ملفوظات — جلد 5

صفحات ۱–۳۸۹

OCR draft for review · book 693-3631 · printed pages 1–389. The small grey number in the margin marks where each printed page begins.

فہرست

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ(الفاتحۃ:۱)

نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ وَ عَلٰی عَبْدِہِ الْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدِ

ملفوظات

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام

۲؍اپریل ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام)

ایک الہام کے معنی

فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا ہمارے ساتھ بھی عجیب معاملہ ہے۔ ہمارا یہ الہام کہ اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَتَفْرِیْدِیْ ایک نئی طرز کا الہام ہے۔ ہم نے اب سے پہلے کسی الہامی عبارت میں اس قسم کے الفاظ نہیں دیکھے اس کے معنے جو ہمارے خیال میں آتے ہیں یہ ہیں کہ ایسا شخص بمنزلہ توحید ہی ہوتا ہے جو ایسے وقت میں مامور ہو کہ جب دنیا میں توحید الٰہی کی نہایت ہتک کی گئی ہو اور اسے نہایت ہی حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو۔۱؎ ایسے وقت میں آنے والا توحید مجسم۲؎ ہوتا ہے ہر شخص اپنا ایک مقصد اور غایت مقرر کرتا ہے مگر اس شخص کرتا ہے م گر اس شخص کا م قصود و مطلوب اللہ تعالیٰ کی توحید ہی ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کو اپنے طبعی جذبات اور مقاصد سے بھی مقدم کر لیتا ہے۔ اپنی ساری ضرورتوں کو پیچھے ڈال دیتا ہے۔ اسی طرح پر ہر ایک شخص کا اپنے مقاصد کا ایک بت ہوتا ہے اور وہ اس تک پہنچنا چاہتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہوتا ہے کہ اس تک پہنچا دے یا اس کی عمر کا پہلے ہی خاتمہ کر دے۔ وہ اپنے مال یا عزّت و آبرو، بال بچوں یا دوسری حوائج کے لیے تڑپتا ہے اور بے خود ہوتا ہے اور بسا اوقات لوگ انہیں مشکلات میں پڑ کر خودکشی بھی کر لیتے ہیں مگر وہ شخص جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر آتا ہے اس کا یہی جوش خدا تعالیٰ کی توحید کے لئے ہو جاتا ہے اور اپنی نفسانی خواہشوں کی بجائے خدا تعالیٰ کی توحید کے لیے مضطرب اور بے خود ہوتا ہے۔۱؎ میں سمجھتا ہوں کہ ایسے وقت میں یہ الفاظ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں کہ اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَتَفْرِیْدِیْ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اپنی توحید بہت ہی پیاری ہے۔ یہ توحید تھی جس کے واسطے اللہ تعالیٰ نے کبھی وبا کبھی قحط اور کبھی اپنے پیارے انبیاء علیہم السلام کے ہاتھ کی تلوار سے اس کے قیام کے واسطے ہزاروں مشرک جانوں کو تباہ کر دیا۔ مکہ و مدینہ منورہ کے حالات بھی صرف اسی کی خاطر پیچیدہ ہوئے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام کا معاملہ بھی اسی توحید کے لیے تھا۔۲؎

عقیدہ کی اہمیت

عقیدہ ہی سے اعمال میں قوت آتی ہے جیسا قوی اور کامل عقیدہ ہو ویسے ہی اس کے مطابق اعمال صادر ہوں گے۔ اگر عقیدہ ہی زنگ آلودہ اور کمزور اور مُردہ ہو گا تو پھر اعمال کی کیا توقع ہو سکتی ہے۔ اگرچہ ظاہر اعمال نماز روزہ میں تو تمام مسلمان باہم مشترک ہیں اور اکثر بجا لاتے ہیں۔

مگر پھر ان کے نتائج میں برکات کے اختلاف کا باعث جو ہے تو صرف یہی عقیدہ ہے جن کے عقائد عمدہ اور کامل ہوتے ہیں ان کے لیے نتائج عمدہ اور برکات کثرت سے نازل ہوتے ہیں مگر کمزور عقائد والے اپنے اعمال کی قوت پر تو نگاہ نہیں کرتے برکات کے نہ ملنے کی شکایت کرتے ہیں۔

عداوت کا فائدہ

فرمایا۔ محبت اور عقیدت کی توجہ تو ایک جدا اَمر ہے مگر عداوت کی توجہ بھی بے فائدہ نہیں ہوتی بلکہ مفید ہوتی ہے۔ دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ کے زمانے میں آپ کے مقابل میں محبت اور عقیدت کی توجہ تو نہایت ہی کم بلکہ کچھ بھی نہ تھی مگر عداوت کی توجہ کامل طور سے تھی اور آخر یہی عداوت کی توجہ آپؐ کی عام لوگوں اور عرب کے کناروں میں شہرت پہنچانے کا باعث ہوگئی ورنہ آپ کے پاس اس وقت اور کیا ذریعہ تھا جو اپنی دعوت کو اس طرح شائع کرتے۔ آپ کے واسطے اس وقت تبلیغ کا پہنچانا نہایت مشکل تھا مگر خدا تعالیٰ نے یہ کام کیا کہ دشمنوں ہی کے ہاتھوں سے ایسا کرا دیا۔۱؎ اب موجودہ زمانے میں ہمارے دشمن بھی ایسا ہی کرتے ہیں اگر چہ اس وقت کی فوری حالت ایسی ہوتی ہے کہ ہماری جماعت کو ان لوگوں کی کارروائیوں سے رنج اور صدمہ ہوتا ہے مگر ان کی کارروائیوں کا انجام ہمارے مفید مطلب اور بخیر ہوتا ہے۔ اصل میں ان لوگوں کی گالیاں تو ایسی ہیں جیسے عورتیں شادی کے موقع پر لڑکے والوں کو دیتی ہیں۔ ان سے اس وقت کون ناراض ہوتا ہے؟ یہی مآل ان مخالفوں کی گالیوں کا ہے۔ یہ گالیاں ہمارے مفید مطلب ہیں۔ یہ ہماری تبلیغ کا ذریعہ بنتی ہیں اور سعید اور شریف ان کی گالیوں ہی سے اندازہ کر لیتے ہیں کہ حق کس کے پاس ہے۔ اسی طرح پر ہماری جماعت ان میں سے ہی نکل کر آئی ہے اور دن بدن نکلتی آتی ہے۔

طاعون۱؎ کے ذکر پر فرمایا کہ آج کل تو لوگ فرعون کی خصلت رکھتے ہیں کہ چاروں طرف سے خوف آیا تو ایمان لے آئے اور مان لیا۔ جب خوف جاتا رہا تو پھر مخالفت شروع کر دی۔۲؎


۳؍اپریل ۱۹۰۳ء

اقرار بیعت کے اثرات

نماز جمعہ کے بعد گردونواح کے لوگوں اور چند ایک دیگر احباب نے بیعت کی۔ بعد بیعت حضرت احمد مرسل مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ذیل کی تقریر کھڑے ہو کر فرمائی۔

اس وقت تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے بیعت کا اقرار کیا ہے اور تمام گناہوں سے توبہ کی ہے اور خدا سے اقرار کیا ہے کہ کسی قسم کا گناہ نہ کریں گے۔ اس اقرار کی دو تاثیریں ہوتی ہیں۔ یا تو اس کے ذریعہ انسان خدا تعالیٰ کے بڑے فضل کا وارث ہو جاتا ہے کہ اگر اس پر قائم رہے تو اس سے خدا راضی ہو جائے گا اور وعدہ کے موافق رحمت نازل کرے گا اور یا اس کے ذریعے سے خدا کا سخت مجرم بنے گا کیونکہ اگر اقرار کو توڑے گا تو گو یا اس نے خدا کی تو ہین کی اور اہانت کی۔ جس طرح سے ایک انسان سے اقرار کیا جاتا ہے اور اسے بجا نہ لایا جاوے تو توڑنے والا مجرم ہوتا ہے ایسے ہی خدا کے سامنے گناہ نہ کرنے کا اقرار کر کے پھر توڑنا خدا کے روبرو سخت مجرم بنا دیتا ہے۔ آج کے اقرار اور بیعت سے یا تو رحمت کی ترقی کی بنیاد پڑ گئی اور یا عذاب کی ترقی کی۔ اگر تم نے تمام باتوں میں خدا کی رضا مندی کو مقدم رکھا اور مدت دراز کی تمام عادتوں کو بدل دیا تو یاد رکھو کہ بڑے ثواب کے مستحق ہو۔ عادت کو چھوڑنا آسان بات نہیں۔ دیکھتے ہو کہ ایک افیمی یا جھوٹ بولنے والے کو جو عادت پڑ گئی ہوئی ہوتی ہے اس کا بدلنا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔ اسی لیے جو اپنی عادت کو خدا کے واسطے چھوڑتا ہے تو وہ بڑی بات کرتا ہے یہ نہ سمجھو کہ عادت چھوٹی ہو یا بڑی ایک عرصہ تک انسان جب گناہ کرتا ہے تو اس کے قویٰ کو ایک عادت اس کے کرنے کی ہو جاتی ہے۔ تو کیا تمہارے نزدیک اسے چھوڑ دینا کوئی چھوٹی بات ہے؟ جب تک کہ انسان کے اندر ہمت استقلال نہ ہو تب تک یہ دور نہیں ہو سکتی۔ ماسوا اس کے ان عادتوں کے بدلنے میں ایک اور مشکل ہے کہ عادتوں کا پابند آدمی عیال داری کے حقوق کی بجا آوری میں سست ہوا کرتا ہے مثلاً ایک افیمی ہے تو وہ نشہ میں مبتلا ہو کر عیال داری کے لیے کیا کچھ کرے گا؟ اور اسی طرح بعض عادتیں اس قسم کی ہوتی ہیں کہ کنبہ اور اہل و عیال کے آدمی اس کے حامی ہوتے ہیں۔ اس کا چھوڑنا اور بھی دشوار تر ہوتا ہے۔ مثلاً ایک شخص بذریعہ رشوت کے روپیہ حاصل کرتا ہے عورتوں کو اکثر علم نہیں ہوتا وہ تو اس کو اچھا جانے گی کہ میرا خاوند خوب روپیہ کماتا ہے تو وہ کب کوشش کرے گی کہ خاوند سے یہ عادت چھڑاوے تو ان عادتوں کو چھڑانے والا بجز اللہ تعالیٰ کی ذات کے کوئی نہیں ہوتا۔ باقی سب اس کے حامی ہوتے ہیں بلکہ ایک شخص جو نماز روزہ کو وقت پر ادا کرتا ہے اسے یہ لوگ سست کہتے ہیں کہ کام میں حرج کرتا ہے اور جو نماز روزہ سے غافل رہ کر زمینداری کے کاموں میں مصروف رہے اسے ہشیار کہتے ہیں اس لیے میں کہتا ہوں کہ توبہ کرنی بہت مشکل کام ہے اور ان ایام میں تو بہت سے مقابلہ آ کر پڑے ہیں۔ ایک طرف عادتوں کو چھوڑنا دوسری طرف طاعون ایک بلا کی طرح سر پر ہے اس سے بچنا۔ اب دیکھو کون سی مشکل کو تم قبول کر سکتے ہو۔ رزق سے ڈر کر انسان کو کسی عادت کا پابند نہ ہونا چاہیے۔ اگر اس کا خدا پر ایمان ہے تو خدا رزاق ہے۔ اس کا وعدہ ہے جو تقویٰ اختیار کرتا ہے اس کا ذمہ وار میں ہوں یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا وَّیَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ(الطلاق:۳، ۴) یعنی باریک سے باریک گناہ جو ہے اسے خدا سے ڈر کر جو چھوڑے گا خدا ہر ایک مشکل سے اسے نجات دے گا۔ یہ اس لیے کہا ہے کہ اکثر لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم کیا کریں ہم تو چھوڑنا چاہتے ہیں مگر ایسی مشکلات آ کر پڑتی ہیں کہ پھر کرنا پڑ جاتا ہے۔ خدا وعدہ فرماتا ہے کہ وہ اسے ہر مشکل سے بچالے گا اور پھر آگے ہے وَّیَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ(الطلاق:) ۴) یعنی ایسی راہ سے اسے روزی دے گا کہ اس کے گمان میں بھی وہ نہ ہوگی۔ ایسے ہی دوسرے مقام پر ہے وَہُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیۡنَ(الاعراف:۱۹۷) جیسے ماں اپنی اولاد کی والی ہوتی ہے ویسے ہی وہ نیکوں کا والی ہوتا ہے پھر فرماتا ہے وَفِی السَّمَآءِ رِزۡقُکُمۡ وَمَا تُوۡعَدُوۡنَ(الذّٰریٰت:۲۳) یعنی جو کچھ تم کو وعدہ دیا گیا ہے اور تمہارا رزق آسمان پر ہے۔

جب انسان خدا پر سے بھروسا چھوڑتا ہے تو دہریت کی رگ اس میں پیدا ہو جاتی ہے۔ خدا پر بھروسہ اور ایمان اس کا ہوتا ہے جو اسے ہر بات پر قادر جانتا ہے۔

اب ایسا زمانہ ہے کہ جو توبہ کرنا چاہتے ہیں خدا ان باتوں کے لئے اپنے ہاتھوں سے ان کی مدد کر رہا ہے اس کی ذات رحمت سے بھری ہوئی ہے طاعون کے حملے بہت خوفناک ہوتے ہیں مگر اصل میں یہ رحمت ہے سختی نہیں ہے۔ ہزاروں لوگ ہوں گے جو کہ عبادت سے غافل ہوں گے۔ اگر اتنی حشپم نمائی خدا نہ کرے تو پھر تو لوگ بالکل ہی منکر ہو جاویں۔ یہ تو اس کا فضل ہے کہ سوئے ہوؤں کو ایک تازیانہ سے جگا رہا ہے ورنہ اسے کیا پڑی ہے کہ کسی کو عذاب دیوے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے مَا یَفۡعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمۡ اِنۡ شَکَرۡتُمۡ وَاٰمَنۡتُمۡ(النساء:۱۴۸) کہ اگر تم میری راہ اختیار کرو تو تم کو کیوں عذاب ہو۔

اس کی رحمت بہت وسیع ہے جیسے بچہ جب پڑھتا نہیں ہے تو اسے مار پڑتی ہے اس کا سِرّ یہی ہے کہ اس کی آئندہ زندگی خراب نہ ہو اور وہ سدھر جاوے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ یہ عذاب اس لیے دیتا ہے کہ لوگ سدھر جاویں اور یہ اس کی رحمت کا تقاضا ہے۔

سچی توبہ کرو۔ بھلا دیکھو تو سہی اگر بازار سے کوئی دوا مثل شربت بنفشہ کے تم لاؤ اور اصل دوا تم کو نہ ملے بلکہ سڑا ہوا پرانا شیرا تم کو دیا جاوے تو کیا وہ بنفشہ کے شربت کا کام دے گا؟ ہرگز نہیں اسی طرح سڑے ہوئے الفاظ جو زبان تک ہوں اور دل قبول نہ کرے وہ خدا تک نہیں پہنچتے۔ بیعت کرانے والے کو تو ثواب ہو جاتا ہے مگر کرنے والے کو کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

بیعت

بیعت کے معنے ہیں بیچ دینا۔ جیسے ایک چیز بیچ دی جاتی ہے تو اس سے کوئی تعلق نہیں رہتا۔ خریدار کا اختیار ہوتا ہے جو چاہے سو کرے۔ تم لوگ جب اپنا بیل دوسرے کے پاس بیچ دیتے ہو تو کیا اسے کہہ سکتے ہو کہ اسے اس طرح نہ استعمال کرنا۔ ہرگز نہیں۔ اس کا اختیار ہے جس طرح چاہے استعمال کرے۔ اسی طرح جس سے تم بیعت کرتے ہو اگر اس کے احکام پر ٹھیک ٹھیک نہ چلو تو پھر کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ ہر ایک دوا یا غذا جب تک بقدر شربت نہ پی جاوے فائدہ نہیں ہوا کرتا۔ اسی طرح بیعت اگر پورے معنوں میں نہ ہو تو وہ بیعت نہ ہو گی۔ خدا تعالیٰ کسی کے دھوکا میں نہیں آسکتا۔ اس کے ہاں نمبر اور درجہ مقرر ہیں۔ اس نمبر اور درجہ تک توبہ ہو گی تو وہ قبول کرے گا جہاں تک طاقت ہے وہاں تک کوشش کرو پورے صالح بنو۔ عورتوں کو نصیحت کرو۔ نماز روزہ کی تاکید کرو۔ سوائے آٹھ سات دن کے جو عورتوں کے ہوتے ہیں اور جس میں نماز معاف ہے تمام نمازیں پوری پڑھیں روزے معاف نہیں ہیں ان کو پھر ادا کریں۔ انہی کمیوں کی وجہ سے کہا کہ عورتوں کا دین ناقص ہے۔ اپنے ہمسایہ اور محلہ والوں کو بھی نیکی کی تاکید کرو۔ غافل نہ ہو۔ اگر علم نہ ہو تو واقف سے پوچھو کہ خدا کیا چاہتا ہے۔

مسلمانوں کی دینی حالت

اس وقت مسلمانوں نے اپنے دین کو بدل دیا ہے جو خدا چاہتا تھا اسے بدل کر اَور کا اور بنا دیا ہے۔ اس وقت ایک شور برپا ہے۔ اگر کہا جاوے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے ہیں اور عیسیٰ زندہ ہے تو سب خوش ہوتے ہیں۔ مگر جب کہا جاوے کہ آنحضرتؐ زندہ اور خاتم النبیین اور آپ کے بعد کوئی غیر نبی نہیں آنے والا تو سب ناراض ہو جاتے ہیں۔

مسیحؑ کو آنحضرتؐ پرفضیلت نہ دو

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسے خدا نے سب سے آخر پیدا کیا ویسے ہی آخری درجے کے سب کمال آپ کو دئیے کوئی بھی خوبی کسی دوسرے نبی میں ایسی نہیں جو کہ آپ کو نہ دی گئی ہو۔

آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

کیا تم یہ قبول کرتے ہو کہ ایک کے ہاں بہت سے مہمان ہوں تو ان میں سے ایک کو وہ مکلّف کھانا پلاؤ وغیرہ دیوے اور دوسرے کو معمولی کھانا شوربا یا روٹی وغیرہ۔ باقی مہمان کہیں گے کہ کاش کہ ہم اس گھر میں مہمان نہ ہوتے۔ اسی طرح ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر جو گذرے ہیں انہوں نے کیا گناہ کیا کہ جو فضیلت اور رتبہ عیسیٰ علیہ السلام کو دیا جاتا ہے ان میں سے ایک کو بھی وہ نہ ملا۔ ان سب کو فوت مانتے ہو اور ایک عیسیٰ کو زندہ اور وہ بھی آسمان پر۔

قرآن فرماتا ہے رَّبِّ زِدۡنِیۡ عِلۡمًا(طٰہٰ:۱۱۵) اور حضرت تو اس دعا کو برابر مانگتے رہے۔ آنحضرت کی عمر ۶۳ برس کی ہوئی۔ دوسرے تمام پیغمبروں کو گھٹانا اور مسیح کو سب سے بڑھ کر فضیلت دینا ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ کون سی فضیلت مسیح کو دوسروں پر ہے؟ انہوں نے نہ ساری دنیا کی اصلاح کا دعویٰ کیا۔ نہ کوئی دکھ آنحضرت کی طرح ان کو پہنچا۔ نہ مقابلہ کی نوبت آئی۔ نہ کوئی شکست اٹھانی پڑی۔ چند آدمی صرف ایمان لائے وہ بھی پکڑے گئے۔ اس کے مقابلہ میں آنحضرت کو دیکھو۔ آپ کا دعویٰ کل جہان کے لیے اور سخت سے سخت دکھ اور تکالیف آپ کو پہنچے۔ جنگیں بھی آپ نے کیں۔ ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ آپ کی زندگی میں موجود تھے پھر ان باتوں کے ہوتے ہوئے جو شخص آنحضرت کی شان میں کوئی ایسا کلمہ زبان پر لائے گا۔ جس سے آپ کی ہتک ہو وہ حرامی نہیں تو اور کیا ہے؟ ان کم بختوں سے کوئی پوچھے کہ پھر تم محمد رسول اللہ کیوں کہتے ہو عیسیٰ رسول اللہ ہی کہو۔

اب تم کو چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے آنحضرت کو عزّت دو۔ اگر تم یہ کہو کہ آنحضرت آسمان پر زندہ ہیں تو ہم آج مانتے ہیں مگر جس سے تم کو فیض اور فائدہ کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔ اس کو جھوٹی فضیلت دینے سے تم کو کیا حاصل؟

تمام فیضوں کا سرچشمہ قرآن ہے، نہ انجیل نہ توریت۔ جو قرآن کو چھوڑ کر ان کی طرف جھکتا ہے وہ مرتد اور کافر ہے۔ مگر جو قرآن کی طرف جھکتا ہے وہ مسلمان ہے۔ کیا ان لوگوں کو شرم نہیں آتی کہ آنحضرت کو جب حفاظت پیش آئی تو خدا نے آپ کو غار میں جگہ دی اور عیسٰیؑ کو جب وہ موقع پیش آیا تو آسمان پر جا بٹھایا۔ پھر آنحضرت کی عمر ۶۳ برس کی کہتے ہیں اور عیسٰیؑ کو اب تک زندہ مانتے ہیں۔ ان تمام باتوں کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ عیسائیوں کا دین غالب ہے۔ آج مسلمان کم ہیں اور عیسائی زیادہ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ یہی دلائل بیان کر کے پادریوں نے مسلمانوں کو عیسائی بنایا ہے۔

خدا تو فرماتا ہے کہ عیسٰیؑ مَر گیا فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ(المائدۃ:۱۱۸) کی آیت موجود ہے۔ اگر تمہارا مذہب قرآن ہے تو اس پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟ آنحضرت کے واسطے خدا نے ہرگز نہ چاہا کہ باہر سے لوگ آویں۔ سورہ نور میں بھی وعدہ ہے کہ تمام خلیفہ اور امام تیری اُمّت میں سے آویں گے سو خدا نے وہ پورا کیا اور اسی طرح اب ہمیں مامور کیا۔ جیسے چودہ سو برس کے بعد موسیٰ کی امّت میں سے مسیح آیا تھا ویسے ہی چودہ سَو برس گذرنے کے بعد ہمیں بھیجا۔ وہ مسیح بھی صاحب شریعت نہ تھے توریت پر ان کا عمل تھا ایسے ہی ہم ہیں تا کہ مماثلت پوری ہو اور کوئی کمی نہ رہ جاوے۔ جیسی محبت خدا ہم سے کرتا ہے ویسی کسی اَور سے نہیں کرتا۔ اگر یہ خیال ہو کہ عیسیٰ کو خدا آسمان پر لے گیا۔ اس کو آج تک زندہ رکھا اور اس کو پھر لاوے گا تو پھر ساری محبت خدا کی عیسیٰ کے ساتھ چاہیے جو ان تمام باتوں کو غور سے دیکھے گا تو سمجھے گا کہ جو آپ کی شان ہے وہ اَور کسی نبی کی نہیں ہے جب تک تم آنحضرت کو ہر ایک خوبی میں افضل نہ جانو گے مسلمان نہ ہوگے بلکہ کرانی۱؎ ہوگے۔ یہ تو عقیدہ چاہیے اور نمازوں میں دعا کرو کہ خدا طاعون سے ہمیں بچا جولوگ ہنسی کرتے ہیں اور کہتے ہیں بڑے آدمی کیوں نہیں مَرتے وہ نادان ہیں۔ خدا کا کام ہے آہستہ آہستہ پکڑنا۔ اس لیے غافل نہ بنو۔ تہجدوں میں دعا کرو۔ پانچوں وقت کی نمازوں میں دعا کرو۔ جب تمہارا گھر دعا سے بھر جاوے گا تو پھر ہرگز وَبانہ آوے گی اور اگر کوئی روک رکھو گے تو دعا کام نہ دے گی۔ خدا کے ساتھ معاملہ صاف رکھو گے تو خدا کا وعدہ ہے کہ وہ تم کو ضرور محفوظ رکھے گا۔۲؎

(دربارِ شام)

حضرت عیسٰیؑ کی محبت میں غلو اور آنحضرتؐ کی تو ہین

بارہا ہمیں تعجب آتا ہے کہ کیوں یہ لوگ حضرت عیسیٰ سے بے جا محبت کرتے ہیں انہوں نے ان کا کیا دیکھا تھا جو ان پر ایسے شیدا ہیں کہ ان کو خدا ہی بنا دیا ہے۔ ایسے ان کی محبت میں اندھے ہوئے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کہ جن کا کلمہ پڑھتے ہیں ان کی توہین اپنی ہی زبان سے کرتے ہیں۔ توہین کیا ہوتی ہے یہی کہ ایک شخص جس میں اعلیٰ درجہ کے اوصاف ہوں ان کو نظر انداز کر کے ایک ایسے شخص کو اس سے بڑھ چڑھ کر متّصف باَوصاف کیا جاوے جس میں وہ اوصاف نہیں ہیں۔ تعزیرات میں توہین کی مثال کے نیچے یہ مثال لکھی ہے کہ ایک شخص کہے کہ زید اور بکر نے (جو درحقیقت چور تھے )چوری کی ہے مگر عمرو (جو ایک شریف آدمی ہے اور درحقیقت اس کی کوئی سازش اس چوری میں نہیں )نے چوری نہیں کی اور نہ ہی اس کا اس میں کچھ تعلق ہے تو قانونـاً ایسا کہنے والا شخص عمرو کی توہین کرتا ہے اور وہ مجرم قرار دیا جاوے گا اور مستحقِ سزا ہو گا۔

غرض توہین کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ کی اتنی تعریف کی جاتی ہے کہ گویا ان پر جب مصیبت آئی تو خدا کو زمین پر ان کے بچاؤ کی کوئی راہ نظر نہ آئی اور ان کو آسمان پر اور پھر بھی دوسرے آسمان پر جا چھپایا۔ بالمقابل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جب سخت مصائب اور شدائد آئے تو اللہ تعالیٰ نے نعوذ باللہ بقول مولویوں کے آپ کو بالکل بے مدداور کس مپرس چھوڑ دیا اور آپ کو ایک غار میں جو آسمان کے مقابل میں جس طرح وہ بلند یہ اسفل میں واقعہ تھی، پناہ میں دی۔ غار کی تعریف بھی کیا کہ بچھوؤں، سانپوں اور ہر قسم کے موذی حشرات الارض کا گھر تھا۔ بھلا اب سوچو یہ توہین نہیں تو کیا ہے؟

پھر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ سرور کائنات فخر الاولین والآخرین اشرف الخلق تو امیدوار ہیں کہ ہم لمبی عمر پاویں مگر ان کو تو صرف تریسٹھ سال کی عمر دی جاتی ہے اور ان کے مقابل میں حضرت عیسیٰ گویا اب تک زندہ ہیں اور دو ہزار برس کی ان کی عمر ہوچکی اور ان کی حالت میں کوئی تغیّر واقع نہیں ہوا۔ آپ رہتے تو دنیا کی اصلاح کرتے جیسا کہ پہلا تجربہ بتا چکا ہے کہ ضرور ہزاروں کی اصلاح کرتے اگر اَور عمر پاتے۔ مگر بالمقابل حضرت عیسیٰ اتنی عمر میں نہ کوئی نیکی کرتے ہیں، نہ نماز ہے، نہ روزہ، نہ زکوٰۃ اور نہ کسی کی اصلاح ہے۔ ان سے نہ کسی کو نفع ہے اور نہ وہ کسی سے کسی قسم کے ضرر کو دور کر سکتے ہیں نیز پرانا گذشتہ تجربہ بھی اس اَمر کا کافی شاہد تھا کہ صرف بارہ آدمی مدت کی کوشش سے طیار کئے۔ آخر وہ بھی یوں الگ ہوئے کہ کسی نے لعنت کی اور کسی نے تیس روپے کے عوض دشمن کے ہاتھ میں دے دیا۔

پھر مَرنے کے بعد جب آنحضرتؐ کی روح آسمان پر گئی تو پھر وہ حریف موجود تھے کہ وہ تو آسمان میں مع جسم عنصری تشریف رکھتے ہیں اور جنابؐ کا جسم ہزاروں من مٹی کے نیچے پڑا ہے اور پھر اسی پر ختم نہیں۔ آخر کار ان کی امت میں وہ پھر آویں گے اور چالیس سال تک ان پر حکومت کریں گے اور ان سے بیعت لیں گے۔ بھلا غور تو کرو کہ یہ توہین نہیں تو اَور کیا ہے۔

پھر بات اور ہے کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن شریف میں یہ وعدہ کرتا ہے کہ میں تیری اُمت میں سے تیری امت کی اصلاح کے واسطے خلیفے بھیجتا رہوں گا۔ مگر آخر اس وعدہ کا ذرا بھی پاس نہ کیا اور ایک ایسی قوم میں سے جس کے متعلق اس نے وعدہ کر لیا ہوا تھا کہ اس قوم پر میرا غضب نازل ہو چکا ہے میں ان پر کبھی کوئی روحانی اور جسمانی فضل اور نعمت ہرگز نازل نہ کروں گا مگر آخر کار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وعدہ خلافی فرما کر اسے بھیجا اور اپنے قانون کو بھی توڑا۔ کیا یہ کوئی گوارا کر سکتا ہے کہ خدا پر وعدہ خلافی عائد ہو۔ ہرگز نہیں اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ(اٰل عمران:۱۰) ہماری تو یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ لوگ اسی عیسیٰ کو اتار کر کریں گے کیا؟ آخر ان کے قویٰ تو وہی ہوں گے جو پہلے تھے۔ پہلے کیا کیا تھا جو اَب کر لیں گے۔ ایک ذلیل سی معدودے چند ایک قوم تھی ان کی اصلاح بھی نہ ہوئی۔

لکھا ہے کہ ایک دفعہ ان سے پانسو آدمی مرتد ہو گئے تھے۔ یہ لوگ اگر حضرت موسیٰ کے دوبارہ آنے کی اُمید رکھتے تو کچھ موزوں بھی تھا کیونکہ وہ صاحبِ عظمت اور جبروت تو تھے ان میں شجاعت بھی تھی۔ اب یہ عیسیٰ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔

پھر مشکل یہ ہے کہ عادت کا جانا محال ہے ان کو مار کھانے اور بزدلی کی عادت ہو گئی ہوئی تھی وہ اگر دجال سے جنگ کریں گے تو کس طرح؟ ادھر ان مسلمانوں کی بھی یہ عادت ہو گئی ہے کہ حضرت عیسیٰ ہی آویں گے۔ لکیر کے فقیر ہیں۔ باپ دادا اور مولوی جو اس بات کی تعلیم دیتے ہوئے خواہ قرآن شریف کے مخالف ہی ہو وہ اسی ہندوؤں کی گنگا کی طرح اس اعتقاد کو نہ ترک کریں نہ کرنے کے خواہ کوئی دلیل ہو یا نہ ہو۔

ان لوگوں کو تو اپنے گھر کا حال بھی معلوم نہیں کہ ان کے اس اعتقاد نے اسلام کو کیسا ضعف پہنچایا ہے عیسائی جب کسی کو مرتد کرنے پر آتے ہیں تو یہی حجت پکڑتے ہیں کہ تمہارا نبی مُردہ اور ہمارا زندہ اور آسمان پر موجود ہے۔ اب بتاؤ کہ ان دونوں میں سے کون اچھا اور خدا کا پیارا ہے اور یہ نکال کر دکھا دیتے ہیں مسلمانوں ہی کی کتابوں سے اب قریباً ہر ایک فرقہ میں سے الگ الگ ملا جلا کر ۲۹ لاکھ کے قریب آدمی مرتد ہو چکا ہے۔ کیا سید اور کیا پٹھان کیا قریش اور کیا مغل۔ ہر قوم اس وبا میں ہلاک ہوتی ہے۔ ایسے ایسے لوگ جو فخر اسلام کہنے کے مستحق بن جانے کے قابل تھے وہ اب بے دین ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں اور پھر اسی پر ابھی تمام نہیں بلکہ وہ جان سے مال سے عزّت و آبرو سے، عورتوں سے، لڑکیوں سے اس اَمر کے لیے کوشاں ہیں کہ کسی طرح دنیا سے اسلام کا نشان مٹا دیں۔ بھلا اگر یہی وہ فتّان لوگ نہیں تو اور کون ہو گا؟ اس قوم کا فتنہ تو ان مسلمانوں کے بناوٹی دجال کے فتنہ سے بھی کہیں بڑھ گیا۔ بھلا یہ بتاویں تو سہی کہ اس قوم کی جس کا فتنہ دجال سے بھی زیادہ ہے خبر کہاں دی گئی ہے۔ قرآن شریف نے تو اسی واسطے دجال کا نام نہیں لیا بلکہ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ کہا جس سے مُراد یہی قوم نصاریٰ ہے وَ لَا الدَّجَّال کیوں نہ کہا۔ اصل اَمر یہی ہے کہ یہی وہ قوم ہے جس سے تمام انبیاء اپنی اپنی امت کو ڈراتے آئے ہیں۔ ان لوگوں کے خیالات کی بنا احادیث موضوعہ پر ہے جو قرآن شریف کی مہُر سے خالی ہیں۔ مگر ہم قرآن شریف کو ان احادیث کی خاطر چھوڑ نہیں سکتے۔ قرآن شریف بہرحال مقدم ہے۔ بھلا قرآن شریف کو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود جمع کیا لکھوایا اور پھر نمازوں میں بار بار پڑھ کر سُنایا۔ کیا اگر احادیث بھی ویسی ہی ضروری ہیں تو ان میں سے بھی کسی کو اسی طرح جمع کیا اور بار بار سُنایا اور دَ ور کیا؟ ہرگز نہیں اور جب نہیں کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرضِ منصبی میں کوتاہی کی؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ صحیح اَمر یہی ہے کہ قرآن شریف ہی آپ لائے تھے اور اسی کے جمع کرنے کا آپ کو حکم تھا سو آپ نے کر دیا۔ اب احادیث میں سے وہ قابلِ عمل اور اعتقاد ہے۔ جس پر قرآن شریف کی مہر ہو کہ یہ اس کے خلاف نہیں۔ پھر اسی پر بس نہیں۔ قرآن شریف کہتا ہے کہ عیسیٰ مَر گئے اور پھر دوبارہ قیامت تک وہ اس دنیا میں نہیں آئیں گے بلکہ آنے والا اُن کا مثیل ان کی خُو بُو لے کر آوے گا۔ جیسا کہ آیت قرآن شریف

فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ(المائدۃ:۱۱۸)

میں صاف بیان ہے۔

تو ہینِ عیسٰیؑ کے اعتراض کا جواب

پھر کہتے ہیں کہ سیدنا المسیح کی توہین کرتے ہیں۔ بھلا سوچو تو کہ ہم اگر اپنے پیغمبر سے ان جھوٹے اعتراضات کو جو نافہمی اور کور چشمی سے کر کے مسیح کو آسمان پر زندہ بٹھا کر آنحضرت پر کئے جاتے ہیں ان کے دور کرنے کے واسطے مسیحؑ کی اصلی حقیقت کا اظہار نہ کریں تو کیا کریں؟ ہم اگر کہتے ہیں کہ وہ زندہ نہیں بلکہ مَر گئے ہیں جیسے دوسرے انبیاء بھی مَر گئے ہیں تو ان لوگوں کے نزدیک تو یہ بھی ایک قسم کی توہین ہوئی۔ ہم تو خدا کے بلائے بولتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ فرشتے آسمان پر کہتے ہیں۔ افترا کرنا تو ہمیں آتا نہیں اور نہ ہی افترا خدا کو پیارا ہے۔ اب خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ جس طرح آنحضرتؐ کی کسر شان اور ہتک کی گئی ضرور ہے کہ اس کا بدلہ لے لیا جاوے اور آنحضرتؐ کے نور اور جلال کو دوبارہ ازسرنو تازہ وشاداب کر کے دکھایا جاوے اور یہ اس مسیح کے بت کے ٹوٹنے اور اس کی موت کے ثابت ہونے میں ہے۔ پس ہم خدا کے منشا اور ارادے کے مطابق کرتے ہیں اب ان کی لڑائی ہم سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ ان لوگوں نے تو حضرت مسیحؑ کو خاصہ خدا بنایا ہوا ہے اور پھر کہلاتے ہیں موحد۔ ان کا اعتقاد ہے کہ وہ زندہ ہے قائم ہے عَلَی السَّمَآء۔ خَالِق، رَازِق، غیب دان، مُـحْیِی، مُـمِیْت ہے۔ بھلا اب بتاؤ کہ اگر یہ صفات خدا کی نہیں تو کس کی ہیں؟ بشریت تو ان صفات کی حامل ہو سکتی نہیں۔ خدائی میں فرق ہی کیا رہا؟ یہ تو عیسائیوں کو مدد دے رہے ہیں۔ پورے نہیں نیم عیسائی تو ضرور۔ اگر ہم ان کے عقائد ردّیہ کی تردید نہ کریں تو کیا کریں؟ پھر ہمیں ماننا پڑے گا کہ نعوذ باللہ اسلام، آنحضرتؐ، خدا کی طرف سے پاک نبی اور قرآن شریف خدا کا کلام برحق نہیں۔ اور حضرت مسیحؑ زندہ نہیں بلکہ مَرکر کشمیر سرینگر محلہ خانیار میں مدفون ہیں۔ یہی سچا عقیدہ ہے۔

طلاق اور حلالہ

ایک صاحب نے یہ سوال کیا کہ جو لوگ ایک ہی دفعہ تین طلاق لکھ دیتے ہیں ان کی وہ طلاق جائز ہوتی ہے یا نہیں؟

اس کے جواب میں فرمایا کہ قرآن شریف کے فرمودہ کی رُو سے تین طلاق دی گئی ہوں اور ان میں سے ہر ایک کے درمیان اتنا ہی وقفہ لکھا گیا جو قرآن شریف نے بتایا ہے تو ان تینوں کی عدت کے گذرنے کے بعد اس خاوند کا کوئی تعلق اس بیوی سے نہیں رہتا۔ ہاں اگر کوئی اور شخص اس عورت سے عدت گزرنے کے بعد نکاح کرے اور پھر اتفاقاً وہ اس کو طلاق دیدے تو اس خاوند اوّل کو جائز ہے کہ اس بیوی سے نکاح کر لے مگر اگر دوسرا خاوند، خاوند اوّل کی خاطر سے یالحاظ سے اس بیوی کو طلاق دے کہ تا وہ پہلا خاوند اس سے نکاح کر لے تو یہ حلالہ ہوتا ہے اور یہ حرام ہے۔

لیکن اگر تین طلاق ایک ہی وقت میں دی گئی ہوں تو اس خاوند کو یہ فائدہ دیا گیا ہے کہ وہ عدت کے گذرنے کے بعد بھی اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے کیونکہ یہ طلاق ناجائز طلاق تھا اور اللہ و رسول کے فرمان کے موافق نہ دیا گیا تھا۔ دراصل قرآن شریف میں غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو یہ اَمر نہایت ہی ناگوار ہے کہ پُرانے تعلقات والے خاوند اور بیوی آپس کے تعلقات کو چھوڑ کر الگ الگ ہو جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے طلاق کے واسطے بڑے بڑے شرائط لگائے ہیں۔ وقفہ کے بعد تین طلاق کا دینا اور ان کا ایک ہی جگہ رہنا وغیرہ یہ امور سب اس واسطے ہیں کہ شاید کسی وقت ان کے دلی رنج دور ہو کر آپس میں صُلح ہو جاوے۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ کبھی کوئی قریبی رشتہ دار وغیرہ آپس میں لڑائی کرتے ہیں اور تازے جوش کے وقت میں حکام کے پاس عرضی پرچے لے کر آتے ہیں تو آخر دانا حکام اس وقت ان کو کہہ دیتے ہیں کہ ایک ہفتہ کے بعد آنا۔ اصل غرض ان کی صرف یہی ہوتی ہے کہ یہ آپس میں صلح کر لیں گے اور ان کے یہ جوش فرو ہوں گے تو پھر ان کی مخالفت باقی نہ رہے گی۔ اسی واسطے وہ اس وقت ان کی وہ درخواست لینا مصلحت کے خلاف جانتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی مرد اور عورت کے الگ ہونے کے واسطے ایک کافی موقع رکھ دیا ہے یہ ایک ایسا موقع ہے کہ طرفین کو اپنی بھلائی برائی کے سوچنے کا موقع مل سکتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ(البقرۃ:۲۳۰) یعنی دو دفعہ کی طلاق ہونے کے بعد یا اسے اچھی طرح سے رکھ لیا جاوے یا احسان سے جدا کر دیا جاوے۔ اگر اتنے لمبے عرصے میں بھی ان کی آپس میں صلح نہیں ہوتی تو پھر ممکن نہیں کہ وہ اصلاح پذیر ہیں۔

وتر کیسے پڑھے جائیں

ایک صاحب نے سوال کیا کہ وتر کس طرح پڑھنے چاہئیں۔ ایک اکیلا بھی جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا کہ اکیلا وتر تو ہم نے کہیں نہیں دیکھا۔ وتر تین ہیں۔ خواہ دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر کر تیسری رکعت پڑھ لو۔ خواہ تینوں ایک ہی سلام سے درمیان میں التحیات بیٹھ کر پڑھ لو۔ ایک وتر ٹھیک نہیں۔

مخا لفوں کو سلام کہنا

ایک صاحب نے سوال کیا کہ حضور مخالفوں سے جو ہمیں اور حضور کو سخت گالی گلوچ نکالتے ہیں اور سخت سست کہتے ہیں ان سے السلام علیکم لینا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا۔ مومن بڑا غیرت مند ہوتا ہے کیا غیرت اس اَمر کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ تو گالیاں دیں اور تم ان سے السلام علیکم کرو؟ ہاں البتہ خرید و فروخت جائز ہے۔ اس میں حرج نہیں کیونکہ قیمت دینی اور مال لینا کسی کا اس میں احسان نہیں۔

مِّنۡ کُلِّ حَدَبٍ یَّنۡسِلُوۡنَ کی تفسیر

ہمیں کئی بار اس آیت کی طرف توجہ ہوئی ہے اور اس میں سوچتے ہیں کہ مِّنۡ کُلِّ حَدَبٍ یَّنۡسِلُوۡنَ(الانبیآء:۹۷) اس کا ایک تو یہ مطلب ہے کہ ساری سلطنتیں، ریاستیں اور حکومتیں ان سب کو یہ اپنے زیر کر لیں گے اور کسی کو ان کے مقابلے کی تاب نہ ہوگی۔ دوسرے معنے یہ ہیں کہ حدب کے معنے ہیں بلندی، نسل کے معنے ہیں دوڑنا۔ یعنی بلندی پر سے دوڑ جاویں گے کُلْ عمومیت کے معنے رکھتا ہے یعنی ہر قسم کی بلندی کو کود جاویں گے۔ بلندی پر چڑھنا قوت اور جرأت کو چاہتا ہے۔ نہایت بڑی بھاری اور آخری بلندی مذہب کی بلندی ہوتی ہے۔ سارے زنجیروں کو انسان توڑ سکتا ہے مگر رسم اور مذہب کی ایک ایسی زنجیر ہوتی ہے کہ اس کو کوئی ہمت والا ہی توڑ سکتا ہے۔

سو ہمیں اس ربط سے یہ بھی ایک بشارت معلوم ہوتی ہے کہ وہ آخر کار اس مذہب اور رسم کی بلندی کو اپنی آزادی اور جرأت سے پھلانگ جاویں گے اور آخر کار اسلام میں داخل ہوتے جاویں گے اور یہی ضال کے لفظ سے بھی ٹپکتا ہے اور اس اَمر کی بنیادی اینٹ قیصر جرمن نے چند دن ہوئے اپنا عقیدہ عیسویت کے متعلق ظاہر کر کے رکھ دی ہے۔

دجال کے ’’کانا ‘‘ہونے سے مُراد

یہ جو حدیث شریف میں آیا ہے کہ دجال کانا ہوگا۔ ایک آنکھ بالکل نہ ہوگی اور دوسری میں گُل ہوگا۔ یہ ایک نہایت باریک استعارہ ہے۔ یعنی اس کی ایک آنکھ (قرآن کی آنکھ) تو بالکل نہ ہوگی۔ اس طرف سے تو وہ بالکل اندھا اور کا لمیّت ہوگا اور دوسری توریت والی سو وہ بھی کانی ہوگی اس میں بھی گل ہوگا یعنی اس کی تعلیم پر بھی پورے طور سے کاربند نہ ہونگے۔

چنانچہ واقعہ نے کیسا صاف بتادیا ہے کہ یہ اسی طرح ہے اور آنحضرتؐ کی پیشگوئی کیسی صاف طور سے پوری ہوئی ہے۔

عیسویت کے ابطال کے واسطے تو ایک دانا آدمی کے لیے یہی کافی ہے کہ ان کے اس عقیدے پر نظر کرے کہ خدا مَر گیا ہے بھلا کوئی سوچے کہ کبھی خدا بھی مَرا کرتا ہے۔ اگر یہ کہیں کہ خدا کا روح نہیں بلکہ جسم مَرا تھا تو ان کا کفّارہ باطل جاتا ہے۔۱؎

۴؍اپریل ۱۹۰۳ء

(بوقتِ سیر)

طل اق ایک شخص کے سوال پر فرمایا کہ

طلاق

ایک وقت میں کامل نہیں ہوسکتی۔ طلاق میں تین طہر ہونے ضروری ہیں۔ فقہاء نے ایک ہی مرتبہ تین طلاق دے دینی جائز رکھی ہے مگر ساتھ ہی اس میں یہ رعایت بھی ہے کہ عدت کے بعد اگر خاوند رجوع کرنا چاہے تو وہ عورت اسی خاوند سے نکاح کر سکتی ہے اور دوسرے شخص سے بھی کر سکتی ہے۔

قرآن کریم کی رو سے جب تین طلاق دیدی جاویں تو پہلا خاوند اس عورت سے نکاح نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ کسی اور کے نکاح میں آوے اور پھر وہ دوسرا خاوند بلا عمداً اُسے طلاق دے دیوے۔ اگر وہ عمداً اسی لیے طلاق دے گا کہ اپنے پہلے خاوند سے وہ پھر نکاح کر لیوے تو یہ حرام ہو گا کیونکہ اسی کا نام حلالہ ہے جو کہ حرام ہے۔ فقہاء نے جو ایک دم کی تین طلاقوں کو جائز رکھا ہے اور پھر عدت کے گذرنے کے بعد اسی خاوند سے نکاح کا حکم دیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اوّل اسے شرعی طریق سے طلاق نہیں دی۔

قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کو طلاق بہت ناگوار ہے کیونکہ اس سے میاں بیوی دونوں کی خانہ بربادی ہو جاتی ہے۔ اس واسطے تین طلاق اور تین طہر کی مدت مقرر کی کہ اس عرصہ میں دونوں اپنا نیک و بد سمجھ کر اگر صلح چاہیں تو کر لیویں۔

نماز جنازہ

فرمایا کہ اگر متوفّٰی بالجہرمکفّر اور مکذّب نہ ہو تو اس کا جنازہ پڑھ لینے میں حرج نہیں۔ کیونکہ علّام الغیوب خدا کی پاک ذات ہے۔

فرمایا۔ جو لوگ ہمارے مکفّر ہیں اور ہم کو صریحاً گالیاں دیتے ہیں۔ ان سے السلام و علیکم مت لو اور نہ ان سے مل کر کھانا کھاؤ۔ ہاں خرید وفروخت جائز ہے اس میں کسی کا احسان نہیں۔ جو شخص ظاہر کرتا ہے کہ میں نہ ادھر کا اور نہ اُدھر کا ہوں اصل میں وہ بھی ہمارا مکذّب ہے اور جو ہمارا مصدّق نہیں اور کہتا ہے کہ میں ان کو اچھا جانتا ہوں وہ بھی مخالف ہے ایسے لوگ اصل میں منافق طبع ہوتے ہیں۔ ان کا یہ اصول ہوتا ہے کہ

با مسلماں اللہ اللہ با برہمن رام رام

ان لوگوں کو خدا سے تعلق نہیں ہوتا۔ بظاہر کہتے ہیں کہ ہم کسی کا دل دکھانا نہیں چاہتے مگر یاد رکھو کہ جو شخص ایک طرف کا ہوگا اس سے کسی نہ کسی کا دل ضرور دکھے گا۔

مِّنۡ کُلِّ حَدَبٍ یَّنۡسِلُوۡنَ

فرمایا کہ میں نے اس آیت پر بڑی غور کی ہے اس کے یہی معنے ہیں کہ ہر ایک بلندی سے دوڑیں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دو صورتیں ہیں اوّل یہ کہ ہر ایک سلطنت پر غالب آ جاویں گے۔ دوم یہ کہ بلندی کی طرف انسان قوت اور جرأت کے بغیر دوڑ اور چڑھ نہیں سکتا اور مذہب پر غالب آ جانا بھی ایک بلندی ہی ہے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر وہ زمانہ بھی آوے گا کہ مذہب کے اوپر سے بھی گذر جاویں گے یعنی اپنے اس تثلیثی مذہب سے بھی عبور کر جاویں گے اور اس کو پاؤں کے نیچے مسل دیویں گے اور اسی سے ہمیں ان کے اسلام میں داخل ہو جانے کی بو آتی ہے۔ اب پہلی بات تو پوری ہو چکی ہے اب انشاء اللہ دوسری بات پوری ہوگی اور یہ باتیں خدا کے ارادہ کے ساتھ ہوا کرتی ہیں۔ جب خدا کی مشیت ہوئی تو ملائکہ نازل ہوتے ہیں اور دلوں کو حسب استعداد صاف کرتے ہیں۔ تب یہ کام ہوا کرتے ہیں۔

آنحضرتؐ کا خلق عظیم

فرمایا۔ آنحضرت کے اخلاق کا نمونہ، ایک صوفی لکھتا ہے کہ آپ کے پاس ایک نصرانی ملاقات کو آیا۔ آپ نے اس کو اپنا مہمان کیا۔ رات کو کھانا اور بسترہ دیا مگر وہ کمبخت بہت کھا گیا۔ رات کو بدہضمی ہوئی تو لحاف میں اس کا دست نکل گیا۔ اس لیے شرمندہ ہو کر صبح کو چوری چوری چل دیا۔ جب وہ دور نکل گیا تو آنحضرت کو معلوم ہوا کہ مہمان چلا گیا ہے بستر دیکھا تو پاخانہ سے بھرا ہوا۔ آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے دھونا شروع کیا۔ صحابہؓ نے ہر چند اصرار کیا کہ ہم دھوئیں مگر آپ نے فرمایا کہ وہ میرا مہمان تھا مجھے دھونے دو۔ ادھر راستہ میں نصرانی کو یاد آیا کہ وہ اپنے سونے کی صلیب بستر پر بھول آیا ہے۔ اسے لینے کے واسطے وہ واپس آیا۔ دیکھا تو آپ وہی نجاست بھرا لحاف اپنے ہاتھ سے دھو رہے ہیں۔ اس نظارہ کو دیکھ کر صلیبی ایمان پر اس نے لعنت کی اور مسلمان ہو گیا۔۱؎

(دربارِ شام

رقّت کی لذّت

طاعون کے متعلق باتیں ہوتی رہیں۔ ایک عرب صاحب۱؎ نو وارد تھے۔ انہوں نے قرآن شریف سنایا اس کی لذّت اور رقّت کے متعلق باتیں ہوتی رہیں۔

حضرت اقدس نے فرمایا کہ دنیا میں ہزاروں لذّتیں ہیں مگر رقّت جیسی کوئی بھی لذّت نہیں۔ یہی ہے جس سے نماز اور عبادت کا مزہ آتا ہے اور پھر چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا۔۲؎

۵؍اپریل۱۹۰۳ء

کثرتِ عوارض کی وجہ

ان مختلف امراض اور عوارض کے ذکر پر جو انسان کو لاحق ہوتے ہیں فرمایا کہ

اللہ تعالیٰ قادر تھا کہ چند ایک بیماریاں ہی انسان کو لاحق کر دیتا مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سی امراض ہیں جن میں وہ مبتلا ہوتا ہے اس قدر کثرت میں خدا تعالیٰ کی یہ حکمت معلوم ہوتی ہے تا کہ ہر طرف سے انسان اپنے آپ کو عوارضات اور امراض میں گھرا ہوا پا کر اللہ تعالیٰ سے ترساں ولرزاں رہے اور اسے اپنی بے ثباتی کا ہر دم یقین رہے اور مغرور نہ ہو اور غافل ہو کر موت کو نہ بھول جاوے اور خدا سے بے پروانہ ہو جاوے۔

مرا بمرگِ عدو جائے شادمانی نیست

بعض مخالفین کے طاعون سے ہلاک ہونے کی خبر آئی۔ اس پر فرمایا کہ

دشمن کی موت سے خوش نہیں ہونا چاہیے بلکہ عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ ہر ایک شخص کا خدا تعالیٰ سے الگ الگ حساب ہے سو ہر ایک کو اپنے اعمال کی اصلاح اور جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔ دوسروں کی موت تمہارے واسطے عبرت اور ٹھوکر سے بچنے کا باعث ہونی چاہیے نہ یہ کہ تم ہنسی ٹھٹھے میں بسر کر کے اور بھی خدا سے غافل ہو جاؤ۔ میں نے ایک جگہ توریت میں دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک جگہ اس میں فرماتا ہے کہ ایک وقت ہوتا ہے کہ جب میں ایک قوم کو اپنی قوم بنانی چاہتا ہوں تو اس کے دشمنوں کو ہلاک کر کے اسے خوش کرتا ہوں۔ مگر اُسی قوم کی بے اعتنائیوں سے ایک وقت پھر ایسا آ جاتا ہے کہ اس کو تباہ کر کے اس کے دشمنوں کو خوش کرتا ہوں۔

کامیاب ہونے والے

فرمایا۔ اعمال دو قسم کے ہوتے ہیں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ دوسروں کی نظر میں نیک اور نمازی وغیرہ ہوتے ہیں مگر ان کا اندر بدیوں اور گناہوں سے بھرا ہوا ہوتا ہے دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا ظاہر و باطن یکساں ہوتا ہے وہ عنداللہ تقویٰ پر قدم مارنے والے ہوتے ہیں۔ مگر ان دونوں سے کامیاب ہونے والے وہی ہوتے ہیں جو عنداللہ متّقی اور خدا کی نظر میں نیک ہوتے ہیں اور ان پر خدا راضی ہوتا ہے صرف لاف زنی کام نہیں آسکتی۔

اس وقت دو قوموں کا آپس میں مقابلہ ہے۔ ایک تو ہمارے مخالف ہیں اور دوسری ہماری جماعت۔ اب خدا تعالیٰ دونوں کے دلوں کو دیکھتا اور ان کے اعمال سے آگاہ ہے۔ وہی جانتا ہے کہ ہماری جماعت اس کی نگاہ میں کیسی ہے اور دشمن کیسے؟ اور وہ ان سے کہاں تک ناراض ہے پس ہر ایک کو چاہیے کہ اپنا حساب خود ٹھیک کر لے چاہیے کہ دوسروں کا ذکر کرتے وقت تقویٰ سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ اپنے اعمال کا خیال ہو کہ کہاں تک ہم خدا کے منشا کو پورا کرنے والے ہیں یا صرف لافیں ہی لافیں ہیں۔ ابھی طاعون موقوف نہیں ہو گئی خدا جانے کب تک اس کا دورہ ہے اور اس نے کیا کچھ دکھانا ہے۔ سات سال سے تو ہم برابر دیکھتے ہیں کہ یوماً فیوماً بڑھتی ہی جاتی ہے اور پیچھے قدم نہیں ہٹاتی ہے۔ ہر سال پہلے کی نسبت سنا جاتا ہے کہ ترقی پر ہے۔

نازک زمانہ

زمانہ ایسا آیا ہوا ہے کہ لوگ اپنے نفس کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں۔ ہزارہا انعامات اور خدا تعالیٰ کے فضل کے نشانات ہیں اور عیش وعشرت میں زندگی بسر کرنے سے تو نفس کو شرم نہ آئی کہ خدا کا بھی حق ادا کرے مگر شاید اس قہری نشان کو دیکھ کر اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں۔ افسوس لوگ انعامات اور احسانات الٰہیہ سے تو شرمندہ نہ ہوئے اب اس عذاب ہی سے ڈر کر سنور جاویں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ایسے ایسے لوگ بھی موجود ہیں کہ مسلمان کہلا کر، مسلمانوں کی اولاد ہو کر اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح گالیاں دیتے ہیں جیسے چوڑھے چمار کسی کو نکالا کرتے ہیں۔ اللہ اور رسول سے ان کو بجز گالیوں کے اور کوئی تعلق ہی نہیں۔ بڑے گندہ دہن اور پرلے درجے کے عیاش، بدمعاش، بھنگی، چرسی، قمار باز وغیرہ بن گئے ہیں۔

اب ایسے لوگوں کی زجر اور توبیخ کے واسطے خدا جوش میں نہ آوے تو کیا کرے۔ خدا غیور بھی ہے وہ شدید العقاب بھی ہے۔ ایسے لوگوں کی اصلاح بھلا بجز عذاب اور قہر الٰہی کے نازل ہونے کے ممکن ہے؟ ہر گز نہیں۔ چونکہ بعض طبائع عذاب ہی سے اصلاح پذیر ہوتی ہیں۔ اس لیے ہر ایک شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جَآءَ اَجَلُہُمۡ لَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ(الاعراف:۳۵) جب عذاب الٰہی نازل ہو جاتا ہے تو پھر وہ اپنا کام کر کے ہی جاتا ہے اور اس آیت سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ قبل از نزول عذاب توبہ واستغفار سے وہ عذاب ٹل بھی جایا کرتا ہے

استغفار کی حقیقت

گناہ ایک ایسا کیڑا ہے جو انسان کے خون میں ملا ہوا ہے مگر اس کا علاج استغفار سے ہی ہو سکتا ہے۔ استغفار کیا ہے؟ یہی جو گناہ صادر ہو چکے ہیں ان کے بد ثمرات سے خدا محفوظ رکھے اور جو ابھی صادر نہیں ہوئے اور جو بالقوہ انسان میں موجود ہیں ان کے صدور کا ہی وقت نہ آوے اور اندر ہی اندر وہ جل بھن کر راکھ ہو جاویں۔

یہ وقت بڑے خوف کا ہے اس لیے توبہ واستغفار میں مصروف ہو اور اپنے نفس کا مطالعہ کرتے رہو۔ ہر مذہب وملّت کے لوگ اور اہل کتاب مانتے ہیں کہ صدقات وخیرات سے عذاب ٹل جاتا ہے مگر قبل از نزول عذاب۔ اور جب نازل ہو جاتا ہے تو ہرگز نہیں ٹلتا۔ پس تم ابھی سے استغفار کرو اور توبہ میں لگ جاؤ تا تمہاری باری ہی نہ آوے اور اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے۔۱؎


۶؍اپریل ۱۹۰۳ء

(مجلس قبل از عشاء)

حقیقت دعا

فرمایا کہ ہمارے دوستوں کو بعض وقت دعا کے متعلق ابتلا پیش آجاتے ہیں اس لیے مناسب معلوم ہوا کہ ان کو دعا کی حقیقت سے اطلاع دی جاوے اور اسی لیے میں نے حقیقت الدعا کے نام سے ایک رسالہ لکھنا شروع کیا ہے مگر چونکہ طبیعت علیل رہی ہے اس لیے ختم نہیں کر سکا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام مدار دعا پر ہی تھا اور ہر ایک مشکل میں آپ دعا کرتے تھے۔ ایک روایت سے ثابت ہے کہ آپ کے گیارہ لڑکے فوت ہو گئے ہیں تو کیا آپ نے ان کے حق میں دعا نہ کی ہوگی؟ آج کل ایک عام غلط فہمی لوگوں کے دلوں میں پڑ گئی ہے اور یہ اس جہالت کے زمانے کی نشانی ہے اکثر لوگ کہا کرتے ہیں کہ فلاں بزرگ، فلاں اولیاء کی ایک پھونک مارنے سے صاحبِ کمال ہو گیا اور فلاں کے ہاتھ سے مُردے زندےہ وئے۔

بیعت اور توبہ

چند ایک احباب نے جو کہ گوجرانوالہ کے ضلع سے حضرت اقدس کی ملاقات کے واسطے تشریف لائے تھے آپ سے ملاقات کی۔ ان سب نے بیعت کی۔ بعد بیعت ان کو حضرت اقدس نے نصیحت فرمائی۔

بیعت میں انسان زبان کے ساتھ گناہ سے توبہ کا اقرار کرتا ہے مگر اس طرح سے اس کا اقرار جائز نہیں ہوتا جب تک دل سے وہ اس اقرار کو نہ کرے۔ یہ خدا تعالیٰ کا بڑا فضل اور احسان ہے کہ جب سچے دل سے توبہ کی جاتی ہے تو وہ اسے قبول کر لیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ(البقرۃ:۱۸۷) یعنی میں توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہوں۔ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ اس اقرار کو جائز قرار دیتا ہے جو کہ سچے دل سے توبہ کرنے والا کرتا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے اس قسم کا اقرار نہ ہوتا تو پھر توبہ کا منظور ہونا ایک مشکل اَمر تھا۔ سچے دل سے جو اقرار کیا جاتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر خدا تعالیٰ بھی اپنے تمام وعدے پورے کرتا ہے جو اُس نے توبہ کرنے والوں کے ساتھ کئے ہیں اور اسی وقت سے ایک نور کی تجلّی اس کے دل میں شروع ہو جاتی ہے۔ جب انسان یہ اقرار کرتا ہے کہ میں تمام گُناہوں سے بچوں گا اور دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا تو اس کے یہ معنی ہیں کہ اگر چہ مجھے اپنے بھائیوں، قریبی رشتہ داروں اور سب دوستوں سے قطع تعلّق ہی کرنا پڑے مگر میں خدا تعالیٰ کو سب سے مقّدم رکھون گا اور اسی کے لئے اپنے تعلقات چھوڑتا ہوں۔ ایسے لوگوں پر خدا کا فضل ہوتا ہے کیونکہ انہی کی تو بہ دلی توبہ ہوتی ہے۔

پھر جو لوگ دل سے دعا کرتے ہیں۔ خدا ان پر رحم کرتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ آسمان، زمین اور سب اشیاء کا خالق ہے ویسے ہی وہ توبہ کا بھی خالق ہے اور اگر اس نے توبہ کو قبول کرنا نہ ہوتا تو وہ اسے پیدا ہی نہ کرتا۔ گناہ سے توبہ کرنا کوئی چھوٹی بات نہیں۔ سچی توبہ کرنے والا خدا سے بڑے بڑے انعام پاتا ہے۔ یہ اولیا، قطب اور غوث کے مراتب اسی واسطے لوگوں کو ملے ہیں کہ وہ توبہ کرنے والے تھے اور خدا تعالیٰ سے ان کا پاک تعلق تھا اس واسطے ہر گز نہیں ہے کہ وہ منطق، فلسفہ اور دیگر علوم طبعیہ وغیرہ سے ماہر تھے۔ جو لوگ خدا تعالیٰ پر بھروسا کرتے ہیں وہ ان بندوں میں داخل ہو جاتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ رحم کرتا ہے۔

اس شرط سے دین کو کبھی قبول نہ کرنا چاہیے کہ میں مالدار ہو جاؤں گا۔ مجھے فلاں عہدہ مل جاوے گا۔ یاد رکھو کہ شرطی ایمان لانے والے سے خدا بیزار ہے۔ بعض وقت مصلحت الٰہی یہی ہوتی ہے کہ دنیا میں انسان کی کوئی مُراد حاصل نہیں ہوتی۔ طرح طرح کے آفات، بلائیں، بیماریاں اور نامُرادیاں لاحق حال ہوتی ہیں مگر ان سے گھبرانا نہ چاہیے۔ موت ہر ایک کے واسطے کھڑی ہے اگر بادشاہ ہو جاوے گا تو کیا موت سے بچ جاوے گا؟ غریبی میں بھی مَرنا ہے۔ بادشاہی میں بھی مَرنا ہے اس لیے سچی توبہ کرنے والے کو اپنے ارادوں میں دنیا کی خواہش نہ ملانی چاہیے۔

خدا تعالیٰ کی یہ عادت ہرگز نہیں ہے کہ جو اس کے حضور عاجزی سے گر پڑے وہ اسے خائب و خاسر کرے اور ذلّت کی موت دیوے جو اس کی طرف آتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ایسی نظیر ایک بھی نہ ملے گی کہ فلاں شخص کا خدا سے سچا تعلق تھا اور پھر وہ نامُراد رہا۔ خدا تعالیٰ بندے سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشیں اس کے حضور پیش نہ کرے اور خالص ہو کر اس کی طرف جھک جاوے جو اس طرح جھکتا ہے اسے کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور ہر ایک مشکل سے خود بخود اس کے واسطے راہ نکل آتی ہے جیسے کہ وہ خود وعدہ فرماتا ہے یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا وَّیَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ(الطلاق:۳، ۴) اس جگہ رزق سے مُراد روٹی وغیرہ نہیں بلکہ عزّت، علم وغیرہ سب باتیں جن کی انسان کو ضرورت ہے اس میں داخل ہیں۔ خدا تعالیٰ سے جو ذرّہ بھر بھی تعلق رکھتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ(الزلزال:۸) ہمارے ملک ہندوستان میں نظام الدین صاحب اور قطب الدین صاحب اولیاء اللہ کی جو عزّت کی جاتی ہے وہ اسی لیے ہے کہ خدا سے ان کا سچا تعلق تھا اور اگر یہ نہ ہوتا تو تمام انسانوں کی طرح وہ بھی زمینوں میں ہل چلاتے۔ معمولی کام کرتے۔ مگر خدا تعالیٰ کے سچے تعلق کی وجہ سے لوگ اُن کی مٹی کی بھی عزّت کرتے ہیں۔

خدا تعالیٰ اپنے بندوں کا حامی ہو جاتا ہے۔ دشمن چاہتے ہیں کہ ان کو نیست و نابود کریں مگر وہ روز بروز ترقی پاتے ہیں اور اپنے دشمنوں پر غالب آتے جاتے ہیں جیسا کہ اس کا وعدہ ہے کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیۡ(المجادلۃ:۲۲) یعنی خدا تعالیٰ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب رہیں گے اوّل اوّل جب انسان خدا تعالیٰ سے تعلق شروع کرتا ہے تو وہ سب کی نظروں میں حقیر اور ذلیل ہوتا ہے مگر جوں جوں وہ تعلقات الٰہی میں ترقی کرتا ہے توں توں اس کی شہرت زیادہ ہوتی ہے حتی کہ وہ ایک بڑا بزرگ بن جاتا ہے جیسے خدا تعالیٰ بڑا ہے اسی طرح جو کوئی اس کی طرف زیادہ قدم بڑھاتا ہے وہ بھی بڑا ہو جاتا ہے حتی کہ آخر کار خدا کا خلیفہ بن جاتا ہے۔

اس توبہ کو کھیل نہ خیال کرو اور یہ نہ کرو کہ اسے یہیں چھوڑ جاؤ بلکہ اسے ایک امانت اللہ تعالیٰ کی خیال کرو۔ توبہ کرنے والا خدا تعالیٰ کی اس کشتی میں سوار ہوتا ہے جو کہ اس طوفان کے وقت اس کے حکم سے بنائی گئی ہے اس نے مجھے فرمایا ہے وَاصۡنَعِ الۡفُلۡکَ وَیَصۡنَعُ الۡفُلۡکَ(ھود:۳۸ تا ۳۹) اور پھر یہ بھی فرمایا ہے اِنَّ الَّذِیۡنَ یُبَایِعُوۡنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوۡنَ اللّٰہَ ؕ یَدُ اللّٰہِ فَوۡقَ اَیۡدِیۡہِمۡ(الفتح:۱۱) جس طرح بادشاہ اپنی رعایا میں اپنے نائب کو بھیجتا ہے پھر جو اس کا مطیع ہوتا ہے اسے بادشاہ کا مطیع سمجھا جاتا ہے ایسا ہی اللہ تعالیٰ بھی اپنے نائب دنیا میں بھیجتا ہے آج کی توبہ ایک بیج ہے جس کے ثمرات تمہارے تک ہی نہ ٹھہریں گے بلکہ اولاد تک بھی پہنچیں گے۔ سچے دل سے توبہ کرنے والوں کے گھر رحمت سے بھر جاتے ہیں۔

دنیوی لوگ اسباب پر بھروسا کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ اس بات کے لیے مجبور نہیں ہے کہ اسباب کا محتاج ہو۔ کبھی چاہتا ہے تو اپنے پیاروں کے لیے بلا اسباب بھی کام کر دیتا ہے اور کبھی اسباب پیدا کر کے کرتا ہے اور کسی وقت ایسا بھی ہوتا ہے کہ بنے بنائے اسباب کو بگاڑ دیتا ہے۔

غرض اپنے اعمال کو صاف کرو اور خدا تعالیٰ کا ہمیشہ ذکر کرو اور غفلت نہ کرو۔ جس طرح بھاگنے والا شکار جب ذرا سُست ہو جاوے تو شکاری کے قابو میں آجاتا ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کے ذکر سے غفلت کرنے والا شیطان کا شکار ہو جاتا ہے۔ توبہ کو ہمیشہ زندہ رکھو اور کبھی مُردہ نہ ہونے دو۔ کیونکہ جس عضو سے کام لیا جاتا ہے وہی کام دے سکتا ہے اور جس کو بیکار چھوڑ دیا جاوے پھر وہ ہمیشہ کے واسطے ناکارہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح توبہ کو بھی محرک رکھوتا کہ وہ بیکار نہ ہو جاوے۔ اگر تم نے سچی توبہ نہیں کی تو وہ اس بیج کی طرح ہے جو پتھر پر بویا جاتا ہے اور اگر وہ سچی توبہ ہے تو وہ اس بیج کی طرح ہے جو عمدہ زمین میں بویا گیا ہے اور اپنے وقت پر پھل لاتا ہے۔ آج کل اس توبہ میں بڑے بڑے مشکلات ہیں۔ اب یہاں سے جا کر تم کو بہت کچھ سننا پڑے گا اور لوگ کیا باتیں بنائیں گے کہ تم نے ایک مجذوم، کافر، دجال وغیرہ کی بیعت کی۔ ایسا کہنے والوں کے سامنے جوش ہرگز مت دکھانا۔ ہم تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر کے واسطے مامور کئے گئے ہیں۔ اس لیے چاہیے کہ تم ان کے لیے دعا کرو کہ خدا ان کو بھی ہدایت دے اور جیسے کہ تم کو امید ہے کہ وہ تمہاری باتوں کو ہرگز قبول نہ کریں گے تم بھی ان سے منہ پھیر لو۔ ہمارے غالب آنے کے ہتھیار استغفار، توبہ، دینی علوم کی واقفیت، خدا کی عظمت کو مد نظر رکھنا اور پانچوں وقت کی نمازوں کو ادا کرنا۔ نماز دعا کی قبولیت کی کنجی ہے جب نماز پڑھو تو اس میں دعا کرو اور غفلت نہ کرو اور ہر ایک بدی سے خواہ وہ حقوق الٰہی کے متعلق، خواہ حقوق العباد کے متعلق ہو بچو۔۱؎

۷؍اپریل ۱۹۰۳ء

(صبح کی سیر)

صحابہؓ کی فضیلت

فرمایا۔ لَّا تُلۡہِیۡہِمۡ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ(النّور:۳۸) یہ ایک ہی آیت صحابہؓ کے حق میں کافی ہے کہ انہوں نے بڑی بڑی تبدیلیاں کی تھیں اور انگریز بھی اس کے معترف ہیں ان کی کہیں نظیر ملنا مشکل ہے۔ بادیہ نشین لوگ اور اتنی بہادری اور جرأت تعجب آتا ہے۔

طاعون کا علاج

طاعون کے علاج کے متعلق ذکر آنے پر فرمایا۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ طاعون کا کوئی قطعی علاج ہو۔ اس کے زور کے وقت اور اس بیماری میں مبتلا شدید کو اگر کوئی دوائی فائدہ کرے تب تو مان لیں۔ جب زہریلے مواد نہایت تیزی سے پیدا ہو رہے ہوں اس وقت کسی دوائی کا عمل دکھلاؤ تو سہی۔ اس کا نسخہ تو محض اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

نسیم توحید

اب خدا کی طرف سے امید ہے کہ وہ دن قریب ہیں کہ ہمارا غلبہ ہو جاوے کیونکہ آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ رفتہ رفتہ لوگ توحید کی طرف رجوع کرتے جاتے ہیں عیسائیوں نے مسیح کی خدائی پر اب اتنا زور دینا چھوڑ دیا ہے۔ ہنود میں آریہ توحید کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ پس یہ ایک ہوا چل پڑی ہے جب ان سب لوگوں نے اپنے اصول چھوڑ دیئے ہیں تو ان کی تو خود کشی ہو رہی ہے۔ جیسے چھ مہینے کے بعد کھیتی کی حالت کچھ اور ہی ہو جاتی ہے اسی طرح ان لوگوں کے عقائد میں بیّن فرق نظر آتا جاتا ہے۔

ایک اکیلے آدمی کا کام ہرگز نہیں کہ کسرِ صلیب کر سکے مگر ہاں جب خدا کا ارادہ اس کے ساتھ ہو تو ہر ملائک اس کی امداد میں کام کرتے ہیں۔

نزوِل مامور

جب مامور، مامور ہو کر آتا ہے تو بے شمار فرشتے اس کے ساتھ نازل ہوتے ہیں اور دلوں میں اس کی طرح نیک اور پاک خیالات کو پیدا کرتے ہیں (جیسے اس سے پہلے شیاطین بُرے خیالات پیدا کیا کرتے ہیں) اور یہ سب مامور کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کیونکہ اسی کے آنے سے یہ تحریکیں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی طرح فرمایا اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الۡقَدۡرِ وَمَاۤ اَدۡرٰٮکَ مَا لَیۡلَۃُ الۡقَدۡرِ(القدر:۲، ۳) خدا تعالیٰ نے مقدر کیا ہوا ہوتا ہے کہ مامور کے زمانہ میں ملائک نازل ہوں۔ کیا یہ کام بغیر امداد الٰہی کہیں ہو سکتا ہے؟ کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ ایک شخص خود بخود اُٹھے اور کسرِ صلیب کر ڈالے۔ نہیں۔ ہاں اگر خدا اسے اُٹھاوے تو وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔

یہ کسرِ صلیب اعزازاً اور اکراماً مسیح موعود کی طرف منسوب کی جاتی ہے ورنہ کرتا تو سب کچھ خدا ہے یہ باتیں عین وقت پر واقع ہوئی ہیں۔ قرآن سے بہ تصریح معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمانہ یہی یہی ہے جس کا نام خدا نے رکھا ہے سِتَّۃِ اَیَّامٍ۔ چھٹے دن کے آخری حصہ میں آدم کا پیدا ہونا ضروری تھا براہین میں اسی کی طرف اشارہ ہے اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَـخَلَقْتُ اٰدَمَ۔ پھر فرمایا یَوۡمًا عِنۡدَ رَبِّکَ کَاَلۡفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ(الحج:۴۸) آج سے پہلے جو ہزار برس گذرا ہے وہ باعتبار بداخلاقیوں اور بداعمالیوں کے تاریکی کا زمانہ تھا کیونکہ وہ فسق و فجور کا زمانہ تھا اسی لیے آنحضرت نے خَیْـرُ الْقُرُوْنِ قَرْنِیْ کہہ کر تین سو برس کو مستثنٰی کر دیا ہے باقی ایک ہزار ہی رہ جاتا ہے ورنہ اس کے بغیر احادیث کی مطابقت ہو ہی نہیں سکتی اور اس طرح ہر پہلی کل کتابوں سے بھی مطابقت ہو جاتی ہے اور وہ بات بھی پوری ہوتی ہے کہ ہزار سال تک شیطان کھلا رہے گا یہ بات بھی کیسی پوری ہوتی ہے اور انگریز بھی اسی واسطے شور مچاتے ہیں کہ یہی زمانہ ہے جس میں ہمارے مسیح کو دوبارہ آنا چاہیے۔ یہ مسئلہ ایسا مطابق آیا ہے کہ کوئی مذہب اس سے انکار کر ہی نہیں سکتا۔ یہ ایک علمی نشان ہے جس سے کوئی گریز نہیں ہو سکتا۔

ایک بھائی کے خواب بیان کرنے پر فرمایا کہ

رؤیا کا اختتام

یہ خواب ایک عجیب بات پر ختم ہوا ہے۔.... شیطان انسان کو طرح طرح کے تمثلات سے دھوکا دینا چاہتا ہے مگر معلوم ہوا کہ تمہارا نتیجہ بہت اچھا ہے کیونکہ اس رؤیا کا اختتام اچھی جگہ پر واقع ہوا ہے۔ ایسا اکثر ہوا کرتا ہے چنانچہ ایک اولیاء اللہ کا تذکرہ لکھا ہے کہ جب ان کا انتقال ہوا تو اُن کا آخری کلمہ یہ تھا کہ ابھی نہیں ابھی نہیں۔ ایک ان کا مرید یہ کلمہ سن کر سخت متعجب ہوا اور رات دن رو رو کر دعائیں مانگنے لگا کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ ایک دن خواب میں ان سے ملاقات ہو گئی۔ دریافت کیا کہ یہ آخری لفظ کیا تھا اور آپ نے کیوں کہا تھا؟ جواب دیا کہ شیطان چونکہ موت کے وقت ہر ایک انسان پر حملہ کرتا ہے کہ اس کا نورِ ایمان آخیر وقت پر چھین لے۔ اس لیے حسبِ معمول وہ میرے پاس بھی آیا اور مجھے مرتد کرنا چاہا اور میں نے جب اس کا کوئی وار چلنے نہیں دیا تو مجھے کہنے لگا کہ تو میرے ہاتھ سے بچ نکلا۔ اس لیے میں نے کہا کہ ابھی نہیں ابھی نہیں یعنی جب تک میں مَر نہ جاؤں مجھے تجھ سے اطمینان حاصل نہیں۔

ایک رؤیا

پھر فرمایا۔ آج رات مجھے بھی خواب آیا ہے نہ معلوم اس کے اصل مفہوم کیا ہیں میں نے اس کے لفظوں سے اجتہادی معنے نکالے ہیں۔ جیسا کہ میں کسی راستہ پر چلا جاتا ہوں۔ گھر کے لوگ بھی ساتھ ہیں اور مبارک احمد کو میں نے گود میں لیا ہوا ہے بعض جگہ نشیب و فراز بھی آ جاتا ہے جیسے کہ دیوار کے برابر چڑھنا پڑتا ہے مگر آسانی سے اُتر چڑھ جاتا ہوں اور مبارک اسی طرح میری گود میں ہے۔ ارادہ ہے کہ ایک مسجد میں جانا ہے۔ جاتے جاتے ایک گھر میں جا داخل ہوئے ہیں۔ گویا وہ گھر ہی مسجد موعود ہے جس کی طرف ہم جا رہے ہیں اندر جا کر دیکھا الحکم جلد۷نمبر۱۵ مورخ ہ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ہ ے کہ ایک عورت بعمر ۱۸سال سفید رنگ وہاں بیٹھی ہے۔ اس کے کپڑے بھگوے رنگ کے ہیں مگر بہت صاف ہیں۔ جب اندر گئے ہیں تو گھر والوں نے کہا ہے کہ یہ احسن کی ہمشیرہ ہے اور یہیں خواب ختم ہو گئی۔۱؎

استفساراوراُن کے جواب۱؎

اہل بیت سے مُراد

سوال۔ اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَیُطَہِّرَکُمۡ تَطۡہِیۡرًا(الاحزاب:۳۴) کس کی شان میں ہے؟ جواب۔ اگر قرآن شریف کو دیکھا جاوے تو جہاں یہ آیت ہے وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں ہی کا ذکر ہے۔ سارے مفسر اس پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُمہات المومنین کی صفت اس جگہ بیان فرماتا ہے دوسری جگہ فرمایا ہے۔ اَلۡخَبِیۡثٰتُ لِلۡخَبِیۡثِیۡنَ(النّور:۲۷) یہ آیت چاہتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے طیبات ہوں۔ ہاں اس میں صرف بیبیاں ہی شامل نہیں بلکہ آپ کے گھر کے رہنے والی ساری عورتیں شامل ہیں اور اس لیے اس میں بنت بھی داخل ہو سکتی ہے بلکہ ہے اور جب فاطمہ رضی اللہ عنہا داخل ہوئیں تو حسنین بھی داخل ہوئے۔ پس اس سے زیادہ یہ آیت وسیع نہیں ہو سکتی جتنی وسیع ہو سکتی تھی ہم نے کر دی کیونکہ قرآن شریف ازواج کو مخاطب کرتا ہے اور بعض احادیث نے حضرت فاطمہؓ اور حسنینؓ کو مطہرین میں داخل کیا ہے پس ہم نے دونوں کو یک جا جمع کر لیا۔ شیعہ نے ازواج مطہرات کو سبّ وشتم سے یاد کیا ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ ایسا کریں گے اس لیے قبل از وقت ان کی برأت کر دی۔

بعض مخالفین کا طاعون سے بچنا

سوال ہوا کہ بعض مخالف کہتے ہیں ہم پر کیوں طاعون نہیں آتی؟ جواب میں فرمایا کہ ایک تنگ دروازہ سے جب لاکھ آدمی گذرنے والا ہے تو کیا وہ سب کے سب ایک ہی دفعہ گذر جائیں گے؟ یا کسی آدمی نے لاکھ آدمی کی دعوت کی ہے تو کیا سب کو ایک دم کھانا کھلاوے گا؟ نہیں بلکہ نوبت بہ نوبت۔ طاعون کا دورہ بہت لمبا ہے ابھی سے کیوں گھبراتے ہیں۔

دو چار موٹے موٹے مخالف اگر جلدی مر جاویں تو پھر خاتمہ ہی ہو جاوے ان مخالفوں کی ہی وجہ سے تو انوار ، برکات اور خوارق کا نزول ہوتا ہے اور ہوگا۔ ابھی بعض کو ہدایت بھی ہوگی اور خدا تعالیٰ کا قانون اسی طرح پر چلا آتا ہے۔

کَیۡفَ تُحۡیِ الۡمَوۡتٰی کی تفسیر

سوال۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو پوچھا رَبِّ اَرِنِیۡ کَیۡفَ تُحۡیِ الۡمَوۡتٰی(البقرۃ:۲۶۱) اس سے کیا غرض ہے؟ جواب۔ اس میں اللہ تعالیٰ کا مطلب جس کو سِرّ الٰہی سمجھنا چاہیے یہ ہے کہ ہر ایک چیز میری آواز سنتی ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مُردوں کے زندہ ہونے پر کوئی شک پیدا نہیں ہوا کیونکہ ہم تو ہر روز دیکھتے ہیں کہ متعفن پانی، اغذیہ میں سے جانور پیدا ہو جاتے ہیں۔ پیٹ میں بچہ پیدا ہو جاتا ہے کیا وہ پہلے مُردہ نہیں ہوتا؟ پس واقعات سے انکار کرنے والا تو بڑا احمق ہوتا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام تو اصل سِر سے واقف ہونا چاہتے تھے۔ پس خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر ایک چیز میری آواز سنتی ہے جیسے پرندے تمہاری آواز سن کر دوڑے چلے آتے ہیں اسی طرح ہر ایک چیز میری آواز سنتی اور میرے پاس دوڑی چلی آتی ہے یہاں تک کہ ادویہ اور اغذیہ جو انسان کے پیٹ میں جاتی ہیں اور ہر ذرّہ ذرّہ میری آواز سنتا ہے پس یہاں اللہ تعالیٰ ایمان اور معرفت کا یقین دلانا چاہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلوق کو خالق سے ایک باریک کشش ہوتی ہے جیسے کسی کا شعر ہے۔

ہمہ را روئے در خدا دیدم

و آں خدا بر ہمہ ترا دیدم

خدا تعالیٰ نے جو ملائکہ کی تعریف کی ہے وہ ہر ایک ذرّہ ذرّہ پر صادق آسکتی ہے جیسے فرمایا مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمۡدِہٖ(بنی اسرآءیل:۴۵) ویسے ملائکہ کی نسبت فرمایا وَیَفۡعَلُوۡنَ مَا یُؤۡمَرُوۡنَ(النحل:۵۱) اس کی تشریح نسیم دعوت میں خوب کر دی ہے۔ ہر ایک ذرّہ ملائکہ میں داخل ہے۔ اگر ان اعلیٰ کی سمجھ نہیں آتی تو پہلے ان چھوٹے چھوٹے ملائک پر نظر ڈال کر دیکھو ملائکہ کا انکار انسان کو دہریہ بنا دیتا ہے۔ غرض اس قصہ میں اللہ تعالیٰ کو یہ دکھانا مقصود ہے کہ ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کی تابع ہے اگر اس سے انکار کیا جاوے تو پھر تو خدا تعالیٰ کا وجود بھی ثابت نہیں ہوسکتا۔ اخیر میں اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز اور حکیم بیان کی ہے یعنی اس کا غلبہ قہری ایسا ہے کہ ہر ایک چیز اس کی طرف رجوع کر رہی ہے بلکہ جب خدا تعالیٰ کا قرب انسان حاصل کرتا ہے تو اس انسان کی طرف بھی ایک کشش پیدا ہو جاتی ہے۔ جس کا ثبوت سورۃ العادیات میں ہے عزیز، حکیم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کا غلبہ حکمت سے بھرا ہوا ہے ناحق کا دکھ نہیں ہے۔۱؎

۹؍اپریل ۱۹۰۳ء

حق وباطل

فرمایا۔ حق اپنے زور اور قوت سے چلتا اور اس کے ساتھ باطل بھی ضرور چلتا ہے لیکن باطل اپنی قوت اور طاقت سے نہیں چلتا بلکہ حق کے پرتو سے چلتا ہے کیونکہ حق چاہتا ہے کہ ساتھ ساتھ کچھ باطل بھی چلے تا کہ تمیز ہو۔ کاذبوں اور منکروں کے وجود سے بہت سی تحریکیں ہو جاتی ہیں۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے دن ہی سارا مکہ اٰمَنَّا وَصَدَّقْنَا کہہ کر ساتھ ہو لیتا تو پھر قرآن شریف کا نزول اسی دن بند ہو جاتا اور وہ اتنی بڑی کتاب نہ ہوتی جس جس قدر زور سے باطل حق کی مخالفت کرتا اسی قدر حق کی قوت اور رفتار تیز ہوتی ہے۔ زمینداروں میں بھی یہ بات مشہور ہے کہ جتنا جیٹھ ہاڑ تپتا ہے اسی قدر ساون میں بارش زیادہ ہوتی ہے یہ ایک قدرتی نظارہ ہے حق کی جس قدر زور سے مخالفت ہواسی قدر وہ چمکتا اور اپنی شوکت دکھاتا ہے۔

ہم نے خود آزما کر دیکھا ہے کہ جہاں جہاں ہماری نسبت زیادہ شور و غل ہوا ہے وہاں ایک جماعت تیار ہوگئی اور جہاں لوگ اس بات کو سن کر خاموش ہو جاتے ہیں وہاں زیادہ ترقی نہیں ہوئی۔ فتح کے لئے اوّل لڑائی کا ہونا ضروری ہے اگر لڑائی نہ ہو تو فتح کا وجود کہاں سے آئے؟ پس اسی طرح اگر حق کی مخالفت نہ ہو تو اس کی صداقت کس طرح کھلے؟

مرکز میں نمازوںکا قصر

نماز کے قصر کرنے کے متعلق سوال کیا گیا کہ جو شخص یہاں آتے ہیں وہ قصر کریں یا نہ؟

فرمایا۔ جو شخص تین دن کے واسطے یہاں آوے اس کے واسطے قصر جائز ہے میری دانست میں جس سفر میں عزم سفر ہو پھر خواہ وہ تین چار کوس ہی کا سفر کیوں نہ ہو اس میں قصر جائز ہے۔ یہ ہماری سیر سفر نہیں ہے۔ ہاں اگر امام مقیم ہو تو اس کے پیچھے پوری ہی نماز پڑھنی پڑے گی۔ حکام کا دورہ سفر نہیں ہو سکتا۔ وہ ایسا ہے جیسے کوئی اپنے باغ کی سیر کرتا ہے۔ خواہ نخواہ قصر کرنے کا تو کوئی وجود نہیں۔ اگر دوروں کی وجہ سے انسان قصر کرنے لگے تو پھر یہ دائمی قصر ہوگا جس کا کوئی ثبوت ہمارے پاس نہیں ہے۔ حکام کہاں مسافر کہلا سکتے ہیں۔ سعدیؒ نے بھی کہا ہے۔

منعم بکوہ و دشت و بیاباں غریب نیست

ہر جا کہ رفت خیمہ زد و خوابگاہ ساخت

نکاح پرباجا اور آتش بازی

نکاح پر باجا بجانے اور آتش بازی چلانے کے متعلق سوال ہوا۔

فرمایا۔ ہمارے دین میں دین کی بنا یسر پر ہے عسر پر نہیں اور پھر اِنَّـمَا الْاَعْـمَالُ بِالنِّیَّاتِ ضروری چیز ہے باجوں کا وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نہ تھا۔ اعلان نکاح جس میں فسق و فجور نہ ہو جائز ہے بلکہ بعض صورتوں میں ضروری شَے ہے کیونکہ اکثر دفعہ نکاحوں کے متعلق مقدمات تک نوبت پہنچتی ہے اور پھر وراثت پر اثر پڑتا ہے۔ اس لیے اعلان کرنا ضروری ہے مگر اس میں کوئی ایسا اَمر نہ ہو جو فسق و فجور کا موجب ہو۔ رنڈی کا تماشا، آتش بازی فسق و فجور اور اسراف ہے۔ یہ جائز نہیں۔

باجے کے ساتھ اعلان پر پوچھا گیا کہ جب برات لڑکے والوں کے گھر سے چلتی ہے کیا اسی وقت سے باجا بجتا جاوے یا نکاح کے بعد؟

فرمایا۔ ایسے سوالات اور جزی دَر جزی نکالنا بے فائدہ ہے۔ اپنی نیت کو دیکھو کہ کیا ہے اگر اپنی شان و شوکت دکھانا مقصود ہے تو فضول ہے اور اگر یہ غرض ہے کہ نکاح کا صرف اعلان ہو تو اگر گھر سے بھی باجا بجتا ہ ے و ہ بھی ایک اعلان ہی ہوتا ہے۔

نیک نیتی میں برکت ہے

ایک زرگر کی طرف سے سوال ہوا کہ پہلے ہم زیوروں کے بنانے کی مزدوری کم لیتے تھے اور ملاوٹ ملا دیتے تھے۔ اب ملاوٹ چھوڑ دی ہے اور مزدوری زیادہ مانگتے ہیں تو بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم مزدوری وہی دیں گے جو پہلے دیتے تھے تم ملاوٹ ملا لو۔ ایسا کام ہم ان کے کہنے سے کریں یا نہ کریں؟

فرمایا۔ کھوٹ والا کام ہرگز نہیں کرنا چاہیے اور لوگوں کو کہہ دیا کرو کہ اب ہم نے توبہ کر لی ہے جو ایسا کہتے ہیں کہ کھوٹ ملا دو وہ گناہ کی رغبت دلاتے ہیں۔ پس ایسا کام ان کے کہنے پر بھی ہرگز نہ کرو۔ برکت دینے والا خدا ہے اور جب آدمی نیک نیتی کے ساتھ ایک گناہ سے بچتا ہے تو خدا ضرور برکت دیتا ہے۔

مُردے اور اسقاط

پھر سوال ہوا کہ ملّاں لوگ مُردہ کے پاس کھڑے ہو کر اسقاط کراتے ہیں کیا اس کا کوئی طریق جائز ہے؟

فرمایا۔ اس کا کہیں ثبوت نہیں ہے۔ مُلّاؤں نے ماتم اور شادی میں بہت سی رسمیں پیدا کر لی ہیں۔ یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔

مقدمات میں مصنوعی گواہ بنانا

ایک مختار عدالت نے سوال کیا کہ بعض مقدمات میں اگر چہ وہ سچا اور صداقت پر ہی مبنی ہو مصنوعی گواہوں کا بنانا کیسا ہے؟

فرمایا۔ اوّل تو اس مقدمہ کے پیروکار بنو جو بالکل سچا ہو۔ یہ تفتیش کر لیا کرو کہ مقدمہ سچا ہے یا جھوٹا۔ پھر سچ آپ ہی فروغ حاصل کرے گا۔ دوم گواہوں سے آپ کا کچھ واسطہ ہی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ موکل کا کام ہے کہ وہ گواہ پیش کرے۔ یہ بہت ہی بُری بات ہے کہ خود تعلیم دی جاوے کہ چند گواہ تلاش کر لاؤ اور ان کو یہ بات سکھا دو۔ تم خود کچھ بھی نہ کہو۔ موکل خود شہادت پیش کرے خواہ وہ کیسی ہی ہو۔

ہادت پیش کرے خواہ وہ کیسی ہی ہو۔ ہر صحیح بات کا ا ظہار ضروری نہیں

پھر سوال ہوا کہ بعض باتیں واقع میں صحیح ہوتی ہیں مگر مصلحتِ وقت اور قانون ان کے اظہار کا مانع ہوتا ہے تو کیا ہم تَکۡتُمُوا الشَّہَادَۃَ(البقرۃ:۲۸۴) کے موافق ظاہر کر دیا کریں؟ فرمایا۔ یہ بات اس وقت ہوتی ہے جب آدمی آزاد بالطبع ہو۔ دوسری جگہ یہ بھی تو فرمایا ہے تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ(البقرۃ:۱۹۶) قانون کی پابندی ضروری شَے ہے۔ جب قانون روکتا ہے تو رکنا چاہیے جب کہ بعض جگہ اخفائِ ایمان بھی کرنا پڑتا ہے تو جہاں قانون بھی مانع ہو وہاں کیوں اظہار کیا جاوے؟ جس راز کے اظہار سے خانہ بربادی اور تباہی آتی ہو وہ اظہار کرنا منع ہے۔

نتائج نیت پر مترتّب ہوتے ہیں

مکرر آتش بازی کے متعلق فرمایا کہ اس میں ایک جزو گندھک کا بھی ہوتا ہے اور گندھک وبائی ہوا صاف کرتی ہے۔ چنانچہ آج کل طاعون کے ایام میں مثلاً انار بہت جلد ہوا کو صاف کرتا ہے اگر کوئی شخص صحیح نیت اصلاحِ ہوا کے واسطے ایسی آتش بازی جس سے کوئی خطرہ نقصان کا نہ ہو چلاوے تو ہم اس کو جائز سمجھتے ہیں۔ مگر یہ شرط اصلاح نیت کے ساتھ ہو۔ کیونکہ تمام نتائج نیت پر مترتّب ہوتے ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ صحابی نے گھر بنوایا اور آپؐ کو مجبور کیا کہ آپؐ اس میں قدم ڈالیں۔ آپ نے اس مکان کو دیکھا۔ اس کے ایک طرف کھڑکی تھی۔ آپ نے دریافت کیا کہ یہ کس لیے بنائی ہے؟ اس نے عرض کیا کہ ٹھنڈی ہوا کے آنے کے واسطے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تو اذان سننے کے واسطے اس کی نیت رکھتا تو ہوا تو آ ہی جاتی اور تیری نیت کا ثواب بھی تجھے مِل جاتا۔۱؎

الحکم جلد۷نمبر۱۵ مورخہ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ

(مجل س قبل از عشاء)

توحید اور اسباب پرستی

اوّل طاعون کے ٹیکہ کے متعلق بہت دیر تک گفتگو ہوتی رہی اس کے بعد توحید کا ذکر چل پڑا۔ فرمایا کہ توحید اس کا نام نہیں کہ صرف زبان سے اَشْہَدُ اَنْ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہہ لیا۔ بلکہ توحید کے یہ معنے ہیں کہ عظمتِ الٰہی بخوبی دل میں بیٹھ جاوے اور اس کے آگے کسی دوسری شئے کی عظمت دل میں جگہ نہ پکڑے۔ ہر ایک فعل اور حرکت اور سکون کا مرجع اللہ تعالیٰ کی پاک ذات کو سمجھا جاوے اور ہر ایک اَمر میں اسی پر بھروسہ کیا جاوے کسی غیر اللہ پر کسی قسم کی نظر اور توکّل ہرگز نہ رہے اور خدا کی ذات میں اور صفات میں کسی قسم کا شرک جائز نہ رکھا جاوے۔

اس وقت مخلوق پرستی کے شرک کی حقیقت تو کُھل گئی ہے اور لوگ اس سے بیزاری ظاہر کر رہے ہیں اس لئے یورپ وغیرہ تمام بلاد میں عیسائی لوگ ہر روز اپنے مذہب سے متنفر ہو رہے ہیں۔ چنانچہ روزمرّہ کے اخباروں، رسالوں اور اشتہاروں سے جو یہاں پڑھے جاتے ہیں اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔

الغرض مخلوق پرستی کو اب کوئی نہیں مانتا۔ ہاں اسباب پرستی کا شرک اس قسم کا شرک ہے کہ اس کو بہت لوگ نہیں سمجھتے۔ مثلاً کسان کہتا ہے کہ میں جب تک کھیتی نہ کروں گا اور وہ پھل نہ لائے گی تب تک گذارہ نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح ہر ایک پیشہ والے کو اپنے پیشے پر بھروسہ ہے اور انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اگر ہم یہ نہ کریں تو پھر زندگی محال ہے۔ اس کا نام اسباب پرستی ہے اور یہ اس لئے ہے کہ خدا کی قدرتوں پر ایمان نہیں ہے پیشہ وغیرہ تو درکنار پانی، ہوا، غذا وغیرہ جن اشیاء پر مدارِ زندگی ہے یہ بھی انسان کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے جب تک خدا تعالیٰ کا اذن نہ ہو۔ اسی لئے جب انسان پانی پیے تو اسے خیال کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کو پیدا کیا ہے اور پانی نفع نہیں پہنچا سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا ارادہ نہ ہو۔ خدا کے ارادے سے پانی نفع دیتا ہے اور جب خدا چاہتا ہے تو وہی پانی ضرر دیتا ہے۔

ایک شخص نے ایک دفعہ روزہ رکھا جب افطار کیا تو پانی پیتے ہی لیٹ گیا اس کے لئے پانی ہی نے زہر کا کام کیا۔

جو کام ہے خواہ معاشرت کا خواہ کوئی اور جب تک اس میں آسمان سے برکت نہ پڑے تب تک مبارک نہیں ہوتا۔ غرض کہ اللہ کے تصرفات پر کامل یقین چاہیے جس کا یہ ایمان نہیں ہے اس میں دہریت کی ایک رگ ہے پہلے ایک اَمر آسمان پر ہو رہتا ہے تب زمین پر ہوتا ہے۔

لاف و گزاف کا نام توحید نہیں مولویوں کی طرف دیکھو کہ دوسروں کو وعظ کرتے ہیں اور آپ کچھ عمل نہیں کرتے اسی لیے اب ان کا کسی قسم کا اعتبار نہیں رہا ہے۔ ایک مولوی کا ذکر ہے کہ وہ وعظ کر رہا تھا سامعین میں اس کی بیوی بھی موجود تھی انفاق، صدقہ، خیرات اور مغفرت کا وعظ اس نے کیا جس سے مؤثر ہو کر ایک عورت نے پاؤں سے ایک پازیب اتار کر واعظ صاحب کو دے دی جس پر واعظ صاحب نے کہا تو چاہتی ہے کہ تیرا دوسرا پاؤں دوزخ میں جلے؟ یہ سن کر اس نے دوسری بھی دے دی جب گھر میں آئے تو بیوی نے بھی اس وعظ پر عملدرآمد چاہا کہ محتاجوں کو کچھ دے مولوی صاحب نے فرمایا کہ یہ باتیں سنانے کی ہوتی ہیں کرنے کی نہیں ہوتیں اور کہا کہ اگر ایسا کام ہم نہ کریں تو گذارہ نہیں ہوتا انہیں کے متعلق یہ ضرب المثل خوب ہے۔

واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر میکنند

چوں بہ خلوت می روند آں کار دیگر میکنند

تعبیر رؤیا

مُردہ کو کلمہ پڑھتے سننا یعنی دین کا دوبارہ سرسبز ہونا۔ بڑ یعنی بوہڑ کے درخت سے مُراد نصاریٰ کا دین ہے کہ جس کی عظمت اور سرکشی تو بہت ہے مگر پھل ندارد۔۱؎


۱۰؍اپر یل ۱۹۰۳ء

بعد از نماز جمعہ چند اشخاص نے بیعت کی جس پر حضرت اقدس نے ذیل کی تقریر فرمائی۔

بیعتِ توبہ

اس وقت جو تم بیعت کرتے ہو یہ بیعت توبہ ہے اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ جو کوئی توبہ کرے گا اس کے گناہ بخش دوں گا گناہ کے یہ معنے ہیں کہ انسان دیدہ دانستہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے اور ان تمام احکام کے برخلاف کرے جس کا حکم اللہ نے دیا ہے اور ان باتوں کو کرے جن کے کرنے سے منع فرمایا ہے گناہ ایسی چیز ہے کہ جس کا نتیجہ اس دنیا میں بھی بد ملتا ہے اور آخرت میں بھی۔

جب انسان توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو فراموش کر دیتا ہے اور تائب کو بے گناہ سمجھتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ تائب اپنی توبہ پر قائم رہے بہت لوگ ہیں کہ توبہ کر کے بھول جاتے ہیں مثلاً حج کرنے والے حج کر کے آتے ہیں اور واپس آ کر چند دنوں کے بعد پھر سابقہ بدیوں میں گرفتار ہو جاتے ہیں تو ان کے ایسے حج سے کیا فائدہ؟ خدا تعالیٰ گناہوں سے ہمیشہ بیزار ہے اس لیے انسان کو گناہ سے ہمیشہ بچنا چاہیے جو شخص اس بات پر قادر ہے کہ گناہ چھوڑ دے اور پھر نہ چھوڑے تو خدا تعالیٰ ایسے شخص کو ضرور پکڑے گا اگر تم چاہتے ہو کہ اس توبہ کے درخت سے پھل کھاؤ اور تمہارے گھر وباؤں سے بچے رہیں تو چاہیے کہ سچی توبہ کرو۔

خدا تعالیٰ اپنی سنّت کو نہیں بدلا کرتا جیسے قرآن شریف میں ہے وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا(فاطر:۴۴) اور جو انسان ذرا سی بھی نیکی کرتا ہے تو خدا اسے ضائع نہیں کرتا اسی طرح جو ذرّہ بھر بدی کرتا ہے اس پر بھی خدا تعالیٰ مواخذہ کرتا ہے پس جب یہ حالت ہے تو گناہ سے بہت بچنا چاہیے۔

گناہ کی پروا نہ کرنی

بعض لوگ گناہ کرتے ہیں اور پھر اس کی پروا نہیں کرتے گویا گناہ کو ایک شیریں شربت کی مثال خیال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے کوئی نقصان نہ ہو گا مگر یاد رکھیں کہ جیسے خدا تعالیٰ بڑا غفور اور رحیم ہے ویسے ہی وہ بڑا بے نیاز بھی ہے جب وہ غضب میں آتا ہے تو کسی کی پروا نہیں کرتا وہ فرماتا ہے وَلَا یَخَافُ عُقۡبٰہَا(الشّمس:۱۶) یعنی کسی کی اولاد کی بھی اسے پروا نہیں ہوتی کہ اگر فلاں شخص ہلاک ہو گا تو اس کے یتیم بے کس بچے کیا کریں گے آج کل دیکھو یہی حالت ہو رہی ہے آخر کار ایسے بچے پادریوں کے ہاتھ پڑ جاتے ہیں اس لیے گناہ کر کے کبھی بے پروا مت ہو اور ہمیشہ توبہ کرو۔

نماز اور دعا کا حق

یہ مت خیال کرو کہ جو نماز کا حق تھا ہم نے ادا کر لیا یا دعا کا جو حق تھا وہ ہم نے پورا کیا ہرگز نہیں دعا اور نماز کے حق کا ادا کرنا چھوٹی بات نہیں یہ تو ایک موت اپنے اوپر وارد کرنی ہے نماز اس بات کا نام ہے کہ جب انسان اسے ادا کرتا ہو تو یہ محسوس کرے کہ اس جہان سے دوسرے جہان میں پہنچ گیا ہوں۔ بہت سے لوگ ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ پر الزام لگاتے ہیں اور اپنے آپ کو بری خیال کر کے کہتے ہیں کہ ہم نے تو نماز بھی پڑھی اور دعا بھی کی ہے مگر قبول نہیں ہوتی یہ ان لوگوں کا اپنا قصور ہوتا ہے۔ نماز اور دعا، جب تک انسان غفلت اور کسل سے خالی نہ ہو تو وہ قبولیت کے قابل نہیں ہوا کرتی۔ اگر انسان ایک ایسا کھانا کھائے جو کہ بظاہر تو میٹھا ہے مگر اس کے اندر زہر ملی ہوئی ہے تو مٹھاس سے وہ زہر معلوم تو نہ ہوگا مگر پیشتر اس کے کہ مٹھاس اپنا اثر کرے زہر پہلے ہی اثر کر کے کام تمام کر دے گا یہی وجہ ہے کہ غفلت سے بھری ہوئی دعائیں قبول نہیں ہوتیں کیونکہ غفلت اپنا اثر پہلے کر جاتی ہے یہ بات بالکل ناممکن ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا بالکل مطیع ہو اور پھر اس کی دعا قبول نہ ہو ہاں یہ ضروری ہے کہ اس کے مقررہ شرائط کو کامل طور پر ادا کرے جیسے ایک انسان اگر دُور بین سے دور کی شَے نزدیک دیکھنا چاہے تو جب تک وہ دُور بین کے آلہ کو ٹھیک ترتیب پر نہ رکھے فائدہ نہیں اٹھا سکتا یہی حال نماز اور دعا کا ہے اسی طرح ہر ایک کام کی ایک شرط ہے جب وہ کامل طور پر ادا ہو تو اس سے فائدہ ہوا کرتا ہے اگر کسی کو پیاس لگی ہو اور پانی اس کے پاس بہت سا موجود ہے مگر وہ پیے نہ تو فائدہ نہیں اٹھا سکتا یا اگر اس میں سے ایک دو قطرہ پیے تو کیا ہوگا؟ پوری مقدار پینے سے ہی فائدہ ہو گا غرضیکہ ہر ایک کام کے واسطے خدا نے ایک حد مقرر کی ہے جب وہ اس حد پر پہنچتا ہے تو بابرکت ہوتا ہے اور جو کام اس حد تک نہ پہنچیں تو وہ اچھے نہیں کہلاتے اور نہ ان میں برکت ہوتی ہے۔

عاجزی

عاجزی اختیار کرنی چاہیے عاجزی کا سیکھنا مشکل نہیں ہے اس کا سیکھنا ہی کیا ہے انسان تو خود ہی عاجز ہے اور وہ عاجزی کے لیے ہی پیدا کیا گیا ہے خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ(الذّٰریٰت:۵۷) تکبر وغیرہ سب بناوٹی چیزیں ہیں اگر وہ اس بناوٹ کو اتار دے تو پھر اس کی فطرت میں عاجزی ہی نظر آوے گی اگر تم لوگ چاہتے ہو کہ خیریت سے رہو اور تمہارے گھروں میں امن رہے تو مناسب ہے کہ دعائیں بہت کرو اور اپنے گھروں کو دعاؤں سے پر کرو جس گھر میں ہمیشہ دعا ہوتی ہے خدا اسے برباد نہیں کیا کرتا لیکن جو سستی میں زندگی بسر کرتا ہے اسے آخر فرشتے بیدار کرتے ہیں۔ اگر تم ہر وقت اللہ کو یاد رکھو گے تو یقین رکھو کہ اللہ کا وعدہ بہت پکا ہے وہ کبھی تم سے ایسا سلوک نہ کرے گا جیسا کہ فاسق فاجر سے کرتا ہے خدا کو کوئی ضرورت نہیں کہ تم کو عذاب دیوے بشرطیکہ تم ایمان لاؤ اور شکر کرو۔ انسان کو عذاب ہمیشہ گناہ کے باعث ہوتا ہے خدا فرماتا ہے اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ(الرّعد:۱۲) اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی نہ کرے جب تک انسان اپنے آپ کو صاف نہ کرے تب تک خدا عذاب کو دور نہیں کرتا ہے۔

یہ دنیا خود بخود نہیں ہے اس کے لیے ایک خالق ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مرضی سے ہو رہا ہے بغیر اس کی رضا کے ایک ذرّہ حرکت نہیں کر سکتا جو اللہ تعالیٰ سے ترساں رہے گا وہ خود محسوس کرے گا کہ اس میں ایک فرقان (فرق کرنے والی شَے دوسروں سے) پیدا ہو گیا ہے مگر شرط یہ ہے کہ شیطانی سیرت کا انسان نہ ہو۔ تکالیف تو نبیوں پر بھی آتی ہیں مگر وہ عام لوگوں کی طرح نہیں بلکہ ان کے لیے وہ باعث برکت ہوتی ہیں۔

دغا باز آدمی کی نماز قبول نہیں ہوتی وہ اس کے منہ پر ماری جاتی ہے کیونکہ وہ دراصل نماز نہیں پڑھتا بلکہ خدا کو رشوت دینا چاہتا ہے مگر خدا کو اس سے نفرت ہوتی ہے کیونکہ وہ رشوت کو خود پسند نہیں کرتا۔

نماز کوئی ایسی ویسی شَے نہیں ہے بلکہ یہ وہ شَے ہے جس میں اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ(الفاتحۃ:۶) جیسی دعا کی جاتی ہے اس دعا میں یہ بتلایا گیا ہے کہ جو لوگ برے کام کرتے ہیں ان پر دنیا میں خدا کا غضب آتا ہے۔ الغرض اللہ تعالیٰ کو خوش کرنا چاہیے جو کام ہوتا ہے اس کے ارادے سے ہوتا ہے۔ چنانچہ طاعون بھی اسی کے حکم سے آئی ہے یہ دنیا سے رخصت نہ ہوگی جب تک ایک تغیر عظیم پیدا نہ کر لے جو اس سے نہیں ڈرتا وہ بڑا بد بخت ہے اور اس کے استیصال کے لیے ایک ہی راہ ہے وہ یہ کہ اپنے آپ کو پاک کرو کیونکہ اگر پاک ہو کر مَر بھی جاوے گا تو بھی بہشت کو پہنچے گا۔ مَرنا تو سب نے ہے مومن نے بھی اور کافر نے بھی مگر مومن اور کافر کی موت میں خدا فرق کر دیتا ہے۔

دیکھو ان باتوں کو منتر جنتر نہ سمجھو اور یہ خیال نہ کرو کہ یونہی فائدہ ہو جاوے گا جیسے کہ بھوکے کے سامنے روٹیوں کا انبار فائدہ نہیں دیتا جب تک کہ وہ نہ کھاوے اسی طرح آج کے اقرار کے مطابق جب تک کوئی اپنے آپ کو گناہ سے نہ بچاوے گا اسے برکت نہ ہو گی یاد رکھو کہ میں اس بات پر شاہد ہوں کہ میں نے تم کو سمجھا دیا ہے۔

اب تم کو چاہیے کہ برائیوں سے بچنے کے واسطے خدا تعالیٰ سے دعا کرو تا کہ بچے رہو۔ جو شخص بہت دعا کرتا ہے اس کے واسطے آسمان سے توفیق نازل کی جاتی ہے کہ گناہ سے بچے اور دعا کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گناہ سے بچنے کے لیے کوئی نہ کوئی راہ اسے مل جاتی ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا(الطلاق:۳) یعنی جو امور اسے کشاں کشاں گناہ کی طرف لے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان امور سے بچنے کی توفیق اسے عطا فرماتا ہے۔ قرآن کو بہت پڑھنا چاہیے اور پڑھنے کی توفیق خدا سے طلب کرنی چاہیے کیونکہ محنت کے سوا انسان کو کچھ نہیں ملتا۔ کسان کو دیکھو کہ جب وہ زمین میں ہل چلاتا ہے اور قسم قسم کی محنت اٹھاتا ہے تب پھل حاصل کرتا ہے مگر محنت کے لیے زمین کا اچھا ہونا شرط ہے اسی طرح انسان کا دل بھی اچھا ہو سامان بھی عمدہ ہو سب کچھ کر بھی سکے تب جا کر فائدہ پاوے گا لَّیۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی(النجم:۴۰) دل کا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط باندھنا چاہیے جب یہ ہو گا تو دل خود خدا سے ڈرتا رہے گا اور جب دل ڈرتا رہتا ہے تو خدا کو اپنے بندے پر خود رحم آ جاتا ہے اور پھر تمام بلاؤں سے اسے بچاتا ہے۔

گناہ سے بچو۔ نماز ادا کرو۔ دین کو دنیا پر مقدم رکھو۔ خدا کا سچا غلام وہی ہوتا ہے جو دین کو دنیا پر مقدم رکھتا ہے۔

لقاءِ الٰہی کا واسطہ قرآن اور آنحضرتؐ ہیں

ہر ایک شخص کو خود بخود خدا سے ملاقات کرنے کی طاقت نہیں ہے اس کے واسطے، واسطہ ضرور ہے اور وہ واسطہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس واسطے جو آپؐ کو چھوڑتا ہے وہ کبھی بامُراد نہ ہوگا۔ انسان تو دراصل بندہ یعنی غلام ہے۔ غلام کا کام یہ ہوتا ہے کہ مالک جو حکم کرے اسے قبول کرے اسی طرح اگر تم چاہتے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض حاصل کرو تو ضرور ہے کہ اس کے غلام ہو جاؤ۔ قرآن کریم میں خدا فرماتا ہے قُلۡ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ(الزّمر:۵۴) اس جگہ بندوں سے مُراد غلام ہی ہیں نہ کہ مخلوق۔ رسول کریمؐ کے بندہ ہونے کے واسطے ضروری ہے کہ آپ پر درود پڑھو اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرو۔ سب حکموں پر کاربند رہو جیسے کہ حکم ہے قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ(اٰل عمران:۳۲) یعنی اگر تم خدا سے پیار کرنا چاہتے ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے فرمان بردار بن جاؤ اور رسول کریم کی راہ میں فنا ہو جاؤ تب خدا تم سے محبت کرے گا۔ جب لوگ بدعتوں پر عمل کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ کیا کریں دنیا سے چھٹکارا نہیں ملتا یا کہتے ہیں کہ ناک کٹ جاتی ہے۔ ایسے وقت میں گویا انسان خدا تعالیٰ کے اس فرمان کو چھوڑتا ہے جو رسول کریم کی اطاعت کا ہے اور خیال کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ سے محبت کرنا بے فائدہ ہے۔۱؎


۱۱؍اپریل ۱۹۰۳ء

(صبح کی سیر)

دلیلِ صداقت

فرمایا۔ جب ہمیں یہ الہام ہوا تھا وَاصۡنَعِ الۡفُلۡکَ بِاَعۡیُنِنَا وَوَحۡیِنَا(ھود:۳۸) اس وقت تو ایک شخص بھی ہمارا مرید نہ تھا۔ اگر یہ سلسلہ من عند غیر اللہ ہوتا تو آج تک الٰہی بخش کی طرح بیکار ہی پڑا رہتا۔ کیا یہ ثبوت کافی نہیں؟ الٰہی بخش تو میرے الہامات کے پیچھے پیچھے چلتا ہے۔ ایسا کیوں کرتا ہے کہ الہام ہمارے سالہا سال سے شائع ہو چکے ہیں ان کی اب نقل کرتا ہے۔ اصل میں جس طرح درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اسی طرح حق اپنے انوار سے شناخت کیا جاتا ہے۔ اسی طرح یَا مَسِیْحَ الْـخَلْقِ عَدْوَانَا اس وقت سے چھپا ہوا اور شائع شدہ ہے جبکہ طاعون کا کہیں نام و نشان بھی نہ تھا اور اب آج طاعون کی وجہ سے لوگ آتے اور زبانِ حال سے کہتے ہیں یَا مَسِیْحَ الْـخَلْقِ عَدْوَانَا اور اکثر اپنے خطوں میں لکھتے ہیں۔ اب یا تو یہ ثابت کرو کہ یہ الہام ہمارا من گھڑت ہے اور ہم نے اپنی کوشش سے چند لوگوں کو اس کے مکمل کرنے کے واسطے ملا لیا ہے یا یہ قبول کرو کہ یہ جو دو دو اور چار چار سو آدمی یکدم بیعت کرتے ہیں یہ خدا کی تائید ہے۔

جس زور کے طاعون کی وجہ سے لوگ اس سلسلہ میں داخل ہو رہے ہیں اس طرح کسی کو یقین چھوڑ وَہم بھی نہ تھا کیونکہ یہ الہام اس وقت کا ہے جب ان لوگوں کا نام ونشان بھی نہ تھا۔ اس لیے ان تمام ناموں کو محفوظ رکھا جاوے اور اگر ان لوگوں کا الگ رجسٹر نہ ہو تو رجسٹر بیعت ہی میں سُرخی کے ساتھ ان کو درج کیا جاوے۔

کنچنی کی مسجد میں نماز

ایک شخص کے سوال پر فرمایا کہ کنچنی کی بنوائی ہوئی مسجد میں نماز درست نہیں ہے۔

طریقِ ادب سے بعید سوالات

پھر ایک شخص نے پوچھا کیا قیامت کے دن بھی ہماری جماعت اسی طرح آپ کے آگے پیچھے ہوگی؟ فرمایا۔ یہ تفصیلیں نہیں ہوسکتی ہیں۔ ایسے سوال طریقِ ادب سے بعید ہیں۔ یہ بات اللہ تعالیٰ پر چھوڑو۔

حق کی چارہ جوئی

سوال ہوا کہ مخالف ہم کو مسجد میں نماز پڑھنے نہیں دیتے حالانکہ مسجد میں ہمارا حق ہے۔ ہم ان سے بذریعہ عدالت فیصلہ کرلیں؟ فرمایا۔ ہاں اگر کوئی حق ہے تو بذریعہ عدالت چارہ جوئی کرو۔ فساد کرنا منع ہے۔ کوئی دنگہ فساد نہ کرو۔

مخالف کے گھر کی چیز کھانا

سوال ہوا کہ کیا مخالفوں کے گھر کی چیز کھالیویں یا نہ؟ فرمایا۔ نصاریٰ کی پاک چیزیں بھی کھالی جاتی ہیں۔ ہندوؤں کی مٹھائی وغیرہ بھی ہم کھا لیتے ہیں پھر ان کی چیز کھالینا کیا منع ہے۔

مخالف سے حسنِ معاشرت

ہاں میں تو نماز سے منع کرتا ہوں کہ ان کے پیچھے نہ پڑھو۔ اس کے سوا ئے دنیاوی معاملات میں بے شک شریک ہو۔ احسان کرو، مروّت کرو اور ان کو قرض دو اور ان سے قرض لو اگر ضرورت پڑے اور صبر سے کام لو۔ شائد کہ اس سے سمجھ بھی جاویں۔

نماز کی اہمیت

ایک شخص نے عرض کی کہ میرے لیے دعا کرو کہ نماز کی توفیق اور استقامت ملے۔ فرمایا۔ حقیقت میں جو شخص نماز کو چھوڑتا ہے وہ ایمان کو چھوڑتا ہے اس سے خدا کے ساتھ تعلقات میں فرق آ جاتا ہے۔ اس طرف سے فرق آیا تو معاً اُس طرف سے بھی فرق آ جاتا ہے۔

سر پر ہاتھ رکھنا

پھر اسی شخص نے عرض کی کہ میرے سر پر ہاتھ رکھو آپ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا اور اس طرح پر اخلاقِ فاضلہ کا ثبوت دیا۔۱؎

(دربارِ شام)

تکمیلِ ایمان کا ذریعہ

اصل میں ایمان کے کمالِ تام کا ذریعہ الہاماتِ صحیحہ اور پیشگوئی ہوتے ہیں۔ ایمان کبھی قصوں کہانیوں سے ترقی نہیں پکڑتے۔ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ انسان جس مذہب میں پیدا ہوتا ہے۔ جس راہ و رسم کا پابند اپنے آباؤ اجداد کو پاتا ہے اکثر اسی کا پابند ہوا کرتا ہے۔ اگر ایک بت پرست کے گھر میں پیدا ہوا ہو تو بت پرستی ہی اس کا شیوہ ہوگا اور اگر ایک عیسائی کے ہاں اس نے تربیت پائی ہے تو وہی خُو بُو اس میں پائی جاوے گی۔ مگر اس کے مسائل اور اس کی بنیاد، عقائد کا بہت سا حصہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کی عقل و فہم میں کچھ بھی نہیں آیا ہوتا۔ صرف لکیر کا فقیر ہوتا ہے بچپن اور اوائل عمر میں تو کیا کوئی ان مذاہب کی حقیقت سے آگاہ ہوگا۔ عیسویت کے حامی تو اگر ان سے کوئی پوری تعلیم کا پورا جوان عاقل بالغ بھی ان کی تثلیث کے راز کو پوچھے تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ راز ہے جو ایشیائی دماغ کی بناوٹ کے لوگوں کی سمجھ سے بالاتر ہے اور یہی حال بُت پرست کا ہے۔

اسلام کی حقانیت

ہاں البتہ اسلام ایک دنیا میں ایسا مذہب ہے کہ جس کے عقائد ایسے ہیں کہ انسان ان کو سمجھ سکتا ہے اور وہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں۔ اسلام کے مسائل ایسے ہیں کہ کسی خاص دماغ یا عقل کے واسطے خاص نہیں بلکہ وہ تمام دنیا کے واسطے یکساں ہیں اور ہر ایک کی سمجھ میں آ سکتے ہیں۔ مگر وہ زندہ ایمان کہ جس سے انسان خدا کو گویا دیکھ لیتا ہے اور وہ نور جس سے انسان کی آنکھ کھل کر اس کو ایقانِ تام حاصل ہو جاوے وہ صرف الہام ہی پر منحصر ہے۔ الہام سے انسان کو ایک نور ملتا ہے جس سے وہ ہر تاریکی سے مبرّا ہو جاتا ہے اور ایک قسم کا اطمینان اور تسلی اسے ملتی ہے اس کا نفس اس دن سے خدا میں آرام پانے لگتا ہے اور ہر گناہ فسق فجور سے اس کا دل ٹھنڈا ہوتا جاتا ہے اس کا دل امید اور بیم سے بھر جاتا ہے اور خدا کی حقیقی معرفت کی وجہ سے وہ ہر وقت ترساں لرزاں رہتا ہے اور زندگی کو ناپائیدار جانتا اور اسفل لذات کی ہوس اور خواہش کو ترک کر کے خدا کی رضا کے حصول میں لگ جاتا ہے اور درحقیقت وہ اسی وقت گناہ کی آلودگی سے علیحدہ ہوتا ہے۔

جب تک تازہ نور انسان کو آسمان پر سے نہ ملے اور خدا کا مشاہدہ نہ ہو جاوے تب تک پورا ایمان نہیں ہوتا اور جب تک ایمان کمال درجہ تک نہ پہنچا ہو تب تک گناہ کی قید سے رہائی ناممکن ہے۔ بجز الہام کے ایمان کی تصویر لوگوں کے پاس ہوتی ہے۔ اس کی ماہیت سے لوگ بے بہرہ اور خالی محض ہوتے ہیں تعجب ہے کہ یورپ تو آج کل بہت سی ٹھوکریں کھا کر ان امور کو تسلیم کرتا جاتا ہے مگر ہمارے مولوی انکار وکفر میں غرق ہیں اگر الہام ہونے کا نام بھی لیا جاوے تو کفر کا فتویٰ تیار ہے۔ وحی کے نزول کا دعویٰ کرنے والا تو اکفر اور ضالّ ودجّال ہے۔ افسوس آتا ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کے کلام سے کیسے دور جا پڑے ہیں اور ان سے فہم قرآن چھین لیا گیا ہے۔ بھلا اگر خدا تعالیٰ نے اس امت کو اس شرف سے محروم ہی رکھنا تھا تو یہ دعا ہی کیوں سکھائی اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحۃ:۶، ۷) اس دعا سے تو صاف نکلتا ہے کہ یا الٰہی ہمیں پہلے منعم علیہم لوگوں کی راہ پر چلا اور جو ان کو الہامات ملے ہمیں بھی وہ انعامات عطا فرما۔ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ کون تھے؟ خدا نے خود ہی فرما دیا ہے کہ نبی، صدیق، شہید، صالح لوگ تھے اور ان کا برابر انعام یہی الہام اور وحی کا نزول تھا۔ بھلا اگر خدا نے اس دعا کا سچا نتیجہ جو ہے اس سے محروم ہی رکھنا تھا تو پھر کیوں ایسی دعا سکھائی؟ ہمیں تعجب آتا ہے کہ ان لوگوں کو کیا ہو گیا۔ یہی تو ایک چیز تھی جو نہایت نازک اور روح کی غذا تھی۔ جو انسان اس کے حصول کا پیاسا نہیں۔ ممکن نہیں کہ اس کے اندر پاک تبدیلی آسکے اور جب تک انسان اس طرح خدا کا چہرہ نہ دیکھے اور اس کی سریلی آواز سے بہرہ ور نہ ہو۔ تب تک ممکن نہیں کہ گناہ کی زہر سے بچ سکے۔ خیر خود تو محروم اور بے نصیب تھے ہی مگر دوسروں کو جو اس قسم کے خیال رکھیں کہ خدا کسی سے ہمکلام ہوسکتا ہے کافر جانتے ہیں۔ وہ تو دوسروں کو کافر کہتے ہیں۔ مگر ہمیں خود ان کے ایمان کا خطرہ ہے کہ ان کا ایمان ہی کیا ہے جو اس نصیحتِ عظمیٰ سے محروم ہیں اور خدا کے حضور وہ دعا کے واسطے ہاتھ ہی کس طرح اُٹھا سکتے ہیں۔

خدا تعالیٰ تک پہنچانے کے ذرائع

دو ہی چیزیں ہیں کہ جو خدا تک انسان کو پہنچا سکتی ہیں۔ دیدار جس کی موسیٰ نے بھی درخواست کی تھی اور وہ بھی الہام ہی کی وجہ سے تھی۔ کیونکہ جب انسان اس کی طرف ترقی پاتا ہے تو اَور اَور مدارج کی بھی اس کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ ترقی کرنا چاہتا ہے۔ دوسری چیز خدا تک پہنچنے کی گفتار ہے اور یہ فضل خدا کا تو ایسا ہوا ہے کہ عورتوں تک بھی گفتار سے مشرف ہوتی رہی ہیں۔ حضرت موسیٰ کی ماں کو بھی ہمکلامی کا شرف حاصل تھا۔ حضرت عیسیٰ کے حواریوں کو بھی یہ نعمت ملی ہوئی تھی۔ خضرؑ کو بھی الہام ہوتا تھا تو کیا اسلام ہی ایسا گیا گذرا تھا اور خدا کی نظر میں گِرا ہوا تھا کہ اسے بنی اسرائیل کی عورتوں سے بھی پیچھے پھینک دیا؟ ان وہابیوں کا تو یہ اعتقاد ہے کہ آنحضرتؐ کے بعد نہ صحابہؓ میں سے کسی کو اور نہ بعد میں آئمہ میں سے کسی کو اَور نہ ہی بڑے بڑے خدا کے ولیوں مثلاً حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ وغیرہ ان میں سے کسی کو بھی الہام نہیں ہوا۔ اور یہ سارے کے سارے ہی خشک مُلاّں تھے ان میں سے کسی کو بھی خدا کے مکالمے مخاطبے کا شرف نہ ملا ہوا تھا۔ ان کے ہاتھ میں بھی صرف قصّے کہانیاں ہی تھیں۔ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ(الاحزاب:۴۱) کے معنے ہی ان کے نزدیک یہی ہیں کہ الہام کا دروازہ آپؐ کے بعد ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا.... اور آپ کے بعد آپ کی اُمّت سے یہ برکت کہ کسی کو مکالمات اور مخاطبات ہوں بالکل اُٹھ گئی مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہر صدی اس اَمر کی منتظر ہوتی ہے کہ اس اُمّت میں سے چند افراد یا کوئی ایک فرد ضرور خدا کی ہمکلامی سے مشرف ہوں گے اسلام پر سے گرد و غبار کو دور کر کے پھر اسلام کے روشن چہرے کو چمکا کر دکھایا کریں ان لوگوں سے اگر پوچھا جاوے کہ تمہارے پاس سچائی کی دلیل ہی کون سی ہے؟ کوئی معجزات یا خارق عادت تمہارے پاس نہیں تو دوسروں کا حوالہ دے دیں گے خود خالی اور محروم ہیں۔ صحابہؓ آنحضرت کے پاس رہ کر اور آپ کی صحبت کی برکت سے آنحضرتؐ کے ہی رنگ میں رنگین ہو گئے تھے اور ان کے ایمانوں کے واسطے آنحضرتؐ کی پیشگوئیاں اور معجزات کثرت سے دیکھنے اور ہر وقت مشاہدہ کرنے سے ان کے ایمانوں کا تزکیہ اور تربیت ہوتی گئی اور آخر کار ترقی کرتے کرتے وہ کمالِ تمام تک پہنچ کر آنحضرت کے رنگ میں رنگین ہو گئے مگر ان لوگوں کے ایمانوں کو مضبوط کرنے کے واسطے اگر ان سے پوچھا جاوے تو کیا ہے؟ تیرہ ۱۳۰۰ سو برس کا حوالہ دیں گے کہ اس وقت یہ معجزات اور خارق عادت ظاہر ہوا کرتے تھے پیشگوئیاں بھی تھیں مگر اَب کچھ بھی نہیں۔

