم حکمیہ اور علمی برکات ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بغیر واسطہ کسی انسان کے علم دین کے متعلق سکھلائے گئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے اول درجہ کا معجزہ ہے☆ ۔ جن کے ذریعہ سے بے شمار انسان ایمانی اور عملی قوٰی کی تکمیل کر کے معرفت تامہ کے بلند مینار تک پہنچ گئے اور عارف کامل ہو گئے ۔ مسلمان اگر اس بات کا فخر کریں تو بجا ہے کہ جس قد ر ان کو اپنے نبی کریم اور کتاب اللہ قرآن شریف کے ذریعہ سے اسرار اور علوم اور نکات معلوم ہوئے اس کی نظیر کسی نبی کی اُمت میں نہیں۔ اور عبودیت سے مراد وہ حالت انقیاد اور موافقت تامہ اور رضا اور وفا اور استقامت ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص تصرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں پیدا ہوئی جس سے آپ اس راہ کی طرح ہو گئے جو صاف کیا جاتا اور نرم کیا جاتا اور سیدھا کیا جاتا ہے۔ یہ وہ نمونہ تھا جس کی پیروی سے بے شمار انسان استقامت کاملہ تک پہنچ گئے ۔ غرض یہ دونوں کامل صفتیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں متحقق تھیں جو عام ہدایت اور قوت ایمانی اور استقامت کا موجب ہوئیں ۔ اور جس طرح آنجناب کو مہدی اور عبد کا خدا تعالیٰ کی طرف سے لقب ملا تھا جس کی تشریح ابھی ہو چکی ہے اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو روح اللہ کا لقب ملا۔ اور جب یہ لقب اُن کو عطا ہوا تو خدا نے ان کو اُن برکتوں سے بھر دیا جن سے دنیا کو جسمانی طور پر اُن کے انفاس سے فائدہ پہنچا اور یہ فوائد اکثر دنیوی تھے۔
مثلاً لوگوں کی بیماریوں کا اُن کی توجہ سے دُور ہونا یا اُن کی تنگیوں اور تکالیف کا حضرت مسیح کی ہمت سے رفع ہو جانا یا اُن کی دعاؤں سے ان کا دشمنوں پر فتح پانا یا کھانے پینے کی چیزوں میں برکت پیدا ہونا ۔ مگر وہ برکتیں اُن علمی اور روحانی اور غیر فانی اور ایمانی برکتوں کے مقابل پر کچھ چیز نہیں تھیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا کو ملیں ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ اُن روحانی اور غیر فانی اور ایمانی برکتوں میں سے حضرت مسیح نے اپنی امت کو کوئی حصہ نہیں دیا اور نہ یہ کہتے ہیں کہ ان جسمانی برکتوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو محروم رکھا بلکہ مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح میں جسمانی فانی برکتوں کی کثرت تھی اور روحانی اور ایمانی اور دائمی برکتیں دنیا کو ان سے بہت ہی کم ملیں ۔ اسی وجہ سے خدا تعالیٰ کو بھی کہنا پڑا کہ کیا اپنی اُمت کو تو نے ہی شرک سکھایا ہے ۔ ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو روحانی دائمی برکتیں بکثرت دی گئیں اور جسمانی برکتیں بہ نسبت روحانی کے تھوڑی تھیں کیونکہ روحانی گویا بے شمار تھیں ۔
اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ پیشگوئیوں میں آنے والے مسیح کی نسبت یہ لکھا ہوا تھا کہ وہ دونوں قسم کی برکتیں جسمانی اور روحانی پائے گا۔ چنانچہ اشارہ کیا گیا تھا کہ روحانی اور غیر فانی برکتیں جو ہدایت کاملہ اور قوت ایمانی کے عطا کرنے اور معارف اور لطائف اور اسرار الہیہ اور علوم حکمیہ کے سکھانے سے مراد ہے اُن کے پانے کے لحاظ سے وہ مہدی کہلائے گا اور وہ برکتیں چشمہ فیوض محمدیہ سے اُس کو ملیں گی کیونکہ خالص مہدویت بلا آمیزش وسائل ارضیہ صفت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے☆ اس لئے اِس لحاظ سے خدا کے نزدیک اس مجدد کا نام احمد اور محمد ہوگا۔ اور یہ بھی اشارہ کیا گیا تھا کہ جو جسمانی اور فانی یعنی دنیوی برکتیں ہیں جو ہمیشہ نہیں رہ سکتیں اور محدود اور قابل زوال ہیں جن سے مراد یہ ہے کہ دوستوں اور غریبوں اور مسکینوں اور رجوع کرنے والوں کی نسبت اُن کی صحت اور عافیت یا کامیابی اور امن یا فقر وفاقہ سے مخلصی اور سلامتی کے بارے میں برکات عطا کرنا اور ظالم درندوں کی نسبت اُن کی ہلاکت اور تباہی کے بارے میں جو در حقیقت غریبوں اور نیکوں کی نسبت وہ بھی برکات ہیں قہر الہی کی بشارت دینا جیسا کہ حضرت مسیح نے یہودیوں کی تباہی کی نسبت بشارت دی تھی ان برکات کے عطا کرنے کے لحاظ سے اور نیز اُن دنیوی برکات کے لحاظ سے بھی کہ اس زمانہ میں انسانوں کو زندگی میں بہت سے وسائل آرام پیدا ہو جائیں گے وہ عیسی ابن مریم کہلائے گا۔ کیونکہ جو برکات اعلیٰ درجہ کی اور بکثرت حضرت مسیح کو دی گئی تھیں وہ یہی ہیں۔ اس لئے آخری امام کے لئے اُن برکات کا سرچشمہ حضرت مسیح ٹھہرائے گئے اور چونکہ حقیقت عیسوی یہی ہے اس لئے اس حقیقت کے پانے والے کا نام عیسی بن مریم قرار پایا جیسا کہ مہدویت کے لحاظ سے جو حقیقت محمدیہ تھی اُس کا نام مہدی رکھا گیا۔ یہی حکمت ہے کہ جہاں براہین احمدیہ میں اسرار اور معارف کے انعام کا اس عاجز کی نسبت ذکر فرمایا گیا ہے۔ وہاں احمد کے نام سے یاد کیا گیا ہے جیسا کہ فرمایا یا احمد فاضت الرحمة على شفتیک ۔ اور جہاں دنیا کی برکات کا ذکر کیا گیا ہے وہاں عیسی کے نام سے پکارا گیا ہے جیسا کہ میرے الہام میں براہین احمدیہ میں فرمایا۔ یا عیسی انی متوفیک و رافعک الی و مطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة ۔ ایسا ہی وہ الہام ہے جو فرمایا کہ ”میں تجھے برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ۔“ یہ وہ سر ہے جو مہدی اور عیسی کے نام کی نسبت مجھ کو الہام الہی سے کھلا اور وہ پیر کا دن اور تیرھویں صفر ۱۳۱۶ھ تھا اور جولائی ۱۸۹۸ء کی چوتھی تاریخ تھی جبکہ یہ الہام ہوا۔
اور اسی کے مطابق میں نے وہ قول پایا جو آثار میں لکھا ہے اور حجج الکرامہ میں بھی اُس کو ذکر کیا ہے کہ مہدی موعود کا بدن دو حصوں پر منقسم ہو گا نصف حصہ عربی ہو گا اور نصف حصہ اسرائیلی یہ اسی امر مشترک کی طرف اشارہ تھا اور اس سے مقصد یہی تھا کہ وہ شخص کچھ تو عیسیٰ علیہ السلام کی صفات کا وارث ہو گا اور کچھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کا ۔ فتدبّر
اور جس طرح بعض صفات کے لحاظ سے امام موعود کا نام احمد اور محمد رکھا گیا اسی طرح بعض دوسری صفات کے لحاظ سے عیسیٰ اور مسیح ابن مریم رکھا گیا۔ اب ظاہر ہے کہ احمد کے نام سے کوئی شخص یہ نہیں سمجھ سکتا کہ حقیقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ آ جائیں گے اسی طرح عیسیٰ کے نام سے یہ سمجھنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آ جائیں گے یہ ایک غلطی ہے کہ اس پیشگوئی کے سرّ اور مغز کے نہ سمجھنے سے پیدا ہوئی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ دونوں ناموں میں بروزی ظہور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ شخص موعود کا احمد نام رکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ ہی فرما دیا ہے کہ اس کی صفات میری صفات سے اور اس کی صورت میری صورت سے مشابہ ہوگی ۔ یہی تقریر تھی جو بروزی ظہور کی طرف اشارہ تھا یعنی وہ بلحاظ صفاتِ احمدیہ احمد کہلائے گا۔ اسی طرح شخص موعود کا نام عیسیٰ رکھ کر اور پھر اس کی نسبت اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ اور اَمَّكُمْ مِنْكُمْ کہہ کر جیسا کہ بخاری اور مسلم میں آیا ہے صاف ہدایت کر دی کہ عیسیٰ سے حقیقی طور پر عیسیٰ مراد نہیں ہے بلکہ یہ شخص امت میں سے ہوگا۔ حدیث کے الفاظ میں یہ نہیں ہے کہ پہلے وہ نبی ہوگا اور پھر امتی بن جائے گا۔ اگر یہی مفہوم حدیث میں مراد ہوتا تو یوں کہنا چاہیے تھا کہ اِمامُكُمُ الَّذِیْ سَیَصِیْرُ مِنْكُمْ وَ مِنْ اُمَّتِیْ بَعْدَ نُبَوَّتِہِ ۔ یعنی تمہارا امام جو نبوت کے بعد پھر تم میں سے اور میری امت میں سے ہو جائے گا ۔ اسی وجہ سے بخاری کی حدیثوں میں جو دوسری حدیثوں کی نسبت بہت زیادہ صحیح اور نہایت تحقیق سے لکھی گئی ہیں آنے والے مسیح موعود کے حُلیہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام رسول اللہ کے حلیہ میں فرق ڈال دیا گیا ہے ۔ یعنی حضرت عیسیٰ کا حلیہ کوئی اور لکھا ہے جس میں اُن کو سفید رنگ بتلایا ہے اور آنے والے مسیح کو گندم گوں اور میرے حلیہ کے مطابق قرار دیا ہے۔
