بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَلَمِينَ وَالصَّلوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ الْأُمِّي الشَّفِيعِ الْمُشَفَعِ الْمُطَاعِ الْمَكِينِ وَعَلَى آلِهِ وَ أَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ
مباحثات و مناظرات نفس الامر میں بہت ہی مفید امور ہیں ۔ فطرت انسانی کی ترقی جسے طبعاً کورانہ تقلید سے کراہت ہے اور جسے ہر وقت جدید تحقیقات کی دھن لگی رہتی ہے اس پر موقوف ہے۔ انسان کی طبیعت میں جذبات اور جوش ہی ایسے مخمر کئے گئے ہیں کہ کسی دوسرے ہم جنس کی بات پر سرتسلیم جھکانا اسے سخت عار معلوم ہوتا ہے ایام جاہلیت ( جو اسلام کی اصطلاح میں کفر کا زمانہ ہے اور جو ہمارے ہادی کامل آفتاب صداقت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کا زمانہ ہے ) میں بڑی حمیت والے شدید الکفر سرداران عرب اس پر فخر کرتے ہیں کہ ہم وہ لوگ ہیں جو کسی کی بات مانا نہیں کرتے در حقیقت یہ ایک ستر ہے جو ایک بڑی بھاری غرض کیلئے حکیم حمید نے انسان کی فطرت میں ودیعت کیا ہے۔ غرض اس سے یہ ہے کہ یہ ہستی بہائم کی طرح صمّ وبکمّ اور مقلد محض نہ ہو بلکہ ایک کی بات دوسرے کی جدت پسند ایجادی طبیعت کے حق میں زبردست محرک اور اشتعال انگیز ہو۔ اگر عادت اللہ یوں جاری ہوتی کہ ایک نے کہی اور دوسرے نے مانی تو یہ نیر نجات و عجائبات سے بھرا ہوا عالم ایک سنسان ویرانہ اور وحشت آباد بیابان سے زیادہ نہ ہوتا ۔ مگر حکیم خدا نے اپنا جلال ظاہر کرنے کیلئے ہر چیز کے وجود کے ساتھ شر کا وجود بھی لازم کر رکھا ہے ۔ کم ہی کوئی ایسی شے ہوگی جو زوجین یا ذو وجہین نہ ہو۔ اس قابل فخر فضیلت کو بھی اسی قاعدہ کلیہ کے موافق بڑی سخت فتیح رذیلت یعنی تعصب بیجا اصرار معاندانه ضد فرضی مسلمات قومی کی بیچ ۔ خلاف حق نفسانیت نے اس کے محققانہ بلند مرتبہ سے گرا کر ۔ اور عامیانہ اخلاق کی پست اور ذلیل سطح پر اتار کر اس کو عالم میں بے اعتبار کر دیا ۔ نہ صرف بے اعتبار بلکہ مہیب خونخوار بنا دیا۔ یوں ایک سچی اور صحیح اور ضروری اصل کو انسان کے بے جا استعمال کی دراز دستی نے ایسا بگاڑا ۔ ایسا بد نام کیا کہ اس آلہ ترقی و اصلاح کو ہر قسم کے مفسدات شرور اور تمدن و معاشرت کی خرابیوں کا منبع کہا گیا۔ بد قسمتی سے بد عمل بنی آدم نے جہاں مباحثہ و مناظرہ کی مجلس قائم کی بس طرفۃ العین میں اسے تاریک وقتوں کی کشتی پنجہ زنی اور نبرد آزمائی کے خوفناک دنگل کی صورت سے بدل دیا۔ تو اریخ عامہ کو چھوڑ کر مقدس تاریخ (كتب السير ) کو اٹھا کر دیکھو۔ صحابہ میں بھی امور پیش آمدہ اور مسائل مہمہ کے بارہ میں جن میں کسی قسم کا اشکال و ابہام ہوتا اور کتاب وسنت کی نورانی چمک اس کی تاریکی کو اٹھا دینے کی متکفل نہ ہوتی ۔ مباحثے ہوتے ۔ بڑے بڑے اہل علم فقہا جمع ہوتے ۔ مگر وہ اس سچے نور سے منور تھے اور راہ حق میں نفسانی جذبات کو نیست و نابود کر چکے تھے۔ بڑی آشتی ولطف سے امر متنازعہ فیہ کی الجھن کو سلجھا لیتے واللہ در من قال
جھگڑتے تھے لیکن نہ جھگڑوں میں شر تھا
خلاف آشتی سے خوش آئند تر تھا
حضرت مقدسہ مطہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) بڑی مناظرہ کرنے والی تھیں۔ اکثر واقعات میں صحابہ نے ان کی خدمت کی طرف رجوع کیا اور مباحثات کے بعد حضرت صدیقہ کے مذہب کو اختیار کیا۔
الغرض مباحثہ کوئی بدعت اور دراصل فساد انگیز شے نہ تھی ۔ مگر مغلوب الغضب ۔ بہائم سیرت متنازعین کی بے اندامیوں نے اسے بدعت وطغیان کی حد سے بھی کہیں پرے کر دیا ہے۔
کچھ مدت سے حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے ( رب جلیل کے القاء و اعلام سے ) یہ دعوی کیا ہے (۱) کہ حضرت مسیح اسرائیلی صاحب انجیل اپنے دوسرے بھائیوں ( انبیا علیہم السلام ) کی طرح فوت ہو چکے ہیں۔ قرآن کریم ان کی وفات کی قطعی اور جز می شہادت دے چکا ہے ۔ اور (۲) دوبارہ دنیا میں آنے والے ابن مریم سے مراد مثیل مسیح کے وجود سے ہے نہ صیح اصیل سے اور (۳) میں مسیح موعود ہوں جو بشارات الہیہ کی بنا پر دنیا میں اصلاح خلق کے لئے آیا ہوں ۔
حضرت مرزا صاحب نے اسی سنت اللہ کے موافق جو انبیاء اور محدثین کی سیرت سے عیاں ہے ان دعاوی خصوصاً و مہتماً ان دو دعووں کی اجابت کی طرف کا فتہ الناس کو بآواز بلند وندائے عام بلایا۔ اہل پنجاب سے ( بحکم آیہ شریفہ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ وَّلَا نَبِیٍّ(الحج: ۵۳) بٹالہ کے شیخوں میں کے ایک بزرگ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب اس دعوت کی تردید پر کھڑے ہوئے۔ لوگوں کے اعتقاد کے موافق ان جدید دعووں نے عقائد قدیمہ کی دنیا میں فوق العادت رستخیز پیدا کر رکھی تھی ۔ اور ہر ایک سرسری دیکھنے والے کو بھی وہ عمارتیں جو سراسر ریت پر اٹھائی گئی تھیں اس پر زور سیلاب کی رو کے صدمہ سے بہتی نظر آنے لگیں ۔ مدت کی مانی ہوئی بات کی الفت نے کسی حامی و معاون کی مشتاقانہ تلاش میں نگاہیں چاروں طرف دوڑا رکھی تھیں ۔ مولوی محمد حسین کے وجود میں انہیں مغتنم حامی اور عزیز حریف مقابل نظر آیا۔ سچی ارادت اور مضبوط عقیدت نے متفقًا ہر طرف سے منقطع ہو کر اب مولوی ابوسعید صاحب کو امید و بیم کا مرجع قرار دیا۔ پنجاب کے اکثر مساجد نشین علماء نے ( جو بظاہر اپنے تئیں غیر مقلد و محقق کہتے ہیں) ایک آواز ہو کر بڑے فخر سے ہمارے بٹالوی مولوی صاحب کو اپنا وکیل مطلق قرار دیا ۔ سب سے پہلے لاہور کی ایک برگزیدہ جماعت نے جنہوں نے اب تک اپنی عملی زندگی سے ثبوت دیا ہے کہ وہ اسلام کے سچے خیر خواہ اور حق پسند و حق ہیں لوگ ہیں میرے شیخ و حقیقی دوست مولوی نور الدین کو جبکہ وہ لو دیا نہ میں اپنے مرشد حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں حاضر تھے بڑے خلوص اور بڑے اصرار والحاح سے لاہور میں بلایا کہ وہ انہیں ان مسائل مشکلہ کی کیفیت پر آگاہ کریں ۔ مولوی نورالدین صاحب کی تشریف آوری پر طبعا وہ اس طرف متوجہ ہوئے کہ مولوی ابوسعید صاحب کو جوان دعاوی کے بطلان کے مدعی ہیں ان کے مقابل کھڑا کر کے جانبین کے اسلامیانہ مباحثہ اور صحابیانہ طرز مناظرہ سے حق دائر کو پالیں ۔ مگر افسوس ان کے زعم کے خلاف ایک حلیم متواضع اور دل کے غریب مولوی کے مقابلہ میں جناب مولوی ابوسعید صاحب نے صحابہ کے طرز مناظرہ کا ثبوت نہ دیا مشتاقین کی تڑپتی روحوں کے تقاضا کے خلاف اصل بنائے دعوی کو چھوڑ کر مولوی ابوسعید صاحب نے ایک خانہ ساز طومار اصول موضوعہ کا پیش کر کے حاضرین اور بے صبر مشتاقین کے عزیز وقت اور قیمتی آرزوؤں کا خون کر دیا اور معاملہ جوں کا توں رہ گیا۔
اس کے بعد حضرت مرزا صاحب کے دعاوی کی تائید میں کتا بیں اور رسالے یکے بعد دیگرے شائع ہونے شروع ہوئے اور فوج فوج حق طلب لوگ اس روحانی اور پاک سلسلہ میں داخل ہونے لگے ۔ مدافعین و مخالفین نے بجائے اس کے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات کی نسبت قرآن کریم اور حدیث صحیح صریح کی بنا پر استدلال کر کے اپنے پرانے عقیدہ کی حمایت کرتے اور لوگوں پر اس جدید دعوی کی کمزوری کو ثابت کرتے عادتاً تکفیر بازی کی پتنگیں اور کنکوّے اِدھر اُدھر اڑانے شروع کئے جو حقانیت کی تند باد کی زد سے ٹوٹ کر اور پھٹ کرنا بود ہو گئے ۔
کچھ عرصہ کے بعد بعض زبردست احباب کی نا قابل تردید انگیخت اور ان کے بار بار کے شرم دلانے سے پھر مولوی صاحب نے کروٹ لی اور آخر کار زور آور دھکوں سے کرھًا لودیا نہ میں پہنچائے گئے ۔ اب سے اس مباحثہ کی بنا پڑنے لگی جو الحق کے ان چاروں نمبروں میں درج ہے۔
ہمارے مقصد میں داخل نہیں کہ ہم اس وقت یہاں مباحثہ کے جزوی و کلی حالات اور دیگر متعلقات سے تعرض کریں ۔ اس مضمون پر ہمارے معزز و مکرم دوست منشی غلام قادر صاحب فصیح اپنے گرامی پر چہ پنجاب گزٹ کے ضمیمہ مورخہ ۱۲ اگست میں پوری روشنی ڈال چکے ہیں ۔ ہمیں بحث کی اصلی غرض اور علت غائی اور آخر کار اس کے نتیجہ واقع شدہ سے تعلق ہے۔ الحاصل مولوی ابوسعید صاحب لودیا نہ لائے گئے ۔ اسلامی جماعتوں میں ایک دفعہ پھر حرکت پیدا ہوئی اور ہر ایک نے اپنے اپنے مشتاق خیال کے بلند ٹیلہ پر چڑھ کر اور تصور کی دور بین لگا کر اس مقدس جنگ کے نتیجہ کا انتظار کرنا شروع کیا۔
آخر مباحثہ شروع ہوا ۔ ۱۲ روز تک اس کارروائی نے طول پکڑا۔ مگر افسوس نتیجہ پر لودیانہ کے لوگ بھی پورے معنوں میں اپنے بھائیوں اہل لاہور کی قسمت کے شریک رہے۔ مولوی صاحب نے اب بھی وہی اصول موضوعہ پیش کر دیئے۔ حالانکہ نہایت ضروری تھا کہ وہ بہت جلد اس فتنہ کا دروازہ بند کرتے جو ان کے زعم کے موافق اسلام و مسلمانان کے حق میں شدید مضر ثابت ہورہا تھا یعنی اگر راستی و حقانیت پر اپنی انہیں پوری بصیرت اور وثوق کامل تھا تو وہی سب سے پہلے ہر طرف سے ہٹ کر اور لایعنی امور سے منہ موڑ کر حضرت مرزا صاحب کے اصل بنائے دعوی یعنی وفات مسیح کی نسبت گفتگو شروع کرتے۔ یہ تو کمزور اور بے سامان کا کام ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچاؤ کے لئے ادھر اُدھر پنجے مارتا اور ہاتھ اڑاتا ہے۔ ان پر واجب تھا کہ فوراً قرآن کریم سے کوئی ایسی آیت پیش کرتے جو حضرت مسیح کی حیات پر دلیل ہوتی ۔ یا ان آیات کے معانی پر جرح کرتے اور ان دلائل کو قرآن سے یا حدیث صریح صحیح سے توڑ کر دکھلاتے جو حضرت مرزا صاحب نے مسیح کی موت پر لکھی ہیں ۔ مگر اس دلی شعور نے کہ وہ واقعی بے سلاح ہیں انہیں اس طرف مائل کیا کہ وہ جوں توں کر کے اپنے منہ کے آگے سے اس موت کے پیالہ کو ٹال دیں وہ نہ ٹلا۔ اور آخر مولوی صاحب پر ذلت کی موت وارد ہوئی !
فَاعۡتَبِرُوۡا یٰۤاُولِی الۡاَبۡصَارِ ۔ اب امید ہے کہ وہ حسب قاعدہ کلیہ اس دنیا میں پھر نہ اٹھیں گے۔ چنانچہ لاہوری برگزیدہ جماعت نے بھی انہیں مردہ یقین کر کے اس درخواست میں اور اور بظاہر زندہ مولویوں کو مخاطب کیا ہے اور ان پر فاتحہ پڑھ دی ہے۔ ہم بھی انہیں روح میں مردہ سمجھتے اور ان کی موت پر تاسف کرتے ہیں ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ۔
اسلامی پبلک حیران ہے کہ کیوں مولوی ابوسعید صاحب نے اس بحث اور گزشتہ بحث میں قرآن کریم کی طرف آنے سے گریز کرنا پسند کیا اور کیوں وہ صاف صاف قرآن کریم اور فرقان مجید کی رو سے وفات وحیات مسیح کے مسئلہ کی نسبت گفتگو کرنے کی جرات نہ کرتے یا عمداً کرنا نہ چاہتے تھے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم اپنی نصوص قطعیہ بینہ کا جرار و کرار لشکر اور ان گنت لشکر لے کر حضرت مرزا صاحب کی تائید پر آمادہ ہے ۔ دوسو آیت کے قریب حضرت مسیح کی وفات پر بالصراحة دلالت کر رہی ہیں ۔ مولوی ابوسعید صاحب نے نہ چاہا (اگر وہ چاہتے تو جلد فیصلہ ہو جاتا ) کہ قرآن مجید کو اس نزاع میں جلد اور بلا واسطہ حکم اور فاصل بناویں اسلئے کہ وہ خوب سمجھتے تھے کہ سارا قرآن آنحضرت مرزا صاحب کے ساتھ ہے اور وہ اس خواہ نخواہ معاندانہ کارروائی سے زک اٹھائیں گے۔ لیکن پیش بندی یہ مشہور کرنا اور بات بات میں یہ کہنا شروع کر دیا کہ مرزا صاحب حدیث کو نہیں مانتے۔ نعوذ باللّہ ۔ ہم اس امر کا فیصلہ اہل تحقیق ناظرین پر چھوڑتے ہیں وہ دیکھ لیں گے اور مرزا صاحب کے جا بجا اقراروں سے بخوبی سمجھ لیں گے کہ حدیث کی سچی اور واقعی عزت حضرت مرزا صاحب ہی نے کی ہے۔ ان کا مدعا و منشا یہ ہے کہ حدیث کے ایسے معنے کئے جائیں جو کسی صورت میں کتاب اللہ الشریف کے مخالف نہ پڑیں بلکہ حدیث کی عزت قائم رکھنے کیلئے اگر اس میں کوئی ایسا پہلو ہو جو بظاہر نظر کتاب اللہ کی مخالفت کا احتمال رکھتا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے اسے قرآن کے ساتھ توفیق و تطبیق دینے کی سعی بلیغ کرتے ہیں اگر ناچار کوئی ایسی حدیث ( متعلق قصص - ایام و اخبار ) ہو کہ قرآن کریم کے سخت مخالف پڑی ہو تو وہ کتاب اللہ کو بہمہ وجوہ واجب الادب واجب التعظیم اور واجب التفضیل سمجھ کر اس حدیث کی صحت سے انکار کرتے ہیں۔ اور ٹھیک حضرت صدیقہ کی طرح جیسا کہ انہوں نے اس روایت کو إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذِّبُ بِبُكَاءِ اَهْلِهِ قرآن کریم کی آیت وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی(فاطر: ۱۹) کے مقابلہ میں رد کر دیا تھا۔ حضرت اقدس مرزا صاحب (جن کا اصلی مشن اور منصبی فرض قرآن مجید کی عظمت کا دنیا میں قائم کرنا اور اسی کی تعلیم کا پھیلانا ہے ) بھی ایسی مخالف و معارض قرآن حدیثوں کو ( اگر ہوں اور پھر جس کتاب میں ہوں ) قرآن کے مقابلہ میں بلا خوف لومة لائم کے رد کر دیتے ہیں۔
اے ناظرین ۔اے ناظرین ۔ اے عاشقان کتاب رب العٰلمين ! اللہ سوچو! اس اعتقاد میں کیا قباحت ہے! اس پر یہ کیسا نا شدنی ہنگامہ ہے جو ابنائے روزگار نے مچا رکھا ہے ! لوگ کہتے ہیں کہ فیصلہ نہیں ہوا۔ گو بالصراحت چونکہ اس اصل متنازع فیہ مسائل میں گفتگو نہیں ہوئی نہ کہا جا سکے کہ بین فیصلہ ہوا مگر مرزا صاحب کے جوابات کے پڑھنے والوں پر پوری وضاحت سے کھل جائے گا کہ احادیث کی دو قسمیں کر کے دوسری قسم کی حدیثوں کو جو تعامل کی قوت سے تقویت یافتہ نہ ہوں اور پھر قرآن کریم سے معارضہ کرتی ہوں حضرت مرزا صاحب نے تردید کر کے در حقیقت امر متنازع فیہ کا قطعی فیصلہ کر دیا ہے۔ گویا صاف سمجھا دیا ہے کہ قرآن مجید صریح منطوق سے حضرت مسیح کی موت کی خبر دیتا ہے اور یہ ایک واقعہ ہے ۔ اب اگر کوئی حدیث نزول ابن مریم کی خبر دیتی ہو تو لا محالہ یہی سمجھا جائے گا کہ وہ کسی مثیل مسیح کی خبر دیتی ہے اور اگر اس میں کوئی ایسا پہلو ہو گا جو بوجہ من الوجوہ قرآن سے تطبیق نہ دیا جا سکے تو وہ ضرور ضرور رد کی جائے گی ۔ پس بہر حال قرآن کریم اکیلا بلا کسی منازع و حریف کے میدان اثبات دعوی میں کھڑا رہا اور حق بھی یہی ہے کہ وہ تنہا بلاکسی مد مقابل کے اپنی نصوص کی صداقت ثابت کرنے والا ہو اور کسی کتاب کسی نوشتہ اور کسی مجموعہ کی کیا طاقت کیا مجال ہے کہ اس کے دعاوی کو توڑنے کا دم مار سکے اور یہی مرزا صاحب کا مدعا ہے ۔ سو دراصل وہ فیصلہ دے چکے اور کر چکے ہیں ۔ ہمارا ارادہ تھا کہ مولوی ابوسعید صاحب کے اشتہار کو دیا نہ مورخہ یکم اگست کی ان باتوں پر توجہ کرتے جن کے جواب کی تحریر کا ایما معزز ایڈیٹر پنجاب گزٹ نے اپنے ضمیمہ میں ہماری طرف کیا تھا مگر ہم نے اس اثناء میں اپنے وسیع تجربہ سے دیکھ لیا ہے کہ معزز اور ذی فہم مسلمان اس بے بنیاد اشتہار کو بتمامہ سخت حقارت سے دیکھنے لگ گئے ہیں ۔ ہمارا اس کی طرف اب متوجہ نہ ہونا ہی اسے گمنامی کے اتھاہ کنوئیں میں پھینک دینا ہے۔
آخر میں ہم افسوس سے کہتے ہیں کہ اگر مولوی ابوسعید صاحب معنی بھی سعید ہوتے تو یاد کرتے اپنے اس فقرہ کو جو وہ ریویو براہین احمدیہ میں لکھ چکے ہوئے ہیں اور وہ یہ ہے۔
”مؤلّف براہین الوہیت غیبی سے تربیت پا کر مورد الہامات غیبیہ و علوم لدنیہ ہوئے ہیں"۔ پھر لکھتے ہیں ۔ "کیا کسی مسلمان متبع قرآن کے نزدیک شیطان کو بھی قوت قدسی ہے کہ وہ انبیاء و ملائکہ کی طرح خدا کی طرف سے مغیبات پر اطلاع پائے اور اس کی کوئی بات غیب وصدق سے خالی نہ جائے؟“ یعنی مرزا صاحب صاحب قوت قدسیہ ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں مغیبات پر اطلاع دیتا ہے۔
با وجود اس تصدیق اور ایسے اقرار سابق کے مناسب نہ تھا کہ اسی قلم سے کا ذب، مفتری نیچری اور مغالطہ دہندہ وغیرہ الفاظ نکلتے ! رَبَّنَا إِنْ ہِیَ إِلَّا فِتْنَتُکَ تُضِلُّ بِہَا مَنْ تَشَاءُ
ناظرین پر مخفی نہ رہے کہ الحق آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ اپنے پر اسکیٹس کے موافق مضامین شائع کیا کرے گا ۔ در حقیقت یہ ایک صورت میں حضرت اقدس مرزا صاحب کی کارروائیوں کو جو سراسر صدق و صلاح پر بنی ہیں ہر قسم کی ممکن اور محتمل غلط فہمیوں اور نا جائز نکتہ چینیوں سے محفوظ رکھنے کیلئے بڑی وضاحت سے بیان کیا کرے گا۔ وَمَا تَوۡفِیۡقِیۡۤ اِلَّا بِاللّٰہِ ؕ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَاِلَیۡہِ اُنِیۡبُ -
عَبْدُ الْكَرِيمِ
مَابَيْن
حضرت اقدس مسیح موعود جناب مرزاغلام احمد صاحب قادیانی
اور
مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی
میں آپ کے چند عقائد و مقالات پر بحث کرنا چاہتا ہوں مگر اس سے پہلے چند اصول کی تمہید ضروری ہے آپ اجازت دیں تو میں ان اصول کو پیش کروں ۔
دستخط ابو سعید محمد حسین ۲۰ جولائی ۱۸۹۱ء
آپ کو اجازت ہے۔ بخوشی پیش کریں۔ لیکن اگر یہ عاجز مناسب سمجھے گا تو آپ سے بھی چند اصول تمہیدی دریافت کرے گا۔ دستخط غلام احمد ۲۰ جولائی ۱۸۹۱ء
میرے ان اصول کو جن کو میں رسالہ نمبر جلد ۱۲ میں بیان کر چکا ہوں اور ان کو آپ کے حواری حکیم نورالدین نے تسلیم کیا ہے آپ بھی تسلیم کرتے ہیں یا کسی اصول کے تسلیم میں عذر ہے۔
دستخط ابو سعید محمد حسین ۲۰ جولائی ۱۸۹۱ء
مجھے ان اصول کی اطلاع نہیں پہلے مجھے بتلائے جائیں تب ان کی نسبت بیان کروں گا۔
دستخط غلام احمد ۲۰ جولائی ۱۸۹۱ء
وہ اصول یہ ہیں جو رسالہ میں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔ ان اصول میں سے جس اصول کی آپ کو تسلیم یا عدم ظاہر کرنا ہو تو آپ ظاہر کریں۔ چونکہ رسالہ چھپا ہوا ہے لہذا ان اصول کے دوبارہ تحریر میں لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ ایک ایک اصول پر یکے بعد دیگرے کلام کریں۔
دستخط ابوسعید محمد حسین ۲۰ جولائی ۱۸۹۱ء
کتاب وسنت کے حجج شرعیہ ہونے میں میرا یہ مذہب ہے کہ کتاب اللہ مقدم اور امام ہے۔ جس امر میں احادیث نبویہ کے معانی جو کئے جاتے ہیں کتاب اللہ کے مخالف واقع نہ ہوں تو وہ معانی بطور حجت شرعیہ کے قبول کئے جائیں گے لیکن جو معانی نصوص بینه قرآنیہ سے مخالف واقع ہوں گے ان معنوں کو ہم ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ بلکہ جہاں تک ہمارے لئے ممکن ہوگا ہم اس حدیث کے ایسے معانی کریں گے جو کتاب اللہ کی نص بین سے موافق و مطابق ہوں اور اگر ہم کوئی ایسی حدیث پائیں گے جو مخالف نص قرآن کریم ہوگی اور کسی صورت سے ہم اس کی تاویل کرنے پر قادر نہیں ہو سکیں گے تو ایسی حدیث کو ہم موضوع قراردیں گے کیونکہ اللہ جلّ شانہُ فرماتا ہے فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍۭ بَعۡدَ اللّٰہِ وَاٰیٰتِہٖ یُؤۡمِنُوۡنَ(الجاثية: ۷) یعنی تم بعد اللہ اور اس کی آیات کے کس حدیث پر ایمان لاؤ گے ۔ اس آیت میں صریح اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر قرآن کریم کسی امر کی نسبت قطعی اور یقینی فیصلہ دیوے یہاں تک کہ اس فیصلہ میں کسی طور سے شک باقی نہ رہ جاوے اور منشاء اچھی طرح سے کھل جائے تو پھر بعد اس کے کسی ایسی حدیث پر ایمان لانا جو صریح اس کے مخالف پڑی ہو مومن کا کام نہیں ہے۔ پھر فرماتا ہے۔ فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍۭ بَعۡدَہٗ یُؤۡمِنُوۡنَ(الاعراف: ۱۸۶) ان دونوں آیتوں کے ایک ہی معنی ہیں اس لئے اس جگہ تصریح کی ضرورت نہیں ۔ سو آیات متذکرہ بالا کے رو سے ہر ایک مومن کا یہ ہی مذہب ہونا چاہئے کہ وہ کتاب اللہ کو بلا شرط اور حدیث کو شرطی طور پر حجت شرعی قرار دیوے اور یہی میرا مذہب ہے۔
(۲) اور آپ کے دوسرے امر مندرجہ صفحہ ۱۹ اشاعۃ السنہ کی نسبت علیحدہ جواب دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کا جواب اسی میں آ گیا ہے یعنی جو ا مرقول یا فعل یا تقریر کے طور پر جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف احادیث میں بیان کیا گیا ہے ۔ ہم اس امر کو بھی اسی محک سے آزمائیں گے اور دیکھیں گے کہ حسب آیہ شریفہ فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍۭ بَعۡدَہٗ یُؤۡمِنُوۡنَ وہ حدیث قولی یا فعلی قرآن کریم کی کسی صریح اور بین آیت سے مخالف تو نہیں ۔ اگر مخالف نہیں ہوگی تو ہم بسر و چشم اس کو قبول کریں گے اور اگر بظاہر مخالف نظر آئے گی تو ہم حتی الوسع اس کی تطبیق اور توفیق کیلئے کوشش کریں گے اور اگر ہم باوجود پوری پوری کوشش کے اس امر تطبیق میں ناکام رہیں گے اور صاف صاف کھلے طور پر ہمیں مخالف معلوم ہوگی تو ہم افسوس کے ساتھ اس حدیث کو ترک کر دیں گے ۔ کیونکہ حدیث کا پایہ قرآن کریم کے پایہ اور مرتبہ کو نہیں پہنچتا۔ قرآن کریم وحی متلو ہے۔ اور اس کے جمع کرنے اور محفوظ رکھنے میں وہ اہتمام بلیغ کیا گیا ہے کہ احادیث کے اہتمام کو اس سے کچھ بھی نسبت نہیں ۔ اکثر احادیث غایت درجہ مفید ظن ہیں اور ظنی نتیجہ کی منتج ہیں اور اگر کوئی حدیث تو اتر کے درجہ پر بھی ہوتا ہم قرآن کریم کے تواتر سے اس کو ہرگز مساوات نہیں بالفعل اسی قدر لکھنا کافی ہے۔
دستخط غلام احمد ۲۰ جولائی ۱۸۹۱ء
آپ کے کلام میں میرے سوال کا صاف اور قطعی جواب نہیں☆ ہے آپ نے قبولیت و حجیت حدیث یا سنت کی ایک شرط بتائی ہے۔ یہ ظاہر نہیں کیا کہ اس حدیث یا سنت میں جو کتب حدیث خصوصاً صحیحین میں ہے جن کا ذکر اصول سیوم میں ہے پائی جائے متحقق ہے یا نہیں بناء علیہ وہ حدیث یا سنت جو ان کتب میں ہے حجت شرعی ہے یا نہیں علاوہ براں اس کلام میں آپ نے جو شرط حجیت و قبولیت بیان کی ہے وہ شرط قانون درایت ہے نہ قانون روایت ۔ اب آپ یہ بیان کریں کہ اصول روایت کے رو سے کتب حدیث خصوصاً صَحِيحَين جن کا ذکر اصل سیوم میں ہے مثبت سنت نبویہ ہیں یا نہیں اور ان کتابوں کی احادیث بلا وقفہ و شرط واجب العمل والاعتقاد ہیں یا ان کتابوں میں ایسی احادیث بھی ہیں جن پر بلا تحقیق صحت بحسب اصول روایت عمل و اعتقاد جائز نہیں۔
ابوسعید محمد حسین ۲۰ جولائی ۱۸۹۱ء
مولوی صاحب کا جواب سن کر میں عرض کرتا ہوں کہ میرے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر یک حدیث خواہ وہ بخاری کی ہو یا مسلم کی ہو اس شرط سے ہم کسی خاص معنوں میں جو بیان کئے جاتے ہیں قبول کریں گے کہ وہ حدیث ان معنوں کے رو سے قرآن کریم کے بیان سے موافق و مطابق ہو۔ اب زبانی بیان سے معلوم ہوا کہ آپ یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ ”اصول روایت کی رو سے کتب حدیث خصوصاً صحیحین مثبت سنت نبویہ ہیں یا نہیں۔ اور ان کتابوں کی احادیث بلا وقفه واجب العمل والاعتقاد ہیں یا ان کتابوں میں ایسی حدیثیں بھی ہیں جن پر عمل واعتقاد جائز نہیں ۔" اس کا جواب میری طرف سے یہ ہے کہ چونکہ حدیثوں کا جمع ہونا ایسے یقینی اور قطعی طور سے نہیں کہ جس سے انکار کرنا کسی طور سے جائز نہ ہو اور جس پر ایمان لانا اسی پایہ اور مرتبہ کا ہو جیسا کہ قرآن کریم پر ایمان لانا ۔ لہذا ہمارا یہ مذہب ہرگز ایسا نہیں ہے کہ روایت کے رو سے بھی حدیث کو وہ مرتبہ یقینی دیں جیسا کہ ہم قرآن کریم کا مرتبہ اعتقاد رکھتے ہیں★ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ حدیثیں غایت کارظنی ہیں اور جب کہ وہ مفید ظن ہیں تو ہم کیونکر روایت کی رو سے بھی ان کو وہ مرتبہ دے سکتے ہیں جو قرآن کریم کا مرتبہ ہے۔ جس طور سے حدیثیں جمع کی گئی ہیں اس طریق پر ہی نظر ڈالنے سے ہر یک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ ہرگز ممکن ہی نہیں کہ ہم اس یقین کے ساتھ انکی صحت روایت پر ایمان لاویں کہ جو قرآن کریم پر ایمان لاتے ہیں مثلاً اگر کوئی حدیث بخاری یا مسلم کی ہے لیکن قرآن کریم کے کھلے کھلے منشاء سے برخلاف ہے تو کیا ہمارے لئے یہ ضروری نہیں ہوگا کہ ہم اسکی مخالفت کی حالت میں قرآن کریم کو اپنے ثبوت میں مقدم قرار دیں؟ پس آپ کا یہ کہنا کہ احادیث اصول روایت کی رو سے ماننے کے لائق ہیں ۔ یہ ایک دھوکا دینے والا قول ہے کیونکہ ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ حدیث کے ماننے میں جو مرتبہ یقین کا ہمیں حاصل ہے وہ مرتبہ قرآن کریم کے ثبوت سے ہموزن ہے یا نہیں؟ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ وہ مرتبہ ثبوت کا قرآن کے مرتبہ ثبوت سے ہم وزن ہے تو بلا شبہ ہمیں اسی پایہ پر حدیث کو مان لینا چاہئے مگر یہ تو کسی کا بھی مذہب نہیں تمام مسلمانوں کا یہی مذہب ہے کہ اکثر احادیث مفید ظن ہیں ۔ وَالظَّنَّ لَا یُغْنِی مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا مثلاً اگر کوئی شخص اس قسم کی قسم کھاوے کہ اس حدیث کے تمام الفاظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہیں اور تمام الفاظ وحی الہی سے ہیں تو اس قسم کے کھانے میں وہ جھوٹا ہوگا۔ اور خود حدیثوں کا تعارض جوان میں واقع ہے صاف دلالت کر رہا ہے کہ وہ مقامات تحریف سے خالی نہیں ہیں پھر کیونکر کوئی مومن یہ اعتقاد رکھ سکتا ہے کہ حدیثیں روایتی ثبوت کے رو سے قرآن کریم کے ثبوت سے برابر ہیں ! کیا آپ یا کوئی اور مولوی صاحب ایسی رائے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ثبوت کے رو سے جس مرتبہ پر قرآن کریم ہے اُسی قرینہ پر حدیثیں بھی ہیں؟ پھر جب کہ آپ خود مانتے ہیں کہ حدیثیں اپنے روایتی ثبوت کی رو سے اعلیٰ مرتبہ ثبوت سے گری ہوئی ہیں اور غایت کار مفید ظن ہیں تو آپ اس بات پر کیوں زور دیتے ہیں کہ اسی مرتبہ یقین پر انہیں مان لینا چاہئے جس مرتبہ پر قرآن کریم مانا جاتا ہے۔ پس صحیح اور سچا طریق تو یہی ہے کہ جیسے حدیثیں صرف ظن کے مرتبہ تک ہیں بجز چند حدیثوں کے۔ تو اسی طرح ہمیں ان کی نسبت ظن کی حد تک ہی ایمان رکھنا چاہئے اور ہر ایک مومن خود سمجھ سکتا ہے کہ حدیثوں کی تحقیقات روایت کے نقص سے خالی نہیں کیونکہ ان کے درمیانی راویوں کے چال چلن وغیرہ کی نسبت ایسی تحقیقات کامل نہیں ہو سکی اور نہ ممکن تھی کہ کسی طرح شک باقی نہ رہتا۔ آپ خود اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں لکھ چکے ہیں کہ احادیث کی نسبت بعض اکابر کا یہ مذہب ہوا ہے۔ ” کہ ایک ملهم شخص ایک صحیح حدیث کو بالہام الہی موضوع ٹھہر سکتا ہے اور ایک موضوع حدیث کو بالہام الہی صحیح ٹھہر سکتا ہے۔ اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ جب کہ یہ حال ہے کہ کوئی حدیث بخاری یا مسلم کی بذریعہ کشف کے موضوع ٹھہر سکتی ہے تو پھر کیونکر ہم ایسی حدیثوں کو ہم پایہ قرآن کریم مان لیں گے؟ ہاں یہ تو ہمارا ایمان ہے کہ ظنی طور پر بخاری اور مسلم کی حدیثیں بڑے اہتمام سے لکھی گئی ہیں اور غالبا اکثر ان میں صحیح ہوں گی۔ لیکن کیونکر ہم اس بات پر حلف اٹھا سکتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ساری حدیثیں صحیح ہیں جب کہ وہ صرف ظنی طور پر صحیح ہیں نہ یقینی طور پر تو پھر یقینی طور پر ان کا صحیح ہونا کیونکر مان سکتے ہیں !
الغرض میرا مذہب یہی ہے کہ البتہ بخاری اور مسلم کی حدیثیں ظنی طور پر صحیح ہیں ۔ مگر جو حدیث صریح طور پر ان میں سے مبائن و مخالف قرآن کریم کے واقع ہوگی وہ صحت سے باہر ہو جائے گی ۔ آخر بخاری اور مسلم پر وحی تو نازل نہیں تھی۔ بلکہ جس طریق سے انہوں نے حدیثوں کو جمع کیا ہے اس طریق پر نظر ڈالنے سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ بلا شبہ وہ طریق ظنی ہے اور ان کی نسبت یقین کا ادعا کرنا ادعائے باطل ہے۔ دنیا میں جو اس قدر مخالف فرقے اہل اسلام میں ہیں خاص کر مذاہب اربعہ ان چاروں مذہبوں کے اماموں نے اپنے عملی طریق سے خود گواہی دے دی ہے کہ یہ احادیث ظنی ہیں ۔ اور اس میں کچھ شک نہیں کہ اکثر حدیثیں ان کو ملی ہوں گی مگر ان کی رائے میں وہ حدیثیں صحیح نہیں تھیں ۔ بھلا آپ فرماویں کہ اگر کوئی شخص بخاری کی کسی حدیث سے انکار کرے کہ یہ صحیح نہیں ہے جیسا کہ اکثر مقلدین انکار کرتے ہیں تو کیا وہ شخص آپ کے نزدیک کافر ہو جائے گا؟ پھر جس حالت میں وہ کافر نہیں ہو سکتا تو آپ کیونکر ان حدیثوں کو روایتی ثبوت کے رو سے یقینی ٹھہرا سکتے ہیں؟ اور جب کہ وہ یقینی نہیں ہیں تو اس حالت میں اگر ہم کسی حدیث کو قرآن کریم کے مخالف پاویں گے اور صریح طور پر دیکھ لیں گے کہ وہ قرآن کریم سے صریح طور سے مخالف ہے اور کسی طور سے تطبیق نہیں دے سکتے تو کیا ہم ایسی صورت میں قرآن کریم کی اس آیت کو ساقط الاعتبار کر دیں گے؟ یا اس کے کلام الہی ہونے کی نسبت شک میں پڑیں گے؟ کیا کریں گے؟ آخر یہی تو کرنا ہوگا کہ اگر ایسی حدیث کسی طور سے کلام الہی سے تطبیق نہیں کھائے گی تو اس کو بغیر خوف زید و عمرو کے وضعی قرار دیں گے۔ بلاشبہ آپ کا نور قلب٭ اس بات پر شہادت دیتا ہوگا کہ حدیثیں اپنی روایتی ثبوت کی رو سے کسی طور سے قرآن کریم سے مقابلہ نہیں کر سکتیں ۔ اسی وجہ سے گو وہ وحی الہی میں ہوں نماز میں بجائے کسی سورۃ کے ان کو نہیں پڑھ سکتے ۔ اور ایک نقص حدیثوں میں یہ بھی ہے کہ بعض حدیثیں اجتہادی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہیں اسی وجہ سے ان میں باہم تعارض بھی ہو گیا ہے۔ جیسا کہ ابن صیاد کے دجال معہود ہونے کی نسبت جو حدیثیں ہیں وہ حدیثیں ان حدیثوں سے صریح اور صاف طور پر معارض ہیں جو گر جا والے دجال کی نسبت ہیں جن کا راوی تمیم داری ہے۔ اب ہم ان دونوں حدیثوں میں سے کس حدیث کو صحیح سمجھیں؟ دونوں حضرت مسلم صاحب کی صحیح میں موجود ہے ہیں ۔ ابن صیاد کے دجال معہود ہونے کی نسبت یہاں تک وثوق پایا جاتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رو برو قسم کھا کر بیان کیا کہ دجال معہود یہی ہے تو آپ چپ رہے ہرگز انکار نہیں کیا اور ظاہر ہے کہ نبی کا قسم کھانے کے وقت میں چپ رہنا گویا خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قسم کھانا ہے اور پھر ابن عمر کی حدیث میں صریح اور صاف لفظوں میں موجود ہے کہ انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ دجال معہود یہی ابن صیاد ہے اور جابر نے بھی قسم کھا کر کہا کہ دجال معہود یہی ابن صیاد ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ بھی فرمایا کہ میں اپنی امت پر ابن صیاد کے دجال معہود ہونے کی نسبت ڈرتا ہوں ۔ پھر ایک اور حدیث مسلم میں ہے جس میں لکھا ہے کہ صحابہ کا اس پر اتفاق ہو گیا تھا کہ دجال معہود ابن صیاد ہی ہے۔ لیکن فاطمہ کی حدیث تمیم داری جو اسی مسلم میں موجود ہے صریح اس کے مخالف ہے۔ اب ہم ان دونوں دجالوں میں سے کس کو دجال سمجھیں ؟ صدیق حسن صاحب جیسا کہ میرے ایک دوست نے بیان کیا ہے ابن صیاد کی حدیث کو ترجیح دیتے ہیں اور تمیم داری کی حدیث کو اپنی کتاب آثار القيامة میں ضعیف قرار دیتے ہیں ۔ بہر حال اب یہ مصیبت اور رونے کی جگہ ہے یا نہیں کہ ایک ہی کتاب میں جو بعد بخاری کے اصحُّ الکُتب سمجھی گئی ہے دو متعارض حدیثیں ہیں !!! جب ہم ایک کو صحیح مانتے ہیں تو پھر دوسری کو غلط ماننا پڑتا ہے۔ ماسوا اس کے تمیم داری کی حدیث میں صاف لفظوں میں لکھا ہے کہ وہی دجال جو تمیم داری نے دیکھا تھا کسی وقت خروج کرے گا۔ لیکن اسی مسلم کی تین حدیثیں صاف صاف ظاہر کر رہی ہیں کہ سو برس کے عرصہ تک کوئی شخص زندہ نہیں رہے گا بلکہ پہلی حدیث میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر بیان فرمایا ہے کہ اس وقت سے سو برس تک کوئی جاندار زمین پر زندہ نہیں رہے گا۔ اب اگر ابن صیاد اور گر جا والا دجال جاندار اور مخلوق ہیں تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ مر گئے ہوں ۔ اب یہ دوسری مصیبت ہے جو دونوں حدیثوں کے صحیح ماننے سے پیش آتی ہے ! آپ فرماویں★ تا کہ ہم کیونکر ان دونوں کو باوجود سخت تعارض کے صحیح مان سکتے ہیں؟ پس اب بجز اس کے اور کیا راہ ہے کہ ہم ایک حدیث کو غیر صحیح سمجھیں ۔ غرض کہاں تک بیان کیا جاوے جس قدر بعض احادیث میں تعارض وتخالف پایا جاتا ہے اس کے بیان کرنے کیلئے تو ایک رسالہ چاہئے۔ مگر اس جگہ اس قدر کافی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر تمام حدیثیں روایت کے طور سے یقینی الثبوت ہوتیں تو یہ خرابیاں کا ہے کو پڑتیں۔ اب میں خیال کرتا ہوں کہ میں آپ کے سوال کا پورا پورا جواب دے چکا ہوں ۔ کیونکہ جس حالت میں یہ ثابت ہو گیا کہ حدیثیں بوجہ اپنی ظنی حالت اور تعارض اور دوسری وجوہ کے یقین کامل کے مرتبہ پر نہیں ہیں ۔ اس لئے وہ بجز شهادت و موافقت قرآن کریم یا عدم خلاف اس کے حجت شرعی کے طور سے کام میں نہیں آسکتیں ۔ اور قانون روایت کے رو سے ان کا وہ پا یہ ہرگز تسلیم نہیں ہو سکتا جو قرآن کریم کا پایہ ہے ۔ سو بالفعل اسی قدر لکھنا کافی ہے۔ دستخط غلام احمد ۲۰ جولائی ۱۸۹۱ء
نوٹ: اس کے بعد مولوی صاحب نے چند سطر کا پھر ایک سرا سر فضول جواب جس میں اعادہ پہلے ہی بیان کا تھا۔ دیا۔ جس کا ماحصل یہ تھا کہ میرا جواب آپ نے اب تک نہیں دیا۔ چونکہ وہ پرچہ بہت مختصر اور صرف چند سطر میں تھا۔ غالباً انہیں کے ہاتھ میں رہا یا گم ہو گیا بہر حال اس کا مفصل جواب لکھا جاتا ہے اور اس سے مولوی صاحب کے پرچہ کا مضمون بھی بخوبی ذہن نشین ہو جائے گا ۔ افسوس مولوی صاحب کی یہ شکایت کہ ان کے سوال کا جواب نہیں ملا ساتھ ساتھ لگی جاتی ہے۔ ناظرین غور کریں ۔ ایڈیٹر
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي
آپ نے پھر میرے پر یہ الزام لگایا ہے کہ میں نے آپ کے سوال کا جواب صاف نہیں دیا میں حیران ہوں کہ میں کن الفاظ میں اپنے جواب کو بیان کروں یا کسی پیرایہ میں ان گزارشوں کو پیش کروں تا آپ اس کو واقعی طور پر جواب تصور فرماویں☆ آپ کا سوال جو اس تحریر اور پہلی تحریروں سے سمجھا جاتا ہے یہ ہے کہ احادیث کتب حدیث خصوصاً صحیح بخاری و صحیح مسلم صحیح و واجب العمل ہیں یا غیر صحیح و نا قابل عمل ۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ آپ میرے منہ سے یہ کہلایا چاہتے ہیں کہ میں اس بات کا اقرار کروں کہ یہ سب کتابیں صحیح اور واجب العمل ہیں۔ اگر میں ایسا کروں تو غالباً آپ خوش ہو جائیں گے اور فرمائیں گے کہ اب میرے سوال کا جواب پورا پورا آ گیا۔ لیکن میں سے ن میں سوچ میں ہوں کہ میں کس شرعی قاعدہ - ں کس شرعی قاعدہ کے رو سے ان تمام حدیثوں کو بغیر تحقیق و تفتیش کے واجب العمل یا صحیح قرار دے سکتا ہوں؟ طریق تقویٰ یہ ہے کہ جب تک فراست کاملہ اور بصیرت صحیحہ حاصل نہ ہو تب تک کسی چیز کے ثبوت یا عدم ثبوت کی نسبت حکم نافذ نہ کیا جاوے اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔
وَلَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ اِنَّ السَّمۡعَ وَالۡبَصَرَ وَالۡفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنۡہُ مَسۡـُٔوۡلًا(بنی اسرائیل: ۳۷)
سو اگر میں دلیری کر کے اس معاملہ میں دخل دوں اور یہ کہوں کہ میرے نزدیک جو کچھ محدثین خصوصاً امامین بخاری اور مسلم نے تنقید احادیث میں تحقیق کی ہے اور جس قدر احادیث وہ اپنی صـحـيـحـوں میں لائے ہیں وہ بلاشبہ بغیر حاجت کسی آزمائش کے صحیح ہیں تو میرا ایسا کہنا کن شرعی وجو ہات و دلائل پر مبنی ہوگا ؟ یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ یہ تمام ائمہ حدیثوں کے جمع کرنے میں ایک قسم کا اجتہاد کام میں لائے ہیں اور مجتہد بھی مصیب اور کبھی مخطی بھی ہوتا ہے۔ جب میں سوچتا ہوں کہ ہمارے بھائی مسلمان موحدین نے کسی قانون قطعی اور یقینی کی رو سے ان تمام احادیث کو واجب العمل ٹھہرایا ہے؟ تو میرے اندر سے نور قلب یہی شہادت دیتا ہے کہ صرف یہی اک وجہ ان کے واجب العمل ہونے کی پائی جاتی ہے کہ یہ خیال کر لیا گیا ہے کہ علاوہ اس خاص تحقیق کے جو تنقید احادیث میں ائمہ حدیث نے کی ہے۔ وہ حدیثیں قرآن کریم کی کسی آیہ محکمہ اور بینہ سے منافی اور متغائر نہیں ہیں اور نیز اکثر احادیث جو احکام شرعی کے متعلق ہیں تعامل کے سلسلہ سے قطعیت اور یقین تام کے درجہ تک پہنچ گئی ہیں۔ ورنہ اگر ان دونوں وجوہ سے قطع نظر کی جائے تو پھر کوئی وجہ ان کے یقینی الثبوت ہونے کی معلوم نہیں ہوتی ۔ ہاں یہ ایک وجہ پیش کی جائے گی کہ اسی پر اجماع ہو گیا ہے لیکن آپ ہی ریویو براہین احمد یہ کے صفحہ ۳۳۰ میں اجماع کی نسبت لکھ چکے ہیں کہ اجماع اتفاقی دلیل نہیں ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ :۔
"اجماع میں اولاً یہ اختلاف ہے کہ یہ مکن یعنی ہو بھی سکتا ہے یا نہیں بعضے اس کے امکان کو ہی نہیں مانتے۔ پھر ماننے والوں کا اس میں اختلاف ہے کہ اس کا علم ہو سکتا ہے یا نہیں۔ ایک جماعت امکان علم کے بھی منکر ہیں۔ امام فخر الدین رازی نے کتاب محصول میں یہ اختلاف بیان کر کے فرمایا ہے کہ انصاف یہی ہے کہ بجز اجماع زمانہ صحابہ جب کہ مومنین اہل اجماع بہت تھوڑے تھے اور ان سب کی معرفت تفصیلی ممکن تھی اور زمانہ کے اجماعوں کے حصول علم کی کوئی سبیل نہیں۔“
اسی کے مطابق کتاب حصول المامول میں ہے جو کتاب ارشاد الفحول شوکانی سے ملخص ہے اس میں کہا۔” جو یہ دعویٰ کرے کہ ناقل اجماع ان سب علماء دنیا کی جو اجماع میں معتبر ہیں معرفت پر قادر ہے وہ اس دعوی میں حد سے نکل گیا اور جو کچھ اس نے کہا انکل سے کہا۔" خدا امام احمد حنبل پر رحم کرے کہ انہوں نے صاف فرمادیا ہے کہ جو دعویٰ اجماع کا مدعی ہے وہ جھوٹا ہے۔ فقط ۔
اب میں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ بخاری اور مسلم کی احادیث کی نسبت جو اجماع کا دعوی کیا جاتا ہے یہ دعوی کیونکر راستی کے رنگ سے رنگیں سمجھ سکیں؟ حالانکہ آپ اس بات کے قائل ہیں کہ صحابہ کے بعد کوئی اجماع حجت نہیں ہو سکتا ۔ بلکہ آپ امام احمد صاحب کا قول پیش کرتے ہیں کہ جو وجو د اجماع کا مدعی ہے وہ جھوٹا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ بخاری اور مسلم کی صحت پر بھی ہرگز اجماع نہیں ہوا۔ چنانچہ واقعی امر بھی ایسا ہی ہے کہ بہت سے فرقے مسلمانوں کے بخاری اور مسلم کی اکثر حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھتے۔ پھر جب کہ ان حدیثوں کا یہ حال ہے تو کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ بغیر کسی شرط کے وہ تمام حدیثیں واجب العمل اور قطعی الصحت ہیں ؟ ایسا خیال کرنے میں دلیل شرعی کونسی ہے؟ کیا کوئی قرآن کریم میں ایسی آیت پائی جاتی ہے کہ تم نے بخاری اور مسلم کو قطعی الثبوت سمجھنا ؟ اور اس کی کسی حدیث کی نسبت اعتراض نہ کرنا ؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کی کوئی وصیت تحریری موجود ہے جس میں ان کتابوں کو بلا لحاظ کسی شرط اور بغیر توسط محک کلام الہی کے واجب العمل ٹھہرایا گیا ہو ؟ جب ہم اس امر میں غور کریں کہ کیوں ان کتابوں کو واجب العمل خیال کیا جاتا ہے تو ہمیں یہ وجوب ایسا ہی معلوم ہوتا ہے جیسے حنفیوں کے نزدیک اس بات کا وجوب ہے کہ امام اعظم صاحب کے یعنی حنفی مذہب کے تمام مجتہدات واجب العمل ہیں ! لیکن ایک دانا سوچ سکتا ہے کہ یہ وجوب شرعی نہیں بلکہ کچھ زمانہ سے ایسے خیالات کے اثر سے اپنی طرف سے یہ وجوب گھڑا گیا ہے جس حالت میں حنفی مذہب پر آپ لوگ یہی اعتراض کرتے ہیں کہ وہ نصوص بینہ شرعیہ کو چھوڑ کر بے اصل اجتہادات کو محکم پکڑتے اور ناحق تقلید شخصی کی راہ اختیار کرتے ہیں تو کیا یہی اعتراض آپ پر نہیں ہو سکتا کہ آپ بھی کیوں بے وجہ تقلید پر زور مار رہے ہیں؟ حقیقی بصیرت اور معرفت کے کیوں طالب نہیں ہوتے ؟ ہمیشہ آپ لوگ بیان کرتے تھے کہ جو حدیث صحیح ثابت ہے اس پر عمل کرنا چاہئے اور جو غیر صحیح ہو اس کو چھوڑ دینا چاہئے ۔ اب کیوں آپ مقلدین کے رنگ پر تمام احادیث کو بلا شرط صحیح خیال کر بیٹھے ہیں ؟ اس پر آپ کے پاس شرعی ثبوت کیا ہے؟ کہاں سے امام محمد اسمعیل یا مسلم کی معصومیت ثابت ہو گئی ہے ؟ کیا آپ اس بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ جس کو خدا تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے فہم قرآن عطا کرے اور تفہیم الہی سے وہ مشرف ہو جاوے اور اس پر ظاہر کر دیا جائے کہ قرآن کریم کی فلاں آیت سے فلاں حدیث مخالف ہے اور یہ علم اس کا کمال یقین اور قطعیت تک پہنچ جائے تو اس کیلئے یہی لازم ہوگا کہ حتی الوسع اول ادب کی راہ سے اس حدیث کی تاویل کر کے قرآن شریف سے مطابق کرے۔ اور اگر مطابقت محالات میں سے ہو اور کسی صورت سے نہ ہو سکے تو بدرجہ ناچاری اس حدیث کے غیر صحیح ہونے کا قائل ہو ۔ کیونکہ ہمارے لئے یہ بہتر ہے کہ ہم بحالت مخالفت قرآن شریف حدیث کی تاویل کی طرف رجوع کریں۔ لیکن یہ سراسر الحاد اور کفر ہوگا کہ ہم ایسی حدیثوں کی خاطر سے کہ جو انسان کے ہاتھوں سے ہم کو ملی ہیں اور انسانوں کی باتوں کا ان میں ملنا نہ صرف احتمالی امر ہے بلکہ یقینی طور پر پایا جاتا ہے قرآن کو چھوڑ دیں !!! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ تفہیم الہی میرے شامل حال ہے اور وہ عز اسمۂ جس وقت چاہتا ہے بعض معارف قرآنی میرے پر کھولتا ہے اور اصل منشاء بعض آیات کا معہ ان کے ثبوت کے میرے پر ظاہر فرماتا ہے اور میخ آہنی کی طرح میرے دل کے اندر داخل کر دیتا ہے اب میں اس خدا داد نعمت کو کیونکر چھوڑ دوں اور جو فیض بارش کی طرح میرے پر ہو رہا ہے کیونکر اس سے انکار کروں!