خیرِ اُمم

مَیں نہیں سمجھتا کہ اگر خدا تعالیٰ نے اسے شرّ الامم بنانا تھا تو اُس کا نام قرآن شریف میں خَیۡرَ اُمَّۃٍ(اٰل عمران:۱۱۱) کر کے کیوں پکارا؟ کیونکہ اس کی موجودہ حالت بقول مولویوں کے بدترین معلوم ہوتی ہے۔ اندرونی بیرونی حملوں سے پاش پاش ہوا جاتا ہے۔ دجّال نے آکر ہر طرف سے گھیر لیا ہے اور پھر ایسے مصیبت کے وقت میں خدا نے اگر خبر گیری بھی کی تو ایک اَور دجّال بھیج دیا جو دین کا حامی ہونے کی بجائے بیخ کُن ہے اور ان کے لوگ ہزار مجاہدے اور ریاضت زہد و تعبد کریں مگر خدا سے مکالمے کا شرف کبھی انہیں نصیب نہیں اور ایسے گئے گذرے ہیں کہ دوسری امتوں کی عورتوں سے بھی درماندہ اور پس پا افتادہ ہیں۔ ان میں تو ایک موسوی شریعت کے خادم ہزاروں نبی آتے اور ایک ایک زمانے میں چار چار سو نبی بھی ہوتے رہے مگر اس اُمّت میں آنحضرتؐ کی شریعت کا خادم ایک بھی صاحبِ الہام نہ آیا۔ گویا کہ سارے کا سارا باغ ہی بے ثمر رہ گیا۔ پہلے لوگوں کے باغ تو مثمر ہوئے مگر ان کے اعتقاد کے بموجب نعوذ باللہ آپؐ کا باغ بھی بے برگ و بار ہوا۔ اگر ان لوگوں کا یہی دین آور ایمان ہے تو خدا دنیا پر رحم کرے اور لوگوں کو ایسے ایمان سے نجا

ن

ا۔یمان کی نشانی ہی کیا ہے اور اس کے معنے کیا ہیں یہی کہ مان لینا اور پھر اس پر یقین آ جانا۔ جب انسان ایک بات کو سچے دل سے مان لیتا ہے تو اس کا اس پر یقین ہو جاتا ہے اور اسی کے مطابق اس سے اعمال بھی سرزد ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص جانتا ہے کہ سنکھیا زہر ہوتا ہے اور اس کے کھانے سے انسان مَر جاتا ہے یا ایک سانپ جان کا وہ دشمن ہوتا ہے جس کو کاٹتا ہے اس کی جان کے لالے پڑ جاتے ہیں تو اس ایمان کے بعد نہ تو وہ سنکھیا کھاتا اور نہ ہی سانپ کی سوراخ میں اُنگلی ڈالتا۔

آج کل طاعون کے متعلق لوگوں کو ایمان ہے کہ اس کی لاگ سے انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اسی واسطے جس مکان میں طاعون ہو اُس سے کوسوں بھاگتے ہیں اور چھوڑ جاتے ہیں غرض جس چیز پر ایمان کامل ہوتا ہے اس کے مطابق اس سے عمل بھی صادر ہوا کرتے ہیں۔ مگر کیا وجہ ہے کہ خدا موجود ہونے کا تو ایمان ہو اور جزا سزا کے دن کا ایمان ہو اور حساب کتاب یاد ہو تو پھر گناہ باقی رہ جاویں۔ یہ مسئلہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ کیا خدا کا ایمان سانپ کے خوف سے بھی گیا گذرا ہے؟ مومن ہونے کا دعویٰ ہے اور پھر بایں چوری، جھوٹ، زنا، بد نظری، شراب خوری، فسق فجور میں فرق نہیں نفاق اور ریا کاری کی تصدیق نہیں۔ زبانی ایمان کا دعویٰ ہے ورنہ عملی طور پر ایمان اور دین کچھ بھی چیز نہیں۔

ہم صاف مشاہدہ کرتے ہیں کہ انسان کو جس چیز کے مفید ہونے کا ایمان ہے اسے ہرگز ہرگز ضائع نہیں کرتا کوئی امیر اور کوئی غریب ہم نے نہیں دیکھا جو اپنے گھر سے اپنی جائیداد یا دولت کو جو اس کے پاس ہے باہر نکال پھینکتا ہو بلکہ ہم نے تو کسی کو ایک پیسہ بھی پھینکتے نہیں دیکھا۔ پیسہ تو کجا ایک سوئی بھی اگر کمائی ہوئی ٹوٹ جاوے تو اسے رنج ہوتا ہے کہ میرے کارآمد چیز تھی۔ مگر ایمان باللہ کی قدر ان لوگوں کی نظر میں اس سوئی کے برابر بھی نہیں اور نہ اس کا فائدہ ایک سوئی کے برابر لوگ جانتے ہیں۔ پس جب ایمان ایسا ہوتا ہے کہ ایک سوئی کے برابر بھی اس کی قدر ان میں نہیں ہوتی۔ تو اسی کے مطابق ان کو انسان سے نفع بھی نہیں پہنچتا اور نہ ان کو وہ کمال حاصل ہوتا ہے کہ خدا ان پر الہامات کے دروازے کھول دیوے۔۱؎

۱۲؍اپر یل ۱۹۰۳ء

(صبح کی سیر) بیماری کی افادیت بیماری وں کے ذکر پر فرمایا کہ

بیماری کی

شدت سے موت اور موت سے خدا یاد آتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ الۡاِنۡسَانُ ضَعِیۡفًا(النساء:۲۹) انسان چند روز کے لیے زندہ ہے۔ ذرّہ ذرّہ کا وہی مالک ہے جو حیّ و قیوم ہے۔ جب وقتِ موعود آجاتا ہے تو ہر ایک چیز السلام علیکم کہتی اور سارے قویٰ رخصت کر کے الگ ہو جاتے ہیں اور جہاں سے یہ آیا ہے وہیں چلا جاتا ہے۔

طاعون ک ا علاج طاعون ک ے ذکر پر فرمایا کہ

آ

سمانی علاج ابھی تک لوگوں نے غیر مفید سمجھا ہوا ہے۔ سچی توبہ اور تقوے کی طرف پورا رجوع نہیں کیا مگر یاد رکھیں کہ خدا رجوع کرائے بغیر نہیں چھوڑے گا۔

رکوع وسجود میں قرآنی دعا کرنا

مولوی عبدالقادر صاحب لودہانوی نے سوال کیا کہ رکوع اور سجود میں قرآنی آیت یا دعا کا پڑھنا کیسا ہے؟ فرمایا۔ سجدہ اور رکوع فروتنی کا وقت ہے اور خدا کا کلام عظمت چاہتا ہے ماسوائے اس کے حدیثوں سے کہیں ثابت نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رکوع یا سجود میں کوئی قرآنی دعا پڑھی ہو۔

رہن رہن کے متعلق سوال ہوا۔

رہن

آپ نے فرمایا کہ موجودہ تجاویز رہن جائز ہیں گذشتہ زمانہ میں یہ قانون تھا کہ اگر فصل ہوئی تو حکام زمینداروں سے معاملہ وصول کر لیا کرتے تھے اگر نہ ہوتی تو معاف ہوجاتا اور اب خواہ فصل ہو یا نہ ہو حکام اپنا مطالبہ وصول کر ہی لیتے ہیں پس چونکہ حکامِ وقت اپنا مطالبہ کسی صورت میں نہیں چھوڑتے تو اسی طرح یہ رہن بھی جائز رہا کیونکہ کبھی فصل ہوتی اور کبھی نہیں ہوتی تو دونوں صورتوں میں مرتہن نفع ونقصان کا ذمہ وار ہے۔ پس رہن عدل کی صورت میں جائز ہے۔ آج کل گورنمنٹ کے معاملے زمینداروں سے ٹھیکہ کی صورت میں ہو گئے ہیں اور اس صورت میں زمینداروں کو کبھی فائدہ اور کبھی نقصان ہوتا ہے۔ تو ایسی صورت عدل میں رہن بے شک جائز ہے۔

جب دودھ والا جانور اور سواری کا گھوڑا رہن باقبضہ ہو سکتا ہے اور اس کے دودھ اور سواری سے مرتہن فائدہ اُٹھا سکتا ہے تو پھر زمین کا رہن تو آپ ہی حاصل ہو گیا۔

پھر زیور کے رہن کے متعلق سوال ہوا تو فرمایا۔

زیور ہو کچھ ہو جب کہ انتفاع جائز ہے تو خواہ نخواہ تکلفات کیوں بناتے جاویں۔ اگر کوئی شخص زیور کو استعمال کرنے سے اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تو اس کی زکوٰۃ بھی اس کے ذمہ ہے۔ زیور کی زکوٰۃ بھی فرض ہے چنانچہ کل ہی ہمارے گھر میں زیور کی زکوٰۃ ڈیڑھ سو روپیہ دیا ہے۔ پس اگر زیور استعمال کرتا ہے تو اس کی زکوٰۃ دے اگر بکری رہن رکھی ہے اور اس کا دودھ پیتا ہے تو اس کو گھاس بھی دے۔۱؎

(دربارِ شام)

خو ا ب قضاءِ    معلّق ہوتے ہیں

ایک خواب کی تعبیر میں فرمایا کہ

خواب ہرایک انسان کو عمر بھر میں کبھی مبشر اور کبھی وحشت ناک ضرور آتے ہیں۔ مگر وہی قضا مبرم اور فیصلہ کن نہیں ہوا کرتی۔ خدا تعالیٰ کی معرفت کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ قضا کبھی ٹل بھی جایا کرتی ہے۔ خواب کے حالات خواہ مبشر ہوں یا منذر، دونوں صورتوں میں قضاء معلّق کے رنگ میں ہوا کرتے ہیں۔ ان کے نتائج کے بَر لانے یا روکنے کے واسطے ضروری ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے حضور دعا کرے کہ اگر یہ اَمر میرے واسطے مفید اور تیری رضا کے بموجب ہے تو تُو اسے جیسا مجھے خواب میں مبشر دکھایا ہے ایسا ہی بشارت آمیز صورت میں پورا کر ورنہ منذر ہے تو اس کی خوفناک صورت سے اپنے آپ کو حفاظت میں رکھنے کے لیے بھی استغفار اور توبہ کرتا رہے۔

قضاءِ معلّق دعا سے ٹل سکتی ہے

اہلِ علم خوب جانتے ہیں کہ قضا ٹل جایا کرتی ہے اس لیے انسان پوری تضرع خشوع، خضوع اور حضورِ قلب سے اور سچی عاجزی، فروتنی اور دردِ دل سے اُس سے دعا کرے۔ خواب میں دیکھے ہوئے معاملات کے متعلق خواہ وہ کسی رنگ میں ہوں۔ دونوں صورتوں میں دعا کی ضرورت ہے۔ ہمیں بارہا خیال آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کو بھی کوئی ایک وحشت ناک ہی معاملہ معلوم ہوا ہوگا کہ انہوں نے ساری رات دعا میں صرف کی اور نہایت درجے کے دردانگیز اور بلبلانے والے الفاظ سے خدا کے حضور دعا کرتے رہے۔ ممکن ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی تقدیر معلّق کو مبرم ہی خیال کر بیٹھے ہوں اور اسی وجہ سے ان کا یہ سارا اضطراب اور گھبراہٹ بڑھ گئی ہو اور اس درجے کا گداز اور رقّت ان میں اپنا آخری دم جان کر ہی پیدا ہوئی ہو۔ کیونکہ اکثر ایک تقدیر جو معلّق ہوا کرتی ہے ایسی باریک رنگ میں ہوتی ہے کہ اس کو سرسری نظر سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مبرم ہے۔ چنانچہ شیخ عبدالقادر صاحب جیلانی رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنی کتاب فتوح الغیب میں لکھتے ہیں کہ میری دعا سے اکثر وہ قضا جو قضاءِ مبرم کے رنگ میں ہوتی ہے ٹل جاتی ہے اور ایسے بہت سے واقعات ہو چکے ہیں مگر ان کے اس اَمر کا جواب ایک اَور بزرگ نے دیا ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ تقدیر معلّق ایسے طور سے واقع ہوتی ہے کہ اس کا پہچاننا کہ آیا معلّق ہے یا مبرم محال ہو جاتا ہے۔ اسے سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ مبرم ہے مگر درحقیقت ہوتی وہ تقدیر معلّق ہے اور وہ ایسی ہی تقدیریں ہوں گی جو شیخ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ کی دعا سے ٹل گئی ہوں کیونکہ تقدیر معلّق ٹل جایا کرتی ہے۔ غرض اہل اللہ نے اس اَمر کو خوب واضح طور سے لکھا ہے کہ قضا معلّق ٹل جایا کرتی ہے۔ حضرت عیسیٰ پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی بڑی بھاری صعوبت اور مشکل کا وقت تھا کیونکہ ان کی اپنی ہی کتاب کے الفاظ بھی ایسے ہی ہیں کہ آخر میں فرمایا کہ سُـمِعَ لِتَقْوٰہُ یعنی تقدیر تو بڑی سخت تھی اور بڑی مصیبت کا وقت تھا مگر اس کی تقویٰ کی وجہ سے آخرکار اس کی دعا ضائع نہ گئی بلکہ سُنی گئی۔ یہ عیسائی بد نصیب اس اَمر کی طرف تو نہیں خیال کرتے کہ اوّل تو خدا اور اس کا مَرنا یہ دونوں فقرے آپس میں کیسے متضاد پڑے معلوم ہوتے ہیں جب ایک کان میں یہ آواز ہی پڑتی ہے تو وہ چونک پڑتا ہے کہ ایں یہ کیا لفظ ہیں؟ اور پھر ماسوا اس کے ایسے ایک شخص کو خدا بنائے بیٹھے ہیں کہ جس نے بخیال ان کے ساری رات یعنی چار پہر کا وقت ایک لغو اور بیہودہ کام میں جو اس کے آقا و مولیٰ کی منشا اور رضا کے خلاف تھا خواہ مخواہ ضائع کیا اور پھر ساری رات رویا اور ایسے درد اور گداز کے الفاظ میں دعا کی کہ لوہا بھی موم ہو مگر ایک بھی نہ سُنی گئی۔ واہ! اچھا خدا تھا۔

پھر کہتے ہیں کہ اس وقت ان کی رُوح انسانی تھی نہ رُوح الوہیت۔ ہم پوچھتے ہیں کہ بھلا ان کی رُوح اگر انسانی تھی تو اس وقت ان کی الوہیت کی رُوح کہاں تھی؟ کیا وہ آرام کرتی تھی اور خوابِ غفلت میں غرقِ نوم تھی۔ خود بیچارے نے بڑے درد اور رقّت کے ساتھ چِلّا چِلّا کے دعا کی، حواریوں سے دعا کرائی مگر سب بے فائدہ تھی۔ وہاں ایک بھی نہ سنی گئی۔ آخر کار خدا صاحب یہودیوں کے ہاتھ سے ملکِ عدم کو پہنچے۔ کیسے قابلِ شرم اور افسوس ہیں ایسے خیالات۔ ہمارے آنحضرتؐ پر بھی ایسا ہی ایک وقت مصیبت اور صعوبت کا آیا تھا اور اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء پر ایک ایسا مشکل اور نہایت درجے کی مصیبت کا ایک وقت ضرور آتا ہے۔ آنحضرتؐ پر اُحد کا معاملہ کوئی تھوڑا معاملہ تھا؟ آخر کار وہاں شیطان بھی بول اُٹھا تھا کہ نعوذ باللہ آنحضرتؐ مارے گئے اور ہو سکتا ہے کہ بعض صحابہؓ نے بھی اس افرا تفری میں ایسا خیال کیا ہو اور بعض صحابہؓ تو تتر بتر بھی ہو گئے تھے۔ آپؐ ایک گڑھے میں گِر پڑے تھے۔ وَاِنۡ مِّنۡکُمۡ اِلَّا وَارِدُہَا ۚ کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتۡمًا مَّقۡضِیًّا(مریم:۷۲) سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ضرور انبیاء اور صلحاء کو بھی دنیا میں ایک ایسا وقت آتا ہے کہ نہایت درجے کی مصیبت کا وقت اور سخت جانکاہ مشکل ہوتی ہے اور اہل حق بھی ایک دفعہ اس صعوبت میں وارد ہوتے ہیں مگر خدا جلد تر ان کی خبر گیری کرتا اور ان کو اس سے نکال لیتا ہے اور چونکہ وہ ایک تقدیر معلّق ہوتی ہے اسی واسطے ان کی دعاؤں اور ابتہال سے ٹل جایا کرتی ہیں۔

شیخ رحمت اللہ صاحب کی دعا

شیخ رحمت اللہ صاحب کی دوکان کو آگ لگنے کا اندیشہ ہوا تو انہوں نے ننگے سر اور ننگے پاؤں سجدے میں گر کر دعا کی تو معاً دعا کرتے کرتے خدا نے ہوا کا رخ بدل دیا اور امن امن کی آواز آگئی اور ہر طرح سے اطمینان ہو گیا۔

ملا ئکہ کی حقیقت

ا س پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ

 یہ ہوا، پانی، آگ وغیرہ بھی ایک طرح کے ملائکہ ہی ہیں ہاں بڑے بڑے ملائکہ وہ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے نام لیا مگر اس کے سوا باقی اشیاء مفید بھی ملائکہ ہی ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ کے کلام سے اس کی تصدیق ہوتی ہے جہاں فرماتا ہے کہ وَاِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمۡدِہٖ(بنی اسرآءیل:۴۵) یعنی کل اشیاء خدا تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہیں۔ تسبیح کے معنے یہی ہیں کہ جو خدا ان کو حکم کرتا ہے اور جس طرح اس کا منشا ہوتا ہے وہ اسی طرح کرتے ہیں اور ہر ایک اَمر اس کے ارادے اور منشا سے واقع ہوتا ہے اتفاقی طور سے دنیا میں کوئی چیز نہیں اگر خدا تعالیٰ کا ذرّہ ذرّہ پر تصرف تام اور اقتدار نہ ہو تو وہ خدا ہی کیا ہوا اور دعا کی قبولیت کی اس سے کیا امید ہو سکتی ہے۔ در حقیقت یہی ہے کہ وہ ہوا کو جدھر چاہے اور جب چاہے چلا سکتا ہے اور جب ارادہ کرے بند کر سکتا ہے اسی کے ہاتھ میں پانی اور پانیوں کے سمندر ہیں جب چاہے جوش زن کر دے اور جب چاہے ساکن کر دے وہ ذرّہ ذرّہ پر قادر اور مقتدر خدا ہے اس کے تصرف سے کوئی چیز باہر نہیں وہ جنہوں نے دعا سے انکار ہی کر دیا ہے ان کو بھی یہی مشکلات پیش آئے ہیں کہ انہوں نے خدا کو ہر ذرّہ پر قادر مطلق نہ جانا اور اکثر واقعات کو اتفاقی مانا اتفاق کچھ بھی نہیں بلکہ جو ہوتا ہے اور اگر پتّا بھی درخت سے گرتا ہے تو وہ بھی خدا کے ارادے اور حکمت سے گرتا ہے اور یہ سب ملائکہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کے حکم کے اشارے سے کام کرتے ہیں اور ان کی خدمت میں لگائے جاتے ہیں جو خدا کے سچے فرمانبردار اور اسی کی رضا کے خواہاں ہوتے ہیں جو خدا کا بن جاتا ہے اسے خدا سب کچھ عطا کرتا ہے۔

جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو

مَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَانَ اللّٰہُ لَہٗ

پھر ایسے مرتبے کے بعد انسان کو وہ رعیّت ملتی ہے کہ باغی نہیں ہوتی دنیوی بادشاہوں کی رعیّت تو باغی بھی ہو جاتی ہے مگر ملائکہ کی رعیّت ایک ایسی رعیّت ہے کہ وہ باغی نہیں ہوتی۔۱؎


۱۳؍اپریل ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام )ایک رؤیا حضرت اقدس نے مندرجہ ذیل خواب سنایا جو گذشتہ شب کو آیا تھا۔

ایک رؤیا

فرمایا کہ مَیں دیکھتا ہوں کہ ایک بڑا بحرِ زخار کی طرح دریا ہے جو سانپ کی طرح بل پیچ کھاتا مغرب سے مشرق کو جا رہا ہے اور پھر دیکھتے دیکھتے سمت بدل کر مشرق سے مغرب کو الٹا بہنے لگا ہے۔

طاعون کا زور

فرمایا کہ اب تو وہ زمانہ طاعون نے دکھانا شروع کر دیا ہے جس طرح مدینہ منورہ میں یہودی قتل ہوئے تھے تو ایک بڑا شخص زندہ رکھا گیا تھا اس نے پوچھا کہ فلاں شخص کا کیا حال ہوا فلاں کا کیا حال ہوا غرض جس کے متعلق اس نے دریافت کیا اسی کے متعلق جواب ملا کہ وہ سب قتل کئے گئے تو پھر اس نے کہا کہ لوگوں کے مارے جانے کے بعد میں نے زندہ رہ کر کیا بنانا ہے مجھے بھی زندگی کی ضرورت نہیں سو آج کل طاعون وہ حال دکھا رہا ہے۔

اکثر دیکھا جاتا ہے کہ انسان لمبی عمر کے بھی خواہشمند ہوتے ہیں مگر جب دوست اور تعلق دار ہی نہ رہے تو اس عمر کا ہونا بھی ایک وبال ہو جاتا ہے ایسی حالت دیکھ کر انسان ایسی لمبی عمر کی بھی آرزو نہیں کر سکتا کیونکہ انسان دوستوں اور رشتہ داروں کے بغیر رہ سکتا ہی نہیں۔

انسان اور پرندہ

ایک جانور آج کل کے موسم میں شام کے بعد مسجد مبارک کے شہ نشین احباب پر حملہ کیا کرتا ہے اس کے متعلق فرمایا کہ کوئی ایسی تدبیر کی جاوے کہ ایک دفعہ یہ اس جگہ پکڑا جاوے پھر ہم اسے چھوڑ ہی دیں گے مگر ایک دفعہ پکڑا جانے سے اتنا تو ضرور ہو گا کہ پھر وہ کبھی آئندہ اس جگہ اس طرح حملہ کرنے کا ارادہ نہ کرے گا۔

ہر جانور کا یہ قاعدہ ہے اور اس کے اندر ایک خاصیت ہے کہ جس جگہ سے اسے ایک دفعہ ٹھوکر لگتی ہے اور مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے اس جگہ کا پھر وہ کبھی قصد نہیں کرتا مگر صرف انسان ہی ایک ہے جو باوجود اشرف المخلوقات ہونے کے ان پرندوں وغیرہ سے بھی گرا ہوا ہے کہ جہاں سے اسے مصائب پہنچتے ہیں اور ضرر اور نقصان اٹھاتا ہے اس کی طرف بھاگنے کا حریص ہوتا ہے ہوشیار نہیں ہوتا اور نہ ہی اس نافرمانی کو ترک کرتا ہے بلکہ جذبات نفس کا مطیع ہو کر پھر اسی کام کو کرنے لگتا ہے جس سے ایک بار ٹھوکر کھا چکا ہو۔۱؎


۱۴؍ اپریل ۱۹۰۳ء

(صبح کی سیر)

صادق کے ساتھ ایک کشش نازل ہوتی ہے

فرمایا۔ صادق کی بعثت کے ساتھ ہی آسمان سے اس کے واسطے ایک کشش نازل ہوا کرتی ہے جو دلوں کو ان کی استعدادوں کے مطابق کشش کرتی اور ایک قوم بنا دیتی ہے اس سے تمام سعید روحیں صادق کی طرف کھینچی چلی آتی ہیں۔ دیکھو ایک شخص کو دوست بنا کر اس کو اپنے منشا کے موافق بنانا ہزار مشکل رکھتا ہے اور اگر ہزاروں روپے خرچ کر کے بھی کسی کو صادق وفادار دوست بنانے کی کوشش کی جاوے تو بھی معرض خطر میں ہی پڑنا ہے اور پھر آخر کار اس خیال کے برعکس نتیجہ نکلتا ہے مگر ادھر اب لاکھوں ہیں کہ غلاموں کی طرح سچے فرمانبردار، وفادار، صدق و وفا کے پتلے خود بخود کھینچے چلے آتے ہیں۲؎ اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ اس اَمر کی اطلاع آج سے بائیس ۲۲ برس پیشتر جب اس کی ایک بھی مثال قائم نہ ہوئی تھی دی گئی چنانچہ الہام ہے کہ وَاَلۡقَیۡتُ عَلَیۡکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیۡ(طٰہٰ:۴۰) آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ تمام دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کشش کا نزول ہے۔ سعید تو دوستی کے رنگ میں چلے آتے ہیں مگر شقی بھی اس حصے سے محروم نہیں ان میں مخالفت کا جوش شعلے مار رہا ہے جب کہیں ہمارا نام بھی ان کے سامنے آجاتا ہے تو سانپ کی طرح بل پیچ کھاتے اور بیخود ہو کر مجنونوں کی طرح گالی گلوچ تک آجاتے ہیں ورنہ بھلا دنیا میں ہزاروں فقیر، لنگوٹی پوش، بھنگی، چرسی، کنجر، بدمعاش، بدعتی وغیرہ ہزاروں پھرتے ہیں مگر ان کے لیے کسی کو جوش نہیں آتا اور کسی کے کان پر جوں نہیں چلتی وہ چاہیں بد مذہبیاں اور بے دینیاں کریں پھر بھی ان سے مست ہی ہو رہے ہیں اس کی وجہ بھی صرف یہی ہے کہ وہ چونکہ روحانیت سے خالی ہیں اس واسطے ان کے واسطے کسی کو کشش نہیں۔

آنحضرتؐ کے زمانہ بعثت میں ہزاروں ہزار لوگ اپنے کاروبار چھوڑ کر بھی آپؐ کی مخالفت کے لیے کمر بستہ ہوئے اپنے مالوں کا جانوں کا نقصان منظور کیا اور آنحضرتؐ کی مخالفت کے لیے دن رات تدبیروں اور منصوبوں میں کوشاں ہوئے مگر دوسری طرف مسیلمہ تھا ادھر کسی کو توجہ نہ تھی اس کی مخالفت کے واسطے کسی کے کان بھی کھڑے نہ ہوئے۔ آنحضرتؐ کے واسطے جس طرح گھر گھر میں پھوٹ اور جدائی ہوتی تھی مسیلمہ کے واسطے ہرگز نہ ہوئی۔ غرض صادق کے واسطے ہی ایک کشش ہوتی ہے جو دلوں کے ولولوں کو ابھارتی اور جوش میں لاتی ہے سعیدوں کے ولولے سعادت اور شقیوں کے شقاوت کے رنگ میں پھل لاتے ہیں۔ شقی چونکہ اسی فطرت کے ہوتے ہیں۔ اسی واسطے ان کے واسطے کشش بھی اُلٹے رنگ میں ثمرات لاتی ہے۔

(دربار شام)

تشبّہ بالکفّار

ایک شخص نے پوچھا کہ کیا ہندوؤں والی دھوتی باندھنی جائز ہے یا نہیں؟ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ

تشبہ بالکفار تو کسی بھی رنگ میں جائز نہیں۔ اب ہندو ماتھے پر ایک ٹیکہ سا لگاتے ہیں کوئی وہ بھی لگالے یا سر پر بال تو ہر ایک کے ہوتے ہیں مگر چند بال بودی کی شکل میں ہندو رکھتے ہیں اگر کوئی ویسے ہی رکھ لیوے تو یہ ہرگز جائز نہیں۱؎ مسلمانوں کو اپنے ہر ایک چال میں وضع قطع میں غیرت مندانہ چال رکھنی چاہیے ہمارے آنحضرتؐ تہ بند بھی باندھا کرتے تھے اور سراویل بھی خریدنا آپ کا ثابت ہے جسے ہم پاجامہ یا تنبی کہتے ہیں ان میں سے جو چاہے پہنے۔ علاوہ ازیں ٹوپی، کُڑتہ، چادر اور پگڑی بھی آپؐ کی عادت مبارک تھی۔ جو چاہے پہنے کوئی حرج نہیں۔ ہاں البتہ اگر کسی کو کوئی نئی ضرورت درپیش آئے تو اسے چاہیے کہ ان میں ایسی چیز کو اختیار کرے جو کفار سے تشبیہ نہ رکھتی ہو اور اسلامی لباس سے نزدیک تر ہو۔۲؎ جب ایک شخص اقرار کرتا ہے کہ میں ایمان لایا تو پھر اس کے بعد وہ ڈرتا کس چیز سے ہے اور وہ کون سی چیز ہے جس کی خواہش اب اس کے دل میں باقی رہ گئی ہے۔ کیا کفار کی رسوم و عادات کی؟ اب اسے ڈر چاہیے تو خدا کا اور اتباع چاہیے تو محمدؐ رسول اللہ کی۔ کسی ادنیٰ سے گناہ کو خفیف نہ جاننا چاہیے بلکہ صغیرہ ہی سے کبیرہ بن جاتے ہیں۔ اور صغیرہ ہی کا اصرار کبیرہ ہے۔۳؎

ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے ایسی فطرت ہی نہیں دی کہ ان کے لباس یا پوشش سے فائدہ اُٹھا ئیں۔ سیالکوٹ سے ایک دو بار انگریزی جوتا آیا۔ ہمیں اس کا پہننا ہی مشکل ہوتا تھا کبھی ادھر کا ادھر اور کبھی بائیں کا دائیں۔ آخر تنگ آکر سیاہی کا نشان لگایا گیا کہ شناخت رہے مگر اس طرح بھی کام نہ چلا۔ آخر میں نے کہا کہ یہ میری فطرت ہی کے خلاف ہے کہ ایسا جوتا پہنوں۔

دو راستوں میں سے کس کو اختیار کرے

اسی صاحب نے سوال کیا کہ اگر ایک شخص جاتا ہو اور ایک جگہ پر دو راہ جمع ہو جائیں۔ ایک دائیں اور دوسرا بائیں۔ تو کس راہ کی طرف جاوے؟ فرمایا کہ اس سے اگر تمہاری مُراد بھی جسمانی راہ ہے تو پھر اس راہ جاوے جس میں اس کی صحت نیت اور کوئی فساد نہیں اور اگر جانتا ہے کہ ادھر بدبو اور عفونت ہے اور یا کنجروں اور فاسقوں، خدا ور سول کے دشمنوں کے گھر ہیں تو اس راہ کو چھوڑ دے۔ غرض صحتِ نیت کا خیال کرلے اور فساد کی راہ سے پرہیز بکلی کرے۔۱؎

بے ایمانی کیسے پیدا ہوتی ہے

ایک اَور سوال کیا کہ بے ایمانی کس طرح پیدا ہوتی ہے؟ فرمایا کہ بے ایمانی خدا کی معرفت نہ ہونے اور ایمان کے کامل درجہ تک نہ پہنچنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ ادھورا ایمان اس کی وجہ ہوتی ہے۔

ختم نبوت سے مُراد

ایک اَور صاحب نے سوال کیا کہ حضور جب سلسلہ موسوی اور سلسلہ محمدی میں مماثلت ہے تو کیا وجہ ہے کہ اس سلسلے کے خادم تو نبی کہلائے مگر ادھر اس طرح کوئی بھی نبی نہ کہلایا؟ فرمایا کہ مشابہت میں ضروری نہیں کہ مشبّہ اور مشبَّہ بہٖ بالکل آپس میں ایک دوسرے کے عین ہوں اور ان کا ذرا بھی آپس میں خلاف نہ ہو۔ اب ہم جو کہتے ہیں کہ فلاں شخص تو شیر ہے۔ تو اب اس میں کیا بھلا ضروری ہے کہ اس شخص کے جسم پر لمبے لمبے بال بھی ہوں۔ چار پاؤں بھی ہوں اور دُم بھی ہو اور وہ جنگلوں میں شکار بھی کرتا پھرے؟ بلکہ جس طرح مِنْ وَجْہٍ تشابہ ہوتا ہے ویسا ہی مِنْ وَجْہٍ مخالف بھی ہونا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ(اٰل عمران:۱۱۱) تو ہمیں ہی فرمایا ہے۔ جو اعلیٰ درجہ کی خیر اور برکات تھے وہ اسی امت میں جمع ہوئے ہیں۔ آنحضرتؐ کا زمانہ ایسے وقت تک پہنچ گیا ہوا تھا کہ دماغی اور عقلی قویٰ پہلے کی نسبت بہت کچھ ترقی کر گئے تھے۔ اس زمانے میں تو ایک گونہ جہالت تھی۔ اب کوئی کہے کہ اس طرح بھی تشابہ نہ ہوا تو یہ اس کا کہنا درست نہ ہوگا۔ نبوت جو اللہ تعالیٰ نے اب قرآن شریف میں آنحضرتؐ کے بعد حرام کی ہے اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اب اس امت کو کوئی خیر و برکت ملے ہی گی نہیں اور نہ اس کو شرفِ مکالمات اور مخاطبات ہوگا۔ بلکہ اس سے مُراد یہ ہے کہ آنحضرتؐ کی مُہر کے سوائے اب کوئی نبوت نہیں چل سکے گی۔ اس امت کے لوگوں پر جو نبی کا لفظ نہیں بولا گیا اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ حضرت موسٰی کے بعد تو نبوت ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ ابھی آنحضرتؐ جیسے عالی جناب، اولوالعزم صاحبِ شریعت کامل آنے والے تھے۔ اسی وجہ سے ان کے واسطے یہ لفظ جاری رکھا گیا۔ مگر آنحضرتؐ کے بعد چونکہ ہر ایک قسم کی نبوت بجز آنحضرتؐ کی اجازت کے بند ہو چکی تھی اس واسطے ضروری تھا کہ اس کی عظمت کی وجہ سے وہ لفظ نہ بولا جاتا۔ مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ(الاحزاب:۴۱) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جسمانی طور سے آپؐ کی اولاد کی نفی بھی کی ہے اور ساتھ ہی روحانی طور سے اثبات بھی کیا ہے کہ روحانی طور سے آپ باپ بھی ہیں اور رُوحانی نبوت اور فیض کا سلسلہ آپ کے بعد جاری رہے گا اور وہ آپ میں سے ہوکر جاری ہوگا نہ الگ طور سے۔ وہ نبوت چل سکے گی جس پر آپ کی مُہر ہوگی۔ ورنہ اگر نبوت کا دروازہ بالکل بند سمجھا جاوے تو نعوذ باللہ اس سے تو انقطاعِ فیض لازم آتا ہے اور اس میں تو نحوست ہے اور نبیؐ کی ہتک شان ہوتی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اس اُمّت کو یہ جو کہا کہ کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ(اٰل عمران:۱۱۱) یہ جھوٹ تھا نعوذ باللہ۔ اگر یہ معنے کیے جاویں کہ آئندہ کے واسطے نبوت کا دروازہ ہر طرح سے بند ہے تو پھر خیر الامۃ کی بجائے شر الامم ہوئی یہ اُمت۔ جب اس کو اللہ تعالیٰ سے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی نصیب نہ ہوا بلْ ہُمْ اَضَلُّ ہوئی اور بہائم سیرت اسے کہنا چاہیے نہ کہ خیر الامم۔ اور پھر سورۃ فاتحہ کی دعا بھی لغو جاتی ہے۔ اس میں جو لکھا یا ہے کہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحۃ:۶، ۷) تو سمجھنا چاہیے کہ ان پہلوں کے پلاؤ زردے مانگنے کی دعا سکھائی ہے اور ان کی جسمانی لذّات اور انعامات کے مورث ہونے کی خواہش کی گئی ہے؟ ہرگز نہیں اور اگر یہی معنے ہیں تو باقی رہ ہی کیا گیا جس سے اسلام کا علو ثابت ہووے۔ اس طرح تو ماننا پڑے گا کہ نعوذ باللہ آنحضرتؐ کی قوتِ قدسی کچھ بھی نہ تھی اور آپ حضرت موسٰی سے مرتبے میں گِرے ہوئے تھے کہ ان کے بعد تو ان کی اُمّت میں سے سینکڑوں نبی آئے مگر آپ کی اُمّت سے خدا کو نفرت ہے کہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ مکالمہ بھی نہ کیا کیونکہ جس کے ساتھ محبت ہوتی ہے آخر اس سے کلام تو کیا ہی جاتا ہے۔

نہیں بلکہ آنحضرتؐ کی نبوت کا سلسلہ جاری ہے مگر آپ میں سے ہو کر اور آپ کی مہر سے اور فیضان کا سلسلہ جاری ہے کہ ہزاروں اس اُمّت میں سے مکالمات اور مخاطبات کے شرف سے مشرف ہوئے اور انبیاء کے خصائص ان میں موجود ہوتے رہے ہیں۔ سینکڑوں بڑے بڑے بزرگ گزرے ہیں جنہوں نے ایسے دعوے کئے۔ چنانچہ حضرت عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ہی کی ایک کتاب فتوح الغیب کو ہی دیکھ لو۔ ورنہ اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے کہ کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعۡمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعۡمٰی(بنی اسرآءیل:۷۳) اگر خدا نے خود ہی اس اُمّت کو اَعْمٰی بنایا تھا تو عجب ہے خود ہی اسے اَعْمٰی بنایا اور خود ہی اَعْمٰی کے واسطے زجر اور توبیخ ہے کہ آخرت میں بھی اَعْمٰی ہوگی۔ اس اُمّت بیچاری کے کیا اختیار۔ اس کی مثال تو ایسی ہے کہ ایک شخص کسی کو کہے کہ اگر تو اس مکان سے گر جاوے گا تو تجھے قید کر دیا جاوے گا مگر پھر اسے خود ہی دھکا دے دے۔

گویا نبوت کا سلسلہ بند کر کے فرمایا کہ تجھے مکالمات اور مخاطبات سے بے بہرہ کیا گیا اور تو بہائم کی طرح زندگی بسر کرنے کے واسطے بنائی گئی اور دوسری طرف کہتا ہے کہ کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعۡمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعۡمٰی(بنی اسرآءیل:۷۳) اب بتاؤ کہ اس متناقض کا کیا جواب ہے؟ ایک طرف تو کہا کہ خیر اُمّت اور دوسری جگہ کہہ دیا کہ تو اَعْمٰی ہے آخرت میں بھی اَعْمٰی ہوگی۔ نعوذ باللہ۔ کیسے غلط عقیدے بنائے گئے ہیں۔

اور اگر کوئی باہر سے اس کی اصلاح کے واسطے آگیا تو بھی مشکل۔ اس اُمّت کے نبی کی ہتکِ شان اور قوم کی بھی ناک کٹی ہوئی کہ اس میں گویا کوئی بھی اس قابل نہیں کہ اصلاح کرنے کے قابل ہو سکے اور کسی کو یہ شرف مکالمہ عطا نہیں کیا جاسکتا اور اس پر بس نہیں بلکہ آنحضرتؐ پر اعتراض آتا ہے کہ ایسے بڑے نبی ہو کر ان کی اُمّت ایسی کمزور اور گئی گزری ہے۔ ایسا نہیں۔ بلکہ بات یوں ہے کہ آنحضرتؐ کے بعد بھی آپ کی اُمّت میں بھی نبوت ہے اور نبی ہیں مگر لفظ نبی کا بوجہ عظمتِ نبوت استعمال نہیں کیا جاتا لیکن برکات اور فیوض موجود ہیں۔

ایک شخص نے سوال کیا کہ وہ کیا راہ ہے جس سے انسان خدا کو پاسکے؟

خدا کو پانے کی راہ

فرمایا۔ جو لوگ برکت پاتے ہیں ان کی زبان بند اور عمل ان کے وسیع اور صالح ہوتے ہیں۔ پنجابی میں کہاوت ہے کہ کہنا ایک جانور ہوتا ہے اس کی بدبُو سخت ہوتی ہے اور کرنا خوشبودار درخت ہوتا ہے۔ سو ایسا ہی چاہیے کہ انسان کہنے کی نسبت کر کے بہت کچھ دکھائے۔ صرف زبان کام نہیں آتی۔ بہت سے ہوتے ہیں جو باتیں بہت بناتے ہیں اور کرتے ہیں نہایت سست اور کمزور ہوتے ہیں۔ صرف باتیں جن کے ساتھ روح نہ ہو وہ نجاست ہوتی ہیں۔ بات وہی برکت والی ہوتی ہے جس کے ساتھ آسمانی نور ہو اور عمل کے پانی سے سرسبز کی گئی ہو۔ اس کے واسطے انسان خود بخود ہی نہیں کر سکتا۔ چاہیے کہ ہر وقت خدا سے دعا کرتا رہے اور درد و گداز سے، سوز سے اس کے آستانہ پر گرا رہے اور اس سے توفیق مانگے ورنہ یاد رکھے کہ اندھا مَرے گا۔

دیکھو! جب ایک شخص کو کوہڑ کا ایک داغ پیدا ہو جاوے تو وہ اس کے واسطے فکر مند ہوتا ہے اور دوسری باتیں اسے بھول جاتی ہیں۔ اسی طرح جس کو رُوحانی کوہڑ کا پتا لگ جاوے اسے بھی ساری باتیں بھول جاتی ہیں اور وہ سچے علاج کی طرف دوڑتا ہے مگر افسوس کہ اس سے آگاہ بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔

یہ سچ ہے کہ انسان کے واسطے یہ مشکل ہے کہ وہ سچی توبہ کرے ایک طرف سے توڑ کر دوسری طرف جوڑ نا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ ہاں مگر جسے خدا توفیق دے۔ ہاں ادب سے، حیا سے، شرم سے اُس سے دعا اور التجا کرنی چاہیے کہ وہ توفیق عطا کرے اور جو ایسا کرتے ہیں وہ پا بھی لیتے ہیں اور ان کی سُنی بھی جاتی ہے۔

صرف باتونی آدمی مفید نہیں ہوتا۔ کپڑا جتنا سفید ہوتا ہے اور پہلے اس پر کوئی رنگ نہیں دیا جاتا اتنا ہی عمدہ رنگ اس پر آتا ہے۔ پس تو اس طرح اپنے آپ کو پاک کرو تا تم پر خدائی رنگ عمدہ چڑھے۔ اہلِ بیت جو ایک پاک گروہ اور بڑا عظیم الشان گھرانا تھا۔ اس کے پاک کرنے کے واسطے بھی اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا کہ اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَیُطَہِّرَکُمۡ تَطۡہِیۡرًا(الاحزاب:۳۴) میں بھی ان سے ناپاکی اور نجاست کو دور کروں گا اور خود ہی ان کو پاک کیا تو بھلا اور کون ہے جو خود بخود پاک صاف ہونے کی توفیق رکھتا ہو۔ پس لازمی ہے کہ اس سے دعا کرتے رہو اور اسی کے آستانہ پر گرے رہو ساری توفیقیں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔۱؎

۱۵؍اپریل ۱۹۰۳ء

(صبح کی سیر)

محمدؐی سلسلہ میں موسوی سلسلہ کی طرح نبی کیوں نہیں آئے؟

فرمایا۔ رات کے سوال کا یہ حصہ کہ جب مماثلت ہے موسوی اور محمدی سلسلوں میں تو محمدی سلسلے میں موسوی سلسلے کی طرح نبی کیوں نہ آئے؟ یہ حصہ ایسا ہے جس سے ایک انسان کو دھوکا لگ سکتا ہے۔ لہٰذا ہم اس کے متعلق زیادہ تشریح کر دیتے ہیں۔ اوّل تو وہی بات کہ مماثلت کے لیے ضروری نہیں کہ دوسرے کا وہ عین ہو۔ مشُبّہ اور مُشَبَّہ بِہٖ میں ضرور فرق ہوتا ہے۔ ایک خوبصورت انسان کو چاند سے مشابہت دے دیتے ہیں۔ مگر چاہیے کہ اس میں ایسے انسان کا ناک نہ ہو۔ کان نہ ہوں۔ صرف ایک گول سفید چمکیلا سا ٹکڑا ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ مشابہت کے واسطے بعض حصے میں مشابہت ضرور ہوتی ہے۔۱؎

دیکھیے حضرت موسیٰ سے آنحضرتؐ کو مشابہت ہے اور اس میں صرف اعلیٰ جزو یہی ہے کہ حضرت موسٰی نے ایک قوم کو جو فرعون کے ماتحت غلامی میں مبتلا تھی اور ان کے حالات گندہ ہو گئے تھے وہ خدا کو بھول گئے تھے اور ان کے خیالات اور ہمتیں پست ہوگئی تھیں۔ موسٰی نے اس قوم کو فرعون سے نجات دلائی اور ان کو خدا سے تعلق پیدا کرنے کے قابل بنا دیا۔ اسی طرح آنحضرتؐ نے بھی ایک قوم کو بتوں کی غلامی اور راہ و رسم کی قید سے نجات دلائی اور اپنے دشمن کو فرعون کی طرح ہلاک و برباد کیا۔ یہ مشابہت تھی۲؎

اگر غور سے دیکھا جاوے تو ہمارے نبی کریمؐ کو آپ کے بعد کسی دوسرے کے نبی نہ کہلانے سے شوکت ہے اور حضرت موسٰی کے بعد اور لوگوں کے بھی نبی کہلانے سے ان کی کسرِ شان۔ کیونکہ حضرت موسٰی بھی ایک نبی تھے اور ان کے بعد ہزاروں اور بھی نبی آئے تو ان کی نبوت کی خصوصیت اور عظمت کوئی نہیں ثابت ہوتی۔ برعکس اس کے آنحضرتؐ کی ایک عظمت اور آپ کی نبوت کے لفظ کا پاس اور ادب کیا گیا ہے کہ آپ کے بعد کسی دوسرے کو اس نام سے کسی طرح بھی شریک نہ کیا گیا۔ اگرچہ آنحضرتؐ کی اُمّت میں ہزاروں بزرگ نبوت کے نور سے منور تھے اور ہزاروں کو انوارِ نبوت کا حصہ عطا ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہوتا ہے مگر چونکہ آنحضرتؐ کا نام خاتم الانبیاء رکھا گیا تھا اس لیے خدا نے نہ چاہا کہ کسی دوسرے کو بھی یہ نام دے کر آپ کی کسرِ شان کی جاوے۔ آنحضرتؐ کی اُمّت میں سے ہزارہا انسانوں کو نبوت کا درجہ ملا اور نبوت کے آثار اور برکات ان کے اندر موجزن تھے مگر نبی کا نام ان پر صرف شانِ نبوتِ آنحضرتؐ اور سدِّ بابِ نبوت کی خاطر ان کو اس نام سے ظاہر املقب نہ کیا گیا۔۱؎مگر دوسری طرف چونکہ آنحضرتؐ کے فیوض اور رُوحانی برکات کا دروازہ بند بھی نہ کیا گیا تھا اور نبوت کے انوار جاری بھی تھے جیسا کہ وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ(الاحزاب:۴۱) سے نکلتا ہے کہ آنحضرتؐ کی مہر اور اذن سے اور آپ کے نور سے نُورِ نبوت جاری بھی ہے اور یہ سلسلہ بند بھی نہیں ہوا۲؎یہ بھی ضروری تھا کہ اسے ظاہراً بھی شائع کیا جاوے تا کہ موسوی سلسلے کے نبیوں کے ساتھ آپ۱؎البدر سے۔’’ لیکن اگر اس اُمّت میں کوئی بھی نبی نہ پکارا جاتا تو مماثلت موسوی کا پہلو بہت ناقص ٹھہرتا اور مِنۡ وَجۡہٍ اُمّتِ موسوی کو ایک فضیلت ہو جاتی اس لیے یہ خطاب آنحضرتؐ نے خود اپنی زبانِ مبارک سے ایک شخص کو دے دیا جس نے مسیح ابن مریم ہو کر دنیا میں آنا تھا۔ کیونکہ اس جگہ دو پہلو مدِّنظر تھے۔ ایک ختمِ نبوت کا، اُسے اس طرح نبھایا کہ جو نبی کے لفظ کی کثرت موسوی سلسلہ میں تھی اُسے اُڑا دیا۔ دوسری مشابہت اُسے اس طرح سے پورا کیا کہ ایک کو نبی کا خطاب دے دیا۔ تکمیلِ مشابہت کے لیے اس لفظ کا ہونا ضروری تھا سو پورا ہو گیا اور جو مصلحت یہاں مدِّ نظر تھی وہ موسوی سلسلہ میں نہیں تھی کیونکہ موسیٰؑ خاتم نبوت نہیں تھے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰۲)۲؎البدر میں ہے۔ ’’نبوت کے معنے مکالمہ کے ہیں جو غیب کی خبر دیوے وہ نبی ہے۔ اگر آئندہ نبوت کو باطل قرار دو گے تو پھر یہ اُمّت خیر الامۃ نہ رہے گی بلکہ کَالْاَنْعَامِ ہوگی اور سورۃ فاتحہ کی تعلیم جس میں اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحۃ:۶، ۷) ہے بے سود ٹھہرے گی۔ کیونکہ انعام اور اکرام تو خدا کا اب کسی پر ہونا نہیں تو پھر دُعا کا فائدہ کیا ہوا؟ اور نعوذ باللہ یہ ماننا پڑا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں قدسی قوت ہی نہ تھی۔ خدا تعالیٰ نے انسان کے نفس میں معرفت کی پیاس رکھ دی ہے اور خود ہی فرمایا ہے کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعۡمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعۡمٰی(بنی اسرآءیل:۷۳) ادھر یہ کہا اُدھر مکالمہ کا دروازہ بند ہوا تو پھر تو خدا نے دیدہ دانستہ اَعْمٰی رکھنا چاہا اور پھر کی اُمت کے لوگ بھی مماثلت کے پورا کرنے میں صاف طور سے نبی اللہ کا لفظ فرمادیا اور اس طرح سے دونوں امور کا لحاظ نہایت حکمت اور کمال لطافت سے رکھ لیا گیا۔ ادھر یہ کہ آنحضرتؐ کی کسرِ شان بھی نہ ہو اور اُدھر موسوی سلسلے سے مماثلت بھی پوری ہوجاوے۔ تیرہ سو برس تک نبوت کے لفظ کا اطلاق تو آپؐ کی نبوت کی عظمت کے پاس سے نہ کیا اور اس کے بعد اب مدت دراز کے گزرنے سے لوگوں کے چونکہ اعتقاد اس امر پر پختہ ہوگئے تھے کہ آنحضرتؐ ہی خاتم الانبیاء ہیں اور اب اگر کسی دوسرے کا نام نبی رکھا جاوے تو اس سے آنحضرتؐ کی شان میں کوئی فرق بھی نہیں آتا اس واسطے اب نبوت کا لفظ مسیح کے لیے ظاہر اً بھی بول دیا۔ یہ ٹھیک اسی طرح سے ہے جیسے آپؐ نے پہلے فرمایا تھا کہ قبروں کی زیارت نہ کیا کرو اور پھر فرما دیا تھا کہ اچھا اب کر لیا کرو۔ پہلے منع کرنا بھی حکمت رکھتا تھا کہ لوگوں کے خیالات ابھی تازہ تازہ بت پرستی سے ہٹے تھے تا پھر وہ اسی عادت کی طرف عود نہ کریں۔ پھر جب دیکھا کہ اب ان کے ایمان کمال کو پہنچ گئے ہیں اور کسی قسم کے شرک و بدعت کو ان کے ایمان میں راہ نہیں تو اجازت دے دی۔ بالکل اسی طرح یہ امر ہے۔ پہلے تیرہ سو۱۳۰۰ برس اس عظمت کے واسطے نبوت کا لفظ نہ بولا اگرچہ صفتی رنگ میں صفتِ نبوت اور انوارِ نبوت موجود تھے اور حق تھا کہ ان لوگوں کو نبی کہا جاوے مگر خاتم الانبیاء کی نبوت کی عظمت کے پاس کی وجہ سے وہ نام نہ دیا گیا۔ مگر اب وہ خوف نہ رہا تو آخری زمانہ میں مسیح موعود کے واسطے نبی اللہ کا لفظ فرمایا۔ آپ کے جانشینوں اور آپؐ کی اُمت کے خادموں پر صاف صاف نبی اللہ بولنے کے واسطے دو اُمور مدّ نظر رکھنے ضروری تھے۔ اوّل عظمتِ آنحضرتؐ اور دوم عظمتِ اسلام۔ سو آنحضرتؐ کی عظمت کے پاس کی وجہ سے ان لوگوں پر ۱۳۰۰ برس تک نبی کا لفظ نہ بولا گیا تا کہ آپؐ کی ختمِ نبوت کی ہتک نہ ہو کیونکہ اگر آپؐ کے بعد ہی آپ کی امت کے خلیفوں اور صلحاء لوگوں پر نبی کا لفظ بولا جانے لگتا جیسے حضرت موسیٰ کے بعد کے لوگوں پر بولا جاتا رہا تو اس میں آپؐ کی ختمِ نبوت کی ہتک تھی اور کوئی عظمت نہ تھی سو خدا نے ایسا کیا کہ اپنی حکمت اور لطف سے آپؐ کے بعد ۱۳۰۰؍برس تک اس لفظ کو آپ کی امت پر سے اٹھا دیا تا آپ کی نبوت کی عظمت کا حق ادا ہو جاوے اور پھر چونکہ اسلام کی عظمت چاہتی تھی کہ اس میں بھی بعض ایسے افراد ہوں جن پر آنحضرت کے بعد لفظ نبی اللہ بولا جاوے اور تا پہلے سلسلہ سے اس کی مماثلت پوری ہو۔ آخری زمانہ میں مسیح موعود کے واسطے آپ کی زبان سے نبی اللہ کا لفظ نکلوا دیا اور اس طرح پر نہایت حکمت اور بلاغت سے دو متضاد باتوں کو پورا کیا اور موسوی سلسلہ کی مماثلت بھی قائم رکھی اور عظمت اور نبوت آنحضرتؐ بھی قائم رکھی۔۱؎

عورت نبیّہ نہیں ہوسکتی

سوال۔ کیا کوئی عورت نبیّہ ہو سکتی ہے؟ فرمایا۔ نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ(النساء:۳۵) اور وَلِلرِّجَالِ عَلَیۡہِنَّ دَرَجَۃٌ(البقرۃ:۲۲۹) عورتیں اصل میں مَردوں کی ہی ذیل میں ہوا کرتی ہیں۔ جب صاحبِ درجہ اور صاحبِ مرتبہ کے واسطے ایک دروازہ بند کر دیا گیا تو یہ بیچاری ناقصات العقل کس حساب میں ہیں؟۲؎

۱۶؍اپریل ۱۹۰۳ء

ایک نیا نکتہ

بعد از نماز مغرب حضرت اقدسؑ نے اس تقریر کا اعادہ فرمایا جو کہ مورخہ ۱۵؍اپریل کی سَیر میں درج ہو چکی ہے اس کی تکمیل میں ایک نئی بات یہ ذکر فرمائی کہ اس وقت میں اُمت موسوی کی طرح جو مامور اور مجدّدین آئے ان کا نام نبی۳؎ رکھا گیا تو اس میں یہ حکمت تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ختمِ نبوت میں فرق نہ آوے (جس کا مفصل ذکر قبل ازیں گذر چکا ہے) اور اگر کوئی نبی نہ آتا تو پھر مماثلت میں فرق نہ۱؎آتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدم، ابراہیم، نوح اور موسیٰ وغیرہ میرے نام رکھے حتیٰ کہ آخر کار جِرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَاءِ کہا۔ گویا اس سے سب اعتراض رفع ہو گئے اور آپ کی اُمت میں ایک آخری خلیفہ ایسا آیا جو موسیٰ کے تمام خلفاء کا جامع تھا۔۲؎

۱۷؍اپریل ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام)

انجیل کی تعلیم ناقابلِ عمل ہے

کالجوں اور مدرسوں۳؎ میں انجیل پڑھانے کے متعلق ذکر ہوتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں تو تعجب آتا ہے کہ یہ لوگ انجیل کو پیش کس خیال سے کرتے ہیں۔ اس کی تعلیم تو انسانی فطرت ہی کے خلاف پڑی ہوئی ہے اور تو اور ایک درخت کی طرح مثال خیال کرو اور اس کی مختلف شاخوں کو انسان کے مختلف قوایٰ۔ انسان اس بات پر مجبور ہے کہ وہ مختلف اوقات پر مختلف قویٰ سے کام لیوے کیونکہ اس کی فطرت میں اس کی پیدائش کے وقت سے ایسا ہی رکھا گیا ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ایک انسان کو ایک وقت ایک بیجا اور محلِ غضب ہو تو اس کی جگہ حلم کرے اور ہمیشہ ایک قوت سے کام لے دوسرے قویٰ کے ظہور کا موقع ہی نہ آوے۔ اگر ایسا ہی خدا نے کرنا تھا تو اتنے مختلف قویٰ کیوں انسان کو دیئے؟ اگر صرف ایک عفو اور حلم ہی دینا باقی قویٰ سے جب کام لینا ہی گناہ تھا تو وہ عطا کیوں کئے؟ نہیں ایسا نہیں بلکہ انسان کی انسانیت اور اخلاق فاضلہ ہی اسی میں ہیں کہ محل اور موقع کے مطابق اپنے قویٰ کا بھی اظہار کرے ورنہ اس میں اور حیوانوں میں ما بہ الامتیاز کیا ہوا؟

ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ان سے ایک دو مرتبہ عفو اور درگذر کیا جاوے اور نیک سلوک کیا جاوے تو اطاعت میں ترقی کرتے اور اپنے فرائض کو پوری طور سے ادا کرنے لگ جاتے ہیں۔ تو وہ۱؎شرارت میں اور بھی زیادہ ترقی کرتے اور احکام کی پروا نہ کر کے ان کو توڑ دینے کی طرف دوڑتے ہیں۔ اب اگر ایک خدمت گار کو جو نہایت شریف الطبع آدمی ہے اور اتفاقاً اس سے ایک غلطی ہو گئی ہے اسے اُٹھ کر مارنے اور پیٹنے لگ جائیں تو کیا وہ کام دے سکے گا؟ نہیں بلکہ اس سے تو عفو کرنا اور درگذر کرنا ہی اس کے واسطے مفید اور اس کی اصلاح کا موجب ہے مگر ایک شریر کو کہ جس کا بارہا تجربہ ہو گیا ہے کہ وہ عفو سے نہیں سمجھتا بلکہ اور بھی شرارت میں قدم آگے رکھتا ہے تو اس کو تو ضرور سزا دینی پڑے گی اور اس کے واسطے مناسب یہی ہے کہ اسے سزا دی جاوے۔

اس قانون کے سوا انجیلی تعلیم پر چل کر تو انسانی تمدن کا نظام چل سکتا ہی نہیں بھلا اگر ایسا ہی ان کا مذہب تھا تو پھر عدالتوں کے قائم کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ عدالتوں کے قوانین میں کیوں سزائیں مقرر ہیں؟ کسی مجرم کے واسطے کہیں قانون میں عفو کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ ہر جرم کی سزا مقرر کی گئی ہے۔

انجیلی تعلیم نے صرف ایک ہی پہلو پر زور دیا ہے۔ اگر ہمیں خدا کی کتاب سے یہ امر نہ معلوم ہوتا کہ یہ مختص الزمان اور مختص المکان تعلیم ہے تو اس کے آسمانی اور الہامی ہونے میں تو ہمیں انکار ہی کرنا پڑتا کیونکہ بھاری بھاری ضرورتوں کے پورا کرنے کی اس کے اندر وسعت نہیں۔ کیا اگر کسی شریر کو اس کی اصلاح کے لیے سزا دی جاوے تو وہ گناہ ہے اور کیا ایک ایسے شخص کو جو بدمعاش اور چوری کر کے لوگوں کا مال مار چکا ہے اس کو عین محل پر سزا دی جاوے تو یہ برا ہے؟۲؎

ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ ہزاروں انسان ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی اصلاح ہی سزا اور چشم نمائی پر منحصر ہوتی ہے۔ لڑکے جو استادوں کے پاس تعلیم پاتے ہیں ان کو بھی کچھ نہ کچھ چشم نمائی کرنی پڑتی ہے۔ اگر وہ ہمیشہ اور ہر خطا پر عفو ہی کرتے رہیں تو لڑکا خراب ہو جاتا ہے۔ ایسی تعلیم اب یہ لوگ کرتے ہی کیوں ہیں؟ انہیں تو چاہیے تھا کہ اسے چھپاتے یہ تو زمانہ ہی ایسا تھا کہ اس کی تعلیم کو لوگوں سے پوشیدہ رکھتے۔ اگر کوئی انجیل پوچھتا بھی تو کہہ دیتے کہ انجیل فلاں الماری میں بھول گئی ہے اور آج وہاں رہ گئی ہے کل دیں گے اور اس طرح پر روز ٹلاتے رہتے۔ کیونکہ انجیلی تعلیم موجودہ زمانہ میں اس قابل ہی نہیں ہے کہ اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھا جاوے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ کیا کبھی کوئی ایسا شخص بھی ہے جس نے اس تعلیم پر عمل کر کے دکھایا ہو۔ کسی پادری اور عیسائی کو جب یہ بات حاصل نہیں تو اور کوئی کیا کرے گا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خود مسیح نے بھی انجیل کی تعلیم کے موافق عمل کر کے نہیں دکھایا اور ان کا عمل ثابت نہیں ہے اور بیچارے کس شمار میں ہیں۔ اگر یہ تعلیم صحیح ہے تو چاہیے تھا کہ عیسائی لوگ اب بھی کرتہ مانگنے والے کو چادر دے دیتے اور ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دیتے مگر ہم کو افسوس سے ظاہر کرنا پڑتا ہے کہ تکلّف اور تصنّع سے بھی برائے نام کسی نے اس پر عمل کر کے نہ دکھایا۔ کوئی تو انجیل کی عزّت رکھنے والا ہوتا۔ بر خلاف اس کے ایسا دیکھا گیا ہے کہ اگر ذرا سی بات بھی مشنریوں کے خلاف مزاج ہوئی ہے تو عدالت تک پہنچاتے ہیں اور ہر طرح سے کوشش کرتے ہیں کہ سزا دلائی جاوے۔

مگر قرآن شریف اس کے مقابلے میں کیا تعلیم دیتا ہے۔ فرماتا ہے وَجَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثۡلُہَا ۚ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ(الشورٰی:۴۱) یعنی بدی کی سزا اسی قدر بدی ہے لیکن اگر کوئی معاف کر دے اور اس عفو میں اصلاح مدِّ نظر ہو بگاڑ نہ ہو تو ایسے شخص کو خدا سے اجر ملے گا۔ دیکھو قرآن شریف نے انجیل کی طرح ایک پہلو پر زور نہیں دیا بلکہ محل اور موقع کے موافق عفو یا سزا کی کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔ عفو غیر محل نہ ہو۔ ایسا عفو نہ ہو کہ اس کی وجہ سے کسی مجرم کو زیادہ جرأت اور دلیری بڑھ جاوے اور وہ اَور بھی گناہ اور شرارت میں ترقی کرے۔ غرض دونوں پہلوؤں کو مدِّ نظر رکھا ہے۔ اگر عفو سے اس کی عادتِ بد جاتی رہے تو عفو کی تعلیم ہے اَور اگر اصلاح سزا میں ہوتو سزا۱ دینی چاہیے اَور پھر اگر قرآن شریف کی اور باقی تعلیموں کو بھی زمانہ کے ساتھ مطابق کرنا چاہیں تو اور کوئی تعلیم اس کا مقابلہ نہ کرسکے گی۔ رکھا ہے۔ اگر عفو سے اس کی عادتِ بد جاتی رہے تو عفو کی تعلیم ہے اَور اگر اصلاح سزا میں ہو تو سزا۱؎ دینی چاہیے اَور پھر اگر قرآن شریف کی اور باقی تعلیموں کو بھی زمانہ کے ساتھ مطابق کرنا چاہیں تو اور کوئی تعلیم اس کا مقابلہ نہ کر سکے گی۔

مسیح موعودؑ کے دعاوی کا انحصار نشانات پر ہوگا

فرمایا۔ قرآن شریف نے جو فرمایا ہے اَخۡرَجۡنَا لَہُمۡ دَآبَّۃً مِّنَ الۡاَرۡضِ تُکَلِّمُہُمۡ ۙ اَنَّ النَّاسَ کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوۡقِنُوۡنَ(النّمل:۸۳) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعودؑ جس کے وقت کے متعلق یہ پیشگوئی ہے اس کے دعاوی کا بہت بڑا انحصار اور دارومدار نشانات پر ہوگا اور خدا نے اسے بھی بہت سے نشانات عطا فرما رکھے ہوں گے کیونکہ یہ جو فرمایا کہ اَنَّ النَّاسَ کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوۡقِنُوۡنَ(النّمل:۸۳) یعنی اس عذاب کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے نشانات کی کچھ بھی پروانہ کی اور ان کو نہ مانا اس واسطے ان کو یہ سزا ملی ہے۔ ان نشانات سے مُراد صرف مسیح موعود کے نشانات ہیں ورنہ یہ اَمر تو ٹھیک نہیں کہ گناہ تو زید کرے اور اس کی سزا عمرو کو ملے جو اس سے تیرہ سو سال بعد آیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اگر لوگوں نے نشانات دیکھے اور ان سے انکار کیا تو اس انکار کی سزا تو ان کو اسی وقت مِل گئی اور وہ تباہ اور برباد ہوگئے اور اگر آیت سے وہی نشانات مُراد ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ظاہر ہوئے تھے تو اب ہزاروں لاکھوں مسلمان ایسے ہیں کہ اگر ان سے پوچھا بھی جاوے کہ بتاؤ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کون کون سے نشانات ظاہر ہوئے تو ہزاروں میں سے شاید کوئی ہی ایسا نکلے جس کو اس طرح پر آپؐ کے نشانات کا علم ہو ورنہ عام طور سے اب مسلمانوں کو خبر تک بھی نہیں کہ وہ نشانات کیا تھے اور کس طرح خدا نے آپ کی تائید میں ان کو ظاہر فرمایا مگر کیا اس لاعلمی سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ لوگ سارے کے سارے ان نشانات سے منکر ہیں اور ان کو وہ نہیں مانتے حالانکہ وہ مومن بھی ہیں۔ اگر ان کو علم ہو تو وہ مانے بیٹھے ہیں ان کو کوئی انکار نہیں ۔ ان لوگوں کے متعلق تو ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات نہ ماننے کا لفظ لا سکتے ہی نہیں کیونکہ انہوں نے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی نبوت کی تفاصیل سمیت مان لیا ہوا ہے وہ انکار کیسے کر سکتے ہیں اور دیگر مذاہب کے لوگوں پر وہ نشانات اب حجت نہیں کیونکہ انہوں نے وہ دیکھے نہیں ہیں جنہوں نے دیکھ کر انکار کیا تھا وہ ہلاک ہو چکے موجودہ زمانے کے لوگوں نے آپ کے نشانات دیکھے ہی نہیں تو وہ اس انکار کی وجہ سے ہلاک کیسے ہو سکتے ہیں؟

پس معلوم ہوا کہ ان نشانات سے مُراد مسیح موعودؑ ہی کے نشانات ہیں جن کے انکار کی وجہ سے عذاب کی تنبیہ ہے اور خدا کا غضب ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے مسیح موعود کے نشانات سے انکار کیا ہے اور یہ خدائی فیصلہ ہے جس کو ردّ نہیں کر سکتا۔ یہ نص صریح ہے اس بات پر کہ طاعون مسیح موعودؑ کے انکار کی وجہ سے آئی ہے۔۱؎

۱۸؍اپریل ۱۹۰۳ء

(بوقتِ سیر)

حضور کا دعویٰ

نو وارد مہمانوں میں سے ایک نے سوال کیا کہ آپ کا دعویٰ کیا ہے؟ فرمایا۔ ہمارا دعویٰ مسیح موعود کا ہے جس کے کل عیسائی اور مسلمان منتظر ہیں وہ میں ہوں ۔

پھر پوچھا کہ اس کے دلائل کیا ہیں؟ فرمایا کہ اب وقت تھوڑا ہے۔ سوال تو انسان چند منٹوں میں کر لیتا ہے مگر بعض اوقات جواب کے لیے چند گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ جب تک ہر ایک پہلو سے نہ سمجھایا جاوے تو بات سمجھ نہیں آیا کرتی اس لیے آپ کتابیں دیکھیں یا پھر کافی وقت ہو تو بیان کر دیئے جاویں گے۔

خاتم النّبیّین کی تشریح

دوسرے صاحب نے سوال کیا کہ خاتم نبوت کی شرح کیا ہے؟ اس کے جواب میں حضرت اقدس نے اپنا وہی مذہب بیان کیا (جو ۱۵؍اپریل کی ڈائری میں آچکا ہے۔) اور یہ فرمایا۔ قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ(اٰل عمران:۳۲) جو جس سے پیار کرتا ہے تو اس سے کلام بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح خدا جس سے پیار کرتا ہے تو اس سے بلا مکالمہ نہیں رہتا۔ آنحضرت کی اتباع سے جب انسان کو خدا پیار کرنے لگتا ہے تو اس سے کلام کرتا ہے۔ غیب کی خبریں اس پر ظاہر کرتا ہے۔ اسی کا نام نبوت ہے۔

(مجلس قبل از عشاء)

معرفت کی راہ

فرمایا۔ خدا کی معرفت کی راہ بہت باریک اور تنگ ہے۔ اس لیے اس کا مشاہدہ انسان پر مشکل ہے۔ ادھر ہم دیکھتے ہیں کہ اسباب کے ڈھیر کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور اسی لیے انسان اس پر مائل ہو جاتا ہے مگر تاہم ایک حصہ امراض کا انسان کو ایسا لگا ہوا ہے کہ طبیب ہاتھ ملتے ہی رہ جاتے ہیں اور کچھ پیش نہیں جاتی۔

کیا دینداری اختیار کرنے سے مصیبت آتی ہے؟

بعض دنیا دار اعتراض کرتے ہیں کہ دینداری اختیار کی تو مصیبت آئی۔ مگر وہ بہت جھوٹے ہوتے ہیں۔ دیندار پر اگر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس کے ثواب اور معرفت کا موجب ہوتی ہے اور دنیا دار پر جو مصیبت آتی ہے وہ اس کی لعنت کا موجب ہوتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مصیبت پڑی مگر کیا ہی پیاری مصیبت تھی کہ جیسے جیسے وہ بڑھتی جاتی ویسے ہی زور سے قرآن نازل ہوتا جاتا۔ وہ دَور گو جلدی ختم ہو گیا یعنی صرف حضرت معاویہ تک ہی رہا۔ مگر نہ وہ رہے اور نہ یہ۔ ہاں سعید گروہ کے آثار قیامت تک رہے اور شقی کا نام بھی ندارد۔ کاش کہ ابوجہل کبھی زندہ ہو کر آتا تو دیکھتا کہ جس کو وہ حقیر اور ذلیل خیال کرتا تھا خدا نے اس کی کیا شان بنائی ہے۔ مشرق اور مغرب تک کہاں کہاں بلاد اسلامیہ پھیلے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو صحابہؓ فوت ہوئے انہوں نے تو وہ ترقیات نہ دیکھیں مگر جنہوں نے حضرت عمرؓ کا زمانہ پایا انہوں نے دیکھ لیں۔ اگر ابو جہل وغیرہ کو معلوم ہوتا کہ یہ عروج ہو گا تو مثل غلاموں کے آنحضرتؐ کے ساتھ ہو جاتے۔۱؎

۱۸؍اپریل کی شام کو حضرت اقدس نے فرمایا کہ میں لیٹا ہوا تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب نظر کے آگے سے پھر گئے پھر یہ لفظ الہام ہوئے۔ سَاُخْبِرُہٗ فِیْ اٰخِرِ الْوَقْتِ اَنَّکَ لَسْتَ عَلَی الْـحَقِّ۔۱؎ حضرت اقدس نے بعد نماز مغرب ایک ذکر پر فرمایا کہ اخبار میں ایک حصہ نظم کا لگاتار ہونا چاہیے اور وہ ہمارے سلسلہ کے متعلق ہوا کرے۔۲؎

۲۰؍اپریل ۱۹۰۳ء

(صبح کی سیر)

حُبابِ ہستی

فرمایا۔ مجھے ہمیشہ تعجب آتا ہے کہ با وجود اس قدر بے بنیاد ہستی کے انسان دنیا میں بنیادیں قائم کرتا ہے صرف ایک دم کی آمد و شد ہے اَور کچھ بھی نہیں۔ پھر یہ سلسلہ خدا نے کیسا رکھا ہے کہ جو شخص یہاں سے رخصت ہو جاوے اس کو اجازت نہیں کہ واپس آکر وہاں کی خبر ہی بتلا جاوے۔ اس سے حکماء اور فلاسفر اور دانایانِ زمان سب عاجز ہیں ہاں اسی قدر پتا ملتا ہے جو خدا کی کلام نے بتایا ہے۔ آدمی جو مَرتا ہے اکثر اپنے بڑے بڑے تعلقات اور عزیز اور پیارے رشتہ دار چھوڑ جاتا ہے مگر معاً انتقال کے بعد ان سے کچھ تعلق نہیں رہتا۔ آج کل یورپ کو ہر ایک بات کی تلاش ہے۔ چنانچہ امریکہ میں ایک شخص سے معاہدہ ہوا (جو واجب القتل تھا) کہ جب اس کا سر کاٹا جاوے تو اس کو بہت بلند آواز سے پکارا جاوے تو میں آنکھ سے اشارہ کروں گا۔ چنانچہ جب سر کاٹا گیا تو بڑے زور سے آوازیں دی گئیں مگر کچھ حرکت نہ ہوئی۔ سچ ہے

آنرا کہ خبر شد خبرش باز نیامد

جو کچھ خدا نے فرمایا ہے وہی سچ ہے ہاں موت اور نیند کو آپس میں مشابہت ہے۔

احیاء موتیٰ

احیاءِ موتیٰ کے بارے میں سوال ہونے پر فرمایا کہ اس میں ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ اعجازی طور بھی احیاء موتیٰ نہیں ہوتا بلکہ یہ عقیدہ ہے کہ وہ شخص دوبارہ دنیا کی طرف رجوع نہیں کرتا۔ مبارک احمد کی حیات اعجازی ہے۔ اس میں کوئی بحث نہیں کہ جس شخص کی باقاعدہ طور پر فرشتہ جان قبض کر لے اور زمین میں دفن بھی کیا جاوے وہ پھر کبھی زندہ نہیں ہوتا۔ شیخ سعدی نے خوب کہا ہے۔

واہ کہ گر مُردہ باز گر دیدے

درمیاں قبیلہ و پیوند

ردّ میراث سخت تر بُودے

وارثان را ز مَرگ خویشاوند

خدا تعالیٰ نے بھی فرمایا فَیُمۡسِکُ الَّتِیۡ قَضٰی عَلَیۡہَا الۡمَوۡتَ(الزّمر:۴۳)

حقیقتِ کشف

کشف کیا ہے اسی بیداری کے ساتھ کسی اور عالم کا تداخل ہو جاتا ہے۔ اس میں حواس کے معطل ہونے کی ضرورت نہیں۔ دنیا کی بیداری بھی ہوتی اور ایک عالمِ غیبوبیّت بھی ہوتا ہے یعنی حالت بیداری ہوتی اور اسرارِ غیبی بھی نظر آتے۔

قتلِ انبیاء

قتلِ انبیاء پر سوال ہونے پر فرمایا۔ توریت میں لکھا ہے کہ جھوٹا نبی قتل کیا جاوے گا۔ اس کا فیصلہ یہ ہے کہ اگر قرآن کی نصِ صریح سے پایا جاوے یا حدیث کے تواتر سے ثابت ہو کہ نبی قتل ہوتے رہے ہیں تو پھر ہم کو اس سے انکار نہیں کرنا پڑے گا۔ بہرحال یہ کچھ ایسی بات نہیں کہ نبی کی شان میں خلل انداز ہو کیونکہ قتل بھی شہادت ہوتی ہے مگر ہاں ناکام قتل ہو جانا انبیاء کی علامات میں سے نہیں۔ یہ مصالح پر موقوف ہے کہ ایک شخص کے قتل سے فتنہ برپا ہوتا ہے تو مصلحتِ الٰہی نہیں چاہتی کہ اس کو قتل کرا کر فتنہ برپا کیا جاوے۔ جس کے قتل سے ایسا اندیشہ نہ ہو اس میں حرج نہیں۔

حدیث قرآن سے باہر نہیں

پھر فرمایا۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیان فرمایا ہے وہی کچھ حدیث میں۔ ہاں بعض۱؎ باتوں کا استنباط ایسا اعلیٰ حدیثوں نے کیا ہے کہ دوسرے گو اس کو سمجھ نہیں سکتے ورنہ حدیث قرآن سے باہر نہیں۔ خدا نے قرآن کا نام رکھا ہے مُفَصَّلًا۔ اس پر ایمان ہونا چاہیے بعض تفاسیر سوائے انبیاء کے اَور کی سمجھ میں نہیں آتیں۔ پھر اس طرح حدیث میں قرآن سے زائد کچھ نہیں۔۱؎

بلاتاریخ

متّقی ہر وقت تیار رہتا ہے

ہر رات حاملہ عورت کی طرح ہوتی ہے جیسے وہاں معلوم نہیں کہ کیا پیدا ہو، نہیں معلوم صبح کو کیا نتیجہ پیدا ہو۔ اس لیے متقی اپنے اوقات کو ضائع نہیں کرتا بلکہ وہ ہر وقت طیار رہتا ہے یہ جان کر کہ معلوم نہیں کس وقت آواز پڑ جاوے۔

نبوتِ مسیح موعود

نبوت کا لفظ ہمارے الہامات میں دو شرطیں رکھتا ہے اوّل یہ اس کے ساتھ شریعت نہیں ہے اور دوسرے یہ کہ بواسطہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔

ملائکہ کا وجود

جو لوگ ملائک سے انکار کرتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں ان کو اتنا معلوم نہیں کہ دراصل جس قدر اشیاء دنیا میں موجود ہیں ذرّہ ذرّہ پر ملائکہ کا اطلاق ہوتا ہے اور میں یہی سمجھتا ہوں کہ بغیر اس کے اذن کے کوئی چیز اپنا اثر نہیں کر سکتی یہاں تک کہ پانی کا ایک قطرہ بھی اندر نہیں جا سکتا اور نہ وہ موثر ہو سکتا ہے وَاِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمۡدِہٖ(بنی اسرآءیل:۴۵) کے یہی معنے ہیں اور رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ کے بھی یہی معنے ہیں یہی اسلام اور ایمان ہے اس کے سوا بدبودار چیز ہے۔

موت

موت کا مضمون بہت ہی موثر مضمون ہے اگر یہ انسان کے اندر چلا جاوے تو انسان بدیوں سے بچنے کی بہت کوشش کرے۔ ابراہیم اَدہم اور شاہ شجاع جیسے بادشاہوں پر اسی مضمون نے اثر کیا تھا جو سلطنتیں چھوڑ کر فقیر ہو گئے۔

خَلق اور اَمر

جو چیز عِلل اور اسباب سے پیدا ہوتی ہے وہ خَلق ہے اور جو محض. کُنْ سے ہو وہ اَمر ہے چنانچہ فرمایا ہے اِنَّمَاۤ اَمۡرُہٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیۡئًا اَنۡ یَّقُوۡلَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ(یٰسٓ:۸۳) عالم اَمر میں کبھی توقف نہیں ہوتا خلق سلسلہ علل و معلول کا محتاج ہے جیسے انسان کے بچہ پیدا ہونے کے لیے نطفہ ہو پھر دوسرے مراتب اور طبعی اور طبابت کے قواعد کے نیچے ہوتا ہے مگر اَمر میں یہ نہیں ہوتا ہے۔۱؎

۲۱؍اپریل ۱۹۰۳ء

(بوقتِ سیر)

فرمایا کہ

وحی والہام کشف

فرمایا کہ جب سماع۲؎ کے ذریعہ سے کوئی خبر دی جاتی ہے تو اسے وحی کہتے ہیں اور جب رویت کے ذریعہ سے کچھ بتلایا جاوے تو اسے کشف کہتے ہیں اسی طرح میں نے دیکھا ہے کہ بعض وقت ایک ایسا اَمر ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا تعلق صرف قوتِ شامہ سے ہوتا ہے مگر اس کا نام نہیں رکھ سکتے جیسے یوسفؑ کی نسبت حضرت یعقوبؑ کو خوشبو آئی تھی اِنِّیۡ لَاَجِدُ رِیۡحَ یُوۡسُفَ لَوۡلَاۤ اَنۡ تُفَنِّدُوۡنِ(یوسف:۹۵) اور کبھی ایک اَمر ایسا ہوتا ہے کہ جسم اسے محسوس کرتا ہے گویا کہ حواس خمسہ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنی باتیں اظہار کرتا ہے۔ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنی باتیں اظہار کرتا ہے۔۱؎

دہریت

ہندوستان اور یورپ کی دہریت میں فرق ہے۔ یورپ کے دہریہ اس خدا کے منکر ہیں جو مصنوعی ہے اور عیسائی لوگ وہاں اس کو دہریہ کہتے ہیں جو کہ مسیح کو خدا نہ مانے اور اب فسق و فجور نے بھی اثر ڈالا ہے۔ لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ یہ سب اثر کفّارہ پرستی کا ہے۔ تو اب وہ کیسے مانیں۔

قضا عمری

ایک صاحب نے سوال کیا کہ یہ قضا عمری کیا شَے ہے جو کہ لوگ عیدالاضحی کے پیشتر جمعہ کو ادا کرتے ہیں۔

فرمایا کہ میرے نزدیک یہ فضول باتیں ہیں۔ ان کی نسبت وہی جواب ٹھیک ہے جو کہ حضرت علیؓ فرمایاکہ میرے ن ؓ نے ایک شخص کو دیا تھا جبکہ ایک شخص ایک ایسے وقت نماز ادا کر رہا تھا جس وقت میں نماز جائز نہیں۔ اس کی شکایت حضرت علیؓ کے پاس ہوئی تو آپ نے اسے جواب دیا کہ میں اس آیت کا مصداق نہیں بننا چاہتا اَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ یَنۡہٰی عَبۡدًا اِذَا صَلّٰی(العلق:۱۰، ۱۱) یعنی تو نے دیکھا اس کو جو ایک نماز پڑھتے بندے کو منع کرتا ہے۔ نماز جو رہ جاوے اس کا تدارک نہیں ہو سکتا ہاں روزہ کا ہو سکتا ہے۔

اور جو شخص عمداً سال بھر اس لیے نماز کو ترک کرتا ہے کہ قضا عمری والے دن ادا کر لوں گا وہ تو گنہگار ہے اور جو شخص نادم ہو کر توبہ کرتا ہے اور اس نیت سے پڑھتا ہے کہ آئندہ نماز ترک نہ کروں گا تو اس کے لیے حرج نہیں۔۱؎ ہم تو اس معاملہ میں حضرت علیؓ ہی کا جواب دیتے ہیں۔

نماز کے بعد دعا

سوال ہوا کہ نماز کے بعد دعا کرنی یہ سنّت اسلام آئی ہے یا نہیں؟ فرمایا۔ ہم انکار نہیں کرتے۔ آنحضرت نے دعا مانگی ہو گی مگر ساری نماز دعا ہی ہے اور آج کل دیکھا جاتا ہے کہ لوگ نماز کو جلدی جلدی ادا کر کے گلے سے اتارتے ہیں۔ پھر دعاؤں میں اس کے بعد اس قدر خشوع خضوع کرتے ہیں کہ جس کی حد نہیں اور اتنی دیر تک دعا مانگتے رہتے ہیں کہ مسافر دو میل تک نکل جاوے۔ بعض لوگ اس سے تنگ بھی آجاتے ہیں تو یہ بات معیوب ہے۔ خشوع خضوع اصل جزو تو نماز کی ہے وہ اس میں نہیں کیا جاتا اور نہ اس میں دعا مانگتے ہیں۔ اس طرح سے وہ لوگ نماز کو منسوخ کرتے ہیں۔ انسان نماز کے اندر ہی ماثورہ دعاؤں کے بعد اپنی زبان میں دعا مانگ سکتا ہے۔

سُنّت صحیحہ معلوم کرنے کا طریق

جب اسلام کے فرقوں میں اختلاف ہے تو سنّتِ صحیحہ کیسے معلوم ہو؟ اس کے جواب میں فرمایا کہ قرآن شریف، احادیث اور ایک قوم کے تقویٰ طہارت اور سنّت کو جب آپس میں ملایا جاوے قرآن شریف،احادی تو پ ھر پتا لگ جاتا ہے کہ اصل سنّت کیا ہے۔

نماز اور قرآن شریف کا ترجمہ جاننا ضروری ہے

اس پر مولانا مولوی محمد احسن صاحب نے فرمایا کہ لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنۡتُمۡ سُکٰرٰی حَتّٰی تَعۡلَمُوۡا مَا تَقُوۡلُوۡنَ(النساء:۴۴) سے ثابت ہے کہ انسان کو اپنے قول کا علم ہونا ضروری ہے۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ جن لوگوں کو ساری عمر میں تَعْلَمُوْا نصیب نہ ہو ان کی نماز ہی کیا ہے۔

مزکّی کی ضرورت

ایک عورت کا ذکر کرتے ہیں کہ نماز پڑھا کرتی تھی۔ ایک دن اس نے پوچھا کہ درود میں جو صَلِّ عَلٰی مُـحَمَّدٍ آتا ہے اس کے کیا معنے ہیں۔ خاوند نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے رسول تھے اس پر اس نے تعجب کیا اور کہا کہ ہائے ہائے میں ساری عمر بیگانہ مرد کا نام لیتی رہی (یہ حالت آج کل اسلام اور مسلمانوں کی ہے اور پھر اس پر کہا جاتا ہے کہ ایک مزکّی نفس انسان کی ضرورت نہیں ہے)

قرآن کا صرف ترجمہ کافی ہے کہ نہیں

فرمایا۔ ہم ہرگز فتویٰ نہیں دیتے کہ قرآن کا صرف ترجمہ پڑھا جاوے۔ اس سے قرآن کا اعجاز باطل ہوتا ہے جو شخص یہ کہتا ہے وہ چاہتا ہے کہ قرآن دنیا میں نہ رہے بلکہ ہم تو یہ بھی کہتے ہیں کہ جو دعائیں رسول اللہ نے مانگی ہیں وہ بھی عربی میں پڑھی جاویں دوسرے جو اپنی حاجات وغیرہ ہیں ماثورہ دعا کے علاوہ وہ صرف اپنی زبان میں مانگی جاویں۔ ایک شخص نے کہا کہ حضور حنفی مذہب میں صرف ترجمہ پڑھ لینا کافی سمجھا گیا ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ امام اعظم کا مذہب ہے تو پھر ان کی خطا ہے۔

صدقہ اور ہدیہ میں فرق

صدقہ میں ردِّ بَلا ملحوظ ہوتی ہے اور یہ صدق سے نکلا ہے کیونکہ اس کے عملدرآمد میں انسان اللہ تعالیٰ کو صدق صفا دکھلاتا ہے اور میرا خیال ہے کہ ہدیہ ہدایت سے نکلا ہو کہ آپس میں محبت بڑھے۔

بعد وفات میّت کو کیا شَے پہنچتی ہے

فرمایا کہ دعا کا اثر ثابت ہے یا ایک روایت میں ہے کہ اگر میّت کی طرف سے حج کیا جاوے تو قبول ہوتا ہے اور روزہ کا ذکر بھی ہے۔

ایک شخص نے عرض کی کہ حضور یہ جو ہے لَّیۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی(النجم:۴۰) فرمایا کہ اگر اس کے یہ معنے ہیں کہ بھائی کے حق میں دعا نہ قبول ہو تو پھر سورۃ فاتحہ میں اِہْدِنَا کی بجائے اِھْدِنِیْ ہوتا۔

(مجلس قبل از عشاء

اسباب پر نظر

ایک شخص کی موت کا ذکر ہوا۔ اس کا باعث بیان ہوا کہ فلاں مرض اور اسباب تھے۔ فرمایا کہ جب انسان یہیں آ کر ٹھہر جاوے کہ فلاں باعث موت کا ہے اور آگے نہ چلے تو ایسی باتیں معرفت کی روک ہیں اور اس سے نظر اسباب تک ہی رہتی ہے۔

لَوْلَا الْاِ کْرَامُ لَھَلَکَ الْمُقَامُ

فرمایا۔ جب طاعون کی آگ بھڑک رہی ہے تو اب کوئی سوچے کہ ایک مفتری کہہ سکتا ہے کہ لَوْلَا الْاِکْرَامُ لَھَلَکَ الْمُقَامُ کیا ممکن نہ تھا کہ وہ خود ہی مَر جاوے اور طاعون کا شکار ہو۔ اس وقت قادیان مثلِ مکہ ہے کہ اس کے ارد گرد لوگ ہلاک ہو رہے ہیں اور یہاں خدا کے فضل سے بالکل امن ہے مکہ کی نسبت بھی ہے وَّیُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنۡ حَوۡلِہِمۡ(العنکبوت:۶۸) کہ لوگ اس کے گردونواح سے اچک لیے جاویں گے لَوْلَا الْاِکْرَامُ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس سرزمین سے راضی نہیں ہے اور مجھے یہ بھی الہام ہوا ہے کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمۡ وَاَنۡتَ فِیۡہِمۡ(الانفال:۳۴)۔

قنوت

آج کل چونکہ وبا کا زور ہے اس لیے نمازوں میں قنوت پڑھنا چاہیے۔۱؎

(بوقتِ شام) شام کو اسمائے مبائعین کی اشاعت پر خود حضرت اقدس نے ایک تقریر فرما کر ہم کو متنبہ کیا ہے اگرچہ اس تقریر کے تمام نصائح صرف ہماری اپنی ہی ذات سے تعلق رکھتے ہیں مگر چونکہ وہ ایک عام نصیحت بھی ہے اس کا خلاصہ ہم فائدہ عام کی خاطر درج کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ فرمایا کہ اس سے پیشتر بیعت کرنے والوں کے نام اخباروں میں چھپا کرتے تھے مگر اب نظر نہیں آتے اور ان لوگوں نے اس التزام کو چھوڑ دیا ہے اگر ان کی اخباروں سے ہمارے سلسلہ کی اتنی بھی امداد نہ ہوئی تو پھر یہ کس کام کے۔ پھر تو صرف دنیا ہی دنیا ہے کہ اسی کے کمانے کے واسطے یہ سب کاروبار ہوا۔ اگرچہ یہ مشکل اَمر ہے کہ کاموں میں انسان کو اخلاص حاصل ہو اور محض خدا کی رضا کو مدِّنظر رکھ کر صرف دین کے واسطے ان کو کیا جاوے مگر تاہم اگر ملونی ہی ہو تو بھی کچھ حصہ دین کا مل ہی جاتا ہے اور بالکل دنیا داری کی مد سے وہ کام نکل جاتا ہے بیعت کے نام یکجا چھپے ہوئے ہونے سے اس سلسلہ کا ایک رعب اور ایک اثر ہوتا ہے مخالف اور مکذبین کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ان کی کوششوں کا کیا انجام ہے اور یہ ایک بڑا نشانِ الٰہی ہے۔ یہ ان لوگوں سے بڑی غلطی ہوئی ہے کہ اس کی اشاعت کو ترک کر دیا ہے۔ اب توبہ کریں اور آئندہ ایسا نہ کریں۔ ایک صفحہ پورا اخبار میں بیعت کے ناموں کے واسطے ہونا چاہیے۔ لکھتے لکھتے جو ان لوگوں نے بند کر دیا یہ ان کی سستی ہے۔ قاعدہ کی بات ہے کہ انسان سست ہوتا ہوتا بہت دور تک چلا جاتا ہے اس لئے آئندہ اس کی اصلاح کریں یہ شیطانی وساوس ہوتے ہیں ہمیشہ ان کا خیال رکھنا چاہیے۔۱؎

۲۲؍اپریل ۱۹۰۳ء

(بوقتِ سیر)

گوشت خوری

آریوں کے مسئلہ گوشت خوری پر ذکر چلا فرمایا کہ انسانی زندگی کے واسطے دوسری اشیاء کی ہلاکت لازمی پڑی ہوئی ہے۔ مثلاً دیکھو ریشم جب ہی حاصل ہوتا ہے جب ریشم کے کیڑے مَریں پھر شہد کی مکھی کب چاہتی ہے کہ اس کا شہد لیا جاوے اکثر جونکیں خون پی کر مَر جاتی ہیں پھر ہوا میں کیڑے ہیں جو سانس سے مَرتے ہیں جب یکجائی نظر سے خدائی کے کل دائرے کو دیکھا جاوے تو پھر سمجھ میں آتا ہے کہ دنیا میں سلسلہ آکل اور ماکول کا برابر جاری ہے اور اس کے بغیر دنیا رہ ہی نہیں سکتی کہ بعض کی جان لی جاوے ورنہ اس طرح تو پھر کدو دانہ وغیرہ کیڑے جو پیٹ میں پیدا ہوتے ہیں ان کو بھی نہ مارنا چاہیے۔

ایک شخص نے کہا کہ حضور آریہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ جو انسان کی طاقت سے باہر اَمر ہے اس میں اس پر الزام نہیں۔

فرمایا کہ طاقت سے باہر تو وہ کہا جاوے گا جس کا تعلق انسانی زندگی سے نہ ہو اور جو اس کے اندر ہے وہ سب طاقت میں ہو گا خدا تعالیٰ کا ہی یہ منشا ہے کہ انسانی حفاظت کے واسطے بہت جانوں کو لیا جاوے پھر فطرت انسانی میں بعض قویٰ ایسے ہیں کہ اگر گوشت نہ کھایا جاوے تو ان کا نشوو نما ہو ہی نہیں سکتا شجاعت پیدا ہی نہیں ہوتی اس لیے سکھ وغیرہ اقوام جو گوشت خور ہیں وہ نسبتاً شجاعت بہت زیادہ رکھتے ہیں۔

اس پر اعتراض کیا گیا کہ بنگالی گوشت خور ہیں مگر وہ ایسے بہادر نہیں ہوتے۔

فرمایا کہ ایسی حالتوں میں قوموں کی مجموعی حالت کو دیکھا کرتے ہیں کہ کس قدر اقوام گوشت خور ہیں اور کس قدر نہیں پھر مقابلۃً دیکھاجاوے کہ کون سی اقوام شجاعت میں بڑھ کر ہیں۔

(مجلس قبل از عشاء)

احمدیوں کی اقسام

فرمایا۔ ہمارے مریدوں کے بھی کئی قسم کے طبقہ ہیں ایک تو طاعونی ہیں جو طاعون سے ڈر کر اور اس سے بچنے کی نیت سے اب آ رہے ہیں۱؎ دوسرے قمری اور شمسی ہیں جو کہ قمر اور شمس کا گرہن دیکھ کر داخل بیعت ہوئے۔ کچھ خوابی ہیں کہ بذریعہ خواب کے ان کی راہنمائی کی گئی۲؎ بعض عقلی ہیں کہ انہوں نے عقل سے کام لے کر بیعت کی۔ بعض نقلی ہیں کہ احادیث آثار وغیرہ و دیگر امور کو پورے ہوتے دیکھ کر ایمان لائے اور ابھی شائد اَور بھی چند قسمیں ہوں۔

ہمارا نقارہ

فرمایا کہ اَعدا کا وجود ہمارا نقارہ ہے یہ انہی کی مہربانی ہے کہ تبلیغ کرتے رہتے ہیں مثنوی میں ایک ذکر ہے کہ ایک دفعہ ایک چور ایک مکان کو نقب لگا رہا تھا ایک شخص نے اوپر سے دیکھ کر کہا کہ کیا کرتا ہے چور نے کہا کہ نقارہ بجا رہا ہوں اس شخص نے کہا کہ آواز تو نہیں آتی چور نے جواب دیا کہ اس نقارہ کی آواز صبح کو سنائی دیوے گی اور ہر ایک سنے گا ایسے ہی یہ لوگ شور مچاتے ہیں اور مخالفت کرتے ہیں تو لوگوں کو خبر ہوتی رہتی ہے۔

فلسفہ جدیدہ کا فائدہ

فلسفہ جدیدہ نے اگرچہ نقصانات بھی پہنچائے ہیں مگر ایک صورت میں یہ مفید بھی ہوا ہے کہ بہت سی غیر معقول باتوں سے دلوں میں نفرت دلا دی ہے مثلاً یہ فرقہ شیعہ کہ جن کی اصلاح کی کبھی امید نہ تھی مگر اس فلسفہ سے مؤثر ہو کر وہ بھی راہ راست پر آتے جاتے ہیں۔

صلحاء واتقیاء سے محبت میں غلو نہ کیا جائے

ایک شخص کے اس سوال پر کہ اولیاء اللہ سے محبت رکھی جاوے کہ نہ؟ فرمایا کہ ہم اس کے مخالف نہیں ہیں کہ صلحاء اور اتقیاء اور ابرار سے محبت رکھی جاوے مگر حد سے گذر جانا حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کو مقدم رکھنا یہ مناسب نہیں ہے جیسے کہ گذشتہ ایام میں بعض شیعہ کی طرف سے ایک کتاب شائع ہوئی اس میں لکھا تھا کہ صرف امام حسین ؑ کی شفاعت سے تمام انبیاء نے نجات پائی۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسر شان ہے۔ اس سے تو ثابت ہوا کہ خدا نے غلطی کی کہ آنحضرتؐ پر قرآن نازل کیا اور حسین پر نہ کیا۔۱؎،۲؎

ازدیادِ ایمان

ایمان کی نعت یہی ہے کہ خدائی نصرتوں کو انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔ جب وہ خدا کی نصرتوں کو دیکھتا ہے تب اس کا ایمان بڑھتا ہے اور معرفت اور بصیرت کی آنکھ کھلنے لگتی ہے۔ جب تک خدا تعالیٰ کی نصرتوں کی چمک نظر نہیں آتی اس وقت یہ حالت تذبذب میں رہتا ہے لیکن جب ان کی چمکار نظر آجاتی ہے اس وقت سینہ کی غلاظتیں دور ہو جاتی ہیں اور اندر ایک صفائی اور نور نظر آتا ہے۔ وہ حالت ہوتی ہے جب اس کے لیے کہا جاتا ہے اِتَّقُوا فِرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہٗ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللّٰہِ۔

عابد کامل سے عبادت کا ساقط ہو جانا

اہل اللہ کہتے ہیں کہ جب انسان عابد کامل ہو جاتا ہے اس وقت اس کی ساری عبادتیں ساقط ہو جاتی ہیں۔ پھر خود ہی اس جملہ کی شرح کرتے ہیں کہ اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ نماز روزہ معاف ہو جاتا ہے نہیں بلکہ اس سے یہ مطلب ہے کہ تکالیف ساقط ہو جاتی ہیں یعنی عبادات کو وہ ایسے طور پر ادا کرتا ہے جیسے دونوں وقت روٹی کھاتا ہے۔ وہ تکالیف مدرک الحلاوت اور محسوس اللذّات ہو جاتی ہیں۔ پس ایسی حالت پیدا کرو کہ تمہاری تکالیف ساقط ہو جائیں اور پھر خدا تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور نہی سے بچنا فطرتی ہو جاوے۔ جب انسان اس مقام پر پہنچتا ہے تو گویا ملائکہ میں داخل ہو جاتا ہے جو وَیَفۡعَلُوۡنَ مَا یُؤۡمَرُوۡنَ(النحل:۵۱) کے مصداق ہیں۔

ثوابِ عبادت ضائع ہونے کا مطلب

سیّد عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آدمی عارف اور عابد ہو جاتا ہے تو اس کی عبادت کا ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔ پھر خود ہی اس کی تشریح کرتے ہیں کہ اس کے یہ معنے ہیں کہ ہر نیکی کا اجر نقد پا لیتے ہیں یعنی جب نفسِ امّارہ بدل کر مطمئنہ ہو جاتا ہے تو وہ تو جنّت میں پہنچ گیا۔ جو کچھ عبادت کا ثواب ضا پا نا تھا پالیا۔ اس لحاظ سے ثواب نہیں رہتا۔ مگر بات اصل یہ ہے کہ ترقیات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

عربی میں الہامات کی کثرت کی وجہ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اِتباع کے سوا اگر ہم کسی اور راستہ پر چلتے تو ہماری کثرتِ الہام کسی دوسری زبان میں ہوتی۔ مگر جب کہ اسی خدا، اسی کی کتاب اور اسی نبی کے اتباع پر ہم چلانا چاہتے ہیں تو پھر ہم کیوں عربی زبان میں مثل لانے کی تحّدی نہ کریں؟

حقیقی جنّت

مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب میں کسی کتاب کا مضمون لکھنے بیٹھتا ہوں اور قلم اٹھاتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا کوئی اندر سے بول رہا ہے اور میں لکھتا جاتا ہوں۔ اصل یہ ہے کہ یہ ایک ایسا سلسلہ ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کو سمجھا بھی نہیں سکتے۔ خدا تعالیٰ کا چہرہ نظر آ جاتا ہے اور میرا ایمان تو یہ ہے کہ جنّت ہو یا نہ ہو۔ خدا تعالیٰ پر پورا یقین ہونا ہی جنّت ہے۔۱؎

۲۳؍اپریل ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام)

مسیح کا مقام رُوْحٌ مِّنْہُ

ایپی فینی میں کسی ہندو نے ایک مضمون شائع کر دیا ہے کہ قرآن شریف میں حضرت مسیحؑ کی نسبت روح اللہ کا لفظ آیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ سب سے افضل ہیں اس پر حضرت حجۃ اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیحؑ کو رُوْحٌ مِّنْہُ فرمانے سے اصلی مطلب یہ ہے کہ تا ان تمام اعتراضات کا جواب دیا جاوے جو ان کی ولادت کے متعلق کئے جاتے ہیں۔ یاد رکھو ولادت دو قسم کی ہوتی ہے ایک ولادت تو وہ ہوتی ہے کہ اس میں روح الٰہی کا جلوہ ہوتا ہے اور ایک وہ ہوتی ہے کہ اس میں شیطانی حصہ ہوتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں بھی آیا ہے کہ وَشَارِکۡہُمۡ فِی الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَوۡلَادِ(بنی اسرآءیل:۶۵) یہ شیطان کو خطاب ہے۔ غرض خدا تعالیٰ نے رُوْحٌ مِّنْہُ فرما کر یہودیوں کے اس اعتراض کو ردّ کیا ہے جو وہ نعوذ باللہ حضرت مسیحؑ کی ولادت کو ناجائز ٹھہراتے تھے رُوْحٌ مِّنْہُ کہہ کر صاف کر دیا کہ ان کی ولادت پاک ہے۔

یہودی تو ایسے بیباک اور دلیر تھے کہ ان کے منہ پر بھی ان کی ولادت پر حملہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ وہ مَسِّ شیطان سے پاک ہے اس میں بھی اسی کی تصدیق ہے ورنہ تمام انبیاء اور صلحاء مَسِّ شیطان سے پاک ہوتے ہیں۔ حضرت مسیحؑ کی کوئی خصوصیت نہیں۔ ان کی صراحت اس واسطے کی ہے کہ ان پر ایسے ایسے اعتراض ہوئے اور کسی نبی پر چونکہ اعتراض نہیں ہوئے اس لیے ان کے لیے صراحت کی ضرورت بھی نہ پڑی دوسرے نبیوں یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسے الفاظ ہوتے تو یہ بھی ایک قسم کی توہین ہے کیونکہ اگر ایک مسلّم و مقبول نیک آدمی کی نسبت کہا جاوے کہ وہ تو زانی نہیں یہ اس کی ایک رنگ میں ہتک ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو خود اہل مکہ تسلیم کر چکے ہوئے تھے کہ وہ مَسِّ شیطان سے پاک ہے تب ہی تو آپ کا نام انہوں نے امین رکھا ہوا تھا اور آپ نے ان پر تحدّی کیا کہ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا(یونس:۱۷) پھر کیا ضرورت تھی کہ آپ کی نسبت بھی کہا جاتا۔ یہ الفاظ حضرت مسیحؑ کی عزّت کو بڑھانے والے نہیں ہیں۔ ان کی براءت کرتے ہیں اور ساتھ ہی ایک کلنک کا بھی پتا دے دیتے ہیں کہ ان پر الزام تھا۔

یاد رکھو کہ کلمہ اور روح کا لفظ عام ہے۔ حضرت مسیحؑ کی کوئی خصوصیت اس میں نہیں ہے یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَکَلِمٰتِہٖ(الاعراف:۱۵۹) اب اللہ تعالیٰ کے کلمات تو لا انتہا ہیں اور ایسا ہی صحابہ کی تعریف میں آیا ہے وَاَیَّدَہُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡہُ(المجادلۃ:۲۳) پھر مسیحؑ کی کیا خصوصیت رہی؟ حضرت مسیحؑ کی ماں کی نسبت جو صدیقہ کا لفظ آیا ہے یہ بھی دراصل رفع الزام ہی کے لیے آیا ہے یہودی جو معاذ اللہ ان کو فاسقہ فاجرہ ٹھہراتے تھے۔ قرآن شریف نے صدیقہ کہہ کر ان کے الزاموں کو دور کیا ہے کہ وہ صدیقہ تھیں۔ اس سے کوئی خصوصیت اور فخر ثابت نہیں ہوتا اور نہ عیسائی کچھ فائدہ اٹھا سکتے ہیں بلکہ ان کو تو یہ امور پیش بھی نہیں کرنے چاہئیں۔۱؎

۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ء

(مجلس قبل از عشاء)

ایک اعتراض کا جواب

کسی نے اعتراض کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ کیوں کوئی احمدی طاعون سے فوت ہوتا ہے؟

فرمایا کہ یہ ان لوگوں کی غلط فہمی ہے کہ انجام کو نہیں دیکھتے۔ آنحضرت کے وقت جب ایک طرف کافر مَرتے ہوں گے اور ایک طرف صحابہؓ بھی۔ تو لوگ اعتراض تو کرتے ہوں گے کہ مَرتے تو وہ بھی ہیں پھر فرق کیا؟ اس لیے ہمیشہ انجام کو دیکھنا چاہیے۔ ایک وہ وقت تھا کہ آنحضرت اکیلے تھے اور کوئی ساتھ نہ تھا ہر ایک مقابلہ کے لیے طیار ہوتا۔ اب ہم ان لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر طاعون سے ہمارے مرید مَرتے جاتے ہیں تو پھر ہماری ترقی کیوں ہوتی جاتی ہے؟ اور ان کی جمعیت کیوں گھٹتی جاتی ہے؟ یہ اعتراض تو پھر سب پیغمبروں پر ہوگا اور ہم نے تو اس لیے کشتی نوح میں لکھ دیا تھا کہ اگر عافیت کا پہلو نسبتاً ہماری طرف ہے تو ہم سچے اور موت تو سب کو آتی ہے اس سے کس کو انکار ہے۔

طاعون کو جو ایک طرف شہادت اور ایک طرف عذاب کہا جاتا ہے۔ اس کے یہی معنے ہیں کہ اس کے ذریعے سے جس فریق کے لیے برکات ظاہر ہو رہے ہیں ان کے لیے تو شہادت اور رحمت ہے اور جن کے لیے برکات ظاہر نہ ہوں اور کمی ہوتی جاوے ان کے لیے عذاب ہے۔ ہم کو اس سے دو فائدے ہیں اور ان کو دو نقصان ہیں اور پھر ہم بیس سال سے براہین میں یہ پیشگوئی عذاب کی شائع کر چکے ہیں۔ خدا نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ ان کافروں کو جس طرح چاہے عذاب دیوے۔ پھر جب ان لوگوں کو وہ عذاب ایک جنگ کے رنگ میں نازل ہوا تو کفار کے ساتھ صحابہؓ کیوں اس میں حصہ لیتے رہے؟ یہ اَمر اس لیے ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ایک پہلو اِخفا اور ایمان بالغیب کا بھی رہے۔

ہندوؤں کا بانگ دلوانا

آج کل طاعون کی کثرت کے وقت اکثر سکھوں اور ہندوؤں کے گاؤں میں یہ علاج کیا جاتا ہے کہ اذان نماز بڑے زور اور کثرت سے ہر ایک گھر میں دلائی جاتی ہے اس کی نسبت ایک شخص نے حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ یہ فعل کیسا ہے؟

فرمایا کہ اذان سراسر اللہ تعالیٰ کا پاک نام ہے ہمیں تو علیؓ کا جواب یاد آتا ہے کہ آپ نے کہا تھا کہ میں اس اَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ یَنۡہٰی عَبۡدًا اِذَا صَلّٰی(العلق:۱۰، ۱۱) کا مصداق ہونا نہیں چاہتا۔ ہمارے نزدیک بانگ میں بڑی شوکت ہے اور اس کے دلوانے میں حرج نہیں (حدیث میں آیا ہے کہ اس سے شیطان بھاگتا ہے)۱؎

۲۵؍اپریل ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام)

الہام

یٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِیۡ مَآءَکِ وَیٰسَمَآءُ اَقۡلِعِیۡ(ھود:۴۵)۲؎

مولوی محمد حسین صاحب کے ذکر پر فرمایا کہ۳؎

اصل میں اگر کوئی صاف دل اور بے تعصب ہو کر ہمارے دلائل سنے تو اس کو معلوم ہو جاوے کہ درحقیقت ہم حق پر ہیں۔ ہمارا ان کا اختلاف ہی کیا ہے۔

وفات مسیح علیہ السلام

مسیحؑ کی حیات ممات کا بڑا مسئلہ ہے اور یہ ایسا صاف ہے کہ اس میں زیادہ بحث کی ضرورت نہیں پڑتی۔ شروع سے یہ مسئلہ مختلف فیہ رہا ہے اور وفاتِ مسیحؑ اکثر اکابران ملت کا مذہب ہے۔ صحابہؓ کا یہی مذہب تھا۔

احیا ءِموتٰی

رہا حضرت عیسیٰ کا احیاءِ موتٰی۔ اس میں روحانی احیاءِ موتٰی کے تو ہم بھی قائل ہیں اور ہم مانتے ہیں کہ روحانی طور پر مُردے زندہ ہوا کرتے ہیں اور اگر یہ کہو کہ ایک شخص مَر گیا اور پھر زندہ ہو گیا۔ یہ قرآن شریف یا احادیث سے ثابت نہیں ہے اور ایسا ماننے سے پھر قرآن شریف اور احادیث نبوی گویا ساری شریعت اسلام ہی کو ناقص ماننا پڑے گا کیونکہ رَدُّ الْمَوْتٰی کے متعلق مسائل نہ قرآن شریف میں ہیں نہ حدیث نے کہیں ان کی صراحت کی ہے۔ اور نہ فقہ میں کوئی بات اس کے متعلق ہے۔ غرض کسی نے بھی اس کی تشریح نہیں کی۔ اس طرح پر یہ مسئلہ بھی صاف ہے۔۱؎

خلق طیر

پھر ان کا جانور بنانا ہے سو اس میں بھی ہم اس بات کے تو قائل۲؎ ہیں کہ روحانی طور سے معجزہ کے طور پر درخت بھی ناچنے لگ جاوے تو ممکن ہے مگر یہ کہ انہوں نے چڑیاں بنا دیں اور انڈے بچے دے دئیے اس کے ہم قائل نہیں ہیں اور نہ قرآن شریف سے ایسا ثابت ہے۔ ہم کیا کریں ہم اس طور پر ان باتوں کو مان ہی نہیں سکتے جس طرح پر ہمارے مخالف کہتے ہیں۔ کیونکہ قرآن شریف صریح اس کے خلاف ہے اور وہ ہماری تائید میں کھڑا ہے اور دوسری طرف بار بار کثرت کے ساتھ ہمیں الہام الٰہی کہتا ہے قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُؤْمِنُوْنَ۔ قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۔ اب ان الہامات کے بعد ہم اور کس کی بات سنیں؟ اور وہ کون ہے جس کی آواز خدا کی ان آوازوں کے بعد ہمارے دل کو لے سکے؟ مولوی محمد حسین صاحب نے تو خود لکھ دیا ہے کہ اہل کشف اور ولی الہام کے رو سے احادیث کی صحت کر لیتے ہیں۔

بعض احادیث ائمہ اہل حدیث کے نزدیک موضوع ہوتی ہیں اور اہل کشف بذریعہ کشف ان کو صحیح قرار دیتے ہیں اور وہ حق پر ہوتے ہیں۔ اب وہ خود ہی بتاویں کہ ہم کیا کریں۔ کیا ہم خدا تعالیٰ کے الہام کو مانیں یا کسی دوسرے کے قیل وقال کو؟

براہین احمدیہ موجود ہے اور وہ دشمنوں دوستوں سب کے ہاتھ میں ہے اس میں اس وقت سے ۲۵؍سال پہلے کی وہ وہ پیشگوئیاں اور وعدے بھرے ہوئے ہیں جن کا اس وقت نام ونشان بھی نہ تھا۔ اور وہ اب بڑے زور شور سے اپنے سچے معنوں میں پوری ہو رہی ہیں کیا کوئی آدمی ایسی نظیر بتا سکتا ہے کہ کسی کاذب کو ایسے سامان ملے ہوں کہ پہلے اتنا عرصہ دراز اس نے پیشگوئیاں کی ہوں اور وہ پھر ہماری طرح پوری ہوئی ہوں اور وہ کامیاب ہو گیا ہو۔۱؎،۲؎

۲۶؍اپریل ۱۹۰۳ء

(بوقت سیر)

خدا تعالیٰ اور انبیاء کا علم مساوی نہیں ہوتا

فرمایا کہ خدا کے علم کے ساتھ بشر کا علم مساوی نہیں ہو سکتا۔ اس لیے انبیاء سے اجتہاد میں غلطیاں واقع ہوتی رہی ہیں اور پھر جب خدا نے اس پر اطلاع دی تو ان کو علم ہوا۔

نرمی

فرمایا۔ ”نرمی اس بات کا نام نہیں ہے کہ دوسرا اگر مقابل پر نرمی کرتا رہا تو تم بھی کرتے رہو اور جب اس نے ذرا تیور بدلے تو تم نے بھی بدل لیے بلکہ جب فریق مقابل سختی کرے اور اس وقت تم نرمی کرو تو اس کا نام نرمی ہوگا۔

عمر کا اثر انسان پر

فرمایا کہ عمر کا بھی اثر انسان کے اخلاق اور عادات پر پڑتا ہے چالیس سال تک انسان بہت سی بیہودگیاں کرتا ہے۔ اس کے بعد جب انحطاط شروع ہوتا ہے تو ساتھ ہی خیالات کا بھی انحطاط شروع ہوتا ہے اور ایک تغیر عظیم انسان کے اندر ہوتا ہے۔“ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۱۶)

یہودیوں کو مسیحؑ کے وقت یہی مغالطہ ہوا انہوں نے کہا کہاں داؤد کی بادشاہت قائم ہوئی اور یہی دعویٰ آخر کار رخنہ کا موجب ہوا۔ اگر پیغمبر پر ہر ایک تفصیل کھول دی جاتی تو پھر ہر ایک پیغمبر کو یہ علم ہوتا کہ میرے بعد فلاں پیغمبر آوے گا اور موسیٰ علیہ السلام کو علم ہوتا کہ میرے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے حالانکہ ان کا یہی خیال ہوگا کہ آپ بنی اسرائیل سے ہوں گے۔ اسی طرح آئندہ کے امور بعض وقت ایک نبی پر منکشف کئے جاتے ہیں مگر تفصیلی علم نہیں دیا جاتا۔ پھر جب ان کا وہ وقت آتا ہے تو خود بخود حقیقت کھل جاتی ہے۔ ہم کہتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو حَکم ہو کر آئے تھے تو کیا آپ نے یہود کی کل باتیں تسلیم کر لی تھیں؟

(مجلس قبل از عشاء)

دینی غیرت

ایک مقام کے چند ایک احباب آریوں کے ایک ایسے جلسے میں گئے تھے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی پاک تعلیم پر ناجائز اور فحش سے بھرے ہوئے نامعقول حملے ہو رہے تھے اس پر حضرت اقدس نے ناراضگی کا اظہا کیا کہ یہ لوگ ایسی محفلوں میں کیوں جاتے ہیں؟ اور جب ایسے ذکر اذکار شروع ہوں تو کیوں نہیں اٹھ کر چلے آتے؟ ہماری رائے میں ہمارے احباب کو یہ طریق اختیار کرنا چاہیے کہ وہ اپنی ہفتہ وار کمیٹی میں ایسی باتوں کی تردید کیا کریں اور بذریعہ اشتہار کے ان تمام لوگوں کو مدعو کیا کریں جو کہ اعتراض کرتے ہیں یہ طریق نہایت امن اور عمدہ تبلیغ حق کا ہے اور غیرت دینی کے بہت اقرب ہے۔

نبوت کا اقرار اور انکار

اعتراض۔ ایک شخص کی طرف سے یہ سوال پیش ہوا کہ مرزا صاحب اپنی تصنیفات میں کہیں نبوت کی نفی کرتے ہیں اور کہیں جواز۔ جواب۔ فرمایا۔ یہ اس کی غلطی ہے ہم اگر نبی کا لفظ اپنے لیے استعمال کرتے ہیں تو ہم ہمیشہ وہ مفہوم لیتے ہیں جو کہ ختمِ نبوت کا مخل نہیں ہے اور جب اس کی نفی کرتے ہیں تو وہ معنے مُراد ہوتے ہیں جو ختمِ نبوت کے مخل ہیں۔

نیوگ اور طلاق میں سے کو ن سااَمر کا نشنس کے خلاف ہے

طلاق پر آریوں کے اعتراض سن کر فرمایا کہ اگر طلاق ایسا اَمر ہوتا جو کہ کانشنس کے خلاف ہے تو پھر دیگر اقوام بھی اسے بجا نہ لاتیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی بھی ایسی قوم نہیں ہے جو ضرورت کے وقت عورت کو طلاق نہ دیتی ہو لیکن اگر نیوگ بھی ایسا ہی ہے تو آریوں کو چاہیے کہ اپنی قوم کے معزز اور برگزیدہ کئی سوممبر انتخاب کریں کہ جن کی اولاد نہ ہو اور پھر وہ اپنی عورتوں سے نیوگ کراویں اور شائع کریں کہ فلاں فلاں صاحب اپنی عورت سے نیوگ کرواتے ہیں جب تک وہ یہ نمونہ نہ دکھلاویں تب تک بحث فضول ہے اور جب وہ ایسا کریں تو پھر ہم کو ان پر کچھ افسوس نہ ہو گا ہمارا اعتراض اس وقت تک ہے جب تک وہ اسے عملی طور پر قوم میں نہیں دکھلاتے اسی طرح اگر وہ بالمقابل چاہیں تو ہم اہل اسلام کے رؤسا اور معزز لوگوں کی ایسی فہرست طیار کر دیویں گے جنہوں نے معقول وجوہات پر اپنی بیویوں کو طلاق دی ہے۔

وجوہِ طلاق

احمدی جماعت میں سے ایک صاحب نے اپنی عورت کو طلاق دی۔ عورت کے رشتہ داروں نے حضرت کی خدمت میں شکایت کی کہ بے وجہ اور بے سبب طلاق دی گئی ہے۔ مرد کے بیانوں سے یہ بات پائی گئی کہ اگر اسے کوئی ہی سزا دی جاوے مگر وہ اس عورت کو بسانے پر ہرگز آمادہ نہیں ہے عورت کے رشتہ داروں نے جو شکایت کی تھی ان کا منشا تھا کہ پھر آبادی ہو اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ عورت مرد کا معاملہ آپس میں جو ہوتا ہے اس پر دوسرے کو کامل اطلاع نہیں ہوتی بعض وقت ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی فحش عیب عورت میں نہیں ہوتا مگر تا ہم مزاجوں کی ناموافقت ہوتی ہے جو کہ باہمی معاشرۃ کی مخل ہوتی ہے ایسی صورت میں مرد طلاق دے سکتا ہے۔ بعض وقت عورت گو ولی ہو اور بڑی عابد اور پرہیز گار اور پاکدامن ہو اور اس کو طلاق دینے میں خاوند کو بھی رحم آتا ہو بلکہ وہ روتا بھی ہو مگر پھر بھی چونکہ اس کی طرف سے کراہت ہوتی ہے اسی لیے وہ طلاق دے سکتا ہے مزاجوں کا آپس میں موافق نہ ہونا یہ بھی ایک شرعی اَمر ہے اس لیے ہم اب اس میں دخل نہیں دے سکتے جو ہوا سوہوا۔ مہر کا جو جھگڑا ہووہ آپس میں فیصلہ کر لیا جاوے۔

میں موافق نہ ہونا ۔۱؎

۲۷؍اپریل ۱۹۰۳ء

(بوقتِ سیر)

ضرورت حَکم

جب مدت دراز گزر جاتی ہے اور غلطیاں پڑ جاتی ہیں تو خدا ایک حَکَم مقرر کرتا ہے جو ان غلطیوں کی اصلاح کرتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیحؑ کے سات سو برس بعد آئے اس وقت ساتویں صدی میں ضرورت پڑی تو کیا اب چودھویں صدی میں بھی ضرورت نہ پڑتی اور پھر جس حال میں کہ ایک ملہم ایک صحیح حدیث کو وضعی اور وضعی کو صحیح بذریعہ الہام کے قرار دے سکتا ہے اور یہ اصول ان لوگوں کا مسلّم ہے تو پھر حَکَم کو کیوں اختیار نہیں ہے؟ ایک حدیث کیا اگر وہ ایک لاکھ حدیث بھی پیش کریں تو ان کی پیش کب چل سکتی ہے؟

مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ذکر پر فرمایا کہ

اَلْعِزَّۃُ لِلّٰہِ

انہوں نے لکھا تھا کہ ہم ہی نے اونچا کیا تھا اور ہم ہی اسے نیچا گرا دیں گے مگر ہم پوچھتے ہیں کہ انہوں نے چڑھانے کے لیے کیا کوشش کی تھی ہم پر تو سوائے خدا کے کسی کا ذرّہ بھر بھی احسان نہیں ہاں اب گرانے کے لیے انہوں نے بہت کوشش کی اور جتنی اس نے کی اور کسی نے مطلق نہیں کی مگر خدا کے آگے کس کی پیش چلتی ہے۔

اس کے بعد مولوی صاحب کی شہادت قتل کے مقدمہ میں اور وہاں کرسی وغیرہ مانگنے کا ذکر ہوتا رہا اس پر حضرت نے فرمایا کہ

علماء دین کے واسطے ظاہری بلندی چاہنی عیب

قلوب میں عظمت ڈالنا خدا کا کام ہے

میں داخل ہے قلوب میں عظمت ڈالنی انسانی ہاتھ کا کام نہیں ہے یہ ایک کشش ہوتی ہے جو کہ خدا کے ارادہ سے ہوتی ہے ہم کیا کر رہے ہیں جو ہزار ہا آدمی کھچے چلے آتے ہیں یہ سب خدا کی کشش ہے ان لوگوں کی علمیت اور حکمت دانائی ان کے کچھ کام نہ آئی۔ مثنوی میں ایک قصہ لکھا ہے کہ ایک شخص دولت مند تھا مگر بچارے کی عقل کم تھی وہ کہیں جانے لگا تو اس نے گدھے پر بورے میں ایک طرف جواہر ڈالے اور وزن کو برابر کرنے کے واسطے ایک طرف اتنی ریت ڈال دی آگے چلتے چلتے اسے ایک شخص دانشمند ملا مگر کپڑے پھٹے ہوئے، بھوک کا مارا ہوا سر پر پگڑی نہیں اس نے اس کو مشورہ دیا کہ تو نے ان جواہرات کو نصف نصف کیوں نہ دونوں طرف ڈالا اب ناحق جانور کو تکلیف دے رہا ہے اس نے جواب دیا کہ میں تیری عقل نہیں برتتا تیری عقل کے ساتھ نحوست ہے بلکہ میں تجھ بد بخت کا مشورہ بھی قبول نہیں کرتا۔

فروتنی

انسان کو چاہیے کہ جب کہیں جاوے تو سب سے نیچی جگہ اپنے لیے تجویز کرے اگر وہ کسی اَور جگہ کے لائق ہو گا تو میزبان خود اسے بلا کر جگہ دے گا اور اس کی عزّت کرے گا۔

عوام الناس کی کم فہمی

عوام الناس کی کم فہمی پر فرمایا کہ جن لوگوں کے دل میں کجی ہے وہ متشابہات کی طرف جاتے ہیں جن لوگوں نے حضرت موسٰی اور عیسیٰؑ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول نہ کیا انہوں نے آیاتِ بیّنہ سے فائدہ نہیں اٹھایا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک حبشی عورت سے نکاح کیا تو لوگوں نے یہ اعتراض کیا کہ اگر یہ منجانب اللہ ہوتا تو حبشن سے نکاح نہ کرتا اس ذرا سی بات پر ان کے تمام معجزات کو نظر انداز کر دیا۔ (مجلس قبل از عشاء)

مُعَبِّـر کی رائے کااثر تعبیر پر نہیں پڑتا

ایک شخص نے سوال کیا کہ جب خواب بیان کیا جاتا ہے تو یہ بات مشہور ہے کہ سب سے اوّل جو تعبیر مُعَبِّـر کرے وہی ہوا کرتی ہے اور اسی بنا پر یہ کہا جاتا ہے کہ ہر کس و ناکس کے سامنے خواب بیان نہ کرنا چاہیے۔ فرمایا۔ جو خواب مبشر ہے اس کا نتیجہ انذار نہیں ہو سکتا اور جو منذر ہے وہ مبشر نہیں ہو سکتا اس لیے یہ بات غلط ہے کہ اگر مبشر کی تعبیر کوئی مُعَبِّـر منذر کی کرے تو وہ منذر ہو جاوے گا اور منذر مبشر ہو جاوے گا ہاں یہ بات درست ہے کہ اگر کوئی منذر خواب آوے تو صدقہ خیرات اور دعا سے وہ بَلا ٹل جاتی ہے۔

تفاؤل کسی کے نام سے بطور تفاؤل کے فال پر سوال ہوا۔

ف

رمایا کہ یہ اکثر جگہ صحیح نکلتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تفاؤل سے کام لیا ہے ایک دفعہ مَیں گورداسپور مقدمہ پر جا رہا تھا اور ایک شخص کو سزا ملنی تھی میرے دل میں خیال تھا کہ اسے سزا ہو گی یا نہیں کہ اتنے میں ایک لڑکا ایک بکری کے گلے میں رسی ڈال رہا تھا اس نے رسی کا حلقہ بنا کر بکری کے گلے میں ڈالا اور زور سے پکارا کہ وہ پھس گئی وہ پھس گئی میں نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ اسے سزا ضرور ہو گی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

اسی طرح ایک دفعہ سیر کو جارہے تھے اور دل میں پگٹ کا خیال تھا کہ بڑا عظیم الشان مقابلہ ہے دیکھئے کیا نتیجہ نکلتا ہے کہ ایک شخص غیر از جماعت نے راستہ میں کہا السلام علیکم۔ میں نے اس سے نتیجہ یہ نکالا کہ ہماری فتح ہوگئی۔


طاعون کے متعلق ایک تازہ الہام

یٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِیۡ مَآءَکِ وَیٰسَمَآءُ اَقۡلِعِیۡ(ھود:۴۵) اس الہام کے متعلق جہاں تک میری رائے ہے وہ یہ ہے کہ یہ عام شہروں اور دیہات کے متعلق نہیں اور نہ اس سے دوام منع ثابت ہوتا ہے۔ غالباً یہی ہے کہ بعض دیہات اور شہروں میں جن کی نسبت خدا کا ارادہ ہے چند مہینوں تک طاعون بند رہے اور پھر جہاں خداوند قدیر چاہے پھر پھوٹ پڑے اور یہ بکلی بند نہیں ہوگی جب تک وہ ارادہ بکمال و تمام پورا نہ ہو جاوے جو آسمان پر قرار پایا ہے اور ضرور ہے کہ زمین اپنے مواد نکالتی رہے جب تک کہ خدا کا ارادہ اپنے کمال کو نہ پہنچے۔

مرزا غلام احمد


مورخہ ۲۷؍ اپریل ۱۹۰۳ء کی شام کو فرمایا۔

ایک الہام

رَبِّ اِنِّیْ مَظْلُوْمٌ فَانْتَصِـرْ۱؎

۲۸؍اپر یل ۱۹۰۳ء

(بوقتِ ظہر)

مہندی اور وسمہ مہندی اور وسمہ کی نسبت ذکر ہوا۔ حضور نے فرمایا کہ

ا

کثر اکابر اس طرف گئے ہیں کہ وسمہ نہ لگانا چاہیے یا مہندی لگائی جاوے یا وسمہ اور مہندی ملا کر۔۱؎


۲۹؍اپریل ۱۹۰۳ء

(مجلس قبل از عشاء)

ناپائیدار زندگی

ایک شخص کی نئی ایجاد پر ذکر آیا کہ اس کی ایجاد بہت مقبول ہوئی ہے اور اس کے ذریعے سے وہ لاکھ ہار وپیہ اب کماوے گا۔ فرمایا کہ دنیا چند روزہ ہے لوگ سمجھتے ہیں کہ دولت آوے گی اور ان کی نظر یہاں تک ہی محدود رہتی ہے لیکن اگر زندگی نہ ہوئی تو کیا فائدہ؟ لوگوں کا دستور ہے کہ ہر ایک پہلو پر نظر نہیں ڈالتے۔۲؎

ایک الہام

اِنَّا نَرِثُ الْاَرْضَ نَاْکُلُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا۔۳؎


۳۰؍اپر یل ۱۹۰۳ء

(بوقتِ سیر)

ایک الہام

فرمایا کہ مجھے الہام ہوا مگر اس کا آخری حصہ یاد ہے دوسرے الفاظ یاد نہیں رہے

جو الفاظ یاد ہیں وہ یہ ہیں فِیْہِ خَیْرٌ وَّ بَرَکَۃٌ اس کا ترجمہ بھی بتلایا گیا ’’اس میں تمام دنیا کی بھلائی ہے،

حج نہ کرنے پر اعتراض کا جواب

مخالفوں کے اس اعتراض پر کہ حضرت مرزا صاحب حج کیوں نہیں کرتے۔ فرمایا۔ کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ جو خدمت خدا نے اوّل رکھی ہے اس کو پسِ انداز کر کے دوسرا کام شروع کر دیوے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ عام لوگوں کی خدمات کی طرح ملہمین کی عادت کام کرنے کی نہیں ہوتی وہ خدا کی ہدایت اور راہنمائی سے ہر ایک اَمر کو بجالاتے ہیں اگرچہ شرعی تمام احکام پر عمل کرتے ہیں مگر ہر ایک حکم کی تقدیم و تاخیر الٰہی ارادہ سے کرتے ہیں اب اگر ہم حج کو چلے جاویں تو گویا اس خدا کے حکم کی مخالفت کرنے والے ٹھہریں گے اور مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا(اٰل عمران:۹۸) کے بارے میں کتاب حُجج الکرامہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر نماز کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو حج ساقط ہے حالانکہ اب جو لوگ جاتے ہیں ان کی کئی نمازیں فوت ہوتی ہیں مامورین کا اوّل فرض تبلیغ ہوتا ہے آنحضرتؐ ۱۳؍ سال مکہ میں رہے آپؐ نے کتنی دفعہ حج کئے تھے؟ ایک دفعہ بھی نہیں کیا تھا۔

