فہرست

احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟

نوٹ

یہ تقریر الحکم ۱۷؍ فروری ۱۹۰۶ء تا ۱۷؍ جون ۱۹۰۶ء سے لے کر شائع کی گئی ہے اور بعض مقامات پر بدر ۲۶؍ جنوری ۱۹۰۶ء تا ۲۳؍ فروری کے حوالہ سے حواشی دئیے گئے ہیں۔ (ناشر)

مسیح موعود کی بعثت
اور
سلسلہ کے قیام کی غرض

اعلیٰ حضرت حجۃ االلہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک تقریر جو آپ نے ۲۷؍دسمبر ۱۹۰۵ء؁ کو بعد نماز ظہر و عصر مسجد اقصیٰ میں فرمائی۔

۲۶؍دسمبر ۱۹۰۵ء؁ کی صبح کو مہمان خانہ جدید کے بڑے ہال میں احباب کا ایک بڑا جلسہ اس غرض کے لیے منعقد ہوا تھاکہ مدرسہ تعلیم الاسلام کی اصلاح کے سوال پر غور کریں۔ اس میں بہت سے بھائیوں نے مختلف پہلوؤں پر تقریریں کیں۔ اِن تقریروں کے ضمن میں ایک بھائی نے اپنی تقریر کے ضمن میں کہا کہ’’جہاں تک میں جانتا ہوں حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سلسلہ اور دوسرے مسلمانوں میں صرف اسی قدر فرق ہے کہ وہ مسیح ابن مریم زندہ آسمان پر جانا تسلیم کرتے ہیں اور ہم یقین کرتے ہیں کہ وہ وفات پاچکے ہیں اس کے سوا اور کوئی نیا امر ایسا نہیں جو ہمارے اور ان کے درمیان اصولی طو رپر قابل نزاع ہو۔‘‘ اس سے چونکہ کامل طو رپر سلسلہ کی بعثت کی غرض کا پتہ نہ لگ سکتا تھا بلکہ ایک امر مشتبہ اور کمزور معلوم ہوتا تھا اس لیے ضروری امر تھا کہ آپ اس کی اصلاح فرماتے، چونکہ اس وقت کافی وقت نہ تھااس لیے ۲۷؍دسمبر کو بعد ظہر و عصر آپ نے مناسب سمجھا کہ اپنی بعثت کی اصل غرض پر کچھ تقریر فرمائیں۔ آپ کی طبیعت بھی ناسازتھی تاہم محض االلہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ نے مندرجہ ذیل تقریر فرمائی۔ (ایڈیٹر)

فرمایا

افسوس ہے اس وقت میری طبیعت بیمار ہے اور میں کچھ زیادہ بول نہیں سکتا لیکن ایک ضروری امر کی وجہ سے چند کلمے بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ کل میں نے سنا تھا کہ کسی صاحب نے یہ بیان کیا تھا کہ گویا ہم میں اور ہمارے مخالف مسلمانوں کے درمیان فرق موت و حیات مسیح علیہ السلام کا ہے ورنہ ایک ہی ہیں اور عملی طور پر ہمارے مخالفوں کا قدم بھی حق پر ہے یعنی نماز، روزہ اور دوسرے اعمال مسلمانوں کے ہیں اور وہ سب اعمال بجالاتے ہیں۔ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے بارے میں ایک غلطی پڑگئی تھی جس کے ازالہ کے لیے خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ پیدا کیا۔ سو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ بات صحیح نہیں۔ یہ تو سچ ہے کہ مسلمانوں میں یہ غلطی بہت بری طرح پر پیدا ہوئی ہے لیکن اگر کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میرا دنیا میں آنا صرف اتنی ہی غلطی کے ازالہ کے لیے ہے اور اور کوئی خرابی مسلمانوں میں ایسی نہ تھی جس کی اصلاح کی جاتی بلکہ وہ صراط مستقیم پر ہیں تو یہ خیال غلط ہے۔ میرے نزدیک وفات یا حیات مسیح ایسی بات نہیں کہ اس کے لیے االلہ تعالیٰ اتنا بڑا سلسلہ قائم کرتا اور ایک خاص شخص کو دنیا میں بھیجا جاتا۔ اور االلہ تعالیٰ ایسے طور پر اس کو ظاہر کرتا جس سے اس کی بہت بڑی عظمت پائی جاتی ہے یعنی یہ کہ دنیا میں تاریکی پھیل گئی ہے اور زمین لعنتی ہو گئی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت٭ کی غلطی کچھ آج پیدا نہیں ہوگئی بلکہ یہ غلطی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے تھوڑے ہی عرصہ بعد پیدا ہوگئی تھی اور خواص اولیاء االلہ صلحاء اور اہل االلہ بھی آتے رہے اور لوگ اس غلطی میں گرفتار رہے۔ اگر اس غلطی ہی کا ازالہ مقصود ہوتا تو االلہتعالیٰ اُس وقت بھی کر دیتا مگر نہیں ہوا۔ اور یہ غلطی چلی آئی اور ہمارا زمانہ آگیا۔ اس وقت بھی اگر نری اتنی ہی بات ہوتی تو االلہ تعالیٰ اس کے لیے ایک سلسلہ پیدا نہ کرتا کیونکہ وفات مسیح ایسی بات تو تھی ہی نہیں جو پہلے کسی نے تسلیم نہ کی ہو۔ پہلے سے بھی اکثر خواص جن پرااللہ تعالیٰ نے کھول دیا یہی مانتے چلے آئے مگر بات کچھ اور ہے جو االلہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کیا۔ یہ سچ ہے کہ مسیح کی وفات٭ کی غلطی کو دور کرنا بھی اس سلسلہ کی بہت بڑی غرض تھی لیکن صرف اتنی ہی بات کے لیے خدا تعالیٰ نے مجھ کو کھڑا نہیں کیا بلکہ بہت سی باتیں ایسی پیدا ہو چکی تھیں کہ اگر ان کی اصلاح کے لیے االلہ تعالیٰ ایک سلسلہ قائم کر کے کسی کو مامور نہ کرتا تو دنیا تباہ ہو جاتی اور اسلام کا نام و نشان مٹ جاتا!! اس لیے اسی مقصد کو دوسرے پیرایہ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہماری بعثت کی غرض کیا ہے؟

وفات عیسیٰ اور حیات اسلام یہ دونوں مقاصد باہم بہت بڑا تعلق رکھتے ہیں اور وفات مسیح کا مسئلہ اس زمانہ میں حیات اسلام کے لیے ضروری ہو گیا ہے۔ اس لیے کہ حیاتِ مسیح سے جو فتنہ پیدا ہوا ہے وہ بہت بڑھ گیا ہے۔ حیات مسیح کے لیے یہ کہنا کہ کیا االلہتعالیٰ اس بات پر قادر نہیں کہ ان کو زندہ آسمان پر اُٹھالے جاتا؟ االلہ تعالیٰ کی قدت اور اس کی ٭ سے ناواقفی کو ظاہر کرتاہے۔ ہم تو سب سے زیادہ اس بات پر ایمان لاتے اور یقین کرتے ہیں کہ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ (البقرة: ۱۰۷) االلہ تعالیٰ بے شک ہر بات پر قادر ہے اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ بے شک وہ جو کچھ چاہے کر سکتا ہے لیکن وہ ایسے امور سے پاک اور منزّہ ہے جو اس کی صفات کاملہ کے خلاف ہوں اور وہ ان باتوں کا دشمن ہے جو اس کے دین کے مخالف ہوں۔ حضرت عیسیٰ کی حیات اوائل میں تو صرف ایک غلطی کا رنگ رکھتی تھی مگر آج یہ غلطی ایک اژدھا بن گئی ہے جو اسلام کو نگلنا چاہتی ہے۔ ابتدائی زمانہ میں اس غلطی سے کسی گزند کا اندیشہ نہ تھا اور وہ غلطی ہی کے رنگ میں تھی مگر جب سے عیسائیت کا خروج ہوا اور انہوں نے مسیح کی زندگی کو ان کی خدائی کی ایک بڑی زبردست دلیل قرار دیا تو یہ خطرناک امر ہوگیا۔ انہوں نے بار بار اور بڑے زور سے اس امر کو پیش کیا کہ اگر مسیح خدا نہیں تو وہ عرش پر کیسے بیٹھا ہے؟ اور اگر انسان ہو کر کوئی ایسا کرسکتا ہے کہ زندہ آسمان پر چلا جاوے تو پھر کیا وجہ ہے کہ آدم سے لے کر اس وقت تک کوئی بھی آسمان پر نہیں گیا؟ اس قسم کے دلائل پیش کرکے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا بنانا چاہتے ہیں اور انہوں نے بنایا اور دنیا کے ایک حصہ کو گمراہ کر دیا اور بہت سے مسلمان جو تیس لاکھ سے زیادہ بتائے جاتے ہیں اس غلطی کو صحیح عقیدہ تسلیم کرنے کی وجہ سے اس فتنہ کا شکا رہو گئے۔ اب اگر یہ بات صحیح ہوتی اور درحقیقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر چلے جاتے جیسا کہ عیسائی کہتے ہیں اور مسلمان اپنی غلطی اور ناواقفی سے ان کی تائید کرتے ہیں تو پھر اسلام کے لیے تو ایک ماتم کا دن ہوتا کیونکہ اسلام تو دنیا میں اس لیے آیا ہے تاکہ االلہ تعالیٰ کی ہستی پر دنیا کو ایک ایمان اور یقین پیدا ہو اور اس کی توحید پھیلے۔ وہ ایسا مذہب ہے کہ کوئی کمزوری اس میں پائی نہیں جاتی اور نہیں ٭ ہے۔ وہ تو االلہ تعالیٰ ہی کو وَحدہٗ لاَ شریک قرار دیتا ہے۔ کسی دوسرے میں یہ خصوصیت تسلیم کی جاوے تو یہ تو االلہ تعالیٰ کی کسر شان ہے اور اسلام اس کو روا نہیں رکھتا۔ مگر عیسائیوں نے مسیح کی اس خصوصیت کو پیش کرکے دنیا کو گمراہ کر دیا ہے اور مسلمانوں نے بغیر سوچے سمجھے ان کی اس ہاں میں ہاں ملادی اور اس ضرر کی پروا نہ کی جو اس سے اسلام کو پہنچا۔