اب اِس سے زیادہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم اور کیا تفصیل فرماتے ۔ آپ نے آنے والے اور گذشتہ مسیح کے دو حلیے ٹھہرا دیئے تا لوگ ٹھوکر نہ کھائیں ۔ ایسا ہی آپ نے لانبی بعدی کہہ کر کسی نئے نبی یا دوبارہ آنے والے نبی کا قطعاً دروازہ بند کر دیا۔ پھر آپ نے كَمَا قَالَ العَبْدُ الصَّالِحُ فرما کر صاف کہہ دیا کہ عیسیٰ ابن مریم فوت ہو گیا ۔ پھر آپ نے اَلْاٰیَاتُ بَعْدَ الْمِأَتَیْنِ کہہ کر مہدی موعود کی پیدائش کو تیرھویں صدی قرار دیا ۔ پھر آپ نے مسیح موعود کو صدی کے سر پر آنے والا کہا اور پھر آپ نے لا مہدیَّ الَّا عیسیٰ کہہ کر عیسیٰ اور مہدی ایک ہی شخص ٹھہرا دیا۔ پھر آپ نے امامکم منکم اور امّکم منکم کہہ کر صاف جتلا دیا کہ آنے والے عیسیٰ بن مریم سے صرف ایک امتی مراد ہے ایسا ہی آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک سو بیس برس عمر بیان فرما کر ان کی موت کی حقیقت کھول دی ۔ پھر آپ نے آنے والے مسیح کا وقت یاجوج ماجوج کے ظہور کا زمانہ ٹھہرایا اور یاجوج ماجوج یوروپین عیسائی ہیں ۔ کیونکہ یہ نام اَجِیْج کے لفظ سے نکالا گیا ہے جو شعلۂ آگ کو کہتے ہیں ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ لوگ آگ سے بہت کام لیں گے اور اُن کی لڑائیاں آتشی ہتھیاروں سے ہوں گی اور اُن کے جہاز اور اُن کی ہزاروں کلیں آگ کے ذریعہ سے چلیں گی ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ میں نے معراج کی رات میں عیسیٰ بن مریم کو مُردوں میں پایا یعنی حضرت یحیٰی کے پاس دوسرے آسمان پر دیکھا آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مسیح موعود عیسائی مذہب کے زور کے وقت آئے گا اور صلیبی زور کو توڑے گا ۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اُن دنوں میں اونٹ بے کار ہو جائیں گے اور یہ ریل کی طرف اشارہ تھا جیسا کہ قرآن شریف میں بھی ہے وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡآپ کے جلیل الشان اہل بیت سے یہ بھی روایت ہے کہ اس وقت رمضان میں خسوف و کسوف ہوگا۔ اور یہ بھی روایت ہے کہ اُن دنوں میں طاعون بھی پھوٹے گی اور یہ بھی روایت ہے کہ سورج میں بھی ایک نشان ظاہر ہو گا یعنی ایک ہولناک گرہن لگے گا اور یہ بھی روایت ہے کہ حج روکا جائے گا۔ اور یہ بھی روایت ہے کہ ان دنوں میں ایک آگ نکلے گی اور مدت تک اُس کی سُرخی رہے گی اور یہ جاوا کی آگ تھی جیسا کہ حجج الکرامہ میں بھی اِس بات کو مان لیا ہے کہ یہ پیشگوئی پوری ہوگئی ۔
اب بتلاؤ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نشانوں کے بتلانے میں کونسی کسر رکھی اور امام موعود کی ذات میں آپ نے دونشان بیان فرمائے ایک یہ کہ اس کو اسرار اور معارف عطا کئے جائیں گے اور وہ دنیا میں دوبارہ ایمان کو اور معرفت کو قائم کرے گا ۔ یہ وہ نشان ہیں جن کی وجہ سے وہ مہدی کہلائے گا۔ اور دوسرے نشان دنیوی برکات کے ہیں کہ اس کے ہاتھ سے دنیوی برکات کے نشان ظاہر ہوں گے اور نیز زمین میں نہایت تازگی اور طراوت پیدا ہو جائے گی اور آبادی میں بڑی ترقی ہوگی اور بے وقت کے پھل لوگوں کو ملیں گے ۔ بہت سا حصہ زمین کا زراعت سے آباد ہو جائے گا۔ نہریں جاری ہو جائیں گی درندے کم ہو جائیں گے دنیا پر ایک آرام اور امن کا زمانہ آئے گا۔ یہاں تک کہ زندے آرزو کریں گے کہ اس وقت اُن کے باپ دادے ہوتے ۔ اب دیکھو کہ اس زمانہ میں میرے ہاتھ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرز پر بھی نشان ظاہر ہوئے۔ کئی بیماروں بے قراروں کی نسبت دُعائیں قبول ہوئیں اور کئی دنیوی درماندوں کو دوبارہ برکتیں دی گئیں۔ اور جیسا کہ دشمنوں کے لئے بھی مسیح کی دعاؤں نے اثر کیا تھا وہ نشان بھی اس جگہ ظہور میں آئے چنانچہ آتھم نے مقابلہ کے بعد کوئی خوشی نہ دیکھی اور تھوڑی مدت تلخ زندگی میں سرگرداں رہ کر آخر پیشگوئی کے مطابق فوت ہو گیا ۔ ایسا ہی لیکھرام کا حال ہوا اور خدا نے پیشگوئی کو پورا کر کے مسلمانوں کو اس کی بد زبانی سے امن بخشا ایسا ہی مسیحی برکات نے زمانہ میں بھی اپنا اثر دکھایا کیونکہ سکھوں کے عہد میں ہر ایک طور سے مسلمانوں کو دُکھ دیا گیا تھا یہاں تک کہ بانگ نماز سے منع کیا جاتا تھا۔ گائے کے الزام سے ناحق صد ہا خون ہوتے تھے۔ زمینداروں کو کاشتکاری میں امن نہ تھا کھلے کھلے ڈاکے پڑتے تھے بہت سی زمین ویران پڑی تھی۔ ہمیشہ کی جلا وطنیوں سے ملک تباہ ہو چکا تھا اور بے امنی کی وجہ سے نہ زراعت کا کچھ معتد بہ فائدہ ہوتا تھا نہ باغات کا۔ اور اگر چوروں سے کچھ بچتا تھا تو حکام لوٹ لیتے تھے۔ اب انگریزوں کے زمانہ میں وہ دور بدل گیا۔ اور حقیقت میں ایسا امن ہو گیا کہ بھیڑیا اور بھیڑ ایک جگہ بسر کر رہے ہیں۔ اور سانپوں سے بچے کھیل رہے ہیں۔ زمین خوب آباد ہو گئی اور پھلوں کی یہ کثرت ہو گئی کہ بعض پھل بارہ مہینے کے قریب رہنے لگے اور سفر ایسا سہل اور آسان ہو گیا کہ ریل کی سواری نے تمام مشکلات دور کر دیں۔ تار کے ذریعہ سے خارق عادت کے طور پر خبریں آنے لگیں۔ بیماریوں کے لئے نہایت تجربہ کار ڈاکٹر پیدا ہو گئے ۔ نہریں جاری ہوگئیں پہاڑوں کا سفر نہایت آسان ہو گیا اور صد ہا قسم کی کلیں جو امورِ معیشت کو سہل اور آسان کرتی ہیں پیدا ہو گئیں اور صد ہا قسم کی تکلیفیں دور ہو گئیں ۔ اب حقیقت میں ایک عقلمند آدمی اپنے ان ایام کا خیال کر کے باپ دادوں کے ایام کو افسوس کی نظر سے دیکھے گا جن کو سفر کے لئے پکّی سڑک بھی میسّر نہیں آتی تھی۔ ایک ٹٹو پر پچیس کوس سفر کرنا ہزار کوس کے برابر تھا دھوپ ہوتی تھی پسینے پر پسینہ آتا تھا گرمی کے دنوں میں ٹٹو کی سواری پر یا پیادہ پا ایسا سفر ایک موت ہوتی تھی۔ اب یہ بہار ہے کہ نہایت آرام سے ریل کی گاڑیوں میں سے ایک گاڑی میں بیٹھے ہیں ٹھنڈی ہوا آ رہی ہے جا بجا پانی اور کھانے پینے کا سامان موجود ہے۔ بیٹھے بیٹھے ہر ایک چیز اور جنگل کے عجائبات کو دیکھ رہے ہیں گویا ایک نظارہ گاہ ہے۔ جس قدر روپیہ خرچ کریں اُسی قدر ریل میں آرام کے سامان موجود ہیں ۔ غرض اس وقت اگر دنیا کی حالتِ تمدّن پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ ہزار در ہزار آرام کے سامان میسّر آگئے ہیں اور بے شمار دنیوی برکتیں نازل ہوگئی ہیں ۔ اور سب کے علاوہ سلطنت میں نہایت امن ہے۔ قواعد اور قوانین کی پابندی کے نیچے محکوم اور حاکم برابر چل رہے ہیں ایک ذرّہ بھی حکومت نمائی نہیں ۔ پس یہ وہی زمانہ تھا جس کی نسبت خبر دی گئی تھی کہ مسیح موعود کے وقت میں ایسا زمانہ ہو گا اور اس قدر دنیوی برکات اور دنیوی امن پیدا ہو جائیں گے۔
اور مسیح موعود کی طرف یہ برکات حدیثوں میں اس لئے منسوب کی گئیں کہ یہ ہمیشہ سے عادۃ اللہ ہے کہ جس مرد خاص کو خدا تعالیٰ دنیا میں برکات ظاہر کرنے کے لئے بھیجتا ہے اس کے زمانہ میں جو کچھ برکات ظاہر ہوتی ہیں خواہ اس کے ہاتھ سے ظہور میں آویں خواہ کسی اور کے ہاتھ سے ظہور میں آئیں سب اُسی کی طرف منسوب کی جاتی ہیں کیونکہ اُس کے متبرک وجود کی وجہ سے خدا کے فضل ہر ایک طور سے زمین پر وارد ہوتے ہیں لہذا وہ تمام برکات اسی کے لئے ہوتی ہیں اگر چہ دنیا اس کو اوائل حال میں نہیں پہچانتی مگر آخر پہچان لیتی ہے۔ میں نے بار بار کہا اور اب بھی کہتا ہوں کہ انسانوں کی عافیت اور برکت کے لئے میری دعاؤں اور میری توجہ اور میرے وجود کو اور تمام انسانوں کی نسبت زیادہ دخل ہے کوئی نہیں جو ان امور میں میرا مقابلہ کر سکے اور اگر کرے تو خدا اس کو ذلیل کرے گا۔ میری نسبت ہی خدا نے فرمایا وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمۡ وَاَنۡتَ فِیۡہِمۡ یعنی خدا ایسا نہیں کہ اس قوم اور اس سلطنت پر عذاب نازل کرے جس میں تو ہے اور فرمایا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ اِنَّہٗ اَوَی الْقَرْیَۃَ اس الہام میں گو ہنوز اجمال ہے مگر جیسا کہ ظاہر الفاظ سے سمجھا جاتا ہے۔ یہی معنے ہیں کہ جس گاؤں میں تو ہے خدا اُسے طاعون سے یا اُس کی آفات لاحقہ سے بچائے گا۔ بہر حال یہ وہی دنیوی برکات ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دی گئی تھیں ۔ یعنی اُن میں بڑا کمال یہی تھا کہ اُن کی ہمت اور توجہ اور دعا مخلوق کی عافیت عامہ کے لئے مؤثر تھی ۔ سو یہی صفات اس عاجز کو بخشی گئیں ۔ چنانچہ براہین میں بھی یہ الہام ہے کہ امراض الناس و برکاتہ اور ایک یہ بھی الہام ہے یا مسیح الخلق عدوانا یعنی اے مسیح جو خلقت کی بھلائی کے لئے بھیجا گیا ہمارے طاعون کے دفع کے لئے مدد کر ۔ سو یاد رکھو کہ وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ لوگ ان برکات کو بکثرت دیکھیں گے۔