حضرت عیسیٰ کی بے باپ پیدائش

سوال۔ کیا قرآن میں کوئی صریح آیت ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیحؑ بلا باپ کے پیدا ہوئے تھے؟ جواب۔ فرمایا کہ یحییٰ اور عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ کو ایک جا جمع کرنا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ جیسے یحییٰ علیہ السلام کی پیدائش خوارق طریق سے ہے۱؎ ویسے ہی مسیحؑ کی بھی ہے پھر یحییٰ علیہ السلام کی پیدائش کا حال بیان کر کے مسیحؑ کی پیدائش کا حال بیان کیا ہے یہ ترتیب قرآنی بھی بتلاتی ہے کہ ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف ترقی کی ہے یعنی جس قدر معجز نمائی کی قوت یحییٰ کی پیدائش میں ہے اس سے بڑھ کر مسیح کی پیدائش میں ہے اگر اس میں کوئی معجزانہ بات نہ تھی تو یحییٰ کی پیدائش کا ذکر کر کے کیوں ساتھ ہی مریم کا ذکر چھیڑ دیا؟ اس سے کیا فائدہ تھا؟ یہ اسی لیے کیا کہ تاویل کی گنجائش نہ رہے ان دونوں بیانوں کا ایک جا ذکر ہونا اعجازی امر کو ثابت کرتے ہیں اگر یہ نہیں ہے تو گویا قرآن تنزل پر آتا ہے جو کہ اس کی شان کے بر خلاف ہے۔ پھر اس کے علاوہ یہ بھی فرمایا کہ اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ(اٰل عمران:۶۰) اگر مسیحؑ بنا باپ کے نہ تھا تو آدم سے مماثلت کیا ہوئی اور وہ کیا اعتراض مسیحؑ پر تھا جس کا یہ جواب دیا گیا؟ تواریخی بات بھی یہ ہے کہ یہود آپ کی پیدائش کو اسی لیے ناجائز قرار دیتے تھے کہ آپ کا باپ کوئی نہ تھا اس پر خدا نے یہود کو جواب دیا کہ آدم بھی تو بلا باپ پیدا ہوا تھا بلکہ بلا ماں بھی بہ اعتبار واقعات کے جو اعتراض ہوا کرتے ہیں ان سے جواب کو دیکھنا چاہیے اور اگر کوئی اسے خلافِ قانونِ قدرت قرار دیتا ہے تو اوّل قانونِ قدرت کی حدبست دکھلاوے۔۱؎


یکم مئی۱۹۰۳ء

(دربارِ شام)

ایک رؤیا

فرمایا کہ ایک رؤیا تھی تو وحشت ناک مگر اللہ تعالیٰ نے ٹال ہی دیا۔ دیکھا کہ کوئی شخص کہتا ہے کہ بیل کو میدان میں ذبح کریں گے۔ مگر عملی کارروائی نہ ہوئی۔ ذبح نہ ہوا کہ جاگ آگئی۔

آنحضرت کی قبر میں مسیح موعود کے دفن ہونے کا سرّ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے کہ مسیح موعود کی قبر میری قبر میں ہوگی۔ اس پر ہم نے سوچا کہ یہ کیا سر ہے تو معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہر ایک قسم کی دُوری اور دُوئی کو دُور کرتا ہے اور اس سے اپنے اور مسیح موعود کے وجود میں ایک اتحاد کا ہونا ثابت کیا ہے اور ظاہر کر دیا ہے کہ کوئی شخص باہر سے آنے والا نہیں ہے بلکہ مسیح موعود کا آنا گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا آنا ہے جو بروزی رنگ رکھتا ہے۔ اگر کوئی اور شخص آتا تو اس سے دُوئی لازم آتی اور عزّتِ نبوی کے تقاضے کے خلاف ہوتا۔

بروز میں دُوئی نہیں ہوتی

اگر کوئی غیر شخص آ جاوے تو غیرت ہوتی ہے لیکن جب وہ خود ہی آوے تو پھر غیرت کیسی ! اس کی مثال ایسی ہے کہ اگر ایک شخص آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھے اور پاس اس کی بیوی بھی موجود ہو تو کیا اس کی بیوی آئینہ والی تصویر کو دیکھ کر پردہ کرے گی اور اس کو یہ خیال ہوگا کہ کوئی نامحرم شخص آگیا ہے اس لیے پردہ کرنا چاہیے اور یا خاوند کو غیرت محسوس ہوگی کہ کوئی اجنبی شخص گھر میں آگیا ہے اور میری بیوی سامنے ہے نہیں بلکہ آئینہ میں انہیں خاوند بیوی کی شکلوں کا بروز ہوتا ہے اور کوئی اس بروز کو غیر نہیں جانتا اور نہ ان میں کسی قسم کی دُوئی ہوتی ہے۔

یہی حالت مسیح موعود کی آمد کی ہے وہ کوئی غیر نہیں اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہے اور کسی نئی تعلیم یا شریعت کو لے کر آنے والا نہیں ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا بروز اور آپ کی ہی آمد ہے جس وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے آنے سے کوئی غیرت دامنگیر نہیں ہوئی بلکہ اس کو اپنے ساتھ ملایا ہے اور یہی سِر ہے آپ کے اس ارشاد میں کہ وہ میری قبر میں دفن کیا جاوے گا یہ اَمر غایت اتحاد کی طرف رہبری کرتا ہے اگر اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدر تعریف کر کے بھی جو قرآن شریف میں کی گئی ہے اور آپ کو خاتم الانبیاء ٹھہرا کر بھی پھر کبھی اور آپ کے بعد نبوت کے تخت پر بٹھا دیتا تو آپ کی کس قدر کسرِ شان ہوتی اور اس سے نعوذ باللہ یہ ثابت ہوتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی بہت ہی کمزور ہے کہ آپ سے ایک شخص بھی ایسا تیار نہ ہو سکا جو آپ کی اُمّت کی اصلاح کر سکتا اس سے نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسرِ شان ہوتی بلکہ یہ اَمر جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے منافی غیرت بھی ہوتا ہر شخص میں دنیا کے ادنیٰ ادنیٰ معاملات کے لیے غیرت ہوتی ہے تو کیا انبیاء علیہم السلام میں خدائی تعلقات میں بھی غیرت نہیں؟ معاذ اللہ اس قسم کے کلمات کفر کے کلمات ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو وہ بھی میری ہی اطاعت کرتے اس سے کیا مُراد تھی؟ یہی کہ آپ کی نبوت کے زمانہ میں اَور کوئی دوسرا نبی نہیں آسکتا تھا۔ ایسا ہی جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آپ نے تورات کا ایک ورق دیکھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا اس کی وجہ کیا تھی؟ یہی غیرت تھی جس سے چہرہ سرخ ہو گیا تھا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب آنحضرتؐ کو دیکھا تو حضرت عمرؓ کو مخاطب کر کے کہا کہ ا تو حضرت عمرؓ کو مخاطب کرک ے کہا کہ اے عمرؓ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کو نہیں دیکھتا یہ سن کر حضرت عمرؓ نے وہ کاغذ اپنے ہاتھ سے پھینک دیا اور اس طرح پر غیرتِ نبوی کا ادب کیا بھلا جب ایک چھوٹی سی بات کے لیے آپ کا چہرہ غیرت سے سرخ ہو گیا تھا تو کیا اگر وہی مسیحؑ جو بنی اسرائیل کا آخری رسول تھا اگر آپ کی اُمّت کی اصلاح اور آپ کی ختمِ نبوت کی مہر کو توڑنے کے واسطے آ جاوے گا تو آپ کو غیرت نہ آئے گی؟ اور کیا خدا تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدر ہتک کرنی چاہتا ہے؟ افسوس ہے یہ لوگ مسلمان کہلا کر اور آپ کا کلمہ پڑھ کر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتے ہیں اور آپ کو خاتم النّبیّین مان کر پھر آپ کی مہر کو توڑتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر بھی الزام لگاتے ہیں کہ وہ پسند کرتا ہے کہ اس قدر تعریفوں کے بعد جو قرآن شریف میں آپ کی کی گئی ہیں آپ سے یہ سلوک کرے معاذ اللہ۔

ایک غلو کا جواب

شیعہ لوگوں کے ذکر پر فرمایا کہ

ہمیں ان لوگوں کی حالت پر رحم آتا ہے کہ اگر حضرت حسینؓ کی ایسی ہی شان اور عظمت تھی جو یہ بیان کرتے ہیں اور کل نبیوں کی نجات ان کی ہی شفاعت سے ہوئی ہے تو پھر تعجب ہے کہ قرآن شریف میں آپ کا نام ایک مرتبہ بھی اللہ تعالیٰ نے نہ لیا۔ زیدؓ جو ایک معمولی صحابی تھے ان کا نام تو قرآن نے لے لیا مگر امام حسینؓ کا جو ایسے جلیل القدر منجی اور کل انبیاء علیہم السلام کے شفیع تھے ان کا نام بھی قرآن شریف نے نہ لیا۔ کیا قرآن شریف کو بھی ان سے کچھ عداوت تھی؟

اگر کوئی یہ کہے کہ قرآن شریف میں (جیسا کہ شیعہ کہہ دیتے ہیں۔ ایڈیٹر) تحریف ہوگئی ہے۱؎ اور آپ کا نام بھی محرف مبدل ہو گیا ہو گا تو یہ الزام بھی ان ہی کی گردن پر ہے کیونکہ جن کی طرف یہ تحریف منسوب کی جاتی ہے ان کی وفات کے بعد جناب علیؓ تو زندہ تھے اور وہ اپنے وقت کے مقتدر خلیفہ تھے شیر خدا تھے جب ان کو یہ معلوم تھا کہ اس قرآن میں تحریف کی گئی ہے تو کیوں انہوں نے اس

)

کو درست نہ کیا؟ ان کو چاہیے کہ اصل قرآن شریف کی اشاعت کرتے اور اس کو درست کر دیتے، لیکن جبکہ انہوں نے بھی یہی قرآن رکھا اور اپنا صحیح اور درست قرآن شائع نہ کیا تو یہ الزام بھی ان کے اپنے ہی سر رہا ان کا حق تھا اور ان پر فرض تھا کہ جب اصل قرآن شریف گم کر دیا گیا تھا تو اس وقت تو بھلا وہ خوف کے مارے کچھ نہ کر سکتے تھے مگر ان کی وفات کے بعد تو ان کو موقع تھا کہ لوگوں میں اس اَمر کا اعلان کر دیتے کہ اصل قرآن شریف یہ ہے اور جو تمہارے پاس ہے وہ محرّف مبدّل ہو گیا ہے مگر جب انہوں نے ایسا نہیں کیا تو پھر یہ الزام ان پر رہا۔۱؎

ھُوَ شَعْنَا

براہین میں یہ ایک الہام حضرت اقدس کا درج ہے یہ ایک عبرانی لفظ ہے جس کے معنے ہیں ’’نجات دے

‘‘فرمایا کہ یَا مَسِیْحَ الْـخَلْقِ عَدْوَانَا کا مضمون اس سے ملتا جلتا ہے۔

مامور کی اطاعت کا معیار

فرمایا کہ ایک مامور کی اطاعت اس طرح ہونی چاہیے کہ اگر ایک حکم کسی کو دیا جاوے تو خواہ اس کے مقابلہ پر دشمن کیسا ہی لالچ اور طمع کیوں نہ دیوے یا کیسی ہی عجز ا ور انکساری اور خوشامد درآمد کیوں نہ کرے مگر اس حکم پر ان باتوں میں سے کسی کو بھی ترجیح نہ دینی چاہیے اور کبھی اس کی طرف التفات نہ کرنی چاہیے۔ سیرت اور خصلت اس قسم کی چاہیے کہ جس سے دوسرے آدمی پر اثر پڑے اور وہ سمجھے کہ ان لوگوں میں واقعی طور پر اطاعت کی روح ہے صحابہ کرام کی زندگی میں ایک بھی ایسا واقعہ نہ ملے گا کہ اگر کسی کو ایک دفعہ اشارہ بھی کیا گیا ہے تو پھر خواہ بادشاہ وقت نے ہی کتنا ہی زور کیوں نہ لگایا مگر اس نے سوائے اس اشارہ کے اور کسی کی کچھ مانی ہو۔

اطاعت پوری ہو تو ہدایت پوری ہوتی ہے ہماری جماعت کے لوگوں کو خوب سن لینا چاہیے اور خدا سے توفیق طلب کرنی چاہیے کہ ہم سے کوئی ایسی حرکت نہ ہو۔۲؎

۲؍مئی ۱۹۰۳ء

(بوقتِ سیر)

مہر

مہر کے متعلق ایک نے پوچھا کہ اس کی تعداد کس قدر ہونی چاہیے؟ فرمایا کہ تراضی طرفین سے جو ہو اس پر کوئی حرف نہیں آتا اور شرعی مہر سے یہ مُراد نہیں کہ نصوص یا احادیث میں کوئی اس کی حد مقرر کی گئی ہے بلکہ اس سے مُراد اس وقت کے لوگوں کے مروّجہ مہر سے ہوا کرتی ہے ہمارے ملک میں یہ خرابی ہے کہ نیت اور ہوتی ہے اور محض نمود کے لیے لاکھ لاکھ روپے کا مہر ہوتا ہے صرف ڈراوے کے لیے یہ لکھا جایا کرتا ہے کہ مرد قابو میں رہے اور اس سے پھر دوسرے نتائج خراب نکل سکتے ہیں نہ عورت والوں کی نیت لینے کی ہوتی ہے اور نہ خاوند کے دینے کی۔

میرا مذہب یہ ہے کہ جب ایسی صورت میں تنازعہ آپڑے تو جب تک اس کی نیت یہ ثابت نہ ہو کہ ہاں رضا و رغبت سے وہ اسی قدر مہر پر آمادہ تھا جس قدر کہ مقرر شدہ ہے تب تک مقرر شدہ نہ دلایا جاوے اور اس کی حیثیت اور رواج وغیرہ کو مد نظر رکھ کر پھر فیصلہ کیا جاوے کیونکہ بدنیتی کی اتباع نہ شریعت کرتی ہے اور نہ قانون۔

مولوی محمد حسین بٹالوی کے ریویو پر جو کہ براہین پر لکھا ہے ذکر چلا اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہمیں اس کی حالت پر تعجب ہے کہ جس وقت ایک درخت کا ابھی تخم ہی زمین میں ڈالا گیا ہے اور کسی طرح کا نشوونما اس نے نہیں پایا نہ پتا نکلا ہے نہ پھل لگا ہے نہ کوئی پھول اس نے دیا ہے تو اس معدومی کی حالت میں تو اس کی یہ تعریف کی جاتی ہے کہ اس کی نظیر ۱۳ سو سال میں کہیں نہیں ملتی اور اب جب وہ درخت پھلا اور پھولا اور نشوونما پایا تو اس کے وجود سے انکار کیا جاتا ہے ابتدا میں ہمارے دعوے کی مثال رات کی تھی اس وقت تو شبیر کی طرح اسے قبول اور پسند نہ کیا اور اب جب دن چڑھا اور سورج کی طرح وہ چمکا تو آنکھ بند کر لی۔

جن ایام میں شناخت کے آثار نہ تھے تو ذاتی نقصان اپنا یہ کیا کہ نور کو کھو بیٹھے اور اس وقت یہ امر مخفی اور مستور تھا تو ریویو لکھے اور رائے ظاہر کی اب یہ وقت آیا تھا کہ وہ اپنے ریویو پر فخر کرتا کہ دیکھو جو باتیں میں نے اوّل کہی تھیں وہ آج پوری ہو رہی ہیں اور میری اس فس واہد پیدا ہو گئے ہیں مگر افس کہ اب وہ اپنی فراست کے خود ہی دشمن ہو گئے ہم نے کون سی بات نئی کی ہے جس حکم کے وہ لوگ منتظر ہیں بھلا ہم پوچھتے ہیں کیا اس نے آ کر ہر ایک رطب و یابس کو قبول کر لینا ہے اور وہ وحی کی پیروی کرے گا یا کہ ان مختلف مولویوں کی؟ اگر اس نے آ کر انہی کی ساری باتیں قبول کر لینی ہیں تو پھر اس کا وجود بیہودہ ہے۔۱؎

(دربارِ شام)

دعا کے جواب میں ایک الہام

فرمایا۔ آج ہم نے عام طور پر بہت سے بیماروں کے لیے دعا کی تھی جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ ’’آثار صحت ‘‘یہ نہیں معلوم کہ کس شخص کے متعلق ہے دعا عام تھی۔

ہدایت مجاہدہ اور تقویٰ پر منحصر ہے

فرمایا کہ جو شخص محض اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کی راہ کی تلاش میں کوشش کرتا ہے اور اس سے اس اَمر کی گرہ کشائی کے لیے دعائیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے قانون کے موافق وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا(العنکبوت:۷۰) یعنی جو لوگ ہم میں ہو کر کوشش کرتے ہیں ہم اپنی راہیں ان کو دکھا دیتے ہیں) خود ہاتھ پکڑ کر راہ دکھا دیتا ہے اور اسے اطمینانِ قلب عطا کرتا ہے اور اگر خود دل ظلمت کدہ اور زبان دعا سے بوجھل ہو اور اعتقاد شرک و بدعت سے ملوث ہو تو وہ دعا ہی کیا ہے اور وہ طلب ہی کیا ہے جس پر نتائج حسنہ مترتّب (نہ) ہوں۔ جب تک انسان پاک دل اور صدق و خلوص سے تمام نا جائز رستوں اور اُمیدوں کے دروازوں کو اپنے اوپر بند کر کے خدا تعالیٰ ہی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا اس وقت تک وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید اسے ملے لیکن جب وہ اللہ تعالیٰ ہی کے دروازہ پر گرتا اور اسی سے دعا کرتا ہے تو اس کی یہ حالت جاذبِ نصرت اور رحمت ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ آسمان سے انسان کے دل کے کونوں میں جھانکتا ہے اور اگر کسی کونے میں بھی کسی قسم کی ظلمت یا شرک و بدعت کا کوئی حصہ ہوتا ہے تو اس کی دعاؤں اور عبادتوں کو اُس کے منہ پر اُلٹا مارتا ہے اور اگر دیکھتا ہے کہ اس کا دل ہر قسم کی نفسانی اغراض اور ظلمت سے پاک صاف ہے تو اس کے واسطے رحمت کے دروازے کھولتا ہے اور اسے اپنے سایہ میں لے کر اُس کی پرورش کا خود ذمہ لیتا ہے۔

اس سلسلہ کو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے اور اس پر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ آتے ہیں اور وہ صاحب اغراض ہوتے ہیں۔ اگر اغراض پورے ہو گئے تو خیر ورنہ کدھر کا دین اور کدھر کا ایمان۔۱؎ لیکن اگر اس کے مقابلہ میں صحابہؓ کی زندگی میں نظر کی جاوے تو ان میں ایک بھی ایسا واقعہ نہیں آتا انہوں نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ ہماری بیعت تو بیعت توبہ ہی ہے لیکن ان لوگوں کی بیعت تو سر کٹانے کی بیعت تھی۔ ایک طرف بیعت کرتے تھے اور دوسری طرف اپنے سارے مال و متاع، عزّت و آبرو اور جان و مال سے دست کش ہو جاتے تھے گویا کسی چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور اس طرح پر ان کی کل امیدیں دنیا سے منقطع ہو جاتی تھیں۔ ہر قسم کی عزّت و عظمت اور جاہ و حشمت کے حصول کے ارادے ختم ہو جاتے تھے۔ کس کو یہ خیال تھا کہ ہم بادشاہ بنیں گے یا کسی ملک کے فاتح ہوں گے۔ یہ باتیں ان کے وہم و خیال میں بھی نہ تھیں بلکہ وہ تو ہر قسم کی امیدوں سے الگ ہو جاتے تھے اور ہر وقت خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر دکھ اور مصیبت کو لذّت کے ساتھ برداشت کرنے کو تیار ہو جاتے تھے یہاں تک کہ جان تک دے دینے کو آمادہ رہتے تھے، ان کی اپنی تو یہی حالت تھی کہ وہ اس دنیا سے بالکل الگ اور منقطع تھے۔ لیکن یہ الگ اَمر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی عنایت کی اور ان کو نوازا اور ان کو جنہوں نے اس راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا اس کو ہزار چند کر دیا۔

صحابہؓ کی مثالی زندگی

دیکھئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا سارا مال و متاع خدا کی راہ میں دے دیا اور آپ کمبل پہن لیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس پر انہیں کیا دیا تمام عرب کا انہیں بادشاہ بنا دیا اور اسی کے ہاتھ سے اسلام کو نئے سرے زندہ کیا اور مرتد عرب کو پھر فتح کر کے دکھا دیا اور وہ کچھ دیا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا غرض ان لوگوں کے صدق و وفا اور اخلاص و مروّت ہر مسلمان کے لیے قابل اسوہ ہے۔ صحابہؓ کی زندگی ایک ایسی زندگی تھی کہ تمام نبیوں میں سے کسی نبی کی زندگی میں یہ مثال نہیں پائی جاتی اور آپؐ کے صحابہؓ کے مقابلہ میں حضرت مسیحؑ کے حواری تو بہت ہی گری ہوئی حالت میں نظر آتے ہیں ان میں وہ جوش، صدق و وفا جو ایک مرید کو اپنے مرشد کے لیے ہونا چاہیے پایا ہی نہیں جاتا بلکہ مصیبت کے وقت سب کے سب بھاگ گئے اور جو پاس رہ گیا اس نے لعنت بھیجنی شروع کر دی۔

اصل بات یہ ہے کہ جب تک انسان اپنی خواہشوں اور اغراض سے الگ ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور نہیں آتا ہے وہ کچھ حاصل نہیں کرتا بلکہ اپنا نقصان کرتا ہے لیکن جب وہ تمام نفسانی خواہشات اور اغراض سے الگ ہو جاوے اور خالی ہاتھ اور صافی قلب لے کر خدا کے حضور جاوے تو خدا اس کو دیتا ہے اور خدا اس کی دستگیری کرتا ہے۔ مگر شرط یہی ہے کہ انسان مَرنے کو تیار ہو جاوے اور اس کی راہ میں ذلّت اور موت کو خیر باد کہنے والا بن جاوے۔

اہل صدق ووفا کے لیے قبولیت وعظمت

دیکھو دنیا ایک فانی چیز ہے مگر اس کی لذّت بھی اسی کو ملتی ہے جو اس کو خدا کے واسطے چھوڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کا مقرب ہوتا ہے خدا تعالیٰ دنیا میں اس کے لیے قبولیت کو پھیلا دیتا ہے یہ وہی قبولیت ہے جس کے لئے دنیا دار ہزاروں کوششیں کرتے ہیں کہ کسی طرح کوئی خطاب مل جاوے یا کسی عزّت کی جگہ یا دربار میں کرسی ملے اور کرسی نشینوں میں نام لکھا جاوے۔ غرض تمام دنیوی عزّتیں اسی کو دی جاتی ہیں اور ہر دل میں اسی کی عظمت اور قبولیت ڈال دی جاتی ہے جو خدا تعالیٰ کے لیے سب کچھ چھوڑنے اور کھونے پر آمادہ ہو جاتے ہیں نہ صرف آمادہ بلکہ چھوڑدیتے ہیں۔ غر اور وہ نہیں مَرتے ہیں جب تک وہ اس سے کئی چند نہ پا لیں جو انہوں نے خدا کی راہ میں دیا ہے خدا تعالیٰ کسی کا قرض اپنے ذمہ نہیںرکھتا ہے مگر افسوس یہ ہے کہ ان باتوں کو ماننے والے اور ان کی حقیقت پر اطلاع پا نے والے بہت ہی کم لوگ ہیں۔ چھوڑ دیتے ہیں۔ غرض یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے واسطے کھونے والوں کو سب کچھ دیا جاتا ہے۱؎ اور وہ نہیں مَرتے ہیں جب تک وہ اس سے کئی چند نہ پالیں جو انہوں نے خدا کی راہ میں دیا ہے خدا تعالیٰ کسی کا قرض اپنے ذمہ نہیں رکھتا ہے مگر افسوس یہ ہے کہ ان باتوں کو ماننے والے اور ان کی حقیقت پر اطلاع پانے والے بہت ہی کم لوگ ہیں۔

ہزاروں اہل صدق ووفا گذرے ہیں مگر کسی نے نہ دیکھا ہوگا اور نہ کسی نے سنا ہوگا کہ وہ ذلیل وخوار ہوتے ہوں دنیوی امور میں اگر وہ نہایت درجہ کی ترقی کرتے تو زیادہ سے زیادہ تین چار آنے کی مزدوری کر لیتے اور کسمپرس اور گمنام لوگوں میں سے ہوتے مگر جب انہوں نے اپنے آپ کو خدا کی راہ میں لگایا تو خدا نے ان کو ایسا کیا کہ تمام دنیا میں نام آور بن گئے اور ان کی عزّت وعظمت دلوں میں بٹھائی گئی اور اب ان کے نام ستاروں کی طرح چمکتے ہیں۔ دنیوی عظمت اور عزّت بھی بذریعہ دین ہی حاصل ہوتی ہے پس مبارک وہی ہے جو دین کو مقدم کرے۲؎ دیکھو ایک جونک کی نسبت بیل کو اور ایک بیل کی نسبت انسان کو اور انسانوں میں خواص کو اللہ تعالیٰ نے لذات اور حظوظ دئیے ہوئے ہیں اور خواص کو خاص قویٰ لذتوں کے ملتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ خدا کے مقرّب ہوکر خواص بنتے ہیں تو ان کو دنیوی لذائذ وغیرہ بھی اعلیٰ درجہ کے ہوتے ہیں۳؎ ایک پنجابی شعر ہے جو بالکل کلام الٰہی کے موافق اسی کا گویا ترجمہ ہے کہ

جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو

پس خدا تعالیٰ کے خاص بندے بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔۱؎،۲؎

۱، ۳؍مئی ۱۹۰۳ء

(بوقتِ سیر)

خواب کی اقسام

ایک نو وارد صاحب نے سوال۳ کیا کہ خواب کیا شَے ہے؟ میرے خیال میں تو یہ صرف خیالات انسانی ہیں حقیقت میں کچھ نہیں۔ فرمایا کہ۳؎

خواب کی تین قسمیں ہیں۔ نفسانی۔ شیطانی۔ رحمانی نفسانی جس میں انسان کے اپنے نفس کے خیالات ہی متمثّل ہو کر آتے ہیں جیسے بلی کو چھچھڑوں کے خواب۔ شیطانی وہ جس میں شیطانی اور شہوانی جذبات ہی نظر آویں۔ رحمانی وہ جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبریں دی جاتی ہیں اور بشارتیں دی جاتی ہیں۔

سوال۴؎ کیا کسی بدکار آدمی کو بھی نیک خواب آتی ہے؟

جواب۔ فرمایا کہ ایک بدکار آدمی کو بھی نیک خواب آجاتی ہے کیونکہ فطرتاً کوئی بد نہیں ہوتا خدا تعالیٰ فرماتا ہے خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ(الذّٰریٰت:۵۷) تو جب عبادت کے واسطے سب کو پیدا کیا ہے۔ سب کی فطرت میں نیکی بھی رکھی ہے اور خواب.... نبوت کا حصہ بھی ہے اگر یہ نمونہ ہر ایک کو نہ دیا جاتا تو پھر نبوت کے مفہوم کو سمجھنا تکلیف مالا یطاق ہو جاتا۔ اگر کسی کو علمِ غیب بتلایا جاتا وہ ہرگز نہ سمجھ سکتا۔ بادشاہِ مصر جو کہ کافر تھا اسے سچی خواب آئی مگر آج کل سچی خواب کا انکار دراصل خدا کا انکار ہے اور اصل میں خدا ہے اور ضرور ہے۔ اسی کی طرف سے بشارتیں ہوتی ہیں اور نیک خوابیں آتی ہیں اور وہ پوری بھی ہوتی ہیں جس قدر انسان صدق اور راستی میں ترقی کرتا ہے ویسے ہی نیک اور مبشر رؤیا بھی آتے ہیں۔

حُسنِ عقیدت کیسے حاصل ہو

سوال۔ میں ایک مسلمان ہوں اور مسلمانوں کی اولاد ہوں عام طور پر دنیا کو دیکھ کر حسن عقیدت کسی پر پیدا نہیں ہوتی۔ یہاں کے لوگوں کا طرز زندگی دیکھ کر چاہتا ہوں کہ حسن عقیدت ہو مگر پھر نہیں ہوتی اس کی کیا وجہ اور کیا علاج ہے؟

جواب۔ فرمایا کہ انسان ہمیشہ تجارب سے نتیجہ نکالتا ہے اور عقل انسانی بھی بذریعہ تجارب کے ترقی کرتی رہتی ہے مثلاً انسان جانتا ہے کہ اَنب کے درخت کا پھل میٹھا ہوتا ہے اور بعض درخت کے پھل کڑوے ہوتے ہیں تو اس تجربہ کثیر سے اسے ایک فہم حاصل ہو جاوے گا کہ آنب کے پھل ضرور شیریں ہوتے ہیں اسی طرح چونکہ تجربہ آج کل یہی ہوتا ہے کہ دنیا میں فسق و فجور اور مکر و فریب کا سلسلہ بڑھا ہوا ہے اسی لیے اس کا خیال بندھ جاتا ہے کہ ہر ایک فریبی اور مکار ہی ہے سابقہ تجارب اسے تعلیم دیتے ہیں کہ.... ایسا ہی ہونا چاہیے اسی وجہ سے حسن عقیدت کی جگہ بد عقیدگی پیدا ہوتی ہے اور اسی لیے لوگ انبیاء پر بھی سوء ظن رکھتے آئے ہیں۔ موسٰی کی وفات کو ۲ ہزار برس گذر چکے تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معبوث ہوئے اور اس زمانے میں بہت سے جھوٹے معجزات دکھانے والے اور دعویٰ کرنے والے پیدا ہوئے تھے لوگوں کو ان کا تجربہ تھا اور اسی حالت میں یک لخت ایک صادق بھی آ گیا۔ آخر ان کو اس صادق کو بھی وہی کہنا پڑا جو ان جھوٹے مدعیوں کے حق میں کہتے تھے یعنی اِنَّ ہٰذَا لَشَیۡءٌ یُّرَادُ(صٓ:۷) کہ یہ تو دوکانداری ہے غرضیکہ انسان تجارب کے ذریعے سے بھول رہے ہیں خدا کے بندوں کی معرفت کا ہونا یہ خدا کا خاص فضل ہے وہی معرفت دے تو پتا لگتا ہے دعا بہت کرے دعا کے سوا چارہ نہیں ہاں یہ اَمر ضروری ہے کہ استغنا نہ کرے کہ نیک اور بد کو ایک جیسا جان لیوے اور کہے کہ جیسے برے درخت ہوتے ہیں ویسے ہی اچھے بھی ہوتے ہیں۔ یہ ایک قاعدہ اپنی طرف سے ہرگز نہ بنانا چاہیے بلکہ نفس کو یہ سمجھانا چاہیے کہ اچھے بھی ضرور ہیں جب شیطان کا گروہ اس قدر دنیا میں موجود ہے تو کیا وجہ ہے کہ خدا کا گروہ بالکل ہی دنیا میں موجود نہ ہو خدا سے دعا کرتا رہے کہ آنکھیں ملیں۔

آج کل واقعہ میں علماء کی یہی حالت ہے۔

واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر میکنند

چوں بخلوت مے روند آں کار دیگر میکنند

حافظ نے بھی اسی مضمون کا ایک شعر لکھا ہے۔

توبہ فرمایاں چرا خود توبہ کمتر میکنند

اور غور سے دیکھا جاوے تو سچے کے بغیر جھوٹ کی کچھ روشنی ہی نہیں ہوتی اگر آج سچا سونا چاندی نہ ہو تو جھوٹے سونے چاندی سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے۔

انبیاء و مامورین کی عظمت و صداقت

جس قدر انبیاء ہوئے ہیں سب اکراہ سے آگے ہوئے ہیں۔ گروہوں اور مجلسوں سے ان کی طبیعت متنفر ہوتی ہے۔ انبیاء میں انقطاع اور اخلاص کا مادہ بہت ہوتا ہے۔ ان کی بڑی آرزو ہوتی ہے کہ لوگ ان کی طرف رجوع نہ کریں مگر چونکہ خدا نے فطرت ایسی دی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ بڑے بڑے کام کریں۔ اس لیے ان کی عظمت جس قدر دنیا میں پھیلتی ہے وہ مکائد سے ہرگز نہیں پھیلتی بلکہ خود خدا پھیلاتا ہے۔ ان کے مقابل کے کل مکائد پاش پاش ہو جاتے ہیں۔ ان کے کام میں اعجاز اور پیشگوئیاں بے نظیر ہوتی ہیں اگر معجزات نہ ہوں تو طبائع پر بہت مشکلات پڑتے کیسی ہی طبیعت کثیف ہو مگر ان کو دیکھ کر لوگ حیرت زدہ ہو جاتے ہیں۔ ایک مخالف کا میرے پاس خط آیا کہ میں آپ کا مخالف ہوں مگر آج کل مجھے یہ حیرانی ضرور ہے کہ اگر آپ جھوٹے ہیں تو اس قدر کامیابی اور ترقی کیوں ہے۔ دنیا میں وہ انسان اندھا ہے جو مختصر تجارب سے نتیجہ نکالتا ہے مگر سچا نتیجہ اس وقت نکلتا ہے جب تمام شواہد کو یکجائی نظر سے دیکھا جاوے۔ اگر خدا کی طرف سے آنے والے ماموروں کو ایسی بات نہ ملے تو پھر ان کی سچائی کا ثبوت کیا ہے۔ شاہی سند اس کے پاس ضرور ہونی چاہیے آفتاب نکلا ہوا ہو اور کوئی اسے رات کہے تو کب تک کہہ سکتا ہے۔ خدا کی طرف سے جو آتا ہے وہ دلائل، شواہد، آثار، اخبار، زمینی نشان، آسمانی نشان، سماوی تائیدات، قبولیت وغیرہ لے کر آتا ہے۔ اس کی اخلاقی حالت اور تعلق خدا سب اس کی سچائی پر دلالت کرتے ہیں اور اس کے لیے ایک میدان دلائل سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ ایک نیک دل اگر یقین کے لیے کافی ثبوت چاہے تو اسے فکر کرنے سے مل جاویں گے۔

اگر اعتراض ہو کہ کل دنیا کے لوگ کیوں نہیں ایمان لاتے تو جواب یہ ہے کہ بعض لوگوں کی فطرت میں روشنی کم اور بدظنی کا مادہ زیادہ ہوتا ہے موسیٰ علیہ السلام پر اعتراض ہوا۔ نشان دیکھ دیکھ کر پھر ان کو جھٹلاتے رہے آنحضرتؐ کو فریبی کہا ایسے لوگوں کی فطرت بد ہوا کرتی ہے اسی لیے کہا ہے۔

اے بسا ابلیس آدم روئے ہست

پس بہر دستے نہ باید داد دست

یہ بھی نہ ہو کہ سب کو فریبی جان لے نہ بدظنی کو اتنا وسیع کرے کہ راستبازوں کے فیوض سے محروم رہے نہ اس قدر حسن ظن کہ ایک مکار اور فریبی کو بھی خدا رسیدہ جان لے۔ سچے دل سے دعا کرتا رہے انبیاء وغیرہ خدا کی چادر کے نیچے ہوتے ہیں جب تک خدا نہ دکھاوے کوئی ان کو دیکھ نہیں سکتا ابو جہل مکہ میں ہی رہتا تھا آنحضرتؐ کا نشو و نما دیکھتا رہا آپؐ کی ساری زندگی دیکھی مگر پھر بھی ایمان نہ لایا۔

کہتے ہیں کہ سلطان محمود ایک راجہ کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گیا وہ راجہ کچھ عرصہ اس کے ساتھ رہ کر آخر کار اپنے مذہب اور اسلام کا مقابلہ کر کے مسلمان ہو گیا۔ الگ خیمہ میں وہ رہا کرتا تھا ایک دن وہ بیٹھا ہوا رو رہا تھا کہ خیمہ کے پاس سے محمود گزرا اس نے رونے کی آواز سنی اندر آیا۔ پوچھا اگر وطن یاد آیا ہے تو وہیں کا راجہ بنا کر بھیج دیتا ہوں اس نے کہا اب مجھے دنیا کی ہوس کوئی نہیں۔ اس وقت مجھے یہ خیال آیا ہے کہ قیامت کے دن اگر یہ سوال ہوا کہ تو کیسا مسلمان ہے کہ جب تک محمود نے چڑھائی نہ کی اور وہ گرفتار کر کے تجھ کو نہ لایا جب تک تو مسلمان نہ ہوا۔ کیا اچھا ہوتا کہ مجھے اس وقت ابتدا میں سمجھ آ جاتا کہ اسلام سچا مذہب ہے۔

مخالف کا جنازہ

ایک صاحب نے پوچھا۱؎ کہ ہمارے گاؤں میں طاعون ہے اور اکثر مخالف مکذّب مَرتے ہیں ان کا جنازہ پڑھا جاوے کہ نہ؟ فرمایا کہ

یہ فرض کفایہ ہے اگر کنبہ میں سے ایک آدمی بھی چلا جاوے تو ہو جاتا ہے مگر اب یہاں ایک تو طاعون زدہ ہے کہ جس کے پاس جانے سے خدا روکتا ہے دوسرے وہ مخالف ہے۔ خواہ مخواہ تداخل جائز نہیں ہے۔ خدا فرماتا ہے کہ تم ایسے لوگوں کو بالکل چھوڑ دو اگر وہ چاہے گا تو ان کو خود دوست بناوے گا یعنی مسلمان ہو جاویں گے خدا نے منہاج نبوت پر اس سلسلہ کو چلایا ہے مداہنہ سے ہرگز فائدہ نہ ہوگا بلکہ اپنا حصہ ایمان کا بھی گواؤ گے۔

(مجلس قبل از عشاء)

توبہ کادروازہ بند ہونا

طاعون پر ذکر ہوا کہ بعض مقامات بالکل تباہ ہو گئے ہیں مگر پھر بھی وہاں کے لوگوں کی فسق فجور کی وہی حالت ہے کوئی تبدیلی پاک نظر نہیں آتی

فرمایا کہ سمجھ الٹی ہے توبہ کے دروازہ بند ہونے کے ایک یہ معنے بھی ہیں۔

لَا رَآدَّ لِفَضْلِہٖ

یہ ایک حضرت اقدس کا پرانا الہام ہے جو مسجد کے اوپر کے حصے میں لکھا ہوا تھا اور عمارتوں کے تغیر و تبدل کے وقت وہ نوشتہ قائم نہ رہ سکا۔ فرمایا کہ اسے پھر لکھوایا جاوے اور نہیں معلوم کہ اس کے معنے کس قدر وسیع ہیں۔ حضرت اقدس نے خواب میں دیکھا تھا کہ فرشتے اسے سبز روشنائی سے لکھ رہے ہیں۔۲؎

۴؍مئی ۱۹۰۳ء

(بوقتِ سیر) اکرا مِ ضیف م ہمانوں کے انتظام مہمان نوازی کی نسبت ذکر ہوا۔

ف

رمایا۔ میرا ہمیشہ خیال رہتا ہے کہ کسی مہمان کو تکلیف نہ ہو بلکہ اس لیے ہمیشہ تاکید کرتا رہتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے مہمانوں کو آرام دیا جاوے مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہوتا ہے اور ذراسی ٹھیس لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔ اس سے پیشتر میں نے یہ انتظام کیا ہوا تھا کہ خود بھی مہمانوں کے ساتھ کھانا کھاتا تھا مگر جب سے بیماری نے ترقی کی اور پرہیزی کھانا کھانا پڑا تو پھر وہ التزام نہ رہا ساتھ ہی مہمانوں کی کثرت اس قدر ہوگئی کہ جگہ کافی نہ ہوتی تھی اس لیے ب مجبوری علیحدگی ہوئی ہماری طرف سے ہر ایک کو اجازت ہے کہ اپنی تکلیف کو پیش کر دیا کرے بعض لوگ بیمار ہوتے ہیں ان کے واسطے الگ کھانے کا انتظام ہوسکتا ہے۔۱؎

(دربارِ شام )ر۲؎

سوم وعادات

فرمایا کہ عادات اور رسوم کا قلع قمع کرنا نہایت مشکل ہوتا ہے اور یہی ایک حجاب ہزاروں انوار سے محروم بھی رکھتا ہے ورنہ ہمارا معاملہ تو نہایت ہی صاف اور کھلا کھلا ہے کیسے ہی دلائل اور براہین سے ایک اَمر کو مدلّل کر کے کیوں نہ بیان کیا جاوے عادت و رسم کا پابند ضرور اس کے ماننے میں پس و پیش کرے گا اور جب تک وہ اس حجاب کو پھاڑ کر باہر نہ نکلے اسے حق لینا نصیب ہی نہیں ہوتا۔

آنحضرتؐ کی صداقت کیسی اجلٰی اور اصفٰی تھی مگر ان کے دعوے کے وقت بھی عیسائی راہبوں اور یہودی مولویوں نے جو عادت اور رسم کے پابند تھے ہزاروں عذر تراشے اور آپ کو صادق کہنے کی بجائے کاذب کا خطاب دیا گویا رسم اور عادت کی ظلمت نے ان کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈالا ہوا تھا کہ وہ نور کو ظلمت کہتے تھے ورنہ آپ کے معجزات، بیّنات اور فیوض اس قدر کامل اور اعلیٰ تھے کہ کسی کو ان سے انکار ممکن نہ تھا۔۱؎

تسلی پانے کے تین طریق

اس زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہر ایک قسم دلائل اور بینات ہمارے واسطے جمع کر دئیے ہیں انسان کے تسلی پانے کے تین ہی طریق ہوا کرتے ہیں۔

(۱) اوّل نقلی دلائل۔ سو وہ قرآن شریف کے نصوص سے ثابت ہیں کیونکہ جو شخص قرآن شریف کو کلام الٰہی مانتا ہے اسے تو اس بن چارہ نہیں بلکہ اس کا ایمان ہی کلامِ الٰہی کے بغیر ناقص ہے۔۲؎ نقلی دلائل کا دوسرا حصہ احادیث ہیں سو ان میں سے وہ احادیث قابل پذیرائی ہیں جو قرآن شریف کے معارض نہ ہوں کیونکہ جو حدیث قرآن شریف کے مخالف معارض ہو۔ وہ ردّی ہے قرآن شریف کے مع اور قبول کرنے کے لائق نہیں مثلاً قرآن شریف بتاتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ حضرت موسٰی سے پہلے ہوئے ہیں مگر اگر حدیث میں یہ ہو کہ حضرت موسٰی حضرت ابراہیمؑ سے پہلے ہوئے ہیں تو وہ بالکل ردّی ہے اور ماننے کے لائق نہیں یا ایسی ہی اگر اور کوئی مخالفت صریح قرآن شریف کی کوئی حدیث کرے تو وہ بھی اس ذیل میں داخل ہے۔

احادیث میں احتمال صدق اور کذب دونوں طرح کا ہے کیونکہ احادیث تو قرآن شریف کی طرح اس وقت رسول اللہ نے جمع نہیں کیں اور نہ ہی ان کا قرآن شریف کی طرح کوئی نام رکھا ہے بلکہ آپ سے قریباً اڑھائی سو برس بعد جمع ہوئی ہیں غرض ان کے صدق کذب کا معیار قرآن شریف ہے پس جو احادیث قرآن شریف کے معارض نہیں وہ ماننے کے لائق ہیں۔ یہ جو ۷۳فرقے بن گئے ہیں یہ بھی تو ان احادیث کے نتائج میں سے ایک نتیجہ ہے۔ جب لوگوں کی توجہ قرآن شریف سے ہٹ گئی اور احادیث کو قرآن شریف پر قاضی جانا تو یہاں تک نوبت پہنچی۔

(۲) دوسرا ذریعہ عقل ہے جس سے انسان حق کو پہچان سکتا ہے چنانچہ قرآن شریف میں مجرمین کے الفاظ درج ہیں کہ. لَوۡ کُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا کُنَّا فِیۡۤ اَصۡحٰبِ السَّعِیۡرِ(الملک:۱۱) سو اگر ان لوگوں سے سوال کیا جاوے کہ کیا عقل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ کوئی شخص زندہ بجسمہ العنصری آسمان پر چلا جاوے اور دو ہزار برس تک وہیں بیٹھا رہے اور کسی قسم کی ضروریات اور عوارض اسے نہ لگیں کیا کوئی عقل ہے جو اس خصوصیت کو مان سکے؟ بھلا ان لوگوں سے پوچھا جاوے کہ اس خصوصیت کی جو تم نے حضرت عیسٰیؑ میں مانی ہے کیا وجہ ہے یہ تو ایک قسم کا باریک شرک ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ(الانبیآء:۸) اللہ تعالیٰ انسان کو متوجہ کرتا ہے کہ ہر ایک اَمر میں نظائر ضروری ہیں۔ جس چیز میں نظیر نہیں وہ چیز خطرناک ہے آج کل جس طرح کا ہمارا جھگڑا ہے اسی قسم کا ایک جھگڑا پہلے بھی اہل کتاب میں گذر چکا ہے اور وہ الیاس کا معاملہ تھا ان کی کتابوں میں لکھا تھا کہ مسیحؑ آسمان سے نہیں نازل ہوگا جب تک ایلیا آسمان سے دوبارہ نہ آلے۔ اسی بنا پر جب حضرت مسیحؑ آئے اور انہوں نے یہود کو ایمان کی دعوت کی تو انہوں نے صاف انکار کیا کہ ہمارے ہاں مسیح کی بنا پر جب حضرت م ع لامت یہ ہے کہ اس سے پہلے ایلیا آسمان سے دوبارہ نازل ہوگا مگر حضرت مسیحؑ نے اس کی یہی تاویل کی تھی کہ یہی شخص یعنی یوحنا (یحییٰ) ہی الیاس اور یہ اس کی (الیاس) خو بولے کر آیا ہے اسی کو ایلیا مان لو۔ وہ آسمان سے دوبارہ نہیں آوے گا جس نے آنا تھا وہ آ چکا۔ چاہو مانو چاہو نہ مانو۔ غرض حضرت عیسیٰ پر بھی یہ ایک مصیبت پڑ چکی تھی اور ان کا فیصلہ ہمارے اس مقدمہ کے لیے ایک دلیل ہو سکتا ہے اگر حضرت عیسٰیؑ یہود کے مقابل میں حق پر تھے تو ہمارا معاملہ بھی صاف ہے ورنہ پہلے حضرت عیسٰیؑ کی نبوت کا انکار کریں بعد میں ہمارا معاملہ آئے گا۔

اگر واقعی طور پر ان یہودیوں کی طرح یہ یہودی بھی حق پر ہیں تو پھر اوّل تو حضرت عیسٰیؑ کی نبوت کا ثبوت نہیں تو ان کا آسمان سے آنا کجا؟ پس یا تو یہ مسلمان اس بات کو مان لیں کہ آسمان پر کوئی شخص زندہ نہیں جایا کرتا اور نہ ہی وہ دوبارہ واپس آیا کرتے ہیں اور وہ اسی قاعدے کے مطابق حضرت عیسیٰ کو دوسرے انبیاء کی طرح وفات پائے ہوئے مان لیں اور یا حضرت عیسٰیؑ کی نبوت سے انکار کریں اور اس طرح پر ان کی آمد کے متعلق تمام امیدوں سے ہاتھو دھو لیں غرض ان کی منفرد اور خاص قسم کی زندگی ایک خطرناک قسم کا شرک ہے غرض دوسری قسم کے دلائل عقلی تھے سو ان کے رُو سے بھی یہ قوم ملزم ہے۔۱؎

(۳) تیسرا ذریعہ ایک صادق کی شناخت کا اس کے ذاتی نشانات اور خارق عادت پیشگوئیاں ہوتی ہیں اور منہاج نبوت پر پرکھی جاتی ہیں سو اس قسم کے دلائل بھی اللہ تعالیٰ نے اس جگہ بہت جمع کر دئیے ہیں کیا زمینی، کیا آسمانی، کیا مکانی، کیا زمانی، ہر قسم کے نشانات اس نے خود ہمارے لیے ظاہر فرمائے ہیں۔ آنحضرت کی اکثر پیشگوئیوں کا ظہور بھی ہو چکا ہے آسمان نے ہمارے لیے گواہی دی زمین ہمارے واسطے شہادت لائی اور ہزاروں خارق عادت ظہور میں آچکے ہیں۔ زمانہ ہے سو وہ خود زبانِ حال سے چلّا رہا ہے کہ ضرور کوئی آنا چاہیے قوم کے ۷۳ فرقے ہو گئے ہیں یہ خود ایک حَکم کو اہتے ہیں ان تما چاہتے ہیں ان تمام فرقوں میں ایسے ایسے اختلاف پڑے ہیں کہ ایک دوسرے کو تکفیر کے فتوے لگائے جاتے ہیں اور ارتداد کا جرم ان میں سے ہر ایک کی گردن پر سوار ہے حنفی وہابیوں کو اور وہابی حنفیوں کو جہنمی بتاتے ہیں شیعہ ان سب کو راہ راست سے بھٹکے ہوئے کہتے ہیں۔ خارجی ہیں سو وہ شیعہ کی جان کے دشمن ہیں غرض ہر ایک فرقہ دوسروں کے خون کا پیاسا ہے اب ان میں سے اختلاف کے دور کرنے کے واسطے جو حَکم آوے گا کیا وہ ان کی مساوی باتوں کو مان لے گا؟ اگر ایسا کرے گا تو دوسرا ناراض ہو جاوے گا۔ یہاں ہر ایک فرقہ یہی چاہتا ہے کہ میری اگر ساری باتیں وہ نہ مانے گا تو وہ خدا کی طرف سے نہ ہوگا۔ غرض ہر ایک نے اس کے صدق کا معیار اس کے تمام عقائد کو مان لینا مقرر کیا ہوا ہے مگر کیا وہ ایسا ہی کرے گا؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ ہر ایک راستی کا حامی اور ناراستی کا دشمن ہوگا اگر ایسا نہیں تو وہ حَکم ہی کس کام کا ہوا؟ اور ایسے کی ضرورت ہی کیا ہے اس کے وجود سے عدم بہتر ہے۔

اصل مشکل یہ ہے کہ ان بے چارے لوگوں کی عادت ہی ہوگئی ہے اور بچپن سے کان میں ہی یہی پڑتا آیا ہے کہ وہ اس طرح آسمان سے ایک مینار پر اترے گا پھر سیڑھی مانگے گا اور دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر وہ نیچے اترے گا پس آتے ہی نہ بھلی نہ بری کفار کو تہ تیغ کر کے ان کے اموال و املاک سب مسلمانوں کے حوالے کرے گا وغیرہ وغیرہ۔

ان باتوں کو جو مدتوں سے سادہ لوح پر کندہ ہوگئی ہیں دور کریں تو کس طرح؟ وہ بے چارے معذور ہیں یہ مشکلات ہیں اور ان کا دور ہونا بجز خدا تعالیٰ کی خشیت کے ہرگز ممکن نہیں۔

(قرآن نے) تَوَفَّیْتَنِیْ فرمایا اور بخاری نے اپنا مذہب اور اس آیت کے معنے بیان کر دئیے کہ مُتَوَفِّیْکَ۔ مُـمِیْتُکَ تو پھر اس کے بعد خواہ نخواہ ان کو زندہ آسمان پر بٹھانا ان لوگوں کی کیسی غلطی ہے وہ بے چارہ تو خود بھی دہائی دیتا ہے کہ یہ لوگ میرے مَرنے کے بعد بگڑے ہیں بھلا اب ہمیں کوئی بتادے کہ یہ لوگ ابھی بگڑے ہوئے ہیں یا نہیں۔ اگر یہ بگڑے ہیں تو مسیح وفات پا چکے ہیں ورنہ ان کے تثلیث کفارے اور علاوہ اعتقادات پر ایمان لاؤ اور آنحضرتؐ کی نبوت کا انکار کرو.... یہ جو اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں فرمایا ہے کہ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ(الفاتحۃ:۷) اس میں ہم نے غور کیا تو معلوم ہوتا ہے کہ آنے والے شخص میں دو قسم کی صفات کی ضرورت ہے اوّل تو عیسوی صفات اور نے سورۃ فاتحہ می ـحۃ:۷)اس میں ہم نے غور کیا تومعلوم ہوتا ہے کہ آنے والے شخص میں دو قسم کی صفات کی ضرورت ہے اوّل تو عیسوی صفات اور دوسرے محمدی صفات کی کیونکہ مَغْضُوْبِ عَلَیْـہِمْ سے مُراد یہود اور اَلضَّآلِّیْنَ سے مُراد نصاریٰ ہیں جب یہود نے شرارت کی تھی تو حضرت عیسٰیؑ ان کے واسطے آئے تھے جب نصاریٰ کی شرارت زیادہ بڑھ گئی تو آنحضرتؐ تشریف آور ہوئے تھے اور یہاں خدا تعالیٰ نے دونوں کا فتنہ جمع کیا اندرونی یہود اور بیرونی نصاریٰ جن کے لیے آنے والا بھی آنحضرت کا کامل بروز اور حضرت عیسیٰؑ کا پورا نقشہ ہونا چاہیے تھا۔

حَکم کا مقام

حَکم کے سامنے کسی کی پیش ہی کیا جاتی ہے اور اس سے ان کی بحث ہی کیا۔ یہ زمینی وہ آسمانی۔ یہ نا قابل محض، وہ ہر وقت خدا سے تعلیم پاتا۔ یہ لوگ ہمیں رطب و یابس احادیث اور اقوال کا انبار پیش کر کے ہرانا چاہتے ہیں مگر یہ کیا کریں ہمیں تو تیس سال ہوئے کہ خود خدا ہر وقت تازہ الہامات سے خبر دیتا ہے کہ یہ اَمرِ حق ہے جو تولایا ہے تیرے مخالف ناحق پر ہیں ہم اب کیا کریں ان لوگوں کی مانیں یا آسمان سے خدا کی مانیں۔

سوچنے والے کے واسطے کافی ہے کہ صدی کا سر بھی گذر گیا ہے اور تیرھویں صدی تو اسلام کے واسطے سخت منحوس صدی تھی ہزاروں مرتد ہو گئے یہود خصلت بنے اور جو ظاہر میں مرتد نہیں اگر باریک نظر سے دیکھا جاوے تو وہ بھی مرتد ہیں ان کے رگ وریشے میں دجّال نے اپنا تسلّط کیا ہوا ہے پوشاک تک ان کی بدل گئی ہے تو دل ہی نہ بدلے ہوں گے۔ صرف بعض خوف سے یا بعض اَور وجوہات سے اظہار نہیں کرتے ورنہ ہیں وہ بھی مرتد اپنے دین کی خبر نہ ہوئی دوسروں کے زیر اثر ہوئے تو اب ارتداد میں کَسر ہی کون سی باقی رہ گئی اگر اب بھی ان کا مہدی اور مسیح نہیں آیا تو کب آئے گا؟ جب اسلام کا نام ہی دنیا سے اٹھ جاوے گا اور یہ بیڑا ہی غرق ہو جاوے گا۔ افسوس کہ قوم آنکھیں بند کئے پڑی ہے اور اسے اپنی حالت سے بھی خبر نہیں۔ فقط۱؎

۵؍مئی ۱۹۰۳ء

(بوقتِ سیر)

قبولِ حق کے لئے دعا کرتے رہنا چاہیے

نو وارد صاحب نے بیان کیا کہ رات کو میں نے خواب دیکھا کہ میں آپ سے سوال کر رہا ہوں کہ اگر آپ کو عیسیٰ علیہ السلام تسلیم کیا جاوے اور ہم اس اَمر میں غلطی میں ہوں تو پھر آپ ذمہ دار ہیں۔

فرمایا کہ اگر ہم نے یہ بار اپنے ذمہ نہ لیا ہوتا تو کئی لاکھ انسانوں کی دعوت کیسے کرتے؟ بلکہ خود خدا نے یہ ذمہ داری لی ہے۔ جو ہم سے انکار کرتا ہے تو پھر اسے تمام سلسلہ نبوت سے انکار کرنا پڑے گا۔ مسیح علیہ السلام آئے تو اس کو نہ مانا اور یہ حجّت پیش کی کہ اس سے پیشتر الیاس نے آنا ہے۔ حضرت مسیحؑ نے یہی جواب دیا کہ الیاس کی طبیعت اور خُو پر یحییٰ آ گیا ہے اور یہی الیاس کا آنا ہے۔ غرض کہ اگر میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں تو پھر وہ نشان کیسے ظاہر ہوتے ہیں جو کہ مسیح کے لیے مقرر تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو یہود کا یہی اعتراض تھا کہ وہ بنی اسرائیل میں ہوگا۔ خدا اس کا جواب دیتا ہے کہ یہ اس کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے ہر ایک وقت پر عقلمند تو مانتے رہے اور بیوقوف ہمیشہ ضد کرتے رہے کہ سب باتیں پوری ہولیں تو مانیں گے۔ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحۃ:۷) سے مُراد مولوی ہیں کیونکہ ایسی باتوں میں اوّل نشانہ مولوی ہی ہوا کرتے ہیں۔ دنیا داروں کو تو دین سے تعلق ہی کم ہوتا ہے جب سے یہ سلسلہ نبوت کا جاری ہے یہ اتفاق کبھی نہیں ہوا کہ مولویوں کے پاس جس قدر ذخیرہ رطب و یابس کا ہو وہ حرف بحرف پورا ہوا ہو۔ دیکھ لو ان ہی باتوں سے اب تک یہودیوں نے نہ مسیحؑ کو مانا نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ حق کو قبول کرنا ایک نعمتِ الٰہی ہے یہ ہر ایک کو نہیں ملا کرتی اس لیے ہمیشہ دعا کرنی چاہیے کہ خدا اسے قبول کرنے کی توفیق عطا کرے۔۱؎

۶؍مئی۱ ۱۹۰۳ء۱؎

(بوقتِ سیر)

پیشگوئیوں میں ہمیشہ استعارات ہوتے ہیں

نووارد صاحب نے دریافت کیا کہ گھنگھرو والے بالوں سے کیا مُراد ہے؟ فرمایا کہ احادیث ایک ظنّی شَے ہے یہ ہرگز ثابت نہیں ہے کہ جو آنحضرتؐ کے منہ سے نکلا ہو وہی ضبط ہوا ہو معلوم نہیں کہ اصل لفظ کیا ہو پیشگوئیوں میں ہمیشہ استعارات ہوتے ہیں اور پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جب خبروں میں کوئی ایسی خبر موجود ہو جو ثابت شدہ واقعہ کے برخلاف ہو تو اسے بہرحال ردّ کرنا پڑے گا۔ اس وقت جو فتنہ موجود ہے تم اس کی نظیر کسی زمانہ سابقہ میں دکھاؤ کہ کبھی ہوا ہے؟ پھر سب سے بڑا فتنہ تو یہ ہے اور ادھر دجّال کا فتنہ بڑا رکھا گیا ہے اور دجّال کے معنے بھی لغت سے معلوم ہو گئے تو اب شک کی کون سی جگہ باقی رہ گئی ہے؟ پھر ہم کہتے ہیں کہ اگر استعارات صرف دجّال کے معاملہ میں ہوتے اور کسی جگہ نہ ہوتے تو بھی کسی کو کلام ہوتا کہ تم کیوں تاویل کرتے ہو مگر دیکھنے سے پتا لگتا ہے کہ خود قرآن شریف اور نیز احادیث بھی استعارات سے بھرے پڑے ہیں اور نہ اس اَمر کی ضرورت تھی کہ ہر ایک استعارہ کی حقیقت کھولی جاوے کیا آج تک دنیا کے سب امور کسی نے جان لیے ہیں جو اس اَمر پر زور دیا جاتا ہے کہ ایک ایک لفظ کی حقیقت بتلاؤ۔ دستور ہے کہ موٹے موٹے امور کو انسان سمجھ کر باقی کو اسی پر قیاس کر لیتا ہے

توفّی

توفی کا لفظ صرف انسانوں پر ہی آیا ہے دیگر حیوانات پر استعمال نہیں ہوا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت دہریہ طبع لوگ بھی تھے جو کہ حشر ونشر کے قائل نہ تھے ان کا اعتقاد تھا کہ کوئی شئے انسان کی باقی نہیں رہتی اس لفظ کو استعمال کر کے اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا کہ روح کو ہم اپنی طرف قبض کر لیتے ہیں وہ باقی رہتی ہے قرآن اور حدیث میں جہاں کہیں یہ لفظ آیا وہاں معنے قبض روح کے ہیں اس کے سوا اور کوئی معنے نہیں ہوتے۔۱؎

تحصیل حاصل؟

سوال۔ جب ایک شخص نے ایک بات تحصیل کی ہے تو دوبارہ اسی کے تحصیل کرنے سے کیا حاصل ہے؟

جواب۔ ہم اس اصول کو لَا نُسْلِمُ کہتے ہیں یہ ٹھیک نہیں ہے قرآن میں لکھا ہے۔ اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ قَالُوۡا بَلٰی(الاعراف:۱۷۳) یعنی جب روحوں سے خدا نے سوال کیا کہ میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ تو وہ بولیں کہ ہاں! تو اب سوال ہو سکتا ہے کہ روحوں کو علم تو تھا پھر انبیاء کو خدا نے کیوں بھیجا گویا تحصیل حاصل کرائی یہ اصل میں غلط ہے ایک تحصیل پھیکی ہوتی ہے ایک گاڑھی ہوتی ہے دونوں میں فرق ہوتا ہے وہ علم جو کہ نبیوں سے ملتا ہے اس کی تین اقسام ہیں۔ علم الیقین، عین الیقین، حق الیقین

اس کی مثال یہ ہے جیسے ایک شخص دور سے دھواں دیکھے تو اسے علم ہو گا کہ وہاں آگ ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جہاں آگ ہوتی ہے وہاں دھواں بھی ہوتا ہے اور ہر ایک دوسرے کے لیے لازم ملزوم ہیں۔ یہ بھی ایک قسم کا علم ہے جس کا نام علم الیقین ہے مگر اور نزدیک جا کر وہ اس آگ کو آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے تو اسے عین الیقین کہتے ہیں۔ پھر اگر اپنا ہاتھ اس آگ پر رکھ کر اس کی حرارت وغیرہ کو بھی دیکھ لیوے تو اسے کوئی شبہ اس کے بارے میں نہ رہے گا اور اس طرح سے جو علم اسے حاصل ہوگا اس کا نام حق الیقین ہوگا۔ اب کیا ہم اسے تحصیل حاصل کہہ سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں!۲؎،۳؎

دیکھ لیوے تو اسے ، (دربارِ شام)

نزولِ وحی کا طریق

فرمایا کہ وحی کا قاعدہ ہے کہ اجمالی رنگ میں نازل ہوا کرتی ہے اور اس کے ساتھ ایک تفہیم ہوتی ہے مثلاً جب آنحضرتؐ کو نماز پڑھنے کا حکم ہوا ہے تو ساتھ کشفی رنگ میں نماز کا طریق اس کی رکعات کی تعداد، اوقات نماز وغیرہ کشفی رنگ میں بتا دیا گیا تھا۔ علیٰ ہذا القیاس۔ جو اصطلاح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کی تفصیل اور تشریح کشفی رنگ میں ساتھ ہوتی ہے جن لوگوں کو وہ اس وحی کے منشا سے آگاہ کرتا ہے اور اس کو دوسرں کے دلوں میں داخل کرتا ہے جب سے دنیا ہے وحی کا یہی طرز چلا آیا ہے اور کل انبیاء کی وحی اسی رنگ کی تھی۔ وحی کشفی تصویروں یا تفہیم کے سوا کبھی نہیں ہوئی اور نہ وہ اجمال بجز اس کے کسی کی سمجھ میں آ سکتا ہے۔۱؎

مُدّ میں پیشگوئی کے مطابق تباہی

مُدّ سے خبر آئی ہے کہ اس جگہ آبادی کچھ اُوپر دو سو آدمی کی ہے اور اب تک ایک سو تین آدمی مَر چکے ہیں اور ابھی چار پانچ روز مَرتے ہیں۔ اس پر حضرت اقدس نے حکم دیا ہے کہ اخباروں میں مُدّ کے متعلق پیشگوئی مندرجہ قصیدہ اعجاز احمدیہ کو شائع کر کے دکھائیں اور مولوی ثناء اللہ وغیرہ کو آگاہ کریں کہ وہی الفاظ جن پر وہ مقدمہ بنوانا چاہتا تھا خدا تعالیٰ اب پوری کر رہا ہے۔ اب لوگ سوچیں کہ وہ حق تھا یا نہیں۔۲؎

۷؍مئی ۱۹۰۳ء

(قبل از عشاء)

عورتوں کے حقوق

فرمایا کہ عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ویسی کسی دوسرے مذہب نے قطعاً نہیں کی۔ مختصر الفاظ میں وَلَہُنَّ مِثۡلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ(البقرۃ:۲۲۹) ہر ایک قسم کے حقوق بیان فرما دیئے۔ یعنی جیسے حقوق مَردوں کے عورتوں پر ہیں ویسے ہی عورتوں کے مَردوں پر بھی ہیں بعض لوگوں کا حال سنا جاتا ہے کہ ان بچار یوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات ان سے لیتے ہیں۔ گالیاں دیتے، حقارت کی نظر سے دیکھتے اور پردہ کے حکم کو ایسے نا جائز طریق سے کام میں لاتے ہیں کہ گویا وہ زندہ درگور ہوتی ہیں۔

چاہیے کہ عورتوں سے انسان کا دوستانہ طریق اور تعلق ہو۔ اصل میں انسان کے اخلاق فاضلہ اور خدا سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں اگر ان سے اس کے تعلقات اچھے نہیں تو پھر خدا سے کس طرح ممکن ہے کہ صلح ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ اپنی بیوی سے اچھا سلوک کرنے والا ہی تم میں سے بہترین ہے۔۱؎


۸ ؍مئی ۱۹۰۳ء

(مجلس قبل از عشاء)

محمد حسین بٹالوی اور قرآن کریم کی بے ادبی

’’یہ ظاہری تُک بندی تو مسیلمہ نے بھی کر لی تھی اس میں قرآن شریف کی خصوصیت کیا ہے۔ ‘‘یہ ایک کلمہ ہے جو کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اوّل المکفّرین کی قلم سے قرآن کریم کی شان میں نکلا ہے۔ اس پر حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ

اس سے بڑھ کر کیا بے ادبی ہوگی کہ قرآن شریف کی آیات کو جو کہ ہر ایک پہل کیا بلحاظ ظاہر اور کیا بلحاظ باطن کے معجزہ ہے۔ تک بندی کہا جاتا ہے۔ جیسے قرآن شریف کا باطن معجزہ ہے ویسے اس کے ظاہر الفاظ اور ترتیب بھی معجزانہ ہے۔ اگر ہم اس کے ظاہر کو معجزہ نہ مانیں تو پھر باطن کے معجزہ ہونے کی دلیل کیا ہو گی؟ ایک انسان کا اگر ظاہر ہی گندہ ناپاک اور خبیث ہو گا تو اس کی رُوحانی حالت کیسے اچھی ہوسکتی ہے؟ عوام الناس اور موٹی نظر والوں کے واسطے تو ظاہری خوبی ہی معجزہ ہوسکتی ہے اور چونکہ قرآن ہر ایک قسم کے طبقہ کے لوگوں کے واسطے ہے اس لیے ہر ایک رنگ میں یہ معجزہ ہے۔ مامور من اللہ کی عداوت کا نتیجہ کفر تک پہنچا دیتا ہے۔۱؎


۹؍مئی ۱۹۰۳ء

(بوقتِ سیر)

وباکے علاقے سے نکلنا

عام لوگوں کا خیال ہے کہ وبا سے بھاگنا نہ چاہیے یہ لوگ غلطی کرتے ہیں۔ آنحضرتؐ نے فرمایا ہے کہ اگر وبا کا ابتدا ہو تو بھاگ جانا چاہیے اور اگر کثرت سے ہو تو پھر نہیں بھاگنا چاہیے۔ جس جگہ وبا ابھی شروع نہیں ہوئی تب تلک اس حصہ والے اس کے اثر سے محفوظ ہوتے ہیں اور ان کا اختیار ہوتا ہے کہ اس سے الگ ہو جاویں اور توبہ اور استغفار سے کام لیویں۔

جماعتِ احمدیہ اور طاعون

یہ اللہ تعالیٰ کی سنّت ہے کہ نشان بھی ہوتے ہیں اور ان میں التباس بھی ہوتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ مانگا گیا تو کہا کہ خدا قادر ہے خواہ آسمان سے نشان دکھلاوے یا بعض کو بعض سے جنگ کرا کر نشان دکھاوے۔۲؎ چنانچہ جنگوں میں صحابہؓ بھی قتل ہوئے بعض کمزور ایمان والوں نے اعتراض کیا کہ گیا تو کہا کہ خدا چنانچہ جنگوں م ی ں صحاب ہ ؓ بھی قتل ہوئے ب ع ض کمزور ایمان والوں نے اعتراض کیا کہ اگر یہ ع ذاب ہے تو ہم میں سے لوگ کیوں مَرتے ہیں اس پر خدا نے فرمایا اِنْ یَّمۡسَسۡکُمۡ قَرۡحٌ فَقَدۡ مَسَّ الۡقَوۡمَ قَرۡحٌ مِّثۡلُہٗ ؕ وَتِلۡکَ الۡاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیۡنَ النَّاسِ(اٰل عمران:۱۴۱) پس اگر ہماری جماعت میں سے کوئی بھی نہ مَرے اور کل قو میں مَرتی رہیں تو کل دنیا ایک ہی دفعہ راہ راست پر آ جاوے اور بجز اسلام کے اور کوئی مذہب دنیا پر نہ رہے حتی کہ گورنمنٹوں کو بھی مسلمان ہونا پڑے۔۱؎ اور یہی سِر تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ بھی فوت ہوئے تھے۔ ہاں سلامتی کا حصہ نسبتاً ہماری طرف زیادہ رہے گا براہین احمدیہ میں بھی لکھا ہے اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ یَلۡبِسُوۡۤا اِیۡمَانَہُمۡ بِظُلۡمٍ(الانعام:۸۳) اب خدا جانے کہ کون ظلم سے خالی ہے کسل اور غفلت بھی ظلم ہے مگر تا ہم دعا کرنا ضروری ہے اس جماعت کا قطعاً محفوظ رہنا یہ الفاظ کہیں ہم نے نہیں لکھے اور نہ یہ سنّت اللہ ہے اگر ایسا ہو تو پھر تو اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ(البقرۃ:۲۵۷) ہو جاتا ہے جب سے انبیاء پیدا ہوئے ہیں ایسا کبھی نہیں ہوا احمقوں کو ان بھیدوں کی خبر نہیں خدا کا وعدہ نسبتاً حفاظت کا ہے نہ کہ کلیۃً۲؎ پھر یہ بھی دیکھ لینا چاہیے کہ اگر ہماری جماعت کا ایک مَرتا ہے تو اس کے بدلے تین سَو آ جاتے ہیں۔ انجام ہمیشہ متقیوں کے واسطے ہی ہوتا ہے اگر خدا تعالیٰ ایسا کھلا کھلا فرق کر دیوے تو میں نہیں جانتا کہ مذہبی اختلاف ایک ذرّہ بھر بھی رہ جاوے حالانکہ اس اختلاف کا قیامت تک ہونا ضروری ہے۔

بعض لوگ ہماری جماعت میں سے بھی غلطی سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی نہ مرے گا یہ بھی رہ ج ا وے حا ان کو مغا لطہ لگا ہے ایسا ہر گز ہو نہیں سکتا اگر چہ ایک حد تک خدا نے وعدے کئے ہوئے ہیں مگر ان کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ جماعت سے مطلقاً کوئی بھی نشانہ طاعون نہ ہو۔ یہ بات ہماری جماعت کو خوب یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہر گز نہیں ہے کہ تم میں سے کوئی بھی نہ مَرے گا۔ ہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَاَمَّا مَا یَنۡفَعُ النَّاسَ فَیَمۡکُثُ فِی الۡاَرۡضِ(الرّعد:۱۸) پس جو شخص اپنے وجود کو نافع الناس بناویں گے ان کی عمریں خدا زیادہ کرے گا خدا تعالیٰ کی مخلوق پر شفقت بہت کرو اور حقوق العباد کی بجا آوری پورے طور پر بجالانی چاہیے۔

نوحؑ اور مسیح موعود کے حالات کا فرق

اعتراض ہوا کہ نوحؑ کی کشتی میں چڑھنے والے سب کے سب طوفان سے محفوظ رہے تھے تو کیا وجہ ہے جو لوگ یہاں بیعت میں ہیں وہ محفوظ نہ رہیں۔ جواب۔ فرمایا کہ ہمارا سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ کے قدم بر قدم ہے نوحؑ کے وقت ایمان کا دروازہ بند ہو چکا تھا اور اس وقت کوئی التباس ایمان کا نہ تھا مگر اب ہے نوحؑ کے وقت یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ اب قوم تو ضرور ہلاک ہونے والی ہے خواہ ایمان لاوے خواہ نہ لاوے مگر آنحضرت کے وقت مہلت دی گئی کہ جو توبہ کرے گا وہ بچ جاوے گا۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عین قتل کے وقت فرمایا کہ اگر کوئی ایمان لاوے تو تلوار روک لی جاوے مگر نوحؑ کی قوم کے واسطے تھا کہ صرف کشتی والے بچائے جاویں گے باقی سب تباہ اور ہلاک ہوں گے وہ صورت خاص اور الگ تھی اور اعتراض تو خود نوحؑ پر بھی تھا کہ اس نے کہا تھا کہ میرے اہل بچے رہیں گے مگر پھر بھی مخالفوں کو یہ کہنے کی گنجائش رہی کہ نوحؑ اپنے بیٹے کو نہ بچا سکا۔ معلوم ہوتا ہے کہ نوحؑ کو بھی شبہ پیدا ہوا تھا تب ہی تو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے زجر ہوا۔ پھر دیکھو باوجود نبی ہونے کے ان کو دھوکا لگا اور یہ معاملہ اس طرح سے ہوا کہ مخالف تو در کنار خود نوحؑ کو ہی شکوک پیدا ہو گئے۔ خدا تعالیٰ اپنے رعب اور خوف کو دور نہیں کرنا چاہتا اگر آج وہ کھلا وعدہ دے دے کہ جماعت میں سے کوئی نہ مرے گا تو پھر اس کا خوف طرح سے ہوا کہ مخ دلوں میں ن ہ رہے جہاں خاص گھر کا اس نے وعدہ کیا ہے کہ اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ وہاں بھی ایک فقرہ ساتھ رکھ دیا ہے کہ اِلَّا الَّذِیْنَ عَلَوْ ابِاسْتِکْبَارٍ۔۔

مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا رجوع کب ہوگا؟

فرمایا کہ دیکھو بچہ جب پیٹ میں ہوتا ہے تو اگرچہ زندہ ہوتا ہے مگر تاہم خوشی پر ہنس نہیں سکتا اور تکلیف پر رو نہیں سکتا۔ بلاؤ تو بولتا نہیں ہے مگر جب باہر آتا ہے تو اس کو حواس مل جاتے ہیں۔ ہنستا بھی ہے روتا بھی ہے بلانے سے بولتا بھی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اوّل زندگی جو کہ پیٹ میں تھی وہ اصلی اور حقیقی زندگی نہ تھی حواس اس میں نہ تھے جب خدا ایک بات ڈالتا ہے تو حواس آ جاتے ہیں۔ یہی حال مولوی محمد حسین صاحب کا ہے جب خدا کی طرف سے کوئی بات دل میں ڈالی جاوے گی تو اسی وقت تبدیلی ہو جاوے گی۔

جو بلائے جاتے ہیں وہ آتے ہیں اور جو بلائے نہیں جاتے وہ کفر میں ترقی کرتے ہیں اگر قرآن شریف نہ آتا تو ابوجہل اعلیٰ درجہ کے لوگوں میں شمار ہوتا۔ اسی طرح صدہا آدمیوں کو ہم صلحاء سمجھتے ہیں مگر جب ان کے سامنے حق پیش کیا گیا اور انہوں نے انکار کیا تو معلوم ہوا کہ خدا کے نزدیک ان میں صلاحیت نہ تھی کسی کے باطن کا کسی کو کیا علم ہے؟ مگر حق پیش کرنے پر حقیقت کھل جاتی ہے کہ خدا کی آواز سننے والے کون ہیں اور اس سے انکار کرنے والے کون؟

ایک غیر معمولی مجلس

کل سے اکسڑا اسسٹنٹ کمشنر صاحب گورداسپور سے دورہ پر اور تحصیلدار صاحب بٹالہ سے مینار کی تعمیر کے ملاحظہ کے واسطے تشریف لائے ہوئے تھے حضرت اقدسؑ جب سیر سے واپس تشریف لائے تو کوئی آدھ گھنٹہ کے بعد ہر دو عہدہ دار صاحبان نے حضرت اقدس سے ملاقات کی طاعون پر ذکر اذکار ہوتے رہے اور مینار کے متعلق بھی تحصیلدار صاحب نے چند امور استفسار کئے اس موقع پر جو کچھ حضرت اقدس نے ارشاد فرمایا اسے ہم یکجائی طور پر درج کر دیتے ہیں۔ (ایڈیٹر)

صاحب نے چند امور ) طا عون طاعون کے تجربہ کے سوال پر فرمایا کہ

ا

س کے تجربہ کا موقع ابھی بہت ہے حکماء نے لکھا ہے کہ اس کا دورہ ستّر ستّر برس تک ہوا کرتا ہے بڑے بڑے حکماء نے پچاس ساٹھ برس تک اس کے دورہ کا مشاہدہ لکھا ہے لیکن خدا جانے کہ بعد میں اس کے کیا تجارب ہوں۔ یہ کہنا کہ تجربہ ہوا ہے کہ کھلی ہوا میں اس کے کیڑے زیادہ ہوتے ہیں ٹھیک نظر نہیں آتا کیونکہ علاقہ بمبئی میں اس نے سب سے پہلے زیادہ حصہ شہر بمبئی کا ہی پسند کیا تھا شاید یہ بات بعد میں بدل جائے۔ ہم اس رائے کو اس وقت قبول کرتے ہیں جب طاعون کی رفتار بھی اسے قبول کرے جیسے حکام کے دورہ ہوتے ہیں اسی طرح اس کے بھی دورہ ہوتے ہیں کسی جگہ پر عود کرتی ہے اور کسی جگہ نہیں لیکن اس پر بھی زور نہیں دیا جا سکتا شاید ایک ہی جگہ بار بار آ جاوے پہلا تجربہ یہ ہے کہ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ اپنی عمر پوری کر کے خود بخود ہی چھوڑ جاتی ہے۔

طاعون کا باعث

سوال ہوا کہ طاعون کا اصل باعث کیا ہے؟ فرمایا کہ

مَیں اس مجلس میں اس کا ذکر اس لیے پسند نہیں کرتا کہ مذہبی رنگ کے مسائل کو لوگ کم سمجھتے ہیں حقیقت میں جو لوگ خدا پر ایمان لائے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ اس کی نافرمانی کا نتیجہ ہے۔ قاعدہ کی بات ہے کہ جب انسان اپنی عقل پر بہت بھروسہ کرتا ہے تو ہر شَے کا انکار کر دیتا ہے حتی کہ خدا سے بھی منکر ہو جاتا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ آج کل کے جنٹلمین دینی بات کرنے والے کو بیوقوف کہہ دیتے ہیں لیکن یقین ہے کہ اب زمانہ خود بخود مؤدّب ہو جاوے گا۔ نرے ارضی اسباب ہی اس طاعون کے موجد نہیں ہیں آخر اس کے کیڑے کسی پیدا کرنے والے کی وجہ سے ہی پیدا ہوئے ہیں اور وہ زمانہ قریب ہے کہ لوگوں کو اس کی ہستی کا پتا لگ جاوے گا۔ ابھی تک لوگوں کو عبرت کامل نہیں ہوئی ہے۔ طاعون کی گذشتہ چال سے پتا لگتا ہے کہ اوّل عوام پر پھر خواص پر پھر ملوک پر حملہ کرتی ہے اور اس کے اصل اسباب کا معمہ تو خدا خود ہی کھولے گا میں نے اس کی خبر آج سے ۲۲ سال پیشتر دی ہے پھر سات سال کے بعد دی پھر اس وقت دی جب کہ ایک دو ضلعوں میں یہ تھی۔ قرآن میں، انجیل میں، دانیال نبی کی کتاب میں اس کا ذکر ہے غرضیکہ قبل از وقت ہم اس کی نسبت کھل کر بات نہیں کرتے کیونکہ اس پرہنسی کی جاوے گی جب خدا تعالیٰ اس کا پورا دورہ خود ختم کرے گا تو اس وقت آپ ہی لوگوں کو پتا لگ جائے گا۔ ختم کرے گا تو اس وقت آپ ہی لوگوں کو پتا لگ جائے گا۔

اطباء نے لکھا ہے کہ جب موسم جاڑے یا گرمی کی طرف حرکت کرتا ہے تو اس وقت یہ زیادہ ہوتی ہے مگر ابھی تو موسم اتنی شدت گرمی کا نہیں ہے لیکن اگر مئی کے گذرنے پر یہی حال رہا تو شاید یہ قاعدہ بھی ٹوٹ جاوے مگر اصل بات کا علم تو خدا تعالیٰ ہی کو ہے۔

اکثر جگہ چوہے کثرت سے مَرتے ہیں تو وہاں طاعون کا اندیشہ ہوتا ہے مگر خدا کے فضل سے ہمارے گھر میں دو بلیاں ہیں اور وہ کوئی چوہا نہیں چھوڑتیں شاید یہ بھی خدا کی طرف سے ایک علاج ہو۔

سوال ہوا کہ پھر اس کا علاج کیا ہے؟

طاعون کا حقیقی علاج

فرمایا۔ ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ بجز تقویٰ طہارت اور رجوع الی اللہ کے اور کوئی چارہ نہیں گو لوگ اسے دیوانہ پن سمجھتے ہیں مگر بات یہ ہے کہ یہ دنیا خود بخود نہیں ہے ایک خالق اور مدبّر کے ماتحت یہ چل رہی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ زمین پر پاپ اور گناہ بہت ہو گیا ہے تو وہ تنبیہ نازل کرتا ہے اور جب رجوع الی اللہ ہو تو پھر اسے اٹھا لیتا ہے لیکن دیکھا جاتا ہے کہ لوگ بہت بیباک ہیں اور ان کو ابھی تک کچھ پروا نہیں ہے۔

سوال ہوا کہ مینار کیوں بنوایا جاتا ہے؟

مینارۃ المسیح کی غرض

فرمایا کہ اس مینار کی تعمیر میں ایک یہ بھی برکت ہے کہ اس پر چڑھ کر خدا کا نام لیا جاوے گا اور جہاں خدا کا نام لیا جاتا ہے وہاں برکت ہوتی ہے۔ چنانچہ آج کل اسی لیے سکھوں نے بھی اذانیں دلوائی ہیں اور مسلمانوں کو اپنے گھروں میں بلا کر قرآن پڑھوایا ہے۔ پھر اس کے اوپر ایک لالٹین بھی نصب کی جاوے گی۔ جس کی روشنی دُور دُور تک نظر آوے گی۔ سُنا گیا ہے کہ روشنی سے بھی طاعونی مواد کا دفعیہ ہوتا ہے اور ایک گھنٹہ بھی اس پر لگایا جاوے گا۔ اس کی بلندی کی نسبت ہم کہہ نہیں سکتے ابھی سرمایہ نہیں ہے۔ سرمایہ پر دیکھا جاوے گا کہ کس قدر بلند ہو گا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ لوگ اس پر چڑھ کر چارپائیاں بچھاویں گے کیونکہ ایک تو وہ مخروطی شکل کا ہوگا اور گھنٹہ کی وجہ سے اسے بند رکھا جاوے گا کہ لوگ چڑھ کر اسے خراب نہ کر دیویں۔

مجھے حیرت ہے کہ یہاں کے ہندوؤں کے ساتھ ہم نے آج تک برادرانہ برتاؤ رکھا ہے اور یہ لوگ ہمارے مینار کی تعمیر پر اس قدر جوش و خروش ظاہر کر رہے ہیں۔ اس مسجد کو ہمارے مرزا صاحب (والد صاحب) نے سات ۷۰۰ سو روپیہ کو خریدا تھا اور اس مینار کی تعمیر میں صرف مسجد ہی کے لیے مفید بات نہیں ہے بلکہ عوام کو بھی فائدہ ہے۔ یہ خیال کہ اس سے بے پردگی ہو گی یہ بھی غلط ہے۔ اب ہمارے سامنے ڈپٹی شنکر داس صاحب کا گھر ہے اور اس قدر اونچا ہے کہ آدمی اُوپر چڑھے تو ہمارے گھر میں اس کی نظر برابر پڑتی ہے تو کیا اب ہم کہیں کہ اسے گرا دیا جاوے؟ بلکہ ہم کو چاہیے کہ اپنا پردہ خود کر لیویں۔ ان لوگوں کو چاہیے تھا کہ مذہبی امور میں ہم سے دلبستگی ظاہر کرتے اور اس اَمر میں ہماری امداد کرتے اگر یہ لوگ اپنا معبد بلند کرنا چاہیں تو کیا ہم اسے روک سکتے ہیں؟

یہ خیال کہ مسجد یہاں ہو اور مینار کہیں باہر ہوا یک قسم کی ہنسی ہے اور اس وقت قبولیت کے قابل ہے کہ اوّل مسجد باہر نکال دی جاوے پھر مینار بھی باہر ہو جاوے گا اور یہ قبر ہمارے مرزا صاحب کی ہے انہوں نے نزول۱؎ سے زمین خرید کر اس مسجد کو تعمیر کرایا تھا اور اپنی موت سے ۲۲دن پہلے اپنی اس قبر کا نشان بتلایا کہ اس جگہ ہو۔ مجھے ان لوگوں پر بار بار افسوس آتا ہے کہ ہمارے دل میں تو ان کی ہمدردی ہے۔ بیماریوں میں ہم ان کا علاج کرتے ہیں۔ ہر ایک ان کی مصیبت میں شریک ہوتے ہیں۔ انہی سے پوچھا جاوے کہ کبھی ان کے مذہبی معاملات میں مَیں نے ان سے نقیض کی ہے؟ نقل مطابق اصل دنیاوی معاملات تو الگ ہوتے ہیں لیکن مذہبی معاملات میں شرافت کا برتاؤ ہوا کرتا ہے۔ ان کو لازم تھا کہ ایسی باتیں نہ کرتے جو آپس کی شکر رنجی کا موجب ہوتیں۔ اس مینار کی بنیاد پر گیارہ سو روپیہ خرچ آیا ہے اور تین برس سے اس کا ابتدائی کام شروع ہے چنانچہ ’’الحکم ‘‘میں اس کا اعلان موجود ہے اگر ہمارا چار ہزار روپیہ کا نقصان ہو اور پھر ان کو یہ روپیہ مل جاوے تو بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ خیر ہمسائیوں کو فائدہ پہنچا۔ لیکن ابھی تو مینار خیالی پلاؤ ہے جوں جوں روپیہ آوے گا بنتا رہے گا جب وہ مکمل ہو جاوے اور پھر کوئی اعتراض کی بات ہو تو اعتراض ہو سکتا ہے۔

میں ایسا فعل کیوں کرنے لگا جس سے اَوروں کو بھی نقصان ہو اور مجھے بھی۔ ہماری پردہ داری سب سے اعلیٰ ہے۔ اگر کوئی مینار پر چڑھے گا تو جیسے اَوروں کے گھر میں نظر پڑ سکتی ہے ویسی ہی ہمارے گھر میں بھی پڑ سکتی ہے تو کیا ہم گوارا کریں گے کہ یہ بات ہو؟ بہرحال جب یہ بن جاوے گا تو لوگ سمجھ لیویں گے کہ ان کو اس سے کس قدر فائدہ ہے۔۱؎

بلا تاریخ

اچھوتا نکتہ

عبادت اور احکامِ الٰہی کی دو شاخیں ہیں۔ تعظیم لِاَمْرِاللہ اور ہمدردی مخلوق۔ میں سوچتا تھا کہ قرآن شریف میں تو کثرت کے ساتھ اور بڑی وضاحت سے ان مراتب کو بیان کیا گیا ہے مگر سورۃ فاتحہ میں ان دونوں شقوں کو کس طرح بیان کیا گیا ہے میں سوچتا ہی تھا کہ فی الفور میرے دل میں یہ بات آئی کہ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ(الفاتحۃ:۲ تا ۴) سے ہی یہ ثابت ہوتا ہے یعنی ساری صفتیں اور تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں جو رب العالمین ہے یعنی ہر عالم میں، نطفہ میں، مضغہ وغیرہ میں سارے عالموں کا ربّ ہے۔ پھر رَحْـمٰن ہے پھر رَحِیْم ہے اور مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ(الفاتحۃ:۴) ہے اب اس کے بعد اِیَّاکَ نَعۡبُدُ(الفاتحۃ:۵) جو کہتا ہے تو گویا اس عبادت میں وہی ربوبیت۔ رحمانیت، رحیمیت، مالکیت یوم الدین کی صفات کا پرتو انسان کو اپنے اندر لینا چاہیے کیونکہ کمال عابد انسان کا یہی ہے کہ تَـخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ میں رنگین ہو جاوے پس اس صورت میں یہ دونوں اَمر بڑی وضاحت اور صفائی سے بیان ہوئے ہیں۔

بلا تاریخ

معجزات کے تین اقسام

فرمایا۔ معجزات تین اقسام کے ہوتے ہیں۔ (۱) دعائیہ (۲) ارہاصیہ (۳) قوتِ قدسیہ

ارہاصیہ میں دعا کو دخل نہیں ہوتا قوتِ قدسیہ کے معجزات ایسے ہوتے ہیں جیسے رسول اللہ نے پانی میں انگلیاں رکھ دیں اور لوگ پانی پیتے رہے یا ایک تلخ کوئیں میں اپنا لب گرِا دیا اور اس کا پانی میٹھا ہو گیا۔ مسیحؑ کے معجزات میں بھی یہ رنگ پایا جاتا ہے خود ہم کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔

مسیح کے معجزات کے متعلق جو ہم نے عمل الترب کا ذکر کیا ہے اس سے مُراد یہ ہے کہ وہ جو قوتیں اللہ تعالیٰ نے خلقی طور پر انسان کی فطرت میں ودیعت کی ہیں وہ توجہ سے سرسبز ہوتی ہیں۔ رہی یہ بات کہ مسیح کے معجزات کو مکروہ کہا ہے یہ ایسی بات ہے کہ بعض اوقات ایک اَمر جائز ہوتا ہے اور دوسرے وقت نہیں۔۱؎


بلاتاریخ۲؎

تکمیل ہدایت اور تکمیل اشاعتِ ہدایت

جب ہم اس ترتیب کو دیکھتے ہیں کہ ایک طرف تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دو مقصد ہی بیان فرمائے ہیں تکمیل ہدایت اور تکمیل اشاعت ہدایت اور اوّل الذکر تکمیل الحکم جلد ۷ نمبر ۱۹ مورخہ۲۴ ؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ چھٹے دن یعنی جمعہ کے دن ہوگی۔ اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ(المائدۃ:۴) اسی دن نازل ہوئی اور دوسری تکمیل کے لیے بالاتفاق مانا گیا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ہوگی چنانچہ سب مفسروں نے بالاتفاق تسلیم کیا ہے جبکہ پہلی تکمیل چھٹے دن ہوئی تو دوسری تکمیل بھی چھٹے دن ہی ہوگی اور قرآن شریف میں ایک دن ایک ہزار برس کا ہوتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ مسیح موعود چھٹے ہزار میں ہوگا۔

بلاتاریخ۱؎

بہترین دعا

بہترین دعا وہ ہوتی ہے جو جامع ہو تمام خیروں کی اور مانع ہو تمام مضرات کی۔ اس لیے اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحۃ:۷) کی دعا میں آدمؑ سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کل منعم علیہم لوگوں کے انعامات کے حصول کی دعا ہے اور غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ(الفاتحۃ:۷) میں ہر قسم کی مضرتوں سے بچنے کی دعا ہے۔ چونکہ مغضوب سے مُراد یہود اور ضالین سے مُراد نصاریٰ بالاتفاق ہیں تو اس دعا کی تعلیم کا منشا صاف ہے کہ یہودیوں نے جیسے بے جا عداوت کی تھی مسیح موعود کے زمانہ میں مولوی لوگ بھی ویسا ہی کریں گے اور حدیثیں اس کی تائید کرتی ہیں یہاں تک کہ وہ یہودیوں کے قدم بہ قدم چلیں گے۔

بلاتاریخ

روح القدس کے فرزند

وَاَیَّدۡنٰہُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ(البقرۃ:۲۵۴) میں مسیحؑ کی کوئی خصوصیت نہیں ہے روح القدس کے فرزند تمام وہ سعادت مند اور راستباز ہیں جن کی نسبت اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنٌ(الحجر:۴۳) وارد ہے قرآن کریم سے دو قسم کی مخلوق ثابت ہوتی ہے اوّل وہ جو روح القدس کے فرزند ہیں دوسرے وہ جو شیطان کے فرزند ہیں پس اس میں مسیحؑ کی کوئی خصوصیت نہیں۔


یہ ملفوظات ب ھی ’’ا ل حکم ‘‘میں بل اتاریخ

شذرات کی صورت میں د رج ہیں۔ (مرتّب )بلاتاریخ د وزخ دائمی نہیں

ہمارا ایمان یہی ہے کہ دوزخ میں ایک عرصہ تک آدمی رہے گا پھر نکل آئے گا۔ گویا جن کی اصلاح نبوت سے نہیں ہو سکی ان کی اصلاح دوزخ کرے گا حدیث میں آیا ہے یَأْتِیْ عَلٰی جَہَنَّمَ زَمَانٌ لَّیْسَ فِیْہَا اَحَدٌ یعنی دوزخ پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس میں کوئی متنفس نہیں ہوگا اور نسیمِ صبا اس کے دروازوں کو کھٹکھٹائے گی۔۱؎

بلاتاریخ۲؎

استفسار اور ان کے جواب

سوال۔ کبھی نماز میں لذّت آتی ہے اور کبھی وہ لذّت جاتی رہتی ہے اس کا کیا علاج ہے؟

جواب۔ ہمت نہیں ہارنی چاہیے بلکہ اس لذّت کے کھوئے جانے کو محسوس کرنے اور پھر اس کو حاصل کرنے کی سعی کرنی چاہیے جیسے چور آوے اور وہ مال اڑا کر لے جاوے تو اس کا افسوس ہوتا ہے اور پھر انسان کوشش کرتا ہے کہ آئندہ کو اس خطرہ سے محفوظ رہے۔ اس لیے معمول سے زیادہ ہوشیاری اور مستعدی سے کام لیتا ہے۔ اسی طرح پر جو خبیث نماز کے ذوق اور اُنس کو لے گیا ہے تو اس سے کس قدر ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے؟ اور کیوں نہ اس پر افسوس کیا جاوے؟ انسان جب یہ حالت دیکھے کہ اس کا اُنس و ذوق جاتا رہا ہے تو وہ بے فکر اور بے غم نہ ہو نماز میں بے ذوقی کا پیدا ہونا ایک سارق کی چوری اور روحانی بیماری ہے جیسے ایک مریض کے منہ کا ذائقہ بدل جاتا ہے تو وہ فی الفور علاج کی فکر کرتا ہے۔ اس طرح پر جس کا روحانی مذاق بگڑ جاوے اس کو بہت جلد اصلاح کی فکر کرنی لازم ہے۔

یاد رکھو انسان کے اندر ایک بڑا چشمہ لذّت کا ہے جب کوئی گناہ اس سے سرزد ہوتا ہے تو وہ چشمہ لذّت مکدّر ہو جاتا ہے اور پھر لذّت نہیں رہتی۔ مثلاً جب ناحق گالی دے دیتا ہے یا ادنیٰ ادنیٰ سی بات پر بدمزاج ہو کر بد زبانی کرتا ہے تو پھر ذوق نماز جاتا رہتا ہے۔ اخلاقی قویٰ کو لذّت میں بہت بڑا دخل ہے۔ جب انسانی قویٰ میں فرق آئے گا تو اس کے ساتھ ہی لذّت میں بھی فرق آ جاوے گا۔ پس جب کبھی ایسی حالت ہو کہ اُنس اور ذوق جو نماز میں آتا تھا وہ جاتا رہا ہے تو چاہیے کہ تھک نہ جاوے اور بے حوصلہ ہو کر ہمت نہ ہارے بلکہ بڑی مستعدی کے ساتھ اس گمشدہ متاع کو حاصل کرنے کی فکر کرے اور اس کا علاج ہے توبہ، استغفار، تضرّع، بے ذوقی سے ترک نماز نہ کرے بلکہ نماز کی اور کثرت کرے۔ جیسے ایک نشہ باز کو جب نشہ نہیں آتا تو وہ نشہ کو چھوڑ نہیں دیتا بلکہ جام پر جام پیتا جاتا ہے یہاں تک کہ آخر اس کو لذّت اور سرور آ جاتا ہے۔ پس جس کو نماز میں بے ذوقی پیدا ہو اس کو کثرت کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیے اور تھکنا مناسب نہیں آخر اسی بے ذوقی میں ایک ذوق پیدا ہو جاوے گا۔ دیکھو پانی کے لئے کس قدر زمین کو کھودنا پڑتا ہے جو لوگ تھک جاتے ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں جو تھکتے نہیں وہ آخر نکال ہی لیتے ہیں۔ اس لیے اس ذوق کو حاصل کرنے کے لیے استغفار، کثرت نماز و دعا، مستعدی اور صبر کی ضرورت ہے۔

بہترین وظیفہ سوا

ل۔ بہترین وظیفہ

کیا ہے؟ جواب۔ نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمد الٰہی ہے استغفار ہے اور درود شریف، تمام وظائف اور اَوراد کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اس سے ہر ایک قسم کے غم و ہم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپ نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے اور اس لیے فرمایا ہے اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ(الرّعد:۲۹) اطمینان، سکینتِ قلب کے لیے نماز سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں۔ لوگوں نے قِسم قِسم کے ورد اور وظیفے اپنی طرف سے بنا کر لوگوں کو گمراہی میں ڈال رکھا ہے اور ایک نئی شریعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مقابلہ میں بنا دی ہوئی ہے۔ مجھ پر تو الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے مگر میں دیکھتا ہوں اور حیرت سے دیکھتا ہوں کہ انہوں نے خود شریعت بنائی ہے اور نبی بنے ہوئے ہیں اور دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں ان وظائف اور اَوراد میں دنیا کو ایسا ڈالا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی شریعت اور احکام کو بھی چھوڑ بیٹھے ہیں۔ بعض لوگ دیکھے جاتے ہیں کہ اپنے معمول اور اَوراد میں ایسے منہمک ہوتے ہیں کہ نمازوں کا بھی لحاظ نہیں رکھتے۔ میں نے مولوی صاحب سے سُنا ہے کہ بعض گدی نشین شاکت مت والوں کے منتر اپنے وظیفوں میں پڑھتے ہیں۔ میرے نزدیک سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے۔ نماز ہی کو سنوار سنوار کر پڑھنا چاہیے اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور مسنون دعاؤں کے بعد اپنے لیے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو اس سے تمہیں اطمینان قلب حاصل ہوگا اور سب مشکلات خدا چاہے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی۔ نماز یاد الٰہی کا ذریعہ ہے۔ اس لیے فرمایا ہے الصَّلٰوۃَ لِذِکۡرِیۡ(طٰہٰ:۱۵)

قبرستان میں جانا

سوال۔ قبرستان میں جانا جائز ہے یا نا جائز؟ جواب۔ نذر و نیاز کے لیے قبروں پر جانا اور وہاں جا کر منتیں مانگنا درست نہیں ہے ہاں وہاں جا کر عبرت سیکھے اور اپنی موت کو یاد کرے تو جائز ہے۔ قبروں کے پختہ بنانے کی ممانعت ہے البتہ اگر میّت کو محفوظ رکھنے کی نسبت سے ہو تو حرج نہیں ہے یعنی ایسی جگہ جہاں سیلاب وغیرہ کا اندیشہ ہو اور اس میں بھی تکلفات جائز نہیں ہیں۔۱؎

۱۰؍مئی ۱۹۰۳ء

(صبح کی سیر)

مامور کا زمانہ ایک قیامت ہوتا ہے

فَرِیۡقٌ فِی الۡجَنَّۃِ وَفَرِیۡقٌ فِی السَّعِیۡرِ(الشورٰی:۸) خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ جیسے ایک طرف بغض و حسد کرنے والے ہمارے دشمن موجود ہیں۔ ویسے ہی ان کے بالمقابل وہ لوگ بھی ہیں جو کہ اسی تحریک الحکم جلد ۷ نمبر ۲۰ مورخہ ا۳مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۹ سے راہ راست کی طرف آجاتے ہیں۔ مامور کا زمانہ بھی ایک قیامت ہے۔ جیسے لوگ یوم جزا کے دن دو فریقوں میں تقسیم ہو جاویں گے یعنی فَرِیۡقٌ فِی الۡجَنَّۃِ وَفَرِیۡقٌ فِی السَّعِیۡرِ(الشورٰی:۸) ایسے ہی مامور کی بعثت کے وقت بھی دو فریق ہو جاتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ(اٰل عمران:۵۶) جیسے تقریباً سات سو برس پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کہا گیا اور مسیح علیہ السلام کے وقت پورا ہوا ویسا ہی آپ کے تیرہ سو برس بعد چودھویں صدی میں ہمارے زمانہ میں پورا ہو رہا ہے۔

ابلیس ملائکہ میں سے نہ تھا

فرمایا کہ۱؎اہلِ عرب اس قسم کے استثنا کرتے ہیں۔ صرف ونحو میں بھی اگر دیکھا جاوے تو ایسے استثنا بکثرت ہوا کرتے ہیں اور ایسی نظیریں موجود ہیں جیسے کہا جاوے کہ میرے پاس ساری قوم آئی مگر گدھا۔ اس سے یہ سمجھنا کہ ساری کی ساری قوم جنس حمار میں سے تھی غلط ہے۔ کَانَ مِنَ الۡجِنِّ(الکھف:۵۱) کے بھی یہ معنے ہوئے کہ وہ فقط ابلیس ہی قوم جن میں سے تھا ملائکہ میں سے نہیں تھا ملائک ایک الگ پاک جنس ہے اور شیطان الگ۔ ملائکہ اور ابلیس کا راز ایسا مخفی در مخفی ہے کہ بجز اٰمَنَّا وَصَدَّقْنَا کے انسان کو چارہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو اقتدار و توفیق نہیں دی مگر وسوسہ اندازی میں وہ محرک ہے جیسے ملائکہ پاک تحریکات کے محرک ہیں ویسے ہی شیطان ناپاک جذبات کا محرک ہے۔ ملائکہ کی منشا ہے کہ انسان پاکیزہ ہو، مطہر ہو اور اس کے اخلاق عمدہ ہوں اور اس کے بالمقابل شیطان چاہتا ہے کہ انسان گندہ اور ناپاک ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ قانون الٰہی ملائکہ وابلیس کی تحریکات کا دوش بدوش چلتا ہے لیکن آخر کار ارادہ الٰہی غالب آ جاتا ہے۔ گویا پسِ پردہ ایک جنگ ہے جو خود بخود جاری رہ کر آخر قادر و مقتدر حق کا غلبہ ہو جاتا ہے اور باطل کی شکست۔

مجہول الکنہ اشیاء

چار چیزیں ہیں جن کی کنہ و راز کو معلوم کرنا انسان کی طاقت سے بالاتر ہے۔ اوّل اللہ جَلَّ شَانُہٗ ، دوم روح، سوم ملائکہ، چہارم ابلیس۔ جو شخص ان چاروں میں سے خدا تعالیٰ کے وجود کا قائل ہے اور اس کی صفاتِ الوہیت پر ایمان رکھتا ہے ضرور ہے کہ وہ ہر سہ اشیاء رُوح و ملائکہ و ابلیس پر ایمان لائے مثلاً رُوح جیسے انسان کے اندر داخل ہوتی معلوم نہیں ہوتی ویسے ہی اس میں سے خارج ہوتی بھی معلوم نہیں۲؎ہوتی۔ انسان کو ہر حال میں رضاء الٰہی پر چا ہیے اور کارخانہ الٰہی میں دخل در معقولات نہیں دینا چاہیے۔ تقویٰ اور طہارت، اطاعت ووفا میں ترقی کرنی چاہیے اور یہ سب باتیں تب ممکن ہیں جب انسان کامل ایمان اور یقین سے ثابت قدم رہے اور صدق واخلاص اپنے مولا کریم سے دکھلائے اور وہ باتیں جو علم الٰہی میں مخفی ہیں اس کے کنہ کے معلوم کرنے میں بےسُود کوشش نہ کرے۱؎ مثلاً ہلیلہ قبض کو دور کرتی ہے اور سم الفار ہلاک کرتا ہے اب کیا ضرورت پڑی ہے کہ بے فائدہ اس دھت میں بھاگے پھرے کہ کون سی شَے ہے جو یہ اثر کرتی ہے۔ طبیب کا کام ہے کہ ان کے خواص کو معلوم کرے اور یہ سوال کہ کیوں یہ خواص پیدا ہو گئے حوالہ بخدا کرے جو شخص ہر ایک چیز کے خواص و ماہیت دریافت کرنے کے پیچھے لگ جاتا ہے وہ نادانی سے کارخانہ ربّی اور اس کے منشا سے بالکل ناواقف و نابلد ہے۔

ملائکہ اور شیطان

اگر کوئی کہے کہ شیطان وملائکہ دکھلاؤ تو کہنا چاہیے کہ تمہارے اندر یہ خواص کہ بیٹھے بٹھائے آناً فاناً بدی کی طرف متوجہ ہو جانا یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی ذات سے بھی منکر ہو جانا اور کبھی نیکی میں ترقی کرنا اور انتہا درجہ کی انکساری و فروتنی وعجز ونیاز میں گِر جانا یہ اندرونی کششیں جو تمہارے اندر موجود ہیں ان سب کے محرک جو قویٰ ہیں وہ ان دو الفاظ ملک و شیطان کے وجود میں مجسم ہیں۔

سعادت اس میں ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لایا جاوے اور اس کو حاضر و ناظر یقین کیا جاوے اور اس کی عین موجودگی کا تصوّر دل میں رکھ کر ہر ایک بدی اور ناراستی سے پرہیز کیا جاوے۔ یہی بڑی دانش و حکمت ہے اور یہی معرفتِ الٰہی کا سیراب کرنے والا شیریں سوتہ ہے جس سے اور جس کے لیے اہل اللہ ایک ریگستان کے پیاسے کی طرح آگے بڑھ کر خوش مزگی سے پیتے ہیں اور یہی وہ آبِ کوثر ہے جو مولائے کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے اپنے اولیاء اصفیا کو پلاتا ہے۔

مومن چونکہ خدا تعالیٰ کی معرفت کا محتاج ہے اور ہر کوئی اس کی طرف نظر اُٹھائے دیکھ رہا ہے اس لیے خدا تعالیٰ نے بھی یہ دروازہ پورے طور پر کھولا ہوا ہے جوں جوں انسان اس راہ میں کوشش کرے گا توں توں درِ رحمت اس پر کھلتا جاوے گا۔ دنیا میں بے انت ایسی چیزیں ہیں جس کی ہمیں خبر بھی نہیں پر ایسی چیزوں کے دریافت کے لئے سرگردان ہونا کون سی عقلمندی ہے.....کون سی چیز ہے جس کی تحقیق انسان نے پورے طور سے کر لی۔ جو چیز اللہ جَلَّ شَانُہٗ نے انسان کے لیے چنداں مفید نہیں سمجھی وہ پورے طور پر انسان پر منکشف بھی نہیں ہوتی پس جو ہر ایک چیز کو دریافت کرنا چاہتا ہے وہ خدا بننا چاہتا ہے۔ جس راہ پر انسان پہنچ نہیں سکتا چاہیے کہ اسے چھوڑ دے۔ انسان کو جو کچھ دیا گیا ہے اس پر قانع رہے اگر یہ توقع رکھے کہ آسمان کے درخت کا پھل آوے تو میں کھاؤں حالانکہ اس کا ہاتھ وہاں پہنچ بھی نہیں سکتا تو وہ مجنون ہے ہاں جب اللہ تعالیٰ اس کی فطرت میں یہ قویٰ پیدا کر دے کہ آسمان تک پہنچ سکے تو کچھ مضائقہ نہیں کہ وہ آسمان ہی کے پھل بھی کھاوے۔

گناہ سے کیسے بچ سکتے ہیں

گناہ سے انسان کیسے بچ سکتا ہے اس کا علاج یہ تو بالکل نہیں کہ عیسائیوں کی طرح ایک کے سر میں درد ہو تو دوسرا اپنے سر میں پتھر مار لے اور پہلے کا درد سر دور ہو جاوے دراصل انسان کا حدِ اعتدال سے گزر جانا ہی گناہ کا موجب ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ وہ بات پھر عادت میں داخل ہو جاتی ہے اور یہ سوال کہ یہ عادت کیوں کر دور ہو سکتی ہے؟ اکثر لوگوں کا اعتقاد ہے کہ یہ عادت دور نہیں ہو سکتی اور عیسائیوں کا تو پختہ یقین و ایمان ہے کہ عادت یا فطرت ثانی ہرگز دور نہیں ہو سکتی اور نہ بدل سکتی ہے۔ مسیح کے کفّارہ کو مان کر بھی یہ تو نہیں ہو سکتا ہے کہ انسان گناہ سے بالطبع نفرت کرنے لگ جائے۔ نہیں البتہ اس کفّارہ کے طفیل اُخروی عذاب سے نجات پا جائے گا۔ یہی اعتقاد ہے جو رکھنے سے انسان خلیع الرسن ہو کر بدکاریوں اور ناسزا وار اُمور میں دل کھول کر ترقی کرتا ہے۔

قابلِ توجہ

ہماری جماعت کو اس پر توجہ کرنی چاہیے کہ ذرا سا گناہ خواہ کیسا ہی صغیرہ ہو جب گردن پر سوار ہو گیا تو رفتہ رفتہ انسان کو کبیرہ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے۔

طرح طرح کے عیوب مخفی رنگ میں انسان کے اندر ہی اندر ایسے رچ جاتے ہیں کہ اس سے نجات مشکل ہو جاتی ہے۔

فروتنی اور عاجزی

انسان جو ایک عاجز مخلوق ہے اپنے تئیں شامتِ اعمال سے بڑا سمجھنے لگ جاتا ہے۔ کبر اور رعونت اس میں آ جاتی ہے اللہ کی راہ میں جب تک انسان اپنے آپ کو سب سے چھوٹا نہ سمجھے چھٹکارا نہیں پاسکتا۔ کبیر نے سچ کہا ہے۔

بھلا ہوا ہم نیچ بھلے ہر کو کیا سلام

جے ہوتے گھر اُونچ کے ملتا کہاں بھگوان

یعنی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم چھوٹے گھر میں پیدا ہوئے۔ اگر عالی خاندان میں پیدا ہوتے تو خدا نہ ملتا۔ جب لوگ اپنی اعلیٰ ذات پر فخر کرتے تو کبیر اپنی ذات بافندہ۱؎ پر نظر کر کے شکر کرتا۔ پس انسان کو چاہیے کہ ہر دم اپنے آپ کو دیکھے کہ میں کیسا ہیچ ہوں میری کیا ہستی ہے ہر ایک انسان خواہ کتنا ہی عالی نسب ہو مگر جب وہ اپنے آپ کو دیکھے گا بہر نہج وہ کسی نہ کسی پہلو میں بشرطیکہ آنکھیں رکھتا ہو تمام کائنات سے اپنے آپ کو ضرور بالضرور نا قابل و ہیچ جان لے گا انسان جب تک ایک غریب و بیکس بڑھیا کے ساتھ وہ اخلاق نہ برتے جو ایک اعلیٰ نسب عالی جاہ انسان کے ساتھ برتتا ہے یا برتنے چاہیے اور ہر ایک طرح کے غرور، رعونت و کبر سے اپنے آپ کو نہ بچاوے وہ ہرگز ہرگز خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا۔۲؎

دعا

جس قدر نیک اخلاق ہیں تھوڑی سی کمی بیشی سے وہ بداخلاقی میں بدل جاتے ہیں۔ اللہ جَلَّ شَانُہٗ نے جو دروازہ اپنی مخلوق کی بھلائی کے لیے کھولا ہے وہ ایک ہی ہے یعنی دعا۔ جب کوئی شخص بکا و زاری سے اس دروازہ میں داخل ہوتا ہے تو وہ مولائے کریم اس کو پاکیزگی و طہارت کی چادر پہنا دیتا ہے اور اپنی عظمت کا غلبہ اس پر اس قدر کر دیتا ہے کہ بے جا کاموں اور ناکارہ حرکتوں سے وہ کوسوں بھاگ جاتا ہے۔ کیا سبب ہے کہ انسان باوجود خدا کو نہ ماننے کے بھی گناہ سے پر ہیز نہیں کرتا؟ درحقیقت اس میں ایک دہریت کی رگ ہے اور اس کو پورا پورا یقین و ایمان اللہ پر نہیں ہوتا ورنہ اگر وہ جانتا کہ کوئی خدا ہے جو حساب و کتاب لینے والا ہے اور ایک آن میں اس کو تباہ کر سکتا ہے تو وہ کیسے بدی کر سکتا ہے اس لیے حدیث شریف میں وارد ہے کہ کوئی چور چوری نہیں کرتا در آنحالیکہ وہ مومن ہے اور کوئی زانی زنا نہیں کرتا در آنحالیکہ وہ مومن ہے۔ بدکرداریوں سے نجات اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جبکہ یہ بصیرت اور معرفت پیدا ہو کہ خدا کا غضب ایک ہلاک کرنے والی بجلی کی طرح گرتا اور بھسم کرنے والی آگ کی طرح تباہ کر دیتا ہے تب عظمت الٰہی دل پر ایسی مستولی ہو جاتی ہے کہ سب افعال بد اندر ہی اندر گداز ہو جاتے ہیں۔

نجات

پس نجات معرفت میں ہی ہے معرفت ہی سے محبت بڑھتی ہے اس لیے سب سے اوّل معرفت کا ہونا ضروری ہے۔ محبت کے زیادہ کرنے والی دو چیزیں ہیں حسن اور احسان جس شخص کو اللہ جَلَّ شَانُہٗ کا حُسن اور احسان معلوم نہیں وہ کیا محبت کرے گا؟ چنانچہ اللہ تعالیٰ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۰ مورخہ ۳۱؍مئی ۱۹۰۳ءص ف حہ ۱۳، ک رماتا ہے وَلَا یَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الۡجَمَلُ فِیۡ سَمِّ الۡخِیَاطِ(الاعراف:۴۱) یعنی کفّار جنّت میں داخل نہ ہوں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے گذر نہ جائے۔ مفسرین اس کا مطلب ظاہری طور پر لیتے ہیں مگر میں یہی کہتا ہوں کہ نجات کے طلبگار کو خدا کی راہ میں نفس کے شتر بے مہار کو مجاہدات سے ایسا دبلا کر دینا چاہیے کہ وہ سوئی کے ناکہ میں سے گذر جائے جب تک نفس دنیوی لذائذ و شہوانی حظوظ سے موٹا ہوا ہوا ہے تب تک یہ شریعت کی پاک راہ سے گذر کر بہشت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ دنیوی لذّات پر موت وارد کرو اور خوف وخشیت الٰہی سے دبلے ہو جاؤ تب تم گذر سکو گے اور یہی گذرنا تمہیں جنّت میں پہنچا کر نجات اخروی کا موجب ہوگا۔۱؎

(مجلس قبل ازعشاء)

پابندی رسوم کا اثر ایمان پر

فرمایا۔ قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ(اٰل عمران:۳۲) اللہ تعالیٰ کے خوش کرنے کا ایک یہی طریق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی فرمانبرداری کی جاوے۔ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ طرح طرح کی رسومات میں گرفتار ہیں کوئی مَرجاتا ہے تو قِسم قِسم کی بدعات اور رسومات کی جاتی ہیں حالانکہ چاہیے کہ مُردہ کے حق میں دعا کریں۔ رسومات کی بجا آوری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف مخالفت ہی نہیں ہے بلکہ ان کی ہتک بھی کی جاتی ہے اور وہ اس طرح سے کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو کافی نہیں سمجھا جاتا اگر کافی خیال کرتے تو اپنی طرف سے رسومات کے گھڑنے کی کیوں ضرورت پڑتی۔

فرمایا کہ انسان کی وہ غلطی تو معاف ہو سکتی ہے جو کہ یہ نادانی سے کرتا ہے مثلاً آنحضرت کے زمانہ کے بعد فیج اعوج کے زمانہ میں طرح طرح کی غلطیاں پھیل گئیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ مسیحؑ فوت نہیں ہوئے اور اسی جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر موجود ہیں۔

(اس مقام پر حضرت اقدس نے مسیح کی وفات کے دلائل مختصراً جامع طور پر بیان فرمائے )اور پھر ان کے بعد ایک تقریر اس مضمون پر فرمائی کہ ہماری جماعت سے کیوں بعض لوگ طاعون سے مَرجاتے ہیں۔

اور فرمایا کہ ہمیشہ انجام پر نظر چاہیے آخر کار مومن ہی کامیاب ہوتا ہے اور پھر ایک التباس بھی ہوتا ہے کہ جس پر ہر ایک کو ایمان لانا چاہیے اگر التباس نہ ہو تو ایمان ایمان نہیں ہو سکتا بعض کام تو اس لیے کئے جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت پوری ہو جاوے اور بعض اس لیے ظہور میں آتے ہیں کہ انسان تدبر کریں اگر التباس نہ ہوتا تو تدبر کرنے والوں کو ثواب کیسے حاصل ہوتا اور ایمان کے کیا معنے ہوتے۔ اگر موت صرف ہمارے دشمنوں کے واسطے ہی ہو تو پھر کون بیوقوف ہے جو کہ ظاہری موت کو دیکھ کر مسلمان نہ ہو جاوے یوں تو لوگ بیشک خدا کے سوا اَوروں کی عبادت کرتے ہیں مثلاً بعض ہندو قبروں کی بھی پوجا کرتے ہیں تو جب ایسے لوگ دیکھ لیویں کہ عافیت تو صرف خدا کے اع ما ل ک ی ض رو رت ہے۱؎

۱۴؍مئی ۱۹۰۳ء

ایک ذکر پر فرمایا کہ

نجات کے واسطے اعمال کی ضرورت ہے

صدق اور عاجزی کام آتی ہے مگر یہ کسی کا اختیار نہیں ہے کہ کسی کو ہاتھ ڈال کر سیدھا کر دیوے ہر ایک انسان کی نجات کے واسطے اس کے اپنے اعمال کا ہونا ضروری ہے بوستان میں ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک بادشاہ نے ایک اہل اللہ کو کہا کہ میرے لیے دعا کرو کہ میں اچھا ہو جاؤں اس نے جواب دیا کہ میرے ایک کی دعا کیا کام کرے گی جبکہ ہزاروں بے گناہ قیدی تیرے لیے بد دعا کرتے ہیں اس نے یہ سن کر تمام قیدیوں کو آزاد کر دیا۔

(مجلس قبل از عشاء) فرمایا کہ اس وقت صد ہا فرقہ ہیں اگر ایک الٰہی فرقہ بھی ہو گیا تو کیا حرج ہے؟ خدا معلوم کیوں ان لوگوں نے شور مچا رکھا ہے.... ہمارا خدا بائیس برس سے زیادہ سے ہماری امداد کر رہا ہے اور ان لوگوں کی کچھ پیش نہ گئی بد دعا کرتے کرتے ان کے ناک بھی گھس گئے اور ہمیں تجربہ ہے کہ ہمارا وہی خدا ہے جس کی کلام ہم پر نازل ہوتی ہے اب اس کے مقابل پر ان کے ظنّیات کس کام کے ہیں؟ جس حَکم کے وہ منتظر ہیں آخر اس نے بھی آ کر ایک ہی فرقہ بنانا ہے ان کی باتوں کا اکثر حصہ آ کر وہ ردّ ہی کرے گا تو ہی ایک فرقہ بنا سکے گا پھر کیوں تقویٰ اجازت نہیں دیتا کہ ان کی باتیں ردّ کی جاویں؟ کتاب اللہ ہمارے ساتھ ہے حدیث بھی پکّی سے پکّی ہمارے ساتھ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیحؑ کو مُردوں میں معراج کی رات میں دیکھ کر آئے ادھر خدا کی قولی شہادت ادھر آنحضرت کی فعلی شہادت کہ مسیحؑ فوت ہو گئے۔

قاعدہ کی بات ہے کہ محبت اور ایمان کے لیے اسباب ہوتے ہیں مسیحؑ کی زندگی پر نظر کرو تو معلوم ہو گا کہ ساری عمر دھکے کھاتے رہے صلیب پر چڑھنا بھی مشتبہ رہا ادھر ایک لمبا سلسلہ عمر اور سوانح کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دیکھو کہ کیسے نصرت الٰہی شامل رہی ہر ایک میدان میں آپ کو فتح ہوئی کوئی گھڑی یاس کی آپ پر گذری ہی نہیں یہاں تک کہ اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ وَالۡفَتۡحُ(الفتح:۲) کا وقت آگیا ان تمام نصرتوں میں کوئی حصہ بھی حضرت مسیح کا نظر نہیں آتا اس سے صاف ثابت ہے کہ محبت آنحضرت کی خدا سے زیادہ ہو نہ کہ مسیح کی کیونکہ آنحضرت پر اللہ تعالیٰ کے انعامات بکثرت ہیں اور اس لیے صرف آنحضرت کی یہ شان ہو سکتی ہے کہ وہ آسمان پر زندہ ہوں جو شخص نظارہ قدرت زیادہ دیکھتا ہے وہی زیادہ فریفتہ ہوا کرتا ہے۔ اور اب اگر مسیحؑ آویں بھی تو اس میں اسلام کی اور خود مسیحؑ کی بے عزّتی ہے اسلام کی بے عزّتی اس طرح کہ کہنا پڑے گا کہ خاتم النّبیّین کے بعد ایک اور پیغمبر اسرائیلی آیا اور مسیحؑ کی بے عزّتی اس طرح کہ ان کو آکر انجیل چھوڑنی پڑے گی۔۱؎

۱ ۸؍مئی ۱۹۰۳ء

(مجلس قبل از عشاء)

قرآن کی ایک پیشگوئی کا پورا ہو نا

مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اِلَّا نَحۡنُ مُہۡلِکُوۡہَا قَبۡلَ یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ اَوۡ مُعَذِّبُوۡہَا عَذَابًا شَدِیۡدًا(بنی اسرآءیل:۵۹) کوئی ایسا گاؤں نہیں مگر روز قیامت سے پہلے پہلے ہم اس کو ہلاک کر کے رہیں گے یا اس کو سخت عذاب دیویں گے قرآن میں یہ ایک پیشگوئی ہے۔ فرمایا کہ یہ اب پنجاب پر بالکل صادق آرہی ہے بعض گاؤں تو اس سے بالکل تباہ ہو گئے ہیں اور بعض جگہ بطور عذاب کے طاعون جا کر پھر ان کو چھوڑ دیتی ہے۔

قوم کی حالت

امریکہ اور یورپ کے بلاد میں حضرت مسیحؑ کی نسبت جو ایک انقلاب عظیم خیالات میں ہو رہا ہے اور جس کا ذکر ہم ’’البدر ‘‘کے ایک آرٹیکل بعنوان ’’کسرِ صلیب کا دروازہ کھل گیا ہے‘‘ کر چکے ہیں اس پر ذکر ہوتے ہوئے فرمایا کہ لَوۡ کُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا کُنَّا فِیۡۤ اَصۡحٰبِ السَّعِیۡرِ(الملک:۱۱) سے معلوم ہوتا ہے کہ سماع اور عقل انسان کو ایمان کے واسطے جلد تیار کر دیتی ہے۔ ہماری قوم میں نہ سماع ہے نہ عقل ہے۔ دل میں یہی ٹھانی ہوئی ہے کہ تردید کریں پیشگوئیوں کو جھوٹا ثابت کریں نص اور اخبار کی تکذیب کریں۔ کشوف وغیرہ جو اولیائے کرام کے ہماری تائید میں ہیں ان سب کو جھوٹا کہہ دیں۔ غرضیکہ یہ سماع کا حال ہے۔ اب عقل کا سن لو کہ نظائر پیش نہیں کر سکتے کہ کوئی اس اَمر کا ثبوت دیں کہ سوائے مسیح کے اور بھی کچھ آدمی زندہ آسمان پر گئے ایک بات کو دیکھ کر دوسری کو پیدا کرنا اس کا نام عقل ہے سو اس کو انہوں نے ہاتھ سے دے دیا ہے دونوں طریق (سماع اور عقل )قبولِ حق کے تھے سو وہ دونوں کھو بیٹھے مگر یہ لوگ (اہل امریکہ و یورپ) غور کرتے ہیں اگرچہ سب نہیں کرتے مگر ایسے پائے تو جاتے ہیں جو کرتے ہیں جس حال میں کہ وہ مانتے ہیں کہ مسیحؑ کے دوبارہ آنے کا زمانہ یہی ہے اور اس کی موت کے بھی قائل ہیں تو دیکھ لو کہ وہ لوگ کس قدر قریب ہیں۔ اس قوم کا اقبال اب بڑھ رہا ہے اور مسلمانوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ دن بدن گرتے جاتے ہیں اور وہ منتظر ہیں کہ مسیحؑ اور مہدیؑ آتے ہی تلوار اٹھا لیوے گا اور خون کی ندیاں بہا دے گا۔ کمبخت دیکھتے نہیں کہ مسلمانوں کے پاس نہ تو فنونِ حرب ہیں نہ ان کے پاس ایجاد کی طاقت ہے نہ استعمال کی استعداد ہے۔ جنگی طاقت نہ بحری ہے نہ بری تو یہ زمانہ ان کے منشا کے موافق کیسے ہو سکتا ہے اور نہ خدا کا یہ ارادہ ہے کہ جنگ ہو، کیا تعجب ہے کہ خدا تعالیٰ انہیں کو یہ سمجھ دے دیوے کیونکہ فہم، دماغ اور اقبال کے ایام انہیں کے اچھے ہیں اصل علم وہی ہے جو خدا کے پاس ہے زمانہ وہی ہے جس کا وعدہ تھا مسلمانوں کو دیکھتے ہیں کہ نکمے، فاسق، فاجر اور کاہل بھی ہیں تو پھر بجز اس کے اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ خدا اسی گروہ میں سے ایسے پیدا کر دے کہ وہ خود ہی سمجھ جاویں۔ خدا تعالیٰ کو توپ اور بندوق کی کیا حاجت ہے اس نے بندوں میں ہدایت پھیلانی ہے یا ان کو قتل کرنا ہے؟ زمانہ کی موجودہ حالت خود دلالت کرتی ہے کہ یہ زمانہ علمی رنگ کا ہے اگر کسی کو مار مار کر سمجھاؤ بھی تو وہ بات دل میں نہیں بیٹھتی لیکن اگر دلائل سے سمجھایا جاوے تو وہ دل پر تصرّف کر کے اس میں دھس جاتی ہے اور انسان کو سمجھ آجاتی ہے۔ آنحضرت کے زمانہ کی حالت اور تھی اس وقت لوہے سے اور طرح کام لیا گیا تھا اب ہم بھی لوہے سے ہی کام لے رہے ہیں مگر اور طرح سے کہ لوہے کے قلموں سے رات دن لکھ رہے ہیں۔

میری رائے یہی ہے کہ تلوار کی اب کوئی ضرورت نہیں۔ عیسائی بھی جہالت میں ڈوبے ہیں اور مسلمان بھی۔ حکمتِ الٰہی چاہتی ہے کہ رفق اور محبت سے سمجھایا جاوے مثلاً ایک ہندو ہے اگر دس بیس مسلمان ڈنڈے لے کر اس کے پیچھے پڑ جاویں تو وہ ڈر کے مارے لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ(الصّٰفّٰت:۳۶) تو کہہ دے گا لیکن اس کا کہنا ایسا بودا ہوگا کہ بالکل مفید نہیں ہوسکتا اور رفق اور محبت سے سمجھایا جاوے تو وہ دل میں جم جاوے گا حتیٰ کہ اگر اس کو زندہ آگ میں بھی پھونک دو تو بھی وہ اس کے کہنے سے باز نہ آوے گا۔ اَسْلَمْنَا(الحجرات:۱۵) ہمیشہ لاٹھی سے ہوتا ہے اور اٰمَنَّا اس وقت ہوتا ہے جب خدا دل میں ڈال دے۔ ایمان کے لوازم اور ہوتے ہیں اور اسلام کے اور، اسی لیے خدا نے اس وقت ایسے لوازم پیدا کئے کہ جن سے ایمان حاصل ہو مسلمان تو اپنی موجودہ حالت کے لحاظ سے خود اس قابل ہیں کہ انہی سے جہاد کیا جاوے اب تو وہ زمانہ ہے کہ بچوں کی طرح دین کی باتیں لوگوں کو سمجھائی جاویں۔۱؎

۱۹؍مئی ۱۹۰۳ء

(بعد نمازِ فجر)

حضرت اقدس نے فرمایا کہ

ایک رؤیا اور الہام

۱۲ بجے کے قریب میں نے ایک رؤیا میں دیکھا کہ کوئی کہتا ہے کہ یہ فتح ہوگئی۔ بار بار اسے تکرار کرتا ہے گویا کہ بہت سی فتوحات کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد طبیعت وحی کی طرف منتقل ہوئی اور الہام ہوا۔ مجموعہ فتوحات۔

(مجلس قبل ازعشاء)

اپنی صداقت پر گفتگو فرماتے رہے اور اس امر پر ذکر فرمایا کہ خدا جھوٹے سے اتنا عرصہ دراز یارانہ نہیں لگایا کرتا اگر ہم مفتری ہوتے تو آج تک تباہ اور ہلاک ہوجاتے۔