اور یہ بات جو آپ نے مجھ سے دریافت فرمائی ہے کہ اب تک کسی حدیث بخاری یا مسلم کو میں نے موضوع قرار دیا ہے یا نہیں ۔ سو میں آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ میں نے اپنی کتاب میں کسی حدیث بخاری یا مسلم کو ابھی تک موضوع قرار نہیں دیا۔ بلکہ اگر کسی حدیث کو میں نے قرآن کریم سے مخالف پایا ہے تو خدا تعالیٰ نے تاویل کا باب میرے پر کھول دیا ہے اور آپ نے یہ سوال جو مجھ سے کیا ہے کہ صحت احادیث کا معیار ٹھہرانے میں سلف صالحین سے آپ کا کون امام ہے۔ میری اس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ اس بات کا بار ثبوت میرے ذمہ نہیں۔ بلکہ میں تو ہر ایک ایسے شخص کو جو قرآن کریم پر ایمان لاتا ہے خواہ وہ گذر چکا ہے یا موجود ہے اسی اعتقاد کا پابند جانتا ہوں کہ وہ احادیث کے پر کھنے کیلئے قرآن کریم کو میزان اور معیار اور محک سمجھتا ہوگا کیونکہ جس حالت میں قرآن کریم خود یہ منصب اپنے لئے تجویز فرماتا ہے اور کہتا ہے فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍۭ بَعۡدَہٗ یُؤۡمِنُوۡنَ(الاعراف: ۱۸۶) اور فرماتا ہے قُلۡ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الۡہُدٰی(البقرة: ۱۲۱) اور فرماتا ہے وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا(ال عمران: ۱۰۴) اور فرماتا ہے ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی(البقرة: ۱۸۶) اور فرماتا ہے اَنۡزَلَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ وَالۡمِیۡزَانَ(الشورى: ۱۸) اور فرماتا ہے۔ اِنَّہُ لَقَوْلُ فَضْلُ لَا رَیْبَ فِیہِ(الطارق: ۱۴) تو پھر اس کے بعد کون ایسا مومن ہے جو قرآن شریف کو حدیثوں کے لئے حکم مقرر نہ کرے؟ اور جب کہ وہ خود فرماتا ہے کہ یہ کلام حکم ہے اور قول فصل ہے اور حق اور باطل کی شناخت کیلئے فرقان ہے اور میزان ہے تو کیا یہ ایمانداری ہوگی کہ ہم خدا تعالیٰ کے ایسے فرمودہ پر ایمان نہ لاویں؟ اور اگر ہم ایمان لاتے ہیں تو ہمارا ضرور یہ مذہب ہونا چاہئے کہ ہم ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول کو قرآن کریم پر عرض کریں تا ہمیں معلوم ہو کہ وہ واقعی طور پر اسی مشکوۃ وحی سے نور حاصل کر نیوالے ہیں جس سے قرآن نکلا ہے یا اس کے مخالف ہیں ۔ سو چونکہ مومن کیلئے یہ ایک ضروری امر ہے کہ قرآن کریم کو احادیث کا حکم مقرر کرے اس لئے ثبوت اس بات کا کہ سلف صالحین نے قرآن کریم کو حکم مقرر نہیں کیا آپ کے ذمہ ہے نہ میرے ذمہ ۔ اس جگہ مجھے یہ افسوس بھی ہے کہ آپ قرآن کریم کا مرتبہ بخاری اور مسلم کے مرتبہ کے برابر بھی نہیں سمجھتے کیونکہ اگر کوئی حدیث کسی کتاب کو بخاری اور مسلم کی کسی حدیث سے مخالف اور مبائن پڑے اور کسی طور سے تطبیق نہ ہو سکے تو آپ صاحبان فی الفور کہہ دیتے ہیں کہ وہ حدیث صحیح نہیں ہے مگر کمال افسوس کی جگہ ہے کہ یہ مذہب قرآن کریم کی نسبت آپ اختیار کرنا نہیں چاہتے !!!
اور اجماع کی نسبت جو آپ نے دریافت فرمایا ہے میں تو پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ ابن صیاد جو مسلمان ہو گیا تھا بیان کرتا ہے کہ لوگ مجھے ایسا کہتے ہیں کہ اس کی شہادت میں کوئی اشتباہ نہیں جس سے سمجھا جاتا ہے کہ عام طور پر صحابہ کا یہی خیال تھا کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہے ماسوا اس کے حدیثوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ کا یہ مذہب ہو گیا تھا کہ حقیقت میں ابن صیاد ہی دجال معہود ہے اس صورت میں دوسرے صحابیوں کا خاموش رہنا صریح اس بات پر دلیل ہے کہ وہ اس مذہب کو مان چکے تھے اور اگر ان کی طرف سے کوئی مخالفت اور انکا ر ہوتا تو ضرور وہ انکار ظاہر ہو جاتا۔ پس صحابہ کے اجماع کیلئے اسی قدر کافی ہے۔ بالخصوص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رو برو قسم کھا کر بیان کرنا کہ در حقیقت ابن صیاد ہی دجال معہود ہے صریح دلیل اجماع پر ہے کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ اکثر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جماعت صحابہ سے اکیلے نہیں ہوتے تھے اور غالباً جس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی ہوگی اس وقت بہت سی جماعت صحابہ کی موجود ہوگی ۔ پس ان کی خاموشی صریح اجماع پر دلیل ہے۔
پھر آپ نے بیان فرمایا ہے کہ شرح السنّہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول منقول نہیں ہے بلکہ اس میں ایک صحابی اپنا خیال ظاہر کرتا ہے حضرت اس کے جواب میں اس قدر کہنا کافی ہے کہ آپ لوگوں کے نزدیک تو صحابی کا قول بھی ایک قسم کی حدیث ہوتی ہے گو منقطع ہی سہی۔ صاف ظاہر ہے کہ صحابی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراء نہیں کر سکتا اور ڈرنے کی بات ایک ایسی بات ہے کہ جب تک آنحضرت صلعم اشاره یا صراحتاً بیان نہ فرماتے تو صحابی کی کیا مجال تھی کہ خود بخود آنجناب پر افترا کر لیتا ۔ بلا شبہ اس نے سنا ہو گا تب ہی تو اس نے ذکر کیا سو جو کچھ اس نے سنا۔ اگر چہ آنحضرت صلعم کے الفاظ سے ظاہر نہیں کیا لیکن ایک بچہ کو بھی سمجھ آ سکتی ہے کہ اس نے ضرور سنا تب ہی بیان کیا۔ پس ظاہر ہے کہ یہ افتر انہیں بلکہ بیان واقعہ ہے۔ کیا آپ اس صحابی پر حسن ظن نہیں رکھتے ؟ اور یہ خیال رکھتے ہیں کہ بغیر سننے کے ہی اس نے کہہ دیا ! آپ فرماتے ہیں کہ اس نے خیال ظاہر کیا ! میں کہتا ہوں کہ آنحضرت صلعم کے مافی الضمیر پر اس کو کیا علم تھا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ یا صراحتا آپ ظاہر نہ فرماتے ؟
راقم خاکسار غلام احمد عفی عنہ بقلم خود ۲۱ جولائی ۱۸۹۱ء
پھر آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اشاعۃ السّنّہ میں محی الدین ابن عربی کا قول نقل کیا ہے اور آخر میں میں نے لکھ دیا کہ ہم الہام کو حجت اور دلیل نہیں جانتے“۔ اس کے جواب میں بادب ملتمس ہوں کہ آپ اگر اس قول کے مخالف ہوتے تو کیوں ناحق اس کا ذکر کرتے؟ غایت کار آپ کے کلام میں تناقض ہوگا کیونکہ اول صاف تسلیم کر آئے ہیں کہ الہام ملہم کے لئے حجت شرعی کے قائم مقام ہوتا ہے علاوہ اس کے آپ تو صاف طور پر مان چکے ہیں بلکہ بحوالہ حدیث بخاری بہ تصریح بیان کر چکے ہیں کہ الہام محدث کا شیطانی دخل سے منزہ کیا جاتا ہے۔ ماسوا اس کے میں اس بات کیلئے آپ کو مجبور نہیں کرتا کہ آپ الہام کو حجت سمجھ لیں مگر یہ تو آپ اپنے ریویو میں خود تسلیم کرتے ہیں کہ مہم کیلئے وہ الہام حجت ہو جاتا ہے۔ سو میرا دعوئی اسی قدر سے ثابت ہے۔ میں بھی آپ کو مجبور کرنا نہیں چاہتا۔
غلام احمد بقلم خود
آپ نے بایں ہمہ تطویل میرے سوال کا جواب پھر بھی صاف نہ دیا★ اور آپ کے اس کلام میں وہی اضطراب و اختلاف پایا جاتا ہے جو پہلے کلام میں موجود ہے آپ شرط صحت کو جو آپ کے خیال میں ہے پیش نظر رکھ کر صاف صاف الفاظ میں دو حرفی جواب دیں کہ احادیث و کتب حدیث خصوصاً صحیح بخاری و صحیح مسلم بلا تفصیل صحیح و واجب العمل ہیں یا بلا تفصیل غیر صحیح و نا قابل عمل یا اس میں تفصیل ہے بعض احادیث صحیح ہیں اور بعض غیر صحیح و موضوع ۔ اس کے ساتھ آپ یہ بھی بتا دیں کہ آپ نے اپنی تصانیف میں کسی حدیث صحیح بخاری و صحیح مسلم کو غیر صحیح و موضوع کہا ہے یا نہیں ؟
(۲) آپ نے جو میرے اس سوال کا کہ سلف میں آپ کا کون امام ہے جواب دیا ہے وہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔ میں نے ابن صیاد کی نسبت وہ سوال نہیں کیا تھا بلکہ آپ کے اس اعتقاد کی نسبت سوال کیا تھا کہ صحت احادیث کا معیار قرآن ہے اور جو حدیث قرآن کے موافق نہ ہو وہ موضوع ہے اب بھی آپ فرماویں۔
(اگر آپ کا اعتقاد فرقہ نیچر یہ ضالہ کے موافق نہیں ہے) کہ صحت احادیث کا معیار توافق قرآن کو ٹھہرانے میں سلف صالحین سے آپ کا کون امام ہے۔
(۳) اجماع کی تعریف میں جو آپ نے کہا ہے یہ کس کتاب اصول وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ تین چار صحابہ کے اجماع کو علمائے اسلام سے کون شخص قرار دیتا ہے۔
(۴) شرح السنة سے جو حدیث آپ نے نقل کی ہے اس میں آنحضرت صلعم کا کوئی قول منقول نہیں ہے بلکہ اس میں ایک صحابی اپنا خیال ظاہر کرتا ہے جو اس کے فہم میں آیا ہے اس قول صحابی کو آنحضرت کا قول قرار دینا آنحضرت پر افتر انہیں تو کیا ہے۔
(۵) اشاعة السنة میں جو میں نے محی الدین ابن عربی کا قول نقل کیا ہے کیا اس کی نسبت میں نے آخر ریویو میں بصفحہ ۳۴۵ یہ ظاہر نہیں کیا کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے اس صفحہ میں کیا یہ عبارت درج نہیں ہے؟ یہی جتانا اس امرسوم کے بیان سے ہمارا مقصود تھا اس سے اس امر کا اظہار مقصود نہیں ہے کہ ہم خود بھی اس الہام کو حجت و دلیل جانتے ہیں اور غیر ملہم کو کسی ملہم ( غیر نبی ) کے الہام پر عمل کرنا واجب سمجھتے ہیں۔ نہیں نہیں ہر گز نہیں ۔ ہم صرف کتاب اللہ وسنت کے پیرو ہیں اور اسی کو حجت و دستور العمل اور عام راہ جانتے ہیں نہ خود الہامی ہیں نہ کسی اور کشفی الہامی غیر نبی کے ( متقدمین سے ہو خواہ متاخرین سے ) منبع و مقلد ہیں ۔ پھر مجھ کو اس قول ابن عربی کا امکانی قائل بنانا مجھ پر افترا نہیں تو کیا ہے؟ آیات قرآن جو آپ نے نقل کی ہیں ان کو امر متنازعہ فیہ سے کچھ تعلق نہیں ہے میں اس امر کو اپنے تفصیلی جواب میں بیان کروں گا جب سوالات مذکورہ کا جواب پاؤں گا۔ ابو سعید فقط
مرزا صاحب ! میری طرف سے مکر رگزارش یہ ہے کہ ائمہ حدیث جس طور سے صحیح اور غیر صحیح حدیثوں میں فرق کرتے ہیں اور جو قاعدہ تنقید احادیث انہوں نے بنایا ہوا ہے وہ تو ہر ایک پر ظاہر ہے کہ وہ راویوں کے حالات پر نظر ڈال کر باعتبار ان کے صدق یا کذب اور سلامت فہم یا عدم سلامت اور باعتبار ان کے قوت حافظہ یا عدم حافظہ وغیرہ امور کے جن کا ذکر اس جگہ موجب تطویل ہے کسی حدیث کے صحیح یا غیر صحیح ہونے کی نسبت حکم دیتے ہیں مگر ان کا کسی حدیث کی نسبت یہ کہنا کہ یہ صحیح ہے اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ وہ حدیث من كل الوجوه مرتبه ثبوت کامل تک پہنچ گئی ہے جس میں امکان غلطی کا نہیں بلکہ ان کا مطلب صحیح کہنے سے صرف اس قدر ہوتا ہے کہ وہ بخیال ان کے ان آفات اور عیوب سے مبرا ہے جو غیر صحیح حدیثوں میں پائی جاتی ہیں اور ممکن ہے کہ ایک حدیث با وجود صحیح ہونے کے پھر بھی واقعی اور حقیقی طور پر صحیح نہ ہو غرض علم حدیث ایک ظنی علم ہے جو مفید ظن ہے۔ اگر کوئی اس جگہ یہ اعتراض کرے کہ اگر احادیث صرف مرتبه ظن تک محدود ہیں تو پھر اس سے لازم آتا ہے کہ صوم و صلوۃ و حج وزکوۃ وغیرہ اعمال جو محض حدیثوں کے ذریعہ سے مفصل طور پر دریافت کئے گئے ہیں وہ سب ظنی ہوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بڑے دھوکے کی بات ہے کہ ایسا سمجھا جائے کہ یہ تمام اعمال محض روایتی طور پر دریافت کئے گئے ہیں وبس بلکہ ان کے یقینی ہونے کا یہ موجب ہے کہ سلسلہ تعامل ساتھ ساتھ چلا آیا ہے اگر فرض کر لیں کہ یہ فن حدیث دنیا میں پیدا نہ ہوتا پھر بھی یہ سب اعمال و فرائض دین سلسلہ تعامل کے ذریعہ سے یقینی طور پر معلوم ہوتے ۔ خیال کرنا چاہئے کہ جس زمانہ تک حدیثیں جمع نہیں ہوئی تھیں کیا اس وقت لوگ حج نہیں کرتے تھے؟ یا نماز نہیں پڑھتے تھے؟ یا ز کوۃ نہیں دیتے تھے؟ ہاں اگر یہ صورت پیش آتی کہ لوگ ان تمام احکام و اعمال کو یک دفعہ چھوڑ بیٹھتے اور صرف روایتوں کے ذریعہ سے وہ باتیں جمع کی جاتیں تو بے شک یہ درجہ یقینی وثبوت تام جواب ان میں پایا جاتا ہے ہرگز نہ ہوتا سو یہ ایک دھوکہ ہے کہ ایسا خیال کر لیا جائے کہ احادیث کے ذریعہ سے صوم و صلوۃ وغیرہ کی تفاصیل معلوم ہوئی ہیں بلکہ وہ سلسلہ تعامل کے ذریعہ سے معلوم ہوتی چلی آئی ہیں اور در حقیقت اس سلسلہ کوفن حدیث سے کچھ تعلق نہیں وہ تو طبعی طور پر ہر ایک مذہب کو لازم ہوتا ہے۔ اور میرا مذہب احادیث بخاری اور مسلم کی نسبت یہ نہیں ہے کہ میں خواہ نخواہ ان کی کسی حدیث کو موضوع قرار دوں۔ بلکہ میں ہر ایک حدیث کو قرآن کریم پر پیش کرنا ضرور سمجھتا ہوں ۔ اگر قرآن کریم کی کوئی آیت صاف اور کھلے کھلے طور پر ان کی مخالف نہ ہو تو میں بسر و چشم اس کو قبول کروں گا بلکہ اگر مخالف بھی ہو تو کوشش کروں گا کہ وہ مخالفت اٹھ جائے لیکن اگر کسی طور سے مخالفت دور نہ ہو سکے تو پھر البتہ میں کہوں گا کہ اس حدیث کے بیان کرنے میں تغیر الفاظ یا پیرا یہ بیان میں کچھ فرق آ گیا ہوگا یا جو کچھ کسی صحابی نے بیان فرمایا ہوگا اس کے تمام الفاظ تابعی وغیرہ کے حافظہ میں محفوظ نہیں رہے ہوں گے۔ مگر اب تک تو مجھے ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ بخاری یا مسلم کی کوئی حدیث صریح مخالف قرآن مجھ کو ملی ہو جس کی میں کسی وجہ سے تطبیق نہ کر سکا بلکہ جو کچھ بعض احادیث میں کچھ تعارض پایا جاتا ہے خدا تعالی اس تعارض کے دور کرنے کیلئے بھی میری مدد کرتا ہے۔ ہاں میں دعوی نہیں کر سکتا کہ میں تعارض کو دور کر سکتا ہوں کیونکہ جو حقیقی اور واقعی تعارض ہوگا اس کو میں کیونکر دور کر سکتا ہوں یا کوئی اور شخص کیونکر دور کر سکتا ہے۔
اور آپ نے یہ جو مجھ سے دریافت فرمایا ہے کہ جو تعارض ابن صیاد والی حدیث اور گر جا والے دجال والی حدیث میں پایا جاتا ہے اس تعارض کے ماننے میں کون تمہارے ساتھ ہے۔“ اس سوال سے میں متعجب ہوں کہ جس حالت میں مدلل اور موجہ طور پر میں تعارض کو ثابت کر چکا ہوں ۔ تو پھر میرے لئے ضرورت کیا ہے کہ میں اپنے لئے اس بصیرت خداداد میں کسی کی سلف میں سے تقلید ضروری سمجھوں اور آپ بھی تو ریویو براہین احمدیہ کے صفحہ ۳۱۰ میں اس بات کو قبول کر چکے ہیں کہ بلا تقلید غیرے استدلال منع نہیں۔ چنانچہ آپ اس صفحہ میں فرماتے ہیں کہ ”ہمارے معاصرین ؟ با وجود ترک تقلید تقلید کے خوگر ہیں بلا واسطہ سابقین کسی آیت یا حدیث سے تمسک نہیں کرتے اور جو بلا واسطه سابقین کسی آیت یا حدیث سے استدلال کریں اس کو تعجب کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں ۔“
اور آپ کا یہ فرمانا کہ ” میرے کس لفظ سے یہ سمجھ لیا ہے کہ میں احادیث کا مرتبہ صحت قرآن کے مرتبہ صحت سے برابر سمجھتا ہوں ۔" یہ مجھے آپ کے فحوائے کلام سے خیال گزرا تھا اگر آپ کا یہ منشاء نہیں ہے اور آپ میری طرح احادیث کا مرتبہ صحت قرآن کریم کے مرتبہ صحت سے متنزل سمجھتے ہیں اور قرآن کریم کو امام قرار دیتے ہیں اور محک صحت احادیث ٹھہراتے ہیں تو پھر میری غلطی ہے کہ میں نے ایسا خیال کیا لیکن اگر آپ در حقیقت قرآن کریم کا اعلیٰ مرتبہ مانتے ہیں اور اس کو واقعی طور پر محک صحت احادیث قرار دیتے ہیں اور اس کی مخالفت کی حالت میں کسی حدیث کو قبول نہیں کرتے تو پھر تو آپ مجھ سے متفق الرائے ہیں۔ پھر اس لمبے چوڑے تکرار سے فائدہ کیا ہے !
اور یہ جو آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد سے کیا مطلب ہے۔ تو میں عرض کرتا ہوں کہ اس جگہ اجتہاد سے مراد اس عاجز کی اجتہاد فی الوحی ہے کیونکہ یہ تو ثابت ہے اور آپ کو معلوم ہوگا کہ آنحضرت صلعم وحی مجمل میں اجتہادی طور پر دخل دے دیا کرتے تھے اور بسا اوقات وہ تفسیر اور تشریح جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے صحیح اور سچی ہوتی تھی اور بعض اوقات غلطی بھی ہو جاتی تھی چنانچہ اس کی نظیریں بخاری اور مسلم میں بہت ہیں اور حدیث فذهب وھلی بھی اس کی شاہد ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک جماعت کثیر کے ساتھ مدینہ سے مکہ معظمہ کی طرف بعزم طواف کعبہ سفر کرنا یہ بھی ایک اجتہادی غلطی تھی۔ زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں۔ پھر آپ مجھ سے دریافت فرماتے ہیں کہ ابن صیاد کے دجال معہود ہونے پر صحابہ کا کہاں اجماع تھا۔ اس کے جواب میں عرض کرتا ہوں کہ یہ اجماع مسلم کی حدیث سے جوابی سعید الخدری سے بیان کی ہے ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس حدیث میں ابن صیاد کہتا ہے کہ لوگ کیوں مجھے دجال معہود کہتے ہیں ۔ اب ظاہر ہے کہ اس وقت کہنے والے صرف صحابہ تھے اور کون لوگ تھے؟ جو اس کو دجال کہتے تھے ۔ یہ حدیث صاف بتلا رہی ہے کہ صحابہ کا اس بات پر اجماع تھا کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہے۔ صحابہ کی کوئی ایسی بڑی جماعت نہ تھی جن کے اجماع کا حال معلوم ہونا محالات میں سے ہوتا بلکہ ان کا اجماع باعث وحدت مجموعی ان کی کے بہت جلد معلوم ہو جاتا تھا۔ پھر تین صحابیوں کا قسم کھانا کہ حقیقت میں ابن صیاد ہی دجال معہود ہے صاف اجماع پر دلالت کرتا ہے کیونکہ ان کے مخالف منقول نہیں !
پھر بعد اس کے آپ دریافت فرماتے ہیں کہ اجماع کی حقیقت کیا ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس سوال سے آپ کا مطلب کیا ہے؟ ایک جماعت کا ایک بات کو بالاتفاق مان لینا یہی اجماع کی حقیقت ہے جو صحابہ میں بآسانی محقق ہو سکتی تھی اگر چہ دوسروں میں نہیں ۔
اور یہ جو آپ نے دریافت فرمایا ہے کہ کہاں یہ حدیث ہے کہ آنحضرت صلعم ابن صیاد کے دجال ہونے پر ڈرتے تھے ۔ سو واضح ہو کہ وہ حدیث مشکوۃ میں بحوالہ شرح السنہ موجود ہے اور اصل عبارت حدیث کی یہ ہے۔ فَلَمْ يَزَلُ رَسُولُ اللَّہِ صلعم مُشْفِقًا أَنَّهُ هُوَ الدَّجَّالُ -
اور آپ نے جو دریافت فرمایا تھا کہ بعض اکابر کا قول اشاعۃ السنہ میں کہاں ہے جس میں یہ لکھا ہو کہ بعض موضوع حدیثیں کشف کے ذریعہ سے صحیح ہو سکتی ہیں اور صحیح موضوع ٹھہر سکتی ہیں سو وہ قول ریویو براہین احمدیہ کے صفحہ ۳۴۰ میں موجود ہے جس میں آپ نے بتائید اپنے خیال کے شیخ ابن عربی صاحب کا یہ قول نقل فرمایا ہے کہ ہم اس طریق سے آنحضرت صلعم سے احادیث کی تصحیح کرالیتے ہیں۔ بہتیری حدیثیں ایسی ہیں جو اس فن کے لوگوں کے نزدیک صحیح ہیں اور وہ ہمارے نزدیک صحیح نہیں اور بہتیری حدیثیں ان کے نزدیک موضوع ہیں اور آنحضرت صلعم کے قول سے بذریعہ کشف صحیح ہو جاتی ہیں ۔ اب اگر چہ میں اس بات پر زور نہیں دیتا کہ ایمانی طور پر آں مکرم کا یعنی آپ کا یہی عقیدہ ہے لیکن میں آپ کے فحوائے بیان سے سمجھتا ہوں بلکہ ہر یک تدبر کرنے والا سمجھ سکتا ہے کہ امکانی طور پر ضرور آپ کا یہی عقیدہ ہے کیونکہ اگر یہ امر بکلی آپ کے عقیدہ سے باہر تھا تو پھر اس کا ذکر کرنا بطور لغو ہوتا ہے جو آپ کی شان سے بعید ہے۔
انسان جس کسی کا قول یا مذہب اپنے ریویو میں بطور نقل کے ذکر کرتا ہے وہ یا اپنے مؤیدات دعوئی اور رائے کی مدد میں لاتا ہے یا اس کی رد کی غرض سے۔ لیکن صاف ظاہر ہے کہ آپ اس قول کو اپنے مؤیدات دعوی کے ضمن میں لائے ہیں۔ آپ نے بجز اس کے اسی دعوئی کی تائید کیلئے ایک بخاری کی حدیث بھی لکھی ہے کہ محدث کا الہام دخل شیطانی سے محفوظ کیا جاتا ہے بلکہ وہاں تو آپ نے کھلے طور ظاہر کر دیا ہے کہ آپ اسی قول کے حامی ہیں گو ایمانی طور پر نہیں مگر امکانی طور پر ضرور حامی ہیں اور میرے لئے صرف اسی قدر کافی ہے کیونکہ میرا مطلب تو صرف اس قدر ہے کہ حدیثیں اگر چہ صحیح بھی ہوں لیکن ان کی صحت کا مرتبہ ظن یا ظن غالب سے زیادہ نہیں ۔ سوان حدیثوں کی حقیقی صحت کا پرکھنے والا قرآن شریف ہے۔ اور قرآن شریف جس قدر اپنے محامد اور اپنے کمالات بیان کرتا ہے ان پر نظر غور ڈالنے سے بھی . سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے تئیں اپنے ماسوا کی تصحیح کیلئے ملک ٹھہرایا ہے اور اپنی ہدایتوں کو کامل اور اعلیٰ درجہ کی ہدایتیں بیان فرماتا ہے۔ جیسا کہ وہ اپنی شان میں فرماتا ہے۔
فِیۡہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ٭ فَصَّلۡنٰہُ عَلٰی عِلۡمٍ(الاعراف: ۵۳) یَّہۡدِیۡ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَیُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ(المائدة: ۱۷) وَیُعَلِّمُکُمۡ مَّا لَمۡ تَکُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ(البقرة: ۱۵۲) قُلۡ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الۡہُدٰی(البقرة: ۱۲۱) فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَلَا یَشۡقٰی(طه: ۱۲۴) لَّا یَاۡتِیۡہِ الۡبَاطِلُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِہٖ(حم السجدة: ۴۳) فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَیُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی ٭ لَا انۡفِصَامَ لَہَا(البقرة: ۲۵۷) اِنَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ یَہۡدِیۡ لِلَّتِیۡ ہِیَ اَقۡوَمُ(بنی اسرائیل: ۱۰) اِنَّ فِیۡ ہٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوۡمٍ عٰبِدِیۡنَ(الانبیاء: ۱۰۷) وَاِنَّہٗ لَحَقُّ الۡیَقِیۡنِ(الحاقة: ۵۲) حِکۡمَۃٌۢ بَالِغَۃٌ(القمر: ۶) تِبۡیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ(النحل: ۹۰) رُوۡحًا مِّنۡ اَمۡرِنَا(الشورى: ۵۳) نُوۡرٌ عَلٰی نُوۡرٍ(النور: ۳۶) اَنۡزَلَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ وَالۡمِیۡزَانَ(الشورى: ۱۸) ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَالۡفُرۡقَانِ(البقرة: ۱۸۶) اِنَّہٗ لَقُرۡاٰنٌ کَرِیۡمٌ فِیۡ کِتٰبٍ مَّکۡنُوۡنٍ(الواقعة: ۷۸) فَضَّلْنَاہُ عَلَى عِلْمٍ(الاعراف: ۵۳) اِنَّہٗ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ(الطارق: ۱۴) لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ(البقرة: ۲۲۳) وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِی اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ۙ وَہُدًی وَّرَحۡمَۃً لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ(النحل: ۶۵) قُلۡ نَزَّلَہٗ رُوۡحُ الۡقُدُسِ مِنۡ رَّبِّکَ بِالۡحَقِّ لِیُـثَبِّتَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَہُدًی وَّبُشۡرٰی لِلۡمُسۡلِمِیۡنَ(النحل: ۱۰۳) ہٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَہُدًی وَّمَوۡعِظَۃٌ لِّلۡمُتَّقِیۡنَ(ال عمران: ۱۳۹) وَبِالۡحَقِّ اَنۡزَلۡنٰہُ وَبِالۡحَقِّ نَزَلَ(بنی اسرائیل: ۱۰۶) قُلۡ ہُوَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ہُدًی وَّشِفَآءٌ(حم السجدة: ۴۵) مَا کَانَ حَدِیۡثًا یُّفۡتَرٰی(یوسف: ۱۱۲)
اب ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان آیات میں کئی قسم کی خصوصیتیں اور حقیقتیں قرآن کریم کی بیان فرمائی ہیں ۔ از انجملہ ایک یہ کہ وہ تمام صداقتوں پر مشتمل ہے ۔ (۲) وہ مفصل کتاب ہے (۳) وہ ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی رضا مندی کے اور دار السلام کے طالب ہیں (۴) وہ ظلمات سے نور کی طرف نکالتا ہے اور نامعلوم باتیں سکھاتا ہے (۵) ہدایت اسی کی ہدایت ہے (۶) باطل اس کی طرف کسی طور سے راہ نہیں پاسکتا (۷) جس نے اس سے پنجہ مارا اس نے عروہ وثقی سے پنجہ مارا (۸) وہ سب سے زیادہ سیدھی راہ بتلاتا ہے (۹) وہ حق الیقین ہے اس میں ظن اور شک کی جگہ نہیں (۱۰) وہ حکمت بالغہ ہے اس میں ہر یک چیز کا بیان ہے (۱۱) وہ حق ہے اور میزان حق ہے یعنی آپ بھی سچا ہے اور سچ کی شناخت کیلئے محک بھی ہے (۱۲) وہ لوگوں کیلئے ہدایت ہے اور ہدایتوں کی اس میں تفصیل ہے اور حق اور باطل میں فرق کرتا ہے (۱۳) وہ قرآن کریم ہے کتاب مکنون میں ہے جس کے ایک معنے یہ ہیں کہ صحیفہ فطرت میں اس کی نقلین منقوش ہیں یعنی اس کا یقین فطری ہے جیسا کہ فرمایا ہے فِطۡرَتَ اللّٰہِ الَّتِیۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیۡہَا٭ (۱۴) وہ قول فصل ہے اس میں کچھ بھی شک نہیں (۱۵) وہ اختلافات کے دور کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے (۱۶) وہ ایمانداروں کے لئے ہدایت اور شفا ہے۔ اب فرمائیے کہ یہ عظمتیں اور خوبیاں کہ جو قرآن کریم کی نسبت بیان فرمائی گئیں احادیث کی نسبت ایسی تعریفوں کا کہاں ذکر ہے؟ پس میرا مذہب فرقہ ضالہ نیچریہ کی طرح یہ نہیں ہے کہ میں عقل کو مقدم رکھ کر قال اللہ اور قال الرسول پر کچھ نکتہ چینی کروں۔ ایسے نکتہ چینی کرنے والوں کو ملحد اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں بلکہ میں جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہم کو پہنچایا ہے اس سب پر ایمان لاتا ہوں صرف عاجزی اور انکسار کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ قرآن کریم ہر ایک وجہ سے احادیث پر مقدم ہے اور احادیث کی صحت و عدم صحت پر کھنے کیلئے وہ ملک ہے اور مجھ کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی اشاعت کیلئے مامور کیا ہے تا میں جو ٹھیک ٹھیک منشاء قرآن کریم کا ہے لوگوں پر ظاہر کروں اور اگر اس خدمت گذاری میں علماء وقت کا میرے پر اعتراض ہو اور وہ مجھ کو فرقہ ضالہ نیچریہ کی طرف منسوب کریں تو میں ان پر کچھ افسوس نہیں کرتا بلکہ خدا تعالیٰ سے چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ وہ بصیرت انہیں عطا فرماوے جو مجھے عطا فرمائی ہے۔ نیچریوں کا اول دشمن میں ہی ہوں اور ضرور تھا کہ علماء میری مخالفت کرتے کیونکہ بعض احادیث کا یہ منشا پایا جاتا ہے کہ مسیح موعود جب آئے گا تو علماء اس کی مخالفت کریں گے اسی کی طرف مولوی صدیق حسن صاحب مرحوم نے آثار القیامہ میں اشارہ کیا ہے اور حضرت مجدد صاحب سرہندی نے بھی اپنی کتاب کے صفحہ (۱۰۷) میں لکھا ہے کہ "مسیح موعود جب آئے گا تو علماء وقت اس کو اہل الرائے کہیں گے یعنی یہ خیال کریں گے کہ یہ حدیثوں کو چھوڑتا ہے اور صرف قرآن کا پابند ہے اور اس کی مخالفت پر آمادہ ہو جائیں گے۔" والسلام على من اتبع الهدى
غلام احمد قادیانی ۲۱ جولائی ۱۸۹۱ء
میں افسوس کرتا ہوں کہ آپ نے پھر بھی میرے سوال کا جواب صاف★ الفاظ میں نہیں دیا آپ نے بیان کیا ہے کہ میں آپ سے ان کتب کی صحت تسلیم کرانا چاہتا ہوں اور آپ اس تسلیم کو صحیح نہیں سمجھتے بلکہ اس کو ایک غلط اصول فرضی و خیالی اجماع پر مبنی قرار دیتے ہیں پھر صاف الفاظ میں کیوں نہیں کہتے کہ تمھیجین کے جملہ احادیث بلا وقفہ ونظر واجب التسلیم اور صحیح نہیں ہیں بلکہ ان میں موضوع یا غیر صحیح احادیث موجود ہیں یا ان کے موجود ہونے کا احتمال ہے جب تک آپ ایسے صریح الفاظ میں اس مطلب کو ادا نہ کریں گے اس سوال کے جواب سے سبکدوش نہ ہوں گے خواہ برسوں گزر جائیں آپ حدیث إِنَّ مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرُكُهُ مَا لَا يَعْنِيْهِ کو پیش نظر رکھ کر خارج از سوال باتوں سے تعرض کرنا چھوڑ دیں اور دو حرفی جواب دیں کہ صحیحین کی حدیثیں سب کی سب صحیح ہیں یا موضوع ہیں یا مختلط ہیں۔
(۲) آپ فرماتے ہیں میں نے اپنی کتاب میں کسی حدیث صحیح بخاری یا مسلم کو موضوع نہیں کہا ( لفظ موضوع آپ کے کلام میں غیر صحیح کے معنوں میں استعمال ہوا ہے ) اور یہ امر کمال تعجب کا موجب ہے کہ آپ جیسے مدعیان الہام ایسی بات خلاف واقعہ کہیں ۔ آپ نے رسالہ ازالة الاوهام کے صفحہ ۲۲۰ میں دمشقی حدیث کی نسبت کہا ہے ۔ ” یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے۔ جس کو ضعیف سمجھ کر رئيس المحدثين امام محمد اسمعیل بخاری نے چھوڑ دیا ہے ۔“ اب انصاف سے فرماویں کہ اس حدیث صحیح مسلم کو آپ نے ضعیف قرار دیا ہے یا نہیں اور اگر آپ یہ عذر کریں کہ میں صرف ناقل ہوں اس کو ضعیف کہنے والے امام بخاری ہیں تو آپ تصحیح نقل کریں اور صاف فرماویں کہ امام بخاری نے اس کو فلاں کتاب میں ضعیف قرار دیا ہے یا کسی اور امام محدث سے نقل کریں کہ انہوں نے امام بخاری سے اس حدیث کی تضعیف نقل کی ہے ورنہ آپ اس الزام سے بری نہ ہوسکیں گے کہ آپ نے صحیح مسلم کی حدیث کو ضعیف قرار دیا اور پھر اس اپنی تحریر میں اس سے انکار کیا ۔ ازالة الاوهام کے صفحہ ۲۲۶ میں آپ فرماتے ہیں۔" اب بڑے مشکلات یہ در پیش آتے ہیں کہ اگر ہم بخاری اور مسلم کی ان حدیثوں کو صحیح سمجھیں جو دجال کو آخری زمانہ میں اتار رہی ہیں تو یہ حدیثیں موضوع ٹھہرتی ہیں۔ اور اگر ان حدیثوں کو صحیح قرار دیں تو پھر اس کا موضوع ہونا ماننا پڑتا ہے اور اگر یہ متعارض و متناقض حدیثیں صحیحین میں نہ ہوتیں صرف دوسری صحیحوں میں ہوتیں تو شاید ہم ان دونوں کتابوں کی زیادہ تر پاس خاطر کر کے ان دوسری حدیثوں کو موضوع قرار دیتے مگر اب مشکل تو یہ آپڑی کہ ان ہی دونوں کتابوں میں یہ دونوں قسم کی حدیثیں موجود ہیں ۔
اب جب ہم ان دونوں قسم کی حدیثوں پر نظر ڈال کر گرداب حیرت میں پڑ جاتے ہیں کہ کس حدیث کو صحیح سمجھیں اور کس کو غیر صحیح۔ تب ہم کو عقل خدا داد یہ طریق فیصلہ کا بتاتی ہے کہ جن احادیث پر عقل اور شرع کا کچھ اعتراض نہیں انہیں صحیح سمجھنا چاہئے ۔ اور ازالة الاوهام کے صفحہ ۲۲۴ میں آپ نے مسلم کی اس حدیث کو جس میں یہ بیان ہے کہ دجال معہود کی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوگا جو بخاری میں بصفحہ ۱۰۵۶ مروی ہے یہ کہہ کر اڑایا ہے کہ یہ حدیث مسلم کی اس حدیث کے مخالف ہے جس میں یہ وارد ہے کہ یہ دجال مشرف باسلام ہو چکا تھا ایسا ہی آپ نے صحیحین کی ان احادیث کو اڑایا ہے جن میں دجال کے ان خوارق کا بیان ہے کہ اسکے ساتھ بہشت اور دوزخ ہونگے اور اسکے کہنے سے زمین شور سرسبز ہو جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ پھر آپ کا اس مقام میں یہ کہنا کہ میں نے صحیحین کی کسی حدیث کو موضوع یا غیر صحیح قرار نہیں دیا اور ان احادیث کے صحیح معنے بیان کرنے میں خدا تعالیٰ میری مدد کرتا ہے خلاف واقعہ نہیں تو کیا ہے؟ آپ صحیحین کی احادیث کو موضوع جانتے ہیں اور ساکت الاعتبار سمجھتے ہیں ۔ پھر اس اعتقاد کو طولانی تقریروں اور ملمع سازیوں سے چھپاتے ہیں اور یہ خیال نہیں فرماتے کہ جن باتوں کو آپ چھاپ چکے ہیں وہ کب چھپتی ہیں۔
(۳) آپ لکھتے ہیں کہ قرآن کو حدیث کا معیار صحت ٹھہرانے میں امام کے نشان دہی کا بار ثبوت آپ کے ذمہ نہیں ہے اور یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہر ایک مسلمان صحیح احادیث کا معیار قرآن کو سمجھتا ہے میں آپ کے اس دعوئی کا بھی منکر ہوں اور یہ کہہ سکتا ہوں کہ کوئی مسلمان جن کے اقوال سے استناد کیا جاتا ہے اس بات کا قائل نہیں۔ آپ کم سے کم ایک مسلمان کا علماء سلف سے نام لیں جو آپ کے خیال کا شریک ہو اور اگر باوجود ان دعاوی کے آپ پر بار ثبوت نہیں ہے تو آپ یہ امر کسی منصف سے ( مسلمان ہو یا غیر مذہب ) کہلا دیں۔ اس باب میں جو آیات آپ نے نقل کی ہیں ان کو آپ کے دعاوی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کی تفصیل جواب تفصیلی میں ہوگی۔ انشاء اللہ تعالی۔
(۴) اجماع کے باب میں میرے کسی سوال کا آپ نے جواب نہیں دیا براہ مہربانی میرے سوال پر نظر ثانی کریں اور ان باتوں کا جواب دیں کہ اجماع کی تعریف جو آپ نے لکھی ہے کس کتاب میں ہے اور بعض صحابہ کے ان ہے اور بعض صحابہ کے اتفاق کو کون شخص اجماع سمجھتا ہے ۔ سکوت کل کا جو آپ نے دعوی کیا ہے یہ بھی محتاج نقل و ثبوت ہے آپ بہ نقل صحیح ثابت کریں کہ حضرت عمر و غیرہ نے ابن صیاد کو دجال کہا تو اس وقت جملہ اصحاب یا فلاں فلاں موجود تھے اور انہوں نے اس پر سکوت کیا ۔ یا وہ قول جس صحابی کو پہنچا اس نے انکار نہ کیا یہ بات صرف غالبا اور ہونگی کے الفاظ سے ثابت نہیں ہو سکتی ایسے دعاوی عظیمہ میں ائمہ نقل سے نقل بکار ہے نہ صرف تجویز عقل ۔ اجماع کے باب میں جو کچھ ائمہ سے منقول ہے وہ آپ کی تحریر میں موجود ہے پھر تعجب ہے کہ اس پر آپ کی توجہ نہ ہوئی اور صرف اٹکل سے آپ نے کار براری کی ۔
(۵) مضمون حدیث شرح السنہ کے متعلق آپ نے بڑے زور سے دعوی کیا تھا کہ آنحضرت نے فرمایا ہے کہ میں ابن صیاد کے دجال ہونے سے خوف کرتا ہوں اور ازالة الاوهام کے صفحہ ۲۲۴ میں آپ نے لکھا ہے کہ آنحضرت نے حضرت عمرؓ کو فرمایا ہے کہ ہمیں اس کے حال میں ابھی اشتباہ ہے یعنی اس کے دجال ہونے کا ہم کو خوف ہے۔ ان اقوال کا آپ نے آنحضرت صلعم کو یقیناً قائل قرار دیا ہے۔ اب آپ یہ کہتے ہیں کہ صحابی نے آنحضرت سے سنا ہو گا تب ہی آنحضرت کی طرف اس امر کو منسوب کیا کہ آپ ابن صیاد کے دجال ہونے سے ڈرتے تھے۔ اب انصاف کو اور صدق و دیانت کو پیش نظر رکھ کر فرماویں کہ احتمال موجب یقین ہو سکتا ہے؟ کیا یہ امکان نہیں ہے کہ آنحضرت صلعم کے ان معاملات سے جو ابن صیاد کی نسبت بارہا وقوع میں آئے جیسے اس کا امتحان کرنا یا چھپ کر اس کے حالات معلوم کرنا وغیرہ وغیرہ جن کا صحیحین میں ذکر ہے اس صحابی کو یہ خیال پیدا ہو گیا ہو کہ آنحضرت صلعم اس کو دجال سمجھتے تھے اس امکان و احتمال کے ساتھ جو حسن ظنی بحق صحابی پر مبنی ہے کیا یہ یقین ہو سکتا ہے؟ کہ اس صحابی نے آنحضرت کو وہ باتیں کہتے ہوئے سنا جو آپ نے برخلاف واقع آنحضرت کی طرف منسوب کیں اور بلا حصول یقین آنحضرت صلعم کو ان اقوال کا قائل قرار دینا اور بلا کھٹکا یہ کہہ دینا کہ آپ ایسا فرماتے تھے جائز ہے؟ اور مسلمانان سلف سے یہ امر وقوع میں آیا ہے آپ کم سے کم ایک مسلمان کا نام بتلاویں جس سے یہ جرات ہوئی ہو۔
(۶) آپ لکھتے ہیں کہ قول ابن عربی کے آپ مخالف ہوتے تو کیوں ناحق اس کا ذکر کرتے اور اس کے ذکر سے آپ کے کلام میں تناقض پیدا ہوتا ہے آپ کا یہ مفہوم میری عبارت کے صریح منطوق کے جو میں نے نقل کی ہے برخلاف ہے لہذا لائق لحاظ والتفات نہیں ہے اور وہ آپ کو الزام افترا سے بری نہیں کر سکتا اور نہ میری وہ تصریحات جو میں نے محدث کی نسبت کی ہیں آپ کو اس الزام سے بری کر سکتے ہیں میری کسی تصریح یا کلام میں قول ابن عربی کی تصدیق و تائید پائی نہیں جاتی اور میرا صریح اظہار کہ میں الہام غیر نبی کو حجت نہیں سمجھتا کتاب وسنت کا پیرو ہوں نہ کسی الہامی کشفی کا مقلد ۔ صاف شاہد ہے کہ آپ نے مجھ پر افترا کیا ہے۔ رہا الزام تعارض واظہار خلاف عقیدت سو اس کا جواب اسی صفحہ اشاعة السنہ میں موجود ہے کہ میں نے ان اقوال ابن عربی وغیرہ کو اس غرض سے نقل کیا ہے کہ الہام کو حجت ماننے میں صاحب براہین منفرد نہیں ہے اور یہ مسئلہ ایسا نیا اور انوکھا نہیں جس کا کوئی قائل نہ ہو جس سے صاف ثابت ہے کہ میں نے ان اقوال کو نقل کرنے سے صاحب براہین کو تفرد سے بچانا چاہا تھا نہ یہ جتانا کہ میں بھی ایسے الہاموں کو لائق سند سمجھتا ہوں ۔٭
آپ کی تحریرات میں بہت سے مطالب زائد اور خارج از بحث ہوتے ہیں جن سے میں عمداً تعرض نہیں کرتا ان سے تعرض اس تفصیلی جواب میں کروں گا جو بعد طے ہونے امور مستفسرہ کے قلم میں لاؤں گا ۔ اب میں آپ کو پھر اپنے سوالات سابقہ کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آپ براہ مہربانی بنظر حفظ اوقات فریقین میرے سوالات کا صاف اور مختصر الفاظ میں جواب دیں اور زائد باتوں کی طرف توجہ نہ کریں میں بنظر آپ کے رفع تکلیف کے پھر اپنے سوال کا خلاصہ بیان کرتا ہوں ۔