اب یہ زمانہ جس میں ہم ہیں ایسا زمانہ ہے کہ دو قسم کے برکات اس میں ترقی کرتے جاتے ہیں اور اس درجہ پر ہیں کہ اگر ان برکات کی نظیر گزشتہ زمانوں میں تلاش کی جائے تو ہرگز نہیں ملے گی ۔ (۱) پہلی دنیوی برکات دیکھنا چاہیے کہ بنی آدم کے لئے کس قدر ان کی اقامت اور سفر اور صحت اور بیماری اور خوراک اور پوشاک کے لئے سہولتیں پیدا ہوگئی ہیں اور کس قدر امن حاصل ہو گیا ہے۔ کیا ہمارے وہ بزرگ جو اس زمانہ سے دو سو برس پہلے فوت ہو گئے انہوں نے اس قسم کے آرام پائے تھے؟ (۲) دوسری برکات رُوحانی امور کے متعلق ہیں۔ سو دیکھنا چاہیے کہ جس قدر اس زمانہ میں ہزار ہا کتابیں چھپ کر شائع ہوئیں ۔ ہزار ہا اسرارِ علمِ دین کھل گئے ۔ قرآنی معارف اور حقائق ظاہر ہوئے۔ کیا ان باتوں کا پہلے نشان تھا؟ اور یہ دونوں قسم کی برکتیں امام موعود کی نسبت حدیثوں میں منسوب کی گئی ہیں کیونکہ ان تمام برکات کا درحقیقت فاعل خدا ہے۔ اور خدا نے صرف امام کے زمانے کو متبرک ظاہر کرنے کے لئے یہ برکتیں ظاہر کیں۔ یہ برکتیں ایک تو وہ ہیں جو خاص امام موعود کے ذریعے سے ظاہر ہوئیں اور ہو رہی ہیں اور دوسری وہ جو اس کے زمانے میں ظاہر ہوئیں اور خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ دونوں قسم کی برکتیں ایک ہی سر چشمہ سے ہیں۔
اب ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ یہ برکتیں جو دنیا میں ظاہر ہو رہی ہیں دو رنگ رکھتی ہیں ایک وہ رنگ ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات سے مشابہ ہے کیونکہ اُن کے اکثر معجزات دنیوی برکات کے رنگ میں تھے☆ ۔ دوسرا رنگ ان برکتوں کا وہ ہے جو ہمارے سیّد و مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزاتِ روحانیہ سے مشابہ ہے کیونکہ آپ کا کام اسرار اور معارف اور علوم الٰہیہ کو پھیلانا تھا اور آپ کی دُعا اور توجہ اور ہمت یہی کام کر رہی تھی سو اس زمانہ میں اسرار اور معارف اور علومِ حکمیہ بھی پھیل رہے ہیں اور یہ دونوں قسم کی برکتیں یعنی جسمانی اور رُوحانی عام طور پر بھی دنیا میں ظاہر ہو رہی ہیں یعنی بالواسطہ اور خاص طور پر بھی ظاہر ہو رہی ہیں یعنی بلا واسطہ امام موعود سے صادر ہورہی ہیں۔ پس چونکہ دنیوی برکتیں عیسیٰ صفت انسان کی تجلّی کو چاہتی تھیں اور رُوحانی برکتیں محمدؐ صفت انسان کے ظہور کا تقاضا کرتی تھیں اور خدا وَحدت کو پسند کرتا ہے نہ تفرقہ کو اس لئے اُس نے یہ دونوں شانیں ایک ہی انسان میں جمع کر دیں تا دو کا بھیجنا موجب تفرقہ نہ ہو۔ سو ایک ہی شخص ہے جو ایک اعتبار سے مظہر عیسیٰ علیہ السلام ہے اور دوسرے اعتبار سے مظہر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور یہی سرّ اس حدیث کا ہے کہ لَا مَہْدِیَّ اِلَّا عِیْسٰی ۔ اور یہی سرّ ہے کہ جو احادیث میں امامت کا کام مہدی کے سپرد بیان کیا گیا ہے اور قتلِ دجّال کا کام مسیح کے سپرد ظاہر فرمایا گیا ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ امامت امور روحانیہ میں سے ہے جس کا نتیجہ استقامت اور قوتِ ایمان اور معرفت اور اتباع مرضات الٰہی ہے جو اخروی برکات میں سے ہے۔ لہٰذا اس قسم کی برکت برکاتِ محمدیہ میں سے ہے۔ اور دجّال کی شوکت اور شان کو صفحۂ زمین سے معدوم کرنا جس کو قتل کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ یہ دنیوی برکات میں سے ہے کیونکہ دشمن کی ترقی کو گھٹا کر ایسا کالعدم کر دینا گویا اس کو قتل کر دینا یہ دنیا کے کاموں میں سے ایک قابلِ قدر کام ہے اور اس قسم کی برکت برکاتِ عیسویہ میں سے ہے۔
اب اگر یہ سوال پیش ہو کہ ہمیں کیونکر معلوم ہو کہ یہ دونوں قسم کی برکتیں جو عیسوی برکت اور محمدی برکت کے نام سے موسوم ہو سکتی ہیں تم میں جو مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کا دعویٰ کرتے ہو جمع ہیں اور کیونکر ہم صرف دعوے کو قبول کر لیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان برکات کو اللہ جلّ شانۂ نے محض اپنے فضل اور کرم سے مجھ میں ثابت کر دیا ہے اور میں بڑے دعوے سے کہتا ہوں کہ میں ان دونوں قسم کی برکتوں کا جامع ہوں ۔ اور آج تک جو نشان آسمانی مجھ سے ظاہر ہوئے ہیں وہ ان دونوں قسم کی برکتوں پر مشتمل ہیں۔ یہ تو معلوم ہے کہ محمدی برکتیں معارف اور اسرار اور نکات اور گلم جامعہ اور بلاغت اور فصاحت ہے سو میری کتابوں میں اُن برکات کا نمونہ بہت کچھ موجود ہے۔ براہین احمدیہ سے لے کر آج تک جس قدر متفرق کتابوں میں اسرار اور نکات دینی خدا تعالیٰ نے میری زبان پر باوجود نہ ہونے کسی اُستاد کے جاری کئے ہیں اور جس قدر میں نے اپنی عربیّت میں باوجود نہ پڑھنے علم ادب کے بلاغت اور فصاحت کا نمونہ دکھایا ہے اُس کی نظیر اگر موجود ہے تو کوئی صاحب پیش کریں۔ مگر انصاف کی پابندی کے لئے بہتر ہوگا کہ اول تمام میری کتابیں براہین احمدیہ سے لے کر فریاد درد یعنی کتاب البلاغ تک دیکھ لیں اور جو کچھ اُن میں معارف اور بلاغت کا نمونہ پیش کیا گیا ہے اس کو ذہن میں رکھ لیں اور پھر دوسرے لوگوں کی کتابوں کو تلاش کریں اور مجھ کو دکھلا دیں کہ یہ تمام امور دوسرے لوگوں کی کتابوں میں کہاں اور کس جگہ ہیں۔ اور اگر دکھلا نہ سکیں تو پھر یہ امر ثابت ہے کہ محمدی برکتیں اس زمانہ میں خارق عادت کے طور پر مجھ کو عطا کی گئی ہیں جن کے رو سے مہدی موعود ہونا میرا لازم آتا ہے۔ کیونکہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے بغیر انسانی توسط کے یہ تمام برکتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرمائیں جن کی وجہ سے آپ کا نام مہدی ہوا یعنی آپ کو بلا واسطہ کسی انسان کے محض خدا کی ہدایت نے یہ کمال بخشا ایسا ہی بغیر انسانی توسط کے یہ رُوحانی برکتیں مجھ کو عطا کی گئیں اور یہی مہدی موعود کی نشانی اور حقیقتِ مہدویّت ہے۔ رہیں عیسوی برکتیں جن سے مراد یہ ہے کہ انسانوں کو اپنی دُعا اور توجہ سے مشکلات سے رہائی دینا بیماریوں سے صاف کرنا اور دشمنوں سے خلاصی دینا اور فقر وفاقہ سے چھڑانا اور برکات عامہ دنیوی کے پیدا ہونے کا موجب ہونا۔ سو اس میں بھی میں کمال دعوے سے کہتا ہوں کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے میری ہمت اور توجہ اور دُعا سے لوگوں پر برکات ظاہر کی ہیں اس کی نظیر دوسروں میں ہرگز نہیں ملے گی اور عنقریب خدا تعالیٰ اور بھی بہت سے نمونے ظاہر کرے گا یہاں تک کہ دشمن کو بھی سخت ناچار ہو کر ماننا پڑے گا۔ میں بار بار یہی کہتا ہوں کہ یہ دو قسم کی برکتیں جن کا نام عیسوی برکتیں اور محمدی برکتیں ہیں مجھ کو عطا کی گئی ہیں میں خدا تعالیٰ کی طرف سے علم پا کر اس بات کو جانتا ہوں کہ جو دنیا کی مشکلات کے لئے میری دُعائیں قبول ہو سکتی ہیں دوسروں کی ہرگز نہیں ہو سکتیں ۔ اور جو دینی اور قرآنی معارف حقائق اور اسرار مع لوازم بلاغت اور فصاحت کے میں لکھ سکتا ہوں دوسرا ہر گز نہیں لکھ سکتا۔ اگر ایک دنیا جمع ہو کر میرے اس امتحان کے لئے آوے تو مجھے غالب پائے گی☆ ۔ اور اگر تمام لوگ میرے مقابل پر اٹھیں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے میرا ہی پلّہ بھاری ہوگا۔ دیکھو میں صاف صاف کہتا ہوں اور کھول کر کہتا ہوں کہ اس وقت اے مسلمانو تم میں وہ لوگ بھی موجود ہیں جو مفسر اور محدث کہلاتے ہیں اور قرآن کے معارف اور حقائق جاننے کے مدعی ہیں اور بلاغت اور فصاحت کا دم مارتے ہیں اور وہ لوگ بھی موجود ہیں جو فقراء کہلاتے ہیں اور چشتی اور قادری اور نقشبندی اور سہروردی وغیرہ ناموں سے اپنے تئیں موسوم کرتے ہیں ۔ اُٹھو! اور اس وقت اُن کو میرے مقابلہ پر لاؤ۔ پس اگر میں اس دعوے میں جھوٹا ہوں کہ یہ دونوں شانیں یعنی شانِ عیسوی اور شانِ محمدی مجھ میں جمع ہیں ۔ اگر میں وہ نہیں ہوں جس میں یہ دونوں شانیں جمع ہوں گی اور ذوالبروزین ہوگا تو میں اس مقابلہ میں مغلوب ہو جاؤں گا ورنہ غالب آ جاؤں گا۔ مجھے خدا کے فضل سے توفیق دی گئی ہے کہ میں شانِ عیسوی کی طرز سے دنیوی برکات کے متعلق کوئی شان دکھلاؤں۞ یا شانِ محمدی کی طرز سے حقائق معارف اور نکات اور اسرارِ شریعت بیان کروں اور میدانِ بلاغت میں قوتِ ناطقہ کا گھوڑا دوڑاؤں ۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے اور محض اُسی کے ارادے سے زمین پر بجز میرے ان دونوں نشانوں کا جامع اور کوئی نہیں ہے۔ اور پہلے سے لکھا گیا تھا کہ ان دونوں نشانوں کا جامع ایک ہی شخص ہو گا جو آخر زمانہ میں پیدا ہو گا اور اُس کے وجود کا آدھا حصہ عیسوی شان کا ہوگا اور آدھا حصہ محمدی شان کا سو وہی مَیں ہوں جس نے دیکھنا ہو دیکھے جس نے پرکھنا ہو پرکھے مبارک وہ جو اب بُخل نہ کرے۔ اور نہایت بد بخت وہ جو روشنی پا کر تاریکی کو اختیار کرے۔