بیّنات ومتشابہات

پیشگوئیوں کے ہمیشہ دو حصے ہوا کرتے ہیں اور آدمؑ سے اس وقت تک یہی تقسیم چلی آ رہی ہے کہ ایک حصہ متشابہات کا ہوا کرتا ہے اور ایک حصہ بیّنات کا۔ اب حدیبیہ کے واقعات کو دیکھا جاوے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان تو سب سے بڑھ کر ہے مگر علم کے لحاظ سے میں کہتا ہوں کہ آپؐ کا سفر کرنا دلالت کرتا تھا کہ آپؐ کی رائے اسی طرف تھی کہ فتح ہو گی۔ نبی کی اجتہادی غلطی جائے عار نہیں ہوا کرتی۔ اصل صورت جو معاملہ کی ہوتی ہے وہ پوری ہو کر رہتی ہے انسان اور خدا میں یہی تو فرق ہے۔۱؎

۲۵؍مئی ۱۹۰۳ء

(دربار شام)

تزکیہ نفس

ایک استفسار کے جواب میں کہ آج کل کے پیر اور گدی نشین وظائف وغیرہ مختلف قسم کے اوراد بتاتے ہیں۔ آپ کا کیا ارشاد ہے؟

فرمایا کہ مومن جو بات سچے یقین سے کہے وہ ضرور مؤثر ہوتی ہے۲؎ کیونکہ مومن کا مطہر قلب اسرار الہی کا خزینہ ہے جو کچھ اس پاک لوح انسانی پر منقش ہوتا ہے وہ آئینہ خدا نما ہے۔ مگر انسان جب ضعفِ بشریت سے سہو و گناہ کر بیٹھتا ہے اور پھر ذرّہ بھی اس کی پروا نہیں کرتا تو دل پر سیاہ زنگ بیٹھ جاتا اور رفتہ رفتہ قلب انسانی کہ خشیتِ الٰہی سے گداز اور شفاف تھا سخت اور سیاہ ہوتا جاتا ہے۔۱؎ مگر جونہی انسان اپنی مرضِ قلب کو معلوم کر کے اس کی اصلاح کے درپے ہوتا ہے اور شب و روز نماز میں دعائیں، استغفار و زاری و قلق جاری رکھتا ہے اور اس کی دعائیں انتہا کو پہنچتی ہیں تو تجلیاتِ الٰہی اپنے فضل کے پانی سے اس ناپاکی کو دھو ڈالتی ہیں اور انسان بشرطیکہ ثابت قدم رہے ایک قلب لے کر نئی زندگی کا جامہ پہن لیتا ہے گویا کہ اس کا تولد ثانی ہوتا ہے۔

دو زبردست لشکر ہیں جن کے درمیان انسان چلتا ہے ایک لشکر رحمٰن کا دوسرا شیطان کا۔ اگر یہ لشکر رحمن کی طرف جھک جاوے اور اس سے مدد طلب کرے تو اس سے بحکمِ الٰہی مدد دی جاتی ہے اور اگر شیطان کی طرف رجوع کیا تو گناہوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔۲؎ پس انسان کو چاہیے کہ گناہ کی زہریلی ہوا سے بچنے کے لئے رحمٰن کی حفاظت میں ہو جاوے۔ وہ چیز جو انسان اور رحمٰن میں دُوری اور تفرقہ ڈالتی ہے وہ فقط گناہ ہی ہے جو اس سے بچ گیا اس نے اللہ تعالیٰ کی گود میں پناہ لی۔ دراصل گناہ سے بچنے کے لیے دو ہی طریق ہیں۔ اوّل یہ کہ انسان خود کوشش کرے۔۳؎ دوسرے اللہ تعالیٰ سے جو زبردست مالک و قادر ہے استقامت طلب کرے یہاں تک کہ اسے پاک زندگی میسر آوے اور یہی تزکیۂ نفس کہلاتا ہے۔۱؎

اَورادو وَظائف

اور بندوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو انعامات و اکرامات ہوتے ہیں وہ محض اللہ پاک کے فضل و کرم سے ہی ہوتے ہیں۔ پیروں، فقیروں، صوفیوں گدی نشینوں کے خود تراشیدہ درود، وظائف، طریق و رسومات سب فضول بدعات ہیں جو ہرگز ہرگز ماننے کے قابل نہیں۔ اگر یہ لوگ کل معاملات دنیوی و دینی کو ان خود ساختہ بدعات سے بھی درست کر سکتے ہیں تو یہ ذرا ذراسی بات پر کیوں تکرار کرتے لڑتے جھگڑتے حتی کہ سرکاری عدالتوں میں جائز و ناجائز حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہ سب باتیں دراصل وقت کا ضائع کرنا اور خداداد دماغی استعدادوں کا تباہ کرنا ہے۔

انسان اس لیے نہیں بنایا گیا کہ لمبی تسبیح لے کر صبح و شام تمام لوازمات و حقوق کو تلف کر کے بےتوجہی سے سبحان اللہ سبحان اللہ میں لگا رہے۔ اپنا اوقات گرامی بھی تباہ کرے اور خود اپنے قویٰ کو تباہ کرے اور اوروں کے تباہ کرنے کے لیے شب و روز کوشاں رہے۔ اللہ تعالیٰ ایسی معصیت سے بچاوے۔

الغرض یہ سب باتیں سنّتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑنے سے پیدا ہوئیں۔ یہ حالت ایسی ہے جیسے پھوڑا کہ اندر سے تو پیپ سے بھرا ہوا ہے اور باہر سے شیشے کی طرح چمکتا ہے۔ زبان سے تو ورد و وظائف کرتے ہیں اور اندرونے بدکاری و گناہ سے سیاہ ہوئے ہوئے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ سب کچھ خدا سے طلب کرے۔ جب وہ کسی کو کچھ دے دیتا ہے تو اس کی بلند شان کے خلاف ہے کہ واپس لے۔ تزکیہ وہی ہے جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ دنیا میں سکھایا گیا، پیدا کیا گیا۔ یہ لوگ اس سے بہت دور ہیں۔

بع ہ د م لیتا ہوں بعض فقط ایک یا دو دفعہ اس سے لوگ ان کو ولی سمجھ بیٹھتے ہیں اور ایسی واہیات دم کشی کو باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔ حالانکہ فخر کے قابل یہ بات ہے کہ انسان مرضیاتِ الٰہی پر چل کر اپنے پیغمبر نبی کریمؐ سے صلح و آشتی پیدا کرے جس سے کہ وہ انبیاء کا وارث کہلائے اور صلحاء و ابدال میں داخل ہو۔ اسی توحید کو پکڑے اور اس پر ثابت قدم رہے اللہ تعالیٰ اپنا غلبہ و عظمت اس کے دل پر بٹھا دے گا۔

وظیفوں کے ہم قائل نہیں۔ یہ سب منتر جنتر ہیں جو ہمارے ملک کے جوگی ہندو سنیاسی کرتے ہیں جو شیطان کی غلامی میں پڑے ہوئے ہیں۔ البتہ دعا کرنی چاہیے خواہ اپنی ہی زبان میں ہو۔ سچے اضطراب اور سچی تڑپ سے جناب الٰہی میں گداز ہوا ہوا یسا کہ وہ قادر الحی القیوم دیکھ رہا ہے۔ جب یہ حالت ہو گی تو گناہ پر دلیری نہ کرے گا جس طرح انسان آگ یا اور ہلاک کرنے والی اشیاء سے ڈرتا ہے ویسے ہی اس کو گناہ کی سوزش سے ڈرنا چاہیے۔ گناہگار زندگی انسان کے لیے دنیا میں مجسم دوزخ ہے جس پر غضبِ الٰہی کی سموم چلتی اور اس کو ہلاک کر دیتی جس طرح آگ سے انسان ڈرتا ہے اسی طرح گناہ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ یہ بھی ایک قسم کی آگ ہے ہمارا مذہب یہی ہے کہ نماز میں رو رو کر دعائیں مانگو تا اللہ تعالیٰ تم پر اپنے فضل کی نسیم چلائے دیکھو شیعہ لوگ کیسے راہِ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں حسین حسین کرتے مگر احکامِ الٰہی کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ حالانکہ حسین کو بھی بلکہ تمام رسُولوں کو استغفار کی ایسی سخت ضرورت تھی جیسے ہم کو۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النّبیّین کا فعل اس پر شاہد ہے۔ کون ہے جو آپ سے بڑھ کر نمونہ بن سکتا ہے۔۱؎

۲۷؍مئی ۱۹۰۳ء

(بوقتِ ظہر)

ایک صاحب نے عرض کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تو خدائے واحد پر لوگوں کا ایمان نہ تھا اس لئے بیعت کی ضرورت تھی مگر اب تو سب خدا کو مانتے ہیں پھر بیعت کی کیا ضرورت ہے؟ فرمایا کہ اب بھی توحید کہاں ہے اس کا نام و نشان نہیں ہے جس طرح منافق صرف زبان سے کہہ چھوڑتے کہ ہم ایمان لائے ایسے ہی اب برائے نام خدا کا لفظ زبان پر آ جاتا ہے جس کے اندر کوئی حقیقت نہیں ہوتی کفر اور فسق کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ نجاست سے بھرا ہوا دل لوگوں کا ہے خود اگر اپنے دل ہی سے شہادت لو تو معلوم ہوگا کہ خدا سے کہاں تک تعلق ہے اور سچی توحید کہاں ہ ے۔

نزول اور بعثت کا فرق

جب زمانہ کی پلیدی حد درجہ تک پہنچتی ہے تو آسمان سے جو تائید یافتہ آتا ہے۔ اس پر نزول کا لفظ بولا جاتا ہے اور جب زمانہ کچھ سدھرا ہوا ہو تو بعثت کا لفظ اس کے موزوں ہوتا ہے۔

(قبل از عشاء)

الہام

فرمایا کہ یہ الفاظ الہام ہوئے ہیں۔ مگر معلوم نہیں کہ کس کی طرف اشارہ ہے۔ ’’بلا نازل یا حادث یا ‘‘یاد نہیں رہا کہ یا کے آگے کیا تھا۔ رؤیا کا معاملہ بھی عجیب ہے پیچ در پیچ بات ہوتی ہے اور الگ الگ رنگ ہوتا ہے۔ صحابہ کرام کی شہادت کو آنحضرتؐ نے گائیوں کے ذبح ہونے کے رنگ میں دیکھا۔ حالانکہ خدا اس بات پر بھی قادر تھا کہ خواب میں خاص صحابہ ہی کو دکھلا دیتا۔

شیطان سے مُراد

فرمایا۔ شیطان سے مُراد مجسم شَے ہی نہیں ہوتی جیسے آج کل کے لوگ شیطان کے لفظ سے خیال کرتے ہیں کہ وہ کوئی لباس بھی پہنتا ہوگا بلکہ اس سے مُراد شیطانی وساوس ہوتے ہیں یا کوئی شریر النفس آدمی۔۱؎

۲۸؍مئی ۱۹۰۳ء

۱۵؍مئی ۱۹۰۳ء کو کالج تعلیم الاسلام کا افتتاحی جلسہ ہونا تھا مگر چونکہ حضرت اقدسؑ کی طبیعت ناساز تھی اور آپ شریک جلسہ نہ ہو سکتے تھے اس لئے وہ تاریخ ملتوی کر دی گئی لیکن گذشتہ ایام سے آپ کی طبیعت رو بصحت تھی اس لئے آج کی تاریخ اس جلسہ کے لئے مقرر کی گئی ساڑھے چھ بجے کے بعد احاطہ سکول میں جلسہ کا انتظام ہوا اور ہر ایک پروفیسر اور مدرس اور لڑکے کی آنکھ خدا کے محبوب اور برگزیدہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آمد آمد پر لگی ہوئی تھی کہ اس اثنا میں مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے آکر اطلاع دی کہ حضرت اقدس نے مجھے ایک پیغام دے کر روانہ کیا ہے اور وہ اس طرح سے ہے کہ میں نے حضرت خلیفۃ اللہ علیہ السلام کی خدمت میں تشریف آوری کے واسطے عرض کی تھی آپ نے فرمایا کہ

میں اس وقت بیمار ہوں حتی کہ چلنے سے بھی معذور ہوں لیکن وہاں حاضر ہونے سے بہت بہتر کام یہاں کر سکتا ہوں کہ ادھر جس وقت افتتاح کا جلسہ شروع ہو گا میں بیت الدعا میں جا کر دعا کروں گا۔۱؎

(دربارِ شام)

مولوی۲؎محمد علی صاحب ایم۔اے نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ عیسائیوں کی طرف سے بھی ایک میگزین سہ ماہی رسالہ نکلنا شروع ہوا ہے۔ اس میں پادری صاحب نے لکھا ہے کہ مسلمان عیسائیت اس لیے قبول نہیں کرتے کہ ان کے دل سخت اور گناہ آلودہ ہیں۔

عیسائیت اور اسلام

فرمایا کہ جب انسان تعصب اور فاسقانہ زندگی سے اندھا ہو جاتا ہے تو اسے حق اور باطل میں فرق نظر نہیں آتا۔ ہر ایک حلال کو حرام اور ہر ایک حرام کو حلال سمجھتا ہے اور نیکی کے ترک کرنے میں ذرا دریغ نہیں کرتا۔ شراب جَوِامُ الخبائث ہے۔ عیسائیوں میں حلال سمجھی جاتی ہے۔۱؎مگر ہماری شریعت میں اس کو قطعاً منع کیا گیا ہے اور اس کو رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ(المائدۃ:۹۱) کہا گیا ہے۔ کیا کوئی پادری ہے جو یہ دکھا دے کہ انجیل میں حرمتِ شراب کی لکھی ہے بلکہ شراب ایسی متبرک خیال کی گئی ہے کہ پہلا معجزہ مسیح کا شراب کا ہی تھا تو پھر دلیری کیوں نہ ہو۔ جو بڑا پرہیزگار اُن میں ہوگا وہ کم از کم ایک بوتل برانڈی کی ضرور استعمال کرتا ہو گا۔ چنانچہ کثرتِ شراب نے ولایت میں آئے دن نئے نئے جرائم کو ایجاد کر دیا ہے اور پادری کے اس قول پر کہ اہلِ اسلام گناہ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ سخت تعجب آتا ہے کہ کس حوصلہ اور دلیری سے یہ بات کہہ دی۔ بھلا اگر زمانہ دراز کی بات ہوتی تو ممکن تھا کہ ان کے ایسے بہتان سے عیسائیوں کی نیک چلنی کا نسبتاً گمان ہوتا۔ مگر جب یہ دونوں قومیں ہمارے سامنے اپنے اعمال کے دفتر کھولے بیٹھی ہیں تو پھر کسی کی شیخی اور تعلیٰ سے کیا فائدہ؟ روشن ضمیر پبلک خود روزِ روشن میں دیکھ سکتی ہے۔ ولایت کے جیل خانوں میں ہندوستان کے جیل خانوں کی نسبت جرائم پیشہ لوگوں کی کس فیصدی سے زیادتی ہے؟ جن اصولوں کو عیسائی قوم مانتی ہے وہ اصول خود جرائم مثل زنا، قمار بازی کے محرک ہیں۔ ان کی اصطلاح سے تو اب گناہ گناہ نہ رہنے چاہئیں۔ گویا گناہ سے وہ ایسے ہی بے پروا ہو گئے جیسے شاکت مت والے۔۲؎

حضرت اقدس نے پھر اپنی تقریر کو شروع کیا اور فرمایا کہ

یورپ اور اسلامی ممالک کا موازنہ

یہ قاعدہ کی بات ہے کہ ایک شریف آدمی جب خلاف واقعہ بات سنتا ہے اور پھر اس پر اصرار کرتا ہے تو دل میں سخت رنجیدہ ہوتا ہے۔ ہمارا سوال تو یہ ہے کہ پادری صاحب سے پوچھا جاوے کہ گناہ سے تمہاری کیا مُراد ہے؟ آیا زنا، چوری، فریب، قتل، قمار بازی، شراب نوشی تمہارے نزدیک گناہ میں داخل ہیں یا نہیں۔ اگر ہیں تو کیا یورپ کی حالت اسلامی ممالک کی حالت سے بہتر ہے یا ابتر یا مساوی۔ صغائر کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ مثلاً ایک شخص بدنظری میں مبتلا ہے۔ ممکن ہے کہ اس عورت کو خبر ہی نہ ہو جس پر بدنظری کرتا ہے۔ لیکن ایک شخص جو زنا کرتا ، شراب پیتا ہے اس کی خبر ایک دنیا کو ہوگی۔ ان جرائم کا اس قدر زور ہے کہ چھپائے سے چھپ سکتا ہی نہیں۔ قمار بازی میں اتلاف حقوق ہوتا ہے۔ شراب نوشی کے ساتھ دوسرے گناہ مثل زنا، قتل وغیرہ لازمی پڑے ہوئے ہیں جہاں تک ہمیں مجرموں کے حالات سے شہادت ملتی ہے وہ یہ ہے کہ شراب سے زنا ترقی کرتا ہے۔ چنانچہ شراب نوشی میں اس وقت یورپ اوّل درجہ پر ہے اور زنا میں بھی اوّل نمبر پر۔ اب دیکھئے کہ پردہ کی رسم ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ جیسا کتاب اللہ نے بتایا ہے اور تجارب نے اس کی تصدیق کی ہے سچا تزکیہ نفس جو مجاہدات سے پیدا ہوتا ہے وہ پردہ سے ہی حاصل ہوتا ہے۔


(بقیہ حصہ) والے سے پوچھا کہ یہ کیا برائی ہے کہ تم لوگ بدیوں سے ذرا بھی نہیں رکتے تو اس نے جواب دیا کہ بدی کیا ہے؟ تمہارے قرآن میں یہ شکتی کہاں ہے کہ ماں اور بہن اور بیٹی وغیرہ صلبی رشتے حلال کر دے۔ ہمارے مذہب میں تو یہ سب باتیں طے کی ہوئی ہیں۔ البدر میں یہ نوٹ زیادہ مفصل ہے لکھا ہے۔ ”شاکت مت ایک ہندوؤں کا فرقہ ہے کہ جب وہ ایک خاص منتر پڑھتے ہیں تو اس وقت ماں اور بہن بیٹی وغیرہ سے مجامعت ان کے ہاں جائز ہو جاتی ہے اور اس پر بڑا ثواب مترتب ہوتا ہے۔ حکیم نور الدین صاحب نے اس وقت ایک قصہ سنایا کہ جب میں نے ایک شاکت مت والے پر ایک دفعہ اعتراض کیا تو اس نے جواب دیا کہ جب تمہارے قرآن کے منتر میں یہ طاقت ہے کہ اس کے پڑھنے سے تمہارے بھائی کی لڑکی تمہارے لڑکے کے لئے جائز ہو جاتی ہے تو ہمارے منتر میں یہ طاقت ہے کہ وہ ماں کو بھی جائز کر دیتا ہے۔“ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخہ ۵؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵۵)

مو رخ ہ ۱۷؍ جو ن ۱۹۰۳ء صفح ہ ۱۷ دوسرے وہ جو میانہ رَو۔ کسی ٹھوکر سے بچتے اور ڈرتے رہتے ہیں۔ تیسرے وہ جو ہر ایک ٹھوکر سے ایسے بچ کر نکل جاتے ہیں جیسے کہ سانپ اپنی کینچلی سے۔ وہ ہر ایک خیر کے لئے دوڑتے اور ہر ایک شر سے بھاگتے ہیں۔ جن لوگوں نے اپنے تزکیہ کا خیال نہیں کیا وہ بالضرور بے پردگی سے ٹھوکر کھا سکتے ہیں۔ عورتوں کو ان سے پردہ کرنا چاہیے۔ مثل مشہور ہے کہ

خر بستہ بہ گرچہ دزد آشنا است

قسم اوّل ظَالِمٌ لِّنَفۡسِہٖ(الکھف:۳۶) دوم مُقْتَصِدٌ۔ سوم سَابِقٌۢ بِالۡخَیۡرٰتِ(فاطر:۳۳) ان مختلف مدارج و مراتب کے اشخاص کیسے یکساں سلوک کے لائق ہیں؟ کیا عیسائی بتا سکتے ہیں کہ ان میں سب پاکباز ہیں۔ شرابی نہیں، زانی نہیں۔ اگر پردہ ہوتا تو ان جرائم کی نوبت کیوں آتی ہزارہا ولد الحرام کیوں پیدا ہوتے۔ تجربہ بتا رہا ہے اوّل قسم کے لوگ بکثرت ہیں۔۱؎ اس لیے ان سے حتی الوسع پردہ کرنے کے لیے شریعت نے مجبور کیا کہ پردہ کی رسم ہو۔ شرابی آدمی کو طعن و تشنیع کا فکر ہے نہ ڈنڈے کا خوف۔ اس لیے عیسائیوں کا اسلام پذیر ہونا محالات سے ہے۔۲؎

۲۹ ؍مئی ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام )آج حضرت اقدس نے بہت سے احباب کی بیعت کے بعد تقریر فرمائی۔ فرمایا کہ

نومبایعین کو نصائح

اب تم لوگ جو بیعت میں داخل ہوئے ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ تم نے عہد کیا ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم کریں گے سو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عہد تمہارا اللہ کے ساتھ ہے جہاں تک ممکن ہو اس عہد پر مضبوط رہنا چاہیے نماز و روزہ، حج و زکوٰۃ امورِ شرعی کا پابند رہنا چاہیے اور ہر ایک برائی اور شائبہ گناہ سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ہماری جماعت کو ایک پاک نمونہ بن کر دکھانا چاہیے زبانی لاف و گزاف سے کچھ نہیں بنتا جب تک انسان کچھ کر کے نہ دکھائے۔ تم دیکھتے ہو کہ طاعون سے کس قدر لوگ ہلاک ہو رہے ہیں گھروں کے گھر برباد ہو رہے ہیں اور ابھی تک معلوم نہیں کہ یہ تباہی کب تک جاری رہے طاعون لوگوں کی بداعمالی کے سبب غضبِ الٰہی کی صورت میں بھیجی جاتی ہے یہ بھی ایک طرح کی رسول ہے۔ جو اس کام کو کر رہی ہے ہزاروں ہیں جو اپنے سامنے ہلاک شدہ لوگوں کے پشتے پر پشتے دیکھتے ہیں۔ خاندان کے خاندان تباہ ہو گئے ہزاروں لاکھوں بچے بے پدر، لاکھوں خاندان بے ٹھکانہ ہو گئے جہاں یہ پڑی ہے بے نام و نشان اس جگہ کو کر دیا بعض گھروں میں کیا محلوں اور گاؤں میں کوئی آباد ہونے والا نہیں رہا۔ انسانوں سے گذر کر حیوانوں کو تباہ کیا۔ گویا یہ بات کہ انسان کے گناہ سے تمام زمین لعنتی ہو گئی۔ اب گویا اہلِ زمین کیا چرند، کیا پرند انسان کی بدکاری کے بدلے پکڑے جا رہے ہیں۔ لوگوں میں باوجود اس کے کہ سخت سے سخت عذاب میں مبتلا ہیں۔ مگر ویسے ہی رعونت و کبر سے مخمور پھرتے ہیں موت کا خوف دل سے اٹھ گیا اللہ تعالیٰ کی عزت کا پاس دل میں نہیں رہا عوام تو عوام خواص کا یہ حال ہے کہ دنیا پرستی میں سخت جکڑے ہوئے ہیں خدا کا نام فقط زبان پر ہی ہے۔ اندرونہ بالکل اللہ تعالیٰ کی محبت و خشیت سے خالی ہے۔۱؎

وفاتِ مسیحؑ

مسیح کی وفات کا کیا معاملہ تھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ(المائدۃ:۱۱۸) بخاری میں مُتَوَفِّیْکَ کے معنے صاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی مُمِیْتُکَ آیا حدیث کے فرمودہ کے مطابق چودہویں صدی کے سر پر مجدّد آیا مگر انہوں نے قبول نہ کیا ہزاروں طرح کے حیلے دنیا نے کئے، طرح طرح کی شرارتیں و منصوبے تجویز کئے مگر اللہ تعالیٰ کا جیسا کہ وعدہ تھا اپنے زور آور حملوں سے سچائی ظاہر کرتا رہا۔

عیسائی لوگ زہر ناک کیڑے کی طرح اسلام کے درخت کی جڑ کو کاٹ رہے ہیں۱؎ مگر علماء کو ذرا بھی خیال نہیں بلکہ اپنے خیالات سے کہ مسیحؑ زندہ آسمان پر ہے اور دوبارہ قیامت سے پہلے آئے گا مدد دے رہے ہیں ان کی لگاتار کوشش یہی ہے کہ اسلام کا نام تک مٹ جائے اور یہ اپنے فاسد عقائد سے ان کو مدد دے رہے ہیں۔ دیکھ لو کہ پادریوں نے شہر بہ شہر گاؤں بہ گاؤں مکر و تزویر کا جال پھیلایا ہوا ہے عورتوں اور بچوں تک کمر بستہ ہیں کہ کسی طرح ایک عاجزہ کے بیٹے کو خدا بنا کر منوادیں کئی کروڑ کتابیں ردِّ اسلام میں بنا کر مفت تقسیم کر دیں اس پر بھی مسلمانوں کو غیرت نہ آئی کیا وہ خدا جو کہتا ہے ان وں کو غیرت نہ آ ئی کیا وہ خدا جو کہتا ہے اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ(الحجر:۱۰) کیا وہ غلط کہتا ہے؟ کیا اسلام کی وہ ابھی حالت نہیں ہوئی جو کسی مصلح و مجدّد کی ضرورت پیدا کرے طرح طرح کے زمینی و آسمانی نشان پورے ہو چکے مگر وہ اب تک منکر ہیں آج تک ۲۹ لاکھ مسلمان مرتد ہو گئے ہیں۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ اگر ایک شخص مرتد ہو جاتا تھا تو قیامت برپا ہو جاتی تھی جس قدر مسلمان باقی ہیں وہ بھی عیسائیت کے قریب قریب ہی ہیں اگر سو سال تک ایسی ہی حالت رہتی تو اسلام کا نام و نشان زمین سے مٹ جاتا.... لیکن خدا تعالیٰ کا شکر اور احسان ہے کہ اس نے عین ضرورت کے وقت مجھے مسیح موعود کر کے بھیجا۔

یہ بات۱؎ کوئی بناوٹی نہیں صدہا نشان خرق عادت کے طور پر آسمان و زمین پر میری تصدیق کے لیے ظاہر ہوئے اور ہو رہے ہیں۲؎ چنانچہ طاعون بھی ایک نشان ہے جس کی بابت کل انبیاء خبر دیتے رہے۔

چنانچہ قرآن شریف میں لکھا ہے مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اِلَّا نَحۡنُ مُہۡلِکُوۡہَا قَبۡلَ یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ اَوۡ مُعَذِّبُوۡہَا(بنی اسرآءیل:۵۹) کوئی بستی اور کوئی گاؤں ایسا نہ ہوگا کہ جسے ہم قیامت سے پہلے خطرناک عذاب میں مبتلا نہ کردیں گے یا ہلاک نہ کردیں گے۔ غرض کہ یہ منذر نشان ہے کسوف وخسوف کا نشان لوگوں نے ہنستے ہوئے دیکھا اور طاعون کا نشان روتے ہوئے۔

احمدیوں کا طاعون سے مَرنا

بعض نادان اعتراض کرتے ہیں کہ تمہارے آدمی کیوں مرتے ہیں ان نادانوں کو اتنا معلوم نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی جب لوگ عذاب کا معجزہ مانگتے تھے تو ان کو تلوار کا معجزہ ملا اور یہ بھی ایک قسم کا عذاب تھا۔ چنانچہ۱؎کئی صحابہؓ بھی تلوار سے شہید ہوئے مگر کیا ابو بکرؓ و عمرؓ جیسے بھی ہلاک ہوئے؟ اللہ تعالیٰ نے جس جس انسان کے دماغ یا ہاتھ سے کوئی اپنا کام لینا ہے وہ تو بچ ہی رہے اور بالمقابل جتنے رئیس کفار تھے ان سب کا ٹھکانہ جہنم ہوا اور ان کے صغیر و کبیر سب کے سب ہلاک ہو گئے۔ اگر ایک شخص کا ایک پیسہ چوری ہو گیا ہے اور دوسرے کا تمام گھر بار لوٹا گیا ہے تو کیا وہ آدمی جس کا تمام گھر بار لوٹا گیا پیسہ والے کو کہہ سکتا ہے کہ تم اور میں برابر ہیں؟ بھلا سوچو تو سہی کہ اگر ۲۰؍برس تک ہمارا کوئی آدمی ہلاک نہ ہو تو ایسا کوئی آدمی ہے جو ہمارے سلسلہ میں داخل ہونے سے رکا رہے؟ مگر اللہ تعالیٰ کو یہ امر منظور نہیں ہے اور نہ کبھی ایسا ہوا۔ ایمان کی حالت ہی کا پوشیدہ ہونا ضروری ہے جب تک ہماری جماعت تقویٰ اختیار نہ کرے نجات نہیں پاسکتی خدا تعالیٰ اپنی حفاظت میں نہ لے گا یہی سبب ہے کہ بعض ان صحابہ میں سے جن جن سے بڑے بڑے کام لینے تھے وہ سب سخت سے سخت خطروں میں بھی بچائے گئے دوسروں کو خدا نے جلد اٹھا کر بہشت میں داخل کیا۔ جاہل کو حقیقت معلوم نہیں ہوتی جو بات منہ میں آئی کہہ دی ہر ایک نبی کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے جہاں کفار مرتے تھے وہاں اصحاب میں سے بھی کوئی نہ کوئی مر جاتا تھا اگر خدا تعالیٰ کھلا کھلا نشان مثلاً سوئے کا سانپ کر دے۱؎ تو نیک وبد میں فرق کیا رہے گا؟ تمام یورپ وامریکہ داخل اسلام ہو جاویں گے مگر خدا تعالیٰ نے ہمیشہ امتیاز رکھا ہے صحابہ کرامؓ کو خدا تعالیٰ نے توحید پھیلانے کے لیے پیدا کیا اور انہوں نے توحید پھیلائی اب بھی خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ توحید پھیلے جو آوے گا وہ خدا کی رحمت سے محروم نہ رہے گا مگر چاہیے کہ اپنے وجود کو وہ مفید بناوے۲؎ اللہ تعالیٰ خود ان کی حفاظت کرے گا زبان سے خدا خدا کہنا مگر عمل سے خدا سے بیگانگی ایک طرح کا دہر یہ پن ہی ہے۔۳؎

گھروں کو ذکر اللہ سے معمور کرو۔ صدقہ و خیرات دو۔ گناہوں سے بچو۔ اللہ رحم کرے جو لوگ بیعت کر کے چلے جاتے ہیں اور پھر شکل بھی نہیں دکھلاتے ان کے لیے دعا کیا ہو جب ہمیں وہ یاد تک بھی نہیں رہتے۔ بار بار ملو اور تعلق محبت بڑھاؤ۔ جو بار بار آتا ہے اس کی ذراسی تکلیف سے دعا کا خیال آجاتا ہے مگر جو لوگ دنیا کے معاملات میں مستغرق رہتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں گویا انہوں نے بیعت ہی نہیں کی۔۱؎ یاد رکھو اور عمل کرو جو جس سے پیار کرتا ہے وہ انہیں میں سے ہے۔۲؎،۳؎


۲، ۳۰؍مئی ۱۹۰۳ء

(مجلس قبل از عشاء

)ایک صاحب کے مقدمہ کی تاریخ عنقریب تھی۔ وہ دعا کروانے کے واسطے آئے تو حضرت اقدس نے فرمایا کہ چار پانچ دن یہاں رہو اور ہر روز ملاقات کرو کہ دعا کی تحریک ہو۔ یہ نہ خیال کرو کہ پیچھے نقصان ہوگا۔ سب کچھ خدا کرتا ہے اسباب پر نظر نہ رکھو۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ رعایت اسباب ہی چھوڑ دو۔ بلکہ یہ کہ یہ نہ خیال کرو کہ فلاں بات ہو تو ہی یہ ہوگا۔ جیسے کہ روٹی کھانی پانی پینا منع نہیں ہے۔ مگر اس پر یہ بھروسہ کرنا کہ اس سے زندگی ہے یہ منع ہے۔ کئی آدمی روٹی کھاتے ہیں۔ ادھر سُول (درد) ہوا اور جان گئی۔ پانی پیا اور ہیضہ سے مَر گئے ان پر بھروسہ کرنا یہ شرک ہے۔ اسباب وہی بہم پہنچاتا ہے۔

ریاست کپورتھلہ سے خبر آئی کہ بعض لوگوں نے ایک مشورہ کر کے اس اَمر کا منصوبہ بنانا چاہا ہے کہ وہاں کی احمدی جماعت کے بعض ممبروں کو ایذا دیویں۔ اس پر فرمایا۔

وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ(اٰل عمران:۵۶) یہ اس اَمر پر دلالت کرتا ہے کہ فتنہ فساد ہو۔ دعا کی جاوے گی۔ ایک شخص نے عرض کی کہ سارے گاؤں میں مَیں ایک اکیلا آپ کا مرید ہوں۔ فرمایا خدا پر بھروسہ کرو۔ خدا پر بھروسہ کرنے البدر جلد ۲ نمبر ۲۱ م و رخہ ۱۲ ؍ ا جون ۱۹۰۳ءصفحہ ۱۶۲ وا لا اکیلا نہیں ہوتا۔۴؎

یکم، ۲، ۳؍جون ۱۹۰۳ء

مقدمہ ہمیشہ سیدھا کرنا چاہیے

ان تاریخوں میں کوئی بات قابلِ نوٹ نہیں ہے۔ ایک بار مقدمات کے ذکر پر فرمایا کہ

مقدمہ ہمیشہ سیدھا کرنا چاہیے جب معلوم ہو کہ از روئے قانون بھی صاف طور پر ہمارا حق ثابت ہے اور از روئے شریعت بھی تو ابتدا کرنی چاہیے ورنہ پیچ در پیچ بات ہو تو کبھی مقدمہ کی طرف نہ جانا چاہیے۔۱؎


۴؍جون ۱۹۰۳ء

(مجلس قبل از عشاء)

ایک رؤیا

فرمایا۔ دو یا تین بجے رات کو میں نے ایک خواب دیکھا کہ ایک جگہ پر مع چند ایک دوستوں کے گیا ہوں وہ دوست وہی ہیں جو رات دن پاس رہتے ہیں ایک ان میں مخالف بھی معلوم ہوتا ہے اس کا سیاہ رنگ، لمبا قد اور کپڑے چر کیں ہیں۔ آگے جاتے ہوئے تین قبریں نظر آئی ہیں ایک قبر کو دیکھ کر میں نے خیال کیا کہ والد صاحب کی قبر ہے اور دوسری قبریں سامنے نظر آئیں میں ان کی طرف چلا اس قبر سے کچھ فاصلہ پر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ صاحبِ قبر (جسے میں نے والد کی قبر سمجھا تھا )زندہ ہو کر قبر پر بیٹھا ہوا ہے غور سے دیکھنے سے معلوم ہوا کہ اور شکل ہے والد صاحب کی شکل نہیں مگر خوب گورا رنگ، پتلا بدن، فربہ چہرہ ہے میں نے سمجھا کہ اس قبر میں یہی تھا اتنے میں اس نے آگے ہاتھ بڑھایا کہ مصافحہ کرے میں نے مصافحہ کیا اور نام پوچھا تو اس نے کہا نظام الدین پھر ہم وہاں سے چلے آئے۔ آتے ہوئے میں نے اسے پیغام دیا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم اور والد صاحب کو السلام علیکم کہہ چھوڑنا۔ راستہ میں مَیں نے اس مخالف سے پوچھا کہ آج جو ہم نے یہ عظیم الشان معجزہ دیکھا کیا اب بھی نہ مانو گے؟ تو اس نے جواب دیا کہ اب تو حد ہو گئی۔ اب بھی نہ مانوں تو کب مانوں......مُردہ زندہ ہو گیا ہے اس کے بعد الہام ہوا سَلِیْمٌ حَامِدٌ مُسْتَبْشِرًا کچھ حصہ الہام کا یاد نہیں رہا۔ والد کا زندہ ہونا یا کسی اور مُردہ کا زندہ ہونا کسی مُردہ امر کا زندہ ہونا ہے میں نے اس سے یہ بھی سمجھا کہ ہمارا کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جلال ظاہر ہونے کا موجب اور والدین کے رفع درجات کا بھی موجب ہے۔

شرطی طلاق

فرمایا کہ اگر شرط ہو کہ فلاں بات ہو تو طلاق ہے اور وہ بات ہو جائے تو پھر واقعی طلاق ہو جاتی ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ اگر فلاں پھل کھاؤں تو طلاق ہے اور پھر وہ پھل کھا لے تو طلاق ہو جاتی ہے۔۱؎

۵؍جون ۱۹۰۳ء

(مجلس قبل از عشاء)

ایک رکعت میں قرآن ختم کرنا

ذکر ہوا کہ ایک رکعت میں بعض لوگ قرآن کو ختم کرنا کمالات میں تصور کرتے ہیں اور ایسے حافظوں اور قاریوں کو اس امر کا بڑا فخر ہوتا ہے حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ گناہ ہے اور ان لوگوں کی لاف زنی ہے جیسے دنیا کے پیشہ والے اپنے پیشہ پر فخر کرتے ہیں ویسے ہی یہ بھی کرتے ہیں۔ آنحضرت نے اس طریق کو اختیار نہ کیا۔ حالانکہ اگر آپ چاہتے تو کر سکتے تھے مگر آپ نے چھوٹی چھوٹی سورتوں پر اکتفا کی۔

انعامات کی اُمّ

پھر فرمایا کہ ہر ایک شئے کی ایک اُمّ ہوتی ہے میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ کے جو انعامات ہیں ان کی اُمّ کیا ہے؟ خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ ان کی اُمّ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ(المؤمن:۶۱)

ہے کوئی انسان بدی سے بچ نہیں سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو پس ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ(المؤمن:۶۱) فرما کر یہ جتلا دینا کہ عاصم وہی ہے اسی کی طرف تم رجوع کرو۔

استغفار کی حقیقت

گناہ جو انسان سے صادر ہوتا ہے اگر انسان یقین سے توبہ کرے۱؎ تو خدا بخش دیتا ہے۔ پیغمبر خدا جو ستر بار استغفار کرتے تھے حالانکہ ایک دفعہ کے استغفار سے گذشتہ گناہ معاف ہو سکتے تھے پس اس سے ثابت ہے کہ استغفار کے یہ معنے ہیں کہ خدا آئندہ ہر ایک غفلت اور گناہ۲؎ کو دبائے رکھے اس کا صدور بالکل نہ ہو۔ فَلَا تُزَکُّوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ(النجم:۳۳) سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ معصوم اور محفوظ ہونا تمہارا کام نہیں ہے خدا کا ہے۔ ہر ایک نور اور طاقت آسمان سے ہی آتی ہے۔۳؎


۶؍ جون ۱۹۰۳ء

ڈاکٹری کے امتحان کا ذکر تھا اس پر فرمایا کہ

طبابت کا پیشہ

پاس کے خیال میں مستغرق ہو کر اپنی صحت کو خراب کر لینا ایک مکروہ خیال ہے۔ اوّل زمانہ کے لوگ علم اس لیے حاصل کرتے تھے کہ توکل اور رضائے الٰہی حاصل ہو۔ اور طبابت تو ایسا فن ہے کہ اس میں پاس کی ضرورت ہی کیا ہے؟ جب ایک طبیب شہرت پا جاتا ہے تو خواہ فیل ہو مگر لوگ اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ تحصیل دین کے بعد طبابت کا پیشہ بہت عمدہ ہے۔۴؎

۷؍جون ۱۹۰۳ء

(مجلس قبل ازعشاء)

ایمان لانے کے مختلف طریق

ایک شخص نے حضرت اقدس کی بیعت کی نسبت کچھ بشارات خدا تعالیٰ سے پائی تھیں وہ حضرت اقدس کی خدمت میں تحریر کرکے روانہ کی تھیں حضرت اقدس نے ان کو سن کر فرمایا کہ جو لوگ فطری امور کی استعداد نہیں رکھتے اللہ تعالیٰ ان کو بذریعہ رؤیا کے سمجھا دیتا ہے۔ آنحضرت کے معجزات میں سے بھی یہ بات تھی کہ لوگ رؤیا دیکھتے اور بعض وہ تھے جو کہ آپ کے جودوسخا کو دیکھ کر ایمان لائے اور پھر آپ نے سب کو ایک ہی راہ سے گذرانا۔ یہ ایک مشکل کام ہے کہ ہر ایک کی رعایت بھی مد نظر ر ہے اور پھر ایک ہی راہ سے سب کو گذارا جاوے۔۱؎

آپ پر ایمان لانے کے مختلف طریق تھے بعض اخلاق دیکھ کر ایمان لائے تھے۲؎ غرضیکہ آدم سے لے کر آنحضرت تک جس قدر طریق جمع ہو سکتے تھے وہ سب آپ میں جمع تھے یہ بھی ایک مجموعہ جمع کرنے کے قابل ہے کہ اسلام میں داخل ہونے کے طریق کیا کیا تھے۔

آنحضرت کے آثار میں سے ایک توجہ کا بھی حصہ ہے کہ جو لوگ قسی القلب تھے وہ بھی کھچے چلے آتے تھے ایک دفعہ ایک بادشاہ ثمامہ کو باندھا گیا آپ اس کے حالات ہر روز دریافت کرتے ا لحکم سے۔ ’’جو لوگ اللہ کے لیے ک چ ھ کھوتے ہ چند روز کے بعد حکم دیا کہ اسے چھوڑ دیا جاوے۔ پھر اس کے منہ سے یہ الفاظ نکلے کہ پہلے دنیا کے تمام ناموں سے تیرا نام مجھے بہت برا معلوم ہوتا تھا اور آج وہی نام سب سے پیارا ہے اور اس شہر سے مجھے بہت نفرت ہوتی تھی لیکن اب اس شہر کو محبت اور پیار کی جگہ دیکھتا ہوں تو یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ ہی تھی جس سے باطنی چرک و میل دور ہوتی تھی اس کو بنظرِ استخفاف نہ دیکھنا چاہیے توجہ میں بھی ایک قوتِ قدسیہ اور تاثیر ہوتی ہے۔۱؎

صحابہؓ کا اخلاص اور اس کا اجر

صحابہ کرامؓ کے حالات کو دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ انہوں نے نہ گرمی دیکھی نہ سردی اپنی زندگی کو تباہ کر دیا نہ عزّت کی پروا کی نہ جان کی بکری کی طرح ذبح ہوتے رہے۔ اس طرح کی نظیر پیش کرنی آسان نہیں ہے اس جماعت کے اخلاص کا اس سے زیادہ کیا ثبوت ہے کہ جان دے کر اخلاص ثابت کیا ان کے نفس بالکل دنیا سے خالی ہو گئے تھے جیسے کوئی ڈیوڑھی پر کھڑا سفر کے لیے تیار ہوتا ہے ویسے ہی وہ لوگ دنیا کو چھوڑ کر آخرت کے واسطے تیار تھے۔۲؎

لوگوں کے کاموں میں بہت حصہ دنیا کا ہوتا ہے اور اس فکر میں ہوتے ہیں کہ یہ کرو وہ کرو اور وقتِ مؤجل آپہنچتا ہے خدا ایسا نہیں کہ کسی کو ضائع کرے۱؎ یہ اعتراض کہ ہمارے املاک تباہ ہو ۱۵) جاویں گے غلط ہے آنحضرت کے زمانہ میں ابوبکرؓ وغیرہ کے املاک ہی کیا تھے؟ ایک ایک دو دوسو یا کچھ زیادہ روپیہ کسی کے پاس ہوگا مگر اس۲؎ کا اجر ان کو یہ ملا کہ خدا نے بادشاہ کر دیا اور قیصر و کسریٰ کے وارث ہو گئے۔ مگر خدا کی غیرت یہ نہیں چاہتی کہ کچھ حصہ خدا کا ہو اور کچھ شیطان کا اور توحید کی حقیقت بھی یہی ہے کہ غیر از خدا کا کچھ بھی حصہ نہ ہو۔ توحید کا اختیار کرنا تو ایک مَرنا ہے لیکن اصل میں یہ مَرنا ہی زندہ ہونا ہے۔

مومن جب توبہ کرتا ہے اور نفس کو پاک صاف کرتا ہے تو خوف ہوتا ہے کہ میں تو جہنم میں جا رہا ہوں کیونکہ تکالیف کا سامنا ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ اسے ہر طرح سے محفوظ رکھتا ہے یہ موت مختلف طریق سے مومنوں پر وارد ہوتی ہے کسی کو لڑائی سے کسی کو کسی طرح سے۳؎ جیسے ابراہیم علیہ السلام نے جنگ نہ کی تو آپ کو لڑکے کی قربانی کرنی پڑی۔ یہ بات قابل افسوس ہے کہ خدا پر امید رکھے اور ایک اور بھی حصہ دار ہو۔ قرآن میں بھی لکھا ہے کہ حصہ سے خدا راضی نہیں ہوتا بلکہ فرماتا ہے کہ حصہ داری سے جو حصہ انہوں نے خدا کا کیا ہوتا ہے وہ بھی خدا انہی کا کر دیتا ہے کیونکہ غیرت احدیّت حصہ داری کو پسند نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء باوجود غریب، یتیم اور بے کس اور بلا اسباب ہونے کے اور پھر بموجب قانون دنیا کے بے ہنر ہونے کے آگے سے آگے قدم بڑھاتے ہیں اور یہ سب سے پہلا ثبوت خدا کی خدائی کا ہے۱؎ اسی لیے ان کے مخالف حیران ہو جاتے ہیں کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی کچھ جو شخص بڑا جاہل اور ان کے تقدس سے بے خبر ہوتا ہے وہ بھی کم از کم ان کی دانائی کا قائل ہوتا ہے جیسے عیسائی لوگ آنحضرت کی پیشگوئیاں پوری ہوتی دیکھ کر کہتے ہیں کہ وہ بہت دانا آدمی تھا۔

توبہ ہی طاعون کا علاج ہے

طاعون کے علاج کی نسبت فرمایا کہ بجز اس کے کہ توبہ ہو اور سب تجاویز جو اس کے علاج کے لیے سوچی جاویں۔ خدا کے ساتھ مقابلہ ہے کوئی تجویز ہو ، ناکافی ہے جب تک خدا سے صلح نہ ہو۔۲؎

۱۱؍جون ۱۹۰۳ء

(مجلس قبل از عشاء)

حقیقت اور معرفت

فرمایا کہ درحقیقت خدا تعالیٰ نے ننگی کسی بات میں نہیں رکھی جوئندہ یابندہ ہوتا ہے۔۳؎

فرمایا کہ دو شخص برابر نہیں ہو سکتے ایک وہ جو حقیقت پر پہنچتا ہے اور ایک وہ جو معرفت تک۴؎ جیسے رویت اور سماع برابر نہیں ہو سکتے ویسے ہی یہ بھی برابر نہیں ہے جو عارف ہے اور نمونۂ قدرت دیکھ چکا ہے اور ایک دوسرا جس کے پاس کوئی نظیر نہیں کہ جسے پیش کر سکے صرف ظنی امور پاس ہیں وہ کیسے برابر ہوں۔

خدا کی صفات کا علم ہونا ضروری ہے

ایک ہندو کا ذکر ہوا کہ وہ کہتا ہے کہ سب مذہب نجات یافتہ ہیں اور آپ مسیح بھی سچے ہیں وہ اپنے خیال کی تائید میں یہ شعر پیش کرتا ہے۔

ذات پات نہ پوچھے کو

جو ہر کو بھجے سو ہر کا ہو

فرمایا۔ یہ بات تو ٹھیک ہے کہ جو خدا کی عبادت اور اطاعت کرے وہی اس کا ہوسکتا ہے مگر اس بات کا تو پتا ہونا چاہیے کہ آیا خدا کو پوج رہا ہے یا شیطان کو؟ کیا وہ کسی اور کا پجاری ہو کر خدا کا ہوسکتا ہے؟ اس لیے اوّل خدا کی صفات کا علم ہونا ضروری ہے۔۱؎

۱۲؍جون ۱۹۰۳ء

(مجلس قبل از عشاء)

موسٰی کا خضر کے قتل پر اعتراض کرناکیوں درست نہ تھا؟

سوال۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ توریت میں حکم تھا کہ کوئی نفس بلا کسی نفس کے بدلہ قتل نہ کیا جائے تو پھر خضرؑ نے کیوں اس جان کو قتل کیا اور موسیٰ نے جو اس پر سوال کیا تو اسے کیوں خلاف ادب جانا گیا؟ موسٰی نے تورات کے رُو سے سوال کیا تھا۔۲؎

جواب۔ فرمایا۔ مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَیۡرِ نَفۡسٍ(المائدۃ:۳۳) کے ساتھ آگے اَوۡ فَسَادٍ فِی الۡاَرۡضِ(المائدۃ:۳۳) بھی لکھا ہے فساد کا لفظ وسیع ہے جو شَے کسی زمانہ میں فساد کا موجب ہوسکتی ہے وہ آیندہ زمانہ میں قتلِ نفس کا موجب بھی ہوسکتی ہے۔ حشرات الارض کو ہم دیکھتے ہیں کہ سینکڑوں ہزاروں روز مارے جاتے ہیں اس لیے کہ وہ کسی کی ایذا کا موجب نہ ہوں چنانچہ لکھا ہے کہ قَتْلُ الْمُوْذِیِّ قَبْلَ الْاِیْذَآءِ تو ہر ایک موذی شَے کا قتل اس کے ایذا کے دینے سے قبل جائز ہوتا ہے حالانکہ اس موذی نے ابھی کوئی قتل وغیرہ کیا نہیں ہوتا۱؎ شریعت اور الہامی اور کشفی امور الگ الگ ہیں اس لیے ان کو شریعت کے ظاہری الفاظ کے تابع نہ کرنا چاہیے۔

وحی الٰہی کا معاملہ ہی اَور ہوتا ہے اس کی ایک دو نظیریں نہیں بلکہ ہزارہا نظائر ہیں بعض وقت ایک ملہم کو الہام کے رُو سے ایسے احکام بتلائے جاتے ہیں کہ شریعت کے رُو سے ان کی بجا آوری درست نہیں ہوتی مگر جسے بتلائے جاتے ہیں اسے ان کا بجالانا فرض ہوتا ہے اور عدم بجا آوری میں اسے موت نظر آتی ہے اور سخت گناہ ہوتا ہے حالانکہ شریعت اسے گناہ قرار ہی نہیں دیتی یہ تمام باتیں مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا(الکھف:۶۶) کے تحت میں ہوتی ہیں۔ ایک جاہل تو ان کو شریعت کے مخالف قرار دے گا اور اعتراض کرے گا مگر وہ اس کی بیوقوفی ہو گی وہ بھی اصل میں ایک شریعت ہی ہے۔۲؎ جب سے دنیا چلی آئی ہے یہ دونوں باتیں ساتھ ساتھ چلی آتی ہیں یعنی ایک تو ظاہر شریعت۳؎ جو کہ دنیا کے امور کے واسطے ہوتی ہے اور ایک وہ امور جو کہ از روئے کشف والہام کے ایک مامور پر نازل ہوتے ہیں اور اسے حکم ہوتا ہے کہ یہ کرو بظاہر گو وہ شریعت کے مخالف ہو مگر اصل میں بالکل مخالف نہیں ہوتا۔ مثلاً دیکھ لو کہ از روئے شریعت کے تو دیدہ دانستہ اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا منع ہے وَلَا تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ(البقرۃ:۱۹۶) مگر ایک شخص کو حکم ہوتا ہے کہ تو دریا میں جا اور چیر کر نکل جا تو کیا وہ اس کی نافرمانی کرے گا؟ بھلا بتلاؤ تو سہی کہ حضرت ابراہیمؑ کا عمل کہ بیٹے کو ذبح کرنے لگ گئے کون سا شریعت کے مطابق تھا؟ کیا یہ کہیں شریعت میں لکھا ہے کہ خواب آوے تو سچ مچ بیٹے کو اٹھ کر ذبح کرنے لگ جاوے؟ مگر وہ ایسا عمل تھا کہ ان کے قلب نے اسے قبول کر کے تعمیل کی۔ پھر دیکھو۔ موسیٰؑ کی ماں تو نبی بھی نہ تھی مگر اُس نے خواب کے رُو سے موسیٰ کو دریا میں ڈال دیا۔ شریعت کب اجازت دیتی ہے کہ اس طرح ایک بچہ کو پانی میں پھینک دیا جاوے۔ بعض امور شریعت سے وراء الورا ہوتے ہیں اور وہ اہل حق سمجھتے ہیں جو کہ خاص نسبت خدا تعالیٰ سے رکھتے ہیں اور وہی ان کو بجالاتے ہیں۔ ورنہ اس طرح تو خدا پر اعتراض ہوتا ہے کہ وہ لغو امور کا حکم کرتا ہے حالانکہ خدا کی ذات اس سے پاک ہے۔ اس کا سر وہی جانتے ہیں جو خدا سے خاص تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے امور میں جلد بازی سے کام نہ لینا چاہیے۔ خدا تعالیٰ نے یہ قصے اس لیے درج کئے ہیں کہ انسان ادب سیکھے۔ ایک مرید کا ادب اپنے مرشد کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اس پر اعتراض نہ کیا جاوے اور اس کے افعال واعمال پر اعتراض کرنے میں مستعجل نہ ہو۔ جو علم خدا نے اسے (مرشد کو) دیا ہوتا ہے۔ اس کے رُو سے خبر ہی نہیں ہوتی ورنہ اس طرح کی مخالفت کرنے سے کہیں سلب ایمان کی نوبت نہ آ جاوے۔

شریعت کا ایک رنگ ظاہر پر ہے اور ایک محبت الہیہ پر ہے کہ جن سے خدا کے خاص تعلق ہوتے ہیں ان پر کشف ہوتے ہیں ایسے امور ان سے صادر ہوتے ہیں کہ لوگوں کو اعتراض کا موقع ملتا ہے۔ موسیٰؑ پر اعتراض کیا کہ حبشن کیوں کی؟ آخر اس حرکت سے خدا کا غضب ان پر شروع ہوا اور جذام کے آثار نمودار ہوئے دوسرے گناہوں میں تو عذاب دیر سے آتا ہے مگر ان میں فوراً شروع ہو جاتا ہے۔

سائل نے عرض کی کہ موسیٰ نے پھر کیوں جرأت کی حالانکہ وہ نبی تھے؟

فرمایا کہ اسی لیے تو یہ قصہ لکھا ہے کہ وہ نبی تھا اور تم تو اُمتی ہو تم کو تو اور بھی ڈر کر قدم رکھنا چاہیے۔ یہ اس طرح کے امور ہوتے ہیں کہ ظاہری شریعت کو منسوخ کر دیتے ہیں۔۱؎مولانا روم نے ایسی ہی ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک طبیب نے ایک کنیز کو ایسے طریق سے ہلاک کر دیا کہ پتہ نہ لگا۔ مسہل وغیرہ ایسی ادویہ دیتا رہا کہ وہ کمزور ہو ہو کر مرگئی۔ تو پھر اس پر لکھا ہے کہ اس پر قتل کا جرم ۲؎نہ ہوگا کیونکہ وہ تو مامور تھا۔ اس نے اپنے نفس سے اسے قتل نہیں کیا بلکہ اَمر سے کیا۔ اسی طرح ملک الموت جو خدا جانے کس قدر جانیں روز ہلاک کرتا ہے کیا اس پر مقدمہ ہو سکتا ہے؟ وہ تو مامور ہے اسی طرح ابدال بھی ملائکہ کے رنگ میں ہوتے ہیں۔ خدا ان سے کئی خدمات لیتا ہے۔ پیمانہ شریعت سے ہر ایک اَمر کو ناپنا غلطی ہوتی ہے۔۳؎،۴؎

۱۴؍جون ۱۹۰۳ء

(دربار شام)

اللہ تعالیٰ س چارشتہ

فرمایا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ کو اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ بڑے سیدھے سادے تھے جیسے کہ ایک برتن قلعی کرا کر صاف اور ستھرا ہو جاتا ہے ایسے ہی ان لوگوں کے دل تھے جو کلام الٰہی کے انوار سے روشن اور کدورات نفسانی کے زنگ سے بالکل صاف تھے گویا قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰٮہَا(الشّمس:۱۰) کے سچے مصداق تھے۔۱؎

مجھے خوب معلوم ہے کہ ابھی تک ہماری جماعت میں کثرت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ اگر ہماری دنیا کو کسی طرح سے کوئی جنبش آئی تو ہم کدھر جاویں گے مگر تعجب تو یہ ہے کہ ایک طرف تو ہمارے ہاتھ پر اقرار کرتے ہیں کہ ہم دنیا پر دین کو مقدم سمجھیں گے اور دوسری طرف دنیا اور مافیہا میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں کہ دنیا کی خاطر ہر ایک دینی نقصان برداشت کرنا گوارا کرتے ہیں۔ ذرا سا کوئی کنبہ میں بیمار ہو جاوے یا بیل بکری ہی مَر جاوے تو جھٹ بول اُٹھتے ہیں کہ ہیں یہ کیا ہوا؟ ہم تو مرزا صاحب کے مُرید تھے ہمارے ساتھ کیوں یہ حادثہ واقعہ ہوا۔۲؎ حالانکہ یہ خیال ان کا خام ہے وہ اس سچے رشتے سے جو اللہ تعالیٰ سے باندھنا چاہیے ناواقف ہیں۔ برکاتِ الٰہی انسان پر اس وقت نازل ہوتے ہیں جب خدا سے مضبوط رشتہ باندھا جاوے۔ جیسے رشتہ داروں کو آپس میں رشتہ کا پاس ہوتا ہے ویسا ہی اللہ تعالیٰ کو اپنے بندہ کے رشتہ کا جو وہ اس پاک ذات کے ساتھ ہے سخت پاس ہوتا ہے۔ وہ مولا کریم اس کے لیے غیرت کھاتا ہے اور اگر کوئی دکھ یا مصیبت اس کو پہنچتا ہے تو وہ بندہ اپنے لیے راحت جانتا ہے۔۱؎

الغرض کوئی دکھ اس رشتہ کو توڑتا نہیں اور نہ کوئی سکھ اس کو دوبالا کرتا ہے۔ ایک سچا تعلق و حقیقی عشق عبد و معبود میں قائم ہو جاتا ہے اگر ہماری جماعت میں چالیس آدمی بھی ایسے مضبوط رشتہ کے جو رنج و راحت، عسر و یسر میں خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم کریں، تو ہم جان لیں کہ ہم جس مطلب کے لیے آئے تھے وہ پورا ہو چکا اور جو کچھ کرنا تھا وہ کر لیا۔

کیسی سوچنے کی بات ہے کہ صحابہ کرامؓ کے تعلقات بھی تو آخر دنیا سے تھے ہی جائدادیں تھیں، مال تھا، زر تھا ۔ مگر ان کی زندگی پر کس قدر انقلاب آیا کہ سب کے سب ایک ہی دفعہ دستبردار ہو گئے اور فیصلہ کر لیا کہ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَنُسُکِیۡ وَمَحۡیَایَ وَمَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(الانعام:۱۶۳) ہمارا سب کچھ اللہ ہی کے لئے ہے۔ اگر اس قسم کے لوگ ہم میں ہو جاویں تو کون سی آسمانی برکت اس سے بزرگ تر ہے؟

بیعت کرنا صرف زبانی اقرار ہی نہیں بلکہ یہ تو اپنے آپ کو فروخت کر دینا ہے خواہ ذلّت ہو نقصان ہو کچھ ہی کیوں نہ ہو کسی کی پروانہ کی جاوے۔ مگر دیکھو اب کس قدر ایسے لوگ ہیں جو اپنے اقرار کو پورا کرتے ہیں۔ بلکہ خدا تعالیٰ کو آزمانا چاہتے ہیں پس یہی سمجھ رکھا ہے کہ اب ہمیں مطلقاً کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونی چاہیے اور ایک پُر امن زندگی بسر ہو حالانکہ انبیاؤں، قطبوں پر مصائب آئے اور وہ ثابت قدم رہے مگر یہ ہیں کہ ہر ایک تکلیف سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں۔ بیعت کیا ہوئی گویا خدا تعالیٰ کو رشوت دینی ہوئی۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ(العنکبوت:۳) یعنی کیا یہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ یہ فقط کلمہ پڑھ لینے پر ہی

(البدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۶؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۷۷)

چھوڑ دئیے جاویں گے اور ان کو ابتلاؤں میں نہیں ڈالا جاوے گا۔ پھر یہ لوگ بلاؤں سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ ہر ایک شخص کو جو ہمارے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے جان لینا چاہیے کہ جب تک آخرت کے سرمایہ کا فکر نہ کیا جاوے کچھ اور نہ بنے گا اور یہ ٹھیکہ کرنا کہ ملک الموت میرے پاس سے نہ پھٹکے، میرے کنبہ کا نقصان نہ ہو، میرے مال کا بال بیکا نہ ہو، ٹھیک نہیں ہے۔ خود شرط وفادکھلاوے اور ثابت قدمی و صدق سے مستقل رہے۔ اللہ تعالیٰ مخفی راہوں سے اس کی رعایت کرے گا اور ہر ایک قدم پر اس کا مددگار بن جاوے گا۔

انسان کو صرف پنجگانہ نماز اور روزوں وغیرہ وغیرہ احکام کی ظاہری بجا آوری پر ہی ناز نہیں کرنا چاہیے۔ نماز پڑھنی تھی پڑھ لی، روزے رکھنے تھے رکھ لیے، زکوۃ دینی تھی دے دی وغیرہ وغیرہ مگر نوافل ہمیشہ نیک اعمال کے مُتمم و مُکمِّل ہوتے ہیں اور یہی ترقیات کا موجب ہوتا ہے۔ مومن کی تعریف یہ ہے کہ خیرات و صدقہ وغیرہ جو خدا نے اس پر فرض ٹھہرایا ہے۱؎ بجالاوے اور ہر ایک کار خیر کے کرنے میں اس کو ذاتی محبت ہو اور کسی تصنع و نمائش و رِیَا کو اس میں دخل نہ ہو۔ یہ حالت مومن کی اس کے سچے اخلاص اور تعلق کو ظاہر کرتی ہے اور ایک سچا اور مضبوط رشتہ اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ پیدا کر دیتی ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ اُس کی زبان ہو جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے اور اس کے کان ہو جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے اور اس کے ہاتھ ہو جاتا ہے جس سے وہ کام کرتا ہے۔ الغرض ہر ایک فعل اُس کا اور ہر ایک حرکت وسکون اس کا اللہ ہی کا ہوتا ہے۔ اس وقت جو اس سے دشمنی کرتا ہے وہ خدا سے دشمنی کرتا ہے اور پھر فرماتا ہے کہ میں کسی بات میں اس قدر تردّد نہیں کرتا جس قدر کہ اس کی موت میں۔ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ مومن اور غیر مومن میں ہمیشہ فرق رکھ۲؎ دیا جاتا ہے۔ غلام کو چاہیے کہ ہر وقت رضاءِ الٰہی کو مانے اور ہر ایک رضا کے سامنے سر تسلیم خم کرنے میں دریغ نہ کرے۔ کون ہے جو عبودیت سے انکار کر کے خدا کو اپنا محکوم بنانا چاہتا ہے؟

تعلقات الٰہی ہمیشہ پاک بندوں سے ہوا کرتے ہیں جیسا کہ فرمایا ہے وَاِبۡرٰہِیۡمَ الَّذِیۡ وَفّٰۤی(النجم:۳۸) لوگوں پر جو احسان کرے ہرگز نہ جتلاوے۔ جو ابراہیم کے صفات رکھتا ہے ابراہیم بن سکتا ہے۔ ہر ایک گناہ بخشنے کے قابل ہے مگر اللہ تعالیٰ کے سوا اور کو معبود و کارساز جاننا ایک ناقابل عفو گناہ ہے اِنَّ الشِّرۡکَ لَظُلۡمٌ عَظِیۡمٌ(لقمان:۱۴) لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ(النساء:۴۹) یہاں شرک سے یہی مُراد نہیں کہ پتھروں وغیرہ کی پرستش کی جاوے بلکہ یہ ایک شرک ہے کہ اسباب کی پرستش کی جاوے اور معبودات۱؎ دنیا پر زور دیا جاوے اسی کا نام ہی شرک ہے اور معاصی کی مثال تو حُقہ کی سی ہے کہ اس کے چھوڑ دینے سے کوئی دقّت و مشکل کی بات نظر نہیں آتی مگر شرک کی مثال افیم کی ہے کہ وہ عادت ہو جاتی ہے جس کا چھوڑنا محال ہے۔ بعض کا یہ خیال بھی ہوگا کہ انقطاع الیٰ اللہ کر کے تباہ ہو جاویں؟ مگر یہ سراسر شیطانی وسوسہ ہے۔ اللہ کی راہ میں برباد ہونا آباد ہونا ہے۔ اس کی راہ میں مارا جانا زندہ ہونا ہے۔ کیا دنیا میں ایسی کم مثالیں اور نظیریں ہیں کہ جو لوگ اس کی راہ میں قتل کئے گئے ہلاک کئے گئے ان کے زندہ جاوید ہونے کا ثبوت ذرّہ ذرّہ زمین میں ملتا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہی دیکھ لو کہ سب سے زیادہ اللہ کی راہ میں برباد کیا اَور سب سے زیادہ دیا گیا۔ چنانچہ تاریخ اسلام میں پہلا خلیفہ حضرت ابو بکر ہی ہوا۔۲؎، ۳؎

۱۵ ؍جون ۱۹۰۳ء

(مجلس قبل از عشاء

بیویوں سے حُسنِ معاشرت

بارہا دیکھا گیا اور تجربہ کیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص خفیف عذرات پر عورت سے قطع تعلق کرنا چاہتا ہے تو یہ اَمر حضرت مسیح موعودؑ کے ملال کا موجب ہوتا ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص سفر میں تھا اور اس نے اپنی بیوی کو لکھا کہ اگر وہ بدیدن خط جلدی اس کی طرف روانہ نہ ہوگی تو اسے طلاق دے دی جاوے گی۔

سنا گیا ہے کہ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا تھا کہ

جو شخص اس قدر جلدی قطع تعلق کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو ہم کیسے اُمید کر سکتے ہیں کہ ہمارے ساتھ اس کا پکّا تعلق ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ اب چند دنوں سے پیش تھا کہ ایک صاحب نے اوّل بڑے چاہ سے ایک شریف لڑکی کے ساتھ نکاح ثانی کیا مگر بعد ازاں بہت سے خفیف عذر پر دس ماہ کے اندر ہی انہوں نے چاہا کہ اس سے قطع تعلق کر لیا جاوے اس پر حضرت اقدسؑ کو بہت سخت ملال ہوا اور فرمایا کہ

مجھے اس قدر غصہ ہے کہ میں اسے برداشت نہیں کر سکتا اور ہماری جماعت میں ہو کر پھر یہ ظالمانہ طریق اختیار کرنا سخت عیب کی بات ہے۔

چنانچہ دوسرے دن پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ وہ صاحب اپنی اس نئی یعنی دوسری بیوی کو علیحدہ مکان میں رکھیں جو کچھ زوجہ اوّل کو دیویں وہی اسے دیویں ایک شب اُدھر رہیں تو ایک شب اِدھر رہیں اور دوسری عورت کوئی لونڈی غلام نہیں ہے بلکہ بیوی ہے اسے زوجہ اوّل کا دستِ نگر کر کے نہ رکھا جاوے۔

ایسا ہی ایک واقعہ اس سے پیشتر کئی سال ہوئے گزر چکا ہے کہ ایک صاحب نے حصولِ اولاد کی نیت سے نکاح ثانی کیا اور بعد نکاح رقابت کے خیال سے زوجہ اوّل کو جو صدمہ ہوا اور نیز خانگی تنازعات نے ترقی پکڑی تو انہوں نے گھبرا کر زوجہ ثانی کو طلاق دے دی۔ اس پر حضرت اقدس نے ناراضگی ظاہر فرمائی۔

چنانچہ اور خاوند نے پھر اس زوجہ کی طرف میلان کر کے اسے اپنے نکاح میں لیا اور وہ بیپاری بفضل خدا اس دن سے اب تک اپنے گھر میں آباد ہے۔ گرمی کا موسم اور اشتیاق زیارت اور کلام کے سننے میں احباب کے مِل مِل کر بیٹھنے پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ

خدا تعالیٰ مکان کو وسیع کر دیوے تو یہ شکایت رفع ہو۔ ہر ایک شخص تقاضائے محبت سے آگے آتا ہے اور جگہ ہوتی نہیں۔

البدرجلد۲نمبر۲۳مورخہ۲۶؍جون۱۹۰۳ء صفحہ۱۷۸ عبودیت کا سِرّاور استغفار

چند ایک احباب نے بیعت کی۔ اس پر حضرت اقدس نے ان کو نصیحت فرمائی کہ خدا کا منشا ہے کہ انسان توبہ نصوح کرے اور دعا کرے کہ اس سے گناہ سرزد نہ ہو۔ نہ آخرت میں رسوا ہو نہ دنیا میں۔

جب تک انسان سمجھ کر بات نہ کرے اور تذلّل اس میں نہ ہو تو خدا تک وہ بات نہیں پہنچتی۔ صوفیوں نے لکھا ہے کہ اگر چالیس دن گزر جاویں اور خدا کی راہ میں رونا نہ آوے تو دل سخت ہو جاتا ہے تو سختی قلب کا کفّارہ یہی ہے کہ انسان رو دے۔ اس کے لیے محرکات ہوتے ہیں انسان نظر ڈال کر دیکھے کہ اس نے کیا بنایا ہے اور اس کی عمر کا کیا حال ہے۔ دیگر گذشتگان پر نظر ڈالے پھر انسان کا دل لرزاں وترساں ہوتا ہے۔

جو شخص دعویٰ سے کہتا ہے کہ میں گناہ سے بچتا ہوں وہ جھوٹا ہے جہاں شیرینی ہوتی ہے وہاں چیونٹیاں ضرور آتی ہیں اسی طرح نفس کے تقاضے تو ساتھ لگے ہی ہیں ان سے نجات کیا ہوسکتی ہے؟ خدا کے فضل اور رحمت کا ہاتھ نہ ہو تو انسان گناہ سے نہیں بچ سکتا نہ کوئی نبی نہ ولی اور نہ ان کے لیے یہ فخر کا مقام ہے کہ ہم سے گناہ صادر نہیں ہوتا بلکہ وہ ہمیشہ خدا کا فضل مانگتے تھے اور نبیوں کے استغفار کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ خدا کے فضل کا ہاتھ ان پر رہے ورنہ اگر انسان اپنے نفس پر چھوڑا جاوے تو وہ ہرگز معصوم اور محفوظ نہیں ہوسکتا اَللّٰھُمَّ بَاعِدْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ خَطَایَایَ اور دوسری دعائیں بھی استغفار کے اس مطلب کو بتلاتی ہیں۔ عبودیت کا سِرّ یہی ہے کہ انسان خدا کی پناہ کے نیچے اپنے آپ کو خدا کی پناہ نہیں چاہتا ہے وہ مغرور اور متکبر ہے۔۱؎

۱۸؍جون ۱۹۰۳ء

(بوقتِ ظہر) ہ ۲۶؍ جون ۱۹۰۳ء ۱۷۸،۱۷۹ ہ مارے مخدوم مولانا عبدالکریم صاحب جو کہ عرصہ قریب پانچ سال سے حضرت اقدس کے مبارک قدموں میں جاگزیں ہیں ان کو ایک شادی کی تقریب پر شمولیت کے واسطے ایک دو احباب سیالکوٹ سے تشریف لائے تھے مگر خدا تعالیٰ نے جو عشق اور محبت مولوی صاحب کو حضرت اقدسؑ کے ساتھ عطا کیا ہے وہ ایک پل کے واسطے بھی ان مبارک قدموں سے جدائی کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اس کا اثر یہ ہے کہ جب کوئی احمدی بھائی قادیان آ کر پھر رخصت طلب کرتے ہیں تو مولوی صاحب کی ان کو یہی نصیحت ہوتی ہے کہ اس مقام کو اتنی جلدی نہ چھوڑو۔ دیکھو تمہارے اوقات دنیوی کاروبار میں کس قدر گذرتے ہیں اگر اس کا ایک عشرِ عشیر بھی تم دین کے واسطے یہاں گذارو تو تم کو پتا لگے اور آنکھ کھلے کہ یہاں کیا ہے جو ہمیں ایک پل کے واسطے علیحدہ نہیں ہونے دیتا غرضیکہ مولوی صاحب موصوف نے سیالکوٹ جانے سے انکار کیا اور وہی بات اس وقت حضرت اقدس کے سامنے پیش ہوئی۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ

قادیان دارالامان

اس مقام کو خدا تعالیٰ نے امن والا بنایا ہے اور متواتر کشوف والہامات سے ظاہر ہوا ہے کہ جو اس کے اندر داخل ہوتا ہے وہ امن میں ہوتا ہے۔ تو اب ان ایام میں جبکہ ہر طرف ہلاکت کی ہوا چل رہی ہے اور گو کہ طاعون کا زور اب کم ہے مگر سیالکوٹ ابھی تک مطلق اس سے خالی نہیں ہے۔ اس لیے اس جگہ کو چھوڑ کر وہاں جانا خلافِ مصلحت ہے۔ آخر کار تجویز یہ قرار پائی کہ جن صاحب کی شادی ہے وہ اور لڑکی کی طرف سے اس کا ولی ایک شخص وکیل ہو کر یہاں قادیان میں آ جاویں اور یہاں نکاح ہو۔ حضرت صاحب کی دعا بھی ہو گی اور خود مولوی عبدالکریم صاحب کیا بلکہ حضرت اقدسؑ بھی اس تقریب سے نکاح میں شامل ہو جاویں گے۔ کیا اچھا ہو کہ کل احمدی احباب اس تجویز پر عملدرآمد کریں اور جب کبھی کسی کا نکاح ہونا ہو اور خدا تعالیٰ نے ان کو استطاعت دی ہو کہ سفر خرچ برداشت کر کے یہاں پہنچ سکیں تو وہ نکاح یہاں قادیان ہی میں ہوا کرے۔

البدر ج لد ۲نمبر۲۴ مورخہ ۳؍جولائی ۱۹۰۳ءصفحہ۱۸۵ ج س لڑکے کے رشتہ کی یہ تقریب تھی اس کا رشتہ اوّل ایک ایسی جگہ ہوا ہوا تھا جو کہ حضرت کی بیعت میں نہیں تھے اور جب یہ رشتہ قائم ہوا تھا تو اس وقت لڑکا بھی شاملِ بیعت نہ تھا جب لڑکے نے بیعت کی تو لڑکی والوں نے اس لیے لڑکی دینے سے انکار کر دیا کہ لڑکا مرزائی ہے۔

اس ذکر پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ اوّل اوّل یہ لوگ ایک دوسرے کو کافر کہتے تھے سنّی وہابیوں کی اور وہابی سنّی کی تکفیر کرتا تھا مگر اب اس وقت سب نے موافقت کر لی ہے اور سارا کفر اکٹھا کر کے گویا ہم پر ڈال دیا ہے۔۱؎

۱۹؍جون ۱۹۰۳ء

ریل کی پیشگوئی قرآن شریف میں

جمعہ کی نماز سے پیشتر تھوڑی دیر حضرت اقدس نے مجلس کی۔ ریل وغیرہ کی ایجاد سے جو فوائد بنی نوع انسان کو پہنچے ہیں ان کا ذکر ہوتا رہا۔ اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ انسانی صنعتوں کا انحصار خدا تعالیٰ کے فضل پر ہے۔ ریل کے واسطے قرآن شریف میں دو اشارے ہیں۔

اوّل۔ النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ(التکویر:۸)

دوم۔ الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ(التکویر:۵)

عشار حمل دار اونٹنی کو کہتے ہیں۔ حمل کا ذکر اس لیے کیا تا کہ معلوم ہو جاوے کہ یہ قیامت کا ذکر نہیں ہے۔ صرف قرینہ کے واسطے یہ لفظ لکھا ہے ورنہ ضرورت نہ تھی۔ اگر پیشگوئیوں کا صدق اس دنیا میں نہ کھلے تو پھر اس کا فائدہ کیا ہو سکتا ہے اور ایمان کو کیا ترقی ہو؟ بیوقوف لوگ ہر ایک پیشگوئی کو صرف قیامت پر لگاتے ہیں اور جب پوچھو تو کہتے ہیں کہ اس دنیا کی نسبت کوئی پیشگوئی قرآن شریف میں نہیں ہے۔۱؎


۲۵؍جون ۱۹۰۳ء

ربوبیتِ تامہ

رات کو بعد از نماز عشاء چند مستورات نے بیعت کی۔ حضرت اقدس نے ان کو ایک جامع وعظ فرمایا۔ جس قدر حصہ اس کا قلمبند ہوا وہ ہدیہ ناظرین ہے۔

اس سے مطلب یہ ہے کہ قدم قدم پر خدا تعالیٰ کی پرورش ضرور ہوتی ہے۔ دیکھو بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو کس طرح خدا تعالیٰ اس کے ناک، کان وغیرہ غرض اس کے سب اعضا بناتا ہے اور اس کے دو ملازم مقرر کرتا ہے کہ وہ اس کی خدمت کریں۔ والدین بھی جو مہربانی کرتے ہیں اور پرورش کرتے ہیں وہ سب پرورشیں بھی خدا تعالیٰ کی پرورشیں ہوتی ہیں۔

بعض لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سوا اَوروں پر بھروسہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں اگر فلاں نہ ہوتا تو میں ہلاک ہو جاتا۔ میرے ساتھ فلاں نے احسان کیا۔ وہ نہیں جانتا کہ یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الۡفَلَقِ(الفلق:۲) میں اس خدا تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں جس کی تمام پرورشیں ہیں۔

رَبّ یعنی پرورش کنندہ وہی ہے اس کے سوا کسی کا رحم اور کسی کی پرورش نہیں ہوتی حتی کہ جو ماں باپ بچے پر رحمت کرتے ہیں دراصل وہ بھی اسی خدا کی پرورشیں ہیں اور بادشاہ جو رعایا پر انصاف کرتا ہے اور اس کی پرورش کرتا ہے وہ سب بھی اصل میں خدا تعالیٰ کی مہربانی ہے۔

ان تمام باتوں سے اللہ تعالیٰ یہ سکھلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برابر کوئی نہیں سب کی پرورشیں اسی کی ہی پرورشیں ہوتی ہیں بعض لوگ بادشاہوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں نہ ہوتا تو میں تباہ ہو جاتا اور میرا فلاں کام فلاں بادشاہ نے کر دیا وغیرہ وغیرہ یاد رکھو ایسا کہنے والے کافر ہوتے ہیں انسان کو چاہیے کہ کافر نہ بنے مومن بنے اور مومن نہیں ہوتا جب تک کہ دل سے ایمان نہ رکھے کہ سب پرورشیں اور رحمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ انسان کو اس کا دوست ذرّہ بھی فائدہ نہیں دے سکتا جب تک کہ خدا تعالیٰ کا رحم نہ ہو۔ اسی طرح بچے اور تمام رشتہ داروں کا حال ہے اللہ تعالیٰ کا رحم ہونا ضروری ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دراصل میں ہی تمہاری پرورش کرتا ہوں جب خدا تعالیٰ کی پرورش نہ ہو تو کوئی پرورش نہیں کر سکتا دیکھو جب خدا تعالیٰ کسی کو بیمار ڈال دیتا ہے تو بعض دفعہ طبیب کتنا ہی زور لگاتے ہیں مگر وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ طاعون کے مرض کی طرف غور کرو سب ڈاکٹر زور لگا چکے مگر یہ مرض دفع نہ ہوا۔ اصل یہ ہے کہ سب بھلائیاں اسی کی طرف سے ہیں اور وہی ہے کہ جو تمام بدیوں کو دور کرتا ہے۔

پھر فرماتا ہے اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(الفاتحۃ:۲) سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور تمام پرورشیں تمام جہان پر اسی کی ہیں۔

الرحمٰن وہی ہے جس کی رحمتیں بے بدلہ ہیں مثلاً انسان کا کیا عذر تھا اگر اللہ تعالیٰ اسے کتّا بنا دیتا تو کیا یہ کہہ سکتا تھا کہ اے اللہ تعالیٰ میرا فلاں عمل نیک تھا اس کا بدلہ تو نے نہیں دیا۔

الرحیم اس کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نیک عمل کے بدلہ نیک نتیجہ دیتا ہے جیسا کہ نماز پڑھنے والا روزہ رکھنے والا صدقہ دینے والا دنیا میں بھی رحم پاوے گا اور آخرت میں بھی چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ(التوبۃ:۱۲۰) اور دوسری جگہ فرماتا ہے یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ وَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ(الزلزال:۸، ۹) یعنی اللہ تعالیٰ کسی کے اجر کو ضائع نہیں کرتا جو کوئی ذرّہ سی بھی بھلائی کرتا ہے وہ اس کا بدلہ پالیتا ہے۔

ایک یہودی نے کسی شخص کو کہا کہ میں تجھے جادو سکھلا دوں گا شرط یہ ہے کہ تو کوئی بھلائی نہ کرے جب دنوں کی تعداد پوری ہو گئی اور جادو نہ سیکھ سکا تو یہودی نے کہا کہ تو نے ان دنوں میں ضرور کوئی بھلائی کی ہے۔ جس کی وجہ سے تو نے جادو نہیں سیکھا اس نے کہا کہ میں نے کوئی اچھا کام نہیں کیا سوائے اس کے کہ راستہ میں سے کانٹا اٹھایا اس نے کہا بس یہی تو ہے۔ جس کی وجہ سے تو جادو نہ سیکھ سکا۔ تب وہ بولا پھر خدا تعالیٰ کی بڑی مہربانیاں ہیں کہ اس نے ذرّہ سی نیکی کے بدلہ بڑے بھاری گناہ سے بچا لیا۔

اور ہمیں اس خدا تعالیٰ کی ہی پرستش کرنی چاہیے جو کہ ذرّہ سے کام کا بھی اجر دیتا ہے۔ خدا وہ ہے کہ انسان اگر کسی کو پانی کا گھونٹ بھی دیتا ہے تو وہ اس کا بدلہ دیتا ہے دیکھو ایک عورت جنگل میں جا رہی تھی رستہ میں اس نے ایک پیاسے کتے کو دیکھا اس نے اپنے بالوں سے رسّہ بنا کر کھوہ (کنوئیں) سے پانی کھینچ کر اس کتّے کو پلایا جس پر رسول کریم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے عمل کو قبول کر لیا ہے وہ اس کے تمام گناہ بخش دے گا اگرچہ وہ تمام عمر فاسقہ رہی ہے۔

ایک اور قصہ بیان کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ تین آدمی پہاڑ پر پھنس گئے تھے وہ اس طرح کہ انہوں نے پہاڑ کی غار میں ٹھکانا لیا تھا جبکہ ایک پتھر سامنے سے آ گرا اور رستہ بند کر لیا تب ان تینوں نے کہا کہ اب تو نیک کام ہی بچائیں گے چنانچہ ایک نے کہا کہ ایک دفعہ میں نے مزدور لگائے تھے مزدوری کے وقت ان میں سے ایک مزدور کہیں چلا گیا میں نے بہت ڈھونڈا آخر نہ ملا پھر میں نے اس کی مزدوری سے کوئی بکری خریدی اور اس طرح چند سال تک ایک بڑا گلہ ہو گیا پھر وہ آیا اس نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ آپ کی مزدوری کی تھی اگر آپ دیں تو عین مہربانی ہوگی میں نے اس کا تمام مال اس کے سپرد کر دیا اے اللہ اگر تجھے میرا یہ نیک عمل پسند ہے تو میری مشکل آسان کر اتنے میں تھوڑا پتھر اونچا ہو گیا۔

پھر دوسرے نے اپنا قصہ بیان کیا۱؎ اور پھر بولا کہ اے اللہ اگر میری یہ نیکی تجھے پسند ہے تو میری مشکل آسان کر پھر پتھر ذرا اور اونچا ہو گیا۔

پھر تیسرے نے کہا کہ میری ماں بوڑھی تھی ایک رات کو اس نے پانی طلب کیا میں جب پانی لایا تو وہ سو چکی تھی میں نے اس کو نہ اٹھایا کہ کہیں اس کو تکلیف نہ ہو اور وہ پانی لیے تمام رات کھڑا رہا۔ صبح اُٹھی تو اسے دے دیا۔ اے اللہ اگر تجھے میری یہ نیکی پسند ہے تو مشکل کو دور کر پھر اس قدر پتھر اونچا ہو گیا کہ وہ سب نکل گئے اس طرح پر اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو نیکی کا بدلہ دیا۔۱؎

۲۶؍جون ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام) فرمایا۔۲؎

ایمان کے ساتھ عمل ضروری ہے

اسلام کا دعویٰ کرنا اور میرے ہاتھ پر بیعت توبہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ کیونکہ جب تک ایمان کے ساتھ عمل نہ ہو کچھ نہیں۔ منہ سے دعویٰ کرنا اور عمل سے اس کا ثبوت نہ دینا خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑکانا ہے اور اس آیت کا مصداق ہو جانا ہے یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ کَبُرَ مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰہِ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ(الصّف:۳، ۴) یعنی اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو تم نہیں کرتے ہو۔ یہ امر کہ تم وہ باتیں کہو جن پر تم عمل نہیں کرتے خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑے غضب کا موجب ہیں۔ پس وہ انسان جس کو اسلام کا دعویٰ ہے یا جو میرے ہاتھ پر توبہ کرتا ہے اگر وہ اپنے آپ کو اس دعویٰ کے موافق نہیں بناتا اور اس کے اندر کھوٹ رہتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے بڑے غضب کے نیچے آجاتا ہے اس سے بچنا لازم ہے۔

فرمایا۔۳؎

اَمرِشرعی اور اَمرِکونی

اوامر کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک اَمرِ شرعی ہوتا ہے جس کے بر خلاف انسان کرسکتا ہے۔ دوسرے اوامر کونی ہوتے ہیں جس کا خلاف ہو ہی نہیں سکتا۔ جیسا کہ فرمایا قُلۡنَا یٰنَارُ کُوۡنِیۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ(الانبیآء:۷۰) اس میں کوئی خلاف نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ آگ اس حکم کے خلاف ہرگز نہ کرسکتی تھی۔۱؎

انسان کو جو حکم اللہ تعالیٰ نے شریعت کے رنگ میں دیئے ہیں جیسے اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ(البقرۃ:۴۴) نماز کو قائم رکھو۔ یا فرمایا اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوۃِ(البقرۃ:۴۶) ان پر جب وہ ایک عرصہ تک قائم رہتا ہے تو یہ احکام بھی شرعی رنگ سے نکل کر کونی رنگ اختیار کر لیتے ہیں اور پھر وہ ان احکام کی خلاف ورزی کر ہی نہیں سکتا۔۲؎،۳؎


۲۸؍جون ۱۹۰۳ء

(مجلس قبل از عشاء)

کیا آدم کے وقت دوسرے انسان موجود تھے

ایک صاحب نے سوال کیا کہ آدم علیہ السلام جو خلیفہ بن کر آئے تو اس وقت کون سی قوم موجود تھی جس کے وہ خلیفہ تھے؟ اور اگر کوئی قوم موجود تھی تو پھر حوّا ان کی زوجہ کی نئی پیدائش کی ضرورت نہ تھی۔ اسی موجودہ قوم میں سے وہ نکاح کر سکتے تھے۔ اس پر حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہحدیث شریف میں ہے کہ بہت سے پیچ در پیچ جو امور غیر مفید ہوں ان کو انسان ترک کر دیوے۔۴؎

اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیۡفَۃً(البقرۃ:۳۱) سے استنباط ایسا ہو سکتا ہے کہ پہلے سے اس وقت کوئی قوم موجود ہو اور دوسری جگہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَالۡجَآنَّ خَلَقۡنٰہُ مِنۡ قَبۡلُ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ(الحجر:۲۸) ایک قوم جان بھی آدم سے پہلے موجود تھی۔ بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ سے خالق ہے اور یہی حق ہے کیونکہ اگر خدا کو ہمیشہ سے خالق نہ مانیں تو اس کی ذات پر (نعوذ باللہ) حرف آتا ہے اور ماننا پڑے گا کہ آدمؑ سے پیشتر خدا تعالیٰ معطّل تھا لیکن چونکہ قرآن شریف خدا تعالیٰ کی صفات کو قدیمی بیان کرتا ہے اسی لیے اس حدیث کا مضمون راست ہے۔ قرآن میں جو کوئی ترکیب ہے وہ ان صفات کے استمرار پر دلالت کرتی ہیں،۱؎ لیکن اگر آدمؑ سے ابتدائے خلق ہوتی اور اس سے پیشتر نہ ہوتی تو پھر یہ نحوی ترکیب قرآن میں نہ ہوتی۔۲؎

باقی رہی لڑکیوں کی بات کہ ان کے موجود ہوتے حوّا کی پیدائش کی کیا ضرورت ہے؟ تو اس طرح سمجھنا چاہیے کہ ممکن ہے کہ جس مقام پر آدم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی ہو وہاں کے لوگ کسی عذاب الٰہی سے ایسے تباہ ہو گئے ہوں کہ آدمی نہ بچا ہو۔۳؎ دنیا میں یہ سلسلہ جاری ہے کہ کوئی مقام بالکل تباہ ہو جاتا ہے۔ کوئی غیر آباد آباد ہو جاتا ہے کوئی برباد شدہ پھر ازسر نو آباد ہوتا ہے۔ چنانچہ دیکھ لو کہ ابھی تک یورپ والے ٹکریں مار رہے ہیں کہ شاید قطب شمالی میں کوئی آبادی ہو اور تلاش کر کر کے معلوم کر رہے ہیں کہ کون سے قطعاتِ زمین اوّل آباد تھے اور پھر تباہ ہو گئے۔ پس ایسی صورت میں ان مشکلات میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے؟ ایمان لانا چاہیے کہ خدا تعالیٰ ربّ، رحمٰن، رحیم، مالک یوم الدین ہے اور ہمیشہ سے ہی ہے۔ جاندار ایک تو تکوّن سے پیدا ہوتے ہیں اور ایک تکوین سے۔ ممکن ہے کہ آدم کی پیدائش کے وقت اور مخلوقات ہو اور اس کی جنس سے نہ ہو یا اگر ہو بھی تو اس میں کیا حرج ہے کہ قدرت نمائی کے لیے خدا تعالیٰ نے حوّا کو بھی ان کی پسلی سے پیدا کر دیا۔

جب انسان بیعت کرتا ہے تو سب اَمرو نہی اسے ماننے چاہئیں اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان چاہیے۔ خدا تعالیٰ ہر طرح پر قادر ہے۔ ممکن ہے کہ ایک قوم موجود ہو اور اس کے ہوتے وہ اور قوم پیدا کر دیوے یا ایک قوم کو ہلاک کر کے اور پیدا کر دے۔ موسیٰؑ کے قصہ میں بھی ایک جگہ ایسا واقعہ بیان ہوا ہے آدمؑ کے وقت بھی خدا سابقہ قوموں کو ہلاک کر چکا تھا۔ پھر جب آدمؑ کو پیدا کیا تو اور قوم بھی پیدا کر دی۔

خلیفہ کے لیے ضروری نہیں ہے کہ ایک قوم ضرور پہلے سے موجود ہو۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک اور قوم کو پیدا کر کے پہلی قوم کا خلیفہ اسے قرار دیا جاوے اور آدم اس کے مورثِ اعلیٰ ہوں کیونکہ خدا کی ذات ازلی ابدی ہے اس پر تغیر نہیں آتا۔ مگر انسان ازلی ابدی نہیں ہے اس پر تغیر آتا ہے میرے الہام میں بھی مجھے آدم کہا گیا ہے۔

جب روحانیت پر موت آجاتی ہے یعنی اصل انسانیت فوت ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ بطور آدم کے ایک اور کو پیدا کرتا ہے اور اس طرح سے ہمیشہ سے آدم پیدا ہوتے رہتے ہیں اگر قدیم سے یہ سلسلہ ایسا نہ ہو تو پھر ماننا پڑے گا کہ ۵ یا ۶ ہزار برس سے خدا ہے قدیم سے نہیں ہے یا یہ کہ اوّل وہ معطّل تھا۔ یہ خدا کی عادت ہے کہ بعض قرون کو ہلاک کرتا ہے۔ دیکھو نوحؑ کے وقت ایک زمانہ کو ہلاک کر دیا۔ اس لیے ممکن ہے ممکن کیا بلکہ یقین ہے کہ نوحؑ کی طرح اس وقت سابقہ قوموں کو ہلاک کر دیا اور پھر ایک نئی پیدائش کی۔ اگر یہ ہلاکت کا سلسلہ نہ ہو تو پھر زمین پر اس قدر آبادی ہو کہ رہنا محال ہو جاوے۔ یہ قبریں ہی ہیں جنہوں نے یہ پردہ پوشی کی ہے۔۱؎،۲؎

۳۰؍جون ۱۹۰۳ء

(مجلس قبل از عشاء)

بیعت کے بنیادی لوازم

چند ایک نَو وارد احباب نے بیعت کی ۔ ان میں سے چند ایک نے عرض کی کہ حضرت جی۔ ہم قرآن پڑھے ہوئے نہیں ہیں فرمایا کہ موٹے موٹے گناہوں کو تو جانتے ہو ان سے بچو۔ چوری نہ کرو، زنا نہ کرو، ظلم نہ کرو، کسی کا مال یا زمین نہ دباؤ، جھوٹ مت بولو، شرک مت کرو۔

حدیث شریف سے ثابت ہے کہ اَکْثَرُ أَہْلِ الْجَنَّۃِ بُلْہٌ کہ جنّت میں جانے والے سادے ہوتے ہیں۔ جو بہت پڑھے ہوئے ہیں اور عمل نہیں کرتے ان کی سخت مذمت کی گئی ہے اور ان پر خدا نے لعنت بھی کی تھی۔ غریب لوگ پانصد برس پیشتر بہشت میں داخل ہوں گے۔ غریبی خوش قسمتی ہے۔ خدا کو پہچانو کہ جس کی طرف تم نے جانا ہے اور شرک سے پر ہیز کرو۔ اسباب پر بھروسہ کرنے سے بچو کہ یہ بھی ایک شرک ہے۔ جو آدمی چالاکی سے گناہ کرتا ہے اور باز نہیں آتا تو آخر خدا کا قہر ایک دن اسے ہلاک کرتا ہے اللّٰہُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰہَ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ اَلۡمَلِکُ الۡقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ(الحشر:۲۳ تا ۲۴) کے معنے یہی ہیں کہ خدا کے سوا اور کسی کی پوجا نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔

اپنی عورتوں کو نصیحتیں کرو، رشوتیں نہ لو نہ دو، تکبر، گھمنڈ، غرور ان سب باتوں سے بچو، خدا کے غریب اور عاجز بندے بن جاؤ۔

صبر اور عفو

ایک نے سوال کیا کہ اگر کوئی دشمن نقصان دیوے تو پھر بدلہ لیویں کہ نہ؟ فرمایا کہ صبر کرو کہ یہ وقت صبر کا ہے۔ جو صبر کرتا ہے خدا اسے بڑھاتا ہے۔ انتقام کی مثال شراب کی طرح ہے کہ جب تھوڑی تھوڑی پینے لگتا ہے تو بڑھتی جاتی ہے حتیٰ کہ پھر وہ اسے چھوڑ نہیں سکتا اور حد سے بڑھتا ہے اسی طرح انتقام لیتے لیتے انسان ظلم کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔

ایسی مجلس سے اُٹھ جانا چاہیے جہاں بُرا کہا جاتا ہو

سوال ہوا کہ اگر آپ کو کوئی بُرا کہے تو ہم کیسے صبر کر سکتے ہیں؟ فرمایا کہ جوش کے وقت اپنے آپ کو سنبھالنا چاہیے۔ دُکھ تو ہوتا ہے مگر انسان ثواب پاتا ہے۔ اگر کوئی ہمیں بُرا کہتا ہو تو وہاں سے اُٹھ گئے یا الگ ہو گئے۔ نہ سنا کہ جس سے جوش آوے اور فساد ہووے۔

فساد سے بچنا چاہیے

سوال ہوا کہ مسجد میں نماز نہیں پڑھنے دیتے اور اس مسجد میں ہمارا حصہ ہے۔ فرمایا کہ سفید زمین پر ایک حد کر لی وہی مسجد ہو جاتی ہے مگر فساد اچھا نہیں۔ اگر تم دشمن سے بدلہ نہ لو اور اسے خدا کے حوالہ کر دو تو وہ خود نپٹ لیوے گا۔ دیکھو ایک بچہ کے دشمن کا مقابلہ ماں باپ کیا کرتے ہیں۔ اسی طرح جو خدا کے دروازہ پر گرتا ہے تو خدا خود اس کی رعایت کرتا ہے اور اسے ضرر دینے والے کو تباہ کر دیتا ہے۔۱؎

یکم جولائی ۱۹۰۳ء

(دربار شام)

ایک فقہی مسئلہ

ایک لڑکی کے دو بھائی تھے اور ایک والدہ۔ ایک بھائی اور والدہ ایک لڑکے کے ساتھ اس لڑکی کے نکاح کے لیے راضی تھے۔ مگر ایک بھائی مخالف تھا۔ وہ اور جگہ رشتہ پسند کرتا تھا اور لڑکی بھی بالغ تھی۔ اس کی نسبت مسئلہ دریافت کیا گیا کہ اس لڑکی کا نکاح کہاں کیا جاوے۔ حضرت اقدسؑ نے دریافت کیا کہ وہ لڑکی کس بھائی کی رائے سے اتفاق کرتی ہے؟ جواب دیا گیا کہ اپنے اس بھائی کے ساتھ جس کے ساتھ والدہ بھی متفق ہے۔ فرمایا کہ پھر وہاں ہی اس کا رشتہ ہو جہاں لڑکی اور اس کا بھائی دونوں متفق ہیں۔

آنحضرتؐ کا ابولہب کے لڑکوں سے رشتہ کرنا

پھر نکاحوں پر ذکر چل پڑا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لڑکیوں کے رشتے ابولہب سے۱؎ کر دیئے تھے حالانکہ وہ مشرک تھا مگر اس وقت تک نکاح کے متعلق وحی کا نزول نہ ہوا تھا۔ چونکہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر توحید غالب تھی اس لیے دخل نہ دیتے تھے اور قومیت کے لحاظ سے بعض امور کو سر انجام دیتے اس لیے ابولہب کو لڑکی دے دی تھی۔

رسول کو علمِ غیب نہیں ہوتا

رسول عالم الغیب ہوتا ہے کہ نہیں؟ اس پر فرمایا کہ

اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب ہوتا تو آپ زینب کا نکاح زید سے نہ کرتے کیونکہ بعد کو جُدائی نہ ہوتی اور اسی طرح ابولہب سے بھی رشتہ نہ کرتے۔

مسیح موعودعلیہ السلام کا مقامِِ ماموریت

میں ایک مرد ہوں کہ خدا میرے ساتھ گفتگو کرتا ہے اور اپنے خاص خزانہ سے مجھے تعلیم دیتا ہے اور اپنے ادب سے میری تادیب فرماتا ہے۔ وہ اپنی مجھ پر وحی بھیجتا ہے میں اس کی وحی کی پیروی کرتا ہوں۔ ایسی صورت میں مجھے کون سی ایسی ضرورت ہے کہ میں اس کی راہ کو ترک کر کے دوسری متفرق راہیں اختیار کروں؟ جو کچھ آج تک میں نے کہا ہے اسی کے امر سے کہا ہے اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں ملایا۔ اور نہ اپنے خدا پر میں نے کوئی افترا باندھا ہے۔ مفتری کا انجام ہلاکت ہے پس اس کاروبار پر تعجب کرنے کا کون سا مقام ہے اس قادرِ مطلق خدا کے کاروبار پر تعجب نہ کرو کیونکہ اس نے تو زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ وہ جو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے اور کسی کو مجال نہیں کہ اس سے پوچھے کہ یہ کیا کیا۔

میرے پاس خدا تعالیٰ کی بہت سی شہادتیں ہیں۔ اس نے میرے لیے بڑے بڑے نشان دکھلائے ہیں اور اس کی وحی کردہ غیبی خبروں میں جو اس نے مجھے دیں ایسے ایسے راز ہیں کہ انسان کی عقل کو ان تک رسائی نہیں ہے پس اس لیے چاہیے کہ طاعون کے بارے میں ہمارے ساتھ جھگڑا نہ کریں اور اس شخص کی طرح نہ ہوویں جس کے دل کو خدا نے غافل کر دیا اور اس نے اپنے اسباب کو اپنا خدا قرار دے لیا۔ (کیا ان کو اس بات کی خبر نہیں ہے) کہ ہر ایک سبب کا انتہا آخر کار ہمارے خدا تک ہی ہے اور تھوڑی دور تک چل کر اسباب کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے اور صرف اَمرِ خالص کا مرتبہ رہ جاتا ہے کہ جسے کسی طرح ہم سبب کی طرف منسوب نہیں کر سکتے اور صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہی باقی رہ جاتی ہے اور اسباب بالکل منقطع ہو جاتا ہے۔ اسباب تو صرف چند قدموں تک ساتھ دیتا ہے اس کے بعد خدا تعالیٰ کی غیر مدرک اور غیر مرئی خالص قدرت ہوتی ہے یہ ایک ایسا پوشیدہ خزانہ ہے کہ جس کی حد اور انتہا ہی نہیں ہے اور ایسا دریا ہے کہ جس کا کوئی کنارہ نہیں ہے اور ایک ایسا دشت ہے کہ جو طے ہونے میں نہیں آتا۔ یہ کہنا کہ قدرت خالص اللہ تعالیٰ کی بے کار ہو جاتی ہے اور صرف اسباب رہ جاتے ہیں بڑی بے انصافی ہے۔ کیا تم کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ خدا نے آدمؑ اور عیسیٰؑ کو کیسے پیدا کیا تھا؟ اور موسیٰؑ کے لیے کس طرح دریا کو شگاف کیا کہ جس سے موسیٰؑ تو دریا سے سلامت گزر گئے اور فرعون غرق ہو گیا اب تم ہی جواب دو کہ وہ کون سی کشتی تھی جس پر بیٹھ کر موسیٰؑ دریا سے گزرے۔

خدا تعالیٰ نے اس قصہ کو قرآن کریم میں بے فائدہ نہیں ذکر کیا ہے بلکہ اس میں بڑے بڑے معارف اور حقائق ہیں تاکہ تم کو اس بات کا علم ہو کہ اس پاک ذات اللہ تعالیٰ کی قدرت اسباب میں مقیّد نہیں ہے اور تمہارے ایمان ترقی کریں۔ آنکھیں کھلیں اور شکوک و شبہات رفع ہوں اور تم کو یہ شناخت حاصل ہو کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے کہ اس پر کسی قسم کا کوئی دروازہ مسدود نہیں ہے۔ اس کی قدرتوں کی کوئی انتہا نہیں ہے جو شخص اس کی وسعتِ قدرت سے منکر ہو کر اسباب کے احاطہ میں اسے مقید کرتا ہے تو سمجھو کہ صدق کے مقام سے وہ گر پڑا پس اگر کوئی شخص حکم خداوندی سے اسباب کو ترک کرتا ہے تم اسے بُرا مت کہو اور خدا تعالیٰ کے قانون کو ایک تنگ و تاریک دائرہ میں محدود مت کرو۔۱؎

۴؍جولائی ۱۹۰۳ء

(مجلس قبل از عشاء)

تعویذاور دَم

ایک شخص نے مسئلہ استفسار کیا کہ تعویذ کا بازو وغیرہ مقامات پر باندھنا اور دم وغیرہ کرنا جائز ہے کہ نہیں؟ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جناب مولانا حکیم نورالدین صاحب کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ احادیث میں کہیں اس کا ثبوت ملتا ہے کہ نہیں؟ حکیم صاحب نے عرض کی کہ لکھا ہے کہ خالد بن ولید جب کبھی جنگوں میں جاتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک جو کہ آپ کی پگڑی میں بندھے ہوتے آگے کی طرف لڑکا لیتے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف۱؎ایک دفعہ صبح کے وقت سارا سر منڈوایا تھا تو آپ نے نصف سر کے بال ایک خاص شخص کو دے دیئے اور نصف سر کے بال باقی اصحاب میں بانٹ دیئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جبہ مبارک کو دھو دھو کر مریضوں کو بھی پلاتے تھے۲؎اور مریض اس سے شفایاب ہوتے تھے۔ ایک عورت نے ایک دفعہ آپ کا پسینہ بھی جمع کیا یہ تمام اذکار سن کر حضرت اقدس نے فرمایا کہ پھر اس سے نتیجہ یہ نکلا کہ بہرحال اس میں کچھ بات ضرور ہے جو خالی از فائدہ نہیں ہے اور تعویذ وغیرہ کی اصل بھی اس سے نکلتی ہے۔ بال لٹکائے تو کیا اور تعویذ باندھا تو کیا میرے الہام میں جو ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ آخر کچھ تو ہے تبھی وہ برکت ڈھونڈیں گے مگر ان تمام باتوں میں تقاضائے محبت کا بھی دخل ہے۔

عظیم الشان انسانوں کے صغائر پر نظر کرنے کا ذکر ہوا۔

فرمایا کہ صدق ووفا میں جو عظیم الشان انسان ہوتے ہیں ان کے صغائر کا ذکر کرنے سے سلبِ ایمان ہو جاتا ہے۔ خدا تو ان صغائر کو عفو کر دیتا ہے اور ان کے کارناموں کی عظمت اس قدر ہوتی ہے کہ اس کے مقابلہ میں صغائر کا ذکر کرتے ہی شرم آتی ہے اسی لیے وہ رفتہ رفتہ ایسے معدوم ہو جاتے ہیں کہ پھر ان کا نام ونشان ہی نہیں رہتا۔۱؎


۵؍جولائی ۱۹۰۳ء

(مجلس قبل از عشاء)

تبلیغ کا طریق

فرمایا کہ کتابوں کو شائع کرنا چاہیے تاکہ تبلیغ ہو۔ دیکھا جاتا ہے کہ دہلی کے پرے بہت کم لوگوں کو ہمارے دعاویٰ کی خبر ہے۔ اس کا انتظام یوں ہونا چاہیے کہ ایک لمبا سفر کیا جاوے اور اس میں یہ تمام کتب جو کہ بہت سا ذخیرہ پڑا ہوا ہے تقسیم کی جاویں تاکہ تبلیغ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت سے سامان دیئے ہیں ان سے فائدہ نہ اٹھانا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار ہوتا ہے۔ ہمارے لیے ریل بنائی گئی ہے جس سے مہینوں کا سفر دنوں میں ہوتا ہے۔

چندوں کی اہمیت

اور قوم کو چاہیے کہ ہر طرح سے اس سلسلہ کی خدمت بجالاوے مالی طرح پر بھی خدمت کی بجا آوری میں کوتاہی نہیں چاہیے۔ دیکھو دنیا میں کوئی سلسلہ بغیر چندہ کے نہیں چلتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰؑ سب رسولوں کے وقت چندے جمع کئے گئے پس ہماری جماعت کے لوگوں کو بھی اس امر کا خیال ضروری ہے اگر یہ لوگ التزام سے ایک ایک پیسہ بھی سال بھر میں دیویں تو بھی بہت کچھ ہوسکتا ہے ہاں اگر کوئی ایک پیسہ بھی نہیں دیتا تو اسے جماعت میں رہنے کی کیا ضرورت ہے۔۲؎

(اپنے الفاظ میں)

احمدی کون ہے؟

حضور علیہ السلام معمول کے موافق شَہ نَشین پر جلوس فرما ہوئے اور ذیل کی تقریر فرمائی۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری جماعت میں چندہ دینے والے بہت تھوڑے ہیں۔ آئے دن صدہا آدمی بیعت کر کے چلے جاتے ہیں لیکن دریافت کرنے پر بہت ہی کم تعداد ایسے اشخاص کی ہے جو متواتر ماہ بماہ چندہ دیتے ہیں۔

کا مرت بہ رہ ج ا (بقیہ حاشیہ) جو شخص اپنی حیثیت و توفیق کے موافق اس سلسلہ کی چند پیسوں سے امداد نہیں کرتا اس سے اور کیا توقع ہو سکتی ہے اور اس سلسلہ کو اس کے وجود سے کیا فائدہ؟ ایک معمولی انسان بھی خواہ کتنی ہی شکستہ حالت کا کیوں نہ ہو جب بازار جاتا ہے تو اپنی قدر کے موافق اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے کچھ نہ کچھ لاتا ہے تو پھر کیا یہ سلسلہ جو اپنی عظیم الشان اغراض کے لیے اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے اس لائق بھی نہیں کہ وہ اس کے لیے چند پیسے بھی قربان کر سکے؟ دنیا میں آج کل کون سا سلسلہ ہوا ہے یا ہے جو خواہ دنیوی حیثیت سے ہے یا دینی بغیر مال چل سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہر ایک کام اس لیے کہ عالمِ اسباب میں ہے اسباب سے ہی چلایا جاتا ہے پر کس قدر بخیل ومُمسِک وہ شخص ہے کہ جو ایسے عالی مقصد کی کامیابی کے لیے ادنیٰ چیز مثل چند پیسے خرچ نہیں کر سکتا۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ الٰہی دین پر لوگ اپنی جانوں کو بھیڑ بکری کی طرح نثار کرتے تھے مالوں کا تو کیا ذکر، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک سے زیادہ دفعہ اپنا کُل گھر بار نثار کیا حتی کہ سوئی تک کو بھی گھر میں نہ رکھا اور ایسا ہی حضرت عمرؓ نے اپنی بساط و انشراح کے موافق اور عثمانؓ نے اپنی طاقت و حیثیت کے موافق، علیٰ ہذا القیاس علیٰ قدر مراتب تمام صحابہ اپنی جانوں اور مالوں سمیت اس دین الٰہی پر قربان کرنے کے لیے طیار ہو گئے۔ ایک وہ ہیں کہ بیعت تو کر جاتے ہیں اور اقرار بھی کر جاتے ہیں کہ ہم دنیا پر دین کو مقدم کریں گے مگر مدد و امداد کے موقع پر اپنی جیبوں کو دبا کر پکڑ رکھتے ہیں۔ بھلا ایسی محبت دنیا سے کوئی دینی مقصد پا سکتا ہے؟ اور کیا ایسے لوگوں کا وجود کچھ بھی نفع رساں ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ(اٰل عمران:۹۳) جب تک تم اپنی عزیز ترین اشیاء اللہ جلشانہٗ کے راہ میں خرچ نہ کرو تب تک تم نیکی کو نہیں پاسکتے۔ اس وقت ہماری جماعت قریباً تین لاکھ کے ہے اگر ایک ایک پیسہ ہی اس سلسلہ کی امداد مثل لنگر و مدرسہ وغیرہ امداد میں دیں تو لاکھوں پیسے ہو سکتے ہیں۔ قطرہ قطرہ بہم شود دریا ایک ایک بوند پانی سے دریا بن جاتا ہے تو کیا ایک ایک پیسہ سے ہزارہا روپیہ نہیں بن سکتا اور کیا سلسلہ کی ضروریات پوری نہیں ہو سکتیں؟

اگر ایک شخص چار روٹیاں کھاتا ہے آدھی بھی اگر روٹی بچالے تو بھی اس عہد سے عہدہ برآ ہوسکتا ہے۔ البتہ یہ بات بھی قرین قیاس ہے کہ اکثر لوگوں کو اب تک کہا بھی نہیں جاتا کہ ہمارے سلسلہ کے لیے کسی چندہ کی ضرورت تھی بہت سے لوگ رو رو کر بیعت کر کے جاتے ہیں۔ اگر ان کو کہا جاوے تو ضرور وہ چندہ دیویں مگر ترغیب دینا ضروری ہے۔ پس میں تم میں سے ہر ایک کو جو حاضر یا غائب ہے تاکید کرتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو چندہ سے باخبر کرو اور ہر ایک کمزور بھائی کو بھی چندہ میں شامل کرو یہ موقع ہاتھ آنے کا نہیں۔ کیسا یہ زمانہ برکت کا ہے کہ کسی سے جانیں مانگی نہیں چیزوں پر ہی کئی کئی پیسے خرچ کر دیتا ہے تو پھر یہاں اگر ایک ایک پیسہ دے دیوے تو کیا حرج ہے؟ خوراک کے لیے خرچ ہوتا ہے، لباس کے لیے خرچ ہوتا ہے اور ضرورتوں پر خرچ ہوتا ہے تو کیا دین کے لیے ہی مال خرچ کرنا گراں گذرتا ہے؟ دیکھا گیا ہے کہ ان چند دنوں میں صدہا آدمیوں نے بیعت کی ہے مگر افسوس ہے کہ کسی نے ان کو کہا بھی نہیں کہ یہاں چندوں کی ضرورت ہے۔ خدمت کرنی بہت مفید ہوتی ہے جس قدر کوئی خدمت کرتا ہے اسی قدر وہ راسخ الایمان ہو جاتا ہے اور جو کبھی خدمت نہیں کرتے ہمیں تو ان کے ایمان کا خطرہ ہی رہتا ہے۔

چاہیے کہ ہماری جماعت کا ہر ایک متنفس عہد کرے کہ میں اتنا چندہ دیا کروں گا کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے عہد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے رزق میں برکت دیتا ہے اس دفعہ تبلیغ کے لیے جو بڑا بھاری سفر کیا جاوے تو اس میں ایک رجسٹر بھی ہمراہ رکھا جاوے جہاں کوئی بیعت کرنا چاہے اس کا نام اور چندہ کا عہد درج رجسٹر کیا جاوے اور ہر ایک آدمی کو چاہیے کہ وہ عہد کرے کہ مدرسہ میں اس قدر چندہ دیوے گا اور لنگر خانہ میں اس قدر۔

بہت لوگ ایسے ہیں کہ جن کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ چندہ بھی جمع ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو سمجھانا چاہیے کہ اگر تم سچا تعلق رکھتے ہو تو خدا تعالیٰ سے پکا عہد کر لو کہ اس قدر چندہ ضرور دیا کروں گا اور ناواقف لوگوں کو یہ بھی سمجھایا جاوے کہ وہ پوری تابعداری کریں۔ اگر وہ اتنا عہد بھی نہیں کر سکتے تو پھر جماعت میں شامل ہونے کا کیا فائدہ؟ نہایت درجہ کا بخیل اگر ایک کوڑی بھی روزانہ اپنے مال میں سے چندے کے لیے الگ کرے تو وہ بھی بہت کچھ دے سکتا ہے ایک ایک قطرہ سے دریا بن جاتا ہے اگر کوئی چار روٹی کھاتا ہے تو اسے چاہیے کہ ایک روٹی کی مقدار اس میں سے اس سلسلہ کے لیے بھی الگ کر رکھے اور نفس کو عادت ڈالے کہ ایسے کاموں کے لیے اس طرح سے نکالا کرے۔

چندے کی ابتدا اس سلسلہ سے ہی نہیں ہے۔ بلکہ مالی ضرورتوں کے وقت نبیوں کے زمانہ میں بھی چندے جمع کئے گئے تھے۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ ذرا چندے کا اشارہ ہوا تو تمام گھر کا مال لا کر سامنے رکھ دیا۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسب مقدور کچھ دینا چاہیے اور آپ کی منشا تھی کہ دیکھا جاوے کہ کون کس قدر لاتا ہے۔ ابوبکرؓ نے سارا مال لا کر سامنے رکھ دیا اور حضرت عمرؓ نے نصف مال۔ آپ نے فرمایا کہ یہی فرق تمہارے مدارج میں ہے اور ایک آج کا زمانہ ہے کہ کوئی جانتا ہی نہیں کہ مدد دینی بھی ضروری ہے۔ حالانکہ اپنی گذران عمدہ رکھتے ہیں ان کے برخلاف ہندوؤں وغیرہ کو دیکھو کہ کئی کئی لاکھ چندہ جمع کر کے کارخانہ چلاتے ہیں (اور بڑی بڑی مذہبی عمارات بناتے اور دیگر موقعوں پر صرف کرتے ہیں) حالانکہ یہاں تو بہت ہلکے چندے ہیں۔ پس اگر کوئی معاہدہ نہیں کرتا تو اسے خارج کرنا چاہیے وہ منافق ہے اور اس کا دل سیاہ ہے۔ ہم یہ ہرگز نہیں کہتے کہ ماہواری روپے ہی ضرور دو ہم تو یہ کہتے ہیں کہ معاہدہ کر کے دو جس میں کبھی فرق نہ آوے۔ صحابہ کرامؓ کو پہلے یہی سکھایا گیا تھا لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ(اٰل عمران:۹۳) اس میں چندہ دینے اور مال صرف کرنے کی تاکید اور اشارہ ہے۔

یہ معاہدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاہدے ہوتے ہیں اس کو نبھانا چاہیے۔ ان کے برخلاف کرنے میں خیانت ہوا کرتی ہے۔ کوئی کسی ادنیٰ درجہ کے نواب کی خیانت کر کے اس کے سامنے نہیں ہو سکتا تو پھر احکم الحاکمین کی خیانت کر کے کس طرح اسے اپنا چہرہ دکھلا سکتا ہے۔ ایک آدمی سے کچھ نہیں ہوتا۔ جمہوری امداد میں برکت ہوا کرتی ہے۔ بڑی بڑی سلطنتیں بھی آخر چندوں پر ہی چلتی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ دنیاوی سلطنتیں زور سے ٹیکس وغیرہ لگا کر وصول کرتے ہیں۔ اور یہاں ہم رضا اور ارادہ پر چھوڑتے ہیں۔ چندہ دینے سے ایمان میں ترقی ہوتی ہے اور یہ محبت اور اخلاص کا کام ہے۔

پس ضرور ہے کہ ہزار در ہزار آدمی جو بیعت کرتے ہیں ان کو کہا جاوے کہ اپنے نفس پر کچھ مقرر کریں اور اس میں پھر غفلت نہ ہو۔۱؎

۶؍ جولائی ۱۹۰۳ء

(مجلس قبل از عشاء)

طاعون کے ذکر پر فرمایا کہ

طاعون کا عذاب

اس بات کو سوچنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ پورا ہونے والا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قتل کے عذاب کا وعدہ دیا گیا تھا حالانکہ صحابہؓ بھی قتل ہوتے تھے لیکن وہی قتل کفار کے لیے عذاب کا حکم رکھتا تھا اور مسلمانوں کے لیے شہادت کا۔ عذاب کا معیار یہی ہے کہ انسان دیکھے کہ کون سا فریق زیادہ تباہ ہو رہا ہے آیا موافق یا مخالف۔ پس جو زیادہ تباہ ہوتا ہو ان کے لیے عذاب ہے۔ اسی طریق سے آج کل مقابلہ کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے طاعون کو عذاب کے طور پر بھیجا ہے۔ اس میں دیکھنے والی یہ بات ہے کہ آیا ہماری جماعت کے لوگ زیادہ مرتے ہیں یا مخالف؟ پھر خود ہی معلوم ہو جاوے گا کہ اس عذاب نے کن کو نیست و نابود کر دیا۔ اگر ہماری جماعت کے بھی بعض فوت ہو جاتے ہیں تو اس میں حرج نہیں ہے کیونکہ صحابہ بھی جنگوں میں قتل ہوتے ہی تھے۔ ہاں البتہ ایسے آدمی جن سے شماتت اعدا ہو سکے بچائے جاویں گے جب بدر اور اُحد کی لڑائیاں ہوتی تھیں تو کوئی سمجھتا تھا کہ امر فارق کیا ہے؟ کبھی ان کو فتح ہوتی کبھی صحابہؓ کو۔ تاہم بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ اعجازی طور پر مرنے سے بچا لیتا ہے۔ دیکھو ابوبکرؓ اور عمرؓ کو لڑائیوں میں بچا لیا۔ اس کا نام اعجاز ہوتا ہے ورنہ موت تو ہر ایک کے لیے ہے۔

فرمایا کہ موعود وہ ہے جس کا ذکر مِنْکُمْ میں ہے جیسے کہ فرماتا ہے وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ(النّور:۵۶) الخ

موعود کون ہے

ورنہ اس طرح خواہ صدہا مسیح آویں اور کسی امت کے ہوں مگر وہ موعود نہ ہوویں گے کیونکہ وہ مِنْکُمْ سے باہر ہوں گے۔ حالانکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ مِنْکُمْ کا ہے پھر باہر سے آنے والا کیسے موعود ہو سکتا ہے؟۱؎

۸؍ جولائی ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام)

غیر مومن کی ماتم پرسی

مرزا امام الدین جو اپنے آپ کو ہدایت کنندہ قوم لال بیگیاں مشہور کرتا اور حضرت مسیح موعود کے سخت ترین دشمنوں سے تھا، ۶؍جولائی کو فوت ہوگیا۔ چنانچہ اس کے جنازہ پر رسمی طور پر ہمارے معزز و مکرم دوست سیّد محمد علی شاہ صاحب بھی چلے گئے اور جنازہ پڑھ لینے کے پیچھے آپ کو اپنے اس عمل پر تاسّف ہوا اور آپ نے ذیل کا توبہ نامہ شائع کیا جو ہم ناظرین الحکم کی دلچسپی کے لیے درج کرتے ہیں کہ

مَیں بذریعہ توبہ نامہ ہذا اس اَمر کو شائع کرتا ہوں کہ میں نے سخت غلطی کی ہے اور وہ یہ کہ میں نے غلطی سے مرزا امام الدین کا جو ۶؍جولائی کو فوت ہوا ہے اور جس نے اپنی کتابوں میں ارتداد کیا ہے جنازہ پڑھا۔ پس میں بذریعہ اشتہار ہذا یہ توبہ نامہ شائع کرتا ہوں اور ظاہر کرتا ہوں کہ میں امام الدین اور ان لوگوں سے بیزار ہوں جو اس کے جنازہ میں شامل ہوئے اور بالآخر میں دعائے جنازہ واپس لیتا ہوں اور خدا تعالیٰ سے اپنے اس گناہ کی مغفرت چاہتا ہوں۔

خاکسار محمد علی شاہ

اس پر (حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے) فرمایا کہ

کوئی شخص کسی بات پر ناز نہ کرے۔ فطرت انسان سے الگ نہیں ہوا کرتی جس فطرت پر انسان اوّل قدم مارتا ہے پھر وہ اس سے الگ نہیں ہوتا یہ بڑے خوف کا مقام ہے حُسنِ خاتمہ کے لیے ہر ایک کو دعا کرنی چاہیے۔

عمر کا اعتبار نہیں ہر شَے پر اپنے دین کو مقدم رکھو۔ زمانہ ایسا آگیا ہے کہ پہلے تو خیالی طور پر اندازہ عمر کا لگایا جاتا تھا مگر اب تو یہ بھی مشکل ہے دانشمند کو چاہیے کہ ضرور موت کا انتظام کرے۔ میں اتنی دیر سے اپنی برادری سے الگ ہوں میرا کسی نے کیا بگاڑ دیا۔ خدا تعالیٰ کے مقابل پر کسی کو معبود بنانا نہیں چاہیے۔۱؎

ایک غیر مومن کی بیمار پُرسی اور ماتم پُرسی تو حُسن اخلاق کا نتیجہ ہے لیکن اس کے واسطے کسی شعائرِ اسلام کو بجالانا گناہ ہے مومن کا حق کافر۲؎ کو دینا نہیں چاہیے اور نہ منافقانہ ڈھنگ اختیار کرنا چاہیے۔

خدا تعالیٰ کی ذات گو مخفی ہے مگر اس کے انوار ظاہر ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ مخفی نہیں۔

سب نبیوں سے زیادہ کامیاب نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے

کامیابی اور خوشی کی موت تمام نبیوں سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ موسیٰ بھی کامیاب ہوئے لیکن موت نے ان کو بھی سفر میں ہی آگھیرا۔ دل میں تمنا ہو گی کہ اس سر زمین میں پہنچوں مگر وہ پوری نہ ہوئی۔ مسیحؑ کی موت پر خیال کیا جاوے تو اس میں غائت درجہ کی ناکامی ہے۔ کل ۱۲ حواری تھے کسی کو بہشت کی کنجیاں ملنے کا وعدہ تھا وہ نہ ملیں۔ ایک نے تیس روپیہ نقد لے کر گرفتار کروا دیا۔ دُوسرے نے لعنت بھیجی۔۳؎ اگر یہ مان بھی لیں۴؎ حضرت عیسیٰ آسمان پر ہی چڑھ گئے تو بھی روتے ہی گئے ہوں گے خوشی اور کامیابی کی موت تو نصیب نہ ہوئی لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیا میں آنا اور پھر وہاں سے رخصت ہونا قطعی دلیل آپ کی نبوت پر ہے۔ آئے آپ اُس وقت جبکہ زمانہ ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ(الرّوم:۴۲) کا مصداق تھا اور ضرورت ایک نبی کی تھی۔ ضرورت پر آنا بھی ایک دلیل ہے اور آپ اس وقت دنیا سے رخصت ہوئے جب اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ(النّصر:۲) کا آوازہ دیا گیا۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ آپ کس قدر عظیم الشان کامیابی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو نے اپنی آنکھ سے دیکھ لیا کہ فوج در فوج لوگ داخل ہو رہے ہیں۔ فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ(النّصر:۴) یعنی وہ رب جس نے اس قدر کامیابی دکھلائی اس کی تسبیح و تحمید کر اور اور انبیاء پر جو انعامات پوشیدہ رہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کھول دیئے گئے اور رحمت کے تمام امور اجلٰی کر دیئے کوئی بھی مخفی نہ رکھا۔ اس حمد کا ثبوت اس آخری وقت پر آ کر دیا۔ احمد؎۱ کے معنے بھی حمد کرنے والا۔

دنیا میں کوئی آدمی بھی ایسا نہیں آیا جو اتنی بڑی کامیابی اپنے ساتھ رکھتا ہو۔ لذّت و سرور کی موت اگر ہوئی ہے تو فقط آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی ہوئی ہے اور دوسرے کسی نبی کو بھی میسر نہیں ہوئی۔ یہ خدا کا فضل ہے اس لیے آپ کی عصمت کا یہ ایک بڑا ثبوت ملتا ہے۔ جیسے طبیب اسے کہتے ہیں جو علاج کر کے مریض کو اچھا کر کے دکھلا دیوے ویسے ہی لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ سے ہر ایک روحانی مرض کا علاج کر کے آپ نے دکھلا یا اور اس لیے دوسری تمام نبوتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ ہی معلوم ہوتی ہیں۔

ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلۡیَوۡمَ یَئِسَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا(المائدۃ:۴) آج کافر نا اُمید ہو گئے گویا آپ کو کامیابی کے اس اعلیٰ نقطہ تک پہنچا دیا کہ کافر نامُراد ہو گئے۔ کیا انجیل میں اس کے مقابل کوئی آیت ہے ہرگز نہیں۔ مسیح علیہ السلام کو تو فقط ایک یہودیوں کی اصلاح سپرد تھی اور یہ کوئی مشکل کام نہ تھا مگر ضعف۱؎ کی بات ہے کہ کوئی بات بھی پوری نہ ہوئی۔ اوّل اس کو بادشاہت کا وعدہ دیا تو پھر کہہ دیا کہ وہ آسمانی بادشاہت ہے۔ ایلیا کی بات پیش کی تو وہ ایسی کہ خود یحییٰ نے ایلیا ہونے سے انکار کیا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح علیہ السلام کا مقابلہ

پھر دیکھئے کہ مسیحؑ کی گرفتاری کے لیے آدمی آگئے۔ دو گھنٹہ کے اندر ہی اندر آپ کو گرفتار کر لیا اور گرفتار کرنے والوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کے لیے کسریٰ کے سپاہی آئے تو آنحضرتؐ نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا اور پھر دوسرے دن صبح کو آپ ان کو جواب دیتے ہیں کہ آج تمہارا خداوند مارا گیا اور میرے خدا نے اس کے لیے شیروَیہ۲؎ کو اس پر مسلّط کر دیا۔

اب دونوں نبیوں کا مقابلہ کرلو۔ جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے کسریٰ ہلاک ہو گیا۔ اس طرح سے لازم تھا کہ مسیح کی گرفتاری کے وقت کم از کم موٹے موٹے چھ سات آدمی مارے جاتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا سے خدا کا ارادہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رُعب جمایا جاوے گا۔ ایک آدمی کے دو خدمت گار ہوں کہ ایک تو رات دن خدمت کرتا ہے اور تنخواہ بھی لیتا ہے مگر گالی گلوچ بھی کھاتا رہے اور اَور مکروہات بھی دیکھتا ہے۔ ایک اَور ہے کہ بظاہر کام تو نہیں کرتا لیکن قرب اس کا بہت ہے۔ ہر وقت آقا رحمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ تو اِس سے اُس کے اور آقا کے اندرونی تعلقات کا پتا لگتا ہے کہ کس قدر بڑھے ہوئے ہیں یہی حال مسیحؑ کا ہے ان کی زندگی کیسی تلخی سے گزری ہے۔ گالی وغیرہ آپ کھاتے رہے اور نصرت و فتح آنحضرتؐ کے شامل حال ہونا صداقت کی بڑی بھاری دلیل ہے۔۳؎

مسیح کی قوم یہود تو آپ کے بھائی ہی تھے۔ مسیحؑ بھی تورات کو مانتے تھے مگر پھر بھی ذرا سی بات پر اس قدر مخالفت ہوئی کہ انہوں نے سولی پر چڑھایا اور ادھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جہاں دشمن اور پھر کامیابی پر کامیابی ملی حتی کہ آپ کے خلفاء کو بھی کامیابی ہوئی۔ٍ۱؎

۹؍جولائی ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام)

قبرِ مسیح علیہ السلام

بعض عیسائی اخباروں نے مسیحؑ کی قبر واقعہ کشمیر کے متعلق ظاہر کیا ہے کہ یہ قبر مسیح کی نہیں بلکہ ان کے کسی حواری کی ہے۔ اس تذکرہ پر آپ نے فرمایا کہ اب تو ان لوگوں نے خود اقرار کر لیا ہے کہ اس قبر کے ساتھ مسیحؑ کا تعلق ضرور ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ ان کے کسی حواری کی ہے اور ہم کہتے ہیں کہ مسیحؑ کی ہے۔ اب اس قبر کے متعلق یہ تاریخی صحیح شہادت ہے کہ وہ شخص جو اس میں مدفون ہے وہ شہزادہ نبی تھا اور قریباً انیس سو برس سے مدفون ہے۔ عیسائی کہتے ہیں کہ یہ شخص مسیحؑ کا حواری تھا اب ان پر ہی سوال ہوتا ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ ثابت کریں کہ مسیحؑ کا کوئی حواری شہزادہ نبی کے نام سے بھی مشہور تھا اور وہ اس طرف آیا تھا اور یہ یقیناً ثابت نہیں ہوسکتا۔ پس اس صورت میں بجز اس بات کے ماننے کے کہ یہ مسیح علیہ السلام کی ہی قبر ہے اور کوئی چارہ نہیں۔۲؎