اس بات سے کبھی دھوکا نہیں کھانا چاہیے جو لوگ کہہ دیتے ہیں کہ کیا االلہ تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں کہ مسیح کو زندہ آسمان پر اُٹھالے جاوے؟ بے شک وہ قادر ہے مگر وہ ایسی باتوں کو کبھی روا نہیں رکھتا جو مبدءِ شرک ہو کر کسی کو شریک الباری ٹھہراتی ہوں اور یہ صاف ظاہر ہے کہ ایک شخص کو بعض وجوہ کی خصوصیت دینا صریح مبدءِ شرک ہے۔ پس مسیح علیہ السلام میں یہ خصوصیت تسلیم کرنا کہ وہ تمام انسانوں کے برخلاف اب تک زندہ ہیں اور خواصِ بشری سے الگ ہیں۔ یہ ایسی خصوصیت ہے جس نے عیسائیوں کو موقع دیا کہ وہ اُن کی خدائی پر اس کو بطور دلیل پیش کریں۔ اگر کوئی عیسائی مسلمانوں پر یہ اعتراض کرے کہ تم ہی بتاؤ کہ ایسی خصوصیت اس وقت کسی اور شخص کو بھی ملی ہے؟ تو اس کا کوئی جواب اُن کے پاس نہیں ہے اس لیے کہ وہ یقین کرتے ہیں کہ سب انبیاء علیہم السلام مر گئے ہیں مگر مسیح کی موت بقول ان مخالف مسلمانوں کے ثابت نہیں کیونکہ توفّی کے معنے تو آسمان پر زندہ اٹھائے جانے کے کرتے ہو اس لیے فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ (المائدة: ۱۱۸) میں بھی یہی معنے کرنے پڑیں گے کہ جب تونے مجھے زندہ آسمان پر اُٹھالیا۔ اور کوئی آیت ثابت نہیں کرتی کہ اس کی موت بھی ہوگی پھر بتاؤ کہ اُن کا نتیجہ کیا ہوگا؟ االلہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے اور وہ اپنی غلطی کو سمجھیں۔ میں سچ کہتا ہوں کہ جو لوگ مسلمان کہلا کر اس عقیدہ کی کمزوری اور شناعت کے کھل جانے پر بھی اس کو نہیں چھوڑتے وہ دشمن اسلا م اور اس کے لیے مارِ آستین ہیں۔

یاد رکھو االلہ تعالیٰ بار بار قرآن شریف میں مسیح کی موت کا ذکر کرتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ وہ دوسرے نبیوں اور انسانوں کی طرح وفات پا چکے۔ کوئی امر ان میں ایسا نہ تھا جو دوسرے نبیوں اور انسانوں میں نہ ہو۔ یہ بالکل سچ ہے کہ توفّی کے موت ہی معنے ہیں۔ کسی لغت سے یہ ثابت نہیں کہ توفّی کے معنے کبھی آسمان پر مع جسم اُٹھانے کے بھی ہوتے ہیں۔ زبان کی خوبی لغات کی توسیع پر ہے۔ دنیا میں کوئی لغت ایسی نہیں ہے جو صرف ایک کے لیے ہو اور دوسرے کے لیے نہ ہو۔ ہاں خدا تعالیٰ کے لیے یہ خصوصیت ضرور ہے اس لیے کہ وہ وحدہٗ لا شریک خد اہے۔ لغت کی کوئی کتاب پیش کرو جس میں توفّی کے یہ معنے خصوصیت سے حضرت عیسٰی کے لیے کہے ہوئے ہوں کہ زندہ آسمان پر مع جسم اٹھانا ہے اور سارے جہاں کے لیے جب یہ لفظ استعمال ہو تو اس کے معنے موت کے ہوں گے۔ اس قسم کی خصوصیت لغت کی کسی کتاب میں دکھاؤ؟ اور اگر نہ دکھا سکو اور نہیں ہے تو پھر خدا تعالیٰ سے ڈرو کہ یہ مبدءِ شرک ہے۔ اس غلطی ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان عیسائیوں کے مدیون ٹھہرتے ہیں۔ اگر عیسائی یہ کہیں کہ جس حال میں تم مسیح کو زندہ تسلیم کرتے ہو کہ وہ آسمان پر ہے اور پھر اس کا آنا بھی مانتے ہو اور یہ بھی کہ وہ حکم ہو کر آئے گا۔ اب بتاؤ کہ اس کے خد اہونے میں کیا شبہ رہا جبکہ یہ بھی ثابت نہ ہو کہ اس کو موت ہوگی۔ یہ کہنا بڑا مصیبت کا امر ہے کہ عیسائی سوال کرے اور اس کا جواب نہ ہو؟

غرض اس غلطی کا اثرِ بداب یہاں تک بڑھ گیا۔ یہ تو سچ ہے کہ دراصل مسیح کی موت کا مسئلہ ایسا عظیم الشان نہ تھا کہ اس کے لیے ایک عظیم الشان مامور کی ضرورت ہوتی! مگر میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں کی حالت بہت ہی نازک ہو گئی ہے۔ انہوں نے قرآن کریم پر تدبر چھوڑ دیا اور ان کی عملی حالت خراب ہو گئی۔ اگر ان کی عملی حالت درست ہوتی اور وہ قرآن کریم اور اس کی لُغَات پر توجہ کرتے تو ایسے معنے ہرگز نہ کرتے۔ انہوں نے اسی لیے اپنی طرف سے یہ معنے کر لئے توفّی کا لفظ کوئی نرالا اور نیا لفظ نہ تھا اس کے معنے تمام لغتِ عرب میں خواہ وہ کسی نے لکھی ہوں موت کے کئے ہیں۔ پھر انہوں نے مع جسم آسمان پر اُٹھانے کے معنے آپ ہی کیوں بنالیے۔ ہم کو افسوس نہ ہوتا اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی اس لفظ کے یہی معنے کر لیتے کیونکہ یہی لفظ آپ کے لیے بھی تو قرآن شریف میں آیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے وَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ (یونس: ۴۷) ۔ اب بتاؤ کہ اگر اس لفظ کے معنے مع جسم آسمان پر اُٹھانا ہی ہیں تو کیا ہمارا حق نہیں کہ آپ کے لیے بھی یہی معنے کریں۔ کیا وجہ ہے کہ وہ نبی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہزار ہاد رجہ کمتر ہے اس کے لیے جب یہ لفظ بولا جاوے تو اس کے من گھڑت معنے کرکے زندہ آسمان پر لے جاویں لیکن جب سید الاولین والآخرین کے لیے یہ لفظ آوے تو اس کے معنے بجز موت کے اور کچھ نہ کریں حالانکہ آنحضرتؐ زندہ نبی ہیں اور آپ کی زندگی ایسی ثابت ہے کہ کسی اور نبی کی ثابت نہیں اور اس لیے ہم زور اور دعویٰ سے یہ بات پیش کرتے ہیں کہ اگر کوئی نبی زندہ ہے تو وہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اکثر اکابر نے حیات النّبی پر کتابیں لکھی ہیں اور ہمارے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ایسے زبردست ثبوت موجود ہیں کہ کوئی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ منجملہ ان کے ایک یہ بات ہے کہ زندہ نبی وہی ہو سکتاہے جس کے برکات اور فیوض ہمیشہ کے لیے جاری ہوں اور یہ ہم دیکھتے ہیں کہ االلہ تعالیٰ نے آپ کے زمانہ سے لے کر اس وقت تک کبھی بھی مسلمانوں کو ضائع نہیں کیا۔ ہر صدی کے سر پر اس نے کوئی آدمی بھیج دیا جو زمانہ کے مناسب حال اصلاح کرتا رہا یہاں تک کہ اس صدی پر اس نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں حیات النّبی کا ثبوت دوں۔ یہ امر قرآن شریف سے بھی ثابت ہے کہ االلہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی حفاظت کرتا رہا ہے اور کرے گا جیسا کہ فرمایا ہے اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ (الحجر: ۱۰) یعنی بیشک ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ کا لفظ صاف طور پر دلالت کرتا ہے کہ صدی کے سر پر ایسے آدمی آتے رہیں گے جو گمشدہ متاع کو لائیں اور لوگوں کو یاد دلائیں۔

یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب پہلی صدی گذرجاتی ہے تو پہلی نسل بھی اُٹھ جاتی ہے اور اس نسل میں جو عالم،حافظ قرآن، اولیاء االلہ اور ابدال ہوتے ہیں وہ فوت ہو جاتے ہیں اور اس طرح پر ضرورت ہوتی ہے کہ احیاء ملت کے لیے کوئی شخص پیدا ہو کیونکہ اگر دوسری صدی میں نیا بندوبست اسلام کے تازہ رکھنے کے لیے نہ کرے تو یہ مذہب مر جاوے۔ اس لیے وہ ہر صدی کے سر پر ایک شخص کو مامور کرتا ہے جو اسلام کو مرنے سے بچالیتا ہے اور اس کو نئی زندگی عطا کرتا ہے اور دنیا کو ان غلطیوں بدعات اور غفلتوں اور سستیوں سے بچالیتا ہے جو اُن میں پیدا ہوتی ہیں۔