میں اس وقت اس شان کو کسی فخر کے لئے پیش نہیں کرتا کیونکہ فخر کرنا میرا کام نہیں ہے۔ میں اس دھوپ کی طرح ہوں جو آفتاب سے نیچے گرتی اور پھر آفتاب کی طرف کھینچی جاتی ہے۔ بلکہ اس لئے پیش کرتا ہوں کہ ایک دنیا بدظنی سے تباہ ہوتی جاتی ہے۔ لوگ ایک ایسے مسیح کے منتظر ہو رہے ہیں جس کا دنیا میں آنا ختم نبوت کے مخالف قرآن کے مخالف سُنن سابقہ کے مخالف عقل کے مخالف اور فرشتوں کے ساتھ مرئی طور پر اُترنا قرآن کی اُن آیات کے مخالف ہے جن میں یہ لکھا ہے کہ جب فرشتے مرئی طور پر اُتریں گے تو ایمان نفع نہیں دے گا ۔ عیسائی سلطنت کے وقت میں مسیح کا آنا ضروری تھا جیسا کہ حدیث یَکْسِرُ الصَّلِیْبَ کا مفہوم ہے اور اب پنجاب میں ساٹھ سال سے بھی زیادہ عیسائی سلطنت پر گزر گیا اور مسیح کا آنا اس قوم کے عہد اقبال میں آنا ضروری تھا جس کی لڑائیاں اور اکثر اور کام آگ کے ذریعہ سے ہوں گے اور اسی وجہ سے وہ یا جوج ماجوج کہلائیں گے اب دیکھو کہ مدت سے اس قوم کا غلبہ اور اقبال ظاہر ہو چکا۔ سوچنے والے سوچ لیں ۔ اور مسیح موعود کا صدی کے سر پر آنا ضروری تھا اور صدی میں سے بھی پندرہ برس گزر گئے ۔ اس صدی مصیبت زدہ پر تعجب کہ بقول مخالفین کوئی مجدّد بھی نہیں آیا جو فتنِ موجودہ کے قلع قمع کے لئے کھڑا ہوتا ۔ سو محض ہمدردی خلائق کی وجہ سے یہ دعویٰ مع دلائل پیش کیا گیا ہے تا کوئی بندۂ خدا اس میں غور کرے اور قبل اس کے جو پیغامِ اجل پہنچے خدا کے ارادے اور مرضی کا تابع ہو جائے کیا یہ انسان کا کام ہے کہ عین اس وقت پر جھوٹا دعویٰ کرے جس میں خدا کا کلام اور رسول کا کلام کہہ رہا ہے کہ کوئی سچا آنا چاہیئے اور اُس کے مقابل پر کوئی سچا ظاہر نہ ہو۔ حالانکہ خدا کے مقرر کردہ موسم اور وقت نسیم صبا کی طرہ گواہی دے رہے ہیں کہ یہ کسی سچے کے مبعوث ہونے کا وقت ہے نہ جھوٹے مفتری کذّاب کا وقت کیونکہ خدا کی غیرت جھوٹے کو ہرگز یہ موقعہ نہیں دیتی کہ سچے کے وقتوں اور علامتوں سے فائدہ اُٹھا سکے۔ کہاں ہے وہ سچا جس کو صدی کے سر پر آنا چاہیے تھا ؟ کہاں ہے وہ سچا جس کو غلبہء صلیب کے وقت میں آنا چاہیے تھا ؟ کہاں ہے وہ سچا جس کے صحتِ دعویٰ پر رمضان کے خسوف کسوف نے گواہی دی؟ کہاں ہے وہ سچا جس کی تصدیق کے لیے جاوا کی آگ نکلی؟ کہاں ہے وہ سچا جس کے ظہور کی علامت ظاہر کرنے کے لیے یا جوج ماجوج کی قوم ظاہر ہوئی یعنی اس قوم کا ظہور ہوا جو اپنی تمام مہمات میں اَجِیْج یعنی آگ سے کام لیتی ہے۔ اس کی لڑائیاں آگ سے ہیں۔ اس کے سفر آگ کے ذریعہ سے ہیں۔ ان کی ہزاروں کلیں آگ کے ذریعہ سے چلتی ہیں اس لئے خدا نے اپنی مقدس کتابوں میں اُن کا نام آتشی قوم یعنی یا جوج ماجوج رکھا جو پانیوں کے قریب رہتے اور آگ سے کام لیتے ہیں۔
اب کہو کہ جب کہ اس سچے مسیح اور سچے مہدی کی تمام علامتیں ظاہر ہو گئیں تو پھر وہ مسیح موعود کہاں ہے؟ کیا خدا کے وعدے نے تخلّف کیا حاشا و کلّا بلکہ وہ تم میں موجود ہے جس کو تم نے شناخت نہیں کیا۔ وہ آگ والوں کے ساتھ آگ سے نہیں بلکہ پانی سے لڑے گا جو اوپر سے آتا اور دلوں میں سچائی کا سبزہ اُگاتا اور پیاسوں کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔
قولہ ۔ دو حلیوں کا بیان جو احادیث میں ہے یہ ایک رؤیا اور کشف ہے اس لئے جیسا کہ خوابوں کے حالات ہوتے ہیں ایک حلیہ دو حلیوں کے رنگ میں نظر آ سکتا ہے۔
اقول ۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کشفِ اکمل اور اتم پر بدگمانی ہے اس پر تمام اسلامی فرقوں کا اتفاق ہے کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا کشف اور خواب وحی ہے اور اگر وحی میں اختلاف ہو تو اس سے تمام شریعت درہم برہم ہو جائے ۔ اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیا کی شان میں ایسا گمان کرنا سخت بے ادبی ہے اس سے توبہ کرنی چاہیے اگر وحی نبوت میں کبھی کچھ بیان ہو اور کبھی کچھ تو اس سے امان اٹھ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا فَتَأَمَّل
قولہ ۔ ہر ایک نبی کی شہادت نبی ہی دیتا چلا آیا ہے۔
اقول ۔ یہ ایک گھر کا بنایا ہوا قاعدہ ہے جس پر کوئی نصِّ قرآنی یا حدیثی دلالت نہیں کرتی ۔ اور اگر یہ صحیح ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان پر سے نازل ہوں تو پھر اُن کے بعد اُن کی تصدیق کے لئے کوئی اور نبی آوے کیونکہ کیا معلوم کہ وہ در حقیقت عیسیٰ ہے یا نہیں☆ ۔ دنیا ایمان بالغیب کی جگہ ہے کوئی مبعوث ہو کچھ نہ کچھ پردہ ضرور ہوتا ہے۔ پھر اُس نبی کی تصدیق کے لئے کوئی اور نبی آنا چاہیئے ۔ پس اس سے تسلسل پیدا ہوگا اور وہ باطل ہے اور جو امر مستلزم باطل ہو وہ بھی باطل ہے۔ ماسوا اس کے نصوص حدیثیہ قرآنیہ کے رو سے اہل کرامت کی تصدیق اہل معجزہ کی تصدیق کے قائم مقام ہے کیونکہ کرامت بھی رسول متبوع کا معجزہ ہے اور بموجب حدیث صحیح کے محدّث کا الہام بھی وحی کے نام سے موسوم اور مثل وحی انبیاء علیہم السلام کے دخل شیطان سے پاک اور خدا کی وحی ہے اور جب وہ بھی خدا کی وحی ہے تو جو خدا کے مُنہ سے نکلا ہے اُس کی شہادت اِسی رنگ کی ہے جیسا کہ انبیاء علیہم السلام کی شہادت پھر یہ بھی سوچو کہ کیا دنیا میں کسی مسلمان کا اعتقاد ہو سکتا ہے کہ جب تک مسیح موعود نہیں آئے گا اُس وقت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت معرضِ شک میں ہے اور مسیح کی گواہی کی محتاج ہے؟ اور اگر فرض کریں کہ مسیح نہ آوے اور گواہی نہ دے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت شکّی اور مشتبہ رہے۔ نعوذ باللہ من هذه الخرافات والكفريات ۔ یہ کس قدر بیہودہ خیال ہے اور قریب ہے کہ کفر ہو جائے ۔ مسیح موعود کا آنا اس لئے نہیں کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ابھی ثابت نہیں اس کی گواہی سے ثابت ہو گی بلکہ اس لئے ہے کہ تا وہ مجدّدوں کے رنگ میں ظاہر ہو اور فتنۂ صلیبہ کو دور کر کے دنیا میں توحید اور توحیدی ایمان کا جلال ظاہر کرے۔
قولہ ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے لئے ایک نبی شاہد کی ضرورت ہے۔
اقول ۔ ایسا ہی اس نبی شاہد کی نبوت کے لئے کسی اور نبی کی ضرورت ہے۔ وَقِسْ عَلٰی هٰذَا ۔ اور ہزار حیف ہے ان لوگوں کے ایمان پر جن کے نزدیک ابھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ثابت نہیں ہوئی بلکہ جب مسیح آئے گا اور گواہی دے گا تب ثابت ہوگی ۔
قولہ ۔ مسیح نبی ہو کر نہیں آئے گا امتی ہو کر آئے گا مگر نبوت اس کی شان میں مضمر ہوگی ۔
اقول ۔ جب کہ شانِ نبوت اُس کے ساتھ ہوگی اور خدا کے علم میں وہ نبی ہوگا تو بلا شبہ اس کا دنیا میں آنا ختمِ نبوت کے منافی ہوگا کیونکہ در حقیقت وہ نبی ہے اور قرآن کے رُو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا آنا ممنوع ہے۔
قولہ ۔ نبی کا مثیل نبی ہوتا ہے۔