۱۰؍جولائی ۱۹۰۳ء

نشانات کی ضرورت

(مجلس قبل از عشاء )نشانات کی ضرورت نشانات کی ضرورت پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے ورنہ دیکھا جاتا ہے کہ اس وقت کیا ہو رہا ہے۔ نماز روزہ وغیرہ سب لحاظ داری ہے۔ حقیقی نیکی کو لوگ جانتے نہیں کہ کیا شَے ہے۔ خدا کے خوف سے کسی شَے کو ترک کرنا یا لینا بالکل جاتا رہا ہے۔ غرضیکہ اس وقت بڑی بحث آپڑی ہے۔ اگر خدا تعالیٰ مدد نہ کرے اور نشانات نہ دکھلائے تو پھر دہریہ کو فتح حاصل ہوتی ہے اور اس وقت صرف اس کی ہستی کا ثبوت ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کی غیرت کے ثبوت کی بھی ضرورت ہے۔ بعض لوگ تو نوگاڈ کہہ رہے ہیں بعض اس کے لیے ایک بیٹا تجویز کر رہے ہیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت بھی ایسی ضرورت آپڑی تھی۔ اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے وقت کہا کہ اگر تو اس جماعت کو ہلاک کر دے گا تو پھر تیری پرستش کرنے والا دنیا میں کوئی نہ رہے گا۔ یہی حال اس وقت ہے۔ پس اگر مہدی اور مسیحؑ کا یہ زمانہ نہیں تو اور کس وقت کا انتظار ہے۔ آنے والے نے تو صدی کے سر پر آنا تھا۔ اب بیس سال سے بھی زیادہ گذر گئے۔ زمانہ کی موجودہ حالت سے پتا لگتا ہے کہ اب آخری فیصلہ خدا تعالیٰ کا ہے۔۱؎

۱۱؍جولائی ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام)

عیب مے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو

تمباکو

کے مضرات پر ایک مختصر مضمون پڑھا گیا۔۲؎ جس میں کل امراض کو تمباکو کا نتیجہ قرار دیا گیا تھا اور تمباکو کی مذمت میں بہت مبالغہ کیا گیا تھا۔ اس کو سن کر حضرت حجۃ اللہ نے فرمایا کہ ا للہ تعالیٰ کی کلام اور مخلوق کی کلام میں کس قدر فرق ہوتا ہے۳؎ شراب کے مضار اگر بیان کئے ہیں تو اس کا نفع بھی بتا دیا ہے اور پھر اس کو روکنے کے لیے یہ فیصلہ کر دیا کہ اس کا ضرر نفع سے بڑھ کر ہے۔ دراصل کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس میں کوئی نہ کوئی نفع نہ ہو مگر مخلوق کے کلام کی یہی حالت ہوتی ہے۔ اب دیکھ لو۔ اس نے اس کے مضرات ہی مضرات بتائے ہیں۔ کسی ایک نفع کا بھی ذکر نہیں کیا۔۱؎

تمباکو کے بارے میں اگرچہ شریعت نے کچھ نہیں بتایا لیکن ہم اس کو مکروہ جانتے ہیں اور ہم یقین کرتے ہیں کہ اگر یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ہوتا تو آپ نہ اپنے لیے اور نہ اپنے صحابہ کے لیے کبھی اس کو تجویز کرتے بلکہ منع کرتے۔

غریب کو بد قسمت نہیں سمجھنا چاہیے

فرمایا کہ غربا نے دین کا بہت بڑا حصہ لیا ہے بہت ساری باتیں ایسی ہوتی ہے جن سے امراء محروم رہ جاتے ہیں وہ پہلے تو فسق وفجور اور ظلم میں مبتلا ہوتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں صلاحیت تقویٰ اور نیاز مندی غربا کے حصہ میں ہوتی ہے پس غربا کے گروہ کو بدقسمت خیال نہیں کرنا چاہیے بلکہ سعادت اور خدا کے فضل کا بہت بڑا حصہ اس کو ملتا ہے۔۲؎

یاد رکھو حقوق کی دو قسمیں ہیں ایک حق اللہ دوسرے حق العباد۔ حق اللہ میں بھی امراء کو دقت پیش آتی ہے۳؎ اور تکبر اور خود پسندی ان کو محروم کر دیتی ہے مثلاً نماز کے وقت ایک غریب کے پاس کھڑا ہونا بُرا۴؎ معلوم ہوتا ہے۔ ان کو اپنے پاس بٹھا نہیں سکتے اور اس طرح پر وہ حق اللہ سے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ مساجد تو دراصل بیت المساکین ہوتی ہیں۔ اور وہ ان میں جانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں اور اسی طرح وہ حق العباد میں خاص خاص خدمتوں میں حصہ نہیں لے سکتے۔ غریب آدمی تو ہر ایک قسم کی خدمت کے لیے تیار رہتا ہے وہ پاؤں دبا سکتا ہے پانی لا سکتا ہے کپڑے دھو سکتا ہے یہاں تک کہ اس کو اگر نجاست پھینکنے کا موقع ملے تو اس میں بھی اسے دریغ نہیں ہوتا لیکن امراء ایسے کاموں میں ننگ و عار سمجھتے ہیں اور اس طرح پر اس سے بھی محروم رہتے ہیں غرض امارت بھی بہت سی نیکیوں کے حاصل کرنے سے روک دیتی ہے (الاماشاءاللہ۔ ایڈیٹر) یہی وجہ ہے جو حدیث میں آیا ہے کہ مساکین پانچ سو برس اوّل جنّت میں جاویں گے۔۱؎

۱۲؍جولائی ۰۳ ۱۹ء

(بعد نمازِ عصر)

خواتین کو نصائح

جو کہ حضرت اقدسؑ نے ۱۲؍ جولائی ۰۳ ۱۹ء کو اندرون خانہ بوقت بین العصر والمغرب فرمایا تھا اور دروازہ سے باہر دیوار کی اوٹ میں کھڑے ہو کر قلمبند کیا گیا۔ چونکہ اکثر بچگان بھی عورتوں کے ہمراہ تھے جو اکثر شور کر کے سلسلہ تسامع کو توڑ دیتے تھے اس لیے جہاں تک بشریت کی استعداد نے موقع دیا۔ اس کو بلفظہ نوٹ کیا گیا ہے۔ (ایڈیٹر)

اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے بڑھ کر کوئی نہیں ہو سکتا مگر تا ہم آپ کی بیویاں سب کام کر لیا کرتی تھیں جھاڑو بھی دے لیا کرتی تھیں اور ساتھ اس کے عبادت بھی کرتی تھیں۔ چنانچہ ایک بیوی نے اپنی حفاظت کے واسطے ایک رسّہ لٹکا رکھا تھا کہ عبادت میں اُونگھ نہ آوے۔ عورتوں کے لیے ایک ٹکڑا عبادت کا خاوندوں کا حق ادا کرنا ہے اور ایک ٹکڑا عبادت کا خدا کا شکر بجالانا ہے خدا کا شکر کرنا اور خدا کی تعریف کرنی یہ بھی عبادت ہے دوسرا ٹکڑا عبادت کا نماز کو ادا کرنا ہے۔

کوئی شخص نواب تھا صبح کو نماز کے لیے نہیں اُٹھتا تھا ایک مولوی نے اسے وعظ سنایا اس پر نواب نے اپنے خادم کو کہا کہ مجھ کو صبح کو اُٹھا دینا خادم نے دو تین مرتبہ اس کو جگایا جب ایک مرتبہ جگایا تو اس نے دوسری طرف کروٹ بدل لی۔ جب دوبارہ اس طرف ہو کر جگایا پھر اَور طرف ہو گیا جب تیسری مرتبہ جگایا تو اس نے اُٹھ کر اس کو خوب مارا اور کہا کم بخت جب ایک مرتبہ نہیں اُٹھا تو تجھے معلوم نہ ہوا کہ ابھی نہ اُٹھوں گا پھر کیوں جگایا؟ اور اتنا مارا کہ وہ بے چارا بے ہوش ہو گیا۔ آپ ہی تو مولوی سے وعظ سن کر اس کو کہا تھا کہ مجھ کو اُٹھا دینا پھر جب اس نے جگایا تو اس بچارے کی شامت آئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس کے پاس بہت ساحصہ جاگیر کا ہوتا ہے وہ ایسے غافل ہو جاتے ہیں کہ حق اللہ کا ان کو خیال نہیں آتا۔ امراء میں بہت سا حصہ تکبر کا ہوتا ہے جس کی وجہ سے عبادت نہیں کر سکتے اور نہ دوسرا حصہ خلقت کی خدمت کا ان سے ادا ہوتا ہے خلقت کی خدمت کا یہ حال ہے کہ اگر کوئی غریب آدمی سلام کرتا ہے تو بھی برا مناتے ہیں ایسا ہی عورتوں کا حال ہے کوئی چھوٹی عورت آوے تو چاہیے کہ بڑی کو سلام کرے۔ یہ دو ٹکڑے شریعت کے ہیں حق اللہ اور حق العباد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھو کہ کس قدر خدمات میں عمر کو گذارا۔ اور حضرت علیؓ کی حالت کو دیکھو کہ اتنے پیوند لگائے کہ جگہ نہ رہی۔ حضرت ابوبکرؓ نے ایک بڑھیا کو ہمیشہ حلوہ کھلا نا وطیرہ کر رکھا تھا۔ غور کرو کہ یہ کس قدر التزام تھا کہ جب آپ فوت ہو گئے تو اس بڑھیا نے کہا کہ آج ابوبکرؓ فوت ہو گیا اس کے پڑوسیوں نے کہا کہ کیا تجھ کو الہام ہوا یا وحی ہوئی؟ تو اس نے کہا نہیں آج حلوالے کر نہیں آیا اس واسطے معلوم ہوا کہ فوت ہو گیا (یعنی زندگی میں ممکن نہ تھا کہ کسی حالت میں بھی حلوانہ پہنچے) دیکھو کس قدر خدمت تھی ایسا ہی سب کو چاہیے کہ خدمتِ خلق کرے۔ ایک بادشاہ اپنا گذارہ قرآن شریف لکھ کر کیا کرتا تھا۔

اگر کسی کو کسی سے کراہت ہووے اگرچہ کپڑے سے ہو یا کسی اور چیز سے ہو تو چاہیے کہ وہ اس سے الگ ہو جاوے مگر رو برو ذکر نہ کرے کہ یہ دل شکنی ہے اور دل کا شکستہ کرنا گناہ ہے اگر کھانا کھانے کو کسی کے ساتھ جی نہیں کرتا تو کسی اور بہانہ سے الگ ہو جاوے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَاۡکُلُوۡا جَمِیۡعًا اَوۡ اَشۡتَاتًا(النّور:۶۲) مگر اظہار نہ کرے۔ یہ اچھا نہیں اگر اللہ تعالیٰ کو تلاش کرنا ہے تو مسکینوں کے دل کے پاس تلاش کرو۔ اسی لیے پیغمبروں نے مسکینی کا جامہ ہی پہن لیا تھا۔ اسی طرح چاہیے کہ بڑی قوم کے لوگ چھوٹی قوم کو ہنسی نہ کریں اور نہ کوئی یہ کہے کہ میرا خاندان بڑا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میرے پاس جو آؤ گے تو یہ سوال نہ کروں گا کہ تمہاری قوم کیا ہے۔ بلکہ سوال یہ ہوگا کہ تمہارا عمل کیا ہے۔ اسی طرح پیغمبر خدا نے فرمایا ہے اپنی بیٹی سے کہ اے فاطمہؓ خدا ذات کو نہیں پوچھے گا۔ اگر تم کوئی برا کام کرو گی تو خدا تم سے اس واسطے درگذر نہ کرے گا کہ تم رسول کی بیٹی ہو۔ پس چاہیے کہ تم ہر وقت اپنا کام دیکھ کر کیا کرو۔ اگر کوئی چوڑھا اچھا کام کرے گا تو وہ بخشا جاوے گا اور اگر سید ہو کر کوئی برا کام کرے گا تو وہ دوزخ میں ڈالا جاوے گا۔ حضرت ابراہیم نے اپنے باپ کے واسطے دعا کی وہ منظور نہ ہوئی۔ حدیث میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام قیامت کو کہیں گے کہ اے اللہ تعالیٰ میں اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ نہیں سکتا۔ مگر اس کو پھر بھی رسہ ڈال کر دوزخ کی طرف گھسیٹ کر ذلّت کے ساتھ لے جاویں گے (یہ عمل نہ ہونے کی وجہ سے ہے کہ پیغمبر کی سفارش بھی کارگر نہ ہوگی) کیونکہ اس نے تکبر کیا تھا۔ پیغمبروں نے غریبی کو اختیار کیا۔ جو شخص غریبی کو اختیار کرے گا وہ سب سے اچھا رہے گا۔ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے غریبی کو اختیار کیا۔ کوئی شخص عیسائی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ حضرت نے اس کی بہت تواضع خاطر داری کی۔ وہ بہت بھوکا تھا۔ حضرت نے اس کو خوب کھلایا کہ اس کا پیٹ بہت بھر گیا۔ رات کو اپنی رضائی عنایت فرمائی۔ جب وہ سو گیا تو اس کو بہت زور سے دست آیا کہ وہ روک نہ سکا اور رضائی میں ہی کر دیا۔ جب صبح ہوئی تو اس نے سوچا کہ میری حالت کو دیکھ کر کراہت کریں گے شرم کے مارے وہ نکل کر چلا گیا۔ جب لوگوں نے دیکھا تو حضرت سے عرض کی کہ جو نصرانی عیسائی تھا وہ رضائی کو خراب کر گیا ہے۔ اس میں دست پھرا ہوا ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ وہ مجھے دو تاکہ میں صاف کروں۔ لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت آپ کیوں تکلیف اُٹھاتے ہیں۔ ہم جو حاضر ہیں ہم صاف کر دیں گے۔ حضرت نے فرمایا کہ وہ میرا مہمان تھا اس لیے میرا ہی کام ہے اور اُٹھ کر پانی منگا کر خود ہی صاف کرنے لگے۔ وہ عیسائی جبکہ ایک کوس نکل گیا تو اس کو یاد آیا کہ اس کے پاس جو سونے کی صلیب تھی وہ چارپائی پر بھول آیا ہوں۔ اس لیے وہ واپس آیا تو دیکھا کہ حضرت اس کے پاخانہ کو رضائی پر سے خود صاف کر رہے ہیں۔ اس کو ندامت آئی اور کہا کہ اگر میرے پاس یہ ہوتی تو میں کبھی اس کو نہ دھوتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسا شخص کہ جس میں اتنی بے نفسی ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ پھر وہ مسلمان ہو گیا۔

کہتے ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب لڑکوں کی طرف راستہ میں دیکھا کرتے تھے تو اتنی شفقت کیا کرتے تھے کہ وہ لڑکے سمجھا کرتے کہ یہ ہمارا باپ ہے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ جو عورتیں کسی اَور قسم کی ہوں ان کو دوسری عورتیں حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں اور نہ مرد ایسا کریں کیونکہ یہ دل دُکھانے والی بات ہے ورنہ اللہ تعالیٰ اس سے مواخذہ کرے گا۔ یہ بہت بری خصلت ہے یہ ٹھٹھا کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت بُرا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی ایسی بات ہو جس سے دل نہ دُکھے وہ بات جائز رکھی ہے جہاں تک ہو سکے ان باتوں سے پرہیز کرے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عمل والے کو میں کس طرح جزا دوں گا۔ فَاَمَّا مَنۡ طَغٰی وَاٰثَرَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا فَاِنَّ الۡجَحِیۡمَ ہِیَ الۡمَاۡوٰی(النّٰزعٰت:۳۸ تا ۴۰) جو شخص میرے حکموں کو نہیں مانے گا میں اس کو بہت بُری طرح سے جہنّم میں ڈالوں گا اور ایسا ہو گا کہ آخر جہنّم تمہاری جگہ ہو گی۔ وَاَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَی النَّفۡسَ عَنِ الۡہَوٰی فَاِنَّ الۡجَنَّۃَ ہِیَ الۡمَاۡوٰی(النّٰزعٰت:۴۱، ۴۲) اور جو شخص میری عدالت کے تخت کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرے گا اور خیال رکھے گا تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس کا ٹھکانا جنّت میں کروں گا قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عَبَسَ وَتَوَلّٰۤی اَنۡ جَآءَہُ الۡاَعۡمٰی وَمَا یُدۡرِیۡکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰۤی اَوۡ یَذَّکَّرُ فَتَنۡفَعَہُ الذِّکۡرٰی(عبس:۲ تا ۵) اس سورۃ کے نازل ہونے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت کے پاس چند قریش کے بڑے بڑے آدمی بیٹھے تھے آپ ان کو نصیحت کر رہے تھے کہ ایک اندھا آگیا۔ اس نے کہا کہ مجھ کو دین کے مسائل بتلا دو۔ حضرت نے فرمایا کہ صبر کرو اس پر خدا نے بہت غصہ کیا آخر آپ اس کے گھر گئے اور اسے بُلا کر لائے اور چادر بچھا دی اور کہا کہ تو بیٹھ اس اندھے نے کہا کہ میں آپ کی چادر پر کیسے بیٹھوں؟ آپ نے وہ چادر کیوں بچھائی تھی؟ اس واسطے کہ خدا کو راضی کریں۔ تکبر اور شرارت بُری بات ہے ایک ذراسی بات سے ستّر برس کے عمل ضائع ہو جاتے ہیں۔ لکھا ہے کہ ایک شخص عابد تھا وہ پہاڑ پر رہا کرتا تھا اور مدّت سے وہاں بارش نہ ہوئی تھی ایک روز بارش ہوئی تو پتھروں پر اور روڑیوں پر بھی ہوئی تو اس کے دل میں اعتراض پیدا ہوا کہ ضرورت تو بارش کی کھیتوں اور باغات کے واسطے ہے یہ کیا بات ہے کہ پتھروں پر ہوئی۔ یہی بارش کھیتوں پر ہوتی تو کیا اچھا ہوتا اس پر خدا نے اس کا سارا ولی پُنا چھین لیا آخر وہ بہت سا غمگین ہوا اور کسی اَور بزرگ سے استمداد کی تو آخر اس کو پیغام آیا کہ تو نے اعتراض کیوں کیا تھا تیری اس خطا پر عتاب ہوا ہے اس نے کسی سے کہا کہ ایسا کر کہ میری ٹانگ میں رسّہ ڈال کر پتھروں پر گھسیٹتا پھر اس نے کہا کہ ایسا کیوں کروں؟ اس عابد نے کہا کہ جس طرح میں کہتا ہوں اسی طرح کرو۔ آخر اس نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ اس کی دونوں ٹانگیں پتھروں پر گھسیٹنے سے چھل گئیں۔ تب خدا نے فرمایا کہ بس کر اب معاف کر دیا۔ اب دیکھو کہ لوگ کتنے اعتراض کرتے ہیں ذرا زیادہ بارش ہو جاوے تو کہتے ہیں کہ ہم کو ڈبونے لگ گیا ہے اور ذرا توقّف بارش میں ہو تو کہتے ہیں کہ اب ہم کو مارنے لگا ہے یہ اعتراض کیسے بُرے ہوتے ہیں دیکھو تقویٰ کیسا گم ہو گیا ہے اگر ایک دو آنے رستے میں مل جاویں تو جلدی سے اُٹھا لیتا ہے اور پھر اس کو کسی سے نہیں کہتا حالانکہ تقویٰ کا کام یہ تھا کہ اس کو سب کو سناتا اور جس کے ہوتے اس کے حوالہ کرتا۔ پھر کہتے ہیں کہ بارش نہیں ہوتی بارش کیسے ہو؟ اللہ تعالیٰ بہت سے گناہ تو معاف ہی کر دیتا ہے اگر زیادہ بارش ہو تو دوہائی دیتے ہیں اگر دھوپ زیادہ ہو تو بھی دوہائی دیتے ہیں ان سب حالتوں میں انسان تقویٰ سے خالی ہوتا ہے پس چاہیے کہ صبر کرے اگر صبر نہ کرے تو پھر کافر ہو کر تو روٹی کھانی حرام ہے انسان کو چاہیے کہ کبھی خدا پر اعتراض نہ کرے۔

دیکھو ہمارے پیغمبرِ خدا کے ہاں ۱۲ لڑکیاں ہوئیں آپ نے کبھی نہیں کہا کہ لڑکا کیوں نہ ہوا اور جب کوئی غم ہوتا تو اِنَّا لِلّٰہِ ہی کہتے رہے اب اگر کسی کا لڑکا مَر جاوے تو برس برس تک روتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ کشائش دیوے تو تعریف کرتے ہیں مگر ذرا سختی آ جاوے تو فوراً پھر جاتے ہیں۔ ایک شخص کی یہاں بیوی فوت ہو گئی وہ فوراً دہریہ ہو گیا۔ انسان کو چاہیے کہ علاقہ خدا کے ساتھ ایسا رکھے کہ کبھی سختی آوے تو توڑنا نہ پڑے گویا کبھی نہیں آئی۔ حضرت ایوبؑ کتنے صابر تھے کہ خدا تعالیٰ نے شیطان سے کہا کہ دیکھ میرا بندہ کتنا صابر ہے۔ اس نے کہا کہ کیوں نہ ہو بکریاں بہت ہیں آرام سے کھاتا پیتا ہے خدا نے فرمایا کہ میں نے تجھ کو اس کی بکریوں پر مسلّط کیا اس نے سب کو فنا کر دیا اور حضرت ایوبؑ کے خادم نے خبر پہنچائی کہ تمہاری بکریاں سب مَر گئیں آپ نے فرمایا کہ تو یوں کیوں کہتا ہے کہ میری بکریاں مَر گئیں وہ تو خدا کی تھیں اس نے اپنی امانت واپس لے لی۔ پھر شیطان سے خدا نے فرمایا کہ دیکھ میرا بندہ ایوبؑ کیسا صابر ہے اس نے کہا کہ ہاں اس کو یہ خیال ہے کہ اُونٹ بہت سے ہیں بکریاں فنا ہو گئیں تو کیا ہو گیا ان سے سب طرح کے کام چل سکتے ہیں۔ خدا نے فرمایا کہ میں نے تجھ کو اونٹوں پر بھی مسلّط کیا پھر سب اونٹ فنا ہو گئے اور اسی طرح خادم نے خبر دی تو حضرت ایوبؑ نے وہی کہا کہ میرے نہیں تھے یہ تو خدا کے دیئے تھے اس نے واپس لے لیے پھر کیا افسوس ہے۔ پھر شیطان سے خدا نے فرمایا کہ دیکھا میرا بندہ کیسا صابر ہے۔ اس نے کہا کہ اس کے دل میں تقویت ہے کہ گائیاں بہتیری ہیں ان سے سب کچھ حاصل ہوسکتا ہے آخر ان پر بھی اسی طرح شیطان کو مسلّط کیا گیا۔ وہ بھی فنا ہوگئیں اور حضرت ایوبؑ نے صبر کیا۔ پھر خدا نے فرمایا تو شیطان نے جواب دیا کہ اس کے پاس فرزند بہتیرے ہیں دل میں جانتا ہے کہ کیا ہوا یہ جیتے ہیں تو پھر بہت سامال اکٹھا ہو جاوے گا خدا نے اس کے فرزندوں کو بھی وفات دے دی۔ پھر شیطان نے کہا کہ خدایا اس کی تندرستی بہت ہے اس کو اس کی بدولت سب کچھ مل سکتا ہے آخر یہ ہوا کہ نہایت بیمار ہو گئے اور تندرستی بھی جاتی رہی مگر صبر کیا اور پھر خدا نے شیطان سے کہا کہ دیکھا میرا بندہ کیسا صابر ہے۔ شیطان چُپ سا ہو گیا مگر ان کی بیوی جو ہمیشہ کھانا پکایا کرتی تھی شیطان اس کو راستہ میں ملا اور ایک بڈھی کی شکل میں اس سے کہا کہ تیرا خاوند ایسا ہے ایسا ہے تو اس کی کیوں خدمت کرتی ہے اس نے یہ بات حضرت ایوبؑ سے کہی انہوں نے کہا کہ وہ تو شیطان تھا تو نے اس کی بات کیوں میرے پاس کہی مَیں اچھا ہو کر تجھ کو سَو بید ماروں گا۔ پھر خدا کی رحمت ہوئی تو ایوب علیہ السلام کے پاس فرشتہ آیا اور اپنے پاؤں مار کر ایک چشمہ نکالا اس میں نہانے کے واسطے کہا حضرت ایوبؑ اس میں نہا کر اچھے ہو گئے اور پھر بیوی کی طرف متوجہ ہوئے تو چونکہ آپ نے قسم کھائی تھی اللہ تعالیٰ نے سمجھایا کہ بیوی تمہاری بے قصور ہے صرف ایک جھاڑو بجائےَ سو بید کے اس کے بدن سے چھودو تا کہ قسم جھوٹی نہ ہووے۔

اب دیکھو کہ کتنا صابر ہونا ان کا ثابت ہوا ان کا قصہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں باوجودیکہ صدہا سال گذر گئے تھے نقل کیا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَالۡجُوۡعِ وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِ(البقرۃ:۱۵۶) کبھی ہم تم کو نہایت فقر و فاقہ سے آزمائیں گے اور کبھی تمہارے بچے مَرجاویں گے تو جو لوگ مومن ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ خدا کا ہی مال تھا ہم بھی تو اسی کے ہیں۔ پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہی لوگوں نے جو صبر کرتے ہیں میرے مطلب کو سمجھا ہے ان پر میری بڑی رحمتیں ہیں جن کا کوئی حد و حساب نہیں تو دیکھو کہ یہ باتیں ہیں ان پر عمل کرنا چاہیے غریب آدمی کے ساتھ تکبّر کے ساتھ پیش نہیں آنا چاہیے۔۱؎

(مجلس قبل از عشاء)

ارتدادعن الاسلام کا ذکر

عبدالغفور نامی ایک شخص کے آریہ مذہب اختیار کرنے پر فرمایا کہ اس طرح کے ارتداد سے اسلام کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچتا۔ یکجائی نظر سے دیکھنا چاہیے کہ آیا اسلام ترقی کر رہا ہے یا تنزّل۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت جو بعض لوگ مرتد ہو جاتے تھے تو کیا ان سے اسلام کو نقصان پہنچتا تھا؟ ہرگز نہیں بلکہ میرا خیال ہے کہ یہ پہلو انجام کار اسلام کو ہی مفید پڑتا ہے اور اس طرح سے اہل اسلام کے ساتھ اختلاط کی ایک راہ کھلتی ہے۔ اور جب خدا تعالیٰ نے ایک جماعت کی جماعت اسلام میں داخل کرنی ہوتی ہے تو ایسا ہوا کرتا ہے کہ اہل اسلام میں کچھ ادھر چلے جاویں۔ خدا کے کام بڑے دقیق اور اسرار سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں ہر ایک کی سمجھ میں نہیں آیا کرتے۔۲؎

۱۳؍جولائی۱۹۰۳ء

(بعد نمازِ عصر)

حضرت اقدس کا عورتوںکو وعظ

وَمَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا وَّیَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ(الطلاق:۳) ۴) یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے گا اس کو اللہ ایسے طور سے رزق پہنچائے گا کہ جس طور سے معلوم بھی نہ ہوگا۔ رزق کا خاص طور سے اس واسطے ذکر کیا کہ بہت سے لوگ حرام مال جمع کرتے ہیں اگر وہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر عمل کریں اور تقویٰ سے کام لیویں تو خدا خود ان کو رزق پہنچاوے اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَہُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیۡنَ(الاعراف:۱۹۷) جس طرح پر ماں بچے کی متولّی ہوتی ہے اسی طرح پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں صالحین کا متکفّل ہوتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس کے دشمنوں کو ذلیل کرتا ہے اور اس کے مال میں طرح طرح کی برکتیں ڈال دیتا ہے۔ انسان بعض گناہ عمداً بھی کرتا ہے اور بعض گناہ اس سے ویسے بھی سرزد ہوتے ہیں۔ جتنے انسان کے عضو ہیں ہر ایک عضو اپنے اپنے گناہ کرتا ہے انسان کا اختیار نہیں کہ بچے۔ اللہ تعالیٰ اگر اپنے فضل سے بچاوے تو بچ سکتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے گناہ سے بچنے کے لیے یہ آیت ہے۔ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ(الفاتحۃ:۵) جو لوگ اپنے ربّ کے آگے انکسار سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ شاید کوئی عاجزی منظور ہو جاوے تو ان کا اللہ تعالیٰ خود مددگار ہو جاتا ہے۔ کوئی شخص عابد بہت دعا کرتا تھا کہ یا اللہ تعالیٰ مجھ کو گناہوں سے آزادی دے اس نے بہت دعا کرنے کے بعد سوچا کہ سب سے زیادہ عاجزی کیوں کر ہو۔ معلوم ہوا کہ کتّے سے زیادہ عاجز کوئی نہیں تو اس نے اس کی آواز سے رونا شروع کیا کسی اَور شخص نے سمجھا کہ مسجد میں کتّا آ گیا ہے ایسا نہ ہو کہ کوئی میرا برتن پلید کر دیوے تو اس نے آکر دیکھا تو عابد ہی تھا کتّا کہیں نہ دیکھا۔ آخر اس نے پوچھا کہ یہاں کتّا رو رہا تھا۔ اس نے کہا کہ میں ہی کتّا ہوں پھر پوچھا کہ تم ایسے کیوں رو رہے تھے؟ کہا کہ خدا کو عاجزی پسند ہے اس واسطے میں نے سوچا کہ اس طرح میری عاجزی منظور ہو جاوے گی۔

حضرت ابراہیمؑ نے اپنے لڑکے کے واسطے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جاوے اسی طرح انسان کو چاہیے کہ دعا کرے بہت سے شخص ایسے ہوتے ہیں کہ کسی گناہ سے نہیں بچتے لیکن اگر ان کو کوئی شخص بے ایمان یا کچھ اَور کہہ دیوے تو بڑے جوش میں آتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم تو کوئی گناہ نہیں کرتے پھر ہم کو یہ کیوں کہتا ہے۔ اس طرح انسان کو معلوم نہیں کہ کیا کیا گناہ اس سے سرزد ہوتے ہیں پس اس کو کیا خبر ہے کہ کیا کچھ لکھا ہوا ہے پس انسان کو چاہیے کہ اپنے عیبوں کو شمار کرے اور دعا کرے پھر اللہ تعالیٰ بچاوے تو بچ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مجھ سے دعا کرو مَیں مانوں گا۔ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ(المؤمن:۶۱)۔

دعا اور صحبت صالحین

دو چیزیں ہیں ایک تو دعا کرنی چاہیے۔ دوسرا طریق یہ ہے کہ وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ(التوبۃ:۱۱۹) راست بازوں کی صحبت میں رہو تاکہ ان کی صحبت میں رہ کر کے تم کو پتا لگ جاوے کہ تمہارا خدا قادر ہی بینا ہے، سننے والا ہے، دعائیں قبول کرتا ہے اور اپنی رحمت سے بندوں کو صدہا نعمتیں دیتا ہے جو لوگ ہر روز نئے گناہ کرتے ہیں وہ گناہ کو حلوے کی طرح شیریں خیال کرتے ہیں ان کو خبر نہیں کہ یہ زہر ہے کیونکہ کوئی شخص سنکھیا جان کر نہیں کھا سکتا کوئی شخص بجلی کے نیچے نہیں کھڑا ہوتا اور کوئی شخص سانپ کے سوراخ میں ہاتھ نہیں ڈالتا اور کوئی شخص کھانا شکی نہیں کھا سکتا اگرچہ اس کو کوئی دو چار روپے بھی دے۔ پھر باوجود اس بات کے جو یہ گناہ کرتا ہے کیا اس کو خبر نہیں ہے۔ پھر کیوں کرتا ہے؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ اس کا دل مضر یقین نہیں کرتا اس واسطے ضرور ہے آدمی پہلے یقین حاصل کرے۔ جب تک یقین نہیں غور نہیں کرے گا اور کچھ نہ پائے گا بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے پیغمبروں کا زمانہ بھی دیکھ کر ان کو ایمان نہ آیا اس کی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے غور نہیں کی۔ دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ حَتّٰی نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا(بنی اسرآءیل:۱۶) ہم عذاب نہیں کیا کرتے جب تک کوئی رسول نہ بھیج دیویں اور وَاِذَاۤ اَرَدۡنَاۤ اَنۡ نُّہۡلِکَ قَرۡیَۃً اَمَرۡنَا مُتۡرَفِیۡہَا فَفَسَقُوۡا فِیۡہَا فَحَقَّ عَلَیۡہَا الۡقَوۡلُ فَدَمَّرۡنٰہَا تَدۡمِیۡرًا(بنی اسرآءیل:۱۷) پہلے امراء کو اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے وہ ایسے افعال کرتے ہیں کہ آخر اُن کی پاداش میں ہلاک ہو جاتے ہیں غرضیکہ ان باتوں کو یاد رکھو اور اولاد کی تربیت کرو، زنا نہ کرو، کسی شخص کا خون نہ کرو، اللہ تعالیٰ نے ساری عبادتیں ایسی رکھی ہیں جو بہت عمدہ زندگی تک پہنچاتی ہیں عہد کرو اور عہد کو پورا کرو۔.... اگر تکبر کرو گی تو تم کو خدا ذلیل کرے گا۔ یہ ساری باتیں بُری ہیں۔۱؎

شام کے وقت بوجہ دوران سر حضرت اقدسؑ نے نمازِ مغرب کے نوافل بیٹھ کر ادا کئے۔

بعد ازاں آندھی اور بارش کے آثار نمودار ہوئے اور تجویز ہوئی کہ نماز عشاء جمع کر لی جاوے چونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طبیعت ناساز تھی اس لیے تشریف لے گئے مگر تاہم باجماعت نماز کا اس قدر آپ کو خیال تھا کہ تاکید فرمائی کہ تکبیر زور سے کہی جاوے کہ میں اندر سُن لوں اور باجماعت نماز ادا ہو جاوے۔۱؎

۱۴؍جولائی۱۹۰۳ء

خدا تعالیٰ سچادوست ہے

فرمایا کہ دعویٰ مومن اور مسلم ہونے کا آسان ہے مگر جو سچے طور پر خدا کا ساتھ دیوے تو خدا اس کا ساتھ دیتا ہے۔ ہر ایک دل کو اس قسم کی سچائی کی توفیق نہیں ملا کرتی یہ صرف کسی کسی کا دل ہوتا ہے۔ دیکھا جاتا ہے کہ دوست بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ بعض زن مزاج کہ وفا نہیں کرتے اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ حق دوستی کو وفاداری کے ساتھ پورا ادا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ وفادار دوست ہے اسی لیے تو وہ فرماتا ہے وَمَنۡ یَّتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ(الطلاق:۴) کہ جو خدا کی طرف سے پورے طور پر آ گیا اور اعدا وغیرہ کسی کی پروانہ کی فَہُوَ حَسۡبُہٗ(الطلاق:۴) تو پھر خدا تعالیٰ اس کے ساتھ پوری وفا کرتا ہے۔

ایک پیشگوئی عنقریب ایسا ہو گا کہ شریر لوگ جو رعب داب رکھتے ہیں وہ کم ہوتے جاویں گے۔

گ

ذشتہ چند ایام میں سخت گرمی تھی اور آج بفضل خدا بارش ہو جانے کی وجہ سے ٹھنڈ ہو گئی تھی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی بارش کے ہو جانے سے درخت دھوئے دھائے نظر آ رہے تھے آسمان، بادل اور ہر ایک درودیوار نے بارش کی وجہ سے ایک خاص رنگ و روپ حاصل کیا تھا اس پر خدا کے برگزیدہ اور مجسم شکر انسان نے فرمایا کہ خدا کے تصرفات بھی کیسے ہیں ابھی کل کیا تھا اور آج کیا ہے۔

جس کا دل مُردہ ہو وہ خوشی کا مدار صرف دنیا کو رکھتا ہے مگر مومن کو خدا سے بڑھ کر اَور کوئی شَے پیاری نہیں ہوتی۔ جس نے یہ نہیں پہچانا کہ ایمان کیا ہے اور خدا کیا ہے وہ دنیا سے کبھی آگے نکلتے ہی نہیں ہیں۔ جب تک دنیا ان کے ساتھ ہے تب تک تو سب سے خوشی سے بولتے ہیں بیوی سے بھی خندہ پیشانی سے پیش آتے ہیں مگر جس دن دنیا گئی تو سب سے ناراض ہیں۔ منہ سوجا ہوا ہے ہر ایک سے لڑائی ہے گلہ ہے شکوہ ہے حتی کہ خدا سے بھی ناراض ہیں تو پھر خدا ان سے کیسے راضی رہے وہ بھی پھر ناراض ہو جاتا ہے۔

مومن اوردنیادار کی موت میں فرق

مگر بڑی بشارت مومن کو ہے۔ یٰۤاَیَّتُہَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّۃُ ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرۡضِیَّۃً(الفجر:۲۸، ۲۹) اے نفس جو کہ خدا سے آرام یافتہ ہے تو اپنے ربّ کی طرف راضی خوشی واپس آ۔ اس خوشی میں ایک کافر ہرگز شریک نہیں ہے۔ رَاضِیَۃً کے معنے یہ ہیں کہ وہ اپنی مُرادات کوئی نہیں رکھتا کیونکہ اگر وہ دنیا سے خلافِ مُرادات جاوے تو پھر راضی تو نہ گیا اسی لیے اس کی تمام مُراد خدا ہی خدا ہوتا ہے اس کے مصداق صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں کہ آپ کو یہ بشارت ملی۔ اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ وَالۡفَتۡحُ(النّصر:۲) اور اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ(المائدۃ:۴) بلکہ مومن کی خلافِ مرضی تو اس کی نزع (جان کنی )بھی نہیں ہوا کرتی ایک شخص کا قصہ لکھا ہے کہ وہ دعا کیا کرتا تھا کہ میں طوس میں مَروں لیکن ایک دفعہ وہ ایک اَور مقام پر تھا کہ سخت بیمار ہوا اور کوئی امید زیست کی نہ رہی تو اس نے وصیت کی کہ اگر میں یہاں مَر جاؤں تو مجھے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کرنا اسی وقت سے وہ روبصحت ہونا شروع ہو گیا حتی کہ بالکل تندرست ہو گیا۔ لوگوں نے اس کی وصیت کی وجہ پوچھی تو کہا کہ مومن کی علامت ایک یہ بھی ہے کہ اس کی دعا قبول ہو۔

ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ(المؤمن:۶۱) خدا کا وعدہ ہے میری دعا تھی کہ طوس میں مَروں جب دیکھا کہ موت تو یہاں آتی ہے تو اپنے مومن ہونے پر مجھ کو شک ہوا اس لیے میں نے یہ وصیت کی کہ اہل اسلام کو دھوکا نہ دوں غرضیکہ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً صرف مومنوں کے لیے ہے۔ دنیا میں بڑے بڑے مالداروں کی موت سخت نامُرادی سے ہوتی ہے۔ دنیا دار کی موت کے وقت ایک خواہش پیدا ہوتی ہے اور اسی وقت اسے نزع ہوتی ہے یہ اس لیے ہوتا ہے کہ خدا کا ارادہ ہوتا ہے کہ اس وقت بھی اسے عذاب دیوے اور اس کی حسرت کے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں تا کہ انبیاء کی موت جو کہ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً کی مصداق ہوتی ہے اس میں اور دنیا دار کی موت میں ایک بیّن فرق ہو۔ دنیا دار کتنی ہی کوشش کرے گا مگر اس کی موت کے وقت حسرت کے اسباب ضرور پیش ہو جاتے ہیں غرضیکہ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً کی موت مقبولین کی دولت ہے اس وقت ہر ایک قسم کی حسرت دور ہو کر ان کی جان نکلتی ہے۔ راضی کا لفظ بہت عمدہ ہے اور ایک مومن کی مُرادیں اصل میں دین کے لیے ہوا کرتی ہیں خدا کی کامیابی اور اس کے دین کی کامیابی اس کا اصل مدّعا ہوا کرتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بہت ہی اعلیٰ ہے کہ جن کو اس قسم کی موت نصیب ہوئی۔۱؎

۱۶؍جولائی۱۹۰۳ء

(بعد نمازِ عصر)

نظر نظر کا فرق

سلطان محمود سے ایک بزرگ نے کہا کہ جو کوئی مجھ کو ایک دفعہ دیکھ لیوے اس پر دوزخ کی آگ حرام ہو جاتی ہے۔ محمود نے کہا یہ کلام تمہارا پیمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ہے۔ ان کو کفار ابولہب، ابوجہل وغیرہ نے دیکھا تھا ان پر دوزخ کی آگ کیوں حرام نہ ہوئی۔ اس بزرگ نے کہا کہ اے بادشاہ کیا آپ کو علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یَنۡظُرُوۡنَ اِلَیۡکَ وَہُمۡ لَا یُبۡصِرُوۡنَ(الاعراف:۱۹۹) اگر دیکھا اور جھوٹا کاذب سمجھا تو کہاں دیکھا؟ حضرت ابوبکرؓ نے، فاطمہؓ۲؎ نے، حضرت عمرؓ نے اور دیگر اصحابؓ نے آپ کو دیکھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے آپ کو قبول کر لیا۔ دیکھنے والا اگر محبت اور اعتقاد کی نظر سے دیکھتا ہے تو ضرور اثر ہو جاتا ہے اور جو عداوت اور دشمنی کی نظر سے دیکھتا تو اسے ایمان حاصل نہیں ہوا کرتا۔

ایک حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر کوئی میرے پیچھے نماز ایک مرتبہ پڑھ لیوے تو وہ بخشا جاتا ہے۔ اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ(التوبۃ:۱۱۹) کے مصداق ہو کر نماز کو آپ کے پیچھے ادا کرتے ہیں تو وہ بخشے جاتے ہیں۔

اصل میں لوگ نماز میں دنیا کے ۱ رون ے روتے رہتے ہیں اور جو اصل مقصود نماز کا قرب الی اللہ اور ایمان کا سلامت لے جانا ہے اس کی فکر ہی نہیں حالانکہ ایمان سلامت لے جانا بہت بڑا معاملہ ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب انسان اس واسطے روتا ہے کہ مجھ کو با ایمان اللہ تعالیٰ دنیا سے لے جاوے تو خدا تعالیٰ اس کے اوپر دوزخ کی آگ حرام کرتا ہے اور بہشت ان کو ملے گا جو اللہ تعالیٰ کے حضور میں حصول ایمان کے لئے روتے ہیں۔ مگر یہ لوگ جب روتے ہیں تو دنیا کے لیے روتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو بھلا دے گا۔

اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَاذۡکُرُوۡنِیۡۤ اَذۡکُرۡکُمۡ(البقرۃ:۱۵۳) تم مجھ کو یاد رکھو میں تم کو یاد رکھوں گا یعنی آرام اَور خوشحالی کے وقت تم مجھ کو یاد رکھو اور میرا قرب حاصل کرو تا کہ مصیبت میں تم کو یاد رکھوں۔ یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ مصیبت کا شریک کوئی نہیں ہوسکتا۔ اگر انسان اپنے ایمان کو صاف کر کے اور دروازہ بند کر کے رووے بشرطیکہ پہلے ایمان صاف ہو تو وہ ہرگز بے نصیب اور نامُراد نہ ہوگا۔ حضرت داؤدؑ فرماتے ہیں کہ میں بڈھا ہو گیا مگر میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ جو شخص صالح ہو اور با ایمان ہو پھر اس کو دشواری پیش ہو اور اس کی اولاد بے رزق ہو۔

پھر دوسری جگہ فرماتا ہے وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِفَتٰٮہُ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤی(الکھف:۶۱) اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت موسٰی وعظ فرما رہے تھے کسی نے پوچھا کہ آپ سے کوئی اور بھی علم میں زیادہ ہے تو انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات ان کی پسند نہ آئی (یعنی یوں کہتے کہ خدا کے بندے بہت سے ہیں جو ایک سے ایک علم میں زیادہ ہیں )اور حکم ہوا کہ تم فلاں طرف چلے جاؤ جہاں تمہاری مچھلی زندہ ہو جائے گی وہاں تم کو ایک علم والا شخص ملے گا۔ پس جب وہ ادھر گئے تو ایک جگہ مچھلی بھول گئے۔ جب دوبارہ تلاش کرنے آئے تو معلوم ہوا کہ مچھلی وہاں نہیں ہے۔ وہاں ٹھیر گئے تو ایک ہمارے بندہ سے ملاقات ہوئی۔ اس کو موسیٰ نے کہا کہ کیا مجھے اجازت ہے کہ آپ کے ساتھ رہ کر علم اور معرفت سیکھوں؟ اس بزرگ نے کہا کہ اجازت دیتا ہوں مگر آپ بدگمانی سے بچ نہیں سکیں گے کیونکہ جس بات کی حقیقت معلوم نہیں ہوتی اور سمجھ نہیں دی جاتی تو اس پر صبر کرنا مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ جب دیکھا جاتا ہے کہ ایک شخص ایک موقع پر بے محل کام کرتا ہے تو اکثر بدظنّی ہو جاتی ہے۔ پس موسٰی نے کہا کہ میں کوئی بدظنّی نہ کروں گا اور آپ کا ساتھ دوں گا۔ اس نے کہا کہ اگر تو میرے ساتھ چلے گا تو مجھ سے کسی بات کا سوال نہ کرنا۔ پس جب چلے تو ایک کشتی پر جا کر سوار ہوئے۔ (پھر یہاں پر حضرت اقدس نے حضرت موسیٰ کا وہ تمام قصہ ذکر کیا جو کہ سورہ کہف میں مذکور ہے۔ پھر اس دیوار کے خزانہ کی نسبت فرمایا کہ) اس کو اس واسطے درست کر دیا کہ وہ دو یتیم بچوں کے کام آوے۔ اس واسطے یہ کام کیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان بچوں نے کوئی نیک کام نہ کیا تھا مگر ان کے باپ کے نیک بخت اور صالح ہونے کے باعث خدا نے ان بچوں کی خبر گیری کی۔

دیکھو کہاں یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے واسطے اس کی اولاد کا اس قدر خیال رکھا اور کہاں یہ کہ انسان غرق ہوتا چلا جاتا ہے اور تباہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ پروا نہیں کرتا۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ خدا سے ہر حال میں تعلق رکھتے ہیں۔ تو خدا ان کو ضائع ہونے سے بچا لیتا ہے۔ دیکھو ایک انسان کے دن برگشتہ ہیں۔ کام اس کے خراب ہیں مگر خدا رحم نہیں کرتا۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ وہ قابل رحم ہی نہیں ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو انسان پر بڑا رحم ہے۔ ہزاروں گناہ بخشتا ہے۔ جب انسان بہت تعلق خدا کے ساتھ پیدا کرتا ہے اور سب طرح سے اسی کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِعْـمَلْ مَا شِئْتَ فَاِنِّیْ غَفَرْتُ لَکَ یعنی جو تیری مرضی ہو کئے جا مَیں نے تجھے سب کچھ بخش دیا۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا اِعۡمَلُوۡا مَا شِئۡتُمۡ(حٰمٓ السجدۃ:۴۱) یعنی جو چاہو سو کئے جاؤ۔ پس یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تو بڑا مہربان اور رحیم ہے اور بہت رحم سے معاملہ کرتا ہے۔

فرمایا وہ خدا جو کہ عرصہ سے مخفی چلا آتا تھا اب نقاب اُٹھا کر چہرہ دکھا رہا ہے۔ کیا آج تک کسی نے ایسا بولتا خدا دیکھا تھا جیسے کہ اب رات دن بول رہا ہے۔

موجودہ زمانہ کے گدی نشین جو کہ دینی ضرورتوں سے غافل ہیں۔ ان کے ذکر پر فرمایا کہ اگر پیغمبر خدا یونہی ایک فقیر کی طرح گدی پر بیٹھے رہتے۔ تو صریح کامیابی جو کہ آپ نے دنیا میں دیکھ لی کیسے نظر آتی۔ طاعون۱؎ کا ظاہر ہونا بھی خدا کی رحمت ہے۔

رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ

اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ(الانبیآء:۱۰۸) اس وقت آنحضرت پر صادق آتا ہے کہ جب آپ ہر ایک قسم کے خُلق سے ہدایت کو پیش کرتے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپؐ نے اخلاق، صبر، نرمی اور نیز مار، ہر ایک طرح سے اصلاح کے کام کو پورا کیا اور لوگوں کو خدا کی طرف توجہ دلائی۔ مال دینے میں، نرمی برتنے میں، عقلی دلائل اور معجزات کے پیش کرنے میں آپ نے کوئی فرق نہیں رکھا۔ اصلاح کا ایک طریق مار بھی ہوتا ہے کہ جیسے ماں ایک وقت بچے کو مار سے ڈراتی ہے وہ بھی آپ نے برت لیا۔ تو مار بھی ایک خدا کی رحمت ہے کہ جو آدمی اَور کسی طریق سے نہیں سمجھتے خدا ان کو اس طریق سے سمجھاتا ہے کہ وہ نجات پاویں۔

خدا تعالیٰ نے چار صفات جو مقرر کی ہیں جو کہ سورہ فاتحہ کے شروع میں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چاروں سے کام لے کر تبلیغ کی ہے۔ مثلاً پہلے رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ یعنی عام ربوبیت ہے تو آیت اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ(الانبیآء:۱۰۸) اس کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ پھر ایک جلوہ رحمانیت کا بھی ہے کہ آپ کے فیضان کا بدل نہیں ہے۔ ایسی ہی دوسری صفات۔۲؎

۲۱؍جولائی ۱۹۰۳ء

ایک استفسار اور اس کا جواب

ایک شخص نے سوال کیا کہ ریلی بردرس وغیرہ کارخانوں میں سرکاری سیر ۸۰ روپیہ کا دیتے ہیں اور لیتے ۸۱ روپے کا ہیں۔ کیا یہ جائز ہے؟

فرمایا۔ جن معاملات بیع وشرا میں مقدمات نہ ہوں۔ فساد نہ ہوں۔ تراضی فریقین ہو اور سرکار نے بھی جرم نہ رکھا ہو۔ عرف میں جائز ہو۔ وہ جائز ہے۔

ہدایت کے مختلف ذرائع

مامور جب دنیا میں اصلاح اور اشاعت ہدایت کے لیے آتے ہیں تو وہ ہر طرح سے سمجھاتے ہیں۔ آخری علاج اور راہ سختی بھی ہے۔ دنیا میں بھی یہی طریق جاری ہے کہ ابتداءً و اوّلاً نرمی کے ساتھ سمجھایا جاتا ہے۔ پھر اس کی خوبیاں اور مفاد بتا کر شوق دلایا جاتا ہے۔ آخر جب کسی طرح نہیں مانتے تو سختی ہوتی ہے۔ جیسے ماں ایک وقت بچہ کو مار سے ڈراتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس قدر طریق عقل تبلیغ اور ہدایت کی تجویز کر سکتی ہے اختیار کئے یعنی اوّل ہر قسم کی نرمی سے، رفق، صبر اور اخلاق سے، عقلی دلائل اور معجزات سے کام لیا اور آخر الامر جب ان لوگوں کی شرارتیں اور سختیاں حد سے گذر گئیں تو اللہ تعالیٰ نے پھر اسی رنگ میں ان پر حجّت پوری کی اور سختی سے کام لیا۔ یہی حال اب ہو رہا ہے۔ خدا تعالیٰ نے دلائل سے سمجھایا۔ نشانات دکھائے اور آخر اب طاعون کے ذریعہ متوجہ کر رہا ہے اور ایک جماعت کو اس طرف لا رہا ہے۔

فرمایا۔ سورہ فاتحہ میں جو اللہ تعالیٰ کی صفات اربعہ بیان ہوئی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان چاروں صفات کے مظہر کامل تھے۔ مثلاً پہلی صفت رب العالمین ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بھی مظہر ہوئے۔ جبکہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ(الانبیآء:۱۰۸) جیسے رب العالمین عام ربوبیت کو چاہتا تھا۔ اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض وبرکات اور آپ کی ہدایت و تبلیغ کل دنیا اور کل عالموں کے لیے قرار پائی۔ پھر دوسری صفت رحمٰن کی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس صفت کے بھی کامل مظہر ٹھیرے کیونکہ آپ کے فیوض و برکات کا کوئی بدل اور اجر نہیں۔ مَاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ(الفرقان:۵۸) پھر آپ رحیمیت کے مظہر ہیں آپؐ نے اور آپؐ کے صحابہؓ نے جو محنتیں اسلام کے لیے کیں اور ان خدمات میں جو تکالیف اٹھائیں وہ ضائع نہیں ہوئیں بلکہ ان کا اجر دیا گیا اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن شریف میں رحیم کا لفظ بولا ہی گیا ہے پھر آپ مالکیت یوم الدین کے مظہر بھی ہیں اس کی کامل تجلّی فتح مکّہ کے دن ہوئی ایسا کامل ظہور اللہ تعالیٰ کی ان صفات اربعہ کا جو اُمّ الصفات ہیں اَور کسی نبی میں نہیں ہوا۔۱؎


۲۳؍جولائی ۱۹۰۳ء

ایک رؤیا

فرمایا کہ رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک آنب ہے جسے میں نے تھوڑا سا چُوسا تو معلوم ہوا کہ وہ تین پھل ہیں جب کسی نے پوچھا کہ کیا پھل ہیں تو کہا کہ ایک آنب ہے ایک طوبا۲؎ اور ایک اَور پھل ہے۔

اسلام سے ارتداد کی وجہ

اسلام سے ارتداد کی وجہ پر ذکر ہوتے ہوئے فرمایا کہ جب ایک قوم کا غلبہ اور اقبال ہوتا ہے تو خود غرض آدمی اغراض کے واسطے اس کے ساتھ ہو جاتا ہے۔۳؎

۲۴؍جولائی ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام)

قبروں پر چڑھاوے

ایک بھائی نے عرض کی کہ حضور بکرا وغیرہ جانور جو غیر اللہ تھانوں اور قبروں پر چڑھائے جاتے ہیں پھر وہ فروخت ہوکر ذبح ہوتے ہیں کیا ان کا گوشت کھانا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا۔ شریعت کی بنا نرمی پر ہے سختی پر نہیں ہے اصل بات یہ ہے کہ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللّٰہِ(البقرۃ:۱۷۴) سے یہ مُراد ہے کہ جو ان مندروں اور تھانوں پر ذبح کیا جاوے یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جاوے اس کا کھانا تو جائز نہیں ہے لیکن جو جانور بیع وشرا میں آجاتے ہیں اس کی حلّت ہی سمجھی جاتی ہے زیادہ تفتیش کی کیا ضرورت ہوتی ہے۔۱؎ دیکھو حلوائی وغیرہ بعض اوقات ایسی حرکات کرتے ہیں کہ ان کا ذکر بھی کراہت اور نفرت پیدا کرتا ہے لیکن ان کی بنی ہوئی چیزیں آخر کھاتے ہی ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ شیرینیاں طیار کرتے ہیں اور میلی کچیلی دھوتی میں بھی ہاتھ مارتے جاتے ہیں اور جب کھانڈ طیار کرتے ہیں تو اس کو پاؤں سے ملتے ہیں چوڑھے چمار گُڑ وغیرہ بناتے ہیں اور بعض اوقات جوٹھے رس وغیرہ ڈال دیتے ہیں اور خدا جانے کیا کیا کرتے ہیں ان سب کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح پر اگر تشدّد ہو تو سب حرام ہو جاویں اسلام نے مالا یطاق تکلیف نہیں رکھی ہے بلکہ شریعت کی بنا نرمی پر ہے۔ اس کے بعد سائل مذکور نے پھر اسی سوال کی اَور باریک جزئیات پر سوال شروع کئے۔ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے لَا تَسۡـَٔلُوۡا عَنۡ اَشۡیَآءَ(المائدۃ:۱۰۲) بھی فرمایا ہے بہت کھودنا اچھا نہیں ہوتا۔

متقیوں کو اللہ تعالیٰ ابتلاؤں سے بچاتا ہے

اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ متقی کو ایسی مشکلات میں نہیں ڈالتا۔۱؎وَالۡخَبِیۡثُوۡنَ لِلۡخَبِیۡثٰتِ ۚ وَالطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیۡنَ(النّور:۲۷) اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ متقیوں کو اللہ تعالیٰ خود پاک چیزیں بہم پہنچاتا ہے اور خبیث چیزیں خبیث لوگوں کے لیے ہیں اگر انسان تقویٰ اختیار کرے اور باطنی طہارت اور پاکیزگی حاصل کرے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں پاکیزگی ہے۔ تو وہ ایسے ابتلاؤں سے بچا لیا جاوے گا۔ ایک بزرگ کی کسی بادشاہ نے دعوت کی اور بکری کا گوشت بھی پکایا اور خنزیر کا بھی۔ اور جب کھانا رکھا گیا تو عمداً سور کا گوشت اس بزرگ کے سامنے رکھ دیا اور بکری کا اپنے اور اپنے دوستوں کے آگے۔ جب کھانا رکھا گیا اور کہا کہ شروع کرو تو اللہ تعالیٰ نے اس بزرگ پر بذریعہ کشف اصل حال کھول دیا انہوں نے کہا ٹھیرو یہ تقسیم ٹھیک نہیں اور یہ کہہ کر اپنے آگے کی رکابیاں ان کے آگے اور ان کے آگے کی اپنے آگے رکھتے جاتے تھے اور یہ آیت پڑھتے جاتے تھے کہ اَلۡخَبِیۡثٰتُ لِلۡخَبِیۡثِیۡنَ(النّور:۲۷) الآیۃ۔ غرض جب انسان شرعی امور کو ادا کرتا ہے اور تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے اور بُری اور مکروہ باتوں سے اس کو بچا لیتا ہے۔ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیۡ(یوسف:۵۴) کے یہی معنے ہیں۔۲؎

۲۵؍جولائی ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام )ایک الہام فرمایا۔ کل مجھے الہام ہوا تھا اَلْفِتْنَۃُ وَالصَّدَقَاتُ

ایک الہام

فرمایا کہ اب الہام بھی اسے کیا کہیں۔ ایسی صاف اور واضح وحی ہوتی ہے کہ کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش بالکل نہیں رہتی۔ شاذ و نادر ہی کوئی ایسی وحی ہو تو ہو ورنہ ہر وحی میں پیشگوئی ضرور ہوتی ہے۔

تقویتِ ایمان کی ضرورت

تقویتِ ایمان کی بڑی ضرورت ہے بغیر ایمان کے اعمال مثل مُردہ کے ہوتے ہیں۔ ایمان ہو تو انسان کو وہ معرفت حاصل ہوتی ہے جس سے وہ آسمان کی طرف مصعود ہوتا ہے اور اگر یہ نہ ہو تو نہ برکات حاصل ہوتے ہیں نہ خوشی حاصل ہوتی ہے۔ خدا کو دیکھنے کے بعد جب کوئی عمل کیا جاوے تو جو اس عمل کی شان ہوگی کیا ویسی کسی دوسرے کی ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ جس قدر امراض عمل کی کمزوری اور تقویٰ کی کمزوری کے دیکھے جاتے ہیں ان سب کی اصل جڑ معرفت کی کمزوری ہے۔۱؎ ایک کیڑے کی بھی معرفت ہوتی ہے تو انسان اس سے ڈرتا ہے پھر اگر خدا کی معرفت ہو تو اس سے کیوں نہ ڈرے؟ غرضیکہ معرفت کی بڑی ضرورت ہے۔

میں دیکھتا ہوں کہ اگرچہ ہماری جماعت تو بڑھ رہی ہے لیکن ابھی پوست ہی بڑھتا ہے اگر مغز بڑھے تو بات ہے۔ بار بار خیال آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا ہی قوت قدسیہ ہے کہ آپ پر ایمان لا کر صحابہ کرامؓ نے یک دفعہ ہی دنیا کا فیصلہ کر دیا۔ جان سے بڑھ کر کیا شَے ہوتی ہے اپنے خون سے دین پر مہریں لگا دیں اب لوگ بیعت کرتے ہیں تو دیکھا جاتا ہے کہ ساتھ ہی مخفی اغراض دنیا کے بھی لاتے ہیں کہ فلاں کام دنیا کا ہو جاوے۔ یہ ہو جاوے۔ یہ سچ ہے کہ جو مومن ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ ہر ایک مشکل کو اس کی آسان کر دیتا ہے مگر سب سے اوّل معرفت ضروری ہے پھر خدا تعالیٰ خود اس کی ہر ایک ضرورت کا کفیل ہوگا۔۱؎

۲۶؍جولائی ۱۹۰۳ء

مسیح موعود کے زمانہ میں درازیٔ عمر کا راز

احادیث میں جو آیا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں عمریں لمبی ہو جائیں گی۔ اس سے یہ مُراد نہیں ہے کہ موت کا دروازہ بالکل بند ہو جائے گا اور کوئی شخص نہیں مَرے گا۔ بلکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ مالی، جانی نصرت میں اس کے مخلص احباب ہوں گے اور خدمت دین میں لگے ہوئے ہوں گے ان کی عمریں دراز کر دی جائیں گی۔ اس واسطے کہ وہ لوگ نفع رساں وجود ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے وَاَمَّا مَا یَنۡفَعُ النَّاسَ فَیَمۡکُثُ فِی الۡاَرۡضِ(الرّعد:۱۸) یہ اَمر قانونِ قدرت کے موافق ہے کہ عمریں دراز کر دی جائیں گی۔ اس زمانہ کو جو دراز کیا ہے یہ بھی اس کی رحمت ہے اور اس میں کوئی خاص مصلحت ہے۔

(اس پر حضرت حکیم الامت نے عرض کیا کہ مسلمانوں میں سب سے پہلا مجدّد عمر بن عبدالعزیز کو تسلیم کیا ہے وہ کل دو۲ برس۲؎ تک زندہ رہے ہیں۔

)زاں بعد حضرت حجۃ اللہ نے پھر اپنے سلسلہ کلام میں فرمایا کہ محض خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے آج تک ہم کو محفوظ رکھا ہے اور جماعت کو ترقی دے رہا ہے اور اس کے ازدیادِ ایمان اور معرفت کے لیے حجج وبراہین ظاہر کر رہا ہے یہاں تک کہ کوئی پہلو تاریکی میں نہیں رہنے دیا۔

سلسلہ احمدیہ

ہمارے سلسلہ کے لیے منہاجِ نبوت ایک زبردست آئینہ ہے۔ جاہل اس پر اگر اپنی کم سمجھی سے اعتراض کرے تو منہاج نبوت اس کے منہ پر طمانچہ مارتا ہے جو بات ہونہار ہوتی ہے اس کے نشانات اور آثار خود بخود نظر آنے لگتے ہیں جو کام اللہ تعالیٰ نے ہمارے سپرد کیا ہے اس کی تکمیل کی ہوائیں چل رہی ہیں اور دو طرح سے وہ ہو رہا ہے ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ ہم کو توفیق دے رہا ہے کہ ہماری طرف سے دن رات کوشش جاری ہے اور اشاعت اور تبلیغ کی راہیں کھلتی جاتی ہیں تائیدات الٰہیہ شامل حال ہوتی جاتی ہیں۔ دوسری طرف؎۱ خود ہمارے مخالفوں کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔ اور ان میں ہی ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو اپنے مذہب کو چھوڑتے جاتے ہیں اور اس کی برائیاں بیان کر رہے ہیں گویا وہ اپنے مذہب و ملّت کی عمارت کو یُخۡرِبُوۡنَ بُیُوۡتَہُمۡ بِاَیۡدِیۡہِمۡ(الحشر:۳) کے مصداق ہو کر خود ہی مسمار کر رہے ہیں۔

فرمایا۔ اللہ تعالیٰ جب تک اپنا چہرہ نہ دکھلا لے ہرگز نہیں چھوڑے گا کیونکہ یقین کی ترقی کا سچا ذریعہ یہی ہے۔

دوزخ کے سات دروازے

فرمایا۔ چند روز سے جو مستورات میں وعظ کا سلسلہ جاری ہے ایک روز یہ ذکر آ گیا کہ دوزخ کے سات دروازے ہیں اور بہشت کے آٹھ۔ اس کا کیا سِر ہے تو ایک دفعہ ہی میرے دل میں ڈالا گیا کہ اصول جرائم بھی سات ہی ہیں اور نیکیوں کے اُصول بھی سات۔ بہشت کا جو آٹھواں دروازہ ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کا دروازہ ہے۔

دوزخ کے سات دروازوں کے جو اُصول جرائم سات ہیں ان میں سے ایک بدظنّی ہے۔ بدظنّی کے ذریعہ بھی انسان ہلاک ہوتا ہے اور تمام باطل پرست بدظنی سے گمراہ ہوئے ہیں۔

دوسرا اصول تکبّر ہے۔ تکبّر کرنے والا اہل حق سے الگ رہتا ہے اور اسے سعادت مندوں کی طرح اقرار کی توفیق نہیں ملتی۔ تیسرا اصول جہالت ہے یہ بھی ہلاک کرتی ہے۔ چوتھا اصول اتباع ھویٰ ہے۔ پانچواں کورانہ تقلید ہے۔ غرض اسی۱؎ طرح پر جرائم کے سات اصول ہیں اور یہ سب کے سب قرآن شریف سے مستنبط ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے ان دروازوں کا علم مجھے دیا ہے۔ جو گناہ کوئی بتائے وہ ان کے نیچے آ جاتا ہے۔ کورانہ تقلید اور اتباع ھویٰ کے ذیل میں بہت سے گناہ آتے ہیں۔

جنّت کی نعماء

اسی طرح ایک دن میں نے بیان کیا کہ دوزخیوں کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ ان کو زَقُّوْم کھانے کو ملے گا اور بہشتیوں کو اس کے بالمقابل دودھ اور شہد کی نہریں اور قِسم قِسم کے پھل بیان کئے گئے ہیں۔ اس کا سِر کیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں بالمقابل بیان ہوئی ہیں۔ بہشت کی نعمتوں کا ذکر ایک جگہ کر کے یہ بھی فرمایا ہے کُلَّمَا رُزِقُوۡا مِنۡہَا مِنۡ ثَمَرَۃٍ رِّزۡقًا ۙ قَالُوۡا ہٰذَا الَّذِیۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ ۙ وَاُتُوۡا بِہٖ مُتَشَابِہًا(البقرۃ:۲۶) تو اس میں رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ(البقرۃ:۲۶) سے یہ مُراد نہیں کہ دنیا کے آم، خربوزے اور دوسرے پھل اور دنیا کا دودھ اور شہد ان کو یاد آجائے گا نہیں بلکہ اصل یہ ہے کہ مومن جو اخلاص اور محبت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور اس ذوق شوق سے جو لذّت ان کو محسوس ہوتی ہے تو بہشت کی نعمتوں اور لذتوں کے حاصل ہونے پر وہ لذّت ان کو یاد آجائے گی کہ اس قسم کی لذّت بخش نعمتیں ہمارے رب سے پہلے بھی ملتی رہی ہیں۔ چونکہ بہشتی زندگی اسی عالم سے شروع ہوتی ہے اس لیے ان نعمتوں کا ملنا بھی یہیں سے شروع ہو جاتا ہے۔ ورنہ بہشت کی نعمتوں کے بارہ میں تو آیا ہے کہ نہ ان کو کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا۔ تو ان دنیوی پھلوں سے ان کا رشتہ کیا ہوا؟ ایمان اور اعمال کی مثال قرآن شریف میں درختوں سے دی گئی ہے۔ ایمان کو درخت بتایا ہے اور اعمال اس کی آبپاشی کے لیے بطور نہروں کے ہیں۔ جب تک اعمال سے ایمان کے پودہ کی آبپاشی نہ ہو اس وقت تک وہ شریں پھل حاصل نہیں ہوتے۔ بہشتی زندگی والا انسان خدا کی یاد سے ہر وقت لذّت پاتا ہے اور جو بدبخت دوزخی زندگی والا ہے تو وہ ہر وقت اس دنیا میں زَقُّوْم ہی کھا رہا ہے اس کی زندگی تلخ ہوتی ہے۔۱؎مَعِیۡشَۃً ضَنۡکًا(طٰہٰ:۱۲۵) بھی اسی کا نام ہے جو قیامت کے دن زَقُّوْم کی صورت پر متمثل ہو جائے گی۔ غرض دونوں صورتوں میں باہم رشتے قائم ہیں۔۲؎

۲۹؍جولائی ۱۹۰۳ء

(بوقتِ نماز ظہر)

نجات

برادرم ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب پروفیسر میڈیکل کالج لاہور نے آج لاہور کو جانا تھا۔ انہوں نے لاہور آریہ سماج کے اس اشتہار کا ذکر کیا جو انہوں نے مسئلہ نجات پر مباحثہ کے لیے شائع کیا ہے، اس پر حضرت حجۃ اللہ نے مختصراً نجات کے متعلق یہ تقریر بیان فرمائی۔ اس کا ماحصل یہ ہے۔ (ایڈیٹر)

فرمایا۔ نجات کے متعلق جو عقیدہ قرآن شریف سے مستنبط ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ نجات نہ تو صوم سے ہے نہ صلوٰۃ سے نہ زکوٰۃ اور صدقات سے بلکہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے جس کو دعا حاصل کرتی ہے۔ اسی لیے اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ(الفاتحۃ:۶) کی دعا سب سے اوّل تعلیم فرمائی ہے کیونکہ جب یہ دعا قبول ہو جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرتی ہے جس سے اعمال صالحہ کی توفیق ملتی ہے کیونکہ جب انسان کی دعا جو سچے دل اور خلوص نیت سے ہو قبول ہوتی ہے تو پھر نیکی اور اس کے شرائط ساتھ خود ہی مرتّب ہو جاتے ہیں۔

اگر نجات کو محض اعمال پر منحصر کیا جاوے اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور دعا کو محض بے حقیقت سمجھا جاوے جیسا کہ آریہ سماج کا عقیدہ ہے تو یہ ایک باریک شرک ہے۔ کیونکہ اس کا مفہوم دوسرے لفظوں میں یہ ہوگا کہ انسان خود بخود نجات پا سکتا ہے اور اعمال اس کے اپنے اختیار میں ہیں جن کو وہ خود بخود بجا لاتا ہے تو اس صورت میں نجات کی کلید انسان ہی کے اپنے ہاتھ میں ہوئی اور خدا سے نجات کا کچھ تعلق اور واسطہ نہ ہوا گویا وہ خود کوئی چیز نہ ہوا۔ اور اس کا عدم وجود برابر ٹھہرا (معاذ اللہ) مگر نہیں ہمارا یہ مذہب نہیں ہے۔ ہمارا یہی عقیدہ ہے کہ نجات اس کے فضل سے ملتی ہے اور اسی کا فضل ہے جو اعمال صالحہ کی توفیق دی جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کا فضل دعا سے حاصل ہوتا ہے لیکن وہ دعا جو اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرتی ہے وہ بھی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتی۔ انسان کا ذاتی اختیار نہیں کہ وہ دعا کے تمام لوازمات اور شرائط محویت، توکّل، تبتّل، سوز و گداز وغیرہ کو خود بخود مہیا کرے جب اس قسم کی دعا کی توفیق کسی کو ملتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کی جاذب ہو کر ان تمام شرائط اور لوازم کو حاصل کرتی ہے جو اعمال صالحہ کی رُوح ہیں ہمارا نجات کے متعلق یہی مذہب ہے۔

چونکہ نجات کوئی مصنوعی اور بناوٹی بات نہیں کہ صرف زبان سے کہہ دینا اس کے لیے کافی ہو کہ نجات ہوگئی اس لیے اسلام نے نجات کا معیار یہ رکھا ہے کہ اس کے آثار اور علامات اسی دنیا۱؎ میں شروع ہو جائیں اور بہشتی زندگی حاصل ہو، لیکن یہ صرف اسلام ہی کو حاصل ہے باقی دوسرے مذاہب نے جو کچھ نجات کے متعلق بیان کیا ہے وہ یہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا مُبْطِل ہے بلکہ فطرتِ انسانی کے خلاف اور عقلی طور پر بھی ایک بیہودہ اَمر ثابت ہوتا ہے وہ نجات ایسی ہے کہ جس کا کوئی اثر اور نمونہ اس دنیا میں ظاہر نہیں ہوتا۔

اس کی مثال اس پھوڑے کی سی ہے جو باہر سے چمکتا ہے اور اس کے اندر پیپ ہے۔ نجات یافتہ انسان کی حالت ایسی ہونی چاہیے کہ اس کی تبدیلی نمایاں طور پر نظر آوے اور دوسرے تسلیم کرلیں کہ واقعی اس نے نجات پالی ہے اور خدا نے اس کو قبول کر لیا ہے لیکن کیا کوئی عیسائی جو خونِ مسیح کو نجات کا اکیلا ذریعہ سمجھتا ہے کہہ سکتا ہے کہ اس نے نجات پالی ہے اور نجات کے آثار و علامات اس میں پائے جاتے ہیں۔ مسیحؑ کے صلیب ملنے تک تو شائد ان کی حالت کسی قدر اچھی ہو مگر بعد تو ہر دوسرا دن پہلے سے بدتر ہوتا گیا یہاں تک کہ اب تو فسق و فجور کے سیلاب کا بند ٹوٹ گیا۔ کیا یہ نجات کے آثار ہیں؟

آریوں کو بھی فضل سے کوئی تعلق نہیں وہ تو دست خود دہانِ خود کے مصداق ہیں اور ان کے پرمیشر نے تو ابھی کچھ بھی نہیں کیا کسی کو نجات کامل مل ہی نہیں سکتی اور وہ تمام نجاست کے کیڑے علاوہ ان کیڑوں مکوڑوں کے جو موجود ہیں سب انسان ہیں جن کو نجات حاصل نہیں ہوئی تو بتاؤ کہ وہ اَور کسی کو کیا نجات دے گا۔ جب اس قدر کثیر اور بے شمار تعداد ابھی باقی ہے۔

آریوں کی دعا بھی ترمیم کے قابل ہے کیونکہ ان کی مکتی سے مُراد جاودانی مکتی نہیں ہوتی بلکہ ایک محدود وقت تک انسان جونوں سے نجات پاتا ہے اور چونکہ روحیں محدود ہیں اور نئی روح پرمیشر پیدا نہیں کر سکتا مجبوراً ان نجات یافتہ کو نکال دیتا ہے پس جب ان کے پرمیشر نے جاودانی مکتی ہی نہیں دینی تو دعا بھی ترمیم کر کے یوں مانگنی چاہیے کہ اے پرمیشر تو جو دائمی مکتی دینے کے قابل نہیں ہے تو ایک خاص وقت تک مجھے نجات دے اور پھر دھکا دے کر اسی دار المِحَن دنیا میں بھیج دے اور فطرت بھی بدل ڈال کہ اس میں جاودانی نجات کا تقاضا ہی نہ رہے۔

مجھے تعجب ہے کہ یہ لوگ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ انسانی فطرت کا تقاضا جاودانی نجات کا ہے نہ عارضی کا اور عارضی نجات والا جس کو یقین ہو کہ وہ پھر انہیں تلخیوں میں بھیجا جاوے گا کب خوشی حاصل کر سکتا ہے ایسے پرمیشر پر انسان کیا بھروسہ اور امید رکھ سکتا ہے۔ بقول شخصے

تو بخویشتن چہ کردی کہ بما کنی نظیری

حقا کہ واجب آمد ز تو احتراز کردن

۳۰؍جولائی ۱۹۰۳ء

صداقت کا ایک معیار

فرمایا۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تو کس کو معلوم تھا کہ آپ کے ہاتھ سے اسلام سمندر کی طرح دنیا میں پھیل جاوے گا اور جب آپ نے دعویٰ کیا تو وہی تین چار آدمی آپ کے ہمراہ تھے جو کہ مسلمان ہوئے تھے اور ابوجہل وغیرہ آپ کو کیسے ذلیل اور حقیر خیال کرتے تھے لیکن اب اگر وہ زندہ ہوں تو ان کو پتا لگے کہ جسے وہ حقیر اور ذلیل خیال کرتے تھے خدا نے اس کی کیا عزّت کی ہے۔

اعدا کی ذلّت اور اپنی کامیابی پر فرمایا کہ اس کے متعلق حال میں پیشگوئی جو ہوئی ہے اگرچہ وہ ایک رنگ میں پوری ہو گئی ہے تاہم اسے پوری ہوئی کہنا ہماری غلطی ہے۔ خدا جانے خدا کا کیا منشا ہے اصل حد ایسی پیشگوئیوں کی وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ(اٰل عمران:۵۶) ہے جو کہ بہت سے اسباب کو چاہتا ہے۔

دنیا میں حق پسند بہت تھوڑے ہیں اور اقبال پسند بہت زیادہ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ بہت سے صاحبِ اقبال کو اپنے برگزیدوں کے ساتھ کر دیا کرتا ہے تاکہ عوام الناس ان کے ذریعہ سے ہدایت پاویں کیونکہ عوام الناس میں حق پسندی اور عمیق عقل کم ہوتی ہے اس لیے وہ بڑے بڑے آدمیوں کو دیکھ کر ان کے ذریعہ داخل ہوتے اور ہدایت پاتے ہیں۔۱؎

۳۱؍جولائی ۱۹۰۳ء

اَسماء الٰہیہ کی تجلیات

بعض زمانہ میں اللہ تعالیٰ کے اسمِ ضال کی تجلی ہوتی ہے اور بعض زمانہ میں اسمِ ہادی کی تجلی۔ نیک اور خدا ترس لوگ جس اسم کی تجلی ہوتی ہے اس کے نیچے آتے ہیں اور اپنے رنگ میں اس سے استفادہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوفی ابن الوقت ہوتا ہے اسم ضال کی تجلی کا زمانہ گذر چکا اور اب اسمِ ہادی کی تجلی کا وقت آیا ہے۔ اسی واسطے خود بخود طبیعتوں میں اس کفر اور شرک سے ایک بیزاری پیدا ہو رہی ہے جو عیسائی مذہب نے پھیلایا تھا ہر طرف سے خبریں آ رہی ہیں کہ دنیا میں ایک شور مچ گیا ہے اور وہ وقت آگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید دنیا میں پھیلے اور وہ شناخت کیا جاوے۔ اس کی طرف اشارہ کر کے براہین احمدیہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کُنْتُ کَنْـزًا مَـخْفِیًّا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ اور پھر ایک جگہ فرمایا ہے۔ اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَـخَلَقْتُ اٰدَمَ۔ جن لوگوں کو کچھ بھی تعلق نہیں ہے وہ بھی مانتے ہیں کہ یہ زمانہ انقلابات کا زمانہ ہے۔ ہر قسم کے انقلابات ہو رہے ہیں اور یہ سب انقلاب ایک آنے والے زمانہ کی خبر دیتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کامل طور پر ظاہر ہوگا۔

اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو تباہ کرنا چاہتا ہے تو اس قوم میں فسق و فجور پیدا ہو جاتا ہے فاسق چونکہ زنانہ مزاج ہوتے ہیں اور فسق کی بنیاد ریت پر ہوتی ہے اس لیے وہ جلد تباہ ہوتے ہیں ذرا سا مقابلہ ہو اور سختی پڑے تو برداشت کی طاقت نہیں رکھتے۔

براہین میں نزو لِ مسیح کا عقیدہ درج کرنے کی حقیقت

ایک شخص نے سوال۱؎ کیا کہ براہین احمدیہ میں مسیحؑ کے دوبارہ آنے کا اقرار درج ہے خدا تعالیٰ نے پہلے ہی کیوں ظاہر نہ کر دیا؟ فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہم کو بتایا ہم نے ظاہر کر دیا اور یہی ہماری سچائی کی دلیل ہے اگر منصوبہ بازی ہوتی تو ایسا کیوں لکھتے؟ مگر ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس براہین میں میرا نام عیسٰی بھی رکھا گیا ہے۔ اس کی بنیاد براہین سے پڑی ہوئی ہے اور علاوہ بریں سنّت اللہ اسی طرح پر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس سال سے پہلے کیوں نبوت کا دعویٰ نہ کر دیا؟ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام مامور ہونے سے پہلے یوسف نجار کے ساتھ بڑھئی کا کام ہی کرتے رہے۔

غرض جب تک حکم نہیں ہوتا اعلان نہیں کرتے۔ دیکھو جب تک شراب کی حرمت کا حکم نہیں ہوا تھا اس کی حرمت بیان نہیں کی گئی۔۱؎ اسی طرح ہوا کرتا ہے جب خدا تعالیٰ نے ہم پر کھول دیا ہم نے دعویٰ کردیا۔ بغیر اس کی اطلاع اور اذن کس طرح ہو سکتا تھا؟

پس یاد رکھو کہ ہر ایک نبی کو جب تک وحی نہ ہو وہ کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ ہر ایک چیز کی اصل حقیقت تو وحی الٰہی سے ہی کھلتی ہے یہی وجہ تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد ہوا مَا کُنۡتَ تَدۡرِیۡ مَا الۡکِتٰبُ وَلَا الۡاِیۡمَانُ(الشورٰی:۵۳) یعنی تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا چیز ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ کی وحی آپ پر ہوئی تو پھر وَاُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ(یونس:۱۰۵) آپ کو کہنا پڑا اسی طرح آپ کے زمانہ وحی سے پیشتر مکہ میں بُت پرستی اور شرک، فسق و فجور ہوتا تھا لیکن کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ وحی الٰہی کے آنے سے پہلے بھی آپ نے ان بتوں کے خلاف وعظ کیا اور تبلیغ کی تھی لیکن جب فَاصۡدَعۡ بِمَا تُؤۡمَرُ(الحجر:۹۵) کا حکم ہوا تو پھر ایک سیکنڈ کی بھی دیر نہیں کی اور ہزاروں مشکلات اور مصائب کی بھی پروا نہیں کی۔ بات یہی ہے کہ جب کسی اَمر کے متعلق وحی الٰہی آجاتی ہے تو پھر مامور اس کے پہنچانے میں کسی کی پروا نہیں کرتے اور اس کا چھپانا اسی طرح شرک سمجھتے ہیں جس طرح وحی الٰہی سے اطلاع پانے کے بغیر کسی اَمر کی اشاعت شرک سمجھتے ہیں۔ اگر وہ اس بات کو جس کی اطلاع وحی الٰہی کے ذریعہ سے نہیں ملی بیان کرتا ہے تو گویا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے وہ سوجھتا ہے جو خدا کو بھی نہیں سوجھتا اور اس گستاخی سے وہ مشرک ہو جاتا ہے اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہ تمام باتیں جو قرآن شریف میں درج ہیں قرآن شریف کے نزول سے پہلے ہی بیان کر دیتے تو پھر قرآن شریف کی کیا ضرورت رہ جاتی۔ غرض جو کچھ ہم پر خدا نے کھولا اور جب کھولا ہم نے بیان کر دیا۔۱؎،۲؎

۱، یکم اگست ۱۹۰۳ء

گناہ پر مواخذہ کی وجہ

ایک دوست کے تحریری سوال پر کہ اللہ تعالیٰ شرک کو کیوں معاف نہیں کرتا اور گناہ پر مواخذہ کی کیا وجہ ہے؟

فرمایا۔ گناہوں کے مواخذہ کے متعلق یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا سنّت اللہ میں یہ داخل ہے یا نہیں؟ وہ ہمیشہ سے مواخذہ کرتا آیا ہے۔۳؎ گناہ خواہ ازقسم صغائر ہوں یا کبائر اس کا مواخذہ ضرور ہوتا ہے اور انسان ہے اور انسان خود اپنی فطرت میں غور کرے کہ کیا وہ اپنے ماتحتوں اور متعلقین سے کوئی مواخذہ کرتا ہے یا نہیں جب ان سے گناہ سرزد ہوتے ہیں اور وہ کوئی خطا کرتے ہیں۔ یہ فطرتی نقش اس بات پر ایک حجت اور گواہ ہے اور یہ بات کہ شرک کو نہیں بخشتا اگر ایک ایک گناہ پر سوال ہو تو پھر بہت بڑی وسعت دے کر اس سوال کو یوں کہنا پڑے گا کہ وہ ہر قسم کے گناہ کیوں معاف نہیں کر دیتا۔ سزا دیتا ہی کیوں ہے؟ یہ غلطی ہے پہلی امتوں پر گناہوں کے باعث عذاب آئے اور اب بھی اللہ تعالیٰ اسی طرح گناہوں کا مواخذہ کرتا ہے۔ ہاں ہمارا یہ مذہب ہرگز نہیں ہے کہ گناہ گاروں کو ایسی سزا ابدی ملے گی کہ اس سے پھر کبھی نجات ہی نہ ہوگی بلکہ ہمارا یہ مذہب ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحم گناہ گاروں کو بچالے گا اور اسی لیے قرآن شریف میں جہاں عذاب کا ذکر کیا ہے وہاں فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیۡدُ(ھود:۱۰۸) فرمایا ہے۔ گناہ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک بندوں کے اور ایک خدا کے۔ جیسے چوری ہے یہ عبد کا گناہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی چوری شرک ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو چُرا کر دوسرے کو دیتا ہے چونکہ یہ ایک بڑی زبردست ہستی کی چوری ہے اس لیے اس کی سزا بھی بہت ہی بڑی ملتی ہے۔ جو لوگ اس قسم کے سوال کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو اپنے قانون اور مرضی کے ماتحت رکھنا چاہتے ہیں کہ جس گناہ کو یہ چاہیں اسے بخش دے اور جس کو نہ چاہیں اسے نہ بخشے اس طرح پر کیسے ہو سکتا ہے؟ یہاں دنیا میں اس کا نمونہ نہیں تو آخرت میں کیسے؟ کوئی وائسرائے کو لکھ دے کہ فلاں مجرم کو سزا نہ دی جائے اور تعزیرات ہند کو موقوف کر دیا جاوے تو کیا ایسی درخواست منظور ہو سکتی ہے؟ کبھی نہیں۔ اس طرح پر تو اباحت کی بنیاد رکھی جاتی ہے کہ جو چاہو سو کرو۔؎ل

ایمان بالرسل کی ضرورت

پھر اسی خط میں ایک دوسرا سوال یہ بھی تھا کہ کیوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی؟

اس پر فرمایا کہ رسول وہ ہوتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسانات ہوتے ہیں پس جو شخص اس کا انکار کرتا ہے وہ بہت خطرناک جرم کا مرتکب ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ شریعت کے سارے سلسلہ کو باطل کرنا چاہتا ہے اور حلّت حرمت کی قید اٹھا کر اباحت کا مسئلہ پھیلانا چاہتا ہے اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیسے نجات کا مانع نہ ہو؟ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو لا انتہا برکات اور فیوض لے کر آیا ہے اس کا انکار ہوا ور پھر نجات کی امید؟ اس کا انکار کرنا ساری بدکاریوں اور بدمعاشیوں کو جائز سمجھتا ہے کیونکہ وہ ان کو حرام ٹھہراتا ہے۔۱؎،۲؎


۱، ۲؍اگست ۱۹۰۳ء

(دربا رِ شام)

درا زی عمرکا اصل گُر

(دربار شام)

ہمارے مکرم مخدوم ڈاکٹر سید ستار شاہ صاحب نے اپنی رخصت کے ختم ہونے پر عرض کی کہ میں صبح جاؤں گا۔

فرمایا۔ خط و کتابت کا سلسلہ قائم رکھنا چاہیے۔

ڈاکٹر صاحب نے عرض کی کہ حضور! میرا ارادہ بھی ہے کہ اگر زندگی باقی رہی تو انشاء اللہ بقیہ حصہ ملازمت پورا کرنے کے بعد مستقل طور پر یہاں ہی رہوں گا۔

فرمایا۔ یہ سچی بات ہے کہ اگر انسان توبۃ النصوح کر کے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی زندگی وقف کر دے اور لوگوں کو نفع پہنچاوے تو عمر بڑھتی ہے۔ اعلاء کلمۃ الاسلام کرتا رہے اور اس بات کی آرزو رکھے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید پھیلے۔ اس کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان مولوی ہو یا بہت بڑے علم کی ضرورت ہے بلکہ اَمر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا رہے۔ یہ ایک اصل ہے جو انسان کو نافع الناس بناتی ہے اور نافع الناس ہونا درازی عمر کا اصل گُر ہے۔۱؎

فرمایا۔ تیس۳۰ سال کے قریب گذرے کہ میں ایک بار سخت بیمار ہوا۔۲؎ اور اس وقت مجھے الہام ہوا مَا یَنۡفَعُ النَّاسَ فَیَمۡکُثُ فِی الۡاَرۡضِ(ا) س وقت مجھے کیا معلوم تھا کہ مجھ سے خلق خدا کو کیا کیا فوائد پہنچنے والے ہیں لیکن اب ظاہر ہوا کہ ان فوائد اور منافع سے کیا مُراد تھی۔

غرض جو کوئی اپنی زندگی بڑھانا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ نیک کاموں کی تبلیغ کرے اور مخلوق کو فائدہ پہنچاوے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی دل کو ایسا پاتا ہے کہ اس نے مخلوق کی نفع رسانی کا ارادہ کر لیا ہے تو وہ اسے توفیق دیتا اور اس کی عمر دراز کرتا ہے۔ جس قدر انسان اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس کی مخلوق کے ساتھ شفقت سے پیش آتا ہے اسی قدر اس کی عمر دراز ہوتی اور اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہوتا اس کی زندگی کی قدر کرتا ہے لیکن جس قدر وہ خدا تعالیٰ سے لاپروا اور لاابالی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی پروا نہیں کرتا۔

انسان اگر اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی زندگی وقف نہ کرے اور اس کی مخلوق کے لیے نفع رساں نہ ہو تو یہ ایک بے کار اور نکمی ہستی ہو جاتی ہے بھیڑ، بکری بھی پھر اس سے اچھی ہے جو انسان کے کام تو آتی ہے لیکن یہ جب اشرف المخلوقات ہو کر اپنی نوع انسان کے کام نہیں آتا تو پھر بدترین مخلوق ہو جاتا ہے اسی کی طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ ثُمَّ رَدَدۡنٰہُ(ال) َسْفَلَ سٰفِلِیْنَ(التّین:۵) ۶) میں گرایا جاتا ہے۱؎ پس یہ سچی بات ہے کہ اگر انسان میں یہ نہیں ہے کہ وہ خدا کے اوامر کی اطاعت کرے اور مخلوق کو نفع پہنچاوے تو وہ جانوروں سے بھی گیا گذرا ہے اور بدترین مخلوق ہے۔

کامیابی کی موت بھی درازیٔ عمر ہے

اس جگہ ایک اَور سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض لوگ جو نیک اور برگزیدہ ہوتے ہیں چھوٹی عمر میں بھی اس جہان سے رخصت ہوتے ہیں۲؎ اور اس صورت میں گویا یہ قاعدہ اَور اصل ٹوٹ جاتا ہے۔ مگر یہ ایک غلطی اور دھوکا ہے دراصل ایسا نہیں ہوتا۔ یہ قاعدہ کبھی نہیں ٹوٹتا مگر ایک اور صورت پر درازیٔ عمر کا مفہوم پیدا ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ زندگی کا اصل منشا اور درازیٔ عمر کی غایت تو کامیابی اور بامُراد ہونا ہے۔ پس جب کوئی شخص اپنے مقاصد میں کامیاب اور بامُراد ہو جاوے اور اس کو کوئی حسرت اور آرزو باقی نہ رہے اور مَرتے وقت نہایت اطمینان کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو تو وہ گویا پوری عمر حاصل کر کے مَرا ہے اور درازی عمر کے مقصد کو اس نے پا لیا ہے۔ اس کو چھوٹی عمر میں مَرنے والا کہنا سخت غلطی اور نادانی ہے۔

صحابہ میں بعض ایسے تھے جنہوں نے بیس ۲۰ بائیس برس کی عمر پائی مگر چونکہ ان کو مَرتے وقت کوئی حسرت اور نامُرادی باقی نہ رہی بلکہ کامیاب ہو کر اُٹھے تھے اس لیے انہوں نے زندگی کا اصل منشا حاصل کر لیا تھا۔

نیت حسنہ کی اہمیت

اگر انسان نیکی نہ کر سکے تو کم از کم نیکی کی نیت تو رکھے کیونکہ ثمرات عموماً نیتوں کے موافق ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیوی حکام بھی اپنے قوانین میں نیت پر بہت بڑا مدار رکھتے ہیں اور نیت کو دیکھتے ہیں۔ اسی طرح پر دینی امور میں بھی نیت پر ثمرات مرتّب ہوتے ہیں۔ پس اگر انسان نیکی کرنے کا مصمم ارادہ رکھے اور نیکی نہ کر سکے تب بھی اسے اس کا اجر مل جاوے گا اور جو شخص نیکی کی نیت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو توفیق بھی دے دیتا ہے اور توفیق کا ملنا یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے دیکھا گیا ہے اور تجربہ سے دیکھا گیا ہے کہ انسان سعی سے کچھ نہیں کر سکتا۔ نہ وہ صلحاء، سعداء و شہداء میں داخل ہوسکتا ہے اور نہ اور برکات اور فیوض کو پا سکتا ہے۔ غرض

نہ بزور و نہ بزاری نہ بزر مے آید

بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ گوہر مقصود ملتا ہے اور حصول فضل کا اقرب طریق دعا ہے۔

دعا کے لوازمات

اور دعا کامل کے لوازمات یہ ہیں کہ اس میں رقّت ہو۔ اضطراب اور گدازش ہو۔ جو دعا عاجزی، اضطراب اور شکستہ دلی سے بھری ہوئی ہو وہ خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچ لاتی ہے اور قبول ہو کر اصل مقصد تک پہنچاتی ہے مگر مشکل یہ ہے کہ یہ بھی خدائے تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی اور پھر اس کا علاج یہی ہے کہ دعا کرتا رہے، خواہ کیسی ہی بے دلی اور بے ذوقی ہو لیکن یہ سیر نہ ہو۔ تکلّف اور تصنّع سے کرتا ہی رہے۔ اصلی اور حقیقی دعا کے واسطے بھی دعا ہی کی ضرورت ہے۔

بہت سے لوگ دعا کرتے ہیں اور ان کا دل سیر ہو جاتا ہے وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ کچھ نہیں بنتا۔ مگر ہماری نصیحت یہ ہے کہ اس خاک پیزی ہی میں برکت ہے کیونکہ آخر گوہر مقصود اسی سے نکل آتا ہے اور ایک دن آجاتا ہے کہ جب اس کا وہ دل زبان کے ساتھ متفق ہو جاتا ہے۱؎ اور پھر خود ہی وہ عاجزی اور رقّت جو دعا کے لوازمات ہیں پیدا ہو جاتے ہیں۔ جو رات کو اٹھتا ہے خواہ کتنی ہی عدم حضوری اور بے صبری ہو لیکن اگر وہ اس حالت میں بھی دعا کرتا ہے کہ الٰہی دل تیرے ہی قبضہ و تصرّف میں ہے تُو اس کو صاف کر دے اور عین قبض کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے بسط چاہے تو اس قبض میں سے بسط نکل آئے گی اور رقّت پیدا ہو جائے گی۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جو قبولیت کی گھڑی کہلاتا ہے۔ وہ دیکھے گا کہ اس وقت روح آستانہ الوہیت پر پانی کی طرح بہتی ہے اور گویا ایک قطرہ ہے جو اوپر سے نیچے کی طرف گرتا ہے۔

مسیح علیہ السلام کی مضطر بانہ دعا

میں نے خیال کیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا واقعہ بھی عجیب ہے اور وہ حالت دعا کا ایک صحیح نقشہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ حضرت عیسٰیؑ کی بد قضاء و قدر مقدر تھی اور وہ قبل از وقت ان کو دکھائی گئی تھی اور انہوں نے بھی یہی سمجھا تھا کہ اس سے رہائی محال ہے اور پہلے نبیوں نے بھی ایسا ہی سمجھا تھا اور آثار بھی ایسے ہی نظر آتے تھے۔ اسی واسطے انہوں نے بڑی بے کلی اور اضطراب کے ساتھ دعا کی۔ انجیل میں اس کا نقشہ خوب کھینچ کر دکھایا ہے۔ پس ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی قضاء و قدر کو جو موت کے رنگ میں مقدر تھی غشی کے ساتھ بدل دیا اور ان کی دعا سنی گئی چنانچہ انجیل کے مطالعہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جہاں لکھا ہے فَسُمِعَ لِتَقْوٰہُ کہ اس کی دعا اس کے تقویٰ کے باعث سنی گئی اور خدا نے تقدیر ٹال دی اور موت غشی سے بدل گئی۔

اصل بات یہ ہے کہ اگر عیسائیوں کے کہنے کے موافق مان لیا جاوے کہ مسیحؑ صلیب پر مَر گیا تو اس موت کو لعنتی ماننا پڑے گا جس کا کوئی جواب عیسائیوں کے پاس نہیں بلکہ عیسائیوں پر ایک اور مصیبت بھی آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ پھر ان کو ماننا پڑے گا کہ مسیحؑ کی یہ دعا بھی جو اس نے باغ میں ساری رات رو رو کر کی تھی قبول نہیں ہوئی اور ان میں اور چوروں میں جو ان کے ساتھ صلیب پر لٹکائے گئے تھے کیا فرق ہوا؟ انہوں نے بھی تو صلیب پر مَرنے سے بچنے کے لیے دعا کی تھی اور انہوں نے بھی کی۔ نہ ان کی قبول ہوئی اور نہ ان کی۔ مگر ہمارا یہ مذہب نہیں ہے۔ جیسے ہمارے نزدیک مسیحؑ کی موت لعنتی موت نہ تھی جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے ویسے ہی یہ بھی ہمارا اعتقاد ہے کہ ان کی دعا قبول ہوئی اور وہ صلیب پر سے زندہ اُتر آئے۔

ایک نکتہ

اصل بات یہ ہے کہ یہ ایک باریک سِر ہوتا ہے جس کو ہر ایک شخص نہیں سمجھ سکتا۔ انبیاء علیہم السلام پر اس قسم کے ابتلا اور قضاء و قدر آیا کرتے ہیں۔ جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر بھی آیا اور دوسرے نبیوں پر بھی کسی نہ کسی رنگ میں آتے ہیں اور یہ ایک تجلی ہوتی ہے جس کو دوسرے لوگ موت سمجھتے ہیں مگر یہ موت دراصل ایک زندگی کا دروازہ ہوتی ہے۔

باب الموت

صوفی کہتے ہیں کہ ہر ایک شخص کو جو خدا تعالیٰ سے ملنا چاہے ضروری ہے کہ وہ باب الموت سے گذرے۔ مثنوی میں اس مقام کے بیان کرنے میں ایک قصہ نقل کیا ہے۔ (یہاں حضرت نے وہ قصہ بیان کیا۱؎) پس یہ سچی بات ہے کہ نفس امّارہ کی تاروں میں جو یہ جکڑ ا ہوا ہے اس سے رہائی بغیر موت کے ممکن ہی نہیں۔

مقام اِعۡمَلُوۡا مَا شِئۡتُمۡ

اسی موت کی طرف اشارہ کر کے قرآن شریف میں فرمایا ہے وَاعۡبُدۡ رَبَّکَ حَتّٰی یَاۡتِیَکَ الۡیَقِیۡنُ(الحجر:۱۰۰) اس جگہ یقین سے مُراد موت بھی ہے یعنی انسان کی اپنی ہوا و ہوس پر پوری فنا طاری ہو کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت رہ جاوے اور وہ یہاں تک ترقی کرے کہ کوئی جنبش اور حرکت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نہ ہو۔۱؎ سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ موت انسان پر وارد ہو جاتی ہے تو سب عبادتیں ساقط ہو جاتی ہیں۔۲؎ اور پھر خود ہی سوال کرتے ہیں کہ کیا انسان اباحتی ہو جاتا ہے اور سب کچھ اس کے لیے جائز ہو جاتا ہے؟ پھر آپ ہی جواب دیا ہے کہ یہ بات نہیں کہ وہ اباحتی ہو جاتا ہے بلکہ بات اصل یہ ہے کہ عبادت کے اثقال اس سے دور ہو جاتے ہیں اور پھر تکلّف اور تصنّع سے کوئی عبادت وہ نہیں کرتا بلکہ عبادت ایک شیریں اور لذیذ غذا کی طرح ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور مخالفت اس سے ہو سکتی ہی نہیں اور خدا تعالیٰ کا ذکر اس کے لیے لذّت بخش اور آرام دہ ہوتا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں کہا جاتا ہے۔ اِعۡمَلُوۡا مَا شِئۡتُمۡ(حٰمٓ السجدۃ:۴۱) اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ نواہی کی اجازت ہو جاتی ہے۔ نہیں بلکہ وہ خود ہی نہیں کر سکتا اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ کوئی خصی ہو اور اس کو کہا جاوے کہ تو جو مرضی ہے کر وہ کیا کر سکتا ہے؟ اس سے فسق وفجور مُراد لینا کمال درجہ کی بے حیائی اور حماقت ہے یہ تو اعلیٰ درجہ کا مقام ہے جہاں کشفِ حقائق ہوتا ہے۔ صوفی کہتے ہیں اسی کے کمال پر الہام ہوتا ہے اس کی رضا اللہ تعالیٰ کی رضا ہو جاتی ہے اس وقت اسے یہ حکم ملتا ہے۔ پس اثقالِ عبادت اس سے دور ہو کر عبادت اس کے لیے غذا شیریں کا کام دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہٰذَا الَّذِیۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ(البقرۃ:۲۶) فرمایا گیا ہے۔

گناہ سے نجات کیسے ہو؟

فرمایا۔ گناہ سے نجات محض خدا تعالیٰ کے فضل اور تصرّف سے ملتی ہے جب وہ تصرّف کرتا ہے اور دل میں وعظ پیدا ہو جاتا ہے تو پھر ایک نئی قوت انسان کو ملتی ہے جو اس کے دل کو گناہ سے نفرت دلاتی ہے اور نیکیوں کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

ایک شخص نے اپنی تکالیف اور ابتلاؤں کا ذکر کیا۔

ایمان کے لئے ابتلا ضروری شَے ہے

فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ کسی آسمانی سلسلہ کو قائم کرتا ہے تو ابتلا اس کی جزو ہوتے ہیں جو اس سلسلہ میں داخل ہوتا ہے ضروری ہوتا ہے کہ اس پر کوئی نہ کوئی ابتلا آوے تاکہ اللہ تعالیٰ سچے اور مستقل مزاجوں میں امتیاز کر دے اور صبر کرنے والوں کے مدارج میں ترقی ہو۔ ابتلا کا آنا بہت ضروری ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ(العنکبوت:۳) کیا لوگ گمان کر بیٹھے ہیں کہ وہ صرف اتنا کہنے پر ہی چھوڑ دئیے جاویں کہ ہم ایمان لائے اور ان پر کوئی ابتلا نہ آوے ایسا کبھی نہیں ہوتا خدا تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے کہ وہ غداروں اور کچوں کو الگ کر دے پس ایمان کے بعد ضروری ہے کہ انسان دکھ اٹھاوے بغیر اس کے ایمان کا کچھ مزا ہی نہیں ملتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کو کیا کیا مشکلات پیش آئیں اور انہوں نے کیا کیا دکھ اٹھائے۔ آخر ان کے صبر پر اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑے بڑے مدارج اور مراتب عالیہ عطا کئے انسان جلد بازی کرتا ہے اور ابتلا آتا ہے تو اس کو دیکھ کر گھبرا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ دنیا ہی رہتی ہے۱؎ اور نہ دین ہی رہتا ہے مگر جو صبر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور ان پر انعام واکرام کرتا ہے۔ اس لیے کسی ابتلا پر گھبرانا نہیں چاہیے ابتلا مومن کو اللہ تعالیٰ کے اور بھی قریب کر دیتا ہے اور اس کی وفاداری کو مستحکم بناتا ہے لیکن کچے اور غدار کو الگ کر دیتا ہے۔

ایک شخص نے ذکر کیا کہ میرا ایک ساتھی تھا مگر اسے جماعت میں داخل ہونے کے بعد کچھ تکالیف پہنچیں تو وہ الگ ہو گیا۔

فرمایا۔ تم شکر کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو اس ابتلا سے بچا لیا۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ تلواروں سے ڈرایا جاتا تھا اور وہ لوگ اس کے مقابلہ پر کیا کرتے تھے۔ خدائے تعالیٰ سے دعائیں مانگتے اور کہتے رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَیۡنَا صَبۡرًا وَّثَبِّتۡ اَقۡدَامَنَا وَانۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ(البقرۃ:۲۵۱) مگر آج کل تو خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ تلوار سے نہیں ڈرایا جاتا۔ اصل یہ ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ اس سلسلہ میں رہنے کے لائق نہیں پاتا ان کو الگ کر دیتا ہے وہ ایمان کے بعد مرتد اس لیے ہوتے ہیں کہ قیامت کو جب وہ اپنے رفیق کو جنّت میں دیکھیں تو ان کی حسرت اور بھی بڑھے۔ اس وقت وہ کہیں گے کاش ہم اپنے رفیق کے ساتھ ہوتے۔

اپنی ہی کمزوری ہے جو ذرا ذرا سی بات پر یہ لوگ گھبرا جاتے ہیں ورنہ اگر اللہ تعالیٰ کو اپنا رازق سمجھ لیں اور اس پر ایمان رکھیں تو ایک جرأت اور دلیری پیدا ہو جاتی ہے پس ساری باتوں کا خلاصہ یہی ہے کہ صبر اور استقلال سے کام لینا چاہیے اور خدا تعالیٰ سے ثبات قدم کی دعا مانگتے رہو۔

کسی کا مرتد ہو جانا کچھ میرے سلسلہ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ منہاج نبوت کے ساتھ یہ بات لازمی ہے۔ نبیوں کے سلسلے میں یہ نظیریں ملتی ہیں۔ ہم کو کوئی افسوس نہیں البتہ ایسے لوگوں پر رحم آتا ہے کیونکہ ان کو دو چند عذاب ہو گا اس لیے کہ وہ ایمان لا کر مرتد ہوئے اور پھر بہشت کے پاس پہنچ کر واپس ہوئے یہ حسرت کا عذاب ہوگا۔

مشکلات سے مت ڈرو خدا کی راہ میں ہر دکھ اور مصیبت اور بے عزّتی اٹھانے کے لیے طیار رہو تا خدا تعالیٰ تمہارے مصائب کو دور کرے اور تمہاری آبرو کا خود محافظ ہو۔

مومن وہی ہوتا ہے جو خدا کے ساتھ وفادار ہوتا ہے جب ایمان لے آیا پھر کسی کی دھمکی کی کیا پروا ہے تم نے دین کو دنیا پر مقدم کیا ہے اور یہ اقرار کر چکے ہو جب انسان خدا کے لیے وطن، احباب اور ساری آسائشوں کو چھوڑتا ہے وہ اس کے لیے سب کچھ مہیا کرتا ہے اب چاہیے کہ صادقوں کی طرح ثابت قدم رہے کیونکہ خدا تعالیٰ صادق کا ساتھ دیتا ہے اور اس کو بڑے بڑے درجے عطا کرتا ہے خدائے تعالیٰ اس وقت صادقوں کی جماعت طیار کر رہا ہے جو صادق نہیں وہ آج نہیں کل چلا جائے گا اور اس سلسلہ سے الگ ہو کر رہے گا مگر صادق کو خدا ضائع نہیں کرے گا۔۱؎۲؎

۳؍اگست ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام)

دعا کے اثر اور قبولیت کو توجہ کے ساتھ تعلق ہے

امریکہ سے جناب مفتی محمد صادق صاحب کے ذریعہ ایک ڈاکٹر کی بیوی نے اپنے کسی عارضہ کے لیے دعا کی درخواست کی تھی آپ نے فرمایا کہ

اس کو جواب میں لکھا جاوے کہ اس میں شک نہیں کہ دعاؤں کی قبولیت پر ہمارا ایمان ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے قبول کرنے کا وعدہ بھی فرمایا ہے مگر دعاؤں کے اثر اور قبولیت کو توجہ کے ساتھ بہت بڑا تعلق ہے اور پھر حقوق کے لحاظ سے دعا کے لیے جوش پیدا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کا حق سب پر غالب ہے اس وقت دنیا میں شرک پھیلا ہوا ہے اور ایک عاجز انسان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کیا جاتا ہے اس لیے فطرتی طور پر ہماری توجہ اس طرف غالب ہو رہی ہے کہ دنیا کو اس شرک سے نجات ملے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت قائم ہو اس کے سوا دوسری طرف ہم توجہ کر ہی نہیں سکتے۔ اور یہ بات ہمارے مقاصد اور کام سے دور ہے کہ اس کو چھوڑ کر دوسری طرف توجہ کریں بلکہ اس میں ایک قسم کی معصیت کا خطرہ ہوتا ہے۔

ہاں یہ میرا ایمان ہے کہ بیماروں یا مصیبت زدوں کے لیے توجہ کی جاوے تو اس کا اثر ضرور ہوتا ہے بلکہ ایک وقت یہ اَمر بطور نشان کے بھی مخالفوں کے سامنے پیش کیا گیا اور کوئی مقابلہ میں نہ آیا اس وقت میری ساری توجہ اسی ایک اَمر کی طرف ہو رہی ہے کہ یہ مخلوق پرستی دور ہو اور صلیب ٹوٹ جاوے اس لیے ہر کام کی طرف اس وقت میں توجہ نہیں کر سکتا۔ خدا نے مجھے اسی طرف متوجہ کر دیا ہے کہ یہ شرک جو پھیلا ہوا ہے اور حضرت عیسٰیؑ کو خدا بنایا گیا ہے اس کو نیست و نابود کر دیا جاوے۔ یہ جوش سمندر کی طرح میرے دل میں ہے اسی لیے ڈوئی کو لکھا ہے کہ وہ مقابلہ کے لیے نکلے پس تم صبر کرو

‘‘(البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخہ ۱۴؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۳۵ جب تک کہ ایک دعا کا فیصلہ ہو جاوے اس کے بعد ایسے امور کی طرف بھی اللہ تعالیٰ چاہے تو توجہ ہوسکتی ہے لیکن دعا کرانے والے کے لیے یہ بھی ضرور ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرے اور اللہ تعالیٰ سے صلح کرے اپنے گناہوں سے توبہ کرے۔ پس جہاں تک ممکن ہو تم اپنے آپ کو درست کرو اور یہ یقیناً سمجھ لو کہ انسان کا پرستار کبھی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔

مسیحؑ کی زندگی کے حالات پڑھو تو صاف معلوم ہوگا کہ وہ خدا نہیں ہے اس کو اپنی زندگی میں کس قدر کوفتیں اور کلفتیں اٹھانی پڑیں اور دعا کی عدم قبولیت کا کیسا برا نمونہ اس کی زندگی میں دکھایا گیا ہے خصوصاً باغ والی دعا جو ایسے اضطراب کی دعا ہے وہ بھی قبول نہ ہوئی اور وہ پیالہ ٹل نہ سکا۔ بس ایسی حالت میں مقدم یہ ہے کہ تم اپنی حالت کو درست کرو اور انسان کی پرستش چھوڑ کر حقیقی خدا کی پرستش کرو۔۱؎

بلاتاریخ

آسمانی نزول سے مُراد

مسیح کے آسمانی نزول سے یہ مُراد ہے کہ اس کے ساتھ آسمانی اسباب ہوں گے اور اس کا تعلق سماوی علوم سے ہوگا اور ایسا ہی فرشتوں کے کندھے پر ہاتھ رکھنے سے مُراد ہے۔ یہ ایک اعلیٰ درجہ کا لطیفہ تھا جس کو کم فہم لوگوں نے ایک چھوٹی اور موٹی سی بات بنالیا ہے جو صحیح نہیں۔

فرمایا۔ دشمن کی دشمنی بھی ایک وقعت رکھتی ہے۔ ہزاروں شُہدے فقیر پھرتے ہیں۔ مگر کوئی ان کو نہیں پوچھتا اور نہ ان کا مقابلہ کرتا ہے مگر ہمارے مقابلہ میں ہر قسم کے حیلے کئے جاتے ہیں اور ہر ایک پہلو سے کوشش کی جاتی ہے کہ ہم کو نقصان پہنچایا جاوے اور وہ اس مقابلہ کے لیے ہزاروں روپیہ بھی خرچ کر چکے ہیں ان کی مخالفت بھی ان نشانات کا جو ظاہر ہو رہے ہیں ایک روک بن جاتی ہے۔۲؎

۶؍اگست ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام

جنون کے اسباب

فرمایا کہ دو قوتیں انسان کو مُنْجِر بہ جنون کر دیتی ہے ایک بدظنّی اور ایک غضب جبکہ افراط تک پہنچ جاویں ایک شخص کا حال سنا کہ وہ نماز پڑھا کرتا تھا کہ اوّل ابتدا جنون کی اس طرح سے شروع ہوئی کہ اسے نماز کی نیت کرنے میں شبہ پیدا ہونے لگا اور جب پیچھے اس امام کے کہا کرے تو امام کی طرف انگلی اٹھا دیا کرے پھر اس کی تسلی اس سے نہ ہوئی تو امام کے جسم کو ہاتھ لگا کر کہا کرے کہ ’’پیچھے اس امام کے ‘‘پھر اور ترقی ہوئی تو ایک دن امام کو دھکا دے کر کہا کہ ’’پیچھے اس امام کے ‘‘پس لازم ہے کہ انسان بدظنّی اور غضب سے بہت بچے سوائے راستبازوں کے باقی جس قدر لوگ دنیا میں ہوتے ہیں ہر ایک کچھ نہ کچھ حصہ جنون کا ضرور رکھتا ہے جس قدر قویٰ ان کے ہوتے ہیں ان میں ضرور افراط تفریط ہوتی ہے اور اس سے جنون ہوتا ہے۔

غضب اور جنون میں فرق یہ ہے کہ اگر سرسری دورہ ہو تو اسے غضب کہتے ہیں اور اگر وہ مستقل استحکام پکڑ جاوے تو اس کا نام جنون ہے۔

جنّت میں چا ندی کا ذکر کیوں ہے

چاندی پر ذکر ہوا فرمایا کہ چاندی کے بیچ میں ایک جوہرِ محبت ہے اس لیے یہ زیادہ مرغوب ہوتی ہے۔ اکثر لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ جنّت کی نعماء میں چاندی کے برتنوں کا ذکر ہے حالانکہ اس سے بیش قیمت سونا ہے۔ وہ لوگ اس راز کو جو کہ خدا تعالیٰ نے چاندی میں رکھا ہے نہیں سمجھے۔ جنّت میں چونکہ غِلّ اور کینہ اور بُغض وغیرہ نہیں ہوگا اور آپس میں محبت ہوگی اور چونکہ چاندی میں جوہرِ محبت ہے اس لیے اس نسبت باطنی سے جنّت میں اسی کو پسند کیا گیا ہے۔ اس میں جوہرِ محبت ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اگر طرفین میں لڑائی ہو تو چاندی دے دینے سے صلح ہو جاتی ہے اور کدورت دور ہو جاتی ہے۔ کسی کی نظر عنایت حاصل کرنی ہو تو چاندی پیش کی جاتی ہے۔ علوم یا تو قیاس سے معلوم ہوتے ہیں اور یا تجربہ سے۔ چاندی کے اس اثر کا پتا تجربہ سے لگتا ہے۔ خواب میں اگر ایک کسی مسلمان کو چاندی دے تو اس کی تعبیر یہ ہوتی ہے کہ اسے اسلام سے محبت ہے اور وہ مسلمان ہو جاوے گا۔

کثرتِ شراب خوری کا نتیجہ

اکثر دفعہ جب تک ایک شَے کی کثرت نہ ہو تو اس کے خواص کا پتا نہیں لگتا۔ شراب کی کثرت جو اس وقت یورپ وغیرہ میں ہے اگر یہ نہ ہوتی تو اس کے بد نتائج کیسے ظاہر ہوتے جس سے اس وقت دنیا پناہ پکڑنا چاہتی ہے اور اس کی کثرت سے اسلام اور پیغمبرِ اسلام کی خوبی کھلتی ہے جنہوں نے ایسی شَے کو منع اور حرام فرمایا۔

اگر مسیحؑ کی مقصود بالذّات زمین ہی تھی کہ آخر عمر میں انہوں نے زمین پر ہی آنا تھا تو پھر اتنا عرصہ آسمان پر رہنے سے کیا فائدہ؟ یہی وقت زمین پر بسر کرتے کہ لوگوں کو ان کی ذات اور تعلیم سے فائدہ ہوتا اور قوم گمراہی سے بچی رہتی۔۱؎

۸ ؍اگست ۱۹۰۳ء

اہلِ اسلام کی موجودہ حالت پر فرمایا کہ

اعلائے کلمۃ الاسلام

جب تک ان لوگوں میں اعلائے کلمۃ اللہ کا خیال تھا اور اس کو انہوں نے اپنا مقصود بنایا ہوا تھا جب تک ان کی نظریں خدا پر تھیں خدا تعالیٰ بھی ان کی نصرت کرتا تھا، مگر بعد ازاں جب اغراض بدل گئے تو خدا نے بھی چھوڑ دیا اور اب ان کی نظر انسانوں پر ہے۔ سلطنتوں کی بھی یہی حالت ہے کہ اعلائے کلمۃ الاسلام کا کسی کو خیال نہیں ہے خود روم میں ردِّ نصاریٰ میں ایک چھوٹا سا رسالہ بھی نہیں لکھا جا سکتا۔ یہ خیال بالکل غلط ہے کہ سلطان محافظ حرمین ہے بلکہ حرمین خود محافظ سلطان ہیں۔

فرمایا کہ انسان کے اندر جو نور اور شعاع اعلائے کلمۃ الاسلام کا ہوتا ہے وہ انسان کو اپنی طرف کھینچتا رہتا ہے۔

۹ ؍اگست۱۹۰۳ء

(دربارِ شام)

حقوق العباد

بیمار پُرسی اور کسی میّت کی تجہیز و تکفین کی نسبت ذکر ہوا۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ہماری جماعت کو اس بات کا بہت خیال چاہیے کہ اگر ایک شخص فوت ہو جاوے تو حتی الوسع سب جماعت کو اس کے جنازہ میں شامل ہونا چاہیے اور ہمسایہ کی ہمدردی کرنی چاہیے۔ یہ تمام باتیں حقوق العباد میں داخل ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ جس تعلیم اور درجہ تک خدا تعالیٰ پہنچانا چاہتا ہے اس میں ابھی بہت کمزوری ہے صرف دعویٰ ہی دعویٰ نہ ہونا چاہیے کہ ہم ایمان دار ہیں بلکہ اس ایمان کو طلب کرنا چاہیے جسے خدا چاہتا ہے۔ بھائیوں کے حقوق اور ہمسایوں کے حقوق کو شناخت کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ زبان سے کہہ لینا کہ ہم جانتے ہیں بے شک آسان ہے مگر سچی ہمدردی اور اخوت کو برت کر دکھلانا مشکل ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تمام حرکات، اعمال وافعال کے لیے ایمان مثل ایک انجن کے ہے۔ جب ایمان ہوتا ہے تو سب حقوق خود بخود نظر آتے جاتے ہیں اور بڑے بڑے اعمال اور ہمدردی خود ہی انسان کرنے لگتا ہے۔ ایمان کا تخم آہستہ آہستہ ترقی کرتا ہے لیکن یہ ہر ایک کے نصیب میں نہیں ہوتا۔۱؎


۱۰؍اگست ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام)

گنڈے اور تعویذ کی تاثیرات

شام کے وقت ایک صاحب نے گنڈے، تعویذات کی تاثیرات کی نسبت استفسار کیا حضرت اقدس نے فرمایا کہ ان کا اثر ہونا تو ایک دعویٰ بلا دلیل ہے۔ اس قسم کے علاج تصورات کے مدّ میں آجاتے ہیں کیونکہ تصورات کو انسان پر اثر اندازی میں بڑا اثر ہے۔ اس سے ایک کو ہنسا دیتے ہیں ایک کو رُلا دیتے ہیں اور کئی چیزیں جو کہ واقعی طور پر موجود نہ ہوں دوسروں کو دکھلا دیتے ہیں اور بعض امراض کا علاج ہوتا ہے۔ اکثر اوقات تعویذوں سے فائدہ بھی نہیں ہوتا تو آخر تعویذ دینے والے کو کہنا پڑتا ہے کہ اب میری پیش نہیں چلتی۔

اُمّتِ مرحومہ

یہ اُمّتِ مرحومہ اس واسطے بھی کہلاتی ہے کہ ان ٹھوکروں سے بچ جاوے جو کہ اس سے پہلی اُمتوں کو پیش آئی ہیں۔۱؎

۱۱؍اگست ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام

جان الیگز ینڈر ڈوئی

مسٹر ڈوئی مدعی الیاس جس کو حضرت اقدس نے مقابلہ پر بُلایا ہے اب کثرت سے اس کا چرچا امریکہ اور انگلستان کی اخباروں میں اس مقابلہ پر ہو رہا ہے اور ہندوستان سے باہر کل عیسائی دنیا نے اس مقابلہ کو مذاہب کی سچائی کا حقیقی معیار قرار دیا ہے حتی کہ دہر یہ منش انسان جو کہ ان ممالک میں رہتے ہیں ان کے ایمان کے لیے بھی اس مقابلہ دعا نے ایک راہ کھول دی ہے اور جس عدل اور انصاف پر یہ مقابلہ حضرت اقدس نے مبنی رکھا ہے اس کی شہادت خود یورپ اور امریکہ نے ان الفاظ میں دی ہے کہ اس مقابلہ میں مرزا صاحب نے کوئی پہلو رعایت کا اپنے لیے نہیں رکھا کہ جس سے ڈوئی کو انکار کرنے کی گنجائش ہو۔ آج کل وہی اخباریں پڑھی جاتی ہیں ان اخباروں کو سن کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ ہمارا مقابلہ صرف مسٹر ڈوئی ہی سے نہیں ہے بلکہ تمام عیسائیوں کے مقابلہ پر ہے اور یہ بھی ایک طریق ہے جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کسرِ صلیب کرے گا۔ حدیثوں میں آیا ہے کہ آنے والے مسیح کے خادم فرشتے ہوں گے۔ ان الفاظ سے اس کی کمزوری نکلتی ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پاس زمینی ہتھیار نہ ہوں گے بلکہ جو کام زمینی ہتھیاروں سے ہوتا ہے وہ دعا کے ذریعہ سے آسمان کے فرشتے خود کرتے رہیں گے۔ مشکوٰۃ میں یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں عیسائیوں کے ساتھ کوئی شخص مقابلہ نہ کر سکے گا مگر ہاں مسیح موعود دعاؤں سے مقابلہ کرے گا سو اب وہ مقابلہ آپڑا ہوا ہے جس سے اسلام اور عیسائیت کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔۱؎


۱۴؍اگست ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام)

قادیان میں ایک عیسائی کی آمد

ایک عیسائی گل محمد نامی جو کہ غالباً دو چار سال سے مذہب عیسوی میں داخل ہیں اور بنوں کے باشندے ہیں اور آج کل لاہور کے ڈیوینیٹی کالج میں قیام پذیر ہیں مذہبی تحقیقات کی غرض سے ۱۴؍اگست ۱۹۰۳ء کو قادیان آ کر اُسی دن بعد از نماز مغرب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت اقدس نے پہلے ان سے معمولی حالات سکونت وغیرہ کے متعلق دریافت کئے جس کے بعد عیسائی صاحب نے اپنے مقصد کا اظہار کیا۔ حضرت نے فرمایا کہ آپ کتنی مدت یہاں ٹھیریں گے؟ اس کا جواب گل محمد صاحب نے یہ دیا کہ میں تو کل ہی چلا جاؤں گا۔ جس پر حضرت اقدس اور سب سامعین کو نہایت حیرانی ہوئی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بڑے زور کے ساتھ اصرار سے کہا کہ آپ یہاں دو تین ہفتہ تک ٹھہریں۔ یہ مذہبی معاملہ ہے جس کا نتیجہ کفر یا ایمان ہے اس میں ایسی جلد بازی مناسب نہیں اور نہیں تو آپ کم از کم ایک ہفتہ ہی ٹھہریں اور مذہبی امور دریافت کریں ہم حتی الوسع آپ کو سمجھاتے رہیں گے۔ حضرت نے یہاں تک بھی فرمایا کہ ہم ہر طرح سے آپ کے مکان، خوراک وغیرہ کا بندوبست کرتے ہیں بلکہ یہاں رہنے میں آپ کا کچھ مالی نقصان ہے تو وہ بھی دینے کو طیار ہیں اور اگر آپ کی کچھ ملازمت اور تنخواہ ہے تو اس عرصہ کے لیے وہ بھی دے دیں گے۔

مگر گل محمد نے ایسی ’’نہیں ‘‘پکڑی کہ کوئی بات منظور نہ کی اور یہی کہا کہ کل میں ضرور چلا جاؤں گا۔ اسی وقت آپ میرے ساتھ سوال و جواب کر لیں حضرت نے اس اَمر کو نا منظور کیا اور بہت سمجھایا کہ یہ مذہبی معاملہ ہے ہم اس میں ایسی جلد بازی ہرگز نہیں کر سکتے اور نہ ہم اس اَمر کی پروا رکھتے ہیں کہ آپ باہر جا کر لوگوں کو کیا کچھ کہیں گے یا سنائیں گے۔ اگر آپ کو حق کی طلب ہے تو آپ چند روز ہمارے پاس ٹھہر جائیں بلکہ یہ بھی فرمایا کہ

اگر آپ کا حرج ہے تو ہم دو چار روپیہ روز تک بھی دینے کو طیار ہیں۔

مگر گل محمد صاحب نے کوئی بات نہ مانی اور کہا کہ اچھا میں پھر آؤں گا مگر صرف چار دن کے لیے۔

حضرت نے فرمایا کہ

کم از کم دس دن ضروری ہیں۔

مگر جب گل محمد صاحب نے کہا کہ میں چار دن سے زائد بالکل نہیں ٹھہر سکتا تو بالآخر حضرت نے چار دن ہی منظور فرمائے اور گل محمد صاحب کی درخواست پر اسی وقت ایک عہد نامہ تحریر ہوا جو ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔

نقل عہد نامہ منجانب گل محمد عیسائی

گل محمد صاحب کی تحریک کے مطابق جو اجازت ان کو یہاں قادیان آنے کے لیے شیخ عبدالرحمٰن صاحب نے تحریر کی تھی کہ وہ اپنے مشکلات مذہبی کے حل کرنے کے لیے قادیان حضرت اقدس کے پاس آسکتے ہیں اس کے مطابق وہ یہاں آ کر ۱۴؍ اگست ۱۹۰۳ء کو بعد نماز مغرب حضرت صاحب کے پاس آئے مگر چونکہ انہوں نے فرمایا کہ مجھے کل ہی واپس جانا ہے اور وہ زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتے اور حضرت صاحب بھی گورداسپور جانے کے سبب سے ان کو زیادہ وقت نہیں دے سکتے اس لیے یہ قرار پایا کہ گل محمد صاحب ابتدائی ہفتہ اکتوبر ۱۹۰۳ء میں چار دن کے لیے یہاں آئیں اور اپنا ایک سوال تحریری پیش کریں جس کا جواب حضرت مرزا صاحب تحریری دیں گے اور اس جواب کے بعد اگر گل محمد صاحب کی تشفی نہ ہو تو اسی سوال کے متعلق کچھ اور دریافت کر سکتے ہیں جس کا جواب حضرت صاحب دیں گے اور یہی سلسلہ چار دن تک رہے گا۔ اس سوال و جواب کے شرائط یہ ہیں کہ ہر روز پانچ گھنٹہ اس پر خرچ ہوں گے یعنی ہر ایک فریق کے لیے اڑھائی گھنٹے اور جس فریق کو ایک دن میں اڑھائی گھنٹے سے کم وقت ملنے کا موقع ملے وہ اتنا ہی وقت دوسرے دن لے سکے گا لیکن چوتھے دن کی شام کو بہرحال یہ اَمر ختم ہو گا سوائے اس کے کہ ان چار دنوں کے اندر کوئی فریق کسی وجہ سے جو معمولی حوائج اور ضروریات کے علاوہ ہو پورا وقت نہ دے سکے تو اس کے لیے ضروری ہو گا کہ اس وقت کو چار دن کے بعد پورا کرے اور اگر چار دن کے اندر ہی مثلاً پہلے ہی دن حضرت صاحب فرما دیں کہ جو ہم نے کہنا تھا کہہ چکے اور اب زیادہ اور کچھ نہیں کہنا تو گل محمد صاحب کو اختیار ہو گا کہ اسی وقت چلے جاویں۔ گل محمد صاحب کی طرف سے صرف ایک ہی سوال پیش ہو گا خواہ وہ کتنا ہی بڑا ہو اور فریقین کو اختیار نہ ہو گا کہ ایک دوسرے کے وقت میں کسی کی بات کو قطع کریں۔

(دستخط حضرت میرزا غلام احمد صاحب) دوسرے کاغذ پر ہوئے (گل محمد


۱۵؍اگست ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام)

لعنتِ خدا سے مُراد

فرمایا۔ خدا کے نزدیک لعنت وہ نہیں ہوتی جو کہ عام لوگوں کے نزدیک ہوتی ہے بلکہ خدا کی لعنت سے مُراد دنیا اور آخرت کی لعنت ہے (یعنی ہر) دو کی ذلّت ہے۔