یہ خصوصیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو حاصل ہے اور یہ آپ کی حیات کی ایسی زبردست دلیل ہے کہ کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس طرح پر آپ کے برکات و فیوض کا سلسلہ لا انتہا اور غیر منقطع ہے اور ہر زمانہ میں گویا اُمت آپ کا ہی فیض پاتی ہے اور آپ ہی سے تعلیم حاصل کرتی ہے اور االلہ تعالیٰ کی مُحب بنتی ہے جیسا کہ فرمایا ہے۔ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ (اٰل عمران: ۳۲) پس خدا تعالیٰ کا پیار ظاہر ہے کہ اس امت کو کسی صدی میں خالی نہیں چھوڑتااور یہی ایک امر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات پر روشن دلیل ہے۔ بالمقابل حضرت عیسیٰ کی حیات ثابت نہیں۔ اُن کی زندگی ہی میں ایسا فتنہ برپا ہوا کہ کسی اور نبی کی زندگی میں وہ فتنہ نہیں ہوا۔ اور یہی وجہ ہے کہ االلہ تعالیٰ کو حضرت عیسٰیؑ سے مطالبہ کرنا پڑا کہ۔ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِیۡ وَاُمِّیَ اِلٰہَیۡنِ (المائدة: ۱۱۷) یعنی کیا تونے ہی کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بنالو۔ جو جماعت حضرت عیسیٰ ؑ نے تیار کی وہ ایسی کمزور اور ناقابل اعتبار تھی کہ خود یہی عیسائی بھی اس کا اقرار کرتے ہیں۔

انجیل سے ثابت ہے کہ وہ بارہ شاگرد جو اُن کی خاص قوت قدسی اور تاثیر کا نمونہ تھے اُن میں سے ایک نے جس کا نام یہودا اسکریوطی تھا اس نے تیس روپیہ پر اپنے آقاو مرشد کو بیچ دیا اور دوسرے نے جو سب سے اول نمبر پر ہے اور شاگرد رشید کہلاتا تھا اور جس کے ہاتھ میں بہشت کی کنجیاں تھیں یعنی پطرس۔ اس نے سامنے کھڑے ہوکر تین مرتبہ لعنت کی۔ جب خود حضرت مسیح کی موجودگی میں ان کا اثر اور فیض اس قدر تھا اور اب انیس سو ۱۹۰۰ سال گذرنے کے بعد خود اندازہ کر لو کہ کیا باقی رہا ہوگا۔ اس کے بالمقابل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جماعت طیار کی تھی وہ ایسی صادق اور وفادار جماعت تھی کہ انہوں نے آپ کے لیے جانیں دے دیں، وطن چھوڑ دیئے، عزیزوں اور رشتہ داروں کو چھوڑ دیا۔ غرض آپ کے لیے کسی چیز کی پروا نہ کی۔ یہ کیسی زبردست تاثیر تھی۔ اس تاثیر کا بھی مخالفوں نے اقرار کیا ہے اور پھر آپ کی تاثیرات کا سلسلہ بندنہیں ہوا بلکہ اب تک وہ چلی جاتی ہیں۔ قرآن شریف کی تعلیم میں وہی اثر وہی برکات اب بھی موجود ہیں۔ اور پھر تاثیر کا ایک اور بھی نمونہ قابل ذکر ہے کہ انجیل کا کہیں پتہ ہی نہیں لگتا۔ خود عیسائیوں کو اس امر میں مشکلات ہیں کہ اصل انجیل کونسی ہے اور وہ کس زبان میں تھی اور کہاں ہے؟ مگر قرآنِ شریف کی برابرحفاظت ہوتی چلی آئی ہے۔ ایک لفظ اور نقطہ تک اس کا اِدھر اُدھر نہیں ہوسکتا۔ اِس قدر حفاظت ہوئی ہے کہ ہزاروں لاکھوں حافظ قرآن شریف کے ہر ملک اور ہرقوم میں موجود ہیں جن میں باہم اتفاق ہے۔ ہمیشہ یاد کرتے اور سناتے ہیں۔ اب بتاؤ کہ کیا یہ آپ کے برکات اور زندہ برکات نہیں ہیں؟اور کیا ان سے آپ کی حیات ثابت نہیں ہوتی؟

غرض کیا قرآن شریف کی حفاظت کی رو سے اور کیا تجدید دین کے لیے ہر صدی پر مجدّد کے آنے کی حدیث سے اور کیا آپ کی برکات اور تاثیرات سے جو اب تک جاری ہیں آپ کی حیات ثابت ہوتی ہے۔ اب غور طلب امر یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کی حیات کے عقیدہ نے دنیا کو کیا فائدہ پہنچایا ہے؟ کیا اخلاقی اور عملی طور پر دنیا کی اصلاح ہوئی ہے یا فساد پیدا ہوا ہے؟ اِس امر پر جس قدر غور کریں گے اُسی قدر اس کی خرابیاں ظاہر ہوتی چلی جائیں گی۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اسلام نے اس عقیدہ سے بہت بڑا ضرر اُٹھایا ہے یہاں تک کہ چالیس کروڑ کے قریب لوگ عیسائی ہو چکے جو سچے خدا کو چھوڑ کر ایک عاجز انسان کو خدا بنارہے ہیں اور عیسائیت نے دنیا کو جو نفع پہنچایا ہے وہ ظاہر امر ہے۔ خود عیسائیوں نے اس امر کو قبول کیا ہے کہ عیسائیت کے ذریعہ بہت سی بد اخلاقیاں دنیا میں پھیلی ہیں کیونکہ جب انسان کو تعلیم ملے کہ اس کے گناہ کسی دوسرے کے ذمہ ہوچکے تو وہ گناہ کرنے پر دلیر ہو جاتا ہے اور گناہ نوع انسان کے لیے ایک خطرناک زہر ہے جو عیسائیت نے پھیلائی ہے۔ اس صورت میں اس عقیدہ کا ضرر اور بھی بڑھا جاتا ہے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ حیات مسیح کے متعلق اسی زمانہ کے لوگوں پر الزام ہے۔ نہیں بعض پہلوں نے غلطی کھائی ہے مگر وہ تو اس غلطی میں بھی ثواب ہی پر رہے کیونکہ مجتہد کے متعلق لکھا ہے قد یخطیٔ و یصیب کبھی مجتہد غلطی بھی کرتا ہے اور کبھی صواب مگر دونوں طرح پر اُسے ثواب ہوتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مشیت ایزدی نے یہی چاہا تھا کہ ان سے یہ معاملہ مخفی رہے۔ پس وہ غفلت میں رہے اور اصحابِ کہف کی طرح یہ حقیقت ان پر مخفی رہی جیسا کہ مجھے بھی الہام ہوا تھا۔ ’’اَمْ حَسبت انّ اصحاب الکھف والرّقیم کانوا من اٰیاتنا عجبًا۔‘‘ اسی طرح مسیح کی حیات کا مسئلہ بھی ایک عجیب سِر ہے۔ باوجود یکہ قرآن شریف کھول کھول کر مسیح کی وفات ثابت کرتا ہے اور احادیث سے بھی یہی ثابت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر جو آیت استدلال کے طور پر پڑھی گئی وہ بھی اسی کو ثابت کرتی ہے مگر باوجود اس قدر آشکارا ہونے کے خد اتعالیٰ نے اس کو مخفی کر لیا اور آنے والے موعود کے لیے اس کو مخفی رکھا چنانچہ جب وہ آیا تو اس نے اس راز کو ظاہر کیا ۔

یہ االلہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ وہ جب چاہتا ہے کسی بھید کو مخفی کر دیتا ہے اور جب چاہتا ہے اُسے ظاہر کر دیتا ہے۔ اسی طرح اس نے اس بھید کو اپنے وقت تک مخفی رکھا مگر اب جبکہ آنے والا آگیا اور اس کے ہاتھ میں اس سِر کی کلید تھی اس نے اسے کھول کر دکھادیا۔ اب اگر کوئی نہیں مانتا اور ضد کرتا ہے تو وہ گویا االلہ تعالیٰ کا مقابلہ کرتا ہے۔

غرض وفات مسیح کا مسئلہ اب ایسا مسئلہ ہو گیا ہے کہ اس میں کسی قسم کا اخفا نہیں رہا بلکہ ہر پہلو سے صاف ہو گیاہے۔ قرآن شریف سے مسیح کی وفات ثابت ہوتی ہے احادیث وفات کی تائید کرتی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ معراج موت کی تصدیق کرتا ہے اور آپؐ گویا چشم دید شہادت دیتے ہیں کیونکہ آپ نے شب معراج میں حضرت عیسٰیؑ کو حضرت یحییٰ ؑ کے ساتھ دیکھا اور پھر آیت قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا (بنی اسرائیل: ۹۴) مسیح کو زندہ آسمان پر جانے سے روکتی ہے کیونکہ جب کفارنے آپ سے آسمان پر چڑھ جانے کا معجزہ مانگا تو االلہ تعالیٰ نے آپ کو یہی جواب دیا کہ قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا (بنی اسرائیل: ۹۴) یعنی میرا ربّ اس وعدہ خلافی سے پاک ہے جو ایک مرتبہ تو وہ انسان کے لیے یہ قرار دے کہ وہ اسی زمین میں پیدا ہوا اور یہاں ہی مرے گا۔ فِیۡہَا تَحۡیَوۡنَ وَفِیۡہَا تَمُوۡتُوۡنَ (الاعراف: ۲۶) ۔ میں تو ایک بشر رسول ہوں یعنی وہ بشریت میرے ساتھ موجود ہے جو آسمان پر نہیں جاسکتی۔ اور دراصل کفار کی غرض اس سوال سے یہی تھی۔ چونکہ وہ پہلے یہ سن چکے تھے کہ انسان اس دنیا میں جیتا اور مرتا ہے اس لیے اُنہوں نے موقعہ پاکر یہ سوال کیا۔ جس کا جواب اُن کو ایسا دیا گیا کہ ان کا منصوبہ خاک میں مل گیا۔ پس یہ طے شدہ مسئلہ ہے کہ مسیح ؑوفات پا چکے ۔ہاں یہ ایک معجزا نہ نشان ہے کہ انہیں غفلت میں رکھااور ہوشیاروں کو مست بنادیا۔