اقول ۔ تمام اُمت کا اس پر اتفاق ہے کہ غیر نبی بروز کے طور پر قائم مقام نبی ہو جاتا ہے۔ یہی معنے اِس حدیث کے ہیں ۔ عُلَمَآءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَآءِ بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ یعنی میری اُمت کے علماء مثیل انبیاء ہیں۔ دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے علماء کو مثیل انبیاء قرار دیا اور ایک حدیث میں ہے کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور ایک حدیث میں ہے کہ ہمیشہ میری امّت میں سے چالیس آدمی ابراہیم کے قلب پر ہوں گے۔ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مثیلِ ابراہیم قرار دیا اور اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡاس جگہ تمام مفسّر قائل ہیں کہ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ کی ہدایت سے غرض تشبہ بالانبیاء ہے جو اصل حقیقت اتباع ہے۔ اور صوفیوں کا مذہب ہے کہ جب تک انسان ایمان اور اعمال اور اخلاق میں انبیاء علیہم السلام سے ایسی مشابہت پیدا نہ کرے کہ خود وہی ہو جائے تب تک اس کا ایمان کامل نہیں ہوتا اور نہ مرد صالح ہو سکتا ہے پس نہایت ظلم اور خیانت ہے کہ قبل اس کے کہ دین کی کتابوں کو دیکھا جائے دنیا داروں کی مقدمہ بازی کی طرح ایک خود تراشیدہ بات پیش کی جائے ۔ خدا نے انبیاء علیہم السلام کو اِسی لئے اس دنیا میں بھیجا ہے کہ تا دنیا میں اُن کے مثیل قائم کرے اگر یہ بات نہیں تو پھر نبوت لغو ٹھہرتی ہے ۔ نبی اس لئے نہیں آتے کہ اُن کی پرستش کی جائے بلکہ اس لئے آتے ہیں کہ لوگ اُن کے نمونے پر چلیں اور اُن سے تشبّہ حاصل کریں اور اُن میں فنا ہو کر گویا وہی بن جائیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُپس خدا جس سے محبت کرے گا کونسی نعمت ہے جو اُس سے اٹھا رکھے گا اور اتباع سے مراد بھی مرتبۂ فنا ہے جو مثیل کے درجے تک پہنچاتا ہے۔ اور یہ مسئلہ سب کا مانا ہوا ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کرے گا مگر وہی جو جاہل سفیہ یا ملحد بے دین ہوگا۔
قولہ ۔ مسیح کے دوبارہ آنے پر ایک یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَجِیۡہًا فِی الدُّنۡیَا وَالۡاٰخِرَۃِاور حضرت مسیح نے اس زمانہ میں جب کہ وہ یہودیوں کے لئے معبوث ہوئے عزت نہیں پائی اس لئے ماننا پڑا کہ پھر وہ آویں گے تب دنیا کی وجاہت اُن کو نصیب ہوگی ۔
اقول ۔ یہ خیال بالکل بیہودہ ہے۔ قرآن شریف میں یہ لفظ نہیں کہ وَجِیْہًا عِنْدَ اَهْلِ الدُّنْیَا۔ دنیا داروں اور دنیا کے کتّوں کی نظر میں تو کوئی نبی بھی اپنے زمانے میں وجیہ نہیں ہوا کیونکہ انہوں نے کسی نبی کو تسلیم نہیں کیا بلکہ قبول کرنے والے اکثر ضعفاء اور غرباء ہوئے ہیں جو دنیا سے بہت کم حصہ رکھتے تھے سو آیت کے یہ معنے نہیں کہ پہلے زمانے میں عیسیٰ کو دنیا کے رئیسوں اور امیروں اور کرسی نشینوں نے قبول نہ کیا لیکن دوسری مرتبہ قبول کریں گے۔ بلکہ قرآن کے عام محاورہ کے رُو سے آیت کے یہ معنے ہیں کہ دنیا میں بھی راستبازوں میں مسیح کی عزت ہوئی اور وجاہت مانی گئی جیسا کہ یحییٰ نبی نے اُن کو مع اپنی تمام جماعت کے قبول کیا اور ان کی تصدیق کی اور بہتوں نے تصدیق کی اور قیامت میں بھی وجاہت ظاہر ہو گی ۔ پھر میں کہتا ہوں کہ کیا اب تک حضرت عیسیٰ کو دنیا کی وجاہت نصیب نہ ہوئی حالانکہ چالیس کروڑ انسان اُن کو خدا کر کے مانتا ہے۔ کیا وجاہت کے لئے زندہ موجود ہونا بھی ضروری ہے اور مرنے کے بعد وجاہت جاتی رہتی ہے۔ ماسوا اس کے مسیح علیہ السلام کا دنیا میں دوبارہ آنا کسی طرح موجبِ وجاہت نہیں بلکہ آپ لوگوں کے عقیدے کے موافق اپنی حالت اور مرتبہ سے متنزّل ہو کر آئیں گے اُمّتی بن کے امام مہدی کی بیعت کریں گے ۔ مقتدی بن کر اُن کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔
پس یہ کیا وجاہت ہوئی بلکہ یہ تو قضیۂ معکوسہ اور نبی اولوالعزم کی ایک ہتک ہے۔ اور یہ کہنا کہ ان سب باتوں کو وہ اپنا فخر سمجھیں گے بالکل بے ہودہ خیال ہے۔ لیکن اگر آسمان سے نازل نہ ہوں تو یہ اُن کی وجاہت ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فِیۡ مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِنۡدَ مَلِیۡکٍ مُّقۡتَدِرٍغرض واپس آنے میں کوئی وجاہت نہیں بلکہ بقول شیخ سعدی ۔ سخت است پس از جاہ تحکم بُردن ۔ دوسرے کے حکم کے نیچے اسلام کی خدمت کریں گے ۔ اور مجدّد صاحب اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں کہ "علماءِ اسلام ان کے منکر ہو جائیں گے اور قریب ہے کہ اُن پر حملہ کریں۔’’ دیکھو یہ خوب وجاہت ہے کہ ادنیٰ ادنیٰ ملّا مقابلہ کے لئے اُٹھیں گے اور آثار سے معلوم ہوتا ہے جیسا کہ حجج الکرامہ میں ہے کہ اُن کی تکفیر بھی ہوگی کیونکہ مہدی اور اُس کی جماعت پر کفر کا فتویٰ لکھا جائے گا اور علماءِ امّت اس کو کافر اور کذّاب اور دجّال کہیں گے ۔ پس جب کہ مہدی موعود مع اپنی جماعت کے کافر اور دجّال ٹھہرائے جائیں گے تو اس سے یقینی طور پر معلوم ہوا کہ مسیح موعود پر بھی کفر کا فتویٰ لگے گا کیونکہ وہ مہدی اور اس کی جماعت سے الگ نہیں ہوں گے۔ اب دیکھو کہ آثارِ صحیحہ سے ثابت ہو گیا کہ مسیح موعود کو نالائق بد بخت پلید طبع مولوی کافر ٹھہرائیں گے اور دجّال کہیں گے اور کفر کا فتویٰ اُن کی نسبت لکھا جائے گا۔ اب انصافاً سوچو کہ کیا یہی وجاہت ہے جس کے لئے مسیح کو دوبارہ دنیا میں آنا ضروری ہے؟ کیا ناچیز اور ذلیل ملاؤں سے گالیاں کھانا اور کافر اور دجّال کہلانا یہی وجاہت ہے؟ آثارِ صحیحہ سے ثابت ہے کہ مسیح موعود کی جس قدر پلید ملّاؤں کے ہاتھ سے بے عزتی ہوگی اور جس قدر وہ ناپاک طبع مولویوں کے مُنہ سے کافر اور فاسق اور دجّال کے الفاظ سنیں گے وہ نہایت درجہ کی ہتک ہو گی جو پلید طبع مولوی فتوے لکھنے والے کریں گے اور خدا کا اُن مولویوں پر غضب ہو گا۔ آثارِ صحیحہ میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت کے مولوی تمام روئے زمین کے انسانوں سے بدتر اور پلید تر ہوں گے کیونکہ وہ مسیح جیسے راستباز کو کافر اور دجّال ٹھہرائیں گے۔ غرض مسیح موعود کو جو مولویوں سے عزت اور وجاہت ملے گی وہ یہ ہے۔ لیکن جو شخص خدا کے نزدیک خدا کے فرشتوں کے نزدیک خدا کے نیک بندوں کے نزدیک عزت اور وجاہت رکھتا ہے اگر پلید جاہلوں کے نزدیک وہ کافر اور دجّال ہو تو اس سے اس کا کیا نقصان ہوا۔
مَہ نور می فشاند و سگ بانگ می زند
سگِ را بپُرس خشم تو با ماہتاب چیست
اور یہ بھی سوچو کہ اگر وجاہت کے لئے دُنیا داروں کی اطاعت اور تعظیم شرط ہے تو کیا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے کفار کے ہاتھ سے نکالے گئے اور دُکھ دیئے گئے تو کیا اُس وقت آپ وجیہ نہ تھے؟ اور مکہ کی فتح کے بعد وجیہ ہوئے؟ غرض آپ کا یہ اعتراض دینی اور رُوحانی دُور اندیشی کی بنا پر نہیں بلکہ دنیا داری اور رسم اور عادت کے گندے تصورات سے پیدا ہوا ہے۔ بہتیرے نبی دنیا میں ایسے آئے کہ دو آدمیوں نے بھی اُن کو قبول نہیں کیا تو کیا وہ وجیہ نہیں تھے؟ اور حضرت مسیح علیہ السلام کب قبولیت سے بکلی خالی رہے تھے؟ صد ہا لوگوں نے اُن کو قبول کر لیا ۔ یحییٰ علیہ السلام نے مع اپنی تمام جماعت کے قبول کیا۔ حواریوں نے قبول کیا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ایک بادشاہ نے بھی قبول کیا تھا۔ اس بات کے عیسائی بھی قائل ہیں۔ اب اس سے زیادہ اور کیا وجاہت ہو گی۔ یہ وجاہت تو ان کو اپنے زمانے میں حاصل ہوئی یہاں تک کہ انجیل میں لکھا ہے کہ صد ہا آدمی اہل حاجت نیاز مندی کے ساتھ اُن کے گرد رہتے تھے اور ہجوم کی وجہ سے بعض دفعہ ان کو ملنا مشکل ہو جاتا تھا اور اگر چہ بعض مولوی یہودیوں نے ان کو کافر کہا مگر جس زور شور سے مسیح موعود کی تکفیر ہوئی ایسی تکفیر حضرت عیسیٰ کی نہیں ہوئی بلکہ انجیل سے ثابت ہے کہ اکثر کفار کے دلوں میں بھی حضرت عیسیٰ کی وجاہت تھی اور پھر موت کے بعد تو وہ وجاہت ہوئی کہ خدا بنائے گئے اور ہمارے مخالف مولویوں کو تو یہ اقرار کرنا چاہیئے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی خدا بننے کی وجاہت بھی دیکھ لی اور دیکھ رہے ہیں کیونکہ اُن کے عقیدہ کے رُو سے وہ اب تک زندہ موجود ہیں اور یورپ کے تمام طاقتور بادشاہ مع اپنے ارکانِ دولت کے اُن کو خدائے ذوالجلال مانتے ہیں کیا ایسی وجاہت کسی دوسرے انسان کی ہوئی ؟۔