خلاصه سوال اول یہ کہ آپ صراحت کے ساتھ کہیں کہ جملہ احادیث صحیحین صحیح اور واجب العمل ہیں یا جملہ غیر صحیح اور موضوع یا مختلط اور اب تک آپ نے کسی حدیث صحیحین کو موضوع یا ضعیف نہیں کہا۔
دوم قرآن کو صحت احادیث کا معیار ٹھہرانے میں جملہ مسلمان آپ کے ساتھ ہیں یا کوئی امام ائمہ سلف سے۔
سوم اجماع کی تعریف اور یہ کہ چند اصحاب کا اتفاق شرعاً اجماع کہلاتا ہے اور حضرت عمر کے ابن صیاد کو دجال کہنے کے وقت جملہ اصحاب موجود تھے یا فلاں فلاں اور اس پر انہوں نے سکوت کیا اور یہ سکوت فلاں فلاں ائمہ حدیث نے نقل کیا۔
چہارم آنحضرت صلعم کے اصحاب آنحضرت کی طرف کوئی حکم یا خیال منسوب نہ کرتے جب تک کہ وہ آپ سے سن نہ لیتے اور آنحضرت صلعم کے وقائع اور قضایا سے کوئی امر استنباط کر کے آنحضرت کی طرف منسوب نہ کر ۔ نہ کرتے جیسے بعض صحابہ سے منقول ہے فیض یا شفعت للجار٭ یا یہ کہ صرف خیال و استنباط سے آنحضرت صلعم کی نسبت فرما دیتے کہ آپ نے ایسا ارشاد کیا ہے۔
پنجم میرے اس منطوق کے ہوتے وہ مفہوم قابل اعتبار ہے جو آپ کے خیال میں ہے و بناء علیہ میں ابن عربی کا مصدق ہوں اور آپ اس دعوی میں صادق ہیں ۔
راقم ابو سعید محمد حسین ۲۱ جولائی ۱۸۹۱ء
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الكریم
حضرت مولوی صاحب ۔ آپ پھر سہ کر رشکوہ کے طور پر تحریر فرماتے ہیں کہ میرے سوال کا اب بھی جواب صاف الفاظ میں نہیں دیا اور آپ فرماتے ہیں کہ "صاف الفاظ میں کہنا چاہئے کہ صحیحین کی جملہ احادیث بلا وقفه و نظر واجب التسلیم اور صحیح نہیں بلکہ ان میں موضوع یا غیر صحیح احادیث موجود ہیں یا ان کے موجود ہونے کا احتمال ہے اور آپ اس بات کا جواب مجھ سے مانگتے ہیں کہ صحیحین کی حدیثیں سب کی سب صحیح ہیں یا موضوع ہیں یا مختلط ہیں ۔" فقط
اما الجواب پس واضح ہو کہ احادیث کے دو حصہ ہیں ایک وہ حصہ جو سلسلہ تعامل کی پناہ میں کامل طور پر آ گیا ہے۔ یعنی وہ حدیثیں جن کو تعامل کے محکم اور قوی اور لاریب سلسلہ نے قوت دی ہے اور مرتبہ یقین تک پہنچا دیا ہے۔ جس میں تمام ضروریات دین اور عبادات اور عقود اور معاملات اور احکام شرع متین داخل ہیں ۔ سو ایسی حدیثیں تو بلا شبہ یقین اور کامل ثبوت کی حد تک پہنچ گئے ہیں اور جو کچھ ان حدیثوں کو قوت حاصل ہے وہ قوت فن حدیث کے ذریعہ سے حاصل نہیں ہوئی اور نہ وہ احادیث منقولہ کی ذاتی قوت ہے اور نہ وہ راویوں کے وثاقت اور اعتبار کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے بلکہ وہ قوت ببرکت و طفیل سلسلہ تعامل پیدا ہوئی ہے۔ سو میں ایسی حدیثوں کو جہاں تک ان کو سلسلۂ تعامل سے قوت ملی ہے ایک مرتبہ یقین تک تسلیم کرتا ہوں لیکن دوسرا حصہ حدیثوں کا جن کو سلسلۂ تعامل سے کچھ تعلق اور رشتہ نہیں ہے اور صرف راویوں کے سہارے سے اور ان کی راست گوئی کے اعتبار پر قبول کی گئی ہیں ان کو میں مرتبہ ظن سے بڑھ کر خیال نہیں کرتا اور غایت کار مفید ظن ہو سکتی ہیں کیونکہ جس طریق سے وہ حاصل کی گئی ہیں ۔ وہ یقینی اور قطعی الثبوت طریق نہیں ہے بلکہ بہت سی آویزش کی جگہ ہے۔ وجہ یہ کہ ان حدیثوں کا فی الواقع صحیح اور راست ہونا تمام راویوں کی صداقت اور نیک چلنی اور سلامت فہم اور سلامت حافظہ اور تقویٰ و طہارت وغیرہ شرائط پر موقوف ہے۔ اور ان تمام امور کا کما حقہ اطمینان کے موافق فیصلہ ہونا اور کامل درجہ کے ثبوت پر جو حکم رویت کا رکھتا ہے پہنچنا حکم محال کا رکھتا ہے اور کسی کو طاقت نہیں کہ ایسی حدیثوں کی نسبت ایسا ثبوت کامل پیش کر سکے۔ کیا آپ ایسی کسی حدیث کی نسبت حلفاً بیان کر سکتے ہیں کہ اس کے مضمون کی صحت کی نسبت کامل اطمینان اور سکینت مجھ کو حاصل ہے؟ اگر آپ حلف اُٹھانے پر مستعد بھی ہوں تاہم میں خیال کروں گا کہ آپ ایک پرانے خیال اور عادت سے متاثر ہو کر ایسی جرات کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں ورنہ آپ کو بصیرت کی راہ سے ہرگز قدرت نہیں ہوگی کہ کسی ایسی حدیث کے لفظ لفظ کی صحت قطعی اور یقینی کی نسبت دلائل شافیہ جو غیر قوم کے لوگ بھی سمجھ سکیں پیش کر سکیں ۔ سو چونکہ واقعی صورت یہی ہے کہ جس قدر حدیثیں تعامل کے سلسلہ سے فیض یاب ہیں۔
وہ حسب استفاضہ اور بقدر اپنی فیضیابی کے یقین کے درجہ تک پہنچ گئی ہیں لیکن باقی حدیثیں ظن کے مرتبہ سے زیادہ نہیں ۔ غایت کار بعض حدیثیں ظن غالب کے مرتبہ تک ہیں۔ اس لئے میرا مذہب بخاری اور مسلم وغیرہ کتب حدیث کی نسبت یہی ہے جو میں نے بیان کر دیا ہے یعنی مراتب صحت میں یہ تمام حدیثیں یکساں نہیں ہیں۔ بعض بوجہ تعلق سلسلہ تعامل یقین کی حد تک پہنچ گئی ہیں۔ اور بعض باعث محروم رہنے کے اس تعلق سے ظن کی حالت میں ہیں ۔ لیکن اس حالت میں میں حدیث کو جب تک قرآن کے صریح مخالف نہ ہو موضوع قرار نہیں دے سکتا۔ اور میں سچے دل سے اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ حدیثوں کے پرکھنے کیلئے قرآن کریم سے بڑھ کر اور کوئی معیار ہمارے پاس نہیں ۔ ہر چند محد ثین نے اپنے طریق پر روات کی حالت کو صحت یا غیر صحت حدیث کیلئے معیار مقرر کیا ہے۔ لیکن کبھی انہوں نے دعوئی نہیں کیا کہ یہ معیار کامل اور قرآن کریم سے مستغنی کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا(الحجرات: ۷) یعنی اگر کوئی فاسق کوئی خبر لاوے تو اس کی اچھی طرح تفتیش کر لینی چاہئے ۔ اور ظاہر ہے کہ بوجہ اس کے کہ بجز نبی کے اور کوئی معصوم ٹھہر نہیں سکتا اور امکانی طور پر صدور كذب وغيره ذنوب کا ہریک سے بجز نبی کے ممکن الوقوع ہے۔ لہذا روات کے حالات صدق و کذب و دیانت و خیانت کے پر کھنے کیلئے بڑی کامل تحقیقات درکار تھی تا ان حدیثوں کو مرتبہ یقین کامل تک پہنچاتی لیکن وہ تحقیقات میسر نہیں آسکی۔ کیونکہ اگر چہ صحابہ کے حالات روشن تھے ۔ اور ان لوگوں کے حالات بھی جنہوں نے ائمہ حدیث تک حدیثوں کو پہنچایا لیکن درمیانی لوگ جن کو نہ صحابہ نے دیکھا تھا اور نہ ائمہ حدیث ان کے اصلی حالات سے پورے اور یقینی طور پر واقف تھے ان کے صادق یا کاذب ہونے کے حالات یقینی اور قطعی طور پر کیوں کر معلوم ہو سکتے تھے؟
سو ہر ایک منصف اور ایماندار کو یہی مذہب اور عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ بجز ان حدیثوں کے جو آفتاب سلسلہ تعامل سے منور ہوتی چلی آئی ہیں۔ باقی تمام حدیثیں کسی قدر تاریکی سے پُر ہیں اور ان کی اصلی حالت بیان کرنے کے وقت ایک متقی کی یہ شان نہیں ہونی چاہئے کہ چشم دید یا قطعی الثبوت چیزوں کی طرح ان کی نسبت صحت کا دعوی کرے بلکہ گمان صحت رکھ کر واللہ اعلم کہ دیوے اور جو شخص ان حدیثوں کی نسبت واللہ اعلم بالصواب نہیں کہتا اور احاطہ تام کا دعویٰ کرتا ہے وہ بلا شبہ جھوٹا ہے خداوند کریم ہرگز پسند نہیں کرتا کہ انسان علم نام سے پہلے علم تام کا دعویٰ کرے۔ اسی قدر دعوی کرنا چاہئے جس قدر علم حاصل ہو پھر زیادہ اس سے اگر کوئی سوال کرے تو واللہ اعلم بالصواب کہہ دیا جائے۔ سو میں آپ کی خدمت میں کھول کر گزارش کرتا ہوں کہ میں حصہ دوم حدیثوں کی نسبت خواہ وہ حدیثیں بخاری کی ہیں یا مسلم کی ہیں ہرگز نہیں کہہ سکتا کہ وہ میرے نزدیک قطعی الثبوت ہیں۔ اگر میں ایسا کہوں تو خدا تعالیٰ کو کیا جواب دوں ۔ ہاں اگر کوئی ایسی حدیث قرآن کریم سے مخالف نہ ہو تو پھر میں اس کی صحت کاملہ کی نسبت قائل ہو جاؤں گا۔ اور آپ کا یہ فرمانا کہ قرآن کریم کو کیوں محک صحت احادیث ٹھہراتے ہو۔ سو اس کا جواب میں بار بار یہی دوں گا کہ قرآن کریم مهیمن اور امام اور میزان اور قول فصل اور ھادی ہے۔ اگر اس کو محک نہ ٹھہراؤں تو اور کس کو ٹھہراؤں؟ کیا ہمیں قرآن کریم کے اس مرتبہ پر ایمان نہیں لانا چاہئے جو مرتبہ وہ خود اپنے لئے قرار دیتا ہے ؟ دیکھنا چاہئے کہ وہ صاف الفاظ میں بیان فرماتا ہے۔ وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا(ال عمران: ۱۰۴) کیا اس حبل سے حدیثیں مراد ہیں؟ پھر جس حالت میں وہ اس حبل سے پنجہ مارنے کیلئے تاکید شدید فرماتا ہے تو کیا اس کے یہ معنے نہیں کہ ہم ہر ایک اختلاف کے وقت قرآن کریم کی طرف رجوع کریں؟ اور پھر فرماتا ہے۔ وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِکۡرِیۡ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیۡشَۃً ضَنۡکًا وَّنَحۡشُرُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ اَعۡمٰی(طه: ۱۲۵) یعنی جو شخص میرے فرمودہ سے اعراض کرے اور اس کے مخالف کی طرف مائل ہو تو اس کیلئے تنگ معیشت ہے یعنی وہ حقائق اور معارف سے بے نصیب ہے اور قیامت کو اندھا اٹھایا جائے گا۔ اب ہم اگر ایک حدیث کو صریح قرآن کریم کے مخالف پائیں اور پھر مخالفت کی حالت میں بھی اس کو مان لیں اور اس تخالف کی کچھ بھی پر واہ نہ کریں تو گویا اس بات پر راضی ہو گئے کہ معارف حقہ سے بے نصیب رہیں اور قیامت کو اندھے اٹھائے جائیں۔ پھر ایک جگہ فرماتا ہے فَاسْتَمْسِکُ بِالَّذِی أُوحِیَ إِلَیْکَ ، وَإِنَّہُ لَذِکْرُ لَّکَ وَلِقَوْمِکَ(الزخرف: ۴۴) یعنی قرآن کو ہر یک امر میں دستاویز پکڑو۔ تم سب کا اسی میں شرف ہے کہ تم قرآن کو دستاویز پکڑو اور اسی کو مقدم رکھو۔ اب اگر ہم مخالفت قرآن اور حدیث کے وقت میں قرآن کو دستاویز نہ پکڑیں تو گویا ہماری یہ مرضی ہوگی کہ جس شرف کا ہم کو وعدہ دیا گیا ہے اس شرف سے محروم رہیں۔ اور پھر فرماتا ہے وَمَنۡ یَّعۡشُ عَنۡ ذِکۡرِ الرَّحۡمٰنِ نُقَیِّضۡ لَہٗ شَیۡطٰنًا فَہُوَ لَہٗ قَرِیۡنٌ(الزخرف: ۴۵) یعنی جو شخص قرآن کریم سے اعراض کرے اور جو اس کے صریح مخالف ہے اس کی طرف مائل ہو ہم اس پر شیطان مسلط کر دیتے ہیں کہ ہر وقت اس کے دل میں وساوس ڈالتا ہے اور حق سے اس کو پھیرتا ہے اور نابینائی کو اس کی نظر میں آراستہ کرتا ہے اور ایک دم اس سے جدا نہیں ہوتا ۔ اب اگر ہم کسی ایسی حدیث کو قبول کر لیں جو صریح قرآن کی مخالف ہے تو گویا ہم چاہتے ہیں کہ شیطان ہمارا دن رات کا رفیق ہو جائے اور اپنے وساوس میں ہمیں گرفتار کرے اور ہم پر نا بینائی طاری ہو اور ہم حق سے بے نصیب رہ جائیں۔ اور پھر فرماتا ہے۔ اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِیۡثِ کِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ ٭ۖ تَقۡشَعِرُّ مِنۡہُ جُلُوۡدُ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ ۚ ثُمَّ تَلِیۡنُ جُلُوۡدُہُمۡ وَقُلُوۡبُہُمۡ اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ(الزخرف: ۳۷)(الزمر: ۲۴)
یعنی ذالک الكتاب كتاب متشابه يشبه بعضه بعضا ليس فيه تناقض ولا اختلاف مثنىفيه كل ذكر ليكون بعض الذكر تفسيرا لبعضه تقشعر منه جلود الذين يخشون ربهم يعنى يستولى جلاله وهيبته على قلوب العشاق لتقشعر جلودهم من كمال الخشية والخوف يجاهدون في طاعة اللہ ليلا ونهارا بتحریک تاثیرات جلالية وتنبيهات قهرية من القرآن ثم يبدل اللہ حالتهم من التألم الى التلذذ فيصير الطاعة جزو طبيعتهم وخاصة فطرتهم فتلين جلودهم و قلوبهم الى ذكر اللہ. يعني ليسيل الذكر في قلوبهم كسيلان الماء ويصدر منهم كل امر في طاعة اللہ بكمال السهولة والصفاء ليس فيه ثقل ولا تكلف ولا ضيق في صدورهم بل يتلذذون بامتثال امر الههم ويجدون لذة وحلاوة في طاعة مولاهم وهذا هو المنتهى الذي ينتهى اليه امر العابدين والمطيعين فيبدل اللہ آلامهم باللذات
اب ان تمام محامد سے جو قرآن کریم اپنی نسبت بیان فرماتا ہے صاف اور صریح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد عظیمہ کی آپ تفسیر فرماتا ہے اور اس کی بعض آیات بعض کی تفسیر واقع ہیں یہ نہیں کہ وہ اپنی تفسیر میں بھی حدیثوں کا محتاج ہے ۔ بلکہ صرف ایسے امور جو سلسلۂ تعامل کے محتاج تھے وہ اسی سلسلہ کے حوالہ کر دیئے گئے ہیں اور ماسوا ان امور کے جس قدر امور تھے ان کی تفسیر بھی قرآن کریم میں موجود ہے۔ ہاں باوجود اس تفسیر کے حدیثوں کی رو سے بھی عوام کے سمجھانے کیلئے جو لا یمسہ کے گروہ میں داخل ہیں زیادہ تر وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے۔ لیکن جو اس امت میں الا المطهرون کا گروہ ہے۔ وہ قرآن کریم کی اپنی تفسیروں سے کامل طور پر فائدہ حاصل کرتا ہے لیکن اس کا زیادہ لکھنا چنداں ضروری نہیں ضروری امر تو صرف اسی قدر ہے کہ ہر یک حدیث مخالف ہونے کی حالت میں قرآن کریم پر پیش کرنی چاہئے۔ چنانچہ یہ امر ایک مشکوۃ کی حدیث سے بھی حسب منشاء ہمارے بخوبی طے ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے وعن الحارث الاعور قال مررت في المسجد فاذا الناس يخوضون في الاحاديث فدخلت على على فاخبرته فقال اوقد فعلوها قلت نعم قال اما اني سمعت رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم يقول الا انها ستكون فتنة قلت ما المخرج منها يارسول اللہ قال كتاب اللہ فيه خبر ماقبلكم وخبر ما بعدكم وحكم ما بينكم هو الفصل ليس بالهزل من تركه من جبار قصمه اللہ ومن ابتغى الهدى في غيره اضله اللہ وهو حبل اللہ المتين ..... من قال به صدق و من عمل به اجر و من حکم به عدل ومن دعا اليه هدى الى صراط مستقیم ۔ یعنی روایت ہے حارث اعور سے کہ میں مسجد میں جہاں لوگ بیٹھے تھے اور حدیثوں میں خوض کر رہے تھے گزرا۔ سو میں یہ بات دیکھ کر کہ لوگ قرآن کو چھوڑ کر دوسری حدیثوں میں کیوں لگ گئے ۔ علی کے پاس گیا اور اس کو جا کر یہ خبر دی ۔ علی نے مجھے کہا کہ کیا سچ مچ لوگ احادیث کے خوض میں مشغول ہیں اور قرآن کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔ میں نے کہا ہاں۔ تب علی نے مجھے کہا کہ یقیناً سمجھ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ عنقریب ایک فتنہ ہو گا یعنی دینی امور میں لوگوں کو غلطیاں لگیں گی اور اختلاف میں پڑیں گے اور کچھ کا کچھ سمجھ بیٹھیں گے تب میں نے عرض کی کہ اس فتنہ سے کیونکر رہائی ہوگی تب آپ نے فرمایا کہ کتاب اللہ کے ذریعہ سے رہائی ہوگی اس میں تم سے پہلوں کی خبر موجود ہے اور آنے والے لوگوں کی بھی خبر ہے اور جو تم میں تنازعات پیدا ہوں ان کا اس میں فیصلہ موجود ہے وہ قول فصل ہے۔ ہنزل نہیں ۔ جو شخص اس کے غیر میں ہدایت ڈھونڈے گا اور اس کو حکم نہیں بنائے گا۔ خدا تعالیٰ اس کو گمراہ کر دے گا۔ وہ حبل اللہ المتین ہے جس نے اس کے حوالہ سے کوئی بات کہی اس نے سچ کہا اور جس نے اس پر عمل کیا وہ ماجور ہے اور جس نے اس کے رو سے حکم کیا اس نے عدالت کی اور جس نے اس کی طرف بلایا اس نے راہ راست کی طرف بلایا۔ رواہ الترمذى والدّارمی ۔ اب ظاہر ہے کہ اس حدیث میں صاف اور صریح طور پر خبر دی گئی ہے کہ اس وقت میں فتنہ ہو جائے گا اور لوگ طرح طرح کی ہدایت نکال لیں گے اور انواع واقسام کے اختلافات اس وقت میں باہم پڑ جائیں گے تب اس فتنہ سے مخلصی پانے کیلئے قرآن کریم ہی دلیل ہوگا جو شخص اس کو محک اور معیار اور میزان قرار دے گا وہ بچ جائے گا اور جو شخص اس کو محک قرار نہیں دے گا وہ ہلاک ہو جائے گا ۔ اب ناظرین انصاف فرماویں کہ کیا یہ حدیث بآواز بلند نہیں پکارتی کہ احادیث وغیرہ میں جس قدر اختلاف باہمی پائے جاتے ہیں ۔ ان کا تصفیہ قرآن کریم کے رو سے کرنا چاہئے ۔ ورنہ یہ تو ظاہر ہے اور ہے کہ اسلام میں تہتر کے قریب فرقے ہو گئے ہیں ہر یک اپنے طور پر حدیثیں پیش کرتا ۔ دوسرے کی حدیثوں کو ضعیف یا موضوع قرار دیتا ہے۔ چنانچہ دیکھنا چاہئے کہ خود حنفیوں کو بخاری اور مسلم کی تحقیق احادیث پر اعتراض ہیں تو اس حالت میں کون فیصلہ کرے؟ آخر قرآن کریم ہی ہے کہ اس گرداب سے اپنے مخلص بندوں کو بچاتا ہے اور اسی عروہ وثقٰی کے پتہ سے اس کے سچے طالب ہلاک ہونے سے بچ جاتے ہیں ۔
اور آپ نے جو یہ دریافت فرمایا ہے کہ اس مذہب میں تمہارا کوئی دوسرا ہم خیال بھی ہے تو اس میں یہ عرض ہے کہ وہ تمام لوگ جو اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ قرآن کریم در حقیقت حکم اور رہنما اور امام اور مھیمن اور فرقان اور میزان ہے وہ سب میرے ساتھ شریک ہیں۔ اگر آپ قرآن کریم کی ان عظمتوں پر ایمان لاتے ہیں تو آپ بھی شریک ہیں ۔ اور جن لوگوں نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ آنحضرت صلعم نے فرمایا ہے کہ ایک فتنہ واقع ہونے والا ہے۔ اس سے خروج بجز ذریعہ قرآن کریم کے ممکن نہیں وہ لوگ بھی میرے ساتھ شریک ہیں اور عمر فاروق جس نے کہا تھا حسبنا کتاب اللہ وہ بھی میرے ساتھ شریک ہیں اور دوسرے بہت سے اکابر ہیں جن کے ذکر کرنے کیلئے ایک دفتر چاہئے صرف نمونہ کے طور پر لکھتا ہوں ۔ تفسیر حسینی میں زیر تفسیر آیت وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ لکھا ہے کہ کہ ے لکھا ہے کہ کتاب تیسیر میں شیخ محمد ابن اس میں شیخ محمد ابن اسلم طوسی سے نقل کیا ہے کہ ایک حدیث مجھے پہنچی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کچھ مجھ سے روایت کرو پہلے کتاب اللہ پر عرض کر لو ۔ اگر وہ حدیث کتاب اللہ کے موافق ہو تو وہ حدیث میری طرف سے ہوگی ور نہ نہیں ۔ سو میں نے اس حدیث کو کہ مَنْ تَرَكَ الصَّلوةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ كَفَرَ قرآن سے مطابق کرنا چاہا اور تیس سال اس بارہ میں فکر کرتا رہا مجھے یہ آیت ملی وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ(الروم: ۳۲) اب چونکہ آپ نے فرمایا تھا کہ پہلوں میں سے کسی ایک کا نام لو جو قرآن کریم کو محک ٹھہراتا ہے۔ سو میں نے بحوالہ مذکورہ بالا ثابت کر دیا ۔ یا تو آپ کو ضد چھوڑ کر مان لینا چاہئے٭ اور صاف ظاہر ہے کہ چونکہ یہ تمام حدیثیں سلسلہ تعامل کی تقویت یاب نہیں صرف ظن یا شک کے درجہ پر ہیں اور فن حدیث کی تحقیقا تیں ان کو ثبوت کامل کے درجہ تک نہیں پہنچا سکتیں اس صورت میں اگر ہم اس محک مقدس سے ان کی تصحیح کیلئے مدد نہ لیں تو گویا ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ وہ حدیثیں صحت کاملہ کے درجہ تک پہنچ سکیں۔ میں متعجب ہوں کہ آپ اس بات کے ماننے سے کیوں اور کس وجہ سے رکھتے ہیں کہ قرآن کریم کو ایسی احادیث کیلئے محک و معیار ٹھہرایا جاوے؟ کیا آپ قرآن کریم کی ان خوبیوں کے بارے میں کہ وہ ملک اور معیار اور میزان ہے کچھ شک میں ہیں؟ آپ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بخاری اور مسلم کے صحیح ہونے پر اجماع ہو چکا ہے! اب ان کو بہر حال آنکھیں بند کر کے صحیح مان لینا چاہئے ! لیکن میں سمجھ نہیں سکتا کہ یہ اجماع کن لوگوں نے کیا ہے اور کس وجہ سے واجب العمل ہو گیا ہے؟ دنیا میں حنفی لوگ پندرہ کروڑ کے قریب ہیں وہ اس اجماع سے منکر ہیں ۔ ماسوا اس کے آپ صاحبان ہی فرمایا کرتے ہیں کہ حدیث کو بشرط صحت ماننا چاہئے اور قرآن کریم پر بغیر کسی شرط کے ایمان لانا فرض ہے۔ اب اگر چہ اس بات پر تو ہمارا ایمان ہے کہ جو حدیث صحیح ثابت ہو جائے وہ واجب العمل ہے۔ لیکن اس بات پر ہم کیونکر ایمان لے آویں کہ ہر یک حدیث بخاری اور مسلم کی بغیر کسی شک اور شبہ کے واجب العمل ماننی چاہئے ۔ یہ و جوب کس سند شرعی یا نص صریح سے ہوا کرتا ہے۔ کچھ بیان تو کیا ہوتا ۔ تفسیر فتح العزیز میں زیر آیت فَلَا تَجۡعَلُوۡا لِلّٰہِ اَنۡدَادًا وَّاَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ(البقرة: ۲۳) کے لکھا ہے کہ ” چنانچہ عبادت غیر خدا مطلقاً شرک و کفر است اطاعت غیر او تعالی نیز بالاستقلال کفر است و معنی اطاعت غیر بالاستقلال آنست که ربقه تقلید او در گردن انداز دو تقلید اولازم شمارد با وجود ظهور مخالفت حکم او بحکم او تعالی ۔“ اور مولوی عبداللہ صاحب غزنوی مرحوم بھی اپنے ایک خط میں جو آپ ہی کے نام ہے جو لاہور کی گول سڑک کے باغ میں آپ نے مجھے دیا تھا قرآن کریم کی نسبت چند شرطیں اسی امر کی تائید میں لکھتے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ
فقیر را از ابتداء حال میلان بکلام رب عزیز بود و دعاء میکردم کهہ یا الہ العالمین دروازہ ہائے کلام خود بریں عاجز بازکن سالها شد و مصیبت بسیار شد تا بحدے کہ ہر جا کہ مے رفتم بلوا می شد و دل تنگ شد ناگاه القا شد قَدۡ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجۡہِکَ فِی السَّمَآءِ ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبۡلَۃً تَرۡضٰہَا(البقرة: ۱۴۵) ، بعد ازاں رو بقرآن شد و آیاتے کہ در باب توجہ بقرآن بود القا مے شد مانند اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَلَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ و امثال آن تا بحد یکہ روز دیدم کہ قرآن مجید پیش رویم نہاده شد و القا شد ہذَا کِتَابِی وَ ہٰذَا عِبَادِى فَاقْرَءُ وُا کِتَابِى عَلَی عِبَادِی ۔ پس یہ آیت جو کہ مولوی صاحب اپنے القاء کے رو سے ذکر فرماتے ہیں کہ اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ(الاعراف: ۴) کیسے فیصلہ کرنے والی آیت ہے جس سے صریح اور صاف طور پر صاف ثابت ہوتا ہے کہ اول توجہ مومن کی قرآن کریم کی طرف ہونی چاہئے پھر اگر اس توجہ کے بعد کسی حدیث یا قول من دونہ میں داخل دیکھے تو اس سے منہ پھیر لیوے۔
پھر آپ مجھ سے دریافت فرماتے ہیں بلکہ مجھے الزام دیتے ہیں کہ میں نے مسلم کی حدیث کو اس وجہ سے ضعیف ٹھہرایا ہے کہ بخاری نے اس کو چھوڑ دیا ہے اس کے جواب میں میری طرف سے یہ عرض ہے کہ موضوع ہونا کسی حدیث کا اور بات ہے اور اس کا ضعیف ہونا اور بات اور چونکہ دمشقی حدیث ایک ایسی حد نا حدیث ایک ایسی حدیث ہے جو اس کے متعلق کی حدیثیں بخاری نے اپنی کتاب میں لکھی ہیں مگر اس طولانی حدیث کو چھوڑ دیا ہے اس لئے بوجہ تعلقات خاصہ اس حدیث کے جو دوسری حدیثوں سے ہیں یہ شک ہرگز نہیں ہو سکتا کہ بخاری صاحب اس حدیث کے مضمون سے بے خبر رہے ہیں بلکہ ذہن اسی بات کی طرف انتقال کرتا ہے کہ انہوں نے اپنی رائے میں اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔ سو یہ میری طرف سے ایک اجتہادی امر ہے اور میں ایسا ہی سمجھتا ہوں اس کو موضوع ہونے سے کچھ تعلق نہیں اور یہ بحث اصل بحث سے خارج ہے اس لئے میں اس میں طول دینا نہیں چاہتا آپ کا اختیار ہے جو چاہیں رائے قائم کریں پڑھنے والے خود میری اور آپ کی رائے میں فیصلہ کر لیں گے میرے پر اس امر کا کوئی الزام عاید نہیں ہو سکتا اور پھر آپ نے ازالہ اوہام کے صفحہ ۲۲۶ کا حوالہ دے کر نا حق ایک طول اپنی کلام کو دیا ہے میری اس تمام کلام کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ میں نے فیصلہ کے طور پر کسی حدیث مسلم یا بخاری کو موضوع قرار دے دیا ہے بلکہ میرا مطلب صرف تناقض کو ظاہر کرنا ہے اور یہ دکھلانا ہے کہ اگر تناقض کو دور نہ کیا جاوے تو یہ دونوں طور کی حدیثوں میں سے ایک کو موضوع ماننا پڑے گا۔ سو میرے اس بیان میں فیصلہ کے طور ہے کے طور پر کوئی حکم قطعی نہیں کہ در حقیقت بلا ریب فلاں حدیث موضوع ہے بلکہ میرا تو ابتدا سے مذہب یہی ہے کہ اگر کسی حدیث کی قرآن کریم سے کسی طور سے تطبیق نہ ہو سکے تو وہ حدیث موضوع ٹھہرے گی یا وہ حدیثیں جو سلسلہ تعامل کی متواترہ حدیثوں سے یا جوایسی حدیثوں سے مخالف ہوں جو کمی اور کیفی طور پر اپنے ساتھ کثرت اور قوت رکھتی ہیں وہ موضوع ماننی پڑیں گی۔ اگر میں کسی حدیث کو مخالف قرآن ٹھہراؤں اور آپ اس کو موافق قرآن کر کے دکھلا دیں تو میں اگر فرض کے طور پر اس کو موضوع ہی قرار دوں تب بھی عند التطابق اپنے مذہب سے رجوع کر لوں گا۔ میری غرض تو صرف اس قدر ہے کہ حدیث کو قرآن کریم سے مطابق ہونا چاہئے۔ ہاں اگر سلسلہ تعامل کے رو سے کسی حدیث کا مضمون قرآن کے کسی خاص حکم سے بظاہر منافی معلوم ہو تو اس کو بھی تسلیم کر سکتا ہوں کیونکہ سلسلہ تعامل حجت قوی ہے۔ میرے نزدیک بہتر ہے کہ آپ ان باتوں کی فکر کو جانے دیں اور اس ضروری بات پر توجہ کریں کہ کیا ایسی حالت میں جب کہ ایک حدیث صریح قرآن کریم کے مخالف معلوم ہو اور سلسلہ تعامل سے باہر ہو تو اس وقت کیا کرنا چاہئے؟ میں آپ پر اپنا اعتقاد بار بار ظاہر کرتا ہوں کہ میں صحیح بخاری اور مسلم کی حدیثوں کو یونہی بلا وجہ ضعیف اور موضوع قرار نہیں دے سکتا بلکہ میرا ان کی نسبت حسن ظن ہے ہاں جو حدیث قرآن کریم کے مخالف معلوم ہو اور کسی طرح اس سے مطابقت نہ کھا سکے میں اس کو ہرگز منجانب رسول کریم یقین نہیں کروں گا ۔ جب تک کوئی مجھ کو مدلل طور پر سمجھا نہ دیوے کہ در حقیقت کوئی مخالفت نہیں ہاں سلسلہ تعامل کی حدیثیں اس سے مستثنی ہیں۔
پھر آپ فرماتے ہیں کہ "قرآن کریم کو حدیث کا معیار صحت ٹھہرانے میں کوئی علماء سلف میں سے تمہارے ساتھ ہے۔“ سو حضرت میں تو حوالہ دے چکا اب ماننا نہ ماننا آپ کے اختیار میں ہے۔
پھر آپ مجھ سے اجماع کی تعریف پوچھتے ہیں میں آپ پر ظاہر کر چکا ہوں کہ میرے نزدیک اجماع کا لفظ اس حالت پر صادق آ سکتا ہے کہ جب صحابہ میں سے مشاہیر صحابہ ایک اپنی رائے کو شائع کریں اور دوسرے باوجود سننے اس رائے کے مخالفت ظاہر نہ فرماویں تو یہی اجماع ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ اسی صحابی نے جو امیر المومنین تھے ابن صیاد کے دجال معہود ہونے کی نسبت قسم کھا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو اپنی رائے ظاہر کی اور آنحضرت نے اس سے انکار نہیں کیا اور نہ کسی صحابی نے اور پھر اسی امر کے بارے میں ابن عمر نے بھی قسم کھائی اور جابر نے بھی اور کئی صحابیوں نے یہی رائے ظاہر کی تو ظاہر ہے کہ یہ امر باقی صحابہ سے پوشیدہ نہیں رہا ہوگا ۔ سو میرے نزدیک یہی اجماع ہے۔ اور کون سی اجماع کی تعریف مجھ سے آپ دریافت کرنا چاہتے ہیں؟ اگر آپ کے نزدیک یہ اجماع نہیں تو آپ جس قدرا بن صیاد کے دجال معہود ہونے پر صحابہ نے قسمیں کھا کر اس کا دجال معہود ہونا بیان کیا ہے یا بغیر قسم کے اس بارے میں شہادت دی ہے دونوں قسم کی شہادتیں بالمقابل پیش کریں اور اگر آپ پیش نہ کر سکیں تو آپ پر حجت من کل الوجوہ ثابت ہے کہ ضرور اجماع ہو گیا ہوگا کیونکہ اگر انکار پر قسمیں کھائی جاتیں تو ضرور وہ بھی نقل کی جاتیں آنحضرت صلعم کا قسم کو سن کر چپ رہنا ہزار اجماع سے افضل ہے اور تمام صحابہ کی شہادت سے کامل تر شہادت ہے پھر اگر یہ چھیڑ چھاڑ فضول نہیں تو اور کیا ہے!
پھر آپ فرماتے ہیں کہ ” ابن صیاد کے دجال ہونے پر کب آنحضرت صلعم نے اپنی زبان سے اپنا ڈرنا ظاہر فرمایا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ تمام باتیں تصریح سے ہی ثابت نہیں ہوتیں اشارہ سے بھی ثابت ہو جاتی ہیں جس حالت میں صحابی کا یہ قول ہے کہ جس وقت تک آنحضرت صلعم بعد دیکھنے ابن صیاد کے زندہ رہے اس بات سے ڈرتے رہے کہ وہی دجال معہود ہوگا جیسے لَمْ يَزَل کے لفظ سے ظاہر ہے اس صورت میں کوئی دانا خیال کر سکتا ہے کہ اس طول طویل مدت کا ڈر ایک احتمالی بات تھی ؟ اور اس لمبی مدت میں کبھی آنحضرت نے اپنے منہ سے نہیں فرمایا تھا۔ جس حالت میں آنحضرت آپ ہی فرماتے ہیں کہ ہر ایک نبی دجال سے ڈراتا رہا ہے اور میں بھی ڈراتا ہوں تو اس صورت میں کیونکر سمجھ آ سکتی ہے کہ جو ڈر آنحضرت کے دل میں مخفی تھا وہ کسی ایسی مدت میں کسی صحابی پر ظاہر نہیں کیا۔ ماسوا اس کے جب ایک ادنی قال سے ایک شخص ایک بات بیان کر کے اس کا قائل ٹھہرتا ہے ایسا ہی اپنے اشارات اور ایماءات اور حالات سے اس کو ادا کر کے اس کا قائل قرار پاتا ہے سو یہ کونسی بڑی بات ہے جس کی وجہ سے آپ مجھ کو مفتری قرار دیتے ہیں۔ آپ کو ڈرنا چاہئے۔ انسان جو بے وجہ تہمت اپنے بھائی کی نسبت تجویز کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی جناب میں اس لائق ہو جاتا ہے کہ کوئی دوسرا وہی تہمت اس پر کرے۔ خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو پختہ طور پر اس بات پر یقین ہے کہ اگر لم یزل کا لفظ حدیث میں صحیح اور مطابق واقعہ ہے تو اس کا مصداق مجرد نگرانی حالات ہر گز نہیں ٹھہر سکتا مثلاً اگر کوئی شخص کہے کہ میں زید کو دس برس سے برابر دیکھتا ہوں کہ وہ دہلی جانے کا ہمیشہ ارادہ رکھتا ہے تو کیا اس سے یہ سمجھا جائے گا کہ زید نے کبھی زبان سے اس مدت دس برس میں دہلی جانے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا اور بفرض محال اگر یہ اجمالی امر ہے تو جیسا اجمال اس بات کا ہے کہ زبان سے کچھ نہ کہا ہو یہ احتمال بھی تو ہے کہ زبان سے کہا ہو لیکن لم یزل کا لفظ احتمال کے ام کے امر کو دور کرتا ہے ایک مدت تک کسی امر کی نسبت وہ حالت بنائے رکھنا جس کا ادا کرنا زبان کا کام امری ہے صریح اس بات پر دلیل ہے کہ اتنی لمبی مدت میں کبھی تو زبان سے بھی کام لیا ہوگا۔
پھر آپ فرماتے ہیں کہ تمہارا یہ کہنا آپ ابن عربی کے مخالف تھے تو کیوں ناحق اس کا ذکر کیا۔ باطل ہے۔ کیونکہ میرے کلام کے صریح منطوق سے مختلف ہے۔ میں کہتا ہوں کہ آپ کے کلام کا آپ کے ابتدائی بیان میں یہ صریح منطوق بھی پایا جاتا ہے کہ آپ ابن عربی کے مؤید ہیں؟ اگر آپ مؤید ہیں تو آپ نے صحیح بخاری کی حدیث کیوں نقل کی ہے؟ جس میں لکھا ہے کہ محدث بھی نبی کی طرح مرسل ہے اور آپ نے کیوں محمد اسماعیل صاحب کا یہ قول نقل کیا ہے کہ محدث کی وحی نبی کی طرح دخل شیطانی سے منزّہ کی جاتی ہے۔ اگر آپ بخاری کی حدیث کو نہیں مانتے تو گزشتہ را صلواۃ ابھی اقرار کردیں کہ میں محدث کی وحی کو دخل شیطانی سے منزہ ہونے والی نہیں سمجھتا! تعجب کہ ایک طرف تو آپ بخاری بخاری کرتے ہیں اور ایک طرف اس کے برخلاف چلتے ہیں! پھر جب کہ آپ کا بخاری پر ایمان ہے کہ اس کی سب حدیثیں صحیح ہیں تو اس صورت میں تو آپ کو ابن عربی سے اتفاق کرنا پڑے گا کیونکہ اگر کسی محدث پر یہ کھل جائے کہ فلاں حدیث موضوع ہے اور وہ بار بار کی وحی سے اس پر قائم کیا جائے تو کیا اب حسب منشاء بخاری یہ اعتقاد نہیں کریں گے کہ محدث کو وہ حدیث موضوع مان لینی چاہیے۔ پھر جب کہ آپ کا یہ اعتقاد ہے تو میں نے آپ پر کیا افترا کیا؟ حضرت مولوی صاحب آپ ایسے الفاظ کو کیوں استعمال کرتے ہیں۔ اتقوا اللہ کے مضمون کو کیوں اپنے دل میں قائم نہیں کرتے۔ مفتری ملعون اور دین سے خارج ہوتے ہیں۔ اجتہادی طور کی بات کو کسی نہج سے گو غلط ہی سہی سمجھ لینا اور چیز ہے اور عمداً ایک واقعہ معلومة الحقیقت کے برخلاف کہنا یہ اور امر ہے۔ (۱) آپ کے خلاصہ سوال کی نسبت میرا یہی بیان ہے کہ میں اس طرح سے کہ جیسے حنفی لوگ امام اعظم صاحب پر محض تقلید کے طور پر ایمان رکھتے ہیں بخاری اور مسلم پر ایمان نہیں رکھتا۔ ان کی صحت کو ظن کے طور پر مانتا ہوں اور الغیب عند اللہ کہتا ہوں۔ مجھے ان کے بارے میں رویت کی مانند علم نہیں ہے۔ اگر کسی حدیث کو مخالف کتاب اللہ پاؤں گا تو بغیر تطبیق اور فیصلہ کے ہرگز اس کو قول رسول کریم نہیں سمجھوں گا۔ گو حدیث صحیح میرا مذہب ہے اور قرآن کے معیار ٹھہرانے میں پہلے عرض کر آیا ہوں اور سب کچھ بیان کر چکا ہوں ۔ حاجت اعادہ نہیں ہے۔ فقط میرزاغلام احمد ۲۲ جولائی ۱۸۹۱ء
مولوی صاحب۔ افسوس آپ نے پھر بھی میرے اصل سوال کا جواب صاف اور قطعی نہ دیا اور نہ فرمایا کہ صحیح بخاری و مسلم کی احادیث جملہ صحیح ہیں۔ (۱) یا جملہ موضوع یا مختلط یعنی بعض ان میں صحیح ہیں بعض موضوع باوجود یکہ میرا یہ سوال آپ نے شروع تحریر میں نقل کر دیا جس سے یہ گمان کہ آپ نے مطلب سوال نہ سمجھا ہو رفع ہو گیا۔ ہر چند آپ نے یہ بات بتصریح کہہ دی ہے کہ اگر میں کسی حدیث صحیح بخاری و صحیح مسلم کو کتاب اللہ کے موافق نہ پاؤں گا تو اس کو موضوع قرار دوں گا ۔ کلام رسول صلعم نہ سمجھوں گا (۲) اور اپنے پرچہ نمبر ۴ میں آپ صاف کہہ چکے ہیں کہ ان کتابوں کے وہ مقامات جن میں تعارض ہے تحریف سے خالی نہیں ۔ مگر اس میں یہ تصریح نہیں ہے کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ایسی کوئی حدیث ہے یا نہیں جس کو آپ اس اصول کی شہادت سے موضوع قرار دیتے ہیں اور طرفہ یہ کہ ان مقامات ازالة الاوہام میں جو میرے پرچہ نمبرے میں منقول ہوئے ہیں آپ صحیحین کی بعض احادیث کو موضوع قرار دے چکے ہیں مگر آپ پرچہ نمبر ۸ میں اس سے انکار کرتے ہیں اور یہ فرماتے ہیں کہ جو کچھ میں نے وہاں کہا ہے شرطیہ طور پر کہا ہے کہ بشرط تعارض و عدم موافقت و مطابقت وہ احادیث موضوع ہیں۔ میرا وہ قطعی فیصلہ نہیں ہے۔ باوجود یکہ ان مقامات میں آپ نے یہ شرط نہیں لگائی بلکہ ان احادیث کا باہم تعارض خوب زور سے ثابت کیا اور پھر ان کو موضوع قرار دیا ہے۔ آپ کے میرے اصل سوال کا صاف جواب نہ دینے اور ازالۃ الاوہام کی تصریحات مذکورہ پرچہ نمبرے سے انکار کر جانے کی وجہ یہ ہے کہ آپ اس سوال کے دونوشق جواب میں پھنتے ہیں اور کوئی شق قطعی طور پر اختیار نہیں کر سکتے اگر آپ یہ شق جواب اختیار کریں کہ وہ احادیث سب کی سب صحیح ہیں تو اس سے آپ پر سخت مصیبت عائد ہوتی ہے کیونکہ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی احادیث آپ کے عقائد مستحدثہ جدیدہ کے صریح خلاف ہیں ان احادیث کو صحیح مان کر آپ کا کوئی عقیدہ جدیدہ قائم و ثابت نہیں رہ سکتا اس وجہ سے آپ نے یہ مذہب اختیار کیا ہے کہ احادیث صحیحین کو بلا وقفہ نظر صحیح تسلیم کرنا اندھا پن اور تقلید بلا دلیل ہے اور اگر آپ یہ شق جواب اختیار کریں کہ حدیث صحیحین سب کی سب موضوع یا ازاں جملہ بعض صحیح اور بعض موضوع ہیں تو اس سے عام اہل اسلام اور خصوصاً اہل حدیث جن کے بعض عوام آپ کے دام میں پھنس گئے ہیں آپ سے بے اعتقاد ہوتے اور کفر یا فسق اور بدعت کا فتویٰ لگانے کو تیار ہوتے ہیں یہی☆ وجہ ہے کہ آپ میرے سوال کا صاف اور قطعی جواب نہیں دیتے صرف شرطی طور پر کہتے ہیں کہ اگر کتاب بخاری و مسلم کی احادیث کو موافق قرآن نہ پاؤں گا تو میں اس کو موضوع قرار دوں گا ور نہ مجھے بخاری و مسلم سے حسن ظن ہے میں خواہ مخواہ یعنی قبل از وقت و بلاضرورت ان کی احادیث کو موضوع قرار دینا ضروری نہیں سمجھتا ضرورت ہوگی یعنی قرآن سے ان کی موافقت نہ ہو سکے تو موضوع قرار دوں گا۔