یہ بھی یاد رکھو کہ جن لوگوں نے یہ زمانہ نہیں پایا وہ معذور ہیں۔ ان پر کوئی حجت پوری نہیں ہوئی۔ اور اس وقت اپنے اجتہاد سے جو کچھ وہ سمجھے اس کے لیے االلہ تعالیٰ سے اجر اور ثواب پائیں گے مگراب وقت نہیں رہا۔ اس وقت االلہ تعالیٰ نے اس نقاب کو اُٹھادیا اور اس مخفی راز کو ظاہر کر دیا ہے اور اس مسئلہ کے بُرے اور خوفناک اثروں کو۔ تم دیکھ رہے ہو کہ اسلام تنزل کی حالت میں ہے اور عیسائیت کا یہی ہتھیار حیات مسیح ہے جس کو لے کر وہ اسلام پر حملہ آور ہو رہے ہیں اور مسلمانوں کی ذریت عیسائیوں کا شکار ہو رہی ہے۔ میں سچ سچ کہتاہوں کہ ایسے ہی مسائل وہ لوگوں کو سنا سنا کر برگشتہ کر رہے ہیں۔ اور وہ خصوصیتیں جو نادانی سے مسلمان اُن کے لیے تجویز کرتے ہیں سکولوں اور کالجوں میں پیش کر کے اسلام سے جدا کررہے ہیں۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اب مسلمانوں کو متنبہ کیا جاوے ۔

پس اس وقت چاہا ہے کہ مسلمان متنبہ ہو جاویں کہ ترقی اسلام کے لیے یہ پہلو نہایت ہی ضروری ہے کہ مسیح کی وفات کے مسئلہ پر زور دیا جاوے اور وہ اس امر کے قائل نہ ہوں کہ مسیح زندہ آسمان پر گیا ہے مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ میرے مخالف اپنی بدقسمتی سے اس سِر کو نہیں سمجھتے اور خواہ نخواہ شور مچاتے ہیں۔ کاش یہ احمق سمجھتے کہ اگر ہم سب مل کر وفات پر زور دیں گے تو پھریہ مذہب (عیسائی) نہیں رہ سکتا۔ میں یقیناً کہتا ہوں کہ اسلام کی زندگی اس موت میں ہے۔ خود عیسائیوں سے پوچھ کر دیکھ لو کہ جب یہ ثابت ہو جاوے کہ مسیح زندہ نہیں بلکہ مر گیا ہے تو اُن کے مذہب کا کیا باقی رہ جاتا ہے؟ وہ خود اس امر کے قائل ہیں کہ یہی ایک مسئلہ ہے جو اُن کے مذہب کا استیصال کرتا ہے مگر مسلمان ہیں کہ مسیح کی حیات کے قائل ہو کر ان کو تقویت پہنچارہے ہیں اور اسلام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کی وہی مثال ہے ع۔ یکے برسر شاخ و بُن مے برید

عیسائیوں کا جو ہتھیار اسلام کے خلاف تھا اُسی کو اِن مسلمانوں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ٭ اور اپنی نا سمجھی اور کم فہمی سے چلا دیا جس سے اسلام کو اس قدر نقصان پہنچا مگر خوشی کی بات ہے کہ االلہ تعالیٰ نے عین وقت پر اس سے ان کو آگاہ کر دیا اور ایسا ہتھیار عطا کیا جو صلیب کے توڑنے کے واسطے بے نظیر ہے اور اس کی تائید اور استعمال کے لیے اس نے یہ سلسلہ قائم کیا چنانچہ االلہ تعالیٰ کے فضل اور تائید سے اس موت مسیح کے ہتھیار نے صلیبی مذہب کو جس قدر کمزور اور سست کر دیا ہے وہ اب چھپی ہوئی بات نہیں رہی۔ عیسائی مذہب اور اس کے حامی سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کوئی فرقہ اور سلسلہ اُن کے مذہب کو ہلاک کر سکتا ہے تو وہ یہی سلسلہ ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر ایک اہل مذہب سے مقابلہ کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں مگر اس سلسلہ کے مقابلہ میں نہیں آتے۔ بشپ صاحب کو جب مقابلہ کی دعوت کی گئی تو ہر چند اس کو بعض انگریزی اخباروں نے بھی جوش دلایا مگر پھر بھی وہ میدان میں نہیں نکلا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے پاس عیسائیت کے استیصال کے لیے وہ ہتھیار ہیں جو دوسروں کو نہیں دیئے گئے اور اُن میں سے پہلا ہتھیار یہی موت مسیح کا ہتھیار ہے۔ موت اصلی غرض نہیں۔ یہ تو اس لیے کہ عیسائیوں کا ہتھیار تھا جس سے اسلام کا نقصان تھا۔ االلہ تعالیٰ نے چاہا کہ اس غلطی کا تدارک کرے چنانچہ بڑے زور کے ساتھ اس کی اصلاح کی گئی۔

اس کے علاوہ ان غلطیوں اور بدعات کو دور کرنا بھی اصل مقصد ہے جو اسلام میں پیدا ہو گئی ہیں۔ یہ قلتِ تد بر کا نتیجہ ہے اگر یہ کہا جاوے کہ اس سلسلہ میں اور دوسرے مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اگر موجودہ مسلمانوں کے معتقدات میں کوئی فرق نہیں آیا اور دونوں ایک ہی ہیں تو پھر کیا خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کو عبث قائم کیا؟ ایسا خیال کرنا اس سلسلہ کی سخت ہتک اور االلہ تعالیٰ کے حضور ایک جرأت اور گستاخی ہے۔ االلہ تعالیٰ نے بار بار ظاہر کیا ہے کہ دنیا میں بہت تاریکی چھاگئی ہے۔ عملی حالت کے لحاظ سے بھی اور اعتقادی حالت کی وجہ سے بھی۔ وہ توحید جس کے لیے بے شمار نبی اور رسول دنیا میں آئے اور انہوں نے بے انتہا محنت اور سعی کی آج اس پر ایک سیاہ پردہ پڑا ہوا ہے اور لوگ کئی قسم کے شرک میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دنیا کی محبت نہ کرومگر اب دنیا کی محبت ہر ایک دل پر غلبہ کر چکی ہے اور جس کو دیکھو اسی محبت میں غرق ہے۔ دین کے لیے ایک تنکا بھی ہٹانے کے واسطے کہا جاوے تو وہ سوچ میں پڑ جاتا ہے ہزاروں عذر اور بہانے کرنے لگتا ہے۔ ہر قسم کی بدعملی اور بدکاری کو جائز سمجھ لیا گیا ہے اور ہرقسم کی منہیات پر کھلم کھلا زور دیا جاتا ہے۔ دین بالکل بیکس اور یتیم ہو رہا ہے۔ ایسی صورت میں اگر اسلام کی تائید اور نصرت نہ فرمائی جاتی تو اور کونسا وقت اسلام پر آنے والا ہے جو اس وقت مدد کی جاوے۔ اسلام تو صرف نام کو باقی رہ گیا۔ اب بھی اگر حفاظت نہ کی جاتی تو پھر اس کے مٹنے میں کیا شبہ ہو سکتا تھا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ یہ صرف قلت تد بر کا نتیجہ ہے جو کہا جاتا ہے کہ دوسرے مسلمانوں میں کیا فرق ہے؟اگر صرف ایک ہی بات ہوتی تو اس قدر محنت اٹھانے کی کیا حاجت تھی۔ ایک سلسلہ قائم کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ میں جانتا ہوں کہ االلہ تعالیٰ بار بار ظاہر کر چکا ہے کہ ایسی تاریکی چھاگئی ہے کہ کچھ نظر نہیں آتا۔ وہ توحید جس کا ہمیں فخر تھا اور اسلام جس پر ناز کرتا تھا وہ صرف زبانوں پر رہ گئی ہے ورنہ عملی اور اعتقادی طور پر بہت ہی کم ہوں گے جو توحید کے قائل ہوں۔ آنحضرت صلعم نے فرمایا تھا دنیا کی محبت نہ کرنا مگر اب ہر ایک دل اسی میں غرق ہے اور دین ایک بیکس اور یتیم کی طرح رہ گیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف طور پر فرمایا تھا۔ ’’حُبُّ الدُّنیا رَأس کُلّ خطیئۃٍ‘‘یہ کیسا پاک اور سچا کلمہ ہے مگر آج دیکھ لوہر ایک اس غلطی میں مبتلا ہے۔ ہمارے مخالف آریہ اور عیسائی اپنے مذاہب کی حقیقت کو خوب سمجھ چکے ہیں لیکن اب اُسے نبا ہنا چاہتے ہیں۔ عیسائی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے مذہب کے اصول و فروع اچھے نہیں۔ ایک انسان کو خدا بنانا ٹھیک نہیں۔ اس زمانہ میں فلسفہ، طبعی اور سائنس کے علوم ترقی کر گئے ہیں اور لوگ خوب سمجھ گئے ہیں کہ مسیح بجز ایک ناتواں اور ضعیف انسان ہونے کے سوا کوئی اقتداری قوت اپنے اندر نہ رکھتا تھا اور یہ نا ممکن ہے کہ ان علوم کو پڑھ کر خود اپنی ذات کا تجربہ رکھ کر اور مسیح کی کمزوریوں اور ناتوانیوں کو دیکھ کر یہ اعتقاد رکھیں کہ وہ خدا تھا؟ ہر گز نہیں۔