قولہ ۔ "با وجود مقدرت حج نہیں کیا ۔" (یہ میری ذات پر حملہ ہے)
اقول ۔ اس اعتراض سے آپ کی شریعت دانی معلوم ہوگئی ۔ گویا آپ کے نزدیک مانع حج صرف ایک ہی امر ہے کہ زادِ راہ نہ ہو۔ آپ کو بوجہ اس کے کہ دنیا کی کشمکش میں عمر کو ضائع کیا اس قدر سہل اور آسان مسئلہ بھی جو قرآن اور احادیث اور فقہ کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے معلوم نہ ہوا کہ حج کا مانع صرف زادِ راہ نہیں اور بہت سے امور ہیں جو عند اللہ حج نہ کرنے کے لئے عذرِ صحیح ہیں۔ چنانچہ ان میں سے صحت کی حالت میں کچھ نقصان ہونا ہے۔ اور نیز اُن میں سے وہ صورت ہے کہ جب راہ میں یا خود مکّہ میں امن کی صورت نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًاعجیب حالت ہے کہ ایک طرف بد اندیش علماء مکہ سے فتویٰ لاتے ہیں کہ یہ شخص کافر ہے اور پھر کہتے ہیں کہ حج کے لئے جاؤ اور خود جانتے ہیں کہ جب کہ مکہ والوں نے کفر کا فتویٰ دے دیا تو اب مکہ فتنہ سے خالی نہیں اور خدا فرماتا ہے کہ جہاں فتنہ ہو اُس جگہ جانے سے پرہیز کرو۔ سو میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کیسا اعتراض ہے۔ ان لوگوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ فتنہ کے دنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی حج نہیں کیا اور حدیث اور قرآن سے ثابت ہے کہ فتنہ کے مقامات میں جانے سے پرہیز کرو۔ یہ کس قسم کی شرارت ہے کہ مکہ والوں میں ہمارا کفر مشہور کرنا اور پھر بار بار حج کے بارے میں اعتراض کرنا ۔ نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ شُرُوْرِہِمْ ۔ ذرہ سوچنا چاہیے کہ ہمارے حج کی ان لوگوں کو کیوں فکر پڑ گئی۔ کیا اس میں بجز اس بات کے کوئی اور بھید بھی ہے کہ میری نسبت ان کے دل میں یہ منصوبہ ہے کہ یہ مکہ کو جائیں اور پھر چند اشرار الناس پیچھے سے مکہ میں پہنچ جائیں اور شورِ قیامت ڈال دیں کہ یہ کافر ہے اسے قتل کرنا چاہیے۔ سو بر وقت ورودِ حکم الٰہی اِن احتیاطوں کی پروا نہیں کی جائے گی۔ مگر قبل اس کے شریعت کی پابندی لازم ہے اور مواضعِ فتن سے اپنے تئیں بچانا سنت انبیاء علیہم السلام ہے۔ مکہ میں عنانِ حکومت ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو ان مکفرین کے ہم مذہب ہیں ۔ جب یہ لوگ ہمیں واجب القتل ٹھہراتے ہیں تو کیا وہ لوگ ایذا سے کچھ فرق کریں گے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِپس ہم گناہ گار ہوں گے اگر دیدہ و دانستہ تہلکہ کی طرف قدم اٹھائیں گے اور حج کو جائیں گے۔ اور خدا کے حکم کے برخلاف قدم اٹھانا معصیت ہے حج کرنا مشروط بشرائط ہے مگر فتنہ اور تہلکہ سے بچنے کے لئے قطعی حکم ہے جس کے ساتھ کوئی شرط نہیں ۔ اب خود سوچ لو کہ کیا ہم قرآن کے قطعی حکم کی پیروی کریں یا اس حکم کی جس کی شرط موجود ہے۔ باوجود تحقق شرط کے پیروی اختیار کریں۔
ماسوا اس کے میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ آپ اس سوال کا جواب دیں کہ مسیح موعود جب ظاہر ہو گا تو کیا اول اس کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ مسلمانوں کو دجال کے خطرناک فتنوں سے نجات دے یا یہ کہ ظاہر ہوتے ہی پہلے حج کو چلا جائے ۔ اگر بموجب نصوص قرآنیہ و حدیثیہ پہلا فرض مسیح موعود کا حج کرنا ہے نہ دجّال کی سرکوبی ، تو وہ آیات اور احادیث دکھلانی چاہئیں تا ان پر عمل کیا جائے ۔ اور اگر پہلا فرض مسیح موعود کا جس کے لیے وہ باعتقاد آپ کے مامور ہو کر آئے گا قتل دجال ہے جس کی تاویل ہمارے نزدیک اہلاک ملل باطلہ بذریعہ حجج و آیات ہے تو پھر وہی کام پہلے کرنا چاہیے۔ اگر کچھ دیانت اور تقویٰ ہے تو ضرور اس بات کا جواب دو کہ مسیح موعود دنیا میں آ کر پہلے کس فرض کو ادا کرے گا کیا پہلے حج کرنا اس پر فرض ہو گا یا یہ کہ پہلے دجّالی فتنوں کا قصہ تمام کرے گا ؟ یہ مسئلہ کچھ باریک نہیں ہے صحیح بخاری یا مسلم کے دیکھنے سے اس کا جواب مل سکتا ہے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ گواہی ثابت ہو کہ پہلا کام مسیح موعود کا حج ہے تو لو ہم بہر حال حج کو جائیں گے۔ ہر چہ بادا باد لیکن پہلا کام مسیح موعود کا استیصال فتن دجّالیہ ہے تو جب تک اس کام سے ہم فراغت نہ کر لیں حج کی طرف رخ کرنا خلاف پیشگوئی نبوی ہے۔ ہمارا حج تو اس وقت ہوگا جب دجّال بھی کفر اور دجل سے باز آ کر طواف بیت اللہ کرے گا ۔☆ کیونکہ بموجب حدیث صحیح کے وہی وقت مسیح موعود کے حج کا ہوگا۔ دیکھو وہ حدیث جو مسلم میں لکھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود اور دجال کو قریب قریب وقت میں حج کرتے دیکھا۔ یہ مت کہو کہ دجّال قتل ہوگا کیونکہ آسمانی حربہ جو مسیح موعود کے ہاتھ میں ہے کسی کے جسم کو قتل نہیں کرتا بلکہ وہ اس کے کفر اور اس کے باطل عذرات کو قتل کرے گا اور آخر ایک گروہ دجّال کا ایمان لا کر حج کرے گا۔ سو جب دجّال کو ایمان اور حج کے خیال پیدا ہوں گے وہی دن ہمارے حج کے بھی ہوں گے۔ اب تو پہلا کام ہمارا جس پر خدا نے ہمیں لگا دیا ہے دجّالی فتنہ کو ہلاک کرنا ہے۔ کیا کوئی شخص اپنے آقا کی مرضی کے برخلاف کام کر سکتا ہے؟
قولہ ۔ آتھم کی پیشگوئی غلط نکلی ۔
اقول ۔ لَّعۡنَتَ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰذِبِیۡنَ آتھم کی پیشگوئی شرطی تھی اور شرط سے مصلحت الٰہی یہی تھی کہ تا آتھم اس سے فائدہ اٹھاوے اور نیز کچے لوگوں کا امتحان ہو جائے سو آتھم نے دلی رجوع کر کے اور رجوع کے نشان دکھلا کر شرط سے فائدہ اُٹھا لیا قسم اور نالش سے اُس نے انکار کیا پھر الہام کے مطابق ہمارے آخری اشتہار سے چھ ماہ بعد مر گیا ۔ اگر پیشگوئی جھوٹی نکلی تھی تو اب آتھم کہاں ہے؟ اے نا انصاف لوگو! میں کہاں تک بار بار تمہیں سمجھاؤں ۔ اُن رسالوں کو دیکھو کہ جو آتھم کے بارے میں مَیں نے شائع کئے ہیں ۔ خدا نے آتھم کو اپنے الہام کے مطابق مار دیا۔ خدا نے آتھم کو خاک میں ملا دیا اور تم کہتے ہو کہ پیشگوئی جھوٹی نکلی ۔ میں حیران ہوں کہ یہ کیسی سمجھ ہے؟ ان دلوں کو کیا ہو گیا اور کیسے پردے پڑ گئے؟ اس پیشگوئی کی نسبت تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خبر دی تھی اور مکذّبین پر نفرین کی تھی اور براہین احمدیہ میں بھی ایک مدّت پہلے اس پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ کیا ضرور نہ تھا کہ آتھم شرط کے موافق زندہ رہتا؟ ہاں قطعی الہام دوسرا تھا جس کے بعد وہ جلد فوت ہو گیا۔ بہر حال خدا کا کام دیکھو کہ اُس نے اپنی پیشگوئی کی عزّت کے لئے آتھم کو نہ چھوڑا ۔ افسوس اُن لوگوں پر کہ جو ایسے صریح نشان سے مُنہ پھیرتے ہیں۔
قولہ ۔ لیکھرام کی پیشگوئی میں اس کے قتل ہونے کی تصریح نہیں ۔
اقول ۔ لَّعۡنَتَ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰذِبِیۡنَ ۔ آؤ ہمارے رُوبرو ہماری کتابیں دیکھو جن میں متفرق مقامات میں یہ پیشگوئی درج ہے ۔ پھر اگر تصریح ثابت نہ ہو تو اُسی جلسہ میں آپ کو دو سو روپیہ انعام دیا جائے گا۔
قولہ ۔ پیشگوئی سے لیکھرام کی بے عزتی نہیں ہوئی بلکہ شہید قوم اُس کو خطاب ملا اُس کے متعلقین کے لئے ہزار ہا روپیہ چندہ جمع کیا گیا۔
