فہرست

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات


حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں آخری زمانہ میں اسلام کے ازسر نو احیاء اور غلبہ کے لئے اُمت میں مسیح موعود کے مبعوث ہونے کی بشارت دی وہاں مسیح موعود کا ایک بنیادی کام فَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ وَ یَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ (بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسیٰ ابن مریم)

یعنی مسیح موعود صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا‘ بھی بیان فرمایا۔صلیب کو توڑنے سے مراد یہ تھی کہ مسیح موعود عیسائیت کے عقائد باطلہ کے زور کو توڑ کر ان کی بجائے اسلام کے عقائد حقہ کو غالب کرے گا اور خنزیر صفت لوگوں سے ہر قسم کی پلیدی دور کرکے انہیں پاک و صاف اور مطہر بنائے گا۔اس حدیث میں جہاں مسیح مو عود کے مبعوث ہونے کی بشارت دی گئی تھی وہاں اس میں یہ واضح اشارہ بھی مضمر تھا کہ آخری زمانہ میں عیسائیت کو بہت فروغ حاصل ہوگا یہاں تک کہ وہ پورے کرّۂ ارض پر چھا جائے گا۔

اُس وقت جو مسلمانوں کی حالت تھی اس سے ہر وہ مسلمان جس کے دل میں اسلام کا درد تھا بے چین تھا۔برصغیر میں آریوں اور عیسائی پادریوں اور اُن کے مبلغوں نے اسلام پر بے انتہا تابڑ توڑ حملے شروع کئے ہوئے تھے اتنے شدید حملے تھے کہ مسلمان علماء بھی اس وقت سہمے ہوئے تھے اور ان کے پاس کوئی جواب ان حملوں کا نہیں تھا۔کچھ مسلمان تو لاجواب ہونے کی وجہ سے اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت کی جھولی میں گر تے جاتے تھے اور کچھ بالکل اسلام سے لاتعلق ہو رہے تھے۔اس وقت اگر عیسائیت اور دوسرے مذاہب کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اگر کوئی شخص تھا تو ایک ہی جری اللہ تھا یعنی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام۔آپ نے ان مذاہب سے تن تنہا چومکھی لڑائی لڑی۔

انجمن حمایت اسلام سے ایک عیسائی عبداللہ جیمز نے تین سوال اسلام کی نسبت بطلب جواب تحریرکئے۔انہوں نے یہ سوال حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مولانا نور الدین صاحب کو بھی ارسال کئے۔ان جوابات کو انجمن حمایت اسلام نے ۱۳۰۹ھ میں’’ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات‘‘ کے نام سے شائع کیا۔( اس کتاب کو بعد میں قادیان سے ’’تصدیق النبی‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا جس میں صرف حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے جوابات شائع کئے گئے۔)

انجمن حمایت اسلام نے اس کے دیباچہ میں تحریر کیا کہ

’’دین اسلام کے وہ مخلص پیرو بندے جو اپنی اعلیٰ درجے کی دین داری، لیاقت، فضیلت، حسن اخلاق وغیرہ خوبیوں کے باعث آج کل کی معدن علم ہونے کی مدعی قوموں کے استاد تھے۔انہیں کی نسلیں آج جاہل مطلق بے ہنر محض اور اپنے سچے مذہب کے مقدس اصولوں کی پابندی سے کوسوں دور ہیں۔ان کی جہالت کا نتیجہ یہ ہے کہ بت پرست قومیں جن کے پاس اپنے مذہب کی حقیقت کی کوئی بھی عقلی اور نقلی دلیل نہیں علانیہ اسلام کی تردید کے واسطے کھڑی ہیں اور ہمیں اپنی بے علمی اور نالیاقتی سے ان کے جواب دینے کی جرأت نہیں۔‘‘

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہایت شرح اور بسط کے ساتھ ان سوالات کے جواب دیئے۔بطور نمونہ چند اقتباسات پیش ہیں۔

’’اب اے حق کے طالبو! اور سچے نشانوں کے بھوکو اور پیاسو!! انصاف سے دیکھو اور ذرا پاک نظر سے غور کرو کہ جن نشانوں کا خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے کس اعلیٰ درجہ کے نشان ہیں او ر کیسے ہر زمانہ کے لئے مشہود و محسوس کا حکم رکھتے ہیں۔پہلے نبیوں کے معجزات کا اب نام و نشان باقی نہیں صرف قصے ہیں۔خدا جانے ان کی اصلیت کہاں تک درست ہے؟ بالخصوص حضرت مسیح ؑ کے معجزات جو انجیلوں میں لکھے ہیں باوجود قصوں اور کہانیوں کے رنگ میں ہونے کے اور باوجود بہت سے مبالغات کے جوا ن میں پائے جاتے ہیں ایسے شکوک و شبہات ان پر وارد ہوتے ہیں کہ جن سے انہیں بکلّی صاف و پاک کرکے دکھلانا بہت مشکل ہے۔‘‘

’’غرض امریکہ اور یورپ آج کل ایک جوش کی حالت میں ہے اور انجیل کے عقیدوں نے جو برخلاف حقیقت ہیں بڑی گھبراہٹ میں انہیں ڈال دیا ہے یہاں تک کہ بعضوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ مسیحؑ یا عیسٰی ؑ نام خارج میں کوئی شخص کبھی پیدا نہیں ہوا بلکہ اس سے آفتاب مراد ہے اور بارہ حواریوں سے بارہ برج مراد ہیں اور پھر اس مذہب عیسائی کی حقیقت زیادہ تر اس بات سے کھلتی ہے کہ جن نشانیوں کو حضرت مسیح ؑ ایمانداروں کے لئے قرار دے گئے تھے ان میں سے ایک بھی ان لوگوں میں پائی نہیں جاتی۔حضرت مسیح ؑ نے فرمایا تھا کہ اگر تم میری پیروی کرو گے تو ہر ایک طرح کی برکت اور قبولیت میں میرا ہی روپ بن جاؤ گے اور معجزات اور قبولیت کے نشان تم کو دیئے جائیں گے اور تمہارے مومن ہونے کی یہی علامت ہوگی کہ تم طرح طرح کے نشان دکھلا سکو گے اور جو چاہو گے تمہارے لئے وہی ہوگا اور کوئی بات تمہارے لئے ناممکن نہیں ہوگی لیکن عیسائیوں کے ہاتھ میں ان برکتوں میں سے کچھ بھی نہیں وہ اس خدا سے ناآشنا محض ہیں جو اپنے مخصوص بندوں کی دعائیں سنتا ہے اور انہیں آمنے سامنے شفقت اور رحمت کا جواب دیتا ہے اور عجیب عجیب کام ان کے لئے کر دکھاتا ہے۔‘‘

’’ اب جاننا چاہیئے کہ محبوبیت اور قبولیت اور ولایت حقّہ کا درجہ جس کے کسی قدر مختصر طو ر پر نشان بیان کر چکا ہوں یہ بجز اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا اور سچے متبع کے مقابل پر اگر کوئی عیسائی یا آریہ یا یہودی قبولیت کے آثار و انوار دکھلانا چاہے تو یہ اس کے لئے ہرگز ممکن نہ ہوگا اور نہایت صاف طریق امتحان کا یہ ہے کہ اگر ایک مسلمان صالح مقابل پر جو سچا مسلمان اور سچائی سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا متبع ہو اور کوئی دوسرا شخص عیسائی وغیرہ معاوضہ کے طور پر کھڑا ہو اور یہ کہے کہ جس قدر تجھ پر آسمان سے کوئی نشان ظاہر ہوگا یا جس قدر اسرار غیبیہ تجھ پر کھلیں گے یا جو کچھ قبولیت دعاؤں سے تجھے مدد دی جائے گی یا جس طور سے تیری عزت او ر شرف کے اظہار کے لئے کوئی نمونہ قدرت ظاہر کیا جائے گا یا اگر انعامات خاصہ کا بطور پیشگوئی تجھے و عدہ دیا جائے گا یا اگر تیرے کسی موذی مخالف پر کسی تنبیہہ کے نزول کی خبر دی جائے گی تو ان سب باتوں میں جو کچھ تجھ سے ظہور میں آئے گا او رجو کچھ تو دکھلائے گا وہ مَیں بھی دکھلاؤں گا۔تو ایسا معارضہ کسی مخالف سے ہرگز ممکن نہیں اور ہرگز مقابل پر نہیں آئیں گے کیونکہ ان کے دل شہادت دے رہے ہیں کہ وہ کذاب ہیں انہیں اس سچے خدا سے کچھ بھی تعلق نہیں کہ جو راستبازوں کا مددگار اور صدیقوں کا دوست دار ہے جیسا کہ ہم پہلے بھی کسی قدر بیان کر چکے ہیں۔ و ھٰذااٰخر کلامنا والحمد لِلّٰہِ اوّلًا وَّ اٰخرًا وَّ ظاہرًا وَّ باطنًا ھو مولانا نعم المولٰی و نعم الوکیل۔ ‘‘

ناظر اشاعت

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم

بَلۡ ہُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیۡ صُدُوۡرِ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ

چند روز ہوئے کہ ایک عیسائی صاحب مسمّٰی عبداللہ جیمز نے چند سوال اسلام کی نسبت بطلب جواب انجمن میں ارسال فرمائے تھے چنانچہ اُن کے جواب اس انجمن کے تین معزز و مقتدر معاونین نے تحریر فرمائے ہیں جو بعد مشکوری تمام بصورت رسالہ ہذا شائع کئے جاتے ہیں۔

سوالات

اوّل: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی نبوت اور قرآن مجید کے کلام اللہ ہونے پر متشکی ہونا جیسا سورۂ بقر اور سورۂ انعام میں درج ہے فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَاس سے ثابت ہوتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دل میں یقین جانتے تھے کہ وہ پیغمبر خدا نہیں اگر وہ پیغمبر خدا ہوتے یا انہوں نے کبھی بھی کوئی معجزہ کیا ہوتا یا معراج ہوا ہوتا یا جبرئیل علیہ السلام قرآن مجید لائے ہوتے تو وہ کبھی اپنی نبوت پر متشکی نہ ہوتے اُس سے ان کا قرآن مجید پر اور اپنی نبوت پر متشکی ہونا صاف صاف ثابت ہوتا ہے اور نہ وہ رسول اللہ ہیں۔
دوم : محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی کوئی معجزہ نہ ملا جیسا کہ سورۂ عنکبوت میں درج ہے (ترجمہ عربی کا) اور کہتے ہیں کیوں نہ اُتریں اس پرکچھ نشانیاں (یعنی کوئی ایک بھی کیونکہ لانافیہ اس آیت میں جو کہ جنس ہے کل جنس کی نفی کرتا ہے) اس کے ربّ سے۔اور سورۂ بنی اسرائیل میں بھی۔اور ہم نے موقوف کیں نشانیاں بھیجنی کہ اگلوں نے ان کو جھٹلایا۔اس سے صاف صاف ظاہر ہے خدا نے کوئی معجزہ نہیں دیا۔حقیقت میں اگر کوئی ایک معجزہ ملتا تو وہ نبوت اور قرآن پر متشکی نہ ہوتے۔
سوم : اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبرہوتے تو اس وقت کے سوالوں کے جواب میں لاچار ہو کر یہ نہ کہتے کہ خدا کو معلوم یعنی مجھ کو معلوم نہیں اور اصحابِ کہف کی بابت ان کی تعداد میں غلط بیانی نہ کرتے اور یہ نہ کہتے کہ سورج چشمہ دلدل میں چھپتا ہے یا غرق ہوتا ہے حالانکہ سورج زمین سے نوکروڑ حصہ بڑاہے وہ کس طرح دلدل میں چھپ سکتا ہے۔

مورد برکات رحمانی مصدر انوار قرآنی جناب مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیاں کی طرف سے جوابات

پہلے سوال کا جواب

معترض نے پہلے اپنے دعوے کی تائید میں سورۂ بقر میں سے ایک آیت پیش کی ہے جس کے پورے پورے لفظ یہ ہیں۔ اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ اس آیت کا سیاق سباق یعنی اگلی پچھلی آیتوں کے دیکھنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس جگہ نبوت اور قرآن شریف کا کوئی ذکر نہیں۔صرف اس بات کا بیان ہے کہ اب بیت المقدس کی طرف نہیں۔بلکہ بیت کعبہ کی طرف منہ پھیر کر نماز پڑھنی چاہیئے۔سو اللہ جل شا نہٗ اس آیت میں فرماتا ہے کہ یہ ہی حق بات ہے یعنی خانہ کعبہ کی طرف ہی نماز پڑھنا حق ہے جو ابتدا سے مقرر ہو چکا ہے اور پہلی کتابوں میں بطور پیشگوئی اس کا بیان بھی ہے سو تو (اے پڑھنے والے اس کتاب کے) اس بارے میں شک کرنے والوں سے مت ہو پھر اس آیت کے آگے بھی اسی مضمون کے متعلق آیتیں ہیں چنانچہ فرماتا ہے وَمِنۡ حَیۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡہَکَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ وَاِنَّہٗ لَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ یعنی ہر ایک طرف سے جو تو نکلے تو خانہ کعبہ کی ہی طرف نماز پڑھ یہی تیرے ربّ کی طرف سے حق ہے غرض صاف ظاہر ہے کہ یہ تمام آیات خانہ کعبہ کے بارے میں ہیں نہ کسی اور تذکرہ کے متعلق اور چونکہ یہ حکم جو خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھنے کے لئے صادر ہوا ایک عام حکم ہے جس میں سب مسلمان داخل ہیں لہٰذا بوجہ عموم منشاء حکم بعض وسوسے والی طبیعتوں کا وسوسہ دور کرنے کے لئے ان آیات میں اُن کو تسلی دی گئی کہ اس بات سے متردد نہ ہوں کہ پہلے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے پڑھتے اب اُس طرف سے ہٹ کر خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھنا کیوں شروع کر دیا سو فرمایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ وہی مقرر شدہ بات ہے جس کو خدا ئے تعالیٰ نے اپنے پہلے نبیوں کے ذریعے سے پہلے ہی سے بتلا رکھا تھا اس میں شک مت کرو۔

دوسری آیت میں جو معترض نے بتائید دعویٰ خود تحریر کی ہے وہ سورہ انعام کی ایک آیت ہے جو معہ اپنی آیات متعلقہ کے اس طرح پر ہے اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ اَبۡتَغِیۡ حَکَمًا وَّہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ اِلَیۡکُمُ الۡکِتٰبَ مُفَصَّلًا ؕ وَالَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَعۡلَمُوۡنَ اَنَّہٗ مُنَزَّلٌ مِّنۡ رَّبِّکَ بِالۡحَقِّ فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ یعنی کیا بجز خدا کے میں کوئی اور حَکَم طلب کروں اور وہ وہی ہے جس نے مفصل کتاب تم پر اُتاری اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب یعنی قرآن دیا ہے مراد یہ ہے کہ جن کو ہم نے علمِ قرآن سمجھایا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ وہ منجانب اللہ ہے سواے پڑھنے والے تو شک کرنے والوں میں سے مت ہو۔

اب اِن آیات پر نظر ڈالنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مخاطب اس آیت کے جو فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَہے ایسے لوگ ہیں جو ہنوز یقین اور ایمان اور علم سے کم حصہ رکھتے ہیں بلکہ اوپر کی آیتوں سے یہ بھی کھلتا ہے کہ اِس جگہ یہ حکم فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَکا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے جس کا قرآن شریف میں ذکر کیا گیا ہے کیونکہ شروع کی آیت میں جس سے یہ آیت تعلق رکھتی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا ہی قول ہے یعنی یہ کہ اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ اَبۡتَغِیۡ حَکَمًاسو اِن تمام آیات کا بامحاورہ ترجمہ یہ ہے کہ میں بجز خدا ئے تعالیٰ کے کوئی اور حَکَم جو مجھ میں اور تم میں فیصلہ کرے مقرر نہیں کر سکتا وہ وہی ہے جس نے تم پر مفصل کتاب نازل کی سو جن کو اس کتاب کا علم دیا گیا ہے وہ اس کا منجانب اللہ ہونا خوب جانتے ہیں سو تو (اے بے خبر آدمی) شک کرنے والوں میں سے مت ہو۔

اب تحقیق سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود شک نہیں کرتے بلکہ شک کرنے والوں کو بحوالہ شواہد و دلائل منع فرماتے ہیں پس باوجود ایسے کھلے کھلے بیان کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف شک فی الرسالت کو منسوب کر نا بے خبری و بے علمی یا محض تعصب نہیں تو کیا ہے۔

پھر اگر کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ اگر شک کرنے سے بعض ایسے نَومسلم یا متردّد منع کئے گئے تھے جو ضعیف الایمان تھے تو اُن کو یوں کہنا چاہیے تھا کہ تم شک مت کرو نہ یہ کہ تو شک مت کر کیونکہ ضعیف الایمان آدمی صرف ایک ہی نہیں ہوتا بلکہ کئی ہوتے ہیں بجائے جمع کے واحد مخاطب کا صیغہ کیوں استعمال کیا گیا۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس وحدت سے وحدت جنسی مراد ہے جو جماعت کا حکم رکھتی ہے اگر تم اوّل سے آخر تک قرآن شریف کو پڑھو تو یہ عام محاورہ اُس میں پاؤ گے کہ وہ اکثر مقامات میں جماعت کو فرد واحد کی صورت میں مخاطب کرتا ہے مثلاً نمونہ کے طور پر اِن آیات کو دیکھو۔ لَا تَجۡعَلۡ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ فَتَقۡعُدَ مَذۡمُوۡمًا مَّخۡذُوۡلًا وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَبِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوۡ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنۡہَرۡہُمَا وَقُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا وَاخۡفِضۡ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحۡمَۃِ وَقُلۡ رَّبِّ ارۡحَمۡہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا

یعنی خدائے تعالیٰ کے ساتھ کوئی دوسرا خدا مت ٹھہرا اگر تو نے ایسا کیا تو مذموم اور مخذول ہو کر بیٹھے گا۔اور تیرے خدا نے یہی چاہا ہے کہ تم اسی کی بندگی کرو اُس کے سوا کوئی اور دوسرا تمہارا معبود نہ ہو اور ماں باپ سے احسان کر اگر وہ دونو یا ایک اُن میں سے تیرے سامنے بڑی عمر تک پہنچ جائیں تو تُو اُن کو اُف نہ کر اور نہ اُن کو جھڑک بلکہ اُن سے ایسی باتیں کہہ کہ جن میں اُن کی بزرگی اور عظمت پائی جائے اور تذلل اور رحمت سے ان کے سامنے اپنا بازو جھکا اور دعا کر کہ اے میرے رَبّ تو ان پر رحم کر جیسا اُنہوں نے میرے بچپن کے زمانے میں میری پرورش کی۔