شرک عورت سے شروع ہوا ہے اور عورت سے اس کی بنیاد پڑی ہے یعنی حَوّا سے جس نے خداتعالیٰ کا حکم چھوڑ کر شیطان کا حکم مانا۔ اور اس شرکِ عظیم یعنی عیسائی مذہب کی حامی بھی عورتیں ہی ہیں۔ درحقیقت عیسائی مذہب ایسا مذہب ہے کہ انسانی فطرت دور سے اس کو دھکے دیتی ہے اور وہ کبھی اسے قبول ہی نہیں کر سکتی۔ اگر درمیان دنیا نہ ہوتی تو عیسائیوں کا گروہ کثیر آج مسلمان ہو جاتا۔ بعض لوگ عیسائیوں میں مخفی مسلمان رہے ہیں اور انہوں نے اپنے اسلام کو چھپایا ہے لیکن مرنے کے وقت اپنی وصیت کی اور اسلام ظاہر کیا ہے۔ ایسے لوگوں میں بڑے بڑے عہدہ دار تھے۔ انہوں نے حبِ دنیاکی وجہ سے زندگی میں اسلام کو چھپایا لیکن آخر انہیں ظاہر کرنا پڑا۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ ان دلوں میں اسلام نے راہ بنالیا ہے اور اب وہ ترقی کر رہا ہے۔ حبِ دنیانے لوگوں کو محجوب کر رکھا ہے۔

غرض مسلمانوں میں اندرونی تفرقہ کا موجب بھی یہی حبِ دنیا ہی ہوئی ہے کیونکہ اگر محض االلہ تعالیٰ کی رضا مقدم ہوتی تو آسانی سے سمجھ میں آسکتا تھا کہ فلاں فرقے کے اصول زیادہ صاف ہیں اور وہ انہیں قبول کرکے ایک ہوجاتے۔ اب جبکہ حب ِدنیا کی وجہ سے یہ خرابی پیدا ہو رہی ہے تو ایسے لوگوں کو کیسے مسلمان کہا جاسکتا ہے جبکہ ان کا قدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم پر نہیں۔ االلہ تعالیٰ نے تو فرمایا تھا قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ (اٰل عمران: ۳۲) یعنی کہواگر تم االلہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ تعالیٰ تم کو دوست رکھے گا۔ اب اس حبِ اللہ کی بجائے اور اتباع رسول االلہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے حب الدنیا کو مقدم کیا گیا ہے۔ کیا یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے؟ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیادار تھے؟ کیا وہ سود لیاکرتے تھے؟ یا فرائض اور احکام الٰہی کی بجا آوری میں غفلت کیا کرتے تھے؟ کیا آپ میں (معاذ االلہ) نفاق تھا؟ مداہنہ تھا؟ دنیا کو دین پر مقدم کرتے تھے؟ غور کرو۔

اتباع تو یہ ہے کہ آپؐ کے نقش قدم پر چلو اور پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ کیسے کیسے فضل کرتا ہے۔ صحابہ نے وہ چلن اختیار کیا تھا۔ پھر دیکھ لو کہ االلہ تعالیٰ نے انہیں کہاں سے کہاں پہنچایا۔ اُنہوں نے دنیا پر لات ماردی تھی اور بالکل حبِ دنیا سے الگ ہو گئے تھے۔ اپنی خواہشوں پر ایک موت وارد کر لی تھی۔ اب تم اپنی حالت کا ان سے مقابلہ کر کے دیکھ لو۔ کیا انہیں کے قدموں پر ہو؟ افسوس اس وقت لوگ نہیں سمجھتے کہ خدا تعالیٰ ان سے کیا چاہتا ہے؟ رَأس کلّ خطیئۃٍ نے بہت سے بچے دے دیئے ہیں۔ کوئی شخص عدالت میں جاتا ہے تو دو آنے لے کر جھوٹی گواہی دے دینے میں ذرا شرم و حیا نہیں کرتا۔ کیا وکلاء قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ سارے کے سارے گواہ سچے پیش کرتے ہیں۔ آج دنیا کی حالت بہت نازک ہو گئی ہے جس پہلو اور رنگ سے دیکھو۔ جھوٹے گواہ بنائے جاتے ہیں۔ جھوٹے مقدمہ کرنا توبات ہی کچھ نہیں جھوٹے اسناد بنا لیے جاتے ہیں۔ کوئی امر بیان کریں گے تو سچ کا پہلو بچا کر بولیں گے اب کوئی ان لوگوں سے جو اس سلسلہ کی ضرورت نہیں سمجھتے پوچھے کہ کیا یہی وہ دین تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے؟االلہ تعالیٰ نے تو جھوٹ کو نجاست کہا تھا کہ اس سے پرہیز کرو۔ فَاجۡتَنِبُوا الرِّجۡسَ مِنَ الۡاَوۡثَانِ وَاجۡتَنِبُوۡا قَوۡلَ الزُّوۡرِ (الحج: ۳۱) ۔ بُت پرستی کے ساتھ اس جھوٹ کو ملایا ہے جیسااحمق انسان االلہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پتھر کی طرف سر جھکا تا ہے ویسے ہی صدق اور راستی کو چھوڑ کر اپنے مطلب کے لیے جھوٹ کو بت بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ االلہ تعالیٰ نے اس کو بت پرستی کے ساتھ ملایا اور اس سے نسبت دی جیسے ایک بت پرست بت سے نجات چاہتا ہے۔ جھوٹ بولنے والا بھی اپنی طرف سے بت بناتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس بت کے ذریعہ نجات ہو جاوے گی۔ کیسی خرابی آکر پڑی ہے اگر کہا جاوے کہ کیوں بت پرست ہوتے ہو۔ اس نجاست کو چھوڑ دو توکہتے ہیں کہ کیونکر چھوڑ دیں اس کے بغیر گذارہ نہیں ہوسکتا۔ اس سے بڑھ کر اور کیا بدقسمتی ہوگی جھوٹ پر اپنی زندگی کا مدار سمجھتے ہیں مگر میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ آخر سچ ہی کامیاب ہوتا ہے۔ بھلائی اور فتح اسی کی ہے۔

مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک مرتبہ امر تسر ایک مضمون بھیجا۔ اس کے ساتھ ہی ایک خط بھی تھا۔ رلیارام کے وکیل ہند اخبار کے متعلق تھا۔ میرے اس خط کو خلاف قانون ڈاکخانہ قرار دے کر مقدمہ بنایا گیا۔ وکلاء نے بھی کہا کہ اس میں بجز اس کے رہائی نہیں جو اس خط سے انکار کر دیا جاوے۔ گویا جھوٹ کے سوا بچاؤ نہیں مگر میں نے اس کو ہرگز پسندنہ کیا بلکہ یہ کہا کہ اگر سچ بولنے سے سزا ہوتی ہے تو ہونے دو جھوٹ نہیں بولوں گا۔ آخر وہ مقدمہ عدالت میں پیش ہوا۔ ڈاک خانوں کا افسر بحیثیت مدعی حاضر ہوا۔ مجھ سے جس وقت اس کے متعلق پوچھا گیا تو میں نے صاف طور پر کہا کہ یہ میرا خط ہے مگر میں نے اس کو جزو مضمون سمجھ کر اس میں رکھا ہے۔ مجسٹریٹ کی سمجھ میں یہ بات آگئی اور االلہ تعالیٰ نے اس کو بصیرت دی۔ ڈاکخانوں کے افسر نے بہت زور دیا مگر اس نے ایک نہ سنی اور مجھے رخصت کر دیا ٭ ۔

میں کیونکر کہوں کہ جھوٹ کے بغیر گذارہ نہیں ۔ایسی باتیں نری بیہودگیاں ہیں۔سچ تویہ ہے کہ سچ کے بغیر گذارہ نہیں۔میں اب تک بھی جب اپنے اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو ایک مزا آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے پہلو کو اختیار کیا۔ اس نے ہماری رعایت رکھی اور ایسی رعایت رکھی جو بطورایک نشان کے ہوگئی۔

وَمَنۡ یَّتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسۡبُہٗ (الطلاق: ۴)

یقیناً یاد رکھو جھوٹ جیسی کوئی منحوس چیز نہیں۔عام طو رپر دنیا دار کہتے ہیں کہ سچ بولنے والے گرفتار ہوجاتے ہیں مگر میں کیونکر اس کو باورکروں؟ مجھ پر سات مقدمے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے کسی ایک میں ایک لفظ بھی مجھے جھوٹ لکھنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ کوئی بتائے کہ کسی ایک میں بھی خدا تعالیٰ نے مجھے شکست دی ہو۔ االلہ تعالیٰ تو آپ سچائی کا حامی اور مددگار ہے۔ یہ ہو سکتاہے کہ وہ راستباز کو سزادے؟اگر ایسا ہو تو دنیا میں پھر کوئی شخص سچ بولنے کی جرأت نہ کرے اور خدا تعالیٰ پر سے ہی اعتقاد اُٹھ جاوے۔راستباز تو زندہ ہی مر جاویں۔

اصل بات یہ ہے کہ سچ بولنے سے جو سزا پاتے ہیں وہ سچ کی وجہ سے نہیں ہوتی وہ سزا اُن کی بعض اور مخفی درمخفی بدکاریوں کی ہوتی ہے اور کسی اور جھوٹ کی سزاہوتی ہے۔ خد اتعالیٰ کے پاس تو ان کی بدیوں اور شرارتوں کا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔ ان کی بہت سی خطائیں ہوتی ہیں اور کسی نہ کسی میں وہ سزاپالیتے ہیں۔

میرے ایک استاد گُل علی شاہ بٹالے کے رہنے والے تھے۔ وہ شیر سنگھ کے بیٹے پرتاپ سنگھ کو بھی پڑھایا کرتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ شیر سنگھ نے اپنے باورچی کو محض نمک مرچ کی زیادتی پر بہت مارا تو چونکہ وہ بڑے سادہ مزاج تھے انہوں نے کہاکہ آپ نے بڑا ظلم کیا۔ اس پر شیر سنگھ نے کہا۔ مولوی جی کو خبر نہیں اس نے میرا سو بکرا کھایا ہے۔ اسی طرح پر انسان کی بدکاریوں کا ایک ذخیرہ ہوتاہے اور وہ کسی ایک موقعہ پر پکڑا جاکر سزا پاتا ہے ٭ ۔ جو شخص سچائی اختیار کرے گا کبھی نہیں ہو سکتا کہ ذلیل ہو اس لیے کہ وہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتا ہے اور خد اتعالیٰ کی حفاظت جیسااور کوئی محفوظ قلعہ اور حصار نہیں لیکن ادھوری بات فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ کیا کوئی کہہ سکتاہے کہ جب پیاس لگی ہوئی ہو تو صرف ایک قطرہ پی لینا کفایت کرے گا یا شدت بھوک کے وقت ایک دانہ یا ایک لقمہ سے سیر ہو جاوے گا۔ بالکل نہیں بلکہ جب تک پورا سیر ہو کر پانی نہ پئے یا کھانا نہ کھائے تسلی نہ ہوگی۔ اسی طرح پر جب تک اعمال میں کمال نہ ہو وہ ثمرات اور نتائج پیدا نہیں ہوتے جو ہونے چاہئیں۔ ناقص اعمال االلہ تعالیٰ کو خوش نہیں کرسکتے اور نہ وہ بابرکت ہوسکتے ہیں۔ االلہتعالیٰ کا یہی وعدہ ہے کہ میری مرضی کے موافق اعمال کرو پھر میں برکت دوں گا۔