اقول ۔ اس سے ہماری پیشگوئی کی اور بھی شان بڑھی ہے کیونکہ یہ بھی ایک جنگ تھا۔ اور ظاہر ہے کہ فریق مخالف کے جس سپاہی کو قتل کیا جائے اور اس سپاہی کو مخالف فریق کے لوگ بڑا بہادر اور بڑا شجاع قرار دیں اور ایک بڑا آدمی اُس کو سمجھا جائے تو وہ تمام تعریف قاتل کی ہوتی ہے جس نے ایسے بہادر کو مارا۔ سو اگر لیکھرام کو مارے جانے کے بعد ایک ذلیل اور کس مپرسد سمجھا جاتا تو بلا شبہ اس سے ہماری پیشگوئی کی وقعت کم ہوتی کیونکہ یہ سمجھا جاتا کہ جس پر پیشگوئی پوری ہوئی وہ کوئی بڑا آدمی نہیں ہے اور صَیدِ رکیک ہے جو قابلِ تعریف نہیں مگر اب تو لیکھرام کو اُس کی قوم نے بڑی عظمت دے دی اور اب یہ واقعہ مقتول کی حیثیت کے رو سے بھی قابل عظمت ہو گیا ۔ خود سوچ کر دیکھو کہ اگر ایک پیشگوئی ایک بادشاہ کی نسبت پوری ہوا اور دوسری ایک بھنگن عورت کی نسبت تو کونسی پیشگوئی جلد شہرت پاتی اور عظمت اور تعجب کی نظر سے دیکھی جاتی ہے۔ سو چونکہ لیکھرام کو بڑا آدمی بنایا گیا ہے اس لئے بخیال وجوہاتِ بالا مَیں اس قدر خوش ہوں کہ اندازہ نہیں ہو سکتا اور مَیں جانتا ہوں کہ یہ کام خدا تعالیٰ نے کیا ہے اور ہندوؤں کے دلوں میں اُس کی عظمت ڈال دی تا ایک نامی آدمی کی نسبت پیشگوئی متصوّر ہو کر اُس کا اثر بڑھ جائے اور صفحۂ روزگار سے مٹ نہ سکے۔ اب جب تک عزت کے ساتھ لیکھرام کو یاد کیا جائے گا تب تک یہ پیشگوئی بھی ہندوؤں کو یاد رہے گی۔ غرض لیکھرام کو عزت کے ساتھ یاد کرنا پیشگوئی کی قدر و منزلت کو بڑھاتا ہے۔ اگر پیشگوئی کسی چوہڑے چمار اور نہایت ذلیل انسان کی نسبت ہوتی تو کیا قدر ہوتی ؟ میں پہلے اس خیال سے غمگین تھا کہ پیشگوئی تو پوری ہوئی مگر ایک ایسے معمولی شخص کی نسبت کہ جو پشاور میں سات آٹھ روپیہ کا پولیس کے محکمہ میں نوکر تھا۔ لیکن جب میں نے سنا کہ مرنے کے بعد اُس کی بہت عزت کی گئی تو وہ میرا غم خوشی کے ساتھ بدل گیا اور مَیں نے سمجھا کہ اب لوگ خیال کریں گے کہ ایسے معمولی آدمی پر میری دُعاؤں کا حملہ نہیں ہوا بلکہ اُس پر ہوا جس پر تمام قوم مِل کر روئی جس کے مرنے پر بڑا ماتم ہوا۔ جس کے مرثیے بنائے گئے جس کی یادگار کے لئے بہت سا روپیہ اکٹھا کیا گیا۔ سو یہ خدا کا احسان ہے کہ اس طرح پر اُس نے پیشگوئی کو عظمت دے دی۔ فالحمد لِلّٰہ علٰی ذالک ۔
قولہ ۔ کسوف خسوف کی حدیث موضوع ہے۔
اقول ۔ کسی شیطان نے آپ کو دھوکا دیا ہے وہ حدیث نہایت صحیح ہے اور صرف دار قطنی میں نہیں بلکہ حدیث کی اور کتابوں میں بھی ہے۔ اور شیعہ میں بھی ہے اور اہل سنّت میں بھی ۔ ماسوا اس کے یہ اصول محدّثین کا مانا ہوا ہے کہ اگر کسی حدیث کی پیشگوئی پوری ہو جائے اور بالفرض اگر اس حدیث کو موضوع ہی سمجھا گیا تھا تو پوری ہونے کے بعد وہ صحیح حدیث سمجھی جائے گی کیونکہ خدا نے اُس کی سچائی پر گواہی دی۔ کیونکہ خدا کے سوا غیب کی کسی کو طاقت نہیں☆ ۔ حدیث کا علم ایک ظنّی علم ہے بسا اوقات ایک حدیث صحیح ہوتی ہے اور ممکن ہے کہ دراصل صحیح نہ ہو۔ اور بسا اوقات ایک حدیث موضوع سمجھی جاتی ہے اور آخر وہ سچی نکلتی ہے اور یہ حدیث تو کئی طریقوں سے ثابت ہے ۔ پس اب اس کو موضوع کہنا صریح ایمان سے ہاتھ دھونا ہے اگر شک ہو تو ہمارے سامنے آؤ اور کتابیں دیکھ لو۔ علاوہ اس کے یہ کیسی حماقت ہے کہ جب حدیث میں ایسی پیشگوئی تھی جس پر سوا خدا کے اور کوئی قادر نہیں ہو سکتا اور وہ پیشگوئی پوری ہو گئی تو کیا اب بھی اس حدیث کی صحت میں شک رہا؟
قولہ ۔ عربی تصنیفات کی بے نظیری کا دعویٰ غلط ہے کیونکہ قرآن کے سوا یہ دعویٰ انجیل، زبور اور احادیث نبوی نے بھی نہیں کیا۔
اقول ۔ میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ امام آخر الزمان کے لئے ضروری تھا کہ وہ ذوالبروزین ہو اور عیسوی برکات اور محمدی برکات اُس میں پائی جائیں اور یہ دونوں برکات اُس کے سچا ہونے کی علامتیں تھیں سو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک یہ معجزہ بھی دیا گیا تھا کہ قرآن شریف جو اَفْصَحُ الْکَلِمِ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوا سو ضرور تھا کہ مہدی جس کا نام بروز کے طور پر احمد اور محمد رکھا گیا اس معجزہ کا بھی وارث ہو۔ پس اسی وجہ سے یہ عاجز ظلی طور پر اس معجزہ کا وارث کیا گیا اور اس بات میں کونسا حرج اور دینی نقص ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ امور جو کسی زمانہ میں معجزہ کے رنگ میں ظاہر ہوئے تھے اب کرامت کے رنگ میں ظاہر فرمائے۔ اور کرامت دراصل نبی متبوع کا معجزہ ہی ہوتا ہے ہمیں اس سے کیا غرض ہے کہ انجیل کا کلام بطور معجزہ کے نہیں یا توریت کا کلام بطور معجزہ کے نہیں☆ ۔ ہمیں اپنے نبی علیہ السلام سے غرض ہے۔ اب خلاصہ جواب یہ ہے کہ جب کہ یہ ایک ضروری امر تھا کہ تمام برکات محمدیہ سے مہدی آخر الزمان کو حصہ ملے۔ لہذا یہ امر بھی واجب تھا کہ جیسا کہ آنحضرت جامع الکلم اور فصیح اور بلیغ تھے اور آپ کا کلام تمام کلاموں پر فائق تھا خصوصاً قرآن شریف تو ایک بے مثل معجزہ تھا ایسا ہی مہدی آخر الزمان بھی فصاحت بلاغت سے حصہ پاوے سو اس ضرورت کے لئے اس عاجز کو بلاغت محمدیہ میں سے حصہ دیا گیا۔ اور یہ امر تو ایسا ضروری تھا کہ اگر یہ نہ دیا جاتا تو اس حالت میں اعتراض ہو سکتا تھا کہ باوجود دعویٰ مہدویت کے جو نبوت محمدیہ کا ظل ہے کیوں بلاغت محمدیہ میں سے حصہ نہیں دیا گیا نہ اس صورت میں اعتراض کرنا کہ جبکہ خدا تعالیٰ کے فضل نے اس بلاغت کاملہ اور فصاحت تامہ سے حصہ دے دیا۔ اور یہ خیال بھی سخت غلطی اور گستاخی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام معمولی انسانوں کی طرح تھا کیونکہ اگرچہ قرآن شریف اعلیٰ درجہ کا معجزہ ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام بھی دوسرے انسانوں پر صدہا طرح فوقیت رکھتا اور ایک قسم کا معجزہ تھا۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلاغت اور کلم جامعہ عطا کئے گئے تھے اور بلا شبہ نسبتی طور پر آنجناب کا معمولی کلام بھی معجزہ کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔
قولہ ۔ براہین احمدیہ کا بقیہ نہیں چھاپتے۔
اقول ۔ اس توقف کو بطور اعتراض پیش کرنا محض لغو ہے۔ قرآن شریف بھی باوجود کلام الٰہی ہونے کے تئیس برس میں نازل ہوا۔ پھر اگر خدا تعالیٰ کی حکمت نے بعض مصالح کی غرض سے براہین کی تکمیل میں توقف ڈال دی تو اس میں کونسا حرج ہوا۔ اور اگر یہ خیال ہے کہ بطور پیشگی خریداروں سے روپیہ لیا گیا تھا تو ایسا خیال کرنا بھی حمق اور ناواقفی کے باعث ہوگا کیونکہ اکثر براہین احمدیہ کا حصہ مفت تقسیم کیا گیا ہے اور بعض سے پانچ روپیہ اور بعض سے آٹھ آنہ تک قیمت لی گئی ہے۔ اور ایسے لوگ بہت کم ہیں جن سے دس روپے لئے گئے ہوں۔ اور جن سے پچیس روپے لئے گئے وہ صرف چند آدمی ہیں ۔ پھر باوجود اس قیمت کے جو ان حصص براہین احمدیہ کے مقابل پر جو منطبع ہو کر خریداروں کو دیئے گئے ہیں کچھ بہت نہیں ہے بلکہ عین موزوں ہے اعتراض کرنا سراسر کمینگی اور سفاہت ہے لیکن پھر بھی ہم نے بعض جاہلوں کے ناحق کے شور وغوغا کا خیال کر کے دو مرتبہ اشتہار دے دیا کہ جو شخص براہین احمدیہ کی قیمت واپس لینا چاہے وہ ہماری کتابیں ہمارے حوالے کرے اور اپنی قیمت لے لے۔ چنانچہ وہ تمام لوگ جو اس قسم کی جہالت اپنے اندر رکھتے تھے انہوں نے کتابیں بھیج دیں اور قیمت واپس لے لی اور بعض نے کتابوں کو بہت خراب کر کے بھیجا مگر پھر بھی ہم نے قیمت دے دی۔ اور کئی دفعہ ہم لکھ چکے ہیں کہ ہم ایسے کمینہ طبعوں کی ناز برداری کرنا نہیں چاہتے اور ہر ایک وقت قیمت واپس دینے پر طیّار ہیں ۔ چنانچہ خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ ایسے دنیّ الطبع لوگوں سے خدا تعالیٰ نے ہم کو فراغت بخشی۔ مگر پھر بھی اب مجدّدًا ہم یہ چند سطور بطور اشتہار لکھتے ہیں کہ اگر اب بھی کوئی ایسا خریدار چھپا ہوا موجود ہے کہ جو غائبانہ براہین کی توقف کی شکایت رکھتا ہے تو وہ فی الفور ہماری کتابیں بھیج دے اور ہم اس کی قیمت جو کچھ اس کی تحریر سے ثابت ہوگی اس کی طرف روانہ کر دیں گے۔ اور اگر کوئی باوجود ہمارے ان اشتہارات کے اب بھی اعتراض کرنے سے باز نہ آوے تو اُس کا حساب خدا تعالیٰ کے پاس ہے۔ اور شہزادہ صاحب یہ تو جواب دیں کہ انہوں نے کونسی کتاب ہم سے خریدی اور ہم نے اب تک وہ کتاب پوری نہ دی اور نہ قیمت واپس کی؟ یہ کس قدر نا خدا ترسی ہے کہ بعض پُر کینہ ملانوں کی زبانی بے تحقیق اس بات کو سننا اور پھر اس کو بطور اعتراض پیش کر دینا۔
قولہ۔ گورنمنٹ کی خوشامد کرتے ہیں۔
اقول ۔ یہ خوشامد نہیں ہے۔ یہ وہ حق ہے جو ہر ایک نمک حلال رعیّت کو ادا کرنا چاہئیے ۔ بے شک گورنمنٹ برطانیہ کا ہم پر ایک حق عظیم ہے کہ ہم نے اُن کے زیر سایہ آ کر ہزاروں آفتوں سے امن پایا۔ صدہا طرح کے ہمیں اس گورنمنٹ کے ذریعہ سے فوائد حاصل ہوئے ۔ پھر یہ بدذاتی ہوگی کہ اس قدر احسانات دیکھ کر سرکشی کے مادہ کو اپنے دل میں رکھیں ۔