ہر چند آپ کے اس شرطی جواب پر بھی حق و اختیار حاصل ہے کہ میں آپ سے اس سوال کے جواب کا مطالبہ کروں لیکن اب میری یہ امید کہ آپ میرے سوال کا جواب دیں گے قطع ہوگئی اور میں یہ بھی جان چکا ہوں کہ میرے اس مطالبہ پر بھی آپ ۲۶ صفحہ یا اس سے دو چند ۵۲ صفحہ بھی ایسے ہی لایعنی اور فضول باتوں کا اعادہ کریں گے جو اس وقت تک مکر رسہ کر تحریر کر چکے ہیں جن سے آپ کا تو یہ فائدہ ہے کہ آپ کے مرید حاضر مجلس یہ کہیں گے اور کہہ رہے ہیں سبحان اللہ ☆ہمارے حضرت مسیح اقدس کس قدر طولانی تحریرات کرتے ہیں اور کتنے صفحہ کا غذات پر کرتے ہیں اور بیسوں آیات قرآن تحریر فرماتے جاتے ہیں اور یہی فائدہ اس تحریر سے آپ کو پیش نظر ہے مگر میرے اوقات کا کمال حرج ہے مجھے اس بحث کے علاوہ اور بھی بہت سے اہم کام دامنگیر ہیں لہذا اب میں آپ سے اس سوال کے جواب کا مطالبہ نہیں کرتا اور میں ناظرین اور سامعین کو آپ کی طولانی تحریرات کے وہ نتائج بتانا چاہتا ہوں جن نتائج کے جتانے کی غرض سے میں اب تک آپ کے جواب پر نکتہ چینیاں کرتا رہا ہوں میرا یہ مقصود نہ ہوتا تو جو میں آپ کے پرچہ نمبر ۳ کے جواب میں لکھ چکا تھا کہ آپ نے قبولیت حدیث کی شرط بتائی ہے مگر یہ ظاہر نہیں کیا کہ یہ شرط احادیث صحیحین میں پائی جاتی ہے یا نہیں ۔ وبناءً علیہ وہ احادیث صحیح ہیں یا نہیں اس پر اکتفا کرتا اور اس کے جواب دینے پر آپ کو مجبور کرتا اور دوسری کوئی بات آپ کی نہ سنتا کیونکہ ہر شخص جس کو فن مناظرہ میں ادنی مس ہو یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ جب کوئی اپنے مناظر و مخاطب سے اصول تسلیم کرانا چاہے کوئی اصول پیش کر کے اس سے دریافت کرے کہ آپ اس اصول کو مانتے ہیں یا نہیں تو اس کے مخاطب کا فرض صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کو تسلیم کرے یا اس سے انکار کرے اس سے زیادہ کسی اصول کے تسلیم یا عدم تسلیم کی وجہ بیان کرنا اس کا فرض نہیں ہوتا یہ اس صورت میں اور اسی وقت ہوتا ہے جب کہ اس کا مقابل صاحب تمہید اس کی تسلیم کے یا عدم تسلیم کے خلاف کا مدعی ہو اور اپنے ممہدہ اصول پر دلائل قائم کرے۔ آپ نے میرے اصول کی نسبت تسلیم یا عدم تسلیم تو قطعی طور پر ظاہر نہیں کی مگر ان اصول کا خلاف ثابت کرنے پر مستعد ہو گئے سو بھی ایسے طور پر کہ اصل سوال سے غیر متعلق اور فضول باتوں میں خامہ فرسائی شروع کر دی اس صورت میں مجھ پر لازم نہ تھا کہ میں آپ کی کسی بات کا جواب دیتا یا اس پر کوئی سوال کرتا مگر اسی غرض سے اب تک آپ کے جوابات کے متعلق خدشے وسوالات کرتا رہا ہوں کہ آپ کی کلام سے وہ نتائج پیدا ہوں جن کو میں عام اہل اسلام پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں اس غرض سے میں اب آپ کی تحریرات سابقہ و حال پر تفصیلی نکتہ چینی کرتا ہوں جس کا وعدہ اپنی تحریرات سابقہ میں دے چکا ہوں اس نکتہ چینی میں بالاستقلال تو آپ کا پرچہ نمبر ۵ نشانہ ہو گا مگر اس کے ضمن میں آپ کی جملہ تحریرات سابقہ کا جواب آ جائے گا۔ بحول اللہ و قوّته۔
آپ لکھتے ہیں کہ احادیث کے دو حصے ہیں اول وہ جو تعامل میں آچکا ہے اس میں تمام ضروریات دین اور عبادات اور معاملات اور احکام شرع داخل ہیں یہ حصہ بلا شبہ صحیح ہے مگر اس کی صحت نہ روایت کی رو سے ہے بلکہ تعامل کے ذریعہ سے۔ دوسرا وہ حصہ جس پر تعامل نہیں پایا گیا یہ حصہ یقینا صحیح نہیں ہے کیونکہ اس کا مدار صرف اصول روایت پر ہے اور اصول روایت سے صحت کا ثبوت اور کامل اطمینان نہیں ہو سکتا ہاں اس حصہ کی قرآن کریم سے موافقت ثابت ہو تو یہ بھی یقینا صحیح تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ اس قول سے ثابت ہے اور یہ ہی جتانا اس وقت مد نظر ہے کہ آپ فن حدیث اور اصول روایت اور قوانین درایت سے محض نا واقف ہیں اور مسائل اسلامیہ سے نا آشنا۔
آپ یہ نہیں جانتے کہ ضروریات دین اصطلاح علماء اسلام میں کس کو کہتے ہیں اور تعامل کی کیا حقیقت ہے اور وہ جملہ احادیث معاملات و احکام سے متعلق کیونکر ہو سکتا ہے اور اہل اسلام کے نزدیک اصول تصحیح روایت کیا ہیں ۔
خاکسار ہر ایک امر سے آپ کو اور دیگر نا واقف ناظرین کو مطلع کر کے یہ جتانا چاہتا ہے کہ جو کچھ آپ نے کہا ہے وہ نا واقعی پرپہنی ہے اور وہ میرے سوال کا جواب نہیں ہو سکتا۔
پس واضح ہو کہ ضروریات دین وہ کہلاتے ہیں جو دین سے ضرورۃ یعنی بداهةً اور بلافکر معلوم ہوں اور نہ وہ امور جن کی طرف دین کی ضرورت یعنی حاجت متعلق ہو۔
ضرورت سے مراد امور متعلقہ حاجت ہوں تو اس سے آنحضرت کی کوئی حدیث خارج ومستثنی نہیں ہوتی ۔ آنحضرت نے جو کچھ دین میں فرمایا ہے وہ دینی حاجت وضرورت کے متعلق ہے اس صورت میں دوسرا حصہ احادیث جس کو آپ یقیناً صحیح نہیں جانتے ضروریات دین میں داخل ہو جاتا ہے۔
اگر آپ یہ کہیں کہ ضروریات سے میری مراد بھی وہی ہے جو تم نے بیان کی ہے تو پھر جملہ احکام معاملات و عقود کو ضروریات میں شامل کرنا غلط قرار پاتا ہے۔
احکام متعلقہ معاملات بلکہ عبادات جملہ ایسے نہیں جو بداهةً دین سے ثابت ہوں کسی حکم یا امر پر تعامل کی صورت یہ ہے کہ وہ حکم عام لوگوں کے عمل میں آجاوے اس کی مثال ہم احکام شرع سے صرف ان اتفاقی امور کو ٹھہرا سکتے ہیں جو جملہ اہل اسلام میں علی سبیل الاشتراک عمل میں آگئے ہیں۔
جیسے نماز یا حج یا صوم ۔ کہ اتفاقی ارکان ہیں۔
بلا لحاظ ان کے قیودات و خصوصیات کے کہ نماز رفع یدین والی ہو یا بلا رفع اور اس میں ہاتھ سینہ پر باندھے جاویں یا زیر ناف یا ارسال یدین عمل میں آوے و علی ھذا القیاس اور اگر ان کے قیود و خصوصیات کا لحاظ کیا جاوے تو ان پر تعامل کا ادعا محض غلط ہے اور کوئی فریق یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ ہمارا طریق تعامل عام اہل اسلام سے ثابت ہے۔
ان امور پر تعامل عام ہوتا تو ان میں اختلاف ہرگز واقع نہ ہوتا جو آپ کے نزدیک وضع و عدم صحت کی دلیل ہے۔ لہذا آپ کا یہ کہنا کہ احادیث کا حصہ متعلق عبادات و معاملات تعامل سے ثابت ہے محض نا واقعی پر مبنی ہے۔
اور اگر تعامل سے آپ کی مراد خاص خاص فرقوں یا شہروں یا اشخاص کا تعامل ہے اور اس تعامل کو قطعی صحت کی دلیل سمجھتے ہیں تو آپ پر سخت مصیبت پڑے گی کیونکہ یہ تعامل خاص ہر ایک قوم و شہر و مذہب کا باہم مختلف ہے یہ موجب یقین ہو تو چاہئے کہ جملہ احادیث مختلفہ جن پر یہ تعامل ہائے خاص خاص پائے جاتے ہیں یقینی اور صحیح ہوں اور یہ امر نہ صرف آپ کے مذہب کے بالکل مخالف ہے بلکہ حق اور نفس الامر کے بھی مخالف ہے۔ اصول تصحیح روایت محققین اہل اسلام کے نزدیک یہ نہیں جو آپ نے قرار دیا ہے کہ وہ توافق قرآن ہے یا تعامل امت بلکہ وہ اصول شروط صحت ہیں جن کا مدار چار امور عدل - ضبط عدم شذوذ و عدم علت ہے۔ ان شروط میں جو آپ نے سلامت فہم راوی کو داخل کیا ہے۔ یہ بھی آپ کی فنون حدیث سے نا واقعی پر دلیل ہے۔
فہم معنے ہر ایک حدیث کی روایت کیلئے شرط نہیں ہے بلکہ خاص کر اس حدیث کی روایت کیلئے شرط ہے جس میں بالمعنی حکایت ہو اور جس حدیث کو راوی بعینہ الفاظ سے نقل کر دے اس میں راوی کے فہم معانی کو کوئی شرط نہیں ٹھہراتا ۔ کتب اصول حدیث شرح نخبہ وغیرہ ملاحظہ ہوں ۔
اس کے جواب میں شاید آپ کہیں گے کہ احادیث سب ہی بالمعنے روایت ہوتی ہیں جیسا کہ آپ کے مقتدا سید احمد خاں نے ( جس کی تقلید سے آپ نے قرآن کو معیار صحت احادیث ٹھہرایا ہے چنانچہ عنقریب ثابت ہوگا ) کہا ہے تو اس پر آپ کو اہل حدیث جو فن حدیث سے واقف ہیں محض نا واقف کہیں گے۔
سلف نے احادیث نبویہ کو بعینہ الفاظ سے روایت کیا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض روایات میں شک راوی موجود ہے اگر صحابہ وغیرہ رواۃ سلف میں حکایت بالمعنے کا رواج ہوتا تو دو ہم معنے لفظوں کو جیسے ”مومن“ و ”مسلم“ شک سے بلفظ مومن اور مسلم روایت نہ کیا جاتا۔ اس مسئلہ کی تحقیق کتب اصول فقہ واصول حدیث میں ہے۔ اور ہماری تالیفات اشاعۃ السنہ وغیرہ میں آپ ان کو ملاحظہ فرماویں۔
آپ شروط صحت کی تحقیق و ثبوت کوشکی فرماتے ہیں و بناءً علیہ صرف اصول روایت کو مثبت صحت قرار نہیں دیتے یہ امر بھی فن حدیث سے آپ کی نا واقعی کا مثبت ہے۔ مہربان من شروط کی تحقیق و ثبوت میں محدثین نے ایسی تحقیق کی ہے کہ اس سے علم طمانیت حاصل ہو جاتا ہے۔
محد ثین نے ہر ایک راوی کے تحقیق حال میں کہ وہ کب پیدا ہوا کہاں کہاں سے سفر کر کے اس نے حدیث حاصل کی کس کس سے حدیث سنی کس کس نے اس سے حدیث سنی کون سی حدیث میں وہ منفر در ہاکس حدیث میں اس سے وہم ہو گیا ہے اور کس شخص نے اس کی حدیث کو بلحاظ تحقق شروط صحیح کہا۔ کس نے ضعیف قرار دیا ہے وغیرہ وغیرہ دفتروں کے دفتر لکھ دیتے ہیں وبناءً علیہ ہر ایک حدیث کی نسبت جس کو ائمہ محدثین خصوصاً امامین ہمامین بخاری و مسلم نے صحیح قرار دیا ہے اور عام اہل اسلام نے اس کو صحیح تسلیم کر لیا ہے ظن غالب صحت حاصل ہو جاتا ہے بلکہ ابن صلاح وغیرہ ائمہ حدیث کے نزدیک شیخین کی اتفاقی حدیث جس پر کسی نے کچھ کلام نہیں کیا مفید یقین ہے۔ آپ یقین کو مانیں خواہ نہ مانیں ظن غالب سے تو انکار نہیں کر سکتے کیونکہ اپنی تحریرات میں اس کا اقرار کر چکے ہیں۔
اس پر جو آپ نے باستدلال آیت وَاِنَّ الظَّنَّ لَا یُغۡنِیۡ مِنَ الۡحَقِّ شَیۡئًا(النجم: ۲۹) اعتراض کیا ہے وہ بھی آپ کے اصول دین سے نا واقعی پر مبنی ہے۔ مہربان من ظن غالب عملیات میں لائق اعتبار ہے اور قرآن مجید کی آیت مذکورہ اور دیگر آیات میں جہاں ظن کے اتباع سے ممانعت وارد ہے اس سے اعتقاد کے متعلق ظن مراد ہے۔ کیا آپ کو یہ مسائل معلوم نہیں یا کسی عالم سے نہیں سنے کہ اگر نماز میں بھول ہو جاوے کہ رکعت ایک پڑھی ہے یا دو تو نمازی تحرّی کرے اور جو ظن غالب ہو اس پر عمل کرے یا اگر وضو کے ٹوٹ جانے میں شک واقع ہو تو ظن غالب پر عمل کرے۔ اسی وجہ سے جملہ علماء اسلام کا حنفی ہیں یا شافعی اہلحدیث ہیں خواہ اہل فقہ اتفاق ہے کہ خبر واحد صحیح ہو تو واجب العمل ہے حالانکہ خبر واحد ہر ایک کے نزدیک موجب ظن ہے نہ مثبت یقین ۔ اسی وجہ سے خاص کر صحیحین کی نسبت علماء اسلام نے جن میں مقلد و مجتہد فقیہ و محدث سب داخل ہیں اتفاق کیا ہے کہ صحیحین کی احادیث واجب العمل ہیں اور امام ابن صلاح نے فرمایا کہ ان کی اتفاقی حدیثیں موجب یقین ہیں لہذا ان کے مضمون پر اعتقاد بھی واجب ہے اور اکا بر ائمہ نے لکھا ہے کہ اگر کوئی قسم کھالے کہ جو احادیث صحیحین میں ہیں وہ صحیح نہ ہوں تو اس کی عورت پر طلاق ہے تو اس کی عورت پر طلاق واقع نہیں ہوتی اور وہ اس قسم میں جھوٹا نہیں ہوتا امام نووی نے شرح مسلم میں فرمایا ہے اتفق العلماء رحمهم اللہ تعالى على ان اصح الكتب بعد القرآن العزيز الصحيحان البخاری و مسلم و تلقتهم الامت بالقبول و کتاب البخارى اصحهما صحيحا و اكثرهما فوائد و معارف ظاهرة وغامضة وقد صح ان مسلمًا كان ممن يستفيد من البخارى و يعترف بانه ليس له نظير في علم الحديث وهذا الذي ذكرنا من ترجيح كتاب البخارى هو المذهب المختار الذي قاله الجماهير واهل الاتقان والحذق والغوص على اسرار الحديث ۔ شیخ الاسلام حافظ ذہبی نے تاریخ اسلام میں فرمایا ہے اما جامع البخاري الصحيح فاجل كتب الاسلام وافضلها بعد كتاب اللہ وهو اعلى في وقتنا يعنى سنة ثالث عشر بعد سبع مائة و من ثلاثين سنة يفرحون العلماء بعلو سماعه فكيف اليوم فلو رحـل شـخـص لسماعه من الف فرسخ لما ضاعت رحلته قسطلانی نے شرح بخاری میں کہا ہے و اما تاليفه يعنى البخاري فانها سارت مسير الشمس ودارت في الدنيا فما جحد فضلها الا الذي يتخبطه الشيطان من المس واجلها واعظمها الجامع الصحيح ۔ شیخ حافظ ابن کثیر نے کتاب البدایہ والنہایہ میں فرمایا ہے و كتابه الصحيح يسستسقى بقرائته الغمام واجمع على قبوله و صحة مافيه اهل الاسلام اور حضرت شاہ ولی اللہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں فرمایا ہے ۔ اما الصحيحان فقد اتفق المحدثون على ان جميع ما فيهما من المتصل المرفوع صحيح بالقطع وانهما متواتران الى مصنفيهما وانه كل من يهون امرهما فهو مبتدع متبع غير سبيل المومنین اور صاحب دراسات نے فرمایا ہے وكونهما اصح كتاب في الصحيح المجرد تحت اديم السماء وانهما اصح الكتب بعد القرآن العزيز باجماع من عليه التعويل في هذا العلم الشريف قاطبة في كل عصر واجماع كل فقيه مخالف و موافق . امام ابن صلاح نے فرمایا ہے وهذا القسم يعنى المتفق علیه مقطوع بصحته والعلم اليقينى النظرى واقع به خلافًا لقول من نفى ذلك محتجًا بانه لا يفيد الا الظن وانما تلقته الامت بالقبول لانه يجب عليهم العمل بالظن والظن قد يخطئ وقد كنت اميل الى هذا واحسبه قويا ثم بان لى ان المذهب الذي اخترناه اولا هو الصحيح لان الظن من هو معصومًا من الخطأ لا يخطى والامة في اجماعها معصومة من الخطاء لهذا كان الاجماع المبنى على الاجتهاد حجة مقطوعة بها واكثر اجماعات العلماء کذالک ۔ امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں فرمایا ہے ۔ قد قال امام الحرمين لو حلف انسان بطلاق امرأته ان ما في كتابى البخاری و مسلم مما حكما بصحة من قول النبي صلعم لما لزمته الطلاق ولا حنثته لاجماع علماء المسلمين على صحتهما ۔☆
اس مضمون کے اقوال بکثرت موجود ہیں جن کی نقل سے تطویل ہوتی ہے اس کے مقابلہ میں آپ کا یہ کہنا کہ پندرہ کروڑ حنفی صحیح بخاری کو نہیں مانتے۔ محض ایک عامیانہ بات ہے، عامی لوگ جن کی تعداد مردم شماری کے کا غذات سے آپ نے بتائی ہے بخاری کو نہ مانتے ہوں تو اس کا اعتبار نہیں ہے عالم حنفی تو صحیح بخاری کی صحت سے انکار نہیں کرتے ۔ آپ اس دعوے میں سچے ہیں تو کم سے کم ایک عالم کا متقدمین یا متاخرین سے نام بتادیں جس نے صحیح بخاری یا صحیح مسلم کی احادیث کو غیر صیح یا موضوع کہا ہو۔ اور آپ کا یہ کہنا کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے احادیث صحیح بخاری کو ان پر اطلاع پا کر چھوڑ دیا۔ یہ بھی ایک عامیانہ بات ہے۔ آپ یہ نہیں جانتے کہ امام اعظم صاحب کب ہوئے اور صحیح بخاری کب لکھی گئی ۔ مہربان من امام اعظم صاحب ڈیڑھ سو سنہ ہجرت میں انتقال کر کے داخل فردوس ہوئے اور صحیح بخاری دوسوسنہ کے بعد تالیف ہوئی ۔☆ صحیح بخاری امام صاحب کے وقت میں تالیف ہوتی تو امام اعظم صاحب اس کو آنکھ پر رکھ لیتے ۔ امام شعرانی میزان کبریٰ کے صفحہ ۷۲۷ وغیرہ میں فرماتے ہیں۔ اعتقادنا و اعتقاد کل منصف في الامام ابي حنيفه رضى اللہ عنه بقرينة ما رويناه انفا عنه من ذم الراى والتبرى منه ومن تقديمه النص على القياس انه لو عاش حتى دونت احادیث الشریعت و بعد رحيل الحفاظ في جمعها من البلاد والثغور و ظفر بها لاخذ بها و ترك كل قياس كان قاسه وكان القياس قل في مذهبه كما قل في مذهب غيره بالنسبت اليه لكن لما كانت ادلة الشريعت مفرقة في عصره مع التابعين و تابع التابعين فى المدائن و القرى والثغور كثر القياس فى مذهبه بالنسبت الى غيره من الائمة ضرورة لعدم وجود النص في تلك المسائل التي قاس فيها بخلاف غيره من الائمة فان الحفاظ قد رحلوا في طلب الاحاديث وجمعها في عصرهم من المدائن والقرى و دونوها فجاوبت احاديث الشريعت بعضها بعضا فهذا كان سبب كثرة القياس في مذهبه وقلته في مذاهب غيره - انتھٰی ۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ کتب احادیث امام ابو حنیفہ کے بعد تالیف ہوئیں۔ امام صاحب ان احادیث کو پاتے تو ضرور قبول فرماتے۔ اور اس سے پہلے ایک جگہ فرماتے ہیں فلو ان الامام ابا حنيفة ظفر بحديث من مس فرجه فليتوضا لاخذبھا ۔ واضح رہے کہ یہ حدیث بخاری میں نہیں ہے بلکہ اس سے کم مرتبہ کتب سنن میں ہے۔ اس تحقیق سے آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ اہل حدیث کا صحیحین کو بلا وقفہ و نظر واجب العمل سمجھنا تقلید بے دلیل نہیں ہے بلکہ اس میں ان دلائل واصول کا اتباع ہے جو تصحیح حدیث میں مرعی رکھے گئے ہیں۔ اجماع مخالفین و موافقین جس کو مخالف و موافق نقل کرتے ہیں ان احادیث کی صحت پر بڑی روشن دلیل ہے آپ اجماع کے لفظ سے گھبراتے ہیں تو اس کی جگہ تلقی و تداول امت کو جو تعامل و توارث کا ہموزن ہے قبول کریں اور یقین کے ساتھ مان لیں کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم پر جملہ فرقہائے اہل سنت کا عمل و استدلال چلا آیا ہے اس پر جو آپ کا یہ سوال ہے کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم مسلمانوں میں اتفاق کے ساتھ مسلم چلے آئے ہیں تو بعض علماء حنفیہ وغیرہ نے ان احادیث کا خلاف کیوں کیا اور سبھی نے ان کے مطابق کوئی مذہب کیوں اختیار نہ کر لیا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خلاف فہم معانی میں اختلاف پر مبنی ہے یا بعض وجوہات ترجیح پر آپ کتب اصول و فروع اسلام میں نظر نہیں رکھتے آپ فتح القدیر کو جو حنفی مذہب کی مشہور کتاب ہے یا برہان شرح مواہب الرحمٰن کو جو عرب و عجم میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ ایک دو روز مطالعہ کر کے دیکھیں کہ ان میں کسی عزت و ادب کے ساتھ صحیحین کی حدیثوں سے استدلال کیا گیا ہے اور جس حدیث سے اختلاف کیا ہے اس کو ضعیف سمجھ کر اختلاف کیا ہے؟ یا اس کے معانی میں اختلاف کر کے یا اور وجوہات خارجیہ سے دوسری احادیث کو ترجیح دے کر اختلاف کیا ہے؟
آپ فرماتے ہیں کہ احادیث پر کھنے کیلئے قرآن کریم سے بڑھ کر ہمارے پاس کوئی معیار نہیں۔ محدثین نے گو معیار صحت قوانین روایت کو ٹھہرایا ہے مگر انہوں نے اس کو کامل معیار نہیں کہا اور نہ قرآن کریم سے مستغنی کرنے والا بتایا ہے اور اس دعوے کی تائید میں متعدد تحریروں میں متعدد آیات کو ذکر کیا ہے جن میں قرآن مجید کے محامد علیہ وفواضل سنیہ مسلمہ اہل اسلام کا ذکر ہے۔
مہربان من محد ثین کیا کوئی محقق مسلمان حنفی یا شافعی مقلد یا غیر مقلد صحیح روایات حدیثیہ کا معیار قرآن کریم کو نہیں ٹھیرا تا اور یہ نہیں کہتا کہ جب کسی حدیث کی صحت پر کھنی ہو تو اس کو قرآن کریم کی موافقت یا مخالفت سے صحیح یا غیر صحیح قراردیں بلکہ معیار تصحیح وہ قوانین روایت ٹھہراتے ہیں کہ از انجملہ کسی قدر بیان ہو چکے ہیں ۔ اس کی وجہ معاذ اللہ ثم عياذاً باللہ یہ نہیں کہ قرآن مجید مسلمانوں کا حکم وہ ہیمن نہیں یا وہ امام حبل المتین نہیں ۔ کوئی مسلمان جو قرآن پر اعتقاد رکھتا ہے یہ نہیں سمجھتا اور اگر کوئی ایسا سمجھے تو وہ سخت کافر ہے۔ ابو جہل کا بڑا بھائی نہ چھوٹا کیونکہ ابو جہل نے تو قرآن مجید کو تسلیم ہی نہیں کیا تھا یہ کا فرقرآن پر ایمان لا کر اس کو اپنا نہیں بنا تا اور حکم نہیں سمجھتا۔ ایسا شخص در حقیقت قرآن پر ایمان نہیں رکھتا اگر بظاہر مدعی ایمان ہو۔☆ آپ نے ناحق و بلاضرورت ان آیات قرآنیہ کو ہمارے سوال کے جواب میں پیش کیا جن میں قرآن مجید کے یہ محامد علیہ وارد ہیں اور ان کے بے ضرورت نقل و بیان سے اپنے اور ہمارے اوقات کا خون کیا بلکہ توافق قرآن کو معیار صحت نہ ٹھہرائے اور اس باب میں اصول روایت کی طرف رجوع کرنے کی دو وجہ ہیں ایک وجہ یہ ہے کہ جو احادیث ان اصول روایت سے صحیح ہو چکی ہوں وہ خود بخو دقرآن مجید کے موافق ہوتی ہیں اور ہرگز ہرگز وہ قرآن کے مخالف نہیں ہوتیں ۔ قرآن امام ہے اور وہ احادیث خادم قرآن اور اس کی وجوہات کے مفسر و مبین اور ان وجوہات معانی قرآن کے جو کم فہم و قاصر الفکر لوگوں کے خیال میں متعارض معلوم ہوتی ہیں فیصلہ کرنے والی ہیں جس حالت میں ایک حدیث صحیح دوسری حدیث صحیح کے مخالف نہیں ہوتی اور ان کی باہم تطبیق ممکن ہے۔ چنانچہ امام الائمہ ابن خزیمہ سے منقول ہے۔ لا اعرف انه روی عن النبي صلعم حديثان باسنادين صحيحين متضادين فمن كان عنده فلياتيني به لأولف بينهما تو پھر کسی حدیث صحیح کا مخالف قرآن ہونا کیونکر ممکن ہے ۔ جو شخص کسی حدیث صحیح کو قرآن کے مخالف سمجھتا ہے وہ نافہم ہے اور اپنی نانہی سے حدیث کو مخالف قرآن قرار دیتا ہے ۔ محققین اسلام ومحد ثین وفقہا ایسے نہیں ہیں کہ صحیح حدیث کو مخالف قرآن سمجھیں اس لئے ان کو صحیح حدیث کیلئے اس امر کی ضرورت نہیں ہے کہ موافقت یا مخالفت قرآن سے اس کا امتحان کریں یہی وجہ ہے کہ علماء اسلام قاطبةً حدیث کی صحت قوانین روایت سے ثابت کرتے ہیں اور بعد تسلیم صحت و حصول فراغ از تصفیہ صحت اس حدیث کے قرآن سے تطبیق کرتے ہیں وہ بھی ایسے طور پر کہ امام قرآن ہی رہے اور احادیث اس کی خادم و مفسر و مترجم و فیصلہ کنندہ وجوہ اختلاف در نظر اشخاص قاصر الانظار رہیں۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ صرف توافق مضمون کسی حدیث کا اس کی صحت کا موجب ہو تو اس سے لازم آتا ہے کہ موضوع حدیثیں اگر ان کے مضامین صادق اور قرآن کے مطابق ہوں صحیح متصور ہوں جس کا کوئی مسلمان قائل نہیں اس کے مقابلہ میں جو آپ نے کہا ہے کہ قرآن خود اپنا مفسر ہے حدیث اس کی مفسر نہیں ہو سکتی اس سے بھی آپ کی نا واقفیت اصول مسائل اسلام سے ثابت ہوتی ہے۔ قرآن مجید نے خود حدیث کو اپنا خادم و مفسر قرار دیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں بعض احکام ایسے طور پر بیان کئے ہیں کہ وہ بلا تفصیل صاحب حدیث صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی مسلمان مخاطب قرآن کی سمجھ میں نہ آتے اور نہ وہ دستور العمل ٹھہرائے جاسکتے ایک حکم نماز ہی کو دیکھ لو قرآن میں اس کی نسبت صرف یہ ارشاد ہے۔ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ اور کہیں اس کی تفسیر نہیں ہے کہ نماز کیونکر قائم کی جائے صاحب الحدیث آنحضرت صلعم (بابی ھو وامی) نے قولی و فعلی حدیثوں سے بتایا کہ نماز یوں پڑھی جاتی ہے تو وہ حکم قرآن سمجھ وعمل میں آیا۔ آپ کہیں گے کہ یہ کیفیت نماز تعامل سے ثابت ہے اس پر سوال کیا جائے گا کہ تعامل کب سے شروع ہوا اور جس طریق پر تعامل ہوا وہ طریق کس نے بتایا۔
اس کے جواب میں اخیر یہی کہو گے کہ حدیث یا صاحب حدیث نے ۔ دوسرا یہ سوال کہ وہ تعامل کن کن صورتوں پر ہوا ہے اتفاقی پر یا اختلافی پر ۔ صرف اتفاقی صورتوں میں اس کو منحصر کرو گے تو آپ کو نماز پڑھنا مشکل ہو جائے گا۔ اختلافی صورتوں پر تعامل کا دعوی کرو گے تو اختلاف موجب تساقط ہو گا یا آخر اس اختلاف کا تصفیہ احادیث صحیحہ سے ہوگا جو آپس میں متوافق ہو سکتی ہیں۔ اب ہم ایک دو ایسی مثالیں پیش کرتے ہیں جن میں آپ کو تعامل کا اشتباہ نہ ہو قرآن کریم نے حرام جانوروں کو ( جیسے خنزیر و منخنقه وغیره) حرام فرما کر ان کے ماسوا جانوروں کو حلال کر دیا ہے۔ آیت قُلْ لَا أَجِدُ فِی مَا أُوحِیَ إِلَى مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ یَطْعَمُہُ إِلَّا أَنْ یَکُونَ مَیْتَۃً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا اَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا الآیۃ(الانعام: ۱۴۶). ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا(البقرة: ۳۰) ملاحظہ ہوں ۔
اور بعض جانوروں کی حرمت کا بیان اپنے خادم حدیث یا صاحب الحدیث صلعم کے حوالہ کر دیا۔ وبناء عليہ اس نے ظاہر کر دیا کہ علاوہ ان جانوروں کے جن کی حرمت کا بیان قرآن میں ہے گدھا اور درندے حرام ہیں ۔ اب فرمائیے اس حکم گدھے اور درندوں کی حرمت کی تفسیر قرآن کریم نے خود کہاں فرمائی ہے اس پر وقوع تعامل کا بھی آپ دعویٰ نہیں کر سکتے گدھے وغیرہ درندوں کی حرمت کا اعتقاد یا اس کے استعمال کا ترک کوئی عمل نہیں ہے جس پر تعامل کا ادعا ہو سکے حدیث کو یہ خدمت تفسیر و فیصلہ وجوہات قرآن کریم نے خود عطا فرمائی ہے اور صاحب الحدیث صلعم نے بھی اپنے کلام میں جس کو حدیث کہا جاتا ہے اس خدمت کے عطا ہونے کا اظہار کیا ہے ۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے۔ وَمَاۤ اٰتٰٮکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ٭ وَمَا نَہٰٮکُمۡ عَنۡہُ فَانۡتَہُوۡا(الحشر: ۸) اس مضمون کی آیات قرآن میں اور بہت ہیں مگر ہم آپ کی طرح ان سب کو شمار کر کے تطویل کلام نہیں کرنا چاہتے ۔
یعنی اے مسلمانو! جو کچھ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم کو دے۔ قرآن ہو خواہ وحی غیر متلوحدیث وہ لے لو اور جس سے رو کے یعنی جو حکم کسی چیز کے عدم استعمال کی نسبت دے گو وہ حکم قرآن میں نہ ہو اس سے رک جاؤ ۔ اس ارشا د قرآن کی ہدایت و شہادت سے حضرت ابن مسعود نے وشم ( جسم کو گود نے) پر لعنت کی وعید کو جو صرف حدیث میں وارد ہے قرآن میں داخل قرار دیا۔ اس پر ایک عورت اُم یعقوب نے اعتراض کیا کہ یہ لعنت قرآن کریم میں کہیں نہیں ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ جس حالت میں لعنت حدیث میں وارد ہے تو بحکم آیت وَمَاۤ اٰتٰٮکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ(الحشر: ۸) یہ قرآن کریم میں وارد ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے۔ عن عبداللہ قال لعن اللہ الواشمات والمستوشمات والمتنمصات و المتفلجات للحسن المغيرات لخلق اللہ قال فبلغ ذلك امرأة من بنى اسد يقال لها ام يعقوب وكانت تقرأ القرآن فاتته فقالت ماحديث بلغني عنك انك لعنت الواشمات والمستوشمات☆ والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغيرات لخلق اللہ فقال عبداللہ ومالي لا العن من لعن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم وهو في كتاب اللہ عز وجل فقالت امرأة لقد قرات مابين لوحي المصحف فما وجدته فقال لئن كنت قرأته لقد وجدته قال اللہ عز وجل وما اتاكم الرسول فخذوه ومانهاكم عنه فانتهوا ـ جناب صاحب الحدیث صلعم نے اسی ارشاد قرآنی کے موافق ارشاد کیا ہے وعـن الـمـقـداد ابن معد يكرب قال قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم الا اني اوتيت القرآن ومثله معه الا یوشک رجل شبعان على اريكته يقول عليكم بهذا القرآن فما وجدتم فيه من حلال فاحلوه وما وجدتم فيه من حرام فحرموه وانما حرم رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم كما حرم اللہ الا لا يحل لكم الحمار الاهلى ولا كل ذي ناب من السباع ولا لقطة معاهد الا ان يستغنى عنها صاحبها و من نزل بقوم فعليهم ان يقروه فان لم يقروه فله ان يعقبهم بمثل قراه رواه ابوداؤد ـ ۔طیبی نے شرح مشکوٰۃ میں کہا ہے فی هذا الحديث توبيخ و تقريع ينشأ من غضب عظيم على من ترك السنة وما عمل بالحديث استغناء عنها بالكتب ۔ اس حدیث کو دارمی نے بھی نقل کیا ہے اور اس سے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے السنة قاضية على كتاب اللہ یعنی حدیث ان وجوہات اختلافات قرآن کا فیصلہ کرنے والی ہے جو کتاب کے معانی مختلفہ سے لوگوں کے خیال میں آتے ہیں پھر امام کی ابن ابی کثیر سے نقل کیا ہے قال السنة قاضية على القرآن وليس القرآن بقاض على السنة یعنی حدیث قرآن کے وجوہات اختلافات کا فیصلہ کرنے والی ہے اور قرآن ایسا نہیں کرتا کہ وہ حدیث کے وجوہ اختلاف کا فیصلہ کرے یعنی اس لئے کہ خدمت خادم کا کام ہے نہ مخدوم کا۔ اور دارمی نے حسان سے نقل کیا ہے۔ قال كان جبرئيل ينزل على النبي صلعم بالسنة كما ينزل عليه بالقرآن یعنی حضرت جبرئیل جیسا کہ آنحضرت صلعم پر قرآن اتارتے ویسے ہی حدیث اور سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے انه حدث يوما بحديث عن النبي صلعم فقال رجل في كتاب اللہ ما يخالف هذا قال لا ارانى احدثك عن رسول اللہ صلعم و تعرض فيه بكتاب اللہ كان رسول اللہ صلعم اعلم بكتاب اللہ منک۔
امام شعرانی نے منهج المبین میں کہا ہے اجتمعت الأمة على ان السنة قاضية على كتاب اللہ ۔ ان ہدایات قرآنی واقوال نبوی و آثار سلف کے مقابلہ جو حدیث آپ نے تفسیر حسینی سے نقل کی ہے وہ قابل اعتبار نہیں ہے وہ حدیث زندیقوں یعنے چھے.... مرتدوں کی بنائی ہوئی ہے اور اگر اس حدیث کو بطور فرض محال صحیح فرض کر لیا جائے تو وہ خود اپنے مضمون کے مکذب و مبطل ہے۔ ہم اس حدیث کے رو سے پہلے اسی کو قرآن پر پیش کرتے ہیں تو بحکم آیت و ما اتاکم الرسول وغیرہ اس کو موضوع پاتے ہیں یہ بات میں صرف اپنی رائے سے نہیں کہتا بلکہ ائمہ محدثین و فقہاء اصولیین کی کتابوں میں پاتا ہوں ۔
کتاب تلویح میں ہے وقد طعن فيه المحدثون بان في رواية يزيد بن ربيعة وهو مجهول ـ وترك في اسناده واسطة بين الاسعث وثوبان فيكون منقطعا - وذكر يحي بن معين انه حديث وضعته الزنادقة مولانا بحر العلوم نے شرح مسلّم الثبوت میں فرمایا ہے قال صاحب سفر السعادت انه من اشدّ الموضوعات - قال الشيخ بن حجر العسقلاني قدجاء بطرق لا تخلو عن المقال وقال بعضهم قد وضعته الزنادقة وايضا هو مخالف لقوله تعالى ما أتاكم الرسول فخذوه فصحت هذا الحديث ليستلزم وضعه ورده فهو ضعیف مردود
ابن طاہر حنفی صاحب مجمع البحار تذکرہ میں فرماتے ہیں و ما اورده الاصوليون في قوله اذا روى عنى حديث فاعرضوه على كتاب اللہ فان وافقه فاقبلوه وان خالفه ردوه قال الخطابي وضعته الزنادقة ويدفعه حديث اني اوتيت الكتب وما يعدله ويروى ومثله وكذاقال الصغاني وهو كما قال انتهى - قاضی محمد بن علی الشوکانی فواید مجموعہ میں فرماتے ہیں ۔ حدیث اذا روی عنى حديث فاعرضوه على كتاب اللہ فاذا وافقه فاقبلوه وان خالفه فردوه - قال الخطابي وضعته الزنادقة ويدفعه اني اوتيت القرآن ومثله معه وكذا قال الصغاني قلت وقد سبقهما الى نسبته الى الزنادقة ابن معين كما حكاه الذهبي على ان في هذا الحديث الموضوع نفسه ما يدل على رده لانا اذا عرضناه على كتاب اللہ خالفه ففى كتاب اللہ عز وجل ما اتاكم الرسول فخذوه ومانهاكم عنه فانتهوا ـ ونحوه من الايات انتھی۔ اور جو حدیث حارث اعور آپ نے پیش کی ہے وہ بھی اولا صحیح نہیں جس کتاب مشکوٰۃ سے آپ نے وہ حدیث نقل کی ہے اس میں اس کا جرح موجود ہے جس کو آپ نے سرقہ و خیانت سے نقل نہیں کیا اس میں منقول ہے۔ قال الترمذى هذا حديث اسناده مجهول و في الحارث مقال ۔ ایساہی تقريب التهذیب میں حارث اعور کو مجہول کہا ہے اور اس حارث کا حال ہم کتب اسماء الرجال سے بہ تفصیل نقل کریں تو ایک دفتر ہو جائے ۔ یہ اعور بھی ایک دجال تھا اور اگر بطور فرض محال اس حدیث کو صحیح تسلیم کر لیں تو اس کے وہ معنی نہیں جو آپ نے بطور تحریف کئے ہیں بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ لوگ دلائل شرعیہ یعنی قرآن و حدیث کو چھوڑ کر محض رائے والی باتوں میں خوض کریں تو اس فتنہ سے نجات قرآن سے متصور ہے اور احادیث و آثار سابقہ سے ظاہر ہو چکا ہے کہ حدیث بھی مثل قرآن ہے۔ بناءً عليه اس حدیث کے یہ معنے ہوں گے کہ اس فتنہ سے نجات قرآن وحدیث دونوں کی اتباع سے متصور ہے نہ یہ کہ حدیث نبوی فتنہ ہے اور اس سے نجات مطلوب ہے۔ آپ نے اس حدیث کے ترجمہ میں لفظ احادیث کا ترجمہ لفظ حدیثوں سے کیا اور مسلمانوں کو پورا دھوکہ دیا روئے زمین میں ایسا کوئی مسلمان نہ ہوگا جو اس کلام میں احادیث سے نبوی حدیثیں مراد لیتا ہو۔ یہاں احادیث سے لوگوں کی باتیں مراد ہیں جو اس کے لغوی معنے ہیں اور بہت سی احادیث نبویہ میں یہ لغوی معنے پائے جاتے ہیں ایک حدیث میں ہے ایاک والظن فان الظن اكذب الحديث ۔ ایک حدیث میں ذکر ہے کفا بالمرء كذبا أن يحدث بكل ماسمع یہاں بھی حدیث سے بات کرنا مراد ہے جس حدیث میں بوقت قضاء حاجت دو شخصوں کی آپس میں باتیں کرنے سے ممانعت وارد ہے اس حدیث میں بھی لفظ يحدثان بولا گیا ہے کیا ان سب احادیث میں حدیث سے حدیث نبوی کی تحدیث مراد ہے۔ ہرگز نہیں ۔ آپ نے اس حدیث اعور کے معنے میں تحریف کرنے کے وقت یہ غور نہ کیا کہ حدیث کے لغوی معنے کیا ہیں یا کہ دیدہ دانستہ لوگوں کو دھوکہ دیا۔ حضرت عمرؓ کے قول حسبنا کتاب اللہ سے جو آپ نے تمسک کیا ہے اس سے یہ مقصود نہیں کہ احادیث صحیح مسلم الصحة والثبوت کو چھوڑ کر کتاب اللہ کو کافی سمجھنا چاہئے بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ جہاں ہمارے پاس سنت صحیحہ نبویہ سے کوئی تفصیل نہ ہو وہاں قرآن کریم کو کافی سمجھیں گے کیونکہ اس صورت میں یہ امر نا ممکن ہے کہ قرآن کریم میں اس کا بیان کافی نہ ہوا ہو ۔ قرآن میں اس کا بیان نہ ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں ضرور اس کی تفصیل پائی جاتی اس پر روشن دلیل جس سے کوئی مسلمان انکار نہ کرے یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق نے اپنی تمام عمر میں اپنے سے چھوٹے رتبہ کے لوگوں کی روایات کو قبول کیا ہے اور ان روایات سے مستغنی ہو کر عمل کتاب اللہ کو کافی نہیں سمجھا اس کی تفصیل ہمارے ضمیمہ جات ۱۸۷۸ء سے بخوبی ہو چکی اس مقام میں اس کی چند مثالیں ذکر کی جاتی ہیں ۔
(۱) قرآن مجید سے بیٹی کی وراثت کا یہ حکم بیان ہوا ہے کہ کسی شخص کی ایک بیٹی ہو تو وہ نصف مال کی وارث ہے اس حکم قرآنی کے مفسر یا یوں کہیں کہ مخصص آنحضرت کی یہ احادیث ہیں گروہ انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا جس کے دستاویز سے حضرت صدیق اکبر نے حضرت فاطمہ زہرا کو آنحضرت کے خالص مال سے ورثہ نہ دیا باوجود یکہ انہوں نے مطالبہ بھی کیا اور آنحضرت صلعم نے بیٹی بیٹے وغیرہ وارثوں کو اس حالت میں محروم الارث ٹھہرایا ہے جب کہ وہ اپنے مورث کو قتل کر دیں یا وارث ومورث کے مذہب میں اختلاف ہو جاوے۔حضرت عمر فاروق نے ان احادیث کو قبول فرمایا اور ان پر عمل کیا اور ان احادیث سے مستغنی ہو کر آیت میراث کے عمل پر اکتفا نہ کیا۔
(۲) قرآن مجید میں ان عورتوں کو جن کا نکاح مرد پر حرام ہے شمار کر کے فرمایا ہے وَاُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمۡ(النساء: ۲۵) یعنی ان عورتوں کے سوا جن کا حکم حرمت نکاح قرآن میں بیان ہوا ہے سب عورتیں تم پر حلال ہیں اس حکم قرآن کی تفسیر یا یوں کہیں کہ تخصیص میں آنحضرت کا یہ ارشاد ہے کہ جو رو کی خالہ اور پھو پھی جو رو کے نکاح میں ہونے کی حالت میں نکاح میں نہ لائی جاوے چنانچہ فرمایا ہے لا تنكح المرأة على عمتها ولا خالتها آنحضرت کے جملہ اصحاب نے جن میں حضرت عمرؓ بھی داخل و شامل ہیں اس حدیث نبوی کو قبول فرمایا ہے اور اس کو مخالف قرآن سمجھ کر اس کے عمل سے استغنا اور عمل قرآن پر اکتفا نہیں کیا۔
فاضل قندھاری نے کتاب مغتنم الحصول میں کہا ہے ان الصحابة خصّصوا واحل لكم ما وراء ذالكم ولا تنكح المرأة على عمتها ولا على خالتها ويوصيكم اللہ في اولادكم ولا يرث القاتل ولا يتوارثان اهل الملتين ونحن معشر الانبياء لا نرث ولا نورث۔
(۳) حضرت عمر فاروق نے ایک بادیہ نشین راوی کی اس حدیث کو قبول فرمایا جس میں بیان ہے کہ آنحضرت صلعم نے ایک عورت کو اس کے خاوند کی دیت کا وارث کیا باوجود یکہ قرآن مجید اس عورت کو دیت کا وارث نہیں بنا تا کیونکہ وہ دیت بعد موت شوہر کا مال ہوتا ہے اور عورت بعد موت شوہر اس کی عورت نہیں رہتی وبناء عليه حضرت عمر فاروق کی رائے یہ تھی کہ وہ عورت اس مال سے وراثت کی مستحق نہیں مگر جب آپ کو حدیث مذکور معلوم ہوئی تو اپنی رائے کو چھوڑ دیا اور حدیث کو قبول فرمایا۔ كان عمر بن الخطاب يقول الدية على العاقلة ولا ترث المرأة من دية زوجها شيئًا حتى قال له الضحاك بن سفيان كتب الى رسول اللہ صلعم ان ورث امرأة اشبع الضبابي من دية زوجها فرجع عمر رواه الترمذي وابوداؤد.