غرض یہ باتیں دنیا دار خود ہی بنالیتے ہیں کہ جھوٹ اور فریب کے بغیر گذارہ نہیں۔کوئی کہتا ہے فلاں شخص نے مقدمہ میں سچ بولا تھا اس لیے چار برس کو دھراگیا۔ میں پھر کہوں گا کہ یہ سب خیالی باتیں ہیں جو عدم معرفت سے پیدا ہوتی ہیں۔

کسبِ کمال کن کہ عزیز ے جہاں شوی

یہ نقص کے نتیجے ہیں۔ کمال ایسے ثمرات پید انہیں کرتا۔ ایک شخص اگراپنی موٹی سی کھدر کی چادر میں کوئی توپابھرلے تو اس سے وہ درزی نہیں بن جاوے گا اور یہ لازم نہ آئے گا کہ اعلیٰ درجہ کے ریشمی کپڑے بھی وہ سی لے گا۔ اگر اس کو ایسے کپڑے دیئے جاویں تو نتیجہ یہی ہوگا کہ وہ انہیں برباد کردے گا۔ پس ایسی نیکی جس میں گند ملا ہوا ہو کسی کام کی نہیں۔ خد اتعالیٰ کے حضور اس کی کچھ قدر نہیں لیکن یہ لوگ اس پر ناز کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ نجات چاہتے ہیں۔ اگر اخلاص ہو تو االلہ تعالیٰ تو ایک ذرہ بھی کسی نیکی کو ضائع نہیں کرتا۔ اس نے تو خود فرمایا ہے۔ فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ (الزلزال: ۸) اس لیے اگر ذرہ بھربھی نیکی ہو تو االلہ تعالیٰ سے اس کا اجر پائے گا۔ پھرکیا وجہ ہے کہ اس قدر نیکی کرکے پھل نہیں ملتا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اس میں اخلاص نہیں آیاہے۔ اعمال کے لیے اخلاص شرط ہے جیسا کہ فرمایا۔ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ (البیّنة: ۶) ۔ یہ اخلاص ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ابدال ہیں۔

یہ لوگ ابدال ہوجاتے ہیں اور وہ اِس دنیا کے نہیں رہتے۔ اُن کے ہر کام میں ایک خلوص اور اہلیت ہوتی ہے لیکن دنیا داروں کا تو یہ حال ہے کہ وہ خیرات بھی کرتے ہیں تو اس کے لیے تعریف اور تحسین چاہتے ہیں۔ اگر کسی نیک کام میں کوئی چندہ دیتا ہے تو غرض یہ ہے کہ اخبارات میں اس کی تعریف ہو۔ لوگ تعریف کریں۔ اس نیکی کو خد اتعالیٰ سے کیا تعلق؟ بہت لوگ شادیاں کرتے ہیں اُس وقت سارے گاؤں میں روٹی دیتے ہیں مگرخد اکے لیے نہیں صرف نمائش اور تعریف کے لیے۔ اگر ریانہ ہوتی اور محض شفقت علیٰ خلقِ االلہ کے لحاظ سے یہ فعل ہوتا اور خالص خدا کے لیے تو ولی ہو جاتے لیکن چونکہ ان کاموں کو خد اتعالیٰ سے کوئی تعلق اور غرض نہیں ہوتا اس لئے کوئی نیک اور بابرکت اثر ان میں پیدا نہیں ہوتا۔

یہ خوب یاد رکھو کہ جو شخص خد اتعالیٰ کے لیے ہو جاوے خد اتعالیٰ اس کا ہو جاتاہے اور خدا کسی کے دھوکے میں نہیں آتا۔ اگر کوئی یہ چاہے کہ ریاکاری اور فریب سے خدا کو ٹھگ لوں گا تو یہ حماقت اور نادانی ہے۔ وہ خود ہی دھوکا کھارہا ہے۔ دنیا کے زیب، دنیا کی محبت ساری خطاکاریوں کی جڑ ہے۔ اس میں اندھا ہو کر انسان انسانیت سے نکل جاتا ہے اور نہیں سمجھتا کہ میں کیا کر رہا ہوں اور مجھے کیا کرنا چاہیے تھا۔ جس حالت میں عقلمند انسان کسی کے دھوکا میں نہیں آسکتا تو االلہ تعالیٰ کیونکر کسی کے دھوکا میں آسکتا ہے۔ مگر ایسے افعال بد کی جڑ دنیا کی محبت ہے اور سب سے بڑا گناہ جس نے اس وقت مسلمانوں کو تباہ حال کر رکھا ہے اور جس میں وہ مبتلا ہیں وہ یہی دنیا کی محبت ہے۔ سوتے جاگتے، اُٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے ہر وقت لوگ اسی غم و ہم میں پھنسے ہوئے ہیں اور اُس وقت کا لحاظ اور خیال بھی نہیں کہ جب قبر میں رکھے جاویں گے۔ ایسے لوگ اگر االلہ تعالیٰ سے ڈرتے اور دین کے لیے ذرا بھی ہم و غم رکھتے تو بہت کچھ فائدہ اٹھالیتے۔ سعدی کہتا ہے۔ ع

گر وزیر از خدا تر سیدے

ملازم لوگ تھوڑی سی نوکری کے لیے اپنے کام میں کیسے چست و چالاک ہوتے ہیں لیکن جب نماز کا وقت آتا ہے تو ذرا ٹھنڈا پانی دیکھ کر ہی رہ جاتے ہیں۔ ایسی باتیں کیوں پید اہوتی ہیں؟اس لیے کہ االلہ تعالیٰ کی عظمت دل میں نہیں ہوتی۔ اگر خدا تعالیٰ کی کچھ بھی عظمت ہو اور مرنے کا خیال اور یقین ہو تو ساری سُستی اور غفلت جاتی رہے۔ اس لیے خدا تعالیٰ کی عظمت کو دل میں رکھنا چاہیے اور اس سے ہمیشہ ڈرنا چاہیے۔ اس کی گرفت خطرناک ہوتی ہے۔ وہ چشم پوشی کرتا ہے اور درگذر فرماتا ہے لیکن جب کسی کو پکڑتا ہے تو پھر بہت سخت پکڑتا ہے یہاں تک کہ وَلَا یَخَافُ عُقۡبٰہَا (الشمس: ۱۶) پھر وہ اس امر کی بھی پروا نہیں کرتا کہ اس کے پچھلوں کا کیا حال ہوگا۔ برخلاف اِس کے جو لوگ االلہ تعالیٰ سے ڈرتے اور اُس کی عظمت کو دل میں جگہ دیتے ہیں۔ خدا تعالیٰ اُن کو عزت دیتا اور خود اُن کے لیے ایک سپر ہو جاتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے ’’مَن کَان لِلّٰہ کان االلہ لہٗ‘‘ یعنی جو شخص االلہ تعالیٰ کے لیے ہو جاوے االلہتعالیٰ اس کا ہو جاتا ہے مگر افسوس یہ ہے کہ جو لوگ اس طرف توجہ بھی کرتے ہیں اور خداتعالیٰ کی طرف آنا چاہتے ہیں ان میں سے اکثر یہی چاہتے ہیں کہ ہتھیلی پرسرسوں جمادی جاوے۔ وہ نہیں جانتے کہ دین کے کاموں میں کس قدر صبر اور حوصلہ کی حاجت ہے اور تعجب تو یہ ہے کہ وہ دنیا جس کے لیے وہ رات دن مرتے اور ٹکریں مارتے ہیں اس کے کاموں کے لیے توبرسوں انتظار کرتے ہیں۔ کسان بیج بوکر کتنے عرصہ تک منتظر رہتا ہے لیکن دین کے کاموں میں آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پھونک مار کر ولی بنا دو۔ اور پہلے ہی دن چاہتے ہیں کہ عرش پر پہنچ جاویں حالانکہ نہ اس راہ میں کوئی محنت اور مشقت اٹھائی اور نہ کسی ابتلا کے نیچے آیا۔

خوب یاد رکھو کہ االلہ تعالیٰ کا یہ قانون اور آئین نہیں ہے۔ یہاں ہر ترقی تدریجی ہوتی ہے۔ اور خدا تعالیٰ نری اتنی باتوں سے خوش نہیں ہوسکتا کہ ہم کہہ دیں ہم مسلمان ہیں یا مومن ہیں۔ چنانچہ اس نے فرمایا ہے۔ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ (العنکبوت: ۳) یعنی کیا یہ لوگ گمان کر بیٹھے ہیں کہ االلہ تعالیٰ اتنا ہی کہنے پر راضی ہو جاوے اور یہ لوگ چھوڑ دیئے جاویں کہ وہ کہہ دیں ہم ایمان لائے اور ان کی کوئی آزمائش نہ ہو۔ یہ امر سنت االلہ کے خلاف ہے کہ پھونک مار کر ولی بنادیا جاوے۔ اگر یہی سنت ہوتی تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایساہی کرتے اور اپنے جان نثار صحابہ کو پھونک مار کر ہی ولی بنا دیتے۔ ان کو امتحان میں ڈلوا کر اُن کے سر نہ کٹواتے۔ اور خدا تعالیٰ اُن کی نسبت یہ نہ فرماتا۔ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ قَضٰی نَحۡبَہٗ وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّنۡتَظِرُ ۫ۖ وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِیۡلًا (الاحزاب: ۲۴) ۔