اب دیکھو کہ ان آیات میں یہ ہدایت ظاہر ہے کہ یہ واحد کا خطاب جماعت اُمت کی طرف ہے جن کو بعض دفعہ انہیں آیتوں میں تم کر کے بھی پکارا گیا ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان آیات میں مخاطب نہیں کیونکہ ان آیتوں میں والدین کی تعظیم و تکریم اور اُن کی نسبت بِرّو احسان کا حکم ہے اور ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین تو صغر سنی کے زمانے میں بلکہ جناب ممدوح کی شیر خوارگی کے وقت میں ہی فوت ہوچکے تھے سو اس جگہ سے اور نیز ایسے اور مقامات سے بوضاحت ثابت ہوتا ہے کہ جماعت کو واحد کے طور پر مخاطب کر کے پکارنا یہ قرآن شریف کا ایک عام محاورہ ہے کہ جو ابتدا سے آخر تک جا بجا ثابت ہوتا چلا جاتا ہے۔یہی محاورہ توریت کے احکام میں بھی پایا جاتا ہے کہ واحد مخاطب کے لفظ سے حکم صادر کیا جاتا ہے اور مراد بنی اسرائیل کی جماعت ہوتی ہے جیسا کہ خروج باب ۳۳، ۳۴ میں بظاہر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مخاطب کر کے فرمایا ہے۔(۱۱) آج کے دن میں جو حکم تجھے کرتا ہوں تو اُسے یاد رکھیو۔(۱۲) ہوشیار رہ تا نہ ہووے کہ اُس زمین کے باشندوں کے ساتھ جس میں تو جاتا ہے کچھ عہد باندھے۔(۱۷) تو اپنے لئے ڈھالے ہوئے معبودوں کو مت بنائیو۔

اب ان آیات کا سیاق سباق دیکھنے سے صاف ظاہر ہے کہ اگرچہ ان آیات میں حضرت موسیٰ ؑ مخاطب کئے گئے تھے مگر دراصل حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اِن احکام کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نہ کنعان میں گئے اور نہ ُ بت پرستی جیسا بُرا کام حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے مردِ خدا ُ بت شکن سے ہو سکتا تھا جس سے ان کو منع کیا جاتا کیونکہ موسیٰ علیہ السلام وہ مقربُ اللہ ہے جس کی شان میں اسی باب میں خدا ئے تعالیٰ فرماتا ہے کہ "تو میری نظر میں منظور ہے اور میں تجھ کو بنام پہچانتا ہوں"۔ دیکھو خروج باب ۳۳آیت (۱۷)۔

سو یاد رکھنا چاہیے کہ یہی طرز قرآن شریف کی ہے توریت اور قرآن شریف میں اکثر احکام اسی شکل سے واقعہ ہیں کہ گویا مخاطب اُن کے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر دراصل وہ خطاب قوم اور اُمت کے لوگوں کی طرف ہوتا ہے لیکن جس کو ان کتابوں کی طرز تحریر معلوم نہیں وہ اپنی بے خبری سے یہی خیال کر لیتا ہے کہ گویا وہ خطاب و عتاب نبی منزل علیہ کو ہو رہا ہے مگر غور اور قرائن پر نظر ڈالنے سے اُس پر کھل جاتا ہے کہ یہ سراسر غلطی ہے۔

پھر یہ اعتراض اُن آیات پر نظر ڈالنے سے بھی بکلّی مستاصل ہوتا ہے جن میں اللہ جل شانہٗ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یقین کامل کی تعریف کی ہے جیسا کہ وہ ایک جگہ فرماتا ہے۔ قُلۡ اِنِّیۡ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّیۡ نمبر ۷ یعنی کہہ کہ مجھے اپنی رسالت پر کھلی کھلی دلیل اپنے ربّ کی طرف سے ملی ہے اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے قُلۡ ہٰذِہٖ سَبِیۡلِیۡۤ اَدۡعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ ۟ؔ عَلٰی بَصِیۡرَۃٍ۔ نمبر۱۳ یعنی کہہ کہ یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بصیرت کاملہ کے ساتھ بُلاتا ہوں اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے وَاَنۡزَلَ اللّٰہُ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ وَعَلَّمَکَ مَا لَمۡ تَکُنۡ تَعۡلَمُ ؕ وَکَانَ فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکَ عَظِیۡمًا۔ نمبر۵ یعنی خدا نے تجھ پر کتاب اُتاری اور حکمت یعنی دلائل حقیت کتاب و حقیت رسالت تجھ پر ظاہر کئے اور تجھے وہ علوم سکھائے جنہیں تو خود بخود جان نہیں سکتا تھا اور تجھ پر اُس کا ایک عظیم فضل ہے پھر سورہ نجم میں فرماتا ہے مَا کَذَبَ الۡفُؤَادُ مَا رَاٰی۔۔۔ مَا زَاغَ الۡبَصَرُ وَمَا طَغٰی لَقَدۡ رَاٰی مِنۡ اٰیٰتِ رَبِّہِ الۡکُبۡرٰی یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل نے جو اپنی صداقت کے آسمانی نشان دیکھے تو اُس کی کچھ تکذیب نہ کی یعنی شک نہیں کیا اور آنکھ چَپ ور است کی طرف نہیں پھیری اور نہ حد سے آگے بڑھی یعنی حق پر ٹھہر گئی اور اِس نے اپنے خدا کے وہ نشان دیکھے جو نہایت بزرگ تھے۔

اب اے ناظرین ذرا انصافاً دیکھو اے حق پسندو ذرا منصفانہ نگہ سے غور کرو کہ خدائے تعالیٰ کیسے صاف صاف طور پر بشارت دیتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بصیرتِ کاملہ کے ساتھ اپنی نبوت پر یقین تھا اور عظیم الشان نشان ان کو دکھلائے گئے تھے۔

اب خلاصہ جواب یہ ہے کہ تمام قرآن شریف میں ایک نقطہ یا ایک شعشہ اس بات پر دلالت کرنے والا نہیں پاؤ گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی نبوت یا قرآن شریف کے منجانب اللہ ہونے کی نسبت کچھ شک تھا بلکہ یقینی اور قطعی بات ہے کہ جس قدریقین کامل و بصیرت کامل و معرفت اکمل کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات بابرکات کی نسبت دعویٰ کیا ہے اور پھر اُس کا ثبوت دیا ہے ایسا کامل ثبوت کسی دوسری موجودہ کتاب میں ہرگز نہیں پایا جاتا۔ فَھَلْ مَنْ یَّسْمَعُ فَیُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ مُحَمَّدٍصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَیَکُوْنُ مِنَ المُسْلِمِیْنَ الْمُخْلِصِیْنَ۔ واضح رہے کہ انجیلوں میں حضرت مسیح کے بعض اقوال ایسے بیان کئے گئے ہیں جن پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اپنی عمر کے آخری دنوں میں اپنی نبوت اور اپنے مؤیّد من اللہ ہونے کی نسبت کچھ شبہات میں پڑ گئے تھے جیسا کہ یہ کلمہ کہ گویا آخری دم کا کلمہ تھا یعنی ایلی ایلی لماسبقتنی جس کے معنی یہ ہیں کہ اے میرے خدا ‘ اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔عین دنیا سے رخصت ہونے کے وقت میں کہ جو اہل اللہ کے یقین اور ایمان کے انوار ظاہر ہونے کا وقت ہوتا ہے آنجناب کے منہ سے نکل گیا۔پھر آپ کا یہ بھی طریق تھا کہ دشمنوں کے بد ارادہ کا احساس کر کے اُس جگہ سے بھاگ جایا کرتے تھے حالانکہ خدائے تعالیٰ سے محفوظ رہنے کا وعدہ پا چکے تھے ان دونوں امور سے شک اور تحیر ظاہر ہے پھر آپ کا تمام رات رو رو کر ایسے امر کے لئے جس کا انجام بد آپ کو پہلے سے معلوم تھا بجز اس کے کیا معنی رکھتا ہے کہ ہر ایک بات میں آپ کو شک ہی شک تھا۔یہ باتیں صرف عیسائیوں کے اس اعتراض اُٹھانے کی غرض سے لکھی گئی ہیں ورنہ ان سوالات کا جواب ہم تو اَحسن طریق سے دے سکتے ہیں اور اپنے پیارے مسیح کے سر سے جو بشری ناتوانیوں اور ضعفوں سے مستثنیٰ نہیں تھے ان تمام الزامات کو صرف ایک نفی الوہیت و ابنیت سے ایک طرفۃ العین میں اُٹھا سکتے ہیں مگر ہمارے عیسائی بھائیوں کو بہت دقت پیش آئے گی۔

دوسرے سوال کا جواب

پوشیدہ نہ رہے کہ ان دونوں آیتوں سے معترض کا مدعا جو استدلال بر نفی معجزات ہے، ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ برخلاف اس کے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور ایسے معجزات ظہور پذیر ہوتے رہے ہیں کہ جو ایک صادق و کامل نبی سے ہونے چاہئیں۔چنانچہ تصریح اس کی نیچے کے بیانات سے بخوبی ہو جائے گی۔

پہلی آیت جس کا ترجمہ معترض نے اپنے دعویٰ کی تائید کیلئے عبارات متعلقہ سے کاٹ کر پیش کر دیا ہے مع اس ساتھ کی دوسری آیتوں کے جن سے مطلب کھلتا ہے، یہ ہے۔ وَقَالُوۡا لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ قُلۡ اِنَّمَا الۡاٰیٰتُ عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ وَاِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ اَوَلَمۡ یَکۡفِہِمۡ اَنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ یُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَرَحۡمَۃً وَّذِکۡرٰی لِقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ۔۔۔ وَیَسۡتَعۡجِلُوۡنَکَ بِالۡعَذَابِ ؕ وَلَوۡلَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّی لَّجَآءَہُمُ الۡعَذَابُ ؕ وَلَیَاۡتِیَنَّہُمۡ بَغۡتَۃً وَّہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ

یعنی کہتے ہیں کیوں نہ اُتریں اس پر نشانیاں کہ وہ نشانیاں (جو تم مانگتے ہو یعنی عذاب کی نشانیاں)وہ تو خدا ئے تعالیٰ کے پاس اور خاص اس کے اختیار میں ہیں اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں۔یعنی میرا کام فقط یہ ہے کہ عذاب کے دن سے ڈراؤں نہ یہ کہ اپنی طرف سے عذاب نازل کروں اور پھر فرمایا کہ کیا ان لوگوں کیلئے (جو اپنے پر کوئی عذاب کی نشانی وارد کرانی چاہتے ہیں) یہ رحمت کی نشانی کافی نہیں جو ہم نے تجھ پر (اے رسول اُمّی) وہ کتاب (جو جامع کمالات ہے) نازل کی جو اُن پر پڑھی جاتی ہے یعنی قرآن شریف جو ایک رحمت کا نشان ہے۔جس سے درحقیقت وہی مطلب نکلتا ہے جو کفّار عذاب کے نشانوں سے پورا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ کفّار مکہ اس غرض سے عذاب کا نشان مانگتے تھے کہ تا وہ ان پر وارد ہو کر انہیں حق الیقین تک پہنچا دے۔صرف دیکھنے کی چیزنہ رہے کیونکہ مجرد رویت کے نشانوں میں ان کو دھوکے کا احتمال تھا اور چشم بندی وغیرہ کا خیال سو اس وہم اور اضطراب کے دور کرنے کے لئے فرمایا کہ ایسا ہی نشان چاہتے ہو جو تمہارے وجودوں پر وارد ہو جائے تو پھر عذاب کے نشان کی کیا حاجت ہے؟ کیا اس مدّعا کے حاصل کرنے کے لئے رحمت کا نشان کافی نہیں؟ یعنی قرآن شریف جو تمہاری آنکھوں کو اپنی پُر نور اور تیز شعاعوں سے خیرہ کر رہا ہے اور اپنی ذاتی خوبیاں اور اپنے حقائق اور معارف اور اپنے فوق العادت خواص اس قدر دکھلا رہا ہے جس کے مقابلہ و معارضہ سے تم عاجز رہ گئے ہو اور تم پر اور تمہاری قوم پر ایک خارق عادت اثر ڈال رہا ہے اور دلوں پر وارد ہو کر عجیب در عجیب تبدیلیاں دکھلا رہا ہے۔مدت ہائے دراز کے مردے اس سے زندہ ہوتے چلے جاتے ہیں اور مادر زاد اندھے جو بے شمار پشتوں سے اندھے ہی چلے آتے تھے۔آنکھیں کھول رہے ہیں اور کفر اور الحاد کی طرح طرح کی بیماریاں اس سے اچھی ہوتی چلی جاتی ہیں اور تعصب کے سخت جذامی اس سے صاف ہوتے جاتے ہیں۔اس سے نور ملتا ہے اور ظلمت دُور ہوتی ہے اور وصل الٰہی میسر آتا ہے اور اس کی علامات پیدا ہوتی ہیں۔سو تم کیوں اس رحمت کے نشان کو چھوڑ کر جو ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہے عذاب اور موت کا نشان مانگتے ہو؟ پھر بعد اس کے فرمایا کہ یہ قوم تو جلدی سے عذاب ہی مانگتی ہے۔رحمت کے نشانوں سے فائدہ اُٹھانا نہیں چاہتی۔اُن کو کہہ دے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ عذاب کی نشانیاں وابستہ باوقات ہوتی ہیں تو یہ عذابی نشانیاں بھی کب کی نازل ہوگئی ہوتیں اور عذاب ضرور آئے گا اور ایسے وقت میں آئے گا کہ ان کو خبر بھی نہیں ہوگی۔

اب انصاف سے دیکھو! کہ اس آیت میں کہاں معجزات کا انکار پایا جاتا ہے یہ آیتیں تو بآوازبلند پکار رہی ہیں کہ کفّار نے ہلاکت اور عذاب کا نشان مانگا تھا۔سو اوّل انہیں کہا گیاکہ دیکھو تم میں زندگی بخش نشان موجود ہے یعنی قرآن جو تم پر وارد ہو کر تمہیں ہلاک کرنا نہیں چاہتا بلکہ ہمیشہ کی حیات بخشتا ہے مگر جب عذاب کا نشان تم پر وارد ہوا تو وہ تمہیں ہلاک کرے گا۔پس کیوں تم ناحق اپنا مرنا ہی چاہتے ہو اور اگر تم عذاب ہی مانگتے ہو تو یاد رکھو کہ وہ بھی جلد آئے گا۔پس اللہ جل شانہٗ نے ان آیات میں عذاب کے نشان کا وعدہ دیا اور قرآن شریف میں جو رحمت کے نشان ہیں اور دلوں پر وارد ہو کر اپنا خارق عادت اثر ان پر ظاہر کرتے ہیں ان کی طرف توجہ دلائی۔پر معترض کا یہ گمان کہ اس آیت میں لا نافیہ جنس معجزات کی نفی پر دلالت کرتا ہے۔جس سے کل معجزات کی نفی لازم آتی ہے۔محض صَرف ونحو سے ناواقفیت کی وجہ سے ہے۔یاد رکھنا چاہئے کہ نفی کا اثر اُسی حد تک محدود ہوتا ہے جو متکلّم کے ارادہ میں متعین ہوتی ہے۔خواہ وہ ارادہ تصریحاً بیان کیا گیا ہو یا اشارۃً۔مثلاً کوئی کہے کہ اب سردی کا نام و نشان باقی نہیں رہا، تو ظاہر ہے کہ اس نے اپنے بلدہ کی حالت موجودہ کے موافق کہا ہے اور گو اس نے بظاہر اپنے شہر کا نام بھی نہیں لیا مگر اس کے کلام سے یہ سمجھنا کہ اس کا یہ دعویٰ ہے کہ کل کوہستانی ملکوں سے بھی سردی جاتی رہی اور سب جگہ سخت اور تیز دھوپ پڑنے لگی اور اس کی دلیل یہ پیش کرنا کہ جس لا کو اس نے استعمال کیا ہے وہ نفی جنس کا لا ہے۔جس کا تمام جہان پر اثر پڑنا چاہئے، درست نہیں۔مکہ کے مغلوب ُ بت پرست جنہوں نے آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور آنجناب کے معجزات کو معجزہ کر کے مان لیا اور جو کفر کے زمانہ میں بھی صرف خشک منکر نہیں تھے بلکہ روم اور ایران میں بھی جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو متعجبانہ خیال سے ساحر مشہور کرتے تھے اور گوبے جا پیرایوں میں ہی سہی، مگر نشانوں کا اقرار کر لیا کرتے تھے۔جن کے اقرار قرآن شریف میں موجود ہیں۔وہ اپنے ضعیف اور کمزور کلام میں جو انوار ساطعہ نبوت محمدیہ کے نیچے دبے ہوئے تھے کیوں لا نافیہ استعمال کرنے لگے۔اگر ان کو ایسا ہی لمبا چوڑا انکار ہوتا تو وہ بالآخر نہایت درجہ کے یقین سے جو انہوں نے اپنے خونوں کے بہانے اور اپنی جانوں کے فدا کرنے سے ثابت کر دیا تھا مشرف بالاسلام کیوں ہو جاتے؟ اور کفر کے ایام میں جو اُن کے بار بار کلمات قرآن شریف میں درج ہیں وہ یہی ہیں کہ وہ اپنی کوتہ بینی کے دھوکہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ساحر رکھتے تھے۔جیسا کہ اللہ جل شانہٗ فرماتا ہے وَاِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَیَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ یعنی جب کوئی نشان دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ پکا جادو ہے۔پھر دوسری جگہ فرماتا ہے وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَہُمۡ مُّنۡذِرٌ مِّنۡہُمۡ ۫ وَقَالَ الۡکٰفِرُوۡنَ ہٰذَا سٰحِرٌ کَذَّابٌ یعنی انہوں نے اس بات سے تعجب کیا کہ انہیں میں سے ایک شخص اُن کی طرف بھیجاگیا اور بے ایمانوں نے کہا کہ یہ تو جادو گر کذّاب ہے۔اب ظاہر ہے کہ جبکہ وہ نشانوں کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جادو گر کہتے تھے اور پھر اس کے بعد انہیں نشانوں کو معجزہ کر کے مان بھی لیا اور جزیرہ کا جزیرہ مسلمان ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک معجزات کا ہمیشہ کیلئے سچے دل سے گواہ بن گیا تو پھر ایسے لوگوں سے کیونکر ممکن ہے کہ وہ عام طور پر نشانوں سے صاف منکر ہو جاتے اور انکار معجزات میں ایسا لا نافیہ استعمال کرتے جو اُن کی حد حوصلہ سے باہر اور ان کی مستمررائے سے بعید تھا بلکہ قرائن سے آفتاب کی طرح ظاہر ہے کہ جس جس جگہ پر قرآن شریف میں کفّار کی طرف سے یہ اعتراض لکھا گیا ہے کہ کیوں اس پیغمبر پر کوئی نشانی نہیں اُتری؟ ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا گیا ہے کہ اُن کا مطلب یہ ہے کہ جو نشانیاں ہم مانگتے ہیں۔اُن میں سے کوئی نشانی کیوں نہیں اُترتی۔

