ملفوظات — جلد 10

صفحات ۱–۳۹۸

OCR draft for review · book 693-9155 · printed pages 1–398. The small grey number in the margin marks where each printed page begins.

فہرست

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ(الفاتحۃ:۱)

نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ وَ عَلٰی عَبْدِہِ الْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدِ

ملفوظات

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام

بلا تاریخ۱؎

مخالفت مفید ہوتی ہے

ذکر ہوا کہ کشمیر میں ایک بڑا مولوی میر واعظ ہے وہ پہلے اس سلسلہ کے متعلق خاموش تھا۔ مگر جب سے مولوی عبد اللہ صاحب نے اس کو مخاطب کر کے اشتہارات دئیے وہ بھی اپنے وعظ میں مخالفت کرنے لگا ہے۔

حضرت نے فرمایا۔

اس معاملہ میں مولوی عبد اللہ کی کارروائی درست تھی۔ مخالفت سے ڈرنا نہیں چاہیے بلکہ اس سے فائدہ ہوتا ہے۔ یہی قدیم سے سنّت اللہ چلی آتی ہے۔ جب کبھی کوئی نبی پیدا ہوتا ہے لوگ اس کی مخالفت شروع کرتے ہیں سبّ وشتم سے کام لیتے ہیں۔ اسی ضمن میں کتابوں کے دیکھنے اور صحیح حالات کے سننے اور معلوم کرنے کا بھی ان کو موقع مل جاتا ہے۔ دنیا کے کیڑے جو اپنے دنیاوی کاموں میں مستغرق ہوتے ہیں ان کو فرصت ہی کہاں ہے کہ دینی امور کی طرف متوجہ ہوں لیکن مخالفت کے سبب ان کو بھی غور و فکر کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور ان کے شور و غل کے سبب دوسرے لوگوں کو بھی اس طرف توجہ ہو جاتی ہے کہ دیکھنا چاہیے کہ اصل میں بات کیا ہے؟ کئی لوگوں کے ہمارے پاس خطوط آئے کہ مولوی محمد حسین یا مولوی ثناء اللہ وغیرہ کا انہوں نے نام لیا کہ ان کی مخالفانہ تحریریں اور کتب پڑھ کر ہمیں اس طرف خیال ہوا کہ آخر مرزا صاحب کی تحریر بھی منگوا کر دیکھنی چاہیے اور جب آپ کی کتاب پڑھی تو اس کو روحانیت سے پُر پایا اور حق ہم پر کھل گیا۔

جب انسان توجہ کرتا ہے تو اس کا دلی انصاف خود اُسے ملزم کرتا ہے۔ جہاں مخالفت کی آگ بھڑکتی ہے اور شور اُٹھتا ہے اس جگہ ایک جماعت پیدا ہو جاتی ہے۔ انبیاء سے پہلے تمام لوگ نیک و بد بھائی بھائی بنے ہوتے ہیں۔ نبی کے آنے سے ان کے درمیان ایک تمیز پیدا ہو جاتی ہے سعید الگ ہو جاتے اور شقی الگ ہو جاتے ہیں۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مخالفین کو یہ کلمہ نہ سناتے کہ اِنَّکُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ(الانبیآء:۹۹) تم اور تمہارے معبود سب جہنم کے لائق ہیں تو کفار ایسی مخالفت نہ کرتے مگر اپنے معبودوں کے حق میں ایسے کلمات سن کر وہ جوش میں آ گئے۔

پنجاب میں سب سے زیادہ ہماری مخالفت ہوئی اور اسی جگہ خدا تعالیٰ نے سب سے زیادہ جماعت بھی بنائی ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہلے لوگ امت واحدہ ہوتے ہیں پھر نبی کے آنے سے ان میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ ابو جہل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو مباہلہ کیا تھا اور آخری دعا کی تھی کہ اے خدا! جس نے ملک میں فساد پیدا کر رکھا ہے اور قطع رحم کرتا ہے آج اس کو ہلاک کر دے جس کے نتیجہ میں وہ خود ہلاک ہوا۔ اس کی دعا سے ظاہر ہے کہ آنحضرت کی بعثت سے ملک کی کیا حالت ہو گئی تھی اور باہمی فساد کو کفار کس کی طرف منسوب کرتے تھے؟ جب شور اُٹھتا ہے تو ایسے آدمی بھی پیدا ہو جاتے ہیں جو انصاف کی پابندی کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں مخالفینِ انبیاء کی عادت ہے کہ رسم و عادت کی پیروی کرتے ہوئے ایک بات پر اَڑ جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے اُمید منقطع کر کے اسی پر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہم اسی پر مَر جائیں گے خواہ کچھ ہی ہو۔ مگر خدا تعالیٰ انہی لوگوں میں سے سعید الفطرت انسان بھی پیدا کر دیتا ہے۔

احمدی نام کی وجہ

ذکر آیا کہ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے اپنی جماعت کا ایک الگ نام احمدی کیوں رکھ لیا ہے؟

فرمایا۔ یہ نام تو صرف شناخت کے واسطے ہے جیسا کہ مسلمانوں میں بہت سے فرقے ہیں۔ کوئی اپنے آپ کو حنفی کہتا ہے کوئی شافعی کوئی اہلحدیث وغیرہ۔ چونکہ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جمالی نام احمد کا ظہور ہو رہا ہے اس واسطے اس جماعت کا (نام) احمدی ہوا۔ اور یہ نام اسی زمانہ اور اسی جماعت کے واسطے مقدر تھا اس سے پہلے اگرچہ بعض ایسے آدمی ہوئے جو کسی جماعت کے امام بنے اور ان کے نام میں احمد کا لفظ تھا مگر کبھی خدا تعالیٰ نے کسی جماعت کا (نام) احمدی نہ ہونے دیا۔ مثلاً امام احمد بن حنبل تھے ان کی جماعت حنبلی کہلائی۔ سید احمد بریلوی تھے تو ان کی جماعت مجاہدین کی کہلائی۔ سید احمد علیگڈھ کے تھے تو اُن کے ہم خیال نیچری کہلائے۔ علی ہذا القیاس اور کسی کا نام کبھی احمدی نہیں ہوا۔۱؎

بلا تاریخ

ڈاکٹروں کے لیے عبرت کے مواقع

مختلف قسم کی بیماریوں کا ذکر تھا۔ فرمایا۔ ڈاکٹروں کے واسطے عبرت کے نظاروں سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے بہت موقع ہوتا ہے۔ قسم قسم کے بیمار آتے ہیں۔ بعض کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے جاتے ہیں۔ بعض کی ایسی حالت ہوتی ہے کہ شدت بیماری کے سبب لَا مِنَ الْاَحْیَآءِ وَلَا مِنَ الْاَمْوَاتِ۔ نہ زندوں میں داخل نہ مُردوں میں۔ لیکن ایسے نظاروں کو کثرت کے ساتھ دیکھنے سے سخت دلی بھی پیدا ہو جاتی ہے اور ضروری بھی ہے۔ کیونکہ نرم دل اور رقیق القلب ایسا کام نہیں کر سکتا کیونکہ سرجری کا کام بہت حوصلے کا کام ہے۔

اس زمانہ کے مُلّاں

فرمایا۔ اس زمانہ کے مُلّانوں کو بھی مُردوں کے عبرت انگیز نظاروں کو بہت دیکھنا پڑتا ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ وہ بھی سخت دل ہو گئے ہیں۔ کلکتہ میں ایک مُلّاں کا ذکر اخبار میں لکھا ہے کہ اس پر کسی قرض خواہ نے نالش کی تو اس نے جوابِ دعویٰ میں کہا کہ امسال کلکتہ کی صحت اچھی رہی اور لوگ بہت نہیں مَرے اس واسطے میں کچھ دے نہیں سکتا۔ البتہ بسبب قحط و وبا اگلے سال لوگوں کے بہت مَرنے اور معقول آمدنی حاصل ہونے کی اُمید ہے پھر قرضہ ادا کیا جائے گا۔ ایسا ہی اس جگہ دو ملّانوں کے درمیان جو بھائی تھے باہمی تنازعے ہونے پر ان کے درمیان مسلمانوں کے گھروں کی تقسیم کر دی گئی۔ تو ایک مُلّاں اس بات پر ناراض ہوا کہ جو لوگ میرے حصے میں آئے ان کے قد چھوٹے ہیں اور ان کے کفن پر سے جو چادر اترے گی وہ چھوٹی ہوگی۔ اس قدر رذالت ان لوگوں میں آ گئی ہے۔ اللہ رحم کرے۔

ایک آیت کا القائی ترجمہ

فرمایا۔ آیت قرآنی قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰٮہَا وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰٮہَا(الشّمس:۱۰، ۱۱) کا ترجمہ اردو میں ایک دفعہ سوچتا تھا تو یہ شعر لکھا گیا۔

کوئی اس پاک سے جو دل لگاوے

کرے پاک آپ کو تب اس کو پاوے

تصوّف کی غلط اصطلاحات

فرمایا۔ سیدھی اور سچی اور سادہ عام فہم منطق وہ ہے جو قرآن شریف میں ہے اس میں کوئی پیچیدگی نہیں۔ ایک سیدھی راہ ہے جو خدا تعالیٰ نے ہم کو سکھلا دی ہے۔ چاہیے کہ آدمی قرآن شریف کو غور سے پڑھے۔ اس کے اَمر اور نہی کو جدا جدا دیکھ رکھے اور اس پر عمل کرے اور اسی سے وہ اپنے خدا کو خوش کر لے گا۔ باقی منطقیوں نے اور صوفیوں نے جو اصطلاحیں بنائی ہیں وہ اکثر لوگوں کے واسطے ٹھوکر کا موجب ہو جاتی ہیں کیونکہ ان میں پیچیدگیاں اور مشکلات ہیں۔

فرمایا۔ ایک بزرگ نے جس پر ہم حُسنِ ظن رکھتے ہیں کہ اس نے کسی نیک نیتی سے لکھا ہوگا۔ گو اس کا قول صحیح نہیں ہے یہ لکھا ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی کامل نہ تھے کیونکہ ان کا پورے طور پر نزول نہ تھا صرف صعود تھا اسی وجہ سے ان سے بہت سی کرامتیں صادر ہوئیں۔ اگر نزول پورا ہوتا تو کوئی کرامت صادر نہ ہوتی۔ اس قول میں جس قدر تخالف قرآنی ہے وہ ظاہر ہے۔ یہ ایسا قول ہے کہ قرآن اور حدیث سے سراسر مخالف ہے درحقیقت شیخ عبدالقادر جیلانی خدا تعالیٰ کے کامل بندوں میں سے تھے۔ اگر ان پر معجزات کے متعلق اعتراض کیا جاوے تو پھر یہ اعتراض تمام انبیاء پر وارد ہوتا ہے۔ یہ ان صوفیوں کی غلط اصطلاحوں کی پیروی کا نتیجہ ہے جن کی تصدیق قرآن وحدیث سے نہیں ملتی۔

الہام بھول جانے میں حکمت الٰہی ہوتی ہے

فرمایا۔ شاید ہی کوئی ایسی رات گذرتی ہوگی جس میں کوئی نظارہ آئندہ کے متعلق مجھے نہ دکھایا جاتا ہو۔ لیکن بہت سی باتیں صبح تک بھول جاتی ہیں اور توفیق ہی نہیں ہوتی کہ ان کو ایسے وقت میں لکھ لیا جاوے کہ پھر نہ بھولیں۔ اس میں حکمت الٰہی ہے وہ جس بات کو چاہے یاد رکھواتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بھلوادیتا ہے۔۱؎


بلا تاریخ

انذاری امور ٹل سکتے ہیں

فرمایا۔ خدا تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے۔ ہمارا آزمودہ ہے کہ بعض دفعہ ایک الہام ہوتا ہے جو کسی پیشگوئی پر مشتمل ہوتا ہے اگر وہ انذاری اَمر ہوتا ہے اور ہم دعا میں مصروف ہو جاتے ہیں تو بسا اوقات مثلاً ایک گھنٹہ کے بعد وہ منسوخ ہو جاتا ہے اور وہ بات خدا تعالیٰ کے دوسرے حکم سے ٹل جاتی ہے۔

فرشتوں کے ذریعہ سے الہام

فرمایا۔ بعض الہامات کے وقت اگرچہ فرشتہ نظر نہیں آتا تاہم الفاظ کے معانی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کلام فرشتے کے ذریعہ سے نازل ہوا ہے۔ مثلاً الہامات میں ایسے الفاظ کہ قَالَ رَبُّکَ اور نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمۡرِ رَبِّکَ(مریم:۶۵)۔

قادیان کی تاریخی حیثیت

فرمایا کہ اس قادیان میں پانچ سو حافظ قرآن شریف کے رہتے تھے اس وقت اس جگہ کا نام اسلام پور تھا۔ اب یہاں کیا ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں میں بھی اس قدر تعداد حفاظ کی نہیں مل سکتی۔ اس جگہ کی اسلامی شوکت کو سکھوں نے خراب کر دیا تھا۔ یہاں بہت سے سکھ رہتے تھے جن میں سے بعض نے سید احمد صاحب کے ساتھ بھی لڑائیاں کی تھیں مگر رفتہ رفتہ وہ سب مَر گئے اور اب دو چار باقی ہوں گے۔

جہاد کی حقیقت

فرمایا۔ جہاد کا مسئلہ بھی ہمارے مولویوں نے کچھ اُلٹا ہی سمجھا ہے۔ قرآن شریف اور احادیث اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح سے کہیں ایسا نہیں معلوم ہوتا کہ کوئی اس قسم کا جہاد اسلام میں جائز ہو یا کبھی کیا گیا ہو کہ کفار کو زبردستی مسلمان بنایا جائے۔ تیرہ سال تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہؓ نے کفار کے ہاتھوں سے دُکھ اُٹھایا۔ جب کفار کی زیادتیاں حد سے بڑھ گئیں تب اجازت ہوئی کہ اُن لوگوں کو قتل کرو جو تم کو قتل کرتے ہیں اور بسبب مظلوم ہونے کے مسلمانوں کو بھی اجازت دی گئی کہ ہاتھ اُٹھائیں۔ سارا خلاصہ جہاد کا یہی ہے اور جزیہ جو بہت ہی قلیل رقم کا ٹیکس ہے خود اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ کفار کو اپنے ماتحت امن کے ساتھ رکھنے کا اسلامیوں کو حکم تھا۔

اسی بات پر حضرت مولوی نور الدین صاحب نے فرمایا کہ قرآن شریف میں جو یہ آیت ہے۔ وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ لَّہُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذۡکَرُ فِیۡہَا اسۡمُ اللّٰہِ کَثِیۡرًا ؕ وَلَیَنۡصُرَنَّ اللّٰہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ(الحج:۴۱) اس آیت سے بھی ثابت ہوا ہے کہ مذہب کی خاطر جنگ کرنا اور دوسرے مذاہب کو تلوار کے ذریعہ سے منہدم کرنے کی کوشش کرنا جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام مذاہب کے نشانات کو قائم رکھنا چاہتا ہے۔ اور جو سچا ہے اس کی خاص نصرت فرماتا ہے وہ خود بخود فروغ پکڑتا ہے اس کو کسی جہاد کی ضرورت نہیں۔

انبیاء کی تعریف کی وجہ

فرمایا۔ آجکل یہ حالت ہے کہ رات کے وقت جس کی زبان پر ایک لفظ جاری ہوا وہ سمجھتا ہے کہ میں مُلہَم ہو گیا اور اس پر فخر کرنے لگتا ہے اور اپنے نفس کی حالت کو نہیں دیکھتا کہ وہ کیسی ہے؟ سارے قرآن شریف کو پڑھ کر دیکھو اس میں کہیں نہیں یہ لکھا کہ کسی شخص پر خدا تعالیٰ اس واسطے خوش ہوا کہ اس پر الہام ہوتا تھا بلکہ انبیاء کی تعریف خدا نے قرآن شریف میں اس وجہ سے کی ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے حضور میں صدق اور وفا کا کمال دکھایا اور اعمال صالحہ بجالائے اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کیا۔ یہ ایک نہایت مکروہ طریق ہے جو ایک خواب پر انسان فخر کرتا ہے یہ ایک زہر ناک غلطی ہے۔ یہ باتیں انسان کے واسطے ناز کے لائق نہیں۔

انسان کا تو یہ کام ہے کہ اپنے تمام قویٰ اللہ تعالیٰ کے راہ میں خرچ کر ڈالے۔ خدا تعالیٰ کے تمام حکموں پر عمل کرے۔ تب وہ خدا کا ولی ہوگا۔ بغیر دلیل کے کوئی دعویٰ نہیں مانا جا سکتا۔ بغیر دلیل کے تو پیغمبر بھی نہیں مانے جاتے۔ حضرت موسٰی نے بھی اللہ تعالیٰ سے عرض کی تھی کہ مجھے کوئی دلیل دی جاوے جو کہ میں دنیا کے آگے پیش کروں۔۱؎

۱۱؍نومبر ۱۹۰۷ء

(بوقتِ ظہر)

)سائیں عالم دین صاحب ساکن دھارووال نے اپنے مجاہدات کا حال سنایا اور طرح طرح کے الہامات اور کشوف بیان کئے اور ایسے ایسے حیرت انگیز مقامات کا ذکر کیا جہاں وہ خود بخود پہنچ کر کل نبیوں اور پیغمبروں سے اپنے آپ کو افضل اور اعلیٰ سمجھتے تھے اور (معاذ اللہ )بذات خود خدائی کے دعویدار بن بیٹھتے تھے اور کبھی خیال کرتے تھے کہ میں خالق اور مخلوق میں درمیانی واسطہ اور وسیلہ ہوں اور خلقت میری محتاج ہے اور پھر اپنے آپ کو بالکل بے پروا اور بے نیاز سمجھتے تھے۔ بیان کرتے تھے کہ آئندہ مجھ سے کچھ نشان ظاہر ہوں گے اور عجیب تر یہ کہ حضرت اقدس سے مخاطب ہو کر یہ بھی کہنے لگ جاتے تھے کہ میں آپ کو مسیح اور مہدی سمجھتا ہوں اور ایسا اُولوالعزم امام مانتا ہوں کہ جیسا نہ آگے کبھی ہوا اور نہ ہوگا اور ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا بھی دم بھرتے تھے۔ غرض ایک فقرہ تو ایسا بولتے تھے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ سائیں صاحب اپنے آپ کو تمام دنیا سے اعلیٰ اور زکی النفس خیال کرتے ہیں اور ساتھ ہی کل ذات اور کل فعل والے سبقوں کی عجیب عجیب تجلیات سناتے تھے لیکن پھر باتوں ہی باتوں میں اپنے آپ کو حقیر ذلیل اور کچھ کا کچھ سمجھنے لگ جاتے تھے۔ غرض بیچارے (خدا اپنے فضل و کرم سے ان پر رحم کرے )پیچ در پیچ مشکلات میں پھنسے ہوئے تھے اور فیج اعوج کی مقرر کردہ منزلوں کو طے کرتے کرتے عجیب وغریب اُتار چڑھاؤ میں مشغول تھے اور مصیبت پر مصیبت یہ تھی کہ اس قسم کے معاملات سے اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگ گئے تھے اور خود ستائی اور کبریائی کی منازل میں بھی کافی گذر کر چکے تھے۔ اسی لئے وہاں کے احمدی احباب نے سائیں صاحب کو مخبوط الحواس اور پاگل خیال کر کے نماز کے لئے امام بنانا چھوڑ دیا اور اُن کے پیچھے نماز کا ادا کرنا نا جائز جانا۔ سائیں صاحب موصوف کی اس قسم کی سرگذشت سن کر حضرت اقدس (علیہ السلام )نے فرمایا۔

سچے الہام کی شناخت

اصل بات یہ ہے کہ دنیا میں مختلف طبقات کے انسان پائے جاتے ہیں مگر مسلمان تو انسان اسی صورت میں رہ سکتا ہے جب سچے دل سے کلمہ طیبہ اللّٰہُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰہَ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ اَلۡمَلِکُ الۡقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ(الحشر:۲۳ تا ۲۴) پر ایمان لاوے اور پورے طور سے اس پر کار بند ہو جاوے۔ اور اس کے بعد قرآن شریف پر ایمان رکھے کہ وہ خدا تعالیٰ کی سچی اور کامل کتاب ہے اور وہی ایک کلام ہے جس پر خدا کی مہر ہے۔ انسان کو اسی کے مطابق عمل درآمد کرنا چاہیے اور اسی کے بتائے ہوئے احکام پر چلنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دکھائے ہوئے نمونہ پر کاربند ہونا یہی صراط مستقیم ہے اس کے سوائے کوئی تحریر، کشف رؤیا یا الہام بغیر مہر کے جائز نہیں۔ جب تک کسی الہام پر خدا کی مہر نہ ہو وہ ماننے کے لائق نہیں ہوتا۔ دیکھو! قرآن شریف کو عربوں جیسے اَشدّ کافر کب مان سکتے تھے اگر خدا کی مہر اس پر نہ ہوتی ہمیں بھی اگر کوئی کشف رؤیا یا الہام ہوتا ہے تو ہمارا دستور ہے کہ اُسے قرآن مجید پر عرض کرتے ہیں اور اسی کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

اور پھر یہ بھی یاد رکھو کہ اگر کوئی الہام قرآن مجید کے مطابق بھی ہو لیکن کوئی نشان ساتھ نہ ہو تو وہ قابلِ قبول نہیں ہوتا۔ قابل قبول الہام وہی ہوتا ہے جو قرآن مجید کے مطابق بھی ہو اور ساتھ ہی اس کی تائید میں نشان بھی ہوں۔ اگر ایک شخص کہے کہ میں بادشاہ کے دربار سے فلاں عہدہ حاصل کر کے آیا ہوں لیکن اس کے ساتھ کوئی نشان نہ ہو اور بادشاہی سامان اور فوج سپاہ سے بالکل خالی ہو تو صرف یہ کہنے سے کہ مجھے فلاں عہدہ مل گیا ہے اس کی کچھ عزت نہیں ہوگی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسل م معصوم اور خاتم الا نبیاء تھے

ہمارا تو یہی ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہ معصوم نبی ہے کہ جس پر تمام کمالات نبوت کے ختم ہو گئے ہیں اور ہر ایک طرح کا کمال اور درجہ انہیں پر ختم ہو گیا ہے اور ان پر وہ کامل اور جامع کتاب نازل کی گئی جس کے بعد قیامت تک کوئی اور شریعت نہیں آئے گی۔ وہ ایسی کلام ہے جس پر خدا کی مہر ہے اور جو ہزاروں فرشتوں کے ساتھ اور ان کی حفاظت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی۔ اگر کوئی الہام ہو یا کشف ہو یا وحی ہو جب تک وہ اس کے ساتھ مطابقت نہ رکھے گی منجانب اللہ نہیں ٹھہر سکتی۔ ہاں اگر کوئی الہام یا وحی اس کے مطابق ہو اور ساتھ ہی اپنی تائید میں نشانات بھی رکھتی ہو تو سب سے پہلے ہم اس کو قبول کریں گے۔ ہمارا مقدور نہیں کہ ایک ذرّہ بھر بھی چون و چرا کریں۔

کشوف و الہامات کی تین اقسام

الہام، کشف یا رؤیا تین قسم کے ہوتے ہیں۔ (۱) اوّل وہ جو خدا کی طرف سے ہوتے ہیں اور وہ ایسے شخصوں پر نازل ہوتے ہیں جن کا تزکیہ نفس کامل طور پر ہو چکا ہوتا ہے اور وہ بہت سی موتوں اور محویت نفس کے بعد حاصل ہوا کرتا ہے اور ایسا شخص جذبات نفسانیہ سے بکلی الگ ہوتا ہے اور اس پر ایک ایسی موت وارد ہو جاتی ہے جو اس کی تمام اندرونی آلائشوں کو جلا دیتی ہے جس کے ذریعہ سے وہ خدا سے قریب اور شیطان سے دُور ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جو شخص جس کے نزدیک ہوتا ہے اسی کی آواز سنتا ہے

(۲)دوسرے حدیث النفس ہوتا ہے جس میں انسان کی اپنی تمنا ہوتی ہے اور انسان کے اپنے خیالات اور آرزوؤں کا اس میں بہت دخل ہوتا ہے اور جیسے مثل مشہور ہے بلّی کو چھیچھڑوں کی خوابیں، وہی باتیں دکھائی دیتی ہیں جن کا انسان اپنے دل میں پہلے ہی سے خیال رکھتا ہے اور جیسے بچے جو دن کو کتابیں پڑھتے تورات کو بعض اوقات وہی کلمات ان کی زبان پر جاری ہوجاتے ہیں یہی حال حدیث النفس کا ہے۔

(۳)تیسرے شیطانی الہام ہوتے ہیں۔ ان میں شیطان عجیب عجیب طرح کے دھوکے دیتا ہے کبھی سنہری تخت دکھاتا ہے اور کبھی عجیب وغریب نظارے دکھا کر طرح طرح کے خوش کن وعدے دیتا ہے۔ ایک دفعہ سید عبد القادر رحمۃ اللہ کو شیطان اپنے زرین تخت پر دکھائی دیا اور کہا کہ میں تیرا خدا ہوں۔ میں نے تیری عبادت قبول کی۔ اب تجھے عبادت کی ضرورت نہیں رہی۔ جو چیزیں اب اوروں کے لئے حرام ہیں وہ سب تیرے لیے حلال کر دی گئی ہیں۔ سید عبد القادر رحمۃ اللہ نے جواب دیا کہ دُور ہواے شیطان! جو چیزیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حلال نہ ہوئیں وہ مجھ پر حلال کیسے ہو گئیں؟ پھر شیطان نے کہا کہ اے عبدالقادر! تو میرے ہاتھ سے علم کے زور سے بچ گیا ورنہ اس مقام پر کم لوگ بچتے ہیں۔

یہ سن کر سائیں صاحب بول اُٹھے کہ میں کیا ہوں اور کس مرتبے پر ہوں اور میرا کیا حال ہے؟

حضرت اقدس نے فرمایا۔

مجھے کچھ علم نہیں کہ تم کس مرتبہ پر ہو۔ توبہ و استغفار بہت کرو۔

مُلہمین کے لئےنصیحت

اور یہ باتیں میں صرف تمہارے لئے نہیں کہتا بلکہ ہر ایک کے لئے کہتا ہوں۔ ہماری جماعت میں کوئی پچاس ساٹھ آدمیوں کے قریب ہوں گے جو اس قسم کے دعوے کرتے ہیں۔ دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو صاحبِ وحی ہونے کا دعویٰ کیا تھا تو وہ بے نشان نہیں تھا۔ کافروں نے جب ثبوت مانگا تھا کہ آپ کی وحی کے منجانب اللہ ہونے کی دلیل کیا ہے؟ تو ان کو جواب دیا گیا تھا قُلۡ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَبَیۡنَکُمۡ(بنی اسرآءیل:۹۷) ١ۙ وَمَنۡ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ الۡکِتٰبِ(الرّعد:۴۴) یعنی یہ لوگ کہتے ہیں کہ تُو خدا کا رسول نہیں ان کو کہہ دے کہ میرے پاس دو گواہیاں ہیں۔

(۱) ایک تو اللہ کی کہ اس کے تازہ تازہ نشانات میری تائید میں ہیں اور

(۲) دوسرے وہ لوگ جن کو کتاب اللہ کا علم دیا گیا ہے وہ بتا سکتے ہیں کہ میں سچا ہوں۔

یاد رکھو! اللہ تعالیٰ کا نام غیب بھی ہے وہ نہاں در نہاں اور پوشیدہ سے پوشیدہ ہے کسی کا حق نہیں کہ کسی بات کو خدا کا الہام سمجھ لے جب تک کہ خدا کا فعل اس پر شہادت نہ دے۔ شہادت بغیر تو کوئی کام نہیں چلتا۔ اگر شہادتوں یعنی خدا کے نشانوں سے یہ بات ثابت ہو جاوے کہ یہ الہام خدا کی طرف سے ہے تو سب سے پہلے ایمان لانے والے ہم ہیں۔ اپنا قیل وقال تو قابل اعتبار نہیں ہوتا۔ خدا کے فعل کی اس کے ساتھ شہادت ہونی چاہیے۔

ہماری جماعت کے مولوی عبد اللہ صاحب تیماپوری اپنے خطوط کے ذریعہ سے بہت کچھ الہامات اور کشوف لکھا کرتے تھے۔ آخر نتیجہ یہ ہوا تھا کہ چند دنوں کے بعد ان کو جنون ہو گیا۔ تھوڑے دن گذرے ہیں کہ قادیان میں آکر ایسے الہامات سے انہوں نے توبہ کی اور نیز میری بیعت کی۔ میں مانتا ہوں کہ مکالماتِ الٰہیہ حق ہیں اور خدا کے اولیاء مخاطبات اللہ سے شرف پاتے ہیں۔ لیکن یہ مقام بغیر تزکیہ نفس کے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا اور بغیر تزکیہ نفس کے شیطان ان سے یاری کرتا ہے علاوہ اس کے سچے الہام کے لئے ہم پر تین گواہ ہوئے ہیں۔ (۱) اپنی پاک حالت (۲) خدا کے نشانوں کے ساتھ گواہی (۳) تیسرے الہام کی کلامِ الٰہی سے مطابقت۔

یہاں پر پھر سائیں صاحب کہنے لگے کہ پھر میرے ایمان کا کیا حال ہے؟

حضرت اقدس نے فرمایا۔

میرا کام تو ایک حق بات کا پہنچا دینا ہے۔ آگے فائدہ اور نقصان صرف تمہارے لئے ہوگا۔ دوسرے کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ تم توبہ اور استغفار بہت کرو اور رو رو کر خدا سے دعائیں مانگو۔

سائیں صاحب بولے کہ پھر یہ جو مجھے سیر ہوتے ہیں اور عجیب عجیب مقامات دیکھنے میں آتے ہیں کیا یہ یونہی ہیں؟ اور کیا ان کی اصلیت کچھ بھی نہیں؟

ہم کس سیر کے قائل ہیں

حضرت اقدس نے فرمایا۔ ایسی سیروں کا تو میں قائل ہی نہیں۔ ہم تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیر کے قائل ہیں۔ جنہوں نے لاکھوں کروڑوں انسانوں کے سر جھکا دیئے۔ قرآن مجید میں صاف لکھا ہے کہ شیطان کی طرف سے بھی وحی ہوتی ہے اور خدا کی طرف سے بھی ہوتی ہے۔ جو وحی خدا کی طرف سے ہوتی ہے اس میں ایک تاجِ عزت پہنایا جاتا ہے اور خدا کے بڑے بڑے نشان اس کی تائید میں گواہ بن کر آتے ہیں۔

سائیں صاحب نے آدابِ رسول کا لحاظ نہ کر کے پھر قطع کلام کیا اور بولے کہ پھر میرے اختیار میں کیا ہے؟

حضرت اقدس نے فرمایا کہ تم قال اللہ اور قال الرسول پر عمل کرو اور ایسی باتیں زبان پر نہ لاؤ جن کا تمہیں علم نہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ(بنی اسرآءیل:۳۷) تم نیکی کی طرف پورے زور سے مشغول ہو جاؤ اور اعمال صالحہ بجالاؤ۔ اگر تمہاری حالت اس لائق ہو گئی اور تم نے پورے طور پر اپنا تزکیہ نفس کر لیا تو پھر خدا کے مکالمہ مخاطبہ کا شرف بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ اکثر لوگ آجکل ہلاک ہو رہے ہیں۔ ان کی یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی حالت کا مطالعہ نہیں کرتے اور اس تعلق کو نہیں دیکھتے جو وہ خدا سے رکھتے ہیں اور نہیں سوچتے کہ کس زور سے خدا کی طرف جا رہے ہیں اور کیسے کیسے مصائب آنے پر ثابت قدم نکلے ہیں اور ابتلاؤں میں پورے اُترے ہیں۔

انسان کو چاہیے کہ اپنا فرض ادا کرے اور اعمالِ صالحہ میں ترقی کرے۔ الہام کرنا اور رؤیا دکھانا یہ تو خدا کا فعل ہے۔ اس پر ناز نہیں کرنا چاہیے۔ اپنے اعمال کو درست کرنا چاہیے۔

خیر البریّہ کون ہیں

خدا فرماتا ہے۔ اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمۡ خَیۡرُ الۡبَرِیَّۃِ(البیّنۃ:۸) یہ نہیں کہا کہ جن کو کشوف اور الہامات ہوتے ہیں وہ خیر البریّہ ہیں۔ یاد رکھو! ایسی باتیں ہرگز زبان پر نہ لاؤ جو قال اللہ اور قال الرسول کے برخلاف ہوں۔ اس قسم کے الہامات کچھ چیز نہیں۔ دیکھو! بارش کا پانی سب کو خوش کرتا ہے مگر پرنالہ کا پانی لڑائی ڈالتا ہے اور فساد پیدا کرتا ہے۔ جن الہامات کی تائید میں خدا کا فعل نہیں ہوتا اور نشاناتِ الٰہیہ گواہی نہیں دیتے وہ ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے پرنالہ کا پانی۔ مثلاً ایک شخص ایسا ہے کہ نہ اس کے سر پر پگڑی ہے اور نہ پاؤں میں جوتی۔ پھٹے پرانے کپڑے اور ابتر سی حالت ہے اور پھر کہے کہ میں بادشاہ ہوں اور اس ملک کی سب فوجیں میرے کہنے پر عمل کرتی ہیں تو ایسا شخص سوائے سودائی کے اور کون ہوسکتا ہے؟

یاد رکھو! کہ قول بغیر فعل کے کچھ چیز نہیں اور یہ آیت کہ قُلۡ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَبَیۡنَکُمۡ ۙ وَمَنۡ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ الۡکِتٰبِ(الرّعد:۴۴) اس میں ایک عجیب نکتہ ہے یعنی اگر خدا میری گواہی دیتا ہے تو مانو ورنہ نہ مانو۔

اسی طرح براہین احمدیہ میں وہ الہام درج ہے جو خدا نے مجھے کیا تھا اور وہ یہ ہے کہ قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّؤْمِنُوْنَ۔ قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۔ یعنی ان کو کہہ دے کہ میرے پاس میری سچائی پر خدا کی گواہی ہے پس کیا تم خدا کی گواہی قبول کرتے ہو یا نہیں؟

خدا تعالیٰ کی شہادت

دیکھو! براہین احمدیہ میں یہ سلسلہ الٰہی شروع ہی ہوا تھا کہ ساتھ اس کے خدا تعالیٰ کی شہادت بھی موجود ہو گئی۔ سارے انبیاء اولیاء کا اسی پر اتفاق ہے کہ بغیر کسی شہادت کے دعویٰ کرنا جنون ہے۔

سائیں صاحب نے کہا کہ میں تو آپ کو مسیح اور مہدی مانتا ہوں اور دوسرے لوگوں کے پیچھے نماز بھی نہیں پڑھتا ہوں۔ یہ احمدی لوگ میرے پیچھے نماز نہیں پڑھتے اس کی بابت کیا حکم ہے؟

حضرت اقدس نے فرمایا۔

اگر توبہ کرلو اور زبان بند رکھو اور قال اللہ اور قال الرسول کے برخلاف کوئی بات نہ کہو تو پھر یہ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ بغیر دلائل قویہ اور براہین قاطعہ کے دعویٰ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ کو آگ میں ڈالنا۔ یہ کہنا کہ میں فلاں نبی ہوں یا فلاں رسول سے افضل ہوں۔ یہ کفر کے کلمات ہیں۔ دل پر تو کسی کی حکومت نہیں۔ زبان سے ہی انسان کافر ہوجاتا ہے۔ دنیا میں زبان سے ہی سب کام چلتے ہیں۔

زبان کو قابو میں رکھو

دیکھو! عورت اور مرد کا آپس میں نکاح ہوتا ہے تو صرف زبان سے ہی اقرار لیا جاتا ہے اور صرف اتنا کہنے سے کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں ان کا یہ سب رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ایسے ایسے دعوے کرنے ایک لاکھ ۱۲۴۰۰۰ چوبیس ہزار پیغمبروں کی تکذیب کرنا ہے۔ اگر خدا کا خوف ہو تو پھر انسان ایسا نہیں کرتا۔ اگر آپ زبان کو بند رکھیں تو بہتر ورنہ یاد رکھو اس کا نتیجہ تمہارے حق میں اچھا نہیں ہوگا۔

ہر چہ دانا کند کند ناداں

لیک بعد از کمال رسوائی

سائیں صاحب نے کہا۔ تو کیا میں یہ سب باتیں جھوٹ کہتا ہوں؟ حضرت اقدس نے فرمایا۔ میں اس کی نسبت کچھ نہیں کہہ سکتا۔ خدا جانے سچ کہتے ہو یا جھوٹ کہتے ہو۔ سائیں صاحب بولے۔ تُوں مسیح ہیں خلقت دا بادشاہ ہیں۔ اچھا میرے واسطے دعا کر۔ ‘‘حضرت اقدس نے فرمایا۔ ہاں! دعا کروں گا۔۱؎


بلا تاریخ

عقیقہ کے واسطے کتنے بکرے مطلوب ہیں

ایک صاحب کا حضرت اقدس کی خدمت میں سوال پیش ہوا کہ اگر کسی کے گھر میں لڑکا پیدا ہو تو کیا یہ جائز ہے کہ وہ عقیقہ پر صرف ایک ہی بکرا ذبح کرے؟ حضرت مسیح موعودؑ نے جواب میں فرمایا کہ عقیقہ میں لڑکے کے واسطے د۲و بکرے ہی ضروری ہیں لیکن یہ اس کے واسطے ہے جو صاحب مقدرت ہے اگر کوئی شخص دو بکروں کے خریدنے کی طاقت نہیں رکھتا اور ایک خرید سکتا ہے تو اس کے واسطے جائز ہے کہ ایک ہی ذبح کرے اور اگر ایسا ہی غریب ہو کہ وہ ایک بھی نہیں قربانی کر سکتا تو اس پر فرض نہیں کہ خواہ مخواہ قربانی کرے۔ مسکین کو معاف ہے۔

نماز تراویح

ایک شخص نے سوال کیا کہ ماہِ رمضان میں نماز تراویح آٹھ رکعت باجماعت قبل خُفتن مسجد میں پڑھنی چاہیے یا کہ پچھلی رات کو اُٹھ کر اکیلے گھر میں پڑھنی چاہیے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ نماز تراویح کوئی جدا نماز نہیں۔ دراصل نماز تہجد کی آٹھ رکعت کو اوّل وقت میں پڑھنے کا نام تراویح ہے اور یہ ہر دو صورتیں جائز ہیں جو سوال میں بیان کی گئی ہیں۔ آنحضرت نے ہر دو طرح پڑھی ہے لیکن اکثر عمل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر تھا کہ آپ پچھلی رات کو گھر میں اکیلے یہ نماز پڑھتے تھے۔۱؎

بلا تاریخ

فترتِ وحی

فرمایا کہ وحی الٰہی کا یہ قاعدہ ہے کہ بعض دنوں میں تو بڑے زور سے بار بار الہام پر الہام ہوتے ہیں اور الہاموں کا ایک سلسلہ بندھ جاتا ہے اور بعض دنوں میں ایسی خاموشی ہوتی ہے کہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس قدر خاموشی کیوں ہے اور نادان لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اب خدا تعالیٰ نے ان سے کلام کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ نبی کریم پر بھی ایک زمانہ ایسا ہی آیا تھا کہ لوگوں نے سمجھا کہ اب وحی بند ہو گئی چنانچہ کافروں نے ہنسی شروع کی کہ اب خدانعوذ باللہ ہمارے رسول کریم سے ناراض ہو گیا ہے اور اب وہ کلام نہیں کرے گا۔ لیکن خدا تعالیٰ نے اس کا جواب قرآن شریف میں اس طرح دیا ہے کہ وَالضُّحٰی وَالَّیۡلِ اِذَا سَجٰی مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی(الضُّحٰی:۲ تا ۴) یعنی قسم ہے دھوپ چڑھنے کے وقت کی اور رات کی۔ نہ تو تیرے رب نے تجھ کو چھوڑ دیا اور نہ تجھ سے ناراض ہوا۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ جیسے دن چڑھتا ہے اور اس کے بعد رات خود بخود آ جاتی ہے اور پھر اس کے بعد دن کی روشنی نمودار ہوتی ہے اور اس میں خدا تعالیٰ کی خوشی یا ناراضگی کی کوئی بات نہیں۔ یعنی دن چڑھنے سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ اس وقت اپنے بندوں پر خوش ہے اور نہ رات پڑنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر ناراض ہے بلکہ اس اختلاف کو دیکھ کر ہر ایک عقلمند خوب سمجھ سکتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قوانین کے مطابق ہو رہا ہے۔ اور یہ اس کی سنّت ہے کہ دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن ہوتا ہے پس اس سلسلہ کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا کہ اس وقت خدا خوش ہے اور اس وقت ناراض ہے غلط ہے۔

اسی طرح سے آجکل جو وحی الٰہی کا سلسلہ کسی قدر بند رہا ہے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ تجھ سے ناراض ہو گیا ہے یا یہ کہ اس نے تجھ کو چھوڑ دیا ہے بلکہ یہ اس کی نسبت ہے کہ کچھ مدت تک وحی الٰہی بڑے زور سے اور پے در پے ہوتی ہے اور کچھ دنوں تک اس کا سلسلہ بند رہتا ہے اور پھر شروع ہو جاتا ہے اور اس کی بھی وہی مثال ہے جو دن اور رات کے آگے پیچھے آنے کی ہے۔۱؎

۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۷ء

(صبح بوقتِ سیر)

آریوں کے ساتھ مسلمانوں کی صلح کی تجاویز

فرمایا۔ سچا مسلمان تو وہ ہے جو اپنے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسی محبت رکھتا ہے کہ اگر کوئی آنحضرت کی ہتک میں ایک لفظ بھی بولے یا اشارہ بھی کرے تو وہ مَرنے مارنے پر تیار ہو جاتا ہے۔ ہم نے آریوں کے اخباروں میں ایسے مضامین پڑھ کر کہ وہ مسلمانوں سے صلح چاہتے ہیں صلح کی ایک تجویز اپنے مضمون میں پیش کی تھی مگر افسوس ہے کہ انہوں نے قدر نہ کی۔

نوٹ از ایڈیٹر صاحب’’ بدر۔

‘‘حضرت اقدس نے آریوں کی بدزبانی کو دیکھ کر پہلے ہی ایک مضمون میں فرمایا تھا کہ ان لوگوں کے ساتھ ہماری صلح کس طرح ہو سکتی ہے۔ چنانچہ وہ الفاظ کتاب ’’قادیان کے آریہ اور ہم ‘‘میں اس طرح چھپے تھے۔ ’’ہماری شریعت صلح کا پیغام ان کو (آریوں کو )دیتی ہے اور ان کے ناپاک اعتقاد جنگ کی تحریک کر کے ہماری طرف تیر چلا رہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ہندوؤں کے بزرگوں کو مکار اور جھوٹا مت کہو مگر یہ کہو کہ ہزار ہا برسوں کے گذرنے کے بعد یہ لوگ اصل مذہب کو بھول گئے مگر بمقابل ہمارے یہ ناپاک طبع لوگ ہمارے برگزیدہ نبیوں کو گندی گالیاں دیتے ہیں اور ان کو مفتری اور جھوٹا کہتے ہیں۔ کیا کوئی توقع کر سکتا ہے کہ ایسے ہندوؤں سے صلح ہو سکے؟ ان لوگوں سے بہتر سناتن دھرم کے اکثر نیک اخلاق لوگ ہیں جو ہر ایک نبی کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے اور فروتنی سے سر جھکاتے ہیں۔ میری دانست میں اگر جنگلوں کے درندے اور بھیڑئیے ہم سے صلح کرلیں اور شرارت چھوڑ دیں تو یہ ممکن ہے مگر یہ خیال کرنا کہ ایسے اعتقاد کے لوگ کبھی دل کی صفائی سے اہلِ اسلام سے صلح کرلیں گے سراسر باطل ہے بلکہ ان کا ان عقیدوں کے ساتھ مسلمانوں سے سچی صلح کرنا ہزاروں محالوں سے بڑھ کر محال ہے۔ کیا کوئی سچا مسلمان برداشت کر سکتا ہے جو اپنے پاک اور بزرگ نبیوں کی نسبت ان گالیوں کو سنے اور پھر صلح کرے؟ ہرگز نہیں پس ان لوگوں کے ساتھ صلح کرنا ایسا ہی مضر ہے جیسا کہ کاٹنے والے زہریلے سانپ کو اپنی آستین میں رکھ لینا۔ یہ قوم سخت سیاہ دل قوم ہے جو تمام پیغمبروں کو جو دنیا میں بڑی بڑی اصلاحیں کر گئے مفتری اور کذّاب سمجھتے ہیں۔ نہ حضرت موسٰی ان کی زبان سے بچ سکے نہ حضرت عیسیٰؑ اور نہ ہمارے سید و مولا جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے سب سے زیادہ دنیا میں اصلاح کی جن کے زندہ کئے ہوئے مُردہ اب تک زندہ ہیں۔

‘‘اس کے بعد جب کہ اخباروں میں بہت شور مچا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان صلح ہونی چاہیے۔ تب حضرت صاحب نے لیکچر لاہور میں صلح کی ایک تجویز پیش کی جس کے یہ الفاظ تھے۔

’’ہم اس بات کا اعلان کرنا اور اپنے اس اقرار کو تمام دنیا میں شائع کرنا اپنی ایک سعادت سمجھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دوسرے نبی سب کے سب پاک اور بزرگ اور خدا کے برگزیدہ تھے۔ ایسا ہی خدا نے جن بزرگوں کے ذریعہ سے پاک ہدایتیں آریہ ورت میں نازل کیں اور نیز بعد میں آنے والے جو آریوں کے مقدس بزرگ تھے جیسا کہ راجہ رامچندر اور کرشن۔ یہ سب کے سب مقدس لوگ تھے اور ان میں سے تھے جن پر خدا کا فضل ہوتا ہے۔

دیکھو! یہ کیسی پیاری تعلیم ہے جو دنیا میں صلح کی بنیاد ڈالتی ہے اور تمام قوموں کو ایک قوم کی طرح بنانا چاہتی ہے یعنی یہ کہ دوسری قوموں کے بزرگوں کو عزت سے یاد کرو۔ اور اس بات کو کون نہیں جانتا کہ سخت دشمنی کی جڑ ان نبیوں اور رسولوں کی تحقیر ہے جن کو ہر ایک قوم کے کروڑہا انسانوں نے قبول کر لیا۔ ایک شخص جو کسی کے باپ کو گندی گالیاں دیتا ہے اور پھر چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا اس سے خوش ہو۔ یہ کیوں کر ہوسکتا ہے؟

غرض ہم اس اصول کو ہاتھ میں لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں کہ آپ گواہ رہیں جو ہم نے مذکورہ بالا طریق کے ساتھ آپ کے بزرگوں کو مان لیا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے تھے اور آپ کی صلح پسند طبیعت سے ہم اُمیدوار ہیں کہ آپ بھی ایسا ہی مان لیں یعنی صرف یہ اقرار کر لیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے رسول اور صادق ہیں۔ جس دلیل کو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے وہ نہایت روشن اور کھلی کھلی دلیل ہے اور اگر اس طریق سے صلح نہ ہو تو آپ یاد رکھیں کہ کبھی صلح نہ ہوگی بلکہ روز بروز کینے بڑھتے جاویں گے۔۱؎


‘‘بلا تاریخ۲؎

بعض فقہی مسائل کی تشریح

ایک صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں خط لکھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ نماز کس طرح پڑھنی چاہیے؟ اور تراویح کے متعلق کیا حکم ہے اور سفر میں نماز کا کیا حکم ہے؟ اور کچھ اپنے ذاتی معاملات کے متعلق دعا کرائی تھی اس کے جواب میں حضرت نے تحریر فرمایا۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ نماز وہی ہے جو پڑھی جاتی ہے۔ صرف تضرّع اور انکسار سے نماز ادا کرنی چاہیے اور دین، دنیا کے لئے نماز میں بہت دعا کرنی چاہیے خواہ اپنی زبان میں دعا کر لیں۔ اور تمہارے قرضہ کے لئے انشاء اللہ دعا کروں گا۔ یاد دلاتے رہیں۔ لڑکے کے لئے بھی دعا کروں گا۔ سفر میں دوگانہ سنّت ہے۔ تراویح بھی سنّت ہے پڑھا کریں اور کبھی گھر میں تنہائی میں پڑھ لیں کیونکہ تراویح دراصل تہجد ہے کوئی نئی نماز نہیں۔ وتر جس طرح پڑھتے ہو۔ بیشک پڑھو۔

عالم آخرت کے اجسام کیسے ہوں گے

ایک دوست نے حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ عالَمِ آخرت میں کیا یہی اجسام و مکانات وغیرہ جو یہاں ہیں ہوں گے یا اَور؟ حضرت نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ مجھے قرآن شریف کا علم دیا ہے وہ یہی ہے کہ وہ عالم اس عالم سے بالکل علیحدہ ہے۔ مَالَا عَیْنٌ رَاَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ(الحدیث) ہمارا اعتقاد یہی ہے کہ وہ دوسرا عالَم بالکل اس عالَم سے الگ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے۔ بہشت کی تمام چیزیں ایسی ہوں گی کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی دل میں گذریں بلکہ حشر اجساد میں بھی ہمارا یہی مذہب ہے کہ وہ عالَم بھی ایک دوسرا عالَم ہے۔ اجسام ہوں گے مگر وہ نورانی اجسام ہوں گے نہ یہ تاریک اور زوال پذیر اجسام۔ اس جگہ کی حویلیاں اور مکانات جو اینٹ پتھر کی ہیں بہشت میں نہیں جائیں گی۔ واللہ اعلم۱؎


۲۷؍دسمبر ۱۹۰۷ء

(بروز جمعہ)

جلسہ سالانہ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تقریر بے نظیر

ایک عظیم الشان معجزہ

دیکھو اوّل اللہ جلّ شانہٗ کا شکر ہے کہ آپ صاحبوں کے دلوں کو اس نے ہدایت دی اور باوجود اس بات کے کہ ہزاروں مولوی ہندوستان اور پنجاب کے تکذیب میں لگے رہے اور ہمیں دجّال اور کافر کہتے رہے آپ کو ہمارے سلسلہ میں داخل ہونے کا موقع دیا۔ یہ بھی اللہ جلّ شانہٗ کا بڑا معجزہ ہے کہ باوجود اس قدر تکذیب اور تکفیر کے اور ہمارے مخالفوں کی دن رات کی سرتوڑ کوششوں کے یہ جماعت بڑھتی جاتی ہے۔ میرے خیال میں اس وقت ہماری جماعت چا۴ر لاکھ سے بھی زیادہ ہوگی اور یہ بڑا معجزہ ہے کہ ہمارے مخالف دن رات کوشش کر رہے ہیں اور جانکاہی سے طرح طرح کے منصوبے سوچ رہے ہیں اور سلسلہ کو بند کرنے کے لئے پورا زور لگا رہے ہیں مگر خدا ہماری جماعت کو بڑھاتا جاتا ہے۔ جانتے ہو کہ اس میں کیا حکمت ہے؟ حکمت اس میں یہ ہے کہ اللہ جلّ شانہٗ جس کو مبعوث کرتا ہے اور جو واقعی طور پر خدا کی طرف سے ہوتا ہے وہ روز بروز ترقی کرتا اور بڑھتا ہے اور اس کا سلسلہ دن بدن رونق پکڑتا جاتا ہے اور اس کے روکنے والا دن بدن تباہ اور ذلیل ہوتا جاتا ہے اور اس کے مخالف اور مکذّب آخر کار بڑی حسرت سے مَرتے ہیں جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ ہماری مخالفت کرنے والے اور ہمارے سلسلہ کو روکنے والے بیسیوں مَر چکے ہیں۔

خدا کے ارادہ کو جو درحقیقت اس کی طرف سے ہے کوئی بھی روک نہیں سکتا اور خواہ کوئی کتنی ہی کوششیں کرے اور ہزاروں منصوبے سوچے مگر جس سلسلہ کو خدا شروع کرتا ہے اور جس کو وہ بڑھانا چاہتا ہے اس کو کوئی روک نہیں سکتا کیونکہ اگر ان کی کوششوں سے وہ سلسلہ رک جائے تو ماننا پڑے گا کہ روکنے والا خدا پر غالب آگیا حالانکہ خدا پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔

پچیس برس پہلے کی ایک پیشگوئی کا ظہور

پھر ایک یہ معجزہ ہے کہ ان لوگوں کی بابت جو ہزاروں لاکھوں ہمارے پاس آتے رہتے ہیں اللہ جلّ شانہٗ نے براہین احمدیہ میں پہلے ہی سے خبر دے رکھی تھی اور یہ وہ کتاب ہے جو عرب، فارس، انگلستان اور دیگر ممالک میں پچیس۲۵ برس کا عرصہ گذرا شائع ہوچکی ہے۔ اس میں بہت سے اسی زمانہ کے الہام بھی درج ہیں۔ اور یہ ایک ایسی بدیہی بات ہے جس سے کوئی یہودی، عیسائی، مسلمان، برہمو، آریہ انکار نہیں کرسکتا۔ اور اس کتاب کا ہمارے اشدّ العداوت یعنی مولوی محمد حسین صاحب نے اسی زمانہ میں ریویو بھی لکھا تھا اور اسی کتاب براہین احمدیہ میں آنے والی مخلوق کی صاف طور پر پیشگوئی درج ہے اور یہ کوئی معمولی پیشگوئی نہیں بلکہ عظیم الشان پیشگوئی ہے اور وہ یہ ہے۔

الہامات الٰہیہ

یَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍِِ۔ یَاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔ یَنْصُـرُکَ اللّٰہُ مِنْ عِنْدِہٖ۔ یَرْفَعُ اللّٰہُ ذِکْرَکَ وَیُتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ (ص ۲۴۱) اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ وَالۡفَتۡحُ وَرَاَیۡتَ النَّاسَ(النّصر:۲ تا ۳) (ص ۲۴۰) وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیَتْـرُکَکَ حَتّٰی یَمِیْـزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ (ص ۴۹۱) فَحَانَ اَنْ تُعَانَ وَتُعْرَفَ بَیْنَ النَّاسِ (ص ۴۸۹) اِنِّیْ نَاصِرُکَ۔ اِنِّیْ اُحَافِظُکَ۔ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا (ص ۵۰۷ یہ اس کی عبارت ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ اس وقت تو اکیلا ہے مگر وہ زمانہ تجھ پر آنے والا ہے کہ تو تن تنہا نہیں رہے گا۔ فوج در فوج لوگ دور دراز ملکوں سے تیرے پاس آئیں گے اور آپ جانتے ہیں کہ جب اس قدر مخلوق آئے گی تو آخر اُن کے کھانے کے واسطے بھی انتظام چاہیے اس لئے فرمایا یَّاۡتِیۡنَ مِنۡ کُلِّ فَجٍّ عَمِیۡقٍ(الحج:۲۸) یعنی وہ لوگ تحفے تحائف اور ہزاروں روپے تیرے لئے لے کر آویں گے۔ پھر خدا فرماتا ہے۔ وَلَا تُصَعِّرْ لِخَلْقِ اللّٰہِ وَلَا تَسْئَمْ مِّنَ النَّاسِ (ص۲۴۲) یعنی کثرت سے مخلوق تیرے پاس آئے گی۔ اس کثرت کو دیکھ کر گھبرا نہ جانا اور ان کے ساتھ کج خلقی سے پیش نہ آنا۔

پیشگوئی کے وقت قادیان کی حالت

اس وقت جب کہ یہ الہام براہین احمدیہ میں شائع کئے گئے تھے قادیان ایک غیر مشہور قصبہ تھا اور ایک جنگل کی طرح پڑا ہوا تھا۔ کوئی اسے جانتا بھی نہ تھا اور اتنے لوگ جو یہاں بیٹھے ہیں کون کہہ سکتا ہے کہ اس وقت بھی اس کی یہی شہرت تھی بلکہ تم میں سے تقریباً سب کے سب ہی اس گاؤں سے ناواقف تھے۔ اب بتلاؤ کہ خدا کے ارادہ کے بغیر آج سے پچیس۲۵ چھبیس۲۶ برس پیشتر اپنی تنہائی اور گمنامی کے زمانے میں کوئی کس طرح دعویٰ کر سکتا ہے کہ مجھ پر ایک زمانہ آنے ولا ہے جب کہ ہزار ہا لوگ میرے پاس آئیں گے اور طرح طرح کے تحفے اور تحائف میرے لیے لاویں گے اور میں دنیا بھر میں عزت کے ساتھ مشہور کیا جاؤں گا؟

عظیم الشان معجزہ

دیکھو! جتنے انبیاء آج سے پہلے گذر چکے ہیں ان کے بہت سے معجزات تو نہیں ہوا کرتے تھے بلکہ بعض کے پاس تو صرف ایک ہی معجزہ ہوتا تھا اور جس معجزہ کا میں نے بیان کیا ہے یہ ایک ایسا عظیم الشان معجزہ ہے جو ہر ایک پہلو سے ثابت ہے اور اگر کوئی نراہٹ دھرم اور ضدی نہ ہو گیا ہو تو اُسے میرا دعویٰ بہر صورت ماننا پڑتا ہے۔ میری اس تنہائی اور گمنامی کے زمانے کے یہاں کے ہندو بھی گواہ ہیں اور وہ بتا سکتے ہیں کہ میں اس وقت اکیلا تھا اور ارد گرد کے لوگ بھی مجھے نہ جانتے تھے۔ ہاں اگر کوئی ہندو اس سے انکار کرے تو اس کو چاہیے کہ میرے سامنے آکر جھوٹ بولے کہ اس وقت بھی اسی طرح سے لوگ آیا کرتے تھے اور اگر وہ کہیں کہ یہ اتفاقی بات ہے تو پھر کسی اور جگہ سے اس کی نظیر بتاویں اور دنیا بھر میں اس کا پتہ دیں کہ ایک شخص پچیس ۲۵ برس پہلے گمنامی کی حالت میں ہوا ور اس وقت اس نے پیشگوئی کی ہو کہ میرے پاس فوج در فوج لوگ آویں گے اور ہزارہا روپوں کے مال ومتاع اور تحفے تحائف لے کر آویں گے اور میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہر طرح سے مدد دیا جاؤں گا اور پھر اسی طرح سے وہ پیشگوئی پوری بھی ہوگئی ہو۔ اگر یہ دکھا دیویں تو ہم مان لیں گے۔ یونہی بہانہ جوئیاں تو ہم قبول نہیں کریں گے کیونکہ اس طرح سے تو کسی نبی کا کوئی بھی معجزہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ان کو چاہیے کہ کسی کذّاب کی نظیر پیش کریں کہ اس نے پچیس ۲۵ برس پہلے اس طرح سے اقتداری پیشگوئی کی ہو اور پھر وہ پوری بھی ہوگئی ہو۔ اگر یہ ایسا کر دیں تو ہم تیار ہیں کہ انہیں قبول کر لیں۔ اگر کوئی کہے کہ خیر خوابیں آیا ہی کرتی ہیں اور ان میں سے بعض پوری بھی ہوا ہی کرتی ہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ خوابیں تو اکثر چوہڑوں اور چماروں کو بھی آتی ہیں اور ان سب سے پوری ہو جاتی ہیں بلکہ کنچنیاں بھی عموماً کہا کرتی ہیں کہ ہماری فلاں خواب پوری نکلی اور ہمارے گھر میں ایک چوہڑی تھی جو اکثر اپنی خوابیں سناتی تھی اور وہ سچی بھی ہوتی تھیں لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ان میں یہ قدرت اور نصرت کہاں ہوتی ہے اس طرح کی فتح اور مدد اور دشمنوں کا ادبار اور اپنا اقبال، دشمنوں کی ذلّت اور اپنی عزت یہ تو صرف صرف انبیاء کے ہی سپرد ہے۔ دوسرے کا تو اس میں کچھ حصہ ہی نہیں۔ یہ تو خدا تعالیٰ کا فعل ہے یہ خوابیں تو نہیں۔

براہین احمدیہ وہ کتاب ہے کہ جس کے کل مذہبوں والے گواہ ہیں اور ہر ایک ملک میں جس کی اشاعت ہوچکی ہے اور یہاں کے ہندو بھی جس کے گواہ ہیں۔ مثلاً لالہ ملاوامل اور شرمپت جو اسی قادیان کے رہنے والے ہیں وہ پہچان سکتے ہیں کہ یہی باتیں تھیں جو اس وقت لکھی گئی تھیں۔ اب دیکھ لو کہ کیا معجزات اس سے بڑھ کر ہوتے ہیں؟ یہی تو معجزہ ہے کہ پیشگوئی کے بعد ہندو، آریہ، عیسائی، مسلمان، نیچری، وہابی اپنے بیگانے سب کے سب ہمارے دشمن ہو گئے تھے اور ہمارے تباہ کرنے میں پورے زور لگائے گئے اور ایسی ایسی حد بندیاں کی گئی تھیں کہ جو ہمیں السلام علیکم کہے وہ بھی کافر اور جو خوش خلقی سے پیش آوے وہ بھی کافر اور ہمارے ساتھ وہ باتیں کر لینی روا رکھی گئیں جن کو شریف طبع سن بھی نہیں سکتے۔ راستوں میں بیٹھ بیٹھ کر لوگوں کو یہاں آنے سے روکا گیا اور طرح طرح کی باتیں پیش کر کے لوگوں کو ورغلایا گیا۔ مگر آخر وہی ہوا جو خدا تعالیٰ نے پہلے ہی سے فرمایا ہوا تھا کہ لاکھوں لوگ تیرے پاس آویں گے اور ہزار ہار وپے اور تحفے تحائف لائیں گے۔

اور پھر۱؎ عجیب بات یہ ہے کہ ان کی مخالفت اور دشمنی کی بابت بھی خدا تعالیٰ نے پہلے ہی سے اطلاع دی تھی بلکہ اسی کتاب میں ایک یہ الہام بھی درج ہے۔

یَعْصِمُکَ اللّٰہُ مِنْ عِنْدِہٖ وَ اِنْ لَّمْ یَعْصِمْکَ النَّاسُ۔ (ص۵۱۰)

یعنی اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کرے گا اور شریروں کی شرارتوں اور دشمنوں کے منصوبوں سے وہ خود تجھے محفوظ رکھے گا اور اگرچہ لوگ تیری حفاظت اور مدد نہ کریں گے مگر خدا ان سب الزاموں اور بہتانوں سے جو شریر لوگ تجھ پر لگائیں گے تیرا معصوم ہونا ثابت کر دے گا۔ اب دیکھو! یہ کیسی عظیم الشان پیشگوئی ہے جو پوری ہوئی آخر سچائی کی جستجو کرنے والے کو ماننا ہی پڑے گا اور جو بے ایمان ہے اس کا ہم کیا کریں؟ کیونکہ جو سچا ہی نہیں اس کا مذہب بھی کچھ نہیں کتنا بڑا معجزہ ہے کہ یہ سب مخالف پورا زور لگالیں اور جو کچھ کر سکیں کریں مگر ہم اپنے وعدوں کو پورا کریں گے۔

لیکھرام کی ہلاکت کا نشان

ایسا ہی ایک پنڈت لیکھرام تھا وہ قادیان میں آیا اور دو ماہ کے قریب یہاں رہا۔ یہاں کے لوگوں نے اُسے بہکایا اور میری مخالفت پر اُسے آمادہ کیا۔ آخر اُس نے مباہلہ کے طور پر ایک دعا لکھی اور اس میں میرا نام اور اپنا نام لکھ کر اپنے پرمیشر سے نہایت تضرّع اور ابتہال کے ساتھ پرارتھنا کی کہ ہم دونوں میں سے جو


جھوٹا ہے پرمیشر اُسے ہلاک کرے اور اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ وید سچے، ویدوں کی رشی منی بھی سچے اور (نعوذ باللہ )ہمارے نبی کریم جھوٹے اور ہمارا قرآن شریف جھوٹا ہے۔ غرض اسی قسم کی باتیں لکھ کر اس نے اپنے پرمیشر سے فیصلہ چاہا اور بہت دعائیں کیں۔ بہتیر ا چلّایا اور بہت ناک رگڑی۔ ادھر سے چھ برس کی پیشگوئی کی گئی مگر وہ اپنی شوخی کے سبب سے پانچ برس میں ہی مَر گیا اور مَرا بھی اسی طرح جس طرح پیشگوئی میں لکھا تھا یعنی عید کے دوسرے دن چُھری سے قتل کیا گیا۔

اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائیدات

غرض میرے پاس اس قدر نشان ہیں کہ ان کے بیان کرنے کے لئے وقت کافی نہیں میرے پاس تو یہی نشان کافی ہے کہ اتنے آدمی جو یہاں آتے ہیں ان میں سے ہر ایک آدمی ایک ایک نشان ہے اور خدا تعالیٰ نے ان سب کی پہلے سے خبر دے رکھی ہے اور یہ سب نصرتیں اور تائیدیں جو ہمارے شامل حال ہیں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے ان کا ہمارے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے۔ لیکن جو جھوٹا اور مفتری علی اللہ ہوتا ہے اس کو خدا کبھی نصرت نہیں دیتا بلکہ اُلٹا ہلاک کرتا ہے لیکن تم لوگ جانتے ہو کہ ہم پر طرح طرح کے جھوٹے الزام لگائے گئے، مقدمے کئے گئے۔ کچہریوں میں ہمیں بدنام اور بے عزت کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ قتل کے مقدمے دائر کئے گئے۔ قتل کے مقدمہ میں ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے جس کی پیشی میں یہ مقدمہ تھا پوری طرح سے تحقیقات کر کے آخر مجھے کہا کہ میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ آپ بری ہیں۔ اور اگر آپ چاہیں تو ان پر نالش کر کے سزا دلا سکتے ہیں۔

اب بتلاؤ! کہ اگر خدا ہمارے ساتھ نہ ہوتا تو اس قسم کی فتح اور نصرت ہمیں حاصل ہو سکتی تھی؟ اس خون کے مقدمہ میں مولوی محمد حسین نے بھی گواہی دی تھی۔۱؎ لیکن میں نے پہلے ہی سے کہہ دیا تھا کہ میں بری کیا جاؤں گا۔ اب بتلاؤ کہ ان مقدموں سے ان لوگوں کو کیا حاصل ہوا؟ بجز اس کے کہ ایک اور نشان ظاہر ہو گیا۔

یاد رکھو کہ ایک مفتری اور کذّاب کا کام کبھی نہیں چلتا اور اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مدد اور نصرت کبھی نصیب نہیں ہوتی کیونکہ اگر مفتری کا کام بھی اسی طرح سے دن بدن ترقی کرتا جاوے تو پھر اس طرح سے تو خدا کے وجود میں بھی شک پڑ جاوے اور خدا کی خدائی میں اندھیر پڑ جاوے۔ جب سے دنیا پیدا ہوئی عادت اللہ اسی طرح سے ہے کہ ایک جہان ان کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جاتا ہے اور جس طرح سے کوئی مسافر چلتا ہے تو کتے اس کے اردگرد جمع ہو کر بھونکتے اور شور مچاتے ہیں اسی طرح سے جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر آتا ہے وہ چونکہ ان لوگوں میں سے نہیں ہوتا اس لئے دوسرے لوگ کتوں کی طرح اس پر پڑتے ہیں اور مخالفت کا شور مچاتے اور دکھ دینے کی کوششیں کرتے ہیں لیکن آخر خدا تعالیٰ ایک نظر میں ان سب کو ہلاک کر دیتا ہے۔

زبانی اسلام کافی نہیں

اب یہ بھی سن لو! کہ وہ بڑا ہی خوش قسمت انسان ہے جو اسلام جیسے پاک مذہب میں داخل ہے لیکن صرف زبان سے اسلام اسلام کہنے سے کچھ نہیں بنتا جب تک کہ سچے دل سے انسان اس پر کار بند نہ ہو جاوے۔ اکثر لوگ اس قسم کے بھی ہوتے ہیں جن کی نسبت قرآن شریف میں لکھا ہے وَاِذَا لَقُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚۖ وَاِذَا خَلَوۡا اِلٰی شَیٰطِیۡنِہِمۡ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا مَعَکُمۡ ۙ اِنَّمَا نَحۡنُ مُسۡتَہۡزِءُوۡنَ(البقرۃ:۱۵) یعنی جب وہ مسلمانوں کے پاس جاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور جب وہ دوسروں کے پاس جاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور یہ وہ لوگ ہوتے جن کو قرآن شریف میں منافق کہا گیا ہے۔ اس لئے جب تک کوئی شخص پورے طور پر قرآن مجید پر عمل نہیں کرتا تب تک وہ پورا پورا اسلام میں بھی داخل نہیں ہوتا۔

قرآن کریم کےفضائل

قرآن مجید ایک ایسی پاک کتاب ہے جو اس وقت دنیا میں آئی تھی جب کہ بڑے بڑے فساد پھیلے ہوئے تھے اور بہت سی اعتقادی اور عملی غلطیاں رائج ہوگئی تھیں اور تقریباً سب کے سب لوگ بداعمالیوں اور بدعقیدگیوں میں گرفتار تھے۔ اسی کی طرف اللہ جَلّ شَانُہٗ قرآن مجید میں اشارہ فرماتا ہے ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ(الرّوم:۴۲) یعنی تمام لوگ کیا اہل کتاب اور کیا دوسرے سب کے سب بدعقیدگیوں میں مبتلا تھے اور دنیا میں فسادِ عظیم برپا تھا۔ غرض ایسے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے تمام عقائد باطلہ کی تردید کے لیے قرآن مجید جیسی کامل کتاب ہماری ہدایت کے لئے بھیجی جس میں کُل مذاہب باطلہ کا ردّ موجود ہے۔

سورۂ فاتحہ کی فضیلت

اور خاص کر سورۂ فاتحہ میں جو پنج وقت ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے اشارہ کے طور پر کُل عقائد کا ذکر ہے جیسے فرمایا اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(الفاتحۃ:۲) یعنی ساری خوبیاں اس خدا کے لئے سزاوار ہیں جو سارے جہانوں کو پیدا کرنے والا ہے اَلرَّحْـمٰن وہ بغیر اعمال کے پیدا کرنے والا ہے اور بغیر کسی عمل کے عنایت کرنے والا ہے۔ اَلرَّحِیْم اعمال کا پھل دینے والا مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ(الفاتحۃ:۴) جزا سزا کے دن کا مالک۔ ان چار صفتوں میں کُل دنیا کے فرقوں کا بیان کیا گیا ہے۔

آریوں کا ردّ

بعض لوگ اس بات سے منکر ہیں کہ خدا ہی تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جیو یعنی ارواح اور پر مانو یعنی ذرّات خود بخود ہیں اور جیسے پرمیشر آپ ہی آپ چلا آتا ہے ویسے ہی وہ بھی آپ ہی آپ چلے آتے ہیں اور ارواح اور اُن کی کُل طاقتیں، گُن اور خواص جن پر دفتروں کے دفتر لکھے گئے خود بخود ہیں اور باوجود اس کے کہ ان میں قوتِ اتّصال اور قوت انفصال خود بخود پائی جاتی ہے وہ آپس میں میل ملاپ کرنے کے لئے ایک پرمیشر کے محتاج ہیں۔ غرض یہ وہ فرقہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(الواقعۃ:۸۱) کہہ کر اشارہ کیا ہے۔

سناتن دھرم کے عقائد کی تردید

دوسرا فرقہ وہ ہے جس کی طرف اَلرَّحْـمٰن کے لفظ میں اشارہ ہے اور یہ فرقہ سناتن دھرم والوں کا ہے گو وہ مانتے ہیں کہ پرمیشر سے ہی سب کچھ نکلا ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ خدا کا فضل کوئی چیز نہیں وہ کرموں کا ہی پھل دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی مرد بنا ہے تو وہ بھی اپنے اعمال سے اور اگر کوئی عورت بنی ہے تو وہ بھی اپنے اعمال سے اور اگر ضروری اشیاء حیوانات نباتات وغیرہ بنے ہیں تو وہ بھی اپنے اپنے کرموں کی وجہ سے۔ الغرض یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی صفت رَحْـمٰن سے منکر ہیں۔ وہ خدا جس نے زمین، سورج، چاند، ستارے وغیرہ پیدا کئے اور ہوا پیدا کی تا کہ ہم سانس لے سکیں اور ایک دوسرے کی آواز سن سکیں۔ اور روشنی کے لیے سورج چاند وغیرہ اشیاء پیدا کیں اور اس وقت پیدا کیں جب کہ ابھی سانس لینے والوں کا وجود اور نام و نشان بھی نہ تھا۔ تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے ہی اعمال کی وجہ سے پیدا کیا گیا ہے۔ کیا کوئی اپنے اعمال کا دم مار سکتا ہے؟ کیا کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ یہ سورج، چاند، ستارے، ہوا وغیرہ میرے اپنے عملوں کا پھل ہے۱؎ غرض خدا کی صفت رحمانیت اس فرقہ کی تردید کرتی ہے جو خدا کو بلا مبادلہ یعنی بغیر ہماری کسی محنت اور کوشش کے بعض اشیاء کے عنایت کرنے والا نہیں مانتے۔

اعمال اور مجاہدات کی ضرورت

اس کے بعد خدا تعالیٰ کی صفت اَلرَّحِیْـم کا بیان ہے یعنی محنتوں، کوششوں اور اعمال پر ثمراتِ حسنہ مترتّب کرنے والا۔ یہ صفت اس فرقہ کو ردّ کرتی ہے جو اعمال کو بالکل لغو خیال کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ میاں نماز کیا، روزے کیا؟ اگر غفور الرحیم نے اپنا فضل کیا تو بہشت میں جائیں گے نہیں تو جہنم میں اور کبھی کبھی یہ لوگ اس قسم کی باتیں بھی کہہ دیا کرتے ہیں کہ میاں عبادتیں کر کے ولی تو ہم نے تھوڑا ہی بننا۔ ’’کچھ کیتا کیتا نہ کیتا نہ سہی ‘‘غرض اَلرَّحِیْـم کہہ کر خدا ایسے ہی لوگوں کا ردّ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ جو محنت کرتا ہے اور خدا کے عشق اور محبت میں محو ہو جاتا ہے وہ دوسروں سے ممتاز اور خدا کا منظورِ نظر ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی خود دستگیری کرتا ہے جیسے فرمایا وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا(العنکبوت:۷۰) یعنی جو لوگ ہماری خاطر مجاہدات کرتے ہیں آخر ہم ان کو اپنا راستہ دکھا دیتے ہیں۔ جتنے اولیاء، انبیاء اور بزرگ لوگ گذرے ہیں انہوں نے خدا کی راہ میں جب بڑے بڑے مجاہدات کئے تو آخر خدا نے اپنے دروازے ان پر کھول دئیے لیکن وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی اس صفت کو نہیں مانتے عموماً ان کا یہی مقولہ ہوتا ہے کہ میاں ہماری کوششوں میں کیا پڑا ہے جو کچھ تقدیر میں پہلے روز سے لکھا ہے وہ تو ہو کر رہے گا۔ ہماری محنتوں کی کوئی ضرورت نہیں، جو ہونا ہے وہ آپ ہی ہو جائے گا۔ اور شاید چوروں اور ڈاکوؤں اور دیگر بدمعاشوں کا اندر ہی اندر یہی مذہب ہوتا ہو گا۔

غرض یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے فعل دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ ہیں جن میں اعمال کا کوئی دخل نہیں جیسے سورج، چاند، ہوا وغیرہ جو خدا تعالیٰ نے بغیر ہمارے کسی عمل کے ہمارے وجود میں آنے سے بھی پیشتر اپنی قدرتِ کاملہ سے تیار کر رکھے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جن میں اعمال کا دخل ہے اور عابد، زاہد اور پرہیز گار لوگ عبادت کرتے اور پھر اپنا اجر پاتے ہیں۔

سورۃ فاتحہ میں غلط عقائد کی تردید

(۱) اب تین فرقوں کی بابت تو تم سن چکے ہو یعنی ایک فرقہ تو وہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کو رَبّ نہیں سمجھتا اور ذرّہ ذرّہ کو اس کا شریک ٹھہراتا ہے اور یہ مانتا ہے کہ ارواح اور ذرّاتِ عالَم کا پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی طاقت سے باہر ہے اور جیسے خود بخود خدا ہے ویسے ہی وہ بھی خود بخود ہے اس لئے ربُّ العالمین کہہ کر اس فرقہ کی تردید کی گئی ہے۔

(۲) دوسرا فرقہ وہ ہے جو سمجھتا ہے کہ خدا اپنے فضل سے کچھ نہیں دے سکتا جو کچھ بھی ہمیں ملا ہے اور ملے گا وہ ہمارے اپنے کرموں کا پھل ہے اور ہو گا۔ اس لئے لفظ رَحْـمٰن کے ساتھ اس کا رَدّ کیا گیا ہے۔

(۳) اور اس کے بعد اَلرَّحِیْم کہہ کر اس فرقہ کی تردید کی گئی ہے جو اعمال کو غیر ضروری خیال کرتے ہیں۔

(۴) اب ان تینوں فرقوں کا بیان کر کے فرمایا مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ(الفاتحۃ:۴) یعنی جزا سزا کے دن کا مالک اور اس سے اس گروہ کی تردید مطلوب ہے جو کہ جزا سزا کا قائل نہیں کیونکہ ایسا ایک فرقہ بھی دنیا میں موجود ہے جو جزا سزا کا منکر ہے۔ جو لوگ خدا کو رحیم نہیں مانتے ان کو تو بے پروا بھی کہہ سکتے ہیں مگر جو مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ(الفاتحۃ:۴) والی صفت کو نہیں مانتے وہ تو خدا تعالیٰ کی ہستی سے بھی منکر ہوتے ہیں اور جب خدا کی ہستی ہی نہیں جانتے تو پھر جزا سزا کس طرح مانیں؟

غرض ان چار صفات کو بیان کر کے خدا فرماتا ہے کہ اے مسلمانو! تم کہو اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ(الفاتحۃ:۵) یعنی اے چار صفتوں والے خدا! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور اس کام کے لئے مدد بھی تجھ ہی سے چاہتے ہیں اور یہ جو حدیث شریف میں آیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے عرش کو چار فرشتوں نے اُٹھایا ہوا ہے اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ اس کی ان چاروں صفات کا ظہور موجود ہے اور اگر یہ چار نہ ہوں یا چاروں میں سے ایک نہ ہو تو پھر خدا کی خدائی میں نقص لازم آتا ہے۔

عرش کی حقیقت

اور بعض لوگ ناسمجھی سے عرش کو جو ایک مخلوق چیز مانتے ہیں تو وہ غلطی پر ہیں اُن کو سمجھنا چاہیے کہ عرش کوئی ایسی چیز نہیں جس کو مخلوق کہہ سکیں۔ وہ تو تقدّس اور تنـزّہ کا ایک وراء الوراء مقام ہے۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ جیسے ایک بادشاہ تخت پر بیٹھا ہوا ہوتا ہے ویسے ہی خدا بھی عرش پر جلوہ گر ہے۔ جس سے لازم آتا ہے کہ محدود ہے۔ لیکن ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن مجید میں اس بات کا ذکر تک نہیں کہ عرش ایک تخت کی طرح ہے جس پر خدا بیٹھا ہے کیونکہ نعوذ باللہ اگر عرش سے مراد ایک تخت لیا جاوے جس پر خدا بیٹھا ہوا ہے تو پھر ان آیات کا کیا ترجمہ کیا جاوے گا۔ جہاں لکھا ہے کہ خدا ہر ایک چیز پر محیط ہے اور جہاں تین ہیں وہاں چوتھا اُن کا خدا۔۱؎ اور جہاں چار ہیں وہاں پانچواں ان کا خدا۲؎ اور پھر لکھا ہے اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِیۡدِ(قٓ:۱۷) اور وَہُوَ مَعَکُمۡ اَیۡنَ مَا کُنۡتُمۡ(الحدید:۵) غرض اس بات کو اچھی طرح سے یاد رکھنا چاہیے کہ کلام الٰہی میں استعارات بہت پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ ایک جگہ دل کو بھی عرش کہا گیا ہے کیونکہ خدا کی تجلّی بھی دل پر ہوتی ہے اور ایسا ہی عرش اس وراء الوراء مقام کو کہتے ہیں جہاں مخلوق کا نقطہ ختم ہوجاتا ہے۔ اہلِ علم اس بات کو جانتے ہیں کہ ایک تو تشبیہ ہوتی ہے اور ایک تنزیہ ہوتی ہے مثلاً یہ بات کہ جہاں کہیں تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور جہاں پانچ ہوں وہاں چھٹا ان کا خدا ہوتا ہے۔ یہ ایک قسم کی تشبیہ ہے جس سے دھوکا لگتا ہے کہ کیا خدا پھر محدود ہے؟ اس لیے اس دھوکا کے دور کرنے کے لئے بطور جواب کے کہا گیا ہے کہ وہ تو عرش پر ہے جہاں مخلوقات کا دائرہ ختم ہوجاتا ہے اور وہ کوئی اس قسم کا تخت نہیں ہے جو سونے چاندی وغیرہ کا بنا ہوا ہو اور اس پر جواہرات وغیرہ جڑے ہوئے ہوں بلکہ وہ تو ایک اعلیٰ ارفع اور وراء الوراء مقام ہے اور اس قسم کے استعارات قرآن مجید میں بکثرت پائے جاتے ہیں جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعۡمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعۡمٰی وَاَضَلُّ سَبِیۡلًا(بنی اسرآءیل:۷۳) ظاہراً تو اس کے معنے یہی ہیں کہ جو اس جگہ اندھے ہیں وہ آخرت کو بھی اندھے ہی رہیں گے۔ مگر یہ معنے کون قبول کرے گا جب کہ دوسری جگہ صاف طور پر لکھا ہے کہ خواہ کوئی سوجاکھا ہو خواہ اندھا جو ایمان اور اعمال صالحہ کے ساتھ جاوے گا وہ تو بینا ہوگا لیکن جو اس جگہ ایمانی روشنی سے بے نصیب رہے گا اور خدا کی معرفت حاصل نہیں کرے گا وہ آخر کو بھی اندھا ہی رہے گا۔ کیونکہ یہ دنیا مزرعہ آخرت ہے جو کچھ کوئی یہاں بوئے گا وہی کاٹے گا اور جو اس جگہ سے بینائی لے جائے گا وہی بینا ہوگا۔

مومن کا فرض

پھر اس کے آگے خدا تعالیٰ نے ایک دعا سکھلائی ہے کہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحۃ:۶، ۷) یعنی اے خدا کہ تو ربُّ العالمین، رحـمٰن، رحیم اور مالک یوم الدّین ہے ہمیں وہ راہ دکھا جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرا بے انتہا فضل ہوا اور تیرے بڑے بڑے بڑے انعام اکرام ہوئے۔ مومن کو چاہیے کہ ان چار صفات والے خدا کا صرف زبانی اقرار ہی نہ کرے بلکہ اپنی ایسی حالت بناوے جس سے معلوم ہو کہ وہ صرف خدا کو ہی اپنا ربّ جانتا ہے۔ زید عمر کو نہیں جانتا اور اس بات پر یقین رکھے کہ درحقیقت خدا ہی ایسا ہے جو عملوں کی جزا سزا دیتا ہے اور پوشیدہ سے پوشیدہ اور نہاں در نہاں گناہوں کو جانتا ہے۔۱؎

عملی حالت کی اہمیت

یاد رکھو کہ صرف زبانی باتوں سے کچھ نہیں ہوتا جب تک عملی حالت درست نہ ہو۔ جو شخص حقیقی طور پر خدا کو ہی اپنا ربّ اور مالک یوم الدین سمجھتا ہے ممکن ہی نہیں کہ وہ چوری، بدکاری، قمار بازی یا دیگر افعال شنیعہ کا مرتکب ہو سکے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ سب چیزیں ہلاک کر دینے والی ہیں اور ان پر عملدرآمد کرنا خدا تعالیٰ کے حکم کی صریح نافرمانی ہے۔ غرض انسان جب تک عملی طور پر ثابت نہ کر دیوے کہ وہ حقیقت میں خدا پر سچا اور پکا ایمان رکھتا ہے تب تک وہ فیوض اور برکات حاصل نہیں ہو سکتے جو مقربوں کو ملا کرتے ہیں۔ وہ فیوض جو مقربانِ الٰہی اور اہل اللہ پر ہوتے ہیں وہ صرف اسی واسطے ہوتے ہیں کہ ان کی ایمانی اور عملی حالتیں نہایت اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہیں اور انہوں نے خدا تعالیٰ کو ہر ایک چیز پر مقدم کیا ہوا ہوتا ہے۔

سمجھنا چاہیے کہ اسلام صرف اتنی بات کا ہی نام نہیں ہے کہ انسان زبانی طور پر ورد و ظائف اور ذکر اذکار کرتا رہے بلکہ عملی طور پر اپنے آپ کو اس حد تک پہنچانا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تائید اور نصرت شامل حال ہونے لگے اور انعام واکرام وارد ہوں۔ جس قدر انبیاء اولیاء گذرے ہیں ان کی عملی حالتیں نہایت پاک صاف تھیں اور ان کی راستبازی اور دیانتداری اعلیٰ پایہ کی تھی اور یہی نہیں کہ جیسے یہ لوگ احکامِ الٰہی بجالاتے ہیں اور روزے رکھتے اور زکوٰتیں ادا کرتے ہیں۔ اور نمازوں میں رکوع سجود کرتے اور سورۃ فاتحہ پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے تھے اور احکامِ الٰہی بجالاتے تھے بلکہ ان کی نظر میں تو سب کچھ مُردہ معلوم ہوتا تھا اور ان کے وجودوں پر ایک قسم کی موت طاری ہوگئی تھی۔ ان کی آنکھوں کے سامنے تو ایک خدا کا وجود ہی رہ گیا تھا۔ اسی کو ہی وہ اپنا کارساز اور حقیقی ربّ یقین کرتے تھے۔

اسی سے ان کا حقیقی تعلق تھا اور اسی کے عشق میں وہ ہر وقت محو اور گداز رہتے تھے۔

خدا تعالیٰ سے محبت رکھنے والوں کو اس کی نصرت حاصل ہوتی ہے

جب ایسی حالت ہو تو قدیم سے یہ سنّت اللہ ہے کہ ایسے شخص کی خدا تعالیٰ تائید اور نصرت کرتا ہے اور غیبی طور پر اسے مدد دیتا ہے اور ہر ایک میدان میں اُسے فتح نصیب کرتا ہے۔ دیکھو! مذہب اسلام میں ہزاروں اولیاء گذرے ہیں۔ ہر ایک ملک میں ایسے چار پانچ لوگ تو ضرور ہی ہوتے ہیں۱؎ جن کو اس وقت تک لوگ بڑی عزت سے یاد کرتے ہیں اور ان کے مجاہدات اور کرامات کا عجیب عجیب طرح سے تذکرہ کرتے ہیں اور دہلی کا تو ایک بڑا میدان اسی قسم کے بزرگوں سے بھرا پڑا ہے۔

غرض سوچنا چاہیے کہ اگر ایک انسان ایک ڈاکو اور چور سے دلی محبت رکھے تو اگر وہ چور زیادہ احسان نہ کرے گا تو اتنا ضرور کرے گا کہ اس کی چوری نہ کرے گا۔ تو اب سمجھنا چاہیے کہ جب محبت کرنے سے چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے تو کیا خدا سے فائدہ نہیں ہوتا؟ ہوتا ہے اور ضرور ہوتا ہے کیونکہ خدا تو بڑا رحیم کریم اور بڑے فضلوں اور احسانوں والا ہے۔ جو لوگ کرموں، اواگون اور جونوں کی راہ لیے بیٹھے ہیں میرا یقین ہے کہ ان کو اس راہ کا خیال تک بھی نہیں۔

جب محبت کے ثمرات اسی دنیا میں پائے جاتے ہیں اور جب ایک شخص کو دوسرے سے سچی اور خالص محبت ہوتی ہے تو وہ اس سے کوئی فرق نہیں کرتا۔ تو کیا خدا ہی ایسا ہے کہ جس کی دوستی کسی کام نہیں آتی؟

ہندوؤں کا نظریۂ نجات

وہ لوگ قابلِ الزام ہیں جو خدا کو شرم ناک الزاموں سے یاد کرتے ہیں۔ مثلاً ہندوؤں اور آریوں میں دائمی مکتی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مکتی خانہ میں داخل کرتے وقت ایک گناہ پرمیشر باقی رکھ لیتا ہے اور پھر ایک وقت کے بعد اس ایک گناہ کے عوض میں ان رشیوں، منیوں اور مکتی یافتوں کو گدھوں، بندروں اور سؤروں وغیرہ کی جونوں میں بھیجتا ہے مگر اس پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ پرمیشر ان مقدسوں پر ناراض تھا اور جان بوجھ کر اُن کو مکتی خانہ سے باہر نکالنا چاہتا تھا تو پھر پہلے ہی ان کو مکتی خانہ میں کیوں داخل کیا؟ آخر اُن پر راضی ہی ہوا ہو گا تو داخل کیا تھا۔ یہ تو نہیں کہ اندھادھند ہی مکتی خانہ میں دھکیل دیا تھا لیکن رضا اور گناہ اکٹھے نہیں رہ سکتے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پرمیشر ان پر پہلے ہی راضی نہیں ہوا تھا۔۱؎ اور اگر راضی تھا تو ماننا پڑے گا کہ اس کو ان کے گناہوں کی خبر نہ تھی کیونکہ جب اُسے خبر ہوئی تھی تب تو اس نے اُن کو مکتی خانہ سے باہر نکال دیا تھا لیکن بعض آریہ اس کا یہ جواب دیا کرتے ہیں کہ ان کو مکتی خانے سے اس واسطے نکالا گیا تھا کہ اُن کے عمل محدود تھے اور چونکہ عمل محدود تھے اس لئے ان کا پھل بھی محدود ہونا چاہیے لیکن ان کو اتنی خبر نہیں کہ ان بیچاروں نے جو پرمیشر کی راہ میں ایسی ایسی سختیاں جھیلی تھیں اور اپنا ہر ایک ذرّہ اس کی راہ میں قربان کر دیا تھا تو وہ اس واسطے نہیں تھا کہ چند دن تک تو ہمیں مکتی خانہ کی سیر کرا لو اور اس کے بعد جس گندی سے گندی جون میں چاہو بھیج دو۔ ان کی تو نیتوں کو دیکھنا چاہیے اگر ان کی نیتیں صرف اسی قدر تھیں کہ دو چار برس پرمیشر سے محبت کر کے پھر چھوڑ دیں گے تب تو ایک بات ہے ورنہ اِنَّـمَا الْاَعْـمَالُ بِالنِّیَّاتِ ان مکتی یافتوں کا کیا قصور؟ یہ تو پرمیشر کا قصور ہے کہ ان کو مار دیا کیونکہ اگر وہ زندہ رہتے تو پرمیشر کی محبت کو کبھی نہ چھوڑتے۔ انہوں نے تو صرف اسی واسطے پرمیشر کی راہ میں مصائب شدائد برداشت کئے تھے کہ جب تک ہم رہیں گے پرمیشر کے ہو کر رہیں گے ان کو پرمیشر کی بے وفائی کا تو خیال نہ تھا ایک شخص کسی سے بہت محبت رکھتا ہے اور آگے پیچھے اس کی محبت کے گن گاتا پھرتا ہے اگر وہ مَر جائے تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ دشمنی بھی ساتھ لے گیا ہے؟

اور پھر اس بات کو بھی سمجھنا چاہیے کہ مکتی خانہ سے باہر نکالنے کے لئے جو گناہ پرمیشر نے ان کے ذمہ رکھے ہوئے ہوں گے وہ بہر صورت ایک ہی قسم کے ہوں گے۔ یہ تو جائز نہیں کہ کسی کو کسی گناہ سے باہر نکال دیا جاوے اور کسی کو کسی گناہ کے سبب سے، لیکن یہ کیسا انصاف ہے کہ باہر نکالتے وقت باوجود ایک ہی قسم کے گناہ ہونے کے کسی کو مرد اور کسی کو عورت اور کسی کو گدھا اور کسی کو بندر بنا دیا۔

سورۃ فاتحہ میں مذکوراللہ تعالیٰ کی صفات

غرض قصہ کو تاہ اللہ تعالیٰ نے الحمد شریف میں اپنی صفاتِ کاملہ کا بیان کر کے ان تمام مذاہب باطلہ کا ردّ کیا ہے جو عام طور پر دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔

یہ سورہ جو اُمُّ الکتاب کہلاتی ہے اسی واسطے پانچوں وقت ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے کہ اس میں مذہب اسلام کی تعلیم موجود ہے اور قرآن مجید کا ایک قسم کا خلاصہ ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی چار صفات بیان کر کے ایک نظارہ دکھانا چاہا ہے اور بتایا ہے کہ اسلام نہایت ہی مبارک مذہب ہے۔ جو اس خدا کی طرف رہبری کرتا ہے جو نہ تو عیسائیوں کے خدا کی طرح کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے اور نہ ہی وہ ایسا ہے کہ آریوں کے پرمیشر کی طرح مکتی دینے پر ہی قادر نہ ہو اور جھوٹے طور پر کہہ دیتا ہے کہ عمل محدود ہیں۔ حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ اس میں نجات دینے کی طاقت ہی نہیں کیونکہ روحیں تو اس کی بنائی ہوئی نہیں۔ جیسے وہ آپ خود بخود ہے ویسے ہی ارواح بھی خود بخود ہیں۔ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ اَور روحیں پیدا کر لے اس لئے یہ سوچ کر کہ اگر ہمیشہ کے لئے کسی روح کو مکتی دی جاوے تو آہستہ آہستہ وہ وقت آجاوے گا کہ تمام روحیں مکتی یافتہ ہو کر میرے قبضہ سے نکل جائیں گی جس سے میرا تمام بنا بنا یا کارخانہ درہم برہم ہو جائے گا۔ اس لئے وہ بہانہ کے طور پر ایک گناہ ان کے ذمہ رکھ لیتا ہے اور اس دَور کو چلائے جاتا ہے۔۱؎

اسلام کا قدوس اور قادر خدا

لیکن اسلام کا خدا ایسا قدوس اور قادر خدا ہے کہ اگر تمام دنیا مل کر اس میں کوئی نقص نکالنا چاہے تو نہیں نکال سکتی۔ ہمارا خدا تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا خدا ہے۔ وہ ہر ایک نقص اور عیب سے مبّرا ہے کیونکہ جس میں کوئی نقص ہو وہ خدا کیوں کر ہو سکتا ہے اور اس سے ہم دعائیں کس طرح مانگ سکتے ہیں اور اس پر اُمیدیں کیا رکھ سکتے ہیں؟ وہ تو خود ناقص ہے نہ کہ کامل۔ لیکن اسلام نے وہ قادر اور ہر ایک عیب سے پاک خدا پیش کیا ہے جس سے ہم دعائیں مانگ سکتے ہیں اور بڑی بڑی اُمیدیں پوری کر سکتے ہیں اسی واسطے اس نے اسی سورہ فاتحہ میں دعا سکھائی ہے کہ تم لوگ مجھ سے دعا مانگا کرو اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحۃ:۶ تا ۷) یعنی یا الٰہی! ہمیں وہ سیدھی راہ دکھا جو اُن لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرے بڑے بڑے فضل اور انعام ہوئے اور یہ دعا اس واسطے سکھائی کہ تا تم لوگ صرف اس بات پر ہی نہ بیٹھ رہو کہ ہم ایمان لے آئے ہیں بلکہ اس طرح سے اعمال بجالاؤ کہ ان انعاموں کو حاصل کر سکو جو خدا کے مقرب بندوں پر ہوا کرتے ہیں۔

رسمی عبادات

بعض لوگ مسجدوں میں بھی جاتے ہیں۔ نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور دوسرے ارکانِ اسلام بھی بجالاتے ہیں مگر خدا کی نصرت اور مدد ان کے شامل حال نہیں ہوتی اور اُن کے اخلاق اور عادات میں کوئی نمایاں تبدیلی دکھائی نہیں دیتی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی عبادتیں بھی رسمی عبادتیں ہیں۔ حقیقت کچھ بھی نہیں۔ کیونکہ احکام الٰہی کا بجالانا تو ایک بیج کی طرح ہوتا ہے جس کا اثر روح اور وجود دونوں پر پڑتا ہے۔ ایک شخص جو کھیت کی آب پاشی کرتا اور بڑی محنت سے اس میں بیج بوتا ہے اگر ایک دو ماہ تک اس میں انگوری نہ نکلے تو ماننا پڑتا ہے کہ بیج خراب ہے۔ یہی حال عبادات کا ہے اگر ایک شخص خدا کو وحدہٗ لاشریک سمجھتا ہے نمازیں پڑھتا ہے روزے رکھتا ہے اور بظاہر نظر احکام الٰہی کو حتی الوسع بجالاتا ہے لیکن خدا کی طرف سے کوئی خاص مدد اس کے شاملِ حال نہیں ہوتی تو ماننا پڑتا ہے کہ جو بیج وہ بو رہا ہے وہی خراب ہے۔

یہی نمازیں تھیں جن کو پڑھنے سے بہت سے لوگ قطب اور ابدال بن گئے مگر تم کو کیا ہو گیا جو یہی نمازیں تھیں باوجو د اُن کے پڑھنے کے کوئی اثر ظاہر نہیں ہوتا۔۱؎

یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب تم کوئی دوا استعمال کرو گے اور اس سے اگر کوئی فائدہ محسوس نہ کرو گے تو آخر ماننا پڑے گا کہ یہ دوا موافق نہیں۔ یہی حال ان نمازوں کا سمجھنا چاہیے۔

بر کریماں کار ہا دشوار نیست

حقیقی مومن کبھی ضائع نہیں ہوتا

جو شخص سچے جوش اور پورے صدق اور اخلاص سے اللہ تعالیٰ کی طرف آتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ یہ یقینی اور سچی بات ہے کہ جو خدا کے ہوتے ہیں خدا ان کا ہوتا ہے اور ہر ایک میدان میں ان کی نصرت اور مدد کرتا ہے بلکہ ان پر اپنے اس قدر انعام واکرام نازل کرتا ہے کہ لوگ ان کے کپڑوں سے بھی برکتیں حاصل کرتے ہیں۲؎ اللہ تعالیٰ نے یہ جو دعا سکھائی ہے تو یہ اس واسطے ہے کہ تا تم لوگوں کی آنکھ کھلے کہ جو کام تم کرتے ہو دیکھ لو کہ اس کا نتیجہ کیا ہوا ہے؟ اگر انسان ایک عمل کرتا ہے اور اس کا نتیجہ کچھ نہیں تو اس کو اپنے اعمال کی پڑتال کرنی چاہیے کہ وہ کیسا عمل ہے جس کا نتیجہ کچھ نہیں!

سورۃ فاتحہ میں ایک پیشگوئی

پھر اس کے آگے خدا فرماتا ہے غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ(الفاتحۃ:۷) یعنی اے مسلمانو! تم خدا سے دعا مانگتے رہو کہ یا الٰہی! ہمیں ان لوگوں میں سے نہ بنانا جن پر اس دنیا میں ہی تیرا غضب نازل ہوا ہے اور نہ ہی ان لوگوں کا راستہ دکھانا جو کہ راہِ راست سے گمراہ ہو گئے ہیں اور یہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے یہ بطور قصہ یا کتھا کے بیان نہیں کیا بلکہ وہ جانتا تھا کہ جس طرح پہلی قوموں نے بدکاریاں بیوں کی تکذیب اور تفسیق میں حد سے بڑھ گئیں۔ اسی طرح مسلمانوں پر بھی ایک وقت آئے گا جب کہ وہ فسق وفجور میں حد سے بڑھ جاویں گے اور جن کاموں سے ان قوموں پر خدا کا غضب بھڑکا تھا ویسے ہی کام مسلمان بھی کریں گے اور خدا کا غضب اُن پر نازل ہوگا۔ تفسیروں اور احادیث والوں نے مغضوب سے یہود مراد لیے ہیں کیونکہ یہود نے خدا تعالیٰ کے انبیاء کے ساتھ بہت ہنسی ٹھٹھا کیا تھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خاص طور پر دُکھ دیا تھا اور نہایت درجہ کی شوخیاں اور بے باکیاں انہوں نے دکھائی تھیں جن کا آخری نتیجہ یہ ہوا تھا کہ اسی دنیا میں ہی خدا کا غضب ان پر نازل ہوا تھا۔

خدا تعالیٰ کے غضب کی حقیقت

مگر اس جگہ خدا کے غضب سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ (معاذ اللہ )خدا چڑ جاتا ہے بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ انسان بسبب اپنے گناہوں کے نہایت درجہ کے پاک اور قدوس خدا سے دُور ہو جاتا ہے یا مثال کے طور پر یوں سمجھ لو کہ ایک شخص کسی ایسے حجرہ میں بیٹھا ہوا ہو جس کے چار دروازے ہوں اگر وہ ان دروازوں کو کھولے گا تو دھوپ اور آفتاب کی روشنی اندر آتی رہے گی اور اگر وہ سب دروازے بند کر دے گا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ روشنی کا آنا بند ہو جائے گا۔ غرض یہ بات سچی ہے کہ جب انسان کوئی فعل کرتا ہے تو سنّت اللہ اسی طرح سے ہے کہ اس فعل پر ایک فعل خدا کی طرف سے سرزد ہوتا ہے۔ جیسے اس شخص نے اپنی بدقسمتی سے جب چاروں دروازے بند کر دیئے تھے تو اس پر خدا کا فعل یہ تھا کہ اس مکان میں اندھیرا ہی اندھیرا ہو گیا۔ غرض اس اندھیرا کرنے کا نام خدا کا غضب ہے۔ یہ مت سمجھو کہ خدا کا غضب بھی اسی طرح کا ہوتا ہے کہ جس طرح سے کہ انسان کا غضب ہوتا ہے کیونکہ خدا خدا ہے اور انسان انسان ہے۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ جس طرح سے ایک انسان کام کرتا ہے خدا بھی اسی طرح سے ہی کرتا ہے مثلاً خدا سنتا ہے تو کیا اس کو سننے کے لئے انسان کی طرح ہوا کی ضرورت ہے اور کیا اس کا سننا بھی انسان کی طرح سے ہے کہ جس طرف ہوا کا رخ زیادہ ہوا اُس طرف کی آواز کو زیادہ سن لیا۔ یا مثلاً دیکھنا ہے کہ جب تک سورج چاند چراغ وغیرہ کی روشنی نہ ہو انسان دیکھ نہیں سکتا تو کیا خدا بھی روشنیوں کا محتاج ہے؟ غرض انسان کا دیکھنا اَور رنگ کا ہے اور خدا کا انسان دیکھ نہیں اَور رنگ کا ہے۔اَس کی حقیقت خدا کے سپرد کرنی چاہیے۔۱؎

آریہ وغیرہ جو اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں خدا تعالیٰ کو غضب ناک کہا گیا ہے یہ ان کی صریح غلطی ہے اُن کو چاہیے تھا کہ قرآن مجید کی دوسری جگہوں پر بھی نظر کرتے وہاں تو صاف طور پر لکھا ہے۔ عَذَابِیۡۤ اُصِیۡبُ بِہٖ مَنۡ اَشَآءُ ۚ وَرَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ(الاعراف:۱۵۷) خدا کی رحمت تو کل چیزوں کے شاملِ حال ہے۔ مگر ان کو دقّت ہے تو یہ ہے کہ خدا کی رحمت کے تو وہ قائل ہی نہیں۔ اُن کے مذہبی اصول کے بموجب اگر کوئی شخص بصد مشکل مکتی حاصل کر بھی لے تو آخر پھر وہاں سے بھی نکلنا ہی پڑے گا۔

غرض خوب یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے کلام پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ جیسے خدا ہر ایک عیب سے پاک ہے ویسے ہی اس کا کلام بھی ہر ایک قسم کی غلطی سے پاک ہوتا ہے۔

یہود کی شوخیاں

اور یہ جو فرمایا ہے غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ(الفاتحۃ:۷) تو اس سے یہ مراد ہے کہ یہود ایک قوم تھی جو توریت کو مانتی تھی۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بہت تکذیب کی تھی اور بڑی شوخی کے ساتھ اُن سے پیش آئے تھے۔ یہاں تک کہ کئی بار ان کے قتل کا ارادہ بھی انہوں نے کیا تھا اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب کوئی شخص کسی فن کو کمال تک پہنچا دیتا ہے تو پھر وہ بڑا نامی گرامی اور مشہور ہو جاتا ہے اور جب کبھی اس فن کا ذکر شروع ہوتا ہے تو پھر اسی کا نام ہی لیا جاتا ہے۔ مثلاً دنیا میں ہزاروں پہلوان ہوئے ہیں اور اس وقت بھی موجود ہیں۔ مگر رستم کا ذکر خاص طور پر کیا جاتا ہے بلکہ اگر کسی کو پہلوانی کا خطاب بھی دیا جاتا ہے تو اُسے بھی رستم ہند وغیرہ کر کے پکارا جاتا ہے۔ یہی حال یہود کا ہے۔ کوئی نبی نہیں گذرا جس سے انہوں نے شوخی نہیں کی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تو انہوں نے یہاں تک مخالفت کی کہ صلیب پر چڑھانے سے بھی دریغ بلہ پر ہر ایک شرارت سے کام لیا۔

غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ والی دعا کی ضرورت

ہاں اگر یہ سوال پیدا ہو کہ یہود نے تو انبیاء کے مقابل پر شوخیاں اور شرارتیں کی تھیں مگر اب تو سلسلہ نبوت ختم ہوچکا ہے اس لئے غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحۃ:۷) والی دعا کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ آخری زمانہ میں مسیح نازل ہوگا اور مسلمان لوگ اس کی تکذیب کر کے یہود خصلت ہو جائیں گے اور طرح طرح کی بدکاریوں اور قسم قسم کی شوخیوں اور شرارتوں میں ترقی کر جاویں گے اس لئے غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحۃ:۷) والی دعا سکھائی ہے کہ اے مسلمانو! پنجگانہ نمازوں کی ہر ایک رکعت میں دعا مانگتے رہو کہ یا الٰہی! ہمیں ان کی راہ سے بچائے رکھیو جن پر تیرا غضب اسی دنیا میں نازل ہوا تھا اور جن کو تیرے مسیحؑ کی مخالفت کرنے کے سبب سے طرح طرح کی آفات ارضی و سماوی کا ذائقہ چکھنا پڑا تھا۔ سو جاننا چاہیے کہ یہی وہ زمانہ ہے جس کی طرف آیت غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحۃ:۷) اشارہ کرتی ہے۔ اور وہی خدا کا سچا مسیح ہے جو اس وقت تمہارے درمیان بول رہا ہے۔

مسیح موعودؑ کی مخالفت اور تکفیر

یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ پچیس۲۵ برس سے صبر کرتا رہا ہے ان لوگوں نے کوئی دقیقہ میری مخالفت کا اُٹھا نہیں رکھا۔ ہر طرح سے شوخیاں کی گئیں۔ طرح طرح کے الزام ہم پر لگائے گئے اور ان شوخیوں اور شرارتوں میں پوری سرگرمی سے کام لیا گیا۔ ہر پہلو سے میرے فنا اور معدوم کرنے کے لئے زور لگائے گئے اور ہمارے لئے طرح طرح کے کفر نامے تیار کئے گئے اور نصاریٰ اور یہود سے بھی بدتر ہمیں سمجھا گیا۔ حالانکہ ہم کلمہ طیبہ اللّٰہُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰہَ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ اَلۡمَلِکُ الۡقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ(الحشر:۲۳ تا ۲۴) پر دل و جان سے یقین رکھتے تھے قرآن شریف کو خدا تعالیٰ کی سچی اور کامل کتاب سمجھتے تھے اور سچے دل سے اُسے خاتم الکتب جانتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے دل سے خاتم النّبیّین سمجھتے تھے۔ وہی نمازیں تھیں وہی قبلہ تھا۔ اسی طرح سے ماہِ رمضان کے روزے رکھتے تھے۔ حج اور زکوٰۃ میں بھی کوئی فرق نہ تھا پھر معلوم نہیں کہ وہ کون سے وجوہات تھے جن کے سبب سے ہمیں یہود اور نصاریٰ سے بھی بدتر ٹھہرایا گیا اور کہ وہ کون سے وج دن را ت ہمیں گالیاں دینا موجب ثواب سمجھا گیا۔۱؎ آخر شرافت بھی تو کوئی چیز ہے۔ اس طرح کا طریق تو وہی لوگ اختیار کرتے ہیں جن کے ایمان مسلوب اور دل سیاہ ہو جاتے ہیں۔

غرض چونکہ خدا جانتا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب کہ مسلمان یہودسیرت ہو جائیں گے اس لئے غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحۃ:۷) والی دعا سکھا دی اور پھر فرمایا وَلَا الضَّآلِّیۡنَ(الفاتحۃ:۷) یعنی نہ ہی ان لوگوں کی راہ پر چلانا جنہوں نے تیری سچی اور سیدھی راہ سے منہ موڑ لیا اور یہ عیسائیوں کی طرف اشارہ ہے۔ جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انجیل کے ذریعہ سے یہ تعلیم ملی تھی کہ خدا کو ایک اور واحد لاشریک مانو مگر انہوں نے اس تعلیم کو چھوڑ دیا اور ایک عورت کے بیٹے کو خدا بنا لیا۔

یہود اور نصاریٰ کا موازنہ

کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحۃ:۷) تو بڑا سخت لفظ ہے اور ضَآلِّیْن نرم لفظ ہے۔ یہ نرم لفظ نہیں بات یہ ہے کہ یہودیوں کا تھوڑا گناہ تھا وہ توریت کے پابند تھے اور اس کے حکموں پر چلتے تھے گو وہ شوخیوں اور شرارتوں میں بہت بڑھ گئے تھے مگر وہ کسی کو خدا یا خدا کا بیٹا بنانے کے سخت دشمن تھے۔۲؎ اور سورہ فاتحہ میں ان کا نام جو پہلے آیا ہے تو وہ اس واسطے نہیں کہ ان کے گناہ زیادہ تھے بلکہ اس واسطے کہ اسی دنیا میں ہی ان کو سزا دی گئی تھی اور اس کی مثال اس طرح پر ہے کہ ایک تحصیلدار انہی کو جرمانہ کرتا ہے جن کا قصور اس کے اختیار سے باہر نہیں ہوتا۔ مثلاً فرض کرو کہ کسی بھاری سے بھاری گناہ پر وہ اپنی طرف سے ۵۰، ۶۰ روپیہ جرمانہ کر سکتا ہے لیکن اگر قصور وار زیادہ کا حقدار ہو تو پھر تحصیلدار یہ کہہ کر کہ یہ میرے اختیار سے باہر ہے اور کہ تمہاری سزا کا یہاں موقع نہیں کسی اعلیٰ افسر کے سپرد کرتا ہے۔ اسی طرح یہودیوں کی شرارتیں اور شوخیاں اسی حد تک ہیں کہ ان کی سزا اسی دنیا میں دی جاسکتی تھی لیکن ضالّین کی سزا یہ دنیا برداشت نہیں کر سکتی کیونکہ ان کا عقیدہ ایسا نفرتی عقیدہ ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرۡنَ مِنۡہُ وَتَنۡشَقُّ الۡاَرۡضُ وَتَخِرُّ الۡجِبَالُ ہَدًّا اَنۡ دَعَوۡا لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدًا(مریم:۹۱، ۹۲) یعنی یہ ایک ایسا بُرا کام ہے جس سے قریب ہے کہ زمین آسمان پھٹ جائیں اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔ غرض یہودیوں کی چونکہ سزا تھوڑی تھی اس لئے ان کو اسی جہان میں دی گئی اور عیسائیوں کی سزا اس قدر سخت ہے کہ یہ جہان اس کی برداشت نہیں کر سکتا اس لئے ان کی سزا کے واسطے دوسرا جہان مقرر ہے اور پھر یہ بات بھی یاد رکھنے والی ہے کہ یہ عیسائی صرف ضالّ ہی نہیں ہیں بلکہ مُضِلّ بھی ہیں۔ ان کا دن رات یہی پیشہ ہے کہ اَوروں کو گمراہ کرتے پھریں۔ پچاس پچاس ہزار، ساٹھ ساٹھ ہزار بلکہ لاکھوں پرچے ہر روز شائع کرتے ہیں اور اس باطل عقیدہ کی اشاعت کے لئے ہر طرح کے بہانے عمل میں لاتے ہیں۔

انگریز قوم کی انصاف پسندی

یاد رکھو! گورنمنٹ کو ان پادریوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ایک انگریز یہاں آیا تھا۔ جاتی دفعہ پوچھنے لگا کہ میرے راستہ میں کسی پادری کی کوٹھی تو نہیں؟ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ پادریوں سے سخت نفرت کرتا تھا۔۱؎ یہ لوگ بڑے منص یہ لوگ بڑے منصف مزاج ہوتے ہیں۔اگر یہ منصف نہ ہوتے تو حکومت نہ رہتی۔یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی حکومت کا ہونا بھی خدا تعالیٰ کا ایک خاص فضل ہے۔

سکھوں کے زمانے کو دیکھو کہ اگر کوئی اذان بھی دیتا تھا تو قتل کر دیتے تھے۔ مگر اس سلطنت میں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر طرح سے آزادی ہے اس کا ہونا ہمارے لئے بڑی بڑی برکتوں کا موجب ہے۔ خود ہمارے اس گاؤں قادیان میں جہاں ہماری مسجد ہے کارداروں کی جگہ تھی۔ اس وقت ہمارے پچپن کا زمانہ تھا۔ لیکن میں نے معتبر آدمیوں سے سنا ہے کہ جب انگریزوں کا دخل ہو گیا تو چند روز تک وہی سابقہ قانون رہا۔

انہی ایام میں ایک کاردار یہاں آیا ہوا تھا اس کے پاس ایک مسلمان سپاہی تھا وہ مسجد میں آیا اور مؤذن کو کہا کہ اذان دو۔ اس نے وہی ڈرتے ڈرتے گنگنا کر اذان دی سپاہی نے کہا کیا تم اسی طرح سے بانگ دیا کرتے ہو؟ مؤذن نے کہا ہاں اسی طرح دیتے ہیں۔ سپاہی نے کہا کہ نہیں۔ کوٹھے پر چڑھ کر اونچی آواز سے اذان دو اور جس قدر زور سے ممکن ہو سکتا ہے بانگ دو۔ وہ ڈرا۔ آخر اس نے سپاہی کے کہنے پر زور سے بانگ دی۱؎ اس پر ہندو اکھٹے ہو گئے اور مُلّا کو پکڑ لیا۔ وہ بیچارہ بہت ڈرا اور گھبرایا کہ کاردار مجھے پھانسی دے دے گا۔ سپاہی نے کہا کہ میں تیرے ساتھ ہوں۔ آخر وہ اس کو پکڑ کر کاردار کے پاس لے گئے اور کہا کہ مہاراج اس نے ہم کو بھرشٹ کر دیا ہے۔ کاردار تو جانتا تھا کہ اب سلطنت تبدیل ہو گئی ہے اور اب وہ سکھا شاہی نہیں رہی۔ اس لئے ذرا دبی زبان سے پوچھا کہ تو نے اونچی آواز سے کیوں بانگ دی؟ سپاہی نے آگے بڑھ کر کہا کہ اس نے نہیں دی میں نے (ب قی ہ حاردار نے ہندوؤں کو کہا۔ کمبختو کیوں ش ی ہ) ہو گائیاں ذبح ہوتی ہیں اور تم اذان کو روتے ہو۔ جاؤ چپکے ہو کر بیٹھ رہو۔

ایسے ہی بٹالہ کا واقعہ ہے ایک سیّد وہیں کا رہنے والا باہر سے دروازے پر آیا وہاں گائیوں کا ہجوم تھا۔ اس نے تلوار کی نوک سے مویشوں کو ذرا ہٹایا۔ ایک گائے کے چمڑے کو خفیف سی خراش پہنچ گئی تھی اس پر اس بیچارہ کو پکڑ لیا گیا اور اس اَمر پر زور دیا گیا کہ اس کو قتل کر دیا جاوے۔ آخر بڑی سفارش کے بعد جان سے تو بچ گیا لیکن اس کا ہاتھ ضرور کاٹا گیا۔ ایسے ہی ایک گائے کے مقدمہ میں ایک دفعہ پانچ ہزار غریب مسلمان قتل کئے گئے۔

اب دیکھو کہ اس حکومت کا وجود ایک مبارک وجود ہے یا نہیں؟ ایک حدیث میں آیا کہ تمہارا حاکم بد ہو تو وہ بد نہیں۔ اصل میں تم ہی بد ہو۔ سو یاد رکھو کہ یہ لوگ بڑے انصاف پسند ہوتے ہیں۔ ہمارے مقدمہ میں ہی دیکھ لو۱؎ کہ آتما رام نے تو سات سو روپیہ جرمانہ کر ہی دیا تھا مگر سیشن جج کے سامنے جب وہ کاغذات پیش ہوئے تو باوجودیکہ وہ عیسائی تھا مگر انصاف کی خاطر اُس نے تمام دن محنت کی اور پورے غور اور فکر کے بعد کرم الدین کو بُلا کر کہا کہ تم لئیم کے معنے ولد الزنا اور کذّاب کے معنے بڑا جھوٹا کرتے ہو۔ اگر کسی کو اُلّو کہا جاوے تو اُلّو چھوٹا کیا اور بڑا کیا؟ جو کچھ فیصلہ آتمارام نے کیا ہے وہ غلط ہے۔ ہم جرمانہ واپس کرتے ہیں۔ اگر لئیم کذّاب سے بڑھ کر بھی تم کو کہا جاتا تو یہ شخص حق رکھتا تھا۔

اس لئے مسلمانوں کو چاہیے کہ ہندوؤں سے بالکل جوڑ نہ رکھیں۔ اگر انگریز آج یہاں سے نکل جاویں تو یہ ہندو مسلمانوں کی بوٹی بوٹی کر دیں۔

ضالّین سے مراد انگریز نہیں بلکہ عیسائی پادری ہیں

اب نتیجہ یہ ہے کہ یہ جو میں نے ضالّین کہا ہے تو اس سے مراد عیسائی اور پادری ہیں انگریز اس سے مراد نہیں۔ کیونکہ انگریز تو اکثر ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے ساری عمر میں ایک دفعہ بھی انجیل پڑھی ہوئی نہیں ہوتی۔ ان پادریوں پر اسلام ایک بڑا بھاری صدمہ ہے کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب جس کو وہ مغلوب نہیں کر سکتے۔

آریہ مذہب

آریوں کا کیا ہے جن کے مذہب میں نیوگ جیسی گندی رسم موجود ہو اور جن کو حکم ہو کہ اولاد کی خاطر اپنی جوان اور پیاری بیوی کو غیر آدمی سے ہمبستر کرا لیا کرو اور جو باوجود اس کے کہ خود جوان اور تندرست ہوتے ہیں اپنی پاک دامن عورت کو دوسرے نوجوانوں سے ہمبستر کرا کے دس پتروں تک اولاد حاصل کر سکتے ہیں اور جن کا پرمیشر ایک مکھی تو درکنار ایک ذرّہ بھی پیدا نہ کر سکتا ہو وہ کب کسی مذہب پر غلبہ پا سکتے ہیں۔

عیسائیت کا عظیم فتنہ

عیسائی تو اسلام کے مقابلہ پر کسی صورت میں نہیں ٹھہر سکتے کیوں کہ انہوں نے ایک انسان کو جس کا باپ بھی موجود تھا۔ چار بھائی اور دو بہنیں بھی تھیں اور پھر یہودیوں کے ہاتھ سے ماریں بھی کھاتا پھرتا تھا خدا تجویز کر لیا ہے اور اپنی نجات کے لئے اس کو لعنتی موت سے مَرا ہوا سمجھ لیا ہے حالانکہ دنیا بھر میں یہ کوئی قاعدہ نہیں کہ سر درد تو ہو زید کو اور بکر اپنے سر کو پتھر مار کر پھوڑ لے اور پھر اس سے زید کی سر درد جاتی رہے۔۱؎ سوچنا چاہیے کہ گناہ تو کیا زید نے مگر بکر اُس کی جگہ سولی چڑھے یہ کہاں کا انصاف ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ گلے پڑا ڈھول بجا رہے ہیں ورنہ ان کے دل تو اس عقیدہ سے متنفر ہیں اور اب تو خدا کی طرف سے توحید کی ہوا چل رہی ہے اور بہت سے لوگ اس انسان پرستی کو چھوڑ کر خدا پرستی اختیار کرتے جاتے ہیں۔۲؎

دجال اور ضالّین ہم معنی ہیں

یہ جو میں نے ضالّین کا ذکر کیا ہے تو اس سے مراد بھی پادری لوگ ہیں جو نہ صرف خود گمراہ ہیں بلکہ اوروں کو گمراہ کرنے میں بھی پوری ہمت اور کوشش سے کام لیتے ہیں۔ اور یہ جو حدیثوں میں دجّال کا ذکر آیا ہے تو اس سے مراد ضالّین ہی ہیں اور اگر دجّال کے معنے ضالّین کے نہ لیے جاویں تو ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ نے ضالّین کا ذکر تو قرآن شریف میں کر دیا بلکہ ان کے فتنہ عظیم سے بچنے کے لئے دعا بھی سکھا دی مگر دجّال کا ذکر تک بھی نہ کیا حالانکہ وہ ایک ایسا عظیم فتنہ تھا جس سے لکھوکھہا لوگ گمراہ ہو جانے تھے۔

غرض سچی بات یہی ہے کہ دجّال اور ضالّین ایک ہی گروہ کا نام ہے جو لوگوں کو گمراہ کرتے پھرتے ہیں اور اس آخری زمانہ میں اپنے پورے زور پر ہیں اور ہر ایک طرح کے مکر اور فریب سے خلقت کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے پھرتے ہیں اور چونکہ دجّال کے معنے بھی گمراہ کرنے والے کے ہیں۔ اسی واسطے احادیث میں یہ لفظ ضالّین کی بجائے بولا گیا ہے اور احادیث میں ضالّین کی بجائے دجّال کا لفظ آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ لوگ اپنی طرف سے ایک دجّال بنا لیں گے اور عجیب عجیب قسم کے خیالات اس کی طرف منسوب کریں گے کہ اس کے ایک ہاتھ میں بہشت ہوگا اور ایک ہاتھ میں دوزخ اور وہ خدائی کا بھی دعویٰ کرے گا اور نبوت کا بھی اور اس کے ماتھے پر کافر لکھا ہوا ہوگا اور اس کا ایک گدھا ہو گا جس کے کانوں میں اس قدر فاصلہ ہوگا اور اس میں یہ یہ باتیں ہوں گی۔ اس لئے فرماتا ہے کہ وہ دجّالی گروہ ضالّین کا ہی ہے جو طرح طرح کے پیرایوں میں لوگوں کو گمراہ کرتے پھرتے ہیں اور بڑے بڑے وعدے دے دے کر خدا تعالیٰ کی کتابوں میں تحریف تبدیل کرتے ہیں اور لوگوں کو خدا تعالیٰ کے حکموں سے بالکل روگردان کر رہے ہیں یہاں تک کہ سؤر جیسی گندی چیز کو بھی حلال خیال کر رہے ہیں۔ حالانکہ توریت میں سؤر خاص طور پر حرام کیا گیا ہے اور خود مسیحؑ نے بھی کہا ہے کہ سؤروں کے آگے موتی مت ڈالو۔

اور ایسا ہی کَفّارہ جیسا گندہ مسئلہ ایجاد کر کے انہوں نے گناہوں کے لئے ایک وسیع میدان تیار کر دیا ہے خواہ انسان کیسے ہی کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو۔ مگر یسوع کو خدا یا خدا کا بیٹا سمجھنے سے وہ سب عیب جاتے رہیں گے اور انسان نجات پا جائے گا۔ اب بتلاؤ کیا یہ صاف سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ وہی گمراہ کرنے والا گروہ ہے جس کو احادیث میں دجّال اور قرآن کریم میں ضالّین کر کے پکارا گیا ہے۔

کسر صلیب اور قتل خنزیر

اور پھر یہ صحیح بخاری میں آنے والے مسیح کی نسبت (جو کہ اس وقت آگیا ہے) جو لکھا ہے یَکْسِـرُ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْـخِنْـزِیْرَ یعنی وہ صلیبوں کو توڑے گا اور خنزیروں کو قتل کرے گا تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ جنگلوں میں چوہڑوں اور چماروں کی طرح شکار کھیلتا پھرے گا اور گرجوں پر چڑھ کر صلیبیں توڑتا پھرے گا۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ خنزیر نجاست کھانے والے کو کہتے ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ وہ نجاست جانوروں کی ہی ہو۔ بلکہ جھوٹ اور دروغ کی جو نجاست ہے وہ سب سے گندی اور بدبودار نجاست ہے اس لئے ایسے لوگوں کا جو ہر وقت جھوٹ اور فریب سے دنیا کو گمراہ کرتے رہتے ہوں اللہ تعالیٰ نے خنزیر نام رکھا ہے اور یہ جو فرمایا یَکْسِـرُ الصَّلِیْبَ تو اس کے یہ معنے نہیں کہ مسیح جب آوے گا تو پتھر، تانبے اور لکڑی وغیرہ کی صلیبوں کو جو پیسے پیسے پر فروخت ہوتی ہیں توڑتا پھرے گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ صلیبی مذہب کی بنیاد کو توڑے گا اب دیکھ لو کہ اُن کے مذہب کا تمام دارو مدار تو عیسٰیؑ کی زندگی پر ہے اور یہ نہیں کہ دوسرے انبیاء کی طرح وہ زندہ ہے بلکہ وہ ایسا زندہ ہے کہ پھر دوبارہ دنیا میں آئے گا اور خلقت کا فیصلہ کرے گا اور پھر معلوم نہیں کہ مسلمانوں میں عیسٰیؑ کی زندگی کا مسئلہ کہاں سے آگیا بد قسمتی سے انہوں نے بھی عیسائیوں کی ہاں میں ہاں ملانی شروع کردی۔

غرض سمجھنا چاہیے کہ عیسائیوں کے مذہب کی بنیاد تو صرف عیسٰیؑ کی زندگی پر ہے جب وہ مَر گیا تو پھر ان کا مذہب بھی ان کے ساتھ ہی مَر گیا۔

لدھیانہ میں ایک دفعہ ایک پادری میرے پاس آیا اثنائے گفتگو میں مَیں نے اسے کہا کہ عیسٰیؑ کی ب در س ے۔ ’’اس نے کہ ا کہ ا گر م سی بات ہے۔ اسی پر تو ہمارے مذہبح ک ے۱؎

زندہ ہونے کا عقیدہ نہ حضرت عیسیٰ زندہ موجود ہیں اور وہی دوبارہ آئیں گے میں نے اُن سے کہا کہ اچھا یہ تو بتلاؤ کہ سوائے اس کے کہ کئی ہزار آدمی مرتد ہو گئے اور اس بات کا نتیجہ ہی کیا نکلا ہے؟ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ تب میں نے کہا کہ اچھا اس نسخہ کا تو آپ لوگوں نے تجربہ کر لیا ہے یہ تو غلط نکلا۔ اب ہمارا نسخہ بھی چند روز استعمال کر کے دیکھ لو کہ نتیجہ کیا ہوتا ہے۱؎ اس پر ایک شخص اُٹھا اور کہنے لگا اسلام کی سچی خیر خواہی جیسی آپ کر رہے ہیں اور کوئی نہیں کر رہا۔ آپ بڑی خوشی سے اپنے کام میں لگے رہیں۔

موجودہ مسلمانوں کے غلط عقاید

غرض مسلمانوں کی عجیب حالت ہو رہی ہے۔ بات بات میں پیچھے۔ جگہ جگہ پر شکست۔ ان کے نزدیک ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو فوت ہو گئے ہیں مگر عیسیٰ زندہ ہیں اور (نعوذ باللہ )ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو مسِّ شیطان سے پاک نہیں تھے مگر عیسٰیؑ پاک تھا۔ اور پھر بے باپ تھا تو عیسٰیؑ، پرندوں کا خالق تھا تو عیسیٰ، مردے زندہ کرتا تھا تو عیسیٰ، آسمان پر چڑھ گیا تھا اور پھر دوبارہ نازل ہو گا تو عیسٰیؑ۔ اب بتلاؤ سوائے مرتد ہونے کے اس کا اور کیا نتیجہ ہو سکتا ہے؟ غرض عیسٰیؑ کی زندگی مرتد کرنے کا آلہ ہے۔ جو لوگ عیسائی ہو جاتے ہیں تو وہ ایسی ایسی باتیں ہی سن کر ہو جایا کرتے ہیں جن کا میں ذکر کر چکا ہوں۔

مرزائی ہیں تو کا فر مگر آج عزت رکھ لی ہے

ایک دفعہ بشپ صاحب لاہور میں لیکچر دے رہے تھے اور اس قسم کی باتیں پیش کرتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )صاحب تو فوت ہو چکے ہیں اور ان کی مدینہ میں قبر موجود ہے مگر یسوع مسیح کی نسبت خود مسلمان بھی مانتے ہیں کہ وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں وغیرہ وغیرہ اور پھر کہتے تھے مسلمانو! تم خود منصف بن کے دیکھ لو کہ آیا یہ باتیں سچی ہیں یا نہیں؟ تب ہمارے مفتی صاحب آگے بڑھے اور بشپ صاحب کو کہنے لگے کہ بتاؤ یہ باتیں قرآن شریف میں کہاں لکھی ہیں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو مر گئے ہیں اور عیسیٰ آسمانوں پر زندہ ہیں؟ قرآن مجید میں تو صاف طور پر عیسیٰ کی موت لکھی ہے اور آیت فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ(المائدۃ:۱۱۸) اسی بات کی شہادت دے رہی ہے کہ عیسٰیؑ فوت ہو چکے ہیں تب بشپ صاحب سے اور تو کچھ بن نہ آیا گھبرا کر کہنے لگے ’’معلوم ہوتا ہے کہ تم مرزائی ہو ‘‘پھر اس کے بعد وہ لوگ جو وعظ سن رہے تھے باہر آ کر کہنے لگے کہ ’’ہیں تو کافر مگر آج تو عزت رکھ لی ہے

‘‘روحانی ہتھیار اب ہمارے پاس ہیں

غرض یاد رکھنا چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو اقبال دیتا ہے تو ہتھیار بھی ساتھ ہی دیتا ہے۔ دیکھو جسمانی طور پر آجکل یورپ کا ہی بول بالا ہے مگر ہر ایک قسم کے عجیب عجیب ہتھیار بھی تو یورپ والوں نے ہی تیار کر رکھے ہیں یہاں تک کہ اگر سلطان روم کو بھی کسی ہتھیار کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ بھی انہیں سے منگوا بھیجتا ہے اسی طرح روحانی ہتھیار اب ہمارے ہاتھ میں ہیں۱؎ اور جس کے ہاتھ میں ہتھیار نہیں وہ غلبہ کس طرح پا سکتا ہے؟ اب تم لوگ جہاں جاؤ گے کہو گے کہ عیسٰی مَر گیا اور اس کی وفات قرآن مجید میں موجود، احادیث صحیحہ میں موجود ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہی دی کہ میں نے معراج کی رات کو حضرت عیسٰی کو مُردوں میں دیکھا اور خود مَر کر دکھا دیا کہ مجھ سے پہلے جتنے نبی آتے رہے ہیں وہ سب کے سب فوت ہو چکے ہیں اور ایسے ہی کئی قسم کے اَور بھی چمکتے ہوئے دلائل خدا تعالیٰ نے تم بدر س ے۔ ’’خدات عال یٰ نے ہمیں ر و حا ن ی ہے۔

مسلمانوں نے اسلام کے ضعف کو سمجتھ ی

ا ر دی ئے ہی ں یک شخص (عبدالحکیم )ہے جو بیس برس تک میرا مرید رہا ہے اور ہر طرح سے میری تائید کرتا رہا ہے اور میری سچائی پر اپنی خوابیں سناتا رہا ہے۔ اب مرتد ہو کر اس نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام اس نے میری طرف منسوب کر کے کانا دجّال رکھا ہے لیکن اصلی بات یہ ہے کہ اس کو اس بات کی خبر ہی نہیں ہے کہ اسلام کا کیا حال ہو رہا ہے؟ جن لوگوں کے دھو کوں اور فریبوں سے آئے دن لوگ اسلام سے مرتد ہو رہے ہیں وہ تو اس کے نزدیک دجّال نہیں ہیں اور ان کا ذکر تک بھی اپنی کتابوں میں نہیں کرتا ہے اور جو اسلام کا زندہ چہرہ دکھا رہا ہے اور تازہ بتازہ نشانوں سے اس کی تائید کر رہا ہے اور ہر طرح سے اسلام کی مدد کر رہا ہے اور دشمنان اسلام کا دندان شکن جواب دے رہا ہے وہ اس کی نظر میں دجّال ہے۔

صفائی ذہن کے لئے تقویٰ ضروری ہے

سو سمجھنا چاہیے کہ صفائی ذہن بھی تو آخر تقویٰ سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ اسی واسطے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ(البقرۃ:۲، ۳) یعنی یہ کتاب انہیں کو ہدایت نصیب کرتی ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جن میں تقویٰ نہیں وہ تو اندھے ہیں۱؎

اگر کوئی پاک نظر سے اور خدا تعالیٰ کا خوف کر کے اس کو دیکھتا ہے تب تو اس کو سب کچھ اس میں سے نظر آ جاتا ہے اور اگر ضد اور تعصب کی پٹی آنکھوں پر باندھی ہوئی ہے تو وہ اس میں سے کچھ بھی نہیں دیکھ سکتا۔

شیطان کا مغلوب ہونا مسیح موعودؑ کے ہاتھوں مقدّر ہے

یاد رکھنا چاہیے کہ دجّال اصل میں شیطان کے مظہر کو کہتے ہیں جس کے معنے ہیں راہ ہدایت سے گمراہ کرنے والا۔ لیکن آخری زمانہ کی نسبت پہلی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس وقت شیطان کے ساتھ بہت جنگ ہوں گے لیکن آخر کار شیطان مغلوب ہو جائے گا۔ گو ہر نبی کے زمانہ میں شیطان مغلوب ہوتا رہا ہے مگر وہ صرف فرضی طور پر تھا حقیقی طور پر اس کا مغلوب ہونا مسیح کے ہاتھوں سے مقدر تھا اور خدا تعالیٰ نے یہاں تک غلبہ کا وعدہ دیا ہے کہ وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ(اٰل عمران:۵۶) فرمایا ہے کہ تیرے حقیقی تابعداروں کو ہی دوسروں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔ غرض شیطان اس آخری زمانہ میں پورے زور سے جنگ کر رہا ہے مگر آخری فتح ہماری ہی ہوگی۔ یہ تو تم جانتے ہی ہو اور تمہارے نزدیک یہ ایک معمولی سی بات ہے کہ حضرت عیسٰی مَر چکے ہیں اور اس بات میں تم نے ہر طرح سے فتح بھی حاصل کر لی ہے۔۱؎

شیطان کا مَرنا ابھی باقی ہے

مگر شیطان کا مَرنا ابھی باقی ہے کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ اس کا بہت سا تسلط ابھی تم لوگوں پر باقی ہے۔ اکثر لوگ یہاں سے بیعت کر جاتے ہیں اور گھر میں پہنچ کر ایک خط ارتداد کا لکھ دیتے ہیں اور اس کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ کوئی مولوی انہیں مل جاتا ہے جو طرح طرح کی باتیں سنا کر اور ہم پر قسم قسم کے جھوٹے الزام قائم کر کے ان کو پھسلا دیتا ہے اور ان لوگوں میں بھی چونکہ شیطان کا بہت سا حصہ باقی ہوتا ہے اس لئے وہ شیطان سیرت لوگوں کے پھندوں میں بہت جلد پھنس جاتے ہیں۔ چونکہ میں اپنے دعویٰ کے متعلق کتاب حقیقۃ الوحی میں مَیں بہت کچھ بیان کر چکا ہوں اور تم اس کو پڑھ بھی چکے ہو اس لئے اگر میں اس کے متعلق کچھ بیان کروں تو تقریر کا سلسلہ لمبا ہو جائے گا۔ سو اس وقت تم لوگوں کو شیطان کی وفات کا مسئلہ یاد کر لینا چاہیے۔ حضرت عیسیٰ کو جو ایک فرضی حیات مانی ہوئی تھی اس کو مارنے میں تم لوگ کامیاب ہو گئے ہو مگر شیطان کا مارنا ابھی باقی ہے مگر یاد رکھنا چاہیے کہ اس کا مارنا صرف اسی قدر نہیں ہے کہ صرف زبان سے ہی کہہ دیا جاوے کہ شیطان مَر گیا ہے اور وہ مَر جاوے بلکہ تم لوگوں کو عملی طور پر دکھانا چاہیے کہ شیطان مَر گیا ہے شیطان کی موت قال سے نہیں بلکہ حال سے ظاہر کرنی چاہیے۔ خدا کا وعدہ ہے کہ آخری مسیح کے زمانہ میں شیطان بالکل مَر جائے گا۔ گو شیطان ہر ایک انسان کے ساتھ ہوتا ہے مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شیطان مسلمان ہو گیا تھا۔

شیطان کے لاحول سے بھاگنے کی حقیقت

اسی طرح خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اس زمانہ میں شیطان کی بالکل بیخ کنی کر دی جائے گی۔ یہ تو تم لوگ جانتے ہی ہو کہ شیطان لاحول کہنے سے بھاگتا ہے مگر وہ ایسا سادہ لوح نہیں کہ صرف زبانی طور پر لاحول کہنے سے بھاگ جائے۔ اس طرح سے تو خواہ سو دفعہ لاحول پڑھا جاوے وہ نہیں بھاگے گا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ جن کے ذرّہ ذرّہ میں لاحول سرایت کر جاتا ہے اور جو ہر وقت خدا تعالیٰ سے ہی مدد اور استعانت طلب کرتے رہتے ہیں اور اس سے ہی فیض حاصل کرتے رہتے ہیں وہ شیطان سے بچائے جاتے ہیں اور وہی لوگ ہوتے ہیں جو فلاح پانے والے ہوتے ہیں۔

دعا کی ضرورت اور حقیقت

مگر یاد رکھو! کہ یہ جو خدا تعالیٰ نے قرآن مجید کی ابتدا بھی دعا سے ہی کی ہے اور پھر اس کو ختم بھی دعا پر ہی کیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ انسان ایسا کمزور ہے کہ خدا کے فضل کے بغیر پاک ہو ہی نہیں سکتا۱؎ اور جب تک خدا تعالیٰ سے مدد اور نصرت نہ ملے یہ نیکی میں ترقی کر ہی نہیں سکتا۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ سب مُردے ہیں مگر جس کو خدا زندہ کرے اور سب گمراہ ہیں مگر جس کو خدا ہدایت دے اور سب اندھے ہیں مگر جس کو خدا بینا کرے۔

غرض یہ سچی بات ہے کہ جب تک خدا کا فیض حاصل نہیں ہوتا تب تک دنیا کی محبت کا طوق گلے کا ہار رہتا ہے اور وہی اس سے خلاصی پاتے ہیں جن پر خدا اپنا فضل کرتا ہے مگر یاد رکھنا چاہیے کہ خدا کا فیض بھی دعا سے ہی شروع ہوتا ہے۔

لیکن یہ مت سمجھو کہ دعا صرف زبانی بک بک کا نام ہے بلکہ دعا ایک قسم کی موت ہے جس کے بعد زندگی حاصل ہوتی ہے جیسا کہ پنچابی میں ایک شعر ہے۔

جو منگن جائے سو مَر رہے

جو مَرے سومنگن جا۱؎

دعا میں ایک مقناطیسی اثر ہوتا ہے وہ فیض اور فضل کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔

یہ کیا دعا ہے کہ منہ سے تو اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ(الفاتحۃ:۶) کہتے رہے اور دل میں خیال رہا کہ فلاں سودا اس طرح کرنا ہے۔ فلاں چیز رہ گئی ہے۔ یہ کام یوں چاہیے تھا اگر اس طرح ہو جائے تو پھر یوں کریں گے۔ یہ تو صرف عمر کا ضائع کرنا ہے۔ جب تک انسان کتاب اللہ کو مقدم نہیں کرتا اور اسی کے مطابق عملدرآمد نہیں کرتا تب تک اس کی نمازیں محض وقت کا ضائع کرنا ہے۔

دعا کے لوازمات اورنتائج

قرآن مجید میں تو صاف طور پر لکھا ہے قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ صَلَاتِہِمۡ خٰشِعُوۡنَ(المؤمنون:۲، ۳) یعنی جب دعا کرتے کرتے انسان کا دل پگھل جائے اور آستانہءِ الوہیت پر ایسے خلوص اور صدق سے گر جاوے کہ بس اسی میں محو ہو جاوے اور سب خیالات کو مٹا کر اسی سے فیض اور استعانت طلب کرے اور ایسی یکسوئی حاصل ہو جائے کہ ایک قسم کی رقّت اور گداز پیدا ہو جاوے تب فلاح کا دروازہ کھل جاتا ہے جس سے دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ دو محبتیں ایک جگہ جمع نہیں رہ سکتیں۔ جیسے لکھا ہے۔

ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دوں

ایں خیال است و محال است و جنون

اسی لیے اس کے بعد ہی خدا فرماتا ہے وَالَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَ(المؤمنون:۴) یہاں لغو سے مراد دنیا ہے یعنی جب انسان کو نمازوں میں خشوع اور خضوع حاصل ہونے لگ جاتا ہے تو پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دنیا کی محبت اس کے دل سے ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ پھر وہ کاشتکاری، تجارت، نوکری وغیرہ چھوڑ دیتا ہے بلکہ وہ دنیا کے ایسے کاموں سے جو دھوکہ دینے والے ہوتے ہیں اور جو خدا سے غافل کر دیتے ہیں اعراض کرنے لگ جاتا ہے۱؎ اور ایسے لوگوں کی گریہ وزاری اور تضرّع اور ابتہال اور خدا کے حضور عاجزی کرنے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ ایسا شخص دین کی محبت کو دنیا کی محبت، حرص، لالچ اور عیش وعشرت سب پر مقدم کر لیتا ہے کیونکہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ ایک نیک فعل دوسرے نیک فعل کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور ایک بد فعل دوسرے بد فعل کی ترغیب دیتا ہے۔ جب وہ لوگ اپنی نمازوں میں خشوع خضوع کرتے ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ طبعاً وہ لغو سے اعراض کرتے ہیں اور اس گندی دنیا سے نجات پا جاتے ہیں اور اس دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو کر خدا کی محبت ان میں پیدا ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہُمۡ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوۡنَ(المؤمنون:۵) یعنی وہ خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور یہ ایک نتیجہ ہے عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَ(المؤمنون:۴) کا۔ کیونکہ جب دنیا سے محبت ٹھنڈی ہو جائے گی۲؎ تو اس کا لازمی نتیجہ ہو گا کہ وہ خدا کی راہ میں خرچ کریں گے اور خواہ قارون کے خزانے بھی ایسے لوگوں کے پاس جمع ہوں وہ پروا نہیں کریں گے اور خدا کی راہ میں دینے سے نہیں جھجکیں گے۔ ہزاروں آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ وہ زکوٰۃ نہیں دیتے یہاں تک کہ اُن کی قوم کے بہت سے غریب اور مفلس آدمی تباہ اور ہلاک ہو جاتے ہیں مگر وہ ان کی پروا بھی نہیں کرتے حالانکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہر ایک چیز پر زکوٰۃ دینے کا حکم ہے یہاں تک کہ زیور پر بھی۔ ہاں جواہرات وغیرہ چیزوں پر نہیں اور جو امیر، نواب اور دولت مند لوگ ہوتے ہیں ان کو حکم ہے کہ وہ شرعی احکام کے بموجب اپنے خزانوں کا حساب کر کے زکوٰۃ دیں لیکن وہ نہیں دیتے۔ اس لئے خدا فرماتا ہے عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَ(المؤمنون:۴) کی حالت تو اُن میں تب پیدا ہو گی جب وہ زکوٰۃ بھی دیں گے گویا زکوٰۃ کا دینا لغو سے اعراض کرنے کا ایک نتیجہ ہے۔۳؎

پھر اس کے بعد فرمایا۔ وَالَّذِیۡنَ ہُمۡ لِفُرُوۡجِہِمۡ حٰفِظُوۡنَ(المؤمنون:۶) یعنی جب وہ لوگ اپنی نمازوں میں خشوع خضوع کریں گے۔ لغو سے اعراض کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگ اپنے سوراخوں کی حفاظت کریں گے۔ کیونکہ جب ایک شخص دین کو دنیا پر مقدّم رکھتا ہے اور اپنے مال کو خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہ کسی اور کے مال کو ناجائز طریقہ سے کب حاصل کرنا چاہتا ہے اور کب چاہتا ہے کہ میں کسی دوسرے کے حقوق کو دبا لُوں۔۱؎ اور جب وہ مال جیسی عزیز چیز کو خدا کی راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا تو پھر آنکھ، ناک، کان، زبان وغیرہ کو غیر محل پر کب استعمال کرنے لگا؟ کیونکہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب ایک شخص اوّل درجہ کی نیکیوں کی نسبت اس قدر محتاط ہوتا ہے تو ادنیٰ درجہ کی نیکیاں خود بخود عمل میں آتی جاتی ہیں۔ مثلاً جب خشوع خضوع سے دعا مانگنے لگا تو پھر اس کے ساتھ ہی لغو سے بھی اعراض کرنا پڑا اور جب لغو سے اعراض کیا تو پھر زکوٰۃ کے ادا کرنے میں دلیر ہونے لگا اور جب اپنے مال کی نسبت وہ اس قدر محتاط ہو گیا تو پھر غیروں کے حقوق چھیننے سے بدرجہءِ اَولیٰ بچنے لگا۔ اس لئے اس کے آگے فرمایا وَالَّذِیۡنَ ہُمۡ لِاَمٰنٰتِہِمۡ وَعَہۡدِہِمۡ رٰعُوۡنَ(المؤمنون:۹) کیونکہ جو شخص دوسرے کے حق میں دست اندازی نہیں کرتا اور جو حقوق اس کے ذمہ ہیں ان کو ادا کرتا ہے۔ اس کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنے عہدوں کا پکّا ہو اور دوسرے کی امانتوں میں خیانت کرنے سے بچنے والا ہو۔ اس لئے بطور نتیجہ کے فرمایا کہ جب ان لوگوں میں یہ وصف پائے جاتے ہوں گے تو پھر لازمی بات ہے کہ وہ اپنے عہدوں کے بھی پکّے ہوں گے۔

نماز کی اہمیت اور حقیقت

پھر ان سب باتوں کے بعد فرمایا۔ وَالَّذِیۡنَ ہُمۡ عَلٰی صَلَوٰتِہِمۡ یُحَافِظُوۡنَ(المؤمنون:۱۰) یعنی ایسے ہی لوگ ہیں جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں اور کبھی ناغہ نہیں کرتے اور انسان کی پیدائش کی اصل غرض بھی یہی ہے کہ وہ نماز کی حقیقت سیکھے۔ جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ(الذّٰریٰت:۵۷)

غرض یاد رکھنا چاہیے کہ نماز ہی وہ شَے ہے جس سے سب مشکلات آسان ہو جاتے ہیں اور سب بَلائیں دور ہوتی ہیں مگر نماز سے وہ نماز مراد نہیں جو عام لوگ رسم کے طور پر پڑھتے ہیں بلکہ وہ نماز مراد ہے جس سے انسان کا دل گداز ہو جاتا ہے اور آستانہءِ احدیّت پر گر کر ایسا محو ہو جاتا ہے کہ پگھلنے لگتا ہے اور پھر یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ نماز کی حفاظت اس واسطے نہیں کی جاتی کہ خدا کو ضرورت ہے خدا کو ہماری نمازوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ تو غَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ(اٰل عمران:۹۸) ہے اس کو کسی کی حاجت نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو ضرورت ہے اور یہ ایک راز کی بات ہے کہ انسان خود اپنی بھلائی چاہتا ہے اور اسی لیے وہ خدا سے مدد طلب کرتا ہے کیونکہ یہ سچی بات ہے کہ انسان کا خدا سے تعلق ہو جانا حقیقی بھلائی کا حاصل کر لینا ہے۔ ایسے شخص کی اگر تمام دنیا دشمن ہو جائے اور اس کی ہلاکت کے درپے رہے تو اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی اور خدا تعالیٰ کو ایسے شخص کی خاطر اگر لاکھوں کروڑوں انسان بھی ہلاک کرنے پڑیں تو کر دیتا ہے اور اس ایک کی بجائے لاکھوں کو فنا کر دیتا ہے۔

حقیقی نماز

یاد رکھو! یہ نماز ایسی چیز ہے کہ اس سے دنیا بھی سنور جاتی ہے اور دین بھی۔ لیکن اکثر لوگ جو نماز پڑھتے ہیں تو وہ نماز ان پر لعنت بھیجتی ہے۱؎ جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فَوَیۡلٌ لِّلۡمُصَلِّیۡنَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنۡ صَلَاتِہِمۡ سَاہُوۡنَ(الماعون:۵، ۶) یعنی لعنت ہے ان نمازیوں پر جو نماز کی حقیقت سے ہی بے خبر ہوتے ہیں۔ نماز تو وہ چیز ہے کہ انسان اس کے پڑھنے سے ہر ایک طرح کی بدعملی اور بے حیائی سے بچایا جاتا ہے مگر جیسے کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں اس طرح کی نماز پڑھنی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتی اور یہ طریق خدا کی مدد اور استعانت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا اور جب تک انسان دعاؤں میں نہ لگا رہے اس طرح کا خشوع اور خضوع پیدا نہیں ہو سکتا۔ اس لئے چاہیے کہ تمہارا دن اور تمہاری رات غرض کوئی گھڑی دعاؤں سے خالی نہ ہو۔

بہت سخت دن آنی والے ہیں

یاد رکھو! کہ بہت سخت دن آنے والے ہیں جن میں دنیا کو خطرناک شدائد اور مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ عنقریب سخت وبائیں اور طرح طرح کی آفات ارضی و سماوی ظاہر ہونے والی ہیں اور ایک شدید زلزلہ کی بھی خبر دے رکھی ہے جو کہ قیامت کا نمونہ ہو گا اور جس کی نسبت خدا تعالیٰ نے بَغْتَۃً فرمایا ہے یعنی وہ زلزلہ ناگہانی طور پر آ جائے گا۔ ایسے ہی اور بھی بہت سی ڈراؤنی خبریں خدا تعالیٰ نے دے رکھی ہیں۔ اگر تمہیں ان باتوں کا پتہ ہو جائے جو میں دیکھ رہا ہوں تو سارا سارا دن اور ساری ساری رات خدا تعالیٰ کے آگے روتے رہو۔

دیکھو! اسی ایک مہینہ میں ہی تین زلزلے آ چکے ہیں اور یہ سب بطور پیش خیمہ کے ہیں۱؎ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں پہلے تو ٹڈیوں، جوؤں اور مینڈکوں وغیرہ کے عذاب ہی آتے رہے تھے اور مخالفوں نے اُن کو ایک قسم کا تماشا سمجھ رکھا تھا۲؎ اور اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ ان بدبختوں کو یہ خبر نہ تھی کہ ایک وہ معجزہ بھی ظاہر ہوگا۔ جب کہ اٰمَنۡتُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیۡۤ اٰمَنَتۡ بِہٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِیۡلَ(یونس:۹۱) بھی کہنا پڑے گا۔

ابتدائی منذرات کو عبرت کی نظر سے دیکھو

سو اس بات کو اچھی طرح سے یاد رکھو! کہ اگر ابتدائی منذرات کو عبرت کی نظر سے دیکھو گے اور خدا تعالیٰ سے ڈر کر استغفار، لاحول اور دوسرے نیک کاموں میں مشغول ہو جاؤ گے تو یہ تمہارے لیے اچھا ہو گا لیکن جو بے پرواہی سے کام لیتا ہے تو آخر کار جب وہ وقت آجائے گا تو اس وقت رونے چلانے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا اور آخر کار بڑی ذلّت اور نامرادی سے ہلاکت کا منہ دیکھنا پڑے گا اور پھر جس دنیا کے لئے دین سے منہ موڑا تھا اس کو بھی بڑی حسرت سے چھوڑ نا پڑے گا۔

دیکھو! طاعون بھی آنے والی ہے۔ دنیا کہتی ہے کہ اب تو دور ہوگئی ہے اور اس کا دورہ ختم ہو گیا ہے مگر خدا کہتا ہے کہ عنقریب ایسی طاعون پھیلنے والی ہے جو پہلے کی نسبت نہایت ہی سخت ہوگی اور پھر یہ بھی فرمایا ہے کہ ایک سخت وبا پھیلے گی جس کا کوئی نام بھی نہیں رکھ سکتے۔

توبہ۔ایک لاکھ چوبیس ہزارانبیاء کا متفق علیہ مسئلہ

لیکن ان سب باتوں کے بعد میں تمہیں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی رحمتیں سمندروں سے بھی زیادہ ہیں۔ اگر وہ شدید العقاب ہے تو غفور الرحیم بھی تو ہے۔ جو شخص توبہ کرتا اور استغفار اور لاحول میں مشغول ہو جاتا ہے اور دین کو دنیا پر مقدم کرلیتا ہے تو وہ ضرور بچایا جاتا ہے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کا یہ متفق علیہ مسئلہ ہے کہ جو عذاب آنے سے پہلے ڈرتے ہیں اور خدا کی یاد میں مشغول ہو جاتے ہیں وہ اس وقت ضرور بچائے جاتے ہیں جب کہ عذاب اچانک آ دباتا ہے لیکن جو اس وقت روتے اور آہ وزاری کرتے ہیں جب کہ عذاب آپہنچتا ہے اور اس وقت گڑگڑاتے اور توبہ کرتے ہیں جب کہ ہر ایک سخت سے سخت دل والا بھی لرزاں اور ترساں ہوتا ہے تو وہ بے ایمان ہیں وہ ہر گز نہیں بچائے جاتے۔

آنے والے سخت ایام

یہ باتیں جو میں کہہ رہا ہوں میں نہیں جانتا کہ تم میں سے کتنے آدمی ہیں جو سچے دل سے ان باتوں کو مانتے ہیں مگر میں پھر بھی وہی کہتا ہوں کہ یہ دن جو آنے والے ہیں تو یہ نہایت سخت ہیں۔ لوگوں کی بداعتقادیوں اور بدعملیوں نے خدا کے غضب کو بھڑ کا دیا ہے۔ تمام نبیوں نے اس زمانہ کی نسبت پہلے ہی سے خبر دے رکھی ہے کہ اس وقت ایک مری پڑے گی اور کثرت سے اموات ہوں گی۔

اور پھر حدیثوں میں لکھا ہے کہ جہاں تک خدا کے مسیح کی نظر پہنچ سکے گی کافر تباہ اور ہلاک ہوتے جائیں گے یہ بھی بالکل سچی بات ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جس پر اس کی نظر پڑے گی وہی تباہ ہوتا جائے گا بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ جو اس کی نظر میں نشانہ بنیں گے وہ تباہ اور ہلاک ہوتے جائیں گے لیکن اب تو تمام دنیا نشانہ بن رہی ہے۔ خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ(الذّٰریٰت:۵۷) یعنی تمام جنّ اور انسان صرف اسی واسطے پیدا کئے گئے تھے کہ وہ خدا کی معرفت میں ترقی کرتے اور اللہ اور اس کے رسول کے حکموں پر چلتے۔

دنیوی مشاغل میں انہماک

مگر اب تم خود سوچ لو کہ کتنے لوگ ہیں جو دینداری سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور دین کو دنیا پر مقدم کر رہے ہیں۔ تم خود کسی بڑے شہر مثلاً کلکتہ، دہلی، پشاور اور لاہور، امرتسر وغیرہ کے چوک میں کھڑے ہو کر دیکھ لو ہزاروں لاکھوں لوگ اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر دوڑتے پھرتے ہیں مگر اُن کی یہ سب دوڑ دھوپ محض دنیا کے لئے ہوتی ہے۔ آپ کو بہت تھوڑے ایسے ملیں گے جو دین کے کام میں ایسی سرگرمی سے مشغول ہوں۔ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دنیا کی خاطر بڑے بڑے مصائب کا مقابلہ کرتے ہیں مگر دین میں نہایت بودے پائے جاتے ہیں۔ ایک ذرا سے ابتلا پر جھوٹ جیسی نجاست کو کھانے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور اپنی نفسانی خواہشوں کو پورا کرنے کے لئے کن کن حیلوں سے کام لیتے ہیں کہ گویا خدا ہی نہیں۔

انسان جتنی ٹکریں اپنی بیوی کو خوش کرنے اور اس کی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لئے مارتا ہے اگر خدا کی راہ میں اتنی کوشش کرے تو کیا وہ خوش نہ ہوگا؟ ہوگا اور ضرور ہوگا مگر کوئی کوشش کر کے بھی دیکھے۔ اگر ایک کے ہاں اولاد نہیں ہوتی تو محض ایک بچہ کی خاطر وہ کیسی کیسی سختیاں جھیلتا ہے اور کس طرح کے وسائل اور تدابیر سے اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کہاں کا کہاں خوار ہوتا پھرتا ہے گویا خدا اس کے نزدیک ہے ہی نہیں۔ غرض یاد رکھنا چاہیے کہ انسان جب اپنی زندگی کی اصل غرض سے غافل ہو جاتا ہے تو پھر وہ اسی قسم کے دھندوں اور بکھیڑوں میں سرگرداں اور مارا مارا پھرتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ جتنی جلدی اُس سے ہو سکے خدا سے اپنا تعلق قائم کرے۔ جب تک اس کے ساتھ تعلق نہیں ہوتا تب تک کچھ بھی نہیں۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ اگر انسان آہستہ آہستہ خدا کی طرف جاتا ہے تو خدا جلدی سے اس کی طرف آتا ہے اور اگر انسان جلدی سے اس کی راہ میں ترقی کرتا ہے تو خدا دوڑ کر اس کی طرف آتا ہے لیکن اگر بندہ خدا (سے) لاپروا بن جائے اور غفلت اور سستی سے کام لے پھر اس کا نتیجہ بھی ویسا ہی ہوتا ہے۔

ذوالقرنین سے مراد مسیح موعودؑ ہے

ایک دفعہ سورہ کہف جس کو ذوالقرنین بھی کہتے ہیں۱؎ میں دیکھ رہا تھا تو جب میں نے اس قصہ کو غور سے پڑھا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس میں بعینہٖ اسی زمانہ کا حال درج ہے۔ جیسے لکھا ہے کہ جب اس نے سفر کیا تو ایسی جگہ پہنچا جہاں کہ اُسے معلوم ہوا کہ سورج کیچڑ میں ڈوب گیا ہے اور یہ اس کا مغربی سفر تھا اور اس کے بعد پھر وہ ایسے لوگوں کے پاس پہنچتا ہے جو دھوپ میں ہیں اور جن پر کوئی سایہ نہیں۔ پھر ایک تیسری قوم اُسے ملتی ہے جو یاجوج ماجوج کے حالات بیان کر کے اس سے حمایت طلب کرتی ہے۔ اب مثالی طور پر تو خدا نے یہی بیان کیا ہے لیکن ذوالقرنین تو اس کو بھی کہتے ہیں جس نے دو صدیاں پائی ہوں اور ہم نے دو صدیوں کو اس قدر لیا ہے کہ اعتراض کا موقع ہی نہیں رہتا میں نے ہر صدی پر دو صدیوں سے حصہ لیا ہے۔ تم حساب کر کے دیکھ لو اور یہ جو قرآن میں قصص پائے جاتے ہیں تو یہ صرف قصہ کہانیاں نہیں بلکہ یہ عظیم الشان پیشگوئیاں ہیں جو شخص ان کو صرف قصے کہانیاں سمجھتا ہے وہ مسلمان نہیں۔ غرض اس حساب سے تو مجھے بھی ذوالقرنین ماننا پڑے گا اور ائمہ دین میں سے بھی ایک نے ذوالقرنین سے مسیح مراد لیا ہے۔ اب خدا تعالیٰ نے اس قصہ میں مغربی اور مشرقی دو قوموں کا ذکر کیا ہے۔ مغربی قوم سے مراد تو وہ لوگ ہیں جن کو انجیل یا دیگر صحیفہ جات کا صاف شفاف پانی دیا گیا تھا۔ مگر وہ روشن تعلیم انہوں نے ضائع کر دی اور اپنے پاس کیچڑ اور گند باقی رہنے دیا اور مشرقی قوم سے وہ مسلمان لوگ مراد ہیں جو امام کے سایہ کے نیچے نہیں آئے۱؎ اور دھوپ کی شعاعوں سے جھلسے جا رہے ہیں لیکن ہماری جماعت بہت خوش نصیب ہے۔۲؎ اس کو اللہ تعالیٰ کا بہت شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے اپنے فضل سے ہدایت عطا فرمائی لیکن یہ ابھی ابتدائی حالت ہے۔

جماعت کے لئے ضروری نصائح

میں خوب جانتا ہوں کہ ابھی بہت سی کمزوریاں اس میں پائی جاتی ہیں۔ اس لئے سمجھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰٮہَا وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰٮہَا(الشّمس:۱۰، ۱۱) جس کا مطلب یہ ہے کہ نجات پا گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کر لیا اور خائب اور خاسر ہو گیا وہ شخص جو اس سے محروم رہا اس لئے اب تم لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ تزکیہ نفس کس کو کہا جاتا ہے۔

تزکیہءِ نفس کی حقیقت

سو یاد رکھو کہ ایک مسلمان کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا کرنے کے واسطے ہمہ تن تیار رہنا چاہیے اور جیسے زبان سے خدا تعالیٰ کو اس کی ذات اور صفات میں وحدہٗ لاشریک سمجھتا ہے ایسے ہی عملی طور پر اس کو دکھانا چاہیے اور اس کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی اور ملائمت سے پیش آنا چاہیے اور اپنے بھائیوں سے کسی قسم کا بھی بغض، حسد اور کینہ نہیں رکھنا چاہیے اور دوسروں کی غیبت کرنے سے بالکل الگ ہو جانا چاہیے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ یہ معاملہ تو ابھی دور ہے کہ تم لوگ خدا کے ساتھ ایسے از خود رفتہ اور محو ہو جاؤ کہ بس اُسی کے ہو جاؤ اور جیسے زبان سے اس کا اقرار کرتے ہو عمل سے بھی کر کے دکھاؤ۔ ابھی تو تم لوگ مخلوق کے حقوق کو بھی کما حقہ ادا نہیں کرتے۔ بہت سے ایسے ہیں جو آپس میں فساد اور دشمنی رکھتے ہیں اور اپنے سے کمزور اور غریب شخصوں کو نظر حقارت سے دیکھتے ہیں اور بدسلوکی سے پیش آتے ہیں اور ایک دوسرے کی غیبتیں کرتے اور اپنے دلوں میں بغض اور کینہ رکھتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم آپس میں ایک وجود کی طرح بن جاؤ۔۱؎ اور جب تم ایک وجود کی طرح ہو جاؤ گے اس وقت کہہ سکیں گے کہ اب تم نے اپنے نفسوں کا تزکیہ کر لیا۔ کیونکہ جب تک تمہارا آپس میں معاملہ صاف نہیں ہوگا اس وقت تک خدا تعالیٰ سے بھی معاملہ صاف نہیں ہو سکتا۔۲؎ گو ان دونوں قسموں کے حقوق میں بڑا حق خدا تعالیٰ کا ہے مگر اس کی مخلوق کے ساتھ معاملہ کرنا یہ بطور آئینہ کے ہے۔ جو شخص اپنے بھائیوں سے صاف صاف معاملہ نہیں کرتا وہ خدا کے حقوق بھی ادا نہیں کر سکتا۔

یاد رکھو! اپنے بھائیوں کے ساتھ بکلی صاف ہو جانا یہ آسان کام نہیں بلکہ نہایت مشکل کام ہے۔ منافقانہ طور پر آپس میں ملنا جلنا اور بات ہے مگر سچی محبت اور ہمدردی سے پیش آنا اور چیز ہے۔ یاد رکھو! اگر اس جماعت میں سچی ہمدردی نہ ہو گی تو پھر یہ تباہ ہو جائے گی اور خدا اس کی جگہ کوئی اور جماعت پیدا کر لے گا۔۳؎

اللہ تعالیٰ اس جماعت کو صحابہؓ کے رنگ میں رنگین کرنا چاہتا ہے

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جماعت بنائی تھی ان میں سے ہر ایک زکی نفس تھا اور ہر ایک نے اپنی جان کو دین پر قربان کر دیا ہوا تھا ان میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جو منافقانہ زندگی رکھتا ہو۔ سب کے سب حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرنے والے تھے سو یاد رکھو اس جماعت کو بھی خدا تعالیٰ انہیں کے نمونہ پر چلانا چاہتا ہے اور صحابہؓ کے رنگ میں رنگین کرنا چاہتا ہے۔ جو شخص منافقانہ زندگی بسر کرنے والا ہو گا وہ آخر اس جماعت سے کاٹا جائے گا۔

یاد رکھو! یہ خدا کا وعدہ ہے خبیث اور طیّب کبھی اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ ابھی وقت ہے کہ اپنی اپنی اصلاح کرلو۔ یاد رکھو! کہ انسان کا دل خدا کے گھر کی مثال ہے۔ خانہءِ خدا اور خانہءِ انسان ایک جگہ نہیں رہ سکتا جب تک انسان اپنے دل کو پورے طور پر صاف نہ کرے۱؎ اور اپنے بھائی کے لئے دکھ اُٹھانے کو تیار نہ ہو جائے تب تک خدا کے ساتھ معاملہ صاف نہیں ہو سکتا اور یہ باتیں میں اس واسطے بیان کرتا ہوں کہ آپ لوگ جو یہاں قادیان میں آئے ہو ایسا نہ ہو کہ پھر خالی کے خالی ہی واپس چلے جاؤ۔

توبہ کی حقیقت

زندگی کا کچھ اعتبار نہیں معلوم نہیں کہ آئندہ سال تک کون مَرے اور کون زندہ رہے گا اس لئے سچے دل سے توبہ کرنی چاہیے۔ خدا فرماتا ہے یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ تَوۡبَۃً نَّصُوۡحًا(التحریم:۹) سو انسان کو چاہیے کہ اگر توبہ کرے تو خالص توبہ کرے۔ توبہ اصل میں رجوع کو کہتے ہیں۔ صرف الفاظ ایک قسم کی عادت ہو جاتی ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ صرف زبان سے توبہ توبہ کرتے پھرو بلکہ فرمایا کہ خدا کی طرف رجوع کرو جیسا کہ حق ہے رجوع کرنے کا کیونکہ جب متناقض جہات میں سے ایک کو چھوڑ کر انسان دوسری طرف آجاتا ہے تو پھر پہلی جگہ دُور ہو جاتی ہے اور جس کی طرف جاتا ہے وہ نزدیک ہوتی جاتی ہے۔ یہی مطلب توبہ کا ہے کہ جب انسان خدا کی طرف رجوع کرلیتا ہے اور دن بدن اسی کی طرف چلتا ہے تو آخر یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ شیطان سے دُور ہو جاتا ہے اور خدا کے نزدیک ہو جاتا ہے اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جو جس کے نزدیک ہوتا ہے اسی کی بات سنتا ہے اس لیے ایسے انسان پر جو عملی طور پر شیطان سے دُور اور خدا سے نزدیک ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ کے فیوض اور برکات کا نزول ہوتا ہے اور سفلی آلائشوں کا گند اُس سے دھویا جاتا ہے جیسے آگے فرمایا عَسٰی رَبُّکُمۡ اَنۡ یُّکَفِّرَ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ(التحریم:۹) کیونکہ توبہ میں ایک خاصیت ہے کہ گذشتہ گناہ اس سے بخشے جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَیُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ(البقرۃ:۲۲۳)

توَّاب اور مُتَطَھِّر

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک تو توّاب ہوتے ہیں اور ایک متطہّر ہوتے ہیں۔ توّاب ان کو کہا جاتا ہے جو بکلّی خدا کی طرف رجوع کر لیتے ہیں اور متطہّر وہ ہوتے ہیں کہ وہ مجاہدات اور ریاضات کرتے رہتے ہیں اور اُن کے دل میں ایک کپٹ سی لگی رہتی ہے کہ کسی طرح سے اُن آلائشوں سے پاک ہو جاویں اور نفسِ امّارہ کے جذبات پر ہر طرح سے غالب آ کر زکی النفس بن جاویں۔

نفس کی اقسام

یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن مجید میں نفس کی تین قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ نفسِ امّارہ۔ نفسِ لوّامہ۔ نفسِ مطمئنّہ۔

نفسِ امّارہ اس کو کہتے ہیں کہ سوائے بدی کے اور کچھ چاہتا ہی نہیں جیسے فرمایا اللہ نے اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ(یوسف:۵۴) یعنی نفس امّارہ میں یہ خاصیّت ہے کہ وہ انسان کو بدی کی طرف جھکاتا ہے اور ناپسندیدہ اور بد راہوں پر چلانا چاہتا ہے جتنے بدکار چور ڈاکو دنیا میں پائے جاتے ہیں وہ سب اسی نفس کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ ایسا شخص جو نفسِ امّارہ کے ماتحت ہو ہر ایک طرح کے بد کام کرلیتا ہے ہم نے ایک شخص کو دیکھا تھا جس نے صرف بارہ آنہ کی خاطر ایک لڑکے کو جان سے مار دیا تھا۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ

حضرت انساں کہ حد مشترک را جامع است

مے تواند شد مسیحا مے تواند شد خرے

غرض جو انسان نفسِ امّارہ کے تابع ہوتا ہے وہ ہر ایک بدی کو شیرِ مادر کی طرح سمجھتا ہے اور جب تک کہ وہ اسی حالت میں رہتا ہے بدیاں اُس سے دُور نہیں ہوسکتیں۔

پھر دوسری قسم نفس کی نفسِ لوّامہ ہے جیسے کہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالنَّفۡسِ اللَّوَّامَۃِ(القیامۃ:۳) یعنی میں اس نفس کی قسم کھاتا ہوں جو بدی کے کاموں اور نیز ہر ایک طرح کی بے اعتدالی پر اپنے تئیں ملامت کرتا ہے۔ ایسے شخص سے اگر کوئی بدی ظہور میں آجاتی ہے تو پھر وہ اس پر جلدی سے متنبّہ ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو بُری حرکت پر ملامت کرتا ہے اور اسی لئے اس کا نام نفس لَوَّامہ رکھا ہے۔ یعنی بہت ملامت کرنے والا۔ جو شخص اس نفس کے تابع ہوتا ہے وہ نیکیوں کے بجالانے پر پورے طور پر قادر نہیں ہوتا اور طبعی جذبات اس پر کبھی نہ کبھی غالب آجاتے ہیں لیکن وہ اس حالت سے نکلنا چاہتا ہے اور اپنی کمزوری پر نادم ہوتا رہتا ہے۔

اس کے بعد تیسری قسم نفس کی نفسِ. مطمئنّہ ہے جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے یٰۤاَیَّتُہَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّۃُ ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرۡضِیَّۃً فَادۡخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ وَادۡخُلِیۡ جَنَّتِیۡ(الفجر:۲۸ تا ۳۱) یعنی اے وہ نفس! جو خدا سے آرام پا گیا ہے اپنے ربّ کی طرف واپس چلا آ تُو خدا سے راضی ہے اور خدا تجھ پر راضی ہے۔ پس میرے بندوں میں مل جا اور میرے بہشت کے اندر داخل ہو جا۔ غرض یہ وہ حالت ہوتی ہے کہ جب انسان خدا سے پوری تسلی پالیتا ہے اور اس کو کسی قسم کا اضطراب باقی نہیں رہتا اور خدا تعالیٰ سے ایسا پیوند کرتا ہے کہ بغیر اس کے جی ہی نہیں سکتا۔ نفسِ لوّامہ والا تو ابھی بہت خطرے کی حالت میں ہوتا ہے کیونکہ اندیشہ ہوتا ہے کہ لَوٹ کر وہ کہیں پھر نفسِ امّارہ نہ بن جاوے۔ لیکن نفسِ. مطمئنّہ کا وہ مرتبہ ہے کہ جس میں نفس تمام کمزوریوں سے نجات پا کر روحانی قوتوں سے بھر جاتا ہے۔

غرض یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک انسان اس مقام تک نہیں پہنچتا اس وقت تک وہ خطرہ کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لئے چاہیے کہ جب تک انسان اس مرتبہ کو حاصل نہ کر لے مجاہدات اور ریاضات میں لگا رہے۔

روح کا جذام

سوچنا چاہیے کہ انسان کے بدن پر جذام کا داغ نکل آتا ہے تو پھر کیسے کیسے خیالات اس کے دل میں اُٹھتے ہیں اور کیسے دور دراز کے نتیجوں پر وہ پہنچتا ہے اور اپنی آنے والی حالت کا خیال کر کے وہ کیسا غمگین ہوتا ہے؟ کبھی خیال کرتا ہے کہ شاید اب لوگ مجھ سے نفرت کرنے لگ جائیں گے اور میرے ساتھ بدسلوکی سے پیش آئیں گے اور کبھی سوچتا ہے کہ خدا جانے اب میں کسی ابتر حالت میں ہو جاؤں گا اور کن کن دکھوں میں مبتلا ہوں گا۔ لیکن افسوس! کہ اس بات کا خیال تک بھی نہیں کیا جاتا کہ آخر مَرنا ہے اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے اس وقت کیا حالت ہوگی؟ یہ جذام تو ایسا ہے کہ مَرنے کے بعد ہی اس سے خلاصی ہو جاتی ہے مگر وہ کوڑھ جو روح کو لگ جاتا ہے وہ تو ابد تک رہتا ہے کیا کبھی اس کا بھی فکر کیا ہے؟

دو جنّتیں

یاد رکھو! جو خدا کی طرف صدق اور اخلاص سے قدم اُٹھاتے ہیں وہ کبھی ضائع نہیں کئے جاتے ان کو دونوں جہانوں کی نعمتیں دی جاتی ہیں جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے وَلِمَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ(الرحمٰن:۴۷) اور یہ اس واسطے فرمایا کہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ میری طرف آنے والے دنیا کھو بیٹھتے ہیں بلکہ ان کے لئے دو بہشت ہیں ایک بہشت تو اسی دنیا میں اور ایک جو آگے ہوگا۔ دیکھو! اتنے انبیاء گذرے ہیں کیا کسی نے اس دنیا میں ذلّت اور خواری دیکھی؟ سب کے سب اس دنیا میں سے کامیاب اور مظفر و منصور ہو کر گئے ہیں۔ خدا نے ان کے دشمنوں کو تباہ کیا اور ان کو عزّت اور جلال کے تخت پر جگہ دی لیکن اگر وہ اس دنیا کے پیچھے پڑتے تو زیادہ سے زیادہ دس بارہ روپیہ ماہوار کی نوکری انہیں ملتی کیونکہ وہ صاف گو اور سادہ طبع تھے مگر جب انہوں نے خدا کے لئے اس دنیا کو چھوڑا تو ایک دنیا اُن کے تابع کی گئی۔

غور کر کے دیکھو! کہ اگر ان لوگوں نے خدا کے لئے اس دنیا کو چھوڑ دیا تھا تو نقصان کیا اُٹھایا؟ حضرت ابو بکر صدیقؓ کو ہی دیکھو کہ جب وہ شام کے ملک سے واپس آرہے تھے تو راستہ میں ایک شخص ان کو ملا۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ کوئی تازہ خبر سناؤ۔ اس شخص نے جواب دیا کہ اور تو کوئی تازہ خبر نہیں البتہ تمہارے دوست محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )نے پیغمبری کا دعویٰ کیا ہے۔ اس پر ابو بکر صدیقؓ نے اس کو جواب دیا کہ اگر اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو وہ سچا ہے۔ وہ جھوٹا کبھی نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ سیدھے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان پر چلے گئے اور آنحضرت کو مخاطب کرکے کہنے لگے کہ آپ گواہ رہیں کہ سب سے پہلے آپ پر ایمان لانے والا میں ہوں۔ دیکھو! انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معجزہ نہیں مانگا تھا۔ صرف پہلے تعارف کی برکت سے وہ ایمان لے آئے تھے۔

یاد رکھو! معجزات وہ طلب کیا کرتے ہیں جن کو تعارف نہیں ہوتا۔ جو لنگوٹیا یار ہوتا ہے اس کے لیے تو سابقہ حالات ہی معجزہ ہوتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ کو بڑی بڑی تکالیف کا سامنا ہوا۔ طرح طرح کے مصائب اور سخت درجہ کے دکھ اُٹھانے پڑے۔ لیکن دیکھو! کہ اگر سب سے زیادہ انہیں کو دکھ دیا گیا تھا اور وہی سب سے بڑھ کر ستائے گئے تھے تو سب سے پہلے تخت نبوت پر وہی بٹھائے گئے تھے۔ کہاں وہ تجارت کہ تمام دن دھکے کھاتے پھرتے تھے اور کہاں یہ درجہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے اوّل خلیفہ انہیں کو مقرر کیا گیا۔

خدا تعالیٰ پر بد ظنّی نہ کرو

انسان کو چاہیے کہ خدا تعالیٰ پر بدظنّی کرنے سے بچے کیونکہ اس کا انجام آخر میں تباہی ہوا کرتا ہے۔ جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے وَذٰلِکُمۡ ظَنُّکُمُ الَّذِیۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّکُمۡ اَرۡدٰٮکُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِیۡنَ(حٰمٓ السجدۃ:۲۴) اس لئے سمجھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ پر بدظنی کرنا اصل میں بے ایمانی کا بیج بونا ہے جس کا نتیجہ آخر کار ہلاکت ہوا کرتا ہے۔ جب کبھی خدا تعالیٰ کسی کو اپنا رسول بنا کر بھیجتا ہے اور جو اس کی مخالفت کرتا ہے وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔

مامور کے مخالف آخر پکڑے جاتے ہیں

یاد رکھو! جب ایک مامور من اللہ آتا ہے تو اس سے منہ پھیرنا اصل میں خدا سے منہ پھیرنا ہے دیکھو گورنمنٹ کا ادنیٰ چپڑاسی ہوتا ہے۔ پانچ روپیہ ماہوار اس کی تنخواہ ہوتی ہے لیکن جب وہ گورنمنٹ کے حکم سے سرکاری پروانہ لے کر زمینداروں کے پاس جاتا ہے۔ اگر زمیندار یہ خیال کر کے کہ یہ ایک پانچ روپیہ کا ملازم ہے اس کو تنگ کریں اور بجائے اس کے حکم کی تعمیل کرنے کے اُلٹا اس کو ماریں پیٹیں اور بدسلوکی سے پیش آویں۔ تو اب بتلاؤ کہ کیا گورنمنٹ ایسے شخصوں کو سزا نہ دے گی؟ دے گی اور ضرور دے گی کیونکہ گورنمنٹ کے چپڑاسی کو بےعزّت اور ذلیل کرنا اصل میں گورنمنٹ کو ہی بےعزت اور ذلیل کرنا ہے اسی طرح جو شخص خدا تعالیٰ کے مامور کی مخالفت کرتا ہے وہ اس کی نہیں بلکہ حقیقت میں وہ خدا کی مخالفت کرتا ہے۔۱؎

یاد رکھو! خدا اگرچہ سزا دینے میں دھیما ہے مگر جو لوگ اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتے اور بجائے اس کے کہ اپنے گناہوں کا اقرار کر کے خدا تعالیٰ کے حضور جھک جائیں اُلٹے خدا تعالیٰ کے رسول کو ستاتے اور دکھ دیتے ہیں وہ آخر پکڑے جاتے ہیں اور ضرور پکڑے جاتے ہیں۔ دیکھو! دن نہایت نازک آتے جاتے ہیں۔ اس لئے تم لوگوں کو چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کرو اور تضرّع اور ابتہال کے ساتھ دن رات اس سے دعائیں مانگتے رہو۔ خدا تمہیں توفیق دے۔ اب دعا کرلو۔

اس کے بعد حضرت اقدس علیہ السلام نے بمعہ سامعین نہایت خلوص کے ساتھ دعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگیں۔ رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیۡ لِلۡاِیۡمَانِ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِرَبِّکُمۡ فَاٰمَنَّا ٭ۖ رَبَّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَکَفِّرۡ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدۡتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَلَا تُخۡزِنَا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّکَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ(اٰل عمران:۱۹۴، ۱۹۵)۲؎

۲۸؍دسمبر ۱۹۰۷ء

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دوسری تقریر جو آپ نے جلسہ سالانہ کے موقع پر ۲۸؍دسمبر ۱۹۰۷ء کو یوم شنبہ کے بعد جمع نماز ظہر و عصر مسجد اقصیٰ میں فرمائی۔

جو کچھ کل میں نے تقریر کی تھی اس کا کچھ حصہ باقی رہ گیا تھا کیونکہ بسبب علالت طبع تقریر ختم نہ ہوسکی۔ اس واسطے آج پھر میں تقریر کرتا ہوں۔ زندگی کا کچھ اعتبار نہیں۔ جس قدر لوگ آج اس جگہ موجود ہیں معلوم نہیں ان میں سے کون سال آئندہ تک زندہ رہے گا اور کون مَر جائے گا؟

یہ زمانہ بہت نازک ہے

ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر طرح سے لوگوں کو سمجھا دیں کہ یہ زمانہ بہت نازک ہے خدا تعالیٰ نے اس قدر بار بار مجھے آئندہ اور بھی خطرناک زمانہ کے آنے کے متعلق وحی کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت قریب ہے اور وہ جلد آنے والی ہے جیسا کہ کل بیان کیا گیا تھا۔ طرح طرح کے لباسوں میں موتیں وارد ہو رہی ہیں۔ طاعون ہے وبائیں ہیں قحط ہے زلزلے ہیں۔ جب ایسی مصیبتیں وارد ہوتی ہیں تو دنیا داروں کی عقل جاتی رہتی ہے اور وہ ایک سخت غم اور مصیبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں جس سے نکلنے کا کوئی طریق ان کو نہیں سوجھتا۔ قرآن شریف میں اسی کی طرف اشارہ ہے وَتَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَمَا ہُمۡ بِسُکٰرٰی(الحج:۳) تو لوگوں کو دیکھتا ہے کہ نشے میں ہیں حالانکہ وہ کسی نشے میں نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ نہایت درجہ کے غم اور خوف سے ان کی عقل ماری گئی ہے اور کچھ حوصلہ باقی نہیں رہا ایسے موقع پر بجز متقی کے کسی کے اندر صبر کی طاقت نہیں رہتی۔ دینی امور میں بجز تقویٰ کے کسی کو صبر حاصل نہیں ہو سکتا۔ بَلا کے آنے کے وقت سوائے اس کے کون صبر کر سکتا ہے؟ جو خدا کی رضا کے ساتھ اپنی رضا کو ملائے ہوئے ہو جب تک کہ پہلے ایمان پختہ نہ ہو۔ ادنیٰ نقصان سے انسان ٹھوکر کھا کر دہریہ بن جاتا ہے جس کو خدا کے ساتھ تعلق نہیں اس میں مصیبت کی برداشت نہیں۔

مصائب کا آنا ضروری ہے

دنیا دار لوگ تو ایسے مصائب کے وقت وجود باری تعالیٰ کا بھی انکار کر بیٹھتے ہیں۔ دنیا کی وضع ہی ایسی بنی ہے کہ اس میں مصائب کا آنا ضروری ہے۔ دنیا میں جس قدر آدمی گذرے ہیں ان میں سے کون دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس پر کبھی کوئی مصیبت وارد نہیں ہوئی؟ کسی کی مصیبت اولاد پر وارد ہوتی ہے اور کسی کے مال پر اور کسی کی عزّت پر۔ غرض ہر ایک کو کوئی نہ کوئی مصیبت اور ابتلا دیکھنا ہی پڑتا ہے بغیر اس کے دنیا میں چارہ نہیں۔ یہ دنیا کا لازمہ ہے۔ عرب کا ایک پرانا شاعر لکھتا ہے۔

سَئِمْتُ تَکَالِیْفَ الْـحَیَاۃِ وَمَنْ یَّعِشْ

ثَـمَانِیْنَ حَوْلًا لَا اَبَا لَکَ یَسْئَم

دنیا میں میں نے بڑی بڑی تکلیفیں دیکھی ہیں اور جو کوئی میری طرح اَسّی سال تک جیے گا وہ بھی لامحالہ کچھ دیکھے گا۔ دنیا کے مصائب تو دراصل چند روز کے واسطے ہیں۔ کوئی جلدی مَرا اور کوئی دیر سے مَرا۔ آخر سب نے مَر جانا ہے۔

تکالیفِ شرعیہ

دین کے راہ میں دو قسم کی تکلیفیں ہیں۔ ایک تکالیفِ شرعیہ جیسا کہ نماز ہے اور روزہ ہے اور حج ہے اور زکوٰۃ ہے۔ نماز کے واسطے انسان اپنے کاروبار کو ترک کرتا ہے اور ان کا ہرج بھی کر کے مسجد میں جاتا ہے سردی کے موسم میں پچھلی رات اُٹھتا ہے۔ ماہ رمضان میں دن بھر کی بھوک اور پیاس برداشت کرتا ہے۔ حج میں سفر کی صعوبتیں اُٹھاتا ہے زکوٰۃ میں اپنی محنت کی کمائی دوسروں کے سپرد کر دیتا ہے۔ یہ سب تکالیف شرعیہ ہیں اور انسان کے واسطے موجب ثواب ہیں۔ اس کا قدم خدا کی طرف بڑھاتی ہیں لیکن ان سب میں انسان کو ایک وسعت دی گئی ہے اور وہ اپنے آرام کی راہ تلاش کر لیتا ہے۔ جاڑے کے موسم میں وضو کے واسطے پانی گرم کر لیتا ہے۔ بہ سبب علالت کھڑا ہو کر نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر پڑھ لیتا ہے۔ رمضان میں سحری میں اُٹھ کر خوب کھانا کھا لیتا ہے بلکہ بعض لوگ ماہِ صیام میں معمول سے بھی زیادہ خرچ کھانے پینے پر کر لیتے ہیں۔ غرض ان تکالیفِ شرعیہ میں کچھ نہ کچھ آرام کی صورت ساتھ ساتھ انسان نکالتا رہتا ہے۔ اس واسطے اس سے پورے طور پر صفائی نہیں ہوتی اور منازل سلوک جلدی سے طے نہیں ہو سکتے۔

تکالیفِ سماوی

لیکن سماوی تکالیف جو آسمان سے اُترتی ہیں اُن میں انسان کا اختیار نہیں ہوتا اور بہر حال برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ اس واسطے ان کے ذریعہ سے انسان کو خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔

ہر دو قسم کی تکلیف شرعی اور سماوی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں (کیا ہے)

(۱) تکالیف شرعی کے متعلق پہلے سیپارہ میں فرمایا ہے ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ(البقرۃ:۲، ۳) یعنی مومن وہ ہے جو خدا تعالیٰ پر غیب سے ایمان لاتے ہیں۔ اپنی نماز کو کھڑا کرتے ہیں یعنی صدہا وساوس آ کر دل کو اَور طرف پھیر دیتے ہیں مگر وہ بار بار خدا کی طرف توجہ کر کے اپنی نماز کو جو بہ سبب وساوس کے گرتی رہتی ہے بار بار کھڑا کرتے رہتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے دئیے ہوئے مال میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یہ تکالیف شرعیہ ہیں۔ مگر ان پر پورے طور سے بھروسہ حصولِ ثواب کا نہیں ہو سکتا کیونکہ بہت سی باتوں میں انسان غفلت کرتا ہے اکثر نماز کی حقیقت اور مغز سے بے خبر ہو کر صرف پوست کو ادا کرتا ہے۔

(۲) اس واسطے انسانی مدارج کی ترقی کے واسطے سماوی تکالیف بھی رکھی گئی ہیں ان کا ذکر بھی خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں کیا ہے۔ جہاں فرمایا ہے وَلَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَالۡجُوۡعِ وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ؕ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَرَحۡمَۃٌ ۟ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُہۡتَدُوۡنَ(البقرۃ:۱۵۶ تا ۱۵۸) یہ وہ مصائب ہیں جو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے ڈالتا ہے یہ ایک آزمائش ہے جس میں کبھی تو انسان پر ایک بھارے درجہ کا ڈر لاحق ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اس خوف میں ہوتا ہے کہ شاید اب معاملہ بالکل بگڑ جائے گا۔ کبھی فقر و فاقہ شاملِ حال ہو جاتا ہے۔ ہر ایک اَمر میں انسان کا گذارہ بہت تنگی سے ہونے لگتا ہے۔ کبھی مال میں نقصان نمودار ہوتا ہے۔ تجارت اور دکانداری بگڑ جاتی ہے یا چور لے جاتے ہیں۔ کبھی ثمرات میں نقصان ہوتا ہے یعنی پھل خراب ہو جاتے ہیں۔ کھیتی ضائع جاتی ہے اور یا اولاد عزیز مَر جاتی ہے محاورہ عرب میں اولاد کو بھی ثمر کہتے ہیں۔ اولاد کا فتنہ بھی بہت سخت ہوتا ہے اکثر لوگ مجھے گھبرا کر خط لکھتے رہتے ہیں کہ آپ دعا کریں کہ میری اولاد ہو۔ اولاد کا فتنہ ایسا سخت ہے کہ بعض نادان اولاد کے مَر جانے کے سبب دہریہ ہو جاتے ہیں۔ بعض جگہ اولاد انسان کو ایسی عزیز ہوتی ہے کہ وہ اس کے واسطے خدا کا ایک شریک بن جاتی ہے بعض لوگ اولاد کے سبب سے دہریہ، ملحد اور بے ایمان بن جاتے ہیں۔ بعضوں کے بیٹے عیسائی بن جاتے ہیں تو وہ بھی اولاد کی خاطر عیسائی ہو جاتے ہیں۔ بعض بچے چھوٹی عمر میں مَر جاتے ہیں تو وہ ماں باپ کے واسطے سلبِ ایمان کا موجب ہو جاتے ہیں۔

صدمہ کے مطابق اجر ہوتا ہے

لیکن اللہ تعالیٰ ظالم نہیں۔ جب کسی پر صدمہ سخت ہو اور وہ صبر کرے تو جتنا صدمہ ہوا تنا ہی اس کا اجر بھی زیادہ ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ رحیم، غفور اور ستار ہے۔ وہ انسان کو اس واسطے تکلیف نہیں پہنچاتا کہ وہ تکلیف اُٹھا کر دین سے الگ ہو جائے بلکہ تکالیف اس واسطے آتی ہیں کہ انسان آگے قدم بڑھائے۔ صوفیاء کا قول ہے کہ ابتلا کے وقت فاسق آدمی قدم پیچھے ہٹاتا ہے لیکن صالح آدمی اور بھی قدم آگے بڑھاتا ہے۔

انبیاء اور رُسل کے ابتلا اور امتحانات

ایک روایت میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گیارہ لڑکے فوت ہوئے تھے۔ انبیاء اور رسل کو جو بڑے بڑے مقام ملتے ہیں وہ ایسی معمولی باتوں سے نہیں مل جاتے جو نرمی سے اور آسانی سے پوری ہو جائیں بلکہ ان پر بھاری ابتلا اور امتحان وارد ہوئے جن میں وہ صبر اور استقلال کے ساتھ کامیاب ہوئے تب خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کو بڑے بڑے درجات نصیب ہوئے۔ دیکھو حضرت ابراہیم پر کیسا بڑا ابتلا آیا۔ اس نے اپنے ہاتھ میں چھری لی کہ اپنے بیٹے کو ذبح کرے اور اس چھری کو اپنے بیٹے کی گردن پر اپنی طرف سے پھیر دیا مگر آگے بکرا تھا۔ ابراہیم امتحان میں پاس ہوا اور خدا نے بیٹے کو بھی بچا لیا۔ تب خدا تعالیٰ ابراہیم پر خوش ہوا کہ اُس نے اپنی طرف سے کوئی فرق نہ رکھا۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل تھا کہ بیٹا بچ گیا ورنہ ابراہیم نے اس کو ذبح کر دیا تھا۔ اس واسطے اس کو صادق کا خطاب ملا۔ اور توریت میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا اے ابراہیم! تو آسمان کے ستاروں کی طرف نظر کر کیا تو ان کو گن سکتا ہے؟ اسی طرح تیری اولاد بھی نہ گنی جائے گی۔ تھوڑے سے وقت کی تکلیف تھی وہ تو گذر گئی۔ اس کے نتیجہ میں کس قدر انعام ملا۔ آج تمام سادات اور قریش اور یہود اور دیگر اقوام اپنے آپ کو حضرت ابراہیم کا فرزند کہتے ہیں۔۱؎ گھڑی دو گھڑی کی بات تھی وہ تو ختم ہوگئی اور اتنا بڑا انعام ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملا۔ درحقیقت انسان کا تقویٰ تب محقّق ہوتا ہے جب کہ اس پر کوئی مصیبت وارد ہو۔ جب وہ تمام پہلو ترک کر کے خدا کے پہلو کو مقدم کرلے اور آرام کی زندگی کو چھوڑ کر تلخ زندگی قبول کر لے تب انسان کو حقیقی تقویٰ حاصل ہوتا ہے۔ انسان کی اندرونی حالت کی اصلاح نری رسمی نمازوں اور روزوں سے نہیں ہو سکتی بلکہ مصائب کا آنا ضروری ہے۔

عشق اوّل سرکش و خونی بوَد

تا گریزد ہر کہ بیرونی بود

اوّل حملہ عشق کا شیر کی طرح سخت ہوتا ہے جس قدر انبیاء اور رسول اور صدیق گذرے ہیں اُن میں سے کسی نے معمولی امور سے ترقی نہیں پائی بلکہ ان کے مدارج کا راز اس بات میں تھا کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے ساتھ موافقت تامہ کی۔ مومن کی ساری اولاد ذبح کر دی جائے اور اس کے سوائے بھی اس پر تکالیف پڑیں تب بھی وہ بہر حال قدم آگے بڑھاتا ہے۔ دیکھو! انسان با وجود ہزاروں کمزوریوں کے اپنے سچے دوست کے ساتھ وفاداری کرتا ہے۔ تو کیا خدا جو رحمان اور رحیم ہے وہ تمہارے ساتھ وفاداری نہ کرے گا۔ خدا سے ایسا پیار کرو کہ اگر ہزار بچہ ایک طرف ہو اور خدا ایک طرف تو خدا کی طرف اختیار کرو اور بچوں کی پروانہ کرو۔ مصائب تمام انبیاء پر وارد ہوتے رہے ہیں۔

کوئی اُن سے خالی نہیں رہا اسی واسطے مصائب کے برداشت کرنے والے کے لئے بڑے بڑے اجر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اور اپنے رسول کو خطاب کیا ہے کہ صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو جو مصیبت کے وقت کہتے ہیں کہ ایک وقت تھا کہ ہمارا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ خدا نے ہم کو پیدا کیا ہے اور اس کی ہم امانت ہیں اور اسی کے پاس جانا ہے۔ ایسے لوگوں کے واسطے بشارت ہے۔ ان مصائب کے ذریعہ سے جو برکات حاصل ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جو خاص بشارت ملتی ہے وہ نماز روزہ زکوٰۃ سے حاصل نہیں ہوسکتی۔ نماز کما حقہ ادا ہو جاوے تو بہت عمدہ شے ہے مگر خدا کی طرف سے جو نشانہ لگتا ہے۔ وہ سب سے زیادہ ٹھیک بیٹھتا ہے اور اسی سے ہدایت اور رستگاری حاصل ہوتی ہے۔

جماعت کو تکالیف برداشت کرنے کی تلقین

اب اہلِ جماعت غور سے سنیں اور اس بات کو سمجھیں کہ دونوں قسم کی تکالیف خدا تعالیٰ نے تمہارے واسطے رکھی ہیں۔ اوّل تکالیف شرعی ہیں ان کی برداشت کرو۔ دوسری تکالیف قضاء وقدر کی ہیں۔ اکثر انسان شرعی تکالیف کو کسی نہ کسی طرح ٹال دیتے ہیں اور ان کو پورے طور سے ادا نہیں کرتے۔ مگر قضاء وقدر سے کون بھاگ سکتا ہے۔ اس میں انسان کا اختیار نہیں۔ یاد رکھو! انسان کے واسطے یہی ایک عالَم نہیں بلکہ اس کے بعد ایک اور عالَم ہے۔ یہ تو ایک بہت ہی مختصر زندگی ہے کوئی پچاس ساٹھ سال کی عمر میں مَر گیا۔ کسی نے دس بارہ سال اور گذار لیے۔ اس جگہ کی مصائب کا خاتمہ تو موت کے ساتھ ہو جاتا ہے مگر اُس عالم کا خاتمہ نہیں۔ جب قیامت برحق ہے اور وہ ایمان کا لازمہ ہے تو اس چند روزہ زندگی کی تکالیف کا برداشت کر لینا کیا مشکل ہے؟ اس دائمی جہان کے واسطے کوشش کرنی چاہیے۔ جو شخص کوئی تکلیف بھی نہیں اُٹھاتا۔ وہ کیا سرمایہ رکھتا ہے مومن کی نشانی یہ ہے کہ وہ صرف صبر کرنے والا نہ ہو بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ مصیبت پر راضی ہو۔ خدا کی رضا کے ساتھ اپنی رضا کو ملا لے۔ یہی مقام اعلیٰ ہے۔ مصیبت کے وقت خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھنا چاہیے مُنْعِم کو نعمتوں پر مقدم رکھو۔ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ شکوہ شروع کرتے ہیں گویا خدا تعالیٰ کے ساتھ قطع تعلق کرتے ہیں۔ بعض عورتیں کوستی ہیں اور گالیاں دیتی ہیں۔ بعض مرد بھی ایمانی حالت میں ناقص ہوتے ہیں۔ یہ ایک ضروری نصیحت ہے اور اس کو یاد رکھو کہ اگر کوئی شخص مصیبت زدہ ہو تو اُسے ڈرنا چاہیے کہ ایسا نہ ہو کہ اس سے بڑھ کر اس پر کوئی مصیبت گرے۔ کیونکہ دنیا دار المصائب ہے اور اس میں غافل ہو کر بیٹھنا اچھا نہیں اکثر مصائب متنبہ کرنے کے واسطے آتے ہیں۔ ابتدا میں اس کی صورت خفیف ہوتی ہے۔ انسان اس کو مصیبت نہیں سمجھتا پھر وہ بیتاب کرنے والی مصیبت ہو جاتی ہے۔ دیکھو! اگر کسی کو آہستگی سے دبایا جائے تو اس کے بدن کو آرام پہنچتا ہے۔ وہی ہاتھ زور سے مارا جائے تو موجب دکھ ہو جاتا ہے۔ ایک مصیبت سخت ہوتی ہے جو وبالِ جان بن جاتی ہے۔ قرآن شریف نے ہر دو مصائب کا ذکر کر دیا ہے۔

خدمتِ دین کو ایک فضلِ الٰہی جانو

مصائب رفع درجات کے واسطے ہوتے ہیں حضرت ابراہیم اس بات پر روتے دھوتے نہ رہے کہ خدا نے مجھ سے بیٹا مانگا ہے بلکہ انہوں نے اس بات پر خدا تعالیٰ کا شکر کیا کہ ایک خدمت کا موقع ملا ہے۔ لڑکے کی ماں نے بھی رضامندی دی اور لڑکا بھی اس بات پر راضی ہوا۔

ذکر ہے کہ ایک دفعہ ایک مسجد کا مینار گر گیا تو شاہِ وقت نے سجدہ کیا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس خدمت میں سے حصہ لینے کا موقع دیا ہے جو بزرگ بادشاہوں نے اس مسجد کے بنا کرنے میں حاصل کی تھی۔

صبر کا اجر

وقت تو بہر حال گذر جاتا ہے۔ گوشت پلاؤ کھانے والے بھی آخر مَر جاتے ہیں لیکن جو شخص تلخیاں دیکھ کر صبر کرتا ہے اس کو بالآخر اجر ملتا ہے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کی اس بات پر شہادت ہے کہ صبر کا اجر ضرور ہے۔

جو لوگ خدا کی خاطر صبر نہیں کرتے ان کو بھی صبر کرنا ہی پڑتا ہے مگر پھر نہ وہ ثواب ہے اور نہ اجر۔ کسی عزیز کے مَرنے کے وقت عورتیں سیاپا کرتی ہیں۔ بعض نادان مرد سر پر راکھ ڈالتے ہیں۔ تھوڑے عرصہ کے بعد خود ہی صبر کر کے بیٹھ جاتے ہیں اور وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ ایک عورت کا ذکر ہے کہ اس کا بچہ مَر گیا تھا اور وہ قبر پر کھڑی سیاپا کر رہی تھی۔ آنحضرتؐ وہاں سے گذرے آپ نے اُسے فرمایا تو خدا سے ڈر اور صبر کر۔ اس کمبخت نے جواب دیا کہ تو جا تجھ پر میرے جیسی مصیبت نہیں پڑی۔ بد بخت نہیں جانتی تھی کہ آپ تو گیارہ بچوں کے فوت ہونے پر بھی صبر کرنے والے ہیں۔ جب اس کو بعد میں معلوم ہوا کہ اس کو نصیحت کرنے والے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے تو پھر آپ کے گھر میں آئی اور کہنے لگی کہ یا رسول! میں صبر کرتی ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ اَلصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدَمَۃِ الْاُوْلٰی صبر وہ ہے جو پہلے ہی مصیبت پر کیا جائے۔ غرض بعد میں خود وقت گذرنے پر رفتہ رفتہ صبر کرنا ہی پڑتا ہے صبر وہ ہے جو ابتدا ہی میں انسان اللہ تعالیٰ کی خاطر صبر کرے۔ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیتا ہے۔ یہ بے حساب اجر کا وعدہ صبر کرنے والوں کے واسطے ہی مقرر ہے۔

دعا اور استغفار میں مصروف رہو

کسی کو کیا خبر ہے کہ آج کیا ہے اور کل کیا ہونے والا ہے؟ ابھی ہمارے پاس کئی خط راولپنڈی سے آئے ہیں جن میں لکھا ہے کہ ایک ایسا زلزلہ آیا کہ لوگ چیخ اُٹھے بلکہ بعض نے کہا کہ یہ زلزلہ ۴؍اپریل والے زلزلے کے برابر تھا۔ دیکھو! اس ایک مہینہ میں تین بار زلزلہ آچکا ہے اور آگے ایک سخت زلزلہ کے آنے کی خبر خدا تعالیٰ دے چکا ہے۔ وہ زلزلہ ایسا سخت ہوگا کہ لوگوں کو دیوانہ کر دے گا لوگوں نے غفلت کر کے خدا کو بھلا دیا ہے اور خوشی میں بیٹھے ہیں مگر جن لوگوں نے خدا کو پا لیا ہے وہ تلخ زندگی کو قبول کرنے کے واسطے تیار ہیں۔ مصائب کا آنا ضروری ہے۔ خدا کی سنّت ٹل نہیں سکتی۔ ہر ایک کو چاہیے کہ خدا سے دعا اور استغفار میں مصروف رہے اور خدا تعالیٰ کی رضا کے ساتھ اپنی رضا کو ملائے۔ جو شخص پہلے سے فیصلہ کر لیتا ہے ٹھوکر نہیں کھاتا۔ مال، اولاد، بیوی، بھائیوں سے پہلے ہی سمجھ لے کہ میرا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ سب امانت خداوندی ہیں۔ جب تک ہیں ان کی قدر، عزت، خاطر خدمت کرو۔ جب خدا اپنی امانت کو واپس لے لے تو پھر رنج نہ کرو۔

ہر اَمر میں خداتعالیٰ کو مقدم رکھو

دین کی جڑ اس میں ہے کہ ہر اَمر میں خدا تعالیٰ کو مقدم رکھو دراصل ہم تو خدا کے ہیں اور خدا ہمارا ہے اور کسی سے ہم کو کیا غرض ہے؟ ایک نہیں کروڑ اولاد مَر جائے پر خدا راضی رہے تو کوئی غم کی بات نہیں۔ اگر اولاد زندہ بھی رہے تو بغیر خدا کے فضل کے وہ بھی موجب ابتلا ہو جاتی ہے۔ بعض آدمی اولاد کی وجہ سے جیل خانوں میں جاتے ہیں۔ شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے ایک شخص کا قصہ لکھا ہے کہ وہ اولاد کی شرارت کے سبب پابہ زنجیر تھا۔ اولاد کو مہمان سمجھنا چاہیے اس کی خاطر داری کرنی چاہیے۔ اس کی دلجوئی کرنی چاہیے۔ مگر خدا تعالیٰ پر کسی کو مقدم نہیں کرنا چاہیے اولاد کیا بنا سکتی ہے؟ خدا کی رضا ضروری ہے۔

نماز میں وساوس پیدا ہونے کی وجہ

جن لوگوں کو خدا کی طرف پورا التفات نہیں ہوتا انہیں کو نماز میں بہت وساوس آتے ہیں۔ دیکھو! ایک قیدی جب کہ ایک حاکم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو کیا اس وقت اس کے دل میں کوئی وسوسہ گذر جاتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ وہ ہمہ تن حاکم کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس فکر میں ہوتا ہے کہ ابھی حاکم کیا حکم سناتا ہے؟ اس وقت تو وہ اپنے وجود سے بھی بالکل بے خبر ہوتا ہے۔ ایسا ہی جب صدقِ دل سے انسان خدا کی طرف رجوع کرے اور سچے دل سے اس کے آستانہ پر گرے تو پھر کیا مجال ہے کہ شیطان وساوس ڈال سکے۔ شیطان انسان کا پورا دشمن ہے قرآن شریف میں اس کا نام عدو رکھا گیا ہے۔ اس نے اوّل تمہارے باپ کو نکالا۔ پھر وہ اس پر خوش نہیں اب اس کا یہ ارادہ ہے کہ تم سب کو دوزخ میں ڈال دے۔ یہ دوسرا حملہ پہلے سے بھی زیادہ سخت ہے۔ وہ ابتدا سے بدی کرتا چلا آیا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ تم پر غالب آوے لیکن جب تک کہ تم ہر بات میں خدا تعالیٰ کو مقدم رکھو گے وہ ہرگز تم پر غالب نہ آسکے گا۔ جب انسان خدا کے راہ میں دکھ اُٹھاتا ہے اور شیطان سے مغلوب نہیں ہوتا تب اس کو ایک نور ملتا ہے۔

شہاب ثاقب کی حقیقت

جب کہ ایک مومن سب باتوں پر خدا تعالیٰ کو مقدم کر لیتا ہے تب اس کا خدا کی طرف رفع ہوتا ہے۔ وہ اسی زندگی میں خدا تعالیٰ کی طرف اُٹھایا جاتا ہے اور ایک خاص نور سے منور کیا جاتا ہے۔ اس رفع میں وہ شیطان کی زد سے ایسا بلند ہو جاتا ہے کہ پھر شیطان کا ہاتھ اس تک نہیں پہنچ سکتا۔ ہر ایک چیز کا خدا تعالیٰ نے اس دنیا میں بھی ایک نمونہ رکھا ہے اور یہ اسی اَمر کی طرف اشارہ ہے کہ شیطان جب آسمان کی طرف چڑھنے لگتا ہے تو ایک شہاب ثاقب اس کے پیچھے پڑتا ہے جو اس کو نیچے گرا دیتا ہے۔ ثاقب.۱ روشن ستارے کو کہتے ہیں اس.۲ چیز کو بھی ثاقب کہتے ہیں جو سوراخ کر دیتی ہے اور اس.۳ چیز کو بھی ثاقب کہتے ہیں جو بہت اونچی چلی جاتی ہو۔ اس میں حالت انسانی کے واسطے ایک مثال بیان کی گئی ہے جو اپنے اندر ایک نہ صرف ظاہری بلکہ ایک مخفی حقیقت بھی رکھتی ہے جب ایک انسان کو خدا تعالیٰ پر پکا ایمان حاصل ہو جاتا ہے تو اس کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع ہو جاتا ہے اور اس کو ایک خاص قوت اور طاقت اور روشنی عطا کی جاتی ہے۔ جس کے ذریعہ سے وہ شیطان کو نیچے گرا دیتا ہے۔ ثاقب مارنے والے کو بھی کہتے ہیں۔ ہر ایک مومن کے واسطے لازم ہے کہ وہ اپنے شیطان کو مارنے کی کوشش کرے اور اسے ہلاک کر ڈالے جو لوگ روحانیت کی سائنس سے ناواقف ہیں وہ ایسی باتوں پر ہنسی کرتے ہیں مگر دراصل وہ خود ہنسی کے لائق ہیں۔ ایک قانونِ قدرت ظاہری ہے ایسا ہی ایک قانونِ قدرت باطنی بھی ہے ظاہری قانون باطنی کے واسطے بطور ایک نشان کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی اپنی وحی میں فرمایا ہے کہ اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْـزِلَۃِ الثَّاقِبِ۱؎ یعنی تو مجھ سے بمنزلہ ثاقب ہے۔ اس کے یہ معنے ہیں کہ میں نے تجھے شیطان کے مارنے کے واسطے پیدا کیا ہے۔ تیرے ہاتھ سے شیطان ہلاک ہو جائے گا۔ شیطان بلند نہیں جا سکتا۔ اگر مومن بلندی پر چڑھ جائے تو شیطان پھر اس پر غالب نہیں آ سکتا۔ مومن کو چاہیے کہ وہ خدا تعالیٰ سے دعا کرے کہ اس کو ایک ایسی طاقت مل جائے جس سے وہ شیطان کو ہلاک کر سکے۔ جتنے بُرے خیالات پیدا ہوتے ہیں ان سب کا دُور کرنا شیطان کو ہلاک کرنے پر منحصر ہے۔ مومن کو چاہیے کہ استقلال سے کام لے، ہمت نہ ہارے، شیطان کو مارنے کے پیچھے پڑا رہے۔ آخر وہ ایک دن کامیاب ہو جائے گا۔ خدا تعالیٰ رحیم و کریم ہے جو لوگ اس کی راہ میں کوشش کرتے ہیں وہ آخر ان کو کامیابی کا منہ دکھا دیتا ہے۔ بڑا درجہ انسان کا اسی میں ہے کہ وہ اپنے شیطان کو ہلاک کرے۔

اپنے خوابوں اور الہامات پر ناز نہ کرو

ایسے ضروری کام کو چھوڑ کر جو مومن کا اصل منشا ہے بعض لوگ اور باتوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ مثلاً کسی کو ایک خواب آ جائے یا چند الفاظ زبان پر جاری ہو جائیں تو وہ سمجھتا ہے کہ میں اب ولی ہو گیا ہوں۔ یہی نکتہ ہے جس پر انسان دھوکہ کھاتا ہے۔ خواب تو چوہڑوں، چماروں اور کنجروں کو بھی آ جاتے ہیں اور سچے بھی ہو جاتے ہیں۔ ایسی چیز پر فخر کرنا تو لعنت ہے۔ فرض کرو کہ ایک شخص کو چند خوابیں آ گئی ہیں اور وہ سچی بھی ہو گئی ہیں مگر اس سے کیا بنتا ہے؟ کیا سخت پیاس کے وقت ایک شخص کو دو چار قطرے پانی کے پلائے جاویں تو وہ بچ جائے گا؟ ہرگز نہیں بلکہ اس کی تپش اور بھی بڑھے گی۔ ایسا ہی جب تک کہ کسی انسان کو پوری مقدار معرفت کی اپنی کیفیت اور کثرت کے ساتھ حاصل نہ ہو تب تک یہ خوابیں کچھ شَے نہیں۔ انسان کی عمدہ اور قابل تشفّی وہ حالت ہے کہ وہ عملی رنگ میں درست اور صاف ہو۔ اس کی عملی حالت خود اس پر گواہی دے۔ خدا تعالیٰ کے برکات اور زبردست خوارق اس کے ساتھ ہوں اور ہر دم اس کی تائید کرتے ہوں تب خدا اس کے ساتھ ہے اور وہ خدا کے ساتھ ہے۔

ہر ایک بات میں شیطان ایک موقع نکال لیتا ہے کہ لوگوں کو کسی طرح سے بہکائے۔ چونکہ ہم بار بار اپنی وحی اور الہام پیش کرتے ہیں اس واسطے بعض لوگوں کو یہ خیال ہوا کہ ہم بھی ایسا ہی کریں۔ یہ ایک ابتلا ہے جو اُن پر وارد ہوا اور اس ہلاکت کی راہ میں شیطان نے اُن کی امداد کی اور ان کو شیطانی القا اور حدیث نفس شروع ہوا۔ چراغ دین، الٰہی بخش، فقیر مرزا اور دوسرے بہت سے اس راہ میں ہلاک ہو گئے اور ہنوز بہت سے ایسے ہیں جن کا قدم اسی راہ پر ہے۔

ہماری جماعت کے آدمیوں کو چاہیے کہ ایسی باتوں سے دل ہٹا لیں۔ قیامت کے دن خدا تعالیٰ اُن سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تم کو کس قدر الہام ہوئے تھے یا کتنی خوابیں آئی تھیں بلکہ عمل صالح کے متعلق سوال ہوگا کہ کس قدر نیک عمل تم نے کئے ہیں۔ الہام وحی تو خدا تعالیٰ کا فعل ہے کوئی انسانی عمل نہیں۔

خدا کے فعل پر اپنا فخر جاننا اور خوش ہونا جاہل کا کام ہے۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ آپ بعض دفعہ رات کو اس قدر عبادت میں کھڑے ہوتے تھے کہ پاؤں پر ورم ہو جاتا تھا۔ ساتھی نے عرض کی کہ آپ تو گناہوں سے پاک ہیں اس قدر محنت پھر کس لئے۔ فرمایا۔ اَفَلَا اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا کیا میں شکر گذار نہ بنوں۔

انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے

انسان کو چاہیے کہ مایوس نہ ہووے۔ گناہوں کا حملہ سخت ہوتا ہے اور اصلاح مشکل نظر آتی ہے مگر گھبرانا نہیں چاہیے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو بڑے گناہ گار ہیں۔ نفس ہم پر غالب ہے۔ ہم کیوں کر نیکوکار ہو سکتے ہیں؟ ان کو سوچنا چاہیے کہ مومن کبھی نا اُمید نہیں ہوتا۔ خدا کی رحمت سے نا اُمید ہونے والا شیطان ہے اور کوئی نہیں۔ مومن کو کبھی بزدل نہیں ہونا چاہیے گو کیسا ہی گناہ سے مغلوب ہو۔ پھر بھی خدا تعالیٰ نے انسان میں ایک ایسی قدرت رکھی ہے کہ وہ بہر حال گناہ پر غالب آ ہی جاتا ہے۔ انسان میں گناہ سوز قوت خدا نے رکھی ہے۔ جو اس کی فطرت میں موجود ہے۔

ایک لطیف مثال

دیکھو! پانی کو کیسا ہی گرم کیا جائے ایسا سخت گرم کیا جائے کہ جس چیز پر ڈالیں وہ چیز بھی جل جائے پھر بھی اگر اس کو آگ پر ڈالو تو وہ آگ کو بجھا دے گا کیونکہ اس میں خدا تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھ دی ہے کہ وہ آگ کو بجھا دیوے۔ ایسا ہی انسان کیسا ہی گناہ میں ملوث ہو اور کیسا ہی بدکاری میں غرق ہو پھر بھی اس میں یہ طاقت موجود ہے کہ وہ معاصی کی آگ کو بجھا سکتا ہے۔ اگر یہ بات انسان میں نہ ہوتی تو پھر وہ مکلّف نہ ہوتا بلکہ پیغمبر رسول کا آنا بھی پھر غیر ضروری ہوتا مگر دراصل فطرت انسانی پاک ہے اور جیسا کہ جسم کے لیے بھوک اور پیاس ہے تو کھانا اور پینا بھی آخر میسر آ جاتا ہے انسان کے واسطے دم لینے کے واسطے ہوا کی ضرورت ہے تو وہ موجود ہے اور جسم کے لیے جس قدر سامان ضروری ہیں جب کہ وہ سب مہیا کر دئیے جاتے ہیں تو پھر روح کے واسطے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ کیوں مہیا نہ ہوں گی؟ خدا تعالیٰ رحیم، غفور اور ستار ہے اس نے روحانی بچاؤ کے واسطے بھی تمام سامان مہیا کر دئیے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ روحانی پانی کو تلاش کرے تو وہ اُسے ضرور پالے گا اور روحانی روٹی کو ڈھونڈے تو وہ اُسے ضرور دی جائے گی۔ جیسا کہ ظاہری قانون قدرت ہے ویسا ہی باطن میں بھی قانونِ قدرت ہے لیکن تلاش شرط ہے جو تلاش کرے گا وہ ضرور پا لے گا۔ خدا کے ساتھ تعلق پیدا کرنے میں جو شخص سعی کرے گا خدا تعالیٰ اس سے ضرور راضی ہو جائے گا۔

اس زمانہ کے مولوی

یہ آخری زمانہ تھا اور تاریکی سے بھرا ہوا تھا۔ اس زمانہ کے متعلق خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ اس زمانہ میں ایک آفتاب نکلے گا۔ مولوی لوگوں کو دیکھنا چاہیے کہ اس زمانہ میں تقویٰ کی کیا حالت ہو رہی ہے؟ ایک آدمی نے چار روپے کے زیور کے پیچھے ایک بچے کو قتل کر دیا تھا۔ ان مولویوں سے جو ہم پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں کوئی یہ پوچھے کہ کیا ہم کلمہ نہیں پڑھتے پھر کیا وجہ ہے کہ ان کے نزدیک ہم ہندو عیسائی وغیرہ ہر ایک سے بدتر ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ مولوی لوگ طمع نفسانی کے بندے ہیں۔ ایک شخص نے مجھے خوب کہا تھا کہ ان مولویوں کا خاموش کرانا کیا مشکل تھا؟ آپ ان سب کو بلا کر دو دو روپے دے دیتے تو سب خاموش ہو جاتے اور کوئی بھی آپ کی مخالفت نہ کر سکتا۔ میں نے کہا کہ ہم نے تو ان لوگوں کے تقویٰ پر بھروسہ کیا تھا۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ ایسے نفسانی بندے نکلیں گے یہ تو منبروں پر کھڑے ہو کر کہا کرتے تھے کہ موسیٰ کہاں اور عیسیٰ کہاں۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ باوجود ایسے خطبے پڑھنے اور سنانے کے یہ وفات مسیح پر ایسے مشتعل ہوں گے کہ گویا تمام دار و مدار اسلام کا حضرت عیسیٰ کی زندگی پر ہے۔

شیطان کے ساتھ آخری جنگ

لیکن یہ لوگ جو چاہیں سو کر لیں۔ اب تو خدا تعالیٰ کا ارادہ ہو چکا ہے کہ شیطان کو ہلاک کر دے۔ شیطان کی یہ آخری جنگ ہے اور وہ ضرور ہلاک ہوگا۔ وہ ضرور قتل کیا جائے گا۔ شیطان نے بھی حیاتِ مسیح میں پناہ لی ہے مگر وفاتِ مسیح کے ثبوت کے ساتھ ہی شیطان بھی ہلاک ہو جائے گا۔ شیطان نے پادریوں کے ہاں اور ان کے حامیوں کے ہاں بسیرا کیا ہے مگر خدا کے مسیح کے ساتھ ملائک اور راستباز لوگ جمع ہو رہے ہیں اور اسلام کی مخالفت میں ہر طرح کا زور دکھایا جا رہا ہے۔

ہندوستان مجموعۃ المذاہب ہے

اوّل تو یہ زمانہ ہی ایسا ہے کہ بہ سبب تار، ڈاک، ریل تمام زمین گویا ایک ہی شہر بن رہی ہے۔ ہر وقت کی خبریں آتی ہیں۔ کثرت سے لوگ اِدھر اُدھر آتے جاتے ہیں مگر بالخصوص ہندوستان ایسا ملک ہے جس میں ہر قسم کے لوگ موجود ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو وجود باری تعالیٰ کے منکر ہیں، پھر بے قید لوگ بھی ہیں جو کہتے ہیں جو چاہو سو کرو، پھر کتاب کے منکر برہمو موجود ہیں، انسان کے پجاری بھی ہیں، پتھروں کو خدا ماننے والے بھی ہیں، ایک لاکھ سے زائد مرتد عیسائی موجود ہیں، سورج پرست ہیں، پانی کی پوجا کرنے والے، آگ کی پوجا کرنے والے ہیں، آتش پرستی کے بڑے مندر کو زلزلے نے گرا دیا تھا تو اب نیا بنا رہے ہیں اور نہیں جانتے کہ ایک زلزلہ اور آنے والا ہے۔ آزادی اس قسم کی ہے جو جس کے جی میں آتا ہے وہ کہہ گذرتا ہے کسی کی پروا نہیں۔ غرض یہ وہی وقت ہے اور بالخصوص ہند میں وہی نظارہ موجود ہے جس کے واسطے پہلے سے پیشگوئی کی گئی تھی۔ عیسائی لوگ پچاس پچاس ہزار کتاب اسلام کے بر خلاف شائع کر رہے ہیں۔

آریوں کے عقاید کا بوداپن

(۱) آریہ سماجی کہتے ہیں کہ کئی ارب سالوں کے بعد دنیا میں ایک کتاب آتی ہے اور وہ بار بار وید ہی ہوتے ہیں اور ہند میں ہی آتے ہیں اور سنسکرت کی ہی زبان اُن کے لئے خاص ہے گویا پرمیشر کو اور کسی ملک یا زبان کی خبر ہی نہیں۔ نہیں معلوم کہ پرمیشر ہندوستان پر ایسا کیوں ریجھ گیا ہے اور باوجود اس کے ہندوؤں کو ایسی ذلّت میں کیوں رکھا ہے؟ اس وقت عیسائی بھی بادشاہ ہیں، مسلمان بھی بادشاہ ہیں، بدھ بھی بادشاہ ہیں مگر کہیں آریوں کی بادشاہی نہیں۔ معلوم نہیں کہ پرمیشر کو کیوں یہ بہت پسند آیا؟ شاید اس وجہ سے کہ یہاں نیوگی لوگ رہتے ہیں جو اپنی زندگی میں اپنی بیوی کے واسطے موٹا تازہ خاوند تلاش کرتے ہیں کہ اس سے ہمبستر ہو اور اس کے لئے خوبصورت بچے جنے اور یہ بھی شرط ضروری ہے کہ وہ بیرج داتا برہمن ہو۔ (۲) پھر انسان کو ہنسی آتی ہے کہ آریوں کا یہ ناپاک عقیدہ ہے کہ انسان ایک مدت تک نجات یافتہ ہو کر مکتی خانہ میں رہے اور پھر نا کردہ گناہ کی وجہ سے وہاں سے نکالا جاوے اور کتا سؤر بلّا بنایا جاوے۔ آریہ کہتے ہیں کہ پرمیشر ہر ایک انسان میں تھوڑا سا گناہ بطور بیج کے لازماً باقی رکھ لیتا ہے جو اس کو دوبارہ پھنسانے کے کام آتا ہے لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اس بقیہ گناہ کے سبب پھر سزائیں ایسی مختلف کیوں دی جاتی ہیں کہ کوئی شیر بنایا جاوے اور کوئی بکری، کوئی بچّھو اور سانپ بنایا جاوے اور کوئی گھوڑا اور ہاتھی اور کوئی کِرمِ ناپاک بنایا جائے اور کوئی انسان پَـوِتَّـرْ۔ پھر انسانوں میں کوئی مرد بنایا جائے اور کوئی عورت۔ اس تفریق کا کیا سبب ہوسکتا ہے؟

(۳) پھر یہ بھی آریوں کا ایک عجیب مسئلہ ہے کہ مختلف گناہوں کے سبب مختلف جونیں بنتی ہیں۔ اس سے تو لازم آتا ہے کہ جس قدر جونیں ہیں اسی قدر گناہوں کی تعداد ہو اور چونکہ الہامی کتاب صرف وید ہی ہے اس واسطے وہ تمام گناہ وید میں مذکور ہونے چاہئیں۔ لیکن جب وید کے احکام کو دیکھا جاتا ہے تو ان کی گنتی آریوں کے نزدیک بھی چند سو سے زائد نہ ہوگی۔ لیکن کئی ہزار قسم کے جانور تو جنگلوں میں موجود ہیں۔ کئی ہزار قسم کے کیڑے مکوڑے زمین پر رینگ رہے ہیں۔ پھر درختوں کے پرند اور سمندروں کے جانور جن کی گنتی ہی نہیں یہ اتنی جونیں کہاں سے آگئیں۔

(۴) آریہ لوگ کہتے ہیں کہ روحوں کو بہشت میں سے نکالنے کی ضرورت اس واسطے پڑے گی کہ ان کی عبادت بہت محدود زمانہ کی تھی۔ ایسی محدود عبادت کا بدلہ بھی محدود وقت کے لئے ہونا چاہیے مگر یہ عقیدہ بہت ہی فاسد ہے آریہ لوگ ایسے محدود وقت کے خیال سے عبادت کرتے ہوں گے۔ اسلام میں تو یہ بات نہیں ہمارا عہد تو خدا کے ساتھ ابدی ہے ہم کسی محدود وقت کی نیت کے ساتھ خدا کی عبادت نہیں کرتے بلکہ ایسی نیت کو کفر جانتے ہیں۔ ہم نے تو ہمیشہ کے لیے خدا کی عبادت کا جؤا اپنے گلے میں ڈال لیا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ ہمیں وفات دے تو اس سے ہماری نیت میں کوئی فرق نہیں۔ ہم اسی عبادت کے ثواب کو ساتھ لے کر فوت ہوتے ہیں۔ ہم اس کو محدود نہیں رکھتے۔

اسلام کا خدا

خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ قرآن شریف نے ایسا خدا پیش نہیں کیا جو ایسی ناقص صفات والا ہو کہ نہ وہ روحوں کا مالک ہے نہ ذرّات کا مالک ہے نہ اُن کو نجات دے سکتا ہے نہ کسی کی توبہ قبول کر سکتا ہے بلکہ ہم قرآن شریف کے رو اس خدا کے بندے ہیں جو ہمارا خالق ہے۔ ہمارا مالک ہے۔ ہمارا رازق ہے۔ رحمان ہے۔ رحیم ہے۔ مالک یوم الدین ہے۔ مومنوں کے واسطے یہ شکر کا مقام ہے کہ اس نے ہم کو ایسی کتاب عطا کی جو اس کے صحیح صفات کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے۔

افسوس ہے ان پر جنہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی۔ ان مسلمانوں پر بھی افسوس ہے جن کے سامنے عمدہ کھانا اور ٹھنڈا پانی رکھا گیا ہے لیکن وہ پیٹھ دے کر بیٹھ گئے اور اس کھانے کو نہیں کھاتے۔ زمانے کے مصائب سے بچانے کے واسطے ان کے لیے ایک وسیع محل تیار کیا گیا جس میں ہزاروں آدمی داخل ہو سکتے ہیں مگر افسوس اُن پر کہ وہ خود بھی داخل نہ ہوئے اور دوسروں کو بھی داخل ہونے سے روک دیا۔

یہ نفخ صور کا وقت ہے

کیا پہلے سے نہیں کہا گیا تھا کہ آخری زمانہ میں ایک قرناء آسمان سے پھونکی جائے گی۔ کیا وحی خدا کی آواز نہیں۔ انبیاء جو آتے ہیں وہ قرناء کا حکم رکھتے ہیں۔ نفخ صور سے یہی مراد تھی کہ اس وقت ایک مامور کو بھیجا جائے گا۔ وہ سناوے گا کہ اب تمہارا وقت آگیا ہے کون کسی کو درست کر سکتا ہے جب تک کہ خدا درست نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو ایک قوت جاذبہ عطا کرتا ہے کہ لوگوں کے دل اس کی طرف مائل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ خدا کے کام کبھی حبط نہیں جاتے۔ ایک قدرتی کشش کام کر دکھائے گی اب وہ وقت آگیا ہے جس کی خبر تمام انبیاء ابتدا سے دیتے چلے آئے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے فیصلہ کا وقت قریب ہے اس سے ڈرو اور توبہ کرو۔۱؎

بلا تاریخ

سفر میں نمازوں کا قصر

سوال پیش ہوا کہ اگر کوئی تین کوس سفر پر جائے تو کیا نمازوں کو قصر کرے؟ فرمایا۔ ہاں دیکھو! اپنی نیت کو خوب دیکھ لو۔ ایسی تمام باتوں میں تقویٰ کا بہت خیال رکھنا چاہیے۔ اگر کوئی شخص ہر روز معمولی کاروبار یا سفر کے لیے جاتا ہے تو وہ سفر نہیں بلکہ سفر وہ ہے جسے انسان خصوصیت سے اختیار کرے اور صرف اس کام کے لئے گھر چھوڑ کر جائے اور عرف میں وہ سفر کہلاتا ہے۔ دیکھو! یوں تو ہم ہر روز سیر کے لئے دو دو میل نکل جاتے ہیں مگر یہ سفر نہیں ایسے موقع پر دل کے اطمینان کو دیکھ لینا چاہیے کہ اگر وہ بغیر کسی خلجان کے فتویٰ دے کہ یہ سفر ہے تو قصر کرے۔ اِسْتَفْتِ قَلْبَکَ (اپنے دل سے فتویٰ لو )پر عمل چاہیے ہزار فتویٰ ہو پھر بھی مومن کا نیک نیتی سے قلبی اطمینان عمدہ شَے ہے۔

عرض کیا گیا کہ انسانوں کے حالات مختلف ہیں بعض نو دس کوس کو بھی سفر نہیں سمجھتے۔ بعض کے لیے تین چار کوس بھی سفر ہے۔

فرمایا۔ شریعت نے ان باتوں کا اعتبار نہیں کیا۔ صحابہ کرام نے تین کوس کو بھی سفر سمجھا ہے۔

عرض کیا گیا۔ حضور بٹالہ جاتے ہیں تو قصر فرماتے ہیں۔

فرمایا۔ ہاں! کیونکہ وہ سفر ہے۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی طبیب یا حاکم بطور دورہ کئی گاؤں میں پھرتا رہے تو وہ اپنے تمام سفر کو جمع کر کے اسے سفر نہیں کہہ سکتا۔

قربانی کا بکرا

سوال پیش ہوا۔ ایک سال کا بکرا بھی قربانی کے لیے جائز ہے؟ فرمایا۔ مولوی صاحب سے پوچھ لو۔ اہلحدیث وحنفاء کا اس میں اختلاف ہے۱؎

قربانی کے لیے ناقص جانور

ایک شخص نے حضرت سے دریافت کیا کہ اگر جانور مطابق علامات مذکورہ در حدیث نہ ملے تو کیا ناقص کو ذبح کر سکتے ہیں؟

فرمایا۔ مجبوری کے وقت تو جائز ہے مگر آج کل ایسی مجبوری کیا ہے؟ انسان تلاش کر سکتا ہے اور دن کافی ہوتے ہیں خواہ مخواہ حجت کرنا یا تساہل کرنا جائز نہیں۔۱؎

۳؍ جنوری ۱۹۰۸ء

(بوقتِ سیر)

قرآن کریم میں مذکورآخری زمانہ کی علامات

فرمایا۔ قرآن مجید میں آتا ہے کہ کفار کہیں گے لَوۡ کُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا کُنَّا فِیۡۤ اَصۡحٰبِ السَّعِیۡرِ(الملک:۱۱) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تدبّر کے سوا ایمان صحیح نہیں ہوتا۔ سورۃ تکویر میں سب نشانات آخری زمانے کے ہیں۔ انہیں میں سے ایک نشان ہے وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ(التکویر:۵) یعنی جب اونٹنیاں بیکار چھوڑی جائیں گی۔ اسی کی تفسیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وَلَیُتْـرَکُنَّ الْقِلَاصُ فَلَا یُسْعٰی عَلَیْـھَا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود بھی اسی زمانہ میں ہوگا بلکہ اس کے ابتدائی زمانے کے یہ نشان ہیں۔ پھر فرمایا وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ(التکویر:۸) یعنی ایسے اسبابِ سفر مہیا ہو جائیں گے کہ قومیں باوجود اتنی دور ہونے کے آپس میں مل جائیں گی حتی کہ نئی دنیا پرانی سے تعلقات پیدا کر لے گی۔ یاجوج ماجوج کا آنا۔ دجّال کا نکلنا اور صلیب کا غلبہ یہ بھی اسی زمانے کے نشان ہیں۔ ان کے متعلق لوگوں نے غلط فہمی سے تناقض پیدا کر لیا ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب الگ الگ ہیں۔ حالانکہ ان میں سے ہر ایک کی نسبت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ تمام روئے زمین پر محیط ہو جائیں گے۔ پس اگر یاجوج ماجوج محیط ہو گئے تو پھر دجّال کہاں احاطہ کرے گا اور صلیب کا غلبہ کس جگہ ہوگا؟ سِوایہ کہنے کے کچھ چارہ نہیں کہ یہ سب ایک ہی قوم کے مختلف افراد ہیں اور اگر ان کو ایک بنا دیں تو پھر کوئی مشکل نہ رہے گی۔ خدا تعالیٰ نے ان کی نسبت فرمایا ہے وَتَرَکۡنَا بَعۡضَہُمۡ یَوۡمَئِذٍ یَّمُوۡجُ فِیۡ بَعۡضٍ وَّنُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَجَمَعۡنٰہُمۡ جَمۡعًا(الکھف:۱۰۰) جس سے ظاہر ہے کہ نہایت درجہ کا اختلاف پیدا ہو جائے گا اور سب مذاہب ایک دنگل میں ہو کر نکلیں گے۔ ’’تَرَکْنَا ‘‘کا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آزادی کا زمانہ ہو گا اور یہ آزادی کمال تک پہنچ جائے گی تو اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے مامور کی معرفت ان کو جمع کرنے کا ارادہ کرے گا۔ پہلے دیکھو جَمَعْنٰہُمْ فرمایا اور ابتدائے عالَم کے لئے خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا وَبَثَّ مِنۡہُمَا رِجَالًا کَثِیۡرًا وَّنِسَآءً(النساء:۲) فرمایا۔ لفظ بَثَّ اور جَمَعَ آپس میں پورا تناقض رکھتے ہیں گویا دائرہ پورا ہو کر پھر وہی زمانہ ہو جائے گا۔ پہلے تو وحدتِ شخصی تھی اب اخیر میں وحدتِ نوعی ہو جائے گی۔ اس سے آگے فرماتا ہے وَّعَرَضۡنَا جَہَنَّمَ یَوۡمَئِذٍ لِّلۡکٰفِرِیۡنَ عَرۡضَا(الکھف:۱۰۱) یہ مسیح موعود کے زمانے کا ایک نشان بتلایا کہ اس دن جہنم پیش کیا جاوے گا ان کافروں پر۔ یہ قیامت کا ذکر نہیں کیونکہ اس دن جہنم کا پیش کیا کرنا ہے اس روز تو اس میں کفّار داخل ہوں گے۔ جہنم سے مراد طاعون ہے۔ چنانچہ ہمارے الہامات میں کئی بار طاعون کو جہنم فرمایا گیا ہے۔ یَاْتِیْ عَلٰی جَھَنَّمَ زَمَانٌ لَّیْسَ فِیْھَا اَحَدٌ بھی ایک الہام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دو۲ فرقوں کا ذکر فرما دیا۔ ایک تو وہ سعید جنہوں نے مسیح کو قبول کیا دوسرے وہ شقی جو مسیح کا کفر کرنے والے ہوں گے۔ اُن کے لئے فرمایا کہ ہم طاعون بطور جہنم بھیجیں گے اور نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ(الکھف:۱۰۰) سے یہ مراد ہے کہ جو لوگ خدا کی طرف سے آتے ہیں وحی کے ذریعہ ان میں آواز دی جاتی ہے اور پھر یہ آواز اُن کی معرفت تمام جہان میں پہنچتی ہے پھر ان میں ایک ایسی کشش پیدا ہو جاتی ہے کہ لوگ با وجود اختلافِ خیالات و طبائع و حالات کے اس کی آواز پر جمع ہونے لگتے ہیں اور آخر کار وہ زمانہ آجاتا ہے کہ ’’ایک ہی گلہ اور ایک ہی گلہ بان ہو۔

‘‘خدا تعالیٰ نے ہمارے لیے خود ہی ایسے اسباب مہیا کر دئیے ہیں کہ جس سے تمام سعید روحیں ایک دین پر جمع ہو سکیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا گیا تھا قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا(الاعراف:۱۵۹) ایک طرف یہ جَمِیْعًا دوسری طرف فَجَمَعۡنٰہُمۡ جَمۡعًا(الکھف:۱۰۰) ایک خاص علاقہ رکھتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی کارروائی اس جمع کی تو اسی زمانہ نبوی میں شروع ہو گئی تھی مگر اسباب کا تہیّہ کمال پر اس زمانہ میں پہنچا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سفر کی تمام راہیں نہ کھلی تھیں۔ تفسیر کبیر میں لکھا ہے کہ بعض ایسے مقامات بھی ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت نہیں پہنچی مگر اب تو ڈاک، تار، ریل سے زمین کے اس سرے سے اُس سرے تک خبر پہنچ سکتی ہے۔ یہ حجاز ریلوے جو بن رہی ہے یہ بھی اسی پیشگوئی کے ماتحت ہے۔ عرب کے کئی لوگ کہنے لگ گئے ہیں کہ الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ(التکویر:۵) کا زمانہ آگیا۔ عِشار (گابھن اونٹنیاں) کا لفظ خود ظاہر کرتا ہے کہ یہ سب قیامت سے پہلے ہوگا کیونکہ اس دن کی نسبت تو لکھا ہے کہ ہر حمل والی اپنا حمل گرا دے گی اور پھر اس دن تو ہر چیز معطل ہو جائے گی، اونٹنیوں کی خصوصیت کیا ہے؟ مطلب یہ تھا کہ اب تجارت کا دارومدار اُونٹنیوں پر ہے پھر ریل پر ہوگا۔ اور چونکہ حدیث میں یہی زمانہ مسیح موعود کا لکھا ہے اس لئے اب عرب والوں کو مسیح موعود کی تلاش کرنی چاہیے۔ دیکھو! اب تو اُن کے گھر میں ریل بن رہی ہے اور خود ہمارے دشمن اس میں سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بھی ایک نشان ہے کہ ہمارے دشمنوں کو خدا نے ہمارے کام میں لگا دیا ہے۔ چندہ تو دے رہے ہیں وہ اور صداقت ہماری ثابت ہوگی۔

نشانات کی تکذیب

افسوس کہ یہ لوگ ہمارے بغض کی وجہ سے آنحضرتؐ کی پیشگوئیوں کی تکذیب بھی کر دیتے ہیں مگر کس کس نشان کی یہ تکذیب کریں گے۔ خدا نے ہمارے لیے طاعون بھیجا۔ زلزلہ بھی آیا۔ یا جوج ماجوج دجّال کا خروج ہو چکا۔ کسوف خسوف ماہِ رمضان میں غیر معمولی طور سے ہو چکا۔ کہتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ نادان یہ نہیں سمجھتے کہ جب واقع ہو گئی تو اب راویوں پر جرح فضول ہے۔ جب کوئی اَمر واقع ہو جائے تو بڑا ہی بیوقوف ہے وہ شخص جو پھر بھی کہے فلاں راوی ایسا ہے اور فلاں ایسا۔

ایک بزرگ نے لکھا ہے کہ بعض حدیثیں صحیح، عجب نہیں اگر موضوع ثابت ہوں اور کئی ایسی حدیثیں جنہیں موضوع کہتے ہیں صحیح واقعات نے صحیح ثابت کیں۔ ان لوگوں میں ذرا بھی ایمان ہو تو مان لیں۔ دیکھو! حدیث و قرآن و حالات موجودہ کا آپس میں کیا تطابق ہوا ہے یہ ہمیں مفتری کہتے ہے۔ اچھا الہام بنانے پر تو ہمارا اختیار ہے کیا آسمان پر بھی ہمارا ختیار تھا کہ ہم ماہِ رمضان میں خلافِ معمول کسوف خسوف کراتے؟ کیا طاعون پر ہمارا اختیار تھا کہ اُسے لے آتے؟ کیا ریل ہماری کوشش سے بن رہی ہے اصل بات وہی ہے جو خدا نے وَّعَرَضۡنَا جَہَنَّمَ یَوۡمَئِذٍ لِّلۡکٰفِرِیۡنَ عَرۡضَا(الکھف:۱۰۱) سے آگے فرمایا ۣالَّذِیۡنَ کَانَتۡ اَعۡیُنُہُمۡ فِیۡ غِطَـآءٍ عَنۡ ذِکۡرِیۡ وَکَانُوۡا لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ سَمۡعًا(الکھف:۱۰۲) ذکر سے مراد یہ ہے کہ جو میں نے ان کو اپنے مامور کی معرفت یاد کیا۔ خدا کا یاد کرنا یہی ہوتا ہے کہ اپنی طرف سے ایک مصلح کو بھیج دیا۔ سو اس مامور سے وہ غفلت میں رہے۔ ان کی آنکھوں کے آگے طرح طرح کے شبہات کے حجاب چھائے رہے اور حق کا نور نظر نہ آیا۔ یہ کیونکہ جوش تعصب سے ان کی ایسی حالت ہوگئی جو وہ اس مامور کی بات کو سن ہی نہیں سکتے وَکَانُوۡا لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ سَمۡعًا(الکھف:۱۰۲) اب ان لوگوں کی حالت یہی ہو رہی ہے اور اس کی سزا بھی وہی مل رہی ہے جو قرآن مجید میں ہے کہ وَّعَرَضۡنَا جَہَنَّمَ یَوۡمَئِذٍ لِّلۡکٰفِرِیۡنَ عَرۡضَا(الکھف:۱۰۱)۔۱؎

۶؍جنوری ۱۹۰۸ء

موجودہ حالات میں مصلح کی ضرورت

ایک دوست نے اپنا خواب بیان کیا جس میں یہ آیت بھی تھی وَمَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا(الطلاق:۳)

فرمایا۔ ایک عالمگیر عذاب کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے جس سے نجات کا ذریعہ صرف تقویٰ ہی ہے۔ دیکھو یہ قحط جو بڑھتا جاتا ہے یہ بھی شامت اعمال ہی ہے۔ جو اس سے بچنا چاہتے ہیں وہ اللہ کے حضور توبہ کرے مگر توبہ کے آثار نظر نہیں آتے۔ یہ لوگ بار بار تکذیب کرتے ہیں۔ نشان پر نشان دیکھتے ہیں اور پھر نہیں مانتے۔ کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ یہ کیوں تکذیب و تکفیر پر کمر بستہ ہیں؟ نہ قرآن مجید ان کے ساتھ، نہ احادیث ان کے ساتھ موجودہ حالات پکار پکار کر ایک مصلح کی ضرورت جتا رہی ہیں۔ غرض عقلی نقلی دونوں طریق سے یہی جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں مگر پھر بھی باز نہیں آتے۔ بار بار جہاد کو پیش کرتے ہیں مگر یہ نہیں سمجھتے کہ جب کوئی گورنمنٹ مذہب کے لئے نہیں لڑتی تو وہ جو خدا کی طرف سے آیا وہ کس لئے تلوار سے جہاد کرتا؟ اب تو زمانہ دلائل سے جہاد کرنے کا ہے جو ہو رہا ہے۔

یہ لوگ عجیب قسم کی تاریکی میں ہیں کہ انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ جو اُن کے رہبر بنے ہوئے ہیں وہ عجیب قسم کے مکروں سے کام لے رہے ہیں۔ دنیا ہی دنیا میں ان کا مقصود ہے۔ اسلام میں ایک بیج بویا گیا تھا بجائے اس کے کہ اس کی آبیاری کرتے اس کو اُجاڑنے کے درپے ہیں۔۱؎

۸؍جنوری ۱۹۰۸ء

آخری زمانہ کے اکثر نشانات پورے ہو چکے ہیں

فرمایا۔ بڑے تعجب کی بات ہے کہ آخری زمانہ کے متعلق جس قدر نشانات تھے ان میں سے بہت پورے ہو چکے مگر پھر بھی لوگ توجہ نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ غنی ہے اور اس کو ان لوگوں کی پروا نہیں جو اس سے لا پرواہی اختیار کرتے ہیں یہ لوگ دنیا کے معمولی کاموں کے لیے کس قدر تکلیفیں برداشت کرتے ہیں۔ اس کا عشر عشیر بھی دین کی تحقیق کے لئے محنت نہیں اُٹھاتے بلکہ طرح طرح کے بیہودہ عذر کرتے ہیں۔ حالانکہ جیسے اَور معمولی کام دنیا کے کر رہے ہیں ایسا ہی اس اَلنَّبَاِ الْعَظِیْمِ کی تحقیق بھی یہ کر سکتے ہیں جس پر اُخروی زندگی کی بہبودی کا دارومدار ہے۔

مامورمن اللہ کا انکار سب سے بڑا گناہ ہے

ایک شخص نے جو اکثر صوفیوں کی صحبت میں رہا ہے عرض کیا کہ دعا کریں کہ مجھے خدا کا شوق و معرفت حاصل ہو۔

فرمایا۔ پہلے ایمان کو درست کرو۔ یہ ریاضتیں جو طریقہ نبوی سے باہر ہیں یہ تو کسی کام نہ آئیں گی اور نہ منزل مقصود کو پہنچائیں گی۔ دیکھو! بعض جوگی اس قدر ریاضتیں کرتے ہیں کہ اپنے بازو سکھا دیتے ہیں۔ مگر اللہ کے نزدیک مقبول نہیں کیونکہ ایک تو ارشاد نبوی کے خلاف۔ دوم ایمان ہی نہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الۡمُتَّقِیۡنَ(المائدۃ:۲۸) یعنی اللہ ان کی عبادت قبول کرتا ہے جو خدا سے ڈرتے ہیں اور ڈرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے منشا کے مطابق کام کرتے ہیں اور سب سے پہلا کام تو یہ ہے کہ اس کے مامور کو مانیں۔ دیکھو! یہودی خدا کو مانتے ہیں اور مشرک بھی نہیں۔ قبلہ بھی ان کا وہ ہے جو پہلے مسلمانوں کا رہ چکا ہے مگر پھر بھی خدا کے حضور مقبول نہیں۔ صرف اس لئے کہ اللہ کے رسول کو نہ مانا۔ رسولوں کو نہ ماننے سے وہی جنہیں عالمین پر فضیلت دی گئی تھی ملعون ہوئے۔ کیونکہ گناہ تو اور بھی ہیں مگر سب سے بڑا گناہ مامور من اللہ کا انکار ہے۔

غور کر کے دیکھو تو معلوم ہو جائے گا کہ سب سے بڑا گناہ یہ کیوں ہے؟ جس قدر گناہ ہیں وہ سب خدا تعالیٰ کے احکام کی نافرمانبرداری سے پیدا ہوتے ہیں اور خدا کے احکام ماموروں کی معرفت دنیا پر ظاہر ہوتے ہیں۔ پس جب ان احکام کے لانے والے کو نہ مانا تو گویا اللہ کے کسی حکم کو بھی نہ مانا کیونکہ جس نے اللہ کی مرضی ظاہر کرنی تھی جب اس کا انکار کیا تو اس کی رضامندی کی راہوں کا کیوں کر علم ہو سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ یہودی باوجود خدا کو ماننے۔ نماز روزہ کرنے کے بندر سؤر کہلائے۔

اس شخص نے عرض کیا حضور میں ایمان لایا۔

وصول اِلَی اللہ کا ذریعہ

فرمایا۔ پھر توبہ واستغفار وصول اِلَی اللہ کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا(العنکبوت:۷۰) پوری کوشش سے اس کی راہ میں لگے رہو منزل مقصود تک پہنچ جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی سے بخل نہیں۔ آخر انہی مسلمانوں میں سے وہ تھے جو قطب اور ابدال اور غوث ہوئے۔ اب بھی اس کی رحمت کا دروازہ بند نہیں۔ قلبِ سلیم پیدا کرو۔ نماز سنوار کر پڑھو۔ دعائیں کرتے رہو۔ ہماری تعلیم پر چلو۔ ہم بھی دعا کریں گے۔

طریق اسلام

یاد رکھو! ہمارا طریق بعینہٖ وہی سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا تھا۔ آج کل فقراء نے کئی بدعتیں نکال لی ہیں۔ یہ چلّے اور وِرد وظائف جو انہوں نے رائج کر لیے ہیں ہمیں ناپسند ہیں۔ اصل طریق اسلام قرآن مجید کو تدبّر سے پڑھنا اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرنا اور نماز توجہ کے ساتھ پڑھنا اور دعائیں توجہ وَ اِنابت اِلَی اللہ سے کرتے رہنا۔ بس نماز ہی ایسی چیز ہے جو معراج کے مراتب تک پہنچا دیتی ہے۔ یہ ہے تو سب کچھ ہے۔ والسلام۱؎


۹؍جنوری ۱۹۰۸ء

اپنی کتابوں میں تکرارِ مضامین کی وجہ

فرمایا۔ ہم جو کتاب کو لمبا کر دیتے ہیں اور ایک ہی بات کو مختلف پیرایوں میں بیان کرتے ہیں اس سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ مختلف طبائع مختلف مذاق کے ناظرین کسی نہ کسی طریقے سے سمجھیں اور شاید کسی کو کوئی نکتہ دل لگ جائے اور اسی سے ہدایت پالے اور یوں بھی اکثر دل جو طرح طرح کی غفلتوں سے بھرے ہوئے ہیں اُن کو بیدار کرنے کے لیے ایک بات کا بار بار بیان کرنا ضروری ہوتا ہے۔

آریوں کا رویہ تقویٰ سے بعید ہے

فرمایا۔ عیسائیوں کی دشمنی تو اسلام سے پرانی ہوگئی ہے اور ان کے پادری اب گلے پڑا ڈھول بجا رہے ہیں۔ مگر یہ آریہ ابھی تازہ تازہ دشمنی رکھتے ہیں اس لیے زیادہ پُرجوش ہیں۔ مگر افسوس کہ ان میں طلبِ حق نہیں۔ اُن کے اعتراضوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے معترضوں نے صحیح طور سے اسلام کا مطالعہ نہیں کیا۔ چنانچہ یہ لکھتا ہے کہ مسلمان کہتے ہیں قرآن آسمان سے لکھا لکھایا اُترا۔ بھلا جی وہ کس طرح اُترا؟ دراصل مسلمان جو استعارے کے رنگ میں کہتے ہیں کہ قرآن مجید آسمان سے اترا ہے اس کے غلط معنے اس نے کر لیے مگر یہ طریق تقویٰ سے بہت بعید ہے۔،۲؎


۱۲؍جنوری ۱۹۰۸ء

عوام میں مشہور ایمان کی علامات

جمعہ کے دن مَرنا، مَرتے وقت ہوش کا قائم رہنا یا چہرہ کا رنگ اچھا ہونا۔ ان علامات کو ہم قاعدہ کلیہ کے طور سے ایمان کا نشان نہیں کہہ سکتے کیونکہ دہریہ بھی اس دن کو مَرتے ہیں۔ ان کا ہوش قائم اور چہرہ سفید رہتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ بعض امراض ہی ایسے ہیں مثلاً دِق وسِل کہ ان کے مریضوں کا اخیر تک ہوش قائم رہتا ہے بلکہ طاعون کی بعض قسمیں بھی ایسی ہی ہیں۔ ہم نے بعض دفعہ دیکھا کہ مریض کو کلمہ پڑھایا گیا اور یٰسٓ بھی سنائی۔ بعد ازاں وہ بچ گیا اور پھر وہی بُرے کام شروع کر دئیے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صدق دل سے ایمان نہیں لایا۔ اگر سچی توبہ کرتا تو کبھی ایسا کام نہ کرتا۔ اصل میں اس وقت کا کلمہ پڑھنا ایمان لانا نہیں۔ یہ تو خوف کا ایمان ہے جو مقبول نہیں۔۱؎


۱۳؍جنوری ۱۹۰۸ء

(بوقتِ ظہر)

علماء کے نزدیک

فرمایا۔ گویا ان کے نزدیک اپنی ہی قوم میں دجّال، اپنی ہی میں کافر۔ اپنی ہی میں سب بدیاں ہیں۔ باہر نظر نہیں جاتی تا دیکھیں کہ دجّالیت کس فرقے میں ہے اور کفار کون ہیں۔۲؎


۱۸؍جنوری ۱۹۰۸ء

ہمارے مقابل پر خواب اور الہام

جو الہام یا خواب ہمارے مقابل پیش کئے جائیں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ پیش از وقت دعوے کے ساتھ شائع کئے گئے ہوں اور پھر پورے ہوں۔ یوں تو ہر ایک مفتری کہہ سکتا ہے کہ میں نے ایسا خواب دیکھا جو پورا ہو گیا۔۱؎


۱۹؍ جنوری ۱۹۰۸ء

سچا مسیح کہاں ہے؟

اگر ہم ہی ’’المسیح الدجّال ‘‘ہیں اور یہ بات کسی صحیح واقعہ پر مبنی ہے تو پھر احادیث میں تو اس کے ساتھ ہی مسیح موعود کا ذکر بھی ہے۔ پس بتائیں کہ وہ سچا مسیح کہاں ہے اور کب آسمان سے اُترا؟۲؎


بلا تاریخ

قرض کا علاج

ایک شخص نے عرض کیا مجھ پر بڑا قرض ہے۔ دعا کیجئے۔ فرمایا۔ توبہ واستغفار کرتے رہو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو استغفار کرتا ہے اُسے رزق میں کشائش دیتا ہے۔

سودی لین دین

پھر پوچھا کہ اتنا قرض کس طرح چڑھ گیا؟ اس نے کہا۔ بہت سا حصہ سود ہی ہے۔ فرمایا۔ بس پھر تو شامت اعمال ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کو توڑتا ہے اسے سزا ملتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے پہلے فرما دیا کہ اگر سود کے لین دین سے باز نہ آؤ گے تو لڑائی کا اعلان ہے۔ خدا کی لڑائی یہی ہے کہ ایسے لوگوں پر عذاب بھیج دیتا ہے۔ پس یہ مفلسی بطور عذاب اور اپنے کئے کا پھل ہے۔

سودی لین دین سے بچنے کا طریق

اس شخص نے کہا۔ کیا کریں مجبوری سے سودی قرضہ لیا جاتا ہے۔ فرمایا۔ جو خدا تعالیٰ پر توکل کرتا ہے خدا اس کا کوئی سبب پردۂِ غیب سے بنا دیتا ہے۔ افسوس کہ لوگ اس راز کو نہیں سمجھتے کہ متقی کے لئے خدا تعالیٰ کبھی ایسا موقع نہیں بناتا کہ وہ سودی قرضہ لینے پر مجبور ہو۔ یاد رکھو! جیسے اَور گناہ ہیں مثلاً زنا، چوری ایسے ہی یہ سود دینا اور لینا ہے۔ کس قدر نقصان دہ یہ بات ہے کہ مال بھی گیا، حیثیت بھی گئی اور ایمان بھی گیا۔ معمولی زندگی میں ایسا کوئی اَمر ہی نہیں کہ جس پر اتنا خرچ ہو جو انسان سودی قرضہ لینے پر مجبور ہو۔ مثلاً نکاح ہے اس میں کوئی خرچ نہیں۔ طرفین نے قبول کیا اور نکاح ہو گیا۔ بعد ازاں ولیمہ سنّت ہے۔ سو اگر اس کی استطاعت بھی نہیں تو یہ بھی معاف ہے۔ انسان اگر کفایت شعاری سے کام لے تو اس کا کوئی بھی نقصان نہیں ہوتا۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ لوگ اپنی نفسانی خواہشوں اور عارضی خوشیوں کے لیے خدا تعالیٰ کو ناراض کر لیتے ہیں جو ان کی تباہی کا موجب ہے۔ دیکھو سود کا کس قدر سنگین گناہ ہے۔ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں؟ سؤر کا کھانا تو بحالت اضطرار جائز رکھا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ(البقرۃ:۱۷۴) یعنی جو شخص باغی نہ ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں اللہ غفور رحیم ہے مگر سود کے لئے نہیں فرمایا کہ بحالت اضطرار جائز ہے بلکہ اس کے لئے تو ارشاد ہے یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَذَرُوۡا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا فَاۡذَنُوۡا بِحَرۡبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوۡلِہٖ(البقرۃ:۲۷۹، ۲۸۰) اگر سُود کے لین دین سے باز نہ آؤ گے تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان ہے۔ ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ جو خدا تعالیٰ پر توکّل کرتا ہے اسے حاجت ہی نہیں پڑتی۔ مسلمان اگر اس ابتلا میں ہیں تو یہ ان کی اپنی ہی بدعملیوں کا نتیجہ ہے۔ ہندو اگر یہ گناہ کرتے ہیں تو مالدار ہو جاتے ہیں۔ مسلمان یہ گناہ کرتے ہیں تو تباہ ہو جاتے ہیں۔ خَسِرَ الدُّنۡیَا وَالۡاٰخِرَۃَ(الحج:۱۲) کے مصداق ہیں پس کیا ضروری نہیں کہ مسلمان اس سے باز آئیں؟

انسان کو چاہیے کہ اپنے معاش کے طریق میں پہلے ہی کفایت شعاری مدّنظر رکھے تاکہ سودی قرضہ اُٹھانے کی نوبت نہ آئے جس سے سود اصل سے بڑھ جاتا ہے۔ ابھی کل ایک شخص کا خط آیا تھا کہ ہزار روپیہ دے چکا ہوں۔ ابھی پانچ چھ سو باقی ہے۔ پھر مصیبت یہ ہے کہ عدالتیں بھی ڈگری دے دیتی ہیں مگر اس میں عدالتوں کا کیا گناہ جب اس کا اقرار موجود ہے تو گویا اس کے یہ معنے ہیں کہ سود دینے پر راضی ہے۔ پس وہاں سے ڈگری جاری ہو جاتی ہے۔ اس سے یہ بہتر تھا کہ مسلمان اتفاق کرتے اور کوئی فنڈ جمع کر کے تجارتی طور سے اُسے فروغ دیتے تاکہ کسی بھائی کو سود پر قرضہ لینے کی حاجت نہ ہوتی بلکہ اسی مجلس سے ہر صاحبِ ضرورت اپنی حاجت روائی کر لیتا اور میعاد مقررہ پر واپس دے دیتا۔

حکیم فضل دین صاحب نے سنایا کہ علامہ نورالدین بھیرہ میں حدیث پڑھا رہے تھے۔ باب الربٰو تھا۔ ایک سُود خور ساہوکار آکر پاس بیٹھ گیا۔ جب سود کی ممانعت سنی تو کہا اچھا مولوی صاحب آپ کو نکاح کی ضرورت ہو تو پھر کیا کریں؟ انہوں نے کہا بس ایجاب قبول کر لیا جائے۔ پوچھا اگر رات کو گھر میں کھانا نہ ہو تو پھر کیا کرو؟ کہا۔ لکڑیوں کا گٹھا باہر سے لاؤں روز بیج کر کھاؤں۔ اس پر کچھ ایسا اثر ہوا کہ کہنے لگا آپ کو دس ہزار تک اگر ضرورت ہو تو مجھ سے بلا سود لے لیں۔

فرمایا۔ دیکھو جو حرام پر جلدی نہیں دوڑتا بلکہ اس سے بچتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے لیے حلال کا ذریعہ نکال دیتا ہے۔ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا(الطلاق:۳) جو سود دینے اور ایسے حرام کاموں سے بچے خدا تعالیٰ اس کے لئے کوئی سبیل بنا دے گا۔ ایک کی نیکی اور نیک خیال کا اثر دوسرے پر بھی پڑتا ہے۔ کوئی اپنی جگہ پر استقلال رکھے تو سود خور بھی مفت دینے پر راضی ہو جاتے ہیں۔۱؎


بلا تاریخ

بنک کا سُود

ایک صاحب کا ایک خط حضرت کی خدمت میں پہنچا کہ جب بینکوں کے سود کے متعلق حضور نے اجازت دی ہے کہ موجودہ زمانہ اور اسلام کے حالات کو مدّنظر رکھ کر اضطرار کا اعتبار کیا جائے سو اضطرار کا اصول چونکہ وسعت پذیر ہے اس لیے ذاتی، قومی، ملکی، تجارتی وغیرہ اضطرارات بھی پیدا ہو کر سود کا لین دین جاری ہوسکتا ہے یا نہیں؟ فرمایا۔ اس طرح سے لوگ حرامخوری کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں کہ جو جی چاہے کرتے پھریں۔ ہم نے یہ نہیں کہا کہ بینک کا سود بہ سبب اضطرار کے کسی انسان کو لینا اور کھانا جائز ہے بلکہ اشاعتِ اسلام میں اور دینی ضروریات میں اس کا خرچ جائز ہونا بتلایا گیا ہے۔ وہ بھی اس وقت تک کہ امدادِ دین کے واسطے روپیہ مل نہیں سکتا اور دین غریب ہو رہا ہے کیونکہ کوئی شے خدا کے واسطے تو حرام نہیں۔ باقی رہی اپنی ذاتی اور ملکی اور قومی اور تجارتی ضروریات سو اُن کے واسطے اور ایسی باتوں کے واسطے سود بالکل حرام ہے وہ جواز جو ہم نے بتلایا ہے وہ اس قسم کا ہے کہ مثلاً کسی جاندار کو آگ میں جلانا شرعاً منع ہے۔ لیکن ایک مسلمان کے واسطے جائز ہے کہ اس زمانہ میں اگر کہیں جنگ پیش آوے تو توپ بندوقوں کا استعمال کرے کیونکہ دشمن بھی اس کا استعمال کر رہا ہے۔

تراویح کی رکعات

تراویح کے متعلق عرض ہوا کہ جب یہ تہجد ہے تو بیس رکعت پڑھنے کی نسبت کیا ارشاد ہے کیونکہ تہجد تو مع وتر گیارہ یا تیرہ رکعت ہے۔ فرمایا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت دائمی تو وہی آٹھ رکعات ہے اور آپ تہجد کے وقت ہی پڑھا کرتے تھے اور یہی افضل ہے مگر پہلی رات بھی پڑھ لینا جائز ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے رات کے اوّل حصّے میں اسے پڑھا۔ بیس رکعات بعد میں پڑھی گئیں۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت وہی تھی جو پہلے بیان ہوئی۔۱؎


بلا تاریخ

محرّم کی رسوم

شیعہ تو اس غلطی میں تھے ہی ہمارے سنّی بھائی بھی کچھ اس رنگ میں رنگین ہوتے جاتے ہیں اور محرّم کے دنوں میں مرثیہ خوانی کی مجلسوں میں شریک ہوتے، تعزئیے بناتے ہیں اور پھر کچھ شربت و چاول وغیرہ تقسیم کرتے ہیں۔ اس کے متعلق امام الائمہ حجۃ اللہ خلیفۃ اللہ علی الارض کا فتویٰ نقل کر دیا جاتا ہے کہ کم از کم ہمارے احمدی بھائی ہی اس سے الگ رہیں۔

نیازمند اکمل نے سوال کیا کہ محرّم کی دسویں کو جو شربت و چاول وغیرہ تقسیم کرتے ہیں اگر یہ للہ بہ نیت ایصال ثواب ہو تو اس کے متعلق حضور کا کیا ارشاد ہے (اماموں کے نام پر دینا تو حسب آیت وَمَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللّٰہِ(البقرۃ:۱۷۴) حرام ہے)

فرمایا۔ ایسے کاموں کے لئے دن اور وقت مقرر کر دینا ایک رسم و بدعت ہے اور آہستہ آہستہ ایسی رسمیں شرک کی طرف لے جاتی ہیں۔ پس اس سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ ایسی رسموں کا انجام اچھا نہیں۔ ابتدا میں اسی خیال سے ہو مگر اب تو اس نے شرک اور غیر اللہ کے نام کا رنگ اختیار کر لیا ہے اس لئے ہم اسے ناجائز قرار دیتے ہیں۔ جب تک ایسی رسوم کا قلع قمع نہ ہو عقائد باطلہ دور نہیں ہوتے۔۱؎

بلا تاریخ

خواب تعبیر طلب ہوتی ہے

کسی نے اپنا خواب بیان کیا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ گجرات میں انجیر ہوتی ہے اس کا شربت بنوا کر پیو۔

فرمایا۔ خواب تعبیر طلب بھی ہوتی ہے۔ انجیر گرمی سے بچاتی ہے۔ قرآن شریف میں بھی ’’تِیْن ‘‘کا ذکر ہے مگر وہاں اور اشارات ہیں۔ اس سے ثبوت نبوت دیا گیا ہے۔

طبابت ظنی علم ہے

علم طبابت ظنی ہے کسی کو کوئی دوا پسند کسی کو کوئی۔ ایک دوا ایک شخص کے لیے مضر ہوتی ہے دوسرے کے لیے وہی دوا نافع، دوائیوں کا راز اور شفا دینا خدا کے ہاتھ میں ہے کسی کو یہ علم نہیں۔ کل ایک دوائی مَیں استعمال کرنے لگا تو الہام ہوا ’’خطرناک دوا میں اندازہ کرنے پر مطمئن نہیں ہونا چاہیے بلکہ ضرور تول لینا چاہیے۔

مسلمان کس طرح ترقی کر سکتے ہیں؟

آریہ اگر یہ گند نہ بولتے تو ہمارے لیے تحریک نہ ہوتی۔ حقائق و معارف کے لیے اُن کے اعتراضات بہانہ ہو گئے۔ غیر قوموں میں اپنے قومی مذہبی کاموں میں چندہ دینے کا جو جوش ہے وہ مسلمانوں میں نہیں۔ شاید اس لئے کہ’’ کریماں را بدست اندر درم نیست ‘‘مگر مسلمانوں میں بھی کئی نواب ہیں۔ کئی امراء و دولت مند۔ ہر مسلمان کا یہ مقصد ہونا چاہیے کہ سچائی پھیل جائے۔ مسلمانوں پر پہلے بھی جب اقبال کا زمانہ آیا تو دینی رنگ میں ترقی کرنے سے۔ اب بھی اگر وہ پہلا زمانہ دیکھنا چاہتے ہیں تو دین کی طرف توجہ کریں۔ ان لوگوں کی تقلید سچے مسلمانوں کے لئے کوئی نتیجہ نہیں دے سکتی۔ مسلمانوں میں جو آجکل مصلح بنے ہیں وہ بجائے اس کے کہ اپنی حالت درست کریں نماز روزہ کے احکام میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں قوم کی ترقی سمجھتے ہیں۔ خدا تعالیٰ تو دین کے ذریعہ ترقی چاہتا ہے اور یہ لوگ بے دین ہونے سے ترقی طلب کرتے ہیں جس میں کبھی کامیابی نہیں ہو گی۔ اسلام ہی خدا کو واحد لاشریک مانتا ہے۔ اگر یہ مسلمان بھی اس توحید سے الگ ہو گئے تو ان کے حق میں اچھا نہیں ہو گا۔

دوسری قوموں کی تقلید اُن کے لئے مبارک نہیں ہو سکتی۔ دوسروں کو اگر بے دینی سے کامیابی بھی ہوتی ہے تو یہ بطور ابتلا ہے۔ ہر شخص سے خدا تعالیٰ کا معاملہ علیحدہ ہے۔ عیسائی قومیں ناپسند کریں۔ شراب خوری قمار بازی کریں تو یہ اُن کے لئے مفید ہو سکتے ہیں لیکن اگر مسلمان ایسے کام کریں تو ان پر ضرور عذاب نازل ہوگا۔ دیکھو! ظاہری سلطنت کا بھی یہی قاعدہ ہے کہ اگر ملازم کسی شورش کے جلسہ میں شامل ہو تو اس کو عبرت ناک سزا دی جاتی ہے۔ پس اسی طرح جو کلمہ پڑھنے والے ہیں یہ خدا کے خاص بندے ہیں۔ اگر یہ لوگ گستاخی کریں اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری نہ کریں تو ضرور گرفتار ہوں گے۔ یہ الہام جو ہم کو ہوا۔ ’’وہ وعدہ ٹلے گا نہیں جب تک خون کی ندیاں چاروں طرف سے بہہ نہ جائیں تو اس میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کی توحید دنیا سے گم ہو۔ جب مسلمان ہی کفر و شرک کو پسند کرنے لگیں تو پھر دوسری قوموں کا کیا گلہ ہوسکتا ہے؟ پہلے گھر صاف ہو تو پھر دوسرے لوگوں کی اصلاح ہوسکتی ہے تمام قوموں میں دہریت بڑھتی جاتی ہے۔ خدا تعالیٰ اپنی ہستی ثابت کرنا چاہتا ہے اور اوّل خویشاں بعد درویشاں کے مطابق ہمارا فرض ہے کہ پہلے اپنی قوم کی اصلاح کریں۔ جب مسلمانوں ہی میں ہزاروں گند ہوں تو دوسروں کو کیا کہا جاسکتا ہے۔ جہاد جہاد پکارتے ہیں۔ مگر میں کہتا ہوں کہ اگر ہمیں جہاد کرنے کا حکم ہوتا تو سب سے پہلے انہیں سے کیا جانا چاہیے تھا۔ یہ عادت اللہ ہے کہ جس قوم کے اندر کتاب ہو پہلے اسے درست کیا جاتا ہے پھر دوسری قوموں کی طرف توجہ ہوتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ موجود ہے۔ سب سے پہلے قریش کی اصلاح کی پھر یہود و نصاریٰ کی طرف متوجہ ہوئے۔

مسلمانوں کے دو گروہ

مسلمانوں میں دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک جو پورا کلمہ بھی پڑھنا نہیں جانتے جن میں سے وہ بھی ہیں جن کی نسبت آریہ مشہور کرتے رہتے ہیں کہ ہم نے اتنے مسلمانوں کو آریہ کر لیا۔ پہاڑ میں ایسے آدمی ہم نے بہت دیکھے جن کو اسلام کی کچھ خبر ہی نہیں۔ دوسرے وہ جو مہذّب تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں۔ یہ اسلام کو کراہت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ نماز کے ارکان پر ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ نماز روزہ وحشیانہ زمانے کی باتیں ہیں۔ یہ احکام آجکل کے زمانہ میں مناسب نہیں۔ پس ان دونوں گروہوں کی اصلاح سب سے اوّل ضروری ہے مگر ہم کیا اصلاح کر سکتے ہیں جب تک آسمان ہی سے نہ ہو جس کے کان سننے کے ہوں اسے ہم بخوشی سناتے ہیں۔ بعض ایسے ہیں کہ بیان کرو وہ سنیں گے ہی نہیں یا بات کو دوسری طرف لے جائیں گے۔ بے دینی کی ایک زہرناک ہوا چل رہی ہے جس نے کسی کو ہلاک کر دیا کسی کو اندھا، کسی کو سُست۔ وہ جو خدا سے تعلق پیدا کرنے والے ہیں بہت تھوڑے رہ گئے ہیں۔ خدا کی ہستی ثابت کرنے کی بڑی ضرورت ہے۔ فرقے تو بہت ہو گئے تھے مگر دہر یہ سب سے زیادہ ہیں عظمتِ الٰہی مطلق نہیں رہی۔ عظمت کیا ہو جب کہ خدا کے وجود پر ہی پورا یقین نہیں رہا۔

آخری علاج

ہر نبی کے زمانہ میں کچھ نہ کچھ خونریزی ہوئی۔ مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہٗۤ اَسۡرٰی حَتّٰی یُثۡخِنَ فِی الۡاَرۡضِ(الانفال:۶۸) انسانوں کے ہاتھوں پر جو امور مقدر تھے وہ تو ختم ہو چکے۔ اب خدا نے ایسے کل امور کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ یہ طاعون، زلزلے، طرح طرح کے امراض، مصائب سب خدا کی تلواریں ہیں۔ تعجب ہے کہ حادثے پر حادثے آتے ہیں مصیبت پر مصیبت آتی ہے مگر ہماری جماعت کے سوا دوسرا کوئی ان سے متأثر نہیں ہوتا حالانکہ یہ سب بلائیں اس لیے ہیں کہ لوگوں کی غفلت دور ہو وہ تضرّع اختیار کریں اور سمجھیں کہ خدا ہے۔ دیکھو! ہر پہلو سے حادثے واقعہ ہو رہے ہیں اور ابھی کیا معلوم کہ آگے آگے کیا ہونے والا ہے؟ ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ اب جو کچھ کرے گا خدا ہی کرے گا۔ جرّاحی آخری علاج ہے اور علاج تو سب ہو چکے۔ پس یہ آخری علاج ہے اب یا بیمار مَرے گا یا صحت یاب ہوگا۔ کئی لاکھ انسان مَر چکا ہے مگر عملی حالت دکھاتی ہے کہ ابھی کچھ بھی نہیں ہوا۔ نیکی کی طرف سے بہت دُور ہیں اور بدی کی جانب قریب ہیں۔ استغفار کرنا چاہیے۔

آگے قاعدہ تھا کہ مسلمان بادشاہ عام طور پر وباؤں کے وقت انابت اِلَی اللہ اور دعا و صدقہ و خیرات کی طرف توجہ دلاتے رہتے۔ اب یہ بھی نہیں بلکہ خدا کا نام لینا بھی خلافِ تہذیب سمجھا جاتا ہے۔

سلطان ال معظّم۱؎ نے وزراء سے ایک اَمر کی نسبت مشورہ کیا اور اس کے متعلق تجویزیں پوچھیں۔ جب سب تجویزیں بیان ہو چکیں تو کہا اَور تو سب کچھ کہا مگر یہ کسی نے نہ کہا کہ دعا بھی کرو۔ آخر مسلمان کا بچہ تھا۔ کچھ نہ کچھ خدا پرستی تو تھی۔ سلطان ال معظّم جمعہ کی نماز کو بھی جاتا ہے۔ فقراء سے بھی نیاز رکھتا ہے اس لئے اچھا ہے۔

اس زمانہ کی ضلالت

خدا تعالیٰ ابتداءِ زمانہ میں بولا کہ میں تیرا خدا ہوں۔ ایسا ہی اخیر زمانہ میں بھی اس نے فرمایا کہ انا الموجود یاد رکھو کہ وہ ’’ہادی ‘‘ہے۔ اگر چھوڑ دے تو سب دہریہ بن جائیں۔ پس وہ اپنی ہستی کا ثبوت دیتا رہتا ہے اور یہ زمانہ تو بالخصوص اس بات کا محتاج ہے۔ جس چیز کی حکومت ہو اس کا اثر ظاہر ہو جاتا ہے آج کل اگر صالح آدمی جس نے حق پا لیا ہے خیال پر اثر نہیں ڈال سکتا تو معلوم ہوا کہ ضلالت کی حکومت ابھی باقی ہے۔ جب ایسی ہوا چلتی ہے تو سب اس کے اثر سے متأثر ہو جاتے ہیں۔ مومن اگرچہ بچا رہتا ہے مگر دوسروں پر اثر نہیں ڈال سکتا۔ ضلالت کے رُعب کا یہ حال ہے کہ بڑے بڑے تعلیم یافتہ ہیں اُن سے مذہب کی نسبت کوئی کچھ نہیں کہتا کہ شاید یہ ناراض ہو جائیں یا مجھ سے ہنسی ٹھٹھا ہو۔

حق کا اعلان

مگر صحابہ کرام کی طرف دیکھنا چاہیے کہ اسلام کے ضعف کی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام شاہوں کو خط لکھ دیا۔ اس وقت ایسا مہذبانہ زمانہ بھی نہیں تھا نہ یہ امن کی صورت۔ صحابہؓ نے ان خطوط کو پہنچایا اور بر سر دربار اپنے عقائد کو کھول کر بیان کیا۔ ایک عیسائی بادشاہ کو جب اسلام کا پیغام پہنچا اور اس نے صحابہؓ سے کلامِ الٰہی سنا تو وہ بول اُٹھا یہ اس کا کلام معلوم ہوتا ہے جس نے تورات نازل کی اور کہا اگر اس نبی کے پاس میں جا سکتا تو اس کے قدم چومتا۔ پادریوں کو بُلا کر کہا۔ دیکھو! اسلام کیسا عمدہ مذہب ہے کیا تم اسے پسند کرتے ہو؟ جب ان سے مخالفت محسوس کی تو کہہ دیا کہ میں تو تمہیں آزماتا تھا۔ یہ کمزوری دنیا کی حرص کا نتیجہ تھی جن میں دنیا پرستی نہیں وہ حق کہنے اور حق کا اعلان کرنے سے نہیں ڈرتے اور ان کی خدا مدد کرتا ہے۔

قولِ مُوَجّہ کی ضرورت

ہماری جماعت کے لئے نہایت ضروری ہے کہ ہر طبقہ کے انسانوں کو مناسب حال دعوت کرنے کا طریق سیکھے۔ بعض کو باتوں کا ایسا ڈھنگ ہوتا ہے کہ جو کچھ کہنا ہوتا ہے وہ کہہ لیتے ہیں اور اس سے ناراضی بھی پیدا نہیں ہوتی۔ بعض ظاہر میں خبیث معلوم ہوتے ہیں جن سے نا اُمیدی ہوتی ہے مگر وہ قبول کر لیتے ہیں اور بعض غریب طبع دکھائی دیتے ہیں اور ان پر بہت کچھ امید ہوتی ہے مگر وہ قبول نہیں کرتے اس لیے قولِ مُوَجّہ کی ضرورت ہے جس سے آخر کار فتح ہوتی ہے۔

دہلی میں سخت مخالفت ہوئی۔ آخر مَیں نے کہا کہ تیرہ سو برس وہ نسخہ (حیاتِ مسیح )آزمایا۔ اس کا نتیجہ دیکھا کہ کئی مرتد ہو گئے۔ اب یہ نسخہ (وفاتِ مسیح )آزما دیکھو۔ دیکھو کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ ایک شخص بے اختیار اُٹھ کھڑا ہوا۔ اور کہا حق وہی ہے جو آپ فرماتے ہیں۔ غرض قولِ مُوَجّہ بڑی نعمت ہے۔ کسی نے کیا اچھا کہا ہے۔

ایہو ہیگی کیمیا جو کوئی جانے بول

پیغام حق پہنچانے کا طریق

ہر ایک کو ایسی بات کرنی نہیں آتی۔ پس چاہیے کہ جب کلام کرے تو سوچ کر اور مختصر کام کی بات کرے۔ بہت بحثیں کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ پس چھوٹا سا چٹکلہ کسی وقت چھوڑ دیا جو سیدھا کان کے اندر چلا جائے پھر کبھی اتفاق ہوا تو پھر سہی۔ غرض آہستہ آہستہ پیغام حق پہنچاتا رہے اور تھکے نہیں کیونکہ آجکل خدا کی محبت اور اس کے ساتھ تعلق کو لوگ دیوانگی سمجھتے ہیں۔ اگر صحابہؓ اس زمانہ میں ہوتے تو لوگ انہیں سودائی کہتے اور وہ انہیں کافر کہتے۔ دن رات بیہودہ باتوں اور طرح طرح کی غفلتوں اور دنیاوی فکروں سے دل سخت ہو جاتا ہے۔ بات کا اثر دیر سے ہوتا ہے۔ ایک شخص علیگڑھ ہی غالباً تحصیلدار تھا۔ میں نے اُسے کچھ نصیحت کی۔ وہ مجھ پر ٹھٹھا کرنے لگا۔ میں نے دل میں کہا میں بھی تمہارا پیچھا نہیں چھوڑنے کا۔ آخر باتیں کرتے کرتے اس پر وہ وقت آ گیا کہ وہ یا تو مجھ پر تمسخر کر رہا تھا یا چیخیں مار مار کر رونے لگا۔ بعض وقت سعید آدمی ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے شقی ہے۔

یاد رکھو! ہر قفل کے لیے ایک کلید ہے۔ بات کے لئے بھی ایک چابی ہے۔ وہ مناسب طرز ہے۔ جس طرح دواؤں کی نسبت مَیں نے ابھی کہا کہ کوئی کسی کے لئے مفید اور کوئی کسی کے مفید ہے۔ ایسے ہی ہر ایک بات ایک خاص پیرائے میں خاص شخص کے لئے مفید ہو سکتی ہے۔ یہ نہیں کہ سب سے یکساں بات کی جائے۔ بیان کرنے والے کو چاہیے کہ کسی کے بُرا کہنے کو بُرا نہ منائے بلکہ اپنا کام کئے جائے اور تھکے نہیں۔ امراء کا مزاج بہت نازک ہوتا ہے اور وہ دنیا سے غافل بھی ہوتے ہیں بہت باتیں سن بھی نہیں سکتے۔ انہیں کسی موقع پر کسی پیرائے میں نہایت نرمی سے نصیحت کر جانا چاہیے۔۱؎

بلا تاریخ

عقیقہ کس دن کرنا چاہیے

عقیقہ کی نسبت سوال ہوا کہ کس دن کرنا چاہیے؟ فرمایا۔ ساتویں دن۔ اگر نہ ہو سکے تو پھر جب خدا توفیق دے۔ ایک روایت میں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا عقیقہ چالیس سال کی عمر میں کیا تھا۔ ایسی روایات کو نیک ظن سے دیکھنا چاہیے۔ جب تک قرآن مجید و احادیثِ صحیحہ کے خلاف نہ ہوں۔

مسجد کے ستونوں کے درمیان نماز

پیل پایوں کے بیچ میں کھڑے ہونے کا ذکر آیا کہ بعض احباب ایسا کرتے ہیں۔ فرمایا۔ اضطراری حالت میں تو سب جائز ہے۔ ایسی باتوں کا چنداں خیال نہیں کرنا چاہیے اصل بات تو یہ ہے کہ خدا کی رضامندی کے موافق خلوصِ دل کے ساتھ اس کی عبادت کی جائے ان باتوں کی طرف کوئی خیال نہیں کرتا۔۲؎


۲۶؍جنوری ۱۹۰۸ء

قُربِ قیامت سے مراد

ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور نے اپنی تقریر جلسہ ماہِ دسمبر میں فرمایا تھا کہ قیامت آنے والی ہے اور اس کا وقت قریب ہے۔ کیا اس سے یہ مراد ہے کہ کچھ سالوں کی بات ہے؟ فرمایا کہ قرآن میں بھی ہے اِقۡتَرَبَتِ السَّاعَۃُ(القمر:۲) اور ایسی دیگر آیات پس سمجھ سکتے ہو کہ قریب کے کیا معنے ہیں؟ قرب الساعۃ کے جو نشانات تھے وہ تو ظاہر ہو چکے جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ آخری زمانہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی ہولناک واقعہ پیش آتا تو فرماتے کہ قیامت آگئی۔

نشان وہ ہوتا ہے جو اپنی عظمت سے رُعب ڈال دے

ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ حضور کا الہام تھا۔ ستائیس کو خوشیاں منائیں گے۔ سو ۲۷ ماہ پوہ کو بارش ہوگئی اور لوگوں نے خوشیاں منائیں۔ فرمایا۔ یہ تکلّفات ہیں جو ہم نہیں چاہتے۔ خدا کا وہ نشان ہوتا ہے جو دل بول اُٹھیں بلکہ دشمن بھی کہہ دیں کہ یہ بات ہوگئی گو دشمن کا اقرار زبان سے محال ہے مگر تاہم نشان وہ ہوتا ہے جو اپنی عظمت سے رعب ڈال دے۔

دعا کی دو قسمیں

فرمایا۔ جو خط آتا ہے میں اُسے پڑھ کر اس وقت تک ہاتھ سے نہیں دیتا جب تک دعا نہ کر لوں کہ شاید موقع نہ ملے یا یاد نہ رہے۔ مگر دعا دو قسم ہے جو اس کوچہ میں داخل ہووے وہی خوب سمجھتا ہے۔ ایک معمولی۔ ایک شدّت توجہ سے۔ اور یہ آخری صورت ہر دعا میں میسر نہیں آتی۔ سوز اور قلق کا پیدا ہونا اپنے اختیار میں نہیں۔ کوئی مخلص ہو تو اس کے لئے خود ہی دعا کرنے کو جی چاہتا ہے۔ یوں تو ہر ایک شخص جو ہماری جماعت میں داخل ہے اس کے لئے ہم دعا کرتے ہیں۔ مگر مذکورہ بالا حالت ہر ایک کے لیے میسر نہیں آتی۔ یہ اختیاری بات نہیں پس جسے جوش دلانا ہو وہ زیادہ قرب حاصل کرے۔

مکر کے معنے

فرمایا۔ جب انسان مکر کرتا ہے تو اس کے ساتھ خدا بھی مکر کرتا ہے۔ مکر کا مقابلہ مکر کرے جب ہی بات بنتی ہے۔ نادان مکر کے لفظ پر اعتراض کرتے ہیں۔ یہ زبان کی ناواقفیت کی وجہ سے ہے اس میں کوئی بری بات نہیں۔ مَکْر اس باریک تدبیر کو کہتے ہیں جو خبیث آدمی کے دفع کے لئے کی جائے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنا نام خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ(اٰل عمران:۵۵) رکھا۔

حقیقی دعا

دعا دو قسم ہے۔ ایک تو معمولی طور سے۔ دوم وہ جب انسان اُسے انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ پس یہی دعا حقیقی معنوں میں دعا کہلاتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ کسی مشکل پڑنے کے بغیر بھی دعا کرتا رہے۔ کیونکہ اسے کیا معلوم کہ خدا کے کیا ارادے ہیں اور کل کیا ہونے والا ہے؟ پس پہلے سے دعا کرو تا بچائے جاؤ۔ بعض وقت بَلا اس طور پر آتی ہے کہ انسان دعا کی مہلت ہی نہیں پاتا۔ پس پہلے اگر دعا کر رکھی ہو تو اُس آڑے وقت میں کام آتی ہے۔

عذاب کا فلسفہ

جب لوگ حد سے زیادہ دنیا میں دل لگاتے ہیں۔ خدا سے بے پروائی اختیار کرتے ہیں تو انہیں متنبہ کرنے کے لئے عذاب نازل ہوتا ہے۔ دیکھو طاعون کیسی تباہی ڈال رہی ہے۔ ایک کو دفن کر کے آتے ہیں تو دوسرا جنازہ تیار ہوتا ہے۔ یاد رکھو کہ بت پرستی، انسان پرستی، مخلوق پرستی کی سزا آخرت میں ہے۔ مگر شوخیوں بدمعاشیوں، ظلم و تعدی، غفلت اور اہل حق کو ستانے و دکھ دینے کی سزا اسی دنیا میں دی جاتی ہے۔ نوح کے وقت جو عذاب آیا اگر خدا کے رسول کو نہ ستاتے تو وہ عذاب نہ آتا۔ یہ شوخی پر اس لیے عذاب آتا ہے کہ ’’ایک چور دوسرا چتر ‘‘دنیا دارالمکافات نہیں۔ اس میں دست بدست سزا صرف اُسے ملتی ہے جو بدمعاشی کرے۔ جو شرافت کے ساتھ گناہ میں گرفتار ہو تو اس کی سزا آخرت میں ہے اور اب جو دنیا میں عذاب آیا تو اسی لیے کہ دلیری، شوخی، شرارت حد سے بڑھ گئی ایسی کہ گویا خدا ہے ہی نہیں۔ طاعون نے اس قدر سخت بربادی کی مگر ابھی اُن کے دلوں نے کچھ محسوس نہیں کیا۔ پوچھو تو ہنسی ٹھٹھے میں گذار دیتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں معمولی بیماری ہے گویا خدا کے قضاء و قدر سے منکر ہیں۔ بے شک یہ بیماری ہے مگر انہی بیماریوں سے عذاب آیا کرتا ہے۔ یہودیوں پر جب یہ وبا پڑی تو خدا نے اسے عذاب فرمایا۔ یاد رکھو کہ جب خدا چاہتا ہے انہیں بیماریوں کو شدت و کثرت میں بڑھا کر ہلاک کر دیتا ہے۔ ان لوگوں کی بے یقینی کی یہ علامت ہے کہ عذاب کو عذاب نہیں سمجھتے۔ خدا رحیم ہے۔ سزا دینے میں دھیما ہے مگر یہ لوگ یاد رکھیں کہ جب تک وہ وقت نہ آئے گا کہ پکار اُٹھیں’’ اب ہم سمجھے ‘‘یہ عذاب ہٹنے کا نہیں۔ اس کا علاج وہی ہے جو ہم بارہا دفعہ بتا چکے ہیں۔ یعنی تضرّع وانابت اِلَی اللہ۔۱؎

۳؍ فروری ۱۹۰۸ء

مومن پر ابتلانہ آنا سنّت اللہ کے خلاف ہے

خدا کے مامور پر ایمان لانے کے ساتھ ابتلا ضروری ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ(العنکبوت:۳) کیا لوگوں نے سمجھا کہ چھوڑے جائیں گے یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لائے اور آزمائے نہ جائیں گے؟ گویا ایمان کی شرط ہے آزمایا جانا۔ صحابہ کرام کیسے آزمائے گئے؟ ان کی قوم نے طرح طرح کے عذاب دئیے اُن کے اموال پر بھی ابتلا آئے۔ جانوں پر بھی، خویش واقارب پر بھی، اگر ایمان لانے کے بعد آسائش کی زندگی آجاوے تو اندیشہ کرنا چاہیے کہ میرا ایمان صحیح نہیں کیونکہ یہ سنّت اللہ کے خلاف ہے کہ مومن پر ابتلا نہ آئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوسکتا۔ وہ جب اپنی رسالت پر ایمان لائے تو اسی وقت سے مصائب کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ عزیزوں سے جدا ہوئے۔ میل ملاپ بند کیا گیا۔ ملک سے نکالے گئے۔ دشمنوں نے زہر تک دے دیا۔ تلواروں کے سامنے زخم کھائے۔ اخیر عمر تک یہی حال رہا۔ پس جب ہمارے مقتدا و پیشوا کے ساتھ ایسا ہوا تو پھر اس پر ایمان لانے والے کون ہیں جو بچے رہیں؟ ایسے ابتلا جب آویں تو مردانہ طریق سے ان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

ابتلا اسی واسطے آتے ہیں کہ صادق جُدا ہو جائے اور کاذب جُدا۔ خدا رحیم ہے مگر وہ غنی اور بے نیاز بھی ہے جب انسان اپنے ایمان کو استقامت کے ساتھ مدد نہ دے۔ تو خدا کی مدد بھی منقطع ہو جاتی ہے۔ بعض آدمی صرف اتنی سی بات سے دہریہ ہو جاتے ہیں کہ ان کا لڑکا مَر گیا یا بیوی مَرگئی یا رزق کی تنگی ہوگئی حالانکہ یہ ایک ابتلا تھا جس میں پورا نکلتے تو انہیں اس سے بڑھ کر دیا جاتا اور رزق کی تنگی سے پراگندہ دل ہونا مومن کا کام متقی کا شیوہ نہیں یہ جو

پراگندہ روزی پراگندہ دل

کہتے ہیں۔ اس کے یہ معنے ہیں کہ جو پراگندہ دل ہو وہ پراگندہ روزی رہتا ہے۔ اور اوّل تو صادقوں کے سوانح دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے خود اپنے تئیں پراگندہ روزی بنالیا۔ دیکھو! حضرت ابوبکرؓ تاجر تھے بڑے معزز، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر سب کو دشمن بنالیا۔ کاروبار میں بھی فرق آگیا یہاں تک کہ اپنے شہر سے بھی نکلے۔ یہ بات خوب یاد رکھو کہ سچی تقویٰ ایسی چیز ہے جس سے تمام مشکلات حل ہو جاتی ہیں اور کُل پراگندگیوں سے نجات ملتی ہے۔ جھوٹے ہیں وہ لوگ جو خدا تعالیٰ پر تہمتیں دیتے ہیں۔ تمام انبیاء و راستبازوں کی گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ رحیم و کریم کوئی نہیں۔ انسان جو حد سے زیادہ تنگ ہو جاتا ہے تو یہ اس کی اپنی ہی غلطی کا نتیجہ ہے۔ توکّل میں کمی ہوتی ہے صدقِ قدم نہیں ہوتا۔ صحیح طور سے مومن معلوم کرنا مشکل ہے انسان کہہ سکتا ہے میں صالح ہوں، زاہد ہوں مگر خدا کے نزدیک وہ بدکار ہوتا ہے۔ ایسے ہی بعض ایسے بندے بھی ہیں جو لوگوں میں بُرے سمجھے جاتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی صالح ہیں۔ دیکھو! ابو جہل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت بُرا سمجھا مگر اللہ کے نزدیک آپ سرورِ کائنات تھے۔ ابو جہل کو آپؐ کے بُرے ہونے پر یقین تھا کہ اُس نے مباہلہ تک کر لیا اور کہا۔ اَللّٰھُمَّ مَنْ کَانَ اَفْسَدُ لِلْقَوْمِ وَاَقْطَعُ لِلرِّحـْمِ فَاھْلِکْہُ الْیَوْمَ۔ معلوم ہوتا ہے اسے پکا یقین تھا جبھی تو یہ کلمات کہے مگر اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ کہ خدا تعالیٰ نے فعلی رنگ میں ظاہر کر دیا کہ صادق اور پاکباز کون ہے اور کاذب اور بدکار کون؟

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَوۡ کُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا کُنَّا فِیۡۤ اَصۡحٰبِ السَّعِیۡرِ(الملک:۱۱) علم صحیح اور عقل سلیم یہ بھی خوش قسمتی کی نشانیاں ہیں۔ جس میں شقاوت ہو اس کی مت ماری جاتی ہے وہ نیک کو بد اور بد کو نیک سمجھتا ہے۔۱؎

بلا تاریخ۱؎

امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفا نہیں رکھنا چاہیے

ایک مخلص بھائی نے اپنا قصہ سنایا کہ ایک نواب ریاست نے جو شیعہ ہے اُن سے آپ کے بارے میں چند سوال کئے اور ان کے میں نے یہ جواب دئیے مرزا صاحب کا آل نبی کے بارے میں کیا عقیدہ ہے۔ ہم سنتے ہیں کہ وہ ان کی توہین کرتے ہیں؟

انہوں نے جواب دیا کہ ان کا ایک شعر ہے۔

جان و دلم فدائے جمالِ محمدؐ است

خاکم نثار کوچہءِ آلِ محمدؐ است

دوم یہ کہ یزید کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے انہوں نے یہ شعر پڑھا۔

ہر طرف کفر است جوشاں ہمچو افواجِ یزید

دین حق بیمار و بیکس ہمچو زین العابدین

جب اس طرح کوئی اعتراض کا موقع نہ پایا تو پوچھا کہ تم ان کے نہ ماننے والوں کو کیا سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ جو مہدی موعود کے مخالفین کو سمجھنا چاہیے اور جو کچھ اہل سنّت و شیعہ سمجھتے ہیں۔

پوچھا کہ رسالت کے مدعی ہیں؟

انہوں نے کہا کہ ان کا ایک شعر ہے۔

من نیستم رسول و نیاوردہ اَم کتاب

ہاں ملہم استم و ز خداوند منذرَم

اس پر دوسرے روز فرمایا کہ

اس کی تشریح کر دینا تھا کہ ایسا رسول ہونے سے انکار کیا گیا ہے جو صاحبِ کتاب ہو۔ دیکھو!