پس جب دنیا بغیر مشکلات اور محنت کے ہاتھ نہیں آتی تو عجب بےوقوف ہے وہ انسان جو دین کو حلوائے بے دود سمجھتا ہے۔ یہ تو سچ ہے کہ دین سہل ہے مگر ہر نعمت مشقت کو چاہتی ہے۔ باایں اسلام نے تو ایسی مشقت بھی نہیں رکھی۔ ہندوؤں میں دیکھو کہ اُن کے جوگیوں اور سنیاسیوں کو کیا کیا کرنا پڑتا ہے۔ کہیں اُن کی کمریں ماری جاتی ہیں۔ کوئی ناخن بڑھاتا ہے۔ ایسا ہی عیسائیوں میں رہبانیت تھی۔ اسلام نے ان باتوں کو نہیں رکھا بلکہ اس نے یہ تعلیم دی۔ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰٮہَا (الشمس: ۱۰) یعنی نجات پا گیا وہ شخص جس نے تزکیہ نفس کیا یعنی جس نے ہر ایک قسم کی بدعت، فسق وفجور، نفسانی جذبات سے خد اتعالیٰ کے لیے الگ کر لیا۔ اور ہر قسم کی نفسانی لذات کو چھوڑ کر خدا کی راہ میں تکالیف کو مقدم کر لیا۔ ایسا شخص فی الحقیقت نجات یافتہ ہے جو خدا تعالیٰ کو مقدم کرتا ہے اور دنیا اور اس کے تکلّفات کو چھوڑتا ہے ٭ اور پھر فرمایا وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰٮہَا (الشمس: ۱۱) مٹی کے برابر ہو گیا وہ شخص جس نے نفس کوآلودہ کر لیا یعنی جو زمین کی طرف جھک گیا۔ گویا یہ ایک ہی فقرہ قرآن کریم کی ساری تعلیمات کا خلاصہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کس طرح خداتعالیٰ تک پہنچتا ہے۔ یہ بالکل سچی اور پکی بات ہے کہ جب تک انسان قویٰ بشریہ کے بُرے طریق کو نہیں چھوڑتا اس وقت تک خد انہیں ملتا۔ دنیا کی گندگیوں سے نکلنا چاہتے ہو اور خدا تعالیٰ کو ملنا چاہتے ہو تو ان لذات کو ترک کرو۔ ورنہ

ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دوں

ایں خیال است و محال است و جنوں

انسان کی فطرت میں دراصل بدی نہ تھی اور نہ کوئی چیز بُری ہے لیکن بد استعمالی بُری بنادیتی ہے مثلًا ریا ہی کو لو۔ یہ بھی دراصل بُری نہیں کیونکہ اگر کوئی کام محض خدا تعالیٰ کے لیے کرتا ہے اور اس لیے کرتا ہے کہ اس نیکی ٭ تحریک دوسروں کو بھی ہوتو یہ ریا بھی نیکی ہے۔

ریا کی دو (۲) قسمیں ہیں ایک دنیا کے لیے مثلًا کوئی شخص نماز پڑھا رہا ہے اور پیچھے کوئی بڑا آدمی آگیا اس کے خیال اور لحاظ سے نماز کو لمبا کرنا شروع کردیا۔ ایسے موقع پر بعض آدمیوں پر ایسا رعب پڑجاتا ہے کہ وہ بھول بھول جاتے ہیں۔ یہ بھی ایک قسم ریاکی ہے جو ہر وقت ظاہر نہیں ہوتی مگر اپنے وقت پر جیسے بھوک کے وقت روٹی کھاتا ہے یا پیاس کے وقت پانی پیتا ہے مگربرخلاف اس کے جو شخص محض االلہ تعالیٰ کے لیے نماز کو سنوار سنوار کر پڑھتا ہے وہ ریا میں داخل نہیں بلکہ رضاء الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہے۔ غرض ریاکے بھی محل ہوتے ہیں۔ اور انسان ایسا جانور ہے کہ بے محل عیوب پر نظر نہیں کرتا مثلاً ایک شخص اپنے آپ کو بڑا عفیف اور پارسا سمجھتا ہے راستہ میں اکیلا جارہا ہے۔ راستہ میں وہ ایک تھیلی جواہرات کی پڑی پاتا ہے وہ اُسے دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ مداخلت کی کوئی بات نہیں۔ کوئی دیکھتا نہیں۔ اگر یہ اس وقت اس پر گرتا نہیں اور سمجھتا ہے کہ غیر کا حق ہوگا اور روپیہ جو گرا ہوا ہے آخر کسی کا ہے۔ ان باتوں کو سوچ کر اگر اس پر نہیں گرتا اور لالچ نہیں کرتا تو فی الحقیقت پوری عفّت اور تقویٰ سے کام لیتا ہے۔ ورنہ اگر نرا دعویٰ ہی دعویٰ ہے تو اُس وقت اُس کی حقیقت کھل جاوے گی اور وہ اُسے لے لے گا۔

اسی طرح ایک شخص جس کے متعلق یہ خیال ہے کہ وہ ریا نہیں کرتا۔ جب ریا کا وقت ہو اور وہ نہ کرے تو ثابت ہوگا کہ نہیں کرتا لیکن جیسا کہ ابھی میں نے ذکر کیا بعض اوقات ان عادتوں کا محل ایسا ہوتاہے کہ وہ بدل کر نیک ہو جاتی ہیں چنانچہ نماز جو باجماعت پڑھتا ہے اس میں بھی ایک ریا تو ہے لیکن انسان کی غرض اگر نمائش ہی ہو تو بیشک ریاہے اور اگراس سے غرض االلہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری مقصود ہے تو یہ ایک عجیب نعمت ہے۔ پس مسجدوں میں بھی نمازیں پڑھو اور گھروں میں بھی۔ ایسا ہی ایک جگہ دین کے کام کے لیے چندہ ہو رہا ہو۔ ایک شخص دیکھتا ہے کہ لوگ بیدار نہیں ہوتے اور خاموش ہیں۔ وہ محض اس خیال سے کہ لوگوں کو تحریک ہو سب سے پہلے چندہ دیتا ہے۔ بظاہریہ ریا ہوگی لیکن ثواب کا باعث ہوگی۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے وَلَا تَمۡشِ فِی الۡاَرۡضِ مَرَحًا (لقمان: ۱۹) ۔ زمین پر اکڑ کر نہ چلو۔ لیکن حدیث سے ثابت ہے کہ ایک جنگ میں ایک شخص اکڑ کر اور چھاتی نکال کر چلتا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ کر فرمایا کہ یہ فعل خدا تعالیٰ کو ناپسند ہے لیکن اس وقت االلہ تعالیٰ اس کو پسند کرتاہے۔ پس ع

گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی

غرض خُلق محل پر مومن اور غیر محل پر کافر بنادیتا ہے۔ میں پہلے کہہ چکاہوں کہ کوئی خُلق بُرا نہیں بلکہ بداستعمالی سے بُرے ہوجاتے ہیں۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غصّہ کے متعلق آیا ہے کہ آپ سے کسی نے پوچھا کہ قبل از اسلام آپ بڑے غصّہ ور تھے۔ حضرت عمرنے جواب دیا کہ غصّہ تو وہی ہے البتہ پہلے بے ٹھکانے چلتا تھامگر اب ٹھکانے سے چلتا ہے۔ اسلام ہر ایک قوت کو اپنے محل پر استعمال کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔ پس یہ کبھی کوشش مت کرو کہ تمہارے قویٰ جاتے رہیں بلکہ ان قویٰ کا صحیح استعمال سیکھو۔ یہ سب جھوٹے اور خیالی عقائد ہیں جو کہتے ہیں کہ ہماری تعلیم یہ ہے کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دو۔ ممکن ہے یہ تعلیم اس وقت قانون مختصّ المکان یا مختصّ الزّمان کی طرح ہو۔ ہمیشہ کے لئے یہ قانون نہ کبھی ہو سکتا ہے اور نہ یہ چل سکتا ہے۔ اس لیے کہ انسان ایک ایسے درخت کی طرح ہے جس کی شاخیں چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ اگر اس کی ایک ہی شاخ کی پروا کی جاوے تو باقی شاخیں تباہ اور برباد ہو جائیں گی۔ عیسائی مذہب کی اس تعلیم میں جو نقص ہے وہ بخوبی ظاہر ہے۔ اس سے انسان کے تمام قویٰ کی نشوونما کیونکر ہوسکتی ہے۔ اگر صرف درگذر ہی ایک عمدہ چیز ہوتی تو پھر انتقامی قوت اس کی قوتوں میں کیوں رکھی گئی ہے؟اور کیوں پھر اس درگذر کی تعلیم پر عمل نہیں کیا جاتا؟ مگر برخلاف اس کے کامل تعلیم وہ ہے جو اسلام نے پیش کی اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہم کو ملی ہے اور وہ یہ ہے وَجَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثۡلُہَا ۚ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ (الشوریٰ: ۴۱) ۔

یعنی بدی کی جزا اسی قدر بدی ہے جو کی گئی ہولیکن جو شخص گناہ کو بخش دے اور ایسے موقعہ پر بخش دے کہ اس سے کوئی اصلاح ہوتی ہو،کوئی شر پید انہ ہوتا ہو تو اس کا اجر االلہ تعالیٰ پر ہے۔