اب قصہ کوتاہ یہ کہ آپ نے آیت متذکرہ بالا کے لا نافیہ کو قرائن کی حد سے زیادہ کھینچ دیا ہے ایسا لا نافیہ عربو ں کے کبھی خواب میں بھی نہیں آیا ہوگا۔ان کے دل تو اسلام کی حقیت سے بھرے ہوئے تھے۔تب ہی تو سب کے سب بجز معدودے چند کہ جو اس عذاب کو پہنچ گئے تھے جس کا اُن کو وعدہ دیا گیا تھا بالآخر مشرف بالاسلام ہوگئے تھے اور یاد رہے کہ ایسا لا نافیہ حضرت مسیح کے کلام میں بھی پایا جاتا ہے اور وہ یہ ہے۔فریسیسوں نے مسیح کے نشانات طلب کئے اُس نے آہ کھینچ کر کہا کہ اس زمانہ کے لوگ کیوں نشان چاہتے ہیں میں تم سے سچ کہتا ہوں اِس زمانہ کے لوگوں کو کوئی نشان نہیں دیا جائے گا۔دیکھو مرقس ۸ باب۱۱۔

اب دیکھو کیسا حضرت مسیح نے صفائی سے انکار کر دیا ہے اگر غور فرمائیں تو آپ کا اعتراض اس اعتراض کے آگے کچھ بھی چیز نہیں کیونکہ آپ نے فقط کفار کا انکار پیش کیا اور وہ بھی نہ عام انکار بلکہ خاص نشانات کے بارے میں اور ظاہر ہے کہ دشمن کا انکار بکلّی قابل اطمینان نہیں ہوتا کیونکہ دشمن خلاف واقعہ بھی کہہ جاتا ہے مگر حضرت مسیح تو آپ اپنے ُ منہ سے معجزات کے دکھلانے سے انکار کر رہے ہیں اور نفی صدور معجزات کو زمانہ کے ساتھ متعلق کر دیا ہے اور فرماتے ہیں کہ اس زمانے کے لوگوں کو کوئی نشان دیانہ جائے گاپس اس سے بڑھ کر انکار معجزات کے بارے میں اور کون سا بیان واضح ہو سکتا ہے اور اس لا نافیہ سے بڑھ کر اور کونسا لا نافیہ ہوگا۔

پھر دوسری آیت کا ترجمہ پیش کیا گیاہے۔اس میں بھی سیاق سباق کی آیتوں سے بالکل الگ کر کے اس پر اعتراض وارد کر دیا ہے مگر اصل آیت اور اس کے متعلقات پر نظر ڈالنے سے ہر ایک منصف بصیر سمجھ سکتا ہے کہ آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں ہے کہ جو انکار معجزات پر دلالت کرتا ہو بلکہ تمام الفاظ صاف بتلا رہے ہیں کہ ضرور معجزات ظہور میں آئے۔چنانچہ وہ آیت معہ اس کے دیگر آیات متعلقہ کے یہ ہے۔

وَاِنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اِلَّا نَحۡنُ مُہۡلِکُوۡہَا قَبۡلَ یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ اَوۡ مُعَذِّبُوۡہَا عَذَابًا شَدِیۡدًا ؕ کَانَ ذٰلِکَ فِی الۡکِتٰبِ مَسۡطُوۡرًا وَمَا مَنَعَنَاۤ اَنۡ نُّرۡسِلَ بِالۡاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنۡ کَذَّبَ بِہَا الۡاَوَّلُوۡنَ ؕ وَاٰتَیۡنَا ثَمُوۡدَ النَّاقَۃَ مُبۡصِرَۃً فَظَلَمُوۡا بِہَا ؕ وَمَا نُرۡسِلُ بِالۡاٰیٰتِ اِلَّا تَخۡوِیۡفًا۔ فرماتا ہے عزوجل کہ یوں توقیامت سے پہلے ہر ایک بستی کو ہم نے ہی ہلاک کرنا ہے یا عذاب شدید نازل کرنا ہے یہی کتاب میں مندرج ہوچکا ہے۔مگر اس وقت ہم بعض ان گذشتہ قہری نشانوں کو (جو عذاب کی صورت میں پہلی اُمتوں پر نازل ہو چکے ہیں) اس لئے نہیں بھیجتے جو پہلی اُمت کے لوگ اس کی تکذیب کر چکے ہیں۔چنانچہ ہم نے ثمود کو بطور نشان کے جو مقدمہ عذاب کا تھا ناقہ دیا جو حق نما نشان تھا۔( جس پر انہوں نے ظلم کیا۔یعنی وہی ناقہ جس کی بسیار خوری اور بسیار نوشی کی وجہ سے شہر حجر کے باشندوں کے لئے جو قوم ثمود میں سے تھے۔پانی تالاب وغیرہ کا پینے کے لئے باقی رہا تھا اور نہ اُن کے مویشی کیلئے کوئی چراگاہ رہی تھی اور ایک سخت تکلیف اور رنج اور بلا میں گرفتار ہوگئی تھی) اور قہری نشانوں کے نازل کرنے سے ہماری غرض یہی ہوتی ہے کہ لوگ اُن سے ڈریں یعنی قہری نشان تو صرف تخویف کیلئے دکھلائے جاتے ہیں پس ایسے قہری نشانوں کے طلب کرنے سے کیا فائدہ جو پہلی اُمتوں نے دیکھ کر انہیں جھٹلا دیا اور اُن کے دیکھنے سے کچھ بھی خائف و ہراساں نہ ہوئے۔

اس جگہ واضح ہو کہ نشان دو قسم کے ہوتے ہیں۔
(۱) نشان تخویف و تعذیب جن کو قہری نشان بھی کہہ سکتے ہیں۔
(۲) نشان تبشیر و تسکین جن کو نشان رحمت سے بھی موسوم کرسکتے ہیں۔
تخویف کے نشان سخت کافروں اور کج دلوں اورنافرمانوں اور بے ایمانوں اور فرعونی طبیعت والوں کیلئے ظاہر کئے جاتے ہیں تا وہ ڈریں اور خدائے تعالیٰ کی قہری اور جلالی ہیبت ان کے دلوں پر طاری ہو۔اور تبشیر کے نشان اُن حق کے طالبوں اور مخلص مومنوں اور سچائی کے متلاشیوں کیلئے ظہور پذیر ہوتے ہیں جو دل کی غربت اور فروتنی سے کامل یقین اور زیادت ایمان کے طلبگار ہیں اور تبشیر کے نشانوں سے ڈرانا اور دھمکانا مقصود نہیں ہوتا بلکہ اپنے اُن مطیع بندوں کو مطمئن کرنا اور ایمانی اور یقینی حالات میں ترقی دینا اور ان کے مضطرب سینہ پر دستِ شفقت و تسلّی رکھنا مقصود ہوتا ہے۔سو مومن قرآن شریف کے وسیلہ سے ہمیشہ تبشیر کے نشان پاتا رہتا ہے اور ایمان اور یقین میں ترقی کرتا جاتا ہے۔تبشیر کے نشانوں سے مومن کو تسلی ملتی ہے اور وہ اضطراب جو فطرتًا انسان میں ہے جاتا رہتا ہے اور سکینت دل پر نازل ہوتی ہے۔مومن ببرکت اتباع کتاب اللہ اپنی عمر کے آخری دن تک تبشیر کے نشانوں کو پاتا رہتا ہے اور تسکین اور آرام بخشنے والے نشان اس پر نازل ہوتے رہتے ہیں تا وہ یقین اور معرفت میں بے نہایت ترقیاں کرتا جائے اور حق الیقین تک پہنچ جائے اور تبشیر کے نشانوں میں ایک لطف یہ ہوتا ہے کہ جیسے مومن ان کے نزول سے یقین اور معرفت اور قوتِ ایمان میں ترقی کرتا ہے ایسا ہی وہ بوجہ مشاہدہ آلاء و نعماءِ الٰہی و احسانات ظاہرہ و باطنہ و جلیہ و خفیہ حضرت باری عزاسمہٗ جو تبشیر کے نشانوں میں بھرے ہوئے ہوتے ہیں محبت وعشق میں بھی دن بدن بڑھتا جاتا ہے۔سو حقیقت میں عظیم الشان اور قوی الاثر اور مبارک اور موصل الی المقصود تبشیر کے نشان ہی ہوتے ہیں جو سالک کو معرفتِ کاملہ اور محبتِ ذاتیہ کے اس مقام تک پہنچا دیتے ہیں جو اولیاء اللہ کے لئے منتہی المقامات ہے اور قرآن شریف میں تبشیر کے نشانوں کا بہت کچھ ذکر ہے یہاں تک کہ اس نے اُن نشانوں کو محدود نہیں رکھا بلکہ ایک دائمی وعدہ دے دیا ہے کہ قرآن شریف کے سچے متبع ہمیشہ ان نشانوں کو پاتے رہیں گے جیسا کہ وہ فرماتا ہے لَہُمُ الۡبُشۡرٰی فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَفِی الۡاٰخِرَۃِ ؕ لَا تَبۡدِیۡلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ
یعنی ایماندار لوگ دنیوی زندگی اور آخرت میں بھی تبشیر کے نشان پاتے رہیں گے۔جن کے ذریعے سے وہ دنیا اور آخرت میں معرفت اور محبت کے میدانوں میں ناپیداکنار ترقیاں کرتے جائیں گے۔یہ خدا کی باتیں ہیں جو کبھی نہیں ٹلیں گی اور تبشیر کے نشانوں کو پالینا یہی فوز عظیم ہے (یعنی یہی ایک امر ہے جو محبت اور معرفت کے منتہیٰ مقام تک پہنچا دیتا ہے)۔

اب جاننا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں جو معترض نے بصورت اعتراض پیش کی ہے صرف تخویف کے نشانوں کا ذکر کیا ہے۔جیسا کہ آیت وَمَا نُرۡسِلُ بِالۡاٰیٰتِ اِلَّا تَخۡوِیۡفًا سے ظاہر ہو رہا ہے۔کیونکہ اگر خدائے تعالیٰ کے کل نشانوں کو قہری نشانوں میں ہی محصور سمجھ کر اس آیت کے یہ معنی کئے جائیں کہ ہم تمام نشانوں کو محض تخویف کی غرض سے ہی بھیجا کرتے ہیں اور کوئی دوسری غرض نہیں ہوتی۔تو یہ معنی بہ بداہت باطل ہیں۔جیسا کہ ابھی بیان ہوچکا ہے کہ نشان دو غرضوں سے بھیجے جاتے ہیں یا تخویف کی غرض سے یا تبشیر کی غرض سے۔انہیں دو قسموں کو قرآن شریف اور بائیبل بھی جا بجا ظاہر کر رہی ہے۔پس جب کہ نشان دو قسم کے ہوئے تو آیت ممدوحہ بالا میں جو لفظ الاٰیات ہے (جس کے معنی وہ نشانات) بہرحال اسی تاویل پر بصحت منطبق ہوگا کہ نشانوں سے قہری نشان مراد ہیں کیونکہ اگر یہ معنی نہ لئے جائیں تو پھر اس سے یہ لازم آتا ہے کہ تمام نشانات جو تحت قدرت الٰہی داخل ہیں۔تخویف کی قسم میں ہی محصور ہیں حالانکہ فقط تخویف کی قسم میں ہی سارے نشانوں کا حصر سمجھنا سراسر خلاف واقعہ ہے کہ جو نہ کتاب اللہ کی رو سے اور نہ عقل کی رو سے اور نہ کسی پاک دل کے کانشنس کی رو سے درست ہو سکتا ہے۔

اب چونکہ اس بات کا صاف فیصلہ ہو گیا کہ نشانوں کی دو قسموں میں سے صرف تخویف کے نشانوں کا آیات موصوفہ بالا میں ذکر ہے تو یہ دوسرا امر تنقیح طلب باقی رہا کہ کیا اس آیت کے (جو مَامَنَعَنَا الخ ہے) یہ معنی سمجھنے چاہئیں کہ تخویف کا کوئی نشان خدائے تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ظاہر نہیں کیا یا یہ معنی سمجھنے چاہئیں کہ تخویف کے نشانوں میں سے وہ نشان ظاہر نہیں کئے گئے جو پہلی اُمتوں کو دکھلائے گئے تھے اور یا یہ تیسرے معنی قابل اعتبار ہیں کہ دونوں قسم کے تخویف کے نشان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ظاہر ہوتے رہے ہیں۔بجز اُن خاص قسم کے بعض نشانوں کے جن کوپہلی پہلی اُمتوں نے دیکھ کر جھٹلا دیا تھا اور ان کو معجزہ نہیں سمجھا تھا۔

سو واضح ہو کہ آیات متنازعہ فیہا پر نظر ڈالنے سے بتمام تر صفائی کھل جاتا ہے کہ پہلے اور دوسرے معنی کسی طرح درست نہیں۔کیونکہ آیت ممدوحہ بالا کے یہ سمجھ لینا کہ تمام انواع و اقسام کے وہ تخویفی نشان جو ہم بھیج سکتے ہیں اور تمام وہ وراء الوراء تعذیبی نشان جن کے بھیجنے پر غیر محدود طور پر ہم قادر ہیں اس لئے ہم نے نہیں بھیجے کہ پہلی اُمتیں اُس کی تکذیب کر چکی ہیں۔یہ معنے سراسر باطل ہیں۔کیونکہ ظاہر ہے کہ پہلی اُمتوں نے انہیں نشانوں کی تکذیب کی جو انہوں نے دیکھے تھے وجہ یہ کہ تکذیب کیلئے یہ ضرور ہے کہ جس چیز کی تکذیب کی جائے۔اوّل اس کا مشاہدہ بھی ہو جائے۔جس نشان کو ابھی دیکھا ہی نہیں اس کی تکذیب کیسی حالانکہ نادیدہ نشانوں میں سے ایسے اعلیٰ درجہ کے نشان بھی تحت قدرت باری تعالیٰ ہیں جس کی کوئی انسان تکذیب نہ کر سکے اور سب گردنیں اُن کی طرف جھک جائیں۔کیونکہ خدائے تعالیٰ ہر ایک رنگ کا نشان دکھلانے پر قادر ہے اور پھر چونکہ نشان ہائے قدرت باری غیر محدود اور غیر متناہی ہیں تو پھر یہ کہنا کیونکر درست ہو سکتا ہے کہ محدود زمانہ میں وہ سب دیکھے بھی گئے اور ان کی تکذیب بھی ہوگئی۔وقت محدود میں تو وہی چیز دیکھی جائے گی جو محدود ہوگی۔بہرحال اس آیت کے یہی معنی صحیح ہوں گے کہ جو بعض نشانات پہلے کفّار دیکھ چکے تھے اور ان کی تکذیب کر چکے تھے۔ان کا دوبارہ بھیجنا عبث سمجھا گیا۔جیسا کہ قرینہ بھی انہیں معنوں پر دلالت کرتا ہے یعنی اس موقعہ پر جو ناقہ ثمود کا خدائے تعالیٰ نے ذکر کیا وہ ذکر ایک بھاری قرینہ اس بات پر ہے کہ اس جگہ گذشتہ اور ردّ کردہ نشانات کا ذکر ہے جو تخویف کے نشانوں میں سے تھے اور یہی تیسرے معنی ہیں جو صحیح اور درست ہیں۔