جو امور سماوی ہوتے ہیں ان کے بیان کرنے میں ڈرنا نہیں چاہیے اور کسی قسم کا خوف کرنا اہلِ حق کا قاعدہ نہیں۔ صحابہ کرام کے طرز عمل پر نظر کرو۔ وہ بادشاہوں کے درباروں میں گئے اور جو کچھ ان کا عقیدہ تھا وہ صاف صاف کہہ دیا۔ اور حق کہنے سے ذرا نہیں جھجکے جبھی تو یَخَافُوۡنَ لَوۡمَۃَ لَآئِمٍ(المائدۃ:۵۵) کے مصداق ہوئے۔

مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ نبوت

ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ اصل یہ نزاع لفظی ہے۔ خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو اور اس میں پیشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے پس ہم نبی ہیں۔ ہاں یہ نبوت تشریعی نہیں جو کتاب اللہ کو منسوخ کرے اور نئی کتاب لائے۔ ایسے دعوے کو تو ہم کفر سمجھتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ صرف خدا کی طرف سے پیشگوئیاں کرتے تھے جن سے موسوی دین کی شوکت و صداقت کا اظہار ہو۔ پس وہ نبی کہلائے۔ یہی حال اس سلسلہ میں ہے۔ بھلا اگر ہم نبی نہ کہلائیں تو اس کے لیے اور کونسا امتیازی لفظ ہے جو دوسرے ملہموں سے ممتاز کرے۔

دیکھو! اور لوگوں کو بھی بعض اوقات سچے خواب آجاتے ہیں بلکہ بعض دفعہ کوئی کلمہ بھی زبان پر جاری ہو جاتا ہے جو سچ نکل آتا ہے۔ یہ اس لیے تا اُن پر حجت پوری ہو اور وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم کو یہ حواس نہ دئیے گئے پس ہم سمجھ نہیں سکتے کہ یہ کس بات کا دعویٰ کرتے ہیں؟ آپ کو سمجھانا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ کس قسم کی نبوت کے مدعی ہیں۔

ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔ یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لیے کہ اُن میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔ کس لیے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں؟ آخر کوئی امتیاز بھی ہونا چاہیے۔ صرف سچے خوابوں کا آنا تو کافی نہیں کہ یہ تو چوہڑے چماروں کو بھی آجاتے ہیں۔ مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ ہونا چاہیے اور وہ بھی ایسا کہ جس میں پیشگوئیاں ہوں اور بلحاظ کمیت و کیفیت کے بڑھ چڑھ کر ہو۔ ایک مصرعہ سے تو شاعر نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح معمولی ایک دو خوابوں یا الہاموں سے کوئی مدعی رسالت ہو تو وہ جھوٹا ہے۔ ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں اسی لیے ہم نبی ہیں۔ اَمر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفا نہ رکھنا چاہیے۔

آنحضرت کی پاک زندگی

فرمایا۔ آریہ اعتراض کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پَـوِتَّـرْ نہیں تھی۔ یہ ان لوگوں کی سخت غلطی ہے کیونکہ پاک ناپاک ہونا بہت کچھ دل سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا حال سوائے اللہ کے اور کسی کو معلوم نہیں۔ پس پاک وہ ہے جس کے پاک ہونے پر خدا گواہی دے۔ دیکھو ابوجہل نے مباہلہ کیا تھا کہ جو ہم میں اَفْسَدُ لِلْقَوْمِ اور اَقْطَعُ لِلرَّحْـمِ ہے اسے ہلاک کر۔ وہ اسی روز ہلاک ہو گیا۔ ایسا ہی خسرو پرویز۔ وہ تو خدا کی بات ہے۔ خود اس کے گھر میں ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک غلام سے مباہلہ کیا۔ مدت مقررہ کے اندر مَر کر گواہی دے گیا۔

اسلام کی فتح

پھر اسی آریہ نے لکھا ہے کہ الہامی کتاب وہ ہے جس سے اللہ کے اعلیٰ درجہ کے اخلاق ظاہر ہوں۔ فرمایا۔ یہ سچ ہے اور اس میں بھی اسلام ہی کی فتح ہے۔ یہ آریہ اللہ کے رحیم وغفور ہونے کے قائل نہیں حالانکہ ان میں سے کوئی مقدمہ میں پھنس جائے تو یہ دل سے چاہتا ہے کہ خواہ میں نے قصور کیا مجھے حاکم بخش دے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی فطرت چاہتی ہے کہ اس کا حاکم غفور رحیم ہے پھر باوجود اس کے اللہ کی اسی صفت سے انکار ایک ہٹ دھرمی ہے۔۱؎

۱۰؍فروری ۱۹۰۸ء

(بوقتِ ظہر)

شیعوں کا مبالغہ

فرمایا۔ شیعوں نے مبالغہ کی حد کر دی۔ ایک شیعہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے تمام انبیاء حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی امام حسینؓ کی شفاعت کے محتاج ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ پر وحی آئی تھی مگر جبریل بھول گیا۔ اور یہ بھی لکھا ہے کہ آنحضرتؐ جب معراج کو گئے تو آگے علیؓ موجود تھے اور ایک شخص حضرت علیؓ کو خدا کہتا تو کہا کہ اچھا لاکھوں کروڑوں بندے خدا کے اور ایک بندہ تو میرا ہی سہی۔ گویا حضرت علیؓ کو خدا بنا دیا ہے۔ تعجب ہے کہ علی آسمان پر تو خدا ہے مگر زمین پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف ایک صحابی ہے جو معمولی خلافت کو بھی نہ سنبھال سکا۔ معلوم نہیں کہ لوگ شیعہ میں کون سا اسلام پاتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کل صحابہؓ کو سوائے دو چار کے یہ مرتد کہتے ہیں۔ اُمہات المومنین پر سخت اعتراض کرتے ہیں۔ قرآن کو بیاضِ عثمانی قرار دیتے ہیں۔ جس قوم کے پاس کتاب اللہ نہیں اس کا مذہب ہی کیا ہوا۔ کیا گالیاں دینا اور گھر بیٹھ کر دوسروں پر اور مَرے ہوؤں پر تبرّے بھیجتے رہنا یہ بھی کوئی مذہب ہے؟

پھر تقیہ جس سے بُری کوئی بات نہیں ہوسکتی یعنی جس سے دب گئے یا جہاں کوئی اپنا مطلب جاتا دیکھا وہاں اپنے عقیدہ سے انکار کر دیا۔

پھر بتائیں کہ ان کی کوئی عمدہ تفسیر بھی ہے جس سے معلوم ہو کہ یہ لوگ کلام الٰہیہ کے واقف ہیں۔ ہم نے تو جو تفسیر دیکھی ان میں ہر ایک آیت کے یہی معنی دیکھے کہ یہ علی کے حق میں ہے۔ مقطعات میں بھی یہی خبط رہا ہے۔ کٓہٰیٰعٓصٓ۔ ک سے مراد کربلا ہے۔ پھر توحید جو مذہب اسلام کی روح ہے اس کا یہ حال کہ آریہ باوجود سخت معاند اسلام ہونے کے ان سے اچھے ہیں جو ہزار ہا بتوں کی پرستش سے نفرت رکھتے ہیں اور ان لوگوں نے بت پرستی کو ازسرنو جاری کر دیا۔ اجی کوئی پتھر پرست یا درخت پرست یا انسان پرست ہو۔ ایک ہی بات ہے۔

یہ امام حسینؑ کے فضائل بے شک بیان کریں ہم منع نہیں کرتے اور جس حد تک انبیاء کرام کی تکذیب لازم نہ آئے اور راست بازوں کی ہتک نہ ہو ہم ماننے کو تیار ہیں مگر یہ تو نہیں کہ انہیں خدا بنا لیں۔ اگر واقعی ان کو امام حسینؓ سے محبت ہے تو ان کی پیروی کریں۔ جس سے انسان کو محبت ہو وہ اس کے رنگ سے رنگین ہونا چاہتا ہے اور اُس (کے) سے کام کرنا اپنا دین وایمان سمجھتا ہے۔ اتنے پیغمبر گذرے ہیں کیا کبھی کسی نے کہا ہے کہ میری بندگی کرو؟ اصل بات تو یہ ہے کہ دُور دُور سے گمراہوں کا جو اسلام میں ہو کر اس درجہ تک پہنچے ہدایت پانا نسبتًا مشکل ہے۔ امام حسین کو میں نے دو مرتبہ دیکھا ہے۔ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ دور سے ایک شخص چلا آ رہا ہے اور میری زبان سے یہ لفظ نکلا۔ ابو عبداللہ حسین۔ پھر دوبارہ دیکھا۔

آداب مجلس

ہمارا مذہب تو یہ ہے اور یہی مومن کا طریق ہونا چاہیے کہ بات کرے تو پوری کرے ورنہ چپ رہے۔ جب دیکھو کہ کسی مجلس میں اللہ اور اس کے رسول پر ہنسی ٹھٹھا ہو رہا ہے تو یا تو وہاں سے چلے جاؤ تاکہ ان میں سے نہ گنے جاؤ اور یا پھر پورا پورا کھول کر جواب دو۔ دو باتیں ہیں یا اعتراض یا چپ رہنا۔ یہ تیسرا طریق نفاق ہے کہ مجلس میں بیٹھے رہنا اور ہاں میں ہاں ملائے جانا۔ دبی زبان سے اخفا کے ساتھ اپنے عقیدہ کا اظہار کرنا۔۱؎

۲۵؍فروری ۱۹۰۸ء

(قبل نماز عصر)

والدین کی فرمانبرداری بجا لیکن خدا تعالیٰ کا حق مقدم ہے

ایک شخص نے سوال کیا کہ یا حضرت! والدین کی خدمت اور ان کی فرمانبرداری اللہ نے انسان پر فرض کی ہے مگر میرے والدین حضور کے سلسلہ بیعت میں داخل ہونے کی وجہ سے مجھ سے سخت بیزار ہیں اور میری شکل تک دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ چنانچہ جب میں حضور کی بیعت کے واسطے آنے کو تھا تو انہوں نے مجھے کہا کہ ہم سے خط و کتابت بھی نہ کرنا اور اب ہم تمہاری شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرتے اب میں اس فرضِ الٰہی کی تعمیل سے کس طرح سبکدوش ہوسکتا ہوں۔

فرمایا کہ قرآن شریف جہاں والدین کی فرمانبرداری اور خدمت گذاری کا حکم دیتا ہے وہاں یہ بھی فرماتا ہے کہ رَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِمَا فِیۡ نُفُوۡسِکُمۡ ؕ اِنۡ تَکُوۡنُوۡا صٰلِحِیۡنَ فَاِنَّہٗ کَانَ لِلۡاَوَّابِیۡنَ غَفُوۡرًا(بنی اسرآءیل:۲۶) اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اگر تم صالح ہو تو وہ اپنی طرف جھکنے والوں کے واسطے غفور ہے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی بعض ایسے مشکلات آگئے تھے کہ دینی مجبوریوں کی وجہ سے ان کی ان کے والدین سے نزاع ہوگئی تھی۔ بہرحال تم اپنی طرف سے ان کی خیریت اور خبرگیری کے واسطے ہر وقت تیار رہو۔ جب کوئی موقع ملے اسے ہاتھ سے نہ دو۔ تمہاری نیت کا ثواب تم کو مل رہے گا۔ اگر محض دین کی وجہ سے اور اللہ کی رضا کو مقدم کرنے کے واسطے والدین سے الگ ہونا پڑا ہے تو یہ ایک مجبوری ہے۔ اصلاح کو مدّنظر رکھو اور نیت کی صحت کا لحاظ رکھو اور ان کے حق میں دعا کرتے رہو۔ یہ معاملہ کوئی آج نیا نہیں پیش آیا حضرت ابراہیمؑ کو بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔ بہرحال خدا کا حق مقدم ہے۔ پس خدا کو مقدم کرو اور اپنی طرف سے والدین کے حقوق ادا کرنے کی کوشش میں لگے رہو۔ اور اُن کے حق میں دعا کرتے رہو اور صحت نیت کا خیال رکھو۔۱؎

۲۶ ؍ فروری ۱۹۰۸ء

(بوقتِ سیر)

ہمارے دعوے کے دو پہلو مسیح کی وفات اور ان کی آمد ثانی

فرمایا کہ اصل میں ہمارے دعویٰ کے دو پہلو ہیں ایک تو حضرت عیسٰیؑ کی وفات دوسرا ان کی آمد ثانی۔ وفات کے متعلق تو ہم ہزاروں بار بیان کرچکے ہیں کہ قرآنِ شریف میں خود مسیح کا... اقرار لکھا ہے فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ(المائدۃ:۱۱۸) یہ عجیب نکتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بیان کو قیامت کے دن کے لئے خاص کر دیا ہے۔ اس سے تو صاف ثابت ہے کہ حضرت عیٰسیؑ وفات پاچکے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوال کے جواب میں کہ کیا ایسے مشرکانہ خیالات اور عقائد تم نے ان لوگوں کو بتائے ہیں؟ حضرت مسیحؑ صاف انکار کرتے ہیں اور کانوں پر ہاتھ رکھتے ہیں کہ یا الٰہی! میں نے تو ان کو توحید کی تعلیم دی تھی۔ یہ مشرکانہ تعلیم میری وفات کے بعد انہوں نے اختیار کی ہے۔ میں اس کا ذمہ وار نہیں ہوں۔ چاہے ان کو عذاب دے اور چاہے تو ان کو بخش تیرے بندے ہیں۔ اب صاف بات ہے کہ اگر حضرت عیسٰیؑ دوبارہ دنیا میں آئے ہوتے اور عیسائیوں کے ایسے فاسد عقائد کی اصلاح کی ہوتی تو بڑے زور سے عرض کرتے کہ یا اللہ! میں نے بڑے بڑے جنگ کئے ہیں اور بہت مشکلات اُٹھا کر ان کے مشرکانہ خیالات اور عقائد کی جگہ دوبارہ تیری توحید ان میں قائم کی ہے۔ میں تو بڑے انعامات کا مستحق ہوں چہ جائیکہ مجھ سے ایسا سوال کیا جاتا۔ غرض خود ان کے اس بیان سے ظاہر ہے کہ وفات پاچکے اور دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے۔

پھر آنحضرتؐ نے ان کو معراج کی رات مُردوں میں دیکھا۔ بھلا زندوں کو مُردوں سے کیا تعلق؟ اگر مسیحؑ زندہ تھے تو پھر مُردوں میں کیوں جا شامل ہوئے؟ اس کے سوا سینکڑوں مقامات قرآن شریف میں ہیں جن سے ان کی وفات ثابت ہے۔

عجیب بات ہے کہ یہی تَوَفّی کا لفظ ہے جب اَوروں کے واسطے آوے تو اس کے معنے موت کے کئے جاتے ہیں اور جب حضرت عیسٰیؑ کے واسطے آوے تو کچھ اَور کئے جاتے ہیں۔ نہ معلوم یہ خصوصیت حضرت عیسٰیؑ کو کیوں دی جاتی ہے؟ دیکھو حضرت یوسفؑ کی دعا ہے کہ تَوَفَّنِیۡ مُسۡلِمًا وَّاَلۡحِقۡنِیۡ بِالصّٰلِحِیۡنَ(یوسف:۱۰۲) علاوہ ازیں اور بیسیوں جگہ تَوَفِّی کا لفظ موت ہی کے معنوں میں وارد ہوا ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ تَوَفِّی فعل کا فاعل اللہ ہو اور مفعول ذی روح چیز ہو تو معنے بجز موت کوئی اَور ہو سکتے ہیں۔

مسیح کے احیاءِ موتٰی کی حقیقت

ان کے مُردے زندہ کرنے کے معجزے کو بھی خواہ مخواہ خصوصیت دی گئی ہے۔ تعجب آتا ہے ان مولویوں پر کہ حضرت عیسیٰ کے واسطے احیاءِ موتٰی کا لفظ آوے تو حقیقی مُردے زندہ ہو جاویں جو سنّت اللہ اور قرآن مجید کے منشا کے خلاف ہیں مگر جب وہی لفظ آنحضرتؐ کے واسطے آتے ہیں تو اس سے مُراد روحانی مُردے بن جاتے ہیں۔

انجیل میں لکھا ہے کہ جتنے مُردے قبروں میں تھے سب زندہ ہو کر شہروں میں آگئے اس کثرت سے آپ نے مُردے زندہ کئے۔ بھلا ان سے کوئی سوال تو کرے کہ ہزاروں مُردے زندہ ہو کر شہروں میں آگئے ان کا گذر کیسے ہوا؟ اور دوسرا یہ کہ باوجود اتنا بڑا معجزہ دیکھنے کے پھر وہ لوگ ایمان کیوں نہ لائے؟ ان کو کوئی سمجھاتا کہ انہوں نے ہی دعا کی اور تم زندہ ہوئے اب ان پر ایمان لے آؤ۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ اتنا بڑا معجزہ نہ اُن مُردوں کے واسطے مفید ہوا نہ ان کے رشتہ داروں کے واسطے جنہوں نے ان مُردوں کو بچشم خود زندہ ہوتے قبروں میں سے نکل کر شہروں میں داخل ہوتے دیکھا تھا۔

اصل بات یہ ہے کہ علم تعبیر رؤیا میں لکھا ہے کہ جب کوئی دیکھے کہ مُردے قبروں میں سے زندہ ہو کر شہروں میں آگئے ہیں تو اس کی تعبیر یہ ہوتی ہے کہ اس وقت کے نیک طبع لوگ قید سے رہائی پا جاویں گے۔ اس وقت چونکہ خود حضرت مسیحؑ قید میں تھے تو ممکن ہے کہ انہوں نے خود یا کسی اَور نے یہ رؤیا یا مکاشفہ دیکھا ہو مگر بعد میں وہ مکاشفہ یا رؤیا تو ترک کر دیا گیا اور اصل مطلب لے لیا گیا۔ آنحضرتؐ کی نسبت بھی مُردے زندہ کرنے کے متعلق کئی روایات تھیں مگر معتبر کتب احادیث میں ان کا ذکر نہیں کیا گیا۔ دیکھو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بڑے بڑے مشکلات جھیل کر قریب ایک لاکھ کے حدیث جمع کی۔ مگر آخر ان میں سے صرف چالیس۱ ہزار رکھیں۱؎ باقی متروک کر دیں۔ ہمارے مسلمان ان معاملات میں بڑے محقق گذرے ہیں۔

مسئلہ خلقِ طیور

اسی طرح حضرت عیسٰیؑ کا خلقِ طیور کا مسئلہ ہے۔ ہم معجزات کے منکر نہیں بلکہ قائل ہیں۔ حضرت عیسٰیؑ کا خلقِ طیور کا مسئلہ بعینہٖ موسیٰ علیہ السلام کے سوٹے والی بات ہے دشمنوں کے مقابلہ کے وقت وہ اگر سانپ بن گیا تھا تو دوسرے وقت میں وہی سوٹے کا سوٹا تھا نہ یہ کہ وہ کہیں سانپوں کے گروہ میں چلا گیا تھا۔ پس اسی طرح حضرت عیسٰیؑ کے وہ طیور بھی آخر مٹی کے مٹی ہی تھے بلکہ حضرت موسیٰ کا سوٹا تو چونکہ مقابلہ میں آگیا تھا اور وہ مقابلہ میں غالب ثابت ہوا تھا اس واسطے حضرت عیسٰیؑ کے طیور سے بہت بڑھا ہوا ہے کیونکہ وہ طیور تو نہ کسی مقابلے میں آئے اور نہ اُن کا غلبہ ثابت ہوا۔

غرض ایک حصہ تو ہمارے دعاوی کا حضرت عیسٰیؑ کی وفات کے ثابت کرنے کے متعلق ہے جس کو ہم نے ہر طرح سے عقل سے، نقل، اقوالِ ائمہ سے غرض ہر پہلو سے بیسیوں کتابیں تالیف کر کے ثابت کر دیا ہے۔

مسیح کی آمد ثانی

دوسرا حصّہ آمد ثانی کے متعلق ہے۔ سو وہ اللہ تعالیٰ نے خود آسمانی نشانات اور تائیداتِ سماوی کے ذریعہ سے اور آئے دن ہماری ترقی، دشمنوں کا تنزل کر کے ظاہر کر دیا ہے۔ ایک طوفان اور دریا کی لہریں تائید اور نصرت کی خدا کی طرف سے آرہی ہیں۔ ان کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ تازہ نشانات اور قبل از وقت زبردست کثیر پیشگوئیاں دلوں پر اثر ڈالتی ہیں اور انہیں سے ترقی ہوئی۔ ان مُلّانوں کے پرانے رطب و یابس جو ان کے پاس قصے کہانیوں کے رنگ میں ہیں ان سے کیا ترقی ہو سکتی ہے بلکہ تنزل کے اسباب ہیں۔

تعجب ہے کہ یہ لوگ منبروں پر چڑھ کر رویا کرتے تھے کہ یہ تیرھویں صدی سخت منحوس ہے۔ چودہویں صدی انعامات و برکات کا موجب ہوگی اور امام مہدی اور مسیح موعود اس صدی میں آوے گا۔ صدیق حسن خاں نے کئی اولیاء اللہ کی روایات سے اپنی کتاب میں ثابت کیا ہے کہ سب کا اتفاق تھا کہ مسیح آنے والا چودھویں صدی میں آوے گا۔ مگر خدا جانے اب لوگوں کو کیا ہو گیا؟

زبانی بیعت کی کچھ بھی حقیقت نہیں

خیر اصل بات یہ ہے کہ انسان کو اپنی صفائی کرنی چاہیے۔ صرف زبان سے کہہ دینا کہ میں نے بیعت کرلی ہے کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتا جب تک عملی طور سے کچھ کر کے نہ دکھلایا جاوے۔ صرف زبان کچھ نہیں بنا سکتی۔ قرآن شریف میں آیا ہے کہ لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ کَبُرَ مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰہِ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ(الصّف:۳، ۴) یہ وقت ہے کہ سابقوں میں داخل ہو جاؤ یعنی ہر نیکی کے کرنے میں سبقت لے جاؤ اعمال ہی کام آتے ہیں زبانی لاف و گزاف کسی کام کی نہیں۔ دیکھو! حضرت فاطمہؓ کو آنحضرتؐ نے کہا کہ فاطمہ اپنی جان کا خود فکر کر لے میں تیرے کسی کام نہیں آ سکتا۔ بھلا خدا کا کسی سے رشتہ تو نہیں۔ وہاں یہ نہیں پوچھا جاوے گا کہ تیرا باپ کون ہے بلکہ اعمال کی پرسش ہوگی۔

انسان میں کئی قسم کے گناہ کسل، کبر، سستیاں اور باریک در باریک گناہ ہوتے ہیں ان سب سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں نفسِ انسان کے تین مرتبے بیان فرمائے ہیں۔ امّارہ، لوّامہ، مطمئنّہ۔ نفسِ امّارہ تو ہر وقت انسان کو گناہ اور نافرمانی کی طرف کھینچتا رہتا ہے اور بہت خطرناک ہے۔ لوّامہ وہ ہے کہ کبھی کوئی بدی ہو جاوے تو ملامت کرتا ہے۔ مگر یہ بھی قابلِ اطمینان نہیں ہے۔ قابلِ اطمینان صرف نفس کی وہ حالت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے نفسِ مطمئنّہ کے نام سے پکارا ہے اور وہی اچھا ہے وہ اس حالت کا نام ہے کہ جب انسان خدا کے ساتھ ٹھہر جاتا ہے اسی حالت میں آ کر انسان گناہ کی آلائش سے پاک کیا جاتا ہے۔ یہی ایک گناہ سوز حالت ہے اور اسی درجہ کے انسانوں کے ساتھ برکات کے وعدے ہوئے ہیں۔ ملائکہ کا نزول ان پر ہوتا ہے اور حقیقی نیکی اور پاکی صرف انہیں کا حصہ ہوتی ہے۔

صرف زبان کا اقرار تو خدا کے نزدیک کچھ چیز ہی نہیں۔ ہم نے اکثر ہندو دیکھے ہیں کہ خیانت کرتے ہیں، کم تولتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، دنیا کی محبت میں مَرے جاتے ہیں مگر زبان سے دوسری طرف یہ بھی کہے جاتے ہیں کہ اجی صاحب دنیا فانی ہے۔ نا پائیدار ہے۔

میری حقیقی جماعت بنو

پس تم ایسے ہو جاؤ کہ خدا کے ارادے تمہارے ارادے ہو جاویں اسی کی رضا میں رضا ہو۔ اپنا کچھ بھی نہ ہو سب کچھ اس کا ہو جاوے صفائی کے یہی معنے ہیں کہ دل سے خدا کی عملی اور اعتقادی مخالفت اُٹھا دی جاوے۔ خدا کسی کی نصرت نہیں کرتا جب تک وہ خود نہیں دیکھتا کہ اس کا ارادہ میرے ارادے اور اس کی مرضی میری رضا میں فنا نہیں ہے۔

میں کثرت جماعت سے کبھی خوش نہیں ہوتا۔ اب اگرچہ چار لاکھ یا اس سے بھی زیادہ ہے مگر حقیقی جماعت کے معنے یہ نہیں ہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر صرف بیعت کر لی۔ بلکہ جماعت حقیقی طور سے جماعت کہلانے کی تب مستحق ہو سکتی ہے کہ بیعت کی حقیقت پر کاربند ہو۔ سچے طور سے ان میں ایک پاک تبدیلی پیدا ہو جاوے اور ان کی زندگی گناہ کی آلائش سے بالکل صاف ہو جاوے۔ نفسانی خواہشات اور شیطان کے پنجہ سے نکل کر خدا کی رضا میں محو ہو جاویں۔ حق اللہ اور حق العباد کو فراخ دلی سے پورے اور کامل طور سے ادا کریں۔ دین کے واسطے اور اشاعتِ دین کے لیے ان میں ایک تڑپ پیدا ہو جاوے اپنی خواہشات اور ارادوں، آرزؤں کو فنا کر کے خدا کے بن جاویں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم گمراہ ہو پر جسے میں ہدایت دوں تم سب اندھے ہو مگر وہ جس کو میں نور بخشوں۔ تم سب مُردے ہو مگر وہی زندہ ہے جس کو میں روحانی زندگی کا شربت پلاؤں۔ انسان کو خدا تعالیٰ کی ستّاری ڈھانکے رکھتی ہے ورنہ اگر لوگوں کے اندرونی حالات اور باطن دنیا کے سامنے کر دئیے جاویں تو قریب ہے کہ بعض کے بعض قریب تک بھی جانا پسند نہ کریں۔ خدا بڑا ستّار ہے۔ انسانوں کے عیوب پر ہر ایک کو اطلاع نہیں دیتا۔ پس انسان کو چاہیے کہ نیکی میں کوشش کرے اور ہر وقت دعا میں لگا رہے۔

یقیناً جانو کہ جماعت کے لوگوں میں اور ان کے غیر میں اگر کوئی مابہ الامتیاز ہی نہیں ہے تو پھر خدا کوئی کسی کا رشتہ دار تو نہیں ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اِن کو عزت دے اور ہر طرح حفاظت میں رکھے۔ اور اُن کو ذلّت دے اور عذاب میں گرفتار کرے۔ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الۡمُتَّقِیۡنَ(المائدۃ:۲۸) متقی وہی ہیں کہ خدا سے ڈر کر ایسی باتوں کو ترک کر دیتے ہیں جو منشاء الٰہی کے خلاف ہیں۔ نفس اور خواہشاتِ نفسانی کو اور دنیا و مافیہا کو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں ہیچ سمجھیں۔ ایمان کا پتہ مقابلے کے وقت لگتا ہے۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ایک کان سے سنتے ہیں دوسری طرف نکال دیتے ہیں ان باتوں کو دل میں نہیں اتارتے۔ چاہو جتنی نصیحت کرو مگر ان کو اثر نہیں ہوتا۔ یاد رکھو کہ خدا بڑا بے نیاز ہے جب تک کثرت سے اور بار بار اضطراب سے دعا نہیں کی جاتی وہ پروا نہیں کرتا۔ دیکھو! کسی کی بیوی یا بچہ بیمار ہو۔ یا کسی پر سخت مقدمہ آجاوے تو ان باتوں کے واسطے اس کو کیسا اضطراب ہوتا ہے۔ پس دعا میں بھی جب تک سچی تڑپ اور حالت اضطراب پیدا نہ ہو تب تک وہ بالکل بے اثر اور بیہودہ کام ہے۔ قبولیت کے واسطے اضطراب شرط ہے جیسا کہ فرمایا اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَیَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ(النّمل:۶۳)

اپنے آپ کو عمدہ اور نیک نمونہ بناؤ

ہماری جماعت کے لوگوں کو نمونہ بن کر دکھانا چاہیے اگر کسی کی زندگی بیعت کے بعد بھی اسی طرح کی ناپاک اور گندی زندگی ہے جیسا کہ بیعت سے پہلے تھی اور جو شخص ہماری جماعت میں ہو کر بُرا نمونہ دکھاتا ہے اور عملی یا اعتقادی کمزوری دکھاتا ہے تو وہ ظالم ہے کیونکہ وہ تمام جماعت کو بدنام کرتا ہے اور ہمیں بھی اعتراض کا نشانہ بناتا ہے۔ بُرے نمونے سے اَوروں کو نفرت ہوتی ہے اور اچھے نمونہ سے لوگوں کو رغبت پیدا ہوتی ہے۔ بعض لوگوں کے ہمارے پاس خط آتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں اگرچہ آپ کی جماعت میں ابھی داخل نہیں مگر آپ کی جماعت کے بعض لوگوں کے حالات سے البتہ اندازہ لگاتا ہوں کہ اس جماعت کی تعلیم ضرور نیکی پر مشتمل ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّالَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ(النحل:۱۲۹) خدا تعالیٰ بھی انسان کے اعمال کا روزنامچہ بناتا ہے۔ پس انسان کو بھی اپنے حالات کا ایک روزنامچہ تیار کرنا چاہیے اور اس میں غور کرنا چاہیے کہ نیکی میں کہاں تک آگے قدم رکھا ہے۔ انسان کا آج اور کل برابر نہیں ہونے چاہئیں۔ جس کا آج اور کل اس لحاظ سے کہ نیکی میں کیا ترقی کی ہے برابر ہو گیا وہ گھاٹے میں ہے۔ انسان اگر خدا کو ماننے والا اور اسی پر کامل ایمان رکھنے والا ہو تو کبھی ضائع نہیں کیا جاتا بلکہ اس ایک کی خاطر لاکھوں جانیں بچائی جاتی ہیں۔

ایک شخص جو اولیاء اللہ میں سے تھے ان کا ذکر ہے کہ وہ جہاز میں سوار تھے۔ سمندر میں طوفان آگیا۔ قریب تھا کہ جہاز غرق ہو جاتا۔ اس کی دعا سے بچا لیا گیا اور دعا کے وقت اس کو الہام ہوا کہ تیری خاطر ہم نے سب کو بچا لیا۔ مگر یہ باتیں نرا زبانی جمع خرچ کرنے سے حاصل نہیں ہوتیں۔ دیکھو! ہمیں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک وعدہ دیا ہے۔ اِنِّیْٓ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ مگر دیکھو ان میں غافل عورتیں بھی ہیں۔ مختلف طبائع اور حالات کے انسان ہیں خدا نخواستہ اگر ان میں سے کوئی طاعون سے مَر جاوے یا جیسا کہ بعض آدمی ہماری جماعت میں سے طاعون سے فوت ہو گئے ہیں تو ان دشمنوں کو ایک اعتراض کا موقع ہاتھ آ گیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ یَلۡبِسُوۡۤا اِیۡمَانَہُمۡ بِظُلۡمٍ(الانعام:۸۳) بہر حال جماعت کے افراد کی کمزوری یا بُرے نمونہ کا اثر ہم پر پڑتا ہے اور لوگوں کو خواہ مخواہ اعتراض کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ پس اس واسطے ہماری طرف سے تو یہی نصیحت ہے کہ اپنے آپ کو عمدہ اور نیک نمونہ بنانے کی کوشش میں لگے رہو۔ جب تک فرشتوں کی سی زندگی نہ بن جاوے تب تک کیسے کہا جا سکتا ہے کہ کوئی پاک ہو گیا۔

وَیَفۡعَلُوۡنَ مَا یُؤۡمَرُوۡنَ(التحریم:) ۸) فنا فی اللہ ہو جانا اور اپنے سب ارادوں اور خواہشات کو چھوڑ کر محض اللہ کے ارادوں اور احکام کا پابند ہو جانا چاہیے کہ اپنے واسطے بھی اور اپنی اولاد، بیوی بچوں، خویش واقارب اور ہمارے واسطے بھی باعثِ رحمت بن جاؤ۔ مخالفوں کے واسطے اعتراض کا موقع ہرگز ہرگز نہ دینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَمِنۡہُمۡ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِہٖ ۚ وَمِنۡہُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ۚ وَمِنۡہُمۡ سَابِقٌۢ بِالۡخَیۡرٰتِ(فاطر:۳۳) پہلی دونوں صفات ادنیٰ ہیں۔ سابق بالخیرات بننا چاہیے۔ ایک ہی مقام پر ٹھہر جانا کوئی اچھی صفت نہیں ہے۔ دیکھو ٹھہرا ہوا پانی آخر گندہ ہو جاتا ہے۔ کیچڑ کی صحبت کی وجہ سے بدبُودار بدمزا ہو جاتا ہے۔ چلتا پانی ہمیشہ عمدہ ستھرا اور مزیدار ہوتا ہے اگرچہ اس میں بھی نیچے کیچڑ ہو مگر کیچڑ اس پر کچھ اثر نہیں کر سکتا۔ یہی حال انسان کا ہے کہ ایک ہی مقام پر ٹھہر نہیں جانا چاہیے۔ یہ حالت خطرناک ہے۔ ہر وقت قدم آگے ہی رکھنا چاہیے نیکی میں ترقی کرنی چاہیے ورنہ خدا انسان کی مدد نہیں کرتا اور اس طرح سے انسان بے نور ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ آخر کار بعض اوقات ارتداد ہو جاتا ہے۔ اس طرح سے انسان دل کا اندھا ہو جاتا ہے۔

اپنی اصلاح میں اپنے اہل وعیال کو شامل رکھو

خدا تعالیٰ کی نصرت انہیں کے شاملِ حال ہوتی ہے جو ہمیشہ نیکی میں آگے ہی آگے قدم رکھتے ہیں ایک جگہ نہیں ٹھہر جاتے اور وہی ہیں جن کا انجام بخیر ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کو ہم نے دیکھا ہے کہ ابتدا میں تو ان میں بڑا شوق ذوق اور شدت رقّت ہوتی ہے مگر آگے چل کر بالکل ٹھہر جاتے ہیں اور آخر ان کا انجام بخیر نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ دعا سکھلائی ہے کہ وَاَصۡلِحۡ لِیۡ فِیۡ ذُرِّیَّتِیۡ(الاحقاف:۱۶) میرے بیوی بچوں کی بھی اصلاح فرما۔ سو اپنی حالت کی پاک تبدیلی اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد اور بیوی کے واسطے بھی دعا کرتے رہنا چاہیے کیونکہ اکثر فتنے اولاد کی وجہ سے انسان پر پڑ جاتے ہیں اور اکثر بیوی کی وجہ سے۔ دیکھو! پہلا فتنہ حضرت آدمؑ پر بھی عورت ہی کی وجہ سے آیا تھا۔ حضرت موسٰی کے مقابلے میں بلعم کا ایمان جو حبط کیا گیا اصل میں اس کی وجہ بھی توریت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ بلعم کی عورت کو اس بادشاہ نے بعض زیورات دکھا کر طمع دے دیا تھا اور پھر عورت نے بلعم کو حضرت موسٰی پر بددعا کرنے کے واسطے اُکسایا تھا۔ غرض ان کی وجہ سے بھی اکثر انسان پر مصائب شدائد آ جایا کرتے ہیں تو اُن کی اصلاح کی طرف بھی پوری توجہ کرنی چاہیے اور ان کے واسطے بھی دعائیں کرتے رہنا چاہیے۔۱؎

۳؍مارچ ۱۹۰۸ء

(قبل نماز عصر)

بیعت کی حقیقت اور غرض و غایت

ایک شخص نے عرض کی کہ حضور میں نے پیشتر بذریعہ خط کے بیعت کی ہوئی ہے کیا وہی کافی ہے؟

فرمایا کہ ہزاروں آدمی ہیں کہ ان بیچاروں کو دنیوی مشکلات کی وجہ سے استطاعت نہ ہونے کے باعث قادیان میں آنا دشوار ہے اور انہوں نے بذریعہ خطوط ہی بیعت کی ہوئی ہے۔ بیعت کرنے سے مطلب بیعت کی حقیقت سے آگاہ ہونا ہے۔ ایک شخص نے روبرو ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کی۔ اصل غرض اور غایت کو نہ سمجھا یا پروا نہ کی تو اس کی بیعت بے فائدہ ہے اور اس کی خدا کے سامنے کچھ حقیقت نہیں۔ مگر دوسرا شخص ہزار کوس سے بیٹھا بیٹھا صدق دل سے بیعت کی حقیقت اور غرض وغایت کو مان کر بیعت کرتا ہے اور پھر اس اقرار کے اوپر کاربند ہو کر اپنی عملی اصلاح کرتا ہے وہ اس روبرو بیعت کر کے بیعت کی حقیقت پر نہ چلنے والے سے ہزار درجہ بہتر ہے۔

دیکھو مولوی عبداللطیف صاحب شہید اسی بیعت کی وجہ سے پتھروں سے مارے گئے ایک گھنٹہ تک برابر ان پر پتھر برسائے گئے حتی کہ ان کا جسم پتھروں میں چھپ گیا مگر انہوں نے اُف تک نہ کی۔ ایک چیخ تک نہ ماری بلکہ ان کو اس ظالمانہ کارروائی سے پیشتر تین بار خود امیر نے اس اَمر سے توبہ کرنے کے واسطے کہا اور وعدہ کیا کہ اگر تم توبہ کرو تو معاف کر دیا جاوے گا اور پیشتر سے زیادہ عزت اور عہدہ عطا کیا جاوے گا مگر وہ تھا کہ خدا کو مقدم کیا اور کسی دکھ کی جو خدا کے واسطے اُن پر آنے والا تھا پروا نہ کی اور ثابت قدم رہ کر ایک نہایت عمدہ زندہ نمونہ اپنے کامل ایمان کا چھوڑ گئے۔ وہ بڑے فاضل، عالم اور محدّث تھے۔

سنا ہے کہ جب ان کو پکڑ کر لے جانے لگے تو اُن سے کہا گیا کہ اپنے بال بچوں سے مل لو ان کو دیکھ لو مگر انہوں نے کہا کہ اب کچھ ضرورت نہیں۔ یہ ہے بیعت کی حقیقت اور غرض وغایت۔

بعض لوگوں کے ہمارے پاس خط آتے ہیں کہ میں ایک مسجد کا مُلّاں تھا۔ آپ کی بیعت کرنے کی وجہ سے لوگ مجھ سے ناراض ہیں۔ مخالفت کرتے ہیں۔ غرض مجھے بیعت کی وجہ سے سخت تکلیف ہے حالانکہ اس آزادی اور امن کے زمانہ اور سلطنت میں ان لوگوں کو کوئی تکلیف ہی کیا پہنچا سکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کسی نے زبان سے گالیاں نکال دی ہوں گی۔ تو ان باتوں سے ہوتا بھی کیا ہے۔ مگر وہ اس کو تکلیف سمجھتے ہیں اور شکایت کرتے ہیں کہ بیعت کرنے کی وجہ سے مجھے یہ تکلیف پہنچی۔ غرض بعض لوگ ذراسی مخالفت کی بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ اصل میں انہوں نے بیعت کی حقیقت ہی کو نہیں سمجھا۔۱؎


۵؍ مارچ ۱۹۰۸ء

(بوقتِ سیر)

کرشن جی مہاراج کا مذہب

مولوی ابو رحمت صاحب نے حضرت اقدسؑ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور کرشن جی مہاراج کا مذہب جیسا کہ خود ان کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے ان کے زمانہ کے عام اہلِ ہنود سے الگ تھا۔

حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ یہ واقعی اور صحیح بات ہے کہ بعد کے لوگ بزرگوں کی تعلیم کو بوجہ امتدادِ زمانہ بھول جاتے ہیں اور اُن کی سچی تعلیموں میں بہت کچھ بے جا تصرّف کر لیا کرتے ہیں اور مرورِ زمانہ سے ان کی اصلی تعلیم پر سینکڑوں پردے پڑ جاتے ہیں اور حقیقتِ حال دنیا کی نظروں سے پوشیدہ ہو جاتی ہے۔ اصل بات یہی سچ ہے کہ اُن کا مذہب موجودہ مذہب اہلِ ہنود سے بالکل مختلف اور توحید کی سچی تعلیم پر مبنی تھا۔

حضرت اقدسؑ نے اس جگہ اپنے دو الہام بیان فرمائے۔ اوّل یہ ہے کہ ہے کرشن رُوِدَّر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔ اور دوسرا الہام یہ بیان فرمایا کہ ایک بار الہام ہوا تھا کہ آریوں کا بادشاہ آیا

ایک اور خواب حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ ایک بار ہم نے کرشن جی کو دیکھا کہ وہ کالے رنگ کے تھے اور پتلی ناک، کشادہ پیشانی والے ہیں۔ کرشن جی نے اُٹھ کر اپنی ناک ہماری ناک سے اور اپنی پیشانی ہماری پیشانی سے ملا کر چسپاں کر دی۔

ایک اور واقعہ آپ نے یوں بیان فرمایا کہ خواجہ باقی باللہ صاحب کے سامنے کسی شخص نے اپنی خواب یوں بیان کی کہ میں نے دیکھا ہے کہ ایک آگ ہے اور راجہ رامچندر جی اس کے کنارے پر ہیں اور کرشن جی عین اس کے وسط میں پڑے ہیں۔ حاضرین مجلس میں سے ایک شخص نے یوں اس خواب کی تعبیر بیان کی کہ چونکہ وہ دونوں کافر ہیں اس واسطے آگ میں ہیں۔ مگر ایک کا فر کم ہے اس لئے وہ کنارے پر ہے اور دوسرا سخت کافر ہے اس واسطے وہ آگ کے بیچوں بیچ پڑا ہے مگر مرزا جان جاناں صاحب جو کہ خواجہ صاحب کے مرید تھے انہوں نے عرض کی کہ حضور یہ تعبیر صحیح نہیں ہے۔ خواجہ صاحب نے فرمایا کہ تم کیا بیان کرتے ہو۔ اس پر مرزا جان جاناں نے یوں تعبیر کی کہ وہ آگ آتشِ محبتِ الٰہی ہے دوزخ کی آگ نہیں۔ رامچندر جی سالک ہیں اور ابھی کمالِ عشق حاصل نہیں ہوا۔ اس واسطے اس کو کنارے پر دیکھا۔ مگر کرشن جی مجذوب ہیں اور محبت الٰہی کی آگ جس سے غیر اللہ جل جاتا ہے اس میں ان کو کمال حاصل ہو گیا ہے۔ اس واسطے ان کو عین بیچوں بیچ میں دیکھا ہے۔

ایک اور واقعہ اسی مضمون کے متعلق حضرت اقدسؑ نے یوں بیان فرمایا کہ اولیاء اللہ میں سے ایک صاحبِ کشف ایک دفعہ اجودھیا میں پہنچے۔ وہاں پہنچ کر مسجد میں لیٹ گئے۔ دیکھتے کیا ہیں کہ کرشن جی آئے اور سات روپے اُن کی نذر کئے کہ ہماری طرف سے بطور دعوت قبول کیا جاوے۔ وہ ولی اللہ صاحب چونکہ مسلمان تھے انہوں نے کہا کہ تم لوگ کافر ہو ہم تمہارا مال نہیں کھاتے تو اس پر کرشن جی نے عرض کیا کہ کیا آپ موجودہ ہندوؤں سے ہماری حالت اور ایمان کا اندازہ لگاتے ہیں؟ ہم ان میں سے ہرگز ہرگز نہیں ہیں بلکہ ہمارا مذہب توحید ہے اور ہم آپ لوگوں کے بالکل قریب ہیں۔

علاوہ ازیں ابنِ عربی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ کَانَ فِی الْھِنْدِ نَبِیٌّ اَسْوَدُ اللَّوْنِ اسْـمُہٗ کَاھِنٌ یعنی ہندوستان میں ایک نبی گذرا ہے جس کا رنگ کالا تھا اور نام اس کا کاہن تھا۔

مجدّد الف ثانی صاحب سرہندی فرماتے ہیں کہ ہندوستان میں بعض قبریں ایسی ہیں جن کو میں پہچانتا ہوں کہ نبیوں کی قبریں ہیں۔

غرض ان سب واقعات اور شہادتوں سے اور نیز قرآن شریف سے صاف طور سے ثابت ہے کہ ہندوستان میں بھی نبی گذرے ہیں چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے کہ مِّنۡ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ(فاطر:۲۵) اور حضرت کرشنؑ بھی انہیں انبیاء میں سے ایک تھے جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر خلق اللہ کی ہدایت اور توحید قائم کرنے کو اللہ کی طرف سے آئے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک قوم میں نبی آئے ہیں۔ یہ بات الگ ہے کہ ان کے نام ہمیں معلوم نہ ہوں۔ مِنۡہُمۡ مَّنۡ قَصَصۡنَا عَلَیۡکَ وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ لَّمۡ نَقۡصُصۡ عَلَیۡکَ(المؤمن:۷۹) لمبے زمانے گذر جانے کی وجہ سے لوگ ان کی تعلیمات کو بھول کر کچھ اَور کا اَور ہی ان کی طرف منسوب کرنے لگ جاتے ہیں۔ اب دیکھو بیچارے حضرت عیسٰیؑ وہ تو خود اپنی وفات کا اقرار کرتے ہیں اور اپنے آپ کو خدا کا ایک عاجز بندہ اور معمولی انسانوں کی طرح کھاتا پیتا اور دیگر حوائجِ انسانی کا محتاج بیان کرتے ہیں اور خدائی سے کانوں پر ہاتھ رکھتے ہیں مگر عیسائی ہیں کہ ان کو زبردستی خدا بنائے بیٹھے ہیں یہی حال حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا ہے۔

ایک شخص نے کچھ عرصہ ہوا لکھا تھا کہ تمام انبیاء اولیاء اور ہر طبقہ کے لوگ حضرت امام حسینؓ کی شفاعت ہی سے نجات پاویں گے۔ دیکھو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو انہوں نے پہلے ہی قصہ تمام کر رکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باقی رہ گئے تھے۔ سو اب دیکھ لو کہ آپؐ کے متعلق بھی قصہ تمام کر دیا کہ ان کو بھی بجز امام حسینؓ نعوذ باللہ نجات نہیں ہوگی۔ اور بجز شفاعت امام حسینؓ آپ کو بھی کوئی چارہ نہ ہوگا۔ دیکھو ان لوگوں نے کہاں تک غلو کر دیا ہے۔

غرض انبیاء کے دنیا سے گذر جانے کے بعد ان کی پاک تعلیمات کا یہ حال کیا جاتا ہے قرآن شریف کیا ہے؟ حَکَم ہے۔ کُل کتبِ سابقہ کی اصلیت کھول کر دکھا دی ہے۔

سچا مومن بننا چاہیے

مولوی ابو رحمت صاحب نے عرض کی۔ حضور میرے واسطے دعا فرمائی جاوے پیشتر تو میری زندگی اَور رنگ میں تھی مگر اب جب سے میں نے علی الاعلان حضور کے عقائد کی اشاعت اپنا فرض مقرر کر لیا ہے تو میری برادری بھی مخالف ہو گئی ہے اور در پئے آزار ہے اور عام طور سے لوگ بھی مجمعوں میں کم آتے ہیں۔

اس پر حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ آپ صبر سے کام لیں اور استقلال رکھیں۔ آپ دیکھ لیں گے کہ پہلے سے بھی زیادہ لوگ آپ کے مجمعوں میں جمع ہوں گے اور سارے مشکلات دور ہو جاویں گے۔ ایسی مشکلات کا آنا از بس ضروری ہوتا ہے۔ دیکھو امتحان کے بغیر کسی کی کچھ قدر نہیں ہوتی۔ دنیا ہی میں دیکھ لو کہ پاسوں کی کیسی پوچھ ہوتی ہے کہ کیا پاس کیا ہے؟ پس جو لوگ خدائی امتحان میں پاس ہو جاتے ہیں پھر اُن کے واسطے ہر طرح کے آرام و آسائش، رحمت اور فضل کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ دیکھو! قرآن شریف میں صاف فرمایا ہے کہ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ(العنکبوت:۳) صرف زبان سے کہہ لینا تو آسان ہے مگر کچھ کر کے دکھانا اور خدائی امتحان میں پاس ہونا بڑی بات ہے۔

دیکھو! ہماری ہی ابتدائی حالت پر غور کرو کہ اوّل اوّل ہمارے ساتھ ایک آدمی بھی نہ تھا۔ مولوی محمد حسین نے ہمارے واسطے کُفر کا فتویٰ تیار کیا اور پشاور سے لے کر بنارس تک تمام ہندوستان کے بڑے بڑے مولویوں کی دو تین صد مہریں لگوالیں اور فتویٰ دے دیا کہ ان کا قتل کرنا، ان کا مال لوٹ لینا، ان کی عورتیں چھین لینا سب جائز ہے اور یہ لوگ کافر، اَکفر، ضالّ، مُضِلّ اور یہود نصاریٰ سے بھی بدتر ہیں۔ مگر دیکھ لو کہ اس کی کیا پیش گئی۔ خدا نے اس کو کیسا ذلیل کیا۔

پس سچے مومن بننا چاہیے۔ دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات پر ذرا نظر ڈالو۔ آپؐ کے زمانے میں کیسے مشکلات کا سامنا تھا۔ مگر آپؐ کے اور آپؐ کے صحابہؓ کے وفا، صدق، صبر اور استقامت نے کیا کچھ کر دکھایا یقیناً جانو کہ اگر کروڑ توپ بھی ہوتی جب بھی یہ کام جو ان لوگوں کے ایمان، صدق، صبر اور استقلال نے کر دکھایا ہرگز ہرگز نہ کر سکتی۔ دیکھو! آپؐ کے پاس نہ کوئی فوج تھی نہ توپیں تھیں نہ سپاہی تھے مگر اللہ تعالیٰ نے کیسی تائید کی کہ بڑے بڑے لوگ خس و خاشاک کی طرح فتح ہوتے چلے گئے۔

ہمیں خیال آیا کہ ہمارا نام مہدی ہے، عیسیٰ ہے اور کرشن کے نام سے بھی اللہ نے ہمیں پکارا ہے اور انہیں تینوں کی آمد کی انتظار میں اس وقت تین بڑی قومیں لگی ہوئی ہیں۔ مسلمان مہدی کے، عیسائی عیسیٰ کی آمد ثانی کے اور ہندو کرشن اوتار کے۔ چنانچہ ان ناموں میں یہی حکمتِ الٰہی تھی۔

کرشن کی گوپیوں کی حقیقت

مولوی ابورحمت صاحب نے عرض کی کہ حضور کرشن کے معنے ان کی لغت کے بموجب ہیں وہ روشنی جو آہستہ آہستہ دنیا کو روشن کرتی ہے۔ تاریکی جہالت کے مٹانے والے کا نام کرشن ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ان کے متعلق جو گوپیوں کی کثرت مشہور ہے اصل میں ہمارے خیال میں بات یہ ہے کہ اُمت کی مثال عورت سے بھی دی جاتی ہے۔ چنانچہ قرآن شریف سے بھی اس کی نظیر ملتی ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے۔ اللّٰہُ مَثَلًا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا امۡرَاَتَ فِرۡعَوۡنَ(التحریم:۱۲) یہ ایک نہایت ہی باریک رنگ کا لطیف استعارہ ہوتا ہے۔ اُمت میں جو ہرِ صلاحیت ہوتا ہے اور نبی اور اُمت کے تعلق سے بڑے بڑے حقائق معارف اور فیضان کے چشمے پیدا ہوتے ہیں اور نبی اور اُمت کے سچے تعلق سے وہ نتائج پیدا ہوتے ہیں جن سے خدائی فیضان اور رحم کا جذب ہوتا ہے پس کرشن اور گوپیوں کے ظاہری قصہ کی تہہ میں ہمارے خیال میں یہی رازِ حقیقت پنہاں ہے۔ مولوی ابورحمت صاحب نے عرض کی کہ گوپی کے معنے یوں بھی ہیں کہ گو کہتے ہیں زمین کو اور پی پالنے والے کو یعنی کرشن جی کے مریدان باصفا ایسے لوگ تھے جو نیک مزاج اور مخلوق کی پرورش کرنے والے تھے۔ حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ۔ اس میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ انسان کو زمین سے بھی تشبیہ دی گئی ہے جیسا کہ قرآن شریف میں ذکر ہے کہ اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یُحۡیِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا(الحدید:۱۸) ارض کے زندہ کرنے سے مراد اہلِ زمین ہیں۔ پھر مولوی ابورحمت صاحب نے عرض کی کہ یہ بھی ممکن ہے کہ کرشن جی نے اپنی تعلیم کو عورتوں ہی کے ذریعہ سے پھیلایا ہو کیونکہ ان کے مرد تو عمومًا کھیتی کے دھندوں میں جنگلوں بنوں میں رہتے تھے اور ان کو اشاعتِ مذہب کے واسطے کم فرصت ہوتی تھی۔ عورتیں ہی یہ کام کرتی ہوں۔

حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ ہمیں ایک دفعہ خیال آیا کہ کرشن جی کو داؤدؑ کے ساتھ بالکل مشابہت معلوم ہوتی ہے۔ بلحاظ راگ، رقص مجمع مستورات اور بہادری میں خدا جانے یہ کیا بات ہے؟

کتاب’’ چشمہ معرفت

‘‘فرمایا کہ ہم نے اپنی کتاب کا نام جس میں لیکچر لاہور لکھا ہے اور ابھی کچھ حصہ اس کا باقی ہے چشمہ معرفت رکھا ہے کیونکہ اس میں بڑی معرفت کی باتیں اور حقائق و معارف درج کئے گئے ہیں۔

فرمایا۔ وہ لیکچر تو ہم نے خاص خاص اس مجمع کا لحاظ رکھ کر اور ان کے شائع کردہ شرائط کے مطابق اور مناسب موقع اختصار سے لکھا تھا مگر جب انہوں نے خود اپنے شائع کردہ شرائط کی پابندی نہ کی اور اپنے اقرار کی ذرہ بھی پروا نہ کر کے بہت سے وہی پرانے اعتراضات جن کا بارہا جواب دے دیا گیا ہے پھر دلآزاری کے واسطے بیان کئے تو ہمیں بطور تتمہ ان کے سب سوالات کا جواب لکھنے کے واسطے کتاب کو اور بڑھانا پڑا۔

فرمایا۔ مشکل یہ ہے کہ ان لوگوں نے تو قسم کھائی ہوئی ہے کہ ہماری کتاب نہ پڑھیں۔ جہل، نادانی اور تعصب کی پٹی آنکھوں پر باندھی ہوئی ہے۔ ہماری کسی کتاب کو نہیں پڑھتے۔ دلائل کو نہیں مانتے بے تحاشا اعتراض کئے جاتے ہیں۔

فرمایا۔ اس کتاب میں ہم نے بڑی بسط سے ان کے متعلق لکھ دیا ہے اور اگر کوئی حق جُو بن کر مطالعہ کرے تو اس کے واسطے کافی ہے۔

دورانِ تقریر میں حضرت اقدسؑ نے یہ بھی فرمایا کہ۔ آریوں کے ہاتھ میں آجکل مسلمانوں کے برخلاف غلط فہمی پھیلانے کے واسطے صرف تعدّدِ ازدواج ہی کا مسئلہ رہ گیا جس پر یہ لوگ اپنی نادانی کی وجہ اس کی حکمت اور حقیقت سے بے خبر ہونے کی وجہ سے اعتراض کئے جاتے ہیں۔ حالانکہ موجودہ زمانہ پکار اُٹھا ہے اور زبانِ حال سے کہہ رہا ہے کہ واقعی تعدّد ازدواج کی ضرورت ہے آریوں نے بھی اس ضرورت کو محسوس کیا ہے۔ غرض ضرورت کا احساس تو سب نے کر لیا ہے باقی رہی یہ بات کہ اس ضرورت کو ہم نے کس رنگ میں پورا کیا اور آریوں نے اس کے پورا کرنے کی کیا راہ سوچی۔ سو وہ تعدّد ازدواج اور نیوگ ہے۔ اب ان دونوں باتوں کا مقابلہ کر کے دیکھ لو کہ کونسی راہ اچھی ہے؟۱؎

لائف انشورنس

(قبل از نماز ظہر۲؎) ایک دوست کا خط حضرت اقدسؑ کی خدمت میں پیش ہوا جس میں لکھا تھا۔ بحضور جناب مسیح موعود مہدی مسعود علیہ السلام مارچ ۱۹۰۰ء میں مَیں نے اپنی زندگی کا بیمہ واسطے دو ہزار روپے کے کرایا تھا شرائط یہ تھیں کہ اس تاریخ سے تا مرگ میں  سالانہ بطور چندہ کے ادا کرتا رہوں گا۔ تب دو ہزار روپیہ بعد مرگ میرے وارثان کو ملے گا اور زندگی میں یہ روپیہ لینے کا حقدار نہ ہوں گا۔ اب تک میں نے تقریباً مبلغ چھ سو روپیہ کے بیمہ کرنے والی کمپنی کو دے دیا ہے۔ اب اگر میں اس بیمہ کو توڑ دوں تو بموجب شرائط اس کمپنی کے صرف تیسرے حصہ کا حقدار ہوں۔ یعنی دو صد روپیہ ملے گا اور باقی چار صد روپیہ ضائع جائے گا۔ مگر چونکہ میں نے آپ کے ہاتھ پر اس شرط کی بیعت کی ہوئی ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ اس واسطے بعد اس مسئلہ کے معلوم ہو جانے کے میں اس حرکت کا مرتکب ہونا نہیں چاہتا جو خدا اور اس کے رسول کے احکام کے بر خلاف ہو اور آپ حَکم اور عدل ہیں۔ اس واسطے نہایت عجز سے ملتجی ہوں کہ جیسا مناسب حکم ہو صادر فرمایا جاوے تاکہ اس کی تعمیل کی جاوے۔

اس کے جواب میں حضرت نے فرمایا کہ زندگی کا بیمہ جس طرح رائج ہے اور سنا جاتا ہے اس کے جواز کی ہم کوئی صورت بظاہر نہیں دیکھتے کیونکہ یہ ایک قمار بازی ہے۔ اگرچہ وہ بہت ساروپیہ خرچ کرچکے ہیں۔ لیکن اگر وہ جاری رکھیں گے تو یہ روپیہ اُن سے اور بھی زیادہ گناہ کرائے گا۔ اُن کو چاہیے کہ آئندہ زندگی گناہ سے بچنے کے واسطے اس کو ترک کر دیویں اور جتنا روپیہ اب مل سکتا ہے وہ واپس لے لیں۔

قبولیتِ دعا

ایک صاحب نے حضرت کی خدمت میں لکھا کہ میرے واسطے آپ ایسی دعا کریں جو ضرور قبول ہو اور اس اور اُس معاملہ میں ہو۔

حضرت نے فرمایا۔ اس کو جواب لکھ دیں کہ خدا تعالیٰ کی یہ عادت نہیں کہ ہر ایک دعا قبول کرے۔ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ایسا کہیں نہیں ہوا۔ ہاں مقبولوں کی دعائیں بہ نسبت دوسروں کے بہت قبول ہوتی ہیں۔ خدا کے معاملہ میں کسی کا زور نہیں۔۱؎


۶؍ مارچ ۱۹۰۸ء

(قبل نماز عصر)

مولوی محمد حسین بٹالوی کا ظاہر و باطن

مولوی محمد حسین صاحب نے حضرت اقدسؑ کی خدمت میں بذریعہ ایک دو خطوں کے اور زبانی بھی کسی مقدمہ میں منصف بننے کے واسطے لکھا اور کہلا بھیجا تھا اور ساتھ ہی دھمکیاں بھی دی تھیں کہ اگر آپ اس معاملہ میں منصف نہ بنیں گے تو میں عدالت میں آپ کو گواہ لکھوا دوں گا اور اس طرح سے آپ کو عدالت میں حاضر ہونا پڑے گا۔

حضرت اقدسؑ نے فرمایا۔ تعجب آتا ہے کہ ایک طرف تو ہمیں کافر و دجّال، بیدین اور مرتد ٹھہراتا ہے اور پھر یہی نہیں کہ اپنے آپ تک ہی محدود رکھا ہو بلکہ اس فتویٰ میں قریباً تمام ہندوستان کے بڑے بڑے مولویوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے واسطے سرتوڑ کوشش کرتا رہا ہے۔ دوسری طرف ہمیں ایک شرعی معاملہ میں منصف بنانا چاہتا ہے۔ اس کے نزدیک جب ہم دائرہ اسلام سے ہی خارج ہیں تو پھر ایک شرعی معاملہ میں ہمارا دخل کیا اور فیصلہ کیسا؟ اس سے کہو کہ پہلے تم ہمارے کفر و اسلام کا تو فیصلہ کر لو پھر ہمیں منصف بھی بنا لینا۔

اس شخص نے تو جہاں تک اس سے ممکن ہو سکا ہے اور اس کا بس چلا ہے ہمیں پھانسی دلانے کی کوششوں میں بھی کمی نہیں کی مگر یہ اللہ کا فضل اور اس کی خاص نصرت تھی کہ اُس نے ہمیں ہر میدان میں عزت دی اور اعدا اور ہماری ذلّت چاہنے والوں کو ذلیل کیا۔ دیکھو لیکھرام کے قتل کے وقت بھی اس نے کس طرح آریوں کو اُکسایا۔ ہماری تلاشی ہوئی اور پھر خون کے مقدمہ میں ایک عیسائی کی طرف سے گواہ بن کر ہمارے بر خلاف اقدام قتل کے ثبوت کے واسطے کوششیں کیں۔ گورنمنٹ کو ہم سے بدظن کرنے میں اس نے کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھا۔ ہمیں باغی بنایا اور صاف کہا کہ گورنمنٹ کیوں ایسے باغی کو نہیں پکڑتی؟ عام لوگوں کو ہم سے بدظن کرنے میں اپنے ناخنوں تک زور لگایا۔ لوگوں سے کہہ دیا کہ ان سے سلام مت کرو۔ مصافحہ مت کرو۔ ان کی چوری کرنا، ان کو قتل کر دینا اور ان کی عورتیں چھین لینا جائز ہے۔ پھر جب اس کے ہم پر ایسے ایسے احسانات ہیں تو اب یہ نامہ و پیام کیسے ہیں؟

معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں جس کے واسطے یہ اتنے زور دیتا ہے کہ اس کی کوئی ذاتی اور نفسانی غرض ہے اگر کچھ بھی سعادت کا حصہ اس میں ہوتا تو اسی معاملہ میں غور کرتا کہ جس دن سے اس نے ہماری مخالفت کا بیڑا اُٹھایا ہے اور ہمارے نیست و نابود کرنے میں جان توڑ کوششیں کی ہیں۔ اسی دن سے اندازہ تو لگائے کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کے کیسے فیضان نازل ہوئے اور ہمیں کس طرح خدا نے بڑھایا اور اس کا اپنا کیا حال ہوا؟ ایک سعید انسان اور سلیم الفطرت آدمی کے ہدایت پا جانے کے واسطے صرف یہی بات کافی تھی۔

پھر اپنے خط میں لکھا ہے کہ میرے گھر لڑکا پیدا ہو گا۔ یہ فقرہ لکھنے سے اس کی مراد نکتہ چینی ہے اور پیشگوئیوں اور امور نبوت کا نعوذ باللہ استخفاف کرنا مدّنظر ہے۔ سو اس کے جواب میں اس سے کہہ دیا جاوے کہ ہماری کتاب حقیقۃ الوحی کا مطالعہ کرے۔ ہم نے ان امور کو اس میں بالتفصیل لکھ دیا ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ خواب تو اکثر چوہڑے چماروں اور مُردار خوروں کو بھی ہو جاتا ہے اور اکثر سچا بھی ہوتا ہے تو پھر اس میں کیا شیخی ہے کہ میرے گھر لڑکا ہو گا؟

عام لوگوں کے سچے خوابوں اور مامورین کے الہامات میں مابہ الامتیاز

ہمارے پاس بعض ہندو آتے ہیں اور خواب سناتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ خواب سچا بھی نکلا۔ اس سے مطلب ان کا صرف یہ ہوتا ہے کہ اعتراض کریں کہ اسلام کی اس میں خصوصیت ہی کیا ہے؟ ہم ایسی نظیریں بتا سکتے ہیں کہ بعض فاسق، فاجر، بدمعاش، مشرک، چور، زانی، ڈاکوؤں کو بھی خواب آجاتے ہیں اور ان میں سچے بھی ہوتے ہیں تو پھر اس میں مولوی محمد حسین کی کیا خصوصیت ہوئی؟

شرمپت یہاں کا ایک آریہ ہے اس نے ایک خواب میں اپنے ہاں لڑکا پیدا ہونا بتایا تھا۔ چنانچہ لڑکا پیدا ہوا اور پھر ایک بار بیان کیا کہ بابو اللہ دتہ تبدیل ہو جاوے گا۔ چنانچہ یہ خواب بھی اس کا پورا ہو گیا اور بابو اللہ دتہ کو وہ اس معاملہ کا گواہ بھی کرتا ہے تو پھر کیا ان باتوں سے یہ نتیجہ نکالنا چاہیے کہ شرمپت کو یا اور ایسے لوگوں کو نعوذ باللہ ہم نبی مان لیں؟

بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ امور بطور شہادت اللہ تعالیٰ نے ہر طبقہ کے لوگوں میں اس لیے ودیعت کر دئیے ہیں کہ تا انسان ملزم ہو جاوے اور قبول نبوت کے واسطے اس کے پاس اپنے نفس میں سے شاہد پیدا ہو جاوے۔ خواب کا ملکہ اللہ تعالیٰ نے اس لیے انسان کی بناوٹ میں رکھ دیا ہے کہ کہیں یہ نبوت کا انکار ہی نہ کر دے۔

سچی خواب کے واسطے اللہ تعالیٰ نے کوئی شرط نہیں رکھی بلکہ بلا امتیاز کفر و اسلام، نیک و بد یہ ملکہ ہر فرد بشر میں رکھ دیا ہے۔ بھلا دیکھو تو حضرت یوسفؑ کے ساتھ جو دو آدمی قید تھے ان دونوں کو بھی خوابیں آئیں اور وہ دونوں سچی بھی تھیں۔ فرعون کو بھی جو اس وقت کا بادشاہ تھا خواب آئی اور سچی نکلی تو کیا حضرت یوسفؑ نے ان کی کوئی تعظیم کی یا ان کو نبی مان لیا؟ یا بتاؤ تو بھلا تم نے بھی ان کو کوئی مرتبہ دیا ہے؟ بھلا ایک نے تو اپنے خواب کو قتل ہو کر سچا کر دیا مگر دوسرا تو بادشاہ کا مقرب بن گیا تھا اسی کی عزت کی ہوتی؟ اگر اسی طرح ایک دو خوابیں سچی ہو جانے سے کوئی نبی بن جاتا ہے اور اس میں نبوت کی شان آجاتی ہے تو بتاؤ کس کس کو امام مانو گے؟ نعوذ باللہ اس طرح تو نشانِ نبوت کی ہتک اور انبیاء کا تمسخر کرتے ہو۔

یاد رکھو کہ ایک دو پیسے پاس ہونے سے یا دو چار آنے کا مالک بننے سے یا چند پونڈوں کے پاس ہونے سے کوئی بادشاہ نہیں بن جاتا بلکہ پیسے روپے اور پونڈ تو کثرت مال و زر کی ایک شہادت ہیں کہ تا ان سے قیاس کر لیا جاوے کہ کروڑ در کروڑ پونڈ اور لا تعداد خزانے بھی ضرور اور یقیناً ہیں۔

پس ان لوگوں کی خوابوں اور انبیاء کے الہامات مکالمات اور مخاطبات میں ایک مابہ الامتیاز ہوتا ہے۔ انبیاء کی وحی اپنے تمام لوازمات کے ساتھ ہوتی ہے اس میں ایک شوکت اور جلال و رعب ہوتا ہے۔ انبیاء کی وحی کیا بلحاظ کیفیت اور کیا بلحاظ کمیت عام لوگوں سے بہت بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ اور وہ ان کی کامیابی اور ان کے دشمنوں کی نامرادی پر مبنی ہوتی ہے۔ انبیاء کی وحی غیب پر مشتمل ہوتی ہے۔ یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(الجنّ:۲۷، ۲۸) غرض انبیاء کی وحی میں کسی انسان کو کسی طرح کا اشتراک نہیں ہوتا۔ جنسیت کے لحاظ سے جو اشتراک رکھا گیا ہے وہ بھی صرف اس واسطے کہ تا انسان کو انبیاء کی پاک وحی پر ایمان لانے میں مدد دے ورنہ اس کی کوئی حقیقت نہیں اور وہ تو انبیاء کی وحی کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔

پس مولوی محمد حسین صاحب کو آپ کہہ دیں (جو صاحب زبانی پیغام لائے تھے )کہ مولوی ہوکر آپ کے منہ سے کس طرح ایسی باتیں نکلتی ہیں جن سے نعوذ باللہ شانِ نبوت کا تمسخر اور استخفاف ہوتا ہے۔ اوّل تو آپ کا یہ خواب یا الہام جو کچھ بھی ہے تفسیر طلب ہے۔ دوسرے اگر یہ سچا بھی ہو تو نہ یہ شانِ نبوت کے لیے اعتراض ہو سکتا اور نہ ہی آپ اس سے نبی بن سکتے ہیں۔ آپ سے پہلے بھی ایک شخص نے ہمارے مقابلہ میں امرتسر سے اپنے ہاں لڑکا ہونے کی پیشگوئی کی تھی۔ مگر خدا جانے کیا ہوا وہ موہوم حمل بھی حمل نہ رہا اور ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا۔ غرض آپ کا خواب یا الہام بھی تو ابھی تصدیق طلب ہے مگر جن کے خوابوں کی تصدیق ہوچکی ہے اور ان میں سے بعض مشرک اور دہریہ بھی ہیں اور بعض فاسق و فاجر اور چور و زانی۔ ان کو بھی تو آپ کچھ جواب دیں کہ کیا آپ ان کو نبی یا ولی اللہ مان لیں گے؟

یہاں آنا ہو تو نفسانی غرض سے نہ آؤ بلکہ تحقیق حق کے لیے آؤ۔ اسی تصفیہ کے واسطے آجاؤ کہ خواب کفّار فُجار کو بھی آجاتی ہیں اور انبیاء کو بھی۔ جنسیت میں دونوں مشترک ہیں تو پھر کفّار اور انبیاء کی خوابوں اور الہامات میں مابہ الامتیاز کیا ہے؟ ان میں کوئی معیار بھی خدا نے رکھا ہے یا کہ نہیں؟ یہ ایک دینی کام ہے اس کی تحقیق کے واسطے آجاؤ۔ ثواب بھی ہے۔

یاد رکھو کہ قرآن شریف نے ان دونوں قسموں میں امتیازی معیار پیشگوئی کو رکھا ہے جو انسانی طاقتوں سے بالاتر اور خارق عادت رنگ میںـ غیب پر مشتمل ہو۔

معجزات دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو کہ موسٰی کے سوٹے کی طرح فوراً دکھا دئیے جاتے ہیں۔ دوسرے علمی رنگ کے معجزات اور غیب پر مشتمل پیشگوئیاں۔ اوّل الذّکر معجزات اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان سے دشمنوں کے منہ بند ہو جاتے ہیں مگر دیر پا اور ہمیشہ کے واسطے نہیں ہوتے بلکہ وہ وقتی ضرورت کے مناسبِ حال ہوتے۔ پیچھے آنے والی قوموں کے واسطے وہ کوئی حجّت اور دلیل نہیں ہوتے کیونکہ ان میں تدبّر وتفّکر کا انسان کو موقع نہیں ملتا۔ مگر مؤخر الذکر معجزات ایسے علمی رنگ میں ہوتے ہیں کہ وہ ہمیشہ کے واسطے اور دیر پا ہوتے ہیں۔ انسان جوں جوں ان میں غور وخوض کرتا ہے توں توں ان کی شوکت اور عظمت بھی بڑھتی جاتی ہے۔ اور جوں جوں بُعد زمانی ہوتا جاتا ہے ان کی ضیا اور شوکت میں ترقی ہوتی جاتی ہے۔ ان کی عظمت میں فرق نہیں آتا۔ چنانچہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اس قسم ثانی کے ہیں۔ دیکھ لو! تیرہ سو برس گذر چکے ہیں زمانہ ترقی کے لحاظ سے معراج پر پہنچ گیا ہے۔ نئے نئے علوم اور طبیعات نکلے مگر نہ آنحضرتؐ کی تعلیم کا کوئی نقص کوئی ثابت کر سکا اور نہ ہی آپ کے معجزات کی قدر و عظمت میں فرق آیا بلکہ روز افزوں ان کی عظمت اور شوکت بڑھتی ہی جاتی ہے اور جوں جوں نئے نئے علوم نکلتے ہیں، سائنس اور فلاسفہ ترقی کرتا جاتا ہے توں توں آپ کی تعلیم کی عظمت اور آپ کے معجزات کی شوکت زیادہ ہوتی ہے۔

دیکھو ایک اور بڑا بھاری مابہ الامتیاز اللہ تعالیٰ نے یہ قائم کیا ہے تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ لَاَخَذۡنَا مِنۡہُ بِالۡیَمِیۡنِ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡہُ الۡوَتِیۡنَ(الحاقۃ:۴۵ تا ۴۷) یعنی اگر کوئی شخص تقوّل علَی اللہ کرے تو وہ ہلاک کر دیا جاوے گا۔ خبر نہیں کیوں اس میں آنحضرتؐ ہی کی خصوصیت رکھی جاتی ہے۔ کیا وجہ کہ رسول اللہؐ اگر تقوّل علَی اللہ کریں تو اُن کو تو گرفت کی جاوے اور اگر کوئی اور کرے تو اس کی پروانہ کی جاوے۔ نعوذ باللہ اس طرح سے تو امان اُٹھ جاتی ہے۔ صادق اور مفتری میں مابہ الامتیاز ہی نہیں رہتا۔ اِنَّہٗ مَنۡ یَّاۡتِ رَبَّہٗ مُجۡرِمًا فَاِنَّ لَہٗ جَہَنَّمَ(طٰہٰ:۷۵) فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ وَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ(الزلزال:۸) اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ(الانعام:۲۲) ان آیات سے صاف طور سے عموم ظاہر ہو رہا ہے۔ کوئی خصوصیت نہیں۔ نہ معلوم تو پھر رسول اللہؐ اگر افترا علی اللہ کریں تو خدا بُرا مناتا ہے مگر اگر کوئی اور یہی جرم کر دے تو خیر چنداں ہرج کی بات نہیں۔ معاذ اللہ!

براہین کے زمانہ کو دیکھو جب کہ اس نے خود ریو یو بھی لکھا ہے۔ اس سے قسماً پوچھ لو کہ اس وقت میں اکیلا تھا یا نہیں اور اب اس وقت چار لاکھ سے بھی زیادہ آدمی ہمارے ساتھ ہیں۔ بھلا کبھی مفتری کی بھی اللہ تعالیٰ ایسی نصرت کرتا ہے؟

پس عام لوگوں کے خوابوں اور انبیاء کی وحی میں اللہ تعالیٰ نے خود مابہ الامتیاز مقرر کر دئیے ہیں۔ جنسیت کے لحاظ سے تو کم وبیش ہر طبقہ کے لوگ شامل ہیں مگر بلحاظ اپنی کیفیت اور کمیت مقدار و نصرت انبیاء ہی کی وحی ممتاز اور قابل اعتبار ہوتی ہے۔

پھر ہمیں تشریعی نبوت کا دعویٰ نہیں ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ تشریعی نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئی۔ اب اسی شریعت کی خدمت بذریعہ الہامات، مکالمات، مخاطبات اور بذریعہ پیشگوئیوں کے کرنے کا ہمارا دعویٰ ہے۔ مجدّد صاحب لکھتے ہیں کہ یہی خوابیں اور الہامات جو گاہ گاہ انسان کو ہوتے ہیں اگر کثرت سے کسی کو ہوں تو وہ محدّث کہلاتا ہے۔ غرض یہ سب کچھ ہم نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں مفصل لکھ دیا ہے۔ اس کا مطالعہ کر کے تسلّی کر لیں۔۱؎


۷؍مارچ ۱۹۰۸ء

(بوقتِ سیر)

تحویلِ قبلہ کی حقیقت

کسی آریہ کے اس اعتراض پر کہ نعوذ باللہ آنحضرتؐ کو خود اپنی وحی اور الہامات پر یقین اور وثوق نہ تھا اسی واسطے تحویلِ قبلہ ہوئی۔

فرمایا کہ یہ نادان لوگ نہیں جانتے کہ تحویلِ قبلہ اور یہ انقلاب اللہ تعالیٰ نے اس واسطے کرائے کہ تا یہ ظاہر ہو جاوے کہ مسلمان کعبہ پرست نہیں ہیں۔ ہر دو متبرک مقامات جن کی بزرگی اور عزت کی وجہ سے کبھی کسی زمانے میں کسی کو ان کی پرستش کا خیال ہو سکتا تھا ان کو پیٹھ کے پیچھے کرا کے اس اَمر کا اظہار عام طور پر کرا دیا کہ مسلمان واقعی اور حقیقی طور سے خدا پرست ہیں نہ کہ کعبہ پرست۔ بایں ہمہ یہ لوگ مسلمانوں پر حجر اسود کی پرستش کا الزام دئیے ہی جاتے ہیں۔ صاف بات ہے کہ عبادت کے لئے انسان کو کسی نہ کسی طرف تو منہ کرنا ہی پڑتا ہے۔ پس ایک شخص تو خود اپنی خواہش سے کسی طرف کو پسند کرتا ہے اور دوسرا حکمِ الٰہی سے ایک خاص طرف منہ کرتا ہے۔ بھلا بتاؤ تو سہی ان میں سے کون اچھا ہے ایک تو حکم پرست ہے اور دوسرا نفس پرست۔ بایں ہمہ یہ لوگ مسلمانوں کو کعبہ پرست کہتے ہوئے شرماتے کیوں نہیں؟ پس آنحضرتؐ کا تحویلِ قبلہ کرنا اسی حقیقت پر مبنی تھا کہ مسلمان خاص مؤحد اور توحید کے پابند ہو جاویں۔ کعبہ پرستی کا وہم تک بھی ان کے دل سے نکل جاوے نہ کسی تلوّن اور یقین کی کمی کی وجہ سے جیسا کہ نادان آریوں کا وہم ہے کیونکہ آپؐ تو صاف کہتے ہیں قُلۡ ہٰذِہٖ سَبِیۡلِیۡۤ اَدۡعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ(یوسف:۱۰۹) عَلٰی بَصِیۡرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیۡ(یوسف:۱۰۹)

اس اعتراض کا جواب کہ مسلمانوں نے جنگوں میں لونڈیاں کیوں بنائیں؟

ایک دوسرے اعتراض پر کہ مسلمان لوگ جو جنگوں میں لونڈیاں بنالیا کرتے تھے یہ بڑا ظلم اور وحشت ہے۔ فرمایا کہ مسلمانوں نے جو کچھ بھی کیا تھا سب کچھ کفّار مکہ کے جور و ستم اور ظلم و تعدّی کے بعد کیا تھا۔ ان کے مظالم کے کارنامے دیکھ کر پھر مسلمانوں پر اعتراض کرنا چاہیے۔ بھلا غور کرو کہ مکہ میں آپ کی زندگی کس طرح گذری ہے؟ کس غربت اور انکساری سے اہل مکہ کے تشدد اور مظالم کا مسلمان نشانہ بنتے رہے تھے کہ آخر ان کی شرارتوں سے تنگ آ کر آپؐ کو اپنا عزیز وطن بھی چھوڑنا پڑا۔ اس زندگی میں ایک مسلمان بیوی کا ایک جگر خراش واقعہ ہے جو کفّار مکہ کے جور و ظلم کا مُشتے نمونہ از خروارے است۔ ہماری فطرت تقاضا نہیں کرتی کہ اس ظلم کی تفصیل اور تشریح کریں۔ جنہوں نے وہ واقعہ کتب تواریخ میں پڑھا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ وہ کیسا جانکاہ واقعہ ہے۔

غرض مسلمانوں نے جو کچھ بھی کیا ہے دفاعی رنگ میں کیا ہے۔ مقابل لوگوں نے پہلے وہ سارے کام کئے تھے بعد میں مسلمانوں نے کئے۔ جیسا جیسا انہوں نے کیا تھا ویسا ان سے کیا گیا۔ وَجَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثۡلُہَا(الشورٰی:۴۱)

اصل بات یہ ہے کہ دنیا کے انتظام کے واسطے خدا تعالیٰ نے دو حکومتیں بنائی ہیں۔ ایک ظاہری اور ایک باطنی۔ ہمارے رسول اکرمؐ کو یہ دونوں حکومتیں عطا کی گئی تھیں۔ پس شریروں، بدمعاشوں، لٹیروں، راہزنوں کو ان کی شرارتوں کی سزا دینی ملک میں امن قائم کرنے کے واسطے ضروری تھی۔ مدینہ کے لوگوں نے آپؐ کو اس وقت اپنا ظاہری بادشاہ بھی مان لیا تھا۔ اکثر مقدمات کے فیصلے آپؐ سے ہی کراتے تھے۔ چنانچہ ایک مقدمہ ایک مسلمان اور یہودی کا تھا۔ آپؐ نے یہودی کو اس میں ڈگری دی تھی۔ بعض وقت آپؐ نے کفّار کے جرائم ان کو معاف بھی کئے اور بعض رسوم بد کو آپ نے مقابلہ میں بھی ترک کر دیا ہے۔ چنانچہ کفّار مکہ لڑائی میں مسلمان مُردوں کی بے حرمتی کیا کرتے تھے۔ ناک کان کاٹ لے جاتے تھے مگر آنحضرتؐ نے مسلمانوں کو اس رسم بد کے ترک کر دینے کا حکم دیا تھا۔

غرض ان معترضوں کو دونوں آنکھوں سے کام لینا چاہیے۔ دو آنکھوں کے ہوتے کانے کیوں بنتے ہیں؟ کفّار مکہ کے مظالم کو پہلے مطالعہ کریں پھر مسلمانوں کی اگر کوئی زیادتی ثابت ہو تو ان کو حق ہے۔ مسلمانوں کے تمام جنگ اور کفّار کے ساتھ تمام سلوک دفاعی رنگ میں ہیں۔ ابتدا ہرگز ہرگز مسلمانوں نے کبھی نہیں کی۔ اچھا اب دیکھو! یہ سرحدی لٹیرے جو آئے دن گورنمنٹ کی رعایا کے جان و مال پر حملے کرتے ہیں اور بدامنی پھیلاتے ہیں تو کیا گورنمنٹ کو چپکے بیٹھے رہنا چاہیے اور ان کی سرکوبی اور سزا کی کوئی مناسب تجویز نہیں کرنی چاہیے؟ ذرا غور کرو اور سوچو!۱؎

۱۰؍مارچ ۱۹۰۸ء

(بوقتِ سیر)

دینی ضرورت کے لئے چندوں کی ضرورت

فرمایا۔ دینی ضروریات کے انجام دینے کے واسطے چندوں کی ضرورت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پیش آئی تھی۔ دیکھو ہماری جماعت جو اس وقت چار لاکھ یا اس سے بھی زیادہ ہے اگر اس میں سے صرف دس ہزار آدمی جو خواہ غریب کسان ہی ہوں اور اخلاص سے ضروریات دینی کے واسطے اپنے نفس پر وہ اگر صرف آٹھ آنے (۸؍) ماہوار ہی مقرر کر لیں اور التزام سے ماہوار ادا کرتے رہیں تو پانچ ہزار روپیہ ماہوار کی کافی امداد دینی ضروریات کی انجام دہی کے واسطے پہنچ سکتی اور یہ اَمر جفاکش محنتی اور دیانتدار واعظوں کے ذریعہ سے اچھی طرح سے پورا ہو سکتا ہے جو لوگوں کو دینی ضروریات سے آگاہ کرتے رہیں۔

فرمایا کہ سلسلہ خطوط کے دیکھنے سے پتہ لگ سکتا ہے کہ کس قدر لوگوں کے خط ہر روز بیعت کے واسطے آتے ہیں اور یوں بھی کوئی ہفتہ خالی نہیں جاتا کہ دس بیس آدمی بیعت نہ کرتے ہوں۔ اب اس طرح سے بیعت کے رجسٹروں کی تعداد میں تو روز افزوں ترقی ہے مگر یہ رجسٹر (یعنی باقاعدہ چندہ دہندگان کا )اپنی اسی حالت پر ہے۔ اس میں کوئی نمایاں ترقی نہیں ہوتی۔ اصل وجہ یہی ہے کہ لوگ بذریعہ خطوط بیعت کرتے ہیں یا اس جگہ آکر بیعت کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں مگر ان کو ضروریاتِ سلسلہ سے مطلع کرنے کا کوئی کافی ذریعہ نہیں ہے۔ ہمارے خیال میں مولوی فتح دین صاحب بھی اس کام کے واسطے موزوں ہیں۔ آدمی مخلص دیانتدار ہیں اور یوں ان کی کلام بھی مؤثر ہے۔ ان کی پنچابی نظم جو اس ملک کی مادری زبان ہے اور جسے لوگ خوب سمجھتے ہیں وہ بھی اچھی مؤثر ہے ہمارے خیال میں ان کے ذریعہ سے تبلیغ و اشاعت کا کام بھی ہوتا رہے گا۔ اور چندہ کی وصولی کا بھی باقاعدہ انتظام ہو جاوے گا۔

اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو عظمت اور رعب عطا کرتا ہے

مولوی فتح دین صاحب کی کسی عرض پر فرمایا۔

خدا جب بندے سے خوش ہو جاتا ہے تو وہ اپنے بندے کو خود عظمت اور رعب عطا کر دیتا ہے کیونکہ حق کے ساتھ ایک عظمت اور رعب ہوتا ہے۔ دیکھو ابو جہل وغیرہ جو اس وقت مکہ میں بڑے آدمی بنے ہوئے تھے اصل میں ان کا سارا تکبر اور دبدبہ جھوٹا تھا۔ ان کی عظمت فانی تھی۔ چنانچہ نتیجہ میں دیکھ لو کہ ان کی عظمت و شوکت کہاں گئی۔

اصل بات یہ ہے کہ سچا رعب اور حقیقی عظمت ان لوگوں کو عطا کی جاتی ہے جو اوّل خدا کے واسطے اپنے اوپر ایک موت وارد کر لیتے ہیں اور اپنی عظمت اور جلال کو خاکساری سے، انکساری سے، تواضع سے تبدیل کر دیتے ہیں۔ تب چونکہ انہوں نے خدا کے لئے اپنا سب کچھ خرچ کیا ہوتا ہے خدا خود اُن کو اُٹھاتا ہے اور قدرت نمائی سے ان کو نوازتا ہے۔ دیکھو! تو بھلا اگر حضرت ابوبکرؓ اور عمرؓ بھی اپنی پہلی خاندانی بزرگی اور عظمت ہی کو دل میں جگہ دئیے رہتے اور خدا کے لیے وہ اپنا سب کچھ نہ کھو بیٹھتے تو کیا تھے؟ زیادہ سے زیادہ مکہ کے کھڑپنچ بن جاتے مگر نہیں خدا نے ان کے دلوں کے اندرونہ حالات کو خلوص سے بھرا پایا اور انہوں نے خدا کی راہ میں اپنی کسی بزرگی اور عظمت وسطوت کی پروا نہ کی بلکہ سب کچھ نثار کر دیا اور خدا کے لئے فروتن، مُتواضع اور خاکسار ہو گئے تو اللہ نے ان کو کیسا نوازا۔ کیسی عظمت اور جبروت عطا کیا۔ بھلا جو کچھ خدا نے ان کو دیا اس کا وہم بھی کبھی کسی عرب کے دل میں اس وقت آ سکتا تھا؟ ہرگز نہیں۔ پس سچی عظمت اور سچا رعب یہی تھا نہ کہ ابو جہل وغیرہ کا۔ اور یہ باتیں انہی کو دی جاتی ہیں جو پہلے اپنے اُوپر خدا کے لیے ایک موت وارد کر لیتے ہیں۔

استقامت اور دعا سے کام لیں

فرمایا کہ بات دراصل یہ ہے کہ صبر سے کام لینا چاہیے۔ ترقی ہو رہی ہے۔ قبولیت دلوں میں پیدا ہوتی جاتی ہے اور دنیا کے کناروں تک اب یہ سلسلہ پہنچ چلا ہے۔ ہمارے پاس بعض ایسے لوگوں کے بھی خط آتے ہیں جن میں سے بعض رؤسائے ریاست بھی ہوتے ہیں اور انہوں نے بیعت بھی نہیں کی ہوتی وہ لکھتے ہیں کہ ہمارے لیے فلاں اَمر میں دعا کی جاوے۔ اصل بات یہ ہے کہ دنیا کے دل مان گئے ہیں اور اب دیکھو متواتر چھبیس یا ستائیس برس سے ہمارا دعویٰ چلا آ رہا ہے اور خدا اس میں روز ترقی دے رہا ہے۔ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے اس بات کی نظیر نہیں ملتی کہ کسی مفتری علَی اللہ کو اس قدر مہلت دی گئی ہو اور ایسی قبولیت اور ترقی عطا کی گئی ہو۔ آسمانی اور زمینی نشان اس کے واسطے بطور شاہد پیدا کئے گئے ہوں۔ آخر ان باتوں کا بھی تو دلوں پر اثر ہوتا ہے۔ گھبرانا نہیں چاہیے۔ صبر، استقامت اور دعا سے کام لینا چاہیے۔

حضور کی ذرہ نوازی

سیر سے واپسی پر ایک کسان منگو نام سکنہ بھینی نے سامنے سے آ کر سلامِ مسنون اور مصافحہ کرنے کے بعد عرض کی کہ حضور تھوڑی دیر ٹھہر جاویں میں کچھ گنے نذر کرنا چاہتا ہوں۔

حضور نے فرمایا۔

کچھ ضرورت نہیں تمہیں ثواب ہو گیا۔ اب تکلیف مت کرو

مگر اس نے نہ مانا اور اصرار کیا۔ حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ

اچھا میاں شادی خاں کو دے دو۔ وہ ہمارے واسطے لے آوے گا۔

مگر اس شخص نے نہایت ہی الحاح سے عرض کی، نہیں حضور! یہاں ٹھہر ہی جاویں اور حضور کے سارے ساتھی گنوں کی دعوت قبول کریں۔ یہ کہہ کر لپٹ گیا اور حضور کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کھیت میں لے گیا حضرت اقدسؑ مسکرائے اور اس کے کھیت میں چند منٹ تک ٹہلتے رہے۔ اتنے میں اس نے گنے لا ڈھیر کئے۔ چنانچہ حضرتؑ کے تمام ساتھیوں نے لے لیے۔ چلنے سے پہلے حضرت اقدسؑ نے نہایت لطف اور مہربانی سے اس شخص کو بلا کر اس کا نام وغیرہ دریافت کیا اور اس کے صدق اور خلوص محبت سے مسکرا کر رخصت ہوئے۔ اس واقعہ سے حضرت کے ہمراہیوں پر خاص اثر ہوا کہ کس لطف اور شفقت سے اور فراخدلی سے حضرت اقدسؑ اس سے پیش آئے اور یہ آپ کے اخلاق حمیدہ کا ایک نمونہ تھا۔

ویدوں میں مورتی پوجا اور توحید

فرمایا۔ ہر قوم کی اصلی تعلیم کا خواہ اس پر ہزاروں ہی برس کیوں نہ گذر جائیں کچھ نہ کچھ اثر یا نمونہ بطور بیج کے رہ ہی جاتا ہے۔ ویدوں میں اگر توحید کی تعلیم کا کوئی بھی شعبہ موجود ہوتا تو اس تعلیم کا اثر اس کے ماننے والوں میں ضرور کچھ نہ کچھ تو پایا جاتا۔ کروڑوں نمونے بت پرستی کے موجود ہیں۔ لاکھوں مندروں میں طرح طرح کے بت رکھے ہیں بلکہ اکثروں میں تو فحش اور ننگی مورتیاں ان کے تمدن اور ویدوں کی تعلیم کی اصلیت کا راز عملی طور سے دنیا کے سامنے پیش کرتی ہیں۔ علمی رنگ میں ان کی کتب جو دیانند سے پہلے اسلام کے مقابل میں علم مناظرہ میں لکھی گئی ہیں وہ ان کی تعلیم کی اصلیت ظاہر کرتی ہیں۔ چنانچہ وہ لوگ ہمیشہ مسلمان موحدوں کے مقابلہ میں بت پرستی کے اثبات کے دلائل اپنی انہی کتب متبر کہ یعنی ویدوں سے پیش کیا کرتے تھے اور ان کی ساری جدوجہد مورتی پوجا کے اثبات کے لیے ہوا کرتی تھی سوا چند ان آدمیوں کے جن کو دیانند نے پیدا کیا ہے کُل بڑے بڑے علماء اور فضلاء مورتی پوجا ہی کے معتقد تھے۔ اب ہم ان لاکھ در لاکھ پنڈتوں اور متقدمین بزرگان اہلِ ہنود کو ان معدودے چند دیانندی خیال کے مقلدوں کے مقابلہ میں کس طرح جھوٹا جان سکتے ہیں۔ وَالْفَضْلُ لِلْمُتَقَدِّ۔مِ۔۔

یہ بات دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو یہ دعویٰ توحید پنڈت دیانند کا زمانہ حال کی موجودہ روش اور ترقی کو دیکھ کر خود ساختہ مسئلہ ہے اور دراصل ویدوں میں اس کا نام ونشان نہیں بلکہ وہی مورتی پوجا کا پرانا مسلّمہ مسئلہ ان کتب میں اصل الاصول ہے جس کا ثبوت مدت ہائے دراز سے اہل ہنود کے کروڑوں رشی اور پنڈت بزرگ اپنے عملی نمونے سے دنیا میں قائم کر گئے ہیں اور یا اگر پنڈت دیانند کو اپنے دعوے میں سچا مان لیں اور ان متقدمین کو جو ان کتابوں کے اصل وارث اور اہل تھے غلطی پر خیال کر لیں تو یوں ماننا پڑے گا کہ وید گونگے ہیں اور وہ اپنے اظہارِ مطلب سے بالکل عاری ہیں۔ توحید اور بت پرستی میں زمین آسمان کا فرق ہے مگر ان دونوں کا سرچشمہ وہی کتب مقدسہ یعنی وید ہی بتایا جاتا ہے۔ ایک طرف متقدمین اہلِ ہنود انہی ویدوں کو ہاتھ میں لے کر بت پرستی ثابت کرتے ہیں اور موحدوں سے مباحثہ کرتے ہیں۔ دوسری طرف انہی پاک کتب سے آج کل موجودہ نسل کے دیانندی خیال کے لوگ جو بلحاظ زمانہ اور زبان کے بہت پیچھے کی نسلیں ہیں وہ انہی کتب سے توحید نکالتے ہیں اور بُت پرستی کے دشمن ہیں۔ بہرحال ایک بات سے انکار نہیں یا تو پہلے بزرگ راستی پر ہیں اور یا وید گونگے ہیں کہ اپنے اظہارِ مطلب سے عاجز اور عاری ہیں۔ بھلا کبھی کسی نے کسی مسلمان کو بھی بت پرستی اور مورتی پوجا کا حامی دیکھا یا سنا ہے۔ قرآن شریف نے توحید کے مسئلہ کو ایسا صاف اور بیّن دلائل سے کھلے کھلے طور سے بیان کیا ہے کہ بت پرستی کا کبھی کسی مسلمان کے دل میں وہم و گمان تک بھی نہیں پیدا ہوا۔

فرمایا کہ چشمہ معرفت میں ہم نے ان لوگوں کے کل اعتراضات کا پورے طور سے ہمیشہ کے واسطے فیصلہ ہی کر دیا ہے۔ ہم یقین کرتے ہیں کہ اگر کوئی حق جُو انسان تعصب اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر حق کی تلاش کے واسطے ہماری اس کتاب کو اوّل سے آخر تک پڑھ لے گا تو وہ کم از کم کبھی بھی اسلام کے برخلاف زبان یا قلم نہیں اُٹھا سکتا۔ پوری توجہ سے ایک سرے سے دوسرے سرے تک نظر انصاف سے پڑھنا شرط ہے۔۱؎

۱۷؍مارچ ۱۹۰۸ء

حضرت علیؓ خلفاء ثلاثہ کو اپنا مقتدا تسلیم کرتے تھے

فرمایا۔ شیعہ کہتے ہیں قرآن مجید میں کچھ کمی بیشی ہے۔ اس اعتراض کی زد میں سب سے پہلے وہی آتے ہیں۔ حضرت علیؓ اسی لیے خلیفہ نہیں ہوئے تھے کہ معاویہ کے ساتھ جنگ کریں بلکہ ان کا فرض تھا کہ قرآن شریف کی حفاظت کریں جو اصل الاصول دین ہے۔ پس وہ اپنی خلافت کے زمانے میں اصل قرآن کو شائع کر جاتے۔ کیا جس قرآن مجید کی اشاعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہزاروں مخالف و موافق لوگوں میں ہوتی رہی ہو اس میں کچھ تغیر ممکن تھا؟ یہ کیسی لغو بات ہے!

پھر ہم پوچھتے ہیں کہ انہی خلفاء کے پیچھے حضرت علیؓ نمازیں پڑھتے رہے اگر ان کے غاصب ظالم ہونے کا یقین تھا تو ایسا کیوں کیا؟ دیکھو ہمارے مرید ہیں وہ دوسروں کے پیچھے نماز نہ پڑھیں گے تو کیا حضرت علیؓ ان سے بھی ایمانی حالت میں کمزور تھے جو تقیہ کرتے رہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ کی زمین وسیع ہے۔ ایسی بات ہو تو ہجرت کر جاؤ۔ آپ نے یہ بھی نہ کیا جس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ خلفائے ثلاثہ کو اپنا مقتدا تسلیم کرتے تھے۔

امراء اہلُ اللہ کے محتاج ہوتے ہیں

فرمایا۔ شَـــرُّ الْــفُــقَـــرَائِ مَــنْ ھُــــوَ عَـــــلٰی بَـــابِ الْاُمَرَا ئِ۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے بہتری پاتے ہیں۔ پس انہیں امراء کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے؟ ہاں! امراء ان کے بہت کچھ محتاج ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا احسان

فرمایا۔ لوگ دین حق اختیار کر کے داعی اِلَی اللہ پر احسان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کہا یہ تو میرا احسان ہے کہ تمہیں ہلاکت سے بچا لیا۔ تم بجائے احسان نمائی کے نبی کا شکریہ ادا کرو۔

کیمیا گری اور رزقِ کریم

فرمایا کہ بہت سے لوگ کیمیا کی فکر میں لگے رہتے ہیں اور عمر کو ضائع کرتے ہیں اور بجائے اس کے کہ کچھ حاصل کریں جو کچھ پاس ہوتا ہے اس کو بھی کھو دیتے ہیں۔ ایک شخص بٹالہ کا رہنے والا تھا جو کہ کسی قدر غربت سے گذارہ کرتا تھا اور اس نے جو مکان رہائش کے لئے بنایا تھا اس کے باہر کی ایک ایک اینٹ تو پکی تھی اور باقی اندر سے کچا تھا۔ ایک دن اسے ایک فقیر ملا جو بہت وظیفہ پڑھتا رہتا تھا اور ظاہراً نہایت نیک معلوم ہوتا تھا۔ بوجہ اس کے ظاہری درود وظائف کے وہ سادہ لوح آدمی اس کے ساتھ بہت بیٹھتا اور تعلق رکھتا تھا۔ کچھ مدت کے بعد اس فقیر نے بڑی سنجیدگی سے اُس آدمی سے پوچھا کہ تم نے یہ مکان اس طرح پر کیوں بنایا ہے کیوں نہیں سارا پختہ بنا لیتے؟ اس نے جواب دیا کہ روپیہ نہیں غریب ہوں۔ اس پر فقیر نے کہا روپیہ کی کیا بات ہے؟ اور اتنا کہہ کر خاموش ہو گیا۔ اس ذو معنے جواب پر اس شخص کو کچھ خیال پیدا ہوا اور اس نے اس سے پوچھا کہ کیا تم کچھ کیمیا جانتے ہو۔ اس نے کہا کہ ہاں استاد صاحب جانتے تھے اور بہت اصرار کے بعد مان لیا کہ مجھ کو بھی آتا ہے پر میں کسی کو بتاتا نہیں۔ چونکہ تم بہت پیچھے پڑے ہو اس لئے کچھ تم کو بتا دیتا ہوں اور یہ کہہ کر اس کو گھر کا زیور اکٹھا کرنے کی ترغیب دی اور کچھ مدت تک باہر میدان میں جا کر وظیفہ پڑھتا رہا۔ ایک زیور لے کر ہنڈیا میں رکھنے لگا مگر کسی طرح اس زیور کو تو چرا لیا اور اس کی جگہ اینٹیں اور روڑے بھر دئیے اور خود وظیفہ کے بہانے باہر چلا گیا اور جاتے وقت کہہ گیا کہ اس ہنڈیا کو بہت سے اُپلوں میں رکھ کر آگ دو۔ مگر دیکھنا کچانہ اُتارنا بلکہ جب تک میں نہ آؤں اسے ہاتھ نہ لگانا۔ اس نے اس کے کہنے مطابق اس ہنڈیا کو خوب آگ دی اور اس قدر دھواں ہوا کہ ہمسائے اکٹھے ہو گئے اور دروازہ کھلوا کر اندر گئے اور جب اُس سے پوچھنے پر معلوم کیا کہ کیمیا بن رہا ہے تو انہوں نے اس شخص کو سمجھایا کہ وہ تجھے لوٹ کر لے گیا اور جب ہنڈیا کھولی تو اس میں سے روڑے نکلے۔ چنانچہ وہ شخص جب کسی کام کے لیے گورداسپور گیا تو اُسے وہاں معلوم ہوا کہ وہی شخص کسی اور کو دھوکہ دے گیا ہے اور وہاں آگ جل رہی ہے۔ پس اس نے ان کو بھی سمجھا دیا کہ مجھ کو بھی لوٹ کر لے گیا ہے اور وہاں بھی ہنڈیا کھولنے پر اینٹ پتھر ہی نکلے۔

اسی طرح قادیان کے پاس ایک گاؤں ہے۔ وہاں ایک کیمیا گر آیا اور مسجد میں ٹھہرا۔ مسجد والے سے پوچھا کہ یہ مسجد ٹوٹی پھوٹی ہے اس کو بناتے کیوں نہیں؟ اس نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد کے زمانے میں یہ مسجد بنی تھی اب ہم غریب ہیں اس قدر روپیہ نہیں۔ اس نے کہا کہ نہیں روپیہ کا کیا ہے؟ بندوبست ہو جائے گا اور پوچھے جانے پر جواب دیا کہ میں چاندی بنا سکتا ہوں۔ چنانچہ اس شخص نے پچیس روپے دئیے اور وہ کیمیا گر اس کو لے کر بٹالہ آیا اور وہاں پہنچ کر اس کو صاف کی ہوئی قلعی دے دی وہ شخص بیچارہ سادہ لوح تھا فرق نہ کر سکا اور اپنے گاؤں میں آ کر سنار کو دکھلائی تو معلوم ہوا کہ بالکل بے قیمت ہے۔

اسی طرح ایک ڈپٹی صاحب تھے جن کو مدت سے کیمیا کا شوق تھا اور اس میں بہت روپیہ ضائع کر چکے تھے۔ ایک دن ایک آدمی اُن کے پاس آیا اور کہا کہ میں کیمیا بنانی جانتا ہوں مگر سامان وغیرہ کے لئے پانچ سو روپیہ درکار ہے۔ وہ ڈپٹی صاحب نے فوراً دلوا دیا۔ روپیہ لے کر وہ شخص ایک پاس کی دکان میں بیٹھ گیا اور ڈپٹی صاحب کو کہلا بھیجا کہ روپیہ تو میں لے چکا۔ اب جو مرضی ہو کرو۔ میں نہیں دیتا۔ لینا ہے تو عدالت میں نالش کرو۔ ڈپٹی صاحب اب ایسے بوڑھاپے میں نالش کس طرح کرتے اور کرتے تو اپنی بے عزتی ہوتی۔ چپ ہو رہے غرض یہ سب بیہودہ ہے۔

کیمیا کی مرض پہلے زمانہ میں تو عام طور پر تھی اور ہنود اس میں مدت سے پھنسے ہوئے تھے مگر افسوس بعض تعلیم یافتہ لوگ بھی اب تک اس کے دلدادہ ہیں۔ اسلام اس کو بالکل ناجائز قرار دیتا ہے اور قرآن شریف سے ثابت ہے کہ رزق کریم متقی کو ضرور ملتا ہے اور وہ رزق جس سے فائدہ پہنچے کریم ہی ہوتا ہے۔ ورنہ بہت سے ایسے مال ہوتے ہیں جو ناجائز طریقوں سے کمائے جاتے ہیں اور ناجائز باتوں میں اور فضول رسومات میں اُٹھ جاتے ہیں۔ حالانکہ محنت اور نیکی سے کمایا ہوا روپیہ اپنے اصل موقع پر خرچ ہوتا ہے جیسا کہ ان دو بھائیوں کے قصہ سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے اَبُوۡہُمَا صَالِحًا(الکھف:۸۳) کی وجہ سے دو نبیوں کو اس بات پر مامور کیا کہ اس روپیہ کی حفاظت کے لئے جو کہ نیکی اور تقویٰ سے کمایا ہوا تھا ایک دیوار بنائیں۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وَفِی السَّمَآءِ رِزۡقُکُمۡ وَمَا تُوۡعَدُوۡنَ فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ اِنَّہٗ لَحَقٌّ مِّثۡلَ مَاۤ اَنَّکُمۡ تَنۡطِقُوۡنَ(الذّٰریٰت:۲۳، ۲۴)

یعنی ہر ایک انسان کو خدا تعالیٰ اپنے پاس سے روزی دیتا ہے۔ حضرت داؤد کہتے ہیں کہ میں بچہ تھا اور بوڑھا ہو گیا ہوں مگر آج تک میں نے کسی صالح کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے نہیں دیکھا۔ اسی طرح توریت میں ہے کہ نیک بخت انسان کا اثر اس کی سات پشت تک جاتا ہے پھر قرآن مجید میں بھی ہے کہ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا(الکھف:۸۳) یعنی ان کا باپ صالح تھا اس لیے خدا تعالیٰ نے ان کا خزانہ محفوظ رکھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لڑکے کچھ ایسے نیک نہ تھے۔ باپ کی نیکی کی وجہ سے بچائے گئے۔

پس انسان کے لیے متقی اور نیک بننا کیمیا گر سے بہت بہتر ہے۔ اس کیمیا گری میں تو روپیہ ضائع ہوتا ہے مگر اس کیمیا گری میں دین بھی اور دنیا بھی دونوں سدھر جاتے ہیں۔ افسوس ہے ان لوگوں پر جو ساری عمر یونہی فضول ضائع کر دیتے ہیں اور کیمیا کی تلاش میں ہی مَر جاتے ہیں حالانکہ اس کوچہ میں سوائے نقصان مال اور نقصان ایمان اور کچھ نہیں اور ایسا شخص یکے نقصانِ مایہ ودیگر شماتت ہمسایہ کا مستحق ٹھہرتا ہے۔

اصل کیمیا تقویٰ ہے جس نے اس کو حاصل کر لیا اس نے سب کچھ حاصل کر لیا اور جس نے اس نسخہ کو نہ آزمایا اُس نے اپنی عمر ضائع کی۔ اگر کیمیا واقعی ہو بھی تو بھی اس کے پیچھے عمر کھونے والا کبھی متقی اور پرہیز گار نہیں ہوسکتا۔ جس کو رات دن دنیا کی محبت لگی رہے گی وہ اپنے پاک اور پیارے خدا کی محبت کو اپنے دل میں کس طرح جگہ دے گا۔

عقیدۂ کفارہ ک فارہ ک ی نسبت فرمایا کہ

عی

سائی کفارہ پر اس قدر زور دیتے ہیں حالانکہ یہ بالکل لغو بات ہے۔ ان کے اعتقاد کے موافق مسیح کی انسانیت قربان ہوگئی مگر صفت خدائی زندہ رہی۔ اب اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ وہ جو دنیا کے لیے فدا ہوا وہ تو ایک انسان تھا خدا نہ تھا حالانکہ کفارہ کے لیے بموجب انہی کے اعتقاد کے خدا کو قربان ہونا ضروری تھا مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ ایک انسانی جسم فدا ہوا اور خدا زندہ رہا۔ اور اگر خدا فدا ہوا تو اس پر موت آئی۔ اصل میں اس کفّارہ کی وجہ سے ہی دنیا میں گناہوں کی کثرت ہو رہی ہے مگر جب عیسائیوں کو کہا جاتا ہے کہ کفارہ نے دنیا میں گناہ پھیلایا ہے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ کفّارہ صرف نجات کے لئے ہے۔ ورنہ جب تک انسان پاک نہ ہو اور گناہوں سے پرہیز نہ کرتا ہو کفّارہ کچھ نہیں مگر جب انہی لوگوں کی طرف دیکھا جاتا ہے جو اس قول کے کہنے والے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ طرح طرح کے گناہوں میں مبتلا ہیں۔ ایک دفعہ ایک پادری کسی گنہ کی وجہ سے پکڑا گیا ہے تو اس نے جواب دیا کہ کفّارہ ہو چکا ہے اب کوئی گناہ نہیں۔ اگر کفّارہ گناہ کرنے سے نہیں بچاتا تو اس کا کیا فائدہ؟ چنانچہ اس کا جواب عیسائی کچھ نہیں دے سکتا۔۱؎

غیروں کے پیچھے نماز

۱۷؍مارچ ۱۹۰۸ء کو ایک صاحب علاقہ بلوچستان نے حضرت اقدسؑ کی خدمت میں خط لکھا کہ

’’آپ کا ایک مرید نور محمد نام میرا دلی دوست ہے۔ وہ بڑا نمازی ہے۔ نیکوکار ہے سب اس کی عزت کرتے ہیں۔ ہمہ صفت موصوف خلیق شخص ہے۔ دیندار ہے۔ اس سے ہم کو آپ کے حالات معلوم ہوئے تو ہمارا عقیدہ یہ ہو گیا ہے کہ حضور بڑے ہی خیر خواہ اُمت محمدیہ و مداح جناب رسول مقبول و اصحاب کبار ہیں۔ آپ کو جو بُرے نام سے یاد کرے وہ خود بُرا ہے مگر باوجود ہمارے اس عقیدہ و خیال کے نور محمد مذکور ہمارے ساتھ باجماعت نماز نہیں پڑھتا اور نہ جمعہ پڑھتا ہے اور وجہ یہ بتلاتا ہے کہ غیر احمدی کے پیچھے ہماری نماز نہیں ہوتی۔ آپ اس کو تاکید فرماویں کہ وہ ہمارے پیچھے نماز پڑھ لیا کرے تاکہ تفرقہ نہ پڑے کیونکہ ہم آپ کے حق میں بُرا نہیں کہتے۔

‘‘یہ اس خط کا اقتباس اور خلاصہ ہے اس کے جواب میں اسی خط پر حضرت نے عاجز۲؎ کے نام تحریر فرمایا۔ ’’جواب میں لکھ دیں کہ چونکہ عام طور پر اس ملک کے مُلّاں لوگوں نے اپنے تعصب کی وجہ سے ہمیں کافر ٹھہرایا ہے اور فتوے لکھے ہیں اور باقی لوگ ان کے پیرو ہیں۔ پس اگر ایسے لوگ ہوں کہ وہ صفائی ثابت کرنے کے لئے اشتہار دے دیں کہ ہم ان مکفّر مولویوں کے پیرو نہیں ہیں تو پھر ان کے ساتھ نماز پڑھنا روا ہے ورنہ جو شخص مسلمانوں کو کافر کہے وہ آپ کافر ہو جاتا ہے پھر اس کے پیچھے نماز کیوں کر پڑھیں یہ تو شرع شریف کی رو سے جائز نہیں ہے۔

‘‘فوٹو گرافی

ایک شخص نے حضرت مسیح موعودؑ سے سوال کیا تھا کہ کیا عکسی تصویر لینا شرعاً جائز ہے؟ فرمایا کہ یہ ایک نئی ایجاد ہے۔ پہلی کتب میں اس کا ذکر نہیں۔ بعض اشیاء میں ایک منجانب اللہ خاصیت ہے جس سے تصویر اُتر آتی ہے۔ اگر اس فن کو خادمِ شریعت بنایا جاوے تو جائز ہے۔

قضاء نماز

ایک شخص نے سوال کیا کہ میں چھ ماہ تک تارک صلوٰۃ تھا۔ اب میں نے توبہ کی ہے کیا وہ سب نمازیں اب پڑھوں؟ فرمایا۔ نماز کی قضاء نہیں ہوتی۔ اب اس کا علاج توبہ ہی کافی ہے۔۱؎

۱۹؍مارچ ۱۹۰۸ء

(بوقتِ سیر)

شیعوں کا غلو۔ قرآن شریف میں تدبّر نہ کرنے کا نتیجہ ہے

فرمایا کہ شیعہ لوگ خواہ مخواہ غلو کرتے ہیں ان کے مقابلہ میں خارجی ان کا اچھا منہ بند کرتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ صحابہؓ میں کبھی کوئی نزاع بھی اگر واقع ہوگئی ہو تو کیا ہرج کی بات ہے نزاع اور جھگڑا ہمیشہ وہیں ہوا کرتا ہے جن کو آپس میں گہرے تعلقات ہوں۔ یہ کوئی عیب کی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب باتوں کا یوں فرما کر فیصلہ ہی کر دیا ہے کہ وَنَزَعۡنَا مَا فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنۡ غِلٍّ اِخۡوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ(الحجر:۴۸) پس خدائی فیصلہ کے بعد ان امور میں زبان کھولنا ایمان کا نشان نہیں۔ اگر صحابہ کرامؓ پر شیعہ اعتراض کرتے ہیں تو خارجی حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر بھی تو اعتراض کرتے ہیں۔ چنانچہ لکھا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارادہ تھا کہ ابو جہل کی لڑکی سے شادی کریں مگر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ہوئی تو آپؐ بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ ایسا ہرگز نہیں ہو سکے گا کہ خدا کے رسول کی لڑکی اور خدا کے دشمن کی لڑکی ایک گھر میں جمع ہوں۔ اگر ایسا ہی کرنا منظور ہو تو فاطمہؓ کو طلاق دے دی جاوے۔ بلکہ خارجی تو یہاں تک کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے نعوذ باللہ اپنے اسی ارادے کو پورا کرنے کے واسطے خود دانستہ حضرت فاطمہؓ کو زہر دے کر مار دیا تھا۔ اور آخر کار اس طرح سے اپنے اس ارادے کو پورا بھی کر لیا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے متعلق قرآن شریف نے فرمایا ہے کہ وہ امہات المؤمنین ہیں تو حضرت علیؓ گویا مدت تک ماں سے جھگڑا کرتے رہے ہیں۔ حضرت حسنؓ نے حضرت معاویہ کے مقابلہ میں ملک ہی چھوڑ دیا تھا مگر دیکھو حضرت علیؓ نے ماں سے جھگڑا نہ چھوڑا بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اوّل اوّل حضرت ابوبکرؓ کی بیعت سے بھی تخلّف کیا تھا۔ مگر پھر گھر میں جا کر خدا جانے یک دفعہ کیا خیال آیا کہ پگڑی بھی نہ باندھی اور فوراً ٹوپی سے ہی بیعت کرنے کو آ گئے اور پگڑی پیچھے منگائی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں خیال آ گیا ہوگا کہ یہ تو بڑی معصیت ہے۔ اسی واسطے اتنی جلدی کی کہ پگڑی بھی نہ باندھی اصل بات یہ ہے کہ یہ سب باتیں قرآن شریف میں تدبّر نہ کرنے کی وجہ سے ہیں۔

مسیح علیہ السلام کا رفع

وفات مسیحؑ پر فرمایا کہ قرآن شریف یہود و نصاریٰ کے اختلافات کے لیے بطور حَکَم ہے اصل جھگڑا تو یہ تھا کہ توریت میں لکھا تھا کہ جو سولی پر لٹکایا جاوے اس کا رفع روحانی نہیں ہوتا اور وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ خدا کی طرف سے ایسے شخص کو خلعت نبوت عطا کیا جاوے بلکہ ملعون اور لعنتی ہوتا ہے۔ سولی جرائم پیشہ لوگوں کی سزا ہے اور جو جرائم پیشہ لوگوں کی سزا سے موت کا لقمہ بن جاوے وہ اس قابل کہاں ہوتا ہے کہ اس کا رفع روحانی ہو۔ غرض ان یہود کا دعویٰ تو صرف یہی تھا کہ حضرت عیسٰیؑ کا رفع روحانی نہیں ہوا۔ وہ حضرت موسٰی کے رفع روحانی کے قائل تھے نہ کہ رفع جسمانی کے۔ رفع جسمانی کا تو ان کے دلوں میں خیال تک بھی نہ تھا۔ پس سچی بات یہی ہے کہ مسلمانوں اور یہود کا متفقہ اور مسلّم اعتقاد اس پر ہے کہ خدا کے نیک بندوں کا بعد وفات رفع روحانی ہوا کرتا ہے۔ اور یہی قابل بڑائی بات ہے۔ رفع جسمانی کے یہ نہ قائل ہیں اور نہ کوئی اس میں فضیلت مدّ نظر ہے چنانچہ قرآن شریف بھی اسی اُصول کو یوں بیان فرماتا ہے کہ مُّفَتَّحَۃً لَّہُمُ الۡاَبۡوَابُ(صٓ:۵۱) یعنی جو خدا کے نزدیک متقی اور برگزیدہ انسان ہوتے ہیں خدا ان کے لیے آسمانی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کا رفع روحانی بعد الموت کیا جاتا ہے اور ان کے مقابل میں جو لوگ بدکار اور خدا سے دور ہوتے ہیں اور ان کو خدا سے کوئی تعلق صدق و اخلاص نہیں ہوتا اُن کے واسطے آسمانی دروازے نہیں کھولے جاتے جیسا کہ فرمایا لَا تُفَتَّحُ لَہُمۡ اَبۡوَابُ السَّمَآءِ وَلَا یَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الۡجَمَلُ فِیۡ سَمِّ الۡخِیَاطِ(الاعراف:۴۱)

غرض یہود کا اعتراض تو یہی تھا کہ نعوذ باللہ حضرت عیسٰیؑ چونکہ سولی چڑھائے گئے ہیں اس واسطے وہ ملعون ہیں اور صاف بات ہے کہ ملعون کا رفع روحانی نہیں ہوسکتا۔ اسی کے جواب میں قرآن شریف نے فرمایا ہے کہ بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ(النساء:۱۵۹)

اچھا ہم یہ دریافت کرتے ہیں کہ اگر یہودیوں کا یہی اعتراض تھا کہ عیسٰیؑ کا رفع جسمانی نہیں ہوا تو پھر قرآن شریف جو کہ ان دونوں قوموں میں حَکَم ہو کر آیا ہے اس نے یہود کے اس اعتراض کا کیا جواب دیا ہے؟ کیا وجہ کہ قرآن شریف نے یہود کے اصل اعتراض کا تو کہیں جواب نہ دیا اور رفع روحانی پر اتنا زور دیا اور رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ(النساء:۱۵۹) فرمایا رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلَی السَّمَآءِ کیوں نہ فرمایا ہے؟

عرشِ الٰہی ایک وراء الورا مخلوق ہے جو زمین سے اور آسمان سے بلکہ تمام جہات سے برابر ہے۔ یہ نہیں کہ نعوذ باللہ عرش الٰہی آسمان سے قریب اور زمین سے دُور ہے۔ لعنتی ہے وہ شخص جو ایسا اعتقاد رکھتا ہے عرش مقام تنزیہ ہے اور اسی لیے خدا ہر جگہ حاضر ناظر ہے جیسا کہ فرماتا ہے مَعَکُمۡ اَیۡنَ مَا کُنۡتُمۡ(الحدید:۵) اور مَا یَکُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰی ثَلٰثَۃٍ اِلَّا ہُوَ رَابِعُہُمۡ(المجادلۃ:۸) اور فرماتا ہے کہ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِیۡدِ(قٓ:۱۷)

غرض اصل جھگڑا تو صرف ان کے رفع روحانی اور مقرب بارگاہِ سلطانی ہونے کے متعلق تھا سو اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ ہی کر دیا یہ فرما کر بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ(النساء:۱۵۹) اب کوئی بتائے کہ بھلا اس سے ان کا آسمان پر چڑھ جانا کیسے ثابت ہوتا ہے۔ کیا خدا آسمان پر ہے اور زمین پر نہیں؟

وفاتِ مسیح علیہ السلام

اللہ تعالیٰ نے تو حضرت عیسٰیؑ کا قصہ ہی تمام کر دیا ہے جہاں یہ سوال و جواب ہے کہ فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ(المائدۃ:۱۱۸) اس آیت سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ ایک تو حضرت عیسٰیؑ کا وفات پا جانا اور دوسرے ان کا دوبارہ دنیا میں نہ آنا۔ کیونکہ یہ سوال و جواب قیامت کے دن کو ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ سوال حضرت عیسٰیؑ سے کہ کیا تم نے عیسائیوں کو یہ شرک کی تعلیم دی تھی اور حضرت عیسٰیؑ کا یہ جواب دینا کہ یا الٰہی! یہ میری وفات کے بعد بگڑے ہیں۔ مجھے اس بات کا علم نہیں کہ میرے بعد انہوں نے کیسے عقائد اختیار کر لیے۔ میں نے تو ان کو صرف توحید کی تعلیم دی تھی۔ اس سوال و جواب سے صاف صریح اور واضح طور معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسٰیؑ وفات پا چکے ہیں اور وہ دنیا میں دوبارہ نہیں آئیں گے ورنہ اگر وہ دوبارہ کبھی دنیا میں آئے ہوتے اور ان کی گندی تعلیم اور مشرکانہ عقائد کی اصلاح کی ہوتی۔ صلیب توڑی ہوتی اور خنزیر قتل کئے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کو ایسے صریح جھوٹ سے سرزنش نہ کرتا؟ اور وہ ایسی جرأت اور دلیری سے حضورِ الٰہی کے سامنے قیامت کے دن ایسا جھوٹ بولتے؟ ہرگز نہیں۔ پس واقعی اور حق بات یہی ہے کہ حضرت عیسٰیؑ وفات پا چکے اور وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا قول ہوا اس کی تصدیق آنحضرتؐ نے فعل سے کر دی اور آپ نے معراج کی رات حضرت عیسیٰؑ کو حضرت یحیٰیؑ کے پاس بیٹھے دیکھا غور کا مقام ہے کہ زندہ کو مُردہ سے کیا تعلق اور کیا کام؟ حیات اور وفات تو دو ضدیں ہیں جس طرح نور اور ظلمت ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح مُردے اور زندہ لوگوں کا بھی آپس میں کوئی تعلق نہیں کہ ایک جگہ رہیں بلکہ حضرت عیسٰیؑ کے واسطے تو کوئی الگ کوٹھڑی درکار تھی۔

مسیح موعودؑ کی آمد اور پیشگوئیوں کا ظہور

اس کے بعد اور زیادہ تشریح بخاری اور مسلم نے کر دی ہے جنہوں نے آخری زمانہ کی علامات کا ذکر کرتے ہوئے ایک نئی سواری کا ذکر کر کے یہ کہا کہ لَیُتْرَکَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا یُسْعٰی عَلَیْـھَا اور قرآن شریف نے اسی مضمون کو عبارت ذیل میں بیان فرما کر اور بھی صراحت کر دی کہ الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ(التکویر:۵) قرآن وحدیث کا تطابق اور پھر عملی رنگ میں اس دور دراز زمانہ میں جب کہ ان پیشگوئیوں کو تیرہ سو برس سے بھی زائد عرصہ گذر چکا ہے ان کا پورا ہونا ایمان کو کیسا تازہ اور مضبوط کرتا ہے۔ چنانچہ ایک اخبار میں ہم نے دیکھا ہے کہ شاہ روم نے تاکیدی حکم دیا ہے کہ ایک سال کے اندر حجاز ریلوے تیار ہو جاوے۔ سبحان اللہ! کیسا عجیب نظارہ ہوگا اور ایمان کیسے تازہ ہوں گے کہ جب پیشگوئی کے بالکل مطابق بجائے اونٹوں کی لمبی لمبی قطاروں کے ریل کی لمبی قطاریں دوڑتی ہوئی نظر آویں گی۔ پس جب یہ پیشگوئی جو آثار قرب قیامت اور مسیح موعودؑ کی آمد کے نشانات میں سے ایک زبردست اور اقتداری پیشگوئی ہے پوری ہو رہی ہے تو ایمان لانا چاہیے کہ مسیح موعود بھی موجود ہے۔

زلازل اور طاعون کا سلسلہ

فرمایا کہ زلازل اور طاعون کا سلسلہ بھی حکّامِ وقت کے دورہ کی طرح دورہ ہی کر رہا ہے۔ جس طرح حکّامِ وقت اپنے انتظامی دوروں میں جہاں کوئی سرکشی یا بدنظمی پاتے ہیں اس کی اصلاح کرتے ہیں اسی طرح زلازل اور طاعون بھی ملک کے مختلف حصوں میں دورہ کر رہے ہیں۔ بعض ممالک میں سنا گیا ہے کہ زلزلوں سے پہاڑ گر گئے اور شہروں کے شہر فنا ہو گئے۔ یہی حال طاعون کا ہے جب لوگ کسی قدر وقفہ دیکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں اور گناہ اور غفلت میں ترقی کرنے لگ جاتے ہیں تو پھر خدا طاعون کو ان کی سرزنش اور سرکوبی کے واسطے بھیج دیتا ہے۔ پس بے فکر اور مطمئن نہیں ہونا چاہیے بلکہ قبل اس کے کہ کوئی مصیبت اچانک آن پکڑے اپنی اصلاح میں لگے رہنا چاہیے اور توبہ استغفار میں مشغول ہونا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ کے اقتداری نشانات

فرمایا۔ خدا جب کسی کام کو کرانا ہی چاہتا ہے تو گردن سے پکڑ کر بھی کرا دیتا ہے۔ اس کے منوانے کے عجیب عجیب رنگ ہیں۔ چنانچہ ایک مسلمان بادشاہ کا ذکر ہے کہ اُس نے امام موسیٰ رضا کو کسی وجہ سے قید کر دیا ہوا تھا۔ خدا کی قدرت ایک رات بادشاہ نے اپنے وزیر اعظم کو نصف رات کے وقت بلوایا اور نہایت سخت تاکید کی کہ جس حالت میں ہو اسی حالت میں آ جاؤ حتی کہ لباس بدلنا بھی تم پر حرام ہے۔ وزیر حکم پاتے ہی ننگے سر ننگے بدن فوراً حاضر ہوئے اور اس جلدی اور گھبراہٹ کا باعث دریافت کیا۔ بادشاہ نے اپنا ایک خواب بیان کیا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ ایک حبشی آیا اور اس نے گنڈاسے کی قِسم کے ایک ہتھیار سے مجھے ڈرایا اور دھمکایا ہے اس کی شکل نہایت پُرہیبت اور خوفناک ہے اس نے مجھے کہا ہے کہ امام موسیٰ رضا کو ابھی چھوڑ دو ورنہ میں تمہیں ہلاک کر دوں گا اور اسے ایک ہزار اشرفی دے کر جہاں اس کا جی چاہے رہنے کی اجازت دو۔ سو تم ابھی جاؤ اور امام موسیٰ رضا کو قید سے رہا کر دو۔ چنانچہ وزیر اعظم قید خانہ میں گئے اور قبل اس کے کہ وہ اپنا عندیہ ظاہر کرتے امام موسیٰ رضا بولے کہ پہلے میرا خواب سن لو۔ چنانچہ انہوں نے اپنا خواب یوں بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بشارت دی ہے کہ تم آج ہی قبل اس کے کہ صبح ہو قید سے رہا کئے جاؤ گے غرض یہ ہیں خدا کے اقتداری نشانات۔

شیعوں کے عقاید کا ردّ

فرمایا۔ شیعہ لوگ جس راہ کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اس راہ سے تو نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سارا مذہب ہی برباد جاتا ہے۔ دیکھو اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ وَالۡفَتۡحُ وَرَاَیۡتَ النَّاسَ یَدۡخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اَفۡوَاجًا(النّصر:۲، ۳) اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ دینِ الٰہی یعنی اسلام میں بہت کثرت اور بہتات سے لوگ شامل ہوں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حینِ حیات میں ہی ایسا ظہور میں آوے گا۔ بھلا ان لوگوں سے کوئی پوچھے کہ کیا دو چار آدمیوں کا نام ہی افواج ہے اور کیا یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی لمبی محنت اور جانکاہ کوششوں کا نتیجہ تھا؟ افسوس! دیکھو فوج ہی کچھ کم نہیں ہوتی یہاں تو اللہ نے فوج کی بھی جمع کا لفظ بولا ہے اور اَفْوَاجًا کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں فوجوں کی فوجیں داخل اسلام ہو جاویں گی۔ ان لوگوں کے عقائد کے لحاظ سے تو قرآن شریف ہی کی تکذیب لازم آتی ہے۔ انہوں نے قرآن شریف کو تو محرّف مبدّل کا الزام دے کر چھوڑ دیا۔ رہے قرآن شریف کے پہنچانے والے جن کی نسبت اللہ تعالیٰ نے رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡہُ(البیّنۃ:۹) فرمایا اور ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تخت کا وارث بنایا اور آنحضرتؐ کے منہ سے نکلی ہوئی پیشگوئیوں کی تصدیق کرنے والے اور پورا کرنے والے بنایا۔ انہی کے ہاتھ سے بڑے بڑے قرآنی وعدے پورے کئے۔ قیصر و کسریٰ کے تخت اور خزانے انہی کے ذریعہ اسلام کا ورثہ بنائے۔ سو اُن کو غدار، ظالم، منافق اور غاصب کا لقب دے کر چھوڑ دیا۔ ان کا تو وہ حال ہے کہ جس طرح ایک عورت کو جب اس کے دن حمل کے پورے ہو چکتے ہیں تو دردِ زہ شروع ہوتی ہے جس کی تکلیف سے وہ اور اس کے عزیز واقارب اور خویش روتے ہیں اور دردمند ہوتے ہیں کیونکہ وہ ایک نازک حالت ہوتی ہے۔ نتیجہ کی کسی کو خبر نہیں ہوتی۔ مگر جب اس کے ہاں لڑکا پیدا ہو جاوے اور وہ چلہ پورا کر کے غسلِ صحت بھی کر لے اور بچہ بھی اس کا صحیح سالم جیتا جاگتا ہو اس وقت لگے کوئی آدمی رونے تو اس کا رونا کیسا بے محل اور بے موقع ہوگا۔

سو یہی حال ہے ان کا وقت گذر چکا۔ صحابہ کرامؓ کامیابی کے ساتھ تختِ خلافت کو مقررہ وقت تک زیب دے کر اپنی اپنی خدمات بجا لا کر بڑی کامیابی اور اللہ کی رضوان لے کر چل بسے اور جنّات وعیون جو آخرت میں ان کے واسطے مقرر تھے اور وعدے تھے وہ اُن کو عطا ہو گئے۔ اب یہ روتے ہیں اور چلّاتے ہیں کہ وہ نعوذ باللہ ایسے تھے اور ایسے تھے۔

محرّم میں شہیدان کربلا کی مصیبت کو یاد کر کر کے رونے سے کیا حاصل؟ اپنے نفس کا غم کرنا چاہیے اس کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔ سب سے بڑا فکر انسان کو جو کرنا چاہیے وہ یہی ہے کہ اپنے نفس کی اصلاح کر لے اور آخرت کے واسطے زادِ راہ لے لے۔ دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کیا کہا تھا؟ اے فاطمہؓ! اپنی جان کو آگ سے بچانے کی فکر کر لے میں تیرے کسی کام نہیں آ سکتا۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال ہے تو پھر اور کسی کا کیا حال؟۱؎

۲۴؍مارچ ۱۹۰۸ء

(بوقتِ سیر)

پیشگوئی میں مذکور سورج اور چاند گرہن کی شرائط

حضرت مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب جو کہ کسی کارِ ضروری کے واسطے حضرت اقدسؑ کی اجازت سے امر وہہ تشریف لے گئے ہوئے تھے۔ بخیر و عافیت واپس تشریف لے آئے ہیں۔ انہوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی حضور کا نے دجّال۱؎ نے بڑا دجل کر رکھا ہے اور بعض جاہل اور بے علم لوگ اس کے اس دھوکے میں آئے ہوئے ہیں کہ اس نے اپنی کتاب میں پچیس یا چھبیس دفعہ چاند اور سورج گرہن رمضان میں ہونے کا ثبوت دیا ہے اس پر فرمایا کہ ہم نے اس بات سے کبھی انکار نہیں کیا کہ پہلے بھی رمضان میں کبھی کسوف خسوف ہوا ہو بلکہ ہم تو نظامِ شمسی کے قائل ہیں اور ایمان رکھتے ہیں کہ ممکن ہے کہ کبھی پہلے بھی ایسا واقعہ ہو گیا ہو۔ ہمارا دعویٰ تو صرف یہ ہے کہ جن شرائط اور لوازم کا ذکر حدیث دارقطنی میں درج ہے ایسا آج سے پہلے کبھی واقع نہیں ہوا۔ مثلاً اس حدیث میں صاف تاریخ مقرر کی گئی ہے کہ چاند گرہن اپنے گرہن کی مقررہ تاریخوں میں سے اوّل تاریخ میں اور سورج گرہن اپنے گرہن کی مقررہ تاریخوں میں سے ان کے نصف میں یعنی تیرھویں چاند اور اٹھائیسویں کو سورج گرہن ہوگا اور اس وقت پہلے سے ایک مدعی مہدویت کا دعویٰ موجود ہوگا نہ کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کو دیکھ کر دعویٰ کرے گا بلکہ وہ پیشتر ہی سے دعویٰ موجود ہوگا اور اس کی تائید اور نصرت کے واسطے آسمان پر اس طرح سے چاند اور سورج گرہن ہوگا اور علاوہ ازیں اور اور نشانات زمینی و آسمانی اور دلائل و براہین سے اپنے دعویٰ کو مبرہن کرتا ہوگا اور اس کا دعویٰ خوب طرح سے شہرت پا کر دور دور اطراف میں مشہور ہو گیا ہوگا۔ پس کیا عبدالحکیم نے ایسا بھی ثبوت دیا ہے کہ وہ پہلے گرہن جو رمضان میں واقع ہوئے تھے ان میں سے کوئی ان شرائط و لوازم اور قید تاریخ سے بھی واقع ہوا تھا؟ اور کیا اس وقت پہلے اس کے کہ وہ اس طرح کا موعودہ کسوف خسوف ظہور میں آوے کوئی مدعی مہدویت اور مسیحیت موجود تھا جس نے اپنے دعویٰ کو عام کتب کے ذریعہ سے شائع بھی کیا ہو اور اس کا دعویٰ دنیا میں شہرت یافتہ ہو اور پھر اس کے ساتھ کوئی آسمانی یا زمینی نشان اور تائیدات بھی موجود ہوں یا قرآن وحدیث سے مبرہن کیا گیا ہو۔ ہمارا مطالبہ تو ان شرائط اور لوازم کے ساتھ کسوف خسوف ثابت کرنے کا ہے۔ دیکھو! اس واقعہ کا بیان تو انگریزی اخبارات مثل سول ملٹری اور پایونیر وغیرہ نے بھی کر دیا تھا کہ اس ہیئت کذائی سے اس سے پہلے کبھی کوئی ایسا واقعہ ظہور میں نہیں آیا۔ اس سے بڑھ کر دجل اور بے ایمانی اور کیا ہوگی کہ سب لوازم کو ترک کر کے صرف ایک بات کو ہاتھ میں لے کر اعتراض کر دینا؟ دکھانا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسا نشان ظاہر ہونے سے پہلے کہ وہ مقررہ تاریخوں میں ظاہر ہوا ہو، کوئی مدعی بھی موجود ہو۔ پھر اس نے دعویٰ بھی کیا ہو۔ اس دعویٰ کی اشاعت بھی کی ہو اور اس کو آیات ونشانات ارضی وسماوی اور دلائل قاطعہ سے مبرہن بھی کیا ہو۔ یونہی زبانِ اعتراض ہلا دینے سے کیا ہوتا ہے؟ اس طرح سے تو تمام نبوت کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر عبدالحکیم کے عقاید

مولوی عبداللہ خاں صاحب پٹیالوی نے عرض کیا کہ حضور تمام جماعت پٹیالہ نے بڑا شکر کیا تھا۔ جس دن یہ شخص جماعت میں سے خارج کیا گیا تھا۔ وہ بارہا مجھ سے یوں مخاطب ہوا کرتا تھا کہ مولوی صاحب جب کونین میں ذاتی خاصیت شفا کی موجود ہے تو کیا ضرورت ہے کہ عبدالحکیم کو ڈاکٹر ماننے ہی سے کونین شفا دے؟ اس طرح سے جب توحید الٰہی پر ایمان لانے کا نتیجہ نجات ہے تو کیا ضرورت ہے کہ ہم محمدؐ کو نبی مانیں؟ بلکہ جس طرح سے کونین بغیر اس کے بھی کہ کسی زید و بکر کو ڈاکٹر تسلیم کیا جاوے نفع پہنچاتی ہے اسی طرح توحید بھی اپنے نفع پہنچانے اور نجات دلانے کے لئے کسی کے رسول اور نبی ماننے کی محتاج نہیں۔ فرمایا۔ ہم نے یہی مناسب سمجھا کہ بجائے اس کے کہ نعوذ باللہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر اعتراض سنیں اور ایمان لانے کی ضرورت نہ سمجھنے کا سوال سنیں کیوں عبدالحکیم ہی کو جماعت سے خارج نہ کر دیں۔۱؎

۲۵؍ مارچ ۱۹۰۸ء

(بوقتِ سیر)

مسلمان ریاستوں کی تباہی کی وجہ

جناب خلیفہ ڈاکٹر رشید الدین صاحب اسسٹنٹ سرجن فرخ آباد کے گذشتہ نوابی حالات کا ذکر کرتے ہوئے ان کی تباہی اور بربادی اور ان کے محلات کے کھنڈرات بنائے جانے کے متعلق ذکر کرتے تھے۔

اس پر حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ

پہلے بادشاہوں کے زمانہ میں یہ قاعدہ ہوتا تھا کہ ان کے درباروں میں کوئی نہ کوئی اہل اللہ بھی موجود ہوا کرتے تھے جن کے صلاح مشوروں سے بادشاہ کام کیا کرتے تھے اور ان کی دعاؤں سے فائدہ اٹھایا کرتے تھے مگر اب وہ حال نہیں رہا بلکہ ان مسلمانوں کا بھی بنی اسرائیل والا حال ہو گیا۔ ان کو بھی خدا نے بوجہ ان کی بدکاریوں کے چھوڑ دیا تھا اور کوئی نصرت ان کی نہیں ہوتی تھی۔ وہی حال اب بھی ہو رہا ہے۔ اسلام کی نصرت اور مدد کا خدا نے خود وعدہ کیا ہے مگر کوئی مسلمان بھی ہو۔ مسلمان تو خود ہی موردِ قہر و عذابِ الٰہی ہو رہے ہیں ان کی نصرت کیسے ہو؟ یہ چند ہندوستانی مسلمانوں کی ریاستیں جو خدا کے قہر کا نشانہ بنیں۔ اگر یہ کچھ بھی نیک طینت ہوتے تو خدا ضرور ان کو محفوظ رکھتا اور ان کی نصرت کرتا۔ یہ عذاب اور تنزل جو ان کو نصیب ہوا یہ ان کی اپنی ہی بدعملیوں کا باعث تھا۔ دیکھو! بنی اسرائیل کو خود حضرت موسٰی کے ہوتے ہوئے شکست ہوئی تھی اس میں بھی یہی وجہ تھی کہ ان کی حالت خود جاذب نصرت نہیں تھی بلکہ حضرت موسٰی نے ان کو کہہ دیا تھا اس وقت مقابلہ مت کرو۔ موقع مناسب نہیں اور نہ ہی وہ وقت آیا ہے کہ تمہاری نصرت ہو۔

صلاح الدین ایوبی

صلاح الدین ایک نیک بخت شخص تھا۔ نمازوں کا بھی پابند تھا۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے بھی اس کی تائید کی اور سخت سے سخت مشکلات اور مخالفوں کے حملوں میں اس کو فتح نصیب کی۔ اصل بات یہ ہے کہ جب کوئی قوم بگڑ جاتی ہے اور خدا کو چھوڑ کر دنیا کی طرف جھک جاتی ہے اور بدکاریوں اور فسق و فجور میں غرق ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ایک دوسری قوم کو خود اپنے ارادہ سے اس پر مسلّط کر دیتا ہے۔

والدہ کا حق

ایک دوست نے خط کے ذریعہ اس اَمر کا استفسار کیا کہ میری والدہ میری بیوی سے ناراض ہے اور مجھے طلاق کے واسطے حکم دیتی ہے مگر مجھے میری بیوی سے کوئی رنجش نہیں۔ میرے لئے کیا حکم ہے؟

فرمایا کہ والدہ کا حق بہت بڑا ہے اور اس کی اطاعت فرض۔ مگر پہلے یہ دریافت کرنا چاہیے کہ آیا اس ناراضگی کی تہہ میں کوئی اور بات تو نہیں ہے جو خدا کے حکم کے بموجب والدہ کی ایسی اطاعت سے بری الذمہ کرتی ہو مثلاً اگر والدہ اس سے کسی دینی وجہ سے ناراض ہو یا نماز روزہ کی پابندی کی وجہ سے ایسا کرتی ہو تو اس کا حکم ماننے اور اطاعت کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور اگر کوئی ایسا مشروع اَمر ممنوع نہیں ہے۔ جب تو وہ خود واجب طلاق ہے۔

اصل میں بعض عورتیں محض شرارت کی وجہ سے ساس کو دکھ دیتی ہیں۔ گالیاں دیتی ہیں۔ ستاتی ہیں۔ بات بات میں اس کو تنگ کرتی ہیں۔ والدہ کی ناراضگی بیٹے کی بیوی پر بے وجہ نہیں ہوا کرتی۔ سب سے زیادہ خواہشمند بیٹے کے گھر کی آبادی کی والدہ ہوتی ہے اور اس معاملہ میں ماں کو خاص دلچسپی ہوتی ہے۔ بڑے شوق سے ہزاروں روپیہ خرچ کر کے خدا خدا کر کے بیٹے کی شادی کرتی ہے تو بھلا اس سے ایسی امید وہم میں بھی آسکتی ہے کہ وہ بے جا طور سے اپنے بیٹے کی بہو سے لڑے جھگڑے اور خانہ بربادی چاہے۔ ایسے لڑائی جھگڑوں میں عموماً دیکھا گیا ہے کہ والدہ ہی حق بجانب ہوتی ہے۔ ایسے بیٹے کی بھی نادانی اور حماقت ہے کہ وہ کہتا ہے کہ والدہ تو ناراض ہے مگر میں ناراض نہیں ہوں۔ جب اس کی والدہ ناراض ہے تو وہ کیوں ایسی بے ادبی کے الفاظ بولتا ہے کہ میں ناراض نہیں ہوں۔ یہ کوئی سوکنوں کا معاملہ تو ہے نہیں۔ والدہ اور بیوی کے معاملہ میں اگر کوئی دینی وجہ نہیں تو پھر کیوں یہ ایسی بے ادبی کرتا ہے۔ اگر کوئی وجہ اور باعث اور ہے تو فوراً اسے دور کرنا چاہیے۔ خرچ وغیرہ کے معاملہ میں اگر والدہ ناراض ہے اور یہ بیوی کے ہاتھ میں خرچ دیتا ہے تو لازم ہے کہ ماں کے ذریعہ سے خرچ کراوے اور کل انتظام والدہ کے ہاتھ میں دے۔ والدہ کو بیوی کا محتاج اور دست نگر نہ کرے۔ بعض عورتیں اوپر سے نرم معلوم ہوتی ہیں مگر اندر ہی اندر وہ بڑی بڑی نیش زنیاں کرتی ہیں۔ پس سبب کو دور کرنا چاہیے اور جو وجہ ناراضگی ہے اس کو ہٹا دینا چاہیے اور والدہ کو خوش کرنا چاہیے۔ دیکھو شیر اور بھیڑیئے اور اَور درندے بھی تو ہلائے سے ہل جاتے ہیں اور بے ضرر ہو جاتے ہیں۔ دشمن سے بھی دوستی ہو جاتی ہے اگر صلح کی جاوے تو پھر کیا وجہ ہے کہ والدہ کو ناراض رکھا جاوے؟

سوکنوں کی مشکلات

فرمایا کہ ایک شخص کی دو بیویاں تھیں۔ بیویوں میں باہمی نزاع ہو جانے پر ایک بیوی خود بخود بلا اجازت اپنے گھر میکے چلی گئی۔ وہ شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں طلاق دے دوں۔ میں نے سوچا کہ یہ معاملات بہت باریک ہوتے ہیں۔ سوکن کو بڑی بڑی تلخیاں اٹھانی پڑتی ہیں اور بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ بعض عورتیں اپنی مشکلات کی وجہ سے خودکشی کر لیتی ہیں۔ جس طرح سے دیوانہ آدمی مرفوع القلم ہوتا ہے اسی طرح سے یہ بھی ایسے معاملات کی وجہ سے مرفوع القلم اور واجب الرحم ہوتی ہیں کیونکہ سوکن کی مشکلات بھی دیوانگی کی حد تک پہنچا دیتی ہیں۔

اصل بات یہ تھی کہ وہ شخص خود بھی دوسری بیوی کی طرف ذرا زیادہ التفات کرتا تھا اور وہ بیوی بھی اس بیچاری کو کوستی اور تنگ کرتی تھی۔ آخر مجبور ہو کر اور ان مشکلات کی برداشت نہ کر کے چلی گئی۔ چنانچہ اس شخص نے خود اقرار کیا کہ واقعی یہی بات تھی اور اپنے ارادے سے باز آیا۔

ایسے قصوروں کو تو خود خدا بھی معاف کر دیتا ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں ہے وَلَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ(البقرۃ:۲۸۷) جو اَمر فوق الطاقت اور ناقابل برداشت ہو جاوے اس سے خدا بھی درگذر کرتا ہے دیکھو! حضرت ہاجرہؓ کا واقعہ بھی ایسا ہی ہے جو کہ مومنین کی دادی تھی پہلی مرتبہ جب وہ نکالی گئی تو فرشتہ نے اسے آواز دی اور بڑی تسلّی دی اور اس سے اچھا سلوک کیا مگر جب دوسری مرتبہ نکالی گئی تو سوکن نے کہا کہ اس کو ایسی جگہ چھوڑو جہاں نہ دانہ ہو نہ پانی۔ اس کی غرض یہی تھی کہ وہ اس طرح سے ہلاک ہو کر نیست و نابود ہو جاوے گی اور حضرت ابراہیمؑ کا ایسا منشا نہ تھا مگر خدا نے حضرت ابراہیمؑ کو کہا کہ اچھا جس طرح یہ کہتی ہے اسی طرح کیا جاوے اور سارہ کی بات کو مان لے۔

اصل میں بات یہ تھی کہ خدا کا منشا قدرت نمائی کا تھا۔ توریت میں یہ قصہ مفصل لکھا ہے۔ بچہ جب بوجہ شدت پیاس رونے لگا تو بی بی ہاجرہؓ پہاڑ کی طرف پانی کی تلاش میں اِدھر اُدھر گھبراہٹ سے دوڑتی بھاگتی پھرتی رہی مگر جب دیکھا کہ اب یہ مَرتا ہے تو بچے کو ایک جگہ ڈال کر پہاڑ کی چوٹی پر دعا کرنے لگ گئی کیونکہ اس کی موت کو دیکھ نہ سکتی تھی۔ اسی اثناء میں غیب سے آواز آئی کہ ہاجرہ! ہاجرہ! لڑکے کی خبر لے وہ جیتا ہے۔ آ کر دیکھا تو لڑکا جیتا تھا اور پانی کا چشمہ جاری تھا۔ اب وہی کنواں ہے جس کا پانی ساری دنیا میں پہنچتا ہے اور بڑی حفاظت اور تعظیم اور شوق سے پیا جاتا ہے۔

غرض یہ سارا معاملہ بھی سوکنوں کے باہمی حسد وضد کی وجہ سے تھا۔

انبیاء کا وجود خدا تعالیٰ کے ظہور کا باعث ہوتا ہے

فرمایا۔ خدا کا نام ظاہر بھی ہے اور باطن بھی۔ وہی ظاہر ہے اَور کوئی ظاہر نہیں۔ خدا کا ظہور دنیا میں انبیاء کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ انبیاء کا وجود خدا کے ظہور کا باعث ہوتا ہے۔ انبیاء کے آنے سے پہلے خدا مخفی ہوتا ہے۔ لوگ خدا کو بھول جاتے ہیں اور زبانِ حال سے دنیا بول اٹھتی ہے کہ گویا خدا ہے ہی نہیں۔ انبیاء آکر دنیا کو خوابِ غفلت سے جگاتے ہیں اور ان کے ذریعہ سے خدا اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے اسی واسطے انبیاء خدا نما کہلاتے ہیں۔ وہ خود فنا ہو جاتے ہیں جب خدا کا ظہور ہوتا ہے۔

دیکھو! جب تک انسان اپنے نفسانی جذبات اور خودی سے فنا نہ ہو جاوے جب تک خواہ الہام بھی ہوں اور کشوف بھی دکھائے جاویں مگر کسی کام کے نہیں ہیں کیونکہ بجز اس کے کہ خدا میں اپنے آپ کو فنا کر دیا جاوے یہ امور عارضی ہوتے ہیں اور دیر پا نہیں ہوتے اور ان کی کچھ بھی قدر و قیمت نہیں ہوتی۔

قبولیتِ دعا کا راز

دعا کی قبولیت کا بھی یہی راز ہے۔ انسان جب تک اپنی خواہشات، ارادوں اور علموں کو ترک کر کے خدا میں فنا نہ ہو جاوے اور خدا کی قدرت کاملہ اور قادر مطلق ہونے اور سننے اور قبول کرنے والا ہونے پر یقین کامل اور پورا وثوق نہ رکھتا ہو جب تک دعا بھی ایک بے حقیقت چیز ہے۔ فلسفیوں کو کیوں قبولیت دعا پر ایمان نہیں ہوتا؟ اس کی یہی وجہ ہے کہ ان کو خدا کی وسیع قدرت اور باریک در باریک سامانوں کے پیدا کر دینے والا ہونے پر ایمان نہیں ہوتا اور وہ خدا کی قدرت کو محدود جانتے ہیں اور اپنے تجارب اور علوم پر ہی بھروسہ کر بیٹھتے ہیں۔ ان کو اپنے تجارب کے مقابلہ میں یہ خیال بھی نہیں ہوتا کہ خدا بھی ہے اور وہ بھی کچھ کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات بعض سخت سخت مہلک امراض میں وہ لوگ یقینی اور قطعی حکم لگا دیتے ہیں کہ یہ شخص بچ نہیں سکتا یا اتنے عرصے میں مَر جاوے گا۔ یا اس طرز سے مَرے گا۔ مگر بیسیوں مثالیں ایسی خود ہماری چشم دید ہیں اور بعض کو ہم جانتے ہیں جن میں باوجود ان کے یقینی اور قطعی حکم لگا دینے کے خدا تعالیٰ نے ان بیماروں کے واسطے ایسے اسباب پیدا کر دیئے کہ وہ آخر کار بچ گئے اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض وہ بیمار جن کے حق میں یہ لوگ موت کا قطعی اور اٹل فتویٰ دے چکے تھے زندہ سلامت ہو گئے اور کسی دوسرے موقع پر ان کو مل کر شرمندہ کیا اور ان کے علم و دعویٰ کو بھی شرمندہ کیا ہے۔

حدیث میں آیا ہے مَا مِنْ دَآءٍ اِلَّا وَلَہٗ دَوَآءٌ ایک مشہور ڈاکٹر کا ہمیں قول یاد ہے وہ کہتا ہے کہ کوئی مرض بھی نا قابل علاج نہیں ہے بلکہ یہ ہماری سمجھ اور عقل و علم کا نقص ہے کہ ہمارے علم کی رسائی وہاں تک نہیں ہوتی۔ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مرض کے واسطے بعض ایسے ایسے اسباب پیدا کئے ہوں جن سے وہ شخص جس کو ہم ناقابل علاج یقین خیال کرتے ہیں قابل علاج اور صحت یاب ہو کر تندرست ہو جاوے پس قطعی حکم ہرگز نہ لگانا چاہیے بلکہ اگر رائے ظاہر بھی کرنی ہو تو یوں کہہ دو کہ ہمیں ایسا شک پڑتا ہے مگر ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسے سامان پیدا کر دے کہ جن سے یہ روک اٹھ جاوے اور بیمار اچھا ہو جاوے۔ دعا ایک ایسا ہتھیار خدا نے بنایا ہے کہ اَنہونے کام بھی جن کو انسان ناممکن خیال کرتا ہے ہو جاتے ہیں کیونکہ خدا کے لئے کوئی بات بھی انہونی نہیں۔۱؎

خدا تعالیٰ کا فضل

حاجی الٰہی بخش صاحب گجراتی حضرت کے حضور میں حاضر تھے انہوں نے عرض کی کہ مجھے قبل از بیعت پندرہ سال کی عادت افیون اور حقہ نوشی کی تھی۔ بیعت کے بعد میں شرمندہ ہوا کہ اب تک مجھ میں ایسی عادتیں پائی جاتی ہیں تب میں جنگل میں جا کر خدا کے آگے رویا اور میں نے دعا کی اور پھر یک دفعہ دونوں چیزوں کو چھوڑ دیا نہ مجھے کوئی تکلیف ہوئی اور نہ کوئی بیماری وارد ہوئی۔

فرمایا۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔

(قبل از ظہر

بہشت دائمی ہے اور دوزخ غیر دائمی

فرمایا۔ بہشت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ عَطَآءً غَیۡرَ مَجۡذُوۡذٍ(ھود:۱۰۹) یہ ایک ایسی نعمت ہے جس کا انقطاع نہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بہشت کے درمیان بھی مومنوں کو کھٹکا رہتا کہ کہیں نکالے نہ جاویں۔ لیکن برخلاف اس کے دوزخ کے متعلق ایسا نہیں۔ بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ سب دوزخ سے نکل چکے ہوں گے۔ خدا تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا بھی یہی ہے۔ آخر انسان خدا کی مخلوق ہے۔ خدا تعالیٰ اس کی کمزوریوں کو دور کر دے گا اور اس کو رفتہ رفتہ دوزخ کے عذاب سے نجات بخشے گا۔۱؎

۲۶؍مارچ ۱۹۰۸ء

(بوقتِ سیر)

اخلاقی معجزات کی زبردست تاثیر

فرمایا۔ اگر انسان تکبّر چھوڑ دے اور اخلاق اور ملنساری سے پیش آوے تو یہ ایک بھاری معجزہ ہوتا ہے۔ اخلاقی معجزہ ہمیشہ اپنے اندر ایک زبردست تاثیر رکھتا ہے۔ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ سچی تعلیم اور پاک ایمان کا اثر اخلاق سے ظاہر ہوتا ہے۔

درجہ کمال کے دو ہی حصے ہیں۔ ایک تعظیم اوامر الٰہیّہ، دوسرے شفقت علیٰ خلق اللہ۔ اَمر اوّل کا تعلق تو دل سے اور خدا سے ہوتا ہے جس کو یکا یک ہر کوئی نہیں جان سکتا۔ دوسرا پہلو چونکہ خلقت سے تعلق رکھتا ہے اور اوّل ہی اوّل انسان کی نظر انسانی اخلاق پر پڑتی ہے اس واسطے اس خُلق کا کمال ایک بڑا بھاری اور شاندار معجزہ ہے۔ دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایسے کئی ایک نمونے پائے جاتے ہیں کہ بعض لوگوں نے محض آپؐ کے اخلاقی کمال کی وجہ سے اسلام قبول کیا۔ چنانچہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک مشرک عیسائی مہمان آیا۔ صحابہؓ ان کو اپنا مہمان بنانا چاہتے تھے مگر آنحضرتؐ نے فرمایا کہ نہیں یہ میرا مہمان ہے اس کا کھانا میں لاؤں گا۔ چنانچہ اس مشرک کو آنحضرتؐ نے اپنے ہاں مہمان رکھا اور اس کی بہت خاطر تواضع کی اور عمدہ عمدہ کھانے اس کو کھلائے اور عمدہ مکان اور اچھا بسترہ اس کو رات بسر کرنے کے واسطے دیا مگر وہ بوجہ کھانا زیادہ کھا جانے کے بدہضمی کی وجہ سے رات بھر اسی کوٹھڑی میں رفع حاجت کرتا رہا۔ مکان اور بسترہ خراب کر دیا۔ صبح منہ اندھیرے ہی شرم کے مارے اٹھ کر چلا گیا مگر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاش کی اور وہ نہ ملا تو بہت ہی افسوس کیا اور کپڑے جو نجاست سے آلودہ ہو گئے تھے خود اپنے دست مبارک سے صاف کر رہے تھے کہ وہ اتنے میں واپس آگیا کیونکہ وہ اپنی ایک بیش قیمت صلیب بھول گیا تھا۔ اس کو آتے دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور اس سے کوئی اظہار رنج نہیں فرمایا بلکہ آپ نے اس کی مدارات اور خاطر کی اور اس کی صلیب نکال کر اس کو دے دی۔ وہ شخص اس واقعہ سے ایسا متأثر ہوا کہ وہیں مسلمان ہو گیا۔

اس کے سوا اور کئی ایسے ایسے واقعات اس قسم کے اعلیٰ درجہ اخلاق کے موجود ہیں۔ غرض یہ ہے کہ اخلاقی معجزہ صداقت کی ایک بڑی بھاری دلیل ہے۔

اسلام کی تمام جنگیں دفاعی تھیں

یہ نہایت درجہ کا ظلم ہے کہ اسلام کو ظالم کہا جاتا ہے حالانکہ ظالم وہ خود ہیں جو تعصب کی وجہ سے بے سوچے سمجھے اسلام پر بے جا اعتراض کرتے ہیں اور باوجود بار بار سمجھانے کے نہیں سمجھتے کہ اسلام کے کل جنگ اور مقابلے کفارِ مکّہ کے ظلم و ستم سے تنگ آکر دفاعی رنگ میں حفاظت جان و مال کی غرض سے تھے اور کوئی بھی حرکت مسلمانوں کی طرف سے ایسی سرزد نہیں ہوئی جس کا ارتکاب اور ابتدا پہلے کفار کی طرف سے نہ ہوا ہو۔ بلکہ بعض قابل نفریں حرکات کا مقابلہ بتقاضائے وسعت اخلاق آنحضرتؐ نے خود عمداً ترک کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ مثلاً کفار میں ایک سخت قابلِ نفرت رسم تھی جو کہ وہ مسلمان مُردوں سے کیا کرتے تھے مگر آنحضرتؐ نے اس قبیح فعل سے مسلمانوں کو قطعاً روک دیا۔

قرآن شریف میں بڑی بسط اور تفصیل سے اس اَمر کا ذکر موجود ہے مگر کوئی غور کرنے والا اور بےتعصب دل سچائی اور حق کی پیاس بھی اپنے اندر رکھتا ہو۔ قرآن شریف میں صاف طور سے اس اَمر کا ذکر آگیا ہے کہ وَہُمۡ بَدَءُوۡکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ(التوبۃ:۱۳) یعنی ہر ایک شرارت اور فساد کا ابتدا پہلے کفار کی طرف سے ہوا ہے بلکہ قرآن شریف نے تو اس اَمر کی بڑی وضاحت کر دی ہے کہ جنہوں نے تلوار سے مقابلہ کیا ان کا مقابلہ تلوار سے کیا جاوے اور جو لوگ الگ رہتے ہیں اور انہوں نے ایسی جنگوں میں کوئی حصہ نہیں لیا ان سے تم بھی جنگ مت کرو بلکہ ان سے بےشک احسان کرو اور ان کے معاملات میں عدل کیا کرو۔ چنانچہ فرماتا ہے لَا یَنۡہٰٮکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَلَمۡ یُخۡرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمۡ وَتُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ(الممتحنۃ:۹)

اب جائے غور ہے کہ قرآن شریف نے جن اضطراری حالتوں میں جنگ کرنے کی اجازت دی ہے ان میں سے آج اس زمانہ میں کوئی بھی حالت موجود ہے؟ ظاہر ہے کہ کوئی جبر و تشدد کسی دینی معاملہ میں ہم پر نہیں کیا جاتا بلکہ ہر ایک کو پوری آزادی دی گئی ہے۔ اب نہ کوئی جنگ کرتا ہے کسی دینی غرض کے لئے اور نہ ہی لونڈی غلام کوئی بناتا ہے۔ نہ کوئی نماز روزے اذان حج اور ارکان اسلام کی ادائیگی سے روکتا ہے تو پھر جہاد کیسا اور لونڈی غلام کیسے؟

عورت اور مرد میں مساوات

فرمایا کہ آریہ لوگ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے ایک یہ بھی اسلام پر اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اسلام نے مرد اور عورت میں مساوات نہیں رکھی۔ مردوں کو ترجیح دی ہے۔

فرمایا۔ تعصب اور حق کی مخالفت نے ان کو اندھا کر دیا ہے ایسا کہتے ان کو شرم نہیں آتی۔ پہلے اپنے گریبان میں تو منہ ڈال کر دیکھیں اور پھر انصاف کریں۔ غور کا مقام ہے کہ ان میں سے اگر کسی آریہ کے ہاں چالیس لڑکیاں بھی ہو جاویں جب بھی ان کے مذہب کی رو سے اپنی بیوی کو کسی دوسرے سے منہ کالا کرانے کے واسطے بھیجنا پڑے گا تا کہ وہ اپنی نجات کے واسطے لڑکا حاصل کرے کیونکہ ویدوں کی تعلیم کے مطابق جس کے ہاں لڑکا نہیں اس کی مکتی نہیں۔

اب ذرا انصاف تو کریں کہ مساوات کس جانور کا نام ہے۔ چالیس پچاس لا تعداد لڑکیاں بھی ایک لڑکے کی برابری نہیں کر سکتیں اور لڑکیاں بلحاظ کثرت کے خواہ کتنی بھی ہوں اپنی ماں کو اس قابل نفرت اور خلاف فطرت قبیح فعل سے بچا نہیں سکتیں جب تک لڑکا پیدا نہ ہو اسے نیوگ کرانا ہی پڑے گا۔ اب بتاؤ کہ کیا تم نے مرد وعورت میں مساوات رکھی ہے؟

اسلام جو کہ بڑا پاک اور بالکل فطرت انسانی کے مطابق واقع ہوا ہے اور بڑی کامل اور حکیمانہ تعلیم اپنے اندر رکھتا ہے اس نے عورتوں کے نکاح میں جس طرح ولی کا ہونا ضروری قرار دیا ہے اسی طرح ان کی طلاق میں بھی ایک ولی کا ہونا ضروری رکھا ہے مثلاً جس طرح عورت اپنے نکاح کے واسطے اپنے ولی کی محتاج ہے اسی طرح طلاق کے واسطے بھی ولی کی محتاج ہے۔ اگر کسی عورت کا کسی خاص شخص سے گذارہ اور نباہ نہیں ہو سکتا تو اس کو اجازت ہے کہ قاضی یا حاکم وقت کی معرفت خلع کرا لے۔ وہی قاضی یا حاکم وقت اس کا ولی طلاق ہو گا۔ کوئی روک ٹوک نہیں۔

باقی رہا ورثہ کے متعلق سو قرآن شریف نے مرد سے عورت کا حصہ نصف رکھا ہے اس میں بھید یہ ہے کہ نصف اس کو والدین کے ترکہ میں سے مل جاتا ہے اور باقی نصف وہ اپنے سسرال میں سے جا لیتی ہے اور پھر اس کے نان ونفقہ، لباس و پوشاک کا ذمہ دار بھی اس کا خاوند ہوتا ہے۔ اس طرح پر ایک طرح سے عورت مرد سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ ان معترضوں کو شرم اور حیا سے کام لینا چاہیے۔ پہلے اپنے گریبان میں تو منہ ڈال کر جھانک لیا کریں، پھر زبان اعتراض کھولا کریں۔

آرام کی زندگی بسر کرنے کا طریق

فرمایا۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ظالم کو ظالم مت کہو بلکہ خود اپنے آپ کو کوسو۔ بادشاہ یا حاکم کو مت کوسو۔ اگر تم اپنی حالت کو سنوار لو تو حاکم بھی نرم اور رحمدل ہو جاویں گے اگر کسی کا حاکم ظالم اور جابر ہے تو وہ جان لے کہ اس کے اعمال ہی اس لائق ہیں۔ قرآن شریف نے کیا پاک اصول قائم کیا ہے اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ(الرّعد:۱۲) جب انسان پر خدا کی طرف سے ہی فردِ جرم لگ جاوے تو کون ہے جو اس کی رعایت کرے اور بچا سکے؟ حکام خدا کے قہر اور رحم کا نمونہ ہوتے ہیں۔ اگر خدا خوش ہو تو حکام کے دل میں خود بخود رحم پیدا ہو جاتا ہے اور اگر خدا ہی ناراض ہے تو پھر انسان خود واجب سزا ہے کسی کے کیا بس کی بات!

پس اگر تم اس دنیا میں آرام کی زندگی بسر کرنا چاہتے ہو تو خدا کی طرف جھک جاؤ اور اپنی اصلاح کر لو اور پورے طور سے خدا کے ہو جاؤ مَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَانَ اللّٰہُ لَہٗ۔ پنجابی کی مشہور مثل ہے کہ جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو۔ اصل بات یہی ہے کہ خدا خوش ہو تو سب خوش ہو جاتے ہیں۔ خدا کا راضی کرنا مقدم ہے۔ نادر شاہ کے حملہ کے وقت دلی کے بعض عقلمندوں نے کیا خوب کہا ہے۔

شومیٔ اعمال ما صورت نادر گرفت

۱؎

۲۹؍مارچ ۱۹۰۸ء

(قبل از ظہر)

ایک دل آویز نصیحت

ایک معزز صاحب جو حضرت حکیم الامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دوستوں میں سے ہیں اور رامپور میں قیام رکھتے ہیں۔ رامپور سے کانگڑہ تشریف لے جا رہے تھے حضرت حکیم الامت رضی اللہ عنہ کی ملاقات کے واسطے قادیان بھی تشریف لائے حضرت اقدسؑ سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے ذکر کیا کہ گرما کی شدت کی میں برداشت نہیں کر سکتا اور تمام گرما اپریل سے نومبر تک کانگڑہ میں جہاں میرے چاہ کے باغ ہیں بسر کرتا ہوں اور آج ہی واپس جانے کا ارادہ ہے کیونکہ میں گرمی کی برداشت نہیں کرسکتا۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ موسم تو کوئی بھی اللہ تعالیٰ نے بے فائدہ نہیں بنایا۔ آپ نے جہاں جسمانی تپش سے بچنے کا فکر کیا ہے اور آرام و آسائش کی راہیں سوچی ہیں وہاں چند روز یہاں رہ کر روحانی تپش کی اصلاح کے واسطے بھی غور کریں۔

ہمارا کام صرف اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرنا ہے

قبل عصر ایک شخص نے اپنی کچھ حاجات تحریری طور سے پیش کیں۔ حضرت اقدسؑ نے پڑھ کر جواب میں فرمایا کہ اچھا ہم دعا کریں گے۔ تو وہ شخص کسی قدر متحیر ہوکر پوچھنے لگا۔ آپ نے میری عرضداشت کا جواب نہیں دیا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہم نے تو کہا ہے کہ دعا کریں گے اس پر وہ شخص بولا کہ حضور کوئی تعویذ نہیں کیا کرتے؟ فرمایا۔ تعویذ گنڈے کرنا ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمارا کام تو صرف اللہ کے حضور دعا کرنا ہے۔۱؎

۳۰؍مارچ ۱۹۰۸ء

(قبل از عصر)

لائف انشورنس

ملک مولا بخش صاحب کا ایک خط حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں بدیں مضمون آیا تھا کہ لائف انشورنس کی کسی کمپنی میں وہ حضرت اقدسؑ کے سلسلہ بیعت میں داخل ہونے سے کئی سال پیشتر سے ممبر ہیں اور کہ وہ قریب چھ سو روپیہ کے اس کمپنی کو دے چکے ہیں۔ وہ خط حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کر کے اس کے متعلق استفتاء دریافت کیا۔ ملک صاحب موصوف نے اپنے خط میں یہ بھی لکھا کہ چونکہ میں نے حضور کے ہاتھ پر دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کر لیا ہے اس واسطے اگر اب یہ مسئلہ دین کے کسی رنگ میں بھی مخالف ہو تو میں خوشی سے اس سے دست بردار ہونا چاہتا ہوں۔

حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ ہم تو اس کے جواز کی کوئی راہ نہیں پاتے۔ جو نقصان ہو چکا ہے وہ خدا کی راہ میں نقصان سمجھ کر آئندہ گناہ سے توبہ کر لینی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اجر دینے والا ہے۔ اصل میں یہ بھی ایک قمار بازی ہے۔۱؎

۳۱؍مارچ ۱۹۰۸ء

(قبل نماز ظہر)

مجاہدہ اور ریاضت کی ضرورت

پیر عبداللہ شاہ صاحب ساکن پنڈ صاحب خاں ضلع اٹک جو کہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے ایک معزز خلیفہ ہیں اور ان کو پیر صاحب موصوف کی طرف سے بیعت لینے کی بھی اجازت ہے دو تین دن سے قادیان میں تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے آج حضرت اقدس کی خدمت میں نہایت ادب اور حق جوئی اور اطمینانِ قلب کی خاطر یوں عرض کی کہ ’’خدا کے بندوں کے ساتھ خدا کے نشان ہوتے ہیں اور آپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں مامور و مرسل بنا کر دنیا میں بھیجا ہے اور آپ کے ہزاروں نشان ظاہر ہو چکے ہیں مگر چونکہ میں ایک بہت دور دراز ملک کا رہنے والا ہوں اور ہم نے آپ کے ان نشانات سے کوئی حصہ نہیں لیا جس طرح آپ کی موجودہ جماعت کے لوگوں نے آپ کے نشانات کو دیکھا ہے۔ لہٰذا میری عرض یہ ہے کہ کوئی نشان دکھایا جاوے جو کہ ہمارے اطمینانِ قلب اور ترقی ایمان کا باعث ہو۔ ‘‘فرمایا۔ اصل بات یہ ہے کہ بموجب تعلیم قرآن شریف ہمیں یہ اَمر یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اپنے کرم، رحم، لطف اور مہربانیوں کی صفات بیان کرتا ہے اور رحمان ہونا ظاہر کرتا ہے اور دوسری طرف فرماتا ہے کہ لَّیۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی(النجم:۴۰) اور وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا(العنکبوت:۷۰) فرما کر اپنے فیض کو سعی اور مجاہدہ میں منحصر فرماتا ہے نیز اس میں صحابہ رضی اللہ عنہم کا طرز عمل ہمارے واسطے ایک اسوہ حسنہ اور عمدہ نمونہ ہے۔ صحابہؓ کی زندگی میں غور کر کے دیکھو۔ بھلا انہوں نے محض معمولی نمازوں سے ہی وہ مدارج حاصل کر لیے تھے؟ نہیں! بلکہ انہوں نے تو خدا کی رضا کے حصول کے واسطے اپنی جانوں تک کی پروا نہیں کی اور بھیڑ بکریوں کی طرح خدا کی راہ میں قربان ہو گئے جب جا کر کہیں ان کو یہ رتبہ حاصل ہوا تھا۔ اکثر لوگ ہم نے ایسے دیکھے ہیں وہ یہی چاہتے ہیں کہ ایک پھونک مار کر ان کو وہ درجات دلا دئیے جاویں اور عرش تک ان کی رسائی ہو جاوے۔

ہمارے رسول اکرمؐ سے بڑھ کر کون ہوگا وہ افضل البشر افضل الرسل والانبیاء تھے جب انہوں نے ہی پھونک سے وہ کام نہیں کئے تو اور کون ہے جو ایسا کر سکے؟ دیکھو! آپ نے غارِ حرا میں کیسے کیسے ریاضات کئے۔ خدا جانے کتنی مدت تک تضرّعات اور گریہ وزاری کیا کئے۔ تزکیہ کے لئے کیسی کیسی جانفشانیاں اور سخت سے سخت محنتیں کیا کئے جب جا کر کہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے فیضان نازل ہوا۔

اصل بات یہی ہے کہ انسان خدا کی راہ میں جب تک اپنے اوپر ایک موت اور حالت فنا وارد نہ کرلے تب تک ادھر سے کوئی پروا نہیں کی جاتی۔ البتہ جب خدا دیکھتا ہے کہ انسان نے اپنی طرف سے کمال کوشش کی ہے اور میرے پانے کے واسطے اپنے اوپر موت وارد کر لی ہے تو پھر وہ انسان پر خود ظاہر ہوتا ہے اور اس کو نوازتا اور قدرت نمائی سے بلند کرتا ہے۔ دیکھو قرآن شریف میں ہے۔ وَفَضَّلَ اللّٰہُ الۡمُجٰہِدِیۡنَ عَلَی الۡقٰعِدِیۡنَ اَجۡرًا عَظِیۡمًا(النساء:۹۶) قاعدین یعنی سست اور معمولی حیثیت کے لوگ اور خدا کی راہ میں کوشش اور سعی کرنے والے ایک برابر نہیں ہوتے۔ یہ تجربہ کی بات ہے اور سالہا ئے دراز سے ایسا ہی دیکھنے میں آ رہا ہے۔

انسان دنیا میں دوقسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ جن کو بدقسمتی سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ بعض اولیاء اور اقطاب دنیا میں ایسے بھی موجود ہیں کہ جن کی ایک توجہ سے انسان ولایت کے درجہ تک پہنچ سکتا ہے اور عرش تک کی اسے خبر ہو جاتی ہے۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو قرآن شریف میں تدبّر کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں اس کے پانے کے واسطے صدق و اخلاص سے کوشش اور ورزش کرتے ہیں اور یہی ہیں کہ آخر جن کی پُرسوز اور دردمندانہ محنتیں اور کوششیں ضائع نہیں کی جاتیں اور آخر یہ لوگ جو صبر سے خدا کے دروازے پر مانگتے ہیں اور اخلاص اور صدق سے کھٹکھٹاتے ہیں ان کے واسطے کھولا جاتا ہے اور آخر وہ اپنے صدق و اخلاص اور سچی تڑپ اور حقیقی اضطراب کی وجہ سے خدائی فیوض کے خزانوں کے مالک اور وارث بنائے جاتے ہیں۔

دیکھو! خدا بڑا بے نیاز ہے۔ اس کو اس بات کی کیا پروا ہے کہ کوئی جہنم میں جاوے یا کہ بہشت میں جاوے کسی کے دوزخ میں جانے سے خدا کا کچھ بگڑتا نہیں اور کسی کے بہشت میں جانے سے سنورتا نہیں۔ خدا کا اس میں ذاتی نفع یا نقصان کچھ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ(العنکبوت:۳) یعنی کیا بس اتنی بات سے کہ لوگ زبان سے اتنا کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے۔ خدا راضی ہو جاتا ہے اور حال یہ کہ ابھی ان کے اس قول کا امتحان نہیں کیا گیا کہ آیا وہ حقیقتاً مومن ہیں بھی یا کہ نہیں اور ان کے اس قول کا صدق وکذب ظاہر نہیں ہوا؟ پس سچی اور پکی بات یہی ہے کہ انسان اوّل صدق، اخلاص اور گدازش اختیار کر کے اپنے اوپر ہزاروں موتیں وارد کرے جب جا کر اللہ رحم کرتا ہے اور اس کی طرف جھانکتا ہے۔ جنتر منتر سے ولی بن جانے والے خیالات کے لوگ اور صرف ایک چھوہ سے آسمانی خزانوں کے مالک بن جانے کے خیالات رکھنے والے ہمیشہ محروم رہتے ہیں۔

ایک دفعہ ایک آدمی ہمارے پاس آیا اور کہا کہ میں تو ایسے کامل انسان کی تلاش میں ہوں جو دم بھر میں ایک توجہ سے ولی بنا دیوے۔ ہم نے بہتیرا سمجھایا مگر جب وہ باز نہ آیا تو ہم نے کہا کہ اچھا جاؤ تلاش کرو اگر کہیں ایسا کوئی قطب غوث مل جاوے۔ آخر ایک مدت دراز کے بعد وہ ہمیں پھر مل گیا۔ بُرے حال مندے دہاڑے۔ ہم نے پوچھا کہ کیوں تم کو ایسا پھونک مارنے والا آدمی ملا بھی جسے تم تلاش کرتے تھے؟ وہ چپکا ہی رہ گیا اور کچھ جواب نہ دے سکا۔

ہمارے عقیدے کے موافق تو یہ بات ہے کہ نہ اللہ نے اور نہ ہی اس کے رسولؐ نے، کسی نے بھی یہ راہ نہیں سکھائی۔ دیکھو! صحابہؓ نے کس قدر کوششیں کی ہیں جس کی قسمت میں ہی ایسا ہو کہ اس کی عمر ضائع ہو وہ کتاب اللہ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ قرآن شریف پڑھ کر دیکھ لو اس میں کہیں بھی ایسا نہیں ملے گا کہ خدا اس شخص پر بھی راضی ہوتا ہے جو اس کی رضامندی کی راہوں سے غافل اور لاپرواہی کرنے والا ہو۔ خدا تعالیٰ نے اپنی رضامندی کی جو راہیں مقرر کر دی ہیں۔ انہیں کے اختیار کرنے سے وہ راضی ہوتا ہے۔ صاف طور سے اس نے یہ دعا سکھا دی ہے کہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ(الفاتحۃ:۶) دیکھو! انسان انسان سے خوش ہو کر اس کو انعامات عطا کرتا ہے تو کیا خدا اپنی رضامندی کی راہوں پر چلنے والوں اور اس کی تلاش کرنے والوں سے محبت نہیں کرے گا؟ مگر استعداد بھی ہو اس کے فیوض کے لینے کی۔ ایک گندہ پھوڑا جس میں پیپ اور گندے مواد بھرے ہوں۔ اس پر کیسے رحم کیا جاوے؟ دیکھو! صحابہؓ نے حق فرماں برداری اور رضا جوئی ادا کیا تھا اور وہ ایک عمدہ نمونہ اور اعلیٰ مثال ہیں۔ اس ثبوت کے واسطے انہوں نے کس طرح اپنی جانیں قربان کر دیں، اطاعت کی، خون کی ندیاں بہا دیں تو وہ بھی ان کی اس حالت پر کیسا راضی ہو گیا۔

جتنے بھی بزرگ اور اولیاء گذرے ہیں وہ سب مجاہدات اور ریاضات میں اپنے اوقات گذراتے تھے۔ دیکھو! باوا فرید صاحب اور اَور جتنے بھی اولیاء اور ابدال گذرے ہیں یہ سب گروہ ایک وقت تک خاص ریاضات اور مجاہداتِ شاقہ کرنے کی وجہ سے ان مدارج پر پہنچے ہیں اور ان لوگوں نے بڑی سختی سے اور پورے طور سے اتباع سنّت کی ہے جب جا کر ان کی مشیخت، ننگ و ناموس اور خواہ نخواہ کی کبریائی نکلی اور وہ گویا کہ سوئی کے ناکے میں سے ہو کر نکلے ہیں جس سے ہمیشہ ایسے لوگ نکلا کرتے ہیں جب جا کر کہیں ان لوگوں کو یہ حالتیں نصیب ہوئی ہیں۔ دعائیں بھی انہی لوگوں کی قبول ہوتی ہیں ورنہ دیکھو جس طرح سے ایک حکیم کی دوائی بجز پرہیز کرنے کے مؤثر نہیں ہوتی اسی طرح سے دعا کی قبولیت کا بھی یہی راز ہے۔ دعا کچھ بھی اثر نہیں کر سکتی جب تک انسان پورا اور کامل پرہیز گار نہ ہو۔

لوگوں نے بعض اولیاء کی نسبت بعض جھوٹے قصے کہانیاں بنا رکھی ہیں وہ بھی مخلوق کی راہ میں بڑا بھاری پتھر اور روک ہو جاتے ہیں اور بہتوں کی ٹھوکر کا باعث ہو جاتے ہیں۔ دیکھو! حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق بھی ایک قصہ ایسا گھڑ رکھا ہے کہ ایک چور ان کے سامنے آیا اور انہوں نے گویا ایک ہی پھونک سے اس کو ولی اور قطب بنا دیا تھا۔ یاد رکھو کہ کوئی بھی کبھی بجز اپنے اوپر ایک موت وارد کرنے اور پوری اتباعِ سنّت کے کسی خاص اور اعلیٰ مقام پر نہیں پہنچا۔

فیضان بھی استعداد پر ہوتے ہیں

ہاں البتہ یہ بھی صحیح ہے کہ استعداد کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ بعض طبیعتیں اور استعدادیں ہی اس قسم کی اللہ تعالیٰ نے بنائی ہوتی ہیں اور ان میں ایسا مادہ رکھا ہوتا ہے کہ نخوت، تکبّر، عُجب، پندار وغیرہ رذیل اخلاق ان سے خود بخود آسانی سے نکل جاتے ہیں اور ایک فانی اور لاشَے بن جاتے ہیں اور جس طرح سے ایک دانہ زمین میں مل کر پہلے خاک ہو جاتا ہے تو پھر خدا اس کو قدرت سے بڑھاتا ہے۔ اسی طرح سے وہ لوگ بھی اوّل اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں کھو دیتے ہیں۔ جب خدا ان کو پھر زندہ کرتا ہے اور بڑھاتا اور پھیلاتا ہے اور ان کی قبولیت دنیا کے دلوں میں بڑھا دیتا ہے۔ پس اس طرح سے جو انسان کل مشکلات کو جو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے امتحان کے واسطے وقتاً فوقتاً وارد ہوں ان کی برداشت کر لیتا ہے اور اپنی طرف سے کوئی خاص حدود اور شرائط نہیں مقرر کرتا بلکہ خدا پر چھوڑ دیتا ہے تو خدا اس کو اپنے فضل سے وہ کچھ دکھا دیتا ہے جس سے اس کا ایمان قوی اور مضبوط ہو جاتا ہے اور سلیم قلب حاصل ہو جاتا ہے مگر جو لوگ ضد کرتے ہیں اور خدا کو اپنے ارادوں کے ماتحت چلانے کی خواہش کرتے ہیں وہ لوگ محروم رہ جاتے ہیں اور پھر خدا ایسے لوگوں کی پروا ہی کیا رکھتا ہے وہ بے نیاز ہے۔ اس کے کروڑوں بندے ہیں اگر نہیں مانتا تو نہ سہی وہ بھی جہنمی گروہ میں داخل کر دیا جاتا ہے خدا نشان دکھانے میں بندے کی خواہش اور ارادے کے ماتحت نہیں ہوتا۔ فیضان بھی استعداد پر ہوا کرتے ہیں۔ (مصفّا قطرہ باید کہ تا گوہر شود پیدا) جس طرح سے ایک کھایا ہوا دانہ زمین میں باقاعدہ طور سے کاشت کیا جانے پر بھی تو نہیں اگتا اور نہیں بارور ہوتا اسی طرح سے بد بخت لوگ جن پر فرد جرم شقاوت کا لگ چکا ہے خدا کے انعامات اور نشانات کے وارث نہیں ہو سکتے۔ بھلا نبیؐ سے بڑھ کر اور کون ہو گا؟ سارا قرآن شریف تدبّر سے پڑھ کر دیکھ لو کہ اللہ تعالیٰ نے فیض کے حصول کے جو سامان مقرر فرمائے ہیں انہی کی پیروی سے وہ فیضان ملے گا اور ان کی خلاف ورزی کرنے سے ہرگز ہرگز ممکن نہیں کہ کوئی خدا کے فیض کا وارث ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمِنۡہُمۡ شَقِیٌّ وَّسَعِیۡدٌ(ھود:۱۰۶) یعنی انسان بلحاظ اپنی استعدادوں کے دو طرح کے ہیں۔ ایک تو وہ گروہ جس کو ایسے سامانوں کے جمع کرنے میں اور ایسے اعمال بجالانے کی توفیق ہوتی ہے جو فیوض و برکات الٰہی کے انوار کے جاذب ہوتے ہیں اور وہ سعید کے نام سے پکارے جاتے ہیں۔ دوسرے وہ جن کے اعمال بد اور خبث باطن ان کی ترقیوں کے آگے روک ہو کر ان کو اعمال صالحات اور خدائی فیوض و برکات سے دور و مہجور کر دیتے ہیں اب بھی دیکھ لو کہ خوب زور سے تائیداتِ سماوی اور نشانات کی ایک بارش ہو رہی ہے اور ایک سیلاب کی طرح ترقی ہو رہی ہے مگر اس میں بھی وہی داخل ہو سکتے ہیں جن کی روحوں میں سعادت کا حصہ ہے۔ شقی اور بد بخت لوگ با وجود ہزارہا نشانات کے دیکھنے کے ان میں بھی وساوس شیطانی کو داخل کر کے سعادت اور قبولِ حق سے محروم رہ جاتے ہیں اور خدا کا بھی یہی منشا ہے کہ بعض سعادت کی وجہ سے سعید اور بعض شقاوت کی وجہ سے شقی ہو کر یہ اختلاف قیامت تک برابر قائم رہے۔ پس جن کو خدا تعالیٰ کا منشا ہی ہماری جماعت سے باہر رکھنے کا ہو اس کو ہم کیسے ہدایت دے سکتے ہیں۔

نشانات خداتعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں

دیکھو! کسی خاص شخص کی پروا نہ خدا کو منظور ہوا کرتی ہے اور نہ ہی اس کے رسول کسی خاص شخص کی ہدایت کے لئے زور دیا کرتے ہیں بلکہ ان کی دعائیں اور اضطراب عام خلقِ خدا کے واسطے ہوتے ہیں۔ دیکھو! رسول اکرمؐ سے بھی معجزات مانگے گئے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے کیا جواب دیا؟ وَقَالُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ(الانعام:۳۸) قُلۡ اِنَّمَا الۡاٰیٰتُ عِنۡدَ اللّٰہِ(الانعام:۱۱۰) اللہ تعالیٰ نے اقتراح کو منع کیا ہے اور تجربہ بتاتا ہے کہ اقتراح کرنے والے لوگ ہمیشہ ہدایت سے محروم ہی رہتے ہیں کیونکہ خدا نہ ان کی مرضی اور خواہشات کا تابع ہوتا ہے اور نہ وہ ہدایت پاتے ہیں۔ دیکھ لو! جب نشانات اور معجزات اقتراحی رنگ میں طلب کئے گئے جب ہی یہی جواب ملا قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا(بنی اسرآءیل:۹۴) خدا تعالیٰ کے اب بھی ہزاروں نشانات ہیں جو گننے سے گنے نہیں جا سکتے اور ہماری کتابوں میں تفصیل سے درج ہیں۔ ان کو دیکھا جاوے کیا وہ قابلِ قبول اور خدائی شان و شوکت کا رعب اپنے اندر رکھتے ہیں یا کہ کسی انسان کی طاقت میں ان کا امکان ممکن ہے؟ پھر جو نشانات خدا تعالیٰ نے خود اپنی مرضی اور خوشی سے دئیے ہیں ان سے تسلّی تشفّی نہ پاکر اپنی تسلّی تشفّی کے واسطے خاص نشانات طلب کرنا تو نہ قرآن میں ثابت ہے اور نہ کسی پہلے نبی کی زندگی میں ملتا ہے پس ہم سے کیوں منہاجِ نبوت سے باہر سوال کیا جاتا ہے ایسا ہرگز جائز نہیں۔ پہلے سوال کرنے والوں اور معجزات مانگنے والوں کو دیکھ لو ان سے کیا معاملہ ہوا؟ وہی اب موجود ہے۔

ہم نے خدائی کا دعویٰ تو نہیں کیا۔ نشان خدا کے ہاتھ میں ہیں۔ جب اور جس قسم کے وہ چاہے اپنی مرضی سے ظاہر کرے۔ وہ کسی زید و بکر کی خواہشات کا پابند اور ماتحت نہیں ہے اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایسا انسان کبھی کامیاب بھی ہوا ہو۔ وہی قرآن شریف موجود ہے اس میں دیکھ لیا جاوے۔ خدا کبھی مجبور نہیں ہوا۔ اور نہ وہ مجبور ہو کر ایسا کیا کرتا ہے بلکہ جب وہ چاہتا ہے اپنی مرضی سے مانگنے والوں کی خواہشات سے ہزار درجہ بڑھ چڑھ کر بھی نشان دکھا سکتا ہے اور دکھاتا ہے۔ اس کو کسی خاص انسان کی پروا نہیں ہوا کرتی کہ یہی شخص ہدایت پاوے گا تو یہ کارخانہ چلے گا۔

آپ بھی مسلمان ہیں بھلا آپ نے بھی کہیں قرآن شریف میں اس قسم کا مضمون پایا ہے کہ کبھی کسی نے اقتراحی رنگ میں معجزہ مانگا ہو اور پھر اس نے پا بھی لیا ہو۔ ہرگز ایسا ثابت نہ ہوگا کہ کسی نے اس طرح سے مانگا اور پھر پا لیا ہو۔ پس اگر ایسا ثابت نہیں ہوتا تو یہ ایک قسم کی جرأت اور بے ادبی ہے اس سے مسلمان کو بچنا چاہیے۔ پس جس طرح سے آنحضرتؐ نے نشان مانگنے والوں کو کہا اور جواب دیا تھا ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں کہ نشان خدا کے پاس ہیں وہ جس طرح کے چاہے اور جس وقت چاہے دکھا سکتا ہے۔ نشان دکھانا ہمارا کام نہیں ہے۔ خدا کے دکھائے ہوئے نشانات ہزاروں موجود ہیں۔ ہاں البتہ ان میں یہ بات ضرور ہے کہ وہ کسی کے خاص کر کے مانگے ہوئے نہیں ہیں بلکہ وہ ہیں جو خدا نے خود اپنے ارادے اور خوشی سے دکھائے۔

میں تو ایسے شخص کے اسلام میں ہی شک کرتا ہوں جو مسلمان کہلا کر قرآن شریف اور سنت رسول سے باہر کوئی سوال کرتا ہے اگر سعادت و رشد کا انسان میں کچھ بھی حصہ ہو اور حق طلبی کی پیاس اور سچی تڑپ موجود ہو تو کیوں خدائی نشانات میں غور نہیں کی جاتی اور ان کو کیوں قبول نہیں کیا جاتا؟ کیا وہ نشانات باسی ہو گئے ہیں کہ ان کی پروا نہیں کی جاتی اور کہا جاتا ہے کہ جو ہم مانگتے ہیں وہ ہمیں دیا جاوے۔

یاد رکھو! یہ بڑی بھاری جرأت اور بے ادبی ہے۔ خدا بڑا بے نیاز ہے اسے کسی کی پروا ہی کیا ہے۔ اگر ساری دنیا بھی اس سے منہ پھیر لے تو اس کا کچھ بگڑتا نہیں۔ کسی کی خواہشات کا ماتحت ہو کر اور مجبور ہو کر وہ نہیں چلے گا۔

تسلّی پانے کے لئے دُعا کی ضرورت

نماز ظہر کے بعد پھر پیر صاحب موصوف کو بلا کر نہایت نرمی، اخلاق اور محبت بھرے الفاظ سے یوں فرمایا کہ

اصل بات یہ ہے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب انسان کے دل کی حالت صاف ہوتی ہے اور اس میں خلوص اور حق کی تڑپ ہوتی ہے اور خدا کو جو دلوں کے حالات سے واقف ہے اس کے لئے کوئی اَمر ہدایت کا منظور ہوتا ہے تو خدا اپنے مامورین کے دل میں اس شخص کے لئے ایک خاص جوش اور توجہ پیدا کر دیتا ہے اور الہام خفی سے مامور کو اس کی طرف متوجہ کر دیتا ہے مگر یہ جب ہوتا ہے کہ خدا کو سائل کی حالت تقویٰ اور سچی تڑپ معلوم ہو جاوے۔ پس اس سے سمجھا جاتا ہے کہ حضورِ الٰہی میں سائل کا سوال قابلِ قبول ہو گیا ہے۔ پس آپ اس اَمر کے لئے خدا کے حضور دعا کریں اور توبہ استغفار سے کام لیں۔ ممکن ہے کہ آپ کی دعا کی وجہ سے خدا کوئی ایسے سامان مہیا کردے جس سے آپ کے واسطے تسلّی کے سامان مہیّا ہو جاویں۔ اس کے بغیر چارہ نہیں کیونکہ وہ بڑا بے نیاز ہے اور انسان اس کا ہر آن محتاج ہے اور اسی کی مدد کا محتاج ہے۔

اس کے بعد حضرت اقدسؑ تشریف لے گئے۔۱؎

۴؍اپریل ۱۹۰۸ء

خدا کے ماموروں میں کبریائی ہوتی ہے

کسی صاحب نے حضرت اقدسؑ کی خدمت میں اس قسم کی ایک درخواست کی تھی کہ یہاں کے رئیس اعظم کو حضرت اقدسؑ کے حالات کی تحقیق کا شوق ہے لہٰذا اگر ان کی خدمت میں براہِ راست اس قسم کی کوئی تحریر بھیج کر تحریک کی جاوے تو خالی از فائدہ نہ ہوگی۔

اس پر حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ ہم اس قسم کی سردردی کو ہرگز پسند نہیں کرتے۔ اگر ان کو اس قسم کی تحقیق کا خیال ہے تو کیوں خود اپنے ہاتھ سے درخواست نہیں کی۔ اصل میں ان لوگوں میں ایک قسم کا مخفی کبر ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ ایسا کرتے ہیں یہ لوگ رعایا پر تو حکومت کرتے ہیں مگر اس طرح سے خدا پر بھی حکومت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ نہیں جانتے کہ خدا کے ماموروں میں کبریائی ہوتی ہے کیونکہ وہ ظِلِّ الٰہی ہوتے ہیں۔ خدا سے ان کو تواضع اور بندوں سے لا پروائی ہوتی ہے بجز اس کے کہ ان لوگوں میں سے کوئی شخص خود توجہ کرے اور پھر خدا بھی اس کے لئے دل میں جوش پیدا کر دے۔ خواہ نخواہ بناوٹ سے توجہ کرنا بھی ایک قسم کی بُت پرستی ہے۔ خدا کے مامور کسی فردِ واحد کی خصوصیت کرنا بھی شرک جانتے ہیں کیونکہ ایسے لوگوں میں باریک در باریک رنگ میں کبر مخفی ہوتا ہے۔۲؎

۷؍ اپریل ۱۹۰۸ء

(ساڑھے دس بجے دن)

ایک امریکن میاں بیوی سے عیسائیت اور اپنی صداقت پر گفتگو

۷؍اپریل ۱۹۰۸ء کو ایک انگریز اور ایک لیڈی جنہوں نے اپنے آپ کو امریکہ (شکاگو) کے رہنے والے ظاہر کیا اور کہ وہ سیاحت کی غرض سے ملک بہ ملک پھر رہے ہیں اور ہندوستان میں بھی یہاں کے پولیٹیکل اور ریلیجس حالات سے واقفیت حاصل کرنے کے واسطے آئے ہیں لاہور سے ب ہمراہی ایک سکاچ انگریز قادیان میں قریب دس بجے کے پہنچے۔ مسجد مبارک کے نیچے کے دفتروں میں ان کو اچھی طرح سے بٹھایا گیا اور چونکہ انہوں نے حضرت اقدسؑ سے ملاقات کرنے کی درخواست کی اس لئے حضرت اقدس بھی وہیں تشریف لے آئے اور سلسلہ گفتگو مترجم (مترجم کا کام اوّل ڈپٹی علی احمد صاحب نے اور پھر جناب مفتی محمد صادق صاحب نے کیا )کے ذریعہ سے یوں شروع ہوا۔

سوال۔ ہم نے سنا ہے کہ آپ نے مسٹر ڈوئی کو کوئی چیلنج دیا تھا کیا یہ درست ہے؟

جواب۔ ہاں یہ درست ہے ہم نے ڈوئی کو چیلنج دیا تھا۔

سوال۔ کس بنا پر آپ نے اس کو چیلنج دیا تھا؟

جواب۔ ڈوئی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ میں خدا کا رسول ہوں اور کہ خدا نے مجھے بذریعہ الہام یہ بتایا ہے کہ مسیح خدا کا بیٹا اور خود خدا تھا اور کہ خود مسیح نے مجھے بحیثیت خدا ہونے کے ایسا الہام کیا ہے اور کہ (نعوذ باللہ) اسلام تباہ ہو جاوے گا اور کہ (نعوذ باللہ )آنحضرتؐ جھوٹے نبی تھے۔ چونکہ ہمیں خدا نے بذریعہ اپنے الہام کے یہ بتایا ہے کہ مسیح نہ خدا، نہ خدا کا بیٹا بلکہ صرف ایک پاکباز انسان اور رسول تھا اور کہ ڈوئی اپنے اس دعویٰ رسالت میں کاذب ہے کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک ہی وقت میں اسی ایک ہی خدا کی طرف سے ایک دوسرے کے بالکل متضاد اور مخالف راہوں پر چلنے والے دو رسول موجود ہوں۔ پس چونکہ اس طرح سے دنیا میں فساد پیدا ہوتا اور حق و باطل میں امتیاز اٹھ جاتا ہے ہم نے اسے صادق اور کاذب کے فیصلہ کرنے کے واسطے چیلنج دیا۔ اگرچہ مسیح کو ابن اللہ اور پھر واحد و یگانہ خدا ماننے والے لوگ دنیا میں بہت پائے جاتے ہیں مگر ان پر ایسا افسوس نہیں کیونکہ وہ خیالات اور عقائد صرف پرانے غلط اور مصنوعی قصے کہانیوں کی بنا پر ہیں اور وہ لوگ منقولات کے پیرو ہیں۔ مگر ڈوئی نے تو اپنے اس دعویٰ سے خدا پر ایک افترا کیا اور اس طرح سے خدا پر تہمت باندھ کر لوگوں کو گمراہ کرنا چاہا تھا اور وہ تو کہتا تھا کہ خود خدا نے مجھے ایسا بتایا ہے اور بحیثیت ایک خدا کے رسول ہونے کے وہ مسیح کی ابنیت اور الوہیت کی منادی کر کے لوگوں کو گمراہ کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اسے اس فیصلہ کے واسطے چیلنج دیا۔

سوال۔ ڈوئی نے تو ایک جھوٹا دعویٰ کیا تھا کیونکہ وہ اپنی صداقت ثابت نہیں کر سکا اور بائبل میں لکھا ہے کہ آخر زمانے میں جھوٹے نبی آئیں گے تو پھر آپ کے دعویٰ کی سچائی کی کیا دلیل ہے؟

جواب۔ فرمایا۔ بائبل میں جہاں یہ لکھا ہے کہ جھوٹے نبی آئیں گے وہاں سچے نبی کے آنے کی نفی تو نہیں کی گئی۔ یہ تو نہیں لکھا کہ سچا نہیں آئے گا بلکہ جھوٹے نبیوں کا آنا خود بخود اس اَمر کی صراحت کرتا ہے کہ ان میں سچا بھی ہوگا۔

سوال۔ حضرت مسیحؑ نے مُردے زندے کئے تھے چنانچہ ایک شخص جس کا نام۱؎ اسے زندہ کرنا ثابت ہے اور بائبل حضرت مسیحؑ کی وفات کے بہت جلدی بعد ہی ضبط تحریر میں لائی گئی اور بجز حضرت مسیح کے کسی اور کا مُردے زندہ کرنا ثابت نہیں ہے۔ پس یہ شہادت ان کے دعویٰ کی دلیل اور ثبوت کے واسطے کافی ہے۔

جواب۔ مُردوں کا زندہ ہونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بھی قرآن شریف میں مذکور ہے مگر ہم آنحضرتؐ کے مُردے زندہ کرنے کو روحانی رنگ میں مانتے ہیں نہ کہ جسمانی رنگ میں۔ اور اسی طرح پر حضرت عیسٰیؑ کا مُردے زندہ کرنا بھی روحانی رنگ میں مانتے ہیں نہ کہ جسمانی طور پر۔ اور یہ اَمر کوئی حضرت عیسٰیؑ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ بائبل میں لکھا ہے کہ ایلیا نبی نے بھی بعض مُردے زندہ کئے تھے بلکہ وہ حضرت عیسٰیؑ سے اس کام میں بہت بڑھے ہوئے تھے۔ اگر فرض محال کے طور پر ہم مان بھی لیں کہ بائبل میں حضرت عیسٰیؑ کا حقیقی مُردوں کے زندہ کرنے کا ذکر ہے تو پھر ساتھ ہی ایلیا نبی کو بھی خدا ماننا پڑے گا۔ اس میں حضرت عیسٰیؑ کی خدائی کی خصوصیت ہی کیا ہوئی؟ اور مابہ الامتیاز کیا ہوا؟ بلکہ یسعیاہ نبی کے متعلق تو یہاں تک بھی لکھا ہے کہ مُردے ان کے جسم سے چُھو جانے پر ہی زندہ ہو جایا کرتے تھے۔ ان باتوں سے جو کہ اس بائبل میں درج ہیں صاف شہادت ملتی ہے کہ مُردوں کا زندہ کرنا حضرت مسیحؑ کی خدائی کے واسطے کوئی دلیل نہیں ہو سکتا اور اگر اس کو دلیل مانا جاوے تو کیوں ان دوسرے لوگوں کو بھی جنہوں نے حضرت مسیح سے بھی بڑھ کر یہ کام کیا خدا نہ مانا جاوے اور خدائی کا خاصہ صرف حضرت مسیح کی ذات تک ہی محدود و مخصوص رکھا جاوے؟ بلکہ ہمارے خیال میں تو حضرت موسٰی کا سوٹے کا سانپ بنانے کا معجزہ مُردے زندہ کرنے سے بھی کہیں بڑھ کر ہے کیونکہ مُردہ کو زندہ سے ایک تشبیہ اور لگاؤ بھی ہے کیونکہ وہی چیز ابھی زندہ تھی اور مُردے میں زندہ ہونے کی ایک استعداد خیال کی جاسکتی ہے۔ مگر سانپ کو سوٹے سے کوئی بھی نسبت اور تعلق نہیں ہے وہ ایک نبات کی قسم کی چیز اور وہ سانپ۔ تو یہ سوٹے کا سانپ بن جانا تو مُردوں کے زندہ ہو جانے سے نہایت ہی عجیب بات ہے۔ لہٰذا حضرت موسٰی کو بڑا خدا ماننا چاہیے۔ مگر حقیقی اور اصلی بات یہ ہے کہ ہم حقیقی مُردوں کی زندگی کے قائل نہیں ہیں۔

سوال۔ حضرت مسیحؑ ازلی ابدی ہیں اور وہ اب بھی زندہ ہیں اور اس وقت خدا کے داہنے ہاتھ بیٹھے ہیں۔ ان کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آیا جس میں یہ خاصے پائے جاتے ہیں۔

جواب۔ ہم قطعی طور سے انکار کرتے ہیں کہ کوئی حقیقی مُردے بھی زندہ کر سکتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے فَیُمۡسِکُ الَّتِیۡ قَضٰی عَلَیۡہَا الۡمَوۡتَ(الزّمر:۴۳) باقی رہے آپ کے دعوے سو ہم ان کو بغیر کسی دلیل کے قبول نہیں کر سکتے۔ مُردوں کے زندہ کرنے کے ساتھ ان کا خود ازلی ابدی ہونا اور اب زندہ اور خدا کے داہنے ہاتھ بیٹھے ہونا بھی آپ کے دعوے ہیں جن کی کوئی دلیل آپ نے پیش نہیں کی اور دلیل کی جگہ ایک اور دعویٰ پیش کر دیا ہے۔

حضرت عیسٰیؑ کو بھی ہم اور انبیاء کی طرح خدا کا ایک نبی یقین کرتے ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ خدا کی راہ میں صدق اور اخلاص رکھنے والے لوگ خدا کے مقرب ہوتے ہیں۔ جس طرح خدا نے اپنے اور مخلص بندوں کے حق میں بباعث ان کے کمال صدق اور محبت کے بیٹے کا لفظ بولا ہے۔ اس طرح سے حضرت عیسٰیؑ بھی انہی کی ذیل میں ہیں۔ حضرت عیسٰیؑ میں کوئی ایسی بڑی طاقت نہ تھی جو اور نبیوں میں نہ پائی جاتی ہو اور نہ ہی ان میں کوئی ایسی نئی بات پائی جاتی ہے جس سے دوسرے محروم رہے ہوں۔ اگر حضرت عیسٰیؑ میں مردے زندہ کرنے کی طاقت تھی تو اب بھی ان کا کوئی پیرو مُردے زندہ کر کے دکھائے۔ مُردے زندہ کرنے تو درکنار بلکہ ہمارے مقابلہ میں کوئی نشان ہی دکھا دیوے۔

دیکھو! انسان اپنی انسانی حدود اور ہیئت کے اندر ترقی مدارج کر سکتا ہے نہ یہ کہ وہ خدا بھی بن سکتا ہو جب انسان خدا بن ہی نہیں سکتا تو پھر ایسے نمونے کی کیا ضرورت جس سے انسان فائدہ نہیں اٹھا سکتا؟ انسان کے واسطے ایک انسانی نمونے کی ضرورت ہے جو کہ رسولوں کے رنگ میں ہمیشہ خدا کی طرف سے دنیا میں آیا کرتے ہیں نہ کہ خدائی نمونہ کی جس کی پیروی انسانی مقدرت سے بھی باہر اور بالا تر ہے۔ ہم حیران ہیں کہ کیا خدا کا منشا انسانوں کو خدا بنانے کا تھا کہ ان کے واسطے خدائی کا نمونہ بھیجا تھا۔ پھر یہ اور بھی عجیب بات ہے کہ خدا ہو کر پھر یہود کے ہاتھ سے اتنی ذلّت اٹھائی اور رسوا ہوا اور ان پر غالب نہ آسکا بلکہ مغلوب ہو گیا۔

سوال۔ آپ نے جو دعویٰ کیا ہے اس کی سچائی کے دلائل کیا ہیں؟

جواب۔ میں کوئی نیا نبی نہیں۔ مجھ سے پہلے سینکڑوں نبی آچکے ہیں۔ توریت میں جن انبیاء کا ذکر ہے اور آپ ان کو سچا مانتے ہیں۔ جو دلائل ان کی صداقت کے اور ان کو نبی اور خدا کا فرستادہ یقین کرنے کے ہیں وہ آپ پیش کریں انہی دلائل میں میری صداقت کا ثبوت مل جائے گا۔ جن دلائل سے کوئی سچا نبی مانا جا سکتا ہے وہی دلائل میرے صادق ہونے کے ہیں۔ میں بھی منہاجِ نبوت پر آیا ہوں۔

سوال۔ نہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ سے وہ دلائل سنیں جن سے آپ کو اپنے صدق کا یقین ہوا اور آپ کو

کیسے معلوم ہوا کہ آپ نبی ہیں؟

جواب۔ خدا تعالیٰ نے ہمیں اپنے کلام سے اس بات کا علم دیا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے لوگوں کے ساتھ خدائی نشان ہوتے ہیں جو کہ اقتداری اور غیب پر مشتمل زبردست پیشگوئیوں کے رنگ میں ان کو عطا کئے جاتے ہیں۔ کوئی دشمن ان پر فتح نہیں پا سکتا اور باوجود کمزور اور ناتواں اور بے سرو سامان، بے یار و مددگار ہونے کے انجام کار انہی کی فتح ہوتی ہے ان کی مخالفت کرنے والوں کا نام و نشان مٹا دیا جاتا ہے منجملہ ہزاروں نشانات کے آپ لوگوں کے واسطے تو ایک ڈوئی کا معاملہ ہی جو کہ آپ کے ملک میں ہی ظہور میں آیا۔ اگر غور کریں تو کافی ہے۔ وہ دعویٰ کرتا تھا کہ مسیح خدا ہے۔ مگر ہمارے خدا نے ہم پر یہ ظاہر کیا کہ وہ خدا نہیں بلکہ ایک عاجز انسان ہے۔ تب ہم نے اس سے اس معاملہ میں خط و کتابت کی مگر وہ اپنے دعویٰ سے باز نہ آیا۔ آخر ہم نے خدا سے خبر پا کر اس کی ہلاکت اور نامرادی کی پیشگوئی کی۔ جو ہماری زندگی میں پوری ہونی ضروری تھی۔ چنانچہ ویسا ہی ظہور میں آیا اور وہ پیشگوئی کے مطابق نہایت ذلّت اور عذاب سے صادق کی زندگی میں ہی ہلاک ہو گیا۔ اب کوئی غور کرنے والا دماغ اور مان لینے والا دل چاہیے کہ اس میں غور کرے کہ آیا یہ پیشگوئی اس قابل ہے یا کہ نہیں کہ اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یقین کیا جاوے یا کیا یہ بھی کوئی انسانی منصوبہ ہے؟

دوم۔ آپ لوگوں کا یہاں آنا بھی تو ہمارے واسطے ایک نشان ہے جو اگر آپ کو اس کا علم ہوتا تو شاید آپ یہاں آنے میں بھی مضائقہ اور تأمّل کرتے۔ اصل میں آپ لوگوں کا اتنے دور دراز سفر کر کے یہاں ایک چھوٹی سی بستی میں آنا بھی ایک پیشگوئی کے نیچے ہے اور ہماری صداقت کے واسطے ایک نشان اور دلیل ہے کہاں امریکہ اور کہاں قادیان۔ مُردے زندہ کر لینا تو ایک طرف دھرا رہ گیا ایک کوڑھی (مجذوم) تو صحت یاب ہو نہ سکا اور اُسے تو حضرت مسیح چنگا نہ کر سکے تو مُردے زندہ کرنا کیسا؟ وہ باتیں تو ہزاروں سال کی ہیں اور خدا جانے ان میں کیا کچھ ملاوٹیں ہو گئی ہیں اور وہ تو صرف قصے کہانیوں کے رنگ میں باقی رہ گئی ہیں۔ ان کی صداقت کا کوئی نشان یا ان کے سچے ہونے کے کوئی آثار ہی پائے جاتے تو بھی ان کو مان لینے کی ایک راہ ہوتی۔ مگر وہ تو اب باتیں ہی باتیں اور نرے دعوے ہی دعوے ہیں۔ مگر ہم تو آجکل کی موجودہ اور زندہ مثال پیش کرتے ہیں۔

سوال۔ ڈوئی کے اس انجام کا تو ہر شخص اندازہ لگا سکتا تھا کیونکہ اس نے ایک جھوٹا دعویٰ کیا تھا اور یہ صاف بات ہے کہ جھوٹا مدعی ذلیل ہوا کرتا ہے۔ ہم تو آپ کے دعویٰ کی عظمت کی وجہ سے یہاں آئے ہیں کہ اتنا بڑا دعویٰ کرنے والا انسان کیسا ہو گا نہ یہ کہ آپ کے لئے نشان بننے کے واسطے آئے ہوں۔

جواب۔ فرمایا کہ اگر ڈوئی کو آپ لوگ ایسا ہی سمجھتے تھے اور جانتے تھے کہ وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے اور خدا پر بہتان باندھ رہا ہے تو پھر کیا اسی یقین سے آپ لوگوں نے لاکھوں بلکہ کروڑوں روپوں کے نذرانے اسے دیئے؟ اور بیش قیمت تحائف اس کے واسطے دور دراز سے مہیا کئے؟ اور اس کی حد سے زیادہ عزت کی؟ حتی کہ دس ہزار سے بھی زیادہ لوگ اس کے مرید بن گئے۔ تعجب کی بات ہے کہ ایک انسان کو با وجود جھوٹا یقین کرنے کے بھی کوئی یہ عزت و عظمت دیتا ہو؟ اور اپنا مال و جان اس پر نثار اور تصدق کرتا ہو؟

امر دوم کے لئے ان کو سنانا چاہیے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ ایک فرد واحد بھی ہمارا واقف نہ تھا اور کسی کو ہمارے وجود کا علم تک بھی نہ تھا بلکہ بہت کم لوگ تھے جن کو قادیان کے نام سے بھی اس وقت واقفیت ہوگی حتی کہ ہماری طرف کسی کا خط تک بھی نہ آتا تھا اور ہم ایک گمنامی کی حالت میں پڑے ہوئے تھے۔ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ یَّاۡتِیۡنَ مِنۡ کُلِّ فَجٍّ عَمِیۡقٍ(الحج:۲۸) اور یَّاۡتِیۡنَ مِنۡ کُلِّ فَجٍّ عَمِیۡقٍ(الحج:۲۸) اور وَلَا تُصَعِّرْ لِـخَلْقِ اللّٰہِ وَلَا تَسْئَمْ مِّنَ النَّاسِ اور بعض اس مضمون کے الہام زبان انگریزی میں بھی تھے۔ حالانکہ ہم زبان انگریزی سے بالکل نا آشنا ہیں اور یہ سب خبریں اس زمانہ کی ہیں جبکہ ان کے کچھ بھی آثار موجود نہ تھے اور ہماری اس وقت کی حالت کو دیکھنے اور جاننے والے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس حالت میں ایسی خبروں کے امکان کا وہم و گمان بھی نہیں ہوسکتا تھا بلکہ ان الہامات کے بعد اندرونی اور بیرونی طور سے یعنی خود اپنی قوم بھی اور دیگر عیسائی اور ہندو وغیرہ بھی سب دشمن ہو گئے مگر با وجود ان سب امور کے اللہ تعالیٰ کی نصرت ہمیشہ ہمارے شاملِ حال رہی اور اس نے ایسی ایسی تائیدات کیں کہ اب اس وقت چار لاکھ یا اس سے بھی کچھ زیادہ انسان ہمارے ساتھ ہیں اور دور دراز سے آتے ہیں۔ تحفے تحائف اور نقد و جنس جن کے وعدے خدا تعالیٰ کے کلام میں کئے گئے تھے سب پورے ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ پیشگوئیوں کو ان کے تمام لوازم پیشگوئی کے وقت اور حالت سے دیکھنا چاہیے اور پھر اس کا انجام دیکھنا چاہیے کہ کس کرّوفر سے پورا ہوا۔ اگر کسی مفتری کے سوانح میں بھی اس کی نظیر ہے تو پیش کرو اور اگر ہماری اس پیشگوئی کے ماننے سے انکار ہے تو کوئی نظیر دو کہ بجز خدا کی تائید اور نصرت کے کسی مفتری نے بھی ایسا عروج پا لیا ہو۔

حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا لڑکا عبدالسلام حضرت اقدسؑ کے نزدیک کھڑا تھا۔ حضرت اقدسؑ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے انگریزوں کے روبرو کیا اور فرمایا کہ

ان کو سمجھایا جاوے کہ اگر مثلاً یہ لڑکا آج اس حالت میں پیشگوئی کرے کہ میں ستر برس کی عمر پاؤں گا یا لاکھوں انسان دور دراز کی راہوں سے میرے دیکھنے کے واسطے آئیں گے یا کوئی اور عظیم الشان انقلاب کی خبر دے تو کیا ایسی پیشگوئیوں کی اس کی موجودہ حالت کے لحاظ سے کچھ وقعت کی جاوے گی؟ اور پھر اگر بالفرض جو کچھ اس نے اس حالت میں کہا ہو وہ ایک وقت پورا ہو جاوے تو اس وقت اس کو کوئی جھوٹا کہہ سکے گا؟ یا کسی کو یہ کہنے کا استحقاق ہو گا کہ یہ اَمر انسانی منصوبوں یا تدبیروں سے اسے حاصل ہوا ہے؟

حضرت اقدسؑ کے اتنے بیان کے بعد انہوں نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اسے تسلیم کرتے ہیں کہ پیشگوئیاں ثبوتِ دعویٰ کی ایک دلیل ہوتی ہیں مگر۔

سوال۔ ہم کوئی اور دلیل بھی سننا چاہتے ہیں۔

جواب۔ فرمایا۔ اور دلیل قبولیتِ دعا ہے۔

اس موقع پر حضرت حکیم الامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرزند صاحبزادہ عبدالحی بھی حضرت اقدس کے قریب ہی موجود تھا۔ حضرت حکیم الامت نے اسے آگے کر دیا اور حضرت نے اسے بازو سے پکڑ کر ان لوگوں کے روبرو کر کے یوں فرمایا کہ

ایک شخص نے جو کہ مولوی صاحب کا دشمن تھا اس نے آپ کے متعلق یہ کہا تھا کہ آپ ابتر ہیں اور اشتہار بھی شائع کر دیا تھا۔ اس پر ہم نے دعا کی وہ جنابِ الٰہی میں قبول کی گئی اور ہمیں بتایا گیا کہ لڑکا پیدا ہوگا اور اس کا یہ نشان ہوگا کہ اس کے بدن پر پھنسیاں ہوں گی اور یہ اس کی پیدائش کے چھ برس پہلے کا واقعہ ہے۔ چنانچہ خدا کے فضل سے لڑکا پیدا ہوا اور اس کے بدن پر پھنسیاں نکلیں جن کے داغ اب تک موجود ہیں۔ علاوہ ازیں اور ایسے ہزاروں نمونے قبولیتِ دعا کے موجود ہیں۔

سوال۔ آپ کے آنے کا مقصد کیا ہے اور اب آئندہ کیا ہوگا؟

جواب۔ فرمایا کہ ہمارے آنے کا یہ مقصد ہے کہ عیسائیوں ‘ہندوؤں اور مسلمانوں میں جو غلطیاں (خواہ وہ عملی ہوں یا اعتقادی )پیدا ہو گئی ہیں ان کی اصلاح کی جاوے۔ بھلا آپ ہی بتائیں کہ آیا عیسائیت یورپ میں اپنی اصلیت پر ہے؟ یا عیسائیوں نے توریت یا انجیل کی تعلیم کے کسی نقطہ پر بھی عمل کیا ہے؟ تمام یورپ کی عملی حالت کیا کہہ رہی ہے؟ آیا ان لوگوں کے دلوں میں خدا پر بھی ایمان ہے؟ اور کیا ان کو خدا کا خوف بھی ہے؟

(ان باتوں کے جواب میں انگریز نے صاف اقرار کیا کہ واقعی نہ تو توریت پر عمل ہے اور نہ ہی یورپ کی عملی حالت درست ہے

)فرمایا کہ ہمیں خدا نے بتایا ہے کہ حضرت مسیحؑ خدا کے ایک برگزیدہ بندے اور نبی تھے۔ یہ نہیں کہ وہی ایک ہی ایسا نمونہ تھے اور پھر خدا نے اپنا فیضان کسی پر نازل نہیں کیا اور ہمیشہ کے واسطے ایسی برکات کا دروازہ بند کر دیا ہو بلکہ وہ خدا جس کی شان بلند ہے اور وہ تمام ملکوں کا ایک اکیلا خدا ہے۔ اس نے اپنے فیضان بھی تمام ملکوں پر کئے ہیں۔

دیکھو! توریت چھوڑ دی گئی۔ اس کی تعلیمات کی کچھ پروا نہیں کی جاتی۔ اس میں ہزاروں غلطیاں لگائی گئی ہیں۔ حضرت عیسٰیؑ کی شان کی بے ادبی کی جاتی ہے کیونکہ ان کو خواہ نخواہ خدا بنایا جاتا ہے۔ کیا یہ کافی نہ تھا کہ ان کو خدا کے ایک برگزیدہ بندے مان کر ان کی پیروی کی جاتی؟ اور ان کے نقش قدم پر ان کا نمونہ اور رنگ اختیار کیا جاتا۔

انسان کا یہ کام نہیں کہ وہ خدا بن جاوے تو پھر اسے ایسے نمونے کیوں دیئے جاتے ہیں؟ جب کسی کو کوئی نمونہ دیا جاتا ہے تو اس سے نمونہ دینے والے کا یہ منشا ہوتا ہے کہ اس نمونہ کے رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش کی جاوے اور پھر وہ اس شخص کی طاقت میں بھی ہوتا ہے کہ اس نمونے کے مطابق ترقی کر سکے خدا جو فطرتِ انسانی کا خالق ہے اور اسے انسانی قویٰ کے متعلق پورا علم ہے اور کہ اس نے انسانی قویٰ میں یہ مادہ ہی نہیں رکھا کہ خدا بھی بن سکے تو پھر کیوں اس نے ایسی صریح غلطی کھائی کہ جس کام کے کرنے کی طاقت ہی انسان کو نہیں دی اس کام کے کرنے کے واسطے اسے مجبور کیا جاتا۔ کیا یہ ظلم صریح نہ ہوگا؟ رسالت اور نبوت کے درجہ تک تو انسان ترقی کر سکتا ہے کیونکہ وہ انسانی طاقت میں ہے پس اگر حضرت عیسٰیؑ خدا تھے تو ان کا آنا ہی لاحاصل ٹھہرتا ہے اور اگر ان کو نبی اور رسول مانا جاوے تو بے شک مفید ثابت ہوتا ہے۔

پھر اس میں خدا تعالیٰ کی بھی ہتک اور بے ادبی لازم آتی ہے۔ گویا خدا نے بخل کیا کہ اپنی تجلیات کا مظہر صرف ایک ہی شخص کو ٹھہرایا اور اپنے فیوض کو صرف حضرت عیسٰیؑ تک ہی محدود کر دیا۔ غور تو کرو اگر کسی بادشاہ کی رعایا صرف ایک فرد واحد ہی ہو تو کیا اس میں اس بادشاہ کی تعریف ہے یا ہتک؟ یا اگر یہ کہا جاوے کہ بادشاہ کا فیض اور انعام صرف ایک خاص نفس واحد تک ہی محدود ہے تو پھر اس میں اس بادشاہ کی کیا بڑائی ہوگی؟ پس جب خدا کے کروڑوں بندے دنیا کے مختلف ممالک میں موجود تھے تو کیا وجہ کہ خدا نے اپنے فیوض کو صرف بنی اسرائیل ہی تک محدود رکھا۔ دیکھو! بند پانی بھی آخر کار گندہ ہو جاتا ہے اور کیچڑ کی صحبت سے اس میں ایک قسم تعفن پیدا ہو جاتا ہے تو پھر خدا کے اوپر ایسا بہتان باندھنا کہ اس کے فیوض اور برکات صرف ایک خاص قوم تک ہی محدود اور بند ہیں خدا کی شان کی ہتک اور بے ادبی ہے۔

حضرت عیسٰیؑ کے خدا بنانے میں فائدہ کیا؟ اور ان کی شان میں ترقی کیا؟ بلکہ الٹی اس میں تو ان کی ہتک اور کسرِ شان ہے۔ مَردمی اس میں ہے کہ جو کام وہ کرتے تھے وہ کام کئے جاویں اور ان کی تعلیم پر عمل درآمد کر کے اچھا نمونہ دکھانے کے ذریعہ دکھایا جاوے کہ وہ خود اعلیٰ قسم کے انسان تھے اور ان کے انفاس میں تزکیہ کا اثر اور تعلیم میں اعلیٰ درجہ تک ترقی کرنے کی طاقت موجود تھی۔ زبانی تعریف کرنے میں غلو کرنے سے کیا فائدہ؟ کیا ان کی تعلیم کا اثر اسی زمانہ تک محدود تھا یا اب بھی ہے؟ اور اگر ہے تو کہاں؟ اور کس ملک میں؟

افسوس آتا ہے اگر عیسٰیؑ اب آ جاویں تو وہ تو اس قوم کو پہچان بھی نہ سکیں۔ ہم ان سے محبت رکھتے ہیں اور آپ محبت نہیں رکھتے ہوں گے کیونکہ آپ کو ان کی خبر نہیں۔ ہم نے تو ان کو بارہا دیکھا ہے۔ بلکہ ہم تو جانتے ہیں کہ اب بھی خود آپ لوگوں کے گھر میں ہی تفرقہ ہے اختلاف ہے۔ بعض ایسے فرقے عیسائیوں میں اب بھی موجود ہیں جو حضرت عیسٰیؑ کو خدا نہیں مانتے بلکہ صرف ایک برگزیدہ نبی مانتے ہیں اور قرآن شریف سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے تو جب گھر میں ہی اختلاف ہے تو کیوں وہ راہ اختیار نہیں کی جاتی جو سلامتی کی راہ ہے؟ اور کیوں وہ راہ ترک نہیں کی جاتی جو کہ بالاتفاق خطرناک ثابت ہو چکی ہے؟ باقی رہا یہ کہ اب دنیا میں کیا ہوگا؟ سو اس کے متعلق ہم صرف اتنا کہہ دینا کافی سمجھتے ہیں کہ دنیا اپنی اس موجودہ حالت پر نہیں رہے گی بلکہ اس میں ایک عظیم الشان تغیر اور انقلاب واقع ہوگا۔

سوال۔ مسیح کو آپ نے کس طور سے دیکھا ہے؟ آیا جسمانی رنگ میں دیکھا ہے؟

جواب۔ فرمایا کہ ہاں جسمانی رنگ میں اور عین حالت بیداری میں دیکھا ہے۔

سوال۔ ہم نے بھی مسیح کو دیکھا ہے اور دیکھتے ہیں مگر وہ روحانی رنگ میں ہے۔ کیا آپ نے بھی اسی طرح دیکھا ہے جس طرح ہم دیکھتے ہیں۔

جواب۔ نہیں ہم نے ان کو جسمانی رنگ میں دیکھا ہے اور بیداری میں دیکھا ہے۔

اس تقریر کے بعد حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ ان کے واسطے چائے تیار ہے لہٰذا ان کو چائے پلائی جاوے اور اس طرح سے جلسہ برخاست ہوا۔ انگریزوں نے حضرت اقدسؑ کا بہت بہت شکریہ ادا کیا اور کچھ کھانا اور چائے پینے کے بعد مدرسہ کو دیکھتے ہوئے جہاں ایک طالب علم ہائی کلاس محمد منظور علی شاکر نے سورہ مریم کی چند ابتدائی آیات نہایت خوش الحانی سے پڑھ کر سنائیں کیونکہ اس وقت ان کی قرآن شریف کی گھنٹی تھی۔ قرآن شریف سن کر وہ خوش ہوئے اور پھر بٹالہ کو چلے گئے۔

کھانا کھانے کے میز پر بیٹھے ہوئے انہوں نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے ایک سوال کیا کہ مرزا صاحب کی وفات کے بعد کیا ہوگا؟ جس کا جواب مفتی صاحب موصوف نے یوں دیا کہ آپ کی وفات کے بعد وہ ہوگا جو خدا کو منظور ہوگا اور جو ہمیشہ انبیاء کی موت کے بعد ہوا کرتا ہے۔۱؎

۱۱؍اپریل ۱۹۰۸ء

(بوقتِ سیر)

مرزا احمد بیگ کے بارہ میں پیشگوئی پر اعتراض کا جواب

کسی معترض کا ایک خط حضرت مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب کی خدمت میں آیا تھا جس میں اس نے مرزا احمد بیگ والی پیشگوئی پر اعتراض کیا تھا۔ حضرت مولوی صاحب موصوف نے حضرت اقدسؑ کی خدمت میں بوقتِ سیر اس کا تذکرہ کیا۔

حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ

ایسے آدمی سے پہلے یہ دریافت کرنا چاہیے کہ آیا تم کلمہ گو بھی ہو یا کہ نہیں؟۲؎ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اَور انبیاء سابقین پر بھی ایمان رکھتے ہو یا کہ نہیں؟ تعجب آتا ہے ایسے لوگوں کی حالت اور عقل پر کہ ہزارہا قسم کے نشانات دیکھتے ہیں ان کی تو کچھ پروا نہیں کرتے اور نہ ان سے کوئی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مگر جب ایک ایسے اَمر کو جو متشابہات میں سے ہوتا ہے بوجہ اپنی کم فہمی اور کم عقلی کے اس کی حقیقت کو نہ سمجھنے کے باعث اعتراض کرنے بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ ان سے اگر یہ سوال کیا جاوے کہ اور جو ہزار ہا بیّن نشان موجود ہیں۔ ان سے تم نے کیا فائدہ اٹھایا ہے؟ تو یقیناً ان سے کوئی جواب بن نہیں آتا۔ حالانکہ وہ اَمر جس کو وہ اپنی کم علمی کی وجہ سے نشانہ اعتراض بناتے ہیں عین سنّت اللہ کے موافق ایک اَمر ہوتا ہے اور کوئی بھی نبی نہیں گذرا جو اس سنّت سے باہر رہا ہو۔ پس اس سنّت سے انکار کرنے والے کا ایمان کیسے خطرے میں ہے! وہ صرف ہماری پیشگوئی پر ہی اعتراض نہیں کرتا بلکہ آنحضرتؐ کی بھی تکذیب کرتا ہے اور بلکہ اس طرح سے تو دوسرے تمام انبیاء کی بھی تکذیب لازم آتی ہے۔

دیکھو! آنحضرتؐ کا صلح حدیبیہ کا معاملہ جس میں بعض بڑے بڑے اکابر صحابہؓ کو بھی ٹھوکر لگ گئی تھی مگر پھر خدا نے ان کی دستگیری فرما کر ان کو بچا لیا حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اس میں شریک تھے۔ پھر آنحضرتؐ کا اس اَمر کا اظہار فرمانا کہ ابوجہل مسلمان ہو جاوے۱؎ گا۔ ماسویٰ ان کے حضرت عیسٰیؑ کے بارہ حواریوں کے بارہ تختوں کا معاملہ۔ حضرت یونسؑ نبی کی قوم کا معاملہ۔ حضرت موسٰی کی زندگی میں بھی ایسا معاملہ موجود ہے۔۲؎ تو پھر ہم حیران ہیں کہ ایسا معترض مسلمان کہلا کر کس کس بات کا انکار کرے گا۔ یہ تو ایک بیہودہ بات ہے کہ جس بات کی سمجھ نہ آئی اس کا انکار کر دیا۔

دیکھو! ہماری اس پیشگوئی کی ایک ٹانگ تو اسی وقت پیشگوئی کے عین مطابق ٹوٹ گئی۔ جس کی وجہ سے ان لوگوں پر خوف طاری ہوا اور انہوں نے صدقہ اور خیرات سے اور اَور طرح سے عجز وانکسار، گریہ وبکا سے توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ نے بھی مطابق اپنی سنّت کے ان سے سلوک کیا۔ دیکھو!

حضرت یونس نبی کا قوم سے جو عذاب کا وعدہ ہوا تھا اس میں تو کوئی بھی شرط موجود نہ تھی اور صاف اور صریح الفاظ تھے کہ (چالیس۴۰ دن) کے بعد تم پر عذاب نازل ہو جاوے گا۔ پس جب ایک غیر مشروط اور قطعی پیشگوئی کا توبہ اور اضطراب اور گریہ وبکا سے ٹل جانا سنّت اللہ کے مطابق ہے تو پھر مشروط پیشگوئی پر کیوں اعتراض کیا جاتا ہے؟ جس میں صاف یہ الفاظ موجود ہیں تُوْبِیْ تُوْبِیْ فَاِنَّ الْبَلَآءَ عَلٰی عَقِبِکِ۔۔۱؎

حضرت شاہ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی کتاب فتوح الغیب میں لکھتے ہیں کہ قَدْ یُوْعَدُ وَلَا یُوْفٰی کہ بعض وعدے خدا تعالیٰ کے ایسے بھی ہوتے ہیں جو وہ پورے نہیں کئے جاتے۔ خود قرآن شریف میں مشابہات کا ذکر ہے۔ مومن اور کافر میں ایسے مشابہات سے تمیز ہو جاتی ہے اور چھپے ہوئے مرتد اور منافق لوگوں کے الگ کرنے کا یہ ایک آلہ ہوتے ہیں۔ خدا اگر متشابہات نہ رکھتا تو دنیا دنیا ہی نہ رہتی۔ منافق کا قاعدہ ہے کہ اس کو دریا بہتا ہوا نظر نہیں آتا اور وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا بلکہ خس و خاشاک کی طرف جھک جاتا ہے اور مرتد ہو جاتا ہے۔

اگر ہم منہاج نبوت سے باہر کوئی اَمر پیش کرتے ہوں اور کوئی نئی بات اپنی طرف سے پیش کرتے تو اعتراض کا موقع بھی تھا۔ قرآن شریف میں آیا ہے کہ لَوۡ کُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا کُنَّا فِیۡۤ اَصۡحٰبِ السَّعِیۡرِ(الملک:۱۱) پس جس شخص نے نہ کبھی صحبت میں رہ کر ہماری باتوں کو سنا ہو اور نہ خود منہاجِ نبوت کے ثبوت پر پرکھنے کی عقل ہو وہ کیسے ہدایت پاسکتا ہے؟۲؎ دیکھو موجودہ زمانے میں خدا نے اتنی کثرت سے زبردست نشانات کا ذخیرہ جمع کر دیا ہے اور ایسے ایسے اسباب مہیا کر دیئے ہیں کہ اگر ایک لاکھ نبی بھی ان نشانات سے اپنی نبوت کا ثبوت کرنا چاہے تو کر سکے کیونکہ اس وقت نہ تو ایسی ضرورتیں تھیں اور نہ ہی ایسے ذرائع واسباب مہیّا تھے۔ دیکھو! اگر انبیاء کی بعثت کے ساتھ ہی بڑے بڑے زبردست نشانات اور کھلے کھلے معجزات دکھا دئیے جایا کریں تو پھر ایمان ایمان ہی نہیں رہ سکتا بلکہ وہ تو عرفان ہو جاتا ہے۔ اور پھر اس میں انسان کو ثواب اور مدارج کے حصول کی کوئی وجہ ہی نہیں رہتی۔ اگر ابتدا ہی میں کھلی کھلی کامیابیاں اور فتوحات ہو جاتیں تو سب سے پہلے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہونے والے بدمعاش اور فاسق فاجر لوگ ہی ہوتے۱؎ اور صادق اور کاذب، مخلص اور منافق میں تمیز کی کوئی راہ باقی رہ نہ جاتی اور نعوذ باللہ اس طرح سے تو امان اٹھ جاتی۔ دیکھو! حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فراستِ صحیحہ اور نورِ ایمان سے پہچان لیا تھا کیا انہوں نے کوئی معجزہ مانگا تھا؟ ہرگز نہیں بلکہ صرف آنحضرتؐ کی زندگی کے ابتدائی واقعات ہی سے آپ کے صدق دعویٰ کو بڑی قوت اور استقلال سے قبول کر لیا۔

نبی کے بعد خلیفہ بنانا خداتعالیٰ کا کام ہے

صوفیاء نے لکھا ہے کہ جو شخص کسی شیخ یا رسول اور نبی کے بعد خلیفہ ہونے والا ہوتا ہے تو سب سے پہلے خدا کی طرف سے اس کے دل میں حق ڈالا جاتا ہے۔ جب کوئی رسول یا مشائخ وفات پاتے ہیں تو دنیا پر ایک زلزلہ آ جاتا ہے اور وہ ایک بہت ہی خطرناک وقت ہوتا ہے مگر خدا کسی خلیفہ کے ذریعہ اس کو مٹاتا ہے اور پھر گویا اس اَمر کا از سر نو اس خلیفہ کے ذریعہ اصلاح واستحکام ہوتا ہے۔

آنحضرتؐ نے کیوں اپنے بعد خلیفہ مقرر نہ کیا اس میں بھی یہی بھید تھا کہ آپؐ کو خوب علم تھا کہ اللہ تعالیٰ خود ایک خلیفہ مقرر فرماوے گا کیونکہ یہ خدا کا ہی کام ہے اور خدا کے انتخاب میں نقص نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کام کے واسطے خلیفہ بنایا اور سب سے اوّل حق انہی کے دل میں ڈالا۔

حضرت مولانا المکرم سید محمد احسن صاحب نے عرض کیا کہ حضور کے الہام میں بھی تو یہی مضمون ہے اَلْـحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَکَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ اور آیتِ استخلاف میں بھی اللہ تعالیٰ نے اسناد لَیَسْتَخْلِفَنَّ اور لَیُمَکِّنَـنَّ کی اپنی ہی طرف فرمائی ہے نہ کہ رسولؐ کی طرف۔

حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ ایک الہام میں اللہ تعالیٰ نے ہمارا نام بھی شیخ رکھا ہے۔ اَنْتَ الشَّیْخُ الْمَسِیْحُ الَّذِیْ لَا یُضَاعُ وَقْتُہٗ اور ایک اور الہام میں یوں آیا ہے کہ کَمِثْلِکَ دُرٌّ لَّا یُضَاعُ۔ ان الہامات سے ہماری کامیابی کا بیّن ثبوت ملتا ہے۔

مومن خود جماعت ہے

حضرت مولٰنا مولوی سید محمد احسن صاحب نے ایک اور خط کے متعلق عرض کیا۔ حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ ہمارے پاس تو جب کوئی اس قسم کا خط آتا ہے کہ میں اکیلا ہوں تو ہمیں اس کے ایمان ہی کا خطرہ ہو جاتا ہے۔ مومن خود جماعت ہے۔ مومن اکیلا کبھی نہیں رہتا۔ جس کا خدا پر ایمان کامل ہوتا ہے خدا خود اسے اکیلا نہیں رہنے دیتا۔

غیر احمدی کولڑکی دینے میں گناہ ہے

فرمایا کہ غیر احمدیوں کی لڑکی لے لینے میں حرج نہیں ہے کیونکہ اہلِ کتاب عورتوں سے بھی تو نکاح جائز ہے بلکہ اس میں تو فائدہ ہے کہ ایک اور انسان ہدایت پاتا ہے۔ اپنی لڑکی کسی غیر احمدی کو نہ دینی چاہیے۔ اگر ملے تو لے بے شک لو۔ لینے میں حرج نہیں اور دینے میں گناہ ہے۔

حُبِّ دنیا کا غلبہ سلبِ ایمان کا باعث بنتا ہے

فرمایا۔ بعض لوگ جو یَکۡتُمُ اِیۡمَانَہٗۤ(المؤمن:۲۹) میں داخل ہیں اور بعض مخفی در مخفی معقول وجوہات کے باعث وہ اپنے ایمان کا اظہار ابھی نہیں کر سکتے اور وہ ایسے نہیں ہیں کہ لَاۤ اِلٰی ہٰۤؤُلَآءِ وَلَاۤ اِلٰی ہٰۤؤُلَآءِ(النساء:۱۴۴) بلکہ انہوں نے تمہارے پاس اپنے ایمان اور صدق خلوص کا اظہار کر دیا ہے تو وہ لوگ معذور ہیں اور بعض وہ لوگ جو اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ مکفّرین میں داخل نہیں ہیں ان کو چاہیے کہ وہ اس قسم کا ایک اشتہار دے دیں کہ وہ ہمارے مکفّرین میں سے نہیں ہیں اور جو لوگ ہم کو کافر وغیرہ ناموں سے یاد کرتے ہیں ان سے اپنے آپ کو یوں الگ کر دیں بلکہ یہ بھی لکھ دیں کہ جو لوگ ہمیں کافر کہتے ہیں وہ آنحضرتؐ کی حدیث کے مطابق ایک مسلمان کو کافر کہنے کی وجہ سے خود کافر ہیں۔ لیکن چپکے چپکے کبھی ہم میں آئے تو ہمارے بن بیٹھے اور ان میں گئے تو ان کے ہو گئے۔ یہ ایمانداروں کی روش نہیں ہے۔ ہم کوئی غیب کا علم تو رکھتے نہیں کہ کسی کے دل کی حالت سے ہمیں آگاہی ہو جاوے۔ پس یہ ایک راہ ہے کہ جس سے یہ لوگ اگر ان کے دلوں میں کوئی نفاق کا مرض نہیں ہے تو ہمارے مکفّرین میں سے الگ ہو کر الگ ایک جماعت بن سکتے ہیں اور اگر فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ ۙ فَزَادَہُمُ اللّٰہُ مَرَضًا(البقرۃ:۱۱) والا معاملہ ہے اور ان کے دلوں میں واقعی نفاق کی آگ ہے تو اس طرح سے ان کی بیماری اور بھی زیادہ ہو جاوے گی اور ظاہر ہو جاوے گی۔

اصل بات یہ ہے کہ بعض اوقات حُبِّ دنیا کا غلبہ بھی سلبِ ایمان کا باعث ہو جایا کرتا ہے لہٰذا دنیوی امور میں بہت انہماک اور دنیوی امور کو اتنی اہمیت دے دینا کہ گویا دین، ایمان اور آخرت کی پروا ہی نہ رہے۔ یہ بھی خطرناک زہریلا مرض ہے۔ یہ تو وہ زمانہ ہے جس کے متعلق رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ تم پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے جاؤ، درختوں کے تنوں سے لگ جاؤ اور جس طرح سے بن پڑے زمانہ کے فتن سے اپنے ایمان کو سلامت رکھنے کی کوشش کرو۔ پس اگر بحالت مجبوری کوئی احمدی اکیلا ہی ہو تو اسے تنہا ہی نماز گذار لینی چاہیے اور کوشش اور دعا کرنی چاہیے کہ خدا اسے جماعت بنا دے۔

بعض دفعہ سختی کرنا ضروری ہوتا ہے

اصل میں مومن کو بھی تبلیغ دین میں حفظِ مراتب کا خیال رکھنا چاہیے۔ جہاں نرمی کا موقع ہو وہاں سختی اور درشتی نہ کرے اور جہاں بجز سختی کرنے کے کام ہوتا نظر نہ آوے وہاں نرمی کرنا بھی گناہ ہے۔۱؎

گر حفظِ مراتب نہ کنی زندیقی

دیکھو! فرعون بظاہر کیسا سخت کافر انسان تھا مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسٰی کو یہی ہدایت ہوئی کہ فَقُوۡلَا لَہٗ قَوۡلًا لَّیِّنًا(طٰہٰ:۴۵) رسول اکرمؐ کے واسطے بھی قرآن شریف میں اسی قسم کا حکم ہے وَاِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلۡمِ فَاجۡنَحۡ لَہَا(الانفال:۶۲) مومنوں اور مسلمانوں کے واسطے نرمی اور شفقت کا حکم ہے۔ رسول اللہ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بھی ایسی ہی حالت بیان کی گئی جہاں فرمایا ہے کہ مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕ وَالَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ(الفتح:۳۰)

چنانچہ ایک دوسرے مقام پر آنحضرتؐ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ منافق اور کفّار کا سختی سے مقابلہ کرو چنانچہ فرماتا ہے کہ یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الۡکُفَّارَ وَالۡمُنٰفِقِیۡنَ وَاغۡلُظۡ عَلَیۡہِمۡ(التوبۃ:۷) ۳) غرض ان آیات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خود خدا تعالیٰ نے بھی حفظِ مراتب کا لحاظ رکھا ہے۔ مومنین اور ایمانداروں کے واسطے کیسی نرمی کا حکم ہے اور کفار میں سے بعض میں مادہ ہی ایسا ہوتا ہے کہ ان کو سختی کی ضرورت ہوتی ہے جس طرح سے بعض بیماریوں یا زخموں میں ایک حکیم حاذق کو چیرا پھاڑی اور عملِ جرّاحی سے کام لینا پڑتا ہے۔

حضرت ابنِ عربی لکھتے ہیں کہ فرعون کے لئے کیوں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰی کو نرمی کا سلوک کرنے کی ہدایت کی۔ اس میں بھید یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ آخر اسے ایمان نصیب ہو جاوے گا۔ چنانچہ اٰمَنْتُ کا لفظ اسی کے منہ سے نکلا۔ بلکہ وہ تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ قرآن شریف سے اس کی نجات بھی ثابت ہے۔ قرآن شریف میں یہ نہیں لکھا کہ فرعون جہنم میں داخل ہوگا۔ صرف یہی لکھا ہے کہ یَقۡدُمُ قَوۡمَہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فَاَوۡرَدَہُمُ النَّارَ(ھود:۹۹)

آسمانی بجلی

فرمایا۔ خدا تعالیٰ کی ہیبت ناک اور غضب کی تجلیات کا سب سے اکمل اور اَتم مظہر صاعقہ ہے اس میں دونوں باتیں سمندر میں میٹھے اور کڑوے پانی کی طرح خدا کے غضب اور مراحم کی پہلو بہ پہلو چلی جا رہی ہیں۔۱؎ ایک طرف صاعقہ خدا کے غضب کا مظہر ہے تو دوسری طرف روشنی اور بارش خدا کے رحم کے مظہر بھی موجود ہیں۔

فرمایا۔ ایک الہام بھی ہے کہ اِنِّیْٓ اَنَا الصَّاعِقَۃُ

فرمایا کہ بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بغیر اس کے کہ بجلی اپنا اثر کرے موت کا باعث ہو جایا کرتی ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ ہم نے دیکھا کہ ایک موقع پر کچھ گدھے صرف بجلی کے صدمے سے ہی مَر گئے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم سیالکوٹ میں ایک مکان پر تھے اور پندرہ یا سولہ آدمی اور بھی ہمارے ساتھ تھے۔ دفعتاً بجلی اس مکان کے دروازے پر پڑی اور دروازے کی شاخ کو دو ٹکڑے کر دیا اور مکان دھواں دھار ہو گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا بڑی کثرت سے گندھک جلائی گئی ہے۔ پھر چند منٹ کے بعد ہی ایک دوسرے محلے میں ایک مندر تھا اور اس کے پیچ در پیچ راستے تھے۔

چنانچہ اس موقعہ پر آپؑ نے کھڑے ہو کر اپنے دست مبارک کی لکڑی سے زمین پر ذیل کی صورت کا ایک نقشہ کھینچا۔

 اور فرمایا کہ اس قسم کے پیچ در پیچ راستوں سے ہو کر وہ بجلی اندر مندر میں گئی اور وہاں ایک سادھو بیٹھا تھا اس پر جا کر پڑی چنانچہ وہ سادھو ایک چو.۲؎ کی طرح ہو گیا ہوا تھا۔

صداقت کی ایک دلیل

فرمایا کہ ہمارا معاملہ تو غور کرنے والوں کے واسطے بالکل صاف اور کھلا ہے۔ عقلمند انسان کے واسطے تو اگر اور کوئی بھی معجزہ نہ ہو (حالانکہ یہاں تو ہزاروں زمینی اور آسمانی نشانات اور تائیدات موجود ہیں) تو بھی اتنی مدت دراز تک ہمارے وجود کا (ایسے زبردست دعاوی اور ایسے خطرناک حالات کے باوجود )ا بقاء ہی کافی ہے۔ غور کا مقام ہے کہ ابھی تیرھویں صدی میں سے کچھ سال باقی تھے جب سے ہمارا دعویٰ ہے اور اب چودھویں صدی کے بھی چھبیس برس گذر چکے ہیں۔ اندرونی بیرونی دشمنوں کی مخالفتیں اور جوشیلی تدابیر کے ساتھ ساتھ خود ہمارے اپنے وجود کی بعض خطرناک بیماریوں کے ہوتے ہوئے پھر بھی خدا نے ہمیں معجزانہ زندگی عطا کی ہے پھر خود ہی کہتے ہیں کہ آنحضرتؐ کے واسطے تو ایک آدھ گھڑی کا افترا بھی خطرناک اور رگِ جان کے کٹ جانے کا باعث تھا مگر ہمیں خدا نے باوجودیکہ ہم ان کے زُعم میں مفتری ہیں برابر تیس۳۰ (برس) تک مہلت دی اور پھر یہی نہیں بلکہ ہزار ہا قسم کے زمینی آسمانی نشانوں سے ہمارے صدق دعویٰ کی تائید کی اور سارے معاملے ہمارے ساتھ صادقوں والے کئے۔ ایک بھی ایسی بات نہ کی جو کاذبوں والی ہو۔ پھر بایں خدا جانے ان کی عقلوں پر کیسی جہالت کے پردے پڑ گئے۔ اور یہ کیوں نہیں سمجھتے۔۱؎

۱۲؍اپریل ۱۹۰۸ء

فرمایا۔ یہ زندگی کچھ شَے نہیں۔

ذوالقرنین

فرمایا۔ وہ ذوالقرنین جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے اَور ہے اور سکندر رومی اَور شخص ہے۔ بعض لوگ ہر دو کو ایک سمجھتے ہیں۔ صدیوں میں سے حصہ لینے والا ہے۔۲؎

بلا تاریخ

سفوفِ بھلاوہ کے خواص

سفوفِ بھلاوہ کا ذکر تھا۔ فرمایا۔ باہ کے مایوسوں کے واسطے مفید ہے۔

فرمایا۔ یہ اَمر گناہ میں داخل ہے کہ انسان لوگوں کے ہنسی ٹھٹھے سے ڈر کر حق گوئی سے رہ جاوے۔

سلطان روم کا ذکر خیر

سلطان روم کا ذکر تھا۔ فرمایا۔ اس گئے گذرے زمانہ میں بھی اسلامی بادشاہوں نے خدا تعالیٰ کی یاد کی راہ کو نہیں چھوڑا۔ سنا گیا ہے کہ سلطان روم نماز جمعہ کے واسطے مسجد جاتا ہے اور فقراء کو ملتا ہے۔

اس زمانہ کی سب سے اہم ضرورت

فرمایا۔ ہمارے اصول میں یہ بات ہے کہ سچائی کو دنیا میں پھیلا یا جائے۔ اس زمانہ میں بڑی ضرورت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کو ثابت کیا جاوے۔

قولِ موجّہ

فرمایا۔ قولِ موجّہ صفت انبیاء ہے۔

اونٹ کی سواری کا طبی فائدہ

فرمایا۔ اونٹ کی سواری بھی محلل ہے۔ امراض ذیا بیطس۔ سلسل البول کو مفید ہے۔

مبلّغ کے لئے ایک اہم بات

فرمایا۔ مبلّغ کو چاہیے کہ امراء کو جو لمبا کلام نہیں سن سکتے ایک چھوٹا سا ٹوٹکا سنائے جو سیدھا کان کے اندر چلا جائے اور اپنا کام کرے۔

تعدّدازدواج

تعددِ ازواج کا ذکر تھا۔ فرمایا کہ شریعتِ حقّہ نے اس کو ضرورت کے واسطے جائز رکھا ہے۔ ایک لائق آدمی کی بیوی اگر اس قسم کی ہے کہ اس سے اولاد نہیں ہوسکتی تو وہ کیوں بے اولاد رہے اور اپنے آپ کو بھی عقیم بنالے۔ ایک عمدہ گھوڑا ہوتا ہے تو اس کی نسل بھی قائم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انسان کی نسل کو کیوں ضائع کیا جاوے؟

پادری لوگ دوسری شادی کو زنا کاری قرار دیتے ہیں تو پھر پہلے انبیاء کی نسبت کیا کہتے ہیں؟ حضرت سلیمان کی کہتے ہیں کئی سو بیویاں تھیں اور ایسا ہی حضرت داؤد کی تھیں۔ نیت صحیح ہو اور تقویٰ کی خاطر ہو تو دس بیس بیویاں بھی گناہ نہیں۔ اگر نعوذ باللہ عیسائیوں کے قول کے مطابق ایک سے زیادہ نکاح سب زنا ہیں تو حضرت داؤد کی اولاد سے ہی ان کا خدا بھی پیدا ہوا ہے۔ تب تو یہ نسخہ اچھا ہے اور بڑی برکت والا طریق ہے۔

پادری لوگ نکمّی باتوں کی طرف جاتے اور اصل اَمر کو نہیں دیکھتے۔ انجیل میں لکھا ہے جس کے اندر رائی کے برابر ایمان ہے وہ پہاڑ کو کہے کہ یہاں سے اٹھ کر وہاں چلا جا تو وہ چلا جائے گا۔ عیسائیوں کو چاہیے کہ اپنے ایمان کا ثبوت دیں ورنہ سب بے ایمان ہیں۔ مسلمانوں میں ہمیشہ ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں جنہوں نے نشانات دکھلائے۔

ایک سرکاری افسر کی ملاقات کے وقت فرمایا۔

خدا وہ دن لاوے کہ روحانی ملاقاتیں ہوں۔ جسمانی ملاقات کوئی شَے نہیں نہ زبان کوئی شَے ہے دل چاہیے۔

فرمایا۔ جس قدر کوئی شخص انصاف اختیار کرتا ہے اسی قدر روشن ضمیر ہو جاتا ہے۔

فرمایا۔ جو لوگ اس نبی کی تکذیب کرتے ہیں وہ سب انبیاء کے مکذّب ہیں۔

فرمایا۔ دین آسمان سے آیا ہے اور ہمیشہ آسمان سے ہی اس کو آبپاشی حاصل ہوتی ہے۔۱؎

۱۵؍ اپریل ۱۹۰۸ء

(بوقتِ ظہر)

لوگوں کے پیچھے پڑنا مومن کا کام نہیں ہے

ایک شخص کا خط حضرت اقدس کی خدمت میں پیش ہوا کہ فلاں شخص نماز نہیں پڑھتا، روزے نہیں رکھتا، یہ ہے، وہ ہے، اس کو کافر کہنا چاہیے یا نہیں۔ وہ احمدی ہے یا نہیں؟

فرمایا۔ اس کو کہنا چاہیے کہ تم اپنے آپ کو سنبھالو اور اپنی حالت کو درست کرو۔ ہر شخص کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ الگ ہے۔ تم کو کس نے داروغہ بنایا ہے جو تم لوگوں کے اعمال پڑتال کرتے پھرو اور ان پر کفر یا ایمان کا فتویٰ لگاتے پھرو۔ مومن کا کام نہیں کہ بے فائدہ لوگوں کے پیچھے پڑتا رہے۔

مشورہ بابرکت ہوتا ہے

ایک صاحب کے ایک خوفناک جگہ پر مکان بنوانے اور بسبب کمی روپیہ تعمیر مکان کو پورا نہ کر سکنے کا ذکر تھا۔

فرمایا۔ افسوس ہے کہ بعض لوگ پہلے مشورہ نہیں کر لیتے۔ مشورہ ایک بڑی بابرکت چیز ہے۔

اس پر حضرت مولوی نور الدین صاحب نے فرمایا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ خود اپنے رسول کو حکم دیتا ہے کہ وہ مشورہ کیا کرے تو پھر دوسروں کے لئے یہ حکم کس قدر زیادہ تاکید ہو سکتا ہے۔ آجکل لوگوں کا یہ حال ہے کہ یا تو مشورہ پوچھتے نہیں یا پوچھتے ہیں تو پھر مانتے نہیں۔

حضرت نے فرمایا کہ

پھر ایسی بات کی لوگ سزا بھی پاتے ہیں۔ ایسوں کے حالات سے زیادہ تر وہ لوگ اب فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو عبرت حاصل کریں۔۱؎


بلا تاریخ

اعلیٰ عہدہ پر فائز لوگوں کے لئے نصیحت

فرمایا کہ آجکل کے نواب اور امراء عیاشی میں پڑے ہوئے ہیں۔ دین کی طرف بالکل توجہ نہیں۔ ہر قسم کے عیش وعشرت کے کاموں میں مصروف ہیں مگر دین سے بالکل غافل ہیں اور دوسرے آدمی بھی جب ان کو کوئی بڑا عہدہ ملتا ہے یا کسی اعلیٰ جگہ پر مقرر ہوتے ہیں تو پھر غافل ہو جاتے ہیں اور بالکل مخلوق کی بہتری کا خیال نہیں رہتا۔ دنیا میں عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ جب انسان کسی اعلیٰ مرتبہ کو حاصل کر لیتا ہے تو پھر وہ مغرور ہو جاتا ہے حالانکہ وہ اس عرصہ میں بہت کچھ نیک کام کر سکتا ہے اور بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ وَلَئِنۡ کَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ(ابراھیم:۸) اگر تم میرا شکر ادا کرو تو میں اپنے احسانات کو اور بھی زیادہ کرتا ہوں اور اگر تم کفر کرو تو پھر میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔ یعنی انسان پر جب خدا تعالیٰ کے احسانات ہوں تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کا شکر ادا کرے اور انسانوں کی بہتری کا خیال رکھے اور اگر کوئی ایسا نہ کرے اور الٹا ظلم شروع کر دے تو پھر خدا تعالیٰ اس سے وہ نعمتیں چھین لیتا ہے اور عذاب کرتا ہے۔ آجکل نواب اور راجہ بالکل بھولے ہیں اور پھر اپنے عیش و آرام میں پڑے ہوئے ہیں۔ دوسرے لوگوں کو چاہیے کہ ایسے کاموں میں مخلوق کی بھلائی کا خیال رکھیں اور ان باتوں کو بھولیں نہیں جن سے اہلِ ملک کا فائدہ ہو اور ایسا نہ ہو کہ بڑا عہدہ پا کر انسان خدا کو بھول جائے اور اس کا دماغ آسمان پر چڑھ جائے بلکہ چاہیے کہ نرمی اور پیار سے کام کیا جائے اور چاہیے کہ جو شخص کسی ذمہ داری کے عہدہ پر مقرر ہو تو وہ لوگوں سے خواہ امیر ہوں یا غریب نرمی اور اخلاق سے پیش آئے کیونکہ اس میں نہ صرف ان لوگوں کی بہتری ہے بلکہ خود اس کی بھی بہتری ہے۔۱؎

۲۰؍اپریل ۱۹۰۸ء

(قبل ظہر)

خانہ کعبہ کی عظمت دلوں میں کم نہیں ہونی چاہیے

شیخ فضل کریم صاحب جنہوں نے اسی سال حج کعبۃ اللہ کا شرف حاصل کیا ہے چند روز سے دارالامان میں تشریف رکھتے ہیں۔ قبل ظہر حضرت اقدسؑ سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے اس سال کی ناقابل برداشت تکالیف کا جو حجاج کو برداشت کرنی پڑیں سارا حال بیان کیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ انگلش حدود سے نکل کر ٹرکش حدود میں داخل ہوتے ہی ایسی مشکلات کا سامنا ہوا کہ جن کی وجہ سے یقیناً کہا جا سکتا ہے کہ یہ مشکلات ایسی ہیں جن سے حج کے بالکل بند ہو جانے کا اندیشہ ہے خصوصاً اہل ہند کے واسطے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ٹرکی حدود میں کورنٹائن کی ناقابلِ برداشت سختیاں وہاں کے ڈاکٹروں اور حاکموں کا سخت درجہ کا حریص اور طامع ہونا اور اپنے فائدے کے لئے ہزاروں جانوں کی ذرہ بھر پرواہ نہ کرنا، لوگوں کا سامان خوراک پوشاک وغیرہ بھپارہ میں ضائع کر دینا یا نقدی کا ضائع جانا۔ اور پھر جو چیز ایک مصری حاجی دس روپے میں حاصل کر سکتا ہے وہ ہندیوں کو تیس روپے تک بھی بمشکل دینا۔ رستوں میں باوجودیکہ سلطان المعظم نے ہر دو میل پر کنواں تیار کروا رکھا ہے عمال اور کارکنوں کا بغیر دو چار آنے لئے کے پانی کا گلاس تک نہ دینا اور پھر راستہ میں باوجود چوکی پہروں کے انتظام کے جو کہ سلطان المعظم کی طرف سے کیا گیا ہے پرلے درجے کی بدامنی کا ہونا یہاں تک کہ انسان اگر راستے سے دو چار گز بھی اِدھر اُدھر ہو جاوے تو پھر وہ زندہ نہیں بچ سکتا اور پھر ہندیوں سے خصوصاً سخت برتاؤ ہونا، بات بات پر پٹ جانا اور کوئی داد فریاد نہیں۔ بات بات پر کذّاب، بطّال اور الفاظ حقارت سے مخاطب کیا جانا وغیرہ وغیرہ ایسے سامان ہیں کہ بہت ہی مصیبت کا سامنا نظر آتا ہے۔

یہ سارا ماجرا سن کر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہم آپ کو ایک نصیحت کرتے ہیں۔ ایسا ہو کہ ان تمام امورِ تکالیف سے آپ کی قوتِ ایمانی میں کسی قسم کا فرق اور تزلزل نہ آوے۔ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ابتلا ہے۔ اس سے پاک عقائد پر اثر نہیں پڑنا چاہیے۔ ان باتوں سے اس متبرک مقام کی عظمت دلوں میں کم نہ ہونی چاہیے کیونکہ اس سے بدتر ایک زمانہ گذرا ہے کہ یہی مقدس مقام نجس مشرکوں کے قبضہ میں تھا اور انہوں نے اسے بُت خانہ بنا رکھا تھا۔ بلکہ یہ تمام مشکلات اور مصائب خوش آئند زمانے اور زندگی کے درجات ہیں۔ دیکھو! آنحضرتؐ کے مبعوث ہونے سے پہلے بھی زمانہ کی حالت کیسی خطرناک ہوگئی تھی اور کفر و شرک اور فساد اور ناپاکی حد سے بڑھ گئے تھے تو اس ظلمت کے بعد بھی ایک نور دنیا میں ظاہر ہوا تھا۔ اسی طرح اب بھی امید کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان مشکلات کے بعد کوئی بہتری کے سامان بھی پیدا کر دے گا اور خدا کوئی سامانِ اصلاح پیدا کر دے گا بلکہ اسی متبرک اور مقدس مقام پر ایک اور بھی ایسا ہی خطرناک اور نازک وقت گذر چکا تھا جس کی طرف آنحضرتؐ کو اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی تھی۔ اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصۡحٰبِ الۡفِیۡلِ(الفیل:۲) غرض یہ اب تیسرا واقعہ ہے۔ اس کی طرف بھی اللہ تعالیٰ ضرور توجہ کرے گا اور خدا کا توجہ کرنا تو پھر قہری رنگ میں ہی ہوگا۔

دین العجائز والوں سے مواخذہ میں نرمی ہوگی

ایک شخص کابلی سید عبدالمجید خان نامی چند روز سے قادیان میں آیا ہوا تھا۔ اس نے عرض کی کہ حضور میرا ارادہ ہے کہ حضور کے قدموں میں رہوں اور تحصیلِ علوم دینی کروں۔ فرمایا کہ اب تمہاری عمر اس قابل نہیں کہ تحصیلِ علوم کی طرف توجہ کرو۔ تمہارا کام یہ ہے کہ محنت کرو اور کماؤ اور خدا کی راہ میں تقویٰ اختیار کرو۔ تمام علوم صحیحہ کی انتہائی غرض عمل ہوتی ہے۔ اگر انسان پڑھ کر عمل نہیں کرتا تو وہ سخت گناہ کرتا ہے اور پکڑ بھی سخت ہوگی۔ مولوی ہو اور پھر گناہ کرے یہ خدا تعالیٰ کے غضب اور قہر کی علامت ہے اور جو لوگ دین العجائز رکھتے ہیں اور معمولی مسلمان ہیں مواخذہ میں بھی ان سے نرمی کی جاوے گی۔ پس کوشش کرو۔ عملی حالت میں ترقی کرو۔۱؎

۲۱؍اپریل ۱۹۰۸ء

(قبل از ظہر)

ایمان قوی ہوتو نشہ چھوڑا جا سکتا ہے

تمباکو، افیون اور شراب وغیرہ کے متعلق ذکر تھا کہ ان کی عادت جن لوگوں کو ہو جاتی ہے پھر ان کا چھوٹنا مشکل ہو جاتا ہے اور بالخصوص شراب تو ایک ایسی چیز ہے کہ چھوڑ دینے کے بعد بھی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس کا عام دوری امراض کی طرح بعض اوقات دورہ ہو جاتا ہے اور وہ ایسا خطرناک اور شدید دورہ ہوتا ہے کہ انسان پاگل ہو جاتا اور آخر کار پی ہی لیتا ہے خواہ پھر ہوش سنبھالنے پر توبہ ہی کر لے۔

فرمایا۔ وہ معاصی کا دورہ ہوتا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کے آگے کوئی بات اَنہونی نہیں ہے۔ جہاں قوتِ ایمانی ہو وہاں معاصی ٹھہر ہی نہیں سکتے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی کی طرف دیکھا جاوے کہ انہوں نے حرمت کی آیت نازل ہونے کے بعد کیسی چھوڑی کہ پھر اس توبہ کی حالت میں ہی مَر گئے۔ وہاں تو شراب نے کبھی دورہ نہ کیا اور نہ ہی کسی کو ایسا از خود رفتہ کر لیا کہ وہ مجبور ہو جاتا۔ حکمِ حرمت کے دن شہر کی گلیوں میں ٹخنوں تک بہہ نکلی۔ مگر یہ سب کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسی اور تاثیر کا نتیجہ تھا کہ صحابہؓ کے ایمان ایسے قوی ہو گئے تھے کہ شراب بھی جس کا وہ لوگ پانی کی جگہ استعمال کرتے تھے شرک کی طرح ایسی نابود ہوئی کہ پھر نہ عود کر سکی۔

آنحضرتؐ کو اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی سے کیسا معصوم رکھا تھا کہ باوجودیکہ آپ کے تمام رشتہ دار اور اقرباء اور ہم قوم اس خبیث چیز کے استعمال میں مستغرق تھے اور آنحضرتؐ نے اپنی ابتدائی چالیس سالہ زندگی انہی لوگوں میں بسر کی مگر کسی کا اثر آپؐ پر نہ ہوا۔ گویا روز ازل ہی سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو معصوم بنایا تھا اور یہ آپؐ کی فطرت سلیم کی اور عصمت کی ایک خاص دلیل ہے۔۱؎

۲۲؍اپریل ۱۹۰۸ء

احباب جماعت پر نکتہ چینی نامناسب ہے

کسی شخص کا یہ اعترض پیش ہوا کہ احمدیوں نے کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی بات بات پر آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

فرمایا۔ ایسے اعتراض باریک در باریک بغض کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ کیا شرک گناہ اور ناپاک زندگی سے توبہ کرنا تبدیلی نہیں ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ جو شخص بیعت کر کے جاتا ہے اس میں تبدیلی ضرور ہوتی ہے۔ شاذ و نادر پر اعتراض کرنا ایمانداری نہیں ہے بلکہ قرآن شریف نے تو نکتہ چینی کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ کَذٰلِکَ کُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیۡکُمۡ(النساء:۹۵) یعنی تم بھی تو ایسے ہی تھے۔ خدا نے تم پر احسان کیا۔

غور سے دیکھا جاوے تو جو کچھ ترقی اور تبدیلی ہماری جماعت میں پائی جاتی ہے وہ زمانہ بھر میں اس وقت کسی دوسرے میں نہیں ہے۔ دیکھو! آنحضرتؐ کی وفات کے بعد دنیا میں کیسا طوفانِ ارتداد برپا ہوا تھا کہ سوائے چند ایک جگہ کے جماعت بھی نہ ہوتی تھی۔ معترض کو کوئی خاص عناد اور بغض ہے اور اس نے ظلم کیا ہے اور خواہ مخواہ حملہ کیا ہے ورنہ ان لوگوں کی تبدیلی تو حیرت میں ڈالتی ہے۔ معترض غیب دان تو ہے نہیں کہ دوسرے کے دل کے خیالات نیک و بد پر اطلاع پاسکے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان اندر ہی اندر تبدیلی کرتا ہے اور خدا سے ایک خاص خلوص اور تعلق محبت رکھتا ہے۔ مگر وہ دوسروں کی نظر سے پوشیدہ ہوتا ہے۔۱؎

۲۴؍اپریل ۱۹۰۸ء

دعا کے نتیجہ میں امراض سے شفا

فرمایا کہ بیماریوں میں جہاں قضاء مبرم ہوتی ہے وہاں تو کسی کی پیش ہی نہیں جاتی اور جہاں ایسی نہیں وہاں البتہ بہت سی دعاؤں اور توجہ سے اللہ تعالیٰ جواب بھی دے دیتا ہے اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مشابہ بمبرم ہوتی ہے اس کے ٹلا دینے پر بھی خدا قادر ہے۔ یہ حالت ایسی خطرناک ہوتی ہے کہ تحقیقات بھی کام نہیں دیتی اور ڈاکٹر بھی لا علاج بتا دیتے ہیں مگر خدا کے فضل کی یہ علامت ہوتی ہے کہ بہتر سامان پیدا ہوتے جاویں اور حالت دن بدن اچھی ہوتی جاوے ورنہ بصورت دیگر حالت مریض کی دن بدن ردّی ہوتی جاتی ہے اور سامان ہی کچھ ایسے پیدا ہونے لگتے ہیں کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔۱؎

فرمایا۔ اکثر ایسے مریض جن کے لئے ڈاکٹر بھی فتویٰ دے چکتے ہیں اور کوئی سامان ظاہری زندگی کے نظر نہیں آتے۔ ان کے واسطے دعا کی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو معجزانہ رنگ میں شفا اور زندگی عطا کرتا ہے گویا کہ مُردہ زندہ ہونے والی بات ہوتی ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مُردوں کو زندہ کرنا

حضرت عیسیٰؑ کے مُردوں کو زندہ کرنے کے جو قصے مشہور ہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان میں جھوٹ کی بہت کچھ ملاوٹ کی گئی ہے ورنہ اگر ہزاروں مُردے زندہ ہوجاتے تو یہودی کیا بالکل ہی اندھے ہو گئے تھے کہ ایسا کھلا کھلا نشان دیکھ کر بھی کہ جس میں غیب بالکل اٹھ گیا اور گویا کہ خدا خود سامنے نظر آگیا ایسی حالت دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے۔ کیا وہ ایسے ہی قسی القلب تھے کہ ایمان لانا تو درکنار بلکہ خود حضرت مسیحؑ کو جن کے لئے ایسے ایسے معجزات خدا نے دکھائے کہ گویا آسمان کے کُل پردے اٹھادئیے ان کو پکڑ کر سُولی دیا اور ان کے سر پر کانٹوں کا تاج پہنایا۔

اصل بات یہی ہے کہ زمانہ دراز گذرا ہے۔ اصل کتاب موجود نہیں۔ نرے تراجم ہی تراجم رہ گئے ہیں۔ خدا جانے کیا کچھ ان لوگوں نے اپنی طرف سے بڑھایا اور کیا کیا نکال دیا۔ اس کا علم خدا ہی کو ہے۔

فرمایا کہ خدا کے معجزات تو ہوتے ہیں مگر ان سے فائدہ صرف مومن ہی اٹھاتے ہیں۔ بے ایمان لوگ ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے اور محروم ہی رہ جاتے ہیں کیونکہ معجزات میں بھی ایک قسم کا پردہ اور غیب ضرور ہوتا ہے۔

مسیحیت کی ناقص تعلیم کے نتائج

مکرمی جناب ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے ذکر کیا کہ بعض انگریز ان پادریوں سے سخت متنفر ہوتے ہیں حتی کہ بعض تو گر جوں کی بجائے اس کے کہ ان میں نماز پڑھیں کسی اور مفید کام پر لگا لینا بہتر جانتے ہیں۔

اس پر حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ اکثر ایسے کہ وہ تو خدا سے انکار کر بیٹھے ہیں کیونکہ عیسائی ہو کر سب سے پہلی نیکی شراب پینا ہے اور پھر آگے جوں جوں ترقی کرے گا اور اپنے کمال کو پہنچے گا تو کفّارہ پر ایمان لاوے گا اور یقین کرے گا کہ شریعت لعنت ہے اور کہ حضرت مسیحؑ ساری امت کے گناہوں کے بدلے پھانسی پا کر ہمارے گناہوں کا کفّارہ ہووے گا۔ پھر گناہ کرے گا اور پیٹ بھر کر کرے گا اور اسے کسی کا خوف نہ ہوگا اور خوف ہو تو کیسے؟ کیا مسیح ان کے لئے پھانسی نہیں دیا گیا؟ غرض یہ تو ان کی عملی حالت ہے پھر دنیا کو خدائی کا جو نمونہ دیا گیا تھا وہ ایسا کمزور اور ناتواں نکلا کہ تھپڑ کھائے۔ پھانسی دیا گیا اور دشمنوں کا کچھ نہ کر سکا۔ پس انہی باتوں سے وہ خدا کے بھی منکر ہو گئے ہیں اور وہ لوگ بیچارے ہیں بھی معذور۔ کیونکہ یہ سب امور فطرتِ انسانی کے بالکل خلاف پڑے ہیں۔ بھلا کفارہ ایسی بیہودہ تعلیم سے بجز ناپاک زندگی کے اور ایسے کمزور و ناتواں خدا کے ماننے سے بجز ذلّت و اِدبار کی مار کے اور حاصل ہی کیا؟ انہوں نے بھی فیصلہ کر لیا کہ ایسے خدا سے ہم یونہی اچھے ہیں۔ یہ ان کا قصور نہیں بلکہ تعلیم کا قصور ہے۔ آریوں کو دیکھا جاوے تو انہوں نے ذرّہ ذرّہ کو خدا بنا رکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے اعمال ہی ان کے سکھ اور دکھ کا باعث ہیں گویا ان کے اعمال ہی ان کا خدا ہیں۔ غور کا مقام ہے کہ ذرّاتِ عالَم مع اپنے خواص کے خدا کی طرح ازلی ابدی ہیں تو پھر خدا کو ان پر فضیلت کیسی اور حکم کیسا؟ خواہ مخواہ مداخلت بے جا کر کے ان کی آزادی میں تصرّف کرنے کا حق ہی کیا تھا خدا کا؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ وہ زمانہ آگیا ہے کہ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے کہ وَتَرَکۡنَا بَعۡضَہُمۡ یَوۡمَئِذٍ یَّمُوۡجُ فِیۡ بَعۡضٍ وَّنُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَجَمَعۡنٰہُمۡ جَمۡعًا(الکھف:۱۰۰) موجودہ آزادی کی وجہ سے انسانی فطرت نے ہر طرح کے رنگ ظاہر کر دیئے ہیں اور تفرقہ اپنے کمال کو پہنچ گیا ہے۔ گویا ایسا زمانہ ہے کہ ہر شخص کا ایک الگ مذہب ہے۔ یہی امور دلالت کرتے ہیں کہ اب نفخِ صور کا وقت بھی یہی ہے اور فَجَمَعۡنٰہُمۡ جَمۡعًا(الکھف:۱۰۰) کی پیشگوئی کے پورا ہونے کا یہی زمانہ ہے۔۱؎


۲۷؍اپریل ۱۹۰۸ء بمقام بٹالہ

(دوران سفر لاہور)

توحید کی برکت سے مسلمان معاشرہ کی خوبیاں

ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور کیا اچھا ہو کہ اگر کوئی ایسی سبیل ہو جاوے کہ مسلمانوں کا باہمی اختلاف اٹھ جاوے اور جس طرح دیگر اقوام میں دنیوی معاملات میں اپنی یکجائی اور متفقہ کوششوں سے کامیاب ہو رہے ہیں مسلمان بھی کم از کم دنیوی معاملات میں تو مل کر کام کریں وغیرہ وغیرہ۔

حضرت اقدسؑ نے فرمایا۔ خدا تعالیٰ نے تو کہا ہے کہ اختلاف ہمیشہ رہے گا تو پھر انسان کون ہے جو اس اختلاف کو مٹانے کی کوشش کرے؟ اصل میں غور سے دیکھا جاوے تو اندرونی اتحاد تو انگریزوں میں بھی نہیں ہے۔ انہی میں سے بعض لوگ تو ایسے ہیں جو حضرت عیسٰیؑ کو نعوذ باللہ خدا مانتے ہیں۔ بعض ایسے ہیں جو موحد ہیں وہ ان کو صرف ایک رسول خدا کا یقین کرتے ہیں اور پھر بعض انہی میں ایسے بھی موجود ہیں کہ وہ نہ عیسٰیؑ کو مانتے ہیں نہ خدا کو دہریہ ہیں۔ البتہ فرق یہ ہے کہ کسی نے تو درندگی سے اپنے ان عقائد کا اظہار کیا ہے اور بعض نے ذرا نرمی سے اظہار کیا ہے۔ پس جب سب کا اختلاف ہے تو باوجود اس اختلاف کے کسی کی ہاں میں ہاں ملانے کے تو یہی معنے ہیں کہ انسان نفاق کا طریق اختیار کرے۔ مگر اللہ تعالیٰ اس امت کو منافق نہیں بنانا چاہتا بلکہ اللہ تعالیٰ تو نفاق سے ڈراتا ہے اور اس طریق زندگی کو بدترین حالت بیان فرماتا ہے۔ اِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ فِی الدَّرۡکِ الۡاَسۡفَلِ مِنَ النَّارِ(النساء:۱۴۶) کسی پکے مسلمان کی غیرت اور حمیّت یہ کب گوارا کر سکتی ہے کہ اپنے معتقدات اور مذہبی مسلّمہ پیارے عقائد کے خلاف سن سکے یا ان کی توہین ہوتے دیکھ سکے یا ایسے لوگوں سے جو اس کے بزرگوں کو جن کو وہ دین کا پیشوا یقین کرتا ہے بُرا کہنے والے یا گالیاں دینے والوں سے سچی محبت اور اتفاق رکھ سکے۔ ہمارے نزدیک تو ایسا انسان جو بایں ہمہ کسی سے محبت و مودّت رکھتا ہے دنیا کا کتا اور منافق ہے کیونکہ ایک سچے مسلمان کی غیریت یہ چاہ سکتی ہی نہیں کہ وہ نفاق کرتا ہے۔

ابھی تھوڑا عرصہ گذرا ہے کہ ایک انگریز سیاح امریکہ سے ہمارے پاس آیا تھا ہم نے اس سے سوال کیا کہ آپ لوگ جو اتنی جان توڑ کوششیں کرتے ہو کہ لوگ آپ کا مذہب قبول کر لیں اور ساری دنیا کو عیسائی بنانا چاہتے ہیں بھلا آپ یہ تو فرمائیں کہ عیسائی ہو کر آپ لوگوں نے کیا بنایا ہے کہ دوسرے وہ فائدہ اٹھاویں گے۔ فسق وفجور میں عیسائی قوم نے جو ترقی کی ہے وہ کوئی پوشیدہ اَمر نہیں۔ اکثر حصہ اس قوم کا ایسا ہے کہ خدا سے بھی برگشتہ ہے اور گویا کہ اپنے فعل سے بتا رہا ہے کہ خدا کی ان کو ضرورت ہی نہیں پائی جاتی ہے۔ اب کہیے کہ آپ ایک ایسی قوم کے کس طرح حامی بنتے ہیں جو خود ایسا اقرار کرتے ہیں۔ آپ کس طرح مسلمانوں سے ایسی خطرناک عادات اور فسق وفجور میں غرق شدہ قوم کی تقلید کرانا چاہتے ہیں جن پر خوف ہے کہ ان کے اعمال بد کی وجہ سے عذاب نازل ہو۔

خدا تقویٰ طہارت کو چاہتا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ مسلمان بھی فاسق ہیں، فاجر ہیں، مگر اس قوم کے مقابلہ میں نسبتاً دیکھا جاوے تو صاف معلوم ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کی زندگی ان کے مقابلہ میں ہزار درجہ بہتر ہے۔ خدا تعالیٰ نے مسلمانوں میں توحید کی برکت سے یہ فسق و فجور اور بے غیرتی پیدا نہیں ہونے دی۔ خود بعض انگریز مصنفوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ مسلمان قوم دنیا میں غنیمت ہے اور عیسائی اقوام کے مقابلہ میں ان کی زندگی ہزار درجہ بہتر ہے۔ عیسائی قوم کے واسطے کفارہ کی جو راہ کھلی ہے اس کے ذریعہ سے اس قوم میں کون سا گناہ ہے جو جرأت اور دلیری سے کیا نہیں جاتا؟ اور وہ کون سی بدی ہے جس کے کرنے سے کسی عیسائی کو کوئی روک پیدا ہو سکتی ہے؟ اصل میں کفّارہ کا عقیدہ ہی ان میں ایسا ہے کہ سارے حرام ان کے واسطے حلال ہو گئے ورنہ کفّارہ باطل ہوتا ہے۔ نور افشاں جو عیسائیوں کا ایک معتبر اخبار ہے اسی میں ایک دفعہ لکھا گیا تھا کہ مسلمانوں میں ان کی عبادت گاہوں اور مساجد میں ایک ادنیٰ مسلمان بادشاہِ وقت کے برابر بلکہ اس کے آگے کھڑا ہو سکتا ہے اور دنیوی ثروت اور جاہ و جلال کا کوئی اثر ان کی مسجدوں میں باقی نظر نہیں آتا حالانکہ عیسائیوں میں ایک خاص یورپ کا عیسائی کبھی دیسی عیسائیوں سے گرجا میں بھی اکٹھا نہیں ہو سکتا حتی کہ ان میں گرجامیں بھی کرسیوں کے درجے موجود ہوتے ہیں۔

غرض مسلمانوں میں بڑے بڑے برکات ہمیشہ موجود رہتے ہیں اور اب بھی ہیں۔ آپ ان معاملات میں غور کریں اور اپنے علم کو بڑھاویں۔ بغیر معلومات وسیع کے آپ کو ایسا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے کہ عیسائی مسلمانوں سے نیکی، تقویٰ، طہارت میں بڑھے ہوئے ہیں۔ ہر اَمر میں حکم نسبتاً لگایا جاتا ہے۔ مسلمان نسبتاً ان سے نیکی میں تقویٰ میں، طہارت میں، خدا ترسی میں بہت آگے بڑھے ہوئے ہیں۔

باقی رہی یہ بات کہ مسلمانوں میں باہمی اتفاق نہیں ہے سو اس کے متعلق تو اللہ تعالیٰ کا خود بھی منشا ہے اور اس میں رحمت ہے۔ البتہ ایک حد تک جب خدا کو منظور ہو گا خود بخود اتفاق اور اتحاد بھی پیدا ہو جاوے گا۔ مسلمانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہمیشہ شاملِ حال رہا ہے کہ خدا ان کو گرنے کے وقت سنبھال لیتا ہے حالانکہ اور قومیں اس سے محروم ہیں۔ مشکلات بھی دن اور رات کی طرح ہر قوم کے ساتھ دورہ کرتی ہیں مگر خدا تعالیٰ نے ہمیشہ مسلمانوں کو ایسی اوقات میں تائید غیبی سے سنبھال لیا ہے۔ جس صلح کے آپ خواہش مند ہیں وہ تو ہمارے خیال میں نفاق ہے اور ہم ایسی صلح کے دشمن ہیں۔ یہ کہنا کہ انگریز قوم بڑی علم دوست ہے کیسی ایک بیہودہ بات ہے۔ علم بھی ایک طاقت ہے۔ انسان اس طاقت کے ذریعہ سے ہر ظلمت اور ذلیل عقائد سے بچ جاتا ہے۔

ان کا علم کیا خاک علم ہے کہ ایک ناتواں کمزور اور ضعیف انسان جو کہ معمولی انسانوں کی طرح ماں کے پیٹ سے قانون قدرت کے موافق پیدا ہوا اور دنیوی سختیوں اور تلخیوں سے بچپنے کے مشکلات برداشت کرتا ہوا آخر یہودیوں کے ہاتھ سے طرح طرح کی ذلتیں سہتا اور ماریں کھاتا ہوا سُولی پر چڑھایا گیا۔ ایسے ایک انسان کو خدا بنا لیا۔ کیا علم اسی کا نام ہے؟ ہاتھی کے دانت کھانے کے اَور دکھانے کے اَور۔ جب کوئی بادشاہ بنتا ہے تو اس سے قسماً عہد لیا جاتا ہے کہ وہ انجیل کے احکام کی پیروی کرے گا۔ کیا اسی کا نام ہے کہ انگریز علم دوست ہوتے ہیں؟ سائل نے کہا کہ ہر وقت ان کے ہاتھ میں کتاب یا اخبار موجود رہتی ہے۔ فرمایا۔ جو شخص علوم حقیقی اور الٰہیات سے بے نصیب محض ہو اس کو علم دوست نہیں کہا جاسکتا۔

ایمان کا امتحان

طلباء کے امتحان کا ذکر ہونے پر فرمایا۔

عِنْدَ الْاِمْتِحَانِ یُکْرَمُ الْمَرْءُ اَوْ یُـھَانُ فرمایا۔ اصل میں لڑکے بھی معذور ہیں۔ امتحان کے مشکلات بہت سخت ہوتے ہیں۔ جب دنیوی امتحانوں کا یہ حال ہے تو پھر دینی امتحان کا کیا حال ہے؟ انسان دنیوی امتحان کے واسطے کیا کیا تیاریاں کرتا ہے اور کس قدر فکر اور غم اس کو ہوتا ہے اور کیسی کیسی شاقہ محنت برداشت کرتا ہے؟ بے فکری ہے تو کس سے؟ دینی امتحان سے۔ نہیں محنت کی جاتی تو کس کے واسطے؟ دین کے امتحان کے واسطے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ(العنکبوت:۳) اللہ تعالیٰ بھی ایک امتحان کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس کا بھی کچھ فکر کرنا چاہیے اور اس امتحان کے واسطے بھی کچھ تیاری کرنی ازبس لازمی ہے۔ دیکھو! ہر صدی کے سرے پر جو ایک مجدّد آتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک امتحان ہی ہوتا ہے۔ اب اس وقت بھی مسلمانوں کا ایک امتحان ہو رہا ہے۔ خدا نے ایک مامور بھیجا ہے اور اس کے ساتھ ہزاروں زمینی اور آسمانی نشانات اور تائیدات کر کے روشن نشانوں سے دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اب بھی لوگوں کے ایمان کا امتحان ہے۔ اب بھی یُکْرَمُ الْمَرْءُ اَوْ یُـھَانُ کا نظارہ موجود ہے۔ پس مبارک وہ جو خدائی امتحان کی فکر رکھتے ہیں اور پھر مبارک وہ جو خدائی امتحان میں پاس ہوتے ہیں۔

خدا کا کلام ٹکڑے ٹکڑے نازل ہوتا ہے

پھر اسی شخص نے سوال کیا کہ یہ جو بڑی بڑی سورتیں قرآن شریف میں موجود ہیں کیا یہ یکبارگی نازل ہو گئی تھیں؟ فرمایا کہ خدا تعالیٰ کا کلام ہمیشہ ٹکڑے ٹکڑے نازل ہوتا ہے اور پھر پورا حصہ بن جاتا ہے۔

ہم اس معاملہ میں صاحبِ تجربہ ہیں۔ جس طرح سے اب اترتا ہے اسی طرح پہلے اترتا تھا۔ اس میں اعتراض کی بات ہی کیا ہے اور خلافِ قانون کس اَمر کو کہا جاتا ہے۔ خلافِ قانون تو جب کوئی کہہ سکتا ہے کہ کوئی اس بات کا دعویٰ کرے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے سارے اسرار کا مطالعہ کر لیا ہے اور سارے قانونِ قدرت کا اس نے احاطہ کر لیا ہے۔ پھر یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ فلاں اَمر قانونِ قدرت کے خلاف ہے مگر جب خدا کی قدرت کا کوئی انتہا ہی نہیں پا سکا تو پھر یہ دعویٰ کیسا؟ ہمارے الہامات کی کتاب تو بنیاد ہی ہے مگر شریعت نہیں ہے۔ شریعت وہی ہے جو آنحضرتؐ لائے اور جو قرآن شریف نے دنیا کو سکھلائی۔ ایک نقطہ نہ گھٹایا گیا نہ بڑھایا گیا ہے۔

خدا تعالیٰ اب بھی کلام کرتا ہے

خدا جس طرح پہلے دیکھتا تھا اب بھی دیکھتا ہے اسی طرح جس طرح سے پہلے کلام کرتا تھا اب بھی صفتِ تکلّم اس میں موجود ہے۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اب خدا کلام نہیں کرتا۔ کیا خیال کیا جا سکتا ہے کہ پہلے تو خدا سنتا تھا مگر اب نہیں سنتا۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام صفات جو پہلے موجود تھے اب بھی اس میں پائے جاتے ہیں۔ خدا میں تغیر نہیں۔ شریعت چونکہ تکمیل پاچکی ہے۔ لہٰذا اب کسی نئی شریعت کی ضرورت نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ(المائدۃ:۴) پس اکمالِ دین کے بعد اور کسی نئی شریعت کی حاجت نہیں۔

فراست

فرمایا۔ خدا جس کو حکومت دیتا ہے اسے فراست بھی عطا فرماتا ہے بشرطیکہ وہ خود اپنے اس پاک جوہر کو شرارت یا تعصب کی کدورت سے مکدر نہ کر دے۔ نیک طبع حکام کو اللہ تعالیٰ تائید غیبی سے بعض ایسے امور میں جن میں حق و باطل پوشیدہ ہوتا ہے حق ظاہر کر دیتا ہے اور فراستِ صحیحہ سے وہ اس اَمر کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ پھر ان کو اور دلائل کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔

ہمارے اس مقدمہ کی حالت جو ڈگلس کے سامنے پیش ہوا تھا اس میں غور کرنے والے کے واسطے کئی نشان موجود ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ فراست اچھی چیز ہے۔ انسان اندر ہی اندر سمجھ جاتا ہے کہ یہ سچا ہے۔ سچ میں ایک جرأت اور دلیری ہوتی ہے۔ جھوٹا انسان بزدل ہوتا ہے۔ وہ جس کی زندگی ناپاکی اور گندہ گناہوں سے ملوث ہے وہ ہمیشہ خوفزدہ رہتا ہے اور مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ایک صادق انسان کی طرح دلیری اور جرأت سے اپنی صداقت کا اظہار نہیں کرسکتا اور اپنی پاکدامنی کا ثبوت نہیں دے سکتا۔ دنیوی معاملات میں ہی غور کرکے دیکھ لو کہ کون ہے جس کو ذراسی بھی خدا نے خوش حیثیتی عطا کی ہو اور اس کے حاسد نہ ہوں۔ ہر خوش حیثیت کے حاسد ضرور ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی لگے رہتے ہیں۔ یہی حال دینی امور کا ہے۔ شیطان بھی اصلاح کا دشمن ہے۔ پس انسان کو چاہیے کہ اپنا حساب صاف رکھے اور خدا سے معاملہ درست رکھے۔ خدا کو راضی کرے۔ پھر کسی سے نہ خوف کھائے اور کسی کی پروا نہ کرے۔ ایسے معاملات سے پرہیز کرے جن سے خود ہی مورد عتاب ہو جاوے مگر یہ سب کچھ بھی تائید غیبی اور توفیق الٰہی کے سوا نہیں ہو سکتا۔ صرف انسانی کوشش کچھ بنا نہیں سکتی جب تک خدا کا فضل بھی شاملِ حال نہ ہو۔ الۡاِنۡسَانُ ضَعِیۡفًا(النساء:۲۹) انسان ناتواں ہے۔ غلطیوں سے پُر ہے۔ مشکلات چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔ پس دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نیکی کی توفیق عطا کرے اور تائیداتِ غیبی اور فضل کے فیضان کا وارث بنادے۔

توکّل

اصل میں توکّل ہی ایک ایسی چیز ہے کہ انسان کو کامیاب و با مراد بنا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یَّتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسۡبُہٗ(الطلاق:۴) جو اللہ تعالیٰ پر توکّل کرتا ہے اللہ اس کو کافی ہو جاتا ہے بشرطیکہ سچے دل سے توکل کے اصلی مفہوم کو سمجھ کر صدق دل سے قدم رکھنے والا ہو اور صبر کرنے والا اور مستقل مزاج ہو۔ مشکلات سے ڈر کر پیچھے نہ ہٹ جاوے۔ دنیا گذشتنی اور گذاشتنی ہے اور اس کے کام بھی ایسے ہی ہیں۔ پس انسان کو لازم ہے کہ اس کا غم کم کرے اور آخرت کا فکر زیادہ رکھے۔ اگر دین کے غم انسان پر غالب آجاویں تو دنیا کے کاروبار کا خود خدا متکفّل ہو جاتا ہے۔

افسوس ہے بڑے بڑے حوادث

عذاب نازل ہونے سے پہلے توبہ کرنی چاہیے

روز ہو رہے ہیں مگر لوگ ہیں کہ توجہ نہیں کرتے۔ پروا نہیں کرتے۔ حضرت موسٰی کے کافر ہی اچھے تھے کہ جب ان پر عذاب نازل ہوتے تھے تب تو توجہ کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر یہ ٹل جاوے تو مان لیں گے۔ مگر آجکل کے کافر ان سے بھی زیادہ سخت جان ہیں کہ نت نئے عذاب آتے ہیں۔ نئی نئی صورت میں خدا کا قہر نازل ہوتا ہے مگر یہ ہیں کہ کان پر جُوں نہیں چلتی۔ دیکھو ایک طاعون نے ہی کیسے کیسے خطرناک حملے کئے۔ کیسی کیسی جانگداز تباہیاں واقع ہوئی ہیں کہ ان کا ذکر سننے سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں مگر کسی پر اثر نہیں ہوا۔ وہ لوگ تھے کہ ایسے اوقات میں حضرت موسٰی سے دعا کرایا کرتے تھے مگر یہ لوگ ہیں کہ کہتے ہیں کوئی نہیں معمولی بات ہے ایسا ہوا ہی کرتا ہے اور ایسے عذاب آیا ہی کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا قدیم سے یہ وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں طرح طرح کے عذاب آویں گے اس وقت بعض ہدایت پاجاویں گے اور اکثر ہلاک ہوں گے۔ نشان تو خدا دکھاتا ہے مگر نشان سے بھی فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو مومن ہوتے ہیں اور وہ قلیل ہیں۔

ایک شخص ہمارے پاس آیا تھا۔ اس نے ذکر کیا کہ ہمارے شہر میں طاعون نے سخت تباہی ڈالی ہے۔ بہت لوگ تیار ہیں کہ حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر توبہ کریں اور اصل بات یہی ہے کہ مجھے بھی طاعون ہی حضور کے پاس لائی ہے۔ اس سال طاعون کسی قدر کم ہے اس وجہ سے دل بھی سخت ہیں۔ دلیر ہیں۔ مگر کسی کو علم کیا ہے کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے؟ پس مطمئن نہیں رہنا چاہیے اور قبل اس کے کہ عذاب نازل ہو جاوے توبہ کرنی چاہیے اور خدا کی طرف جھکنا اور حفاظت طلب کرنی چاہیے مگر یہ سب کچھ توفیق سے ہو سکتا ہے۔ انسان کو بعض اوقات شیطان بڑے بڑے وسوسے پیدا کر دیتا ہے۔ میرے رشتے ناطے ٹوٹ جاویں گے میرے جاہ وعزت میں فرق آجاوے گا یا وجوہ معاش بند ہو جاویں گے یا میرے حکام مجھ سے ناراض ہو جاویں گے مگر یاد رکھو کہ ہدایت کے قبول کرنے سے یہ سب امور روکتے نہیں۔

گورنمنٹ کو تو کسی کے مذہب سے کچھ سروکار ہی نہیں اور پھر خدا کا فضل ہے کہ ہمارے اصول ہی ایسے ہی نہیں کہ گورنمنٹ ان سے ناراض ہو۔ باقی رہی یہ بات کہ رشتے ناطے ٹوٹ جاویں گے یا معاش میں فرق آ جاوے گا سو یاد رکھنا چاہیے کہ انسان جب خدا کے واسطے کچھ چھوڑتا ہے اور اپنے اوپر مشکلات برداشت کرتا ہے تو خدا اس کو ضائع نہیں کرتا بلکہ ہر حال میں اس کا خود مددگار اور کارساز ہو جاتا ہے۔۱؎

۲۹؍اپریل ۱۹۰۸ء

اہل اَمرتسر کی عقیدت مندی اور اخلاص

۲۹؍اپریل ۱۹۰۸ء کو جبکہ بٹالہ سے لاہور کو جانے والی ٹرین اسٹیشن امرت سر پر پہنچی جس میں حضرت اقدس خلیفۃ اللہ فی حلل الانبیاء علیہ الف الف صلوٰۃ وسلام رونق افروز تھے اور مخلصین جماعت احمدیہ امرتسر صدق اور عقیدت مندی کا ایک نہ رکنے والا جوش اور اپنے آقا و مولا کی زیارت کے واسطے شوق بھرے دل لئے ہوئے پہلے ہی سے سٹیشن پر موجود تھے۔ ٹرین کے کھڑا ہوتے ہی تمام عقیدت مندان مخلص آگے بڑھ بڑھ کر سعادت مصافحہ اور شرف حضوری حاصل کرتے تھے۔ ہر کوئی یہی چاہتا تھا کہ میں آگے بڑھوں اور ان کے دلوں کا شوق عقیدت ان کے چہروں سے نمایاں تھا۔ جذب جو خاصہءِ خاصانِ خدا اور علامت بندگان عالی ہوتی ہے اور وہ خدا کی طرف سے آنے والوں کو بطور نشان کے عطا ہوتا ہے اس کا یہ عالم تھا کہ سٹیشن بھر کے جس انسان کے کان میں آپ کا نام پہنچا اسی کے دل میں شوقِ زیارت نے گدگدی کی اور وہ بے تحاشا بھاگا چلا آیا۔ وہ سلامتی کا شہزادہ اور محبوب خدا سیکنڈ کلاس ڈیپارٹمنٹ۲؎ میں متمکن تھا۔ جلال و شوکت اور رعب و وقار، شہادت صداقت ادا کرنے کے واسطے حضوری میں حاضر کھڑے تھے۔ لوگ آتے اور زیارت کر کر کے چلے جاتے تھے۔ اہلِ ہنود اور سکھ صاحبان اپنے طرز میں اور مسلمان اپنے طریق سے سلام و نیاز عرض کرتے تھے۔ پلیٹ فارم کی جانب پلیٹ فارم پر اور گاڑی کے دوسرے پہلو سے لوگ پائیدانوں پر کھڑے کھڑکیوں میں سے حضور پُرنور کی صورت دیکھنے کے واسطے شوق سے جھانکتے تھے۔ سیری کسی کو نہ ہوتی تھی۔ اتنے میں ایک مسلمان صاحب معہ چند آدمیوں کے تشریف لائے۔ حضرت اقدس نے ان کو گاڑی کے اندر بلا کر اپنے پاس بٹھا لیا اور ان کے سوال پر ان کو یوں مخاطب فرمایا۔

وفات وحیاتِ مسیح میں قرآن کریم سے فیصلہ لینا چاہیے

خدا کی شہادت سب سے پہلے زیادہ معتبر ہے خدا کا پاک کلام قرآن شریف ہمارے پاس موجود ہے۔ مسائل مختلفہ میں فیصلہ کرنے اور حق پانے کے واسطے مسلمانوں کو اوّل قرآن شریف ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیاتِ ابدی کی کوئی دلیل اگر ان کے پاس ہے تو ان کو چاہیے کہ قرآن کریم کی کوئی آیت پیش کریں۔ مگر قرآن شریف میں جب ہم اس غرض کے لئے غور کرتے ہیں تو ہمیں تو ان کے حق میں خدا کا یہی کلام ملتا ہے کہ اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ(اٰل عمران:۵۶) فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ(المائدۃ:۱۱۸) اب جائے غور ہے کہ آیا یہ لفظ قرآن شریف میں کسی اور نبی کے حق میں بھی آیا ہے یا کہ نہیں؟ سو ہم صاف پاتے ہیں کہ اور انبیاء اور ہمارے سید و مولیٰ محمد مجتبیٰ احمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بھی یہی لفظ تَوَفّی کا استعمال ہوا ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ(یونس:۴۷) اور پھر حضرت یوسف علیہ السلام کے حق میں بھی یہی لفظ نظر آتا ہے تَوَفَّنِیۡ مُسۡلِمًا وَّاَلۡحِقۡنِیۡ بِالصّٰلِحِیۡنَ(یوسف:۱۰۲) اب ہم پوچھتے ہیں کہ ہمیں کوئی اس خصوصیت کی وجہ تو بتا دے کہ کیوں یہ لفظ اور انبیاء پر تو موت کے معنوں میں وارد ہوتا ہے اور کیوں حضرت عیسٰیؑ کے حق میں آوے تو لفظ کی یہ خاصیت بدل جاتی ہے اور یہ لفظ موت کے معنے نہیں دیتا؟ ان کو چاہیے کہ تعصب کو الگ کر کے ایک گھڑی بھر کے لئے حق جُو ہو کر اس میں غور کریں۔

گالیاں دینا تو ان لوگوں کا ایک فرض ہو چکا ہے سو دے لیں۔ مگر اب ہمیں شوق ہے تو صرف یہی کہ آیا تقویٰ اور خشیتِ الٰہی کو مدّ نظر رکھ کر اس فرقہ کے منہ سے کوئی علمی بات بھی نکلتی ہے؟ مگر افسوس یہ بات کبھی پوری نہ ہوئی۔ جو حق پر ہوتا ہے اس کے ساتھ خدا کی تائید اور نصرت، اس کے کلام میں قوت اور شوکت اور اس کے انفاس میں ایک جذب ہوتا ہے۔

فرمایا۔ حیات کا مسئلہ ان کو مبارک نہ ہوا کیونکہ ان میں سے بہت سے حیات حیات ہی پکارتے بصد حسرت و ارمان گذر گئے مگر حیاتِ مسیحؑ نے ان کی کوئی مدد نہ کی۔

اتنے میں گھنٹی بجی۔ وسل ہوا۔ اور گاڑی لاہور کو چل دی۔۱؎


۳۰؍اپریل ۱۹۰۸ء

(بمقام لاہور۔ احمدیہ بلڈنگز)

موجودہ مسلمانوں کی حالت

فرمایا۔ صدق وصفا، تقویٰ طہارت، یہ اسلام کے برکات تھے جو کہ مسلمانوں میں لازماً پائے جاتے ہیں مگر اب تو ان صفات سے لوگ بکلّی محروم ہو گئے ہیں۔ نماز بھی پڑھتے ہیں تو بہت ہی کم۔ مسجدیں ویران پڑی ہیں۔ نمازی کوئی نظر نہیں آتا۔ ایک وقت تھا کہ نمازیوں کو مسجدیں نہ ملتی تھیں۔ جتنے پڑھتے ہیں ان میں بھی اکثر دکھلاوے کی نماز پڑھتے ہیں کیونکہ حقیقی نماز کے آثار برکات اور ثمرات سے محروم ہیں عیسائی تو حضرت مسیحؑ کو پھانسی دے کر بے فکر ہو بیٹھے تھے مگر اکثر مسلمان حضرت امام حسینؓ کی شہادت میں نجات پا چکے ہیں۔

شہوات کی آگ بجھانے کا ذریعہ

فرمایا۔ جسمانی شہوات کے دلدل میں سے نکلنا ہی مشکل ہوتا ہے اگر اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کے واسطے مقدر کیا ہوتا ہے کہ اسے سعادت میں سے کوئی حصہ عطا فرماوے تو اس کے واسطے کوئی ایسا عجوبہ اور خارقِ عادت نشان یا اپنی کوئی دل کو پکڑ لینے والی تجلّی دکھا دیتا ہے بجز اس کے دلوں کی گندگی دھوئی نہیں جاتی اور شہوات کی آگ بجھائی نہیں جاتی۔

غفلت اور بے باکی کے آثار

فرمایا۔ جس قدر کسی کو دنیا کے سامانِ عیش وعشرت کثرت سے دیئے جاتے ہیں اسی قدر وہ خدا سے غافل اور بے پروا ہو کر متکبر ہو جاتے ہیں اور اسی قدر اس کا تکبر بڑھ جاتا ہے۔ امرتسر میں ہمیں پتھر مارے گئے۔ سیالکوٹ میں ہمارے ساتھ کیا بُرا سلوک کیا گیا۔ یہ سب غفلت اور بے باکی ہی کے آثار ہیں۔

ایک خدائی وعدہ

فرمایا۔ خدا نے ہمیں ایک پکا وعدہ دیا ہوا ہے۔ اس میں ذرا بھی شک نہیں اور وہ یہ ہے کہ ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ‘‘اس الہام کے بعد وہ بادشاہ بھی دکھائے گئے تھے۔

مسیحؑ کے مَرنے میں اسلام کی زندگی ہے

فرمایا۔ مسلمانوں کی خوش قسمتی ہی اسی میں ہے کہ مسیحؑ مَر جائے۔ اب زمانہ ہی ایسا آگیا ہے کہ خیال تبدیل ہوتے ہیں۔ کچھ مان جائیں گے کچھ مَرجائیں گے۔ باقی ایسے ضعیف ہو جائیں گے کہ ان کو طاقت ہی نہ رہے گی اور ان کا عدم وجود برابر ہوگا۔ پس مسیح کو مَرنے دو کہ اسلام کی زندگی اسی میں ہے۔

فروتنی کرنے والا خدا کا محبوب ہوتا ہے

فرمایا۔ متکبّر خدا کے تخت پر بیٹھنا چاہتا ہے پس اس قبیح خصلت سے ہمیشہ پناہ مانگو۔ خدا تعالیٰ کے تمام وعدے بھی خواہ تمہارے ساتھ ہوں مگر تم جب بھی فروتنی کرو کیونکہ فروتنی کرنے والا ہی خدا کا محبوب ہوتا ہے۔ دیکھو! ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابیاں اگرچہ ایسی تھیں کہ تمام انبیائے سابقین میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ مگر آپؐ کو خدا تعالیٰ نے جیسی جیسی کامیابیاں عطا کیں آپ اتنی ہی فروتنی اختیار کرتے گئے۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص حضورؐ کے حضور پکڑ کر لایا گیا۔ آپ نے دیکھا تو وہ بہت کانپتا تھا اور خوف کھاتا تھا مگر جب وہ قریب آیا تو آپؐ نے نہایت نرمی اور لُطف سے دریافت فرمایا کہ تم ایسے ڈرتے کیوں ہو؟ آخر میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہی ہوں اور ایک بڑھیا کا فرزند ہوں۔

خدا تعالیٰ کی حکمتوں کو کوئی نہیں پا سکتا

فرمایا۔ جب بات حد سے بڑھ جاتی ہے تو فیصلہ کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ ہمیں چھبیس سال ہوئے تبلیغ کرتے اور جہاں تک ممکن تھا ہم ساری تبلیغ کر چکے ہیں اب وہ خود ہی کوئی ہاتھ دکھلاوے اور فیصلہ کرے گا۔ پس جس نے یہ شرط کر لی ہو کہ میں نے تو اس شخص کو ماننا ہی نہیں خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو اور اس کا غبار حد سے بڑھ گیا ہو تو اس کا حال خدا ہی کے سپرد ہے اس کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے۔ خدا کی حکمتوں کو کوئی نہیں پا سکتا۔ یہ خدائی تصرفات ہیں جس کو چاہے اپنی طرف کھینچ لے اور جس کو چاہے ردّ کر دے۔

دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود دنیا کے واسطے رحمت تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ(الانبیآء:۱۰۸) مگر کیا ابوجہل کے واسطے بھی آپؐ رحمت ہوئے؟ وہ لوگ تو خیال کرتے ہوں گے کہ ابھی یہ ایک یتیم بچہ تھا۔ بکریاں چرایا کرتا تھا۔ کمزور اور غریب تھا۔ نکاح تک بھی تو میسر نہ آیا۔ غرض کچھ ایسے ہی خیالات ان کے دل میں آتے ہوں گے مگر ان بدقسمتوں کو کیا خبر تھی کہ ایک دن یہی یتیم دنیا کا شہنشاہ اور نجات دہندہ ہو گا۔۱؎

یکم مئی ۱۹۰۸ء

خدا کی طرف آنے والا کبھی ضائع نہیں ہوتا

نماز جمعہ سے پہلے جبکہ چند اجنبی آپ کی ملاقات کے واسطے آئے۔

فرمایا۔ ہمیں تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آجکل اسلام کی خوش قسمتی نہیں بلکہ بدقسمتی کے دن ہیں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں کو دینی امور سے کوئی دلچسپی نہیں۔ بلکہ لوگ خدا کو بھی بھول چکے ہیں۔ مسلمانوں کی یہ ایک غلطی ہے جو شاید غرغرے کے وقت ان کو معلوم ہو جائے گی اور لوگ اس وقت یقین کریں گے کہ واقعی ہم نے جو کچھ سمجھا ہوا تھا وہ سارا تانا بانا ہی غلط تھا۔

جو انسان کوشش کرے گا وہی پائے گا۔ کوشش تو ہو ساری دنیا کے واسطے اور خدا کا نام درمیان بھولے سے بھی نہ آئے۔ تقویٰ ہو نہ طہارت۔ پھر ایسا انسان امیدوار ہو خدا کے ملنے کا، یہ محال ہے۔ آخر اب وقت آ گیا ہے کہ ان لوگوں کے ہاتھ میں اجر دیا جاوے جو دین کو دنیا پر مقدم کریں۔ بجز توفیق الٰہی کے کچھ نہیں ملتا۔

دیکھو! نبی کریمؐ نے دنیا کو خدا کے لئے ترک کر دیا تھا مگر خدا نے کس طرح ذلیل کر کے دنیا کو آپؐ کے سامنے غلاموں کی طرح حاضر کر دیا۔ دنیا طلب سے بھاگتی اور کوسوں دور جاتی ہے مگر جو صدق دل سے خدا کی طرف جاتا ہے اور خدا کی راہ میں دنیا کی کچھ پروا نہیں کرتا دنیا اس کے پیچھے پیچھے پھرتی ہے۔ دیکھو! حضرت مسیحؑ کو اس وقت چالیس کروڑ انسان پوجنے والا موجود ہے۔ نبی ماننا تو درکنار اس کی خدائی کے قائل ہیں۔ یہ سب خدا کی قدرت کے نمونے ہیں کہ خدا کی طرف آنے والا کبھی ضائع نہیں کیا جاتا دین بھی اسے ملتا ہے اور دنیا بھی اس کے لئے حاضر کی جاتی ہے۔ دنیا کا پرستار چند روز جو چاہے سو کرے مگر آخر کار دنیا بھی چھوٹ جائے گی اور آخرت بھی برباد۔

دیکھو! دنیا بھی آخر مفت تو نہیں مل جاتی۔ دنیا کے وعدے دینے والے بھی تو محنتیں چاہتے ہیں۔ امتحان لیتے ہیں۔ بصورت کامیابی اور پھر عمدہ کارگذاری سے کچھ ملتا ہے۔ اسی طرح اگر وہی محنت دوسرے رنگ میں خدا کے واسطے کی جاوے تو اجر یقینی ہیں۔ نہ دین جاوے اور نہ دنیا۔ بلکہ بیک کرشمہ دو کار والی بات۔ نالے حج نالے ونج کا معاملہ ہو جاوے مگر کم ہیں جو ان باتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ دعا میں لگا رہے اور کسی قدر تبدیلی اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ شاید ہے کہ اللہ تعالیٰ توفیق دیدے۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ زراعت والا زراعت کو اور تجارت والا تجارت کو، ملازمت والا ملازمت کو اور صنعت و حرفت والا اپنے کاروبار کو ترک کر دے اور ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ جائے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ لَّا تُلۡہِیۡہِمۡ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ(النّور:۳۸) والا معاملہ ہو۔ دست با کار دل با یار والی بات ہو۔ تاجر اپنے کاروبار تجارت میں اور زمیندار اپنے امور زراعت میں اور بادشاہ اپنے تخت حکومت پر بیٹھ کر، غرض جو جس کام میں ہے اپنے کاموں میں خدا کو نصب العین رکھے اور اس کی عظمت اور جبروت کو پیش نظر رکھ کر اس کے احکام اور اَمر و نواہی کا لحاظ رکھتے ہوئے جو چاہے کرے۔ اللہ سے ڈرا ور سب کچھ کر۔

اسلام کہاں ایسی تعلیم دیتا ہے کہ تم کاروبار چھوڑ کر لنگڑے لولوں کی طرح نکمے بیٹھے رہو اور بجائے اس کے کہ اَوروں کی خدمت کرو خود دوسروں پر بوجھ بنو۔ نہیں بلکہ سست ہونا گناہ ہے۔ بھلا ایسا آدمی پھر خدا اور اس کے دین کی کیا خدمت کر سکے گا۔ عیال واطفال جو خدا نے اس کے ذمے لگائے ہیں ان کو کہاں سے کھلائے گا؟

پس یاد رکھو کہ خدا کا یہ ہرگز منشا نہیں کہ تم دنیا کو بالکل ترک کر دو۔ بلکہ اس کو جو منشا ہے وہ یہ ہے کہ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰٮہَا(الشّمس:۱۰) تجارت کرو، زراعت کرو، ملازمت کرو اور حرفت کرو، جو چاہو کرو مگر نفس کو خدائی نافرمانی سے روکتے رہو اور ایسا تزکیہ کرو کہ یہ امور تمہیں خدا سے غافل نہ کر دیں پھر جو تمہاری دنیا ہے وہ بھی دین کے حکم میں آ جاوے گی۔

انسان دنیا کے واسطے پیدا نہیں کیا گیا۔ دل پاک ہو اور ہر وقت یہ لَو اور تڑپ لگی ہوئی ہو کسی طرح خدا خوش ہو جائے تو پھر دنیا بھی اس کے واسطے حلال ہے۔ اِنَّـمَا الْاَعْـمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔۱؎

(بعد نماز جمعہ

مسیح موعودؑ کو ماننے کی ضرورت

سوال کیا گیا کہ ہم اللہ اور اس کی کتاب قرآن شریف اور اس کے رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو صدقِ دل سے مانتے ہیں اور نماز روزہ وغیرہ اعمال بھی بجالاتے ہیں۔ پھر ہمیں کیا ضرورت ہے کہ آپ کو بھی مانیں؟

فرمایا۔ دیکھو! جس طرح جو شخص اللہ اور اس کے رسول اور کتاب کو ماننے کا دعویٰ کر کے ان کے احکام کی تفصیلات مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، تقویٰ طہارت کو بجا نہ لاوے اور ان احکام کو جو تزکیہ نفس، ترک شر اور حصول خیر کے متعلق نافذ ہوئے ہیں چھوڑ دے وہ مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں ہے اور اس پر ایمان کے زیور سے آراستہ ہونے کا اطلاق صادق نہیں آسکتا۔ اسی طرح سے جو شخص مسیح موعودؑ کو نہیں مانتا یا ماننے کی ضرورت نہیں سمجھتا وہ بھی حقیقت اسلام اور غایت نبوت اور غرضِ رسالت سے بے خبر محض ہے اور وہ اس بات کا حقدار نہیں ہے کہ اس کو سچا مسلمان، خدا اور اس کے رسول کا سچا تابعدار اور فرمانبردار کہہ سکیں کیونکہ جس طرح سے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے قرآن شریف میں اور احکام دئیے ہیں اسی طرح سے آخری زمانہ میں ایک آخری خلیفہ کے آنے کی پیشگوئی بھی بڑے زور سے بیان فرمائی ہے اور اس کے نہ ماننے والے اور اس سے انحراف کرنے والوں کا نام فاسق رکھا ہے۔ قرآن اور حدیث کے الفاظ میں فرق (جو کہ فرق نہیں بلکہ بالفاظ دیگر قرآن شریف کے الفاظ کی تفسیر ہے )صرف یہ ہے کہ قرآن شریف میں خلیفہ کا لفظ بولا گیا ہے اور حدیث میں اسی خلیفہ آخری کو مسیح موعودؑ کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پس قرآن شریف نے جس شخص کے مبعوث کرنے کے متعلق وعدے کا لفظ بولا ہے اور اس طرح سے اس شخص کی بعث کو ایک رنگ کی عظمت عطا کی ہے۔ وہ مسلمان کیسا ہے جو کہتا ہے کہ ہمیں اس کے ماننے کی ضرورت ہی کیا ہے؟

خلفاء کے آنے کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک لمبا کیا ہے اور اسلام میں یہ ایک شرف اور خصوصیت ہے کہ اس کی تائید اور تجدید کے واسطے ہر صدی پر مجدّد آتے رہے اور آتے رہیں گے۔ دیکھو! اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تشبیہ دی ہے جیسا کہ کَمَا کے لفظ سے ثابت ہوتا ہے۔ شریعتِ موسویؑ کے آخری خلیفہ حضرت عیسٰیؑ تھے جیسا کہ خود وہ فرماتے ہیں کہ میں آخری اینٹ ہوں اسی طرح شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی اس کی خدمت اور تجدید کے واسطے ہمیشہ خلفاء آئے اور قیامت تک آتے رہیں گے اور اس طرح سے آخری خلیفہ کا نام بلحاظ مشابہت اور بلحاظ مفوضہ خدمت کے مسیح موعودؑ رکھا گیا۔

اور پھر یہی نہیں کہ معمولی طور سے اس کا ذکر ہی کر دیا ہو بلکہ اس کے آنے کے نشانات تفصیلاً کل کتبِ سماوی میں بیان فرما دئیے ہیں۔ بائبل میں، انجیل میں، احادیث میں اور خود قرآن شریف میں اس کی آمد کی نشانیاں دی گئی ہیں اور ساری قومیں یہودی، عیسائی اور مسلمان متفق طور سے اس کی آمد کے قائل اور منتظر ہیں پس ایسا ایک شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے ایسی عظمت دی اور جس کی آمد کی ساری قومیں متفق طور سے منتظر ہیں اس کا انکار کر دینا یہ کس طرح سے اسلام ہوسکتا ہے؟ اور پھر جبکہ وہ ایک ایسا شخص ہے کہ اس کے واسطے آسمان پر بھی اللہ تعالیٰ نے اس کی تائید میں نشان ظاہر کئے اور زمین پر بھی معجزات دکھائے۔ اس کی تائید کے واسطے طاعون آیا اور کسوف خسوف اپنے مقررہ وقت پر بموجب پیشگوئی عین وقت پر ظاہر ہو گیا۔ تو کیا ایسا شخص جس کی تائید کے واسطے آسمان نشان ظاہر کرے اور زمین اَلْوَقْت کہے وہ کوئی معمولی شخص ہوسکتا ہے کہ اس کا ماننا اور نہ ماننا برابر ہو اور لوگ اسے نہ مان کر بھی مسلمان اور خدا کے پیارے بندے بنے رہیں؟ ہرگز نہیں۔

یاد رکھو کہ موعودؑ کے آنے کے کُل علامات پورے ہوگئے ہیں۔ طرح طرح کے مفاسد نے دنیا کو گندہ کر دیا ہے خود مسلمان علماء اور اکثر اولیاء نے مسیح موعودؑ کے آنے کا یہی زمانہ لکھا ہے کہ وہ چودھویں صدی میں آئے گا۔ حجج الکرامہ میں بھی اسی چودھویں صدی کے متعلق لکھا ہے اور کوئی بھی نہیں جو اس صدی سے آگے بڑھا ہو۔ تیرھویں صدی سے تو جانوروں نے بھی پناہ مانگی تھی اور لکھا ہے کہ اب چودھویں صدی مبارک ہوگی۔ اس قدر متفقہ شہادت کے بعد بھی جو کہ اولیاء اور اکثر علماء نے بیان کی۔ اگر کوئی شبہ رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ قرآن شریف میں تدبّر کرے اور سورۃ النّور کو غور سے مطالعہ کرے۔ دیکھو! جس طرح حضرت موسٰی سے چودہ سو برس بعد حضرت عیسیٰ آئے تھے اسی طرح پر یہاں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چودہویں صدی ہی میں مسیح موعود آیا ہے اور جس طرح حضرت عیسیٰؑ سلسلہ موسوی کے خاتم الخلفاء تھے۔ اسی طرح ادھر بھی مسیح موعودؑ خاتم الخلفاء ہوگا۔ اسلام اس وقت اس بیمار کی طرح تھا جس کی زندگی کا جام لبریز ہوچکا ہو۔ اسلام پر ظلم کیا گیا اور بڑی بے رحمی سے دشمن چاروں طرف سے اپنے پورے ہتھیاروں سے اس کو نیست و نابود کرنے کے واسطے مسلّح و تیار ہو کر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ اسلام اس وقت مُردہ ہو چکا تھا اور اندرونی اور بیرونی حملوں سے نیم جان۔ اسلام کی شمع کا اب آخری وقت تھا اور اس کی گردن پر بڑی بے رحمی سے چُھری پھیری جا رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ(الحجر:۱۰) کس وقت کے لئے کیا گیا تھا؟ کیا ابھی کوئی اور مصیبت بھی رہ گئی تھی جو اسلام پر آنی باقی ہو؟ یاد رکھو! حفاظت سے اوراق کی حفاظت ہی مُراد نہیں بلکہ اس کی تشریح ایک حدیث میں ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آوے گا کہ قرآن شریف دنیا سے اٹھ جاوے گا۔ ایک صحابیؓ نے عرض کیا کہ لوگ قرآن کو پڑھتے ہوں گے تو اٹھ کیسے جاوے گا؟ فرمایا میں تو تمہیں عقلمند خیال کرتا تھا مگر تم بڑے بیوقوف ہو۔ کیا عیسائی انجیل نہیں پڑھتے؟ اور کیا یہودی توریت نہیں پڑھتے؟ قرآن کے اٹھ جانے سے مُراد یہ ہے کہ قرآن شریف کا علم اٹھ جاوے گا اور ہدایت دنیا سے نابود ہو جاوے گی۔ انوار اور اسرار قرآنیہ سے لوگ بے بہرہ ہو جاویں گے اور عمل کوئی نہ کرے گا۔ قرآن جس کے سکھانے کو آیا ہے لوگ اس راہ کو ترک کر دیں گے اور اپنی ہوا و ہوس کے پابند ہو جاویں گے۔ جب یہ حال ہوگا تو ابنائے فارس میں سے ایک شخص آوے گا اور وہ دین کو از سر نَو واپس لائے گا اور دین کو اور قرآن کو از سر نَو تازہ کرے گا۔ قرآن کی کھوئی ہوئی عظمت اور بھولی ہوئی ہدایت اور ثریا پر چڑھ گیا ہوا ایمان دوبارہ دنیا میں پھیلاوے گا۔ لَوْ کَانَ الْاِیْـمَانُ عِنْدَ الثُّـرَیَّا لَنَالَہٗ رَجُلٌ مِّنْ اَبْنَاءِ فَارِس۔

غرض قرآن شریف سے اور احادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اس امت میں آخری زمانہ میں ایک خلیفہ کے آنے کا وعدہ دیا گیا ہے اور اس کے علامات اور نشانات بھی بتا دیئے گئے ہیں۔ ہمیں مسیح موعودؑ ہونے کا دعویٰ ہے۔ اب ہر شخص کا جو خدا اور رسول سے پیار کرتا ہے اور اپنے ایمان کو سلامت رکھنا چاہتا ہے فرض ہے کہ اس معاملہ میں غور کرے کہ آیا ہم نے جو دعویٰ کیا ہے بجا ہے کہ جھوٹا۔ خدا کی طرف سے آنے والوں کے ساتھ خدائی نشان ہوتے ہیں۔

صرف نرا زبانی دعویٰ قابل پذیرائی نہیں ہوتا۔

منجملہ اور علامات کے جو ہمارے آنے کے واسطے اللہ اور رسول کی کتابوں میں مندرج ہیں ایک اونٹوں کی سواریوں کا معطل ہو جانا بھی ہے۔ چنانچہ اس مضمون کو قرآن شریف نے بالفاظ ذیل تعبیر کیا ہے وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ(التکویر:۵) اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس مضمون کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ وَلَیُتْـرَکُنَّ الْقِلَاصُ فَلَا یُسْعٰی عَلَیْـھَا۔۔

اب سوچنے والے کو چاہیے کہ ان امور میں جو آج سے تیرہ ۱۳۰۰ سو برس پیشتر خدا اور اس کے رسول کے منہ سے نکلے اور اس وقت وہ الفاظ بڑی شان اور شوکت سے پورے ہو کر اپنے کہنے والوں کے جلال کا اظہار کر رہے ہیں۔ دیکھئے! اب اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے کیسے کیسے سامان پیدا ہو رہے ہیں حتی کہ حجاز ریلوے کے تیار ہو جانے پر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے سفر بھی بجائے اونٹ کے ریل کے ذریعہ ہوا کریں گے اور اونٹنیاں بیکار ہو جاویں گی۔

رہی یہ بات کہ ان پیشگوئیوں کو مسیح موعود کے لفظ سے کیا تعلق ہے کیونکہ قرآن شریف میں تو مسیح موعودؑ کا نام کہیں نہیں آیا۔ سو اس کے واسطے یاد رکھنا چاہیے کہ ہم خاتم الخلفاء ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور خاتم الخلفاء کا قربِ قیامت کے وقت ظہور ہونے کا وعدہ قرآن شریف میں موجود ہے۔ پھر ہمیں بار بار بذریعہ الہام الٰہی اس اَمر کی بھی اطلاع دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح موعودؑ بھی ہمارا ہی نام رکھا ہے جس کے آنے کے متعلق احادیث میں وعدہ تھا۔ یاد رکھو کہ جو شخص احادیث کو ردّی کی طرح پھینک دیتا ہے وہ ہرگز ہرگز مومن نہیں ہوسکتا کیونکہ اسلام کا بہت بڑا حصہ ایسا ہے کہ جو بغیر مدد احادیث ادھورا رہ جاتا ہے۔ جو کہتا ہے کہ مجھے احادیث کی ضرورت نہیں وہ ہرگز مومن نہیں ہوسکتا۔ اسے ایک دن قرآن کو بھی چھوڑنا پڑے گا۔

پس قرآن شریف میں جس شخص کا نام خاتم الخلفاء رکھا گیا ہے اسی کا نام احادیث میں مسیح موعود رکھا گیا ہے اور اس طرح سے دونوں ناموں کے متعلق جتنی پیشگوئیاں ہیں وہ ہمارے ہی متعلق ہیں۔ خلیفہ کہتے ہیں پیچھے آنے والے کو اور کامل وہ ہے جو سب سے پیچھے آوے۔ اور ظاہر ہے کہ جو قربِ قیامت کے وقت آوے گا وہی سب سے پیچھے ہوگا۔ لہٰذا وہی سب سے اکمل اور افضل ہوا۔ صرف تغیر الفاظ ہی ہے۔ قرآن شریف نے خلیفہ کے لفظ سے پکارا ہے اور حدیث میں اس کو مسیح موعودؑ کے نام سے نامزد کیا گیا ہے۔ رہا یہ کہ ہمارے اس دعوے کا ثبوت کیا ہے۔ سو یاد رکھو کہ ہماری صداقت کا ثبوت وہی ہے جو ہمیشہ سے انبیاء اور ماموروں کا ہوتا رہا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا جو ثبوت کوئی شخص پیش کر سکتا ہے اسی دلیل سے ہم اپنے دعوے کا صدق ظاہر کر سکتے ہیں۔ خدا کی طرف سے آنے والے خدا ہی کی گواہی سے سچے ٹھہرا کرتے ہیں۔ دعویٰ تو صادق بھی کرتا ہے اور کاذب بھی۔ اور نفس دعویٰ کرنے میں تو دونوں یکساں ہیں مگر ان میں مابہ الامتیاز بھی تو ہوتا ہے۔

بھلا فرض کرو کہ مسیح موعودؑ کا ذکر قرآن میں بھی نہ ہوتا اور حدیث میں بھی پایا نہ جاتا تو پھر کیا تھا؟ پھر بھی صادق اپنے نشانوں سے شناخت کر لیا جاتا۔ دیکھو! حضرت موسٰی کا ذکر بھلا کس پہلی کتاب میں درج تھا؟ کوئی بتا سکتا ہے کہ حضرت موسٰی کے آنے کی خبر اور پیشگوئی کس کتاب میں موجود تھی؟ پھر حضرت موسٰی کس طرح نبی مان لیے گئے؟ یاد رکھو کہ خدا کی تازہ بہ تازہ گواہی ہی صدق کی دلیل ہو سکتی ہے۔ صرف دعویٰ بلا دلیل صدق کی دلیل ہرگز نہیں ہو سکتا۔ بلکہ جس دعویٰ کے ساتھ خدائی شہادت نہ ہو وہ جھوٹا ہے اور خدا کے مواخذہ کے قابل ہے۔ جھوٹے مدعی کو خدا خود ہلاک کرتا ہے اور اس کو مہلت نہیں دی جاتی کیونکہ وہ خدا پر افترا کرتا ہے اور حق و باطل میں گڑبڑ ڈالنا چاہتا ہے۔

میں اسی شریعت کی خدمت اور تجدید کے واسطے آیا ہوں

میں کوئی نئی بات نہیں لایا اور نہ ہی میں نے کوئی نئی شریعت قائم کی ہے۔ میں اسی شریعت کی خدمت اور تجدید کے واسطے آیا ہوں جو آنحضرتؐ لائے تھے اور میری سچائی دعوے کے لئے بھی منہاج نبوت پر ہی نشان موجود ہیں۔ میں نے اپنی کتابوں میں ان کا ذکر کیا ہے۔ ابھی ایک تازہ کتاب حقیقۃ الوحی میں نے لکھی ہے اس کا مطالعہ کر کے دیکھ لیا جاوے کہ کس قدر نشان خدا نے میری تائید کے واسطے ظاہر فرمائے۔ کیا یہ کسی جھوٹے کے واسطے بھی دکھائے جاتے ہیں؟

دیکھو! بعض انبیاء صرف ایک ہی معجزہ سے صادق قبول کر لئے گئے مگر یہاں تو ہزاروں نشان موجود ہیں۔ پھر ہم اگر کسی نئے دین کا دعویٰ کرتے۔ کتاب اللہ کے خلاف کوئی نیا حکم اپنی طرف سے بیان کرتے۔ سنّت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں کمی بیشی کرتے یا ان کو منسوخ کرنے کا دعویٰ کرتے۔ نماز، روزہ اور حج کے مسائل میں کوئی تغیر تبدل کرتے تو اس قسم کا کوئی دغدغہ اور شک و شبہ بھی بجا تھا۔ مگر ہم تو کہتے ہیں کہ کافر ہے وہ شخص جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے ذرّہ بھر بھی ادھر ادھر ہوتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے روگردانی کرنے والا ہی ہمارے نزدیک جب کافر ہے تو پھر اس شخص کا کیا حال جو کوئی نئی شریعت لانے کا دعویٰ کرے یا قرآن اور سنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں تغیر تبدل کرے یا کسی حکم کو منسوخ جانے، ہمارے نزدیک تو مومن وہی ہے جو قرآن شریف کی سچی پیروی کرے اور قرآن شریف ہی کو خاتم الکتب یقین کرے اور اسی شریعت کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں لائے تھے اسی کو ہمیشہ تک رہنے والی مانے اور اس میں ایک ذرّہ بھر اور ایک شوشہ بھی نہ بدلے اور اس کی اتباع میں فنا ہو کر اپنا آپ کھو دے اور اپنے وجود کا ہر ذرّہ اسی راہ میں لگائے عملاً اور علماً اس کی شریعت کی مخالفت نہ کرے تب پکا مسلمان ہوتا ہے۔ البتہ ہمارے اوپر جو کلام الٰہی نازل ہوتا ہے اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ ہم نے کسی نئی اور تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا ہے بلکہ مکالمہ مخاطبہ کی کثرت کیا بلحاظ کمیت اور کیا بلحاظ کیفیت کی وجہ سے نبی کہا گیا ہے۔ اب اس مجلس میں اگر کوئی صاحب عبرانی یا عربی سے واقف ہے تو وہ جان سکتا ہے کہ نبی کا لفظ نبأ سے نکلا ہے اور نبأ کہتے ہیں خبر دینے کو۔ اور نبی کہتے ہیں خبر دینے والے کو۔ یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کلام پا کر جو غیب پر مشتمل زبردست پیشگوئیاں ہوں مخلوق کو پہنچانے والا اسلامی اصطلاح کے رو سے نبی کہلاتا ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں ہے اَنۡۢبِـُٔوۡنِیۡ بِاَسۡمَآءِ ہٰۤؤُلَآءِ(البقرۃ:۳۲) اصل میں ہماری اور ان لوگوں کی صرف نزاع لفظی ہے۔

ہمارے مخالف اگر تقویٰ طہارت نہ چھوڑیں اور تعصب اور عناد نہ کریں تو سب جانتے ہیں اور متقدمین بزرگ اور اولیاء اللہ صاف لکھ گئے ہیں وَلِلّٰہِ بِاَوْلِیَآءِہٖ مُکَالِمَاتٌ وَمُـخَاطِبَاتٌ دنیا میں صدہا نہیں بلکہ ہزاروں لاکھوں ہیں جن کو سچی خوابیں آتی ہیں بلکہ سچی خواب تو بعض اوقات بلا امتیاز نیک و بد کافر و مسلم کو بھی آجاتی ہے۔ بعض وقت زانی مردوں اور زانیہ عورتوں کو، چوہڑے چماروں کو بھی سچی خوابیں آجاتی ہیں۔ پھر مومن کو جو کہ بوجہ اپنے ایمان صحیح کے ان سے بڑھ کر اس بات کا مستحق ہے کیوں سچی خواب یا کشوف اور الہامات نہ مانے جاویں۔ بلکہ مومن کو بہت بڑھ چڑھ کر یہ سب باتیں میسّر آسکتی ہیں۔

اس سے یہ مت خیال کرو کہ اس طرح صادقوں اور مامورین انبیاء و رسل کی رؤیا اور کشوف اور الہامات کی بے رونقی ہوتی ہے یا ان کی شان میں کوئی فرق یا بے وقعتی لازم آتی ہے۔ نہیں بلکہ یہ امور تو اس وحی نبوت اور خدا کے مکالمات مخاطبات کے واسطے جو کہ اس کے انبیاء اور رسولوں کو اس کی طرف سے عطا کئے جاتے ہیں ان کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کی صداقت کی ایک قوی دلیل ہیں کیونکہ اگر اس کا بیج ان لوگوں میں نہ پایا جاتا تو ممکن تھا کہ وہ فاسق فاجر اور بے دین لوگ وحی اور الہام کے وجود سے ہی انکار کر بیٹھتے اور پھر ان کا اعتراض قوی ہوتا اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل حکمت سے انبیاء اولیاء کے مکالمات اور مخاطبات اور وحی نبوت کے واسطے بطور تخم ریزی یہ ایک شہادت ہر طبقہ کے لوگوں میں خود ان کے نفسوں میں پیدا کر دی تا کہ انسان کو انکار کرنے کے واسطے کوئی مفرّ رہ نہ جاوے اور اندر ہی اندر ملزم ہوتا رہے۔

سلسلہ مکالمہ و مخاطبہ اسلام کی روح ہے

قاعدہ کی بات ہے کہ انسان کو اگر کسی چیز کا نمونہ نہ دیا جاوے تو اس کے متعلق شبہات میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ بات صرف صرف اسلام ہی میں پائی جاتی ہے۔ اور یہ صداقت مذہب کی ایک اعلیٰ دلیل ہے جو کسی دوسرے مذہب میں پائی نہیں جاتی۔ اسلام ہی خدا کو پسند اور خدا کا مقرب و مقبول مذہب ہے اس واسطے اس نے محض اپنے رحم سے اسلام مسلمانوں کو ٹھوکر اور شبہات سے بچانے کے واسطے سلسلہ مکالمات اور مخاطبات کا ہمیشہ جاری رہنے والا اکمل فیضان عطا کیا۔ لوگوں کے دلوں میں اس قسم کے خیالات اکثر جاگزیں ہو جایا کرتے ہیں کہ میں بھی انسان ہوں اور یہ مدعی الہام بھی آخر میری ہی طرح کا انسان ہے تو کیا وجہ ہے کہ مجھے الہام اور مکالمہ الٰہیہ نہیں ہوتا اور اس کو ہوتا ہے؟ اس واسطے ایسے شبہات کا قلع قمع کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں اس فیضان کی ایک جھلک بطور نمونہ رکھ دی۔ دیکھو! جس طرح ایک پیسہ لاکھ دو لاکھ پیسوں کے وجود کے لئے اور ایک روپیہ کروڑ دو کروڑ روپوں اور خزائن کے واسطے دلیل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح سے ایک سچا خواب الہام کے واسطے دلیل صحیح ہو سکتا ہے۔ سچے خواب بطور ایک نمونہ کے فطرت انسانی میں ودیعت کئے گئے ہیں تاکہ اس نقطہ سے اس انتہائی کمال فیضان کا وجود یقین کر لیا جاوے۔ جب ایک خواب معمولی بلکہ ادنیٰ درجہ کے انسان کو بھی ممکن ہے تو کیا وجہ کہ اعلیٰ درجہ کے کامل اور پاک مطہر انسان میں اس خواب کا اعلیٰ مرتبہ جس کو ہم الہام کہتے ہیں موجود نہ ہو کیونکہ سچا خواب بھی کمالات کا ایک ادنیٰ ترین حصہ ہے۔

یاد رکھو کہ سلسلہ مکالمہ مخاطبہ اسلام کی روح ہے۔ ورنہ اگر اسلام کو یہ شرف حاصل نہ ہوتا تو یقیناً اسلام بھی دوسرے مذاہب کی طرح ایک مردہ مذہب ہوتا ہے۔ اس بات کو خوب سمجھ لو کہ اگر اسلام اس فضلِ الٰہی اور برکت سے خالی ہوتا تو یقیناً اسلام میں بھی کوئی وجہ فضیلت نہ تھی۔ یہ خدا کا خاص فضل ہے کہ وہ اس قسم کے زندہ نمونے اسلام میں ہر صدی کے سر پر بھیجتا رہا ہے۔ اور اس طرح سے ہمیشہ اسلام کا زندہ مذہب ہونا دنیا پر ثابت کرتا رہا ہے۔

اسلام ایک وقت وہ مذہب تھا کہ ایک شخص کے مرتد ہو جانے سے قیامت برپا ہو جاتی تھی مگر اب وہی اسلام ہے کہ لاکھوں انسان اس سے مرتد اور بے دین ہو گئے۔ اندرونی بیرونی دشمنوں کے حملوں سے اسلام کو نابود کرنے کی کوشش کی گئی اور اسلام کی ہتک کی گئی۔ پاؤں کے نیچے روندا اور کچلا گیا۔ خود مسلمانی کا دعویٰ کرنے والے دین کی حقیقت سے بے خبر ہو کر دین کے دشمن ثابت ہو رہے ہیں۔ اب بتاؤ کہ وہ کونسی ضلالت اور گمراہی باقی ہے جس کی اب انتظار کی جاتی ہے۔ عیسائیوں میں پادری فنڈر کی کتابیں مطالعہ کر کے دیکھ لو۔ وہ لکھتا ہے کہ اسلام میں ایک بھی پیشگوئی نہیں جو کی گئی اور نہ ہی کوئی پوری ہوئی۔ الٓمّٓ غُلِبَتِ الرُّوْمُ(الرّوم:۲، ۳) والی پیشگوئی کو بھی وہ ظنی اور ڈھکوسلا بتاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (نعوذ باللہ) واقعات موجودہ کو دیکھ کر ایسا اندازہ کر لیا تھا اور اس طرح سے پیشگوئی کر دی تھی۔ اس کے سوا اور سینکڑوں کتابیں اور رسائل ہیں جو اسلام کے خلاف لکھے گئے۔ کوئی مسلمان کسی عیسائی کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا اور دشمنانِ اسلام کو کوئی دندان شکن جواب نہیں دے سکتا۔ اگر اسلام اور اسلام کی زندگی صرف پرانے قصے کہانیوں پر ہی آ رہی ہے تو پھر یاد رکھو کہ اسلام آج بھی نہیں ہے اور کل بھی نہیں ہے۔

یاد رکھو کہ اسلام کی جس طرح خدا نے ابتدا میں حمایت کی اور کرتا آیا ہے۔ اسی طرح آج بھی اسلام کی حمایت میں وہ تازہ بہ تازہ نشان دکھا سکتا ہے اور ہر مومن کے واسطے وہ بشرطیکہ کوئی مومن ہو فرقان پیدا کر سکتا ہے۔ مگر یہ ہیں نام کے مُلّاں اور حامیانِ دین متین کہ خود منبروں پر چڑھ کر بلند آوازوں سے کہتے ہیں کہ اب اسلام میں نشان دکھانے والا کوئی نہیں۔ چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب نے خود جلسہ مہوتسو میں جہاں کہ تمام مذاہب کے لوگ جمع تھے اس بات کا اقرار کیا کہ افسوس ہے کہ اسلام میں آجکل ایسے لوگ موجود نہیں ہیں جو نشان دکھا سکیں۔ گویا خود اقرار کر لیا کہ ہمارا مذہب بھی دوسرے مذاہب کی طرح ایک مُردہ مذہب ہے اور زندگی کی جو علامات ہوتے ہیں وہ اب اس میں موجو نہیں ہیں۔

اب غور کرو کہ کیا اسلام کی عزت ایسی ہی باتوں میں ہے؟ نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر اور کیا ذلّت ہوگی کہ اسلام کو ایسے لوگوں سے خالی مانا جاوے جن سے خدا مکالمہ مخاطبہ کرتا ہو اور جن کی صداقت کے ثبوت کے واسطے ان کے ساتھ زبردست غیب پر مشتمل نشان موجود ہوں۔ یاد رکھو کہ اگر خدانخواستہ ایسا بھی کوئی زمانہ آ جاوے کہ اسلام میں یہ برکات نہ رہیں تو یقین رکھو کہ اسلام بھی اور مذہبوں کی طرح مَر گیا۔ کیونکہ زندگی کی جو علامت تھی جب وہی مفقود ہے تو پھر زندگی کیسی؟ دیکھو! برہمو بھی تو لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ(الصّٰفّٰت:۳۶) کے قائل ہیں وہ اگر تم سے سوال کریں کہ مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ(الفتح:۳۰) کے زیادہ کرنے سے تم میں کیا طاقت اور خصوصیت پیدا ہوگئی؟ تو بتاؤ ان کو کیا جواب دو گے؟ مسلمان کو چاہیے کہ ایک ایسی زبردست بات پکڑے اور ایسا اصول اختیار کر کے کہ جس سے وہ دوسروں پر غالب آجاوے۔

اچھا اگر یہی بات ہے تو پھر بتاؤ تو سہی کہ تم میں اور تمہارے غیروں میں مابہ الامتیاز ہی کیا ہے؟ جبکہ برہمو بھی توحید کے قائل ہیں۔ عیسائی بھی توحید کے خیالات رکھتے ہیں۔ آریہ بھی توحید کے حامی بنتے ہیں۔ یہودی بھی مؤحد ہیں۔ ہم نے ایک خط ایک فاضل یہودی کو لکھا تھا کہ توحید کے متعلق تمہارا کیا عقیدہ ہے؟ اس کے جواب میں اس نے لکھا کہ ہماری تعلیم توحید کی ہے اور ہمارا وہی خدا ہے جو قرآن کا خدا ہے۔ اب یہ سمجھنے اور غور کرنے کی بات ہے کہ جب یہ لوگ بھی توحید کا ہی دعویٰ کرتے ہیں تو مسلمانوں میں خصوصیت کی وجہ کیا ہے؟

حق و باطل میں تمیز کرنیوالے معجزات

رہی نظری اور دقیق بحثیں سو وہ تو ذبح کرنے والی باتیں ہیں۔ بحثوں سے کبھی کوئی مانا؟ نہیں۔ دیکھو! لیکھرام کا مجھ سے مقابلہ ہوا تھا۔ اس نے میرے واسطے پیشگوئی کی تھی کہ تین برس میں مَر جاؤں گا۔ میں نے خدا سے خبر پا کر اس کے حق میں پیشگوئی کی تھی کہ چھ برس میں بذریعہ قتل ہلاک ہوگا۔ لیکھرام کی کتاب’’ خبط احمدیہ ‘‘کھول کر دیکھ لو کہ کس طرح اس نے رو رو کر گریہ و بکا سے پرمیشر کے حضور نہایت عجز و انکسار سے التجا کی ہے اور خدا سے صادق کی تائید اور نصرت اور کاذب کی ہلاکت اور بربادی کا فیصلہ مانگا ہے تاکہ حق و باطل میں تمیز ہو سکے اور دنیا پر ظاہر ہو جاوے کہ آریہ مت اور مذہب اسلام دونوں میں سے خدا کے حضور کونسی راہ پیاری اور منظور ہے اور کون سی مردود؟ آخر کار جو فیصلہ ہوا ایک دنیا اس کو جانتی ہے کہ خدا نے کس کی تائید کی اور کون نامراد مَرا۔ اور اس طرح سے سچے اور جھوٹے اور اسلام اور آریہ مذہب کا ہمیشہ کے واسطے تصفیہ ہو گیا۔۱؎ یہ ہیں خدا کے نشان اور ان کا نام ہے مابہ الامتیاز۔ خشک مباحثات سے کیا ہو سکتا ہے۔ بھلا کبھی کسی نے دیکھا بھی کہ مباحثہ سے کسی نے ہار منوائی ہو؟ ایک طرف خبط احمدیہ کو لے لو اور دوسری طرف میری کتابوں کو لے لو جن میں یہ پیشگوئی بڑی بسط سے درج ہے پھر مقابلہ کرو کہ کون سا خدا کا کلام ہے اور کون سا شیطان کا؟ اگر میرا نطق خدا کی طرف سے اور خدا کے حکم سے نہ ہوتا تو کیا ممکن نہ تھا کہ میں ہی مَر جاتا اور وہ زندہ رہتا کیونکہ ظاہر اسباب اس بات کے متقاضی تھے۔ میں اس کی نسبت عمر میں زیادہ تھا اور پھر بیماری میرے لاحق حال تھی مگر برخلاف اس کے وہ مضبوط و توانا اور تندرست تھا۔ یہی نہیں بلکہ اس کے سوا اور بھی جس جس نے مباہلہ کیا وہی ذلیل ہوا۔ ہلاک ہوا۔ غلام دستگیر قصوری، محی الدین لکھو کے والا۔ ان لوگوں نے مباہلہ کئے اور خود ہی ہلاک ہو کر ہماری صداقت پر ہمیشہ کے واسطے مہریں کر گئے۔ مولوی چراغ دین جموں والا نے میری نسبت پیشگوئی کی کہ طاعون سے مَرے گا اور مباہلہ کیا۔ مگر دیکھو خود ہی طاعون سے مَرا۔ ایک فقیر مرزا تھا۔ اس نے بھی اعلان کیا تھا کہ مرزا رمضان کے مہینے میں مَر جائے گا۔ مجھے عرش سے یہ خبر دی گئی ہے۔ آخر جب وہ رمضان کا مہینہ آیا تو خود ہلاک ہو گیا۔ بابو الٰہی بخش صاحب نے بھی ہماری نسبت اپنی کتاب میں طاعون سے مَرنے کی پیشگوئی کی تھی مگر آپ لوگ جانتے ہوں گے کہ وہ کس طرح مَرے۔

اب بتاؤ کہ معجزات کے سر پر سینگ ہوتے ہیں۔ ڈوئی جو سمندروں کے پار بیٹھا تھا جب وہ ہمارے مقابلہ میں آیا اور ہم نے خدا سے خبر پا کر اس کے واسطے اس کی پُر حسرت ہلاکت کے واسطے پیشگوئی کی تو فوراً اس پر آثار ادبار ظاہر ہونے شروع ہو گئے اور آخر کار بڑی نامرادی سے مفلوج ہو کر اور طرح طرح کے دکھ اور ذلّتیں دیکھتا ہوا ہلاک ہو گیا۔ غرضیکہ اگر نشانات کی ایک کتاب بنائی جاوے تو یقین ہے کہ پچاس جزو کی ایک کتاب تیار ہو۔ دیکھو! عبد اللہ آتھم بھلا اب کہاں ہے؟

لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے واسطے کوئی نیا معجزہ دکھاؤ۔ خدائی نشانات کیا باسی ہو گئے ہیں اور وہ ردّی ہو گئے ہیں کہ ان کو ردّ کر دیا جاتا ہے اور اپنی مرضی کے نشانات مانگے جاتے ہیں؟ خدا کسی کا ماتحت ہو کر نہیں چلنا چاہتا کہ وہ کسی کی مرضی کا تابع ہو۔ وہ نشان دکھا رہا ہے مگر اپنی مرضی کے موافق دکھاتا ہے۔ کیا ان سے تسلّی نہیں ہوتی کہ اور مانگے جاتے ہیں؟

الغرض قرآن شریف میں آخری زمانہ کے موعود کا نام خلیفہ رکھا گیا ہے اور احادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مسیحؑ کے نام سے اس کو یاد کیا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھی ہمارے دو نام رکھے ہیں جو کہ ہماری کتاب میں جس کو عرصہ چھبیس سال ہو گیا چھپ کر شائع ہوگئی اور دوست دشمن کے ہاتھ میں موجود ہے۔ چنانچہ ہمارے ایک الہام میں یوں آیا ہے اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیۡفَۃً(البقرۃ:۳۱) اور ایک دوسرے الہام میں ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَکَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ۔ غرض حدیث اور قرآن شریف کے رو سے اللہ تعالیٰ نے ہمارا ہی یہ نام رکھا ہے اور آنے والا موعودؑ ہمیں ہی مقرر فرمایا ہے۔

مسیح ناصری تو مَر گیا اور قرآن شریف میں بار بار اس کی وفات کا ذکر بڑے زور سے کیا گیا ہے۔ وہ تو اب کسی طرح زندہ ہو ہی نہیں سکتا۔ جب اس کی جگہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کو بٹھا دیا تو اب بھی اس کا انتظار کرنا کیسی نادانی اور جہالت ہے۔ میرا مدعا یہ ہے کہ لوگ جو اس معاملہ میں بحث کرتے ہیں کہ ہمیں ہمارے منہ مانگے نشان دیئے جاویں۔ دیکھو! صدہا نبی ایسے بھی آئے کہ ان کی پیشگوئی کسی پہلی کتاب میں نہیں کی گئی۔

اصل بات یہ ہے کہ سچے نبی کے ساتھ خدا کی ہیبت ہوتی ہے اور جو خدا کی طرف سے آتا ہے اس کے ساتھ خدائی نشان اور تائید کا علَم لازمی طور سے ہوتا ہے۔ دیکھو! بائبل، انجیل، قرآن، حدیث میں جن معجزات کا ذکر ہے دشمن ان کو نہ ماننے کے کئی وجوہ پیدا کر سکتا ہے۔ تحریف تبدیل کا الزام لگا سکتا ہے اور اَور رنگ کے دوسرے پہلو کے معنے کر سکتا ہے۔ غرضیکہ گذشتہ امور پر ہی اگر فیصلہ کا انحصار اور دارو مدار ہو تو اس میں بڑی مشکلات پیش آسکتی ہیں، مگر اللہ تعالیٰ ہرگز پسند نہیں کرتا کہ حق و باطل میں خلط ہو اور حق دنیا پر مشتبہ رہے اسی واسطے اس کی سنّت ہے کہ وہ تازہ بہ تازہ نشانات سے اَمرِ حق کا ہمیشہ اظہار کرتا رہا ہے۔ چنانچہ اس زمانہ میں بھی جبکہ خدا نے ہمیں مامور کر کے بھیجا اور مسیح موعودؑ اور خاتم الخلفاء ہمارا نام رکھا تو ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ الخ یعنی ساتھ ہی اپنی شہادت اور گواہی بھی عطا فرمائی۔ پس اس وقت ہمارے ساتھ بھی خدائی شہادت موجود ہے، کوئی بھی اعتراض جو منہاج نبوت پر قرآن اور حدیث کی رو سے کیا جاوے ہم اس کا جواب دینے کو ہر وقت تیار ہیں۔ ہر مدعی سے یہی ہوتا ہے کہ اس کے صدق دعویٰ کا ثبوت مانگا جاتا ہے۔ سو ہم اس امتحان کے واسطے ہر وقت تیار ہیں۔ بشرطیکہ منہاج نبوت پر ہو۔ خدا جانے ان پرانے قصوں میں کیا رکھا ہے کہ یہ لوگ تازہ بتازہ نشانات کو تو نہیں مانتے اور قصوں کے پیچھے پڑتے ہیں۔ بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ قصوں سے تمہیں حاصل ہی کیا؟ یہودیوں کے قصے تو تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہیں تو کیا ان کو مان لوگے۔ ہر ایک قوم میں قصوں کی بھر مار ہے مگر خشک قصے تقویت ایمان اور تازگی روح کے واسطے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ قصوں والا ایمان بھی کچھ بودا ہی ہوتا ہے۔ تازہ بتازہ نشانات اور خدا کی گواہی کو جو لوگ نہیں مانتے ان کی سزا ہی آخر یہی ہے کہ وہ قصے کہانیوں کے پیرو ہوں۔

خلفاء اور مصلحین کا مدّعا

سوال کیا گیا کہ خلیفہ آنے کا مدّعا کیا ہوتا ہے؟ فرمایا۔ اصلاح۔ دیکھو! حضرت آدمؑ سے اس نسل انسانی کا سلسلہ شروع ہوا اور ایک مدت دراز کے بعد جب انسانوں کی عملی حالتیں کمزور ہوگئیں اور انسان زندگی کے اصل مدعا اور خدا کی کتاب کی اصل غایت بھول کر ہدایت کی راہ سے دور جا پڑے تو پھر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ایک مامور اور مرسل کے ذریعہ سے دنیا کو ہدایت کی اور ضلالت کے گڑھے سے نکالا، شانِ کبریائی نے جلوہ دکھایا اور ایک شمع کی طرح نور معرفت دنیا میں دوبارہ قائم کیا گیا۔ ایمان کو نورانی اور روشنی والا ایمان بنا دیا۔

غرض اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ سے یہی سنّت چلی آتی ہے کہ ایک زمانہ گذرنے پر جب پہلے نبی کی تعلیم کو لوگ بھول کر راہ راست اور متاعِ ایمان اور نور معرفت کو لوگ کھو بیٹھتے ہیں اور دنیا میں ظلمت اور گمراہی فسق و فجور چاروں طرف سے خطرناک اندھیرا چھا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی صفات جوش مارتی ہیں اور ایک بڑے عظیم الشان انسان کے ذریعہ سے خدا کا نام اور توحید اور اخلاق فاضلہ پھر نئے سرے سے دنیا میں اس کی معرفت قائم کر کے خدا کی ہستی کے بیّن ثبوت ہزاروں نشانوں سے دئیے جاتے ہیں اور ایسا ہوتا ہے کہ کھویا ہوا عرفان اور گمشدہ تقویٰ طہارت دنیا میں قائم کی جاتی ہے اور ایک عظیم الشان انقلاب واقع ہوتا ہے۔ غرض اسی سنّتِ قدیمہ کے مطابق ہمارا یہ سلسلہ قائم ہوا ہے۔

یاد رکھو کہ ایمان ہی ایمان کو پہچانتا ہے اور روشنی سے روشنی کی شناخت ہوتی ہے سورج دنیا میں موجود ہے مگر جس کی آنکھ میں ہی نور نہ ہو وہ سورج سے فائدہ ہی کیا اُٹھا سکتا ہے؟ منہ سے یہ دعویٰ کر دینا کہ ہمیں کسی امام یا مصلح کی کیا ضرورت ہے؟ بڑا خطرناک ہے۔

میں سچ کہتا ہوں کہ خدا کے پانے کے واسطے بڑے بڑے سخت مشکلات اور دشوار گذار گھاٹیاں ہیں۔ ایمان صرف اسی کا نام نہیں ہے کہ زبان سے کلمہ پڑھ لیا اللّٰہُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰہَ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ اَلۡمَلِکُ الۡقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ(الحشر:۲۳ تا ۲۴) ایمان ایک نہایت باریک اور گہرا راز ہے اور ایک ایسے یقین کا نام ہے جس سے جذباتِ نفسانیہ انسان سے دور ہو جاویں اور ایک گناہ سوز حالت انسان کے اندر پیدا ہو جاوے۔ جن کے وجود میں ایمان کا سچا نور اور حقیقی معرفت پیدا ہو جاتی ہے ان کی حالت ہی کچھ الگ ہو جاتی ہے اور وہ دنیا کے معمولی لوگوں کی طرح نہیں بلکہ ممتاز ہوتے ہیں۔ کوئی ایک گناہ چھوڑ کر ایسا مغرور ہو جانا اور مطمئن ہو جانا کہ بس اب ہم مومن بن گئے اور تمام مدارجِ ایمان ہم نے طے کر لئے یہ ایک اپنا خیال ہے۔

دیکھو! انسان کی فطرت ہی ایسی ہے کہ ہمیشہ ایک حالت پر قائم نہیں رہتی۔ پس جب تک لمبے تجربہ اور استقامت سے یہ اَمرب پایہءِ ثبوت نہ پہنچ جاوے کہ واقعی اب تم نے خدا کو مقدم کر لیا ہے اور تمہاری حالت گناہ سوز مستقل ہو گئی ہے اور تم کو نفس امّارہ اور لوّامہ سے نکل کر نفسِ مطمئنّہ عطا کیا گیا ہے اور عملی طور سے سچی پاکیزگی تم نے حاصل کر لی ہے تب تک مطمئن ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔

ترکِ شر اور کسبِ خیر کے مراتب

دیکھو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَکّٰی(الاعلٰی:۱۵) فلاح وہ شخص پاوے گا جو اپنے نفس میں پوری پاکیزگی اور تقویٰ طہارت پیدا کر لے اور گناہ اور معاصی کے ارتکاب کا کبھی بھی اس میں دورہ نہ ہو اور ترکِ شر اور کسبِ خیر کے دونوں مراتب پورے طور سے یہ شخص طے کر لے تب جا کر کہیں اسے فلاح نصیب ہوتی ہے۔ ایمان کوئی آسان سی بات نہیں۔ جب تک انسان مَر ہی نہ جاوے

جب تک کہاں ہوسکتا ہے کہ سچا ایمان حاصل ہو؟

دیکھو! ایمان کی دو ہی نشانیاں ہیں۔ اوّل درجہ یہ ہے کہ گناہ کو انسان چھوڑ دے اور ایسی حالت اس کو میسر آ جاوے کہ گناہ کرنا گویا آگ میں پڑنا ہے یا کسی کالے سانپ کے منہ میں انگلی دینا ہے یا کوئی خطرناک زہر کا پیالہ پینے کے برابر ہے۔ پھر یاد رکھو کہ صرف ترکِ شر ہی نیکی نہیں ہے۔ نیکی اس میں ہے کہ ترک شر کے ساتھ ہی کسبِ خیر بھی ہو۔ ترکِ گناہ میں جب انسان اس درجہ تک ترقی کر جاوے تو پھر چاہیے کہ خدا کے منشا کے موافق سنّت رسول پر بڑی سرگرمی سے نیک اعمال کو بجا لاوے اور کوئی روک اس کی طبیعت میں پیدا نہ ہو اور انشراح صدر سے نیکی کرنے پر قادر ہو جاوے۔

دیکھو! بعض لوگ فطرتاً ہی ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں بعض قسم کے معاصی کے ارتکاب کی طاقت اور مادہ ہی نہیں ہوتا۔ کیا ایک ایسا شخص جس کو قوت رجولیت دی ہی نہیں گئی یہ شیخی مار سکتا ہے کہ میں زنا نہیں کرتا۔ یا وہ جس کو دن بھر میں دو پیسے کی روٹی بھی مشکل سے میسر آئی ہے دعویٰ کر سکتا ہے کہ میں شراب نہیں پیتا۔ یا ایک ضعیف ناتواں کس مپرس جو کہ خود ہی ذلیل وخوار پھرتا ہے کہہ سکتا ہے کہ میں ہمیشہ صبر اور تحمل اور بردباری کرتا ہوں اور کسی کا مقابلہ نہیں کرتا، عفو کرتا ہوں، غرض بعض لوگ فطرتاً ہی ایسے پیدا ہوتے ہیں کہ وہ بعض گناہوں پر قادر ہی نہیں ہو سکتے۔ ممکن ہے کہ بعض سادہ لوح انسان ایسے بھی ہوں کہ جنہوں نے عمر بھر میں کوئی بھی گناہ نہ کیا ہو۔ پس صرف ترکِ ذنوب ہی نیکی کی شرط نہیں بلکہ کسبِ خیر بھی اعلیٰ جزو ہے۔ کوئی انسان کامل نہیں ہو سکتا جب تک دونوں قسم کے شربت پی نہیں لیتا۔ سورۂ دہر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ایک شربت کافوری ہوتا ہے اور دوسرا شربت زنجبیلی۔ یہ مقربوں اور برگزیدہ لوگوں کو دونوں شربت پلائے جاتے ہیں۔ کافوری شربت کے پینے سے انسان کا دل ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور گناہ کے قویٰ ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ کافور میں گندے مواد کے دبانے کی تاثیر ہے۔ پس وہ لوگ جن کو شربت کافوری پلایا جاتا ہے۔ ان کے گناہ والے قویٰ بالکل دب ہی جاتے ہیں اور پھر ان سے گناہ کا ارتکاب ہوتا ہی نہیں اور ایک قسم کی سکینت جس کو شانتی کہتے ہیں میسر آ جاتی ہے اور ایک نور پانی کی طرح اترتا ہے جو ان کے سینے میں سارے گندوں کو دھو ڈالتا ہے اور سفلی زندگی کے تمام تعلقات ان سے الگ کر دئیے جاتے ہیں اور گناہ کی آگ کی بھڑک ہمیشہ کے واسطے ٹھنڈی پڑ جاتی ہے۔ مگر یاد رکھو صرف یہی اَمر نیکی اور خوبی نہیں ہے۔ ایک شخص کا ہمیں واقعہ یاد ہے کہ اس کی کسی نے دعوت کی اور کھانا وغیرہ کھلا چکنے کے بعد میزبان نے اپنے مہمان کی خدمت میں عذر کیا کہ میں جیسا کہ آپ کی خدمت کا حق تھا ادا نہیں کر سکا یعنی جیسا کہ قاعدہ ہے اپنی طرف سے معذرت کی۔ مگر مہمان کچھ ایسا شوریدہ مغز تھا کہ میزبان کی اس بات سے بھڑک اٹھا اور کہنے لگا کہ کیا تم مجھ پر اس طرح سے اپنا احسان جتانا چاہتے ہو۔ تمہارا نہیں بلکہ میرا تم پر بہت بھاری احسان ہے۔ میزبان نے فرمایا کہ یہ اور خوشی کی بات ہے میں وہ بھی جاننا چاہتا ہوں تو اس مہمان نے کہا کہ دیکھو! جب تم سامان مہمان داری میں مصروف تھے اور میری طرف سے بالکل بے خبر تھے میں تنہا اس جگہ موجود تھا اگر میں تمہارے اس مکان میں آگ لگا دیتا تو تمہارا کتنا نقصان ہوتا۔ پس میں نے تم پر احسان کیا ہے نہ کہ تم نے۔

غرض ترکِ شرّ کی یہ ایک مثال ہے مگر یاد رکھو کہ خدا کے سامنے ایسی مثال کوئی پیش نہیں کر سکتا۔ وہاں تو جیسا کرے گا ویسا پائے گا۔ ترکِ ذنوب کو اللہ تعالیٰ نے شربت کافوری کی ملونی سے تشبیہ دی ہے۔

اس کے بعد دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ انسان کو شربت زنجبیل پلایا جاوے۔ زنجبیل سونٹھ کو کہتے ہیں۔ زنجبیل مرکب ہے لفظ زَنَا اور جَبَل سے۔ زنجبیل کی تاثیر ہے کہ حرارت غریزی کو بڑھاتی ہے اور لغوی معنے اس کے ہیں پہاڑ پر چڑھنا۔ اس میں جو نکتہ رکھا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ جس طرح سے پہاڑ پر چڑھنا مشکل کام ہے اور وہ اس مقوی چیز کے استعمال سے آسان ہو جاتا ہے اسی طرح روحانی نیکی کے پہاڑ پر چڑھنا بھی سخت دشوار ہے۔ وہ روحانی شربت زنجبیل سے آسان ہو جاتا ہے۔

خالص اعمال محض لِلّٰہ اخلاص اور ثواب کے ماتحت بجالانا بھی ایک پہاڑ ہے اور سخت دشوار گذار گھاٹی سے مشابہ ہے۔ ہر ایک پاؤں کا یہ کام نہیں کہ وہاں پہنچ سکے۔ دیکھو! دنیوی امور میں تو ایک ظاہر نتیجہ مدّنظر ہوتا ہے۔ اور اَمر مخصوص کے واسطے کوشش کی جاتی ہے اور ضمیر میں ایک خاص غرض اور مقصد مدّنظر رکھ کر محنت کی جاتی ہے اور کامیابی کے واسطے کس قدر جان توڑ کوشش کی جاتی ہے۔ حصولِ عزت اور مدارج پاس کے واسطے کیسی کیسی جانکاہ سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں کہ بعض اوقات انسان ان محنتوں کی وجہ سے پاگل اور مجنون اور بعض اوقات ایسے عوارض میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ سل اور دق وغیرہ امراض اس کے لاحق حال ہو جاتی ہیں جب دنیوی امتحانات کی گھاٹیاں ایسی مشکل ہیں تو پھر دینی اور روحانی مقاصد کی گھاٹیاں جن کے نتائج ابھی ایک قسم کے پردہ غیب میں ہیں اور بعض ظنی طبائع ان کے وجود اور عدم وجود میں بھی فیصلہ نہیں کر سکتے ان کے حصول کے واسطے پھر کیسی کیسی محنت اور کوشش کی ضرورت ہے؟ یہ خیال کر لینا کہ ہم ایک پھونک سے خدا تک پہنچ سکتے ہیں اور صرف لسانی اقرار سے ہی پاک ہو سکتے ہیں یہ ان لوگوں کا خیال ہے جنہوں نے اصلاح نہ کبھی دیکھی اور نہ سنی۔

پاکیزگی کے مراحل بہت دور ہیں

یاد رکھو کہ پاکیزگی کے مراحل بہت دور ہیں اور وہ ان خیالات سے بالاتر ہیں۔ صرف پاکیزگی حاصل کرنا اور سچے طور سے صغائر کبائر سے بچ جانا ان لوگوں کا کام ہے جو ہر وقت خدا کو آنکھ کے سامنے رکھتے ہیں اور فرشتہ سیرت بھی وہی لوگ ہو سکتے ہیں۔ دیکھو ایک بکری کو اگر ایک شیر کے سامنے باندھ دیں تو وہ اپنا کھانا پینا ہی بھول جاوے چہ جائیکہ وہ ادھر ادھر کے کھیتوں میں منہ مارے اور لوگوں کی محنت اور جانفشانیوں سے پیدا کی ہوئی کھیتیوں کو کھاوے۔ پس یہی حال انسان کا ہے اگر اس کو یہ یقین ہو کہ میں خدا کو دیکھ رہا ہوں یا کم از کم خدا مجھے دیکھ رہا ہے تو بھلا پھر ممکن ہے کہ کوئی گناہ اس سے سرزد ہو سکے؟ ہرگز نہیں۔ یہ ایک فطرتی قاعدہ ہے کہ جب یقین اور قطعی علم ہو کہ اس جگہ قدم رکھنا ہلاکت ہے یا ایک سوراخ جس میں کالا سانپ ہو اور یہ خود اسے دیکھ بھی لیوے تو کیا اس میں انگلی ڈال سکتا ہے؟ یا ایک ایسے جنگل میں جہاں اس کو یقین ہو کہ ایک خونخوار شیر ہے تنہا بغیر کسی ہتھیار کے جا سکتا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ غرض یہ فطرت انسانی میں ہی رکھا گیا ہے کہ جہاں اس کو ہلاکت کا یقین ہوتا ہے اس جگہ سے بچتا اور پرہیز کرتا ہے۔ جب تک اس درجہ تک خدا کی معرفت نہ ہو جاوے اور یہ یقین پیدا نہ ہو جاوے کہ خدا کی نافرمانی اور گناہ ایک بھسم کر دینے والی آگ ہے یا ایک خطرناک زہر ہے تب تک حقیقتِ ایمان کو نہیں سمجھا گیا اور بغیر ایسے کامل یقین اور معرفت کے پھر ایمان بھی ادھورا ایمان ہے۔ وہ ایمان جس کا اعمال پر بھی اثر نہ ہو یا جو ایمان انسانی حالات میں ذرا بھی تبدیلی پیدا نہ کر سکے کس کام کا ایمان ہے اور اس کی کیا فضیلت ہو سکتی ہے؟

جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ دنیا کے کاروبار میں آرام سے زندگی بھی بسر کرتے رہیں۔ اور خدا بھی مل جاوے اور انسان پاک بھی ہو جاوے اور اسے کوئی محنت اور کوشش نہ کرنی پڑے یہ بالکل غلط خیال ہے۔ کل انبیاء، اولیاء، اتقیاء اور صالحین کا یہ ایک مجموعی مسئلہ ہے کہ پاک کرنا خدا کا کام ہے اور خدا کے اس فضل کے جذب کے واسطے اتباع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم از بس ضروری اور لازمی ہے جیسا کہ فرماتا ہے قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ(اٰل عمران:۳۲) سورج دنیا میں موجود ہے مگر چشم بینا بھی تو چاہیے۔ خدا تعالیٰ کا قانون قدرت لغو اور بے فائدہ نہیں ہے۔ جو ذرائع کسی اَمر کے حصول کے خدا نے بنائے ہیں۔ آخر انہیں کی پابندی سے وہ نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ کان سننے کے واسطے خدا نے بنائے ہیں مگر دیکھ نہیں سکتے ہیں۔ آنکھ جو دیکھنے کے واسطے بنائی گئی ہے وہ سننے کا کام نہیں کر سکتی۔ بس اسی طرح خدا کے فضل کے فیضان کے حصول کی جو راہ اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہے اس سے باہر رہ کر کیسے کوئی کامیاب ہو سکتا ہے؟ حقیقی پاکیزگی اور طہارت ملتی ہے اتباع نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیونکہ خود خدا نے فرما دیا ہے کہ اگر خدا کے محبوب بننا چاہتے ہو تو رسولؐ کی پیروی کرو۔ پس وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہمیں کسی نبی یا رسول کی کیا ضرورت ہے؟ وہ گویا اللہ تعالیٰ کے قانونِ قدرت کو باطل کرنا چاہتے ہیں۔

خدا فرماتا ہے کہ تم پاک نہیں ہو سکتے جب تک کہ میں کسی کو پاک نہ کروں۔ تم اندھے ہو مگر جسے میں آنکھیں دوں۔ تم مُردے ہو مگر جسے میں زندگی عطا کروں پس انسان کو چاہیے کہ ہمیشہ دعاؤں میں لگا رہے اور اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کی سچی تڑپ اور سچی خواہش پیدا کرے اور خدا کی محبت کی پیاس دل میں پیدا کرے تا کہ پھر خدا کا فیضان بھی اس کی نصرت کرے اور اسے قدرت نمائی سے اٹھائے۔ خدا کی تلاش میں اور اس کی مرضی کے ڈھونڈنے میں فنا ہو جاوے تا خدا پھر اسے زندہ کرے اور شربتِ وصال پلاوے اور اگر انسان جلدی کرے گا اور خدا کی چنداں پروانہ کرے گا یا معمولی طور سے لاپرواہی کرے گا تو پھر یاد رکھو کہ خدا بھی غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ ہے۔ کیا کوئی ہے جو خدائی قانون کو مٹا سکے؟ جو کہ اس نے فضل کے حصول کے واسطے بنا دیا ہے کہ فضل کے حصول کے امیدوار اور ازراہ نیاز اس دروازے سے داخل ہوں۔ جب ان کی امیدیں پوری ہوں گی ورنہ اگر تمام عمر بھی بھٹکتے پھریں بجز اس اصلی راہ کے (جو اتباع نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے) ہرگز ہرگز منزل مقصود کو نہیں پہنچ سکیں گے۔ خدا نے ایک راہ بتادی ہے۔ ہلاک ہوگا وہ جو پیروی نہ کرے گا۔ مگر لوگ باوجود سمجھانے کے نہیں سمجھتے اور لاپرواہی کرتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اس راہ کو جس کی ہم ان کو دعوت دیتے ہیں آزمالیں کہ آیا ہم سچ کہتے ہیں یا جھوٹ۔ ہماری طرف سے تو خدا بحث کر رہا ہے اور اس نے ہماری تائید میں آج تک ہزاروں نشان بھی دکھائے۔ کون شخص ہے جس نے ہمارا کوئی نہ کوئی نشان نہ دیکھا ہو۔ ابھی ایک انگریز امریکہ سے ہمارے پاس آیا تھا۔ وہ خود اقرار کر گیا ہے کہ واقع میں ڈوئی (آپؑ) کی پیشگوئی کے عین منشا کے مطابق مَرا مگر وہ تو خود بُرا تھا۔

غرض ایک ڈوئی کیا ہزاروں روشن اور زبردست نشان موجود ہیں۔ خدا کسی کا محکوم تو ہے نہیں وہ چاہے مُردے زندہ کرے یا زندوں کو مارے۔

غرض دنیا کے کاموں کے واسطے اپنی عمریں، مال، دولت، صحت، وقت آپ لوگ خرچ کرتے ہیں۔ آخر دین کا بھی حق ہے کہ اس کے لئے بھی کوئی وقت، عمر، دولت خرچ کی جاوے آپ ولایت میں ساڑھے تین سال رہے۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ تین کو جانے دیں وہ باقی کی ساڑھ ہی ہمارے پاس رہ جاویں۔ پھر دیکھیں کہ آپ کے معلومات میں کیسا مفید اضافہ ہوتا ہے۔

خاتم النّبیّین کے معنی سوال ک ی

ا گیا کہ خاتم النّبیّین کے کیا معنی

ہیں؟ فرمایا۔ اس کے یہ معنے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی صاحبِ شریعت نہیں آوے گا اور یہ کہ کوئی ایسا نبی آپؐ کے بعد نہیں آسکتا جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر اپنے ساتھ نہ رکھتا ہو۔

رئیس المتصوّفین حضرت ابنِ عربی کہتے ہیں کہ نبوت کا بند ہو جانا اور اسلام کا مَرجانا ایک ہی بات ہے۔ دیکھو حضرت موسٰی کے زمانہ میں تو عورتوں کو بھی الہام ہوتا تھا۔ چنانچہ خود حضرت موسٰی کی ماں سے بھی خدا نے کلام کیا ہے۔ وہ دین ہی کیا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ اس کے برکات اور فیوض آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئے ہیں۔ اگر اب بھی خدا اسی طرح سنتا ہے جس طرح پہلے زمانہ میں سنتا تھا اور اسی طرح سے دیکھتا ہے جس طرح پہلے دیکھتا تھا تو کیا وجہ ہے کہ جب پہلے زمانہ میں سننے اور دیکھنے کی طرح صفت تکلّم بھی موجود تھی تو اب کیوں مفقود ہوگئی؟ اگر ایسا ہی ہے تو کیا اندیشہ نہیں کہ کسی وقت خدا کی صفت سننے کی اور دیکھنے کی بھی معزولی ہو جاوے۔ افسوس ایسے بیہودہ خیالات پر۔ خدا جس طرح سے پہلے تمام انبیاء کے ساتھ بولتا تھا اور کلام کرتا تھا اسی طرح اب بھی بولتا ہے۔ چنانچہ ہم خود اس ثبوت کے واسطے موجود ہیں۔ یقین جانو کہ جس طرح خدا دیکھتا ہے اور سنتا ہے اسی طرح کلام بھی کرتا ہے۔ بجز اس کے کہ خدا تعالیٰ کے مکالمات اور مخاطبات کو اسلام میں ہمیشہ کے واسطے مانا جاوے اسلام کی زندگی ہی نہیں رہتی اور کبھی عزت ہی نہیں پاسکتا اور اسلام بھی دیگر مذاہب کی طرح ایک بے فیض اور بے برکت مُردہ مذہب رہ جاتا ہے۔

آپ اگر آج اس وقت اس بات کو نہ سمجھو گے تو پھر کسی دوسرے وقت میں سمجھ جاؤ گے۔ اس کے مانے بغیر تو پھر اسلام رہ ہی نہیں سکتا اور آپ کو بھی مانے بغیر چارہ نہیں ہوگا۔ اگر فطرت ہی کسی کی بے پروا ہو تو فطری نقص کو تو کوئی دور کر نہیں سکتا۔ ورنہ اگر فطرت سلیم ہے تو پھر کبھی نہ کبھی کشاں کشاں ادھر آہی جاوے گا۔

سوال کیا گیا کہ کیا ایک ہی وقت میں کئی نبی ہو سکتے ہیں؟ فرمایا۔ ہاں۔ خواہ ایک ہی وقت میں ہزار بھی ہو سکتے ہیں۔ مگر چاہیے ثبوت اور نشانِ صداقت۔ ہم انکار نہیں کرتے۔

سوال کیا گیا کہ کیا یہ آخری صدی ہے؟

سوال کیا گیا کہ کیا یہ آخری صدی ہے؟

فرمایا۔ اس کا علم خدا کو ہے۔ وہ قادر ہے کہ ایک زلزلہ سے تمام دنیا کا خاتمہ کر دے۔ اصل بات یہ ہے کہ آرام اور خوشی کے وقت میں بھی انسان کو ایسے ایسے سوال سوجھتے ہیں اگر کوئی ذرا سی بھی مشکل آ جاوے یا ابھی ایک زلزلہ آجاوے اور مکانات لرزنے لگ جاویں تو اس وقت معاً خیال کر لیں گے کہ قیامت آگئی اور یہی دنیا کے خاتمہ کا وقت ہے اور سچے دل سے خدا کو مان لیں گے۔ مگر جب امن ہو جاتا ہے تو پھر ایسے ایسے سوالات ہی سوجھا کرتے ہیں۔

فرمایا۔ میر محمد اسمٰعیل صاحب نے گذشتہ ۴؍اپریل ۱۹۰۵ء والے زلزلہ کے متعلق ایک قصہ سنایا کہ ایک شخص دہریہ تھا اور خدا سے منکر تھا مگر جب زلزلہ آیا وہ بھی رام رام کرنے لگ گیا۔ آخر جب وہ وقت جاتا رہا تو اس سے سوال کیا گیا کہ تم خدا کے منکر ہو پھر اس وقت رام رام کیسا تھا؟ شرمندہ سا ہو کر کہنے لگا کہ اصل میں مَیں نے غلطی ہی کھائی میری عقل ماری گئی تھی۔

غرض خدا چاہے تو صرف ایک ہی زلزلہ سے ہلاک کر دے۔ خدا کے آگے کوئی مشکل بات نہیں اب بھی خدا نے ایک زلزلہ کی خبر دی ہوئی ہے۔ آوے گا اور بَغْتَۃً آوے گا۔ ہر کس اپنے اپنے کام میں بے فکری سے مصروف ہوگا۔ فلسفے بھی آرام کی حالت میں سوجھتے ہیں۔ عذاب نظر آ جاوے تو سب کچھ بھول جاتا ہے۔ وہ جو ۴؍اپریل والا زلزلہ تھا اس کی بھی ہم نے قبل از وقت خبر دی تھی اور یہ طاعون جس نے دنیا میں ایک کہرام مچا رکھا ہے اس کی بھی ہم نے قبل از وقت خبر دی تھی۔ کتابوں میں اشتہاروں میں اس کو شائع کر دیا تھا۔ کوئی زبانی بات ہی نہیں۔ چنانچہ وہ بعینہٖ بالکل پیشگوئی کے مطابق ظاہر ہوئی اور ابھی خدا نے بس نہیں کی۔ اس نے دنیا کو متنبہ کرنے کا ارادہ کر لیا ہے اور نہیں چھوڑے گا جب تک طاقتور حملوں سے دنیا کو منوا نہ لے گا۔ ہمارے لئے تو ہر رات نئی ہوتی ہے۔ خدا جانے کیا ہونے والا ہے اور کیا کچھ ہوگا۔ ہمیشہ ترساں ولرزاں اور دعا میں مصروف رہنا چاہیے۔۱؎

۲؍مئی ۱۹۰۸ء

(قبل ظہر۔ بمقام لاہور)

سچائی کی تلاش کے لئے کوشش کرنا فرض ہے

ایک گریجویٹ صاحب حاضر خدمت ہوئے اور عرض کی کہ آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ حضور کے اس نور کی شناخت کی توفیق دے تا کہ ہم اس نعمت سے محروم نہ رہ جاویں۔ وغیرہ۔ فرمایا۔ اگرچہ جو کچھ ہوتا ہے وہ خدا کے فضل سے ہی ہوتا ہے مگر کوشش کرنا انسان کا فرض ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف نے صراحت سے حکم دیا ہے کہ لَّیۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی(النجم:۴۰) یعنی انسان جتنی جتنی کوشش کرے گا اسی کے (مطابق) فیوض سے مستفیض ہوسکے گا اور دوسری جگہ فرمایا وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا(العنکبوت:۷۰) جو لوگ خدا میں ہو کر خدا کے پانے کے واسطے کی تڑپ اور گدازش سے کوشش کرتے ہیں ان کی محنت اور کوشش ضائع نہیں جاتی اور ضرور ان کی راہبری اور ہدایت کی جاتی ہے۔ جو کوئی صدق اور خلوصِ نیت سے خدا کی طرف قدم اٹھاتا ہے خدا اس کی طرف راہ نمائی کے واسطے بڑھتا ہے۔ انسان کا فرض ہے کہ تدبر کرے اور حق طلبی کی سچی تڑپ اور پیاس اپنے اندر پیدا کرے۔ معلومات کے وسیع کرنے کی جو سبیل اللہ تعالیٰ نے بنائی ہیں ان پر کاربند ہو۔ خدا بھی بے نیاز ہو جاتا ہے اس شخص سے جو خدا سے لا پروائی کرتا ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے کہ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ(اٰل عمران:۹۸) قبولیتِ دعا کے واسطے بھی کوشش اور صدقِ دل کی سچی تڑپ ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ دیکھو دنیوی امتحانات کے واسطے لوگ کیسی کیسی خطرناک کوششیں کرتے ہیں۔ محنت کرتے کرتے ان کے دماغ پھر جاتے ہیں اور بعض اوقات خطرناک امراض مثل جنون اور سل دق وغیرہ پیدا ہو جاتے ہیں اور بصورت ناکامی بعض لوگ تو ایسے صدمات کے نیچے آجاتے ہیں کہ خودکشی تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ غرض ایک چند روزہ اور دنیوی زندگی کے لئے کیسی کیسی سختیاں برداشت کرتے ہیں۔ آخر یہ کامیابیاں کسی قدر ان کی محنتوں ہی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اگر ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ رہیں اور امتحان کی تیاری نہ کریں تو کبھی کسی کو وہم بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کامیاب ہوں مگر جب بایں ہمہ سخت محنت اور کوشش کے بھی بعض لوگ ناکام ہو جاتے ہیں تو بالکل نکمّے اور ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ رہنے والوں کا کیا حال؟ مانا کہ کوشش کرنے والے بھی ناکام ہو جاتے ہیں مگر اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے کہ اب آئندہ کوشش ہی نہ کی جاوے۔ یہ بالکل غلط راہ ہے۔ کیا عجب کسی کا شعر ہے۔

گرچہ وصالش نہ بکوشش دہند

ہر قدر اے دل کہ توانی بکوش

دیکھو! ایک کسان کیسی جانکاہی اور محنت سے ایک فصل تیار کرتا ہے مگر بعض اوقات ژالہ باری سے اور بعض اوقات امساکِ باراں کی وجہ سے اس کا فصل ضائع ہو جاتا ہے مگر اس ناکامی پر ایسا اثر نہیں ہوتا کہ پھر آئندہ کے واسطے لوگ زراعت ہی ترک کر دیں۔ ہزاروں ہیں کہ باوجود ان ناکامیوں کے پھر بھی پورے زور سے کوشش کئے جاتے ہیں اور آخر اپنی کوششوں کے ثمرات سے مستفید بھی ہوتے ہیں۔

فیضان الٰہی کوشش پر موقوف ہے۔ دیکھو شاعر بھی جب کوشش کرتا ہے اور ٹکریں مارتا ہے تو آخر کوئی نہ کوئی شعر سوجھ ہی جاتا ہے۔ آپ کے واسطے بھی ضروری ہے کہ سلسلہ کی کتابیں مطالعہ کریں اور غور اور انصاف پسندی سے دیکھیں کہ آیا ان میں حق ہے یا کہ نہیں۔ کسی اَمر کے متعلق رائے قائم کرنے کے واسطے معلومات کا ہونا ازبس ضروری ہے جس کی معلومات وسیع ہو جاتے ہیں وہ خود موازنہ کرسکتا ہے کہ فریقین میں سے کون حق بجانب ہے۔ اکثر لوگ غرور نفس کی وجہ سے اوّل تو ہمارے پاس آنے میں ہی مضائقہ کرتے ہیں اور اگر آتے بھی ہیں تو وہ گھر سے ہی فیصلہ کر کے آتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی گذرے ہیں اور ہمیشہ محروم ہی رہ جایا کرتے ہیں۔ ایمان ان کے نصیب ہوتا ہی نہیں۔ اصل میں ایسے لوگ دہریہ بے دین اور بے قید ہوتے ہیں۔ جو شخص سچے طور پر پکا مسلمان ہوتا ہے اس پر حق کے پرکھنے کے واسطے بہت بڑے مشکلات نہیں آتے کیونکہ ایک مسلمان جو حقیقت میں مسلمان ہے اور سنّت اللہ اور سنّتِ رسول سے واقف ہے وہ ہمیشہ منہاجِ نبوت کو مدِّ نظر رکھ کر ہی تحقیق کرے گا۔ ایسے لوگوں کے اعتراضات بہت تھوڑے رہ جاتے ہیں اور اس راستے کا بہت تھوڑا حصہ ان کے واسطے باقی رہ جاتا ہے اور اگر ایسا شخص ہے کہ اسے خود اسلام کے متعلق ہی شک وشبہات پیدا ہو رہے ہیں اور ابھی اس نے اسلام کی صداقت کا ہی فیصلہ نہیں کیا تو پھر ایسے لوگوں کے واسطے سلامتی کی کوئی راہ نہیں اور یہی ہیں کہ آخر وہ ہلاک ہو جاتے ہیں ایسے لوگ دراصل روحانی امور کے دشمن ہوتے ہیں۔ ان میں ایک قسم کا کبر اور غرور ہوتا ہے۔ وہ لوگ اتباع کو عار سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ نئی روشنی میں بھی ہلاک ہو گئے مگر خدا کے آسمانی نور کو قبول نہ کیا۔

خدا کا ہمیشہ سے یہ قانون چلا آتا ہے کہ جب دنیا فسق وفجور اور گناہ سے پُر ہو جاتی اور ہر قسم کے مفاسد دنیا میں پھیل جاتے ہیں تو خدا تعالیٰ اپنی طرف سے ایک روحانی سلسلہ قائم کر کے زمانہ کی اصلاح کرتا ہے مگر وہ جو کہتا ہے کہ مجھے اس کی کیا ضرورت ہے گویا وہ خدا کے قانون کو بدلنا چاہتا ہے۔ ایسے لوگوں سے تو یہ بھی خوف ہے کہ ایک دن اسلام سے بھی انکار کر دیں اور یہاں تک کہ خود خدا کی ہستی کی بھی ضرورت محسوس نہ کریں یہ بڑی خطرناک راہ ہے کیونکہ جو حقیقی اور سچی راہ شناخت اسلام اور وجود باری تعالیٰ پر دلیل تھی ان لوگوں نے اسی سے روگردانی کر لی ہے۔ اکثر ان میں ایسے پائے جاتے ہیں کہ معلومات وسیع کا دعویٰ کرتے ہیں مگر جاہل بلکہ اجہل ہوتے ہیں۔ دین اور علومِ دینی سے ان کو مَس بھی نہیں ہوتا۔ فائدہ وہ لوگ اٹھاتے ہیں جو خالی النفس ہوتے ہیں اور خدا کی راہ میں سچی پیاس، نرمی اور صبر سے کام کرتے ہیں۔ روشنی کی ضرورت اس شخص کو ہوتی ہے جو ظلمت میں ہو۔ جس کے پاس پہلے ہی روشنی ہے وہ روشنی کا کیسے محتاج ہو سکتا ہے؟ جو برتن پہلے ہی پُر ہے اس میں اور کیا داخل ہو سکتا ہے؟ ہمیشہ خالی برتن میں کچھ بھرا جاتا ہے۔ عمر کا اعتبار نہیں۔ زمانہ بڑا خطرناک ہے۔ بہت جلدی اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔

طاعون می

ں کمی خوشی کا مقام نہیں

طاعون کے ذکر پر فرمایا کہ ا س سال طاعون کسی قدر کم ہے۔ یہ کوئی خوشی کا مقام نہیں کیونکہ لوگوں نے طاعون سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ جس غرض کے واسطے یہ آیا تھا وہ غرض ابھی پوری نہیں ہوئی۔ اصل میں طاعون نام ہے موت کا۔ لغت میں وہ خطرناک عوارض جن کا انجام موت ہوتا ہے اس کا نام طاعون ہی رکھا ہے اور یہ لفظ لغت کے رو سے بڑا وسیع ہے۔ ممکن ہے کہ اب کسی اور رنگ میں نمودار ہو جاوے یا اسی رنگ میں آئندہ اور بھی زور سے پھوٹ نکلے۔ اللہ تعالیٰ کے کلام میں بھی اَفْطِرُ وَاَصُوْمُ کا لفظ ہے۔ یعنی ایک وہ وقت ہے جس طرح افطار میں کھانا پینا جائز ہوتا ہے۔ اسی طرح طاعون لوگوں کو کھاتا جاوے گا اور ایک وقت ایسا بھی ہو گا کہ صوم کی طرح امن ہو جاوے گا۔ اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ۔ اَفْطِرُ وَاَصُوْمُ وَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ اِلَی الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ۔۔

لوگ امن اور آرام کے واسطے جلدی ایک بات بنالیا کرتے ہیں۔ اجی ایک بیماری تھی سوچلی گئی۔ کیسا نشان اور کیسی تنبیہ! غرض اس طرح کے خیالات سے اپنی تسلّی کر لیتے ہیں۔ اصل میں طاعون بڑا وسیع لفظ ہے۔ اَلطَّاعُوْنُ۔ اَلْمَوْتُ کل امراض دَوری کا نام۔ یہ چیچک ہے۔ ذات الجنب ہے، تپ، گلٹیاں، قے، سکتہ۔ اس قسم کی کل امراض اس میں داخل ہیں یہ لفظ یا د رکھنے کے قابل ہے کہ صحابہؓ کے وقت میں بھی ایک قسم کا طاعون پھوٹا تھا مگر وہ بہت باریک ایک دانہ کی طرح ایک پھنسی ہوتی تھی جو کہ ہتھیلی میں نکلتی تھی۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ غشی اور نیند کی حالت میں اور بعض ہنستے ہنستے ہی اس دنیا سے چل گذرتے ہیں۔ بعض کو خون کے جلاب لگ جاتے ہیں۔ بعض کا کسی کو علم بھی نہیں ہوتا کہ ہوا کیا؟ دس آدمی تھے رات اچھے بھلے سوئے مگر صبح ہوتے ان میں سے ایک بھی زندہ نہ اٹھا۔ غرض اس قسم کے کئی واقعات ہیں کہ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مرض کا کسی کو پتہ نہیں لگا اور اس کے کئی رنگ ہیں۔

اصل میں یہ وقفہ بھی شامتِ اعمال کی وجہ سے مفید نہیں بلکہ بہت ہی خطرناک ہے کیونکہ لوگ اب دلیر ہو جاویں گے اور جرأت سے ارتکاب جرائم کریں گے اور اس وقفے سے یہ نتیجہ نکال لیں گے کہ اجی صاحب! ایک بیماری تھی گئی گذری۔ نہ کوئی نشان ہے کسی کا اور نہ عذاب۔ غرض یہ خوشی کا مقام نہیں بلکہ جائے خوف ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ طاعون کی وجہ سے ایک قہر الٰہی ٹوٹ پڑا تھا دنیا پر۔ ایسے وقت میں یہ الہام ہوا تھا کہ اَفْطِرُ وَ اَصُوْمُ یعنی ایک استعارہ تھا کہ کبھی یہ مرض زور پکڑ جاوے گا اور کبھی اس میں وقفہ بھی آ جاوے گا۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ(الرّعد:۱۲) خدا نہیں چھوڑے گا اور ہرگز نہیں چھوڑے گا جب تک لوگ اپنے اخلاق، اعمال اور خیالات میں ایک تبدیلی پیدا نہ کر لیں گے۔

اصل میں ان لوگوں کو یہ اَمر بھی گراں گذرتا ہے کہ خدا کی طرف کوئی اَمر منسوب کیا جاوے بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ اتفاقی طور سے ہو گئی۔ خدا کا اس میں کیا دخل و تصرف ہے۔ اب ہمیں تو اس بات کا فکر ہے کہ اب لوگ خواہ نخواہ یہ رائے قائم کر لیں گے اور پھر اس رائے کو صحیح یقین کریں گے کہ ایک اتفاقی مرض تھا سو جاتا رہا، اب امن امان ہو گیا۔ غرض اس طرح سے اطمینان اور تسلی کر کے خدا سے منہ پھیریں گے اور بے باکی اور جرأت میں ترقی کر جاویں گے۔ دلوں میں سے اللہ تعالیٰ کی عظمت ہی اٹھ چکی ہے۔ دنیا کے حکّام کی اور اپنی اغراض کی جس قدر عظمت اور تڑپ ان کے دلوں میں ہوتی ہے خدا اور اس کے رسول اور ان کی رضا کی اتنی بھی تڑپ اور عظمت باقی نہیں رہی۔ طاعون کا عالمگیر اور قہری نشان بھی ان کے واسطے مفید نہ ہوا۔ زلزلے بھی خدا کے وعدے کے عین مطابق آگئے اور شہروں کے شہر جو کسی وقت بڑے آباد تھے ویران ہو گئے۔ مگر دنیا نے تبدیلی پیدا نہ کی۔ چند روز ہوئے الہام ہوا۔ زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ یہ بھی ایک مخفی اور خوفناک بات پر استدلال کرتا ہے۔ خواہ ظاہری ہو خواہ اندرونی۔ کیونکہ زلزلہ کا لفظ ظاہر معنوں کے سوا دوسرے معنوں پر بھی بولا گیا ہے جیسا کہ قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے۔ وَزُلۡزِلُوۡا زِلۡزَالًا شَدِیۡدًا(الاحزاب:۱۲) اب جتنے نشان بھی خدا نے ظاہر کئے ہیں ان سب کا ان پر الٹا اثر پڑے گا اور سب کو یہ طاعون کی طرح اتفاقی سمجھ کر سخت دل ہو جاویں گے۔ فرعون والا حال ہے۔ وہ بھی جب ایک عذاب میں افاقہ ہوتا تھا تو اسے عارضی اور اتفاقی جان کر اور بھی سخت دل ہو جاتا تھا۔ آخر کار پھر غرق ہوتے وقت کہا میں بھی اس پر ایمان لایا جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے۔ خدا کا نام پھر بھی نہ لیا۔ یہی حال اس وقت اس قوم کا ہے۔ طاعون تھا سو وہ کسی قدر کم ہو ہی گیا ہے قحط بھی اب چنداں زور پر نہیں اور صورت امن کی نظر آنے لگ گئی ہے اب مطمئن ہو جاویں گے اور بے خوف ہو کر جرأت اور دلیری سے ارتکاب معاصی اور جرائم میں آگے سے بھی سخت دل ہو کر ترقی کر جاویں گے۔ اور توبہ، استغفار اور توجہ اِلَی اللہ اور تبدیلی کی فکر دلوں میں پیدا نہ ہو گی۔ مگر خدا فرماتا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔

(بعد نماز عصر)

صفاتِ حسنہ اور اخلاقِ فاضلہ کے دو حصے حقوق اللہ اور حقوق العباد

(جناب شاہزادہ محمد ابراہیم خاں صاحب کی ملاقات کے وقت حضرت اقدسؑ نے بزبان فارسی تقریر فرمائی۔ایڈیٹر) فرمایا۔ دنیا میں اس زمانہ میں نفاق بہت بڑھ گیا ہے۔ بہت کم ہیں جو اخلاص رکھتے ہیں۔ اخلاص اور محبت شعبہ ایمان ہے۔ آپ کو خدا آپ کی محبت اور اخلاص کا اجر دے اور تقویت عطا کرے۔ اخلاق فاضلہ اسی کا نام ہے بغیر کسی عوض معاوضہ کے خیال سے نوع انسان سے نیکی کی جاوے۔ اسی کا نام انسانیت ہے۔ ادنیٰ صفت انسان کی یہ ہے کہ بدی کا مقابلہ کرنے یا بدی سے درگذر کرنے کی بجائے بدی کرنے والے کے ساتھ نیکی کی جاوے یہ صفت انبیاء کی ہے اور پھر انبیاء کی صحبت میں رہنے والے لوگوں کی ہے اور اس کا اکمل نمونہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں۔ خدا ہرگز ضائع نہیں کرتا ان دلوں کو کہ ان میں ہمدردی بنی نوع ہوتی ہے۔

صفاتِ حسنہ اور اخلاقِ فاضلہ کے دو ہی حصے ہیں اور وہی قرآن شریف کی پاک تعلیم کا خلاصہ اور لُبِّ لُباب ہیں۔ اوّل یہ کہ حق اللہ کے ادا کرنے میں عبادت کرنا فسق و فجور سے بچنا اور کل محرماتِ الٰہی سے پرہیز کرنا اور اوامر کی تعمیل میں کمر بستہ رہنا۔ دوم یہ کہ حق العباد ادا کرنے میں کوتاہی نہ کرے اور بنی نوع انسان سے نیکی کرے۔ بنی نوع انسان کے حقوق بجا نہ لانے والے لوگ خواہ حق اللہ کو ادا کرتے ہی ہوں بڑے خطرے میں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ستّار ہے، غفار ہے، رحیم ہے اور حلیم ہے اور معاف کرنے والا ہے۔ اس کی عادت ہے کہ اکثر معاف کر دیتا ہے مگر بندہ (انسان )کچھ ایسا واقع ہوا ہے کہ کبھی کسی کو کم ہی معاف کرتا ہے۔ پس اگر انسان اپنے حقوق معاف نہ کرے تو پھر وہ شخص جس نے انسانی حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہو یا ظلم کیا ہو خواہ اللہ کے احکام کی بجا آوری میں کوشاں ہی ہو اور نماز، روزہ وغیرہ احکامِ شرعیہ کی پابندی کرتا ہی ہو۔ مگر حق العباد کی پروا نہ کرنے کی وجہ سے اس کے اَور اعمال بھی حبط ہونے کا اندیشہ ہے۔

غرض مومن حقیقی وہی جو حق اللہ اور حق العباد دونوں کو پورے التزام اور احتیاط سے بجالاوے۔ جو دونوں پہلوؤں کو پوری طرح سے مدّ نظر رکھ کر اعمال بجالاتا ہے وہی ہے کہ پورے قرآن پر عمل کرتا ہے ورنہ نصف قرآن پر ایمان لاتا ہے۔ مگر یہ ہر دو قسم کے اعمال انسانی طاقت میں نہیں کہ بزور بازو اور اپنی طاقت سے بجالانے پر قادر ہو سکے۔ انسان نفسِ امّارہ کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل اور توفیق اس کے شامل حال نہ ہو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا انسان کو چاہیے کہ دعائیں کرتا رہے۔ تاکہ خدا کی طرف سے اسے نیکی پر قدرت دی جاوے اور نفسِ امّارہ کی قیدوں سے رہائی عطا کی جاوے۔ یہ انسان کا سخت دشمن ہے۔ اگر نفسِ امّارہ نہ ہوتا تو شیطان بھی نہ ہوتا۔ یہ انسان کا اندرونی دشمن اور مار آستین ہے اور شیطان بیرونی دشمن ہے۔ قاعدہ کی بات ہے کہ جب چور کسی کے مکان میں نقب زنی کرتا ہے تو کسی گھر کے بھیدی اور واقف کار سے پہلے سازش کرنی ضروری ہوتی ہے۔ بیرونی چور بجز اندرونی بھیدی کی سازش کے کچھ کر ہی نہیں سکتا اور کامیاب ہو ہی نہیں سکتا۔ پس یہی وجہ ہے کہ شیطان بیرونی دشمن، نفسِ امّارہ اندرونی۔ اور گھر کے بھیدی سے سازش کر کے ہی انسان کے متاعِ ایمان میں نقب زنی کرتا ہے اور نور ایمان کو غارت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَاۤ اُبَرِّیٴُ نَفۡسِیۡ ۚ اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ(یوسف:۵۴) یعنی میں اپنے نفس کو بری نہیں ٹھہراتا اور اس کی طرف سے مطمئن نہیں کہ نفس پاک ہو گیا ہے بلکہ یہ تو شریر الحکومت ہے۔

مدار نجات تزکیہ نفس پر موقوف ہے

تزکیہ نفس بڑا مشکل مرحلہ ہے اور مدار نجات تزکیہ نفس پر موقوف ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰٮہَا(الشّمس:۱۰) اور تزکیہ نفس بجز فضل خدا میسر نہیں آسکتا۔ یہ خدا تعالیٰ کا اٹل قانون ہے تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا(الفتح:۲۴) اور اس کا قانون جو جذبِ فضل کے واسطے ہمیشہ سے مقرر ہے وہ یہی ہے کہ اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جاوے۔ مگر دنیا میں ہزاروں ایسے موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم بھی لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہتے ہیں۔ نیک اعمال بجالاتے ہیں۔ اعمال بد سے پرہیز کرتے ہیں۔ اصل میں ان کا مدعا یہ ہوتا ہے کہ ان کو اتباع رسولؐ کی ضرورت نہیں مگر یاد رکھو! یہ بڑی غلطی ہے اور یہ بھی شیطان کا ایک دھوکہ ہے کہ ایسا خیال لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے کلام پاک میں تزکیہ اور محبتِ الٰہی کو مشروط باتباعِ رسول رکھا ہے تو کون ہے کہ وہ دعویٰ کر سکے کہ میں خود بخود ہی اپنی طاقت سے پاک ہوسکتا ہوں۔ سچا یقین اور کامل معرفت سے پُر ایمان ہرگز ہرگز میسّر ہی نہیں آسکتا جب تک انبیاء کی سچی فرماں برداری اور حمیّت اختیار نہ کی جاوے گناہ سوز ایمان اور خدا کو دکھا دینے والا یقین بجز اقتداری اور غیب پر مشتمل زبردست پیشگوئیوں کے جو انسانی طاقت اور وہم و گمان سے بالا تر ہوں ہرگز ہرگز میسر نہیں آسکتا۔ دنیا اپنے کاروبار دنیوی میں جس استغراق اور انہماک سے مصروف ہوتی اور جیسی جیسی جانکاہ اور خطرناک مشکل سے مشکل کوششیں اپنی دنیا کے واسطے کرتی ہے۔ اگر خدا کی طرف بھی اسی طرح کی کوشش سے قدم اٹھاویں اور اس وقت جو ایک آسمانی سلسلہ خدا نے اس غرض کے لئے مقرر فرمایا ہے اس کی طرف متوجہ ہوں تو ہم یقین سے کہتے ہیں کہ ضرور اللہ تعالیٰ ان کے واسطے رحمت کے نشان دکھانے پر قادر ہے۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ لوگ اس پہلو سے لا پروا ہیں ورنہ دینی امور اور اعمال کیا مشکل ہیں۔ نماز میں کوئی مشکل نہیں۔ پانی موجود ہے۔ زمین سجدہ کرنے کے واسطے موجود ہے۔ اگر ضرورت ہے تو صرف ایک فرماں بردار اور پاک دل کی جس کو محبت الٰہی کی سچی تڑپ ہو۔ دیکھو! اگر ساری نمازوں کو جمع کیا جاوے اور ان کے وقت کا اندازہ کیا جاوے تو شاید ایک گھڑی بھر میں ساری پوری ہو سکیں آخر پاخانہ بھی جاتے ہیں۔ اگر اتنی ہی قدر نماز کی ان لوگوں کے دلوں میں ہو تو بھی یہ نماز کو ادا کر سکتے ہیں۔ مگر افسوس! اسلام اس وقت بہت خطرے میں ہے اور مسلمان درحقیقت نور ایمان سے بے نصیب ہیں۔ اگر کسی کو ایک مہلک مرض لگ جاوے تو کیسا فکر لگ جاتا ہے مگر اس روحانی جذام کی کسی کو بھی پروا نہیں جس کا انجام جہنم ہے۔

مامورین کے ساتھ دنیا کا سلوک

اصل میں ہمارے پاس آنا خدا کے حضور جانا ہے اور ہماری عزت درحقیقت خدا ور سول کے کلام کی عزت ہے۔ متواتر چھبیس سال ہوئے ہیں کہ اس نے ہمیں مامور کیا۔ مجدّد بنایا اور اصلاح مفاسد زمانہ کی غرض سے دنیا میں بھیجا۔ اور پھر یہی نہیں کہ صرف ہمارا زبانی دعویٰ ہو بلکہ اس نے ساتھ ساتھ اپنے ہزاروں زبردست نشان بھی دئیے۔ منہاجِ نبوت پر بھیجا۔ مگر لوگوں نے پروا نہ کی بلکہ الٹا کافر کہا۔ اَکفر کہا۔ دجّال کہا۔ کذّاب کہا۔ حالانکہ جس خدا نے مجھے بھیجا اس نے مجھے میری صداقت کے لیے نشان بھی ظاہر کیے۔ ایک نہیں، دو نہیں بلکہ ہزاروں نشان۔ دنیوی عدالتوں میں خواہ کتنا ہی سخت سے سخت مقدمہ ہو مگر دو تین گواہ گذرنے پر سزائے موت تک بھی دی جاتی ہے مگر یہاں تو ہزاروں لوگ ہیں جو ہمارے ان نشانات کے گواہ ہیں مشرق سے مغرب تک کوئی جگہ نہیں جہاں ہمارے نشانوں کی گواہی موجود نہ ہو مگر بایں ہمہ ان لوگوں نے پروا نہیں کی۔

گورنمنٹ کا ادنیٰ چپڑاسی وصول لگان کے واسطے آ جاوے کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرتا اور اگر کرے تو گورنمنٹ کا باغی ٹھہرتا ہے اور سزا پاتا ہے مگر خدائی گورنمنٹ کی لوگ پروا نہیں کرتے خدا سے آنے والے لا ریب غربت کے لباس میں ہوتے ہیں۔ لوگ ان کو حقارت اور تمسخر سے دیکھتے ہیں۔ ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ یٰحَسۡرَۃً عَلَی الۡعِبَادِ ۚؑ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ(یٰسٓ:۳۱) اللہ تعالیٰ سچا ہے وہ جھوٹ نہیں کہتا۔ وہ فرماتا ہے کہ آدم سے لے کر اخیر تک جتنے بھی نبی آئے ہیں۔ ان تمام سے ہنسی ٹھٹھا کیا گیا ہے مگر جب وقت گذر جاتا ہے پھر لگتے ہیں تعریفیں کرنے۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ پر بھی قریباً دو ۲۰۰ سو علماء وقت نے کفر کا فتویٰ لگایا تھا۔ ابنِ جوزی جو محدّث وقت تھا اس نے ایک کتاب لکھی اور تلبیس ابلیس اس کا نام رکھا اور بہت کچھ تلخ نازیبا الفاظ ان کے حق میں استعمال کئے مگر ان کے دو ۲۰۰ سو برس بعد ان کو کیسا کامل اور پاک باز صادق انسان مانا گیا اور کیسی قبولیت ہوئی دنیا جانتی ہے۔ یہ صرف انہی پر نہیں بلکہ تمام اولیاء کے ساتھ یہی سلوک ہوتا چلا آیا ہے۔

غرض اسی منہاج پر مجھے بھی تمام پنجاب اور ہندوستان کے علماء نے کافر، دجّال، فاسق، فاجر وغیرہ کے خطاب دئیے ہیں اور کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ میں انبیاء کو گالیاں دیتا ہوں حالانکہ میں ان تمام انبیاء کی عزت کرتا ہوں اور ان کی عظمت اور صداقت ظاہر کرنے کے واسطے ہی میری بعثت ہوئی ہے۔ یقین جانو کہ اگر میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں اور میں ہی جھوٹا ہوں تو پھر تمام انبیاء میں سے کسی کی نبوت کو کوئی ثابت نہیں کر سکتا۔ اگر حضرت عیسٰیؑ کی وفات کا ذکر کرنا گالیاں دینا ہے تو پھر سب سے پہلے جس نے حضرت عیسٰیؑ کو گالی دی وہ خدا ہے۔

مصلح کی ضرورت

میرا مطلب یہ ہے کہ ہمیشہ سے ایسا سلسلہ چلا آیا ہے کہ جب دنیا میں حق اللہ اور حق العباد کی پروا دلوں سے اٹھ جاتی ہے۔ اور ظلم اور تعدی انسانوں کا شیوہ ہو جاتا ہے۔ اور لوگ اپنے خالق اور معبود حقیقی سے منہ پھیر کر سینکڑوں بُت اپنے واسطے تجویز کر لیتے ہیں اور انبیاء کی تعلیم لوگ بھول جاتے ہیں۔ ایسے خطرناک وقت میں اللہ تعالیٰ ایک روحانی سلسلہ پیدا کر کے ان سب مفاسد کی اصلاح کرتا ہے۔ آج بھی اگر کسی انسان میں فراست موجود ہے تو دیکھ سکتا ہے کہ کیا اسلام کی حالت اس خطرناک حالت تک پہنچی ہے یا کہ نہیں؟ جس وقت خدا اس کی خبرگیری کرے۔ زمانہ خود پکار پکار کر کہ زبانِ حال سے کہہ رہا ہے کہ مصلح کی ضرورت ہے۔

مسلمان حکمرانوں کی حالت

مسلمانوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ معمولی مسلمان تو کسی شمار میں ہی نہیں۔ جو لوگ بادشاہ کہلاتے ہیں اور خلیفۃ المسلمین، امیر المؤمنین ہیں۔ خود ان کا حال ایسا ہے کہ با وجود بادشاہ ہونے کے ان کو اتنی جرأت نہیں کہ ان کی سلطنت میں کوئی شخص جرأت اور آزادی سے اظہار حق بھی کر سکے۔ سلطان روم کی سلطنت میں کوئی چار سطر بھی مذہب عیسوی کے خلاف نہیں لکھ سکتا۔ شاید یہ خیال ہوگا کہ تمام عیسائی سلطنتیں ناراض ہو کر سلطنت چھین لیں گی مگر خدا کی سلطنت کا ذرّہ بھی خیال نہیں اور نہ ہی خدا کی طاقت پر پورا بھروسہ ہے۔ خودداری بھی ایک حد تک اچھی ہوتی ہے مگر جہاں ایمان جائے وہاں ایسی باتوں کا کیا خیال۔ حالانکہ ہمارا تجربہ بتلاتا ہے کہ گورنمنٹ کو مذہب سے تعلق ہی کوئی نہیں۔ دیکھو! ہم نے عیسائیوں کے خلاف کتنی کتابیں لکھی ہیں اور کس طرح کے زور سے ان کے عقائد باطلہ کا ردّ کیا ہے مگر گورنمنٹ میں یہ بڑی بھاری خوبی ہے کہ کوئی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا گیا۔ اصل وجہ اپنی ہی کمزوری ہوتی ہے ورنہ گورنمنٹ دین کے معاملات میں کبھی بھی دست اندازی نہیں کرتی۔ دیکھو! ہمارے اس مقدمہ کی طرف ہی غور کر کے دیکھ لو کہ کس دیانت داری اور انصاف سے اس کا فیصلہ کیا گیا۔ امرتسر سے چالیس ہزار روپے کی ضمانت پر وارنٹ نکالا گیا۔ مگر خدا کی قدرت وہ کتاب ہی میں پڑا رہ گیا اور بعد میں اس حاکم کو معلوم ہوا کہ وہ ایسا کرنے کا مجاز بھی نہ تھا مگر خدا کا تصرّف جو ہمیشہ اپنے فرستادوں کے واسطے رنگا رنگ طرزوں میں ظاہر ہوا کرتا ہے۔ اس نے اس خطرناک وقت میں بھی ہماری نصرت کی۔ پھر مقدمہ تبدیل ہو کر معاً گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں آ گیا۔ جس نے کوئی وارنٹ نہ نکالا اور ہمیں بلوا کر بڑے احترام اور عزت سے ہمارے ساتھ سلوک کرتا رہا۔

ہماری غرض اس اَمر کے اظہار سے صرف یہی ہے کہ اوّل تو گورنمنٹ پر مذہبی معاملات کی وجہ سے مخالف ہو یا موافق کوئی اثر نہیں ہوتا اور وہ کیا جاتا ہے جو انصاف اور دیانت کا تقاضا ہو۔ دوسرے یہ کہ خدا کا تعلق ایک ایسی چیز ہے کہ جس سے ہر مشکل کے وقت اسے تسلّی اور ہر بلا سے نجات عطا کی جاتی ہے۔ جو خدا کا ہو جاتا ہے۔ خدا بھی پھر ہر بات میں اس کا پاس کرتا ہے۔ ایسے لوگ مومن کہلانے کے مستحق نہیں ہیں جو دنیا کے خطرات اور تفکرات میں ہی غرق ہوں اور خدا کا خانہ بالکل خالی پڑا رہے۔ مومن وہ کہلاتا ہے کہ ہلاکت کے قریب بھی پہنچ جاوے مگر خدا کو نہ چھوڑے۔ ایمان کا یہ ایک نشان ہے کہ آخر تک کل امور اسی کے ہاتھ میں یقین کرے اور ناامید نہ ہو۔

بادشاہ اور خلیفۃ المسلمین اور امیرالمؤمنین کہلا کر بھی خدا کی طرف سے بے پروائی اچھی بات نہیں۔ مخلوق سے اتنا ڈرنا کہ گویا خدا کو قادر ہی نہیں سمجھنا۔ یہ ایک قسم کی سخت کمزوری ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ خادم الحرمین ہیں مگر ہم کہتے ہیں کہ حرمین اس کی حافظ ہیں۔ حرمین کی برکت اور طفیل ہے کہ اب تک وہ بچا ہوا ہے۔ جو مذہبی آزادی اس ملک میں ہمیں نصیب ہے وہ مسلمان ممالک میں خود مسلمانوں کو بھی نصیب نہیں۔ دیکھو! کس آزادی سے ہم کام کر رہے ہیں اور پھر کیا اثر ہماری تالیفات کا ملک پر ہوا ہے؟ قادیان میں ہمیشہ پادری لوگ آیا کرتے تھے۔ ان کے خیمے ہمیشہ قادیان کے باہر کی طرف نصب کئے جاتے تھے اور وہ پھر کر اپنا وعظ کیا کرتے تھے۔ مگر اب عرصہ پندرہ برس کا ہوتا ہے کہ کبھی کسی پادری کی شکل بھی نظر نہیں آئی۔ ہمیشہ کہا کرتے تھے اور مسلمانوں کو دعوے سے بلایا کرتے تھے کہ کوئی ان سے مباحثہ کرے اور کہتے تھے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بھی معجزہ ظاہر نہیں ہوا۔ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ زندہ نبیؐ کے مضمون پر بحث کی جاوے مگر اب یہ معاملہ ہے کہ ہم بلاتے ہیں۔ انعام دیتے ہیں۔ مگر کوئی ادھر آتا ہی نہیں گویا وہ پہلو ہی بدل دیا ہے۔ ہم جہاں تک کوئی طریق اتمامِ حجت کا ہوسکتا ہے کرنے کو ہر وقت تیار ہیں۔

اسلام پر بیرونی حملے

وہ وقت بھی آپ کو یاد ہوگا کہ کہا کرتے تھے کہ قرآن میں ایک بھی معجزہ نہیں ہے۔ غُلِبَتِ الرُّوۡمُ(الرّوم:۳) والی پیشگوئی محض ایک اٹکل تھی جو آنحضرتؐ نے (نعوذ باللہ) دونوں طاقتوں کا مقابلہ کرنے سے کر دی تھی۔ نوبت یہاں تک تھی۔

پھر ایک اور خطرناک دھبہ ہمیشہ سے اسلام کے پاک اور نورانی چہرہ پر لگاتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔ غرضیکہ طرح طرح کے الزامات اور بے جا اعتراضات کا ایسا طوفان بے تمیزی برپا کر رکھا تھا کہ ان کی کتابوں اور رسائل کو جو انہوں نے اسلام کے برخلاف اس نصف صدی میں لکھی ہیں جمع کیا جاوے تو میرے خیال میں ایک پہاڑ بنتا ہے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ اتنے حملے نہ کبھی کسی نبی پر کئے گئے اور نہ اتنی گندہ دہانی کسی نبی کے مقابل پر کی گئی اور جب سے دنیا پیدا ہوئی نہ کسی کو اتنی گالیاں دی گئیں اور نہ کسی نبی کی اتنی ہتک کی گئی ہے۔ آریوں کو دیکھو ان کی کتابوں میں تو ایسا گند بھرا پڑا ہے کہ کوئی با غیرت مسلمان، میں سمجھتا ہوں کہ ان کتابوں کی ایک سطر بھی پڑھ نہیں سکتا۔ خصوصاً اگر لیکھرام کی کتابوں کو دیکھا جاوے....۔

اسلام کے اندرونی دشمن

غرض یہ تو بیرونی دشمنوں کا حال ہے۔ خود گھر کا حال اس سے بدتر ہے اور اندرونی دشمن دوستی کے مدعی بن کر اس سے بھی زیادہ نقصان اور مضرت کا باعث ہو رہے ہیں۔ علماء جو دین کے ستون اور نجات کا باعث سمجھے جاتے تھے۔ ان کا یہ حال ہے کہ جب خدا نے عین سنّتِ قدیمہ کے مطابق محض حق و حکمت سے عین ضرورت کے وقت ان مفاسد کی اصلاح اور انسداد کے واسطے ایک آسمانی سلسلہ قائم کیا اور اس کے منجانب اللہ ہونے کی صداقت کے واسطے ہزاروں اقتداری نشانات ظاہر فرمائے ہیں۔ یہ لوگ جن کا بوجہ اس کے (کہ) دین کے ستون تھے اور قرآن و حدیث کے علوم سے واقف و آگاہ ہونے کے زیادہ مستحق اس بات کے تھے کہ اس سلسلہ کی تائید کرتے، اُلٹے دشمن اور استیصال چاہنے والے بن گئے۔ اور طرح طرح کے منصوبوں سے اس خدائی نور کے بجھا دینے کی کوشش میں مصروف ہو گئے۔ اور ان کی عملی حالت ایسی ناگفتہ بہ ہے کہ حافظ شیرازی کا یہ شعر

واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر می کنند

چوں بخلوت مے روند آں کار دیگر می کنند

شاید انہی علماء کے واسطے لکھا گیا تھا۔

پھر ان سے دوسرے طبقہ کے لوگ جو امراء ہیں ان کا جو حال ہے وہ بھی اظہر من الشمس ہے وہ تو دین سے بے تعلق ہیں۔ ان کو اپنے عیش وعشرت سے ہی فرصت نصیب نہیں۔ اگر فرصت نصیب ہو گی تو شطرنج کھیلنے میں گذار دیں گے۔

پھر اگر تیسرے طبقہ کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا جاوے جو کہ عوام ہیں تو اور بھی اسلام کی غربت اور نازک حالت پر رحم آتا ہے۔ جیل خانوں میں مسلمان بھرے پڑے ہیں۔ شراب خانوں میں مسلمان خراب ہو رہے ہیں۔ طوائف کے رنگ میں مسلمان کہلانے والے ہی بدحال ہیں۔ غرض ہر فسق و فجور اور معاصی اور گناہ کی مجلس میں غور سے دیکھو تو مسلمانوں کا نمبر بڑھا ہوا ہے۔

جھوٹی گواہیاں دینا بھی مسلمانوں بلکہ خصوصاً نام کے مولویوں کا پیشہ ہی ہو گیا ہے۔ پھر بایں ہمہ ہم پر کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں اور طرح طرح کے الزام لگاتے ہیں۔

ہماری یہ خواہش ہے اور ہمیں اس بات کا اشتیاق ہے کہ صاحب اثر مسلمانوں کی ایک جماعت اس معاملہ کی تحقیقات تو کرے کہ آیا ہم پر جو الزامات لگائے جاتے ہیں وہ سچے ہیں؟ کیا یہ سچ ہے کہ ہم نے قرآن اور رسول کو چھوڑ دیا ہے؟ اور نعوذ باللہ کوئی نیا دین بنالیا ہے؟ کیا یہ سچ ہے کہ ہم انبیاء کو گالیاں دیتے ہیں؟

تحریری اور زبانی تبلیغ کا موازنہ

شاہزادہ صاحب موصوف نے سوال کیا کہ آپ بجائے اس کے کہ قادیان میں ہی ہمیشہ قیام رکھیں دورہ کر کے پنجاب اور ہندوستان کے مختلف شہروں میں اگر پھر کر وعظ و تبلیغ کا کام کریں تو زیادہ مفید ہوگا۔

فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ تبلیغ کے وسائل ہر زمانہ میں مناسب وقت اور مناسب حال الگ الگ ہوتے ہیں۔ اس زمانہ کی آزادی اگرچہ عمدہ چیز ہے مگر ساتھ ہی اس میں بعض نقائص بھی ہیں۔ آپ نے جو طریق فرمایا ہے میں نے اس طریق تبلیغ کو بھی استعمال کیا ہے اور بعض مقامات میں اس غرض کے لئے سفر بھی کئے ہیں۔ مگر اس میں تجربہ سے دیکھا ہے کہ اصل مقصد کما حقہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ دورانِ تقریر میں بعض لوگ بول اٹھتے ہیں۔ دو چار گالیاں بھی سنا دیتے ہیں اور شور و غوغا کر کے بدنظمی کا باعث ہو جاتے ہیں اس لاہور میں ہی ایک دفعہ حالانکہ خود ہمارا اپنا مکان تھا اور پولیس وغیرہ کا بھی انتظام تھا۔ مگر ایک شخص دوران تقریر میں عین بھری مجلس میں کھڑا ہوا اور منہ پر کھڑے ہو کر گالیاں سنائیں۔ میاں محمد خاں صاحب مرحوم جو کہ ہمارے بڑے مخلص اور محبت کرنے والے تھے ان کو جوش آگیا مگر ہم نے ان کو بند کر دیا کہ ہمارے اخلاق کے یہ اَمر برخلاف ہے کہ اسی قسم کا پہلو اختیار کیا جاوے۔

غرض لاہور میں، امرتسر میں، دہلی میں، سیالکوٹ وغیرہ میں ہم نے اچھی طرح سے آزما لیا ہے کہ یہ نسخہ فتنہ سے خالی نہیں اور اس میں شر کا اندیشہ زیادہ ہے چنانچہ امرتسر میں ہمیں پتھر مارے گئے اور ایک پتھر ہمارے لڑکے کے بھی لگا۔ بعض دوستوں کو جوتیاں بھی لگیں۔ لَا یُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُـحْرٍ وَّاحِدٍ مَّرَّتَیْنِ۔ پس آزمودہ نسخہ کو ہم اب دوبارہ کیسے آزما سکتے ہیں؟ پھر دوسرا بڑا نقص یہ ہے کہ زبانی گفتگو میں نقل کرنے والے جو ان کا دل چاہے کر لیں اور چاہیں تو رائی کا پہاڑ بنالیں۔ قلم ان کے ہاتھ میں ہے۔ پھر بعض شریر النفس لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ دو دو گھنٹے تک ان کو سمجھایا جاتا ہے۔ مگر چونکہ ان زبانی تقریروں میں انسان کو سوچنے کا بہت کم موقع ملتا ہے اور زبانی تقریریں صرف آنی اور فوری ہوتی ہیں ان کا اثر دیر پا نہیں ہوتا اس واسطے مجبوراً اس راہ سے اجتناب کرنا پڑا اور سلسلہ تحریر میں مَیں نے اتمام حجت کے واسطے مفصل طور سے ستر پچھتر کتابیں لکھی ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک جداگانہ طور سے ایسی جامع ہے کہ اگر کوئی طالبِ حق اور طالبِ تحقیق ان کا غور سے مطالعہ کرے تو ممکن نہیں کہ اس کو حق و باطل میں فیصلہ کرنے کا ذخیرہ بہم نہ پہنچ جاوے۔ ہم نے اپنی عمر میں ایک بھاری ذخیرہ معلومات کا جمع کر دیا ہے۔ اور جہاں تک ممکن تھا ان کی اشاعت بھی کی گئی ہے اور دوست اور دشمنوں نے ان کو پڑھا بھی ہے۔ زبانی تقریر کا عرصہ کم ہوتا ہے۔ انسان کو اس میں تدبر کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ بلکہ بعض جوشیلی طبیعت کے آدمیوں کو سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملتا کیونکہ وہ تو اپنے خیالات کے خلاف سنتے ہی آگ ہو جاتے ہیں۔ اور ان کے منہ میں جھاگ آنے لگ جاتا ہے۔ برخلاف اس کے کتاب کو انسان ایک الگ حجرے میں لے کر بیٹھ جاوے تو تدبّر کا بھی موقع ملتا ہے اور چونکہ اس وقت مدِّ مقابل کوئی نہیں ہوتا اس واسطے خالی الذہن ہو کر سوچنے کا اچھا موقع ملتا ہے۔ مگر بایں ہمہ ہم نے دوسرے پہلو کو بھی ہاتھ سے نہیں دیا اور اس غرض کے واسطے مختلف شہروں میں گئے۔ تبلیغ کی ہے۔ بعض مقامات میں تو ہمارا اینٹ پتھروں سے بھی مقابلہ کیا گیا ہے۔ ابھی آپ کے نزدیک تبلیغ نہیں کی گئی۔

ہم اپنا کام ختم کر چکے ہیں

ہم نے اپنی زندگی میں کوئی کام دنیوی نہیں رکھا۔ ہم قادیان میں ہوں یا لاہور میں جہاں ہوں ہمارے انفاس اللہ ہی کی راہ میں ہیں۔ معقولی رنگ میں اور منقولی طور سے تو اب ہم اپنے کام کو ختم کرچکے ہیں۔ کوئی پہلو ایسا نہیں رہ گیا جس کو ہم نے پورا نہ کیا ہو۔ البتہ اب تو ہماری طرف سے دعائیں باقی ہیں۔ خدا نے بھی کوئی اَمر باقی اٹھا نہیں رکھا۔ معجزات اس کثرت اور ہیبت سے دکھائے ہیں کہ دوست دشمن ان کی عظمت اور شوکت کو مان گئے ہیں۔ اب اگر کوئی ہدایت نہ پاوے تو یہ ہمارے اختیار کی بات نہیں ہے۔ اِنَّکَ لَا تَہۡدِیۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ(القصص:۵۷)

وفاتِ مسیح کا نسخہ

خدا کے سلسلے کو ہتک اور خفت کی نظر سے نہ دیکھنا چاہیے۔ اس نے بہت بڑا ارادہ کیا ہے۔ اسلام کی خیر اسی میں ہے۔ ایک دفعہ ہم دہلی میں گئے تھے۔ ہم نے وہاں کے لوگوں سے کہا کہ تم نے تیرہ سو برس سے یہ نسخہ استعمال کیا ہے کہ آنحضرتؐ کو مدفون اور حضرت عیسٰیؑ کو زندہ آسمان پر بٹھایا۔ یہ نسخہ تمہارے لئے مفید ہو یا مضر؟ اس سوال کا جواب تم خود ہی سوچ لو۔ ایک لاکھ کے قریب لوگ اسلام سے مرتد ہو گئے ہیں۔ ہر قوم اور ہر فرقے میں سے سید، مغل، پٹھان، قریشی وغیرہ۔ یہ تو حضرت عیسٰیؑ کو بار بار زندہ کہنے کا نتیجہ ہے۔ مگر اب ایک دوسرا نسخہ ہم بتاتے ہیں وہ استعمال کر کے دیکھو اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسٰیؑ کو (جیسا کہ قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے اور رسول کریمؐ نے فعلی شہادت دے دی) وفات شدہ مان لو۔ ان میں سے ایک شخص جو کہ لمبے قد کا تھا وہ بولا کہ آپ سچ کہتے ہیں آپ اپنا کام کئے جاویں میں نے آپ کا طریق سمجھ لیا ہے۔ واقع میں اسلام کی خیر اسی میں ہے۔

قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسٰیؑ کے حق میں تَوَفّی کا لفظ استعمال کیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رؤیت سے فعلی شہادت دی کہ ان کو معراج کی رات مُردوں کے ساتھ دیکھا۔ بھلا زندوں کو مُردوں سے کیا تعلق؟ حضرت عیسٰیؑ اگر زندہ ہوتے تو ان کے واسطے تو کوئی الگ کوٹھڑی چاہیے تھی نہ یہ کہ وہ بھی مُردوں کے ساتھ ہی رہیں۔ تَوَفّی کا لفظ بجز وفات کے جسم عنصری سے آسمان پر چڑھ جانے کے ہرگز قرآن شریف سے کوئی ثابت نہ کر سکے گا۔ دیکھو! یہی لفظ تَوَفّی کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں قرآن شریف نے بولا ہے۔ نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ(المؤمن:۷۸) نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ(یونس:۴۷) اور حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں بھی یہی لفظ تَوَفّی ہی آیا ہے تَوَفَّنِیۡ مُسۡلِمًا وَّاَلۡحِقۡنِیۡ بِالصّٰلِحِیۡنَ(یوسف:۱۰۲)

اب جائے غور ہے کہ اَوروں کے واسطے تو یہی لفظ موت پر دلالت کرے مگر حضرت عیسٰیؑ کے حق میں اگر آ جاوے تو اس میں کچھ ایسی تاثیر پیدا ہو جاتی ہے کہ اس کے معنے بجائے موت کے جسم عنصری سے آسمان پر چڑھ جانے کے ہو جاتے ہیں۔

سب سے پہلا اجماع جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ہوا وہ وفات عیسٰیؑ کے مسئلہ پر ہے۔ ایک دفعہ مفتی محمد صادق صاحب جو ایک بڑے مخلص آدمی ہیں ان کو ایک بشپ پادری سے زندہ رسول کے مسئلہ پر مباحثہ کرنے کا موقع ملا۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ لاہور میں ایک لارڈ بشپ نے ایک بڑے بھاری مجمع میں یہ بیان کیا کہ مسلمانوں کا رسول (نعوذ باللہ )زندہ نبی کہلانے کا مستحق نہیں ہے زندہ نبی صرف حضرت عیسٰیؑ ہی ہیں۔ مسلمانوں کے رسول مدینے میں مدفون اور مسیحؑ زندہ آسمان پر خدا کے داہنے ہاتھ بیٹھا ہے۔ سب مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا کہ تم ہی سوچو اور فیصلہ کرو کہ افضل ان میں سے کون ہے؟ مسلمان بیچاروں کے پاس اس سوال کا کیا جواب تھا؟ اتفاق سے مفتی محمد صادق صاحب اس جلسہ میں موجود تھے۔ انہوں نے یہ حال دیکھ کر غیرتِ اسلامی کے تقاضا اور جوش سے اٹھ کر کہا کہ میں آپ کے اس سوال کا جواب دیتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے حضرت مسیح کی وفات کو بیان کر کے کہا کہ قرآن شریف میں حیاتِ مسیح کا کہیں بھی ذکر نہیں۔ قرآن شریف ان کو بار بار انبیاء کی طرح وفات یافتہ قرار دے چکا ہے۔ یہ جواب سن کر وہ بشپ چونک پڑا اور کوئی جواب اس سے بن نہ آیا۔ صرف یہ کہہ کر ٹال دیا کہ معلوم ہوتا ہے تم مرزائی ہو۔ ہم تم سے گفتگو نہیں کرتے۔ ہمارے مخاطب عام مسلمان ہیں۔ اس واقعہ نے ہمارے دشمنوں کے دلوں پر بھی اثر کیا اور اندر ہی اندر وہ ملزم ہو گئے اور ان کو یقین ہو گیا کہ آج اگر کوئی عیسائیوں پر غالب آ سکتا ہے تو وہ یہی فرقہ ہے اور لوگوں نے متفق اللفظ یہ کہا کہ اگرچہ ہیں تو کافر مگر آج اسلام کی عزت انہی لوگوں نے رکھ لی ہے۔

صداقت کے زبردست نشانات

فرمایا کہ قربان جائیے ایسے کفر کے جو اسلام کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا باعث ہو۔

پس یا درکھو کہ دنیا میں ایسے رہو جیسے کوئی غریب۔ مسافر گٹھڑی باندھے سفر کو تیار بیٹھا ہوتا ہے۔ دنیا کے بہت سے فکر اپنے ذمے ڈال لینے ٹھیک نہیں ہوتے۔ دیکھو دنیا میں طرح طرح کے آفات کیسے خطرناک حملے کر رہے ہیں طاعون ہے، زلزلے ہیں، قحط ہے، ان کے علاوہ اور سینکڑوں آفات ارضی و سماوی ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے انسان مطمئن کیسے ہو سکتا ہے؟ دیکھو! یہی طاعون یہ بھی ہماری صداقت کا ایک زبردست نشان ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ سے وحی پا کر اس مرض کی خبر اس وقت دی تھی جبکہ پنجاب میں اس کا نام ونشان بھی نہ تھا اور یہ کوئی ہمارا صرف زبانی دعویٰ نہیں بلکہ بار بار ہم نے اس کے متعلق اپنی کتابوں اور سلسلہ کے اخباروں میں لکھ کر دنیا کو اطلاع دی تھی کہ خطرناک طاعون ملک میں پھیلنے والا ہے۔ ہر ایک کو چاہیے کہ قبل اس کے کہ وہ وارد ہو جاوے تو بہ استغفار میں مصروف ہوجاؤ اور اپنے اندر ایک پاک تبدیلی پیدا کر لو مگر بہت تھوڑے تھے جنہوں نے ہماری بات کو سچا جانا اور اس کی طرف توجہ کی۔ ہم نے دیکھا کہ ملک کے مختلف حصوں میں بعض لوگ سیاہ رنگ کے درخت لگارہے تھے۔ ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ درخت طاعون کے ہیں اور پھر ایک ہاتھی کا ساجا نور جس کے اعضا مختلف حیوانات سے مشابہ تھے اور مجموعی شکل ہاتھی سے مشابہ تھی، دیکھا کہ وہ ہاتھی ایک بَن میں کبھی ادھر اور کبھی ادھر مختلف سمتوں میں جاتا تھا اور مختلف قسم کے جنگلی جانوروں مثل ہرن، بکری، سانپ، خرگوش وغیرہ وغیرہ پر حملہ کرتا اور ان کو کھا جاتا۔ جب وہ حملہ کرتا تو جانوروں کے شور و غل سے ایک قیامت کا شور بپا ہو جاتا اور اس کے ہڈیوں وغیرہ کے چبانے کی آواز ہم سنتے تھے ایک طرف سے فارغ ہو کر وہ ہمارے پاس آجاتا اور اس کے چہرہ سے بڑے حلم اور غربت کے آثار نمایاں تھے اور گویا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ زبانِ حال سے کہتا ہے کہ میرا اس میں کیا قصور ہے میں تو مامور ہوں۔ مجھے جو حکم ہوتا ہے اس کی تعمیل کرتا ہوں۔ تھوڑی دیر ہمارے پاس ٹھہرنے کے بعد پھر دوسری طرف جاتا اور وہاں بھی پہلے کی طرح عمل کرتا اور پھر میرے پاس آبیٹھتا۔ ایک طرف تو وہ جنگلی جانوروں کو کھاتا اور دوسری طرف ایسا معلوم ہوتا تھا کہ خدا کے نازل شدہ غضب سے وہ خود بھی ہیبت زدہ تھا۔

یہ باتیں ہم نے آج نہیں بنالیں بلکہ یہ اس وقت کی ہیں کہ جب طاعون کا ملک میں نام ونشان بھی نہ تھا۔ کیا اس قسم کی غیبی پیشگوئیاں انسان کی طاقت میں ہیں؟ اور انسان ایسے غیب کے بتانے پر قادر ہوسکتا ہے؟ غور تو کرو کہ یہ کس قسم کا افترا ہے جو عین دعویٰ کے مطابق ظہور پذیر ہوکر صدقِ دعویٰ کی ایک زبردست اور لاجواب دلیل بن گیا ہے۔

پھر زلزلہ کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت خبر دی تھی۔ زلزلہ کا دھکا اور عَفَتِ الدِّیَارُ مَـحَلُّھَا وَمَقَامُھَا دیکھو پھر کیسا زلزلہ آیا اور کیسی کیسی تباہیاں دنیا میں واقع ہوئیں۔ ذرا کانگڑہ کے مندر کے حالات ہی غور سے پڑھ سن لئے جاویں تو اس پیشگوئی کی عظمت اور ہیبت معلوم ہوگی۔ کیا یہ انسان کا کام ہے؟ ہرگز نہیں۔ پس اگر یہ خدا کا کلام ہے تو پھر کیوں خدا کے مقابلہ میں ایسی جرأت اور دلیری کی جاتی ہے۔

اولیاء اور صاحبِ کشف لوگوں کے نزدیک مہدی اور مسیح موعود کا زمانہ

میں کمزور اور ایک عاجز انسان ہوں مگر خدا جس سے چاہے کام لے لے۔ یہ اس کی بندہ نوازی ہے کسی کا حق نہیں کہ خدا کے فعل پر اعتراض کرے۔ زمانہ آگیا تھا اور تمام اہل اللہ نے اس وقت کی خبر دی تھی۔ حجج الکرامہ میں بہت سے اولیاء اللہ اور اہل کشف لوگوں کے اقوال کے حوالے درج کر کے صدیق حسن خاں نے یہ ثابت کیا ہے کہ جتنے بڑے بڑے اولیاء اور صاحب کشف لوگ تھے تمام نے متفق طور سے یہی خبر دی ہے کہ آنے والا مہدی اور مسیح موعود چودھویں (صدی) میں ہی آوے گا۔ چودھویں صدی سے آگے کوئی بھی نہیں بڑھا۔ پھر آگے چل کر لکھا ہے کہ’’ کاش وہ میرے زمانہ میں پیدا ہوں تو میں ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچادوں ورنہ میں اپنی اولاد کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس کو پاویں گے میرا سلام پہنچاویں۔ ‘‘مگر ہم جانتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو بہت کم توفیق قبولِ حق کی ملتی ہے کیونکہ سنّت اللہ یہی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعثت کے زمانہ سے پہلے ایک شخص بڑے زور سے وعظ کیا کرتا تھا کہ لوگو! نبی آخرالزمان آنے والے ہیں۔ ان کی آمد کے تمام نشانات اور لوازم پورے ہو گئے ہیں مگر خدا کی شان کہ جب آپؐ مبعوث ہوئے تو اوّل المکذّبین ہوا۔

اصل بات یہ ہے کہ ہم زمانہ ہونا بھی ایک فخر اور تکبر بے جا پیدا کر دیتا ہے جو قبولِ ہدایت سے محرومی کا باعث ہو جاتا ہے۔ صدیق حسن نے بھی ہماری کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا اور بے ادبی کی تھی مگر بہت دن نہ گذرے کہ خدائی عتاب میں آ گیا اور آخر بڑی عاجزی اور انکسار سے دعا کے واسطے لکھا۔ ہم نے اس کے واسطے دعا کی اور خدا نے ہمیں خبر دی کہ ہم نے اس کی عزت کو سرکوبی سے بچا لیا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اس کے واسطے نوابی کا خطاب بحال رکھنے کا حکم آ گیا مگر وہ اس حکم کے آنے سے پہلے وفات پا چکا تھا۔۱؎

انبیاء کا ساتھ دینے والے ہمیشہ کمزور اور ضعیف لوگ ہوتے ہیں

مسٹر محمد علی جعفری ایم۔اے وائس پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور کو جو حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں ملاقات کے واسطے حاضر ہوئے۔

حضرت اقدسؑ نے مخاطب کر کے فرمایا۔

میں جب مامور ہوا تھا اور خدا نے اس سلسلہ کو بہت صاف طور سے قائم کیا۔ کوئی شک و شبہ نہیں تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں اور قرآن شریف کے عین منشا کے مطابق اور ٹھیک وقت پر ظہور تھا اور پھر صداقت دعویٰ کے ساتھ خدائی نشان بھی تھے تو میں نے سب سے اوّل اس اَمر کو گروہ علماء کے پیش کیا۔ کیونکہ میں جانتا تھا کہ علماء اس اَمر کو سب سے پہلے قبول کریں گے۔ میرا خیال تھا کہ یہ لوگ بوجہ علومِ دین سے واقفیت رکھنے کے بلا عذر مجھے قبول کرلیں گے کیونکہ میرا دعویٰ عین قرآن وحدیث کے مطابق اور ضرورتِ حقہ کے واسطے تھا اور یہ لوگ خود انتظار میں تھے اور تحریراً تقریراً اپنے وعظوں اور لیکچروں میں کہا کرتے تھے کہ چودھویں صدی میں مسیح موعود کا آجانا یقینی اور قطعی ہے اور علاوہ ازیں کُل علامات جو یہ بیان کرتے تھے میری صداقت کے لئے ظاہر ہو چکی تھیں۔ مگر ہماری وہ امید بالکل غلط نکلی علماء کی طرف سے ہمیں اس دعوت کا جو جواب ملا وہ ایک فتویٰ تھا جس میں ہمیں کافر، اکفر، ضالّ، مُضلّ، دائرہ اسلام سے خارج، یہود اور نصاریٰ سے بدتر قرار دیا اور لکھا گیا کہ ان لوگوں کو اپنی قبروں میں داخل نہ کیا جائے۔ ان کے جنازے نہ پڑھے جاویں۔ ان کے ساتھ ملاقات نہ کی جاوے۔ ان سے مصافحہ نہ کیا جائے۔ حتی کہ یہاں تک تشدد کیا کہ جو ان سے میل جول رکھے گا وہ بھی انہی میں سے ہوگا۔

پھر ان لوگوں سے یہ جواب پا کر ہمیں خیال آیا کہ تعلیم یافتہ لوگ عموماً بے تعصب اور عناد سے پاک ہوتے ہیں۔ لہٰذا اسی خیال سے ہم نے پھر اپنی دعوت نئے تعلیم یافتہ گروہ کے پیش کی مگر ان میں سے اکثر کو بے قید پایا اور اکثر کو دیکھا کہ وہ خود اسلام میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں اور ان کا یہ خیال ہے کہ اسلام کی تعلیم ایک جاہلانہ اور وحشیانہ زمانہ کی تعلیم تھی اب اس کی ضرورت نہیں۔ اب اس سے فراغت حاصل کرنی چاہیے اور زمانہ کی رفتار کے مناسبِ حال ترمیم کر لینی چاہیے۔ غرض اس طرح سے اس قوم کے لوگوں سے بھی محرومی ہی ہوئی۔ الا ماشاءاللہ

پھر رؤسا کے گروہ کی طرف اپنی دعوت بھیجی کہ ان کو دنیا کا حصہ دیا جاتا ہے اور یہ سیدھے سادے مسلمان ہوتے ہیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک شخص صدیق حسن خاں نے ہماری کتاب کو چاک کر کے واپس بھیج دیا اور اس طرح سے اپنی قساوتِ قلبی کا اظہار کیا۔ ان کے بعد ہم نے سمجھا کہ یہ سعادت ہمیشہ ضعفا ہی کا حصہ ہوتی ہے چنانچہ ہمارا یہ خیال بالکل صحیح نکلا اور سنّتِ قدیمہ کے بموجب ضعفا ہی اکثر ہمارے ساتھ ہوئے جن کو نہ مولویت کا گھمنڈ اور نہ دولت کا تکبّر بلکہ بالکل سادہ لوح اور پاک نفس ہوتے ہیں۔ اور وہی خدا کے بھی مقرّب ہوتے ہیں، چنانچہ اسی گروہ میں سے کئی لاکھ انسان اب ہمارے ساتھ ہیں۔

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جب نبوت کا خلعت خدا سے پا کر دعوتِ اسلام کے خط بادشاہوں کو لکھے تھے تو ان میں سے ہرقل قیصر روم کے نام بھی ایک خط لکھا تھا۔ اس نے خط پڑھ کر کسی عرب کی جو آپؐ کی قوم کا ہو تلاش کرائی۔ چنانچہ چند قریشی جن میں ابوسفیان بھی تھا پیش خدمت کئے گئے۔ ان سے بادشاہ نے چند سوال کئے جن میں یہ بھی تھے کہ اس شخص کے آباء واجداد میں سے کبھی کسی نے نبوت کا دعویٰ تو نہیں کیا؟ جس کا جواب نفی میں دیا گیا۔ پھر پوچھا گیا کہ کوئی بادشاہ تو نہیں گذرا اس کے بزرگوں میں؟ اس کا جواب بھی نفی میں دیا گیا۔ پھر یہ سوال کیا کہ اس شخص کے پیرو کون لوگ ہیں؟ اس کے جواب میں کہا گیا کہ ان کی پیروی کرنے والے غریب اور کمزور لوگ ہیں۔ پھر اس نے دریافت کیا کہ لڑائیوں میں کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ جواب دیا گیا کہ کبھی وہ فتح پاتا ہے اور کبھی ہم کامیاب ہوتے ہیں۔ ان سوالات کے جوابات سن کر قیصر نے اقرار کیا کہ انبیاء ہمیشہ دنیا میں اسی شان میں آیا کرتے ہیں ان کے ساتھ اوّل میں ہمیشہ کمزور اور ضعیف لوگ ہی شامل ہوا کرتے ہیں اس شخص نے اپنی فراستِ صحیحہ سے معلوم کر لیا کہ واقعی یہ شخص سچا نبی ہے اور یہ وہی نبی ہے جس کی پیشگوئی کی گئی ہے چنانچہ اس نے یہ بھی کہا وہ وقت قریب ہے کہ وہ میرے تخت کا بھی مالک ہو جاوے گا۔

غرض یہ سنّتِ قدیمہ ہے کہ انبیاء کا ساتھ دینے والے ہمیشہ کمزور اور ضعیف لوگ ہی ہوا کرتے ہیں بڑے بڑے لوگ اس سعادت سے محروم ہی رہ جاتے ہیں ان کے دلوں میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں اور وہ اپنے آپ کو ان باتوں سے پہلے ہی فارغ التحصیل سمجھے بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہ اپنی بڑائی اور پوشیدہ کبر اور مشیخیت کی وجہ سے ایسے حلقہ میں بیٹھنا بھی ہتک اور باعث ننگ وعار جانتے ہیں جس میں غریب مگر مخلص کمزور مگر خدا کے پیارے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ صدہا لوگ ایسے بھی ہماری جماعت میں داخل ہیں جن کے بدن پر مشکل سے لباس بھی ہوتا ہے۔ مشکل سے چادر یا پاجامہ بھی ان کو میسر آتا ہے۔ ان کی کوئی جائیداد نہیں مگر ان کے لاانتہا اخلاص اور ارادت سے محبت اور وفا سے طبیعت میں ایک حیرانی اور تعجب پیدا ہوتا ہے جو ان سے وقتاً فوقتاً صادر ہوتا رہتا ہے یا جس کے آثار ان کے چہروں سے عیاں ہوتے ہیں وہ اپنے ایمان کے ایسے پکے اور یقین کے ایسے سچے اور صدق و ثبات کے ایسے مخلص اور باوفا ہوتے ہیں کہ اگر ان مال و دولت کے بندوں اس دنیوی لذّات کے دلدادوں کو اس لذّت کا علم ہو جائے تو اس کے بدلے میں یہ سب کچھ دینے کو تیار ہو جاویں۔ ان میں سے مثال کے طور پر ایک شخص شاہزادہ مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم ہی کے حالات کو غور سے دیکھ لو کہ کیسا صدق کا پکا اور وفا کا سچا تھا۔ جان تک سے دریغ نہیں کیا۔ جان دے دی مگر حق کو نہیں چھوڑا۔ ان کی جب مخبری کی گئی اور ان کو امیر کے روبرو پیش کیا گیا تو امیر نے ان سے یہی پوچھا کہ کیا تم نے ایسے شخص کی بیعت کی ہے؟ تو اس نے چونکہ وہ ایک راستباز انسان تھا صاف کہا کہ’’ ہاں میں نے بیعت کی ہے مگر نہ تقلیداً اندھا دھند بلکہ علیٰ وجہ البصیرت اس کی اتباع اختیار کی ہے۔ میں نے دنیا بھر میں اس کی مانند کوئی شخص نہیں دیکھا۔ مجھے اس سے الگ ہونے سے اس کی راہ میں جان دے دینا بہتر ہے۔ ‘‘غرض مرحوم اس بات کا ایک نمونہ چھوڑ گئے ہیں کہ ہمارے تعلق رکھنے والے کیسے صادق الایمان اور صادق الاعتقاد ہیں۔

منکرین کا انجام

اصل بات یہ ہے کہ مشکلات صرف یہی ہیں کہ لوگوں کو امور دینی میں تدبّر کرنا اور خدا سے ڈر کر کسی معاملہ میں غور کرنا اور حق و باطل میں امتیاز چاہنا اور یہ تڑپ رکھنا کہ آیا یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے یا نہیں اس طرف توجہ ہی نہیں۔ مگر یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فعل عبث نہیں بلکہ اس نے حق و حکمت سے سلسلہ قائم کیا ہے اور ضرورتِ حقّہ کے وقت اس کو کھڑا کیا ہے۔ پس وہ منکروں سے ضرور مطالبہ کرے گا مَا اَرْسَلَ اللّٰہُ رَسُوْلًا اِلَّا اَخْزٰی بِہٖ قَوْمًا لَّا یُؤْمِنُوْنَ۔ یاد رکھو کہ دنیا میں ایسا کوئی بھی نبی یا رسول نہیں گذرا جس کے منکروں کو خدا تعالیٰ نے ذلّت اور رُسوائی کا عذاب نہ دیا ہو۔ یہ ضروری اور لازمی ہوتا ہے کہ رسول کی حجت پوری کر دینے کے بعد منکر قوم کو حق و باطل میں امتیاز پیدا کرنے کے واسطے عذاب دیا جاوے۔

خدا تعالیٰ کے نزدیک دو بڑے گناہ

خدا کے نزدیک دو بڑے ہی سخت گناہ ہیں۔ اوّل افترا اور تَقَوُّل عَلَی اللّٰہِ۔ یعنی یہ کہ کوئی شخص دعویٰ کرے کہ خدا مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے یا وحی یا الہام کرتا ہے حالانکہ اسے نہ کوئی وحی ہوتی ہے اور نہ الہام اور نہ خدا اس سے کبھی ہمکلام ہوا حتی کہ جھوٹی خواب کا بنا لینا بھی اسی میں داخل ہے۔ غرض ایک تو یہ اَمر کہ خدا پر افترا کرنا حالانکہ خدا جانتا ہے کہ وہ کاذب ہے۔ دوسرے وہ شخص خدا کے بڑے سخت غضب اور عتاب کا مورد ہو گا جو ایک صادق اور خدا کی طرف سے آنے والے کا انکار کرتا ہے۔

بہر حال ہمارا مطلب یہ ہے کہ یہ بات ہمیشہ سے چلی آئی ہے اور اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے عملی طور پر ایک سلسلہ نبوت قائم کر کے دکھا دیا ہے۔ اس سے اس قدر فائدہ تو اٹھانا چاہیے کہ جہاں اَور اپنے دنیوی کاروبار کے واسطے اتنی سرگردانی اور محنت اور کوشش کرتے ہو اس بات کی بھی کچھ تحقیقات تو کرو کہ آیا جو اپنے کاروبار کو خدا کی طرف منسوب کرتا ہے اور اتنا بڑا دعویٰ پیش کرتا ہے اتنا تو معلوم کر لیں کہ یہ صادق ہے یا کاذب۔

پھر خدا فرماتا ہے کہ جو شخص میرے رسول کی نافرمانی کرے گا میں اس کو نہیں چھوڑوں گا جب تک اس سے اس انکار کا مطالبہ نہ کر لوں۔ معمولی حکام اور گورنمنٹ بھی اپنے احکام کی تحقیر کرنے والوں اور باغیوں کو بغیر سزا نہیں چھوڑتی تو پھر وہ خدا ہے اور احکم الحاکمین ہے ذرّہ ذرّہ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے تو پھر اس کے مرسل کی نافرمانی اور اس کے احکام کی ہتک کرنے والا کس طرح امن میں رہ سکتا ہے۔

صداقت مسیح موعود علیہ السلام

اگر میرے ساتھ خدا کا کوئی نشان نہ ہوتا اور نہ اس کی تائید اور نصرت میرے شاملِ حال ہوتی اور میں نے قرآن سے الگ کوئی راہ نکالی ہوتی یا قرآنی احکام اور شریعت میں کچھ دخل و تصرّف کیا ہوتا یا منسوخ کیا ہوتا یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے باہر کوئی اور نئی راہ بتائی ہوتی تو البتہ حق تھا اور لوگوں کا عذر معقول اور قابل قبول ہوتا کہ واقع میں یہ شخص خدا اور خدا کے رسول کا دشمن اور قرآن اور تعلیم قرآن کا منکر اور منسوخ کرنے والا ہے، فاسق ہے، فاجر ہے، مرتد ہے، مگر جب میں نے نہ قرآن میں کوئی تغیر کیا اور نہ پہلی شریعت کا جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے ایک شوشہ اور نقطہ میں نے بدلا بلکہ میں قرآن اور احکام قرآنی کی خدمت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک مذہب کی خدمت کے واسطے کمر بستہ ہوں اور جان تک میں نے اپنی اسی راہ میں لگادی ہے اور میرا یقین کامل ہے کہ قرآن کے سوا جو کامل، اکمل اور مکمل کتاب ہے اور اس کی پوری اطاعت اور بغیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے نجات ممکن ہی نہیں اور قرآن میں کمی بیشی کرنے والے اور آنحضرتؐ کی اطاعت کا جؤا اپنی گردن سے اتارنے والے کو کافر اور مرتد یقین کرتا ہوں تو پھر اس صورت میں اور باوجود میری صداقت کے ہزار ہا نشان ظاہر ہو جانے کے جو کہ خدا نے آج تک میری تائید میں آسمان اور زمین پر ظاہر کئے پھر مجھے جو شخص کاذب اور مفتری اور دجّال کے نام سے پکارتا ہے یا جو میری پروا نہیں کرتا اور میری آواز کی طرف کان نہیں دھرتا یقیناً جانو کہ خدا بغیر مواخذہ اسے ہرگز ہرگز نہ چھوڑے گا۔ اسلام کی کشتی غرق ہونے کو ہے۔ زمانہ شہادت دے رہا ہے اور وقت پکار پکار کر ضرورت کو محسوس کر رہا ہے۔ اندرونی حالت ایسی خطرناک ہے کہ اس سے ہرگز ہرگز کسی کا دل مطمئن اور خوش نہیں ہو سکتا۔ بیرونی حملے ایسے خطرناک ہیں کہ قریب ہے کہ اسلام کو بیخ وبُن سے اکھاڑ پھینکیں تو کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ کسی کو خدا اسلام کی حمایت کے واسطے مبعوث فرماتا اور کوئی مجدّد بھیجتا جو اسلام کی ڈوبتی ناؤ کو سنبھال لیتا؟ صدی کا سر بھی گذر گیا مگر کُل وعدے جھوٹے ہی جھوٹے نکلے؟ تو پھر تم ہی بتاؤ کہ کیا ابھی وہ وقت نہیں کہ خدا اسلام کی خبر گیری کرتا؟ یا کوئی اس سے بھی زیادہ خطرناک اور نازک حالت ہوگی؟ کیا جب اسلام بالکل مَر ہی جاوے گا اور اس میں کوئی دم باقی نہ رہے گا اس وقت کوئی آوے گا؟ پھر ایسے آنے والے سے کیا فائدہ اور کیا حاصل؟

یاد رکھو کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو پھر اسلام بھی جھوٹا ہے اور اگر اسلام بھی دوسروں کی طرح ایک مُردہ مذہب ہے تو پھر اسلام میں کیا بڑائی ہے اور اس کی کیا خصوصیت؟ توحید جس کا ہم تم کو ناز ہے اس کے تو برہمو اور آریہ بھی دعویدار ہیں۔ ایک شخص نے اسی لاہور میں ایک دفعہ لیکچر دیا تھا کہ ہم لوگ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ(الصّٰفّٰت:۳۶) کے قائل ہیں پھر ہمیں مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ(الفتح:۳۰) کی کیا حاجت ہے؟ جب یہ صورت ہے اور توحید کے اور مذاہب بھی قائل ہیں تو پھر تم میں اور تمہارے غیروں میں مابہ الامتیاز ہی کیا ہوا؟

جہاد کی حقیقت

اگر یہی جہاد وغیرہ کے عقائد ہی مابہ الامتیاز ہیں تو پھر یاد رکھو کہ یہ سخت غلطی ہے اور اس طرح تم اسلام کے حامی نہیں بلکہ دشمن ہو، اسلام کو بدنام کرتے ہو۔ دیکھو! اگر ہمیں اس بات کا علم ہوتا کہ واقع میں قرآن شریف کا یہی منشا ہے تو پھر ہم اس ملک کے باہر چلے جاتے اور ایسی جگہ اپنا قیام گاہ بناتے جہاں سے ہمیں ان احکام کی ادائیگی میں ہر طرح کی سہولت اور آسانی ہوتی اور خوب دل کھول کر ان احکام کو بجا لاتے مگر میں سچ کہتا ہوں کہ قرآن کا یہ منشا نہیں جو بدقسمتی سے بعض نادان ملّانوں نے سمجھا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس زمانہ میں بڑے بڑے مشکلات کا سامنا تھا۔ آپؐ کے بہت سے جان نثار اور عزیز دوست ظالم کفّار کے تیر وتفنگ کا نشانہ بنے اور طرح طرح کے قابلِ شرم عذاب ان لوگوں نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو پہنچائے حتی کہ آخر کار خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا منصوبہ کر لیا۔ چنانچہ آپ کا تعاقب بھی کیا۔ آپ کے قتل کرنے والے کے واسطے انعام مقرر کئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غار میں پناہ گزیں ہوئے۔ تعاقب کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی گئی۔ مگر یہ تو خدا کا تصرّف تھا کہ آپ کو ان کی نظروں سے باوجود سامنے ہونے کے بچا لیا اور ان کی آنکھوں میں خاک ڈال کر خود اپنے رسول کو ہاتھ دے کر بچا لیا۔ آخر کار جب ان کفار کے مظالم کی کوئی حد نہ رہی اور مسلمانوں کو ان کے وطن سے باہر نکال کر بھی وہ سیر نہ ہوئے تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ارشاد نازل ہوا اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرُ(الحج:۴۰) خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کی اجازت دی اور اس اجازت میں یہ ثابت کر دیا کہ واقع میں جو لوگ ظالم تھے اور شرارت ان کی حد سے بڑھ چکی تھی اور مسلمانوں کا صبر بھی اپنے انتہائی نقطہ تک پہنچ چکا تھا۔ اب خدا نے فرمایا کہ جن لوگوں نے تلوار سے مقابلہ کیا وہ تلوار ہی سے ہلاک کئے جاویں اور گو یہ چند اور ضعیف ہیں مگر میں دکھا دوں گا کہ میں بوجہ اس کے کہ وہ مظلوم ہیں ان کی نصرت کروں گا اور تم کو ان کے ہاتھ سے ہلاک کراؤں گا۔ چنانچہ پھر اس حکم کے بعد ان ہی چند لوگوں کی جو ذلیل اور حقیر سمجھے گئے تھے اور جن کا نہ کوئی حامی بنتا تھا اور نہ مددگار اور وہ کفّار کے ہاتھ سے سخت درجہ تنگ اور مجبور ہو گئے تھے ان کی مشارق اور مغارب میں دھاک بندھ گئی اور اس طرح سے خدا نے ان کی نصرت کر کے دنیا پر ظاہر کر دیا کہ واقعی وہ مظلوم تھے۔ غرض ہر طرح سے ہر رنگ میں اور ہر پہلو پر نظر ڈال کر دیکھ لو واقع میں اس وقت مسلمان مظلوم تھے یا کہ نہیں؟ اگر خدا ایسے خطرناک اور نازک وقت میں بھی ان چند کمزور مسلمانوں کو اپنی حفاظت جان کے واسطے تلوار اٹھانے اور دفاعی طور سے لڑائی کرنے کی اجازت نہ دیتا تو کیا ان کو دنیا کے تختہ سے نابود ہی کر دیتا؟ تو پھر اس حالت میں ان کا تلوار اٹھانا جبکہ ہر طرح سے ان کا حق تھا کہ وہ تلوار اٹھاتے کیا تو شرعاً اور کیا عرفاً۔ مگر وہ بھی آج تک نشانہ اعتراض بنا ہوا ہے اور متعصب اور جاہل دشمن اب تک اس کو نہیں بھولتے تو کیا اب یہ لوگ خونی مہدی کا عقیدہ پیش کر کے ان کے ان اعتراضوں کو پھر تازہ کرتے اور مسلمانوں سے متنفر کرنا چاہتے ہیں۔ دیکھو مہدی کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود صاف فرما دیا ہے کہ یَضَعُ الْـحَرْبَ وہ جنگ کا خاتمہ کر دے گا اور وہ جنگ ایک علمی جنگ ہوگا۔ قلم تلوار کا کام کرے گا اور اسرارِ روحانی، برکات سماوی اور نشاناتِ اقتداری سے دنیا کو فتح کیا جاوے گا اور دلائل قاطع اور براہینِ ساطع سے اسلام کا غلبہ ثابت کیا جاوے گا۔ اور تازہ بہ تازہ غیبی پیشگوئیوں اور تائیداتِ خدائی سے سچے مذہب کو ممتاز کر کے دکھایا جاوے گا۔ یہ کہہ دینا کہ معجزات سابقہ ہمارے پاس موجود ہیں کافی نہیں۔ یاد رکھو کہ ہندوؤں کے پستکوں اور عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں کے قصے کہانیوں سے بڑھ کر تمہارے پاس بھی کچھ نہیں۔ اگر تم قصے پیش کرو گے تو وہ تم سے بڑھ چڑھ کر قصے پیش کر سکتے ہیں۔ اگر اسلام کی سچائی کا معیار بھی صرف قصے کہانیوں کی بنا پر رہ گیا ہے تو پھر یاد رکھو کہ یہ اَمر مشتبہ ہے۔

انبیاء کے وجود اور نشانات کی ضرورت

اسلام میں فرقان ہے۔ خدا نے ہمیشہ سے اسلام میں ایک اَمرِ خارق رکھا ہے اور تازہ بہ تازہ نشانات ہیں۔ نشان کا نام سن کر آجکل کے فلسفہ پڑھنے والے کچھ کشیدہ خاطر ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا کے وجود کا پتہ لگانے کے واسطے نشانات اور انبیاء کے وجود کی کیا ضرورت ہے؟

مگر یاد رکھو کہ اس نظام شمسی اور اس ترتیب عالم سے جو کہ ایک اَبلغ اور محکم رنگ میں پائی جاتی ہیں اس سے نتیجہ نکالنا کہ خدا ہے یہ ایک ضعیف ایمان ہے اس سے خدا کے وجود کے متعلق پوری تسلّی نہیں ہو سکتی، امکان ثابت ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یقیناً خدا ہے اگر اس میں یقینی اور قطعی دلائل ہوتے تو پھر لوگ دہریہ کیوں ہوتے؟ بڑے بڑے محقّق کتابیں تالیف کرتے ہیں مگر ان کے دلائلِ ناطقہ اور براہینِ قاطعہ نہیں ہوتے۔ کسی کا منہ بند نہیں کر سکتے اور نہ ان سے یقینی ایمان تک انسان پہنچ سکتا ہے۔ اگر ایک شخص ان امور سے خدا کی ہستی کے دلائل بیان کرے گا تو ایک دہریہ اس کے خلاف دلائل بیان کر دے گا۔

دراصل بات یہ ہے کہ اس طرح اتنا ثابت ہو سکتا ہے کہ خدا ہونا چاہیے۔ یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ’’ہے۔ ‘‘ہونا چاہیے اور ہے میں بہت بڑا فرق ہے۔ ’’ہے ‘‘مشاہدہ کو چاہتا ہے۔ مگر دوسرا حصہ جو وجودِ باری تعالیٰ کے واسطے انبیاء نے پیش کیا ہے کہ زبردست نشانات معجزات اور خدا کی زبردست طاقت کے ظہور سے اس کی ہستی ثابت کی جاوے۔ یہ ایک ایسی راہ ہے کہ تمام سراس دلیل کے آگے جھک پڑتے ہیں اصل میں بہت سے عرب دہریہ تھے جیسا کہ قرآن شریف کی آیت ذیل سے معلوم ہوتا ہے اِنۡ ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنۡیَا نَمُوۡتُ وَنَحۡیَا(المؤمنون:۳۸) کیا عرب جیسے اجڈ اور بے باک، بے قید، بے دھڑک لوگ تلوار سے آپؐ نے سیدھے کئے تھے اور ان کی آپؐ کی بعثت سے پہلی اور پچھلی زندگی کا عظیم الشان امتیاز اور فرق اس وجہ سے تھا کہ وہ آنحضرتؐ کی تلوار کا مقابلہ نہ کر سکے تھے؟ یا کیا صرف سادہ اور نری اخلاقی تعلیم تھی جس سے ان کے دلوں میں ایسی پاک تبدیلی پیدا ہوگئی تھی؟ نہیں ہرگز نہیں۔ یاد رکھو کہ تلوار انسان کے ظاہر کو فتح کرسکتی ہے مگر دل کبھی تلوار سے فتح نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ وہ انوار تھے جن میں خدا کا چہرہ نظر آتا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایسے ایسے خارق عادت نشانات دکھائے تھے کہ خود خدا ان لوگوں کے سامنے آ موجود ہوا تھا اور انہوں نے خدا کے جلال اور جبروت کو دیکھ کر گناہ سوز زندگی اور پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کر لی تھی۔

خدا تعالیٰ پر زندہ ایمان پیدا کرنے کی ضرورت

اب پھر وہی وقت ہے اور ویسا ہی زمانہ۔ پس اس وقت بھی خدا کی ہستی کا یقین اسی ذریعہ سے ہوگا جس ذریعہ سے ابتدا میں ہوا تھا۔ اسلام وہی اسلام ہے لہٰذا اس کی کامیابی اور سرسبزی کے بھی وہی ذرائع ہیں جو ابتدا میں تھے۔ اب بھی ضرورت ہے تو اس بات کی کہ خدا کے چہرہ نما ہیبت ناک اقتداری نشانات ظاہر ہوں اور یقین جانو کہ کوئی شخص گناہ سے نہیں پاک ہو سکتا جب تک خدا کی معرفت کامل نہ ہو۔ یہ گناہ اور طرح طرح کے معاصی جو چاروں طرف دنیا میں بھرے پڑے ہیں ان کے دور کرنے کے واسطے صرف خشک ایمان کافی نہیں۔ کیا وہ خوفِ خدا جیسا کہ چاہیے دنیا میں موجود ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ اصل میں انسان نفسِ امّارہ کی زنجیروں میں ایسا جکڑا ہوا ہے۔ جیسے کوئی چڑیا کا بچہ ایک شیر کے پنجے میں۔ جب تک اس نفس کے پنجے سے نجات نہ پا جاوے تب تک تبدیلی محال ہے اور گناہ سے بچنا مشکل۔ مگر دیکھو! اگر ابھی ایک ہیبت ناک زلزلہ آ جاوے اور در و دیوار اور مکان کا چھت لرزنے لگے تو دلوں پر ایک ایسی ہیبت طاری ہوگی اور ایسا خوف دلوں پر چھا جائے گا کہ اس وقت گناہ کا خیال تک بھی دلوں میں نہ رہے گا۔ ایک خطرناک مہلک مرض کے وقت جو حالت انسان کی ہوتی ہے۔ وہ امن اور آرام و آسائش کی زندگی میں ہرگز ممکن نہیں۔

انسان اپنی حالت میں تبدیلی پیدا کرنے کے واسطے خدا تعالیٰ کی تجلیات اور زبردست نشانوں کا محتاج ہے۔ ضروری ہے کہ خدا کوئی ایسی راہ پیدا کر دے کہ انسان کا ایمان خدا پر تازہ اور پختہ ہو جاوے اور صرف زبان تک ہی محدود نہ رہے بلکہ اس ایمان کا اثر اس کی عملی حالت پر بھی ظاہر ہو جاوے اور اس طرح سے انسان سچا مسلمان ہو جاوے۔ اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں الہاماً یہ فرمایا۔

چو دور خسروی آغاز کردند

مسلماں را مسلماں باز کردند

یہ خدا کا کلام ہے۔ آجکل اگر نظر عمیق سے اور غور سے دیکھا جاوے تو زبانی ایمان ہی کثرت سے نظر آوے گا۔ پس خدا کا یہی منشا ہے کہ لفظی اور زبانی مسلمانوں کو حقیقی مسلمان بنایا جاوے۔ یہودی کیا توریت پر ایمان نہیں لاتے تھے قربانیاں نہ کرتے تھے۔ مگر خدا نے ان پر لعنت بھیجی اور کہا کہ تم مومن نہیں ہو بلکہ بعض نمازیوں کی نماز پر بھی لعنت بھیجی ہے جہاں فرمایا ہے لِّلۡمُصَلِّیۡنَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنۡ صَلَاتِہِمۡ سَاہُوۡنَ(الماعون:۵، ۶) یعنی لعنت ہے ایسے نمازیوں پر جو نماز کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔ صلوٰۃ اصل میں آگ میں پڑنے اور محبت الٰہی اور خوفِ الٰہی کی آگ میں پڑ کر اپنے آپ سے جل جانے اور ماسوی اللہ کو جلا دینے کا نام ہے اور اس حالت کا نام ہے کہ صرف خدا ہی خدا اس کی نظر میں رہ جاوے اور انسان اس حالت تک ترقی کر جاوے کہ خدا کے بلانے سے بولے اور خدا کے چلانے سے چلے۔ اس کی کل حرکات اور سکنات، اس کا فعل اور ترکِ فعل سب اللہ ہی کی مرضی کے مطابق ہو جاوے خودی دور ہو جاوے۔

غرض یہ باتیں ہیں اگر خدا کسی کو توفیق دے تو۔ مگر جب تک خدا کسی کے دل کے دروازے نہ کھولے کوئی کچھ کر نہیں سکتا۔ دلوں کے دروازے کھولنا خدا ہی کا کام ہے اِذَا اَرَادَ اللّٰہُ بِعَبْدٍ خَیْـرًا اَقَامَ وَاعِظًا فِیْ قَلْبِہ ٖ۔ جب انسان کے اچھے دن آتے ہیں اور خدا کو انسان کی درستی اور بہتری منظور ہوتی ہے تو خدا انسان کے دل میں ہی ایک واعظ کھڑا کر دیتا ہے۔ اور جب تک خود انسان کے اندر ہی واعظ پیدا نہ ہو تب تک بیرونی وعظوں کا اس پر کچھ بھی اثر نہیں ہوتا۔ مگر وہ کام خدا کا ہے۔ ہمارا کام نہیں ہے ہمارا کام صرف بات کا پہنچا دینا ہے مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ(المائدۃ:۱۰۰) تصرّف خدا کا کام ہے۔ ہم اپنی طرف سے بات کا پہنچا دینا چاہتے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ ہم پوچھے جاویں کہ کیوں اچھی طرح سے نہیں بتایا۔ اسی واسطے ہم نے زبانی بھی لوگوں کو سنایا ہے۔ تحریری بھی اس کام کو پورا کر دیا ہے۔ دنیا میں کوئی کم ہی ہوگا جواب بھی یہ کہہ دے کہ اس کو ہماری تبلیغ نہیں پہنچی یا ہمارا دعویٰ اس تک نہیں پہنچا۔۱؎


۳؍ مئی ۱۹۰۸ء

(بروز اتوار۔ بمقام لاہور برمکان ڈاکٹرسید محمد حسین شاہ صاحب)

خدا تعالیٰ کو شناخت کرنے کا طریق

ایک دہریہ سے ملاقات کے دوران فرمایا۔ طبائع میں اختلاف ہوتا ہے۔ بعض طبائع میں ایسی استعداد ہوتی ہے کہ وہ حق کے قبول کرنے میں جلدی کرتی ہیں اور بعض ایسی بھی ہوتی ہیں کہ حق ان کی سمجھ میں آ تو جاتا ہے مگر دیر بعد۔ اور بعض ایسی بھی ہوتی ہیں کہ ان میں قبولِ حق کی استعداد دبتے دبتے ایک وقت بالکل زائل ہی ہو جاتی ہے۔ خدا جس کا وجود مخفی در مخفی اور نہاں در نہاں ہے۔ ہم نے اس کو ایسا نہیں مانا کہ وہ ایک ہیولیٰ ہے۔ ایسا ایک انسان جس کو سچا شوق، حقیقی جوش اور دلی تڑپ ہے کہ وہ خدا کو پہچانے اس کے لئے تمام گذشتہ قصص اور واقعات پر نظر ڈال کر غور کرنا از بس مفید ہوسکتا ہے۔ تاریخ ایسے انسان کے واسطے رہبری کرسکتی ہے۔ تاریخ اور تمام واقعاتِ سلف بجز اس کے اور کوئی راہ نہیں بتاتے کہ خدا کو خدا کے عجائبات قدرت اور تصرّفات سے جو کہ وہ بذریعہ اپنے الہامات، وحی اور مکالمات دنیا پر ظاہر کرتا ہے پہچان سکتے ہیں۔ اس راہ سے بڑھ کر اور کوئی یقینی راہ خدا کی شناخت کی ہرگز نہیں ہے۔ جن لوگوں کو وہ خاص کر لیتا ہے اور حصہ معرفت ان کو عطا کرتا ہے ان پر وہ مکالمہ مخاطبہ کا فیضان جاری کرتا ہے۔ عشّاق کی تسلّی اور تسکین کے لئے دیدار یا گفتار دو ہی چیزیں ہیں۔ جہاں دیدار نہیں ہوسکتا وہاں گفتار دیدار کی جا بجا اور قائم مقام ہو جاتی ہے۔ ایک مادر زاد نابینا گفتار ہی کے ذریعے شناسائی کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ غیر محدود ہے اور اس کی ذات ایسی نہیں کہ اس کی رؤیت اور دیدار جسمانی چیزوں کی طرح ہو سکے۔ اس واسطے اس نے اپنی گفتار جس کو بالفاظ دیگر الہام، وحی، مکالمات کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے، دیدار کے قائم مقام رکھ دی ہے۔ کم ہیں جن کو دیدار ہوتا ہو۔ اکثر گفتار ہی کے ذریعہ تسلّی پاتے اور طمانیت حاصل کرتے ہیں۔

کلام اللہ کا امتیاز

اس جگہ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھلا یہ کیوں کر معلوم ہو کہ وہ گفتار جو انسان سنتا ہے واقعی خدا کا کلام ہے کسی اور کا نہیں؟ سو اس کے لئے یاد رکھنا چاہیے کہ خدا کے کلام کے ساتھ خدائی طاقت، جبروت اور عظمت ہوتی ہے جس طرح تم لوگ ایک معمولی انسان اور بادشاہ کے کلام میں فرق کر سکتے ہو اسی طرح اس احکم الحاکمین کے کلام میں بھی شوکت وسطوتِ سلطانی ہوتی ہے جس سے شناخت ہو سکتی ہے کہ واقعی یہ کلام بجز خدائے عزّوجل کے اور کسی کا نہیں۔

ملہمین کی علامات

دوسرا بڑا بھاری نشان اس شناخت اور تمیز کا یہ ہوتا ہے کہ جس انسان سے خدا کلام کرتا ہے وہ خالی نہیں ہوتا بلکہ اس میں بھی خدائی شان جلوہ گر ہوتی ہے اور وہ بھی ایک گونہ خدائی صفات کا مظہر اور جلوہ گاہ ہوتا ہے۔ اس میں وہ لوازم پائے جاتے ہیں۔ اس میں ایک خاص امتیاز ہوتا ہے۔ علومِ غیبی جوسفلی خیالات کے انسانوں کے وہم وگمان میں بھی نہیں آ سکتے وہ ان کو عطا کئے جاتے ہیں۔ اس کی دعائیں قبول کر کے اس کو اطلاع دی جاتی ہے اور اس کی اس کے کاروبار میں خاص نصرت اور مدد کی جاتی ہے اور جس طرح خدا سب پر غالب ہے اور اس کو کوئی جیت نہیں سکتا۔ اسی طرح انجامکار وہ بھی غالب اور ہر طرح سے مظفر و منصور اور کامیاب وبامراد ہو جاتے ہیں۔

غرض یہ نشان ہوتے ہیں جن کے ذریعہ سے عقلمند انسان کو ضرورتاً ماننا ہی پڑتا ہے کہ واقعی یہ انسان مقرّب بارگاہ ہے اور پھر یہ بھی ماننا ہی پڑتا ہے کہ خدا بھی ضرور ہے۔ ہمیں ایسے لوگوں سے بھی گفتگو اور ملاقات کا اتفاق ہوا ہے جو مصنوعات سے صانع کو پہچاننے اور شناخت کرنے کی راہ اختیار کرتے ہیں اور اس طریق کو ہم نے آزمایا بھی ہے۔ مگر یاد رکھو کہ یہ راہ ٹھیک نہیں ادھوری ہے اس راہ سے انسان کو حقیقی معرفت اور یقین کامل جو انسان کی عملی حالت پر اثر ڈال سکے ہرگز ممکن نہیں۔ زیادہ سے زیادہ بس یہی ہوتا ہے کہ خدا ہونا چاہیے۔ مگر ہے اور ہونا چاہیے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

معرفتِ کاملہ

اس بیان سے ہمارا مطلب یہ ہے کہ معرفت بھی وہی فائدہ بخش ہوسکتی ہے جس سے انسان میں ایک تبدیلی بھی پیدا ہو۔ ایک شخص جو بینائی اور قوتِ رؤیت کا دعویٰ کرے مگر اس کے دعوے کے ساتھ کوئی عملی ثبوت نہ ہو اور وہ کھڑا ہوتے ہی دیواروں سے ٹکریں کھائے کیا اس کا دعویٰ قابل پذیرائی ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ کارآمد صفت کمال ہی ہے۔ نیم ملاں خطرۂ ایمان اور نیم حکیم خطرۂ جان مشہور مقولے ہیں۔ پس کامل معرفت کی تلاش کرنا شرط ہے اور وہ اسی راہ سے میسر آسکتی ہے جو راہ انبیاء دنیا میں لائے۔

ایک دہریہ تو وہ ہے جو صانع کے وجود کا منکر ہے اور یہ گروہ قدیم سے ہے مگر میں کہتا ہوں فرض کرلو کہ دنیا میں ایسا ایک بھی متنفّس نہیں تو بھی ہر وہ جس کو کامل معرفت نہیں وہ بھی دہریہ ہے۔ جب تک کامل معرفت نہ ہو اس وقت تک کچھ نہیں۔ جس طرح ایک دانہ بھوک کو اور ایک قطرہ پیاس کو نہیں مٹاسکتے اسی طرح خشک ایمان جس کے ساتھ کمال معرفت اپنے تمام لوازم کے ساتھ نہیں نجات نہیں دلاسکتا۔ جس طرح وہ انسان زندہ نہیں رہ سکتا جس کو بھوک کے وقت کھانا اور پیاس کے وقت پانی دیکھنا تک بھی نصیب نہیں ہوا۔ اسی طرح وہ بھی ہلاک ہوجائے گا جس نے بھوک کے وقت ایک دانہ دیکھ لیا یا کھا لیا اور ایک قطرہ شدید پیاس کے وقت دیکھ لیا یا پی بھی لیا ہو۔ پس بعینہٖ اسی طرح سے معرفت کامل ہی موجب نجات ہوسکتی ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ ان محسوسات میں بھی کامل علم اور معرفت ہی کا اثر ہوتا ہے۔ ایک انسان کے پاس خواہ ایک شیر یا بھیڑیا آ جاوے مگر جب تک وہ شیر کو شیر اور بھیڑیئے کو بھیڑیا بمع ان کے تمام لوازم اور خواص کے یقین نہیں کرلیتا ان سے کوئی خوف نہیں کرتا۔ ایک زہریلے سانپ کو جو انسان ایک چوہا یقین کرتا ہوگا وہ اس سے ہرگز گریز اور پرہیز نہ کرے گا مگر اس علم کے ساتھ ہی کہ یہ ایک زہریلا سانپ ہے اور اس کا کاٹنا گویا پیغامِ اجل ہے۔ وہ اس سے خوف کرے گا اور معاً الگ ہو جاوے گا۔

عقیدہ کفارہ

دیکھو! نفسِ امّارہ انسان کے ساتھ ساتھ لگا ہوا ہے اور خون کی طرح انسان کے ہر رگ و ریشہ میں اور ذرّہ ذرّہ میں داخل ہے۔ عیسائیوں نے تو ایک سہل اور آسان راہ نکال لی۔ ایک شخص کو سُولی پر چڑھا دیا۔ اب قیامت تک عیسائی نسل کا ہر فرد جو چاہے سو کرلے اس کو کوئی سوال ہی نہیں ہوگا۔ خون مسیح ان کے تمام گناہوں کا کفّارہ ہو چکا ہے۔ نادان نہیں سمجھتے کہ زید کے تو سر درد ہے بکر نے اٹھ کر اپنے سر میں پتھر مار لیا۔ بھلا زید کو اس سے کیا فائدہ؟ میں یقیناً کہتا ہوں کہ ایک بیمار کو مرغ کی یخنی جس قدر فائدہ پہنچا سکتی ہے ان کا کفّارہ اور خون مسیح اس قدر بھی مفید نہیں ہے۔ ان کے پادری جو دوسروں کو تعلیم دیتے ہیں خود ان کے اپنے حالات نہایت ہی خطرناک ہیں۔ کفّارہ کے عقیدہ نے ان کو بہت دلیر کر دیا ہے۔ گناہ ایک خطرناک زہر ہے مگر جو شخص یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ خونِ مسیح کافی ہے اور کفّارہ پر ایمان لے آنا تمام گناہوں کے واسطے کفّارہ ہو جاتا ہے وہ گناہ کے زہر کو زہر یقین کرے تو کیسے؟

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک پادری زنا کے جرم میں پکڑا گیا۔ عدالت میں جب اس سے سوال ہوا تو اس نے بڑی دلیری اور جرأت سے کہا کہ کیا مسیح کا خون میرے واسطے کافی نہیں ہو چکا ہے؟ غرض ان کا کفّارہ ہی تمام بدیوں کی جڑ ہے۔

ہمارے نزدیک کوشش کر کے انسان جب تک ایک پاک تبدیلی کی طرف نہیں جھکتا اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں حاصل ہو سکتا۔ نفسِ امّارہ کا مغلوب کرنا بہت بڑا بھاری مجاہدہ ہے۔ اسی نفسِ امّارہ ہی کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے انسان نہ حق اللہ کو ادا کر سکتا ہے اور نہ حق العباد سے سبکدوش ہو سکتا ہے۔

حق اللہ اور حق العباد

شریعت نے دو ہی حصے رکھے ہیں۔ ایک حق اللہ اور دوسرا حق العباد۔ حق اللہ کیا ہے؟ یہی کہ اس کی عبادت کرنا اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرنا اور ذکر اللہ میں لگے رہنا اس کے اَوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کرنا، اس کے محرمات سے بچتے رہنا وغیرہ۔

حق العباد کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی پر ظلم نہ کرنا اور کسی کے حقوق میں دست اندازی نہ کرنا جہاں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ جھوٹی گواہی نہ دینا وغیرہ۔

اب یہ دونوں اَمر ایسے مشکل ہیں کہ تمام گناہ، جرائم، معاصی اور دوسری طرف تمام نیکیوں کے اصول اسی میں آگئے ہیں۔ کہنے کو تو ہر ایک کہہ لیتا ہے کہ میں اپنی قوت سے گناہ سے بچ سکتا ہوں مگر انسان فطرت سے الگ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ فطرتِ انسانی کسی کپڑے کا دامن تو ہے نہیں کہ پلید ہوا تو کاٹ کر الگ کر دیا جاسکے۔ فطرت روح کا پیدائشی جزو ہے۔ پس جبکہ انسانی فطرت میں ہی یہی رکھا گیا ہے کہ انسان انہی امور سے خائف ہوتا اور پرہیز کرتا ہے جن کو وہ اپنی ہلاکت کا باعث اور مضر یقین کرتا ہے۔ کسی نے کوئی نہ دیکھا ہوگا کہ اسڑکنیا کو باوجود اسٹرکنیا یقین کرنے کے دانستہ استعمال کرے یا سانپ کو سانپ یقین کرتے ہوئے ہاتھ میں پکڑ لے یا ایک طاعون زدہ گاؤں میں جہاں موتاموتی کا بازار گرم ہے خواہ مخواہ جا گھسے۔ اس اجتناب اور پرہیز کی وجہ کیا؟ یہی کہ ان باتوں کو وہ مہلک یقین کرتا ہے۔

گناہ سے بچنے کا راز

پس انسان معاصی اور جرائم کی مرض سے تب ہی نجات پاسکتا ہے کہ اسے چور اور سانپ وغیرہ سے بڑھ کر ان کے مضر اور نقصان دہ ہونے کا یقین ہو اور خدا کا جلال، اس کی عظمت اور جبروت ہر وقت اس کے مدّنظر ہو۔ انسان اپنی حرص و خواہش اور دلی آرزوؤں کو بھی ترک کر سکتا ہے۔ مثلاً ایک ذیابیطس کا مریض جس کو ڈاکٹر کہہ دے کہ شیرینی کا استعمال بالکل ترک کر دو۔ پھر اپنی جان کی خاطر میٹھے کو چُھوتا بھی نہیں۔ پس یہی حال روحانی حرص و ہوا اور خواہشاتِ نفسانی کا ہے۔ اگر خدا کی عظمت اور اس کا جلال سچے طور سے اس کے دل میں گھر کر چکا ہو تو پھر اس کی نافرمانی آگ کے کھانے اور موت سے بھی بدتر محسوس کرے گا۔

انسان کو جس قدر خدا کے اقتدار اور سطوت کا علم ہوگا اور جس قدر یقین ہوگا کہ اس کی نافرمانی کرنے کی سخت سزا ہے اسی قدر گناہ اور نافرمانی اور حکم عدولی سے اجتناب کرے گا۔ دیکھو! بعض لوگ موت سے پہلے ہی مَر رہتے ہیں۔ یہ اخیار، ابدال اور اقطاب کیا ہوتے ہیں؟ اور ان میں کیا چیز زائد آجاتی ہے؟ وہ یہی یقین ہوتا ہے۔ یقینی اور قطعی علم ضرورتاً اور فطرتاً انسان کو ایک اَمر کے واسطے مجبور کر دیتا ہے۔ خدا کی نسبت ظن کفایت نہیں کر سکتا۔ شبہ مفید نہیں ہوسکتا۔ اثر صرف یقین ہی میں رکھا گیا ہے۔ خدا کی صفات کا یقینی علم ایک ہیبت ناک بجلی سے بھی زیادہ اثر رکھتا ہے۔ اسی کے اثر سے تو یہ لوگ سر ڈال دیتے اور گردن جھکا دیتے ہیں۔ پس یاد رکھو کہ جس قدر کسی کا یقین بڑھا ہوا ہوگا اسی قدر وہ گناہ سے اجتناب کرتا ہوگا۔

بظاہر نظر تو گناہ سے بچنے والے اور اس قسم کا دعویٰ کرنے والے بہت ہوں گے مگر ان کی مثال وہی ہے جس طرح ایک پھوڑا جو کہ پیپ سے خوب بھر گیا ہو ظاہری جانب سے چمک اٹھتا ہے اور باقی حصہ جسم سے بھی اس کی چمک دمک اور روشنی بڑھی ہوئی نظر آتی ہے۔ مگر اندر اس کے پیپ اور گندہ مواد بھرے ہوتے ہیں۔ گناہ سے بچنے کے آثار بھی تو ساتھ ہوں۔ روشنی، دھوپ اور گرمی اس بات کے شاہد ہیں کہ آفتاب نکلا ہوا ہے۔ مگر جو شخص کہ رات کے وقت کہتا ہے کہ آفتاب چڑھا ہوا ہے حالانکہ آفتاب کے آثار نہیں۔ اب بتاؤ کہ کوئی اس کی بات کو باور کرے گا؟ ہرگز نہیں۔ پس یہی حال ان لوگوں کا ہے جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں حالانکہ اس ایمان کے آثار یعنی گناہ سے بکلّی نفرت اور پھر اس کے آثار کہ خدا کے فیوض و برکات اور تائیدات اور سچی پاکیزگی، تقویٰ اور طہارت ان میں مفقود ہوتے ہیں۔ یہ بات کہ انسان خدا کی رضا کے خلاف کاموں سے بالکل دست کش ہو جائے اور گناہ اور خدا کی نافرمانی اسے آگ کھانے سے بھی بدتر نظر آوے اور خدا کے مقابلہ میں کسی دنیوی جاہ و جلال کا رعب داب اس پر اثر نہ کرے بلکہ یہ ماسوی اللہ کو بجز ارادۂ الٰہی کسی کے نفع اور ضرر پہنچانے میں ایک مَرے ہوئے کیڑے کی طرح سمجھے اور ایسا ہو جائے کہ اس کا سکون اور اس کی حرکت اور اس کے تمام افعال خدا کی مرضی کے تابع ہو جاویں اور یہ اپنے آپ سے فنا ہو کر خدا میں محو ہو جائے۔

گناہ سوز حالت پیدا کرنے کے لئے مامور کی ضرورت

یہ تمام امور انسانی طاقت سے بالا تر ہیں۔ انسان کی اپنی طاقت نہیں کہ ان سب فضائل کو حاصل کر سکے اور تمام رذائل سے بکلّی پاک ہو سکے۔ سو اس غرض کے واسطے اللہ تعالیٰ کا یہ ہمیشہ سے قاعدہ ہے کہ وہ دنیا میں ایک انسان کو مامور کر کے بھیجا کرتا ہے اور اپنے عجائباتِ قدرت اس کے ہاتھ پر ظاہر کرتا ہے۔ اس کی دعائیں قبول کر کے اس کو اطلاع دیتا ہے۔ اس پر مکالمہ مخاطبہ کا فیضان جاری کرتا ہے۔ اور اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے خارقِ عادت معجزات اور غیبی امور ظاہر کرتا ہے جن سے سفلی خیالات کے انسان عاجز ہوتے ہیں اور ایسے چمکتے ہوئے اور ہیبت ناک امور اس کی تائید میں ظاہر کرتا ہے کہ لوگوں کے دل نورِ عرفان اور لذّتِ یقین سے پُر ہو کر گویا خدا کو دیکھ لیتے ہیں اور اس طرح سے خدا کی عظمت اور جبروت، سطوت اور ہیبت کے نظارہ کرنے سے ان کے دلوں میں سے غیر اللہ اور تمام گندی اور نفسانی خواہشات جو گناہ کا مبدء ہوتی ہیں جل جاتی ہیں اور خدا کا جلال اور اس کی کبریائی ان کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے۔ غرض اس طرح سے وہ ایک جماعت پاک دل انسانوں کی تیار کر دیتا ہے۔

گناہ سوز حالت جب ہی پیدا ہوتی ہے جبکہ خدا اپنے جلال اور ہیبت کو دنیا میں ظاہر کرتا ہے اور جب اس کے جبروت و سطوت کا دورہ ہو کر دنیا پر ایک قہری تجلّی ہوتی ہے اور جس طرح ایک خطرناک بجلی جس میں ایک خوفناک کڑک اور آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی چمک ہوتی ہے دلوں پر اپنا تسلّط اور رعب بٹھا جاتی ہے۔ اسی طرح اس مامور کے زمانہ میں خدا کی جلالی صفات جلوہ گر ہو کر دنیا میں ایک پاک تبدیلی پیدا کر جاتا ہے۔

دیکھئے! اگر آپ کے پاس ایک آدمی نہایت ہی ردّی اور خستہ حالت میں آوے خواہ وہ درحقیقت بادشاہ ہی کیوں نہ ہو آپ پر اس کا کوئی اثر نہ ہوگا اور آپ اس کے آنے کی کچھ پروا نہ کریں گے بلکہ اگر وہ کچھ کہنا چاہے گا تو آپ حقارت سے اس کی بات کی طرف بھی متوجہ نہ ہوں گے مگر اگر وہی شخص اپنی شاہانہ شان وشوکت اور سلطانی جلال اور ہیبت لے کر آوے تو آپ کو اس کا استقبال بھی کرنا پڑے گا۔ عزت وعظمت بھی کرنی پڑے گی اور ضرور ہے کہ آپ ہمہ تن گوش ہو کر اس کے احکام کی بجا آوری کے لئے تیار ہو جائیں۔ پس یہی حال خدا کی معرفت کا ہے۔ جب تک کسی کو خدا کی معرفت ہی نہیں وہ تذلّل اور انکسار جو عبادت کا خلاصہ ہے کیسے بجالاوے گا۔ سچ ہے۔

آناں کہ عارف تر اند ترساں تر

میں نے آپ کو یہ سب کچھ قصے کہانیاں کے رنگ میں نہیں سنایا بلکہ خدا اب بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح کہ وید توریت اور انجیل کے زمانہ میں تھا اور اسی طرح اب بھی سنتا ہے جیسا کہ پہلے زمانوں میں سنتا تھا اور اسی طرح اب بھی بولتا ہے جس طرح ان زمانوں میں بولا کرتا تھا اور اسی بات کے ثابت کرنے کے واسطے ہم آئے ہیں۔

گناہ کی حقیقت

حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام اتنی تقریر فرما چکے تھے کہ سوال کیا گیا کہ بعض لوگ ایک اَمر کو گناہ یقین کرتے ہیں حالانکہ ایک دوسرے ملک یا خود اسی ملک کے بعض لوگ اسی اَمر کو گناہ نہیں مانتے یا ثواب یقین کرتے ہیں۔ تو اب ان میں اَمر فیصل کیا ہوا؟

فرمایا۔ آپ کے بیان میں یہ ثابت ہو گیا کہ کم از کم اختلاف تو ہے۔ پس اسی اختلاف میں ہی ہماری فتح ہے۔ ایک مومن اور محتاط انسان کی شان سے یہ بات بالکل بعید ہے کہ وہ مختلفہ امور کو اختیار کرے۔ مثلاً آپ ہی کے سامنے ایک کھانا رکھا جاوے۔ اتنے میں کوئی شخص آپ کو یہ بتا دے کہ اس کھانے میں زہر کا احتمال ہے۔ اب آپ ہی فرماویں کہ کیا آپ اس کو استعمال کریں گے؟ میں تو ہرگز یقین نہیں کر سکتا کہ ایک ایسا آدمی جس کو اپنی زندگی عزیز ہو اس کا ایک لقمہ بھی کھا سکے۔

بے شک یہ سچی بات ہے کہ دہریہ ایک بے باکی کا طریق اختیار کرتا ہے مگر اس کو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ یہ اَمر اس کے واسطے مضر نہیں اور وہ بچ گیا ہے بلکہ بات یہ ہے کہ جس طرح ہر درخت کے پھل لانے کا ایک معیّن وقت ہوتا ہے اسی طرح ہر زہر کے اثر کا بھی ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ بعض زہر ایسے ہیں کہ ہاتھوں ہاتھ اپنا اثر دکھا دیتے ہیں۔ بعض گھڑی اور بعض گھنٹے بعد اور بعض کی میعاد اس سے بھی زیادہ کئی دنوں کی ہوا کرتی ہے۔

عقلمند انسان کو دیکھنا یہ چاہیے کہ اتنے نامی اور مشہور اوتار، نبی، رسول جو لاکھوں لاکھ دنیا میں آئے۔ انہوں نے دنیا میں کیا راہ قائم کی؟ اچھا! آپ ہی بتائیں کہ مہذب فرقہ کے لوگ چوری، جھوٹ، زنا وغیرہ امور کو کیسا خیال کرتے ہیں؟ پس اب یقین جانیں کہ خود یہ اختلاف ہی ظاہر کرتا ہے کہ واقعی وہ امور جن میں اختلاف کیا گیا ہے گناہ ہیں۔ علاج مرض کا کیا جانا چاہیے ہم کہتے ہیں کہ گناہ تو ایسی چیز ہے کہ خدا کی ہستی کو نہ ماننے والا بھی طبعاً اس سے نفرت کرتا ہے۔ پس ایک صحیح الفطرت انسان خواہ اس تک آسمانی تعلیم نہ بھی پہنچی ہو فطرتاً گناہ کو گناہ یقین کرتا اور قابل نفرت جانتا ہے۔

دوم یہ کہ بعض امور جو ممنوعات میں سے ہوتے ہیں وہ قانون اور باریک حکمت کے خلاف ہوتے ہیں اور خود انسان کے اپنے حق میں یا بنی نوع انسان کے واسطے بھی ان کا ارتکاب مضر ہوتا ہے۔ مثلاً زنا سے زانی کو آتشک، سوزاک وغیرہ خطرناک امراض لاحق ہو کر وبالِ جان ہو جاتی ہیں۔

پس یاد رکھنا چاہیے کہ نہ خدا نے گناہ سے اس واسطے روکا ہے کہ اس میں اس کا کوئی نقصان متصوّر ہے اور نہ نیکی کی اس واسطے تاکید فرمائی ہے کہ اس میں اس کا کوئی فائدہ ہے بلکہ یہ اس کا رحم ہے کہ اس نے ایسے امور جو خود انسان کے اپنے ہی واسطے مضر تھے یا بنی نوع انسان کے واسطے مضر تھے ان سے روک دیا اور یہ اس کا کمال رحم ہے وہ چونکہ قدوس اور پاک ہے۔ اس کی قدوسیت اور پاکی کا تقاضا ہے کہ دنیا میں نیکی پھیلے۔ ورنہ انسان اگر بے قید ہو کر بدی اور گناہ کرے گا اور ممنوعاتِ شرعیہ کا ارتکاب کرے گا تو اس کا وبال بھی خود ہی برداشت کرے گا۔ خدا کا اس میں کچھ نقصان نہیں۔۱؎

برمکان خواجہ کمال الدین صاحب

وفاتِ مسیح علیہ السلام کے دلائل

خلیفہ رجب الدین صاحب نے سوال کیا کہ حضور بعض لوگ دریافت کرتے ہیں کہ وفات مسیحؑ کے کیا دلائل ہیں؟ اس سوال کے جواب میں حضرت اقدسؑ نے ذیل کی تقریر فرمائی۔

فرمایا۔ حضرت عیسٰیؑ کی وفات قرآن شریف میں بہت آئی ہے۔ دو قسم کی آیات ہیں جن سے ان کا وفات پانا ثابت ہوتا ہے بعض آیات عام ہیں اور بعض خاص حضرت عیسٰیؑ ہی کے متعلق۔ عام طور پر تمام انبیاء علیہم السلام کی وفات کے متعلق جس میں حضرت عیسٰیؑ بھی شامل ہیں یہ آیت واضح اور کھلا بیان کرتی ہے وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ(اٰل عمران:۱۴۵)۔ خَلَتْ کا لفظ قرآن شریف کے محاورے میں ہرگز کسی ایسے شخص کے واسطے استعمال نہیں ہوا جو زندہ ہو بلکہ ہمیشہ وفات یافتہ لوگوں پر ہی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی یہی معنے کئے ہیں۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے موقع پر جب کہ حضرت عمرؓ نے جوشِ محبت، وفور اُلفت کی وجہ سے تلوار کھینچ لی تھی اور آپؓ ننگی تلوار لئے گلیوں میں پھرتے تھے اور کہتے تھے کہ جو کوئی کہے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اس کی گردن مار دوں گا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس واقع سے خبر پا کر مسجد میں آئے اور منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا جس میں ابتداءً یہی آیت پڑھی وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ(اٰل عمران:۱۴۵) اس وقت صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس آیت کو سن کر رو پڑے اور یہ سمجھا کہ گویا یہ آیت آج ہی اتری ہے اور حضرت عمرؓ نے بھی جن کو اتنا جوش تھا کہ تلوار لئے پھرتے تھے اور ان کا یہ خیال تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی وفات نہیں پائی اس خطبہ کے بعد تلوار چھوڑ دی اور پھر کبھی کوئی ایسا ذکر نہ کیا۔

اب ظاہر ہے کہ اگر صحابہؓ میں سے کسی ایک نفس واحد کا بھی یہ اعتقاد ہوتا کہ حضرت عیسٰیؑ زندہ بجسم عنصری آسمان پر ہیں تو کیوں وہ اس وقت اعتراض نہ کرتے اور کہتے کہ کیا وجہ ہے کہ ایک چھوٹی سی قوم کا رسول تو زندہ ہے پر ہمارا رسول جس کو خدا نے تمام جہان کے واسطے قیامت تک کی تمام انسانی نسلوں کے لئے بلا کسی خصوصیت کے بھیجا۔ وہ تو ستّر برس تک بھی زندہ نہ رہ سکے۔ پس صحابہؓ کا سکوت اور خاموشی اور کسی قسم کا اعتراض نہ کرنا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ تمام صحابہؓ حضرت عیسٰیؑ کو دوسرے انبیاء کی طرح وفات یافتہ یقین کرتے تھے اور کسی ایک کا بھی ہرگز یہ اعتقاد نہ تھا کہ وہ آسمان پر زندہ بجسم عنصری خدا کے داہنے ہاتھ بیٹھے ہیں اور یہ اسلام میں سب سے پہلا اجماع ہے۔

دوسری آیت جو حضرت عیسٰیؑ کی وفات کے بارہ میں خصوصیت سے ذکر ہوئی ہے وہ خود حضرت عیسٰیؑ کا قول ہے جو وہ قیامت کے دن خدا کے حضور عرض کریں گے کہ فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَاَنۡتَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ(المائدۃ:۱۱۸) اللہ تعالیٰ کے اس سوال کے جواب میں کہ اے عیسٰیؑ! کیا تو نے اس قوم کو ایسی بدراہی اور گمراہی کی تعلیم دی کہ تجھے اور تیری ماں کو معبود بنالیں اور خدائے عزّوجل واحد و یگانہ کی عبادت کو ترک کر دیں؟ حضرت عیسیٰؑ کانوں پر ہاتھ دھریں گے اور قوم نصاریٰ کے گمراہ ہونے سے اپنی لاعلمی اور معذرت عرض کریں گے کہ اے خداوند! مجھے ان کے حالات سے اسی وقت تک اطلاع تھی جب تک کہ میں ان میں رہا اور جب تک میں ان میں رہا تب تک میں نے ان کو یہی تعلیم دی تھی کہ تم اس خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا ایک ہی خدا ہے۔ پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی اس کے بعد کا تو ہی نگران اور واقفِ حال ہے مجھے کوئی علم نہیں۔

اب یہ بات دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو یہ لوگ اقرار کریں کہ واقعی قوم نصاریٰ ابھی تک بگڑی نہیں اور جو عقیدہ اتخاذِ ولد اور تثلیث وغیرہ کا انہوں نے اختیار کیا ہوا ہے یہی عین توحید اور رضاءِ الٰہی کا موجب اور موافق تعلیم حضرت مسیحؑ ہے جس کا اقرار ان کی زبانی قرآن میں موجود ہے اور یا یہ لوگ اس بات کا اقرار کریں کہ درحقیقت مسیح ناصری جو کہ بنی اسرائیل کی بھیڑوں کے واسطے مامور کیا گیا تھا۔ اپنی مفوّضہ خدمت کو انجام دے کر بموجب حکم الٰہی اپنی طبعی موت سے وفات پا گیا ہے اور کہ آئندہ وہ کبھی دنیا میں نہیں آ سکتا بلکہ آنے والا امت محمدیہؐ میں سے ہو گا جو کہ ان کی خُو بُو پر ہونے اور مناسبتِ وقت اور مناسبتِ کام کے لحاظ سے مسیح کہلائے گا۔

ظاہر ہے کہ صورت اوّل خدا اور خدا کے رسول قرآن اور قرآنی تعلیم کے بالکل خلاف ہے اور ایسی ہے کہ اس کے ماننے کے ساتھ ہی تمام اسلام کی عمارت گرتی ہے اور صورت دوم خدا کے منشا کے مطابق حقیقت الامر اور قرآنی تعلیم کا سچا اصول ہے اور اسی میں اسلام کی فتح، کامیابی، صداقت اور بزرگی کا اظہار ہے۔ اب ان کا اختیار ہے کہ ان دونوں راہوں میں سے جو راہ چاہیں اختیار کر لیں۔

ہم علیٰ وجہ البصیرت یقین رکھتے ہیں۔ کہ تَوَفّی کے معنے لغت عرب میں اور کلام خدا اور رسول میں ہرگز مع جسم عنصری اٹھائے جانے کے نہیں ہیں۔ تمام قرآن شریف کو یکجائی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ قرآن خدائے علیم وخبیر کی طرف سے کامل علم اور حکمت سے نازل کیا گیا ہے۔ اس میں اختلاف ہرگز نہیں۔ بعض آیات بعض کی تفسیر واقع ہوئی ہیں۔ اگر ایک متشابہات ہیں تو دوسری محکمات ہیں۔ جب یہی لفظ اور مقامات میں دوسرے انبیاء کے حق میں بھی وارد ہے تو اس کے معنے بجز موت کے اور کچھ نہیں کئے جاتے تو پھر نہ معلوم کہ کیوں حضرت مسیحؑ کو ایسی خصوصیت دی جاتی ہے۔ کیا ابھی تک مسیحؑ کو خصوصیت دینے کا انہوں نے مزہ نہیں چکھا؟ دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں صاف یہ لفظ ہیں۔ نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ(یونس:۴۷) پھر حضرت یوسفؑ کے متعلق بھی قرآن شریف میں یہی تَوَفّی کا لفظ وارد ہے اور اس کے معنے بجز موت ہرگز نہیں ہیں۔ دیکھو تَوَفَّنِیۡ مُسۡلِمًا وَّاَلۡحِقۡنِیۡ بِالصّٰلِحِیۡنَ(یوسف:۱۰۲)

یہ حضرت یوسفؑ کی دعا ہے تو کیا اس کے بھی یہی معنے ہیں کہ اے خدا! مجھے زندہ مع جسم عنصری آسمان پر اٹھا لے اور پہلے صلحاء کے ساتھ شامل کر دے جو کہ زندہ آسمان پر موجود ہیں۔ تَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ(النّمل:۶۴)۔

پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابل میں جو ساحر فرعون نے بلائے تھے۔ ان کے ذکر میں تَوَفّی کا لفظ مذکور ہے جہاں فرمایا رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَیۡنَا صَبۡرًا وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِیۡنَ(الاعراف:۱۲۷) اب ایک مسلمان کی یہ شان نہیں کہ خدا اور اس کے کلام کے مقابلہ میں دم مارے۔ قرآن حضرت عیسٰیؑ کو سراسر مارتا ہے اور ان کے وفات پا جانے کو دلائل اور براہینِ قطعیہ سے ثابت کرتا ہے اور رسول اکرمؐ نے اس کو معراج کی رات میں وفات یافتہ انبیاء میں دیکھا۔ جائے غور ہے کہ اگر حضرت عیسٰیؑ زندہ مع جسم عنصری آسمان پر اُٹھائے جا چکے تھے تو پھر ان کو وفات شدہ انبیاء سے کیا مناسبت؟ زندہ کو مُردہ سے کیا تعلق اور کیسی نسبت؟ ان کے لئے تو کوئی الگ کوٹھڑی چاہیے تھی۔

قَدۡ تَّبَیَّنَ الرُّشۡدُ مِنَ الۡغَیِّ(البقرۃ:۲۵۷)

کوئی گڑبڑ نہیں اور نہ کوئی شک و شبہ اس میں باقی ہے۔ مسلمان کہلا کر ایسی بات پیش کرنا جو قرآن کے خلاف اسلام کے متضاد۔ کیا عقلمندی ہے؟ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف جو شخص کسی اَمر پر اجماع کا قائل ہے وہ کذّاب ہے۔ صوفیاء کرام اور بعض صلحاء اُمت خیر الانام کا یہی مذہب تھا کہ وہ وفات پا چکے اور آنے والا اسی اُمت میں سے ہوگا۔ مگر تعصب ایک ایسی بَلا ہے کہ باوجود دیکھنے کے نہیں دیکھتے اور باوجود جاننے کے نہیں سمجھتے۔ باوجود کانوں کے نہیں سنتے۔ افسوس تعصب اور ضد نے ان میں اپنے نفع نقصان کی بھی تمیز باقی نہیں رہنے دی۔ چالیس کروڑ انسان ایک ضعیف اور ناتواں انسان کو انہی دلائل سے خدا مان رہا ہے کہ وہ ازلی ابدی ہے۔ زندہ آسمان پر موجود ہے اور اس نے خلق طیر کیا۔ مُردوں کو زندہ کیا۔ اور یہ مسلمان ہیں کہ اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارتے اور اپنی گردن کاٹنے کے واسطے خود ان کے ہاتھ میں چُھری دیتے اور ان کی اس خطرناک بُت پرستی میں مدد کرتے ہیں جس کے واسطے خدا تعالیٰ نے ایسا غضب ظاہر کیا۔

تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرۡنَ مِنۡہُ وَتَنۡشَقُّ الۡاَرۡضُ وَتَخِرُّ الۡجِبَالُ ہَدًّا(مریم:۹۱)

ان نام کے مسلمانوں کو اتنا بھی علم نہیں کہ ان کی اپنی ہی اولاد کو خود ان کے اپنے اقوال کو حجت پکڑ کر ملزم کر کے مرتد کیا جاتا ہے۔ کاش یہ اس خواب غفلت سے بیدار ہوں اور دوست و دشمن اور اپنے نفع نقصان کو پہچانیں۔ یہ اسلام کے نادان دوست اتنا نہیں سمجھتے کہ خدا تو ایسا غیور ہے کہ ان کے عقائد فاسدہ کو بیخ و بُن سے اکھاڑتا اور ذرا سی دیر کے واسطے بھی ان کے مشرکانہ اصولوں کو سن نہیں سکتا۔ قرآن شریف میں تدبّر اور خوض کرنے والے جانتے ہیں کہ باطل کا سر کچلنے کے واسطے خدا نے کیسے کیسے حربے اختیار کئے ہیں۔ دیکھو! نصاریٰ نے مسیحؑ کے بن باپ ہونے کو اس کی خدائی کی دلیل خیال کیا تھا۔ خدا نے کس طرح ان کو آدمؑ کی نظیر پیش کر کے نادم و ذلیل کیا اور ان کے دعویٰ کو باطل کیا۔ اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ(اٰل عمران:۶۰) مسیحؑ تو بن باپ تھا۔ آدم اس سے بھی بڑھ کر خدائی کے لائق ہے کیونکہ یہاں باپ نہ ماں، دونوں ندارد۔

پس یاد رکھو کہ اگر فی الواقع حضرت مسیحؑ زندہ مع جسم عنصری آسمان پر گئے ہوتے اور خدا ان کی اس دلیل کو بھی سچا مانتا تو ضرور تھا کہ اس کی کوئی نظیر پیش کر کے ان کے اس باطل (خیال) کو بھی ملیا میٹ کر دیتا مگر خدا نے ان کی اس بات کو نفی کے رنگ میں باطل کیا ہے اور یہی جواب دیا ہے کہ وہ تو مَر گیا آسمان پر جانا کیسا؟ یاد رکھو کہ اگر خدا کا بھی یہی منشا ہوتا کہ درحقیقت حضرت عیسٰیؑ زندہ آسمان پر ہیں تو ضرور تھا کہ بُت پرستی کی اس دلیل اور باطل کے اس دیو کے سر کچلنے کے واسطے بھی کوئی نظیر ہی کا حربہ چلاتا مگر خدا کے نظیر پیش نہ کرنے سے اور وفات کا جابجا ذکر کرنے سے یہ صاف عیاں ہے کہ وہ ضرور وفات پا چکا ہے اور زندہ آسمان پر نہیں ہے اور خدا نے ان کی اس دلیل کو مانا ہی نہیں ورنہ ضروری تھا کہ جس طرح پہلے نظیر پیش کر کے ان کو ملزم و خوار کیا یہاں بھی نظیری وجہ سے عیسائیت کے بُت کو پاش پاش کرتا مگر خدا نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ خدا نے ان کی اس دلیل کو ان کی وفات کے بیان سے ردّ کیا ہے اور درحقیقت ان کی اس حجت کا حقیقی اور اصل جواب یہی ہے کہ قرآن کا یہ منشا ہرگز نہیں کہ حضرت عیسٰیؑ زندہ آسمان پر اُٹھا لئے گئے بلکہ وہ بھی وفات پا چکے جس طرح تمام انبیاء وفات پا گئے۔

یہ عجیب بات ہے کہ چونکہ وہ قتل نہیں ہوئے اس واسطے آسمان پر چڑھ گئے۔ کیا جو قتل نہیں کیا جاتا وہ لازماً آسمان پر چلا جاتا ہے۔ جب تو پھر لاکھوں کروڑوں کو زندہ آسمان پر ماننا پڑے گا۔ اصل جھگڑا تو یہود کا یہ تھا کہ حضرت مسیحؑ کا رفع روحانی نہیں ہوا۔ وہ تو اس بات کو ثابت کرنا چاہتے تھے کہ نعوذ باللہ مسیح لعین اور مردود ہیں۔ اسی واسطے وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ ہم نے مسیح کو صلیب دیا اور اس طرح سے ان کو قتل کرنے کے مدعی تھے تا کہ اپنی کتاب کے فرمودہ کے مطابق ان کو جھوٹا نبی ثابت کریں۔ رفع جسمانی کے متعلق تو کوئی جھگڑا ہی نہ تھا۔ قرآن شریف چونکہ بنی اسرائیل کے متنازع فیہ امور میں حَکم اور قولِ فیصل ہے اس نے یہود کے اس اعتراض اور بہتان کا جو انہوں نے مسیحؑ کو لعنتی اور جھوٹا ثابت کرنے کے واسطے باندھا تھا جواب دیا کہ قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ(النساء:۱۵۸، ۱۵۹) کہ یہود نے جیسا کہ ان کا زُعم ہے حضرت مسیحؑ کو قتل نہیں کیا اور نہ ہی اس طرح سے وہ ان کو جھوٹا نبی ثابت کرنے کے دعوے میں کامیاب ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کا رفع روحانی کیا اور ان کو ایسی ذلّت اور ادبار سے بچا لیا۔ اگر رفع جسمانی ہی نجات اور پاکیزگی اور مقبول اور محبوبِ الٰہی ہونے کا موجب ہے تو پھر تو سارے ہی نبی جھوٹے ٹھہرتے ہیں اور کوئی بھی نجات یافتہ نہیں رہتا چہ جائیکہ کوئی خدا کا محبوب اور مقبول بھی ہو (نعوذ باللہ من ذٰلک )تعصب نے ان کو کسی کام کا نہیں چھوڑا۔۱؎

بلا تاریخ

خدا تعالیٰ کو ہر چیز پر مقدم کرنا ہی نیک بختی ہے

فرمایا کہ وہ ایمان کیا ہے اگر کوئی شخص کسی چیز کو یا کسی انسان کو خدا پر مقدم کرلے جب تک ہر ایک چیز پر خدا کو مقدم نہ کیا جائے تو وہ شرک کہلاتا ہے۔ دیکھو! ہمیں دو دفعہ موقع پیش آیا ہے۔ ایک دفعہ تو مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات جبکہ نہایت زور سے دعا مانگنے کے بعد الہام ہوا۔

اِنَّ الْمَنَایَا لَا تَطِیْشُ سِھَامُھَا

اور پھر بھی دعاؤں کا سلسلہ جاری رہا تو الہام ہوا کہ

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ(البقرۃ:۲۲)

یعنی اے لوگو! اس خدا کی پرستش کرو جس نے تم کو پیدا کیا پھر مبارک احمد کی وفات کے وقت بھی یہی الہام ہوا کہ اِنَّ الْمَنَایَا لَا تَطِیْشُ سِھَامُھَا اور پھر الہام ہوا کہ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ(البقرۃ:۲۲) یعنی اس شخص نے مَرنا ضرور ہے اور عبادت کے لائق وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا۔ یعنی زندہ رہنے والا وہی ہے اسی سے دل لگاؤ پس ایمانداری تو یہی ہے کہ خدا سے خاص تعلق رکھا جائے اور دوسری سب چیزوں کو اس کے مقابلہ میں ہیچ سمجھا جائے اور جو شخص اولاد کو یا والدین کو یا کسی اور چیز کو ایسا عزیز رکھے کہ ہر وقت انہیں کا فکر رہے تو وہ بھی ایک بُت پرست ہے۔ بُت پرستی کے یہی تو معنے نہیں کہ ہندوؤں کی طرح بُت لے کر بیٹھ جائے اور اس کے آگے سجدہ کرے حد سے زیادہ پیار و محبت بھی عبادت ہی ہوتی ہے۔ ہمیں تو بچپن سے اس بات کی سمجھ آگئی تھی اور اب بھی ہمارا لڑکا مبارک احمد فوت ہو گیا ہے اور اگر ایک مبارک کی جگہ لاکھ مبارک بھی آجائے اور خدا تعالیٰ فرمائے کہ یا ان کی طرف جاؤ یا ہماری طرف تو قسم بخدا ایک منٹ کے لئے یا ایک سیکنڈ کے لیے بلکہ اس کے ہزارویں حصہ کے لیے کبھی دل میں یہ خیال نہ پیدا ہو کہ اس کی طرف نہ جائیں اور مبارک احمد کی طرف چلے جاویں۔ اولاد چیز کیا ہے؟ بچپن سے ماں اس پر جان فدا کرتی ہے مگر بڑے ہو کر دیکھا جاتا ہے کہ بہت سے لڑکے اپنی ماں کی نافرمانی کرتے ہیں اور اس سے گستاخی سے پیش آتے ہیں۔ پھر اگر فرمانبردار بھی ہوں تو دکھ اور تکلیف کے وقت وہ اس کو ہٹا نہیں سکتے۔ ذرا سا پیٹ میں درد ہو تو تمام عاجز آجاتے ہیں۔ نہ بیٹا کام آسکتا ہے نہ باپ نہ ماں نہ کوئی اور عزیز۔ اگر کام آتا ہے تو صرف خدا۔ پس ان کی اس قدر محبت اور پیار سے فائدہ کیا جس سے شرک لازم آئے؟ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّمَاۤ اَمۡوَالُکُمۡ وَاَوۡلَادُکُمۡ فِتۡنَۃٌ(التغابن:۱۶) اولاد اور مال انسان کے لئے فتنہ ہوتے ہیں۔ دیکھو! اگر خدا کسی کو کہے کہ تیری کل اولاد جو مَر چکی ہے زندہ کر دیتا ہوں مگر پھر میرا تجھ سے کچھ تعلق نہ ہو گا تو کیا اگر وہ عقلمند ہے اپنی اولاد کی طرف جانے کا خیال بھی کرے گا؟ پس انسان کی نیک بختی یہی ہے کہ خدا کو ہر ایک چیز پر مقدم رکھے۔ جو شخص اپنی اولاد کی وفات پر بُرا مناتا ہے وہ بخیل بھی ہوتا ہے کیونکہ وہ اس امانت کے دینے میں جو خدا نے اس کے سپرد کی تھی بخل کرتا ہے اور بخیل کی نسبت حدیث میں آتا ہے کہ اگر وہ جنگل کے دریاؤں کے برابر بھی عبادت کرے تو وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ پس ایسا شخص جو خدا سے زیادہ کسی چیز کی محبت کرتا ہے اس کی عبادت نماز روزہ بھی کسی کام کے نہیں۔

حضرت ایوب علیہ السلام کامثالی صبر حضرت ایوب ؑ کی طرف دیکھو کہ وہ کیسے صابر

ت ایوب علیہ السلام کا مثالی صبر

تھے خدا تعالیٰ نے ان کا ذکر قرآن شریف میں بھی کیا ہے کہ وہ میرا ایک صابر بندہ ہے۔ پہلی کتابوں میں ان کا ذکر بالتفصیل لکھا ہے کہ شیطان نے خدا تعالیٰ سے کہا کہ ایوبؑ کیوں صبر نہ کرے کہ اس کو تو نے مال دیا ہے، دولت دی ہے، غلام دئیے ہیں، نوکر چاکر دئیے ہیں، اولاد دی ہے، بیوی دی ہے، صحت دی ہے تو خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ تو اس کو آزما۔ اس پر پہلے تو ان کی بھیڑ بکریاں ماری گئیں۔ پھر اور بڑے بڑے جانور مارے گئے مگر پھر بھی حضرت ایوبؑ نے صبر سے کام لیا۔ اس پر شیطان نے کہا کہ ابھی اس کے پاس دولت اور غلام اور اولاد ہے وہ صبر کیوں نہ کرے۔ اس پر اس کے غلام بھی مَرگئے۔ پھر انہوں نے صبر کیا۔ یہاں تک کہ ہوتے ہوتے سب کچھ ہلاک ہو گیا۔ ایک وہ اور ان کی بیوی رہ گئیں۔ پھر بھی شیطان نے کہا کہ ابھی ان کی صحت درست ہے اس پر ان کو جذام ہو گیا یعنی کوڑھ ہو گیا۔ پھر بھی انہوں نے صبر سے کام لیا۔ پس جب وہ اس طرح صابر اور صادق ثابت ہوئے تو خدا تعالیٰ نے ان کو آگے سے بھی زیادہ مال و دولت، غلام، لونڈیاں اور اولاد عطا فرمائی اور صحت بھی عطا فرمائی۔

پس جب انسان صبر سے کام لے تو اس کو سب کچھ ہی مل رہتا ہے۔ انسان کو چاہیے جو کام کرے خدا کی رضا کے مطابق کرے۔ شیخ سعدی صاحب کیا عمدہ فرماتے ہیں۔

کہ بے حکم شرع آب خوردن خطا است

اگر خوں بہ فتویٰ بریزی روا است

یعنی اگر تم خدا کے منشا کے برخلاف پانی پیو تو وہ گناہ ہے لیکن اگر اس کے حکم کے مطابق خون بھی کر دو تو وہ جائز ہے۔

پس میں تم کو سچ سچ کہتا ہوں کہ خدا کے سوا جس چیز کی انسان خواہش کرتا ہے۔ نہ وہ اس کو ملتی ہے نہ خدا کیونکہ اس کے سوا ہر ایک چیز فانی ہے لیکن جو شخص خدا کو پسند کرتا ہے اس کو خدا بھی ملتا ہے اور دوسری چیزیں بھی ملتی ہیں اور اس کو جو خواہش ہوتی ہے وہ پوری ہو کر رہتی ہے۔ اب میں نے جو کچھ خدا کے لئے کہنا تھا وہ کہہ چکا۔ تم کو چاہیے کہ اپنے دین کی حفاظت کرو۔۱؎


۴؍ مئی ۱۹۰۸ء

(بعد نماز عصر۔ بمقام لاہور)

جماعت کو نصیحت

فرمایا۔ ملاقات سے غرض یہی ہوتی ہے کہ اَمرِ دین کے متعلق کچھ سوچا جاوے میں بار بار اور کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ ظاہر نام میں تو ہماری جماعت اور دوسرے مسلمان دونوں مشترک ہیں۔ تم بھی مسلمان ہو۔ وہ بھی مسلمان کہلاتے ہیں۔ تم کلمہ گو ہو وہ بھی کلمہ گو ہیں۔ تم بھی اتباع قرآن کا دعویٰ کرتے ہو۔ وہ بھی اتباع قرآن ہی کے مدعی ہیں۔ غرض دعووں میں تو تم اور وہ دونوں برابر ہو مگر اللہ صرف دعووں سے خوش نہیں ہوتا جب تک کوئی حقیقت ساتھ نہ ہو اور دعوے کے ثبوت میں کچھ عملی ثبوت اور تبدیلی حالت کی دلیل نہ ہو۔ اس واسطے اکثر اوقات مجھے اس غم سے سخت صدمہ پہنچتا ہے۔ ظاہری طور سے جماعت (کی) تعداد میں تو بہت ترقی ہورہی ہے کیا خطوط کے ذریعہ سے اور کیا خود حاضر ہو کر دونوں طرح سے سلسلہ بیعت میں روز افزوں ترقی ہو رہی ہے۔ آج کی ڈاک میں بھی ایک لمبی فہرست بیعت کنندگان کی آئی ہے، لیکن بیعت کی حقیقت سے پوری واقفیت حاصل کرنی چاہیے اور اس پر کار بند ہونا چاہیے۔ اور بیعت کی حقیقت یہی ہے کہ بیعت کنندہ اپنے اندر سچی تبدیلی اور خوف خدا اپنے دل میں پیدا کرے اور اصل مقصود کو پہچان کر اپنی زندگی میں ایک پاک نمونہ کر کے دکھاوے اگر یہ نہیں تو پھر بیعت سے کچھ فائدہ نہیں بلکہ یہ بیعت پھر اس واسطے اور بھی باعث عذاب ہو گی کیونکہ معاہدہ کر کے جان بوجھ اور سوچ سمجھ کر نافرمانی کرنا سخت خطرناک ہے۔

میں خوب جانتا ہوں کہ ان باتوں کا کسی دل میں پہنچا دینا میرا کام نہیں اور نہ ہی میرے پاس کوئی ایسا آلہ ہے جس کے ذریعہ میں اپنی بات کسی کے دل میں بٹھا دوں۔ مگر یہ معاملہ مجھ سے ہی نہیں بلکہ تمام انبیاء اسی راہ پر آئے ہیں۔ اِنَّکَ لَا تَہۡدِیۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ(القصص:۵۷) یہ ارشاد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوتا ہے۔ اب اور کون ہے جو اپنی مرضی سے کسی کو ہدایت پر قائم کر سکے۔ نصیحت کرنا اور بات پہنچانا ہمارا کام ہے یوں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس جماعت نے اخلاص اور محبت میں بڑی نمایاں ترقی کی ہے۔ بعض اوقات جماعت کا اخلاص، محبت اور جوشِ ایمان دیکھ کر خود ہمیں تعجب اور حیرت آتی ہے اور یہاں تک کہ دشمن بھی تعجب میں ہیں۔ ہزارہا انسان ہیں جنہوں نے محبت اور اخلاص میں تو بڑی ترقی کی ہے مگر بعض اوقات پرانی عادات یا بشریت کی کمزوری کی وجہ سے دنیا کے امور میں ایسا وافر حصہ لیتے ہیں کہ پھر دین کی طرف سے غفلت ہو جاتی ہے۔

ہمارا مطلب یہ ہے کہ بالکل ایسے پاک اور بے لوث ہو جاویں کہ دین کے سامنے امورِ دنیوی کی حقیقت نہ سمجھیں اور قسما قسم کی غفلتیں جو خدا سے دوری اور مہجوری کا باعث ہوتی ہیں وہ دور ہو جاویں۔ جب تک یہ بات پیدا نہ ہو اس وقت تک حالت خطرناک ہے اور قابل اطمینان نہیں۔ کیونکہ جب تک ان باتوں کا ذرہ بھی وجود موجود ہے تو اندیشہ ہے اور ایک دبدہ لگی رہتی ہے کہ کسی وقت یہ باتیں زور پکڑ جاویں اور باعث حبط اعمال ہو جاویں۔ جب تک ایک قسم کی مناسبت پیدا نہیں ہوتی تب تک حالت قابل اطمینان نہیں ہوتی۔

دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا عہد یاد رکھو

موت کا کوئی وقت نہیں۔ آئے دن طاعون ہیضہ، زلازل، وبائیں، قحط اور اَور طرح کے امراض انسان پر حملہ کر رہے ہیں اور اگر یہ بھی نہ ہوں تب بھی بعض اوقات خدا تعالیٰ کی ناگہانی گرفت اس طور سے انسان کو آ دباتی ہے کہ پھر کچھ بن نہیں پڑتا۔ پس ضروری ہے کہ جو اقرار کیا جاتا ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا اس اقرار کا ہر وقت مطالعہ کرتے رہو اور اس کے مطابق اپنی عملی زندگی کا زندہ نمونہ پیش کرو۔ عمر کا اعتبار نہیں۔ دیکھو! ہر سال میں کئی دوست ہم سے جدا ہو جاتے ہیں اور کئی دشمن بھی چل بستے ہیں۔ خدا نے بعض خوفناک خبریں دی ہیں اور وہ اپنی بات میں سچا ہے۔ ان سے اور بھی خوف آتا ہے وہ بہت ہی خطرناک ہیں۔ رنگارنگ کے خوف احاطہ کئے ہوئے ہیں۔

طاعون نام ہے مری کا۔ لغت میں ہے الطاعونـ: الموت۔ کسی کو کیا معلوم کہ خدا کا کیسا غضب بھڑکنے والا ہے۔ خدا محفوظ رکھے ممکن ہے کہ ایسا شدید ہو کہ جس کی برداشت ہی نہ ہو۔ قاعدہ کی بات ہے۔ جیسا کہ ہم نے کل بھی بیان کیا تھا کہ جب کوئی عذاب اور قہر الٰہی دور ہو جاتا ہے ہیضہ ہو یا طاعون و با ہو یا قحط تو لوگ مطمئن ہو جاتے ہیں چہروں پر خوشی کے آثار پیدا ہو جاتے ہیں اور جان لیتے ہیں کہ وقت جاتا رہا۔ پھر اس طرح سے دل سخت ہو جاتے ہیں۔ مگر تمہارا کام یہ ہونا چاہیے کہ خدا کے آئندہ وعدوں کو یاد کر کے ترساں ولرزاں رہو اور قبل از وقت سنبھل جاؤ۔ نت نئی توبہ کرو۔ جو توبہ کرتا ہے وہ نیکی کی طرف رجوع کرتا ہے اور جو توبہ نہیں کرتا وہ گناہ کی طرف جاتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندے سے محبت کرتا ہے جو بہت توبہ کرتا ہے توبہ نہ کرنے والا گناہ کی طرف جھکتا ہے اور گناہ آہستہ آہستہ کفر تک پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا کام یہ ہے کہ کوئی مابہ الامتیاز بھی تو پیدا کرو۔ تم میں اور تمہارے غیروں میں اگر کوئی فرق پایا جاوے گا تو جب ہی خدا بھی نصرت کرے گا۔ ورنہ بنی اسرائیل کی طرف دیکھ لو کہ جب ان میں اور ان کے غیر میں فرق نہ پایا گیا تو با وجودیکہ حضرت موسٰی ان میں موجود تھے کافروں سے کیسی ذلّت کی ہزیمت دلائی۔ ان کے مقابل میں ایک کافر کی تائید کی اور ان کو سزا دی۔ نبی موجود، کتاب موجود، احکام موجود، بایں انہوں نے خلاف کیا۔ آخر کافروں سے بھی شکست کھائی۔ کافر تو احکام الٰہی سے بے خبر ہوتے ہیں۔ وہ ایسے مؤاخذہ کے قابل نہیں ہوتے جیسے کوئی مان کر، جان پہچان کر خلاف ورزی احکام کرنے والا۔

تقویٰ کی اہمیت

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّالَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ(النحل:۱۲۹) تقویٰ، طہارت اور پاکیزگی اختیار کرنے والے خدا کی حمایت میں ہوتے ہیں اور وہ ہر وقت نافرمانی کرنے سے ترساں ولرزاں رہتے ہیں۔ آجکل دنیا کا اصول منافقانہ زندگی بسر کرنا ہو گیا ہے۔ اوّل اوّل انسان انسان سے نفاق کرتا ہے اور منافقانہ رنگ میں ہاں میں ہاں ملاتا ہے حالانکہ دلوں میں کدورت اور رنج و بغض بھرا ہوتا ہے۔ پھر یہ عادت ترقی کرتے کرتے ایسی بڑھتی ہے کہ خدا سے بھی منافقانہ تعلق کرنا چاہتا ہے اور خدا کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ جانتا ہے کہ خدا عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ(الملک:۱۴) ہے دل سے تو مومن ہوتا نہیں مگر خدا کے آگے مومن بننا چاہتا ہے بھلا خدا کسی کے دھو کے میں آ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔

دیکھو! تقویٰ ایک ایسی چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف ایک متقی انسان کی خاطر دوسروں پر بھی رحم کرتا ہے اور اس کے اہل و عیال، خویش و اقارب اور متعلقین پر بھی اثر پڑتا ہے اور اسی طرح سے اگر جرائم اور فسق و فجور کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کا اثر بھی پڑتا ہے۔

غرض خدا سے ڈرنا اور متقی بننا بڑی چیز ہے خدا اس کے ذریعہ سے ہزار آفات سے بچا لیتا ہے بجز اس کے کہ خدا تعالیٰ کی حفاظت اس کے شامل ہو۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ مجھے بَلا نہیں پکڑے گی اور کسی کو بھی مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔ آفات تو نا گہانی طور سے آجاتے ہیں۔ کسی کو کیا معلوم کہ رات کو کیا ہوگا؟

استغفار کی تلقین

لکھا ہے کہ ایک بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے۔ پہلے بہت روئے اور پھر لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا۔ عباد اللہ! خدا سے ڈرو آفات اور بلیّات چیونٹیوں کی طرح انسان کے ساتھ لگے ہوئے ہیں ان سے بچنے کی کوئی راہ نہیں بجز اس کے کہ سچے دل سے توبہ استغفار میں مصروف ہو جاؤ۔

استغفار اور توبہ کا یہ مطلب نہیں جو آجکل لوگ سمجھے بیٹھے ہیں۔ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ کہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا جبکہ اس کے معنے بھی کسی کو معلوم نہیں۔ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ ایک عربی زبان کا لفظ ہے۔ ان لوگوں کی تو چونکہ یہ مادری زبان تھی اور وہ اس کے مفہوم کو اچھی طرح سے سمجھے ہوئے تھے۔ استغفار کے معنے یہ ہیں کہ خدا سے اپنے گذشتہ جرائم اور معاصی کی سزا سے حفاظت چاہنا اور آئندہ گناہوں کے سرزد ہونے سے حفاظت مانگنا۔ استغفار انبیاء بھی کیا کرتے تھے اور عوام بھی۔

بعض نادان پادریوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار پر اعتراض کیا ہے اور لکھا ہے کہ ان کے استغفار کرنے سے نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گناہ۱؎ کا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ یہ نادان اتنا نہیں سمجھتے کہ استغفار تو ایک اعلیٰ صفت ہے۔ انسان فطرتاً ایسا بنا ہے کہ کمزوری اور ضعف اس کا فطری تقاضا ہے۔ انبیاء اس فطرتی کمزوری اور ضعف بشریت سے خوب واقف ہوتے ہیں۔ لہٰذا وہ دعا کرتے ہیں کہ یا الٰہی! تو ہماری ایسی حفاظت کر کہ وہ بشری کمزوریاں ظہور پذیر ہی نہ ہوں۔ غفر کہتے ہیں ڈھکنے کو۔ اصل بات یہی ہے کہ جو طاقت خدا کو ہے وہ نہ کسی نبی کو ہے نہ ولی کو اور نہ رسول کو۔ کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میں اپنی طاقت سے گناہ سے بچ سکتا ہوں پس انبیاء بھی حفاظت کے واسطے خدا کے محتاج ہیں۔ پس اظہارِ عبودیت کے واسطے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اور انبیاء کی طرح اپنی حفاظت خدا سے مانگا کرتے تھے۔

یہ ان لوگوں کا خیال غلط ہے کہ حضرت عیسٰیؑ استغفار نہ کرتے تھے۔ یہ ان کی بیوقوفی اور بے سمجھی ہے اور یہ حضرت عیسٰیؑ پر تہمت لگاتے ہیں۔ انجیل میں غور کرنے سے صریح اور صاف طور سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے جا بجا اپنی کمزوریوں کا اعتراف کیا اور استغفار بھی کیا۔ اچھا! بھلا اَیْلِیْ اَیْلِیْ لِمَا سَبَقْتَانِیْ سے کیا مطلب؟ اَبِیْ اَبِیْ کر کے کیوں نہ پکارا؟ عبرانی میں اَیْل خدا کو کہتے ہیں۔ اس کے یہی معنے ہیں کہ رحم کر اور فضل کر اور مجھے ایسی بے سروسامانی میں نہ چھوڑ (یعنی میری حفاظت کر)۔

در حقیقت مشکل تو یہ ہے کہ ہندوستان میں بوجہ اختلاف زبان استغفار کا اصل مقصد ہی مفقود ہو گیا ہے اور ان دعاؤں کو ایک جنتر منتر کی طرح سمجھ لیا ہے۔ کیا نماز اور کیا استغفار اور کیا توبہ؟ اگر کسی کو نصیحت کرو کہ استغفار پڑھا کرو تو وہ یہی جواب ملتا ہے کہ میں تو استغفار کی سو بار یا دو سو بار تسبیح پڑھتا ہوں مگر مطلب پوچھو تو کچھ جانتے ہی نہیں۔ استغفار ایک عربی لفظ ہے اس کے معنے ہیں طلب مغفرت کرنا کہ یا الٰہی! ہم سے پہلے جو گناہ سرزد ہو چکے ہیں ان کے بد نتائج سے ہمیں بچا کیونکہ گناہ ایک زہر ہے اور اس کا اثر بھی لازمی ہے اور آئندہ ایسی حفاظت کر کہ گناہ ہم سے سرزد ہی نہ ہوں۔ صرف زبانی تکرار سے مطلب حاصل نہیں ہوتا۔

توبہ

توبہ کے معنے ہیں ندامت اور پشیمانی سے ایک بد کام سے رجوع کرنا۔ توبہ کوئی بُرا کام نہیں ہے۔ بلکہ لکھا ہے کہ توبہ کرنے والا بندہ خدا کو بہت پیارا ہوتا ہے۔ خدا کا نام بھی توّاب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان اپنے گناہوں اور افعالِ بد سے نادم ہو کر پشیمان ہوتا ہے اور آئندہ اس بدکام سے باز رہنے کا عہد کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس پر رجوع کرتا ہے رحمت سے۔ خدا انسان کی توبہ سے بڑھ کر توبہ کرتا ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اگر انسان خدا کی طرف ایک بالشت بھر جاتا ہے تو خدا اس کی طرف ہاتھ بھر آتا ہے۔ اگر انسان چل کر آتا ہے تو خدا دوڑ کر آتا ہے۔ یعنی اگر انسان خدا کی طرف توجہ کرے تو اللہ تعالیٰ بھی رحمت، فضل اور مغفرت میں انتہا درجہ کا اس پر فضل کرتا ہے۔ لیکن اگر خدا سے منہ پھیر کر بیٹھ جاوے تو خدا کو کیا پروا۔

دیکھو! یہ خدا کے فیضان کے لینے کی راہیں ہیں۔ اب دروازے کھلے ہیں تو سورج کی روشنی برابر اندر آرہی ہے اور ہمیں فائدہ پہنچا رہی ہے لیکن اگر ابھی اس مکان کے تمام دروازے بند کر دئیے جاویں تو ظاہر ہے کہ روشنی آنی موقوف ہو جاوے گی اور بجائے روشنی کے ظلمت آ جاوے گی۔ پس اسی طرح سے دل کے دروازے بند کرنے سے تاریکی ذنوب اور جرائم آموجود ہوتی ہے اور اس طرح انسان خدا کی رحمت اور فضل کے فیوض سے بہت دور جا پڑتا ہے۔ پس چاہیے کہ توبہ استغفار منتر جنتر کی طرح نہ پڑھو بلکہ ان کے مفہوم اور معانی کو مدّنظر رکھ کر تڑپ اور سچی پیاس سے خدا کے حضور دعائیں کرو۔ توبہ میں ایک مخفی عہد بھی ہوتا ہے کہ فلاں گناہ مَیں کرتا تھا۔ اب آئندہ وہ گناہ نہیں کروں گا۔ اصل میں انسان کی خدا تعالیٰ پردہ پوشی کرتا ہے کیونکہ وہ ستّار ہے بہت سے لوگوں کو خدا کی ستّاری نے ہی نیک بنا رکھا ہے۔ ورنہ اگر خدا ستّاری نہ فرماوے تو پتہ لگ جاوے کہ انسان میں کیا کیا گند پوشیدہ ہیں۔

انسان کے ایمان کا کمال

انسان کے ایمان کا بھی کمال یہی ہے کہ تخلّق باخلاق اللہ کرے۔ یعنی جو جو اخلاق فاضلہ خدا میں ہیں اور صفات ہیں ان کی حتی المقدور اتباع کرے اور اپنے آپ کو خدا کے رنگ میں رنگین کرنے کی کوشش کرے مثلاً خدا میں عفو ہے۔ انسان بھی عفو کرے۔ رحم ہے حلم ہے کرم ہے انسان بھی رحم کرے۔ حلم کرے۔ لوگوں سے کرم کرے۔ خدا ستار ہے۔ انسان کو بھی ستّاری کی شان سے حصہ لینا چاہیے اور اپنے بھائیوں کے عیوب اور معاصی کی پردہ پوشی کرنی چاہیے۔ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب کسی کی کوئی بدی یا نقص دیکھتے ہیں جب تک اس کی اچھی طرح سے تشہیر نہ کر لیں ان کو کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ حدیث میں آیا جو اپنے بھائی کے عیب چھپاتا ہے خدا اس کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ انسان کو چاہیے شوخ نہ ہو۔ بے حیائی نہ کرے۔ مخلوق سے بدسلوکی نہ کرے۔ محبت اور نیکی سے پیش آوے۔

اپنی نفسانی اغراض کی وجہ سے کسی سے بغض نہ رکھو

اپنی نفسانی اغراض کی وجہ سے کسی سے بغض نہ رکھے۔ سختی اور نرمی مناسب موقع اور مناسب حال کرے اور اگر کسی جگہ درشتی کرنی بھی پڑ جائے تو اس طرح کرے جس طرح کوئی کسی کا مامور یا نائب حکم کی پابندی کی وجہ سے کرتا ہے۔ انبیاء نے بھی بعض اوقات سختی کی ہے مگر نہ جوش نفس سے بلکہ محض خدا کے حکم اور اصلاح کی غرض سے۔

ہم نے کسی کتاب میں ایک حکایت پڑھی ہے۔ لکھا ہے کہ حضرت علیؓ کی ایک کافر سے جنگ ہوئی۔ جنگ میں مغلوب ہو کر وہ کافر بھاگا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کا تعاقب کیا اور آخر اسے پکڑا۔ اس سے کشتی کر کے اس کو زیر کر لیا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ اس کی چھاتی پر خنجر نکال کر اس کے قتل کرنے کے واسطے بیٹھ گئے تو اس کافر نے آپ کے منہ پر تھوک دیا۔ اس سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس کی چھاتی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس سے الگ ہو گئے۔ وہ کافر اس معاملہ سے حیران ہوا اور تعجب سے اس کا باعث دریافت کیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ ہم لوگ تم سے جنگ کرتے ہیں تو محض خدا کے حکم سے کرتے ہیں۔ کسی نفسانی غرض سے نہیں کرتے بلکہ ہم تو تم لوگوں سے محبت کرتے ہیں۔ میں نے تم کو پکڑا خدا کے لئے تھا۔ مگر جب تم نے میرے منہ پر تھوک دیا تو اس سے مجھے بشریت کی وجہ سے غصہ آ گیا تب میں ڈرا کہ اگر اس وقت جبکہ اس معاملہ میں میرا نفسانی جوش بھی شامل ہو گیا ہے تم کو قتل کروں تو میرا سارا ساختہ پرداختہ ہی برباد نہ ہو جاوے اور جوش نفس کی ملونی کی وجہ سے میرے نیک اور خالصاً للہ اعمال بھی حبط نہ ہو جاویں۔ یہ ماجرا دیکھ کر کہ ان لوگوں کا اتنا باریک تقویٰ ہے۔ اس نے کہا کہ میں نہیں یقین کر سکتا کہ ایسے لوگوں کا دین باطل ہو۔ لہٰذا وہ وہیں مسلمان ہو گیا۔

غرض اسی طرح ہماری جماعت کے بھی جنگ ہوتے ہیں ان میں جوش نفس کو شامل نہ کرنا چاہیے۔ دیکھو! اگر ہم خدا کے نزدیک کافر اور دجّال نہیں ہیں تو پھر کسی کے کافر اور دجّال وغیرہ کہنے سے ہمارا کچھ بگڑتا نہیں اور اگر واقع میں ہی ہم خدا کے حضور میں مقبول نہیں بلکہ مردود ہیں تو پھر کسی کے اچھا کہنے اور نیک بنانے سے ہم خدا کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔

دلوں کو فتح کرو

پس تم یاد رکھو کہ نرمی عمدہ صفت ہے۔ نرمی کے بغیر کام چل نہیں سکتا۔ فتح جنگ سے نہیں۔ جنگ سے اگر کسی کو نقصان پہنچا دیا تو کیا کیا؟ چاہیے کہ دلوں کو فتح کرو اور دل جنگ سے فتح نہیں ہوتے بلکہ اخلاقِ فاضلہ سے فتح ہوتے ہیں۔ اگر انسان خدا کے واسطے دشمنوں کی اذیتوں پر صبر کرنے والا ہو جاوے تو آخر ایک دن ایسا بھی آ جاتا ہے کہ خود دشمن کے دل میں ایک خیال پیدا ہو جاتا ہے اور اثر ہوتا ہے اور جب وہ برکاتِ فیوض اور نصرتِ الٰہی کو دیکھتا ہے اور اخلاقِ فاضلہ کا برتاؤ دیکھتا ہے تو خود بخود اس کے دل میں ایسا خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ اگر یہ شخص جھوٹا ہی ہوتا اور خدا پر افترا کرنے والا ہی ہوتا تو اس کی یہ نصرت اور تائید تو ہرگز نہ ہوتی۔

ان لوگوں نے کوئی ہمیں ہی یہ گالیاں نہیں دیں بلکہ یہ معاملہ تمام انبیاء کے ساتھ اسی طرح چلا آیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کذّاب، ساحر، مجنون، مفتری وغیرہ الفاظ سے یاد کیا گیا تھا اور انجیل کھول کر دیکھو تو معلوم ہوگا کہ حضرت عیسٰیؑ سے بھی ایسا ہی برتاؤ کیا گیا۔ حضرت موسٰی کو بھی گالیاں دی گئی تھیں۔ اصل میں تَشَابَہَتْ قُلُوْبُہُمْ والی بات ہے اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ یٰحَسۡرَۃً عَلَی الۡعِبَادِ ۚؑ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ(یٰسٓ:۳۱) کوئی بھی ایسا سچا نبی نہیں آیا کہ آتے ہی اس کی عزت کی گئی ہو۔ ہم کیوں کر سنّت اللہ سے باہر ہو سکتے ہیں۔ بات تو آسان ہی تھی اور معاملہ بڑا صاف تھا۔ مگر ان منصوبہ بازوں نے معاملہ کچھ کا کچھ کر دیا ہے۔ کیا یہ سچ ہے کہ ہم نبیوں کو گالیاں دیتے ہیں؟ ہم تو اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے آئے ہیں اور کر رہے ہیں۔ ہماری کتابیں دیکھ لو۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کس طرح ہمارا ہر ذرّہ ذرّہ خدا کی راہ میں فدا اور قربان ہے۔

دعویٰ نبوت کی حقیقت

باقی رہی یہ بات کہ ہم نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ نزاع لفظی ہے۔ مکالمہ مخاطبہ کے تو یہ لوگ خود بھی قائل ہیں۔ اسی مکالمہ مخاطبہ کا نام اللہ تعالیٰ (نے) دوسرے الفاظ میں نبوت رکھا ہے ورنہ اس تشریعی نبوت کا تو ہم نے بارہا بیان کیا ہے کہ ہم نے ہرگز ہرگز دعویٰ نہیں کیا۔ قرآن سے برگشتہ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے برگشتہ ہوکر نبوت کا دعویٰ کرنے والے کو تو ہم واجب القتل اور لعنتی کہتے ہیں۔ اس طرح کی نبوت کا کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو منسوخ کر دے دعویٰ کرنے والے کو ہم ملعون اور واجب القتل جانتے ہیں۔ ہم پر جو اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں یہ سب رسول اکرمؐ کے فیض سے ہی ہیں۔ آنحضرتؐ سے الگ ہو کر ہم سچ کہتے ہیں کہ کچھ بھی نہیں اور خاک بھی نہیں۔ آنحضرتؐ کی عزت اور مرتبہ دل میں اور ہر رگ و ریشہ میں ایسا سمایا ہے کہ ان کو اس درجہ سے خبر تک بھی نہیں۔ کوئی ہزار تپسیا کرے، جپ کرے، ریاضتِ شاقّہ اور محنتوں سے مشتِ استخوان ہی کیوں نہ رہ جاوے مگر ہرگز کوئی سچا روحانی فیض بجز آنحضرتؐ کی پیروی اور اتباع کے کبھی میسر آسکتا ہی نہیں اور ممکن ہی نہیں۔ اب جبکہ ہمارا یہ حال ہے اور ایسا ایمان ہے تو پھر ان کا ہمیں کافر و دجّال کہنا کیا معنے رکھتا ہے؟

ابھی چند روز ہوئے ہمارے پاس ایک اور نیا فتویٰ چھپ کر آیا ہے جس میں ہمیں طرح طرح کے ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ ان باتوں سے ہمارا کچھ بگڑتا نہیں۔ اگر ہم خدا کی نظر میں مقبول ہیں تو پھر ان کے فتوے ہمیں کوئی ضرر دے سکتے ہی نہیں۔ ہمیں کافر کہنے والے خود بھی تو کفر سے نہیں بچے بلکہ ان کا کفر تو بہت پکا کفر ہے۔ ان کے واسطے تو لکھا جاچکا ہے کہ اگر ان میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ صرف دھونے سے پاک نہیں ہوسکتی بلکہ اینٹیں اکھاڑ کر نیا فرش لگایا جانے سے مسجد پاک ہوتی تھی۔ ہمارے واسطے ایسی بات تو نہیں۔

عجیب بات یہ ہے کہ جتنے اہل اللہ گذرے ان میں کوئی بھی تکفیر سے نہیں بچا۔ کیسے کیسے مقدس اور صاحب برکات تھے۔ حضرت سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ان پر بھی قریباً دوسو علماء وقت نے کفر کا فتویٰ لکھا تھا۔ ابنِ جوزی جو محدّث وقت تھا اس نے ان کی تکفیر کی نسبت ایک خطرناک کتاب تالیف کی اور اس کا نام تلبیس ابلیس رکھا۔ سنا گیا ہے کہ شاہ ولی اللہ صاحب پر بھی کفر کا فتویٰ لگایا گیا تھا۔ یہ تو کفر بھی مبارک ہے جو ہمیشہ اولیاء اور خدا کے مقدس لوگوں کے حصہ میں ہی آتا رہا ہے۔

خاکسار اور متواضع بنو

ہمارا اس وقت اصل مدعا یہ ہے کہ ہمیشہ ڈرتے رہنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ یہ کفر سچا ہی ثابت ہو جاوے۔ انسان اگر خدا کے نزدیک بھی مورد قہر و عذاب الٰہی ہو تو پھر دشمن کی بات پکی ہی ہو جایا کرتی ہے۔ خالی شیخیوں سے اور بے جا تکبر اور بڑائی سے پرہیز کرنا چاہیے اور انکساری اور تواضع اختیار کرنی چاہیے۔ دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ حقیقتاً سب سے بڑے اور مستحق بزرگی تھے ان کے انکسار اور تواضع کا ایک نمونہ قرآن شریف میں موجود ہے۔ لکھا ہے کہ ایک اندھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر قرآن شریف پڑھا کرتا تھا۔ ایک دن آپؐ کے پاس عمائد مکہ اور رؤسائے شہر جمع تھے اور آپؐ ان سے گفتگو میں مشغول تھے۔ باتوں میں مصروفیت کی وجہ سے کچھ دیر ہو جانے سے وہ نابینا اُٹھ کر چلا گیا۔ یہ ایک معمولی بات تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق سورۃ نازل فرمادی۔ اس پر آنحضرتؐ اس کے گھر میں گئے اور اسے ساتھ لا کر اپنی چادر مبارک بچھا کر بٹھایا۔

اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں عظمت الٰہی ہوتی ہے ان کو لازماً خاکسار اور متواضع بننا ہی پڑتا ہے کیونکہ وہ خدا کی بے نیازی سے ہمیشہ ترساں ولرزاں رہتے ہیں۔

آنانکہ عارف تر اند ترساں تر

کیونکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نکتہ نواز ہے اسی طرح نکتہ گیر بھی ہے۔ اگر کسی حرکت سے ناراض ہو جاوے تو دم بھر میں سب کارخانہ ختم ہے۔ پس چاہیے کہ ان باتوں پر غور کرو اور ان کو یاد رکھو اور عمل کرو۔۱؎

۹؍ مئی ۱۹۰۸ء

(بمقام لاہور۔ قبل نماز ظہر)

احمدی ڈاکٹروں اور اطبّاء کے لیے خاص نصیحت

طاعون اور ہیضہ وغیرہ وباؤں کا ذکر تھا۔ فرمایا۔

بدقسمت ہے وہ انسان کہ ان بلاؤں سے بچنے کے واسطے سائنس، طبعی یا ڈاکٹران وغیرہ کی طرف توجہ کر کے سامان تلاش کرتا ہے اور خوش قسمت ہے وہ جو خدا کی پناہ لیتا ہے اور کون ہے جو بجز خدا کے ان آفات سے پناہ دے سکتا ہو؟ اصل میں یہ لوگ جو فلسفی طبع یا سائنس کے دلدادہ ہیں ایسی مشکلات کے وقت ایک قسم کی تسلّی اور اطمینان پانے کے واسطے بعض دلائل تلاش کر لیتے ہیں اور اس طرح سے ان وباؤں کے اصل بواعث اور اغراض سے محروم رہ جاتے ہیں اور خدا سے پھر بھی غافل ہی رہتے ہیں۔ ہماری جماعت کے ڈاکٹروں سے میں چاہتا ہوں کہ ایسے معاملات میں اپنے ہی علوم کو کافی نہ سمجھیں بلکہ خدا کا خانہ بھی خالی رکھیں اور قطعی فیصلے اور یقینی رائے کا اظہار نہ کر دیا کریں کیونکہ اکثر ایسا تجربہ میں آیا ہے کہ بعض ایسے مریض جن کے حق میں ڈاکٹروں نے متفقہ طور سے قطعی اور یقینی حکم موت کا لگا دیا ہوتا ہے ان کے واسطے خدا کچھ ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ وہ بچ جاتے ہیں اور بعض ایسے لوگوں کی نسبت جو کہ اچھے بھلے اور بظاہر ڈاکٹروں کے نزدیک ان کی موت کے کوئی آثار نہیں نظر آتے خدا قبل از وقت ان کی موت کی نسبت کسی مومن کو اطلاع دیتا ہے۔ اب اگرچہ ڈاکٹروں کے نزدیک اس کا خاتمہ نہیں۔ مگر خدا کے نزدیک اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آجاتا ہے۔

علم طب یونانیوں سے مسلمانوں کے ہاتھ آیا مگر مسلمان چونکہ مؤحد اور خدا پرست قوم تھی۔ انہوں نے اسی واسطے اپنے نسخوں پر ھو الشّافی لکھنا شروع کر دیا۔ ہم نے اطباء کے حالات پڑھے ہیں۔ علاج الامراض میں مشکل اَمر تشخیص کو لکھا ہے۔ پس جو شخص تشخیص مرض میں ہی غلطی کرے گا وہ علاج میں بھی غلطی کرے گا کیونکہ بعض امراض ایسے اَدَق اور باریک ہوتے ہیں کہ انسان ان کو سمجھ ہی نہیں سکتا۔ پس مسلمان اطباء نے ایسی دقتوں کے واسطے لکھا ہے کہ دعاؤں سے کام لے۔ مریض سے سچی ہمدردی اور اخلاص کی وجہ سے اگر انسان پوری توجہ اور دردِ دل سے دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر مرض کی اصلیت کھول دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ سے کوئی غیب مخفی نہیں۔

پس یاد رکھو کہ خدا سے الگ ہو کر صرف اپنے علم اور تجربہ کی بنا پر جتنا بڑا دعویٰ کرے گا اتنی ہی بڑی شکست کھائے گا۔ مسلمانوں کو توحید کا فخر ہے۔ توحید سے مراد صرف زبانی توحید کا اقرار نہیں بلکہ اصل یہ ہے کہ عملی رنگ میں حقیقتاً اپنے کاروبار میں اس اَمر کا ثبوت دے دو کہ واقعی تم مؤحد ہو اور توحید ہی تمہارا شیوہ ہے۔ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ ہر ایک اَمر خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس واسطے مسلمان خوشی کے وقت الحمد للہ اور غمی اور ماتم کے وقت اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(البقرۃ:۱۵۷) کہہ کر ثابت کرتا ہے کہ واقع میں اس کا ہر کام میں مرجع صرف خدا ہی ہے جو لوگ خدا سے الگ ہو کر زندگی کا کوئی حظّ اٹھانا چاہتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ ان کی زندگی بہت ہی تلخ ہے کیونکہ حقیقی تسلّی اور اطمینان بجز خدا میں محو ہونے اور خدا کو ہی ہر کام کا مرجع ہونے کے حاصل ہو سکتا ہی نہیں۔ ایسے لوگوں کی زندگی تو بہائم کی زندگی ہوتی ہے اور وہ تسلّی یافتہ نہیں ہو سکتے۔ حقیقی راحت اور تسلّی انہیں لوگوں کو دی جاتی ہے جو خدا سے الگ نہیں ہوتے اور خدا سے ہر وقت دل ہی دل میں دعائیں کرتے رہتے ہیں۔

سچے مذہب میں پابندیاں ہوتی ہیں

مذہب کی صداقت اس میں ہے کہ انسان خدا سے کسی حالت میں بھی الگ نہ ہو۔ وہ مذہب ہی کیا ہے اور زندگی ہی کیسی ہے کہ تمام عمر گذر جائے مگر خدا کا نام درمیان کبھی بھی نہ آوے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ سارے نقائص صرف بے قیدی اور آزادی کی وجہ سے ہیں اور یہ بے قیدی ہی ہے کہ جس کی وجہ سے مخلوق کا بہت بڑا حصہ اس طرز زندگی کو پسند کرتا ہے۔

آج ہی ایک کتاب ہم نے دیکھی ہے جس میں بدھ کی زندگی کے حالات لکھے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا کا قائل ہی نہیں تھا۔ اور کہ جو کچھ ہے یہی دنیا ہی ہے آئندہ کچھ نہیں۔

ایسے بے قید اور آزاد عقائد ہی ہیں جن کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ دنیا کا ۴ ۱ یا ۵ ۱ حصہ بدھ عقائد کا پابند ہے یا ان عقائد کو پسند کرتا ہے۔ مذہب کا دائرہ جتنا تنگ ہوگا اتنا ہی اس میں داخل ہونے والے لوگ بھی کم ہوں گے اور اتنی ہی نسبتاً پاکیزگی اور طہارت اس میں موجود ہوگی۔