قولہ ۔ راولپنڈی والا بزرگ وہمی اور بزدل ہے اس لئے اس کے حق میں پیشگوئی کر دی ۔
اقول ۔ لَّعۡنَتَ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰذِبِیۡنَ ۔ اگر وہ بزرگ بُزدل ہوتا تو مردِ میدان بن کر ہزاروں کے مخالف ہو کر ہماری تصدیق کیوں کرتا ؟ آج کل ہماری طرف اخلاص کے ساتھ آنا گویا آگ پر قدم رکھنا ہے۔ پس یہ ہمّت کسی بُزدل کا کام نہیں ہے بلکہ بہادروں اور پہلوانوں کا کام ہے۔ ماسوا اس کے خود بزرگ موصوف کو الہام ہوا اور اُس نے خدا کا نشان دیکھا۔ اِس لئے اُس نے راستبازوں کی طرح حق کو قبول کیا۔ افسوس یہ زمانہ کیسا نابکار زمانہ ہے کہ جو لوگ خدا سے ڈرتے اور حق کو قبول کرتے اور خدا کے نشانوں کو دیکھ کر سچائی کی طرف دوڑتے ہیں اُن کا نام بُزدل رکھا جاتا ہے اور ان کو بدی سے یاد کیا جاتا ہے۔ اور جو لوگ درحقیقت بُزدل ہیں اور مُردار دنیا کے لئے حق کی طرف نہیں آتے تا دنیا داروں کی زبان سے آزار نہ اٹھاویں وہ اپنے تئیں بہادر سمجھتے ہیں۔
یہ تمام جوابات اُن اعتراضات کا جواب ہیں جو شہزادہ عبدالمجید خان صاحب نے شہزادہ والا گوہر صاحب کی کتاب سے انتخاب کر کے اس خط میں لکھے ہیں جو ہماری طرف بھیجا ہے جس کو ہم نے ان اعتراضات سے پہلے چھاپ دیا ہے۔ وہ اصل خط ہمارے پاس موجود ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ شہزادہ عبدالمجید خان صاحب نے وہی لکھا ہے جو شہزادہ والا گوہر صاحب کی کتاب میں دیکھا یا اُن کے مُنہ سے سنا ہے۔ گو شہزادہ والا گوہر صاحب کی کتاب اب تک ہمارے پاس نہیں پہنچی مگر وہ انہی خرافات سے پُر ہے کیونکہ شہزادہ عبدالمجید خانصاحب اُن کے قریبی رشتہ دار اور اوّل درجہ کے خیر خواہ اور دوست ہیں اور بذاتِ خود نیک چلن اور راست گو اور متقی آدمی ہیں۔ ممکن نہیں کہ انہوں نے ایک حرف بھی بطور مبالغہ لکھا ہو۔ میری دانست میں ہرگز مناسب نہ تھا کہ شہزادہ والا گوہر صاحب ایسی بیہودہ کتاب تالیف کر کے ناحق اپنی پردہ دری کراتے ۔ شہزادگی امر دیگر ہے مگر شہزادہ والا گوہر صاحب علم حدیث اور قرآن اور دوسرے علوم سے بے نصیب اور بے بہرہ ہیں ان کو خواہ نخواہ دخل در معقول مناسب نہ تھا۔ چاہیے کہ اوّل وہ قرآن شریف اور احادیث کو کسی اُستاد سے غور سے پڑھیں اور تاریخ اسلام سے حصہ وافر حاصل کریں اور عیسائیوں کی کتابوں کو بھی غور سے دیکھیں اور پھر اگر فرائض نوکری سے فرصت ہو تو ہمارا رد لکھیں۔ ایسی قابلِ شرم اور بے ہودہ کتاب جلا دینے اور تلف کر دینے کے لائق ہے۔ بہتر ہو کہ وہ اب بھی اس نصیحت پر کار بند ہو جائیں اور ہرگز اس کو شائع نہ کریں اور اندر ہی اندر ضائع کر دیں آئندہ وہ اپنے مصالح کو آپ خوب سمجھتے ہیں ۔
بالآخر میں ناظرین کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ میری اس کتاب کو سرسری نظر سے نہ دیکھیں میں نے اُن کو وہ پیغام پہنچایا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو ملا ہے اور میں یقین کرتا ہوں کہ میں نے سب پر حجت پوری کر دی ہے۔ نیک نہاد اور زیرک انسان اس بات کو جانتے ہیں کہ ابتدا سے نبیوں اور رسولوں اور تمام مامورین کا یہی طریق رہا ہے کہ وہ تین طور سے خلق اللہ پر حجت پوری کرتے رہے ہیں۔ ایک نصوص سے۔ دوسرے عقل سے۔ تیسرے تائیدات آسمانی سے۔ سو میں نے بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے اِن ہی تینوں طریقوں سے حجت کو پورا کر دیا ہے۔ چنانچہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے رو سے میں نے ثابت کر دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور جس آخر الزمان کے امام کی خبر دی گئی ہے وہ اسی اُمت میں سے ہے۔ میں نے حدیثوں کے رُو سے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ وہ مسیح اور مہدی جو آنے والا ہے عیسائی سلطنت کے وقت میں اُس کا آنا ضروری ہے۔ کیونکہ اگر کسی اور وقت میں آوے تو پھر پیشگوئی یَکْسِرُ الصَّلِیْبَ کیونکر پوری ہوگی۔ میں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ مسیح موعود کا یاجوج ماجوج کے وقت میں آنا ضروری ہے۔ اور چونکہ اَجِیْج آگ کو کہتے ہیں جس سے یاجوج ماجوج کا لفظ مشتق ہے اِس لئے جیسا کہ خدا نے مجھے سمجھایا ہے یاجوج ماجوج وہ قوم ہے جو تمام قوموں سے زیادہ دنیا میں آگ سے کام لینے میں استاد بلکہ اس کام کی موجد ہے۔ اور ان ناموں میں یہ اشارہ ہے کہ اُن کے جہاز ، اُن کی ریلیں، اُن کی کلیں آگ کے ذریعہ سے چلیں گی اور اُن کی لڑائیاں آگ کے ساتھ ہوں گی اور وہ آگ سے خدمت لینے کے فن میں تمام دنیا کی قوموں سے فائق ہوں گے اور اسی وجہ سے وہ یاجوج ماجوج کہلائیں گے ۔ سو وہ یوروپ کی قومیں ہیں جو آگ کے فنون میں ایسے ماہر اور چابک اور یکتائے روزگار ہیں کہ کچھ بھی ضرور نہیں کہ اس میں زیادہ بیان کیا جائے ۔ پہلی کتابوں میں بھی جو بنی اسرائیل کے نبیوں کو دی گئیں یورپ کے لوگوں کو ہی یاجوج ماجوج ٹھہرایا ہے بلکہ ماسکو کا نام بھی لکھا ہے جو قدیم پایۂ تخت روس تھا۔ سو مقرر ہو چکا تھا کہ مسیح موعود یاجوج ماجوج کے وقت میں ظاہر ہوگا۔ اور نصوصِ قرآنیہ اور حدیثیہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح کے زمانہ میں اونٹوں کی سواری اور بار برداری ترک کی جائے گی ۔ اس قول میں یہ اشارہ تھا کہ کوئی ایسی سواری ظاہر ہوگی جس سے اونٹوں کی حاجت نہیں رہے گی۔ میں نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت کے رُو سے ایک ایسے انسان کا آخری زمانہ میں آنا ضروری تھا جو برکاتِ عیسویہ اور برکاتِ محمدیہ کا جامع ہو اور اسی کے یہ دو نام احمد مہدی اور عیسیٰ مسیح ہیں۔ غرض میں نے نصوص کے رُو سے خدا تعالیٰ کی حجت اس زمانہ کے لوگوں پر پوری کر دی ہے۔ ایسا ہی عقل کے رُو سے بھی میں نے حجت کو پُورا کیا ہے۔ اس بات کے لکھنے کی چنداں حاجت نہیں کہ جس پہلو پر خدا تعالیٰ نے ہمیں قائم کیا ہے اُسی پہلو کی عقل بھی مصدق ہے اور عقل کے پاس اس بات کا کوئی نمونہ نہیں کہ انسان فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر آسمان سے اُترے۔ ایسا ہی میں نے آسمانی تائیدوں اور غیبی نشانوں سے اپنا سچا ہونا ثابت کیا ہے۔ اور یہ ایک ایسا اَمر ہے جو انسان کی طاقت سے باہر ہے۔ جس طرح کوئی آمنے سامنے کھڑے ہو کر دشمن کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ نے میری تائید میں کیا ہے جس قطعی اور یقینی طور پر اب لوگوں نے نشان دیکھے یہ نمونہ نبوت کے زمانہ کے بعد کبھی کسی کی آنکھ نے نہیں دیکھا۔ خُدا نے کھلے کھلے طور پر اپنا زورِ بازو دکھلایا اور بہت سے نشان غیب گوئی اور قدرت نمائی کے دکھلائے۔ شریر اور مفسد اور ناپاک طبع چاہتے ہیں کہ خدا کے ان نشانوں کو خاک میں ملا دیں۔ مگر خدا اِن نشانوں کو قوموں میں پھیلائے گا اور اُن کے ساتھ اور نشان ملائے گا۔ وہ وقت آتا ہے بلکہ آ چکا کہ جو لوگ آسمانی نشانوں سے جو خدا تعالیٰ اپنے بندے کی معرفت ظاہر کر رہا ہے منکر ہیں بہت شرمندہ ہوں گے اور تمام تاویلیں اُن کی ختم ہو جائیں گی اُن کو کوئی گریز کی جگہ نہیں رہے گی۔ تب وہ جو سعادت سے کوئی مخفی حصہ رکھتے ہیں وہ حصہ جوش میں آئے گا ۔ وہ سوچیں گے کہ یہ کیا سبب ہے کہ ہر ایک بات میں ہم مغلوب ہیں ۔ نصوص کے ساتھ ہم مقابلہ نہیں کر سکے عقل ہماری کچھ مدد نہیں کرتی ۔ آسمانی تائید ہمارے شامل حال نہیں۔ تب وہ پوشیدہ طور پر دُعا کریں گے اور خدا تعالیٰ کی رحمت اُن کو ضائع ہونے سے بچا لے گی قبل اس کے جو وہ زمانہ آوے خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دے دی ہے کہ بہت سے اس جماعت میں سے ہیں جو ابھی اس جماعت سے باہر اور خدا کے علم میں اس جماعت میں داخل ہیں۔ بار بار ان لوگوں کی نسبت یہ الہام ہوا ہے ۔ یَخِرُّوْنَ سُجَّدًا ۔ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا اِنَّا کُنَّا خَاطِئِیْنَ ۔ یعنی سجدہ میں گریں گے کہ اے ہمارے خدا! ہمیں بخش کیونکہ ہم خطا پر تھے۔
اب میں اس کتاب کو اِس دعا پر ختم کرتا ہوں ۔ رَبَّنَا افۡتَحۡ بَیۡنَنَا وَبَیۡنَ قَوۡمِنَا بِالۡحَقِّ وَاَنۡتَ خَیۡرُ الۡفٰتِحِیۡنَ ۔ آمین
الراقم خاکسار مرزا غلام احمد از قادیاں
یکم جنوری ۱۸۹۹ء