پھر اس جگہ ایک اور بات منصفین کے سوچنے کے لائق ہے جس سے اُن پر ظاہر ہوگا کہ آیت وَمَا مَنَعَنَاۤ اَنۡ نُّرۡسِلَ بِالۡاٰیٰتِ الخ سے ثبوت معجزات ہی پایا جاتا ہے نہ نفی معجزات کیونکہ الاٰیٰت کے لفظ پر جو الف لام واقعہ ہے وہ بموجب قواعد نحو کے دو صورتوں سے خالی نہیں۔یا کل کے معنے دے گا یا خاص کے اگر کل کے معنے دے گا تو یہ معنے کئے جائیں گے کہ ہمیں کل معجزات کے بھیجنے سے کوئی امر مانع نہیں ہوا مگر اگلوں کا ان کو جھٹلانا اور اگر خاص کے معنی دے گا تو یہ معنی ہونگے کہ ہمیں ان خاص نشانیوں کے بھیجنے سے (جنہیں منکر طلب کرتے ہیں) کوئی امر مانع نہیں ہوا مگر یہ کہ ان نشانیوں کو اگلوں نے جھٹلایا۔بہرحال ان دونوں صورتوں میں نشانوں کا آنا ثابت ہوتا ہے۔کیونکہ اگر یہ معنی ہوں کہ ہم نے ساری نشانیاں بوجہ تکذیب اُممِ گذشتہ نہیں بھیجیں تو اس سے بعض نشانوں کا بھیجنا ثابت ہوتا ہے جیسے مثلاً اگر کوئی کہے کہ میں نے اپنا سارا مال زید کو نہیں دیا تو اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اس نے کچھ حصہ اپنے مال کا زید کو ضرور دیا ہے اور اگر یہ معنے لیں کہ بعض خاص نشان ہم نے نہیں بھیجے تو بھی بعض دیگر کا بھیجنا ثابت ہے۔مثلاً اگر کوئی کہے کہ بعض خاص چیزیں میں نے زید کو نہیں دیں تو اس سے صاف پایا جائے گا کہ بعض دیگر ضرور دی ہیں۔بہرحال جو شخص اوّل اس آیت کے سیاق و سباق کی آیتوں کو دیکھے کہ کیسی وہ دونوں طرف سے عذاب کے نشانوں کا قصہ بتلا رہی ہیں اور پھر ایک دوسری نظر اُٹھاوے اور خیال کرے کہ کیا یہ معنی صحیح اور قرین قیاس ہیں کہ خدائے تعالیٰ کے تمام نشانوں اور عجائب کاموں کی جو اس کی بے انتہا قدرت سے وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والے اور غیر محدود ہیں پہلے لوگ اپنے محدود زمانہ میں تکذیب کرچکے ہوں۔اور پھر ایک تیسری نظر منصفانہ سے کام لے کر سوچے کہ کیا اس جگہ تخویف کے نشانوں کا ایک خاص بیان ہے یا تبشیر اور رحمت کے نشانوں کا بھی کچھ ذکر ہے اور پھر ذرا چوتھی نگاہ اَلْآیات کے ال پر بھی ڈال دیوے کہ وہ کن معنوں کا افادہ کر رہا ہے تو اس چار طور کی نظر کے بعد بجز اس کے کہ کوئی تعصب کے باعث حق پسندی سے بہت دور جا پڑا ہو ہر ایک شخص اپنے اندر سے نہ ایک شہادت بلکہ ہزاروں شہادتیں پائے گا کہ اس جگہ نفی کا حرف صرف نشانوں کی ایک قسم خاص کی نفی کیلئے آیا ہے جس کا دوسری اقسام پر کچھ اثر نہیں بلکہ اس سے ان کا متحقق الوجود ہونا ثابت ہو رہا ہے اور ان آیات میں نہایت صفائی سے اللہ جل شانہٗ بتلا رہا ہے کہ اس وقت تخویفی نشان جن کی یہ لوگ درخواست کرتے ہیں صرف اس وجہ سے نہیں بھیجے گئے کہ پہلی اُمتیں ان کی تکذیب کر چکی ہیں۔سو جونشان پہلے ردّ کئے گئے اب بار بار انہیں کو نازل کرنا کمزوری کی نشانی ہے اور غیر محدود قدرتوں والے کی شان سے بعید۔پس ان آیات میں یہ صاف اشارہ ہے کہ عذاب کے نشان ضرورنازل ہوں گے مگر اور رنگوں میں۔یہ کیا ضرورت ہے کہ وہی نشان حضرت موسیٰ ؑ کے یا وہی نشان حضرت نوحؑ اور قوم لوط اور عاد اور ثمود کے ظاہر کئے جائیں۔چنانچہ ان آیات کی تفصیل دوسری آیات میں زیادہ تر کی گئی ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔
وَاِنۡ یَّرَوۡا کُلَّ اٰیَۃٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡا بِہَا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡکَ یُجَادِلُوۡنَکَ
وَاِذَا جَآءَتۡہُمۡ اٰیَۃٌ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ حَتّٰی نُؤۡتٰی مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِیَ رُسُلُ اللّٰہِ ؕۘؔ اَللّٰہُ اَعۡلَمُ حَیۡثُ یَجۡعَلُ رِسَالَتَہٗ
قُلۡ اِنِّیۡ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّیۡ وَکَذَّبۡتُمۡ بِہٖ ؕ مَا عِنۡدِیۡ مَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ بِہٖ ؕ اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ یَقُصُّ الۡحَقَّ وَہُوَ خَیۡرُ الۡفٰصِلِیۡنَ
قَدۡ جَآءَکُمۡ بَصَآئِرُ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ۚ فَمَنۡ اَبۡصَرَ فَلِنَفۡسِہٖ ۚ وَمَنۡ عَمِیَ فَعَلَیۡہَا ؕ وَمَاۤ اَنَا عَلَیۡکُمۡ بِحَفِیۡظٍ
وَیَسۡتَعۡجِلُوۡنَکَ بِالۡعَذَابِ
قُلۡ ہُوَ الۡقَادِرُ عَلٰۤی اَنۡ یَّبۡعَثَ عَلَیۡکُمۡ عَذَابًا مِّنۡ فَوۡقِکُمۡ اَوۡ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِکُمۡ اَوۡ یَلۡبِسَکُمۡ شِیَعًا وَّیُذِیۡقَ بَعۡضَکُمۡ بَاۡسَ بَعۡضٍ
وَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ سَیُرِیۡکُمۡ اٰیٰتِہٖ فَتَعۡرِفُوۡنَہَا
قُلۡ لَّکُمۡ مِّیۡعَادُ یَوۡمٍ لَّا تَسۡتَاۡخِرُوۡنَ عَنۡہُ سَاعَۃً وَّلَا تَسۡتَقۡدِمُوۡنَ
وَیَسۡتَنۡۢبِئُوۡنَکَ اَحَقٌّ ہُوَ ؕؔ قُلۡ اِیۡ وَرَبِّیۡۤ اِنَّہٗ لَحَقٌّ ۚؕؔ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ
سَنُرِیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا فِی الۡاٰفَاقِ وَفِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمۡ اَنَّہُ الۡحَقُّ
خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ ؕ سَاُورِیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنِ
یعنی یہ لوگ تمام نشانوں کو دیکھ کر ایمان نہیں لاتے ۔ پھر جب تیرے پاس آتے ہیں تو تجھ سے لڑتے ہیں اور جب کوئی نشان پاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم کبھی نہیں مانیں گے۔ جب تک ہمیں خود ہی وہ باتیں حاصل نہ ہوں جو رسولوں کو ملتی ہیں ۔ کہہ میں کامل ثبوت لے کر اپنے رب کی طرف سے آیا ہوں اور تم اس ثبوت کو دیکھتے ہو اور پھر تکذیب کر رہے ہو۔ جس چیز کو تم جلدی سے مانگتے ہو ( یعنی عذاب ) وہ تو میرے اختیار میں نہیں۔ حکم اخیر صادر کرنا تو خدا ہی کا منصب ہے ، وہی حق کو کھول دے گا اور وہی خیر الفاصلین ہے جو ایک دن میرا اور تمہارا فیصلہ کر دے گا۔ خدا نے میری رسالت پر روشن نشان تمہیں دیئے ہیں۔سو جو ان کو شناخت کرے اُس نے اپنے ہی نفس کو فائدہ پہنچایا اور جو اندھا ہو جائے اس کا وبال بھی اسی پر ہے میں تو تم پر نگہبان نہیں۔اور تجھ سے عذاب کیلئے جلدی کرتے ہیں۔کہہ وہی پروردگار اس بات پر قادر ہے کہ اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے کوئی عذاب تم پر بھیجے اور چاہے تو تمہیں دو فریق بنا کرایک فریق کی لڑائی کا دوسرے کو مزا چکھا دے اور یہ کہ سب خوبیاں اللہ کے لئے ہیں۔وہ تمہیں ایسے نشان دکھائے گا جنہیں تم شناخت کر لو گے اور کہہ تمہارے لئے ٹھیک ٹھیک ایک برس کی میعاد ہے نہ اس سے تم تاخیر کر سکو گے نہ تقدیم۔اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ سچ بات ہے۔کہہ ہاں مجھے قسم ہے اپنے ربّ کی کہ یہ سچ ہے اور تم خدا ئے تعالیٰ کو اس کے وعدوں سے روک نہیں سکتے۔ہم عنقریب ان کواپنے نشان دکھلائیں گے۔ان کے ملک کے اردگرد میں اور خود اُن میں بھی یہاں تک کہ اُن پر کھل جائے گا کہ یہ نبی سچا ہے۔انسان کی فطرت میں جلدی ہے میں عنقریب تمہیں اپنے نشان دکھلاؤں گا سو تم مجھ سے جلدی تو مت کرو۔

اب دیکھو کہ ان آیات میں نشانات مطلوبہ کے دکھلانے کے بارے میں کیسے صاف اور پختہ وعدے دیئے گئے ہیں یہاں تک کہ یہ بھی کہا گیا کہ ایسے کھلے کھلے نشان دکھلا ئے جائیں گے کہ تم ان کو شناخت کر لو گے اور اگر کوئی کہے کہ یہ تو ہم نے مانا کہ عذاب کے نشانوں کے بارے میں جابجا قرآن شریف میں وعدے دیئے گئے ہیں کہ وہ ضرور کسی دن دکھلائے جائیں گے اور یہ بھی ہم نے تسلیم کیا کہ وہ سب وعدے اس زمانہ میں پورے بھی ہوگئے کہ جب کہ خدائے تعالیٰ نے اپنی خداوندی قدرت دکھلا کر مسلمانوں کی کمزوری اور ناتوانی کو دور کر دیا اور معدودے چند سے ہزار ہا تک ان کی نوبت پہنچا دی اور ان کے ذریعہ سے ان تمام کفّار کو تہ تیغ کیا جو مکہ میں اپنی سرکشی اور جو رو جفا کے زمانہ میں نہایت تکبر سے عذاب کا نشان مانگا کرتے تھے لیکن اس بات کا ثبوت قرآن شریف سے کہاں ملتا ہے کہ بجز اُن نشانوں کے اور بھی نشان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھلائے تھے سو واضح ہو کہ نشانوں کے دکھلانے کا ذکر قرآن شریف میں جا بجا آیا ہے بعض جگہ اپنے پہلے نشانوں کا حوالہ بھی دیا ہے دیکھو آیت کَمَا لَمۡ یُؤۡمِنُوۡا بِہٖۤ اَوَّلَ مَرَّۃٍ الجز و نمبر۷ سورۂ انعام بعض جگہ کفّار کی ناانصافی کا ذکر کر کے ان کا اس طور کا اقرار درج کیا ہے کہ وہ نشانوں کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ وہ جادو ہے۔دیکھو آیت وَاِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَیَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ الجزو نمبر۲۷ سورۃ القمر

بعض جگہ جو نشانوں کے دیکھنے کا صاف اقرار منکرین نے کر دیا ہے وہ شہادتیں ان کی پیش کی ہیں۔جیسا کہ فرماتا ہے وَشَہِدُوۡۤا اَنَّ الرَّسُوۡلَ حَقٌّ وَّجَآءَہُمُ الۡبَیِّنٰتُ یعنی انہوں نے رسول کے حق ہونے پر گواہی دی اور کھلے کھلے نشان ان کو پہنچ گئے اور بعض جگہ معجزات کو بتصریح بیان کر دیا ہے جیسے معجزہ شق القمر جو ایک عظیم الشان معجزہ اور خدائی قدرت کا ایک کامل نمونہ ہے جس کی تصریح ہم نے کتاب سرمہ چشم آریہ میں بخوبی کر دی ہے جو شخص مفصل دیکھنا چاہے اس میں دیکھ سکتا ہے۔اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خود تراشیدہ نشان مانگا کرتے تھے اکثر وہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانوں کے آخر کار گواہ بھی بن گئے تھے کیونکہ آخر وہی لوگ تو تھے جنہوں نے مشرف باسلام ہو کر دین اسلام کو مشارق و مغارب میں پھیلایا اور نیز معجزات اور پیشگوئیوں کے بارے میں کتب احادیث میں اپنی رویت کی شہادتیں قلمبند کرائیں پس اس زمانہ میں ایک عجیب طرز ہے کہ ان بزرگان دین کے اس زمانہ جاہلیت کے انکاروں کو بار بار پیش کرتے ہیں جن سے بالآخر خود وہ دست کش اور تائب ہوگئے تھے لیکن اُن کی اُن شہادتوں کو نہیں مانتے جو راہ راست پر آنے کے بعد انہوں نے پیش کی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات تو چاروں طرف سے چمک رہے ہیں وہ کیونکر چھپ سکتے ہیں صرف معجزات جو صحابہ کی شہادتوں سے ثابت ہیں وہ تین ہزار معجزہ ہے اور پیش گوئیاں تو شاید دس ہزار سے بھی زیادہ ہوں گی جو اپنے وقتوں پر پوری ہوگئیں اور ہوتی جاتی ہیں۔ماسوائے اس کے بعض معجزات و پیشگوئیاں قرآن شریف کی ایسی ہیں کہ وہ ہمارے لئے بھی جو اس زمانہ میں مشہود و محسوس کا حکم رکھتی ہیں اور کوئی ان سے انکار نہیں کر سکتا چنانچہ وہ یہ ہیں۔

(۱) عذابی نشان کا معجزہ جو اس وقت کے کفّار کو دکھلایا گیا تھا یہ ہمارے لئے بھی فی الحقیقت ایسا ہی نشان ہے جس کو چشم دید کہنا چاہئے۔وجہ یہ کہ یہ نہایت یقینی مقدمات کا ایک ضروری نتیجہ ہے جس سے کوئی موافق اور مخالف کسی صورت سے انکار نہیں کر سکتا۔اوّل یہ مقدمہ جو بطور بنیاد معجزہ کے ہے نہایت بدیہی اور مسلّم الثبوت ہے کہ یہ عذابی نشان اس وقت مانگا گیا تھا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور چند رفیق آنجناب کے مکہ میں دعوت حق کی وجہ سے خود صدہا تکالیف اور دردوں اور دکھوں میں مبتلا تھے اور وہ ایام دین اسلام کے لئے ایسے ضعف اور کمزوری کے دن تھے کہ خود کفّارِ مکہ ہنسی اور ٹھٹھے کی راہ سے مسلمانوں کو کہا کرتے تھے کہ اگر تم حق پر ہو تو اس قدر عذاب اور مصیبت اور دکھ اور درد ہمارے ہاتھ سے کیوں تمہیں پہنچ رہا ہے اور وہ خدا جس پر تم بھروسہ کرتے ہو وہ کیوں تمہاری مدد نہیں کرتا اور کیوں تم ایک قدر قلیل جماعت ہو جو عنقریب نابود ہونے والی ہے اور اگر تم سچے ہو تو کیوں ہم پر عذاب نازل نہیں ہوتا؟ ان سوالات کے جواب میں جو کچھ کفّار کو قرآن شریف کے متفرق مقامات میں ایسے زمانہ تنگی و تکالیف میں کہا گیا وہ دوسرا مقدمہ اس پیشگوئی کی عظمت شان سمجھنے کیلئے ہے کیونکہ وہ زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ پر ایسا نازک زمانہ تھا کہ ہر وقت اپنی جان کا اندیشہ تھا اور چاروں طرف ناکامی مُنہ دکھلا رہی تھی سو ایسے زمانہ میں کفّار کو اُن کے عذابی نشان مانگنے کے وقت صاف صاف طور پر یہ کہا گیا تھا کہ عنقریب تمہیں اسلام کی فتح مندی اور تمہارے سزایاب ہونے کا نشان دکھلایا جائے گا اور اسلام جو اب ایک تخم کی طرح نظر آتا ہے کسی دن ایک بزرگ درخت کی مانند اپنے تئیں ظاہر کرے گا اور وہ جو عذاب کا نشان مانگتے ہیں وہ تلوار کی دھار سے قتل کئے جائیں گے اور تمام جزیرہ عرب کفر اور کافروں سے صاف کیا جائے گا اور تمام عرب کی حکومت مومنوں کے ہاتھ میں آ جائے گی اور خدا ئے تعالیٰ دین اسلام کو عرب کے ملک میں ایسے طور سے جمادے گا کہ پھر بت پرستی کبھی پیدا نہیں ہوگی اور حالت موجودہ جو خوف کی حالت ہے بکلّی امن کے ساتھ بدل جائے گی اور اسلام قوت پکڑے گا اور غالب ہوتا چلا جائے گا۔یہاں تک کہ دوسرے ملکوں پر اپنی نصرت اور فتح کا سایہ ڈالے گا اور دور دور تک اس کی فتوحات پھیل جائیں گی اور ایک بڑی بادشاہت قائم ہو جائے گی جس کا اخیر دنیا تک زوال نہیں ہوگا۔

اب جو شخص پہلے ان دونوں مقدمات پر نظر ڈال کر معلوم کر لیوے کہ وہ زمانہ جس میں یہ پیشگوئی کی گئی، اسلا م کے لئے کیسی تنگی اور ناکامی اور مصیبت کا زمانہ تھا اور جو پیشگوئی کی گئی وہ کس قدر حالت موجودہ سے مخالف اور خیال اور قیاس سے نہایت بعید بلکہ صریح محالات عادیہ سے نظر آتی تھی۔پھر بعد اس کے اسلام کی تاریخ پر جو دشمنوں اور دوستوں کے ہاتھ میں موجود ہے ایک منصفانہ نظر ڈالے کہ کیسی صفائی سے یہ پیشگوئی پوری ہوگئی اور کس قدر دلوں پر ہیبت ناک اثر اس کا پڑا اور کیسے مشارق اور مغارب میں تمام تر قوت اور طاقت کے ساتھ اس کا ظہور ہوا تو اس پیشگوئی کو یقینی اور قطعی طور پر چشم دید معجزہ قرار دے گا جس میں اس کو ایک ذرہ بھی شک و شبہ نہیں ہوگا۔

پھر دوسرا معجزہ قرآن شریف کاجو ہمارے لئے حکم مشہود و محسوس کا رکھتا ہے وہ عجیب و غریب تبدیلیاں ہیں جو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ببرکت پیروی قرآن شریف و اثر صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ظہور میں آئیں۔جب ہم اس بات کو دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ مشرف باسلام ہونے سے پہلے کیسے اور کس طریق اور عادت کے آدمی تھے اور پھر بعد شرف صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم و اتباع قرآن شریف کس رنگ میں آ گئے اور کیسے اخلاق میں، عقائد میں، چلن میں، گفتار میں، رفتار میں ،کردار میں اور اپنی جمیع عادات میں خبیث حالت سے منتقل ہو کر نہایت طیّب اور پاک حالت میں داخل کئے گئے تو ہمیں اس تاثیر عظیم کو دیکھ کر جس نے ان کے زنگ خوردہ وجودوں کو ایک عجیب تازگی اور روشنی اور چمک بخش دی تھی اقرار کرنا پڑتا ہے کہ یہ تصرف ایک خارقِ عادت تصرف تھا جو خاص خدائے تعالیٰ کے ہاتھ نے کیا۔قرآن شریف میں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے ان کو مُردہ پایا اور زندہ کیا اور جہنم کے گڑھے میں گرتے دیکھا تو اُس ہولناک حالت سے چھڑایا۔بیمار پایا اور اُنہیں اچھا کیا۔اندھیرے میں پایا انہیں روشنی بخشی۔اور خدائے تعالیٰ نے اس اعجاز کے دکھلانے کے لئے قرآن شریف میں ایک طرف عرب کے لوگوں کی وہ خراب حالتیں لکھی ہیں جو اسلام سے پہلے وہ رکھتے تھے اور دوسری طرف ان کے وہ پاک حالات بیان فرمائے ہیں جو اسلام لانے کے بعد ان میں پیدا ہوگئے تھے کہ تا جو شخص ان پہلے حالات کو دیکھے جو کفر کے زمانہ میں تھے اور پھر مقابل اس کے وہ حالت پڑھے جو اسلام لانے کے بعد ظہور پذیر ہوگئی تو ان دونوں طور کے سوانح پر مطلع ہونے سے بہ یقینِ کامل سمجھ لیوے گا کہ یہ تبدیلی ایک خارق عادت تبدیلی ہے جسے معجزہ کہنا چاہئے۔

پھر تیسرا معجزہ قرآن شریف کا جو ہماری نظروں کے سامنے موجود ہے اس کے حقائق و معارف و لطائف ونکات ہیں جو اس کی بلیغ و فصیح عبارات میں بھرے ہوئے ہیں اس معجزہ کو قرآن شریف میں بڑی شدّومد سے بیان کیا گیا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر تمام جن و انس اکٹھے ہو کر اس کی نظیر بنانا چاہیں تو اُن کے لئے ممکن نہیں یہ معجزہ اس دلیل سے ثابت اور متحقق الوجود ہے کہ اس زمانہ تک کہ تیرہ سو برس سے زیادہ گزر رہا ہے باوجود یکہ قرآن شریف کی منادی دنیا کے ہر ایک نواح میں ہو رہی ہے اور بڑے زور سے ھَلْ مِنْ مُّعَارِضٍ کا نقارہ بجایا جاتا ہے مگر کبھی کسی طرف سے آواز نہیں آئی۔پس اس سے اس بات کا صریح ثبوت ملتا ہے کہ تمام انسانی قوتیں قرآن شریف کے مقابلہ و معارضہ سے عاجز ہیں بلکہ اگر قرآن شریف کی صدہا خوبیوں میں سے صرف ایک خوبی کو پیش کر کے اس کی نظیر مانگی جائے تو انسان ضعیف البنیان سے یہ بھی ناممکن ہے کہ اس ایک جزو کی نظیر پیش کر سکے مثلاً قرآن شریف کی خوبیوں میں سے ایک یہ بھی خوبی ہے کہ وہ تمام معارف دینیہ پر مشتمل ہے اور کوئی دینی سچائی جو حق اور حکمت سے تعلق رکھتی ہے، ایسی نہیں جو قرآن شریف میں پائی نہ جاتی ہو مگر ایسا شخص کون ہے کہ کوئی دوسری کتاب ایسی دکھلائے جس میں یہ صفت موجود ہو اور اگر کسی کو اس بات میں شک ہو کہ قرآن شریف جامع تمام حقائق دینیہ ہے تو ایسا مشکک خواہ عیسائی ہو خواہ آریہ اور خواہ برہمو ہو، خواہ دہریہ اپنی طرز اور طور پر امتحان کر کے اپنی تسلی کرا سکتا ہے اورہم تسلی کر دینے کے ذمہ دار ہیں۔بشرطیکہ کوئی طالب حق ہماری طرف رجوع کرے۔بائیبل میں جس قدر پاک صداقتیں ہیں یا حکماء کی کتابوں میں جس قدر حق اور حکمت کی باتیں ہیں جن پر ہماری نظر پڑی ہے یا ہندوؤں کے وید وغیرہ میں جو اتفاقاً بعض سچائیاں درج ہوگئی ہیں یا باقی رہ گئی ہیں جن کو ہم نے دیکھا ہے یا صوفیوں کی صدہاکتابوں میں جو حکمت و معرفت کے نکتے ہیں جن پر ہمیں اطلاع ہوئی ہے اُن سب کو ہم قرآن شریف میں پاتے ہیں اور اس کامل استقراء سے جو تیس برس کے عرصہ سے نہایت عمیق اور محیط نظر کے ذریعہ سے ہم کو حاصل ہے، نہایت قطع اور یقین سے ہم پر یہ بات کھل گئی ہے کہ کوئی روحانی صداقت جو تکمیل نفس اور دماغی اور دلی قویٰ کی تربیت کے لئے اثر رکھتی ہے ایسی نہیں جو قرآن شریف میں درج نہ ہو اور یہ صرف ہمارا ہی تجربہ نہیں بلکہ یہی قرآن شریف کا دعویٰ بھی ہے جس کی آزمائش نہ فقط میں نے بلکہ ہزار ہا علماء ابتداء سے کرتے آئے اور اس کی سچائی کی گواہی دیتے آئے ہیں۔