اس سے صاف طور پرظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا ہر گز یہ منشاء نہیں کہ خواہ نخواہ ضرور ہر مقام پر شر کا مقابلہ نہ کیا جاوے اور انتقام نہ لیا جاوے بلکہ منشاءِ الٰہی یہ ہے کہ محل اور موقعہ کو دیکھنا چاہیے کہ آیا وہ موقع گناہ کے بخش دینے اور معاف کر دینے کا ہے یا سزا دینے کا۔اگر اس وقت سزا دینا ہی مصلحت ہو تو اس قدر سزا دی جاوے جو سزاوار ہے اور اگر عفو کا محل ہے تو سزا کا خیال چھوڑ دو۔

یہ خوبی ہے اس تعلیم میں کیونکہ وہ ہر پہلو کا لحاظ رکھتی ہے۔ اگر انجیل پر عمل کرکے ہر شریر اور بدمعاش کو چھوڑ دیا جاوے تو دنیا میں اندھیر مچ جاوے۔ پس تم ہمیشہ یہی خیال رکھو کہ تمام قویٰ کو مردہ مت تصور کرو۔ تمہاری کوشش یہ ہو کہ محل پر استعمال کرو۔ میں یقیناً کہتا ہوں کہ یہ تعلیم ایسی ہے جس نے انسانی قویٰ کے نقشہ کو کھینچ کر دکھا دیا ہے مگر افسوس ہے ان لوگوں پر جو عیسائیوں کی میٹھی میٹھی باتیں سن کر فریفتہ ہو جاتے ہیں اور اسلام جیسی نعمت کو ہاتھ سے چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ صادق ہر حالت میں دوسروں کے واسطے شیریں ظاہر نہیں ہوتا۔ جس طرح کہ ماں ہر وقت بچے کو کھانے کے واسطے شیرینی نہیں دے سکتی بلکہ وقتِ ضرورت کڑوی دوائی بھی دیتی ہے۔ ایساہی ایک صادق مصلح کا حال ہے۔ یہی تعلیم ہر پہلو پر مبارک تعلیم ہے۔ خدا ایسا ہے کہ سچا خدا ہے۔ ہمارے خدا پر عیسائی بھی ایمان لاتے ہیں۔ جو صفات ہم خداتعالیٰ کی مانتے ہیں وہ سب کو ماننی پڑتی ہیں۔ پادری فنڈر ایک جگہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ اگر کوئی ایسا جزیرہ ہو جہاں عیسائیت کا وعظ نہیں پہنچا تو قیامت کے دن ان لوگوں سے کیا سوال ہوگا؟تب خود ہی جواب دیتا ہے کہ اُن سے یہ سوال نہ ہوگا کہ تم یسوع پر اور اس کے کفارہ پر ایمان لائے تھے یا نہ لائے تھے بلکہ اُن سے یہی سوال ہوگا کہ کیا تم اُس خداکو مانتے ہو جو اسلام کی صفات کا خد اواحد لاشریک ہے۔

اسلام کا خدا وہ خدا ہے کہ ہر ایک جنگل میں رہنے والا فطرتاً مجبور ہے کہ اس پر ایمان لائے۔ہر ایک شخص کا کانشنس اور نور قلب گواہی دیتا ہے کہ وہ اسلامی خدا پر ایمان لائے۔اس حقیقت اسلام کو اور اصل تعلیم کو جس کی تفصیل کی گئی،آج کل کے مسلمان بھول گئے ہیں اور اِسی بات کو پھر قائم کر دینا ہمارا کام ہے اوریہی ایک عظیم الشان مقصد ہے جس کو لے کر ہم آئے ہیں۔

اِن اُمور کے علاوہ جو اوپر بیان کئے گئے اور بھی علمی اعتقادی غلطیاں مسلمانوں کے درمیان پھیل رہی ہیں جن کا ادا ٭ کرنا ہمارا کام ہے مثلاً ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ اور اس کی ماں مس شیطان سے پاک ہیں اور باقی سب نعوذ بااللہ پاک نہیں ہیں۔ یہ ایک صریح غلطی ہے بلکہ کفر ہے اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت اہانت ہے۔ ان لوگوں میں ذرّہ بھی غیرت نہیں جو اس قسم کے مسائل گھڑ لیتے ہیں اور اسلام کو بے عزت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ لوگ اسلام سے بہت دور ہیں۔ اصل میں یہ مسئلہ اس طرح سے ہے کہ قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ پیدائش دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک مس روح القدس سے اور ایک مس شیطان سے۔ تمام نیک اور راستباز لوگوں کی اولاد مس روح القدس سے ہوتی ہے۔ اور جو اولاد بدی کا نتیجہ ہوتی ہے وہ مس شیطان سے ہوتی ہے۔ تمام انبیاء مس روح القدس سے پیدا ہوئے تھے۔ مگر چونکہ حضرت عیسیٰ کے متعلق یہودیوں نے یہ اعتراض کیا تھا کہ وہ نعوذ بااللہ ولد الزنا ہیں اور مریم کا ایک اور سپاہی پنڈارانام کے ساتھ تعلق ناجائز کا ذریعہ ہیں اور مس شیطان کا نتیجہ ہیں۔ اس واسطے االلہ تعالیٰ نے اُن کے ذمہ سے یہ الزام دور کرنے کے واسطے اُن کے متعلق یہ شہادت دی تھی کہ اُن کی پیدائش بھی مس روح القدس سے تھی۔ چونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء کے متعلق کوئی اس قسم کااعتراض نہ تھا اس واسطے ان کے متعلق ایسی بات بیان کرنے کی ضرورت بھی نہ پڑی۔

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین عبد االلہ اور آمنہ کو تو پہلے ہی سے ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور ان کے متعلق ایسا خیال و گمان بھی کبھی کسی کو نہ ہوا تھا۔ ایک شخص جو مقدمہ میں گرفتار ہو جاتا ہے تو اس کے واسطے صفائی کی شہادت کی ضرورت پڑتی ہے لیکن جو شخص مقدمہ میں گرفتار ہی نہیں ہوا۔اس کے واسطے صفائی کی شہادت کی کچھ ضرورت ہی نہیں۔

ایسا ہی ایک اور غلطی جو مسلمانوں کے درمیان پڑ گئی ہوئی ہے۔ وہ معراج کے متعلق ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوا تھا مگر اس میں جو بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ وہ صرف ایک معمولی خواب تھا۔ سو یہ عقیدہ غلط ہے اور جن لوگوں کا عقیدہ ہے کہ معراج میں آنحضرت اِسی جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے۔ سو یہ عقیدہ بھی غلط ہے۔ بلکہ اصل بات اور صحیح عقیدہ یہ ہے کہ معراج کشفی رنگ میں ایک نورانی وجود کے ساتھ ہوا تھا۔ وہ ایک وجود تھا مگر نورانی اور ایک بیداری تھی مگر کشفی اور نورانی جس کو اِس دنیا کے لوگ نہیں سمجھ سکتے مگر وہی جن پر وہ کیفیت طاری ہوئی ہو۔ ورنہ ظاہری جسم اور ظاہری بیداری کے ساتھ آسمان پر جانے کے واسطے تو خود یہودیوں نے معجزہ طلب کیا تھا جس کے جواب میں قرآن شریف میں کہا گیا تھا۔ قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا (بنی اسرائیل: ۹۴) کہہ دے میرا رب پاک ہے میں تو ایک انسان رسول ہوں۔ انسان اس طرح اُڑ کر کبھی آسمان پرنہیں جاتے۔ یہی سنت االلہ قدیم سے جاری ہے۔

ایک اور غلطی اکثر مسلمانوں کے درمیان ہے کہ وہ حدیث کو قرآن شریف پر مقدم کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ غلط بات ہے۔قرآن شریف ایک یقینی مرتبہ رکھتا ہے اور حدیث کا مرتبہ ظنی ہے۔حدیث قاضی نہیں بلکہ قرآن اُس پر قاضی ہے۔ ہاں حدیث قرآن شریف کی تشریح ہے۔اس کو اپنے مرتبہ پر رکھنا چاہیے۔حدیث کو اس حدتک ماننا ضروری ہے کہ قرآن شریف کے مخالف نہ پڑے اور اس کے مطابق ہولیکن اگر اس کے مخالف پڑے تو وہ حدیث نہیں بلکہ مردود قول ہے۔لیکن قرآن شریف کے سمجھنے کے واسطے حدیث ضروری ہے۔قرآن شریف میں جو احکام الٰہی نازل ہوئے آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم ٭ ان کو عملی رنگ میں کرکے اور کراکے دکھادیا اور ایک نمونہ قائم کر دیا۔اگر یہ نمونہ نہ ہوتا تو اسلام سمجھ میں نہ آسکتالیکن اصل قرآن ہے۔بعض اہل کشف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست ایسی احادیث سنتے ہیں جو دوسروں کو معلوم نہیں ہوئیں یا موجودہ احادیث کی تصدیق کر لیتے ہیں۔

غرض اس قسم کی بہت سی باتیں ہیں جو کہ ان لوگوں میں پائی جاتی ہیں جن سے خداتعالیٰ ناراض ہے اور جو اسلامی رنگ سے بالکل مخالف ہیں۔ اس واسطے االلہ تعالیٰ اب ان لوگوں کو مسلمان نہیں جانتا جب تک کہ وہ غلط عقائد کو چھوڑ کر راہِ راست پر نہ آجاویں اور اس مطلب کے واسطے خدا تعالیٰ نے مجھے مامور کیا ہے کہ میں اِن سب غلطیوں کو دور کرکے اصلی اسلام پھر دنیا پر قائم کروں۔

یہ فرق ہے ہمارے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان۔ ان کی حالت وہ نہیں ر ہی جو اسلامی حالت تھی۔ یہ مثل ایک خراب اور نکمے باغ کے ہوگئے۔ ان کے دل ناپاک ہیں اور خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ایک نئی قوم پید اکرے جو صدق اور راستی کو اختیار کرکے سچے اسلام کا نمونہ ہو۔ فقط۔

(الحکم مورخہ ۱۷؍فروری۔ ۱۷؍مئی و ۱۷؍جون ۱۹۰۶ء)