اسلامی پابندیاں

اسلام نے شرائط پابندی ہر دو عورتوں اور مردوں کے واسطے لازم کیے ہیں۔ پردہ کرنے کا حکم جیسا کہ عورتوں کو ہے مردوں کو بھی ویسا ہی تاکیدی حکم ہے غضِّ بصر کا، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، حلال وحرام کا امتیاز، خدا کے احکام کے مقابلہ میں اپنی عادات رسم ورواج کو ترک کرنا وغیرہ وغیرہ ایسی پابندیاں ہیں جن سے اسلام کا دروازہ نہایت ہی تنگ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر ایک شخص اس دروازے میں داخل نہیں ہوسکتا۔ عیسائی باش و ہر چہ خواہی کن۔ اور (ان کا) مذہب بھی ایک بے قید مذہب ہے اور مسلمانوں میں بھی آجکل ان لوگوں کو دیکھا دیکھی ایک ایسا فرقہ پیدا ہوا ہے کہ وہ اسلام میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں۔ اصل میں یہ سب امور اسی بے قیدی اور آزادی کے خواہشمندوں کو سوجھتے ہیں۔ مگر یاد رکھیں کہ بے قیدی اور پاکیزگی تو نور وظلمت کی طرح آپس میں دشمن ہیں۔ لاہور میں بھی طبائع میں قبول حق کی استعداد تو معلوم ہوتی ہے مگر بے قیدی اور آزادی ان کے رستے میں ایک سخت روک ہے۔

لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک قوم مسلمان ہوئی اور انہوں نے آپؐ کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہمیں نماز معاف کر دی جاوے۔ مگر آپؐ نے ان کو یہی فرمایا کہ دیکھو جس مذہب میں خدا کی عبادت نہیں وہ مذہب ہی کچھ نہیں۔

جب دنیا کی حالت کے اس آزاد اور بے قید حصہ پر نظر ڈالی جاتی ہے تو دل پر ایک قسم کا زلزلہ اور لرزہ وارد ہوتا ہے اور خیال آتا ہے کہ حقیقت میں اصلاح کی راہ میں سے اسی پتھر کا اٹھنا مشکل ہے بجز اس کے کہ دنیا پر ایک عظیم الشان انقلاب آ جاوے جو دلوں میں خدا کی ہیبت اور سطوت اور جبروت وجلال کا یقین پیدا کر دے۔

آجکل اگر کوئی شراب کو چھوڑ بھی دیتا ہے اور کہتا ہے کہ شراب کا استعمال نا جائز ہے۔ اصل میں اس کا بھی یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس کثرت سے استعمال نہ کی جاوے یا یہ کہ باہر لوگوں کے سامنے گلی بازاروں میں نہ پی جاوے۔ گھر کی چاردیواری میں جو چاہیں کریں۔ مگر اسلام نے ان سب امور کے ساتھ سچے تقویٰ اور حقیقی پاکیزگی کی سخت تاکیدی شرط اور خدا کی حدود میں رہنے کی تاکید فرمائی ہے۔

ساری بندگیوں کا خلاصہ

اتنی تقریر کر چکنے پر چند دوستوں نے بیعت کی اور ان کے ساتھ ہی ایک بڑے ضعیف العمر بھی تھے۔ انہوں نے عرض کی کہ حضور میرے واسطے دعا کی جاوے کہ اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کو معاف کرے۔ (ایڈیٹر)

فرمایا۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ انسان ہر وقت اس بات کا خیال رکھے کہ عمر کا اعتبار نہیں۔ نہ معلوم کہ موت کس وقت انسان کو آن پکڑے گی اور پھر اس کے ساتھ توبہ استغفار کرتا رہے۔ خدا سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہنا اور اس کی رضا کے حصول کی تڑپ دل میں پیدا کرنا اسی میں سب دین اور دنیا آجاتا ہے۔ ساری بندگیوں کا خلاصہ یہی ہے کہ انسان کے گناہ معاف ہوں اور اس سے خدا خوش ہو جاوے۔

حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دریافت فرمایا کہ آپ کا نام کیا ہے؟ اس نے عرض کی کہ مستقیم۔ فرمایا۔ اچھا! خدا آپ کو مستقیم کرے۔ بابا مستقیم صاحب نے عرض کی کہ حضور میرا دل ہے کہ میں آپ کی کوئی خدمت کرنے کے قابل ہو سکوں۔ فرمایا۔ سب کچھ نیت میں آجاتا ہے۔ آپ کو آپ کی نیت کا ثواب مل گیا۔ آپ نے یہاں تک آنے کی جو تکلیف اٹھائی ہے اس کا بھی اجر دیا جاوے گا۔ اچھا! خدا پر راضی رہو۔

موجود ہ زم ا نہ میں اصلاح کاکام ا س کے بعد حضرت اقدسؑ نے پھر اس سلسلہ کلام کو شروع کر کے فرمایا کہ

زمانہ م

وجودہ کے حالات کے لحاظ سے مسئلہ اصلاح کچھ بہت ہی مشکل اور پیچیدہ سا نظر آتا ہے۔ آجکل کچھ ہَوا ہی اس کے خلاف چل رہی ہے۔ ہم جو اَمر پیش کر رہے ہیں وہ تو ایک داروئے تلخ ہے۔ یہ لوگ اپنی میٹھی میٹھی عادات چھوڑ کر کڑوی دوا جب ہی استعمال کر سکتے ہیں کہ اس کی حقیقت سے ان کو پوری واقفیت اور آگاہی ہو کہ واقع میں وہ مٹھائی ان کے حق میں مضر اور یہ داروئے تلخ آب حیات کا اثر رکھتی ہے اور جب ہی کچھ فائدہ ہو سکتا ہے۔ خدا نے جو قید لگائی ہے اس میں سراسر رحمت اور کرم ہے۔ بھلا ان بے قیدیوں کا انجام ہی کیا ہے؟ یہی ہوتا ہے کہ شرابخوری اور فسق و فجور میں یہ لوگ غرق نظر آتے ہیں اور پھر ان سے جو بد نتائج نکلتے ہیں وہ کیسے خطرناک ہیں؟ دنیا ان کا روز نظارہ کر رہی ہے۔ لقوہ، فالج، آتشک، سوزاک اور بعض اوقات جذام تک نوبت پہنچتی ہے اور اس طرح زندگی خطرناک مصائب میں مبتلا ہو کر خوار ہو جاتی ہے چاہیے کہ اس بے قیدی اور اس قید کے نتائج کا مقابلہ کر کے تو دیکھیں مگر یہ نوجوان جن کو نئی تعلیم کے مصالح لگے ہوئے ہیں سمجھتے نہیں۔ اس مصالح سے ہی ڈر آتا ہے مگر پھر بھی ناامید نہیں ہونا چاہیے۔

میں اس تجویز کا بھی مخالف نہیں جو اس گروہ کی سچی ہمدردی اور اصلاح کے واسطے کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے بلکہ زور سے اس کے موافق ہوں۔ سَو میں سے ایک ہی سہی ورنہ ان کے ٹھٹھا ہنسی کرنے سے ہی ہمیں اپنی محنت کا ثواب مل رہے گا۔

قاعدہ کی بات ہے کہ جب کسی ایسے مجمع میں جہاں سَو پچاس آدمی جمع ہوں کوئی بات کہی جاتی ہے تو ان میں اختلاف ضرور ہو جاتا ہے۔ اگر بعض ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں تو بعض کو اس صداقت کی سمجھ بھی آ ہی جاتی ہے اگرچہ یہ سچ ہے کہ صداقت کے حصہ میں تھوڑے ہی آتے ہیں مگر وہ تھوڑے ہی جوانمرد ہوتے ہیں کیونکہ صداقت کا قبول کرنا بھی ایک جوانمردی ہے اور پھر حق اور صداقت میں ایک رعب اور طاقت ہوتی ہے۔ اس طرح سے ان کی قوت کے ساتھ ایک اور قوت شامل ہو کر بہت بڑی طاقت ہو جاتی ہے۔

خبیث سے طیّب کی تمیز

اور پھر ایک اور خدا کا فضل ہمارے حصہ میں یہ آیا ہے کہ ہماری طرف آنے والے حلیم، سلیم اور نیک آدمی ہی ہوتے ہیں ان لوگوں کے گندے اشتہاروں اور ان کی خلاف تہذیب اور خارج از انسانیت تحریروں، تقریروں اور گالی گلوچ دیکھ کر تو ہمیں خوش ہی ہونا پڑتا ہے۔ ہمیں فائدہ ہی کیا ہوتا اگر یہ گندے لوگ ہم میں آ شامل ہوتے۔ خدا نے ہمیں جو بتایا ہے اور وہ خدا کے کلام میں داخل ہے کہ میں خبیث سے طیّب کو الگ کرنا چاہتا ہوں۔ اس تمیز اور تمحیص کے ذرائع بھی خود خدا نے ہی بنا دئیے ہیں ورنہ ممکن تھا کہ لوگ موت۱؎ کے بھی قائل ہو جاتے اور اس طرح سے ان میں اور ہم میں کوئی اختلاف نہ رہ جاتا۔ مگر خدا جو خبیث اور طیّب میں فرق کرنا چاہتا ہے اس نے اپنی حکمت سے ان میں اور ہم میں کچھ ایسے اختلاف ڈال دیئے کہ ان کو ہم سے بالکل الگ ہی کر دیا۔

یہ عجیب بات ہے کہ ان کے پاس کوئی قوی دلیل نہیں ہے۔ مگر پھر بھی یہ غیظ و غضب میں بھر رہے ہیں۔ اگر کہیں قرآن شریف میں حضرت مسیح کی زندگی کا لفظ صریح طور سے لکھا ہوتا یا احادیث صحیحہ سے حضرت مسیحؑ کی زندگی ثابت ہوتی جب تو ان کا حق بھی تھا کہ غیظ و غضب کرتے اور ہمیں جو دل چاہتا کہتے۔ مگر جب خود قرآن اور حدیث ہی ان لوگوں کو دھکے دے رہے ہیں تو پھر ان کا حق نہیں ہے کہ اس قدر جھوٹا جوش دکھاویں۔

اصل بات یہ ہے کہ اس پُرفتن زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہے کہ میل کچیل سے نکال کر ایک علیحدہ فرقہ بنا دے اور دنیا کو دکھا دے کہ اسلام اس کو کہتے ہیں۔

حالات دو ہی قسم کے ماتحت ہوتے ہیں۔ عملی اور اعتقادی۔ مگر اس زمانہ کے مسلمانوں نے ہر دو رنگ میں اسلام کو بدنام کیا ہے۔ اسلام ہر گند سے پاک اور ہر میدان میں غالب ہے مگر ہم نہیں سمجھتے کہ ان لوگوں نے جو ہتھیار اختیار کیے ہیں ان سے کبھی اسلام غالب ہو سکے۔

جہنم دائمی نہیں

اسلام ایک ایسا پاک اور کامل مذہب ہے کہ اس کے کسی اعتقاد پر اعتراض ہو ہی نہیں سکتا۔ معاد کے متعلق بعض لوگوں نے اعتراض کیا تھا کہ اگر دوزخ کا خلود اور حالت کفر میں مَر جانے کی سزا بھی ابدالآباد اور لا انقطاعِ زمانہ کے واسطے مانی جاوے تو اس طرح سے ایک ظلم لازم آتا ہے اور یہ اَمر خدا کے بے انتہا رحم کے بر خلاف ہے۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ دوزخ کی ابدیت، جنت کی ابدیت اور خلود کی طرح لا انقطاع نہیں ہے۔ کیونکہ جن قویٰ سے انسان ارتکاب گناہ کرتا ہے آخر ان کا خالق بھی تو خود خدا ہی ہے۔ انسان وہ قویٰ اور وہ فطرت آخر گھر سے تو لایا نہیں۔ مانا کہ انسان فعل اور ترک فعل میں بعض اوقات دخل و تصرّف رکھتا ہے اور خود بدی کرتا ہے مگر چونکہ خالق فطرت خدا تھا اور اس نے خود فرمایا ہے الۡاِنۡسَانُ ضَعِیۡفًا(النساء:۲۹) لہٰذا اس کو اس کا فائدہ بھی دیا جانا چاہیے تھا۔ پس گناہ کی سزا ہوگی اور عذاب ہوگا مگر یہ ابدیت وہ نہیں جس طرح خدائی ابدیت ہے ایک خاص وقت تک جہنم میں رکھ کر اصلاح ہو جانے پر رہائی ہو جاوے گی۔ کوئی مانے یا نہ مانے مگر خدا کے کلام سے یہی ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ جہاں بہشت کا ذکر ہے وہاں عَطَآءً غَیۡرَ مَجۡذُوۡذٍ(ھود:۱۰۹) کا لفظ ہے اور جہاں جہنم کا ذکر ہے وہاں یہ فرمایا کہ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّکَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیۡدُ(ھود:۱۰۸) ان آیات میں غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بہشتیوں کو خوف نہیں دلایا گیا مگر دوزخیوں کو مخلصی کی امید ضرور دلائی ہے۔

ایک حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر بہشت کے متعلق عَطَآءً غَیۡرَ مَجۡذُوۡذٍ(ھود:۱۰۹) کا لفظ نہ ہوتا تو بہشت والوں کو بھی کھٹکا ہی رہتا۔ مگر خدا نے عَطَآءً غَیۡرَ مَجۡذُوۡذٍ(ھود:۱۰۹) کا لفظ بڑھا کر وہ کھٹکا ہی مٹا دیا کہ یہ خدا کی عطا ہے وہ واپس نہیں لی جاتی اور اس کی نسبت ہم نے ایک اور حدیث بھی دیکھی ہے جس میں لکھا ہے کہ یَاْتِیْ عَلٰی جَھَنَّمَ زَمَانٌ لَّیْسَ فِیْـھَا اَحَدٌ وَنَسِیْمُ الصَّبَا تُـحَرِّکُ اَبْوَابَـھَا۔

اب دیکھو! یہ کیسا پاک اصول اور عقیدہ ہے جو اسلام نے دوزخ اور بہشت کے متعلق مسلمانوں کو سکھایا ہے جس میں ایک ذرہ بھر بھی ظلم نہیں اور نہایت پاک اور حق وحکمت کا اصول ہے کہ ایک خاص حد تک سزا ہوگی۔ بعد اس کے نجات ہو جاوے گی کیونکہ آخر فطرتوں اور قویٰ انسانی کا خالق تو خدا ہی ہے کوئی فطرت سلیم اور کانشنس منظور ہی نہیں کر سکتا کہ ایک کمزور اور ناتواں انسان کے گناہ کو ایسا عظیم الشان مانا جاوے جو کبھی بخشا ہی نہ جاوے۔

معراج کی حقیقت

دوسرا معاملہ معراج کا ہے۔ بے شک ہم بھی مانتے ہیں کہ جسم کے ساتھ آپ گئے تھے۔ بیداری بھی تھی اور جسم بھی تھا مگر وہ ایک اعلیٰ درجہ کی کشفی حالت تھی اس دلیل کے واسطے بخاری کو دیکھ لو کہ یہ سارا واقعہ لکھنے کے بعد لکھا ہوگا کہ ثُمَّ اسْتَیْقَظَ بھلا اس کے کیا معنے؟ دیکھو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جن کو بہت عرصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کا (موقع) ملا تھا اور جن کا علم بھی بہت بڑا تھا ان کی یہ روایت ہے۔ اسْتَیْقَظَ سے یہ مراد نہیں کہ آپؐ نے خواب دیکھا تھا بلکہ ایک قسم کی بیداری تھی اور اس میں یہ بھی شعور تھا کہ مع جسم گئے۔ یہ ایک خدا کا تصرّف ہوتا ہے کہ غیبوبتِ حِس نہیں ہوتی اور یہ ایک نکتہ ہے کہ علم سے حل نہیں ہوسکتا بلکہ تجربہ صحیحہ اس کو حل کر سکتا ہے۔ فلسفہ اور طبعی کا اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کوئی اعتراض کے قابل بات ہے مگر بعض لوگ خود اسلام کو بگاڑتے اور قابلِ اعتراض بناتے ہیں۔۱؎

۱۲؍ مئی ۱۹۰۸ء

(بمقام لاہور قبل نماز ظہر)

انگلستان کے پروفیسر ریگ سے گفتگو

پروفیسر ریگ جو کہ انگلستان کا رہنے والا ایک بڑا بھاری ماہر علم ہیئت ہے۔ وہ تمام دنیا کی سیر کے ارادے سے وطن سے نکلا اور علم ہیئت پر بڑے بڑے لیکچر دیتا پھرتا ہے۔ چنانچہ چند روز سے لاہور میں وارد ہے اور ایک لیکچر لاہور میں بھی دیا جس میں بڑے بڑے انگریز لیکچر سننے کے واسطے شامل تھے۔ حضرت مفتی محمد صادق بھی حسن اتفاق سے اس لیکچر میں موجود تھے۔ لیکچر کے خاتمہ پر مفتی صاحب ممدوح نے پروفیسر صاحب سے ملاقات کی اور حضرت اقدسؑ کے دعاوی اور دلائل وغیرہ ان کو سنائے۔ چنانچہ پروفیسر موصوف اسی وقت تیار ہو گیا کہ حضرت اقدسؑ کے حضور حاضر ہو مگر مفتی صاحب نے کہا کہ پہلے میں حضرت اقدسؑ سے اجازت لے کر وقت مقرر کرالوں پھر آپ کو لے جاؤں گا۔ چنانچہ حضرت اقدسؑ نے اجازت دی اور ۱۲؍مئی قبل ظہر ملاقات ہوئی۔ (ایڈیٹر)

سوال۔۱؎ میں ایک علمی مذاق کا آدمی ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ یہ زمین جس میں ہم رہتے ہیں ایک چھوٹی سی زمین ہے اور ہزار در ہزار اور لاکھ در لاکھ حصے اس کے علاوہ مخلوقِ الٰہی کے موجود ہیں اور یہ ان کے مقابلہ میں ایک ذرّہ کی بھی حقیقت نہیں رکھتی تو پھر کیا وجہ کہ خدا کے فضل کو صرف اسی حصہ زمین یا کسی خاص مذہب وملّت میں ہی محدود رکھا گیا؟

جواب۔ دراصل یہ صحیح نہیں اور نہ ہی ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ ایک خاص فرقے یا قوم کے ذریعہ خدا اپنی ہستی ظاہر کرتا ہے۔ خدا کو کسی خاص قوم سے انس یا رشتہ نہیں۔ بلکہ صحیح یہ ہے کہ خدا تمام دنیا کا خدا ہے اور جس طرح اس نے ظاہر جسمانی ضروریات اور تربیت کے واسطے مواد اور سامان تمام قسم کی مخلوق کے واسطے بلا کسی امتیاز کے مشترکہ طور سے پیدا کیے ہیں اور ہمارے اصول کی رو سے وہ ربُّ العالمین ہے اور اس نے اناج، ہوا، پانی، روشنی وغیرہ سامان تمام مخلوق کے واسطے بنائے ہیں اسی طرح سے وہ ہر ایک زمانہ میں ہر ایک قوم کی اصلاح کے واسطے وقتاً فوقتاً مصلح بھیجتا رہا ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف میں ہے وَاِنۡ مِّنۡ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ(فاطر:۲۵) خدا تمام دنیا کا خدا ہے۔ کسی خاص قوم سے اس کو کوئی رشتہ نہیں اور یہ جو مختلف اوقات میں مختلف آسمانی کتابیں آئی ہیں ان میں بھی دراصل کوئی اختلاف نہیں کیونکہ جو قابل اصلاح امور ہوتے ہیں جب دنیا عملی رنگ سے بالکل بگڑ جاتی ہے اور فسق و فجور اور چوری شرارت وغیرہ پیدا ہو جاتی ہیں اور لوگ پاکیزگی سے دور ہو کر نفسانی شہوات سے مغلوب ہو جاتے ہیں اور اعتقادی طور سے بھی خدا کو چھوڑ کر بُت پرستی کی طرف جھک جاتے ہیں تو پھر خدا جو انسان کا جسمانی اور روحانی مربی ہے اس کی غیرت تقاضا کرتی ہے کہ ان مفاسد کی اصلاح کے واسطے کوئی شخص پیدا کرے اور اس طرح کا مصلح قانونِ قدرت سے باہر نہیں۔ جس طرح ہمارے واسطے وہ اناج جو حضرت آدمؑ یا اور گذشتہ انبیاء کے وقت میں پیدا ہوا تھا باعث زندگی نہیں ہوسکتا اور وہ پانی جو پہلے لوگوں کے واسطے تھا ہماری پیاس نہیں مٹا سکتا اسی طرح سے روحانی طور سے بھی ہمیں تازہ بہ تازہ روحانی غذا اور پانی کی ضرورت ہے۔

یہ عادت اللہ ہے کہ جس طرح سے جسمانی سلسلے کی پرورش اور تربیت کرتا ہے اور گذشتہ پرورش کافی نہیں ہوتی اسی طرح سے روحانی سلسلہ کا حال ہے اور روحانی جسمانی دونوں سلسلے پہلو بہ پہلو چلتے ہیں۔ اگر کوئی شخص خدا سے ہی منکر ہو تو اس بحث کا الگ ایک طریق ہے۔ خدا کے قائل کو چاہیے کہ دونوں سلسلوں کو بالمقابل رکھ کر ایک ہی نظر سے دیکھ کر فائدہ اٹھائے۔ جس نے جسمانی سلسلہ پیدا کیا ہے اسی نے روحانی سلسلہ پیدا کیا ہے۔ جس طرح وہ جسمانی سلسلہ کی تازہ بہ تازہ پرورش کرتا ہے اسی طرح سے وہ روحانی سلسلہ کی بھی تازہ بہ تازہ پرورش کرتا ہے۔ جس طرح جسمانی حالت ایک تازہ پانی کی محتاج ہے اسی طرح روحانی حالت بھی تازہ آسمانی وحی کی محتاج ہے۔ جس طرح جسم بغیر پرورش کے مَر جاتا ہے اسی طرح روح بھی بغیر پرورش کے مُردہ ہو جاتی ہے۔ روحانی امور میں اگر ہمیشہ گذشتہ ہی گذشتہ کا حوالہ دیا جاوے تو بجز اس کے کہ روحانی حالت ایک مُردہ حالت ہو جاوے گی اور کیا ہوسکتا ہے؟

خدا ہمیشہ طبعاً چاہتا ہے کہ وہ پہچانا جاوے۔ وہ اپنی شناخت اور زندگی کے ثبوت میں ہمیشہ حقائق، معارف اور تازہ بہ تازہ نشان دکھایا کرتا ہے اور یہ امور کوئی عقلی استبعاد بھی نہیں رکھتے۔ یہی سلسلہ ہمیشہ سے چلا آتا ہے۔ ہزاروں لاکھوں انبیاء آئے انہوں نے عملی طور سے ثبوت دئیے۔ دنیا پر حجت پوری کی۔ اب کوئی شخص صرف یہ کہہ کر (کہ) میں سائنس دان یا فلاسفر ہوں ایک ایسی متواتر اور ثابت شدہ شہادت کو کیسے توڑ سکتا ہے؟ چاہیے کہ جس طرح سے اس گروہ پاک نے عملی زندگی اور نمونے سے اپنے دعویٰ کا ثبوت دیا اسی طرح سے اس کا ردّ بھی کیا جاتا ہے۔ ہاں البتہ ان لوگوں کو یہ کہنے کا حق پہنچتا تھا کہ پرانے قصے کہانیاں کیوں پیش کی جاتی ہیں کوئی زندہ نمونہ یا ثبوت پیش کیا جاوے۔ سو اس کے واسطے ہم تیار ہیں۔ صرف ہیئت دان اپنی ہیئت وغیرہ یا نظام شمسی میں غور کرنے سے خدا کے وجود کا یقینی ثبوت بہم نہیں پہنچا سکتا۔ البتہ ایک امکان پیدا ہوسکتا ہے کہ خدا ہونا چاہیے۔ یہ بات کہ خدا ہے اور یقیناً ہے ہمیشہ انبیاء کے پیش کردہ اصول سے ہی ثابت ہوتا رہا ہے۔ اگر ہماری طرح کے انسان دنیا میں نہ آتے تو خدا کے ثبوت کا کوئی حقیقی اور کامل ذریعہ ہرگز ہرگز دنیا میں نہ ہوتا۔ زیادہ سے زیادہ اگر کوئی منصف مزاج ہوتا اور شرافت بھی اس کے حصہ میں آئی ہوتی تو اس اَبْلغ اور مُحکم ترتیب اور نظام شمسی وغیرہ سے اتنا نتیجہ نکال سکتا تھا کہ خدا ہونا چاہیے۔ باقی یہ اَمر کہ یقیناً خدا ہے اور وہ دنیا کا مالک، متصرّف اور حکمران ہے۔ بجز خدا سے آ کر خدا نمائی کرنے والوں کے ممکن نہیں۔ وہ لوگ مشاہدہ کرانے والے ہوتے ہیں اور تازہ بتازہ نشانوں کے پیش کرنے سے گویا خدا کو دکھا دیتے ہیں۔

سوال۔ لکھا ہے کہ ایک آدم اور حوّا تھے۔ حوّا ایک کمزور عورت تھی۔ اس نے ایک سیب کھا لیا۔ اب اس کے ایک سیب کھانے کی سزا ہمیشہ جاری رہے گی۔ یہ اَمر میری سمجھ میں نہیں آتا اور کہ یہ زمین جس سے ہمارا تعلق ہے اس کے سوا اور ہزاروں کروڑوں سلسلے خدا نے پیدا کیے ہیں تو خدا کی قدرت اور انعامات کو کیوں اس زمین تک محدود کیا جاتا ہے۔

جواب۔ ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ اس آسمان اور زمین کے سوا اور کوئی سلسلہ ہی نہیں۔ بلکہ ہمارا خدا کہتا ہے کہ وہ ربُّ العالمین ہے یعنی کہ وہ کل جہانوں کا ربّ ہے اور کہ جہاں جہاں کوئی آبادی ہے وہاں وہاں ہی اس نے رسول بھیجے ہیں۔ عدم علم سے عدم شی ء لازم نہیں آتی۔ جس خدا نے اس ایک چھوٹی سی زمین کے واسطے اتنا وسیع سامان پیدا کیا اس نے کیوں دوسری تمام آبادیوں کے واسطے سامان پیدا نہ کیے ہوں گے؟ وہ سب کا یکساں ربّ ہے اور سب کی ضرورتوں سے واقف۔

باقی یہ کہنا کہ انسانی رنج ومحن حوّا کے سیب کھانے کی وجہ سے ہیں اسلام کا یہ عقیدہ نہیں۔ ہمیں تو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی(الانعام:۱۶۵) زید کے بدلے بکر کو سزا نہیں مل سکتی اور نہ ہی اس سے کوئی فائدہ متصور ہے۔ حوّا کی سیب خوری ان مشکلات اور رنج و سزا کا باعث نہیں ہے بلکہ ان کے وجوہات قرآن نے کچھ اور ہی بیان فرمائے ہیں۔

سوال۔ دو باتیں میں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ ایک یہ کہ گناہ کیا چیز ہے۔ ایک ملک کا انسان ایک اَمر کو گناہ یقین کرتا ہے۔ حالانکہ ایک دوسرے ملک کا انسان اسی اَمر کو گناہ نہیں سمجھتا۔ انسان ایک کیڑے سے ترقی کرتا کرتا انسان بنا اور پھر حق و باطل میں امتیاز حاصل کیا۔ صداقت اور جھوٹ میں فرق کیا۔ نیکی اور بدی کو سمجھا۔ گناہ اور ثواب کا علم پیدا کیا۔ بایں ہمہ پھر اس اَمر میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایک اَمر ایک شخص کے نزدیک گناہ۔ دوسرا اس کو گناہ نہیں سمجھتا اور کرتا ہے۔

دوسرا یہ کہ شیطان کیا چیز ہے۔ خدا کے اس علم اور قدرت کا مالک ہوتے ہوئے بھی شیطان کا اس قدر قابو پا جانا کہ اس کی اصلاح کے واسطے خود خدا کو دنیا میں آنا پڑا۔ اس سے کیا مراد ہے؟

گناہ کی حقیقت

جواب۔ اصل میں جو لوگ خدا کی ہستی کو ماننے والے ہیں۔ ہم ان کے مذاق پر گفتگو کرتے ہیں۔ خدا کی ذات انسان کی زندگی کے واسطے ایک دائمی راحت اور خوشی کا سرچشمہ ہے۔ جو شخص اس سے الگ ہوتا ہے یا کسی نہ کسی پہلو سے اس کو چھوڑتا ہے۔ اس حالت میں کہا جاتا ہے کہ اس شخص نے گناہ کیا۔ خدا نے فطرت انسانی پر نظر ڈال کر جو اعمال باریک در باریک رنگ میں خود انسان کی اپنی ہی ذات کے واسطے مضر پڑنے والے تھے ان کا نام بھی گناہ رکھا۔ گو بعض اوقات انسان ان کی مضرت کو نہ سمجھ سکتا ہو مثلاً چوری کرنا اور دوسروں کے حقوق میں دست اندازی کر کے ان کو نقصان پہنچانا۔ گویا خود اپنی پاک زندگی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ زانی کا زنا کرنا اور دوسروں کے حق میں دست درازی کرنا اور خود اپنی فطرت کی پاکیزگی کو برباد کرنا اور طرح طرح کے مشکلات جسمانی، روحانی میں مبتلا ہونا ہے اس طرح سے وہ امور بھی جو فطرتِ انسانی کی پاکیزگی اور طہارت کے خلاف ہوں گناہ کہلاتے ہیں اور پھر ان امور کے لوازم قریبہ یا بعیدہ بھی گناہ کے ضم ضمیمہ ہی سمجھے جاتے ہیں۔ خدا جو سب سے بڑا اور سب سے زیادہ علم والا، انسان اور ذرّہ ذرّہ کا خالق حقیقی ہے اور وہ ان کے خواص کا بھی خالق اور داتا ہے۔ وہ اپنی کامل حکمت اور کامل علم سے ایک بات تجویز کرتا ہے کہ یہ تمہارے حق میں مضر ہے اس کا ارتکاب ہرگز ہرگز تمہارے حق میں مفید نہیں بلکہ سراسر مضر ہے تو انسان، ہاں سلیم الفطرت انسان کا یہ کام نہیں کہ اس کی خلاف ورزی کرے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ڈاکٹر جب ایک مریض کے واسطے کوئی پرہیز تجویز کرتا ہے تو بیمار کس طرح بے چون و چرا اس کی تعمیل کرتا ہے کیوں ایسا کرتا ہے؟ اس لئے کہ وہ ڈاکٹر کو اپنے سے زیادہ وسیع معلومات رکھنے والا یقین کرتا ہے۔

غرض اسی طرح بعض امور ایسے بھی ہیں کہ وہ انسان کے جسم یا روح کے واسطے مضر ہوتے ہیں خواہ انسان سمجھے یا نہ سمجھے بعض امور ایسے ہیں کہ اگر خدا ان کے واسطے نہ بھی حکم دیتا تو بھی وہ مضر ہی تھے طب جسمانی میں بھی بعض گناہ رکھے گئے ہیں۔ قواعد طب کا علم نہ ہونا عذر نہیں ہو سکتا اس شخص کے واسطے جو خلاف ورزی قواعد طب کرتا ہے۔ اگر کسی کو یقین نہ ہو تو ڈاکٹروں اور اطباء سے پوچھ لو۔ یاد رکھنے کے لائق نکتہ یہی ہے کہ گناہ کی جڑ وہی امور ہیں جن کے کرنے سے سچی پاکیزگی اور تقویٰ طہارت سے انسان دور جا پڑے۔ خدا کی سچی محبت اور اس کا وصال ہی سچی راحت اور حقیقی آرام ہے۔ پس خدا سے دوری اور الگ ہونا بھی گناہ اور باعث دکھ اور رنج و مصیبت ہے جن باتوں کو خدا اپنی تقدیس کی وجہ سے پسند نہیں کرتا وہی گناہ ہے۔ اگر بعض امور میں لوگوں کا اختلاف ہے تو دوسری طرف اکثر حصہ گناہ کا دنیا میں مشترکہ طور سے مسلّم ہے۔ جھوٹ، چوری، زنا اور ظلم وغیرہ ایسے امور ہیں کہ تمام مذہب وملّت کے لوگ مشترکہ طور سے ان کو گناہ ہی یقین کرتے ہیں۔ مگر یاد رکھو کہ گناہ کی جڑ وہی امور ہیں جو خدا سے بعید کرتے ہیں۔ خدا کی تقدیس کے خلاف ہیں۔ خدا کے ذاتی تقاضے کے برخلاف اور فطرت انسانی کے واسطے مضر ہیں وہی گناہ ہیں۔ ہر انسان گناہ کو محسوس کرتا ہے۔ دیکھو! جب کوئی کسی بے گناہ کو طمانچہ مارتا ہے اور جانتا ہے کہ میرا حق نہیں کہ ایسا کروں۔ وہ آخر ایک وقت جب ٹھنڈے دل سے بیٹھے گا اپنے دل میں خود نادم اور شرمندہ ہوگا اور محسوس کرے گا کہ میں نے بُرا کیا۔ ایک انسان جو کسی بھوکے کو کھانا دیتا ہے۔ پیاسے کو پانی پلاتا ہے۔ ننگے کو کپڑا پہناتا ہے وہ اپنے اندر ہی اندر ایک قسم کا احساس پاتا ہے کہ میں نے نیکی کی اور اچھا کام کیا۔ انسان کا دل اور کانشنس نورِ ایمان ہر کام کے وقت اس کو معلوم کرا دیتا ہے کہ آیا اس نے ثواب کیا یا گناہ کیا؟

شیطان

شیطان کے لئے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انسان کی سرشت اور بناوٹ میں دو قوتیں رکھی گئی ہیں اور وہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں اور یہ اس واسطے رکھی گئی ہیں کہ انسان ان کی وجہ سے آزمائش اور امتحان میں پڑ کر بصورت کامیابی قربِ الٰہی کا مستحق ہو۔ ان دو قوتوں میں سے ایک قوت نیکی کی طرف کھینچتی ہے اور دوسری بدی کی طرف بلاتی ہے۔ نیکی کی طرف کھینچنے والی قوت کا نام مَلک یا فرشتہ ہے اور بدی کی طرف بلانے والی قوت کا نام شیطان یا بالفاظ دیگر یوں سمجھ لو کہ انسان کے ساتھ دو قوتیں کام کرتی ہیں۔ ایک داعی خیر اور دوسری داعی شر۔ اگر کسی کو شیطان اور فرشتہ کا لفظ گراں گذرتا ہے تو یوں ہی سمجھ لے انسان میں دو قوتوں سے تو کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔ خدا نے کسی بدی کا کبھی ارادہ نہیں کیا۔ خدا نے جو کیا خیر ہی خیر کیا ہے۔

دیکھو! اگر دنیا میں گناہ کا وجود نہ ہوتا تو نیکی بھی نہ ہوتی۔ نیکی گناہ سے پیدا ہوتی ہے۔ گناہ کے وجود سے ہی نیکی کا وجود پیدا ہوتا ہے۔ دیکھو! اگر کسی کو زنا کا موقع ملتا ہے اور اس میں طاقت بھی موجود ہے اور پھر وہ گناہ سے بچتا ہے تو اس کا نام نیکی ہے۔ اگر کسی کو چوری اور ظلم وغیرہ گناہ کے مواقع ملتے ہیں اور پھر وہ اس کے کرنے پر قادر بھی ہو۔ بایں ہمہ وہ ان کا ارتکاب نہ کرے اور اپنے آپ کو بچاوے تو وہ نیکی کرتا ہے۔ گناہ کا موقع اور قدرت پاکر گناہ نہ کرنا یہی ثواب اور نیکی ہے۔

سوال۔ دنیا میں دو مختلف طاقتیں کام کرتی ہیں۔ مثبت اور منفی۔ اگر ہم ہمیشہ مثبت سے کام لیتے رہیں اور منفی سے کام نہ لیں تو ایک دن ایسا ہوگا کہ منفی آہستہ آہستہ جمع ہو کر زور پکڑ جاوے گی اور کسی وقت یک دفعہ پھوٹ کر دنیا کو تباہ کر دے گی۔ یہی حال نیکی اور بدی کا ہے اگر تمام دنیا میں نیکی ہی نیکی کی جاوے اور کوئی بدی نہ کرے تو اس طرح ایک دن بدی زور پکڑ کر دنیا کو تباہ کر دے گی۔

جواب۔ فرمایا۔ دیکھو! اگر ایک شخص چلّا کر بولنے پر قادر ہی نہیں تو اس کا نرمی سے بولنا اخلاق فاضلہ میں سے نہیں سمجھا جاوے گا۔ اگر انسان ہمیشہ ایک ہی حالت پر قائم رہتا اور دوسرا پہلو بدل ہی نہ سکتا تو پھر نیکی نیکی ہی نہ رہ سکتی۔ افراط اور تفریط دونوں کی موجودگی ہی نیکی پیدا کرتی ہے۔ یکطرفہ حالات ہوتے اور دوسرے قویٰ انسان کو دئیے ہی نہ جاتے اور انسان ہمیشہ نیکی کے واسطے ہی مجبور ہوتا۔ بدی کرنے کی طاقت ہی اسے نہ ملتی تو پھر فرمانبرداری اور نیکی نام ہی کس چیز کا ہوتا۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایک حد تک اختیار دیا ہے۔ ادھر بھی پہلو بدل سکتا ہے۔ نیکی کی بھی طاقت ہے اور بدی کا بھی اختیار۔ اب جیسا کرے گا اس کا اجر پاوے گا۔

دیکھو! اگر اخلاق بد نہ ہوتے تو اخلاقِ فاضلہ کن کا نام ہو سکتا۔ اخلاقِ رذیلہ ہوئے جب ہی اخلاقِ فاضلہ بھی ہوئے۔ کوئی اخلاقِ بد انسان کے ذہن میں ہوتے ہیں جب ہی تو انسان ان کا نقشہ ذہن میں رکھ کر ان کی مذمت کرتا اور اخلاقِ فاضلہ کسی خاص کام کا نام رکھتا ہے اور ان کی تعریف کرتا ہے۔ اگر ذہن میں کوئی کسی اَمر بد کا نقشہ موجود نہیں تو پھر اخلاق حسنہ بھی کچھ نہیں۔ ہمیشہ بدی سے ہی نیکی ممتاز کی جاتی ہے اگر ایک ہی پہلو پیدا کیا جاتا تو یقیناً کوئی اجر بھی نہ ہوتا اور کوئی خوشنودی بھی نہ ہوتی۔ (رنج سے راحت، دکھ سے سکھ، ظلمت سے نور، کڑوے سے میٹھا، زہر سے تریاق، بد سے نیک اور گناہ سے نیکی پیدا ہوتی ہے۔ اگر یہ ضدیں دنیا میں پیدا نہ کی جاتیں تو پھر زندگی ہی بدمزہ ہو جاتی) اگر صرف ایک ہی پہلو ہوتا تو وہ تو فطرت میں داخل تھا۔ اس پر اجر کیسا اور ثواب کیا؟ وہ ذریعہ رضامندی کیوں کر ہو سکتا؟ وہ تو ایک مجبوری تھی کہ فطرت اًانسان سے اس کے مطابق ہی اعمال سرزد ہوتے۔ یاد رکھو کہ انسان ذو اختیار بنایا گیا ہے۔ انسان کو اختیار ہے کہ نیکی کرے یا بدی، احسان کرے یا ظلم، مروت کرے یا بخل، ہمیشہ دونوں پہلو ؤں پر لحاظ رکھ کر ہی کسی خاص انسان کے متعلق رائے زنی ہو سکتی ہے کہ نیک ہے یا بد۔ اعمال کا مفہوم ہی یہی ہے کہ دوسری طرف بھی قدرت رکھتا ہو جو انتقام لینے کی طاقت رکھتے ہوئے انتقام نہیں لیتا وہ نیکی کرتا ہے۔ مگر جس کو انتقام کے واسطے مُکّا مارنے کا ہاتھ ہی نہیں دیا گیا وہ کس طرح کہہ سکتا ہے کہ میں نے نیکی کی اور احسان کیا کہ مُکّا نہیں مارا۔ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰٮہَا وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰٮہَا(الشّمس:۱۰، ۱۱) اس آیت کریمہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نیکی اور خوبی کا مدار ہی دونوں پہلوؤں پر ہے جس کو ایک ہی قوت دی گئی ہے اور دوسری قوت ہی اس کو عطا نہیں ہوئی وہ تو ایک نقش ہے جو مٹ نہیں سکتا۔ جو شخص مَلک اور شیطان کا انکار کرتا ہے وہ تو گویا بدیہات اور امورِ محسوسہ مشہودہ کا انکاری ہے۔ ہم ہر روز دیکھتے ہیں کہ لوگ نیکی بھی کرتے ہیں اور ارتکاب جرائم بھی دنیا میں ہوتا ہے اور دونوں قوتیں دنیا میں برابر اپنا کام کر رہی ہیں اور ان کا تو کوئی فرد بشر بھی انکار نہیں کر سکتا۔ کون ہے جو ان دونوں کا احساس اور اثر اپنے اندر نہیں پاتا؟ یہاں کوئی فلسفہ اور منطق پیش نہیں جاتی جبکہ دونوں قوتیں موجود ہیں اور اپنی اپنی جگہ اپنا اپنا کام کر رہی ہیں۔

باقی یہ اَمر اگر نیکی ہی نیکی کی جاوے تو بدی زور پکڑ کر دنیا کو تباہ کر دے گی۔ اس کے متعلق ہم صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں اس سے تعلق نہیں کہ ایسا ہو تو ایسا ہو اور ایسا ہو تو ایسا ہو۔ ہم اتنا دیکھتے ہیں کہ طبیعتیں مستعد بنائی ہیں۔ کیا اخلاقِ فاضلہ کے واسطے اور کیا رذیلہ کے واسطے؟ ہم اس سے آگے نہیں بڑھتے۔

سوال۔ عیسائیوں میں یہ ایک مسئلہ مشہور ہے کہ دنیا گمراہ ہو گئی تھی مگر خدا نے پھر شیطان سے اس کو خریدا کیا یہ صحیح ہے؟

جواب۔ فرمایا۔ ہم ایسی لغو باتوں کے قائل نہیں۔ یہ ایک لغو بات ہے۔ عیسائیوں سے پوچھا جاوے۔

سوال۔ عیسائی عقائد سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمؑ ایک اعلیٰ حالت سے ادنیٰ حالت کی طرف آگئے تھے حالانکہ انسان ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ترقی کرتا ہے۔

جواب۔ فرمایا کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں اور نہ ہی ہم اس کو مانتے ہیں۔

سوال۔ میں آئندہ زندگی کو مانتا ہوں کہ وہ ایک چولہ ہے۔ انسان اس کے ذریعہ ایک حالت سے دوسرے حالت میں چلا جاتا ہے۔ مجھے سپر چول ازم سے خاص دلچسپی ہے۔ میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ آئندہ زندگی کس طرح سے ہوگی اور وہاں کیا کیا حالات ہوں گے؟

جواب۔ فرمایا۔ بیشک اس زندگی کا خاتمہ ہو کر ایک اور نئے رنگ کی زندگی شروع ہوگی مگر اس وقت ابھی وقت نہیں کہ اس کی تفصیل بیان کریں۔ جنہوں نے اس زندگی میں اچھی تخمریزی کی ہوگی۔ ان کے واسطے ایک پاک سلسلہ شروع ہوگا اور جنہوں نے بُری تخم ریزی کی ہوگی۔ ان کے لئے مشکلات اور عذاب کا سلسلہ ہوگا۔ اس نئی زندگی کا ایک قسم کا تعلق اس زندگی سے بھی رہتا ہے اور بالکل ٹوٹ نہیں جاتا۔ مثال کے طور پر عالم خواب موجود ہے۔ بیداری میں ایک زندگی ہوتی ہے مگر سوتے ہی ایک عظیم الشان انقلاب آجاتا ہے بعض تفاصیل معلوم تو ہیں مگر ان کا بیان اس وقت نہیں ہوسکتا کیونکہ اس اَمر کے واسطے ایک لمبا وقت چاہیے۔ منٹوں میں یہ اَمر طے نہیں ہوسکتا۔

سوال لیڈی صاحبہ۔ آیا یہ ممکن ہے کہ جو لوگ اس دنیا سے گذر گئے ہیں اور مَرچکے ہیں ان سے باتیں ہوسکیں یا کوئی تعلق یا واسطہ ہو سکے اور ان کے صحیح حالات معلوم کر سکیں؟

جواب۔ یہ بات ممکن تو ہے کہ کشفی طور سے روحوں سے انسان مل سکتا ہے مگر اس اَمر کے حصول کے واسطے ریاضاتِ شاقہ اور مجاہدات سخت کی اشد ضرورت ہے۔ ہم نے خود آزمایا ہے اور تجربہ کیا ہے اور بعض اوقات روحوں سے ملاقات کر کے باتیں کی ہیں۔ انسان ان سے بعض مفید مطلب امور اور دوائیں وغیرہ بھی دریافت کرسکتا ہے ہم نے خود حضرت عیسٰیؑ کی روح اور آنحضرتؐ اور بعض صحابہؓ کرام سے بھی ملاقات کی ہے اور اس معاملہ میں صاحبِ تجربہ ہیں لیکن انسان کے واسطے مشکل یہ ہے کہ جب تک اس راہ میں مشق اور قاعدہ کی پابندی سے مجاہدات نہیں کرتا یہ اَمر حاصل نہیں ہوسکتا اور چونکہ ہر ایک کو یہ اَمر میسر بھی نہیں آسکتا۔ اس واسطے اس کے نزدیک یہ ایک قصہ کہانی ہی ہوتی ہے اور اس میں حقیقت نہیں ہوتی۔

انسانی قلب بڑے بڑے عجائبات کا مرکز ہے مگر جس طرح صاف اور عمدہ پانی حاصل کرنے کے واسطے سخت سے سخت محنت اٹھا کر زمین کھودی جاتی ہے مٹی نکالی جاتی ہے اور پھر صفائی کی جاتی ہے اسی طرح دل کے عجائبات قدرت سے اطلاع پانے کے واسطے بھی سخت محنت اور مجاہدات کی ضرورت ہے اصل بات یہی ہے کہ اصلیت اس اَمر کی ضرور مانی جاتی ہے جس کے ہم خود گواہ ہیں اور صاحب تجربہ۔

سوال۔ مجھے اس قسم کی ایک کمیٹی کی طرف سے بعض کاغذات آئے تھے اور میری خاص غرض آپ کے پاس حاضر ہونے کی یہی تھی کہ ان کے متعلق آپ سے دریافت کروں اور آپ کی ہدایات سنوں۔ کیا آپ مجھے اپنا کچھ عزیز وقت دے سکتے ہیں؟

جواب۔ فرمایا کہ ان دنوں میں ہماری طبیعت بیمار ہے۔ ہم زیادہ محنت نہیں برداشت کر سکتے۔ البتہ صحت کی حالت ہو تو ممکن ہے۔ فقط۱؎

۱۴؍ مئی ۱۹۰۸ء

(بوقتِ صبح)

کلام کی عمدگی

فرمایا۔ قرآن مجید ایک ایسی غذا کی مانند ہے جو ہر طبقے ہر مزاج کے لوگوں کے مناسب حال ہے اور یہی اس کے خدا کی طرف سے ہونے کا ثبوت ہے۔ ہم چاہتے ہیں ہماری جماعت کے لوگ بھی بولنا سیکھیں۔ ان کا طرز تقریر بھی ایسا ہی ہو کہ جیسا وہ اعلیٰ درجہ کے لوگوں کے لئے مفید اور ادنیٰ کے لئے بھی فائدہ رساں ہے۔ اصل میں کلام کی عمدگی یہی ہے کہ وہ ہر قسم کے لوگوں کے مطابق حال ہو۔

اسلام ایک وسطی راہ ہے

فرمایا۔ خدا نے اسلام کو دوسرے لوگوں کے لئے نمونہ بنایا ہے۔ اس میں ایسی وسطی راہ اختیار کی گئی ہے جو افراط و تفریط سے بالکل خالی ہے۔ وَکَذٰلِکَ جَعَلۡنٰکُمۡ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ(البقرۃ:۱۴۴)

الزامی جواب کا جواز

فرمایا۔ جواب دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک تحقیقی، دوسرے الزامی۔ اللہ تعالیٰ نے بھی بعض جگہ الزامی جوابوں سے کام لیا ہے اس میں معترض کو اپنے مذہب کی کمزوری معلوم ہوتی ہے۔ چنانچہ جب عیسائیوں نے کہا کہ عیسٰیؑ خدا کا بیٹا ہے اور دلیل یہ کہ وہ مریم کنواری کے پیٹ سے پیدا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ(اٰل عمران:۶۰) یعنی اگر یہی اس کے بیٹا ہونے کا ثبوت ہے تو آدم بطریق اوّل بیٹا ہونا چاہیے۔

چُھوت چھات

چُھوت وغیرہ دراصل اس بات کا نشان ہے کہ ہندوؤں کا مذہب کمزور ہے جو ہاتھ لگانے سے بھی جاتا رہتا ہے۔ اسلام کی بنیاد چونکہ قوی تھی اس لئے اس نے ایسی باتوں کو اپنے مذہب میں نہیں رکھا۔ چنانچہ کھانے کے متعلق فرما دیا لَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَاۡکُلُوۡا جَمِیۡعًا اَوۡ اَشۡتَاتًا(النّور:۶۲)

مخلصانہ بیان کا اثر

بیان میں جب تک روحانیت اور تقویٰ وطہارت اور سچا جوش نہ ہو اس کا کچھ نیک نتیجہ مرتّب نہیں ہوتا ہے۔ وہ بیان جو کہ بغیر روحانیت وخلوص کے ہے وہ اس پرنالہ کے پانی کی مانند ہے جو موقع بے موقع جوش سے پڑا جاتا ہے اور جس پر پڑتا ہے اسے بجائے پاک وصاف کرنے کے پلید کر دیتا ہے۔ انسان کو پہلے اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔ پھر دوسروں کی اصلاح کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَیۡکُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ(المائدۃ:۱۰۶) یعنی اے مومنو! پہلے اپنی جان کی فکر کرو۔ اگر تم اپنے وجود کو مفید ثابت کرنا چاہو تو پہلے خود پاکیزہ وجود بن جاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ باتیں ہی باتیں ہوں اور عملی زندگی میں ان کا کچھ اثر دکھائی نہ دے۔ ایسے شخص کی مثال اس طرح سے ہے کہ کوئی شخص ہے جو سخت تاریکی میں بیٹھا ہے۔ اب اگر یہ بھی تاریکی ہی لے گیا تو سوائے اس کے کہ کسی پر گر پڑے اور کیا ہوگا؟ اسے چراغ بن کر جانا چاہیے تاکہ اس کے ذریعہ سے دوسرے روشنی پائیں۔

دل کا تقدس اور تطہر ہی صحیح ہتھیار ہیں

جسمانی علوم پر نازاں ہونا حماقت ہے۔ چاہیے کہ تمہاری طاقت روح کی طاقت ہو۔ خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے سائنس یا فلسفہ یا منطق پڑھایا اور ان سے مدد دی بلکہ یہ کہ وَاَیَّدَہُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡہُ(المجادلۃ:۲۳) یعنی اپنی روح سے مدد دی۔ صحابہؓ اُمّی تھے۔ ان کا نبی (سیدنا محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام) بھی اُمّی۔ مگر جو پُر حکمت باتیں انہوں نے بیان کیں وہ بڑے بڑے علماء کو نہیں سوجھیں کیونکہ ان پر خدا کی خاص تائید تھی۔ تقویٰ وطہارت و پاکیزگی سے اندرونی طور پر مدد ملتی ہے۔ یہ جسمانی علوم کے ہتھیار کمزور ہتھیار ہیں۔ ممکن بلکہ اغلب کہ مخالف کے پاس ان سے بھی زیادہ تیز ہتھیار ہوں پس ہتھیار وہ چاہیے جس کا مقابلہ دشمن نہ کر سکے۔ وہ ہتھیار سچی تبدیلی اور دل کا تقدس و تطہر ہے۔ جسے نزول الماء ہو۔ وہ دوسروں کے نزول الماء کو کیا تندرست کرے گا۔ صاحبِ باطن کی بات اگر اس وقت بظاہر ردّ بھی کر دی جائے تو بھی وہ خالی نہیں جاتی بلکہ انسانی زندگی پر ایک خفیہ اثر کرتی ہے۔

سخن کز دل بروں آید نشیند لاجرم بر دل

(بوقتِ ظہر) ہنسی ہنسی کے متعلق ذکر تھا۔

ہنسی

فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں چنانچہ وہ فرماتا ہے اَنَّہٗ ہُوَ اَضْحَکَ وَ اَبْکٰی(النجم:۴۴)

ڈاڑھی منڈوانے کا ذکر آیا۔

اصلاح کا صحیح طریق

فرمایا۔ لوگ کن بیہودہ اعتراضوں میں پڑے ہیں وہ ظاہر کو دیکھتے ہیں۔ ہماری نگاہ باطن پر ہے جب انسان کا دل پاک ہو جائے تو پھر یہ معمولی اصلاحیں خود بخود ہو جاتی ہیں۔ اگر پہلے ہی ایسی باتوں پر اعتراض کر دیا جائے تو انسان ابتلا میں آ جاتا ہے اور بہت سی بڑی باتوں سے محروم رہ جاتا ہے۔ بعض نو مسلم صحابہؓ پر بھی ایسے اعتراض کئے گئے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ یوں نہیں چاہیے۔ جب انسان نے ایک صداقت کو اختیار کر لیا تو آہستہ آہستہ دوسری صداقتوں کے اختیار کی توفیق بھی حاصل ہو جائے گی۔ تدریجی احکام اسی لئے نازل ہوتے رہے۔ شراب کی حرمت یکدم نازل نہ ہوئی کہ ابھی طبائع تیار نہ ہوئی تھیں ایسے لغو معترضوں سے ہمیں امید نہیں کہ وہ کچھ بھی فائدہ حاصل کریں۔ وہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی ہوتے تو ان پر بھی اعتراض کرنے سے نہ رکتے اور آخر مرتد ہو جاتے۔ ہر نبی اور اس کی جماعت پر ایسے اعتراض ہوتے رہے ہیں۔ چنانچہ بعض نادانوں نے کہہ دیا مَالِ ہٰذَا الرَّسُوۡلِ یَاۡکُلُ الطَّعَامَ وَیَمۡشِیۡ فِی الۡاَسۡوَاقِ(الفرقان:۸) طعام سے مراد اچھا مکلّف عمدہ کھانا ہے جب انکار حد سے گذر جاتا ہے تو ایسے ہی اعتراض سوجھتے ہیں۔

اس پر ایک دوست نے ذکر کیا کہ ایک شخص کہتا تھا کہ اگر قرآن سے حضرت کی صداقت کا ثبوت مل جائے تو میں اس قرآن کو بھی نہیں مانتا۔ اگر خدا اپنے نشانوں سے سچا ثابت کر دے تو میں اس خدا پر بھی ایمان نہ لاؤں۔

یہ لعنتی قول انتہا درجے کی قساوت قلبی پر دال ہے۔

خلوص کی قدر

حضرت عیسٰیؑ پر ایک شخص نے جو ان کا مرید بھی تھا اعتراض کیا کہ آپ نے ایک فاحشہ سے عطر کیوں ملایا۔ انہوں نے کہا کہ دیکھ تو پانی سے میرے پاؤں دھوتا ہے اور یہ آنسوؤں سے۔ خدا کے نزدیک خلوص کی قدر ہوتی ہے اور میں سچ کہتا ہوں کہ آجکل کے جو فقیہ اور فریسی ہیں ان سے ایسی کنچنیاں پہلے بہشت میں جائیں گی۔ درحقیقت انہوں نے اس زمانہ کے علماء کی حالت کے اعتبار سے ٹھیک کہا۔

جائز قیاس وہ ہے جو قرآن و سنّت سے مستنبط ہو

ایک شخص نے مسئلہ پوچھا۔ مرغی کی گردن بلی اتار کر لے گئی۔ مرغی پھڑک رہی ہے ذبح کر لی جائے؟ فرمایا۔ ایسے مسائل میں اصول کے طور پر یاد رکھو کہ دین میں صرف قیاس کرنا سخت منع ہے۔ قیاس وہ جائز ہے جو قرآن وحدیث سے مستنبط ہو۔ ہمارا دین منقولی طور سے ہمارے پاس پہنچا ہے۔ پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی حدیث ثابت ہو جائے تو خیر ورنہ کیا ضرورت ہے دو چار آنے کے لئے ایمان میں خلل ڈالنے کی؟

وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَتُکُمُ الۡکَذِبَ ہٰذَا حَلٰلٌ وَّہٰذَا حَرَامٌ(النحل:۱۱۷)

انے آنے والے زلزلہ کی نسبت سوال ہوا۔

انذاری پیشگوئی ٹل سکتی ہے

فرمایا۔ حقیقۃ الوحی پڑھو کہ اللہ نے اس کے حکم میں کچھ منسوخ بھی فرما دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا یُّؤَخِّرُہُمۡ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی(النحل:۶۲) ہمارا خدا قادر مطلق خدا ہے جو کامل اختیارات رکھتا ہے۔ یَمۡحُوا اللّٰہُ مَا یَشَآءُ(الرّعد:۴۰) ہمارا ایمان ہے۔ وہ جوتشی کی طرح نہیں۔ وہ ایک حکم صبح دیتا اور رات کو اس کے بدلنے کے کامل اختیارات رکھتا ہے۔ مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰیَۃٍ(البقرۃ:۱۰۷) والی آیت اس پر گواہ ہے۔ آخر صدقہ خیرات بھی کوئی چیز ہے۔ تمام انبیاء کرام کا اجماعی مسئلہ ہے کہ صدقہ واستغفار سے ردِّ بَلا ہوتا ہے۔ بَلا کیا چیز ہے۔ یعنی وہ تکلیف دہ اَمر جو خدا کے ارادے میں مقدر ہوچکا ہے۔ اب اس بَلا کی اطلاع جب کوئی نبی دے تو وہ پیشگوئی بن جاتی ہے مگر اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین ہے وہ تضرّع کرنے والوں پر اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے اس لئے ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ وعید کی پیشگوئیاں اٹل ہیں بلکہ وہ ٹل جاتی ہیں۔

دیکھو! جہاں میں نے زلزلہ کا ذکر کیا ہے وہاں ساتھ ہی توبہ استغفار تضرّع وصدقہ کی طرف توجہ دلائی ہے۔ جس سے یہ مراد ہے کہ یہ عظیم بَلا ٹل سکتی ہے۔ افسوس! لوگ ہماری عداوت میں ایسے بڑھ گئے ہیں کہ وہ اسلام کے مسائل کو بھی بھول گئے ہیں۔ وہ کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمۡ وَہُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ(الانفال:۳۴) پڑھتے ہیں اور پھر ہم پر اعتراض کرتے ہیں۔ اللہ ہدایت کرے۔۱؎

۱۵؍ مئی ۱۹۰۸ء

(۱۰ بجے دن)

)دو معزز بیرسٹر ایٹ لاء ملاقات کو آئے۔ ان سے مفصلہ ذیل مکالمہ ہوا۔

انشاء اللہ کہنا ضروری ہے

آپ نے آئندہ کے متعلق ایک بات کہی کہ ایسا کیا جائے گا۔ مگر ساتھ ہی انشاء اللہ العزیز فرمایا اور بتلایا کہ

انشاء اللہ کہنا نہایت ضروری ہے کیونکہ انسان کے تمام معاملات اس کے اپنے اختیار میں نہیں۔ وہ طرح طرح کی مصائب اور مکارِہ وموانع میں گھرا ہوا ہے۔ ممکن ہے کہ جو کچھ ارادہ اس نے کیا ہے وہ پورا نہ ہو۔ پس انشاء اللہ کہہ کر اللہ تعالیٰ سے جو تمام طاقتوں کا سرچشمہ ہے مدد طلب کی جاتی ہے۔ آجکل کے ناعاقبت اندیش و نادان لوگ اس پر ہنسی اڑاتے ہیں۔

مخالف ت کا فائدہ مخالف وں کے سبّ وشتم کا ذکر تھا۔

ف

رمایا۔ دیکھو کا شتکاری میں سب چیزوں ہی سے کام لیا جاتا ہے۔ پانی ہے۔ بیج ہے۔ مگر پھر بھی اس میں کھاد ڈالنے کی ضرورت پڑتی ہے جو سخت ناپاک ہوتی ہے۔ پس اسی طرح ہمارے سلسلے کے لئے بھی گندی مخالفت کھاد کا کام دیتی ہے۔

جماعت کے قیام کا مقصد

فرمایا۔ اسلامی فرقوں میں دن بدن پھوٹ پڑتی جاتی ہے۔ پھوٹ اسلام کے لئے سخت مضر ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَلَا تَنَازَعُوۡا فَتَفۡشَلُوۡا وَتَذۡہَبَ رِیۡحُکُمۡ(الانفال:۴۷) جب سے اسلام کے اندر پھوٹ پڑی ہے دم بدم تنزل کرتا جاتا ہے۔ اس لئے خدا نے اس سلسلہ کو قائم کیا تا لوگ فرقہ بندیوں سے نکل کر اس جماعت میں شامل ہوں جو بے ہودہ مخالفتوں سے بالکل محفوظ ہے اور اس سیدھے رستے پر چل رہی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا۔

دوسرے کلمہ گوؤں سے ہمارا اختلاف

ہم چاہتے ہیں کہ چند مہذب وشائستہ ومنصف مزاج وخدا ترس لوگ جمع ہوں اور ہم انہیں سمجھائیں کہ ہمارا مذہب کیا ہے اور دوسرے کلمہ گوؤں سے ہمارا کس بات میں اور کیوں اختلاف ہے؟ دراصل ایسے وقت میں خدا نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے جبکہ اسلام دو حملوں کے صدمے اٹھا رہا ہے۔ ایک بیرونی طور سے حملہ ہے اور ایک اندرونی طور سے۔ چنانچہ بعض مسلمانوں ہی میں سے کہتے ہیں کہ اسلام کے احکام کوئی نہیں۔ یہ روزہ ونماز وحج پرانے زمانے کی باتیں ہیں جو کچھ عرب کے وحشیوں کے لئے ہی مفید ہوسکتی تھیں۔ پھر قیامت کے حالات پر طرح طرح کے اعتراض کرتے ہیں۔ دوم وہ لوگ ہیں جو افراط کی طرف گئے ہیں اور وہ بعض انبیاء کی شان میں غلو کرتے کرتے یہاں تک پہنچے ہیں کہ انہیں خدا تک بنا دیا ہے۔ ایک حضرت عیسٰیؑ ہی کو لو۔ ان کو بعض ایسی صفات کا صاحب گردانا ہے جو خاصّہ الوہیت ہیں۔

حضرت عیسیٰؑ کے واسطے خصوصیت کیوں؟

وہ بےشک خدا کے مقرّبین میں سے تھے۔ ان پر خدا کا فضل تھا۔ وہ اللہ کی نبوت سے ممتاز تھے مگر ان کے لیے کوئی ایسی خصوصیت مقرر کرنا جو دوسرے انبیاء میں نہ ہو ٹھیک نہیں۔ کہتے ہیں کہ آسمان پر کئی صدیوں سے بجسدہِ العنصری متمکّن ہے حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کفار نے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ ہم ضرور مان لیں گے اگر آپ ہمارے سامنے آسمان پر چڑھ جاویں۔ اس کا جواب جو دیا گیا وہ یہ تھا کہ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا(بنی اسرآءیل:۹۴) جب اللہ نے ابتدا سے ایک قانون مقرر کر دیا کہ فِیۡہَا تَحۡیَوۡنَ(الاعراف:۲۶) تو پھر اللہ اپنی سنّت کے خلاف کیوں کرتا؟ اگر یہ عقیدہ (عیسٰیؑ کے مع جسم آسمان پر چڑھ جانے کا )اس وقت کے مسلمانوں میں ہوتا تو کافروں کا حق تھا کہ انہیں یہ کہہ کر ملزم کریں کیا وجہ ہے ایک نبی کے لیے یہ اَمر جائز قرار دیتے ہیں اور دوسرے کے لیے نہیں؟ حالانکہ تم اس بات کے بھی قائل ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام نبیوں سے اور بالخصوص حضرت عیسٰیؑ سے افضل اور جامع کمالات نبوت ہیں۔ غرض یہ زندہ آسمان پر چڑھ جانے کا ذکر قرآن شریف میں نہیں ہے بلکہ قرآن تو اس عقیدہ کی تردید کرتا ہے یہ آیت ہے جو میں نے پڑھی ہے حدیث نہیں کہ اس پر ضعیف یا وضعی ہونے کا اعتراض ہوسکتا ہو۔ سارا قرآن مجید اوّل سے آخر تک دیکھ لو عیسٰیؑ کے اب تک زندہ رہنے کا ثبوت نہ پاؤ گے۔ اگر پاؤ گے تو یہ کہ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ عیسیٰ علیہ السلام ربُّ العزت کے حضور عرض کر رہے ہیں۔ جب تو نے مجھے وفات دی تو پھر تو نگران حال تھا۔ میں دوبارہ نہیں آیا اور یہ کہ عیسائی میرے بعد میں بگڑے ہیں۔ تَوَفّی کے معنے موت ایسی بدیہی بات ہے کہ اس کا انکار نہیں ہوسکتا۔ یہ لفظ قرآن مجید میں اور انبیاء کے لئے بھی آیا ہے مثلاً حضرت یوسفؑ نے کہا کہ تَوَفَّنِیۡ مُسۡلِمًا(یوسف:۱۰۲) اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ(یونس:۴۷) دونوں باب تفعّل سے ہیں۔ کسی لغت کی کتاب میں بھی اس کے خلاف معنے نہ پاؤ گے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کے کلام کی شہادت ہوئی۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فعلی شہادت کی طرف دیکھو جو آپ کی رؤیت ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں نے معراج کی رات عیسیٰ کو یحییٰ کے ساتھ دیکھا۔ اب اس میں تو کسی مسلمان کو شک نہیں کہ یحییٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ پس فوت شدہ گروہ میں جو بہشت جا چکا ہے کسی کو دیکھنا سوا اس بات کے اور کیا معنے رکھتا ہے کہ وہ بھی مَر چکا ہے۔ غرض یہ دو شہادتیں ہیں۔ آپ خود ہی انصاف کریں کہ ان سے کیا بات ثابت ہوتی ہے؟ پس کیا وجہ ہے کہ عیسٰیؑ کے لیے خصوصیات پیدا کی جائیں؟ پادری عیسٰیؑ کے خدا ہونے کی دلیل بیان کرتے ہیں کہ وہ مُردے زندہ کرتا تھا حالانکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَیُمۡسِکُ الَّتِیۡ قَضٰی عَلَیۡہَا الۡمَوۡتَ(الزّمر:۴۳) اب خدا کے کلام میں تناقض نہیں کہ ایک آیت میں کہے مُردے دوبارہ دنیا میں نہیں آتے اور دوسری میں کہے کہ مُردے زندہ ہوتے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کے ہاتھ پر مُردے زندہ ہوتے ہیں۔ لِمَا یُحۡیِیۡکُمۡ(الانفال:۲۵) اور سب کو معلوم ہے کہ اس سے مراد روحانی مُردوں کا زندہ ہونا ہے۔ پس مسلمان جو پادریوں کی متابعت میں عیسٰیؑ کے مُردے زندہ کرنے کے قائل تھے غلطی کرتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ جو مَسِّ شیطان سے پاک ہے وہ صرف عیسٰی اور اس کی ماں ہی تھی۔ دیکھو! اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کس قدر ہتک ہے۔ ایسے ہی اور بہت سی خصوصیتیں ہیں جو مسلمانوں نے عیسٰیؑ کو دے رکھی ہیں۔ جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک لازم آتی ہے اور ہم اس بات کو کبھی بھی گوارا نہیں کر سکتے کہ اس سید الرسل سے بڑھ کر کسی کو بنایا جاوے جو عیسیٰ سے بدرجہا افضل اور اعلیٰ تھا (اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُـحَمَّدٍ)

مکالماتِ الٰہیّہ جاری ہیں

پھر ان مسلمانوں کا ہم سے اس بات (میں) اختلاف ہے کہ ہم اس بات کے قائل ہیں کہ خدا کے مکالمات و مخاطبات اس امت کے لوگوں سے قیامت تک جاری ہیں اور یہ بالکل سچ ہے کیونکہ یہی تمام اولیاءِ اُمت کا مذہب رہا ہے۔ یاد رکھو کہ دین اسلام ایسا دین نہیں جس کے کمالات پیچھے رہ گئے ہیں اور آگے کے لئے اس میں کچھ نہیں۔ اگر یہ بات ہو اور اس کا دارو مدار بھی قصوں پر ہی ہو تو پھر بتاؤ کہ اس میں اور دوسرے دینوں میں فرق کیا رہ گیا؟ اسلام میں اگر کوئی چیز مابہ الامتیاز ہے تو یہی کہ اس کے پَیرو الٰہی مکالمات ومخاطبات سے مشرف ہوتے ہیں۔ خشک توحید کے قائل تو اور مذاہب بھی ہیں مثلاً یہود پھر برہمو سماج۔ یہ سوال ہو سکتا ہے کہ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ(الصّٰفّٰت:۳۶) کے ساتھ مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ(الفتح:۳۰) پڑھنے کا کیا فائدہ ہے؟ یہی تو فائدہ ہے کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت و پیروی و تصدیق رسالت اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے اور ان انعامات کا وارث جو اگلے برگزیدہ انبیاء پر ہوئے۔ اللہ نے اس کا نام فرقان رکھا ہے۔ چنانچہ فرمایا یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ فُرۡقَانًا(الانفال:۳۰) یعنی وہ تمہیں ایک فرقان دے گا۔ پس دوسرے مذاہب (اور) اس میں ایک مابہ الامتیاز اسی جہان میں ہونا ضروری ہے۔

ہم اپنی بات کا ذکر نہیں کرتے۔ ہمارے معاملہ کو الگ رکھ کر کوئی ہمیں سمجھائے کہ اگر اسلام بھی خشک توحید ہی لے کر آیا تھا جیسے کہ یہودی رکھتے اور برہمو سماج کے لوگ اس کے قائل ہیں تو اتنا بڑا شریعت کا بوجھ ڈالنے کی کیا ضرورت تھی؟ ایک طرف تو مانتے ہیں کہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور دوسری طرف اس میں کوئی مابہ الامتیاز نہیں بتاتے اور اس کے جو کمالات اور خوبیاں ہیں وہ بھی مُردوں میں بتاتے ہیں۔ گویا زندوں کے لئے کچھ نہیں۔

مصنوع سے صانع کی طرف جانا خدا تعالیٰ کی ہستی کا اعلیٰ ثبوت نہیں ہو سکتا۔ بلکہ خدا شناسی کا یہی ایک ذریعہ ہے کہ وہ خود اَنَا الْمَوْجُوْدُ کہے۔ پچھلے قصے تو دوسرے مذاہب بھی سناتے ہیں۔ پس اس کے مقابل میں اگر تم بھی دو چار گذشتہ قصے سنا دو تو اس میں بہتری کیا ہوئی اور اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ جو کچھ تم کہتے ہو وہ تو سچ ہے مگر جو دوسرا بیان کرتا ہے کہ ہمارے راہنما نے یہ یہ معجزہ دکھایا وہ غلط ہے؟ دیکھو! انجیل میں ایسے معجزوں کا بھی ذکر ہے کہ جب عیسٰیؑ کو صلیب دیا گیا تو سب مُردے قبروں سے نکل آئے۔ ہماری عقل کا تو یہاں آ کر خاتمہ ہے کہ ایک شہر میں تمام مُردے کس طرح سما گئے۔ اور پھر باوجود ان کے نکلنے کے یہودیوں نے عیسٰیؑ کو کیوں نہ مانا؟ پس ایسے قصوں کے مقابلہ میں اگر ہماری طرف سے بھی قصے ہی ہوں تو کسی مخالف پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

اس پر ایک صاحب نے پوچھا۔ شق القمر کی نسبت حضور کیا فرماتے ہیں؟

معجزہ شقُّ القمر

فرمایا۔ ہماری رائے میں یہی ہے کہ وہ ایک قسم کا خسوف تھا۔ ہم نے اس کے متعلق اپنی کتاب چشمہ معرفت میں لکھ دیا ہے۔

معراج کی حقیقت

پھر معراج کی نسبت سوال ہوا۔

فرمایا۔ بخاری میں جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ الباری ہے۔ تمام معراج کا ذکر کر کے اخیر میں فَاسْتَیْقَظَ لکھا ہے۔ اب تم خود سمجھ لو کہ وہ کیا تھا۔ قرآن مجید میں بھی اس کے لئے رؤیا کا لفظ ہے وَمَا جَعَلۡنَا الرُّءۡیَا الَّتِیۡۤ اَرَیۡنٰکَ(بنی اسرآءیل:۶۱)

مسلمانوں کے موجودہ فرقے

پھر دوسرے صاحب نے پوچھا کہ اسلام میں جو اَور فرقے ہیں مثلاً حنفی، شافعی، نقشبندی، چشتی، قادری کیا جیسا ان کا باہم اختلاف ہے ایسا ہی یہ ایک فرقہ ہے یا اس میں کچھ زیادہ ہے؟

فرمایا۔ ہمارے نزدیک تو یہ سب فرقے موجودہ صورت حالات میں اس تعلیم سے دور ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے متعلق فرمائی۔ یہ طرح طرح کی بدعات میں گرفتار ہیں۔ ایسے درود و وظائف اور ذکر کے طریقے نکال رکھے ہیں جو آنحضرتؐ سے ثابت نہیں۔ ان میں ایک ذکر ارّہ ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آدمی کو سل ہو جاتی ہے۔ بعض مجنون ہو جاتے ہیں جنہیں پھر ولی اللہ کہتے ہیں۔ اسلام میں ایسی پاگل کر دینے والی تعلیمات نہیں اور نہ یہ وصول اِلَی اللہ کا طریقہ ہے۔ قرآن مجید میں تو یہ فرمایا قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰٮہَا وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰٮہَا(الشّمس:۱۰، ۱۱) جب انسان محض اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے جذبات کو روک لیتا ہے تو اس کا نتیجہ دین و دنیا میں کامیابی اور عزت ہے۔ فلاح دو قسم کی ہے۔ تزکیہ نفس حسب ہدایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرنے سے آخر کار بھی نجات ملتی ہے اور دنیا میں بھی آرام ہوتا ہے۔ گناہ خود ایک دکھ ہے۔ وہ بیمار ہیں جو گناہ میں لذت پاتے ہیں۔ بدی کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلتا۔ بعض شرابیوں کو میں نے دیکھا ہے کہ انہیں نزول الماء ہو گیا۔ مفلوج ہو گئے۔ رعشہ ہو گیا۔ سکتہ سے مَر گئے۔ خدا تعالیٰ جو ایسی بدیوں سے روکتا ہے تو لوگوں کے بھلے کے لئے۔ جیسے ڈاکٹر اگر کسی بیمار کو پرہیز بتاتا ہے تو اس میں بیمار کا فائدہ ہے نہ کہ ڈاکٹر کا۔

پس فلاح جسمانی و روحانی پانی ہے تو ان تمام آفات و منہیات سے پرہیز کرو۔ نفس کو بے قید نہ کرو کہ تم پر عذاب نہ آجائے۔ اللہ تعالیٰ نے کمال رحمت سے سب دکھوں سے بچنے کی راہ بتادی۔ اب کوئی اگر ان دکھوں سے ان گناہوں سے نہ بچے تو اسلام پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔

حاصل کلام دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جو نیچریت میں حد سے بڑھ گئے ہیں قریب ہے کہ وہ دہریہ ہو جاویں۔ ان کے نزدیک ارکان صلوٰۃ ایک لغو حرکت ہے۔ وہ سمجھتے ہیں نبی بھی اُمّی۔ صحابہؓ بھی اُمّی۔ پس انہی کے لائق یہ حکم تھا۔ یہ افراط کا طریق ہے۔ دوسرے وہ لوگ جو تفریط میں پڑے ہیں حقوق اسلام کو کھا گئے۔ فقیر ذکر اللہ کے طرح طرح کے طریقے نکال بیٹھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اُمَّۃً وَّسَطًا(البقرۃ:۱۴۴) ہو۔ پس اعتدال چاہیے اور درمیانی راہ اختیار کرنی لازم ہے۔

ہم کسی کلمہ گو کو اسلام سے خارج نہیں کہتے

پھر اس معزز ملاقات کرنے والے (مسٹر فضل حسین صاحب بیرسٹر ایٹ لاء) نے عرض کیا کہ اگر تمام غیر احمدیوں کو کافر کہا جائے تو پھر اسلام میں تو کچھ بھی نہیں رہتا۔ فرمایا۔ ہم کسی کلمہ گو کو اسلام سے خارج نہیں کہتے جب تک کہ وہ ہمیں کافر کہہ کر خود کافر نہ بن جائے آپ کو شاید معلوم نہ ہو جب میں نے مامور ہونے کا دعویٰ کیا تو اس کے بعد بٹالہ کے محمد حسین مولوی ابو سعید صاحب نے بڑی محنت سے ایک فتویٰ تیار کیا جس میں لکھا تھا کہ یہ شخص کافر ہے دجّال ہے۔ ضال ہے۔ اس کا جنازہ نہ پڑھا جائے جو ان سے السلام علیکم کرے یا مصافحہ یا انہیں مسلمان کہے وہ بھی کافر۔ اب سنو! یہ ایک متفق علیہ مسئلہ ہے کہ جو مومن کو کافر کہے وہ کافر ہوتا ہے۔ پس اس مسئلہ سے ہم کس طرح انکار کر سکتے ہیں۔ آپ لوگ خود ہی کہہ دیں کہ ان حالات کے ماتحت ہمارے لئے کیا راہ ہے؟ ہم نے ان پر پہلے کوئی فتویٰ نہیں دیا۔ اب جو انہیں کافر کہا جاتا ہے تو یہ انہیں کے کافر بنانے کا نتیجہ ہے۔ ایک شخص نے ہم سے مباہلہ کی درخواست کی۔ ہم نے کہا کہ دو مسلمانوں میں مباہلہ جائز نہیں۔ اس نے جواب لکھا کہ ہم تو تجھے پکا کافر سمجھتے ہیں۔

اس شخص نے عرض کیا کہ وہ آپ کو کافر کہتے ہیں تو کہیں لیکن اگر آپ نہ کہیں تو اس میں کیا حرج ہے؟

فرمایا کہ جو ہمیں کافر نہیں کہتا ہم اسے ہرگز کافر نہیں کہتے لیکن جو ہمیں کافر کہتا ہے اسے کافر نہ سمجھیں تو اس میں حدیث اور متفق علیہ مسئلہ کی مخالفت لازم آتی ہے اور یہ ہم سے نہیں ہوسکتا۔

اس شخص نے کہا کہ جو کافر نہیں کہتے ان کے ساتھ نماز پڑھنے میں کیا حرج ہے؟

فرمایا۔ لَا یُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُـحْرٍ وَّاحِدٍ مَّرَّتَیْنِ۔ ہم خوب آزما چکے ہیں کہ ایسے لوگ دراصل منافق ہوتے ہیں ان کا حال ہے وَاِذَا لَقُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚۖ وَاِذَا خَلَوۡا اِلٰی شَیٰطِیۡنِہِمۡ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا مَعَکُمۡ ۙ اِنَّمَا نَحۡنُ مُسۡتَہۡزِءُوۡنَ(البقرۃ:۱۵) یعنی سامنے تو کہتے ہیں کہ ہماری تمہارے ساتھ کوئی مخالفت نہیں مگر جب اپنے لوگوں سے مخلّٰی بالطبع ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ان سے استہزا کر رہے تھے پس جب تک یہ لوگ ایک اشتہار نہ دیں کہ ہم سلسلہ احمدیہ کے لوگوں کو مومن سمجھتے ہیں بلکہ ان کو کافر کہنے والوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ تو میں آج ہی اپنی تمام جماعت کو حکم دے دیتا ہوں کہ وہ ان کے ساتھ مل کر نماز پڑھ لیں۔ ہم سچائی کے پابند ہیں۔ آپ ہمیں شریعت اسلام سے باہر مجبور نہیں کر سکتے۔ جب اس میں یہ بالاتفاق مسلّمہ مسئلہ ہے کہ مومن کو کافر کہنے والا خود کافر ہے تو ہم انہیں کس طرح مسلمان کہیں؟ اور ان مکفّرین اہل حق کو کافر نہ جانیں؟ ہم کس طرح سمجھیں کہ وہ سچے مسلمان ہیں؟ جب ان کے دلوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی عظمت نہیں ہے حالانکہ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اپنے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کا پاس کرے اور جو کچھ انہوں نے فرمایا اسی کے مطابق عقیدہ رکھے۔

اس پر اس شخص نے پھر مکرر وہی کہا۔ آپ نے پھر بالتفصیل سمجھایا کہ

دیکھو! پہلے اپنے ملّاں لوگوں سے پوچھ تو دیکھیں کہ وہ ہمیں کیا سمجھتے ہیں؟ وہ تو کہتے ہیں یہ ایسا کافر ہے کہ یہود و نصاریٰ سے بھی اس کا کفر بڑھ کر ہے۔ پس جیسا کہ یوسف علیہ السلام کو جب مخلصی کا پیغام پہنچا تو آپ نے فرمایا۔ پہلے ان سے یہ تو پوچھو کہ میرا قصور کیا ہے؟ سو آپ صلح سے پہلے یہ تو پوچھئے کہ ہم میں کفر کی کونسی بات ہے ہم تو جو کچھ کرتے ہیں جو کہتے ہیں سب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت، جلال و عزت کا اظہار موجود ہے۔ قرآن مجید میں ہے فَمِنۡہُمۡ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِہٖ ۚ وَمِنۡہُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ۚ وَمِنۡہُمۡ سَابِقٌۢ بِالۡخَیۡرٰتِ(فاطر:۳۳) ہم تو تینوں طبقوں کے لوگوں کو مسلمان کہتے ہیں مگر ان کو کیا کہیں کہ جو مومن کو کافر کہیں ۔ جو ہمیں کافر نہیں کہتے ہم انہیں بھی اس وقت تک ان کے ساتھ سمجھیں گے جب تک کہ وہ ان سے اپنے الگ ہونے کا اعلان بذریعہ اشتہار نہ کریں اور ساتھ ہی نام بنام یہ نہ لکھیں کہ ہم ان مکفرین کو بموجب حدیث صحیح کافر سمجھتے ہیں۔

تعلیم نسواں

پھر دوسرے صاحب نے پوچھا کہ تعلیم نسواں کے متعلق آپ کے کیا خیالات ہیں ؟ فرمایا۔ حدیث ہے طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ وَّمُسْلِمَۃٍ۔ میں پہلے مَردوں کا ذکر کرتا ہوں کہ قبل اس کے جو اسلام کی حقیقت معلوم ہو اور اس کی خوبیاں معلوم ہوں پہلے ان علوم کی طرف مشغول ہو جانا سخت خطرناک ہے۔ چھوٹے بچوں کو جب دین سے بالکل آگاہ نہ کیا جائے اور صرف مدرسہ کی تعلیم دی جائے تو وہی باتیں ان کے بدن میں شیرِ مادر کی طرح رچ جائیں گی۔ پھر سوا اس کے اور کیا ہے کہ وہ اسلام سے پھر جائیں۔ عیسائی تو بہت کم ہوں کیونکہ تثلیث و کفارہ اور ایک انسان کو خدا ماننے کا عقیدہ ہی کچھ ایسا لغو ہے کہ اسے کوئی عقیل و فہیم قبول نہیں کر سکتا۔ البتہ دہریہ ہو جانے کا بہت خطرہ ہے۔ پس ضرور ہے کہ پہلے روز ساتھ ساتھ روحانی فلسفہ پڑھایا جاوے۔ جب آجکل کی تعلیم نے مردوں پر مذہب کے لحاظ سے اچھا اثر نہیں کیا تو پھر عورتوں پر کیا توقع ہے؟ ہم تعلیم نسواں کے مخالف نہیں ہیں بلکہ ہم نے تو ایک سکول بھی کھول رکھا ہے۔ مگر یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ پہلے دین کا قلعہ محفوظ کیا جائے تا بیرونی باطل تاثرات سے محفوظ رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو سواء السبیل، توبہ ، تقویٰ و طہارت کی توفیق دے۔

ملازمت کیسی ہو

فرمایا۔ ملازمت اگر منہیات سے روکے تو ایک نعمت ہے جو ہر طرح سے قابل شکریہ ہے اور اگر بر خلاف اس کے بد افعال کا مرتکب کرے تو پھر ایک لعنت ہے جس سے بچنا لازم۔

تعلق پیدا کرنا بڑے کام کی چیز ہے

تعلق پیدا کرنا بڑے کام کی چیز ہے۔ دیکھو! کوئی چور ہے اور ایک شخص کا بڑا دوست ہے وہ شخص اس سے احسان و مدارات سے پیش آتا ہے تو وہ چور خواہ کس قدر بُرا ہے مگر اس شخص کی کبھی چوری نہیں کرے گا اور کبھی اس کے گھر میں نقب نہیں لگائے گا تو کیا خدا چور جیسا بھی نہیں؟ کیا خدا سے وفاداری کا تعلق بے فائدہ جاسکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔

تمام اخلاقِ حمیدہ اسی کے صفات کا پَرتَو ہیں۔ جو سچے دل سے اس کے پاس آتے ہیں وہ ان میں اور ان کے غیر میں ایک فرقان رکھ دیتا ہے۔

سچے دل سے تضرّع ایک حصار ہے

صوفی کہتے ہیں جس شخص پر چالیس دن گذر جائیں اور خدا کے خوف سے ایک دفعہ بھی اس کی آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہوں تو ان کی نسبت اندیشہ ہے کہ وہ بے ایمان ہو کر مَرے۔ اب ایسے بھی بندگانِ خدا ہیں کہ چالیس دن کی بجائے چالیس سال گذر جاتے ہیں اور ان کی اس طرف توجہ ہی نہیں ہوتی۔ دانشمند انسان وہ ہے جو بَلا آنے سے پہلے بَلا سے بچنے کا سامان کرے۔ جب بَلا نازل ہو جاتی ہے تو اس وقت نہ سائنس کام دیتی ہے اور نہ دولت۔ دوست بھی اس وقت تک ہیں جب تک صحت ہے پھر تو پانی دینے کے لئے بھی کوئی نہیں ملتا۔ آفات بہت ہیں۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جلدی توبہ کرو کہ انسان کے گرد چیونٹیوں سے بڑھ کر بَلائیں ہیں۔ جن لوگوں کا تعلق خدا سے ہے جس طرح وہ بَلاؤں سے بچائے جاتے ہیں دوسرے ہر گز نہیں بچائے جاتے۔ تعلق بڑی چیز ہے۔

بہ زیر سلسلہ رفتن طریق عیاری است

کوئی انسان نہیں جس کے لئے آفات کا حصہ موجود نہیں۔ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا(الم نشرح:۷) انسان کو مایوس بھی نہیں ہونا چاہیے۔

برکریماں کارہا دشوار نیست

ایک منٹ میں کچھ کا کچھ کر دیتا ہے۔

نومید ہم مباش کہ رندان بادہ نوش

ناگاہ بیک خروش بمنزل رسیدہ اند

امن اور صحت کے زمانہ کی قدر کرو۔ جو امن وصحت کے زمانے میں خدا کی طرف رجوع کرتا ہے خدا اس کی تکلیف وبیماری کے زمانہ میں مدد کرتا ہے۔ سچے دل سے تضرّع ایک حصار ہے جس پر کوئی بیرونی حملہ آوری نہیں ہوسکتی۔۱؎


۱۷؍ مئی ۱۹۰۸ء

تقریر حضرت اقدس علیہ السلام

بجے صبح تا ایک بجے دوپہر

بمقام لاہور تکمیل التبلیغ و اتمام الحجۃ۲؎

شکریہ مجھے اس وقت اس بات کا اظہار ضروری اور مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ہمیں تین قسم کا شکر کرنا چاہیے۔ سب سے مقدم اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں زندگی دی، صحت دی، تندرستی بخشی، امن دیا اور اشاعتِ دین کے لئے سامان مہیا کر دیئے اور حقیقتاً سچی بات یہی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی ان نعمتوں کا شمار کرنا چاہیں تو ہرگز ممکن نہیں کہ اس خدا کی مہربانیوں اور احسانوں کا شمار کرسکیں۔۱؎

اس کے انعامات ہر دو روحانی اور جسمانی رنگ میں محیط ہیں اور جیسا کہ وہ سورہ فاتحہ میں جو کہ سب سے پہلی سورہ ہے اور تمام قرآن شریف اسی کی شرح اور تفسیر ہے اور وہ پنجوقت نمازوں میں بار بار پڑھی جاتی ہے اس کا نام ہے ربُّ العالمین یعنی ہر حالت میں اور ہر جگہ پر اسی کی ربوبیت سے انسان زندگی اور ترقی پاتا ہے اور اگر نظرِ عمیق سے دیکھا جاوے تو حقیقت میں انسانی زندگی کا بقا اور آسودگی اور آرام، راحت و چین اسی صفتِ الٰہی سے وابستہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی صفت رحمانیت کا استعمال نہ کرے اور دنیا سے اپنی رحمانیت کا سایہ اٹھا لے تو دنیا تباہ ہوجاوے۔ پھر اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنا نام رحمٰن اور رحیم رکھا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمٰن اور رحیم میں فرق بیان کر دوں۔

رحمٰن اور رحیم میں فرق

اَلرَّحْـمٰن

سو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی اس رحمت کا نام جو بغیر کسی عوض یا انسانی عمل محنت اور کوشش کے انسان کے شاملِ حال ہوتی ہے رحمانیت ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے نظامِ دنیا

‘‘(بدر جلد ۷ نمبر ۲۵ مورخہ ۲۵؍ جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۳)

بنا دیا، سورج پیدا کیا، چاند بنایا، ستارے پیدا کئے، ہوا، پانی، اناج بنائے۔ ہماری طرح طرح کی امراض کے واسطے شفا بخش دوائیں پیدا کیں۔ غرض اسی طرح کے ہزاروں ہزار انعامات ایسے ہیں کہ بغیر ہمارے کسی عمل یا محنت و کوشش کے اس نے محض اپنے فضل سے پیدا کر دئیے ہیں۔ اگر انسان ایک عمیق نظر سے دیکھے تو لاکھوں انعامات ایسے پائے گا اور اس کو کوئی وجہ انکار کی نہ ملے گی اور ماننا ہی پڑے گا کہ وہ انعامات اور سامانِ راحت جو ہمارے وجود سے بھی پہلے کے ہیں بھلا وہ ہمارے کس عمل کا نتیجہ ہیں؟

دیکھو! یہ زمین اور یہ آسمان اور ان میں کی تمام چیزیں اور خود ہماری بناوٹ اور وہ حالت کہ جب ہم ماؤں کے پیٹ میں تھے اور اس وقت کے قویٰ یہ سب ہمارے کس عمل کا نتیجہ ہیں؟ میں ان لوگوں کا یہاں بیان نہیں کرنا چاہتا جو تناسخ کے قائل ہیں مگر ہاں اتنا بیان کئے بغیر رہ بھی نہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ کے ہم پر اتنے لا تعداد اور انعام اور فضل ہیں کہ ان کو کسی ترازو میں وزن نہیں کر سکتے۔ بھلا کوئی بتا تو دے کہ یہ انعامات کہ چاند بنایا، سورج بنایا، زمین بنائی اور ہماری تمام ضروریات ہماری پیدائش سے بھی پہلے مہیّا کر دیں۔ یہ کُل انعامات کس عمل کے ساتھ وزن کریں گے؟

پس ضروری طور سے یہ ماننا پڑے گا کہ خدا رحمٰن ہے اور اس کے لاکھوں فضل ایسے بھی ہیں کہ جو محض اس کی رحمانیت کی وجہ سے ہمارے شامل حال ہیں اور اس کے وہ عطایا ہمارے کسی گذشتہ عمل کا نتیجہ نہیں ہیں اور کہ جو لوگ ان امور کو اپنے کسی گذشتہ عمل کا نتیجہ خیال کرتے ہیں وہ محض کوتاہ اندیشی اور جہالت کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔ خدا کا فضل اور رحمانیت ہماری روحانی جسمانی تکمیل کی غرض سے ہے اور کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا کہ یہ میرے اعمال کا نتیجہ ہیں۔

اَ لرَّحِیْم انسان کی سچی محنت اور کوشش کا بدلہ دیتا ہے۔ ایک کسان سچی محنت اور کوشش کرتا ہے۔

ا

س کے مقابل میں یہ عادت اللہ ہے کہ وہ اس کی محنت اور کوشش کو ضائع نہیں کرتا اور بابرگ و بار کرتا ہے۔ شاذ و نادر حکم عدم کا رکھتا ہے۔۱؎

صفت ربوبیت

اللہ کی ایک صفت ربّ ہے یعنی پرورش کرنے اور تربیت کرنے والا۔ کیا روحانی اور کیا جسمانی دونوں قسم کے قویٰ اللہ تعالیٰ نے ہی انسان میں رکھے ہیں۔ اگر قویٰ ہی نہ رکھے ہوتے تو انسان ترقی ہی کیسے کرسکتا۔ جسمانی ترقیات کے واسطے بھی اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم اور انعام کے گیت گانے چاہئیں کہ اس نے قویٰ رکھے اور پھر ان میں ترقی کرنے کی طاقت بھی فطرتاً رکھ دی۔

صفت مالکیت

مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ(الفاتحۃ:۴) خدا مالک ہے جزا سزا کے دن کا۔ ایک رنگ میں اسی دنیا میں بھی جزا سزا ملتی ہے۔ ہم روزمرہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ چور چوری کرتا ہے۔ ایک روز نہ پکڑا جاوے گا دو روز نہ پکڑا جاوے گا آخر ایک دن پکڑا جاوے گا اور زندان میں جائے گا اور اپنے کئے کی سزا بھگتے گا۔ یہی حال زانی، شراب خور اور طرح طرح کے فسق و فجور میں بے قید زندگی بسر کرنے والوں کا ہے کہ ایک خاص وقت تک خدا کی شانِ ستّاری ان کی پردہ پوشی کرتی ہے۔ آخر وہ طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور دکھوں میں مبتلا ہو کر ان کی زندگی تلخ ہو جاتی ہے اور یہ اس اُخروی دوزخ کی سزا کا نمونہ ہے۔ اسی طرح سے جو لوگ سرگرمی سے نیکی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی اور فرماں برداری ان کی زندگی کا اعلیٰ فرض ہوتا ہے تو خدا ان کی نیکی کو بھی ضائع نہیں کرتا اور مقررہ وقت پر ان کی نیکی بھی پھل لاتی اور باردار ہو کر دنیا میں ہی ان کے واسطے ایک نمونہ کے طور پر مثالی جنت حاصل کر دیتی ہے۔

غرض جتنے بھی بدیوں کا ارتکاب کرنے والے فاسق، فاجر، شراب خور اور زانی ہیں۔ ان کو خدا کا اور روزِ جزا کا خیال آنا تو درکنار۔ اسی دنیا میں ہی اپنی صحت، تندرستی، عافیت اور اعلیٰ قویٰ کھو بیٹھتے ہیں اور پھر بڑی حسرت اور مایوسی سے ان کو زندگی کے دن پورے کرنے پڑتے ہیں۔ سل، دق، سکتہ اور رعشہ اور اَور خطرناک امراض ان کے شامل حال ہو کر مَرنے سے پہلے ہی مَر رہتے اور آخر کار بے وقت اور قبل از وقت موت کا لقمہ بن جاتے ہیں۔

پس انسان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے احسانات اور انعامات کا جو اس نے انسانی تربیت اور تکمیل کے واسطے مہیا کیے ہیں۔ ان کا خیال کر کے اس کا شکر یہ کرے اور غور کرے کہ اتنے قویٰ اس کو کس نے عطا کئے ہیں؟ انسان شکر کرے یا نہ کرے۔ یہ اس کی اپنی مرضی ہے۔ مگر اگر فطرت سلیم رکھتا ہے اور سوچ کر دیکھے گا تو اس کو معلوم ہوگا کہ کیا ظاہری اور کیا باطنی ہر قسم کے قویٰ اللہ تعالیٰ ہی کے دئیے ہوئے اور اسی کے تصرّف میں ہیں۔ چاہے تو ان کو شکر کی وجہ سے ترقی دے اور چاہے تو ناشکری کی وجہ سے ایک دم میں ضائع کر دے۔ غور کا مقام ہے کہ اگر یہ تمام قویٰ خود انسان کے اپنے اختیار اور تصرّف میں ہوں تو کون ہے کہ اس کا مَرنے کو جی چاہے۔ انسان کا دل دنیا کی محبت کی گرمی کی وجہ سے آخرت سے بے فکری و سردمہری اختیار کر لیتا ہے۔ غافل انسان ایسا نادان ہے کہ اگر اس کو خدا سے پروانہ بھی آ جاوے کہ تمہیں بہشت ملے گا، آرام ہوگا اور طرح طرح کے باغ اور نہریں عطا کی جاویں گی۔ تمہیں اجازت ہے اور تمہاری اپنی خواہش اور خوشی پر منحصر ہے کہ چاہو تو ہمارے پاس آ جاؤ اور چاہو تو دنیا میں ہی رہو۔ تو یاد رکھو کہ بہت سے لوگ ایسے ہوں گے کہ وہ اس دنیا کے گذارہ کو ہی پسند کریں گے اور باوجود طرح طرح کی تلخیوں اور مشکلات کے اس دنیا سے محبت کریں گے۔

دنیا حد اعتدال سے باہر ہو چکی ہے

دیکھو! عمر کا بھروسہ نہیں۔ زمانہ بڑا ہی نازک آ گیا ہے۔ آپ لوگ دیکھتے ہوں گے کہ ہر سال کئی دوست اور کئی دشمن، کئی عزیز اور کئی پیارے بھائی اور بہن اس دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی عزیز سے عزیز اور قریبی سے قریبی رشتہ دار انسان کی مشکلات میں سہارا دینے والا نہیں ہو سکتا۔ مگر بایں ہمہ انسان جس قدر محنت اور کوشش اور مجاہدہ ان کے واسطے اور اپنے دنیوی امور کے واسطے کرتا ہے وہ بمقابلہ خدا کے بہت ہی بڑھا ہوا ہے۔ خدا کی عبادت اور فرماں برداری اور اس کی راہ میں کوشش اور سوز و گداز بہت کچھ نابود ہے۔ اعتدال نہیں کیا گیا۔ دنیا حدِّ اعتدال سے باہر ہو چکی ہے۔ دنیوی کاروبار میں ترقی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ترقی ہو رہی ہے۔ مگر بھلا کسی نے ایسی کوشش بھی کی ہے کہ ایک دن اس کی موت کا مقرر ہے۔ اس سے بھی یہ خود اپنے آپ کو یا کوئی دوسرا شخص اس کو باز رکھ سکے یا بچا سکے۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ اگر کوئی موت کا یاد دلانے والا ہوگا تو اس کی بھی پروا نہ کریں گے اور ہنسی ٹھٹھے میں ٹال دیں گے۔ اکثر انسان بہت ہی غلطی پر ہیں۔

توجہ اِلَی اللہ

دیکھو! یہ نہ سمجھنا کہ ان باتوں سے میرا مطلب یہ ہے کہ تم تجارت نہ کرو یا کاروبارِ دنیا کو ترک کر کے بیٹھ جاؤ۔ عیال واطفال جو تمہارے گلے میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کی خبرگیری نہ کرو یا بیوی بچوں یا بنی نوع انسان کے بعض حقوق جو تمہاری ذمہ داری میں داخل ہیں ان کی پروا نہ کرو۔ نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کو بھی بجالاؤ اور خدا سے بھی غافل نہ ہو۔ جب تم اپنی دنیوی آنی اور فانی ضروریات میں اس طرح کا انہماک اور استغراق پیدا کرتے ہو تو خدا تعالیٰ سے منہ پھیر لینا اور اس کی رضا جوئی اور خوشنودی کے حصول کے واسطے کوشش نہ کرنا اور خدا سے منہ پھیر لینا بھلا کس عقلمندی کا کام ہے؟ وہ خدا جس نے ابتدا میں پیدا کیا اور درمیانی حالات بھی اس کے قبضہ اور تصرّف میں ہیں اور انجام کار بھی اسی کی حکومت اور اسی سے واسطہ پڑے گا۔ اس خدا سے فارغ محض اور غافل ہو جانا اس کا نتیجہ ہرگز خیر نہیں ہو سکے گا۔ وہ خدا جس کے انعامات انسان کے ساتھ ہر حال میں شامل رہتے ہیں اور وہ بے شمار اور بے اندازہ احسانات ہیں اسی کا شکر کرتے رہنا بہت ضروری ہے۔ شکر اسی کو کہتے ہیں کہ سچے دل سے اقرار کرے کہ واقعی اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ایسی ہیں کہ بے شمار اور بے اندازہ ہیں۔

انصاف پسند گورنمنٹ کا شکریہ

دوسری بات جو مَیں کہنا چاہتا ہوں اور کہوں گا گو بعض لوگ اسے ظاہری خیال یا بناوٹ یا کچھ سمجھیں اور وہ یہ ہے کہ گورنمنٹ انگریزی کا احسان ہم مسلمانوں پر بہت بڑا احسان ہے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا شکریہ ادا کیا جاوے۔ سوچ کر دیکھ لو۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ اس عہد حکومت سے پہلے سکھوں کے زمانہ میں ہی ہم لوگوں پر کیسے کیسے مشکلات تھے۔ ہمارے باپ دادا کی حالت کیسی خطروں میں گھری ہوئی تھی اور احکام شرعیہ کا رواج تو بجائے خود اذان تک تو اونچی آواز سے کوئی کہہ نہ سکتا تھا۔ بلند آواز سے اذان کہنا ایک ایسا جرم تھا جس کی سزا موت ہوتی تھی۔ کسی قسم کے حلال شرعیہ بھی استعمال نہ کئے جا سکتے تھے۔ بات بات پر انسان کیڑوں مکوڑوں کی طرح ذلّت سے ہلاک کر دیا جاتا تھا۔ مگر اب آج اس عہد حکومت میں کیسا امن کیسی آزادی ہے کہ ہر ایک مسلمان بشرطیکہ اپنی نیت میں خرابی نہ رکھتا ہو۔ تکمیل دین کے واسطے ہر کام کو آزادی سے ادا کرسکتا ہے۔ چاہے جس زور سے اذانیں کہو، نمازیں پڑھو، اعمال بجالاؤ، علوم کی تحصیل کرو یا کسی کا ردّ لکھو۔ خواہ خود عیسائیوں کا ردّ لکھو کوئی ناراضگی نہیں۔

ابھی چند روز کا ذکر ہے کہ جناب فنانشل کمشنر صاحب بہادر دورہ کرتے ہوئے قادیان میں تشریف لائے۔ ملاقات کے وقت انہوں نے بیان کیا کہ کیسی آزادی ہے کہ ہر ایک شخص ایک خاص حد تک جو قانون کی حد سے نہ نکل جاوے۔ آزادی سے خیالات کا اظہار کر سکتا ہے۔ کتابیں لکھ سکتا ہے۔ تقریریں کر سکتا ہے اگر کوئی تعصب ہوتا تو عیسائیوں کے ردّ کرنے والوں پر تو کم از کم سختی کی جاتی۔

غرض یہ اَمر اس گورنمنٹ کی انصاف پسندی اور بے تعصبی کا ایک عمدہ نمونہ اور دلیل ہے۔ مگر انسان کا یہ فرض ہے کہ بات کو اس حد تک نہ پہنچادے کہ قانونی گرفت کے اندر آجائے اور جرم کی حد تک پہنچادے۔ پس یاد رکھو کہ اگر کوئی شخص مسلمان ہو کر اس کی نافرمانی کرتا ہے تو وہ خدا کی نافرمانی کرتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص بندے کا شکر نہیں کرتا وہ خدا کا بھی شکر گذار نہیں بن سکتا۔

یاد رکھو کہ گورنمنٹ کی ناراضگی کی وجہ بغاوت ہوتی ہے ورنہ جائز طور سے دینی معاملات کی انجام دہی اور امن کی زندگی گذارنے سے گورنمنٹ ہرگز کسی پر عتاب نہیں کرتی۔ ایسے صلح کاری، امن پسندی اور انصاف شعاری کے اصول رکھنے والی گورنمنٹ کا شکریہ نہ کرنا بھی گناہ ہے۔ پس مسلمانوں پر عموماً اور ہماری جماعت پر خصوصاً واجب ہے کہ اپنی مہربان گورنمنٹ کا بھی شکریہ کریں۔ اگر یہ گورنمنٹ سر پر نہ ہو تو پھر دیکھ لو کہ کیا حال ہوتا ہے۔ انسان کس طرح سے بے دریغ بھیڑ بکری کی طرح ذبح کئے جاتے ہیں؟ اس گورنمنٹ کی حکومت آئی تو ان پر کیا الزام۔ یہ تو مشیتِ ایزدی بھی اسی طرح پر واقع ہوئی تھی۔ مسلمان بادشاہوں نے اپنے فرائض کو چھوڑ دیا۔ عیش وعشرت میں پڑ کر حکومت اور رعایا کے حقوق کی پروا نہ کی۔ عورتوں کی طرح زیب وزینت میں مصروف ہو گئے ۔ سیاست و مدن کے امور کو ترک کر دیا۔ خدا نے اُن کو نا اہل اور ان کو اہل پا کر عنانِ حکومت انہی کے ہاتھ میں دی۔ یہ اگر کسی پر سختی کرتے بھی ہیں تو کسی وجہ سے۔ البتہ اگر کسی معاملہ میں علم نہ ہو تو مجبوری ہے کیونکہ بے علمی کی وجہ سے تو زاہد اور پارسا آدمی بھی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ دیدہ دانستہ ظلم کو ہرگز پسند نہیں کرتے بلکہ سلیم الطبع حکام بعض اوقات ظاہری امور کی پروا نہ کر کے اور ان سے تسلی نہ پانے کی وجہ سے مقدمات کی تہہ نکالنے کے واسطے اور اصلیت دریافت کرنے کی غرض سے اکثر بڑی محنت اور جانفشانی اور سچی انصاف پسندی سے کام کرتے ہیں۔

ہمارا ہی ایک مقدمہ تھا جو کہ ایک معزز پادری نے ہم پر اقدامِ قتل کا کیا کہ گویا ہم نے اس کے قتل کرنے کے واسطے آدمی بھیجا۔ عبدالحمید اس کا نام تھا۔ آٹھ نو آدمی گواہ بھی گذر گئے۔ وہی نہیں بلکہ مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب جو کہ مسلمانوں کے پیشوا کہلاتے ہیں۔ انہوں نے بھی ایسی گواہی دی۔ جس منصف مزاج حاکم کی عدالت میں ہمارا مقدمہ تھا۔ اس کا نام ڈگلس تھا اس نے ان سب امور کے ہوتے ہوئے کہا کہ مجھ سے ایسی بد ذاتی نہیں ہوسکتی کہ اس طرح سے ایک بے گناہ انسان کو ہلاک کر دوں اور حالانکہ مقدمہ سیشن سپرد کرنے کے لائق ہو گیا تھا۔ مگر اس نے پھر کپتان صاحب پولیس کو حکم دیا کہ اس کی اچھی طرح سے تحقیقات کی جاوے۔ چنانچہ آخر کار اسی عبدالحمید نے اقرار کیا کہ مجھے اصل میں ان پادریوں نے سکھایا تھا کہ میں ایسا کہوں۔ اصل میں کوئی بات نہیں۔ یہ معلوم کر کے وہ ایسا خوش ہوا اور ہمیں اس کے تبسم سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایسا خوش ہے کہ جیسا کہ کسی کو بہت سا مال و دولت حاصل ہونے کی بھی اتنی خوشی نہیں ہوتی اور آخر کار خود مجھے کہا کہ مبارک ہو آپ بری کئے گئے۔ اب بتائیے کہ اگر کسی مسلمان کی عدالت میں ایسا مقدمہ ہوتا تو وہ ایسا کر سکتا تھا؟ اور وہ اس طرح سے صفائی اور انصاف کی جستجو کر سکتا تھا؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ ہمیں تو حالات موجودہ کے ماتحت بھی امید پڑتی ہے کہ اگر کسی مسلمان کے پاس ہمارا ایسا مقدمہ ہوتا تو وہ ہمیں ضرور ہی خوار کرتا۔ آٹھ نو گواہ گزر چکے تھے۔ مسل مکمل ہو چکی تھی۔ اب چھوڑتا تو کیوں کر؟ مگر یہ قوم ہے کہ اس کو اسی انصاف کی وجہ سے ہر جگہ فتح نصیب ہوئی ہے۔ جب کوئی جس قدر انصاف اختیار وشن ضمیری بھی اسے عطا کی جاتی ہے۔ مخالفت دینی اور مذہبی اَور ہے اور حکومت اَور چیز ہے۔ اگر عدالت کو مدِّنظر نہ رکھیں تو ایک دن میں یہ تختہ الٹ جاوے۔

مسلمانوں کا یہ خیال کہ ہمیں اعلیٰ اعلیٰ عہدے کیوں نہیں دیئے جاتے یہ ان کی اپنی غلطی ہے۔ یاد رکھو کہ کوئی کام جب تک پہلے آسمان پر نہیں ہو لیتا زمین پر ہرگز نہیں ہو سکتا۔ خود نیک چلنی اختیار کرو اور اپنی حالت کو سنوارو۔ اس قابل بنو کہ خدا کی نظر میں آسمان پر تم اس قابل ٹھہر جاؤ کہ تمہیں عزت مل سکے تو پھر خود خدا تمہیں سب کچھ دے دے گا۔ اپنی حالتوں کو بدل کہ تا خدا بھی تمہارے واسطے کوئی اور راہ بناوے۔ ورنہ یاد رکھو کہ خدا نہیں چھوڑے گا جب تک کہ تم اپنی حالت کو نہیں سنوارو گے۔

تزکیہ نفس میں ہی کامیابیوں کا راز پنہاں ہے

تیسرا مقام خدا کے شکر کا یہ ہے کہ یہ خاص خدا کا فضل ہے کہ اس نے آپ لوگوں کے دلوں میں اس طرف توجہ ڈالی اور آپ لوگ یہاں تکلیف اٹھا کر تشریف لائے۔ خدا کرے کہ جس طرح ہم جسمانی طور سے مل کر بیٹھے ہیں اور جسمانی ملاقات ہوئی ہے اسی طرح ایک دن وہ بھی آوے کہ روحانی طور سے بھی ہم مل بیٹھیں۔ خدا نے انسان کو زبان دی اور ایک دل بخشا ہے۔ صرف زبان سے کوئی فتح نہیں ہوسکتی۔ دلوں کو فتح کرنے والا دل ہی ہوتا ہے جو قوم صرف زبانی ہی زبانی جمع خرچ کرتی ہے یاد رکھو کہ وہ کبھی بھی فتحیاب نہیں ہوسکتی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا نمونہ دیکھو کیا ان کے پاس کوئی ظاہری سامان تھے؟ ہرگز نہیں۔ مگر پھر بایں ہمہ کہ وہ بے سرو سامان تھے اور دشمن کثیر اور ہر طرح کے سامان اسے مہیّا تھے ان کو خدا نے کیسی کیسی بے نظیر کامیابیاں عطا کیں بھلا کہیں کسی تاریخ میں ایسی کامیابی کی کوئی نظیر ملتی ہےـ؟ تلاش کر کے دیکھ لو مگر لاحاصل۔ پس جو شخص خدا کو خوش کرنا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی دنیا ٹھیک ہو جاوے، خود پاک دل ہوجاوے۔ نیک بن جاوے اور اس کی تمام مشکلات حل اور دکھ دور ہو جاویں اور اس کو ہر طرح کی کامیابی اور فتح و نصرت عطا ہو تو اس کے واسطے اللہ تعالیٰ نے ایک اصول بتایا ہے اور وہ یہ ہے اوروہ یہ ہے کہ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰٮہَا(الشّمس:۱۰) کامیاب ہو گیا، بامراد ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا۔ تزکیہ نفس میں ہی تمام برکات اور فیوض اور کامیابیوں کا راز نہاں ہے۔ فلاح صرف امور دینی ہی میں نہیں بلکہ دنیا و دین میں کامیابی ہوگی۔ نفس کی ناپاکی سے بچنے والا انسان کبھی نہیں ہو سکتا کہ وہ دنیا میں ذلیل ہو۔ میں یہ قبول نہیں کر سکتا کہ فلسفہ، ہیئت اور سائنس کا ماہر ہونے سے تزکیہ نفس بھی ہو جاتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ البتہ یہ مان سکتا ہوں کہ ایسے شخص کے دماغی قویٰ تیز اور اچھے ہو جاتے ہیں۔ ورنہ ان علوم کو روحانیت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ بعض اوقات یہ امور روحانی ترقی کی راہ میں ایک روک ہو جاتے ہیں اور آخری نتیجہ اس کا بجز اس خوش قسمت کے کہ وہ فطرت سلیم رکھتا ہے اکثر کبر و نخوت ہی دیکھا ہے۔ کبھی نیکی اور تواضع ان میں نہیں ہوتی۔۱؎

ضرورت انسان کی راہنما ہے

ایک اور امر قابل یاد رکھنے کے یہ ہے کہ یہ قاعدہ ہے اور قانونِ قدرت میں داخل ہے کہ ہر چیز ضرورت سے پیدا ہوتی ہے۔ جس طرح ظاہری طور سے ہم دنیوی امور میں ہر روز مشاہدہ کرتے ہیں۔ یہ لباس، خوراک، سواریاں اور اَور آلات معیشت جتنے بھی ہیں یہ تمام ضرورت سے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح سے روحانی امور میں بھی بہت سے امور ضرورت سے پیدا ہوتے ہیں اور جب کبھی ضرورت ہوتی ہے وہ خدا کی طرف سے پوری کی جاتی ہے۔ ضرورت انسان کی روحانی جسمانی تمام امور میں راہ نما ہے اور اسی سے حق و باطل میں امتیاز حاصل ہو سکتا ہے۔ جس طرح کوئی چیز بلا ضرورت اور بے فائدہ نہیں اسی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ضرورتِ حقّہ کے وقت یہ خیال کرنا کہ خدا نے اس وقت کوئی سامان پیدا نہیں کیا۔ سخت غلطی ہے۔

اسلام پر اندرونی اور بیرونی حملے

اب ہمارا یہ زمانہ جس میں ہم موجود ہیں کیا اندرونی اور کیا بیرونی طور سے اس میں اس قدر مفاسد بھرے ہوئے ہیں کہ جس پہلو پر نظر ڈالو کوئی بھی خوش کن نہیں۔ بیرونی طور پر اسلام پر اس قدر حملے ہوئے ہیں اور اسلام نے اس قدر صدمے اٹھائے ہیں کہ ایک بہت بڑا حصہ مسلمانوں کا ان سے متاثر ہو کر خود دین سے ہی ہاتھ دھو بیٹھا ہے پھر ان کے بعد ایک بہت بڑا حصہ مذبذب لوگوں کا پیدا ہو چکا ہے جن کو اسلام کے متعلق اطمینان حاصل نہیں اور وہ بالکل کمزور ہیں۔ باقی یقین کامل رکھنے والے اور علیٰ وجہ البصیرت اسلام پر ایمان لانے والے بہت ہی قلیل ہیں۔ کئی قسم کے حملے ہو رہے ہیں۔ منقولات کے اسلحہ اسلام پر چلائے جاتے ہیں اور آریہ اور پادری لوگ اعتراضات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں۔ اگر چہ وہ جانتے ہیں کہ خود وہ گندے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں بلکہ نکتہ چینی کرنا سہل ہے مگر خوبی بیان کرنا مشکل۔

علوم جدیدہ کا حملہ

علوم جدیدہ کا بھی ایک قسم کا اسلام پر حملہ ہے۔ آجکل کی تعلیم، فلسفہ، طبعی اور ہیئت بھی انسان کو ایک غلطی میں ڈالتی ہے۔ میں تجربہ سے دیکھ رہا ہوں کہ اکثر لوگ جنہوں نے خواہ مکمل طور سے ان علوم کو حاصل کیا ہو خواہ ناقص طور سے وہ عموماً بے قید زندگی اختیار کر لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہی ان کے دلوں سے اٹھ جاتی ہے اور پھر نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ خود خدا سے بھی انکار کر بیٹھتے ہیں۔ ان کے کلام سے ہی ایک قسم کی بد بو آتی ہے اور وہ ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ آج بھی ہاتھ سے گئے اور کل بھی گئے اور در حقیقت اس گروہ کا حملہ آریوں اور پادریوں کے حملوں سے بھی بڑھا ہوا ہے۔ کیونکہ ان کے اعتراض عموماً منقولات کے رنگ میں ہوتے ہیں۔ ان میں صدق وکذب کا احتمال ہوتا ہے مگر یہ لوگ تو اپنا ذاتی تجربہ اور روزانہ مشاہدہ پیش کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس کا اثر بہت سخت اور بُرا پڑتا ہے۔

غرض سچی بات یہی ہے کہ اندرونی حملے بیرونی حملوں سے بہت بڑھے ہوئے اور خطرناک اور زہریلا اثر ڈالنے والے ہیں۔ سچ ہے کہ از ما است کہ بر ما است۔ اصل میں یہ قصور خود مسلمانوں کا ہے جنہوں نے اپنی سادہ لوح اولاد کو بغیر اس کے کہ ان کو قرآن اور اسلام کے ضروری علوم سے آگاہ کریں ان مدرسوں اور کالجوں میں بھیج دیا۔ مانا کہ طلب علم ہر مرد عورت پر فرض ہے جیسا کہ حدیث طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ وَّمُسْلِمَۃٍ سے ظاہر ہے مگر اوّل علوم دینیہ کا حصول فرض ہے۔ جب بچے علوم دینی سے پورے واقف ہو جاویں اور ان کو اسلام کی حقیقت اور نور سے پوری اطلاع ہو جاوے تب ان مروجہ علوم کے پڑھانے کا کوئی حرج نہیں۔ اصل میں ان مسلمانوں کی موجودہ روش بہت ہی خطرناک ہے۔ دیکھو! پہلے ایک عورت کو بازاری کنجری بنا کر پھر توبہ کرائی جائے تو وہ کیسی توبہ کرے گی؟ شراب، بدکاری اور بے قید زندگی اس کی عادت ثانی ہو جاوے گی۔ اوّل تو اسے توبہ کرنا ہی مشکل اور اگر کرے بھی تو وہ کیسی توبہ ہوگی؟ اس کو ہر کوئی سمجھ سکتا ہے۔ یہی حال ان لڑکوں کا ہے جن کو پہلے فلسفہ اور سائنس کے زہریلے علوم سکھا کر خود خدا کی ہستی پر ہی شبہات پیدا کرا دئیے جاتے ہیں اور پھر ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اسلام کے بھی شیفتہ ہوں۔۱؎

علوم جدیدہ کے حملے کا علاج

ہمارا یہ ایمان ہے کہ کوئی فلسفہ اور سائنس خواہ وہ اپنی اس موجودہ حالت سے ہزار درجہ ترقی کر جاوے مگر قرآن ایسی ایک کامل کتاب ہے کہ یہ نئے علوم کبھی بھی اس پر غالب نہیں آسکتے۔ مگر اس شخص کی نسبت ہم کیوں کر ایسی رائے قائم کر سکتے ہیں کہ جس کی نسبت ہمیں معلوم ہے کہ اس کو علوم قرآن سے مسّ ہی نہیں اور اس نے اس طرف کبھی توجہ ہی نہیں کی بلکہ کبھی ایک سطر بھی قرآن شریف کی غور و تدبّر کی نظر سے نہیں پڑھی۔

مثال کے طور پر قرآن کی تعلیم روحانی کا ایک فلسفہ بیان ہوا ہے جو بعد الموت اعمال کے نتیجہ میں انسان کو بہشت کے رنگ میں ملے گا جس کے نیچے نہریں چلتی ہوں گی۔ بظاہر یہ ایک قصہ ہے مگر قصہ نہیں گو کہ قصہ کے رنگ میں آگیا ہے۔ اس کی حقیقت یہی ہے کہ اس وقت کے لوگ علوم روحانی کے نہ جاننے کی وجہ سے نادان بچوں کی طرح تھے۔ ایسے باریک اور روحانی علوم کے سمجھانے کے واسطے ان کے مناسب حال استعاروں سے کام لینا اور مثالوں کے ذریعہ سے اصل حقیقت کو ان کے ذہن نشین کرنا ضروری تھا۔ اسی واسطے قرآن شریف نے بہشت کی حقیقت سمجھانے کے واسطے اس طریق کو اختیار کیا اور پھر یہ بھی فرمایا کہ مَثَلُ الۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ(محمد:۱۶) یہ ایک مثال ہے نہ کہ حقیقت۔ قرآن شریف کے ان الفاظ سے صاف عیاں ہے کہ وہ جنت کوئی اَور ہی چیز ہے اور حدیث میں صاف یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ ان ظاہری جسمانی دنیوی امور پر نعماء جنت کا قیاس نہ کیا جاوے کیونکہ وہ ایسی چیز ہے کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھی نہ کسی کان نے سنی وغیرہ۔ مگر وہ باتیں جن کی مثال دے کر جنت کی نعماء کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ تو ہم دیکھتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں ایک مقام پر قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے وَبَشِّرِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ(البقرۃ:۲۶) اس آیت میں ایمان کو اعمال صالحہ کے مقابل پر رکھا ہے جنّات اور انہار۔ یعنی ایمان کا نتیجہ تو جنت ہے اور اعمال صالحہ کا نتیجہ انہار ہیں۔ پس جس طرح باغ بغیر نہر اور پانی کے جلدی برباد ہو جانے والی چیز ہے اور دیر پا نہیں اسی طرح ایمان بے عمل صالح بھی کسی کام کا نہیں۔ پھر ایک دوسری جگہ پر ایمان کو اشجار (درختوں )سے تشبیہ دی ہے اور فرمایا ہے کہ وہ ایمان جس کی طرف مسلمانوں کو بلایا جاتا ہے۔ وہ اشجار ہیں اور اعمال صالحہ ان اشجار کی آبپاشی کرتے ہیں۔ غرض اس معاملہ میں جتنا ج ت نا ت دبّر کیا جاوے اسی قدر معارف سمجھ میں آویں گے جس طرح سے ایک کسان کاشتکار کے واسطے ضروری ہے کہ وہ تخم ریزی کرے۔ اسی طرح روحانی منازل کے کاشتکار کے واسطے ایمان جو کہ روحانیات کی تخم ریزی ہے ضروری اور لازمی ہے اور پھر جس طرح کاشتکار کھیت یا باغ وغیرہ کی آبپاشی کرتا ہے اسی طرح روحانی باغ ایمان کی آبپاشی کے واسطے اعمال صالحات کی ضرورت ہے۔ یاد رکھو کہ ایمان بغیر اعمال صالحہ کے ایسا ہی بیکار ہے جیسا کہ ایک عمدہ باغ بغیر نہر یا دوسرے ذریعہ آبپاشی کے نکما ہے۔ درخت خواہ کیسے ہی عمدہ قسم کے ہوں اور اعلیٰ قسم کے پھل لانے والے ہوں مگر جب مالک آبپاشی کی طرف سے لا پرواہی کرے گا تو اس کا جو نتیجہ ہو گا وہ سب جانتے ہیں۔ یہی حال روحانی زندگی میں شجر ایمان کا ہے۔ ایمان ایک درخت ہے جس کے واسطے انسان کے اعمال صالحہ روحانی رنگ میں اس کی آبپاشی کے واسطے نہریں بن کر آبپاشی کا کام کرتے ہیں پھر جس طرح ہر ایک کاشتکار کو تخمریزی اور آبپاشی کے علاوہ بھی محنت اور کوشش کرنی پڑتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ نے روحانی فیوض و برکات کے ثمرات حسنہ کے حصول کے واسطے بھی مجاہدات لازمی اور ضروری رکھے ہیں۔ چنانچہ فرماتا ہے وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا(العنکبوت:۷۰)۔۱؎

نفس انسانی کی تین حالتیں

نفس انسانی ایک بیل کے مشابہ ہے اور اسکے تین درجے ہوتے ہیں۔ نفسِ امّارہ۔ امّارہ مبالغہ کا صیغہ ہے۔ امّارہ کہتے ہیں بدی کی طرف لے جانے والا۔ بہت بدی کا حکم کرنے والا۔۲؎

دوسری قسم نفس کی نفسِ لوّامہ ہے۔ لوّامہ کہتے ہیں ملامت کرنے والے کو۔ انسان سے ایک وقت بدی ہو جاتی ہے مگر ساتھ ہی اس کا نفس اس کو اس بدی کی وجہ سے ملامت بھی کرتا اور نادم ہوتا ہے۔ یہ انسانی فطرت میں رکھا گیا ہے مگر بعض طبائع ایسے بھی ہیں کہ اپنی گندہ حالت اور سیاہ کاریوں کی وجہ سے وہ ایسے محجوب ہو جاتے ہیں کہ ان کی فطرت فطرت سلیم کہلانے کی مستحق نہیں ہوتی۔ ان کو اس ملامت کا احساس ہی نہیں ہوتا مگر شریف الطبع انسان ضرور اس حالت کا احساس کرتا اور بعض اوقات وہی ملامت نفس اس کے واسطے باعث ہدایت ہو کر موجب نجات ہو جاتی ہے۔ مگر یہ حالت ایسی نہیں کہ اس پر اعتبار کیا جاوے۔

نفس کی ایک تیسری حالت ہے جسے مطمئنّہ کے نام سے پکارا گیا ہے اور وہ انسان کو جب حاصل ہوتی ہے کہ انسان نفسِ امّارہ اور پھر نفسِ لوّامہ کی مشکلات کو حل کر جائے اور اس جنگ میں اس کو فتح نصیب ہو۔ نفس امّارہ انسان کا دشمن ہے اور وہ گھر کا پوشیدہ دشمن ہے۔ لوّامہ بھی کبھی کبھی دشمنی کا ارادہ کرتا ہے مگر باز آ جاتا ہے مگر بر خلاف ان دونوں حالتوں کے جب انسان ترقی کر کے نفسِ. مطمئنّہ کے درجے تک ترقی کر جاتا ہے تو اس کی ایسی حالت ہوتی ہے کہ گویا اس کا دشمن اس کے زیر ہو گیا اور اس نے دشمن پر فتح نمایاں حاصل کر لی اور صلح ہو گئی۔ انسانی ترقیات کی آخری حد اور اس کی زندگی کا انتہائی نقطہ اسی بات پر ختم ہوتا ہے کہ انسان حالت۔ مطمئنّہ حاصل کر لے اور وہ ایسی حالت ہوتی ہے کہ اس کی رضا خدا کی رضا اور اس کی ناراضگی خدا کی ناراضگی ہو جاتی ہے اس کا ارادہ خدا کا ارادہ ہوتا ہے اور وہ خدا کے بلائے بولتا اور خدا کے چلائے چلتا ہے۔ تمام افعال حرکات و سکنات اس سے نہیں بلکہ خدا سے سرزد ہوتے ہیں اور انسان کی پہلی حالت پر ایک قسم کی موت وارد ہو جاتی ہے اور ایک نئی زندگی کا جامہ اسے ازسر نو عطا کیا جاتا ہے۔ اور پھر ایسا انسان ایک ممتاز انسان ہو جاتا ہے۔

غرض قانون قدرت میں ایسا پایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے دو سلسلے پہلو بہ پہلو بنائے ہیں ایک جسمانی اور دوسرا روحانی۔ جو کچھ جسمانی طور سے مہیا ہے وہی روحانی طور سے بھی ہوتا ہے۔ پس جو شخص ان دونوں سلسلوں کو نصب العین رکھ کر کاروبار میں کوشش اور محنت کرے گا وہ جلدی ترقی کرے گا۔ اس کے معلومات وسیع ہوں گی۔ ہر صورت میں ہر جسمانی کام ان کے روحانی امور کے مشابہ ہو گا۔ اَلدُّنْیَا مَزْرَعَۃُ الْاٰخِرَۃِ۔

ہر زمانہ میں مزکّی اور مامور من اللہ کی ضرورت

ہم نظام جسمانی میں دیکھتے ہیں کہ جسمانی کاشتکار باوجود ہر قسم کی باقاعدہ محنت و مشقت کے بھی پھر آسمانی پانی کا محتاج ہے اور اگر اس کی محنتوں اور کوششوں کے ساتھ آسمانی پانی اس کی فصل پر نہ پڑے تو فصل تباہ، محنت برباد ہو جاتی ہے۔ پس یہی حال روحانی رنگ میں ہے انسان کو خشک ایمان کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا جب تک کہ روحانی بارش نازل ہو کر بڑے زور کے نشانات سے اس کے اندرونی گند دھو کر اس کو صاف نہ کرے۔ چنانچہ قرآن شریف میں اسی کی طرف اشارہ کر کے فرماتا ہے وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِ وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ(الطارق:۱۲، ۱۳)

یعنی قسم ہے آسمان کی جس سے بارش نازل ہوتی ہے اور قسم ہے زمین کی جس سے شگوفہ نکلتا ہے۔ بعض لوگ اپنی نادانی کی وجہ سے کہتے ہیں کہ خدا کو قسم کی کیا ضرورت تھی؟ مگر ایسے لوگ آخر کار اپنی جلد بازی کی وجہ سے ندامت اٹھاتے ہیں۔ قسم کا مفہوم اصل میں قائم مقام ہوتا ہے شہادت کے۔ ہم دنیوی گورنمنٹ میں بھی دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات مقدمات کے فیصلوں کا حصر ہی قسم پر رکھا جاتا ہے۔ پس اسی طرح سے خدا تعالیٰ بھی بارش آسمانی کی قسم کھا کر نظام جسمانی کی طرح نظام روحانی میں اس بات کو بطور ایک شہادت کے پیش کرتا ہے کہ جس طرح سے زمین کی سرسبزی اور کھیتوں کا ہرا بھرا ہونا آسمانی بارش پر موقوف ہے اور اگر آسمانی بارش نہ ہو تو زمین پر کوئی سبزی نہیں رہ سکتی اور زمین مردہ ہو جاتی ہے بلکہ کنوؤں کا پانی بھی خشک ہو جاتا ہے اور دنیا زیر و زبر ہو کر ہلاکت کا باعث ہو جاتی ہے اور لوگ بھوکوں پیاسوں مَرتے ہیں۔ قحط کی وجہ سے انسان و حیوان اور پھر چرند و پرند اور درند وغیرہ پر بھی اس کا اثر ہوتا ہے۔ بعینہٖ اسی طرح سے ایک روحانی سلسلہ بھی ہے۔

یاد رکھو کہ خشک ایمان بجز آسمانی بارش کے جو مکالمہ مخاطبہ کے رنگ میں نازل ہوتی ہے۔ ہرگز ہرگز باعث نجات یا حقیقی راحت کا نہیں ہو سکتا۔ جو لوگ روحانی بارش کے بغیر اور کسی مامور من اللہ کے بغیر نجات پا سکتے ہیں اور ان کو کسی مُزَکِّی اور مامور من اللہ کی ضرورت نہیں۔ سب کچھ ان کے پاس موجود ہے۔ ان کو چاہیے کہ پانی بھی اپنے گھروں میں ہی پیدا کر لیا کریں۔۱؎ ان کو آسمانی بارش کی کیا احتیاج؟ آنکھوں کے سامنے موجود ہے کہ جسمانی چیزوں کا مدار کن چیزوں پر ہے؟ پس اس سے سمجھ لو کہ بعینہٖ اسی کے مطابق روحانی زندگی کے واسطے بھی لازمی اور لَابُدّ اور ضروری ہے۔

انسان کا یہ دعویٰ کہ میں نے سب کچھ سیکھ لیا ہے اور میں نے سارے علوم حاصل کر لیے ہیں یہ بالکل غلط خیال ہے۔ انسان کا علم کیا ہے؟ جس طرح سمندر میں ایک سوئی ڈبو کر نکال لی جاوے۔

یہی حال انسان کے علم کا ہے کہ اس کو معارف اور حقائق میں سے دیا گیا ہے۔

ترسم نہ رسی بہ کعبہ اے اعرابی

کیں راہ کہ تو میروی بترکستان است

پھر تعجب آتا ہے کہ بعض لوگ معمولی مروجہ علوم کے پڑھ لینے سے بڑے بڑے دعوے کر بیٹھتے ہیں حالانکہ دین کی راہ ایک عمیق در عمیق راہ ہے اور اس کے حقائق اور روحانی فلسفہ ایسا نہیں کہ ہر فرد اس کا ماہر ہونے کا دعویٰ کر سکے۔۱؎ یہ دین آسمان سے ہی آیا اور ہمیشہ ہمیشہ اس کی سرسبزی کے سامان بھی آسمان ہی سے نازل ہوتے رہیں گے۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اگر زمینی علوم اور مروَّجہ تعلیم کے پاس یافتوں سے سوال کیا جاوے تو اکثر اصحاب ایسے نکلیں گے کہ ان کے ماہر ہی ہوں گے مگر ہمیں اس جگہ ان اصحاب کی خدمت میں کہ وہ زمینی اور دنیوی علوم کے ماہر ہیں یہ بھی کہنا ہے کہ

اے کہ خواندی حکمت یونانیاں

حکمت ایمانیاں را ہم بخوا

ں حقیقی راحت دین سے ہی وابستہ ہے

ہم دیکھتے ہیں کہ آجکل بہت سے ایسے بھی خیالات والے لوگ موجود ہیں کہ ان کی نظر میں دین ایک جنون ہے اور اس کی قدر ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عرب کے لوگ وحشی تھے اور اُمّی تھے۔ اس وقت ان کی ضرورتوں کے مناسب حال قرآن نازل ہوا۔ اب دنیا ترقی کر گئی ہے اور روشنی کا زمانہ ہے۔ اب موجودہ زمانہ کے مناسب حال دین میں ترمیم ہونی چاہیے مگر آپ لوگ سن رکھیں کہ دین کوئی لغو نہیں ہے بلکہ دنیا کی حقیقی راحت اور اخروی نجات اسی دین میں ہی وابستہ ہے وہ عرب کے اُمّی جو اس دین کے سچے خادم تھے۔ ان کا اُمّی ہونا بھی ایک معجزہ ہی تھا تا کہ دنیا کو دکھا دے کہ اُمّی لوگوں نے قرآنی تعلیم کے نیچے آ کر کیا کچھ کر دکھایا کہ بڑے بڑے علوم کے مدعیوں سے بھی ان کے مقابلہ میں کچھ بن نہ آیا۔

قرآن کریم کی پاک تعلیم کا انجیل سے موازنہ

خدا خوب جانتا تھا کہ اس زمانہ میں کیسے کیسے جدید علوم پیدا ہوں گے اور خود مسلمانوں میں کیسے کیسے خیالات کے لوگ پیدا ہو جائیں گے؟ ان سب باتوں کا جواب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دے رکھا ہے اور کوئی نئی تحقیقات یا علمی ترقی نہیں جو قرآن شریف کو مغلوب کر سکے اور کوئی صداقت نہیں کہ اب پیدا ہو گئی ہو اور وہ قرآن شریف میں پہلے ہی سے موجود نہ ہو۔ جو راہ قرآن شریف نے پیش کی ہے وہ نہ انجیل میں پائی جاتی ہے نہ توریت میں اس کا پتہ چلتا ہے اور نہ ہی دنیا کی کوئی اور کتاب اس کمال اور جامعیت کا دعویٰ کر سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمتِ کاملہ سے قرآن شریف کو عطا کی ہے۔ قرآن کے مقابل پر ان کا ذکر ہی کیا ہے! انجیل نے ایک ضعیف ناتواں انسان کو خدا بنایا مگر اس کی طاقت کا اندازہ قوم یہود کے مقابلہ سے ہی ہو سکتا ہے۔

دوسری بات اور مایہ ناز انجیل کی اخلاقی تعلیم تھی مگر وہ ایسی بودی اور نامکمل ہے کہ کوئی صحیح الفطرت انسان اس کی پابندی نہیں کر سکتا بلکہ خود پادری صاحبان کا عمل بھی اس تعلیم کے بالکل برخلاف ہے۔ مثلاً انجیل تعلیم دیتی ہے کہ اگر تجھے کوئی ایک طمانچہ مارے تو تو دوسری گال پھیر دے اور اگر کوئی تیرا کرتہ مانگے تو اس کو چادر بھی اتار دے۔ اور اگر کوئی تجھے ایک کوس بیگار میں لے جانا چاہے تو دو کوس اس کے ساتھ چل۔

اب ہم اوّل ان انجیل کی حمایت اور تعریف کرنے والے پادری صاحبوں سے ہی دریافت کرتے ہیں کہ ان کا اس تعلیم پر کہاں تک عمل درآمد ہے۔ انہوں نے اس تعلیم کا عملی نمونہ کیا دکھایا ہے کہ دوسروں کو بھی اس تعلیم کی طرف بلاتے ہیں۔

پھر اسی انجیل میں لکھا ہے کہ تو بدی کا مقابلہ نہ کر۔ غرض انجیل کی تعلیم تفریط کی طرف جھکی ہوئی ہے اور بجز بعض خاص حالات کے ماتحت ہونے کے انسان اس پر عمل کر ہی نہیں سکتا۔ دوسری طرف توریت کی تعلیم کو دیکھا جاوے تو وہ افراط کی طرف جھکی ہوئی ہے اور اس میں بھی صرف ایک ہی پہلو پر زور دیا گیا ہے کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت توڑ دیا جاوے۔ اس میں عفو اور درگذر کا نام تک بھی نہیں لیا گیا۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ کتابیں مختص الزمان اور مختص القوم ہی تھیں مگر قرآن شریف نے ہمیں کیا پاک راہ بتائی ہے جو افراط اور تفریط سے پاک اور عین فطرت انسانی کے مطابق ہے مثلاً مثال کے طور پر قرآن شریف میں فرمایا ہے وَجَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثۡلُہَا ۚ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ(الشورٰی:۴۱) یعنی جتنی بدی کی گئی ہو اسی قدر بدی کرنی جائز ہے مگر اگر کوئی معاف کر دے اور اس معافی میں اصلاح مدِّ نظر ہو۔ بے محل اور بے موقع عفو نہ ہو بلکہ بر محل ہو تو ایسے معاف کرنے والے کے واسطے اس کا اجر ہے جو اسے خدا سے ملے گا۔

دیکھو! کیسی پاک تعلیم ہے نہ افراط نہ تفریط۔ انتقام کی اجازت ہے مگر معافی کی تحریص بھی موجود ہے۔ بشرط اصلاح یہ ایک تیسرا مسلک ہے جو قرآن شریف نے دنیا کے سامنے رکھا ہے۔ اب ایک سلیم الفطرت انسان کا فرض ہے کہ ان میں خود موازنہ اور مقابلہ کر کے دیکھ لے کہ کونسی تعلیم فطرتِ انسانی کے مطابق ہے اور کونسی تعلیم ایسی ہے کہ فطرت صحیح اور کانشنس اسے دھکے دیتی ہے۔ یہودیوں میں باپ اپنی اولاد کو وصیت کرتا تھا کہ میرا انتقام میرا بیٹا لے، میرا پوتا لے۔ چنانچہ بعض اوقات بیٹا اور پوتا باپ کے انتقام لیتے تھے۔ غرضیکہ توریت میں تو سخت تشدد کیا گیا تھا۔

باقی رہی انجیل۔ سو اس کی اخلاقی تعلیم پر ناز کرنے والے نہیں سمجھتے کہ اوّل تو وہ تعلیم ہی ایسی ناقص ہے کہ بوجہ مختص الزمان اور مختص القوم ہونے کے آج اس کی ضرورت ہی نہیں اور نہ وہ اس وقت اخلاقی تعلیم کہلانے کی مستحق ہے اور اگر مان بھی لیا جائے تو کوئی شخص نہیں کہ اس تعلیم کا عامل نظر آتا ہو۔ خود اس کے شیفتہ لوگ ہی اس کا عملی نمونہ پیش کریں۔ اصل میں یہ ہاتھی کے دانت ہیں کھانے کے اَور دکھانے کے اَور۔ تاہم فلسفہ حقّہ اس کے بالکل خلاف ہے۔ انسان ایک شاخ دار درخت ہے اور انجیلی تعلیم اس کی صرف ایک شاخ۔ کیا باقی قوائے انسانی بے کار ہیں؟

یاد رکھو کہ کل قوائے انسانی اسی خالق فطرت ہی کی طرف سے انسان کو ملے ہیں۔ ان میں ایک قوت غضبی بھی ہے قوت انتقام بھی ہے۔ یہ قویٰ بے کار یا فضول نہیں ہیں۔ بلکہ ان کی بداستعمالی اور ان کا بے محل و بے موقع استعمال بُرا ہے۔ انجیل میں تو ایک موقع پر خصی بن جانے کی بھی تعلیم دی گئی ہے۔ اگر سچے عیسائی اس تعلیم کا عملی نمونہ بنتے تو یقین ہے کہ دنیا کا خاتمہ ہی ہوگیا ہوتا۔ عجیب بات یہ ہے کہ صرف حکم ہی نہیں بلکہ اس عمل پر بڑے ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے تو پھر کیا وجہ کہ ایسے کار خیر میں کوئی عیسائی بھی حصہ نہیں لیتا؟

قرآن شریف میں کوئی دکھا تو دے کہ کوئی ایسا حکم بھی دیا گیا ہو جس پر عمل کرنا انسانی طاقت سے بالا تر ہو یا کوئی ایسا حکم بھی ہو جس کے کرنے سے کوئی قباحت لازم آتی ہو یا نظام دنیا میں فساد کا اندیشہ ہو۔ کیا ایسی ایک کتاب جس میں ایسے احکام داخل ہیں جو انسانی طاقت سے بالا تر ہیں یا ان کے کرنے سے کوئی قباحت لازم آتی ہے اور نظامِ عالَم درہم برہم ہوتا ہے۔ کبھی اس خدا کی طرف منسوب ہوسکتی ہے جو خالق فطرت اور منتظم نظام دنیا اور قوائے انسانی کے پورے اندازے جاننے والا ہے اور کیا وہ کتاب کامل اور مکمل شریعت کہلانے کی مستحق ہوسکتی ہے؟

لیکن میں اعتراض نہیں کرتا بلکہ میرا مقصد اس بیان سے اس اَمر کا اظہار ہے کہ یہ دونوں کتابیں صرف ایک ہی خاندان کی تھیں۔ نہ حضرت عیسٰیؑ نے اور نہ حضرت موسٰی نے کبھی یہ دعویٰ کیا کہ وہ تمام دنیا کے واسطے رسول ہو کر آئے تھے بلکہ وہ تو صرف اسرائیلی بھیڑوں تک ہی اپنی تعلیم محدود کرتے ہیں۔ ان کا اپنا اقرار موجود۱؎ ہے۔ پس بلحاظ ضرورت کے ان کو جو کتاب ملی وہ بھی ایک قانون مختص الزمان اور مختص القوم تھا۔

اب ظاہر ہے کہ ایک چیز جو ایک خاص ضرورت کے لئے ایک خاص زمانے اور مکان کے واسطے آئی تھی۔ اس کو زبردستی اور خواہ نخواہ تمام دنیا پر محیط ہونے کے واسطے کھینچ تان کی جائے گی تو اس کا لازماً یہی نتیجہ ہوگا کہ وہ اس کام سے عاری رہے گی جس بوجھ کے اٹھانے کے واسطے وہ وضع ہی نہیں کی گئی اس کی کیسے متحمل ہوسکے گی؟ اور یہی وجہ ہے کہ ان تعلیمات میں موجودہ زمانہ کے حالات کے ماتحت نقص ہیں۔ مگر قرآن مجید مختص الزمان نہیں، مختص القوم نہیں اور نہ ہی مختص المکان ہے بلکہ اس کامل اور مکمل کتاب کے لانے والے کا دعویٰ ہے کہ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا(الاعراف:۱۵۹) اور ایک دوسری آیت میں یوں بھی آیا ہے لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ وَمَنۡۢ بَلَغَ(الانعام:۲۰) یعنی لازمی ہوگا کہ جس کو قرآنی تعلیم پہنچے وہ خواہ کہیں بھی ہو اور کوئی بھی ہو اس تعلیم کی پیروی کو اپنی گردن پر اٹھائے۔

انسانی فطرت کا پورا اور کامل عکس صرف قرآن شریف ہی ہے۔ اگر قرآن نہ بھی آیا ہوتا جب بھی اسی تعلیم کے مطابق انسان سے سوال کیا جاتا کیونکہ یہ ایسی تعلیم ہے جو فطرتوں میں مرکوز اور قانون قدرت کے ہر صفحہ میں مشہود ہے۔ جن کی تعلیمات ناقص اور خاص قوم تک محدود ہیں اور وہ آگے ایک قدم بھی نہیں چل سکتیں۔ ان کی نبوت کا دروازہ بھی ان کے اپنے ہی گھر تک محدود ہے۔ مگر قرآن شریف کہتا ہے مِّنۡ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ(فاطر:۲۵) دیکھو! یہ کیسی پاک اور دل میں دخل کر جانے والی بات اور کیسا سچا اصول ہے مگر یہ لوگ ہیں کہ خدا کی خدائی کو صرف اپنے ہی گھر تک محدود خیال کرتے ہیں۔

یہی حال آریوں کا ہے وہ بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہمیشہ وید ہی اتارا جاتا ہے اور صرف چار آدمی ہی اس کام کے واسطے مخصوص ہیں اور ہمیشہ کے واسطے زبان سنسکرت ہی خدا کو پسند آ گئی ہے۔ مجال نہیں کہ خدا کی یہ نعمت وحی و الہام کسی اور انسان یا زبان کو مل سکے۔ ان لوگوں کے اعتقاد کے موجب وحی الٰہی اب آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے اور اب ہمیشہ کے واسطے اس کو مہر لگ چکی ہے مگر یہ لوگ نہیں جانتے کہ اس طرح سے تو خدا کی ہستی کے ثبوت میں ہی مشکلات پڑ جاویں گی۔ صرف شنید سے انسان کب مطمئن ہوسکتا ہے اور کامل یقین اور سچی معرفت صرف دوسروں کی زبانی سن لینے سے کہاں میسر آتی ہے؟

شنیدہ کے بود مانند دیدہ

وحی و الہام کی ضرورت

جب تک خدا خود اَنَا الْمَوْجُوْدُ کی آواز نہ دے یا اپنے پیارے کلام سے اور زبردست غیبی نشانات سے اپنا چہرہ نہ دکھا دے تب تک وہ پیاس کب مٹ سکتی ہے جو حق کی طلب کی پیاس انسان کو لگی ہوئی ہے۔ یہ کہنا کہ خدا پہلے تو نشانات اور معجزات دکھاتا تھا رسول بھیجتا تھا مگر اب نہیں۔ یہ نعوذ باللہ خدا کی ذات کی سخت توہین اور بے ادبی ہے۔۱؎ کیا وجہ ہے کہ اب وہ سنتا تو ہے اور دیکھتا بھی ہے مگر بولتا نہیں؟ اچھا تو اس پر تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ قوت شنوائی اور بینائی بھی قوتِ گویائی کی طرح جاتی نہیں رہیں۔

انسان اپنی فطرت سے الگ نہیں ہوسکتا۔ بکری سے بھیڑیئے کا کام لیں تو دے سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ پس یہی حال فطرت انسانی کا ہے کہ اپنی بناوٹ کے خلاف ہرگز نہیں چل سکتی۔ نرے قصوں سے کب وہ تسلّی پاسکتی ہے۔ اگرچہ کوئی ظاہر داری کے واسطے ہاں میں ہاں ملا دے مگر دل لعنت بھیجتا ہوگا اور انکار کرتا ہوگا کہ میں نہیں مانتا۔ یاد رکھو کہ اگر پہلے کبھی الہام تھا تو اب بھی ضروری ہے کہ الہام ہو۔ اسلام جب صرف ایک ہی فرقہ تھا اور مختصر بھی تو اس وقت تو نبیؐ اور رسولؐ آنے اور الہامات ہونے کی ضرورت تھی۔ مگر اب جبکہ ایک سے تہتر فرقے ہو گئے ہیں اور تفرقہ کی حدّ و نہایت نہیں رہی کلامِ الٰہی پر مہر لگائی جاتی ہے اور خدا کا منہ بند کیا جاتا ہے۔ کوئی فطرت سلیم اور عقل صحیح اس منطق کو قبول نہیں کرسکتی۔

ہر چیز کے پیدا ہونے کی ماں ضرورت ہے۔ دیکھو ایک چھوٹی سی مثال ریلوے تصادم کی ہے۔ تصادم کے واردات ترقی کرنے لگے تو اصلاح کے سامان بھی پیدا ہو گئے۔ یہ سب طرح طرح کی کلیں جو دیکھنے میں آتی ہیں یہ سب ضرورت نے ہی مہیا کرا دی ہیں۔ تو اب جبکہ انسانی حالت کیا بلحاظ اپنی ظاہری حالت کے اور کیا بلحاظ اپنی باطنی حالت کے ابتری کے انتہائی درجہ تک پہنچ گئی ہے اور ہر فرقہ پر دہریت (ناستک مت )نے اپنا تسلّط جمایا ہوا ہے زندہ ایمان کسی میں باقی نہیں۔ اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ زندہ ایمان ہی اعمال کی تحریک کرتا ہے۔ جب ایمان ہی نہیں جو کہ اعمال کا اصل محرک ہے تو پھر عمل کیسے؟

غرض اس طرح ایمان کے دنیا سے اٹھ جانے کے باعث اعمال صالحہ کا بھی ساتھ ہی نام ونشان مٹ چکا ہے تو پھر کیا وجہ کہ خدا نے ایسی خطرناک حالت اور ایسی سخت ضرورت کے وقت بھی اپنی سنّتِ قدیمہ کو ترک کر کے کوئی رسول اور نبی یا ملہم نہ بھیجا؟

کلمہ طیّبہ کی حقیقت

لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ(الصّٰفّٰت:۳۶) یہ توحید کا کلمہ ہے۔ اس کے معنے ہیں کہ خدا کے سوا کوئی بھی عبادت اور سچی فرماں برداری کے لائق نہیں ہے۔ خدا اگر توحید کے پھیلانے میں کسی دوسرے کا محتاج ہوتا یا کسی اور کو اس کام میں اپنا شریک بناتا تو بھی شرک لازم آتا تھا۔ مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ(الفتح:۳۰) کا جملہ کلمہ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ(الصّٰفّٰت:۳۶) کے ساتھ شامل کرنے میں سِر یہی ہے کہ تا توحید کا سبق کامل ہو اور دنیا کو معلوم ہو کہ جو کچھ آتا ہے درحقیقت اسی خدا کی طرف سے آتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ہدایات کو خدا سے پا کر مخلوق کو پہنچانے والے ہیں اور کہ جو کچھ ادھر سے آتا ہے وہ اسی راہ سے آتا ہے۔

شرک صرف پتھروں کے پوجنے ہی کا نام نہیں ہے بلکہ شرک کی ایک قسم یہ بھی لکھی ہے کہ انسان خدا کو چھوڑ کر صرف اسباب ہی پر تکیہ کرلے اور یہ شرک فی الاسباب کہلاتا ہے۔ برہمو وغیرہ اس رازِ توحید کو نہیں سمجھے جو خدارا بخداباید شناخت میں دکھلایا گیا ہے۔ خدا کی طرف سے آنے والا ایسا ہی ہے کہ گویا خود خدا ہی ہے۔ انسانی گورنمنٹ کی طرف سے آنے والا نائب ہوتا ہے۔ اسی طرح سے رسول بھی خدا میں فنا ہو کر وہ وہ نہیں ہوتا بلکہ خود خدا ہوتا ہے۔ غرض مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ(الفتح:۳۰) کا فقرہ توحید کامل کرنے کے واسطے لازمی تھا۔ خدا توحید کو پسند کرتا ہے اور یہ شکر کا مقام ہے کہ یہ خصوصیت صرف اسلام میں پائی جاتی ہے جس کو آج ہم پیش کرتے ہیں کسی دوسرے مذہب میں نہیں۔

عیسائیوں کی دوڑ کفارہ مسیح تک ہے۔ باپ، بیٹا اور روح القدس تین ہیں۔ مگر تین مت کہو ایک کہو۔ یہ عجیب گورکھ دھندا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ یہودی بھی بڑے سخت دل ہیں اور طرح طرح کے شرک میں مبتلا ہیں ان کو اس طرف توجہ ہی نہیں۔ آجکل کے آریہ صاحبان جن کو اسلام کے خلاف اپنے عقائد پر بڑا گھمنڈ اور ناز ہے ان کا مذہب ہے کہ روح بمع اپنے تمام صفات کے اور مادہ بمع اپنے تمام صفات کے خود بخود ہیں اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ نیستی سے ہستی ممکن نہیں۔ غرض انہوں نے ذرّہ ذرّہ کو خدا کا شریک بنا رکھا ہے۔ انسانی ظاہری قویٰ کو تو خدا کی طرف سے مانتے ہیں مگر کہتے ہیں کہ روح میں جو قویٰ ہیں وہ خود بخود ہیں خدا کی طرف سے نہیں۔ وہ مانتے ہیں کہ ارواح اور ذرّات بمع اپنے قویٰ کے خود بخود موجود ہیں۔ خدا کا کام صرف ان کو جوڑنا ہی ہے مگر ہم پوچھتے ہیں کہ کیوں جائز نہیں کہ باہمی جوڑ ملاپ کی طاقت بھی ان کی اپنی ذاتی خاصیت نہ مانی جاوے؟

غرض تازہ معجزات کے یہ لوگ منکر ہیں۔ وید میں معجزات کا کوئی ذکر نہیں تو پھر خدا کے وجود پر نشانی ہی کیا ہے؟ اور اس کی زندگی کی علامت ہی کیا؟ جب دو حصے خود بخود موجود ہیں تو پھر کیوں نہ مان لیا جاوے کہ تیسرا حصہ (باہمی جڑ جانے کی خاصیت )بھی خود بخود ہے۔ جب ایک اہم کام خود بخود ہے تو سہل کے واسطے کیوں کسی کی احتیاج مانی جاوے؟

غرض یہ خدا کا خاص فضل ہے جو صرف اسلام ہی کے شامل حال ہے کہ اسلام کی کوئی بھی تعلیم عقل سلیم اور فطرت سلیم کی مخالف نہیں۔ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ(الصّٰفّٰت:۳۶) ایک قول ہے۔ اس کا عملی ثبوت بَلٰی ٭ مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ وَہُوَ مُحۡسِنٌ(البقرۃ:۱۱۳) فعل ہے۔ نرا قول (ایمان کا دعویٰ )کسی کام کا نہیں اور نہ ہی وہ کچھ مفید ہوسکتا ہے۔ خشک ایمان ایک بے بال و پَر مرغ کی مثال ہے جو ایک مُضغہ گوشت ہے جو نہ چل پھر سکتا ہے نہ اڑنے کی اس میں طاقت ہے بلکہ اسلام اس کو کہتے ہیں کہ انسان باوجود ہیبت ناک نظارے دیکھنے اور اس اَمر پر یقین ہونے کے کہ اس مقام پر کھڑا ہونا ہی گویا جان کو خطرہ میں ڈالنا ہے پھر بھی خدا کی راہ میں سر ڈال دے اور خدا کی راہ میں اپنے کسی نقصان کی پروا نہ کرے۔ جنگ کے موقع پر سپاہی جانتا ہے کہ میں موت کے منہ میں جا رہا ہوں اور اسے بہ نسبت زندہ پھرنے کے مَرنا یقینی نظر آتا ہے مگر بایں ہمہ وہ اپنے افسر کی فرمانبرداری اور وفاداری کر کے آگے ہی بڑھتا ہے اور کسی خطرے کی پروا نہیں کرتا اس کا نام اسلام ہے۔

غرض ایک فقرہ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ(الصّٰفّٰت:۳۶) میں تو اللہ تعالیٰ نے توحید سکھائی ہے اور دوسرے مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ(البقرۃ:۱۱۳) میں یہ سکھایا کہ اس توحید پر سچے اور زندہ ایمان کا ثبوت اپنے اس فعل سے دو اور خدا کی راہ میں اپنی گردن ڈال دو۔ اس بات کو توجہ سے سننا چاہیے۔ مسلمانوں کے واسطے یہ ایک مفید مسئلہ ہے۔ صرف اس بات سے راضی نہ ہونا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں یا ظاہری نماز روزے کی پابندی کرتے ہیں۔ خطرناک مشکلات میں ثابت قدم رہنا اور قدم آگے ہی آگے اٹھانا اور خدائی امتحان میں پاس ہو جانا سچے اور حقیقی ایمان کی دلیل ہے۔ مشکلات کا آنا اور ابتلاؤں کا آنا مومن پر ضروری ہے تا ظاہر ہو کہ کون سچا مومن اور کون صرف زبانی ایمان کا مدعی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ(العنکبوت:۳) مسلمانوں کے صدر نے عمل سے ثابت کیا تھا کہ واقعی انہوں نے اپنی زندگیاں اللہ کے دین کی خدمت کے واسطے وقف کر دی تھیں کوئی دین ترقی نہیں کر سکتا جب تک خدا کے احکام کو دنیا کے کل کاموں پر مقدم نہ کیا جاوے۔ معمولی نماز روزے زکوٰۃ وغیرہ اعمال تو کرتے کرتے آخر عادت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ مثنوی رومی میں ایک شعر میں یہ مضمون خوب ادا کیا گیا ہے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ’’ہم اپنے کوٹھے میں غلہ بھرتے رہتے ہیں مگر وہ بھرنے میں نہیں آتا۔ جب دیکھو خالی ہی نظر آتا ہے۔ آخر کوئی چوہا تو ہے جو اس کوٹھے کو لگا ہوا ہے اس کا اناج کھائے جاتا ہے اور اسے خالی کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ ہم بھرتے ہیں وہ خالی کرتا ہے۔ آخر کار دروازہ کھول کر دیکھا تو واقعی ایک چوہا تھا کہ اس غلہ کو کھا جایا کرتا تھا۔ ‘‘پس انسان کو اپنے اعمال پر ہی راضی نہ ہونا چاہیے۔

ریا کاری سے اعمال حبط ہو جاتے ہیں

بعض بدیوں سے بعض اعمال حبط بھی ہو جاتے ہیں۔ ریاکاری بھی حبط اعمال کے واسطے ایک خطرناک کیڑا ہے۔ مثلاً ایک مجلس میں چندہ ہوتا ہے ایک شخص اٹھتا ہے میرا پانصد روپیہ لکھا جاوے۔ اب اگر صرف دکھاوے اور واہ واہ کی آواز کی واسطے یا نام پیدا کرنے کے واسطے ایسا کرتا ہے تو اس کا اجر اس نے پالیا عنداللہ اس کے واسطے کوئی اجر نہ ہوگا۔ اس موقع پر ہمیں ایک نقل تذکرۃ الاولیاء کی یاد آگئی۔ لکھا ہے کہ ایک بزرگ تھے ان کو دس ہزار روپیہ کی سخت ضرورت پیش آگئی۔ انہوں نے اپنی ضرورت کا اظہار کیا تو ایک شخص نے دس ہزار روپیہ کی تھیلی ان کے آگے لارکھی۔ اب وہ بزرگ لگے اس شخص کی تعریف کرنے اور ایک گھنٹہ تک برابر اس کی تعریف کی۔ آخر وہ شخص جس نے روپیہ دیا تھا مجلس میں سے اٹھ کھڑا ہوا اور گھر سے واپس لوٹ کر عرض کی کہ مجھ سے تو سخت غلطی ہوئی۔ اصل میں وہ روپیہ تو میری ماں کا تھا اور میں اس کا روپیہ خود بخود دینے کا مختار نہ تھا۔ روپیہ مجھے دے دیا جاوے۔ اب لگی اس کو بجائے تعریف کے لعن طعن ہونے اور لوگ کہنے لگے کہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بناوٹ کی ہے۔ بہانہ کرتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ مگر جب وقت گذر گیا اور رات کی سنسان گھڑیاں تھیں کہ وہی شخص وہی روپیہ لے کر اسی بزرگ کے مکان پر چپکے سے گیا اور وہی روپیہ پیش کر کے عرض کی کہ حضور میں نے روپیہ اللہ کے واسطے دیا تھا نہ کہ تعریفیں سننے کے واسطے۔ اب آپ کو قسم ہے خدا کی کہ آپ اس روپیہ کا کسی سے ذکر نہ کریں۔ یہ سن کر وہ بزرگ رو پڑے اس خیال سے کہ اب جب تک یہ شخص جئے گا لوگ اسے گالیاں دیں گے۔ طعن و تشنیع کریں گے ملامت کیا ہی کریں گے۔ ان کو اس حقیقت کی کیا خبر؟

غرض جس کام میں ریا کاری کا ذرّہ بھی ہو وہ ضائع جاتا ہے۔ اس کی وہی مثال ہے جیسے ایک اعلیٰ قسم کے عمدہ کھانے میں کتا منہ ڈال دے۔ آج کل بھی یہ مرض بہت پھیلا ہوا ہے اور اکثر امور میں ریا کاری کی ملونی ساتھ ہوتی ہے۔ پس اعمال میں یہ ملونی ہونی نہ چاہیے۔ اصل میں انسان ایک حد تک معذور بھی ہے کہ ملونی کرنے کو تیار ہو جاتا ہے کیونکہ مکمل تو ہے نہیں۔ جب تک اسے نفسِ مطمئنّہ حاصل نہ ہو جائے اور کسی کی لعن طعن کی پروا نہ کرے۔ اس کے اعمال میں ایسا اخلاص ہو جائے کہ تعریف کرنے والا اور گالی دینے والا، مناقب بیان کرنے والا اور حقارت سے دیکھنے والا اس کی نظر میں یکساں ہو جاویں اور یہ دونوں کو برابر جانے، مُردے کی طرح جانے جو نہ اس کا کچھ بگاڑ سکتا ہے اور نہ سنوار۔

اس وقت میں سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً پر بحث نہیں کرتا بلکہ نفس (کی) ملونی کا ذکر کرتا ہوں میں یہ نہیں کہتا کہ ہمیشہ خفیہ ہی خیرات کرو اور علانیہ نہ کرو۔ نیک نیتی کے ساتھ ہر کام میں ثواب ہوتا ہے۔ ایک نیک طبع انسان ایک کام میں سبقت کرتا ہے اس کی دیکھا دیکھی دوسرے بھی اس کارِ خیر میں شریک ہو جاتے ہیں۔ اس طرح سے اس شخص کو بھی ثواب ملتا ہے بلکہ ان کے ثواب میں سے بھی حصہ لیتا ہے۔ پس اس رنگ میں کوئی نیک کام اس نیت سے کرنا کہ دوسروں کو بھی ترغیب و تحریص ہو بڑا ثواب ہے۔

اخلاص کی اہمیت

شریعت اسلام میں بڑے بڑے باریک امور ایسے ہیں تا کہ اخلاص کی قوت پیدا ہو جائے۔ اخلاص ایک موت ہے جو مخلص کو اپنے نفس پر وارد کرنی پڑتی ہے۔ جو شخص دیکھے کہ علانیہ خرچ کرنے اور خیرات دینے یا چندوں میں شامل ہونے سے اس کے نفس کو مزا آتا ہے اور ریا پیدا ہوتا ہے تو اس کو چاہیے کہ ریا کاری سے دست بردار ہو جائے اور بجائے علانیہ خرچ کرنے کے خفیہ طور سے خرچ کرے اور ایسا کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی علم نہ ہو۔ پھر خدا قادر ہے کہ نیک کو اس کی نیکی اور پاک تبدیلی کی وجہ سے بخش دے۔ اس میں کوئی سو برس کی ضرورت نہیں اخلاص کی ضرورت ہے۔۱؎

دیکھو! حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک بڑھیا کو بلاناغہ حلوا کھلایا کرتے تھے اور ان کے اس فعل کی کسی کو خبر نہ تھی۔ ایک دن جب کہ بڑھیا کو حلوا نہ پہنچا۔ اس نے اس سے یقین کر لیا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ وفات پاگئے۔ اب جائے غور ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کیسے تعاہد سے اس بڑھیا کی جو کہ اور کچھ نہ کھا سکتی تھی خدمت کیا کرتے تھے کہ ایک دن حلوا نہ پہنچنے سے اس کو یقین ہو گیا کہ آپ وفات پا گئے یعنی اس بڑھیا کے وہم میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ آپؓ زندہ ہوں اور اس کو حلوا نہ پہنچے یہ ممکن ہی نہ تھا۔

غرض یہ ہے اخلاص اور یہ ہیں محض خدا کی راہ میں نیک نیتی کے اعمال۔ اخلاص جیسی اور کوئی تلوار دلوں کو فتح کرنے والی نہیں۔ ایسے ہی امور سے وہ لوگ دنیا پر غالب آ گئے تھے۔ صرف زبانی باتوں سے کچھ ہو نہیں سکتا۔ اب نہ پیشانی میں نور اور نہ روحانیت ہے اور نہ معرفت کا کوئی حصہ۔ خدا ظالم نہیں ہے۔ اصل بات ہی یہی ہے کہ ان کے دلوں میں اخلاص نہیں۔

نماز کو رسم اور عادت کے رنگ میں پڑھنا مفید نہیں

صرف ظاہری اعمال سے جو رسم اور عادت کے رنگ میں کئے جاتے ہیں کچھ نہیں بنتا۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ میں نماز کی تحقیر کرتا ہوں۔ وہ نماز جس کا ذکر قرآن میں ہے اور وہ معراج ہے۔ بھلا ان نمازیوں سے کوئی پوچھے تو سہی کہ ان کو سورہ فاتحہ کے معنے بھی آتے ہیں۔ پچاس پچاس برس کے نمازی ملیں گے مگر نماز کا مطلب اور حقیقت پوچھو تو اکثر بے خبر ہوں گے حالانکہ تمام دنیوی علوم ان علوم کے سامنے ہیچ ہیں۔ بایں دنیوی علوم کے واسطے تو جان توڑ محنت اور کوشش کی جاتی ہے اور اس طرف سے ایسی بے التفاتی ہے کہ اسے جنتر منتر کی طرح پڑھ جاتے ہیں۔ میں تو یہاں تک بھی کہتا ہوں کہ اس بات سے مت رُکو کہ نماز میں اپنی زبان میں دعائیں کرو۔ بے شک اردو میں، پنجابی میں، انگریزی میں، جو جس کی زبان ہو اسی میں دعا کر لے۔ مگر ہاں یہ ضروری ہے کہ خدا کے کلام کو اسی طرح پڑھو۔ اس میں اپنی طرف سے کچھ مت دخل دو۔ اس کو اس طرح پڑھو اور معنے سمجھنے کی کوشش کرو۔ اسی طرح ماثورہ دعاؤں کا بھی اسی زبان میں التزام رکھو۔ قرآن اور ماثورہ دعاؤں کے بعد جو چاہو خدا سے مانگو اور جس زبان میں چاہو مانگو۔ وہ سب زبانیں جانتا ہے۔ سنتا ہے قبول کرتا ہے۔

اگر تم اپنی نماز کو باحلاوت اور پُر ذوق بنانا چاہتے ہو تو ضروری ہے کہ اپنی زبان میں کچھ نہ کچھ دعائیں کیا کرو۔ مگر اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ نمازیں تو ٹکریں مار کر پوری کر لی جاتی ہیں پھر لگتے ہیں دعائیں کرنے۔ نماز تو ایک ناحق کا ٹیکس ہوتا ہے۔ اگر کچھ اخلاص ہوتا ہے تو نماز کے بعد میں ہوتا ہے۔ یہ نہیں سمجھتے کہ نماز خود دُعا کا نام ہے جو بڑے عجز، انکسار، خلوص اور اضطراب سے مانگی جاتی ہے۔ بڑے بڑے عظیم الشان کاموں کی کُنجی صرف دعا ہی ہے۔ خدا کے فضل کے دروازے کھولنے کا پہلا مرحلہ دعا ہی ہے۔

نماز کو رسم اور عادت کے رنگ میں پڑھنا مفید نہیں بلکہ ایسے نمازیوں پر تو خود خدا نے لعنت اور وَیْل بھیجا ہے چہ جائیکہ ان کی نماز کو قبولیت کا شرف حاصل ہو۔ وَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ۠(الماعون:۵) خود خدا نے فرمایا ہے۔ یہ ان نمازیوں کے حق میں ہے جو نماز کی حقیقت سے اور اس کے مطالب سے بے خبر ہیں۔ صحابہؓ تو خود عربی زبان رکھتے تھے اور اس کی حقیقت کو خوب سمجھتے تھے۔ مگر ہمارے واسطے یہ ضروری ہے کہ اس کے معانی سمجھیں اور اپنی نماز میں اس طرح حلاوت پیدا کریں مگر ان لوگوں نے تو ایسا سمجھ لیا ہے جیسے کہ دوسرا نبی آگیا ہے اور اس نے گویا نماز کو منسوخ ہی کر دیا ہے۔

دیکھو خدا کا اس میں فائدہ نہیں بلکہ خود انسان ہی کا اس میں بھلا ہے کہ اس کو خدا کی حضوری کا موقع دیا جاتا ہے اور عرض معروض کرنے کی عزت عطا کی جاتی ہے جس سے یہ بہت سی مشکلات سے نجات پاسکتا ہے۔ میں حیران ہوں کہ وہ لوگ کیوں کر زندگی بسر کرتے ہیں جن کا دن بھی گذر جاتا ہے اور رات بھی گذر جاتی ہے مگر وہ نہیں جانتے کہ ان کا کوئی خدا بھی ہے۔ یاد رکھو کہ ایسا انسان آج بھی ہلاک ہوا اور کل بھی۔۱؎

میں ایک ضروری نصیحت کرتا ہوں۔ کاش لوگوں کے دل میں پڑ جاوے۔ دیکھو! عمر گذری جا رہی ہے غفلت کو چھوڑو اور تضرّع اختیار کرو۔ اکیلے ہو ہو کر خدا سے دعا کرو کہ خدا ایمان کو سلامت رکھے اور تم پر وہ راضی اور خوش ہو جائے۔

ترقی کرنے کے دو طریق

انسان کے واسطے ترقی کرنے کے دو ہی طریق ہیں۔ اوّل تو انسان تشریعی احکام یعنی نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ تکالیف شرعیہ کی پابندی سے جو کہ خدا کے حکم کے موجب خود بجا لا کر کرتا ہے مگر یہ امور چونکہ انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ اس لئے کبھی ان میں سُستی اور تساہل بھی کر بیٹھتا ہے اور کبھی ان میں کوئی آسانی اور آرام کی صورت ہی پیدا کر لیتا ہے۔ لہٰذا دوسرا وہ طریق ہے جو براہ راست خدا کی طرف سے انسان پر وارد ہوتا ہے اور یہی انسان کی اصلی ترقی کا باعث ہوتا ہے۔ کیونکہ تکالیف شرعیہ میں انسان کوئی نہ کوئی راہ بچاؤ یا آرام و آسائش کی نکال ہی لیتا ہے۔ دیکھو! کسی کے ہاتھ میں تازیانہ دے کر اگر اسے کہا جاوے کہ اپنے بدن پر مارو تو قاعدہ کی بات ہے کہ آخر اپنے بدن کی محبت دل میں آ ہی جاتی ہے۔ کون ہے جو اپنے آپ کو دکھ میں ڈالنا چاہتا ہے؟ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے انسانی تکمیل کے واسطے ایک دوسری راہ رکھ دی اور فرمایا وَلَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَالۡجُوۡعِ وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ؕ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(البقرۃ:۱۵۶، ۱۵۷) ہم آزماتے رہیں گے تم کو کبھی کسی قدر خوف بھیج کر، کبھی فاقہ سے کبھی مال جان اور پھلوں پر نقصان وارد کرنے سے۔ مگر ان مصائب شدائد اور فقر وفاقہ پر صبر کر کے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(البقرۃ:۱۵۷) کہنے والوں کو بشارت دے دو کہ ان کے واسطے بڑے بڑے اجر خدا کی رحمتیں اور اس کے خاص انعامات مقرر ہیں۔ دیکھو! ایک کسان کس محنت اور جانفشانی سے قلبہ رانی کر کے زمین کو درست کرتا، پھر تخم ریزی کرتا، آبپاشی کی مشکلات جھیلتا ہے۔ آخر جب طرح طرح کی مشکلات محنتوں اور حفاظتوں کے بعد کھیتی تیار ہوتی ہے تو بعض اوقات خدا کی باریک در باریک حکمتوں سے ژالہ باری ہو جاتی یا کبھی خشک سالی ہی کی وجہ سے کھیتی تباہ وبرباد ہو جاتی ہے۔ غرض یہ ایک مثال ہے ان مشکلات کی جن کا نام تکالیف قضا و قدر ہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کو جو پاک تعلیم دی گئی ہے وہ کیسی رضا بالقضاء کا سچا نمونہ اور سبق ہے اور یہ بھی صرف مسلمانوں ہی کا حصہ ہے۔ آریہ جو کہ روح اور ذرّات کو مع ان کے خواص کے خود بخود اور خدا کی طرح ازلی ابدی مانتے ہیں۔ وہ کیوں کر اِنَّا لِلّٰہِ(البقرۃ:۱۵۷) کہہ سکتے ہیں اور یہ توفیق ان کو کیسے نصیب ہو سکتی ہے؟

غرض تکالیف دو ہی قسم کی ہیں ایک حصہ تو وہ ہے جو احکام پر مشتمل ہے جن میں نماز، روزہ، زکوٰۃ حج وغیرہ داخل ہیں۔ ان میں کسی قدر عذر اور حیلے وغیرہ کی بھی گنجائش ہے اور جب تک پورا اخلاص اور کامل یقین نہ ہو انسان ان سے کسی نہ کسی قدر بچنے کی یا آرام کی صورت پیدا کرنے کی کوئی نہ کوئی راہ نکال ہی لیتا ہے۔ پس اس طرح کی کوئی کسر جو انسانی کمزوری کی وجہ سے رہ گئی ہو اس کسر کے پورا کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے تکالیف قضا و قدر رکھ دی ہیں تاکہ انسانی فطرت کی کمزوری کی وجہ سے جو کمی رہ گئی ہو خدا کے فضل کے ہاتھ سے پوری ہو جاوے۔ تکالیف قضا و قدر کا نام آریہ لوگ پہلی جون کا پھل رکھتے ہیں۔ مگر ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ اگر ایسا ہی ہے تو پھر تمہارے جپ تپ کس مرض کی دوا ہیں۔ اگر آسمانی تکالیف تمہارے پہلے اعمال کا نتیجہ ہیں تو کیوں ایک اور عذاب جپ تپ کی مصیبت میں پڑ کر اپنے واسطے پیدا کرتے ہو؟

غرض یہ دونوں سلسلے کہ کبھی انسان تکالیف شرعیہ کی پابندی کر کے اپنے ہاتھوں اور کبھی قضا و قدر کے آگے گردن جھکاتا ہے اس واسطے ہیں کہ انسان کی تکمیل ہو جاوے۔ اسی کی طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بَلٰی ٭ مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ(البقرۃ:۱۱۳) یعنی اسلام کیا ہے؟ یہی کہ اللہ کی راہ میں اس کی رضا کے حصول کے واسطے گردن ڈال دینا۔ ابتلاؤں کا ہیبت ناک نظارہ لڑائی میں ننگی تلواروں کی چمک اور کھٹاکھٹ کی طرح آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔ جان جانے کا اندیشہ ہے مگر کسی بات کی پروا نہ کر کے خدا کے واسطے یہ سب کچھ اپنے نفس پر وارد کر لینا یہ ہے اسلام کی تعلیم کی لُبِّ لُباب۔

حقوق العباد کی ادائیگی کے تین مراتب

دوسرا حصہ خلق اللہ اور حق العباد کے متعلق ہے۔ اس کے متعلق قرآنی تعلیم یوں بیان ہوئی کہ اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَالۡاِحۡسَانِ وَاِیۡتَآیِٔ ذِی الۡقُرۡبٰی(النحل:۹۱) پہلے فرمایا کہ عدل کرو۔ پھر اس سے بھی آگے بڑھ کر فرمایا احسان کا بھی خدا نے تم کو حکم کیا ہے یعنی صرف اسی سے نیکی نہ کرو جس نے تم سے نیکی کی ہو بلکہ احسان کے طور پر بھی جو کہ کوئی حق نہ رکھتا ہو کہ اس سے نیکی کی جاوے اس سے بھی نیکی کرو۔ مگر احسان میں بھی ایک قسم کا باریک نقص اور مخفی تعلق اس شخص سے رہ جاتا ہے جس سے احسان کیا گیا ہے کیونکہ کبھی کسی موقع پر اس سے کوئی ایسی حرکت سرزد ہو جائے جو اس محسن کے خلافِ طبیعت ہو یا نافرمانی کر بیٹھے تو محسن ناراض ہو کر اس کو احسان فراموش یا نمک حرام وغیرہ کہہ دے گا اور اگر چہ وہ شخص اس بات کو دبانے کی کوشش بھی کرے گا مگر پھر اس میں ایک ایسا مخفی اور باریک رنگ میں نقص باقی رہ جاتا ہے کہ کبھی نہ کبھی ظاہر ہو ہی جاتا ہے۔ اسی واسطے اس نقص اور کمی کی تلافی کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ احسان سے بھی آگے بڑھو اور ترقی کر کے ایسی نیکی کرو کہ وہ ایتاء ذی القربیٰ کے رنگ میں رنگین ہو یعنی جس طرح سے ایک ماں اپنے بچے سے نیکی کرتی ہے۔ ماں کی اپنے بچے سے محبت ایک طبعی اور فطری تقاضا پر مبنی ہے نہ کہ کسی طمع پر۔ دیکھو! بعض اوقات ایک ماں ساٹھ برس کی بڑھیا ہوتی ہے اس کو کوئی توقع خدمت کی اپنے بچے سے نہیں ہوتی کیونکہ اس کو کہاں یہ خیال ہوتا ہے کہ میں اس کے جوان اور لائق ہونے تک زندہ بھی رہوں گی۔ غرض ایک ماں کا اپنے بچے سے محبت کرنا بلا کسی خدمت یا طمع کے خیال کے فطرتِ انسانی میں رکھا گیا ہے۔ ماں خود اپنی جان پر دکھ برداشت کرتی ہے مگر بچے کو آرام پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔ خود گیلی جگہ لیٹتی ہے اور اسے خشک حصہ بستر پر جگہ دیتی ہے۔ بچہ بیمار ہو جائے تو راتوں جاگتی اور طرح طرح کی تکالیف برداشت کرتی ہے۔ اب بتاؤ کہ ماں جو کچھ اپنے بچے کے واسطے کرتی ہے اس میں تصنّع اور بناوٹ کا کوئی بھی شعبہ پایا جاتا ہے؟

پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ احسان کے درجہ سے بھی آگے بڑھو اور ایتاء ذی القربیٰ کے مرتبہ تک ترقی کرو اور خلق اللہ سے بغیر کسی اجر یا نفع و خدمت کے خیال سے طبعی اور فطری جوش سے نیکی کرو تمہاری خلق اللہ سے ایسی نیکی ہو کہ اس میں تصنّع اور بناوٹ ہرگز نہ ہو۔ ایک دوسرے موقع پر یوں فرمایا ہے لَا نُرِیۡدُ مِنۡکُمۡ جَزَآءً وَّلَا شُکُوۡرًا(الدّھر:۱۰) یعنی خدا رسیدہ اعلیٰ ترقیات پر پہنچے ہوئے انسان کا یہ قاعدہ ہے کہ اس کی نیکی خالصاً للہ ہوتی ہے اور اس کے دل میں یہ بھی خیال نہیں ہوتا کہ اس کے واسطے دعا کی جاوے یا اس کا شکریہ ادا کیا جاوے۔ نیکی محض اس جوش کے تقاضا سے کرتا ہے جو ہمدردی بنی نوع انسان کے واسطے اس کے دل میں رکھا گیا ہے۔ ایسی پاک تعلیم نہ ہم نے توریت میں دیکھی ہے اور نہ انجیل میں۔ ورق ورق کر کے ہم نے پڑھا ہے مگر ایسی پاک اور مکمل تعلیم کا نام و نشان نہیں۔

اس زمانہ میں مصلح اور مجدّد کی ضرورت

اس وقت دنیا میں تاریکی بہت پھیلی ہوئی ہے۔ خدا کی کتاب پر عمل کرنے کے واسطے جو قوت درکار ہے اس میں بہت کمزوری ہے۔ خدا کی یہ قدیم سے عادت چلی آئی ہے کہ جب دنیا میں گناہ کی ظلمت پھیل جاتی ہے لوگ زندگی کے مقصد اصلی سے دور جا پڑتے ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ خود اپنی طرف سے ایمانوں کو تازہ کرنے کے واسطے انتظام کرتا ہے اور مصلح اور مجدّد مبعوث کرتا ہے۔ سفلی ریفارمر اس وقت کچھ نہیں کر سکتے خدا کے مقرر کردہ لوگوں ہی کا یہ منصب ہوتا ہے کہ دلوں پر قابو پا کر ان میں پاک زندگی پیدا کر جاتے ہیں۔ خدا کی طرف سے روحانی اصلاح کے لئے مقرر ہونے والے لوگ چراغ کی طرح ہوتے ہیں۔ اسی واسطے قرآن شریف میں آپؐ کا نام وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذۡنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیۡرًا(الاحزاب:۴۷) آیا ہے۔ دیکھو! کسی اندھیرے مکان میں جہاں سو پچاس آدمی ہوں اگر ان میں سے ایک کے پاس چراغ روشن ہو تو سب کو اس کی طرف رغبت ہوگی اور چراغ ظلمت کو پاش پاش کر کے اجالا اور نور کر دے گا۔۱؎

اس جگہ آپ کا نام چراغ رکھنے میں ایک اور باریک حکمت یہ ہے کہ ایک چراغ سے ہزاروں لاکھوں چراغ روشن ہو سکتے ہیں اور اس میں کوئی نقص بھی نہیں آتا۔ چاند سورج میں یہ بات نہیں۔ اس سے مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اطاعت کرنے سے ہزاروں لاکھوں انسان اس مرتبہ پر پہنچیں گے اور آپ کا فیض خاص نہیں بلکہ عام اور جاری ہوگا۔ غرض یہ سنّت اللہ ہے کہ ظلمت کی انتہا کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی بعض صفات کی وجہ سے کسی انسان کو اپنی طرف سے علم اور معرفت دے کر بھیجتا ہے اور اس کے کلام میں تاثیر اور اس کی توجہ میں جذب اور اس کی دعائیں مقبول ہوتی ہیں۔ مگر وہ ان ہی کو جذب کرتے ہیں اور ان ہی پر ان کی تاثیرات اثر کرتی ہیں جو اس انتخاب کے لائق ہوتے ہیں۔ دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام وَسِرَاجًا مُّنِیۡرًا(الاحزاب:۴۷) ہے۔ مگر ابوجہل نے کہاں قبول کیا؟

باراں کہ در لطافت طبعش خلاف نیست

در باغ لالہ روید و در شورہ بوم وخس

جس طرح بارش آسمانی سے زمینیں اپنی اپنی استعداد کے موافق روئیدگی پیدا کرتی ہیں۔ کہیں خس وخاشاک اور کہیں گلاب کے پھول بعینہٖ یہی حال روحانی بارش کے وقت انسانی روحانیت کا ہے۔ عادت اللہ اسی طرح پر ہے کوئی نرالی بات نہیں۔ آدم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک سلسلہ وحی جاری رہا۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ تجدید دین کے واسطے مجدّد پیدا کرے گا۔ تجدید کہتے ہیں ایک کپڑا جو میل کچیل سے آلودہ ہو گیا ہو اس کو دھو کر صاف کر لیا جاوے اور میل اس سے قطعاً الگ کر دی جاوے اور بالکل نئے کی طرح کر دیا جاوے۔ اسی طرح جب دین میں ایک زمانہ گذرنے کے بعد عقائد اور اعمال میں طرح طرح کے گند داخل ہو جاتے ہیں اور ایمان کی بنا صرف پرانے قصہ کہانیوں پر ہی رہ جاتی ہے اور قصوں کے سوائے کچھ ہاتھ میں نہیں رہتا تو اللہ تعالیٰ نے ایسی حالت میں اسلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ وعدہ دیا ہے کہ ہر صدی کے سر پر ایسے شخص بھیجتا رہے گا جو تجدید دین کیا کریں گے مگر چودھویں صدی کا سر اتو بجائے خود چھبیس برس بھی گذر گئے۔ آنے والا حسب وعدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عین وقت پر آگیا مگر یہ لوگ اب تک بھی شک میں ہیں۔

بعض الزامات کا جواب

اور مجھ پر خواہ مخواہ جھوٹ اور تہمت سے الزام لگاتے ہیں کہ نعوذ باللہ میں پیغمبروں کو گالیاں دیتا ہوں مگر کیسا ہی خبیث اور ملعون ہے وہ شخص جو کہ برگزیدہ بندوں کا انکار کرے یا ان کی کسی طرح سے اپنے قول سے یا فعل سے توہین کرے۔

یہ بھی مجھ پر الزام لگایا گیا ہے کہ میں معجزات سے منکر ہوں حالانکہ میرا ایمان ہے کہ بغیر معجزات کے زندہ ایمان ہی نصیب نہیں ہو سکتا۔۱؎ عقل انسان کا کہاں تک ساتھ دے سکتی ہے اور اس کی مدد سے یہ کہاں تک ترقی کر سکتا ہے؟ خدا زندہ موجود ہے اور جس طرح اس نے پہلے کام کئے ہیں اب بھی ضرور ہے کہ اسی طرح کرے۔ کیا وجہ کہ پہلے معجزات اور خوارق پر ایمان لایا جاتا ہے اور گذشتہ کا حوالہ دیا جاتا ہے کیا اب خدا بڈھا ہو گیا ہے؟ یا خدا کی قوتِ گویائی جاتی رہی ہے؟ یا اس کی قوت نصرت اور قدرت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے؟

حال کے فلسفہ والے ان باتوں کو نہیں مانتے مگر میں خود اس میں صاحبِ تحربہ ہوں۔ جس طرح پہلے نشان ظاہر ہوتے تھے اب بھی ہوتے ہیں اور اسی طرح خدا اپنے خاص بندوں کی تائید اور نصرت کرتا ہے اور اسی طرح وحی اور الہام سے ان کی تائید کرتا ہے اگر تمہارے اعتقاد کے موافق مان لیا جاوے کہ اب کوئی سلسلہ وحی والہام نہیں رہا اور وہ مُردہ ہو گیا ہے تو پھر مُردے سے کیا امید رکھ سکتے ہو؟ کیا مُردہ مُردے کو زندہ کر سکتا ہے اور اندھا اندھے کی راہبری کر سکتا ہے؟

میں سچ کہتا ہوں کہ خدا اسی طرح زندہ ہے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں زندہ تھا خدا نے ہمیں ایک خاص مقام پر پہنچانے کا وعدہ کیا تھا۔ کیا اب وہ ہمیں رستے میں ہی چھوڑ دے گا؟ مثال کے طور پر بیان کرتا ہوں کہ مثلاً ایک اندھے سے کسی نے وعدہ کیا کہ تمہیں مدراس یا کلکتہ تک پہنچا دیں گے مگر جب وہ نصف راستہ میں پہنچا تو اس کو چھوڑ دیا۔ اب وہ نہ ادھر کا نہ ادھر کا۔ کیا یہ انصاف ہے اور ظلم نہیں؟ ہم خدا پر ایسا الزام نہیں لگا سکتے کہ اس نے وعدہ تو کیا کہ قیامت تک خلفاء اور مجدّدین کا سلسلہ جاری رکھوں گا مگر ایک خاص وقت کے بعد اس نے ایسا کرنا چھوڑ دیا۔ سورۃ نور میں آیتِ استخلاف کو غور سے پڑھ کر دیکھ لو۔ میں بھی اسی وعدہ کے موافق آیا ہوں اور اس واسطے موعود کہلاتا ہوں۔ یہ نہیں کہ آواگون کے طور پر وہی مسیح آ گیا ہو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ آخری زمانہ میں امت بگڑ جائے گی اور جس طرح حضرت عیسٰی علیہ السلام کے زمانہ میں یہود کی حالت تھی وہی حالت مسلمانوں کی موعود مسیح محمدی کے زمانہ میں ہوجائے گی۔ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ(الفاتحۃ:۷) میں اسی کی طرف تو اشارہ ہے خود مسلمانوں سے پوچھ لو کہ آخری زمانہ کے مسلمانوں اور علماء کا کیا حال لکھا ہے؟ یہی کہ لکھا ہے کہ ایسے ہو جاویں گے کہ قرآن پڑھیں گے مگر قرآن حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ ایمان صرف زبانوں پر ہی ہوگا۔ اب صاف ہے کہ ایسے وقت میں ان کی اصلاح کے واسطے جو شخص آوے گا وہ بھی مناسب حال ہی آوے گا اور ضرورت اور کام کے لحاظ سے اس کا نام بھی مسیح ہوگا۔ کیا یہ ظاہر نہیں کہ دین مَر گیا۔ تو پھر جب کسی آدمی کا عزیز دوست حتی کہ پالتو کتا، بلّی، ہی مَر جائے تو اسے رنج ہوتا ہے اور افسوس آتا ہے تو کیا وجہ کہ دین کی موت کا کسی کو رنج نہیں اور کسی کے دل میں ماتم نہیں نظر آیا؟

یہ بھی مجھ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں اور کہ میں نے نیا دین بنالیا ہے یا میں کسی الگ قبلہ کی فکر میں ہوں، نماز میں نے الگ بنائی ہے یا قرآن کو منسوخ کرکے اور قرآن بنالیا ہے۔ سو اس تہمت کے جواب میں مَیں بجز اس کے کہ لَّعۡنَتَ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰذِبِیۡنَ(اٰل عمران:۶۲) کہوں اور کیا کہوں؟

مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ

میرا دعویٰ صرف یہ ہے کہ موجودہ مفاسد کے باعث خدا نے مجھے بھیجا ہے اور میں اس اَمر کا اخفا نہیں کرسکتا کہ مجھے مکالمہ مخاطبہ کا شرف عطا کیا گیا ہے اور خدا مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے اور کثرت سے ہوتا ہے۔ اسی کا نام نبوت ہے مگر حقیقی نبوت نہیں۔ نَبَأٌ ایک عربی لفظ ہے جس کے معنے ہیں خبر کے۔ اب جو شخص کوئی خبر خدا سے پاکر خلق پر ظاہر کرے گا اس کو عربی میں نبی کہیں گے۔ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ ہو کر کوئی دعویٰ نہیں کرتا۔ یہ تو نزاع لفظی ہے۔ کثرت مکالمہ مخاطبہ کو دوسرے الفاظ میں نبوت کہا جاتا ہے دیکھو! حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ قول کہ قُوْلُوْا اِنَّہٗ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَلَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ اس اَمر کی صراحت کرتا ہے نبوت اگر اسلام میں موقوف ہوچکی ہے تو یقیناً جانو کہ اسلام بھی مر گیا اور پھر کوئی امتیازی نشان بھی نہیں ہے۔ ایک باغ جس کو اس کے مالی اور باغبان نے چھوڑ دیا، اسے بھلا دیا، اس کی آبپاشی کی اس کو فکر نہیں تو پھر نتیجہ ظاہر ہے کہ چند سال بعد وہ باغ خشک ہو کر بے ثمر ہو جاوے گا اور آخر کار لکڑیاں جلانے کے کام میں لائی جاویں گی۔

اصل میں ان کی اور ہماری تو نزاع لفظی ہے۔ مکالمہ مخاطبہ کا تو یہ لوگ خود بھی اقرار کرتے ہیں۔ مجدّد صاحب۱؎ بھی اس کے قائل ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جن اولیاء اللہ کو کثرت سے خدا کا مکالمہ مخاطبہ ہوتا ہے وہ محدّث اور نبی کہلاتے ہیں۔۲؎ اچھا میں پوچھتا ہوں کہ ایک انسان خدا سے خبر پا کر دنیا پر ظاہر کرے تو اس کا نام آپ لوگ عربی زبان میں بجز نبی کے اور کیا تجویز کرتے ہیں؟ عجیب بات ہے کہ اسی لفظ کے مفہوم کو اگر زبان اردو میں یا پنجابی میں بیان کیا جائے تو مان لیتے ہیں اور اگر عربی میں پیش کریں تو نفرت اور انکار کرتے ہیں یہ تعصّب نہیں تو اور کیا ہے؟

اب صرف یہی بات باقی ہے جسے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ ان لوگوں نے شاید اس مہذب اور تعلیم یافتہ گروہ کو بھی اس اَمر میں دھوکا دیا ہو اور ہم سے بدظن کرنے کی کوشش (کی) ہو۔ لہٰذا میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ لوگوں پر ظاہر کر دوں کہ خدا نے مجھے تجدید دین کے واسطے تائید اور نصرت کے ساتھ تازہ نشانات دے کر بھیجا ہے تا دین کو تازہ کر دیا جاوے۔ آپ یقیناً سمجھیں کہ اگر خدا نے مجھے نہ بھیجا ہوتا تو یہ دین بھی اور دینوں کی طرح صرف قصے کہانیوں میں ہی محدود ہو جاتا۔ خدا سے آنے والا نابود نہیں کیا جاتا۔ انجام کار خدا اس کی سرسبزی دنیا پر ظاہر کر دیتا ہے۔

ان لوگوں نے میری توہین کے واسطے جھوٹ سے تہمت سے افترا سے اور طرح طرح کے حیلوں سے کام لیا ہے اور ہماری ترقی کو روکنے کے واسطے ہم سے لوگوں کو بدظن کرنے کے واسطے سخت سے سخت کوششیں کی ہیں مگر خدا کی قدرت سے بایں ہمہ ہماری ترقی ہی ہوتی گئی اور ہو رہی ہے۔ حتی کہ اب چار لاکھ سے بھی زیادہ لوگ مختلف ممالک میں ہماری جماعت کے موجود ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ سمجھ دار لوگ جب سمجھ لیتے ہیں کہ یہی راہ دشمن پر غلبہ پانے کی ہے تو پھر وہ اس پر سچے دل سے قائم ہو جاتے ہیں۔

اب ہمیں بتائیں کہ جن کا یہ مذہب ہے کہ حضرت عیسٰیؑ مَرے نہیں بلکہ زندہ ہیں اور آنحضرتؐ وفات پا کر مدینے میں مدفون ہیں۔ بتائیے انہوں نے آنحضرتؐ کی عزت پر کیسا حملہ کیا ہے؟ اور پھر کہتے ہیں کہ وہی اسرائیلی نبی پھر دنیا میں آ کر اُمت محمدیہ کی اصلاح اور تجدید دین کرے گا۔ اب فرمائیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب ایک اسرائیلی نبی آ گیا تو پھر آنحضرتؐ کس طرح خاتم النبییّن رہے؟ اس اعتقاد سے تو خاتم النبییّن حضرت عیسٰیؑ ہوئے نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔ حاشا و کلّا عیسٰیؑ تو خود براہ راست خدا کے نبی تھے۔ کیا ان کی پہلی شریعت اور نبوت منسوخ ہو جائے گی؟ جب سورہ نور میں ہمیں صاف الفاظ میں وعدہ مل چکا ہے کہ جو آوے گا تم میں سے ہی آوے گا۔ تمہارے غیر کو قدم رکھنے کی اب گنجائش نہیں اور بخاری میں بھی جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔ اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ موجود ہے اور پھر جب کہ ان کی وفات بھی صراحت سے قرآن شریف اور احادیث سے ثابت ہے تو کیوں ایسا اعتقاد رکھا جاتا ہے جو کہ سراسر قرآن شریف اور آنحضرتؐ کے خلاف ایک عقیدہ ہے آنحضرتؐ نے خود ان کو معراج کی رات میں وفات شدہ انبیاء کے ساتھ دیکھا۔ اگر وہ زندہ تھے تو ان کے واسطے الگ کوئی مقام تجویز ہونا چاہیے تھا نہ کہ مُردوں میں۔ زندہ کو مُردہ سے کیا تعلق اور کیا واسطہ؟

غرض خدا نے قول سے اور آنحضرتؐ نے اپنے فعل سے ثابت کر دیا کہ وہ وفات پاچکے۔ اب فَمَاذَا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ(یونس:۳۳) مسلمان ہو کر قرآن اور قولِ رسولؐ کو قبول نہیں کرتے تو نہ کریں ان کا اختیار ہے۔ میری تکذیب نہیں کرتے بلکہ اس کی جس کی طرف سے میں آیا ہوں اور اس کی جس کا میں غلام ہوں تکذیب کرتے ہیں۔ میں کیا اور میری تکذیب کیا بلکہ یہ تو آنحضرتؐ کی تکذیب کرتے ہیں۔ بات تو ایک ہی ہے قرآن میں خلیفہ کے آنے کی نصّ موجود ہے اور احادیث میں قربِ قیامت کے وقت آنے والے خلیفہ کا نام مسیح رکھا گیا ہے۔ اب ان میں اختلاف کیا ہے؟

ان الزامات کے سوا دوسرے الزام بھی اسی قسم کے بےحقیقت اور ضد اور تعصب کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ ان سب کا ردّ مفصلاً ہم نے اپنی کتابوں میں کر دیا ہے۔ ان لوگوں کے بعض عقائد تو ایسے ہیں جن سے ایک سچے مسلمان کا دل کانپ جاتا ہے۔ مثلاً ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ کوئی بھی مَسِّ شیطان سے پاک نہیں بجز عیسیٰ علیہ السلام کے۔ ان کا یہ مسئلہ کیسا قابل شرم ہے۔ ہمارے نبی کریمؐ افضل الرسل، پاکوں کے سردار تو مَسِّ شیطان سے (نعوذ باللہ) پاک نہیں اور حضرت عیسیٰؑ پاک ہیں۔ کیسا افسوس کا مقام ہے! خدا جانے مسلمان کہلا کر ان کو کیا ہو گیا؟

دیکھو! خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال ہے اور خود مسلمان آریوں اور عیسائیوں کے ہمزبان بنے ہوئے ہیں۔ ہمارا اپنا سب سے پیارا نبی جس کی پیروی ہمارا فخر اور ہمارے واسطے باعث عزت اور موجب نجات ہے اگر وہ وفات پا چکے ہیں تو ہم عیسٰیؑ کو کیا کریں؟

بس یہ باتیں ہیں جن پر ہمیں کافر کہا جاتا ہے۔ دجّال کہا جاتا ہے اور اسلام سے خارج کہا جاتا ہے اور ہم سے سلام علیکم کرنے، مصافحہ کرنے، ملاقات کرنے والا بھی کافر ہو جاتا ہے ایسا متعدی کفر ہے۔ اور تمام جماعت ایک کافروں کا مجموعہ ہے۔ کیسا افسوس آتا ہے کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور آپ کے دین کی تجدید اور خدمت کرنے کے واسطے ہر وقت کمر بستہ ہے اس کو گندی گالیاں نکالتے ہیں۔ بُرے بُرے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔ میرے صندوق بھرے پڑے ہیں ان کی گالیوں کے گندے خطوط سے۔ بعض اوقات بیرنگ خط محصول ادا کر کے وصول کیا۔ کھول کر دیکھا تو اس میں اوّل سے آخر تک بے نقط گالیوں کے سوا کچھ ہوتا ہی نہیں اور مولوی کہلا کر چوہڑے چماروں کی طرح گندی اور فحش گالیاں نکالتے ہیں کہ انسان کو پڑھتے ہوئے بھی شرم آ جاتی ہے۔ ابھی کہتے ہیں کہ اسلام کو کسی کی کیا ضرورت ہے جبکہ قرآن موجود ہے اور مولوی موجود ہیں؟ یہ نہیں جانتے کہ ان کے مولوی جو ان بھیڑوں کے گلہ بان ہیں خود بھیڑیے ہیں اور وہ ریوڑ کیسے خطرہ میں ہے جس کا کوئی گلہ بان نہ ہو؟ اسلام پر اندرونی اور بیرونی حملے ہو رہے ہیں اور ماریں کھا رہا ہے۔ پس ایسے شخص کی ضرورت تھی کہ مغالطے اور مشکلات دور کر کے پیچیدہ مسائل کو حل کر کے رستہ صاف کرتا اور اسلام کی اصلی روشنی اور سچا نور دوسری قوموں کے سامنے پیش کرتا۔ دیکھو ایک وہ زمانہ تھا کہ عیسائی لوگ کہتے تھے کہ آنحضرتؐ کی نہ کوئی پیشگوئی ہے نہ معجزہ۔ مگر اب میرے سامنے کوئی نہیں آتا حالانکہ ہم بلاتے ہیں۔

خدا کا یہی ارادہ تھا۔ اس نے اپنے وعدہ کے موافق وقت پر اپنے دین کی خبر گیری اور دستگیری فرمائی ہے۔ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ(الحجر:۱۰) اسلام کو اس نے دنیا میں قائم کیا، قرآن کی تعلیم پھیلائی اور اس کی حفاظت کا بھی وہی خود ذمہ دار ہے۔ جب انسان اپنے لگائے ہوئے بوٹے کو التزام سے پانی دیتا ہے تا وہ خشک نہ ہو جاوے تو کیا خدا انسان سے بھی گیا گزرا اور لا پروا ہے؟ یاد رکھو کہ اسلام نے جن راہوں سے پہلے ترقی کی تھی اب بھی انہی راہوں سے ترقی کرے گا۔ خشک منطق ایک ڈائن ہے اس سے انجان آدمی کے اعتقاد میں خلل آجاتا ہے۔ اور ظاہری فلسفے روحانی فلسفے کے بالکل مخالف ہیں۔

صاحبان! یہ امور ہیں جن کی اصلاح کے واسطے میں بھیجا گیا ہوں میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس مجلس میں سے بعض ایسے بھی لوگ اٹھیں گے کہ ان میں کچھ بھی تبدیلی پیدا نہ ہوئی ہوگی یا ان کے خیالات پر میری ان باتوں کا ذرّہ بھی اثر نہ ہوگا مگر یاد رکھو جو مجھ سے مقابلہ کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں بلکہ اس سے مقابلہ کرتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اگر ادنیٰ چپڑاسی کی ہتک کی جائے اور اس کی بات نہ مانی جاوے تو گورنمنٹ سے ہتک کرنے والے یا نہ ماننے والے کو سزا ملتی ہے اور باز پرس ہوتی ہے تو پھر خدا کی طرف سے آنے والے کی بے عزتی کرنا اس کی بات کی پروانہ کرنا کیوں کر خالی جا سکتا ہے؟ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اگر میرا سلسلہ خدا کی طرف سے نہیں تو یونہی بگڑ جائے گا خواہ کوئی اس کی مخالفت کرے یا نہ کرے کیونکہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰی(طٰہٰ:۶۲) اور اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا(الانعام:۲۲) اور وہ شخص جو رات کو ایک بات بناتا اور دن کو لوگوں کو بتاتا اور کہتا ہے کہ مجھے خدا نے ایسا کہا ہے وہ کیوں کر بامراد اور با برگ و بار ہوسکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے۔ وَلَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ لَاَخَذۡنَا مِنۡہُ بِالۡیَمِیۡنِ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡہُ الۡوَتِیۡنَ(الحاقۃ:۴۵ تا ۴۷) جب ایک ایسے عظیم الشان انسان کے واسطے ایسا فرمان ہے تو پھر ادنیٰ انسان کے واسطے تو چھوٹی سی چُھری کی ضرورت تھی اور کبھی کا فیصلہ ہو گیا ہوتا۔۱؎


۱۸؍ مئی ۱۹۰۸ء

(بعد نماز ظہر۔ بمقام لاہور)

پروفیسر ریگ کے بعض سوالات کے جوابات

وہی پروفیسر ریگ جن کا کسی پہلی اشاعت میں حضرت اقدسؑ سے ملاقات کرنا اور سوال و جواب شائع ہو چکا ہے۔ ۱۸؍مئی ۱۹۰۸ء کو پھر حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی تحریک اور وساطت سے حضرت اقدسؑ کے حضور حاضر ہوئے اور خیریت حال دریافت کرنے کے بعد ذیل کا سوال و جواب ہوا۔

سوال۔ آپ کا کیا عقیدہ ہے خدا محدود ہے یا کہ ہر جگہ حاضر ناظر اور اس میں کوئی شخصیت یا جذبات پائے جاتے ہیں۔

جواب۔ ہم خدا کو محدود نہیں سمجھتے اور نہ ہی خدا محدود ہو سکتا ہے۔ ہم خدا کی نسبت یہ جانتے ہیں کہ جیسا وہ آسمان پر ہے ویسا ہی زمین پر بھی ہے۔ اس کے دو قسم کے تعلق پائے جاتے ہیں ایک عام تعلق جو عام مخلوق کے ساتھ ہے اور ایک دوسرا خاص تعلق جو ان خاص بندوں کے ساتھ ہوتا ہے جو اپنے آپ کو پاک کر کے اس کی محبت میں ترقی کرتے ہیں۔ تب وہ ان سے ایسا قریب ہو جاتا ہے جیسا کہ ان کے اندر ہی سے بولتا ہے۔ یہ اس میں ایک عجیب بات ہے کہ باوجود دور ہونے کے وہ نزدیک ہے اور باوجود نزدیک ہونے کے وہ دور ہے۔ وہ بہت ہی قریب ہے مگر پھر بھی نہیں کہہ سکتے کہ جس طرح ایک جسم دوسرے جسم سے قریب ہوتا ہے اور وہ سب سے اوپر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی چیز بھی ہے۔ وہ سب چیزوں سے زیادہ ظاہر ہے مگر پھر بھی وہ عمیق در عمیق ہے۔ جس قدر انسان سچی پاکیزگی حاصل کرتا ہے اسی قدر اس کے وجود پر اس کو اطلاع ہوتی ہے۔

فرمایا۔ جذبات سے مراد غالباً ان کی یہ ہے کہ خدا نے انسان کے ذمے شریعت کا بوجھ کیوں ڈال رکھا ہے اور حلال و حرام کی پابندی میں اسے کیوں قید کر رکھا ہے؟ سو جاننا چاہیے کہ اصل بات یہ ہے کہ خدا نہایت درجہ قدوس ہے وہ اپنی تقدیس کی وجہ سے ناپاکی کو پسند نہیں کرتا اور چونکہ وہ رحیم کریم ہے اس واسطے نہیں چاہتا کہ انسان ایسی راہوں پر چلے جن میں اس کی ہلاکت ہو۔ پس یہ اس کے جذبات ہیں جن کی بنا پر مذہب کا سلسلہ جاری ہے۔ اب ان کا نام خواہ آپ کچھ ہی رکھ لو۔

سوال۔ کیا خدا کی کوئی شکل ہے؟

جواب۔ جب وہ محدود ہی نہیں تو شکل کیسی؟

سوال۔ جب خدا محبت ہے۔ عدل ہے۔ انصاف ہے تو کیا وجہ کہ نظام دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے بعض چیزوں کو بعض کی خوراک بنا دیا ہے۔ اگر محبت اور عدل یا انصاف و رحم اس کے ذاتی خاصے ہیں تو کیا وجہ کہ اس نے مخلوق میں سے بعض میں ایسی کیفیت اور قویٰ رکھ دئیے ہیں کہ وہ دوسروں کو کھا جائیں حالانکہ مخلوق ہونے میں دونوں برابر ہیں۔

جواب۔ جب محبت کا لفظ خدا کی نسبت بولا جاتا ہے تو اس کو انسانی محبت پر قیاس کر لینا بڑی بھاری غلطی ہے۔ محبت کا لفظ جس طرح انسانوں میں اطلاق پاتا ہے اور جو مفہوم اس کا انسانی تعلقات کی حیثیت میں سمجھا جاتا ہے وہ ہرگز ہرگز خدا پر اطلاق نہیں پاسکتا۔ اور نہ ہی وہ معنے اور مراد خدا پر صادق آتے ہیں۔ انسان میں محبت اور غضب کی قوت ہے مگر جو مفہوم ان کا انسان کے متعلق بولتے وقت ہمارے ذہن میں آتا ہے وہ خدا پر ہرگز ہرگز اطلاق نہیں پاسکتا۔ یہ غلطی ہے۔ فطرتِ انسانی میں یہ رکھا گیا ہے کہ جب کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کے فراق سے اس کو صدمہ بھی پہنچتا ہے۔ ماں اپنے بچے سے محبت کرتی ہے، مگر اگر اس کا بچہ اس سے جدا ہو جاوے تو اس کو کیسا صدمہ ہوتا ہے اور کتنا دکھ اور رنج پہنچتا ہے۔ اسی طرح سے جو شخص کسی دوسرے پر غضب کرتا ہے اوّل وہ خود اپنے آپ میں اس کا صدمہ اور اثر پاتا ہے گویا دوسرے کو سزا دینے کے ساتھ ہی خود اپنی جان کو بھی سزا دیتا ہے۔ غضب ایک دکھ ہے جس کا اثر پہلے اپنی ہی ذات پر پڑتا ہے اور ایک قسم کی تلخی پیدا ہو کر طبیعت میں سے راحت اور چین نکل جاتا ہے مگر خدا ان باتوں سے پاک ہے۔ پس اس سے صاف نتیجہ نکلتا ہے کہ ان الفاظ کا اطلاق اس رنگ میں جس رنگ میں ہم انسان پر کرتے ہیں اور جو مفہوم ان کا انسانی تعلق میں ہو سکتا ہے اس رنگ میں خدا پر نہیں بول سکتے اور نہ ہی وہ خدا پر صادق آتے ہیں۔ اس واسطے ہم ان الفاظ کو پسند نہیں کرتے۔ یہ ان لوگوں کا بنایا ہوا لفظ ہے جو خدا کو محض انسانی حالت پر قیاس کرتے ہیں وہ پاک ذات ہے۔ جو اس کی رضا کے موافق چلتا ہے اس سے اس کا تعلق زیادہ سے زیادہ ہوتا جاتا ہے ہاں البتہ استعارہ کے رنگ میں محبت اور غضب کا لفظ خدا کے لئے بھی بولا جا سکتا ہے۔

پس یاد رکھو کہ یہ ایک دنیا کا کارخانہ ہے جس کے واسطے خدا تعالیٰ نے اپنی کامل حکمت سے موجودہ نظام مقرر فرمایا ہے اور یہ اس نظام کے ماتحت اس طرح سے چل رہا ہے البتہ اس کے واسطے یہ الفاظ موزوں نہیں ہیں۔ محبت کا لفظ ایک درد اور گداز رکھتا ہے۔ اگر فرض بھی کر لیں کہ خدا محبت ہے اور اس کی صفت غضب بھی ہے (انسانی حالت کے خیال سے )تو پھر ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ خدا کو بھی ایک قسم کی تکلیف اور رنج و دکھ ہوتا ہے۔ مگر یاد رکھو ایسے ناقص الفاظ خدا کی طرف منسوب نہیں کئے جا سکتے۔

سوال۔ یہ تو میں نے سمجھ لیا ہے مگر میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ خدا نے یہ خاصہ کیوں رکھ دیا کہ ادنیٰ اعلیٰ کا خادم ہو یا اس کی خوراک بنے اور اس کے سامنے ذلیل رہے؟

جواب۔ ہم نے تو ابھی بیان کیا ہے کہ خدا کی صفات محبت، رحم اور غضب کی تشریح ہم اس طور سے نہیں کر سکتے جیسا کہ انسانوں میں یہ صفات ہیں۔ انسانی حالت پر خدا کا قیاس کرنا سخت غلطی ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کا ایک وسیع نظام ہے جو اس نے اسی طرح بنایا ہے۔ اس نظام میں انسان اپنی حد سے زیادہ دست اندازی نہیں کر سکتا اور یہ مناسب نہیں کہ دقیق در دقیق مصالح خدائی میں دخل دے کر ہر بات میں ایک سوال پیدا کر لے۔ یہ عالَم ایک مختصر عالَم ہے۔ اس کے بعد خدا نے ایک وسیع عالَم رکھا ہے جس میں اس نے ارادہ اور وعدہ کیا ہے کہ سچی اور ابدی خوشحالی دی جاوے گی۔ ہر دکھ جو اس جہان میں ہے اس کا تدارک اور تلافی دوسرے عالَم میں کر دی جاوے گی۔ جو کمی اس جہان میں پائی جاتی ہے وہ آئندہ عالم میں پوری کر دی جاوے گی۔ باقی رہا دکھ اور تکلیف، رنج و محن یہ تو ادنیٰ و اعلیٰ کو یکساں برداشت کرنا پڑتا ہے اور یہ اس نظام عالَم کے قیام کے واسطے لازمی اور ضروری تھے۔ اگر وسیع نظر سے دیکھا جاوے تو کوئی بھی دکھ سے خالی نہیں۔ ہر مخلوق کو علیٰ قدر مراتب اس میں سے حصہ لینا ہی پڑتا ہے۔ البتہ کسی کو کسی رنگ میں ہے اور کسی کو کسی رنگ میں۔ اگر باز چڑیوں اور پرندوں کو کھاتا ہے تو شیر، چیتے اور بھیڑئیے انسان کے بچوں کو بھی کھا جاتے ہیں۔ سانپ بچھو وغیرہ بھی ستاتے ہیں۔ غرض یہ سلسلہ تو اس طرح سے چل رہا ہے۔ اس سے خالی کوئی بھی نہیں۔ البتہ ان کی تلافی اور تدارک کے واسطے اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرا عالم رکھا ہے۔ اسی واسطے تو قرآن شریف میں اس کا نام مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ(الفاتحۃ:۴) بھی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ انسان خوشحال ہو مگر ممکن ہے کہ چرند پرند اس سے بھی زیادہ خوشحال ہوں۔ یہ دنیا ایک عالم امتحان ہے۔ اس کے حل کرنے کے واسطے دوسرا عالم ہے۔ اس دنیا میں جو تکالیف رکھی ہیں اس کا وعدہ ہے کہ آئندہ عالَم میں خوشی دے گا۔ اگر اب بھی کوئی کہے کہ کیوں ایسا کیا اور ایسا نہ کیا؟ اس کا یہ جواب ہے کہ وہ تحکم اور مالکیت بھی تو رکھتا ہے۔ اس نے جیسا چاہا کیا کسی کو اس کے اس کام پر اعتراض کی گنجائش اور حق نہیں۔

دوسری بات جو قابل غور ہے یہ ہے کہ چونکہ تکالیف انسانی، تکالیف حیوانی سے بڑھی ہوئی ہیں۔ (اسی واسطے آئندہ انسانی اجر بھی حیوانی اجر سے بڑھا ہوا ہوگا) تکالیف انسانی دو قسم کی ہیں۔ ایک تکالیفِ شرعیہ دوسری تکالیف قضا و قدر۔ تکالیف قضا و قدر میں انسان و حیوان مشترک اور قریباً برابر ہیں۔ اگر انسان کے ہاتھ سے حیوان مَرتے ہیں تو حیوانوں کے ہاتھ سے آخر انسان بھی تو مَرتے ہیں۔ اسی طرح اور اور تکالیف میں بھی ان کا آپس میں ایک قسم کا اشتراک پایا جاتا ہے۔

باقی تکالیفِ شرعیہ میں انسان کے ساتھ حیوانات کا کوئی اشتراک نہیں ہے۔ احکامِ شرعیہ بھی ایک قسم کی چُھری ہے جو انسانی گردن پر چلتی ہے۔ مگر حیوان اس سے بری الذّمہ ہیں۔ امور شرعیہ بھی ایک موت ہیں جو انسان کو اپنے اوپر وارد کرنی پڑتی ہے۔ پس اس طرح سے ان باتوں کو یکجائی طور سے دیکھنے سے صاف معلوم ہوگا کہ تکالیف انسانی تکالیف حیوانی سے بہت بڑھی ہوئی ہیں۔

تیسری بات جو قابل یاد ہے یہ ہے کہ انسانی حواس میں بہت تیزی ہے۔ انسان میں قوتِ احساس زیادہ پائی جاتی ہے۔ حیوانات یا نباتات اس کے مقابلے میں بہت کم احساس رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حیوانات کو اتنی عقل بھی نہیں دی گئی۔ عقل سے ہی شعور پیدا ہوتا ہے۔ حیوانات میں چونکہ عقل اور شعور بہت کم درجہ کا ہوتا ہے اسی واسطے ایک قسم کی مستی کی حالت میں رہتے ہیں۔ احساس کا مسئلہ زیادہ تر انسان میں ہی پایا جاتا ہے۔ حیوانات میں یہ قویٰ ایسے کم درجہ کے ہیں کہ گویا نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پس حیوانات ان تکالیف کا بہت کم احساس کرتے ہیں اور ممکن ہے کہ بعض اوقات بالکل ہی نہ کرتے ہوں۔

اب جائے غور ہے کہ دنیا میں ان تکالیف کا بوجھ کس پر زیادہ ہے آیا انسان پر یا حیوان پر؟ صاف ظاہر ہے کہ انسان ہی کو ان مشکلات دنیوی میں بہ نسبت حیوانات کے زیادہ حصہ لینا پڑتا ہے۔

سوال۔ آپ نے جو کچھ بیان فرمایا میں نے سمجھ لیا۔ اب یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ حیوانات کو بھی آئندہ عالَم میں کوئی بدلہ دیا جاوے گا؟

جواب۔ فرمایا۔ ہاں ہم مانتے ہیں کہ علیٰ قدر مراتب سب کو ان کی تکالیف دنیوی کا بدلہ دیا جاوے گا اور ان کے دکھوں اور تکالیف کی تلافی کی جاوے گی۔

سوال۔ تو پھر اس کا یہ لازمی نتیجہ ہوگا کہ وہ حیوانات جن کو ہم مارتے ہیں ان کو مُردہ نہیں بلکہ زندہ یقین کریں۔

جواب۔ فرمایا کہ ہاں یہ ضروری بات ہے وہ فنا نہیں ہوئے ان کی روح باقی ہے وہ حقیقتاً نہیں مَرے بلکہ وہ بھی زندہ ہیں۔

سوال۔ بائبل میں لکھا ہے کہ آدم یا یوں کہیے کہ پہلا انسان جیحون سیحون میں پیدا ہوا تھا اور اس کا وہی ملک تھا تو پھر کیا یہ لوگ جو دنیا کے مختلف حصوں امریکہ، آسٹریلیا وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔ یہ اس آدم کی اولاد سے ہیں؟

جواب۔ فرمایا۔ ہم اس بات کے قائل نہیں ہیں اور نہ ہی اس مسئلہ میں ہم توریت کی پیروی کرتے ہیں کہ چھ سات ہزار سال سے ہی جب سے یہ آدم پیدا ہوا تھا اس دنیا کا آغاز ہوا ہے اور اس سے پہلے کچھ بھی نہ تھا اور خدا گویا معطّل تھا۔ اور نہ ہی ہم اس بات کے مدعی ہیں کہ یہ تمام نسل انسانی جو اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ہے یہ اسی آخری آدم کی نسل ہے۔ ہم تو اس آدم سے پہلے بھی نسل انسانی کے قائل ہیں جیسا کہ قرآن شریف کے الفاظ سے پتہ لگتا ہے۔ خدا نے یہ فرمایا کہ اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیۡفَۃً(البقرۃ:۳۱) خلیفہ کہتے ہیں جانشین کو۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ آدم سے پہلے بھی مخلوق موجود تھی۔ پس امریکہ اور آسٹریلیا وغیرہ کے لوگوں کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اس آخری آدم کی اولاد میں سے ہیں یا کہ کسی دوسرے آدم کی اولاد میں سے ہیں۔

آپ کے سوال کے مناسب حال ایک قول حضرت محی الدین ابنِ عربی صاحب کا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں حج کرنے کے واسطے گیا تو وہاں مجھے ایک شخص ملا جس کو میں نے خیال کیا کہ وہ آدم ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تو ہی آدم ہے؟ اس پر اس نے جواب دیا کہ تم کون سے آدم کے متعلق سوال کرتے ہو؟ آدم تو ہزاروں گذر چکے ہیں۔

سوال۔ کیا حضور مسئلہ ارتقا کے قائل ہیں یعنی یہ کہ انسان نے ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت میں ترقی کی ہے پہلے سانپ بچھو وغیرہ سے ترقی کرتے کرتے بندر بنا اور بندر سے انسان بنا اور روح کس وقت پیدا ہوئی؟

جواب۔ فرمایا۔ ہمارا یہ مذہب نہیں کہ انسان کسی وقت بندر تھا مگر آہستہ آہستہ دُم بھی کٹ گئی اور پشم بھی جاتی رہی اور ترقی کرتے کرتے انسان بن گیا۔ یہ ایک دعویٰ ہے جس کا بار ثبوت اس دعویٰ کے مدعی کے ذمے ہے چاہیے کہ کوئی ایسا بندر پیش کیا جاوے جو آہستہ آہستہ ترقی کرتے کرتے انسانی حالت میں آ جاوے۔ ہم ایسے بے دلیل قصے کہانیوں پر کیوں کر ایمان لا سکتے ہیں؟ البتہ یہ تو ہم مانتے ہیں کہ آدم بہت سے گذرے ہیں مگر موجودہ حالات کے ماتحت جو ہم روز مشاہدہ کرتے ہیں کہ انسان سے انسان پیدا ہوتا ہے۔ بندر سے انسان یا انسان سے بندر کبھی کسی نے پیدا ہوتا نہیں دیکھا ہوگا۔ یہ تو ایک ناولوں کا قصہ ہے۔ ہمیشہ نوع سے نوع ہی پیدا ہوتی ہے۔ خدا نے اپنا قانون ہماری آنکھوں کے سامنے رکھا ہوا ہے کہ گدھے سے گدھا اور گھوڑے سے گھوڑا۔ بندر سے بندر پیدا ہوتا ہے۔ اب اس کے خلاف جو کوئی دعویٰ کرتا ہے کہ بندر سے انسان بھی پیدا ہوتا ہے اس کو اپنے دعوے کی دلیل بھی پیش کرنی چاہیے۔ یہ کہہ دینا کہ شاید ایسا ہو گیا ہو۔ شاید کے کیا معنے؟

ہمارے ساتھ تو اللہ تعالیٰ نے ایک مشاہدہ دلیل کے طور سے رکھا ہوا ہے اس کے خلاف کہنے والوں کو کوئی بیّن دلیل پیش کرنی چاہیے ورنہ ظنی باتوں اور صرف دعوؤں سے کوئی اَمر حجت نہیں ہو سکتا۔ روح ایک مخلوق چیز ہے۔ اسی عنصری مادے سے خدا اسے بھی پیدا کرتا ہے (جیسا کہ مفصل طور سے اس اَمر کو ہم نے اس تازہ تصنیف کتاب چشمہ معرفت میں بیان کیا ہے) روح انسانی باریک اور مخفی طور سے نطفہ انسانی میں ہی موجود ہوتی ہے اور وہ بھی نطفہ کے ساتھ ساتھ ہی آہستگی سے نشوونما کرتی اور ترقی پاتی پاتی چوتھے مہینے کے انجام اور پانچویں مہینے کے ابتدا میں ایک بیّن تغیّر اور نشوونما پا کر ظہور پذیر ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ اپنی پاک کلام میں فرماتا ہے کہ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰہُ خَلۡقًا اٰخَرَ(المؤمنون:۱۵)

یہ درست نہیں جیسا کہ جو آریہ بتاتے ہیں کہ روح بھی خدا کی طرح ازلی ابدی ہے۔ اس اعتقاد پر اتنے شبہات پڑتے ہیں کہ پھر خدا خدا ہی نہیں رہتا۔ روح ایک لطیف جوہر ہوتا ہے جو مخفی طور سے انسان کی پیدائش کے ساتھ ساتھ پیدا ہوتا اور نشوونما پاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک گولر کے پھل کو لو۔ جب وہ کچا ہوگا تو اس میں ایک قسم کے نامکمل حالت میں زندہ جانور پائے جاویں گے مگر جونہی کہ وہ پک کر تیار ہوگا اس میں سے جانور چلتے پھرتے نظر آویں گے اور یہاں تک کہ پَر لگ کر اُڑنے بھی لگ جاویں گے۔ اس کے سوا اور بھی کئی درختوں کے پھل ہیں جن میں اس قسم کے مشاہدات پائے جاتے ہیں۔

غرض ہمارے پاس تو ہمارے دعوے کا ثبوت ہے۔ ثابتہ سچائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اصل میں ان پھلوں میں ایک قسم کا مادہ اندر ہی اندر موجود ہوتا جو پھل کے نشوونما کے ساتھ ساتھ نشوونما کرتا اور ترقی پاتا ہے۔

سوال۔ سپری چولزم والوں کی رائے ہے کہ زندگی چاند سے اتری اور عقل مشتری سے اور چاند زمین سے بنا۔ ابتدا میں زمین بہت نرم تھی۔ زمین کا ایک ٹکڑا اڑ کر آسمان پر چلا گیا اور وہ چاند بن گیا۔ اصل میں زندگی زمین ہی سے نکلی۔ زمین سے چاند میں گئی اور چاند سے پھر انسان میں اترتی ہے۔ اس میں آپ کا اعتقاد کیا ہے؟

جواب۔ فرمایاـ۔ چاند، سورج اور اور سیاروں کی تاثیرات کے ہم قائل ہیں۔ ان سے انسان فائدہ اٹھاتا ہے اور بچہ جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اس وقت بھی ان کی تاثیرات کا اثر بچے پر ہوتا ہے۔ یہ اَمر شریعت کے خلاف نہیں۔ اسی واسطے ہمیں ان کے ماننے میں عذر نہیں۔ نباتات میں چاند کی روشنی کا اثر بیّن طور سے ظاہر ہے۔ چاند کی روشنی سے پھل موٹے ہوتے ہیں۔ ان میں شیرینی پیدا ہوتی ہے اور بعض اوقات لوگوں نے اناروں کے چٹخنے کی آواز تک بھی سنی ہے جو چاند کی روشنی کے اثر سے پھوٹتے ہیں اس سے زیادہ جو حصہ پیچیدہ اور ثابت شدہ نہیں اس کے ماننے کے واسطے ہم تیار نہیں ہیں۔ قرآن شریف میں صاف بیان کیا گیا ہے کہ چاند، سورج اور تمام سیارے انسان کے خادم اور مفید مطلب ہیں اور ان میں انسانی فوائد مرکوز ہیں۔ پس ہم اس بات کے ماننے میں کوئی حرج نہیں پاتے کہ جس طرح سے نباتات سے ہمیں فائدہ پہنچتا ہے اسی طرح ان تمام سیاروں سے بھی ہم فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اب اگر یہ ثابت ہو جاوے کہ عقل کو مشتری سے تعلق ہے تو اس کے ماننے کے واسطے بھی ہم تیار ہیں۔

اتنا سن کر پروفیسر موصوف نے عرض کیا کہ میں تو خیال کرتا تھا کہ سائنس اور مذہب میں بڑا تضاد ہے جیسا کہ عام طور سے علماء میں مانا گیا ہے مگر آپ نے تو اس تضاد کو بالکل اٹھا دیا ہے۔

فرمایا۔ یہی تو ہمارا کام ہے اور یہی تو ہم ثابت کر رہے ہیں کہ سائنس اور مذہب میں بالکل اختلاف نہیں بلکہ مذہب بالکل سائنس کے مطابق ہے اور سائنس خواہ کتنی ہی عروج پکڑ جاوے مگر قرآن کی تعلیم اور اصول اسلام کو ہرگز ہرگز نہیں جھٹلا سکے گی۔

سوال۔ مکھیوں یا ادنیٰ قسم کے جانوروں میں جو چیز پائی جاتی ہے۔ اس کو کس نام سے تعبیر کیا جاوے گا؟

جواب۔ روح تین قسم کی ہوتی ہے۔ روح نباتی۔ روح حیوانی۔ روح انسانی۔ ان تینوں کو ہم برابر نہیں مانتے۔ ان میں سے حقیقی زندگی کی وارث اور جامع کمالات صرف انسانی روح ہے۔ باقی حیوانی اور نباتی روح میں بھی ایک قسم کی زندگی ہے۔ مگر وہ انسانی روح کی برابری نہیں کرسکتی۔ نہ ویسے مدارج حاصل کر سکتی ہے۔ نہ کمالات میں انسانی روح کی برابری کرسکتی ہے۔ کچھ تشابہ ہو تو اس باریک بحث میں ہم پڑنا مناسب نہیں سمجھتے۔ ہوسکتا ہے کہ بعض خاص خاص صفات میں یہ روحیں انسانی روح سے مشابہت رکھتی ہوں۔ مگر جس طرح انسان میں اور ان میں ظاہری اختلاف اور فرق ہے اسی طرح اختلاف روحانی بھی پایا جاتا ہے۔ بلکہ یہاں تک بھی مانا گیا ہے کہ بعض نباتات میں بھی ایک قسم کا شعور پایا جاتا ہے۔ ایک بانس کا درخت گھر کی چھت کے نیچے لگایا جاوے مگر جب بڑھتے بڑھتے وہ چھت سے قریب ایک بالشت کے رہ جاوے گا تو وہ اپنا رخ بدل لے گا اور دوسری طرف کو بڑھنا شروع کر دے گا۔ ایک اور قسم کی نباتی بوٹی ہے جس کو پنجاب میں چھوئی موئی کہتے ہیں۔ وہ انسان کا ہاتھ لگتے ہی سمٹ کر اکٹھی ہو جاتی ہے۔ یہ باتیں پرانی اچھی اچھی طبیعات کی کتابوں میں لکھی ہیں اور نیز تجربہ سے بھی ثابت ہیں مگر ان کے پیچھے بہت زیادہ نہ پڑنا چاہیے۔ وہ شعر کیا ہی موزوں ہے کہ

تو کار زمیں را نکو ساختی

کہ با آسماں نیز پرداختی

ان کے دقیق در دقیق مباحثات میں پڑ کر ان کی تفصیلات کی جستجو میں وقت ضائع کرنا ٹھیک نہیں۔

سوال۔ میں ایک روز گرجامیں گیا تھا وہاں پادری صاحب نے لیکچر میں بیان کیا کہ’’ انسان ایک بالکل ذلیل ہستی ہے اور گندہ کیڑا ہے۔ یہ روز بروز نیچے ہی نیچے گرتا ہے اور ترقی کے قابل ہی نہیں۔ اسی واسطے اس کی نجات اور گناہ سے بچانے کے واسطے خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو کفارہ کیا ‘‘مگر میں جانتا ہوں کہ انسان نیکی میں ترقی کر سکتا ہے۔ میرا یہ بچہ اس وقت اگر بے علمی کی وجہ سے کوئی حرکت ناجائز کرے تو پھر ایک عرصہ بعد جب اسے عقل آوے گی اور اس کا علم ترقی کرے گا تو یہ خود بخود سمجھ لے گا کہ یہ کام بُرا ہے اس سے پر ہیز کر کے اچھے کام کرے گا۔ ‘‘حضور کا اس میں کیا اعتقاد ہے؟

جواب۔ فرمایا۔ انسان نیک ہے۔ نیکی کرسکتا ہے اور ترقی کرنے کے قویٰ اس کو دیئے گئے ہیں۔ نیکی میں ترقی کر کے انسان نجات پا سکتا ہے۔

سوال۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ انسان لاکھ نیکی کرے مگر وہ برباد ہے بجز اس کے کہ کفّارہ مسیحؑ پر ایمان لاوے۔ آپ اس میں کیا فرماتے ہیں؟

جواب۔ انسان کو عمل اور کوشش کی ضرورت ہے۔ کفّارہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ جیسا جسمانی نظام ہے ویسا ہی روحانی نظام ہے۔ نظام جسمانی میں ایک کاشتکار کی مثال ہی کو لے لو۔ وہ کس محنت سے قلبہ رانی کرتا ہے اور بیج بوتا اور پانی دینے وغیرہ کی محنت برداشت کرتا ہے۔ کیا اسے کسی کفّارہ کی ضرورت ہے؟ نہیں بلکہ اسے محنت اور عمل کی ضرورت ہے۔ اس بات کو ہم مانتے ہی نہیں کہ بجز کفّارہ کے کوئی راہِ نجات ہی نہیں۔ کفّارہ تو بلکہ انسانی ترقیات کی راہ میں ایک روک اور پتھر ہے۔

پاکیزگی سے یہ مراد ہے کہ انسان کو جو اس کے جذباتِ نفسانیہ خدا سے روگرداں کر کے اپنی خواہشات میں محو کرنا چاہتے ہیں ان کا مغلوب نہ ہو۔ اور کوشش کرے کہ خدا کی مرضی کے موافق اس کی رفتار ہو۔ یہاں تک کہ اس کا کوئی قول فعل خدا کی رضا مندی کے بغیر سرزد ہی نہ ہو۔ خدا قدوس اور پاک ہے وہ اپنی صفات کے مطابق ہی انسان کو بھی چلانا چاہتا ہے۔ وہ رحیم ہے انسان سے بھی رحم چاہتا ہے۔ وہ کریم ہے انسان سے بھی کرم چاہتا ہے۔ خدا کی صفات خدا کے قانون قدرت میں ظاہر ہیں جسمانی طور سے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا مدت ہائے دراز سے چلی آتی ہے۔ ان کو اناج، پانی، لباس، روشنی وغیرہ تمام حوائج ضروریہ اور لازم انسانیہ ہمیشہ سے بہم پہنچاتا چلا آتا ہے اور ہمیشہ ہی اس کے رحم اور کرم کی صفات اور اسماءِ حسنہ کے تقاضے ساتھ ساتھ مخلوق کی دستگیری کرتے چلے آئے ہیں۔ پس غرض یہ ہے کہ خدا انسان کو اپنی صفات کے رنگ میں رنگین کرنا چاہتا ہے۔

اس کے بعد پروفیسر اور لیڈی نے حضرت اقدسؑ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم مشکور ہیں کہ آپ نے گفتگو کی عزت بخشی اور ہماری معلومات میں ایک مفید اضافہ فرمایا اور ہمارا وقت بہت اچھی طرح سے گذرا۔۱؎

۱۹؍ مئی ۱۹۰۸ء

عبدالحکیم پٹیالوی کا ذکر

عبدالحکیم کی کتاب کا ذکر تھا کہ بہت سے اعتراض کئے ہیں۔ فرمایا۔ ہم نے جو کچھ کہنا تھا کہہ چکے۔ بحثیں ہو چکیں۔ کتابیں مفصل لکھی جا چکی ہیں۔ اب بحث میں پڑنا فضولیوں میں داخل ہے۔

فرمایا۔ ہر ایک شخص کی فطرت جدا ہو جاتی ہے۔ ہمیں تو سمجھ میں نہیں آتا کہ کس طرح کوئی شخص ایک آدمی کی بیس سال مریدی کرنے کے بعد اور اس کے ماتحت تعلیم حاصل کرنے کے بعد اور اس سے فائدہ اٹھانے کے بعد پھر اس کے حق میں ایسی گندی گالیاں بول سکتا ہے۔ ہماری تو سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ مگر ہر ایک شخص کی فطرت جدا ہوتی ہے۔

عرب صاحب عبدالمحی نے عرض کیا کہ میں پٹیالہ سے آیا ہوں۔ عبدالحکیم نے آپ کے متعلق پیشگوئی کی ہے کہ آنے والی ۲۱؍ساون کو آپ کی وفات ہوجاوے گی۔ لیکن پٹیالہ کے لوگ خوب جانتے ہیں کہ وہ ایک جھوٹا آدمی ہے۔

حضرت نے فرمایا۔ کُلٌّ یَّعۡمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ(بنی اسرآءیل:۸۵) اللہ تعالیٰ ظاہر کر دے گا کہ راست باز کون ہے؟

دعویٰ رسالت کی ماہیت

فرمایا۔ ہم نے ان معنوں میں کوئی دعویٰ رسالت نہیں کیا جیسا کہ ملّاں لوگ لوگوں کو بہکاتے ہیں اور جو کچھ ہمارا دعویٰ ملہم اور منذر ہونے کا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی متابعت کا ہے وہی ہمیشہ سے ہے آج کوئی نئی بات نہیں۔ چوبیس سال سے یہ الہام ہے جَرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَآءِ۔۱؎

۲۰؍ مئی ۱۹۰۸ء

(بوقتِ عصر)

صلح کا فائدہ

صلح سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفّار سے صلح کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب جنگ موقوف ہوئی تو مسلمانوں کے ساتھ کفّار کا میل جول ہو گیا اور انہیں اسلام کی صداقتوں پر نظر کرنے کا موقع مل گیا۔ پھر ان میں سے کئی سعید روحیں اسلام کے لئے تیار ہوگئیں۔

خدا کا ہاتھ سب سے بڑھ کر طاقتور ہے۔ پنجاب کے مسلمانوں کے لئے انگریزوں کا وجود ایک نعمت ہے۔ اگر انگریز نہ ہوں تو جو کچھ نظارہ ہوتا اس کے تصور سے جی گھبراتا ہے۔ مسلمانوں کو عیسائیوں سے با وجود اختلاف کے ایک قسم کا اتحاد ہے۔ مگر ہندو تو بالکل الگ ہیں۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے انتقام سے کام نہیں لیا۔ کوئی پوچھے کہ کتنے سوسؤروں کو ہلاک کر دیا۔ پھر کپڑے بیج کر تلواروں کے مول لینے کا حکم دیا۔۱؎


بلا تاریخ

پٹواریوں کے لئے زمینداروں کے نذرانے

ایک شخص نے جو اپنی جماعت میں داخل ہیں اور پٹواری ہیں بذریعہ خط حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ پٹواریوں کے واسطے کچھ رقوم گورنمنٹ کی طرف سے مقرر ہیں لیکن عام رسم ایسی پڑ گئی ہے کہ پٹواری بعض باتوں میں اس سے زیادہ یا اس کے علاوہ بھی لیتے ہیں اور زمیندار بخوشی خاطر خود ہی بغیر مانگے کے دیئے جاتے ہیں آیا اس کا لینا جائز ہے یا کہ نہیں؟

فرمایا۔ اگر ایسے لینے کی خبر باضابطہ حُکّام تک بالفرض پہنچ جائے اور بموجب قانون اس پر فتنہ اٹھنے کا خوف ہو سکتا ہو تو یہ نا جائز ہے۔

حضور کی نظموں کی ریکارڈنگ

ایک شخص نے عرض کیا کہ کیا جائز ہے کہ حضور کی نظمیں فونو گراف میں بند کر کے لوگوں کو سنائی جائیں؟

فرمایا۔ اعمال نیت پر موقوف ہیں۔ تبلیغ کی خاطر اس طرح سے نظم فونو گراف میں سنانا جائز ہے۔ کیونکہ اشعار سے بسا اوقات لوگوں کے دلوں کو نرمی اور رقّت حاصل ہوتی ہے۔۲؎

۲۳ ؍ مئی ۱۹۰۸ء

(بمقام لاہور۔ قبل نماز ظہر)

تبلیغِ سلسلہ کے لیے قناعت شعار آدمیوں کی ضرورت

ہمیں ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جو نہ صرف زبانی بلکہ عملی طور سے کچھ کر کے دکھانے والے ہوں۔ علمیت کا زبانی دعویٰ کسی کام کا نہیں۔ ایسے ہوں کہ نخوت اور تکبر سے بکلّی پاک ہوں اور ہماری صحبت میں رہ کر یا کم از کم ہماری کتابوں کا کثرت سے مطالعہ کرنے سے ان کی علمیت کامل درجہ تک پہنچی ہوئی ہو۔ البتہ شیخ غلام احمد اس کام کے واسطے اچھا آدمی معلوم ہوا ہے۔ اس کے کلام میں بھی تاثیر ہے اور اخلاص و محبت سے اس نے اپنے اوپر اس شدت گرمی میں اتنا وسیع دورہ کرنے کا بوجھ اٹھایا ہے۔ کچھ خدا کی حکمت ہے کہ لوگ اس کا کلام سننے کے واسطے جمع بھی ہو ہی جاتے ہیں ایک جگہ اس کو پتھر بھی پڑے مگر خدا کی قدرت سے وہ پتھر بجائے ان کے کسی دوسرے کو لگا اور وہ زخمی ہوا۔

تبلیغ سلسلہ کے واسطے ایسے آدمیوں کے دوروں کی ضرورت ہے مگر ایسے لائق آدمی مل جاویں کہ وہ اپنی زندگی اس راہ میں وقف کر دیں۔ آنحضرتؐ کے صحابہؓ بھی اشاعتِ اسلام کے واسطے دور دراز ممالک میں جایا کرتے تھے۔ یہ جو چین کے ملک میں کئی کروڑ مسلمان ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی صحابہؓ میں سے کوئی شخص پہنچا ہو گا۔

اگر اسی طرح بیس یا تیس آدمی متفرق مقامات میں چلے جاویں تو بہت جلدی تبلیغ ہو سکتی ہے مگر جب تک ایسے آدمی ہمارے منشا کے مطابق اور قناعت شعار نہ ہوں۔ تب تک ہم ان کو پورے پورے اختیارات بھی نہیں دے سکتے۔ آنحضرتؐ کے صحابہؓ ایسے قانع اور جفاکش تھے کہ بعض اوقات صرف درختوں کے پتّوں پر ہی گذر کر لیتے۔

تمام ہندوستان ہمارے دعاوی سے ایسا بے خبر پڑا ہے کہ گویا کسی کو خبر ہی نہیں۔ میرے نزدیک یہ مدرسہ یا کالج وغیرہ کا بنانا اوّل سلسلہ کی مضبوطی پر موقوف ہے۔ اوّل چاہیے کہ سلسلہ میں ایسے لوگ ہوں جو سلسلہ کی ضروریات کی مدد کرنے والے ہوں۔ جب سلسلہ کی ضروریات مثل لنگر وغیرہ ہی پوری نہیں ہوتیں تو اور کاموں میں بہت توجہ کرنا بھی بے فائدہ ہے۔ اگر کچھ ایسے لائق اور قابل آدمی سلسلہ کی خدمات کے واسطے نکل جاویں جو فقط لوگوں کو اس سلسلہ کی خبر ہی پہنچا دیں تو بھی بہت بڑے فائدہ کی توقع کی جا سکتی ہے۔

پروفیسر ریگ اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا تذکرہ

مسٹر ریگ (جس کے نام نامی سے الحکم کے ناظرین کو میں قبل ازیں بذریعہ دو مضامین بطور سوال وجواب انٹروڈیوس کرا چکا ہوں ان کے متعلق حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ

دیکھو! وہ ہمارے پاس آیا تو آخر کچھ نہ کچھ تو تبادلہ خیالات کر ہی گیا۔

اس پر حضرت مفتی محمد صادق صاحب جن کو تبلیغ سلسلہ احمدیہ کی ایک قسم کی لَو اور دھت لگی ہوئی ہے اور بہت کم ایسے مقام ولایت میں ہوں گے جہاں کے محقق انگریزوں اور اخبارات کے ایڈیٹران وغیرہ کی اطلاع پا کر انہوں نے ان معاملات میں خط و کتابت نہ کی ہو اور مسیح موعود علیہ الف الف الصلوٰۃ والسلام کے دعاوی کی تبلیغ ان کو نہ کی ہو۔ امریکہ کے ڈوئی کی حسرت ناک تباہی اور لنڈن کے پگٹ کی مایوسانہ نامرادی بھی حضرت مفتی صاحب ممدوح ہی کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے جس طرح ڈوئی اور پگٹ کا بیڑا غرق کر دیا اسی طرح کئی سعید روحوں کے واسطے باعث ہدایت بھی آپ ہی ہوئے اور آپ ہی کی سچی مخلصانہ کوششیں اور جوشِ تبلیغ حق کا یہ نتیجہ ہوا کہ یورپ اور امریکہ کے بعض انگریزوں اور لیڈیوں نے حضرت اقدسؑ کی صداقت کو مان لیا اور اپنے خیالات فاسدہ سے توبہ کی۔ غرض مفتی صاحب موصوف کسی تعریف کے محتاج نہیں۔ ساری احمدی دنیا ان کے نام نامی سے واقف اور ان کے اخلاص صدق ووفا سے آگاہ ہے۔ یہ شخص جو پروفیسر ریگ کے نام نامی سے مشہور ہے یہ بھی آپ ہی کی سعی اور جوش کا نتیجہ ہے۔ آپ نے آج کے تذکرہ پر حضرت اقدسؑ کی خدمت میں عرض کی کہ حضور اس کے خیالات میں حضور کی ملاقات کے بعد عظیم الشان انقلاب پیدا ہو گیا ہے۔ چنانچہ پہلے وہ ہمیشہ جب اپنے لیکچروں میں اجرامِ سماوی وغیرہ کی تصاویر دکھاتا اور کبھی مسیح کی مصلوب تصویر پیش کیا کرتا تھا تو یہ کہا کرتا تھا کہ یہ مسیحؑ کی تصویر ہے جس نے دنیا پر رحم کر کے تمام دنیا کے گناہوں کے بدلے میں ایک اپنی اکلوتی جان خدا کے حضور پیش کی اور تمام دنیا کے گناہوں کا کفّارہ ہو کر دنیا پر اپنی کامل محبت اور رحم کا ثبوت دیا مگر اب جبکہ اس نے حضور سے ملاقات کی اور پھر لیکچر دیا تو مسیحؑ کی مصلوب تصویر دکھاتے ہوئے صرف یہ الفاظ کہے کہ یہ تصویر صرف عیسائیوں کے واسطے موجب خوشی ہو سکتی ہے سچی تعریف اور ستائش کے لائق وہی سب سے بڑا خدا ہے۔ پہلے اپنے لیکچر میں بیان کیا کرتا تھا کہ نسل انسانی آہستہ آہستہ ترقی کر کے ادنیٰ حالت سے بندر اور پھر بندر سے ترقی پا کر انسان بنا۔ مگر اس دفعہ کے لیکچر میں اس نے صاف اقرار کیا کہ یہ ڈارون کا قول ہے۔ اگرچہ اس قابل نہیں کہ اس سے اتفاق کیا جاوے بلکہ انسان اپنی حالت میں خود ہی ترقی کرتا ہے۔ غرضیکہ اس پر بہت بڑا اثر ہوا ہے اور وہ حضور کی ملاقات کے بعد ایک نئے خیالات کا انسان بن گیا ہے اور ان خیالات کو جرأت سے بیان کرتا ہے۔

پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اصل تقریر کی طرف رجوع کیا اور فرمایا کہ ابھی ایسے لمبے سفروں کی چنداں ضرورت نہیں کہ ممالک یورپ اور امریکہ میں جاویں بلکہ ابھی تو خود ہندوستان ہی اس بات کا ازبس محتاج ہے۔

تو کار زمیں را نکو ساختی

کہ با آسماں نیز پرداختی

ان ممالک میں جانا ایسے لوگوں کا کام ہے جو ان کی زبان سے بخوبی واقف ہوں اور ان کے طرزِ بیان اور خیالات سے خوب آگاہ، سفر کے شدائد اٹھا سکیں اور ان کی صحت کی حالت بھی بہت اچھی ہو۔ بصورت موجودہ یہ کام بھی بہت بڑا بھاری ہے کہ چند ایسے آدمی ہوں کہ وہ اسی ملک میں اچھی طرح سے گاؤں گاؤں پھر کر لوگوں کو ہماری بعثت کی اطلاع دے دیں۔

اسلام کی زندگی کا ثبوت دینے کے لئے مامور کی ضرورت

کسی لیکچر کے متعلق ذکر تھا کہ انہوں نے اپنے لیکچر میں بیان کیا کہ’’ اسلام بذریعہ اخلاق کے پھیلا ہے نہ تلوار سے۔ جنہوں نے اپنے اخلاق کریمہ کی وجہ سے دنیا میں اسلام کو پھیلایا ہے وغیرہ۔ ‘‘مگر موجودہ زمانہ کے متعلق بجز خاموشی کچھ پیش نہیں کر سکتے۔ فرمایا۔ تِلۡکَ اُمَّۃٌ قَدۡ خَلَتۡ ۚ لَہَا مَا کَسَبَتۡ وَلَکُمۡ مَّا کَسَبۡتُمۡ(البقرۃ:۱۳۵) ان اولیاء اور بزرگوں کو اس موجودہ زمانہ سے تعلق ہی کیا؟ وہ اپنے وقت پر آئے اور اپنا کام کر کے چلے گئے۔ اب زمانہ موجودہ میں بھی کسی مجدّد یا خادم دین کی ضرورت ہے یا کہ بخی ال ان کے یہ زمانہ دجالوں ہی کے آنے کا زمانہ ہے؟ ضرورت کا احساس تو دلوں میں موجود ہے۔ حالات موجودہ پکار کر کہہ رہے ہیں کہ کسی مصلح کی ضرورت ہے۔ چنانچہ آج ہی پیسہ اخبار میں ایک انگریز کا مضمون تھا۔ اس نے کسی جگہ پر اپنے لیکچر میں بیان کیا کہ زمانہ پکار کر کہہ رہا ہے کہ ہندو، مسلمان، عیسائیوں اور یہودیوں کو اتفاق کی ضرورت ہے چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ ’’مسلمان، یہودی اور نصرانی سب کے سب بلا امتیاز انسانی گروہ میں اتحاد و اتفاق دیکھنے کے مشتاق ہیں اور مہدی موعود کے آنے کا انتظار دیکھ رہے ہیں جو کہ دیر یا سویر عالَم وجود میں آکر تمام انسانوں میں یگانگت کا رشتہ قائم کر دے گا۔ میں اس مہدی کے متعلق اپنی ذاتی رائے یہ رکھتا ہوں کہ وہ اہل قلم میں سے ہوگا اور اسی زبردست آلہ کے ذریعہ سے اقوامِ عالم کے دلوں میں تخم یگانگت بو سکے گا۔۱؎

‘‘غرض اس اَمر کا احساس تو ہر ملک وملّت کے لوگوں میں پایا جاتا ہے مگر چاہیے تھا کہ ضرورت کے مطابق کوئی پیدا بھی ہوتا اور وہ اسلام کا نور اور برکات دکھا کر زندہ معجزات سے اسلام کے فیوض اور زندگی کا ثبوت دیتا نہ یہ کہ اس زمانہ پر پہنچ کر خاموشی اختیار کی جاتی اور کہا جاتا ہے کہ اب اسلام زندہ نہیں بلکہ مُردہ ہے اور کوئی ولی یا بزرگ موجود نہیں جو نشانات دکھا کر اسلام کی زندگی کا ثبوت دے۔ مانا کہ اخلاقِ فاضلہ بھی کسی مذہب کی صداقت کی کسی قدر دلیل ہو سکتے ہیں اور ان کا بھی کسی قدر اثر بیرونی لوگوں پر ہوتا ہے۔ مگر صرف اخلاقِ فاضلہ ہی حقیقی اور زندہ ایمان نہیں دے سکتے بلکہ وہ درجہ ایمان جو انسان کو خدا تعالیٰ پر کامل ایمان عطا کرتا ہے اور گناہ سوز زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ وہ صرف خدا کے اپنے تازہ نشانوں سے ہی پیدا ہوتا ہے جو وہ اپنے ماموروں کی معرفت دنیا میں ظاہر کرتا ہے۔

ہندوؤں اور مسلمانوں میں خوشگوار تعلقات کی خواہش

فرمایا۔ موجودہ صورت میں تو بہ نسبت مسلمانوں کے ہمیں ہندوؤں سے زیادہ امید نظر آتی ہے کیونکہ وہ تعلیم کی ترقی کی وجہ سے اور کچھ تجربہ کی وجہ سے بہت کچھ سمجھ گئے ہیں۔ ہمارا تو خود کبھی بھی یہ منشا نہیں کہ ان لوگوں کے مسلّمہ بزرگوں کو گالیاں دی جائیں یا ان کی عزّت نہ کی جاوے اور اسی طرح ہم ان سے بھی یہی چاہتے ہیں کہ یہ لوگ بھی اتنا ہی کریں خواہ ایمان نہ لاویں مگر ان کو بُرا بھی نہ کہیں اور کہہ دیں کہ سچا مانتے ہیں۔ یہ (جو) موجودہ زمانہ میں پھوٹ اور نفاق کا سلسلہ جاری ہے اس کو بند کر دیں اور بالکل ممانعت کر دیں کہ باہم ایک دوسرے مذہب کی مخالفت میں ہتک آمیز کلمات اور کتابیں بالکل بند کر دی جاویں اور چھاپی ہی نہ جاویں اور ایک ایسی ہوا چل جاوے کہ آپس میں محبت ہو اور اتفاق بڑھے۔ جس طرح سے ایک ہوا پہلے چل گئی تھی کہ بچہ بچہ بھی اسلام سے متنفّر تھا۔ اس طرح کی ایک ایسی ہوا چل جاوے کہ باہمی اخوت اور اتحاد بڑھے اور نفاق اور بغض و تعصب دلوں سے نکل جاوے۔

عقیدت اور اعتقاد

فرمایا۔ قاعدہ کی بات ہے انسان کو ایک مخفی اَمر پر جتنا اعتقاد ہوتا ہے اس پر اتنا اعتقاد نہیں رہتا جب وہ ظاہر ہو کر سامنے آجاوے۔ مثلاً ان ہندوؤں کے دیوی دیوتا جتنے بھی ہیں اور ان پر ان کو کامل اعتقاد ہے اگر وہ ان کے روبرو آجاویں تو ان لوگوں کے دلوں میں ہرگز ان کی اتنی وقعت نہ رہے۔ یہ نبیوں ہی کا کام ہے کہ وہ اپنی شکل بھی دکھا دیتے ہیں اور اپنی عظمت بھی دلوں میں قائم کر جاتے ہیں۔ مسیحؑ جن کو آجکل لوگ خدا مانتے ہیں اگر وہ یہاں آجاویں اور لوگوں کے حلقے میں بیٹھیں تو ممکن نہیں کہ ان کی پرانی خدائی کی عظمت بھی لوگوں کے دلوں میں رہ سکے چہ جائیکہ وہ کچھ اور خدائی کا دبدبہ بٹھا سکیں کیونکہ لوگوں نے جس خیال سے ان کو خدا تسلیم کیا ہوا ہے ظاہر ہو جانے پر ان میں وہ باتیں نہ پا کر ضرور ہے کہ انکار کر دیں۔ قاعدہ کی بات ہے کہ انسان جب کسی خاص شخص کے متعلق کوئی اعتقاد پیدا کرتا ہے تو ساتھ ہی اس کی ایک خیالی تصویر بھی اس کے ذہن میں آجاتی ہے۔ جب تک وہ اس کی نظروں سے غائب تھی جب تک تو خیر مگر جب وہ شخص یا چیز اس کے سامنے آجاتی ہے اور انسان اس کو اپنے خیالی بُت یا تصویر کے خلاف پاتا ہے تو اس کے دل سے اس کی عظمت اُٹھ جاتی ہے یا کم از کم وہ عزت نہیں رہتی۔ چنانچہ یہی حال ان لوگوں کے مصنوعی خدا کا ہے۔

اس کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ اصل میں وہ شخص ان کے دل کی خیالی تصویر کے مطابق نہیں ہوتا۔ جو کچھ انہوں نے سمجھا ہوتا ہے وہ نہیں بلکہ کچھ اور ہی پاتے ہیں۔ تو بداعتقاد اور بدظن ہو جاتے ہیں۔ اور اصل میں یہ وہیں ہوتا ہے جہاں ایسے امور میں اوّل غلو سے کام لیا جاوے مگر انبیاء ایسی ذات اور وجود ہوتے ہیں کہ وہ اپنا وجود دکھا کر اپنی عظمت قائم کرتے ہیں۔۱؎


۲۴؍ مئی۲ ۱۹۰۸ء۲؎

(قبل عصر)

ہندو مستورات کو شرک ترک کرنے کی تلقین

۲۳؍ مئی ۱۹۰۸ء کو بعد نماز عصر چند ہندو مستورات حضرت امام الزمان مسیح موعود مہدی مسعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دردولت پر آئیں اور بیان کیا کہ ہم مہاراج کے درشن کے واسطے آئی ہیں حضور علیہ السلام کی خدمت میں اطلاع کی گئی۔ چنانچہ آپ نے نہایت لطف اور مہربانی سے ان کو اجازت دی اور وہ گھر میں جا کر حضورؑ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ حضرت اقدس چونکہ ان دنوں مضمون رسالہ پیغام صلح کے لکھنے میں مصروف تھے تھوڑی دیر کے بعد آپؑ نے فرمایا کہ

اب درشن ہو گئے اب تم جاؤ۔

مگر انہوں نے عرض کی کہ ہم کو آپ کوئی وعظ سناویں ہم اسی واسطے حاضر خدمت ہوئی ہیں۔ چنانچہ آپؑ نے ان کے اصرار اور اخلاص کی وجہ سے ان کو یوں مخاطب کیا (جو کہ آپؑ نے ۲۴؍ مئی ۱۹۰۸ء کو قبل عصر بیان فرمایا

)فرمایا۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ لوگوں میں اگر دو ایک باتیں نہ ہوں تو آپ لوگ آریہ وغیرہ لوگوں سے سو درجہ بہتر اور اچھے ہو۔ ان میں سے پہلی بات تو یہی ہے کہ خدا کو جو کہ ہمارا تمہارا پیدا کنندہ اور پروردگار حقیقی ہے اس کو واحد لاشریک جان کر اس کی عبادت کرو۔ اس کی عبادت میں کسی دوسرے دیوی دیوتا، پتھر یا پہاڑ، سانپ یا کسی دوسرے ہیبت ناک درندے، گنگامائی یا جمنا، کوئی درخت ہو یا نباتات غرض کوئی بھی بُت اس کے ساتھ شریک نہ کیا جاوے اور اسے ایک اکیلا خدا کر کے پوجا کرو۔ یہ جو تم لوگوں نے تینتیس کروڑ دیوتا بنارکھے ہیں ان کی کیا ضرورت تھی اور یہ کیوں بنائے گئے ہیں؟ اتنے خدا تمام دنیا میں اور تو کسی کے بھی نہیں ہیں۔

(حضرت اقدسؑ کا اتنا بیان سن کر ان مستورات نے طلب حق کی غرض سے عرض کی کہ یہ بات آپ ہمیں سمجھاویں

)اس پر حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ دیکھو! گدا دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک تو نَر گدا، دوسرے خَر گدا۔ نَر گدا کا تو قاعدہ ہوتا ہے کہ ایک آواز کی اور اگلے دروازے پر چل دیئے۔ کسی نے کچھ دے دیا تو ٹھیک ورنہ خیر بلکہ ایسے لوگوں کو بعض لوگ پیچھے سے آ آ کر بھی خیرات دیتے ہیں۔ ان کا کام صدا کرنا اور آگے بڑھنا ہوتا ہے مگر برخلاف ان کے خَر گدا دھرنا مار کر بیٹھ جاتے ہیں اور ایک ہی دروازے پر بیٹھے رہتے ہیں جب تک ان کا سوال پورا نہ کیا جاوے اور آخر ایسے گدا کو ملتا ہے اور ضرور ملتا ہے۔ یہی حال خدا سے مانگنے والوں کا ہے۔ خدا سے بھی وہی پاتے ہیں جو خر گدا بن کر خدا ہی کے دروازے کے ہو رہتے ہیں اور پکّے ہو کر استقلال سے خدا کے حضور سے مانگتے ہیں۔ غیر مستقل اور جلد باز جو جلدی ہی ناامید یا بدظن ہو جاتے ہیں وہ ہمیشہ محروم رہتے ہیں۔ صدق اور ثبات کے ساتھ خدا کی ذات پر کامل ایمان اور یقین بھی ضروری ہے۔ یہ اَمر صدق اور اخلاص کے خلاف ہے کہ جلدی ہی خدا سے مایوس ہوکر اَوروں کی طرف اپنی حاجت کو لے جانا اور در بدر مارے مارے پھرنا، کبھی کسی بُت کے حضور التجائیں کرنا، کبھی کسی دیوتا، پتھر، پہاڑ، جنگل کے درخت یا گنگامائی کی طرف حاجت کو لے جانا اس اَمر کی دلیل ہے کہ ایک خدا پر بھروسہ نہیں اور اس کو ساری حاجتوں کا پوری کرنے والا ہونے پر کامل ایمان نہیں یا جلدی سے تھک کر اس سے ناامید ہوکر اوروں کی طرف دامن حاجت پھیلانا خرگدائی کے بالکل خلاف ہے۔ ایک چھوڑ کر دوسرا اور دوسرا چھوڑ تیسرا خدا بنانا اور ان سے اپنی حاجتیں چاہنا بالکل غلط راہ ہے بلکہ چاہیے کہ ایک کو پکڑو اور اسی سے اپنی ساری حاجتیں چاہو اور وہ سب کا حاجت روا ہے شرط صبر اور استقلال اور ایمان ہے۔

(اتنا حصہ سن کر انہوں نے عرض کی کہ بات تو سچی ہے مگر حضرت اقدس کے منشا کو پا کر حضرت اقدس چاہتے ہیں کہ چلی جائیں پھر نرمی سے عرض کی کہ ہم دُور سے آئی ہیں۔ پنکھا ہلانے کی خواہش ہے اور صرف درشن اور باتیں سننے کو آئی ہیں۔ اب فرمائیے کہ پرمیشر سے پرارتھنا کیسے کیا کریں؟)

فرمایا۔ پرارتھنا بے شک اپنی زبان میں کر لیا کرو۔ یوں کہا کرو کہ اے سچے اور واحد خدا! اے کہ تو ساری مخلوق کا پیدا کرنے والا اور پالنے والا ہے اور سب کے حالات سے واقف ہے! تجھ سے کوئی بات پوشیدہ نہیں اور ہر ذرّہ تیرے تصرّف میں ہے تو جو چاہے سو کر سکتا ہے۔ تو ہمیں گناہ اور بھرشٹ زندگی سے نکال کر سیدھا راستہ بتا۔ ایسا ہو کہ ہم تیری مرضی کے موافق ہو جاویں۔ بدیوں سے ہمیں بچا۔ بدیاں ہمارے اختیار میں نہیں ہیں۔ ہم چاہتی ہیں کہ یہ ہم سے دُور ہو جاویں۔ ان کا تو آپ ہی کوئی علاج فرما۔ ان کا دُور کرنا ہماری طاقت سے دُور ہے اور ایسا ہو کہ ہم تیری رضا کی راہوں پر چل کر ہمیشہ کی نجات اور سکھ کی وارث ہو جاویں اور کوئی دکھ ہمارے نزدیک نہ آوے۔ پہلے بدکرموں کے پھل سے بچا اور آئندہ نیک کرموں کی توفیق عطا فرما۔ اس طرح سے خدا سے سچے دل سے اور نیک نیتی سے خرگدا کی طرح پکّی بن کر اسی سے نہ کسی اور سے دعا کیا کرو اور سب دیوی دیوتے ترک کر دو۔ آخر اس طرح کی سچی تڑپ اور دعا سے ایسا دن آجاوے گا کہ دلوں کے سب گند دھو دئیے جاویں گے اور شانتی اور سکھ کی زندگی شروع ہو جاوے گی۔ فقط

فرمایا۔ ان عورتوں کی حالت سے ٹپکتا تھا کہ شریف اور مخلص عورتیں تھیں۔ لاہور جیسے شہر میں ایسی شریف اور نیک عورتوں کا وجود غنیمت ہے۔ فقط۱؎

۲۵؍ مئی ۱۹۰۸ء

(بمقام لاہور۔ بوقتِ ظہر)

(وفات سے قریباً ۲۰ گھنٹے پہلے کی تقریر)

نبوت کی حقیقت

ایک شخص سرحدی آیا۔ بہت شوخی سے کلام کرنے لگا۔ اس پر فرمایا۔ میں نے اپنی طرف سے کوئی اپنا کلمہ نہیں بنایا۔ نہ نماز علیحدہ بنائی ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کو دین و ایمان سمجھتا ہوں۔ یہ نبوت کا لفظ جو اختیار کیا گیا ہے صرف خدا کی طرف سے ہے۔ جس شخص پر پیشگوئی کے طور پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی بات کا اظہار بکثرت ہو اسے نبی کہا جاتا ہے۔ خدا کا وجود خدا کے نشانوں کے ساتھ پہچانا جاتا ہے۔ اسی لئے اولیاء اللہ بھیجے جاتے ہیں مثنوی میں لکھا ہے

آں نبی وقت باشد اے مرید

محی الدین ابنِ عربی نے بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ حضرت مجدّد نے بھی یہی عقیدہ ظاہر کیا ہے پس کیا سب کو کافر کہو گے؟ یاد رکھو کہ یہ سلسلہ نبوت قیامت تک قائم رہے گا۔

مجدّد کی ضرورت

اس پر اس سرحدی نے سوال کیا کہ دین میں کیا نقص رہ گیا تھا جس کی تکمیل کے لئے آپ تشریف لائے؟

فرمایا۔ احکام میں کوئی نقص نہیں۔ نماز، قبلہ، زکوٰۃ، کلمہ وہی ہے۔ کچھ مدّت کے بعد ان احکام کی بجا آوری میں سستی پڑ جاتی ہے۔ بہت سے لوگ توحید سے غافل ہو جاتے ہیں تو وہ اپنی طرف سے ایک بندے کو مبعوث کرتا ہے جو لوگوں کو از سرِ نَو شریعت پر قائم کرتا ہے۔ سو برس تک سُستی واقع ہو جاتی ہے۔ ایک لاکھ کے قریب تو مسلمان مرتد ہو چکا ہے۔ ابھی آپ کے نزدیک کسی کی ضرورت نہیں؟ لوگ قرآن چھوڑتے جاتے ہیں سنّتِ نبوی سے کچھ غرض نہیں۔ اپنی رسوم کو اپنا دین قرار دے لیا ہے اور ابھی آپ کے نزدیک کسی کی ضرورت نہیں۔

اس پر اس شخص نے کہا کہ اس وقت تو سب کافر ہوں گے کوئی تیس چالیس مومن رہ جائیں گے۔

فرمایا۔ کیا مہدی کے ساتھ جو مل کر لڑائی کریں گے وہ سب کافر ہی ہوں گے۔

آپ نے کیا اصلا ح کی؟ پ ھر اس شخص نے پوچھا کہ آپ نے کیا اصلاح فرمائی؟

آپ نے کیا اصلاح کی؟

فرمایا۔ دیکھو چار لاکھ سے زیادہ آدمیوں نے میرے ہاتھ پر فسق و فجور اور دیگر گناہوں اور فاسد عقیدوں سے توبہ کی۔ انسان جب فسق وفجور میں پڑتا ہے تو کافر کا حکم رکھتا ہے۔ کوئی دن نہیں گذرتا جب کئی اشخاص توبہ کرنے کے لئے نہیں آتے۔ ہر اَمر میں اللہ کی طرف رجوع کرنا ایک بڑی بات ہے۔ مسلمانی صرف یہی نہیں جیسے تم سمجھتے ہو۔ نیکی کرنا نہایت مشکل کام ہے۔ ریا کاری کے ساتھ عمل باطل ہو جاتا ہے۔ یہ زمانہ ایسا زمانہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ عمل کرنا مشکل ہے۔ دنیا کی طرف لوگوں کی توجہ ہے۔ ہر صدی کے سر پر اسی قسم کی غلطیوں کو مٹانے اور توجہ اِلَی اللہ دلانے کے لئے مجدّد کا وعدہ دیا گیا ہے۔ اگر ہر صدی پر مجدّد کی ضرورت نہ تھی بلکہ بقول آپ کے قرآن کریم اور علماء کافی تھے تو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض آتا ہے حج کرنے والے حج جاتے ہیں۔ زکوٰۃ بھی دیتے ہیں۔ روزے بھی رکھتے ہیں۔ پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سو برس کے بعد مجدّد آئے گا۔ مخالفین بھی اس بات کے قائل ہیں۔ پس اگر میرے وقت میں ضرورت نہ تھی تو پیشگوئی باطل جاتی ہے۔ ظاہری حالت پر ہی نہیں جانا چاہیے۔ غیب کا حال تو اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ لِّلۡمُصَلِّیۡنَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنۡ صَلَاتِہِمۡ سَاہُوۡنَ(الماعون:۵، ۶) یعنی لعنت ہے ان نمازیوں پر جو اپنی صلوٰۃ کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔

پس فلاح وہی پاتا ہے اور وہی سچا مومن کہلاتا ہے جو نیکی کو اس کے لوازم کے ساتھ کرتا ہے۔ یہ بات اس زمانہ میں بہت کم لوگوں میں موجود ہے۔ پس ان اندرونی بیرونی کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے مَیں اپنے وقت پر آیا۔ اگر میں خدا کی طرف سے نہیں تو یہ سلسلہ تباہ ہو جاوے گا۔ اگر میں خدا کی طرف سے ہوں تو یاد رکھو کہ پھر مخالف ناکام رہیں گے۔۱؎

(قبل نماز عصر)

حضرت اقدس علیہ السلام کی آخری تقریر

مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے حضرت اقدس کی خدمت میں بذریعہ اپنے کسی خاص قاصد کے ایک خط بھیجا جس میں بعض مسائل مختلفہ فیہ پر زبانی گفتگو کرنے کی اجازت چاہی اور وعدہ کیا کہ میں بہت نرمی اور پاس ادب سے گفتگو کروں گا۔

حضرت اقدسؑ نے قبل عصر حضرت مولٰنا مولوی سید محمد احسن صاحب سے ان کے متعلق دریافت کیا کہ وہ اخلاق کے کیسے ہیں۔ مغلوب الغضب اور فوراً جوش میں آ جانے والے یا بھڑک اٹھنے والی طبیعت کے تو نہیں ہیں؟

اس کے جواب میں بعض اصحاب نے عرض کیا کہ حضور ایسے تو نہیں۔ ان کی طبیعت میں نرمی پائی جاتی ہے۔ البتہ اگر بعض عوام کا ہجوم ان کے ہمراہ ہوگا تو اندیشہ ہے۔ حضرت اقدس علیہ السلام خود چونکہ ’’پیغام صلح ‘‘لکھنے میں مصروف تھے اور فرصت نہ تھی۔ اس لئے حضرت اقدسؑ نے مولٰنا مولوی سید محمد احسن صاحب سے فرمایا کہ آپ ان کو خط کا جواب لکھ دیں۔ اصل خط ان کا ہم بھیج دیں گے اور بے شک نرمی سے اور آہستگی سے ان سے ان مسائل میں گفتگو کریں۔ البتہ اس بات کا خیال رکھیں کہ ان کے ہمراہ سوا دو چار معزز اور شریف آدمیوں کے اور زیادہ ہجوم نہ ہو اور آپ بھی علیحدگی میں بیٹھ کر گفتگو کریں۔ اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔

اسی دوران میں کسی دوست نے ان کا یہ عقیدہ پیش کر دیا کہ وہ حضرت عیسٰیؑ کے سُولی پر لٹکائے جانے کے ہی قائل نہیں اور کہ وہ اپنے اس دعوے کی دلیل میں آیت کریمہ کَفَفۡتُ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ عَنۡکَ(المائدۃ:۱۱۱) پیش کرتے ہیں۔

حضرت مسیح علیہ السلام کا صلیب پر چڑھایا جانا

اس پر حضرت اقدسؑ نے فرمایا۔

خلاف تواتر امور محسوسہ مشہودہ کی پروانہ کرکے ایسی ایک راہ اختیار کرنا جس کی کوئی بھی دلیل نہیں یہ عقل اور ایمان کے سراسر خلاف ہے۔ میں کوئی نئی بات پیش نہیں کرتا اور نہ ہی میں کسی ایسی بے دلیل بات کے منوانے کی کوشش کرتا ہوں جس کا قوی ثبوت اور بیّن شہادت میرے ہاتھ میں نہیں۔ میرے ساتھ میری شہادت کے واسطے اس وقت لاکھوں انسان موجود ہیں۔ قوموں کی قومیں اپنی متواتر اور متفقہ شہادت پیش کررہی ہیں۔ اگر کسی کو کوئی شک و شبہ ہو تو یہودی موجود ہیں، نصرانی موجود ہیں۔ ان سے پوچھ لو کہ ان کا اس بارہ میں کیا عقیدہ ہے؟ دونوں متخاصم موجود ہیں، ان سے پوچھ لو کہ آیا وہ بھی اس بات کے قائل ہیں جو تم پیش کرتے ہو؟ دیکھو! تواتر قومی کو بغیر کسی زبردست دلیل اور حجتِ نیّرہ کے توڑ دینا اور اس کی پروا نہ کرنا یہ بڑی بھاری غلطی ہے۔

تعجب کی بات ہے اور یہ کیوں کر ہوسکتا تھا کہ کسی دوسرے آدمی کو پکڑ کر خواہ نخواہ بے قصور سُولی پر چڑھا دیا جاوے اور وہ چوں بھی نہ کرے اور دوہائی بھی نہ دیوے کہ میں تو تمہارا ساتھی ہوں مجھے کیوں بے گناہ سولی پر چڑھاتے ہو؟ تمہارا اصل ملزم تو بچ گیا اور میں جو کہ تمہارا ہی ساتھی ہوں یہ میرا نام فلانے ماں باپ کا بیٹا ہوں۔ یہ میرے رشتہ دار ہیں۔ مجھے کیوں مارتے ہو؟ جان کا معاملہ اور لعنتی موت کا نشانہ بننا ہے اصل ملزم بچا جاتا ہے ایک بے گناہ، بے قصور، بے تعلق آدمی سُولی چڑھایا جاتا ہے اور پھر تعجب یہ کہ بولتا تک نہیں۔ یہ بھید تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ علاوہ وحی اور علم غیب کے جو ہمیں خدا نے محض اپنے فضل سے بخشا اور مکالمہ مخاطبہ کا خاص فیضان جاری کر کے ہمیں اس نے ان امور میں حقیقی علم عطا کیا۔ ہمارا ضمیر اس کو ہرگز ہرگز قبول نہیں کرتا کہ اتنا بھاری تواتر اور کروڑوں انسانوں کی متفقہ شہادت بالکل غلط ہے اور یہ سب جو سمجھے بیٹھے تھے ایک وہم تھا اور خیال غلط۔ دیکھو

تا نہ باشد چیز کے مردم نہ گویند چیزہا

میں نہیں سمجھتا کہ خدا کو ایسی کمزوری کی کیا ضرورت تھی۔ کیا وہ علیٰ رؤس الاشہاد مسیح کو بچانے پر قادر نہ تھا کہ اس کو ایسا ظلم روا رکھنا پڑا۔ اور ایک بے گناہ انسان کی جان خواہ نخواہ ہلاکت میں ڈالی؟ قرآن اور حدیث کے خلاف ایک نئی راہ نکال کر پیش کرنا اس کا بارِ ثبوت مدعی کے ذمے ہے۔

توفّی کے معنی

میرا مطلب اس سے یہ ہے کہ یہ سب امور ایسے ہیں کہ آسانی سے ان کو ردّ کیا جاوے۔ قرآن شریف میں صرف لفظ توفّی ہی کو لے کر اس کو دیکھ لو کہ بھلا کسی مقام پر اس کے معنی بجز موت کے کچھ اور بھی ہیں یا معہ جسم عنصری کے آسمان پر اٹھائے جانے کے ہیں؟ یہی تَوَفّی کا لفظ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ آیتِ کریمہ نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ(یونس:۴۷) پر غور کر کے دیکھ لو۔ پھر یہی تَوَفّی کا لفظ ہے جو حضرت یوسفؑ کے حق میں وارد ہے۔ پھر ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ بر خلاف نَصِّ قرآنی کے اور تمام انبیاءؑ کے کیوں حضرت عیسٰیؑ کو یہ خصوصیت دی جاتی ہے؟ کتب احادیث میں قریباً تین سو مرتبہ یہی لفظ تَوَفّی کا آیا ہے مگر کہیں بھی بجسدِ عنصری آسمان پر اٹھائے جانے کے معنے نہیں ہیں۔ جہاں دیکھو یہ لفظ موت ہی کے معنوں میں وارد ہوتا ہے۔

اصل میں جو شخص طالب حق نہیں اور محض ایک قسم کی شیخی اور تکبر کے واسطے ایسی خواہش کرتا ہے اس سے مجھے بد بو آ جاتی ہے۔ میں ایسے آدمی پر اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ جس کو حق کی سچی پیاس نہیں اور جس کی تڑپ خدا اور خدا کے دین کے واسطے نہیں بلکہ نفس کا بندہ اور نفس کی عزت وجاہ کے واسطے مَرتا ہے۔ میرے پاس اگر کوئی شخص طلب حق اور خدا جوئی کی پیاس اور سچی تڑپ لے کر آتا ہے تو مجھے اس سے ایک قسم کی خوشبو آ جاتی ہے اور پھر میں اس کے واسطے اپنے بازو بچھا دیتا ہوں اور اس کو اپنی آنکھوں سے قبول کرتا ہوں اور جہاں تک مجھ سے بن پڑتا ہے میں اس کی خدمت کو اپنا فخر سمجھتا ہوں مگر ایک ناپاک دل انسان جس میں شرارت پوشیدہ ہوتی ہے اور وہ حق جُو نہیں بلکہ دنیا طلب ہوتا ہے تو ہمیں اس سے بدبو آ جاتی ہے اور پھر اس کے بعد ہم اس سے کلام کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات

خدا نے جس بات پر ہمیں قائم کیا ہے وہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کلام مجید میں حضرت مسیحؑ کی موت کو صراحت سے ایک نہیں بلکہ بیسیوں مقام پر ظاہر کر دیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فعل سے شہادت دے دی کہ اس کو مُردوں کی ذیل میں دیکھا اور کوئی مابہ الامتیاز اس میں اور اس کے غیروں میں بیان نہیں فرمایا۔

آج ہندوستان میں ایک لاکھ سے بھی زیادہ مرتد صرف اسی بات سے ہو چکا ہے کہ نام کے مسلمانوں کے عقائد غلط سے عیسائیوں نے مسیحؑ کی فضیلت ثابت کر کے اپنے مذہب سے ناواقف لوگوں کے سامنے اسے پیش کیا اور ان کے اپنے ہی معتقدات میں سے ان پر ایسے ایسے الزام دئیے جن کا جواب ان میں سے کسی سے بھی بن نہ پڑا۔ مگر یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی کسی بھی خصوصیت کو قائم نہیں رہنے دیا بلکہ ان کی ہر بات کا جواب دے کر خود ان کو ہی خوار کیا ہے۔

نصاریٰ نے ایک عقیدہ پکڑا تھا کہ حضرت عیسٰیؑ چونکہ بن باپ کے ہیں لہٰذا یہ خصوصیت ان کی خدائی کی پختہ دلیل ہے اور یہ ان کا مسلمانوں پر ایک بھاری اعتراض تھا اور اس سے وہ حضرت عیسٰیؑ میں ایک خصوصیت ثابت کر کے ان کی خدائی کی دلیل پکڑتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں ان کا یوں منہ توڑا۔ اور ان کا ردّ یوں بیان کیا کہ اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ(اٰل عمران:۶۰) یعنی اگر حضرت عیسٰیؑ کی پیدائش اعجازی رنگ میں پیش کر کے تم اس کی خدائی کی دلیل ٹھہراتے ہو تو پھر آدم بطریق اَولیٰ خدا ہونا چاہیے کیونکہ اس کا نہ باپ نہ ماں۔ اس طرح سے اوّل آدم کو بڑا خدا مان لو پھر اس بات کو عیسٰیؑ کی خدائی کی دلیل ٹھہرانا۔

پس اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے ان کے اس استدلال کو غلط ثابت کر دیا۔ غرض نصاریٰ کے مسیح کو بن باپ کی پیدائش سے ان کی خدائی کی دلیل اور استدلال پکڑنے کو اللہ تعالیٰ نے آدم کی نظیر پیش کر کے باطل ٹھہرا دیا۔

ایک دوسری دلیل نصاریٰ نے مسیح کی خدائی کی یہ پیش کی تھی کہ وہ زندہ ہیں اور معہٗ جسم عنصری آسمان پر خدا کے داہنے ہاتھ بیٹھے ہیں اور اس اَمر سے انہوں نے مسیح کی ایک خصوصیت ثابت کر کے اسی کو ان کی خدائی کی ایک زبردست دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ اب ہمیں کوئی بتا دے کہ اگر تَوَفّی کے معنے مع جسم عنصری آسمان پر ہی اٹھائے جانے کے ہیں اور اس کے معنے حضرت عیسٰیؑ کے لئے موت کے نہیں ہیں تو پھر نصاریٰ کے اس اعتراض کا قرآن نے کہاں جواب دیا ہے؟ یا جس طرح ان کی دلیل اوّل کو ایک نظیر پیش کر کے توڑا تھا اسی طرح کہیں سے ہمیں یہ بھی نکال کر بتاؤ کہ حضرت مسیحؑ سے پہلے یا پیچھے اور کوئی ایسی بھی نظیر پائی جاتی ہے؟ اور اگر کوئی نظیر نہیں تو یاد رکھو کہ اسلام آج بھی گیا اور کل بھی گیا۔ نصاریٰ تم کو خود تمہارے اپنے عقیدہ سے ملزم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم خود حضرت عیسٰیؑ کو زندہ اور جسم عنصری سے آسمان پر مانتے ہو حالانکہ تمہارے رسول خاکِ مدینہ میں مدفون ہیں۔ اب بتاؤ! کون افضل ہے عیسٰیؑ یا محمدؐ!

افسوس ہے ان نام کے مسلمانوں پر کہ اپنی ناک کاٹنے کے واسطے آپ ہی دشمن کے ہاتھ میں چُھری دیتے ہیں۔ یاد رکھو کہ اگر خدا تعالیٰ کا یہی منشا ہوتا اور قرآن وحدیث میں حقیقتاً یہی اَمر اس نے بیان کیا ہوتا کہ واقع میں حضرت مسیحؑ زندہ ہیں اور وہ مع جسم عنصری آسمان پر بیٹھے ہیں اور یہ عقیدہ بھی حضرت مسیحؑ کے بن باپ کے پیدا ہونے کی طرح خدا کے نزدیک سچا عقیدہ ہوتا تو ضرور تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کی بھی کوئی نہ کوئی نظیر پیش کر کے قومِ نصاریٰ کو اس اَمر کے حضرت مسیحؑ کی خدائی کی دلیل پکڑنے سے بند اور لاجواب کر دیتا۔ مگر خدا تعالیٰ کے اس اَمر کی دلیل پیش نہ کرنے سے صاف عیاں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہرگز ہرگز یہ منشا نہیں جو تم محض افترا سے خدا کے کلام پر تھوپ رہے۱ ہو۱؎ بلکہ تَوَفّی کا لفظ خدا تعالیٰ نے محض موت ہی کے معنوں کے واسطے وضع کیا ہے اور یہی حقیقت اور اصل حال ہے۔

دیکھو! ہر ایک خصوصیت جو کہیں کسی خاص شخص کے متعلق پیدا کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا ضرور جواب دیا ہے مگر کیا وجہ کہ اتنی بڑی خصوصیت کا کوئی جواب نہ دیا؟ خصوصیت ہی ایک ایسی چیز ہے کہ جس سے شرک پیدا ہوتا ہے۔ فقط

یہ حضرت اقدسؑ کی زندگی میں آپ کی آخری تقریر ہے جو آپ نے بڑے زور اور خاص جوش سے فرمائی۔ دوران تقریر میں آپ کا چہرہ اس قدر روشن اور درخشاں ہو گیا تھا کہ نظر اٹھا کر دیکھا بھی نہیں جاتا تھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تقریر میں ایک خاص اثر اور جذب تھا۔ رعب، ہیبت اور جلال اپنے کمال عروج پر تھا۔ بعض خاص خاص تحریکات اور موقعوں پر حضرت اقدسؑ کی شان دیکھنے میں آئی ہو گی جو آج کے دن تھی۔ اس تقریر کے بعد آپؑ نے کوئی تقریر نہیں فرمائی۔۱؎

(فقط مرتّبہ عبدالرحمٰن قادیانی


آخری دن

۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ ء

(بوقتِ نماز فجر)

)جب فجر کی نماز کی اذان کان میں پڑی تو (حضور علیہ السلام) نے پوچھا کہ ’’کیا صبح ہوگئی؟ ‘‘جواب ملنے پر فجر کی نماز کی نیت باندھی اور ادا کی۔

آخری الفاظ

وہ الفاظ جن پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے رفیقِ اعلیٰ سے جا ملے یہ تھے۔ ’’اے میرے پیارے! اے میرے پیارے!! اے میرے پیارے اللہ اے میرے پیارے اللہ۲؎

حواشی

  1. (بقیہ حاشیہ) گئی کہ ایک دوسرے کو کاٹنے دوڑتے جیسے کتوں کے آگے ہڈی ڈال دیں تو وہ ایک دوسرے پر حملہ کرتے ہیں اور اخوت ہمدردی کا نام ونشان نہ رہا تو خدا کی حکمتِ بالغہ نے ان سے سلطنت لے لی۔ ‘‘(بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۸) [ص 43]
  2. ۱؎ بدر میں ہے ’’جو منگے سومَر رہے جو مَرے سومنگن جا ‘‘(بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۰) [ص 53]