قرآن کس طرح سے مصدِّق انجیل ہے؟

فرمایا کہ قرآن شریف انجیل کی تصدیق قول سے نہیں کرتا بلکہ فعل سے کرتا ہے کیونکہ جو حصہ انجیل کی تعلیم کا قرآن کے اندر شامل ہے اس پر قرآن نے عملدرآمد کروا کے دکھلا دیا ہے اور اسی لیے ہم اسی حصہ انجیل کی تصدیق کر سکتے ہیں جس کی قرآن کریم نے تصدیق کی۔ہمیں کیا معلوم کہ باقی کا رطب و یابس کہاں سے آیا۔ ہاں اس پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ پھر آیت وَلۡیَحۡکُمۡ اَہۡلُ الۡاِنۡجِیۡلِ(المائدۃ:۴۸) میں جو لفظ انجیل عام ہے اس سے کیا مُراد ہے وہاں یہ بیان نہیں ہے کہ انجیل کا وہ حصہ جس کا مصدق قرآن ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں الانـجیل سے مُراد اصل انجیل اور توریت ہے جو قرآن کریم میں درج ہو چکیں۔ اگر یہ نہ مانا جاوے تو پھر بتلایا جاوے کہ اصلی انجیل کون سی ہے کیونکہ آج کل کی مروّجہ اناجیل تو اصل ہو نہیں سکتیں ان کی اصلیت کس کو معلوم ہے اور یہ بھی خود عیسائی مانتے ہیں کہ اس کا فلاں حصہ الحاقی ہے۔ پھر ایک اور بات دیکھنے والی ہے کہ انجیل میں سے عیسٰیؑ کی موت اور بعد کے حالات اور توریت میں موسٰی کی موت کا حال درج ہے تو کیا اب ان کتابوں کا نزول دونوں نبیوں کی وفات کے بعد تک ہوتا رہا؟ اس سے ثابت ہے کہ موجودہ کتب اصل کتب نہیں ہیں اور نہ اب ان کا میسر آنا ممکن ہے۔۱؎

۱۶؍ اگست ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام) سوال۔ اگر ایسی خبر کوئی مشہور ہو کہ مرزا جی فوت ہو گئے ہیں تو کیا اس الہام کی بنا پر جو کہ حضور کو ۸۰ سال کے قریب عمر کے لیے ہوا ہے ہم کہہ سکتے ہیں کہ نہیں یہ خبر بالکل جھوٹی ہے؟ جواب فرمایا کہ ہاں تم کہہ سکتے ہو کیونکہ یہ الہام تو کتابوں اور اشتہاروں میں درج ہو چکا ہے۔۲؎

۱۷؍اگست ۱۹۰۳ء

(سفر گوردا س پور)

سفر سے پہلے نمازوں کا جمع کرنا

آج ظہر اور عصر کی نماز جمع کر کے حضرت اقدس گورداسپور کے لیے روانہ ہوئے آپ کے ہمراہ صاحبزادہ میاں بشیر الدین محمود بھی تھے۔ سٹیشن۱؎ کے قریب جو سرائے تھی اس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نزول فرمایا۔ مغرب اور عشاء کی نمازیں یہاں جمع کر کے پڑھی گئیں۔

فِیۡہَا مَا تَشۡتَہِیۡۤ اَنۡفُسُکُمۡ

۲؎ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نماز ادا فرما رہے تھے اور آپ کی طبیعت ناساز تھی کہ نماز کے اندر طبیعت میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اگر انگور ملیں تو وہ کھائے جاویں مگر چونکہ نزدیک و دور ان کا ملنا محال تھا اس لیے کیا ہو سکتا تھا کہ اس اثنا میں ایک صاحب جناب حکیم محمد حسین صاحب ساکن بلب گڑھ ضلع دہلی جو کہ حضرت اقدس کے مخلص خدام سے ہیں قادیان سے واپس ہو کر حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے ایک ٹوکری انگوروں اور دوسرے ثمرات مثل انار وغیرہ کی حضرت کی خدمت میں پیش کی اور بیان کیا کہ مجھے علم نہ تھا کہ حضور بٹالہ تشریف لائے ہیں۔ میں قادیان چلا گیا وہاں معلوم ہوا تو اسی وقت میں واپس ہوا اور یہ پھل حضور کے لیے ہیں۔۳؎

۱۸؍اگست ۱۹۰۳ء

ایک رؤیا

فجر کو اٹھ کر حضرت اقدس نے نماز باجماعت ادا کی چونکہ سفر کی تکان تھی اور رات کو بباعث سفر کے نیند بھی پوری نہ آئی تھی اس لیے بعض جانثار اصحاب نے درخواست کی کہ حضور علیحدہ ایک کمرہ میں آرام فرمالیں تا کہ بے خوابی سے طبیعت ناساز نہ ہو۔

اس لیے آپ نے تھوڑی دیر آرام فرمایا اور پھر اٹھ کر فرش پر جلوہ افروز ہوئے اور یہ رؤیا بیان کی کہ ایک خوان میرے آگے پیش ہوا ہے اس میں فالودہ معلوم ہوتا ہے اور کچھ فیرنی بھی رکابیوں میں ہے۔ میں نے کہا کہ چمچہ لاؤ تو کسی نے کہا کہ ہر ایک کھانا عمدہ نہیں ہوتا سوائے فیرنی اور فالودہ کے۔

اس کے بعد آپ نے خدا کا کلام جو کہ آپ پر ہوا سنایا فرمایا کہ

خدا تعالیٰ کی طرف سے تسلّی

ہر ایک بات میں خدا تعالیٰ کا سلسلہ تسکین کا چلا آتا ہے جس سے ان لوگوں کا ردّ ہوتا ہے جو ان مقدموں پر اعتراض کرتے ہیں (یعنی۱؎ اگر یہ مقدمات خدا تعالیٰ کی رضا مندی کا موجب اور دین کی تائید کا باعث نہ ہوتے تو پھر خدا تعالیٰ ان کے متعلق بشارت کیوں دیتا)

فرمایا کہ بعض کوتاہ اندیش ہی اعتراض کرتے ہیں ورنہ اگر ہم مقدمہ باز ہوتے تو جس وقت ڈگلس صاحب نے کہا تھا کہ تم مقدمہ کرو تو ہم اس وقت کر دیتے اور ایک تھیلا بھرا ہوا ہمارے پاس ہے جس میں گندی سے گندی گالیاں دی گئی ہیں اگر ہم چاہتے تو ان پر مقدمہ کرتے لیکن ہم نے محض لِلّٰہ صبر کیا ہوا ہے۔

فرمایا۔ وہ جو زمین، آسمان کا مالک ہے جب وہ تسلی دیوے تو انسان کس قدر تسلی پاتا ہے۔

خدا کا کلام صیغہ واحد اور جمع میں

خدا تعالیٰ جب توحید کے رنگ میں بولے تو وہ بہت ہی پیار اور محبت کی بات ہوتی ہے اور واحد کا صیغہ محبت کے مقام پر بولا جاتا ہے۔ جمع کا صیغہ جلالی رنگ میں آتا ہے جہاں کسی کو سزا دینی ہوتی ہے۔۲؎


بلاتاریخ۳؎

کتاب کے ساتھ استا د کی ضرورت

بعض احباب آمدہ از لاہور نے عبداللہ چکڑالوی صاحب کے خیالات اور اعتقادات کا ذکر کیا۔

اس پر حضور مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حَکم اور عدل نے فرمایا کہ ہر ایک شَے کے لیے استاد کی ضرورت ہے ورنہ تم دیکھ لو جس قدر تصانیف ہر ایک فن اور علم کے متعلق موجود ہیں کیا مصنّفین نے اپنی طرف سے کوئی بخل رکھا ہے ہر ایک بات کی بڑی بڑی تفصیل کی ہے اگر بخل کا ظن ہو سکتا ہے تو ایک پر ہو گا دو پر ہو گا نہ لاکھوں پر مگر تا ہم دیکھا گیا ہے کہ علم کا خاصہ ہی یہی ہے کہ بلا استاد کے نہیں آتا اور نبی بھی ایک استاد ہوتا ہے جو کہ خدا کی کلام کو سمجھا کر اس پر عمل کرنے کا طریق بتلاتا ہے دیکھو میں الہام بیان کرتا ہوں تو ساتھ ہی تفہیم بیان کر دیتا ہوں اور یہ عادت نہ انسانوں میں دیکھی جاتی ہے نہ خدا میں کہ ایک علمی بات بیان کر کے پھر اسے عملدرآمد میں لانے کے واسطے نہ سمجھاوے۔ جو استاد کا محتاج نہیں ہے وہ ضرور ٹھوکر کھاوے گا۔ جیسے طبیب بلا استاد کے طبابت کرے تو دھوکا کھاوے گا ایسے ہی جو شخص بلا توصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اگر خود بخود قرآن سمجھتا ہے تو ضرور دھوکا کھاوے گا۔

مفتری کا انجام

فرمایا۔ مفتری تھک جاتا ہے اور اس کا پول خود لوگوں پر ظاہر ہو جاتا ہے اور یا اسے ذلّت دامنگیر ہوتی ہے کیونکہ روز بروز کیسے افترا کر سکتا ہے۔ افترا جیسی کچی شَے کوئی نہیں ہوتی حتی کہ شیشہ بھی اتنا کچا نہیں ہوتا جس قدر افترا ہوتا ہے اور چونکہ مفتری کے بیان میں قوتِ جاذبہ نہیں ہوتی اس لیے اس کی بدبو بہت جلد پھیل جاتی ہے۔

قتل انبیاء کا مسئلہ

ایک صاحب نے سوال کیا کہ توریت میں جھوٹے نبی کی یہ علامت لکھی ہے کہ وہ قتل کیا جاوے اور ادھر ایسی عبارتیں بھی ہیں کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض نبی قتل ہوئے تو پھر وہ علامت کیسے صحیح ہو سکتی ہے؟

فرمایا۔ راستباز کی یہی نشانی ہے کہ جس مطلب کے لیے خدا نے اسے پیدا کیا جب تک وہ پورا نہ ہو لے یا کم از کم اس کے پورا ہونے کی ایسی بنیاد نہ ڈال دے کہ اسے تنزل نہ ہو تب تک وہ نہ مَرے۔ مگر ایک کذّاب سے یہ بات کب ہو سکتی ہے قتل سے مُراد یہ ہے کہ اس قتل میں ناکامی اور نامُرادی ساتھ نہ ہو اور جب ایک انسان اپنا کام پورا کر چکے تو پھر خود مَر جاوے تو کیا یا کسی کے ہاتھ سے مارا جاوے تو کیا۔ موت تو بہر حال آنی ہی ہے کسی صورت میں آگئی اس میں کیا حرج ہے اور کامیابی کی موت پر کسی کو تعجب بھی نہیں ہوا کرتا اور نہ دشمن کو خوشی ہوتی ہے۔ قرآن شریف کے صریح الفاظ سے یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ خدا تعالیٰ نے قتل نبی حرام کیا ہو بلکہ آنحضرتؐ کی نسبت لکھا ہے اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ(اٰل عمران:۱۴۵) جس سے قتل انبیاء کا جواز معلوم ہوتا ہے اب جنگوں کے بیچ میں ہزاروں افسر مارے جاتے ہیں لیکن اگر ان کی موت کامیابی اور فتح اور نصرت کی ہو تو اس پر کوئی رنج نہیں کرتا بلکہ خوشی کرتے ہیں اور جو خدا کے اہل ہوتے ہیں ان کا قتل تو ان کے لیے زندگی ہے کہ اپنے قائمقام ہزاروں چھوڑ جاتے ہیں۔

آنحضرتؐ کی آمد اس وقت ہوئی کہ زمانہ ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ(الرّوم:۴۲) کا مصداق تھا اور گئے اس وقت جبکہ اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ وَالۡفَتۡحُ(النّصر:۲) کی سند آپ کو مل گئی پس اگر آپؐ کو کامیابی نہ ہوتی لیکن آپ کسی کے ہاتھ سے قتل بھی نہ ہوئے تو اس سے کیا فائدہ تھا؟ اور یہ کون سا مقام فخر کا ہے۔ ہاں جب ایک شخص سلطنت قائم کرتا ہے اور اپنے قائمقام مظفر و منصور چھوڑتا ہے تو کیا پھر دشمن کی خوشی کا موجب ہوسکتا ہے؟ بڑی سے بڑی ذلّت یہ ہے کہ ناکامی اور نامُرادی کی موت آوے پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کامیابی کی حالت میں قتل کئے جاتے تو اس سے آپ کی شان میں کیا حرف آسکتا تھا؟ یہ بھی لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دی گئی تھی آپ کی موت میں اس زہر کا بھی دخل تھا مگر ہم کہتے ہیں کہ جب آپ کی موت ایسی حالت میں ہوئی کہ کافر اس بات سے ناامید ہوگئے کہ ان کا دین پھر عود کرے گا تو ایسی حالت میں اگر آپ زہر یا قتل سے مَرتے تو کون سی قابل اعتراض بات تھی؟ دین تو تباہ نہیں ہو سکتا تھا۔ غرضیکہ توریت میں جس قتل کا ذکر ہے تو اس سے نامُرادی اور ناکامی کی موت مُراد ہے حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام قریبی رشتہ دار تھے یحییٰ کے قتل ہو جانے سے دین پر کوئی تباہی نہ آسکتی تھی اگر یحییٰ قتل ہوئے تو پھر عیسیٰؑ ان کی جگہ کھڑے ہو گئے۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یحییٰ کوئی صاحب شریعت نہ تھے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ وعدہ توریت کا صاحب شریعت کے لیے ہو۔ انگریزوں اور سکھوں کی لڑائیاں ہوتی رہیں سکھ لوگ ان میں اکثر انگریزوں کو قتل کرتے رہے لیکن اب جس حالت میں کہ انگریز فاتح اور بادشاہ ہیں تو کیا سکھ یہ فخر کر سکتے ہیں کہ ہم نے اس قدر انگریزوں کو قتل کیا۔ یہ کوئی جگہ فخر کی نہیں ہے کیونکہ آخر میدان انگریزوں کے ہاتھ رہا۔ زندہ وہ ہوتا ہے جس کا سکہ چلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کروڑہا مسلمان موجود ہیں اور ابوجہل کے بعد اس کا تابع کوئی نہیں بلکہ اس کی اولاد ہونے کا کوئی نام نہیں لیتا تو کیا اب ابوجہل کی طرف سے کوئی یہ بات کہہ سکتا ہے کہ ہم نے مسلمانوں کو فلاں جگہ شکست دی تھی یا کوئی بیوقوف اگر یہ کہے کہ ہوا کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مَر گئے اور ابوجہل بھی تو یہ اس کی غلطی ہے مقابلہ تو کامیابی سے ہوتا ہے ابوجہل کا نام ندارد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تو تخت موجود ہے۔ انبیاء کو خدا ذلیل نہیں کیا کرتا انبیاء کی قوتِ ایمانی یہ ہے کہ خدا کی راہ میں جان دے دینا وہ اپنی سعادت جانیں۔ اگر کوئی موسیٰ علیہ السلام کے قصہ پر نظر ڈال کر اس سے یہ نتیجہ نکالے کہ وہ ڈرتے تھے تو یہ بالکل فضول اَمر ہے (اور اس ڈر سے یہ مُراد ہرگز نہیں کہ ان کو جان کی فکر تھی بلکہ ان کو یہ خیال تھا کہ منصب رسالت کی بجا آوری میں کہیں اس کا اثر برانہ پڑے۔)

میرے نزدیک مومن وہی ہے کہ اگر اس نے خدا کی راہ میں جان نہ دی ہو تو وہ روحانی طور پر ضرور جان دے کر شہید ہو چکا ہو پس اگر موسٰی کو جان کا ہی خوف تھا تو اس سے (اگر یہ افواہ سچ ہے کہ شہزادہ پیر مولوی عبداللطیف خان صاحب سنگسار کر کے مارے گئے ہیں )عبداللطیف صاحب ہی اچھے رہے جنہوں نے ایمان نہ دیا اور جان دیدی پس ہمارا تو یہی خیال ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو اس وقت یہ خیال ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ میں نامُراد مارا جاؤں اور فرض رسالت ادا نہ ہو۔

اگر کسی بات میں شر ہو تو یہ عادت اللہ نہیں ہے کہ مجھے وہ اطلاع نہ دے۔

مہم ا ن نو ازی آ پ نے منتظمان باورچی خانہ کو تاکید کی کہ

آ

ج کل موسم بھی خراب ہے اور جس قدر لوگ آئے ہوئے ہیں یہ سب مہمان ہیں اور مہمان کا اکرام کرنا چاہیے اس لیے کھانے وغیرہ کا انتظام عمدہ ہو اگر کوئی دودھ مانگے دودھ دو چائے مانگے چائے دو کوئی بیمار ہو تو اس کے موافق الگ کھانا اسے پکا دو۔

اس کے۱؎ بعد عدالت کا وقت قریب آ گیا اور حضرت اقدس اور دیگر احباب کھانا وغیرہ تناول فرما کر عدالت کو روانہ ہوئے۔۲؎

۲۰؍اگست ۱۹۰۳ء

(بوقتِ شام)

مامور کی دشمنی

فرمایا کہ دشمنی دشمنوں کی یہ بھی ایک قبولیت ہوتی ہے اور منجانب اللہ نصیب ہوتی ہے۔

رسول کا عالم الغیب ہونا

اکثر لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ رسول عالم الغیب ہوتے ہیں چنانچہ بعض تو حضرت مسیح موعودؑ کی نسبت یہ خیال رکھتے ہیں کہ ان کا دعویٰ عالم الغیب ہونے کا ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ یہ ان لوگوں کی غلطی ہے عالم الغیب ہونا اَور شَے ہے اور مؤیّد من اللہ ہونا اَور شَے ہے۔۳؎

۲۱؍اگست ۱۹۰۳ء

(در بارِ شام)

وحی منقطع ہو گئی ہے یا برابر جا ری ہے

ایک صاحب نے سوال کیا کہ انقطاعِ وحی کی نسبت جو حکم آچکا ہے تو پھر اب وحی کیوں ہوئی اور آج تک سوائے جناب کے اور کسی نے کیوں صاحبِ وحی ہونے کا دعویٰ نہ کیا؟ حضرت اقدس۔ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ آج تک کسی نے دعویٰ نہ کیا؟ سائل۔ جہاں تک میری معلومات ہیں وہاں تک میں نے نہیں دیکھا؟ حضرت اقدس۔ آپ کی معلومات تو چند ایک کتابیں حدیث کی اور اَور دوسری ہوں گی اس سے کیا پتا لگتا ہے اگر اس میں الف لام کی رعایت نہ کی جاوے تو پھر اس سے بہت سے فساد لازم آویں گے اور انسان ضلالت میں جا پڑے گا یہ اَمر ضروری ہے کہ وحی شریعت اور وحی غیر شریعت میں فرق کیا جاوے بلکہ اس امتیاز میں تو جانوروں کو جو وحی ہوتی ہے اس کو بھی مدنظر رکھا جاوے بھلا آپ بتلاویں کہ قرآن شریف میں جو یہ لکھا ہے کہ وَاَوۡحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحۡلِ(النحل:۶۹) تو اب آپ کے نزدیک شہد کی مکھی کی وحی ختم ہو چکی ہے یا جاری ہے؟

سائل۔ جاری ہے۔

حضرت اقدس۔ جب مکھی کی وحی اب تک منقطع نہیں ہوئی تو انسانوں پر جو وحی ہوتی ہے وہ کیسے منقطع ہو سکتی ہے۔ ہاں یہ فرق ہے کہ ال کی خصوصیت سے اس وحی شریعت کو الگ کیا جاوے ورنہ یوں تو ہمیشہ ایسے لوگ اسلام میں ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے جن پر وحی کا نزول ہو۔ حضرت مجدّد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ صاحب بھی اس وحی کے قائل ہیں اور اگر اس سے یہ مانا جاوے کہ ہر ایک قسم کی وحی منقطع ہو گئی ہے تو یہ لازم آتا ہے کہ امور مشہودہ اور محسوسہ سے انکار کیا جاوے۔ اب جیسے کہ ہمارا اپنا مشاہدہ ہے کہ خدا کی وحی نازل ہوتی ہے پس اگر ایسے شہود اور احساس کے بعد کوئی حدیث اس کے مخالف ہو تو کہا جاوے گا کہ اس میں غلو ہے خود غزنوی والوں نے ایک کتاب حال میں لکھی ہے جس میں عبداللہ غزنوی کے الہامات درج کئے ہیں۔

پھر جس حال میں یہ سلسلہ موسوی سلسلہ کے قدم بقدم ہے اور موسوی سلسلہ میں برابر وحی جاری رہی حتی کہ عورتوں کو ہوتی رہی تو کیا وجہ ہے کہ محمدی سلسلہ میں وہ بند ہو۔ کیا اس اُمّت کے اخیار ان عورتوں سے بھی گئے گذرے ہوئے؟

علاوہ اس کے اگر وحی نہ ہو تو پھر اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحۃ:۶، ۷) کے کیا معنے ہوں گے۔ کیا یہاں انعام سے مُراد گوشت پلاؤ وغیرہ ہے یا کہ خلعتِ نبوت اور مکالمہ الٰہی وغیرہ جو کہ انبیا ؤں کو عطا ہوتا رہا۔ غرضیکہ معرفت تام انبیا ؤں کو سوائے وحی کے حاصل نہیں ہو سکتی جس غرض کے لیے انسان اسلام قبول کرتا ہے اس کا مغز یہی ہے کہ اس کے اتباع سے وحی ملے اور پھر اگر وحی منقطع ہوئی مانی بھی جاوے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی منقطع ہوئی نہ اس کے اظلال اور آثار بھی منقطع ہوئے۔

سائل۔ بروز کسے کہتے ہیں؟

مسئلہ بروز

حضرت اقدس۔ جیسے شیشہ میں انسان کی شکل نظر آتی ہے حالانکہ وہ شکل بذاتِ خود الگ قائم ہوتی ہے اس کا نام بروز ہے اس کا سِرسورہ فاتحہ میں ہی ہے جیسے کہ لکھا ہے کہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ(الفاتحۃ:۶، ۷) تمام مفسروں نے مغضوب سے مُراد یہود اور ضالین سے مُراد نصاریٰ لیے ہیں اور پھر یہ آیت ثُمَّ جَعَلۡنٰکُمۡ خَلٰٓئِفَ فِی الۡاَرۡضِ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ لِنَنۡظُرَ کَیۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ(یونس:۱۵) اور آیت وَیَسۡتَخۡلِفَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرَ کَیۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ(الاعراف:۱۳۰) یہ آیتیں بھی اس کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ایک ان میں سے اہل اسلام کی نسبت ہے اور ایک یہود کی نسبت پس مقابلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ہر طرح کا انعام کروں گا اور پھر دیکھوں گا کہ کس طرح شکر کرتے ہو۔

اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اہل یہود کو کون سی بڑی مصیبت تھی تو وہ دو بڑی مصیبتیں ہیں ایک یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کیا گیا اور ایک یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا گیا۔ پس مماثلت کے لحاظ سے مسلمانوں کے لیے بھی وہی دو انکار لکھے تھے مگر وہاں شمار میں الگ الگ دو وجود تھے اور یہاں نام الگ الگ ہیں مگر وہ وجود جس میں ان دونوں کا بروز ہوا ایک ہی ہے۔ ایک بروز عیسوی اور ایک محمدی اور صرف نام کے لحاظ سے اہل اسلام یہود کے بروز اسی طرح سے قرار پائے کہ انہوں نے مسیح اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر دیا اور وہ مماثلت پوری ہوگئی اور آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ اس اُمّت میں بروزی طور پر وہی کرتوت یہودیوں والی پوری ہونی تھی اور یہ اس طرف اشارہ کرتی تھیں کہ آنے والا دو رنگ لے کر آوے گا۔ اسی لیے مہدی اور مسیح کے زمانہ کی علامات ایک ہی ہیں اور ان دونوں کا فعل بھی ایک ہی۔۱؎

۲۲؍اگست ۱۹۰۳ء

اشاعتِ فحش سے بچیں

عام طور پر ایک مرض لوگوں میں دیکھی جاتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مرد یا عورت کی نسبت یہ بیان کرے کہ وہ بدکار ہے یا اس کا دوسرے سے تعلق بدکاری کا ہے تو چونکہ نفس ایسے معلومات کی وسعت سے لذّت پاتا ہے اس لیے اس راوی کے بیان پر بلا تحقیق یہ خیال کر لیا جاتا ہے کہ یہ واقعہ بالکل سچا ہے اور اسے شہرت دینے میں سعی کی جاتی ہے اور اس طرح سے نیک مرد اور نیک عورتوں کی نسبت ناپاک خیال لوگوں کے دلوں میں متمکن ہو جاتے ہیں اور جن کی شہرت ہوتی ہے ان کے دلوں پر اس سے کیا صدمہ گذرتا ہے اس کو ہر ایک محسوس نہیں کر سکتا۔ اسی لیے خدا تعالیٰ نے ایسی شہرت دینے والوں کے لیے اَسی درّے سزا مقرر فرمائی ہے۔

اس مضمون کے متعلق حضرت اقدس نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اپنی پاک کلام میں شہرت دینے والوں کے لیے بشرطیکہ وہ اسے ثابت نہ کر سکیں اَسی درّے سزا رکھی ہے۔ یہ اس لیے کہ جو شہرت دیتا ہے اسے اس مقدمہ میں مدعی گردانا گیا ہے اور اسی سے چار گواہ طلب کئے گئے ہیں کہ اگر وہ سچا ہے تو اپنے علاوہ چار گواہ رویت کے لاوے۔ یہ غلطی ہے کہ ایسے شخص کو بھی گواہوں میں شمار کیا جاوے۔۱؎

۲۴؍اگست ۱۹۰۳ء

ایک رؤیا حضرت اقدس نے ایک رؤیا بوقتِ عصر سنایا۔ فرمایا کہ

ایک رؤیا

مَیں نے دیکھا کہ ایک بلی ہے اور گویا کہ ایک کبوتر ہمارے پاس ہے وہ اس پر حملہ کرتی ہے۔ بار بار ہٹانے سے باز نہیں آتی تو آخر میں نے اس کا ناک کاٹ دیا ہے اور خون بہہ رہا ہے پھر بھی باز نہ آئی تو میں نے اسے گردن سے پکڑ کے اس کا منہ زمین سے رگڑنا شروع کیا بار بار رگڑتا تھا لیکن پھر بھی سرا ٹھاتی جاتی تھی تو آخر میں نے کہا کہ آؤ اسے پھانسی دیدیں۔۱؎

۳۱؍اگست ۱۹۰۳ء

مسلمانوں کے ادبار کا باعث

اہل اسلام کے ادبار اور ان کے تنزل کا ذکر ہوا فرمایا کہ اس کا باعث خود ان کی شامتِ اعمال ہے کیونکہ زمین پر کچھ نہیں ہوتا جبکہ اوّل آسمان پر نہ ہو لے۔ اکثر لوگ حکام کی سختی اور ظلم کی شکایت کیا کرتے ہیں لیکن اگر یہ لوگ خود ظالم نہ ہوں تو خدا ان پر کبھی ظالم حاکم مسلط نہ کرے زمانہ کی حالت کا اندازہ اسی سے کر لو کہ ہم ہزاروں روپے دینے کو طیار ہیں کہ کوئی جماعت آ کر یہاں رہے۔ ہم ان کی مہمان نوازی کریں اور حتی الوسع ہر ایک قسم کا آرام دیویں اور وہ شرافت سے اپنے شکوک و شبہات پیش کریں اور قرآن اور احادیثِ صحیحہ سے ہماری باتیں سنیں اور پھر سمجھیں اور غور کریں کہ جو کچھ عقیدہ اسلام کے متعلق انہوں نے اختیار کیا ہوا ہے اس سے کس قدر فساد اور ہتک اسلام کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لازم آتی ہے اور عیسائیوں کو کس قدر مدد ملتی ہے مگر ان لوگوں کو پروا نہیں ہے گھر بیٹھے ہی دو دو پیسہ کی کتابیں بنا کر جو کچھ جھوٹ اور افترا چاہتے ہیں لکھ دیتے ہیں۔(جب مذہب کے بارے میں اس قدر بے پروا ئی ہے تو کیوں ان پر ادبار نہ آوے)

اللہ تعالیٰ پر ایمان لا نے کی حقیقت

ایک صاحب نے سوال کیا کہ قرآن شریف میں جو یہ لکھا ہے کہ خواہ کوئی یہودی ہو خواہ صابی ہو خواہ کوئی نصرانی ہو تو جو کوئی اللہ پر اور یوم آخر پر ایمان لاوے تو اسے حزن نہ ہو گا تو اس صورت میں اکثر ہندو لوگ بھی اس بات کے مستحق ہیں کہ وہ نجات پاویں کیونکہ وہ رسول اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اگر چہ عمل نہیں کرتے اور ان کی تعظیم کرتے ہیں۔

فرمایا۔ اللہ پر ایمان لانے کے معنے آپ نے کیا سمجھے ہوئے ہیں۔ کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ جو عیسٰیؑ پر ایمان لاوے وہ ہی اللہ پر ایمان لانے والا ہے؟ اللہ پر ایمان لانے کے یہ معنے ہیں کہ اسے ان تمام صفات سے موصوف مانا جاوے جن کا ذکر قرآن شریف میں ہے مثلاً رب، رحمٰن، رحیم تمام محامد والا، رسولوں کا بھیجنے والا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجنے والا اب آپ ہی بتلاویں کہ قرآن شریف میں لفظ اللہ کے یہ معنے ہیں کہ نہیں؟ پھر جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا قرآن کو نہیں مانتا تو اس نے کیا اس اللہ کو مانا جسے قرآن نے پیش کیا ہے۔ جیسے گلاب کے پھول سے خوشبو دور کر دی جاوے تو پھر وہ گلاب کا پھول پھول نہیں رہتا اور اسے پھینک دیتے ہیں پس اسی طرح اللہ کو ماننے والا وہی ہوگا جو اسے ان صفات کے ساتھ مانے جو قرآن نے بیان کئے ہیں۔

سائل۔ لیکن بعض ہندو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کرتے ہیں اگرچہ برائے نام ہندو ہیں اور عمل بھی ہندوؤں والے تو یہاں چونکہ لفظ ایمان کا ہے کہ جو ایمان لاوے تو پھر وہ مستحق ہیں کہ نہیں کہ ان پر خوف اور حزن نہ ہو۔

فرمایا کہ اقرار اسی وقت صحیح ہو سکتا ہے جبکہ انسان اس پر عمل بھی کرے اگر انسان نماز روزہ وغیرہ کا اقرار تو کرتا ہے مگر فعل ایک دن بھی بجا نہیں لاتا تو اس کا نام اقرار نہ ہوگا اگر آپ کے ساتھ ایک شخص کئی اقرار کرے کہ میں یہ کروں گا وہ کروں گا لیکن عملی طور پر ایک بھی پورا نہ کرے تو کیا تم اس کے اقرار کو اقرار کہو گے؟

عذاب کی حقیقت

سائل۔ چونکہ اس کا اقرار زبان سے تو ہے اس لیے عذاب میں تو ضرور اسے رعایت چاہیے۔

فرمایا۔ ہمارا مذہب یہ ہے کہ دنیا میں جو عذاب ملتے ہیں وہ ہمیشہ شوخیوں اور شرارتوں سے ملتے ہیں انبیاؤں اور مامورین کے جس قدر منکر گذرے ہیں ان پر عذاب اسی وقت نازل ہوا جبکہ ان کی شرارت اور شوخی حد سے تجاوز کر گئی اگر وہ لوگ حد سے تجاوز نہ کرتے تو اصل گھر عذاب کا آخرت ہے ورنہ اس طرح سے دیکھ لو کہ ہزاروں کافر ہیں جو کہ اپنے کاروبار کرتے ہیں اور پھر کفر پر ہی مَرتے ہیں مگر دنیا میں کوئی عذاب ان کو نہیں ملتا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ مامور من اللہ کے مقابلے پر آکر شوخی اور شرارت میں حد سے نہیں بڑھتے مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آخرت میں بھی ان کو عذاب نہ ہوگا دنیاوی عذاب کے لیے ضروری ہے کہ انسان تکذیبِ مرسل، استہزاء اور ٹھٹھے میں اور ایذا میں حد سے بڑھے اور خدا کی نظر میں ان کا فساد، فسق اور ظلم اور آزار نہایت درجہ پر پہنچ گیا ہو۔ اگر ایک کافر مسکین صورت رہے گا اور اس کو خوف دامنگیر ہوگا تو گو وہ اپنی مذہبی ضلالت کی وجہ سے جہنم کے لائق ہے مگر عذاب دنیوی اس پر نازل نہ ہوگا۔ اگر کفار مکہ چپ چاپ اور اخلاق سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش آتے تو یہ عذاب ان کو جو ملا ہرگز نہ ملتا ایک جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَفَسَقُوۡا فِیۡہَا فَحَقَّ عَلَیۡہَا الۡقَوۡلُ فَدَمَّرۡنٰہَا تَدۡمِیۡرًا(بنی اسرآءیل:۱۷) کہ جب کسی بستی کے ہلاک کرنے کا ارادہ الٰہی ہوتا ہے تو اس وقت ضرور وہاں کے لوگ بدکاریوں میں حد اعتدال سے نکل جاتے ہیں۔ پھر ایک اور جگہ ہے وَمَا کُنَّا مُہۡلِکِی الۡقُرٰۤی اِلَّا وَاَہۡلُہَا ظٰلِمُوۡنَ(القصص:۶۰) جس سے ثابت ہے کہ کوئی بستی نہیں ہلاک ہوتی مگر اس حالت میں کہ جب اس کے اہل ظلم پر کمر بستہ ہوں۔ فسق کے معنے حد سے تجاوز کرنے کے ہیں۔ اب دیکھو ہزاروں ہندو ہیں مگر مانتے نہیں انکار کرتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ سب کو چھوڑ کر لیکھرام کے پیٹ میں چھری چلی؟ اس کی وجہ اس کی زبان تھی کہ جب اس نے اسے بیباکانہ کھولا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سبّ وشتم کرنے میں حد سے بڑھ گیا اور ایک مدِّ مقابل بن کر خود نشان طلب کیا تو وہی اس کی زبان چھری بن کر اس کی جان کی دشمن ہوگئی۔ غرضیکہ اصل گھر عذاب کا آخرت ہے اور دنیا میں عذاب شوخی، شرارت میں حد سے تجاوز کرنے سے آتا ہے ہندوؤں میں بھی یہ بات مشہور ہے کہ پرمیشر اورعت کا بیر (دشمنی )ہے۔ عت کے معنے حد درجہ تک ایک بات کو پہنچا دینا (عت کا لفظ عربی ہے جیسے قرآن شریف میں عُتُوٍّ ہے۔

تفاوت وطبقاتِ عذاب

مَیں اس بات کا قائل نہیں ہوں کہ عذاب یکساں سب کو ہو کفر سب ایک جیسے نہیں ہوتے تو عذاب کیسے ایک جیسا سب کو ہو بعض کافر ایسے ہیں کہ ایسے پہاڑوں میں رہتے ہیں کہ وہاں اب تک رسالت کی خبر نہیں اسلام کی خبر نہیں تو ان کا کفر ابو جہل والا کفر تو نہ ہو گا جس حال میں ایک نہایت درجے کا شریر اور مکذّب باوجود علم کے پھر انکار کرتا ہے۔ تو اس کے عذاب اور دوسرے کے عذاب میں جو اس قدر شرارت نہیں کرتے ضرور فرق ہونا چاہیے، لیکن ان طبقات عذاب کی کہ (یہ کس قدر ہیں اور کس طرح سے ان کی تقسیم ہے) اس کی ہمیں خبر نہیں اس کا علم خدا کو ہے ہاں چونکہ خدا پر ظلم منسوب نہیں ہو سکتا اس لیے طبقات کا ہونا ضروری ہے۔

ہمارا مذہب

احادیث کی نسبت ذکر ہوا اس پر حضرت اقدس نے اپنا مذہب بتلایا جو کہ اکثر دفعہ شائع ہو چکا ہے کہ سب سے مقدم قرآن ہے اس کے بعد سنّت اس کے بعد حدیث۔

اور حدیث کی نسبت فرمایا کہ اگر ضعیف سے ضعیف حدیث بھی بشرطیکہ وہ قرآن کے معارض نہ ہو تو اس پر ضرور عمل کرنا چاہیے۔ کیونکہ جس حال میں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی جاتی ہے تو یہ ادب اور محبت کا تقاضا ہونا چاہیے کہ اس پر عملدرآمد ہو اور ہمارا یہ مدعا ہرگز نہیں کہ ائمہ دین کی ان کوششوں کو جو محض دین کے لیے انہوں نے کیں ضائع کر دیویں۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ جس حال میں کوئی بات ان کی یا کوئی حدیث ہی باوجود تاویلات کے بھی قرآن شریف سے مطابقت نہ کھاوے تو پھر قرآن کو مقدم رکھ کر اسے ترک کر دیا جاوے کیونکہ جب ضدین جمع ہوں گی تو ایک کو تو ضرور ترک کرنا پڑے گا اس صورت میں تم قرآن کو ترک مت کرو اور اس کے غیر کو ترک کر دو۔ مثلاً ایک مسئلہ وفاتِ مسیح کا ہی ہے جس حال میں قرآن شریف سے وفات ثابت ہے تو اب ہم اس دوسری حدیث کو جو اس کے مخالف ہو یا کسی کے قول کو کیوں مانیں؟ آیت فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ(المائدۃ:۱۱۸) میں دو باتیں خدا تعالیٰ نے بیان کی ہیں ایک تو مسیحؑ کی وفات دوسرے اس کے دنیا میں آنے کی نفی کی ہے کیونکہ اگر وہ قیامت سے پیشتر دنیا میں دوبارہ آ چکا ہے تو اس کا کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ(المائدۃ:۱۱۸) کہنا غلط ہے اس صورت میں یا تو ؑ جھوٹے ہوں گے یا نعوذ باللہ جھوٹ کا الزام خدا پر آوے گا تو ایسی صورت میں ہم قرآن کو مقدم رکھیں گے جس نے وفات کو بڑے بیّن طور پر ثابت کر دیا ہے۔

عورتوں کے لئے جمعہ کا استثنا

ایک صاحب نے عورتوں پر جمعہ کی فرضیت کا سوال کیا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ اس میں تعامل کو دیکھ لیا جاوے اور جو اَمر سنّت اور حدیث سے ثابت ہے اس سے زیادہ ہم اس کی تفسیر کیا کر سکتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو جب مستثنیٰ کر دیا ہے تو پھر یہ حکم صرف مَردوں کے لئے ہی رہا۔

احتیاطی نماز

اہل اسلام میں سے بعض ایسے بھولے بھالے بھی ہیں کہ جمعہ کے دن ایک تو جمعہ کی نماز پڑھتے ہیں پھر اس کے بعد اس احتیاط سے کہ شاید جمعہ ادا نہ ہوا ہو۔ ظہر کی نماز بھی پوری ادا کرتے ہیں اس کا نام انہوں نے احتیاطی رکھا ہے اس کے ذکر پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ غلطی ہے اور اس طرح سے کوئی نماز بھی نہیں ہوتی کیونکہ نیت میں اس اَمر کا یقین ہونا ضروری ہے کہ میں فلاں نماز ادا کرتا ہوں اور جب نیت میں شک ہوا تو پھر وہ نماز کیا ہوئی؟۱؎


یکم ستمبر ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام)

ایک رؤیا

فرمایا کہ آج خواب میں ایک فقرہ منہ سے یہ نکلا فیئر مین FAIR MAN

خدا شناسی کا واحد ذریعہ

فرمایا۔ خدا کی شناخت کے واسطے سوائے خدا کی کلام کے اور کوئی ذریعہ نہیں ہے ملاحظہ مخلوقات سے انسان کو یہ معرفت حاصل نہیں ہوسکتی اس سے صرف ضرورت ثابت ہوتی ہے پس ایک شَے کی نسبت ضرورت کا ثابت ہونا اَور اَمر ہے اور واقعی طور پر اس کا موجود ہونا اَور اَمر ہے یہی وجہ ہے کہ حکماء متقدمین سے جو لوگ محض قیاسی دلائل کے پابند رہے ہیں اور ان کی نظر صرف مخلوقات پر رہی انہوں نے اس میں بہت بڑی بڑی غلطیاں کی ہیں اور کامل یقین ان کو جو ہے کے مرتبہ تک پہنچاتا ہے نصیب نہ ہوا یہ صرف خدا کا کلام ہے جو یقین کے اعلیٰ مراتب تک پہنچاتا ہے۔ خدا کا کلام تو ایک طور سے خدا کا دیدار ہے اور یہ شعر اس پر خوب صادق آتا ہے۔

نہ تنہا عشق از دیدار خیزد

بسا کیں دولت از گفتار خیزد

خدا تعالیٰ قادر ہے کہ جس شَے میں چاہے طاقت بھر دیوے پس اپنے دیدار والی طاقت اس نے اپنی گفتار میں بھر دی ہے۔ انبیاء نے اسی گفتار پر ہی تو اپنی جانیں دے دی ہیں۔ کیا کوئی مجازی عاشق اس طرح کرسکتا ہے؟ اس گفتار کی وجہ سے کوئی نبی اس میدان میں قدم رکھ کر پھر پیچھے نہیں ہٹا اور نہ کوئی نبی کبھی بے وفا ہوا ہے۔ جنگِ احد کے واقعہ کی نسبت لوگوں نے تاویلیں کی ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ خدا کی اس وقت جلالی تجلی تھی اور سوائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کو برداشت کی طاقت نہ تھی اس لیے آپ وہاں ہی کھڑے رہے اور باقی اصحاب کا قدم اکھڑ گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جیسے اس صدق وصفا کی نظیر نہیں ملتی جو آپ کو خدا سے تھا ایسا ہی ان الٰہی تائیدات کی نظیر بھی کہیں نہیں ملتی جو آپ کے شاملِ حال ہیں مثلاً آپ کی بعثت اور رخصت کا وقت ہی دیکھ لو۔

مسیح کا آسمان پر جانا

بار بار خیال آتا ہے کہ اگر مسیحؑ آسمان پر گئے تو کیوں گئے؟ یہ ایک بڑا تعجب خیز اَمر ہے کیونکہ جب زمین پر ان کی کارروائی دیکھی جاتی ہے تو بے ساختہ ان کا آسمان پر جانا اس شعر کا مصداق نظر آتا ہے۔

تو کارِ زمیں را نکو ساختی

کہ با آسماں نیز پرداختی

گویا یہ شعر بالکل اس واقعہ کے لیے شاعر کے منہ سے نکلا ہے کوئی پوچھے کہ انہوں نے آسمان پر جا کر آج تک کیا بنایا اگر زمین پر رہتے تو لوگوں کو ہدایت ہی کرتے مگر اب دو ہزار برس تک جو ان کو آسمان پر بٹھاتے ہیں تو ان کی کارروائی کیا دکھلا سکتے ہیں۔ جو بات ہم کہتے ہیں اور جس کی تائید میں قرآن اور حدیث بھی ہمارے ساتھ ہے وہ ان کی شانِ نبوت کے ساتھ خوب چسپاں ہوتی ہے کہ جب ان لوگوں نے حضرت مسیحؑ کو نہ مانا تو آپ دوسرے نبیوں کی طرح دوسرے ملک میں ہجرت کر کے چلے گئے۔ اور پھر ایسے فرضی اوصاف ان کے لیے وضع کرتے ہیں جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک اور ہجو ہو کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کفار نے سوال کیا کہ آپ آسمان پر چڑھ کر بتلاویں تو آپ نے یہ معجزہ ان کو نہ دکھلایا اور سُبۡحَانَ رَبِّیۡ(بنی اسرآءیل:۹۴) کا جواب دیا گیا اور یہاں بلا درخواست کسی کافر کے خود خدا تعالیٰ مسیحؑ کو آسمان پر لے گیا تو گویا خدا تعالیٰ نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کی نظروں میں ہیٹا کرانا چاہا کیا وہ خدا اَور تھا اور یہ اَور تھا؟

اگر چہ لوگ ہمیں ایسی باتوں سے کافر دجال وغیرہ کہتے ہیں مگر یہ ہمارا فخر ہے کیونکہ قرآن کی تائید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت قائم کرنے کے لیے یہ خطابات ہمیں ملتےِ ہیں۔

بعد از خدا بعشقِ محمد مخمرم

گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم

مسئلہ تقدیر

آریہ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں لکھا ہے خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ(البقرۃ:۸) کہ خدا نے دلوں پر مہر کر دی ہے تو اس میں انسان کا کیا قصور ہے؟ یہ ان لوگوں کی کوتاہ اندیشی ہے کہ ایک کلام کے ماقبل اور مابعد پر نظر نہیں ڈالتے ورنہ قرآن شریف نے صاف طور پر بتلایا ہے کہ یہ مہر جو خدا کی طرف سے لگتی ہے یہ دراصل انسانی افعال کا نتیجہ ہے کیونکہ جب ایک فعل انسان کی طرف سے صادر ہوتا ہے تو سنّت اللہ یہی ہے کہ ایک فعل خدا کی طرف سے بھی صادر ہو جیسے ایک شخص جب اپنے مکان کے دروازے بند کر دے تو یہ اس کا فعل ہے اور اس پر خدا کا فعل یہ صادر ہوگا کہ اس مکان میں اندھیرا کر دے کیونکہ روشنی اندر آنے کے جو ذریعے تھے وہ اس نے خود اپنے لیے بند کر دیئے۔ اسی طرح اس مہر کے اسباب کا ذکر خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں دوسری جگہ کیا ہے جہاں لکھا ہے فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰہُ(الصّف:۶) کہ جب انہوں نے کجی اختیار کی تو خدا نے ان کو کج کر دیا۔ اسی کا نام مہر ہے لیکن ہمارا خدا ایسا نہیں کہ پھر اس مہر کو دور نہ کر سکے چنانچہ اس نے اگر مہر لگنے کے اسباب بیان کئے ہیں تو ساتھ ہی وہ اسباب بھی بتلا دیئے ہیں جن سے یہ مہر اٹھ جاتی ہے جیسے کہ یہ فرمایا ہے فَاِنَّہٗ کَانَ لِلۡاَوَّابِیۡنَ غَفُوۡرًا(بنی اسرآءیل:۲۶) لیکن کیا آریوں کا پرمیشر ایسا ہے کہ تناسخ کی رو سے جو مہر وہ ایک انسان پر لگاتا ہے پھر اسے اٹھا سکے؟ گناہ کا یہ نتیجہ ضرور ہوتا ہے کہ وہ دوسرے گناہ کی انسان کو جرأت دلاتا ہے اور اس سے قساوت قلبی پیدا ہوتی ہے حتی کہ گناہ انسان کو مرغوب ہو جاتا ہے لیکن ہمارے خدا نے تو پھر بھی توبہ کے دروازے کھولے ہیں کہ اگر کوئی شخص نادم ہو کر خدا کی طرف رجوع کرے تو وہ بھی رجوع کرتا ہے مگر آریوں کے لیے یہ کہاں نصیب؟ ان کا پرمیشر جو مہر لگاتا ہے اسے اکھاڑنے پر تو وہ خود بھی قادر نہیں ہے پس اس میں مسئلہ تقدیر کا اعتراض آریوں پر ہے نہ کہ اہل اسلام پر۔

توبہ ایک موت ہے

ہاں توبہ کے یہ معنے نہیں ہیں کہ انسان زبان سے توبہ توبہ کہہ لیوے بلکہ ایک شخص تائب اس وقت کہا جاتا ہے کہ گذشتہ حالت پر سچے دل سے نادم ہو کر آئندہ کے لیے وعدہ کرتا ہے کہ پھر یہ کام نہ کرے گا اور اپنے اندر تبدیلی کرتا ہے اور جن شہوات، عادات وغیرہ کا وہ عادی ہوتا ہے ان کو چھوڑتا ہے اور وہ تمام یار دوست اور گلی کوچے اسے ترک کرنے پڑتے ہیں کہ جن کا معاصی کی حالت میں اس سے تعلق تھا گویا توبہ ایک موت ہے جو وہ اپنے اوپر وارد کرتا ہے جب ایسی حالت میں وہ خدا کی طرف رجوع کرتا ہے تو پھر خدا بھی اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور یہ اس لیے ہے کہ گناہ کے ارتکاب میں ایک حصہ قضا و قدر کا ہے کہ بعض اندرونی اعضا اور قویٰ کی ساخت اسی قسم کی ہوتی ہے کہ انسان سے گناہ سرزد ہو۔ پس اس لیے ضروری تھا کہ ارتکابِ معاصی میں جس قدر حصہ قضا و قدر کا ہے اس میں خدا تعالیٰ رعایت دیوے اور اس بندے کی توبہ قبول کرے اور اسی لیے اس کا نام توّاب ہے۔۱؎

۳؍ستمبر ۱۹۰۳ء

ایک رؤیا اور الہام

فرمایا۔ اسہال آنے سے میری طبیعت میں کچھ کمزوری پیدا ہوگئی۔ ایک تھوڑی سی غنودگی میں کیا دیکھتا ہوں کہ میرے دونوں طرف دو آدمی پستولیں لیے کھڑے ہیں اس اَثنا میں مجھے الہام ہوا۔

فِیْ حِفَاظَۃِ اللّٰہِ۱؎

بلا تاریخ۲؎

اسم اعظم

ایک دن بوقتِ ظہر فرمایا کہ ہیضہ کے لیے ہم تو نہ کوئی دوا بتلاتے ہیں نہ نسخہ صرف یہ بتلاتے ہیں کہ راتوں کو اٹھ کر دعا کریں اور اسم اعظم رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُـرْنِیْ وَارْحَمْنِیْ اس کی تکرار نماز کے رکوع سجود وغیرہ میں اور دوسرے وقتوں میں کریں یہ خدا نے اسمِ اعظم بتلایا ہے۔۳؎


۹؍ستمبر ۱۹۰۳ء

وبائی امراض کا الہامی علاج

فرمایا۔ مجھے الہام ہوا۔ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ طِبۡتُمۡ(الزّمر:۷۴) پھر چونکہ بیماری وبائی کا بھی خیال تھا اس کا علاج خدا تعالیٰ نے یہ بتلایا کہ اس کے ان ناموں کا ورد کیا جاوے یَا حَفِیْظُ۔ یَا عَزِیْزُ۔ یَا رَفِیْقُ۔ رفیق خدا تعالیٰ کا نیا نام ہے جو کہ اس سے پیشتر اسمائے باری تعالیٰ میں کبھی نہیں آیا۔۱؎،۲؎


۱، بلا تاریخ

فرمایا۔ بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ فلاں فلاں مقام پر کیوں طاعون نہ آئی یہ ان کی غلطی ہے۔ اصل علامت اس زمانہ کی جس میں مسیح اور مہدی نے آنا ہے طاعون ہے اس میں یہ شرط کوئی نہیں لکھی کہ وہ ضرور ہر جگہ پڑے۔

جس شخص کو ہمارا علم ہوگا وہ تو فائدہ اٹھائے گا مگر یہ ضرور نہیں کہ ہر ایک کو ہمارا علم ہو ممکن ہے کہ بعض مقامات ایسے ہوں کہ ابھی تک ان کو اس اَمر کی خبر بھی نہیں کہ ہمارا یہ دعویٰ ہے۔

خدا تعالیٰ کا کلام ایک ایک لفظ سچا ہے اور خدا تعالیٰ متقین کے ساتھ ہوتا ہے۔ بڑی نشانی ہماری صداقت کی یہ ہے کہ ایک دنیا ہماری مخالفت میں ہو اور بلحاظ مال و زر و تعداد کے وہ ہم سے بڑھ چڑھ کر ہوں مگر پھر ان کو کامیابی نصیب نہ ہو اور ہم غالب ہو جاویں۔ یہ بات پیشگوئی کے رنگ میں پوری ہوتی ہے۔ اور اگر پیشگوئی نہ بھی ہوتی تو بھی یہ معرکہ تعجب انگیز تھا کہ باوجود اس کثرت کے اور جوش کے مخالفوں کی کُل بندوقیں خطا جاویں۔ مگر ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ اس علیم اور خبیر خدا تعالیٰ نے اوّل ہی بتلا دیا تھا کہ باوجود اس قدر مخالفت اور تمام باتوں کے یہ جماعت بڑھ جاوے گی۔

موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا سانپ بن جانا اس زمانہ کے لحاظ سے ایک راز تھا ورنہ اسی طرح کے تماشہ تو آج کل ہوتے ہیں اور جب تک کہ کسی کو خود نہ بتلایا جاوے تب تک وہ انسان تعجب میں رہتا ہے اسی طرح سے وہ معاملہ ایک تھوڑے زمانہ کا اعجاز تھا اب اس کی حقیقت کیا سمجھ میں آسکتی ہے مگر اس وقت ایک وسیع وقت لوگوں کو دیا گیا ہے کہ وہ خوب سوچیں اور سمجھیں۔

ایک طرح سے ہمارے مخالف قابلِ رحم بھی ہیں انہوں نے اپنی ہانڈی سب پکالی مگر وہ سڑ گئی لیکن گلی نہیں۔ ایک گروہ ان کا راتوں کو اٹھ کر دعائیں مانگتا رہا مگر ایک نہ سنی گئی۔ انسان کا جس قدر معاملہ خدا سے صاف ہوگا اسی قدر فہم بھی صاف ہوگا۔ ہر ایک سفر میں استخارہ مسنون ضرور کر لینا چاہیے۔۱؎

۱۴؍ستمبر ۱۹۰۳ء

ضرورت کے لئے تصویر کا جواز

ایک احمدی صاحب نے سوال کیا کہ گاؤں کے لوگ اس لیے تنگ کرتے ہیں کہ آپ نے تصویر کھچوائی ہے اس کا ہم ان کو کیا جواب دیویں؟ فرمایا کہ انسان جب دنیاوی ضرورتوں کے لیے ہر وقت پیسہ روپیہ وغیرہ جیب میں رکھتا ہے جن پر تصویر بنی ہوئی ہوتی ہے تو پھر دینی ضرورت کے لیے تصویر کا استعمال کیوں روا نہیں ہو سکتا۔ ان لوگوں کی مثال لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ(الصّف:۳) کی ہے کہ خود تو ایک فعل کرتے ہیں اور دوسروں کو اسے معیوب بتلاتے ہیں اگر ان لوگوں کے نزدیک تصویر حرام ہے تو ان کو چاہیے کہ کل مال وزر باہر نکال کر پھینک دیں اور پھر ہم پر اعتراض کریں اور یہ ملّاں لوگ جو بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے ہیں ان کی یہ حالت ہے کہ ایک پیسہ کو تو وہ ہاتھ سے چھوڑ نہیں سکتے۔۲؎

۱۷؍ستمبر ۱۹۰۳ء

جذب اور کشش سچے مذہب کی علامت ہیں

بعض احباب کی طرف سے یہ درخواست ہوئی کہ آریوں کی طرف متوجہ ہونا چاہیے کہ یہ بہت بڑھتے جاتے ہیں۔ فرمایا کہ انہوں نے کیا ترقی کرنی ہے۔ وہ مذہب ترقی کرتا ہے جس میں کچھ روحانیت ہوتی ہے نہ ان میں روحانیت ہے اور نہ وہ کشش مقناطیسی ہے جس سے ایک قوم ترقی کر سکتی ہے وہ ایک خاص کشش ہوتی ہے جو کہ انبیاء علیہم السلام کو دی جاتی ہے اور تمام پاکیزہ دلوں کو وہ محسوس ہوتی ہے اور جو اس سے مؤثر ہوتے ہیں وہ ایک فوق العادت زندگی کا نمونہ دکھلاتے ہیں اور ہیروں کے ٹکڑوں کی طرح اس کشش کی چمک نظر آتی ہے اور جس کو وہ کشش عطا ہوتی ہے وہ الٰہی طاقتوں کا سرچشمہ ہوتا ہے اور خدا کی نادر اور مخفی قدرتیں جو عام طور پر ظاہر نہیں ہوتیں، ایسے شخص کے ذریعہ ظاہر ہوتی ہیں اور اسی کشش سے ان کو کامیابی ہوتی ہے۔ دنیا میں جس قدر انبیاء آئے ہیں کیا وہ دنیا کے سارے مکر و فریب اور فلسفے سے پورے واقف ہو کر آتے ہیں جس سے وہ مخلوق پر غالب ہوتے ہیں؟ ہر گز نہیں بلکہ ان میں ایک کشش ہوتی ہے جس سے لوگ ان کی طرف کھچے چلے آتے ہیں اور جب دعا کی جاتی ہے وہ کشش کے ذریعہ سے زہریلے مادہ پر جو لوگوں کے اندر ہوتا ہے اثر کرتی ہے اور اس روحانی مریض کو تسلی اور تسکین بخشتی ہے یہ ایک ایسی بات ہے جو کہ بیان میں ہی نہیں آسکتی اور اصل مغز شریعت کا یہی ہے کہ وہ کشش طبیعت میں پیدا ہو جاوے۔ سچی تقویٰ اور استقامت بغیر اس صاحبِ کشش کی موجودگی کے پیدا نہیں ہو سکتے اور نہ اس کے سوا قوم بنتی ہے یہی کشش ہے جو کہ دلوں میں قبولیت ڈالتی ہے۔ اس کے بغیر ایک غلام اور نوکر بھی اپنے آقا کی خاطر خواہ فرماں برداری نہیں کر سکتا اور اسی کے نہ ہونے کی وجہ سے نوکر اور غلام جن پر بڑے انعام واکرام کئے گئے ہوں آخر کار نمک حرام نکل جاتے ہیں۔ بادشاہوں کی ایک تعداد کثیر ایسے غلاموں کے ہاتھ سے ذبح ہوتی رہی لیکن کیا کوئی ایسی نظیر انبیاء میں دکھلا سکتا ہے کہ کوئی نبی اپنے کسی غلام یا مرید سے قتل ہوا ہے مال اور زر اور کوئی اَور ذریعہ دل کو اس طرح سے قابو نہیں کر سکتا جس طرح سے یہ کشش قابو کرتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ کیا بات تھی کہ جس کے ہونے سے صحابہؓ نے اس قدر صدق دکھایا اور انہوں نے نہ صرف بت پرستی اور مخلوق پرستی ہی سے منہ موڑا بلکہ در حقیقت ان کے اندر سے دنیا کی طلب ہی مسلوب ہو گئی اور وہ خدا کو دیکھنے لگ گئے وہ نہایت سرگرمی سے خدا کی راہ میں ایسے فدا تھے کہ گویا ہر ایک ان میں سے ابراہیم تھا۔ انہوں نے کامل اخلاص سے خدا کا جلال ظاہر کرنے کے لیے وہ کام کیے جس کی نظیر بعد اس کے کبھی پیدا نہیں ہوئی اور خوشی سے دین کی راہ میں ذبح ہونا قبول کیا بلکہ بعض صحابہؓ نے جو یک لخت شہادت نہ پائی تو ان کو خیال گذرا کہ شاید ہمارے صدق میں کچھ کسر ہے جیسے کہ اس آیت میں اشارہ ہے فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ قَضٰی نَحۡبَہٗ وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّنۡتَظِرُ(الاحزاب:۲۴) یعنی بعض تو شہید ہو چکے تھے اور بعض منتظر تھے کہ کب شہادت نصیب ہو۔ اب دیکھنا چاہیے کہ کیا ان لوگوں کو دوسروں کی طرح حوائج نہ تھے اور اولاد کی محبت اور دوسرے تعلقات نہ تھے۔ مگر اس کشش نے ان کو ایسا مستانہ بنا دیا تھا کہ دین کو ہر ایک شَے پر مقدم کیا ہوا تھا۔ اَلَّا یَکُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ(الشعرآء:۴) کی تفسیر میں ایک نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال پیدا ہوا ہوگا کہ مجھ میں شاید وہ کامل کشش نہیں ہے ورنہ ابوجہل راہ راست پر آ جاتا پھر وہ خود ہی اس کا جواب دیتا ہے کہ آپ میں کشش تو کامل تھی لیکن بعض فطرتیں ہی ایسی ہو جاتی ہیں کہ وہ اس قابل نہیں رہتیں کہ نور کو قبول کریں اس لیے ایسے لوگوں کا محروم رہنا ہی اچھا ہوتا ہے۔

دنیا اور مافیہا پر دین کو مقدم کر لینا بغیر کشش الٰہی کے پیدا نہیں ہو سکتا۔ جن لوگوں میں یہ کشش نہیں ہوتی وہ ذرا سے ابتلا سے تبدیل مذہب کر لیتے ہیں اور حکومت کے دباؤ سے فوراً ہاں میں ہاں ملانے لگ جاتے ہیں مسیلمہ کذاب کے ساتھ ایک لاکھ تک ہو گئے تھے مگر چونکہ اس میں وہ کشش نہ تھی اس لیے آخر کار سب کے سب فنا ہو گئے۔ غرضیکہ کسی کے منجانب اللہ ہونے کی دلیل یہی ہے کہ اس کو کشش دی جاوے اور یہی بڑا معجزہ ہے جو کہ لکھوکھہا انسانوں کو اس کا گرویدہ اور جاں نثار بنا دیتی ہے کسی ایک کو اپنا گرویدہ کرنا محال ہوتا ہے کوئی کر کے دیکھے تو حال معلوم ہو سینکڑوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں مگر آخر کار دل شکنی ہی ہوتی ہے چہ جائیکہ ایک عالم کو اپنا گرویدہ کر لیا جاوے یہ بغیر اس کشش کے حاصل نہیں ہوتا جو خدا سے عطا ہو۔ بادشاہوں کے رعب اور دھمکیاں اور ایک دنیا بھر کا اس کے مقابلہ پر آ جانا یہ سب اس کشش کے گرویدوں کو تذبذب میں نہیں پڑنے دیتیں۔

ابھی تک ان آریوں کو پتا ہی نہیں ہے کہ سچی تقویٰ کیا شَے ہے یہ اس وقت پتا لگتا ہے کہ جب اوّل وہ اپنی بیماری کو سمجھیں جب تک ایک انسان اپنے آپ کو بیمار نہیں خیال کرتا تو وہ علاج کیا کراوے گا۔ تزکیہ نفس ایک ایسی شَے ہے کہ وہ خود بخود نہیں ہوسکتا اس لیے خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا تُزَکُّوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی(النجم:۳۳) کہ تم یہ خیال نہ کرو کہ ہم اپنے نفس یا عقل کے ذریعہ سے خود بخود مزکّی بن جاویں گے۔

یہ بات غلط ہے وہ خوب جانتا ہے کہ کون متقی ہے.... جہالت ایک ایسی زہر ہے کہ جیسے انسان چنگا بھلا پھرتا ہوا فوراً ہیضہ وغیرہ سے ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کے پیشتر گمان بھی نہیں ہوتا کہ میں مَرجاؤں گا ایسے ہی جہالت ہلاک کر دیتی ہے اس کا علاج بلا انبیاء کے نہیں ہوسکتا۔ ان کی صحبت میں رہنے سے انسان کے اندر وہ قوت پیدا ہوتی ہے کہ جس سے اسے اپنے مرض کا پتا لگتا ہے ورنہ خشک لفاظی اور چرب زبانی سے انسان کو یہ بات حاصل نہیں ہوسکتی۔ صرف یہ کہنا کہ ہم نے زنا نہیں کیا چوری نہیں کی اس سے تزکیہ نفس نہیں پایا جاتا اور نہ اس کا نام سچی پاکیزگی ہے۔ یہ ایک ایسی شَے ہے کہ اس پر عمل کرنا تو درکنار سمجھنا ہی مشکل ہے جسے خدا چاہتا ہے عطا کرتا ہے یہ تو ایک قسم کی موت ہے جو انسان کو اپنے نفس پر وارد کرنی پڑتی ہے۔۱؎

۲۳؍ستمبر۱۹۰۳ء

(بوقت صبح بمقام گورداسپور)

ایک رؤیا

مَیں نے ایک قلم لکھنے کے واسطے اٹھائی ہے دیکھنے سے معلوم ہوا کہ اس کی ایک زبان ٹوٹی ہوئی ہے تو میں نے کہا کہ محمد افضل نے جو پَر(نب) بھیجے ہیں ان میں سے ایک لگا دو وہ پَر تلاش کئے جا رہے ہیں کہ اس اَثنا میں میری آنکھ کھل گئی۔۲؎

کثرتِ اولاد سے جماعت کو بڑھائیں

مفتی فضل الرحمن صاحب احمدی قادیانی نے ذیل کے ملفوظات حضرت امام الزمان علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مجھے پہنچائے ہیں۔

۲۳؍ستمبر ۱۹۰۳ء کی علی الصبح کو جب مفتی صاحب موصوف نے حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب کے ہاں فرزند ارجمند کی ولادت کی خبر حضرت امام الزمان علیہ السلام کو گورداسپور میں جا کر پہنچائی تو آپ نے فرمایا۔ مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کیونکہ اس سے پیشتر مولوی صاحب کو اولاد کا بہت صدمہ پہنچا ہوا ہے میرا جی چاہتا ہے کہ اس کا نام عبدالقیوم رکھا جاوے۔ پھر فرمایا کہ میرا تو یہی جی چاہتا ہے کہ میری جماعت کے لوگ کثرت ازدواج کریں اور کثرتِ اولاد سے جماعت کو بڑھاویں مگر شرط یہ ہے کہ پہلی بیویوں کے ساتھ دوسری بیوی کی نسبت زیادہ اچھا سلوک کریں تاکہ اسے تکلیف نہ ہو دوسری بیوی پہلی بیوی کو اسی لیے ناگوار معلوم ہوتی ہے کہ وہ خیال کرتی ہے کہ میری غور و پرداخت اور حقوق میں کمی کی جاوے گی مگر میری جماعت کو اس طرح نہ کرنا چاہیے اگر چہ عورتیں اس بات سے ناراض ہوتی ہیں مگر میں تو یہی تعلیم دوں گا ہاں یہ شرط ساتھ رہے گی کہ پہلی بیوی کی غور و پرداخت اور اس کے حقوق دوسری کی نسبت زیادہ توجہ اور غور سے ادا ہوں اور دوسری سے اسے زیادہ خوش رکھا جاوے ورنہ یہ نہ ہو کہ بجائے ثواب کے عذاب ہو۔ عیسائیوں کو بھی اس اَمر کی ضرورت پیش آئی ہے اور بعض دفعہ پہلی بیوی کو زہر دے کر دوسری کی تلاش سے اس کا ثبوت دیا ہے۔ یہ تقویٰ کی عجیب راہ ہے مگر بشرطیکہ انصاف ہو اور پہلی کی نگہداشت میں کمی نہ ہو۔۱؎


۲۴؍ستمبر ۱۹۰۳ء

روحانیت اور پاکیزگی کی ضرورت

آپ نے ایک ذکر پر فرمایا کہ کوئی دنیا کا کاروبار چھوڑ کر ہمارے پاس بیٹھے تو ایک دریا پیشگوئیوں کا بہتا ہوا دیکھے جیسے کہ کل قلم والی پیشگوئی پوری ہوئی ہے۔ روحانیت اور پاکیزگی کے بغیر کوئی مذہب چل نہیں سکتا قرآن شریف نے بتلایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پیشتر دنیا کی کیا حالت تھی وَیَاۡکُلُوۡنَ کَمَا تَاۡکُلُ الۡاَنۡعَامُ(محمد:۱۳) پھر جب انہی لوگوں نے اسلام قبول کیا تو فرماتا ہے یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمۡ سُجَّدًا وَّقِیَامًا(الفرقان:۶۵)

جب تک آسمان سے تریاق نہ ملے تو دل درست نہیں رہتا انسان آگے قدم رکھتا ہے مگر وہ پیچھے پڑتا ہے قدسی صفات اور فطرت والا انسان ہو تو وہ مذہب چل سکتا ہے اس کے بغیر کوئی مذہب ترقی نہیں کرسکتا ہے اور اگر کرتا بھی ہے تو پھر قائم نہیں رہ سکتا۔۱؎


۲۹؍ستمبر ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام)

بیعت کی غرض

بیعت لینے کے بعد حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مندرجہ ذیل تقریر فرمائی۔

ہر ایک شخص جو میرے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے اس کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کی بیعت کی کیا غرض ہے؟ کیا وہ دنیا کے لیے بیعت کرتا ہے یا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے؟ بہت سے ایسے بدقسمت انسان ہوتے ہیں کہ ان کی بیعت کی غایت اور مقصود صرف دنیا ہوتی ہے۔ ورنہ بیعت سے ان کے اندر کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی اور وہ حقیقی یقین اور معرفت کا نور جو حقیقی بیعت کے نتائج اور ثمرات ہیں ان میں پیدا نہیں ہوتا ان کے اعمال میں کوئی خوبی اور صفائی نہیں آتی نیکیوں میں ترقی نہیں کرتے گناہوں سے بچتے نہیں ایسے لوگوں کو جو دنیا کو ہی اپنا اصل مقصود ٹھہراتے ہیں یاد رکھنا چاہیے کہ

دنیا روزے چند آخر کار با خداوند

یہ چند روزہ دنیا تو ہر حال میں گذر جاوے گی خواہ تنگی میں گذرے خواہ فراخی میں۔ مگر آخرت کا معاملہ بڑا سخت معاملہ ہے وہ ہمیشہ کا مقام ہے اور اس کا انقطاع نہیں ہے پس اگر اس مقام میں وہ اسی حالت میں گیا کہ خدا تعالیٰ سے اس نے صفائی کر لی تھی اور اللہ تعالیٰ کا خوف اس کے دل پر مستولی تھا اور وہ معصیت سے توبہ کر کے ہر ایک گناہ سے جس کو اللہ تعالیٰ نے گناہ کر کے پکارا ہے بچتا رہا تو خدا کا فضل اس کی دستگیری کرے گا اور وہ اس مقام پر ہوگا کہ خدا اس سے راضی ہوگا اور وہ اپنے رب سے راضی ہوگا۔ اور اگر ایسا نہیں کیا بلکہ لا پرواہی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کی ہے تو پھر اس کا انجام خطرناک ہے۔ اس لیے بیعت کرتے وقت یہ فیصلہ کر لینا چاہیے کہ بیعت کی کیا غرض ہے اور اس سے کیا فائدہ حاصل ہوگا اگر محض دنیا کی خاطر ہے تو بے فائدہ ہے لیکن اگر دین کے لیے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے تو ایسی بیعت مبارک اور اپنی اصل غرض اور مقصد کو ساتھ رکھنے والی ہے جس سے ان فوائد اور منافع کی پوری امید کی جاتی ہے جو سچی بیعت سے حاصل ہوتے ہیں ایسی بیعت سے انسان کو دو بڑے فائدے حاصل ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے اور حقیقی توبہ انسان کو خدا تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے اور اس سے پاکیزگی اور طہارت کی توفیق ملتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَیُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ(البقرۃ:۲۲۳) یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور نیز ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو گناہوں کی کشش سے پاک ہونے والے ہیں توبہ حقیقت میں ایک ایسی شَے ہے کہ جب وہ اپنے حقیقی لوازمات کے ساتھ کی جاوے تو اس کے ساتھ ہی انسان کے اندر ایک پاکیزگی کا بیج بویا جاتا ہے جو اس کو نیکیوں کا وارث بنا دیتا ہے یہی باعث ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہوتا ہے کہ گویا اس نے کوئی گناہ نہیں کیا یعنی توبہ سے پہلے کے گناہ اس کے معاف ہو جاتے ہیں اس وقت سے پہلے جو کچھ بھی اس کے حالات تھے اور جو بے جا حرکات اور بے اعتدالیاں اس کے چال چلن میں پائی جاتی تھیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو معاف کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک عہد صلح باندھا جاتا ہے اور نیا حساب شروع ہوتا ہے پس اگر اس نے خدا تعالیٰ کے حضور سچے دل سے توبہ کی ہے تو اسے چاہیے کہ اب اپنے گناہوں کا نیا حساب نہ ڈالے اور پھر اپنے آپ کو گناہ کی ناپاکی سے آلودہ نہ کرے بلکہ ہمیشہ استغفار اور دعاؤں کے ساتھ اپنی طہارت اور صفائی کی طرف متوجہ رہے اور خدا تعالیٰ کو راضی اور خوش کرنے کی فکر میں لگا رہے اور اپنی اس زندگی کے حالات پر نادم اور شرمسار رہے جو توبہ کے زمانہ سے پہلے گذری ہے۔

انسان کی عمر کے کئی حصے ہوتے ہیں اور ہر ایک حصہ میں کئی قسم کے گناہ ہوتے ہیں مثلاً ایک حصہ جوانی کا ہوتا ہے جس میں اس کے حسبِ حال جذبات کسل و غفلت ہوتی ہے پھر دوسری عمر کا ایک حصہ ہوتا ہے جس میں دغا، فریب، ریاکاری اور مختلف قسم کے گناہ ہوتے ہیں۔ غرض عمر کا ہر ایک حصہ اپنی طرز کے گناہ رکھتا ہے۔

پس یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور وہ توبہ کرنے والے کے گناہ بخش دیتا ہے اور توبہ کے ذریعہ انسان پھر اپنے رب سے صلح کر سکتا ہے۔ دیکھو انسان پر جب کوئی جرم ثابت ہو جائے تو وہ قابلِ سزا ٹھہر جاتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ مَنۡ یَّاۡتِ رَبَّہٗ مُجۡرِمًا فَاِنَّ لَہٗ جَہَنَّمَ(طٰہٰ:۷۵) یعنی جو اپنے رب کے حضور مجرم ہو کر آتا ہے اس کی سزا جہنم ہے وہاں نہ وہ جیتا ہے نہ مَرتا ہے۔ یہ ایک جرم کی سزا ہے اور جو ہزاروں لاکھوں جرموں کا مرتکب ہو اس کا کیا حال ہوگا لیکن اگر کوئی شخص عدالت میں پیش ہو اور بعد ثبوت اس پر فرد قرارداد جرم بھی لگ جاوے اور اس کے بعد عدالت اس کو چھوڑ دے تو کس قدر احسان عظیم اس حاکم کا ہوگا۔ اب غور کرو کہ یہ توبہ وہی بریت ہے جو فرد قرارداد جرم کے بعد حاصل ہوتی ہے توبہ کرنے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ پہلے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔

اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھے کہ کس قدر گناہوں میں وہ مبتلا تھا اور ان کی سزا کس قدر اس کو ملنے والی تھی جو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے معاف کر دی۔ پس تم نے جو اَب توبہ کی ہے چاہیے کہ تم اس توبہ کی حقیقت سے واقف ہو کر ان تمام گناہوں سے بچو جن میں تم مبتلا تھے اور جن سے بچنے کا تم نے اقرار کیا ہے ہر ایک گناہ خواہ وہ زبان کا ہو یا آنکھ کا یا کان کا غرض ہر اعضا کے جدا جدا گناہ ہیں ان سے بچتے رہو کیونکہ گناہ ایک زہر ہے جو انسان کو ہلاک کر دیتی ہے گناہ کی زہر وقتاً فوقتاً جمع ہوتی رہتی ہے اور آخر اس مقدار اور حد تک پہنچ جاتی ہے جہاں انسان ہلاک ہو جاتا ہے پس بیعت کا پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ یہ گناہ کے زہر کے لیے تریاق ہے۔ اس کے اثر سے محفوظ رکھتی ہے اور گناہوں پر ایک خطِ نسخ پھیر دیتی ہے۔

دوسرا فائدہ اس توبہ سے یہ ہے کہ اس توبہ میں ایک قوت و استحکام ہوتا ہے جو مامور من اللہ کے ہاتھ پر سچے دل سے کی جاتی ہے۔ انسان جب خود توبہ کرتا ہے تو وہ اکثر ٹوٹ جاتی ہے۔ بار بار توبہ کرتا اور بار بار توڑتا ہے مگر مامور من اللہ کے ہاتھ پر جو توبہ کی جاتی ہے جب وہ سچے دل سے کرے گا تو چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے موافق ہوگی وہ خدا خود اسے قوت دے گا اور آسمان سے ایک طاقت ایسی دی جاوے گی جس سے وہ اس پر قائم رہ سکے گا۔ اپنی توبہ اور مامور کے ہاتھ پر توبہ کرنے میں بھی فرق ہے کہ پہلی کمزور ہوتی ہے دوسری مستحکم۔ کیونکہ اس کے ساتھ مامور کی اپنی توجہ، کشش اور دعائیں ہوتی ہیں جو توبہ کرنے والے کے عزم کو مضبوط کرتی ہیں اور آسمانی قوت اسے پہنچاتی ہیں جس سے ایک پاک تبدیلی اس کے اندر شروع ہو جاتی ہے اور نیکی کا بیج بویا جاتا ہے جو آخر ایک بار دار درخت بن جاتا ہے۔ پس اگر صبر اور استقامت رکھو گے تو تھوڑے دنوں کے بعد دیکھو گے کہ تم پہلی حالت سے بہت آگے گزر گئے ہو۔

غرض اس بیعت سے جو میرے ہاتھ پر کی جاتی ہے دو فائدے ہیں ایک تو یہ کہ گناہ بخشے جاتے ہیں اور انسان خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق مغفرت کا مستحق ہوتا ہے۔ دوسرے مامور کے سامنے توبہ کرنے سے طاقت ملتی ہے اور انسان شیطانی حملوں سے بچ جاتا ہے۔ یاد رکھو اس سلسلہ میں داخل ہونے سے دنیا مقصود نہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔ کیونکہ دنیا تو گزرنے کی جگہ ہے وہ تو کسی نہ کسی رنگ میں گزر جائے گی۔

شبِ تنور گذشت و شبِ سمور گذشت

دنیا اور اس کے اغراض اور مقاصد کو بالکل الگ رکھو۔ ان کو دین کے ساتھ ہرگز نہ ملاؤ کیونکہ دنیا فنا ہونے والی چیز ہے اور دین اور اس کے ثمرات باقی رہنے والے۔ دنیا کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے تم دیکھتے ہو کہ ہر آن اور ہر دم میں ہزاروں موتیں ہوتی ہیں۔ مختلف قسم کی وبائیں اور امراض دنیا کا خاتمہ کر رہی ہیں کبھی ہیضہ تباہ کرتا ہے۔ اب طاعون ہلاک کر رہی ہے۔ کسی کو کیا معلوم ہے کہ کون کب تک زندہ رہے گا۔ جب موت کا پتا نہیں کہ کس وقت آ جاوے گی پھر کیسی غلطی اور بیہودگی ہے کہ اس سے غافل رہے اس لیے ضروری ہے کہ آخرت کی فکر کرو جو آخرت کی فکر کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی اس پر رحم کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جب انسان مومن کامل بنتا ہے تو وہ اس کے اور اس کے غیر میں فرق رکھ دیتا ہے اس لیے پہلے مومن بنو اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ بیعت کی خالص اغراض کے ساتھ جو خدا ترسی اور تقویٰ پر مبنی ہیں دنیا کے اغراض کو ہرگز نہ ملاؤ، نمازوں کی پابندی کرو اور توبہ و استغفار میں مصروف رہو نوعِ انسان کے حقوق کی حفاظت کرو اور کسی کو دکھ نہ دو راستبازی اور پاکیزگی میں ترقی کرو تو اللہ تعالیٰ ہر قسم کا فضل کر دے گا۔ عورتوں کو بھی اپنے گھروں میں نصیحت کرو کہ وہ نماز کی پابندی کریں اور ان کو گلہ شکوہ اور غیبت سے روکو۔ پاکبازی اور راستبازی ان کو سکھاؤ۔ ہماری طرف سے صرف سمجھانا شرط ہے اس پر عملدرآمد کرنا تمہارا کام ہے۔

پانچ وقت اپنی نمازوں میں دعا کرو اپنی زبان میں بھی دعا کرنی منع نہیں ہے۔ نماز کا مزا نہیں آتا ہے جب تک حضور نہ ہو اور حضورِ قلب نہیں ہوتا ہے جب تک عاجزی نہ ہو۔ عاجزی جب پیدا ہوتی ہے جو یہ سمجھ آ جاوے کہ کیا پڑھتا ہے اس لیے اپنی زبان میں اپنے مطالب پیش کرنے کے لیے جوش اور اضطراب پیدا ہو سکتا ہے مگر اس سے یہ ہرگز نہیں سمجھنا چاہیے کہ نماز کو اپنی زبان ہی میں پڑھو، نہیں میرا مطلب یہ ہے کہ مسنون ادعیہ اور اذکار کے بعد اپنی زبان میں بھی دعا کیا کرو ورنہ نماز کے ان الفاظ میںِ خدا نے ایک برکت رکھی ہوئی ہے نماز دعا ہی کا نام ہے اس لیے اس میں دعا کرو کہ وہ تم کو دنیا اور آخرت کی آفتوں سے بچاوے اور خاتمہ بالخیر ہو۱؎ اپنے بیوی بچوں کے لیے بھی دعا کرو نیک انسان بنو ہر قسم کی بدی سے بچتے رہو۔۲؎


۳۰؍ ستمبر ۱۹۰۳ء

ہمیشہ موت کو یاد رکھو

ابو سعید صاحب احمدی نے حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عرض کی کہ میں دو تین یوم کے بعد واپس رنگون جانے والا ہوں۔ حضور سے درخواست ہے کہ میرے حق میں دعا فرماویں۔ آپ نے فرمایا کہ انشاء اللہ تعالیٰ دعا کروں گا دنیا ایسے ہی تفرقہ کی جگہ ہے ہمیشہ موت کو یاد رکھو چند روز زندگی ہے اس پر نازاں نہ ہونا چاہیے جو راستی پر ہو اور خدا پر بھروسہ کرنے والا ہو تو خدا اس کے ساتھ ہوتا ہے۔۱؎،۲؎


۱، ۴؍اکتوبر ۱۹۰۳ء

(بوقتِ ظہر)

)حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام ظہر کی نماز ادا کر کے تشریف لے جارہے تھے کہ سیٹھ احمد دین صاحب آمدہ از جہلم نے عرض کی کہ گذشتہ ایام میں ایک شخص بیعت کر کے گیا ہے مگر وہ کہتا ہے کہ میری علمی معلومات بہت کم ہیں اور مجھے آپ کے دعاوی کے دلائل اب تک معلوم نہیں ہوئے اس لیے میرے لیے دعا فرمائی جاوے اس پر آپ نے سیٹھ صاحب کو مختصر دلائل اپنے دعاوی پر سنائے کہ اس شخص کو سمجھا دئیے جاویں۔ اور نیز یہ بھی فرمایا کہ خدائی کے مستحق اگر ہو سکتے تھے تو ہمارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہو سکتے تھے۔ کیونکہ آپ کا نہ کوئی بھائی تھا نہ بہن حالانکہ عیسٰیؑ کے اور بھائی اور بہن تھے۔ ان کمبخت مسلمانوں کو اتنا خیال نہیں آتا کہ عیسٰیؑ کے پانچ بھائی اور دو بہنیں تھیں جو کہ مریم کے پیٹ سے پیدا ہوئی تھیں پس کیا وجہ ہے کہ مریم کو خداؤں کی ماں اور مسیحؑ کے بھائیوں کو خدا نہ کہا جاوے۔

مرکز میں آکر پختگی حا صل کریں

ہمیں بہت افسوس ہے کہ بعض لوگ کچے ہی آتے ہیں اور کچے ہی چلے جاتے ہیں حالانکہ یہ ان کا فرض ہے کہ یہاں آ کر چند روز رہیں اور اپنے شبہات پیش کر کے پختگی حاصل کریں تو پھر ان سے دوسرے مخالف اور عیسائی ایسے بھاگیں گے جیسے لَاحَوْلَ سے شیطان بھاگتا ہے۔ تعجب ہے کہ لوگ کس طرح شیطان کے بہکانے میں آ جاتے ہیں مگر یہ سب ایمان کی کمزوری کا باعث ہوتا ہے۔ بھلا مومن کیا اور شیطان کا بہکانا کیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ جو بہکتا ہے وہ خود شیطان ہے ورنہ سوچ کر دیکھا جاوے کہ اب ہمارے مخالفوں کے ہاتھ میں کیا رہ گیا ہے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ جو کچھ رطب و یابس ان کے ہاتھ میں ہے وہ ایک ایک حرف پورا ہو حالانکہ نہ کبھی ایسا ہوا ہے اور نہ ہوگا یہودیوں کی احادیث اس قدر تھیں کہ وہ نہ حضرت عیسیٰ پر حرف بحرف پوری ہوئیں اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اسی لیے بہتوں نے ٹھوکر کھائی مگر بعض یہودی جو مسلمان ہو گئے تو اس کی یہ وجہ تھی کہ جس قدر حصہ ان احادیث کا پورا ہو گیا انہوں نے اس کو سچا مان لیا اور جو نہ پورا ہوا اس کو رطب و یابس جان کر چھوڑ دیا یا ان کے اور معنے کر لئے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو پھر ان کو اسلام نصیب نہ ہوتا اور پھر اس کے علاوہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار و برکات بھی دیکھے۔ ہر ایک قوم کے پاس کچھ سچی کچھ جھوٹی کچھ صحیح اور کچھ غلط روایات ہوتی ہیں۔ اگر انسان اسی بات پر اڑ جاوے کہ سب کی سب پوری ہوں تو اس طرح سے کوئی شخص مان نہیں سکتا۔ حَکَم کے یہی معنے ہیں کہ ان میں سے سچی اور جھوٹی کو الگ کر کے دکھا دیوے۔

ہر ایک جو بیعت کرتا ہے اسے واجب ہے کہ ہمارے دعویٰ کو خوب سمجھ لیوے ورنہ اسے گناہ ہوگا۔

(دربارِ شام)۱؎

موت سے بڑھ کر کون ناصح ہوسکتا ہے؟

موت اور اس کی تلخیوں کا ذکر چل پڑا اس پر حضرت اقدس نے فرمایا۔ انسان۲؎ ان موتوں سے عبرت نہیں پکڑتا حالانکہ اس سے بڑھ کر اور کون ناصح ہو سکتا ہے جس قدر انسان مختلف بلاد اور ممالک میں مَرتے ہیں اگر یہ سب جمع ہو کر ایک دروازہ سے نکلیں تو کیسا عبرت کا نظارہ ہوتا ہے۔

پھر مختلف امراض اس اس قسم کے ہیں کہ اس میں انسان کی پیش نہیں جاتی۔ ایک دفعہ ایک شخص میرے پاس آیا اس نے بیان کیا کہ میرے پیٹ میں رسولی پیدا ہوئی ہے اور وہ دن بدن بڑھ کر پاخانہ کے راستہ کو بند کرتی جاتی ہے۔ جس ڈاکٹر کے پاس میں گیا ہوں وہ یہی کہتا ہے کہ اگر یہ مرض ہمیں ہوتی تو ہم بندوق مار کر خودکشی کر لیتے آخر وہ بے چارہ اسی مرض سے مَر گیا۔

بعض لوگ ایسے مسلول ہوتے ہیں کہ ایک ایک پیالہ پیپ کا اندر سے نکلتا ہے ایک دفعہ ایک مریض آیا اس کی یہی حالت تھی صرف اس کا پوست ہی رہ گیا تھا اور وہ سمجھدار بھی تھا مگر تا ہم وہ یہی خیال کرتا تھا کہ میں زندہ رہوں گا۔

انسان کی سخت دلی اصل میں امیدوں پر ہوتی ہے۔ لیکن انبیاء کی یہ حالت نہیں ہوتی۔ جس قدر انبیاء ہوئے ہیں سب کی یہ حالت رہی ہے کہ اگر شام ہوئی ہے تو صبح کو ان کو امید نہیں کہ ہم زندہ رہیں گے اور اگر صبح ہوئی ہے تو شام کی امید نہیں کہ ہم زندہ رہیں گے۔ جب تک انسان کا یہ خیال نہ ہو کہ میں ایک مَرنے والا ہوں تب تک وہ غیر اللہ سے دل لگانا چھوڑ نہیں سکتا اور آخر اس قسم کے افکار میں جان دیتا ہے مَرنے کے وقت کا کسی کو کیا علم ہوتا ہے موت تو ناگہانی آجاتی ہے اگر کوئی غور کرے تو اسے معلوم ہو کہ یہ دنیا اور اس کا مال ومتاع اور حظّ سب فانی اور جھوٹے ہیں آخر کار وہ یہاں سے تہی دست جاوے گا اور اصل مطلوب جس سے وہ خوش رہ سکتا ہے وہ خدا سے دل لگانا ہے اور گناہ کی دلیری سے آزاد رہنا۔ کہنے کو یہ آسان ہے اور ہر ایک زبان سے کہہ سکتا ہے کہ میرا دل خدا سے لگا ہوا ہے مگر اس کا کرنا مشکل ہے۔ ایک دوکاندار کو دیکھو کہ وہ وزن تو کم تولتا ہے مگر زبان سے صوفیانہ کافیاں ایسی گاتا جاوے گا کہ دوسرے کو معلوم ہو یہ بڑا خدارسیدہ ہے۔ ایسی حالت میں لفظ اور باتیں تو زبان سے نکلتی ہیں مگر دل ان کی تکذیب کرتا ہے۔ سجادہ نشینوں کو ایسے قصے یاد ہوتے ہیں کہ دوسرا انسان سن کر گرویدہ ہو جاتا ہے حالانکہ خود ان کا عمل در آمد ان پر مطلق نہیں ہوتا۔ مگر تاہم ایسے انسان بھی ہوتے ہیں کہ وہ بات کو سمجھ لیتے ہیں اور اس دنیا اور مافیہا کا چھوڑنا ان پر آسان ہوتا ہے جیسے کہ ابراہیم ادھم وغیرہ بادشاہ ہوئے ہیں کہ انہوں نے سلطنت کو ترک کر دیا۔ جب خوفِ الٰہی ان کے قلب پر غالب ہوا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب دنیا اور یہ خوف ایک جا جمع نہیں ہو سکتے اس لیے دنیا کو چھوڑ دیا۔

جب ایک شخص ایک ناپائدار لذّت میں مصروف ہو تو جب اسے چھوڑے گا اسی قدر اسے رنج ہوگا۔ دنیا سے دل لگانے سے دل سیاہ ہو جاتا ہے اور آئندہ نیکی کی مناسبت اس سے نہیں رہتی۔ مسلمانوں میں اگرچہ فاسق فاجر بادشاہ بھی گذرے ہیں مگر ایسے بھی بہت ہیں کہ انہوں نے پاکبازی اور راستی اختیار کی۔۱؎

۵؍اکتوبر ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام)

ایک عیسائی سے گفتگو

وہ تمام اخبارات جو کہ ردّ نصاریٰ کے بارے میں یورپ اور امریکہ سے آئے تھے پڑھ دیے جانے کے بعد میاں گل محمد صاحب۱؎ نے حضرت اقدس کو اپنی طرف مخاطب کیا اور کہا کہ میں آپ کے کہنے کے مطابق آیا ہوں۔ حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ

ہم نے تو آپ کو بذریعہ تار اور خط کے منع کر دیا تھا کہ آپ نہ آویں۔ علالتِ طبع اور ایک ضروری کام میں مصروفیت کی وجہ سے فرصت نہیں۔ اب آپ آگئے ہیں تو مجھے آپ کے آنے کی خوشی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ کوئی تحقیق کے واسطے میرے پاس آوے۔ زمانہ دن بدن راستی اختیار کرتا جاتا ہے عیسائی مذہب کی تردید اور کسر صلیب کے لئے جو کچھ مجھے خدا نے عطا کیا ہے اس کو بتلانے کو میں ہر وقت طیار ہوں لیکن دوسرے موقع پر جب آپ آویں گے تو جیسے آپ کا حق ہو گا کہ سوال کریں ویسا ہی میرا حق ہو گا کہ ایک سوال کروں اور وہ سوال صرف مسیح کی الوہیت تثلیث اور چال چلن کی نسبت ہو گا لیکن جیسے میں نے اس سوال کو مشخص کر دیا ہے۔ ویسے ہی آپ کو لازم ہے کہ آپ بھی اپنے سوال کو مشخص کر دیویں کہ طیاری کا موقع مل جاوے۔

گل محمد صاحب۔ ہاں آپ بھی ایک سوال کریں جیسے مجھے تلاشِ حق کی ضرورت ہے ویسے ہی آپ پر ضروری ہے کہ آپ اظہارِ حق کریں۔

حضرت اقدس۔ یہ آپ سچ کہتے ہیں مگر میرے اظہارِ حق کی شہادت تو یورپ اور امریکہ دے رہا ہے۔ ابھی آپ کے سامنے اخبارات پڑھے گئے ہیں۔

گل محمد صاحب۔ لیکن ایک بات ضروری ہے کہ اگر میں دوسرے موقع پر آؤں اور آپ کو پھر فرصت نہ ہو تو چونکہ میں ایک غریب آدمی ہوں اس لیے آمد و رفت کا خرچہ آپ پر ہو گا۔

حضرت اقدس۔ اگر غریب ہو تو آمد و رفت کا کرایہ ہم دے دیا کریں گے اگر ہم اس طرح بوجہ نہ ہونے فرصت کے سو دفعہ واپس کریں گے تو سو دفعہ کرایہ دیویں گے۔

میاں گل محمد صاحب نے کرایہ اس دفعہ کا طلب کیا اور اسی وقت ان کی غربت کا خیال کر کے ان کی درخواست پر  (تین) روپیہ ان کو دے دیئے گئے ان باتوں پر بعض احباب میں چر چا ہوا تو میاں گل محمد صاحب نے حضرت اقدس کو مخاطب ہو کر کہا۔

گل محمد صاحب۔ آپ تو تمسخر کرتے ہیں۔

حضرت اقدس۔ یہ یاد رکھیے۔ ہمارے کام محض لِلّٰہ ہیں۔ یہاں تمسخر اور مذاق نہیں ہے ہم تو ہر ایک بار اپنے اوپر ڈالتے ہیں۔ اگر تمسخر ہوتا تو یہ زیر باری کیوں اختیار کرتے اور تین روپیہ آپ کو دے دیتے بلکہ تلاشِ حق کے لیے تو کوئی لنڈن سے بھی چل کر آوے تو ہم اس کا کرایہ دینے کو طیار ہیں۔۱؎

۶؍اکتو بر ۱۹۰۳ء

آج کے دن میاں گل محمد صاحب نے پھر ایک حجت کھڑی کی اور حضرت اقدس کی تحریر لینے کی کوشش کی تاکہ لاہور میں وہ پیش کر سکیں چونکہ حضرت اقدس کتاب تذکرۃ الشہادتین کی تصنیف میں مصروف تھے اور آپ کو بالکل فرصت نہ تھی آپ نے مفتی محمد صادق صاحب کو جنہوں نے میاں گل محمد صاحب سے ملاقات اور گفتگو میں کمال انٹرسٹ لیا تھا فرمایا کہ وہ جواب دیویں مگر میاں گل محمد صاحب کس کی مانتے تھے۔ آخر ان کے بڑے اصرار سے حضرت اقدس نے پھر ان کو ایک تحریر دی جس کی نقل ہم ذیل میں کرتے ہیں۔ (ایڈیٹر)

نقل رقعہ منجانب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام

بنام میاں گل محمد صاحب عیسائی

بشرط خیر و عافیت اور نہ پیش آنے کسی مجبوری کے میری طرف سے یہ وعدہ ہے کہ اگر ۲۰؍اکتوبر ۱۹۰۳ء کے بعد میاں گُل محمد صاحب اس بات کی مجھے اطلاع دیں کہ وہ قادیان میں آنے کے لیے طیار ہیں تو میں ان کو بُلا لوں گا تا جو سوال کرنا ہو وہ کریں۔ سوال صرف ایک ہوگا اور فریقین کے لیے جواب اور جواب الجواب دینے کے لیے چار دن کی مہلت ہوگی اور انہی چار دنوں کے اندر میرا بھی حق ہوگا کہ یسُوع مسیح اور اس کی خدائی کی نسبت یا انجیل اور تورات کے تناقص کی نسبت جو عیسائیوں کے موجودہ عقیدہ سے پیدا ہوتا ہے کوئی سوال کروں۔ ایسا ہی ان کا حق ہوگا کہ وہ جواب دیں۔ پھر میرا حق ہوگا کہ جواب الجواب دوں۔ اور یہ اَمر ضروری ہوگا کہ میاں گُل محمد صاحب قادیان سے جانے سے پہلے مجھے اطلاع دیں کہ وہ اسلام یا قرآن شریف پر کیا اعتراض کرنا چاہتے ہیں تا ہم بھی دیکھیں کہ واقعی وہ اعتراض ایسا ہے کہ یسوع مسیح کی انجیل یا اس کے چال چلن یا اس کے نشانوں پر وارد نہیں ہوتا۔ گو مجھے بہت افسوس ہے کہ ایسے لوگوں کو مخاطب کروں کہ اب بھی اور اس زمانہ میں اُس شخص کو جس کے انسانی ضعف اُس کی اصل حقیقت کو ظاہر کر رہے ہیں خدا کر کے مانتے ہیں۔ مگر ہمارا فرض ہے کہ ذلیل سے ذلیل مذہب والوں کو بھی ان کے چیلنج کے وقت رد نہ کریں اس لیے ہم رد نہیں کرتے۔ بالآخر یہ ضروری ہے کہ وہ اپنا صحیح اور پورا پتا لکھ کر مجھے دیں تا میرے جواب کے پہنچنے میں کوئی دقّت پیش نہ آوے یعنی لاہور میں کہاں اور کس محلہ میں رہتے ہیں اور پورا پتا کیا ہے مکرّر یہ کہ آپ کے اطمینان کے لیے جیسا کہ رات کو آپ نے تقاضا کیا تھا میں یہ بھی وعدہ کرتا ہوں کہ اگر آپ میرے لکھنے پر قادیان میں آویں اور میری کسی مجبوری سے بغیر مباحثہ کے واپس جاویں تو میں دو طرفہ آپ کو لاہور کا کرایہ دوں گا اور جو رات کو آپ کو مبلغ تین روپے دئیے گئے ہیں۔ اس میں آپ ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ کسی حرجہ کی رُوح سے آپ کا یہ حق تھا کیونکہ جس حالت میں ہم نے اپنی گرہ سے خرچ اُٹھا کر آپ کو روکنے کے لیے لاہور میں تار بھیج دیا تھا اور تین خط بھی بھیجے پھر اس صورت میں آپ کا یہ نقصان آپ کے ذمہ تھا مگر میں نے محض مذہبی مروّت کے طور پر آپ کو تین روپے دئیے ورنہ کچھ آپ کا حق نہ تھا۔ ایسا ہی اس وقت تک کہ آپ کی نیّت میں کوئی صریح تعصب مشاہدہ نہ کروں ایسا ہی ہر ایک دفعہ بغیر آپ کے کسی حق کے کرایہ دے سکتا ہوں محض ایک نادار خیال کر کے نہ کسی اور وجہ سے۔ الراقم خاکسار میرزا غلام احمد ۶؍اکتوبر ۱۹۰۳ء

یہ رقعہ لے کر پھر بھی میاں گُل محمد کو قرار نہ آیا اور جبکہ ظہر کے وقت حضرت اقدس تشریف لائے تو کہنے لگے جو الفاظ میں ایزاد کرانا چاہتا ہوں وہ کر دو مگر خدا کے مسیح نے اسے مناسب نہ جانا اور آخر میاں گُل محمد صاحب رخصت ہوئے۔۱؎

۱۴؍اکتوبر ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام)

)دنیا کی تلخیاں شام کے وقت ایک مختصر تقریر دنیا کی تلخیوں پر فرمائی جس کا خلاصہ یہ ہے۔

ت

عجب ہے کہ انسان اس (دنیا) میں راحت اور آرام طلب کرتا ہے حالانکہ اس میں بڑی بڑی تلخیاں ہیں۔ خویش واقارب کو ترک کرنا دوستوں کا جدا ہونا۔ ہر ایک محبوب سے کنارہ کشی کرنا۔ البتہ آرام کی صورت یہی ہے کہ خدا کے ساتھ دل لگایا جاوے جیسے کہا ہے کہ

جز بخلوت گاہِ حق آرام نیست

انسان ایک لحظہ میں خوشی کرتا ہے تو دوسرے لحظہ میں اسے رنج ہوتا ہے لیکن اگر رنج نہ ہو تو پھر خوشی کا مزا نہیں آتا جیسے کہ پانی کا مزا اسی وقت آتا ہے جبکہ پیاس کا دردمحسوس ہو اس لیے درد مقدم ہے۔۲؎


۱۵؍اکتوبر ۱۹۰۳ء

(دربارِ شام)

)شام کے وقت ایک صاحب نے ایک بیگم صاحبہ کا پیغام آکر دیا کہ وہ کہتی ہیں کہ اگر میرا فلاں کام ہو جاوے تو میرا سب جان و مال آپ پر قربان ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی قسم کی شرط نہ کرنی چاہیے اور نہ خدا تعالیٰ رشوت چاہتا ہے ہم بھی دعا کریں گے اور ان کو بھی چاہیے کہ عجز و انکسار سے اس کی بارگاہ میں دعا کریں۔

قر آن شریف وحدیث کا مقام

حضرت اقدس نے قرآن شریف اور حدیث کے ذکر پر فرمایا کہ اگر صرف احادیث پر انحصار کیا جاوے اور قرآن کریم سے اس کی صحت نہ کی جاوے تو اس کی مثال ایسی ہو گی جیسے ایک انسان کے سر کو کاٹ دیا جاوے اور صرف بال ہاتھ میں رکھ لیے جاویں اور کہا جاوے کہ یہی انسان ہے۔ حالانکہ بال کی زینت اور خوبی اسی وقت ہے جبکہ انسان کے ساتھ ہوں ایسے ہی حدیث اسی وقت کوئی شَے اور قابل اعتماد ہو سکتی ہے جبکہ قرآن شریف اس کے ساتھ ہو۔ احادیث کے اوپر نہ تو خدا کی مہر ہے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور قرآن شریف کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ(الحجر:۱۰) اسی لیے ہمارا یہ مذہب ہے کہ قرآن شریف سے معارض نہ ہونے کی حالت میں ضعیف سے ضعیف حدیث پر بھی عمل کیا جاوے۔ لیکن اگر کوئی قصہ جو کہ قرآن شریف میں مذکور ہے اور حدیث میں اس کے خلاف پایا جاوے مثلاً قرآن میں لکھا ہے کہ اسحاقؑ ابراہیمؑ کے بیٹے تھے اور حدیث میں لکھا ہوا ہو کہ وہ نہیں تھے تو ایسی صورت میں حدیث پر کیسے اعتماد ہو سکتا ہے۔ مسیح موعود کی نسبت ان کا یہ خیال کہ وہ اسرائیلی مسیح ہو گا بالکل غلط ہے قرآن شریف میں صاف لکھا ہے کہ وہ تم میں سے ہوگا جیسے سورہ نور میں ہے وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ(النّور:۵۶) پھر بخاری میں بھی مِنْکُمْ ہی ہے پھر مسلم میں بھی مِنْکُمْ ہی صاف لکھا ہے۔ ان کمبختوں کو اس قدر خیال نہیں آتا اگر اسی مسیح نے پھر آنا تھا تو مِنْکُمْ کی بجائے مِنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ(المائدۃ:۷۹) لکھا ہوتا۔ اب قرآن شریف اور احادیث تو پکار پکار کر مِنْکُمْ کہہ رہے ہیں مگر ان لوگوں کا دعویٰ مِنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ(المائدۃ:۷۹) کا ہے سوچ کر دیکھو کہ قرآن کو چھوڑیں یا ان کو۔۱؎

اکتو بر ۱۹۰۳ء

دعا اور صبر ورضا کے مقامات

اس سے بڑھ کر انسان کے لیے فخر نہیں کہ وہ خدا کا ہو کر رہے جو اس سے تعلق رکھتے ہیں وہ ان سے مساوات بنا لیتا ہے۔ کبھی ان کی مانتا ہے اور کبھی اپنی منواتا ہے ایک طرف فرماتا ہے ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ(المؤمن:۶۱) دوسری طرف فرماتا ہے وَلَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ(البقرۃ:۱۵۶) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک مقام دعا کا نہیں ہوتا نَبْلُوَنَّکُمْ کے موقع پر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(البقرۃ:۱۵۷) کہنا پڑے گا یہ مقام صبر اور رضا کے ہوتے ہیں لوگ ایسے موقع پر دھوکا کھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دعا کیوں قبول نہیں ہوتی۔ ان کا خیال ہے کہ خدا ہماری مٹھی میں ہے جو جب چاہیں گے منوالیویں گے بھلا امام حسین علیہ السلام پر جو ابتلا آیا تو کیا انہوں نے دعا نہ مانگی ہوگی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قدر بچے فوت ہوئے تو کیا آپ نے دعا نہ کی ہوگی بات یہ ہے یہ مقام صبر اور رضا کے تھے۔

۱۹؍اکتو بر ۱۹۰۳ء

توبہ کی حقیقت

آریہ لوگ جو توبہ پر اعتراض کرتے ہیں کہ پرمیشر صرف توبہ کرنے سے گناہ بخشتا ہے اور ان بداعمالیوں کے نتائج نہیں ملتے جو اس نے کئے اس لیے یہ انصاف سے بعید ہے۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ

ان لوگوں کو توبہ کی حقیقت کا علم نہیں۔ توبہ اس بات کا نام نہیں ہے کہ صرف منہ سے توبہ کا لفظ کہہ دیا جاوے بلکہ حقیقی توبہ یہ ہے کہ نفس کی قربانی کی جاوے۔ جو شخص توبہ کرتا ہے وہ اپنے نفس پر انقلاب ڈالتا ہے گویا دوسرے لفظوں میں وہ مَر جاتا ہے۔ خدا کے لیے جو تغیر عظیم انسان دکھ اُٹھا کر کرتا ہے تو وہ اس کی گذشتہ بداعمالیوں کا کفارہ ہوتا ہے۔ جس قدر نا جائز ذرائع معاش کے اس نے اختیار کئے ہوئے ہوتے ہیں ان کو وہ ترک کرتا ہے۔ عزیز دوستوں اور یاروں سے جدا ہوتا ہے۔

برادری اور قوم کو اسے خدا کے واسطے ترک کرنا پڑتا ہے جب اس کا صدق کمال تک پہنچ جاتا ہے تو وہی ذات پاک تقاضا کرتی ہے کہ اس قدر قربانیاں جو اس نے کی ہیں وہ اس کے اعمال کے کفارہ کے لیے کافی ہوں۔

اہل اسلام میں اب صرف الفاظ پرستی رہ گئی ہے اور وہ انقلاب جسے خدا چاہتا ہے وہ بھول گئے ہیں اس لیے انہوں نے توبہ کو بھی الفاظ تک محدود کر دیا ہے لیکن قرآن شریف کا منشا یہ ہے کہ نفس کی قربانی پیش کی جاوے مَّنۡ قَضٰی نَحۡبَہٗ(الاحزاب:۲۴) دلالت کرتا ہے کہ وہ توبہ یہ ہے جو انہوں نے کی اور مَّنۡ یَّنۡتَظِرُ(الاحزاب:۲۴) بتلاتا ہے کہ وہ یہ توبہ ہے جو انہوں نے کر کے دکھلانی ہے اور وہ منتظر ہیں۔

جب انسان خدا کی طرف بکلی آجاتا ہے اور نفس کی طرف کو بکلی چھوڑ دیتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کا دوست ہو جاتا ہے تو کیا وہ پھر دوست کو دوزخ میں ڈال دے گا؟ نَحْنُ اَوْلِیَآءُ اللّٰہِ۱؎ سے ظاہر ہے کہ اَحِبَّاء کو دوزخ میں نہیں ڈالتے۔

۲۰؍اکتو بر ۱۹۰۳ء

ایک رؤیا شام کے وقت حضرت اقدس نے ذیل کی رؤیا بیان فرمائی کہ

ایک

بڑا تخت مربع شکل کا ہندوؤں کے درمیان بچھا ہوا ہے جس پر مَیں بیٹھا ہوا ہوں ایک ہندو کسی کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ کرشن جی کہاں ہیں؟ جس سے سوال کیا گیا وہ میری طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ یہ ہے پھر تمام ہندو روپیہ وغیرہ نذر کے طور پر دینے لگے اتنے ہجوم میں سے ایک ہندو بولا

ہے کرشن جی رودّر گوپال

(یہ ایک عرصہ دراز کی رؤیا ہے

۲۱؍اکتوبر ۱۹۰۳ء

امامت نہ کرانے کی وجہ

امامت نماز کی نسبت ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور کس لیے نماز نہیں پڑھاتے؟ فرمایا کہ حدیث میں آیا ہے کہ مسیح جو آنے والا ہے وہ دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا۔۱؎

۲۲؍اکتوبر ۱۹۰۳ء

ایک آسڑیلوی نو مسلم کے استفسارات کے جوابات

ایک یورپین صاحب ب ہمراہی میاں معراج الدین عمر و حکیم نور محمد صاحب احمدی عصر کے وقت قادیان پہنچ گئے جہاں قادیانی احمدی احباب نے بڑے تپاک سے ان کا استقبال کیا۔ نماز مغرب میں وہ جماعت کے ساتھ شامل ہوئے بعد ادائیگی نماز میاں معراج الدین صاحب عمر نے ان کو حضرت اقدس سے انٹروڈیوس کیا اور ان کے مزید حالات سے یوں اطلاع دی کہ

یہ ایک صاحب ہیں جو کہ آسٹریلیا سے آئے ہیں ۷ سال سے مشرف باسلام ہیں اخبارات میں بھی آپ کا چرچا رہا ہے آسٹریلیا سے یہ لنڈن گئے اور وہاں سفیرِ روم سے انہوں نے ارادہ ظاہر کیا کہ اسلامی علوم سے واقفیت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ سفیرِ روم نے ان کو کہا کہ تم قاہرہ (دارالسلطنت) مصر میں جاؤ مگر تا ہم مشورہ کے طور پر لارڈسٹینلے نے ان کو مشورہ دیا کہ تمہارا یہ مدعا بمبئی میں حاصل ہوگا۔ یہ وہاں پھرتے ہوئے کلکتہ آئے۔ راستہ میں ایک رؤیا دیکھی اور اس جگہ سے لاہور آئے۔ جہاں کہ انہوں نے حضور کا تذکرہ سنا اب زیارت کے لیے یہاں حاضر ہوئے۔ اب ہم ذیل میں وہ گفتگو درج کرتے ہیں جو کہ نو مسلم صاحب اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے درمیان ہوئی۔ مشرف باسلام ہو کر ان کا نام محمد عبدالحق رکھا گیا تھا۔

ذیل کی گفتگو جو کہ محمد عبدالحق صاحب اور حضرت اقدس کے مابین ہوئی۔ اس کے ترجمان خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر بی۔ اے تھے۔

محمد عبدالحق صاحب۔ میں جہاں کہیں پھرتا رہا ہوں میرا واسطہ ایسے مسلمانوں سے رہا ہے جو کہ یا تو خود انگریزی جانتے تھے اور بالمشافہ مجھ سے گفتگو کرتے تھے اور یا بذریعہ ترجمان کے ہم اپنے مطالب کا اظہار کرتے تھے میں نے ایک حد تک لوگوں کے خیالات سے فائدہ اُٹھایا اور بیرونی دنیا میں جو اہلِ اسلام ہیں ان کے کیا حالات اور خیالات ہیں۔ اس کے تعارف کی آرزو رہی۔ رُوحانی طور سے جو میل جول ایک کو دوسرے سے ہو سکتا ہے اس کے لیے زبان دانی کی ضرورت نہیں ہے اور اس رُوحانی تعلق سے انسان ایک دوسرے سے جلد مستفید ہو سکتا ہے۔

حضرت مسیح موعود۔ ہمارے مذہبِ اسلام کے طریق کے موافق روحانی طریق صرف دعا اور توجہ ہے لیکن اس سے فائدہ اُٹھانے کے لیے وقت چاہیے کیونکہ جب تک ایک دوسرے کے تعلقات گاڑھے نہ ہوں اور دلی محبت کا رشتہ قائم نہ ہو جائے تب تک اس کا اثر محسوس نہیں ہوتا۔ ہدایت کا طریق یہی دعا اور توجہ ہے۔ ظاہری قیل وقال اور لفظوں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

محمد عبدالحق صاحب۔ میری فطرت اس قسم کی واقع ہوئی ہے کہ رُوحانی اتحاد کو پسند کرتی ہے میں اسی کا پیاسا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس سے بھر جاؤں۔ جس وقت سے میں قادیان میں داخل ہوا ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ میرا دل تسلی پا گیا ہے اور اب تک جس جس سے میری ملاقات ہوئی ہے مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سے میرا دیرینہ تعارف ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام۔ خدا کا قانونِ قدرت ہے کہ ہر ایک رُوح ایک قالب کو چاہتی ہے جب وہ قالب طیار ہوتا ہے تو اس میں نفخ رُوح خود بخود ہو جاتا ہے۔ آپ کے لیے یہ ضروری اَمر ہے کہ جو حقیقت خدا نے مجھ پر کھولی ہے اُس سے آہستہ آہستہ آگاہی پالیویں۔ عام اہلِ اسلام میں جس قدر عقائد اشاعت پائے ہوئے ہیں ان میں بہت سی غلطیاں ہیں اور یہ غلطیاں ان میں عیسائیوں کے میل جول سے آئی ہیں لیکن اب خدا چاہتا ہے کہ اسلام کا پاک اور منور چہرہ دنیا کو دکھلاوے۔ رُوحانی ترقی کے لیے عقیدہ کی صفائی ضروری ہے۔ جس قدر عقیدہ صاف ہوگا اسی قدر ترقی ہوگی۔

دعا اور توجہ کی ضرورت اس اَمر میں اسی لیے ہوتی ہے کہ بعض لوگ غفلت کی وجہ سے محجوب ہوتے ہیں اور بعض کو تعصب کی وجہ سے حجاب حائل ہوتا ہے اور بعض اس لیے حجاب میں رہتے ہیں کہ اہلِ حق سے ان کو ارادت نہیں ہوتی مگر جب تک خدا دستگیری نہ کرے یہ حجاب دور نہیں ہوتے۔ پس اس لیے توجہ اور دعا کی ضرورت ہوتی ہے کہ یہ حجاب دور ہوں۔ جب سے یہ سلسلہ نبوت کا قائم ہے تب سے یہ اسی طرح چلا آتا ہے کہ ظاہری قیل وقال اس میں کچھ نہیں بناتی ہمیشہ توجہ اور دعا سے لوگ مستفید ہوتے ہیں۔

دیکھو ایک زمانہ وہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تن تنہا تھے مگر لوگ حقیقی تقویٰ کی طرف کھچے چلے آتے تھے حالانکہ اب اس وقت لاکھوں مولوی اور واعظ موجود ہیں۔ لیکن چونکہ دیانت نہیں، وہ رُوحانیت نہیں اس لیے وہ اثر اندازی بھی ان کے اندر نہیں ہے۔ انسان کے اندر جو زہر یلا مواد ہوتا ہے وہ ظاہری قیل وقال سے دور نہیں ہوتا۔ اس کے لیے صحبت صالحین اور ان کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے فیض یافتہ ہونے کے لیے ان کے ہمرنگ ہونا اور جو عقائد صحیحہ خدا نے ان کو سمجھائے ہیں ان کو سمجھ لینا بہت ضروری ہے۔ جب آپ کو اس بات کا علم ہو جاوے گا کہ فلاں فلاں عقائد ہیں جس میں عامہ اہلِ اسلام کا اور ہمارا اختلاف ہے تو پھر آپ کی طاقت (اثر اندازی) بڑھ جاوے گی اور آپ اس رُوحانیت سے مستفید ہوں گے جس کی تلاش میں آپ ہیں۔

محمد عبدالحق صاحب۔ مجھے ہمیشہ اس اَمر کی تلاش رہی ہے کہ رُوحانی اتحاد اور اُنس کسی سے حاصل ہو اور اسی لیے میں جہاں کہیں پھرتا رہا ہوں ہمیشہ قدرتی نظاروں سے بطور تفاؤل کے سبق حاصل کرتا رہا ہوں۔ اسی طرح آج میں دیکھتا ہوں کہ میرا آنا اور نئے چاند کا پیدا ہونا (آج شعبان کا چاند نظر آیا تھا) ایک ساتھ ہے۔ چاند کے ابتدائی دن چونکہ ترقی اور حصولِ کمال کے ہوتے ہیں جیسے جیسے یہ ترقی کرے گا اور کمال کو پہنچے گا ویسے ہی میں بھی ترقی اور کمال کو پہنچوں گا (بشرطیکہ قادیان میں مستقل قیام رہا) میرے وہم اور گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ میں آج ہی ایسے موقع پر یہاں وارد ہوں گا جبکہ نئے چاند کا ظہور ہوگا۔ کلکتہ میں جو خط بعض لوگوں نے مجھے دئیے اگر میں ان پر عملدرآمد کرتا تو کہیں کا کہیں ہوتا مگر یہاں آ کر مجھے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کی تلاش میں مَیں ہوں وہ لوگ یہی ہیں رنگون میں مَیں نے آپ کے حالات سنے اور چند ایک تصانیف بھی دیکھی تھیں مگر مجھے آپ کا پتا معلوم نہ ہوا اور نہ یہ امید تھی کہ اس قدر جلد میں یہاں پہنچ جاؤں گا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔ ان باتوں سے فراست تو گواہی دیتی ہے کہ آپ ہماری شرائط کے موافق ہوں گے اور خدا چاہے تو اثر بھی قبول کر سکیں گے لیکن یاد رکھو کہ سنّت اللہ یوں ہے کہ دو باتیں اگر ہوں تو انسان حصول فیض میں کامیاب ہوتا ہے ایک یہ کہ وقت خرچ کر کے صحبت میں رہے اور اس کے کلام کو سنتا رہے اور اثنائے تقریر یا تحریر میں اگر کوئی شبہ یا دغدغہ پیدا ہو تو اسے مخفی نہ رکھے بلکہ انشراحِ صدر سے اسی وقت ظاہر کرے تاکہ اسی آن میں تدارک کیا جاوے اور وہ کانٹا جو دل میں چبھا ہے نکالا جاوے تاکہ وہ اس کے ساتھ روحانی توجہ سے استفادہ حاصل کر سکے۔

ایک بات یہ کہ صبر سے صحبت میں رہے اور ہر ایک بات توجہ سے سنے اور شبہ کو مخفی نہ رکھے کیونکہ اس کا اخفا زہر کی طرح مہلک اثر رکھتا ہے جو کہ اندر ہی اندر سرایت کر کے ہلاک کر دیتا ہے اور اکثر آدمی اس سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔۱؎

دوسری بات یہ ہے کہ جب آسمان سے ایک نیا انتظام ہوتا ہے تو کوئی نہ کوئی مامور آتا ہے اور چونکہ اس کا فعل یہی ہوتا ہے کہ ہر ایک فرقہ کی غلطی نکالے اس لیے سب لوگ اس کے دشمن ہو جاتے ہیں اور ہر طرح سے اذیت اور تکلیف دینے کی کوشش کرتے ہیں تو جب کوئی اس کے سلسلہ میں داخل ہوتا ہے تو اسے بھی یہ تمام دکھ برداشت کرنے پڑتے ہیں دشمنوں کے خطرناک حملے اس پر بھی ہوتے ہیں۔ ہر ایک دوست اور اپنا بیگانہ دشمن ہو جاتا ہے اور جس جس پر اسے امید ہوتی ہے وہ تمام خاک میں ملتی ہے نا امیدی اور مایوسی کی سخت دشوار گذار راہ میں داخل ہونا پڑتا ہے جس قدر امیدیں عزّت اور آبرو اور جاہ اور منزلت کے حصول کی لوگوں سے اس نے باندھی ہوتی ہے ان سب پر پانی پھر جاتا ہے۔ جیسا کہ دنیا کی یہ قدیمی سنّت چلی آئی ہے ان تمام ناامیدیوں اور مایوسیوں کے لیے طیار رہنا اور ان کا برداشت کرنا ضروری ہے۔ انسان اگر شیر دل ہو کر ان کا مقابلہ کرے تو ٹھہر سکتا ہے ورنہ دیکھا گیا ہے کہ لوگ شوق سے اس میدان میں داخل ہوتے ہیں مگر جب یہ تمام بوجھ ان پر پڑتے ہیں تو آخر کار دنیا کی طرف جھک جاتے ہیں۔ ان کا قلب اس نقصان کو جو دنیا اور اس کے اہل سے پہنچتا ہے برداشت نہیں کر سکتا اس لیے ان کا انجام ان کے اوّل سے بھی بدتر ہوتا ہے۔ تو یہ اَمر ضروری ہے کہ دنیا کا لعن طعن برداشت کر کے اور ہر طرح سے ناامیدیوں کے لئے طیار ہو کر اگر داخل سلسلہ ہو تو حق کو جلد پاوے گا اور جو کچھ اسے ابتدا میں چھوڑنا پڑے گا وہ سب آخر کار اللہ تعالیٰ اسے دیدے گا ایک تخم جس کے لیے مقدر ہے کہ وہ پھل لاوے اور بڑا درخت بنے ضرور ہے کہ اوّل چند دن مٹی کے نیچے دبا رہے تب وہ درخت بن سکے گا اس لیے صبر ضروری ہے تا کہ وہ اپنے آپ کو گرا دے پھر قدرت الٰہی اسے اٹھاوے جس سے اس کا نشوونما ہو۔ مسڑ وب پہلی دفعہ اسی طرح ہماری طرف جھکے مگر پیچھے وہ قائم نہ رہ سکے اب وہ تمام باتوں کا اعتراف کرتے ہیں۔

محمد عبد الحق صاحب۔ بذریعہ خط و کتابت مسڑ وب سے میری ملاقات ہے اور میں ان کو اس وقت سے جانتا ہوں جبکہ وہ ہندوستان میں آئے اور ان کے حالات سے خوب واقف ہوں اور جو شرائط اپنے سلسلہ میں داخل ہونے کے آپ نے بیان کئے ہیں میں انہی کو اسلام کی شرائط خیال کرتا ہوں۔ جو مسلمان ہو گا اس کے لیے ان تمام باتوں کا نشانہ ہونا ضروری ہے آپ کے ساتھ ملنے سے جو نقصانات مجھ کو ہو سکتے ہیں اکثر مسلمان لوگوں نے اوّل ہی سے مجھے ان کی اطلاع دی ہے اور باوجود اس اطلاع اور علم کے میں یہاں آیا ہوں۔

حضرت اقدسؑ۔ ہمارے اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم ایک سادہ زندگی بسر کرتے ہیں وہ تمام تکلّفات جو کہ آج کل یورپ نے لوازمہ زندگی بنا رکھے ہیں ان سے ہماری مجلس پاک ہے رسم و عادت کے ہم پابند نہیں ہیں۔ اس حد تک ہر ایک عادت کی رعایت رکھتے ہیں کہ جس کے ترک سے کسی تکلیف یا معصیت کا اندیشہ ہو باقی کھانے پینے اور نشست و برخاست میں ہم سادہ زندگی کو پسند کرتے ہیں۔

محمد عبد الحق صاحب۔ جب سے میں اسلام میں داخل ہوا ہوں اور روحانیت سے حصہ لیا ہے میں سادگی سے محبت کرتا ہوں اسی لیے اگر یہاں رہوں تو مجھے تکلیف نہ ہوگی دنیا میں مَیں نے جس قدر سفر کیا ہے اس سے مجھے تجربہ ہوا ہے کہ سادہ زندگی والا اور گوشہ نشین انسان بہت آرام سے زندگی بسر کرتا ہے۔۱؎


۲۳؍اکتوبر ۱۹۰۳ء

محمد عبد الحق صاحب کی طرف سے میاں معراج الدین صاحب عمر نے بیان کیا کہ آج یہ صاحب حضرت حکیم نور الدین صاحب سے قرآن کریم کے کچھ معانی سنتے رہے ہیں اور ان کو سن کر ان کی یہ رائے قرار پائی ہے کہ اس قسم کے ترجمہ کی بڑی ضرورت ہے اکثر لوگوں نے دوسرے ترجموں سے دھوکا کھایا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ حضور کی طرف سے ایک ترجمہ شائع ہو۔

حضرت مسیح موعودؑ۔ میرا خود بھی یہ ارادہ ہے کہ ایک ترجمہ قرآن شریف کا ہمارے سلسلہ کی طرف سے نکلے۔

محمد عبد الحق صاحب۔ اس کی ضرورت کو یورپین لوگوں میں مجھ سے زیادہ کوئی اور محسوس نہیں کر سکتا۔ سب آدمی میری طرح متلاشی حق ہیں اور حق کو بہت جد و جہد سے دریافت کرنے کے بعد پھر ان غلط ترجموں کے ذریعہ سے ضلالت کی طرف جانا پڑتا ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ۔ صرف قرآن کا ترجمہ اصل میں مفید نہیں جب تک اس کے ساتھ تفسیر نہ ہو مثلاً غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ(الفاتحۃ:۷) کی نسبت کسی کو کیا سمجھ آسکتا ہے کہ اس سے مُراد یہود نصاریٰ ہیں جب تک کہ کھول کر نہ بتلایا جاوے اور پھر یہ دعا مسلمانوں کو کیوں سکھلائی گئی۔ اس کا یہی منشا تھا کہ جیسے یہودیوں نے حضرت مسیحؑ کا انکار کر کے خدا کا غضب کمایا ایسے ہی آخری زمانہ میں اس امت نے بھی مسیح موعود کا انکار کر کے خدا کا غضب کمانا تھا اسی لیے اوّل ہی ان کو بطور پیشگوئی کے اطلاع دی گئی کہ سعید روحیں اس وقت غضب سے بچ سکیں۔

محمد عبد الحق صاحب۔ قَتَلُوۡہُ وَمَا صَلَبُوۡہُ وَلٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ(النساء:۱۵۸) کی نسبت بیان کیا کہ عوام اہل اسلام اور بعض تفاسیر میں اس کی نسبت لکھا ہوا ہوتا ہے کہ ایک اور آدمی مسیح کی شکل کا بن گیا اسے پھانسی دی گئی اور مسیح آسمان پر چلا گیا۔....