پھر چوتھا معجزہ قرآن شریف کا اس کی روحانی تاثیرات ہیں جو ہمیشہ اس میں محفوظ چلی آتی ہیں یعنی یہ کہ اس کی پیروی کرنے والے قبولیت الٰہی کے مراتب کو پہنچتے ہیں اور مکالماتِ الٰہیہ سے مشرف کئے جاتے ہیں۔خدا ئے تعالیٰ ان کی دعاؤں کو سنتا اور انہیں محبت اور رحمت کی راہ سے جواب دیتا ہے اور بعض اسرارِ غیبیہ پر نبیوں کی طرح ان کو مطلع فرماتا ہے اور اپنی تائید اور نصرت کے نشانوں سے دوسری مخلوقات سے انہیں ممتاز کرتا ہے یہ بھی ایسا نشان ہے جو قیامت تک اُمت محمدیہ میں قائم رہے گا اور ہمیشہ ظاہر ہوتا چلا آیا ہے اور اب بھی موجود اور متحقق الوجود ہے۔مسلمانوں میں سے ایسے لوگ اب بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں کہ جن کو اللہ جلّشانہٗ اپنی تائیداتِ خاصہ سے مؤیَّد فرما کر الہامات صحیحہ و صادقہ و مبشرات و مکاشفات غیبیہ سے سرفراز فرماتا ہے۔

اب اے حق کے طالبو اور سچے نشانوں کے بھوکو اور پیاسو! انصاف سے دیکھو اور ذرا پاک نظر سے غور کرو کہ جن نشانوں کا خدا ئے تعالیٰ نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے کس اعلیٰ درجہ کے نشان ہیں اور کیسے ہر زمانے کیلئے مشہود و محسوس کا حکم رکھتے ہیں۔پہلے نبیوں کے معجزات کا اب نام و نشان باقی نہیں، صرف قصے ہیں۔خدا جانے ان کی اصلیت کہاں تک درست ہے۔بالخصوص حضرت مسیحؑ کے معجزات جو انجیلوں میں لکھے ہیں باوجود قصوں اور کہانیوں کے رنگ میں ہونے کے اور باوجود بہت سے مبالغات کے جو اُن میں پائے جاتے ہیں۔ایسے شکوک و شبہات ان پر وارد ہوتے ہیں کہ جن سے انہیں بکلّی صاف و پاک کر کے دکھلانا بہت مشکل ہے۔اور اگر ہم فرض کے طور پر تسلیم بھی کر لیں کہ جو کچھ اناجیل مروجہ میں حضرت مسیح کی نسبت بیان کیا گیا ہے کہ لولے اور لنگڑے اور مفلوج اور اندھے وغیرہ بیمار ان کے چھونے سے اچھے ہو جاتے تھے۔یہ تمام بیان بلامبالغہ ہے اور ظاہر پر ہی محمول ہے کوئی اور معنی اس کے نہیں۔تب بھی حضرت مسیح کی ان باتوں سے کوئی بڑی خوبی ثابت نہیں ہوتی۔اوّل تو انہیں دنوں میں ایک تالاب بھی ایسا تھا کہ اس میں ایک وقت خاص میں غوطہ مارنے سے ایسی سب مرضیں فی الفوردور ہو جاتی تھیں جیسا کہ خود انجیل میں مذکور ہے پھر ماسوائے اس کے زمانہ دراز کی تحقیقاتوں نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ ملکہ سلب امراض منجملہ علوم کے ایک علم ہے جس کے اب بھی بہت لوگ مشاق پائے جاتے ہیں۔جس میں شدت توجہ اور دماغی طاقتوں کے خرچ کرنے اور جذب خیال کا اثر ڈالنے کی مشق درکار ہے۔سو اس علم کو نبوت سے کچھ علاقہ نہیں بلکہ مردِ صالح ہو نا بھی اس کے لئے ضروری نہیں اور قدیم سے یہ علم رائج ہوتا چلا آیا ہے۔مسلمانوں میں بعض اکابر جیسے محی الدین( ابن) عربی صاحب فصوص اور بعض نقشبندیوں کے اکابر اس کام میں مشاق گزرے ہیں۔ایسے کہ ان کے وقت میں ان کی نظیر پائی نہیں گئی بلکہ بعض کی نسبت ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اپنی کامل توجہ سے باذنہٖ تعالیٰ تازہ مردوں سے باتیں کر کے دکھلا دیتے تھے اور دو دو تین تین سَو بیماروں کو اپنے دائیں بائیں بٹھلا کر ایک ہی نظر سے تندرست کر دیتے تھے اور بعض جو مشق میں کچھ کمزورتھے وہ ہاتھ لگا کر یا بیمار کے کپڑے کو چھو کر شفا بخشتے تھے۔اس مشق میں عامل عمل کے وقت میں کچھ ایسا احساس کرتا ہے کہ گویا اس کے اندر سے بیمار پر اثر ڈالنے کے وقت ایک قوت نکلتی ہے اور بسا اوقات بیمار کو بھی یہ مشہود ہوتا ہے کہ اس کے اندر سے ایک زہر یلا مادہ حرکت کر کے سفلی اعضا کی طرف اُترتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ بکلّی منعدم ہو جاتا ہے۔اس علم میں اسلام میں بہت سی تالیفیں موجود ہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ ہندوؤں میں بھی اس کی کتابیں ہونگی۔حال میں جو انگریزوں نے فن مسمریزم نکالا ہے حقیقت میں وہ بھی اسی علم کی ایک شاخ ہے۔انجیل پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کو بھی کسی قدر اس علم میں مشق تھی مگر کامل نہیں تھے۔اس وقت کے لوگ سادہ اور اس علم سے بے خبر تھے۔اسی وجہ سے اس زمانہ میں یہ عمل اپنی حد سے زیادہ قابل تعریف سمجھا گیا تھا مگر پیچھے سے جوں جوں اس علم کی حقیقت کھلتی گئی لوگ اپنے علوّ اعتقاد سے تنزل کرتے گئے۔یہاں تک کہ بعضوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ ایسی مشقوں سے بیماروں کو چنگا کرنایامجنونوں کو شفا بخشنا کچھ بھی کمال کی بات نہیں بلکہ اس میں ایماندار ہونا بھی ضرور ی نہیں۔چہ جائیکہ نبوت یا ولایت پر یہ دلیل ہو سکے۔ان کا یہ بھی قول ہے کہ عمل سلبِ امراض بدنیہ کی کامل مشق اور اُسی شغل میں دن رات اپنے تئیں ڈالے رکھنا روحانی ترقی کیلئے سخت مضر ہے اور ایسے شخص کے ہاتھ سے روحانی تربیت کا کام بہت ہی کم ہوتا ہے اور قوتِ منوّرہ اُس کے قلب کی بغایت درجہ گھٹ جاتی ہے۔خیال ہو سکتا ہے کہ اسی وجہ سے حضرت مسیح علیہ السلام اپنی روحانی تربیت میں بہت کمزور نکلے جیسا کہ پادری بٹلر صاحب جو باعتبار عہدہ و نیز بوجہ لیاقت ذاتی کے ایک ممتاز آدمی معلوم ہوتے ہیں۔وہ نہایت افسوس سے لکھتے ہیں کہ مسیحؑ کی روحانی تربیت بہت ضعیف اور کمزور ثابت ہوتی ہے اور اُن کے صحبت یافتہ لوگ جو حواریوں کے نام سے موسوم تھے اپنے روحانی تربیت یافتہ ہونے میں اور انسانی قوتوں کی پوری تکمیل سے کوئی اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھلا نہ سکے۔(کاش حضرت مسیح نے اپنے ظاہر ی شغل سلبِ امراض کی طرف کم توجہ کی ہوتی اور وہی توجہ اپنے حواریوں کی باطنی کمزوریوں اور بیماریوں پر ڈالتے خاص کر یہودا اسکریوطی پر) اس جگہ صاحب موصوف یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر نبی عربی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے صحابہ کے مقابلہ پر حواریوں کی روحانی تربیت یابی اور دینی استقامت کا موازنہ کیا جائے تو ہمیں افسوس کے ساتھ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح کے حواری روحانی طور پر تربیت پذیر ہونے میں نہایت ہی کچے اور پیچھے رہے ہوئے تھے اور ان کے دماغی اور دلی قویٰ کو حضرت مسیح کی صحبت نے کوئی ایسی توسیع نہیں بخشی تھی جو صحابہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مقابل تعریف ہو سکے بلکہ حواریوں کی قدم قدم میں بزدلی، سست اعتقادی، تنگدلی، دنیا طلبی، بیوفائی ثابت ہوتی تھی۔مگر صحابہؓ نبی عربی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے وہ صدق وفا ظہور میں آیا جس کی نظیر کسی دوسرے نبی کے پیروؤں میں ملنا مشکل ہے سو یہ اس روحانی تربیت کا جو کامل طور پر ہوئی تھی اثر تھا جس نے اُن کو بکلّی مبدّل کر کے کہیں کا کہیں پہنچا دیا تھا۔اسی طرح بہت سے دانشمند انگریزوں نے حال میں ایسی کتابیں تالیف کی ہیں کہ جن میں اُنہوں نے اقرار کر لیا ہے کہ اگر ہم نبی عربی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی حالت رجوع الی اللہ و توکّل و استقامت ذاتی و تعلیم کامل و مطہر و القائے تاثیر و اصلاح خلق کثیر از مفسدین و تائیدات ظاہری و باطنی قادر مطلق کو ان معجزات سے الگ کر کے بھی دیکھیں جو بمدمنقول ان کی نسبت بیان کی جاتی ہیں تب بھی ہمارا انصاف اس اقرار کے لئے ہمیں مجبور کرتا ہے کہ یہ تمام امور جو اُن سے ظہور میں آئے یہ بھی بلاشبہ فوق العادت اور بشری طاقتوں سے بالاتر ہیں اور نبوت صحیحہ صادقہ کے شناخت کرنے کیلئے قوی اور کافی نشان ہیں۔کوئی انسان جب تک اس کے ساتھ خدائے تعالیٰ نہ ہو کبھی ان سب باتوں میں کامل اور کامیاب نہیں ہو سکتا اور نہ ایسی غیبی تائیدیں اُس کے شامل ہوتی ہیں۔

تیسرے سوال کا جواب

جن خیالات کو عیسائی صاحب نے اپنی عبارت میں بصورت اعتراض پیش کیا ہے وہ درحقیقت اعتراض نہیں ہیں بلکہ وہ تین غلط فہمیاں ہیں جو بوجہ قلّتِ تدبر اُن کے دل میں پیدا ہوگئی ہیں۔اوّل ہم الگ الگ ان غلط فہمیوں کو دُور کرتے ہیں۔

پہلی غلط فہمی کی نسبت جواب یہ ہے کہ نبی برحق کی یہ نشانی ہرگز نہیں ہے کہ خدا ئے تعالیٰ کی طرح ہر ایک مخفی بات کا بالاستقلال اس کو علم بھی ہو بلکہ اپنے ذاتی اقتدار اور اپنی ذاتی خاصیت سے عالم الغیب ہونا خدائے تعالیٰ کی ذات کا ہی خاصہ ہے۔قدیم سے اہل حق حضرت واجب الوجود کے علم غیب کی نسبت وجوبِ ذاتی کا عقیدہ رکھتے ہیں اور دوسرے تمام ممکنات کی نسبت امتناعِ ذاتی اور امکان بالواجب عزّاسمہٗ کا عقیدہ ہے۔یعنی یہ عقیدہ کہ خدائے تعالیٰ کی ذات کے لئے عالم الغیب ہونا واجب ہے اور اس کی ہَوِیّتِ حقّہ کی یہ ذاتی خاصیت ہے کہ عالم الغیب ہو مگر ممکنات کے جو ہالکۃ الذات اور باطلۃ الحقیقت ہیں اس صفت میں اور ایسا ہی دوسری صفات میں شراکت بحضرت باری عزّاسمہٗ جائز نہیں اور جیسا ذات کی رو سے شریک الباری ممتنع ہے ایسا ہی صفات کی رو سے بھی ممتنع ہے۔پس ممکنات کیلئے نظراً علٰی ذاتہم عالم الغیب ہونا ممتنعات میں سے ہے۔خواہ نبی ہوں یامحدّ ث ہوں یا ولی ہوں، ہاں الہام الٰہی سے اسرار غیبیہ کو معلوم کرنا یہ ہمیشہ خاص اور برگزیدہ کو حصّہ ملتا رہا ہے اور اب بھی ملتا ہے جس کو ہم صرف تابعین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں پاتے ہیں نہ کسی اور میں۔عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ وہ کبھی کبھی اپنے مخصوص بندوں کو اپنے بعض اَسرارِ خاصہ پر مطلع کر دیتا ہے اور اوقات مقررہ اور مقدرہ میں رشحِ فیض غیب ان پر ہوتا ہے بلکہ کامل مقرب اللہ اسی سے آزمائے جاتے ہیں اور شناخت کئے جاتے ہیں کہ بعض اوقات آیندہ کی پوشیدہ باتیں یا کچھ چھپے اَسرار اُنہیں بتلائے جاتے ہیں مگر یہ نہیں کہ ان کے اختیار اور ارادہ اوراقتدار سے بلکہ خدا ئے تعالیٰ کے ارادہ اور اختیار اور اقتدار سے یہ سب نعمتیں انہیں ملتی ہیں۔

وہ جو اس کی مرضی پر چلتے ہیں اور اُسی کے ہو رہتے اور اسی میں کھوئے جاتے ہیں اس خیرمحض کی ان سے کچھ ایسی ہی عادت ہے کہ اکثر ان کی سنتا اور اپنا گزشتہ فعل یا آئندہ کا منشاء بسا اوقات ان پر ظاہر کر دیتا ہے۔مگر بغیر اعلامِ الٰہی انہیں کچھ بھی معلوم نہیں ہوتا وہ اگرچہ خدائے تعالیٰ کے مقرب تو ہوتے ہیں مگر خدا تو نہیں ہوتے سمجھائے سمجھتے ہیں، بتلائے جانتے ہیں، دکھلائے دیکھتے ہیں، بلائے بولتے ہیں اور اپنی ذات میں کچھ بھی نہیں ہوتے۔جب طاقت عظمیٰ انہیں اپنے الہام کی تحریک سے بلاتی ہے تو وہ بولتے ہیں اورجب دکھلاتی ہے تو دیکھتے ہیں اور جب سناتی ہے تو سنتے ہیں اور جب تک خدائے تعالیٰ ان پر کوئی پوشیدہ بات ظاہر نہیں کرتا تب تک انہیں اس بات کی کچھ بھی خبر نہیں ہوتی۔تمام نبیوں کے حالات زندگی (لائف) میں اس کی شہادت پائی جاتی ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف ہی دیکھو کہ وہ کیونکر اپنی لاعلمی کا آپ اقرار کرکے کہتے ہیں کہ اُس دن اور اس گھڑی کی بابت سوا باپ کے نہ تو فرشتے جو آسمان پر ہیں، نہ بیٹا، کوئی نہیں جانتا۔باب۱۳۔آیت ۳۲مرقس۔اور پھر وہ فرماتے ہیں کہ میں آپ سے کچھ نہیں کرتا (یعنی کچھ نہیں کر سکتا) مگر جو میرے باپ نے سکھلایا وہ باتیں کہتا ہوں۔کسی کو راستبازوں کے مرتبہ تک پہنچانا میرے اختیار میں نہیں۔مجھے کیوں نیک کہتا ہے نیک کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا۔مرقس۔

غرض کسی نبی نے بااقتدار یا عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔دیکھو اس عاجز بندہ کی طرف جس کو مسیح کر کے پکارا جاتا ہے اور جسے نادان مخلوق پرستوں نے خدا سمجھ رکھا ہے کہ کیسے اس نے ہرمقام میں اپنے قول اور فعل سے ظاہر کر دیا کہ میں ایک ضعیف اور کمزور اور ناتواں بندہ ہوں اور مجھ میں ذاتی طور پر کوئی بھی خوبی نہیں اور آخری اقرار جس پر ان کا خاتمہ ہوا کیسا پیارے لفظوں میں ہے۔چنانچہ انجیل میں یوں لکھا ہے کہ وہ یعنی مسیح (اپنی گرفتاری کی خبر پا کر) گھبرانے اور بہت دلگیر ہونے لگا اور ان سے (یعنی اپنے حواریوں سے) کہا کہ میر ی جان کا غم موت کا سا ہے اور وہ تھوڑا آگے جاکر زمین پر گر پڑا (یعنی سجدہ کیا) اور دعا مانگی کہ اگر ہوسکے تو یہ گھڑی مجھ سے ٹل جائے اور کہا کہ اے ابّا! اے باپ! سب کچھ تجھ سے ہو سکتا ہے۔اس پیالہ کو مجھ سے ٹال دے۔یعنی تو قادرِ مطلق ہے اور میں ضعیف اور عاجز بندہ ہوں۔تیرے ٹالنے سے یہ بلا ٹل سکتی ہے اور آخر ایلی ایلی لما سبقتنی کہہ کر جان دی۔جس کاترجمہ یہ ہے کہ ’’اے میرے خدا ! اے میرے خدا!! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔‘‘

اب دیکھئے کہ اگرچہ دعا تو قبول نہ ہوئی کیونکہ تقدیر مبرم تھی۔ایک مسکین مخلوق کی خالق کے قطعی ارادہ کے آگے کیا پیش جاتی تھی۔مگر حضرت مسیح نے اپنی عاجزی اور بندگی کے اقرار کو نہایت حد تک پہنچا دیا۔اس امید سے کہ شاید قبول ہو جائے۔اگر انہیں پہلے سے علم ہوتا کہ دعا ردّ کی جائے گی ہرگز قبول نہیں ہوگی تو وہ ساری رات برابر فجر تک اپنے بچاؤ کے لئے کیوں دعا کرتے رہتے اور کیوں اپنے تئیں اور اپنے حواریوں کو بھی تقید سے اس لا حاصل مشقت میں ڈالتے۔

سو بقول معترض صاحب ان کے دل میں یہی تھا کہ انجام خدا کو معلوم ہے مجھے معلوم نہیں۔پھر ایسا ہی حضرت مسیح کی بعض پیشگوئیوں کا صحیح نہ نکلنا دراصل اسی وجہ سے تھا کہ بباعث عدم علم براسرارِ مخفیہ اجتہادی طور پر تشریح کرنے میں اُن سے غلطی ہو جاتی تھی جیسا کہ آپ نے فرمایا تھا کہ جب نئی خلقت میں ابن آدم اپنے جلال کے تخت پر بیٹھے گا تم بھی (اے میرے بارہ حواریو) بارہ تختوں پر بیٹھو گے۔دیکھو باب ۱۹۔آیت ۲۸۔متی۔

لیکن اسی انجیل سے ظاہر ہے کہ یہودا اسکریوطی اس تخت سے بے نصیب رہ گیا۔اس کے کانوں نے تخت نشینی کی خبر سن لی مگر تخت پر بیٹھنا اُسے نصیب نہ ہوا اب راستی اور سچائی سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت مسیح کو اس شخص کے مرتد اور بد عاقبت ہونے کا پہلے سے علم ہوتا تو کیوں اس کو تخت نشینی کی جھوٹی خوش خبری سناتے۔ایسا ہی ایک مرتبہ آپ ایک انجیر کا درخت دور سے دیکھ کر انجیر کھانے کی نیت سے اس کی طرف گئے مگر جا کرجو دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس پر ایک بھی انجیر نہیں تو آپ بہت ناراض ہوئے اور غصہ کی حالت میں اس انجیر کو بددعا دی جس کا کوئی بد اثر انجیر پر ظاہر نہ ہوا۔اگر آپ کو کچھ غیب کا علم ہوتا تو بے ثمر درخت کی طرف اس کا پھل کھانے کے ارادہ سے کیوں جاتے۔

ایسا ہی ایک مرتبہ آپ کے دامن کو ایک عورت نے چھوا تھا تو آپ چاروں طرف پوچھنے لگے کہ کس نے میرا دامن چھوا ہے؟ اگر کچھ علم غیب سے حصہ ہوتا تو دامن چھونے والے کا پتہ معلوم کرنا تو کچھ بڑی بات نہ تھی ایک اور مرتبہ آ پ نے یہ پیشگوئی بھی کی تھی کہ اس زمانہ کے لوگ گزر نہ جائیں گے جب تک یہ سب کچھ (یعنی مسیح کا دوبارہ دنیا میں آنا اور ستاروں کا گرنا وغیرہ) واقع نہ ہووے لیکن ظاہر ہے کہ نہ اس زمانہ میں کوئی ستارہ آسمان کا زمین پر گرا اور نہ حضرت مسیح عدالت کیلئے دنیا میں آئے اور وہ صدی تو کیااس پر اٹھارہ صدیاں اور بھی گزر گئیں اور انیسویں گزرنے کو عنقریب ہے۔سو حضرت مسیح کے علم غیب سے بے بہرہ ہونے کے لئے یہی چند شہادتیں کافی ہیں جو کسی اور کتاب سے نہیں بلکہ چاروں انجیلوں سے دیکھ کر ہم نے لکھی ہیں دوسرے اسرائیلی نبیوں کا بھی یہی حال ہے۔حضرت یعقوب نبی ہی تھے مگر انہیں کچھ خبر نہ ہوئی کہ اُسی گاؤں کے بیابان میں میرے بیٹے پر کیا گزر رہا ہے۔حضرت دانیال اس مدت تک کہ خدائے تعالیٰ نے بخت نصر کے رؤیا کی ان پر تعبیر کھول دی کچھ بھی علم نہیں رکھتے تھے کہ خواب کیا ہے اور اس کی تعبیر کیا ہے؟

پس اس تمام تحقیق سے ظاہر ہے کہ نبی کا یہ کہنا کہ یہ بات خدا کو معلوم ہے مجھے معلوم نہیں، بالکل سچ اور اپنے محل پر چسپاں اور سراسر اس نبی کا شرف اور اس کی عبودیت کا فخر ہے بلکہ ان باتوں سے اپنے آقائے کریم کے آگے اس کی شان بڑھتی ہے نہ یہ کہ اس کے منصب نبوت میں کچھ فتور لازم آتا ہے۔ہاں اگر یہ تحقیق منظور ہو کہ خدائے تعالیٰ کے اعلام سے جو اسرار غیب حاصل ہوتے ہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قدر ہوئے تو میں ایک بڑا ثبوت اس بات کا پیش کرنے کیلئے تیار ہوں کہ جس قدر توریت و انجیل اور تمام بائیبل میں نبیوں کی پیشگوئیاں لکھی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیاں کَمًّا وَ کَیْفًا ہزار حصہ سے بھی ان سے زیادہ ہیں جن کی تفصیل احادیث نبویہ کی رو سے جو بڑی تحقیق سے قلم بند کی گئی ہیں، معلوم ہوتی ہے اور اجمالی طور پر مگر کافی اور اطمینان بخش اور نہایت مؤثر بیان قرآن شریف میں موجود ہے۔پھر دیگر اہل مذاہب کی طرح مسلمانوں کے ہاتھ میں صرف قصہ ہی نہیں بلکہ وہ تو ہر صدی میں غیر قوموں کو کہتے رہے ہیں اور اب بھی کہتے ہیں کہ یہ سب برکات اسلام میں ہمیشہ کے لئے موجود ہیں۔بھائیو! آؤ اوّل آزماؤ پھر قبول کرو۔مگر اُن آوازوں کو کوئی نہیں سنتا۔حجت الٰہی ان پر پوری ہے کہ ہم بلاتے ہیں وہ نہیں آتے اور ہم دکھاتے ہیں وہ نہیں دیکھتے۔انہوں نے آنکھوں اور کانوں کو بکلّی ہم سے پھیر لیا تا نہ ہو کہ وہ سنیں اور دیکھیں اور ہدایت پاویں۔

دوسری غلط فہمی جو معترض نے پیش کی ہے یعنی یہ کہ اصحاب کہف کی تعداد کی بابت قرآن شریف میں غلط بیان ہے یہ نرا دعویٰ ہے۔معترض نے اس بارے میں کچھ نہیں لکھا کہ وہ بیان کیوں غلط ہے اور اس کے مقابل پر صحیح کونسا بیان ہے اور اس کی صحت پر کون سے دلائل ہیں تا اس کے دلائل پر غور کی جائے اور جواب شافی دیا جائے۔اگر معترض کو فرقانی بیان پر کچھ کلام تھا تو اس کے وجوہات پیش کرنی چاہئیں تھیں۔بغیر پیش کرنے وجوہات کے یونہی غلط ٹھہرانا متلاشئ حق کا کام نہیں ہے۔

تیسری غلط فہمی معترض کے دل میں یہ پیدا ہوئی ہے کہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ ایک بادشاہ (جس کی سیر و سیاحت کا ذکر قرآن شریف میں ہے) سیر کرتا کرتا کسی ایسے مقام تک پہنچا جہاں اُسے سورج دلدل میں چھپتا نظر آیا۔اب عیسائی صاحب مجاز سے حقیقت کی طرف رُخ کر کے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ سورج اتنا بڑا ہو کر ایک چھوٹے سے دلدل میں کیونکر چھپ گیا۔یہ ایسی بات ہے جیسے کوئی کہے کہ انجیل میں مسیح کو خدا کا برّہ لکھا ہے یہ کیونکر ہو سکتا ہے۔برّہ تو وہ ہوتا ہے جس کے سر پر سینگ اور بدن پر پشم وغیرہ بھی ہو اور چارپایوں کی طرح سرنگون چلتا اور وہ چیزیں کھاتا ہو جو برّے کھایا کرتے ہیں؟اے صاحب! آپ نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ قرآن شریف نے واقعی طور پر سورج کے دلدل میں چھپنے کا دعوٰی کیا ہے۔قرآن شریف تو فقط بمنصب نقل خیال اس قدر فرماتا ہے کہ اس شخص کو اس کی نگاہ میں دلدل میں سورج چھپتا ہوا معلوم ہوا۔سو یہ تو ایک شخص کی رویت کا حال بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایسی جگہ پہنچا جس جگہ سورج کسی پہاڑ یا آبادی یا درختوں کی اوٹ میں چھپتا ہوا نظرنہیں آتا تھا جیسا کہ عام دستور ہے بلکہ دلدل میں چھپتا ہوا معلوم دیتا تھا۔مطلب یہ کہ اُس جگہ کوئی آبادی یا درخت یا پہاڑ نزدیک نہ تھے بلکہ جہاں تک نظر وفا کرے ان چیزوں میں سے کسی چیز کا نشان نظر نہیں آتا تھا فقط ایک دلدل تھا جس میں سورج چھپتا دکھائی دیتا تھا۔

ان آیات کا سیاق سباق دیکھو کہ اس جگہ حکیمانہ تحقیق کا کچھ ذکر بھی ہے فقط ایک شخص کی دُور دراز سیاحت کا ذکر ہے اور ان باتوں کے بیان کرنے سے اسی مطلب کا اثبات منظور ہے کہ وہ ایسے غیر آباد مقام پر پہنچا۔سو اس جگہ ہیئت کے مسائل لے بیٹھنا بالکل بے محل نہیں تو اور کیا ہے؟ مثلاً اگر کوئی کہے کہ آج رات بادل وغیرہ سے آسمان خوب صاف ہو گیا تھا اور ستارے آسمان کے نقطوں کی طرح چمکتے ہوئے نظر آتے تھے تواس سے یہ جھگڑا لے بیٹھیں کہ کیا ستارے نقطوں کی مقدار پر ہیں اور ہیئت کی کتابیں کھول کھول کر پیش کریں تو بلاشبہ یہ حرکت بے خبروں کی سی حرکت ہوگی کیونکہ اس وقت متکلّم کی نیت میں واقعی امر کا بیان کرنا مقصود نہیں وہ تو صرف مجازی طور پر جس طرح ساری دنیا جہان بولتا ہے بات کر رہا ہے۔اے وہ لوگو! جو عشائے ربّانی میں مسیح کا لہو پیتے اور گوشت کھاتے ہو کیا ابھی تک تمہیں مجازات اور استعارات کی خبر نہیں؟ سب جانتے ہیں کہ ہر ایک ملک کی عام بول چال میں مجازات اور استعارات کے استعمال کانہایت وسیع دروازہ کھلا ہے اور وحی الٰہی انہیں محاورات و استعارات کو اختیار کرتی ہے جو سادگی سے عوامُ النَّاس نے اپنی روز مرہ کی بات چیت اور بول چال میں اختیار کر رکھی ہیں۔فلسفہ کی دقیق اصطلاحات کی ہر جگہ اور ہر محل میں پیروی کرنا وحی کی طرز نہیں کیونکہ روئے سخن عوامُ النَّاس کی طرف ہے۔پس ضرور ہے کہ ان کی سمجھ کے موافق اور ان کے محاورات کے لحاظ سے بات کی جائے۔حقائق و دقائق کا بیان کرنا بجائے خود ہے مگر محاورات کا چھوڑنا اور مجازات اور استعارات عادیہ سے یک لخت کنارہ کش ہونا ایسے شخص کے لئے ہرگز روا نہیں جو عوامُ النَّاس سے مذاق پر بات کرنا اس کا فرضِ منصب ہے تا وہ اس کی بات کو سمجھیں اور ان کے دلوں پر اس کا اثر ہو۔لہٰذا یہ مسلّم ہے کہ کوئی ایسی الہامی کتاب نہیں جس میں مجازات اور استعارات سے کنارہ کیا گیا ہو یا کنارہ کرنا جائز ہو۔کیا کوئی کلامِ الٰہی دنیا میں ایسا بھی آیا ہے؟ اگر ہم غور کریں تو ہم خود اپنی ہر روزہ بول چال میں صدہا مجازات و استعارات بول جاتے ہیں اور کوئی بھی ان پر اعتراض نہیں کرتا۔مثلاً کہا جاتا ہے کہ ہلال بال سا باریک ہے اور ستارے نقطے سے ہیں یا چاند بادل کے اندر چھپ گیا اور سورج ابھی تک جو پہر دن چڑھا ہے نیزہ بھر اوپر آیا ہے یا ہم نے ایک رکابی پلاؤ کی کھا ئی یا ایک پیالہ شربت کا پی لیا۔تو ان سب باتوں سے کسی کے دل میں یہ دھڑکا شروع نہیں ہوتا کہ ہلال کیونکر بال سا باریک ہو سکتا ہے اور ستارے کس وجہ سے بقدر نقطوں کے ہو سکتے ہیں یا چاند بادل کے اندر کیونکر سما سکتا ہے اور کیا سورج نے باوجود اپنی اس تیز حرکت کے جس سے وہ ہزارہا کوس ایک دن میں طے کر لیتا ہے ایک پہر میں فقط بقدر نیزہ کے اتنی مسافت طے کرے ہے اور نہ رکابی پلاؤ کی کھانے یا پیالہ شربت کا پینے سے یہ کوئی خیال کر سکتا ہے کہ رکابی اور پیالہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے کھا لیا ہوگا۔بلکہ یہ سمجھیں گے کہ جو ان کے اندر چاول اور پانی ہے وہی کھایا پیا ہوگا۔نہایت صاف بات پر اعتراض کرنا کوئی دانا مخالف بھی پسند نہیں کرتا۔انصاف پسند عیسائیوں سے ہم نے خود سنا ہے کہ ایسے ایسے اعتراض ہم میں سے وہ لوگ کرتے ہیں جو بے خبر یا سخت درجہ کے متعصّب ہیں۔

بھلا یہ کیا حق روی ہے ؟کہ اگر کلامِ الٰہی میں مجاز یااستعارہ کی صورت پر کچھ وارد ہو تو اس بیان کو حقیقت پر حمل کر کے مورد اعتراض بنایا جائے۔اس صورت میں کوئی الہامی کتاب بھی اعتراض سے نہیں بچ سکتی۔جہاز میں بیٹھنے والے اور اگنبوٹ پر سوار ہونے والے ہر روز یہ تماشا دیکھتے ہیں کہ سورج پانی میں سے ہی نکلتا ہے اور پانی میں ہی غروب ہوتا ہے اور صدہا مرتبہ آپس میں جیسا دیکھتے ہیں، بولتے بھی ہیں کہ وہ نکلا اور وہ غروب ہوا۔اب ظاہر ہے کہ اس بول چال کے وقت میں علم ہیئت کے دفتر اُن کے آگے کھولنا اور نظامِ شمسی کا مسئلہ لے بیٹھنا گویا یہ جواب سننا ہے کہ اے پاگل! کیا یہ علم تجھے ہی معلوم ہے۔ہمیں معلوم نہیں۔

عیسائی صاحب نے قرآن شریف پر تو اعتراض کیا مگر انجیل کے وہ مقامات جن پر حقًّا و حقیقتاً اعتراض ہوتا ہے بھولے رہے۔مثلاً بطور نمونہ دیکھو کہ انجیل متی و مرقس میں لکھا ہے کہ مسیح کو اس وقت آسمان سے خلق اللہ کی عدالت کے لئے اُترتا دیکھو گے جب سورج اندھیرا ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہیں دے گا اور ستارے آسمان سے گر جائیں گے۔اب ہیئت کاعلم ہی یہ اشکال پیش کرتا ہے کہ کیونکر ممکن ہے کہ تمام ستارے زمین پر گریں اور سب ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زمین کے کسی گوشہ میں جاپڑیں اور بنی آدم کو ان کے گرنے سے کچھ بھی حرج اور تکلیف نہ پہنچے اور سب زندہ اور سلامت رہ جائیں حالانکہ ایک ستارہ کا گرنا بھی سُکَّانُ الْاَرْضِ کی تباہی کیلئے کافی ہے پھر یہ امر بھی قابل غور ہے کہ جب ستارے زمین پر گر کر زمین والوں کو صفحہ ہستی سے بے نشان و نابود کریں گے تو مسیح کا یہ قول کہ تم مجھے بادلوں میں آسمان سے اُترتا دیکھو گے کیونکر درست ہوگا؟ جب لوگ ہزاروں ستاروں کے نیچے دبے ہوئے مرے پڑے ہوں گے تو مسیح کا اُترنا کون دیکھے گا؟ اور زمین جو ستاروں کی کشش سے ثابت و برقرار ہے کیونکر اپنی حالت صحیحہ پر قائم اور ثابت رہے گی اور مسیح کن برگزیدوں کو (جیسا کہ انجیل میں ہے) دُور دُور سے بلائے گا اورکن کو سرزنش اور تنبیہ کرے گا کیونکہ ستاروں کاگرنا تو بہ بداہت مستلزم عام فنا اور عام موت بلکہ تختۂ زمین کے انقلاب کا موجب ہوگا۔اب دیکھئے کہ یہ سب بیانات علم ہیئت کے برخلاف ہیں یا نہیں؟ ایسا ہی ایک اور اعتراض علم ہیئت کی رو سے انجیل پر ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ انجیل متی میں دیکھو وہ ستارہ جو انہوں نے (یعنی مجوسیوں نے) پورب میں دیکھاتھا ان کے آگے آگے چل رہا اور اس جگہ کے اوپر جہاں وہ لڑکا تھا جا کر ٹھہرا۔(باب ۲۔آیت ۹ متی)