(۴) دیت جنین کی حدیث کو دو شخصوں کی روایت و شہادت سے آپ نے قبول کیا اور اس بات میں قرآن کریم کے حکم قصاص پر اکتفا نہ فرمایا. عن هشام عن ابيه ان عمر بن الخطاب نشد الناس من سمع النبي قضى في السقط فقال المغيرة انا سمعته قضى في السقط بغرة عبدا و امة قال انت من يشهد معك على هذا فقال محمد بن مسلمة انا اشهد على النبي صلعم بمثل هذا رواه البخاري صفحه ۱۰۲۰۔
وزاد ابوداؤد فقال عمر بن الخطاب اللہ اكبر لو لم اسمع بهذا لقضينا بغير هذا ۔
(۵) سب ہی انگلیوں کے خون بہا کے برابر ہونے کی حدیث آپ نے قبول فرمائی باوجود یکہ آپ کی رائے اس میں ہی تھی کہ چھوٹی انگلی اور اس کے ساتھ والی کی دیت نو ؟ اونٹ ہونا چاہئے ۔ بیچ والی اور اس کے ساتھ والی سبابہ کے ، بارہ بارہ اونٹ ۔ انگوٹھے کے پندرہ اونٹ جو بظاہر ان کی مختلف قوتوں اور مقداروں کی نظر سے انصاف و عدل معلوم ہوتی ہے جس کا قرآن میں حکم ہے مگر آپ نے حدیث سنی تو قبول فرمائی اور قرآن سے اس کے مطابق کرنے کی کچھ پرواہ نہ کی صحیح بخاری صفحہ ۱۰۱۸ میں ہے۔ عن النبي صلعم قال هذه وهذه يعنى الخنصر والابهام سواء اور مسلم الثبوت کی شرح فواتح الرحموت میں ہے وترک عمر رأيه في دية اصابع وكان رأيه في الخنصر والبنصر تسعًا وفي الوسطى وفي المسبحة اثنا عشرو في الابهام خمسة عشر كل ذلك فى التيسير قال الشارح وكذا ذكر غيره والذي في روايته البيهقى انه كان يرى في المسبحة اثنا عشر و في الوسطى ثلث عشر بخبر عمر بن حزم في كل اصبع عشر من الابل ۔ اس مضمون کی اور بہت مثالیں ہیں مگر ہم آپ کی طرح تطویل پسند نہیں کرتے ۔ ان امثلہ کو دیکھ کر کس و ناکس بشرطیکہ ادنی فہم و انصاف رکھتا ہو ہرگز نہ کہے گا کہ حضرت عمر نے جو فرمایا ہے کہ ہم کو کتاب اللہ کافی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ حدیث نبوی کی ہم کو حاجت نہیں اور قرآن اس کی جگہ کافی ہے۔ اور نہ یہ مراد ہے کہ جب تک کسی حدیث کی شہادت قرآن میں نہ پائی جاوے وہ لائق قبول نہیں بلکہ اس سے مراد صرف وہی ہے جو ہم نے بیان کی کہ جس مسئلہ میں سنت صحیحہ سے کوئی تفصیل نہ ہو وہاں قرآن کریم کافی ہے اس قول فاروقی کے مورد کو دیکھا جائے تو اس سے بھی یہی معنے سمجھ میں آتے ہیں۔ مگر اس کی بحث و تفصیل میں تطویل ہوتی ہے کیونکہ اس میں شیعہ سنیوں کے باہمی اختلاف کو جو اس قول کی نسبت ان میں پایا جاتا ہے ذکر کرنا پڑتا ہے جس سے بحث مقصود سے خروج لازم آتا ہے ۔ امکان تضعیف و توہین حدیث صحیحین پر آپ نے ایک یہ دلیل پیش کی ہے کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے۔
جب کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لا وے تو تم اس کی تفتیش کرو۔ یہ دلیل بھی آپ کی نا واقعی پر ایک دلیل ہے۔ احادیث صحیحین کے راوی تہمت فسق سے بری ہیں اور ان کی عدالت ثابت و محقق ہو چکی ہے۔ اس نظر سے ان کتابوں کی احادیث اتفاق اہل اسلام کے ساتھ صحیح تسلیم کی گئی ہیں۔ امام ابن حجر مقدمہ فتح الباری میں فرماتے ہیں۔ ینبغی لكل منصف ان يعلم ان تخرج صاحب الصحيح لاى راوى كان مفــض لعدالته عنده وصحة ضبطه وعدم غفلته ولا سيما الى ذلك من اطلاق جمهور الائمة على تسمية الكتابين بالانصاف بالصحيحين و هذا المعنى لم يحصل بغير من خرج عنه في الصحيحين فهونهاية اطباق الجمهور على تعديل من ذكر فيهما هذا اذا اخرج له فى الاصول فاما ان اخرج في المتابعات والشواهد والتعاليق فهذا يتفاوت درجات من اخرج له فى الضبط وغيره مع حصول اسم الصدق لهم وحينئذ اذا وجد نالغيره في احد منهم طعنا فذالك الطعن مقابل للتعديل لهذا الامام فلا يقبل الامبين السبب مفتقرا بقادح يقدح في عدالة هذا الراوي و في ضبطه مطلقا او فى ضبطه الخبر بعينه لان الاسباب الحاملة للائمة على الجرح متفاوتة منها ما يقدح و منها ما لا يقدح وقد كان الشيخ ابو الحسن المقدسي يقول في الرجل الذي يخرج عنه في الصحيح هذا جاز القنطرة يعنى بذالک انه لا يلتفت الى ماقيل فيه قال الشيخ ابو الفتح القشيري في مختصره وهكذا معتقد و به اقول و لا يخرج عنه الالحجة ظاهرة و بيان شاف يزيد في غلبة الظن على المعنى الذي قدمناه من اتفاق الناس بعد الشيخين على تسمية كتابيهما بالصحيحين و من لوازم ذلك تعديل رواتها قلت فلا يقبل الطعن في احد منهم الابقادح واضح ۔ اس کے مقابلہ میں جو آپ نے لکھا ہے کہ امکانی طور پر صدور کذب وغیرہ ذنوب ہر ایک سے بجز نبی کے ممکن الوقوع ہے یہ آپ کی ناوا پ کی نا واقعی پر ایک اور دلیل . بل ہے آپ یہ نہیں جانتے کہ روایت اور شہادت کا حکم دت کا حکم ایک ہے جس میں فعلی صدور کذب مانع قہ رب مانع قبول و اعتبار ہے نہ امکا ہے نہ امکانی اور اگر امکانی کذب بھی مانع قبول و اعتبار ہوتا تو خدا تعالیٰ کسی گواہ کی شہادت بجز نبی معصوم قبول نہ کرتا اور نہ عدالت شہود کا نام لیتا اور مسلمانوں کو یہ اجازت نہ دیتا وَّاَشۡہِدُوۡا ذَوَیۡ عَدۡلٍ مِّنۡکُمۡ(الطلاق: ۳) یعنی دو گواه عادل گواہ بناؤ اور نہ فرماتا مِمَّنۡ تَرۡضَوۡنَ مِنَ الشُّہَدَآءِ(البقرة: ۲۸۳) یعنی ان لوگوں کو گواہ بناؤ جن کو پسند کرو۔ یعنی بلحاظ عدل ان کے واستقامت کے اچھا سمجھو بلکہ صاف یہ فرمایا کہ ہر معاملہ میں نبی معصوم کو گواہ کر لیا کرو کیونکہ امکان کذب وغیرہ ذنوب بقول آپ کے بجز نبی معصوم کے ہر ایک گواہ میں موجود ہیں اور امید ہے کہ بات آپ بھی نہ کہیں گے کہ امکان کذب کی نظر سے شہادت بجز نبی معصوم کسی کی مقبول نہیں۔
پھر اس امکان کذب کی نظر سے روایت احادیث کیوں نا قابل اعتبار ٹھہراتے ہیں۔ آپ کے ایسے دلائل واقاویل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو فن حدیث کے کوچہ سے بالکل نا آشنائی ہے۔ آپ کو کتب حدیث پر اتفاقی نظر بھی نہیں پڑی ۔ صحیح مسلم کا چھٹا صفحہ اگر آپ کی صحیح مسلم کا چھٹا صفحہ اگر آپ کی نظر سے گزرا ہوا ہوتا تو آپ ہرگز اس آیت سے اپنے دعوے پر استدلال نہ کرتے۔ یہ آیت تو اس امر کی دلیل ہے کہ جب راویوں یا نا قلوں کے ظاہری صدق و عدالت کا حال معلوم نہ ہو تو ان کو بلا تحقیق قبول نہ کرو۔ نہ یہ کہ جن کا صدق و عدالت تم کو ثابت ہو ان کو نقل روایت میں اس خیال سے کہ ان سے صدور کذب ممکن ہے بلا تحقیق جد جدید نہ مانو۔
صحیح مسلم صفحہ ۶ میں ہے واعلم وفقك اللہ ان الـواجـب عـلـى كل احد عرف التميز بين صحيح الروايات وسقيمها وثقات ناقلين لها من المتهمين ان لا يروى منها الا ماعرف صحة مخارجه والستارة في ناقليه وان يتقى منها ما كان منها عن اهل التهم والمعاندين من اهل البدع والدليل على ان الذي قلنا من هذا هو اللازم دون ما خالفه قول اللہ تبارک و تعالی ذکره يا ايها الذين آمنوا ان جاء كم فاسق بنبأ فتبينوا ان تصيبوا قوما بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم نادمين وقال جل ثناء ه ممن ترضون من الشهداء وقال واشهدوا ذوى عدل منكم مدل بما ذكرنا من هذه الأي ان خبر الفاسق ساقط نجر مقبول و ان شهادة غير العدل مردودة والخبر وان فارق معناه معنی اشهاده في بعض الوجوه فقد يجتمعان فى اعظم معنيهما اذكان خبر الفاسق غير مقبول عند اهل العلم كما ان شهادته مردودة عند جميعهم میرے اس سوال کے جواب میں کہ قرآن مجید کو احادیث صحیحہ کا معیار صحت ٹھہرانے میں آپ کا کوئی شخص امام یا موافق ہے جو آپ نے فرمایا ہے کہ تمام مسلمان جو قرآن کو امام جانتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اس مسئلہ میں میرے موافق ہیں۔ اور خاص کر صاحب تفسیر حسینی یا شیخ محمد اسلم طوسی میرا موافق ہے جنہوں نے آنحضرت کے اس حکم سے کہ جو کچھ مجھ سے روایت کروا سے کتاب اللہ پر عرض کرو حديث من ترك الصلوة متعمدا فقد کفر کو قرآن پر عرض کیا اور تمہیں سال کے بعد اس کو آیت وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ(الروم: ۳۲) کے مطابق پایا۔ تو اس حدیث کو قبول کیا۔
اس کے پہلے حصہ کا جواب تو سابقا گذر چکا ہے کہ مسلمانوں کا قرآن کو امام ماننا اور اس پر ایمان لانا ہی نہیں چاہتا کہ وہ کوئی حدیث صحیح جب تک کہ اس کو قرآن پر عرض نہ کریں قبول نہ کریں بلکہ وہ ایمان ان کو یہ سکھلاتا ہے کہ وہ حدیث کو جب اس کی صحت بقوانین روایت ثابت ہو فوراً قبول کریں اور اس کو قرآن مجید کی مانند واجب العمل سمجھیں صرف قرآن مجید کو کافی سمجھ کر ☆ اس حدیث سے استغنا نہ کریں۔ رہا جواب دوسرے حصہ کا کہ صاحب تفسیر حسینی یا شیخ محمد اسلم طوسی نے آپکے اعتقاد کے موافق عمل کیا ہے اور حديث من ترك الصلوة متعمدا کو قبول نہ کیا جب تک کہ اس کو آیت اقیموا الصلوۃ کے مطابق و موافق نہ پایا۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ کلام صاحب حسینی یا شیخ محمد اسلم طوسی کا مطلب بیان کرنے میں آپ نے دو وجہ سے دھوکا کھایا یا دیدہ و دانستہ مسلمانوں کو دھو کہ دینا چاہا ہے وجہ اول یہ کہ صاحب تفسیر حسینی یا شیخ محمد اسلم طوسی نے آپ کی مانند یہ عام اصول نہیں ٹھہرایا کہ احادیث صحیحہ مسلم الصحت کی صحت ثابت ہو جانے کے بعد اس کی صحت کا امتحان اس اصول سے کیا جائے اور جب تک وہ حدیث مطابق قرآن نہ ہو اس کو صحیح نہ سمجھنا چاہئے ان کے کلام میں اس عام اصول کا نام ونشان بھی نہیں ہے اور نہ آپ نے یہ عام اصول ان سے نقل کیا ہے انہوں نے صرف ایک حدیث مـن تــرك الصلوة کو کتاب اللہ پر عرض کیا اور اگر اس حدیث کے سوا اور احادیث کو بھی انہوں نے اسی غرض کے ذریعہ سے صحیح قرار دیا ہے تو آپ یہ امران سے بہ نقل صحیح ثابت کریں ورنہ آپ پر یہ الزام قائم ہے کہ آپ جزئی واقع کو عام اصول بناتے ہیں اور خود دھوکہ کھاتے اور مسلمانوں کو دکھ دیتے ہیں اس پر اگر یہ سوال کرو کہ ان کے نزدیک یہ اصول صحیح روایات عام مقرر نہ تھا تو انہوں نے اس حدیث من ترك الصلوة کو قرآن پر کیوں عرض کیا تو جواب یہ ہے کہ اس حدیث کی صحت معنے میں ان کو کچھ شک ہوگا٭ جہ اس شک کو رفع کرنے کی غرض سے انہوں نے یہ عمل کیا یا یہ کہ با وجود تسلیم صحت و عدم شک انہوں نے حصول مزید طمانیت کیلئے ایسا کیا اور اس حدیث کے اعتقاد کو اور پختہ کیا۔ اس کے جواب میں اگر یہ کہو کہ اس مسئلہ کا عام اصول ہونا خود اس حدیث کے الفاظ سے ثابت ہے اس صورت میں یہ اصول گویا آنحضرت کا مجوزہ اصول ہوا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کا آنحضرت سے ثابت نہ ہونا بلکہ زندیقوں☆ چھپے کافروں کی بناوٹ ہونا سابقاً بخوبی ثابت ہو چکا ہے لہذا اس مسئلہ کا بحکم نبوی عام اصول ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ دوسری وجہ یہ کہ صاحب تفسیر حسینی یا شیخ محمد اسلم طوسی کے کلام میں یہ تصریح نہیں ہے کہ جب تک شیخ طوسی نے اس حدیث کو آیت اقیمو الصلوة کے موافق نہ کر لیا تھا تب تک اس کو غیر صیح یا وضعی سمجھا تھا۔ یا تیس سال کے عرصہ تک اس حدیث کی صحت یا عدم صحت کی نسبت کوئی فیصلہ نہ کیا تھا کیوں جائز نہیں کہ وہ اس حدیث کو مان چکے تھے مگر مزید اطمینان کیلئے وہ تیس برس تک قرآن مجید سے اس کا موافق ہونا تلاش کرتے رہے آپ سچے ہیں تو اس احتمال کو دلیل سے اٹھاویں اور بہ نقل صریح ثابت کریں کہ شیخ طوسی تمیں سال تک اس حدیث کو غیر صحیح یا موضوع سمجھتے رہے یا اس کی صحت میں متردد و متوقف رہے ۔ اس احتمال کو بدلائل اٹھا کر اس امر کو بہ نقل صریح ثابت کرنے کے بغیر آپ کا اس قول شیخ طوسی سے استدلال کرنا اور اس پر یہ درخواست کرنا کہ میں نے ایک آدمی کا نام اپنے موافقین سے بتا دیا ۔ اب آپ ضد چھوڑ دیں کمال تعجب کا محل ہے اور شرم کا موجب ثبت العرش ثم النقش آپ شیخ محمد اسلم طوسی سے اس عرض کا عام اصول صحت احادیث ہونا یا تیس سال کا خاص کر حدیث من ترك الصلوۃ کی صحت میں متوقف رہنا ثابت کریں تو ہمارے انکار کو ضد کہیں۔ یہ نہ ہو سکے تو اس حدیث کی صحت ہی ثابت کریں پھر ہم شیخ محمد اسلم طوسی سے ان امور کا ثبوت بہم پہنچانے کے طالب نہ رہیں گے اور اس حدیث کو جس کا مضمون خود ایک اصول ہے تسلیم کر کے اپنے انکار سے رجوع کریں گے واللہ ثم باللہ ثم تاللہ و كفى باللہ شهيدا و كفى باللہ و کیلا ۔ اور اگر آپ صحت حدیث ثابت نہ کر سکیں یا شیخ طوسی سے امور مذکورہ بہ نقل صریح ثابت نہ کریں تو آپ اپنے مخترعہ مستحدثہ٭ اصول پر اصرار و ضد چھوڑ دیں ۔ زیادہ ہم کیا کہیں ۔
(۵) آپ لکھتے ہیں کیا آپ قرآن کریم کی ان خوبیوں کے بارہ میں کہ وہ محک اور معیار اور میزان ہے کچھ شک میں ہیں یہ کمال دھو کہ رہی ہے اور وہ اپنے پرچہ نمبر میں میرا یہ اقرار کہ میں قرآن کو امام جانتا ہوں اور احادیث صحیحین کو قرآن کے برابر نہیں سمجھتا نقل کرنے کے بعد یہ استفسار ایک افترا ہے جس سے مقصود صرف اپنے بے علم حاضرین مریدوں کو میری طرف سے بد ظن کرنا ہے اور یہ جتانا ہے کہ یہ شخص قرآن کو نہیں مانتا۔ اس کا جواب میں پہلے بھی دے چکا ہوں کہ جو شخص قرآن کو حکم و امام نہ مانیں وہ کا فر ہے۔ اب پھر کہتا ہوں کہ قرآن ہار احکم امام میزان معیار قول فصل وغیرہ ہے مگر آپ اپنے غیر پر یعنی لوگوں کے باہمی اختلافات و تنازعات پر جو رائے پر مبنی ہوں اور حدیث صحیح تو خادم و مفسر قرآن اور وجوب عمل میں مثل قرآن ہے وہ اس سے مخالف و متنازع نہیں اور کسی مسلمان کا اس کی صحت قبول کرنے میں اختلاف نہیں تو پھر قرآن اس کی صحت کا حکم و معیار و محک کیونکر ہو سکتا ہے۔ اے خدا کی مخلوق خدا سے ڈرو۔ مسلمانوں کو دھو کہ میں نہ ڈالو قرآن وحدیث صحیح ایک ہی چیز ہیں اور ایک دوسرے کے مصدق ہیں تو پھر ایک کا دوسرے کے محک و معیار ہونا کیا معنے رکھتا ہے☆ آپ لکھتے ہیں کہ موضوع ہونا کسی حدیث کا اور بات ہے ضعیف ہونا اور ہے اور میں نے صحیح مسلم کی حدیث دمشقی کے ضعیف ہونے کا امام بخاری کو قائل قرار دیا ہے انہوں نے اس حدیث کی روایت کو ترک کیا تو اس سے مجھے معلوم ہوا کہ انہوں نے اس حدیث کو ضعیف سمجھا ہے جس کو موضوع ہونے سے کوئی تعلق نہیں اس قول میں ایک تو آپ نے دھو کہ دیا ہے دوسرا اپنی نا واقعی کا اظہار کیا ہے۔ دھو کہ یہ کہ یہاں آپ ضعیف اور موضوع میں فرق کو تسلیم کرتے ہیں حالانکہ آپ کے نزدیک جو حدیث موافق قرآن نہ ہو وہ موضوع ہے اور کلام رسول ہونے سے خارج نہ اور قسم کے ضعیف یہی وجہ ہے کہ آپ اپنے پر چہائے نمبر میں ایسی حدیثوں کو بھی موضوع کہتے ہیں بھی غیر صحیح وضعیف جس۔ ع کہتے ہیں بھی غیر صیح وضعیف جس سے صاف ثابت ہے کہ آپ کی اصطلاح میں موضوع وضعیف ایک ہے اور صحیح مسلم کی حدیث دمشقی کو بھی آپ قرآن کریم کے مخالف سمجھتے ہیں اور رسالہ ازالہ میں اس کی وجوہ مخالفت بڑے زور سے بیان کر چکے ہیں لہذا وہ آپ کے نزدیک موضوع ہے نہ اور قسم کی ضعیف ۔ یہاں آپ اس اعتقاد کو جتا کر مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں جس نا واقفی کا آپ نے اظہار کیا ہے وہ یہ ہے کہ روایت صحیح مسلم کو امام بخاری کے ترک کرنے سے آپ نے یہ اجتہاد کیا ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے سچ سمجھتے تو وہ اس کو ضرور اپنی کتاب میں لاتے۔
یہ بات وہی شخص کہے گا جس کو حدیث کے کوچہ میں بھولے سے بھی گذر نہ ہوا ہوگا۔ امام بخاری نے بہت سی احادیث صحیحہ کو اپنی کتاب میں ذکر نہیں کیا اور یہ فرما دیا ہے کہ میں نے ان کو بخوف طوالت ترک کر دیا ہے ۔☆ صحیح بخاری کے مقدمہ میں ہے وروى من جهات عن البخاري قال صنفت كتاب الصحيح بست عشر سنة اخرجته من ستة مأية الف حديث وجعلته حجة بيني و بين اللہ - وروى عنه قال رأيت النبي صلعم في المنام وكأني واقفت بين يديه وبيدى مروحة اذب عنه فسألت بعض المعبرين فقال انت تذب عنه الكذب فهو الذي حملني على اخراج الصحيح. وروى عنه قال ما ادخلت في كتاب الجامع الا ماصح و تركت كثيرا من الصحاح لحال الطول ۔ امام بخاری سے یہ بھی منقول ہے کہ مجھے دولاکھ حدیثیں غیر صحیح اور ایک لاکھ صحیح یاد ہیں ۔ باوجود یکہ صحیح بخاری میں چار ہزار حدیثیں منقول ہیں جس سے ثابت ہے کہ چھیا نویں ہزار حدیث اور امام بخاری کے نزدیک صحیح ہیں جن کو وہ اپنی کتاب میں نہیں لائے ۔ وجملة مـا فــي الـصـحـيح البخـاري مـن الاحاديث المسندة سبعة الاف ومئتان و خمسة و سبعون حديثا بالاحاديث المكررة و بحذف المكررة نحو اربعة الاف كذا ذكر النووي في التهذيب والحافظ بن حجر في مقدمة فتح الباري ۔
شیخ عبدالحق نے مقدمہ شرح مشکوۃ میں کہا ہے ونقل عن البخاري انــه قال حفظت من الصحاح مائة الف حديث ومن غير الصحاح مأتى الف۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ امام بخاری کا کسی حدیث صحیح کی روایت کو ترک کرنا اس امر کا مثبت نہیں ہے کہ انہوں نے اس کو ضعیف قرار دیا۔ امام بخاری کا ترک روایت حدیث مسلم کیونکر موجب ضعف ہو۔ امام مسلم نے خود اپنی کتاب میں بہت سی احادیث کو جن کو وہ صحیح سمجھتے ہیں ذکر نہیں کیا۔ جیسا کہ مقدمہ شرح مشکوۃ میں ہے۔ قال مسلم الذی اوردت في هذا الكتب من الاحاديث صحيح ولا اقول ان ماتركت ضعیف
امام مسلم نے خود اپنی کتاب صحیح میں فرمایا ہے لیس كل شئ عندى صحيح وضعته هنا يـعـنــي فـي كتاب الصحيح وانما وضعت ههناما اجمعوا علیہ آپ دل میں سوچ کر انصاف سے کہیں کہ امام بخاری یا خود امام مسلم کی کسی حدیث کی روایت کو ترک کرنے سے یہ کہاں لازم آتا ہے کہ وہ حدیث ان کے نزدیک صحیح نہ ہو۔ آپ اٹکل پچو ایسی باتیں کہہ کر یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ فن حدیث سے آپ کو کوئی تعلق اور کچھ مس نہیں اس الزام دھوکہ دہی و نا واقفی کو آپ مانیں خواہ نہ مانیں آپ کے کلام سے تو یہ ثابت ہوتا ہے جس کے ماننے سے آپ کو بھی انکار نہیں کہ حدیث دم و مشقی صحیح مسلم کو آپ نے اپنے اجتہاد سے ضعیف قرار دیا ہے اور آپ کے اعتقاد مخفی توہین صحیحین کے اظہار کے لئے اس مقام میں اسی قدر بس ہے۔
اہل حدیث جو آپ کے پنجہ میں گرفتار ہیں آپ کے اس قول واقرار سے یقین کریں گے کہ آپ حدیث صحیح مسلم کو ضعیف قرار دیتے ہیں اور اس پر جو فتوی لگائیں گے وہ مخفی نہیں ہے۔
( ۶ ) آپ لکھتے ہیں کہ ازالہ الا وہام میں احادیث صحیح بخاری و صحیح مسلم کی نسبت میں نے یہ قطعی فیصلہ نہیں دیا کہ وہ موضوع ہیں بلکہ شرطیہ طور پر کہا ہے کہ اگر ان کے باہمی تناقض کو دور نہ کیا جائے گا تو ایک جانب کی حدیثوں کو موضوع ماننا پڑے گا ۔ یہ آپ کی محض حیلہ سازی ہے۔ جس مقام میں آپ نے ان حدیثوں کو موضوع کہا وہاں شرط تناقض بیان نہیں کی بلکہ بڑے زور سے پہلے ان کا تعارض ثابت کیا ہے پھر ان پر موضوع ہونے کا حکم لگا دیا ہے جس سے صاف ثابت ہے کہ آپ کے نزدیک ان احادیث میں تعارض و تناقض متحقق ہے و بناء علیہ وہ احادیث آپ کے نزدیک موضوع ہیں۔ ہاں آپ نے ان احادیث میں کچھ کچھ تاویلیں بھی کی ہیں جن سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ وہ تاویل بغرض صحت احادیث مذکورہ آپ کرتے ہیں آپ کے کلام سے صاف یہ مفہوم ہوتا ہے کہ وہ احادیث اول تو آپ کے نزدیک صحیح نہیں موضوع ہیں اور اگر بالفرض وہ صحیح مانی جائیں تو پھر وہ آپ کے نزدیک تاویلات سے ماوّل ہیں۔ یہ مطلب آپ کی ان عبارات ازالہ اوہام سے جو ہم پر چہ نمبر میں نقل کر چکے ہیں ان میں بلا شرط آپ نے ان احادیث کو موضوع کہا ہے صاف ثابت ہے۔ آپ اس کے خلاف کے مدعی اور اپنے دعوی حال میں سچے ہیں تو اس مضمون کی عبارت نقل کریں جس میں پہلے آپ نے قطعی اور صاف طور پر ان احادیث کو صحیح مان لیا ہو پھر اس بیان صحت کے بعد شرطیہ طور پر یہ کہا ہو کہ ان احادیث کی تاویل نہ کی جائے تو یہ موضوع ٹھہرتی ہیں۔ آپ اپنی کتاب سے یہ تصریح نکال دیں گے تو ہم آپ کو اس الزام سے کہ آپ نے صحیحین کی احادیث کو موضوع قرار دیا ہے بری کر دیں گے۔ ورنہ کس و ناکس کو یقین ہو گا کہ در حقیقت آپ صحیح بخاری و مسلم کی حدیثوں کو موضوع ٹھہرا چکے ہیں ۔ مگر آپ اتباع عوام اہل حدیث کے خوف سے ان کو موضوع کہنے سے انکار کرتے ہیں تا کہ وہ عوام آپ کو منکر احادیث نہ کہیں اور زمرہ اہل سنت سے خارج نہ کریں۔
(۷) آپ لکھتے ہیں میرے نزدیک اجماع کا لفظ اس حالت پر صادق آ سکتا ہے کہ جب صحابہ میں سے مشاہیر صحابہ اپنی رائے کو شائع کریں اور دوسرے باوجود سننے کے اس رائے کی مخالفت ظاہر نہ فرماویں سو یہی اجماع ہے ۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ ابن عمر و جابر نے ابن صیاد کو دجال کہا تو یہ امر باقی صحابہ سے پوشیدہ نہ رہا ہوگا ۔ سو میرے نزدیک یہی اجماع ہے آپ کے نزدیک یہ اجماع نہیں تو آپ بتا دیں کہ کس صحابی نے ابن صیاد کے دجال ہونے سے انکار کیا ہے۔ پھر آپ لکھتے ہیں کہ حضرت عمر کے ابن صیاد کو دجال کہنے پر آنحضرت صلعم نے سکوت کیا ہے اور یہ ہزار اجماع سے افضل ہے ان عبارات میں آپ نے میرے سوالات کا نمبرا کہ یہ تعریف اجماع جو آپ نے لکھی ہے وہ کس کتاب میں ہے۔ نمبر ۲ بعض صحابہ کے اتفاق کو کون اجماع کہتا ہے نمبر ۳ سکوت باقی صحابہ پر نقل صحیح کی کہاں شہادت پائی جاتی ہے اس کو نقل کریں غالباً اور ہو گا سے کام نہ لیں ۔ کچھ جواب نہ دیا اور پھر اپنے خیالات سابقہ کو دو باره نقل کر دیا جس سے صاف ثابت ہے کہ آپ علمی سوالات کو سمجھ نہیں سکتے اور مسائل متعلقہ اجماع سے واقف نہیں یا دیدہ و دانستہ مسلمانوں کو دھوکہ دہی کی غرض سے ان کے جواب سے جو آپ کے دعاوی کے مبطل ہیں چشم پوشی کرتے ہیں اب میں ان سوالات کا پھر اعادہ نہیں کرتا کیونکہ میں آپ سے جواب ملنے کی امید نہیں رکھتا ۔٭ اور بجائے اس کے آپ کی باتوں کا خود ایسا جواب دیتا ہوں جس سے ثابت ہو کہ آپ نے جو کچھ کہا ہے وہ آپ کی نا واقعی پر مبنی ہے اور وہ میرے سوالات کا جواب نہیں ہو سکتا۔ آپ نے پرچہ نمبر میں تین شخصوں کی جماعت کے اتفاق کو اجماع قرار دیا تھا جو محض غلط اور نا واقعی پر مبنی ہے علماء اسلام جو اجماع کے قائل ہیں اجماع کی تعریف یہ کرتے ہیں وہ ایک وقت کے جملہ مجتہدین کے جن میں ایک شخص بھی متنفر دو مخالف نہ ہوا اتفاق کا نام ہے۔ توضیح میں ہے هــو اتــفـــاق المجتهدين من امة محمد صلعم في عصر علی حکم شرعی ۔ کتب اصول میں یہ بھی مصرح ہے کہ خلاف الواحد مانع یعنی ایک مجتہد بھی اہل اتفاق کا مخالف ہو تو پھر اجماع متحقق نہ ہوگا ۔ مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت میں ہے۔ قبل اجماع الاكثر مع ندرة المخالف اجماع كغيرا بن عباس اجمعوا ما يقول على العول وغيرابي موسى الاشعرى اجمعوا على نقض النوم الوضوء وغير ابى هريرة وابن عمر اجمعوا على جواز الصوم في السفر والمختارانه ليس باجماع لانتفاع الكل الذي هو مناط العصمة اور نیز اس میں ہے لا ینعقد الاجماع باهل البيت وحدهم لانهم بعض الامة خلافا للشيعة اور نیز اس میں ہے ولا ينعقد بالخلفاء الاربعة خلافا لاحد الامام ۔ سکوت باقی اصحاب سے آپ نے اجماع استنباط کیا ہے ۔ مگر اس کا ثبوت نہیں دیا بلکہ الٹا ہم سے ثبوت مخالفت طلب کیا ہے یہ ثبوت پیش کرنا ہما را فرض نہ تھا۔ مگر ہم آپ پر احسان کرتے ہیں ۔ آپ کو سکوت کل کا ثبوت پیش کرنا معاف کر کے خود ثبوت خلاف پیش کرتے ہیں۔ پس واضح ہو کہ ابن صیاد کو دجال موعود نہ سمجھنے والے ایک ابو سعید خدری صحابی ہے ان سے صحیح مسلم میں منقول ہے قال صحبت ابن صياد الى مكة فقال لى أما قد لقيت من الناس يزعمون أني الدجال الست سمعت رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم يقول انه لا يولد له قال قلت بلى قال فقد ولد لی اولیس سمعت رسول اللہ صلعم يقول لا يدخل المدينة ولا مكة قلت بلى قال فقد ولدت بالمدينة وهذا انا اريد مكة قال ثم قال لي في اخر قوله اما واللہ اني لاعلم مولده ومكانه و اين هو قال فلبسنی ۔ ابوسعید خدری کا یہ لفظ لبسنی صاف مشعر ہے کہ وہ دجال ابن صیاد کو یقیناً دجال موعود نہ سمجھتے تھے بلکہ اس میں ان کو لبس یعنی شبہ تھا۔ دوسرے تمیم داری جو دجال کو اپنی آنکھ سے ایک جزیرہ میں مقید دیکھ کر آئے تھے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے۔
وفي رواية فاطمة بنت قيس ....... قالت سمعت نداء المنادى رسول اللہ صلعم ينادى الصلوة جامعة فخرجت الى المسجد فصليت مع رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم فكنت في صف النساء الذى يرى ظهور القوم فلما قضى رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم صلوته جلس على المنبر وهو يضحك فقال ليلزم كل انسان مصلاه ثم قال اتدرون لم جمعتكم قال اللہ و رسوله اعلم قال انی و اللہ ما جمعتكم لرغبة و لا لرهبة و لكن جمعتكم۔ لان تميم الدارى كان رجلا نصرانيا فجاء فبايع فاسلم وحدثني حديثا وافق الذي كنت احدثكم عن مسيح الدجال حدثني انه ركب في سفينة بحرية مع ثلثين رجلا من لخم وجزام فلعب بهم الموج شهرا في البحر ثم رفعوا الى جزيرة في البحر حين تغرب الشمس فجلسوا في اقرب السفينة فدخلوا الجزيرة فلقيتهم دابة اهلب كثير الشعر لا يدرون ما قبله من دبره من كثرة الشعر فقالوا ويلك ما انت قالت انا الجساسة قالوا وما الجساسة قالت يا ايها القوم انطلقوا الى هذا الرجل في الدير فانه الى خبركم بالاشواق قال لما سمت لنا رجلا فرقنا منها ان تكون شيطانة قال فانطلقنا سراعاً حتى دخلنا الدير فاذا فيه اعظم انسان رأيناه قط خلقا و اشد وثاقا مجموعة يداه الى عنقه ما بين ركبتيه الى كعبيه بالحديد قلنا ويلك ما انت قال قدرتم على خبرى فاخبروني ما انتم قالوا نحن اناس من العرب ركبنا في سفينة بحرية فصادفنا البحر حين اغتلم فلعب بنا الموج شهرا ثم ارفئنا الى جزيرتك هذه فجلسنا في اقربها فدخلنا الجزيرة فلقينا دابة اهلب كثير الشعر لاندرى ما قبله من دبره من كثرة الشعر فقلنا ويلك ما انت فقالت انا الجساسة قلنا ما الجساسة قالت اعمدوالى هذا الرجل في الدير فانه الى خبركم بالاشواق فاقبلنا الیک سراعا وفزعنا منها ولم نطمئن ان تكون شيطانة فقال اخبروني عن نخل بيسان قلنا عن اى شاهـنـا تستخبر قال اسئلكم عن نخلها هل يثمر قلنا له نعم قال اما انها یوشک ان لا تثمر قال اخبروني عن بحيرة طبرية قلنا عن اى شاهنا تستخبر قال هل فيها ماء قالوا هي كثيرة الماء قال اما ان ماءها يوشك ان يذهب قال اخبروني عن عين زغر قالوا عن اى شاهنا تستخبر قال بل في العين ماء وهل يزرع اهلها بماء العين قلنا له نعم هي كثيرة الماء واهلها يزرعون من ماءها قال اخبروني عن نبي الاميين ما فعل قالوا قد خرج من مكة ونزل بيثرب قال القاتله العرب قلنا نعم قال كيف صنع بهم فاخبرناه انه قد ظهر على من يليه من العرب واطاعوه قال لهم قد كان ذاك قلنا نعم قال اما ان ذاك خير لهم يطيعوه وانی مخبر كم عنى اني انا المسيح الدجال وانی اوشك ان يوذن لي في الخروج فاخرج فاسير في الارض فلا ادع قرية الا هبطتها في اربعين ليلة غير مكة و طيبة فهما محرمتان على كلماتها كلما اردت ان ادخل واحدة او واحدا منهما استقبلنی ملک بیده السیف سلطایصدنی عنها وان على كل نقب منها ملائكة يجرسونها قالت قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم وطعن بمخصرته في المنبر هذه طيبة هذه طيبة يعنى المدينة الاهل كنت حدثتكم ذالک فقال الناس نعم فانه اعجبنى حديث تميم انه وافق الذي كنت احدثكم عنه و عن المدينة ومكة الا انه في بحر الشام او بحر اليمن لابل من قبل المشرق ماهو من قبل المشرق ماهو او مى بيده الى المشرق قالت فحفظت هذا من رسول اللہ صلعم
اس حدیث سے صاف ثابت ہے کہ تمیم داری نے دجال کو آنکھ سے دیکھا پھر کیونکر ممکن تھا کہ وہ قول ابن عمر کے موافق ابن صیاد کو دجال سمجھتے آپ نے اس حدیث کا ضعف ایک دوست کے حوالہ سے نواب صدیق حسن خاں صاحب مرحوم سے نقل کیا ہے۔ اس کا جواب ہم اس وقت دیں گے جب آپ نواب صاحب کا اصل کلام نقل کریں گے۔
تیسرے وہ لوگ جو حضرت ابن عمر کے منہ پر ابن صیاد کے دجال ہونے سے انکار کر چکے تھے چنانچہ صحیح مسلم کے صفحہ ۳۹۹ میں حضرت ابن عمر سے منقول ہے فقلت لبعضهم هل تحدثون انه هو قال لا واللہ قال قلت كذبتني واللہ لقد اخبرني بعضكم انه لا يموت حتى يكون اكثر مالا وولدا فذالك هو زعم اليوم یعنی حضرت ابن عمر نے کہ میں نے بعض لوگوں کو ( جن سے ان کے معاصر اصحاب مراد ہیں ) کہا کہ کیا تم کہتے ہو کہ ابن صیاد دجال ہے تو وہ بولے بخدا ہم نہیں کہتے میں نے کہا تم مجھے جھوٹا کرتے ہو بخدا تم ہی سے بعض نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ دجال صاحب اولاد ہو کر مرے گا اور اب وہ ( ابن صیاد ) ایسا ہی صاحب اولاد ہے یہ قول ابن عمر اس امر پر نص صریح ہے کہ ابن صیاد کو اور لوگ حضرت ابن عمر کے معاصر دجال نہیں جانتے ہیں اور ان کے سامنے ان کی رائے سے خلاف ظاہر کرتے تھے۔
صرف حضرت ابن عمر ہی کا یہ ایسا قول تھا کہ جس میں ابن صیاد کو دجال موعود بلفظ مسیح الدجال کہا گیا ہے کیونکہ جابر و حضرت عمر کے قول سے یہ تصریح نہیں ہے کہ وہ دجال موعود ہے بلکہ انہوں نے ابن صیاد کو صرف دجال کہا ہے جس سے منجملہ تمھیں ۳۰ دجالوں کے ایک دجال مراد ہو سکتا ہے۔ چنانچہ عنقریب اس کا ثبوت آتا ہے اور جب کہ حضرت ابن عمر کے صریح قول پر انکار مانا گیا ہے تو اس سے بڑھ کر خلاف کے تصریح آپ کیا چاہیں گے ۔ آپ کے حواری حکیم نور الدین نے ہمارے سوال نمبری ۲۱ کے جواب میں اس اختلاف کو تسلیم کیا اور یہ کہا ہے کہ دجال کی نسبت مختلف خیال ہیں ۔
آپ نے بڑا غضب ڈھایا کہ ابن صیاد کے دجال ہونے پر اجماع صحابہ کا دعویٰ کر لیا اپنے حواری سے تو مشورہ کر لیا ہوتا آخر میں جو آپ نے قول فاروقی پر آنحضرت صلعم کے سکوت کرنے کا دعوی کیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عمر نے جو آنحضرت کے سامنے ابن صیاد کو دجال کہا اور اس پر قسم کھائی تھی اس میں یہ تصریح علمی ہے کہ ابن صیاد ہی وہ دجال ہے جس کے آنے کی آنحضرت نے علامات خاصہ بیان کر کے خبر دی تھی اور جملہ انبیاء سابقین نے اپنی امت کو ڈرایا تھا لہذا ممکن و محتمل٭ ہے کہ حضرت عمر کے اس قول سے یہ مراد ہو کہ ابن صیاد منجملہ ان تیس دجالوں کے ہے جن کے خروج کی آنحضرت نے خبر دی ہے اس صورت میں آنحضرت کا سکوت آپ کیلئے کچھ مفید نہیں ہے کیونکہ یہ سکوت ابن صیاد آخری دجال کہنے پر نہ ہوا بلکہ کوئی اور دجال منجملہ دجا جلہ ملا علی قاری نے مرقاۃ شرح مشکوۃ میں کہا ہے ۔ قيـل لــعــل عمر اراد بذالك ان ابن صياد من الدجالين الذين يخرجون فيدعون النبوت ويضلون الناس ويلبسون عليهم اس پر شاید آپ یہ اعتراض کریں کہ جابر کے قول ابن صياد الدجال میں جو حضرت عمر کی طرف بھی منسوب ہوا ہے لفظ دجال پر الف ولام بتا رہا ہے کہ دجال سے ان کی مراد خاص دجال ہے نہ کہ کوئی دجال اور علماء معنے و بیان نے کہا ہے کہ خبر معرف بلام ہو تو اس کا مبتدا میں قصر ہوتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اگر دجال سے آخری دجال مراد نہ لیں بلکہ منجملہ میں تیس دجال کے ایک دجال مراد ٹھہرا ئیں تو اس صورت میں بھی خاص دجال کی طرف الف ولام کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ رہا جواب قصر سو یہ ہے کہ خبر معرف بلام مقدم ہو جیسا کہ ابن عمر کے قول المسيح الدجال ابن صیاد میں ہے تو بے شک و بلا اختلاف خبر کا مبتدا پر قصر ہوتا ہے مگر در صورتیکہ خبر موخر ہو تو اس کا مفید قصر ہونا حل اختلاف ہے۔ صاحب کشاف نے فایق میں اس سے انکار کیا ہے۔ چنانچہ فاضل عبدالحکیم سیالکوٹی نے مطول کے حاشیہ میں کہا ہے قال مال صاحب الكشاف الى التفرقة بينهما حيث ذكر في الفائق ان قولك اللہ هو الدهر معناه انه الجالب للحوادث لاغير الجالب و قولک الدهر هو اللہ معناه ان الجالب للحوادث هو اللہ لاغيره ۔ بناءً علیہ لام الدجال سے قصر ثابت نہیں ہوتا ۔ لام کو عہدی کہو یا جنسی اور قول جابر یا حضرت عمر کے معنے یہ بنتے ہیں کہ ابن صیاد دجال ہے نہ کچھ☆ اور یہ معنے نہیں ہیں کہ دجال وہی ہے نہ کوئی اور مگر ان باتوں کے سمجھنے کیلئے علم بیان وادب و معانی میں دخل درکار ہے جس سے آپ اس احتمال کو کہ حضرت عمر نے دجال سے تیس ۳۰ دجالوں میں سے ایک دجال مراد رکھا تھا کسی دلیل سے الٹاویں اور ان کے صریح الفاظ سے ثابت کریں کہ دجال سے ان کی مراد آخری دجال تھا تو پھر ہم اس کا جواب یہ دیں گے کہ آنحضرت صلعم نے حضرت عمر کو جب انہوں نے ابن صیاد کو قتل کرنا چاہا تھا یہ فرمایا تھا کہ ابن صیاد وہ دجال ہے تو تجھے اس کے قتل پر قدرت نہ ہوگی اس کے قاتل حضرت عیسی علیہ السلام ہیں چنانچہ صحیح مسلم میں ہے فقـال عـمـر بـن الخطاب ذرنى يارسول اللہ اضرب عنقه فقال له رسول اللہ صلعم ان يكنه فلن تسلط عليه وان لم يكنه فلا خیر لک فی قتلہ ۔ ابوداؤد کی روایت میں یوں آیا ہے ان یکن فلست صاحبه انما صاحبه عیسی ابن مریم وان لا يكن هو فليس لك ان تقتل رجلا من اهل الذمة اس قول آنحضرت صلعم سے صاف ثابت ہے کہ آنحضرت نے حضرت عمر کو اس خیال سے (انہوں نے بالفرض ظاہر کیا ہو خواہ دل میں رکھا ہو ) ابن صیاد دجال موعود ہے روک دیا اور بناء علیہ اس کے قتل سے منع کر دیا۔ اس قول نبوی کے کتب احادیث میں موجود ہونے کے ساتھ یہ کہنا کہ آنحضرت نے حضرت عمر کے ابن صیاد کو دجال موعود کہنے یا سمجھنے پر سکوت کیا اسی شخص کا کام ہے جس کو حدیث بلکہ کسی شخص کا کلام سمجھنے سے کوئی تعلق نہ ہو۔
اس بیان سے صاف ثابت ہے کہ آپ نے جو کچھ اس باب میں لکھا ہے وہ فن حدیث اصول فقه علم معانی و بیان وادب وغیرہ سے نا واقعی پر مبنی ہے۔
(۸) آپ لکھتے ہیں کہ کسی کو کسی بات کا قائل ٹھہرانا تصریح پر موقوف نہیں اس امر کی نسبت اس کے اشارات پائے جانے سے بھی اس کو قائل بنایا جاتا ہے۔ آنحضرت کا ایک مدت طویل تک ابن صیاد کے دجال ہونے سے ڈرتے رہنا احتمال امر نہیں۔ آنحضرت نے زبان سے ڈر سنایا ہوگا تب ہی صحابی نے لم یزل کا لفظ فرمایا آنحضرت اور سبھی انبیاء دجال سے ڈراتے آئے ہیں ۔
ایک شخص کا دس برس سے دہلی کی طیاری کرنا کوئی بیان کرے تو اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس شخص نے دہلی جانے کا ارادہ کبھی زبان سے بتایا ہوگا۔
اور اگر یہی احتمال مسلم ہو کہ آنحضرت کے حالات سے ان کا ڈرنا صحابی نے اس کا ڈرنا سمجھ لیا تھا تو یہ بھی احتمال ہے کہ زبان سے سنا ہو اور لفظ لم یزل سے یہ احتمال قوی ہوتا ہے۔ اس صورت میں آپ کا مجھ کو مفتری کہنا بے جا ہے۔
اس سے آپ کا افتراء سابق اور پختہ و متیقن ہوتا ہے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے جو پہلے کہا تھا وہ خطاء نہیں کہا عمداً افتراء کیا ہے اور اس پر آپ کو اب تک ایسا اصرار ہے کہ جتانے سے بھی باز نہیں آتے اور اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرتے محدثین نے بیان کیا ہے کہ جو شخص روایت حدیث میں غلطی پر متنبہ کیا جاوے اور پھر اس سے باز نہ آئے وہ ساقط العدالت ہو جاتا ہے۔
آپ کا یہ کہنا کہ اشارات سے بھی ایک شخص کو ایک امر کا قائل بنا یا جاتا ہے تب آپ کے حق میں مفید ہو جب کہ صحابی آنحضرت کو اس قول کا قائل بنا تا جس کا قائل آنحضرت کو آپ نے بنا دیا ہے صحابی نے آنحضرت کو قائل قول مذکور نہیں بنایا بلکہ اپنا خیال بیان کیا ہے تو پھر اس کہنے سے آپ کو کیا فائدہ ہے کہ اشارات سے بھی قائل بنایا جاتا ہے آنحضرت کی طرف کسی قول کو منسوب کرنا اسی صورت و پیرایہ میں حلال ہے جس صورت و پیرا یہ میں آپ نے فرمایا ہوا شارہ ہو تو اشارہ صراحت ہو تو صراحہ آنحضرت نے فرمایا ۔ اتقوا عنی الا ما علمتم فمن كذب على متعمدا فليتبوء مقعده من النار آپ کی کتب حدیث میں اگر نظر ہو تو آپکو معلوم ہو کہ آنحضرت کے اصحاب آپ سے کوئی ایسا لفظ نقل نہ کرتے جو آپ نے نہ فرمایا ہوتا اور اگر ان کو اصل لفظ حضرت رسالت میں شک واقع ہو جاتا تو شک وتر دو کے ساتھ الفاظ بیان کرتے آپ نے باوجود یکہ آپ کو یہ علم نہ تھا کہ آنحضرت صلعم نے وہ الفاظ فرمائے ہیں جو آپ نے نقل کئے ہیں اور اب تک اس کا علم پر یقین نہیں صرف خیالی احتمال ہے پھر آپ نے اس لفظ کو آنحضرت کی طرف منسوب کیا تو بجز افتر اعمدی اور کیا ہو سکتا ہے۔
آنحضرت کے ابن صیاد کے ڈرنے کو احتمالی کون کہتا ہے ۔ وہ ہمیشہ اس سے اور اصحاب اس امر کو ملاحظہ کرتے تب ہی ایک صحابی نے یہ کہہ دیا کہ ہمیشہ آنحضرت ڈرتے تھے لفظ ہمیشہ ( مـــــالـــم یزل ) کو یہ لازم نہیں ہے کہ آپ زبان سے بھی یہ فرمادیا کرتے کہ میں ڈرتا ہوں ۔
پہلے انبیاء اور آنحضرت صلعم اجمعین نے بے شک دجال موعود سے ڈرایا ہے مگر اس سے یہ نکالنا کہ آپ نے ابن صیاد کو دجال کہہ کر ڈرایا ہے آنحضرت پر ایک اور افترا ہے دجال سے ڈرانا ابن صیاد سے ڈرانا نہیں ہے خدا سے ڈرو آنحضرت پر افترانہ کرتے جاؤ۔
تیاری دہلی کی مثال میں آپ نے مسلمانوں کو دھو کہ دیا ہے ایک شخص کو دس برس سے اگر کوئی دیکھے کہ وہ وقتا فوقتا د ہلی کا ٹکٹ خرید کر واپس کر آتا ہے اور ایسی حالت میں آخری برس تک وہ رہا ہے تو اس کی نسبت یہ کہ سکتا ہے کہ وہ دس برس سے تیار ہے۔ گو تیاری کا حرف کبھی زبان پر نہ لاوے ہم سے ایک اور مثال سنیئے ایک شخص مدت العمر نمازوں اور دعاؤں میں زاری کرتا رہے احکام شریعت کا پابند ہو خدا کا اور بندوں کا حق تلف نہ کرے اس کی نسبت کس و ناکس بشرطیکہ فاتر الحواس نہ ہو یہ کہہ سکتا ہے اور سمجھ سکتا ہے کہ وہ خدا سے ڈرتا ہے گو وہ منہ سے کبھی نہ کہے کہ میں خدا سے ڈرتا ہوں۔
ایک احتمال کے مقابل دوسرا احتمال ہو تو مدعی کو اس سے استدلال درست نہیں ہے اس کے خصم منکر کو پہنچتا ہے کہ وہ اس احتمال سے تمسک کر کے بحکم اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال ۔ مدعی کے استدلال کو توڑ دے۔ آپ اس امر سے نا واقف ہیں تب ہی مدعی ہو کر احتمال سے استدلال کرتے ہیں۔
افترا آ پکی قدیم سنت ٭ ہے ان افتراؤں کے علاوہ جو ثابت کئے گئے ہیں آپ نے رسالہ ازالہ کے صفحہ ۲۰۱ میں حدیث كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم و امامكم منکم کا ترجمہ کیا تو اس میں اس سوال و جواب کا رسول اللہ صلعم پر افترا کیا ہے کہ ابن مریم کون ہے وہ تمہارا ہی ایک امام ہوگا اور تم میں سے ہی (اے امتی لوگو ) پیدا ہوگا ۔ آپ نے عمداً رسول اللہ پر یہ افترا نہیں کیا تو بتائیں کس حدیث کے کس طریق یا وجہ میں یہ سوال و جواب وارد ہیں ۔
رسالہ ازالہ کے صفحہ ۲۱۸ میں آپ نے دجال موعود کے محل نزول میں اختلاف علماء بیان کیا تو اس میں علماء اسلام پر یہ افترا کیا کہ بعض علماء کہتے ہیں کہ وہ نہ بیت المقدس میں اترے گا نہ دمشق میں بلکہ مسلمانوں کے لشکر میں اترے گا ۔ آپ اس قول کے بیان میں مفتری نہیں تو بتادیں کہ کسی عالم کا یہ قول ہے کہ وہ نہ بیت المقدس میں اتریں گے نہ دمشق میں ۔
آپ کے ان افتراؤں سے کامل یقین ہوتا ہے کہ آپ کسی الہام کے دعوی میں سچے نہیں اور جو تار و پود آپ نے پھیلا رکھا ہے سب افترا ہے۔
(۹) آپ لکھتے ہیں کہ آپ بخاری بخاری کرتے ہیں اور بخاری کی یہ حدیث اپنے رسالہ میں نقل کر چکے ہیں کہ محدث کی بات میں شیطان کا کچھ دخل نہیں ہوتا۔ بخاری پر آپ کا ایمان ہے تو اس حدیث کی تسلیم سے ابن عربی کا قول آپ کے نزدیک مسلم ہے پھر میں نے آپ پر کیا افترا کیا۔
اس میں آپ نے مجھ پر ایک اور افترا کیا اور مسلمانوں کو دھو کہ دیا ۔ مہربان من میں صحیح بخاری کو تسلیم کرتا ہوں اور اس حدیث پر جو صحیح بخاری میں محدث کے شان میں مروی ہے میں ایمان رکھتا ہوں ومع هذا یہ اعتقاد رکھتا ہوں کہ جو شخص محدث کہلا وے اور صحیح بخاری یا صحیح مسلم کی احادیث کو بشہادت الہام خود موضوع قرار دے وہ محدث نہیں ہے ۔ شیطان کی طرف سے مخاطب ہے واقعی محدث و ملہم وہی شخص ہے جس کے تحدیث والہام قدیم قرآن مجید و احادیث صحیحہ کے مخالف نہ ہو اور جو شخص محدث یا ملہم ہونے کا دعوی کرے اور اس کے ساتھ یہ کہے کہ مجھے فرشتوں نے کیا ہے یا خدا نے الہام کیا یا رسول اللہ صلعم نے فرمایا ہے کہ صحیحین کی حدیثیں موضوع ہیں میں اسکو شیطان کا مخاطب اور اس کی طرف سے محدث بلکہ شیطان مجسم سمجھتا ہوں ایسا جعلی محدث بعینہ ویسا ہے جو محدث بن کر کہے کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ قرآن مجید خدا کا کلام نہیں ہے جسکو امید ہے کہ آپ بھی محدث تسلیم نہ کریں گے۔
یہی وجہ ہے کہ اس وقت کے مسلمان جو بخاری کو مانتے ہیں آپکے دعوئی محدثیت کو قبول نہیں کرتے کیا وہ اس انکار سے اس حدیث بخاری کے منکر ہو سکتے ہیں ہرگز نہیں۔
خدا سے ڈرو اور مسلمانوں کو مغالطہ نہ دو یہ آپکے کلام کا مختصر جواب ہے جس سے آپ کے مغالطات اور نا واقعی اور دھوکہ دہی کا بخوبی اظہار ہو گیا۔
بعض مطالب پرچہ آخری اور پر چہائے سابق کے جوابات و نتائج کو بخوف تطویل عمداً چھوڑ دیا گیا ہے کیونکہ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے وہ ہمارے حصول مطلب کیلئے کافی ہے ان باتوں کو ہمارے اصل مدعا سے ایسا تعلق نہیں ہے کہ وہ بلا بیان ان باتوں کے وہ مدعا حاصل نہ ہوتا ان باتوں کا اظہار صرف اس وجہ سے ہوا ہے کہ آپ نے اصل سوال کا جواب نہ دیا اور ان باتوں کے بیان سے جنکا جواب ہم نے دیا ہے جواب کوٹلایا۔ آئندہ اپنی طرز تحریر اور تطویل و دفع الوقتی کو چھوڑ دیں تو اس طرف سے بھی اس قسم کی باتوں سے قلم روک لیا جائے گا اور اگر اسی تحریر کے جواب میں آپ نے پھر وہی روش اختیار کی تو آپ دیکھ لیں کہ اس طرف سے بھی ایسا ہی سلوک ہوگا۔ آپ کیلئے بہتر ہے کہ اس روش کو بدل دیں اور میرے اصل سوال کا جواب اتنی سطروں میں دیں جتنی سطروں میں میرا سوال ہے میں سردست جواب با دلائل نہیں چاہتا مجرد جواب کا طالب ہوں جس وقت میں کسی مسئلہ میں آپ سے بحث و دلائل کا طالب ہوں گا۔ اس وقت آپ تفصیلی بحث کریں۔ میری یہ نصیحت منظور ہو تو آپ مختصراً بتادیں کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی احادیث جملہ صحیح ہیں یا جملہ موضوع نا قابل العمل یا مختلط جن میں بعض صحیح ہوں بعض موضوع ۔ اس سوال کا جواب دو حرفی آپ نے دیا تو پھر میں اور سوال کروں گا اور اسی طرح اختصار آپ نے مد نظر رکھا تو ایک دن میں مباحثہ انشاء اللہ تعالیٰ ختم ہوگا۔ کماتدین تدان۔
ابوسعید محمد حسین ۔ ۲۶ جولائی - ۱۸۹۱ء
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ نحمده و نصلى على رسوله الكريم
حضرت مولوی صاحب میں نہایت افسوس سے تحریر کرتا ہوں کہ جس سوال کے جواب کو میں کئی دفعہ آپ کی خدمت میں گزارش کر چکا ہوں وہی سوال آپ بار بار بہت سی غیر متعلق باتوں کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اچھی طرح میری تحریرات پر غور بھی نہیں کی اور نہ میری کلام کو سمجھا اسی وجہ سے آپ ان امور کا بھی الزام میرے پر لگاتے ہیں جن کا میں قائل نہیں لہذا میں مناسب سمجھتا ہوں کہ برعایت اختصار پھر آپ کو اپنے عقیدہ اور مذہب سے جو حدیثوں کے بارہ میں میں رکھتا ہوں اطلاع دوں ۔
سو مہربان من آپ پر ظاہر ہو کہ میں اپنی تحریر نمبر چهارم و پنجم میں بہ تفصیل و تصریح بیان کر چکا ہوں کہ احادیث کے دو حصے ہیں ایک وہ حصہ جو سلسلہ تعامل کے پناہ میں آ گیا ہے یعنی وہ حدیثیں جن کو تعامل کے محکم اور قوی اور لا ریب سلسلہ نے قوت دی ہے۔
اور دوسرا وہ حصہ ہے جن کو سلسلہ تعامل سے کچھ تعلق اور رشتہ نہیں اور صرف راویوں کے سہارے اور ان کی راست گوئی کے اعتبار پر قبول کی گئی ہیں سو اگرچہ میں صحیحین کی حدیثیں اس قوت اور مرتبہ پر نہیں سمجھتا کہ با وجود مخالفت آیات صریحه و بینه قرآن ان کو صحیح سمجھ سکوں ۔ لیکن سلسلہ تعامل کی حدیثیں میری اس شرط سے باہر ہیں چنانچہ میں اپنی تحریر کے نمبر پنجم میں بتصریح لکھ چکا ہوں اگر سلسلہ تعامل کی حدیثوں کے رو سے کسی حدیث کا مضمون قرآن کے کسی خاص حکم سے بظاہر مغائر معلوم ہو تو میں اس کو تسلیم کر سکتا ہوں کیونکہ سلسلہ تعامل کی حدیثیں حجت قوی ہیں اور قرآن کو معیار ٹھہرانے سے سلسلہ تعامل کی حدیثیں مستثنی ہیں دیکھو تحریر نمبر پنجم بجواب آپ کی تحریر کے۔
آپ میری تحریر نمبر پنجم کے پڑھنے کے بعد اگر فہم اور تدبر سے کام لیتے تو بیہودہ اور غیر متعلق باتوں سے اپنی تحریر کو طول نہ دیتے میں نے کب اور کہاں یہ اعتقاد ظاہر کیا ہے کہ سنت متوارثہ متعاملہ اور حدیث مجرد دو نو اس بات کی محتاج ہیں کہ قرآن کریم سے اپنی تحقیق صحت کیلئے پرکھی جائیں بلکہ میں تو نمبر مذکور میں صاف طور پر لکھ چکا کہ سلسلہ تعامل کی حدیثیں بحث مانحن فیه سے خارج ہیں۔
اب مکرر آواز بلند کے ساتھ آپ پر کھولتا ہوں کہ سلسلۂ تعامل کی حدیثیں یعنی سنن متوارثہ متعاملہ جو عاملین اور آمرین کے زیر نظر چلی آئی ہیں اور علی قدر مراتب تاکید مسلمانوں کی عملیات دین میں قرنا بعد قرن وعصراً بعد عصر داخل رہی ہیں وہ ہرگز میری آویزش کا مورد نہیں اور نہ قرآن کریم کو انکا معیار ٹھہرانے کی ضرورت ہے اور اگر انکے ذریعہ سے کچھ زیادت تعلیم قرآن پر ہو تو اس سے مجھے انکار نہیں۔ ہر چند میرا مذہب یہی ہے کہ قرآن اپنی تعلیم میں کامل ہے اور کوئی صداقت اس سے باہر نہیں کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ وَنَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ تِبۡیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ(النحل: ۹۰) یعنی ہم نے تیرے پر وہ کتاب اتاری ہے جس میں ہر ایک چیز کا بیان ہے اور پھر فرماتا ہے مَا فَرَّطۡنَا فِی الۡکِتٰبِ مِنۡ شَیۡءٍ(الانعام: ۳۹) یعنی ہم نے اس کتاب سے کوئی چیز باہر نہیں رکھی لیکن ساتھ اس کے یہ بھی میرا اعتقاد ہے کہ قرآن کریم سے تمام مسائل دینیہ کا استخراج و استنباط کرنا اور اس کی مجملات کی تفاصیل صحیحہ پر حسب منشاء الہی قادر ہونا ہر ایک مجتہد اور مولوی کا کام نہیں بلکہ یہ خاص طور پر ان کا کام ہے جو وحی الہی سے بطور نبوت یا بطور ولایت عظمی مدد دیئے گئے ہوں ۔ سوایسے لوگوں کیلئے جو استخراج و استنباط معارف قرآنی پر بعلت غیر ملہم ہونے کے قادر نہیں ہو سکتے یہی سیدھی راہ ہے کہ وہ بغیر قصد استخراج و استنباط قرآن کے ان تمام تعلیمات کو جوسنن متوارثہ متعاملہ کے ذریعہ سے ملی ہیں بلا تامل و توقف قبول کر لیں ۔ اور جو لوگ وحی ولایت عظمی کی روشنی سے منور ہیں اور اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ کے گروہ میں داخل ہیں ان سے بلا شبہ عادت اللہ یہی ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً دقائق مخفیہ قرآن کے ان پر کھولتا رہتا ہے اور یہ بات ان پر ثابت کر دیتا ہے کہ کوئی زائد تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز نہیں دی۔ بلکہ احادیث صحیحہ میں مجملات و اشارات قرآن کریم کی تفصیل ہے سو اس معرفت کے پانے سے اعجاز قرآن کریم ان پر کھل جاتا ہے اور نیز ان آیات بینات کی سچائی ان پر روشن ہو جاتی ہے جو اللہ جل شانہ فرماتا ہے جو قرآن کریم سے کوئی چیز باہر نہیں۔ اگر چہ علماء ظاہر بھی ایک قبض کی حالت کے ساتھ ان آیات پر ایمان لاتے ہیں تا ان کی تکذیب لازم نہ آوے۔ لیکن وہ کامل یقین اور سکینت اور اطمینان جو مہم کامل کو بعد معائنہ مطابقت و موافقت احادیث صحیحہ اور قرآن کریم اور بعد معلوم کرنے اس احاطہ نام کے جو در حقیقت قرآن کو تمام احادیث پر ہے ملتی ہے وہ علماء ظاہر کو کسی طرح نہیں مل سکتی ۔ بلکہ بعض تو قرآن کریم کو ناقص و نا تمام خیال کر بیٹھتے ہیں اور جن غیر محدودصداقتوں اور حقائق اور معارف پر قرآن کریم کے دائمی اور تمام تر اعجاز کی بنیاد ہے اس سے وہ منکر ہیں اور نہ صرف منکر بلکہ اپنے انکار کی وجہ سے ان تمام آیات بینات کو جھٹلاتے ہیں جن میں صاف صاف اللہ جل شانہ نے فرمایا ہے کہ قرآن جمیع تعلیمات دینیہ کا جامع ہے !!!
اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ میں نے سنن متوارثہ متعاملہ کو اپنے پر چہ نمبر پنجم و چہارم میں ایک علیحدہ حصہ بتصریح بیان کر دیا ہے اور میرے نمبر پنجم کے پڑھنے سے ظاہر ہوگا کہ میں نے ان سنن متوارثہ متعاملہ کو ایک ہی درجہ یقین پر قرار نہیں دیا بلکہ میں ان کے مراتب متفاوتہ کا قائل ہوں جیسا کہ میرے نمبر پنجم کے صفحہ ۳ میں یہ عبارت ہے کہ جس قدر حدیثیں تعامل کے سلسلہ سے فیض یاب ہیں وہ حسب استفاضہ اور بقدر اپنی فیض یابی کے یقین کے درجہ تک پہنچتے ہیں یعنی کوئی ان میں سے اول درجہ کے یقین پر پہنچ جاتی ہے اور کوئی اوسط تک اور کوئی ادنیٰ تک جس کو ظن غالب کہتے ہیں لیکن وہ تمام حدیثیں بغیر اس کے کہ ملک قرآن سے آزمائی جائیں بوجہ جمع ہونے دونوں قوتوں تعامل اور صحت روایت کے اطمینان کے لائق ہیں مگر ایسی احاد حدیثیں جو سنن متوارثہ متعاملہ میں سے نہیں ہیں اور سلسلۂ تعامل سے کوئی معتد بہ تعلق نہیں رکھتیں وہ اس درجہ صحت سے گری ہوئی ہیں ۔ اب ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ ایسی حدیثیں صرف اخبار گزشتہ و قصص ماضیہ یا آئندہ ہیں جن کو نسخ سے بھی کچھ تعلق نہیں یہ میرا وہ بیان ہے جو میں اس تحریر سے پہلے لکھ چکا ہوں یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے کسی پرچہ میں ان دوسرے حصہ کی احادیث کا نام سنن متوارثہ متعاملہ نہیں رکھا بلکہ ابتدائے تحریر سے ہر جگہ حدیث کے نام سے یاد کیا جس سے میری مراد واقعات ماضیه و اخبار گزشته یا آئندہ تھیں اور ظاہر ہے کہ سنن متوارثہ متعاملہ اور احکام متداولہ کے نکالنے کے بعد جو احادیث بکلی فرضیت تعامل سے باہر رہ جاتے ہیں وہ یہی واقعات و اخبار و قصص ہیں جو تعامل کے تاکیدی سلسلہ سے باہر ہیں اور ایک نادان بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ بحث احکام کے اختلافات کی وجہ سے شروع نہیں کی گئی۔ اور میں تمام مسلمانوں کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے کسی ایک حکم میں بھی دوسرے مسلمانوں سے علیحدگی نہیں جس طرح سارے اہل اسلام احکام بینه قرآن کریم و احادیث صحیحہ و قیاسات مسلمہ مجتہدین کو واجب العمل جانتے ہیں اسی طرح میں بھی جانتا ہوں ۔ صرف بعض اخبار گزشتہ و مستقبلہ کی نسبت الہام الہی کی وجہ سے جس کو میں نے قرآن سے بکلی مطابق پایا ہے بعض اخبار حدیثیہ کے میں اس طرح پر معنی نہیں کرتا جو حال کے علماء کرتے ہیں کیونکہ ایسے معنے کرنے سے وہ احادیث نہ صرف قرآن کریم کے مخالف ٹھہرتی ہیں بلکہ دوسری احادیث کی بھی جو صحت میں ان کے برابر ہیں مغائر ومبائن قرار پاتی ہیں ۔ سو دراصل یہ تمام بحث ان اخبار سے متعلق ہے جن کی نسخ کی نسبت کوئی سلف و خلف میں سے قائل نہیں ۔ کوئی با سمجھ انسان ایسا نہیں جس کا یہ عقیدہ ہو کہ قرآن کریم کی وہ آیتیں جن میں حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا ذکر ہے حدیثوں سے منسوخ ہو چکی ہیں۔ یا یہ عقیدہ ہو کہ حدیثیں اپنی صحت میں ان سے بڑھ کر ہیں ۔ بلکہ اس راہ میں بحالت انکار بجز اس طریق کے مجال کلام نہیں کہ یہ کہا جائے کہ وہ آیتیں پیش کرو ہم حدیثوں سے مطابق کر دیں گے سوائے حضرت مولوی صاحب آپ ناراض نہ ہوں۔
کاش آپ نے دیانت و امانت کو مد نظر رکھ کر وہی طریق مقصود اختیار کیا ہوتا ! کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ جو احادیث تعامل کے سلسلہ میں داخل ہوں ان کو میں بحث متنازع فیہ سے باہر کر چکا ہوں؟ اور اگر معلوم تھا تو پھر کیوں آپ نے گدھے کے حرام ہونے کی حدیث پیش کی؟ کیا کسی چیز کا حرام یا حلال کرنا احکام میں سے نہیں؟ اور کیا احکام اکل و شرب کے تعامل الناس سے باہر ہیں؟ اور پھر آپ نے لعنت على الواشمات والمستوشمات کی بھی حدیث پیش کر دی اور آپکو کچھ خیال نہ آیا کہ یہ تو سب احکام ہیں جن کیلئے تعامل کے سلسلہ کے نیچے داخل ہونا ضروری ہے! آپ سچ کہیں کہ ان تمام غیر متعلق باتوں سے آپ نے اپنا اور سامعین کا وقت ضائع کیا یا کچھ اور کیا؟ لوگ منتظر تھے کہ اصل بحث کے سننے سے جس کا ایک دنیا میں شور پڑ گیا ہے فائدہ اٹھاویں اور حق اور ناحق کا فیصلہ ہو لیکن آپ نے نکمی اور فضول اور بے تعلق باتیں شروع کر دیں شاید ان باتوں سے وہ لوگ بہت خوش ہوئے ہونگے جن میں اصل مقصود کی شناخت کرنے کا مادہ نہیں لیکن میں سنتا ہوں کہ حقیقت شناس لوگ آپ کی اس تقریر سے سخت ناراض ہوئے اور آپ کی مناظرانہ لیاقت کا مادہ انہوں نے معلوم کر لیا کہ کہاں تک ہے بہر حال چونکہ آپ اپنے اس دھوکہ دینے والے مضمون کو ایک جلسہ عام میں سنا چکے ہیں اسلئے میں مواضع مناسبہ سے آپ کے اقوال قولہ۔ اقول کے طرز پر ذیل میں بیان کرتا ہوں تا منصفین پر کھل جائے کہ کہاں تک آپ نے دیانت و راستی و تہذیب اور طریق مناظرہ کا التزام کیا ہے۔ وباللہ التوفيق۔
قولہ - آپ نے میرے سوال کا جواب صاف اور قطعی نہیں دیا کہ احادیث جملہ صحیح ہیں یا جملہ موضوع یا مختلط ۔
اقول ۔ حضرت میں آپ کو کئی دفعہ جواب دے چکا ہوں کہ حصہ دوم احادیث کا جو تعامل کے سلسلہ سے یا یوں کہو کہ سنن متوارثہ متعاملہ سے باہر ہے صرف ظن کے درجہ پر ہے اور یہی میرا مذہب ہے اور چونکہ اس حصہ سے جو اخبار گزشتہ یا مستقبلہ کی قسم میں سے ہے نسخ بھی متعلق نہیں اس لئے در حالت مخالفت نصوص بینه قرآن قابل تسلیم نہیں۔ اگر کوئی ایسی حدیث نص قطعی بین قرآن سے مخالف ہوگی تو قابل تاویل ہو گی یا موضوع قرار پائے گی۔
قولہ ۔صحیح بخاری و مسلم میں ایسی کوئی حدیث ہے جو بوجہ تعارض موضوع ٹھہر سکتی ہے؟
اقول ۔ بے شک حصہ دوم کے متعلق کئی ایسی حدیثیں ہیں جن میں سخت تعارض پایا جاتا ہے جیسا کہ وہی حدیثیں جو نزول ابن مریم کے متعلق ہیں کیونکہ قرآن قطعی طور پر فیصلہ دیتا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور صحیحین کی بعض حدیثیں بھی اس فیصلہ پر شاہد ناطق ہیں اور ایک گروہ صحابہ اور علماء امت کا بھی قرناً بعد قرن اسی بات کا مقر ہے اور نصاریٰ کا یونی ٹیرین فرقہ بھی اسی بات کا قائل ہے اور یہودیوں کا بھی یہی اعتقاد ہے اب اگر ان مخالف حدیثوں کی جو قرآن اور احادیث صحیحہ کے برخلاف ہیں ہماری طرز پر تاویل نہ کی جائے تو پھر بلا شبہ موضوع ٹھہریں گی اور خود وہ حدیثیں پکار پکار کر بتلا رہی ہیں کہ ابن مریم کا لفظ ان میں حقیقت پر محمول نہیں لیکن اس زمانہ کے اکثر مولوی صاحبان اور خاص کر آپ کی مرضی معلوم ہوتی ہے کہ قرآن سے ان کی تطبیق نہ دی جائے گو وہ بوجہ اس مخالفت کے موضوع ہی ٹھہر جائیں آپ کا دعوی تطبیق کا ہے لیکن اس فضول دعوی کو کون سنتا ہے جب تک آپ اس بحث کو شروع کر کے تطبیق کر کے نہ دکھلائیں ایسا ہی کئی حدیثیں اور بھی ہیں جن میں سخت تعارض باہمی پایا جاتا ہے مثلاً بخاری کے صفحہ ۴۵۵ میں جو معراج کی حدیث بروایت مالک لکھی ہے وہ دوسری حدیثوں سے جو اسی بخاری میں درج ہیں بالکل مختلف ہے صرف نمونہ کے طور پر دکھاتا ہوں کہ اس حدیث میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسیٰ کو چھٹے آسمان پر دیکھا لیکن بخاری کے صفحہ ۴۷۱ میں ابوذر کی روایت سے بجائے موسیٰ کے ابراہیم کا چھٹے آسمان پر دیکھنا لکھا ہے ! اور پھر وہ حدیث بخاری کی جو باب صلوۃ میں ہے اور نیز امام احمد کی مسند میں بھی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معراج بیداری میں تھا اور اسی پر اکثر اکابر صحابہ کا اتفاق بھی ہے لیکن بخاری کی حدیث صفحہ ۴۵۵ جو مالک کی روایت سے ہے اور نیز بخاری کی وہ حدیث جو شریک بن عبداللہ سے ہے صاف بیان کر رہی ہیں کہ وہ اسراء یعنی معراج نیند کی حالت میں تھا۔ اور تینوں حدیثوں میں محل نزول جبرئیل مختلف لکھا ہے کسی میں عند البیت اور کسی میں اپنا گھر ظاہر کیا ہے اور شریک کی حدیث میں قبل ان یوحی کا لفظ بھی درج ہے جس سے سمجھا جاتا ہے کہ آنحضرت کی پیغمبری سے پہلے معراج ہوا تھا حالانکہ اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ یہ اسراء بعد بعثت ہوا ہے تبھی تو نمازیں بھی فرض ہوئیں ۔ اور خود حدیث بھی بعد البعث پر دلالت کر رہی ہے جیسا کہ اسی حدیث میں جبرئیل کا قول بوّابُ السماء کے اس سوال کے جواب میں کہ أَبُعِثَ ۔ نَعَمُ لکھا ہے ۔ ان اختلافات کا اگر یہ جواب دیا جائے کہ یہ اسراء متعد د اوقات میں واقع ہوا ہے اسی وجہ سے کبھی موسیٰ کو چھٹے آسمان میں دیکھا اور کبھی ابراہیم کو تو یہ تاویل رکیک ہے کیونکہ انبیاء اور اولیا بعد موت کے اپنے اپنے مقامات سے تجاوز نہیں کرتے جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے۔
ماسوا اس کے معراج کے متعدد ماننے میں ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ بعض احکام نا قابل تبدیل اور مستمرہ کا فضول طور پر منسوخ ماننا پڑتا ہے اور حکیم مطلق کو ایک لغو اور بے ضرورت تنسیخ کا مرتکب قرار دے کر پھر پشیمانی کے طور پر پہلے ہی حکم کی طرف عود کرنے والا اعتقاد کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ اگر قصہ معراج کئی مرتبہ واقع ہوا ہے جیسا کہ احادیث کا تعارض دور کرنے کیلئے جواب دیا جاتا ہے تو پھر اس صورت میں یہ اعتقاد ہونا چاہئے کہ مثلاً پہلی دفعہ کی معراج کے وقت میں نمازیں پچاس فرض کی گئیں اور ان پچاس میں تخفیف کرانے کیلئے کئی مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ اور اپنے رب میں آمد ورفت کی ۔ یہاں تک کہ پچاس نماز سے تخفیف کرا کر پانچ منظور کرائیں۔ اور خدا تعالیٰ نے کہہ دیا کہ اب ہمیشہ کیلئے غیر مبدل یہ حکم ہے کہ نمازیں پانچ مقرر ہوئیں اور قرآن پانچ کیلئے نازل ہو گیا پھر دوسری دفعہ کی معراج میں یہی جھگڑا پھر از سرنو پیش آ گیا کہ خدا تعالیٰ نے پھر نمازیں پچاس مقرر کیں اور قرآن میں جو حکم وارد ہو چکا تھا اس کا کچھ بھی لحاظ نہ رکھا اور منسوخ کر دیا مگر پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی دفعہ کے معراج کی طرح پچاس نمازوں میں کچھ تخفیف کرانے کی غرض سے کئی دفعہ حضرت موسیٰ اور اپنے رب میں آمد ورفت کر کے نمازیں پانچ مقرر کرائیں اور جناب الہی سے ہمیشہ کیلئے یہ منظوری ہوگئی کہ نمازیں پانچ پڑھا کریں اور قرآن میں یہ حکم غیر متبدل قرار پا گیا لیکن پھر تیسری دفعہ کے معراج میں وہی پہلی مصیبت پھر پیش آگئی اور نمازیں پچاس مقرر کی گئیں اور قرآن کریم کی آیتیں جو غیر متبدل تھیں منسوخ کی گئیں پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی دقت اور بار بار کی آمد ورفت سے پانچ نمازیں منظور کرائیں مگر منسوخ شدہ آیتوں کے بعد پھر کوئی نئی آیت نازل نہ ہوئی !!! اب کیا یہ سمجھ میں آ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایک دفعہ تخفیف کر کے پھر پانچ سے پچاس نمازیں بنادے اور پھر تخفیف کرے اور پھر پچاس کی پانچ ہو جائیں! اور بار بار قرآن کی آیتیں منسوخ کی جائیں اور حسب نشاء نَاۡتِ بِخَیۡرٍ مِّنۡہَاۤ اَوۡ مِثۡلِہَا(البقرة: ۱۰۷) لے اور کوئی آیت ناسخ نازل نہ ہو! در حقیقت ایسا خیال کرنا وحی الہی کے ساتھ ایک بازی ہے! جن لوگوں نے ایسا خیال کیا تھا انکا مدعا یہ تھا کہ کسی طرح تعارض دور ہو لیکن ایسی تاویلوں سے ہرگز تعارض دور نہیں ہو سکتا بلکہ اور بھی اعتراضات کا ذخیرہ بڑھتا ہے ایسا ہی اور کئی حدیثوں میں تعارض ہے۔
قولہ ۔ آپ لکھتے ہیں کہ احادیث کے دو حصے ہیں اول وہ حصہ جو تعامل میں آچکا ہے جس میں وہ تمام ضروریات دین اور عبادات اور معاملات اور احکام شرع داخل ہیں دوسرا وہ حصہ جو تعامل سے تعلق نہیں رکھتا یہ حصہ یقینی طور پر صحیح نہیں ہے اور اگر قرآن سے مخالف نہ ہو تو صحیح تسلیم ہو سکتا ہے اس قول سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ فن حدیث اور اصول روایات اور قوانین درایت سے محض نا واقف ہیں اور مسائل اسلامیہ سے نا آشنا۔
اقول ۔ آپ کا یہ ثابت کرنا اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ علاوہ حدیث دانی کے سخن فہمی کا بھی آپ کو بہت سا ملکہ ہے☆ ۔ ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ میں نے جو کچھ اپنی پہلی تحریروں کے نمبر چہارم و پنجم میں بیان کیا ہے وہ عام لوگوں کے سمجھانے کیلئے ایک عام فہم عبارت ہے اسی لئے میں نے اہل حدیث کی اصطلاح سے کچھ سروکار نہیں رکھا کیونکہ جو مضمون عام جلسہ میں پڑھا جائے وہ حتی الوسع عوام کے فہم اور استعداد کے موافق ہونا چاہئے نہ کہ ملاؤں کی طرح لفظ لفظ میں اپنے علم کی نمائش ہو۔ اور یہ بات ہر ایک کی سمجھ میں آسکتی ہے کہ فی الواقعہ احادیث کے دو ہی حصے ہیں ایک وہ جو احکام اور ایسے امور سے متعلق ہیں جو اصل تعلیم اسلام اور تعامل سے تعلق ر سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک وہ جو حکایات اور واقعات اور قصص اور اخبار ہیں جن کا سلسلہ تعامل سے کچھ ایسا ضروری تعلق قرار نہیں دیا گیا سو میں نے ضروریات دین کے لفظ سے انہی امور کو مراد لیا ہے جن کا سلسلہ تعامل سے ضروری تعلق ہے اور آپ اپنی حدیث دانی دکھلانے کیلئے اس صاف اور سیدھی تقریر پر بے جا مواخذہ کرنا چاہتے ہیں اور ناحق ضروریات کے لفظ کو پکڑ لیا ہے۔ کیا آپ کو اس بات کا بھی علم نہیں کہ ہر ایک شخص اپنے لئے اصطلاح قرار دینے کا مجاز ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ اگر ضروریات سے مراد امور متعلقہ حاجت ہوں تو اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث خارج ومستثنی نہیں رہتی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دین میں فرمایا ہے وہ دینی حاجت اور ضرورت کے متعلق ہے لیکن افسوس کہ آپ دانستہ حق پوشی کر رہے ہیں ۔ آپ خوب جانتے ہیں کہ اخبار و قصص کو جو امر متنازعہ فیہ ہے، سلسلۂ تعامل سے کوئی معتد بہ تعلق نہیں جو کچھ ہمیں مسلمان بننے کیلئے ضرورتیں ہیں وہ احکام فرمودہ اللہ اور رسول سے حاصل ہیں اور وہی احکام تعامل کی صورت میں عصراً بعد عصر صادر ہوتے رہتے ہیں مسلم اور بخاری میں کئی جگہ بنی اسرائیل کے قصے اور انبیاء اور اولیاء اور کفار کی بھی حکایتیں ہیں جن پر بجز خاص خاص لوگوں کے جو فن حدیث کا شغل رکھتے ہیں دوسروں کو اطلاع تک نہیں اور نہ حقیقت اسلامیہ کی تحقیق کیلئے ان کی اطلاع کچھ ضروری ہے سو وہی اور اسی قسم کے اور امور ہیں جن کا نام میں احادیث مجردہ رکھتا ہوں ۔ سنن متوارثہ کے نام سی انہیں موسوم نہیں کرتا اور وہی ہیں جو سلسلۂ تعامل سے خارج ہیں اور مسلمانوں کو تعامل کی حدیثوں کی طرح ان کی کوئی بھی ضرورت نہیں اگر اسی مجلس میں بعض قصص بخاری یا مسلم کے حاضر الوقت مسلمانوں سے دریافت کی جائیں تو ایسے آدمی بہت ہی تھوڑے نکلیں گے جن کو وہ تمام حالات معلوم ہوں بلکہ بجز کسی ایسے شخص کے جو اپنی معلومات کے بڑھانے کی غرض سے دن رات احادیث کا شغل رکھتا ہے اور کوئی نہیں ہے جو بیان کر سکے لیکن ہر یک مسلمان ان تمام احکام اور فرائض کو جو ہم پہلے حصہ میں داخل کرتے ہیں عملی طور پر یا د رکھتا ہے کیونکہ وہ مسلمان بننے کی حالت میں دائمی طور پر اس کو کرنی پڑتی ہیں یا کبھی کبھی کرنے کیلئے وہ مجبور کیا جاتا ہے ہاں یہ سچ ہے کہ تعامل کے متعلق جو احکام ہیں وہ سب ثبوت کے لحاظ سے ایک درجہ پر نہیں جن امور کی مواظبت اور مداومت بلافتو رو اختلاف چلی آئی ہے وہ اول درجہ پر ہیں اور جس قدرا حکام اپنے ساتھ اختلاف لے کر تعامل کے دائرہ میں داخل ہوئے ہیں وہ بحسب اختلاف اس پہلے نمبر سے کم درجہ پر ہیں مثلاً رفع یدین یا عدم رفع یدین جو دو طور کا تعامل چلا آتا ہے ان دونوں طوروں سے جو تعامل قرن اول سے آج تک کثرت سے پایا جاتا ہے اس کا درجہ زیادہ ہوگا اور با اینہمہ دوسرے کو بدعت نہیں ٹھہرائیں گے بلکہ ان دونوں عملوں کی تطبیق کی غرض سے یہ خیال ہو گا کہ باوجود مسلسل تعامل کے پھر اس اختلاف کا پایا جانا اس بات پر دلیل ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہفت قراءت کی طرح طرق ادائے صلوٰۃ میں رفع تکلیف امت کیلئے وسعت دیدی ہوگی اور اس اختلاف کو خود دانستہ رخصت میں داخل کر دیا ہوگا تا امت پر حرج نہ ہو۔ غرض اس میں کون شک کر سکتا ہے کہ سلسلہ تعامل سے احادیث نبویہ کو قوت پہنچتی ہے اور سنت متوارثہ متعاملہ کا ان کو لقب ملتا ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ جو نمبر اول پر سلسلہ تعامل احکام ہے وہ اختلاف سے بکلی محفوظ ہے۔ کوئی مسلمان اس بات میں اختلاف نہیں رکھتا کہ فریضہ صبح کی دورکعت ہیں اور مغرب کی تین اور ظہر اور عصر اور عشاء کی چار چار اور کسی کو اس بات میں اختلاف نہیں کہ ہر یک نماز میں بشرطیکہ کوئی مانع نہ ہو قیام اور قعود اور سجود اور رکوع ضروری ہے اور سلام کے ساتھ نماز سے باہر آنا چاہئے ایسا ہی خطبہ جمعہ اور عیدین اور عبادت اور اعتکاف عشرہ اخیرہ رمضان اور حج اور زکوۃ ایسے امور ہیں جو بہ برکت تعامل اپنے نفس وجود میں محفوظ چلی آتی ہیں اور ہمارا یہ دعوی نہیں کہ ہر ایک حکم نبوی اور تعلیم مصطفوی یکساں طور پر سلسلہ میں آگئی ہے ہاں جو کامل طور پر آ گیا ہے وہ کامل طور پر ثبوت کا نور اپنے ساتھ رکھتا ہے ورنہ جس قدر یا جس مرتبہ تک کوئی حکم سلسلہ تعامل سے فیض یاب ہوا ہے اسی قدر ثبوت اور یقین کے رنگ سے رنگین ہو گیا ہے۔
قولہ ۔ آپ نے جو سلامت فہم راوی شرط ٹھہرایا ہے یہ آپ کے فنون حدیث کی نا واقعی پر دلیل ہے فہم معنے ہر یک حدیث کی روایت کے لئے شرط نہیں ہے بلکہ خاص کر اس حدیث کی روایت کیلئے شرط ہے جس میں بالمعنے روایت ہو۔
اقول ۔ حضرت میں نے سلامت فہم کو شرط ٹھہرایا ہے نہ فہم معنی کو ۔ خدا تعالیٰ آپ کو سلامت فہم☆ بخشے۔ سلامت فہم تو یہ ہے کہ قوت مدرکہ میں کوئی آفت نہ ہو ۔ اختلال دماغ نہ ہو۔ اور یہ بھی سراسر آپ کی کم فہمی معلوم ہوتی ہے کہ حدیث کے راویوں نے محض الفاظ سے غرض رکھی ہے یہ ظاہر ہے کہ جب تک لفظ کے سننے سے اس کے معنی کی طرف ذہن انتقال نہ کرے اور مجرد الفاظ بغیر معانی کے یاد ہوں جیسے ایک شخص انگریزی سے محض نا آشنا اس کے چند لفظ سن کر یاد کر لیوے ایسا شخص مبلغین میں داخل نہیں ہو سکتا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم آنحضرت کی احادیث کے مبلغ تھے اور تبلیغ کیلئے کم سے کم اس قدر تو فہم ضروری ہے کہ لغوی طور پر ان عبارتوں کے مے کے معنے معلوم ہوں۔ اور جو شخص اس قدر فہم بھی نہیں رکھتا کہ : نا کہ مجھے جو دوسرے تک پہنچانے کیلئے ایک بات کہی گئی وہ کس زبان میں ہے کیا عربی ہے یا انگریزی یا تر کی یا عبری اور اس کے معنے کیا ہیں ایسا شخص کیا خاک اس پیغام کی تبلیغ کرے گا اور اگر حدیثوں کے ایسے ہی مبلغ تھے کہ ان کیلئے ذرہ بھی یہ شرط نہیں تھی کہ الفاظ کے لغوی معنی بھی انہیں معلوم ہوں تو ایسے مبلغوں سے خدا حافظ☆ اور ایسوں سے جوفن حدیث کی شان کو دھبہ لگتا ہے وہ پوشیدہ نہیں جو شخص ایک ایسا پیغام پہنچاتا ہے ؟ نا ہے جو بکلی قوت مدر کہ اس کے اس پیغام کے الفاظ سمجھنے سے بے نصیب ہے وہ ان الفاظ کے یادرکھنے میں بھی کب اور کیونکر محفوظ رہ سکتا ہے؟ جیسے وہ شخص جو انگریزی زبان سے بکلی نا واقف ہے وہ انگریزی عبارتوں کو کئی مرتبہ سن کر بھی یاد نہیں رکھ سکتا بلکہ ایک لفظ بھی اس لہجہ پر ادا نہیں کر سکتا اور یہ آپ کا دعوی بھی بالکل فضول ہے کہ حدیثیں بعینہ الفاظ سے نقل ہوئی ہیں بجز اس صورت کے کہ صحابی نے بالمعنے
حکایت کا اقرار کر دیا ہو کیونکہ اگر آپ کا یہی اعتقاد ہے تو آپ پر بڑی مصیبت پڑے گی اور آپ اس تعارض کو جو محض الفاظ کے اختلاف کی وجہ سے جو بعض حدیثوں میں پیدا ہوتا ہے کسی طرح دور نہیں کرسکیں گے۔ مثلاً بخاری کی انہیں حدیثوں کو دیکھو جن میں قطع اور جزم کے طور پر بعض جگہ معراج کی رات میں حضرت موسی کو چھٹے آسمان میں بتلایا ہے اور بعض جگہ حضرت ابراہیم کو ۔ پھر جس حالت میں باقرار آپ کے احادیث کے مبلغ فہم احادیث سے فارغ تھے یعنی ان کیلئے ان الفاظ کا سمجھنا جو ان کے منہ سے نکلے تھے ضروری نہیں تھا اور حافظہ کا یہ حال تھا کہ بھی موسیٰ کو چھٹے آسمان پر جگہ دی اور کبھی ابراہیم کو تو پھر ایسے مبلغین کی وہ شہادتیں جو حدیث کے ذریعہ سے انہوں نے پیش کیں کس قدر وزن رکھتی ہیں ! جائے شرم ہے ! آپ کیوں ناحق ان بزرگوں پر ایسے الزام لگاتے ہیں جو معمولی انسانیت سے بھی بعید ہوں ! صاف ظاہر ہے کہ جس کی قوت فہم بکلی مسلوب ہو وہ نیم مجنون یا مد ہوش کا حکم رکھتا ہے ایسا کون عقل مند ہے کہ ایسے مخبط الحواس کے منہ سے کوئی حدیث سن کر پھر اس کو واجب العمل قرار دے یا اس کے ساتھ قرآن پر زیادت جائز ہو! افسوس کہ آپ نے یہ بھی نہیں سمجھا کہ اگر سلامت فہم راوی کیلئے شرط نہیں تو پھر عدم سلامت فہم جو فساد عقل کے ہم معنی ہیں کسی راوی میں پایا جانا جائز ہوگا۔ اس صورت میں مجانین اور شکاری کی روایت بلا دغدغہ جائز اور صحیح ہوگی! کیونکہ سلامت فہم سے مراد یہ ہے کہ قوت فاہمہ باطل اور مختل نہ ہو۔ آپ اپنے بیان میں راوی کیلئے عدل کی شرط لگاتے ہیں اور صفت عدل کی صفت سلامت فہم کے تابع ہے اگر سلامت فہم میں آفت ہو صفت درست فہمی میں اختلال راہ پاوے تو پھر کسی کے قول اور فعل میں عدل بھی قائم نہیں رہ سکتا۔ ہمیشہ عدل کو سلامت فہم مستلزم ہے اب بھی اگر آپ ضد سے باز نہ آئیں تو پھر آپ پر فرض ہو گا کہ آپ کسی معتبر کتاب کا حوالہ دیں جس سے ثابت ہو جو مختل الفهم لوگوں کی روایت بھی محدثین کے نزدیک قبول کے لائق ہے تا آپ کی حدیث دانی ثابت ہو ورنہ وہ تمام الفاظ عدم علم جو اپنی عادت کی لاچاری سے آپ اس عاجز کی نسبت استعمال کرتے ہیں آپ پر وارد ہوں گے اور میں تو محدثین کا متبع اور شاگرد ہو کر گفتگو نہیں کرتا تا میرے لئے ان کے نقش قدم پر چلنا یا ان کی اصطلاحوں کا پابند ہونا ضروری ☆ ہو بلکہ الہی تفہیم سے گفتگو کرتا ہوں لیکن میں آپ کے اس بار بار کی تحقیر کے الفاظ سے جو آپ فرماتے
ہیں جو تم فن حدیث سے محض نا آشنا ہو کچھ آپ پر افسوس نہیں کرتا کیونکہ جس حالت میں آپ اس استخفاف کی عادت سے ایسے مجبور ہیں کہ امام بزرگ ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بھی جنہوں نے بعض تا بعین کو بھی دیکھا تھا اور جو علم دین کے ایک دریا تھے آپ کی تحقیر سے بچ نہیں سکے☆ اور آپ نے ان کی نسبت بھی کہہ دیا کہ باوجو د قرب مکان اور زمان حدیث نبوی کے پانے سے محروم رہے اور ناچاری سے قیاسی اٹکلوں پر گزارہ رہا تو پھر اگر مجھے بھی آپ انہیں القاب سے ملقب کریں تو دراصل مجھے خوشی کرنی چاہئے کہ جو کچھ امام صاحب کی نسبت آپ کی زبان نے حق درازی کا دکھلایا وہی باتیں میرے حق میں بھی ظہور میں آئیں۔
قولہ ۔ شاید آپ کہیں گے کہ احادیث سبھی بالمعنی روایت ہوتی ہیں جیسا کہ آپ کے مقتدا سید احمد خاں نے کہا ہے جس کی تقلید سے آپ نے قرآن کو معیار صحت احادیث ٹھہرایا۔
اقول ۔ یہ آپ کا سراسر افترا ہے کہ سید احمد خاں کو اس عاجز کا مقتدا ٹھہراتے ہیں ۔ میرا مقتدا اللہ جل شانہ کا کلام ہے اور پھر اس کے رسول کا کلام ۔ میں نے کس وقت کہا ہے کہ احادیث سبھی بالمعنی روایت ہوتی ہیں؟ بلکہ میرا تو یہ مذہب ہے کہ حتی الوسع صحابہ اہتمام حفظ اصل الفاظ نبی علیہ السلام کیلئے ساعی تھے تاہر یک شخص ان متبرک الفاظ پر غور کر سکے اور نبی علیہ السلام کا اصل مطلب سمجھنے کیلئے وہ الفاظ مویّد ہوں ہاں ان کی روایتوں پر اور ایسا ہی دوسروں کی روایت پر اعتماد کامل کرنے کیلئے سلامت فہم ضروری شرط ہے کیونکہ اگر فہم میں بباعث پیرانہ سالی یا اختلال دماغ کے کوئی آفت پیدا ہو جائے تو مجرد حفظ الفاظ کافی نہیں بلکہ اس صورت میں تو الفاظ میں بھی شک پڑتا ہے کہ شاید اختلال دماغ کے سبب سے اس میں بھی کچھ تصرف ہو گیا اور قرآن کریم کے معیار بنانے سے آپ کیوں چڑتے ہیں؟ جب کہ قرآن حق و باطل میں فرق کرنے کیلئے آیا ہے۔ پھر اگر وہ معیار نہیں تو اور کیا ہے ؟ بلا شبہ قرآن کریم تمام صداقتوں پر حاوی ہے اور تمام علوم میں جہاں تک صحت سے ان کو تعلق ہے قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں لیکن وہ عظمتیں اور وہ کمالات جو قرآن میں ہیں مطہرین پر کھلتے ہیں جن کو وحی الہی سے مشرف کیا جاتا ہے اور ہر ایک شخص تب مومن بنتا ہے کہ جب سچے دل سے اس بات کا اقرار کرے کہ در حقیقت قرآن کریم احادیث کیلئے جو راویوں کے دخل سے جمع کی گئی ہیں معیار ہے۔ گو اس معیار کے تمام استعمال پر عوام کو نہی قدرت حاصل نہیں صرف اخص لوگوں کو حاصل ہے لیکن قدرت کا حاصل نہ ہونا اور چیز ہے اور ایک چیز کا ایک چیز کیلئے واقعی طور پر معیار ہونا یہ اور امر ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ جو صفات اللہ جل شانہ نے قرآن کریم کیلئے آپ بیان فرمائی ہیں کیا ان پر ایمان لانا فرض ہے یا نہیں؟ اور اگر فرض ہے تو پھر میں پوچھتا ہوں کہ کیا اس سبحانہ نے قرآن کریم کا نام عام طور پر قول فصل اور فرقان اور میزان اور امام اور حکم اور نور نہیں رکھا ؟ اور کیا اس کو جمیع اختلافات کے دور کرنے کا آلہ نہیں ٹھہرایا ؟ اور کیا یہ نہیں فرمایا کہ اس میں ہر ایک چیز کی تفصیل ہے؟ اور ہر یک امر کا بیان ہے اور کیا یہ نہیں لکھا کہ اس کے فیصلہ کے مخالف کوئی حدیث ماننے کے لائق نہیں؟ اور اگر یہ سب باتیں سچ ہیں تو کیا مومن کیلئے ضروری نہیں جو ان پر ایمان لاوے اور زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرے؟ اور واقعی طور پر اپنا یہ اعتقاد رکھے کہ حقیقت میں قرآن کریم معیار اور حکم اور امام ہے۔ لیکن محجوب لوگ قرآن کریم کے دقیق اشارات اور اسرار کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتے اور اس سے مسائل شرعیہ کا استنباط اور استخراج کرنے پر قادر نہیں اس لئے وہ احادیث صحیحہ نبویہ کو اس نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ گویا وہ قرآن کریم پر کچھ زواید بیان کرتی ہیں یا بعض احکام میں اس کی ناسخ ہیں ۔ اور نہ زواید بیان کرتی ہیں بلکہ قرآن شریف کے بعض مجمل اشارات کی شارح ہیں ۔ قرآن کریم آپ فرماتا ہے۔ مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰیَۃٍ اَوۡ نُنۡسِہَا نَاۡتِ بِخَیۡرٍ مِّنۡہَاۤ اَوۡ مِثۡلِہَا(البقرة: ۱۰۷) یعنی کوئی آیت ہم منسوخ یا منسی نہیں کرتے جس کے عوض دوسری آیت ویسی ہی یا اس سے بہتر نہیں لاتے ۔ پس اس آیت میں قرآن کریم نے صاف فرما دیا ہے کہ نسخ آیت کا آیت سے ہی ہوتا ہے اسی وجہ سے وعدہ دیا ہے کہ نسخ کے بعد ضرور آیت منسوخہ کی جگہ آیت نازل ہوتی ہے ہاں علماء نے مسامحت کی راہ سے بعض احادیث کو بعض آیات کی ناسخ ٹھہرایا ہے جیسا کہ حنفی فقہ کے رو سے مشہور حدیث سے آیت منسوخ ہوسکتی ہے مگر امام شافعی اس بات کا قائل ہے کہ متواتر حدیث سے بھی قرآن کا نسخ جائز نہیں اور بعض محد ثین خبر واحد سے بھی نسخ آیت کے قائل ہیں لیکن قائلین نسخ کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر حدیث سے آیت منسوخ ہو جاتی ہے بلکہ وہ لکھتے ہیں کہ واقعی امر تو یہی ہے کہ قرآن پر نہ زیادت جائز ہے اور نہ نسخ کسی حدیث سے لیکن ہماری نظر قاصر میں جو استخراج مسائل قرآن سے عاجز ہے یہ سب باتیں صورت پذیر معلوم ہوتی ہیں اور حق یہی ہے کہ حقیقی نسخ اور حقیقی زیادت قرآن پر جائز نہیں کیونکہ اس سے اس کی تکذیب لازم آتی ہے نور الانوار جو حنفیوں کے اصول فقہ کی کتاب ہے اس کے صفحہ ۹۱ میں لکھا ہے۔ روی عن النبي صلى اللہ عليه وسلم بعث معاذا الى اليمن قال له بما تقضى يا معاذ فقال بكتاب اللہ قال فان لم تجد قال بسنة رسول اللہ قال فان لم تجد قال اجتهد برأى فقال الحمدللہ الذي وفق رسوله بما يرضى به رسوله لا يقال انه يناقض قول اللہ تعالى ما فرطنا في الكتاب من شيءٍ فكل شيء في القرآن فكيف يقال فان لم تجد في كتاب اللہ لانا نقول ان عدم الوجدان لا يقضى عدم كونه في القرآن ولهذا قال صلى اللہ عليه و سلم فان لم تجد، ولم يقل فان لم يكن في الكتاب ۔ اس عبارت مذکورہ بالا میں اس بات کا اقرار ہے کہ ہر ایک امر دین قرآن میں درج ہے کوئی چیز اس سے باہر نہیں اور اگر تفاسیر کے اقوال جو اس بات کے موید ہیں بیان کئے جائیں تو اس کیلئے ایک دفتر چاہئے ۔ لہذا اصل حق الامر یہی ہے کہ جو چیز قرآن سے باہر یا اس کے مخالف ہے وہ مردود ہے اور احادیث صحیحہ قرآن سے باہر نہیں۔ کیونکہ وحی غیر متلو کی مدد سے وہ تمام مسائل قرآن سے مستخرج اور مستنبط کئے گئے ہیں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ وہ استخراج اور استنباط بحجز رسول اللہ یا اسی شخص کے جو ظالی طور پر ان کمالات تک پہنچ گیا ہو ہر ایک کا کام نہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جن کو ظلی طور پر عنایات الہیہ نے وہ علم بخشا ہو جو اس کے رسول متبوع کو رع کو بخشا تھا وہ حقائق و معارف و عارف دقیقه قرآن کریم پر مطلع کیا جاتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ کا وعدہ ہے لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ(الواقعة: ۸۰) ، اور جیسا کہ وعدہ ہے یُّؤۡتِی الۡحِکۡمَۃَ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَمَنۡ یُّؤۡتَ الۡحِکۡمَۃَ فَقَدۡ اُوۡتِیَ خَیۡرًا کَثِیۡرًا(البقرة: ۲۷۰) ، اس جگہ حکمت سے مراد علم قرآن ہے۔ سو ایسے لوگ وحی خاص کے ذریعہ سے علم اور بصیرت کی راہ سے مطلع کئے جاتے ہیں اور صحیح اور موضوع میں اس خاص طور کے قاعدہ سے تمیز کر لیتے ہیں۔ گو عوام اور علماء ظواہر کو اسکی طرف راہ نہیں لیکن ان کا اعتقاد بھی تو یہی ہونا چاہئے کہ قرآن کریم بے شک احادیث مرویہ کیلئے بھی معیار اور محک ہے گو عام طور پر بوجہ عدم بصیرت اس معیار سے وہ کام نہیں لے سکتے لیکن حدیث کے دونوں حصوں میں جو ہم بیان کر آئے ہیں حصہ ثانی کی نسبت جو اخبار اور واقعات اور قصص اور وعدے وغیرہ ہیں جن پر نسخ جاری نہیں بے شک وہ کھلے کھلے طور پر قرآن کریم کے محکمات اور بینات اور قطعی اور یقینی فیصلجات کو احادیث مرویہ کے پرکھنے کیلئے محک اور معیار ٹھہرا سکتے ہیں بلکہ ضرور ٹھہرانا چاہئے تا وہ اس علم سے مستفید ہو جائیں جو ان کو دیا گیا ہے کیونکہ قرآن کریم کی محکمات اور بینات علم ہے اور مخالف ن کے جو کچھ ہے وہ ظن ہے۔ اور جو شخص علم ہوتے ظن کا اتباع کرے وہ اس آیت کے نیچے داخل ہے مَا لَہُمۡ بِذٰلِکَ مِنۡ عِلۡمٍ۔(الزخرف: ۲۱)اِنۡ یَّـتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَخۡرُصُوۡنَ(یونس: ۶۷)
قولہ۔ آپ نے جو باستدلال آیت وَاِنَّ الظَّنَّ لَا یُغۡنِیۡ مِنَ الۡحَقِّ شَیۡئًا(النجم: ۲۹) کے احادیث پر اعتراض کیا ہے یہ آپ کی نا واقعی پر بنی ہے۔
اقول ۔ آپ کیوں بار بار اپنی نافہمی ظاہر کرتے ہیں میرا عام طور پر احادیث پر اعتراض نہیں بلکہ ان احادیث پر اعتراض ہے جو ادلہ قطعیہ بینہ صریحہ قرآن کریم سے مخالف ہوں ۔
قولہ - علماء اسلام کا حنفی ہوں یا شافعی اہل حدیث ہوں یا اہل فقہ اس بات پر اتفاق ہے کہ خبر واحد صحیح ہو تو واجب العمل ہے۔
اقول ۔ آپ کی علمیت اور لیاقت اور واقفیت بات بات میں ظاہر ہو رہی ہے۔ حضرت سلامت حنفیوں کا ہرگز یہ مذہب نہیں کہ مخالفت قرآن کی حالت میں خبر واحد واجب العمل ہے اور نہ شافعی کا یہ مذہب ہے بلکہ فقہ حنفیہ کا تو یہ اصول ہے کہ جب تک اکثر قرنوں میں تواتر حدیث کا ثابت نہ ہو۔ گو پہلے قرن میں نہیں مگر جب تک بعد میں اخیر تک تو اتر نہ ہو تب تک ایسی حدیث کے ساتھ قرآن پر زیادت جائز نہیں اور شافعی کا یہ مذہب کہ اگر حدیث آیت کے مخالف ہو تو با وجود تواتر کے بھی کالعدم ہے پھر آپ نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ ان سب کے نزدیک خبر واحد بہر حال واجب العمل ہے؟ اگر یہ کہو کہ ہمارا منشاء اس کلام سے یہ ہے کہ اگر خبر واحد مخالف قرآن کے نہ ہو تو اس صورت میں ان بزرگوں کے نزدیک واجب العمل ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کا کب اور کس دن یہ منشاء ہوا تھا ؟ اگر آپ کا یہ منشاء ہوتا تو آپ اس بحث کو کیوں طول دیتے !
قولہ ۔ اس وجہ سے ( جو خبر واجب العمل ہے ) علماء اسلام نے جس میں مقلد و محدث سب داخل ہیں اتفاق کیا ہے کہ صحیحین کی حدیثیں واجب العمل ہیں اور موافقین اور مخالفین کا ان پر اجماع ہے۔
اقول ۔ میں نہیں جانتا کہ اس سفید جھوٹ سے آپ کی غرض کیا ہے اگر علماء مقلدین کے نزدیک بخاری اور مسلم کی حدیثیں بغیر کسی عذر نسخ وغیرہ کے بہر حال واجب العمل ہوتیں تو وہ بھی آپکی طرح خلف امام فاتحہ پڑھتے اور ان کی مسجد میں بھی آپ کی مساجد کی طرح آمین کے شور سے گونج اٹھتیں اور نیز وہ رفع یدین اور ایسا ہی تمام اعمال حسب ہدایت بخاری و مسلم بجالاتے اور آپ کا یہ کہنا کہ وہ لوگ حدیث کو مسلم اور واجب العمل ٹھہراتے صرف دوسرے طور پر معنے کرتے ہیں یہ دوسرا جھوٹ ہے حضرت وہ تو صریح ضعیف یا منسوخ قرار دیتے ہیں۔ اگر آپ اس بات میں سچے ہیں تو شہر لدھیانہ کے علماء جمع کر کے اپنے قول کی شہادت ان سے دلاؤ ورنہ یہ آپ کا افترا ایسا نہیں ہے جس سے آپ کچے عذروں کے ساتھ بری ہو سکیں۔
قولہ - امام ابن الصلاح نے فرمایا ہے کہ صحیحین کی اتفاقی حدیثیں موجب یقین ہیں اور امام نووی نے شرح مسلم میں فرمایا ہے کہ اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ صحیحین ہیں ۔
اقول کسی ایک یا دو شخص کا ا ر شخص کا اپنی طرف سے رائے ظاہر کرنا حجت شرعی نہیں : شرعی نہیں ہو سکتا پس اگر امام ابن الصلاح نے صحیحین کی اتفاقی حدیثوں کو عام طور پر موجب یقین مان لیا ہے تو مانا کرے ہمارے لئے وہ کچھ حجت نہیں۔ اگر ایسی متفق را ئیں حجت ٹھہر سکتی ہیں تو پھر ان لوگوں کی رائیں بھی حجت ہونی چاہئیں جنہوں نے بخاری اور مسلم کی بعض حدیثوں کا قدح کیا ہے۔ چنانچہ تلویح میں لکھا ہے کہ بخاری میں یہ حدیث ہے تكثر لكم الاحاديث من بعدى فاذا روى لكم حديث فاعرضوه على كتاب اللہ تعالى فما وافقه فاقبلوه وما خالفه فردوہ یعنی میرے بعد حدیثیں کثرت سے نکل آئیں گی سوتم یہ قاعدہ رکھو کہ جو حدیث تم کو میرے بعد پہنچے یعنی جو حدیث مـــا اتــــاكـــم الرسول کے زمانہ کے بعد ملے اس کو کتاب اللہ پر عرض کرو اگر اس کے موافق ہو تو اس کو قبول کرو اور اگر مخالف ہو تو رد کرو۔ هذا ما نقلناه من كتاب التلويح والعهدة على الراوي اور منہاج شرح صحیح مسلم میں حافظ ابوز کر یا بن شرف النووی نے حدیث شریک پر جو مسلم اور بخاری دونو میں ہے جرح کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فقرہ کہ ذلک قبل ان يوحى اليه ہے غلط صریح ہے سو یہ علامہ نووی کا جرح آپ لوگوں کی توجہ کے لائق ہے کیونکہ علامہ نووی کی شان فن حدیث میں کسی پر مخفی نہیں اور علامہ تفتازانی نے اپنی تلویح میں صحیح بخاری کی ایک حدیث کو موضوع قرار دیا ہے اور ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ ہم ظن غالب کے طور پر بخاری اور مسلم کو صحیح سمجھتے ہیں واللہ اعلم بالصواب .
اور شرح مسلم الثبوت میں لکھا ہے ۔ ابن الصلاح وطائفة من الملقبين باهل الحديث زعموا ان رواية الشيخين محمد ابن اسماعيل البخاري ومسلم بن الحجاج صاحبى الصحيحين يفيد العلم النظرى للاجماع على ان للصحيحين مزية على غير هما وتلقت الامة بقبولهما والاجماع قطعى و هذا بهت فان من راجع الى وجدانه يعلم بالضرورية ان مجرد روايتهما لا يوجب اليقين البتة وقد روى فيهما اخبار متناقضة فـلـوا فـاد روايتهما علما لزم تحقق النقيض في الواقع وهذا اى ما ذهب اليه ابن الصلاح واتباعه بخلاف ما قاله الجمهور من الفقهاء والمحدثين لان انعقاد الاجماع على المزية على غيرهما من مرويات ثقات آخرين ممنوع والاجماع على مزيتهما في انفسهما لا يفيد لان جلالة شانهما وتلقى الامة بكتابهما لوسلّم لا يستلزم ذالك القطع والعلم فان القدر المسلم المتلقى بين الامة ليس الا ان رجال مروياتهما جامعة للشروط التي اشترطها الجمهور بقبول روايتهم وهذا لا يفيد الا الظن واما ان مروياتهما ثابتة عن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم فلا اجماع علیه اصلا كيف ولا اجماع على صحته جميع ما في كتابهما لان رواتهما منهم قدريون وغيرهم من اهل البدع و قبول رواية اهل البدع مختلف فيه فاين الاجماع على صحة مرويات القدرية غاية ما يلزم ان احاديثها اصح الصحيح يعنى انها مشتملة على الشروط المعتبرة عند الجمهور على الكمال وهذا لا يفيد الا الظن القوى هذا هو الحق المتبع ولنعم ما قال الشيخ ابن الهمام ان قولهم بتقديم مروياتهم على مرويات الائمة الآخرين قول لا يعتدبه ولا يقتدى بل هو من محكماتهم الصرفة كيف لاوان الاصحة من تلقاء عدالة الرواة وقوة ضبطهم واذا كان رواة غيرهم عادلين ضابطين فهما وغيرهما على السواء لا سبيل للتحكم بمزيتها على غيرهما الاتحكما والتحكم لا يتلفت اليه فافهم
خلاصہ ترجمہ یہ ہے کہ صاحب مسلم الثبوت جو بحر العلوم سے ملقب ہے فرماتا ہے کہ ابن الصلاح اور ایک طائفہ اہل حدیث نے یہ گمان کیا ہے کہ روایت شیخین محمد ابن اسماعیل البخاری اور مسلم کی جو صحیحین میں ہے علم نظری کی مفید ہے کہ ہے علم نظری کی مفید ہے کیونکہ اس بات پر اجماع ہو چکا ہے کہ صحیح بخاری اور مسلم کو ان کے غیر پر فضیلت ہے اور امت ان دونوں کو قبول کر چکی ہے اور اجماع قطعی ہے۔ پس واضح ہو کہ ان دونوں کتابوں کی صحت پر اجماع ہونا بہتان ہے۔ ہر ایک شخص اپنے وجدان کی طرف رجوع کر کے ضروری طور پر معلوم کر سکتا ہے کہ ان دونوں کی مجرد روایت موجب یقین نہیں یعنی کوئی بات ایسی نہیں جس سے خواہ نخواہ ان کی روایت موجب یقین سمجھی جائے بلکہ حال اس کے مخالف ہے کیونکہ ان دونوں کتابوں میں متناقض خبریں موجود ہیں جو ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ اگر ان دونوں کی روایت علم قطعی اور یقینی کا موجب ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ نقیضین ضين في الواقع سچی ہوں اور یادر ہے کہ ابن الصلاح اور اس کے رفیقوں کی رائے جمہور فقہاء اور محدثین کے برخلاف ہے کیونکہ یہ ایک امر ممنوع ہے جس کو کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ بخاری اور مسلم کو اپنی روایت کے رو سے دوسروں پر زیادتی ہے اور امام بخاری اور مسلم کی عظمت شان اور ان کی کتابوں کا امت میں قبول کیا جانا اگر مان بھی لیا جاوے تب بھی اس بات کی دلیل نہیں ہو سکتا کہ وہ کتا بیں قطعی اور یقینی ہیں۔ کیونکہ امت نے ان کے مرتبہ قطع اور یقین پر ہرگز اجماع نہیں کیا بلکہ صرف اسقدر مانا گیا اور قبول کیا گیا ہے کہ دونوں کتابوں کے راوی ان شرطوں کے جامع ہیں جو جمہور نے قبول روایت کیلئے لگا دی ہیں اور ظاہر ہے کہ صرف اسقدر تسلیم سے قطع اور یقین پیدا نہیں ہوتا بلکہ صرف ظن پیدا ہوتا ہے اور یہ بات کہ در حقیقت صحیح بخاری اور مسلم کی مرویات ثابت ہیں اور جس قدر حدیثیں ان میں روایت کی گئی ہیں وہ در حقیقت جرح سے مبرا ہیں اس پر امت کا ہرگز اجماع نہیں بلکہ اس اجماع کا تو کیا ذکر اس بات پر بھی اجماع نہیں کہ جو کچھ ان دونوں کتابوں میں ہے وہ سب صحیح ہے کیونکہ بخاری اور مسلم کے بعض راویوں میں سے قدری بھی ہیں اور بعض اہل بدع بھی راوی ہیں جنکی روایت قبول نہیں ہوسکتی ۔ پس جب کہ یہ حال ہے تو اجماع کہاں رہا! کیا مرویات قدر یہ پر بھی اجماع ہو جائے گا ؟ غایت مافی الباب یہ ہے کہ ان کی حدیثیں اصح ہیں اور شروط معتبرہ جمہور پر علی وجہ کمال مشتمل ہیں سواس سے بھی صرف ایک ظن قوی پیدا ہوتا ہے نہ کہ یقین ۔ پھر جو ہم نے بخاری اور مسلم کے صحیحوں کی نسبت بیان کیا ہے۔ یہی حق بات ہے جس کی پیروی کرنی چاہئے اور شیخ ابن الہمام نے کیا اچھا فرمایا ہے کہ یہ قول محدثین کا کہ مرویات صحیحین ان کے ماسوا پر مقدم ہیں ایک ایسا بے معنی قول ہے جو قابل اعتماد والتفات نہیں اور ہرگز پیروی کے لائق نہیں بلکہ صریح اور صاف تحکم ہے انہیں تحکمات میں سے جو کھلے کھلے طور پر ان لوگوں نے کئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر اصحیت کا مدار عدالت اور ضبط پر ہے تو کیا ایسی کتابیں جن میں یہ شرط پائی جاتی ہے کم درجہ پر ہوں گی ۔ سو ان دونوں کتابوں کی زیادتی پر حکم لگا نا محض تحکم ہے اور تحکم قابل التفات نہیں فافھم ۔ اور شرح نووی کی جلد ثانی صفحہ ۹۰ میں زیر تشریح اس مسلم کی حدیث کے کہ یا امیرالمؤمنین اقض بینی و بین هذا الكاذب الأثم الغادر الخائن . امام نووی فرماتے ہیں کہ جب ان الفاظ کی تاویل سے ہم عاجز آ جائیں تو ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ اسکے راوی جھوٹے ہیں۔
اب اس تمام تحقیقات سے ظاہر ہے کہ جو کچھ صحیحین کے مرتبہ قطع اور یقین کی نسبت مبالغہ کیا گیا ہے وہ ہرگز صحیح نہیں اور نہ اس پر اجماع ہے اور نہ ان کی تمام حدیثیں جرح قدح سے خالی سمجھی گئی ہیں اور نہ وہ مخالفت قرآن کی حالت میں بالا جماع واجب العمل خیال کی گئی ہیں بلکہ ان کی صحت پر ہرگز اجماع نہیں ہوا۔
قولہ ۔ یہ آپ کی عامیانہ بات ہے کہ پندرہ کروڑ حنفی صحیح بخاری کو نہیں مانتے بلکہ عام☆ حنفی تو صحیح بخاری کی صحت سے ہرگز انکار نہیں کرتے ۔
اقول ۔ اس کا جواب ہو چکا ہے کہ علماء حنفیہ خبر واحد سے گو وہ بخاری ہو یا مسلم قرآن کریم کے کسی حکم کو ترک نہیں کرتے اور نہ اس پر زیادت کرتے ہیں اور امام شافعی حدیث متواتر کو بھی بمقابلہ آیت کا لعدم سمجھتا ہے اور امام مالک کے نزدیک خبر واحد سے بشرط نہ ملنے آیت کے قیاس مقدم ہے۔ دیکھو صفحہ ۱۵۰ کتاب نورالانوار اصول فقہ ۔
اس صورت میں جو کچھ ان اماموں کی نظر میں در صورت قرآن کے مخالف ہونے کے احادیث کی عزت ہو سکتی ہے عیاں ہے خواہ اس قسم کی حدیثیں اب بخاری☆ میں ہوں یا مسلم میں ۔ یہ ظاہر ہے کہ بخاری اور مسلم اکثر مجموعہ احاد کا ہے اور جب احاد کی نسبت امام مالک اور امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کی یہی رائے ہے کہ وہ قرآن کے مخالف ہونے کی حالت میں ہرگز قبول کے لائق نہیں تو اب فرمائیے کیا اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ان بزرگوں کے نزدیک وہ حدیثیں بہر حال واجب العمل ہیں؟ اول حنفیوں اور مالکیوں وغیرہ سے ان سب پر عمل کرائے اور پھر یہ بات منہ پر لائے ۔
قولہ - آپ اگر اس دعوے میں سچے ہیں تو کم سے کم ایک عالم کا متقدمین یا متاخرین میں سے نام بتادیں جس نے صحیح بخاری یا حیح مسلم کی احادیث کو غیر صح یا موضوع کہا ہو۔
اقول ۔ جن اماموں کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے اگر وہ واقعی اور یقینی طور پر صحیحین کی احادیث کو واجب العمل سمجھتے تو آپ کی طرح ان کا بھی یہی مذہب ہوتا کہ خبر واحد سے قرآن پر زیادت مان لینا یا آیت کو منسوخ سمجھ لینا واجبات سے ہے لیکن میں بیان کر چکا ہوں کہ وہ خبر واحد کو قرآن کی مخالفت کی حالت میں ہرگز قبول نہیں کرتے اس سے ظاہر ہے کہ وہ صرف قرآن کریم کے سہارے سے اور بشرط مطابقت قرآن صحیحین کے احاد کو جو کل سرمایہ صحیحین کا ہے مانتے ہیں اور مخالفت کی حالت میں ہرگز نہیں مانتے ۔ آپ تلویح کی عبارت سن چکے ہیں کہ انــمــا يـرد خـبـر الـواحــد مـن معارضة الكتاب یعنی اگر کوئی حدیث احاد میں سے قرآن کے مخالف پڑے گی تو وہ رد کی جائے گی۔ اب دیکھئے کہ وہ نیا جھگڑا جواب تک آپ نے محض اپنی نافہمی کی وجہ سے کیا ہے کہ قرآن احادیث کا معیار نہیں کیونکہ صاحب تلویح نے آپکو اس بارہ میں جھوٹا ٹھہرایا ہے! اور تینوں امام اسی رائے میں آپکے مخالف ہیں ! اور میں بیان کر چکا ہوں کہ میرا مذہب بھی اسی قدر ہے کہ باستثناء سفن متوارثہ متعاملہ کے جو احکام اور فرائض اور حدود کے متعلق ہیں باقی دوسرے حصہ کی احادیث میں سے جو اخبار اور قصص اور واقعات ہیں جن پر نسخ بھی وارد نہیں ہوتا اگر کوئی حدیث نصوص بینہ قطعیہ صريحة الدلالت قرآن کریم سے صریح مخالف واقع ہو گو وہ بخاری کی ہو یا مسلم کی میں ہرگز اس کی اس طرز کے معنی کو جس سے مخالفت قرآن لازم آتی ہے قبول نہیں کروں گا۔ میں بار بار اپنے مذہب کو اس لئے بیان کرتا ہوں کہ تا آپ اپنی عادت کے موافق پھر کوئی تازہ افترا اور بہتان میرے پر نہ لگاویں اور نہ لگانے کی گنجائش ہو☆ اور ظاہر ہے کہ یہ میرا مذہب امام شافعی اور امام ابو حنیفہ اور امام مالک کے مذہب کی نسبت حدیث کی بہت رعایت رکھنے والا ہے کیونکہ میں صحیحین کی خبر واحد کو بھی جو تعامل کے سلسلہ سے موکد ہے اور احکام اور حدود اور فرائض میں سے ہو نہ حصہ دوم میں سے اس لائق قرار دیتا ہوں کہ قرآن پر اس سے زیادتی کی جائے اور یہ مذہب ائمہ ثلاثہ کا نہیں مگر یادر ہے کہ میں واقعی زیادتی کا قائل نہیں بلکہ میرا ایمان انا انزلنا الكتاب تبیانالکل شیء پر ہے جیسا کہ میں ظاہر کر چکا ہوں۔ اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میں اس مذہب میں اکیلا نہیں ہوں بلکہ اپنے ساتھ کم سے کم تین یار غالب رکھتا ہوں جن کا عقیدہ میرے موافق بلکہ مجھ سے بڑھ چڑھ کر ہے۔
قولہ ۔ اور آپ کا یہ کہنا کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے احادیث بخاری کو چھوڑ دیا یہ بھی عامیانہ بات ہے۔ آپ یہ نہیں جانتے کہ امام اعظم کب ہوئے اور صحیح بخاری کب لکھی گئی۔
اقول - جناب مولوی صاحب آپ ایمان کے ساتھ جواب دیں کہ میں نے کب اور کہاں لکھا ہے کہ صحیح بخاری امام اعظم رحمۃ اللہ کے زمانے میں موجود تھی ؟ ان فضول مفتریا نہ تحریروں سے آپ کی صرف یہ غرض ہے کہ عوام کے سامنے ہر یک بات میں اس عاجز کی سبکی اور خفت اور لاعلمی ظاہر کریں ۔ لیکن یاد رکھیں کہ مجھے بعض ملاؤں کی طرح لوگوں کی مدح وثنا کی طرف خیال نہیں اور نہ عوام کی تحسین و نفرین کی کچھ پروا۔ ہر یک دانا بلکہ ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ صحیح بخاری کی حدیثیں امام محمد اسمعیل کا اپنا ایجاد تو نہیں تا یہ اعتراض ہو کہ جب تک کوئی متقدمین سے امام بخاری کا زمانہ نہ پاتا اور انکی کتاب کو نہ پڑھتا تب تک محال تھا کہ ان حدیثوں پر اس کو اطلاع ہوتی بلکہ حدیثوں کے رواج اور زبانی شیوع کا زمانہ اسی وقت یعنی قرن اول سے شروع ہوا ہے جب کہ امام بخاری صاحب کے جدامجد بھی پیدا نہیں ہوئے ہوں گے تو پھر کیا محال تھا کہ وہ حدیثیں جن کی تبلیغ کی صحابہ کو تاکید تھی امام اعظم کو نہ پہنچتیں بلکہ قریب یقین کے یہی ہے کہ ضرور پہنچی ہوں گی کیونکہ ان کا زمانہ قرن اول سے قریب تھا اور بہت حفاظ حدیث کے زندہ تھے اور خاص اسی ملک میں رہتے تھے جو سر چشمہ حدیث کا تھا۔ پھر تعجب کہ بخاری جو زمانی اور مکانی طور پر امام اعظم صاحب سے کچھ نسبت نہیں رکھتے تھے ایک لاکھ حدیث صحیح اکٹھی کر لیں ۔ اور ان میں چھیانوے ہزار حیح حدیث کو ردی مال کی طرح ضائع کر دیں۔ اور امام اعظم صاحب کو با وجود قرب زمان اور مکان کے سوحدیث بھی نہ پہنچ سکے۔ کیا کسی کا نور قلب یہ گواہی دیتا ہے کہ ایک شخص بخارا کا رہنے والا جو بہت دور حدود عرب سے اور نیز دوسو برس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہو وہ لاکھ حدیث صحیح حاصل کر لے اور امام اعظم صاحب : ظم صاحب جیسے بزرگوار فانی فی سبیل اللہ کو نماز کے بارہ میں بھی دو چار حیح حدیثیں باوجود قرب زمان اور مکان کے نہ مل سکیں ! اور ہمیشہ بقول مولوی محمد حسین صاحب کے اٹکلوں سے کام لیتے رہے ! اے حضرت مولوی صاحب آپ ناراض نہ ہوں آپ صاحبوں کو امام بزرگ ابو حنیفہ سے اگر ایک ذرہ بھی حسن ظن ہوتا تو آپ اس قدر شبکی اور استخفاف کے الفاظ استعمال نہ کرتے آپ کو امام صاحب کی شان معلوم نہیں وہ ایک بحر اعظم تھا اور دوسرے سب اس کی شاخیں ہیں اسکا نام اہل الرائے رکھنا ایک بھاری خیانت ہے! امام بزرگ حضرت ابو حنیفہ کو علاوہ کمالات علم آثار نبویہ کے استخراج مسائل قرآن میں ید طولی تھا خدا تعالیٰ حضرت مجدد الف ثانی پر رحمت کرے انہوں نے مکتوب صفحہ ۳۰۷ میں فرمایا ہے کہ امام اعظم صاحب کی آنیوالے مسیح کے ساتھ استخراج مسائل قرآن میں ایک روحانی مناسبت ہے۔
قولہ محقق مسلمان حنفی ہو یا شافعی مقلد ہو یا غیر مقلد صحیح روایات حدیثیہ کا معیار قرآن کریم کو نہیں ٹھہراتا۔
اقول ۔ اس بات کا جواب ابھی مفصل گزر چکا ہے کہ علماء مذاہب ثلاثہ نے احادحدیث کو گو وہ بخاری کی ہوں یا مسلم کی اس شرط سے قبول کیا ہے کہ وہ قرآن کریم کے معارض اور مخالف نہ ہوں تلویح کی عبارت ابھی میں نے سنائی آپ کو یاد ہو گی کہ جس حالت میں ائمہ ثلاثہ ان حدیثوں سے جو احاد ہیں اور مخالف قرآن ہیں خدمت نہیں لیتے اور معطل کی طرح چھوڑ دیتے ہیں تو اگر وہ قرآن کریم کو معیار قرار نہیں دیتے تو حدیثوں کو اس کی مخالف پا کر کیوں چھوڑتے ہیں۔ کیا معیار ماننا کچھ اور طور سے ہوتا ہے؟ جب کہ ان لوگوں نے یہ اصول ہی ٹھہرا لیا ہے کہ خبر واحد بحالت مخالفت قرآن ہرگز قبول کے لائق نہیں گو اس کا راوی مسلم ہو یا بخاری ہو تو کیا اب تک انہوں نے قرآن کریم کو معیار قبول نہیں کیا؟ اتقوا اللہ ولا تغلوا !
قولہ - امام الائمہ ابن خزیمہ سے منقول ہے لا اعرف انه روى عن النبي صلى اللہ عليه و سلم حديثـان بـاسنادين صحيحين متضادان فمن كان عنده فليأت به لالف بينهما یعنی امام الائمہ ابن خزیمہ سے منقول ہے کہ میں ایسی دو حدیثوں کو شناخت نہیں کرتا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسناد صحیح کے ساتھ روایت کی گئی ہوں اور پھر متضاد ہوں اگر کسی کے پاس ایسی حدیثیں ہوں تو میرے پاس لاوے میں ان میں تالیف کر دوں گا۔
اقول ۔ امام ابن خزیمہ تو فوت ہو گئے اب ان کے دعوی کی نسبت کچھ کلام کرنا بے فائدہ ہے لیکن مجھے یاد ہے کہ آپ نے اپنے مضمون کے سنانے کے وقت بڑے جوش میں آ کر فرمایا تھا کہ ابن خزیمہ تو امام وقت تھے میں خود دعوی کرتا ہوں کہ دو متعارض حدیثوں میں جو دونو صحیح الاسناد تسلیم کی گئی ہوں توفیق و تالیف دے سکتا ہوں اور ابھی دے سکتا ہوں؟ آپکا یہ دعویٰ ہر چند اس وقت ہی فضول سمجھا گیا تھا لیکن برعایت شرائط قرار یافتہ مناظرہ اس وقت آپ کی تقریر میں بولنا نا جائز اور ممنوع تھا۔ چونکہ آپ کی خودستائی حد سے گذر گئی ہے اور عجز و نیاز اور عبودیت کا کوئی خانہ نظر نہیں آتا اور ہر وقت انا اعلم کا جوش آپکے نفس میں پایا جاتا ہے اسلئے میں نے مناسب سمجھا کہ اسی دعوٹی کے رو سے آپ کے کمالات کی آزمائش کروں جس آزمائش کے ضمن میں میری اصل بحث بھی لوگوں پر ظاہر ہو جائے ۔ میں بالطبع اس سے کا رہ ہوں کہ کسی سے خواہ نخواہ آویزش کروں لیکن چونکہ آپ دعوی کر بیٹھے ہیں اور دوسروں کو تحقیر اور ذلت کی نظر سے دیکھتے ہیں یہاں تک کہ آپکے خیال میں امام اعظم کو بھی حدیث دانی میں آپ سے کچھ نسبت نہیں۔ اسلئے بقول سعدی
ندارد کسے باتو ناگفتہ کار
ولیکن چو گفتی دلیلش بیار
چاہتا ہوں کہ چھ سات حدیثیں بخاری اور مسلم کی یکے بعد دیگرے جن میں میری نظر میں تعارض☆ ہے آپ کی خدمت میں پیش کروں ۔ اگر آپ ان میں توفیق و تالیف امام ابن خزیمہ کی طرح کر دکھا ئیں گے
تو میں تاوان کے طور پر آپ کو پچیس روپیہ نقد دوں گا اور نیز مدت العمر تک آپکے کمالات کا قائل ہو جاؤں گا اور اپنا مغلوب اور شکست یافتہ ہونا قبول کرلوں گا اور بباعث اس کے جو مجھ سے پچھیں روپیہ بطور تاوان لئے جائیں گے ۔ آپ کے کمالات حدیث دانی کے بخوبی نقش قلوب ہو جائیں گے اور ہمیشہ صفحہ روزگار میں عزت کے ساتھ یادگار رہیں گے لیکن اس میں انتظام یہ چاہئے کہ تین منصف بتراضی فریقین مقرر کئے جائیں جو فہم تقریر اور وزن دلائل کا مادہ رکھتے ہوں اور فریقین سے کسی قسم کا تعلق ان کو نہ ہو۔ نہ رشتہ ۔ نہ مذہب ۔ نہ دوستی اور اگر من بعد تعلق ثابت ہو تو وہ فیصلہ فتح کیا جائے ورنہ فیصلہ ناطق قرار دے کر بحالت غالب ہونے پچیس روپے روپیہ آپکے حوالے کر دیئے جائیں ۔ لیکن منصفوں کی آزمائش لیاقت کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ اخیری رو بکار کی طرح فیصلہ تحریری بوجوہات شافیہ قلمبند کر کے فریقین کو جلسہ عام میں سنا دیں اور ادلہ قطعیہ سے اس فریق کا غالب ہونا اپنے فیصلہ میں ظاہر کریں۔ جس کو اپنی رائے میں انہوں نے غالب سمجھا ہے یہ شرائط کچھ مشکل نہیں ہیں۔ ایسی لیاقت کے بہت آدمی ہیں بالخصوص ایسے حکام جن کو ہر وقت فیصلجات دینے کی مشق ہے اور ثابت اور غیر ثابت میں تمیز کرنے کا ملکہ ہے بڑی آسانی سے منصفی کیلئے پیدا ہو سکتے ہیں اور اگر آپ کو منصفوں کے فیصلہ کی نسبت پھر بھی کچھ دل میں دھڑکا رہے تو منصفوں کیلئے حلف کی قید بھی لگا سکتے ہیں۔ اب اگر آپ میری اس درخواست سے گریز کریں گے تو پھر بلا شبہ آپکے وہ سب دعاوی فضول قرار پا کر وہ تمام توہین و تحقیر اور ہتک کی باتیں جو آپ نے اس عاجز کی نسبت اپنی تحریرات میں خود نمائی کی غرض سے کی ہیں آپ پر وارد سمجھی جائیں گی۔ تحریر کے ذریعہ سے ایک ہفتہ تک آپ اس کا جواب دیں۔
قولہ - اگر صرف قرآن سے مضمون کسی حدیث کا موافق ہونا اس کی صحت کا موجب ہو تو اس سے لازم آتا ہے کہ موضوع حدیثیں اگر ان کے مضامین صادق اور قرآن کے مطابق ہوں صحیح متصور ہوں ۔
اقول ۔ حضرت یہ آپ نے میری کسی عبارت سے نکالا ہے کہ میں قانون روایت محدثین کو بے مصرف اور فضول خیال کر کے اول حالت سے ہی ہر یک بے سند قول کیلئے تصدیق قرآن کریم کو حدیث بنانے کے کیلئے کافی جانتا ہوں ۔ اگر میرا یہی مذہب ہوتا تو میں کیوں کہتا کہ میں ظنی طور پر صحیحین کو صحیح سمجھتا ہوں اور جن حدیثوں کے ساتھ تعامل کا سلسلہ قرنا بعد قرن پایا جاتا ہے۔ ان کو نہ صرف ظنی بلکہ حسب مراتب تعلق تعامل قطعیت کے رنگ سے رنگین خیال کرتا ہوں !۔ او سے رنگین خیال کرتا ہوں ! ۔ اور اگرچہ میں دوسرے حصہ احادیہ کو ظنی طور پر صحیح خیال کرتا ہوں لیکن اگر ان کی صحت پر قرآن کی شہادت ہے تو وہ صحت ظن قوی ہو جاتا ہے۔ مگر جب کہ قرآن کریم صریح اس کے مخالف ہو اور تطبیق کی کوئی راہ نہ ہو تو میں ایسی حدیث کو جو حصہ دوم کی قسم میں سے ہے قبول نہیں کرتا کیونکہ اگر میں قبول کرلوں تو پھر قرآن کی خبر کو مجھے منسوخ ماننا پڑے گا۔ مثلاً قرآن نے خبر دی ہے کہ سلیمان داؤد کا بیٹا تھا اور اسحاق ابراہیم کا اور یعقوب اسحاق کا ۔ اب اگر کوئی حدیث اس کے مخالف ہے اور یہ بیان کرے کہ داؤ د سلیمان کا بیٹا تھا اور ابراہیم لاولد تھا میں کیونکر سمجھ لوں کہ جو کچھ قرآن نے فرمایا تھا وہ منسوخ ہو گیا ہے۔ ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ تاریخی واقعات اور اخبار وغیرہ پر ہرگز نسخ وارد نہیں ہوتا ورنہ اس سے خدا تعالیٰ کا کذب لازم آتا ہے! سو میں یہ تو نہیں کہتا کہ صحت حدیث کیلئے قانون روایت کی حاجت نہیں۔ ہاں یہ میں ضرور کہتا ہوں کہ جب اس قانون کے استعمال کے بعد کوئی روایت حدیث نبوی کے نام سے موسوم ہو۔ پھر اگر وہ احادیث کے حصہ دوم میں سے ہے تو اس کی تکمیل صحت کیلئے یہ ضروری ہے کہ تصریحات قرآن کریم کے مخالف نہ ہو۔
قولہ ۔ جو آپ نے کہا ہے کہ قرآن کریم اپنا آپ مفسر ہے حدیث اسکی مفسر نہیں۔ اس سے بھی آپکی نا واقفیت اصول اسلام سے ثابت ہوتی ہے۔
اقول ۔ اے حضرت آپ نے اس قدر افتراؤں پر کیوں کمر باندھ لی ہے میں نے کہاں اور کس جگہ لکھا ہے کہ حدیث قرآن کی مفسر نہیں۔ میں نے تو بحوالہ آیت اس قدر بیان کیا ہے کہ اول مفسر قرآن کا خود قرآن ہے پھر بعد اسکے نمبر دوم پر حدیث مفسر ہے اس سے میرا یہ مطلب تھا کہ حدیث کی تفسیر دیکھنے کے وقت قرآن کی تفسیر نظر انداز نہ ہو اور اگر کوئی ایسا مسئلہ ہو جو حدیث کے دونوں حصوں میں سے حصہ دوم میں داخل ہو یعنی اخبار و واقعات وغیرہ میں سے جس سے نسخ معلوم نہیں ہو سکتا اور نہ اس پر زیادت منتصور ہے تو ایسی صورت میں کسی مجمل آیت کی وہ تفسیر مقدم اور قابل اعتبار ٹھہرے گی جو قرآن نے آپ فرمائی ہے اور اگر حدیث کی تفسیر اس تفسیر کے مخالف ہو تو قبول کے لائق نہیں ہوگی۔
قولہ - آیت قُلۡ لَّاۤ اَجِدُ فِیۡ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطۡعَمُہٗۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ مَیۡتَۃً اَوۡ دَمًا مَّسۡفُوۡحًا(الانعام: ۱۴۶) صاف دلالت کرتی ہے کہ قرآن میں صرف یہ چند چیزیں حرام کی گئی ہیں ۔ لیکن حدیث کے رو سے گدھا اور درندے بھی حرام کر دیئے گئے ۔
اقول۔ حضرت یہ قصہ آپ نے ناحق چھیڑ دیا۔ میں کہتے کہتے تھک بھی گیا کہ حصہ اول کی حدیثیں جو احکام دین اور تعلیم دین اور فرائض اور حدود اسلام کے متعلق ہیں جن کا سلسلہ تعامل سے کثیر یا قلیل طور پر تمدن مذہبی میں ایک لازمی طور پر تعلق پڑا ہوا ہے وہ میری بحث سے خارج ہیں۔ بلکہ میری بحث سے خاص طور پر وہ امور علاقہ رکھتے ہیں جن کو نسخ اور کمی اور زیادت سے کچھ تعلق نہیں جیسے اخبارات ۔ واقعات - قصص لیکن آپ نے ہرگز میرے مدعا کو نہ سمجھا اور ناحق کا غذات کو سیاہ کر کے چند پیسوں کا نقصان کیا۔ باوجود اس کے میرا یہ مذہب نہیں ہے کہ قرآن ناقص ہے اور حدیث کا محتاج ہے بلکہ وہ اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ(المائدة: ۴) کے کا تاج لازوال اپنے سر پر رکھتا ہے اور تبیانا لکل شی ء کے وسیع اور مرصع تخت پر جلوہ افروز ہے۔ قرآن میں نقصان ہرگز نہیں اور وہ داغ نا تمام اور ناقص ہونے سے پاک ہے لیکن تقاصر افہام کی وجہ سے اس کے اسرار عالیہ تک ہر ایک فہم کی رسائی نہیں! ولنعم ماقیل ۔
وكل العلم في القرآن لكن
تقاصر منه افهام الرجال
خود نبی صلعم نے بوحی الہی استنباط احکام قرآن کر کے قرآن ہی سے یہ مسائل زائدہ لئے ہیں جس حالت میں قرآن کریم صاف ظاہر کرتا ہے کہ کل خبائث حرام کئے گئے تو کیا آپ کے نزدیک درندے اور گدھے طیبات میں سے ہیں؟ جن کے حرام کرنے کیلئے کسی حدیث کی واقعی طور پر ضرورت تھی! گدھے کی مذمت خود اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ اِنَّ اَنۡکَرَ الۡاَصۡوَاتِ لَصَوۡتُ الۡحَمِیۡرِ(لقمان: ۲۰) پھر جو اس کی نظر میں کسی وجہ سے منکر اور مکروہ اور خبائث میں داخل ہے وہ کس طرح حلال ہو جاتا ؟ اور تمام درندے بد بو سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ چڑیا گھر میں جا کر دیکھو کہ شیر اور بھیڑیا اور چیتا وغیرہ اس قدر بد بو رکھتے ہیں کہ پاس کھڑا ہونا مشکل ہوتا ہے ! پھر اگر یہ خبائث میں داخل نہیں ہیں تو اور کیا ہیں؟ اسی طرح میں آپ کی ہر ایک حدیث پیش کردہ کا جو احکام زائدہ کے بارہ میں آپ نے لکھی ہے جواب دے سکتا ہوں اور قرآن سے ان کا منبع دکھلا سکتا ہوں مگر یہ باتیں بھی بحث سے خارج ہیں۔ میں نے آپ کو کب اور کس وقت کہا تھا کہ سنن متوارثہ متعاملہ اور ایسے احکام جو تعامل کے سلسلہ مستمرہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ بنظر ظاہر حدیثوں کو ان کے منسوخ یا زیادہ کرنے میں دخل نہیں۔ افسوس آتا ہے کہ آپ نے ناحق بات کو طول دے کر اپنے اور لوگوں کے اوقات کا خون کیا۔ حضرت پہلے سمجھ تو لیا ہوتا کہ میرا مدعا کیا ہے جس بات کو میں نے نشانہ رکھ کر یعنی وفات حیات مسیح کے مسئلہ کو ۔ یہ تقریر پیش کی تھی ۔ افسوس کہ اس بات کی طرف بھی آپ کو خیال نہ آیا کہ وہ منجملہ اخبار ہے یا از قبیل احکام ہے۔ آئندہ ایسی شتاب کاری سے احتیاط رکھیں۔ پشیمان شوازاں عجلت کہ کردی
قولہ ۔ امام شعرانی نے منھج المبین میں لکھا ہے اجتمعت الامة على ان السنة قاضية على كتاب اللہ.
اقول ۔ اجماع کا حال آپ معلوم کر چکے ہیں کہ امام مالک نے خبر واحد پر قیاس کو مقدم رکھا ہے۔ چہ جائیکہ آیت اللہ اس پر مقدم ہو۔ اور حنفیہ کے نزدیک احادیث اگر قرآن کے مخالف ہوں تو سب متروک ہیں اور امام مالک★ کے نزدیک حدیث متواتر بھی کتاب اللہ کی مخالفت کی حالت میں پیچ ہے۔ پھر جبکہ یہ ائمہ جنکے کروڑ ہا لوگ مقتدی اور پیرو ہیں یہ فیصلہ دیتے ہیں تو اجماع کہاں ہے؟
قولہ ۔ جو حدیث آپ نے تفسیر حسینی سے نقل کی ہے وہ قابل اعتبار نہیں ۔
اقول ۔ حضرت وہ تو دراصل بقول صاحب تلویح بخاری کی حدیث☆ ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی تلویح کی عبارت نقل کر چکے ہیں پھر کیا بخاری بھی موضوعات سے پر ہے؟ اور اگر کہو کہ وہ آیت اللہ وَمَاۤ اٰتٰٮکُمُ الرَّسُوۡلُ(الحشر: ۸) سے مخالف ہے تو میں کہتا ہوں کہ ہرگز مخالف نہیں ما اتاکم الرسول کا حکم بغیر کسی قید اور شرط کے نہیں ۔ اول یہ تو دیکھ لینا چاہئے کہ کوئی حدیث فی الواقع ما اتاکم میں داخل ہے یا نہیں ۔ ما اتاکم میں تو وہ داخل ہوگا جسکو ہم شناخت کر لیں کہ در حقیقت رسول نے اس کو دیا ہے اور جب تک پورے طور پر اطمینان نہ ہو تو کیا یہ جائز ہے کہ حدیث کا نام سننے سے مـا اتـاكـم میں اس کو داخل کر دیں؟ اور یہ حدیث تو بخاری میں بقول تلویح موجود ہے نہ بھی ہو منشاء قرآن کے تو مطابق ہے اور ائمہ ثلثہ نے قریباً اسی کے مطابق اپنا اصول فقہ قائم رکھا ہے تو پھر اسکو کیوں قبول نہ کریں؟ اور اگر یزید بن ربیعہ کا اس کے راویوں میں سے ہونا اس کو ضعیف کرتا ہے تو ایسا ہی قرآن کی منشاء سے اس کا مطابق ہونا اسکے ضعف کو دور کرتا ہے کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍۭ بَعۡدَ اللّٰہِ وَاٰیٰتِہٖ یُؤۡمِنُوۡنَ(الجاثية: ۷) یعنی بعد اللہ جل شانہ کی آیات کے کس حدیث پر ایمان لاؤ گے؟ اس آیت میں صریح اس بات کی طرف ترغیب ہے کہ ہر ایک قول اور حدیث کتاب اللہ پر عرض کر لینا چاہئے ۔ اگر کتاب اللہ نے ایک امر کی نسبت ایک فیصلہ ناطق اور موید دے دیا ہے جو قابل تغیر اور تبدیل نہیں تو پھر ایسی حدیث دائرہ صحت سے خارج ہوگی جو اسکے مخالف ہے۔ لیکن اگر کتاب اللہ فیصلہ مؤیدہ اور نا قابل تبدیل نہیں دیتی تو پھر اگر وہ حدیث قانون روایت کے رو سے بیح ثابت ہو تو ماننے کے لائق ہے۔ غرض قرآن ایسی مجمل کتاب نہیں جو کبھی اور کسی صورت میں معیار کا کام نہ دے سکے ۔ جس کا ایسا خیال ہے بے شک وہ سخت نادان ہے۔ بلکہ ایمان اس کا خطرہ کی حالت میں ہے اور حدیث انی اوتیت الکتاب و مثلہ سے آپ کے خیال کو کیا کے خیال کو کیا مدد پہنچ سکتی ہے؟ آپ کو معلوم نہیں کہ وحی متلو کا خاصہ ہے جو اس کے ساتھ تین چیزیں ضرور ہوتی ہیں خواہ وہ وحی رسول کی ہو یا نبی کی یا محدث کی ۔
اول ۔ مکاشفات صحیحہ جو اخبارات اور بیانات وحی کو کشفی طور پر ظاہر کرتے ہیں ۔ گویا خبر کو معائنہ کر دیتے ہیں جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بہشت اور دوزخ دکھلایا گیا جس کا قرآن کریم نے بیان کیا تھا۔ اور ان گزشتہ رسولوں سے ملاقات کرائی گئی جن کا قرآن حمید میں ذکر کیا گیا تھا۔ ایسا ہی بہت سی معاد کی خبریں کشفی طور پر ظاہر کی گئیں۔ تا وہ علم جو قرآن کے ذریعہ سے دیا گیا تھا زیادہ تر انکشاف پکڑے اور موجب طمانیت اور سکینت کا ہو جائے ۔
دوئم ۔ وحی متلو کے ساتھ رویائے صالحہ دی جاتی ہے جو نبی اور رسول اور محدث کیلئے ایک قسم کی وحی میں ہی داخل ہوتی ہے اور باوجود کشف کے رویا کی اس لئے ضرورت ہوتی ہے کہ تا علم استعارات کا جو رویا پر غالب ہے وحی یاب پر کھل جائے اور علوم تعبیر میں مہارت پیدا ہو اور تا کشف اور رویا اور وحی بباعث تعدد طرق کے ایک دوسرے پر شاہد ہوں اور اس وجہ سے نبی اللہ کمالات اور معارف یقینیہ کی طرف ترقی رکھے۔
سوئم ۔ وحی متلو کے ساتھ ایک خفی وحی عنایت ہوتی ہے جو تفہیمات الہیہ سے نامزد ہوسکتی ہے۔ یہی وحی ہے جس کو وحی غیر متلو کہتے ہیں اور متصوفہ اس کا نام وحی خفی اور وحی دل بھی رکھتے ہیں۔ اس وحی سے یہ غرض ہوتی ہے کہ بعض مجملات اور اشارات وحی متلو کے منزل علیہ پر ظاہر ہوں۔ سو یہ وہ تینوں چیزیں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے أُوتیت الکتاب کے ساتھ مثلہ کا مصداق ہیں۔ اور ہر ایک رسول اور نبی اور محدث کو اس کی وحی کے ساتھ یہ تینوں چیزیں حسب مراتب اپنی اپنی حالت قرب کے دی جاتی ہیں چنانچہ اس بارے میں راقم تقریر هذا صاحب تجربہ☆ ہے یہ مؤیدات ثلاثہ یعنی کشف اور رویا اور وحی خفی در اصل مور زائدہ نہیں ہوتے بلکہ وحی متلو کے جو متن کی طرح ہے مفسر اور مبین ہوتے ہیں ۔ فتدبر ۔
قولہ - حدیث حارث اعور کی صحیح نہیں ہے اور یہ اعور بھی ایک دجال ہے۔
اقول ۔ افسوس کہ دجال کی حدیث اب تک مشکوۃ اور دوسری مقدس کتابوں میں درج ہوتی چلی آئی۔ آپ جیسے کسی بزرگ نے اس پر قلم نسخ نہ پھیرا۔ جس حالت میں وہ حدیث صریح جھوٹی ہے اور اسکا راوی دجال ہے ! تو وہ کیوں نہیں خارج کی جاتی؟ میں نہیں جانتا کہ خبیث کو طیب سے کیا علاقہ ہے! مگر اس حدیث کی ترک سے ہمارا کچھ نقصان نہیں ۔ اس مضمون کے قریب چند حدیثیں بخاری میں بھی ہیں جیسا کہ کسی قدر تبدیل یا کمی بیشی الفاظ سے یہ حدیث بخاری میں موجود ہے۔ انی تركت فيكم ما ان تمسكتم به لن تضلوا كتاب اللہ و سنتی اور آپ سرقہ کا مجھ کو الزام دیتے ہیں حالانکہ میں نے فی الحارث مقال کے لفظ کو ایک جرح بے ہودہ سمجھ کر عمداً ترک کیا ہے کیونکہ جس قدر کمالات قرآنیہ کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے وہ اہل کشف اور اہل باطن پر در حقیقت ظاہر ہو چکے ہیں اور ہوتے ہیں اور حارث کی روایت کی ہر ایک زمانہ میں تصدیق ہو رہی ہے۔ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ قرآن کریم بلا شبہ جامع حقائق و معارف اور ہر زمانہ کی بدعات کا مقابلہ کرنے والا ہے۔ اس عاجز کا سینہ اس کی چشم دید برکتوں اور حکمتوں سے پر ہے۔ میری روح گواہی دیتی ہے کہ حارث اس حدیث کے بیان کرنے میں بے شک سچا ہے بلاشبہ ہماری بھلائی اور ترقی علمی اور ہماری دائمی فتوحات کیلئے قرآن ہمیں دیا گیا ہے اور اس کے رموز اور اسرار غیر متناہی ہیں جو بعد تزکیہ نفس اشراق اور روشن ضمیری کے ذریعہ سے کھلتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے جس قوم کے ساتھ کبھی ہمیں ٹکرا دیا اس قوم پر قرآن کے ذریعہ سے ہی ہم نے فتح پائی وہ جیسا ایک اُمی دیہاتی کی تسلی کرتا ہے ویسا ہی ایک فلسفی معقولی کو اطمینان بخشتا ہے یہ نہیں کہ وہ صرف ایک گروہ کیلئے اترا ہے دوسرا گر وہ اس سے محروم رہے۔ بلا شبہ اس میں ہر یک شخص اور ہر یک زمانہ اور ہر یک استعداد کیلئے علاج موجود ہے۔ جو لوگ معکوس الخلقت اور ناقص الفطرت نہیں وہ قرآن کی ان عظمتوں پر ایمان لاتے ہیں۔ اور ان کے انوار سے مستفید ہوتے ہیں۔ جس حارث کے منہ سے ہمارے پیارے قرآن کی یہ تعریفیں نکلیں میں تو اس منہ کے قربان ہوں ۔ آپ اس کو دجال سمجھیں تو آپ کا اختیار ہے۔ كل احد يؤخذ من قوله ويترك.
رہی یہ بات کہ آپ نے میرا نام چور رکھا تو میں اپنا اور آپکا فیصلہ حوالہ بخدا کرتا ہوں ۔ اگر قرآن کے لئے میں چور کہلاؤں تو میری یہ سعادت ہے ۔ یہ تو ایک لفظ کی کمی کا نام سرقہ رکھا گیا ہے لیکن خدا وند کریم بہتر جانتا ہے کہ اس واقعی سرقہ یا اس کی اعانت کا مرتکب کون ہے جس کے ارتکاب سے ایک درم کی مالیت پر ہاتھ کاٹا جاتا ہے ۔ فتفكر في سر هذا الكلام واخش اللہ المحاسب العلام - کَبُرَ مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰہِ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ
قولہ - احادیث صحیحین کے راوی تہمت فسق سے بری ہیں ۔ سو آیت پیش کرنا جب کوئی فاسق خبر لاوے تو اس کی تفتیش کرو۔ آپ کی نا واقعی پر ایک دلیل ہے۔
اقول ۔ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ بخاری اور مسلم کے بعض راویوں پر تہمت اہل بدع ہونے کی کی گئی ہے جو فاسق کے حکموں میں ہیں۔ جیسا کہ مسلم الثبوت کا حوالہ دے چکا ہوں جس میں صحیحین کی نسبت یہ عبارت ہے۔ لان رواتهما قدريون وغيرهم اهل البدع یعنی بعض راوی مسلم اور بخاری کے قدری اور بدعتی ہیں۔ اب یا حضرت فرمائیے کہ آپ کی ناواقفی ثابت ہوئی یا میری۔ اور اگر آپ کہیں کہ دوسری طرق سے وہ حدیثیں ثابت ہیں تو یہ بار ثبوت آپکے ذمہ ہے کہ من كل الوجوه پورا مفہوم اور منطوق ان حدیثوں کا دوسری طرق روایت سے ثابت کر کے دکھلا دیں ۔ تلویح میں لکھا ہے کہ بعض موضوع حدیثیں جو زنادقہ کا افترا معلوم ہوتی ہیں بخاری میں موجود ہیں ۔ اور امام نووی نے حدیث عباس اور علی کی نسبت جو کہا ہے وہ پہلے لکھ چکا ہوں اور میرا یہ کہنا کہ امکانی طور پر صدور کذب ہر ایک سے بجز نبی کے ممکن الوقوع ہے۔ اس اعتراض کا مورد نہیں ہو سکتا کہ امکان کذب کی وجہ سے شہادت رد نہیں کی جاسکتی اور نہ کمزور ہو سکتی ہے کیونکہ امکان دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک مترقب الوقوع اور ایک مستبعد الوقوع ۔ اس کی یہ مثال ہے کہ جیسے ایک شخص کیلئے جو زمین کھود رہا ہے۔ ممکن ہے کہ اس زمین سے کسی قدر مال کا دفینہ نکل آوے۔ اور امکان مترقب الوقوع کی یہ مثال ہے کہ جیسے ایک ایسے گھر میں کتا اندر چلا جائے جس میں طرح طرح کے کھانے کھلے کھلے ہوئے ہیں سوممکن ہے کہ وہ کتا کھانا شروع کرے اسی طرح انسان دو گروہ ہیں ایک وہ جو ذنوب سے آزاد کئے جاتے ہیں اور تقویٰ اور ایمان ان کی محبوب طبیعت کیا جاتا ہے۔ دوسرے وہ گروہ ہیں کہ اگر چہ تکلف سے نیکی کرتے ہیں اور متقی کہلاتے ہیں مگر جذبات نفس سے ایمن اور محفوظ نہیں ہوتے اور اغراض نفسانی کے موقعہ پر پھر پھسلنا انکا امکان ترقبی میں داخل ہوتا ہے کیونکہ اعمال صالح ان کی طبیعت کے جزو نہیں ہوتے۔ یہ بات شہادتوں میں بھی ملحوظ رہتی ہے۔ اس وجہ سے ایک ایسے گواہ کی شہادت جو فریق ثانی سے جس پر وہ گواہی دیتا ہے سخت عداوت رکھتا ہے اور بالجہر در پے آزار ہے اور فریق اول کا جس کیلئے گواہی دیتا ہے۔ قریبی رشتہ دار اور اس کی حمایت پر اس کو سخت اصرار ہے کمزور بلکہ قابل رد سمجھی جاتی ہے۔ کیوں سمجھی جاتی ہے؟ اسی وجہ سے کہ اس کی دروغگوئی کے بارے میں امکان ترقمی کا احتمال قوی پیدا ہو جاتا ہے ۔ اور بوجہ اس امکان کے اس کی گواہی وہ وزن نہیں رکھتی جو قابل ذوی عدل شواہد کی رکھتی ہے۔ اور کسی طور سے پورے اعتماد کے لائق نہیں ٹھہر سکتی ۔ خاص کر ایسے زمانہ میں جو فسق اور کذب کا شیوع ہو ۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا خوارج اور قدریوں کی شہادت میں بوجہ ان کے مذاہب زائغہ کے دروغگوئی کا امکان ترقمی پیدا ہے یا نہیں؟ اور یہی میرا مطلب تھا۔
قولہ ۔ آپ کے ایسے دلائل واقاویل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو فن حدیث کے کوچہ سے بالکل نا آشنائی ہے۔
اقول - حضرت مولوی صاحب اس زمانہ میں جو صحیحین اردو میں ترجمہ ہو چکی ہیں فن حدیث کا کوچہ کوئی ایسا دشوار گذار راہ نہیں رہا جس پر خاص طور پر آپ کا ناز زیبا ہو۔ عنقریب زمانہ آنے والا ہے بلکہ آ گیا ہے کہ اردو میں حدیثوں کا توغل رکھنے والے اپنی دماغی اور دلی روشنی کی وجہ سے عربی خوان غبی طبع ملاؤں پر ہنسیں گے اور استاد بن کر انہیں دکھائیں گے ۔ میں حضرت محض اللہ آپ کو صلاح دیتا ہوں کہ اب آپ اپنی علمی نمائش کو کم کر دیں کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک فضیلت تقویٰ میں ہے ۔ اس ناحق کی نفسانی خودستائی اور دوسرے کی تحقیر سے حاصل کیا؟ اور طرفہ تر یہ کہ آپ تو میرے پر نادانی اور نالیاقتی کا الزام لگانا چاہتے ہیں۔ مگر خدا تعالیٰ وہی الزام لوٹا کر آپ پر نازل کرنا چاہتا ہے ۔ من اراد هتک ستراخيه هتک اللہ ستره ان اللہ لا يحب كل مختال فخور واللہ بصير بالعباد ولا يحب اللہ الجهر بالسوء من القول الامن ظلم
قولہ - صاحب تفسیر حسینی یا شیخ محمد اسلم طوسی نے حدیث کو قرآن پر عرض کرنے کے بارہ میں آپ کی مانند یہ اصول تو نہیں ٹھہرایا کہ احادیث صحیحہ مسلم الصحت کی صحت ثابت ہو جانے کے بعد ان کی صحت کا امتحان قرآن سے کیا جائے ۔ اور جب تک وہ حدیث مطابق قرآن ثابت نہ ہو اس کو صحیح نہ سمجھا جائے۔
اقول ۔ تفسیر حسینی کی عبارت سے یہ ظاہر ہے کہ شیخ محمد ابن اسلم طوسی تیس سال تک اس بارہ میں فکر کرتے رہے کہ حدیث ترک صلوٰة کی تصدیق جس کا مضمون یہ ہے کہ جو کوئی نماز کو عمداً چھوڑے وہ کافر ہو جاتا ہے قرآن سے ثابت ہو ۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہ حدیث قانون روایت کے لحاظ سے ان کے نزدیک موضوع ہوتی تو پھر اس کی مطابقت کیلئے قرآن کی طرف توجہ کرنا ایک فضول امر اور بیہودہ کام تھا۔ کیونکہ اگر حدیث موضوع تھی تو پھر اس کا خیال دل سے دفع کیا ہوتا ۔ کیا یہ قریب قیاس ہے کہ کوئی دانا ایک حدیث کو موضوع سمجھ کر پھر اس موضوع کی تصدیق کے لئے تیس سال تک اپنا وقت ضائع کرے ۔ ظاہر ہے کہ جس حدیث کو پہلے سے موضوع سمجھ لیا پھر اس کی تصدیق قرآن سے طلب کرنا چہ معنی دارد! بلکہ حق اور واقعی بات جو قرائن موجودہ سے معلوم ہوتی ہے یہ ہے کہ ایک طرف تو شیخ محمد اسلم طوسی کو اس حدیث کی صحت پر وثوق کامل تھا اور دوسری طرف بظاہر نظر قرآن کی عام تعلیم سے اس کو مخالف پاتا تھا اس لئے اس نے صحیح بخاری کی اس حدیث کے موافق جس میں عرض علی القرآن کا ذکر ہے کتاب اللہ سے اس کی موافقت چاہیے؟٭ اور خدا جانے کس قدر اس کو ترک صلوٰۃ کی حدیث کی صحت پر پختہ یقین تھا کہ باوجود یکہ انتیس سال تک یا کچھ اس سے زیادہ اس حدیث کی مصدق کوئی آیت اس کو قرآن کریم میں نہ ملی تاہم اس نے تلاش اور طلب سے ہمت نہ ہاری۔ یہاں تک کہ آیت وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ(الروم: ۳۲) اس کو مل گئی یہ طلب اور تلاش بجز ا سکے اور کس غرض کیلئے تھی کہ ایک طرف تو شیخ اسلم طوسی کو ترک صلوٰۃ کی حدیث میں اس کی صحت کے بارہ میں کچھ کلام نہ تھا اور دوسری طرف عبارت اس کی قرآن کریم کی ظاہر تعلیم سے مخالف معلوم ہوتی تھی اور اس بات کو ایک ادنی فہم والا بھی سمجھ سکتا ہے کہ اگر شیخ موصوف کو حدیث اور ظاہر قرآن میں کچھ مخالفت دکھائی نہیں دیتی تھی تو پھر تین ۳ سال تک کسی غوطہ میں رہا ! اور کونسی چیز گم ہو گئی تھی جس کو وہ تلاش کرتا رہا ؟ آخر یہی تو سبب تھا کہ وہ اس حدیث کے موافق کوئی آیت نہ پاتا تھا اور اسی خیال سے وہ قرآن کی آیات کو اس حدیث کے مخالف خیال کرتا تھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ شیخ مذکور کی کلام میں قرآن کے معیار ٹھہرانے کا نام و نشان نہیں ۔ مگر آپ کی سمجھ پر نہ خود میں بلکہ ہر یک عاقل تعجب کرے گا کہ اگر شیخ کی رائے میں قرآن ایسی حدیثوں کی تصدیق کیلئے کہ بظاہر مخالف قرآن معلوم ہوں معیار نہیں تھا تو پھر شیخ نے تیس سال تک تصدیق کیلئے کیوں ٹکریں ماریں؟ تیس سال کا عرصہ کچھ تھوڑا انہیں ہوتا ایک جوان اس عرصہ میں بڑھا ہو جاتا ہے۔ کیا کسی کی سمجھ میں آ سکتا ہے کہ بغیر ارادہ کسی بھاری مرحلہ کے طے کرنے اور بغیر قصد نجات کے ایک سخت مشکل سے یوں ہی کوئی ایک زائد اطمینان کیلئے اس قدر عرصہ دراز عمر عزیز کا ضائع کرے ۔ پھر آپ دریافت کرتے ہیں کہ کیا شیخ محمد اسلم نے بجز اس حدیث ترک صلوۃ کے کسی اور حدیث کو بھی قرآن پر عرض کیا ؟ یہ کیسا پر خبط سوال ہے ! کیا عدم علم سے عدم شے لازم آتا ہے؟ پس ممکن ہے کہ عرض کیا ہو اور ہمیں معلوم نہ ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ مشکل اور حدیثوں میں انہیں پیش نہ آئی ہو۔ اور ان کی نظر میں کوئی اور حدیث ایسے طور سے مخالف قرآن نہ ہو جس سے قرآن کی کامل اور غیر مبدل ہدایتوں کو ضرر پہنچ سکے اور اگر یہ کہو کہ اس تعین ۳ سال کے عرصہ تک یعنی جب تک کہ آیت نہیں ملی تھی حدیث ترک صلوۃ کی صحت کی نسبت شیخ کا کیا اعتقاد تھا تو جواب یہ ہے کہ شیخ اس میں حسب قانون روایت صحت کے آثار صحت پاتا تھا لیکن بوجہ مخالفت ظاہری قرآن حیرت اور سرگشتگی میں تھا اور کوئی رائے استقلال کے ساتھ قائم نہیں کر سکتا تھا اور آیت کے مل جانے کا زیادہ تر امیدوار تھا۔ پھر میں کہتا ہوں کہ آپ ضد چھوڑ دیں☆ اور خدا تعالیٰ سے شرم کریں ۔ آپ نے صرف ایک آدمی کا پتہ مانگا تھا جو احادیث مختلفہ کی نسبت عرض علی القرآن کا قائل ہو۔ لیکن ہم نے کئی امام اور بزرگوار اس عقیدہ کے رکھنے والے پیش کر دیئے ۔ مکرر یہ کہ آپ یاد رکھیں کہ شیخ طوسی کا تمین سال تک آیت کی طلب و تلاش میں لگے رہنا شیخ کے اس مذہب کو ظاہر کر رہا ہے جو اس کا حدیث ترک الصلوٰۃ کے صحت کی نسبت اور پھر تصدیق قرآنی کی ضرورت کی نسبت تھا۔ اگر آپ قرائن موجودہ سے نہیں سمجھیں گے تو اور سمجھنے والے دنیا میں بہت ہیں انہیں کو فائدہ ہوگا۔
قولہ ۔ میں قرآن کو امام جانتا ہوں٭
اقول ۔ یہ سراسر خلاف واقع ہے اگر آپ قرآن کو امام اور ہادی اول جانتے تو آپ کے انکار اورضد کی یہ نوبت کیوں پہنچتی ؟ آپ فرماتے ہیں کہ میرے پر یہ افترا ہے کہ میری نسبت بیان کیا گیا کہ میں قرآن کے امام ہونے کا منکر ہوں۔ اس آپ کی دلاوری کا میں کیا جواب دوں خود لوگ معلوم کر لیں گے!۔
قولہ ۔اے خدا کی مخلوق خدا سے ڈرو۔
اقول ۔ حضرت کچھ آپ بھی تو ڈر کریں٭ لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ کَبُرَ مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰہِ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ(الصف: ۳،۴) ۔
قولہ - یہ گمان کہ امام بخاری نے دمشقی حدیث کو ضعیف جان کر چھوڑ دیا ہے یہ بات وہ ہی تو ت وہ ہی شخص کہے گا جس کو حدیث کے کوچہ میں بھولے سے بھی کبھی گزر نہیں ہوا۔
اقول ۔ حضرت آپ کے اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو اس کو چہ میں خود گذر نہیں آپ نہیں جانتے ؟ کہ ایک شخص امام بخاری جا ص امام بخاری جیسا معلومات کا ملہ کا دعویٰ رکھنے والا جس نے تین لاکھ حدیث حفظ کی تھی ۔ اس کی نسبت ضروری طور پر ماننا پڑتا ہے کہ تمام احادیث مدو نہ مکتو بہ صحاح ستہ کی اس کو معلوم تھیں کیونکہ جس قدر کل حدیثیں صحاح ستہ میں مندرج ہیں وہ معلومات بخاری کا چھٹا حصہ بھی نہیں ۔ بلکہ ان سب کو معلومات امام بخاری میں داخل کر کے پھر بھی اڑھائی لاکھ احادیث ایسی رہ جاتی ہیں جن کے ضبط اور حفظ میں کوئی دوسرا امام بخاری سے شریک نہیں پس اس دلیل سے بظن غالب معلوم ہوتا ہے کہ دمشقی حدیث ضروری امام بخاری کو یاد ہوگی اور ان تمام حدیثوں کے لکھنے کے وقت جو امام بخاری نے مسیح ابن مریم اور مسیح دجال کی نسبت لکھی ہیں بخاری کا یہ فرض تھا کہ اس نا تمام قصہ کی تکمیل کیلئے جس کی تبلیغ کیلئے سب سے بڑھ کر تا کید نبی کریم ہے وہ دمشقی حدیث بھی لکھ دیتا جو مسلم میں درج ہے ۔ حالانکہ بخاری نے اپنی حدیثوں میں بعض ٹکڑے اس قصہ کے لئے ہیں اور بعض ترک کر دیئے ہیں ۔ پس صحیح بخاری کا ان قصص متعلقہ سے خالی ہونا اس بات پر حمل نہیں ہو سکتا کہ امام بخاری ان باقی ماندہ ٹکڑوں سے بے خبر رہا کیونکہ اس کو تین لاکھ حدیث کے ضبط کا دعوی ہے اور چالیس ہزار مجراے دے کر پھر بھی دولاکھ ساٹھ ہزار بخاری کے پاس خاص ذخیرہ حدیثوں کا ماننا پڑتا ہے آخر قرائن موجودہ جو بخاری کے احاطہ احادیث پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتے وہ ایک محقق کو کشاں کشاں اس طرف لے آئیں گے کہ امام بخاری نے بعض متعلقات اس قصہ کو جود مشقی حدیث میں پائی جاتی ہیں عمداً ترک کیا ۔ یہ گمان ہرگز نہیں ہو سکتا کہ نواس بن سمعان کی حدیث بخاری کو نہیں ملی ۔ بلکہ یہ گمان بھی نہیں ہے کہ علاوہ حدیث نو اس بن سمعان کے ایسی روایت کے متعلق اور بھی حدیثیں ملی ہوں جن کو اس نے متروک البیان رکھا ۔ لیکن یہ خیال کسی طرح طمانیت بخش نہیں کہ بخاری نے اس حدیث کو بھی اسی کنزر مخفی میں شامل کر دیا جو تین لاکھ حدیث کا خزانہ اس کے دل میں تھا کیونکہ اس کے ذکر کرنے کے ضروری دواعی پیش تھے اور قصہ کی تکمیل اس بقایا ذکر پر موقوف تھی ۔ سو بجز اس کے صحیح اور واقعی جواب جو جلالت شان بخاری کے مناسب حال ہے اور کوئی نہیں کہ بخاری نے وہ حدیث نواس بن سمعان کی اس مرتبہ پر نہ مجھی جس سے وہ اپنی صحیح میں اس کو دخل دیتا ۔ اس پر ایک اور بھی ثبوت ہے اور وہ یہ ہے کہ بخاری کی بعض حدیثیں اگر غور سے دیکھی جائیں تو اس دمشقی حدیث سے کئی امور میں مخالف ثابت ہوتی ہیں تو یہ بھی ایک وجہ تھی کہ بخاری نے اس حدیث کو نہیں لیا تا اپنی صحیح کو تعارض اور تناقض سے بچاوے اور معلوم ہوتا ہے کہ باقی حدیثیں بھی جو چھیانوے ہزار کے قریب بخاری کو یاد تھیں وہ با وجود اپنی صحت اسناد کے صحیح بخاری کی حدیثوں سے کچھ تعارض رکھتی ہونگی جبھی تو بخاری جیسے حریص اشاعت سنت رسول نے ان کو کتاب میں درج نہیں کیا۔ اور نہ کسی دوسری کتاب میں ان کولکھا ورنہ بخاری جیسے عاشق قول رسول پر ایک نا قابل دفع اعتراض ہوگا کہ اس نے رسول اللہ کی حدیثوں کو پا کر کیوں ضائع کیا ! کیا اس کی شان سے بعید نہیں کہ سولہ برس مصیبت اٹھا کر ایک لاکھ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جمع کی اور پھر ایک لکھے خیال سے کہ کتاب میں طول ہوتا ہے اس خزانہ کو ضائع کر دے؟
چہ عقل است صد سال اندوختن
پس انگاه در یک دمے سوختن
خدا داد علم اور حکمت کو ضائع کرنا بالاتفاق معصیت کبیرہ ہے پھر کیونکر یہ حرکت بے جا ایسے امام سے ممکن ہے ! سوا گر چہ کسی مخفی وجہ کی نسبت سے امام بخاری نے ظاہر نہیں کیا اور یا ظاہر کیا اور محفوظ نہیں رہا لیکن بہر حال یہی سبب ہے اور یہی عذر شرعی ہے جس کے تجویز کرنے سے امام محمد اسماعیل کی غم خواری دینی کا دامن کسل اور لا پروائی کی آلائش سے پاک رہ سکتا ہے۔
قولہ ۔ آپ نے اجماع کے بارے میں کہ اجماع کس کو کہتے ہیں کچھ جواب نہ دیا جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ آپ علمی سوالات کو کچھ سمجھ نہیں ۔ کو کچھ سمجھ نہیں سکتے ۔ اجماع کی تعریف یہ ہے کہ ایک وقت کے جملہ مجتہدین جن سے ایک شخص بھی متفرد و مخالف نہ ہوا ایک حکم شرعی پر اتفاق کر لیں اگر ایک مجتہد بھی مخالف ہو تو پھر اجماع متحقق نہیں ہوگا۔
اقول ۔ میرے سیدھے سیدھے بیان میں ماحصل اجماع کی تعریف کا موجود ہے۔ ہاں میں نے اصولیوں کی مصنوعہ مخترعہ طرز پر جو دقت سے خالی نہیں اس بیان کو ظاہر نہیں کیا تا عوام الناس فہم سخن سے بے نصیب نہ رہیں۔ لیکن آپ نے اصطلاحی طور پر اجماع کی تعریف کرنے کا دعویٰ کر کے پھر اس میں خیانت کی ہے اور پورے طور پر اسکا بیان نہ کیا جس سے آپکے دل میں یہ اندیشہ ہوگا کہ جن شرائط کو اصول فقہ والوں نے اجماع کی تحقیق کیلئے ٹھہرایا ہے ان تمام شرائط کے لحاظ سے آپکے مسلمہ اجماعوں میں سے کوئی اجماع صحیح ٹھہر نہیں سکتا۔ اور یا یہ مطلب ہوگا کہ جو امور اس میں میرے مفید مطلب ہوں ان کو پوشیدہ رکھا جاوے اور وہ اجماع معہ اس کی شرائط کے اس طرح پر بیان کیا گیا ہے الاجماع اتفاق مجتهدين صالحين من امة محمد مصطفى صلى اللہ عليه و سلم في عصر واحد والا ولى ان يكون في كل عصر علی امر قولی او فعلى وركنه نوعان عزيمة و هو التكلم منهم بما يوجب الاتفاق بان يقولوا اجمعنا على هذا ان كان ذلك الشيء من باب القول او شروعهم في الفعل ان كان ذالك الشيء من باب الفعل والنوع الثانى منه رخصة وهو ان يتكلم او يفعل البعض من المجمعين دون البعض اى يتفق بعضهم على قول او فعل ويسكت الباقون منهم ولا يردون عليهم الى ثلثة ايام اوالى مدة يعلم عادة انه لو كان هناک مخالف لاظهر الخلاف ويسمى هذا اجماعا سكوتيا و لابد فيه من اتفاق الكل خلافا للبعض وتمسكا بحديث رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم و ذهب بعضهم الى كفاية قول العوام في انعقاد الاجماع كالباقلانی و كون المجمعين من الصحابة او من العترة لا يشترط وقال بعضهم لا اجماع الاللصحابة وبعضهم حصر الاجماع فى اهل قرابة رسول اللہ و عند البعض كونهم من اهل المدينة يعنى مدينة رسول اللہ شرط ضروری و عند بعضهم انقراض عصرهم شرط لتحقق الاجماع وقال الشافعي يشترط فيه انقراض العصر وفوت جميع المجتهدين فلايكون اجماعهم حجة مالم يموتوا لان الرجوع قبله محتمل ومع الاحتمال لا يثبت الاستقراء ولا بد لنقل الاجماع من الاجماع والاجماع اللاحق جائز مع الاختلاف السابق والاولى في الاجماع ان يبقى في كل عصر وقال بعض المعتزلة ينعقد الاجماع باتفاق الاكثر بدليل من شذ شذ في النار . قال بعضهم ان الاجماع ليس بشيء ولا يتحقق لجمع شرائط
یعنی اجماع اس اتفاق کا نام ہے جو امت محمدیہ کے مجتہدین صالحین میں زمانہ واحد میں پیدا ہوا اور بہتر تو یہ ہے کہ ہر زمانہ میں پایا جائے اور جس امر پر اتفاق ہو برابر ہے کہ وہ امر قولی ہو یا فعلی ۔ اور اجماع کی دو نوع ہیں ایک وہ ہے جس کو عزیمت کہتے ہیں اور عزیمت اس بات کا نام ہے کہ اجماع کر نیوالے صریح تکلم سے اپنے اجماع کا اقرار کریں کہ ہم اس قول یا فعل پر متفق ہو گئے لیکن فعل میں شرط ہے کہ اس فعل کا کرنا بھی وہ شروع کر دیں ۔ دوسری نوع اجماع کی وہ ہے جس کو رخصت کہتے ہیں اور وہ اس بات کا نام ہے کہ اگر اجماع کسی قول پر ہے تو بعض اپنے اتفاق کو زبان سے ظاہر کریں اور بعض چپ رہیں اور اگر اجماع کسی فعل پر ہے تو بعض اسی فعل کا کرنا شروع کر دیں اور بعض فعلی مخالفت سے دستکش رہیں ۔ گو اس فعل کو بھی نہ کریں اور تین دن تک اپنی مخالفت قول یا فعل سے ظاہر نہ کریں یا اس مدت تک مخالفت ظاہر نہ کریں جو عادتاً اس بات کے سمجھنے کیلئے دلیل ہو سکتی ہے کہ اگر کوئی اس جگہ مخالف ہوتا تو ضرور اپنا خلاف ظاہر کرتا اور اس اجماع کا نام اجماع سکوتی ہے اور اس میں یہ ضروری ہے کہ کل کا اتفاق ہے ۔ مگر بعض سب کے اتفاق کو ضروری نہیں سمجھتے تا من شذ شذ کی حدیث کا مورد باقی رہے اور حدیث باطل نہ ہو جائے اور بعض اس طرف گئے ہیں کہ مجتہدین کا ہونا ضروری شرط نہیں بلکہ انعقاد اجماع کیلئے عوام کا قول کافی ہے جیسا کہ باقلانی کا یہی مذہب ہے اور بعض کے نزدیک اجماع کیلئے یہ ضروری شرط ہے کہ اجماع صحابہ کا ہو نہ کسی اور کا۔ اور بعض کے نزدیک اجماع وہی ہے جو عترت یعنی اہل قرابت رسول اللہ کا اجماع ہو۔ اور بعض کے نزدیک یہ لازم شرط ہے کہ اجماع کرنے والے خاص مدینہ کے رہنے والے ہوں ۔ اور بعض کے نزدیک تحقیق اجماع کیلئے یہ شرط ہے کہ اجماع کا زمانہ گذر جائے ۔ چنانچہ شافعی کے نزدیک یہ شرط ضروری ہے وہ کہتا ہے کہ اجماع تب متحقق ہوگا کہ اجماع کے زمانہ کی صف پیٹی جائے اور وہ تمام لوگ مرجائیں جنہوں نے اجماع کیا تھا اور جب تک وہ سب نہ مریں تب تک اجماع صحیح نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے قول سے رجوع کرے اور یہ ثابت ہونا ضروری ہے کہ کسی نے اپنے قول سے رجوع تو نہیں کیا اور نقل اجماع پر بھی اجماع چاہئے ۔ یعنی جو لوگ کسی امر کے بارہ میں اجماع کے قائل ہیں ان میں بھی اجماع ہو اور اجماع لاحق مع اختلاف سابق جائز ہے یعنی اگر ایک امر پہلے لوگوں نے اجماع نہ کیا اور پھر کسی دوسرے زمانہ میں اجماع ہو گیا ہو تو وہ اجماع بھی معتبر ہے اور بہتر اجماع میں یہ ہے کہ ہر زمانہ اس کا سلسلہ چلا جائے اور بعض معتزلہ کا قول ہے کہ اتفاق اکثر سے بھی اجماع ہو سکتا ہے بدلیل من شذ شذ في النار اور بعض نے کہا ہے کہ اجماع کوئی چیز نہیں اور اپنی جمیع شرائط کے ساتھ محقق نہیں ہو سکتا۔ دیکھو کتب اصول فقہ ائمہ اربعہ۔
اب اس تمام تقریر سے ظاہر ہے کہ علماء کا اس تعریف اجماع پر بھی اجماع نہیں اور انکار اور تسلیم کے دونوں دروازے کھلے ہوئے ہیں لہذا میں نے جب بعض اقوال کے ابن صیاد کے دجال معہود ہونے پر بلا شبہ اجماع سکوتی کا ثبوت دے دیا ہے ۔ ابوسعید نے ہرگز ہرگز ابن صیاد کے دجال ہونے سے انکار نہیں کیا ایک امر کا کسی پر مشتبہ ہونا اور چیز ہے اور انکار اور چیز ہے تمیم داری کا بھی انکار ثابت نہیں کیونکہ تمیم داری نے گر جا والے دجال کی نسبت اپنا یقین ظاہر نہیں کیا صرف ایک خبر سنادی اور بحجر دخبر سنانے کے انکار لازم نہیں آتا اور وہ خبر جرح سے خالی بھی نہیں کیونکہ تمیم داری کہتا ہے کہ اس دجال نے غیب کی باتیں اور آئندہ میں ظاہر ہونے والی پیشگوئیاں کھلے کھلے طور پر سنائیں اور یہ امر قرآن کے مخالف ہے۔ کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(الجن: ۲۷-۲۸) یعنی خدائے تعالیٰ کھلے کھلے طور پر کسی کو اپنے غیب پر بجز رسولوں کے یعنی بجز ان لوگوں کے جو وحی رسالت یا وحی ولایت کے ساتھ مامور ہوا کرتے ہیں اور منجانب اللہ سمجھے جاتے ہیں مطلع نہیں کرتا مگر دجال نے تو اس جگہ غیب کی پکی پکی خبریں سنائیں☆ اب سوال یہ ہے کہ وہ رسولوں کی کسی قسم میں سے تھا؟ کیا وہ حقیقی طور پر منصب رسالت رکھتا تھا یا نبی تھا یا محدث تھا؟ ممکن نہیں کہ خدائے تعالیٰ کے کلام میں کذب ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تمیم داری کے قول کی تصدیق کی یہ تصدیق در حقیقت اس شخص اور معین آدمی کی نہیں جو تمیم داری کے ذہن میں تھا بلکہ عام طور پر ان واقعات کی تصدیق ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ دجال آئے گا اور مدینہ اور مکہ میں نہیں جاسکے گا۔ اور اس جگہ کسی لفظ سے ثابت نہیں ہوتا کہ وحی الہی کے رو سے آنحضرت نے تمیم داری کی تصدیق کی ۔ بلکہ معمولی طور پر اور بشری عادت کی طرز سے بغیر لحاظ کسی خصوصیت کے چند واقعات کی تصدیق کی تھی اور حدیث کے لفظوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمیم داری کے اس لفظ کی جو دجال ایک جزیرے میں تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیق نہیں کی بلکہ ایک طور سے انکار کیا کیونکہ لفظ حدیث کے یہ ہیں۔
الا انه في بحر اليمن لا بل من قبل المشرق ما هو و اومأ بيده الى المشرق یعنی آگاہ ہو کیا تحقیق دجال اس وقت شام کے دریا میں ہے یا یمن کے دریا میں نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف سے نکلے گا اور مشرق کی طرف اشارہ کیا ۔ ماہو کے لفظ میں اشارہ کیا کہ بذاتہ وہ نہ نکلے گا بلکہ اس کا مثیل نکلے گا۔ تمیم داری نصاری کی قوم میں سے تھا اور نصاری ہمیشہ ملک شام کی طرف سفر کرتے ہیں ۔ سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمیم داری کے اس خیال کو رد کر دیا کہ وہ شام کے دریا میں کسی جزیرہ میں دجال کو دیکھ آیا ہے اور فرمایا کہ دجال مشرق کی طرف سے نکلے گا جس میں ہندوستان داخل ہے۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھو کہ معمولی تصدیق میں جو بغیر وحی کے ہو نبی سے بھی خطافی الاجتہاد ممکن ہے جیسا کہ اس خبر کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیق کر لی تھی کہ قیصر روم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس تصدیق کی وجہ سے عین موسم گرما میں دور دراز کا سفر بھی اختیار کیا ۔ آخر وہ خبر غلط نکلی۔ اور تواریخ صحابہ میں ایسی خبروں کے اور بہت سے نمونے ہیں۔ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی گئیں اور آنحضرت نے ان کی فکر کی لیکن آخر وہ صحیح نہ نکلیں ۔ ظاہر ہے کہ جس حالت میں قیصر کے حملہ کی خبر سن کر آنجناب شدت گرما میں بلا توقف مع ایک لشکر صحابہ کے روم کی طرف تشریف لے گئے تھے ۔ اگر تمیم داری کی خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نور فراست کے آگے کسی قدر آ ثار صداقت رکھتی تو آنجناب ایسے عجیب دجال کے دیکھنے کیلئے ضرور اس جزیرہ کی طرف سفر کرتے تا نہ صرف دجال بلکہ اس کی نادرالشکل جسامت بھی دیکھی جاتی جس حالت میں آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم ابن صیاد کے دیکھنے کے لئے گئے تھے تو اس عجیب الخلقت دجال کے مشاہدہ کیلئے کیوں تشریف نہ لے جاتے بلکہ ضرور تھا کہ جاتے ۔ یہ مسئلہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چشم دید ہو کر بکلی تصفیہ پا جاتا۔ اور یہ بھی آپکو یا درکھنا چاہئے کہ گر جا والے دجال کی تصدیق اس درجہ پر ہرگز ثابت نہیں ہو سکتی جیسے ابن صیاد کا دجال ہونا ! حضرت عمر وغیرہ صحابہ کی قسموں سے ثابت ہو گیا ہے ، گر جا والے دجال کی تصدیق قسم کھا کر کس نے کی جس کی تعریف اجماع کو میں نے پیش کیا ہے جو متفرق اقوال کتب اصول فقہ کا خلاصہ ہے ۔ کیا کوئی بھی حصہ اس تعریف کا ابن صیاد کے اجماع کی نسبت ثابت نہیں ہوتا ؟ بے شک ثابت ہوتا ہے اور آپ کا نقض فضول ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اخیر مدت تک اپنے قول سے رجوع ثابت نہیں اور حدیث ابوسعید سے کم سے کم یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک جماعت صحابہ کی ابن صیاد کے دجال ہونے کی قائل تھی اور اگر فرض کے طور پر کوئی فرد باہر رہا ہے تو جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اجماع کا حل نہیں ۔ الدجال کے لفظ کی نسبت جس قدر آپ نے بیان کیا ہے وہ سب لغو ہے۔ آپ نہیں جانتے کہ دجال معہود کیلئے الدجال ایک نام مقرر ہو چکا ہے۔ دیکھو صیح بخاری صفحہ ۱۰۵۵۔ اگر آپ الدجال صحیح بخاری میں بجز دجال معہود کے کسی اور کی نسبت اطلاق ہونا ثابت کر دیں تو پانچ روپیہ آپ کی نذر ہوں گے ۔ ورنہ اے مولوی صاحب ان فضول ضدوں سے باز آؤ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ أُولَئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُولًا(بنی یسرائیل: ۳۷) آپ اگر کچھ حدیث سمجھنے کا ملکہ رکھتے ہیں تو الدجال کے لفظ سے استعمال صحیح بخاری یا صحیح مسلم میں بغیر دجال معہود کے کسی اور میں ثابت کریں۔ ورنہ بقول آپ کے ایسی باتیں کرنا اس شخص کا کام ہے جس کو حدیث بلکہ کسی شخص کا کلام سمجھنے سے کوئی تعلق نہ ہو ۔ یہ آپ ہی کا فقرہ ہے آپ ناراض نہ ہوں۔ ایں ہمہ سنگ است که بر سرے من زدی۔
قولہ - آپ کا یہ عذر کہ کسی کو ( امارات قول دیکھ کر ) کسی بات کا قائل ٹھہرانا افتر انہیں اس سے آپکا افترا اور ثابت ہوتا ہے۔
اقول ۔ اگر یہی بات ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعلی امر کا نام کیوں حدیث رکھ کر لیتے ہیں ؟ اور کیوں بخاری نے کہا کہ میں نے تین لاکھ حدیث رسول اللہ کی تقریر کی ؟ ظاہر ہے کہ حدیث بات اور قول کو کہتے ہیں ۔ مگر احادیث میں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں نہیں اقوال بھی تو ہیں آپ نے ان افعال کا نام اقوال کیوں رکھا کیا یہ افترا ہے یا نہیں؟ اگر کہو کہ بطور مسامحت یہ اصطلاح فن حدیث میں جاری ہوگئی ۔ تو اسی طرح آپکو سمجھ لینا چاہئے کہ بہت سی باتیں بطور مسامحت انسان کرتا ہے اور ان کو افتر انہیں کہا جاتا ۔ اگر کوئی شخص فقط ہاتھ کے اشارہ سے کسی کو کہے کہ بیٹھ جاتو ناقل اس امر کا بسا اوقات کہہ سکتا ہے کہ اس نے مجھے بیٹھنے کیلئے کہا۔ ایک شخص کسی کو کہتا ہے کہ تو شیر ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا کہ تو نے افترا کیا۔ اگر یہ شیر ہے تو کہاں شیر کی طرح اس کی کھال ہے اور شیر کی طرح پنجے کہاں ہیں دم کہاں ہے۔ ایسا ہی اپنے اجتہاد کے اتباع کا ہر یک کو اختیار ہے جو شخص اجتہاد کے رو سے ایک ظنی امر کو یقینی سمجھ لیتا ہے خواہ اس کی نسبت کچھ کہا جائے مگر اس کو مفتری تو نہیں کہا جاتا۔ میرا اور آپ کا بیان اب جلد پبلک کے سامنے آئے گا لوگ خود اندازہ کر لیں گے۔ حدیث کے راویوں کی احتیاطیں صرف اس غرض سے تھیں کہ ان کا قول حدیث شمار کیا جاتا تھا مگر میرا قول تو حدیث نہیں میں تو صاف کہتا ہوں کہ یہ میرا اجتہاد ہے اور میں اجتہادی طور پر کہتا ہوں ضرور آنحضرت نے ابن صیاد کے دجال ہونے پر خوف ظاہر کیا اور میں نے قرائن موجودہ سے استنباط کیا ہے کہ اس خوف کا اظہار ضرور کلام کے ذریعہ سے ہوگا ۔ چنانچہ اصول فقہ کے رُو سے سکوت بھی کلام کا حکم رکھتا ہے ۔ اور آنحضرت کے صریح کلام سے بھی جو مسلم میں موجود ہے مترشح ہو رہا ہے کہ آنحضرت ابن صیاد کے دجال ہونے کی نسبت ضرور اندیشہ میں تھے۔ مسلم کی دوسری حدیثیں غور سے دیکھوتا آپ پر حق کی روشنی پڑے۔
قولہ ۔ ایک آپ کا افترا یہ ہے کہ آپ نے رسالہ ازالہ اوہام کے صفحہ ۲۰۱ میں حدیث و امامكم کے ترجمہ میں اپنی عبارت ملا دی ۔
اقول ۔ میں کہتا ہوں کہ یہ آپ کے فہم کا قصور ہے یا بحالت افہم ایک افترا ہے کیونکہ ہمیشہ اس عاجز کی عادت ہے کہ ترجمہ کی نیت سے نہیں بلکہ تفسیر کی نیت سے معنے کیا کرتا ہے مگر اپنی طرف سے نہیں بلکہ وہی کھول کر سنایا جاتا ہے جو اصل عبارت میں ہوتا ہے۔ بیشک اس جگہ و امامکم کی واؤ پہلے فقرہ کی تفسیر کے لئے ہے جس وقت آپ سے یہ بحث شروع ہوگی اسوقت آپ کو قواعد نحو کے رو سے سمجھا دیا جائیگا۔ ذرا صبر کیجئے اور میری کتاب براہین احمدیہ کو دیکھئے ہمیشہ تفسیر کی طرز پر میرا ترجمہ ہوتا ہے۔ افسوس کہ باوجو در یو یو لکھنے کے ان تراجم پر آپ نے اعتراض نہیں کیا اور کسی جگہ افترا نام نہ رکھا۔ اس کی اصل وجہ بجز اسکے اور کوئی نہیں کہ اس وقت آپ کی آنکھیں اور تھیں اور اب اور ہیں۔ خدائے تعالیٰ آپ کی پہلی بینائی آپ کو بخشے ۔ وهو على كل شيء قدیر . اور آپ کو یادر ہے کہ بیت المقدس یا دمشق میں نزول عیسیٰ کا ذکر بھی محض تفسیر کے طور پر میں نے کیا ہے مجرد ترجمہ نہیں ہے۔
قولہ ۔ آپ نے مجھے یہ الزام دینے سے کہ میرا بخاری کی حدیثوں پر ایمان ہے افترا کے طور پر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ میں کسی ایسے ملہم کو بھی مانتا ہوں کہ جو بخاری یا مسلم کی کسی حدیث کو موضوع کہیں ۔
اقول ۔ بیشک آپ نے ایسے ملہم کو جوکسی صحیح حدیث کو اپنے کشف کے رو سے موضوع جانتا ہو یا موضوع کو صحیح قرار دیتا ہو۔ اپنی کتاب الشاعة السنّة میں مخاطب الشیطان نہیں ٹھہرایا۔ یہ آپ کا سراسر افترا اور مشت بعد از جنگ ہے کہ اب آپ اپنی تحریر میں یہ لکھتے ہیں کہ میرے نزدیک ایسا محدث شیطان کی طرف سے مخاطب ہے اور جو حصے ہے اور جو شخص کسی صحیح حدیث کو جو صحیحین میں سے ہو موضوع کہے نہ صرف وہ شیطان کا مخاطب بلکہ شیطان مجسم ہے آپ نے اشاعة ا السنة میں ان بزرگوں کا نام جنہوں نے ایسے مکاشفات یا ایسا عقیدہ اپنا بیان کیا تھا شیطان مجسم ہرگز نام نہیں رکھا بلکہ مدح کی محل اور مورد میں انکاذکر لائے ہیں مثلاً آپ نے جو میری تائید کے لئے ابن عربی کا قول لکھا اور فتوحات میں سے نقل کیا کہ بعض حدیثیں کشفی طور پر موضوع ظاہر کی جاتی ہیں سچ کہو کہ آپ کی اس وقت کیا نیت تھی کیا یہ نیت تھی کہ نعوذ باللہ ابن عربی کافر اور شیطان مجسم ہے؟ کیا اکابر کا لفظ جو اس محل میں ہے یہی دلالت کر رہا ہے کہ وہ لوگ اکابر کفر تھے؟ آپ ایک خط میں محی الدین عربی کو رئیس المتصوفین اور اولیاء اللہ میں داخل کر چکے ہیں ۔ وہ خط تو اس وقت موجود نہیں لیکن ایک دوسرا خط ہے جس سے بھی یہی مطلب نکلتا ہے جسکو آپ نے مولوی عبد اللہ غزنوی مرحوم کی طرف لکھا تھا جسکی یہ عبارت ہے۔ علم دو قسم است یکے ظاہری کہ بکسب و اکتساب و نظر و استدلال حاصل میشود دوم باطنی که غیب الغیب بهم می رسد چنانچہ انبیا علیہم السلام و من بعد هم اولیاء کرام را حاصل بود كما قال الشيخ المحي الدين العربي في الفتوحات وقع لی اولا الخ فرمائیے کہ آپ نے ایسے محل میں کہ اولیاء الرحمٰن کے کلام کا حوالہ دینا چاہیئے تھا محی الدین عربی کا کیوں ذکر کیا ؟ اگر وہ بزرگ آپ کے آزاد دل کی نسبت نعوذ باللہ شیطان مجسم تھا تو کیا آپ نے اپنے خط میں جو اپنے مرشد کی طرف لکھا تھا ایک شیطان کا حوالہ دینا تھا ! ماسوا اس کے آپ کا وہ پرچہ اشاعة السنة موجود ہے میں اپنے پر سو روپیہ تاوان قبول کرتا ہوں اگر منصفین اس پر چہ کو پڑھ کر یہ رائے ظاہر کریں کہ آپ نے ان اولیاء کو جنہوں نے ایسا رائے ظاہر کیا تھا کافر اور شیطان ٹھہرایا تھا اور ان کے ملہمات کو شیطانی مخاطبات میں داخل کیا تھا تو میں سو روپیہ داخل کر دونگا۔
آپ اپنے شائع کردہ ریویو کے منشاء سے بھاگنا چاہتے ہیں٭ اور ایک پرانی قوم کی عادت پر تحریفوں پر زور مار رہے ہیں وانی لکم ذالک ولات حین مناص ۔
قولہ ۔ آپ کے ان افتراؤں سے کامل یقین ہوتا ہے کہ آپ کسی الہام کے دعوے میں سچے نہیں اور جو تارو پود آپ نے پھیلا رکھا ہے وہ سب افترا ہے۔
اقول ۔ میں آپ کی ان باتوں سے آزردہ نہیں ہوتا اور نہ کچھ رنج کرتا ہوں۔ کیونکہ جو لوگ حق کے مخالف تھے ۔ ہمیشہ ارباب حق اور اہل اللہ بلکہ انبیاء کی نسبت ایسے ایسے ہی ظن کرتے آئے ہیں حضرت موسیٰ کا نام مفتری رکھا گیا۔ حضرت عیسی کا نام مفتری رکھا گیا۔ ہمارے سید مولی کا نام مفتری رکھا گیا۔ بہت سے اولیاء کا نام مفتری رکھا گیا۔ پھر اگر میرا نام بھی آپ نے مفتری رکھ لیا تو کونسی رنج کی بات ہے؟ وَقَدۡ خَلَتۡ سُنَّۃُ الۡاَوَّلِیۡنَ(الحجر: ۱۴) میں آپ کو سچ سچ کہتا ہوں کہ میں مفتری نہیں ہوں اور خداوند کریم نے جو ہمیشہ مصلحت عباد کی رعایت رکھتا ہے مجھے حقا وعدلا مامور کر کے بھیجا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے اور اب سن رہا ہے کہ اُس نے مجھے ضرور بھیجا ہے تا میرے ہاتھ پر ان خرابیوں کی اصلاح ہو جو مولویوں کی کج فہمی سے امت محمدیہ میں شائع ہو گئی ہیں اور تا مسلمانوں میں سچے ایمان کا تخم پھر نشو و نما کرے سو میں بفضلہ و رحمتہ تعالیٰ سچا ہوں اور سچائی کی تائید کیلئے آیا ہوں اور ضرور تھا کہ میرا انکار کیا جاتا۔ کیونکہ براہین احمد یہ میں الہی الہام میرے حق میں یہ درج ہو چکا ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے اسکی سچائی ظاہر کر دیگا۔ سو میں جانتا ہوں کہ میرا خدا ایساہی کرے گا۔ میں کسی کے منہ کی پھونکوں سے معدوم نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ جس نے مجھے بھیجا ہے میرے ساتھ ہے وہ میری حمایت کریگا ضرور حمایت کریگا۔ اور میری صداقت میرے آسمانی نشان دیکھنے والوں پر ظاہر ہے گو آپ پر ظاہر نہ ہو۔ اسی مجلس میں بعض لوگ ایسے موجود ہیں کہ وہ حلف اُٹھا کر کہہ سکتے ہیں کہ آسمانی نشان انہوں نے مجھ سے دیکھے ہیں۔ شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور بھی حلف اٹھا کر یہ شہادت دے سکتے ہیں کہ میں نے چھ مہینہ پہلے ان پر ایک بلا نازل ہونے کی ان کو اطلاع دی اور عین اس وقت میں کہ جب پھانسی کا حکم ان کے لئے صادر ہو چکا تھا ان کے انجام بخیر اور نجات پا جانے کی خبر استجابت دعا کے بعد ان تک پہنچادی۔ میں نے سنا ہے کہ یہ خبر ہوشیار پور اور اس ضلع میں اس کثرت سے پھیل گئی کہ ہزاروں آدمی اس کے گواہ ہیں۔ پھر میں نے اپنی زبان سے دلیپ سنگھ کی ناکامی اور ہندوستان میں نہ داخل ہونے کی پیش از وقت خبر دی اور صدہا آدمیوں کو زبانی سنایا اور اشتہار شائع کیا اور پنڈت دیانند کے تین مہینہ تک فوت ہونے تک پہلے سے خبر دے دی اور اللہ جل شانہ خوب جانتا ہے کہ شاید تین ہزار کے قریب ایسے امور میرے پر ظاہر ہوئے ہیں کہ وہ ٹھیک ٹھیک ظہور میں آگئے ہیں۔ میں یہ دعوی نہیں کرتا کہ کبھی میرے مکاشفات میں غلط انہی کی وجہ سے خطا واقع نہیں ہوتی کیونکہ اس وجہ سے تو نبیوں کے مکاشفات میں بھی کبھی کبھی خطا واقع ہو جاتی ہے بخاری کی حدیث فذهب وھلی بہتوں کو یاد ہوگی حضرت مسیح کی غلط پیشگوئی یہودا اسکر یوطی کی نسبت کہ وہ بارہویں تخت کا مالک ہے ابتک کسی عمدہ تاویل کے رو سے صحیح نہیں ہو سکی لیکن کثرت کی طرف دیکھنا چاہئے جو لوگ مجھے مفتری سمجھتے ہیں اور اپنے تیں صاف پاک اور متقی قرار دیتے ہوں میں ان کے مقابل پر اس طور کے فیصلہ کیلئے راضی ہوں کہ چالیس دن مقرر کئے جائیں اور ہر ایک فریق اعۡمَلُوۡا عَلٰی مَکَانَتِکُمۡ اِنِّیۡ عَامِلٌ(الانعام: ۱۳۶) کے پر عمل کر کے خدا تعالیٰ سے کوئی آسمانی خصوصیت اپنے لئے طلب کرے۔ جو شخص اس میں صادق نکلے اور بعض مغیبات کے اظہار میں خدائے تعالیٰ کی تائید اس کے شامل حال ہو جائے وہی سچا قرار دیا جائے۔ اے حاضرین اسوقت اپنے کانوں کو میری طرف متوجہ کرو کہ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر حضرت مولوی محمد حسین صاحب چالیس دن تک میرے مقابل پر خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کر کے وہ آسمانی نشان یا اسرار غیب دکھلا سکیں جو میں دکھلا سکوں تو میں قبول کرتا ہوں کہ جس ہتھیار سے چاہیں مجھے ذبح کر دیں اور جو تاوان چاہیں میرے پر لگا دیں۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسکو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دیگا۔ بالآخر میں لکھتا ہوں کہ اب میں یہ موجودہ بحث٭ ختم کر چکا ہوں اگر مولوی صاحب کو کسی بات کے ماننے میں کچھ عذر ہو تو علیحدہ طور پر اپنے رسالہ میں درج کریں اب ان تمہیدی امور میں زیادہ طول دینا ہرگز مناسب نہیں ۔ ہاں اگر مولوی صاحب نفس دعوی میں جو میں نے کیا ہے بالمقابل دلائل پیش کرنے سے بحث کرنا چاہیں تو میں طیار ہوں اور اگر وہ خاص بحثیں جنگی درخواست اس تحریر میں کی گئی ہے پسند خاطر ہوں تو ان کیلئے بھی حاضر ہوں اب انشاء اللہ یہ کا غذات چھپ جائیں گے اور مولوی صاحب نے جس قدر تیز زبانی سے ناحق کو حق قرار دیا ہے پبلک کو اس پر رائے لگانے کیلئے موقعہ ملے گا۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمين۔
راقم خاکسار غلام احمد ۲۹ جولائی ۱۸۹۱ء٭
محمد صاحب لکھو گے ۔ مولوی عبدالرحمن صاحب لکھو گے ۔ مولوی عبید اللہ صاحب تبتی - مولوی رشید احمد صاحب گنگوی - مولوی غلام دستگیر صاحب غلام دستگیر صاحب قصوری - مولوی عبد الجبار صاحب امرتسری - مولوی سید محمد نذیر حسین صاحب دہلوی ۔ مولوی عبد العزیز صاحب لدھیانوی ۔ مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری ۔ مولوی محمد سعید صاحب بنارسی ۔ مولوی عبد اللہ صاحب ٹونکی از طرف اہل اسلام لاہور بالخصوص حافظ محمد یوسف صاحب ضلعدار و خواجہ امیر الدین صاحب و منشی عبد الحق صاحب و محمد چٹو صاحب و منشی شمس الدین سیکرٹری حمایت اسلام و مرزا صاحب ہمسایہ خواجہ امیر الدین صاحب و منشی کرم الہی صاحب وغیرہ وغیرہ ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ مرزاغلام احمد صاحب قادیانی نے جو دعاوی حضرت مسیح علی نبینا وعليه الصلوة والسلام کی موت اور خود مسیح موعود ہونے کی نسبت کئے ہیں آپ سے مخفی نہیں ۔ ان کے دعاوی کی اشاعت اور ہمارے ائمہ دین کی خاموشی نے مسلمانوں کو جس تردد اور اضطراب میں ڈالدیا ہے وہ بھی محتاج بیان نہیں اگر چہ جمہور علماء موجود کی بے سود مخالفت اور خود مسلمانوں کے پرانے عقیدے نے مرزا صاحب کے دعاوی کا اثر عام طور پر پھیلنے نہیں دیا مگر تا ہم اس امر کے بیان کرنے کی بلا خوف تردید جرات کی جاتی ہے کہ اہل اسلام کے قدیمی اعتقاد نسبت حیات و نزول عیسی ابن مریم میں بڑا بھاری تزلزل واقع ہو گیا ہے۔ اگر ہمارے پیشوایان دین کا سکوت یا ان کی خارج از بحث تقریر اور تحریر نے کچھ اور طول پکڑا تو احتمال کیا بلکہ یقین کامل ہے کہ اہلِ اسلام علی العموم اپنے پرانے اور مشہور عقیدے کو خیر باد کہہ دیں گے اور پھر اس صورت اور حالت میں حامیان دین متین کو سخت تر مشکل کا سامنا پڑے گا ۔ ہم لوگوں نے جن کی طرف سے یہ درخواست ہے اپنی تسلی کے لئے خصوصًا اور عامہ اہل اسلام کے فائدہ کے لئے عموما کمال نیک نیتی سے بڑی جدوجہد کے بعد ابو سعید مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو مولوی حکیم نور الدین صاحب کے ساتھ ( جو مرزا صاحب کے مخلص معتقدین میں سے ہیں ) مرزا صاحب کے دعوئی پر گفتگو کرنے کیلئے مجبور کیا تھا مگر نہایت ہی حیرت ہے کہ ہماری بد قسمتی سے ہمارے منشاء اور مدعا کے خلاف مولوی ابوسعید صاحب نے مرزا صاحب کے دعووں سے جو اصل مضمون بحث تھا قطع نظر کر کے غیر مفید امور میں بحث شروع کر دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مترد دین کے شبہات کو اور تقویت ہو گئی اور زیادہ تر حیرت میں مبتلا ہو گئے اسکے بعد لدھیانہ میں مولوی ابوسعید صاحب کو خود مرزا صاحب سے بحث کرنے کا اتفاق ہوا۔ تیرہ روز گفتگو ہوتی رہی اسکا نتیجہ بھی ہمارے خیال میں وہ ہی ہوا جو لاہور کی بحث سے ہوا تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ تر مضر کیونکہ مولوی صاحب اس دفعہ بھی مرزا صاحب کے اصل دعوی کی طرف ہرگز نہ گئے اگر چہ ( جیسا کہ سنا گیا ہے اور پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے ) مرزا صاحب نے اثناء بحث میں بھی اپنے دعووں کی طرف مولوی صاحب کو متوجہ کرنے کے لئے سعی کی چونکہ علماء وقت کے سکوت اور بعض بے سود تقریر و تحریر نے مسلمانوں کو علی العموم بڑی حیرت اور اضطراب میں ڈال رکھا ہے اور اسکے سوا انکو اور کوئی چارہ نہیں کہ اپنے امامان دین کی طرف رجوع کریں لہذا ہم سب لوگ آپ کی خدمت میں نہایت مودبانہ اور محض بنظر خیر خواهی برادران اسلام درخواست کرتے ہیں کہ آپ اس فتنہ وفساد کے وقت میدان میں نکلیں اور اپنی خدا داد نعمت علم و فضل سے کام لیں ۔ خدا کے واسطے مرزا صاحب کے ساتھ ان کے دعاوی پر بحث کر کے مسلمانوں کو ورطہ تذبذب سے نکالنے کی سعی فرما کر عند الناس مشکور وعند اللہ ماجور ہوں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ جن کی ذات پر مسلمانوں کو بھروسہ ہے خاص لاہور میں مرزا صاحب کے ساتھ ان کے دعاوی میں بالمشافہ تحریری بحث کریں مرزا صاحب سے ان کے دعاوی کا ثبوت کتاب اللہ اور سنت رسول صلعم سے لیا جاوے یا ان کو اس قسم کے دلائل بینہ سے توڑا جاوے۔ ہماری رائے میں مسلمانوں کی تسلی اور رفع تردد کے واسطے اس سے بہتر اور کوئی طریق نہیں۔ اگر آپ اس طریق پر بحث کو منظور فرماویں اور امید واثق ہے کہ آپ اپنا ایک اہم منصبی اور مذہبی فرض یقین کر کے محض ابتغاء لوجه اللہ وهداى خلق اللہ ضرور قبول فرماویں گے تو اطلاع بخشیں تا کہ مرزا صاحب سے بھی اس بارہ میں تصفیہ کر کے تاریخ مقرر ہو جائے اور آپکو لا ہور تشریف لانے کی تکلیف دی جاوے تمام انتظام متعلقہ قیام امن وغیرہ ہمارے ذمہ ہوگا اور انشاء اللہ تعالیٰ آپ صاحبوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ اٹھانی پڑے گی جواب سے جلد سرفراز فرماویں۔ والسلام
تمت