حضرت مسیح موعودؑ۔ اس کا سمجھنا بہت آسان ہے عام محاورہ زبان میں اگر یہ کہا جاوے کہ فلاں مصلوب ہوا یا پھانسی دیا گیا تو اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ صلیب پر اس کی جان نکل گئی۔ اگر کوئی مجرم پھانسی پر لٹکایا جاوے مگر اس کی جان نہ نکلے اور زندہ اتار لیا جاوے تو کیا اس کی نسبت پھانسی دیا گیا یا مصلوب کا لفظ بولا جاوے گا؟ ہرگز نہیں بلکہ اس کی نسبت یہ الفاظ بولنے ہی جرم ہوں گے مصلوب اسے کہتے ہیں کہ جس کی جان صلیب پر نکل جاوے اور جس کی جان نہ نکلے اسے مصلوب نہیں کہتے خواہ وہ صلیب پر چڑھا کر اتار لیا گیا ہو یہودی زندہ موجود ہیں ان سے دریافت کر لو آیا مصلوب کے یہ معنے ہیں جو ہم کرتے ہیں یا وہ جو ہمارے مخالف کرتے ہیں پھر محاورہ زبان کو بھی دیکھنا چاہیے۔ مَا صَلَبُوْہُ کے ساتھ ہی مَا قَتَلُوْہُ رکھ دیا کہ بات سمجھ میں آ جاوے کہ صلیب سے مُراد جان لینی تھی جو کہ نہیں لی گئی اور صلیبی قتل وقوع میں نہیں آیا۔ شُبِّہَ لَہُمۡ(النساء:۱۵۸) کے معنے ہیں مشبہ بالمصلوب ہو گیا۔ اس میں ان لوگوں کا یہ قول کہ کوئی اور آدمی مسیحؑ کی شکل بن گیا تھا بالکل باطل ہے۔ عقل بھی اسے قبول نہیں کرتی اور نہ کوئی روایت اس کے بارے میں صحیح موجود ہے۔ بھلا سوچ کر دیکھو کہ اگر کوئی اور آدمی مسیح کی شکل بن گیا تھا تو وہ دو حال سے خالی نہ ہو گا یا تو مسیح کا دوست ہو گا یا اس کا دشمن۔ اگر دوست ہو گا تو یہ اعتراض ہے کہ جس لعنت سے خدا نے مسیحؑ کو بچانا چاہا وہ اس کے دوست کو کیوں دی؟ اس سے خدا ظالم ٹھہرتا ہے اور اگر وہ دشمن تھا تو اسے کیا ضرورت تھی۔ کہ وہ مسیح کی جگہ پھانسی ملتا اس نے دوہائی دی ہو گی اور چلایا ہو گا کہ میرے بیوی بچوں سے پوچھو میرا فلاں نام ہے اور میں مسیح نہیں ہوں۔ پھر اکثر موجودہ آدمیوں کی تعداد میں سے بھی ایک آدمی کم ہو گیا ہو گا جس سے معاً پتا لگ سکتا ہے کہ یہ شخص مسیح نہیں غرضیکہ ہر طرح سے یہ خیال باطل ہے اور شُبِّہَ لَہُمۡ(النساء:۱۵۸) سے مُراد مشبہ بالمصلوب ہے۔

محمد عبد الحق صاحب۔ یہ خیال یورپ میں ایک انقلابِ عظیم پیدا کرے گا کیونکہ وہاں لوگوں کو دھوکا دیا گیا ہے اور کچھ کا کچھ سمجھایا گیا ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ۔ عام لوگ جو بیان کرتے ہیں یہ منشا قرآنِ کریم کا ہر گز نہیں ہے اور اس سے لوگوں کو دھوکا لگا ہے۔

محمد عبد الحق صاحب۔ اسلام کے عقائد ہم تک عیسائیوں کے ذریعے پہنچے ہیں اور اسلام کا اصل چہرہ دیکھنے کے واسطے میں باہر نکلا ہوں۔

حضرت مسیح موعودؑ۔ یہ خدا کا بڑا فضل ہے اور خوش قسمتی آپ کی ہے کہ آپ ادھر آ نکلے یہ بات واقعی سچ ہے کہ جو مسلمان ہیں یہ قرآن شریف کو بالکل نہیں سمجھتے لیکن اب خدا کا ارادہ ہے کہ صحیح معنے قرآن کے ظاہر کرے خدا نے اسی لیے مجھے مامور کیا اور میں اس کے الہام اور وحی سے قرآن شریف کو سمجھتا ہوں۔ قرآن شریف کی ایسی تعلیم ہے کہ اس پر کوئی اعتراض نہیں آ سکتا اور معقولات سے ایسی پُر ہے کہ ایک فلاسفر کو بھی اعتراض کا موقع نہیں ملتا مگر ان مسلمانوں نے قرآن کریم کو چھوڑ دیا ہے اور اپنی طرف سے ایسی ایسی باتیں بنا کر قرآن شریف کی طرف منسوب کرتے ہیں جس سے قدم قدم پر اعتراض وارد ہوتا ہے اور ایسے دعاوی اپنی طرف سے کرتے ہیں جن کا ذکر قرآن شریف میں نہیں ہے اور وہ سراسر اس کے خلاف ہیں مثلاً اب یہی واقعہ صلیب کا دیکھو کہ اس میں کس قدر افترا سے کام لیا گیا ہے اور قرآن کریم کی مخالفت کی گئی ہے اور یہ بات عقل کے بھی خلاف ہے اور قرآن کے بھی بر خلاف ہے۔

اس کے بعد حضرت اقدس نے لفظ توفی کی نسبت سمجھایا کہ اس میں اہل اسلام نے کیا ٹھوکر کھائی ہے اور بتلایا کہ صرف مسیح کے واقعہ میں اس کے معنے اٹھا لینے کے کرتے ہیں۔ حالانکہ اسی قرآن میں اور جہاں کہیں یہ لفظ آیا ہے اور لغت اور دوسری کتب عربیہ سب جگہ اس کا ترجمہ موت کرتے ہیں۔

محمد عبدالحق صاحب۔ یہ ضروری کام ہے جو کہ آپ نے اختیار کیا ہے اور اس کی ضرورت نہ صرف اہل اسلام کو ہے بلکہ عیسائیوں کو بھی بہت ہے۔ مجھے قادیان میں آنے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ سلسلہ بہت ہی مفید ہے اور ابتدا سے میری یہ خواہش ہے کہ اس قدر عظیم الشان کام کے واسطے جیسے کہ یہ ہے خدا تعالیٰ مجھے بھی ایک ہتھیار بنادے اور اس میں سے مجھے بھی حصہ ملے۔

حضرت مسیح موعودؑ۔ ہم ہمیشہ دعا کرتے ہیں اور ہماری ہمیشہ سے یہ آرزو ہے کہ یورپین لوگوں میں سے کوئی ایسا نکلے جو اس سلسلہ کے لیے زندگی کا حصہ وقف کرے لیکن ایسے شخص کے لیے ضروری ہے کہ کچھ عرصہ صحبت میں رہ کر رفتہ رفتہ وہ تمام ضروری اصول سیکھ لیوے جن سے اہل اسلام پر سے ہر ایک داغ دور ہو سکتا ہے اور وہ تمام قوت اور شوکت سے بھرے ہوئے دلائل سمجھ لیوے جن سے یہ مرحلہ طے ہو سکتا ہے۔ تب وہ دوسرے ممالک میں جا کر اس خدمت کو ادا کر سکتا ہے۔ اس خدمت کے برداشت کرنے کے لیے ایک پاک اور قوی روح کی ضرورت ہے جس میں یہ ہوگی وہ اعلیٰ درجہ کا مفید انسان ہوگا اور خدا کے نزدیک آسمان پر ایک عظیم الشان انسان قرار دیا جاوے گا۔

محمد عبدالحق صاحب۔ میں کل یہاں سے رخصت ہوں گا اور ایک ضروری خدمت کو سرانجام دینے کے لیے جو کہ بنی نوع انسان کی خدمت پر مبنی ہے آخر دسمبر تک ہندوستان کے مختلف مقامات پر دورہ کروں گا۔ وہ آسڑیلیا میں ہندوستانی تاجروں کی بندش کو آزاد کرانے کی تجویز ہے۔ اس دورہ کے بعد پھر میں دیکھوں گا کہ میں کون سی راہ اختیار کروں۔

حضرت مسیح موعودؑ۔ قرآن شریف کی تفسیر تو اپنے وقت پر ہوگی لیکن اگر خدا آپ کے دل میں ڈالے اور آپ یہاں آ کر رہیں تو قرآن شریف کے اس حصہ کی تفسیر سردست کر دی جاوے جن پر ہر ایک غیر مذہب نے کم فہمی سے اعتراض کئے ہیں یا اہل اسلام نے ان کے سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔ اوّل اس کی فہرست طیار کر لی جاوے گی اور وہ بہت بڑی نہ ہوگی کیونکہ ایک ہی اعتراض کو ہر ایک فرقہ نے بار بار تکرار سے بیان کیا ہے اس لیے وقتاً فوقتاً اگر اس کی حقیقت آپ کے ذہن نشین کر دی جاوے تو اس حصہ کی تفسیر ہو جاوے اور اس کے ذریعہ سے یورپ میں ہر ایک اعتراض کا جواب دیا جاسکے اور اس طرح سے جو دھوکا اہل یورپ کو لگا ہے وہ نکل جاوے گا۔۱؎

۲۴؍اکتوبر ۱۹۰۳ء

ظہر کے وقت حضرت اقدس نے یہ تقریر فرمائی۔ ترکِ دنیا کی اہمیت جو شخص دنیا کو ردّ نہیں کرسکتا وہ ہمارے سلسلہ کی طرف نہیں آسکتا۔

دی ک

ھو حضرت ابوبکرؓ نے سب سے اوّل دنیا کو ردّ کیا اور آپ کی آخری پوشاک یہی تھی کہ کمبل پہن کر آپ آ حاضر ہوئے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو سب سے اوّل تخت پر جگہ دی۔ وجہ اس کی یہی تھی کہ آپ نے سب سے اوّل فقر اختیار کیا تھا خدا تعالیٰ کی ذات پاک ہے کہ کسی کا قرضہ اپنے ذمہ نہیں رکھتی۔ اوائل میں نقصان ضرور ہوتے ہیں۔ دوستوں یاروں کے تعلقات قطع کرنے پڑتے ہیں لیکن ان سب کا بدلہ آخر کار دیتا ہے۔ ایک چوڑھے اور چمار کی خاطر جب ایک کام کیا جاوے اور تکلیف برداشت کی جاوے تو وہ اپنے ذمہ نہیں رکھتا تو پھر خدا کس لیے اپنے ذمہ رکھے۔ وہ آخر کار سب کچھ دے دیتا ہے۔

بارہا ہم نے سمجھایا ہے کہ جس شخص کو اَور اَور اغراض سوائے دین کے ہیں وہ ہمارے سلسلہ میں داخل نہیں ہوسکتا۔ دو کشتیوں میں پاؤں رکھ کر پار اُترنا مشکل ہے اسی لیے جو ہمارے پاس آوے گا وہ مَر کر آوے گا لیکن خدا اس کی قدر کرے گا اور وہ نہ مَرے گا جب تک کہ دنیا میں کامیابی نہ دیکھ لے گا۔ جو کچھ برباد کر کے آوے گا خدا اسے سب کچھ پھر دے گا۔ لیکن ایک دنیا دار قدم نہیں اُٹھا سکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان خود ہی غداری کرتا ہے کہ نام تو خدا کی طرف آنے کا کرتا ہے اور اس کی نظر اہل دنیا کی طرف ہوتی ہے۔

جو قدر اس سلسلہ میں داخل ہونے کی اس وقت ہے وہ بعد ازاں نہ ہوگی۔ مہاجرین وغیرہ کی نسبت قرآن شریف میں کیسے کیسے الفاظ آئے ہیں جیسے رضی اللّٰہ عنہم۔ لیکن جو لوگ فتح کے بعد داخل ہوئے کیا ان کو بھی یہ کہا گیا؟ ہرگز نہیں۔ ان کا نام ناس رکھا گیا اور لوگوں سے بڑھ کر کوئی خطاب ان کو نہ ملا۔ خدا کے نزدیک عزّتوں اور خطابوں کے یہی وقت ہوتے ہیں کہ جب اس سلسلہ میں داخل ہونے سے برادری، رشتہ دار وغیرہ سب دشمن جان ہو جاتے ہیں۔ خدا تعالیٰ شرک کو ہرگز پسند نہیں کرتا کہ کچھ حصہ اس کا ہو اور کچھ غیر کا بلکہ ایک جگہ فرماتا ہے کہ اگر تم کچھ مجھ کو دینا چاہتے ہو اور کچھ بتوں کو تو سب کا سب بتوں کو دے دو۔

اس وقت کا تخم بویا ہوا ہرگز ضائع نہیں ہوگا۔ کیا آج تک کے تجربہ نے ان لوگوں کو بتلا نہیں دیا کہ یہ پودا ضائع ہونے والا نہیں۔ قرآن شریف، احادیثِ صحیحہ اور نشاناتِ آسمانی سب ہماری تائید میں ہیں اور بیّن طور پر سب کچھ ثابت ہو گیا ہے۔ اب جو اس سے فائدہ نہ اُٹھاوے وہ موردِ غضب الٰہی ہے۔ خدا غفور اور کریم، حنان اور منان ہے مگر یہ انسان کی شوخی اور بدبختی ہے کہ اس کے مائدہ کو وہ ردّ کرتا ہے اور غضب کا مستحق ہو جاتا ہے اگر یہ انسان کا کاروبار ہوتا تو کب کا تباہ ہو جاتا۔ انسان کو خدا کا خوف اور ڈر رکھنا چاہیے اور برادری اور رسوم سے ڈر کر خدا کی راہ کو ترک نہ کرنا چاہیے۔ جب انسان کا مددگار اور معاون خدا ہو جاتا ہے تو پھر اسے کوئی کمی نہیں۔ خداداری چہ غم داری۔ اس قدر انبیاء جو آئے ہیں کیا خدا نے ان سے کسی قسم کی دغا کی ہے جو اَب کسی سے کرے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا کچھ ہوا۔ ہر وقت جان کا خطرہ تھا۔ ہر ایک طرف سے دھمکی ملتی تھی مگر کیا لوگوں نے اور قوم اور برادری نے آپ کو تباہ کر دیا؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ وہ خود تباہ ہوئے اور آج کوئی ایک بھی نہیں جو اپنے آپ کو ابو جہل کی اولاد بتلاتا ہو مگر آنحضرتؐ کے نام لیوا اور آپ کی اولاد سے دنیا بھری پڑی ہے۔۱؎

۳۰؍اکتوبر ۱۹۰۳ء

مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد حضرت اقدس حسب دستورشہ نشین پر جلوہ افروز ہوئے اور طاعون کا ذکر ہوا۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ

طاعون کا نشان

خدا تعالیٰ نے اگرچہ جماعت کو وعدہ دیا ہے کہ وہ اسے اس بلا سے محفوظ رکھے گا۔ مگر اس میں بھی ایک شرط لگی ہوئی ہے کہ یَلۡبِسُوۡۤا اِیۡمَانَہُمۡ بِظُلۡمٍ(الانعام:۸۳) کہ جو لوگ اپنے ایمانوں کو ظلم سے نہ ملاویں گے وہ امن میں رہیں گے پھر دار کی نسبت وعدہ دیا تو اس میں بھی شرط رکھ دی ہے کہ اِلَّا الَّذِیْنَ عَلَوْا بِالْاِسْتِکْبَارِ اس میں عَلَوْا کے لفظ سے مُراد یہ ہے کہ جس قسم کی اطاعت انکساری کے ساتھ چاہیے وہ بجا نہ لاوے۔ جب تک انسان حُسن نیّتی جس کو حقیقی سجدہ کہتے ہیں بجا نہ لاوے تب تک وہ دار میں نہیں ہے اور مومن ہونے کا دعویٰ بے فائدہ ہے۔ یَلۡبِسُوۡۤا اِیۡمَانَہُمۡ بِظُلۡمٍ(الانعام:۸۳) میں شرک سے یہ مُراد نہیں ہے کہ ہندوؤں کی طرح پتھروں کے بتوں یا اور مخلوقات کو سجدہ کیا بلکہ جو شخص ماسوی اللہ کی طرف مائل ہے اور اس پر بھروسہ کرتا ہے حتیٰ کہ دل میں جو منصوبے اور چالاکیاں رکھتا ہے ان پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ بھی شرک ہے۔

حضرت جنید رحمتہ اللہ علیہ کا حال بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ان کو خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ بتلاؤ اللہ تعالیٰ سے معاملہ کیسے ہوا تو انہوں نے بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا عمل لایا ہے۔ میں نے کہا اور عمل تو کوئی نہیں ہے صرف یہ ہے کہ میں نے عمر بھر شرک نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا تو نے یوم اللبن کے دن بھی شرک نہ کیا تھا کہ دُودھ پی کر کہا کہ اس سے پیٹ میں درد ہوئی ہے گویا دودھ کو خدا سمجھ لیا تھا اور خدا پر سے جو حقیقی فاعل ہے نظر اُٹھ گئی تھی۔

نفسانی جذبات ہزاروں قسم کے ہیں جو کہ انسان کو لگے ہوئے ہیں ان کو دیکھا جاوے تو سِر سے لے کر پاؤں تک ظلم ہی ظلم ہے۔ سِر تکبر اور گھمنڈ کی جگہ ہے آنکھ بُرے خیالات کا مقام ہے۔ غضب کی نظر سے بھی انسان اسی سے دوسرے کو دیکھتا ہے۔ کان بے جا باتیں سنتے ہیں زبان بُری باتیں بولتی ہے۔ گردن اکڑتی ہے صدور میں کِن کِن بُری باتوں کی خواہش ہوتی ہے۔ نیچے کا طبقہ بھی کچھ کم نہیں ہے فسق و فجور میں جہان اسی کے باعث مبتلا ہے۔ پاؤں بھی بے جا مقامات پر چل کر جاتے ہیں غرض یہ ایک لشکر اور جماعت ہے جسے سنبھال کر رکھنا انسان کا کام ہے اور یہ بڑی بات ہے۔ ایک طرف تو خدا نے کشتی کا حوالہ دیا ہے کہ جو اس میں چڑھے گا وہ نجات پاوے گا اور ایک طرف حکم دیا ہے وَلَا تُخَاطِبۡنِیۡ فِی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا(ھود:۳۸) یہاں بھی ظلم کی نسبت ہی فرمایا کہ جو لوگ ظالم ہیں تو ان کی نسبت بات ہی نہ کر۔

خوف الٰہی اور تقویٰ بڑی برکت والی شَے ہے انسان میں اگر عقل نہ ہو مگر یہ باتیں ہوں تو خدا اسے اپنے پاس سے برکت دیتا ہے اور عقل بھی دے دیتا ہے جیسے کہ فرماتا ہے یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا(الطلاق:۳) اس کے یہی معنے ہیں کہ جس شَے کی ضرورت اسے ہو گی اس کے لیے وہ خود راہ پیدا کر دے گا بشرطیکہ انسان متقی ہو، لیکن اگر تقویٰ نہ ہو گا تو خواہ فلاسفر ہی ہو وہ آخر کار تباہ ہوگا۔ دیکھو کہ اسی ہندوستان پنجاب میں کس قدر عالم تھے مگر ان کے دلوں میں اور زبانوں میں تقویٰ نہ رہا۔ محمد حسین کی حالت دیکھو کہ کیسی گندی اور فحش باتیں اپنے رسالہ اشاعۃ السنّہ میں لکھتا رہا۔ اگر تقویٰ ہوتی تو وہ کب ایسی باتیں لکھ سکتا تھا۔

اس کے بعد چند احباب نے بیعت کی اور بعد بیعت حضرت اقدس نے ایک طویل تقریر فرمائی جو کہ ذیل میں درج ہے۔

حقیقت بیعت اور اس سے فیض پانے کی راہ

یہ بیعت جو ہے اس کے معنے اصل میں اپنے تئیں بیچ دینا ہے اس کی برکات اور تاثیرات اسی شرط سے وابستہ ہیں جیسے ایک تخم زمین میں بویا جاتا ہے اس کی ابتدائی حالت یہی ہوتی ہے کہ گویا وہ کسان کے ہاتھ سے بویا گیا اور اس کا کچھ پتا نہیں کہ اب وہ کیا ہوگا لیکن اگر وہ تخم عمدہ ہوتا ہے اور اس میں نشوونما کی قوت موجود ہوتی ہے تو خدا کے فضل سے اور اس کسان کی سعی سے وہ اوپر آتا ہے اور ایک دانہ کا ہزار دانہ بنتا ہے۔ اسی طرح سے انسان بیعت کنندہ کو اوّل انکساری اور عجز اختیار کرنی پڑتی ہے اور اپنی خودی اور نفسانیت سے الگ ہونا پڑتا ہے تب وہ نشوونما کے قابل ہوتا ہے۔ لیکن جو بیعت کے ساتھ نفسانیت بھی رکھتا ہے اسے ہرگز فیض حاصل نہیں ہوتا۔ صوفیوں نے بعض جگہ لکھا ہے کہ اگر مرید کو اپنے مرشد کے بعض مقامات پر بظاہر غلطی نظر آوے تو اسے چاہیے کہ اس کا اظہار نہ کرے اگر اظہار کرے گا تو حبطِ عمل ہو جاوے گا (کیونکہ اصل میں وہ غلطی نہیں ہوتی صرف اس کے فہم کا اپنا قصور ہوتا ہے )اسی لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دستور تھا کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اس طرح سے بیٹھتے تھے جیسے سر پر کوئی پرندہ ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے انسان سر اوپر نہیں اُٹھا سکتا یہ تمام ان کا ادب تھا کہ حتی الوسع خود کبھی کوئی سوال نہ کرتے۔ ہاں اگر باہر سے کوئی نیا آدمی آ کر کچھ پوچھتا تو اس ذریعہ سے جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکلتا وہ سن لیتے صحابہ بڑے متادّب تھے اس لیے کہا ہے کہ اَلطَّرِیْقَۃُ کُلُّھَا اَدَبٌ۔ جو شخص ادب کی حدود سے باہر نکل جاتا ہے تو پھر شیطان اس پر دخل پاتا ہے اور رفتہ رفتہ اس کی نوبت ارتداد کی آجاتی ہے اس ادب کو مدِنظر رکھنے کے بعد انسان کو لازم ہے کہ وہ فارغ نشین نہ ہو۔ ہمیشہ توبہ استغفار کرتا رہے اور جو جو مقامات اسے حاصل ہوتے جاویں ان پر یہی خیال کرے کہ میں ابھی قابل اصلاح ہوں اور یہ سمجھ کر کہ بس میرا تزکیہ نفس ہو گیا وہاں ہی نہ اَڑ بیٹھے۔

منافق کون ہے

یاد رکھو منافق وہی نہیں ہے جو ایفائے عہد نہیں کرتا یا زبان سے اخلاص ظاہر کرتا ہے مگر دل میں اس کے کفر ہے بلکہ وہ بھی منافق ہے جس کی فطرت میں دورنگی ہے۔ اگرچہ وہ اس کے اختیار میں نہ ہو۔ صحابہ کرامؓ کو اس دورنگی کا بہت خطرہ رہتا تھا ایک دفعہ حضرت ابو ہریرہؓ رو رہے تھے تو ابوبکرؓ نے پوچھا کہ کیوں روتے ہو؟ کہا کہ اس لیے روتا ہوں کہ مجھ میں نفاق کے آثار معلوم ہوتے ہیں۔ جب میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتا ہوں تو اس وقت دل نرم اور اس کی حالت بدلی ہوئی معلوم ہوتی ہے مگر جب ان سے جُدا ہوتا ہوں تو وہ حالت نہیں رہتی۔ ابوبکرؓ نے فرمایا کہ یہ حالت تو میری بھی ہے پھر دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کل ماجرا بیان کیا۔ آپ نے فرمایا کہ تم منافق نہیں ہو۔ انسان کے دل میں قبض اور بسط ہوا کرتی ہے جو حالت تمہاری میرے پاس ہوتی ہے اگر وہ ہمیشہ رہے تو پھر فرشتے تم سے مصافحہ کریں۔

تو اب دیکھو کہ صحابہ کرامؓ اس نفاق اور دورنگی سے کس قدر ڈرتے تھے۔ جب انسان جرأت اور دلیری سے زبان کھولتا ہے تو وہ بھی منافق ہوتا ہے۔ دین کی ہتک ہوتی سنے اور وہاں کی مجلس نہ چھوڑے یا ان کو جواب نہ دے تب بھی منافق ہوتا ہے۔ اگر مومن کی سی غیرت اور استقامت نہ ہو تب بھی منافق ہوتا ہے جب تک انسان ہر حال میں خدا کو یاد نہ کرے تب تک نفاق سے خالی نہ ہوگا اور یہ حالت تم کو بذریعہ دعا کے حاصل ہوگی۔ ہمیشہ دعا کرو کہ خدا اس سے بچاوے۔ جو انسان داخل سلسلہ ہو کر پھر بھی دورنگی اختیار کرتا ہے تو وہ اس سلسلہ سے دور رہتا ہے۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے منافقوں کی جگہ اَسْفَلُ السَّافِلِیْن رکھی ہے کیونکہ ان میں دورنگی ہوتی ہے اور کافروں میں یک رنگی ہوتی ہے۔

گریہ وزاری کی اہمیت

صوفیوں نے لکھا ہے کہ اگر چالیس دن تک رونا نہ آوے تو جانو کہ دل سخت ہو گیا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَلۡیَضۡحَکُوۡا قَلِیۡلًا وَّلۡیَبۡکُوۡا کَثِیۡرًا(التوبۃ:۸۲) کہ ہنسو تھوڑا اور روؤ بہت مگر اس کے برعکس دیکھا جاتا ہے کہ لوگ ہنستے بہت ہیں۔ اب دیکھو کہ زمانہ کی کیا حالت ہے۔ اس سے یہ مُراد نہیں کہ انسان ہر وقت آنکھوں سے آنسو بہاتا رہے بلکہ جس کا دل اندر سے رو رہا ہے وہی روتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ دروازہ بند کر کے اندر بیٹھ کر خشوع اور خضوع سے دعا میں مشغول ہو اور بالکل عجز و نیاز سے خدا کے آستانہ پر گر پڑے تاکہ وہ اس آیت کے نیچے نہ آوے جو بہت ہنستا ہے وہ مومن نہیں۔ اگر سارے دن کا نفس کا محاسبہ کیا جاوے تو معلوم ہو کہ ہنسی اور تمسخر کی میزان زیادہ ہے اور رونے کی بہت کم ہے۔ بلکہ اکثر جگہ بالکل ہی نہیں ہے۔ اب دیکھو کہ زندگی کس قدر غفلت میں گذر رہی ہے اور ایمان کی راہ کس قدر مشکل ہے گویا ایک طرح سے مَرنا ہے اور اصل میں اسی کا نام ایمان ہے۔

ایمان کی حقیقت

جب لوگوں کو تبلیغ کی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ کیا ہم مسلمان نہیں ہیں۔ کیا ہم نماز نہیں پڑھتے۔ کیا ہم روزہ نہیں رکھتے۔ ان لوگوں کو حقیقت ایمان کا علم نہیں ہے۔ اگر علم ہوتا تو وہ ایسی باتیں نہ کرتے۔ اسلام کا مغز کیا ہے اس سے بالکل بے خبر ہیں۔ حالانکہ خدا کی یہ عادت قدیم سے چلی آئی ہے کہ جب مغز اسلام چلا جاتا ہے تو اس کے از سر نو قائم کرنے کے واسطے ایک کو مامور کر کے بھیج دیتا ہے تا کہ کھائے ہوئے اور مَرے دل پھر زندہ کئے جاویں مگر ان لوگوں کی غفلت اس قدر ہے کہ دلوں کی مُردگی محسوس نہیں کرتے خدا تعالیٰ فرماتا ہے بَلٰی ٭ مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ وَہُوَ مُحۡسِنٌ فَلَہٗۤ اَجۡرُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ۪ وَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ(البقرۃ:۱۱۳) یعنی مسلمان وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے تمام وجود کو سونپ دیوے اور نیک کاموں پر خدا تعالیٰ کے لیے قائم ہو جاوے گویا اس کے قویٰ خدا تعالیٰ کے لیے مَر جاتے ہیں گویا وہ اس کی راہ میں ذبح ہو جاتا ہے جیسے ابراہیم علیہ السلام نے اس اسلام کا نمونہ دکھلایا کہ ارادہ الٰہی کی بجا آوری میں اپنے نفس کو ذرّہ بھی دخل نہ دیا اور ایک ذرا سے اشارہ سے بیٹے کو ذبح کرنا شروع کر دیا۔ مگر یہ لوگ اسلام کی اس حقیقت سے بے خبر ہیں۔ جو کام ہیں ان میں ملونی ہوتی ہے۔ اگر کوئی ان میں سے رسالہ جاری کرتا ہے تو اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ روپیہ کماوے بال بچے کا گذارہ ہو۔ ابھی حال میں ایک شخص کا خط آیا ہے لکھتا ہے کہ میں نے عبدالغفور کے مرتد ہونے پر اس کی کتاب ترک اسلام کے جواب میں ایک رسالہ لکھنا شروع کیا ہے۔ امداد فرماویں۔ ان لوگوں کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ اسلام کیا شَے ہے۔ خدا کی طرف سے کوئی نفخ روح اس میں نہیں لیکن رسالہ لکھنے کو طیار ہے۔ ایسے شخص کو چاہیے تھا کہ اوّل تزکیہ نفس کے لئے خود یہاں آتا اور پوچھتا اور اوّل خود اپنے اسلام کی خبر لیتا، لیکن عقل، دیانت اور سمجھ ہوتی تو یہ کرتا۔ مقصود تو اپنی معاش ہے اور رسالہ کو ایک بہانہ بنایا ہے۔ ہر ایک جگہ یہی بد بو آتی ہے کہ جو کام ہے خدا کے لیے نہیں بیوی بچوں کے لیے ہے۔ جو خدا کا ہو جاتا ہے تو خدا اس کا ہو جاتا ہے اور اس کی تائیدیں اور نصرت کا ہاتھ خود اس کے کاموں سے معلوم ہو جاتی ہیں اور آخر کار انسان مشاہدہ کرتا ہے کہ ایک غیب کا ہاتھ ہے جو اسے ہر میدان میں کامیاب کر رہا ہے۔ انسان اگر اس کی طرف چل کر آوے تو وہ دوڑ کر آتا ہے اور اگر وہ اس کی طرف تھوڑا سا رجوع کرے تو وہ بہت رجوع ہوتا ہے۔ وہ بخیل نہیں ہے سخت دل نہیں ہے۔ جو کوئی اس کا طالب ہے تو اس کا اوّل طالب وہ خود ہوتا ہے۔ لیکن انسان اپنے ہاتھوں سے اگر ایک مکان کے دروازے بند کر دیوے تو کیا روشنی اس کے اندر جاوے گی؟ ہرگز نہیں۔ یہی حال انسان کے قلب کا ہے۔ اگر اس کا قول وفعل خدا کی رضا کے موافق نہ ہوگا اور نفسانی جذبات کے تلے وہ دبا ہوا ہوگا تو گویا دل کے دروازے خود بند کرتا ہے کہ خدا کا نور اور روشنی اس میں داخل نہ ہو، لیکن اگر وہ دروازوں کو کھولے گا تو معاً نور اس کے اندر داخل ہوگا۔

ابدال، قطب اور غوث وغیرہ جس قدر مراتب ہیں یہ کوئی نماز اور روزوں سے ہاتھ نہیں آتے۔ اگر ان سے یہ مل جاتے تو پھر یہ عبادات تو سب انسان بجالاتے ہیں۔ سب کے سب ہی کیوں نہ ابدال اور قطب بن گئے۔ جب تک انسان صدق وصفا کے ساتھ خدا کا بندہ نہ ہوگا۔ تب تک کوئی درجہ ملنا مشکل ہے۔ جب ابراہیم کی نسبت خدا تعالیٰ نے شہادت دی وَاِبۡرٰہِیۡمَ الَّذِیۡ وَفّٰۤی(النجم:۳۸) کہ ابراہیم وہ شخص ہے جس نے اپنی بات کو پورا کیا۔ تو اس طرح سے اپنے دل کو غیر سے پاک کرنا اور محبتِ الٰہی سے بھرنا، خدا کی مرضی کے موافق چلنا اور جیسے ظل اصل کا تابع ہوتا ہے ویسے ہی تابع ہونا کہ اس کی اور خدا کی مرضی ایک ہو کوئی فرق نہ ہو۔ یہ سب باتیں دعا سے حاصل ہوتی ہیں۔ نماز اصل میں دعا کے لئے ہے کہ ہر ایک مقام پر دعا کرے لیکن جو شخص سویا ہوا نماز ادا کرتا ہے کہ اسے اس کی خبر ہی نہیں ہوتی تو وہ اصل میں نماز نہیں۔ جیسے دیکھا جاتا ہے کہ بعض لوگ پچاس پچاس سال نماز پڑھتے ہیں، لیکن ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا حالانکہ نماز وہ شَے ہے کہ جس سے پانچ دن میں رُوحانیت حاصل ہو جاتی ہے۔ بعض نمازیوں پر خدا نے لعنت بھیجی ہے جیسے فرماتا ہے فَوَیۡلٌ لِّلۡمُصَلِّیۡنَ(الماعون:۵) ویل کے معنے لعنت کے بھی ہوتے ہیں۔ پس چاہیے کہ ادائیگی نماز میں انسان سُست نہ ہو اور نہ غافل ہو۔

ہماری جماعت اگر جماعت بننا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ ایک موت اختیار کرے۔ نفسانی امور اور نفسانی اغراض سے بچے اور اللہ تعالیٰ کو سب شَے پر مقدّم رکھے۔ بہت سی ریا کاریوں اور بیہودہ باتوں سے انسان تباہ ہوجاتا ہے پوچھا جاوے تو لوگ کہتے ہیں کہ برادری کے بغیر گذارہ نہیں ہوسکتا۔ ایک حرام خور کہتا ہے کہ بغیر حرام خوری کے گذارہ نہیں ہوسکتا۔ جب ہر ایک حرام گذارہ کے لیے انہوں نے حلال کرلیا تو پوچھو کہ خدا کیا رہا؟ اور تم نے خدا کے واسطے کیا کیا؟ ان سب باتوں کو چھوڑنا موت ہے جو بیعت کر کے اس موت کو اختیار نہیں کرتا تو پھر یہ شکایت نہ کرے کہ مجھے بیعت سے فائدہ نہیں ہوا۔ جب ایک انسان ایک طبیب کے پاس جاتا ہے تو جو پرہیز وہ بتلاتا ہے اگر اسے نہیں کرتا تو کب شفا پاسکتا ہے، لیکن اگر وہ کرے گا تو یوماً فیوماً ترقی کرے گا یہی اصول یہاں بھی ہے۔

جنّت کی حقیقت

کوئی بات سوائے خدا کے فضل کے حاصل نہیں ہوسکتی اور جسے اس دنیا میں فضل ہوگا اسے ہی آخرت میں بھی ہوگا جیسے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعۡمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعۡمٰی(بنی اسرآءیل:۷۳) اسی لیے یہ ضروری ہے کہ ان حواس کے حصول کی کوشش اسی جہان میں کرنی چاہیے کہ جس سے انسان کو بہشتی زندگی حاصل ہوتی ہے اور وہ حواس بلا تقویٰ کے نہیں مل سکتے۔ ان آنکھوں سے انسان خدا کو نہیں دیکھ سکتا، لیکن تقویٰ کی آنکھوں سے انسان خدا کو دیکھ سکتا ہے۔ اگر وہ تقویٰ اختیار کرے گا تو وہ محسوس کرے گا کہ خدا مجھے نظر آرہا ہے اور ایک دن آوے گا کہ خود کہہ اُٹھے گا کہ میں نے خدا کو دیکھ لیا اسی بہشتی زندگی کی تفصیل جو کہ متقی کو اسی دنیا میں حاصل ہوتی ہے قرآن شریف میں ایک اور جگہ بھی پائی جاتی ہے جیسے لکھا ہے کُلَّمَا رُزِقُوۡا مِنۡہَا مِنۡ ثَمَرَۃٍ رِّزۡقًا ۙ قَالُوۡا ہٰذَا الَّذِیۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ(البقرۃ:۲۶) جب وہ عالم آخرت میں ان درختوں کے ان پھلوں سے جو دنیا کی زندگی میں ہی ان کو مل چکے تھے پائیں گے تو کہہ دیویں گے کہ یہ تو وہ پھل ہیں جو کہ ہمیں اوّل ہی دئیے گئے تھے کیونکہ وہ ان پھلوں کو ان پہلے پھلوں سے مشابہ پاویں گے۔ اس سے یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ دنیا میں جو نعمتیں مثل دودھ، شہد، گھی اور انار اور انگور وغیرہ انہوں نے کھائی ہیں وہی ان کو وہاں جنّت میں ملیں گے اور وہاں ان چیزوں کے مہیّا کرنے کے لیے بہت سے باغات، درخت، مالی اور بیل وغیرہ اور گائے بھینسوں کے ریوڑ ہوں گے اور درختوں پر شہد کی مکھیوں کے چھتے ہوں گے جن سے شہد اُتار کر اہل جنّت کو دیا جاوے گا یہ سب غلط خیال ہیں اگر جنّت کی یہی نعمت ہے جو ان کو دنیا میں ملتی رہی اور آخرت میں بھی ملے گی تو مومنوں اور کافروں میں کیا فرق رہا؟ ان سب چیزوں کے حاصل کرنے میں تو کافر اور مشرک بھی شریک ہیں پھر اس میں بہشت کی خصوصیت کیا ہے؟ لیکن قرآن شریف اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ بہشت کی نعمتیں ایسی چیزیں ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ دلوں میں گذریں اور ہم دنیا کی نعمتوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ سب آنکھوں نے دیکھیں، کانوں نے سنیں اور دل میں گذریـ ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ ان جنتی نعمتوں کا تمام نقشہ جسمانی رنگ پر ظاہر کیا گیا ہے مگر وہ اصل میں اَور امور ہیں ورنہ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ(البقرۃ:۲۶) کے کیا معنے ہوں گے اس کے وہی معنے ہیں جو کہ کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعۡمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعۡمٰی(بنی اسرآءیل:۷۳) کے ہیں۔ دوسرے مقام پر قرآن شریف فرماتا ہے وَلِمَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ(الرحمٰن:۴۷) جو شخص خدا تعالیٰ سے خائف ہے اور اس کی عظمت اور جلال کے مرتبہ سے ہراساں ہے اس کے لیے دو بہشت ہیں ایک یہی دنیا اور دوسری آخرت۔ جو شخص سچے اور خالص دل سے نقشِ ہستی کو اس کی راہ میں مٹا کر اس کے متلاشی ہوتے ہیں اور عبادت کرتے ہیں تو اس میں ان کو ایک قسم کی لذّت شروع ہو جاتی ہے اور ان کو وہ روحانی غذائیں ملتی ہیں جو روح کو روشن کرتی اور خدا کی معرفت کو بڑھاتی ہیں ایک جگہ پر شیخ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب انسان عارف ہو جاتا ہے تو اس کی نماز کا ثواب مارا جاتا ہے۔ اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اس کی نماز اب بارگاہِ الٰہی میں قبول نہیں ہوتی بلکہ یہ معنے ہیں کہ چونکہ اب اسے لذّت شروع ہوگئی ہے تو جو اجر اس کا عند اللہ تھا وہ اب اسے دنیا میں ملنا شروع ہو گیا ہے جیسے ایک شخص اگر دودھ میں برف اور خوشبو وغیرہ ڈال کر پیتا ہے تو کیا کہہ سکتے ہیں کہ اسے ثواب ملے گا کیونکہ لذّت تو اس نے اس کی یہیں حاصل کرلی۔ خدا تعالیٰ کی رضامندی اور کسی عمل کی قبولیت اَور شَے ہے اور ثواب اَور شَے ہے۔ ہر ایک لفظ اپنے اپنے مقام کے لیے چسپاں ہوتا ہے اسی لحاظ سے شیخ عبدالقادر صاحب نے فرمایا کہ عارف کی نماز کا ثواب مارا جاتا ہے۔ جو اہل حال ہوتا ہے وہ اپنی جگہ پوری بہشت میں ہوتا ہے اور جب انسان کو خدا سے پورا تعلق ہو جاتا ہے تو اغلال اور اثقال جس قدر بوجھ اس کی گردن میں ہوتے ہیں وہ سب اٹھائے جاتے ہیں وہ لذّت جو خدا کی طرف سے اس کی عبادت میں حاصل ہوتی ہے وہ اَور ہے اور جو اکل وشرب اور جماع وغیرہ میں حاصل ہوتی ہے وہ اَور ہے لکھا ہے کہ اگر ایک عارف دروازہ بند کر کے اپنے مولا سے راز و نیاز کر رہا ہو تو اسے اپنی عبادت اور اس راز و نیاز کے اظہار کی بڑی غیرت ہوتی ہے اور وہ ہرگز اس کا افشا پسند نہیں کرتا اگر اس وقت کوئی دروازہ کھول کر اندر چلا جاوے تو وہ ایسا ہی نادم اور پشیمان ہوتا ہے جیسے زانی زنا کرتا پکڑا جاتا ہے جب اس لذّت کی حد کو انسان پہنچ جاتا ہے تو اس کا حال اَور ہوتا ہے اور اسی حالت کو یاد کر کے وہ جنّت میں کہے گا کہ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ(البقرۃ:۲۶) بہشتی زندگی کی بنیاد یہی دنیا ہے بعد مَرنے کے جب انسان بہشت میں داخل ہو گا تو یہی کیفیت اور لذّت اسے یاد آوے گی۔ تو اسی بات کا طالب ہر ایک کو ہونا چاہیے۔

نیکی کیا ہے؟

گناہوں کا چھوڑ نا تو کوئی بڑی بات نہیں ہے یہ ایک ذلیل کام ہے اگر کوئی کہے کہ میں چوری نہیں کرتا، زنا نہیں کرتا، خون نہیں کرتا یا اور فسق وفجور نہیں کرتا تو کوئی خوبی کی بات نہیں اور نہ خدا پر یہ احسان ہے کیونکہ اگر وہ ان باتوں کا مرتکب نہیں ہوتا تو ان کے بد نتائج سے بھی وہی بچا ہوا ہے۔ کسی کو اس سے کیا؟ اگر چوری کرتا گرفتار ہوتا سزا پاتا۔ اس قسم کی نیکی کو نیکی نہیں کہا کرتے۔

ایک شخص کا ذکر ہے کہ ایک کے ہاں مہمان گیا بے چارے میزبان نے بہت تواضع کی تو مہمان آگے سے کہنے لگا کہ حضرت آپ کا کوئی احسان مجھ پر نہیں ہے احسان تو میرا آپ پر ہے کہ آپ اتنی دفعہ باہر آتے جاتے ہیں اور کھانا وغیرہ طیار کروانے اور لانے میں دیر لگتی ہے۔ میں پیچھے اکیلا با اختیار ہوتا ہوں چاہوں تو گھر کو آگ لگا دوں یا آپ کا اور نقصان کر چھوڑوں تو اس میں آپ کا کس قدر نقصان ہو سکتا ہے۔ تو یہ میرا اختیار ہے کہ میں کچھ نہیں کرتا۔ ایسا خیال ایک بد آدمی کا ہوتا ہے کہ وہ بدی سے بچ کر خدا پر احسان کرتا ہے اس لیے ہمارے نزدیک ان تمام بدیوں سے بچنا کوئی نیکی نہیں ہے بلکہ نیکی یہ ہے کہ خدا سے پاک تعلقات قائم کئے جاویں اور اس کی محبت ذاتی رگ وریشہ میں سرایت کر جاوے جیسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَالۡاِحۡسَانِ وَاِیۡتَآیِٔ ذِی الۡقُرۡبٰی(النحل:۹۱) خدا کے ساتھ عدل یہ ہے کہ اس کی نعمتوں کو یاد کر کے اس کی فرماں برداری کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور اسے پہچانو اور اس پر ترقی کرنا چاہو تو درجہ احسان کا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کی ذات پر ایسا یقین کر لینا کہ گویا اس کو دیکھ رہا ہے اور جن لوگوں نے تم سے سلوک نہیں کیا ان سے سلوک کرنا۔ اور اگر اس سے بڑھ کر سلوک چاہو تو ایک اور درجہ نیکی کا یہ ہے کہ خدا کی محبت طبعی محبت سے کرو۔ نہ بہشت کی طمع نہ دوزخ کا خوف ہو۔ بلکہ اگر فرض کیا جاوے کہ نہ بہشت ہے نہ دوزخ ہے تب بھی جوشِ محبت اور اطاعت میں فرق نہ آوے۔ ایسی محبت جب خدا سے ہو تو اس میں ایک کشش پیدا ہو جاتی ہے اور کوئی فتور واقع نہیں ہوتا اور مخلوقِ خدا سے ایسے پیش آؤ کہ گویا تم ان کے حقیقی رشتہ دار ہو۔ یہ درجہ سب سے بڑھ کر ہے کیونکہ احسان میں ایک مادہ خود نمائی کا ہوتا ہے اور اگر کوئی احسان فراموشی کرتا ہو تو محسن جھٹ کہہ اٹھتا ہے کہ میں نے تیرے ساتھ فلاں احسان کئے لیکن طبعی محبت جو کہ ماں کو بچے کے ساتھ ہوتی ہے اس میں کوئی خود نمائی نہیں ہوتی بلکہ اگر ایک بادشاہ ماں کو یہ حکم دیوے کہ تو اس بچہ کو اگر مار بھی ڈالے تو تجھ سے کوئی باز پُرس نہ ہوگی تو وہ کبھی یہ بات سننی گوارا نہ کرے گی اور اس بادشاہ کو گالی دے گی۔ حالانکہ اسے علم بھی ہو کہ اس کے جوان ہونے تک میں نے مَر جانا ہے مگر پھر بھی محبت ذاتی کی وجہ سے وہ بچہ کی پرورش کو ترک نہ کرے گی۔ اکثر دفعہ ماں باپ بوڑھے ہوتے ہیں اور ان کو اولاد ہوتی ہے تو ان کی کوئی امید بظاہر اولاد سے فائدہ اٹھانے کی نہیں ہوتی لیکن باوجود اس کے پھر بھی وہ اس سے محبت اور پرورش کرتے ہیں۔ یہ ایک طبعی اَمر ہوتا ہے جو محبت اس درجہ تک پہنچ جاوے اسی کا اشارہ وَاِیۡتَآیِٔ ذِی الۡقُرۡبٰی(النحل:۹۱) میں کیا گیا ہے کہ اس قسم کی محبت خدا کے ساتھ ہونی چاہیے۔ نہ مراتب کی خواہش نہ ذلّت کا ڈر۔ جیسے آیت لَا نُرِیۡدُ مِنۡکُمۡ جَزَآءً وَّلَا شُکُوۡرًا(الدّھر:۱۰) سے ظاہر ہے غرضیکہ یہ باتیں ہیں جن کو یاد رکھنا چاہیے۔۱؎

یکم نومبر ۱۹۰۳ء

تہجد کی نماز کا طریق

عبد العزیز صاحب سیالکوٹی نے لائل پور میں یہ مسئلہ بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز اس طرح سے جیسا کہ اب تعامل اہل اسلام ہے بجانہ لاتے بلکہ آپ صرف اُٹھ کر قرآن پڑھ لیا کرتے اور ساتھ ہی یہ بھی بیان کیا کہ یہی مذہب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہے.... حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں بوساطت منشی نبی بخش صاحب اور مولوی نور الدین صاحب یہ اَمر تحقیق کے لیے پیش کیا گیا جس پر حضرت امام الزمان علیہ السلام نے مفصلہ ذیل فتویٰ دیا کہ

میرا یہ ہرگز مذہب نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ کر فقط قرآن شریف پڑھ لیا کرتے اور بس۔ میں نے ایک دفعہ یہ بیان کیا تھا کہ اگر کوئی شخص بیمار ہو یا کوئی اَور ایسی وجہ ہو کہ وہ تہجد کے نوافل ادا نہ کر سکے تو وہ اُٹھ کر استغفار، درود شریف اور الحمد شریف ہی پڑھ لیا کرے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ نوافل ادا کرتے۔ آپ کثرت سے گیارہ رکعت پڑھتے آٹھ نفل اور تین وتر آپ کبھی ایک ہی وقت میں ان کو پڑھ لیتے اور کبھی اس طرح سے ادا کرتے کہ دو رکعت پڑھ لیتے اور پھر سو جاتے اور پھر اُٹھتے اور دو رکعت پڑھ لیتے اور سو جاتے۔ غرض سو کر اور اُٹھ کر نوافل اسی طرح ادا کرتے جیسا کہ اب تعامل ہے اور جس کو اب چودھویں صدی گذر رہی ہے۔۱؎

۴؍نومبر ۱۹۰۳ء

(بوقتِ ظہر)

تقریر حضرت اقدس علیہ السلام

حضرت اقدس امام صادق علیہ الصلوٰۃ والسلام بوقتِ ظہر حسبِ معمول اندر سے مسجد مبارک میں تشریف لائے اور مسند کو زیب نشست بخش کر مولوی برہان الدین صاحب جہلمی سے مخاطب ہو کر دریافت فرمایا کہ۱؎

آپ کے چہرہ پر آثار پژمُردگی و پریشانی و حیرانی کیسے نظر آ رہے ہیں؟

عرض کی کہ حضور وجہ تو صرف یہی ہے کہ اب دوسرا کنارہ یعنی جہانِ ثانی نظر آ رہا ہے کیونکہ بوجہ پیرانہ سالی کے اب عالمِ آخرت کا ہی خیال رہتا ہے۔ گنتی ہی کے دن اب باقی سمجھنے چاہئیں مزید برآں عارضہ ضعف اور بھی اس کے سریع الوقوع ہونے پر شاہد ہے اور ضعف کا یہ باعث ہے کہ ابتدا میں کچھ مراقبہ و نفی و اثبات کا کسی قدر شغل رکھا ہے جس سے یہ عارضہ ضعف لاحق حال ہو گیا ہے۔

یہ سُن کر حضرت اقدس نے ایک معانی خیز اور پُر معارف لب و لہجہ کے ساتھ فرمایا کہ

بقیہ ایّام زندگی قادیان میں گذاریں

جب یہ حالت ہے تب تو ضرور ہی ان تمام عارضی تحیرات کو یکسو رکھ کر صرف ایک ہی آستانہ بارگاہِ ایزدی پر نظر رکھنی چاہیے کیونکہ ہر ایک سعادت کیش و متلاشی حق رُوح کا یہی مامن اور یہی ملجا و ماویٰ ہے اور چونکہ یہ مسلّمہ اَمر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیارے مقرّب کے پاس رہنا گویا ایک طرح سے خود خدا تعالیٰ کے پاس رہنا ہوتا ہے اس واسطے اب آپ کو باقی ایام زندگی اس جگہ قادیان میں گذارنے چاہئیں اور یہاں آ کر ڈیرا لگا دینا چاہیے اور اس شعر پر کاربند ہونا چاہیے۔

چو کار عمر ناپید است بارے این اولیٰ

کہ روز واقعہ پیش نگار خود باشم

یہاں تو مقولہ’’ یک دَر گیر ومحکم گیر ‘‘پر عمل کرنا ضروری ولازمی ہے ہر ایک کے لیے مناسب وواجب ہے کہ حسب استطاعت اپنے نفس کے ساتھ جہاد کر کے پوری سعی کرے تا کہ ٹھیک وقت پر سفر منزل محبوب حقیقی کے لیے طیاری کر سکے بغیر جوش محبت کے اس راہ پر قدم مارنا بڑا مشکل ہے اور ساتھ ہی اس پر استقلال واستقامت ضروری ہے جب یہ اَمر حاصل ہو جاوے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے جذب القلوب کا عمل بتدریج خود بخود شروع ہو جاوے گا جس سے صادقین کی محبت کی توفیق ملے گی اور اس صیقل تعشقِ الٰہی سے زنگار آئینہ دل محو ہو کر تزکیہ نفس و تطہیرِ قلب نصیب ہوگا۔ مگر تلاشِ حق کا بیج بونا مقدم ہے جس سے صدق وصفا کا پُر ثمر نخل پیدا ہوتا ہے اور محبت ذات ربّانی کی آب پاشی سے نشوونما پاتا ہے۔

بمنزلِ جانان رسد ہمان مردے

کہ ہمہ دم درتلاش او دوان باشد

آپ اپنی پہلی حالت کو یاد کریں جبکہ آغاز سال ۱۸۸۶ء میں صرف حِسْبَۃً لِلّٰہِ کا جوش آپ کو کشاں کشاں یہاں لایا تھا اور آپ پا پیادہ افتاں خیزاں اس قدر دور فاصلہ سے پہلے قادیان پہنچے تھے اور جب ہم کو اس جگہ نہ پایا تو اسی بیتابی و بیقراری کے جوش میں تگا پو کر کے پیدل ہی ہمارے پاس ہوشیار پور جا پہنچے تھے اور جب وہاں سے واپس ہونے لگے تو اس وقت ہم سے جُدا ہونا آپ کو بڑا شاق گذرتا تھا اب تو ایسا وقت آگیا ہے کہ آپ کو آگے ہی قدم مارنا چاہیے نہ یہ کہ الٹا تساہل وتکاہل میں پڑیں۔ اب تو زمانہ بزبانِ حال کہہ رہا ہے اور نشانات و علامات سماوی بآواز دہل پکار رہے ہیں کہ

چنیں زمانہ چنیں دور ایں چنیں برکات

تو بے نصیب روی وہ چہ این شقا باشد

فلک قریب زمیں شد ز بارش برکات

کجاست طالبِ حق تایقین فزا باشد

بجز اسیریٔ عشق رخش رہائی نیست

بدرد اُو ہمہ امراض را دوا باشد

غرض کہ پوری مستعدی و ہمت سے استقلال دکھلاویں۔ یہ آثار پژمُردگی ہمیں بر محل معلوم نہیں ہوتے۔ یہاں کا رہنا تو ایک قسم کا آستانہ ایزدی پر رہنا ہے۔ اس حوض کوثر سے وہ آب حیات ملتا ہے کہ جس کے پینے سے حیاتِ جاودانی نصیب ہوتی ہے جس پر ابدالآباد تک موت ہرگز نہیں آسکتی۔ اچھی طرح کمر بستہ ہوکر پورے استقلال سے اس صراط مستقیم کے راہ رو بنیں اور ہر قسم کی دنیوی روکاوٹوں اور نفسانی خواہشات کی ذرّہ پروا نہ کر کے اللہ تعالیٰ کے صادق مامور کی پوری معیت کریں تاکہ حکم وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ(التوبۃ:۱۱۹) کی فرمانبرداری کا سنہری تمغہ آپ کو حاصل ہو۔

یاد رکھیں کہ راستی و صداقت کے فرزند ہمیشہ جاہ وجلال کے تاجِ زرّیں کے وارث ہوا کرتے ہیں۔ راستبازی کے حاسد دشمنوں کا جو انجام ہوا کرتا ہے وہ بھی پوشیدہ نہیں۔

بسوزد آنکہ نہ سوزد بصدق در رہ یار

بمیرد آنکہ گریزندہ از فنا باشد

معلوم نہیں کہ آپ کو جہلم سے کیوں اُنس ہے حالانکہ اس کی میم نسبتی کو حذف کرنے کے بعد تو جہل ہی جہل رہ جاتا ہے۔ بھلا فہم و ذکا کو جہل سے کیا نسبت؟

مولوی صاحب نے عرض کی کہ حضور! واقعی یہ تو سچ ہے کہ جہلم بمعنی جہل مَن ہی ہے آخری میم نسبتی ہے۔

فرمایا کہ جب یہ حال ہے تو ایسے جہل کو ترک کرنا چاہیے۔ وہاں کی رہائش کو یہاں کی رہائش پر کسی طرح بھی ترجیح نہیں ہوسکتی۔ پھر اس حالت میں مامور من اللہ کی صحبت نہایت ضروری بلکہ مغتنمات سے ہے۔ خوش قسمت وہ جن کو یہ نعمتِ غیر مترقبہ نصیب ہو۔ جو شخص سب کچھ چھوڑ کر اس جگہ آکر آباد نہیں ہوتا یا کم از کم ایسی تمنّا دل میں نہیں رکھتا اس کی حالت کی نسبت مجھے بڑا اندیشہ ہے کہ مبادا وہ پاک کرنے والے تعلقات میں ناقص نہ رہے۔ اپنے گھروں، وطنوں اور املاک کو چھوڑ کر میری ہمسائیگی کے لیے قادیان میں بود و باش کرنا ’’اصحاب الصفہ ‘‘کا مصداق بننا ہے۔

اور یہ تو ایک ابتدائی مرحلوں میں سے ہے ورنہ مَردانِ خدا کو تو اگر اس سے بھی صدہا درجہ بڑھ کر دشواریوں ومصیبتوں کا سامنا ہو۔ تاہم وہ ان کی کچھ پروا نہیں کرتے بلکہ وفور جذبہ عشقِ محبوب حقیقی سے آگے ہی قدم مارتے ہیں اور اپنا تمام دھن، من، تن اسی راہ میں صرف کر دینے کو عین اپنی سعادت و خوش قسمتی سمجھتے ہیں اور یہی ان کا مقصود بالذّات ہوتا ہے کہ دنیوی علائق کے جالوں کو توڑ کر اور اس کے پھندوں سے مخلصی پا کر اس جمیع محامد کی جامع ذات ستودہ صفات کے آستانہ سراپا برکت خیز پر پہنچنے کا شرف حاصل کریں۔

نتابد از رہِ جانانِ خود سر اِخلاص

اگرچہ سیل مصیبت بزور ہا باشد

براہِ یارِ عزیز از بلا نہ پرھیزد

اگرچہ در رہِ آن یار اژدہا باشد

بدولتِ دو جہاں سر فرو نمے آرند

بعشق یار دل زارِ شان دوتا باشد

مَیں پھر توجہ دلاتا ہوں کہ درحقیقت مُولِ استقامت یہی ہے۔ کلام مجید میں ہے الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا(حٰمٓ السجدۃ:۳۱) یعنی جو اللہ تعالیٰ کی طرف آجاتے ہیں وہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہی راستہ پر نہیں آتے بلکہ اس صراط مستقیم پر استقامت بھی دکھلاتے ہیں۔ نتیجہ کیا ہوتا ہے کہ تطہیر و تنویرِ قلوب کی منزلیں طے کر لیتے ہیں اور بعد انشراحِ صدر کے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو حاصل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان کو اپنی خاص نعمتوں سے متمتع فرماتا ہے۔ محبت و ذوقِ الٰہی ان کی غذا ہو جاتی ہے۔ مکالمہ الٰہی، وحی، الہام و کشف وغیرہ انعاماتِ الٰہی سے مشرف و بہرہ مند کئے جاتے ہیں۔ درگاہ ربّ العزّت سے طمانیت و سکینت ان پر اُترتی ہے۔ حُزن و مایوسی ان کے نزدیک تک نہیں پھٹکتی۔ ہر وقت جذبہ محبت و ولولہ عشق الٰہی میں سرشار رہتے ہیں گویا لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ(البقرۃ:۱۱۳) کے پورے مصداق ہو جاتے ہیں۔ مادرَّ ما قال

کلید این ہمہ دولت محبت است و وفا

خوشا کسیکہ چنین دولتش عطا باشد

غرض استقامت بڑی چیز ہے۔ استقامت ہی کی بدولت تمام گروہ انبیاء ہمیشہ مظفر و منصور و بامُراد ہوتا چلا آیا ہے۔ ذات تقدس مآب باری تعالیٰ کے ساتھ ایک خالص ذاتی تعلق و گہرا پیوند قائم کرنا چاہیے جب یہ تعلق پورا قائم ہو جاوے پھر ہر ایک قسم کے خوف و خطر سے انسان محفوظ و مطمئن ہو جاتا ہے اور انشراح صدر کے بعد تمام بوجھ ہلکے ہو جاتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ صرف اس لیے کہ ان کو’’ ہر کہ در ایزدی یافت باز بر درِ دیگر نتافت ‘‘پر حق الیقین ہو جاتا ہے اور اس کی پُر ثمر تاثیرات ان کے لوحِ قلب پر منقّش ہو جاتی ہیں اور ان کے رگ و ریشہ میں سرایت کر گئی ہوتی ہیں اور بوجہ استیلائے محبت وت عشقِ الٰہی و شہود و عظمت و جلال ذات کبریائی ان کے قلبِ سلیم کا یہی ورد ہو جاتا ہے۔

نہ از چینم حکایت کن نہ از روم

کہ دارم دلستانے اندرین بوم

چو روئے خوب او آید بیادم

فراموشم شود موجود و معدوم

آپ اپنے سارے جسم و جان روح و رواں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ہو جاویں۔ پھر خدا تعالیٰ خود بخود تم سب کا حافظ و ناصر معین و کارساز ہو جاوے گا۔ چاہیے کہ انسان کے تمام قویٰ آنکھ، کان، دل، دماغ، دست و پا جملہ متمسک باللہ ہو جاویں۔ ان میں کسی قسم کا اختلاف نہ رہے اسی میں تمام کامیابیاں و نصرتیں ہیں یہی اصل مراقبہ ہے اسی سے حرارت قلبی و روحانیت پیدا ہوتی ہے اور اسی کی بدولت ایمانِ کامل نصیب ہوتا ہے۔

سب سے اوّل تو انسان کو اپنا مرض معلوم کرنا چاہیے جب تک مرض کی تشخیص نہ ہو علاج کیا ہو سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اطمینان نہ پانا یہی خطرناک مرض ہے یہ وہ حالت ہے جبکہ انسان نفسِ امّارہ کے زیرِ حکم چل رہا ہوتا ہے۔ اس وقت صرف محرکات بدی یعنی شیطان ہی کی اس پر حکومت ہوتی ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ سے دور افتادہ ہلاک ہونے والی ناپاک روحوں کا اس پر اثر ہوتا ہے۔

اس سے ذرا اُوپر انسان ترقی کرتا ہے تو اس وقت اس کا اپنے نفس کے ساتھ ایک جہاد شروع ہو جاتا ہے اس کی ایسی حالت کا نام لوامہ ہے اس وقت اگرچہ محرکات بدی سے اس کو پوری م خلصی نہیں ہوتی مگر محرکاتِ نیکی یعنی ملائکہ کی پاک تحریکات کی تاثیریں بھی اس پر موثر ہونے لگ جاتی ہیں ان نیک تحریکات کی قوت و طاقت سے نفسِ امّارہ سے اس کی ایک قسم کی کُشتی ڈٹ جاتی ہے اور ان کی مدد سے تحریکاتِ بدی پر غلبہ پاتے پاتے زینہ ترقی پر چڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور اگر فضلِ ایزدی شامل حال ہو تو بتدریج ترقی کرتا جاتا ہے۔ آخر کار اس نفس لوّامہ کی کُشتی جیت لینے پر تمام تحریکاتِ بدی کو مغلوب کر لیتا ہے اور اس مرحلہ سے اُوپر چڑھنے پر وہ ناپاک روحوں کی بری تحریکات کے نتائج بد سے بالکل محفوظ ہو کر امن الٰہی میں آجاتا ہے اس حالتِ کا میابی و ظفرمندی و فائز المرامی کا نام مطمئنہ ہے۔ اس وقت وہ ذات باری تعالیٰ سے آرام یافتہ ہوتا ہے اور اسی منزل پر پہنچ کر سالک کا سلوک ختم ہو جاتا ہے۔ تمام تکلّفات اٹھ جاتے ہیں اور بلحاظ مدارج روحانیت کے یہی جدوجہد کی انتہا اور اس کا مقصود ذاتی ہوتا ہے اس گوہر مقصود کے حصول پر وہ پورا کامیاب و فائز المرام ہو جاتا ہے۔ ہماری بعثت کی علّتِ غائی بھی تو یہی ہے کہ رستہ منزل جاناں کے بھولے بھٹکوں، دل کے اندھوں، جذام ضلالت کے مبتلاؤں، ہلاکت کے گڑھے میں گرنے والے کور باطنوں کو صراط مستقیم پر چلا کر وصالِ ذات ذوالجلال کا شیریں جام پلایا جاوے اور عرفانِ الٰہی کے اس نقطہ انتہائی تک ان کو پہنچایا جاوے تا کہ ان کو حیاتِ ابدی و راحت دائمی نصیب ہو اور جوارِ رحمتِ ایزدی میں جگہ لے کر مست و سرشار رہیں۔

ہماری معیت اور صحابت کی پاک تاثیرات کے ثمراتِ حسنہ بالکل صاف ہیں۔ ہاں ان کے ادراک کے لئے فہم رسا چاہیے ان کے حصول کے لیے رشد و صفا چاہیے ساتھ ہی استقامت کے لیے اتّقا چاہیے ورنہ ہماری جانب سے تو چار دانگ عالم کے کانوں میں عرصہ سے کھول کھول کر منادی ہو رہی ہے کہ

بیآمدم کہ رہ صدق را درخشانم

بدلستان برم آنرا کہ پارسا باشد

کسیکہ سایۂ بال ہماش سود نداد

ببایدش کہ دو روزے بظل ما باشد

گلے کہ روئے خزان را گہے نخواہد دید

بباغ ماست اگر قسمتت رسا باشد

ہم نے تو اس مائدہ الٰہی کو ہر کس و ناکس کے آگے رکھنے میں کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑا مگر آگے ان کی اپنی قسمت! وَمَا عَلَیۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ(یٰسٓ:۱۸)

‘‘مسیح موعودؑ کی مخالفت

اس سے تھوڑا زمانہ پہلے بڑے بڑے علماء لکھ گئے تھے کہ مہدی موعود و مسیح مسعود کی آمد کا زمانہ بالکل قریب ہے بلکہ بعض نے اس کی تائید میں اپنے اپنے مکاشفات بھی لکھے تھے جب اس نعمت کا وقت آیا تو تمام یہودی سیرتوں نے اس کے قبول کرنے سے اعراض کر دیا ہے اور صرف انکار پر ہی اکتفا نہیں کی بلکہ تکذیب پر ایسے تلے ہوئے ہیں کہ جس کا کوئی حد و حساب نہیں۔ مخالفت کا کوئی پہلو چھوڑ نہیں رکھا۔ ہر دجالیت و یہودیت کو عمل میں لایا جارہا ہے۔ ہر وقت فساد و شرارت کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ کون سا ایذا و تکلیف دہی کا راہ ہے جس پر وہ نہیں چلے۔ ہماری تخریب و استیصال کے لیے کون سا میدان تدبیر ہے جو ان کی اسپان مخالفت کی دوڑ دھوپ سے بچ رہا ہے۔ استہزاء و تضحیک کا کون سا پہلو باقی چھوڑا گیا ہے۔ یٰحَسۡرَۃً عَلَی الۡعِبَادِ ۚؑ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ(یٰسٓ:۳۱) مگر ان کی یہ فتنہ پردازیاں و گربہ مکاریاں کچھ بھی عند اللہ وقعت نہیں رکھتیں چہ جائیکہ ان کو کبھی کامیابی کا منہ دیکھنا بھی نصیب ہو۔

چراغے را کہ ایزد بر فروزد

ہر آنکس تف زند ریشش بسوزد

سچ پوچھو تو ان کی یہ مخالفتیں ہماری مزرعہ کامیابی کے لئے کھاد کا کام دے رہی ہیں کیونکہ اگر مخالفوں سے میدان صاف ہو جاوے تو اس میدان کے مَردانِ کارزار کے جوہر کس طرح ظاہر ہوں اور انعاماتِ الٰہی کی غنیمت سے ان کو کس طرح حصہ نصیب ہو اور اگر اعداء کی مخالفت کا بحرِ موّاج پایاب ہو جاوے تو اس کے غوّاصوں کی کیا قدر ہو اور وہ بحرِ معانی کے بے بہا گوہر کو کس طرح حاصل کر سکیں۔ مادرّ قال

گر نبودے در مقابل روئے مکروہ و سیاہ

کس چہ دانستے جمال شاہد گلفام را

گر نیفتادی بخصمے کار در جنگ و نبرد

کے شدی جو ہر عیاں شمشیر خوں آشام را

اس مخالفت کا کوئی ایسا ہی سِر معلوم ہوتا ہے وَ اِلَّا ان کی مخالفت کے ارادے عند اللہ کیا قدر رکھتے ہیں۔ اس ذات قادرِ مطلق کا تو صاف حکم ہے حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ(المائدۃ:۵۷) اور اس جنگ و جدال کا آخری انجام بھی بتا دیا ہے کہ وَالۡعَاقِبَۃُ لِلۡمُتَّقِیۡنَ(الاعراف:۱۲۹) مگر افسوس کہ با ایں ہمہ کوتاہ اندیش نہیں سمجھتے حالانکہ اس نصرتِ الٰہی و تائید ایزدی کا انہیں مشاہدہ و تجربہ بھی ہوتا رہتا ہے اور ان کی مذلّت و خسران و نامُرادی کا انجام بھی کوئی پوشیدہ نہیں ہے کیوں نہ ہو۔

خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے

جب آتی ہے تو پھر عالم کو اک عالم دکھاتی ہے

وہ بنتی ہے ہوا اور ہر خسِ راہ کو اُڑاتی ہے

وہ ہو جاتی ہے آگ اور ہر مخالف کو جلاتی ہے

غرض رُکتے نہیں ہرگز خدا کے کام بندوں سے بھلا خالق کے آگے خلق کی کچھ پیش جاتی ہے قطع نظر ان یبوست مجسم مولویوں وخشک ملانوں کے موجودہ زمانہ کے فقرا کا گروہ بھی کچھ کم نہیں ہے ان میں ریا کاری و ذاتی اغراض کی ایک زہر ہوتی ہے جو آخرکار ان کو ہلاک کر ڈالتی ہے ان کا ہر ایک قول وفعل وعمل ان کی نفسانی اغراض کے تابع ہوتا ہے اور اس میں کوئی نہ کوئی نہاں در نہاں ذاتی غرض مرکوزِ خاطر ہوتی ہے۔ مثلاً خواہش مسخرات وطلبِ دنیا وجاہ طلبی وغیرہ وغیرہ تاکہ لوگ ان کی طرف رجوع کریں اور ان کی دنیوی عزّت و مال و متاع میں ترقی ہو جس سے اپنے نفسِ امّارہ کو خوش رکھیں۔ یہ ایسا سمِّ قاتل ہے کہ اس کا انجام ہلاکت ہے بعض ان میں سے زمین کھود کر چلّہ کرتے ہیں نہ یہ حکمِ الٰہی ہے اور نہ سنّتِ طریق نبوی۔ ریا کاری ومکّاری کا خود تراشیدہ ایک خاصہ ڈھنگ ہے تاکہ لوگوں کو دامِ تزویر میں لایا جاوے اور یہی ان کی دلی غرض ہوتی ہے ان کے ایسے عملوں کی مثال میدانی سراب جیسی ہے کہ دور سے تو خوش نما مصفَّا پانی دکھائی دیتا ہے مگر نزدیک جانے پر اس کی اصل حقیقت کھل جاتی ہے کہ وہ تو صرف آنکھوں کو دھوکا ہی دھوکا تھا۔ اس وقت تشنگانِ آبِ زلال کو بجز حسرت و پشیمانی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا ایسے ریا کاروں کو جہنم سے حصہ ملتا ہے کیونکہ حق تعالیٰ سے وہ بالکل بیگانے اور کوچہ یار حقیقی سے بالکل نا آشنا ہوتے ہیں وہ معرفت الٰہی میں دل کے مُردہ اور تن بگور ہوتے ہیں شائد ایسوں ہی کے لیے یہ خطاب ہے۔

کاملان حیّ اند ہم زیر زمین

تو بگوری با حیات این چنی

ن ان کی موت کی حالت عوام کالانعام سے بدتر ہوتی ہے کیونکہ عوام تو سیدھے پن سے جیسا ان کو سمجھ میں آتا ہے ایسا ہی عمل کر لیتے ہیں۔ ان کی طبیعت میں کوئی تکلّف نہیں ہوتا بالکل سادگی سے دین العجائز پر چلتے ہیں مگر موجودہ فقرا کا گروہ تو عمداً اغراض نفسانی کو ملحوظ خاطر رکھ کر ان تمام ریا کاری کے کاموں کو ایک مزوِّرانہ طلسمات کے رنگ میں ظاہر کر رہا ہے۔ انہیں عاقبت کی کچھ پروا نہیں۔

مناز با کلۂ سبز و خرقۂ پشمین

کہ زیرِ دلق ملمع فریب ہا باشد

سو ہماری جماعت کو چاہیے کہ ایسے تصنّعات سے اپنے آپ کو بچاویں اور اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راہ اور سنّت نبوی پر محکم قدم رکھ کر چلیں تا کہ منزل مقصود پر پہنچنے کے لیے ان کو کوئی روک حائل نہ ہو اور یہ چند روزہ زندگی رائیگاں نہ جاوے جو آخرت میں سخت ندامت، ذلّت و حسرت کا باعث ہووے۔ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو توفیق دیوے کہ وہ محض اِبْتِغَآءً لِمَرْضَاتِ اللّٰہِ کی غرض سے راہِ مستقیم پر چل کر منزلِ مقصود پر پہنچ جاویں اور تخلیق انسانی کے اصل مدعا کو پورا کریں۔ آمین ثم آمین (۴؍نومبر ۱۹۰۳ء) (نوٹ۔ باستثنائے ایک شعر کے جو سرعنوان درج ہے باقی اشعار مندرجہ مضمون ہذا اعلیٰ حضرت اقدس جناب امام صادق علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اثنائے تقریر میں نہیں فرمائے تھے مگر چونکہ بجز ایک شعر

بمنزلِ جاناں رسد ہماں مردے

کہ ہمہ دم در تلاشِ او دوان باشد

کے جو بوقتِ تحریر مضمون ہذا کے بے ساختہ روانی طبع سے احقر کے منہ سے نکل گیا ہے باقی ماندہ اکثر اشعار نے خود حضرت اقدس ہی کی زبان گوہر فشان سے جنم لیا ہوا ہے اور ان مواقعات پر چسپاں بھی تھے اس واسطے مناسب مواقع پر لکھ دئیے گئے ہیں بذاتِ خود بھی یہ حقائق معارف کا ایک خزینہ ہیں وثوق کامل ہے کہ ان کا ان مواقعات مناسبہ پر چسپاں ہونا بفضلہٰ تعالیٰ بہت سے سعید فطرت و راستی پسند طبائع کو تکشیف حقائق و تلخیص دقائق میں مدد دے گا۔ جس سے ان کو احقاقِ حق و ابطالِ باطل کی توفیق ملے گی اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ آمین ثم آمین۔ والسلام۔ ۵؍نومبر ۱۹۰۳ء۔ امام صادق علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کمترین خادم احقر العباد الٰہ داد احمدی کلارک ضلع شاہ پور حال وارد قادیان۱؎

۵؍نومبر ۱۹۰۳ء

ا

ولیاء اصفیاء پر مصائب کی وجہ

فرم ا یا کہ آ ج کل ہندوستان سے ایک عورت آئی ہوئی ہیں (ان کے خاوند بھی آئے ہوئے تھے) وہ اکثر سوال کرتی رہتی ہیں اور میں ان کو سمجھایا کرتا ہوں۔ ایک دن سوال کیا کہ اولیاؤں اور پیغمبروں پر بڑی بڑی مصیبت آتی ہے اور وہ ہمیشہ مصیبت کا نشانہ بنے رہتے ہیں۔ تو میں نے جواب دیا کہ یہ بات غلط ہے اور قرآن شریف کے بھی بالکل برخلاف ہے۔ خدا کے اولیاؤں اور نبیوں پر تو ہمیشہ اس کے انعامات ہوتے ہیں وہ ان کا ہر مقام میں حافظ و ناصر ہوتا ہے پھر ان پر مصیبت کے کیا معنے؟ عملی طور پر دیکھ لو کہ حضرت موسٰی کو کیا کامیابی حاصل ہوئی۔ ان کا دشمن غرقاب کیا گیا اور موسٰی کو ان پر فتح حاصل ہوئی۔ پھر داؤدؑ کو دیکھ لو۔ عیسٰیؑ کو دیکھو کہ ان کے دشمن ہمیشہ ذلیل و خوار ہوتے رہے اور یہ سب کامیاب ہوتے رہے۔ ہمارے پیغمبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو عروج حاصل ہوا کیا اس کی نظیر مل سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ ہرگز ہرگز یہ لوگ فقر و ذلّت کے مصداق نہیں ہوتے۔ اَلدُّنْیَا سِـجْنٌ لِّلْمُؤْمِنِ میں اگر سجن کے معنی نسبتی کریں کہ اہل اللہ کو جو کچھ جنّت میں ملے گا اس کے مقابلے میں یہ دنیا سجن ہے تو ٹھیک ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اپنے اولیاء کو کبھی عذاب نہیں کرتے بلکہ اس دلیل سے یہود و نصاریٰ کے دعویٰ کی تردید کرتا ہے ان دونوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وَقَالَتِ الۡیَہُوۡدُ وَالنَّصٰرٰی نَحۡنُ اَبۡنٰٓؤُا اللّٰہِ وَاَحِبَّآؤُہٗ(المائدۃ:۱۹) کہ ہم خدا کے پیارے اور بمنزلہ اس کی اولاد کے ہیں تو اس کا جواب خدا تعالیٰ نے یہ دیا قُلۡ فَلِمَ یُعَذِّبُکُمۡ بِذُنُوۡبِکُمۡ(المائدۃ:۱۹) کہ اگر تم خدا کے پیارے اور بمنزلہ اس کی اولاد کے ہو تو پھر تمہاری شامتِ اعمال پر تم کو وہ دکھ اور تکالیف کیوں دیتا ہے؟ پس اس سے ثابت ہے کہ جو خدا کے پیارے ہوتے ہیں ان کو دنیا میں دکھ نہیں ہوتا اور وہ ہر ایک قسم کے عذاب سے محفوظ ہوتے ہیں (اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْھُمْ) پس اگر اس کے پیاروں کو عذاب ہوتا رہے تو پھر کافروں میں اور ان میں کیا فرق ہوا؟ انبیاء پر اگر کوئی واقعہ مصیبت کے رنگ میں آتا ہے تو اس سے خدا تعالیٰ کا یہ منشا ہوتا ہے کہ ان کے اخلاق کو وہ دنیا پر ظاہر کرے کہ جو ہماری طرف سے آتے ہیں اور ہمارے ہو جاتے ہیں وہ کن اخلاق فاضلہ کے صاحب ہوتے ہیں۔ امام حسینؑ پر بھی ایسا واقعہ گذرا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایسے واقعات گذرے مگر صبر اور استقلال اور خدا تعالیٰ کی رضا کو کس طرح مقدم رکھ کر بتلایا۔

انسان کے اخلاق ہمیشہ دو رنگ میں ظاہر ہو سکتے ہیں یا ابتلا کی حالت میں اور یا انعام کی حالت میں۔ اگر ایک ہی پہلو ہو اور دوسرا نہ ہو تو پھر اخلاق کا پتا نہیں مل سکتا۔ چونکہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق مکمل کرنے تھے۔ اس لیے کچھ حصہ آپ کی زندگی کا مکّی ہے اور کچھ مدنی۔ مکہ کے دشمنوں کی بڑی بڑی ایذا رسانی پر صبر کا نمونہ دکھایا اور باوجود ان لوگوں کے کمال سختی سے پیش آنے کے پھر بھی آپ ان سے حلم اور بردباری سے پیش آتے رہے اور جو پیغام خدا کی طرف سے لائے تھے اس کی تبلیغ میں کوتاہی نہ کی۔ پھر مدینہ میں جب آپ کو عروج حاصل ہوا اور وہی دشمن گرفتار ہو کر پیش ہوئے تو ان میں سے اکثروں کو عفو کر دیا۔ باوجود قوتِ انتقام پانے کے پھر انتقام نہ لیا۔

مولوی عبد اللطیف صاحب کا نمونہ صبر و استقلال

اب حال میں مولوی عبد اللطیف صاحب شہید مرحوم کا نمونہ دیکھ لو کہ کس قدر صبر اور استقلال سے انہوں نے جان دی ہے ایک شخص کو بار بار جان جانے کا خوف دلایا جاتا ہے اور اس سے بچنے کی امید دلائی جاتی ہے کہ اگر تو اپنے اعتقاد سے بظاہر توبہ کر دے تو تیری جان نہ لی جاوے گی مگر انہوں نے موت کو قبول کیا اور حق سے رُوگردانی پسند نہ کی۔ اب دیکھو اور سوچو کہ اسے کیا کیا تسلی اور اطمینان خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہو گا کہ وہ اس طرح پر دنیا و ما فیہا پر دیدہ دانستہ لات مارتا ہے اور موت کو اختیار کرتا ہے اگر وہ ذرا بھی توبہ کرتے تو خدا جانے امیر نے کیا کچھ اس کی عزّت کرنی تھی مگر انہوں نے خدا کے لیے تمام عزّتوں کو خاک میں ملایا اور جان دینی قبول کی۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ آخر دم تک اور سنگساری کے آخری لمحہ تک ان کو مہلت توبہ کی دی جاتی ہے اور وہ خوب جانتے تھے کہ میرے بیوی بچے ہیں لاکھ ہاروپے کی جائداد ہے دوست یار بھی ہیں ان تمام نظاروں کو پیش چشم رکھ کر اس آخری موت کی گھڑی میں بھی جان کی پروانہ کی۔ آخر ایک سرور اور لذّت کی ہوا ان کے قلب پر چلتی تھی جس کے سامنے یہ تمام فراق کے نظارے ہیچ تھے۔ اگر ان کو جبراً قتل کر دیا جاتا اور جان کے بچانے کا موقع نہ دیا جاتا تو اور بات تھی۔ مجبوراً تو ایک عورت کو بھی انسان قتل کر سکتا ہے مگر ان کو بار بار موقع دیا گیا باوجود اس مہلت ملنے کے پھر موت اختیار کرنی بڑے ایمان کو چاہتی ہے۔ اولیاء اللہ کی ایک خصلت ہوتی ہے کہ وہ موت کو پسند کرتے ہیں سو انہوں نے ظاہر کی۔

ہمارے کام کا انسان

ہمارے کام کا وہ انسان ہوسکتا ہے جبکہ ایک مدّت اور نہیں تو کم از کم ایک سال ہماری مجلس میں رہے اور تمام ضروری امور کو سمجھ لیوے اور ہم اطمینان پا جاویں کہ تہذیب نفس اسے حاصل ہوگئی ہے تب وہ بطور سفیر وغیرہ کے یورپ وغیرہ ممالک میں جاسکتا ہے مگر تہذیبِ نفس مشکل مرحلہ ہے پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھنا آسان مگر یہ مشکل۔ دینی تعلیم کے لیے بہت علوم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ طہارتِ قلب اَور شَے ہے خدا ایک نور جب دل میں پیدا کر دیتا ہے تو اس سے علوم خود حاصل ہوتے جاتے ہیں۔۱؎

۱۰؍نومبر ۱۹۰۳ء

(بوقتِ ظہر)

اپنے آپ کو ہر آن خدا تعالیٰ کا محتاج سمجھو

شیخ فضل الٰہی صاحب سوداگر رئیس صدر بازار راولپنڈی جن کو بابو شاہ دین صاحب نے حضرت اقدس سے انٹروڈیوس کیا اور جناب محمد رمضان صاحب ٹھیکیدار جہلم اور چند دیگر اصحاب نے بیعت کی۔ بعد بیعت حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ذیل کی تقریر فرمائی۔ مذہب یہی ہے کہ انسان خوب غور کرے اور دیکھے اور عقل سے سوچے کہ وہ ہر آن میں خدا کا محتاج ہے اور اسی کی طرف عجز سے آئے انسان کی جان پر، مال پر، آبرو پر بڑے بڑے مصائب اور حملے ہوتے ہیں لیکن سوائے خدا کے اور کوئی نجات دینے والا نہیں ہوتا اور ان موقعوں پر ہر ایک قسم کا فلسفہ خود بخود شکست کھا جاتا ہے جن لوگوں نے ایسے اصولوں پر قائم ہونا چاہا ہے کہ جس میں وہ خدا کی حاجت کو تسلیم نہیں کرتے۔ حتی کہ’’ انشاء اللہ ‘‘بھی زبان سے نکالنا ان کے نزدیک معیوب ہے مگر پھر بھی جب موت کا وقت آتا ہے تو ان کو اپنے خیالات کی حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔ بات یہ ہے کہ ہر آن میں اور اپنے ہر ایک ذرّہ کے قیام کے لیے انسان کو خدا کی حاجت اور ضرورت ہے اور اگر وہ انانیت سے نکل کر غور سے دیکھے تو تجربہ سے اسے خود پتا لگ جاتا ہے کہ وہ کس قدر غلطی پہ تھا اپنے آپ کو ہر آن واحد میں خدا کا محتاج جاننا اور اس کے آستانہ پر سر رکھنا یہی اسلام ہے اور اگر کوئی مسلمان ہو کر اسلام کے طریق کو اختیار نہیں کرتا اور اس پر قدم نہیں مارتا تو پھر اس کا اسلام ہی کیا ہے؟ اسلام نام ہے خدا کے آگے گردن جھکا دینے کا۔ ذرا سوچ کر دیکھو کہ اگر انسان کو ایک سوئی نہ ملے تو اس کا کس قدر حرج ہوتا ہے تو پھر کیا خدا کا وجود ایسا ہو سکتا ہے کہ اس کی ضرورت انسان کو نہ ہو اور اس کے وجود کے بغیر وہ زندہ رہ سکے۔ جب تک انسان کو صحت، مال، اقتدار حاصل ہوتا ہے تب تک تو اس کا یہ مذہب ہوتا ہے کہ اسباب پر توکّل اور بھروسہ نہ کرے اور اپنے آپ کو خدا کا محتاج نہ جانے، لیکن جب مصائب اور مشکلات آکر پڑتے ہیں تو اس وقت یہ مذہب خود بخود بدلنا پڑتا ہے۔ اسی لیے جو لوگ مصائب اور شدائد کا نشانہ رہتے ہیں ان کا مذہب ہی اور ہوتا ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ایک ایسے وجود کی ضرورت ہے جو طاقت والا ہو اور ہمیں پناہ دے سکے۔ ایک صاحب محمد رمضان ہوتے تھے وہ خدا کے قائل نہ تھے مگر جب مرض الموت نے آکر ان کو پکڑا تو آخر اپنا مذہب بدلا اور اس وقت کہتے تھے کہ اگر ایک دفعہ مجھے تندرستی حاصل ہو جاوے تو میں پھر کبھی خدا کے وجود سے منکر نہ ہوں گا۔ اس لیے انسان کو لازم ہے کہ ہمیشہ غفلت سے پرہیز کرے اور اس ذات پر نظر رکھے جس کے بغیر ایک ذرّہ کا قیام بھی مشکل ہے۔ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ(الصّٰفّٰت:۳۶) کے یہی معنے ہیں کہ انسان اس کی طرف بار بار رجوع کرے اور اس کے مقابلے پر کسی اور وجود اور شَے کو متصرّف اور مقتدر نہ جانے۔ جو شخص ایک بکری رکھتا ہے تو اس سے اسی وقت مستفید ہوتا ہے دودھ حاصل کرتا ہے لیکن جس نے خدا کا نام لے کر اس کی ضرورت کو بالکل محسوس نہ کیا اور نظر استخفاف سے اسے دیکھا اور ایک فرضی بت کی طرح اس کے وجود کو سمجھا تو خدا کو اس شخص کی کیا پروا ہے۔

انسان پر جو انقلابات آتے ہیں وہ اس ہستی کی ضرورت کو خود ثابت کرتے ہیں۔ اس جماعت میں داخل ہو کر اوّل تغیر زندگی میں کرنا چاہیے کہ خدا پر ایمان سچا ہو کہ وہ ہر مصیبت میں کام آتا ہے۔ پھر اس کے احکام کو نظر خفت سے ہرگز نہ دیکھا جاوے بلکہ ایک ایک حکم کی تعظیم کی جاوے اور عملاً اس تعظیم کا ثبوت دیا جاوے مثلاً نماز کا حکم ہے۔ جب ایک شخص اسے بجالاتا ہے اور نماز ادا کرتا ہے تو بعض لوگ اس سے تمسخر کرتے ہیں اور آج کل بہت لوگ نام کے مسلمان ہیں جو کہ ارکانِ نماز کی بجا آوری کو ایک بیہودہ حرکت کہتے ہیں لیکن ایک مومن کو ہرگز لازم نہیں کہ ان باتوں اور ہنسی اور استہزا سے وہ اس کی ادائیگی کو ترک کرے۔ لوگوں کے ایسے خیالات اور خدا کے احکام کو نظر استخفاف کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ عذاب کو چاہتا ہے۔ ان لوگوں کی زندگی مُردوں کی سی ہے۔ انبیاء کے سلسلہ پر کہ جس کے ذریعہ سے ایمان حاصل ہوتا ہے ان کو ایمان نہیں ہے۔ مگر ہم سچی اور حقیقی رؤیت سے گواہی دیتے ہیں کہ خدا برحق ہے اور سلسلہ انبیاء کا برحق ہے۔ مَرنے پر ان لوگوں کو پتا لگے گا کہ جنّت اور دوزخ سب کچھ جس سے آج یہ منکر ہیں برحق ہے۔

رعایتِ اسباب

جب سے آزادی کے خیالات اور تعلیم نے دلوں اور دماغوں میں جگہ لی ہے اُس وقت سے بہت بگاڑ پھیلا ہے۔ خیالات ایسے پراگندہ ہو گئے ہیں کہ شریعت کو خود ترمیم کر لیا ہے۔ دنیا کو اپنا مقصود بنا رکھا ہے۔ شریعت نے ایک حد تک رعایتِ اسباب کی اجازت دی ہے۔ مثلاً اگر ایک قطعہ زمین کا ہو اور اسے کاشت نہ کیا جاوے تو اس کی نسبت سوال ہوگا کہ کیوں کاشت نہ کیا؟ مگر بہ ہمہ وجوہ اسباب پر سرنگوں ہونا اور اسی پر بھروسہ کرنا اور خدا پر توکّل چھوڑ دینا یہ شرک ہے اور گویا خدا کی ہستی سے انکار۔ رعایت اسباب اس حد تک کرنی چاہیے کہ شرک لازم نہ آوے۔ ہمارا مذہب یہ ہے کہ ہم رعایتِ اسباب سے منع نہیں کرتے مگر اس پر بھروسہ کرنے سے منع کرتے ہیں۔ دل با یار اور دست با کار والی بات ہونی چاہیے لیکن حال میں دیکھا جاتا ہے کہ زبانوں پر تو سب کچھ ہے توکّل بھی ہے۔ توحید بھی ہے مگر دل میں مقصود بالذّات صرف دنیا کو بنا رکھا ہے۔ رات دن اسی خیال میں ہیں کہ مال بہت سامل جاوے۔ عزّت دنیا میں حاصل ہو۔ یہ لوگ یہ خیال نہیں کرتے کہ ہم زہر کھا رہے ہیں جس نے ہلاک کر دینا ہے۔

ہماری شریعت اور ہمارا دین دنیا میں کوشش کرنے سے نہیں روکتے صرف اتنی بات ہے کہ دین کو مقدم رکھ کر اگر کوشش کرے تو تلاش اسباب جرم نہیں ہے ہاں ایسے طور پر جسے خدا نے حرام ٹھہرایا ہے نہ ہو۔ جیسے کہ رشوت اور ظلم وغیرہ سے روپیہ کمایا جاتا ہے۔ اگر خدا کی راہ میں صرف کرنے، اولاد پر خرچ کرنے اور صدقات وغیرہ کے لیے تلاش اسباب کی جائے تو حرج نہیں کیونکہ مال بھی تو ذریعہ قرب الٰہی ہوتا ہے مگر خدا کو بالکل چھوڑ دینا اور بالکل اسباب کا ہو رہنا یہ ایک جذام ہے اور جب تک کہ قبض روح نہ ہو جاوے اس کی خبر نہیں ہوتی۔ خدا سے ڈرنا اور تقویٰ اختیار کرنا یہ بڑی نعمت ہے جسے حاصل کرنا چاہیے اور متکبر گردن کش نہ ہونا چاہیے۔

حقیقی اخلاق

اخلاق دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ ہیں جو آج کل کے نو تعلیم یافتہ پیش کرتے ہیں کہ ملاقات وغیرہ میں زبان سے چاپلوسی اور مداہنہ سے پیش آتے ہیں اور دلوں میں نفاق اور کینہ بھرا ہوا ہوتا ہے۔ یہ اخلاق قرآن شریف کے خلاف ہیں۔ دوسری قسم اخلاق کی یہ ہے کہ سچی ہمدردی کرے۔ دل میں نفاق نہ ہو اور چاپلوسی اور مداہنہ وغیرہ سے کام نہ لے جیسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَالۡاِحۡسَانِ وَاِیۡتَآیِٔ ذِی الۡقُرۡبٰی(النحل:۹۱) تو یہ کامل طریق ہے اور ہر ایک کامل طریق اور ہدایت خدا کے کلام میں موجود ہے جو اس سے روگردانی کرتے ہیں وہ اور جگہ ہدایت نہیں پاسکتے۔ اچھی تعلیم اپنی اثر اندازی کے لیے دل کی پاکیزگی چاہتی ہے جو لوگ اس سے دور ہیں اگر عمیق نظر سے ان کو دیکھو گے تو ان میں ضرور گند نظر آئے گا۔ زندگی کا اعتبار نہیں ہے۔ نماز، صدق وصفا میں ترقی کرو۔۱؎

بلا تاریخ

ایمان کی حقیقت

ایمان اس بات کو کہتے ہیں کہ اس حالت میں مان لینا جبکہ ابھی علم کمال تک نہیں پہنچا اور شکوک اور شبہات سے ہنوز لڑائی ہے۔ پس جو شخص ایمان لاتا ہے یعنی باوجود کمزوری اور نہ مہیا ہونے کل اسباب یقین کے اس بات کو اغلب احتمال کی وجہ سے قبول کر لیتا ہے وہ حضرتِ احدیت میں صادق اور راستباز شمار کیا جاتا ہے اور پھر اس کو موہبت کے طور پر معرفت تامہ حاصل ہوتی ہے اور ایمان کے بعد عرفان کا جام اس کو پلایا جاتا ہے۔ اس لیے ایک مرد متقی رسولوں اور نبیوں اور مامورین من اللہ کی دعوت کو سن کر ہر ایک پہلو پر ابتداء اَمر میں ہی حملہ کرنا نہیں چاہتا بلکہ وہ حصہ جو کسی مامور من اللہ کے ہونے پر بعض صاف اور کھلے کھلے دلائل سے سمجھ آجاتا ہے۔ اسی کو اپنے اقرار اور ایمان کا ذریعہ ٹھہرالیتا ہے اور وہ حصہ جو سمجھ میں نہیں آتا اس میں سنّت صالحین کے طور پر استعارات اور مجازات قرار دیتا ہے اور اس طرح تناقض کو درمیان سے اُٹھا کر صفائی اور اخلاص کے ساتھ ایمان لے آتا ہے تب خدا تعالیٰ اس کی حالت پر رحم کر کے اور اس کے ایمان پر راضی ہو کر اور اس کی دعاؤں کو سن کر معرفت تامہ کا دروازہ اس پر کھولتا ہے اور الہام اور کشوف کے ذریعہ سے اور دوسرے آسمانی نشانوں کے وسیلہ سے یقین کامل تک اس کو پہنچاتا ہے، لیکن متعصّب آدمی جو عناد سے پُر ہوتا ہے ایسا نہیں کرتا اور نہ وہ ان اُمور کو جو حق کے پہچاننے کا ذریعہ ہو سکتے ہیں تحقیر اور توہین کی نظر سے دیکھتا ہے اور ٹھٹھے اور ہنسی میں ان کو اُڑا دیتا ہے اور وہ امور جو ہنوز اس پر مشتبہ ہیں ان کو اعتراض کرنے کی دستاویز بناتا ہے اور ظالم طبع لوگ ہمیشہ ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔

آیاتِ بینات،محکمات اور آیات متشابہات

چنانچہ ظاہر ہے کہ ہر ایک نبی کی نسبت جو پہلے نبیوں نے پیشگوئیاں کیں ان کے ہمیشہ دو حصے ہوتے رہے ہیں۔ ایک بینات اور محکمات جن میں کوئی استعارہ نہ تھا اور کسی تاویل کی محتاج نہ تھیں اور ایک متشابہات جو محتاجِ تاویل تھیں اور بعض استعارات اور مجازات کے پردے میں محجوب تھیں۔ پھر ان نبیوں کے ظہور اور بعثت کے وقت جو ان پیشگوئیوں کے مصداق تھے دو فریق ہوتے رہے ہیں۔ ایک فریق سعیدوں کا جنہوں نے بینات کو دیکھ کر ایمان لانے میں تاخیر نہ کی اور جو حصہ متشابہات کا تھا اس کو استعارات اور مجازات کے رنگ میں سمجھ لیا۔ آئندہ کے منتظر رہے۱؎ اور اس طرح پر حق کو پالیا اور ٹھوکر نہ کھائی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بھی ایسا ہی ہوا۔ پہلی کتابوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت دو طور کی پیشگوئیاں تھیں ایک یہ کہ وہ مسکینوں اور عاجزوں کے پیرایہ میں ظاہر ہوگا اور غیر سلطنت کے زمانہ میں آئے گا اور داؤد کی نسل سے ہوگا اور حلم اور نرمی سے کام لے گا اور نشان دکھلائے گا اور دوسری قسم کی یہ پیشگوئیاں تھیں کہ وہ بادشاہ ہوگا اور بادشاہوں کی طرح لڑے گا اور یہودیوں کو غیر سلطنت کی ماتحتی سے چھوڑا دے گا اور اس سے پہلے ایلیاء نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا اور جب تک ایلیاء نبی دوبارہ دنیا میں نہ آوے وہ نہیں آئے گا۔ پھر جب حضرت عیسٰیؑ نے ظہور فرمایا تو یہود دو فریق ہوگئے۔ ایک فریق جو بہت ہی کم اور قلیل التعداد تھا۔ اس نے حضرت مسیحؑ کو داؤد کی نسل سے پا کر اور پھر ان کی مسکینی اور عاجزی اور راستبازی دیکھ کر اور پھر آسمانی نشانوں کو ملاحظہ کر کے اور نیز زمانہ موجودہ کو دیکھ کر کہ وہ ایک نبی مصلح کو چاہتی ہے اور پہلی پیشگوئیوں کے قرارداد وقتوں کا مقابلہ کر کے یقین کر لیا کہ یہ وہی نبی ہے جس کا اسرائیل کی قوم کو وعدہ دیا گیا تھا۔ سو وہ حضرت مسیح پر ایمان لائے اور ان کے ساتھ ہو کر طرح طرح کے دُکھ اُٹھائے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک اپنا صدق ظاہر کیا لیکن جو بدبختوں کا گروہ تھا اُس نے کھلی کھلی علامتوں اور نشانوں کی طرف ذرّہ التفات نہ کیا۔ یہاں تک کہ زمانہ کی حالت پر بھی ایک نظر نہ ڈالی اور شریرانہ حجت بازی کے ارادے سے دوسرے حصے کو جو متشابہات کا حصہ تھا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور نہایت گستاخی سے اس مقدس کو گالیاں دینی شروع کیں اور اس کا نام ملحد اور بے دین اور کافر رکھا اور یہ کہا کہ یہ شخص پاک نوشتوں کے اُلٹے معنے کرتا ہے اور اس نے ناحق ایلیاہ نبی کے دوبارہ آنے کی تاویل کی ہے اور نصِّ صریح کو اس کے ظاہر سے پھیرا ہے اور ہمارے علماء کو مکار اور ریاکار کہتا ہے اور کتب مقدسہ کے اُلٹے معنے کرتا ہے اور نہایت شرارت سے اس بات پر زور دیا کہ نبیوں کی پیشگوئیوں کا ایک حرف بھی صادق نہیں آتا وہ نہ بادشاہ ہو کر آیا اور نہ غیر قوموں سے لڑا اور نہ ہم کو ان کے ہاتھ سے چھوڑایا اور نہ اس سے پہلے ایلیاء نبی نازل ہوا پھر وہ مسیح موعود کیوں کر ہوگیا۔ غرض ان بدقسمت شریروں نے سچائی کے انوار اور علامات پر نظر ڈالنا نہ چاہا اور جو حصہ متشابہات کا پیشگوئیوں میں تھا اس کو ظاہر پر حمل کر کے بار بار پیش کیا۔ یہی ابتلا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اکثر یہودیوں کو پیش آیا۔ انہوں نے بھی اپنے اسلاف کی عادت کے موافق نبیوں کی پیشگوئیوں کے اس حصہ سے فائدہ اُٹھانا نہ چاہا جو بیّنات کا حصہ تھا اور متشابہات جو استعارات تھے اپنی آنکھ کے سامنے رکھ کر یا تحریف شدہ پیشگوئیوں پر زور دے کر اس نبی کریم کی دولتِ اطاعت سے جو سیّد الکونین ہے محروم رہ گئے اور اکثر عیسائیوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ انجیل کی کھلی کھلی پیشگوئیاں ہمارے صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں تھیں۔ ان کو تو ہاتھ تک نہ لگایا اور جو سنّت اللہ کے موافق پیشگوئیوں کا دوسرا حصہ یعنی استعارات اور مجازات تھے ان پر گر پڑے اس لئے حقیقت کی طرف راہ نہ پاسکے، لیکن ان میں سے وہ لوگ جو حق کے طالب تھے اور جو پیشگوئیوں کی تحریر میں طرز و عادتِ الٰہی ہے اس سے واقف تھے انہوں نے انجیل کی ان پیشگوئیوں سے جو آنے والے بزرگ نبی کے بارے میں تھیں فائدہ اُٹھایا اور مشرف با اسلام ہوئے اور جس طرح یہود میں سے اس گروہ نے جو حضرت عیسٰیؑ پر ایمان لائے تھے پیشگوئیوں کے بیّنات سے دلیل پکڑی تھی اور متشابہات کو چھوڑ دیا تھا ایسا ہی ان بزرگ عیسائیوں نے بھی کیا اور ہزارہا نیک بخت انسان ان میں سے اسلام میں داخل ہوئے۔ غرض ان دونوں قوموں یہود و نصاریٰ میں سے جس گروہ نے متشابہات پر جم کر انکار پر زور دیا اور بینات پیشگوئیوں سے جو ظہور میں آئیں فائدہ نہ اٹھایا ان دونوں گروہ کا قرآن شریف میں جا بجا ذکر ہے اور یہ ذکر اس لئے کیا گیا کہ تا ان کی بدبختی کے ملاحظہ سے مسلمانوں کو سبق حاصل ہو اور اس بات سے متنبہ رہیں کہ یہود نصاریٰ کی مانند بیّنات کو چھوڑ کر اور متشابہات میں پڑ کر ہلاک نہ ہو جائیں اور ایسی پیشگوئیوں کے بارے میں جو مامور من اللہ کے لئے پہلے سے بیان کی جاتی ہیں اُمید نہ رکھیں کہ وہ اپنے تمام پہلوؤں کے رُو سے ظاہری طور پر ہی پوری ہوں گی بلکہ اس بات کے ماننے کے لئے طیار رہیں کہ قدیم سنّت اللہ کے موافق بعض حصے ایسی پیشگوئیوں کے استعارات اور مجازات کے رنگ میں بھی ہوتے ہیں اور اسی رنگ میں وہ پوری بھی ہو جاتی ہیں مگر غافل اور سطحی خیال کے انسان ہنوز انتظار میں لگے رہتے ہیں کہ گویا ابھی وہ باتیں پوری نہیں ہوئیں بلکہ آئندہ ہوں گی۔ جیسا کہ یہود ابھی تک اس بات کو روتے ہیں کہ ایلیاء نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا اور پھر ان کا مسیح موعود بڑے بادشاہ کی طرح ظاہر ہوگا اور یہودیوں کو امارت اور حکومت بخشے گا حالانکہ یہ سب باتیں پوری ہو چکیں اور اس پر انیس سو برس کے قریب عرصہ گزر گیا اور آنے والا آ بھی گیا اور اس دنیا سے اُٹھایا بھی گیا۔۱؎

محکم اور متشابہ پیشگو ئیاں

یہ بات نہایت کار آمد اور یاد رکھنے کے لائق تھی کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے مامور ہو کر آتے ہیں خواہ وہ رسول ہوں یا نبی یا محدث اور مجدّد۔ ان کی نسبت جو پہلی کتابوں میں یا رسولوں کی معرفت پیشگوئیاں کی جاتی ہیں ان کے دو حصے ہوتے ہیں۔ ایک وہ علامات جو ظاہری طور پر وقوع میں آتی ہیں اور ایک متشابہات جو استعارات اور مجازات کے رنگ میں ہوتی ہیں۔ پس جن کے دلوں میں زیغ اور کجی ہوتی ہے وہ متشابہات کی پیروی کرتے ہیں اور طالب صادق بیّنات اور محکمات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہود اور عیسائیوں کو یہ ابتلا پیش آچکے ہیں پس مسلمانوں کے اولوا لابصار کو چاہیے کہ ان سے عبرت پکڑیں اور صرف متشابہات پر نظر رکھ کر تکذیب میں جلدی نہ کریں اور جو باتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے کھل جائیں ان سے اپنی ہدایت کے لیے فائدہ اٹھاویں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ شک یقین کو رفع نہیں کر سکتا۔ پس پیشگوئیوں کا وہ دوسرا حصہ جو ظاہری طور پر ابھی پورا نہیں ہوا وہ ایک اَمر شکی ہے کیونکہ ممکن ہے کہ ایلیاء کے دوبارہ آنے کی طرح وہ حصہ استعارات یا مجاز کے رنگ میں پورا ہو گیا ہو مگر انتظار کرنے والا اس غلطی میں پڑا ہو کہ وہ ظاہری طور پر کسی دن پورا ہوگا اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعض احادیث کے الفاظ محفوظ نہ رہے ہوں کیونکہ احادیث کے الفاظ وحی متلو کی طرح نہیں اور اکثر احادیث احاد کا مجموعہ ہیں اعتقادی اَمر تو الگ بات ہے جو چاہو اعتقاد کرو مگر واقعی اور حقیقی فیصلہ یہی ہے کہ احاد میں عند العقل امکان تغیر الفاظ ہے۔ چنانچہ ایک ہی حدیث جو مختلف طریقوں اور مختلف راویوں سے پہنچتی ہے اکثر ان کے الفاظ اور ترتیب میں بہت سا فرق ہوتا ہے حالانکہ وہ ایک ہی وقت میں ایک ہی منہ سے نکلی ہے۔ پس صاف سمجھ آتا ہے کہ چونکہ اکثر راویوں کے الفاظ اور طرزِ بیان جُدا جُدا ہوتے ہیں اس لیے اختلاف پڑ جاتا ہے اور نیز پیشگوئیوں کے متشابہات کے حصہ میں یہ بھی ممکن ہے کہ بعض واقعات پیشگوئیوں کے جن کا ایک ہی دفعہ ظاہر ہونا امید رکھا گیا ہے وہ تدریجاً ظاہر ہوں یا کسی اَور شخص کے واسطے سے ظاہر ہوں جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی کہ قیصر و کسریٰ کے خزانوں کی کنجیاں آپ کے ہاتھ پر رکھی گئی ہیں حالانکہ ظاہر ہے کہ پیشگوئی کے ظہور سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے تھے اور آنجناب نے نہ قیصر اور کسریٰ کے خزانہ کو دیکھا اور نہ کنجیاں دیکھیں مگر چونکہ مقدر تھا کہ وہ کنجیاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملیں کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وجود ظلّی طور پر گویا آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی تھا اس لیے عالم وحی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ قرار دیا گیا۔ خلاصہ کلام یہ کہ دھوکا کھانے والے اسی مقام پر دھوکا کھاتے ہیں وہ اپنی بدقسمتی سے پیشگوئی کے ہر ایک حصہ کی نسبت یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ظاہری طور پر ضرور پورا ہو گا اور پھر جب وقت آتا ہے اور کوئی مامور من اللہ آتا ہے تو جو جو علامتیں اس کے صدق کی نسبت ظاہر ہو جائیں ان کی کچھ پروا نہیں رکھتے اور جو علامتیں ظاہری صورت میں پوری نہ ہوں یا ابھی ان کا وقت نہ آیا ہو ان کو بار بار پیش کرتے ہیں۔ ہلاک شدہ اُمتیں جنہوں نے سچے نبیوں کو نہیں مانا ان کی ہلاکت کا اصل موجب یہی تھا اپنے زعم میں تو وہ لوگ اپنے تئیں بڑے ہوشیار جانتے رہے ہیں مگر ان کے اس طریق نے قبول حق سے ان کو بے نصیب رکھا۔

یہ عجیب ہے کہ پیشگوئیوں کی نافہمی کے بارے میں جو کچھ پہلے زمانہ میں یہود اور نصاریٰ سے وقوع میں آیا اور انہوں نے سچوں کو قبول نہ کیا ایسا ہی میری قوم مسلمانوں نے میرے ساتھ معاملہ کیا۔ یہ تو ضروری تھا کہ قدیم سنّت اللہ کے موافق وہ پیشگوئیاں جو مسیح موعود کے بارے میں کی گئیں وہ بھی دو حصوں پر مشتمل ہوتیں ایک حصہ بیّنات کا جو اپنی ظاہر صورت پر واقع ہونے والا تھا اور ایک حصہ متشابہات کا جو استعارات اور مجازات کے رنگ میں تھا لیکن افسوس کہ اس قوم نے بھی پہلے خطا کار لوگوں کے قدم پر قدم مارا اور متشابہات پر اَڑ کر ان بیّنات کو ردّ کر دیا جو نہایت صفائی سے پوری ہوگئی تھیں حالانکہ شرط تقویٰ یہ تھی کہ پہلی قوموں کے ابتلاؤں کو یاد کرتے۔ متشابہات پر زور نہ مارتے اور بیّنات سے یعنی ان باتوں اور ان علامتوں سے جو روز روشن کی طرح کھل گئی تھیں فائدہ اُٹھاتے مگر وہ ایسا نہیں کرتے بلکہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی وہ پیشگوئیاں پیش کی جاتی ہیں جن کے اکثر حصے نہایت صفائی سے پورے ہو چکے ہیں تو نہایت لا پرواہی سے ان سے منہ پھیر لیتے ہیں اور پیشگوئیوں کی بعض باتیں جو استعارات کے رنگ میں تھیں پیش کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حصہ پیشگوئیوں کا کیوں ظاہری طور پر پورا نہیں ہوا اور بایں ہمہ جب پہلے مکذبوں کا ذکر آوے جنہوں نے بعینہٖ ان لوگوں کی طرح واقع شدہ علامتوں پر نظر نہ کی اور متشابہات کا حصہ جو پیشگوئیوں میں تھا اور استعارات کے رنگ میں تھا اس کو دیکھ کر کہ وہ ظاہری طور پر پورا نہیں ہوا حق کو قبول نہ کیا تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم ان کے زمانہ میں ہوتے تو ایسا نہ کرتے حالانکہ اب یہ لوگ ایسا ہی کر رہے ہیں جیسا کہ ان پہلے مکذبوں نے کیا۔ جن ثابت شدہ علامتوں اور نشانوں سے قبول کرنے کی روشنی پیدا ہو سکتی ہے ان کو قبول نہیں کرتے اور جو استعارات اور مجازات اور متشابہات ہیں ان کو ہاتھ میں لیے ہوئے پھرتے ہیں اور عوام کو دھوکا دیتے ہیں کہ یہ باتیں پوری نہیں ہوئیں حالانکہ سنّت اللہ کی تعلیمِ طریق کے موافق ضرور تھا کہ وہ باتیں اس طرح پوری نہ ہوتیں جس طرح ان کا خیال ہے یعنی ظاہری اور جسمانی صورت پر بے شک ایک حصہ ظاہری طور پر اور ایک حصہ مخفی طور پر پورا ہو گیا، لیکن اس زمانہ کے متعصّب لوگوں کے دلوں نے نہیں چاہا کہ قبول کریں وہ تو ہر ایک ثبوت کو دیکھ کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ وہ خدا کے نشانوں کو انسان کی مکاری خیال کرتے ہیں۔ جب خدائے قدوس کے پاک الہاموں کو سنتے ہیں تو کہتے ہیں کہ انسان کا افترا ہے مگر اس بات کا جواب نہیں دے سکتے کہ کیا کبھی خدا پر افترا کرنے والے کو مفتریات کے پھیلانے کے لیے وہ مہلت ملی جو سچے ملہموں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی؟ کیا خدا نے نہیں کہا کہ الہام کا افترا کے طور پر دعویٰ کرنے والے ہلاک کئے جائیں گے اور خدا پر جھوٹ بولنے والے پکڑے جائیں گے؟ یہ تو توریت میں بھی ہے کہ جھوٹا نبی قتل کیا جائے گا اور انجیل میں بھی ہے کہ جھوٹا جلد فنا ہوگا اور اس کی جماعت متفرق ہو جائے گی۔ کیا کوئی ایک نظیر بھی ہے کہ جھوٹے مُلہم نے جو خدا پر افترا کرنے والا تھا ایامِ افترا میں وہ عمر پائی جو اس عاجز کو ایامِ دعوتِ الہام میں ملی؟ بھلا اگر کوئی نظیر ہے تو پیش تو کرو میں نہایت پُر زور دعویٰ سے کہتا ہوں کہ دنیا کی ابتدا سے آج تک ایک نظیر بھی نہیں ملے گی۔

پس کیا کوئی ایسا ہے کہ اس محکم اور قطعی دلیل سے فائدہ اٹھاوے اور خدا تعالیٰ سے ڈرے؟ میں نہیں کہتا کہ بت پرست عمر نہیں پاتے یا دہریہ یا انا الحق کہنے والے جلد پکڑے جاتے ہیں کیونکہ ان غلطیوں اور ضلالتوں کی سزا دینے کے لیے دوسرا عالم ہے لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص خدا تعالیٰ پر الہام کا افترا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ الہام مجھ کو ہوا حالانکہ جانتا ہے کہ وہ الہام اس کو نہیں ہوا وہ جلد پکڑا جاتا ہے اور اس کی عمر کے دن بہت تھوڑے ہوتے ہیں قرآن اور انجیل اور تورات نے یہی گواہی دی ہے عقل بھی یہی گواہی دیتی ہے اور اس کے مخالف کوئی منکر کسی تاریخ کے حوالہ سے ایک نظیر بھی پیش نہیں کر سکتا اور نہیں دکھلا سکتا کہ کوئی جھوٹا الہام کا دعویٰ کرنے والا پچیس برس تک یا اٹھارہ برس تک جھوٹے الہام دنیا میں پھیلاتا رہا اور جھوٹے طور پر خدا کا مقرب اور خدا کا مامور اور خدا کا فرستادہ اپنا نام رکھا اور اس کی تائید میں سالہائے دراز تک اپنی طرف سے الہامات تراش کر مشہور کرتا رہا اور پھر وہ باوجود ان مجرمانہ حرکات کے پکڑا نہ گیا۔ کیا امید کی جاتی ہے کہ کوئی ہمارا مخالف اس سوال کا جواب دے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ ان کے دل جانتے ہیں کہ وہ ان سوالات کے جواب دینے سے عاجز ہیں مگر پھر بھی انکار سے باز نہیں آتے۔ بلکہ بہت سے دلائل سے ان پر حجت وارد ہوگئی مگر وہ خوابِ غفلت میں سورہے ہیں۔۱؎

۹؍دسمبر۱۹۰۳ء

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو معجزانہ طور پر آگ سے بچایا جانا

جماعت میں سے ایک ہمارے مکرم دوست نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آگ میں ڈالے جانے کے متعلق دریافت کیا کہ آریہ اس پر اعتراض کرتے ہیں اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ ان لوگوں کے اعتراض کی اصل جڑ معجزات اور خوارق پر نکتہ چینی کرنا ہے ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے دعویٰ کرتے ہیں اور اسی لیے خدا تعالیٰ نے ہمیں مبعوث کیا ہے کہ قرآن کریم میں جس قدر معجزات اور خوارق انبیاء کے مذکور ہوئے ہیں ان کو خود دکھا کر قرآن کی حقانیت کا ثبوت دیں ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر دنیا کی کوئی قوم ہمیں آگ میں ڈالے یا کسی اَور خطرناک عذاب اور مصیبت میں مبتلا کرنا چاہے تو خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق ضرور ہمیں محفوظ رکھے گا۔ بعد اس کے خدا تعالیٰ کے تصرفات اور اپنے بندوں کو عجیب طرح ہلاکت سے نجات دینے کی مثالیں دیتے رہے۔

مسیح موعود علیہ السلام کی معجزانہ حفاظت

اور اسی کے ضمن میں فرمایا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے جب میں سیالکوٹ میں تھا۔ ایک مکان میں مَیں اور چند آدمی بیٹھے ہوئے تھے بجلی پڑی اور ہمارا سارا مکان دُھوئیں سے بھر گیا اور اس دروازہ کی چوکھٹ جس کے متصل ایک شخص بیٹھا ہوا تھا ایسی چیری گئی جیسے آرے سے چیری جاتی ہے۔ مگر اس کی جان کو کچھ بھی صدمہ نہ پہنچا لیکن اسی دن بجلی تیجا سنگھ کے شوالہ پر بھی پڑی اور ایک لمبا راستہ اس کے اندر کو چکر کھا کر جاتا تھا جہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا وہ تمام چکر بجلی نے بھی کھائے اور جا کر اس پر پڑی اور ایسا جلایا کہ بالکل ایک کوئلے کی شکل اُسے کر دیا پھر یہ خدا کا تصرف نہیں تو کیا ہے کہ ایک شخص کو بچا لیا اور ایک کو مار دیا۔ خدا نے ہم سے وعدہ فرمایا ہے اور اس پر ہمارا ایمان ہے وہ وعدہ وَاللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ(المائدۃ:۶۸) کا ہے۔

آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے

پس اسے کوئی مخالف آزمالے اور آگ جلا کر ہمیں اس میں ڈال دے۔ آگ ہرگز ہم پر کام نہ کرے گی اور وہ ضرور ہمیں اپنے وعدہ کے موافق بچالے گا، لیکن اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ ہم خود آگ میں کودتے پھریں۔ یہ طریق انبیاء کا نہیں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ(البقرۃ:۱۹۶) پس ہم خود آگ میں دیدہ دانستہ نہیں پڑتے بلکہ یہ حفاظت کا وعدہ دشمنوں کے مقابلہ پر ہے کہ اگر وہ آگ میں ہمیں جلانا چاہیں تو ہم ہرگز نہ جلیں گے۔ اس لیے میرا ایمان تو یہ ہے کہ ہمیں تکلّف اور تاویل کرنے کی ضرورت نہیں ہے جیسے خدا کے باطنی تصرّفات ہیں ویسے ہی ظاہری بھی ہم مانتے ہیں بلکہ اسی لیے خدا نے اوّل ہی سے الہام کر دیا ہوا ہے کہ آگ سے ہمیں مت ڈرا آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔

بجز اس طریق کے کہ خدا خود ہی تجلی کرے اور کوئی دوسرا طریق نہیں ہے جس سے اس کی ذات پر یقین کامل حاصل ہو لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ ۫ وَہُوَ یُدۡرِکُ الۡاَبۡصَارَ(الانعام:۱۰۴) سے بھی یہی سمجھ میں آتا ہے کہ ابصار پر وہ آپ ہی روشنی ڈالے تو ڈالے۔ ابصار کی مجال نہیں ہے کہ خود اپنی قوت سے اسے شناخت کر لیں۔ ان دنوں میں گھر میں کس قدر تکلیف رہی گھر بھر بیماری میں مبتلا تھا لیکن اس نے اوّل ہی تسلی دے دی تھی

خوش باش کہ عاقبت نکو خواہد بود

آریوں کی خدمتِ اسلام

آریوں کی زبان درازیاں ہمیں کیا نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ان کے مذہب کی حالت تو افاقۃ الموت ہی معلوم ہوتی ہے۔ طبیبوں نے مانا ہے کہ ایسا ہوا کرتا ہے جب ایک شخص مَرنے کے قریب ہوتا ہے بعض اوقات اُٹھ کر بیٹھ جایا کرتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ تندرست ہے مگر معاً موت آ دباتی ہے۔ سو ان کا شور و شر بھی ایسا ہی ہے۔ جس مذہب میں روحانیت اور خدا سے صافی تعلق نہیں ہوتا وہ بہت جلد تباہ ہو جاتا ہے۔ آریوں کی شوخی اور اس جوش و خروش سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زبان درازیوں اور شوخیوں کا بہت جلد خاتمہ ہوگا۔ جب موسم بہار ہوتا ہے تو بہت سے کیڑے پیدا ہوتے ہیں پھر جب ان کو پَر لگتے ہیں تو وہ بہت جلد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح اب خدا کے فضل سے اسلام کے لیے موسم بہار ہے ضرور ہے کہ جب ایسے کیڑے پیدا ہوں۔ اب ان کو پَر لگ گئے ہیں پس یہ بھی تھوڑی مدت کے مہمان ہیں اور اگر ذرا اور غور سے دیکھا جاوے اور ان کی سبّ وشتم کو الگ کر دیا جاوے تو ایک طرح سے انہوں نے خدمت اسلام کی ہے۔ کیونکہ زمانہ فیج اعوج تھا اور مولویوں وغیرہ سے کب یہ بات ہونی تھی کہ اس قدر ہندوؤں سے بت پرستی وغیرہ ترک کرواتے۔ ان لوگوں نے جو ہزاروں دیویوں اور بتوں کو ترک کیا ہے یہ خدمت اسلام ہی ہے۔ ذرا روحانیت ان میں آئی تو فوج در فوج اسلام میں داخل ہوں گے۔ پہلے زمانوں میں جب ہندو مسلمان ہوتے تھے وہ درحقیقت انتشارِ روحانیت کا زمانہ تھا اس لیے گمراہ رہے۔ اب جب روحانیت ان میں پیدا ہوئی اور حق کو انہوں نے شناخت کر لیا تو بڑی شرح صدر اور زور سے اسلام میں داخل ہوں گے۔ یاد رکھو ایسے لوگوں سے ہرگز نہ ڈرنا چاہیے۔ ڈرنا ایسے شخص سے چاہیے جس میں روحانیت ہو اس لیے کہ اس کا حملہ خدا کا حملہ ہوتا ہے۔

یَکْسِـرُ الصَّلِیْبَ کے معنے

یکسر الصلیب کے یہ معنے نہیں ہیں کہ مسیح آ کر اپنے ہاتھ سے صلیبوں کو توڑتا پھرے گا بلکہ کسر صلیب میں یہ بات داخل ہے اور ہر ایک اسے بے تکلف سمجھ سکتا ہے کہ اس زمانہ میں کسر صلیب کے سامان خود مہیا ہو جاویں گے۔ اس کام کو ایک انسان (مسیح) کی طرف منسوب کرنا میرے نزدیک شرک ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسیح موعود ایسے زمانے کا آدمی ہو گا جس میں یہ سامان موجود ہوں گے اور وہ اس وقت موجود ہیں۔ درحقیقت صلیب کا کا سر مسیح موعود نہ ہوگا بلکہ خود خدا ہوگا۔ اور یہ خیال بھی غلط ہے کہ کوئی عیسائی دنیا میں نہ رہے گا اسلام ہی اسلام ہوگا جبکہ خدا تعالیٰ خود قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ ان کا وجود قیامت تک رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ نصاریٰ کا مذہب ہلاک ہوگا اور عیسائیت نے جو عظمت دلوں پر حاصل کی ہے وہ نہ رہے گی۔۱؎


۱۱؍دسمبر ۱۹۰۳ء

خلقِ طیور اور احیائِ موتیٰ کی حقیقت

شام کے بعد حضرت مولوی نور الدین صاحب نے عرض کیا کہ دھرمپال (نو آریہ) نے خلقِ طیور پر اور احیائِ موتیٰ پر بھی اعتراض کیا ہے۔ اس پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ

اصل میں خلقِ طیور اور احیائِ موتیٰ پر ہمارا یہ ایمان نہیں ہے کہ اس سے ایسے پرندے مُراد ہیں جن کا ذبح کر کے گوشت بھی کھایا جا سکے اور نہ احیائے موتیٰ سے یہ مطلب ہے کہ حقیقی مُردہ کا احیاء کیا گیا بلکہ مُراد یہ ہے کہ خلقِ طیور اس قسم کا تھا کہ حد اعجاز تک پہنچا ہوا تھا اور احیائِ موتیٰ کے یہ معنے ہیں کہ (۱) روحانی زندگی عطا کی جاوے (۲) یہ کہ بذریعہ دعا ایسے انسان کو شفا دی جاوے کہ وہ گویا مُردوں میں شمار ہو چکا ہو جیسا کہ عام بول چال میں کہا جاتا ہے کہ فلاں تو مَر کر جیا ہے۔ لیکن ان باتوں کو لکھنے کی کیا ضرورت ہے بلکہ ان سے صاف طور سے پوچھا جاوے کہ آیا تم لوگ صورتِ اعجاز کے قائل ہو یا نہیں؟ پس اگر وہ منکر ہیں تو ان کو چاہیے کہ اشتہار دے دیں اور بہت صاف لفظوں میں دیں پھر شاید اللہ تعالیٰ کوئی اور کرشمہ قدرت دکھاوے۔ اگرچہ ایک دفعہ وہ ان کو قائل بھی کر چکا ہے۔ ہم ان کی یہ باتیں فرداً فرداً نہیں سنتے کہ عصائے موسٰی کیا تھا اور خلقِ طیور کیا تھا وغیرہ وغیرہ۔

معجزہ نمائی کا دعویٰ

خدا کا فضل ہمارے شاملِ حال ہے اور وہ ہر وقت ہماری تائید کے لیے طیار ہے۔ وہ صورتِ اعجاز کا انکار شائع کر دیں پھر خدا کی تائید دیکھ لیویں۔ قرآن کریم میں جس قدر معجزات آگئے ہیں۔ ہم ان کے دکھانے کو زندہ موجود ہیں خواہ قبولیتِ دعا کے متعلق ہوں خواہ اور رنگ کے۔ معجزہ کے منکر کا یہی جواب ہے کہ اس کو معجزہ دکھایا جاوے اس سے بڑھ کر اور کوئی جواب نہیں ہو سکتا۔۱؎

۱۲؍دسمبر ۱۹۰۳ء

الہام

اِنِّیْ حِـمَی الرَّحْمٰنِ (میں خدا کی باڑ ہوں) فرمایا۔ یہ خطاب میری طرف ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اَعدا طرح طرح کے منصوبے کرتے ہوویں گے ایک شعر بھی اس مضمون کا ہے۔

اے آنکہ سوئے من بدویدی بصد تبر

از باغبان بترس کہ من شاخ مثمرم

بعث بعد الموت

حضرت مولانا نورالدین صاحب نے خدمت والا میں عرض کی کہ عُزیر کے قصہ کی بابت ایک دفعہ حضور نے ارشاد فرمایا تھا کہ وہ واقعہ بعث بعد الموت میں انہوں نے دیکھا۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ مَرنے کے بعد ایک بعث ہوتا ہے جیسے کہ حدیث میں ایک شخص کا ذکر ہے کہ وہ خدا سے بہت ڈرتا تھا لیکن خدا کی قدرتوں کا اسے علم نہ تھا۔ تو اس نے وصیت کی کہ جب میں مَر جاؤں تو مجھے جلا دینا اور میری خاک کو دریا میں ڈال دینا (تا کہ میرے اجزا ایسے منتشر ہو جاویں کہ پھر جمع نہ ہوسکیں) جب وہ مَر گیا تو اس کے ورثا نے ایسا ہی کیا، لیکن خدا نے اسے عالمِ برزخ میں پھر زندہ کیا اور پوچھا کہ کیا تو اس بات کو نہ جانتا تھا کہ ہم تیرے اجزا کو ہر ایک مقام سے جمع کر سکتے ہیں اور تجھے ہماری قدرتوں کا علم نہ تھا۔ اس نے بیان کیا کہ چونکہ مجھے اپنے گناہوں کی سزا کا خوف تھا اس لیے میں نے یہ تجویز کی تھی۔ آخر اس خوف کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ تو یہ بھی ایک قسم کی بعثت ہے جو کہ قبل قیامت ہوتی ہے۔ اسی خیال پر میں نے کہا ہوگا۔ مَرنے کے بعد ایک ایسی حالت میں بھی انسان پڑتا ہے کہ اسے اپنے وجود کی خبر نہیں ہوتی۔ یہ ایک نوم کی قسم سے ہوتی ہے۔ مولوی عبد اللطیف صاحب نے جو شہادت سے اوّل یہ کہا تھا کہ چھ دن بعد زندہ ہو جاؤں گا۔ اس کے معنے بھی یہ ہو سکتے ہیں کہ چھ دن بعد میری بعثت ہوگی۔ یہ ہمارا ایمان ہے۔

خارقِ عادت امور کا مشاہدہ

فرمایا کہ اسی طرح ہم ہر ایک خوارقِ عادت اَمر پر ایمان لاتے ہیں اور اس اَمر کی ضرورت نہیں کہ اُس کی تفصیل بھی معلوم ہو۔ بعض وقت ایک آواز آتی ہے لیکن کوئی کلام کرنے والا معلوم نہیں ہوتا۔ اس وقت حیرانی ہوتی ہے تو اس وقت کیا کیا جاوے؟ آخر ایمان لانا پڑتا ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ ایسے اُمور میں آ کر انسان کو عرفان سے پھر ایمان کی طرف عود کرنا پڑتا ہے۔

حال میں ایک اخبار میں دیکھا گیا کہ ایک شخص نے کہا کہ میں نے ایک ایسی ہانڈی کا پکا ہوا سالن کھایا ہے جو کہ میری پیدائش سے تیس برس پیشتر کی پکی ہوئی تھی۔ جب انسان ہوا وغیرہ سے محفوظ رکھ کر ایک شَے کو اس قدر عرصہ دراز سے محفوظ رکھ سکتا ہے تو اگر خدارکھے تو کیا بعید ہے۔

اگر یہ لوگ خوارقِ عادت کی جزئیات پر اعتراض کرتے ہیں تو ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے تو شاید ۳۰۰معجزات ہوں گے۔ ہم ان کے ایسے لاکھوں خوارقِ عادت پیش کر کے اعتراض کر سکتے ہیں ان کا کیا جواب دیں گے؟ ہم تو ان باتوں کو ہر روز مشاہدہ کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی قدرت کے تصرّفات دیکھتے ہیں۔ یہ کہاں تک اعتراض کریں گے خدا شناسی کا مزا یہی ہے کہ ہر ایک قسم کی قدرت کا جلوہ نظر آوے۔

آریوں کی حالت

آریوں کے خدا کی مثال تو ایسی ہے جیسے کہ کسی کے ہاتھ میں ہڈی ہوتی ہے خدا کی قدرتوں پر ان کو ایمان نہیں ہے اور جب یہ نہ ہوا تو پھر اس سے نہ خوف ہوانہ طمع نہ محبت نہ عبادت۔ ان کے لیے یہ جواب کافی ہے کہ جیسے ایک اندھے آدمی کے نزدیک ہر ایک رؤیت قابلِ اعتراض ہوتی ہے ویسے ہی وہ بھی ان باتوں کے محسوس کرنے سے معذور ہیں کیونکہ ہر ایک شَے کی حِس الگ الگ ہے۔ جیسے آنکھ کی حِس ہے۔ تو اس سے کان کوئی فائدہ نہیں پاسکتا اور ناک کی حِس کو آنکھ نہیں شناخت کر سکتی ایسے ہی ایک انسان جو کہ اعلیٰ قسم کے قویٰ لے کر آیا ہے اور اسے امور مَا وراء العقل کو محسوس کرنے کی قوت دی گئی ہے تو جو وہ دیکھتا ہے اگر دوسرے نہ دیکھیں تو سوائے اعتراض کے اور کیا کر سکتے ہیں؟ آریوں کی مشابہت اس شخص سے ہوسکتی ہے جس کی ایک آنکھ یا کان نہ ہو اور وہ دوسرے کی آنکھ کان دیکھ کر اعتراض کرے۔ وہ لوگ ان باتوں سے محروم ہیں اس لیے اعتراض کرتے ہیں۔۱؎


۲۰؍دسمبر ۱۹۰۳ء

(بوقتِ ظہر)

خدمتِ دین میں آنے والی موت

حکیم آل محمد صاحب تشریف لائے اور حضرت اقدس علیہ السلام سے نیاز حاصل کیا اور عرض کی کہ امروہہ میں میرا یہی کام رہا ہے کہ اس سلسلہ الٰہی کی تبلیغ کروں اور اسی خدمت میں میری جان نِکل جاوے۔

حضرت اقدس نے فرمایا کہ اس سے بڑھ کر اور کیا دینی خدمت ہوگی مَرنا تو ہر ایک نے ہی ہے اور اس جان نے ایک دن اس قالب کو چھوڑنا ضرور ہے مگر کیا عمدہ وہ موت ہے جو خدمتِ دین میں آوے۔

(بعد نماز مغرب)

بے صبری سے ابتلا پیش آتا ہے

ایک نوجوان صاحب نے آ کر حضرت اقدس سے ملاقات کی اور عرض کی کہ میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں اگر اجازت ہو۔

حضرت اقدس نے فرمایا کہ کہو۔ تب انہوں نے ایک رؤیا اپنی سنائی جو کہ عرصہ اڑھائی سال کا ہوا دیکھی تھی۔ اس میں ان کو بتلایا گیا تھا کہ حضرت عیسٰیؑ آگئے ہوئے ہیں اور وہ مرزا قادیان والا ہے۔ پھر اس کی تائید میں انہوں نے اور چند خوابیں دیکھی تھیں وہ بھی سنائیں۔

حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ ایک دوسرے کی تائید میں ہیں۔

اس اثناء میں جوشیلے نوجوان یہ بھی بول اُٹھے کہ جب تک میرا دل تسلی نہ پکڑے گا۔ نہ مانوں گا اور بیعت نہ کروں گا۔ چونکہ ان کلمات سے خدا کے انعامات واکرام کی ناقدرشناسی مترشح ہوتی تھی۔ اس پر خدا کے برگزیدہ نے فرمایا۔

خدا کی قدیم سے عادت ہے کہ صابروں کے سب کام وہ آپ کرتا ہے اور بے صبری سے ابتلا پیش آتا ہے۔ ہماری شریعت میں طلبِ اسباب حرام نہیں ہے ان پر بھروسہ اور توکّل ضرور حرام ہے اس لیے کوشش کو ہاتھ سے نہ چھوڑنا چاہیے۔ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں قسم کھاتا ہے فَالۡمُدَبِّرٰتِ اَمۡرًا(النّٰزعٰت:۶) ماسوا اس کے خدا پر توکّل اور دعا کرنے سے برکت حاصل ہوتی ہے۔