اب عیسائی صاحبان براہ مہربانی بتلا ویں کہ علم ہیئت کی رو سے اس عجیب ستارہ کا کیا نام ہے جو مجوسیوں کے ہم قدم اور ان کے ساتھ ساتھ چلا تھا اور یہ کس قسم کی حرکت اور کن قواعد کی رو سے مسلّم الثبوت ہے؟ مجھے معلوم نہیں کہ انجیل متی ایسے ستارہ کے بارے میں ہیئت والوں سے کیونکر پیچھا چھڑا سکتی ہے۔بعض صاحب تنگ آ کر یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ مسیح کا قول نہیں متی کا قول ہے۔متی کے قول کو ہم الہامی نہیں جانتے۔یہ خوب جواب ہے جس سے انجیل کے الہامی ہونے کی بخوبی قلعی کھل گئی اور میں بطور تنزل کہتا ہوں کہ گو یہ مسیح کا قول نہیں متی یا کسی اور کا قول ہے مگر مسیح کا قول بھی تو (جس کو الہامی مانا گیا ہے اور جس پر ابھی ہماری طرف سے اعتراض ہوچکا ہے) اسی کا ہم رنگ اور ہم شکل ہے ذرا اُسی کو اصولِ ہیئت سے مطابق کر کے دکھلائیے اور نیز یہ بھی یاد رہے کہ یہ قول الہامی نہیں بلکہ انسان کی طرف سے انجیل میں ملایا گیا ہے تو پھر آپ لوگ ان انجیلوں کو جو آپ کے ہاتھ میں ہیں تمام بیانات کے اعتبار سے الہامی کیوں کہتے ہو؟ صاف طور پر کیوں مشتہر نہیں کر دیتے کہ بجز چند ان باتوں کے جو حضرت مسیح کے ُ منہ سے نکلی ہیں باقی جو کچھ اناجیل میں لکھا ہے وہ مؤلفین نے صرف اپنے خیال اور اپنی عقل اور فہم کے مطابق لکھا ہے، جو غلطیوں سے مبرا متصور نہیں ہو سکتا۔جیسا کہ پادری صاحبوں کی عام تحریروں سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ رائے عام طور پر مشتہر بھی کی گئی ہے یعنی بالاتفاق انجیلوں کے بارے میں یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ جو کچھ تاریخی طور پر معجزات وغیرہ کا ذکر ان میں پایا جاتا ہے وہ کوئی الہامی امر نہیں بلکہ انجیل نویسوں نے اپنے قیاس یا سماعت وغیرہ وسائل خارجیہ سے لکھ دیا ہے۔غرض پادری صاحبوں نے اس اقرار سے ان بہت سے حملوں سے جو انجیلوں پر ہوتے ہیں اپنا پیچھا چھڑانا چاہا ہے اور ہر ایک انجیل میں تقریباً دس۱۰ حصے انسان کا کلام اور ایک حصہ خدائے تعالیٰ کا کلام مان لیا ہے اور ان اقرارات کی وجہ سے جو جو نقصان انہیں اُٹھانے پڑے۔ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عیسوی معجزات ان کے ہاتھ سے گئے اور ان کا کوئی شافی کافی ثبوت ان کے پاس نہ رہا کیونکہ ہر چند انجیل نویسوں نے تاریخی طور پر فقط اپنی طرف سے مسیح کے معجزات انجیلوں میں لکھے ہیں مگر مسیح کا اپنا خالص بیان جو الہامی کہلاتا ہے حواریوں کے بیان سے صریح مبائن و مخالف معلوم ہوتا ہے بلکہ اُسی کی ضد اور نقیض ہے۔وجہ یہ کہ مسیح نے اپنے بیان میں جس کو الہامی کہا جاتا ہے جا بجا معجزات کے دکھلانے سے انکار ہی کیا ہے اور معجزات کے مانگنے والوں کو صاف جواب دے دیا ہے کہ تمہیں کوئی معجزہ دکھلایا نہیں جائے گا۔چنانچہ ہیرو دیس نے بھی مسیح سے معجزہ مانگا تو اُس نے نہ دکھلایا اور بہت سے لوگوں نے اس کے نشان دیکھنے چاہے اور اور نشانوں کے بارے میں اس سے سوال بھی کیا مگر وہ صاف منکر ہو گیا اور کوئی نشان دکھلا نہ سکا بلکہ اس نے تمام رات جاگ کر خدا تعالیٰ سے یہ نشان مانگا کہ وہ یہودیوں کے ہاتھ سے محفوظ رہے تو یہ نشان بھی اس کو نہ ملا اور دعا ردّ کی گئی۔پھر مصلوب ہونے کے بعد یہودیوں نے سچے دل سے کہا کہ اگر وہ اب صلیب پر سے زندہ ہو کر اُتر آوے تو ہم سب کے سب اس پر ایمان لائیں گے مگر وہ اُتر بھی نہ سکا۔پس ان تمام واقعات سے صاف ظاہر ہے کہ جہاں تک انجیلوں میں الہامی فقرات ہیں وہ مسیح کو صاحب معجزات ہونے سے صاف جواب دے رہے ہیں اور اگر کوئی ایسا فقرہ ہے بھی کہ جس میں مسیح کے صاحب معجزات ہونے کے بارے میں کچھ خیال کر سکیں تو حقیقت میں وہ فقرہ ذوالوجوہ ہے جس کے اور اور معنی بھی ہو سکتے ہیں۔کچھ ضروری نہیں معلوم ہوتا کہ اس کو ظاہر پر ہی محمول کیا جائے یا خواہ نخواہ کھینچ تان کر ان معجزات کا ہی مصداق ٹھہرایا جائے جن کا انجیل نویسوں نے اپنی طرف سے ذکر کیا ہے اورکوئی فقرہ خاص حضرت مسیح کی زبان سے نکلا ہوا ایسا نہیں کہ جو وقوع اور ثبوت معجزات پر صاف طور پر دلالت کرتا ہو بلکہ مسیح کے خاص اور پُرزور کلمات کی اسی امر پر دلالت پائی جاتی ہے کہ اُن سے ایک بھی معجزہ ظہور میں نہیں آیا۔ تعجب کہ عیسائی لوگ کیوں ان باتوں پر اعتماد و اعتبار نہیں کرتے جو مسیح کا خاص بیان اور الہامی کہلاتی ہیں اور خاص مسیح کے منہ سے نکلی ہیں؟ اور باتوں پر کیوں اعتماد کیا جاتا ہے اور کیوں ان کے قدر سے زیادہ ان پر زور دیا جاتا ہے جو عیسائیوں کے اپنے اقرار کے موافق الہامی نہیں ہیں بلکہ تاریخی طور پر انجیلوں میں داخل ہیں اور الہام کے سلسلہ سے بکلّی خارج ہیں اور الہامی عبارات سے بکلّی ان کا تناقض پایا جاتا ہے۔پس جب الہامی اور غیر الہامی عبارات میں تناقض ہو تو اس کے دور کرنے کیلئے بجز اس کے اور کیا تدبیر ہے کہ جو عبارتیں الہامی نہیں ہیں وہ ناقابل اعتبار سمجھی جائیں اور صرف انجیل نویسوں کے مبالغات یقین نہ کئے جائیں؟ چنانچہ جا بجا ان کا مبالغہ کرنا ظاہر بھی ہے جیسا کہ یوحنا کی انجیل کی آخری آیت جس پر وہ مقدس انجیل ختم کی گئی ہے یہ ہے۔’’پر اور بھی بہت سے کام ہیں جو یسوع نے کئے اور اگر وہ جُدا جُدا لکھے جاتے تو میں گمان کرتا ہوں کہ کتابیں جو لکھی جاتیں دنیا میں سما نہ سکتیں‘‘۔دیکھو کس قدر مبالغہ ہے زمین و آسمان کے عجائبات تو دنیا میں سما گئے مگر مسیح کی تین یا اڑھائی برس کی سوانح دنیا میں سما نہیں سکتی ایسے مبالغہ کرنے والے لوگوں کی روایت پر کیونکر اعتبار کر لیا جاوے۔

ہندوؤں نے بھی اپنے اوتاروں کی نسبت ایسی ہی کتابیں تالیف کی تھیں اور اسی طرح خوب جوڑ جوڑ سے ملا کر جھوٹ کا پل باندھا تھا سو اس قوم پر بھی اس افترا کا نہایت قوی اثر پڑا اور اِس سرے سے ملک کے اُس سرے تک رام رام اور کرشن کرشن دلوں میں رَچ گیا۔بات یہ ہے کہ مرتب کردہ کتابیں جن میں بہت سا افتراء بھرا ہوا ہو اُن قبروں کی طرح ہوتے ہیں جو باہر سے خوب سفید کی جائیں اور چمکائی جائیں پر اندر کچھ نہ ہو۔اندر کا حال ان بے خبر لوگوں کو کیا معلوم ہو سکتا ہے جو صدہا برسوں کے بعد پیدا ہوئے اور بنی بنائی کتابیں ایسی متبرک اور بے لوث ظاہر کر کے ان کو دی گئیں کہ گویا وہ اسی صورت اور وضع کے ساتھ آسمان سے اُتری ہیں سو وہ کیا جانتے ہیں کہ دراصل یہ مجموعہ کس طرح طیار کیا گیاہے؟ دنیا میں ایسی تیز نگاہیں جو پردوں کو چیرتی ہوئی اندر گھس جائیں اور اصل حقیقت پراطلاع پا لیں اور چور کو پکڑ لیں بہت کم ہیں اور افتراء کے جادو سے متأثر ہونے والی روحیں اس قدر ہیں جن کا اندازہ کرنا مشکل ہے اسی وجہ سے ایک عالم تباہ ہو گیا اور ہوتا جاتا ہے۔نادانوں نے ثبوت یا عدم ثبوت کے ضروری مسئلہ پر کچھ بھی غور نہیں کی اور انسانی منصوبوں اور بندشوں کا جو ایک مستمرہ طریقہ اور نیچرلی امر ہے جو نوع انسان میں قدیم سے چلا آتا ہے اس سے چوکس رہنا نہیں چاہا اور یونہی شیطانی دام کو اپنے پر لے لیا۔مکّاروں نے اس شریر کیمیا گر کی طرح جو ایک سادہ لوح سے ہزار روپیہ نقد لے کر دس بیس لاکھ کا سونا بنا دینے کا وعدہ کرتا ہے سچا اور پاک ایمان نادانوں کا کھویا اور ایک جھوٹی راستبازی اور جھوٹی برکتوں کا وعدہ دیا جن کا خارج میں کچھ بھی وجود نہیں اور نہ کچھ ثبوت۔آخر شرارتوں میں، مکروں میں، دنیا پرستیوں میں، نفس امّارہ کی پیروی میں اپنے سے بدتر ان کو کر دیا۔بالآخر یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اعجازات اور پیشگوئیوں کے بارے میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وقوع میں آئیں قرآن شریف کی ایک ذرہ شہادت، انجیلوں کے ایک تودۂ عظیم سے جو مسیح کے اعجاز وغیرہ کے بارے میں ہو، ہزار ہا درجہ بڑھ کر ہے کیوں بڑھ کر ہے؟ اسی وجہ سے کہ خود باقرار تمام محقق پادریوں کے انجیلوں کا بیان خود حواریوں کا اپنا ہی کلام ہے اور پھر اپنا چشم دید بھی نہیں اور نہ کوئی سلسلہ راویوں کا پیش کیا ہے اور نہ کہیں ذاتی مشاہدہ کا دعویٰ کیا لیکن قرآن شریف میں اعجازات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ خاص خدائے صادق و قدوس کی پاک شہادت ہے۔اگر وہ صرف ایک ہی آیت ہوتی تب بھی کافی ہوتی۔مگر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہ ان شہادتوں سے سارا قرآن شریف بھرا ہوا ہے۔اب موازنہ کرنا چاہئے کہ کجا خدا ئے تعالیٰ کی پاک شہادت جس میں کذب ممکن نہیں اور کجا نا دیدہ جھوٹ اور مبالغہ آمیز شہادتیں۔؂

بہ نزدیک دانائے بیدار دل

جوئے سیم بہتر زِ صد تودۂِ گِل

افترائی باتوں پر کیوں تعجب کرنا چاہئے۔ایسا بہت کچھ ہوا ہے اور ہوتا ہے۔عیسائیوں کو آپ اقرار ہے کہ ہم میں سے بہت لوگ ابتدائی زمانوں میں اپنی طرف سے کتابیں بنا کر اور بہت کچھ کمالات اپنے بزرگوں کے ان میں لکھ کر پھر خدا ئے تعالیٰ کی طرف اُن کو منسوب کرتے رہے ہیں اور دعویٰ کر دیا جاتا تھا کہ وہ خدا ئے تعالیٰ کی طرف سے کتابیں ہیں۔ پس جب کہ قدیم عادت عیسائیوں اور یہودیوں کی یہی جعلسازی چلی آئی ہے تو پھر کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ متی وغیرہ انجیلوں کو اس عادت سے کیوں باہر رکھا جائے؟ حالانکہ اس ساہوکار کی طرح جس کا روزنامچہ اور بہی کھاتہ بوجہ صریح تناقض اور مشکوکیت کے پوشیدہ حال کو ظاہر کر رہا ہو۔ہر چہار انجیلوں سے وہ کارستانی ظاہر ہو رہی ہے جس کو انہوں نے چھپانا چاہا تھا۔اسی وجہ سے یورپ اور امریکہ میں غور کرنے والوں کی طبیعتوں میں ایک طوفانِ شکوک پیدا ہو گیا ہے اور جس ناقص اور متغیر اور مجسم خدا کی طرف انجیل رہنمائی کر رہی ہے اس کے قبول کرنے سے وہ دہریہ رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔چنا نچہ میرے ایک دوست فاضل انگریز نے امریکہ سے بذریعہ اپنی کئی چٹھیوں کے مجھے خبر دی ہے کہ ان ملکوں میں دانشمندوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ عیسائی مذہب کو نقص سے خالی سمجھتا ہو اور اسلام کے قبول کرنے کے لئے مستعد نہ ہو۔اور گو عیسائیوں نے قرآن شریف کے ترجمے محرف اور بدنما کر کے یورپ اور امریکہ کے ملکوں میں شائع کئے ہیں مگر ان کے اندر جو نور چھپا ہوا ہے وہ پاکیزہ دلوں پر اپنا کام کر رہا ہے۔غرض امریکہ اور یورپ آج کل ایک جوش کی حالت میں ہے اور انجیل کے عقیدوں نے جو برخلاف حقیقت ہیں بڑی گھبراہٹ میں انہیں ڈال دیا ہے یہاں تک کہ بعضوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ مسیح یا عیسیٰ نام(کا) خارج میں کوئی شخص کبھی پیدا نہیں ہوا بلکہ اس سے آفتاب مراد ہے اور بارہ حواریوں سے بارہ بُرج مراد ہیں۔اور پھر اس مذہب عیسائی کی حقیقت زیادہ تر اس بات سے کھلتی ہے کہ جن نشانیوں کو حضرت مسیح ایمان داروں کے لئے قرار دیئے گئے تھے اُن میں سے ایک بھی ان لوگوں میں نہیں پائی جاتی حضرت مسیح نے فرمایا تھا کہ اگر تم میری پیروی کرو گے تو ہر ایک طرح کی برکت اور قبولیت میں میرا ہی روپ بن جاؤ گے اور معجزات اور قبولیت کے نشان تم کو دیئے جائیں گے اور تمہارے مومن ہونے کی یہی علامت ہوگی کہ تم طرح طرح کے نشان دکھلا سکو گے اور جو چاہو گے تمہارے لئے وہی ہوگا۔اور کوئی بات تمہارے لئے ناممکن نہیں ہوگی۔لیکن عیسائیوں کے ہاتھ میں ان برکتوں میں سے کچھ بھی نہیں۔وہ اس خدا سے ناآشنا محض ہیں جو اپنے مخصوص بندوں کی دعائیں سنتا ہے اور انہیں آمنے سامنے شفقت اور رحمت کا جواب دیتا ہے۔اور عجیب عجیب کام ان کے لئے کر دکھاتا ہے لیکن سچے مسلمان جو اُن راستبازوں کے قائم مقام اور وارث ہیں جو ان سے پہلے گذر چکے ہیں وہ اُس خدا کو پہچانتے اور اس کی رحمت کے نشانوں کو دیکھتے ہیں۔اور اپنے مخالفوں کے سامنے آفتاب کی طرح جو ظلمت کے مقابل ہو مابہ الامتیاز رکھتے ہیں۔ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ اس دعویٰ کو بلا دلیل نہیں سمجھناچاہئے سچے اور جھوٹے مذہب میں ایک آسمان پر فرق ہے اور ایک زمین پر۔زمین کے فرق سے مراد وہ فرق ہے جو انسان کی عقل اور انسان کا کانشنس اور قانون قدرت اس عالم کا اس کی تشریح کرتا ہے۔سو عیسائی مذہب اور اسلام کو جب اس محک کی رو سے جانچا جائے تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ اسلام وہ فطرتی مذہب ہے جس کے اصولوں میں کوئی تصنع اور تکلّف نہیں اور جس کے احکام کوئی مستحدث اور بناوٹی امر نہیں اور کوئی ایسی بات نہیں جو زبردستی منوانی پڑے اور جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے جابجا آپ فرمایا ہے۔قرآن شریف صحیفۂ فطرت کے تمام علوم اور اس کی صداقتوں کو یاد دلاتا ہے اور اس کے اسرارِ غامضہ کو کھولتا ہے اور کوئی نئے امور برخلاف اس کے پیش نہیں کرتا بلکہ درحقیقت اُسی کے معارف دقیقہ ظاہر کرتا ہے۔برخلاف اس کے عیسائیوں کی تعلیم جس کا انجیل پر حوالہ دیا جاتا ہے ایک نیا خدا پیش کر رہی ہے جس کی خود کشی پر دنیا کے گناہ اور عذاب سے نجات موقوف اور اس کے دُکھ اُٹھانے پر خلقت کا آرام موقوف اور اس کے بے عزت اور ذلیل ہونے پر خلقت کی عزت موقوف خیال کی گئی ہے۔پھر بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایک ایسا عجیب خدا ہے کہ ایک حصہ اس کی عمر کا تو منزّہ عن الجسم و عن عیوب الجسم میں گزرا ہے اور دوسرا حصہ عمر کا (کسی نامعلوم بدبختی کی وجہ سے) ہمیشہ کو تجسم اور تحیّز کی قید میں اسیر ہو گیا اور گوشت پوست استخوان وغیرہ سب کے سب اس کی روح کے لئے لازمی ہوگئے اور اس تجسم کی وجہ سے کہ اب ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا، انواع اقسام کے اس کو دکھ اُٹھانے پڑے آخر دکھوں کے غلبہ سے مر گیا اور پھر زندہ ہوا اور اُسی جسم نے پھر آ کر اس کو پکڑ لیا اور ابدی طور پر اُسے پکڑے رہے گا۔کبھی مَخلصی نہیں ہوگی۔اب دیکھو کہ کیا کوئی فطرت صحیحہ اس اعتقاد کو قبول کر سکتی ہے؟ کیا کوئی پاک کانشنس اس کی شہادت دے سکتا ہے؟ کیا قانون قدرت کا ایک جزو بھی خدائے بے عیب و بے نقص وغیر متغیر کیلئے یہ حوادث و آفات روا رکھ سکتا ہے کہ اس کو ہمیشہ ہر ایک عالم کے پیدا کرنے اور پھر اس کو نجات دینے کیلئے ایک مرتبہ مرنا درکار ہے اور بجز خود کشی اپنے کسی افاضۂ خیر کی صفت کو ظاہر نہیں کر سکتا اور نہ کسی قسم کا اپنی مخلوقات کو دنیا یا آخرت میں آرام پہنچا سکتا ہے۔ظاہر ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ کو اپنی رحمت بندوں پر نازل کرنے کیلئے خود کشی کی ضرورت ہے تو اُس سے لازم آتا ہے کہ ہمیشہ اس کو حادثہ موت کا پیش آتا رہے اور پہلے بھی بے شمار موتوں کا مزہ چکھ چکا ہو اور نیز لازم آتا ہے کہ ہندوؤں کے پرمیشر کی طرح معطل الصفّات ہو۔اب خود ہی سوچو کہ کیا ایسا عاجز اور درماندہ خدا ہو سکتا ہے کہ جو بغیر خودکشی کے اپنی مخلوقات کو کبھی اور کسی زمانہ میں کوئی بھلائی پہنچا نہیں سکتا۔کیا یہ حالت ضعف اور ناتوانی کی خدائے قادر مطلق کے لائق ہے؟ پھر عیسائیوں کے خدا کی موت کا نتیجہ دیکھئے تو کچھ بھی نہیں۔ان کے خدا کی جان گئی مگر شیطان کے وجود اور اس کے کارخانہ کا ایک بال بھی بیکا نہ ہوا۔وہی شیطان اور وہی اس کے چیلے جو پہلے تھے اب بھی ہیں۔چوری، ڈکیتی، زنا، قتل، دروغ گوئی، شراب خواری، قماربازی، دنیا پرستی، بے ایمانی، کفر شرک، دہریہ پن اور دوسرے صدہا طر ح کے جرائم جو قبل از مصلوبیت مسیح تھے اب بھی اُسی زور و شور میں ہیں بلکہ کچھ چڑھ، بڑھ کر۔مثلاً دیکھئے کہ اس زمانہ میں کہ جب ابھی مسیحیوں کا خدا زندہ تھا عیسائیوں کی حالت اچھی تھی جبھی کہ اس خدا پر موت آئی جس کو کفّارہ کہا جاتا ہے۔تبھی سے عجیب طور پر شیطان اس قوم پر سوار ہو گیا اور گناہ اور نافرما نی اور نفس پرستی کے ہزار ہا دروازے کھل گئے۔چنانچہ عیسائی لوگ خود اس بات کے قائل ہیں اور پادری فنڈر صاحب مصنف میزان الحق فرماتے ہیں کہ عیسائیوں کی کثرت گناہ اور اُن کی اندرونی بدچلنی اور فسق و فجور کے پھیلنے کی وجہ سے ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم بغرض سزا دہی اور تنبیہ عیسائیوں کے بھیجے گئے تھے۔پس ان تقریروں سے ظاہر ہے کہ زیادہ تر گناہ اور معصیت کا طوفان مسیح کے مصلوب ہونے کے بعد ہی عیسائیوں میں اُٹھا ہے۔اس سے ثابت ہے کہ مسیح کا مرنا اس غرض سے نہیں تھا کہ گناہ کی تیزی اس کی موت سے کچھ روبہ کمی ہو جائے گی مثلاً اس کے مرنے سے پہلے اگر لوگ بہت شراب پیتے تھے یا اگر بکثرت زنا کرتے تھے یا اگر پکے دُنیا دار تھے تو مسیح کے مرنے کے بعد یہ ہرایک قسم کے گناہ دور ہو جائیں گے کیونکہ یہ بات مستغنی عن الثبوت ہے کہ جس قدر اب شراب خوری و دنیا پرستی و زنا کاری خاص کر یورپ کے ملکوں میں ترقی پر ہے کوئی دانا ہرگز خیال نہیں کر سکتا کہ مسیح کی موت سے پہلے یہی طوفان فسق و فجور کا برپا ہو رہا تھا بلکہ اس کا ہزارم حصہ بھی ثابت نہیں ہو سکتا اور انجیلوں پر غور کر کے بکمال صفائی کھل جاتا ہے کہ مسیح کو ہرگز منظور نہ تھا کہ یہودیوں کے ہاتھ میں پکڑا جائے اور مارا جائے اور صلیب پر کھینچا جائے کیونکہ اگر یہی منظور ہوتا تو ساری رات اس بلا کے دفعہ کرنے کیلئے کیوں روتا رہتا اور رو رو کر کیوں یہ دعا کرتا کہ اے ابّا! اے باپ!! تجھ سے سب کچھ ہو سکتا ہے یہ پیالہ مجھ سے ٹال دے۔بلکہ سچ یہی ہے کہ مسیح بغیر اپنی مرضی کے ناگہانی طور پر پکڑا گیا اور اس نے مرتے وقت تک رو رو کر یہی دعا کی ہے کہ اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔اس سے بوضاحت ثابت ہوتا ہے کہ مسیح زندہ رہنا اور کچھ اور دن دنیا میں قیام کرنا چاہتا تھا اور اس کی روح نہایت بے قراری سے تڑپ رہی تھی کہ کسی طرح اس کی جان بچ جائے لیکن بلا مرضی اس کے یہ سفر اس کو پیش آ گیا تھا اور نیز یہ بھی غور کرنے کی جگہ ہے کہ قوم کے لئے اس طریق پر مرنے سے جیسا کہ عیسائیوں نے تجویز کیا ہے۔مسیح کو کیا حاصل تھا اور قوم کو اُس سے کیا فائدہ؟ اگر وہ زندہ رہتا تو اپنی قوم میں بڑی بڑی اصلاحیں کرتا بڑے بڑے عیب اُن سے دور کر کے دکھاتا مگر اس کی موت نے کیا کر کے دکھایا بجز اس کے کہ اس کے بے وقت مرنے سے صدہا فتنے پیدا ہوئے اور ایسی خرابیاں ظہور میں آئیں جن کی وجہ سے ایک عالم ہلاک ہو گیا۔یہ سچ ہے کہ جوانمرد لوگ قوم کی بھلائی کیلئے اپنی جان بھی فدا کر دیتے ہیں یا قوم کے بچاؤ کے لئے جان کو معرض ہلاکت میں ڈالتے ہیں مگر نہ ایسے لغو اور بیہودہ طور پر جو مسیح کی نسبت بیان کیا جاتا ہے بلکہ جو شخص دانشمندانہ طور سے قوم کے لئے جان دیتا ہے یا جان کو معرض ہلاکت میں ڈالتا ہے وہ تو معقول اور پسندیدہ اور کارآمد اور صریح مفید طریقوں میں سے کوئی سے ایسا اعلیٰ اور بدیہی اَنْفَع طریقہ فدا ہونے کا اختیار کرتا ہے جس طریقے کے استعمال سے گو اس کو تکلیف پہنچ جائے یا جان ہی جائے مگر اُس کی قوم بعض بلاؤں سے واقعی طور پر بچ جائے یہ تو نہیں کہ پھانسی لے کر یا زہر کھا کر یا کسی کوئیں میں گرنے سے خودکشی کا مرتکب ہو اور پھر یہ خیال کرے کہ میری خود کشی قوم کے لئے بہبودی کا موجب ہوگی۔ایسی حرکت تو دیوانوں کا کام ہے نہ عقلمندوں دینداروں کا بلکہ یہ موت موتِ حرام ہے اور بجز سخت جاہل اور سادہ لوح کے کوئی اس کا ارادہ نہیں کرتا۔میں سچ کہتا ہوں کہ کامل اور اوالوالعزم آدمی کا مرنا بجز اُس حالت خاص کے کہ بہتوں کے بچاؤ کے لئے کسی معقول اور معروف طریق پر مرنا ہی پڑے قوم کے لئے اچھا نہیں بلکہ بڑی مصیبت اور ماتم کی جگہ ہے اور ایسا شخص جس کی ذات سے خلق اللہ کو طرح طرح کا فائدہ پہنچ رہا ہے اگر خودکشی کا ارادہ کرے تو وہ خدائے تعالیٰ کا سخت گنہگار ہے اور اس کا گناہ دوسرے ایسے مجرموں کی نسبت زیادہ ہے پس ہر ایک کامل کے لئے لازم ہے کہ اپنے لئے جناب باری تعالیٰ سے درازیءِ عمر مانگے تو وہ خلق اللہ کے لئے ان سارے کاموں کو بخوبی انجام دے سکے جن کے لئے اُس کے دل میں جوش ڈالا گیا ہے۔ہاں! شریر آدمی کا مرنا اس کے لئے اور نیز خلق اللہ کے لئے بہتر ہے تا شرارتوں کا ذخیرہ زیادہ نہ ہوتا جائے اور خلق اللہ اس کے ہر روز کے فتنہ سے تباہ نہ ہو جائے۔اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ تمام پیغمبروں میں سے قوم کے بچاؤ کے لئے اور الٰہی جلال کے اظہار کی غرض سے معقول طریقوں کے ساتھ اور ضروری حالتوں کے وقت میں کس پیغمبر نے زیادہ تر اپنے تئیں معرضِ ہلاکت میں ڈالا اور قوم پر اپنے تئیں فدا کرنا چاہا آیا مسیح یا کسی اور نبی یا ہمارے سیّد و مولیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے۔تو اس کا جواب جس جوش اور روشن دلائل اور آیات بینات اور تاریخی ثبوت سے میرے سینہ میں بھرا ہوا ہے، میں افسوس کے ساتھ اس جگہ اس کا لکھنا چھوڑ دیتا ہوں کہ وہ بہت طویل ہے یہ تھوڑا سا مضمون اس کی برداشت نہیں کر سکتا۔انشاء اللہ القدیر، اگر عمر نے وفا کی تو آئندہ ایک رسالہ مستقلہ اس بارے میں لکھوں گا لیکن بطور مختصر اس جگہ بشارت دیتا ہوں کہ وہ فرد کامل جو قوم پر اور تمام بنی نوع پر اپنے نفس کو فدا کرنے والا ہے وہ ہمارے نبی کریم ہیں یعنی سیّدنا و مولانا و وحیدنا و فرید نا احمد مجتبٰی محمد مصطفٰی الرسول النبی الاُ مّی العربی القرشی صلی اللہ علیہ وسلم۔

اس جگہ میں نے سچے اور جھوٹے مذہب کی تفریق کیلئے وہ فرق جو زمین پر موجود ہے یعنی جو باتیں عقل اور کانشنس کے ذریعہ سے فیصلہ ہو سکتی ہیں، کسی قدر لکھ دیا ہے لیکن جو فرق آسمان کے ذریعہ سے کھلتا ہے وہ بھی ایسا ضروری ہے کہ بجز اس کے حق اور باطل میں امتیاز بیّن نہیں ہو سکتا اور وہ یہ ہے کہ سچے مذہب کے کامل پیرو کے ساتھ خدائے تعالیٰ کے ایک خاص تعلقات ہو جاتے ہیں اور وہ کامل پیرو اپنے نبی متبوع کا مظہر اور اس کے حالات روحانیہ اور برکات باطنیہ کا ایک نمونہ ہو جاتا ہے اور جس طرح بیٹے کے وجود درمیانی کی وجہ سے پوتا بھی بیٹا ہی کہلاتا ہے اسی طرح جو شخص زیر سایہ متابعت نبی پرورش یافتہ ہے اس کے ساتھ بھی وہی لطف اور احسان ہوتا ہے جو نبی کے ساتھ ہوتا ہے اور جیسے نبی کو نشان دکھائے جاتے ہیں ایسا ہی اس کی خاص طور پر معرفت بڑھانے کیلئے اس کو بھی نشان ملتے ہیں۔سو ایسے لوگ اس دین کی سچائی کے لئے جس کی تائید کے لئے وہ ظہور فرماتے ہیں، زندہ نشان ہوتے ہیں۔خدا ئے تعالیٰ آسمان سے ان کی تائید کرتا ہے اور بکثرت ان کی دعائیں قبول فرماتا ہے اور قبولیت کی اطلاع بخشتا ہے۔ان پر مصیبتیں بھی نازل ہوتی ہیں مگر اس لئے نازل نہیں ہوتیں کہ اُنہیں ہلاک کریں بلکہ اس لئے کہ تا آخر ان کی خاص تائید سے قدرت کے نشان ظاہر کئے جائیں۔وہ بے عزتی کے بعد پھر عزت پا لیتے ہیں اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہو جایا کرتے ہیں تا خدائے تعالیٰ کے خاص کام ان میں ظاہر ہوں۔

اس جگہ یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ دعا کا قبول ہونا دو طور سے ہوتا ہے۔ایک بطور ابتلاء اور ایک بطور اصطفاء۔بطور ابتلاء تو کبھی کبھی گنہگاروں اور نافرما نوں بلکہ کافروں کی دعا بھی قبول ہو جاتی ہے مگر ایسا قبول ہونا حقیقی قبولیت پر دلالت نہیں کرتا بلکہ از قبیل استدراج و امتحان ہوتا ہے لیکن جو بطور اصطفاء دعا قبول ہوتی ہے اس میں یہ شرط ہے کہ دعا کرنے والا خدائے تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں میں سے ہو اور چاروں طرف سے برگزیدگی کے انوار و آثار اس میں ظاہر ہوں کیونکہ خدائے تعالیٰ حقیقی قبولیت کے طور پر نافرمانوں کی دعا ہرگز نہیں سنتا بلکہ انہیں کی سنتا ہے کہ جو اس کی نظرمیں راستباز اور اس کے حکم پر چلنے والے ہوں۔سو ابتلاء اور اصطفاء کی قبولیت ادعیہ میں مابہ الامتیاز یہ ہے کہ جو ابتلاء کے طور پر دعا قبول ہوتی ہے اس میں متقی اور خدا دوست ہونا شرط نہیں اور نہ اس میں یہ ضرورت ہے کہ خدا ئے تعالیٰ دعا کو قبول کر کے بذریعہ اپنے مکالمہ خاص کے اس کی قبولیت سے اطلاع بھی دیوے اور نہ وہ دعائیں ایسی اعلیٰ پایہ کی ہوتی ہیں جن کا قبول ہونا ایک امر عجیب اور خارقِ عادت متصور ہو سکے لیکن جو دعائیں اصطفاء کی وجہ سے قبول ہوتی ہیں ان میں یہ نشان نمایاں ہوتے ہیں۔
(۱) اوّل یہ کہ دعا کرنے والا ایک متقی اور راست باز اور کامل فرد ہوتا ہے۔
(۲) دوسرے یہ کہ بذریعہ مکالماتِ الٰہیہ اُس دعا کی قبولیت سے اس کو اطلاع دی جاتی ہے۔
(۳) تیسری یہ کہ اکثر وہ دعائیں جو قبول کی جاتی ہیں نہایت اعلیٰ درجہ کی اور پیچیدہ کاموں کے متعلق ہوتی ہیں، جن کی قبولیت سے کھل جاتا ہے کہ یہ انسان کا کام اور تدبیر نہیں بلکہ خدا ئے تعالیٰ کا ایک خاص نمونہ قدرت ہے جو خاص بندوں پر ظاہر ہوتا ہے۔
(۴) چوتھی یہ کہ ابتلائی دعائیں تو کبھی کبھی شاذو نادر کے طور پر قبول ہوتی ہیں لیکن اصطفائی دعائیں کثرت سے قبول ہوتی ہیں۔بسا اوقات صاحب اصطفائی دعا کا ایسی بڑی بڑی مشکلات میں پھنس جاتا ہے کہ اگر اور شخص ان میں مبتلاہو جاتا تو بجز خودکشی کے اور کوئی حیلہ اپنی جان بچانے کیلئے ہرگز اُسے نظر نہ آتا۔چنانچہ ایسا ہوتا بھی ہے کہ جب کبھی دنیا پرست لوگ جو خدائے تعالیٰ سے مہجور و دور ہیں بعض بڑی بڑی ہموم و غموم و اَمراض و اَسقام و بلیّاتِ لاینحل میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو آخر وہ بباعث ضعف ایمان خدائے تعالیٰ سے ناامید ہو کر کسی قسم کی زہر کھا لیتے ہیں یا کوئیں میں گرتے ہیں یا بندوق وغیرہ سے خود کشی کر لیتے ہیں لیکن ایسے نازک وقتوں میں صاحب اصطفا ء کا بوجہ اپنی قوت ایمانی اور تعلق خاص کے خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہایت عجیب در عجیب مدد دیا جاتا ہے اور عنایت الٰہی ایک عجیب طور سے اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے یہاں تک کہ ایک محرم راز کا دل بے اختیار بول اُٹھتا ہے کہ یہ شخص مؤیَّد الٰہی ہے۔
(۵) پانچویں یہ کہ صاحب اصطفائی دعا کا مَورَد عنایاتِ الٰہیہ کا ہوتا ہے اور خدائے تعالیٰ اس کے تمام کاموں میں اس کا متولی ہو جاتا ہے اور عشق الٰہی کا نور اور مقبولانہ کبریائی کی مستی اور روحانی لذت یابی اور تنعم کے آثار اس کے چہرہ میں نمایاں ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ جلّشانہٗ فرماتا ہے۔
تَعۡرِفُ فِیۡ وُجُوۡہِہِمۡ نَضۡرَۃَ النَّعِیۡمِ
اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَکَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ لَہُمُ الۡبُشۡرٰی فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَفِی الۡاٰخِرَۃِ ؕ لَا تَبۡدِیۡلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ
اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَیۡہِمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَلَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ نَحۡنُ اَوۡلِیٰٓؤُکُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَفِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَلَکُمۡ فِیۡہَا مَا تَشۡتَہِیۡۤ اَنۡفُسُکُمۡ وَلَکُمۡ فِیۡہَا مَا تَدَّعُوۡنَ
وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَلۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ لَعَلَّہُمۡ یَرۡشُدُوۡنَ

اب جاننا چاہئے کہ محبوبیت اور قبولیت اور ولایت حقّہ کا درجہ جس کے کسی قدر مختصر طورپر نشان بیان کر چکا ہوں۔یہ بجز اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا۔اور سچے متبع کے مقابل پر اگر کوئی عیسائی یا آریہ یا یہودی قبولیت کے آثار و انوار دکھلانا چاہے تو یہ اس کے لئے ہرگز ممکن نہ ہوگااور نہایت صاف طریق امتحان کا یہ ہے کہ اگر ایک مسلمان صالح کے مقابل پر جو سچا مسلمان اور سچائی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا متبع ہو کوئی دوسرا شخص عیسائی وغیرہ معارضہ کے طور پر کھڑا ہو اور یہ کہے کہ جس قدر تجھ پر آسمان سے کوئی نشان ظاہر ہوگا، یا جس قدر اسرارِ غیبیہ تجھ پر کھلیں گے، یا جو کچھ قبولیت دعاؤں سے تجھے مدد دی جائے گی، یا جس طور سے تیری عزت اور شرف کے اظہار کے لئے کوئی نمونہ قدرت ظاہر کیا جائے گا، یا اگر انعامات خاصہ کا بطور پیش گوئی تجھے وعدہ دیا جائے گا، یا اگر تیرے کسی موذی مخالف پر کسی تنبیہہ کے نزول کی خبر دی جائے گی تو اُن سب باتوں میں جو کچھ تجھ سے ظہور میں آئیگا اور جو کچھ تودکھائے گا، وہ میں بھی دکھلاؤں گا۔تو ایسا معارضہ کسی مخالف سے ہرگز ممکن نہیں اور ہرگز مقابل پر نہیں آئیں گے کیونکہ اُن کے دل شہادت دے رہے ہیں کہ وہ کذّاب ہیں۔انہیں اس سچے خدا سے کچھ بھی تعلق نہیں کہ جو راستبازوں کا مددگار اور صدیقوں کا دوست دار ہے۔جیسا کہ ہم پہلے بھی کسی قدر بیان کر چکے ہیں۔وَھَذَا اٰخِرُ کَلَا مِنَا وَالْحَمْدُلِلّٰہِ اَوَّلًا وَّ اٰخِرًا وَّ ظَاہِرًا وَّ بَاطِنًا۔ھُوَمَوْلَانَا نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ الْوَکِیْل۔