سعید آدمی جلد باز نہیں ہوتا اور نہ وہ خدا سے جلد بازی کرتا ہے خدا کا قانونِ قدرت ہے کہ ہر ایک اَمر بتدریج ہوتا ہے۔ آج تم تخم ریزی کرو تو وہ آہستہ آہستہ ایک دانہ سے ایک درخت بن جاوے گا۔ آج اگر رحم میں نطفہ پڑے تو وہ آخر نو ماہ میں جا کر بچہ بنے گا خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ صبر کرنے والوں کو بے حساب بدلہ دیا جاوے گا۔ سنّت اللہ کی اتباع انسان کو کرنی چاہیے۔ جب تک خدا خود رُشد اور ہدایت نہ دے تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔

مومنوں کے طبقات

انبیاء کی صحبت میں کس کس قدر لوگ رہتے تھے مگر سب ایک وقت ایمان نہیں لائے۔ کوئی کسی وقت کوئی کسی وقت۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص تھا اس نے آپ کا مبارک زمانہ دیکھا مگر ایمان نہ لایا۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا زمانہ دیکھا پھر بھی ایمان نہ لایا۔ اس سے وجہ پوچھی گئی تو بتلایا کہ کچھ میرے شبہات باقی تھے اور کچھ آثار پورے ہونے والے تھے چونکہ اب وہ پورے ہوئے ہیں اس لیے اب میں ایمان لایا ہوں۔

لیکن یہ اس کی غلطی تھی۔ خدا نے مومنوں کے مختلف طبقات پیدا کئے ہیں لیکن ان میں سے وہ لوگ بہت تعریف کے قابل ہیں جو کسی راستباز کو چہرہ دیکھ کر شناخت کر لیتے ہیں۔

ایمان لانے والے تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں ایک تو وہ جو چہرہ دیکھ کر ایمان لاتے ہیں دوسرے وہ جو نشان دیکھ کر مانتے ہیں۔ تیسرا ایک ارذل گروہ جب ہر طرح سے غلبہ حاصل ہو جاتا ہے اور کوئی وجہ ایمان بالغیب کی باقی نہیں رہتی تو اس وقت ایمان لاتے ہیں جیسے فرعون کہ جب غرق ہونے لگا تو اس وقت اقرار کیا۔

عمر کا اعتبار نہیں ہے غافل رہ کر اس بات کی انتظار کرنی کہ خدا خود خبر دیوے یہ نادانی ہے اب تو خود وقت ہی ایسا ہے کہ انسان خود سمجھ سکتا ہے۔ دیکھنا چاہیے کہ اسلام کی کیا حالت ہے۔ کیا ظاہری اور کیا باطنی طور پر صلیبی مذہب غالب ہو گیا ہے تو کیا اب ان وعدوں کے رُو سے جو کہ قرآن میں ہیں یہ وقت نہ تھا کہ خدا اپنے دین کی مدد کرتا۔ اس کے علاوہ مدعی اور اس کے دعویٰ کے دلائل کو دیکھے اور غور کرے۔ جو پیاسا ہے وہ دور رہ کر کنوئیں سے یہ کہے کہ پانی میرے منہ میں خود بخود آ جاوے یہ نادانی ہے اور ایسا شخص خدا کی بے ادبی کرتا ہے۔

متّقی کی تعریف

تقویٰ اس بات کا نام ہے کہ جب وہ دیکھے کہ میں گناہ میں پڑتا ہوں تو دعا اور تدبیر سے کام لیوے ورنہ نادان ہوگا۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا وَّیَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ(الطلاق:۳) ۴) کہ جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے وہ ہر ایک مشکل اور تنگی سے نجات کی راہ اس کے لیے پیدا کر دیتا ہے۔ متقی درحقیقت وہ ہے کہ جہاں تک اس کی قدرت اور طاقت ہے وہ تدبیر اور تجویز سے کام لیتا ہے جیسا کہ قرآن شریف کے شروع میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الٓـمّٓ ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ وَیُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ(البقرۃ:۲ تا ۴) ایمان بالغیب کے یہ معنے ہیں کہ وہ خدا سے اَڑ نہیں باندھتے بلکہ جو بات پردہ غیب میں ہو اس کو قرائن مرجحہ کے لحاظ سے قبول کرتے ہیں اور دیکھ لیتے ہیں کہ صدق کے وجوہ کذب کے وجوہ پر غالب ہیں۔ یہ بڑی غلطی ہے کہ انسان یہ خیال رکھے کہ آفتاب کی طرح ہر ایک ایمانی اَمر اس پر منکشف ہو جاوے۔ اگر ایسا ہو تو پھر بتلاؤ کہ اس کے ثواب حاصل کرنے کا کون سا موقع ملا؟ کیا ہم اگر آفتاب کو دیکھ کر کہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے تو ہم کو ثواب ملتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیوں؟ صرف اس لئے کہ اس میں غیب کا پہلو کوئی بھی نہیں لیکن جب ملائکہ، خدا اور قیامت وغیرہ پر ایمان لاتے ہیں تو ثواب ملتا ہے۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ ان پر ایمان لانے میں ایک پہلو غیب کا پڑا ہوا ہے۔ ایمان لانے کے لئے ضروری ہے کہ کچھ اخفا بھی ہو اور طالب حق چند قرائنِ صدق کے لحاظ سے ان باتوں کو مان لے۔ اور رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ(البقرۃ:۴) کے یہ معنے ہیں کہ جو کچھ ہم نے ان کو عقل، فکر، فہم، فراست اور رزق اور مال وغیرہ عطا کیا ہے اس میں سے خدا کی راہ میں اس کے لئے صرف کرتے ہیں یعنی فعل کے ساتھ بھی کوشش کرتے ہیں۔ پس جو شخص دعا اور کوشش سے مانگتا ہے وہ متقی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ(الفاتحۃ:۵) یاد رکھو کہ جو شخص پوری فہم اور عقل اور زور سے تلاش نہیں کرتا وہ خدا کے نزدیک ڈھونڈنے والا نہیں قرار پاتا اور اس طرح سے امتحان کرنے والا ہمیشہ محروم رہتا ہے، لیکن اگر وہ کوششوں کے ساتھ دعا بھی کرتا ہے اور پھر اسے کوئی لغزش ہوتی ہے تو خدا اسے بچاتا ہے اور جو آسانی تن کے ساتھ دروازہ پر آتا ہے اور امتحان لیتا ہے تو خدا کو اس کی پروا نہیں ہے۔ ابو جہل وغیرہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت تو نصیب ہوئی اور وہ کئی دفعہ آپ کے پاس آیا بھی لیکن چونکہ آزمائش کے لئے آتا رہا اس لئے گر گیا اور اسے ایمان نصیب نہ ہوا۔

بیعت ہم پر احسان نہیں

اگر کوئی شخص بیعت کر کے یہ خیال کرتا ہے کہ ہم پر احسان کرتا ہے تو یاد رکھے کہ ہم پر کوئی احسان نہیں بلکہ یہ خدا کا اس پر احسان ہے کہ اس نے یہ موقع اس کے نصیب کیا۔ سب لوگ ایک ہلاکت کے کنارہ پر پہنچے ہوئے تھے۔ دین کا نام ونشان نہ تھا اور تباہ ہو رہے تھے۔ خدا نے ان کی دستگیری کی (کہ یہ سلسلہ قائم کیا) اب جو اس مائدہ سے محروم رہتا ہے وہ بے نصیب ہے لیکن جو اس کی طرف آوے۔ اسے چاہیے کہ اپنی پوری کوشش کے بعد دعا سے کام لیوے۔ جو شخص اس خیال سے آتا ہے کہ آزمائش کرے کہ فلاں سچا ہے یا جھوٹا وہ ہمیشہ محروم رہتا ہے۔ آدمؑ سے لے کر اس وقت تک کوئی ایسی نظیر نہ پیش کر سکو گے کہ فلاں شخص فلاں نبی کے پاس آزمائش کے لئے آیا اور پھر اسے ایمان نصیب ہوا ہو۔ پس چاہیے کہ خدا کے آگے رووے اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر گریہ وزاری کرے کہ خدا اُسے حق دکھاوے۔

دلیلِ صداقت

وقت خود ایک نشان ہے اور وہ بتلا رہا ہے کہ اس وقت ایک مصلح کی ضرورت ہے۔ اب وقت آزمائش اور امتحان کا ہرگز نہیں ہے۔ اگر کوئی نہیں مانتا تو بتلائے کہ ہمارا کیا بگاڑتا ہے۔ مکہ میں اگر صدہا آدمی انکار کر کے تباہ ہوئے تو بتلاؤ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا بگاڑ لیا۔ ایک مرتد ہوتا تو خدا سو اور لے آتا کیا یہ غور کی بات نہیں کہ اگر ہمارا کارخانہ خدائی نہ ہوتا تو یہ آج تک کب کا تباہ ہو جاتا۔ ایک وہ وقت تھا کہ میں اکیلا پھرتا تھا اور اب وہ وقت ہے کہ دو لاکھ سے زیادہ آدمی میرے ساتھ ہیں۔ آج سے ۲۲، ۲۳ برس پیشتر اس نے بتلایا جو کہ براہین میں درج ہے کہ میں تجھے کامیاب کروں گا اور لاکھوں آدمیوں کو تیرے ساتھ کروں گا۔ اس کتاب کو لے کر دیکھو اور پڑھو اور پھر سوچو کہ کیا یہ انسان کا فعل ہے کہ اس قدر دراز زمانہ پیشتر ایک خبر کو درج کرے اور پھر اس قدر مخالفت ہو اور وہ بات پوری ہو کر رہے پس جو شخص خدا کے اس فعل پر ایمان نہیں لاتا وہ بدبخت مَرے گا۔

نشان نمائی کا مطالبہ کرنے والے

نشان دیکھنے والے دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو لیکھرامی کہ شوخی اور شرارت کرتے ہیں اور خدا کی باتوں پر ہنسی اور تمسخر ان کا کام ہوتا ہے ایسے جہنم واصل ہوتے ہیں جیسے کہ لیکھرام ہوا۔

اور ایک وہ کہ سنّت نبوی کے موافق نشان چاہتے ہیں کہ دنیا کی حیثیت بھی بنی رہے اور نشان بھی ظاہر ہو یہ نہیں کہ قیامت کا نمونہ ان کے لیے ظاہر ہو اور خدا تعالیٰ تمام کائنات کو زیروزبر کر دے (اس صورت میں جب وہ خود مَر ہی جاوے گا تو نشان کون دیکھے گا) ایمان کی حد یہی ہے کہ عقل بھی خرچ ہو اور انسان فہم و فراست سے کام لے کر قرائنِ مُرجحہ کو دیکھے۔ نہ یہ چاہے کہ سب کچھ انکشاف ہو جاوے۔ تو پھر اسے ثواب کس بات کا؟ وہ تو ایمان ہی نہیں ہے جس میں پردہ نہیں ہے اس لیے خدا فرماتا ہے کہ جو لوگ نشانوں کو دیکھ کر ایمان لاتے ہیں ان کا ایمان نفع نہ دے گا۔ انسان من وجہ دیکھے کہ زمانہ کی ضرورت کیا تقاضا کرتی ہے۔ وہ ایک مصلح کو چاہتی ہے کہ نہیں۔ پھر ان وعدوں پر نظر ڈالے جو نصرت اور تائید کے خدا نے ہم سے قبل از وقت کئے اور وہ سب پورے ہوئے۔ غرضیکہ ان سب باتوں پر جب یکجائی نظر کرکے پھر بھی کوئی نہیں مانتا تو وہ کبھی نہ مانے گا۔ ایسے ضدّی لوگوں کو حضرت عیسٰیؑ نے بھی کہا کہ حرامکارلوگ معجزہ طلب کرتے ہیں مگر ان کو کوئی معجزہ نہ دیا جاوے گا۔ پس ایسی باتوں سے ڈرنا چاہیے۔ آبائی تقلید اور رسم اور عقائد کی پابندی کا ڈر نہ ہونا چاہیے یہ کوئی شَے نہیں ہیں۔ نہ اُن سے انسان کو تسلی ملتی ہے۔ وہ نور جو آسمان سے نازل ہوتا ہے وہ حقیقی تسلی دیتا ہے۔ سب باتوں پر جب یکج ۔۱؎

۲۱؍دسمبر ۱۹۰۳ء

تقریر کی اہمیت

بعد نماز عید الفطر ظہر کے وقت جب حضرت اقدس مسجد میں تشریف لائے تو بعض احباب نے ذکر کیا کہ گورداسپور میں چند ایک شخص ایسے ہیں جن کو بڑا اشتیاق حضور کی زبان مبارک سے دعویٰ کے دلائل سننے کا ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ

اگر کوئی تقریب نکل آئی تو انشاء اللہ وہاں ایک مجمع کر کے بیان کر دیئے جاویں گے اصل ذریعہ تبلیغ کا تقریر ہی ہے اور انبیاء اس کے وارث ہیں۔ اب انگریزوں نے اسی کی تقلید کی ہے۔ بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں ان کا طریق تعلیم یہی ہے کہ تقریروں کے ذریعہ سے تعلیم دی جاتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بعض وقت اس قدر لمبی تقریر فرماتے تھے کہ صبح سے لے کر عشاء تک ختم نہ ہوتی تھی۔ درمیان میں نمازیں آجاتیں تو آپ ان کو ادا کر کے پھر تقریر شروع کر دیتے تھے۔

مامورین سے غریب لوگ ہی فائدہ اُٹھاتے ہیں

اپنے مخالفین اور طبقہ امراء و رؤساء کے متعلق فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ اکثر اُن میں سے بد نصیب ہی مَریں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں کس قدر بادشاہ تھے جو اس وقت آپ کے معاصرین سے تھے لیکن ان کو قبولیت کی توفیق عطا نہیں ہوئی۔ پھر خدا تعالیٰ نے ان کے بعد غریبوں کو بادشاہ کیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہما رے متبعین پر بھی ایک زمانہ ایسا آوے گا کہ عروج ہی عروج ہوگا لیکن یہ ہمیں خبر نہیں کہ ہمارے دور میں ہو یا ہمارے بعد ہو۔ خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ سو یہ بات ابھی پوری ہونے والی ہے۔ یہ لوگ اگر اس وقت سمجھ بھی لیویں تو بھی جو اِن کی خود تراشیدہ مصلحتیں ہیں وہ قبولیت کی اجازت نہیں دیتیں۔ یہ خدا کی سنّت ہے کہ اوّل گروہ غربا کو اپنے لیے منتخب کیا کرتا ہے اور پھر انہی کو کامیابی اور عروج حاصل ہوا کرتا ہے۔ کوئی نبی نہیں گذرا کہ وہ (ظاہری حیثیت سے بھی) دنیا میں ناکامیاب رہا ہو۔ ہمیں اس اَمر سے ہرگز تعجب نہیں کہ ہمارے متبعین امیر نہ ہوں گے۔ امیر تو یہ ضرور ہوں گے لیکن افسوس اس بات سے آتا ہے کہ اگر یہ دولت مند ہو گئے تو پھر انہی لوگوں کے ہم رنگ ہو کر دین سے غافل نہ ہو جاویں اور دنیا کو مقدم کر لیں۔ جب تک کمزوری اور غریبی ہوتی ہے تب تک تقویٰ بھی انسان کے اندر ہوتا ہے۔ صحابہؓ کی بھی اوّل یہی حالت تھی۔ پھر جب کڑوڑہا مسلمان ہو گئے اور تموّل وغیرہ ان میں آ گیا تو خبیث بھی آ کر شامل ہو گئے۔ ہم بھی خدا کا شکر کرتے ہیں کہ ہماری جماعت کی تعداد غربا میں ترقی کر رہی ہے۔

(بعد نماز مغرب)

مسیح موعود علیہ السلام کی سادگی

بعد ادائیگی نماز مغرب حضرت اقدس نے جلسہ فرمایا۔ تھوڑی دیر کے بعد جناب نواب محمد علی خان صاحب کے صاحبزادہ زریں لباس سے ملبّس حضور کی خدمت میں نیازمندانہ طریق پر حاضر ہوئے۔ آپ نے اُن کو اپنے پاس جگہ دی۔ ان کو اس ہیئت میں دیکھ کر خدا کے برگزیدہ نے بڑی سادگی سے جناب نواب صاحب سے دریافت کیا کہ

ان کی کیا رسم ادا ہونی ہے؟

نواب صاحب نے جواب دیا کہ آمین ہے۔ اس اثناء میں ایک سروپا کا تھال آیا اور وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روبرو دھرا گیا۔ چند لمحہ کے بعد پھر آپ نے دریافت فرمایا کہ اب آگے کیا ہونا ہے۔ عرض کی گئی کہ اسے دستِ مبارک لگا دیا جاوے اور دعا فرمائی جاوے۔ چنانچہ حضور نے ایسا ہی کیا اور پھر فوراً تشریف لے گئے۔۱؎

۲۳؍دسمبر۱۹۰۳ء

اسوئہ عبد اللطیف کا اتباع

فرمایا کہ عبد اللطیف صاحب ایک اسوہ چھوڑ گئے ہیں جس کی اتباع جماعت کو چاہیے۔

صحبت کی اہمیت

ایک انگریز کا ذکر تھا جو کہ اپنی عقیدت حضرت اقدسؑ کے ساتھ اظہار کرتا تھا اور کہتا تھا کہ میرا ارادہ ہے کہ کشمیر میں ایک بڑا ہوٹل بناؤں اور وہاں ہر ملک و دیار کے لوگ جو سیر و سیاحت کے لیے آتے ہیں ان کو تبلیغ کروں۔

حضرت اقدس نے فرمایا کہ

ہمیں اس سے دنیا داری کی بو آتی ہے۔ اگر اسے سچا اخلاص خدا کے ساتھ ہے اور اس کی غرض تحصیلِ دینی ہے تو اوّل یہاں آ کر رہے۔

سنّت اللہ کے آگے عقل کی بھی کچھ پیش نہیں چلتی۔ عقل تو یہی چاہتی تھی کہ فی الفور ان باتوں کو مان لیا جاوے جو ہم نے پیش کی ہیں مگر سنّت اللہ نہ چاہتی تھی۔ کسی فرقہ میں شامل ہونے کے لیے سچا جوش اسی وقت پیدا ہوتا ہے جبکہ اوّل کامل وجوہات دل میں جانشین ہوں۔ اس کے بعد پھر وہ شخص ہر ایک بات کو قبول کر لیتا ہے۔ صحابہ کرامؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے اور بڑے بڑے نقصان برداشت کئے۔ اُن کو اس بات کا علم تھا کہ صحبت سے جو بات حاصل ہونی ہے وہ اَور طرح ہرگز حاصل نہ ہو گی۔ حسنِ ظن بھی اگرچہ عمدہ شَے ہے۔ مگر افراط تک اسے پہنچانا غلطی ہے ہمارے حصہ کا جو یورپین ہو گا ہم خود اسے پہچان لیں گے کہ یہ ہے۔

عجائباتِ قدرت دکھلانے کے لیے ضروری ہے کہ مخالفت بھی ہو اور روکنے والے بھی ہوں کیونکہ بغیر اس کے خدا کی قدرت کے ہاتھ کا پتا کیسے لگ سکتا ہے۔۱؎

۲۴؍دسمبر ۱۹۰۳ء

ایک معجزہ

یہ ایک معجزہ ہے اور بڑی خوبی کا معجزہ ہے بشرطیکہ انصاف سے اس پر نظر کی جاوے کہ آج سے ۲۳ یا ۲۴ برس پیشتر کی کتاب براہین احمدیہ تصنیف شدہ ہے اور اس کی جلدیں اسی وقت کی ہر ایک مذہب اور ملّت کے پاس موجود ہیں یورپ بھی بھیجی گئی امریکہ میں بھی بھیجی گئی لنڈن میں اس کی کاپی موجود ہے اس میں بڑی وضاحت سے یہ لکھا ہوا موجود ہے کہ ایک زمانہ آنے والا (ہے) کہ لوگ فوج در فوج تمہارے ساتھ ہوں (گے) حالانکہ جب یہ کلمات لکھے اور شائع کئے گئے تھے اس وقت فرد واحد بھی میرے ساتھ نہ تھا۔ اس وقت خدا نے ایک دعا سکھلائی جو کہ بطور گواہ اس میں لکھی ہوئی ہے رَبِّ لَا تَذَرۡنِیۡ فَرۡدًا وَّاَنۡتَ خَیۡرُ الۡوٰرِثِیۡنَ(الانبیآء:۹۰) خدا تعالیٰ کا اس سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ تو اکیلا ہے اور پھر تاکید کی کہ تو مخلوق کی ملاقات سے تھکنا مت اور چیں بجبیں نہ ہونا تو اب غور کرنے کی جا ہے کہ کیا یہ کسی انسان کا اقرار ہو سکتا ہے اور پھر ایک زبان میں نہیں بلکہ چار زبانوں میں یہ الہام فوج در فوج لوگوں کے ساتھ ہونے کا ہے انگریزی، اردو، فارسی، عربی میں۔ بڑے بڑے گواہ اگرچہ ہمارے مخالف ہیں، موجود ہیں محمد حسین بھی زندہ ہے یہاں کے لوگ بھی جانتے ہیں کیا وہ بتلا سکتے ہیں کہ اس وقت کون کون ہمارے ساتھ تھا بلکہ وہ ایک گم زمانہ تھا کوئی مجھے نہ جانتا تھا اب دیکھو کہ وہ بات کیسی پوری ہوئی ہے حالانکہ ہر فرقہ اور ملت کے لوگوں نے ناخنوں تک مخالفت میں زور لگایا اور ہماری ترقی اور کامیابی کو روکنا چاہا لیکن ان کی کوئی پیش نہ گئی اور اس مخالفت کا ذکر بھی اسی کتاب براہین میں موجود ہے اب بتلاویں کہ کیا یہ معجزہ ہے کہ نہیں؟ ہم ان سے نظیر طلب کرتے ہیں کہ آدمؑ سے لے کر اس وقت تک وہ کسی ایسے مفتری کی خبر دیویں کہ اس نے افترا علی اللہ کیا ہو اور اس پر مصر رہ کر ۲۴ یا ۲۵ سال کا زمانہ پایا ہو۔ یہ ایک بڑا نشان اور معجزہ ہے اسے عقلمندوں اور اہل الرائے کو دکھلاؤ اور ان کے سامنے پیش کرو کہ وہ اس کی نظیر پیش کریں کہ اس طرح کی پیشگوئی ہو اور باوجود اس قدر مخالفت کے پھر پوری ہو جاوے ایک طالبِ حق کے لیے یہ معجزہ کافی ہے۔۱؎

۲۵؍دسمبر۱۹۰۳ء

اِکرامِ ضیف

شام کے وقت بہت سے احباب بیرون جات سے آئے ہوئے تھے آپ نے میاں نجم الدین صاحب مہتمم لنگرخانہ کو بلوا کر تاکیداً فرمایا کہ دیکھو بہت سے مہمان آئے ہوئے ہیں ان میں سے بعض کو تم شناخت کرتے ہو اور بعض کو نہیں اس لیے مناسب یہ ہے کہ سب کو واجب الاکرام جان کر تواضع کرو۔ سردی کا موسم ہے۔ چاء پلاؤ اور تکلیف کسی کو نہ ہو۔ تم پر میرا حُسنِ ظن ہے کہ مہمانوں کو آرام دیتے ہو ان سب کی خوب خدمت کرو اگر کسی کو گھر یا مکان میں سردی ہو تو لکڑی یا کوئلہ کا انتظام کردو۔

دینی علوم کی تحصیل کے لئے تقویٰ اور طہارت کی ضرورت ہے

جب تک خدا کی طرف سے روشنی نہ ہو تب تک انسان کو یقین نہیں ملتا۔ اس کی باتوں میں تناقض ہوگا دینی اور دنیاوی علوم میں یہ فرق ہے کہ دنیاوی علوم کی تحصیل اور ان کی باریکیوں پر واقف ہونے کے لیے تقویٰ طہارت کی ضرورت نہیں ہے ایک پلید سے پلید انسان خواہ کیسا ہی فاسق وفاجر ہو، ظالم ہو، وہ ان کو حاصل کر سکتا ہے چوڑھے چمار بھی ڈگریاں پالیتے ہیں، لیکن دینی علوم اس قسم کے نہیں ہیں کہ ہر ایک ان کو حاصل کر سکے ان کی تحصیل کے لیے تقویٰ اور طہارت کی ضرورت ہے جیسے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ(الواقعۃ:۸۰) پس جس شخص کو دینی علوم حاصل کرنے کی خواہش ہے اسے لازم ہے کہ تقویٰ میں ترقی کرے جس قدر وہ ترقی کرے گا اسی قدر لطیف دقائق اور حقائق اس پر کھلیں گے۔

تقویٰ کا مرحلہ بڑا مشکل ہے اسے وہی طے کر سکتا ہے جو بالکل خدا کی مرضی پر چلے جو وہ چاہے وہ کرے اپنی مرضی نہ کرے بناوٹ سے کوئی حاصل کرنا چاہے تو ہرگز نہ ہوگا۔ اس لیے خدا کے فضل کی ضرورت ہے اور وہ اسی طرح سے ہوسکتا ہے کہ ایک طرف تو دعا کرے اور ایک طرف کوشش کرتا رہے خدا تعالیٰ نے دعا اور کوشش دونوں کی تاکید فرمائی ہے ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ(المؤمن:۶۱) میں تو دعا کی تاکید فرمائی ہے اور جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا(العنکبوت:۷۰) میں کوشش کی۔ جب تک تقویٰ نہ ہوگی اولیاء الرحمٰن میں ہرگز داخل نہ ہوگا اور جب تک یہ نہ ہوگا حقائق اور معارف ہرگز نہ کھلیں گے قرآن شریف کی عروس اسی وقت پردہ اٹھاتی ہے جب اندرونی غبار دور ہوجاتا ہے مگر افسوس ہے کہ جس قدر محنت اور دعا دنیوی امور کے لیے ہوتی ہے خدا کے لیے اس قدر بالکل نہیں ہوتی اگر ہوتی ہے تو عام رسمی رواجی الفاظ میں کہ صرف زبان پر ہی وہ مضمون ہوتا ہے نہ کہ دل میں اپنے اپنے نفس کے لیے تو بڑے سوز ا ور گداز ش سے دعائیں کرتے ہیں کہ قرض سے خلاصی ہو یا فلاں مقدمہ میں فتح ہو یا مرض سے نجات ملے مگر دین کے لیے ہرگز وہ سوز و گدازش نہیں ہوتی۔ دعا صرف لفظوں کا نام نہیں کہ موٹے اور عمدہ عمدہ لفظ بول لیے بلکہ یہ اصل میں ایک موت ہے۔ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ(المؤمن:۶۱) کے یہی معنے ہیں کہ انسان سوز و گدازش میں اپنی حالت موت تک پہنچاوے مگر جاہل لوگ دعا کی حقیقت سے ناواقف اکثر دھوکا کھاتے ہیں جب کوئی خوش قسمت انسان ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ دنیا اور اس کے افکار کیا شَے ہے اصل بات تو دین ہے اگر وہ ٹھیک ہوا تو سب ٹھیک ہے۔

شب تنور گذشت و شب سمور گذشت

یہ خواہ تنگی سے گذرے خواہ فراخی سے اور وہ آخرت کا فکر کرتا ہے۔

کوئی پاک نہیں بن سکتا جب تک خدا نہ بناوے۔ جب خدا کے دروازہ پر تذلّل اور عجز سے اس کی روح گرے گی تو خدا اس کی دعا قبول کرے گا اور وہ متقی بنے گا اور اس وقت وہ اس قابل ہو سکے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو سمجھ سکے اس کے بغیر جو کچھ وہ دین دین کر کے پکارتا ہے اور عبادت وغیرہ کرتا ہے وہ ایک رسمی بات اور خیالات ہیں کہ آبائی تقلید سے سن سنا کر بجا لاتا ہے کوئی حقیقت اور روحانیت اس کے اندر نہیں ہوتی۔

لیلۃ القدر کے معنے اور اس میں عمل کی قدر

اس سے پیشتر بھی میں نے لکھا ہے کہ ہم لیلۃ القدر کے دونوں معنوں کو مانتے ہیں ایک وہ جو عرف عام میں ہے کہ بعض راتیں ایسی ہوتی ہیں کہ خدا تعالیٰ ان میں دعائیں قبول کرتا ہے اور ایک اس سے مُراد تاریکی کے زمانہ کی ہے جس میں عام ظلمت پھیل جاتی ہے حقیقی دین کا نام ونشان نہیں رہتا ہے اس میں جو شخص خدا کے سچے متلاشی ہوتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں وہ بڑے قابل قدر ہوتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک بادشاہ ہو اور اس کا ایک بڑا لشکر ہو۔ دشمن کے مقابلے کے وقت سب لشکر بھاگ جاوے اور صرف ایک یا دو آدمی وفادار اس کے ساتھ رہ جاویں اور انہیں کے ذریعہ سے اسے فتح حاصل ہو تو اب دیکھ لو کہ ان ایک یا دو کی بادشاہ کی نظر میں کیا قدر ہوگی۔ پس اس وقت جبکہ ہر طرف دہریت پھیلی ہوئی ہے کوئی تو قول سے اور کوئی عمل سے خدا کا انکار کر رہا ہے۔ ایسے وقت میں جو خدا کا حقیقی پرستار ہوگا وہ بڑا قابلِ قدر ہوگا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بھی لیلۃ القدر کا زمانہ تھا اس وقت کی تاریکی اور ظلمت کی بھی کوئی انتہا نہ تھی ایک طرف یہود گمراہ۔ ایک طرف عیسائی گمراہ۔ ادھر ہندوستان میں دیوتا پرستی۔ آتش پرستی وغیرہ۔ گویا سب دنیا میں بگاڑ پھیلا ہوا تھا اس وقت بھی جبکہ ظلمت انتہا تک پہنچ گئی تھی تو اس نے تقاضا کیا تھا کہ ایک نور آسمان سے نازل ہو۔ سو وہ نور جو نازل ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات تھی۔ قاعدہ کی بات ہے کہ جب ظلمت اپنے کمال کو پہنچتی ہے تو وہ نور کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ جیسے کہ جب چاند کی ۲۹؍تاریخ ہو جاتی ہے اور رات بالکل اندھیری ہوتی ہے تو نئے چاند کے نکلنے کا وقت ہوتا ہے تو اس زمانہ کو بھی خدا نے لیلۃ القدر کے نام سے موسوم کیا ہے جیسے کہ فرماتا ہے اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الۡقَدۡرِ(القدر:۲) اسی طرح جب نور اپنے کمال کو پہنچتا ہے تو پھر وہ گھٹنا شروع ہوتا ہے جیسے کہ چاند کو دیکھتے ہو اور اسی طرح سے یہ قیامت تک رہے گا کہ ایک وقت نور کا غلبہ ہوگا اور ایک وقت ظلمت کا۔

خدا شناسی کی ضرورت

یہ دنیا چند روزہ ہے اور ایسا مقام ہے کہ آخر فنا ہے۔ اندر ہی اندر اس فنا کا سامان لگا ہوا ہے وہ اپنا کام کر رہا ہے مگر خبر نہیں ہوتی اس لیے خدا شناسی کی طرف قدم جلد اٹھانا چاہیے۔ خدا کا مزا اسے آتا ہے جو اسے شناخت کرے اور جو اس کی طرف صدقِ و فا سے قدم نہیں اُٹھاتا اس کی دعا کھلے طور پر قبول نہیں ہوتی۔ اور کوئی نہ کوئی حصہ تاریکی کا اسے لگا ہی رہتا ہے۔ اگر خدا کی طرف ذراسی حرکت کروگے تو وہ اس سے زیادہ تمہاری طرف حرکت کرے گا، لیکن اوّل تمہاری طرف سے حرکت کا ہونا ضروری ہے۔ یہ خام خیالی ہے کہ بلا حرکت کئے کے اس سے کسی قسم کی توقع رکھی جاوے یہ سنّت اللہ اسی سے جاری ہے کہ ابتدا میں انسان سے ایک فعل صادر ہوتا ہے۔ پھر اس پر خدا تعالیٰ کا ایک فعل نتیجۃً ظاہر ہوتا ہے۔ اگر ایک شخص اپنے مکان کے کل دروازے بند کر دے گا تو یہ بند کرنا اس کا فعل ہوگا۔ خدا کا فعل اس پر یہ ظاہر ہوگا کہ اس مکان میں اندھیرا ہو جاوے گا لیکن انسان کو اس کو چہ میں پڑ کر صبر سے کام لینا چاہیے۔ بعض لوگ شکایت کیا کرتے ہیں کہ ہم نے سب نیکیاں کیں۔ نماز بھی پڑھی روزے بھی رکھے۔ صدقہ خیرات بھی دیا مجاہدہ بھی کیا مگر ہمیں وصول کچھ نہیں ہوا۔ تو ایسے لوگ شقی ازلی ہوتے ہیں کہ وہ خدا کی صفتِ ربوبیت پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ انہوں نے سب اعمال خدا کے لیے کئے ہوتے ہیں۔ اگر خدا کے لیے کوئی فعل کیا جاوے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ضائع ہو اور خدا تعالیٰ اس کا ا جرا سی زندگی میں نہ دیوے۔ اسی وجہ سے اکثر لوگ شکوک و شبہات میں رہتے ہیں اور ان کو خدا کی ہستی کا کوئی پتا نہیں لگتا کہ ہے بھی کہ نہیں۔ ایک پارچہ سِلا ہوا ہو تو انسان جان لیتا ہے کہ اس کے سینے والا ضرور کوئی ہے۔ ایک گھڑی ہے وقت دیتی ہے۔ اگر جنگل میں بھی انسان کو مل جاوے تو وہ خیال کرے گا کہ اس کا بنانے والا ضرور ہے۔ پس اسی طرح خدا کے افعال کو دیکھو کہ اس نے کس کس قسم کی گھڑیاں بنا رکھی ہیں اور کیسے کیسے عجائباتِ قدرت ہیں ایک طرف تو اس کی ہستی کے عقلی دلائل ہیں۔ ایک طرف نشانات ہیں وہ انسان کو منوا دیتے ہیں کہ ایک عظیم الشان قدرتوں والا خدا موجود ہے وہ پہلے اپنے برگزیدہ پر اپنا ارادہ ظاہر فرمایا کرتا ہے اور یہی بھاری شَے ہے جو انبیاء لاتے ہیں اور جس کا نام پیشگوئی ہے۔ ایک انسان کاغذ کا کبوتر بنا کر دکھلاوے تو اس کی نظیر دوسرے ایسے کام اور بھی کر کے دکھا دیتے ہیں اور اسے اعجاز میں شمار نہیں کیا جاتا۔ مگر پیشگوئی کا میدان وسیع ہے۔ اس کی نظیر پیدا کرنا انسان کا کام نہیں۔ ہزار ہزار برس پیشتر اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو اپنے ارادہ سے اطلاع دیتا ہے اور پھر وہ بات اپنے وقت پر پوری ہو کر رہتی ہے۔ مثلاً براہین کی ہی پیشگوئیوں کو دیکھو کہ جس قدر مخالفت ہو رہی ہے۔ مقدمات ہوئے۔ گورنمنٹ تک نوبت پہنچی۔ یہ سب اوّل سے اس میں درج ہیں اور پھر کامیابی، فتح اور نصرت کی بھی خبر اوّل سے ہی دے دی۔ کوئی سوچ کر بتلا دے کہ اس میں کیا فریب اور شعبدہ ہے۔ ۲۳، ۲۴سال پیشتر کی چھپی ہوئی یہ کتاب ہے۔ کوئی بتلا سکتا ہے کہ ہمارے پاس اس وقت کون کون ہوتا تھا۔ اگر اہل الرائے کے نزدیک یہ ایک انسانی فعل ہے اور خدا کا نہیں ہے تو وہ اس کی نظیر پیش کریں لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ جبکہ یہ حال ہے تو پھر اسے کیوں خدا کا کلام نہ کہا جاوے۔

جس قدر لوگ ہماری صحبت میں رہنے والے ہیں ان میں کوئی اُٹھ کر بتلاوے کہ کیا کوئی ایسا فردِ بشر بھی ہے کہ اس نے کوئی نشان نہ دیکھا ہو۔ ہمارے پر سلطنت ایسے لوگوں کی ہے جو سچے اور کامل خدا سے بالکل بے خبر ہیں۔ دنیاوی امور میں اس قدر مصروفیت ہے کہ دین سے بالکل غافل رہے اور وہی فلسفہ کا زور۔ اس لیے دہریت ان میں آ گئی۔ اب ہمارا بڑا کام یہ ہے کہ نئے سرے سے بنیاد ڈالیں اور ان کو دکھا دیویں کہ خدا ہے۔

ہر ایک ہمارے پاس کسی نہ کسی ضرورت کے لیے آتا ہے مگر اصل میں بڑی ضرورت خدا شناسی کی ہے۔ اسی کے نہ ہونے سے گناہ ہوتا ہے۔ کتّا ایک ذلیل سے ذلیل جانور ہے مگر اس سے خوف زدہ ہو کر وہ راہ چھوڑ دیتا ہے اسی طرح جس راہ میں اسے علم ہو کہ سانپ یا بھیڑیا ہے تو اسے چھوڑ دیتا ہے۔ جب وہ ادنیٰ ترین جانوروں سے ڈرتا ہے تو کیا خدا کے وجود کا اسے اتنا بھی خوف نہیں ہے کہ اس سے دور ہو کر گناہ سے باز رہے۔ زہر اس کے سامنے ہو تو اسے نہیں کھائے گا لیکن گناہ کو دیدہ دانستہ کر لے گا۔ اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین نہیں ہے۔

حالانکہ مشاہدہ کرتا ہے کہ اس نے ایک جہنم یہاں بھی طیار کر رکھا ہے کہ جب کوئی بدکاری کرتا ہے تو اس کی سزا بھی ساتھ ہی پاتا ہے۔ جس کسی کی جہنمی زندگی ہے وہ خوب محسوس کرلے گا۔ سچی بات یہ ہے کہ جرائم پیشہ کو وہ کبھی نہیں چھوڑتا جو شخص دلیری اور چالاکی سے گناہ کرتا ہے اس کا انجام بد ہوتا ہے۔ یہ تو جسمانی طور پر گناہ کی سزا ہے لیکن روحانی طور پر بھی جو شخص خدا کو نہیں پہچانتا وہ جہنم ہی ہے۔ بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہے کہ حیوانوں کی طرح کھا پی لیا اور عورتوں کے پاس ہو آیا۔ اگر اسی کا نام زندگی ہے تو بتلاؤ کہ حیوانوں میں اور اس میں کیا فرق ہے اور حیوانوں سے زائد قویٰ عقل و فکر وغیرہ کے خدا نے اسے کیوں دیئے۔ جو لوگ ان قویٰ سے کام نہیں لیتے ان کو خدا تعالیٰ اَضَل از اَنْعام قرار دیتا ہے۔ یہ اس لیے کہ اس نے قویٰ کو معطل کر دیا۔ بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ انسان کو حقیقی طور پر معلوم ہو جاوے کہ خدا ہے۔

جس قدر جرائم، معاصی اور غفلت وغیرہ ہوتی ہے ان سب کی جڑ خدا شناسی میں نقص ہے۔ اسی نقص کی وجہ سے گناہ میں دلیری ہوتی ہے۔ بدی کی طرف رجوع ہوتا ہے۔ اور آخر کار بدچلنی کی وجہ سے آتشک کی نوبت آتی ہے پھر اس سے جذام ہوتا ہے جس سے نوبت موت تک پہنچتی ہے۔ حالانکہ اگر بد کار آدمی بدکاری میں لذّت حاصل نہ کرے تو خدا اسے لذّت اَور طریق سے دے دے گا یا اس کے جائز وسائل بہم پہنچا دے گا۔ مثلاً اگر چور چوری کرنا ترک کر دے تو خدا اسے مقدر رزق ایسے طریق سے دے دے گا کہ حلال ہو اور حرامکار حرامکاری نہ کرے تو خدا نے اس پر حلال عورتوں کا دروازہ بند نہیں کر دیا۔ اسی لیے بد نظری اور بدکاری سے بچنے کے لیے ہم نے اپنی جماعت کو کثرتِ ازدواجی کی بھی نصیحت کی ہے کہ تقویٰ کے لحاظ سے اگر وہ ایک سے زیادہ بیویاں کرنا چاہیں تو کرلیں مگر خدا کی معصیت کے مرتکب نہ ہوں۔ پھر گناہ کر کے جو شخص ایمان کا دعویٰ کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔۱؎

۲۶؍دسمبر۱۹۰۳ء

صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کی شہادت کا درجہ

صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی نسبت حضرت اقدس نے فرمایا کہ وہ ایک اسوئہ حسنہ چھوڑ گئے ہیں اور اگر غور سے دیکھا جاوے تو اس کا واقعہ حضرت امام حسین (علیہ السلام) کے واقعہ سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے کیونکہ وہ تو مقید نہ تھے نہ ان کو زنجیریں ڈالی گئی تھیں صرف ایک قسم کا جنگ تھا امام حسین کے ساتھ بھی کچھ فوج تھی اگر ان کے آدمی مارے گئے تو آخر ان کے آدمیوں نے بھی تو یزید کے آدمیوں کو مارا اور نہ جان کے بچانے کا کوئی موقع ان کو ملا مگر یہاں عبداللطیف صاحب مقید تھے زنجیریں ان کے ہاتھ پاؤں میں پڑی ہوئی تھیں مقابلہ کرنے کی ان کو قوت نہ تھی اور بار بار جان کے بچانے کا موقع دیا جاتا تھا یہ اس قسم کی شہادت واقع ہوئی ہے کہ اس کی نظیر ۱۳ سو سال میں ملنی محال ہے۔ عام معمولی زندگی کا چھوڑنا محال ہوا کرتا ہے حالانکہ ان کی زندگی ایک تنعم کی زندگی تھی مال، دولت، جاہ و ثروت سب کچھ موجود تھا اور اگر وہ امیر کا کہنا مان لیتے تو ان کی عزّت اَور بڑھ جاتی مگر انہوں نے ان سب پر لات مار کر اور دیدہ دانستہ بال بچوں کو کچل کر موت کو قبول کیا۔ انہوں نے بڑا تعجب انگیز نمونہ دکھلایا ہے اور اس قسم کے ایمان کو حاصل کرنے کی کوشش ہر ایک کو کرنی چاہیے جماعت کو چاہیے کہ اسی کتاب (تذکرۃ الشہادتین) کو بار بار پڑھیں اور فکر کریں اور دعا کریں کہ ایسا ہی ایمان حاصل ہو۔

مومنوں کے دو گروہ ہوتے ہیں ایک تو جان کو فدا کرنے والے اور دوسرے جو ابھی منتظر ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ہماری جماعت کے بہت سے لوگوں میں سے وہ ۱۴ اچھے ہیں جو کہ قید میں ہیں۔۱؎ ابھی بہت سا حصہ ایسا ہے جو کہ صرف دنیا کو چاہتا ہے حالانکہ جانتے ہیں کہ مَر جانا ہے اور موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے مگر پھر بھی دنیا کا خیال بہت ہے۔ اس سرزمین (پنجاب )میں بزدلی بہت ہے بہت کم ایسے آدمی ہیں کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہیں اکثر خیال بیوی بچوں کا رہتا ہے دو دو آنہ پر جھوٹی گواہی دیتے ہیں مگر اس کے مقابلہ پر سرزمین کابل میں وفا کا مادہ زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ لوگ قرب الٰہی کے زیادہ مستحق ہیں (بشرطیکہ مامور من اللہ کی آواز کو گوشِ دل سے سنیں) خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اسی لیے ابراہیمؑ کی تعریف کی ہے جیسے کہ فرمایا ہے وَاِبۡرٰہِیۡمَ الَّذِیۡ وَفّٰۤی(النجم:۳۸) کہ اس نے جو عہد کیا اسے پورا کر کے دکھایا۔ لوگوں کا دستور ہے کہ حالت تنعّم میں وہ خدا سے برگشتہ رہتے ہیں اور جب مصیبت اور تکلیف پڑتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں مانگتے ہیں اور ذرا سے ابتلا سے خدا سے قطع تعلق کر لیتے ہیں خدا کو اس شرط پر ماننے کے لیے طیار ہیں کہ وہ ان کی مرضی کے برخلاف کچھ نہ کرے۔ حالانکہ دوستی کا اصول یہ ہے کہ کبھی اپنی اس سے منوائے اور کبھی اس کی آپ مانے اور یہی طریق خدا نے بھی بتلایا ہے ایک جگہ تو فرماتا ہے ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ(المؤمن:۶۱) کہ تم مانگو تو میں دوں گا یعنی تمہاری بات مانوں گا اور دوسری جگہ اپنی منواتا ہے اور فرماتا ہے وَلَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ(البقرۃ:۱۵۶) مگر یہاں آج کل لوگ خدا تعالیٰ کو مثل غلام کے اپنی مرضی کے تابع کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ غوث، قطب، ابدال اور اولیاء وغیرہ جس قدر لوگ ہوئے ہیں ان کو یہ سب مراتب اسی لیے ملے کہ خدا تعالیٰ کی مرضی کو اپنی مرضی پر مقدم رکھتے چلے آئے چونکہ افغانستان کے لوگوں میں یہ مادہ وفا کا زیادہ پایا جاتا ہے اس لیے کیا تعجب ہے کہ وہ لوگ ان لوگوں (اہل پنجاب) سے آگے بڑھ جاویں اور گوئے سبقت لے جاویں اور یہ پیچھے رہ جاویں کیونکہ وہ لوگ اپنے عہد کے اس قدر پابند ہیں کہ جان تک کی پروا نہیں کرتے نہ مال کی نہ بیوی کی نہ بچے کی جس کا نمونہ ابھی مولوی عبداللطیف صاحب نے دکھا دیا ہے۔۱؎

سلسلہ احمدیہ کے قیام کی غرض

اعلیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تقریر پُرتاثیر جو ۲۶؍دسمبر ۱۹۰۳ء کو بعد نماز ظہر مسجد اقصیٰ میں آپ نے کھڑے ہو کر فرمائی۔

میں نے اس واسطے چند کلمات کے بیان کرنے کی ضرورت سمجھی ہے کہ چونکہ موت کا اعتبار نہیں ہے اور کوئی شخص اپنی نسبت یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ میری زندگی کس قدر ہے اور کتنے دن باقی ہیں اس لیے مجھے یہ اندیشہ بار بار پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہماری جماعت میں سے کوئی ناواقف ہو تو وہ واقف ہو جائے کہ اس سلسلہ کے قائم کرنے سے اللہ تعالیٰ کی کیا غرض ہے؟ اور ہماری جماعت کو کیا کرنا چاہیے تو یہ سخت غلطی ہو گی اور یہ بھی غلطی ہے کہ کوئی اتنا ہی سمجھ لے کہ رسمی طور پر بیعت میں داخل ہونا ہی نجات ہے اس لیے ضرورت پڑی ہے کہ میں اصل غرض بتاؤں کہ خدا تعالیٰ کیا چاہتا ہے؟

سب لوگ یاد رکھو کہ رسمی طور پر بیعت میں داخل ہونا یا مجھ کو امام سمجھ لینا اتنی ہی بات نجات کے واسطے ہرگز کافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ دلوں کو دیکھتا ہے وہ زبانی باتوں کو نہیں دیکھتا۔

نجات کے واسطے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بار بار فرمایا ہے وہی ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ اوّل سچے دل سے اللہ تعالیٰ کو وحدہٗ لاشریک سمجھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا نبیؐ یقین کرے اور قرآن شریف کو کتاب اللہ سمجھے کہ وہ ایسی کتاب ہے کہ قیامت تک اب اور کوئی کتاب یا شریعت نہ آئے گی یعنی قرآن شریف کے بعد اب کسی کتاب یا شریعت کی ضرورت نہیں ہے۔ دیکھو خوب یاد رکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں یعنی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نئی شریعت، نئی کتاب نہ آئے گی نئے احکام نہ آئیں گے۔ یہی کتاب اور یہی احکام رہیں گے جو الفاظ میری کتاب میں نبی یا رسول کے میری نسبت پائے جاتے ہیں اس میں ہرگز یہ منشا نہیں ہے کہ کوئی نئی شریعت یا نئے احکام سکھائے جاویں بلکہ منشا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی ضرورت حقّہ کے وقت کسی کو مامور کرتا ہے تو ان معنوں سے کہ مکالماتِ الٰہیہ کا شرف اس کو دیتا ہے اور غیب کی خبریں اس کو دیتا ہے اس پر نبی۱؎ کا لفظ بولا جاتا ہے اور وہ مامور نبی کا خطاب پاتا ہے یہ معنے نہیں ہیں کہ نئی شریعت دیتا ہے یا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو نعوذ باللہ منسوخ کرتا ہے بلکہ یہ جو کچھ اسے ملتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی سچی اور کامل اتباع سے ملتا ہے اور بغیر اس کے مل سکتا ہی نہیں۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ جب زمانہ میں گناہ کثرت سے ہوتے ہیں اور اہلِ دنیا ایمان کی حقیقت نہیں سمجھتے اور ان کے پاس پوست یا ہڈی رہ جاتی ہے اور مغز اور لب نہیں رہتا ایمانی قوت کمزور ہو جاتی ہے اور شیطانی تسلط اور غلبہ بڑھ جاتا ہے ایمانی ذوق اور حلاوت نہیں رہتی ایسے وقتوں میں عادت اللہ اس طرح پر جاری ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایک کامل بندہ کو جو خدا تعالیٰ کی سچی اطاعت میں فنا شدہ اور محو ہوتا ہے اپنے مکالمہ کا شرف بخش کر بھیجتا ہے اور اب اس وقت اس نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے کیونکہ یہی وہ زمانہ ہے جس میں الٰہی محبت بالکل ٹھنڈی ہوگئی ہے۱؎ اگرچہ عام نظر میں یہ دیکھا جاتا ہے لوگ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ(الصّٰفّٰت:۳۶) کے بھی قائل ہیں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی زبان سے تصدیق کرتے ہیں۔ بظاہر نمازیں بھی پڑھتے ہیں روزے بھی رکھتے ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ روحانیت بالکل نہیں رہی اور دوسری طرف ان اعمال صالحہ کے مخالف کام کرنا ہی شہادت دیتا ہے کہ وہ اعمال اعمالِ صالحہ کے رنگ میں نہیں کئے جاتے بلکہ رسم اور عادت کے طور پر کئے جاتے ہیں کیونکہ ان میں اخلاص اور روحانیت کا شمہ بھی نہیں ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ ان اعمالِ صالحہ کے برکات اور انوار ساتھ نہیں ہیں۔ خوب یاد رکھو کہ جب تک سچے دل سے اور روحانیت کے ساتھ یہ اعمال نہ ہوں کچھ فائدہ نہ ہوگا اور یہ اعمال کام نہ آئیں گے۔ اعمال صالحہ اسی وقت اعمال صالحہ کہلاتے ہیں جب ان میں کسی قسم کا فساد نہ ہو صلاح کی ضد فساد ہے صالحہ وہ ہے جو فساد سے مبرّا منزّہ ہو جن کی نمازوں میں فساد ہے اور نفسانی اغراض چھپے ہوئے ہیں ان کی نمازیں اللہ تعالیٰ کے واسطے ہرگز نہیں ہیں اور وہ زمین سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتی ہیں کیونکہ ان میں اخلاص کی روح نہیں اور روحانیت سے خالی ہیں۔

بہت سے لوگ ایسے ہیں جو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس سلسلہ کی کیا ضرورت ہے؟ کیا ہم نماز روزہ نہیں کرتے ہیں وہ اس طرح پر دھوکا دیتے ہیں اور کچھ تعجب نہیں کہ بعض لوگ جو ناواقف ہوتے ہیں ایسی باتوں کو سن کر دھوکا کھا جاویں اور ان کے ساتھ مل کر یہ کہہ دیں کہ جس حالت میں ہم نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں اور وِرد وظائف کرتے ہیں پھر کیوں یہ پھوٹ ڈال دی۔ یاد رکھو کہ ایسی باتیں کم سمجھی اور معرفت کے نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔ میرا اپنا کام نہیں ہے یہ پھوٹ اگر ڈال دی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ڈالی ہے جس نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے کیونکہ ایمانی حالت کمزور ہوتے ہوتے یہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ ایمانی قوت بالکل معدوم ہی ہوگئی ہے اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ حقیقی ایمان کی روح پھونکے جو اس سلسلہ کے ذریعہ سے اس نے چاہا ہے۔ ایسی صورت میں ان لوگوں کا اعتراض بے جا اور بیہودہ ہے۔ پس یاد رکھو کہ ایسا وسوسہ ہرگز ہرگز کسی کے دل میں نہیں آنا چاہیے اور اگر پورے غور اور فکر سے کام لیا جاوے تو یہ وسوسہ آ ہی نہیں سکتا۔ غور سے کام نہ لینے کے سبب ہی سے وسوسہ آتا ہے جو ظاہری حالت پر نظر کر کے کہہ دیتے ہیں کہ اور بھی مسلمان ہیں اس قسم کے وسوسوں سے انسان جلد ہلاک ہو جاتا ہے۔ میں نے بعض خطوط اس قسم کے لوگوں کے دیکھے ہیں جو بظاہر ہمارے سلسلہ میں ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم سے جب یہ کہا گیا کہ دوسرے مسلمان بھی بظاہر نماز پڑھتے ہیں اور کلمہ پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں اور نیک معلوم ہوتے ہیں پھر اس نئے سلسلہ کی کیا حاجت ہے؟ یہ لوگ باوجودیکہ ہماری بیعت میں داخل ہیں ایسے وسوسے اور اعتراض سن کر لکھتے ہیں کہ ہم کو اس کا جواب نہیں آیا۔ ایسے خطوط پڑھ کر مجھے ایسے لوگوں پر افسوس اور رحم آتا ہے کہ انہوں نے ہماری اصل غرض اور منشا کو نہیں سمجھا۔ وہ صرف دیکھتے ہیں کہ رسمی طور پر یہ لوگ ہماری طرح شعائرِ اسلام بجالاتے ہیں اور فرائض الٰہی ادا کرتے ہیں حالانکہ حقیقت کی روح ان میں نہیں ہوتی اس لیے یہ باتیں اور وساوس سحر کی طرح کام کرتے ہیں وہ ایسے وقت نہیں سوچتے کہ ہم حقیقی ایمان پیدا کرنا چاہتے ہیں جو انسان کو گناہ کی موت سے بچا لیتا ہے اور ان رسوم و عادات کے پیرو لوگوں میں وہ بات نہیں ان کی نظر ظاہر پر ہے حقیقت پر نگاہ نہیں۔ ان کے ہاتھ میں چھلکا ہے جس میں مغز نہیں۔

مامور کے وقت کس چیز کی ضرورت ہوتی ہے

یاد رکھو اور سمجھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں کیا یہود تورات کو چھوڑ بیٹھے تھے اور اس پر ان کا عمل نہ تھا؟ ہرگز نہیں یہودی تو اب تک بھی تورات کو مانتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ ان کی قربانیاں اور رسوم آج بھی اسی طرح ہوتی ہیں جیسے اس وقت کرتے تھے وہ برابر آج تک بیت المقدس کو اپنا قبلہ سمجھتے ہیں اور اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ ان کے بڑے بڑے عالم اور احبار بھی اس وقت موجود تھے اس وقت پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور کتاب اللہ کی کیا ضرورت پڑی تھی؟ دوسری طرف عیسائی قوم تھی ان میں بھی ایک فرقہ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ(الصّٰفّٰت:۳۶) کو مانتا تھا پھر کیا وجہ تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا اور کتاب اللہ کو بھیجا؟ یہ ایک سوال ہے جس پر ہمارے مخالفوں اور ایسا اعتراض کرنے والوں کو غور کرنا چاہیے اگر چہ یہ ایک باریک مسئلہ ہے لیکن جو لوگ غور اور فکر کرتے ہیں ان کے لیے باریک نہیں ہے۔

یاد رکھو اللہ تعالیٰ روح اور روحانیت پر نظر کرتا ہے وہ ظاہری اعمال پر نظر اور نگاہ نہیں کرتا وہ ان کی حقیقت اور اندرونی حالت کو دیکھتا ہے کہ ان اعمال کی تہہ میں خود غرضی اور نفسانیت ہے یا اللہ تعالیٰ کی سچی اطاعت اور اخلاص مگر انسان بعض وقت ظاہری اعمال کو دیکھ کر دھوکا کھا جاتا ہے۔ جس کے ہاتھ میں تسبیح ہے یا وہ تہجد و اشراق پڑھتا ہے بظاہر ابرار و اخیار کے کام کرتا ہے تو اس کو نیک سمجھ لیتا ہے مگر خدا تعالیٰ کو تو پوست۱؎ پسند نہیں۔

یہ پوست اور قشر ہے اللہ تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا اور کبھی راضی نہیں ہوتا جب تک وفاداری اور صدق نہ ہو بے وفا آدمی کتّے کی طرح ہے جو مُردار دنیا پر گرے ہوئے ہوتے ہیں وہ بظاہر نیک بھی نظر آتے ہیں لیکن افعال ذمیمہ ان میں پائے جاتے ہیں اور پوشیدہ بد چلنیاں ان میں پائی جاتی ہیں جو نمازیں ریاکاری سے بھری ہوئی ہوں، نمازوں کو ہم کیا کریں اور ان سے کیا فائدہ؟۱؎

حقیقی نماز

نماز اس وقت حقیقی نماز کہلاتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ سے سچا اور پاک تعلق ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اطاعت میں اس حد تک فنا ہو اور یہاں تک دین کو دنیا پر مقدم کرلے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں جان تک دے دینے اور مَرنے کے لئے طیار ہو جائے جب یہ حالت انسان میں پیدا ہو جائے اس وقت کہا جائے گا کہ اس کی نماز نماز ہے مگر جب تک یہ حقیقت انسان کے اندر پیدا نہیں ہوتی اور سچا اخلاص اور وفاداری کا نمونہ نہیں دکھلاتا اس وقت تک اس کی نمازیں اور دوسرے اعمال بے اثر ہیں۔

بہت سی مخلوق ایسی ہے کہ لوگ ان کو مومن اور راست باز سمجھتے ہیں مگر آسمان پر ان کا نام کافر ہے۔۲؎ اس واسطے حقیقی مومن اور راستباز وہی ہے جس کا نام آسمان پر مومن ہے۔ دنیا کی نظر میں خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ کہلاتا ہو۔ حقیقت میں یہ بہت ہی مشکل گھاٹی ہے کہ انسان سچا ایمان لاوے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ کامل اخلاص اور وفاداری کا نمونہ دکھلاوے۔ جب انسان سچا ایمان لاتا ہے تو اس کے بہت سے نشانات ہو جاتے ہیں۔ قرآن شریف نے سچے مومنوں کی جو علامات بیان کی ہیں وہ ان میں پائی جاتی ہیں۔ ان علامات میں سے ایک بڑی علامت جو حقیقی ایمان کی ہے وہ یہی ہے کہ جب انسان دُنیا کو پاؤں کے نیچے کچل کر اس سے اس طرح پر الگ ہو جاتا ہے جیسے سانپ اپنی کینچلی سے باہر آجاتا ہے۔ اس طرح پر جب انسان نفسانیت کی کینچلی سے باہر آجاتا ہے تو وہ مومن ہوتا ہے اور ایمان کامل کے آثار اس میں پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا ہے اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّالَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ(النحل:۱۲۹) یعنی بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو تقویٰ سے بھی بڑھ کر کام کرتے ہیں یعنی محسنین ہوتے ہیں۔

حقیقی نیکی

تقویٰ کے معنی ہیں بدی کی باریک راہوں سے پرہیز کرنا۔ مگر یاد رکھو نیکی اتنی نہیں ہے اگر ایک شخص کہے کہ میں نیک ہوں اس لیے کہ میں نے کسی کا مال نہیں لیا، نقب زنی نہیں کی، چوری نہیں کرتا، بد نظری اور زنا نہیں کرتا۔ ایسی نیکی عارف کے نزدیک ہنسی کے قابل ہے کیونکہ اگر وہ ان بدیوں کا ارتکاب کرے اور چوری یا ڈاکہ زنی کرے تو وہ سزا پائے گا۔ پس یہ کوئی نیکی نہیں کہ جو عارف کی نگاہ میں قابل قدر ہو بلکہ اصلی اور حقیقی نیکی یہ ہے کہ نوعِ انسان کی خدمت کرے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں کامل صدق اور وفاداری دکھلائے اور اس کی راہ میں جان تک دے دینے کو طیار ہو۔ اسی لیے یہاں فرمایا ہے اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّالَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ(النحل:۱۲۹) یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جو بدی سے پرہیز کرتے ہیں اور ساتھ ہی نیکیاں بھی کرتے ہیں۔

یہ خوب یاد رکھو کہ نرا بدی سے پرہیز کرنا کوئی خوبی کی بات نہیں جب تک اُس کے ساتھ نیکیاں نہ کرے۔ بہت سے لوگ ایسے موجود ہوں گے جنہوں نے کبھی زنا نہیں کیا، خون نہیں کیا، چوری نہیں کی، ڈاکہ نہیں مارا اور باوجود اس کے نہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوئی صدق و وفا کا نمونہ انہوں نے دکھایا یا نوعِ انسان کی کوئی خدمت نہیں کی اور اس طرح پر کوئی نیکی نہیں کی۔ پس جاہل ہوگا وہ شخص جو ان باتوں کو پیش کر کے اسے نیکوکاروں میں داخل کرے کیونکہ یہ تو بد چلنیاں ہیں صرف اتنے خیال سے اولیاء اللہ میں داخل نہیں ہو جاتا۱؎ بدچلنی کرنے والے چوری یا خیانت کرنے والے، رشوت لینے والے کے لیے عادت اللہ میں ہے کہ اسے یہاں سزا دی جاتی ہے وہ نہیں مَرتا جب تک سزا نہیں پالیتا۔ یاد رکھو کہ صرف اتنی ہی بات کا نام نیکی نہیں ہے۔

تقویٰ ادنیٰ مرتبہ ہے اس کی مثال تو ایسی ہے جیسے کسی برتن کو اچھی طرح سے صاف کیا جاوے تاکہ اس میں اعلیٰ درجہ کا لطیف کھانا ڈالا جائے اب اگر کسی برتن کو خوب صاف کر کے رکھ دیا جائے لیکن اس میں کھانا نہ ڈالا جائے تو کیا اس سے پیٹ بھر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیا وہ خالی برتن طعام سے سیر کر دے گا؟ ہرگز نہیں اسی طرح پر تقویٰ کو سمجھو۔ تقویٰ کیا ہے نفسِ امّارہ کے برتن کو صاف کرنا۔۱؎

نفس کی تین حالتیں

نفس کو تین قسم پر تقسیم کیا ہے نفسِ امّارہ، نفسِ لوّامہ، نفسِ مطمئنہ۔ ایک نفسِ زکیہ بھی ہوتا ہے مگر وہ بچپن کی حالت ہے۔ جب گناہ ہوتا ہی نہیں اس لیے اس نفس کو چھوڑ کر بلوغ کے بعد تین نفسوں ہی کی بحث کی ہے۔ نفسِ امّارہ کی وہ حالت ہے جب انسان شیطان اور نفس کا بندہ ہوتا ہے اور نفسانی خواہشوں کا غلام اور اسیر ہو جاتا ہے جو حکم نفس کرتا ہے اس کی تعمیل کے واسطے اس طرح طیار ہو جاتا ہے جیسے ایک غلام دست بستہ اپنے مالک کے حکم کی تعمیل کے لیے مستعد ہوتا ہے اس وقت یہ نفس کا غلام ہو کر جو وہ کہے یہ کرتا ہے وہ کہے خون کر۔ تو یہ کرتا ہے۔ زنا کہے، چوری کہے، غرض جو کچھ بھی کہے سب کے لئے طیار ہوتا ہے کوئی بدی، کوئی برا کام ہو جو نفس کہے یہ غلاموں کی طرح کر دیتا ہے یہ نفس امّارہ کی حالت ہے اور یہ وہ شخص ہے جو نفس امّارہ کا تابع ہے۔

اس کے بعد نفس لوّامہ ہے یہ ایسی حالت ہے کہ گناہ تو اس سے بھی سرزد ہوتے رہتے ہیں مگر وہ نفس کو ملامت بھی کرتا رہتا ہے اور اس تدبیر اور کوشش میں لگا رہتا ہے کہ اسے گناہ سے نجات مل جائے جو لوگ نفس لوّامہ کے ماتحت یا اس حالت میں ہوتے ہیں وہ ایک جنگ کی حالت میں ہوتے ہیں یعنی شیطان اور نفس سے جنگ کرتے رہتے ہیں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نفس غالب آ کر لغزش ہو جاتی ہے اور کبھی خود نفس پر غالب آ جاتے اور اس کو دبا لیتے ہیں۔ یہ لوگ نفسِ امّارہ والوں سے ترقی کر جاتے ہیں۔ نفسِ امّارہ والے انسان اور دوسرے بہائم میں کوئی فرق نہیں ہوتا جیسے کتّا یا بلی جب کوئی برتن ننگا دیکھتے ہیں تو فوراً جا پڑتے ہیں اور نہیں دیکھتے کہ وہ چیز ان کا حق ہے یا نہیں۔ اسی طرح پر نفسِ امّارہ کے غلام انسان کو جب کسی بدی کا موقع ملتا ہے تو فوراً اسے کر بیٹھتا ہے اور طیار رہتا ہے اگر راستہ میں دو چار روپے پڑے ہوں تو فی الفور ان کے اُٹھانے کو طیار ہو جاوے گا اور نہیں سوچے گا کہ اس کو ان کے لینے کا حق ہے یا نہیں مگر لوّامہ والے کی یہ حالت نہیں۔ وہ حالت جنگ میں ہے جس میں کبھی نفس غالب کبھی وہ، ابھی کامل فتح نہیں ہوئی۔ مگر تیسری حالت جو نفسِ مطمئنّہ کی حالت ہے یہ وہ حالت ہے جب ساری لڑائیوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور کامل فتح ہو جاتی ہے اسی لیے اس کا نام نفسِ مطمئنّہ رکھا ہے یعنی اطمینان یافتہ۱؎ اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کے وجود پر سچا ایمان لاتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ واقعی خدا ہے۔ نفسِ مطمئنّہ کی انتہائی حد خدا پر ایمان ہوتا ہے کیونکہ کامل اطمینان اور تسلی اسی وقت ملتی ہے جب اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان ہو۔

یقیناً سمجھو کہ ہر ایک پاکبازی اور نیکی کی اصلی جڑ خدا پر ایمان لانا ہے جس قدر انسان کا ایمان باللہ کمزور ہوتا ہے اسی قدر اعمالِ صالحہ میں کمزوری اور سستی پائی جاتی ہے لیکن جب ایمان قوی ہو اور اللہ تعالیٰ کو اس کی تمام صفاتِ کاملہ کے ساتھ یقین کر لیا جائے اسی قدر عجیب رنگ کی تبدیلی انسان کے اعمال میں پیدا ہو جاتی ہے خدا پر ایمان رکھنے والا گناہ پر قادر نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ یہ ایمان اس کی نفسانی قوتوں اور گناہ کے اعضا کو کاٹ دیتا ہے۔ دیکھو اگر کسی کی آنکھیں نکال دی جاویں تو وہ آنکھوں سے بد نظری کیونکر کر سکتا ہے اور آنکھوں کا گناہ کیسے کرے گا اور اگر ایسا ہی ہاتھ کاٹ دئیے جاویں یا شہوانی قویٰ کاٹ دیئے جاویں۔ پھر وہ گناہ جو ان اعضا سے متعلق ہیں کیسے کر سکتا ہے؟ ٹھیک اسی طرح پر جب ایک انسان نفسِ مطمئنّہ کی حالت میں ہوتا ہے تو نفسِ مطمئنّہ اسے اندھا کر دیتا ہے اور اس کی آنکھوں میں گناہ کی قوت نہیں رہتی۔ وہ دیکھتا ہے پھر نہیں دیکھتا۔ کیونکہ آنکھوں کے گناہ کی نظر سلب ہو جاتی ہے۔ وہ کان رکھتا ہے مگر بہرہ ہوتا ہے اور وہ باتیں جو گناہ کی ہیں نہیں سن سکتا۔ اسی طرح پر اس کی تمام نفسانی اور شہوانی قوتیں اور اندرونی اعضا کاٹ دیئے جاتے ہیں۔ اس کی ان ساری طاقتوں پر جن سے گناہ صادر ہو سکتا تھا ایک موت واقع ہو جاتی ہے اور وہ بالکل ایک میّت کی طرح ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ ہی کی مرضی کے تابع ہوتا ہے۔ وہ اس کے سوا ایک قدم نہیں اُٹھا سکتا۔ یہ وہ حالت ہوتی ہے جب خدا تعالیٰ پر سچا ایمان ہو اور جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کامل اطمینان اسے دیا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جو انسان کا اصل مقصود ہونا چاہیے اور ہماری جماعت کو اسی کی ضرورت ہے اور اطمینانِ کامل کے حاصل کرنے کے واسطے ایمانِ کامل کی ضرورت ہے۔ پس ہماری جماعت کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان حاصل کریں۔

اصلاحِ نفس کا سچا ذریعہ، صحبت صَا دقین

یاد رکھو۔ اصلاحِ نفس کے لیے نری تجویزوں اور تدبیروں سے کچھ نہیں ہوتا ہے جو شخص نری تدبیروں پر رہتا ہے وہ نامُراد اور ناکام رہتا ہے کیونکہ وہ اپنی تدبیروں اور تجویزوں ہی کو خدا سمجھتا ہے۔ اس واسطے وہ فضل اور فیض جو گناہ کی طاقتوں پر موت وارد کرتا ہے اور بدیوں سے بچنے اور ان کا مقابلہ کرنے کی قوت بخشتا ہے وہ انہیں نہیں ملتا کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے آتا ہے جو تدبیروں کا غلام نہیں تھا۔ انسانی تدبیروں اور تجویزوں کی ناکامی کی مثال خود خدا تعالیٰ نے دکھائی ہے یہودیوں کو توریت کے لیے کہا کہ اس میں تحریف و تبدیل نہ کرنا اور بڑی بڑی تاکیدیں اس کی حفاظت کی ان کو کی گئیں لیکن کم بخت یہودیوں نے تحریف کر دی۔ اس کے بالمقابل مسلمانوں کو کہا اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ(الحجر:۱۰) یعنی ہم نے اس قرآن مجید کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں پھر دیکھ لو کہ اس نے کیسی حفاظت فرمائی ایک لفظ اور نقطہ تک پس و پیش نہ ہوا اور کوئی ایسا نہ کر سکا کہ اس میں تحریف تبدیل کرتا صاف ظاہر ہے کہ جو کام خدا کے ہاتھ سے ہوتا ہے وہ بڑا ہی بابرکت ہوتا ہے اور جو انسان کے اپنے ہاتھ سے ہو وہ بابرکت نہیں ہو سکتا۔ اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ جب تک خدا کا فضل اور اسی کے ہاتھ سے نہ ہو تو کچھ نہیں ہوتا۔ پس محض اپنی سعی اور کوشش سے طہارتِ نفس پیدا ہو جاوے یہ خیال باطل ہے لیکن اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ پھر انسان کوشش نہ کرے اور مجاہدہ نہ کرے۔ نہیں بلکہ کوشش اور مجاہدہ ضروری ہے اور سعی کرنا فرض ہے خدا تعالیٰ کا فضل سچی محنت اور کوشش کو ضائع نہیں کرتا اس واسطے ان تمام تدابیر اور مساعی کو چھوڑنا نہیں چاہیے جو اصلاح نفس کے لیے ضروری ہیں مگر یہ تجاویز اور تدابیر اپنے نفس اور خیال سے پیدا کی ہوئی نہیں ہونی چاہئیں بلکہ ان تدابیر کو اختیار کرنا چاہیے جن کو خود اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے اور جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھائی ہیں۔ آپ کے قدم پر قدم مارو اور پھر دعاؤں سے کام لو۔ تم ناپاکی کے کیچڑ میں پھنسے ہوئے ہو مگر خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر صرف تدبیروں سے صاف چشمہ تک نہیں پہنچ سکتے جو طہارت کا موجب بنے۔

بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کو چھوڑتے ہیں اور اپنی تدبیروں پر بھروسہ کرتے ہیں وہ احتیاطیں کرتے کرتے خود مبتلا ہو جاتے ہیں اور پھنس جاتے ہیں۔ اس واسطے کہ خدا کا فضل ان کے ساتھ نہیں ہوتا اور ان کی دستگیری نہیں کی جاتی۔ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر اپنی تجویز اور خیال سے اگر کوئی اصلاحِ نفس کرنے کا مدعی ہو وہ جھوٹا ہے۔

اصلاح نفس کی ایک راہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے۔ وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ(التوبۃ:۱۱۹) یعنی جو لوگ قولی، فعلی، عملی اور حالی رنگ میں سچائی پر قائم ہیں ان کے ساتھ رہو اس سے پہلے فرمایا یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ(التوبۃ:۱۱۹) یعنی ایمان والو! تقویٰ اللہ اختیار کرو اس سے یہ مُراد ہے کہ پہلے ایمان ہو پھر سنّت کے طور پر بدی کی جگہ کو چھوڑ دے اور صادقوں کی صحبت میں رہے صحبت کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے جو اندر ہی اندر ہوتا چلا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص ہر روز کنجریوں کے ہاں جاتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ کیا میں زنا کرتا ہوں؟ اس سے کہنا چاہیے کہ ہاں تو کرے گا اور وہ ایک نہ ایک دن اس میں مبتلا ہو جاوے گا کیونکہ صحبت میں تاثیر ہوتی ہے اسی طرح پر جو شخص شراب خانہ میں جاتا ہے خواہ وہ کتنا ہی پرہیز کرے اور کہے کہ میں نہیں پیتا ہوں لیکن ایک دن آئے گا کہ وہ ضرور پیے گا۔ پس اس سے کبھی بے خبر نہیں رہنا چاہیے کہ صحبت میں بہت بڑی تاثیر ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اصلاحِ نفس کے لیے وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ(التوبۃ:۱۱۹) کا حکم دیا ہے جو شخص نیک صحبت میں جاتا ہے خواہ وہ مخالفت ہی کے رنگ میں ہو لیکن وہ صحبت اپنا اثر کئے بغیر نہ رہے گی اور ایک نہ ایک دن وہ اس مخالفت سے باز آجائے گا۔ ہم افسوس سے کہتے ہیں کہ ہمارے مخالف اسی صحبت کے نہ ہونے کی وجہ سے محروم رہ گئے اگر وہ ہمارے پاس آ کر رہتے ہماری باتیں سنتے تو ایک وقت آ جاتا کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی غلطیوں پر متنبہ کر دیتا اور وہ حق کو پا لیتے لیکن اب چونکہ اس صحبت سے محروم ہیں اور انہوں نے ہماری باتیں سننے کا موقع کھو دیا ہے اس لیے کبھی کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ یہ دہریئے ہیں شراب پیتے ہیں زانی ہیں اور کبھی یہ اتہام لگاتے ہیں کہ نعوذ باللہ پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں ایسا کیوں کہتے ہیں؟ صحبت نہیں اور یہ قہر الٰہی ہے کہ صحبت نہ ہو۔

لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صلح حدیبیہ کی ہے تو صلح حدیبیہ کے مبارک ثمرات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگوں کو آپ کے پاس آنے کا موقع ملا اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں تو ان میں صد ہا مسلمان ہو گئے جب تک انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں نہ سنی تھیں ان میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ایک دیوار حائل تھی جو آپؐ کے حسن و جمال پر ان کو اطلاع نہ پانے دیتی تھی اور جیسا دوسرے لوگ کذاب کہتے تھے (معاذ اللہ) وہ بھی کہہ دیتے تھے اور ان فیوض و برکات سے بے نصیب تھے جو آپؐ لے کر آئے تھے اس لیے کہ دور تھے لیکن جب وہ حجاب اٹھ گیا اور پاس آ کر دیکھا اور سنا تو وہ محرومی نہ رہی اور سعیدوں کے گروہ میں داخل ہو گئے۔ اسی طرح پر بہتوں کی بدنصیبی کا اب بھی یہی باعث ہے۔ جب ان سے پوچھا جاوے کہ تم نے ان کے دعویٰ اور دلائل کو کہاں تک سمجھا ہے تو بجز چند بہتانوں اور افتراؤں کے کچھ نہیں کہتے جو بعض مفتری سنا دیتے ہیں اور وہ ان کو سچ مان لیتے ہیں اور خود کوشش نہیں کرتے کہ یہاں آ کر خود تحقیق کریں اور ہماری صحبت میں رہ کر دیکھیں۔ اس سے ان کے دل سیاہ ہو جاتے ہیں اور وہ حق کو نہیں پا سکتے لیکن اگر وہ تقویٰ سے کام لیتے تو کوئی گناہ نہ تھا کہ وہ آکر ہم سے ملتے جلتے رہتے اور ہماری باتیں سنتے رہتے حالانکہ عیسائیوں اور ہندوؤں سے بھی تو ملتے ہیں اور ان کی باتیں سنتے ہیں ان کی مجلسوں میں جاتے ہیں پھر کون سا اَمر مانع تھا جو ہمارے پاس آنے سے انہوں نے پرہیز کیا۔

غرض یہ بڑی ہی بد نصیبی ہے اور انسان اس کے سبب محروم ہو جاتا ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا تھا وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ(التوبۃ:۱۱۹) اس میں بڑا نکتہ معرفت یہی ہے کہ چونکہ صحبت کا اثر ضرور ہوتا ہے اس لیے ایک راستباز کی صحبت میں رہ کر انسان راستبازی سیکھتا ہے اور اس کے پاس انفاس کا اندر ہی اندر اثر ہونے لگتا ہے جو اس کو خدا تعالیٰ پر ایک سچا یقین اور بصیرت عطا کرتا ہے اس کی صحبت میں صدق دل سے رہ کر وہ خدا تعالیٰ کی آیات اور نشانات کو دیکھتا ہے جو ایمان کے بڑھانے کے ذریعے ہیں۔۱؎

جب انسان ایک راستباز اور صادق کے پاس بیٹھتا ہے تو صدق اس میں کام کرتا ہے لیکن جو راستبازوں کی صحبت کو چھوڑ کر بدوں اور شریروں کی صحبت کو اختیار کرتا ہے تو ان میں بدی اثر کرتی جاتی ہے۔ اسی لیے احادیث اور قرآن شریف میں صحبتِ بد سے پرہیز کرنے کی تاکید اور تہدید پائی جاتی ہے اور لکھا ہے کہ جہاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت ہوتی ہو اس مجلس سے فی الفور اٹھ جاؤ ورنہ جو اہانت سن کر نہیں اٹھتا اس کا شمار بھی ان میں ہی ہوگا۔

صادقوں اور راستبازوں کے پاس رہنے والا بھی ان میں ہی شریک ہوتا ہے اس لیے کس قدر ضرورت ہے اس اَمر کی کہ انسان وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ(التوبۃ:۱۱۹) کے پاک ارشاد پر عمل کرے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملائکہ کو دنیا میں بھیجتا ہے وہ پاک لوگوں کی مجلس میں آتے ہیں اور جب واپس جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے کیا دیکھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک مجلس دیکھی ہے جس میں تیرا ذکر کر رہے تھے مگر ایک شخص ان میں سے نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہیں وہ بھی ان میں ہی سے ہے کیونکہ اِنَّـھُمْ قَوْمٌ لَّا یَشْقٰی جَلِیْسُھُمْ۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صادقوں کی صحبت سے کس قدر فائدے ہیں سخت بد نصیب ہے وہ شخص جو صحبت سے دور رہے۔

مقامِ نفس مطمئنّہ

غرض نفس مطمئنّہ کی تاثیروں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اطمینان یافتہ لوگوں کی صحبت میں اطمینان پاتے ہیں۔ امّارہ والے میں نفس امّارہ کی تاثیریں ہوتی ہیں اور لوّامہ والے میں لوّامہ کی تاثیریں ہوتی ہیں اور جو شخص نفس مطمئنّہ والے کی صحبت میں بیٹھتا ہے۔ اس پر بھی اطمینان اور سکینت کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں اور اندر ہی اندر اسے تسلی ملنے لگتی ہے۔ مطمئنّہ والے کو پہلی نعمت یہ دی جاتی ہے کہ وہ خدا سے آرام پاتا ہے جیسے فرمایا ہے یٰۤاَیَّتُہَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّۃُ ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرۡضِیَّۃً(الفجر:۲۸، ۲۹) یعنی اے خدا تعالیٰ میں آرام یافتہ نفس اپنے رب کی طرف آجا وہ تجھ سے راضی اور تو اس سے راضی۔ اس میں ایک باریک نکتہ معرفت ہے جو یہ کہا کہ خدا تجھ سے راضی تو خدا سے راضی۔ بات یہ ہے کہ جب تک انسان اس مرحلہ پر نہیں پہنچتا اور لوّامہ کی حالت میں ہوتا ہے اس وقت تک خدا تعالیٰ سے ایک قسم کی لڑائی رہتی ہے یعنی کبھی کبھی وہ نفس کی تحریک سے نافرمانی بھی کر بیٹھتا ہے لیکن جب مطمئنّہ کی حالت پر پہنچتا ہے تو اس جنگ کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے صلح ہو جاتی ہے اس وقت وہ خدا سے راضی ہوتا ہے اور خدا اس سے راضی ہو جاتا ہے کیونکہ وہ لڑائی بھڑائی بالکل جاتی رہتی ہے۔

یہ بات خوب یاد رکھنی چاہیے کہ ہر شخص خدا تعالیٰ سے لڑائی رکھتا ہے بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کرتا ہے اور بہت سی امانی اور امیدیں رکھتا ہے لیکن اس کی وہ دعائیں نہیں سنی جاتی ہیں یا خلاف اُمید کوئی بات ظاہر ہوتی ہے تو دل کے اندر اللہ تعالیٰ سے ایک لڑائی شروع کر دیتا ہے۔ خدا تعالیٰ پر بدظنّی اور اُس سے ناراضگی کا اظہار کرتا ہے لیکن صالحین اور عباد الرحمٰن کی کبھی اللہ تعالیٰ سے جنگ نہیں ہوتی کیونکہ وہ رضا بالقضا کے مقام پر ہوتے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ حقیقی ایمان اس وقت تک پیدا ہو ہی نہیں سکتا جب تک انسان اس درجہ کو حاصل نہ کرے کہ خدا کی مرضی اس کی مرضی ہو جاوے دل میں کوئی کدورت اور تنگی محسوس نہ ہو بلکہ شرح صدر کے ساتھ اس کی ہر تقدیر اور قضا کے سامنے کوطیار ہو۔ اس آیت میں رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً کا لفظ اسی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ یہ رضا کا اعلیٰ مقام ہے جہاں کوئی ابتلا باقی نہیں رہتا۔ دوسرے جس قدر مقامات ہیں وہاں ابتلا کا اندیشہ رہتا ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ سے بالکل راضی ہو جاوے اور کوئی شکوہ شکایت نہ رہے اس وقت محبت ذاتی پیدا ہو جاتی ہے اور جب تک اللہ تعالیٰ سے محبت ذاتی پیدا نہ ہو تو ایمان بڑے خطرہ کی حالت میں ہے لیکن جب ذاتی محبت ہو جاتی ہے تو انسان شیطان کے حملوں سے امن میں آ جاتا ہے۔ اس ذاتی محبت کو دعا سے حاصل کرنا چاہیے جب تک یہ محبت پیدا نہ ہو انسان نفسِ امّارہ کے نیچے رہتا ہے اور اس کے پنجہ میں گرفتار رہتا ہے اور ایسے لوگ جو نفسِ امّارہ کے نیچے ہیں ان کا قول ہے کہ ’’ایہہ جہاں مٹھا تو اگلہ کن ڈٹھا ‘‘یہ لوگ بڑی خطرناک حالت میں ہوتے ہیں اور لوّامہ والے ایک گھڑی میں ولی اور ایک گھڑی میں شیطان ہو جاتے ہیں۔ ان کا ایک رنگ نہیں رہتا کیونکہ ان کی لڑائی نفس کے ساتھ شروع ہوتی ہے جس میں کبھی وہ غالب اور کبھی مغلوب ہوتے ہیں تاہم یہ لوگ محلِ مدح میں ہوتے ہیں کیونکہ ان سے نیکیاں بھی سرزد ہوتی ہیں اور خوفِ خدا بھی ان کے دل میں ہوتا ہے لیکن نفسِ مطمئنّہ والے بالکل فتح مند ہوتے ہیں اور وہ سارے خطروں اور خوفوں سے نکل کر امن کی جگہ میں جا پہنچتے ہیں وہ اس دارالامان میں ہوتے ہیں جہاں شیطان نہیں پہنچ سکتا۔ لوّامہ والا جیسا کہ میں نے کہا ہے دارالامان کی ڈیوڑھی میں ہوتا ہے اور کبھی کبھی دشمن بھی اپنا وار کر جاتا ہے اور کوئی لاٹھی مار جاتا ہے اس لئے مطمئنّہ والے کو کہا ہے فَادۡخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ وَادۡخُلِیۡ جَنَّتِیۡ(الفجر:۳۰، ۳۱) یہ آواز اس وقت آتی ہے جب وہ اپنے تقویٰ کو انتہائی مرتبہ پر پہنچا دیتا ہے۔ تقویٰ کے دو درجے ہیں۔ بدیوں سے بچنا اور نیکیوں میں سرگرم ہونا۔ یہ دوسرا مرتبہ محسنین کا ہے۔ اس درجہ کے حصول کے بغیر اللہ تعالیٰ خوش نہیں ہو سکتا اور یہ مقام اور درجہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل ہی نہیں ہو سکتا۔

جب انسان بدی سے پرہیز کرتا ہے اور نیکیوں کے لیے اس کا دل تڑپتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی دستگیری کرتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے دارالامان میں پہنچا دیتا ہے اور فَادۡخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ(الفجر:۳۰) کی آواز اسے آ جاتی ہے یعنی تیری جنگ اب ختم ہو چکی ہے اور میرے ساتھ تیری صلح اور آشتی ہو چکی ہے اب آ میرے بندوں میں داخل ہو جو صِرَاطَ الَّذِیۡنَ(الفاتحۃ:۷) اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحۃ:۷) مصداق ہیں اور رُوحانی وراثت سے جن کو حصہ ملتا ہے میری بہشت میں داخل ہو جا۔

یہ آیت جیسا کہ ظاہر میں سمجھتے ہیں کہ مَرنے کے بعد اسے آواز آتی ہے آخرت پر ہی موقوف نہیں بلکہ اسی دنیا میں اسی زندگی میں یہ آواز آتی ہے۔ اہلِ سلوک کے مراتب رکھے ہوئے ہیں ان کے سلوک کا انتہائی نقطہ یہی مقام ہے جہاں ان کا سلوک ختم ہو جاتا ہے اور وہ مقام یہی نفسِ مطمئنّہ کا مقام ہے۔ اہلِ سلوک کی مشکلات کو اللہ تعالیٰ اُٹھا دیتا ہے اور ان کو صالحین میں داخل کر دیتا ہے جیسا فرمایا وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدۡخِلَنَّہُمۡ فِی الصّٰلِحِیۡنَ(العنکبوت:۱۰) یعنی جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے ہم ان کو ضرور ضرور صالحین میں داخل کر دیتے ہیں۔

اس پر بعض اعتراض کرتے ہیں کہ اعمال صالحہ کرنے والے صالحین ہوتے ہیں پھر ان کو صالحین میں داخل کرنے سے کیا مُراد ہے؟

اصل بات یہ ہے کہ اس میں ایک لطیف نقطہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ صلاحیت کی دو قسم ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ انسان تکالیف شاقہ اُٹھا کر نیکیوں کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ نیکیاں کرتا ہے لیکن ان کے کرنے میں اسے تکلیف اور بوجھ معلوم ہوتا ہے اور اندر نفس کے کشاکش موجود ہوتی ہے اور جب وہ نفس کی مخالفت کرتا ہے تو سخت تکلیف محسوس ہوتی ہے لیکن جب وہ اعمالِ صالحہ کرتا اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے جیسا کہ اس آیت کا منشا ہے اس وقت وہ تکالیف شاقّہ اور محنتیں جو خود نیکیوں کے لیے برداشت کرتا ہے اُٹھ جاتی ہیں اور طبعی طور پر وہ صلاحیت کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۱؎ اور وہ تکالیف تکالیف نہیں رہتی ہیں اور نیکیوں کو ایک ذوق اور لذّت سے کرتا ہے اور ان دونوں میں یہی فرق ہوتا ہے کہ پہلا نیکی کرتا ہے مگر تکلیف اور تکلّف سے اور دوسرا ذوق اور لذّت سے۔ وہ نیکی اس کی غذا ہو جاتی ہے جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔۲؎

اور وہ تکلّف اور تکلیف جو پہلے ہوتی تھی اب ذوق وشوق اور لذّت سے بدل جاتی ہے یہ مقام ہوتا ہے صالحین کا جن کے لیے فرمایا لَنُدۡخِلَنَّہُمۡ فِی الصّٰلِحِیۡنَ(العنکبوت:۱۰) اس مقام پر پہنچ کر کوئی فتنہ اور فساد مومن کے اندر نہیں رہتا۔ نفس کی شرارتوں سے محفوظ ہو جاتا ہے اور اس کے جذبات پر فتح پا کر مطمئن ہو کر دارالامان میں داخل ہو جاتا ہے۔

ابتلا اور امتحان ایمان کی شرط ہے

اور اس سے آگے فرمایا ہے وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ فَاِذَاۤ اُوۡذِیَ فِی اللّٰہِ جَعَلَ فِتۡنَۃَ النَّاسِ کَعَذَابِ اللّٰہِ(العنکبوت:۱۱) اور بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو زبانی تو ایمان کے دعوے کرتے ہیں اور مومن ہونے کی لاف و گزاف مارتے رہتے ہیں مگر جب معرضِ امتحان و ابتلا میں آتے ہیں تو ان کی حقیقت کھل جاتی ہے۔ اس فتنہ و ابتلا کے وقت ان کا ایمان اللہ تعالیٰ پر ویسا نہیں رہتا بلکہ شکایت کرنے لگتے ہیں اسے عذابِ الٰہی قرار دیتے ہیں۔ حقیقت میں وہ لوگ بڑے ہی محروم ہیں۔ جن کو صالحین کا مقام حاصل نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہی تو وہ مقام ہے جہاں انسان ایمانی مدارج کے ثمرات کو مشاہدہ کرتا ہے اور اپنی ذات پر ان کا اثر پاتا ہے اور نئی زندگی اسے ملتی ہے لیکن یہ زندگی پہلے ایک موت کو چاہتی ہے اور یہ انعام و برکات امتحان و ابتلا کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں۔ یہ یاد رکھو کہ ہمیشہ عظیم الشان نعمت ابتلا سے آتی ہے اور ابتلا مومن کے لیے شرط ہے جیسے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ(العنکبوت:۳) یعنی کیا لوگ گمان کر بیٹھے ہیں کہ وہ اتنے ہی کہہ دینے پر چھوڑ دیئے جاویں کہ ہم ایمان لائے اور وہ آزمائے نہ جاویں۔ ایمان کے امتحان کے لیے مومن کو ایک خطرناک آگ میں پڑنا پڑتا ہے مگر اس کا ایمان اس آگ سے اس کو صحیح سلامت نکال لاتا ہے اور وہ آگ اس پر گلزار ہو جاتی ہے۔ مومن ہو کر ابتلا سے کبھی بے فکر نہیں ہونا چاہیے اور ابتلا پر زیادہ ثباتِ قدم دکھانے کی ضرورت ہوتی ہے اور حقیقت میں جو سچا مومن ہے ابتلا میں اس کے ایمان کی حلاوت اور لذّت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور اس کے عجائبات پر اس کا ایمان بڑھتا ہے اور وہ پہلے سے بہت زیادہ خدا کی طرف توجہ کرتا اور دعاؤں سے فتحیاب اجابت چاہتا ہے۔

یہ افسوس کی بات ہے کہ انسان خواہش تو اعلیٰ مدارج اور مراتب کی کرے اور ان تکالیف سے بچنا چاہے جو ان کے حصول کے لیے ضروری ہیں۔

یقیناً یاد رکھو کہ ابتلا اور امتحان ایمان کی شرط ہے اس کے بغیر ایمان، ایمانِ کامل ہوتا ہی نہیں اور کوئی عظیم الشان نعمت بغیر ابتلا ملتی ہی نہیں ہے۔ دنیا میں بھی عام قاعدہ یہی ہے کہ دنیوی آسائشوں اور نعمتوں کے حاصل کرنے کے لیے قسم قسم کی مشکلات اور رنج وتعب اُٹھانے پڑتے ہیں۔ طرح طرح کے امتحانوں میں سے ہو کر گذرنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر کامیابی کی شکل نظر آتی ہے اور پھر بھی وہ محض خدا تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے پھر خدا تعالیٰ جیسی نعمت عظمیٰ جس کی کوئی نظیر ہی نہیں یہ بدُوں امتحان کیسے میسر آسکے۔

پس جو چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو پاوے اسے چاہیے کہ وہ ہر ایک ابتلا کے لیے طیار ہو جاوے جب اللہ تعالیٰ کوئی سلسلہ قائم کرتا ہے جیسا کہ اس وقت اس نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے تو جو لوگ اس میں اولاً داخل ہوتے ہیں ان کو قسم قسم کی تکالیف اٹھانی پڑتی ہیں ہر طرف سے گالیاں اور دھمکیاں سننی پڑتی ہیں۔ کوئی کچھ کہتا ہے کوئی کچھ۔ یہاں تک کہ ان کو کہا جاتا ہے کہ ہم تم کو یہاں سے نکال دیں گے یا اگر ملازم ہے تو اس کے موقوف کرانے کے منصوبے ہوتے ہیں جس طرح ممکن ہوتا ہے تکلیفیں پہنچائی جاتی ہیں اور اگر ممکن ہو تو جان لینے سے دریغ نہیں کیا جاتا ایسے وقت میں جو لوگ ان دھمکیوں کی پروا کرتے ہیں اور امتحان کے ڈر سے کمزوری ظاہر کرتے ہیں یاد رکھو خدا تعالیٰ کے نزدیک ان کے ایمان کی ایک پیسہ بھی قیمت نہیں ہے کیونکہ وہ ابتلا کے وقت خدا سے نہیں انسان سے ڈرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت کی پروا نہیں کرتا وہ بالکل ایمان نہیں لایا کیونکہ دھمکی کو اس کے مقابلہ میں وقعت دیتا اور ایمان چھوڑنے کو طیار ہو جاتا ہے۔۱ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ صالحین میں داخل ہونے سے محروم ہو جاتا ہے یہ خلاصہ اور مفہوم ہے اس آیت کا وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ اٰمَنَّا(البقرۃ:۹) ۱ البدر میں ہے۔’’ابتلا کے وقت جو شخص انسان سے ڈرتا ہے اس کی کچھ بھی قیمت نہیں ہوتی وہ دھمکی دینے والے کو گویا اپنا رب خیال کرتا ہے اور اس کے خوف سے ایمان چھوڑنے کو طیار ہوتا ہے تو اب بتلاؤ کہ کیا ایمان ہوا؟

‘‘(البدر جلد ۳ نمبر ۳ مورخہ ۱۶؍ جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۵ بِاللّٰہِ فَاِذَاۤ اُوۡذِیَ فِی اللّٰہِ(العنکبوت:۱۱)۔

جماعت کو استقلال اور ہمت کی تلقین

ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک وہ بزدلی کو نہ چھوڑے گی اور استقلال اور ہمت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ہر ایک راہ میں ہر مصیبت و مشکل کے اٹھانے کے لیے طیار نہ رہے گی وہ صالحین میں داخل نہیں ہو سکتی۔ تم نے اس وقت خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ کے ساتھ تعلق پیدا کیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تم دکھ دئیے جاؤ۔ تم کو ستایا جاتا ہے۔ گالیاں سننی پڑتی ہیں قوم اور برادری سے خارج کرنے کی دھمکیاں ملتی ہیں۔ جو جو تکالیف مخالفوں کے خیال میں آسکتی ہیں اس کے دینے کو وہ موقع ہاتھ سے نہیں دیتے لیکن اگر تم نے ان تکالیف اور مشکلات اور ان موذیوں کو خدا نہیں بنایا بلکہ اللہ تعالیٰ کو خدا مانا ہے تو ان تکالیف کو برداشت کرنے پر آمادہ رہو اور ہر ابتلا اور امتحان میں پورے اترنے کے لیے کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ سے اس کی توفیق اور مدد چاہو تو میں تمہیں یقیناً کہتا ہوں کہ تم صالحین میں داخل ہو کر خدا جیسی عظیم الشان نعمت کو پاؤ گے اور ان تمام مشکلات پر فتح پا کر دارالامان میں داخل ہو جاؤ گے۔

صاحبزادہ عبداللطیف کی شہادت

صاحبزادہ عبداللطیف شہید کی شہادت کا واقعہ تمہارے لیے اسوئہ حسنہ ہے۔ تذکرۃ الشہادتین کو بار بار پڑھو اور دیکھو کہ اس نے اپنے ایمان کا کیسا نمونہ دکھایا ہے۔ اس نے دنیا اور اس کے تعلقات کی کچھ بھی پروا نہیں کی بیوی یا بچوں کا غم اس کے ایمان پر کوئی اثر نہیں ڈال سکا۔ دنیوی عزّت اور منصب اور تنعم نے اس کو بزدل نہیں بنایا۔ اس نے جان دینی گوارا کی مگر ایمان کو ضائع نہیں کیا عبداللطیف کہنے کو مارا گیا یا مَر گیا مگر یقیناً سمجھو کہ وہ زندہ ہے اور کبھی نہیں مَرے گا اگرچہ اس کو بہت عرصہ صحبت میں رہنے کا اتفاق نہیں ہوا لیکن اس تھوڑی مدت میں جو وہ یہاں رہا اس نے عظیم الشان فائدہ اٹھایا۔ اس کو قسم قسم کے لالچ دئیے گئے کہ اس کا مرتبہ و منصب بدستور قائم رہے گا مگر اس نے اس عزّت افزائی اور دنیوی مفاد کی کچھ بھی پروا نہیں کی ان کو ہیچ سمجھا یہاں تک کہ جان جیسی عزیز شَے کو جو انسان کو ہوتی ہے اس نے مقدم نہیں کیا بلکہ دین کو مقدم کیا جس کا اس نے خدا کے سامنے وعدہ کیا تھا کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ میں بار بار کہتا ہوں کہ اس پاک نمونہ پر غور کرو کیونکہ اس کی شہادت یہی نہیں کہ اعلیٰ ایمان کا ایک نمونہ پیش کرتی ہے بلکہ یہ خدا تعالیٰ کا عظیم الشان نشان ہے جو اور بھی ایمان کی مضبوطی کا موجب ہوتا ہے کیونکہ براہین احمدیہ میں ۲۳ برس پہلے سے اس شہادت کے متعلق پیشگوئی موجود تھی وہاں صاف لکھا ہے شَاتَانِ تُذْبَـحَانِ وَکُلُّ مَنْ عَلَیْـھَا فَانٍ کیا اس وقت کوئی منصوبہ ہو سکتا تھا کہ ۲۳ یا ۲۴ سال بعد عبد الرحمٰن اور عبداللطیف افغانستان سے آئیں گے اور پھر وہ وہاں جا کر شہید ہوں گے۔ وہ دل لعنتی ہے جو ایسا خیال کرے۔ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو عظیم الشان پیشگوئی پر مشتمل ہے اور اپنے وقت پر آ کر یہ نشان پورا ہو گیا۔۱؎

اس سے پہلے عبد الرحمٰن جو مولوی عبداللطیف شہید کا شاگرد تھا سابق امیر نے قتل کرایا محض اس وجہ سے کہ وہ اس سلسلہ میں داخل ہے اور یہ سلسلہ جہاد کے خلاف ہے اور عبد الرحمٰن جہاد کے خلاف تعلیم افغانستان میں پھیلاتا تھا اور اب اس امیر نے مولوی عبداللطیف کو شہید کرا دیا۔ یہ عظیم الشان نشان جماعت کے لیے ہے اس پیشگوئی کے معنے اب مخالفوں سے پوچھو کہ کیا یہ پیشگوئی صریح الفاظ میں نہیں ہے؟ اور کیا اب یہ پوری نہیں ہو گئی ہے؟ کیونکہ انگریزوں کے ملک میں تو کوئی کسی کو بے گناہ ذبح نہیں کرتا ہے اس لیے یہاں تو اس کا وقوع نہیں ہونا تھا اور علاوہ بریں ہماری تعلیم ایسی تعلیم نہیں تھی کہ کوئی اس کو پکڑ سکے بلکہ یہ تعلیم تو امن کے پھیلانے والی ہے پھر یہ پیشگوئی کیسے پوری ہوتی؟ اس لیے خدا تعالیٰ نے اس نشان کے پورا کرنے کے لیے کابل کی سرزمین کو مقدر کیا ہوا تھا اور آخر ۲۴ سال کے بعد یہ پیشگوئی ٹھیک اسی طرح پوری ہوئی جس طرح پہلے فرمایا گیا تھا اس سے آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عَسٰۤی اَنْ تَکْرَہُوْا شَیْـًٔا وَّ ہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ(البقرۃ:۲۱۷) یہ ایک قسم کی تسلی ہے یعنی جب ایسا معاملہ ہو تو غم نہیں کرنا چاہیے کیونکہ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کو تم پسند کرتے ہو اور وہ اچھی نہیں ہوتی ہیں اور بہت سی ایسی ہوتی ہیں جن کو تم ناپسند کرتے ہو اور وہ درحقیقت تمہارے لیے مفید ہوتی ہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کا ارشاد بالکل سچ۱؎ ہے اور مَیں یقیناً جانتا ہوں کہ اب وقت آنے والا ہے کہ اس کی شہادت کی حکمت نکلنے والی ہے اور میں نے سنا ہے کہ اس وقت چودہ آدمی قید کئے گئے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ عبداللطیف کو ناحق شہید کرایا گیا ہے اور یہ ظلم ہوا ہے وہ حق پر تھا۔ اس پر امیر نے ان آدمیوں کو قید کر دیا ہے اور ان کے وارثوں کو کہا ہے کہ وہ ان کو سمجھائیں کہ ایسے خیالات سے وہ باز آجائیں مگر وہ موت کو پسند کرتے ہیں اور اس یقینی بات کو وہ چھوڑنا نہیں چاہتے اگر عبداللطیف شہید نہ ہوا ہوتا تو یہ اثر کس طرح پیدا ہوتا اور یہ رعب کس طرح پر پڑتا۔

یقیناً سمجھو کہ خدا تعالیٰ نے کسی بڑی چیز کا ارادہ کیا ہے اور اس کی بنیاد عبداللطیف کی شہادت سے پڑی ہے اگر مولوی عبداللطیف زندہ رہتے تو دس بیس برس تک زندہ رہتے آخر موت آجاتی اور موت آنی ہے اس سے تو آدمی بچ نہیں سکتا مگر یہ موت موت نہیں یہ زندگی ہے اور اس سے مفید نتیجے پیدا ہو نیوالے ہیں اور یہ مبارک بات ہے۔ دشمن بھی اگر خبیث نہ ہو تو براہین احمدیہ کی پیشگوئی کو پڑھ کر اور اس کے اس طرح پر پوری ہونے کو دیکھ کر اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ اگر مفتری ہے اور رات کو جھوٹا الہام بنا کر سنا دیتا ہے تو یہ اثر استقامت کیوں ہوا اور ۲۳ یا ۲۴ سال کے بعد ایک بات جو بطور پیشگوئی شائع کی گئی تھی کیوں پوری ہو جاتی ہے؟۱؎

اس قدر عرصہ دراز تک تو انسان کو اپنی زندگی کی بھی امید نہیں ہو سکتی اور پھر اس کے ماننے والوں میں اس قدر استقامت اور قوت ہے کہ بیوی بچوں تک کی پروا نہیں کرتا، مال اور جان کا خیال تک بھی نہیں کرتا۔ ایمان جیسی دولت پر سب کچھ قربان کرنے کو طیار ہو جاتا ہے۔ ایک اہل بصیرت اس سے نتیجہ نکالنے میں غلطی نہیں کرے گا کہ یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کے منشا ہی کے ماتحت ہے۔ ایک سلسلہ جو خود اس نے قائم کیا ہے اور آپ جس نے ایک نشان دیا ہے اسی نے وہ قوت اور استقامت اس شہید کو عطا کی تاکہ اس کی شہادت اس سلسلہ کی سچائی پر زبردست دلیل اور گواہ ہو چنانچہ ایسا ہی ہوا ہے اب یہ نشان ہزاروں لاکھوں انسانوں کے لیے ہدایت اور ترقی ایمان کا موجب ہوگا اور خدا چاہے تو اس کے آثار ابھی سے نظر آنے لگے ہیں۔ اَلْاِسْتِقَامَۃُ فَوْقَ الْکَرَامَۃِ مشہور بات ہے عبداللطیف کے اس استقلال اور اس استقامت سے بہت بڑا فائدہ ان لوگوں کا ہوگا جو اس واقعہ پر غور کریں گے چونکہ یہ موت بہت سی زندگیوں کا موجب ہونے والی ہے اس لیے یہ ایسی موت ہے کہ ہزاروں زندگیاں اس پر قربان ہیں۔

پھر اس پیشگوئی میں کُلُّ مَنۡ عَلَیۡہَا فَانٍ(الرحمٰن:۲۷) جو فرمایا ہے یہ دشمنوں کے لئے ہے کہ تمہیں بھی کبھی مَرنا ہی ہے موت تو کسی کو نہیں چھوڑے گی۔ پھر عبداللطیف کی موت پر جو موت نہیں بلکہ زندگی ہے تم کیوں خوش ہوتے ہو۔ آخر تمہیں بھی مَرنا ہے۔ عبداللطیف کی موت تو بہتوں کی زندگی کا باعث ہوگی مگر تمہاری جان اکارت جائے گی اور کسی ٹھکانے نہ لگے گی۔

مولوی عبداللطیف کی شہادت اور استقامت کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہوا کہ ۲۳ یا ۲۴برس سے ایک پیشگوئی براہین میں موجود تھی جو پوری ہوگئی اور یہ ہماری جماعت کے ایمان کو ترقی دینے کا

۱ البدر میں ہے۔ ’’ہم اگر مفتری تھے تو اس قدر استقامت ان میں کیوں آگئی؟ کیا کبھی سنا ہے کہ ایک مفتری کا مرید ہو کر پھر کسی نے اس طرح سے جان دی ہو حالانکہ بار بار ان کو جان بچانے کا موقع بھی دیا گیا۔ اَلْاِسْتِقَامَۃُ فَوْقَ الْکَرَامَۃِ یہ بھی ہمارے سچے ہونے کی ایک دلیل ہے۔

‘‘(البدر جلد ۳ نمبر ۳ مورخہ ۱۶؍ جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۵)

موجب ہوگی۔ اس کے سوا اب یہ خون اُٹھنے لگا ہے اور اس کا اثر پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے جو ایک جماعت کو پیدا کر دے گا۔۱؎

یہ خون کبھی خالی نہیں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے مصالح اور حکمتوں کو خوب جانتا ہے لیکن جہاں تک پیشگوئی کے الفاظ پر غور کرتا ہوں اس میں عَسٰۤی اَنْ تَکْرَہُوْا شَیْـًٔا وَّ ہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ۔ ایک ہی بڑی تسلی اور اطمینان کی بات ہے کہ جس سے صاف پایا جاتا ہے کہ اس خون کے بہت بڑے بڑے نتائج پیدا ہونے والے ہیں۔ میں جانتا ہوں اور اس پر افسوس بھی کرتا ہوں کہ جس قسم کا نمونہ صدق اور وفا کا عبداللطیف نے دکھلایا ہے۔ اس قسم کے ایمان کے لیے میرا کانشنس فتویٰ نہیں دیتا کہ ایسے لوگ میری جماعت میں بہت ہیں۔ اس لیے میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سب کو اس قسم کا اخلاص اور صدق عطا کرے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کریں اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان کو عزیز نہ سمجھیں۔

بزدلی کو دور کرو

میں ابھی جماعت میں بزدلی کو دیکھتا ہوں اور جب تک یہ بزدلی دور نہ ہو اور عبداللطیف کا سا ایمان پیدا نہ ہو۔ یقیناً یاد رکھو کہ وہ اس سلسلہ میں داخل نہیں ہے بلکہ وہ یُخٰدِعُوۡنَ اللّٰہَ(البقرۃ:۱۰) میں داخل ہے۔ مومنوں میں وہ اس وقت داخل ہوں گے جب وہ اپنی نسبت یہ یقین کر لیں گے کہ ہم مُردے ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جب دشمنوں کے مقابلہ پر جاتے تھے وہ ایسے معلوم ہوتے تھے کہ گویا گھوڑوں پر مُردے سوار ہیں اور وہ سمجھتے تھے کہ اب ہم کو موت ہی اس میدان سے الگ کرے گی۔

اللہ تعالیٰ لاف و گزاف کو پسند نہیں کرتا وہ دل کی اندرونی حالت کو دیکھتا ہے کہ اس میں ایمان کا کیا رنگ ہے۔ جب ایمان قوی ہو تو استقامت اور استقلال پیدا ہوتا ہے اور پھر انسان اپنی جان و مال کو ہرگز اس ایمان کے مقابلہ میں عزیز نہیں رکھ سکتا اور استقامت ایسی چیز ہے کہ اس کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہوتا، لیکن جب استقامت ہوتی ہے تو پھر انعامات الٰہیہ کا دروازہ کُھلتا ہے دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں مکالمات الٰہیہ کا شرف بھی دیا جاتا ہے یہاں تک کہ استقامت والے سے خوارق کا صدور ہونے لگتا ہے۔ ظاہری حالت اگر اپنی جگہ کوئی چیز ہوتی اور اس کی قدر و قیمت ہوتی تو ظاہر داری میں تو سب کے سب شریک ہیں عام مسلمان نمازوں میں ہمارے ساتھ شریک ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے نزدیک شرف اور بزرگی اندرونہ سے ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لیے فرمایا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور بزرگی ظاہری نماز اور اعمال سے نہیں ہے بلکہ اس کی فضیلت اور بزرگی اس چیز سے ہے جو اس کے دل میں ہے۔ حقیقت میں یہ بات بالکل صحیح ہے کہ شرف اور عُلُوّ دل ہی کی بات سے مخصوص ہے مثلاً ایک شخص کے دو خدمتگار ہوں اور ان میں سے ایک خدمت گار تو ایسا ہو جو ہر وقت حاضر رہے اور بڑی جانفشانی سے ہر ایک خدمت کے کرنے کو حاضر اور طیار رہے اور دوسرا ایسا ہے کہ کبھی کبھی آجاتا ہے۔ ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے جو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے آقا بھی خوب جانتا ہے کہ یہ محض ایک مزدور ہے جو دن پورے ہو جانے پر تنخواہ لینے والا ہے اور اسی کے لیے کام کرتا ہے اب صاف ظاہر ہے کہ اس کے نزدیک قدر و قیمت اور محبت اسی سے ہوگی جو محنت اور جانفشانی سے کام کرتا ہے نہ کہ اس مزدور سے۔

اخلاص اور وفاداری

پس یاد رکھو کہ وہ چیز جو انسان کی قدر و قیمت کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑھاتی ہے وہ اس کا اخلاص اور وفاداری ہے جو وہ خدا تعالیٰ سے رکھتا ہے ورنہ مجاہدات خشک سے کیا ہوتا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دیکھا گیا ہے کہ ایسے ایسے لوگ بھی مجاہدات کرتے تھے جو چھت سے رسہ باندھ کر (اپنے) آپ کو ساری رات جاگنے کے لیے لٹکا رکھتے تھے لیکن کیا وہ ان مجاہدات سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہو گئے تھے؟ ہرگز نہیں۔

نامرد، بزدل، بے وفا جو خدا تعالیٰ سے اخلاص اور وفاداری کا تعلق نہیں رکھتا بلکہ دغا دینے والا ہے وہ کس کام کا ہے اس کی کچھ قدر و قیمت نہیں ہے۔ ساری قیمت اور شرف وفا سے ہوتا ہے۔ ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جو شرف اور درجہ ملا وہ کس بنا پر ملا؟ قرآن شریف نے فیصلہ کر دیا ہے۔ وَاِبۡرٰہِیۡمَ الَّذِیۡ وَفّٰۤی(النجم:۳۸) ابراہیم وہ جس نے ہمارے ساتھ وفاداری کی۔ آگ میں ڈالے گئے مگر انہوں نے اس کو منظور نہ کیا کہ وہ ان کافروں کو کہہ دیتے کہ تمہارے ٹھاکروں کی پوجا کرتا ہوں۔ خدا تعالیٰ کے لیے ہر تکلیف اور مصیبت کو برداشت کرنے پر آمادہ ہو گئے خدا تعالیٰ نے کہا کہ اپنی بیوی کو بے آب و دانہ جنگل میں چھوڑ آ۔ انہوں نے فی الفور اس کو قبول کر لیا ہر ایک ابتلا کو انہوں نے اس طرح پر قبول کر لیا کہ گویا عاشق اللہ تھا۔ درمیان میں کوئی نفسانی غرض نہ تھی۔ اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتلا پیش آئے۔ خویش واقارب نے مل کر ہر قسم کی ترغیب دی کہ اگر آپ مال و دولت چاہتے ہیں تو ہم دینے کو طیار ہیں اور اگر آپ بادشاہت چاہتے ہیں تو اپنا بادشاہ بنا لینے کو طیار ہیں اگر بیویوں کی ضرورت ہے تو خوبصورت بیویاں دینے کو موجود ہیں۱؎ مگر آپ کا جواب یہی تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہارے شرک کے دور کرنے کے واسطے مامور کیا ہے جو مصیبت اور تکلیف تم دینی چاہتے ہو دے لو میں اس سے رک نہیں سکتا کیونکہ یہ کام جب خدا نے میرے سپرد کیا ہے پھر دنیا کی کوئی ترغیب اور خوف مجھ کو اس سے ہٹا نہیں سکتا۔ آپ جب طائف کے لوگوں کو تبلیغ کرنے گئے تو ان خبیثوں نے آپ کے پتھر مارے جس سے آپ دوڑتے دوڑتے گر جاتے تھے لیکن ایسی مصیبتوں اور تکلیفوں نے آپ کو اپنے کام سے نہیں روکا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صادقوں کے لیے کیسی مشکلات اور مصائب کا سامنا ہوتا ہے اور کیسی مشکل گھڑیاں ان پر آتی ہیں مگر باوجود مشکلات کے ان کی قدر شناسی کا بھی ایک دن مقرر ہوتا ہے اس وقت ان کا صدق روزِ روشن کی طرح کھل جاتا ہے اور ایک دنیا ان کی طرف دوڑتی ہے۔

عبداللطیف کے لیے وہ دن جو اس کی سنگساری کا دن تھا کیسا مشکل تھا وہ ایک میدان میں سنگساری کے لیے لایا گیا اور ایک خلقت اس تماشا کو دیکھ رہی تھی مگر وہ دن اپنی جگہ کس قدر، قدر و قیمت رکھتا ہے۔ اگر اس کی باقی ساری زندگی ایک طرف ہو اور وہ دن ایک طرف، تو وہ دن قدر و قیمت میں بڑھ جاتا ہے زندگی کے یہ دن بہرحال گذر ہی جاتے ہیں اور اکثر بہائم کی زندگی کی طرح گذرتے ہیں لیکن مبارک وہی دن ہے جو خدا تعالیٰ کی محبت و وفا میں گذرے۔ فرض کرو کہ ایک شخص کے پاس لطیف اور عمدہ غذائیں کھانے کے لیے اور خوبصورت بیویاں اور عمدہ عمدہ سواریاں سوار ہونے کو رکھتا ہے بہت سے نوکر چاکر ہر وقت خدمت کے لیے حاضر رہتے ہیں مگر ان سب باتوں کا انجام کیا ہے؟ کیا یہ لذتیں اور آرام ہمیشہ کے لیے ہیں؟ ہرگز نہیں ان کا انجام آخر فنا ہے۔ مردانہ زندگی یہی ہے کہ اس زندگی پر فرشتے بھی تعجب کریں۔ وہ ایسے مقام پر کھڑا ہو کہ اس کی استقامت، اخلاص اور وفاداری تعجب خیز ہو۔ خدا تعالیٰ نامرد کو نہیں چاہتا۔ اگر زمین و آسمان بھی ظاہری اعمال سے بھر دیں لیکن ان اعمال میں وفا نہ ہو تو ان کی کچھ بھی قیمت نہیں۔ کتاب اللہ سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جب تک انسان صادق اور وفادار نہیں ہوتا اس وقت تک اس کی نمازیں بھی جہنم ہی کو لے جانے والی ہوتی ہیں۔ جب تک پورا وفادار اور مخلص نہ ہو ریا کاری کی جڑ اندر سے نہیں جاتی ہے لیکن جب پورا وفادار ہو جاتا ہے اس وقت اخلاص اور صدق آتا ہے اور وہ زہریلا مادہ نفاق اور بزدلی کا جو پہلے پایا جاتا ہے دور ہو جاتا ہے۔

صدق اور خدمت کا آخری موقع

اب وقت تنگ ہے میں بار بار یہی نصیحت کرتا ہوں کہ کوئی جوان یہ بھروسہ نہ کرے کہ اٹھارہ یا انیس سال کی عمر ہے اور ابھی بہت وقت باقی ہے۔ تندرست اپنی تندرستی اور صحت پر ناز نہ کرے اسی طرح اور کوئی شخص جو عمدہ حالت رکھتا ہے وہ اپنی وجاہت پر بھروسہ نہ کرے زمانہ انقلاب میں ہے یہ آخری زمانہ ہے۔

اللہ تعالیٰ صادق اور کاذب کو آزمانا چاہتا ہے اس وقت صدق و وفا کے دکھانے کا وقت ہے اور آخری موقع دیا گیا ہے۔ یہ وقت پھر ہاتھ نہ آئے گا یہ وہ وقت ہے کہ تمام نبیوں کی پیشگوئیاں یہاں آ کر ختم ہو جاتی ہے اس لیے صدق اور خدمت کا یہ آخری موقع ہے جو نوعِ انسان کو دیا گیا ہے اب اس کے بعد کوئی موقع نہ ہو گا بڑا ہی بدقسمت وہ ہے جو اس موقع کو کھو دے۔

نرا زبان سے بیعت کا اقرار کرنا کچھ چیز نہیں ہے بلکہ کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگو کہ وہ تمہیں صادق بناوے اس میں کاہلی اور سستی سے کام نہ لو بلکہ مستعد ہو جاؤ اور اس تعلیم پر جو میں پیش کر چکا ہوں عمل کرنے کے لیے کوشش کرو اور اس راہ پر چلو جو میں نے پیش کی ہے۔ عبداللطیف کے نمونہ کو ہمیشہ مدنظر رکھو کہ اس سے کس طرح پر صادقوں اور وفاداروں کی علامتیں ظاہر ہوئی ہیں۔ یہ نمونہ خدا تعالیٰ نے تمہارے لیے پیش کیا ہے۔

ہمیشہ ملتے رہو۔ یہ دنیا چند روزہ ہے۔ ایک دن آتا ہے کہ نہ ہم ہوں گے نہ تم اور نہ کوئی اَور، اور یہ سب جنگل ویرانہ ہوگا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ کی کیا حالت ہو گئی ہر ایک حالت میں تبدیلی ہے پس اس تبدیلی کو مد نظر رکھو اور آخری وقت کو ہمیشہ یاد رکھو آنے والی نسلیں آپ لوگوں کا منہ دیکھیں گی اور اسی نمونہ کو دیکھیں گی۔ اگر تم پورے طور پر اپنے آپ کو اس تعلیم کا عامل نہ بناؤ گے تو گویا آنے والی نسلوں کو تباہ کرو گے۔

انسان کی فطرت میں نمونہ پرستی ہے وہ نمونہ سے بہت جلد سبق لیتا ہے۔ ایک شرابی اگر کہے کہ شراب نہ پیو یا ایک زانی کہے کہ زنا نہ کرو، ایک چور دوسرے کو کہے کہ چوری نہ کرو تو ان کی نصیحتوں سے دوسرے کیا فائدہ اٹھائیں گے بلکہ وہ تو کہیں گے کہ بڑا ہی خبیث ہے وہ جو خود کرتا ہے اور دوسروں کو اس سے منع کرتا ہے جو لوگ خود ایک بدی میں مبتلا ہو کر اس کا وعظ کرتے ہیں وہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ دوسروں کو نصیحت کرنے والے اور خود عمل نہ کرنے والے بے ایمان ہوتے ہیں اور اپنے واقعات کو چھوڑ جاتے ہیں ایسے واعظوں سے دنیا کو بہت بڑا نقصان پہنچتا ہے۔

ایک مولوی کا ذکر ہے کہ اس نے ایک مسجد کا بہانہ کر کے ایک لاکھ روپیہ جمع کیا ایک جگہ وہ وعظ کر رہا تھا۔ اس کے وعظ سے متاثر ہو کر ایک عورت نے اپنی پازیب اتار کر اس کو چندہ میں دے دی مولوی صاحب نے کہا کہ اے نیک عورت کیا تو چاہتی ہے کہ تیرا دوسرا پاؤں جہنم میں جاوے۔ اس نے فی الفور دوسری پازیب بھی اتار کر اسے دے دی۔ مولوی صاحب کی بیوی بھی اس وعظ میں موجود تھی اس کا اس پر بھی بڑا اثر ہوا اور جب مولوی صاحب گھر میں آئے تو دیکھا کہ ان کی عورت روتی ہے اور اس نے اپنا سارا زیور مولوی صاحب کو دے دیا کہ اسے بھی مسجد میں لگا دو۔ مولوی صاحب نے کہا کہ تو کیوں ایسا روتی ہے یہ تو صرف چندہ کی تجویز تھی اور کچھ نہ تھا۔

غرض ایسے نمونوں سے دنیا کو بہت بڑا نقصان پہنچا ہے ہماری جماعت کو ایسی باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ تم ایسے نہ بنو، چاہیے کہ تم ہر قسم کے جذبات سے بچو۔ ہر ایک اجنبی جو تم کو ملتا ہے وہ تمہارے منہ کو تاڑتا ہے اور تمہارے اخلاق، عادات، استقامت، پابندی احکام الٰہی کو دیکھتا ہے کہ کیسے ہیں اگر عمدہ نہیں تو وہ تمہارے ذریعہ ٹھوکر کھاتا ہے بس ان باتوں کو یاد رکھو۔

(تَمَّ کَلَامُہُ الْمُبَارَکُ)۱؎

۲۸؍دسمبر۱۹۰۳ء

دلائل الخیرات اور دیگر وظائف کی نسبت امام الوقت کی رائے

ایک صاحب۲؎ آمدہ از امروہہ نے دریافت کیا کہ دلائل الخیرات جو ایک کتاب وظیفوں کی ہے اگر اسے پڑھا جاوے تو کچھ حرج تو نہیں؟ کیونکہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف ہی ہے اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تعریف جا بجا ہے۔ فرمایا کہ

انسان کو چاہیے کہ قرآن شریف کثرت سے پڑھے جب اس میں دعا کا مقام آوے تو دعا کرے اور خود بھی خدا سے وہی چاہے جو اس دعا میں چاہا گیا ہے اور جہاں عذاب کا مقام آوے تو اس سے پناہ مانگے اور ان بداعمالیوں سے بچے جس کے باعث وہ قوم تباہ ہوئی۔ بلا مددوحی کے ایک بالائی منصوبہ جو کتاب اللہ کے ساتھ ملاتا ہے وہ اس شخص کی ایک رائے ہے جو کہ کبھی باطل بھی ہوتی ہے اور ایسی رائے جس کی مخالفت احادیث میں موجود ہو وہ محدثات میں داخل ہوگی۔ رسم اور بدعات سے پرہیز بہتر ہے اس سے رفتہ رفتہ شریعت میں تصرّف شروع ہو جاتا ہے۔ بہتر طریق یہ ہے کہ ایسے وظائف میں جو وقت اس نے صرف کرنا ہے وہی قرآن شریف کے تدبّر میں لگاوے۔ دل کی اگر سختی ہو تو اس کے نرم کرنے کے لیے یہی طریق ہے کہ قرآن شریف کو ہی بار بار پڑھے جہاں جہاں دعا ہوتی ہے وہاں مومن کا بھی دل چاہتا ہے کہ یہی رحمتِ الٰہی میرے بھی شاملِ حال ہو۔ قرآن شریف کی مثال ایک باغ کی ہے کہ ایک مقام سے انسان کسی قسم کا پھول چنتا ہے۔ پھر آگے چل کر اور قسم کا چُنتا ہے۔ پس چاہیے کہ ہر ایک مقام کے مناسبِ حال فائدہ اُٹھاوے۔ اپنی طرف سے الحاق کی کیا ضرورت ہے ورنہ پھر سوال ہوگا کہ تم نے ایک نئی بات کیوں بڑھائی؟ خدا کے سوا اور کس کی طاقت ہے کہ کہے فلاں راہ سے اگر سور ئہ یٰس پڑھو گے تو برکت ہوگی ورنہ نہیں۔

قرآن شریف سے اعراض کی صورتیں

قرآن شریف سے اعراض کی دو صورتیں ہوتی ہیں ایک صوری اور ایک معنوی۔ صوری یہ کہ کبھی کلام الٰہی کو پڑھا ہی نہ جاوے جیسے اکثر لوگ مسلمان کہلاتے ہیں مگر وہ قرآن شریف کی عبارت تک سے بالکل غافل ہیں اور ایک معنوی کہ تلاوت تو کرتا ہے مگر اس کی برکات و انوار و رحمت الٰہی پر ایمان نہیں ہوتا۔ پس دونوں اعراضوں میں سے کوئی اعراض ہو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔

امام جعفرؑ کا قول ہے واللہ اعلم کہاں تک صحیح ہے کہ میں اس قدر کلام الٰہی پڑھتا ہوں کہ ساتھ ہی الہام شروع ہو جاتا ہے مگر بات معقول معلوم ہوتی ہے کیونکہ ایک جنس کی شَے دوسری شَے کو اپنی طرف کشش کرتی ہے۔ اب اس زمانہ میں لوگوں نے صد ہا حاشیے چڑھائے ہوئے ہیں۔ شیعوں نے الگ سنّیوں نے الگ۔ ایک دفعہ ایک شیعہ نے میرے والد صاحب سے کہا کہ میں ایک فقرہ بتلاتا ہوں وہ پڑھ لیا کرو تو پھر طہارت اور وضو وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اسلام میں کفر، بدعت، الحاد، زندقہ وغیرہ اسی طرح سے آئے ہیں کہ ایک شخصِ واحد کے کلام کو اس قدر عظمت دی گئی جس قدر کہ کلام الٰہی کو دی جانی چاہیے تھی۔ صحابہ کرامؓ اسی لیے احادیث کو قرآن شریف سے کم درجہ پر مانتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فیصلہ کرنے لگے تو ایک بوڑھی عورت نے اُٹھ کر کہا۔ حدیث میں یہ لکھا ہے۔ تو آپؓ نے فرمایا کہ میں ایک بڑھیا کے لیے کتاب اللہ کو ترک نہیں کر سکتا۔ اگر ایسی ایسی باتوں کو جن کے ساتھ وحی کی کوئی مددنہیں وہی عظمت دی جاوے تو پھر کیا وجہ ہے کہ مسیح کی حیات کی نسبت جو اقوال ہیں ان کو بھی صحیح مان لیا جاوے حالانکہ وہ قرآن شریف کے بالکل مخالف ہیں۔۱؎


حواشی

  1. ۱؎ البدر میں مزید لکھا ہے ۔’’مگر ہمارے لئے ہر ایک طرف سے کوشش ہے کہ یہ کاروبار رُکے مگر وہ بڑھتا جاتا ہے کیونکہ ان لوگوں کی فطرت الٹی ہے اس لیے اُن کو کشش بھی اُلٹی ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۹) [ص 55]
  2. ۲؎ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۴ مورخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۷ [ص 55]
  3. بقیہ حاشیہ پانا تھا پالیا۔ اس لحاظ سے ثوا ب نہیں رہتا۔ مگر بات اصل یہ ہے کہ تر قی ات کا سلسل ہ جاری رہتا ہے۔ (بقیہ حاشیہ) ہوتی ہے۔ مگر میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ان لوگوں نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی تعریف میں تو اس قدر غلو کیا ہے۔ مگر امام حسن رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے وقت ان لوگوں سے ایسا دلی جوش صادر نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ معلوم نہیں کیا ہے؟ شائد یہی باعث ہو کہ انہوں نے حضرت معاویہ کی بیعت کر لی تھی۔ (الحکم جلد ۷ نمبر ۱۶ مورخہ ۳۰؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۸) [ص 83]
  4. بقیہ حاشیہ لیے تیار رہے اور کسی مصیبت کی پروانہ کرے مگر ایک پاجی سرکش عبودیت سے تو انکار کرتا ہے اور خدا کو اپنا محکوم بنانا چاہتا ہے۔“ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۶؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۷۸) [ص 174]
  5. ۲؎ البدر کے الفاظ یہ ہیں:۔ ”بہت کا یہ بھی خیال ہوگا کہ کیا ہم انقطاع الی اللہ کر کے اپنے آپ کو تباہ کر لیویں؟ مگر یہ ان کو دھوکا ہے کوئی تباہ نہیں ہوتا۔ حضرت ابو بکرؓ کو دیکھ لو اُس نے سب کچھ چھوڑا پھر وہی سب سے اوّل تخت پر بیٹھا۔“ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۶؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۷۸) [ص 174]
  6. ۳؎ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۴ مورخہ ۳۰؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰، ۱۱ [ص 174]
  7. ۱؎ البدر جلد ۲ نمبر ۲۸ مورخہ ۳۱؍ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۱۸ [ص 215]
  8. ۱؎ البدر میں ہے۔ ’’دوسرے یہ کہ ان کی کوششوں کا وبال الٹ کر انہی پر پڑتا ہے اور وہ یُخۡرِبُوۡنَ بُیُوۡتَہُمۡ بِاَیۡدِیۡہِمۡ(الحشر:۳) (الـحشـر:۳) کا خود مصداق ہو رہے ہیں۔ ‘‘(البدر جلد ۲ نمبر ۲۹ مورخہ ۷؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ۷ ۲۲ [ص 224]
  9. ۱؎ الحکم جلد ۷ نمبر ۳۰ مورخہ ۱۷؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰، [ص 228]