بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ(الفاتحۃ:۱)
نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ وَ عَلٰی عَبْدِہِ الْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدِ
ملفوظات
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
یکم جنوری ۱۹۰۳ء
بروز پنجشنبہ سالے کہ نکوست او بہارش پیداست
ہدیۂ عید
حضرت حجۃ اللہ علی الارض مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عید کی مبارک صبح کو جو الہام بطور ہدیہ عید سنایا اس کے متعلق جو اشتہار شائع کیا گیا ہے اسے ہم ذیل میں درج کرتے ہیں وَہُوَ ہٰذَا۔
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ(الفاتحۃ:۱) نَـحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ
وحی الٰہی کی ایک پیشگوئی جو پیش از وقت شائع کی جاتی ہے چاہیے کہ ہر ایک شخص اس کو خوب یاد رکھے۔
اوّل۔ ایک خفیف خواب۱؎ میں جو کشف کے رنگ میں تھا مجھے دکھایا گیا کہ میں نے ایک لباس فاخرہ پہنا ہوا ہے اور چہرہ چمک رہا ہے۔ پھر وہ کشفی حالت وحی الٰہی کی طرف منتقل ہوگئی چنانچہ وہ تمام فقرات اوّ ل۔ ایک خفیف خواب۱ میں جو کشف کے رنگ میں تھا مجھے دکھایا گیا کہ میں نے ایک لباس فاخرہ پہنا ہوا ہے اور چہرہ چمک رہا ہے۔ پھر وہ کشفی حالت وحی الٰہی کی طرف منتقل ہو گئی چنانچہ وہ تمام فقرات وحی الٰہی ک ے جو بعض اس کشف سے پہلے اور بعض بعد میں تھے ذیل میں لکھے جاتے ہیں اور وہ یہ ہیں۔ الرَّحِیۡمِ اَتٰۤی اَمۡرُ اللّٰہِ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡہُ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ(النحل:۱ تا ۲) ترجمہ۔ خدا جو رحمان ہے تیری سچائی ظاہر کرنے کے لئے کچھ ظہور میں لائے گا خدا کا اَمر آ رہا ہے تم جلدی نہ کرو۔ یہ ایک خوشخبری ہے جو نبیوں کو دی جاتی ہے۔ صبح ۵ بجے کا وقت تھا یکم جنوری ۱۹۰۳ء و یکم شوال ۱۳۲۰ھ روز عید جب میرے خدا نے مجھے یہ خوشخبری دی۔ اس سے پہلے ۲۵؍دسمبر ۱۹۰۲ء کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک اور وحی ہوئی تھی جو میری طرف سے حکایت تھی اور وہ یہ ہے۔ اِنِّیْ صَادِقٌ صَادِقٌ وَسَیَشْھَدُ اللّٰہُ لِیْ۔ ترجمہ۔ میں صادق ہوں صادق ہوں عنقریب خدا تعالیٰ میری گواہی دے گا۔ یہ پیشگوئیاں بآواز بلند پکار رہی ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا اَمر میری تائید میں ظاہر ہونے والا ہے جس سے میری سچائی ظاہر ہوگی اور ایک وجاہت اور قبولیت ظہور میں آئے گی اور وہ خدا تعالیٰ کا نشان ہو گا تا دشمنوں کو شرمندہ کرے اور میری وجاہت اور عزّت اور سچائی کی نشانیاں دنیا میں پھیلاوے۔ نوٹ۔ چونکہ ہمارے ملک میں یہ رسم ہے کہ عید کے دن صبح ہوتے ہی ایک دوسرے کو ہدیہ بھیجا کرتے ہیں سو میرے خداوند نے سب سے پہلے یعنی قبل از صبح پانچ بجے مجھے اس عظیم الشان پیشگوئی کا ہدیہ بھیج دیا ہے۔ اس ہدیہ پر ہم اس کا شکر کرتے ہیں اور ناظرین کو یہ بھی خوشخبری دیتے ہیں کہ ہم عنقریب ان نشانوں کے متعلق بھی اشتہار شائع کریں گے جو اخیر دسمبر ۱۹۰۲ء تک گذشتہ سالوں میں ظہور میں آ چکے ہیں۔ منہ المشتہر مرزا غلام احمد قادیانی یکم جنوری ۱۹۰۳ء۱؎
قادیان میں عید الفطر
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لنگر خانہ میں نماز عید سے پیشتر احباب کے لئے میٹھے چاول طیار کروائے اور سب احباب نے تناول فرمائے.... گیارہ بجے کے قریب خدا کا برگزیدہ جَرِیُّ اللّٰہِ فِی حُلَلِ الْاَنْبِیَآءِ سادے لباس میں ایک چوغہ زیب تن کئے ہوئے مسجد اقصیٰ میں تشریف لایا جس قدر احباب تھے انہوں نے دوڑ دوڑ کر حضرت اقدس کی دست بوسی(کی) اور عید کی مبارک باد دی۔
اتنے میں حکیم نورالدین صاحب تشریف لائے اور آپ نے نماز عید کی پڑھائی اور ہر دو رکعت میں سورۃ فاتحہ سے پیشتر سات اور پانچ تکبیریں کہیں اور ہر تکبیر کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے گوش مبارک تک حسب دستور اپنے ہاتھ اٹھائے۔
(بوقتِ ظہر)
اس وقت حضرت اقدسؑ تشریف لائے تو کمر کے گردا یک صافہ لپیٹا ہوا تھا۔ فرمایا کہ کچھ شکایت درد گردہ کی شروع ہو رہی ہے اس لئے میں نے باندھ لیا ہے ذرا غنودگی ہوئی تھی اس میں الہام ہوا ہے۔ ’’تا عود صحت
‘‘فرمایا کہ صحت تو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے جب تک وہ ارادہ نہ کرے کیا ہو سکتا ہے۔
(بوقتِ عصر)
ہمّت بلند رکھنی چاہیے
عصر کے بعد حضورؑ نے مجلس فرمائی۔ سید ناصر شاہ صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ہمّت بلند رکھنی چاہیے انسان اگر دنیوی امور میں ہمّت ہار دے تو دینی امور میں بھی ہار دیتا ہے یہ عجیب چیز ہے کیونکہ وہ گواہی دیتی ہے کہ قویٰ ٹھیک ہیں جو لوگ کم ہمّت ہیں ان میں پست خیالی پیدا ہو جاتی ہے۔ مسجدوں کے ملّاں جو ہوتے ہیں ان کو دیکھو۔ ایک بار ہمارے میرزا صاحب (مرحوم) کے پاس یہاں کا ایک ملّاں شکایت لایا کہ ہمارے جو گھر باہم تقسیم ہوئے ہیں تو مجھے چھوٹے قد کے آدمیوں کے گھر ملے ہیں اور ان کے مَرنے سے بہت چھوٹا کفن ملا ہے یہاں تک حالت ان لوگوں کی گر جاتی ہے کہ ایک ملّاں نے نماز جنازہ غلط پڑھائی جب کہا گیا تو جواب دیا کہ اس کی مشق نہیں رہی۔ غرض دنیا کے معاملہ میں ہمّت نہ کی تو دین میں بھی پست ہمتی پیدا ہو جاتی ہے۔
پیشہ ور نماز پڑھانے والے کے پیچھے نماز درست نہیں
میرے نزدیک جو لوگ پیشہ کے طور پر نماز پڑھاتے ہیں ان کے پیچھے نماز درست نہیں وہ اپنی جمعرات کی روٹیوں یا تنخواہ کے خیال سے نماز پڑھاتے ہیں اگر نہ ملے تو چھوڑ دیں۔ معاش اگر نیک نیتی کے ساتھ حاصل کی جاوے تو عبادت ہی ہے جب آدمی کسی کام کے ساتھ موافقت کرے اور پکّاراہ اختیار کرے تو تکلیف نہیں ہوتی وہ سہل ہو جاتا ہے۔
(بوقتِ مغرب)
تعبیر الرؤیا
ایک صاحب نے اپنا ایک خواب سنایا جس میں انہوں نے انگوٹھی دیکھی۔ تو حضرت اقدس نے فرمایا کہ انگوٹھی سے مراد یہ ہے کہ انسان اسی حلقہ میں آجاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا تمثّل رؤیا میں دیکھنا
سید عبدالقادر صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ اللہ تعالیٰ کو اپنی ماں کی شکل پر دیکھا۱؎ مگر میں نے (یعنی خود حضرت اقدس نے) ایک دفعہ اللہ تعالیٰ کو اپنے باپ کی شکل پر دیکھا۔ یہ تمام خدا تعالیٰ کے تمثّلات ہوتے ہیں ورنہ وہ تو ت جسّم سے پاک ہے۔ پیغمبر خدا نے ایک دفعہ خدا کا ہاتھ اپنے شانہ پر دیکھا۔
ایک الہام کی تشریح
آج کے الہامات میں خدا نے فرمایا ہے یُبْدِیْ لَکَ الرَّحْـمٰنُ شَیْئًا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ مخفی ہے جو کہ ظاہر ہوگا۔ خدا کے چھپانے میں بھی ایک عظمت ہوتی ہے اور خدا کا چھپانا ایسا ہے جیسے کہ جنّت کی نسبت فرمایا ہے فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعۡیُنٍ(السّجدۃ:۱۸) (کہ کوئی جی نہیں جانتا کہ کیسی کیسی قُرَّۃُ اَعْیُنٍ ان کے لئے پوشیدہ رکھی گئی ہے)
دراصل چھپانے میں بھی ایک قسم کی عزّت ہوتی ہے جیسے کھانا لایا جاتا ہے تو اس پر دستر خوان وغیرہ ہوتا ہے تو یہ ایک عزّت کی علامت ہوتی ہے مَّاۤ اُخۡفِیَ لَہُمۡ(السّجدۃ:۱۸) بھی دلالت کرتا ہے کہ میں تمہارے لئے کچھ ظاہر کروں گا یعنی کوئی شَے ہے کہ اس وقت چھپائی ہوئی ہے۔
جماعت نشانوں سے درست ہوگی
میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت نصائح سے درست نہ ہوگی بلکہ نشانوں سے درست ہوگی۔ دہریت کی جڑ جب اندر ہوتی ہے تو قاعدہ کی بات ہے کہ اثر نہیں ہوا کرتا خدا کو خدا کے ہی ذریعے سے پہچان سکتے ہیں۔ دنیا میں جس شَے کی معرفت انسان کو حاصل ہو جاتی ہے تو اس کی عظمت بھی اس پر کھل جاتی ہے اس وقت وہ اس سے متاثر ہوتا ہے جیسے دریا میں اپنے آپ کو دیدہ دانستہ نہیں ڈالتا۔ شیر سامنے ہو تو اس کے مقابل نہیں جاتا جس جگہ سانپ کا خطرہ ہو وہاں نہیں گھستا اور ایک مقام پر بجلی پڑتی ہو تو وہاں سے بھاگتا ہے ایک طرف تو یہ لوگ دعویٰ امت کا کرتے ہیں دوسری طرف کرتوت ایسے ہیں (کہ خدا پناہ دے) تو اس کے کیا معنے ہوئے؟
ایک الہام
ایک میرا گذشتہ ایام کا الہام ہے یہاں ذکر کرنا یاد نہ رہا وہ یہ ہے۔
اِنِّیْ اَنَا الصَّاعِقَۃُ
مولانا مولوی عبد الکریم صاحب نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا نیا اسم ہے آج تک کبھی نہیں سنا
حضرت اقدس نے فرمایا
بے شک اسی طرح طاعون کی نسبت جو الہامات ہیں وہ بھی ہیں جیسے اُفْطِرُ وَاَصُوْمُ یہ بھی کیسے لطیف الفاظ ہیں گویا خدا فرماتا ہے کہ طاعون کے متعلق میرے دو کام ہوں گے کچھ حصہ چپ رہوں گا یعنی روزہ رکھوں گا اور کچھ افطار کروں گا اور یہی واقعہ ہم چند سال سے دیکھتے ہیں شدت گرمی اور شدت سردی کے موسم میں طاعون دب جاتی ہے گویا وہ اصوم کا وقت ہے اور فروری، مارچ، اکتوبر وغیرہ میں زور کرتی ہے وہ گویا افطار کا وقت ہوتا ہے اور اسی لطیف کلام میں سے ہے اِنِّیْ اَنَا الصَّاعِقَۃُ۔۔
نماز میں لذّت کے حصول کی شرائط
ایک نے عرض کی کہ نماز میں لذّت کچھ نہیں آتی حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ نماز نماز بھی ہو۔ نماز سے پیشتر ایمان شرط ہے ایک ہندو اگر نماز پڑھے گا تو اسے کیا فائدہ ہوگا جس کا ایمان قوی ہوگا وہ دیکھے گا کہ نماز میں کیسی لذّت ہے اور اس سے اوّل معرفت ہے جو خدا کے فضل سے آتی ہے اور کچھ اس کی طینت سے آتی ہے جو محمود فطرت والے مناسب حال اس کے فضل کے ہوتے ہیں اور اس کے اہل ہوتے ہیں انہی پر فضل ہوا کرتا ہے ہاں یہ بھی لازم ہے کہ جیسے دنیا کی راہ میں کوشش کرتا ہے ویسے ہی خدا کی راہ میں بھی کرے۔ پنجابی میں ایک مثل ہے ’’جو منگے سومَر رہے مَرے سومنگن جا۔
‘‘دعا کی حقیقت
لوگ کہتے ہیں کہ دعا کرو۔ دعا کرنا تو مَرنا ہوتا ہے اس (پنجابی مصرعہ) کے یہی معنے ہیں کہ جس پر نہایت درجہ کا اضطراب ہوتا ہے وہ دعا کرتا ہے دعا میں ایک موت ہے اور اس کا بڑا اثر یہی ہوتا ہے کہ انسان ایک طرح سے مَر جاتا ہے مثلاً ایک انسان ایک قطرہ پانی کا پی کر اگر دعویٰ کرے کہ میری پیاس بجھ گئی ہے یا اسے بڑی پیاس تھی تو وہ جھوٹا ہے ہاں اگر پیالہ بھر کر پیوے تو اس کی بات کی تصدیق ہوگی۔ پوری سوزش اور گدازش کے ساتھ ایک رنگ میں جب دعا کی جاتی ہے حتی کہ روح گداز ہوکر آستانہ الٰہی پر گر پڑتی ہے اور اسی کا نام دعا ہے۔ اور الٰہی سنّت یہی ہے کہ جب ایسی دعا ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ یا تو اسے قبول کرتا ہے اور یا جواب دیتا ہے۔
خدا کا کلام فرمانا
اس مقام پر سائل نے کہا کہ جواب کیسے دیتا ہے؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ بات کر کے بتلا دیتا ہے۔
سائل نے کہا کہ خدا کیسے بات کرتا ہے؟
فرمایا کہ خدا کے فرشتے کلام کرتے ہیں۔ اکثر دفعہ فرشتوں نے ہمارے ساتھ کلام کی ہے مکالماتِ الٰہیہ میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی زبان پر کلام جاری کر رہا ہے اور وہ ایسی طاقت اور شدت سے ہوتا ہے جیسے ایک فولادی میخ دھستی جاتی ہے ایسی لطافت ہوتی ہے کہ گویا خدا کا کلام ہے۔
نماز پڑھنے کا طریق
نماز پڑھو، تدبر سے پڑھو اور ادعیہ ماثورہ کے بعد اپنی زبان میں دعا مانگنی مطلق حرام نہیں ہے جب گدازش ہو تو سمجھو کہ مجھے موقع دیا گیا ہے اس وقت کثرت سے مانگو اس قدر مانگو کہ اس نکتہ تک پہنچو کہ جس سے رقّت پیدا ہو جاوے۔ یہ بات اختیاری نہیں ہوتی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ترشحات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کوچہ میں اوّل انسان کو تکلیف ہوتی ہے مگر ایک دفعہ چاشنی معلوم ہوگی تو پھر سمجھے گا جب اجنبیت جاتی رہے گی اور نظارہ قدرت الٰہی دیکھ لیوے گا تو پھر پیچھا نہ چھوڑے گا۔ قاعدہ کی بات ہے کہ تجربہ میں جب ایک دفعہ ایک بات تھوڑی سی آ جاوے تو تحقیقات کی طرف انسان کی طبیعت میلان کرتی ہے اصل میں سب لذّات خدا کی محبت میں ہیں۔ ملعون لوگ (یعنی جو خدا سے دور ہیں )جو زندگی بسر کرتے ہیں وہ کیا زندگی ہے۔ بادشاہ اور سلاطین کی کیا زندگیاں ہیں مثل بہائم کے ہیں۔ جب انسان مومن ہوتا ہے تو خود ان سے نفرت کرتا ہے۔
صادقوں کی صحبت میں آجاؤ
دہلی کے جلسے میں جو لوگ بڑے شوق سے جاتے ہیں سوائے اس کے کہ وہاں بعض مسخ شدہ شکلوں کو دیکھیں اور کیا دیکھیں گے یہ لوگ ایسے دور دراز خیالات میں آ کر پڑے ہیں کہ جب فرشتے آ کر جان نکالیں گے تو اس وقت ان کو حسرت ہوگی۔
ایمان لانے اور خدا کی عظمت کے دل میں ہونے کی اوّل نشانی یہ ہے کہ انسان ان تمام کو مثل کیڑوں کے خیال کرے ان کو دیکھ کر دل میں نہ ترسے کہ یہ فاخرہ لباس پہن کر گھوڑوں پر سوار ہیں۔ درحقیقت ان لوگوں کی قسمت بد اور کتوں کی سی زندگی ہے (کہ مُردار دنیا پر دانت مار رہے ہیں)۔ انسان کو اگر دیکھنے کی آرزو ہو تو ان کو دیکھے جو منقطعین ہیں اور خدا کی طرف آگئے ہیں اور خدا ان کو زندہ کرتا ہے ان کی زیارت سے مصائب دور ہوتے ہیں جو شخص رحمت والے کے پاس آوے گا تو وہ رحمت کے قریب تر ہوگا اور جو ایک لعنتی کے پاس جاوے گا وہ لعنت کے قریب تر ہوگا۔ دنیا میں یہی بات غور کے قابل ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ(التوبۃ:۱۱۹) یعنی اے بندو! تمہارا بچاؤ اسی میں ہے کہ صادقوں کے ساتھ ہو جاؤ۔
پھر نماز کی حلاوت کے سوال پر فرمایا کہ
نشوونما رفتہ رفتہ ہوا کرتا ہے یہ آپ کی خوش قسمتی ہے کہ یہاں آگئے اگر خدا نہ چاہتا تو آپ کیا کرتے؟ ممکن تھا کہ اوّل دلّی کی طرف جاتے تو وہاں سے سوائے لاف و گزاف کے کیا ساتھ لے جاتے یا چند ایک تماشہ شعبدہ بازی کے دیکھ لیتے۔
سائل نے عرض کی کہ میرا خیال تھا کہ آپ ضرور جلسہ دہلی میں ہوں گے آپ کا کمپ معہ اپنی جماعت کے الگ ہوگا۔
حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہم ان باتوں سے ایسے متنفّر ہیں کہ ان کے خیمے ہمارے نزدیک بھی ہوں تو ہم یہ خواہش کریں کہ خدا جلد تر ان کو یہاں سے اٹھا دے جیسے ایک مُردار جب پاس پڑا ہو تو اسے جلدی اٹھوا دیتے ہیں کہ کہیں متعفّن ہو کر بیماری کا باعث نہ ہو۔
سائل نے عرض کی کہ اس سے پیشتر مجھے بہت شوق جلسہ کا تھا مگر اب دو تین دن سے ذرّہ خیال تک بھی نہیں ہے حضور کی زیارت کو دل چاہتا ہے۔
حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ حق یہی ہے۔۱؎
رؤیت ملائکہ پھر سائل نے عرض کی کہ کیا ہم فرشتہ کو دیکھ سکتے ہیں؟
رؤیت ملائکہ
حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ
ہم ہر روز دیکھتے ہیں کبھی کشف میں، کبھی رؤیا میں۔ ایک حالت رؤیا کی ہوتی ہے وہ نیند میں ہوتی ہے اس میں بھی غیبتِ حس ہوتی ہے کہ انسان سو کر کہیں کا کہیں سیر کرتا ہے اور مکان اس کا بدلتا ہے لیکن کشف میں مکان نہیں بدلتا۔ کبھی غنودگی میں ہوتا ہے اور کبھی بیداری میں اور باوجود غنودگی کے حصہ کے پھر بھی ہر ایک آواز کو سنتا ہے جانتا ہے کہ فلاں مکان میں مَیں ہوں ایک دفعہ میں نے فرشتوں کو انسان کی شکل پر دیکھا یا د نہیں کہ دو تھے یا تین، آپس میں باتیں کرتے تھے اور مجھے کہتے تھے کہ تو کیوں اس قدر مشقّت اٹھاتا ہے اندیشہ ہے کہ بیمار نہ ہو جاوے میں نے سمجھا کہ یہ جو چھ ماہ کے روزے رکھے ہیں ان کی طرف اشارہ ہے۔
(اس مقام پر حضرت اقدس نے اپنا واقعہ مجاہدہ اور ششماہی روزہ کا بیان فرمایا جو کہ البدر نمبر ۱ میں زیر عنوان اُسوہ حسنہ کے درج ہے)۔
فرمایا کہ ان روزوں کو میں نے مخفی طور پر رکھا بعض دفعہ اظہار میں سلبِ رحمت کا اندیشہ ہوتا ہے اس لئے مخفی رکھنا اچھا ہوتا ہے چونکہ میں مامور تھا اس لئے کوئی مرض وغیرہ نہ ہوا ورنہ اگر کوئی اَور ہوتا اور اس قدر شدت اٹھاتا تو ضرور مسلول، مدقوق یا مجنون ہو جاتا۔
پھر ایک دفعہ مجھے ایک فرشتہ آٹھ یا دس سالہ لڑکے کی شکل پر نظر آیا اس نے بڑے فصیح اور بلیغ الفاظ میں کہا کہ خدا تمہاری ساری مرادیں پوری کرے گا۔
اسی طرح ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ ایک نالی شرقاً اور غرباً بہت لمبی صد ہا میل تک کھدی ہوئی ہے اور اس کے اوپر بے شمار بھیڑیں لٹائی ہوئی ہیں اور ہر ایک بھیڑ کے سر پر ایک قصاب ہاتھ میں چُھری لئے ہوئے طیار بیٹھا ہے اور آسمان کی طرف ان کی نظر ہے جیسے حکم کا انتظار ہے میں اس وقت اس مقام پر ٹہل رہا ہوں اور ان کو دیکھ رہا ہوں ان کے نزدیک جا کر میں نے کہا قُلۡ مَا یَعۡبَؤُا بِکُمۡ رَبِّیۡ لَوۡلَا دُعَآؤُکُمۡ(الفرقان:۷۸) انہوں نے اسی وقت چُھریاں پھیر دیں کہ حکم ہو گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ خلیفہ جو ہوتا ہے وہ آسمان سے ہوتا ہے اس لئے میں نے جو آواز دی تو انہوں نے سمجھا کہ حکم ہو گیا اور جو آواز آسمان سے آنی تھی وہ میں نے کہی جب وہ بھیڑیں تڑپیں تو انہوں نے کہا کہ تم چیز کیا ہو میلا کھانے والی بھیڑیں ہی ہو۔ ان ایام میں ۷۰ ہزار آدمی ہیضہ سے مَرا تھا ۱۸۸۲ء کا ذکر ہے۔
لیکھرام کے متعلق کشف
اس کے بعد حضرت اقدس نے لیکھرام کے متعلق کشف کا ذکر کیا جو کہ برکات الدعاء کے ٹائیٹل پیج پر چھپا ہوا ہے۔
بعد ازیں فرمایا کہ ایک دفعہ میں نے اسی لیکھرام کے متعلق دیکھا کہ ایک نیزہ ہے اس کا پھل بڑا چمکتا ہے اور لیکھرام کا سر پڑا ہوا ہے اسے اس نیزے سے پرو دیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پھر یہ قادیان میں نہ آوے گا۔ (ان ایام میں لیکھرام قادیان میں تھا اور اس کے قتل سے ایک ماہ پیشتر کا یہ واقعہ ہے) فرمایا کہ
یہ عجائبات ہیں ختم ہونے میں نہیں آتے لیکھرام کے قتل کے وقت جب تلاشی میں کاغذات دیکھے گئے تو اس میں بہت سے خط نکلے جن میں لکھا تھا کہ وہ خبیث مارا گیا ہے اچھا ہوا کہ پیشگوئی پوری ہوئی۔ اس میں جو پیشگوئی پوری کے الفاظ تھے وہ حکّام سے ہر ایک شک اور شبہ کو دور کرتے تھے۔
بعض احباب نے سوال کیا کہ کیا نماز تنہا پڑھ لیا کریں؟
تنہا احمدیوں کے لئے ہدایت
فرمایا۔ ہاں الگ اور تنہا پڑھ لیا کرو۔ یہ سلسلہ خدا کا ہے وہ چاہتا ہے کہ ان سے الگ رہو عنقریب وہ وقت آتا ہے کہ خدا جماعت کر دیوے گا۔۱؎
۲؍جنوری ۱۹۰۳ء
بروز جمعہ (بوقتِ سیر)
ایک الہام
فرمایا۔ رات مجھے الہام ہوا جَآءَنِیْ اٰئِلٌ وَاخْتَارَ وَ اَدَارَ اِصْبَعَہٗ وَاَشَارَ۔ یَعْصِمُکَ اللّٰہُ مِنَ الْعِدَا وَیَسْطُوْ بِکُلِّ مَنْ سَطَا۔
آئل جبرائیل ہے فرشتہ بشارت دینے والا۔
(ترجمہ) آیا میرے پاس آئل اور اس نے اختیار کیا (یعنی چن لیا تجھ کو) اور گھمایا اس نے اپنی انگلی کو اور اشارہ کیا کہ خدا تجھے دشمنوں سے بچاوے گا اور ٹوٹ کر پڑے گا اس شخص پر جو تجھ پر اچھلا۔
فرمایا۔ آئل اصل میں ایالت سے ہے یعنی اصلاح کرنے والا جو مظلوم کو ظالم سے بچاتا ہے یہاں جبریل نہیں کہا آئل کہا۔ اس لفظ کی حکمت یہی ہے کہ وہ دلالت کرے کہ مظلوم کو ظالموں سے بچاوے اس لئے فرشتہ کا نام ہی آئل رکھ دیا پھر اس نے انگلی ہلائی کہ چاروں طرف کے دشمن اور اشارہ کیا کہ یَعْصِمُکَ اللّٰہُ مِنَ الْعِدَا وغیرہ۔
یہ بھی اس پہلے الہام سے ملتا ہے اِنَّہٗ کَرِیْمٌ تَـمَشّٰی اَمَامَکَ وَعَادٰی مَنْ عَادٰی۔ وہ کریم ہے تیرے آگے آگے چلتا ہے جس نے تیری عداوت کی اس کی عداوت کی۔ چونکہ آئل کا لفظ لُغت میں مل نہ سکتا ہوگا یا زبان میں کم مستعمل ہوتا ہوگا اس لئے الہام نے خود اس کی تفصیل کر دی ہے۔ (یہ گذشتہ چند روز کا الہام ہے)
جس طرح انبیاء کے صفات ہوتے ہیں اسی طرح ملائکہ کے بھی صفات ہوتے ہیں اور اِصْبَعُہٗ کے اجتہادی معنے جو کچھ ہم کریں اصل واقعہ تو اس وقت معلوم ہو گا جب وہ ظہور پذیر ہوگا۔
ایک نو وارد صاحب۱؎ نے عرض کی کہ کاش مجھے بھی جبرائیل دکھلایا جاتا۔
فرمایا۔ جب خدا آپ کو وہ آنکھیں عنایت کرے گا تو آپ بھی دیکھ لیں گے وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمۡرِ رَبِّکَ(مریم:۶۵) وہ تو خدا کے حکم سے نازل ہوتا ہے جب محمد حسین بٹالوی نے رسالہ کفر کا لکھا تھا اور لوگوں کو بھڑکایا تھا کہ یہ مسلمان نہیں۔ ان کے جنازہ نہ پڑھو مسلمانوں کے قبرستان میں ان کو دفن نہ کرو اس وقت لوگ بھڑکے اور ہماری مخالفت عام ہوگئی اور بغض و عداوت حد سے بڑھ گیا اس وقت میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ بھائی غلام قادر کی شکل پر ایک شخص آیا مگر فوراً مجھے معلوم کرایا گیا کہ یہ فرشتہ ہے میں نے کہا کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ کہا جِئْتُ مِنَ الْـحَضْـرَۃِ۲؎ مَیں جناب باری سے آیا ہوں چونکہ وہاں بہت لوگ معلوم ہوتے تھے میں نے اس سے الگ ہو کر ایک بات کرنے کی درخواست کی تو وہ علیحدہ ہو کر مجھے پوچھنے لگا میں نے کہا لوگ تو مجھ سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔ کہا نہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں معاً میری حالتِ کشف جاتی رہی۔
حدیث کا مرتبہ
فرمایا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اگر صرف حدیث کو مدار شریعت رکھا جاوے اور قرآن کو ترک کر دیا جاوے تو یہ ایک تباہی کا نشان ہے جو حدیثیں قرآن کے موافق ہیں ان کی تو عزّت کرو اور تعظیم کرو اور دوسری کو ترک کرو۔
قیامت کے روز حشرکیسے ہوگا
عرب صاحب نے سوال کیا کہ قیامت کے دن لوگ جس طرح مَرتے ہیں اسی طرح اوّل و آخر نمبر وار حاضر ہوں گے یا ایک دم تمام متقدمین و متأخرین اکٹھے اٹھیں گے۔ فرمایا۔ الگ الگ ثابت نہیں سب اکٹھے اٹھیں گے ماننا پڑتا ہے کہ ہمارا خدا بڑا قادر خدا ہے۔ دیکھو نطفہ کیا چیز ہے اور پھر اس سے کس طرح انسان کامل بن جاتا ہے ہر شخص جو خدا کو ماننے والا ہے سورج چاند وغیرہ اجسام کو دیکھ کر کیا وہ یہ بتلا سکتا ہے کہ کن چھکڑوں پر یہ اسباب آیا تھا اور ان کا مصالح کہاں سے آیا تھا یہی ماننا پڑے گا اور پڑتا ہے کہ اِنَّمَاۤ اَمۡرُہٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیۡئًا اَنۡ یَّقُوۡلَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ(یٰسٓ:۸۳) پھر ہم کو ایسا ہی ماننا چاہیے کہ قیامت کے روز سب کو یک دم مقابلہ کرا دے گا اور جن حسرتوں میں مومن مَر گئے تھے اور ان کو معلوم نہ تھا کہ ہمارے مخالفوں کا کیا حال ہوا وہ ان کو دکھلا دیا جاوے گا کہ دیکھو اے راست باز بندو! یہ منکرین کا حال ہے تب ان راست بازوں کو لذّت آوے گی۔ پس خدا کو ہم مان ہی نہیں سکتے جب تک کہ اس کو صاحبِ مقدرت کلّی نہ مان لیں۔ پہلے اس کے کاموں کو دیکھو ہم سب کو ماننا پڑتا ہے کہ ان کا کوئی فاعل ہے پھر کیا وجہ کہ ایک حصہ میں اس کو مانتا اور ایک حصہ میں اس کا انکار کرتا اور شبہات میں پڑتا۔ یا تو پہلی دفعہ سے ہی انکار کرنا چاہیے یا بکلّی ماننا۔ خدا کی صفات اور کام غیر محدود ہیں کیا دنیا کی ہزار ہا مخلوق اس بات کی کافی دلیل نہیں کہ خدا بڑا قوی خدا ہے۔
خدا تعالیٰ کی صفات اَبدی ہیں
خدا کبھی معطّل نہیں ہوگا ہمیشہ خالق، ہمیشہ رازق، ہمیشہ ربّ، ہمیشہ رحمان، ہمیشہ رحیم ہے اور رہے گا میرے نزدیک ایسے عظیم الشان جبروت والے کی نسبت بحث کرنا گناہ میں داخل ہے خدا نے کوئی چیز منوانی نہیں چاہی جس کا نمونہ یہاں نہیں دیا۔ ہم لڑکپن میں ایسا کرتے تھے اور دیکھتے تھے کہ گلہری کو جب مار دیا جاوے تو وہ بے حس وحرکت ہو جاتی تھی مگر پھر اگر اس کے سر کو گوبر میں دیا جاوے تو وہ زندہ ہو جایا کرتی تھی اسی طرح مکھی۔ پھر یہ موت حقیقی موت نہیں ہوتی نیند اور غشی بھی موت ہی ہے۔۱؎
قبر میں سوالات
عرب صاحب نے سوال کیا کہ فرشتہ مَرنے کے بعد کس زبان میں سوال کرے گا؟
فرمایا۔ ہمیں انگریزی، فارسی، عربی، اردو وغیرہ زبانوں میں الہام ہوتے ہیں۔ فرشتہ ہر زبان بول سکتا ہے۔
سوال کیا۔ کیا فرشتہ یہی سوال کرے گا مَنْ رَّبُّکَ وَمَنْ نَّبِیُّکَ۔ اگر یہی سوال ہو گا تو اس کے جواب یاد کر لئے جاویں تو وہاں پاس ہو سکتے ہیں۔
فرمایا۔ نہیں۔ یہ ایک ایمانی بات ہے یہی دو لفظ یاد کر کے دنیاوی امتحانوں کی طرح کبھی پاس نہیں ہو سکتا بلکہ انسان جس رنگ سے رنگین ہوگا وہی جواب اس کے منہ سے نکلے گا پھر لکھا ہے بِوَجْہٍ مِّنَ الْوُجُوْہِ قبر میں راحت یا رنج کا سامان مہیا کیا جاوے گا۔
حشر اجساد
پھر عرب صاحب کے سوال پر فرمایا کہ
مَرنے کے بعد مُردے کا تعلق زمین سے ضرور رہتا ہے۔ مومن کا تعلق ایک آسمان سے ہوتا ہے اور ایک زمین سے۔ اصل حساب وکتاب تو برزخ میں ہو جاوے گا مگر مقابلہ کرانا باقی رہ جاوے گا وہ حشر کو ہوگا۔ ہزاروں انبیاء، دجال، کذّاب، کفار، ملعون وغیرہ وغیرہ خطاب پاتے گئے۔ قیامت میں اس لئے حشر ہوگا کہ ان کو عزّت کی کرسی پر بٹھا کر اور مکذّبوں کو ذلّت کا عذاب دے کر دکھلایا جاوے گا کہ دیکھو کون صادق اور کون کاذب تھا۔
سوال کیا کہ حشر کو جسم ہوگا یا نہیں اور یہی جسم ہوگا یا کوئی اَور؟
فرمایا۔حشر میں جسم دیئے جاویں گے یہ نہیں کہ یہی ہوگا یا کوئی اَور۔ یہ مانی ہوئی بات ہے کہ تین سال کے بعد پہلا جسم انسانی ضائع ہو جاتا اور اس کا قائم مقام نیا آ جاتا ہے پھر ہمارا ایمان ہے کہ ان کو بدن ملے گا مگر جس طرح اس علیم کے علم میں ہے۔ ہمارا اس پر ایمان ہے کہ وہ قادر ہے کہ اس بدن سے بھی کچھ حصہ اسے دے دے اور اس کے سوا اور جسم بھی عطا کرے سوائے ذاتِ باری کے کسی کی یہ صفت نہیں کہ ہمیشہ ابدی رہے اور یہ طاقت خدا ہی انسان کو دے گا کہ پھر وہ ابدی بن جاوے۔۱؎
پھر سوال کیا کیوں یہ مرتبہ صرف انسان کو ہی ملے گا اور حیوانات کو نہیں دیا جاوے گا؟
فرمایا۔ اس پر ہم جھگڑ نہیں سکتے جیسے ایک شخص سخاوت کرتا ہے ایک فقیر کو وہ پیسہ دیتا ہے اور دوسرے کو روپیہ۔ مگر جس کو وہ پیسہ ملا ہے وہ حق نہیں رکھتا کہ جھگڑا کرے۔ بہشت والوں کو تو ابدی رہنا ہوگا اور حدیثوں میں بھی آیا ہے کہ دوزخی ہمیشہ اس میں نہیں رہیں گے۔ جیسے فرمایا یَاْتِیْ عَلٰی جَھَنَّمَ زَمَانٌ لَیْسَ فِیْـھَا اَحَدٌ کیونکہ وہ بھی آخر خدا کے ہاتھ سے بنے ہوئے ہیں ان پر کوئی زمانہ ایسا آنا چاہیے کہ ان کو عذاب کی تخفیف دی جاوے۔
یہ معرفت کی باتیں ہوتی ہیں جہنم سے نکلیں گے۔ مگر یہ نہیں لکھا کہ بہشت میں مومنین کی طرح ان کو بھی کچھ حصہ ملے گا ہاں ان کے ماتھے پر دوزخ کا نشان ہوگا۔ پھر سوال کیا کہ بہشت والوں کو روز کا عیش و آرام بھی دکھ ہو جاوے گا۔ فرمایا۔ بہشت میں بھی ہر روز ایک تجدد ہوتا رہے گا اسی طرح دوزخیوں پر بھی لکھا ہے بَدَّلۡنٰہُمۡ جُلُوۡدًا غَیۡرَہَا(النساء:۵۷) مگر خدا کا تجدد بے پایاں ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔ خدا کے کاموں میں انتہا نہیں۔ فرماتا ہے وَلَدَیۡنَا مَزِیۡدٌ(قٓ:۳۶) یعنی زیادتی ہوتی رہے گی۔ پھر سوال کیا کہ میں نے آج سے پہلے کبھی روزہ نہیں رکھا اس کا کیا فدیہ دوں۔ فرمایا۔ خدا ہر شخص کو اس کی وسعت سے باہر دکھ نہیں دیتا۔ وسعت کے موافق گذشتہ کا فدیہ دے دو اور آئندہ عہد کرو کہ سب روزے ضرور رکھوں گا۔۱؎
۳؍جنوری ۱۹۰۳ء
(صبح کی سیر)
اللہ اور رحمٰن
سیر کو نکلتے ہی سلسلہ کلام یُبْدِئُ لَکَ الرَّحْمٰنُ الہام سے شروع ہوا۔ فرمایا۔ رحمان اپنے اندر بشارت رکھتا ہے چونکہ یہ بشارت تھی اس لئے اس الہام میں رحمٰن کا لفظ رکھا ہے۔ اور شَیْئًا کے لفظ میں کچھ خفا تھا جو گو اس کی عظمت کے لئے ہے مگر ایک خفا ضرور ہے اس لیے اس خیال سے کہ وہم نہ پیدا ہو پھر اور واضح الفاظ میں فرمایا بَشَارَۃٌ تَلَقَّاہَا النَّبِیُّوْنَ۔ یُبْدِئُ لَکَ الرَّحْمٰنُ میں لام بھی انتفاع کے لئے فرمایا دوسرے الہام وَاللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ(المائدۃ:۶۸) میں اللہ کا لفظ اس لئے رکھا کہ اللہ اپنے جلال کو چاہتا ہے اور اس عصمت میں اظہار جلال مقصود تھا اس لفظ کو اختیار فرمایا جو اسم اعظم ہے۔
سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت
اس ضمن میں ف ر مایا کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا(التوبۃ:۴۰) اس معیت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ہیں اور گویا کل جماعت آپ کی آ گئی۔ موسیٰ علیہ السلام نے یہ نہیں کہا بلکہ کہا اِنَّ مَعِیَ رَبِّیۡ(الشعرآء:۶۳) اس میں کیا سِرّ تھا کہ انہوں نے اپنے ہی ساتھ معیت کا اظہار کیا؟ اس میں یہ راز ہے کہ اللہ جامع جمیع شیون کا ہے اور اسم اعظم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت کے ساتھ اسم اعظم کی معیت مع تمام صفات کے پائی جاتی ہے لیکن موسیٰ علیہ السلام کی قوم شریر اور فاسق فاجر تھی۔ آئے دن لڑنے اور پتھر مارنے کو طیار ہو جاتی تھی اس لئے ان کی طرف معیت کو منسوب نہیں کیا بلکہ اپنی ذات تک اسے رکھا ہے۔ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور علوّ مدارج کا اظہار مقصود ہے۔
ایمان،عرفان میں کیسے تبدیل ہوتاہے
فرمایا۔۱؎ یہ پیشگوئیاں جو ہیں یہ ایمان کو قوی کر کے عرفان بنا دیتی ہیں۔ نری باتوں سے ایمان قوی نہیں ہو سکتا جب تک اس میں قوت کی شعاعیں نہ پڑیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے ان نشانات سے پیدا ہوتی ہیں۔ پس ان پیشگوئیوں کو خوب کان کھول کر سننا چاہیے دوسرے وقت جب یہ پوری ہوتی ہیں تو ایمان کی تقویت کا باعث ہو کر اس کو عرفان بنا دیتی ہیں۔ اس لئے جو اَمر پیشگوئی پر مشتمل ہو میں اس کو ضرور سنا دیا کرتا ہوں اور میری غرض اس سے یہی ہوتی ہے۔ یہ ایک نور بخشتی ہیں اور جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور نازل نہ ہو انسان غلطی میں پڑا رہتا ہے۔
تعبیر الرؤیا
ابو سعید عرب صاحب نے اپنی رؤیا بیان کی کہ ایک کتّا پیار سے کاٹتا ہے اور پھر اس نے انڈا دیا جس کو انہوں نے توڑ ڈالا اور وہ بھاگ گیا۔ فرمایا۔ کتّا ایک برزخ ہے درندگی اور چرندگی میں۔ جب وہ محبت سے کاٹے تو محبت ہے اور کتّے سے مراد خفیف سا دشمن ہوتا ہے۔ اس کے انڈے سے مراد اس کی ذریت ہے جب اس کو توڑ دیا تو گویا خفیف اور کمزور دشمن کی ذرّیت کو تلف کر دیا۔
توحید
فرمایا۔ جس بادشاہ کے ہم زیر سایہ ہیں اس کو چھوڑ کر دوسروں کے پاس جانا یہ توہین ہے۔ بِئْسَ الْفَقِیْـرُ عَلٰی بَابِ الْاَمِیْـرِ۔۔
مولوی محمد حسین اور اس کا رجوع
ابو سعید عرب صاحب نے اپنے ذوق سے بیان کیا کہ محمد حسین والی پیشگوئی یقیناً خدا کی طرف سے ہے۔ فرمایا کہ اس میں کیا شک ہے۔ زور کے ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا ہے۔ کہ وہ رجوع کرے گا اور اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی مقدر کیا تھا۔ اصل میں محمد حسین زیرک آدمی تھا مگر میں دیکھتا تھا کہ ابتدا سے اس میں ایک قسم کی خود پسندی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اس طرح پر اس کا تنقیہ کر دے یہ اس کے لئے استفراغ ہے۔ براہین میں ایک الہام درج ہے جس میں اس کا فرعون نام رکھا گیا ہے۔ اس نے بھی آخر یہی کہنا تھا کہ اٰمَنۡتُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیۡۤ اٰمَنَتۡ بِہٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِیۡلَ(یونس:۹۱) اس لئے اس کے لئے بھی اٰمَنۡتُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیۡۤ(یونس:۹۱) کا وقت مقدر ہے۔ اس پر پوچھا گیا کہ وہ کیا اَمر ہے جس کی وجہ سے یہ آخری سعادت اس کے لئے مقدّر ہے۔ فرمایا۔ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے مگر اس نے ایک کام تو کیا ہے۔ براہین احمدیہ پر ریویو لکھا تھا اور وہ واقعی اخلاص سے لکھا تھا کیونکہ اس وقت اس کی یہ حالت تھی کہ بعض اوقات میرے جوتے اٹھا کر جھاڑ کر آگے رکھ دیا کرتا تھا اور ایک بار مجھے اپنے مکان میں اس غرض سے لے گیا کہ وہ مبارک ہو جاوے اور ایک بار اصرار کر کے مجھے وضو کرایا۔ غرض بڑا اخلاص ظاہر کیا کرتا تھا۔ کئی بار اس نے ارادہ کیا کہ میں قادیان ہی میں آ کر رہوں۔ مگر میں نے اس وقت اسے یہی کہا تھا کہ ابھی وقت نہیں آیا۔ اس کے بعد اسے یہ ابتلا پیش آ گیا۔ کیا تعجب ہے کہ اس اخلاص کے بدلے میں خدا نے اس کا انجام اچھا رکھا ہو۔؎ اس پر ایک بھائی نے سوال کیا کہ حضور اب اسے کیسا سمجھیں۔ فرمایا۔ اب تو حکم حالت موجودہ ہی پر ہوگا۔ وہ دشمن ہی اس سلسلہ کا ہے۔ دیکھو! جب تک نطفہ ہوتا ہے اس کا نام نطفہ رکھتے ہیں گو اس کا انسان بن جاوے مگر جوں جوں اس کی حالتیں بدلتی جاتی ہیں اس کا نام بدلتا جاتا ہے۔ علقہ مضغہ وغیرہ ہوتا ہے۔ آخر اپنے وقت جا کر انسان بنتا ہے۔ یہی حال اس کا ہے۔ سردست تو وہ اس سلسلہ کا مخالف اور دشمن ہے اور یہی اس کو سمجھنا چاہیے۔ پھر اس ضمن میں فرمایا کہ سزا اور عذاب صرف کفر ہی کے باعث نہیں آتا۔ بلکہ فسق و فجور بھی عذاب کا موجب ہو جاتا ہے۔
خدا تعالیٰ ہمیشہ صادقوں ہی کی نصرت اور تائید کرتا ہے
فرمایا۔ کبھی کوئی جھوٹ اس قدر چل نہیں سکتا۔ آخر دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بدی کرنے والے جھوٹے اور فریبی اپنے جھوٹ میں تھک کر رہ جاتے ہیں۔ پھر کیا کوئی ایسا مفتری ہو سکتا ہے جو برابر پچیس برس سے خدا پر افترا کر رہا ہو اور نہ تھکا ہو اور خدا کو بھی اس کے لئے غیرت نہ آوے۔ بلکہ اس کی تائید میں نشانات ظاہر کرتا رہے۔ یہ عجیب بات ہے ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ خدا تعالیٰ ہمیشہ صادقوں ہی کی نصرت اور تائید کرتا ہے۔
دیکھو! یہ جو پیشگوئی ہے کہ میری عمر ۸۰ برس کے قریب ہو گی کیا کوئی مفتری اس قسم کی پیشگوئی کر سکتا ہے اور خصوصاً اس پر تیس برس گذر بھی گئے ہوں اور ایسا ہی اس وقت جب کوئی نہ جانتا تھا اور نہ یہاں آتا تھا یہ کہا یَّاۡتِیۡنَ مِنۡ کُلِّ فَجٍّ عَمِیۡقٍ(الحج:۲۸) اور یَّاۡتِیۡنَ مِنۡ کُلِّ فَجٍّ عَمِیۡقٍ(الحج:۲۸) کیا یہ مفتری کر سکتا ہے کہ ایسا کہے اور پھر خدا بھی ایسے مفتری کی پروا نہ کرے بلکہ اس کی پیشگوئی پوری کرنے کو دور دراز سے لوگ بھی اس کے پاس آتے رہیں اور ہر قسم کے تحائف اور نقد بھی آنے لگیں۔ اگر یہ بات ہو کہ مفتری کے ساتھ بھی ایسے معاملات ہوتے ہیں تو پھر نبوت سے ہی امان اٹھ جاوے۔ یہی نشانات ہیں جو ہماری جماعت کی محبت اور اخلاص میں ترقی کا باعث ہو رہے ہیں۔ مفتری اور صادق کو تو اس کے منہ ہی سے دیکھ کر پہچان سکتے ہیں۔
فرمایا۔ سچائی کا یہ بھی ایک نشان ہے کہ صادق کی محبت سعید الفطرت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے۔ احمق کو یہ راہ نہیں ملتی کہ نور کا حصہ لے۔ وہ ہر بات میں بدگمانی ہی سے کام لیتا ہے۔
فرمایا۔ ہم کو تکلّف اور تصنّع کی حاجت نہیں۔ خواہ کوئی ہماری وضع سے راضی ہو یا ناخوش۔ ہمارا اپنا کوئی کام نہیں ہے۔ خدا کا اپنا کام ہے اور وہ خود کر رہا ہے۔
فرمایا۔ جب انسان خدا کو چھوڑتا ہے تو پھر وہ مکائد پر بھروسا کرتا ہے۔
اپنی سچائی پر بصیرت
فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہم کو محجوب ہونے کی حالت میں نہ چھوڑے گا۔ وہ سب پر اتمام حجت کر دے گا۔ یاد رکھو سماوی اور ارضی آدمیوں میں فرق ہوتا ہے جو خدا کی طرف سے آتے ہیں۔ وہ خود ان کی عزّت کو ظاہر کرتا ہے اور ان کی سچائی کو روشن کر کے دکھاتا ہے اور جو اس کی طرف سے نہیں آتے اور مفتری ہوتے ہیں وہ آخر ذلیل ہو کر تباہ ہو جاتے ہیں۔
پیشگوئیوں کے اسرار
پیشگوئیوں کے متعلق فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدے اور اس کا کلام بہرحال سچا ہے۔ ہاں یہ ہوتا ہے کہ کبھی وہ جسمانی رنگ میں پوری ہوتی ہیں کبھی روحانی رنگ میں۔ اور منہاجِ نبوت میں اس کے نظائر موجود ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کچھ گائیں ذبح ہوتی ہیں تو وہ صحابہ کا ذبح ہونا تھا۔ اور آپ نے دیکھا کہ سونے کے کڑے پہنے ہوئے ہیں جو پھونک مارنے سے اُڑ گئے۔ اس سے مراد جھوٹے پیغمبر تھے۔ پس خدا کا کلام کسی نہ کسی رنگ میں ضرور سچا ہے۔
جماعت کے ازدیادِ ایمان کے لئے نشانات کا ظہور
فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ ہماری جماعت کا ایمان کمزور رہے۔ مہمان اگر نہ بھی چاہے تو بھی میزبان کا فرض ہے کہ اس کے آگے کھانا رکھ دے۔ اسی طرح پر اگرچہ نشانوں کی ضرورت کوئی بھی نہ سمجھے تب بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کے ایمان کو بڑھانے کے لئے نشانات ظاہر کر رہا ہے۔ یہ بھی سچی بات ہے کہ جو لوگ اپنے ایمان کو نشانوں کے ساتھ مشروط کرتے ہیں وہ سخت غلطی کرتے ہیں۔ حضرت مسیحؑ کے شاگردوں نے مائدہ کا نشان مانگا تو یہی جواب ملا کہ اگر اس کے بعد کسی نے انکار کیا تو ایسا عذاب ملے گا جس کی نظیر نہ ہوگی۔
طالب کا ادب
پس طالب کا ادب یہی ہے کہ وہ زیادہ سوال نہ کرے اور نشان طلب کرنے پر زور نہ دے۔ جو اس آداب کے طریق کو ملحوظ رکھتے ہیں خدا ان کو کبھی بے نشان نہیں چھوڑتا اور ان کو یقین سے بھر دیتا ہے۔ صحابہ کی حالت کو دیکھو کہ انہوں نے نشان نہیں مانگے مگر کیا خدا نے ان کو بے نشان چھوڑا؟ ہرگز نہیں۔ تکالیف پر تکالیف اٹھائیں۔ جانیں دیں۔ اعداء نے عورتوں تک کو خطرناک تکلیفوں سے ہلاک کیا مگر نصرت ہنوز نمودار نہ ہوئی۔ آخر خدا کے وعدہ کی گھڑی آگئی اور ان کو کامیاب کر دیا اور دشمنوں کو ہلاک کیا۔ یہ سچی بات ہے کہ خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر وہ پہلے ہی دن سارے نشان ظاہر کر دے تو پھر ایمان کا کوئی ثواب اور نتیجہ ہی نہ ہو۔ عرفان آ کر یقین سے تو بھر دیتا ہے مگر اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ ان ساری ترقیوں کی جڑ ایمان ہی ہے۔ اسی کے ذریعہ سے انسان بڑی بڑی منزلیں طے کرتا اور سیر کرتا ہے۔ سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ(بنی اسرآءیل:۲) سے یہی پایا جاتا ہے کہ جب کامل معرفت ہوتی ہے تو پھر اس کو عجیب وغریب مقامات کی سیر کرائی جاتی ہے اور یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو ادب سے اپنی خواہشوں کو مخفی رکھتے ہیں۔ تمام منہاج نبوت اسی پر دلالت کرتا ہے۔ پہلے نشان بھی ظاہر نہیں ہوتے بلکہ ابتلا ہوتے ہیں۔
صدیقی فطرت حاصل کریں
پس صدیقی فطرت حاصل کرنی چاہیے۔ انہوں۱؎ نے کون سا نشان مانگا تھا۔ شام سے مکہ کو آ رہے تھے۔ راستہ ہی میں خبر ملی۔ وہیں یقین لے آئے۔ اس کی وجہ وہ معرفت تھی جو آپ کی تھی۔ معرفت بڑی عمدہ چیز ہے۔ جب انسان کسی کے حالات اور چال چلن سے پورا واقف ہو تو اس کو زیادہ تکلیف نہیں ہوتی۔ ایسے لوگوں کو معجزہ اور نشان کی کوئی حاجت ہی نہیں ہوتی۔ حضرت ابو بکر صدیق آپ کے حالات سے پورے واقف تھے۔ اس لئے سنتے ہی یقین کر لیا۔
تقویٰ اختیار کریں
فرمایا۔ ہمیں جس بات پر اللہ تعالیٰ نے مامور کیا ہے۔ وہ یہی ہے کہ تقویٰ کا میدان خالی پڑا ہے تقویٰ ہونا چاہیے نہ یہ کہ تلوار اٹھاؤ، یہ حرام ہے۔ اگر تم تقویٰ کرنے والے ہو گے تو ساری دنیا تمہارے ساتھ ہوگی۔ پس تقویٰ پیدا کرو۔ جو لوگ شراب پیتے ہیں یا جن کے مذہب کے شعائر میں شراب جزو اعظم ہے ان کو تقویٰ سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ وہ لوگ نیکی سے جنگ کر رہے ہیں۔ پس اگر اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو ایسی خوش قسمت دے اور انہیں توفیق دے کہ وہ بدیوں سے جنگ کرنے والے ہوں اور تقویٰ اور طہارت کے میدان میں ترقی کریں یہی بڑی کامیابی ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی چیز مؤ ثر نہیں ہوسکتی۔ اس وقت کل دنیا کے مذاہب کو دیکھ لو کہ اصل غرض تقویٰ مفقود ہے اور دنیا کی وجاہتوں کو خدا بنایا گیا ہے۔ حقیقی خدا چھپ گیا ہے اور سچے خدا کی ہتک کی جاتی ہے مگر اب خدا چاہتا ہے کہ وہ آپ ہی مانا جاوے اور دنیا کو اس کی معرفت ہو جو لوگ دنیا کو خدا سمجھتے ہیں وہ متوکّل نہیں ہوسکتے۔ (اس سیر میں سے ہم نے مضمون غیر کو نکال کر آپ ہی کی تقریر کے مختلف فقروں کو ایک جا جمع کر دیا ہے۔ایڈیٹر)
جماعت کی تعداد
ظہر سے پہلے لودھیانہ سے آئے ہوئے احباب نے شرفِ نیاز حاصل کیا۔ قاضی خواجہ علی صاحب نے مولوی محمد حسین صاحب کی ملاقات کا ذکر کیا کہ میں نے ان کو کہا تھا کہ قادیان چلو۔ فرمایا۔ اگر وہ یہاں آ جاوے تو اس کو اصل حالات معلوم ہوں اور ہماری جماعت کی ترقی کا پتا لگے وہ ابھی تک تین سو تک ہی کہتا ہے اور یہاں اب ڈیڑھ لاکھ سے بھی زیادہ تعداد بڑھ گئی ہے۔ اگر شبہ ہو تو گورنمنٹ کے حضور درخواست کر کے ہماری جماعت کی الگ مَردم شماری کرالیں۔ براہین احمدیہ میں جو لکھا تھا کہ اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ وَالۡفَتۡحُ وَرَاَیۡتَ النَّاسَ(النّصر:۲ تا ۳) اب دیکھیں کہ وہ وقت آیا ہے یا نہیں۔ گورنمنٹ پنجاب کی خدمت میں جو میموریل ستمبر ۱۸۹۹ء میں بھیجا گیا تھا۔ اس میں صاف اس اَمر کی پیشگوئی ہے کہ یہ جماعت تین سال میں ایک لاکھ ہو جائے گی اور وہ پوری ہوگئی۔ بہت سے لوگ ایسے ضعفاء و غرباء میں سے ہیں جو اس سلسلہ میں داخل ہوچکے ہیں مگر آ نہیں سکتے۔
دنیا کے بارہ میں دیندار کا رویّہ
فرمایا۔ دیندار آدمی دنیا داروں کی طرف رجوع کرنے میں اپنی ذلّت اور توہین سمجھتا ہے۔ ایک صحابی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض تھے۔ اس وقت ایک بادشاہ نے اپنا سفیر اس کے پاس بھیجا اور چاہا کہ وہ اس کے پاس چلے آویں۔ صحابی نے اس خط کو لے کر تنور میں پھینک دیا اور رونا شروع کر دیا کہ ایک طرف تو میری یہ حالت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہیں اور دوسری طرف میں یہاں تک گر گیا کہ ایک کافر میرے ایمان میں طمع کرنے لگا۔ مجھ سے ضرور کوئی سخت معصیت ہوئی ہے۔ جس قدر زیادہ دینداری اور خدا پرستی ہوگی اسی قدر اہلِ دنیا سے نفرت پیدا ہو گی۔
سلسلہ کی اشاعت
ہم کو جس قدر تکالیف دی گئی ہیں اور جس قدر سبّ و شتم کیا گیا ہے۔ یہ ہماری تبلیغ کے لئے ایک ذریعہ ہو گیا ہے۔ جیسے جس قدر گرمی شدت سے ہو برسات بھی اسی نسبت سے زیادہ ہوتی ہے۔ عرب کے لوگ عیش و عشرت اور ناپاک خواہشوں اور فعلوں میں مستغرق تھے۔ انہیں مذہب اور مذہبی مباحثات سے کیا کام تھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل یوں کھڑے ہو گئے جیسے کوئی بڑا عاشق مذہب دیندار ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ اس شور سے ساری قوموں میں جلد جلد آپ کی دعوت پھیل جائے۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی تکالیف دیں مگر آخر وہی ہوا جو خدا کا منشا تھا۔ اسی طرح پر یہاں دیکھ لو کہ کس قدر زور شور سے مخالفت ہوئی اور ہو رہی ہے۔ بہت سے لوگ ہیں جو بدعات اور بدکاریوں میں مبتلا ہیں۔ اکثر ہیں جو کنجریوں کے پیر بنے ہوئے ہیں۔ اور بھنگ، چرس، مدک، تاڑی، گانجا، شراب وغیرہ پیتے ہیں یہ دہریہ ہوتے ہیں مگر کوئی ان سے تعرض نہیں کرتا۔ بر خلاف اس کے ہماری اس قدر مخالفت کی جاتی ہے کہ ایک چھوٹے سے مسئلہ وفات و حیات مسیح پر وہ شور اٹھایا گیا جس کی حد نہیں رہی۔ قتل کے فتوے دیئے گئے۔ اس میں راز یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کی اشاعت چاہتا ہے۔
(دربارِ شام)
بیعت کے بعد طاعون کا ذکر ہوا جس پر حضرت اقدسؑ نے ایک لمبی تقریر طاعون کے متعلق فرمائی ہم کسی قدر تلخیص کے ساتھ اس کو ذیل میں لکھتے ہیں۔
تقویٰ کی ضرورت
فرمایا۔ جب تک انسان تقویٰ میں ایسا نہ ہو جیسے اونٹ کو سُوئی کے ناکے سے نکالنا پڑے اس وقت تک کچھ نہیں ہوتا۔ جس قدر زیادہ تقویٰ اختیار کرتا ہے اسی قدر اللہ تعالیٰ بھی توجہ فرماتا ہے۔ اگر یہ اپنی توجہ معمولی رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی معمولی توجہ رکھتا ہے۔
طاعون کا عذاب
خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے غَضِبْتُ غَضْبًا شَدِیْدًا یہ طاعون کے متعلق ہے اور پھر فرمایا اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ وَاَلُوْمُ مَنْ یَّلُوْمُ۔ اُفْطِرُ وَاَصُوْمُ۔ میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور اس کو ملامت کروں گا جو ملامت کرتا ہے۔ میں روزہ کھولوں گا بھی اور روزہ رکھوں گا بھی۔ یہ سب الہام طاعون کے متعلق ہیں۔ ملامت ایک دل کے ساتھ ہوتی ہے اور ایک زبان کے ساتھ۔ زبان کے ساتھ تو یہی ملامت ہے جو مخالف کرتے ہیں۔ لیکن دل کی ملامت یہ ہے کہ ان باتوں کی طرف توجہ نہ کرے جو ہم پیش کرتے ہیں اور ان پر عمل کے لئے طیار نہ ہو۔ روزہ رکھوں گا اور کھولوں گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک وقت تک گویا طاعون کا زور گھٹ جائے گا۔ یہ روزے کے دن ہوں گے اور ایک وقت ایسا ہو گا کہ اس میں کثرت سے ہوگی۔ اب دیکھا گیا ہے کہ کثرت سردی اور کثرت گرمی میں اس کی شدت اور تیزی رک جاتی ہے۔ لیکن بہاری موسم فروری، مارچ اور ستمبر، اکتوبر میں اس کا زور بڑھ جاتا ہے۔ مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ دورے تھمنے والے نہیں ہیں خدا کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دورے شدید ہیں۔ زمین پر خدا تعالیٰ سے غفلت اور سستی پھیل گئی ہے۔ نیکیوں کی طرف توجہ نہیں رہی۔ ایسی صورت میں کیا اس کا علاج ڈاکٹری اصولوں سے ہوگا یا کوئی اور علاج اثر پذیر ہو سکے گا جب تک خدا کی مرضی نہ ہو؟
مت خیال کرو کہ ہمارا ملک یا شہر یا گاؤں ابھی تک محفوظ ہے۔ یہ کل دنیا کے لئے مامور ہو کر آئی ہے اور اپنے اپنے وقت پر ہر جگہ پھرے گی۔ اس کے دورے بڑے لمبے ہوتے ہیں۔ بعض وقت لوگ ان وجوہات کو نہیں سمجھ سکتے۔ لیکن یاد رکھو کہ جو کچھ ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ کے حکم اور اِیما سے ہو رہا ہے۔ اب اس کے وجوہ موٹے ہیں۔ بائیس برس پہلے خدا نے براہین میں مجھے اس کی خبر دی اور پھر متواتر وقتاً فوقتاً وہ اطلاع دیتا رہا۔ یہاں تک کہ جب ابھی پنجاب کے دو ضلعوں میں تھی تو اس نے مجھے بتایا کہ کل پنجاب اس کے اثر سے متاثر ہو جائے گا۔ اس وقت لوگوں نے اس پر ہنسی کی مگر اب بتائیں کہ ان کی ہنسی کا کیا جواب ہوا؟ اجنبی لوگ اگر نہ مانیں تو نہ سہی مگر ہماری جماعت جو دن رات نشانات کو دیکھتی ہے اسے چاہیے کہ اپنی تبدیلی کرے۔ جو شخص امن کے زمانہ میں خدا سے ڈرتا ہے وہ بچایا جاتا ہے۔ ڈرنے والے زمانہ میں تو ہر ایک ڈرتا ہے جب سونٹا اٹھایا جاوے تو اس سے بھیڑ، بکری، کتّا، بلّی سب ڈرتے ہیں۔ انسان کی اس میں کون سی خوبی ہے یہ تو اس حالت میں ان سے جاملا۔ ورنہ اس کی دانشمندی اور دور بینی کا یہ تقاضا ہونا چاہیے تھا کہ پہلے ہی سے ڈرتا۔ بعض گاؤں میں سخت تباہی ہو چکی ہے یہاں تک کہ گھروں کے گھر مقفّل ہو گئے۔ جب زور سے پڑتی ہے تو پھر کھا جانے والی آگ کی طرح ہوتی ہے۔ ایک بار بلادِ شام میں پڑی تھی تو جانوروں تک کی صفائی اس نے کر دی تھی۔ یہ بڑی خطرناک بلا ہے۔ اس سے بےخوف ہونا نادانی ہے۔ حقیقی ایمان ایک موت ہے۔ جب تک انسان اس موت کو اختیار نہ کرے۔ دوسری زندگی مل نہیں سکتی۔
تقویٰ کی اہمیت
جو لوگ نری بیعت کر کے چاہتے ہیں کہ خدا کی گرفت سے بچ جائیں وہ غلطی کرتے ہیں۔ ان کو نفس نے دھوکا دیا ہے۔ دیکھو طبیب جس وزن تک مریض کو دوا پلانی چاہتا ہے اگر وہ اس حد تک نہ پیوے تو شفا کی امید رکھنی فضول ہے۔ مثلاً وہ چاہتا ہے کہ دس تولہ استعمال کرے اور یہ صرف ایک ہی قطرہ کافی سمجھتا ہے یہ نہیں ہو سکتا پس اس حد تک صفائی کرو اور تقویٰ اختیار کرو جو خدا کے غضب سے بچانے والا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ رجوع کرنے والوں پر رحم کرتا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا۔ انسان جب متقی ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اور اس کے غیر میں فرقان رکھ دیتا ہے اور پھر اس کو ہر تنگی سے نجات دیتا ہے نہ صرف نجات بلکہ وَّیَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ(الطلاق:۴)۔
پس یاد رکھو جو خدا سے ڈرتا ہے خدا اس کو مشکلات سے رہائی دیتا ہے اور انعام واکرام بھی کرتا ہے اور پھر متقی خدا کے ولی ہو جاتے ہیں۔ تقویٰ ہی اکرام کا باعث ہے کوئی خواہ کتنا ہی لکھا پڑھا ہوا ہو وہ اس کی عزّت و تکریم کا باعث نہیں اگر متقی نہ ہو۔ لیکن اگر ادنیٰ درجہ کا آدمی بالکل اُمّی ہو مگر متقی ہو وہ معزز ہوگا۔ یہ دن خدا تعالیٰ کے روزہ کے ہیں۔ ان کو غنیمت سمجھو اس سے پہلے کہ وہ اپنا روزہ کھولے تم اس سے صلح کر لو اور پاک تبدیلی کرلو۔ جنوری کا مہینہ باقی ہے فروری میں پھر وہی سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔ ایسی بلاؤں کا باعث صادق کی تکذیب ہوتی ہے اس لئے اور کوئی علاج کارگر نہیں ہو سکتا۔ بعض صحابہ بھی اس مرض سے مَرے ہیں لیکن وہ شہید ہوئے۔ جیسے لڑائیاں جو دشمنوں کی ہلاکت کا موجب تھیں ان میں مَرنے والے صحابہ بھی شہید ہوئے تھے جو نیک آدمی مَرجاتا ہے اس کو بشارتِ شہادت ملتی ہے جو بد آدمی مَرتا ہے اس کا انجام جہنم ہے۔ جو شخص نیکیوں میں ترقی کرتا اور خدا سے پناہ مانگتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو بچا لیتا ہے۔ دیکھو! ایک لاکھ چوبیس ہزار یا کم وبیش واللہ اعلم پیغمبر گذرے ہیں۔ مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان میں سے کوئی طاعون سے بھی ہلاک ہوا تھا؟ ہرگز نہیں۔ یہ بلا بھی مامور ہوتی ہے اور خدا کے حکم سے نازل ہوتی ہے۔ اس کی مجال نہیں کہ بِلا حکم کوئی کام کرے۔
(یہاں حضرت اقدس نے ہاتھی والی رؤیا سنائی جو کئی مرتبہ شائع ہوئی)
پھر فرمایا کہ اگرچہ آج کل کسی قدر امن ہے مگر میں ڈرتا ہوں کہ وہ وقت خطرناک زور کا قریب ہے اس لئے ہماری جماعت کو ڈرنا چاہیے۔ اگر کسی میں تقویٰ ہو جیسا کہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے۔ تو وہ بچایا جائے گا۔ اس سلسلہ کو خدا نے تقویٰ ہی کے لئے قائم کیا ہے کیونکہ تقویٰ کا میدان بالکل خالی ہے۔ پس جو متقی بنیں گے ان کو معجزہ کے طور پر بچایا جائے گا۔
عرب صاحب نے پوچھا کہ جو لوگ حضور کو بُرا نہیں کہتے اور آپ کی دعوت کو نہیں سنا۔ وہ طاعون سے محفوظ رہ سکتے ہیں یا نہیں۔
فرمایا۔ میری دعوت کو نہیں سنا تو خدا کی دعوت تو سنی ہے کہ تقویٰ اختیار کریں۔ پس جو تقویٰ اختیار کرتا ہے وہ ہمارے ساتھ ہی ہے خواہ اس نے ہماری دعوت سنی ہو یا نہ سنی ہو کیونکہ یہی غرض ہے ہماری بعثت کی۔ اس وقت تقویٰ عنقا یا کبریت کی طرح ہو گیا ہے کسی کام میں خلوص نہیں رہا بلکہ ملونی ملی ہوئی ہے۔ خدا چاہتا ہے کہ اس ملونی کو جلا کر خلوص پیدا کرو۔ اس وقت ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ(الرّوم:۴۲) کا نمونہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت یورپ اور دیگر ممالک کی بگڑی ہوئی حالتوں کا علم نہ تھا۔ خدا تعالیٰ کی وحی پر ایمان تھا اور اب عرفان کی حالت پیدا ہو گئی ہے جو چاہے ان ممالک میں جا کر دیکھ لے۔۱؎
۴؍جنوری ۱۹۰۳ء بروز یکشنبہ
(بوقتِ سیر)
طاعون کے متعلق ذکر ہوا فرمایا کہ
طاعون کا حتمی علاج
ہمارا علاج کوئی کان دھر کر سنتا نہیں ہے مگر بہر حال آخری علاج یہی ہے۔ لوگوں کی عادت ہو گئی ہے کہ ان کی نظر صرف اسباب پر رہتی ہے مگر سچی بات یہ ہے کہ آسمان سے سب کچھ ہوتا ہے جب تک وہاں نہ ہو لے زمین پر کچھ نہیں ہو سکتا۔ دہریت کا آج کل طبائع میں بہت زور ہے۔ اخباروں میں ہمارے بتلائے ہوئے علاج پر ٹھٹھا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ طاعون کو خدا سے کیا تعلق۔ ایک بیماری ہے جس کا علاج ڈاکٹروں سے کرانا چاہیے۔
ایک صاحب نے بعض لوگوں کا یہ اعتراض پیش کیا کہ طاعون سے اکثر غریب ہی مَرتے ہیں مخالف اور امیر نہیں مَرتے۔ فرمایا کہ
میرے الہاموں سے پایا جاتا ہے کہ ہم دور سے شروع ہوں گے۔ مکہ میں جب قحط پڑا تو اس میں بھی اوّل غریب لوگ ہی مَرے۔ لوگوں نے اعتراض کیا کہ ابوجہل جو اس قدر مخالف ہے وہ کیوں نہیں مَرا؟ حالانکہ اس نے تو جنگ بدر میں مَرنا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ابتلا ہوا کرتا ہے اور یہ اس کی عادت ہے اور پھر اس کے علاوہ یہ اس کی مخلوق ہے۔ اس کو ہر ایک کے نیک و بد کا علم ہے۔ سزا ہمیشہ مجرم کے لئے ہوا کرتی ہے غیر مجرم کے واسطے نہیں ہوتی۔ بعض نیک بھی اس سے مَرتے ہیں مگر وہ شہید ہوتے ہیں اور ان کو بشارت ہوتی ہے اور رفتہ رفتہ سب کی نوبت آ جاتی ہے۔ اب رسل بابا جو مَرا۔ کیا وہ امیروں میں سے نہ تھا۔ ہمارا بھی مخالف تھا۔
عذاب کی اقسام
ایک نے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں طاعون کیوں نہ پڑی ان کا بھی انکار ہوا تھا۔
فرمایا۔ یہ ضرور نہیں ہے کہ خدا ہر وقت ایک ہی رنگ میں عذاب دیوے۔ قرآن شریف میں عذاب کی کئی اقسام بیان کی ہیں۔ جیسے قُلۡ ہُوَ الۡقَادِرُ عَلٰۤی اَنۡ یَّبۡعَثَ عَلَیۡکُمۡ عَذَابًا مِّنۡ فَوۡقِکُمۡ اَوۡ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِکُمۡ اَوۡ یَلۡبِسَکُمۡ شِیَعًا وَّیُذِیۡقَ بَعۡضَکُمۡ بَاۡسَ بَعۡضٍ(الانعام:۶۶) جنگ اور لڑائی وغیرہ کو بھی عذاب قرار دیا ہے۔ عذاب بہت اقسام کے ہوتے ہیں کیا خدا کے پاس عذاب کی ایک ہی قسم ہے؟ اور خدا کی عادت ہے کہ ہر نشان میں ایک پہلو اخفا کا رکھتا ہے ورنہ وہ چاہے تو چُن چُن کر بڑے بدمعاش ہلاک کر دے سب لوگ ایک ہی دن میں سیدھے ہو جاویں۔
ایک الہام کی تشریح
مولوی محمد احسن صاحب نے فرمایا کہ حضور اب اَلُوْمُ مَنْ یَّلُوْمُ کا الہام خوب پورا ہوا۔ حضور کے بتلائے ہوئے علاج پر لوگ کیا کیا باتیں بناتے تھے اور طریق ملامت ان لوگوں نے اختیار کیا ہوا تھا۔ خدا تعالیٰ نے ان کو اس ملامت کے بدلے میں کیسی ملامت کی ہے۔ جس ٹیکہ کو پیش کر کے ملامت کرتے تھے اب خود ہی اس سے کوسوں دور بھاگتے ہیں۔
پھر حضرت اقدس نے ایک مقام پر فرمایا کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں اسے (طاعون کو) کبھی بند نہ کروں گا جب تک توبہ نہ کریں۔ خدا تعالیٰ کا اصل مطلب تو طاعون سے افطار ہے (یعنی ہلاک کرنے کا) مگر پھر رحم آتا ہے تو روزہ رکھ لیتا ہے (یعنی درمیان میں وقفہ دے دیتا ہے) کہ لوگ اگر چاہیں تو تبدیلی کر لیں۔ لوگوں سے اگرچہ ہمیں ہمدردی ہے مگر چونکہ لوگ خدا سے غافل ہیں اس لئے اس کو یاد کرانے کے واسطے تنبیہ کی ضرورت ہے جیسے ایک لحاف کے اندر کا استر بھی میلا اور پلید ہوا ور باہر کا ابرہ بھی ویسے ہی خراب ہو۔ اسی طرح اب اندرونی اور بیرونی دونوں حالتیں قابل اصلاح ہیں لوگوں کو یہ بات تعجب میں ڈال رہی ہے کہ کیا ایسا ہوگا کہ خدا اپنی ہستی کو منواوے یہ ان کی غلطی ہے وہ اپنے وجود کو ضرور منواوے گا۔
آثار سے پتا لگتا ہے کہ جہاں جہاں طاعون پڑی ہوئی ہے ابھی تک لوگ اس سے متاثر نہیں ہوئے۔ ابھی کل امرتسر سے ایک اشتہار آیا ہے کہ تین سالہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور اس پر استہزا کیا ہے حالانکہ ان کو چاہیے تھا کہ وہ انتظار کرتے کہ ہم کیا لکھتے ہیں کم سے کم ہم سے دریافت ہی کر لیتے کہ ہم کیا کہتے ہیں۔
لوگوں کو بھی شرم نہیں آتی جو کہ ان کے گالیوں سے بھرے ہوئے اشتہار پڑھتے ہیں کیا مولویوں کی پاکیزگی کا یہی نمونہ ہے ان لوگوں کی بڑی کامیابی یہی ہے کہ ممبر پر چڑھ کر نثر اور نظم پڑھ دی۔ سمجھ میں نہیں آتا۔ بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ دلوں پر مہریں لگا دیتا ہے خود ہی توڑے تو توڑے۔
اشاعت کا بہتر طریق
جہلم کے سفر پر فرمایا کہ میری طبیعت ہمیشہ شور اور غوغا سے جو کثرتِ ہجوم کے باعث ہوتا ہے متنفّر ہے ایسے لوگوں کے ساتھ مغز خوری کرنی بے فائدہ ہے وہی وقت انسان کسی علمی فکر میں صرف کرے تو خوب ہے خدا تعالیٰ نے ہماری اشاعت کا طریق خوب رکھا ہے۔ ایک جگہ بیٹھے ہیں نہ کوئی واعظ ہے نہ مولوی نہ لیکچرار جو لوگوں کو سناتا پھرے۔ وہ خود ہی ہمارا کام کر رہا ہے بیعت کرنے والے خود آ رہے ہیں بڑے امن کا طریق ہے۔۱؎
۵؍جنوری ۱۹۰۳ء
بروز دوشنبہ (بوقتِ ظہر)
مذہبی آزادی اور جہاد کی حقیقت
اس وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے تو کچھ سرحد کے لوگوں کی جہاد کے بارے میں غلط فہمی کا ذکر چل پڑا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ مذہبی امور میں آزادی ہونی چاہیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ(البقرۃ:۲۵۷) کہ دین میں کسی قسم کی زبردستی نہیں ہے۔ اس قسم کا فقرہ انجیل میں کہیں بھی نہیں ہے۔ لڑائیوں کی اصل جڑ کیا تھی۔ اس کے سمجھنے میں ان لوگوں سے غلطی ہوئی ہے۔ اگر لڑائی کا ہی حکم تھا تو تیرہ برس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو پھر ضائع ہی گئے کہ آپ نے آتے ہی تلوار نہ اٹھائی۔ صرف لڑنے والوں کے ساتھ لڑائیوں کا حکم ہے۔ اسلام کا یہ اصول کبھی نہیں ہوا کہ خود ابتداءِ جنگ کرے۔ لڑائی کا کیا سبب تھا اسے خود خدا نے بتلایا ہے کہ ظُلِمُوْا(الحج:۴۰) خدا نے جب دیکھا کہ یہ لوگ مظلوم ہیں تو اب اجازت دیتا ہے کہ تم بھی لڑو۔ یہ نہیں حکم دیا کہ اب وقت تلوار کا ہے تم زبردستی تلوار کے ذریعہ لوگوں کو مسلمان کرو بلکہ یہ کہا کہ تم مظلوم ہو اب مقابلہ کرو۔ مظلوم کو تو ہر ایک قانون اجازت دیتا ہے کہ حفظِ جان کے واسطے مقابلہ کرے۔ ایسے خیالات کی اشاعت کا الزام پادریوں پر نہیں ہے بلکہ اسے خود ملّانوں نے اپنے اوپر پختہ کیا ہے خدا کا ہرگز یہ منشا نہیں ہے کہ ایک غافل شخص جسے دین کی حقیقت معلوم نہیں ہے اسے جبراً مسلمان کیا جاوے۔ اب ایک بنیا جس کی عمر پچاس یا ساٹھ سال کی ہے اور اسے دین کی خبر ہی نہیں تو اس کے گلے پر تلوار رکھ کر اس سے لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ(الصّٰفّٰت:۳۶) کہلانے سے کیا حاصل ہوگا؟ خدا تعالیٰ کا منشا ہے کہ غفلت چونکہ بہت ہو گئی ہے۔ اب دلائل سے سمجھا دے اگر جہاد کرے بھی تو کس سے کرے؟ سب سے اول تو انہیں مسلمانوں سے کرنا چاہیے کہ جنہوں نے دین کو تباہ کر دیا ہے۔ صحابہ کرامؓ تو خدا کے فرشتے تھے۔ اور جب ناعاقبت اندیش لوگوں نے تلواریں اٹھائیں تو خدا نے ان کے ذریعہ ان کو سزائیں دلوائیں۔ مگر آج کل کے یہ لوگ کہ جن کی مثال ڈاکوؤں کی ہے کیا یہ خدا کے وکیل ہو سکتے ہیں؟ قرآن سے تو ثابت ہوتا ہے کہ کافر سے پہلے فاسق کو سزا دینی چاہیے۔ خدا نے اسی لئے چنگیز خان کو ان پر مسلّط کر دیا تھا تا کہ مماثلت پوری ہو جیسے یہودیوں پر بخت نصر کو متعین کر دیا تھا ویسے ہی ان پر چنگیز خان کو۔ اس کے وقت میں ایک بزرگ تھے ان کے پاس لوگ گئے کہ وہ دعا کریں۔ انہوں نے جواب دیا کہ تمہاری حرام کاریوں کی وجہ سے ہی تو چنگیز خان مسلّط ہوا ہے۔ قتل کے بعد سنا ہے کہ چنگیز خان نے اسلام کے علماء فضلاء کو بلا کر پوچھا کہ اسلام کیا ہے انہوں نے کہا کہ پنج وقتہ نماز ہے۔ کہنے لگا کہ یہ تو عمدہ بات ہے کہ اپنے کاروبار میں پانچ وقت دن میں خدا کو یاد کرنا۔ پھر انہوں نے زکوٰۃ بتلائی اس کی بھی تعریف کی۔
تیسرے انہوں نے حج بتلایا اس کی اسے سمجھ نہ آئی۔ اس کے بیٹے کا اسلام کی طرف رجوع تھا مگر آخر پوتا بالکل مسلمان ہو گیا۔ اسی طرح بخت نصر یہودیوں پر مسلّط ہوا تھا۔ مگر خدا نے اسے کہیں ملعون نہیں کہا ہے بلکہ عِبَادًا لَّنَاۤ(بنی اسرآءیل:۶) ہی کہا ہے۔ یہ خدا کا دستور ہے کہ جب ایک قوم فاسق فاجر ہوتی ہے تو اس پر ایک اور قوم مسلّط کر دیتا ہے۔
(قبل از عشاء)
تعبیر الرؤیا
اس وقت ایک صاحب نے ایک خواب سنائی جس میں ایک مُردہ نے ان کو ان کی موت کی خبر دی تھی اور یہ خواب بیعت سے پیشتر آئی تھی۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ
جو بیعت کرتا ہے اس پر بھی ایک موت ہی آتی ہے۔ خوابوں میں موت سے مراد موت ہی نہیں ہوا کرتی اور بھی موت کے بہت سے معنے ہیں خدا کو کوئی نہیں پاسکتا جب تک اس کی اوّل زندگی پر موت نہ آوے۔
دریا کی تعبیر پر فرمایا کہ
جو معارف اور علم رکھتا ہوا سے دریا سے بھی تعبیر کیا کرتے ہیں اور ابابیل سے مراد وہ جماعت اور لوگ جو کہ اس سے فیوض حاصل کرتے ہیں۔
پھر موت کے ذکر پر فرمایا کہ
موت کے معنے رفعت درجات بھی لکھے ہیں اور صوفی کہتے ہیں کہ انسان نجات نہیں پاسکتا جب تک اس پر بہت موتیں نہ آویں حتی کہ وہ ایک زندگی کو ناقص محسوس کر کے پھر ایک اور نئی زندگی اختیار کرتا ہے۔ پھر اس پر موت ہوتی ہے۔ پھر اور ایک نئی زندگی اختیار کرتا ہے اور اسی طرح کئی موتیں اور کئی زندگیاں حاصل کرتا ہے۔
خوابوں کی اقسام
ایک نے سوال کیا کہ خواب کے کتنے اقسام ہیں۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ
تین قسمیں خوابوں کی ہوتی ہیں۔ ایک نفسانی اور ایک شیطانی اور ایک رحمانی۔ نفسانی جیسے بلّی کو چھچھڑوں کے خواب۔ شیطانی وہ جس میں ڈرانا اور وحشت ہو۔ رحمانی خواب خدا کی طرف سے پیغام ہوتے ہیں اور ان کا ثبوت صرف تجربہ ہے۔ اور یہ خدا کی باتیں ہیں جو کہ اس دنیا سے بہت دور تر ہیں اگر ہم ان کے متعلق عقلی دلائل پر توجہ کریں تو نہ دوسرا ان سے سمجھ سکتا ہے نہ ہم سمجھا سکتے ہیں۔ یہ خدا کی ہستی کے نشان ہیں جو وہ غیب سے دل پر ڈالتا ہے اور جب دیکھ لیتے ہیں کہ ایک بات بتلائی گئی اور وہ پوری ہوئی تو پھر اس پر خود ہی اعتبار ہو جاتا ہے۔ اس عالم کے امور کا جو آلہ ہے وہ اسے شناخت نہیں کر سکتا۔ یہ روحانی امور ہیں۔ انہیں سے ان کو پہچانا جاوے تو سمجھ آتی ہے۔ اور خواب اپنی صداقت پر آپ ہی گواہی دیتے ہیں۔ خدائی امور ایسے ہی ہوتے ہیں کہ سمجھ میں نہیں آیا کرتے اور اگر وہ آ جاویں تو پھر خدا بھی سمجھ میں آ جاوے۔
ایک معجزانہ رؤیا
پھر اس کے بعد حضرت اقدس نے اپنے ایک خواب کا ذکر کیا جس میں آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ ایک حاکم کی صورت پر متمثّل ہوا ہے اور آپ نے کچھ احکام لکھ کر دستخط کرائے ہیں۔ آپ نے وہ تمام کاغذات دستخط کے واسطے حضرت احدیت میں پیش کئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اور ایک دوات جس میں سرخ روشنائی تھی وہ پڑی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے قلم لے کر اس روشنائی سے لگائی مگر مقدار سے زیادہ روشنائی اس میں لگ گئی جیسے کہ دستور ہے کہ ایسی حالت میں قلم کو چھڑک دیا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی چھڑک دیا اور کاغذات پر بلا دیکھے دستخط کر دیئے اور اس وقت میرے پاس میاں عبد اللہ سنوری اور حامد علی تھے۔ اور میں سویا ہوا تھا کہ یکا یک انہوں نے جگایا کہ یہ سرخ قطرات کہاں سے آئے، دیکھا تو میرے کُرتے پر اور کسی جگہ پگڑی پر، کہیں پاجامہ پر پڑے ہوئے تھے۔ میرے دل میں اس وقت بڑی رقّت تھی کہ خدا تعالیٰ کا مجھ پر کس قدر احسان ہے اور فضل ہے کہ کاغذات کو بلا دیکھے اور پوچھے دستخط کر دیا ہے۔ اب کیا یہ حیرانی کی بات نہیں ہے کہ میں نے تو ایک معاملہ خواب میں دیکھا اور اس کے قطرات ظاہر میں کپڑوں پر پڑے جو کہ اب تک موجود ہیں اور دو شاہد بھی ہیں۔
جماعت کی ترقی کا ایک نشان
پھر وہ وقت کہ ایک دو آدمی ہمارے ساتھ تھے اور کوئی نہ تھا اور اب دیکھتے ہیں کہ جوق در جوق آرہے ہیں۔ یَّاۡتِیۡنَ مِنۡ کُلِّ فَجٍّ عَمِیۡقٍ(الحج:۲۸) اور پھر صرف اتنی ہی بات نہیں بلکہ اس کے اوپر ایک اور حاشیہ لگا ہوا ہے کہ مخالفوں نے ناخنوں تک زور لگایا کہ لوگ آنے سے رکیں مگر آخر کار وہ فقرہ پورا ہو کر رہا۔ اب جو نیا شخص ہمارے پاس آتا ہے وہ اسی الہام کا ایک نشان ہوتا ہے۔
اجنبیت کی حالت میں انسان خدا کے کاموں سے نا آشنا ہوتا ہے۔ اب جیسے یہ ریل ہے کہ یہاں کے لوگوں کے نزدیک تو عام بات ہے اور کوئی تعجب اور حیرت کا مقام نہیں ہے مگر جہاں کہ دور دور آبادیوں میں یہ نہیں گئی اور نہ ان لوگوں نے اسے دیکھا ہے ان سے کوئی بیان کرے تو کب باور کریں گے کہ ایک سواری ہے کہ خود بخود چلتی ہے۔ نہ اس میں گھوڑا ہے نہ بیل نہ اور جانور۔ تو جن کو ان خدائی امور کا تجربہ نہیں ان کی سمجھ میں نہیں آتے۔
نماز میں لذّت نہ آنے کی وجہ
پھر اسی صاحب نے اعتراض کیا کہ بہت کوشش کی جاتی ہے مگر نماز میں لذّت نہیں آتی۔ فرمایا۔ انسان جو اپنے تئیں امن میں دیکھتا ہے تو اسے خدا کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے۔ حالتِ استغنا میں انسان کو خدا یاد نہیں آیا کرتا۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری طرف وہ متوجہ ہوتا ہے جس کے بازو ٹوٹ جاتے ہیں۔ اب جو شخص غفلت سے زندگی بسر کرتا ہے اسے خدا کی طرف توجہ کب نصیب ہوتی ہے۔ انسان کا رشتہ خدا کے ساتھ عاجزی اور اضطراب کے ساتھ ہے لیکن جو عقلمند ہے وہ اس رشتہ کو اس طرح سے قائم رکھتا ہے کہ وہ خیال کرتا ہے کہ میرا باپ دادا کہاں ہے اور اس قدر مخلوق کو ہر روز مَرتا دیکھ کر وہ انسان کی فانی حالت کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کی برکت سے اسے پتا لگ جاتا ہے کہ میں بھی فانی ہوں اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ جہان چھوڑ دیا جاوے گا۔ اور اگر وہ اس میں زیادہ مبتلا ہے تو اُسے اِسے چھوڑنے کے وقت حسرت بھی زیادہ ہوگی اور یہ حسرت ایسی ہے کہ خواہ آخرت پر ایمان نہ ہی ہو تب بھی اس کا اثر ضرور ہوتا ہے اور اس سے امن اس وقت ملتا ہے کہ جب فانی خوش حالی نہ ہو بلکہ سچی خوش حالی ہو۔ بعض آدمیوں کو بیماریوں سے بعض کو دوسری تکالیف سے خدا کی طرف رجوع ہوتا ہے۔
مادری زبان میں نماز اور دعائیں
پھر سوال ہوا کہ اگر ساری نماز کو اپنی زبان میں پڑھ لیا جاوے تو کیا حرج ہے۔ فرمایا کہ خدا کے کلام کو اسی کی زبان میں پڑھنا چاہیے اس میں بھی ایک برکت ہوتی ہے خواہ فہم ہو یا نہ ہو اور ادعیہ ماثورہ بھی ویسے ہی پڑھے جیسے آنحضرتؐ کی زبان مبارک سے نکلیں۔ یہ ایک محبت اور تعظیم کی نشانی ہے۔ باقی خواہ ساری رات دعا اپنی زبان میں کرتا رہے۔ انسان کو اوّل محسوس کرنا چاہیے کہ میں کیسے مصیبت زدہ ہوں اور میرے اندر کیا کیا کمزوریاں ہیں۔ کیسے کیسے امراض کا نشانہ ہوں اور موت کا اعتبار نہیں ہے۔ بعض ایسی بیماریاں ہیں کہ ایک آدھ منٹ میں ہی انسان کی جان نکل جاتی ہے۔ سوائے خدا کے کہیں اس کی پناہ نہیں ہے۔ ایک آنکھ ہی ہے جس کی تین سو امراض ہیں۔ ان خیالوں سے نفسانی زندگی کی اصلاح ہوسکتی ہے اور پھر ایسی اصلاح یافتہ زندگی کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک دریا سخت طغیانی پر ہے۔ مگر یہ ایک عمدہ مضبوط لوہے کے جہاز پر بیٹھا ہوا ہے اور ہوائے موافق اسے لے جا رہی ہے۔ کوئی خطرہ ڈوبنے کا نہیں لیکن جو شخص یہ زندگی نہیں رکھتا اس کا جہاز بودا ہے۔ ضرور ہے کہ طغیانی میں ڈوب جاوے۔ عام لوگوں کی نماز تو برائے نام ہوتی ہے۔ صرف نماز کو اٹیرتے ہیں اور جب نماز پڑھ چکے تو پھر گھنٹوں تک دعا میں رجوع کرتے ہیں۔
مغفرتِ الٰہی
ایک صاحب نے اٹھ کر عرض کی کہ جب تک حرام خوری وغیرہ نہ چھوڑے تب تک نماز کیا لذّت دیوے اور کیسے پاک کرے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ اِنَّ الۡحَسَنٰتِ یُذۡہِبۡنَ السَّیِّاٰتِ(ھود:۱۱۵) بھلا جو اوّل ہی پاک ہو کر آیا اسے پھر نماز کیا پاک کرے گی۔ حدیث میں ہے کہ تم سب مُردہ ہو مگر جسے خدا زندہ کرے۔ تم سب بھوکے ہو مگر جسے خدا کھلاوے۔ الخ۔ ایک طبیب کے پاس انسان اگر اوّل ہی صاف ستھرا اور مرض سے اچھا ہو کر آوے تو اس نے طبابت کیا کرنی ہے اور پھر خدا تعالیٰ کی غفوریت کیسے کام کرے۔ بندوں نے گناہ کرنے ہی ہیں تو اس نے بخشنے ہیں۔ ہاں ایک بات ضرور ہے کہ وہ گناہ نہ کرے جس میں سرکشی ہو ورنہ دوسرے گناہ جو انسان سے سرزد ہوتے ہیں اگر ان سے بار بار بذریعہ دعا کے خدا سے تزکیہ نفس چاہے گا تو اسے قوت ملے گی۔ بلا قوت اللہ تعالیٰ کے ہرگز ممکن نہیں ہے کہ اس کا تزکیہ نفس ہو اور اگر ایسی عادت رکھے کہ جو کچھ نفس نے چاہا اسی وقت کر لیا تو اس سے کوئی قوت نہیں ملے گی۔ قوت اس وقت ملے گی جب ان جوشوں کا مقابلہ کرے اور گناہ کی طاقت ہوتے ہوئے پھر گناہ نہ کرے ورنہ اگر اس وقت وہ گناہ سے باز آتا ہے جب کہ خدا تعالیٰ نے طاقتیں چھین لی ہیں تو اسے کیا ثواب ہوگا۔ مثلاً آنکھوں میں بینائی نہ رہی تو اس وقت کہے کہ اب میں غیر عورت کو نہیں دیکھتا تو یہ کیا بزرگی ہوئی۔ بزرگی تو اس وقت تھی کہ پیشتر اس کے کہ خدا اپنی دی ہوئی امانتیں واپس لیتا وہ ان کے بے محل استعمال سے باز رہتا۔
معرفت کے بغیر گناہ نہیں چھوٹ سکتا
اصل بات یہ ہے کہ خدا کی معیت کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا۔ خدا ہی کی معیت ہو تو تبدیلی ہوتی ہے اور پھر اس کی خواہشیں اَور اَور جگہ لگ جاتی ہیں اور خدا کی نافرمانی اسے ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے موت۔ بالکل ایک معصوم بچہ کی طرح ہو جاتا ہے۔ اس لئے جہاں تک ہو سکے کوشش کرے کہ دقیق در دقیق پرہیز گار ہو جاوے۔ جب نماز میں کوئی خطرہ پیش آوے۔ اس وقت سلسلہ دعا کا شروع کر دے یہ مشکلات اس وقت تک ہیں کہ جب تک نمونہ قدرتِ الٰہی کا نہیں دیکھتا۔ کبھی دہریہ ہو جاتا ہے کبھی کچھ۔ بار بار ٹھوکریں کھاتا ہے۔ جب تک خدا کی معرفت نہ ہو گناہ نہیں چھوٹ سکتا۔ دیکھو! جو لوگ جاہل ہیں ڈاکہ مارتے ہیں۔ چوریاں کرتے ہیں۔ لیکن جن کو علم ہے کہ اس سے ذلّت ہوگی۔ خواری ہوگی وہ ایسے کام کرتے شرماتے ہیں کیونکہ ان کی عظمت میں فرق آتا ہے۔ اس لئے ڈاکہ والوں کا یہ بھی علاج ہے کہ ان کی تعظیم کی جاوے اور ان کو بڑا آدمی بنا دیا جاوے تا کہ پھر ان کو ڈاکہ مارتے شرم آوے۔۱؎
۶؍جنوری ۱۹۰۳ء
(بوقتِ سیر) موت اوّل طاعون کا ذکر ہوتا رہا اور پھر موت کی حالت کا ذکر آیا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ
موت
یہ بھی ایک وقت ہے جو انسان پر آتا ہے مگر یہاں آ کر سب علوم ختم ہو جاتے ہیں اور کوئی کچھ نہیں بتلاتا۔
بعض احباب اپنے اپنے خواب سناتے رہے اور حضرت اقدس ان کی تعبیر فرماتے رہے چند ایک ان میں سے واقفیت عام کے لئے درج کی جاتی ہیں۔
تعبیر الرؤیا
خواب میں اپنا ختنہ کرنا۔ تقویٰ کا طریق اختیار کرنا ہے۔ اس سے مراد شہوات کا کاٹنا ہے۔ قیامت کی خبر سننا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ دینداروں کی فتح ہوگی اور دشمنوں کو ذلّت کیونکہ قیامت کو بھی یہی ہونا ہے۔ قرآن شریف میں ہے فَرِیۡقٌ فِی الۡجَنَّۃِ وَفَرِیۡقٌ فِی السَّعِیۡرِ(الشورٰی:۸) اسی دن ہوگا دنیا کی رنگا رنگ کی وبائیں بھی قیامت ہی ہیں۔
طاعون کے بعد
میرے الہام میں ہے یَاْتِیْ عَلٰی جَھَنَّمَ زَمَانٌ لَّیْسَ فِیْـھَا اَحَدٌ۔ یہ طاعون کی نسبت ہے۔ اسے بھی جہنم ہی کہا گیا ہے حالانکہ جہنم تو قیامت کو ہونا ہے۔ اس الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کارروائی ہو لے گی تو پھر طاعون ایک دم چپ کر کے سو جاوے گی۔ پھر اس کے بعد یہ بھی فرمایا ہے یُغَاثُ النَّاسُ وَ یَعْصِرُوْنَ پھر بارشیں ہوں گی۔ کشادگی ہوگی۔ فصلیں خوب پکیں گی۔ موتوں سے لوگ بچیں گے۔ اب اس وقت لوگوں کا دعائیں کرنا کہ یہ طاعون دور ہو بے فائدہ ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جب ایک شخص پہر رات رہے اٹھ کر دعا شروع کر دے کہ بہت جلد ابھی دن نکل آوے تو خواہ وہ کچھ ہی کرے مگر دن تو اپنے وقت پر ہی چڑھے گا۔
جائز امور میں اعتدال
نیکی کے ذکر پر فرمایا کہ نیکی کی جڑ یہ بھی ہے کہ دنیا کی لذّات اور شہوات جو کہ جائز ہیں ان کو بھی حدِّ اعتدال سے زیادہ نہ لیوے جیسا کہ کھانا پینا اللہ تعالیٰ نے حرام تو نہیں کیا مگر اب اسی کھانے پینے کو ایک شخص نے رات دن کا شغل بنا لیا ہے۔ اس کا نام دین پر بڑھانا ہے ورنہ یہ لذّات دنیا کی اس واسطے ہیں کہ اس کے ذریعہ نفس کا گھوڑا جو کہ دنیا کی راہ میں ہے وہ کمزور نہ ہو۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے یکہ والے جب لمبا سفر کرتے ہیں تو سات یا آٹھ کوس کے بعد وہ گھوڑے کی کمزوری کو محسوس کر کے اسے دَم (دِلا) دیتے ہیں اور نہاری وغیرہ کھلاتے ہیں تاکہ اس کا پچھلا تکان رفع ہو جاوے تو انبیاء نے جو حظّ دنیا کا لیا ہے وہ اسی طرح ہے کیونکہ ایک بڑا کام دنیا کی اصلاح کا ان کے سپرد تھا۔ اگر خدا کا فضل ان کی دستگیری نہ کرتا تو ہلاک ہو جاتے۔ اس واسطے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی وقت عائشہؓ کے زانو پر ہاتھ مار کر فرماتے کہ اے عائشہ راحت پہنچا۔ مگر انبیاء کا یہ دستور نہ تھا کہ اس میں ہی منہمک ہو جاتے۔ انہماک بے شک ایک زہر ہے ایک بدمعاش آدمی جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جو چاہتا ہے کھاتا ہے۔ اسی طرح اگر ایک صالح بھی کرے تو خدا کی راہیں اس پر نہیں کھلتیں۔ جو خدا کے لئے قدم اٹھاتا ہے خدا کو اس کا ضرور پاس ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِعۡدِلُوۡا ۟ ہُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰی(المائدۃ:۹) تنعُّم اور کھانے پینے میں بھی اعتدال کرنے کا نام ہی تقویٰ ہے۔ صرف یہی گناہ نہیں ہے کہ انسان زنا نہ کرے چوری نہ کرے بلکہ جائز امور میں بھی حدِّ اعتدال سے نہ بڑھے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوۂ حسنہ
ایک دفعہ حضرت عمرؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ اندر ایک حجرہ میں تھے۔ حضرت عمر نے اجازت چاہی۔ آپ نے اجازت دی۔ حضرت عمر نے آ کر دیکھا کہ صف کھجور کے پتوں کی آپ نے بچھائی ہوئی ہے اور اس پر لیٹنے سے پیٹھ پر پتوں کے داغ لگے ہیں۔ گھر کی جائداد کی طرف حضرت عمر نے نظر کی تو دیکھا کہ ایک گوشہ میں تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ یہ دیکھ کر ان کے آنسو جاری ہو گئے۔ آنحضرتؐ نے پوچھا کہ عمر تو کیوں رویا؟ عرض کی کہ خیال آتا ہے کہ قیصر و کسریٰ جو کافر ہیں ان کے لئے کس قدر تنعم اور آپ کے لئے کچھ بھی نہیں۔ فرمایا۔ میرے لئے دنیا کا اسی قدر حصہ کافی ہے کہ جس سے میں حرکت کر سکوں۔ میری مثال یہ ہے جیسے ایک مسافر سخت گرمی کے دنوں میں اونٹ پر جا رہا ہو اور جب سورج کی تپش سے وہ بہت تنگ آوے تو ایک درخت کو دیکھ کر اس کے نیچے ذرا آرام کر لیوے اور جونہی کہ ذرا پسینہ خشک ہو پھر اٹھ کر چل پڑے۔ تو یہ اسوۂ حسنہ ہے جو کہ اسلام کو دیا گیا ہے۔ دنیا کو اختیار کرنا بھی گناہ ہے اور مومن کی زندگی اضطراب کے ساتھ گذرتی ہے۔
پر ہماری دو آنکھیں ہیں اور کیا کچھ دیکھ رہی ہیں اور کوئی فولاد وغیرہ کی بنی ہوئی نہیں ہیں۔ ذرا بینائی جاتی رہے تو پھر اپنی ہستی کا اندازہ ہو جاتا ہے اور جب اندھا ہوا تو موت ہی ہے۔ تو دنیا کی زندگی کا بھی یہی حساب ہے۔
دنیوی زندگی ناقابل اطمینان ہے
مومن کو اس زندگی پر ہرگز مطمئن نہ ہونا چاہیے۔ اتنی بلائیں اس زندگی میں ہیں کہ شمار نہیں۔ ایک بیماری ہوتی ہے کہ انسان کا پاخانہ کا راستہ بند ہو جاتا ہے اور منہ کے راستہ پاخانہ آتا ہے اور اس کا نام ایلاؤس ہے پھر اسی طرح گردہ اور مثانہ کی بیماریاں ہیں کہ رنگا رنگ کے سرخ، سبز اور سیاہ پتھر بن جاتے ہیں اور ان کا کوئی خاص سبب بھی کیا بیان ہو سکتا ہے بلکہ امراء لوگ جو کہ عمدہ غذا اور نفیس پانی استعمال کرتے ہیں انہی کو ایسے امراض ہوتے ہیں۔ اگر دو شخص ایک ہی جگہ رہتے ہوں۔ ایک ہی قسم کی ان کی خور ونوش ہو۔ پھر ایک ان میں سے ایسے عوارضات میں مبتلا ہو جاتا ہے دوسرا نہیں ہوتا۔ اسی لئے طب کی نسبت کہتے ہیں کہ یہ ظنی علم ہے۔ علل مادیہ میں یہ لوگ اسباب کی تحقیق کرتے ہیں مگر اس کا بھی سبب بتلا دیں کہ جب الہام ہونے لگتا ہے یا کشف تو اس وقت نیند سی آنے لگتی ہے۔ اس کے کیا اسباب ہیں۔ ان لوگوں کا دستور ہے کہ جب ان کو ایک بات کا سبب معلوم نہ ہو تو اس سے انکار کر بیٹھتے ہیں اور اسی لئے وحی اور الہام کے منکر ہیں۔
یہ علوم بے انتہا ہیں۔ جب تک بے اعتدالیوں کا حصہ دور نہ کرے اس سے واقف نہیں ہوسکتا۔ مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَی النَّفۡسَ عَنِ الۡہَوٰی(النّٰزعٰت:۴۱) جو خواہش جائز اپنے مقام اعتدال سے بڑھ جاوے۔ اس کا نام ھوٰی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک رؤیا
کوئی تیس سال کا عرصہ گذرا میں نے ایک دفعہ خواب دیکھا کہ بٹالہ کے مکانات میں ایک حویلی ہے۔ اس میں ایک سیاہ کمبل پر میں بیٹھا ہوں اور لباس بھی کمبل ہی کی طرح پہنا ہوا ہے۔ گویا کہ دنیا سے الگ ہوا ہوں۔ اتنے میں ایک لمبے قد کا شخص آیا اور مجھے پوچھتا ہے کہ میرزا غلام احمد، غلام مرتضیٰ کا بیٹا کہاں ہے۔ میں نے کہا میں ہوں۔ کہنے لگا کہ میں نے آپ کی تعریف سنی ہے کہ آپ کو اسرار دینی اور حقائق اور معارف میں بہت دخل ہے۔ یہ تعریف سُن کر ملنے آیا ہوں۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے کیا جواب دیا۔ اس پر اس نے آسمان کی طرف منہ کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور بہہ کر رخسار پر پڑتے تھے۔ ایک آنکھ اوپر تھی اور ایک نیچے اور اس کے منہ سے حسرت بھرے یہ الفاظ نکل رہے تھے۔ ’’تہیدستان عشرت را ‘‘اس کا مطلب میں نے یہ سمجھا کہ یہ مرتبہ انسان کو نہیں ملتا جب تک کہ وہ اپنے اوپر ایک ذبح اور موت وارد نہ کرے۔
اس مقام پر عرب صاحب نے حضرت کا یہ شعر پڑھا۔ جس میں یہ کلمہ منسلک تھا کہ
’’میخواہد نگار من تہیدستان عشرت را
‘‘حضرت نے فرمایا کہ میں نے پھر اس کلمہ کو اس مصرعہ میں جوڑ دیا کہ یاد رہے۔ (آئینہ کمالات اسلام میں اس پر ایک نظم لکھی ہوئی ہے)۱؎
(دربارِ شام)۱؎
عربی تصانیف کی اہمیت
عربی تصانیف کے متعلق اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ اگر یہ سلسلہ نہ ہوتا تو یہ سب مولوی ہماری جماعت کو نظر استخفاف سے دیکھتے اور کہتے کہ یہ لوگ جاہل ہیں۔ مگر اب خود ہی بولنے کے لائق نہیں رہے۔
اسی سلسلہ کلام میں ابو سعید عرب صاحب نے عرض کیا کہ اگرچہ میں نے حضور کی تصنیفات کو مطالعہ نہیں کیا مگر میرا ایمان ہے کہ حضور بالکل سچے ہیں اور مسیح اور مہدی کا دعویٰ حق ہے۔ مگر دوسرے لوگوں سے کلام کرنے کے لئے میں چاہتا ہوں کہ حضور کی زبان مبارک سے مسیح موعود ہونے کا ثبوت سنوں۔
حضرت اقدس نے اس کے جواب میں جو کچھ فرمایا۔ ہم اس کو اختصار کے طور پر لکھیں گے کیونکہ اس مضمون کے متعلق بسط کے ساتھ کلمات طیبات میں بھی ایک مضمون چھپ رہا ہے۔ بہرحال آپ نے فرمایا۔
مسیح موعود ہونے کا ثبوت
قرآن پر تدبّر سے نظر کرنے والے کو معلوم ہوگا کہ دو سلسلوں کا مساوی ذکر ہے۔ اوّل وہ سلسلہ جو موسیٰ سے شروع ہوکر مسیح علیہ السلام پر ختم ہوتا ہے۔ اور دوسرا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہوتا ہے یہ اس شخص پر ختم ہونا چاہیے جو مثیل مسیح ہو۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہیں اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ(المزّمل:۱۶) اور پھر سورۃ نور میں وعدہ استخلاف فرمایا کہ جس طرح پر موسوی سلسلہ ہو گذرا ہے اسی طرح پر محمدی سلسلہ بھی ہوگا تاکہ دونو سلسلوں میں بموجب آیات قرآنی باہم مطابقت اور موافقت تامہ ہو۔ چنانچہ جب کہ موسوی سلسلہ آخر عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہوا ضروری تھا کہ محمدی سلسلہ کا خاتم بھی عیسیٰ موعود ہوتا۔ ان دونو سلسلوں کا باہم تقابل مرایا متقابلہ کی طرح ہے یعنی جب دو شیشے ایک دوسرے کے بالمقابل رکھے جاتے ہیں تو ایک شیشہ کا دوسرے میں انعکاس ہوتا ہے۔
خاتم النبّییّن صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت
اور اس تقابل سلسلہ سے یہ بھی بخوبی معلوم ہو جاتا ہے کہ آخری سلسلہ کا آخری موعود کس شان کا ہوگا کیونکہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ آخر آنے والا عظیم الشان ہوتا ہے اور یہی وجہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النَّبیّین ٹھہرے۔ اگر یہ قاعدہ اور سنّت نہ ہوتی۔ تو پھر معاذ اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی عزّت اور عظمت باقی انبیاء سابقین پر نہ ہوتی لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کی مصلحت دنیا میں عظیم الشّان اصلاح چاہتی تھی اس لئے مناسب یہی تھا کہ ان سب سے بڑھ کر آپ کی عظمت دکھاوے تاکہ آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری ہو۔ دنیاوی حکام بھی جب ایسی مصلحت رکھ لیتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ خدا اس مصلحت کو مدِّنظر نہ رکھتا۔ کبھی حکامِ دنیا پسند نہیں کرتے کہ آخر میں کسی نالائق کو بھیج دیں اور کہہ دیں کہ گو یہ نالائق ہے مگر اس کی بات مان لو۔ اب ایک شخص جو کل دنیا کی اصلاح کے لئے آنے والا تھا کب ہوسکتا تھا کہ وہ ایک معمولی انسان ہوتا! جس قدر انبیاء علیہم السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آئے وہ سب ایک ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے۔ اس لئے کہ ان کی شریعت مختص القوم اور مختص الزمان تھی۔ مگر ہمارے نبی وہ عظیم الشان نبی ہیں جن کے لئے حکم ہوا کہ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ(الانبیآء:۱۰۸) قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا(الاعراف:۱۵۹) اس لئے جس قدر عظمتیں آپ کی بیان ہوئی ہیں۔ مصلحت الٰہیہ کا بھی یہی تقاضا تھا کیونکہ جس پر ختم نبوت ہونا تھا اگر وہ اپنے کمالات میں کوئی کمی رکھتا تو پھر وہی کمی آئندہ امت میں رہتی۔ کیونکہ جس قدر کمالات اللہ تعالیٰ کسی نبی میں پیدا کرتا ہے اسی قدر اس کی امت میں ظہور پذیر ہوتے ہیں اور جس قدر کمزور تعلیم وہ لاتا ہے اتنا ہی ضعف اس کی امت میں نمودار ہو جاتا ہے چنانچہ یہی وجہ تھی کہ جس عظمت اور شان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔ اسی عظمت کے لحاظ سے ضروری تھا کہ تقابل میں بھی وہی عظمت دکھاتا۔ اور ہم ظاہر طور پر دیکھتے ہیں کہ دونوں تعلیموں میں بھی زمین آسمان کا فرق ہے جیسے کہ قرآن شریف حقائق اور معارف سے بھرا ہوا ہے توریت، انجیل بالکل ان سے خالی ہے۔ ان کی کل تعلیم قصص کے رنگ میں ہے اور قرآن شریف علوم کا خزانہ ہے۔ ان دونوں سلسلوں کا اقتضاء اس وجہ سے بھی تھا کہ چونکہ اسحاقؑ اور اسماعیلؑ دونوں بھائی تھے اور دونوں میں برکات کی تقسیم مساوی تھیں۔ تصفیہ تقسیم تب ہی ہوتا کہ دونوں سلسلوں میں باہم تطابقت اور عین موافقت ہوتی۔ اسماعیلؑ کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم الشان نبی مبعوث فرمایا جس کی امت کو کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ(اٰل عمران:۱۱۱) کہا کہ تم تمام امتوں سے بہتر ہو کیونکہ وہ لوگ جن کو شریعت قصہ کے رنگ میں ملی تھی وہ دماغی علوم کی کتاب وشریعت کے ماننے والوں کے کب برابر ہو سکتے ہیں۔ پہلے صرف قصص پر راضی ہو گئے اور ان کے دماغ اس قابل نہ تھے کہ حقائق و معارف کو سمجھ سکتے۔ مگر اس امت کے دماغ اعلیٰ درجہ کے تھے اسی لئے شریعت اور کتاب علوم کا خزانہ ہے جو علوم قرآن مجید لے کر آیا ہے وہ دنیا کی کسی کتاب میں پائے نہیں جاتے۔ اور جیسے شریعت کے نزول کے وقت وہ اعلیٰ درجہ کے حقائق و معارف سے لبریز تھی ویسے ہی ضروری تھا کہ ترقی علوم وفنون سب اسی زمانہ میں ہوتا۔ بلکہ کمال انسانیت بھی اسی میں پورا ہوا۔
قرآن شریف حقیقی علوم کا جامع ہے
اس مقام پر عرب صاحب نے سوال کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پیشتر بھی یونان وغیرہ میں علوم کا چرچا تھا۔ فرمایا۔ علوم سے مراد دنیوی علوم نہیں ہے اور نہ ہیں۔ ان ارضی علوم سے کچھ تعلق نہیں۔ علوم حقیقی وہی ہوتے ہیں جو انبیاء لے کر آتے ہیں۔ اور ارضی اور سفلی علوم جو دنیا کے لوگ سمجھتے ہیں۔ جیسے تار، ریل، غبارہ یا کلوں کی ایجاد وغیرہ یہ کھیلیں ہیں اور ارضی چیزیں ہیں جو جونہی انسان مَرجاتا ہے اس کے ساتھ ہی فنا ہو جاتی ہیں مگر وہ علوم جو انبیاء لے کر آتے ہیں وہ مَرنے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں ان کو کبھی فنا نہیں۔ ان علوم سے مراد خدا کے علوم ہیں (پھر اسی سلسلہ میں اصل مطلب کی طرف رجوع کر کے فرمایا) یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف جو علوم لے کر آیا ہے وہ دنیا کی کسی اور کتاب میں پائے نہیں جاتے ہیں۔ توریت میں کسی علوم کا ذکر نہیں اور انجیل میں نشان تک بھی نہیں پایا جاتا۔ قرآن کریم کی عظمت کے بڑے بڑے دلائل میں سے یہ بھی ہے کہ اس میں عظیم الشان علوم ہیں جو توریت و انجیل میں تلاش کرنے ہی عبث ہیں اور ایک چھوٹے اور بڑے درجہ کا آدمی اپنے اپنے فہم کے موافق ان سے حصہ لے سکتا ہے۔ توریت کو دیکھو کہ ہستی باری تعالیٰ اور قیامت کے متعلق ایک بھی فقرہ اس میں نہیں ہے ادھر قرآن شریف کو دیکھو کہ ہستی باری تعالیٰ اور قیامت کے کیسے دلائل بھرے ہوئے ہیں اور پھر عقلی اور نقلی دونو طرح کے ثبوت ہیں۔ قرون اُولیٰ میں صرف نقل ہی نقل تھی۔ پھر یہود، نصاریٰ، آریہ، برہمو، نیچری غرض سب فرقوں کا ردّ اس میں موجود ہے۔ غرض قرآن شریف ایک اکمل اور اتم کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ خلقت میں علوم حاصل کرنے کے دماغ موجود ہو گئے ہیں تو اس نے قرآن جیسی کتاب بھیج دی۔
موسوی سلسلہ اور محمدی سلسلہ میں مطابقت
غرض یہ سلسلہ موسوی سلسلہ سے کسی صورت میں کم نہ رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک تومماثلت اور مطابقت میں فرمایا کہ بدی کا حصہ بھی تم کو ویسے ہی ملے گا جیسے یہود کو ملا اور اس سلسلہ کی نسبت بار بار ذکر ہوا کہ آخیر تک اس کی عظمت قائم رکھے گا۔ سورۃ فاتحہ میں بھی اس کا ذکر ہے جب کہ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ(الفاتحۃ:۷) فرمایا۔ مغضوب سے مراد یہودی ہیں۔
اب قابل غور یہ اَمر ہے کہ یہودی کیسے مغضوب ہوئے۔ انہوں نے پیغمبروں کو نہ مانا اور حضرت عیسیٰ کا انکار کیا تو ضرور تھا کہ اس امت میں بھی کوئی زمانہ ایسا ہوتا اور ایک مسیح آتا جس سے یہ لوگ انکار کرتے اور وہ مماثلت پوری ہوتی ورنہ کوئی ہم کو بتائے کہ اگر اسلام پر ایسا زمانہ کوئی آنے والا ہی نہ تھا اور نہ کوئی مسیح آنا تھا پھر اس دعائے فاتحہ کی تعلیم کا کیا فائدہ تھا۔
قرآن شریف کی مختلف آیات کے جمع کرنے سے اور پھر ان پر یکجائی نظر کرنے سے صاف پتا لگتا ہے کہ آنے والا مسیح ضرور اس امت میں سے ہوگا اور حدیث بھی اس کی شرح کرتی ہے اور کہتی ہے کہ وہ اس امت میں سے ہوگا۔ غرض اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان سلسلوں میں بالکل مطابقت ہے۔ اور محمدیؐ سلسلہ میں آنے والا خاتم الخلفاء مسیح کے رنگ پر ہوگا۔ حدیثوں میں بھی یہی آیا ہے کہ اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ یعنی وہ امام تم ہی میں سے ہوگا۔
مسیح موعود کس قوم سے ہوگا؟
سوال ہوا کہ مسیح کس قوم سے ہوگا؟ فرمایا۔ مہدی کی بابت تو مختلف روایات ہیں۔ مگر مسیح کی بابت نہیں لکھا کہ وہ کس قوم سے ہوگا اور یہ لطف کی بات ہے کہ چونکہ کسی قوم کا ذکر نہیں ہے اور مسلمانوں کا خیال تھا کہ وہ اوپر سے آنے والا ہے۔ اس لئے اس دعویٰ میں آج تک کسی کو جرأت نہیں ہوئی کہ افترا سے کام لیتا۔ مہدی کاذب ہونے کے دعوے جو بہت لوگوں نے کئے اس کی وجہ یہی تھی کہ اس کی قوم کا ذکر تھا۔ جہاں جس کو گنجائش ملی۔ اس نے پاؤں جما کر دعویٰ کر دیا۔
مسیح ناصری شارح توریت اور مسیح موعود شارح قرآن ہے
پوچھا گیا کہ عیسائی لوگ توریت کو نہیں مانتے۔ انجیل کو ہی مانتے ہیں۔ فرمایا۔ انجیل میں ہرگز کوئی شریعت نہیں ہے بلکہ توریت کی شرح ہے اور عیسائی لوگ توریت کو الگ نہیں کرتے جیسے مسیح توریت کی شرح بیان کرتے تھے۔ اسی طرح ہم بھی قرآن شریف کی شرح بیان کرتے ہیں۔ جیسا کہ وہ مسیحؑ، موسٰیؑ سے چودہ سو برس بعد آئے تھے۔ اسی طرح ہم بھی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چودھویں صدی میں آئے ہیں۔
مغضوب اورضالّ
ایک شخص نے سوال کیا۔ بعض مخالف کہتے ہیں ہم بھی تو اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ(الفاتحۃ:۶) کہتے ہیں ہم کو یہودی اور مغضوب کیوں کہا جاتا ہے؟ فرمایا کہ یہودی بھی تو ہدایت اب تک طلب کر رہے ہیں اور اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ(الفاتحۃ:۶) مانگ رہے ہیں اور توریت پڑھتے ہیں پھر گمراہ کیوں ہیں؟
خلیفہ کے م ع نے ع رب صاحب نے خلیفہ کے معنے دریافت کئے۔
ف
رمایا۔ خلیفہ کا معنے جانشین کے ہیں جو تجدید دین کرے۔ نبیوں کے زمانہ کے بعد جو تاریکی پھیل جاتی ہے اس کو دور کرنے کے واسطے جو ان کی جگہ آتے ہیں۔ انہیں خلیفہ کہتے ہیں۔
بنی اسرائیل کے انبیاء موسوی شریعت کے تابع تھے
مثلاً گذشتہ انبیاء میں جو خلیفہ ہوئے وہ وہ تھے جو مقاصد توریت کے کھول کر بیان کیا کرتے تھے ورنہ تعلیم سب کی ایک ہی تھی۔ یہود کو جو توریت میں یہ تعلیم دی تھی کہ دانت کے بدلے دانت اور آنکھ کے بدلے آنکھ۔ مگر توریت کا اس عدل سے وہ مطلب نہ تھا جو یہودی لوگ اپنی جھوٹی روایتوں اور حدیثوں کی بنا پر اصل اخلاق کو دور کر کے ظاہری شریعت کے پیچھے لگ گئے کہ اگر ظاہر شریعت پر عمل نہ کریں گے تو گنہگار ٹھہریں گے اور عفو گویا بالکل نہ کرنا چاہیے۔ حالانکہ اس سے خدا تعالیٰ پر حرف آتا ہے کہ وہ کیوں عفو کی عادت ترک کر بیٹھا۔ ہاں یہ سچ ہے کہ بنی اسرائیل چار سو برس کی غلامی کی وجہ سے فرعونیوں کے ساتھ تعلقات رکھتے تھے جو ظالمانہ طبیعت رکھتے تھے۔ اس لئے بہت سے مفاسد ان میں پیدا ہو گئے تھے اور چال چلن خراب ہو گیا تھا۔ اس ظالمانہ عادات کی بیخ کنی کے لئے عدل کے رنگ میں یہ تعلیم ان کو دی گئی تھی مگر انہوں نے اس کو الٹا سمجھا ورنہ ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اخلاق کا وہ حصہ جو عفو کہلاتا ہے بالکل زائل کر دیا گیا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ لوگ بڑے سخت دل ہو گئے چنانچہ جب حضرت عیسیٰؑ مبعوث ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ یہودیوں کی سخت دلی بہت بڑھی ہوئی ہے اور وہ کئی قسم کے فسق و فجور میں مبتلا تھے اس لئے انہوں نے آکر عفو کی تعلیم دی اور اخلاق کی تجدید کی۔ یہ کہنا کہ انجیل ہی میں اخلاق بھرے ہوئے ہیں سخت غلطی ہے۔ کیا پہلے نبیوں کی کتابیں جو ستّر سے زیادہ ہیں وہ سب اخلاقی تعلیم سے خالی ہیں؟ ہرگز نہیں۔ مسیح نے کوئی نئی تعلیم نہیں دی اور نہ نئی شریعت پیش کی۔ یہودی اب تک کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام نے جو کچھ لیا ہمارے ہی صحیفوں سے لیا ہے۔ چنانچہ ایک یہودی نے ایک کتاب لکھی ہے اور اس نے بتایا ہے کہ کون کون سے فقرے عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی کسی کتاب سے لئے ہیں۔
سچی تعلیم کی علامت
غرض سچی تعلیم کی نشانی یہ ہے کہ وہ انبیاء کی تعلیم سے مشابہ ہو۔ ان کا اصول ایک ہی ہوتا ہے اور اختلاف تب ہوتا ہے کہ اصول میں ہو۔ ورنہ فروع میں اگر کوئی اختلاف ہو تو وہ اختلاف نہیں کہلاتا اور اگر فروع میں اختلاف بھی ہو تو اس کی مثال ایسی ہے کہ گرمیوں میں اور کپڑا ہوتا ہے سردیوں میں اور۔ فروعات میں تبدیلیاں ضرور ہوا کرتی ہیں۔ ایسا ہی مثلاً ایک زمانہ تھا کہ شراب جیسی خبیث چیز کو لوگ بے دھڑک پیتے تھے اور پھر وہ زمانہ آپ کا آ گیا کہ اس کی بیخ کنی کی جاوے۔ حضرت دانیال کو کہا گیا کہ آپ شراب پئیں تاکہ آپ کا چہرہ سرخ ہو جاوے اور بادشاہِ وقت کا حکم ہے کہ جس کا چہرہ سرخ نہ ہوگا۔ وہ مارا جاوے گا اس پر آپ نے فرمایا کہ تم لوگ شراب پیو مگر میں ساگ پات کھاتا ہوں اور دیکھنا کہ کس کا چہرہ زیادہ سرخ ہوتا ہے۔ چنانچہ جب آپ آئے تو سب سے زیادہ آپ کا چہرہ سرخ تھا۔
مسیح نے تورات کی شریعت بحال رکھی
پوچھا گیا کہ مسیحؑ نے اپنے شاگردوں کو شریعت کے ماننے کا کیوں حکم نہ دیا؟
فرمایا کہ وہ خود شریعت کو مانتے تھے اور شاگردوں کو ماننے کے لئے فرمایا۔ اگر ان کے وقت میں شریعت منسوخ ہوگئی ہوتی تو یہ کیوں فرماتے کہ فریسی اور فقیہ جو موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہیں وہ جو کہیں سو کرو اور جو وہ کریں وہ نہ کرو۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ شریعت توریت کی بحال تھی اور انجیل میں بذاتِ خود کوئی شریعت نہیں تھی۔
مسیح موعود ہونے کا ذکر قرآ ن میں
عرب صاحب نے سوال کیا کہ مسیح موعود کے متعلق قرآن میں کہاں کہاں ذکر ہے؟
فرمایا۔ سورۃ فاتحہ۔ سورہ نور۔ سورہ تحریم وغیرہ میں۔ سورۃ فاتحہ میں تو اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ(الفاتحۃ:۶) سورۃ نور میں وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ(النّور:۵۶) سورۃ تحریم میں جہاں مومنوں کی مثالیں بیان کی ہیں۔ ان میں فرمایا وَمَرۡیَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِیۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَہَا(التحریم:۱۳)۔
مقامِ مریمیّت
فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس میں دو قسم کی عورتوں سے مثال دی ہے۔ اوّل فرعون کی بیوی سے اور ایک مریم سے۔ پہلی مثال میں یہ بتایا ہے کہ ایک مومن اس قسم کے ہوتے ہیں جو ابھی اپنے جذبات نفس کے پنجہ میں گرفتار ہوتے ہیں اور ان کی بڑی آرزو اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ خدا ان کو اس سے نجات دے۔ یہ مومن فرعون کی بیوی کی طرح ہوتے ہیں کہ وہ بھی فرعون سے نجات چاہتی تھی مگر مجبور تھی۔ لیکن جو مومن اپنے تئیں تقویٰ اور طہارت کے بڑے درجہ تک پہنچاتے ہیں اور احصانِ فرج کرتے ہیں تو پھر خدا تعالیٰ ان میں عیسیٰ کی روح نفخ کر دیتا ہے۔ نیکی کے یہ دو مرتبے ہیں جو مومن حاصل کر سکتا ہے مگر دوسرا وہ بہت بڑھ کر ہے کہ اس میں نفخ روح ہو کر وہ عیسیٰ بن جاتا ہے یہ آیت صاف اشارہ کرتی ہے کہ اس امت میں کوئی شخص مریم صفت ہوگا کہ اس میں نفخ روح ہو کر عیسیٰ بنا دیا جاوے گا۔ اب کوئی عورت تو ایسی ہے نہیں اور نہ کسی عورت کے متعلق پیشگوئی ہے۔ اس لئے صاف ظاہر ہے کہ اس سے یہی مراد ہے کہ اس امت میں ایک ایسا انسان ہوگا جو پہلے اپنے تقویٰ و طہارت اور احصان و عفت کے لحاظ سے صفتِ مریمیّت سے موصوف ہوگا اور پھر اس میں نفخ روح ہو کر صفات عیسوی پیدا ہوں گی۔ اب اس کی کیفیت اور لطافت براہین احمدیہ سے معلوم ہوگی کہ پہلے میرا نام مریم رکھا۔ پھر اس میں روح صدق نفخ کر کے مجھے عیسیٰ بنایا۔ مومنوں کی جو یہ دو مثالیں بیان کی گئی ہیں۔ وہ اس آیت۱؎ سے بھی معلوم ہوتی ہیں۔
پھر اس کے متعلق آپ نے جو فرمایا۔ بارہا الحکم میں درج ہوا ہے۔ آخر اس لطیفہ پر اس کو ختم کردیا کہ
مریم صفات والے کے لئے ضرور ہے کہ وہ عیسویت کے رنگ میں تبدیل ہو جاوے۔ اگر اس آیت میں صرف مریم کا لفظ ہوتا تو بہت سے افراد ہوسکتے تھے۔ مگر خدا تعالیٰ نے احصان فرج اور نفخِ روح کی قید لگا کر بتا دیا ہے کہ ایک ہی شخص ہوگا۔ یہ ایک استعارہ تھا جو کسی کی سمجھ میں نہ آیا۔ اس کے لئے یہی وقت مقدر تھا۔ پھر عجیب تر بات یہ ہے کہ مریم، نفخ روح اور میرا نام عیسیٰ رکھنے کے الہاموں میں صرف نو یا دس ماہ کا فاصلہ ہے جو کہ مدت حمل ہے۔ ان تمام ترقیات کا سلسلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ کسی کو کیا خبر ہے کہ کس طرح ایک بیج زمین کے اندر کیا کیا بن کر آخر کار ایک پتّا بن جاتا ہے۔ٍ۱؎
۷؍جنوری ۱۹۰۳ء
ظاہر وباطن میں اسلام کا نمونہ اختیار کرنا چاہیے
حضرت اقدس حسب دستور سیر کے لئے تشریف لائے اور روانہ ہوتے ہی عرب صاحب نے انگریزی قطع وضع پر کچھ ذکر چھیڑا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ انسان کو جیسے باطن میں اسلام دکھلانا چاہیے ویسے ہی ظاہر میں بھی دکھلانا چاہیے۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہونا چاہیے کہ جنہوں نے آج کل علیگڑھ میں تعلیم پا کر کوٹ پتلون وغیرہ سب کچھ ہی انگریزی لباس اختیار کر لیا ہے حتی کہ وہ پسند کرتے ہیں کہ ان کی عورتوں کی وضع بھی انگریزی عورتوں کی طرح ہو (بقیہ حاشیہ) بعد نفس لوامہ والے جو کہ فرعون کی بیوی ہیں۔ یعنی ان کو نفس ہمیشہ ملامت کرتا رہتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ امارہ سے ان کو آزادی ملے یہ کم ہوتے ہیں اور پھر ان سے کم نفس مطمئنّہ والے یعنی مریم بنت عمران۔ جس زمانے کا وعدہ خدا نے کیا ہوا تھا ضرور تھا کہ اس میں ایک نفس مریم کی طرح ہوتا اور اس زمانے میں خدا نے فیہ میں ضمیر مذکر کی استعمال کی ہے تا کہ اشارہ اس طرف ہو کہ ایک مَرد ہوگا جو صفات مریمیّت حاصل کر کے عیسیٰ ہوگا۔ ‘‘(البدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخہ ۶؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۰)
اور ویسے ہی لباس وغیرہ وہ پہنیں۔ جو شخص ایک قوم کے لباس کو پسند کرتا ہے تو پھر وہ آہستہ آہستہ اس قوم کو اور پھر ان کے دوسرے اوضاع واطوار اور حتی کہ مذہب کو بھی پسند کرنے لگتا ہے۔ اسلام نے سادگی کو پسند کیا ہے اور تکلّفات سے نفرت کی ہے۔
چُھری کانٹے سے کھانے پر فرمایا کہ شریعت اسلام نے چُھری سے کاٹ کر کھانے سے تو منع نہیں کیا۔ ہاں تکلف سے ایک بات یا فعل پر زور ڈالنے سے منع کیا ہے۔ اس خیال سے کہ اس قوم سے مشابہت نہ ہو جاوے ورنہ یوں تو ثابت ہے کہ آنحضرتؐ نے چُھری سے گوشت کاٹ کر کھایا۔ اور یہ فعل اس لئے کیا کہ تا امت کو تکلیف نہ ہو۔ جائز ضرورتوں پر اس طرح کھانا جائز ہے۔ مگر بالکل اس کا پابند ہونا اور تکلف کرنا (اور کھانے کے دوسرے طریقوں کو حقیر جاننا )منع ہے کیونکہ پھر آہستہ آہستہ انسان کی نوبت تتبع کی یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ ان کی طرح طہارت کرنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔
مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْـھُمْ سے مراد یہی ہے کہ التزاماً ان باتوں کو نہ کرے ورنہ بعض وقت ایک جائز ضرورت کے لحاظ سے کر لینا منع نہیں ہے جیسے کہ بعض دفعہ کام کی کثرت ہوتی ہے اور بیٹھے لکھتے ہ وتے ہ یں تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ کھانا میز پر لگا دو اور اس پر کھا لیتے ہیں اور صف پر بھی کھا لیتے ہیں۔ چارپائی پر بھی کھا لیتے ہیں۔ تو ایسی باتوں میں صرف گذارہ کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
تشبیہ کے معنے اس حدیث میں یہی ہیں کہ اس لکیر کو لازم پکڑ لینا۔ ورنہ ہمارے دین کی سادگی تو ایسی شَے ہے کہ جس پر دیگر اقوام نے رشک کھایا ہے اور خواہش کی ہے کہ کاش ان کے مذہب میں یہ ہوتی اور انگریزوں نے اس کی تعریف کی ہے اور اکثر اصول ان لوگوں نے عرب سے لے کر اختیار کئے ہیں مگر اب رسم پرستی کی خاطر وہ مجبور ہیں۔ ترک نہیں کر سکتے۔
پھر عرب صاحب نے داڑھی کی نسبت دریافت کیا۔
داڑھی رکھنا انبیاء کا طریق ہے
حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ انسان کے دل کا خیال ہے بعض انگریز تو داڑھی اور مونچھ سب منڈوا دیتے ہیں وہ اسے خوبصورتی خیال کرتے ہیں اور ہمیں اس سے ایسی سخت کراہت آتی ہے کہ سامنے ہو تو کھانا کھانے کو جی نہیں چاہتا۔ داڑھی کا جو طریق انبیا ؤوں اور راست بازوں نے اختیار کیا ہے وہ بہت پسندیدہ ہے۔ البتہ اگر بہت لمبی ہو جاوے تو کٹوا دینی چاہیے۔ ایک مشت رہے۔ خدا نے یہ ایک امتیاز مَرد اور عورت کے درمیان رکھ دیا ہے۔
اُسترے کی مضرّت
ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب نے عرض کی کہ حضور آج کل ایک کتاب پلیگ گائڈ چھپی ہے وہ کل ڈاکٹروں کے پاس روانہ کی گئی اس میں ایک ہدایت ہے کہ ان طاعون کے ایام میں داڑھی ہرگز نہ منڈوانی چاہیے۔ کیونکہ اگر ذرا بھی زخم ہوا۔ تو طاعونی مادہ اس پر بہت جلد اثر کرتا ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ استروں سے بھی بعض وقت زہر اور آتشک کے امراض پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ہمیشہ استرے کے استعمال کرنے میں بہت احتیاط لازم ہے اور استرے کا استعمال منہ پر تو بہت خطرناک ہے۔ ہاں غیر مناسب بال جیسا کہ بعض رخسار پر ہوتے ہیں یا داڑھی کے زوائد وغیرہ یہ سب کاٹ دینے چاہئیں (نہ کہ منڈوانے)۔
پیشگوئی کی تفہیم میں احتیاط
پھر حضرت اقدس نے عرب صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ رات کو جو آپ نے سوال کیا تھا وہ بے شک بہت ضروری تھا۔ کیونکہ ایسے ملکوں میں جہاں لوگ نا واقف ہیں سمجھانے کے لئے ضرور علم چاہیے۔ پھر اس مضمون کا مختصر خلاصہ حضرت نے اعادہ فرمایا کہ جو گذشتہ شب میں ہم درج کر چکے ہیں اور اس پر یہ ایزادی فرمائی کہ پیشگوئیوں کے بارے میں یہ خیال ہرگز نہ کریں کہ وہ ایسی کھلی کھلی ہوں کہ نام لے لے کر بتلایا جاوے ورنہ پھر یہی سوال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوسکتا ہے اور ویسے ہی ثبوت کی ضرورت آنحضرتؐ کے دعاوی پر آپڑتی ہے۔ کیونکہ خدا نے توریت میں یہ تو ذکر کیا کہ آخری زمانہ میں ایک نبی ہوگا اور پھر یہ کہ تمہارے بھائیوں میں سے ہوگا۔ مگر یہ تصریح نہ کی کہ اسماعیل کی نسل میں ہوگا حالانکہ یہود کا بھی یہی خیال رہا کہ بنی اسرائیل سے ہوگا ورنہ کیا خدا تعالیٰ قادر نہ تھا کہ آپ کا نام آپ کے باپ کا نام، آپ کے شہر کا نام سب کچھ پہلے بتلا دیتا اور کسی کو کوئی وجہ شک کی نہ رہتی۔ مگر ایسے الفاظ تھے کہ ان سے اہل یہود نے فائدہ اٹھا لیا۔ اور ان کا ابھی تک یہی مذہب ہے کہ تمہارے بھائیوں میں سے مراد یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل سے ہوگا۔ دوسری جگہ جہاں اہل یہود نے ٹھوکر کھائی ہے وہ الیاس والا مقدمہ ہے کہ انہوں نے یوحنا کو الیاس نہ مانا۔ غرض اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تمام امور پر یکجائی نظر ڈالے اور مومن اور متقی آدمی ہو تو پھر اسے ثبوت ملتا ہے کہ ایک طرف تو قرآن اور احادیث اور سابقہ کتب ہمارے ساتھ ہیں اور ایک طرف صد ہا نشان جو کہ ظاہر ہو چکے ہیں اور ان میں سے ایک سو پچاس کا ذکر نزول المسیح میں ہے۔ غرض یہ سُنّت اللہ ہے کہ نشانوں سے صادق شناخت کیا جاتا ہے۔
یہود کے لئے ابتلا کا مقام
اور سچی بات یہی ہے کہ اگر وہ ہم پر اعتراض کریں تو اوّل حضرت عیسٰیؑ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور صداقت کا ثبوت پیش کریں۔ پھر ان سے جو کمی رہ جاوے گی وہ ہم پوری کر دیویں گے۔ یہودیوں کو دو بار حیرت کا مقام پیش آیا۔ ایک تو مسیح علیہ السلام کے وقت کہ جب انہوں نے پوچھا کہ تجھ سے پیشتر آنے والا الیاس کہاں ہے؟ تو جواب دیا کہ وہ یوحنا ہے چاہو قبول کرو چاہو قبول نہ کرو اور دوسرے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کہ آپ بنی اسماعیل میں سے ہوئے۔
بعل زبول
اور مسیح کو بھی دیوانہ کہا گیا تھا چنانچہ ان کا نام منکروں نے بعل زبول رکھا تھا۔ بعل کے معنے رئیس اور زبول کے معنے مکھیاں جو کہ گندگی پر بیٹھتی ہیں یعنی کُل گندگیوں کا سردار۔ یہ ان کی سخت غلطی تھی اور مخالفت کی وجہ سے اسے کہتے تھے جیسے آنحضرتؐ کو ساحر اور مجنون کہتے تھے۔
قرآن کریم سے اس زمانہ کی خبر
ریل وغیرہ کے ذکر پر فرمایا کہ اس زمانے میں خدا نے ہماری جماعت کو فائدہ پہنچایا ہے کہ سفر کو بہت آرام ہے ورنہ کہاں سے کہاں ٹھوکریں کھاتا ہوا انسان ایک دوسرے مقام پر پہنچتا تھا۔ مدراس جہاں سیٹھ عبدالرحمان ہیں اگر کوئی جاتا تو گرمیوں میں روانہ ہوتا تو سردیوں میں پہنچتا تھا۔ اس زمانے کی نسبت خدا نے خبر دی ہے وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ(التکویر:۸) کہ جب ایک اقلیم کے لوگ دوسرے اقلیم والوں کے ساتھ ملیں گے۔۱؎
وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتۡ(التکویر:۱۱) یعنی اس وقت خط و کتابت کے ذریعہ عام ہوں گے اور کتب کثرت سے دستیاب ہوسکیں گی۔ وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ(التکویر:۵) اس وقت اونٹنیاں بے کار ہوں گی۔ ایک زمانہ تھا کہ یہاں ہزارہا اونٹ آیا کرتے مگر اب نام و نشان بھی نہیں ہے اور مکہ میں بھی اب نہ رہیں گے۔ ریل کے جاری ہونے کی دیر ہے۔
کسوف و خسوف اور شقّ القمر
پھر عرب صاحب نے کسوف و خسوف رمضان کی نسبت دریافت کیا کہ اس کا ذکر آپ کی کتب میں بھی ہے کہ نہیں؟ فرمایا کہ یہ ایک پرانا نشان چلا آتا تھا جو کہ اس وقت پورا ہوا ہے۔ براہین احمدیہ میں اس کا ذکر استعارہ کے طور پر اس طرح ہے وَاِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَیَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ(القمر:۳) یہ میرا الہام بھی ہے اور بعض محدّثین کا مذہب یہ بھی ہے کہ شقُّ القمر بھی ایک قسم خسوف میں سے تھا۔ (مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے حوالہ دیا کہ عبداللہ ابن عباس کا بھی یہی مذہب ہے) اور شاہ عبدالعزیز بھی یہی کہتے ہیں اور ہمارا اپنا مذہب بھی یہی ہے کہ از قسم خسوف تھا۔ کیونکہ بڑے بڑے علماء اس طرف گئے ہیں۔
طوفانِ نوح
نوح علیہ السلام کے طوفان کی نسبت فرمایا کہ قرآن سے یہ ثابت نہیں ہے کہ کل زمین کی آبادی کو اس وقت تباہ کر دیا تھا۔ صرف نوح کی قوم پر تباہی آئی تھی۔
مماثلت کی حقیقت
ایک شخص نے سوال کیا کہ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ جب مسیح ناصری کے آنے سے ختم نبوت ٹوٹتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت سے ختم نبوت نہیں ٹوٹتی؟
فرمایا کہ مسیح کا یہ دعویٰ کہاں ہے کہ جس طرح ہم اپنے آپ کو امت محمدیہ میں اور پھر آنحضرتؐ کی اتباع میں فنا شدہ کہتے ہیں انہوں نے بھی کہا ہو۔ وہ تو حضرت موسیٰ کی شریعت پر عمل کرنے والے تھے اور مماثلت کا سلسلہ چاہتا ہے کہ کوئی اور ہی آوے وہ نہ آویں۔ مماثلت کے یہ معنے نہیں ہیں کہ بالکل اس کا عین ہو۔ جیسے کسی کو شیر کہیں تو اب اس کے لئے دم تجویز کریں اور پھر گوشت کا کھانا بھی۔ خدا کے کلام میں استعارات ہوا کرتے ہیں مثلاً کسی کو کہا جاوے کہ اس نے ایک رکابی چاولوں کی کھائی تو اس کے یہ معنے نہ ہوں گے کہ وہ رکابی کے بھی ٹکڑے ٹکڑے کر کے کھا گیا۔
مماثلت میں صرف بعض پہلوؤں میں تشابہ ہوتا ہے جیسے آنحضرتؐ کو مثیلِ موسیٰ کہا کہ جیسے موسیٰ نے اپنی قوم کو فرعون سے چھڑایا آنحضرتؐ نے بھی اپنی قوم کو طاغوت اور بتوں سے رہائی دلوائی۔ مشابہت میں ہو بہو عین نہیں ہوتا۔ ورنہ وہ تو پھر حقیقت ہوگی نہ کہ مشابہت۔
قادیان
عرب صاحب نے ادھر ادھر غیر آبادی کو دیکھ کر عرض کی کہ یہ صرف حضور ہی کا دم ہے کہ جس کی خاطر اس قدر انبوہ ہے ورنہ اس غیر آباد جگہ میں کون اور کب آتا۔
فرمایا کہ اس کی مثال مکہ کی ہے کہ وہاں بھی عرب لوگ دور دراز جگہوں سے جا کر مال وغیرہ لاتے ہیں اور وہاں بیٹھ کر کھاتے ہیں۔ اسی کی طرف اشارہ ہے اس سورۃ میں لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ اٖلٰفِہِمْ۔(قریش:۲)۔
ایک اعتراض کا جواب
لوگوں کے اس اعتراض پر کہ جو شخص لاوارث مَرجاتا ہے اس کے وارث میرزا صاحب ہو جاتے ہیں اور اس طرح سے بہت ملک املاک جمع کرتے جاتے ہیں۔
فرمایا کہ والد صاحب ایسے دنیاوی کاموں میں مجھے مامور کر دیا کرتے تھے اور ان کے حکم اور رضامندی کے لئے اکثر مجھے عدالتوں وغیرہ میں بھی جانا پڑتا تھا۔ جب سے والد صاحب فوت ہو گئے ہیں کیا کسی نے دیکھا ہے کہ ہم نے ان باتوں میں سے کوئی حصہ لیا ہے۔ حالانکہ ہمیں حق پہنچتا ہے کہ اگر چاہیں تو لیویں۔
(بین المغرب والعشاء)
سیرت مسیح موعود کی چند باتیں
حضور نے نماز ادا کر کے مجلس کی اور ایک دو مختلف ذکروں کے بعد میاں احمد دین صاحب از گوجرانوالہ نے عرض کی کہ اگر جناب ٹھیک ٹھیک پتر یہاں سے روانگی کا فرما دیں تو کچھ کھانے پینے کا انتظام کر کے گوجرانوالہ پر حاضر رہوں۔ خدا کے برگزیدہ نے فرمایا کہ ہمیں تو خدا ہی لے جاتا ہے۔ اسی کے حکم سے جانا ہے۔ ابھی کیا معلوم کس وقت روانہ ہونا ہے۔ انسان بہت عاجز اور ہیچ ہے۔ خدا ہی کے ساتھ وہ جاتا ہے اور خدا ہی کے ساتھ وہ آتا ہے۔ دیگر احباب نے عرض کی کہ ایک اور صاحب نے راستہ کی خوراک کا انتظام کر لیا ہے اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ دل میں جو اخلاص ہے اس کا ثواب آپ پالیویں گے۔ کیونکہ اب دعوت آپ کی طرف سے تو پیش ہو گئی۔ علالت طبع پر فرمایا کہ اب دو تین دن سیر بند رہے گی۔ کیونکہ آج کل بارشیں نہیں ہوئیں۔ اس لئے راستہ میں خاک بہت اڑتی ہے اور اسی سے میں بیمار بھی ہو گیا تھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ چونکہ لوگ حضور کے آگے آگے چلتے ہیں۔ اس لئے خاک بہت اڑ کر آپ پر پڑتی ہے۔ لیکن اس مجسم رحم انسان نے جواب دیا کہ نہیں۔ بارش کے نہ ہونے سے یہ تکلیف ہے۔ (اللہ اللہ کیا رحم ہے اور حسن ظن ہے کہ اپنے احباب کو ہرگز ملزم نہیں ٹھہراتے
سلسلہ کی تصنیفات
تصنیفات کے ذکر پر فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ ہمارے مخالف ہزاروں ہی ہیں اور ان کے مقابل میں ہماری جماعت بہت قلیل ہے۔ مگر ہماری طرف سے جس قدر تازہ بتازہ کتابیں کثرت سے نکل رہی ہیں۔ ان کی طرف سے معدودے چند بھی نہیں نکلتیں اور کوئی نکلتی بھی ہے تو اس میں گالیاں ہی ہوتی ہیں جوان کے لئے شرم کی جگہ ہے۔
یہود اور نصاریٰ کی افراط اور تفریط
یہود اور عیسائیوں کی نسبت فرمایا کہ ان دونوں کی ضدیں ہیں۔ ایک نے بڑھا دیا ہے ایک نے گھٹا دیا ہے۔ ان کی مثال رافضیوں اور خارجیوں سے خوب ملتی ہے۔ جیسے یہودی کے آگے عیسائی نہیں ٹھہرتے ایسے ہی خارجی کے آگے رافضی نہیں ٹھہرتا۔۱؎
۸؍جنوری ۱۹۰۳ء
بروز پنجشنبہ
جماعت کے لئے ضروری نصائح
نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد جناب شیخ نور احمد صاحب پلیڈر ایبٹ آباد اور سید عابد علی شاہ صاحب بدوملہی اور ایک اور صاحب نے بیعت کی۔ بعد بیعت کے حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہماری جماعت کے لئے ضروری ہے کہ اس پُر آشوب زمانہ میں جب کہ ہر طرف ضلالت، غفلت اور گمراہی کی ہوا چل رہی ہے وہ تقویٰ اختیار کریں۔ دنیا کا یہ حال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی عظمت نہیں ہے۔ حقوق اور وصایا کی پروا نہیں ہے۔ دنیا اور اس کے کاموں میں حد سے زیادہ انہماک ہے۔ ذرا سا نقصان دنیا کا ہوتا دیکھ کر دین کے حصے کو ترک کر دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حقوق ضائع کر دیتے ہیں۔ جیسے کہ یہ سب باتیں مقدمہ بازیوں اور شرکاء کے ساتھ تقسیم حصص میں دیکھی جاتی ہیں۔ لالچ کی نیت سے ایک دوسرے سے پیش آتے ہیں۔ نفسانی جذبات کے مقابلہ میں بہت کمزور ہوئے ہوئے ہیں۔ اس وقت تک کہ خدا نے ان کو کمزور کر رکھا ہے گناہ کی جرأت نہیں کرتے مگر جب ذرا کمزوری دفع ہوئی اور گناہ کا موقع ملا تو جھٹ اس کے مرتکب ہوتے ہیں۔ آج اس زمانہ میں ہر ایک جگہ تلاش کر لو تو یہی پتا ملے گا کہ گویا سچا تقویٰ بالکل اٹھ گیا ہوا ہے اور سچا ایمان بالکل نہیں ہے۔ لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کو منظور ہے کہ ان کا (سچا تقویٰ اور ایمان )تخم ہرگز ضائع نہ کرے۔ جب دیکھتا ہے کہ اب فصل بالکل تباہ ہونے پر آئی ہے تو اور فصل پیدا کر دیتا ہے۔ وہی تازہ بتازہ قرآن موجود ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کہا تھا اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ(الحجر:۱۰) بہت سا حصہ احادیث کا بھی موجود ہے اور برکات بھی ہیں مگر دلوں میں ایمان اور عملی حالت بالکل نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ نے مجھے اسی لئے مبعوث کیا ہے کہ یہ باتیں پھر پیدا ہوں۔ خدا نے جب دیکھا کہ میدان خالی ہے تو اس کے الوہیت کے تقاضا نے ہرگز پسند نہ کیا کہ یہ میدان خالی رہے اور لوگ ایسے ہی دور رہیں اس لئے اب ان کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ ایک نئی قوم زندوں کی پیدا کرنا چاہتا ہے اور اسی لئے ہماری تبلیغ ہے کہ تقویٰ کی زندگی حاصل ہو جاوے۔
صرف ترکِ شر کافی نہیں
آدمی کئی قسم کے ہیں بعض ایسے کہ بدی کر کے پھر اس پر فخر کرتے ہیں۔ بھلا یہ کون سی صفت ہے کہ جس کے اوپر ناز کیا جاوے۔ شر سے اس طرح پرہیز کرنا نیکی میں داخل نہیں ہے اور نہ اس کا نام حقیقی نیکی ہے کیونکہ اس طرح تو جانور بھی سیکھ سکتے ہیں۔ میاں حسین بیگ تاجر ایک شخص تھا اس کے پاس ایک کتّا تھا وہ اسے کہہ جاتا کہ روٹی کو دیکھتا رہ تو وہ روٹی کی حفاظت کرتا۔ اسی طرح ایک بلّی کو سنا ہے کہ اسے بھی ایسے ہی سکھایا ہوا تھا۔ جب بعض لوگوں کو خبر ہوئی تو انہوں نے امتحان کرنا چاہا۔ اور ایک کوٹھڑی کے اندر حلوہ، دودھ اور گوشت وغیرہ ایسی چیزیں رکھ کر جس پر بلّی کو ضرور لالچ آوے اس بلّی کو وہاں چھوڑ کر دروازہ کو بند کر دیا کہ دیکھیں اب وہ ان اشیاء میں سے کھاتی ہے کہ نہیں۔ پھر جب ایک دو دن بعد کھول کر دیکھا تو ہر ایک شَے اسی طرح پڑی تھی اور بلّی مَری ہوئی تھی اور اس نے کسی شَے کو ہلایا تک بھی نہ تھا۔ اس لئے اب شرم کرنی چاہیے کہ انہوں نے حیوان ہو کر انسان کا حکم ایسا مانا اور یہ انسان ہو کر خدا کے حکم کو نہیں مانتا۔ نفس کو تنبیہ کرنے کے واسطے ایسی ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں اور بہت سے وفادار کتّے بھی موجود ہیں مگر افسوس اس کے لئے ہے کہ جو کتّے جتنا مرتبہ بھی نہیں رکھتا تو بتلاوے کہ پھر وہ خدا سے کیا مانگتا ہے؟ انسان کو تو خدا نے وہ قویٰ عطا کئے ہیں کہ اور کسی مخلوق کو عطا نہیں کئے۔ شر سے پرہیز کرنے میں تو بہائم بھی اس کے شریک ہیں۔ بعض گھوڑوں کو دیکھا ہے کہ چابک آقا کے ہاتھ سے گر پڑی تو منہ سے اٹھا کر اسے دیتے ہیں اور اس کے کہنے سے لیٹتے ہیں اور بیٹھتے ہیں اور اٹھتے ہیں اور پوری اطاعت کرتے ہیں تو یہ انسان کا فخر نہیں ہو سکتا کہ چند گنے ہوئے گناہ ہاتھ پاؤں وغیرہ دیگر اعضا کے جو ہیں ان سے بچا رہے۔ جو لوگ ایسے گناہ کرتے ہیں وہ تو بہائم سیرت ہیں جیسے کتوں بلیوں کا کام ہے کہ ذرا برتن ننگا دیکھا تو منہ ڈال لیا اور کوئی کھانے کی شَے ننگی دیکھی تو کھا لی۔ تو ایسے انسان کتّے بلّی کے سے ہی ہوتے ہیں انجام کار پکڑے جاتے ہیں۔ جیل خانوں میں جاتے ہیں جا کر دیکھو تو ایسے مسلمانوں سے زندان بھرے ہوئے ہیں۔
؎ حضرت انساں کہ ح د مشترک را جامع است می توا ن د شد مس یحا می تواند شد خرے دنیا کےلئے کوشش حدِّ اعتدال تک ہو
تو اب یہ موقع ہے اور خدا تعالیٰ کی لہروں کے دن ہیں یعنی جیسے بعض زمانہ خدا کی رحمت کا ہوتا ہے کہ اس میں لوگ قوت پاتے ہیں ایسے ہی یہ وقت ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ بالکل دنیا کے کاروبار چھوڑ دیوے بلکہ ہمارا منشا یہ ہے کہ حدّ اعتدال تک کوشش کرے اور دنیا کو اس نیت سے کماوے کہ وہ دین کی خادم ہو مگر یہ ہرگز روا نہیں ہے کہ اس میں ایسا انہماک ہو جاوے کہ دین کا پہلو ہی بھول ہی جاوے نہ روزہ کی خبر ہے نہ نماز کی۔ جیسے کہ آج کل لوگوں کی حالت دیکھی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر دلی کا جلسہ ہی اب دیکھ لو کہ جہاں کہتے ہیں کہ پندرہ لاکھ آدمی جمع ہوا ہے۔ میرا تصور تو یہی ہے کہ وہ سارے دنیا پرست ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ سب سے زیادہ خدا سے نفرت دلانے والے سلاطین ہی ہیں کیونکہ یہ مثل ایک بڑی دیوی کے ہوتے ہیں جس قدر ان کا قرب زیادہ ہوتا ہے۔ اتنا ہی قلب سخت ہوتا ہے۔ ہم کسی کو تجارت سے منع نہیں کرتے کہ وہ بالکل ترک کر دیوے مگر یہ کہتے ہیں کہ وہ ذرا سوچیں اور دیکھیں کہ ان کے باپ دادا کہاں ہیں؟ بڑے بڑے عزیز انسان کے ہوا کرتے ہیں اور کس طرح وہ ان کے ہاتھوں میں ہی اٹھ جایا کرتے ہیں اور موت کس طرح آپس میں تفرقہ ڈال دیتی ہے۔
س ا ل دیگر را کہ می داند حسا ب
یا کجا رفت آں کہ با ما بود پار
اب طاعون کی بلا سروں پر ہے کہتے ہیں کہ اس کی میعاد ستّر ستّر برس ہوا کرتی ہے اور اس کے آگے کوئی حیلہ پیش نہیں جاتا سب فضول ہوا کرتے ہیں اور اسی لئے آئی ہے کہ خدا کے وجود کو منوا دیوے۔ سوا اس کا وجود برحق ہے اور خدا کی بلا سے سوائے خدا کے کوئی بچا نہیں سکتا۔ سچی تقویٰ اختیار کرو کہ خدا تعالیٰ تم سے راضی ہو۔ جب شریر گھوڑے کی طرح انسان ہوتا ہے تو ماریں کھاتا ہے اور جو خاص لوگ ہیں وہ اشارہ سے چلتے ہیں جیسے سدھا ہوا گھوڑا اشارہ سے چلتا ہے ان کو وحی اور الہام ہوتے ہیں اور لطف کی بات یہ ہے کہ وحی کے معنے اشارہ کے بھی لکھے ہیں۔ مگر جب مار کھانے کا زمانہ گذر جاتا ہے تو پھر وحی کا زمانہ آتا ہے اور یہ بات ضروری ہے کہ یہ مرحلہ سہولت سے طے نہیں ہوتا۔ کیونکہ تقویٰ ایسی شَے نہیں ہے جو کہ صرف منہ سے انسان کو حاصل ہو جاوے بلکہ یہ کہ شیطانی گناہ کا کوئی حصہ دار ہے۔ اس کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے ذراسی شیرینی رکھ دیں تو بے شمار چیونٹیاں اس پر آجاتی ہیں۔ یہی حال شیطانی گناہوں کا ہے اور اسی سے انسانی کمزوری کا حال معلوم ہوتا ہے۔ اگر خدا چاہتا تو ایسی کمزوری نہ رکھتا۔
ہر طاقت کا سرچشمہ خدا تعالیٰ ہے
مگر خدا تعالیٰ کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اس بات کا علم ہو کہ ہر ایک طاقت کا سرچشمہ خدا ہی کی ذات ہے۔ کسی نبی یا رسول کو یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ اپنے پاس سے طاقت دے سکے اور یہی طاقت جب خدا کی طرف سے انسان کو ملتی ہے تو اس میں تبدیلی ہوتی ہے اس کے حاصل کرنے کے واسطے ضروری ہے کہ دعا سے کام لیا جاوے اور نماز ہی ایک ایسی نیکی ہے کہ جس کے بجالانے سے شیطانی کمزوری دور ہوتی ہے اور اسی کا نام دعا ہے۔ اور شیطان چاہتا ہے کہ انسان اس میں کمزور رہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جس قدر اصلاح اپنی کرے گا وہ اسی ذریعہ سے کرے گا۔ پس اس کے واسطے پاک صاف ہونا شرط ہے۔ جب تک گندگی انسان میں ہوتی ہے اس وقت تک شیطان اس سے محبت کرتا ہے۔
دعا کے آداب
خدا تعالیٰ سے مانگنے کے واسطے ادب کا ہونا ضروری ہے اور عقلمند جب کوئی شَے بادشاہ سے طلب کرتے ہیں تو ہمیشہ آداب کو مد نظر رکھتے ہیں۔ اسی لئے سورۂ فاتحہ میں خدا تعالیٰ نے سکھایا ہے کہ کس طرح مانگا جاوے اور اس میں دکھایا ہے کہ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(الفاتحۃ:۲) یعنی سب تعریف خدا کو ہی ہے جو رب ہے سارے جہان کا۔ الرَّحْمٰنِ یعنی بلا مانگے اور سوال کئے کے دینے والا اور الرَّحِیْمِ یعنی انسان کی سچی محنت پر ثمراتِ حسنہ مرتّب کرنے والا ہے۔ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ(الفاتحۃ:۴) جزا سزا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ چاہے رکھے چاہے مارے۔ اور جزا وسزا آخرت کی بھی ہے اور اس دنیا کی بھی اسی کے ہاتھ میں ہے جب اس قدر تعریف انسان کرتا ہے تو اسے خیال آتا ہے کہ کتنا بڑا خدا ہے جو کہ رب ہے۔ رحمٰن ہے۔ رحیم ہے۔ اب تک اسے غائب مانتا چلا آرہا ہے اور پھر اسے حاضر ناظر جان کر پکارتا ہے کہ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ(الفاتحۃ:۵ تا ۶) یعنی ایسی راہ جو کہ بالکل سیدھی ہے اس میں کسی قسم کی کجی نہیں ہے۔ ایک راہ اندھوں کی ہوتی ہے کہ محنتیں کر کر کے تھک جاتے ہیں اور نتیجہ کچھ نہیں نکلتا اور ایک وہ راہ کہ محنت کرنے سے اس پر نتیجہ مرتّب ہوتا ہے۔ پھر آگے صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحۃ:۷) یعنی ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا اور وہ وہی صـراط المستقیم ہے جس پر چلنے سے انعام مرتّب ہوتے ہیں۔ پھر غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحۃ:۷) نہ ان لوگوں کی راہ جن پر تیرا غضب ہوا۔ اور وَلَا الضَّآلِّیۡنَ(الفاتحۃ:۷) اور نہ ان کی جو دور جا پڑے ہیں۔
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ(الفاتحۃ:۶) سے کل دنیا اور دین کے کاموں کی راہ مراد ہے۔ مثلاً ایک طبیب جب کسی کا علاج کرتا ہے تو جب تک اسے ایک صراط مستقیم ہاتھ نہ آوے علاج نہیں کر سکتا۔ اسی طرح تمام وکیلوں اور ہر پیشہ اور علم کی ایک صراط مستقیم ہے کہ جب وہ ہاتھ آ جاتی ہے تو پھر کام آسانی سے ہو جاتا ہے۔
اس مقام پر ایک صاحب نے اعتراض کیا کہ انبیاء کو اس دعا کی کیوں ضرورت تھی وہ تو پیشتر ہی سے صراط مستقیم پر ہوتے ہیں؟ تلمیذ الرحمٰن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ یہ دعا ترقی مراتب اور درجات کے لئے طلب کرتے ہیں بلکہ یہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ(الفاتحۃ:۶) تو آخرت میں مومن بھی مانگیں گے کیونکہ جیسے اللہ تعالیٰ کی کوئی حد نہیں ہے اسی طرح اس کے پاس درجات اور مراتب کی ترقی کی بھی کوئی حد نہیں ہے۔۱؎
تقویٰ کی حقیقت
پھر اصل مضمون تقویٰ پر فرمایا کہ)
متقی بننے کے واسطے یہ ضروری ہے کہ بعد اس کے کہ موٹی باتوں جیسے زنا، چوری، تلفِ حقوق، ریا، عُجب، حقارت، بخل کے ترک میں پکا ہو تو اخلاق رذیلہ سے پرہیز کر کے ان کے بالمقابل اخلاق فاضلہ میں ترقی کرے۔ (اس کے لئے حضرت اقدس کی تصنیف اسلام کی فلاسفی اور کشتی نوح مطالعہ کرنی چاہیے) لوگوں سے مروّت، خوش خلقی، ہمدردی سے پیش آوے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا وفا اور صدق دکھلاوے۔ خدمات کے مقام محمود تلاش کرے۔ ان باتوں سے انسان متقی کہلاتا ہے اور جو لوگ ان باتوں کے جامع ہوتے ہیں۔ وہی اصل متقی ہوتے ہیں (یعنی اگر ایک ایک خُلق فرداً فرداً کسی میں ہو تو اسے متقی نہ کہیں گے جب تک بحیثیت مجموعی اخلاقِ فاضلہ اس میں نہ ہوں) اور ایسے ہی شخصوں کے لئے لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ(البقرۃ:۶۳) ہے۔ اور اس کے بعد ان کو کیا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ایسوں کا متولّی ہو جاتا ہے جیسے کہ وہ فرماتا ہے وَہُوَ یَتَوَلَّی(الاعراف:۱۹۷) الصّٰلِحِیْنَ(الاعراف:۱۹۷) حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ ہو جاتا ہے جس سے وہ پکڑتے ہیں۔ ان کی آنکھ ہو جاتا ہے جس سے وہ دیکھتے ہیں۔ ان کے کان ہو جاتا ہے جس سے وہ سنتے ہیں۔ ان کے پاؤں ہو جاتا ہے جس سے وہ چلتے ہیں اور ایک اور حدیث میں ہے کہ جو میرے ولی کی دشمنی کرتا ہے میں اس سے کہتا ہوں کہ میرے مقابلہ کے لئے طیار رہو۔ اور ایک جگہ فرمایا ہے کہ جب کوئی خدا کے ولی پر حملہ کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس پر ایسے جھپٹ کر آتا ہے جیسے ایک شیرنی سے کوئی بچہ اس کا چھینے تو وہ غضب سے جھپٹتی ہے۔
نماز کی اہمیت
خدا کی رحمت کے سرچشمہ سے فائدہ اٹھانے کا اصل قاعدہ یہی ہے اور خدا تعالیٰ کا یہ خاصّہ ہے کہ جیسے اس (انسان) کا قدم بڑھتا ہے ویسے ہی پھر خدا کا قدم بڑھتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی خاص رحمتیں ہر ایک کے ساتھ نہیں ہوتیں اور اسی لئے جن پر یہ ہوتی ہیں ان کے لئے وہ نشان بولی جاتی ہیں۔ (اس کی نظیر دیکھ لو) کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کے دشمنوں نے کیا کیا کوششیں آپ کی ناکامیابی کے واسطے کیں مگر ایک پیش نہ گئی حتی کہ قتل کے منصوبے کئے مگر آخر ناکامیاب ہی ہوئے۔ خدا تعالیٰ یہ تجویز پیش کرتا ہے (اس خاص رحمت کے حصول کے واسطے جو اخلاق وغیرہ حاصل کئے جاویں تو) ان امروں کو چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جاوے نہ کہ ہمارے سامنے۔ اپنے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت اور عظمت کا سلسلہ جاری رکھیں اور اس کے لئے نماز سے بڑھ کر اور کوئی شَے نہیں ہے۔ کیونکہ روزے تو ایک سال کے بعد آتے ہیں۔ اور زکوٰۃ صاحبِ مال کو دینی پڑتی ہے مگر نماز ہے کہ ہر ایک (حیثیت کے آدمی) کو پانچوں وقت ادا کرنی پڑتی ہے اسے ہرگز ضائع نہ کریں۔ اسے بار بار پڑھو اور اس خیال سے پڑھو کہ میں ایسی طاقت والے کے سامنے کھڑا ہوں کہ اگر اس کا ارادہ ہو تو ابھی قبول کر لیوے۔ اُسی حالت میں بلکہ اسی ساعت میں بلکہ اُسی سیکنڈ میں۔ کیونکہ دوسرے دنیاوی حاکم تو خزانوں کے محتاج ہیں اور ان کو فکر ہوتی ہے کہ خزانہ خالی نہ ہو جاوے اور ناداری کا ان کو فکر لگا رہتا ہے مگر خدا تعالیٰ کا خزانہ ہر وقت بھرا بھرایا ہے۔ جب اس کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو صرف یقین کی حاجت ہوتی ہے کہ اسے اس اَمر پر یقین ہو کہ میں ایک سمیع، علیم اور خبیر اور قادر ہستی کے سامنے کھڑا ہوا ہوں اگر اسے مہر آجاوے تو ابھی دے دیوے۔ بڑی تضرع سے دعا کرے۔ ناامید اور بدظن ہرگز نہ ہووے اگر اس طرح کرے تو (اس راحت کو) جلدی دیکھ لیوے گا اور خدا تعالیٰ کے اَور اَور فضل بھی شاملِ حال ہوں گے اور خود خدا بھی ملے گا تو یہ طریق ہے جس پر کاربند ہونا چاہیے مگر ظالم فاسق کی دعا قبول نہیں ہوا کرتی کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے لاپروا ہے اور خدا تعالیٰ بھی اس سے لاپروا ہے۔ ایک بیٹا اگر باپ کی پروانہ کرے اور ناخلف ہو تو باپ کو اس کی پروا نہیں ہوتی تو خدا کو کیوں ہو۔
ایک صاحب نے عرض کی کہ بلعم باعور کی دعا کیوں قبول ہوئی تھی؟
دعا اور ابتلا
فرمایا۔ وہ ابتلا تھا دعا نہ تھی آخر وہ مارا ہی گیا۔ دعا وہ ہوتی ہے جو کہ خدا کے پیارے کرتے ہیں ورنہ یوں تو خدا تعالیٰ ہندوؤں کی بھی سنتا ہے اور بعض ان کی مرادیں پوری ہو جاتی ہیں مگر ان کا نام ابتلا ہے دعا نہیں ہے مثلاً اگر خدا سے کوئی روٹی مانگے تو کیا نہ دے گا؟ اس کا وعدہ ہے مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزۡقُہَا(ھود:۷) کتّے بلّی بھی تو اکثر پیٹ پالتے ہیں اور کیڑوں مکوڑوں کو بھی رزق ملتا ہے مگر اصْطَفَیْنَا(فاطر:۳۳) کا لفظ خاص موقعوں کے لئے ہے۔
مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ثبوت
یہاں تک تقریر حضرت اقدس نے مبائعین کے واسطے کی جن میں سے ایک تو شیخ نور احمد پلیڈر اور دوسرے عابد علی شاہ صاحب بدوملہی تھے۔ اس کے بعد حضور انور نے پھر ابو سعید عرب صاحب کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ
آپ نے جو ثبوت مسیحیت کے دعویٰ کے بارے میں پوچھا تھا یہ بہت ضروری بات تھی اور اس کو خوب یاد رکھنا چاہیے۔ اگر آپ سے کوئی ان ممالک (ملک برہما) میں پوچھے کہ ہماری صداقت کا کیا ثبوت ہے تو مختصر طور پر یہی جواب دینا چاہیے کہ وہی ثبوت ہے جو کہ موسٰی اور عیسیٰ علیہ السلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے ہونے کا ہے تمام انبیاء کی صداقت کے دو ہی ثبوت ہوتے ہیں۔ اوّل۔ کتب سابقہ میں ان کا ذکر مگر وہ استعارہ کے رنگ میں ضرور ہوتا ہے اور اس میں ایک پہلو ٹھوکر کا بھی ہوتا ہے جیسے یہود کو دھوکا لگا ہے کہ آنحضرتؐ کو تو بنی اسرائیل میں سے آنا چاہیے تھا بنی اسماعیل میں سے کیوں ہوئے اور پھر اسی طرح مسیحؑ کے وقت الیاس کے منتظر رہے۔ ان معاملوں میں اب تک جھگڑتے ہیں اور یہ سب ان کی بکواس ہے۔
اسی طرح ہمارا ذکر کتب سابقہ میں ہے۔ اگر کوئی ہم سے بھی اسی طرح بکواس سے جھگڑا کرے تو انہی میں سے ہوگا۔
دوسرا ثبوت نشانات ہیں جن سے بہت صفائی سے استنباط ہوتا ہے وہی ثبوت ہمارے ساتھ بھی ہے اور جس قاعدہ سے خدا تعالیٰ نے یہ نشانات دکھلائے ہیں اگر اسی طرح شمار کریں تو یہ بیس لاکھ سے بھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ یَّاۡتِیۡنَ مِنۡ کُلِّ فَجٍّ عَمِیۡقٍ(الحج:۲۸) اور یَّاۡتِیۡنَ مِنۡ کُلِّ فَجٍّ عَمِیۡقٍ(الحج:۲۸) کے تحت میں آ کر ہر ایک شخص جو ہمارے پاس آتا ہے اور ہر ایک ہدیہ اور نذر جو پیش ہوتی ہے ایک ایک نشان الگ الگ ہے مگر ہم نے صرف نشان ایک سو پچاس نزول المسیح میں درج کئے ہیں جس کے ہزار ہا گواہ موجود ہیں۔ پھر دیکھو کہ یہ کس وقت کی خبر ہے۔ قرآن کی نصوص، حدیث کی اخبار اور مکاشفات اور رؤیا وغیرہ سب ہماری تائید میں ہے، پھر اس کے علاوہ خدا تعالیٰ کے نشانات۔ پھر زمانہ کی موجودہ ضرورت یہ سب ثبوت پیش کرنے کے قابل ہیں۔ اس وقت خدا کا منشا ہے کہ لوگوں کو غلطیوں سے نکالے اور تقویٰ پر قائم کرے۔ خدا تعالیٰ جس جس کو چاہے گا بلاتا جاوے گا۔ یہ اس کی طرف سے ایک دعوت ہے جو بلایا جاتا ہے اسے فرشتے کھینچ کھینچ کر لے آتے ہیں۔۱؎
۱۰؍جنوری ۱۹۰۳ء
مولوی ثناء اللہ صاحب کا قادیان آنا
عصر کے وقت خدا کے برگزیدہ حضرت مسیح موعودؑ کو یہ خبر ہوئی کہ مولوی ثناء اللہ امرتسری قادیان میں آئے ہوئے ہیں مگر آپ نے اس کے متعلق صرف یہی فرمایا کہ ہزاروں لوگ راہ رو آتے ہیں ہمیں اس سے کیا؟ مغرب کی نماز باجماعت ادا کر کے جب حضرت اقدس دولت سرا کو تشریف لے چلے تو ایک شخص نے ہاتھ میں قلم دوات لئے ہوئے حضرت کی خدمت میں کچھ کاغذات پیش کئے۔ اس قلم دوات سے اس کی یہ غرض تھی کہ حضرت سے رقعہ کی رسید لے مگر حضرت نے توجہ نہ کی اور اس کے وہ کاغذات لے کر تشریف لے گئے اور جب عشاء کی نماز کے واسطے تشریف لائے تو فرمایا کہ ایک ہی مضمون کے دو رقعہ مولوی ثناء اللہ کی طرف سے پہنچے ہیں۔ نہیں معلوم کہ دو رقعوں کی کیا غرض تھی۔
اس وقت یہ عقدہ حل ہوا کہ غالباً دوسرا رقعہ دستخط یعنی رسید رقعہ لینے کے واسطے تھا مگر قاصد کو رسید مانگنے کی جرأت نہ ہوئی اور وہ رقعہ اس وقت سید سرور شاہ صاحب کے حوالہ کیا گیا کہ وہ اسے پڑھ کر اہل مجلس کو سنا دیویں۔
حضرت اقدس نے اس پر فرمایا کہ ہم طیار ہیں وہ ہفتہ عشرہ آرام سے سب باتیں سنے۔ اور اس کا منشا مباحثہ کا ہو تو یہ اس کی غلطی ہے کیونکہ اب مدت ہوئی کہ ہم مباحثات کو بند کر چکے ہیں۔ اگر اس کو طلبِ حق کی ضرورت ہے تو رفق اور آہستگی سے اپنی تو غلطی دور کراوے۔ طالب حق کے واسطے ہمارا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ ہاں جو شخص ایک منٹ رہ کر چلا جانا چاہتا ہے اور اسے فتح اور شکست اور ہار اور جیت کا خیال ہے وہ مستفید نہیں ہو سکتا بجز ایسے شخص کے جو نیک نیت بن کر آوے۔ ہم تو دوسرے کے ساتھ کلام کرنا بھی تضیع اوقات خیال کرتے ہیں۔ ہمیں تعجب ہے کہ وہ کیوں گھمار کے ہاں جا کر اترے۔ چاہیے تھا کہ مستفیدوں کی طرح آتا اور ہمارے مہمان خانہ میں اترتا۔
پھر فرمایا کہ ہم اس رقعہ کا صبح کو جواب دیویں گے۔
اس کے بعد حضرت اقدس جب نماز سے فارغ ہو کر تشریف لے چلے تو ثناء اللہ صاحب کے قاصد نے آواز دی کہ حضرت جی! مولوی ثناء اللہ صاحب کے رقعہ کا کیا جواب ہے؟
حضرت نے فرمایا کہ صبح کو دیا جائے گا۔
قاصد نے پوچھا کہ میں آ کر جواب لے جاؤں یا آپ بذریعہ ڈاک روانہ کریں گے۔
حضرت اقدس نے فرمایا۔ خواہ تم لے جاؤ خواہ ثناء اللہ آ کر لے جائے۔
پھر آپ نے قاصد کا نام پوچھا۔ اس نے کہا محمد صدیق۔۱؎
۱۱؍جنوری ۱۹۰۳ء
بروز یکشنبہ
فجر کی نماز کو جب حضرت اقدس تشریف لائے تو قبل از نماز
آ
پ نے وہ رقعہ جو مولوی ثناء اللہ صاحب کے رقعہ کے جواب میں تحریر فرمایا تھا۔ احباب کو سنایا۔ وہ رقعہ یہ تھا۔
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ(الفاتحۃ:۱) نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
از طرف عایذ باللہ الصمد غلام احمد عافاہ اللہ واید
بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب۔
آپ کا رقعہ پہنچا۔ اگر آپ لوگوں کی صدق دل سے یہ نیت ہو کہ اپنے شکوک و شبہات پیشگوئیوں کی نسبت یا ان کے ساتھ اور امور کی نسبت بھی جو دعویٰ سے تعلق رکھتے ہوں، رفع کراویں تو یہ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہوگی اور اگرچہ میں کئی سال ہوئے کہ اپنی کتاب انجام آتھم میں شائع کر چکا ہوں کہ میں اس گروہ مخالف سے ہرگز مباحثات نہ کروں گا کیونکہ اس کا نتیجہ بجز گندی گالیوں اور اوباشانہ کلمات سننے کے اور کچھ نہیں ہوا مگر میں ہمیشہ طالب حق کے شبہات دور کرنے کے لئے طیار ہوں۔ اگرچہ آپ نے اب بھی اس رقعہ میں دعویٰ تو کر دیا ہے کہ میں طالب حق ہوں مگر مجھے تأمل ہے کہ اس دعوے پر آپ قائم رہ سکیں۔ کیونکہ آپ لوگوں کی عادت ہے کہ ایک بات کو کشاں کشاں بے ہودہ اور اَور مباحثات کی طرف لے آتے ہیں اور میں خدا تعالیٰ کے سامنے وعدہ کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے مباحثات ہرگز نہیں کروں گا۔ سو وہ طریق جو مباحثات سے بہت دور ہے وہ یہ ہے کہ آپ اس مرحلہ کو صاف کرنے کے لئے اوّل یہ اقرار کریں کہ آپ منہاج نبوت سے باہر نہیں جاویں گے۔ اور وہی اعتراض کریں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یا حضرت عیسٰیؑ پر یا حضرت موسٰی پر یا حضرت یونسؑ پر عائد نہ ہوتا ہو اور حدیث اور قرآن کی پیشگوئیوں پر زد نہ ہو۔ دوسری شرط یہ ہوگی کہ آپ زبانی بولنے کے ہرگز مجاز نہ ہوں گے۔ صرف آپ مختصر ایک سطر یا دو سطر تحریر دے دیں کہ میرا یہ اعتراض ہے۔ پھر آپ کو عین مجلس میں مفصل جواب سنایا جائے گا۔ اعتراض کے لئے لمبا لکھنے کی ضرورت نہیں ایک سطر یا دو سطر کافی ہیں۔ تیسری یہ شرط ہوگی کہ ایک دن میں صرف ایک ہی آپ اعتراض پیش کریں گے کیونکہ آپ اطلاع دے کر نہیں آئے۔ چوروں کی طرح آگئے اور ہم ان دنوں میں بباعث کم فرصتی اور کام طبع کتاب کے تین گھنٹہ سے زیادہ خرچ نہیں کر سکتے۔
یاد رہے یہ ہرگز نہ ہوگا کہ عوام کالانعام کے روبرو آپ واعظ کی طرح ہم سے گفتگو شروع کر دیں بلکہ آپ نے بالکل منہ بند رکھنا ہوگا۔ جیسے صُمٌّۢ بُکۡمٌ(البقرۃ:۱۹) یہ اس لئے کہ تا گفتگو مباحثہ کے رنگ میں نہ ہو جاوے۔ اوّل صرف ایک پیشگوئی کی نسبت سوال کریں۔ میں تین گھنٹہ تک اس کا جواب دے سکتا ہوں اور ایک ایک گھنٹہ کے بعد آپ کو متنبہ کیا جائے گا کہ اگر ابھی تسلّی نہیں ہوئی تو اور لکھ کر پیش کرو۔ آپ کا کام نہیں ہوگا کہ اس کو سناویں ہم خود پڑھ لیں گے۔ مگر چاہیے کہ دو تین سطر سے زیادہ نہ ہو۔ اس طرز میں آپ کا کچھ حرج نہیں ہے کیونکہ آپ تو شبہات دور کرانے آئے ہیں۔ یہ طریق شبہات دور کرانے کا بہت عمدہ ہے۔ میں بآواز بلند لوگوں کو سنا دوں گا کہ اس پیشگوئی کی نسبت مولوی ثناء اللہ صاحب کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا ہے اور اس کا یہ جواب ہے۔ اس طرح تمام وساوس دور کر دیئے جاویں گے لیکن اگر چاہو کہ بحث کے رنگ میں آپ کو بات کا موقع دیا جاوے تو یہ ہرگز نہیں ہوگا۔ ۱۴؍ جنوری ۱۹۰۳ء تک میں اس جگہ ہوں۔ بعد میں ۱۵؍ جنوری ۱۹۰۳ء کو ایک مقدمہ پر جہلم جاؤں گا۔ سواگرچہ بہت کم فرصتی ہے۔ لیکن ۱۴؍ جنوری تک تین گھنٹہ تک آپ کے لئے خرچ کر سکتا ہوں۔ اگر آپ لوگ کچھ نیک نیتی سے کام لیویں تو یہ ایسا طریق ہے کہ اس سے آپ کو فائدہ ہوگا۔ ورنہ ہمارا اور آپ لوگوں کا آسمان پر مقدمہ ہے خود خدا تعالیٰ فیصلہ کرے گا۔ وَالسَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الۡہُدٰی(طٰہٰ:۴۸)۔
سوچ کر دیکھ لو کہ یہ بہتر ہوگا کہ آپ بذریعہ تحریر جو سطر دو سطر سے زیادہ نہ ہو ایک ایک گھنٹہ کے بعد اپنا شبہ پیش کرتے جائیں گے اور میں وہ وسوسہ دور کرتا جاؤں گا۔ ایسے ہی صدہا آدمی آتے ہیں اور وسوسہ دور کرا لیتے ہیں۔ ایک بھلا مانس شریف آدمی ضرور اس بات کو پسند کرے گا۔ اس کو اپنے وساوس دور کرانے ہیں اور کچھ غرض نہیں لیکن وہ لوگ جو خدا سے نہیں ڈرتے ان کی تو نیتیں ہی اور ہوتی ہیں۔
میرزا غلام احمد (مہر)
اور فرمایا کہ یہ طریق بہت امن کا ہے۔ اگر یہ نہ کیا جاوے تو بدامنی اور بدنتیجہ کا اندیشہ ہے۔ پھر فرمایا کہ
ایک رؤیا
ابھی فجر کو میں نے ایک خواب دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک کاغذ ہے۔ اس کے ایک طرف کچھ اشتہار ہے اور دوسری طرف ہماری طرف سے لکھا ہوا ہے جس کا عنوان یہ ہے بَقِیَّۃُ الطَّاعُوْنِ۔ اس کے بعد فجر کی نماز ادا ہوئی تو حضرت اقدس نے قلم دوات طلب فرمائی اور کہا کہ کچھ تھوڑا سا اور اس رقعہ پر لکھنا ہے۔ اتنے میں مولوی ثناء اللہ صاحب کے قاصد پھر آ موجود ہوئے اور جواب طلب کیا۔ حضرت نے فرمایا کہ ابھی لکھ کر دیا جاتا ہے۔ پھر بقیہ حصہ آپ نے لکھ کر اپنے خدام کے حوالہ کیا کہ اس کی نقل کرکے روانہ کردو۔ وہ حصہ رقعہ کا یہ ہے۔ بالآخر اس غرض کے لئے اب آپ اگر شرافت اور ایمان رکھتے ہیں تو قادیان سے بغیر تصفیہ کے خالی نہ جاویں۔ دو قسموں کا ذکر کرتا ہوں (۱) اوّل چونکہ میں انجام آتھم میں خدا سے قطعی عہد کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے کوئی بحث نہیں کروں گا۔ اس وقت پھر اسی عہد کے مطابق قسم کھاتا ہوں کہ میں زبانی آپ کی کوئی بات نہیں سنوں گا۔ صرف آپ کو یہ موقع دیا جاوے گا کہ آپ اوّل ایک اعتراض جو آپ کے نزدیک سب سے بڑا اعتراض کسی پیشگوئی پر ہو ایک سطر یا دو سطر یا حد تین سطر تک لکھ کر پیش کریں جس کا یہ مطلب ہو کہ یہ پیشگوئی پوری نہ ہوئی اور منہاج نبوت کی رو سے قابل اعتراض ہے اور پھر چپ رہیں اور میں مجمع عام میں اس کا جواب دوں گا جیسا کہ مفصل لکھ چکا ہوں۔ پھر دوسرے دن دوسری پیشگوئی اسی طرح لکھ کر پیش کریں۔ یہ تو میری طرف سے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس سے باہر نہیں جاؤں گا اور کوئی زبانی بات نہیں سنوں گا اور آپ کی مجال نہیں ہوگی کہ ایک کلمہ بھی زبانی بول سکیں اور (۲) آپ کو بھی خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ اگر آپ سچے دل سے آئے ہیں تو اس کے پابند ہو جاویں اور ناحق فتنہ و فساد میں عمر بسر نہ کریں۔ اب ہم دونوں میں سے ان دونوں قسموں سے جو شخص اعراض کرے گا اس پر خدا کی لعنت ہو اور خدا کرے کہ وہ اس لعنت کا پھل بھی اپنی زندگی میں دیکھ لے۔ آمین۔ سوم یں اب دیکھوں گا کہ آپ سنّت نبویہ کے موافق اس قسم کو پوری کرتے ہیں یا قادیان سے نکلتے ہوئے اس لعنت کو ساتھ لے جاتے ہیں۔ اور چاہیے کہ اوّل آپ مطابق اس عہد مؤکد بقسم کے آج ہی ایک اعتراض دو تین سطر کا لکھ کر بھیج دیں اور پھر وقت مقرر کر کے مسجد میں مجمع کیا جاوے گا اور آپ کو بتلایا جاوے گا اور عام مجمع میں آپ کے شیطانی وساوس دور کر دیئے جاویں گے۔
‘‘رقعہ دے کر آپ تشریف لے گئے اور اندر سے حضور نے کہلا بھیجا کہ رقعہ وہاں ان کو جا کر سنا دیا جاوے اور پھر ان کے حوالے کر دیا جاوے۔
تھوڑے عرصہ کے بعد پھر مولوی ثناء اللہ صاحب کی طرف سے جواب الجواب آیا۔۱؎
یہ نامعقول اور اصل بحث سے بالکل دور جواب سن کر حضرت اقدس کو بہت رنج ہوا اور آپ نے فرمایا کہ
ہم نے جو اسے خدا کی قسم دی تھی اس سے فائدہ اٹھاتا یہ نظر نہیں آتا۔ اب خدا کی لعنت لے کر واپس جانا چاہتا ہے۔ جس بات کو ہم بار بار لکھتے ہیں کہ ہم مباحثہ نہیں کرتے جیسے کہ ہم انجام آتھم میں اپنا عہد دنیا میں شائع کر چکے ہیں۔ تو اب اس کا منشا ہے کہ ہم خدا کے اس عہد کو توڑ دیویں۔ یہ ہرگز نہ ہوگا اور پھر اس رقعہ میں کس قدر افترا سے کام لیا گیا ہے کیونکہ جب ہم اسے اجازت دیتے ہیں کہ ہر ایک گھنٹہ کے بعد وہ دو تین سطریں ہماری تقریر پر اپنے شبہات کی لکھ دیوے تو اس طرح سے خواہ اس کی ایک دن میں تیس سطور ہو جاویں ہم کب گریز کرتے ہیں اور خواہ ایک ہی پیشگوئی پر وہ ہم سے دس دن تک سنتا رہتا اور اپنے وساوس اسی طرز سے پیش کرتا رہتا۔ اسے اختیار تھا۔ پھر ایک دوسرا جھوٹ یہ بولا ہے کہ لکھتا ہے کہ آپ مجمع پسند نہیں کرتے۔ بھلا ہم نے کب لکھا ہے کہ ہم مجمع پسند نہیں کرتے بلکہ ہم تو عام جلسہ چاہتے ہیں کہ تمام قادیان کے لوگ اور دوسرے بھی جس قدر ہوں جمع ہوں تا کہ ان لوگوں کی بے ایمانی کھلے کہ کس طرح یہ لوگوں کو فریب دے رہے ہیں۔ اگر اسے حق کی طلب ہوتی تو اسے ہمارے شرائط ماننے میں کیا دیر تھی مگر یہ بے نصیب واپس جاتا نظر آتا ہے۔
پھر حضور ا ن ور ن ے مولوی محمد احسن صاحب کو حکم دیا کہ آپ اس کا جواب لکھ دیں مجھے فرصت نہیں۔ میں کتاب لکھ رہا ہوں۔
یہ کہہ کر حضور تشریف لے گئے اور مولانا مولوی محمد احسن صاحب نے جو جواب اس رقعہ کا تحریر فرمایا اس کے بعد کوئی جواب ثناء اللہ صاحب کی طرف سے نہ آیا اور وہ دُم دبا کر قادیان سے چلے گئے۔۱؎
۱۲؍جنوری ۱۹۰۳ء بروز دوشنبہ
(بوقتِ ظہر)
اللہ تعالیٰ کے راستے میں زمین دینے کا ایک طریق
اس وقت ایک شخص نے حضرت اقدس سے عرض کی کہ میرے پاس کچھ زمین ہے۔ مگر ایک عرصہ سے اس کی آبادی کی کوشش کرتا ہوں لیکن کوئی کامیابی نہیں ہوتی۔ اس لئے اب ارادہ ہے کہ اسے خدا کے نام پر احمدیہ مشن کی خدمت میں وقف کر دوں۔ شاید اللہ تعالیٰ اس میں آبادی کر دیوے اور وہ دین کی راہ میں کام آوے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ آپ کی نیت کا ثواب تو خدا تعالیٰ آپ کو دے گا لیکن آپ خود وہاں جا کر آبادی کریں اور اخراجات کاشت وغیرہ نکال کر پھر جو کچھ اس میں سے بچا کرے وہ اللہ کے نام پر اس سلسلہ میں دے دیا کریں۔۱؎
۱۳؍جنوری ۱۹۰۳ء
بروز سہ شنبہ (نماز فجر کے وقت) ابو سعید عرب صاحب نے حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ چونکہ جناب نے جمعرات کو روانہ ہونا ہے اور آدمی زیادہ ہوں گے اس لئے ریلوے کمروں کو ریزرو کروا لینے سے آرام ہوگا۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہاں۔ یہ امر مناسب ہے کہ تکلیف نہ ہو۔ عرب صاحب نے تجویز کی کہ سیکنڈ کلاس کی نسبت میرا یہ خیال ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی اور احباب ملنے آویں یا ہمراہ بیٹھیں تو وہ بیٹھ نہ سکیں گے اور بعض وقت کوئی انگریز صاحب بھی آجاویں تو ان کو روکا نہیں جاتا۔ اللہ اللہ خدا کے برگزیدوں کو دنیاوی کاروبار سے کس قدر بے خبری ہوتی ہے۔ فرمایا۔ ہم تو اس گاڑی میں بیٹھیں گے جس میں پاخانہ ہو۔ عرب صاحب نے کہا کہ حضور سیکنڈ کلاس میں بھی جائے ضرور ہوتا ہے اور چونکہ آپ بڑے آدمی ہیں اور ایک فرقہ کے لیڈر ہیں جناب کو ضرور فسٹ کلاس یا سیکنڈ کلاس میں بیٹھنا چاہیے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ جانے دو ہمیں تو اس پاخانہ والی گاڑی (انٹرمیڈیٹ )میں بیٹھنے کی عادت ہے۔
الٰہی جماعتوں میں ارتداد
خاکسار ایڈیٹر نے مولوی جمال الدین صاحب سیّد والہ کی طرف سے عرض کی کہ ایک حافظ نے ان کو بلا کر بہت ناجائز دھمکیاں دی ہیں اور کچھ آدمی جو بیعت میں داخل تھے ان کو بہکا کر بیعت سے توبہ کروائی ہے۔ مولوی صاحب نے درخواست کی ہے کہ دعا کی جاوے کہ خدا ان کو نیچا دکھاوے۔
فرمایا کہ مرتد ہونا یہ بھی ایک سنّت اللہ ہے۔ موسٰی کے وقت میں بھی مرتد ہوئے۔ آنحضرتؐ کے وقت بھی مرتد ہوئے اور عیسٰیؑ کے وقت کا تو ارتداد ہی عجیب ہے۔ خدا کا وعدہ ہے کہ اگر ایک جائے گا تو وہ اس کے بدلے میں ایک جماعت دے دے گا۔
مواہب الرحمٰن کی اشاعت
چونکہ آج کل رات دن ایک عربی کتاب برائے تبلیغ زیر طبع ہے اور اس کے پروف وغیرہ دیکھے جانے میں صرف اس لئے کمال احتیاط سے کام لیا جاتا ہے کہ فرقہ مولویوں نے اب ہر ایک قسم کی بددیانتی غلط بیانی کو حضرت میرزا صاحب کے مقابلے میں جائز رکھا ہوا ہے۔ پروف کی صحت پر فرمایا کہ ان لوگوں کو کیا علم ہے کہ ہم کس طرح راتوں کو کام کر کر کے کتابیں چھپواتے ہیں اور پھر اگر پریس مین کی ذرا سی غلطی رہ جاوے تو ان لوگوں کو اعتراض کا موقع مل جاتا ہے حالانکہ خود محمد حسین نے میرے سامنے ایک دفعہ اشاعت السنہ کی چھپوائی پر اعتراف کیا کہ ایسی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ لیکن اب ان لوگوں کی حالت مسخ شدہ ہے کہاں سے کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے۔
(بوقتِ ظہر)
کمرہ گرم کرنے کے متعلق ہدایت
قبل از نماز حضرت اقدس نے سید فضل شاہ صاحب کو یہ کہا کہ آپ کا کمرہ بہت تاریک رہتا ہے اور اس میں نم بھی زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ آج کل وبائی دن ہیں۔ رعایت اسباب کے لحاظ سے ضروری ہے کہ وہاں آگ وغیرہ جلا کر مکان گرم کر لیا کریں۔
(بوقتِ مغرب)
کتاب مواہب الرحمٰن
اس وقت حضرت اقدس تشریف لائے تو کتاب زیر طبع کی نسبت فرمایا کہ امید ہے کہ یہ معجزہ کی طرح پھرے گی اور دلوں میں داخل ہوگی۔ اوّل و آخر کے سب مسائل اس میں آگئے ہیں۔ خدا کی قدرت ہے۔ دیر کا باعث ایک یہ ہو جاتا ہے کہ لغات جو دل میں آتے ہیں پھر ان کو کتب لغت میں دیکھنا پڑتا ہے۔ میرا دل اس وقت گواہی دیتا ہے کہ اندر فرشتہ بول رہا ہے۔ جب محمد علی صاحب لکھتے ہوں گے تو ان کا بھی ایسا ہی حال ہوگا کیونکہ وہ بھی ہماری تائید میں ہی ہے۔ رات آدھی رات جب تک مضمون ختم نہ ہولے جاگتا رہوں گا۔۱؎
۱۴؍جنوری ۱۹۰۳ء
بروز چہارشنبہ (بوقتِ فجر) حضرت اقدس نے تشریف لا کر فرمایا کہ میں کتاب تو ختم کر چکا ہوں۔ رات آدھی رات تک بیٹھا رہا۔ نیت تو ساری رات کی تھی مگر کام جلدی ہی ہو گیا۔ اس لئے سو رہا۔ اس کا نام مواہب الرحـمٰن رکھا ہے۔ (بوقتِ ظہر)
ایک سَقّا کی وفات اور اس پر الہام کا انطباق
ایک سقہ جو کہ حضرت اقدس کے ہاں پانی بھرا کرتا تھا وہ ایک ناگہانی موت سے مَر گیا۔ اور اسی دن اس کی شادی تھی۔ اس کی موت پر آپ نے فرمایا کہ مجھے خیال آیا کہ قُتِلَ خَیْبَۃً وَّزِیْدَ ھَیْبَۃً جو وحی ہوئی تھی وہ اسی کی طرف اشارہ ہے۔۲؎
۱۵؍جنوری ۱۹۰۳ء
بروز پنجشنبہ (بوقتِ فجر)
خدا کے کام کے لئے جاگنا جہاد ہے
خدا کے برگزیدہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آ کر فرمایا کہ رات تین بجے تک جاگتا رہا تو کاپیاں اور پروف صحیح ہوئے۔ مولوی عبدالکریم صاحب کی طبیعت علیل تھی وہ بھی جاگتے رہے۔ وہ اس وقت تشریف نہیں لاسکیں گے۔ یہ بھی ایک جہاد ہی تھا۔ (رات کو انسان کو جاگنے کا اتفاق تو ہوا کرتا ہے مگر کیا خوش وہ وقت ہے جو خدا کے کام میں گذارے )ایک صحابی کا ذکر ہے کہ وہ جب مَرنے لگے تو روتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا موت کے خوف سے روتے ہو؟ کہا موت کا کوئی خوف نہیں مگر یہ افسوس ہے کہ یہ وقت جہاد کا نہیں ہے۔ جب میں جہاد کیا کرتا تھا اگر اس وقت یہ موقع ہوتا تو کیا خوب تھا۔
فرمایا کہ میرے اعضا تو بے شک تھک جاتے ہیں مگر دل نہیں تھکتا۔ وہ چاہتا ہے کہ کام کئے جاؤ۔
مولوی ثناء اللہ کا ذکر
بابو شاہ دین صاحب نے ثناء اللہ کے آنے کا ذکر کیا فرمایا کہ آخر لعنت لے کر چلا گیا اور جو منصوبہ وہ گھڑ کے لایا تھا اس میں اسے کامیابی نہ ہوئی۔ ہم نے اس کا ذکر اور جواب وغیرہ اس عربی کتاب میں کر دیا ہے۔ اب جہلم سے واپس آ کر بشرط فرصت اردو میں لکھیں گے۔۱؎
۱۵؍جنوری ۱۹۰۳ء۲؎ کو حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بوقتِ سیر مندرجہ ذیل تقریر فرمائی۔
(ایڈیٹر)
دعا اور اس کے آداب
دعا بڑی عجیب چیز ہے مگر افسوس یہ ہے کہ نہ دعا کرانے والے آداب دعا سے واقف ہیں اور نہ اس زمانہ میں دعا کرنے والے ان طریقوں سے واقف، جو قبولیت دعا کے ہوتے ہیں۔ بلکہ اصل تو یہ ہے کہ دعا کی حقیقت ہی سے بالکل اجنبیت ہوگئی ہے۔ بعض ایسے ہیں جو سرے سے دعا کے منکر ہیں۔ اور جو دعا کے منکر تو نہیں ان کی حالت ایسی ہوگئی ہے کہ چونکہ ان کی دعائیں بوجہ آداب الدعا سے ناواقفیت کے قبول نہیں ہوتی ہیں کیونکہ دعا اپنے اصلی معنوں میں دعا ہوتی ہی نہیں اس لئے وہ منکرین دعا سے بھی گری ہوئی حالت میں ہیں۔ ان کی عملی حالت نے دوسروں کو دہریت کے قریب پہنچا دیا ہے۔ دعا کے لئے سب سے اوّل اس اَمر کی ضرورت ہے کہ دعا کرنے والا کبھی تھک کر مایوس نہ ہو جاوے اور اللہ تعالیٰ پر یہ سوء ظن نہ کر بیٹھے کہ اب کچھ بھی نہیں ہوگا۔ بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ اس قدر دعا کی گئی ہے کہ جب مقصد کا شگوفہ سرسبز ہونے کے قریب ہوتا ہے دعا کرنے والے تھک (بقی ہ حاش ی جس کا نتیجہ ناکامی اور نامرادی ہو گیا ہے اور اس نامرادی نے یہاں تک بُرا اثر پہنچایا ہے کہ پھر دعا کی تاثیرات کا انکار شروع ہوا۔ اور رفتہ رفتہ اس درجہ تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ پھر خدا کا بھی انکار کر بیٹھتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ اگر خدا ہوتا اور وہ دعاؤں کو قبول کرنے والا ہوتا تو اس قدر عرصہ دراز تک جو دعا کی گئی ہے کیوں قبول نہ ہوئی؟ مگر ایسا خیال کرنے والا اور ٹھوکر کھانے والا انسان اگر اپنے عدم استقلال اور تلوّن کو سوچے تو اسے معلوم ہو جائے کہ یہ ساری نامرادیاں اس کی اپنی ہی جلد بازی اور شتاب کاری کا نتیجہ ہیں جن پر خدا کی قوتوں اور طاقتوں کے متعلق بدظنی اور نا مراد کرنے والی مایوسی بڑھ گئی۔ پس کبھی تھکنا نہیں چاہیے۔
دعا کی ایسی ہی حالت ہے جیسے ایک زمیندار باہر جا کر اپنے کھیت میں ایک بیج بو آتا ہے۔ اب بظاہر تو یہ حالت ہے کہ اس نے اچھے بھلے اناج کو مٹی کے نیچے دبا دیا۔ اس وقت کوئی کیا سمجھ سکتا ہے کہ یہ دانہ ایک عمدہ درخت کی صورت میں نشوونما پا کر پھل لائے گا۔ باہر کی دنیا اور خود زمیندار بھی نہیں دیکھ سکتا کہ یہ دانہ اندر ہی اندر زمین میں ایک پودہ کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ تھوڑے دنوں کے بعد وہ دانہ گل کر اندر ہی اندر پودا بننے لگتا ہے اور طیار ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کا سبزہ اوپر نکل آتا ہے اور دوسرے لوگ بھی اس کو دیکھ سکتے ہیں۔ اب دیکھو! وہ دانہ جس وقت سے زمین کے نیچے ڈالا گیا تھا دراصل اسی اشاعۃ سے وہ پودا بننے کی تیاری کرنے لگ گیا تھا۔ مگر ظاہر بین نگاہ اس سے کوئی خبر نہیں رکھتی اور اب جب کہ اس کا سبزہ باہر نکل آیا تو سب نے دیکھ لیا۔ لیکن ایک نادان بچہ اس وقت یہ نہیں سمجھ سکتا کہ اس کو اپنے وقت پر پھل لگے گا۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ کیوں اسی وقت اس کو پھل نہیں لگتا مگر عقلمند زمیندار خوب سمجھتا ہے کہ اس کے پھل کا کون سا موقع ہے۔ وہ صبر سے ان کی نگرانی کرتا اور غور پرداخت کرتا رہتا ہے اور اس طرح پر وہ وقت آ جاتا ہے کہ جب اس کو پھل لگتا اور وہ پک بھی جاتا ہے۔ یہی حال دعا کا ہے اور بعینہٖ اسی طرح دعا نشوونما پاتی اور مثمر ب ثمرات ہوتی ہے۔ جلد باز پہلے ہی تھک کر رہ جاتے ہیں اور صبر کرنے والے مآل اندیش استقلال کے ساتھ لگے رہتے ہیں اور اپنے مقصد کو پا لیتے ہیں۔
قبولیت دعا کے لئے صبر اور محنت کی ضرورت
یہ سچی بات ہے کہ دعا میں بڑے بڑے مراحل اور مراتب ہیں جن کی ناواقفیت کی وجہ سے دعا کرنے والے اپنے ہاتھ سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ان کو ایک جلدی لگ جاتی ہے اور وہ صبر نہیں کر سکتے حالانکہ خدا تعالیٰ کے کاموں میں ایک تدریج ہوتی ہے۔
دیکھو! یہ کبھی نہیں ہوتا کہ آج انسان شادی کرے تو کل کو اس کے گھر بچہ پیدا ہو جاوے حالانکہ وہ قادر ہے جو چاہے کر سکتا ہے مگر جو قانون اور نظام اس نے مقرر کر دیا ہے وہ ضروری ہے۔ پہلے نباتات کی نشوونما کی طرح کچھ پتا ہی نہیں لگتا۔ چار مہینے تک کوئی یقینی بات نہیں کہہ سکتا۔ پھر کچھ حرکت محسوس ہونے لگتی ہے اور پوری میعاد گذرنے پر بہت بڑی تکالیف برداشت کرنے کے بعد بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔ بچہ کا پیدا ہونا ماں کا بھی ساتھ ہی پیدا ہونا ہوتا ہے۔ مَرد شاید ان تکالیف اور مصائب کا اندازہ نہ کر سکیں جو اس مدت حمل کے درمیان عورت کو برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ مگر یہ سچی بات ہے کہ عورت کی بھی ایک نئی زندگی ہوتی ہے۔ اب غور کرو کہ اولاد کے لئے پہلے ایک موت خود اس کو قبول کرنی پڑتی ہے۔ تب کہیں جا کر وہ اس خوشی کو دیکھتی ہے۔ اسی طرح پر دعا کرنے والے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ تلون اور عجلت کو چھوڑ کر ساری تکلیفوں کو برداشت کرتا رہے اور کبھی بھی یہ وہم نہ کرے کہ دعا قبول نہیں ہوئی۔ آخر آنے والا زمانہ آ جاتا ہے۔ اور دعا کے نتیجہ کے پیدا ہونے کا وقت پہنچ جاتا ہے جب کہ گویا مراد کا بچہ پیدا ہوتا ہے۔ دعا کو پہلے ضروری ہے کہ اس مقام اور حد تک پہنچایا جاوے جہاں پہنچ کر وہ نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے۔ جس طرح پر آتشی شیشے کے نیچے کپڑا رکھ دیتے ہیں اور سورج کی شعائیں اس شیشہ پر آ کر جمع ہوتی ہیں اور ان کی حرارت و حدّت اس مقام تک پہنچ جاتی ہے جو اس کپڑے کو جلا دے۔ پھر یکایک وہ کپڑا جل اٹھتا ہے۔ اس طرح پر ضروری ہے کہ دعا اس مقام تک پہنچے جہاں اس میں وہ قوت پیدا ہو جاوے کہ نامرادیوں کو جلا دے اور مقصد مراد کو پورا کرنے والی ثابت ہو جاوے
پیدا است نگارا را کہ بلند است جنابت
مدت دراز تک انسان کو دعاؤں میں لگے رہنا پڑتا ہے۔ آخر خدا تعالیٰ ظاہر کر دیتا ہے۔ میں نے اپنے تجربہ سے دیکھا ہے اور گذشتہ راست بازوں کا تجربہ بھی اس پر شہادت دیتا ہے کہ اگر کسی معاملہ میں دیر تک خاموشی کرے تو کامیابی کی امید ہوتی ہے لیکن جس اَمر میں جلد جواب مل جاتا ہے وہ ہونے والا نہیں ہوتا۔ عام طور پر ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ ایک سائل جب کسی کے دروازہ پر مانگنے کے لئے جاتا ہے اور نہایت عاجزی اور اضطراب سے مانگتا ہے اور کچھ دیر تک جھڑکیاں کھا کر بھی اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا اور سوال کئے ہی جاتا ہے تو آخر اس کو بھی کچھ شرم آ ہی جاتی ہے خواہ کتنا ہی بخیل کیوں نہ ہو پھر بھی کچھ نہ کچھ سائل کو دے ہی دیتا ہے۔ تو کیا دعا کرنے والے کو کم از کم ایک معمولی سائل جتنا استقلال بھی نہیں ہونا چاہیے؟ اور خدا تعالیٰ جو کریم ہے اور حیا رکھتا ہے جب دیکھتا ہے کہ اس کا عاجز بندہ ایک عرصہ سے اس کے آستانہ پر گرا ہوا ہے تو کبھی اس کا انجام بد نہیں کرتا۔ اگر انجام بد ہو تو اپنے ظن سے ہوتا ہے جیسے ایک حاملہ عورت چار پانچ ماہ کے بعد کہے کہ اب بچہ کیوں پیدا نہیں ہوتا اور اس خواہش میں کوئی مسقط دوا کھا لے تو اس وقت کیا بچہ پیدا ہو گا یا ایک مایوسی بخش حالت میں وہ خود مبتلا ہوگی؟ اسی طرح جو شخص قبل از وقت جلدی کرتا ہے وہ نقصان ہی اٹھاتا ہے اور نہ نرا نقصان بلکہ ایمان کو بھی صدمہ پہنچاتا جاتا ہے۔ بعض ایسی حالت میں دہریہ ہو جاتے ہیں۔ ہمارے گاؤں میں ایک نجار تھا۔ اس کی عورت بیمار ہوئی اور آخر وہ مَر گئی۔ اس نے کہا کہ اگر خدا ہوتا تو میں نے اتنی دعائیں کیں تھیں وہ قبول ہو جاتیں اور میری عورت نہ مَرتی اور اس طرح پر وہ دہریہ ہو گیا۔ لیکن سعید اگر اپنے صدق اور اخلاص سے کام لے تو اس کا ایمان بڑھتا ہے اور سب کچھ ہو بھی جاتا ہے زمین کی دولتیں خدا تعالیٰ کے آگے کیا چیز ہیں۔ وہ ایک دم میں سب کچھ کر سکتا ہے۔ کیا دیکھا نہیں کہ اس نے اس قوم کو جس کو کوئی جانتا بھی نہ تھا بادشاہ بنا دیا۔ اور بڑی بڑی سلطنتوں کو ان کا تابع فرمان بنا دیا اور غلاموں کو بادشاہ بنا دیا۔ انسان اگر تقویٰ اختیار کرے اور خدا تعالیٰ کا ہو جاوے تو دنیا میں اعلیٰ درجہ کی زندگی ہو مگر شرط یہی ہے کہ صادق اور جواں مَرد ہو کر دکھائے۔ دل متزلزل نہ ہو اور اس میں کوئی آمیزش ریا کاری اور شرک کی نہ ہو۔
ابراہیم علیہ السلام میں وہ کیا بات تھی جس نے اس کو ابو الملت اور ابو الحنفاء قرار دیا اور خدا تعالیٰ نے اس کو اس قدر عظیم الشان برکتیں دیں کہ شمار میں نہیں آسکتیں وہ یہی صدق اور اخلاص تھا۔ دیکھو! ابراہیم علیہ السلام نے بھی ایک دعا کی تھی کہ اس کی اولاد میں سے عرب میں ایک نبی ہو۔ پھر کیا وہ اسی وقت قبول ہوگئی؟ ابراہیمؑ کے بعد ایک عرصہ دراز تک کسی کو خیال بھی نہیں آیا کہ اس دعا کا کیا اثر ہوا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی صورت میں وہ دعا پوری ہوئی اور پھر کس شان کے ساتھ پوری ہوئی۔
عبادات میں جسم اور روح کی شمولیت ضروری ہے
ظاہری نماز اور روزہ اگر اس کے ساتھ اخلاص اور صدق نہ ہو کوئی خوبی اپنے اندر نہیں رکھتا۔ جوگی اور سنیاسی بھی اپنی جگہ بڑی بڑی ریاضتیں کرتے ہیں۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض اپنے ہاتھ تک سکھا دیتے ہیں اور بڑی بڑی مشقتیں اٹھاتے اور اپنے آپ کو مشکلات اور مصائب میں ڈالتے ہیں۔ لیکن یہ تکالیف ان کو کوئی نور نہیں بخشتیں اور نہ کوئی سکینت اور اطمینان ان کو ملتا ہے بلکہ اندرونی حالت ان کی خراب ہوتی ہے۔ وہ بدنی ریاضت کرتے ہیں جس کو اندر سے کم تعلق ہوتا ہے اور کوئی اثر ان کی روحانیت پر نہیں پڑتا۔ اسی لئے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا لَنۡ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوۡمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقۡوٰی(الحج:۳۸) یعنی اللہ تعالیٰ کو تمہاری قربانیوں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تقویٰ پہنچتا ہے۔ حقیقت میں خدا تعالیٰ پوست کو پسند نہیں کرتا بلکہ وہ مغز چاہتا ہے۔ اب سوال یہ ہوتا ہے کہ اگر گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تقویٰ پہنچتا ہے تو پھر قربانی کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اور اسی طرح نماز روزہ اگر روح کا ہے تو پھر ظاہر کی کیا ضرورت ہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ یہ بالکل پکی بات ہے کہ جو لوگ جسم سے خدمت لینا چھوڑ دیتے ہیں ان کو روح نہیں مانتی اور اس میں وہ نیازمندی اور عبودیت پیدا نہیں ہوسکتی جو اصل مقصد ہے اور جو صرف جسم سے کام لیتے ہیں روح کو اس میں شریک نہیں کرتے وہ بھی خطرناک غلطی میں مبتلا ہیں اور یہ جوگی اسی قسم کے ہیں۔ روح اور جسم کا باہم خدا تعالیٰ نے ایک تعلق رکھا ہوا ہے اور جسم کا اثر روح پر پڑتا ہے۔ مثلاً اگر ایک شخص تکلف سے رونا چاہے تو آخر اس کو رونا آ ہی جائے گا اور ایسا ہی جو تکلف سے ہنسنا چاہے اسے ہنسی آ ہی جاتی ہے۔ اسی طرح پر نماز کی جس قدر حالتیں جسم پر وارد ہوتی ہیں مثلاً کھڑا ہونا یا رکوع کرنا۔ اس کے ساتھ ہی روح پر بھی اثر پڑتا ہے اور جس قدر جسم میں نیاز مندی کی حالت دکھاتا ہے اسی قدر روح میں پیدا ہوتی ہے۔ اگرچہ خدا نرے سجدہ کو قبول نہیں کرتا مگر سجدہ کو روح کے ساتھ ایک تعلق ہے اس لئے نماز میں آخری مقام سجدہ کا ہے۔ جب انسان نیاز مندی کے انتہائی مقام پر پہنچتا ہے تو اس وقت وہ سجدہ ہی کرنا چاہتا ہے۔ جانوروں تک میں بھی یہ حالت مشاہدہ کی جاتی ہے۔ کتّے بھی جب اپنے مالک سے محبت کرتے ہیں تو آ کر اس کے پاؤں پر اپنا سر رکھ دیتے ہیں اور اپنی محبت کے تعلق کا اظہار سجدہ کی صورت میں کرتے ہیں۔ اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ جسم کو روح کے ساتھ خاص تعلق ہے ایسا ہی روح کی حالتوں کا اثر جسم پر نمودار ہو جاتا ہے۔ جب روح غمناک ہو تو جسم پر بھی اس کے اثر ظاہر ہوتے ہیں اور آنسو اور پژمُردگی ظاہر ہوتی ہے۔ اگر روح اور جسم کا باہم تعلق نہیں تو ایسا کیوں ہوتا ہے؟ دوران خون بھی قلب کا ایک کام ہے مگر اس میں بھی شک نہیں کہ قلب آبپاشی جسم کے لئے ایک انجن ہے۔ اس کے بسط اور قبض سے سب کچھ ہوتا ہے۔
غرض جسمانی اور روحانی سلسلے دونوں برابر چلتے ہیں۔ روح میں جب عاجزی پیدا ہوتی ہے پھر جسم میں بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لئے جب روح میں واقعی عاجزی اور نیازمندی ہو تو جسم میں اس کے آثار خود بخود ظاہر ہو جاتے ہیں اور ایسا ہی جسم پر ایک الگ اثر پڑتا ہے تو روح بھی اس سے متاثر ہو ہی جاتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ جب خدا تعالیٰ کے حضور نماز میں کھڑے ہو تو چاہیے کہ اپنے وجود سے عاجزی اور ارادت مندی کا اظہار کرو۔ اگر چہ اس وقت یہ ایک قسم کا نفاق ہوتا ہے۔ مگر رفتہ رفتہ اس کا اثر دائمی ہو جاتا ہے اور واقعی روح میں وہ نیازمندی اور فروتنی پیدا ہونے لگتی ہے۔
عبادات میں لذّت اور راحت
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو نمازوں میں لذت نہیں آتی۔ مگر وہ نہیں جانتے کہ لذت اپنے اختیار میں نہیں ہے اور لذّت کا معیار بھی الگ ہے۔ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اشد درجہ کی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے مگر وہ اس تکلیف کو بھی لذّت ہی سمجھ لیتا ہے۔ دیکھو ٹرانسوال۱؎ میں جو لوگ لڑتے ہیں باوجودیکہ ان میں جانیں جاتی ہیں اور عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوتے ہیں مگر قومی حمیت اور پاسداری ان کو ایک لذّت اور سرور کے ساتھ موت کے منہ میں لے جارہی ہے۔۲؎
ان کو قومی حمیت اور پاسداری موت کے منہ میں خوشی کے ساتھ لے جاتی ہے۔ ادھر قوم ان کی محنتوں اور جانفشانیوں کی قدر کر رہی ہے جب کہ اغراض قومی متحد ہیں۔ پھر ان کی محنتوں کی قدر کیوں ہوتی ہے؟ ان کے دکھ اور تکالیف کی وجہ سے۔ ان کی محنت اور جانفشانی کے باعث۔
غرض ساری لذّت اور راحت دکھ کے بعد آتی ہے۔ اسی لئے قرآن شریف میں یہ قاعدہ بتایا ہے مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا(الم نشرح:۷) اگر کسی راحت سے پہلے تکلیف نہیں تو وہ راحت راحت ہی نہیں رہتی۔ اسی طرح پر جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو عبادت میں لذّت نہیں آتی۔ ان کو پہلے اپنی جگہ سوچ لینا ضروری ہے کہ وہ عبادت کے لئے کس قدر دکھ اور تکالیف اٹھاتے ہیں۔ جس جس قدر دکھ اور تکالیف انسان اٹھائے گا۔ وہی تبدیل صورت کے بعد لذّت ہوجاتا ہے۔ میری مراد ان دکھوں سے یہ نہیں کہ انسان اپنے آپ کو بے جا مشقتوں میں ڈالے اور مالا یطاق تکالیف اٹھانے کا دعویٰ کرے۔ ہرگز نہیں۔
عبادات میں تکلیف برداشت کرنے کی حقیقت
قرآن شریف میں لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا(البقرۃ:۲۸۷) آیا ہے اور رہبانیت اسلام میں نہیں ہے جس میں پڑ کر انسان اپنے ہاتھ سکھا لے یا اپنی دوسری قوتوں کو بے کار چھوڑ دے یا اور قسم قسم کی تکلیف شدیدہ میں اپنی جان کو ڈالے۔ عبادت کے لئے دکھ اٹھانے سے ہمیشہ یہ مراد ہوتی ہے کہ انسان ان کاموں سے رکے جو عبادت کی لذّت کو دور کرنے والے ہیں اور ان سے رکنے میں اوّلاً ایسی ضرور تکلیف محسوس ہوگی۔ اور خدا تعالیٰ کی نارضامندیوں سے پرہیز کرے۔ مثلاً ایک چور ہے تو اس کو ضروری ہے کہ وہ چوری چھوڑے بدکار ہے تو بدکاری اور بد نظری چھوڑے۔ اسی طرح نشوں کا عادی ہے تو ان سے پرہیز کرے۔ اب جب وہ اپنی محبوب اشیاء کو ترک کرے گا تو ضروری ہے کہ اوّل اوّل سخت تکلیف اٹھاوے مگر رفتہ رفتہ اگر استقلال سے وہ اس پر قائم رہے گا تو دیکھ لے گا کہ ان بدیوں کے چھوڑنے میں جو تکلیف اس کو محسوس ہوتی ہے وہی تکلیف اب ایک لذّت کا رنگ اختیار کرتی جاتی ہے کیونکہ ان بدیوں کے بالمقابل نیکیاں آتی جائیں گی اور ان کے نیک نتائج جو سکھ دینے والے ہیں وہ بھی ساتھ ہی آئیں گے یہاں تک کہ وہ اپنے ہر قول وفعل میں جب خدا تعالیٰ ہی کی رضا کو مقدم کر لے گا اور اس کی ہر حرکت وسکون اللہ ہی کے اَمر کے نیچے ہوگی تو صاف اور بیّن طور پر وہ دیکھے گا کہ پورے اطمینان اور سکینت کا مزہ لے رہا ہے۔ یہ وہ حالت ہوتی ہے جب کہا جاتا ہے لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ(البقرۃ:۶۳) اسی مقام پر اللہ کی ولایت میں آتا ہے اور ظلمات سے نکل کر نور کی طرف آجاتا ہے۔
یاد رکھو کہ جب انسان خدا تعالیٰ کے لئے اپنی محبوب چیزوں کو جو خدا کی نظر میں مکروہ اور اس کے منشا کے مخالف ہوتی ہیں چھوڑ کر اپنے آپ کو تکالیف میں ڈالتا ہے تو ایسی تکالیف اٹھانے والے جسم کا اثر روح پر بھی پڑتا ہے اور وہ بھی اس سے متاثر ہو کر ساتھ ہی ساتھ اپنی تبدیلی میں لگتی ہے یہاں تک کہ کامل نیازمندی کے ساتھ آستانہ الوہیت پر بے اختیار ہو کر گر پڑتی ہے یہ طریق ہے عبادت میں لذّت حاصل کرنے کا۔
تم نے دیکھا ہوگا کہ بہت سے لوگ ہیں جو اپنی عبادت میں لذّت کا یہ طریق سمجھتے ہیں کہ کچھ گیت گا لئے یا باجے بجا لئے اور یہی ان کی عبادت ہوگی۔ اس سے دھوکا مت کھاؤ۔ یہ باتیں نفس کی لذّت کا باعث ہوں تو ہوں مگر روح کے لئے ان میں لذّت کی کوئی چیز نہیں۔ ان سے روح میں فروتنی اور انکساری کے جو ہر پیدا نہیں ہوتے اور عبادت کا اصل منشا گم ہو جاتا ہے۔ طوائف کی محفلوں میں بھی ایک آدمی ایسا مزا حاصل کرتا ہے تو کیا وہ عبادت کی لذّت سمجھی جاتی ہے؟ یہ باریک بات ہے جس کو دوسری قومیں سمجھ ہی نہیں سکتیں ہیں کیونکہ انہوں نے عبادت کی اصل غرض اور غایت کو سمجھا ہی نہیں۔
اسلام میں رہبانیت پسندیدہ نہیں
قرآن شریف سے پہلے دو قومیں تھیں۔ ایک براہمہ کہلاتی تھی جو رہبانیت کو پسند کرتی تھی اور اپنی زندگی کا اصل منشا یہی سمجھ بیٹھے ہوئے تھے۔ عیسائی قوم میں بھی ایسے لوگ ہوتے تھے جو راہب ہونا پسند کرتے تھے اور ہوتے تھے۔ رومن کتھولک عیسائیوں میں اب تک ایسے لوگ موجود ہیں اور یہ طریق ان میں جاری ہے کہ وہ راہبانہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ مگر اب ان کی رہبانیت اس حد تک ہی ہے کہ وہ شادی نہیں کرتے ورنہ ہر طرح عیش و عشرت اور آرام کے ساتھ کوٹھیوں میں رہتے اور مکلّف لباس پہنتے اور عمدہ کھانے کھاتے ہیں اور جس قسم کی زندگی وہ بسر کرتے ہیں عام لوگ جانتے ہیں۔ مگر میری مراد رہبانیت سے اس وقت یہی ہے کہ وہ فرقہ جو اپنے آپ کو تعذیب بدن میں ڈالتا تھا اور دوسرا فرقہ ان کے مقابل وہ تھا جو اباحت کی زندگی بسر کرتا تھا۔ اسلام جب آیا تو اس نے ان دونو کو ترک کیا اور صراط مستقیم کو اختیار کیا۔ اس نے بتایا کہ انسان نہ رہبانیت اختیار کرے جس سے وہ نفس کُش ہو جاوے اور خدا تعالیٰ کی عطا کردہ قوتوں کو بالکل بے کار چھوڑ دے اور اس طرح پر ان اخلاق فاضلہ کے حصول سے محروم ہو جاوے جو ان قوتوں کے اندر ودیعت کئے گئے ہیں کیونکہ یہ سچی بات ہے کہ جس قدر قوتیں انسان کو دی گئی ہیں یہ سب کی سب در اصل اخلاقی قوتیں ہیں۔ غلطی استعمال کی وجہ سے یہ اخلاق بداخلاقیوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس لئے اسلام نے رہبانیت سے منع کیا اور فرمایا لَا رَھْبَانِیَّۃَ فِی الْاِسْلَامِ۔۔
اباحت
اسلام چونکہ انسان کی کامل تربیت چاہتا ہے اور اس کی ساری قوتوں کا نشوونما اس کا مقصد ہے۔ اس لئے اس نے جائز نہ رکھا کہ وہ طریق اختیار کیا جاوے جو انسان کی بے حرمتی کرنے والا اور خدا تعالیٰ کی توہین کرنے والا ٹھہر جاوے اور پھر اسلام کا منشا یہ ہے کہ وہ انسان کو افراط تفریط کی راہوں سے اس اعتدال کی راہ پر چلاوے جو صراط مستقیم ہے۔ اس لئے اس نے اباحت کے مسئلہ کی بھی تردید کی یہ دوسرا فرقہ تھا جو قرآن شریف سے پہلے موجود تھا۔ وہ سب کچھ جائز سمجھتا تھا اور آزادی اور بے قیدی میں اپنی زندگی بسر کرتا تھا۔ ساری راحتوں اور لذتوں کی معراج سمجھتا تھا۔ مگر اسلام نے اس کو رد کیا اور انسان کو بے قید بنانا نہ چاہا کہ وہ نہ نماز کی ضرورت سمجھے نہ روزہ کی۔ غرض کسی پابندی کے نیچے ہی نہیں رہے اور ایک وحشی جانور کی طرح مارا مارا پھرے۔ اب تک بھی یہ لوگ موجود ہیں۔ وجودی مذہب جو بدقسمتی سے پھیلا ہوا ہے دراصل ایک اباحتی فرقہ ہے اور نماز روزہ کی کوئی ضرورت نہیں سمجھتا اور ممنوعات اور محرمات سے پرہیز نہیں کرتا۔ اس لئے اسلام نے یہ بھی جائز نہ رکھا۔
عقیدہ کفارہ کے نقصانات
رہبانیت اور اباحت انسان کو اس صدق اور وفا سے دور رکھتے تھے جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اس لئے ان سے الگ رکھ کر اطاعت الٰہی کا حکم دے کر صدق اور وفا کی تعلیم دی جو ساری روحانی لذتوں کی جاذب ہیں۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جو شخص کسی سہارے پر چلتا ہے وہ سست الوجود اور کاہل ہوتا ہے جیسے بچے اپنے والدین کی سرپرستی کے نیچے اپنی فکر معاش یا ضروریات کے پیدا کرنے سے کاہل اور لا پروا ہوتے ہیں۔ یا عیسائی لوگ جس طرح پر اعمال میں مستعد نہیں ہو سکتے کیونکہ کفارہ کا مسئلہ جب ان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ مسیح نے ان کے سارے گناہ اٹھا لئے۔ پر سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کون سی چیز ہو سکتی ہے جو ان کو اعمال کی طرف متوجہ کرے۔ اعمال کا مدعا تو نجات ہے اور یہ ان کو بلا مشقت و محنت صرف خونی مسیح پر اتنا ایمان رکھنے سے (کہ وہ ہمارے لئے مَر گیا۔ ہمارے گناہوں کے بدلہ لعنتی ہوا) مل جاتی ہے تو اب نجات کے سوا اور کیا چاہیے؟ پھر ان کو اعمال حسنہ کی ضرورت کیا باقی رہی۔ اگر کفارہ پر ایمان لا کر بھی نجات کا خطرہ اور اندیشہ باقی ہے تو یہ اَمر دیگر ہے کہ اعمال کئے جائیں لیکن اگر نجات خونِ مسیح کے ساتھ ہی وابستہ ہے تو کوئی عقلمند نہیں مان سکتا کہ پھر ضرورت اعمال کی کیا باقی ہے؟
روافض بھی سہارے ہی پر چلتے ہیں اور اپنی جگہ عیسائیوں کی طرح امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خون کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر اعمال کی کوئی ضرورت ہے تو فقط اتنی کہ ان کے مصائب کو یاد کر کے آنکھوں سے آنسوں گرا لئے یا کچھ سینہ کوبی کرلی۔ سارے اعمال حسنہ کی روح یہی اشک باری اور سینہ کوبی ہے۔ مگر میں نہیں سمجھتا کہ اس کو نجات سے کیا تعلق؟
اس لئے میں یہ تعلیم کبھی دینا نہیں چاہتا اور نہ اسلام نے دی کہ تم اپنے گناہوں کی گٹھڑی کسی دوسرے کی گردن پر لاد دواور خود اباحت کی زندگی بسر کرنے لگو۔ قرآن شریف نے صاف فیصلہ کر دیا ہے تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی(الانعام:۱۶۵) ایک دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اور نہ دنیا میں اس کی کوئی نظیر خدا تعالیٰ کے عام قانون قدرت میں ملتی ہے۔ کبھی نہیں دیکھا جاتا کہ زید مثلاً سنکھیا کھا لیوے اور اس سنکھیا کا اثر بکر پر ہو جاوے اور وہ مَر جاوے۔ یا ایک مریض ہو اور وہ دوسرے آدمی کے دوا کھا لینے سے اچھا ہو جاوے بلکہ ہر ایک بجائے خود متاثر ہوگا۔ پھر یہ کیوں کر ممکن ہے کہ ایک شخص ساری عمر گناہ کرتا رہے اور دلیری کے ساتھ خدا تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرتا رہے اور لکھ دے کہ میرے گناہوں کا بوجھ ایک دوسرے شخص کی گردن پر ہے جو شخص ایسی امید کرتا ہے وہ
دماغ بیہدہ پخت و خیال باطل بست
کا مصداق۔
پس اسلام کسی سہارے پر رکھنا نہیں چاہتا کیونکہ سہارے پر رکھنے سے ابطال اعمال لازم آجاتا ہے۔ لیکن جب انسان سہارے کے بغیر زندگی بسر کرتا ہے اور اپنے آپ کو ذمہ وار ٹھہراتا ہے اس وقت اس کو اعمال کی ضرورت پڑتی ہے اور کچھ کرنا پڑتا ہے اسی لئے قرآن شریف نے فرمایا ہے قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰٮہَا(الشّمس:۱۰) فلاح وہی پاتا ہے جو اپنا تزکیہ کرتا ہے خود اگر انسان ہاتھ پاؤں نہ ہلائے تو بات نہیں بنتی۔
شفاعت کا فلسفہ
مگر اس سے یہ ہرگز نہ سمجھنا چاہیے کہ شفاعت کوئی چیز نہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ شفاعت حق ہے۔ اور اس پر یہ نص صریح ہے وَصَلِّ عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمۡ(التوبۃ:۱۰۳) سَکَنٌ لَّہُمْ یہ شفاعت کا فلسفہ ہے یعنی جو گناہوں میں نفسانیت کا جوش ہے وہ ٹھنڈا پڑ جاوے۔
شفاعت کا نتیجہ یہ بتایا ہے کہ گناہ کی زندگی پر ایک موت وارد ہو جاتی ہے اور نفسانی جوشوں اور جذبات میں ایک برودت آجاتی ہے جس سے گناہوں کا صدور بند ہو کر ان کے بالمقابل نیکیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ پس شفاعت کے مسئلہ نے اعمال کو بے کار نہیں کیا بلکہ اعمال حسنہ کی تحریک کی ہے۔
شفاعت اور کفارہ میں فرق
شفاعت کے مسئلہ کے فلسفہ کو نہ سمجھ کر احمقوں نے اعتراض کیا ہے اور شفاعت اور کفارہ کو ایک قرار دیا۔ حالانکہ یہ ایک نہیں ہو سکتے ہیں۔ کفارہ اعمال حسنہ سے مستغنی کرتا ہے اور شفاعت اعمال حسنہ کی تحریک۔ جو چیز اپنے اندر فلسفہ نہیں رکھتی ہے وہ ہیچ ہے۔ ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ اسلامی اصول اور عقائد اور اس کی ہر تعلیم اپنے اندر ایک فلسفہ رکھتی ہے اور علمی پیرایہ اس کے ساتھ موجود ہے جو دوسرے مذاہب کے عقائد میں نہیں ملتا۔
شفاعت اعمال حسنہ کی محرک کس طرح پر ہے؟ اس سوال کا جواب بھی قرآن شریف ہی سے ملتا ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ وہ کفارہ کا رنگ اپنے اندر نہیں رکھتی جو عیسائی مانتے ہیں۔ کیونکہ اس پر حصر نہیں کیا جس سے کاہلی اور سستی پیدا ہوتی بلکہ فرمایا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ(البقرۃ:۱۸۷) یعنی جب میرے بندے میرے بارے میں تجھ سے سوال کریں کہ وہ کہاں ہے تو کہہ دے کہ میں قریب ہوں۔ قریب والا تو سب کچھ کر سکتا ہے۔ دور والا کیا کرے گا؟ اگر آگ لگی ہوئی ہو تو دور والے کو جب تک خبر پہنچے اس وقت تک تو شاید وہ جل کر خاک سیاہ بھی ہو چکے۔ اس لئے فرمایا کہ کہہ دو کہ میں قریب ہوں۔ پس یہ آیت بھی قبولیت دعا کا ایک راز بتاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت پر ایمان کامل پیدا ہو اور اسے ہر وقت اپنے قریب یقین کیا جاوے اور ایمان ہو کہ وہ ہر پکار کو سنتا ہے۔ بہت سی دعاؤں کے رد ہونے کا یہ بھی سر ہے کہ دعا کرنے والا اپنی ضعیف الایمانی سے دعا کو مسترد کرا لیتا ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ دعا کو قبول ہونے کے لائق بنایا جاوے کیونکہ اگر وہ دعا خدا تعالیٰ کی شرائط کے نیچے نہیں ہے تو پھر اس کو خواہ سارے نبی بھی مل کر کریں تو قبول نہ ہوگی اور کوئی فائدہ اور نتیجہ اس پر مترتب نہیں ہو سکے گا۔
اب یہ بات سوچنے کے قابل ہے کہ ایک طرف تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا صَلِّ عَلَیْہِ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمۡ(التوبۃ:۱۰۳) تیری صلوٰۃ سے ان کو ٹھنڈ پڑ جاتی ہے اور جوش و جذبات کی آگ سرد ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ(البقرۃ:۱۸۷) کا بھی حکم فرمایا۔ ان دونوں آیتوں کے ملانے سے دعا کرنے اور کرانے والے کے تعلقات، پھر ان تعلقات سے جو نتائج پیدا ہوتے ہیں ان کا بھی پتا لگتا ہے کیونکہ صرف اسی بات پر منحصر نہیں کر دیا کہ آنحضرتؐ کی شفاعت اور دعا ہی کافی ہے اور خود کچھ نہ کیا جاوے اور نہ یہی فلاح کا باعث ہو سکتا ہے کہ آنحضرتؐ کی شفاعت اور دعا کی ضرورت ہی نہ سمجھی جاوے۔ غرض نہ اسلام میں رہبانیت ہے نہ بے کار نشینی کا سبق۔ بلکہ ان افراط اور تفریط کی راہوں کو چھوڑ کر وہ صراطِ مستقیم کی ہدایت کرتا ہے نہ یہ چاہا ہے کہ تعذیب جسم کے اصولوں کو اختیار کرو اور اپنے آپ کو مشکلات میں ڈال لو اور نہ یہ کہ سارا دن کھیل اور کود اور تماشوں اور شکار میں گذارو یا ناول خوانی میں بسر کرو اور رات کو سو کر یا عیاشی میں۔۱؎
خد اتعالیٰ کا قرب پانے کی راہ
خدا تعالیٰ کے قرب حاصل کرنے کی راہ یہ ہے کہ اس کے لئے صدق دکھایا جائے۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو قرب حاصل کیا تو اس کی وجہ یہی تھی۔ چنانچہ فرمایا ہے وَاِبۡرٰہِیۡمَ الَّذِیۡ وَفّٰۤی(النجم:۳۸) ابراہیمؑ وہ ابراہیمؑ جس نے وفاداری دکھائی۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری اور صدق اور اخلاص دکھانا ایک موت کو چاہتا ہے جب تک انسان دنیا اور اس کی ساری لذتوں اور شوکتوں پر پانی پھیر دینے کو طیار نہ ہو جاوے اور اس کی ہر ذلّت اور سختی اور تنگی خدا کے لئے گوارا کرنے کو طیار نہ ہو یہ صفت پیدا نہیں ہو سکتی۔ بُت پرستی یہی نہیں کہ انسان کسی درخت یا پتھر کی پرستش کرے بلکہ ہر ایک چیز جو اللہ تعالیٰ کے قرب سے روکتی اور اس پر مقدم ہوتی ہے وہ بُت ہے اور اس قدر بُت انسان اپنے اندر رکھتا ہے کہ اس کو پتا بھی نہیں لگتا کہ میں بُت پرستی کر رہا ہوں۔ پس جب تک خالص خدا تعالیٰ ہی کے لئے نہیں ہو جاتا اور اس کی راہ میں ہر مصیبت کو برداشت کرنے کے لئے طیار نہیں ہوتا صدق اور اخلاص کا رنگ پیدا ہونا مشکل ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کو جو یہ خطاب ملا کیا یہ یونہی مل گیا تھا؟ نہیں۔
وَاِبۡرٰہِیۡمَ الَّذِیۡ وَفّٰۤی(النجم:۳۸) کی آواز اس وقت آئی جب کہ وہ بیٹے کی قربانی کے لئے طیار ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ عمل کو چاہتا اور عمل ہی سے راضی ہوتا ہے اور عمل دکھ سے آتا ہے۔ لیکن جب انسان خدا کے لئے دکھ اٹھانے کو طیار ہو جاوے تو خدا تعالیٰ اس کو دکھ میں بھی نہیں ڈالتا۔ دیکھو! ابراہیم علیہ السلام نے جب اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لئے اپنے بیٹے کو قربان کر دینا چاہا اور پوری تیاری کر لی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بیٹے کو بچا لیا۔ وہ آگ میں ڈالے گئے لیکن آگ ان پر کوئی اثر نہ کر سکی۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں تکلیف اٹھانے کو طیار ہو جاوے تو خدا تعالیٰ تکالیف سے بچا لیتا ہے۔ ہمارے ہاتھ میں جسم تو ہے روح نہیں ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ روح کا تعلق جسم سے ہے اور جسمانی امور کا اثر روح پر ضرور ہوتا ہے اس لئے یہ کبھی خیال نہیں کرنا چاہیے کہ جسم سے روح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ جس قدر اعمال انسان سے ہوتے ہیں وہ ایسی مرکب صورت سے ہوتے ہیں۔ الگ جسم یا اکیلی روح کوئی نیک یا بد عمل نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے جزا و سزا میں بھی دونوں کے متعلقات کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ بعض لوگ ایسے راز کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اعتراض کر دیتے ہیں کہ مسلمانوں کا بہشت جسمانی ہے۔ حالانکہ وہ اتنا نہیں جانتے کہ جب اعمال کے صدور میں جسم ساتھ تھا تو جزا کے وقت الگ کیوں کیا جاوے؟ غرض یہ ہے کہ اسلام نے ان دونوں طریقوں کو جو افراط اور تفریط کے ہیں کہیں چھوڑ کر اعتدال کی راہ بتائی ہے۔ یہ دونوں خطرناک باتیں ہیں ان سے پرہیز کرنا چاہیے۔ مجرد تعذیبِ جسم سے کچھ نہیں بنتا اور محض آرام طلبی سے بھی کوئی نتیجہ پیدا نہیں ہوتا۔
ولایت کا مقام
ایک مرتبہ ایک شخص میرے پاس نور محمد نام ٹانڈہ سے آیا تھا۔ اس نے کہا کہ غلام محبوب سبحانی نے ولی ہونے کا سرٹیفکیٹ دے دیا ہے۔ اب ولایت کا معیار یہی رہ گیا ہے کہ غلام محبوب سبحانی یا کسی نے سرٹیفکیٹ دے دیا۔ حالانکہ ولایت ملتی نہیں جب تک انسان خدا کے لئے موت اختیار کرنے کے لئے طیار نہ ہو جاوے۔ دنیا میں بہت سے لوگ اس قسم کے ہیں جن کو کچھ بھی معلوم نہیں کہ وہ دنیا میں کیوں آئے ہیں؟ حالانکہ یہی پہلا سوال ہے جس کو اسے حل کرنا چاہیے۔ خود شناسی کے بعد خدا شناسی پیدا ہوتی ہے جب وہ اپنے فرائض کو سمجھتا ہے اور مقاصد زندگی پر غور کرتا ہے اسے معلوم ہوتا ہے کہ میری زندگی کی غرض خدا شناسی ہے اور اس پر ایمان لاتا اور اس کی عبادت کرتا ہے۔ تب وہ فرائض کو ادا کرتا اور نوافل کو شناخت کرتا ہے۔ وہ روحانیت جو ایمان کے بعد پیدا ہوتی ہے اب اسے تلاش کرو کہ کہاں ہے؟ نہ مولویوں میں ہے نہ راگ سننے والے صوفیوں میں۔ یہ گوسالہ صورت ہیں۔ روحانیت سے بے خبر ہو کر ہزار سال تک بھی اگر نعرے مارتے رہیں تو کچھ نہیں بنتا۔ یہ لحوم اور دماء ہیں تقویٰ نہیں، پھر لحوم اور دماء اللہ تعالیٰ کو کیسے پہنچ سکتا ہے؟
روح و جسم کا تعلق ابدی ہے
دہریہ روح کا ہی انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ اور پھر کہتے ہیں کہ حشر اجساد کوئی چیز نہیں۔ یہاں روح تعلیم پا کر آئندہ کیا کرے گا۔ یہ خیالی باتیں ہیں ان میں معقولیت نہیں ہے۔ اگر روح کوئی چیز نہیں ہے تو پھر یہ کیا بات ہے کہ جسم پر جو فعل واقع ہوتے ہیں ان کا اثر اندرونی قوتوں پر بھی پڑتا ہے۔ مثلاً اگر مقدم الرأس پر چوٹ لگ جائے تو اس فساد کے ساتھ انسان مجنون ہو جاتا ہے یا حافظہ جاتا رہتا ہے۔ مجنونوں کی روح تو وہی ہیں۔ نقص تو جسم میں ہے۔ جسم کا اگر اچھا انتظام نہ رہے تو روح بے کار ہو جاتا ہے وہ بدوں جسم کسی کام کا نہیں ہے اس لئے ہمیشہ جسم کا محتاج ہے جس کا انتظام عمدہ ہو روحانی حالت بھی اچھی ہوگی۔ چھوٹے بچہ میں کیوں اتنی سمجھ نہیں ہوتی کہ وہ عواقب الامور کو سمجھ سکے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان میں ابھی قویٰ کا نشوونما کامل نہیں ہوا ہوتا۔
اسی طرح پیٹ میں جو نطفہ جاتا ہے کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ روح اس کے ساتھ کہاں سے چلی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی دراصل ایک مخفی قوت چلی جاتی ہے جو انبساط اور نشاط کا باعث ہوتی ہے۔ اسی طرح اناج میں بھی وہی کیفیت چلی آتی ہے۔ اسی کی طرف مولوی رومی نے اشارہ کر کے کہا ہے۔
ہفت صد ہفتاد قالب دیدہ ام
ہمچو سبزہ بارہا روئیدہ ام
نافہم اور کوڑ مغز لوگوں نے اس شعر کو تناسخ پر حمل کر لیا ہے اور کہتے ہیں اس سے تناسخ ثابت ہوتا ہے مگر ان کو معلوم نہیں کہ یہ دراصل تغیرات نطفہ کی طرف اِیما ہے۔ یعنی جن جن تغیرات سے نطفہ طیار ہوتا ہے اس کو اس شعر میں ظاہر کیا گیا ہے۔ شائد بہت تھوڑے آدمی ایسے ہوں گے جن کو یہ معلوم ہو کہ نطفہ بہت سے تغیرات سے بنتا ہے۔ جس اناج سے نطفہ بنا ہے نطفہ کی حالت میں آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس کو بہت سے تغیرات میں ڈالا ہے اور پھر اس کو محفوظ رکھا ہے کیونکہ وہ درحقیقت نطفہ ہے۔ اپنے وقت پر وہ پیسا بھی جاتا ہے اور اس سے روٹی بھی طیار کی جاتی ہے لیکن وہ محفوظ کا محفوظ چلا آتا ہے۔ آج کل نطفہ کے متعلق جو تحقیقات ہوئی ہے تو ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس میں کیڑے ہوتے ہیں یہ ایک الگ اَمر ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اصل میں وہ ایک قوت ہے جو برابر محفوظ چلی آتی ہے ممکن ہے کہ جو کچھ ڈاکٹروں نے سمجھا ہو وہ اسی قوت کو سمجھا ہو۔ ہر اناج کے ساتھ انسانیت کا خاصّہ نہیں بلکہ وہ جوہرِ قابل الگ ہی ہے اور اس کو وہی کھاتا ہے جس کے لئے وہ مقدر ہوتا ہے اور وہ اسی دن کے لئے مقدر ہوتا ہے۔ وہ نطفہ جس میں روحانیت کی جز ہے بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ مضغہ علقہ وغیرہ چھ حالتوں میں سے گذرتا ہے اور ان چھ تغیرات کے بعد ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰہُ خَلۡقًا اٰخَرَ(المؤمنون:۱۵) کا وقت آتا ہے اب اس آخری تبدیلی کو نشاءِ آخری کہا ہے یہ نہیں کہا ثُمَّ اَنْزَلْنٰہُ رُوْحًا اٰخَرَ۔
اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ باہر سے کوئی چیز نہیں آتی۔ اب اس کو خوب غور سے سوچو تو معلوم ہوگا کہ روح کا جسم کے ساتھ کیسا ابدی تعلق ہے۔ پھر یہ کیسی بے ہودگی ہے جو کہا جاوے کہ جسم کا روح کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ کس قدر زبردست ثبوت روح کی ہستی کا ہے۔ اس کو کوئی معمولی نگاہ سے دیکھے تو اور بات ہے لیکن معقولیت اور فلسفہ سے سوچے تو اس سے انکار نہیں کر سکتا۔
اسی طرح ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ دنیا میں کبھی کوئی شخص کامیاب نہیں ہوا جو جسم اور روح دونوں سے کام نہ لے۔ اگر روح کوئی چیز نہیں تو ایک مُردہ جسم سے کوئی کام کیوں نہیں ہو سکتا؟ کیا اس کے سارے اعضا اور قویٰ موجود نہیں ہوتے۔ اب یہ بات کیسی صفائی کے ساتھ سمجھ میں آتی ہے کہ روح اور جسم کا تعلق جب کہ ابدی ہے۔ پھر کیوں کسی ایک کو بے کار قرار دیا جاوے۔
دعا کے قوانین
دعا کے لئے بھی یہی قانون ہے کہ جسم تکالیف اٹھائے اور روح گداز ہو اور پھر صبر اور استقلال سے اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لا کر حسنِ ظن سے کام لیا جاوے۔۱؎
ہر یک کام کے لئے زمانہ ہوتا ہے اور سعید اس کا انتظار کرتے ہیں۔ جو انتظار نہیں کرتا اور چشم زدن میں چاہتا ہے کہ اس کا نتیجہ نکل آوے وہ جلد باز ہوتا ہے اور بامراد نہیں ہوسکتا۔ میرے نزدیک یہ بھی ممکن ہے اور ہوتا ہے کہ دعا کے زمانہ میں ابتلا کے طور پر اور بھی ابتلا آجاتے ہیں۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے آئے تو ان کو پہلے مصر میں فرعون نے یہ کام دیا ہوا تھا کہ وہ آدھے دن اینٹیں پاتھا کریں اور آدھے دن اپنا کام کیا کریں۔ لیکن جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو نجات دلانے کی کوشش کی تو پھر شریروں کی شرارت سے بنی اسرائیل کا کام بڑھا دیا گیا اور انہیں حکم ملا کہ آدھے دن تم اینٹیں پاتھا کرو اور آدھے دن گھاس لایا کرو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب یہ حکم ملا اور انہوں نے بنی اسرائیل کو سنایا تو وہ بڑے ناراض ہوئے اور کہا کہ موسیٰ! خدا تم کو وہ دکھ دے جو ہم کو ملا ہے اور بھی انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو بددعائیں دیں مگر موسیٰ علیہ السلام نے ان کو یہی کہا کہ تم صبر کرو۔ تورات میں یہ سارا قصہ لکھا ہے کہ جوں جوں موسیٰ علیہ السلام انہیں تسلّی دیتے تھے وہ اور بھی افروختہ ہوتے تھے۔ آخر یہ ہوا کہ مصر سے بھاگ نکلنے کی تجویز کی گئی اور مصر والوں کے کپڑے اور برتن وغیرہ جو لئے تھے وہ ساتھ ہی لے آئے۔ جب حضرت موسٰی قوم کو لے کر نکل آئے تو فرعون نے اپنے لشکر کو لے کر ان کا تعاقب کیا۔ بنی اسرائیل نے جب دیکھا کہ فرعونیوں کا لشکر ان کے قریب ہے تو وہ بڑے ہی مضطرب ہوئے چنانچہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ اس وقت وہ چلّائے اور کہا اِنَّا لَمُدۡرَکُوۡنَ(الشعرآء:۶۲) اے موسیٰ ہم تو پکڑے گئے مگر موسیٰ علیہ السلام نے جو نبوت کی آنکھ سے انجام کو دیکھتے تھے انہیں یہی جواب دیا کَلَّا ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیۡ سَیَہۡدِیۡنِ(الشعرآء:۶۳) ہرگز نہیں۔ میرا رب میرے ساتھ ہے۔
تورات میں لکھا ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کیا مصر میں ہمارے لئے قبریں نہ تھیں اور یہ اضطراب اس وجہ سے پیدا ہوا کہ پیچھے فرعون کا لشکر اور آگے دریائے نیل تھا وہ دیکھتے تھے کہ نہ پیچھے جا کر بچ سکتے ہیں اور نہ آگے جا کر مگر اللہ تعالیٰ قادر مقتدر خدا ہے۔ دریائے نیل میں سے انہیں راستہ مل گیا اور سارے بنی اسرائیل آرام کے ساتھ پار ہو گئے۔ مگر فرعونیوں کا لشکر غرق ہو گیا۔ سید احمد خاں صاحب اس موقع پر لکھتے ہیں کہ یہ جوار بھاٹا تھا۔ مگر ہم کہتے ہیں کچھ ہو اس میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا کہ یہ عظیم الشان معجزہ تھا جو ایسے وقت پر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے راہ پیدا کر دی اور یہی متقی کے ساتھ ہوتا ہے کہ ہر ضیق سے اسے نجات اور راہ ملتی ہے یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا(الطلاق:۳)۔
دعا اور ابتلا
غرض ایسا ہوتا ہے کہ دعا اور اس کی قبولیت کے زمانہ کے درمیانی اوقات میں بسا اوقات ابتلا پر ابتلا آتے ہیں اور ایسے ایسے ابتلا بھی آجاتے ہیں جو کمر توڑ دیتے ہیں مگر مستقل مزاج سعید الفطرت ان ابتلاؤں اور مشکلات میں بھی اپنے رب کی عنایتوں کی خوشبو سونگھتا ہے اور فراست کی نظر سے دیکھتا ہے کہ اس کے بعد نصرت آتی ہے۔ ان ابتلاؤں کے آنے میں ایک سِرّ یہ بھی ہوتا ہے کہ دعا کے لئے جوش بڑھتا ہے۔ کیونکہ جس جس قدر اضطرار اور اضطراب بڑھتا جاوے گا اسی قدر روح میں گدازش ہوتی جائے گی اور یہ دعا کی قبولیت کے اسباب میں سے ہیں۔ پس کبھی گھبرانا نہیں چاہیے اور بے صبری اور بے قراری سے اپنے اللہ پر بدظن نہیں ہونا چاہیے۔ یہ کبھی بھی خیال کرنا نہیں چاہیے کہ میری دعا قبول نہ ہوگی یا نہیں ہوتی۔ ایسا وہم اللہ تعالیٰ کی اس صفت سے انکار ہو جاتا ہے کہ وہ دعائیں قبول فرمانے والا ہے۔
قبولیت دعا کے سلسلہ میں ایک نکتہ
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان ایک اَمر کے لئے دعا کرتا ہے۔ مگر وہ دعا اس کی اپنی ناواقفی اور نادانی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یعنی ایسا اَمر خدا سے چاہتا ہے جو اس کے لئے کسی صورت سے مفید اور نافع نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو تو ردّ نہیں کرتا لیکن کسی اور صورت میں پورا کر دیتا ہے مثلاً ایک زمیندار جس کو ہل چلانے کے لئے بیل کی ضرورت ہے۔ وہ بادشاہ سے جا کر ایک اونٹ کا سوال کرے اور بادشاہ جانتا ہے کہ اس کو دراصل بیل دینا مفید ہوگا اور وہ حکم دیدے کہ اس کو ایک بیل دے دو وہ زمیندار اپنی بیوقوفی سے یہ کہہ دے کہ میری درخواست منظور نہیں ہوئی تو یہ اس کی حماقت اور نادانی ہے لیکن اگر وہ غور کرے تو اس کے لئے یہی بہتر تھا۔ اس طرح پر اگر ایک بچہ آگ کے سرخ انگارے کو دیکھ کر ماں سے مانگے تو کیا مہربان اور شفیق ماں یہ پسند کرے گی کہ اس کو آگ کے انگارے دیدے؟ غرض بعض اوقات دعا کی قبولیت کے متعلق ایسے امور بھی پیش آتے ہیں۔ جو لوگ بے صبری اور بدظنی سے کام لیتے ہیں وہ اپنی دعا کو رد کرا لیتے ہیں۔
اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کی قبولیت کے زمانہ میں اور بھی درازی ہو جاتی ہے۔ بنی اسرائیل اسی وجہ سے چالیس برس تک ارض مقدس میں داخل ہونے سے محروم ہو گئے کہ ذرا ذرا سی بات پر شوخیوں سے کام لیتے تھے۔ میں کہتا ہوں کہ جس طرح بنی اسرائیل سے غلامی کے دنوں میں وعدے کئے گئے تھے۔ اسی طرح پر اس امت کے لئے بھی ایک مماثلت ہے۔ ان پر بھی ایک غلامی کا زمانہ آنے والا تھا اور اب وہی حالت غلامی کی ہے کیونکہ ہر پہلو اور ہر رنگ میں مسلمانوں کی حالت تنزل میں ہے اسی مماثلت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کی تبلیغ کا زمانہ چالیس سال تک رکھا ہے۔ جس طرح پر موسیٰ علیہ السلام نے وہ زمین نہ پائی بلکہ یشوع بن نون لے گیا اسی طرح پر قبولیت کی ارض مقدس ان مولویوں کے نصیب معلوم نہیں ہوتی جو آئے دن مخالفت اور شرارت میں بڑھتے جاتے ہیں اور نہیں سوچتے کہ ان کو کیا کہا گیا تھا۔ کیا تعلیم ملی تھی اور اب انہوں نے اس پر کس حد تک عمل کیا ہے۔
قرآن شریف کے نصوص پر میرے دعویٰ کو پرکھیں
مجھے بڑی ہی حیرت اور بڑا ہی تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ مسلمان کہلاتے ہیں۔ یہ قرآن شریف کو پڑھتے ہیں۔ یہ احادیث کے درس دیتے اور مسلمانوں کے لیڈر اور سرگروہ بنتے ہیں۔ دین کے اصول سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کے مدعی ہیں مگر میرے معاملہ میں ان ساری باتوں کو چھوڑ دیتے ہیں اور کچھ پروا نہیں کرتے کہ قرآن شریف کے نصوص کی بنا پر میرے دعوے کو سوچیں اور میری نسبت کوئی رائے دیتے ہوئے اس بات کا لحاظ رکھیں کہ ہم جو کہتے ہیں خدا تعالیٰ کے خوف سے کہتے ہیں یا اپنے نفسانی اغراض اور جوشوں کو درمیان رکھ کر کہتے ہیں۔ اگر خداترسی اور تقویٰ سے کام لیتے تو تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ(بنی اسرآءیل:۳۷) پر عمل کرتے اور جب تک میری کتابوں کو پورے طور پر نہ پڑھ لیتے اور میرے پاس رہ کر میرے طرزِ عمل کو نہ دیکھ لیتے کوئی رائے نہ دیتے۔ مگر انہوں نے قبل از مَرگ واویلا شروع کر دیا اور خدا تعالیٰ کے کلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدوں کی کچھ بھی پروا نہ کی۔ ان سب کو پس پشت ڈال دیا۔ کم از کم تقویٰ کا طریق تو یہ تھا کہ وہ میرے دعویٰ کو سن کر فکر کرتے اور جھٹ پٹ انکار نہ کر دیتے۔ کیونکہ میں نے ان کو یہ کہا تھا کہ خدا نے مجھے مامور کیا ہے۔ خدا نے مجھے بھیجا ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ کیا جس شخص نے اپنا آنا خدا کے حکم سے بتایا ہے وہ خدا کی نصرتیں اور تائیدیں بھی اپنے ساتھ رکھتا ہے یا نہیں۔ مگر انہوں نے نشان پر نشان دیکھے اور کہا کہ جھوٹے ہیں۔ انہوں نے نصرت پر نصرت اور تائید پر تائید دیکھی لیکن کہہ دیا کہ سحر ہے۔ میں ان لوگوں سے کیا امید رکھوں جو خدا تعالیٰ کے کلام کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ خدا کے کلام کے ادب کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس کا نام سنتے ہی یہ ہتھیار ڈال دیتے مگر یہ اور بھی شرارت میں بڑھے۔ اب خود دیکھ لیں گے کہ انجام کس کے ہاتھ ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ میرے بلانے کے دراصل یہی لوگ محرک ہوئے ہیں اور میری بعثت کے اسباب میں سے یہ بڑا سبب ہیں۔
مسلمانوں کے مرتد ہونے کا باعث مولوی ہیں
کیونکہ جس قدر لوگ نصرانی اور بے دین ہوئے ہیں وہ دراصل مولویوں کا قصور ہے۔ جب کسی نے ان سے سوال کیا اور کوئی بات ان سے پوچھی تو انہوں نے جھٹ پٹ یہی فتویٰ دے دیا کہ یہ واجب القتل ہے، کافر ہو گیا، بے دین ہو گیا، اس کو مار ڈالو۔ اعتراض کرنے والوں نے جب یہ حالت دیکھی تو انہوں نے یہی سمجھا کہ اسلام کے عقائد فی الحقیقت ایسے ہی کمزور اور بودے ہیں کہ وہ معقولیت کے آگے نہیں ٹھہر سکتے۔ پس انہوں نے یہی بہتر سمجھا کہ یسے دین کو چھوڑ دیں۔ ہزاروں ہزار لوگ پائے جاتے ہیں جن کے مرتد ہونے کی وجہ یہی مولوی ہو گئے ہیں۔ یہ بات کہ وہ سوال کیوں کرتے ہیں بڑی سہل ہے۔ یہ لوگ تیرہ سو برس کے بعد چونکہ پیدا ہوئے ہیں۔ اس قدر بُعد زمانہ کی وجہ سے گویا یہ تاریکی کا زمانہ کہنا چاہیے۔ اس لئے ان کو حق حاصل ہے کہ جو بات سمجھ میں نہ آئے پوچھیں لیکن سوال کرنے پر انہوں نے جو اخلاق ان مولویوں کے دیکھے انہوں نے ان کو گمراہ کر دیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ان کو معذور اور واجب الرحم سمجھ کر نرمی سے پیش آتے اور ان کو سمجھاتے۔ مگر اُلٹا انہوں نے ان کو اسلام سے بیزار کر دیا۔ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے کہ میں اسلام کی تعلیم کی خوبیاں ظاہر کروں اور پھر ان خوبیوں کا عملی ثبوت اور اس کی تاثیروں کو دکھاؤں۔
مسیح موعود کے دو کام
پس اس وقت ہمارے دو کام ہیں۔ اول یہ کہ ان نشانوں کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ دکھا رہا ہے یہ ثابت کیا جاوے کہ مجیب اور ناطق خدا ہمارا ہی ہے جو ہماری دعاؤں کو سنتا اور ان کے جواب دیتا ہے اور دوسرے مذاہب کے لوگ جو خدا پیش کرتے ہیں وہ اَلَّا یَرۡجِعُ اِلَیۡہِمۡ قَوۡلًا(طٰہٰ:۹۰) کا مصداق ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بوجہ ان کے کفر اور بے دینی کے ان کی دعائیں دُعٰٓؤُا الۡکٰفِرِیۡنَ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ(الرّعد:۱۵) کی مصداق ہوگئی ہیں۔ ورنہ اللہ تعالیٰ تو سب کا ایک ہی ہے۔ مگر ان لوگوں نے اس کی صفات کو سمجھا ہی نہیں ہے۔ پس یاد رکھو کہ ہمارا خدا ناطق خدا ہے۔ وہ ہماری دعائیں سنتا ہے۔
ہماری جماعت کا خدا تعالیٰ سے سچا تعلق ہونا چاہیے
ہماری جماعت کو خدا تعالیٰ سے سچا تعلق ہونا چاہیے اور ان کو شکر کرنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو یونہی نہیں چھوڑ دیا۔ بلکہ ان کی ایمانی قوتوں کو یقین کے درجہ تک بڑھانے کے واسطے اپنی قدرت کے صدہا نشان دکھائے ہیں۔ کیا کوئی تم میں سے ایسا بھی ہے جو یہ کہہ سکے کہ میں نے کوئی نشان نہیں دیکھا۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ایک بھی ایسا نہیں جس کو ہماری صحبت میں رہنے کا موقع ملا ہو اور اس نے خدا تعالیٰ کا تازہ بہ تازہ نشان اپنی آنکھ سے نہ دیکھا ہو۔
ہماری جماعت کے لئے اسی بات کی ضرورت ہے کہ ان کا ایمان بڑھے۔ خدا تعالیٰ پر سچا یقین اور معرفت پیدا ہو۔ نیک اعمال میں سستی اور کسل نہ ہو۔ کیونکہ اگر سستی ہو تو پھر وضو کرنا بھی ایک مصیبت معلوم ہوتی ہے چہ جائیکہ وہ تہجد پڑھے۔ اگر اعمال صالحہ کی قوت پیدا نہ ہو اور مسابقت علی الخیرات کے لئے جوش نہ ہو تو پھر ہمارے ساتھ تعلق پیدا کرنا بے فائدہ ہے۔
تعلیم کے موافق عمل کرنے کی نصیحت
ہماری جماعت میں وہی داخل ہوتا ہے جو ہماری تعلیم کو اپنا دستور العمل قرار دیتا ہے اور اپنی ہمّت اور کوشش کے موافق اس پر عمل کرتا ہے۔ لیکن جو محض نام رکھا کر تعلیم کے موافق عمل نہیں کرتا وہ یاد رکھے کہ خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو ایک خاص جماعت بنانے کا ارادہ کیا ہے اور کوئی آدمی جو دراصل اس جماعت میں نہیں ہے محض نام لکھانے سے جماعت میں نہیں رہ سکتا۔ اس پر کوئی نہ کوئی وقت ایسا آ جاوے گا کہ وہ الگ ہو جائے گا۔ اس لئے جہاں تک ہو سکے اپنے اعمال کو اس تعلیم کے ماتحت کرو جو دی جاتی ہے۔ اعمال پروں کی طرح ہیں۔ بغیر اعمال کے انسان روحانی مدارج کے لئے پرواز نہیں کر سکتا اور ان اعلیٰ مقاصد کو حاصل نہیں کر سکتا جو ان کے نیچے اللہ تعالیٰ نے رکھے ہیں۔ پرندوں میں فہم ہوتا ہے۔ اگر وہ اس فہم سے کام نہ لیں تو جو کام ان سے ہوتے ہیں نہ ہو سکیں۔ مثلاً شہد کی مکھی میں اگر فہم نہ ہو تو وہ شہد نہیں نکال سکتی اور اسی طرح نامہ بر کبوتر جو ہوتے ہیں۔ ان کو اپنے فہم سے کس قدر کام لینا پڑتا ہے۔ کس قدر دور دراز کی منزلیں وہ طے کرتے ہیں۔ اور خطوط کو پہنچاتے ہیں۔ اسی طرح پر پرندوں سے عجیب عجیب کام لئے جاتے ہیں۔ پس پہلے ضروری ہے کہ آدمی اپنے فہم سے کام لے اور سوچ لے کہ جو کام میں کرنے لگا ہوں یہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے نیچے اور اس کی رضا کے لئے ہے یا نہیں؟ جب یہ دیکھ لے اور فہم سے کام لے تو پھر ہاتھوں سے کام لینا ضروری ہوتا ہے سستی اور غفلت نہ کرے۔ ہاں یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ تعلیم صحیح ہو۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تعلیم صحیح ہوتی ہے لیکن انسان اپنی نادانی اور جہالت سے یا کسی دوسرے کی شرارت اور غلط بیانی کی وجہ سے دھوکا میں پڑ جاتا ہے۔ اس لئے خود خالی الذہن ہو کر تحقیق کرنی چاہیے۔
قرآنی قَسموں کا فلسفہ
مثلاً میں نے دیکھا ہے کہ آریہ اور عیسائی اعتراض کر دیتے ہیں کہ قرآن شریف میں قسمیں کیوں کھائی ہیں؟ اور پھر اپنی طرف سے حاشیہ چڑھا کر اس کو عجیب عجیب اعتراضوں کے پیرایہ میں پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ اگر ذرا بھی نیک نیتی اور فہم سے کام لیا جاوے تو ایسا اعتراض بیہودہ اور بےسود معلوم دیتا ہے کیونکہ قسموں کے متعلق دیکھنا یہ ضروری ہوتا ہے کہ قسم کھانے کا اصل مفہوم اور مقصد کیا ہوتا ہے؟ جب اس کی فلاسفی پر غور کر لیا جاوے تو پھر یہ خود بخود سوال حل ہو جاتا ہے اور زیادہ رنج اٹھانے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ قسم کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ قسم بطور قائم مقام گواہ کے ہوتی ہے اور یہ مسلّم بات ہے کہ عدالت جب گواہ پر فیصلہ کرتی ہے تو کیا اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ جھوٹ پر فیصلہ کرتی ہے یا قسم کھانے والے کی قسم کو ایک شاہد صادق تصور کرتی ہے؟ یہ روزمرہ کی بات ہے۔
جہالت اور تعصب سے اعتراض کرنا اَور بات ہے لیکن حقیقت کو مدنظر رکھ کر کوئی بات کہنا اَور۔
اب جب کہ یہ عام طریق ہے کہ قسم بطور گواہ کے ہوتی ہے۔ پھر یہ کیسی سیدھی بات ہے کہ اسی اصول پر قرآن شریف کی قسموں کو دیکھ لیا جاوے کہ وہاں اس سے کیا مطلب ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جہاں کوئی قسم کھائی ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ نظری امور کے اثبات کے لئے بدیہی کو گواہ ٹھہراتا ہے۔ جیسے فرمایا وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِ وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ اِنَّہٗ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ(الطارق:۱۲ تا ۱۴) اب یہ بھی ایک قسم کا محل ہے۔ نادان قرآن شریف کے حقائق سے ناواقف اور نابلد اپنی جہالت سے یہ اعتراض کر دیتا ہے کہ دیکھو زمین کی یا آسمان کی قسم کھائی ہے لیکن اس کو نہیں معلوم کہ اس قسم کے نیچے کیسے کیسے معارف موجود ہیں۔
اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وحی الٰہی کے دلائل اور قرآن شریف کی حقانیت کی شہادت پیش کرنی چاہتا ہے اور اس کو اس طرز پر پیش کیا ہے۔۱؎
اب اس قسم کی قَسم پر اعتراض کرنا بجز ناپاک فطرت یا بلید الطبع انسان کے دوسرے کا کام نہیں کیونکہ اس میں تو عظیم الشان صداقت موجود ہے۔ صحیفہ فطرت کی عام شہادت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کلام الٰہی اور نزول وحی کی حقیقت بتانی چاہتا ہے۔ سماء کے معنی بادل کے بھی ہیں جس سے مینہ برستا ہے۔ آسمان اور زمین میں ایسے تعلقات ہیں جیسے نر و مادہ میں ہوتے ہیں۔ زمین میں بھی کنوئیں ہوتے ہیں لیکن زمین پھر بھی آسمانی پانی کی محتاج رہتی ہے۔ جب تک آسمان سے بارش نہ ہو زمین مُردہ سمجھی جاتی ہے اور اس کی زندگی اس پانی پر منحصر ہے جو آسمان سے آتا ہے۔ اسی واسطے فرمایا ہے اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یُحۡیِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا(الحدید:۱۸) اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب آسمان سے پانی برسنے میں دیر ہو اور امساک باراں ہو تو کنوؤں کا پانی بھی خشک ہونے لگتا ہے اور ان ایام میں دیکھا گیا ہے کہ پانی اتر جاتا ہے۔ لیکن جب برسات کے دن ہوں اور مینہ برسنے شروع ہوں تو کنوؤں کا پانی بھی جوش مار کر چڑھتا ہے کیونکہ اوپر کے پانی میں قوت جاذبہ ہوتی ہے اب براہموں سوچیں کہ اگر آسمانی پانی نازل ہونا چھوڑ دے تو سب کنوئیں خشک ہو جائیں۔ اسی طرح پر ہم یہ مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک نور قلب ہر ایک انسان کو دیا ہے اور اس کے دماغ میں عقل رکھی ہے جس سے وہ برے بھلے میں تمیز کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ لیکن اگر نبوت کا نور آسمان سے نازل نہ ہو اور یہ سلسلہ بند ہو جاوے تو دماغی عقلوں کا سلسلہ جاتا رہے اور نور قلب پر تاریکی پیدا ہو جاوے اور وہ بالکل کام دینے کے قابل نہ رہے کیونکہ یہ سلسلہ اسی نور نبوت سے روشنی پاتا ہے۔ جیسے بارش ہونے پر زمین کی روئیدگیاں نکلنی شروع ہو جاتی ہیں اور ہر تخم پیدا ہونے لگتا ہے اسی طرح پر نور نبوت کے نزول پر دماغی اور ذہنی عقلوں میں ایک صفائی اور نورِ فراست میں ایک روشنی پیدا ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ علیٰ قدرِ مراتب ہوتی ہے اور استعداد کے موافق ہر شخص فائدہ اٹھاتا ہے۔ خواہ وہ اس اَمر کو محسوس کرے یا نہ کرے لیکن یہ سب کچھ ہوتا اسی نور نبوت کے طفیل ہے۔
نزول وحی کی ضرورت کا ثبوت
غرض اس قسم میں نزول وحی کی ضرورت کو ایک عام مشاہدہ کی رو سے ثابت کیا ہے کہ جیسے آسمانی پانی کے نہ برسنے کی وجہ سے زمین مَر جاتی اور کنوؤں کا پانی خشک ہونے لگتا ہے یہی قانون نزول وحی کے متعلق ہے۔
رَجْعٌ پانی کو کہتے ہیں۔ حالانکہ پانی زمین پر بھی ہوتا ہے لیکن آسمان کو ذَاتِ الرَّجْعِ کہا ہے۔ اس میں یہ فلسفہ بتایا ہے کہ اصلی آسمانی پانی ہی ہے۔ چنانچہ کہا ہے۔
باراں کہ در لطافت طبعش دریغ نیست
در باغ لالہ روید و در شورہ بوم خس
جو کیفیت بارش کے وقت ہوتی ہے وہی نزول وحی کے وقت۔ دو قسم کی طبیعتیں موجود ہوتی ہیں۔ ایک تو مستعد ہوتی ہیں اور دوسری بلید۔ مستعد طبیعت والے فوراً سمجھ لیتے ہیں اور صادق کا ساتھ دے دیتے ہیں لیکن بلید الطبع نہیں سمجھ سکتے اور وہ مخالفت پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ دیکھو! مکہ معظمہ میں جب وحی کا نزول ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا تعالیٰ کا کلام اترنے لگا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ابو جہل ایک ہی سرزمین کے دو شخص تھے۔ ابوبکرؓ نے تو کوئی نشان بھی نہ مانگا اور مجرد دعویٰ سنتے ہی اٰمَنَّا کہہ کر ساتھ ہو لیا۔ مگر ابو جہل نے نشان پر نشان دیکھے مگر تکذیب سے باز نہ آیا اور آخر خدا تعالیٰ کے قہر کے نیچے آ کر ذلّت کے ساتھ ہلاک ہوا۔
غرض خدا تعالیٰ کی وحی ہر قسم کی طبیعتوں کو باہر نکال دیتی ہے۔ طیّب اور خبیث میں امتیاز کر کے دکھا دیتی ہے۔ وہ بہار کا موسم ہوتا ہے۔ اس وقت ممکن نہیں کہ کوئی تخم شگفتگی کے لئے نہ نکلے۔ لیکن جو کچھ ہو گا وہی برآمد ہو گا۔ نیک اور سعید الفطرت اپنی جگہ پر نمودار ہوتے ہیں اور خبیث الگ۔ اور اس سے پہلے وہ ملے جلے ہوئے ہوتے ہیں جیسے گندم اور بھگاٹ کے دانے ملے ہوئے تو رہتے ہیں لیکن جب زمین سے نکلتے ہیں تو دونوں الگ نظر آتے ہیں۔ مالک گندم کی حفاظت کرتا اور بھگاٹ کو نکال کر باہر پھینکتا ہے۔ پس نزول وحی کے ثبوت کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ مشاہدہ پیش کیا ہے جس کو نادان اپنی نادانی اور جہالت سے اعتراض کے رنگ میں پیش کرتا ہے حالانکہ اس میں ایک عظیم الشان فلسفہ رکھا ہوا ہے۔ اسی لئے وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِ وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ(الطارق:۱۲ تا ۱۳) کہہ کر فرمایا اِنَّہٗ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ(الطارق:۱۴)۔
اِنَّہٗ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ(الطارق:۱۴) جو کلام الٰہی کے لئے بولا گیا ہے یہ ایک نظری اَمر تھا۔ اس کے ثبوت کے لئے بدیہی اَمر کو پیش کیا ہے۔ جیسے امساکِ باراں کے وقت ضرورت ہوتی ہے مینہ کی اسی طرح پر اس وقت لوگ روحانی پانی کو چاہتے ہیں۔ زمین بالکل مَر چکی ہے۔ یہ زمانہ ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ(الرّوم:۴۲) کا ہو گیا ہے جنگل اور سمندر بگڑ چکے ہیں۔ جنگل سے مراد مشرک لوگ اور بحر سے اہل کتاب ہیں۔ جاہل و عالم بھی مراد ہو سکتے ہیں۔ غرض انسانوں کے ہر طبقہ میں فساد واقع ہو گیا ہے جس پہلو اور جس رنگ میں دیکھو دنیا کی حالت بدل گئی ہے۔ روحانیت باقی نہیں رہی اور نہ اس کی تاثیریں نظر آتی ہیں۔ اخلاقی اور عملی کمزوریوں میں ہر چھوٹا بڑا مبتلا ہے۔ خدا پرستی اور خداشناسی کا نام و نشان مٹا ہوا نظر آتا ہے۔ اس لئے اس وقت ضرورت ہے کہ آسمانی پانی اور نور نبوت کا نزول ہو اور مستعد دلوں کو روشنی بخشے۔ خدا تعالیٰ کا شکر کرو اس نے اپنے فضل سے اس وقت اس نور کو نازل کیا ہے مگر تھوڑے ہیں جو اس نور سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کی بنا پر دلائل عقلیہ اور نشانات بیّنہ سے اس سلسلہ کی صداقت کو ظاہر کر رہا ہے۔ تعلیم کو اگر انسان دیکھے تو صاف معلوم ہو سکتا ہے کہ سچی تعلیم یہی تعلیم ہے جس کو عقلمند قبول کریں گے۔ اسلامی تعلیم ہی ایک ایسی تعلیم ہے کہ جس کو عدل کہتے ہیں۔ اس تعلیم میں ایک کشش موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ
(اسلام اور عیسائی تعلیمات کی رو سے)
سورۃ فاتحہ میں جس خدا کو پیش کیا ہے دنیا کا کوئی مذہب اسے پیش نہیں کرتا۔ عیسائیوں نے جو خدا دکھایا ہے اس کے مقابلہ میں ہم کہتے ہیں لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَلَمۡ یُوۡلَدۡ(الاخلاص:۴) ہے۔ ہاں اگر مریم کے پیٹ میں واقعی خدا آ گیا تھا تو چاہیے تھا کہ وہ پیٹ ہی میں مریم کو وعظ کرتے اور ایک لمبا لیکچر دیتے جس کو دوسرے لوگ بھی سن لیتے تو اس خارق عادت لیکچر کو سن کر سارے شبہات دور ہو جاتے اور خواہ نخواہ ماننا پڑتا بلکہ اور بھی خدائی کا ثبوت ملتا۔ اگر پیٹ ہی میں معجزے دکھانے شروع کر دیتے تو اور بھی معاملہ صاف ہو جاتا اور خواہ نخواہ ماننا پڑتا۔ مگر بجائے اس کے کہ اس کی الوہیت کی کوئی عظمت ثابت ہوتی ہر پہلو سے اس کا نقص اور کمزوری ہی ثابت ہوتی ہے۔
مریم کے نکاح سے تین قَسمیں توڑی گئیں
مریم کا نکاح حمل میں کیا گیا جو شرعاً جائز نہ تھا اور ایک نکاح سے تین قسمیں توڑی گئیں۔ یعنی ماں نے عہد کیا تھا کہ نکاح نہ کروں گی اور خود مریم نے بھی عہد کیا ہوا تھا۔ اور ان ساری باتوں کے علاوہ ایک اور اعتراض ہے جس کا جواب عیسائی نہیں دے سکتے۔ عیسائی مذہب میں دوسری شادی منع ہے لیکن یوسف کی پہلی بیوی تھی اَور بھی اس قسم کے اعتراض ہیں۔ یہودیوں کی کتابوں کو پڑھو وہ کیا حقیقت بیان کرتے ہیں اور ہم کو تو ایسے اعتراض کرتے ہوئے بھی افسوس اور حیا مانع ہوتے ہیں۔ پادری عمادالدین نے اپنی کتابوں میں راحاب، تمر اور بنتِ سبع کی بابت لکھا ہے کہ وہ اچھے چال چلن کی عورتیں نہ تھیں۔ وہ لکھتا ہے کہ خداوند نے یہ کیا کیا کہ ایسے خاندان میں جنم لیا۔ پھر خود ہی جواب دیتا ہے کہ وہ ایسا کریم ہے کہ ایسے لوگوں میں بھی جنم لینے سے دریغ نہیں کیا۔ مگر ایک دانشمند غور کرے کہ یہ کیسی وسعت اخلاق ہے۔
اسلام کا پیش کردہ خدا
لیکن ہمارا خدا لَمْ یَلِدْ ہے اور کس قدر خوشی اور شکر کا مقام ہے کہ جس خدا کو ہم نے مانا اور اسلام نے پیش کیا ہے وہ ہر طرح کامل اور قدوس ہے اور کوئی نقص اس میں نہیں۔ دو خوبیاں کامل طور پر اللہ تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں اور ساری صفات ان کو بیان کرتی ہیں۔ چنانچہ اوّل یہ کہ اس میں ذاتی حسن ہے اور اس کے متعلق لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ(الشورٰی:۱۲) فرمایا۔ قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ(الاخلاص:۲) فرمایا اور کہا کہ وہ الصَّمَدُ ہے، بے نیاز ہے، نہ وہ کسی کا بیٹا ہے نہ اس کا کوئی بیٹا ہے۔ نہ کوئی اس کا ہمتا اور ہمسر ہے۔ قرآن شریف کو غور سے پڑھو تو معلوم ہوگا کہ جا بجا اس کا حسن دکھایا گیا ہے۔
پھر دوسری کشش احسان کی ہے۔ عیسائیوں نے خدا کے احسان کا کیا نمونہ دکھایا یہی کہ اپنے بچہ کو پھانسی دے دیا۔ مولوی صاحب (مولوی نور الدین صاحب) ذکر کیا کرتے ہیں کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو کہہ رہا تھا کہ خدا نے اس جہان کو کیسا پیار کیا کہ اپنا بیٹا پھانسی دے دیا۔ لڑکا یہ سن کر ڈر گیا اور بھاگ گیا اور جب اس سے بھاگنے کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے یہی کہا کہ جب خدا نے یہ حرکت کی تو تجھ سے کیا امید ہوسکتی ہے۔ انسان خدا سے محبت کرتا ہے تو پھر اس کو سب سے مقدم کر لیتا ہے۔ ہزاروں بھیڑیں بکریاں موجود ہیں۔ اگر محبت کا یہی نشان ہے اور مارنے والے عزیز ہوتے ہیں تو کیا یہ چیزیں خدا کو انسان سے عزیز ترین ہوتی ہیں؟ مگر ایسا نہیں۔ لاکھوں چیزیں انسان کے لئے وہ ہلاک کرتا ہے۔ پانی میں کیڑے رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ بھی خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کیونکہ بسیط چیزیں ہلاک کر دیتی ہیں۔ غرض یہ اصل صحیح نہیں ہے جو سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ جس چیز سے پیار کرتا ہے اس کو ہلاک کرتا ہے۔ سچا خدا جس سے پیار کرتا ہے اس کی تائید کرتا ہے کیونکہ وہ خدا فرماتا ہے کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیۡ(المجادلۃ:۲۲) عیسائی اپنے خدا کی نسبت ایسا نمونہ پیش نہیں کرتے اور حقیقت میں نہیں ہے۔ کیونکہ مسیح کا اپنا نمونہ یہ ہے کہ دشمنوں کے ہاتھوں سے سخت ذلیل ہوئے اور اس وقت وہ خود اگر خدا تھے یا خدا کے بیٹے تھے تو دشمنوں کو خطرناک ذلّت پہنچنی چاہیے تھی مگر بظاہر دشمن کامیاب ہو گئے اور انہوں نے پکڑ کر صلیب پر چڑھا ہی دیا۔ لیکن ہمارا خدا ایسا نہیں ہے اس نے اپنے رسولوں کی ہر میدان میں نصرت کی اور کامیاب کیا۔ اب دوسرے مذہب اس کا نمونہ کہاں سے لائیں۔ یہ یاد رکھو کہ ہمارا خدا کسی کو پھانسی دینا نہیں چاہتا جس قدر کام کریں گے اس میں عزّت پائیں گے۔ اس نے ہمارے قویٰ کو بے کار نہیں رکھا۔ بقول سعدی
حقا کہ با عقوبت دوزخ برابر است
رفتن بپائے مَردی ہمسایہ در بہشت
خدا نے چاہا ہے کہ تم زنانہ سیرت نہ بنو بلکہ مَرد بنو۔ اب کیسی بات ہے۔ کیسے احسان کئے ہیں کہ ہم پر حقائق و معارف کے خزانے کھولے ہیں۔ کسی کے سامنے ہمیں اس نے شرمندہ نہیں کیا۔ عیسائی کیسے شرمندہ ہوتے ہیں۔ آریوں کو کیسے شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ کیا کوئی عیسائی فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ ہمارے خداوند کی تین دادیاں نانیاں بدکار تھیں۔
الغرض انسان یا حسن کا گرویدہ ہوتا ہے یا احسان کا اور کامل طور پر یہ اسلام نے اللہ تعالیٰ کی نسبت بیان کئے ہیں۔ سورۃ فاتحہ میں پہلے حسن و احسان ہی کو دکھایا ہے اور اگر ان سے انسان اس کی طرف رجوع نہیں کرتا تو پھر تیسری صورت غضب کی بھی ہے۔ اس لئے غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ(الفاتحۃ:۷) کہہ کر ڈرایا ہے لیکن مبارک وہی شخص ہے جو اس کے حسن اور احسان سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کے احکام کی پیروی کرتا ہے۔ اس سے خدا قریب ہو جاتا ہے اور دعاؤں کو سنتا ہے۔
عقل روح کی صفائی سے پیدا ہوتی ہے
یاد رکھو کہ عقل روح کی صفائی سے پیدا ہوتی ہے۔ جس جس قدر انسان روح کی صفائی کرتا ہے اسی اسی قدر عقل میں تیزی پیدا ہوتی ہے اور فرشتہ سامنے کھڑا ہو کر اس کی مدد کرتا ہے مگر فاسقانہ زندگی والے کے دماغ میں روشنی نہیں آسکتی۔
تقویٰ اختیار کرو
تقویٰ اختیار کرو کہ خدا تمہارے ساتھ ہو۔ صادق کے ساتھ رہو کہ تقویٰ کی حقیقت تم پر کھلے اور تمہیں توفیق ملے۔ یہی ہمارا منشا ہے اور اسی کو ہم دنیا میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔۱؎
۱۶؍جنوری ۱۹۰۳ء
(دوران سفر جہلم بمقام لاہور)
آپؑ پاپیادہ سٹیشن کو روانہ ہوئے۔ راستہ میں مولوی محمد احسن صاحب امروہی کے استفسار پر فرمایا کہ
رات کو کثرت سے بار بار یہ الہام ہوا ہے اُرِیْکَ بَرَکَاتٍ مِّنْ کُلِّ طَرْفٍ یعنی میں ہر ایک جانب سے تجھے اپنی برکتیں دکھاؤں گا۔۲؎
۱۷ ؍جنوری ۱۹۰۳ء
(حضرت حجۃ اللہ جہلم میں)
ایک الہام کی تشریح
۱۷؍ جنوری ۱۹۰۳ء کو کچہری جانے سے پیشتر اعلیٰ حضرت نے ہمارے محترم مخدوم جناب خان محمد عجب خان صاحب آف زیدہ کو خطاب کر کے فرمایا کہ
آپ نے رخصت لی ہے ہمارے پاس بھی رہنا چاہیے خان صاحب نے دارالامان آنے کا وعدہ کیا اور تھوڑی دیر کے بعد پوچھا کہ اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْکَ پر لوگ اعتراضات کرتے ہیں۔ اس کا کیا جواب دیا جاوے؟
فرمایا۔ اَنْتَ مِنِّیْ تو بالکل صاف ہے اس پر کسی قسم کا اعتراض اور نکتہ چینی نہیں ہو سکتی میرا ظہور محض اللہ تعالیٰ ہی کے فضل سے ہے اور اسی سے ہے۔
دوسرا حصہ اس الہام کا کسی قدر شرح طلب ہے سو یاد رکھنا چاہیے کہ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جیسا قرآن شریف میں بار بار اس کا ذکر ہوا ہے وحدہٗ لاشریک ہے نہ اس کی ذات میں کوئی شریک ہے نہ صفات میں نہ افعالِ الٰہیہ میں۔ سچی بات یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمانِ کامل اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک انسان ہر قسم کے شرک سے پاک نہ ہو۔ توحید تب ہی پوری ہوتی ہے کہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کو کیا باعتبار ذات اور کیا باعتبار صفات اور افعال کے بے مثل مانے۔ نادان میرے اس الہام پر تو اعتراض کرتے ہیں اور سمجھتے نہیں کہ اس کی حقیقت کیا ہے لیکن اپنی زبان سے ایک خدا کا اقرار کرنے کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ کی صفات دوسرے کے لیے تجویز کرتے ہیں جیسے حضرت مسیح علیہ السلام کو محیی اور ممیت مانتے ہیں، عالم الغیب مانتے ہیں، حیُّ القیوم مانتے ہیں۔ کیا یہ شرک ہے یا نہیں؟ یہ خطرناک شرک ہے جس نے عیسائی قوم کو تباہ کیا ہے اور اب مسلمانوں نے اپنی بدقسمتی سے ان کے اس قسم کے اعتقادوں کو اپنے اعتقادات میں داخل کر لیا ہے پس اس قسم کے صفات جو اللہ تعالیٰ کے ہیں کسی دوسرے انسان میں خواہ وہ نبی ہو یا ولی تجویز نہ کرے اور اسی طرح خدا تعالیٰ کے افعال میں بھی کسی دوسرے کو شریک نہ کرے۔ دنیا میں جو اسباب کا سلسلہ جاری ہے بعض لوگ اس حد تک اسباب پرست ہو جاتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں۔ توحید کی اصل حقیقت تو یہ ہے کہ شرک فی الاسباب کا بھی شائبہ باقی نہ رہے۔ خواص الاشیاء کی نسبت کبھی یہ یقین نہ کیا جاوے کہ وہ خواص ان کے ذاتی ہیں بلکہ یہ ماننا چاہیے کہ وہ خواص بھی اللہ تعالیٰ نے ان میں ودیعت رکھے ہیں۔ جیسے تُربد اسہال لاتی ہے یا سمّ الفار ہلاک کرتا ہے۔ اب یہ قوتیں اور خواص ان چیزوں کے خود بخود نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں رکھے ہوئے ہیں۔ اگر وہ نکال لے تو پھر نہ تُربد دست آور ہو سکتی ہے اور نہ سنکھیا ہلاک کرنے کی خاصیت رکھ سکتا ہے اور نہ اسے کھا کر کوئی مَر سکتا ہے۔ غرض اسباب کے سلسلہ کو حدِّ اعتدال سے نہ بڑھاوے اور صفات و افعالِ الٰہیہ میں کسی کو شریک نہ کرے تو توحید کی حقیقت اس میں متحقق ہوگی اور اُسے موحّد کہیں گے۔ لاکن اگر وہ صفات و افعالِ الٰہیہ کو کسی دوسرے کے لیے تجویز کرتا ہے تو وہ زبان سے گو کتنا ہی توحید ماننے کا اقرار کرے وہ موحّد نہیں کہلا سکتا۔ ایسے موحد تو آریہ بھی ہیں جو اپنی زبان سے کہتے ہیں کہ ہم ایک خدا کو مانتے ہیں لیکن باوجود اس اقرار کے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ روح اور مادہ کو خدا نے پیدا نہیں کیا۔ وہ اپنے وجود اور قیام میں اللہ تعالیٰ کے محتاج نہیں ہیں گویا اپنی ذات میں ایک مستقل وجود رکھتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر اور کیا شرک ہوگا۔ اسی طرح پر بہت سے لوگ ہیں جو شرک اور توحید میں فرق نہیں کر سکتے۔ ایسے افعال اور اعمال ان سے سرزد ہوتے ہیں یا وہ اس قسم کے اعتقادات رکھتے ہیں جن میں صاف طور پر شرک پایا جاتا ہے مثلاً کہہ دیتے ہیں کہ اگر فلاں شخص نہ ہوتا تو ہم ہلاک ہو جاتے یا فلاں کام درست نہ ہوتا۔ پس انسان کو چاہیے کہ اسباب کے سلسلہ کو حدّ اعتدال سے نہ بڑھاوے اور صفت و افعالِ الٰہیہ میں کسی کو شریک نہ کرے۔
انسان میں جو قوتیں اور ملکےا للہ تعالیٰ نے رکھے ہیں ان میں وہ حد سے نہیں بڑھ سکتے مثلاً آنکھ اس نے دیکھنے کے لیے بنائی ہے اور کان سننے کے لیے، زبان بولنے اور ذائقہ کے لیے۔ اب یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ کانوں سے بجائے سننے کے دیکھنے کا کام لے اور زبان سے بولنے اور چکھنے کی بجائے سننے کا کام لے۔ ان اعضا اور قویٰ کے افعال اور خواص محدود ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے افعال اور صفات محدود نہیں ہیں اور وہ لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ(الشورٰی:۱۲) ہے۔ غرض یہ توحید تب ہی پوری ہوگی جب اللہ تعالیٰ کو ہر طرح سے وحدہٗ لاشریک یقین کیا جاوے اور انسان اپنی حقیقت کو ہالکۃ الذات اور باطلۃ الحقیقت سمجھ لے۔ کہ نہ میں اور نہ میری تدابیر اور اسباب کچھ چیز ہیں۔
رعایتِ اسباب بھی ضروری ہے
اس سے ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ شاید ہم استعمالِ اسباب سے منع کرتے ہیں یہ صحیح نہیں ہے ہم اسباب کے استعمال سے منع نہیں کرتے بلکہ رعایتِ اسباب بھی ضروری ہے کیونکہ انسانی بناوٹ بجائے خود اس رعایت کو چاہتی ہے لیکن اسباب کا استعمال اس حد تک نہ کرے کہ ان کو خدا کا شریک بناوے بلکہ ان کو بطور خادم سمجھے جیسے کسی کو بٹالہ جانا ہو تو وہ یکّہ یا ٹٹو کرایہ کرتا ہے تو اصل مقصد اس کا بٹالہ پہنچنا ہے نہ وہ ٹٹو یا یکّہ۔ پس اسباب پر کُلّی بھروسا نہ کرے یہ سمجھے کہ ان اسباب میں اللہ تعالیٰ نے کچھ تاثیریں رکھی ہیں اگر اللہ تعالیٰ نہ چاہے تو وہ تاثیریں بے کار ہو جائیں اور کوئی نفع نہ دیں۔ اسی کے موافق ہے جو مجھے الہام ہوا ہے رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ۔۔
اسباب پرستی شرک ہے
بُت پرستوں کا شرک تو موٹا ہوتا ہے کہ پتھر بنا کر پوجا کرتے ہیں یا کسی درخت یا اور شَے کی پرستش کرتے ہیں اس کو تو ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ یہ باطل ہے یہ زمانہ اس قسم کی بُت پرستی کا نہیں ہے بلکہ اسباب پرستی کا زمانہ ہے اگر کوئی بالکل ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ رہے اور سُست ہو جاوے تو اس پر تو خدا کی لعنت ہوتی ہے لیکن جو اسباب کو خدا بنا لیتا ہے وہ بھی ہلاک ہو جاتا ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اس وقت یورپ دو شرکوں میں مبتلا ہے ایک تو مُردہ کی پرستش کر رہا ہے اور جو اس سے بچے ہیں اور مذہب سے آزاد ہو گئے ہیں وہ اسباب کی پرستش کر رہے ہیں اور اس طرح پر یہ اسباب پرستی مرض دِق کی طرح لگی ہوئی ہے اور یورپ کی تقلید نے اس ملک کے نوجوانوں اور نو تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی ایسی مرض میں مبتلا کر دیا ہے وہ اب سمجھتے ہی نہیں ہیں کہ ہم اسلام سے باہر جا رہے ہیں اور خدا پرستی کو چھوڑ کر اسباب پرستی کے دِق میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ یہ دِق دور نہیں ہوسکتی اور اس کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا جب تک انسان کے دل میں خدا کی ایک نالی نہ ہو جو اللہ تعالیٰ کے فیض اور اثر کو اس تک پہنچاتی ہے اور یہ نالی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان ایک منکسر النفس ہو جاوے اور اپنی ہستی کو بالکل فانی سمجھ لے جس کو فنا نظری کہتے ہیں۔
فناکی حقیقت
فنا کی دو قسمیں ہیں۔ ایک فنا حقیقی ہوتی ہے جیسے وجودی مانتے ہیں کہ سب خدا ہی ہیں یہ تو بالکل باطل اور غلط ہے اور یہ شرک ہے لیکن دوسری قسم فنا کی فنا نظری ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ایسا شدید اور گہرا تعلق ہو کہ اس کے بغیر ہم کچھ چیز ہی نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ہستی ہی ہستی ہو باقی سب ہیچ اور فانی ہو۔ یہ فناءِ اتمّ کا درجہ توحید کے اعلیٰ مرتبہ پر حاصل ہوتا ہے اور توحید کامل ہی اس درجہ پر ہوتی ہے۔ جو انسان اس درجہ پر پہنچتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں کچھ ایسا کھویا جاتا ہے کہ اس کا اپنا وجود بالکل نیست و نابود ہو جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے عشق اور محبت میں ایک نئی زندگی حاصل کرتا ہے جیسے ایک لوہے کا ٹکڑا آگ میں ڈالا جاوے اور وہ اس قدر گرم کیا جاوے کہ سُرخ آگ کے انگارے کی طرح ہو جاوے۔۱؎ اُس وقت وہ لوہا آگ ہی کی ہم شکل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پر جب ایک راست باز بندہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور وفاداری کے اعلیٰ درجہ پر پہنچ کر فنا فی اللہ ہو جاتا ہے اور کمال درجہ کی نیستی ظہور پاتی ہے اس وقت وہ ایک نمونہ خدا کا ہوتا ہے اور حقیقی طور پر وہ اس وقت کہلاتا ہے۔ اَنْتَ مِنِّیْ یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے جو دعا سے ملتا ہے۔ یاد رکھو دعا جیسی کوئی چیز نہیں ہے اِس لیے مومن کا کام ہے کہ ہمیشہ دعا میں لگا رہے اور اس استقلال اور صبر کے ساتھ دعا کرے کہ اس کو کمال کے درجہ پر پہنچاوے۔ اپنی طرف سے کوئی کمی اور دقیقہ فروگذاشت نہ کرے اور اس بات کی بھی پروانہ کرے کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا بلکہ
گر نباشد بدوست راہ بُردن
شرطِ عشق است در طلب مُردن
جب انسان اس حد تک دعا کو پہنچاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس دعا کا جواب دیتا ہے جیسا کہ اُس نے وعدہ فرمایا ہے ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ(المؤمن:۶۱) یعنی تم مجھے پکارو میں تمہیں جواب دوں گا اور تمہاری دعا قبول کروں گا۔ حقیقت میں دعا کرنا بڑا ہی مشکل ہے۔ جب تک انسان پورے صدق و وفا کے ساتھ اور صبر اور استقلال سے دعا میں لگا نہ رہے تو کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں جو دعا کرتے ہیں مگر بڑی بے دِلی اور عجلت سے چاہتے ہیں کہ ایک ہی دن میں اُن کی دعا مثمر بہ ثمرات ہو جاوے حالانکہ یہ اَمر سنّت اللہ کے خلاف ہے اس نے ہر کام کے لئے اوقات مقرر فرمائے ہیں اور جس قدر کام دنیا میں ہو رہے ہیں وہ تدریجی ہیں۔ اگر چہ وہ قادر ہے کہ ایک طُرفۃ العین میں جو چاہے سو کر دے اور ایک کُنْ سے سب کچھ ہو جاتا ہے۔ مگر دنیا میں اُس نے اپنا یہی قانون رکھا ہے۔ اس لیے دعا کرتے وقت آدمی کو اس کے نتیجہ کے ظاہر ہونے کے لیے گھبرانا نہیں چاہیے۔
اپنی زبان میں دعا کرنے کی حکمت
یہ بھی یاد رکھو دعا اپنی زبان میں بھی کر سکتے ہو بلکہ چاہیے کہ مسنون اَدعیہ کے بعد اپنی زبان میں آدمی دعا کرے کیونکہ اس زبان میں وہ پُورے طور پر اپنے خیالات اور حالات کا اظہار کر سکتا ہے اِس زبان پر وہ قادر ہوتا ہے۔
دعا نماز کا مغز اور رُوح ہے اور رسمی نماز جب تک اس میں رُوح نہ ہو کچھ نہیں اور رُوح کے پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ گریہ و بکا اور خشوع و خضوع ہو اور یہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی حالت کو بخوبی بیان کرے اور ایک اضطراب اور قلق اس کے دل میں ہو اور یہ بات اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک اپنی زبان میں انسان اپنے مطالب کو پیش نہ کرے۔ غرض دعا کے ساتھ صدق اور وفا کو طلب کرے اور پھر اللہ تعالیٰ کی محبت میں وفاداری کے ساتھ فنا ہو کر کامل نیستی کی صورت اختیار کرے اس نیستی سے ایک ہستی پیدا ہوتی ہے جس میں وہ اِس بات کا حقدار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے کہے کہ اَنْتَ مِنِّیْ۔ اصل حقیقت اَنْتَ مِنِّیْ کی تو یہ ہے اور عام طور پر ظاہر ہی ہے کہ ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم سے ہے۔
اب اس کے بعد ایک اور حصہ اس الہام کا ہے جو وَ اَنَا مِنْکَ ہے پس اس کی حقیقت سمجھنے کے واسطے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایسا انسان جو نیستی کے کامل درجہ پر پہنچ کر ایک نئی زندگی اور حیاتِ طیبہ حاصل کر چکا ہے اور جس کو خدا تعالیٰ نے مخاطب کر کے فرمایا ہے اَنْتَ مِنِّیْ۔ جو اس کے قرب اور معرفتِ الٰہی کی حقیقت سے آشنا ہونے کی دلیل ہے اور یہ انسان خدا تعالیٰ کی توحید اور اُس کی عزّت و عظمت اور جلال کے ظہور کا موجب ہوا کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ایک عینی اور زندہ ثبوت ہوتا ہے اس رنگ سے اور اس لحاظ سے گو یا خدا تعالیٰ کا ظہور اس میں ہو کر ہوتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کے ظہور کا ایک آئینہ ہوتا ہے۔ اس حالت میں جب ان کا وجود خدا نما آئینہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے یہ کہتا ہے وَ اَنَا مِنْکَ۔۔
ایسا انسان جس کو اَنَا مِنْکَ کی آواز آتی ہے اُس وقت دنیا میں آتا ہے جب خدا پرستی کا نام ونشان مِٹ گیا ہوتا ہے۔ اس وقت بھی چونکہ دنیا میں فسق و فجور بہت بڑھ گیا ہے اور خدا شناسی اور خدا رسی کی راہیں نظر نہیں آتی ہیں اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے اور محض اپنے فضل وکرم سے اُس نے مجھ کو مبعوث کیا ہے تا میں ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ سے غافل اور بے خبر ہیں اس کی اطلاع دوں اور نہ صرف اطلاع بلکہ جو صدق اور صبر اور وفاداری کے ساتھ اس طرف آئیں انہیں خدا تعالیٰ کو دکھلا دوں۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے مجھے مخاطب کیا اور فرمایا اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْکَ۔۔
اعتراض پیدا ہونے کی وجہ
اعتراض کرنے کو کیا ہے جب طبیعت میں فساد اور ناپاکی ہو تو وہ نیکی کی طرف کب آنا پسند کرتی ہے بلکہ خلافِ طبع سمجھ کر اس سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔ میرے اس الہام کی سچائی کا ثبوت اس پر اعتراض ہی ہیں۔ اگر خدا تعالیٰ کا انکار اور دہریت بڑھی ہوئی نہ ہوتی تو کیوں اعتراض کیا جاتا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس وقت خدا تعالیٰ کا پاک اور خوشنما چہرہ دنیا کو نظر نہ آتا تھا اور وہ اب مجھ میں ہو کر نظر آئے گا اور آرہا ہے کیونکہ اُس کی قدرتوں کے نمونے اور عجائباتِ قدرت میرے ہاتھ پر ظاہر ہو رہے ہیں۔ جن کی آنکھیں کھلی ہیں وہ دیکھتے ہیں مگر جو اندھے ہیں وہ کیوں کر دیکھ سکتے ہیں اللہ تعالیٰ اس اَمر کو محبوب رکھتا ہے کہ وہ شناخت کیا جاوے اور اُس کی شناخت کی یہی راہ ہے کہ مجھے شناخت کر و۱ یہی وجہ ہے کہ میرا نام اس نے خلیفۃ اللہ رکھا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ کُنْتُ کَنْـزًا مَّـخْفِیًّا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ فَـخَلَقْتُ اٰدَمَ اس میں آدم میرا نام رکھا ہے۔ یہ حقیقت اس الہام کی ہے۔ اب اس پر بھی کوئی اعتراض کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ خود اس کو دکھاوے گا کہ وہ کہاں تک حق پر ہے۔۲؎
حضرت اقدس ؑ جہلم میں
حضرت حجۃ اللہ علی الارض مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب مقدمہ کرم الدین میں جہلم تشریف لائے تھے اور ضلع جہلم اور اس کے گردونواح کی مخلوق آپ کی زیارت کے لیے کثیر التعداد جمع ہوئی تھی اور جہلم کی کچہری کے احاطے میں آدم زاد ہی آدم زاد نظر آتا تھا جس کی تصدیق جہلم کے اخبار نے بھی کی تھی اور جہلم کی کل مخلوق اور احکام بھی اس اَمر کو جانتے ہیں۔ اس روز ۱۷؍جنوری ۱۹۰۳ء کو احاطہ عدالت میں آپ کرسی پر تشریف فرما تھے اور ارد گرد مریدان باصفا نہایت ادب کے ساتھ حلقہ زن تھے اور ہزاروں انسان کا مجمع موجود تھا ہمارے محترم مخدوم جناب خان محمد عجب خان آف زیدہ بھی آپ کی کرسی کے پاس ایڈیٹر الحکم کے پہلو بہ پہلو بیٹھے ہوئے تھے اس وقت جناب خان محمد عجب خان صاحب آف زیدہ نے جو اس قدر ہجوم اور رجوع مخلوق کا دیکھا اور حضرت اقدس کے چہرہ پر نگاہ کی تو خوشی اور اخلاص کے ساتھ ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور اپنی سعادت اور خوش قسمتی کو یاد کر کے (کہ اِس وقت اُس عظیم الشان انسان کے قدموں میں بیٹھنے کا شرف حاصل ہے جس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کہا اور جس کا آنا اپنا آنا فرمایا ہے )عرض کیا کہ حضور! میرا دل چاہتا ہے کہ میں جناب کے دستِ مبارک کو بوسہ دوں۔ اس پر حضرت حجۃ اللہ نے نہایت ہی شفقت کے ساتھ اپنا ہاتھ پھیلا دیا اور خان صاحب موصوف نے بہت ہی متأثر اور رِقتِ قلب کے ساتھ آپ کے دستِ مبارک کو بوسہ دیا اس پر حضرت حجۃ اللہ نے مؤثر تقریر فرمائی۔
بلند ہمتی
فرمایا۔ ہمّت نہیں ہارنی چاہیے۔ ہمّت اخلاقِ فاضلہ میں سے ہے اور مومن بڑا بلند ہمّت ہوتا ہے ہر وقت خدا تعالیٰ کے دین کی نصرت اور تائید کے لیے طیار رہنا چاہیے اور کبھی بزدلی ظاہر نہ کرے بزدلی منافق کا نشان ہے۔ مومن دلیر اور شجاع ہوتا ہے مگر شجاعت سے یہ مراد نہیں ہے کہ اس میں موقع شناسی نہ ہو موقع شناسی کے بغیر جو فعل کیا جاتا ہے وہ تہوّر ہوتا ہے مومن میں شتاب کاری نہیں ہوتی بلکہ وہ نہایت ہوشیاری اور تحمل کے ساتھ نصرتِ دین کے لیے طیار رہتا ہے اور بزدل نہیں ہوتا۔
انسان سے کبھی ایسا کام ہو جاتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کو ناراض کر دیتا ہے اور کبھی ناپسند کر دیتا ہے مثلاً کسی سائل کو اگر دھکا دیا تو سختی کا موجب ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کو ناراض کرنے والا فعل ہوتا ہے اور اسے توفیق نہیں ملے گی کہ وہ اس کو کچھ دے سکے لیکن اگر نرمی یا اخلاق سے پیش آوے گا اور خواہ اسے پیالہ پانی ہی کا دیدے تو ازالۂ قبض کا موجب ہو جاوے گا۔
قبض وبسط
انسان پر قبض اور بسط کی حالت آتی ہے۔ بسط کی حالت میں ذوق اور شوق بڑھ جاتا ہے اور قلب میں ایک انشراح پیدا ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ بڑھتی ہے۔ نمازوں میں لذّت اور سرور پیدا ہوتا ہے لیکن بعض وقت ایسی حالت بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ ذوق اور شوق جاتا رہتا ہے اور دل میں ایک تنگی کی سی حالت ہو جاتی ہے۔ جب یہ صورت ہو تو اس کا علاج یہ ہے کہ کثرت کے ساتھ استغفار کرے اور پھر درود شریف بہت پڑھے۔ نماز بھی بار بار پڑھیں۔ قبض کے دور ہونے کا یہی علاج ہے۔
حقیقی علم
علم سے مراد منطق یا فلسفہ نہیں ہے بلکہ حقیقی علم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے عطا کرتا ہے یہ علم اللہ تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ ہوتا ہے اور خشیت الٰہی پیدا ہوتی ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّمَا یَخۡشَی اللّٰہَ مِنۡ عِبَادِہِ الۡعُلَمٰٓؤُا(فاطر:۲۹) اگر علم سے اللہ تعالیٰ کی خشیت میں ترقی نہیں ہوتی تو یاد رکھو کہ وہ علم ترقی معرفت کا ذریعہ نہیں ہے۔۱؎
ایمان کے لئے مناسبت شرط ہے
قرآن شریف سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جب تک انسان کی فطرت میں سعادت اور ایک مناسبت نہ ہو ایمان پیدا نہیں ہوتا۔ خدا تعالیٰ کے مامور اور مُرسل اگرچہ کھلے کھلے نشان لے کر آتے ہیں مگر اس میں بھی کوئی شُبہ نہیں کہ ان نشانوں میں ابتلا اور خِفا کے پہلو بھی ضرور ہوتے ہیں۔ سعید جو باریک بین اور دوربین نگاہ رکھتے ہیں اپنی سعادت اور مناسبتِ فطرت سے ان اُمور کو جو دوسروں کی نگاہ میں مخفی ہوتے ہیں دیکھ لیتے ہیں اور ایمان لے آتے ہیں لیکن جو سطحی خیال کے لوگ ہوتے ہیں اور جن کی فطرت کو سعادت اور رُشد سے کوئی مناسبت اور حصّہ نہیں ہوتا وہ انکار کرتے ہیں اور تکذیب پر آمادہ ہو جاتے ہیں جس کا بُرا نتیجہ ان کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
دیکھو! مکہ معظمہ میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا تو ابوجہل بھی مکّہ ہی میں تھا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی مکّہ ہی کے تھے لیکن ابوبکرؓ کی فطرت کو سچائی کے قبول کرنے کے ساتھ کچھ ایسی مناسبت تھی کہ ابھی آپ شہر میں بھی داخل نہیں ہوئے تھے راستہ ہی میں جب ایک شخص سے پوچھا کہ کوئی نئی خبر سناؤ اور اُس نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو اسی جگہ ایمان لے آئے اور کوئی معجزہ اور نشان نہیں مانگا اگرچہ بعد میں بےانتہا معجزات آپ نے دیکھے اور خود ایک آیت ٹھہرے۔ لیکن ابوجہل نے باوجودیکہ ہزاروں ہزار نشان دیکھے لاکن وہ مخالفت اور انکار سے باز نہ آیا اور تکذیب ہی کرتا رہا۔ اِس میں کیا سِرّ تھا۔ پیدائش دونوں کی ایک ہی جگہ کی تھی ایک صدیق ٹھہرتا ہے اور دوسرا جو ابوالحکم کہلاتا تھا وہ ابوجہل بنتا ہے۔ اس میں یہی راز تھا کہ اس کی فطرت کو سچائی کے ساتھ کوئی مناسبت ہی نہ تھی غرض ایمانی امور مناسبت پر ہی منحصر ہیں۔ جب مناسبت ہوتی ہے تو وہ خود معلّم بن جاتی ہے اور امورِ حقّہ کی تعلیم دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اہلِ مناسبت کا وجود بھی ایک نشان ہوتا ہے۔
میں بصیرت اور یقین کے ساتھ کہتا ہوں اور میں وہ قوت اپنی آنکھوں سے دیکھتا اور مشاہدہ کرتا ہوں مگر افسوس میں اس دنیا کے فرزندوں کو کیوں کر دکھا سکوں کہ وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے اور سنتے ہوئے نہیں سنتے ہیں کہ وہ وقت ضرور آئے گا کہ خدائے تعالیٰ سب کی آنکھ کھول دے گا اور میری سچائی روز روشن کی طرح دنیا پر کھل جائے گی لیکن وہ وقت وہ ہوگا کہ توبہ کا دروازہ بند ہو جاوے گا اور پھر کوئی ایمان سُودمند نہ ہو سکے گا۔
میرے پاس وہی آتا ہے جس کی فطرت سلیم ہے
میرے پاس وہی آتا ہے جس کی فطرت میں حق سے محبت اور اہلِ حق کی عظمت ہوتی ہے۔ جس کی فطرت سلیم ہے وہ دور سے اس خوشبو کو جو سچائی کی میرے ساتھ ہے سُونگھتا ہے اور اسی کشش کے ذریعہ سے جو خدا تعالیٰ اپنے ماموروں کو عطا کرتا ہے میری طرف اس طرح کھچے چلے آتے ہیں جیسے لوہا مقناطیس کی طرف جاتا ہے لیکن جس کی فطرت میں سلامت روی نہیں ہے اور جو مُردہ طبیعت کے ہیں ان کو میری باتیں سُرور دہ نہیں معلوم ہوتی ہیں وہ ابتلا میں پڑتے ہیں اور انکار پر انکار اور تکذیب پر تکذیب کر کے اپنی عاقبت کو خراب کرتے ہیں اور اس بات کی ذرا بھی پروا نہیں کرتے کہ ان کا انجام کیا ہونے والا ہے۔
میری مخالفت کرنے والے کیا نفع اُٹھائیں گے۔ کیا مجھ سے پہلے آنے والے صادقوں کی مخالفت کرنے والوں نے کوئی فائدہ کبھی اُٹھایا ہے؟ اگر وہ نامراد اور خاسر رہ کر اس دنیا سے اُٹھے ہیں تو میرا مخالف اپنے ایسے ہی انجام سے ڈر جاوے کیونکہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں صادق ہوں۔ میرا انکار اچھے ثمرات نہیں پیدا کرے گا۔ مبارک وہی ہیں جو انکار کی لعنت سے بچتے ہیں اور اپنے ایمان کی فکر کرتے ہیں۔ جو حُسن ظنّی سے کام لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ماموروں کی صحبت سے فائدہ اُٹھاتے ہیں ان کا ایمان ان کو ضائع نہیں کرتا بلکہ برومند کرتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ صادق کی شناخت کے لیے بہت مشکلات نہیں ہیں۔ ہر ایک آدمی اگر انصاف اور عقل کو ہاتھ سے نہ دے اور خدا کا خوف مدِّنظر رکھ کر صادق کو پرکھے تو وہ غلطی سے بچا لیا جاتا ہے لیکن جو تکبّر کرتا ہے اور آیات اللہ کی تکذیب اور ہنسی کرتا ہے اس کو یہ دولت نصیب نہیں ہوتی ہے۔
سلسلہ احمدیہ کے قیام کی غرض
یہ زمانہ کیسا مبارک زمانہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان پُر آشوب دنوں میں محض اپنے فضل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے اظہار کے لیے یہ مبارک ارادہ فرمایا کہ غیب سے اسلام کی نصرت کا انتظام فرمایا اور ایک سلسلہ کو قائم کیا۔ میں ان لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں جو اپنے دل میں اسلام کے لیے ایک درد رکھتے ہیں اور اس کی عزّت اور وقعت ان کے دلوں میں ہے وہ بتائیں کہ کیا کوئی زمانہ اس زمانہ سے بڑھ کر اسلام پر گذرا ہے جس میں اس قدر سبّ وشتم اور توہین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گئی ہو اور قرآن شریف کی ہتک ہوئی ہو؟ پھر مجھے مسلمانوں کی حالت پر سخت افسوس اور دلی رنج ہوتا ہے اور بعض وقت میں اس درد سے بےقرار ہو جاتا ہوں کہ ان میں اتنی حِس بھی باقی نہ رہی کہ اس بےعزّتی کو محسوس کرلیں۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ بھی عزّت اللہ تعالیٰ کو منظور نہ تھی جو اس قدر سبّ وشتم پر بھی وہ کوئی آسمانی سلسلہ قائم نہ کرتا اور ان مخالفینِ اسلام کے منہ بند کر کے آپ کی عظمت اور پاکیزگی کو دنیا میں پھیلاتا جب کہ خود اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں تو اس توہین کے وقت اس صلوٰۃ کا اظہار کس قدر ضروری ہے اور اس کا ظہور اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کی صورت میں کیا ہے۔ مجھے بھیجا گیا ہے تاکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کھوئی ہوئی عظمت کو پھر قائم کروں اور قرآنِ شریف کی سچائیوں کو دنیا کو دکھاؤں اور یہ سب کام ہو رہا ہے لیکن جن کی آنکھوں پر پٹی ہے وہ اس کو دیکھ نہیں سکتے حالانکہ اب یہ سلسلہ سورج کی طرح روشن ہو گیا ہے اور اس کی آیات اور نشانات کے اس قدر لوگ گواہ ہیں کہ اگر ان کو ایک جگہ جمع کیا جاوے تو ان کی تعداد اس قدر ہو کہ روئے زمین پر کسی بادشاہ کی بھی اتنی فوج نہیں ہے۔
اِس قدر ضرورتیں اس سلسلہ کی سچائی کی موجود ہیں کہ ان سب کو بیان کرنا بھی آسان نہیں۔ چونکہ اسلام کی سخت توہین کی گئی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسی توہین کے لحاظ سے اس سلسلہ کی عظمت کو دکھایا ہے۔
شہ انکساری اور گمنامی کی زندگی پسند کرتا ہوں
حد سے بڑھاتا ہوں۔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری طبیعت اور فطرت میں ہی یہ بات نہیں کہ میں اپنے لئے کسی تعریف کا خواہشمند پاؤں اور اپنی عظمت کے اظہار سے خوش ہوں۔ میں ہمیشہ انکساری اور گمنامی کی زندگی پسند کرتا رہا لیکن یہ میرے اختیار اور طاقت سے باہر تھا کہ خدا تعالیٰ نے خود مجھے باہر نکالا اور جس قدر میری تعریف اور بزرگی کا اظہار اس نے اپنے پاک کلام میں جو مجھ پر نازل کیا گیا ہے کیا یہ ساری تعریف اور بزرگی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ہے۔ احمق اس بات کو نہیں سمجھ سکتا مگر سلیم الفطرت اور باریک نگاہ سے دیکھنے والا دانشمند خوب سوچ سکتا ہے کہ اس وقت واقعی ضروری تھا کہ جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدر ہتک کی گئی ہے اور عیسائی مذہب کے واعظوں اور منادوں نے اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ اُس سیدالکونین کی شان میں گستاخیاں کی ہیں اور ایک عاجز مریم کے بچے کو خدا کی کُرسی پر جا بٹھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی غیرت نے آپؐ کا جلال ظاہر کرنے کے لیے یہ مقدر کیا تھا کہ آپ کے ایک ادنیٰ غلام کو مسیح ابن مریم بنا کے دکھا دیا۔ جب آپ کی اُمّت کا ایک فرد اتنے بڑے مدارج حاصل کر سکتا ہے تو اس سے آپ کی شان کا پتا لگ سکتا ہے۔ پس یہاں خدا تعالیٰ نے جس قدر عظمت اس سلسلہ کی دکھائی ہے اور جو کچھ تعریف کی ہے یہ درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی عظمت اور جلال کے لیے ہے مگر احمق ان باتوں سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔
اس و قت صدی میں سے بیس سال گذرنے کو ہیں اور آخری زمانہ ہے چودھویں صدی ہے کہ جس کی بابت تمام اہلِ کشف نے کہا
ظہو ر علاماتِ مسیح موعود ؑ
کہ مسیح موعود چودھویں صدی میں آئے گا وہ تمام علامات اور نشانات جو مسیح موعود کی آمد کے متعلق پہلے سے بتائے گئے تھے ظاہر ہو گئے۔ آسمان نے کسوف وخسوف سے اور زمین نے طاعون سے شہادت دی ہے اور بہت سے سعادت مندوں نے ان نشانات کو دیکھ کر مجھے قبول کیا اور پھر اور بھی بہت سے نشانات ان کی ایمانی قوت کو بڑھانے کے واسطے خدا تعالیٰ نے ظاہر کیے اور اس طرح پر یہ جماعت دن بدن بڑھ رہی ہے۱؎ کوئی ایک بات ہوتی تو شک کرنے کا مقام ہو سکتا تھا مگر یہاں تو خدا تعالیٰ نے ان کو نشان پر نشان دکھائے اور ہر طرح سے اطمینان اور تسلّی کی راہیں دکھائیں لیکن بہت ہی کم سمجھنے والے نکلے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ کیوں یہ لوگ جو میرا انکار کرتے ہیں ان ضرورتوں پر نظر نہیں کرتے جو اس وقت ایک مصلح کے وجود کی داعی ہیں؟
مسلمانوں کی حالت
وہ دیکھیں کہ روئے زمین پر مسلمانوں کی کیا حالت ہے؟ کیا کسی پہلو سے بھی کوئی قابلِ اطمینان صورت دکھائی دیتی ہے شان وشوکت کی حالت تو سلطنت کی صورت میں نظر آسکتی ہے۔ مسلمانوں کی سب سے بڑی سلطنت اس وقت روم کی سلطنت ہے لیکن اس کی حالت کو دیکھ لو وہ بتیس دانتوں میں زبان ہو رہی ہے اور آئے دن کسی نہ کسی خرخشہ اور مخمصہ میں مبتلا رہتی ہے۔ علمی حالت کے لحاظ سے سب رو رہے ہیں کہ مسلمان پیچھے رہے ہوئے ہیں اور نِت نئی مجلسیں اور کمیٹیاں قائم ہوتی ہیں کہ مسلمانوں کی علمی حالت کی اصلاح کی جاوے۔ دُنیوی لحاظ سے تو یہ حالت اور دینی پہلو کے لحاظ سے تو بہت ہی گری ہوئی حالت ہے کوئی بدعت اور فعل شنیع نہیں ہے جس کے مرتکب مسلمان نہ پائے جاتے ہوں۔ اعمالِ صالحہ کی بجائے چند رسوم باقی رہ گئے ہیں۔ جیل خانوں کو جا کر دیکھو تو زیادہ مجرم مسلمان دکھائی دیں گے کس کس بات کا ذکر کیا جاوے مسلمانوں کی حالت اس وقت بہت ہی گری ہوئی ہے اور ان پر آفات پر آفات نازل ہو رہے ہیں۔ مگر کیا مسلمان ابھی چاہتے ہیں کہ وہ اَور پیسے جاویں۔ اس سے بڑھ کر ان کی ذلیل حالت کیا ہوگی کہ وہ پاک دین جو بے نظیر دولت ان کے پاس تھی اور ایمان جیسی نعمت وہ کھو بیٹھے ہیں۔ اور مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہونے والے عیسائی ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتے اور اسلام کا مضحکہ اُڑاتے ہیں اور یا اگر کھلے طور پر عیسائی نہیں ہوئے تو عیسائیوں کے علوم فلسفہ و طبعی سے متاثر ہو کر مذہب کو ایک بے ضرورت اور بے فائدہ شَے سمجھنے لگ گئے ہیں۔ یہ آفتیں ہیں جو اسلام پر آرہی ہیں اور میں نہایت درد اور افسوس سے سنتا ہوں کہ اس پر بھی کہا جاتا ہے کہ کسی مصلح کی ضرورت نہیں؟ حالانکہ زمانہ خود پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اس وقت ضرورت ہے کہ کوئی شخص آوے اور وہ اصلاح کرے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ خدا تعالیٰ اس وقت کیوں خاموش رہتا جب کہ اُس نے اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ(الحجر:۱۰) خود فرمایا ہے۔ اسلام پر ایسا خطرناک صدمہ پہنچا ہے کہ ایک ہزار سال قبل تک اس کا نمونہ اور نظیر موجود نہیں ہے۔ یہ شیطان کا آخری حملہ ہے اور وہ اس وقت ساری طاقت اور زور کے ساتھ اسلام کو نابود کرنا چاہتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کو پورا کیا ہے اور مجھے بھیجا ہے تا میں ہمیشہ کے لیے اس کا سر کُچل دوں۔
سلسلہ میں داخل ہونے کی ضرورت
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ حاجت نہیں ہے ہم نماز و روزہ کرتے ہیں وہ جاہل ہیں انہیں معلوم نہیں ہے کہ یہ سب اعمال ان کے مُردہ ہیں اُن میں روح اور جان نہیں اور وہ آ نہیں سکتی جب تک وہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ کے ساتھ پیوند نہ کریں اور اس سے وہ سیراب کرنے والا پانی حاصل نہ کریں۔ تقویٰ اس وقت کہاں ہے؟ رسم و عادت کے طور پر مومن کہلانا کچھ فائدہ نہیں دیتا جب تک کہ خدا کو دیکھا نہ جاوے اور خدا کو دیکھنے کے لیے اور کوئی راہ نہیں ہے۔ اس سفر میں حضرت حجۃ اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کھانسی اور نزلہ کی شکایت تھی۔ یہاں تک پہنچ کر پھر کھانسی کی شکایت ہوئی اس پر آپ نے فرمایا کہ میں چاہتا تھا کہ لوگوں کو کچھ سناؤں مگر کھانسی کی وجہ سے روک ہوتی ہے۔ غرض اس وقت اسی قدر ضرورتیں داعی ہیں کہ ان کے بیان کرنے کے لیے بہت بڑا وقت چاہیے اور پھر اس قدر نشانات ظاہر ہوئے ہیں کہ ان کی بھی ایک بہت بڑی ضخیم کتاب طیار ہوتی ہے میں نے ایک شعر میں ان دونوں باتوں کو جمع کر کے کہا ہے۔
آسماں بارد نشاں الوقت مے گوید زمیں
ایں دوشاہد از پئے تصدیقِ ایستادہ اند۱؎
سلسلہ کی مخالفت
خان عجب خان صاحب۔ ایک بار میں پادریوں کے اعتراضوں سے بہت ہی تنگ ہو گیا وہ میرے لڑکپن کا زمانہ تھا۔ اس وقت میں نے دعا کی کہ اے اللہ! اسلام کو غالب کر۔ خدا کا شکر ہے کہ وہ وقت اب آ گیا مگر مجھے افسوس ہے کہ اس نصرت کے وقت لوگ مخالفت کرتے ہیں۔
حضرت اقدس۔ یہ بالکل سچ ہے عیسائیوں نے اسلام کو نیست و نابود کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ جس جس طرح سے ان کا قابو چلا انہوں نے اسلام کے شجر پر تبر چلایا ہے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ آپ اس کا محافظ اور ناصر تھا اس لیے وہ اپنے ارادوں میں مایوس اور نامراد ہوئے۔ اور یہ مسلمانوں کی بدقسمتی ہے کہ اس وقت (جب ایسی حالت ہو رہی تھی اور یہ، اسلام کی اس قدر مخالفت کی جاتی تھی اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے یہ سلسلہ عظمتِ رسوم۱؎ کو قائم کرنے کے واسطے کھڑا کیا اور اس کی تائید اور نصرت ہر ایک پہلو سے کی )وہ بجائے اس کے کہ اس سلسلہ کی قدر کرتے اور اس پیاسے کی طرح جس کو ٹھنڈے اور برف آب پانی کا پیالہ مل جاوے شکر کرتے، انہوں نے مخالفت شروع کی اور اسی طریق پر جو ہمیشہ سے سنّت اللہ چلی آتی ہے ہنسی اور استہزا سے کام لیا۔ خدا تعالیٰ کے نشانوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا اور ان سے منہ پھیر لیا۔ مجھے ان لوگوں کی حالت پر رحم اور افسوس آتا ہے کہ یہ کیوں غور نہیں کرتے اور منہاجِ نبوت پر اس سلسلے کی سچائی کو نہیں سمجھتے۔
صداقت کے دلائل
وہ دیکھتے کہ اس قدر نصرتیں اور تائیدیں جو اللہ تعالیٰ کر رہا ہے کیا یہ کسی مفتری اور کذاب کو بھی ملی سکتی ہیں؟ ہرگز نہیں۔ کوئی شخص نصرتِ الٰہی کے بغیر اس قدر دعویٰ کب کر سکتا ہے۔ کیا وہ تھکتا نہیں؟ اور پھر اللہ تعالیٰ مفتری کے لیے اس قدر غیرت نہیں دکھاتا کہ اسے ہلاک کرے؟ بلکہ اس کو مہلت دیتا جاتا ہے اور نہ صرف مہلت بلکہ اُس کی پیشگوئیوں کو بھی سچا کر دیتا ہے اور دوسرے لوگوں کے مقابلے میں جو اس کی مخالفت کرتے ہیں اسی کی تائید کرتا ہے اور اسی کو فتح دیتا ہے۔ انسانی حکومت کے مقابلہ میں اگر کوئی شخص افترا کرتا ہے اور جھوٹی حالت بنا کر کہے کہ میں عہدہ دار ہوں تو وہ پکڑا جاتا ہے اور اس کو سخت سزا دی جاتی ہے لیکن کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ ایک مفتری اللہ تعالیٰ پر افترا کرتا جاوے اور پھر نشان بھی دکھاتا جاوے اور اسے کوئی نہ پکڑے۔ براہینِ احمدیہ کی اشاعت کو بیس برس کے قریب ہوئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ گاؤں میں بھی ہم کو کوئی شناخت نہیں کرتا تھا۔ گاؤں والے موجود ہیں۔ خود مولوی محمد حسین جس نے اس کتاب پر ریویو لکھا ہے زندہ موجود ہے اُس سے پوچھو کہ اس وقت کیا حال تھا۔ ایسے وقت خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ فوج در فوج لوگ تیرے پاس آئیں گے۔ یَّاۡتِیۡنَ مِنۡ کُلِّ فَجٍّ عَمِیۡقٍ(الحج:۲۸) دور دراز سے تیرے پاس لوگ آئیں گے اور تحائف آئیں گے۔ اور پھر یہ بھی کہا لوگوں سے تھکنا مت۔ اب کوئی سوچے اور دیکھے کہ خدا تعالیٰ کے یہ وعدے کس طرح پر پورے ہوئے ہیں۔ ان فہرستوں کو گورنمنٹ کے پاس دیکھ لے جو آنے والے مہمانوں کی مرتّب ہوکر ہفتہ وار جاتی ہیں اور ڈاک خانہ اور ریل کے رجسٹروں کی پڑتال کرے جس سے پتا لگے گا کہاں کہاں سے تحائف اور روپیہ آرہا ہے اور قادیان میں بیٹھ کر دیکھیں کہ کس قدر ہجوم اور انبوہ مخلوق کا ہوتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی طرف سے بشارت اور قوت نہ ملے تو انسان تھک جاوے اور ملاقاتوں سے گھبرا اُٹھے۔ مگر جیسے اُس نے یہ الہام کیا کہ گھبرانا نہ ویسے ہی قوت بھی عطا کی کہ گھبراہٹ ہوتی ہی نہیں اور ایسا ہی انگریزی، اردو، عربی، عبرانی میں بہت سے الہامات ہوئے جو اُس وقت سے چھپے ہوئے موجود ہیں اور پورے ہو رہے ہیں۔ اب خدا ترس دل لے کر میرے معاملہ پر غور کرتے تو ایک نور ان کی رہبری کرتا اور خدا کی رُوح ان پر سکینت اور اطمینان کی راہیں کھول دیتی۔ وہ دیکھتے کے کیا یہ انسانی طاقت کے اندر ہے جو اس قسم کی پیشگوئی کرے؟ انسان کو اپنی زندگی کے ایک دم کا بھروسا نہیں ہو سکتا تو یہ کس طرح کہہ سکتا ہے کہ تیرے پاس دور دراز سے مخلوق آئے گی اور ایسے زمانے میں خبر دیتا ہے جب کہ وہ محجوب ہے اور اس کو کوئی اپنے گاؤں میں بھی شناخت نہیں کرتا۔ پھر وہ پیشگوئی پوری ہوتی ہے اس کی مخالفت میں ناخنوں تک زور لگایا جاتا ہے اور اس کے تباہ کرنے اور معدوم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی مگر اللہ تعالیٰ اس کو برومند کرتا اور ہر نئی مخالفت پر اس کو عظیم الشان ترقی بخشتا ہے۔ کیا یہ خدا کے کام ہیں یا انسانی منصوبوں کے نتیجے؟ اصل یہی ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے کام ہیں اور لوگوں کی نظروں میں عجیب۔ مولویوں نے مخالفت کے لیے جہلا کو بھڑکایا اور عوام کو جوش دلایا، قتل کے فتوے دیئے، کُفر کے فتوے شائع کئے اور ہر طرح سے عام لوگوں کو مخالفت کے لئے آمادہ کیا مگر کیا ہوا؟ اللہ تعالیٰ کی نصرتیں اور تائیدیں اَور بھی زور کے ساتھ ہوئیں۔ اُسی کے موافق جو اُس نے کہا تھا کہ ’’دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا مگر خدا تعالیٰ اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔
‘‘مہدئ منتظر
جو مولوی مخالفت کے لیے شور مچاتے اور لوگوں کو بھڑکاتے ہیں یہی پہلے منبروں پر چڑھ کر رو رو کر دعائیں کیا کرتے اور کہا کرتے تھے کہ اب مہدی کا وقت آگیا لیکن جب آنے والا مہدی آیا تو یہی شور مچانے والے ٹھہرے اور اسی مہدی کو مُضِل اور ضال، دجّال کہا اور یہاں تک مخالفت کی کہ اپنے خیال میں عدالتوں تک پہنچا کر اس سلسلہ کو بند کرنا چاہا مگر کیا وہ جو خدا کی طرف سے آیا ہے وہ ان لوگوں کی مخالفت سے رُک سکتا ہے اور بند ہو سکتا ہے؟ کیا یہ خدا تعالیٰ کا نشان نہیں؟ اگر یہ اب بھی نہیں مانتے تو آدم سے لے کر اس وقت تک کوئی نظیر دو کہ اس طرح پر بیس برس پہلے ایک آنے والے زمانہ کی خبر دی اور پھر ایسی حالت میں کہ لوگوں نے اس پیشگوئی کو روکنے کی بہت کوشش کی وہ پیشگوئی پوری ہوگئی اور لوگوں کا کثرت کے ساتھ رجوع ہوا۔ کیا یہ نشان کم ہے؟ اس کی نظیر دکھاؤ۔
پھر احادیث میں پڑھتے تھے کہ مہدی کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں کسوف خسوف ہوگا اور جب تک یہ نشان پورا نہیں ہوا تھا اس وقت تک شور مچاتے تھے کہ یہ نشان پورا نہیں ہوا لیکن اب ساری دنیا قریباً گواہ ہے کہ یہ نشان پورا ہوا۔ یہاں تک کہ امریکہ میں بھی ہوا اور دوسرے ممالک میں بھی پورا ہوا۔ اور اب وہی جو اس نشان کو آیاتِ مہدی میں سے ٹھہراتے تھے اس کے پورے ہونے پر اپنے ہی منہ سے اس کی تکذیب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حدیث ہی قابلِ اعتبار نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی حالت پر رحم کرے۔ میری مخالفت کی یہ لعنت پڑتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کی بھی تکذیب کر بیٹھتے ہیں۔ پھر مسیح موعود کے وقت کا ایک نشان طاعون کا تھا۔ انجیل، توریت میں بھی یہ نشان موجود تھا اور قرآن شریف سے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ نشان مسیح موعودؑ کا خدا تعالیٰ نے ٹھہرایا تھا چنانچہ فرمایا وَاِنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اِلَّا نَحۡنُ مُہۡلِکُوۡہَا(بنی اسرآءیل:۵۹) یہ باتیں معمولی نہیں ہیں بلکہ غور سے سمجھنے کے لائق ہیں اور اب دیکھ لو کہ کیا طاعون ملک میں پھیلی ہوئی ہے یا نہیں؟ اس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ میں نے جب طاعون کے پھیلنے کی پیشگوئی کی تو ملک میں اس کی ہنسی کی گئی اور اس پر ٹھٹھا کیا گیا۔ لیکن اب ملک کی حالت اور طاعونی اموات کے نقشوں کو پڑھ کر بتائیں کہ کیا یہ پیشگوئی پُوری ہوئی ہے یا نہیں؟ یہ وہ باتیں ہیں جو سمجھنے کے لائق ہیں اور ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا اعتراض کرنا کہ ہم اس وقت تسلیم کریں گے جب مغرب کی طرف سے آفتاب نکل آوے گا اس قسم کے اعتراض تو کفار ہمیشہ سے نبیوں پر کرتے آئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ماموروں کو ایسی باتیں مخالفوں سے سننی پڑی تھیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر اس قسم کی باتیں ہوں تو پھر قیامت کا نمونہ ہو جاوے اور اس دنیا کو وہ قیامت بنانا نہیں چاہتا۔ ایمان بالغیب بھی کوئی چیز ہے اگر ایسا ہو تو پھر ایمان ایمان نہیں رہتا مثلاً اگر کوئی شخص سورج پر ایمان لاوے تو بتاؤ یہ ایمان اس کو کیا نفع دے گا؟ ایمان ہمیشہ اسی صورت اور حالت میں مفید اور نتیجہ خیز ہوتا ہے جب اس میں کوئی پہلو خِفا کا بھی ہو لیکن جب کھلی بات ہو تو پھر وہ مفید نہیں ہوتا۔
اوّلین کا مقام
دیکھو! اگر کوئی شخص پہلی رات کے چاند کو دیکھ کر بتاوے تو اُس کی تیز بینی کی تو تعریف ہوگی لیکن اگر چودھویں رات کے چاند کو جو بدر ہوتا ہے دیکھ کر شور مچاوے کہ میں نے چاند کو دیکھ لیا ہے اس کو تو سوائے مجنوں کے اور کوئی خطاب نہیں ملے گا۔ اسی طرح پر ایمان میں فراست اور تقویٰ سے کام لینا چاہیے۔ اور قرائن قویہ کو دیکھ کر تسلیم کر لینا مومن کا کام ہے ورنہ جب بالکل پردہ برانداز معاملہ ہو گیا ہے اور سارے گوشہ کھل گئے اس وقت ایک خبیث سے خبیث انسان کو بھی اعتراف کرنا پڑے گا۔ میں اس سوال پر بار بار اس لئے زور دیتا ہوں کہ لوگوں کو معلوم نہیں کہ نشانوں کی فلاسفی کیا ہے؟ یہ یاد رکھنا چاہیے جیسا میں نے ابھی کہا ہے خدا تعالیٰ کبھی قیامت کا نظارہ یہاں قائم نہیں کرتا اور وہ غلطی کرتے ہیں جو ایسے نشان دیکھنے چاہتے ہیں یہ محرومی کے لچھن ہوتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا کہ آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور کتاب لے آئیں تو آپ نے یہی جواب دیا ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا(بنی اسرآءیل:۹۴) پورے انکشاف کے بعد ایمان لا کر کسی ثواب کی اُمید رکھنا غلطی ہے۔ اگر کوئی مٹھی کھول دی جاوے اور پھر کوئی بتاوے کہ اس میں فلاں چیز ہے تو اس کی کوئی قدر نہ ہوگی۔
پس پہلے تقویٰ سے تو کام لو اور قرائن کو دیکھو کہ ثواب اسی میں ہے جب ساری باتیں کھل گئیں تو پھر کیا؟ جو اس انتظار میں رہے کہ یہ دیکھوں اور وہ دیکھوں وہ ہمیشہ ایمان اور ثواب کے دائرہ سے خارج رہے ہیں۔
دیکھو! اللہ تعالیٰ نے بعض کا نام سابق، مہاجر اور انصار رکھا ہے اور ان کو رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡہُ(التوبۃ:۱۰۰) میں داخل کیا ہے یہ وہ لوگ تھے جو سب سے پہلے ایمان لائے اور جو بعد میں ایمان لائے ان کا نام صرف ناس رکھا ہے جیسا فرمایا اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ وَالۡفَتۡحُ وَرَاَیۡتَ النَّاسَ یَدۡخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اَفۡوَاجًا(النّصر:۲، ۳) یہ لوگ جو اسلام میں داخل ہوئے اگرچہ وہ مسلمان تھے مگر ان کو مراتب نہیں ملے جو پہلے لوگوں کو دئیے گئے۔
اور پھر مہاجرین کی عزّت سب سے زیادہ تھی کیونکہ وہ لوگ اس وقت ایمان لائے جب ان کو کچھ معلوم نہ تھا کہ کامیابی ہوگی یا نہیں بلکہ ہر طرف سے مصائب اور مشکلات کا ایک طوفان آیا ہوا تھا اور کفر کا ایک دریا بہتا تھا۔ خاص مکہ میں مخالفت کی آگ بھڑک رہی تھی اور مسلمان ہونے والوں کو سخت اذیتیں اور تکلیفیں دی جاتی تھیں مگر انہوں نے ایسے وقت میں قبول کیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بڑی بڑی تعریفیں کیں اور بڑے بڑے انعامات اور فضلوں کا وارث ان کو بنایا۔ پس ہر ایک کو یاد رکھنا چاہیے کہ جو اس بات کا انتظار کرتا ہے کہ فلاں وقت آئے گا اور انکشاف ہو گا تو مان لیں گے وہ کسی ثواب کی امید نہ رکھیں ایسا تو ضرور ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سب حجاب دور کر دے گا اور اس معاملہ کو آفتاب کی طرح کھول کر دکھا دے گا مگر اس وقت ماننے والوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ پیغمبروں کو ماننے والوں میں ثواب اَوَّلُوْن کو سب سے بڑھ کر ملا ہے اور انکشاف کا زمانہ تو ضرور آتا ہے لیکن آخر ان کا نام ناس ہی ہوتا ہے۔
(اس مقام پر مولانا مولوی سیّد محمد احسن صاحب امروہی نے عرض کیا کہ مَتٰی ہٰذَا الۡفَتۡحُ(السّجدۃ:۲۹) کے جواب میں یہی کہا کہ تمہارا ایمان اُس دن فائدہ نہ دے گا۔
)فرمایا۔ بے شک اس بات کو سمجھنا سعادت ہے جس نے اوّل زمانہ میں نہیں پایا اُس کی کوئی قابلیت اور خوبی نہیں۔ لیکن جب خدا نے کھول دیا اس وقت تو پتھر اور درخت بھی بولتے ہیں۔ زیادہ قابلِ قدر وہ شخص ہے جو اوّل قبول کرتا ہے جیسے حضرت ابوبکرؓ نے قبول کیا آپ نے کوئی معجزہ نہیں مانگا اور آپ کے منہ سے ابھی نہیں سنا تھا کہ ایمان لے آئے۔ لکھا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ اپنی تجارت پر گئے ہوئے تھے اور جب سفر سے واپس آئے تو ابھی مکہ میں نہیں پہنچے تھے کہ راستہ میں کوئی ایک شخص آپ کو ملا اور اس سے مکہ کے حالات پوچھے۔ اُس نے کہا کہ اور تو کوئی تازہ خبر نہیں۔ سب سے بڑھ کر تازہ خبر یہی ہے کہ تمہارے دوست نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے یہ سن کر کہا کہ اگر اُس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو وہ سچا ہے۔
اب غور سے دیکھو کہ حضرت ابوبکرؓ نے اس وقت کوئی نشان یا معجزہ نہیں مانگا بلکہ سنتے ہی ایمان لے آئے اور دعویٰ خود آنحضرتؐ کے منہ سے بھی نہیں سنا بلکہ ایک اور شخص کی زبانی سنا ہے اور فوراً تسلیم کر لیا۔ یہ کیسا زبردست ایمان ہے روایت بھی آنحضرتؐ کے نام سے سن کر اُس میں جھوٹ کا احتمال نہیں سمجھا۔۱؎
دیکھو! حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کوئی نشان نہیں مانگا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کا نام صدیق ہوا۔ سچائی سے بھرا ہوا۔ صرف منہ دیکھ کر ہی پہچان لیا کہ یہ جھوٹا نہیں ہے۔ پس صادقوں کی شناخت اور ان کا تسلیم کرنا کچھ مشکل امر تو نہیں ہوتا۔ ان کے نشانات ظاہر ہوتے ہیں لیکن کور باطن اپنے آپ کو شبہات اور خطرات میں مبتلا کر لیتے ہیں۔ وہ لوگ بڑے ہی بد قسمت ہوتے ہیں جو انتظار ہی میں اپنی عمر گذار دیتے ہیں اور پردہ برانداز ثبوت چاہتے ہیں۔ ان کو معلوم نہیں کہ جیسا خود اللہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے انکشاف کے بعد ایمان نفع نہیں دیتا۔ نفع میں وہی لوگ ہوتے ہیں اور سعادت مند وہی ہیں جو مخفی ہونے کی حالت میں شناخت کرتے ہیں۔
دیکھو! جب تک لڑائی جاری ہوتی ہے اس وقت تک فوجوں کو تمغے ملتے ہیں اور خطاب ملتے ہیں لیکن جب امن ہو جاوے اس وقت اگر کوئی فوج چڑھائی کرے تو یہی کہا جائے گا کہ یہ لُوٹنے کو آئے ہیں۔
شیطان کی آخری جنگ
یہ زمانہ بھی رُوحانی لڑائی کا ہے۔ شیطان کے ساتھ جنگ شروع ہے۔ شیطان اپنے تمام ہتھیاروں اور مکروں کو لے کر اسلام کے قلعہ پر حملہ آور ہو رہا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسلام کو شکست دے مگر خدا تعالیٰ نے اس وقت شیطان کی آخری جنگ میں اُس کو ہمیشہ کے لئے شکست دینے کے لئے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔ مبارک وہ جو اس کو شناخت کرتا ہے اب تھوڑا زمانہ ہے ابھی ثواب ملے گا لیکن عنقریب وقت آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کی سچائی کو آفتاب سے بھی زیادہ روشن کر دکھائے گا۔ وہ وقت ہوگا کہ ایمان ثواب کا موجب نہ ہوگا اور توبہ کا دروازہ بند ہونے کا مصداق ہوگا۔ اس وقت میرے قبول کرنے والے کو بظاہر ایک عظیم الشان جنگ اپنے نفس سے کرنی پڑتی ہے۔ وہ دیکھے گا کہ بعض اوقات اس کو برادری سے الگ ہونا پڑے گا۔ اُس کے دُنیوی کاروبار میں روک ڈالنے کی کوشش کی جاوے گی اُس کو گالیاں سننی پڑیں گی لعنتیں سنے گا مگر ان ساری باتوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں سے ملے گا۔
لیکن جب دوسرا وقت آیا اور اس زور کے ساتھ دنیا کا رجوع ہوا جیسے ایک بلند ٹیلہ سے پانی نیچے گرتا ہے اور کوئی انکار کرنے والا ہی نظر نہ آیا اُس وقت اقرار کس پایۂ کا ہوگا اس وقت ماننا شجاعت کا کام نہیں۔ ثواب ہمیشہ دُکھ ہی کے زمانہ میں ہوتا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کر کے اگر مکہ کی نمبرداری چھوڑ دی تو اللہ تعالیٰ نے اُس کو ایک دنیا کی بادشاہی دی۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی کمبل پہن لیا اور ہر چہ بادا باد ما کشتی در آب انداختیم کا مصداق ہو کر آپ کو قبول کیا تو کیا خدا تعالیٰ نے ان کے اجر کا کوئی حصہ باقی رکھ لیا؟ ہرگز نہیں۔ جو خدا تعالیٰ کے لئے ذرا بھی حرکت کرتا ہے وہ نہیں مَرتا جب تک اس کا اجر نہ پالے۔ حرکت شرط ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی طرف معمولی رفتار سے آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دوڑ کر آتا ہے۔ ایمان یہ ہے کہ کچھ مخفی ہو تو مان لے۔ جو ہلال کو دیکھ لیتا ہے تیز نظر کہلاتا ہے لیکن چودھویں رات کے چاند کو دیکھ کر شور مچانے والا دیوانہ کہلائے گا۔
حضرت شہزادہ عبد اللطیف کابلی کا مقام
اس موقع پر مولانا مولوی عبداللطیف صاحب کابلی نے عرض کی کہ حضور! میں نے ہمیشہ آپ کو سورج ہی کی طرح دیکھا ہے کوئی اَمر مخفی یا مشکوک مجھے نظر نہیں آیا پھر مجھے کوئی ثواب ہوگا یا نہیں۔
فرمایا۔ آپ نے اس وقت دیکھا جب کوئی نہ دیکھ سکتا تھا۔ آپ نے اپنے آپ کو نشانہ ابتلا بنادیا اور ایک طرح سے جنگ کے لیے طیار کر دیا۔ اب بچ جانا یہ خدا کا فضل ہے۔ ایک شخص جو جنگ میں جاتا ہے اس کی شجاعت میں تو کوئی شبہ نہیں اگر وہ بچ جاتا ہے اور اسے کوئی گزند نہیں پہنچتا تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اسی طرح آپ نے اپنے آپ کو خطرات میں ڈال دیا اور ہر دکھ اور ہر مصیبت کو اس راہ میں اُٹھانے کے لیے طیار ہو گئے اس لیے اللہ تعالیٰ آپ کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا۔
مخالفوں کا ساحر کہنا
خان عجب خان صاحب۔ حضور پشاور میں میرے مخالف لوگ جمع ہوئے اور اُنہوں نے میرے والد سے کہا کہ اس کو منع کرو۔ میں نے ان کو یہی جواب دیا کہ میں نے جس صداقت کو دیکھ لیا ہے اور خدا کے فضل سے سمجھ لیا ہے اب اسے سچائی سمجھ کر میں کیوں کر چھوڑ سکتا ہوں۔ اگر اب چھوڑوں تو مجھ سے بڑھ کر خطا کار اور زیاں کار کون ہوگا کیونکہ مجھ پر حجت پوری ہو چکی ہے۔ اس پر اُنہوں نے اَور تو کچھ نہ کہا صرف یہ کہہ کر ٹال دیا کہ وہ جادوگر ہے فرمایا۔ جادوگر کہلانا قدیم سے انبیاء علیہم السلام کی سنّت چلی آتی ہے۔ ہم کو اگر کسی نے جادوگر کہا تو اُسی سنّت کو پورا کیا۔
قرآن شریف اور حدیث کا مرتبہ
مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ہم تو قرآن شریف پیش کرتے ہیں جس سے جادو بھاگتا ہے اس کے بالمقابل کوئی باطل اور سحر ٹھہر نہیں سکتا۔ ہمارے مخالفوں کے ہاتھ میں کیا ہے جس کو وہ لیے پھرتے ہیں۔ یقیناً یاد رکھو کہ قرآن شریف وہ عظیم الشان حربہ ہے کہ اُس کے سامنے کسی باطل کو قائم رہنے کی ہمّت ہی نہیں ہوسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی باطل پرست ہمارے سامنے اور ہماری جماعت کے سامنے نہیں ٹھہرتا اور گفتگو سے انکار کر دیتا ہے۔ یہ آسمانی ہتھیار ہے جو کبھی کُند نہیں ہوسکتا۔ ہمارے اندرونی مخالف اُس کو چھوڑ کر الگ ہوگئے ہیں ورنہ اگر قرآن شریف کی رُو سے یہ فیصلہ کرنا چاہتے تو ان کو اس قدر مصیبتیں پیش نہ آتیں۔ ہم خدا تعالیٰ کا پیارا اور یقینی کلام قرآن شریف پیش کرتے ہیں اور وہ اس کے جواب میں قرآن سے استدلال نہیں کرتے۔ ہمارا مذہب یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کو مقدم کرو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔ جو قرآن شریف کے خلاف ہو ہم نہیں مان سکتے خواہ وہ کسی کا کلام ہو۔ اللہ تعالیٰ کے کلام پر ہم کسی کی بات کو ترجیح کس طرح دیں۔ ہم احادیث کی عزّت کرتے ہیں اور اپنے مخالفوں سے بھی بڑھ کر احادیث کو واجب العمل سمجھتے ہیں لیکن یہ سچ ہے کہ ہم دیکھیں گے کہ وہ حدیث قرآن شریف کے کسی بیان کے متعارض یا متخالف نہ ہو۔ اور محدثین کی اپنی وضع کردہ اُصولوں کی بنا پر اگر کوئی حدیث موضوع بھی ٹھہرتی ہو لیکن قرآن شریف کے مخالف نہ ہو بلکہ اس سے قرآن کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے تب بھی ہم اس کو واجب العمل سمجھتے ہیں اور اس اَمر کا پاس کریں گے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہے۔ لیکن اگر کوئی حدیث ایسی پیش کی جاوے جو قرآن شریف کے مخالف ہو تو ہم کوشش کریں گے کہ اُس کی تاویل کر کے اس مخالفت کو دور کریں لیکن اگر وہ مخالفت دور نہیں ہوسکتی تو پھر ہم کو وہ حدیث بہرحال چھوڑنی پڑے گی کیونکہ ہم اس پر قرآن کو چھوڑ نہیں سکتے۔
اس پر بھی ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ وہ تمام احادیث جو اس معیار پر صحیح ہیں وہ ہمارے ساتھ ہیں۔ بخاری اور مسلم میرے دعویٰ کی تائید اور تصدیق کرتے ہیں جیسے قرآن شریف نے فرمایا کہ مسیح مَر گئے اسی طرح بخاری اور مسلم نے تصدیق کی اور اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ(اٰل عمران:۵۶) کے معنے اِنِّیْ مُـمِیْتُکَ کیے۔ جیسے قرآن شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بنی اسماعیل کو اسی طرح شرف عطا ہوا جیسے بنی اسرائیل کو بزرگی دی تھی ویسے ہی احادیث سے یہ پایا جاتا ہے۔ ان لوگوں پر جو انکار کرتے ہیں افسوس ہے۔ ان کو رسم اور عادت نے خراب کر دیا ہے ورنہ یہ میرا معاملہ ایسا مشکل اور پچیدہ نہ تھا جو سمجھ میں نہ آتا۔ قرآن شریف سے ثابت، احادیث سے ثابت، دلائل عقلیہ سے ثابت اور پھر تائیداتِ سماویہ اس کی مصدق، اور ضرورت زمانہ اس کی مؤیّد۔ باوجود اس کے بھی یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سلسلہ حق پر نہیں۔
قرآن و سنّت کی خلاف ورزی
غور کر کے دیکھو کہ جب یہ لوگ خلافِ قرآن و سنّت کہتے ہیں کہ حضرت عیسٰیؑ زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں تو پادریوں کو نکتہ چینی کا موقع ملتا ہے اور وہ جھٹ پٹ کہہ اُٹھتے ہیں کہ تمہارا پیغمبر مَر گیا اور معاذ اللہ وہ زمینی ہے۔ حضرت عیسیٰ زندہ اور آسمانی ہے اور اس کے ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کر کے کہتے ہیں کہ وہ مُردہ ہے۔ سوچ کر بتاؤ کہ وہ پیغمبر جو افضل الرسل اور خاتم الانبیاء ہے ایسا اعتقاد کر کے اس کی فضلیت اور ختمیت کو یہ لوگ بٹّہ نہیں لگاتے؟ ضرور لگاتے ہیں اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا ارتکاب کرتے ہیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ پادریوں سے جس قدر توہین ان لوگوں نے اسلام کی کرائی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مُردہ کہلایا ہے اسی کی سزا میں یہ نکبت اور بدبختی ان کے شاملِ حال ہو رہی ہے۔ ایک طرف تو منہ سے کہتے ہیں کہ وہ افضل الانبیاء ہے اور دوسری طرف یہ اقرار کر لیتے ہیں کہ ۶۳ سال کے بعد مَر گئے اور مسیح اب تک زندہ ہے اور نہیں مَرا حالانکہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے وَکَانَ فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکَ عَظِیۡمًا(النساء:۱۱۴) پھر کیا یہ ارشادِ الٰہی غلط ہے؟ نہیں یہ بالکل درست اور صحیح ہے وہ جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مُردہ ہیں۔ اس سے بڑھ کر کوئی کلمہ توہین کا نہیں ہوسکتا۔ حقیقت یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسی فضیلت ہے جو کسی نبی میں نہیں ہے۔ میں اس کو عزیز رکھتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کو جو شخص بیان نہیں کرتا وہ میرے نزدیک کافر ہے۔
کس قدر افسوس کی بات ہے کہ جس نبی کی اُمّت کہلاتے ہیں اسی کو معاذ اللہ مُردہ کہتے ہیں اور اسی نبی کو جس کی اُمّت کا خاتمہ وَضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ وَالۡمَسۡکَنَۃُ(البقرۃ:۶۲) پر ہوا ہے اس کو زندہ کہا جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ کی قوم یہودی تھی اور اس کی نسبت خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ وَضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ وَالۡمَسۡکَنَۃُ(البقرۃ:۶۲)۔
اب قیامت تک ان کو عزّت نہ ملے گی۔ اب اگر حضرت عیسیٰ پھر آگئے تو پھر گویا ان کی کھوئی ہوئی عزت بحال ہوگئی اور قرآن شریف کا یہ حکم باطل ہو گیا۔ جس پہلو اور حیثیت سے دیکھو جو کچھ وہ مانتے ہیں اس پہلو سے قرآن کریم کا ابطال اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین لازم آتی ہے۔ پھر تعجب ہے کہ یہ لوگ مسلمان کہلا کر ایسے اعتقادات رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو یہود کے لیے فتویٰ دیتا ہے کہ ان میں نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا اور وہ ذلیل ہو گئے پھر ان میں زندہ نبی کیسے آ سکتا ہے؟ ایک مسلمان کے لیے تو اتنا ہی کافی ہے کہ جب اس کے سامنے قرآن شریف پیش کیا جاوے تو وہ انکار کے لیے لب کشائی نہ کرے مگر یہ قرآن سنتے ہیں اور پڑھتے ہیں وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں جاتا ورنہ کیا یہ کافی نہ تھا کہ قرآن شریف میں صاف فرمایا ہے یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ(اٰل عمران:۵۶) اور اس سے بڑھ کر خود حضرت مسیح کا اپنا اقرار موجود ہے فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ(المائدۃ:۱۱۸) اور یہ قیامت کا واقعہ ہے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوال ہوگا کہ کیا تُو نے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو خدا بناؤ؟ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب تک میں ان میں زندہ تھا میں نے تو نہیں کہا اور میں وہی تعلیم دیتا رہا جو تو نے مجھے دی تھی لیکن جب تو نے مجھے وفات دے دی اس وقت تو ہی ان کا نگہبان تھا اب یہ کیسی صاف بات ہے۔ اگر یہ عقیدہ صحیح ہوتا کہ حضرت مسیح کو دنیا میں قیامت سے پہلے آنا تھا تو پھر یہ جواب ان کا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے؟ اُن کو تو کہنا چاہیے تھا کہ میں دنیا میں جب دوبارہ گیا تو اس وقت صلیب پرستی کا زور تھا اور میری الوہیت اور ابنیت پر بھی شور مچا ہوا تھا مگر میں نے جا کر صلیبوں کو توڑا اور خنزیروں کو قتل کیا اور تیری توحید کو پھیلایا۔ نہ یہ جواب دیتے کہ جب تو نے مجھے وفات دے دی اس وقت تو خود نگران تھا۔ کیا قیامت کے دن حضرت مسیح جھوٹ بولیں گے؟
ان عقائد کی شناخت کہاں تک بیان کی جاوے جس پہلو اور مقام سے دیکھو قرآن شریف کی مخالفت نظر آوے گی۔
پھر یہ اَمر بھی قابل لحاظ ہے کہ دیکھا جاوے حضرت مسیح آسمان پر جا کر کہاں بیٹھے ہیں؟ تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ وہاں جا کر یحییٰ علیہ السلام کے پاس بیٹھے ہیں اور یحییٰ علیہ السلام بالاتفاق وفات یافتہ ہیں۔ پھر مُردوں میں زندہ کا کیا کام ہے؟
غرض کہاں تک بیان کروں ایک غلطی ہو تو آدمی بیان کرے یہاں تو غلطیاں ہی غلطیاں بھری پڑی ہیں۔ باوجود ان غلطیوں کے تعصّب اور ضِدّ بڑھی ہوئی ہے اور اس ضد کے سبب سچ کے قبول کرنے میں عذر کر رہے ہیں۔ ہاں جس جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مقدر کیا ہوا ہے اور اس کے حصہ میں سعادت ہے وہ سمجھ رہا ہے اور اس طرف آتا جاتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے نیکی چاہتا ہے اس کے دل میں واعظ پیدا کر دیتا ہے جب تک دل میں واعظ نہ ہو کچھ نہیں ہوتا۔ اگر خدا کے قول کے خلاف کوئی قول ہو تو خدا کو اس خلافِ قول کے ماننے میں کیا جواب دے گا۔
احادیث کی تصحیح و تغلیط بذریعہ کشف
احادیث کے متعلق خود یہ تسلیم کر چکے ہیں۔ خصوصاً مولوی محمد حسین اپنے رسالہ میں شائع کر چکا ہے کہ اہلِ کشف احادیث کی صحت بذریعہ کشف کر لیتے ہیں اور اگر کوئی حدیث محدّثین کے اُصولوں کے موافق صحیح بھی ہو تو اہلِ کشف اسے موضوع قرار دے سکتے ہیں اور موضوع کو صحیح ٹھہرا سکتے ہیں۔۱؎
جس حال میں اہلِ کشف احادیث کی صحت کے اس معیار کے پابند نہیں جو محدّثین نے مقرر کیا ہے بلکہ وہ بذریعہ کشف ان کی صحیح قرارداد ہ احادیث کو موضوع ٹھہرانے کا حق رکھتے ہیں تو پھر جس کو حَکم بنایا گیا ہے کیا اس کو یہ حق حاصل نہیں ہوگا؟ خدا تعالیٰ جو اُس کا نام حَکم رکھتا ہے یہ نام ہی ظاہر کرتا ہے کہ وہ سارا رطب و یا بس جو اُس کے سامنے پیش کیا جاوے گا تسلیم نہیں کرے گا بلکہ بہت سی باتوں کو ردّ کر دے گا اور جو صحیح ہوں گی ان کے صحیح ہونے کا وہ فیصلہ دے گا ورنہ حَکم کے معنے ہی کیا ہوئے۔ جب اس کی کوئی بات ماننی ہی نہیں تو اُس کے حَکم ہونے سے فائدہ کیا؟
مسیح موعود بطور حَکم و عدل
حَکَم کا لفظ صاف ظاہر کرتا ہے کہ اس وقت اختلاف ہوگا اور ۷۳ فرقے موجود ہوں گے اور ہر فرقہ اپنے مسلّمات کو جو اُس نے بنارکھے ہیں قطع نظر اس کے کہ وہ جھوٹے ہیں یا خیالی، چھوڑنا نہیں چاہتا بلکہ ہر ایک اپنی جگہ یہ چاہے گا کہ اس کی بات ہی مانی جاوے اور جو کچھ وہ پیش کرتا ہے وہ سب تسلیم کر لیا جاوے ایسی صورت میں اس حَکم کو کیا کرنا ہوگا۔ کیا وہ سب کی باتیں مان لے گا یا یہ کہ بعض ردّ کرے گا اور بعض کو تسلیم کرے گا۔
غیر مقلّد تو راضی نہیں ہوگا جب تک اس کی پیش کردہ احادیث کا سارا مجموعہ وہ نہ مان لے اور ایسا ہی حنفی، معتزلہ، شیعہ وغیرہ کُل فرقے تو تب ہی اُس سے راضی ہوں گے کہ وہ ہر ایک کی بات تسلیم کرے اور کوئی بھی ردّ نہ کرے اور یہ ناممکن ہے۔ اگر یہ ہو کہ کوٹھڑی میں بیٹھا رہے گا اور اگر شیعہ اس کے پاس جاوے گا تو اندر ہی اندر مخفی طور پر اسے کہہ دے گا کہ تو سچا ہے اور پھر سُنّی اُس کے پاس جاوے گا تو اُس کو کہہ دے گا کہ تُو سچا ہے۔ اور اسی طرح پر جو اس کے پاس جاوے گا اس کو کہہ دے گا کہ تو سچا ہے تو پھر تو بجائے حَکم ہونے کے وہ پکا منافق ہوا اور بجائے وحدت کی رُوح پھونکنے کے اور سچا اخلاص پیدا کرنے کے وہ نفاق پھیلانے والا ٹھہرا۔ مگر یہ بالکل غلط ہے۔ آنے والا موعود حَکَم واقعی حَکَم ہوگا۔ اُس کا فیصلہ قطعی اور یقینی ہوگا۔ اس کے فیصلہ میں ایک ہے نہیں۔
ایک نقل مشہور ہے کہ کسی عورت کی دولڑکیاں تھیں ایک بیٹ میں بیاہی ہوئی تھی اور دوسری بانگر میں، اور وہ ہمیشہ یہ سوچتی رہتی تھی کہ دو میں سے ایک ہے نہیں۔ اگر بارش زیادہ ہوگئی تو بیٹ والی نہیں ہے اور اگر نہ ہوئی تو بانگر والی نہیں ہے۔ یہی حال حَکَم کے آنے پر ہونا چاہیے۔ وہ خود ساختہ اور موضوع باتوں کو ردّ کر دے گا اور سچ کو لے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا نام حَکَم رکھا گیا ہے۔ اسی لیے آثار میں آیا ہے کہ اُس پر کُفر کا فتویٰ دیا جاوے گا کیونکہ وہ جس فرقہ کی باتوں کو ردّ کرے گا وہی اُس پر کُفر کا فتویٰ دے گا۔ یہاں تک کہا ہے کہ مسیح موعود کے نزول پر ایک شخص اُٹھ کر کھڑا ہوگا اور منبر پر چڑھ کر کہے گا اِنَّ ھٰذَا الرَّجُلَ غَیَّرَ دِیْنَنَا اس شخص نے ہمارے دین کو بدل دیا ہے۔ اس سے بڑھ کر اَور کیا ثبوت اس اَمر کا ہوگا کہ وہ بہت سی باتوں کو ردّ کر دے گا جیسا کہ اُس کا منصب اُس کو اجازت دے گا۔
غرض اس بات کو سرسری نظر سے ہرگز نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ غور کرنا چاہیے کہ حَکَم عدل کا آنا اور اس کا نام دلالت کرتا ہے کہ وہ اختلاف کے وقت آئے گا اور اس اختلاف کو مٹائے گا۔ ایک کو ردّ کرے گا اور اندرونی غلطیوں کی اصلاح کرے گا۔
وہ اپنے نورِ فراست اور خدا تعالیٰ کے اعلام و الہام سے بعض ڈھیروں کے ڈھیر جلا دے گا اور پکی اور محکم باتیں رکھ لے گا۔ جب یہ مسلّم اَمر ہے تو پھر مجھ سے یہ اُمید کیوں کی جاتی ہے کہ میں ان کی ہر بات مان لوں قطع نظر اس کے کہ وہ غلط اور بیہودہ ہے۔ اگر میں ان کا سارا رطب و یابس مان لوں تو پھر میں حَکَم کیسے ٹھہر سکتا ہوں؟ یہ ممکن ہی نہیں۔
کشفِ حقیقت کے لئے اللہ تعالیٰ سے توفیق چاہیں
افسوس یہ لوگ دل رکھتے ہیں پھر سوچتے نہیں، آنکھیں رکھتے ہیں مگر دیکھتے نہیں، کان رکھتے ہیں پر سنتے نہیں۔ ان کے لئے بہترین راہ اب یہی ہے کہ وہ رو رو کر دعائیں کریں اور میرے متعلق کشف الحقیقت کے لئے اللہ تعالیٰ ہی سے توفیق چاہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص محض احقاقِ حق کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے گا وہ میرے معاملہ کی سچائی پر خدا تعالیٰ سے اطلاع پائے گا اور اُس کا زنگ دور ہو جائے گا۔ بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جو دلوں کو کھولے اور کشفِ حقائق کی قوت عطا کرے۔ اسلام اس وقت مصیبت کی حالت میں ہے اور وہ ایک فنا شدہ قوم کی حالت اختیار کر چکا ہے۔ ایسی حالت اور صورت میں ان لوگوں پر مجھے رونا آتا ہے جو کہتے ہیں کہ اسلام کی اس تباہ شدہ حالت کی اصلاح کے لئے کسی مصلح کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ بیمار ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہلاک ہو جائیں ایسے بیماروں سے بڑھ کر کون واجب الرحم ہو سکتا ہے جو اپنی بیماری کو صحت سمجھے۔ یہی وہ مرض ہے جس کو لا علاج کہنا چاہیے۔ اور ان لوگوں پر اور بھی افسوس ہے جو خود حدیثیں پڑھتے اور پڑھاتے تھے کہ ہر صدی کے سر پر مجدّد آیا کرتا ہے لیکن اس چودھویں صدی کے مجدّد کا انکار کر دیا اور نہیں بتاتے کہ اس صدی پر جس میں سے بیس سال گذر گئے کوئی مجدّد آیا ہے یا نہیں؟ خود پتا نہیں دیتے اور آنے والے کا نام دجّال رکھتے ہیں۔ کیا اسلام کی اس خستہ حالی کا مداوا اللہ تعالیٰ نے یہی کیا کہ بجائے ایک مصلح اور مَردِ خدا کے بھیجنے کے ایک کافر اور دجّال کو بھیج دیا؟ یہ لوگ ایسے اعتقاد رکھ کر خدا تعالیٰ، اس کی پاک کتاب قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں۔ خدا ان پر رحم کرے۔
اس وقت تقویٰ بالکل اُٹھ گیا ہے۔ اگر مُلاّنوں کے پاس جائیں تو وہ اپنے ذاتی اور نفسانی اغراض کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ مسجدوں کو دوکانوں کا قائم مقام سمجھتے ہیں۔ اگر چار روز روٹیاں بند ہو جائیں تو کچھ تعجب نہیں کہ نماز پڑھنا پڑھانا ہی چھوڑ دیں۔ اس دین کے دو ہی بڑے حصے تھے ایک تقویٰ دوسرے تائیدات سماویہ۔ مگر اب دیکھا جاتا ہے کہ یہ باتیں نہیں رہیں۔ عام طور پر تقویٰ نہیں رہا اور تائیداتِ سماویہ کا یہ حال ہے کہ خود تسلیم کر بیٹھے ہیں کہ مدّت ہوئی ان میں نہ کوئی نشانات ہیں نہ معجزات اور نہ تائیداتِ سماویہ کا کوئی سلسلہ ہے۔ جلسہ مذاہب میں مولوی محمد حسین نے صاف طور پر اقرار کیا تھا کہ اب معجزات اور نشانات دکھانے والا کوئی نہیں اور یہ ثبوت ہے اس اَمر کا کہ تقویٰ نہیں رہی کیونکہ نشانات تو متقی کو ملتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ دین کی تائید اور نصرت کرتا ہے مگر وہ نصرت تقویٰ کے بعد آتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات اور معجزات اسی لئے عظیم الشان قوت اور زندگی کے نشانات ہیں کہ آپ سَیِّدُ الْمُتَّقِیْن تھے۔ آپ کی عظمت اور جلال کا خیال کر کے بھی انسان حیران رہ جاتا ہے۔ اب پھر اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ آپ کا جلال دوبارہ ظاہر ہو اور آپ کے اسمِ احمدؐ کی تجلّی دنیا میں پھیلے اور اسی لئے اس نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے اور اس کی غرض اللہ تعالیٰ کی توحید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جلال ظاہر کرنا ہے اس لیے کوئی مخالف ہاتھ اس کو گزند نہیں پہنچا سکتا۔
حیا تِ مسیح کا عقیدہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی ماننے سے شرک پیدا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ اُس کو پسند نہیں کرتا اور آنحضرت کی عظمت توحید ہی سے ظاہر ہوتی ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ وہ مسیحؑ کی موت کے پردہ کو اُٹھا دے اور عالم کو دکھا دے کہ درحقیقت حضرت مسیح عام انسانوں کی طرح تھے ان میں کوئی خصوصیت اور الُوہیت نہ تھی وہ وفات پا گئے۔
اور جیسے جسمانی طور پر آپ مَر گئے روحانی طور پر بھی عیسائی مذہب مَر گیا اور اُس میں کوئی قبولیت اور شرف کا نشان باقی نہیں۔ ایک بھی عیسائی نہیں جو کھڑا ہو کر دعویٰ سے کہہ سکے کہ میں ان زندہ آثار اور نشانات سے جو زندہ مذہب کے ہیں اسلام کا مقابلہ کر سکتا ہوں۔
چالیس کروڑ انسان جو مختلف اغراضِ نفسانی کی بنا پر یا اَور وجوہات سے اس کو خدا بنا رہے ہیں۔ وہ وقت آتا ہے کہ اس کی خدائی سے توبہ کریں گے اور اس کو عام انسانوں میں جگہ دیں گے۔
مسلمانوں پر افسوس ہے جنہوں نے عیسائیوں کی ہاں میں ہاں ملائی ہے اور اس کو خدا بنانے میں مدد دی۔ عیسائی کھلے طور پر خدا مانتے ہیں اور یہ لوگ خدائی کے صفات دیتے ہیں ان کی ویسی ہی مثال ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ فلاں آدمی مَر گیا ہے لیکن دوسرا یہ کہے کہ ابھی مَرا تو نہیں مگر بدن سرد ہے اور نبض بھی نہیں چلتی اور حرکت بھی نہیں تو کیا وہ مُردہ نہ ہوگا؟ یہی حال حضرت عیسیٰ کی خدائی کے متعلق ہے۔ خدائی کے صفات ان میں تسلیم کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہم خدا نہیں مانتے۔ اب غیرت مند مسلمان سوچ کر جواب دیں کہ جب حضرت عیسٰیؑ کو خالق مانا جاتا ہے، محیی مانا جاتا ہے، غیب دان مانا جاتا ہے، شافی مانا جاتا ہے، حیّ مانا جاتا ہے تو اور کیا باقی رہا۔ غرض مسلمانوں کی حالت بہت نازک ہوگئی ہے اور وہ سوچتے نہیں۔ اس وقت اگر اور نشانات اور تائیدات ہمارے دعویٰ کی مصدّق اور مؤیّد نہ ہوتیں تب بھی وقت ایسا تھا کہ وہ زبردست ضرورت بتاتا ہے۔ خدا تعالیٰ ہی ان کی آنکھیں کھولے تو بات بنے گی۔۱؎
۱۸ ؍جنوری ۱۹۰۳ء
تقدیرمعلّق وتقدیرمُبرم
تقدیر دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک کا نام معلّق ہے اور دوسری کو مُبرم کہتے ہیں اگر کوئی تقدیر معلّق ہو تو دعا اور صدقات اس کو ٹلا دیتی ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس تقدیر کو بدل دیتا ہے اور مُبرم ہونے کی صورت میں وہ صدقات اور دعا اس تقدیر کے متعلق کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ ہاں وہ عبث اور فضول بھی نہیں رہتی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے۔ وہ اس دعا اور صدقات کا اثر اور نتیجہ کسی دوسرے پیرایہ میں اس کو پہنچا دیتا ہے۔ بعض صورتوں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی تقدیر میں ایک وقت تک توقف اور تاخیر ڈال دیتا ہے۔
قضاءِ معلّق اور مُبرم کا ماخذ اور پتا قرآنِ کریم ہی سے ملتا ہے۔ گو یہ الفاظ نہیں۔ مثلاً قرآن میں فرمایا ہے ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ(المؤمن:۶۱) دعا مانگو میں قبول کروں گا۔ اب یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا قبول ہو سکتی ہے اور دعا سے عذاب ٹل جاتا ہے اور ہزارہا کیا، کُل کام دعا سے نکلتے ہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کُل چیزوں پر قادرانہ تصرّف ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اس کے پوشیدہ تصرّفات کی لوگوں کو خواہ خبر ہو یا نہ ہو مگر صدہا تجربہ کاروں کے وسیع تجربے اور ہزارہا دردمندوں کی دعاؤں کے صریح نتیجے بتلا رہے ہیں کہ اس کا ایک پوشیدہ اور مخفی تصرّف ہے۔ وہ جو چاہتا ہے محو کرتا ہے اور جو چاہتا ہے اثبات کرتا ہے۔ ہمارے لئے یہ ضروری اَمر نہیں کہ ہم اس کی تہہ تک پہنچنے اور اس کی کنہ اور کیفیت کو معلوم کرنے کی کوشش کریں جب کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ایک شَے ہونے والی ہے اس لیے ہم کو جھگڑے اور بحث میں پڑنے کی کچھ حاجت نہیں۔ خدا تعالیٰ نے انسان کی قضاء وقدر کو مشروط بھی رکھا ہے جو توبہ خشوع و خضوع سے ٹل سکتی ہیں۔ جب کسی قسم کی تکلیف اور مصیبت انسان کو پہنچتی ہے تو وہ فطرتاً اور طبعاً اعمالِ حسنہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اپنے اندر ایک قلق اور کرب محسوس کرتا ہے جو اسے بیدار کرتا اور نیکیوں کی طرف کھنچے لیے جاتا ہے اور گناہ سے ہٹاتا ہے۔ جس طرح پر ہم ادویات کے اثر کو تجربہ کے ذریعہ سے پا لیتے ہیں اسی طرح پر ایک مضطرب الحال انسان جب خدائے تعالیٰ کے آستانہ پر نہایت تذلّل اور نیستی کے ساتھ گرتا ہے اور رَبِّیْ رَبِّیْ کہہ کر اس کو پکارتا اور دعائیں مانگتا ہے تو وہ رؤیائے صالحہ یا الہامِ صحیح کے ذریعہ سے ایک بشارت اور تسلّی پا لیتا ہے۔ میں نے اپنے ساتھ بارہا اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ دیکھا ہے کہ جب میں نے کرب و قلق سے کوئی دعا مانگی اللہ تعالیٰ نے مجھے رؤیا کے ذریعہ سے آگاہی بخشی۔ ہاں قلق اور اضطرار اپنے بس میں نہیں ہوتا۔ اس کا انشا بھی فعلِ الٰہی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ جب صبر اور صدق کے ساتھ دعا انتہا کو پہنچے تو وہ قبول ہو جاتی ہے۔ دعا، صدقہ اور خیرات سے عذاب کا ٹلنا ایک ایسی ثابت شدہ صداقت ہے جس پر ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کا اتفاق ہے اور کروڑہا صلحاء و اتقیاء اور اولیاء اللہ کے ذاتی تجربے اس اَمر پر گواہ ہیں۔
نماز کی لذّت اور سرور
نماز کیا ہے؟ یہ ایک خاص دعا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ لوگ اس کو بادشاہوں کا ٹیکس سمجھتے ہیں۔ نادان اتنا نہیں جانتے کہ بھلا خدائے تعالیٰ کو ان باتوں کی کیا حاجت ہے اس کی غناءِ ذاتی کو اس بات کی کیا حاجت ہے کہ انسان دعا اور تسبیح اور تہلیل میں مصروف ہو۔ بلکہ اس میں انسان کا اپنا ہی فائدہ کہ وہ اس طریق سے اپنے مطلب کو پہنچ جاتا ہے۔
مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ آجکل عبادت اور تقویٰ اور دینداری سے محبت نہیں ہے اس کی وجہ ایک عام زہریلا اثر رسم کا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی محبت سرد ہو رہی ہے اور عبادت میں جس قسم کا مزا آنا چاہیے وہ مزا نہیں آتا۔ دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس میں لذّت اور ایک خاص حظّ اللہ تعالیٰ نے رکھا نہ ہو۔ جس طرح پر ایک مریض ایک عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ چیز کا مزہ نہیں اُٹھا سکتا اور وہ اسے تلخ یا بالکل پھیکا سمجھتا ہے اسی طرح سے وہ لوگ جو عبادتِ الٰہی میں حظّ اور لذّت نہیں پاتے ان کو اپنی بیماری کا فکر کرنا چاہیے۔ کیونکہ جیسا میں نے ابھی کہا ہے دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس میں خدائے تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی لذّت نہ رکھی ہو اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس کی عبادت میں اس کے لیے ایک لذّت اور سُرور نہ ہو؟ لذّت اور سُرور تو ہے مگر اس سے حظّ اُٹھانے والا بھی تو ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ(الذّٰریٰت:۵۷) اب انسان جب کہ عبادت ہی کے لیے پیدا ہوا ہے، ضروری ہے کہ عبادت میں لذّت اور سُرور بھی درجہ غایت کا رکھتا ہو۔ اس بات کو ہم اپنے روزمرہ کے مشاہدہ اور تجربہ سے خوب سمجھ سکتے ہیں مثلاً دیکھو اناج اور تمام خوردنی اور نوشیدنی اشیاء انسان کے لیے پیدا کی ہیں تو کیا ان سے وہ ایک لذّت اور حظ نہیں پاتا ہے؟ کیا اُس ذائقہ اور مزے کے احساس کے لیے اُس کے منہ میں زبان موجود نہیں؟ کیا وہ خوبصورت اشیاء کو دیکھ کر نباتات ہوں یا جمادات، حیوانات ہوں یا انسان حظّ نہیں پاتا؟ کیا دل خوش کُن اور سُریلی آوازوں سے اس کے کان محظوظ نہیں ہوتے؟ پھر کیا کوئی دلیل اور بھی اس امر کے اثبات کے لیے مطلوب ہے کہ عبادت میں لذّت نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے عورت اور مرد کو رغبت دی ہے۔ اب اس میں زبردستی نہیں کی بلکہ ایک لذّت بھی رکھ دی ہے۔ اگر محض توالد و تناسل ہی مقصود بالذات ہوتا تو مطلب پورا نہ ہوسکتا۔ عورت اور مرد کی برہنگی کی حالت میں ان کی غیرت قبول نہ کرتی کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعلق پیدا کریں۔ مگر اس میں اُن کے لیے ایک حظّ ہے اور ایک لذّت ہے۔ یہ حظّ اور لذّت اس درجہ تک پہنچی ہے کہ بعض کوتاہ اندیش انسان اولاد کی بھی پروا اور خیال نہیں کرتے بلکہ ان کو صرف حظّ سے ہی کام اور غرض ہے۔ خدائے تعالیٰ کی علّتِ غائی بندوں کا پیدا کرنا تھا اور اس سبب کے لیے ایک تعلق عورت اور مرد میں قائم کیا اور ضمناً اس میں ایک حظّ رکھ دیا جو اکثر نادانوں کے لیے مقصود بالذات ہو گیا ہے۔
اسی طرح سے خوب سمجھ لو کہ عبادت بھی کوئی بوجھ اور ٹیکس نہیں۔ اس میں بھی ایک لذّت اور سُرور ہے اور یہ لذّت اور سُرور دنیا کی تمام لذتوں اور تمام حظوظِ نفس سے بالاتر اور بالاتر ہے۔ جیسے عورت اور مرد کے باہم تعلقات میں ایک لذّت ہے اور اس سے وہی بہرہ مند ہو سکتا ہے جو مرد ہے اور اپنے قومیٰ صحیحہ رکھتا ہے۔ ایک نامرد اور مخنث وہ حظّ نہیں پا سکتا اور جیسے ایک مریض کسی عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ غذا کی لذّت سے محروم ہے اسی طرح پر ہاں ٹھیک ایسا ہی وہ کم بخت انسان ہے جو عبادتِ الٰہی سے لذّت نہیں پاسکتا۔
عورت اور مَرد کا جوڑا تو باطل اور عارضی جوڑا ہے۔ میں کہتا ہوں حقیقی ابدی اور لذّت مجسم جو جوڑا ہے وہ انسان اور خدائے تعالیٰ کا ہے۔ مجھے سخت اضطراب ہوتا اور کبھی کبھی یہ رنج میری جان کو کھانے لگتا ہے کہ ایک دن اگر کسی کو روٹی یا کھانے کا مَزا نہ آئے، طبیب کے پاس جاتا اور کیسی کیسی منتیں اور خوشامدیں کرتا اور روپیہ خرچ کرتا اور دُکھ اُٹھاتا ہے کہ وہ مَزا حاصل ہو۔ وہ نامرد جو اپنی بیوی سے لذّت حاصل نہیں کرسکتا بعض اوقات گھبرا گھبرا کر خودکشی کے ارادے تک پہنچ جاتا ہے اور اکثر موتیں اس قسم کی ہو جاتی ہیں۔ مگر آہ! وہ مریضِ دل وہ نامَرد کیوں کوشش نہیں کرتا جس کو عبادت میں لذّت نہیں آتی اس کی جان کیوں غم سے نڈھال نہیں ہو جاتی؟ دُنیا اور اس کی خوشیوں کے لئے تو کیا کچھ کرتا ہے مگر ابدی اور حقیقی راحتوں کی وہ پیاس اور تڑپ نہیں پاتا۔ کس قدر بے نصیب ہے۔ کیسا ہی محروم ہے! عارضی اور فانی لذتوں کے علاج تلاش کرتا ہے اور پا لیتا ہے۔ کیا ہوسکتا ہے کہ مستقل اور ابدی لذّت کے علاج نہ ہوں؟ ہیں اور ضرور ہیں۔ مگر تلاشِ حق میں مستقل اور پویہ قدم درکار ہیں قرآنِ کریم میں ایک موقع پر اللہ تعالیٰ نے صالحین کی مثال عورتوں سے دی ہے۔ اس میں بھی سِر اور بھید ہے۔ ایمان لانے والے کو آسیہ اور مریم سے مثال دی ہے۔ یعنی خدائے تعالیٰ مشرکین میں سے مومنوں کو پیدا کرتا ہے۔ بہرحال عورتوں سے مثال دینے میں دراصل ایک لطیف راز کا اظہار ہے یعنی جس طرح عورت اور مَرد کا باہم تعلّق ہوتا ہے اسی طرح پر عبودیت اور ربوبیت کا رشتہ ہے۔ اگر عورت اور مَرد کی باہم موافقت ہو اور ایک دوسرے پر فریفتہ ہو تو وہ جوڑا ایک مبارک اور مفید ہوتا ہے ورنہ نظامِ خانگی بگڑ جاتا ہے اور مقصود بالذّات حاصل نہیں ہوتا ہے۔ مَرد اور جگہ خراب ہوکر صدہا قسم کی بیماریاں لے آتے ہیں۔ آتشک سے مجذوب ہوکر دنیا میں ہی محروم ہو جاتے ہیں۔ اور اگر اولاد ہو بھی جائے تو کئی پُشت تک یہ سلسلہ چلا جاتا ہے اور اُدھر عورت بےحیائی کرتی پھرتی ہے اور عزّت و آبرو کو ڈبو کر بھی سچی راحت حاصل نہیں کرسکتی۔ غرض اس جوڑے سے الگ ہوکر کس قدر بد نتائج اور فتنے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح پر انسان روحانی جوڑے سے الگ ہوکر مجذوب اور مخذول ہوجاتا ہے دُنیاوی جوڑے سے زیادہ رنج ومصائب کا نشانہ بنتا ہے جیسا کہ عورت اور مَرد کے جوڑے سے ایک قسم کی بقا کے لیے حظّ ہے اسی طرح پر عبودیت اور ربوبیت کے جوڑے میں ایک ابدی بقا کے لیے حظّ موجود ہے۔ صوفی کہتے ہیں کہ یہ حظّ جس کو نصیب ہو جائے وہ دنیا اور مافیہا کے تمام حظوظ سے بڑھ کر ترجیح رکھتا ہے۔ اگر ساری عمر میں ایک بار بھی اُس کو معلوم ہو جائے تو وہ اس میں ہی فنا ہو جائے۔ لیکن مشکل تو یہ ہے کہ دنیا میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے اس راز کو نہیں سمجھا اور ان کی نمازیں نری ٹکریں ہیں اور اوپرے دل کے ساتھ ایک قسم کی قبض اور تنگی سے صرف نشت و برخاست کے طور پر ہوتی ہیں۔
مجھے اور بھی افسوس ہوتا ہے کہ جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ صرف اس لیے نمازیں پڑھتے ہیں کہ وہ دنیا میں معتبر اور قابلِ عزّت سمجھے جائیں اور پھر اس نماز سے یہ بات ان کو حاصل بھی ہو جاتی ہے یعنی وہ نمازی اور پرہیزگار کہلاتے ہیں پھر کیوں ان کو یہ کھا جانے والا غم نہیں لگتا کہ جب جھوٹ موٹ اور بے دلی کی نماز سے ان کو یہ مرتبہ حاصل ہو سکتا ہے تو کیوں ایک سچے عابد بننے سے ان کو عزّت نہ ملے گی اور کیسی عزّت ملے گی۔
غرض میں دیکھتا ہوں کہ لوگ نمازوں میں غافل اور سُست اسی لیے ہوتے ہیں کہ ان کو اس لذّت اور سُرور سے اطلاع نہیں جو اللہ تعالیٰ نے نماز کے اندر رکھا ہے اور بڑی بھاری وجہ کسل کی یہی ہے۔ پھر شہروں اور گاؤں میں تو اور بھی سُستی اور غفلت ہوتی ہے۔ سو پچاسواں حصہ بھی تو پوری مستعدی اور سچی محبت سے اپنے مولا حقیقی کے حضور سر نہیں جھکاتے، پھر سوال یہی ہوتا ہے کیوں ان کو اس لذّت کی اطلاع نہیں اور نہ کبھی اس مزے کو انہوں نے چکھا۔ اَور مذاہب میں ایسے احکام نہیں ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے کاموں میں مبتلا ہوتے ہیں اور مؤذن اذان دے دیتا ہے۔ پھر وہ سننا بھی نہیں چاہتے۔ گویا ان کے دل دُکھتے ہیں۔ یہ لوگ بہت ہی قابلِ رحم ہیں۔ بعض لوگ یہاں بھی ایسے ہیں کہ ان کی دوکانیں دیکھو تو مسجد کے نیچے ہیں مگر کبھی جا کر کھڑے بھی تو نہیں ہوتے۔
پس میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ سے نہایت سوز اور ایک جوش کے ساتھ یہ دعا مانگنی چاہیے کہ جس طرح اور پھلوں اور اشیاء کی طرح طرح کی لذتیں عطا کی ہیں نماز اور عبادت کا بھی ایک بار مزا چکھا دے، کھایا ہوا یاد رہتا ہے۔ دیکھو! اگر کوئی شخص کسی خوبصورت کو ایک سُرور کے ساتھ دیکھتا ہے تو وہ اسے خوب یاد رہتا ہے اور پھر اگر کسی بدشکل اور مکروہ ہیئت کو دیکھتا ہے تو اس کی ساری حالت اس کے بالمقابل مجسم ہو کر سامنے آ جاتی ہے۔ ہاں اگر کوئی تعلق نہ ہو تو کچھ یاد نہیں رہتا۔ اسی طرح بے نمازوں کے نزدیک نماز ایک تاوان ہے کہ ناحق صبح اُٹھ کر سردی میں وضو کر کے خوابِ راحت چھوڑ کر اور کئی قسم کی آسائشوں کو چھوڑ کر پڑھنی پڑتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اسے بیزاری ہے وہ اس کو سمجھ نہیں سکتا۔ اس لذّت اور راحت سے جو نماز میں ہے اس کو اطلاع نہیں ہے۔ پھر نماز میں لذّت کیوں کر حاصل ہو۔
میں دیکھتا ہوں کہ ایک شرابی اور نشہ باز انسان کو جب سُرور نہیں آتا تو وہ پے درپے پیتا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کو ایک قسم کا نشہ آجاتا ہے۔ دانشمند اور زیرک انسان اس سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے اور وہ یہ کہ نماز پر دوام کرے اور پڑھتا جاوے یہاں تک کہ اس کو سُرور آجائے اور جیسے شرابی کے ذہن میں ایک لذّت ہوتی ہے جس کا حاصل کرنا اس کا مقصود بالذّات ہوتا ہے اسی طرح سے ذہن میں اور ساری طاقتوں کا رجحان نماز میں اسی سُرور کو حاصل کرنا ہو اور پھر ایک خلوص اور جوش کے ساتھ کم از کم اس نشہ باز کے اضطراب اور قلق و کرب کی مانند ہی ایک دعا پیدا ہو کر وہ لذّت حاصل ہو تو میں کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ یقیناً یقیناً وہ لذّت حاصل ہو جائے گی۔ پھر نماز پڑھتے وقت ان مفاد کا حاصل کرنا بھی ملحوظ ہو جو اُس سے ہوتے ہیں اور احسان پیشِ نظر رہے اِنَّ الۡحَسَنٰتِ یُذۡہِبۡنَ السَّیِّاٰتِ(ھود:۱۱۵) نیکیاں بدیوں کو زائل کر دیتی ہیں۔ پس ان حسنات کو اور لذّات کو دل میں رکھ کر دعا کرے کہ وہ نماز جو صدیقوں اور محسنوں کی ہے وہ نصیب کرے۔ یہ جو فرمایا ہے کہ اِنَّ الۡحَسَنٰتِ یُذۡہِبۡنَ السَّیِّاٰتِ(ھود:۱۱۵) یعنی نیکیاں یا نماز بدیوں کو دُور کرتی ہے یا دوسرے مقام پر فرمایا ہے کہ نماز فواحش اور برائیوں سے بچاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود نماز پڑھنے کے پھر بدیاں کرتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں مگر نہ رُوح اور راستی کے ساتھ۔ وہ صرف رسم اور عادت کے طور پر ٹکریں مارتے ہیں۔ اُن کی رُوح مُردہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام حسنات نہیں رکھا اور یہاں جو حسنات کا لفظ رکھا اور الصلوٰۃ کا لفظ نہیں رکھا باوجودیکہ معنی وہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تا نماز کی خوبی اور حُسن و جمال کی طرف اشارہ کرے کہ وہ نماز بدیوں کو دور کرتی ہے جو اپنے اندر ایک سچائی کی رُوح رکھتی ہے اور فیض کی تاثیر اس میں موجود ہے وہ نماز یقیناً یقیناً بُرائیوں کو دور کر دیتی ہے۔ نماز نشست و برخاست کا نام نہیں۔ نماز کا مغز اور رُوح وہ دعا ہے جو ایک لذّت اور سُرور اپنے اندر رکھتی ہے۔ ارکانِ نماز دراصل روحانی نشست و برخاست کے اظلال ہیں۔
انسان کو خدائے تعالیٰ کے روبرو کھڑا ہونا پڑتا ہے اور قیام بھی آداب خدمتگاران میں سے ہے۔ رکوع جو دوسرا حصہ ہے بتلاتا ہے کہ گویا طیاری ہے کہ وہ تعمیل حکم کو کس قدر گردن جھکاتا ہے۔ اور سجدہ کمال ادب اور کمال تذلّل اور نیستی کو جو عبادت کا مقصود ہے ظاہر کرتا ہے۔ یہ آداب اور طرق ہیں جو خدا تعالیٰ نے بطور یادداشت کے مقرر کر دیئے ہیں۔ اور جسم کو باطنی طریق سے حصہ دینے کی خاطر ان کو مقرر کیا ہے۔ علاوہ ازیں باطنی طریق کے اثبات کی خاطر ایک ظاہری طریق بھی رکھ دیا ہے۔ اب اگر ظاہری طریق میں (جو اندرونی اور باطنی طریق کا ایک عکس ہے )صرف نقال کی طرح نقلیں اُتاری جائیں اور اسے ایک بارِگراں سمجھ کر اُتار پھینکنے کی کوشش کی جاوے تو تم ہی بتلاؤ اس میں کیا لذّت اور حظّ آسکتا ہے۔ اور جب تک لذّت اور سرور نہ آئے اُس کی حقیقت کیوں کر متحقق ہوگی اور یہ اس وقت ہوگا جب کہ روح بھی ہمہ نیستی اور تذلّل تام ہو کر آستانہ الوہیت پر گرے اور جو زبان بولتی ہے روح بھی بولے۔ اس وقت ایک سرور اور نور اور تسکین حاصل ہو جاتی ہے۔
میں اس کو اور کھول کر کہنا چاہتا ہوں کہ انسان جس قدر مراتب طے کر کے انسان ہوتا ہے۔ یعنی کہاں نطفہ بلکہ اس سے بھی پہلے نطفہ کے اجزا یعنی مختلف قسم کی اغذیہ اور ان کی ساخت اور بناوٹ پھر نطفہ کے بعد مختلف مدارج کے بعد بچہ پھر جوان، بوڑھا۔ غرض ان تمام عالموں میں جو اس پر مختلف اوقات میں گذرے ہیں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا معترف ہو اور وہ نقشہ ہر آن اس کے ذہن میں کھچا رہے تو بھی وہ اس قابل ہو سکتا ہے کہ ربوبیت کے مدِّ مقابل میں اپنی عبودیت کو ڈال دے۔ غرض مدّعا یہ ہے کہ نماز میں لذّت اور سرور بھی عبودیت اور ربوبیت کے ایک تعلق سے پیدا ہوتا ہے جب تک اپنے آپ کو عدم محض یا مشابہ بالعدم قرار دے کر جو ربوبیت کا ذاتی تقاضا ہے نہ ڈال دے اس کا فیضان اور پرتَو اس پر نہیں پڑتا۔ اور اگر ایسا ہو تو پھر اعلیٰ درجہ کی لذّت حاصل ہوتی ہے جس سے بڑھ کر کوئی حظّ نہیں ہے اس مقام پر انسان کی رُوح جب ہمہ نیستی ہو جاتی ہے تو وہ خدا کی طرف ایک چشمہ کی طرح بہتی ہے اور ماسوی اللہ سے اسے انقطاع ہو جاتا ہے اس وقت خدائے تعالیٰ کی محبت اس پر گرتی ہے۔ اس اتصال کے وقت ان دو جوشوں سے جو اوپر کی طرف سے ربوبیت کا جوش اور نیچے کی طرف سے عبودیت کا جوش ہوتا ہے۔ ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے اس کا نام صلوٰۃ ہے جو سیّئات کو بھسم کر جاتی اور اپنی جگہ ایک نور اور چمک چھوڑ دیتی ہے جو سالک کو راستے کے خطرات اور مشکلات کے وقت ایک منور شمع کا کام دیتی ہے۔ اور ہر قسم کے خس وخاشاک اور ٹھوکر کے پتھروں اور خار وخس سے جو اس کی راہ میں ہوتے ہیں آگاہ کر کے بچاتی ہے اور یہی وہ حالت ہے جب کہ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡکَرِ(العنکبوت:۴۶) کا اطلاق اس پر ہوتا ہے کیونکہ اُس کے ہاتھ میں نہیں۔ اُس کے شمع دانِ دل میں ایک روشن چراغ رکھا ہوا ہوتا ہے اور یہ درجہ کامل تذلّل، کامل نیستی اور فروتنی اور پوری اطاعت سے حاصل ہوتا ہے پھر گناہ کا خیال اسے آ کیوں کر سکتا ہے اور انکار اس میں پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ فحشاء کی طرف اس کی نظر اُٹھ ہی نہیں سکتی غرض اسے ایسی لذّت ایسا سرور حاصل ہوتا ہے کہ میں نہیں سمجھ سکتا کہ اسے کیوں کر بیان کروں۔
پھر یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہ نماز جو اپنے اصلی معنوں میں نماز ہے دعا سے حاصل ہوتی ہے غیر اللہ سے سوال کرنا مؤمنانہ غیرت کے صریحا ور سخت مخالف ہے۔ کیوں کر یہ مرتبہ دعا کا اللہ ہی کے لئے ہے جب تک انسان پورے طور پر حنیف ہو کر اللہ تعالیٰ ہی سے سوال نہ کرے اور اسی سے نہ مانگے۔ سچ سمجھو کہ حقیقی طور پر وہ سچا مسلمان اور سچا مومن کہلانے کا مستحق نہیں۔ اسلام کی حقیقت ہی یہ ہے کہ اس کی تمام طاقتیں اندرونی ہوں یا بیرونی سب کی سب اللہ تعالیٰ ہی کے آستانہ پر گری ہوئی ہوں۔ جس طرح پر ایک بڑا انجن بہت سی کَلوں کو چلاتا ہے۔ پس اسی طور پر جب تک انسان اپنے ہر کام اور ہر حرکت و سکون تک کو اسی انجن کی طاقت عظمیٰ کے ماتحت نہ کر لیوے وہ کیوں کر اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا قائل ہوسکتا ہے؟ اور اپنے آپ کو اِنِّیۡ وَجَّہۡتُ وَجۡہِیَ لِلَّذِیۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ(الانعام:۸۰) کہتے وقت واقعی حنیف کہہ سکتا ہے؟ جیسے مُنہ سے کہتا ہے دل سے بھی اُدھر کی طرف متوجہ ہو تو لا ریب وہ مسلم ہے۔ وہ مومن اور حنیف ہے لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا غیر اللہ سے سوال کرتا ہے اور ادھر بھی جھکتا ہے وہ یاد رکھے کہ بڑا ہی بد قسمت اور محروم ہے کہ اس پر وہ وقت آجانے والا ہے کہ وہ زبانی اور نمائشی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف نہ جھک سکے۔ ترکِ نماز کی عادت اور کسل کی ایک وجہ یہ ہے کیونکہ جب انسان غیر اللہ کی طرف جھکتا ہے تو روح اور دل اس کی طرف جھکتا ہے تو روح اور دل کی طاقتیں (اس درخت کی طرح جس کی شاخیں ابتداءً ایک طرف کر دی جائیں اور پرورش پالیں) ادھر ہی جھکتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی طرف سے ایک سختی اور تشدد اس کے دل میں پیدا ہو کر اسے منجمد اور پتھر بنا دیتا ہے۔ جیسے وہ شاخیں پھر دوسری طرف مڑ نہیں سکتیں۔ اسی طرح پر وہ دل اور رُوح دن بدن خدائے تعالیٰ سے دور ہوتے جاتے ہیں۔ پس یہ بڑی خطرناک اور دل کو کپکپا دینے والی بات ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے سے سوال کرے۔ اسی لیے نماز کا التزام اور پابندی بڑی ضروری چیز ہے تاکہ اوّلًا وہ ایک عادت راسخہ کی طرح قائم ہو اور رجوع الی اللہ کا خیال ہو۔ پھر رفتہ رفتہ وہ وقت آجاتا ہے کہ انقطاعِ کلّی کی حالت میں انسان ایک نور اور ایک لذّت کا وارث ہو جاتا ہے۔
میں اس اَمر کو پھر تاکید سے کہتا ہوں۔ افسوس ہے مجھے وہ لفظ نہیں ملتے جس میں میں غیر اللہ کی طرف رجوع کرنے کی بُرائیاں بیان کرسکوں۔ لوگوں کے پاس جا کر منت و خوشامد کرتے ہیں۔ یہ بات خدائے تعالیٰ کی غیرت کو جوش میں لاتی ہے (کیونکہ یہ تو لوگوں کی نماز ہے) پس وہ اس سے ہٹتا اور اُسے دور پھینک دیتا ہے۔
میں موٹے الفاظ میں اس کو بیان کرتا ہوں گو یہ اَمر اس طرح پر نہیں ہے مگر فوراً سمجھ میں آسکتا ہے کہ جیسے ایک مَردِ غیور کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اپنی بیوی کو کسی غیر کے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہوئے دیکھ سکے اور جس طرح پر وہ مرد ایسی حالت میں اس نابکار عورت کو واجب القتل سمجھتا بلکہ بعض اوقات ایسی وارداتیں ہو جاتی ہیں ایسا ہی جوش اور غیرت الوہیت کی ہے۔ جب عبودیت اور دعا خاص اسی ذات کے مدّ مقابل ہیں وہ پسند نہیں کر سکتا کہ کسی اور کو معبود قرار دیا جائے یا پکارا جائے۔ پس خوب یاد رکھو اور پھر یاد رکھو! کہ غیر اللہ کی طرف جھکنا خدا سے کاٹنا ہے۔ نماز اور توحید کچھ ہی ہو (کیونکہ توحید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے) اسی وقت بے برکت اور بے سُود ہوتی ہے جب اس میں نیستی اور تذلّل کی رُوح اور حنیف دل نہ ہو!! سنو! وہ دعا جس کے لئے ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ(المؤمن:۶۱) فرمایا ہے اس کے لئے یہی سچی رُوح مطلوب ہے اگر اس تضرّع اور خشوع میں حقیقت کی رُوح نہیں تو وہ ٹیں ٹیں سے کم نہیں ہے۔ پھر کوئی کہہ سکتا ہے کہ اسباب کی رعایت ضروری نہیں ہے؟ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ شریعت نے اسباب کو منع نہیں کیا ہے۔ اور سچ پوچھو تو کیا دعا اسباب نہیں ہے؟ یا اسباب دعا نہیں؟ تلاش اسباب بجائے خود ایک دعا ہے اور دعا بجائے خود عظیم الشان اسباب کا چشمہ!!!
انسان کی ظاہری بناوٹ اس کے دو ہاتھ دو پاؤں کی ساخت ایک دوسرے کی امداد کار ہنما ہے۔ جب یہ نظارہ خود انسان میں موجود ہے پھر کس قدر حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ وہ وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَالتَّقۡوٰی(المائدۃ:۳) کے معنے سمجھنے میں مشکلات کو دیکھے ہاں میں یہ کہتا ہوں کہ تلاش اسباب بھی بذریعہ دعا کرو۔ امداد باہمی میں نہیں سمجھتا کہ جب میں تمہارے جسم کے اندر اللہ تعالیٰ کا ایک قائم کردہ سلسلہ اور کامل رہنما سلسلہ دکھاتا ہوں تم اس سے انکار کرو۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو اور بھی صاف کرنے اور وضاحت سے دنیا پر کھول دینے کے لیے انبیاء علیہم السلام کا ایک سلسلہ دنیا میں قائم کیا۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر تھا اور قادر ہے کہ اگر وہ چاہے تو کسی قسم کی امداد کی ضرورت ان رسولوں کو باقی نہ رہنے دے مگر پھر بھی ایک وقت ان پر آتا ہے کہ وہ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ(اٰل عمران:۵۳) کہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کیا وہ ایک ٹکر گدا فقیر کی طرح بولتے ہیں، نہیں مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ(اٰل عمران:۵۳) کہنے کی بھی ایک شان ہوتی ہے۔ وہ دنیا کو رعایت اسباب سکھانا چاہتے ہیں جو دعا کا ایک شعبہ ہے ورنہ اللہ تعالیٰ پر ان کو کامل ایمان اس کے وعدوں پر پورا یقین ہوتا ہے وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ کہ اِنَّا لَنَنۡصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا(المؤمن:۵۲) ایک یقینی اور حتمی وعدہ ہے میں کہتا ہوں کہ بھلا اگر خدا کسی کے دل میں مدد کا خیال نہ ڈالے تو کوئی کیوں کر مدد کر سکتا ہے۔ اصل بات یہی ہے کہ حقیقی معاون و ناصر وہی پاک ذات ہے جس کی شان ہے نِعۡمَ الۡمَوۡلٰی وَنِعۡمَ النَّصِیۡرُ وَاعۡلَمُوۡۤا(الانفال:۴۱ تا ۴۲) دنیا اور دنیا کی مددیں ان لوگوں کے سامنے کالمیّت ہوتی ہیں اور مُردہ کیڑے کے برابر بھی حقیقت نہیں رکھتی ہیں لیکن دنیا کو دعا کا ایک موٹا طریق بتلانے کے لیے وہ یہ راہ بھی اختیار کرتے ہیں۔ وہ حقیقت میں اپنے کاروبار کا متولّی خدا تعالیٰ ہی کو جانتے ہیں اور یہ بات بالکل سچ ہے وَہُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیۡنَ(الاعراف:۱۹۷) اللہ تعالیٰ ان کو مامور کر دیتا ہے کہ وہ اپنے کاروبار کو دوسروں کے ذریعے سے ظاہر کریں۔ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف مقامات پر مدد کا وعظ کرتے تھے اسی لیے کہ وہ وقت نصرت الٰہی کا تھا۔ اس کو تلاش کرتے تھے کہ وہ کس کے شاملِ حال ہوتی ہے۔ یہ ایک بڑی غور طلب بات ہے۔ دراصل مامور من اللہ لوگوں سے مدد نہیں مانگتا بلکہ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ(اٰل عمران:۵۳) کہہ کر وہ اس نصرتِ الٰہیہ کا استقبال کرنا چاہتا ہے اور ایک فرطِ شوق سے بے قراروں کی طرح اس کی تلاش میں ہوتا ہے۔ نادان اور کوتاہ اندیش لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں سے مدد مانگتا ہے بلکہ اس طرح پر اس شان میں وہ کسی دل کے لیے جو اس نصرت کا موجب ہوتا ہے ایک برکت اور رحمت کا موجب ہوتا ہے۔ پس مامور من اللہ کی طلب امداد کا اصل سِرّ اور راز یہی ہے جو قیامت تک اسی طرح پر رہے گا۔ اشاعتِ دین میں مامور من اللہ دوسروں سے امداد چاہتے ہیں مگر کیوں؟ اپنے ادائے فرض کے لئے تاکہ دلوں میں خدا تعالیٰ کی عظمت کو قائم کریں ورنہ یہ تو ایک ایسی بات ہے کہ قریب بہ کفر پہنچ جاتی ہے اگر غیر اللہ کو متولّی قرار دیں اور ان نفوسِ قدسیہ سے ایسا امکان محالِ مطلق ہے۔ میں نے ابھی کہا ہے کہ توحید تبھی پوری ہوتی ہے کہ کل مرادوں کا معطی اور تمام امراض کا چارہ اور مداوا وہی ذات واحد ہو لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ(الصّٰفّٰت:۳۶) کے معنے یہی ہیں۔ صوفیوں نے اس میں اِلٰہٌ کے لفظ سے محبوب، مقصود، معبود مراد لی ہے بے شک اصل اور سچ یونہی ہے جب تک انسان کامل طور پر کاربند نہیں ہوتا اس میں اسلام کی محبت اور عظمت قائم نہیں ہوتی۔ اور پھر میں اصل ذکر کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ نماز کی لذّت اور سرور اسے حاصل نہیں ہوسکتا۔ مدار اسی بات پر ہے کہ جب تک برے ارادے، ناپاک اور گندے منصوبے بھسم نہ ہوں انانیت اور شیخی دور ہو کر نیستی اور فروتنی نہ آئے خدا کا سچا بندہ نہیں کہلا سکتا۔ عبودیتِ کاملہ کے سکھانے کے لیے بہترین معلّم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہی ہے۔ میں تمہیں پھر بتلاتا ہوں کہ اگر خدائے تعالیٰ سے سچا تعلق، حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو تو نماز پر کاربند ہو جاؤ اور ایسے کاربند نہ ہو کہ نہ تمہارا جسم نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری روح، تمہاری روح کے ارادے اور جذبے سب کے سب ہمہ تن نماز ہو جائیں۔
عصمتِ انبیاء کا ملنا
عصمتِ انبیاء کا یہی راز ہے یعنی نبی کیوں معصوم ہوتے ہیں؟ تو اس کا یہی جواب ہے کہ وہ استغراقِ محبت الٰہی کے باعث معصوم ہوتے ہیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے جب ان قوموں کو دیکھتا ہوں جو شرک میں مبتلا ہیں جیسے ہندو جو قسم قسم کے اصنام کی پرستش کرتے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے عورت اور مَرد کے اعضا مخصوصہ تک کی پرستش بھی جائز کر رکھی ہے اور ایسا ہی وہ لوگ جو ایک انسانی لاش یعنی یسوع مسیح کی پرستش کرتے ہیں اس قسم کے لوگ مختلف صورتوں سے حصولِ نجات یا مکتی کے قائل ہیں مثلاً اوّل الذکر یعنی ہندو گنگا اشنان اور تیرتھ یاترا اور ایسے ایسے کفّاروں سے گناہ سے موکش چاہتے ہیں اور عیسیٰ پرست عیسائی مسیح کے خون کو اپنے گناہوں کا فدیہ قرار دیتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ جب تک نفسِ گناہ موجود ہے وہ بیرونی صفائی اور خارجی معتقدات سے راحت یا اطمینان کا ذریعہ کیوں کر پاسکتے ہیں جب تک اندر کی صفائی اور باطنی تطہیر نہیں ہوتی۔ ناممکن ہے کہ انسان سچی پاکیزگی اور طہارت جو انسان کو نجات سے ملتی ہے پاسکے۔ ہاں اس سے ایک سبق لو جس طرح پر دیکھو بدن کی میل اور بد بو بدوں صفائی کے دور نہیں ہوسکتی اور جسم کو ان آنے والے خطرناک امراض سے بچا نہیں سکتی اسی طرح پر روحانی کدورات اور میل جو دل پر ناپاکیوں اور قسم قسم کی بے باکیوں سے جم جاتی ہے دور نہیں ہوسکتی جب تک توبہ کا مصفّا اور پاک پانی نہ دھو ڈالے۔ جسمانی سلسلہ میں ایک فلسفہ جس طرح پر موجود ہے اسی طرح پر روحانی سلسلہ میں ایک فلسفہ رکھا ہوا ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو اس پر غور کرتے ہیں اور سوچتے ہیں۔
گناہ کی حقیقت اور اس سے بچنے کے ذرائع
میں اس مقام پر یہ بات بھی جتلانا چاہتا ہوں کہ گناہ کیوں کر پیدا ہوتا ہے؟ اس سوال کا جواب عام فہم الفاظ میں یہی ہے کہ جب غیر اللہ کی محبت انسانی دل پر مستولی ہوتی ہے تو وہ اس مصفّا آئینہ پر ایک قسم کا زنگ سا پیدا کرتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ رفتہ رفتہ بالکل تاریک ہو جاتا ہے اور غیر یت اپنا گھر کر کے اسے خدا سے دور ڈال دیتی ہے اور یہی شرک کی جڑ ہے۔ لیکن جس قلب پر اللہ تعالیٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی محبت اپنا قبضہ کرتی ہے وہ غیرت کو جلا کر اسے صرف اپنے لیے منتخب کر لیتی ہے پھر اس میں ایک استقامت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ اصل جگہ پر آجاتی ہے عضو کے ٹوٹنے اور پھر چڑھنے میں جس طرح سے تکلیف ہوتی ہے لیکن ٹوٹا ہوا عضو کہیں زیادہ تکلیف دیتا ہے جو اسے صرف مکرر چڑھنے سے عارضی طور پر ہوتی ہے اور پھر ایک راحت کا سامان ہو جاتی ہے لیکن اگر وہ عضو اسی طرح ٹوٹا رہے تو ایک وقت آجاتا ہے کہ اس کو بالکل کاٹنا پڑتا ہے اسی طرح سے استقامت کے حصول کے لیے اوّلًا ابتدائی مدارج اور مراتب پر کسی قدر تکلیف اور مشکلات بھی پیش آتی ہیں لیکن اس کے حاصل ہونے پر ایک دائمی راحت اور خوشی پیدا ہو جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ ارشاد ہوا فَاسۡتَقِمۡ کَمَاۤ اُمِرۡتَ(ھود:۱۱۳) تو لکھا ہے کہ آپ کے کوئی سفید بال نہ تھا پھر سفید بال آنے لگے تو آپ نے فرمایا مجھے سور ئ ہ ہود نے بوڑھا کر دیا۔
غرض یہ ہے کہ جب تک انسان موت کا احساس نہ کرے وہ نیکیوں کی طرف جھک نہیں سکتا۔ میں نے بتلایا ہے کہ گناہ غیر اللہ کی محبت دل میں پیدا ہونے سے پیدا ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ دل پر غلبہ کر لیتا ہےـ۔ پس گناہ سے بچنے اور محفوظ رہنے کے لیے یہ بھی ایک ذریعہ ہے کہ انسان موت کو یاد رکھے اور خدائے تعالیٰ کے عجائباتِ قدرت میں غور کرتا رہے کیونکہ اس سے محبت الٰہی اور ایمان بڑھتا ہے اور جب خدائے تعالیٰ کی محبت دل میں پیدا ہو جائے تو وہ گناہ کو خود جلا کر بھسم کر جاتی ہےـ۔
دوسرا ذریعہ گناہ سے بچنے کا احساسِ موت ہے۔ اگر انسان موت کو اپنے سامنے رکھے تو وہ ان بدکاریوں اور کوتاہ اندیشیوں سے باز آجائے اور خدا تعالیٰ پر اسے ایک نیا ایمان حاصل ہو اور اپنے سابقہ گناہوں پر توبہ اور نادم ہونے کا موقع ملے۔ انسان عاجز کی ہستی کیا ہے؟ صرف ایک دم پر انحصار ہے۔ پھر کیوں وہ آخرت کا فکر نہیں کرتا اور موت سے نہیں ڈرتا اور نفسانی اور حیوانی جذبات کا مطیع اور غلام ہو کر عمر ضائع کر دیتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہندوؤں کو بھی احساسِ موت ہوا ہے۔ بٹالہ میں کشن چند نام ایک بھنڈاری ستّر یا بہتّر برس کی عمر کا تھا۔ اس وقت اس نے گھر بار سب کچھ چھوڑ دیا اور کانشی میں جا کر رہنے لگا اور وہاں ہی مَر گیا۔ یہ صرف اس لیے کہ وہاں مَرنے سے اس کی موکش ہو گی مگر یہ خیال اس کا باطل تھا۔ لیکن اس سے اتنا تو مفید نتیجہ ہم نکال سکتے ہیں کہ اس نے احساسِ موت کیا اور احساسِ موت انسان کو دنیا کی لذّات میں بالکل منہمک ہونے سے اور خدا سے دور جا پڑنے سے بچا لیتا ہے۔ یہ بات کہ کانشی میں مَرنا مکتی کا باعث ہو گا یہ اسی مخلوق پرستی کا پردہ تھا جو اس کے دل پر پڑا ہوا تھا مگر مجھے تو سنحت افسوس ہوتا ہے جب کہ میں دیکھتا ہوں کہ مسلمان ہندوؤں کی طرح بھی احساسِ موت نہیں کرتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو صرف اس ایک حکم نے کہ فَاسۡتَقِمۡ کَمَاۤ اُمِرۡتَ(ھود:۱۱۳) نے ہی بوڑھا کر دیا۔ کس قدر احساسِ موت ہے۔ آپ کی یہ حالت کیوں ہوئی صرف اس لئے کہ تا ہم اس سے سبق لیں۔ ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک اور مقدس زندگی کی اس سے بڑھ کر اَور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہادی کامل اور پھر قیامت تک کے لیے اور اس پر کُل دنیا کے لیے مقرر فرمایا۔ مگر آپ کی زندگی کے کل واقعات ایک عملی تعلیمات کا مجموعہ ہے جس طرح پر قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی قولی کتاب ہے اور قانونِ قدرت اس کی فعلی کتاب ہے اسی طرح پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھی ایک فعلی کتاب ہے جو گویا قرآن کریم کی شرح اور تفسیر ہے۔ میرے تیس سال کی عمر میں ہی سفید بال نکل آئے تھے اور مرزا صاحب مرحوم میرے والد ابھی زندہ ہی تھے۔ سفید بال بھی گویا ایک قسم کا نشانِ موت ہوتا ہے جب بڑھاپا آتا ہے جس کی نشانی یہی سفید بال ہیں تو انسان سمجھ لیتا ہے کہ مَرنے کے دن اب قریب ہیں۔ مگر افسوس تو یہ ہے کہ اس وقت بھی انسان کو فکر نہیں لگتا۔ مومن تو ایک چڑیا اور اور جانوروں سے بھی اخلاق فاضلہ سیکھ سکتا ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی کھلی ہوئی کتاب اس کے سامنے ہوتی ہے۔ دنیا میں جس قدر چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں وہ انسان کے لیے جسمانی اور روحانی دونوں قسم کی راحتوں کے سامان ہیں۔ میں نے حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کے تذکرے میں پڑھا ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے۔ میں نے مراقبہ بلّی سے سیکھا ہے۔ اگر انسان نہایت پُرغور نگاہ سے دیکھے تو اسے معلوم ہوگا کہ جانور کھلے طور پر خُلق رکھتے ہیں۔ میرے مذہب میں سب چرند و پرند ایک خُلق ہیں اور انسان اس کے مجموعہ کا نام ہے یہ نفس جامع ہے اور اسی لیے عالم صغیر کہلاتا ہے کہ کل مخلوق کے کمال انسان میں یکجائی طور پر جمع ہیں اور کل انسانوں کے کمالات بہیئت مجموعی ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع ہیں اور اسی لیے آپ کل دنیا کے لیے مبعوث ہوئے اور رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ(الانبیآء:۱۰۸) کہلائے۔ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ(القلم:۵) میں بھی اسی مجموعہ کمالات انسانی کی طرف اشارہ ہے اسی صورت میں عظمتِ اخلاق محمدی کی نسبت غور کر سکتا ہے اور یہی وجہ تھی کہ آپ پر نبوت کاملہ کے کمالات ختم ہوئے یہ ایک مسلّم بات ہے کہ کسی چیز کا خاتمہ اس کی علّتِ غائی کے اختتام پر ہوتا ہے۔ جیسے کتاب کے جب کُل مطالب بیان ہو جاتے ہیں تو اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے اسی طرح پر رسالت اور نبوت کی علّتِ غائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوئی اور یہی ختمِ نبوت کے معنے ہیں۔ کیونکہ یہ ایک سلسلہ ہے جو چلا آیا ہے اور کامل انسان پر آ کر اس کا خاتمہ ہو گیا۔
استقامت ہی انسان کا اسمِ اعظم ہے
میں یہ بھی بتلا دینا چاہتا ہوں کہ استقامت جس پر میں نے ذکر چھیڑا تھا وہی ہے جس کو صوفی لوگ اپنی اصطلاح میں فنا کہتے ہیں اور اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ(الفاتحۃ:۶) کے معنے بھی فنا ہی کے کرتے ہیں۔ یعنی رُوح، جوش اور ارادے سب کے سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہو جائیں اور اپنے جذبات اور نفسانی خواہشیں بالکل مَر جائیں۔ بعض انسان جو اللہ تعالیٰ کی خواہش اور ارادے کو اپنے ارادوں اور جوشوں پر مقدم نہیں کرتے وہ اکثر دفعہ دنیا ہی کے جوشوں اور ارادوں کی ناکامیوں میں اس دنیا سے اُٹھ جاتے ہیں۔ ہمارے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر کو مقدمات میں بڑی مصروفیت رہتی تھی اور ان میں وہ یہاں تک منہمک اور محو رہتے تھے کہ آخر ان ناکامیوں نے ان کی صحت پر اثر ڈالا اور وہ انتقال کر گئے اور بھی بہت سے لوگ دیکھے ہیں جو اپنے ارادوں کو خدا پر مقدم کرتے ہیں۔ آخر کار اس تقدیم ہوائے نفس میں بھی وہ کامیاب نہیں ہوتے اور بجائے فائدہ کے نقصان عظیم اُٹھاتے ہیں۔ اسلام پر غور کرو گے تو معلوم ہوگا کہ ناکامی صرف جھوٹے ہونے کی وجہ سے پیش آتی ہے۔ جب خدائے تعالیٰ کی طرف سے التفات کم ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا قہر نازل ہوتا ہے جو اس کو نامراد اور ناکام بنا دیتا ہے۔ خصوصاً ان لوگوں کو جو بصیرت رکھتے ہیں جب وہ دنیا کے مقاصد کی طرف اپنے تمام جوش اور ارادے کے ساتھ جھک جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو نامراد کر دیتا ہے۔ لیکن سعیدوں کو وہ پاک اصول پیشِ نظر رہتا ہے جو احساسِ موت کا اصول ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ جس طرح ماں باپ کا انتقال ہو گیا ہے یا جس طرح پر اور کوئی بزرگِ خاندان فوت ہو گیا ہے اسی طرح پر مجھ کو ایک دن مَرنا ہے اور بعض اوقات اپنی عمر پر خیال کر کے کہ بڑھاپا آگیا اور موت کے دن قریب ہیں خدائے تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ بعض خاندان ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں عمریں علی العموم ایک خاص مقدار تک مثلاً ۵۰ یا ۶۰ تک پہنچتی ہیں۔ بٹالہ میں میاں صاحب کا جو خاندان ہے اُس کی عمریں بھی علی العموم اسی حد تک پہنچتی ہیں۔ اس طرح پر اپنے خاندان کی عمروں کا اندازہ اور لحاظ بھی انسان کو احساسِ موت کی طرف لے جاتا ہے۔
غرض یہ بات خوب ذہن نشین رہنی چاہیے کہ آخر ایک نہ ایک دن دنیا اور اس کی لذتوں کو چھوڑنا ہے تو پھر کیوں انسان اس وقت سے پہلے ہی ان لذّات کے ناجائز طریقِ حصول چھوڑ دے۔ موت نے بڑے بڑے راست بازوں اور مقبولوں کو نہیں چھوڑا اور وہ نوجوانوں یا بڑے سے بڑے دولت مند اور بزرگ کی پروا نہیں کرتی پھر تم کو کیوں چھوڑنے لگی۔ پس دنیا اور اس کی راحتوں کو زندگی کے منجملہ اسباب سے سمجھو اور خدائے تعالیٰ کی عبادت کا ذریعہ۔ سعدی نے اس مضمون کو یُوں ادا کیا ہے۔
خوردن برائے زیستن و ذکر کردن است
تو معتقد کہ زیستن از بہر خوردن است
یہ نہ سمجھو کہ خدا ہم سے خواہ مخواہ خوش ہو جائے اور ہم اپنے احتظاظ میں رہیں مگر ایسے اندھوں کو اگر خدا کی طرف سے ہی پروانہ آجائے تو وہ ان لذتوں کو جو جسمانی خواہشوں اور ارادوں کی پیروی میں سمجھتے ہیں نہ چھوڑیں گے اور ان کو اس لذّت پر جو ایک مومن کو خدا میں ملتی ہے ترجیح دیں گے۔ خدائے تعالیٰ کا پروانہ موجود ہے جس کا نام قرآن شریف ہے جو جنّت اور ابدی آرام کا وعدہ دیتا ہے مگر اس کی نعمتوں کے وعدہ پر چنداں لحاظ نہیں کیا جاتا اور عارضی اور خیالی خوشیوں اور راحتوں کی جستجو میں کس قدر تکلیفیں غافل انسان اُٹھاتا اور سختیاں برداشت کرتا ہے مگر خدائے تعالیٰ کی راہ میں ذراسی مشکل کو دیکھ کر بھی گھبرا اُٹھتا اور بدظنی شروع کر دیتا ہے۔ کاش وہ ان فانی لذتوں کے مقابلہ میں ان اَبدی اور مستقل خوشیوں کا اندازہ کرسکتا۔ ان مشکلات اور تکالیف پر فتح پانے کے لیے ایک کامل اور خطا نہ کرنے والا نسخہ موجود ہے جو کروڑہا راست بازوں کا تجربہ کردہ ہے۔ وہ کیا؟ وہ وہی نسخہ ہے جس کو نماز کہتے ہیں۔
نماز کیا ہے؟ ایک قسم کی دعا ہے جو انسان کو تمام برائیوں اور فواحش سے محفوظ رکھ کر حسنات کا مستحق اور انعام الٰہیہ کا مورد بنا دیتی ہے۔ کہا گیا ہے کہ اللہ اسم اعظم ہے اللہ تعالیٰ نے تمام صفات کو اس کے تابع رکھا ہے۔ اب ذرا غور کرو۔ نماز کی ابتدا اذان سے شروع ہوتی ہے۔ اذان اَللّٰہُ اَکْبَرُ سے شروع ہوتی ہے۔ یعنی اللہ کے نام سے شروع ہو کر لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ(الصّٰفّٰت:۳۶) یعنی اللہ ہی پر ختم ہوتی ہے۔ یہ فخر اسلامی عبادت کو ہی ہے کہ اس میں اوّل اور آخر میں اللہ تعالیٰ ہی مقصود ہے نہ کچھ اَور۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس قسم کی عبادت کسی قوم اور ملّت میں نہیں ہے۔ پس نماز جو دعا ہے اور جس میں اللہ کو جو خدائے تعالیٰ کا اسم اعظم ہے مقدم رکھا ہے۔ ایسا ہی انسان کا اسمِ اعظم استقامت ہے۔
اسم اعظم سے مراد یہ ہے کہ جس ذریعہ سے انسانیت کے کمالات حاصل ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ(الفاتحۃ:۶) میں اس کی طرف ہی اشارہ فرمایا ہے اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا کہ اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَیۡہِمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَلَا تَحۡزَنُوۡا(حٰمٓ السجدۃ:۳۱) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے نیچے آگئے اور اس کے اسمِ اعظم استقامت کے نیچے جب بیضہ بشریت رکھا گیا۔ پھر اس میں اس قسم کی استعداد پیدا ہو جاتی ہے کہ ملائکہ کا نزول اس پر ہوتا ہے اور کسی قسم کا خوف و حزن ان کو نہیں رہتا۔ میں نے کہا ہے کہ استقامت بڑی چیز ہے۔ استقامت سے کیا مراد ہے؟ ہر ایک چیز جب اپنے عین محل اور مقام پر ہو وہ حکمت اور استقامت سے تعبیر پاتی ہے۔ مثلًا دور بین کے اجزا کو اگر جُدا جُدا کر کے ان کو اصل مقامات سے ہٹا کر دوسرے مقام پر رکھ دیں وہ کام نہ دے گی۔ غرض وَضْعُ الشَّیْءِ فِیْ مَـحَلِّہ ٖ کا نام استقامت ہے یا دوسرے الفاظ میں یہ کہو کہ ہیئت طبعی کا نام استقامت ہے۔ پس جب تک انسانی بناوٹ کو ٹھیک اسی حالت پر نہ رہنے دیں اور اسے مستقیم حالت میں نہ رکھیں وہ اپنے اندر کمالات پیدا نہیں کر سکتی۔ دعا کا طریق یہی ہے کہ دونوں اسمِ اعظم جمع ہوں۔ اور یہ خدا کی طرف جاوے کسی غیر کی طرف رجوع نہ کرے خواہ وہ اس کی ہوا و ہوس ہی کا بُت کیوں نہ ہو جب یہ حالت ہو جائے تو اس وقت ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ(المؤمن:۶۱) کا مزا آجاتا ہے۔ پس میں چاہتا ہوں کہ آپ استقامت کے حصول کے لیے مجاہدہ کریں اور ریاضت سے اسے پائیں کیونکہ وہ انسان کو ایسی حالت پر پہنچا دیتی ہے جہاں اُس کی دعا قبولیت کا شرف حاصل کرتی ہے۔ اس وقت بہت سے لوگ دنیا میں موجود ہیں جو عدم قبولیتِ دعا کے شاکی ہیں۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ افسوس تو یہ ہے کہ جب تک وہ استقامت پیدا نہ کریں دعا کی قبولیت کی لذّت کو کیوں کر پاسکیں گے۔ قبولیتِ دعا کے نشان ہم اسی دنیا میں پاتے ہیں۔ استقامت کے بعد انسانی دل پر ایک برودت اور سکینت کے آثار پائے جاتے ہیں۔ کسی قسم کی بظاہر ناکامی اور نامُرادی پر بھی دل نہیں جلتا۔ لیکن دعا کی حقیقت سے ناواقف رہنے کی صورت میں ذرا ذراسی نامرادی بھی آتشِ جہنّم کی ایک لپٹ ہو کر دل پر مستولی ہو جاتی ہے اور گھبرا گھبرا کر بے قرار کئے دیتی ہے۔ اسی کی طرف ہی اشارہ ہے نَارُ اللّٰہِ الۡمُوۡقَدَۃُ الَّتِیۡ تَطَّلِعُ عَلَی الۡاَفۡـِٕدَۃِ(الھمزۃ:۷، ۸) بلکہ حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ تپ بھی نارِ جہنّم ہی کا ایک نمونہ ہے۔
اُمّت میں سلسلہ مجدّدین
اب یہاں ایک اور بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پاجانا تھا اس لیے ظاہری طور پر ایک نمونہ اور خدا نمائی کا آلہ دنیا سے اُٹھنا تھا۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک آسان راہ رکھ دی کہ قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ(اٰل عمران:۳۲) کیونکہ محبوب اللہ مستقیم ہی ہوتا ہے۔ زیغ رکھنے والا کبھی محبوب نہیں بن سکتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی ازدیاد اور تجدید کے لیے ہر نماز میں درود شریف کا پڑھنا ضروری ہو گیا تاکہ اس دعا کی قبولیت کے لیے استقامت کا ایک ذریعہ ہاتھ آئے۔ یہ ایک مانی ہوئی بات ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ظلّی طور پر قیامت تک رہتا ہے۔ صوفی کہتے ہیں کہ مجدّدین کے اسماء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ہی ہوتے ہیں۔ یعنی ظلّی طور پر وہی نام ان کو کسی ایک رنگ میں دیا جاتا ہے۔
شیعہ لوگوں کا یہ خیال کہ ولایت کا سلسلہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر ختم ہو گیا محض غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو کمالات سلسلہ نبوت میں رکھے ہیں، مجموعی طور پر وہ ہادیٔ کامل پر ختم ہوچکے۔ اب ظلّی طور پر ہمیشہ کے لیے مجدّدِ دین کے ذریعہ سے دنیا پر اپنا پرتَو ڈالتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو قیامت تک رکھے گا۔
مَیں پھر کہتا ہوں کہ اس وقت بھی خدائے تعالیٰ نے دنیا کو محروم نہیں چھوڑا اور ایک سلسلہ قائم کیا ہے۔ ہاں اپنے ہاتھ سے اس نے ایک بندہ کو کھڑا کیا اور وہ وہی ہے جو تم میں بیٹھا ہوا بول رہا ہے۔ اب خدا تعالیٰ کے نزولِ رحمت کا وقت ہے۔ دعائیں مانگو۔ استقامت چاہو اور درود شریف جو حصولِ استقامت کا ایک زبردست ذریعہ ہے بکثرت پڑھو۔ مگر نہ رسم اور عادت کے طور پر بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُسن اور احسان کو مدّ نظر رکھ کر اور آپ کے مدارج اور مراتب کی ترقی کے لیے اور آپ کی کامیابیوں کے واسطے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قبولیتِ دعا کا شیریں اور لذیذ پھل تم کو ملے گا۔
قبولیت دعا کے ذرائع
قبولیت دعا کے تین ہی ذریعے ہیں۔ اوّل الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡکٰفِرِیۡنَ اِنۡ تُخۡفُوۡا اَنَّ بَیۡنَہَا وَبَیۡنَہٗۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ اللّٰہَ وَالرَّسُوۡلَ اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰۤی(اٰل عمران:۲۹ تا ۳۴) دوم یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا(الاحزاب:۵۷) تیسرا موہبتِ الٰہی۔ اللہ تعالیٰ کا یہ عام قانون ہے کہ وہ نفوسِ انبیاء کی طرح دنیا میں بہت سے نفوسِ قدسیہ ایسے پیدا کرتا ہے جو فطرتاً استقامت رکھتے ہیں۔
یہ بات بھی یاد رکھو کہ فطرتاً انسان تین قسم کے ہوتے ہیں ایک فطرتاً ظالم لنفسہٖ دوسرے مقتصد یعنی کچھ نیکی سے بہرہ ور اور کچھ برائی سے آلودہ۔ سوم بُرے کاموں سے متنفر اور سابق بالخیرات۔ پس یہ آخری سلسلہ ایسا ہوتا ہے کہ اجتبا اور اصطفا کے مراتب پر پہنچتے ہیں اور انبیاء علیہم السلام کا گروہ ایسے پاک سلسلہ میں سے ہوتا ہے اور یہ سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ جاری ہے۔ دنیا ایسے لوگوں سے خالی نہیں۔
بعض لوگ دعا کی درخواست کرتے ہیں کہ میرے لئے دعا کرو مگر افسوس ہے کہ وہ دعا کرانے کے آداب سے واقف نہیں ہوتے۔ عنایت علی نے دعا کی ضرورت سمجھی اور خواجہ علی کو بھیج دیا کہ آپ جا کر دعا کرائیں۔ کچھ فائدہ نہیں ہوسکتا جب تک دعا کرانے والا اپنے اندر ایک صلاحیت اور اتباع کی عادت نہ ڈالے دعا کارگر نہیں ہوسکتی۔ مریض اگر طبیب کی اطاعت ضروری نہیں سمجھتا ممکن نہیں کہ فائدہ اُٹھا سکے۔ جیسے مریض کو ضروری ہے کہ استقامت اور استقلال کے ساتھ طبیب کی رائے پر چلے تو فائدہ اُٹھائے گا۔ ایسے ہی دعا کرانے والے کے لئے آداب اور طریق ہیں۔ تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ ایک بزرگ سے کسی نے دعا کی خواہش کی۔ بزرگ نے فرمایا کہ دودھ چاول لاؤ۔ وہ شخص حیران ہوا۔ آخر وہ لایا۔ بزرگ نے دعا کی اور اس شخص کا کام ہو گیا۔ آخر اسے بتلایا گیا کہ یہ صرف تعلق پیدا کرنے کے لئے تھا۔ ایسا ہی باوا فرید صاحب کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ ایک شخص کا قبالہ گم ہوا اور وہ دعا کے لئے آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے حلوہ کھلاؤ اور وہ قبالہ حلوائی کی دوکان سے مل گیا۔
ان باتوں کے بیان کرنے سے میرا یہ مطلب ہے کہ جب تک دعا کرنے والے اور کرانے والے میں ایک تعلق نہ ہو متاثر نہیں ہوتی۔ غرض جب تک اضطرار کی حالت پیدا نہ ہو اور دعا کرنے والے کا قلق دعا کرانے والے کا قلق نہ ہو جائے کچھ اثر نہیں کرتی۔ بعض اوقات یہی مصیبت آتی ہے کہ لوگ دعا کرانے کے آداب سے واقف نہیں ہوتے اور دعا کا کوئی بیّن فائدہ محسوس نہ کر کے خدائے تعالیٰ پر بدظن ہو جاتے ہیں اور اپنی حالت کو قابلِ رحم بنا لیتے ہیں۔
بالآخر میں کہتا ہوں کہ خود دعا کرو یا دعا کراؤ۔ پاکیزگی اور طہارت پیدا کرو۔ استقامت چاہو اور توبہ کے ساتھ گر جاؤ کیونکہ یہی استقامت ہے۔ اس وقت دعا میں قبولیت، نماز میں لذّت پیدا ہو گی۔ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ(الجمعۃ:۵)۱؎
۲۰ ؍جنوری ۱۹۰۳ء
بروز سہ شنبہ (بوقتِ عصر)
نشانات کی کثرت
فرمایا کہ خدا تعالیٰ کیسے تاڑ تاڑ نشان دکھلا رہا ہے۔ ہم ابھی عدالت میں پیش بھی نہ ہوئے تھے اور نہ کسی کو معلوم تھا کہ انجام کیا ہوگا لیکن مواہب الرحمٰن میں لکھا ہوا تھا کہ کرم دین کا مقدمہ خارج ہو جاوے گا اور وہ ۱۵تاریخ سے ہی تقسیم ہو رہی تھی بلکہ بعض ہمارے دوستوں نے کرم دین کو دکھلا بھی دیا کہ تمہارے مقدمہ کی نسبت یہ کچھ لکھا ہے۔
(مجلس قبل از عشاء)
فرمایا۔ کھانسی کا زور ہو گیا ہے۔
ایک رؤیا
اس کے بعد آپ نے ایک رؤیا دریائے نیل والی سنائی جو کہ البدر جلد ۲ صفحہ ۷ پر شائع ہو چکی ہے (وہاں غلطی سے ۱۹تاریخ لکھی ہے اصلاح کر لی جاوے)۱؎
سراج الاخبار جہلم کی دروغ بیانی
اس کے بعد سراج الاخبار کی دروغ بیانی کا ذکر ہوتا رہا کہ اس نے لکھا ہے کہ جہلم میں جس قدر ہجوم لوگوں کا تھا وہ صرف میاں کرم دین کے لئے تھا۔ حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ جب وہ جہلم میں نالش کرنے گیا تھا تو کس قدر گروہ تھا؟ پھر وہ چندہ وغیرہ جمع کرتا رہا تو کس قدر گروہ تھا اور جہلم میں جو کئی سو آدمیوں نے بیعت کی وہ کس کی کی؟ وغیرہ وغیرہ۔
مسٹر پگٹ
مفتی محمد صادق صاحب نے ایک انگریزی اخبار سنایا جس میں مسٹر پگٹ کا حال تھا۔ فرمایا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی ایسے کاذب مدعی پیدا ہوئے تھے جو کہ بہت جلد نابود ہوئے یہی حال اس کا ہوگا اس کے متعلق الہام ہے کہ اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ(المائدۃ:۹۹)۔۱؎
۲۱؍جنوری۱۹۰۳ء
(مجلس قبل از عشاء)
حضرت اقدس نے حسب دستور نماز مغرب ادا فرما کر مجلس فرمائی ماسٹر عبدالرحمٰن صاحب نو مسلم نے ایک مضمون ایک اشتہار کا حضرت اقدس کو پڑھ کر سنایا جو کہ ان تمام نو مسلموں کی طرف سے جو کہ حضرت اقدس کے دست مبارک پر مشرف باسلام ہوئے ہندو اور آریہ کے سر بر آوردہ ممبروں کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں انہوں نے استدعا کی ہے کہ اگر ان کے نزدیک یہ نو مسلم جماعت مذہب اسلام کے قبول کرنے میں غلطی پر ہے تو وہ ان کے پیش کردہ معیار صداقت (جو کہ حضرت اقدس کے مضامین مباہلہ ومقابلہ سے اخذ شدہ ہیں )کے رو سے حضرت میرزا صاحب سے فیصلہ کر کے ان کا غلطی پر ہونا ثابت کر دیویں۔ حضرت اقدس نے اس تجویز کو پسند فرمایا اور کہا کہ مذہب کی غرض یہی نہیں ہے کہ صرف آئندہ جہان میں خدا سے فائدہ حاصل ہو بلکہ اس موجودہ جہان میں بھی خدا سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔ ان لوگوں کے صرف دعوے ہی دعوے ہیں کوئی کام توکّل اور تقویٰ کا ان سے ثابت نہیں ہوتا۔ مصیبت پڑے تو ہر ایک ناجائز کام کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں۔
مصدّق کے پیچھے نماز
عجب خان صاحب۱؎ تحصیلدار نے حضرت اقدس سے استفسار کیا کہ اگر کسی مقام کے لوگ اجنبی ہوں اور ہمیں علم نہ ہو کہ وہ احمدی جماعت میں ہیں یا نہ تو ان کے پیچھے نماز پڑھی جاوے یا کہ نہ؟
فرمایا۔ ناواقف امام سے پوچھ لو اگر وہ مصدّق ہو تو نماز اس کے پیچھے پڑھی جاوے ورنہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ایک جماعت الگ بنانا چاہتا ہے اس لیے اس کے منشا کی کیوں مخالفت کی جاوے جن لوگوں سے وہ جدا کرنا چاہتا ہے بار بار ان میں گھسنا یہی تو اس کی منشا کے مخالف ہے۔
ایک احمدی کے فرائض
پھر تحصیلدار صاحب نے پوچھا کہ اپنے مقام پر جا کر ہمارا بڑا کام کیا ہونا چاہیے؟
فرمایا کہ ہماری دعوت کو لوگوں کو سنایا جاوے۔ ہماری تعلیم سے ان کو واقف کیا جاوے۔ تقویٰ اور توحید اور سچا اسلام ان کو سکھایا جاوے۔
رؤیا کے ذریعہ ہدایت
اس کے بعد تین احباب نے بیعت کی۔ بیعت کے بعد ان میں سے ایک صاحب نے حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ میں ایک شریر آدمی تھا اور مجھ کو جھوٹے دعوے کرنے اور لوگوں کے حقوق چھین لینے اور ضبط کرنے کی خوب مشق تھی اور دوسرے بھی جس قدر معاصی مثل شراب وغیرہ تھے ان تمام میں مَیں مبتلا تھا۔ چند دن ہوئے کہ میں نے ایک ہندو سے اسی طرح ظلم کیا اور اس کے حقوق ضبط کئے رات کو جب میں سویا تو خواب میں کیا دیکھتا ہوں وہی ہندو میرے ساتھ کلام کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ یا تو خدا تجھے ہدایت کرے یا تجھے اس دنیا سے اٹھا لیوے تا کہ ہم لوگ تیرے مظالم سے نجات پاویں اس کے بعد وہ نظر سے غائب ہو گیا اور میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک شعلہ نور کا گرا اور جس مکان میں مَیں تھا اس دروازے کی طرف آیا۔ میں اٹھ کر اسے دیکھنے لگا تو دیکھا کہ حضور (حضرت مسیح موعودؑ) کی شکل کا ایک آدمی ہے۔ میں نے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ کیا تو نام نہیں جانتا؟ اس کے بعد کہا کہ اب بس کر بہت ہوئی ہے پھر میں نے نام پوچھا تو بتلایا
’’میرزا غلام احمد قادیانی
‘‘اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور میں اپنے افعال اور کردار پر نادم ہوں اور اب اسی خواب کے ذریعہ آپ کے پاس آیا ہوں۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ
تم کو خدا نے خبردار کیا ہے کہ اپنی حالت بدل دو اور سمجھو کہ ایک دن موت آنی ہے۔ خدا کا دستور ہے کہ وہ گنہگار کو بلا سزا دیئے نہیں چھوڑتا۔ توبہ کرنے سے گناہ بخشے جاتے ہیں خدا تعالیٰ بہت ہی رحم کرنے والا ہے مگر سزا بھی بہت دینے والا ہے۔ تمہاری فطرت میں کوئی نیکی ہوگی ورنہ عام طور پر اللہ تعالیٰ کی یہ عادت نہیں ہے کہ اس طرح سے خبر دیوے اس لیے اپنی زندگی کو بدلو اور عادتوں کو ٹھیک کرو۔
پھر اس تائب نے عرض کی کہ میرا ایک مقدمہ چودہ صد روپے کا داخل دفتر ہو گیا ہے مگر اس میں میرا حق بہت تھوڑا ہے اب اسے برآمد کراؤں کہ نہ؟
فرمایا۔ مدعاعلیہ سے مل کر صلح کرلو۔۱؎
۲۲؍جنوری ۹۰۳ ۱ء بروز پنجشنبہ
(بوقتِ ظہر)
فاسد خیالات کا علاج
ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں ایک عریضہ گذرانا۔ جس میں یہ تحریر تھا کہ وہ ہر طرف افلاس سے گھِرا ہوا ہے اور ایسے ایسے خیالات اس کے دماغ میں آتے ہیں جن سے اسے موت بہتر معلوم ہوتی ہے اور حضرت اقدس سے اس کا علاج چاہا تھا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ایسے خیالات کا علاج یہی ہوا کرتا ہے کہ آہستہ آہستہ خوفِ خدا پیدا ہوتا جاوے اور کچھ آرام کی صورت بنتی جاوے۱؎ گھبرانے کی بات نہیں ہے رفتہ رفتہ ہی دور ہوں گے۔ جو گندے خیالات بے اختیار دل میں پیدا ہوتے ہیں ان سے انسان خدا کی درگاہ میں مواخذہ کے قابل نہیں ہوا کرتا بلکہ ایسے شیطانی خیالوں کی پیروی سے پکڑا جاتا ہے۲؎ وہ خیالات جو کہ اندر پیدا ہوتے ہیں وہ انسانی طاقت سے باہر اور مرفوع القلم ہیں۔ بے صبری نہ چاہیے۔ جلدی سے یہ بات طے نہیں ہوا کرتی۔ وقت آوے گا تو دور ہوں گی۔ توبہ استغفار میں لگے رہیں اور اعمال میں اصلاح کریں۔ ایسے خیالات کا تخم زندگی کے کسی گذشتہ حصہ میں بو یا جاتا ہے تو پیدا ہوتے ہیں اور جب دور ہونے لگتے ہیں تو یکدفعہ ہی دور ہو جاتے ہیں خبر بھی نہیں ہوتی جیسے ہچکی کی بیماری کہ جب جانے لگے تو ایک دم ہی چلی جاتی ہے اور پتا نہیں لگتا۔ گھبرانے سے اَور آفت پیدا ہوتی ہے۔ آرام سے خدا سے مدد مانگے۔ خدا کی بارگاہ کے سب کام آرام ہی سے ہوتے ہیں۔ جلدی وہاں منظور نہیں ہوتی ہے اور نہ کوئی ایسی مرض ہے کہ جس کا علاج وہاں نہ ہو۔ ہاں صبر سے لگار ہے اور خدا کی آزمائش نہ کرے۔ جب خدا کی آزمائش کرتا ہے تو خود آزمائش میں پڑتا ہے اور نوبت ہلاکت تک آجاتی ہے۔
صحابہ کرامؓ کا بے نظیر نمونہ
جہلم کے مقدمہ کی نسبت فرمایا کہ خدا کی طرف سے جو معلوم ہوتا ہے وہ ہو کر ہی رہتا ہے۔ اسباب کیا شَے ہیں کچھ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری راہ میں جاؤ گے تو مُرٰغَمًا کَثِیْرًا پاؤ گے۔ صحتِ نیت سے جو قدم اٹھاتا ہے خدا اس کے ساتھ ہوتا ہے بلکہ انسان اگر بیمار ہو تو اس کی بیماری دور ہو جاتی ہے۔ صحابہؓ کی نظیر دیکھ لو دراصل صحابہ کرامؓ کے نمونے ایسے ہیں کہ کل انبیاء کی نظیر ہیں۔ خدا کو تو عمل ہی پسند ہیں۔ انہوں نے بکریوں کی طرح اپنی جان دی اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے نبوت کی ایک ہیکل آدم سے لے کر چلی آتی تھی اور سمجھ نہ آتی تھی مگر صحابہ کرامؓ نے چمکا کر دکھلا دی اور بتلا دیا کہ صدق اور وفا اسے کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ کا تو حال ہی نہ پوچھو۔ موسٰی کو کسی نے فروخت نہ کیا مگر عیسیٰ کو ان کے حواریوں نے تیس روپے لے کر فروخت کر دیا۔ قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ حواریوں کو عیسیٰ علیہ السلام کی صداقت پر شک تھا جبھی تو مائدہ مانگا اور کہا وَ وَنَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا(المائدۃ:۱۱۴) تا کہ تیرا سچا اور جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزولِ مائدہ سے پیشتر ان کی حالت نَعْلَمَ کی نہ تھی پھر جیسی بے آرامی کی زندگی انہوں نے بسر کی اس کی نظیر کہیں نہیں پائی جاتی۔ صحابہ کرامؓ کا گروہ عجیب گروہ، قابلِ قدر اور قابل پیروی گروہ تھا۔ ان کے دل یقین سے بھر گئے ہوئے تھے جب یقین ہوتا ہے تو آہستہ آہستہ اوّل مال وغیرہ دینے کو جی چاہتا ہے پھر جب بڑھ جاتا ہے تو صاحبِ یقین خدا کی خاطر جان دینے کو طیار ہو جاتا ہے۔
(بوقتِ مغرب و عشاء)
مقدمہ بازی کے اوپر ذکر چلا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اب اس وقت دنیا کا یہ حال ہے کہ لوگوں نے خدا کا کوئی خانہ خالی نہیں رکھا۔ گذشتہ کارروائی کو یہ لوگ خیال نہیں کرتے اور نہ تجربہ کرتے ہیں۔ کیا کسی کو خیال تھا مقدمہ جہلم کا یہ نتیجہ ہو گا۔ پھر جس خدا نے قبل از وقت بتلا یا اور ہم نے دو صد سے زیادہ کتب چھاپ کر فیصلہ سے پیشتر شائع کر دیں جس میں ذکر تھا کہ اس مقدمہ میں ہماری فتح ہے وہی خدا اب بھی ہمارے ساتھ ہے۔
ہر بلا کیں قوم راحق دادہ است
زیر آں گنجِ کرم بنہادہ است
خد اکی معرفت ضروری ہے ای ک اخبار کی نسبت ذکر ہوا کہ مقدمہ کا نتیجہ قبل از وقت شائع کرنا دوراندیشی پر دلالت نہیں کرتا۔
ف ر
مایا کہ جب یہ لوگ خدا کے قائل نہیں تو الہام کے کب قائل ہوں گے؟ ان لوگوں کو بے عقل بھی نہیں کہنا چاہیے بلکہ ان میں نور ایمان نہیں ہے کیا وہ کسی ایسے مفتری و کذّاب کی نظیر پیش کر سکتے ہیں کہ اس کی مخالفت پر ناخنوں تک زور لگایا گیا ہو اور ہمیشہ قبل از وقت اپنے افترا شائع کرتا رہا ہو اور پھر وہ اپنے وقت پر پورے ہوتے رہے ہوں بتلاویں تو سہی جس شدّ و مد سے ہم نے خبریں قبل از وقت پیش کی ہیں کسی اور نے بھی کیں ہیں۔ ان لوگوں کے اعمال کا کوئی فائدہ نہیں ہے جب تک خدا پر یقین نہ ہو۔ خدا کی معرفت ضروری ہے کوئی آسمانی اَمر ان کے نزدیک عظمت کے قابل نہیں ہے تعجب آتا ہے کہ ایک طرف طاعون کا یہ حال ہے اور ایک طرف دلوں کی یہ سختی۔ کوئی اور برتن ہو تو انسان اس میں ہاتھ ڈال کر صاف بھی کر لے مگر ان کے دلوں کے برتن جن کے اندر زنگار بھرا ہوا ہے کیسے صاف ہوں۔ عجب معاملہ ہے جس قدر ہمیں ان پر حسرت ہوتی ہے اسی قدر ان کو نفرت اور بغض اور جوش بڑھتا ہے۔ جیسے کوئی آدمی جس کا معدہ بلغم یا صفرا سے بھرا ہوا ہو تو اسے کھانا کھانے سے تنفر ہوتا ہے کہ وہ کھانے کا نام سن کر بھی برداشت نہیں کر سکتا اور اس کا جی بیزار ہوتا ہے یہی حال ان کا ہے سچی بات کا نام تک نہیں سن سکتے کس کس کی شکایت کریں سب ایک ہی ہیں۔ مجھے خوب یاد ہے کہ جب سے یہ الہام ہوا ہے۔ ’’دنیا میں ایک نذیر آیا مگر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ ‘‘اب اس کا مفہوم کہ زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا قابلِ غور ہے۔ بیوقوف جانتے ہیں کہ یہ کاروبار مصنوعی کیسے چل سکتا ہے؟ ہمارے دیکھتے ہوئے ہزاروں چل بسے لیکن ان لوگوں کے نزدیک اب سب کچھ جائز ہو گیا ہے کل خوبیاں جو کہ صادقوں کے لیے تجویز کرتے تھے اب سب کاذبوں کو دے دی ہیں اور ایسے تہیدست ہوئے ہیں کہ کوئی خوبی صادق کی بیان کر ہی نہیں سکتے۔
ایک مبشر رؤیا
۱؎ بعض متفرق رؤیا سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتلا کے دن ہیں۔ رات کو میں نے دیکھا ایک بڑا زلزلہ آیا مگر اس سے کسی عمارت وغیرہ کا نقصان نہیں ہوا۔۲؎
۲۳؍جنوری ۱۹۰۳ء بروز جمعہ
(بوقتِ عصر)
ہمیں کسی وکیل کی ضرورت نہیں
اس وقت ایک عرب کی طرف سے ایک خط حضرت کی خدمت میں آیا جس میں لکھا تھا کہ اگر آپ ایک ہزار روپے مجھے بھیج کر اپنا وکیل یہاں مقرر کر دیویں تو میں آپ کے مشن کی اشاعت کروں گا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ان کو لکھ دو ہمیں کسی وکیل کی ضرورت نہیں ایک ہی ہمارا وکیل ہے جو عرصہ بائیس سال سے اشاعت کر رہا ہے اس کے ہوتے ہوئے اور کی کیا ضرورت ہے اور اس نے کہہ بھی رکھا ہے اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبۡدَہٗ(الزّمر:۳۷)۔
(قبل از عشاء)
حضرت اقدس نے عجب خان صاحب تحصیلدار سے استفسار فرمایا کہ آپ کی رخصت کس قدر ہے۔
انہوں نے جواب دیا کہ چار ماہ۔
فرمایا کہ آپ کو تو پھر بہت دیر یہاں رہنا چاہیے تا کہ پوری واقفیت ہو۔
عجب حیرت ہوتی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ یہاں تازہ بتازہ سامان تقویٰ کے جماعت کے واسطے طیار کر رہا ہے اُس طرف (یعنی منکرین کی طرف) اس کا کوئی نشان بھی نہیں ہے یہ لوگ الہام اور تقویٰ سے دور ہوتے جاتے ہیں اگر اب ان سے پوچھا جاوے کہ اہل حق کی کیا علامات ہیں؟ تو ہرگز نہیں بتلا سکتے اور نہ اس بات پر قادر ہو سکتے ہیں کہ صادق اور کاذب کے درمیان کوئی مابہ الامتیاز قائم کریں۔ ہماری مخالفت میں یہ حالت ہے کہ جو کچھ صادق کے لئے خدا نے مقرر کیا تھا اب ان کے نزدیک گویا کاذب کو دے دیا گیا ہے۔ جس قدر نکتہ چینیاں بیان کرتے ہیں وہ تمام پیغمبروں پر صادق آئی ہیں۔ کمتر تقویٰ ان کے لیے یہ تھا کہ خاموش رہتے اگر ہم کاذب ہوتے تو رفتہ رفتہ خود تباہ ہوجاتے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ(بنی اسرآءیل:۳۷)۱؎ یہاں علم سے مراد یقین ہے اب ان کی وہی مثال ہے لَہُمۡ قُلُوۡبٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ بِہَا(الاعراف:۱۸۰)۔
)مقدمہ جہلم پر جو بعض خلاف واقعہ باتیں اخبارات نے لکھی تھیں ان پر فرمایا کہ اس شور و غوغا کا جواب بجز خاموشی کے اور کیا ہے وَاُفَوِّضُ اَمۡرِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ(المؤمن:۴۵)۔
اس کے بعد ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی کہ میرے باپ اور قوم کے واسطے ہدایت کی دعا کی جاوے حضرت اقدس نے اسی وقت دست مبارک اٹھا کر دعا کی اور کل حاضرین مجلس بھی شریک ہوئے۔
حضرت کی خدمت میں ایک شخص کی شکایت ہوئی کہ یہ دعویٰ تو بیعت کا کرتا ہے مگر اس کی زبان سے بعض ایسے کلمات نکلتے ہیں جس سے کوئی خصوصیت حضور کے دعاوی کی تصدیق کی معلوم نہیں ہوتی۔ فرمایا۔ ایسے مشکوک الحال آدمی کا رکھنا اچھا نہیں۔ مگر جب اس نے معذرت کی اور کہا کہ یہ اَمر غلطی سے ایسا سمجھا گیا ہے تو فرمایا۔ ایسی باتوں سے انسان بیعت سے خارج ہو جاتا ہے ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے اور اسے معاف کر دیا۔۲؎
۲۴؍جنوری ۱۹۰۳ء بروز شنبہ
(قبل از عشاء)
فرمایا کہ اب بارش ہونے کی وجہ سے گرد و غبار کم ہو گیا۔ ایک دو دن ذرا باہر ہوآ ویں۔ (یعنی سیر کو جایا کریں)
کرم دین کے مقدمہ کے حالات پر فرمایا۔ زمینی سلطنت تو صرف آسمانی سلطنت کے اظلال وآثار ہیں۔ بغیر آسمان کے یہ سلطنت کیا کر سکتی ہے۔ انسان بھی کیا عجیب شَے ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ صدق و صفا میں ترقی کرے تو نُوۡرٌ عَلٰی نُوۡرٍ(النّور:۳۶) ورنہ اگر ظلمت میں گرے تو اس درجہ تک گرتا ہے کہ کوئی حصہ تقویٰ کا اس کے قول و فعل و اخلاق میں باقی نہیں رہتا سب ظلمت ہی ظلمت ہو جاتا ہے۔
فرمایا۔ آج ایک کشف میں دکھایا گیا
تَفْصِیْلُ مَا صَنَعَ اللّٰہُ فِیْ ھٰذَا الْبَاْسِ بَعْدَ مَا اَشَعْتُہٗ فِی النَّاسِ۔
اس کے بعد الہامی صورت ہو گئی اور زبان پر یہی جاری تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقدمہ کے متعلق جو قبل از وقت پیشگوئی کے رنگ میں بتلایا تھا آپ اس کی تفصیل ہو گی۔
فرمایا کہ جہلم سے واپسی پر یہ الہام ہوا تھا اَفَانِیْنُ اٰیَاتٍ۔۔
ثناء اللہ کے ذکر پر فرمایا کہ اگر اس کی نیت نیک ہوتی تو ہمارا پیش کردہ طریق ضرور قبول کرتا۔ ہماری نیک نیتی تھی کہ ہم نے اس کے لیے ایسی راہ تجویز کی کہ امن قائم کرے، حق ظاہر ہو جاوے۔ لوگوں میں اشتعال اور فساد نہ ہو اور عوام الناس کو فائدہ بھی پہنچ جاوے۔ اگر اس کے دل میں تقویٰ ہوتی تو ضرور مان لیتا اور ہم نے عام اجازت دی تھی کہ ہر گھنٹہ کے بعد پھر اپنے شکوک و شبہات پیش کر دیوے خواہ اس طرح ایک ماہ تک کرتا رہتا اور اس طرح نیک نیتی سے اگر کوئی اپنی تشفّی چاہے تو ہم اسے چھ ماہ تک اپنے پاس رکھ سکتے ہیں اور اس کا سب بوجھ برداشت کر سکتے ہیں مگر ان لوگوں کی نیت درست نہیں ہوتی اس لئے راضی نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں مطلق نہیں۔ دل ٹیٹرھے ہو گئے ہیں۔
مَردم شماری میں خلاف واقعہ رپورٹ
مولوی عبدالکریم صاحب نے بیان کیا کہ سول ملٹری گزٹ میں چونکہ حسب دستور مَردم شماری پر ریمارک لکھا جا رہا ہے انہوں نے اس غلطی کو شائع کر دیا ہے کہ احمدیہ فرقہ کا بانی مرزا غلام احمد ہے اس نے اول ابتدا چوڑھوں سے کی اور پھر ترقی کرتے کرتے اعلیٰ طبقہ کے آدمی اس کے پیرو ہو گئے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ
اس کی بہت جلد تردید ہونی چاہیے یہ تو ہماری عزّت پر بہت سخت حملہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ اسی وقت حکم صادر ہوا کہ ایک خط جلد تر انگریزی زبان میں چھاپ کر گورنمنٹ اور مَردم شماری کے سپرنٹنڈنٹ کے پاس بھیجا جاوے تاکہ اس غلطی کا ازالہ ہو اور لکھا جاوے کہ گورنمنٹ کو معلوم ہو گا کہ چوڑھے ایک جرائم پیشہ قوم ہے ان سے ہمارا کبھی بھی تعلق نہیں ہوا۔ ایک شخص نامی مرزا امام الدین قادیان میں ہے جس کی ہم سے ۳۰برس سے زیادہ سے عداوت چلی آتی ہے اور کوئی میل ملاپ اس کا اور ہمارا نہیں ہے۔ اس کا تعلق چوڑھوں سے رہا اور اب بھی ہے۔ تو ایک فریق جو کہ ہمارا دشمن ہے اور اس کا تعلق چوڑھوں سے ہے اس کے عادات اور چال چلن کو ہم پر تھاپ دینا سخت درجہ کی دل آزاری ہماری اور ہماری جماعت کی ہے۔ اور یہ عزت پر سخت حملہ ہے اور ایک بڑی مکروہ کارروائی ہے جو کہ سرزد ہوئی ہے۔ چوڑھے تو درکنار ہمیں تو ایسے لوگوں سے بھی تعلق نہیں ہے جو کہ ادنیٰ درجہ کے مسلمان اور رذیل صفات رکھتے ہیں۔ ہماری جماعت میں عمدہ اور اعلیٰ درجہ کے نیک چال چلن کے لوگ ہیں۔ اور وہ سب حسنہ صفات سے متصف ہیں۔ اور ایسے ہی لوگوں کو ہم ساتھ رکھتے ہیں۔ گورنمنٹ کو چاہیے کہ صاحب ضلع گورداسپور۱؎ سے اس اَمر کی تحقیقات کرائے اور عدل سے کام لے کر اس آلودگی کو ہم سے دور کرے۔ ہم خود امام الدین کو اسی لیے نفرت سے دیکھتے ہیں کہ اس کا ایسی قوم سے تعلق ہے۔ پنجاب میں یہ مسلّم اَمر ہے کہ جس شخص کے زیادہ تر تعلقات چوڑھوں سے ہوں اس کا چال چلن اچھا نہیں ہوا کرتا۔ اسی لیے گورنمنٹ کا فرض ہے کہ اس غلطی کا ازالہ کرے۔۱؎
۲۵؍جنوری ۱۹۰۳ء
بروز یک شنبہ (قبل از عشاء) عشاء کے وقت آپؑ نے یہ تجویز کی کہ بیعت کا رجسٹر بالکل اطمینان کی صورت میں نہیں معلوم ہوتا۔ اس لیے اب آئندہ اس کے فارم چھپوا کر ایسی طرح سے رکھا جاوے کہ جب چاہیں فوراً تعداد مل جاوے اور اپنی جماعت کی تعداد معلوم کرنے کے واسطے مَردم شماری کا محتاج نہ ہونا پڑے۔ کیونکہ اگر سب بیعت کنندگان کے نام محفوظ ہوں تو ان کو ضروری ضروری باتیں پہنچائی جا سکتی ہیں۔۲؎
۲۶؍جنوری ۱۹۰۳ء
بروز دوشنبہ (بوقتِ ظُہر) حضور نے تشریف لا کر مولوی محمد احسن صاحب امروہی کو فرمایا کہ مَیں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ آپ میرے سامنے جائفل اور ایک گانٹھ نہیں معلوم سپاری کی یا سونٹھ کی پیش کر کے کہتے ہیں کہ یہ کھانسی کا علاج ہے۔ اس کے دیکھنے کے بعد مجھے دو گھنٹہ تک کھانسی سے بالکل آرام رہا حالانکہ اس سے پیشتر مجھے کھانسی دم نہ لینے دیتی تھی۔
مولوی عبدالکریم صاحب نے بیان کیا کہ رات کو میں نے خواب دیکھا کہ سلطان احمد (حضور کے لڑکے) آئے ہوئے ہیں۔
حضرت اقدس نے فرمایا کہ میرے گھر میں ایک ایسی ہی خواب آئی تھی اس کی وہی تعبیر بتلائی جو آپ نے سمجھی یعنی خدا کی طرف سے کوئی نشان ظاہر ہوگا۔ سُلطان سے مُراد براہین اور نشان ہوا کرتا ہے۔
(بوقتِ عصر)
حضرت اقدس نے تھوڑی دیر مجلس کی اور ثناء اللہ کے قادیان میں آنے کا ذکر ہوتا رہا۔ آپ نے فرمایا کہ
ہم نے تو اسے بہت وسعت دی تھی جس قدر چاہتا ہر ہر گھنٹہ کے بعد تین چار سطریں لکھ کر پیش کیا کرتا اور اگر اسے بیان کرنے کی نوبت دی جاتی تھی تو بھی اس کی شامت تھی کہ اسے بہرحال جھوٹ سے کام لینا پڑتا۔
اخبار والوں اور عوام الناس کی شرارتوں اور خلافِ واقعہ بیانات کی نسبت فرمایا کہ
اب ہماری جماعت کو چپ ہی رہنا چاہیے۔ کچھ جواب نہ دیویں۔ خدا ہی ان لوگوں سے سمجھے گا۔ تعجب ہے کہ ثناء اللہ نے بالکل لیکھ رام والی چال اختیار کی ہے جس کی غرض مباحثہ سے اظہارِ حق نہ ہو اس سے مباحثہ کرنا لاحاصل ہے۔ یہ کاروبار اب زمین پر نہیں رہا بلکہ آسمان پر ہے۔
(قبل از عشاء)
حضرت اقدس مولوی عبداللطیف خان صاحب سے اللہ تعالیٰ کے انعامات کا ذکر کرتے رہے اور پھر اپنے چند ایک رؤیا بتلائے جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ عدالت کی جو کارروائی جیسے زمین پر جاری ہے ویسا ہی طریق خدا تعالیٰ نے بھی اختیار کیا ہوا ہے۔ منجملہ ان کے ایک خواب تو وہ بیان کی جس میں سُرخی کے چھینٹے آپ کے لباس مبارک پر پڑے تھے۔۱؎
حالانکہ وہ واقعہ آپ نے خواب میں دیکھا تھا۔ اور ایک خواب آپ نے یہ بیان کیا کہ
مَیں کیا دیکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی عدالت میں ہوں۔ میں منتظر ہوں کہ میرا مقدمہ بھی ہے اتنے میں جواب ملا اِصْبِرْ سَنَفْرُغُ یَا مِرْزَا۔۔
پھر میں ایک دفعہ کیا دیکھتا ہوں کہ میں کچہری میں گیا ہوں۔ دیکھا تو اللہ تعالیٰ ایک حاکم کی صورت پر کرسی پر بیٹھا ہوا ہے اور ایک طرف ایک سررشتہ دار ہے کہ ہاتھ میں ایک مِثل لیے ہوئے پیش کر رہا ہے۔ حاکم نے مِثل اُٹھا کر کہا کہ مرزا حاضر ہے تو میں نے باریک نظر سے دیکھا کہ ایک کُرسی اس کے ایک طرف خالی پڑی ہوئی معلوم ہوئی۔ اُس نے مجھے کہا کہ اس پر بیٹھو اور اس کی مثل ہاتھ میں لی ہوئی ہے۔ اتنے میں میں بیدار ہو گیا۔
پھر فرمایا کہ جس طرح میرے کرتے والی خواب ہے جس پر سُرخ روشنائی کے چھینٹے پڑے تھے ویسے ہی ایک خواب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی ہے کہ ایک دفعہ آپ نے خواب میں دیکھا کہ جنّت کے باغوں میں سے ایک سیب آپ نے لیا ہے۔ پھر اسی وقت بیدار ہوئے تو دیکھا کہ وہ سیب ہاتھ میں ہی ہے۔
ایمان کی حالت
فرمایا کہ کوئی خدا پر ایمان نہیں رکھتا جب تک کہ وہ خود نشان نہ دیکھے یا اس کی صحبت میں رہے جو کہ ان نشانوں کو دیکھنے والا ہے۔ خدا تعالیٰ اگر چاہے تو ان سب مخالفوں کو ایک دَم میں ہی ہلاک کر دیوے مگر پھر ہم اور ہمارا سلسلہ بھی ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے۔ مخالفین کا شور و غوغا دراصل عمر کو بڑھاتا ہے۔ خدا تعالیٰ بے شک سب کچھ کرے گا ان کو ذلیل و خوار بھی کرے گا لیکن وہ مالک ہے خواہ ایک دم کر دے خواہ رفتہ رفتہ کرے۔ خدا تعالیٰ کی عجیب در عجیب قدرت ہے کہ جب ایک شخص کو اپنی طرف سے بھیجتا ہے تو خود بخود دو گروہ بن جاتے ہیں۔ ایک شقی اور ایک سعید۔ مگر یہ زمانہ گاہے گاہے یہ وہ زمانہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنا چہرہ دکھانا چاہتا ہے۔ دوسرا زمانہ شکوک و شبہات کا ہوتا ہے۔۱؎
ختم نبوت
فرمایا وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ(الجمعۃ:۴) کے قائم مقام توریت کی ایک آیت تھی جس سے مسیح اسرائیلی کا گروہ مراد تھا اور یہاں وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ(الجمعۃ:۴) سے ہمارا گروہ۔
انجیل کے ذکر پر فرمایا کہ عیسائی لوگ جو حضرت عیسیٰ کو خاتم نبوت کہتے ہیں اور الہام کا دروازہ بند کرتے ہیں حالانکہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ مسیح کے بعد ایک یوحنا گذرا ہے جس نے نبوت کی اور اس کے مکاشفات کی ایک الگ کتاب انجیلوں میں ہمیشہ ساتھ رکھتے ہیں۔ ختم نبوۃ پر محیی الدین ابن عربی کا یہی مذہب ہے کہ تشریعی نبوت ختم ہو چکی ورنہ ان کے نزدیک مکالمہ الٰہی اور نبوۃ میں کوئی فرق نہیں ہے اس میں علماء کو بہت غلطی لگی ہے۔ خود قرآن میں النّبیّین جس پر ال پڑا ہے موجود ہے۔ اس سے مراد یہی ہے کہ جو نبوت نئی شریعت لانے والی تھی وہ اب ختم ہوگئی ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص کسی نئی شریعت کا دعویٰ کرے تو کافر ہے اور اگر سرے سے مکالمہ الٰہی سے انکار کیا جاوے تو پھر اسلام تو ایک مُردہ مذہب ہوگا اور اس میں اور دوسرے مذاہب میں کوئی فرق نہ رہے گا کیونکہ مکالمہ کے بعد اَور کوئی ایسی بات نہیں رہتی کہ وہ ہو تو اسے نبی کہا جاوے۔ نبوت کی علامت مکالمہ ہے لیکن اب اہلِ اسلام نے جو یہ اپنا مذہب قرار دیا ہے کہ اب مکالمہ کا دروازہ بند ہے۔ اس سے تو یہ ظاہر ہے کہ خدا کا بڑا قہر اسی اُمّت پر ہے۔۱؎
اور اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحۃ:۶، ۷) کی دعا ایک بڑا دھوکا ہوگی اور اُس کی تعلیم کا کیا فائدہ ہوا گویا یہ عبث تعلیم خدا نے دی۔
نبوت کے واسطے کثرت مکالمہ شرط ہے
ہاں نبوت کے واسطے کثرت مکالمہ شرط ہے یہ نہیں کہ ایک دو فقرہ گاہ گاہ الہام ہوئے بلکہ نبوت کے مکالمہ میں ضروری ہے کہ اس کی کیفیت صاف ہو اور کثرت سے ہو۔
(بعد از عشاء)
)نماز پڑھ کر حضرت اقدس نے کھڑے ہو کر مکالمہ نبوت پر یہ تقریر کی اور مثال دے کر فرمایا کہ جب تک کہ یہ فرق نہ ہو تب تک کیسے پتا لگ سکتا ہے۔ اب دیکھو جس کے پاس ایک دو روپیہ ہوں اور اُدھر بادشاہ ہے کہ اس کے پاس خزانے بھرے ہوئے ہیں تو ان دونوں میں فرق ہوگا کہ نہیں؟ اگرچہ زردار وہ بھی ہے اور بادشاہ بھی ہے مگر جس کے پاس ایک دو روپے ہوں اسے بادشاہ کوئی نہ کہے گا۔ اسی طرح فرق تو کثرت کا ہے اور اس کے ساتھ کیفیت اور کمیت کا بھی۔ نبوت کا مکالمہ اس قدر اجلٰی اور اصفٰی ہوتا ہے کہ ہر ایک بشریت اسے برداشت نہیں کر سکتی مگر وہ جو اصطفا کے درجہ تک ہو فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(الجنّ:۲۷، ۲۸) اللہ تعالیٰ اپنی رضا مندی اس طرح سے بار بار ظاہر کرتا ہے کہ اول ایک اَمر کو خواب میں دکھاتا ہے پھر اسے کشف میں۔ پھر اس کے مطلق وحی ہوتی ہے اور پھر وحی کی تکرار ہوتی رہتی ہے حتی کہ وہ اَمر غیب اس کے لیے مشہودہ اور محسوسہ امور میں داخل ہو جاتا ہے اور جس قدر تکرار ایک ملہم کے نفس میں ہوتا ہے اسی قدر تکرار اس کے مکالمہ میں ہوا کرتا ہے اور اصفٰی اور اجلٰی مکالمہ انہی لوگوں کا ہوتا ہے جو اعلیٰ درجہ کا تزکیہ نفس کرتے ہیں اس لیے تقویٰ اور طہارت کی بہت ضرورت ہے۔ اسی لیے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡکِتٰبَ الَّذِیۡنَ اصۡطَفَیۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا(فاطر:۳۳) ہم نے کتاب کا وارث اپنے بندوں میں سے ان کو بنایا جن کو ہم نے چُن لیا۔ یعنی ان لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ جیسے ایک مکان کی کُل کھڑکیاں کھلی ہیں کہ کوئی گوشہ تاریکی کا اُس میں نہیں اور روشنی خوب صاف اور کھلی آ رہی ہے۔ اسی طرح ان کے مکالمہ کا حال ہوتا ہے کہ انہیں اور اجلٰی اور کثرت سے ہوتا ہے۔ جیسے ایک تیل ادنیٰ قسم کا ہوتا ہے کہ دُھواں اور بدبُو بہت دیتا ہے۔ دوسرے اُس سے اچھا۔ یہی فرق مکالمہ کی کیفیت اور کثرت اور صفائی میں ہوتا ہے۔ کیا ایک لوٹہ کو حق پہنچتا ہے کہ اپنے اندر تھوڑا سا پانی رکھ کر کہے کہ میں بھی سمندر ہوں کیونکہ اس میں بھی پانی ہی ہوتا ہے۔ حالانکہ کس قدر فرق ہے سمندر میں جو پانی کی کثرت ہوتی ہے اس کو لوٹے سے کیا نسبت؟ پھر اس میں موتی، سیپ اور ہزارہا قسم کے جانور ہوتے ہیں۔
اگر اس پر اعتراض ہو کہ اَور لوگوں کو کیوں خوابیں آتی ہیں جو کہ سچی بھی نکلتی ہیں حتی کہ ہندوؤں میں بھی اور فاسق سے فاسق گروہ کنجروں میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ بعض اوقات ان کی خوابیں سچی نکلی ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نبوت کے سلسلہ کی تائید ہو۔ کیونکہ اگر ایسے حواس عالم میں نہ ہوتے تو پھر اَمر نبوت مشتبہ ہو جاتا ایک نابینا آفتاب کو کیسے شناخت کر سکتا ہے؟ وہی شناخت کرے گا جسے کچھ بینائی ہو چونکہ خدا کو منظور تھا کہ اتمامِ حجت ہو اس لیے یہ خواب کا سلسلہ سب جگہ رکھ دیا ہے تا کہ قبولیت کا مادہ ہر ایک جگہ موجود رہے اور ان کو انکار نہ کرنے دیوے۔ لیکن جو مادہ نبی کا ہوتا ہے اس کی شان اَور ہوتی ہے اور اسے موہبت اور بہت سی مَوتوں کے بعد طیار کیا جاتا ہے۔۱؎۲؎
۲۷ ؍جنوری ۱۹۰۳ء
(بوقتِ سیر) حضرت اقدس نے مخالفین کی نسبت فرمایا کہ میں نے اب ان سے اعراض کر لیا ہے کیونکہ جواب تو اس کے لیے ہوتا ہے جس میں کوئی ذرّہ تقویٰ کا ہو مگر جس حال میں کہ ان کے پاس اب سبّ وشتم ہی ہے تو اب حوالہ بخدا۔ کیا اچھا طریق امن کا ہم نے پیش کیا ہے کہ شرافت سے آ کر اپنے شبہات دور کراویں۔ ہمارے مہمان خانہ میں خواہ چھ ماہ رہیں ہم دعوت دیویں گے مگر جو شخص اوّل سے ہی عزم بالجزم کر کے آتا ہے کہ شرارت سے باز نہ آوے گا اسے ہم کیا کریں۔ میرا ہمیشہ ہی خیال ہوتا ہے کہ کوئی گروہ نیک نیتی سے آوے اور مستفید ہو۔ ازالہ شبہات کی نیت ہو۔ ہار جیت کا خیال نہ ہو۔ نیک نیتی تو عجیب شَے ہے کہ اس کی فوراً بُو آ جاتی ہے اور جب جواب کافی ملے تو نیک نیت تو اسی وقت اس کی خوشبو پا کر بحث سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ اور ہم خاص پیشگوئیوں پر بھی حصر نہیں رکھتے۔ کوئی پہلو اس سلسلہ کا لے لیویں۔ ہم ازالہ شبہات کردیویں گے۔ اگر گذشتہ پیشگوئیوں کے پہلو کو نہ لیویں تو خدا تعالیٰ قادر ہے کہ آئندہ اَور نشانات دکھلا دیوے۔
راستہ میں فرمایا کہ کل جو خواب مولوی محمد احسن صاحب کے دوا بتلانے کی نسبت بیان کیا تھا میں نے اُسی کے مطابق رات کو جائفل اور سونٹھ منہ میں رکھا۔ اب کھانسی کو اس سے بہت فائدہ معلوم ہوتا ہے۔۱؎
۲۸؍جنوری ۱۹۰۳ء
مورخہ ۲۷ و ۲۸؍جنوری کے درمیان جو رات تھی۔ اس میں رات کو ایک بجے حضرت اقدسؑ مولانا مولوی محمد احسن صاحب امروہی کی کوٹھڑی میں تشریف لائے۔ دروازہ بند تھا۔ آپ نے کھٹکھٹایا مولوی صاحب نے لاعلمی سے پوچھا کہ کون ہے؟ حضرت اقدس نے جواب دیا کہ ’’مَیں ہوں غلام احمد۲؎ ‘‘۲ آپ کے دستِ مبارک میں لالٹین تھی آپ نے اندر داخل ہوکر فرمایا کہ اس وقت مجھے اوّل ایک کشفی صورت میں خواب کے ذریعہ سے دکھلایا گیا ہے کہ میرے گھر میں (یعنی اُمّ المومنین) کہتے ہیں کہ اگر میں فوت ہو جاؤں تو میری تجہیز وتکفین آپ خود اپنے ہاتھ سے کرنا۔ اس کے بعد مجھے ایک بڑا منذر الہام ہوا ہے غَاسِقُ اللّٰہِ۔ مجھے اس کے یہ معنے معلوم ہوئے ہیں کہ جو بچہ میرے ہاں پیدا ہونے والا ہے وہ زندہ نہ رہے گا۔ اس لیے آپ بھی دعا میں مشغول ہوں اور باقی احباب کو بھی اطلاع دے دیویں کہ دعاؤں میں مشغول ہوں۔۳؎
(مجلس قبل از عشاء)
الہام غَاسِقُ اللّٰہِ کی شرح
غَاسِقُ اللّٰہِ الہام کی شرح آپ نے فرمائی اور فرمایا کہ غاسق عربی میں تاریکی کو کہتے ہیں جو کہ بعد زوال شفق اوّل رات چاند کو ہوتی ہے اور اسی لیے یہ لفظ قمر پر بھی اس کی آخری راتوں میں بولا جاتا ہے جب کہ اس کا نور جاتا رہتا ہے اور خسوف کی حالت میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ قرآن شریف میں شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ(الفلق:۴) کے یہ معنے ہیں مِنْ شَـرِّ ظُلْمَۃٍ اِذَا دَخَلَ یعنی ظلمت کی برائی سے جب وہ داخل ہو۔ میں نے اس سے پیشتر یہ خیال کیا تھا کہ چونکہ عنقریب گھر میں وضع حمل ہونے والا ہے تو شاید مولود کی وفات پر یہ لفظ دلالت کرتا ہے مگر بعد میں غور کرنے سے معلوم ہوا کہ اس سے مراد ابتلا ہے۔ اجتہادی امور ایسے ہی ہوا کرتے ہیں کہ اوّل خیال کسی اَور طرف چلا جاتا ہے۔ غرض یہ کہ اس کے معنے ہوئے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی اَمر بطور ابتلا کے ہے اور اس سے جماعت کا ابتلا مراد نہیں ہے بلکہ منکرین کا جو کہ جہالت، نادانی، افترا سے کام لیتے ہیں۔ آدمؑ سے لے کر آخر تک اللہ تعالیٰ کی یہی عادت ہے کہ دشمنوں کو بھی ان کی افترا وغیرہ کے لیے ایک موقع دیتا ہے۔ چنانچہ بعض وقت کوئی شکست بھی ہو جایا کرتی ہے قرآن شریف میں اس کا ذکر ہے اِنۡ یَّمۡسَسۡکُمۡ قَرۡحٌ فَقَدۡ مَسَّ الۡقَوۡمَ قَرۡحٌ مِّثۡلُہٗ ؕ وَتِلۡکَ الۡاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیۡنَ النَّاسِ(اٰل عمران:۱۴۱)۔
خدا تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کو فرماتا ہے کہ اگر تم کو کوئی زخم پہنچا ہے تو تم نے بھی اپنے مخالفین کا ستیا ناس کر دیا ہوا ہے۔ اگر ہمارا یہ کاروبار قلم کا نہ ہوتا بلکہ تلوار سے کام لیتے تو آخر ہمیں بھی کوئی نہ کوئی شکست ہونی ہی تھی۔ یہ موقع افترا کے خدا تعالیٰ دشمنوں کو اس لیے دیتا رہتا ہے کہ مقدمہ جلد ختم نہ ہو اور یہ سنّت اللہ ہے۔ اب غور سے دیکھا جاوے تو اُحد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل میں فتح تھی۔ مگر دشمن کو فضیلت سے کیا مطلب اسے تو موقع چاہیے۔
ادھر آتھم کا مقدمہ ادھر مقابلہ پر لیکھرام کا قتل۔ ان کی مثال ٹھیک اُحد اور بدر کی لڑائی تھی۔ کُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَہُمۡ مَّشَوۡا فِیۡہِ ٭ۙ وَاِذَاۤ اَظۡلَمَ عَلَیۡہِمۡ قَامُوۡا(البقرۃ:۲۱) منافقوں کا کام ہے مگر یہ لوگ قَامُوْا میں داخل ہیں۔ احتیاط سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھاتے۔ تاریکی جب خدا کی طرف منسوب ہو تو دشمن کی آنکھ میں ابتلا کا موقع اس سے مراد ہوتا ہے اور اس لیے اس کو غَاسِقُ اللّٰہِ کہتے ہیں۔
اس کے بعد حضرت اقدس نے گھر کے حالات سنائے کہ رات کو ان کو بہت تکلیف تھی۔ آخر خدا نے آرام دے دیا مگر میرا ایمان اور یقین ہے کہ یہ تمام کام دعاؤں نے ہی کیا ہے۔ عورتوں کے لیے یہ ولادت کا وقت ایک پہلو سے موت اور ایک پہلو سے زندگی ہوتی ہے گویا ولادت کے وقت ان کی اپنی بھی ایک نئی ولادت ہوتی ہے۔ گھر میں بھی رات کو ایک خواب دیکھا کہ بچہ ہوا ہوا ہے تو اُنہوں نے مجھے کہا کہ میری طرف سے بھی نفل پڑھنا اور اپنی طرف سے بھی۔ پھر ڈاکٹرنی کو کہا کہ ذرا اسے لو تو اُس نے جواب دیا کہ لوں کسے وہ تو مُردہ ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ اچھا پھر مبارک کا قدر قائم رہے گا۔ میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ لڑکی اصل میں زندہ بدست مُردہ ہی ہوا کرتی ہے۔
ایک الہام اور ایک خواب
آج صبح کو الہام ہوا سَاُکْرِمُکَ اِکْرَامًا عَـجَبًا اس کے بعد تھوڑی سی غنودگی میں ایک خواب بھی دیکھا کہ ایک چوغہ سنہری بہت خوبصورت ہے۔ میں نے کہا کہ عید کے دن پہنوں گا۔ اس الہام میں عجب کا لفظ بتلاتا ہے کہ کوئی نہایت ہی مؤثر بات ہے۔ میں نے یہی سمجھا کہ چونکہ رات کو بہت منذر الہام ہوا تھا وہ تو پورا ہو گیا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ اس کے بالمقابل بشارت دیتا ہے۔ کیسی رحیم کریم ذات ہے۔
خواب اور ان کی تعبیر یں
رات میں نے ایک اَور خواب بھی دیکھا کہ میں جہلم میں ہوں اور سنسار چند صاحب کے کمرے میں ہوتا ہوا آگے کوٹھی کے ایک اَور کمرہ کی طرف جا رہا ہوں۔ رؤیا کے معاملات میں انسانی عقل بالکل اندھی ہے لڑکی دیکھے تو لڑکا ہوتا ہے۔ اسی لیے معبروں نے باب بالعکس کا بھی باندھا ہے۔ ہمارے مخالف تمام باتوں کو ظواہر پر حمل کر لیتے ہیں۔ ورنہ وہ خدا کی عجیب در عجیب باتوں کو دیکھیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص قولنج کی بیماری میں مبتلا تھا اسے خواب میں کسی نے دیکھا کہ وہ مَر گیا ہے۔ میں نے اس کی تعبیر کی کہ وہ اچھا ہو جاوے گا آخر وہ اچھا ہو گیا۔
مقدمات کے ذکر پر فرمایا کہ حاکم بیچارے کیا کریں وہاں تو خدا پکڑ کر سب کچھ کرواتا ہے اصل میں خدا ہی خدا ہے وہ جب کوئی بات دل میں ڈالتا ہے تو دلوں کو ایسا پکڑتا ہے کہ باز اس طرح چڑیا کو پکڑ نہیں سکتا۔ اصل سلطنت اُسی کی سلطنت ہے۔ کیسے سے کیسا دشمن ہو مگر وہ اس کو بھی پکڑ لیتا ہے۔ رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ بالکل ٹھیک ہے لوگ ملائکہ سے تعجب کرتے ہیں۔ میرے نزدیک تو یہ سب ملائک ہیں۔ ورنہ لقمہ جو اندر ڈالا جاتا ہے اگر وہ نہ چاہے تو کب ہضم ہو سکتا ہے۔ بغیر کامل تصرّف کے خدا کی خدائی چل سکتی ہی نہیں مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمۡدِہٖ(بنی اسرآءیل:۴۵) کے یہی معنے ہیں۔ اسلام اور ایمان وہی ہے جو اس حد تک پہنچے اور اسی کو چھوڑ چھاڑ کر اب صرف رسم اور عادت رہ گئی ہے۔ جن کی یہ حالت ہے ان کو دعاؤں میں کیا مزا آ سکتا ہے۔۱؎
عقیدہ وحدت الوجود
جالندھر سے ایک صاحب تشریف لائے ہوئے تھے انہوں نے عرض کی کہ وہاں وجودیوں کا بہت زور ہے۔
حضرت اقدس نے فرمایا کہ اصل میں ان لوگوں کا اباحتی رنگ ہے۔ دہریوں میں اور ان میں بہت کم فرق ہے ان کی زندگی بے قیدی کی زندگی ہوتی ہے۔ خدا کے حدود اور فرائض کا بالکل فرق نہیں کرتے۔ نشہ وغیرہ پیتے ہیں، ناچ رنگ دیکھتے ہیں۔ زنا کو اُصول سمجھتے ہیں۔
ایک دفعہ ایک وجودی میرے پاس آیا اور کہا کہ میں خدا ہوں۔ اُس نے ہاتھ آگے بڑھایا ہوا تھا میں نے اُس کے ہاتھ پر زور سے چٹکی کاٹی حتی کہ اس کی چیخ نکل گئی تو میں نے کہا کہ خدا کو درد بھی ہوا کرتا ہے اور چیخ بھی نکلا کرتی ہے؟
پھر نو وارد صاحب نے بیان کیا کہ وہ کہا کرتے ہیں کہ انسان کو خدا نے اپنی صورت پر بنایا ہے۔
حضرت اقدس نے فرمایا کہ توریت میں یہ ذکر ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ تَـخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ یعنی خدا نے چاہا کہ انسان خدا کے اخلاق پر چلے۔ جیسے وہ ہر ایک عیب اور بدی سے پاک ہے یہ بھی پاک ہو۔ جیسے اس میں عدل، انصاف اور علم کی صفت ہے وہی اس میں ہو اس لیے اس خُلق کو احسن تقویم کہا ہے لَقَدۡ خَلَقۡنَا(البلد:۵) الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ(التّین:۵) جو انسان خدائی اخلاق اختیار کرتے ہیں وہ اس آیت سے مُراد ہیں اور اگر کُفر کرے تو پھر اَسْفَلَ السَّافِلِیْنَ اس کی جگہ ہے۔
وجودیوں سے جب بحث کا اتفاق ہو تو اوّل ان سے خدا کی تعریف پوچھنی چاہیے کہ خدا کسے کہتے ہیں؟ اور اس میں کیا صفات ہیں۔ وہ مقرر کر کے پھر ان سے کہنا چاہیے کہ اب ان سب باتوں کا تم اپنے اندر ثبوت دو۔ یہ نہیں کہ جو وہ کہیں وہ سنتے چلے جاؤ اور ان کے پیچ میں آجاؤ بلکہ سب سے اوّل ایک معیار خدائی قائم کرنا چاہیے بعض ان میں سے کہا کرتے ہیں کہ ابھی ہمیں خدا بننے میں کچھ کسر ہے تو کہنا چاہیے کہ تم بات نہ کرو جو کامل ہو گذرا ہے اسے پیش کرو۔
یہ ایک ملحد قوم ہے۔ تقویٰ، طہارت، صحتِ نیت، پابندی احکام بالکل نہیں۔ تلاوتِ قرآن نہیں کرتے ہمیشہ کافیاں پڑھتے ہیں۔ اسلام پر یہ بھی ایک مصیبت ہے کہ آج کل جس قدر گدی نشین ہیں وہ تمام قریب قریب اس وجودی مشرب کے ہیں۔ سچی معرفت اور تقویٰ کے ہرگز طالب نہیں ہیں۔ اسی مذہب میں دو شَے خدا کے بہت مخالف پڑی ہیں ایک تو کمزوری دوسری ناپاکی۔ یہ دونوں خدا میں نہیں ہیں اور سب وجودیوں میں پائی جاتی ہیں۔ لُطف کی بات ہے کہ جب کسی وجودی کو کوئی بیماری سخت مثل قولنج وغیرہ کے ہو تو اس وقت وہ وجودی نہیں ہوا کرتا۔ پھر اچھا ہو جاوے تو یہ خیال آیا کرتا ہے کہ میں خدا ہوں۔۱؎
۲۹؍جنوری ۱۹۰۳ء
پنجشنبہ (بوقتِ سیر) جھوٹ چونکہ آج کل اس الٰہی سلسلہ کے دشمنوں کی عام عادت ہوگئی ہے۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ جھوٹ جیسا لعنتی کام اَور کوئی نہیں اور پھر خصوصاً وہ جھوٹ جو کہ آبرو، عزّت وغیرہ پر ہوتا ہے جس پیٹ سے ایسی ایسی باتیں نکلا کرتی ہیں اسے نفس کہتے ہیں۔
دشمن کی آبرو داری
اس کے بعد اسی آبرو کے مضمون پر حضرت اقدس نے اپنے خون کے مقدمہ میں ایک واقعہ بیان کیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو ہر ایک کی آبرو حتی کہ اپنے دشمن کی آبرو داری کا بھی کسی قدر خیال ہے آپ نے ارشاد فرمایا کہ اسی قتل کے مقدمہ میں ہمارے ایک مخالف گواہ کی وقعت کو عدالت میں کم کرنے کی نیت سے ہمارے وکیل نے چاہا کہ اس کی ماں کا نام دریافت کرے مگر میں نے اسے سوال کرنے سے روکا اور کہا کہ ایسا سوال نہ کرو جس کا جواب وہ مطلق دے ہی نہ سکے اور ایسا داغ ہرگز نہ لگاؤ جس سے اسے مفرّ نہ ہو۔ حالانکہ ان ہی لوگوں نے میرے پر جھوٹے الزام لگائے۔ جھوٹا مقدمہ بنایا۔ افترا باندھے اور قتل اور قید میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔ میری عزّت پر کیا کیا حملے کر چکے ہوئے تھے۔ اب بتلاؤ کہ میرے پر کون سا خوف ایسا طاری تھا کہ میں نے اپنے وکیل کو ایسا سوال کرنے سے روک دیا۔ صرف بات یہ تھی کہ میں اس بات پر قائم ہوں کہ کسی پر ایسا حملہ نہ ہو کہ واقعی طور پر اس کے دل کو صدمہ دیوے اور اسے کوئی راہ مفرّ کی نہ ہو۔۱؎
اس پر ایک مخلص خادم نے عرض کی کہ حضور میرا دل تو اب بھی خفا ہوتا ہے کہ یہ سوال کیوں اس پر نہ کیا گیا؟
آپ نے فرمایا کہ میرے دل نے گوارا نہ کیا۔
اُس نے پھر کہا کہ یہ سوال ضرور ہونا چاہیے تھا
آپ نے فرمایا کہ خدا نے دل ہی ایسا بنایا ہے تو بتلاؤ میں کیا کروں۔
ایک صاحب آمدہ از جالندھر نے عرض کی کہ حضور وہاں شحنہ ہند نے بہت سے آدمیوں کو روک رکھا ہے اس کا کیا علاج کریں۔
فرمایا۔ صبر کرو۔ ایسا ہی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں لوگ تو آپ کی مذمت کیا کرتے تھے۲؎ مگر آپ ہنس کر فرمایا کرتے کہ ان کی مذمت کو کیا کروں میرا نام تو خدا نے اوّل ہی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) رکھ دیا ہوا ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے مجھے بھی الہام کیا جو کہ آج سے بائیس برس پیشتر کا براہین میں چھپا ہوا ہے۔ یَـحْمَدُکَ اللّٰہُ۱؎ یعنی خدا تیری تعریف کرتا ہے۔
جھوٹ ایسی شَے ہے کہ آخر ایک دن پر آکر انسان اس سے تھک جاتا ہے۔ پھر اگر خدا توفیق دیوے تو توبہ کرتا ہے ورنہ اسی طرح نامراد مَر جاتا ہے۔
(بوقتِ ظہر
پتھری کے اخراج کا نسخہ
اس وقت آپؑ نے تشریف لا کر تھوڑی دیر مجلس کی۔ بعض وقت مثانہ سے جو کنکر وغیرہ تکلیف دے کر پیشاب کی طرح نکلتے ہیں ان کی نسبت فرمایا کہ
نربسی ۳ رتی اور وائنم اپی کاک کا استعمال اس کے واسطے بہت مفید ہے اور چاول وغیرہ لیسدار اشیاء کا استعمال نہ کرنا چاہیے۔ یہی لیس منجمد ہوکر کنکر بن جاتی ہے۔
پھر فرمایا کہ میرے والد صاحب کو بھی یہ مرض رہی ہے وہ صِبر کی گولیاں استعمال کیا کرتے تھے۔ بہت مفید ہیں اس میں صِبر، سہاگہ، بزر النج، فلفل اور دار فلفل وغیرہ ادویہ ہوتی ہیں۔
(بوقتِ عصر)
اس وقت ایک خط کے ذریعے سے خبر ملی کہ جہلم میں اب پھر کرم دین کا ارادہ مقدمہ کا ہے اور وہ نگرانی کرانا چاہتا ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ
گھبرانا نہ چاہیے یہ تو خدا کے عجائبات ہیں۔
ہر بلا کیں قوم راحق دادہ است
زیر آں گنج کرم بنہادہ است
فرمایا۔ صبح کو ایک الہام ہوا تھا میرا ارادہ ہوا کہ لکھ لوں۔ پھر حافظہ پر بھروسا کر کے نہ لکھا۔ آخر وہ ایسا بھولا کہ ہر چند یاد کیا مطلق یاد نہ آیا۔ دراصل یہی بات ہے مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰیَۃٍ اَوۡ نُنۡسِہَا نَاۡتِ بِخَیۡرٍ مِّنۡہَاۤ اَوۡ مِثۡلِہَا(البقرۃ:۱۰۷)۔
(قبل از عشاء)
جہلم سے مقدمہ کے فیصلہ کی نقل منگوائی گئی تھی۔ اس وقت وہ حضرت اقدس سنتے رہے۔ کسی نے کہا کہ اس پر ہم نالش کر سکتے ہیں۔
حضرتؑ نے فرمایا کہ ہم نالش نہیں کرتے یہ تو اسرار الٰہی ہیں ایک برس سے خدا نے اس مقدمہ کو مختلف پیراؤں میں ظاہر کیا ہے۔ اب کیا معلوم کہ وہ اس کے ذریعے سے کیا کیا اظہار کرے گا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ فعل مقدر خدا کی طرف سے تھا۔
قانون کے ذکر پر فرمایا کہ
واضعانِ قانون نے بڑی دانشمندی سے کام لیا ہے کہ مذہبی امور کو دنیاوی اُمور سے الگ رکھا ہے۔ کیونکہ مذہبی عالم کی باتوں کا دارو مدار تو آخرت کے متعلق ہوتا ہے نہ کہ دنیا کے متعلق۔
مقدمات کے فیصلوں کی نسبت فرمایا کہ
میرا اپنا اُصول یہ ہے کہ بدتر سے بدتر انسان بھی اگر مقدمہ کرے تو اس میں تصرّف اللہ تعالیٰ کا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ جو چاہتا ہے اس سے فیصلہ لکھواتا ہے۔ انسان پر بھروسا شرک ہے بلکہ اگر ایک بھیڑیئے کے پاس بھی مقدمہ جاوے تو اس کو خدا سمجھ عطا کر دے گا۔۱؎
۳۰؍جنوری ۱۹۰۳ء بروز جمعہ
(بوقتِ عصر)
)اس وقت آپ نے آ کر ارشاد فرمایا کہ
جو الہام مجھ کو بھول گیا تھا آج یاد کیا ہے اور وہ یہ ہے اِنَّ اللّٰہَ مَعَ عِبَادِہٖ یُوَاسِیْکَ۔ یعنی اللہ اپنے بندوں کے ساتھ ہے اور تیری غمخواری کرے گا۔۲؎
۳۱ ؍جنو ری ۱۹۰۳ء۱؎
(بوقتِ عصر)
۱) جہلم سے خبر آئی کہ کرم دین نے حضرت اقدس پر ایک اور مقدمہ مواہب الرحمٰن کے بعض الفاظ کی بنا پر کیا ہے۔
فرمایا۔ اب یہ ان لوگوں کی طرف سے ابتدا ہے کیا معلوم کہ خدا تعالیٰ ان کے مقابلہ میں کیا کیا تدبیر اختیار کرے گا۔ یہ استغاثہ ہم پر نہیں اللہ تعالیٰ پر ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ مقدمات کر کے تھکانا چاہتے ہیں۔ الہام اِنَّ اللّٰہَ مَعَ عِبَادِہٖ یُوَاسِیْکَ اسی کے متعلق اجتہادی طور پر معلوم ہوتا ہے اور ایسا ہی الہام سَاُکْرِمُکَ اِکْرَامًا عَـجَبًا۔۔
خدا زور آور حملوں سے سچائی ظاہر کر دے گا
فرمایا۔ ہماری جماعت ایمان تو لاتی ہے مگر اصل میں مدار ایمان نشانوں پر ہوتا ہے۔ اگرچہ انسان محسوس نہ کرے مگر اس کے اندر بعض کمزوریاں ضرور ہوتی ہیں اور جب تک وہ کمزوریاں دور نہ ہوں اعلیٰ مراتبِ ایمانی نہیں مل سکتے اور یہ کمزوریاں نشانات ہی کے ذریعہ دور ہوتی ہیں اور اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اپنے نشانوں سے ان کمزوریوں کو دور کرے اور جماعت اپنے ایمان میں ترقی کرے اب وہ وقت آگیا ہے کہ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرُ(الحج:۴۰) کا نمونہ دکھائے۔ اللہ تعالیٰ کی نظر سے صادق اور کاذب، خائن اور مظلوم پوشیدہ نہیں ہیں اب ضروری ہے کہ سب گروہ متفق ہو کر میرے استیصال کے درپے ہوں جیسے جنگ احزاب میں ہوئے تھے جو کچھ ہو رہا ہے یہ سب خدا تعالیٰ نے چاہا ہے۔ میں نے جو خواب میں دیکھا کہ دریائے نیل کے کنارہ پر ہوں اور بعض چلّائے کہ ہم پکڑے گئے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسا وقت بھی آوے جب جماعت کو کوئی یاس ہو مگر میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا زور آور حملوں سے سچائی ظاہر کر دے گا۔ اس وقت یہ پورے زور لگائیں گے تاکہ قتل کے مقدمہ کی حسرتیں نہ رہ جائیں کہ کیوں چھوٹ گیا۔ یہ لوگ ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے جو خدا کی طرف سے میں پیش کرتا ہوں مگر وہ دیکھ لیں گے کہ اِکْرَامًا عَـجَبًا کیسے ہوتا ہے۔
(دربارِ شام)
شوقِ تبلیغ
فرمایا۔ سردست بیس جلد مواہب الرحمٰن کی مجلد کرا کر مصر کے اخبار نویسوں کو بھیجی جاویں اور اگر میری مقدرت میں ہوتا تو میں کئی ہزار مجلد کرا کر بھیجتا۔ فرمایا۔ یہاں کے لوگوں کا تو یہ حال ہے۔ شاید مصر کے لوگ ہی فائدہ اُٹھا لیں۔ جس قدر سعید روحیں خدا کے علم میں ہیں وہ ان کو کھینچ رہا ہے۔
جماعت کو نصائح
بیعت کے بعد ایک شخص نے اپنے گاؤں میں کثرت طاعون کا ذکر کیا اور دعا کی درخواست کی۔ فرمایا۔ میں تو ہمیشہ دعا کرتا ہوں مگر تم لوگوں کو بھی چاہیے کہ ہمیشہ دعا میں لگے رہو نمازیں پڑھو اور توبہ کرتے رہو۔ جب یہ حالت ہو گی تو اللہ تعالیٰ حفاظت کرے گا اور اگر سارے گھر میں ایک شخص بھی ایسا ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس کے باعث سے دوسروں کی بھی حفاظت کرے گا۔ کوئی بَلا اور دکھ اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے سوا نہیں آتا اور وہ اس وقت آتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور مخالفت کی جاوے۔ ایسے وقت پر عام ایمان کام نہیں آتا بلکہ خاص ایمان کام آتا ہے۔ جو لوگ عام ایمان رکھتے ہیں وہ ان بلاؤں سے حصہ لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی پروا نہیں کرتا مگر جو خاص ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی طرف رجوع کرتا ہے اور آپ ان کی حفاظت کرتا ہے مَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَانَ اللّٰہُ لَہٗ۔ بہت سے لوگ ہیں جو زبان سے لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ(الصّٰفّٰت:۳۶) کا اقرار کرتے ہیں اور اپنے اسلام اور ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں مگر وہ اللہ تعالیٰ کے لیے دکھ نہیں اٹھاتے۔ کوئی دکھ یا تکلیف یا مقدمہ آجاوے تو فوراً خدا کو چھوڑنے کو طیار ہو جاتے ہیں اور اس کی نافرمانی کر بیٹھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا مگر جو خاص ایمان رکھتا ہو اور ہر حال میں خدا کے ساتھ ہو اور دکھ اٹھانے کو طیار ہو جاوے تو خدا تعالیٰ اس سے دکھ اٹھا لیتا ہے اور دو مصیبتیں اس پر جمع نہیں کرتا۔ دکھ کا اصل علاج دکھ ہی ہے اور مومن پر دو بلائیں جمع نہیں کی جاتیں۔
ایک وہ دکھ ہے جو انسان خدا کے لیے اپنے نفس پر قبول کرتا ہے اور ایک وہ بلائے ناگہانی، اس بَلا سے خدا بچا لیتا ہے۔ پس یہ دن ایسے ہیں کہ بہت توبہ کرو۔ اگرچہ ہر شخص کو وحی یا الہام نہ ہو مگر دل گواہی دے دیتا ہے کہ خدا اسے ہلاک نہ کرے گا۔ دنیا میں دو دوستوں کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دوست دوسرے دوست کا مرتبہ شناخت کر لیتا ہے کیونکہ جیسا وہ اس کے ساتھ ہے ویسا ہی وہ بھی اس کے ساتھ ہو گا۔ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ محبت کے عوض محبت اور دغا کے عوض میں دغا۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ معاملہ میں اگر کوئی حصہ کھوٹ کا ہو گا تو اسی قدر ادھر سے بھی ہو گا۔ مگر جو اپنا دل خدا سے صاف رکھے اور دیکھے کہ کوئی فرق خدا سے نہیں ہے تو خدا تعالیٰ بھی اس سے کوئی فرق نہ رکھے گا۔ انسان کا اپنا دل اس کے لیے آئینہ ہے وہ اس میں سب کچھ دیکھ سکتا ہے۔ پس سچا طریق دُکھ سے بچنے کا یہی ہے کہ سچے دل سے اپنے گناہوں کی معافی چاہو اور وفاداری اور اخلاص کا تعلق دکھاؤ اور اس راہِ بیعت کو جو تم نے قبول کی ہے سب پر مقدم کرو کیونکہ اس کی بابت تم پوچھے جاؤ گے۔ جب اس قدر اخلاص تم کو میسر آ جاوے تو ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ تم کو ضائع کرے۔ ایسا شخص سارے گھر کو بچالے گا۔ اصل یہی ہے اس کو مت بھولو۔ نری زبان میں برکت نہیں ہوتی کہ بہت سی باتیں کر لیں۔ اصل برکت دل میں ہوتی ہے اور وہی برکت کی جڑ ہے۔ زبان سے تو کروڑہا مسلمان کہلاتے ہیں جن لوگوں کے دل خدا کے ساتھ مستحکم ہیں اور وہ اس کی طرف وفا سے آتے ہیں خدا بھی ان کی طرف وفا سے پیش آتا ہے اور مصیبت اور بلا کے وقت ان کو الگ کر لیتا ہے۔ یاد رکھو یہ طاعون خود بخود نہیں آئی بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے جو اپنے وقت پر آئی ہے اب جو کھوٹ اور بے وفائی کا حصہ رکھتا ہے وہ بلا اور وبا سے بھی حصہ لے گا مگر جو ایسا حصہ نہیں رکھتا خدا اسے محفوظ رکھے گا۔
مَیں اگر کسی کے لیے دعا کروں اور خدا کے ساتھ اس کا معاملہ صاف نہیں ہے وہ اس سے سچا تعلق نہیں رکھتا تو میری دعا اُس کو کیا فائدہ دے گی۔ لیکن اگر وہ صاف دل ہے اور کوئی کھوٹ نہیں رکھتا تو مَیری دعا اس کے لیے نُوۡرٌ عَلٰی نُوۡرٍ(النّور:۳۶) ہوگی۔
زمینداروں کو دیکھا جاتا ہے کہ دو دو پیسے کی خاطر خدا کو چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ خدا انصاف اور ہمدردی چاہتا ہے اور وہ پسند کرتا ہے کہ لوگ فسق، فحشاء اور بے حیائی سے باز آویں جو ایسی حالت پیدا کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ کے فرشتے ان کے ساتھ ہوتے ہیں مگر جب دل میں تقویٰ نہ ہو اور کچھ حصہ شیطان کا بھی ہو تو خدا شراکت پسند نہیں کرتا اور وہ سب چھوڑ کر شیطان کا کر دیتا ہے کیونکہ اس کی غیرت شرکت پسند نہیں کرتی۔ پس جو بچنا چاہتا ہے اس کو ضروری ہے کہ وہ اکیلا خدا کا ہو مَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَانَ اللّٰہُ لَہٗ خدا تعالیٰ نے کبھی کسی صادق سے بے وفائی نہیں کی ہے۔ ساری دنیا بھی اگر اُس کی دشمن ہو اور اس سے عداوت کرے تو اُس کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتی۔ خدا بڑی طاقت ہے اور قدرت والا ہے اور انسان ایمان کی قوت کے ساتھ اس کی حفاظت کے نیچے آتا اور اس کی قدرتوں اور طاقتوں کے عجائبات دیکھتا ہے پھر اس پر کوئی ذلّت نہ آوے گی۔ یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ زبردست پر بھی زبردست ہے بلکہ اپنے اَمر پر بھی غالب ہے سچے دل سے نمازیں پڑھو اور دعاؤں میں لگے رہو اور اپنے سب رشتہ داروں اور عزیزوں کو یہی تعلیم دو پُورے طور پر خدا کی طرف ہو کر کوئی نقصان نہیں اُٹھاتا۔ نقصان کی اصل جڑ گُناہ ہے۔
ساری عزّتیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ دیکھو! بہت سے ابرار اخیار دنیا میں گذرے ہیں۔ اگر وہ دنیا دار ہوتے تو ان کے گذارے ادنیٰ درجہ کے ہوتے اور کوئی ان کو پوچھتا بھی نہیں۔ مگر وہ خدا کے لیے ہوئے اور ساری دنیا کو ان کی طرف کھینچ لایا۔ خدا تعالیٰ پر سچا یقین رکھو اور بدظنی نہ کرو۔ جب اِس کی بدبختی سے خدا پر بدظنی ہوتی ہے تو پھر نہ نماز درست ہوتی ہے نہ روزہ نہ صدقات۔ بدظنی ایمان کے درخت کو نشوونما ہونے نہیں دیتی بلکہ ایمان کا درخت یقین سے بڑھتا ہے۔
میں اپنی جماعت کو بار بار اسی لیے نصیحت کرتا ہوں کہ یہ موت کا زمانہ ہے۔ اگر سچے دل سے ایمان لانے کی موت کو اختیار کرو گے تو ایسی موت سے زندہ ہو جاؤ گے اور ذلّت کی موت سے بچائے جاؤ گے۔ مومن پر دو موتیں جمع نہیں ہوتیں ہیں۔ جب وہ سچے دل سے اور صدق اور اخلاص کے ساتھ خدا کی طرف آتا ہے پھر طاعون کیا چیز ہے؟ کیونکہ صدق اور وفا کے ساتھ خدا تعالیٰ کا ہونا یہ بھی ایک موت ہے جو ایک قسم کی طاعون ہے مگر اس طاعون سے ہزار ہا درجہ بہتر ہے کیونکہ خدا کا ہونے سے نشانہ طعن تو ہونا ہی پڑتا ہے پس جب مومن ایک موت اپنے اوپر اختیار کر لیوے تو پھر دوسری موت اس کے آگے کیا شَے ہے؟ مجھے بھی الہام ہوا تھا کہ آگ سے ہمیں مت ڈرا آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔ ہر مومن کا یہی حال ہوتا ہے اگر وہ اخلاص اور وفاداری سے اس کا ہو جاتا ہے تو خدا اس کا ولی بنتا ہے لیکن اگر ایمان کی عمارت بوسیدہ ہے تو پھر بے شک خطرہ ہوتا ہے۔ ہم کسی کے دل کا حال تو جانتے ہی نہیں۔ سینہ کا علم تو خدا کو ہی ہے مگر انسان اپنی خیانت سے پکڑا جاتا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ سے معاملہ صاف نہیں تو پھر بیعت فائدہ دے گی نہ کچھ اَور، لیکن جب خالص خدا ہی کا ہو جاوے تو خدا تعالیٰ اس کی خاص حفاظت کرتا ہے۔ اگرچہ وہ سب کا خدا ہے مگر جو اپنے آپ کو خاص کرتے ہیں ان پر خاص تجلی کرتا ہے۔ اور خدا کے لیے خاص ہونا یہی ہے کہ نفس بالکل چکنا چور ہو کر اس کا کوئی ریزہ باقی نہ رہ جاوے اس لیے میں بار بار اپنی جماعت کو کہتا ہوں کہ بیعت پر ہرگز ناز نہ کرو۔ اگر دل پاک نہیں ہے ہاتھ پر ہاتھ رکھنا کیا فائدہ دے گا جب دل دور ہے جب دل اور زبان میں اتفاق نہیں اور پھر میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر منافقانہ اقرار کرتے ہیں تو یاد رکھو ایسے شخص کو دوہرا عذاب ہوگا مگر جو سچا اقرار کرتا ہے اس کے بڑے بڑے گناہ بخشے جاتے ہیں اور اس کو ایک نئی زندگی ملتی ہے۔ میں تو زبان ہی سے کہتا ہوں دل میں ڈالنا یہ خدا کا کام ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھانے میں کیا کسر باقی رکھی تھی؟ مگر ابوجہل اور اس کے امثال نہ سمجھے آپ کو اس قدر فکر اور غم تھا کہ خدا نے خود فرمایا لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفۡسَکَ اَلَّا یَکُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ(الشعرآء:۴) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قدر ہمدردی تھی۔ آپ چاہتے تھے کہ وہ ہلاک ہونے سے بچ جاویں مگر وہ بچ نہ سکے۔ حقیقت میں معلّم اور واعظ کا تو اتنا ہی فرض ہے کہ وہ بتاوے۔ دل کی کھڑکی تو خدا ہی کے فضل سے کھلتی ہے۔ نجات اسی کو ملتی ہے جو دل کا صاف ہے۔ جو صاف دل نہیں وہ اُچکّا اور ڈاکو ہے۔ خدا تعالیٰ اسے بری طرح مارتا ہے۔ اب یہ طاعون کے دن ہیں ابھی تو ابتدا ہے۔
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟ آ خر کی خبر نہیں مگر جو ابتدائی حالت میں اپنے آپ کو درست کریں گے وہ خدا کی رحمت کا بہت بڑا حق رکھتے ہیں مگر جو لوگ صاعقہ کی طرح دیکھ کر ایمان لاویں گے ممکن ہے کہ ان کی توبہ قبول نہ ہو یا توبہ کا موقع ہی نہ ملے۔ ابتدا والے ہی کا حق بڑا ہوتا ہے۔ قاعدہ کے موافق ۱۵ یا ۲۰ دن اَور طاعون کے روزہ کے ہیں اور آرام کی شکل نظر آتی ہے مگر وقت آتا ہے کہ پھر روزہ کھولنے کا زمانہ شروع ہوگا۔ اب خدا کے سوا کوئی عاصم نہیں ہے۔ ایماندار قبول نہیں کر سکتا کہ خدا کے ارادہ کے خلاف کوئی بچ سکتا ہے۔ فائدہ اور امن کی ایک ہی راہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ایسا جھکے کہ خود محسوس کر لے کہ اب میں وہ نہیں رہا ہوں اور مصفّٰی قطرہ کی طرح ہو جاوے۔
مخالفت کی شدت
خدا کی قدرت ہے کہ جوں جوں طاعون کا زمانہ قریب آتا جاتا ہے شور اور مفسدہ مخالفت کا بڑھتا جاتا ہے ان کو ذرا بھی خدا کا خوف نہیں ہے۔ فرمایا۔ آج مجھے خیال آیا کہ شاید یَاْتِیْ عَلَیْکَ زَمَنٌ کَمِثْلِ زَمَنِ مُوْسٰی والا الہام اور محاصرہ والی حدیث اسی طرح پوری ہو کہ مقدمات کثرت سے کر دیں جیسے حضرت موسیٰ کے سامنے نیل سے اور پیچھے لشکر فرعون سے محصور ہو گئے تھے اور ایسی خوفناک صورتیں پیدا ہوں کہ بعض کمزور طبیعت والے چلّائیں کہ ہم پکڑے گئے۔ اس لئے خدا نے ایسے کمزوروں کو پہلے سے تسلّی دے دی کہ یہ مضبوط اور قوی دل ہو جائیں۔ براہین احمدیہ میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے کہ ایک وقت ناخنوں تک زور لگائیں گے اس وقت خدا تیرے ساتھ ہوگا وَ وَاللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ(المائدۃ:۶۸) اب خدا تعالیٰ نے جو دن مقرر کیے ہوئے ہیں وہ اگر نہ آویں تو ثواب کیسے ملے۔ براہین میں اَور بھی بعض خوفناک صورتیں مذکور ہیں اور انجام کار وہی ہوگا جس کی خدا نے خبر دی ہے اور ارادہ فرمایا ہے۔
ایک الہام
فرمایا۔ ۳۰؍ جنوری ۱۹۰۳ء کی صبح کو جو الہام ہوا تھا لَا یَـمُوْتُ اَحَدٌ مِّنْ رِّجَالِکُمْ۱؎ اس کے معنی ابھی نہیں کھلے۔ مگر یہاں حقیقی معنی تو موت کے نہیں ہو سکتے کیونکہ انبیاء پر بھی یہ آئی ہے۔ غالباً اور کوئی معنی ہوں گے۔۲؎
یکم فروری ۱۹۰۳ء
امتحا ن کے وقت جماعت کو استقامت کی بہت دعا کرنی چاہیے
آپؑ نے فرمایا کہ یہ وقت جماعت کے امتحان کا ہے۔ دیکھیں کون ساتھ دیتا ہے اور کون پہلو تہی کرتا ہے۔ اس لیے ہمارے بھائیوں کو استقامت کی بہت دعا کرنی چاہیے اور انفاق فی سبیل اللہ کے لیے وسیع حوصلہ ہو کر مال و زر سے ہر طرح سے امداد کے لیے طیار ہونا چاہیے۔ ایسے ہی وقت ترقی درجات کے ہوتے ہیں۔ ان کو ہاتھ سے نہ گنوانا چاہیے۔۳؎
یکم فروری کو ایک دو سال کا الہام آپ نے اس کے متعلق سنایا۔ بَلِیَّۃٌ مَّالِیَۃٌ۔ یعنی مالی ابتلا۔۱؎
۲؍فروری ۱۹۰۳ء
۲؍ فروری کو سیر میں حضرت اقدس نے یہ الہامات سنائے جو کہ آپ کو رات کو ہوئے۔ سَنُنَجِّیْکَ۔ سَنُعْلِیْکَ۔ اِنِّیْ مَعَکَ وَمَعَ اَھْلِکَ۔ سَاُکْرِمُکَ اِکْرَامًا عَـجَبًا۔ سَـمِعَ ال دُّعَا۔ اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔ دُعَاءُکَ مُسْتَجَابٌ۔ اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ۔ وَاُصَلِّیْ وَاَصُوْمُ۔ وَاُعْطِیْکَ مَا یَدُوْمُ۔۲؎
(بوقتِ ظہر)
ایک رؤیا
حضرت احمد مُرسل یزدانی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک رؤیا ظہر کے وقت سنائی وہ یہ ہے کہ میں نے میرزا خدا بخش صاحب کو دیکھا ہے کہ ان کے کُرتے کے ایک دامن پر لہو کے داغ ہیں۔ پھر اَور داغ ان کے گریبان کے نزدیک بھی دیکھے ہیں۔ میں اس وقت کہتا ہوں کہ یہ ویسے ہی نشان ہیں جیسے کہ عبد اللہ سنوری صاحب کو جو کُرتہ دیا گیا ہے اس پر تھے۔۳؎
۳؍ فروری ۱۹۰۳ء
مورخہ ۳؍ فروری ۱۹۰۳ء کو سیر میں حضرت اقدس نے یہ الہام سنائے۔ اُصَلِّیْ وَ اَصُوْمُ۔ اَسْھَرُ وَ اَنَامُ۔ وَ اَجْعَلُ لَکَ اَنْوَارَ الْقُدُوْمِ۔ وَاُعْطِیْکَ مَا یَدُوْمُ۔
اس کا ایک اور فقرہ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا(النحل:۱۲۹) مورخہ ۴؍ فروری کی سیر میں آپ نے یاد آنے پر بتلایا۔۱؎
مورخہ ۳؍فروری کو حضرت اقدس نے یہ الہام سیر میں سنایا جو کہ درج ہونے سے رہ گیا تھا بَرَزَ مَا عِنْدَ ھُمْ مِّنَ الرِّمَاحِ (جس قدر تیر ان کے پاس تھے وہ اب نکال لئے گئے)۔۲؎
۴؍ فروری ۱۹۰۳ء
مورخہ ۴؍فروری ۱۹۰۳ء کو آپ نے سیر میں فرمایا رات کو یہ الہام ہوا ہے۔ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّکَانُوۡا یَعۡتَدُوۡنَ(المائدۃ:۷۹)۔۳؎
۵؍فروری ۱۹۰۳ء
اپنی جماعت کے لئے ایک بہت ضروری نصیحت
آج کل زمانہ بہت خراب ہو رہا ہے قسم قسم کی شرک، بدعت اور خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ بیعت کے وقت جو اقرار کیا گیا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ یہ اقرار خدا کے سامنے اقرار ہے۔ اب چاہیے کہ اس پر موت تک خوب قائم رہو ورنہ سمجھو کہ بیعت نہیں کی اور اگر قائم رہو گے تو اللہ تعالیٰ دین، دنیا میں برکت دے گا۔ اپنے اللہ کے منشا کے موافق پوری پوری تقویٰ اختیار کرو۔ زمانہ نازک ہے۔ قہر الٰہی نمودار ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق اپنے آپ کو بنا لے گا وہ اپنی جان اور اپنی آل واولاد پر رحم کرے گا۔ دیکھو! انسان روٹی کھاتا ہے جب تک سیری کے موافق پوری مقدار نہ کھاوے تو اس کی بھوک نہیں جاتی۔ اگر وہ ایک بھورہ روٹی کا کھالیوے تو کیا وہ بھوک سے نجات پائے گا؟ ہرگز نہیں۔ اور اگر وہ ایک قطرہ پانی کا اپنے حلق میں ڈالے تو وہ قطرہ اسے ہرگز بچا نہ سکے گا بلکہ با وجود اس قطرے کے وہ مَرے گا۔ حفظِ جان کے واسطے وہ قدرِ محتاط جس سے زندہ رہ سکتا ہے جب تک نہ کھاوے اور نہ پیوے نہیں بچ سکتا۔ یہی حال انسان کی دینداری کا ہے جب تک اس کی دینداری اس حد تک نہ ہو کہ سیری ہو بچ نہیں سکتا۔ دینداری، تقویٰ، خدا کے احکام کی اطاعت کو اس حد تک کرنا چاہیے جیسے روٹی اور پانی کو اس حد تک کھاتے اور پیتے ہیں جس سے بھوک اور پیاس چلی جاتی ہے۔
خوب یاد رکھنا چاہیے کہ خدا کی بعض باتوں کو نہ ماننا اس کی سب باتوں کو ہی چھوڑ دینا ہوتا ہے اگر ایک حصہ شیطان کا ہو اور ایک خدا کا تو خدا کہتا ہے کہ سب ہی شیطان کا ہے۔ اللہ تعالیٰ حصہ داری کو پسند نہیں کرتا۔ یہ سلسلہ اس کا اسی لیے ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی طرف آوے۔ اگرچہ خدا کی طرف آنا بہت مشکل ہوتا ہے اور ایک قسم کی موت ہے مگر آخر زندگی بھی اسی میں ہے۔ جو اپنے اندر سے شیطانی حصہ نکال کر باہر پھینک دیتا ہے وہ مبارک انسان ہوتا ہے اور اس کے گھر اور نفس اور شہر سب جگہ اس کی برکت پہنچتی ہے۔ لیکن اگر اس کے حصہ میں ہی تھوڑا آیا ہے تو وہ برکت نہ ہوگی جب تک بیعت کا اقرار عملی طور پر نہ ہو بیعت کچھ چیز نہیں ہے۔ جس طرح سے ایک انسان کے آگے تم بہت سی باتیں زبان سے کرو مگر عملی طور پر کچھ بھی نہ کرو تو وہ خوش نہ ہوگا۔ اسی طرح معاملہ خدا کا ہے وہ سب غیرت مندوں سے زیادہ غیرت مند ہے۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ایک تو تم اس کی اطاعت کرو پھر ادھر اس کے دشمنوں کی بھی اطاعت کرو اس کا نام تو نفاق ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اس مرحلہ میں زید و بکر کی پروا نہ کرے۔ مَرتے دم تک اس پر قائم رہو۔
بدی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک خدا کے ساتھ شرک کرنا۔ اس کی عظمت کو نہ جاننا۔ اُس کی عبادت اور اطاعت میں کسل کرنا۔ دوسری یہ کہ اس کے بندوں پر شفقت نہ کرنی۔ ان کے حقوق ادا نہ کرنے۔ اب چاہیے کہ دونوں قسموں کی خرابی نہ کرو۔ خدا کی اطاعت پر قائم رہو۔ جو عہد تم نے بیعت میں کیا ہے اس پر قائم رہو خدا کے بندوں کو تکلیف نہ دو۔ قرآن کو بہت غور سے پڑھو۔ اس پر عمل کرو۔ ہر ایک قسم کے ٹھٹھے اور بیہودہ باتوں اور مشرکانہ مجلسوں سے بچو۔ پانچوں وقت نماز کو قائم رکھو۔ غرضیکہ کوئی ایسا حکمِ الٰہی نہ ہو جسے تم ٹال دو۔ بدن کو بھی صاف رکھو اور دل کو ہر ایک قسم کے بے جا کینے، بغض، حسد سے پاک کرو۔ یہ باتیں ہیں جو خدا تم سے چاہتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ کبھی کبھی آتے رہو۔ جب تک خدا نہ چاہے کوئی آدمی بھی نہیں چاہتا۔ نیکی کی توفیق وہی دیتا ہے۔ دو عمل ضرور خیال رکھو۔ ایک دعا۔ دوسرے ہم سے ملتے رہنا تاکہ تعلق بڑھے اور ہماری دعا کا اثر ہو۔
ابتلا سے کوئی خالی نہیں رہتا۔ جب سے یہ سلسلہ انبیاء اور رُسل کا چلا آ رہا ہے جس نے حق کو قبول کیا ہے اس کی ضرور آزمائش ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ جماعت بھی خالی نہ رہے گی گردو نواح کے مولوی کوشش کریں گے کہ تم اس راہ سے ہٹ جاؤ۔ تم کو کفر کے فتوے دیویں گے لیکن یہ سب کچھ پہلے ہی سے اسی طرح ہوتا چلا آیا ہے لیکن اس کی پروانہ کرنی چاہیے جوانمردی سے اس کا مقابلہ کرو۔
ثابت قدمی دکھاؤ پھر بیعت کنندگان نے منکرین کے ساتھ نماز پڑھنے کو پوچھا۔
ثابت قدمی دکھاؤ
حضرت نے فرمایا کہ ان لوگوں کے ساتھ ہرگز نہ پڑھو اکیلے پڑھ لو۔ جو ایک ہوگا وہ جلد دیکھے گا کہ ایک اور اس کے ساتھ ہو گیا ہے۔ ثابت قدمی دکھاؤ۔ ثابت قدمی میں ایک کشش ہوتی ہے۔ اگر کوئی جماعت کا نہ ہو تو نماز اکیلے پڑھو مگر جو اس سلسلہ میں نہیں اس کے ساتھ ہرگز نہ پڑھو، ہرگز نہ پڑھو۔ جو ہمیں زبان سے بُرا نہیں کہتا وہ عملی طور سے کہتا ہے کہ حق کو قبول نہیں کرتا۔ ہاں ہر ایک کو سمجھاتے رہو۔ خدا کسی نہ کسی کو ضرور کھینچ لیوے گا۔ جو شخص نیک نظر آوے سلام و علیک اس سے رکھو لیکن اگر وہ شرارت کرے تو پھر یہ بھی ترک کر دو۔۱؎
۸؍فروری ۱۹۰۳ء
مورخہ ۸؍فروری کو آپ نے سیر میں فجر کا الہام سنایا ’’حَرْبٌ مُّھَیَّجَۃٌ ‘‘(جوش سے بھری ہوئی لڑائی)۔
فرمایا کہ اس کا اشارہ یا تو مقدمہ کی شاخوں کی طرف معلوم ہوتا ہے یا آریہ سماج کو جو اشتہار نو مسلموں نے دیا ہے اس سے جوش میں آکر وہ لوگ کچھ گندی گالیاں وغیرہ دیویں۔ چنانچہ شام کو ایک اشتہار آریوں کی طرف سے نکل آیا جس میں ایسے ہی گندے الفاظ تھے اور اصل معنوں پر کوئی معقول بات نہ تھی اس پر آپ نے فرمایا کہ چونکہ الہام کے بعد نیا معاملہ یہی پیش آیا ہے ہم الہام کو اس پر چسپاں کرتے ہیں۔ خدا نے اس کے مقابلہ پر کیا سامان رکھے ہیں ہمیں اس کی خبر نہیں۔ ارادہ الٰہی پر تقدم بے ادبی ہے اور اسی لئے اس کے مقابل پر غضب سے بھرا ہوا اشتہار نکالنا درست نہیں اس میں نفس کے رگ و ریشے ہوں گے اس کے لئے جو راہ خدا نکالے وہ ٹھیک ہوگی۔۱؎
۱۰ ؍فروری ۱۹۰۳ء
حضرت اقدس نے فرمایا ہے کہ
و ہ
اخبارات جو کہ آپ کی مخالفت میں ہمیشہ خلاف واقعہ باتیں درج کرتے ہیں اور گند اور فحش بیانی ان کا کام ہے ان کو ہرگز نہ لیا جاوے اور نہ ان کے مقابلے پر اشتہار وغیرہ دیا جاوے۔ یہ ان کو ایک اور موقع گند بکنے کا دیتا ہے۔ یہ وقت دعا اور تضرّع کا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم میں اور ہماری قوم میں فیصلہ کر دے۔۲؎
۱۱؍فروری ۱۹۰۳ء
بروز چہارشنبہ عرش کے متعلق ایک صاحب نے سوال کیا کہ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ(الاعراف:۵۵) کے کیا معنے ہیں اور عرش کیا شَے ہے؟
عرش کے مخلوق یا غیر مخلوق ہونے کی بحث عبث ہے
فرمایا کہ اس کے بارے میں لوگوں کے مختلف خیالات ہیں کوئی تو اسے مخلوق کہتا ہے اور کوئی غیر مخلوق لیکن اگر ہم غیر مخلوق نہ کہیں تو پھر استویٰ باطل ہوتا ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ عرش کے مخلوق یا غیر مخلوق ہونے کی بحث ہی عبث ہے۔ یہ ایک استعارہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اعلیٰ درجے کی بلندی کو بیان کیا ہے یعنی ایک ایسا مقام جو کہ ہر ایک جسم اور ہر ایک نقص سے پاک ہے اور اس کے مقابلہ پر یہ دنیا اور تمام عالم ہے کہ جس کی انسان کو پوری پوری خبر بھی نہیں ہے۔ ایسے مقام کو قدیم کہا جا سکتا ہے۔ لوگ اس میں حیران ہیں اور غلطی سے اسے ایک مادی شَے خیال کرتے ہیں۔ اور قدامت کے لحاظ سے جو اعتراض لفظ ثُمَّ کا آتا ہے تو بات یہ ہے کہ قدامت میں ثُمَّ آ جاتا ہے جیسے قلم ہاتھ میں ہوتا ہے تو جیسے قلم حرکت کرتا ہے ویسے ہاتھ حرکت کرتا ہے مگر ہاتھ کو تقدم ہوتا ہے۔ آریہ لوگ خدا کی قدامت کے متعلق اہل اسلام پر اعتراض کرتے ہیں کہ ان کا خدا چھ سات ہزار برس سے چلا آتا ہے یہ ان کی غلطی ہے۔ اس مخلوق کو دیکھ کر خدا کی عمر کا اندازہ کرنا نادانی ہے۔ ہمیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ آدم سے اوّل کیا تھا اور کس قسم کی مخلوق تھی۔ اس وقت کی بات وہی جانے کُلَّ یَوۡمٍ ہُوَ فِیۡ شَاۡنٍ(الرحمٰن:۳۰) وہ اور اس کی صفات قدیم ہی سے ہیں مگر اس پر یہ لازم نہیں ہے کہ ہر ایک صفت کا علم ہم کو دے دیوے اور نہ اس کے کام اس دنیا میں سما سکتے ہیں۔ خدا کے کلام میں دقیق نظر کرنے سے پتا لگتا ہے کہ وہ ازلی اور ابدی ہے اور مخلوقات کی ترتیب اس کے ازلی ہونے کی مخالف نہیں ہے اور استعارات کو ظاہر پر حمل کر کے مشہودات پر لانا بھی ایک نادانی ہے اس کی صفت ہے لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ ۫ وَہُوَ یُدۡرِکُ(الانعام:۱۰۴) الْاَبْصَارَ(الانعام:۱۰۴) ہم عرش اور استویٰ پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی حقیقت اور کنہ کو خدا کے حوالے کرتے ہیں۔ جب دنیا وغیرہ نہ تھی عرش تب بھی تھا جیسے لکھا ہے عَرۡشُہٗ عَلَی الۡمَآءِ(ھود:۸)۔
عرش ایک مجہول الکُنہ اَمر اور خدا تعالیٰ کی تجلیات کی طرف اشارہ ہے
اس کے متعلق خوب سمجھ لینا چاہیے کہ یہ ایک مجہول الکُنہ اَمر ہے اور خدا کی تجلیات کی طرف اشارہ ہے وہ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ(النحل:۴) چاہتی تھی اس لیے اوّل وہ ہو کر اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ(الفرقان:۶۰) ہوا۔ اگرچہ توریت میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے مگر وہ اچھے الفاظ میں نہیں ہے اور لکھا ہے کہ خدا ماندہ ہو کر تھک گیا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک انسان کسی کام میں مصروف ہوتا ہے تو اس کے چہرہ اور خط وخال وغیرہ اور دیگر اعضا کا پورا پورا پتا نہیں لگتا مگر جب وہ فارغ ہو کر ایک تخت یا چار پائی پر آرام کی حالت میں ہو تو اس کے ہر ایک عضو کو بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح استعارہ کے طور پر خدا کی صفات کے ظہور کو ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ(الفرقان:۶۰) سے بیان کیا ہے کہ آسمان اور زمین کے پیدا کرنے کے بعد صفاتِ الٰہیہ کا ظہور ہوا۔ صفات اس کے ازلی ابدی ہیں مگر جب مخلوق ہو تو خالق کو شناخت کرے اور محتاج ہوں تو رازق کو پہچانیں۔ اسی طرح اس کے علم اور قادرِ مطلق ہونے کا پتا لگتا ہے ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ(الفرقان:۶۰) خدا کی اس تجلی کی طرف اشارہ ہے جو خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ(النحل:۴) کے بعد ہوئی۔
اسی طرح اس تجلی کے بعد ایک اور تجلی ہوگی جب کہ ہر شَے فنا ہوگی۔ پھر ایک اَور تیسری تجلی ہوگی کہ احیائے اموات ہوگا۔ غرضیکہ یہ ایک لطیف استعارہ ہے جس کے اندر داخل ہونا روا نہیں ہے۔ صرف ایک تجلی سے اسے تعبیر کر سکتے ہیں۔ قرآن شریف سے پتا لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے عرش کو اپنی صفات میں داخل کیا ہے جیسے ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِیۡدُ(البروج:۱۶) گویا خدا تعالیٰ کے کمالِ علوّ کو دوسرے معنوں میں عرش سے بیان کیا ہے اور وہ کوئی مادی اور جسمانی شَے نہیں ہے ورنہ زمین اور آسمان وغیرہ کی طرح عرش کی پیدائش کا ذکر بھی ہوتا۔ اس لیے شُبہ گذرتا ہے کہ ہے تو شَے مگر غیر مخلوق اور یہاں سے دھوکا کھا کر آریوں کی طرف انسان چلا جاتا ہے کہ جیسے وہ خدا کے وجود کے علاوہ اَور اشیاء کو غیر مخلوق مانتے ہیں ویسے ہی یہ عرش کو ایک شَے غیر مخلوق جُز اَز خدا ماننے لگتا ہے۔ یہ گمراہی ہے۔ اصل میں یہ کوئی شَے خدا کے وجود سے باہر نہیں ہے جنہوں نے اسے ایک شَے غیر مخلوق قرار دیا وہ اسے اتم اور اکمل نہیں مانتے اور جنہوں نے مادی مانا وہ گمراہی پر ہیں کہ خدا کو ایک مجسم شَے کا محتاج مانتے ہیں کہ ایک ڈولہ کی طرح فرشتوں نے اسے اُٹھایا ہوا ہے۔ وَلَا یَـُٔوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَا(البقرۃ:۲۵۶)۔
چار ملائک کا عرش کو اُٹھانا یہ بھی ایک استعارہ ہے۔ ربّ۔ رحمٰن۔ رحیم اور مالک یوم الدین یہ صفاتِ الٰہی کے مظہر ہیں اور اصل میں ملائکہ ہیں اور یہی صفات جب زیادہ جوش سے کام میں ہوں گے تو ان کو آٹھ ملائک سے تعبیر کیا گیا ہے جو شخص اسے بیان نہ کر سکے وہ یہ کہے کہ ایک مجہول الکُنہ حقیقت ہے ہمارا اس پر ایمان ہے اور حقیقت خدا کے سپرد کرے۔ اطاعت کا طریق یہی ہے کہ خدا کی باتیں خدا کے سپرد کرے اور ان پر ایمان رکھے۔ اور اس کی اصل حقیقت یہی ہے کہ خدا کی تجلّیات ثلاثہ کی طرف اشارہ ہے۔
کَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآءِ کی کنہ خدا ہی کو معلوم ہے
عَرۡشُہٗ عَلَی الۡمَآءِ(ھود:۸) یہ بھی ایک تجلی تھی اور ماء کے معنے یہاں پانی بھی نہیں کر سکتے۔ خدا معلوم کہ اس کے نزدیک ماء کے کیا معنے ہیں۔ اس کی کنہ خدا کو معلوم ہے۔ جنّت کے نعماء پر بھی ایسا ہی ایمان ہے۔ وہاں یہ تو نہ ہوگا کہ بہت سی گائے بھینسیں ہوں گی اور دُودھ دوہ کر حوض میں ڈالا جاوے گا۔ خدا فرماتا ہے کہ وہ اشیاء ہیں جو نہ آنکھوں نے دیکھیں نہ کانوں نے سنیں اور نہ زبان نے چکھیں نہ دل میں ان کے فہم کا مادہ ہے۔ حالانکہ ان کو دُودھ اور شہد وغیرہ ہی لکھا ہے جو کہ آنکھوں سے نظر آتا ہے اور ہم اسے پیتے ہیں۔ اسی طرح کئی باتیں ہیں جو کہ ہم خود دیکھتے ہیں مگر نہ تو الفاظ ملتے ہیں کہ ان کو بیان کر سکیں نہ اُس کے بیان کرنے پر قادر ہیں۔ یہ ایسی باتیں ہیں کہ اگر ان کو مادی دنیا پر قیاس کریں تو صدہا اعتراضات پیدا ہوتے ہیں۔ کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعۡمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعۡمٰی(بنی اسرآءیل:۷۳) سے ظاہر ہے کہ دیدار کا وعدہ یہاں بھی ہے مگر ہم اسے جسمانیات پر نہیں حمل کر سکتے۔۱؎
۱۳؍فروری ۱۹۰۳ء
صدقہ اور دعا سے بَلاٹل جاتی ہے
بعد ادائیگی جمعہ گردونواح کے لوگوں نے بیعت کی اور حضرت اقدس نے ان کو ایک مختصر تقریر نماز روزہ کی پابندی اور ہر ایک ظلم وغیرہ سے بچنے پر فرمائی کہ اپنے گھروں میں عورتوں، لڑکیوں اور لڑکوں سب کو نیکی کی نصیحت کریں اور جیسے درختوں اور کھیتوں کو اگر پورا پانی نہ دیا جاوے تو وہ پھل نہیں لاتے۔ اسی طرح جب تک نیکی کا پانی دل کو نہ دیا جاوے تو وہ بھی انسان کے لیے کسی کام کا نہیں ہوتا۔ جو نیک بن جاتا ہے اس پر یہ بَلا طاعون نہیں پڑتی۔ موت تو سب کو آتی ہے اور اس کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔ مگر جن موتوں میں ایک قہر کی بو ہوتی ہے وہ نہیں ہوتیں۔ ہنسی اور ٹھٹھے کی مجلسوں سے پرہیز کی تاکید فرمائی۔ انبیاء کی وصیت یاد دلائی کہ صدقہ اور دعا سے بَلا ٹل جاتی ہے اگر پیسہ پاس نہ ہو تو ایک بوکہ (ڈول) پانی کا کسی کو بھر دو یہ بھی صدقہ ہے اپنے مال اور بدن سے کسی کی خدمت کر دینی یہ بھی صدقہ ہے۔۱؎
(در بارِ شام)
ایک نووارداور حضرت اقدس علیہ السلام
۱۳؍فروری ۱۹۰۳ء کو ایک ڈاکٹر صاحب۲؎ لکھنو سے تشریف لائے بقول ان کے وہ بغدادی الاصل ہیں اور اب عرصہ سے لکھنو میں مقیم ہیں۔ ان کے چند احباب نے ان کو حضرت حجۃ اللہ علیہ السلام کی خدمت میں بغرض دریافت حال بھیجا ہے چنانچہ وہ بعد مغرب حضرت اقدس علیہ السلام کے حضور حاضر ہوئے اور شرفِ ملاقات حاصل کیا جو کچھ گفتگو آپ سے ہوئی ہم اس کو ذیل میں درج کرتے ہیں۔ (ایڈیٹر
)حضرت اقدس۔ آپ کہاں سے آئے ہیں؟
نو وارد۔ میں اصل رہنے والا بغداد کا ہوں مگر اب عرصہ سے لکھنو میں رہتا ہوں اور یہاں ہی میں نے اپنے تعلقات پیدا کر لیے ہیں۔ وہاں کے چند آدمیوں نے مجھے مستعد کیا کہ قادیان جا کر کچھ حالات دیکھ آئیں۔
حضرت اقدس۔ امرتسر میں آپ کتنے دن ٹھہرے؟
نو وارد۔ پانچ چھ روز۔
حضرت اقدس۔ کیا کام تھا؟
نو وارد۔ محض یہاں کے حالات کا معلوم کرنا اور راستہ وغیرہ کی واقفیت حاصل کرنا۔
حضرت اقدس۔ کیا آپ کچھ عرصہ یہاں ٹھہریں گے؟
نو وارد۔ کل جاؤں گا۔
حضرت اقدس۔ آپ دریافت حالات کے لیے آئے اور کل جائیں گے اس سے کیا فائدہ ہوا؟ یہ تو صرف آپ کو تکلیف ہوئی۔ دین کے کام میں آہستگی سے دریافت کرنا چاہیے تاکہ وقتاً فوقتاً بہت سی معلومات ہو جائیں۔ جب وہاں آپ کے دوستوں نے آپ کو منتخب کیا تھا تو آپ کو یہاں فیصلہ کرنا چاہیے۔ جب آپ ایک ہی رات کے بعد چلے جائیں گے تو آپ کیا رائے قائم کر سکیں گے؟ اب ہم نماز پڑھ کر چلے جائیں گے۔ آپ کو کوئی موقع ہی نہ ملا۔ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ(التوبۃ:۱۱۹) کہ صادقوں کے ساتھ رہو یہ معیت چاہتی ہے کہ کسی وقت تک صحبت میں رہے کیونکہ جب تک ایک حد تک صحبت میں نہ رہے وہ اسرار اور حقائق کُھل نہیں سکتے۔ وہ اجنبی کا اجنبی رہے گا اور بیگانہ ہی رہتا ہے اور کوئی رائے قائم کرنے کے قابل نہیں ہو سکتا۔
نو وارد۔ میں جو پوچھوں گا اس کا آپ جواب دے دیں۔ اس سے ایک رائے قائم ہو سکتی ہے۔ جن لوگوں نے مجھے بھیجا ہے انہوں نے تقیہ۱؎ تو کیا نہیں کہ جا کر کیا دیکھوں۔ آپ چونکہ ہمارے مذہب میں ہیں اور آپ نے ایک دعویٰ کیا ہے اس کا دریافت کرنا ہم پر فرض ہے۔
حضرت اقدس۔ بات یہ ہے کہ مذاق تمسخر صحتِ نیت میں فرق ڈالتا ہے اور ماموروں کے لیے تو یہ سنّت چلی آئی ہے کہ لوگ ان پر ہنسی اور ٹھٹھا کرتے ہیں مگر حسرت ہنسی کرنے والوں ہی پر رہ جاتی ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں فرمایا ہے یٰحَسۡرَۃً عَلَی الۡعِبَادِ ۚؑ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ(یٰسٓ:۳۱) ناواقف انسان نہیں جانتا کہ اصل حقیقت کیا ہے؟ وہ ہنسی اور مذاق میں ایک بات کو اڑانا چاہتا ہے مگر تقویٰ ہے جو اسے راہِ حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
میرا دعویٰ ایسا دعویٰ نہیں رہا جو اَب کسی سے مخفی ہو۔ اگر تقویٰ ہو تو اس کے سمجھنے میں بھی اب مشکلات باقی نہیں رہیں۔ اس وقت صلیبی غلبہ حد سے بڑھا ہوا ہے اور مسلمانوں کا ہر اَمر میں انحطاط ہو رہا ہے۔ ایسی حالت میں تقویٰ کا یہ تقاضا ہے اور وہ یہ سبق دیتا ہے کہ تکذیب میں مستعجل نہ ہو۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت یہود نے جلدی کی اور غلطی کھائی اور انکار کر بیٹھے نتیجہ یہی ہوا کہ خدا کی لعنت اور اس کے غضب کے نیچے آئے۔ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت عیسائیوں اور یہودیوں نے غلطیاں کھائیں اور انکار کر دیا اور اس نعمت سے محروم رہے جو آپ لے کر آئے تھے۔ تقویٰ کا یہ لازمہ ہونا چاہیے کہ ترازو کی طرح حق وانصاف کے دونوں پلّے برابر رکھے۔ اسی طرح اب ایسا یہ زمانہ آیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے یہ سلسلہ قائم کیا تو اسی طرح مخالفت کا شور اُٹھا جیسے شروع سے ہوتا آیا ہے، یہی مولوی جو اَب منکر ہیں اور کُفر کے فتوے دیتے ہیں میرے مبعوث ہونے سے پہلے یہ لوگ منبروں پر چڑھ کر بیان کیا کرتے تھے کہ تیرھویں صدی بہت خراب ہے جس سے بھیڑیوں نے بھی پناہ مانگی ہے اور اب چودھویں صدی آئی ہے جس میں مسیح اور مہدی آئے گا اور ہمارے دکھوں کا علاج ہوگا یہاں تک کہ اکثر اکابر انِ اُمّت نے آنے والے کو سلام کی وصیت کی اور سب نے یہ تسلیم کیا کہ جس قدر کشوف اہل اللہ کے ہیں وہ چودھویں صدی سے آگے نہیں جاتے ہیں مگر جب وہ وقت آیا اور آنے والا آ گیا تو وہی زبانیں انکار اور سبّ وشتم کے لیے تیز ہوگئیں۔ تقویٰ کا تقاضا تو یہ تھا کہ اگر وہ تسلیم کرنے میں سب سے اوّل نہ ہوتے تو انکار کے لیے بھی تو جلدی نہیں کرنی چاہیے تھی کم از کم تصدیق اور تکذیب کے دونوں پہلو برابر رکھتے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ بدوں نصوصِ قرآنیہ وحدیثیہ اور دلائل قویہ عقلیہ یا تائیداتِ سماویہ کے مان لیں۔ مگر ہم یہ افسوس سے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ مسلمان جن کو قرآن شریف میں سورۃ فاتحہ کے بعد ہی ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ(البقرۃ:) ۲) سکھایا گیا تھا اور جن کو یہ تعلیم دی گئی تھی اِنۡ اَوۡلِیَآؤُہٗۤ اِلَّا الۡمُتَّقُوۡنَ(الانفال:۳۵) اور جن کو بتایا گیا تھا اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الۡمُتَّقِیۡنَ(المائدۃ:۲۸) ان کو کیا ہو گیا کہ انہوں نے اس معاملہ میں اس قدر جلد بازی سے کام لیا اور تکفیر اور تکذیب کے لیے دلیر ہوگئے۔ ان کا فرض تھا کہ وہ میرے دعاوی اور دلائل کو سنتے اور پھر خدا سے ڈر کر ان پر غور کرتے۔ کیا ان کی جلد بازی سے پتا لگ سکتا ہے کہ انہوں نے تقویٰ سے کام لیا ہے جلد بازی اور تقویٰ کبھی دونوں اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ نبیوں کو اللہ تعالیٰ نے یہی کہا فَاصۡبِرۡ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الۡعَزۡمِ(الاحقاف:۳۶) پھر عام لوگوں کو کس قدر ضرورت تھی کہ وہ تقویٰ سے کام لیتے اور خدا سے ڈرتے۔
باوجودیکہ علماء کی اگر میرے دعویٰ سے پہلے کی کتابیں دیکھی جاتی ہیں تو ان سے کس قدر انتظار اور شوق کا پتا لگتا ہے گویا وہ تیرھویں صدی کے علامات سے مضطرب اور بے قرار ہو رہے ہیں مگر جب وقت آیا تو اوّل الکافرین ٹھہرتے ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ ہمیشہ کہتے آتے تھے کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدّد اصلاح فساد کے لیے آتا ہے اور ایک رُوحانی طبیب مفاسدِ موجودہ کی اصلاح کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ صدی کا سر پا کر وہ انتظار کرتے۔ ضرورت کے لحاظ سے ان کو مناسب تھا کہ ایسے مجدّد کا انتظار کرتے جو کسر صلیب کے لیے آتا کیونکہ اس وقت سب سے بڑا فتنہ یہی ہے۔ ایک عام آدمی سے بھی اگر سوال کیا جاوے کہ اس وقت بڑا فتنہ کون سا ہے؟ تو وہ یہی جواب دے گا کہ پادریوں کا۔ ۳۰لاکھ کے قریب تو اسی ملک سے مرتد ہو گیا۔ اسلام وہ مذہب تھا کہ اگر ایک بھی مرتد ہوتا تو قیامت آجاتی اسلام کیا اور ارتداد کیا؟ ایک طرف اس قدر لوگ مرتد ہو گئے دوسری طرف اسلام کے خلاف جو کتابیں لکھی گئی ہیں ان کو جمع کریں تو کئی پہاڑ بنتے ہیں بعض پرچے ایسے ہوتے ہیں کہ کئی کئی لاکھ شائع ہوتے ہیں اور ان میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ بتاؤ ایسی حالت اور صورت میں اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ(الحجر:۱۰) کا وعدہ کہاں گیا؟ اس نے وہ گالیاں سیدالمعصومین کی نسبت سنیں جن سے دنیا میں لرزہ پڑ گیا مگر اسے غیرت نہ آئی اور کوئی آسمانی سلسلہ اس نے قائم نہ کیا؟ کیا ایسا ہوسکتا تھا۔ جب چنداں بگاڑ نہ تھا تو مجدّد آتے رہے اور جب بگاڑ حد سے بڑھ گیا تو کوئی نہ آیا۔ سوچو تو سہی! کیا عقل قبول کرتی ہے کہ جس اسلام کے لیے یہ وعدے اور غیرت خدا نے دکھائے جس کے نمونے صدرِ اسلام میں موجود ہیں تو اب ایسا ہوا کہ نعوذ باللہ مَر گیا۔ اب اگر پادری یا دوسرے مذاہب کے لوگ پوچھیں کہ کیا نشان ہے اس کی سچائی کا تو بتاؤ قصہ کے سوا کیا جواب ہے۔ جیسے ہندو کوئی پشتک پیش کر دیتے ہیں ویسے ہی یہ چند ورق لے کر آگے ڈال سکتے ہیں؟ بڑی بات یہ کہ معجزات کے لیے چند حدیثیں پیش کر دیں مگر کوئی کب مان سکتا ہے کہ ڈیڑھ سو برس بعد کے لکھے ہوئے واقعات صحیح ہیں۔ مخالف پر حجت کیوں کر ہو؟ وہ تو زندہ خدا اور زندہ معجزہ کو مانے گا۔
اس وقت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اور خرابیوں کے علاوہ اسلام کو بھی مُردہ مذہب بتایا جاتا ہے حالانکہ نہ وہ کبھی مُردہ۱؎ ہوگا۔ خدا تعالیٰ نے اس کی زندگی کے ثبوت میں آسمان سے نشان دکھائے۔ کسوف خسوف بھی ہوا۔ طاعون بھی آئی۔ حج بھی بند ہوا۔ وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ(التکویر:۵) کے موافق ریلیں بھی جاری ہوئیں۔ غرض وہ نشان جو اس زمانہ کے لیے رکھے تھے پورے ہوئے مگر یہ کہتے ہیں ابھی وہ وقت نہیں آیا۔
ماسوا اس کے وہ نشان ظاہر کیے جن کے گواہ نہ صرف ہماری جماعت کے لوگ ہیں بلکہ ہندو اور عیسائی بھی گواہ ہیں اور اگر وہ دیانت امانت کو نہ چھوڑیں تو ان کو سچی گواہی دینی پڑے گی۔ میں نے بارہا کہا ہے کہ صادق کی شناخت کے تین بڑے معیار ہیں۔ اوّل نصوص کو دیکھو۔ پھر عقل کو دیکھو کہ کیا حالت موجودہ کے موافق کسی صادق کو آنا چاہیے یا نہیں؟ تیسرا کیا اس کی تائید میں کوئی معجزات اور خوارق بھی ہیں؟ مثلًا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دیکھتے ہیں کہ توریت انجیل میں بشارات موجود ہیں۔ یہ تو نصوص کی شہادت ہے اور عقل اس واسطے مؤید ہے کہ اس وقت بحرو بر میں فساد تھا گویا نبوت کا ثبوت ایک نص تھا دوسری ضرورت تیسری وہ معجزات جو آپ سے صادر ہوئے۔
اب اگر کوئی سچے دل سے طالب حق ہو تو اس کو یہی باتیں یہاں دیکھنی چاہئیں اور ان کے موافق ثبوت لے۔ اگر نہ پائے تو تکذیب کا حق اسے حاصل ہے اور اگر ثابت ہو جائیں اور وہ پھر بھی تکذیب کرے تو میری نہیں کل انبیاء کی تکذیب کرے گا۔
نووارد۔ اگر ان ضروریات موجودہ کی بنا پر کوئی اور دعویٰ کرے کہ میں عیسیٰ ہوں تو کیا فرق ہوگا؟
حضرت اقدس۔ یہ فرضی بات ہے ایسے شخص کا نام لیں۔ اگر یہی بات ہے کہ ایک کاذب بھی کہہ سکتا ہے تو پھر آپ اس اعتراض کا جواب دیں کہ اگر مسیلمہ کذّاب کہتا کہ توریت اور انجیل کی بشارت کا مصداق میں ہوں تو آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کے لیے کیا جواب دیں گے؟
نووارد۔ میں نہیں سمجھا۔
حضرت اقدس۔ میرا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کا یہ اعتراض صحیح ہو سکتا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت بھی تو بعض جھوٹے نبی موجود تھے جیسے مسیلمہ کذّاب، اسود عنسی۔ اگر وہ یہ کہتے کہ انجیل اور توریت میں جو بشارات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موجود ہیں جن کے موافق یہ کہتے کہ یہ بشارات میرے حق میں ہیں تو کیا جواب ہو سکتا تھا؟
نووارد۔ میں اس کو تسلیم کرتا ہوں۔
حضرت اقدس۔ یہ سوال اس وقت ہو سکتا تھا جب ایک ہی جزو پیش کرتا مگر میں تو کہتا ہوں کہ میری تصدیق میں دلائل کا ایک مجموعہ میرے ساتھ ہے۔ نصوصِ قرآنیہ حدیثیہ میری تصدیق کرتے ہیں ضرورتِ موجودہ میرے وجود کی داعی اور وہ نشان جو میرے ہاتھ پر پورے ہوئے ہیں وہ الگ میرے مصدّق ہیں۔ ہر ایک نبی ان امور ثلاثہ کو پیش کرتا رہا ہے اور میں بھی یہی پیش کرتا ہوں۔ پھر کس کو انکار کی گنجائش ہے۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ یہ میرے لیے ہے تو اسے میرے مقابلہ میں پیش کرو۔
(ان فقرات کو حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایسے جوش سے بیان کیا کہ وہ الفاظ میں ادا ہی نہیں ہو سکتا نتیجہ یہ ہوا کہ یہاں نو وارد صاحب بالکل خاموش ہو گئے اور پھر چند منٹ کے بعد انہوں نے اپنا سلسلہ کلام یوں شروع کیا۔
)نووارد۔ عیسیٰ علیہ السلام کے لئے جو آیا ہے کہ وہ مُردوں کو زندہ کرتے تھے کیا یہ صحیح ہے؟۱؎
حضرت اقدس۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو آیا ہے کہ وہ مثیلِ موسیٰ تھے کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپؐ نے عصا کا سانپ بنایا ہو۔ کافر یہی اعتراض کرتے رہے فَلۡیَاۡتِنَا بِاٰیَۃٍ کَمَاۤ اُرۡسِلَ الۡاَوَّلُوۡنَ(الانبیآء:۶) معجزہ ہمیشہ حالتِ موجودہ کے موافق ہوتا ہے۔ پہلے نشانات کافی نہیں ہو سکتے اور نہ ہر زمانہ میں ایک ہی قسم کے نشان کافی ہو سکتے ہیں۔
نووارد۔ اس وقت آپ کے پاس کیا معجزہ ہے؟
حضرت اقدس۔ ایک ہو تو میں بیان کروں۔ ڈیڑھ سو کے قریب نشان میں نے اپنی کتاب میں لکھے ہیں جن کے ایک لاکھ کے قریب گواہ ہیں اور ایک نوع سے وہ نشانات ایک لاکھ کے قریب ہیں۔
نووارد۔ عربی میں آپ کا دعویٰ ہے کہ مجھ سے زیادہ فصیح کوئی نہیں لکھ سکتا۔
حضرت اقدس۔ ہاں۔
نو وارد۔ بے ادبی معاف۔ آپ کی زبان سے قاف ادا نہیں ہو سکتا۔
حضرت اقدس۔ یہ بیہودہ باتیں ہیں۔۱؎ میں لکھنؤ کا رہنے والا تو نہیں ہوں کہ میرا لہجہ لکھنوی ہو۔ میں تو پنجابی ہوں۔ حضرت موسیٰ پر بھی یہ اعتراض ہوا کہ یَکَادُ یُبِیۡنُ(الزّخرف:۵۳) اور احادیث میں مہدی کی نسبت بھی آیا ہے کہ اس کی زبان میں لکنت ہوگی۔
(اس مقام پر ہمارے ایک مخلص مخدوم کو یہ اعتراض حسنِ ارادت کی وجہ اور غیرتِ عقیدہ کے سبب سے ناگوار گذرا۔ اور وہ سُوئِ ادبی کو برداشت نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حضرت اقدسؑ کا ہی حوصلہ ہے۔ اس پر نو وارد صاحب کو بھی طیش سا آ گیا اور انہوں نے بخیال خویش یہ سمجھا کہ انہوں نے غصّہ سے کہا ہے اور کہا کہ میں اعتقاد نہیں رکھتا اور حضرت اقدس سے مخاطب ہو کر کہا کہ استہزا اور گالیاں سننا انبیاء کا ورثہ ہے۔)
حضرت اقدس۔ ہم ناراض نہیں ہوئے یہاں تو خاکساری ہے۔
نو وارد۔ میں تو لِّیَطۡمَئِنَّ قَلۡبِیۡ(البقرۃ:۲۶۱) کی تفسیر چاہتا ہوں۔
حضرت اقدس۔ میں آپ سے یہی توقع رکھتا ہوں مگر اللہ جلّ شانہ نے اطمینان کا ایک ہی طریق نہیں رکھا۔ موسیٰ علیہ السلام کو اور معجزات دیئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اور معجزات دیئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اور قسم کے نشان بخشے۔ میرے نزدیک وہ شخص کذّاب ہے جو یہ دعویٰ کرے کہ میں خدا کی طرف سے آیا ہوں اور کوئی معجزہ اور تائیدات اپنے ساتھ نہ رکھتا ہو۔ مگر یہ بھی میرا مذہب نہیں کہ معجزات ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں اور میں اس کا قائل نہیں کیونکہ قرآن شریف سے یہ اَمر ثابت نہیں کہ ہر اقتراح کا جواب دیا جاتا ہے۔ مداری۲؎ کی طرح یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیے گئے کہ آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور وہاں سے کتاب لے آئیں یا یہ کہ تمہارا سونے کا گھر ہو یا یہ کہ مکہ میں نہر آ جاوے مگر ان کا جواب کیا ملا؟ یہی ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا(بنی اسرآءیل:۹۴) انسان کو مؤدب باَ دب انبیاء ہونا چاہیے۔ خدا تعالیٰ جو کچھ دکھاتا ہے انسان اس کی مثل نہیں لا سکتا میری تائید میں ایک نوع سے ڈیڑھ سو اور ایک نوع سے ایک لاکھ نشانات ظاہر ہوئے ہیں۔۱؎
حضرت اقدس۔ اچھا کیا آپ نے دو تین روز کا مصمم ارادہ کر لیا ہے؟
نو وارد۔ کل کچھ عرض کروں گا۔
حضرتؑ۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ جو دور دراز سے آئے ہیں کچھ واقفیت ضرور ہونی چاہیے۔ کم از کم تین دن آپ رہ جائیں۔ میں یہی نصیحت کرتا ہوں اور اگر اور نہیں تو آمدن بارادت و رفتن باجازت ہی پر عمل کریں۔
نو وارد۔ میں نے یہاں آکر اوّل دریافت کر لیا تھا کہ کوئی اَمر شرک کا نہیں۔ اس لیے میں ٹھہر گیا کیونکہ شرک سے مجھے سخت نفرت ہے۔
حضرت اقدس نے پھر جماعت کو خطاب کر کے فرمایا کہ میرے اصول کے موافق اگر کوئی مہمان آوے اور سبّ و شتم تک بھی نوبت پہنچ جاوے تو اس کو گوارا کرنا چاہیے کیونکہ وہ مریدوں میں تو داخل نہیں ہے۔ ہمارا کیا حق ہے کہ اس سے وہ ادب اور ارادت چاہیں جو مریدوں سے چاہتے
۱؎ البدر میں ہے۔ ’’سوا یسے نشان ہم نے نزول ال مسیح میں لکھے ہیں اور ایک طریق سے دیکھا جاوے تو یہ نشان کئی لاکھ موجود ہیں۔ آپ ایک دو دن ٹھہریں اور دیکھ لیویں۔
‘‘محمد یوسف صاحب۔ اجی جناب میں ٹھیر کر کیا کروں گا۔ اکیلا آدمی ہوں اور یہاں یہ جوش وخروش۔ میں ڈرتا تو کسی سے نہیں مگر ایسا ہی لگتا ہے تو میں ابھی تار دے کر اپنے دوستوں کو بُلا لیتا ہوں۔ ناظرین پر واضح ہو کہ اس اثناء میں جب کہ ہمارے جوشیلے احمدی بھائی نے ان نئے سائل کو غیرت مندانہ جواب دیا تھا تو حضرت اقدس نے ان کو چُپ کروا دیا تھا۔ پھر محمد یوسف صاحب کے اس اعتراض پر فرمایا۔ حضرت اقدس۔ یہ تقاضائے محبت ہے کچھ اور نہیں۔ محبت میں ایسا ہوا کرتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی اس کی نظیر دیکھی جاتی ہے کہ ابوبکرؓ جیسا شخص جو کہ غایت درجہ کا مؤدب تھا جب اس کے سامنے ایک عرب کے سر بر آوردہ شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کو ہاتھ لگا کر کہا کہ تو نے ان مختلف لوگوں کا جتھا بنا کر جو عرب کی قوم کا مقابلہ کرنا چاہا یہ غلطی ہے تو حضرت ابوبکرؓ نے اس وقت بڑے غصّہ میں آکر اُسے کہا اُمْصُصْ بِبَظْرِ اللَّاتِ (یہ عرب میں ایک گالی ہوتی ہے )آپ کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ یہ کس قدر نقصان برداشت کر کے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ محبت ہے جس نے بٹھایا ہوا ہے۔ آپ نو وارد اور یہ ق ابلِ احترام۔ (البدر جلد ۲ نمبر ۷ مورخہ ۶؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۵۱ ہیں۔ یہ بھی ہم ان کا احسان سمجھتے ہیں کہ نرمی سے باتیں کریں۔۱؎
پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ زیارت کرنے والے کا تیرے پر حق ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر مہمان کو ذرا سا بھی رنج ہو تو وہ معصیت میں داخل ہے۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ ٹھہریں۔ چونکہ کلمہ کا اشتراک ہے جب تک یہ نہ سمجھیں جو کہیں ان کا حق ہے۔۲؎
۱۴؍فروری ۱۹۰۳ء
(صبح کی سیر)
چونکہ نووارد صاحب کو پوری طرح تبلیغ کرنا حضرت حجۃ اللہ کا منشا تھا لہٰذا سیر میں بھی اس کو خطاب کر کے آپ نے سلسلہ تقریر شروع فرمایا (ایڈیٹر)۳؎
مامور کے آنے پر دو گروہ ہو جاتے ہیں
میں نے بہت غور کیا ہے کہ جب کوئی مامور آتا ہے تو دو گروہ خود بخود ہو جاتے ہیں ایک موافق دوسرا مخالف اور یہ بات بھی ہر ایک عقل سلیم رکھنے والا جانتا ہے کہ اس وقت ایک جذب اور ایک نفرت پیدا ہو جاتی ہے یعنی سعید الفطرت کھچے چلے آتے ہیں اور جو لوگ سعادت سے حصہ نہیں رکھتے ان میں نفرت بڑھنے لگتی ہے۔ یہ ایک فطرتی بات ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا۔
طبیب اس اَمر کو بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ اس سے وہی شخص فائدہ اُٹھا سکتا ہے جو اوّل اپنے مرض کو شناخت کرے اور محسوس کرے کہ میں بیمار ہوں اور پھر یہ شناخت کرے کہ طبیب کون ہے؟ جب تک یہ دو باتیں پیدا نہ ہوں وہ اس سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔ یہ بھی یاد رہے کہ مرض دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک مرض مختلف ہوتا ہے جیسے قولنج کا درد یعنی جو محسوس ہوتا ہے اور ایک مستوی جیسے برص کے داغ کہ ان کا کوئی درد اور تکلیف بظاہر محسوس نہیں ہوتی۔ انجام خطرناک ہوتا ہے مگر انسان ایسی صورتوں میں ایک قسم کا اطمینان پاتا ہے اور اس کی چنداں فکر نہیں کرتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اوّل اپنے مرض کو شناخت کرے اور اسے محسوس کرے پھر طبیب کو شناخت کرے بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی معمولی حالت پر راضی ہو جاتے ہیں۔ّّ۱؎
یہی حال اس وقت ہو رہا ہے۔ اپنی حالت پر خوش ہیں اور کہتے ہیں کہ مہدی کی کیا ضرورت ہے حالانکہ خدا دانی اور معرفت سے بالکل خالی ہو رہے ہیں۔
خدا دانی اور معرفت بہت مشکل ہے۔ ہر چیز اپنے لوازمات کے ساتھ آتی ہے پس جہاں خدا دانی آتی ہے اس کے ساتھ ہی ایک خاص معرفت اور تبدیلی بھی آ جاتی ہے کبائر اور صغائر جو چیونٹیوں کی طرح ساتھ لگے ہوئے ہیں خدا کی معرفت کے ساتھ ہی وہ دور ہونے لگتے ہیں یہاں تک کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ اب میں وہ نہیں بلکہ اَور ہوں۔ خدا دانی میں جب ترقی کرنے لگتا ہے تو گناہ سے بیزاری اور نفرت پیدا ہو جاتی ہے یہاں تک کہ اطمینان کی حالت میں پہنچ جاتا ہے۔
نفس کی تین قسمیں
نفس تین قسم کے ہوتے ہیں ایک نفسِ امّارہ ایک لوّامہ اور تیسرا مطمئنّہ۔ پہلی حالت میں تو صُمٌّۢ بُکۡمٌ(البقرۃ:۱۹) ہوتا ہے کچھ معلوم اور محسوس نہیں ہوتا کہ کدھر جا رہا ہے امّارہ جدھر چاہتا ہے لے جاتا ہے۔ اس کے بعد جب اللہ تعالیٰ کا فضل ہو تو معرفت کی ابتدائی حالت میں لوّامہ کی حالت پیدا ہو جاتی ہے اور گناہ اور نیکی میں فرق کرنے لگتا ہے۔ گناہ سے نفرت کرتا ہے مگر پوری قدرت اور طاقت عمل کی نہیں پاتا۔ نیکی اور شیطان سے ایک قسم کا جنگ ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ کبھی یہ غالب ہوتا اور کبھی مغلوب ہوتا ہے لیکن رفتہ رفتہ وہ حالت آجاتی ہے کہ یہ مطمئنّہ کے رنگ میں آ جاتا ہے اور پھر گناہوں سے نری نفرت ہی نہیں ہوتی بلکہ گناہ کی لڑائی میں یہ فتح پالیتا ہے اور ان سے بچتا ہے اور نیکیاں اس سے بلا تکلّف صادر ہونے لگتی ہیں۔ پس اس اطمینان کی حالت پر پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے لوّامہ کی حالت پیدا ہو اور گناہ کی شناخت ہو۔ گناہ کی شناخت حقیقت میں بہت بڑی بات ہے جو اُس کو شناخت نہیں کرتا اس کا علاج نبیوں کے پاس نہیں ہے۔؎۱ نیکی کا پہلا دروازہ اسی سے کھلتا ہے اوّل اپنی کو رانہ زندگی کو سمجھے اور پھر بُری مجلس اور بُری صحبت کو چھوڑ کر نیک مجلس کی قدر کرے اس کا یہی کام ہونا چاہیے کہ جہاں بتایا جاوے کہ اس کے مرض کا علاج ہوگا وہ اس طبیب کے پاس رہے اور جو کچھ وہ اس کو بتاوے اس پر عمل کرنے کے لیے ہمہ تن طیار ہو۔ دیکھو! بیمار جب کسی طبیب کے پاس جاتا ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ وہ طبیب کے ساتھ ایک مباحثہ شروع کر دے بلکہ اس کا فرض یہی ہے کہ وہ اپنا مرض پیش کرے اور جو کچھ طبیب اس کو بتائے۱؎ اس پر عمل کرے اس سے وہ فائدہ اُٹھائے گا۔ اگر اُس کے علاج پر جرح شروع کر دے تو فائدہ کس طرح ہو گا۔
انسان کی پید ائش کی علّتِ غائی
انسان کا فرض ہے کہ اس میں نیکی کی طلب صادق ہو اور وہ اپنے مقصدِ زندگی کو سمجھے۔ قرآن شریف میں انسان کی زندگی کا مقصد یہ بتایا گیا ہے خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ(الذّٰریٰت:۵۷) یعنی جنّ اور انسان کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ جب انسان کی پیدائش کی علّتِ غائی یہی ہے تو پھر چاہیے کہ خدا کو شناخت کریں۔ جب کہ انسان کی پیدائش کی علّتِ غائی یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی عبادت کرے اور عبادت کے واسطے اوّل معرفت کا ہونا ضروری ہے۔ جب سچی معرفت ہو جاوے تب وہ اس کی خلاف مرضی کو ترک کرتا اور سچا مسلمان ہو جاتا ہے۔ جب تک سچا علم پیدا نہ ہو کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں ہوتا۔ دیکھو! جن چنروں کے نقصان کو انسان یقینی سمجھتا ہے ان سے بچتا ہے مثلاً سمّ الفار ہے جانتا ہے کہ یہ زہر ہے اس لیے اس کو استعمال کرنے کے لیے جرأت اور دلیری نہیں کرتا کیونکہ جانتا ہے کہ اس کا کھانا موت کے منہ میں جانا ہے۔ ایسا ہی کسی زہریلے سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالتا یا طاعون والے گھر میں نہیں ٹھہرتا اگرچہ جانتا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے منشا سے ہوتا ہے تاہم وہ ایسے مقامات میں جانے سے ڈرتا ہے اب سوال یہ ہے کہ پھر گناہ سے کیوں نہیں ڈرتا؟۲؎ انسان کے اندر بہت سے گناہ ایسی قسم کے ہیں کہ وہ معرفت کی خوردبین کے سوا نظر ہی نہیں آتے۔ جُوں جُوں معرفت بڑھتی ہے انسان گناہوں سے واقف ہوتا جاتا ہے بعض صغائر ایسی قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ ان کو نہیں دیکھتا لیکن معرفت کی خوردبین ان گناہوں کو دکھا دیتی ہے۔ غرض اوّل گناہ کا علم عطا ہوتا ہے۔ پھر وہ خدا جس نے یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ(الزلزال:۸) فرمایا اس کو عرفان بخشتا ہے، تب وہ بندہ خدا کے خوف میں ترقی کرتا اور اس پاکیزگی کو پالیتا ہے جو اس کی پیدائش کا مقصد ہے۔
جماعت کے قیام کی غرض
اس سلسلہ سے خدا تعالیٰ نے یہی چاہا ہے اور اس نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ تقویٰ کم ہو گیا ہے۔ بعض تو کھلے طور پر بے حیائیوں میں گرفتار ہیں اور فسق و فجور کی زندگی بسر کرتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو ایک قسم کی ناپاکی کی ملونی اپنے اعمال کے ساتھ رکھتے ہیں مگر انہیں نہیں معلوم کہ اگر اچھے کھانے میں تھوڑا سا زہر پڑ جاوے تو وہ سارا زہر یلا ہو جاتا ہے اور بعض ایسے ہیں جو چھوٹے چھوٹے ریاکاری وغیرہ جن کی شاخیں باریک۱؎ ہیں ان میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہے کہ دنیا کو تقویٰ اور طہارت کی زندگی کا نمونہ دکھائے۔ اسی غرض کے لیے اس نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے۔ وہ تطہیر چاہتا ہے اور ایک پاک جماعت بنانا اس کا منشا ہے۔
ایک پہلو تو میری بعثت اور ماموریت کا یہ ہے۔ دوسرا پہلو کسرِ صلیب کا ہے۔ کسرِ صلیب کے لیے جس قدر جوش خدا نے مجھے دیا ہے اس کا کسی دوسرے کو علم نہیں ہو سکتا۔ صلیبی مذہب نے جو کچھ نقصان عورتوں مَردوں اور جوانوں کو پہنچایا ہے اس کا اندازہ مشکل ہے۔۲؎ ہر پہلو سے اسلام کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ کوئی ڈاکٹر ہے تو وہ طبابت کے رنگ میں یا صدقات و خیرات کے رنگ میں عہدہ دار ہو تب ولیم میور کی طرح اپنے رنگ میں۔ غرض صدہا شاخیں ہیں جو اسلام کے استیصال کے لیے انہوں نے اختیار کر رکھی ہیں۔ یہ دل سے چاہتے ہیں کہ ایک فرد بھی اسلام کا نام لینے والا باقی نہ رہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والا کوئی نہ ہو۔ ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں جن میں ان کے جوش کو بیان کر سکیں۔
ایسی حالت میں خدا تعالیٰ نے مجھے وہ جوش کسرِ صلیب کے لیے دیا ہے کہ دنیا میں اس وقت کسی اَور کو نہیں دیا گیا۔ پھر کیا یہ جوش بدوں خدا کی طرف سے مامور ہو کر آنے کے پیدا ہوسکتا ہے؟
جس قدر توہین اللہ تعالیٰ کی اور اس کے پاک رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کی گئی ہے کیا ضرور نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ جو غیور ہے آسمان سے مدد کرتا۔
غرض ایک طرف تو یہ صلیبی فتنہ انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ دوسری طرف صدی ختم ہوگئی۔ تیسری طرف اسلام کا ہر پہلو سے ضعیف ہونا کسی طرف نظر اُٹھا کر دیکھو طبیعت کو بشاشت نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں ہم چاہتے ہیں کہ پھر خدا کا جلال ظاہر ہو۔ مجھے محض ہمدردی سے کلام کرنا پڑتا ہے ورنہ میں جانتا ہوں کہ غائبانہ میری کیسی ہنسی کی جاتی ہے اور کیا کیا افترا ہوتے ہیں۔ مگر جو جوش خدا نے مجھے ہمدردی مخلوق کا دیا ہوا ہے وہ مجھے ان باتوں کی کچھ بھی پروا نہیں کرنے دیتا۔ میں تو خدا کو خوش کرنا چاہتا ہوں نہ لوگوں کو۔ اس لیے میں ان کی گالیوں اور ٹھٹھوں کی کچھ پروا نہیں کرتا۔ میں دیکھتا ہوں کہ میرا مولا میرے ساتھ ہے۔ ایک وقت تھا کہ ان راہوں میں مَیں اکیلا پھرا کرتا تھا۔ اس وقت خدا نے مجھے بشارت دی کہ تو اکیلا نہ رہے گا بلکہ تیرے ساتھ فوج در فوج لوگ ہوں گے اور یہ بھی کہا کہ تو ان باتوں کو لکھ لے اور شائع کر دے کہ آج تیری یہ حالت ہے پھر نہ رہے گی۔ میں سب مقابلہ کرنے والوں کو پست کر کے ایک جماعت کو تیرے ساتھ کر دوں گا۔ وہ کتاب موجود ہے مکّہ معظمہ میں بھی اس کا ایک نسخہ بھیجا گیا تھا۔ بخارا میں بھی اور گورنمنٹ میں بھی۔ اس میں جو پیشگوئیاں ۲۲ سال پیشتر چھپ کر شائع ہوئی ہیں وہ آج پوری ہو رہی ہیں۔ کون ہے جو ان کا انکار کرے۔ ہندو، مسلمان اور عیسائی سب گواہی دیں گے کہ یہ اس وقت بتایا گیا تھا جب میں اَحَدٌ مِّنَ النَّاسِ تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ ایک زمانہ آئے گا کہ تیری مخالفت ہو گی مگر میں تجھے بڑھاؤں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اب ایک آدمی سے پونے دو لاکھ تک تو نوبت پہنچ گئی دوسرے وعدے بھی ضرور پورے ہوں گے۔
لیکھرام کے متعلق نشان
پھر آریوں کے مقابل میں ایک نشان مجھے دیا گیا جو لیکھرام کے متعلق تھا وہ اسلام کا دشمن تھا اور گندی گالیاں دیا کرتا اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتا تھا۔ یہاں قادیان آیا اور اس نے مجھ سے نشان مانگا۔ میں نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی چنانچہ میں نے اس کو شائع کر دیا اور یہ کوئی مخفی بات نہیں۔ کُل ہندوستان اس کو جانتا ہے کہ جس طرح قبل از وقت اس کی موت کا نقشہ کھینچ کر دکھایا گیا تھا اسی طرح وہ پورا ہو گیا۔ اس کے علاوہ اور بہت سے نشانات ہیں جو ہم نے اپنی کتابوں میں درج کیے ہیں اور اس پر بھی ہم ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارا خدا تھکنے والا خدا نہیں۔ وہ تکذیب کرنے والوں کے لیے ہر وقت طیار ہے۔ میں نے پنجاب کے مولویوں اور پادریوں کو ایسی دعوت کی ہے کہ وہ میرے مقابل میں آکر ان نشانات کو جو ہم پیش کرتے ہیں فیصلہ کر لیں۔ اگر ان کو نہ مانیں تو دعا کر سکتا ہوں اور اپنے خدا پر یقین رکھتا ہوں کہ اور نشان ظاہر کر دے گا لیکن میں دیکھتا ہوں کہ وہ صدق نیت سے اس طرف نہیں آتے بلکہ لیکھرامی حیلے کرتے ہیں۱؎ مگر خدا تعالیٰ کسی کی حکومت کے نیچے نہیں ہے۔
میں بار بار یہی کہتا ہوں کہ پہلے ان خوارق کو جو پیش کرتا ہوں دیکھ لو اور منہاجِ نبوت پر سوچو۔ اگر پھر بھی تکذیب کے لیے جرأت کرو گے تو خدا کی غیرت کے لیے زیادہ جنبش ہو گی اور وہ قادر ہے کہ کوئی اَمر انسانی طاقت سے بالاتر ظاہر کرے۔ لیکھرام کی نسبت جب پیشگوئی کی گئی تھی تو اس نے بھی میرے لیے ایک پیشگوئی کی تھی اور یہ شائع کر دیا تھا کہ تین سال کے اندر ہیضہ سے ہلاک ہو جاوے گا مگر اب دیکھو کہ اس کی ہڈیوں کا بھی کہیں نشان پایا جاتا ہے۔ مگر میں خدا کے فضل سے اسی طرح زندہ ہوں۔ یہ امور ہیں اگر حق پسند تأنی اور توقف سے ان میں غور کرے تو فائدہ اٹھا سکتا ہے مگر نرے بحث کرنے والے جلد باز کو کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔۱؎
منجملہ میرے نشانوں کے طاعون کا بھی ایک نشان ہے اس وقت میں نے خبر دی تھی جب کہ ابھی کوئی نام و نشان بھی اس کا پایا نہ جاتا تھا اور یہ بھی الہام ہوا تھا کہ یَا مَسِیْحَ الْـخَلْقِ عَدْوَا نَا اب دیکھ لو کہ یہ وبا خطرناک طور پر پھیلی ہوئی ہے اور گاؤں کے گاؤں اس طرف رجوع کر رہے ہیں اور توبہ کرتے جاتے ہیں کیا یہ باتیں انسانی طاقت کے اندر ہیں؟ یہی امور ہیں جو خارق عادت کہلاتے ہیں۔
نووارد۔ کیا یہ ضروری ہے کہ ہر صدی پر مجدّد ہونا چاہیے۔۲؎
تجدید دین کی ضرورت
حضرت اقدس۔ ہاں یہ تو ضروری ہے کہ ہر صدی کے سر پر مجدّد آئے۔ بعض لوگ اس بات کو سن کر پھر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب کہ ہر صدی پر مجدّد آتا ہے تو پھر تیرہ صدیوں کے مجدّدوں کے نام بتاؤ۔ میں اس کا پہلا جواب یہ دیتا ہوں کہ ان مجدّدوں کے نام بتانا میرا کام نہیں یہ سوال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کرو جنہوں نے فرمایا ہے کہ ہر صدی پر مجدّد آتا ہے اس حدیث کو تمام اکابر نے تسلیم کر لیا ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب بھی اس کو مانتے ہیں کہ یہ حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے اور حدیث کی کتابیں جو موجود ہیں ان میں یہ حدیث پائی جاتی ہے کسی نے کبھی اس کو پھینک نہ دیا اور نہ کہا کہ یہ حدیث نکال دینی چاہیے جب کہ یہ بات ہے تو پھر مجھ سے فہرست کیوں مانگی جاتی ہے۔
میرا یہ مذہب ہے کہ عدم علم سے عدم شَے لازم نہیں آتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جو منسوب ہو اگر وہ قرآن شریف کے برخلاف نہ ہو تو میں اس کو مانتا ہوں۔ خود ہی ان لوگوں سے پوچھو کہ کیا یہ حدیث جھوٹی ہے؟ تو اسے پہلے نکالو اور اگر شکی ہے تو پھر تقویٰ کا تقاضا تو یہ ہے کہ کم از کم اس حدیث کی رو سے مجھے بھی شکی ہی مان لو عجیب بات ہے حدیث کو شکی کہو اور مجھے کذّاب! یہ تو تقویٰ کا طریق نہیں۔ اگر بفرض محال جھوٹی ہے تو پھر جان بوجھ کر جھوٹ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا لعنتی کا کام ہے۔ سب سے پہلا کام تو علماء کا یہ ہونا چاہیے کہ اس کو نکال ڈالیں مگر میں یقین دلاتا ہوں کہ یہ حدیث جھوٹی نہیں، صحیح ہے۔ یہ عام طور پر مشہور ہے کہ ہر صدی پر مجدّد آتا ہے۔ نواب صدیق حسن خان وغیرہ نے ۱۳ مجدّد گن کر بھی دکھائے ہیں مگر میں اس کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ اس حدیث کی صحت کا یہ معیار نہیں بلکہ قرآن اس کی صحت کا گواہ ہے۔ یہ حدیث اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ(الحجر:۱۰) کی شرح ہے صدی ایک عام آدمی کی عمر ہوتی ہے اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا کہ سو سال بعد کوئی نہ رہے گا جیسے صدی جسم کو مارتی ہے اسی طرح ایک روحانی موت بھی واقع ہوتی ہے اس لیے صدی کے بعد ایک نئی ذُرّیت پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے اناج کے کھیت اب دیکھتے ہیں ہرے بھرے ہیں ایک وقت میں بالکل خشک ہوں گے پھر نئے سرے سے پیدا ہو جائیں گے۔ اس طرح پر ایک سلسلہ جاری رہتا ہے۔ پہلے اکابر سو سال کے اندر فوت ہو جاتے ہیں اس لیے خدا تعالیٰ ہر صدی پر نیا انتظام کر دیتا ہے جیسا رزق کا سامان کرتا ہے پس قرآن کی حمایت کے ساتھ یہ حدیث تواتر کا حکم رکھتی ہے۔ کپڑا پہنتے ہیں تو اس کی بھی تجدید کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔ اسی طریق پر نئی ذُرّیت کو تازہ کرنے کے لئے سنّت اللہ اسی طرح جاری ہے کہ ہر صدی پر مجدّد آتا ہے۔ غرض مجھ سے ایک حدیث کے موافق گذشتہ مجدّدوں کا مؤاخذہ نہیں ہو سکتا۔ میں اپنی صدی کا ذمہ وار ہوں۔ ہاں چونکہ میں اس حدیث کو صحیح سمجھتا ہوں اور قرآن شریف کی حمایت سے صحیح مانتا ہوں پس اگر یہ لوگ اس حدیث کو جھوٹا کہہ دیں اور حدیث کی کتابوں سے نکال دیں پھر میں خدا سے دعا کروں گا اور یقیناً وہ میری دعا کو سنے گا اور میں کشف سے نام بھی بتا دوں گا۔ لیکن اگر یہ حدیث خود ان کے مسلّمات کے موافق ہی جھوٹی نہیں اور نہیں ہے تو پھر خدا سے ڈرو اور تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ(بنی اسرآءیل:۳۷) پر عمل کرو اور بیہودہ حیلے اور حجتیں نہ تراشو۔ یہ حدیث جن کتابوں میں درج ہے اور باوجود جھوٹی ہونے کے اس کو رکھا گیا ہے تو پھر کیوں نہیں بابا نانک کے شبدان میں داخل کر لیتے اور موضوعات کے مجموعہ میں لکھ لیتے۔ پس کسی صورت میں یہ مؤاخذہ مجھ سے نہیں ہو سکتا۔ ہزاروں اولیاء گذر چکے ہیں تو کیا مجھے لازم ہے کہ میں ان کی بھی فہرست دوں۔ یہ خدا تعالیٰ کا ہی علم ہے۔ ہاں خدا نے مجھ پر ظاہر کر دیا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور قرآن شریف اس کی تصدیق کرتا ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ مسیح موعود بقول نواب صدیق حسن خان صاحب کے صدی کے سر پر ہوگا اور یہ بھی وہ کہتا ہے کہ چودھویں صدی سے آگے نہ ہوگا مگر اب تو اس صدی سے بیس سال گذر گئے۔ پانچواں حصہ صدی کا گذر چکا اگر اب تک بھی نہیں آیا تو پھر سو سال تک انتظار کرتے رہیں۔ اس صدی میں اسلام اہل صلیب سے کچلا جاوے گا۔ جب پچاس سال میں یہ حال ہو گیا ہے کہ تیس لاکھ آدمی مرتد ہو چکے ہیں اور جیسی جیسی شوکت بڑھتی ہے ان کی شوخی بڑھتی گئی ہے۔ یہاں تک کہ امہات المؤمنین جیسی گندی کتاب شائع کی گئی۔ انجمن حمایت الاسلام لاہور نے اس کے خلاف گورنمنٹ کے پاس میموریل بھیجا۔ اس کے میموریل سے پہلے مجھے الہام ہو چکا تھا کہ یہ میموریل بھیجنا بے فائدہ ہے چنانچہ میرے دوستوں کو جو یہاں رہتے ہیں اور ان کو بھی جو دوسرے شہروں میں ہیں معلوم تھا کہ یہ میں نے الہام قبل از وقت ان کو بتا دیا تھا آخر وہی ہوا اور گورنمنٹ نے اس پر کوئی کارروائی انجمن کے حسبِ منشا نہ کی۔
مہدی اور جہاد
بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایسا مہدی آنا چاہیے جو جہاد کا فتویٰ دے اور انگریزوں اور دوسری غیر قوموں سے لڑائی کرے۔ میں کہتا ہوں یہ بھی غلط ہے اور حدیث سے بھی پایا جاتا ہے کہ آنے والا موعود یَضَعُ الْـحَرْبَ کر کے دیکھائے گا یعنی لڑائیوں کو موقوف کرے گا۔ دیکھو! ہر چیز کے عنوان پہلے ہی سے نظر آجاتے ہیں۔ جیسے پھل سے پہلے شگوفہ نکل آتا ہے اگر اللہ تعالیٰ کا یہی منشا ہوتا کہ مہدی آکر جہاد کرتا اور تلوار کے زور سے اسلام کی حمایت کرتا تو چاہیے تھا کہ مسلمان فنون حربیہ اور سپہ گری میں تمام قوموں سے ممتاز ہوتے اور فوجی طاقت بڑھی ہوئی ہوتی مگر اس وقت یہ طاقت تو اسی قوم کی بڑھی ہوئی ہے اور فنونِ حرب کے متعلق جس قدر ایجادات ہو رہی ہیں وہ یورپ میں ہو رہی ہیں نہ کسی اسلامی سلطنت میں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ منشا ہر گز نہیں ہے اور یَضَعُ الْـحَرْبَ کی پیشگوئی کو پوری کرنے کے واسطے یہی ہونا بھی چاہیے تھا دیکھو! مہدی سوڈانی وغیرہ نے جب مخالفت میں ہتھیار اٹھائے تو خدا تعالیٰ نے کیسا ذلیل کیا یہاں تک کہ اس کی قبر بھی کھدوائی گئی اور ذلّت ہوئی اس لیے کہ خدا کے منشا کے خلاف تھا۔ مہدی موعود کا یہ کام ہی نہیں ہے بلکہ وہ تو اسلام کو اس کی اخلاقی اور علمی و عملی اعجازات سے دلوں میں داخل کرے گا اور اس اعتراض کو دور کرے گا جو کہتے ہیں کہ اسلام تلوار کے ذریعہ پھیلایا گیا وہ ثابت کر دکھائے گا کہ اسلام ہمیشہ اپنی عملی سچائیوں اور برکات کے ذریعہ پھیلا ہے۔ ان تمام باتوں سے انسان سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کا منشا تلوار سے کام لینا ہوتا تو فنونِ حرب اسلام والوں کے ہاتھ میں ہوتے اسلامی سلطنتوں کی جنگی طاقتیں سب سے بڑھ کر ہوتیں اگرچہ حقیقی خبر تو خدا تعالیٰ سے وحی پانے والوں کو ملتی ہے مگر مومن کو بھی ایک فراست ملتی ہے اور وہ علامات و آثار سے سمجھ لیتا ہے کہ کیا ہونا چاہیے جب عیسائی قوموں کے مقابل آتے ہیں تو زک اُٹھاتے ہیں اور ذلّت کا منہ دیکھتے ہیں کیا اس سے پتا نہیں لگتا کہ خدا کا منشا تلوار اٹھانے کا نہیں ہے یہ اعتراض صحیح نہیں غلط ہے۔
مسیح موعود کا یہی کام ہے کہ وہ لڑائیوں کو بند کر دے کیونکہ یَضَعُ الْـحَرْبَ اس کی شان میں آیا ہے کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو باطل کر دے گا؟ معاذ اللہ۔ قرآن شریف سے بھی ایسا ہی پایا جاتا ہے کہ اس وقت لڑائی نہیں ہونی چاہیے۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ جب دل اعتراضوں سے بھرے ہوئے ہوں تو ان کو قتل کر دیا جاوے یا تلوار دکھا کر مسلمان کیا جاوے وہ اسلام ہو گا یا کفر جو ان کے دل میں اس وقت پیدا ہوگا؟
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگیں محض دفاعی تھیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مذہب کے لیے تلوار نہیں اُٹھائی بلکہ اتمامِ حجت کے بعد جس طرح پر خدا نے چاہا منکروں کو عذاب دیا۔ وہ جنگیں دفاعی تھیں۔ تیرہ برس تک آپ ستائے جاتے رہے اور صحابہؓ نے جانیں دیں۔ انہوں۱ نے نشان پر نشان دیکھے اور انکار کرتے رہے آخر خدا تعالیٰ نے ان کو جنگوں کی صورت میں عذاب سے ہلاک کیا۔ اس زمانہ میں طاعون ہے۔ جوں جوں تعصب بڑھے گا طاعون بڑھے گا۔ قرآن شریف میں اس کی بابت خبر دی گئی ہے وَاِنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اِلَّا نَحۡنُ مُہۡلِکُوۡہَا قَبۡلَ یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ اَوۡ مُعَذِّبُوۡہَا(بنی اسرآءیل:۵۹)۔
پس اگر میں خدا کی طرف سے ہوں اور وہ بہتر جانتا ہے کہ میں اسی کی طرف سے ہوں تو اس کے وعدے پورے ہو کر رہیں گے جو بشارت کی پیشگوئیوں کو نہیں مانتے تو اس طاعون کی پیشگوئی کو دیکھ لیں۔ سعادت سے انہیں کو حصہ ملتا ہے جو دور سے بَلا کو دیکھتا ہے۔
خدا تعالیٰ پر تَقَوُّل کرنے والا ہلاک ہو جاتا ہے
صادق کے لیے خدا تعالیٰ نے ایک اور نشان بھی قرار دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا اگر تو مجھ پر تَقَوُّل کرے تو میں تیرا داہنا ہاتھ پکڑ لوں۔ اللہ تعالیٰ پر تَقَوُّل کرنے والا مفتری فلاح نہیں پا سکتا بلکہ ہلاک ہو جاتا ہے اور اب پچیس سال کے قریب عرصہ گذرا ہے کہ خدا تعالیٰ کی وحی کو میں شائع کر رہا ہوں۔ اگر افترا تھا تو اس تَقَوُّل کی پاداش میں ضروری نہ تھا کہ خدا اپنے وعدہ کو پورا کرتا بجائے اس کے کہ وہ مجھے پکڑتا اس نے صدہا نشان میری تائید میں ظاہر کیے اور نصرت پر نصرت مجھے دی۔ کیا مفتریوں کے ساتھ یہی سلوک ہوا کرتا ہے؟ اور دجالوں کو ایسی ہی نصرت ملا کرتی ہے؟ کچھ تو سوچو۔ ایسی نظیر کوئی پیش کرو اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں ہرگز نہ ملے گی۔
ہاں یہ میں جانتا ہوں کہ طبیب تو مریض کو کلوروفارم سُنگھا کر بھی دوائی اندر پہنچا سکتا ہے۔ روحانی طبابت میں یہ نہیں ہے بلکہ باتوں کو مؤثر بنانا اور دل میں ڈالنا خدا تعالیٰ کا کام ہے وہ جب چاہتا ہے تو شوخی کو دور کر کے خود اندر ایک واعظ پیدا کر دیتا ہے۔
نووارد۔ میں اہل اسلام کی زیادتی پر تعجب کرتا ہوں۔ آپ کے کلمات میں میں کوئی وجہ کفر کی نہیں دیکھتا۔
حضرت اقدس۔ آپ کتابیں بھی دیکھ لیں تاک وئی شک آپ کو باقی نہ رہے کہ کون سے ایسے کلمات ہیں جو قال اللہ اور قال الرسول کے خلاف ہیں۔ میں ان کے کفر کی پروا نہیں کرتا۔ ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا کیونکہ ان کے ہی آثار میں لکھا ہوا تھا کہ مسیح موعود جب آئے گا تو اس پر کفر کے فتوے دیئے جاویں گے یہ پیشگوئیاں کیسے پوری ہوتیں؟ یہ تو اپنے ہاتھ سے پوری کر رہے ہیں۔ مجدّد صاحب اور نواب صدیق حسن صاحب کہتے ہیں کہ جب وہ آئے گا تو علماء مخالفت کریں گے اور محی الدین ابن عربی نے لکھا ہے کہ جب وہ آئے گا تو ایک شخص اٹھ کر کہے گا اِنَّ ھٰذَا الرَّجُلَ غَیَّرَ دِیْنَنَا۔ اب جب کہ پہلے سے یہ باتیں ہیں تو ہم خوش ہوتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے ہاتھ سے پورا کر رہے ہیں۔ اب جب کہ یہ باتیں پہلے سے یہ ہیں کہ یہ بھی صداقت کا نشان ہے اس لیے ہم ان باتوں کی کچھ پروا نہیں کرتے۔ یہ جو کہتے ہیں کہ آسمان سے مسیح آئے گا وہ اتنا نہیں دیکھتے کہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام وفات پا گئے۔۱؎
آخر میں فرمایا کہ اگر وہ صحابہؓ کا سا مذاق اور محبت ہوتی جو صحابہؓ کے دل میں تھی تو یہ عقیدہ نہ رکھتے کہ وہ زندہ ہیں۔ حضرت عیسیٰ کو خالق بھی نہ مانتے اور غیب دان بھی۔ خدا تعالیٰ ان فسادوں کو روا نہیں رکھتا اور اس نے چاہا ہے کہ اصلاح کرے۔ ہمارا کام اللہ کے لیے ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کا یہ کاروبار ہے اور اسی کا ہے تو کسی انسان کی طاقت میں نہیں کہ اس کو تباہ کر سکے اور کوئی ہتھیار اس پر چل نہیں سکتا لیکن اگر انسان کا ہے تو پھر خود ہی تباہ ہوسکتا ہے انسان کو زور لگانے کی بھی کیا حاجت ہے۔
(دربارِ شام)
)نووارد صاحب کی وجہ سے تحریک تو ہو رہی تھی اس لیے بعد ادائے نماز مغرب حضرت حجۃ اللہ نے ایک مختصر سی جامع تقریر فرمائی۔ جس کا ہم فقط خلاصہ دیتے ہیں۔
فرمایا۔
حقیقت اسلام
فرمایا۔ لوگ حقیقت اسلام سے بالکل دور جا پڑے ہیں۔ اسلام میں حقیقی زندگی ایک موت چاہتی ہے جو تلخ ہے لیکن جو اس کو قبول کرتا ہے آخر وہی زندہ ہوتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ انسان دنیا کی خواہشوں اور لذتوں کو ہی جنّت سمجھتا ہے حالانکہ وہ دوزخ ہے اور سعید آدمی خدا کی راہ میں تکالیف کو قبول کرتا ہے اور وہی جنّت ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا فانی ہے اور سب مَرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں آخر ایک وقت آجاتا ہے کہ سب دوست آشنا عزیز واقارب جدا ہو جاتے ہیں۔ اس وقت جس قدر نا جائز خوشیوں اور لذتوں کو راحت سمجھتا تھا وہ تلخیوں کی صورت میں نمودار ہو جاتی ہیں۔ سچی خوشحالی اور راحت تقویٰ کے بغیر حاصل نہیں ہوتی اور تقویٰ پر قائم ہونا گویا زہر کا پیالہ پینا ہے متّقی کے لیے خدا تعالیٰ ساری راحتوں کے سامان مہیا کر دیتا ہے یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا وَّیَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ(الطلاق:۳)
۴) پس خوشحالی کا اصول تقویٰ ہے لیکن حصولِ تقویٰ کے لیے نہیں چاہیے کہ ہم شرطیں باندھتے پھریں۔ تقویٰ اختیار کرنے سے جو مانگو گے وہ ملے گا۔ خدا رحیم وکریم ہے۔ تقویٰ اختیار کرو جو چاہو گے وہ دے گا۔ جس قدر اولیاء اللہ اور اقطاب گذرے ہیں انہوں نے جو کچھ حاصل کیا تقویٰ ہی سے حاصل کیا۔ اگر وہ تقویٰ اختیار نہ کرتے تو وہ بھی دنیا میں معمولی انسانوں کی حیثیت سے زندگی بسر کرتے۔ دس بیس کی نوکری کر لیتے یا کوئی اور حرفہ یا پیشہ اختیار کر لیتے اس سے زیادہ کچھ نہ ہوتا۔ مگر اب جو عروج ان کو ملا اور جس قدر شہرت اور عزّت انہوں نے پائی یہ سب تقویٰ ہی کی بدولت تھی۔
انہوں نے ایک موت اختیار کی اور اس زندگی کے بدلہ میں پائی۔
عبادت اللہ تعالیٰ کی محبتِ ذاتی سے رنگین ہو کر کرو
میں دوزخ اور بہشت پر ایمان لاتا ہوں کہ وہ حق ہیں اور ان کے عذاب اور اکرام اور لذائذ سب حق ہیں لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ انسان خدا کی عبادت دوزخ یا بہشت کے سہارے سے نہ کرے بلکہ محبت ذاتی کے طور پر کرے۔ دوزخ بہشت کا انکار مَیں کفر سمجھتا ہوں اور اس سے یہ نتیجہ نکالنا حماقت ہے بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ عبادت اللہ تعالیٰ کی محبتِ ذاتی سے رنگین ہو کر کرے جیسے ماں اپنے بچہ کی پرورش کرتی ہے کیا اس امید پر کہ وہ اسے کھلائے گا۔ نہیں بلکہ وہ جانتی ہی نہیں کہ کیوں اس کی پرورش کر رہی ہے یہاں تک کہ اگر بادشاہ اس کو حکم دے دے کہ تو اگر اس بچہ کی پرورش نہ کرے گی اور اس سے یہ بچہ مَر بھی جاوے تو تجھ کو کوئی سزا نہ دی جاوے گی بلکہ انعام ملے گا تو کیا وہ اس حکم سے خوش ہو گی یا بادشاہ کو گالیاں دے گی۔ یہ محبت ذاتی ہے اسی طرح خدا کی عبادت کرنی چاہیے نہ کہ کسی جزا وسزا کے سہارے پر۔
محبت ذاتی میں اغراض فوت ہو جاتے ہیں اور خدا تو وہ خدا ہے جو ایسا رحیم و کریم ہے کہ جو اس کا انکار کرتے ہیں ان کو بھی رزق دیتا ہے۔ کیا سچ کہا ہے۔
دوستاں را کجا کنی محروم
تو کہ بادشمناں نظر داری
جب وہ دشمنوں کو محروم نہیں کرتا تو دوستوں کو کب ضائع کر سکتا ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کا قول ہے کہ میں جوان تھا اب بوڑھا ہو گیا ہوں مگر میں نے متّقی کو کبھی ذلیل وخوار نہیں دیکھا اور نہ اس کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے دیکھا۔ یہ اخلاص کا نتیجہ ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ اسی دنیا میں ظاہر کرتا ہے اور اخلاص ایک کیمیا ہے اور اگر اس میں اور باتیں نکالیں تو اس پاکیزہ اور مصفّٰی چشمہ کو گندے چھینٹوں سے ناپاک کر دیتے ہیں۔ وہ خود ہماری حاجتوں سے آگاہ اور واقف ہے اور خوب جانتا ہے۔ کہتے ہیں ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں جلا دینے کی کوشش کی گئی اس وقت ان کے پاس فرشتے آئے اور کہا کہ تمہیں کوئی حاجت ہے؟ تو ابراہیم علیہ السلام نے ان کو یہی جواب دیا کہ بَلٰی وَلٰکِنْ اِلَیْکُمْ فَلَا یعنی ہاں حاجت تو ہے لیکن تمہاری طرف نہیں۔ ایسے مقام پر دعا بھی منع ہوتی ہے اور انبیاء علیہم السلام اس مقام کو خوب سمجھتے ہیں۔
گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی
غرض اصل غرض انسان کی محبتِ ذاتی ہونی چاہیے۔ اس سے جو کچھ اطاعت اور عبادت ہوگی وہ اعلیٰ درجہ کے نتائج اپنے ساتھ رکھے گی۔ ایسے لوگ خدا کے مبارک بندے ہوتے ہیں وہ جس گھر میں ہوں وہ گھر مبارک اور جس شہر میں ہوں وہ شہر مبارک۔ اس کی برکت سے بہت سی بلائیں دور ہو جاتی ہیں اس کی ہر حرکت و سکون اس کے درودیوار پر خدا کی برکت اور رحمت نازل ہوتی ہے۔ میں اسی راہ کو سکھانا چاہتا ہوں۔ اسی غرض کے لیے خدا نے مجھے مامور کیا ہے۔
یقیناً یاد رکھو کہ پوست کام نہیں آتا بلکہ مغز کی ضرورت ہے۔ لکھا ہے کہ ایک یہودی سے کسی مسلمان نے کہا کہ تو مسلمان ہو جا۔ کہا کہ میں تیرے قول کو تیرے فعل سے نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ میں نے اپنے بیٹے کا نام خالد رکھا تھا حالانکہ شام تک میں اس کو قبر میں بھی دفن کر آیا۔ نام کچھ حقیقت اپنے اندر نہیں رکھتا جب تک کام نہ ہو۔ اسی طرح پر خدا تعالیٰ مغز اور حقیقت کو چاہتا ہے۔ رسم اور نام کو پسند نہیں کرتا۔ جب انسان سچے دل سے سچے اسلام کی تلاش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس کو اپنی راہیں دکھا دیتا ہے جیسے فرمایا وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا(العنکبوت:۷۰) خدا تعالیٰ بخیل نہیں۔ اگر انسان مجاہدہ کرے گا تو وہ یقیناً اپنی راہ کو ظاہر کر دے گا۔ ہماری مخالفت میں افترا کرتے اور گالیاں دیتے ہیں۔ اگر تقویٰ سے کام لیتے۔ اگر زمانہ کی اندرونی بیرونی ضرورتیں ان کی رہنمائی نہ کر سکتی تھیں تو خدا تعالیٰ کی جناب میں تضرّع اور ابتہال سے کام لیتے اور رو رو کر دعائیں مانگتے تو یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی رہنمائی کر دیتا اور حق کھول دیتا۔ مومنِ حقیقی، مسیح کے وقت وہی ہو گا جو اس کا تابع ہو گا۔ اگر میں صادق ہوں اور ضرور ہوں تو پھر آپ سمجھ لیں کہ میرے مکذّب کا کیا حال ہے۔
نو وارد۔ آپ میرے لیے دعا کریں۔
حضرت اقدس۔ دعا تو میں ہندو کے لیے بھی کرتا ہوں مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ اَمر مکروہ ہے کہ اس کا امتحان کیا جاوے میں دعا کروں گا۔ آپ وقتاً فوقتاً یاد دلاتے رہیں اگر کچھ ظاہر ہوا تو اس سے بھی اطلاع دوں گا مگر یہ میرا کام نہیں۔ خدا تعالیٰ چاہے تو ظاہر کرے۔ وہ کسی کے منشا کے ماتحت نہیں ہے بلکہ وہ خدا ہے اور غَالِبٌ عَلٰۤی اَمۡرِہٖ(یوسف:۲۲) ہے۔ ایمان کو کسی اَمر سے وابستہ کرنا منع ہے۔ مشروط بشرائط ایمان کمزور ہوتا ہے۔ نیکی میں ترقی کرنا کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔ ہمدردی کرنا ہمارا فرض ہے۔ اس کے لیے شرائط کی ضرورت نہیں۔ ہاں یہ ضروری ہوگا کہ آپ ہنسی ٹھٹھے کی مجلسوں سے دور رہیں۔ یہ وقت رونے کا ہے نہ ہنسی کا۔ اب آپ جائیں گے موت حیات کا پتا نہیں۔ دو تین ہفتہ تک تو سچے تقویٰ سے دعائیں مانگو کہ الٰہی مجھے معلوم نہیں تو ہی حقیقت کو جانتا ہے مجھے اطلاع دے۔ اگر صادق ہے تو اس کے انکار سے ہلاک نہ ہو جاؤں اور اگر کاذب ہے تو اس کی اتباع سے بچا۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو اصل اَمر کو ظاہر کر دے گا۔
نو وارد۔ میں سچ عرض کرتا ہوں کہ میں بہت بُرا ارادہ کر کے آیا تھا کہ میں آپ سے استہزا کروں اور گستاخی کروں مگر خدا نے میرے ارادوں کو رد کر دیا۔ میں اب اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جو فتویٰ آپ کے خلاف دیا گیا ہے وہ بالکل غلط ہے اور میں زور دے کر نہیں کہہ سکتا کہ آپ مسیح موعود نہیں ہیں بلکہ مسیح موعود ہونے کا پہلو زیادہ زور آور ہے اور میں کسی حد تک کہہ سکتا ہوں کہ آپ مسیح موعود ہیں۔ جہاں تک میری عقل اور سمجھ تھی میں نے آپ سے فیض حاصل کیا ہے اور جو کچھ میں نے سمجھا ہے میں ان لوگوں پر ظاہر کروں گا جنہوں نے مجھے منتخب کر کے بھیجا ہے۔ کل میری اَور رائے تھی اور آج اور ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ اگر ایک پہلوان بغیر لڑنے کے زیر ہو جائے تو وہ نامَرد کہلائے گا۔ اس لیے میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ بدوں اعتراض کیے تسلیم کر لیتا۔ چونکہ میں معتمد ان لوگوں کا ہوں جنہوں نے مجھے بھیجا ہے اس لیے میں نے ہر ایک بات کو بغیر دریافت کیے ماننا نہیں چاہا۔
دعا کے لیے میں نے جو لکھا تھا دنیا کی خواہش سے نہیں لکھا تھا۔ میں اس دادا کا پوتا ہوں جس کے ہندوستان میں اڑھائی سو مرید ہیں۔ مگر میں آزاد طبیعت کا آدمی ہوں اور اس میں انصاف ہے۔
نیکی ضائع نہیں ہوتی
حضرت اقدس۔ اللہ تعالیٰ کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا بلکہ ادنیٰ سی نیکی بھی ہو تو اس کا ثمرہ دیتا ہے۔ میں نے ایک کتاب میں نقل دیکھی ہے کہ ایک شخص نے اپنے ہمسایہ آتش پرست کو دیکھا کہ چند روز کی برسات کے بعد وہ اپنے کوٹھے پر جانوروں کو دانے ڈال رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تو کیا کر رہا ہے؟ اس نے کہا کہ جانوروں کو دانے ڈال رہا ہوں۔ میں نے کہا کہ تیرا عمل بے کار ہے۔ اس گبر نے اس کو کہا کہ اس کا ثمرہ مجھے ملے گا۔ پھر وہی بزرگ کہتے ہیں کہ جب دوسرے سال مَیں حج کرنے کو گیا تو دیکھا وہی گبر طواف کر رہا ہے اس نے مجھے پہچان کر کہا کہ ان دانوں کا ثواب مجھے ملایا نہیں؟
ایسا ہی ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک صحابیؓ نے پوچھا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں سخاوت کی تھی یا رسول اللہ مجھے اس کا ثواب ملے گا یا نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی سخاوت نے تو تجھے مسلمان کیا۔
ہزاروں آدمی بغیر دیکھے گالیاں دینے کو تیار ہو جاتے ہیں لیکن جب دیکھتے ہیں اور آتے ہیں تو وہ ایمان لاتے ہیں۔ میرا یہ مذہب نہیں کہ انسان صدق اور اخلاص سے کام لے اور وہ ضائع ہو جاوے۔
پھر حضرت حجۃ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام لانے کا قصہ بیان کیا جو کئی بار ہم نے الحکم میں درج کیا ہے اور اس بات پر آپ نے تقریر کو ختم کیا۔
؎ مَردانِ خدا خدا نہ باشند لیکن از خدا جُدا نہ باشند ۱۵ ؍فروری ۱۹۰۳ء
ایک نووارد اور حضرت اقدس علیہ السّلام
(بوقتِ سیر)
اعلیٰ حضرت حجۃ اللہ علی الارض مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہ مقصود تھا کہ جس طرح ممکن ہو اس شخص کو پُورے طور پر تبلیغ ہو جاوے اس لیے اس کی ہر بات اور ہر ایک اعتراض کو نہایت توجہ سے سن کر اس کا مبسوط جواب فرماتے آج جب آپ سَیر کو تشریف لے چلے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس قصہ سے سلسلہ تقریر شروع ہوا رَبِّ اَرِنِیۡ کَیۡفَ تُحۡیِ الۡمَوۡتٰی(البقرۃ:۲۶۱)
رَبِّ اَرِنِیۡ کَیۡفَ تُحۡیِ الۡمَوۡتٰی کی لطیف تفسیر
فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس قصہ پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت آپ سے بھی بڑھی ہوئی تھی یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کو ثابت کرتی ہے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ ارشاد ہوا اَوَلَمۡ تُؤۡمِنۡ(البقرۃ:۲۶۱) کیا تو اس پر ایمان نہیں لاتا؟ اگرچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کا جواب یہی دیا کہ بَلٰی ہاں میں ایمان لاتا ہوں مگر اطمینانِ قلب چاہتا ہوں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایسا سوال نہ کیا اور نہ ایسا جواب دینے کی ضرورت پڑی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ پہلے ہی سے ایمان کے انتہائی مرتبہ اطمینان اور عرفان پر پہنچے ہوئے تھے اور یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اَدَّبَنِیْ رَبِّیْ فَاَحْسَنَ اَدَبِیْ تو یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کو ثابت کرتی ہے۔ ہاں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بھی ایک خوبی اس سے پائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ سوال کیا اَوَلَمۡ تُؤۡمِنۡ(البقرۃ:۲۶۱) تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میں اس پر ایمان نہیں رکھتا بلکہ یہ کہا کہ ایمان تو رکھتا ہوں مگر اطمینان چاہتا ہوں۔
پس جب ایک شخص ایک شرطی اقتراح پیش کرے اور پھر یہ کہے کہ میں اطمینانِ قلب چاہتا ہوں تو وہ اس سے استدلال نہیں کر سکتا کیونکہ شرطی اقتراح پیش کرنے والا تو ادنیٰ درجہ بھی ایمان کا نہیں رکھتا بلکہ وہ تو ایمان اور تکذیب۱؎ کے مقام پر ہے اور تسلیم کرنے کو مشروط بہ اقتراح کرتا ہے۔ پھر وہ کیوں کر کہہ سکتا ہے کہ میں ابراہیمؑ کی طرح اطمینانِ قلب چاہتا ہوں۔ ابراہیمؑ نے تو ترقی ایمان چاہی ہے انکار نہیں کیا اور پھر اقتراح بھی نہیں کیا بلکہ احیائے موتیٰ کی کیفیت پوچھی ہے اور اس کو خدا تعالیٰ کے سپرد کر دیا ہے۔ یہ نہیں کہا کہ اس مُردہ کو زندہ کر کے دکھا یا یُوں کر اور پھر اس کا جواب جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے وہ بھی عجیب اور لطیف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو چار جانور لے ان کو اپنے ساتھ ہلا لے یہ غلطی ہے جو کہا جاتا ہے کہ ذبح کر لے کیونکہ اس میں ذبح کرنے کا لفظ نہیں بلکہ اپنے ساتھ ہلا لے جیسے لوگ بٹیر یا تیتر یا بلبل کو پالتے ہیں اور اپنے ساتھ ہلا لیتے ہیں پھر وہ اپنے مالک کی آواز سنتے ہیں اور اُس کے بلانے پر آ جاتے ہیں۔ اسی طرح پر حضرت ابراہیمؑ کو احیاء اماتت سے انکار نہ تھا بلکہ وہ یہ چاہتے تھے کہ مُردے خدا کی آواز کس طرح سنتے ہیں اس سے انہوں نے سمجھ لیا کہ ہر چیز طبعاً اور فطرتاً اللہ تعالیٰ کی مطیع اور تابع فرمان ہے۔
سب انبیاء کے وصفی نام آنحضرتؐکو دیئے گئے
نووارد۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرآن شریف میں ایسا فرمایا ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل فرمایا۔
حضرت اقدس۔ میں قرآن شریف سے یہ استنباط کرتا ہوں کہ سب انبیاء کے وصفی نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے گئے کیونکہ آپؐ تمام انبیاء کے کمالاتِ متفرقہ اور فضائلِ مختلفہ کے جامع تھے اور اسی طرح جیسے تمام انبیاء کے کمالات آپ کو ملے قرآن شریف بھی جمیع کتب کی خوبیوں کا جامع ہے چنانچہ فرمایا فِیۡہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ(البیّنۃ:۴) اور مَا فَرَّطۡنَا فِی الۡکِتٰبِ(الانعام:۳۹) ایسا ہی ایک جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا ہے کہ تمام نبیوں کا اقتدا کر۔
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اَمر دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک اَمر تو تشریعی ہوتا ہے جیسے یہ کہا کہ نماز قائم کرو یا زکوٰۃ دو وغیرہ۔ اور بعض اَمر بطور خَلق ہوتے ہیں جیسے یٰنَارُ کُوۡنِیۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ(الانبیآء:۷۰) یہ اَمر جو ہے کہ تو سب کی اقتدا کر یہ اَمر بھی خلقی اور کونی ہے یعنی تیری فطرت کو حکم دیا کہ وہ کمالات جو جمیع انبیاء علیہم السلام میں متفرق طور پر موجود تھے اس میں یکجائی طور پر موجود ہوں اور گویا اس کے ساتھ ہی وہ کمالات اور خوبیاں آپ کی ذات میں جمع ہو گئیں۔
آیت خاتم النّبیّین کا حقیقی مفہوم
چنانچہ ان خوبیوں اور کمالات کے جمع ہونے ہی کا نتیجہ تھا کہ آپ پر نبوت ختم ہوگئی اور یہ فرمایا کہ مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ(الاحزاب:۴۱) ختم نبوت کے یہی معنے ہیں کہ نبوت کی ساری خوبیاں اور کمالات تجھ پر ختم ہو گئے اور آئندہ کے لیے کمالاتِ نبوت کا باب بند ہو گیا کہ کوئی نبی مستقل طور پر نہ آئے گا۔
نبی عربی اور عبرانی دونوں زبانوں میں مشترک لفظ ہے جس کے معنے ہیں خدا سے خبر پانے والا اور پیشگوئی کرنے والا۔ جو لوگ براہ راست خدا سے مکالمہ کرتے اور اس سے خبریں پاتے تھے وہ نبی کہلاتے تھے اور یہ گویا اصطلاح ہوگئی تھی مگر اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو بند کر دیا ہے اور مُہر لگا دی ہے کہ کوئی نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مُہر کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ جب تک آپ کی اُمّت میں داخل نہ ہو اور آپ کے فیضان سے مستفیض نہ ہو وہ خدا سے مکالمہ کا شرف نہیں پاسکتا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت میں داخل نہ ہو۔ اگر کوئی ایسا ہے کہ وہ بدوں اس اُمت میں داخل ہونے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض پانے کے بغیر کوئی شرفِ مکالمہ الٰہی حاصل کر سکتا ہے تو اسے میرے سامنے پیش کرو۔
آیت خاتم النبّیّین حضرت عیسیٰ ؑکے دوبارہ نہ آنے پر زبردست دلیل ہے
یہی ایک آیت زبردست دلیل ہے اس اَمر پر جو ہم کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ دوبارہ نہیں آویں گے بلکہ آنے والا اس اُمت میں سے ہوگا کیونکہ وہ نبی ہوں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شحص نبوت کا فیضان حاصل کر سکتا ہی نہیں جب تک وہ آنحضرتؐ سے استفاضہ نہ کرے جو صاف لفظوں میں یہ ہے کہ آپ کی اُمت میں داخل نہ ہو۔ اب خاتم النبّیّین والی آیت تو صریح روکتی ہے پھر وہ کس طرح آسکتے ہیں۔ یا ان کو نبوت سے معزول کرواو اور ان کی یہ ہتک اور بے عزّتی روا رکھو اور یا یہ کہ پھر ماننا پڑے گا کہ آنے والا اسی اُمت میں سے ہوگا۔ نبی کی اصطلاح مستقل نبی پر بولی جاتی تھی مگر اب خاتم النبّیّین کے بعد یہ مستقل نبوت رہی ہی نہیں۔ اسی لیے کہا ہے۔
خارقے کز ولی مسموع است
معجزہ آں نبی متبوع است
پس اس بات کو خوب غور سے یاد رکھو کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کو نبوت کا شرف پہلے سے حاصل ہے تو کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ پھر آئیں اور اپنی نبوت کو کھو دیں۔ یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مستقل نبی کو روکتی ہے۔ البتہ یہ اَمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو بڑھانے والا ہے کہ ایک شخص آپ ہی کی اُمت سے آپ ہی کے فیض سے وہ درجہ حاصل کرتا ہے جو ایک وقت مستقل نبی کو حاصل ہو سکتا تھا۔ لیکن اگر وہ خود ہی آئیں تو پھر صاف ظاہر ہے کہ پھر اس خاتم الانبیاء والی آیت کی تکذیب لازم آتی ہے اور خاتم الانبیاء حضرت مسیح ٹھہریں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا بالکل غیر مستقل ٹھہر جاوے گا کیونکہ آپؐ پہلے بھی آئے اور ایک عرصہ کے بعد آپ رخصت ہو گئے اور حضرت مسیح آپؐ سے پہلے بھی رہے اور آخر پر بھی وہی رہے۔ غرض اس عقیدہ کے ماننے سے کہ خود ہی حضرت مسیح آنے والے ہیں بہت سے مفاسد پیدا ہوتے ہیں اور ختم نبوت کا انکار کرنا پڑتا ہے جو کفر ہے۔
اس کے علاوہ قرآن شریف کی ایک اَور آیت بھی جو صاف طور پر مسیح کی آمدِ ثانی کو روکتی ہے اور وہ وہی آیت ہے جو کل بھی میں نے بیان کی تھی یعنی فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ(المائدۃ:۱۱۸) اگر حضرت مسیح قیامت سے پہلے دنیا میں آئے تھے اور چالیس برس تک رہ کر انہوں نے کفّار اور مشرکین کو تباہ کیا تھا جیسا کہ اعتقاد رکھا جاتا ہے۔ پھر کیا خدا تعالیٰ کے سامنے ان کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ(المائدۃ:۱۱۸) یا یہ کہنا چاہیے تھا کہ میں نے تو کافروں اور مشرکوں کو ہلاک کیا اور ان کو جا کر اس شرک سے نجات دی کہ تم مجھ کو اور میری ماں کو خدا نہ بناؤ۔
اس آیت پر خوب غور کرو۔ یہ ان کی دوبارہ آمد کو قطعی طور پر ردّ کرتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ختمِ نبوت والی آیت بھی ان کو دوبارہ آنے نہیں دیتی۔ اب یا تو قرآن شریف کا انکار کرو یا اگر اس پر ایمان ہے تو پھر اس باطل خیال کو چھوڑنا پڑے گا اور اس سچائی کو قبول کرنا پڑے گا جو میں لے کر آیا ہوں۔
یہ پکی بات ہے کہ آنے والا اسی اُمّت سے ہوگا اور حدیث عُلَمَاءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَآءِ بَنِیْٓ اِسْـرَآءِ یْلَ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص مثیلِ مسیح بھی تو ہو۔ اگرچہ محدّثین اس حدیث کی صحت پر کلام کرتے ہیں مگر اہلِ کشف نے اس کی تصدیق کی ہے اور قرآن شریف خود اس کی تائید کرتا ہے۔ محدّثین نے اہلِ کشف کی یہ بات مانی ہوئی ہے کہ وہ اپنے کشف سے بعض احادیث کی صحت کر لیتے ہیں جو محدّثین کے نزدیک صحیح نہ ہوں اور ایسا ہی بعض کو غیر صحیح قرار دے سکتے ہیں۔ یہ حدیث اہلِ کشف نے جن میں روحانیت اور تصفیہ قلب ہوتا ہے صحیح بیان کی ہے۔ اور جیسا میں نے کہا ہے کہ قرآن شریف بھی اس کا مصداق ہے کیونکہ اس حدیث سے بھی سلسلہ موسوی کی طرح ایک سلسلہ کے قائم ہونے کی تصدیق ہوتی ہے اور قرآن شریف بھی سلسلہ موسویہ کے بالمقابل ایک سلسلہ قائم کرتا ہے۔ اسی کی طرف علاوہ اور آیات قرآنی کے اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ(الفاتحۃ:۶) بھی اشارہ کرتا ہے یعنی جو پہلے نبیوں کو دیا گیا ہے ہم کو بھی عطا کر۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سلسلہ چودہ سو برس تک رکھا گیا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو نابود کرنا چاہا اور اس قوم کو ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ(اٰل عمران:۱۰۳) کا مصداق بنا دیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کر کے یہ کہا کہ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا(المزّمل:۱۶) یعنی یہ سلسلہ موسوی سلسلہ کے بالمقابل ہے اور یہ عمارت موسوی عمارت کے مقابلہ پر ہے۔ جیسے اس میں اخیار ہیں ویسے ہی اس میں بھی اخیار ہیں۔ ایسا ہی اشرار بھی بالمقابل پائے جاتے ہیں یہاں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ اگر کسی یہودی نے ماں سے زنا کیا ہوگا تو تم میں سے بھی ایسے ہوں گے اور اگر کوئی سوسمار کے بل میں گھسا ہوگا تو مسلمان بھی گھسیں گے۔
یہ کیسی مشابہت اور مماثلت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی ہے اب تعجب ہے مسلمانوں پر کہ وہ یہ تو روا رکھتے ہیں کہ اس امت میں سے یہود بن جاویں اور یہ پسند نہیں کر سکتے کہ اس امت میں سے کوئی مسیح بھی ہو جاوے۔ موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودھویں صدی میں مسیح کو بھیجا گیا تھا اسی مماثلت کے لحاظ سے ضروری تھا کہ اس امت میں بھی اس صدی پر مسیح آئے تاکہ اس امت کا فضل ظاہر ہووے۔ اولیاء اللہ کے کشوف بھی اسی پر دلالت کرتے ہیں اور جو نشانات اس وقت کے لیے رکھے ہوئے تھے وہ بھی اپنے اپنے وقت پر پورے ہو گئے۔ واقع شدنی امور ہو جاتے ہیں جو نہیں ہونے والے ہوتے وہ نہیں ہوتے۔ اگر علماء کے معنے سچے ہوتے تو جو کچھ انہوں نے مانا ہوا تھا اس میں سے کچھ تو پورا ہوتا۔ اعانت اسلام کا زمانہ تو یہی تھا پھر کیا وجہ ہے کہ خدا نے بقول ان کے کچھ بھی نہ کیا۔ انگریزوں کا تسلّط مِّنۡ کُلِّ حَدَبٍ یَّنۡسِلُوۡنَ(الانبیآء:۹۷) کا مصداق ہو گیا اور وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ(التکویر:۵) کے موافق اونٹنیاں بے کار ہو گئیں جو اس آخری زمانہ کا ایک نشان ٹھہرایا گیا تھا۔ عشار حاملہ اونٹنیوں کو کہتے ہیں یہ لفظ اس لیے اختیار کیا گیا ہے تا یہ وہم نہ رہے جیسا بعض لوگ کہتے ہیں کہ قیامت کے متعلق ہے قیامت میں تو حمل نہ ہوگا اور بے کار ہونا یہاں تو الگ رہا مکہ مدینہ کے درمیان بھی ریل تیار ہو رہی ہے۔ اخبارات نے بھی اس آیت اور مسلم کی حدیث سے استنباط کر کے مضامین لکھے ہیں۔ پس یہ اور دوسرے نشان تو پورے ہو گئے مَیں اگر صادق نہیں ہوں تو دوسرے مدعی کا نشان بتاؤ اور اس کا ثبوت دیکھو۔ بات یہ ہے کہ افترا اور کذب کی عمر نہیں ہوا کرتی یہ جلد فنا ہو جاتے ہیں، مفتری کے ہلاک کرنے کے لیے خارجی قوت اور زور کی حاجت ہی نہیں ہوتی، خود ان کا افترا ان کو ہلاک کر دیتا ہے اور مفتری کے مقابل میں کبھی جوش نہیں ہوتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل جس قدر جوش ہوا کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ مسیلمہ کذّاب اور اسود عنسی کے مقابل بھی ہوا تھا۔
صادق مدعی کے خلاف ہی شیطان جوش دکھاتا ہے
صادق کے مقابل اس کے لیے جوش ہوتا ہے کہ شیطان سمجھتا ہے کہ اب مجھے ہلاک کیا جاوے گا اور وہ اس سے ناراض ہوتا ہے اس لیے جہاں تک ممکن ہو وہ ان کی مخالفت میں زور لگاتا ہے اور یہ جوش پھیل جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بھی بہت سے آدمیوں نے دعوے کیے تھے مگر اب کوئی ان کا نام بھی نہیں لے سکتا۔ اسی طرح ہوتا رہا ہے کہ صادق کے مقابل میں بعض کاذب مدعی بھی ہوتے رہے ہیں مگر کسی مقابلہ کے لیے اس قدر جوش نہیں دکھایا گیا جو صادق کے لیے دکھایا جاتا ہے۔ اس لیے کہ مفتری تو شیطان کے منشا کے موافق ہوتا ہے اسی لیے وہ اس کے خلاف جنگ کرنی نہیں چاہتا اور صادق کے سینہ پر پتھر ہوتا ہے اس کو تباہ کرنے کے لئے زور لگاتا ہے مگر آخر خود ہی شیطان اس کے جنگ میں ہلاک کیا جاتا ہے۔
ابو جہل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بالمقابل کس قدر زور لگایا یہاں تک کہ مباہلہ بھی کر لیا اور یہ دعا کی کہ جو شخص ہم میں سے کاذب ہے اور جو پھوٹ ڈالتا ہے اس کو ہلاک کر۔ چنانچہ خود اسی روز ہلاک ہو گیا۔ یاد رکھو کوئی نبی دنیا میں نہیں آیا جو اس کے آنے سے ایک پھوٹ نہ پڑی ہو۔ اس کو اصلاح کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ایک پھوٹ پڑے۔ کیونکہ جس شخص کا جوڑ یا ہڈی اپنی جگہ پر نہ رہے تو وہ اسے اتار کر نئے سر سے لگاتا ہے۔ اکثر مجھ پر اعتراض کرتے ہیں کہ آریوں عیسائیوں کو دشمن بنا لیا ہے مگر ان کو معلوم نہیں جو خدا کی طرف سے آتا ہے وہ ضرور اپنے دشمن بنا لیتا ہے کیونکہ اس کو پاک جماعت تیار کرنی پڑتی ہے جن میں سچی تقویٰ و طہارت ہو اور سچی اخوت ہو۔ مگر سفلی زندگی کے عادی نہیں سمجھتے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک صلاحیت قائم ہو وہ دنیا سے دل لگا کر خدا تعالیٰ کی طرف سے غافل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں۔
اب تو آرام سے گذرتی ہے
عاقبت کی خبر خدا جانے یہی ان کا مذہب اور مشرب ہوتا ہے حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ یہ مُردار زندگی کیا چیز ہے۔ انسان اگر خدا تعالیٰ سے قوت پاوے تو وہ اس مُردار زندگی سے مَرنا بہتر سمجھے گا۔ دنیا کے دوست مطلب کے دوست ہوتے ہیں۔ حقیقی محبت اور اخوت خدا تعالیٰ میں ہو کر ملتی ہے۔ ان لوگوں کو دیکھو جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر توبہ کی کیا ان کے باہم تعلقات نہ تھے؟ لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شناخت میں آنکھ کھلی تو پھر یہاں تک متأثر ہوئے کہ نہ بیٹے کو بیٹا سمجھا نہ باپ کو باپ بلکہ وہ تعلقات بالکل قطع ہو گئے اور سارے تعلقات خدا میں ہو کر قائم ہوئے۔ خدا کے لیے دشمن ہو جاتے۔ دنیا کی دولتیں جس میں خدا درمیان نہیں ہوتا وفاداری سے نہیں نباہ سکتے۔ اسی طرح اب ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری جماعت میں جب کوئی داخل ہوتا ہے تو اس کے اپنے متعلقین میں اگر خدا تعالیٰ ہدایت نہ کرے ایک شور قیامت برپا ہو جاتا ہے ورنہ بعض گہرے تعلقات رکھنے والوں کو قطع تعلق کرنا پڑا ہے۔
دنیا انسان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی
یاد رکھو دنیا انسان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ یہ اس کی اپنی کمزوری ہے کہ اپنے جیسی مخلوق کو نافع یا ضار سمجھتا ہے نفع اور ضرر اللہ ہی سے ملتا ہے۔ ہماری مراد اس سے یہ ہے کہ انسان معرفت کی آنکھ سے خدا کو شناخت کر لے۔ جب تک عملی طور پر خدا شناسی کو ثابت کر کے نہ دکھائے تو دہریہ ہے۔
جھوٹ کے تمام شعبوں سے پرہیز کرو
میں نے غور کیا ہے قرآن شریف میں کئی ہزار حکم ہیں ان کی پابندی نہیں کی جاتی ادنیٰ ادنیٰ سی باتوں میں خلاف ورزی کر لی جاتی ہے۔ یہاں تک دیکھا جاتا ہے کہ بعض جھوٹ تو دوکاندار بولتے ہیں اور بعض مصالحہ دار جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ نے اس کو رجس کے ساتھ رکھا ہے۔ مگر بہت سے لوگ دیکھے ہیں کہ رنگ آمیزی کر کے حالات بیان کرنے سے نہیں رکتے اور اس کو کوئی گناہ بھی نہیں سمجھتے۔ ہنسی کے طور پر بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ انسان صدیق نہیں کہلا سکتا جب تک جھوٹ کے تمام شعبوں سے پرہیز نہ کرے۔
گناہ کے چھوڑنے کا طریقہ
انسان جب فسق و فجور میں پڑ جاتا ہے تو پھر ان لذّات کو کیسے چھوڑ سکتا ہے۔ اس کے چھوڑنے کی ایک ہی راہ ہے کہ گناہ کی معرفت انسان کو ہو اور یہ معلوم ہو جاوے کہ اللہ تعالیٰ گناہ پر سزا دیتا ہے۔ حیوان بھی جب معرفت پیدا کر لیتا ہے کہ یہ کام کروں گا تو سزا ملے گی تو وہ بھی اس سے بچتا ہے۔ کتّے کو بھی اگر ایک چھڑی دکھائی جائے تو وہ بھاگتا ہے اور دہشت زدہ ہو جاتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ انسان انسان ہوکر خدا سے اتنا بھی نہ ڈرے جتنا ایک حیوان سوٹے سے ڈرتا ہے۔ بھیڑیئے کے پاس اگر بکری باندھ دی جاوے تو وہ گھاس نہیں کھا سکتی۔ کیا اس بھیڑیئے جتنی دہشت بھی خدا کی نہیں ہے؟
انسان کے پیدا ہونے کی غرض اور غایت تو یہ ہے کہ وہ سچا ایمان پیدا کرے۔ اگر یہ ایمان وہ پیدا نہیں کرتا تو پھر اپنی پیدائش کو عبث سمجھتا ہے اور اگر اس مجلس میں وہ ایمان نہیں ہے تو اس پر حرام ہے کہ دوسری مجلس کو تلاش نہ کرے۔ خدا نے مجھے اسی لیے مامور کیا ہے کہ تقویٰ پیدا ہو اور خدا پر سچا ایمان جو گناہ سے بچاتا ہے پیدا ہو۔ خدا تعالیٰ تاوان نہیں چاہتا بلکہ سچا تقویٰ چاہتا ہے۔ میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ توبہ کرتے وقت گواہ رکھ لیتا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تو ایسا کیوں کرتا ہے؟ اس نے کہا۔ میں نے اس لیے یہ کیا ہے کہ شاید اس توبہ کو توڑتے وقت اس گواہ سے ہی کچھ شرم آجائے لیکن آخر دیکھا کہ وہ ان کی بھی پروا نہ کر کے توبہ توڑتا کیونکہ اصل شرم تو خدا تعالیٰ سے ہونی چاہیے۔ جب خدا سے نہیں ڈرتا اور شرم کرتا تو اور کسی سے کیا کرے گا۔ ایسے لوگوں کی وہی مثال ہے۔
چہ خوش گفت درویش کوتاہ دست
کہ شب توبہ کرد و سحر گاہ شکست
مامور کی دعاؤں کا اثر
جو لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں ان کو سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ میں ان کے لیے دعا کرتا ہوں۔ دعا ایسی چیز ہے کہ خشک لکڑی کو بھی سرسبز کر سکتی ہے اور مُردہ کو زندہ کر سکتی ہے۔ اس میں بڑی تاثیریں ہیں جہاں تک قضاء و قدر کے سلسلہ کو اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے کوئی کیسا ہی معصیت میں غرق ہو دعا اس کو بچالے گی۔ اللہ تعالیٰ اس کی دستگیری کرے گا اور وہ خود محسوس کرلے گا کہ میں اب اَور ہوں۔ دیکھو! جو شخص مسموم ہے کیا وہ اپنا علاج آپ کر سکتا ہے اس کا علاج تو دوسرا ہی کرے گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تطہیر کے لیے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور مامور کی دعائیں تطہیر کا بہت بڑا ذریعہ ہوتی ہیں۔
اسم اعظم
دعا کرنا اور کرانا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ دعا کے لیے جب درد سے دل بھر جاتا ہے اور سارے حجابوں کو توڑ دیتا ہے اس وقت سمجھنا چاہیے کہ دعا قبول ہوگئی یہ اسم اعظم ہے۔ اس کے سامنے کوئی اَن ہونی چیز نہیں ہے۔ ایک خبیث کے لیے جب دعا کے ایسے اسباب میسر آجائیں تو یقیناً وہ صالح ہو جاوے اور بغیر دعا کے وہ اپنی توبہ پر بھی قائم نہیں رہ سکتا۔ بیمار اور محجوب اپنی دستگیری آپ نہیں کر سکتا۔ سنّت اللہ کے موافق یہی ہوتا ہے کہ جب دعائیں انتہا تک پہنچتی ہیں تو ایک شعلہ نور کا اس کے دل پر گرتا ہے جو اس کی ساری خباثتوں کو جلا کر تاریکی دور کر دیتا اور اندر ایک روشنی پیدا کرتا ہے۔ یہ طریق استجابت دعا کا رکھا ہے۔
ضرور ہے کہ انسان پہلے حالتِ بیماری کو محسوس کرے اور پھر طبیب کو شناخت کرے سعید وہی ہے جو اپنے مرض اور طبیب کو شناخت کرتا ہے۔ اس وقت دنیا کی حالت بگڑی ہوئی ہے۔ جن باتوں پر خدا نے چاہا تھا کہ قائم ہوں ان کو چھوڑا گیا ہے۔ باہر سے وہ ایک پھوڑے کی طرح نظر آتے ہیں جو چمکتا ہے مگر اس کے اندر پیپ ہے یا قبر کی طرح ہیں کہ جس کے اندر بجز ہڈیوں کے کچھ نہیں۔
ایسا ہی حال اخلاقی حالتوں کا ہے غیظ وغضب میں آ کر گندی گالیاں دینے لگتا ہے اور اعتدال سے گذر جاتا ہے۔
نفس مطمئنّہ کی حالت والا ہی بڑ ا سعید اور با مراد ہے
اصل مدعا تو یہ ہونا چاہیے کہ انسان نفس مطمئنّہ حاصل کرے۔ نفس تین قسم کے ہیں۔ امّارہ۔ لوّامہ۔ مطمئنّہ۔ بہت بڑا حصہ دنیا کا نفسِ امّارہ کے نیچے ہے۔ اور بعض جن پر خدا کا فضل ہوا ہے وہ لوّامہ کے نیچے ہیں یہ لوگ بھی سعادت سے حصہ رکھتے ہیں۔ بڑا بد بخت وہ ہے جو بدی کو محسوس ہی نہیں کرتا یعنی جو امّارہ کے ماتحت ہیں۔ اور بڑا ہی سعید اور با مراد وہ ہے جو نفسِ مطمئنّہ کی حالت میں ہے۔
نفس مطمئنّہ کو ہی خدا نے فرمایا یٰۤاَیَّتُہَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّۃُ ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرۡضِیَّۃً(الفجر:۲۷ تا ۲۹) یعنی اے وہ نفس جو اطمینان یافتہ ہے۔ اس حالت میں شیطان کے ساتھ جو جنگ ہوتی ہے اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور خطاب کے لائق تو مطمئنّہ ہی ٹھہرایا ہے۔ اور اس آیت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ مطمئنّہ کی حالت میں مکالمہ الٰہی کے لائق ہو جاتا ہے۔ خدا کی طرف واپس آ، کے معنی یہی نہیں کہ مَر جا بلکہ لوّامہ اور امّارہ کی حالت میں جو خدا تعالیٰ سے ایک بُعد ہوتا ہے مطمئنّہ کی حالت میں وہ مہجوری نہیں رہتی اور کوئی غبار باقی نہ رہ کر غیب کی آواز اس کو بلاتی ہے۔ تو مجھ سے راضی اور میں تجھ سے راضی، یہ رضا کا انتہائی مقام ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اب میرے بندوں میں داخل ہو جا۔ اللہ تعالیٰ کے بندے دنیا ہی پر ہوتے ہیں مگر دنیا ان کو نہیں پہچانتی۔ دنیا نے آسمانی بندوں سے دوستی نہیں کی وہ ان سے ہنسی کرتی ہے۔ وہ الگ ہی ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی رِدا کے نیچے ہوتے ہیں۔ غرض جب ایسی حالت اطمینان میں پہنچتا ہے تو الٰہی اکسیر سے تانبا سونا ہو جاتا ہے۔ وَادۡخُلِیۡ جَنَّتِیۡ(الفجر:۳۱) اور تو میری بہشت میں داخل ہوجا۔ بہشت ایک ہی چیز نہیں بلکہ فرمایا وَلِمَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ(الرحمٰن:۴۷) خدا سے ڈرنے والے کے لیے دو بہشت ہیں۔۱؎
(قبل از ظہر)
ایک صاحب گوڑگانوہ سے تشریف لائے ہوئے تھے۔ حضرت سے شرف بیعت حاصل کیا۔ بعد از بیعت حضرت اقدس نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ
مسنو ن طور سے خدا کا فضل تلاش کرو
ہماری طرف سے تو آپ کو یہی نصیحت ہے کہ مسنون طور سے اللہ تعالیٰ کے فضل کو تلاش کرو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کر کے یہ اَمر صاف طور پر بیان کر دیا ہے کہ ان کی پیروی کے سوا کوئی راہ اس کی رضا جوئی کی باقی نہیں ہے۔ جو خدا کے فضل کا جو یاں ہو اسی دروازہ کو کھٹکھٹائے۔ اس کے لیے کھولا جائے گا۔ بجز اس دروازہ کے تمام دروازے بند ہیں۔ نبوت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو چکی۔ شریعت قرآن شریف کے بعد ہرگز نہیں آئے گی۔ انسان کو کشوف اور وحی اور الہام کا بھی طالب نہ ہونا چاہیے بلکہ یہ سب تقویٰ کا نتیجہ ہیں۔ جب جڑ ٹھیک ہو گی تو اس کے لوازم بھی خود بخود آ جائیں گے۔ دیکھو! جب سورج نکلتا ہے تو دھوپ اور گرمی جو اس کا خاصّہ ہیں خود بخود ہی آجاتے ہیں۔ اسی طرح جب انسان میں تقویٰ آجاتا ہے تو اس کے لوازم بھی اس میں ضرور آ جاتے ہیں۔ دیکھو! جب کوئی دوست کسی کے ملنے کے واسطے جاوے تو اس کو یہ امید تو نہ رکھنا چاہیے کہ میں اس کے پاس جاتا ہوں کہ وہ مجھے پلاؤ، زردے اور قورمے اور قلچے کھلائے گا اور میری خاطر تواضع کرے گا۔ نہیں بلکہ صادق دوست کی ملاقات کی خواہش ہوتی ہے بجز اس کے اور کسی کھانے یا مکان یا خدمت کی پروا اور خیال بھی نہیں ہوتا مگر جب وہ اپنے صادق دوست کے پاس جو اس سے مہجور تھا جاتا ہے تو کیا وہ اس کی خاطر داری کا کوئی دقیقہ باقی بھی اٹھا رکھتا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ جہاں تک اس سے بن پڑتا ہے وہ اپنی طاقت سے بڑھ کر بھی اس کی تواضع کے واسطے مکلّف سامان کرتا ہے۔
غرض یہی حال روحانیت اور اس دوست اعلیٰ کی ملاقات کا ہے۔ الہامات یا کشوف وغیرہ خبروں کے سہارے والا ایمان، ایمان کامل نہیں۔ وہ کمزور ایمان ہے جو کسی چیز کا سہارا ڈھونڈتا ہے۔ انسان کی غرض اور اصل مدار صرف رضاءِ الٰہی اور وصول الی اللہ چاہیے۔ آگے جب یہ اس کی رضا حاصل کر لے گا تو خدا تعالیٰ اس کو کیا کچھ نہ دے گا۔ خود اس اَمر کی درخواست کرنا سوءِ ادب ہے۔
دیکھو! اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ(اٰل عمران:۳۲) خدا کے محبوب بننے کے واسطے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہی ایک راہ ہے اور کوئی دوسری راہ نہیں کہ تم کو خدا سے ملاوے۔ انسان کا مدعا صرف اس ایک واحد لاشریک خدا کی تلاش ہونا چاہیے شرک اور بدعت سے اجتناب کرنا چاہیے رسوم کا تابع اور ہوا و ہوس کا مطیع نہ بننا چاہیے۔ دیکھو! میں پھر کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی راہ کے سوا اور کسی طرح انسان کامیاب نہیں ہوسکتا۔
ہمارا صرف ایک ہی رسولؐ اور ایک ہی کتاب ہے
ہمارا صرف ایک ہی رسول ہے۔ اور صرف ایک ہی قرآن شریف اس رسول پر نازل ہوا ہے جس کی تابعداری سے ہم خدا کو پاسکتے ہیں۔ آج کل فقراء کے نکالے ہوئے طریقے اور گدی نشینوں اور سجادہ نشینوں کی سیفیاں اور دعائیں اور درود وظائف یہ سب انسان کو مستقیم راہ سے بھٹکانے کا آلہ ہیں۔ سو تم ان سے پرہیز کرو۔ ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے کی مہر کو توڑنا چاہا ہے گویا اپنی الگ ایک شریعت بنالی ہے۔ تم یاد رکھو کہ قرآن شریف اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی پیروی اور نماز روزہ وغیرہ جو مسنون طریق ہیں ان کے سوا خدا کے فضل اور برکات اور رحمت کے دروازے کھولنے کی اور کوئی کنجی ہے ہی نہیں۔ بھولا ہوا ہے وہ جو اِن راہوں کو چھوڑ کر کوئی نئی راہ نکالتا ہے۔ ناکام مَرے گا وہ جو اللہ اور رسول کے فرمودہ کا تابعدار نہیں بلکہ اَور اَور راہوں سے اسے تلاش کرتا ہے۔
ہر قسم کے گناہوں سے بچو
دیکھو! گناہ کبیرہ بھی ہیں ان کو تو ہر ایک جانتا ہے اور اپنی طاقت کے موافق نیک انسان ان سے بچنے کی کوشش بھی کرتا ہے مگر تم تمام گناہوں سے کیا کبائر اور کیا صغائر سب سے بچو کیونکہ گناہ ایک زہر ہے جس کے استعمال سے زندہ رہنا محال ہے۔ گناہ ایک آگ ہے جو روحانی قویٰ کو جلا کر خاک سیاہ کر دیتی ہے۔ پس تم ہر قسم کے کیا صغیرہ کیا کبیرہ سب اندرونی بیرونی گناہوں سے بچو۔ آنکھ کے گناہوں سے، ہاتھ کے گناہوں سے، کان ناک اور زبان اور شرمگاہ کے گناہوں سے بچو۔ غرض ہر عضو کے گناہ کے زہر سے بچتے رہو اور پرہیز کرتے رہو۔
نما ز گناہوں سے بچنے کا آلہ ہے
نماز بھی گناہوں سے بچنے کا ایک آلہ ہے۔ نماز کی یہ صفت ہے کہ یہ انسان کو گناہ اور بدکاری سے ہٹا دیتی ہے سو تم ویسی نماز کی تلاش کرو اور اپنی نماز کو ایسی بنانے کی کوشش کرو۔ نماز نعمتوں کی جان ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فیض اسی نماز کے ذریعہ سے آتے ہیں سو اس کو سنوار کر ادا کرو تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کے وارث بنو۔
ہمارا طریق نرمی ہے
یہ بھی یاد رکھو کہ ہمارا طریق نرمی ہے۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ اپنے مخالفوں کے مقابل پر نرمی سے کام لیا کریں تمہاری آواز تمہارے مقابل کے آواز سے بلند نہ ہو۔ اپنی آواز اور لہجہ کو ایسا بناؤ کہ کسی دل کو تمہاری آواز سے صدمہ نہ ہووے۔ ہم قتل اور جہاد کے واسطے نہیں آئے بلکہ ہم تو مقتولوں اور مُردہ دلوں کو زندہ کرنے اور ان میں زندگی کی روح پھونکنے کو آئے ہیں۔ تلوار سے ہمارا کاروبار نہیں اور نہ یہ ہماری ترقی کا ذریعہ ہے ہمارا مقصد نرمی سے ہے اور نرمی سے اپنے مقاصد کی تبلیغ ہے۔ غلام کو وہی کرنا چاہیے جو اس کا آقا اس کو حکم کرے۔ جب خدا نے ہمیں نرمی کی تعلیم دی ہے تو ہم کیوں سختی کریں۔ ثواب تو فرماں برداری میں ہوتا ہے۔ اور دین تو سچی اطاعت کا نام ہے نہ یہ کہ اپنے نفس اور ہوا و ہوس کی تابعداری سے جوش دکھاویں۔
مغلو ب الغضب غلبہ ونصرت سے محروم ہوتا ہے
یاد رکھو جو شخص سختی کرتا اور غضب میں آ جاتا ہے اس کی زبان سے معارف اور حکمت کی باتیں ہرگز نہیں نکل سکتیں۔ وہ دل حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے جو اپنے مقابل کے سامنے جلدی طیش میں آ کر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ گندہ دہن اور بے لگام کے ہونٹھ لطائف کے چشمہ سے بے نصیب اور محروم کیے جاتے ہیں۔ غضب اور حکمت دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔ جو مغلوب الغضب ہوتا ہے اس کی عقل موٹی اور فہم کند ہوتا ہے۔ اس کو کبھی کسی میدان میں غلبہ اور نصرت نہیں دیئے جاتے۔ غضب نصف جنون ہے اور جب یہ زیادہ بھڑکتا ہے تو پورا جنون ہو سکتا ہے۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ کُل نا کردنی افعال سے دور رہا کریں۔ وہ شاخ جو اپنے تنے اور درخت سے سچا تعلق نہیں رکھتی وہ بے پھل رہ جایا کرتی ہے۔ سو دیکھو! اگر تم لوگ ہمارے اصل مقصد کو نہ سمجھو گے اور شرائط پر کاربند نہ ہو گے تو ان وعدوں کے وارث تم کیسے بن سکتے ہو جو خدا نے ہمیں دیئے ہیں۔
نصیحت کا پیرایہ
جسے نصیحت کرنی ہو اُسے زبان سے کرو۔ ایک ہی بات ہوتی ہے وہ ایک پیرایہ میں ادا کرنے سے ایک شخص کو دشمن بنا سکتی ہے اور دوسرے پیرایہ میں دوست بنا دیتی ہے پس وَجَادِلۡہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ(النحل:۱۲۶) کے موافق اپنا عمل درآمد رکھو۔ اسی طرز کلام ہی کا نام خدا نے حکمت رکھا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے یُّؤۡتِی الۡحِکۡمَۃَ مَنۡ یَّشَآءُ(البقرۃ:۲۷) مگر یاد رکھو کہ جیسے یہ باتیں حرام ہیں ویسے ہی نفاق بھی حرام ہے۔ اس بات کا بھی خیال رکھنا کہ کہیں پیرایہ ایسا نہ ہو جاوے کہ اس کا رنگ نفاق سے مشابہ ہو۔ موقع کے موافق ایسی کارروائی کرو جس سے اصلاح ہوتی ہو۔ تمہاری نرمی ایسی نہ ہو کہ نفاق بن جاوے اور تمہارا غضب ایسا نہ ہو کہ بَارُوْت کی طرح جب آگ لگے تو ختم ہونے میں نہیں آتی۔ بعض لوگ تو غصہ سے سودائی ہو جاتے ہیں اور اپنے ہی سر میں پتھر مار لیتے ہیں۔ اگر ہمیں کوئی گالی دیتا ہے تو بھی صبر کرو۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب کسی کے پیر و مرشد کو گالیاں دی جاویں یا اس کے رسول کے متعلق ہتک آمیز کلمے کہے جاویں تو کیسا جوش ہوتا ہے مگر تم صبر کرو اور حلم سے کلام کرو۔
مسلوب الغضب بن جاؤ
ایسا نہ ہو کہ تمہارا اس وقت کا غصہ کوئی خرابی پیدا کر دے جس سے سارا سلسلہ بدنام ہو یا کوئی مقدمہ بنے جس سے سب کو تشویش ہو۔ سب نبیوں کو گالیاں دی گئی ہیں۔ یہ انبیاء کا ورثہ ہے۔ ہم اس سے کیوں کر محروم رہ سکتے تھے ایسے بن جاؤ کہ گویا مسلوب الغضب ہو۔ تم کو گویا غضب کے قویٰ ہی نہیں دیئے گئے۔ دیکھو! گر کچھ بھی تاریکی کا حصہ ہے تو نور نہیں آئے گا۔ نور اور ظلمت جمع نہیں ہو سکتے۔ جب نور آ جائے گا تو ظلمت نہیں رہے گی۔ تم اپنے سارے ہی قویٰ کو پورے طور سے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں لگاؤ اور جو جو کمی کسی قوت میں ہو اسے اس پان والے کی طرح جو گندے پان تلاش کر کے پھینک دیتا ہے اپنی گندی عادات کو نکال پھینکو اور سارے اعضا کی اصلاح کر لو یہ نہ ہو کہ نیکی کرو اور نیکی میں بدی ملا دو۔ توبہ کرتے رہو۔ استغفار کرو۔ دعا سے ہر وقت کام لو۔
ولی اللہ
ولی کیا ہوتے ہیں یہی صفات تو اولیاء کے ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھ، ہاتھ، پاؤں غرض کوئی عضو ہو۔ منشاءِ الٰہی کے خلاف حرکت نہیں کرتے۔ خدا کی عظمت کا بوجھ ان پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ خدا کی زیارت کے بغیر ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں جا سکتے پس تم بھی کوشش کرو۔ خدا بخیل نہیں۔
ہر کہ عارف تر است ترساں تر
(دربارِ شام
قرآن شریف کی ایک برکت
ایک شخص نے عرض کی کہ حضور میرے واسطے دعا کی جاوے کہ میری زبان قرآن شریف اچھی طرح ادا کرنے لگے۔ قرآن شریف ادا کرنے کے قابل نہیں اور چلتی نہیں۔ میری زبان کھل جاوے۔
فرمایا کہ تم صبر سے قرآن شریف پڑھتے جاؤ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری زبان کو کھول دے گا۔
قرآن شریف میں یہ ایک برکت ہے کہ اس سے انسان کا ذہن صاف ہوتا اور زبان کھل جاتی ہے بلکہ اطباء بھی اس بیماری کا اکثر یہ علاج بتایا کرتے ہیں۔۱؎
۱۶؍فروری ۱۹۰۳ء
۱۶؍فروری کی صبح کو سیر کے وقت فرمایا پرسوں یا ترسوں ایک الہام ہوا تھا وہ یہ ہے۔ ’’اے ازلی ابدی خدا بیڑیوں کو پکڑ کے۲؎
آ ‘‘۱۷؍فروری ۱۹۰۳ء
۱۷؍فروری ۱۹۰۳ء کو فجر کا الہام حضرت اقدس نے سیر میں سنایا۔ ’’یَوْمُ الْاِثْنَیْنِ وَفَتْحُ الْـحُنَیْنِ ‘‘قرآن شریف میں بھی لفظ حنین کا آیا ہے جیسے کہ پارہ ۱۰ رکوع ۱۰ میں ہے لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیۡ مَوَاطِنَ کَثِیۡرَۃٍ ۙ وَّیَوۡمَ حُنَیۡنٍ ۙ اِذۡ اَعۡجَبَتۡکُمۡ کَثۡرَتُکُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنۡکُمۡ شَیۡئًا وَّضَاقَتۡ عَلَیۡکُمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّیۡتُمۡ مُّدۡبِرِیۡنَ ثُمَّ اَنۡزَلَ اللّٰہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَعَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَاَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡہَا وَعَذَّبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ وَذٰلِکَ جَزَآءُ الۡکٰفِرِیۡنَ(التوبۃ:۲۵ تا ۲۶)۳؎
۱۹؍فروری ۱۹۰۳ء
۱۹؍فروری کو بوقتِ سیر فرمایا کہ کل ۱۸؍فروری کو یکایک مرض کا دورہ ہو گیا اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوگئے۔ اسی حالت میں ایک الہام ہوا جس کا صرف ایک حصہ یاد رہا۔ چونکہ بہت تیزی کے ساتھ ہوا تھا جیسے بجلی کوندتی ہے اس لیے باقی حصہ محفوظ نہ رہا وہ یہ ہے وَ یُبْقِیْکَ اس کا ترجمہ بھی اللہ تعالیٰ نے ساتھ ہی بتایا اور وہ یہ ہے تا بد یر ترا خواہد داشت۔۱؎
۲۲ ؍فروری ۱۹۰۳ء
کچھ حصہ رات کو آرام ضرور کرنا چاہیے
ایک مخلص کی بد خوابی کے تذکرہ پر فرمایا۔ دیکھو! قرآن شریف سورہ مزّمل میں صاف تاکید ہے کہ انسان کو کچھ حصہ رات آرام بھی کرنا چاہیے۔ اس سے دن بھر کی کوفت اور تکان دور ہو کر قویٰ کو اپنا حرج شدہ مادہ بہم پہنچانے کا وقفہ مل جاتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل یعنی سنّت بھی اسی کے مطابق ثابت ہے چنانچہ فرماتے ہیں کہ اُصَلِّیْ وَ اَنُوْمُ۔ اصل میں انسان کی مثال ایک گھوڑے کی سی ہے۔ اگر ہم ایک گھوڑے سے ایک دن اس کی طاقت سے زیادہ کام لیں اور اسے آرام کرنے کا وقفہ ہی نہ دیں تو بہت قریب ایسا وقت ہوگا کہ ہم اس کے وجود کو ہی ضائع کر کے تھوڑے فائدہ سے بھی محروم ہو جائیں گے نفس کو گھوڑے سے مناسبت بھی ہے۔
بہترین وظیفہ
سیالکوٹ کے ضلع کا ایک نمبردار تھا۔ اس نے بیعت کرنے کے بعد پوچھا کہ حضور اپنی زبان مبارک سے کوئی وظیفہ بتاویں۔ فرمایا کہ نمازوں کو سنوار کر پڑھو کیونکہ ساری مشکلات کی یہی کنجی ہے اور اسی میں ساری لذّات اور خزانے بھرے ہوئے ہیں۔ صدق دل سے روزے رکھو۔ صدقہ و خیرات کرو۔ درود اور استغفار پڑھا کرو۔ اپنے رشتہ داروں سے نیک سلوک کرو۔ ہمسایوں سے مہربانی سے پیش آؤ۔ بنی نوع بلکہ حیوانوں پر بھی رحم کرو اور ان پر بھی ظلم نہ چاہیے۔ خدا سے ہر وقت حفاظت چاہتے رہو کیونکہ ناپاک اور نامراد ہے وہ دل جو ہر وقت خدا کے آستانہ پر نہیں گرارہتا وہ محروم کیا جاتا ہے۔ دیکھو! اگر خدا ہی حفاظت نہ کرے تو انسان کا ایک دم گذارہ نہیں۔ زمین کے نیچے سے لے کر آسمان کے اوپر تک کا ہر طبقہ اس کے دشمنوں کا بھرا ہوا ہے۔ اگر اسی کی حفاظت شامل حال نہ ہو تو کیا ہوسکتا ہے۔ دعا کرتے رہو کہ اللہ تعالیٰ ہدایت پر کاربند رکھے۔ کیونکہ اس کے ارادے دو ہی ہیں گمراہ کرنا اور ہدایت دینا جیسا کہ فرماتا ہے یُضِلُّ بِہٖ کَثِیۡرًا ۙ وَّیَہۡدِیۡ بِہٖ کَثِیۡرًا(البقرۃ:۲۷) پس جب اس کے ارادے گمراہ کرنے پر بھی ہیں تو ہر وقت دعا کرنی چاہیے کہ وہ گمراہی سے بچاوے اور ہدایت کی توفیق دے۔ نرم مزاج بنو کیونکہ جو نرم مزاجی اختیار کرتا ہے خدا بھی اس سے نرم معاملہ کرتا ہے۔ اصل میں نیک انسان تو اپنا پاؤں بھی زمین پر پھونک پھونک کر احتیاط سے رکھتا ہے تا کسی کیڑے کو بھی اس سے تکلیف نہ ہو۔ غرض اپنے ہاتھ سے، پاؤں سے، آنکھ وغیرہ اعضا سے کسی کو کسی نوع کی تکلیف نہ پہنچاؤ اور دعائیں مانگتے رہو۔
تعدّدِ ازدواج
مرزا خدا بخش صاحب مالیر کوٹلہ سے تشریف لائے تھے۔ ان سے وہاں کے جلسہ کے حالات دریافت فرماتے رہے۔ انہوں نے سنایا کہ ایک شخص نے یوں اعتراض کیا کہ اسلام میں جو چار بیویاں رکھنے کا حکم ہے یہ بہت خراب ہے اور ساری بداخلاقیوں کا سرچشمہ ہے۔
حضرت اقدس نے فرمایا کہ چار بیویاں رکھنے کا حکم تو نہیں دیا بلکہ اجازت دی ہے کہ چار تک رکھ سکتا ہے اس سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ چار ہی کو گلے کا ڈھول بنالے۔ قرآن کا منشا تو یہ ہے کہ چونکہ انسانی ضروریات مختلف ہوتی ہیں اس واسطے ایک سے لے کر چار تک کی اجازت دے دی ہے۔ ایسے لوگ جو ایک اعتراض کو اپنی طرف سے پیش کرتے ہیں اور پھر وہ خود اسلام کا دعویٰ بھی کرتے ہیں میں نہیں جانتا کہ ان کا ایمان کیسے قائم رہ جاتا ہے۔ وہ تو اسلام کے معترض ہیں۔ یہ نہیں دیکھتے کہ ایک مقنن کو قانون بنانے کے وقت کن کن باتوں کا لحاظ ہوتا ہے۔ بھلا اگر کسی شخص کی ایک بیوی ہے اسے جذام ہو گیا ہے یا آتشک میں مبتلا ہے یا اندھی ہو گئی ہے یا اس قابل ہی نہیں کہ اولاد اس سے حاصل ہو سکے وغیرہ وغیرہ عوارض میں مبتلا ہو جاوے تو اس حالت میں اب اس خاوند کو کیا کرنا چاہیے کیا اسی بیوی پر قناعت کرے؟ ایسی مشکلات کے وقت وہ کیا تدبیر پیش کرتے ہیں۔ یا بھلا اگر وہ کسی قسم کی بدمعاشی زنا وغیرہ میں مبتلا ہوگئی تو کیا اب اس خاوند کی غیرت تقاضا کرے گی کہ اسی کو اپنی پُرعصمت بیوی کا خطاب دے رکھے؟ خدا جانے یہ اسلام پر اعتراض کرتے وقت اندھے کیوں ہو جاتے ہیں۔ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ مذہب ہی کیا ہے جو انسانی ضروریات کو ہی پورا نہیں کر سکتا۔ اب ان مذکورہ حالتوں میں عیسویت کیا تدبیر بتاتی ہے؟ قرآن شریف کی عظمت ثابت ہوتی ہے کہ انسانی کوئی ایسی ضرورت نہیں جس کا پہلے سے ہی اس نے قانون نہ بنا دیا ہو۔ اب تو انگلستان میں بھی ایسی مشکلات کی وجہ سے کثرت ازدواج اور طلاق شروع ہوتا جاتا ہے۔ ابھی ایک لارڈ کی بابت لکھا تھا کہ اس نے دوسری بیوی کر لی آخر اسے سزا بھی ہوئی مگر وہ امریکہ میں جا رہا۔
غور سے دیکھو کہ انسان کے واسطے ایسی ضرورتیں پیش آتی ہیں یا نہیں کہ یہ ایک سے زیادہ بیویاں کرے جب ایسی ضرورتیں ہوں اور ان کا علاج نہ ہو تو یہی نقص ہے جس کے پورا کرنے کو قرآن شریف سی اتم اکمل کتاب بھیجی ہے۔
شراب کی مضرت
اسی اثنا میں شراب کا ذکر شروع ہو گیا۔ کسی نے کہا کہ اب تو حضور شراب کے بسکٹ بھی ایجاد ہوئے ہیں۔
فرمایا۔ شراب تو انسانی شرم، حیا، عفت، عصمت کا جانی دشمن ہے۔ انسانی شرافت کو ایسا کھو دیتی ہے کہ جیسے کتّے، بلّے، گدھے ہوتے ہیں۔ اس کو پی کر بالکل انہی کے مشابہ ہو جاتا ہے۔ اب اگر بسکٹ کی بلا دنیا میں پھیلی تو ہزاروں نا کردہ گناہ بھی ان میں شامل ہو جایا کریں گے۔ پہلے تو بعض کو شرم وحیا ہی روک دیتی تھی۔ اب بسکٹ لیے اور جیب میں ڈال لیے۔ بات یہ ہے کہ دجال نے اپنی کوششوں میں تو کمی نہیں رکھی کہ دنیا کو فسق وفجور سے بھر دے مگر آگے خدا کے ہاتھ میں ہے جو چاہے کرے۔ اسلام کی کیسی عظمت معلوم ہوتی ہے ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے اسلام پر کوئی اعتراض کیا۔ اس سے شراب کی بد بو آئی۔ اس کو حد مارنے کا حکم دیا گیا کہ شراب پی کر اسلام پر اعتراض کیا مگر اب تو کچھ حد و حساب نہیں۔ شراب پیتے ہیں، زنا کرتے ہیں، غرض کوئی بدی نہیں جو نہ کرتے ہوں مگر بایں ہمہ پھر اسلام پر اعتراض کرنے کو طیار ہیں۔۱؎
۲۳؍فروری ۱۹۰۳ء
(ظہر سے پہلے)
فرمایا۔
بنی اسر ائیل اور ان کے مثیل
فرمایا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے فضائل میں اس قوم اسلام کو اُمّت موسیٰ کا مثیل بنایا ہے ایسے ہی رذائل بھی کُل وہ اس قوم میں جمع ہیں جو ان میں پائے جاتے تھے۔ یہ قوم تو یہود کے نقش قدم پر ایسی چلی ہے جیسے کوئی اپنے آقا و مولیٰ مطاع رسول کی پیروی کرتا ہے۔ یہود کے واسطے قرآن شریف میں حکم تھا کہ وہ دو دفعہ فساد کریں گے اور پھر ان کی سزا دہی کے واسطے اللہ تعالیٰ اپنے بندے ان پر مسلط کرے گا۔ چنانچہ بخت نصر اور طیطوس دونو نے ان لوگوں کو بُری طرح سے ہلاک کیا اور تباہ کیا۔ اس کی مماثلت کے لیے اس قوم میں نمونہ موجود ہے کہ جب یہ فسق و فجور میں حد سے نکلنے لگے اور خدا کے احکام کی ہتک اور شعائر اللہ سے نفرت ان میں آگئی اور دنیا اور اس کی زیب و زینت میں ہی گم ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی اسی طرح ہلاکو چنگیز خاں وغیرہ سے برباد کرایا۔ لکھا ہے کہ اس وقت یہ آسمان سے آواز آتی تھی اَیُّـھَا الْکُفَّارُ اقْتُلُوا الْفُجَّارَ غرض فاسق فاجر انسان خدا کی نظر میں کافر سے بھی ذلیل اور قابل نفرین ہے۔ اگر کوئی کتاب قرآن شریف کے بعد نازل ہونے والی ہوتی تو ضرور ان لوگوں کے نام بھی اسی طرح عِبَادًا لَّنَا میں داخل کئے جاتے۔ یہ بھی لکھا ہے کہ آخر کار بخت نصر یا اس کی اولاد بُت پرستی وغیرہ سے باز آکر واحد خدا پر ایمان لائی ہے اسی طرح ادھر بھی چنگیز خاں کی اولاد مسلمان ہو گئی۔ غرض خدا نے مماثلت میں طَابِقُ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ والا صاف معاملہ کر کے دکھا دیا ہے۔
عا دل گورنمنٹ بعض بادشاہوں کی معدلت گستری کے متعلق ذکر ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ
عا دل گورنمنٹ
ہماری گورنمنٹ، ہم نے اسے غور سے دیکھا ہے کہ نازک معاملات میں بھی بلا تحقیق کے کوئی کارگذاری نہیں کرتی۔ بغاوت جیسے خطرناک معاملات میں تو بلا تحقیق اور فرد جرم اور ثبوت کے سوا گرفت کی نہیں جاتی۔ تو دوسرے معاملات میں بھلا کہاں ایسا کرنے لگی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اَور حکّامِ وقت ہیں کہ ان کے نزدیک انسان تو گاجر مولی کی طرح بنے ہوئے ہیں کسی نے شکایت کی بس پکڑا اور قتل کر دیا۔ کوئی ضرورت نہیں کہ ثبوت کافی بہم پہنچایا جاوے یا کوئی لمبی تحقیقات کی جاوے۔ دیکھئے ہمارا مقدمہ پادری والا بھی تو ایک بغاوت کے ہی رنگ میں تھا کیونکہ ایک پادری نے جو ان کے مذہب کا لیڈر اور گرو مانا جاتا تھا اس نے ظاہر کیا تھا کہ گویا ہم نے اس کے قتل کا منصوبہ کیا ہے اور پھر اس پر بڑے بڑے اَور پادریوں کی سفارشیں بھی تھیں مگر بلا تحقیق کے ایک قدم بھی نہ اٹھایا گیا اور آخر کار قوم کی پروانہ کر کے ہمیں بری کیا گیا۔ غرض یہ بھی ہم پر خدا کا ایک فضل ہے کہ ایسی عادل گورنمنٹ کے ماتحت ہیں۔
(دربارِ شام)
مسیحؑ کی آمدِ ثانی
امریکہ کے ایک انگریز کا اشتہار سنایا گیا جس میں اس نے لکھا ہے کہ مسیحؑ کی دوبارہ آمد وقت کا یہی وقت ہے۔ وہ کل نشانات پورے ہو گئے جو آمدِ ثانی کے پیش خیمہ تھے اور اس نے اس بیان کو بڑے بشپوں اور فلاسفروں کی شہادتوں سے قوی کیا ہے۔
حضرت اقدس نے فرمایا کہ اصل میں ان کی یہ بات کہ مسیحؑ کی آمد ثانی کا وقت یہی ہے اور اس کے آنے کے تمام نشانات پورے ہو گئے ہیں بالکل ہمارے منشا کے مطابق ہے اور راستی بھی اسی میں ہے ان کی وہ بات جو حق ہو اور جہاں تک وہ راستی کی حمایت میں ہو اسے ردّ نہ کرنا چاہیے۔ یہ لوگ ایک طرح سے ہماری خدمت کر رہے ہیں۔ اس ملک میں جہاں ہماری تبلیغ بڑی محنت اور صرفِ کثیر سے بھی پوری طرح سے کما حقہ نہیں پہنچ سکتی۔ وہاں یہ ہماری اس خدمت کو مفت اچھی طرح سے پورا کر رہے ہیں۔ انہوں نے وقت کی تشخیص تو بالکل راست کی ہے۔ مگر نتائج نکالنے میں سخت غلطی کرتے ہیں جو آنے والے کی انتظار آسمان سے کرتے ہیں۔
ہر سچے نبی کے ساتھ کوئی نہ کوئی جھوٹا نبی بھی آتا ہے
اب آئے دن سنا جاتا ہے کہ کسی نے دعویٰ کیا ہے کہ میں ہی مسیح ہوں جو آنے والا تھا یا میں مہدی ہوں جس کا انتظار کیا جاتا تھا۔ یہ کچھ ہمارے لیے مضر نہیں ہیں یہ تو ہماری صداقت کو اور بھی دوبالا کر کے دکھاتا ہے کیونکہ مقابلہ کے سوا کسی کی بھلائی یا برائی کا پورا اظہار نہیں ہو سکتا۔ یہ لوگ دعویٰ کرتے اور چند روز پانی اور جھاگ والا معاملہ کر کے دنیا سے رخصت ہو جاتے یا پاگل خانہ کی سیر کو روانہ کئے جاتے ہیں۔ یہ ہماری صداقت پر مہر ہیں۔ ہر نبی کے ساتھ کوئی نہ کوئی جھوٹا نبی بھی آتا ہے چنانچہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں چار شخص ایسے تھے۔ اسی طرح اس زمانہ کے لیے بھی لکھا تھا کہ بہت سے جھوٹے نبی آویں گے سو یہ لوگ خود ہی اس پیشگوئی کو پورا کرتے ہیں بھلا کوئی بتاوے کہ وہ مہدی سوڈانی اب کہاں ہے؟ یا پیرس کا مسیح کیا ہوا؟ انجام نیک صرف صادق ہی کا ہوتا ہے۔ سارے جھوٹے اور مصنوعی آخر تھک کر رہ جاتے یا ہلاک ہو جاتے ہیں اور جھوٹھ کے انجام کا پتا دوسروں کے لیے بطور عبرت کے چھوڑ جاتے ہیں۔
۶؍ما رچ لیکھر ا م کے قتل کا دن
لاہور کے آریہ پتر کا نے لکھا ہے کہ ہمارا شہید مارچ کی ۶ کو ایک بزدل مسلمان کے ہاتھ سے مارا گیا تھا اس دن کی یادگار قائم کرنی چاہیے کہ وہ دن بڑا متبرک جاننا چاہیے۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ اصل میں ہمارے یہاں کے آریہ بھول گئے۔ ان کو بھی چاہیے تھا کہ ۶؍مارچ کا دن جلسہ کے واسطے مقرر کرتے اور ان لوگوں کو تو خصوصیت سے اس دن کی تعظیم کرنی چاہیے کیونکہ لیکھرام اصل میں اس جگہ سے یہ تبرک لے گیا تھا۔
تمباکو نوشی کی مضرت
ایک شخص نے امریکہ سے تمباکو نوشی کے متعلق اس کے بہت سے مجرب نقصان ظاہر کرتے ہوئے اشتہار دیا۔ اس کو آپ نے سنا۔
فرمایا کہ اصل میں ہم اس لیے اسے سنتے ہیں کہ اکثر نو عمر لڑکے، نوجوان تعلیم یافتہ بطور فیشن ہی کے اس بلا میں گرفتار و مبتلا ہو جاتے ہیں تا وہ ان باتوں کو سن کر اس مضر چیز کے نقصانات سے بچیں۔
فرمایا۔ اصل میں تمباکو ایک دھواں ہوتا ہے جو اندرونی اعضا کے واسطے مضر ہے اسلام لغو کاموں سے منع کرتا ہے اور اس میں نقصان ہی ہوتا ہے لہٰذا اس سے پرہیز ہی اچھا ہے۔
پیشگو ئیاں ہستی با ری تعالیٰ کے متعلق معرفت بخشتی ہیں
اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت جس طرح سے پیشگوئی دلاتی ہے ایسا اور کوئی سچا علم نہیں۔ معرفت کو زیادہ کرنے کا صرف یہی ایک طریق ہے۔ ہماری نسبت بھی اللہ تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں فرمایا ہے۔ کہ تیری صداقت کو پیشگوئی کے ذریعہ سے ظاہر کروں گا۔
پنڈت دیانند اور نیوگ
مجھے ایک دفعہ یہ خیال آیا کہ کیا وجہ تھی کہ دیانند نے بے حیائی اور بے غیرتی کا مسئلہ نکالا۔ جسے کوئی شریف آریہ بھی بطیب خاطر پسند نہیں کرتا۔ بلکہ اس کا نام سن کر گردن نیچی کر لیتا ہے اور چاہِ ندامت میں غرق ہو جاتا ہے تو میری سمجھ میں آیا کہ چونکہ وہ شخص بغیر بیوی کے تھا اس واسطے وہ سارے اخلاق جو بیوی کے ہونے سے وابستہ ہیں ان سب سے وہ محروم تھا۔ غیرت اور حمیّت بھی ایک بیوی والے شخص کا ہی حصہ ہے چونکہ وہ بیوی سے محروم تھا اس واسطے وہ نیوگ کی خرابی کو محسوس نہیں کر سکا اور نہ سمجھا کہ اس طرح سے میں ہزاروں شریف لوگوں کے گلے پر چُھری پھیرتا ہوں۔ یہی وجہ تھی ورنہ اگر اس کے عیال ہوتے وہ ہرگز ایسی بے غیرتی کو روا نہ رکھتا۔ اب بھی بہت سے شریف آریہ ہیں جو اسے گلے پڑا ڈھول سمجھ کر ہی صرف زبان سے مان لیتے ہیں ورنہ عملدرآمد بہت کم ہے۔۱؎
۲۷؍فروری ۱۹۰۳ء
(قبل از عصر) مولوی عبدالکریم صاحب نے عرض کی کہ حضور اردو کتابوں کا تو کبھی بھی پروف نہیں آتا۔ ف اظ کا استعمال ف رمایا۔ اردو کیا بھیجنا ہوتا ہے وہ تو صاف ہوتا ہے۔
اردو میں پنجابی الفاظ کا استعمال
ہاں بعض نادان اتنا اکثر اعتراض کر دیا کرتے ہیں کہ اردو میں پنجابی ملا دیتے ہیں مگر یہ ان کی غلطی ہے۔ ایک شخص نے میری طرف سے کسی ایسے ہی معترض کو جواب دیا کہ تم انصاف کرو کہ اگر وہ اردو میں پنجابی کے الفاظ ملا دیتے ہیں تو غضب کیا ہوا؟ ان کی ملکی اور مادری زبان ہے اس کا کیا حق نہیں؟ جب وہ انگریزی یا عربی اور دوسرے کی زبان کا کوئی لفظ اردو میں ملاتے ہیں تو تم اعتراض نہیں کرتے مگر جب کوئی پنجابی کا لفظ مل جاوے تو اعتراض کرتے ہو۔ شرم تو کرو یہ اگر تعصب نہیں تو کیا ہے۔
(دربار شام )ا پنا بوجھ خود اٹھا ئ یں ای ک شخص نے خط لکھا تھا کہ حضور مجھے کرایہ بھیجا جاوے۔ میں حاضر خدمت ہوں گا۔
اپنا بوجھ خود اٹھائیں
فرمایا۔ مَنْ جَرَّبَ الْمُجَرَّبَ حَلَّتْ بِہِ النَّدَامَۃُ ہم نے بار بار ایسے لوگوں کا تجربہ کر لیا ہے کہ ان میں اخلاص اور نیک نیتی نہیں ہوتی تو کیا ضرورت ہے کہ اس طرح پر روپیہ ضائع کیا جاوے وہی روپیہ دینی کام میں خرچ ہوگا۔ کیا ایسا شخص جو معزز ہے وہ ہمارے حافظ معین الدین سے بھی گیا گذرا ہے یہ بھی ہمیں قریباً پندرہ یا بیس روپے دے چکا ہے کبھی دو آنے اور کبھی ایک آنہ ماہوار دیتا ہے۔ تو ایسے بیکس شخص جب لنگر اور دیگر اخراجات کے واسطے کچھ دے سکتے ہیں۔ تو وہ شخص کیوں اپنا بوجھ نہیں سنبھال سکتا؟ اور شریعت نے تو بوجھ بھی نہیں ڈالا۔ حج کی توفیق نہ ہو تو حج بھی ساقط ہو جاتا ہے اسی طرح اس جگہ بھی گھر بیٹھے بٹھائے بیعت ہوسکتی ہے صرف ایک پیسہ کا کارڈ صرف ہوتا ہے۔
ت کی فضیلت
فر مای ا۔ می ں نہیں سمجھتا کہ رات اور دن میں فرق ہی کیا ہے۔ صرف نور اور ظلمت کا فرق ہے سو وہ نور تو مصنوعی بھی بن سکتا ہے بلکہ رات میں تو یہ ایک برکت ہے۔ خدا نے بھی اپنے فیضان عطا کرنے کا وقت رات ہی رکھا ہے چنانچہ تہجد کا حکم رات کو ہے۔ رات میں دوسری طرفوں سے فراغت اور کش مکش سے بے فکری ہوتی ہے اچھی طرح دلجمعی سے کام ہو سکتا ہے رات کو مُردہ کی طرح پڑے رہنا اور سونے سے کیا حاصل؟
انسان کی خوش قسمتی
اگر ہو سکے تو دین کی خدمت کرنی چاہیے اس سے زیادہ خوش قسمتی اور کیا ہے کہ انسان کا وقت، وجود، قویٰ، مال، جان خدا کے دین کی خدمت میں خرچ ہو۔ ہمیں تو صرف مرض کے دورہ کا اندیشہ ہوتا ہے۔ ورنہ دل یہی کرتا ہے کہ ساری ساری رات کئے جاویں۔ ہماری تو قریباً تمام کتابیں امراض و عوارض میں ہی لکھی گئی ہیں ازالہ اوہام کے وقت میں بھی ہم کو خارش تھی۔ قریباً ایک برس تک وہ مرض رہا تھا۔
منشّی اشیا کا استعما ل عمر کو گھٹا دیتا ہے
اللہ اللہ۔ کیا ہی عمدہ قرآنی تعلیم ہے کہ انسان کی عمر کو خبیث اور مضر اشیاء کے ضرر سے بچا لیا۔ یہ منشّی چیزیں شراب وغیرہ انسان کی عمر کو بہت گھٹا دیتی ہیں۔ اس کی قوت کو برباد کر دیتی ہیں اور بڑھاپے سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہیں۔ یہ قرآنی تعلیم کا احسان ہے کہ کروڑوں مخلوق ان گناہ کے امراض سے بچ گئے جو ان نشہ کی چیزوں سے پیدا ہوتی ہیں۔
قادیان کے آریہ سماج کے جلسہ پر جو آریہ آئے تو ان کی گندہ دہنوں اور گالی گلوچ کا کسی نے حضرت اقدس کی خدمت میں ذکر کیا۔
زبان کی تہذیب کا ذریعہ
فرمایا کہ انسانی زبان کی چُھری تو رک سکتی ہی نہیں جب خدا کا خوف کسی دل میں نہ ہو۔ انسانی زبان کی بے باکی اس اَمر کی دلیل ہے کہ اس کا دل سچے تقویٰ سے محروم ہے۔ زبان کی تہذیب کا ذریعہ صرف خوفِ الٰہی اور سچا تقویٰ ہے۔ ان کی گالیوں پر ہمیں کیا افسوس ہو۔ انہوں نے تو نہ خدا کو سمجھا اور نہ حق العباد کو۔ ان کو خبر ہی نہیں کہ زبان کس چیز سے رُکتی ہے۔
تمام قوت اور توفیق خدا ہی کو ہے اور اس کی عنایت اور نصرت سے ہی انسان کچھ لکھ پڑھ سکتا ہے۔ شاید اس کتاب کے خاتمہ کے لکھے جانے سے اس قوم کی قوت وہمّت اور دلائل کا خاتمہ ہو جاوے۔
صاد ق کی مخالفت کا راز
میں نے کل سوچا کہ اس میں کیا حکمت ہے کہ جب کوئی صادق خدا کی طرف سے آتا ہے تو اس کو لوگ کتوں کی طرح کاٹنے کو دوڑتے ہیں۔ اس کی جان، اس کا مال، اس کی عزّت و آبرو کے درپے ہو جاتے ہیں۔ مقدمات میں اس کو کھینچتے ہیں۔ گورنمنٹ کو اس سے بدظن کرتے ہیں غرض ہر طرح سے جس طرح ان سے بن پڑتا ہے اور تکلیف پہنچا سکتے ہیں اپنی طرف سے کوئی کسر باقی نہیں رکھتے۔ ہر پہلو سے اس کے استیصال کرنے پر آمادہ اور ہر ایک کمان سے اس پر تیر مارنے کو کمر بستہ ہوتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ ذبح کر دیں اور ٹکڑے ٹکڑے کر کے قیمہ کر دیں۔ ادھر تو یہ جوش اٹھتا ہے مگر دوسری طرف اس کے پاس ہزار در ہزار لوگ آتے ہیں۔ شرک و بدعت میں مبتلا ہوتے اور حق اللہ انسان کو دیا جاتا ہے مگر ان میں مولویوں کو اس اَمر کی پروا نہیں ہوتی۔ ہزاروں کنجر اور لنگوٹی پوش فقیر بنتے اور خلق اللہ کو گمراہ کرتے ہیں مگر ان لوگوں کو قتل اور کفر کا فتویٰ کوئی نہیں دیتا ان کی ہر حرکت بدعت اور شرک سے پُر ہوتی ہے۔ ان کا کوئی کام ایسا نہیں ہوتا جو سراسر اسلام کے خلاف نہ ہو۔ مگر ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا۔ ان کے لیے کسی دل میں جوش نہیں اٹھتا غرض اس میں میں سوچتا تھا کہ کیا حکمت ہے تو میری سمجھ میں آیا کہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے کہ صادق کا ایک معجزہ ظاہر کرے کہ باوجود اس قسم کی ممانعت کے اور دشمن کے تیر و تبر کے چلانے کے صادق بچایا جاتا اور اس کی روز افزوں ترقی کی جاتی ہے خدا کا ہاتھ اسے بچاتا اور اس کو شاداب وسرسبز کرتا ہے۔ خدا کی غیرت نہیں چاہتی کہ کاذب کو بھی اس معجزہ میں شریک کرے۔ اسی واسطے اس کی طرف سے دنیا کے دلوں کو بے پروا کر دیتا ہے۔ گویا اس جھوٹے کی کسی کو یہ پروا نہیں ہوتی۔ اس کا وجود دلوں کو تحریک نہیں دے سکتا۔ مگر برخلاف اس کے صادق کا وجود تباہ ہونے والے دلوں کو بے قرار اور بے چین کر کے ایک رنگ میں ایک طرح سے خبر دیتا ہے اور ان کے دل بے قرار ہوتے ہیں۔ کیونکہ دل اندر ہی اندر جانتے ہیں کہ یہ شخص ہمارا کاروبار تباہ کرنے آیا ہے۔ اس واسطے نہایت اضطراب کی وجہ سے اس کے ہلاک کرنے کو اپنے تمام ہتھیاروں سے دوڑتے ہیں مگر اس کا خدا خود محافظ ہوتا ہے۔ خدا خود اس کے واسطے طاعون کی طرح واعظ بھیجتا اور اس کے دشمنوں کے واعظوں پر اسے غلبہ دیتا ہے۔ وہ خدا کے واعظ کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اب دیکھئے کہ اتنے لوگ جو ہر جمعہ کو جن کی نوبت اکثر پچاس ساٹھ تک پہنچ جاتی ہے ان کو کون بیعت کے لیے لاتا ہے؟ یہی طاعون کا ڈنڈا ہے جو ان کو ڈرا کر ہماری طرف لے آتا ہے ورنہ کب جاگنے والے تھے اسی فرشتہ نے ان کو جگایا ہے۔۱؎
۲۸ ؍فروری ۱۹۰۳ء
(دربارِ شام) دربارِ شام میں آریہ لوگوں میں سے چند لوگ حضرت اقدس کی زیارت کے واسطے آئے۔ حضرت نے پوچھا آپ بھی اس جلسہ کی تقریب پر آئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ حضور ہم لوگ تو اصل میں یہ بات سن کر آئے ہیں کہ آپ کا بھی لیکچر ہو گا ورنہ ہماری اس جگہ آنے کی چنداں خواہش نہ تھی۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ
مذہبی مباحثات کے آداب
اصل بات یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ ہر قوم میں کچھ شریف لوگ بھی ہوتے ہیں جن کا مقصد کسی بے جا حقارت یا کسی کو بے جا گالی گلوچ دینا یا کسی قوم کے بزرگوں کو بُرا بھلا کہنا ان کا مقصد نہیں ہوتا۔ مگر ہم تو جو کام کرتے ہیں وہ خدا کے حکم اور اس کی اجازت اور اس کے اشارہ سے کرتے ہیں۔ اس نے ہمیں اس قسم کے زبانی مباحثات سے روک دیا ہوا ہے چنانچہ ہم کئی سال ہوئے کہ کتاب انجام آتھم میں اپنا یہ معاہدہ شائع بھی کر چکے ہیں اور ہم نے خدا سے عہد کیا ہے کہ زبانی مباحثات کی مجالس میں نہ جاویں گے۔
آپ جانتے ہیں کہ ایسے مجمعوں میں مختلف قسم کے لوگ آتے ہیں۔ کوئی تو محض جاہل اور دھڑے بندی کے خیال پر آتے ہیں کوئی اس واسطے کہ تا کسی کے بزرگوں کو گالی گلوچ دے کر دل کی ہوس پوری کر لیں اور بعض سخت تیز طبیعت کے لوگ ہوتے ہیں۔ سو جہاں اس قسم کا مجمع ہو ایسی جگہ جا کر مذہبی مباحثات کرنا بڑا نازک معاملہ ہے۔ کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ جب دو شخص مقابل میں کھڑے ہوتے ہیں جب تک وہ یہ ثابت کر کے نہ دکھا دیں کہ دوسرا مذہب بالکل غلطی پر ہے اور اس میں صداقت اور روحانیت کا حصہ نہیں وہ مُردہ ہے اور خدا سے اسے تعلق نہیں ہے تب تک اس کو اپنے مذہب کی خوبصورتی دکھانی مشکل ہوتی ہے کیونکہ یہ دوسرے کے معائب کا ذکر کرنا ہی پڑے گا۔ جو غلطیاں ہیں اس میں اگر ان کا ذکر نہ کیا جاوے تو پھر اظہارِ حق ہی نہیں ہوتا تو ایسی باتوں سے بعض لوگ بھڑک اٹھتے ہیں۔ وہ نہیں برداشت کر سکتے۔ طیش میں آ کر جنگ کرنے کو آمادہ ہوتے ہیں لہٰذا ایسے موقع پر جانا مصلحت کے خلاف ہے اور مذہبی تحقیقات کے واسطے ضروری ہے کہ لوگ ٹھنڈے دل اور انصاف پسند طبیعت لے کر ایک مجلس میں جمع ہوں۔ ایسا ہو کہ ان میں کسی قسم کے جنگ و جدال کے خیالات جوش زن نہ ہوں تو بہتر ہو۔ پھر ایسی حالت میں ایک طرف سے ایک شخص اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے اور جہاں تک وہ بول سکتا ہے بولے پھر دوسری طرف سے جانب مقابل بھی اسی طرح نرمی اور تہذیب سے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے اسی طرح بار بار ہوتا رہے مگر افسوس کہ ابھی تک ہمارے ملک میں اس قسم کے متحمل لوگ اور صبر اور نرم دِلی سے تحقیق کرنے والے نہیں ہیں ابھی ایسا وقت نہیں آیا ہاں امید ہے کہ خدا جلدی ایسا وقت لے آوے گا ہم نے تو ایسا ارادہ بھی کیا ہے کہ یہاں ایک ایسا مکان تیار کرایا جاوے جس میں ہر مذہب کے لوگ آزادی سے اپنی اپنی تقریریں کر سکیں۔ درحقیقت اگر کسی اَمر کو ٹھنڈے دل اور انصاف کی نظر اور بردباری سے نہ سنا جاوے تو اس کی سچی حقیقت اور تہ تک پہنچنے کے واسطے ہزاروں مشکلات ہوتے ہیں۔ دیکھئے ایک معمولی چھوٹا سا مقدمہ ہوتا ہے تو اس میں جج کس طرح طرفین کے دلائل، ان کے عذر وغیرہ کس ٹھنڈے دل سے سنتا ہے اور پھر کس طرح سوچ بچار کر پوری تحقیقات کے بعد فیصلہ کرتا ہے بعض اوقات سال ہی گذر جاتے ہیں جب دنیا کے مقدمات کا یہ حال ہے تو دین کے مقدمات کا کیوں کر دو چار یا دس باراں منٹ میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ سائل کو سوال کرنا تو آسان ہے مگر جواب دینے والے کو جو مشکلات ہوتی ہیں ان کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ ایک شخص اعتراض کر دیوے کہ نظامِ شمسی کے متعلق اور ستاروں اور زمین کے متعلق حالات مجھے بتا دو اور جتنے وقت میں مَیں نے سوال کیا ہے اتنا ہی تمہیں وقت دیا جاتا ہے کہ اتنے وقت کے اندر اندر جواب دو۔ ورنہ تم جھوٹے ہو۔ اب صاف عیاں ہے کہ جواب دینے والا کیا کرے۔ وہ جب تک کئی جز کی کتاب نہ لکھے تب تک جواب پورا نہ ہونا ہوا۔ غرض اس طرح کی مشکلات ہیں جو ہمیں درپیش ہیں۔ یہ وجوہ ہیں جو ہمیں ان جلسوں میں جانے سے روکتے ہیں۔
تلا شِ حق کے آدا ب
اگر سائل ایسا کرے کہ لو صاحب میں نے سوال کیا ہے تم جب تک اس کا جواب کامل کرو میں خاموش ہوں تو جواب دینے والے کو بھی مزہ آوے۔ اصل میں جو باتیں خدا کے لیے ہوں اور جو دل خدا کی رضا کے واسطے ایسا کرتا ہے اور اس کا دل سچے تقویٰ سے پُر ہے وہ تو کبھی ایسا کرتا نہیں۔ مگر آج کل زبان چُھری کی طرح چلتی ہے اور صرف ایک حجت بازی سے کام کیا جاتا ہے خدا کے لیے ایسا ہوگا تو وہ باتیں اور وہ طرز ہی اور ہوتا ہے جو دل سے نکلتا ہے وہ دل ہی پر جا کر بیٹھتا ہے۔ حق جُو کے سوال کی بھی ہم کو خوشبو آ جاتی ہے۔ حق جُو ہو تو اس کی سختی میں بھی ایک لذّت ہوتی ہے۔ اس کا حق ہوتا ہے کہ جو اَمر اس کی سمجھ میں نہیں آیا اس کے متعلق اپنی تسلّی کرائے اور جب تک اس کی تسلّی نہ ہووے اور پورے دلائل نہ مل جاویں تب تک بے شک وہ پوچھے ہمیں بُرا نہیں لگتا۔ بلکہ ایسا شخص تو قابلِ عزّت ہوتا ہے جو باتیں خدا کے لیے ہوتی ہیں وہ کہاں اور نفسانی ڈھکونسلے کہاں؟
اعتراض کرنے میں جلدی نہ کرو
میں نے اپنی جماعت کو بھی بارہا سمجھایا کہ کسی پر اعتراض کرنے میں جلدی نہ کرو۔ ہر پرانا مذہب اصل میں خدا ہی کی طرف سے تھا مگر زمانہ دراز گذرنے کی وجہ سے اس میں غلطیاں پڑ گئی ہیں۔ ان کو آہستگی اور نرمی سے دور کرنے کی کوشش کرو کسی کو پتھر کی طرح اعتراض کا تحفہ نہ دو۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج ایک کپڑا بازار سے لے کر سلایا جاتا اور پہنا جاتا ہے چند روز کے بعد وہ پرانا ہو جاتا اور اس میں تغیر آ کر کچھ اَور کا اَور ہی ہو جاتا ہے۔
سچے مذہب کی علا ما ت
اسی طرح پرانے مذہب میں بھی صداقت کی جڑ ضرور ہے۔ خدا راستی کے ساتھ ہوتا ہے اور سچا مذہب اپنے اندر زندہ نشان رکھتا ہے کیونکہ درخت اپنے پھلوں سے شناخت ہوتا ہے۔ گورنمنٹ جو اس وراء الوراء ہستی کا ایک نہایت کمزور سا ظِل ہے اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی نظر میں صادق کیسے عزیز اور معتبر ہوتے ہیں وہ افسر یا ملازم جن کو گورنمنٹ نے خود کسی جگہ کا حاکم مقرر فرمایا ہوتا ہے وہ کس دلیری سے کام کرتا ہے اور ذرا بھی پوشیدگی پسند نہیں کرتا۔ مگر وہ ایک مصنوعی ڈپٹی کمشنر یا تھانہ دار وغیرہ جو جعلی طور پر کسی جگہ خود بخود حاکم بن کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں کیا وہ گورنمنٹ کے سامنے ہو سکتے ہیں؟ جب گورنمنٹ کو یہ پتا لگے گا اس کو ذلیل کرے گی اور وہ ہتھکڑی لگ کر جیل خانہ میں یا اور سزا ملے گی۔ یہی حال ہے مذہبی راستی کا۔ جو خدا کی نظر میں صادق ہوتا ہے اس میں خدا کے نشان اور جرأت اور صداقت کے آثار ہوتے ہیں وہ ہر وقت زندہ ہوتا ہے اور اس کی عزّت ہوتی ہے۔
متّقی کا مقام
اصل میں خدا سے ڈرنے والے کو تو بڑے بڑے مشکلات ہوتے ہیں۔ انسان پاک صاف تو جب جا کر ہوتا ہے کہ اپنے ارادوں کو اور اپنی باتوں کو بالکل ترک کر کے خدا کے ارادوں کو اسی کی رضا کے حصول کے واسطے فنا فی اللہ ہو جاوے۔ خودی اور تکبر اور نخوت سب اس کے اندر سے نکل جاوے۔ اس کی آنکھ ادھر دیکھے جدھر خدا کا حکم ہو۔ اس کے کان ادھر لگیں جدھر اس کے آقا کا فرمان ہو۔ اس کی زبان حق و حکمت کے بیان کرنے کو کھلے۔ اس کے بغیر نہ چلے جب تک اس کے لیے خدا کا اذن نہ ہو اس کا کھانا، پہننا، سونا، پینا، مباشرت وغیرہ کرنا سب اس واسطے ہو کہ خدا نے حکم دیا ہے اس واسطے نہ کھائے کہ بھوک لگی ہے بلکہ اس لیے کہ خدا کہتا ہے۔ غرض جب تک مَرنے سے پہلے مَر کر نہ دکھاوے تب تک اس درجہ تک نہیں پہنچتا کہ متّقی ہو۔
پھر جب یہ خدا کے واسطے اپنے اوپر موت وارد کرتا ہے خدا کبھی اسے دوسری موت نہیں دیتا۔
میں نیک دل انسان کو دور سے پہچا ن لیتا ہوں
آج کل دیکھا جاتا ہے کہ جب لَبْ کھولا جاتا ہے۔ تو ان کی باتوں میں سے سوائے ہنسی ٹھٹھے اور دل دکھانے والے کلمات کے کچھ نکلتا ہی نہیں جو کچھ کسی برتن میں ہوتا ہے وہی باہر نکلتا ہے۔ ان کی زبانیں ان کے اندرون پر گواہی دیتی ہیں۔ میں تو نیک دل انسان کو دوری سے پہچان لیتا ہوں جو شخص پاک کردار سلیم دل لے کر آتا ہے میں تو اسی کے دیکھنے کا شوق رکھتا ہوں۔ اس کی تو گالی بھی بُری معلوم نہیں ہوتی۔ مگر افسوس کہ ایسے پاک دل بہت کم ہیں۔
صبر اور حلم کا نمونہ
ایک آریہ صاحب بولے کہ اصل میں حضور جاہل تو دو ہی قومیں ہیں۔ آپ بُرا نہ مانیں تو میں عرض کر دوں۔ اوّل تو سکھ لوگ دوسرے یہ ہمارے مسلمان بھائی۔
اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ
دیکھئے ایک سمجھنے والے کے لیے جاہل سے زیادہ اور کیا گالی ہوسکتی ہے۔ کسی شخص کو اس کے منہ پر جاہل کہنا بہت سخت گالی ہے مگر سوچو تو کیا ان حاضرین میں سے کوئی ایک بھی بولا ہے؟ کیا اب بھی تمہیں اس مجلس کی نرمی اور تہذیب پر کچھ شک ہے؟ بہت ہیں ہمارے منہ پر گالیاں دے جاتے مگر ان میں سے ایک کی بھی مجال نہیں ہوتی کہ دم مار کر اس کو کچھ بھی کہہ جاوے۔
ہم ان کو دن رات صبر کی تعلیم دیتے ہیں۔ نرمی اور حلم سکھاتے ہیں۔ یہ وہ قوم نہیں کہ آپ کے اس اصول کے مصداق بن سکے۔ ہاں ہم البتہ عوام مسلمان لوگوں کے ذمہ وار نہیں ہیں ہم تب مانیں اگر کسی آریہ لوگوں کے مجمع میں اس طرح کہہ دیں تم جاہل ہو اور وہ صبر کر رہیں اور ایک کی بجائے ہزار نہ سنائیں تو۔
مسلمان کے اخلاق
آپ نے مسلمانوں کو نہیں دیکھا اور نہ ہی آپ نے ان کے اخلاق دیکھے ہیں۔ ان کا اور ان آریوں کا اگر مقابلہ کیا جاوے تو بکری اور بھیڑیئے کا معاملہ نظر آوے۔ عوام جو ہمارے زیر اثر نہیں ہیں ان کا ہم ذمہ نہیں لیتے۔ گالی اور جوش دلانے والے الفاظ سن کر صبر کرنا مَردوں کا کام ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایسا کر کے دکھا دے تو ہم جانیں۔ نرمی ہی مشکل ہے سختی تو ہر ایک شخص کر سکتا ہے۔
خدا تعالیٰ عمر کو کم وبیش کرسکتا ہے
کسی صاحب نے بیان کیا کہ آریوں نے لیکچر میں کہا کہ خدا عمر کو کم و بیش نہیں کر سکتا ہے۔ فرمایا۔ ہمارا تو اعتقاد ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ عمر کو کم بھی کر سکتا ہے اور زیادہ بھی کر سکتا ہے یَمۡحُوا اللّٰہُ مَا یَشَآءُ وَیُثۡبِتُ(الرّعد:۴۰) اگر ایسا نہیں ہوتا وہ کیوں مَرتے ہوئے انسان سے صدقات کراتے ہیں اور کیوں علاج معالجہ کراتے ہیں؟ بلکہ عیسائیوں کا بھی یہی اعتقاد ہے ان کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک شخص کی پندرہ دن کی عمر باقی رہ گئی تھی دعا سے پندرہ سال ہو گئے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ قوم نبوت کی راہ سے بالکل محروم ہونے کی وجہ سے اس راہ اور علم سے جاہل مطلق ہے اسی وجہ سے ایسے ایسے اعتراض کرتے ہیں۔ روحانیت سے بے بہرہ ہونے کی وجہ سے ہے ورنہ ایسے اعتراض ہرگز نہ کرتے۔ مادر زاد اندھے کو آنکھیں کیوں کر دیں۔۱؎
یکم مارچ ۱۹۰۳ء
(صبح کی سیر)
حضر ت نواب محمد علی خان صاحب کے متعلق ایک الہام
نواب صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آج رات ایک کشف میں آپ کی تصویر ہمارے سامنے آئی اور اتنا لفظ الہام ہوا حجۃ اللہ، یہ اَمر کوئی ذاتی معاملات سے تعلق نہیں رکھتا۔ اس کے متعلق یوں تفہیم ہوئی کہ چونکہ آپ اپنی برادری اور قوم میں سے اور سوسائٹی میں سے الگ ہو کر آئے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام حجۃ اللہ رکھا یعنی آپ ان پر حجت ہوں گے۔ قیامت کے دن کو ان کو کہا جاوے گا کہ فلاں شخص نے تم سے نکل کر اس صداقت کو پرکھا اور مانا۔
تم نے کیوں ایسا نہ کیا؟ یہ بھی تم میں سے ہی تھا اور تمہاری طرح کا ہی انسان تھا چونکہ خدا تعالیٰ نے آپ کا نام حجۃ اللہ رکھا۔ آپ کو بھی چاہیے کہ آپ ان لوگوں پر تحریر سے تقریر سے ہر طرح سے حجت پوری کر دیں۔۱؎
۱ اصل میں اس ساری قوم کی حالت قابل رحم ہے عیش و عشرت میں گم ہیں دنیا کے کیڑے بنے ہوئے ہیں اور فنا فیی ورپ ہیں۔ خدا سے اور آسمان سے کوئی تعلق نہیں۔ جب خدا کسی کو ایسی قوم میں سے نکالتا اور اس کی اصلاح کرتا ہے تو اس کا نام اس قوم پر حجت رکھتا ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَّجِئۡنَا بِکَ عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ شَہِیۡدًا(النساء:۴۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا تھا۔ اس نے کچھ کہا تھا تو آپ نے فرمایا بس کر۔ اب تو میں اپنی ہی اُمّت پر گواہی دینے کے قابل ہو گیا ہوں۔ مجھے فکر ہے کہ میری امت کو میری گواہی کی وجہ سے سزا ملے گی۔
کلمۃ اللہ کی حقیقت
حضرت عیسٰیؑ کو اللہ تعالیٰ نے کلمۃ اللہ خصوصیت سے کیوں کہا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کی ولادت پر لوگ بڑے گندے اعتراض کرتے تھے اس واسطہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان الزاموں سے بری کرنے کے لیے فرمایا کہ وہ تو کلمۃ اللہ ہیں۔۱؎ ان کی ماں بھی صدیقہ ہے یعنی بڑی پاکباز اور عفیفہ ہے ورنہ یوں تو کلمۃ اللہ ہر شخص ہے ان کی خصوصیت کیا تھی چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلمے اتنے ہیں کہ وہ ختم نہیں ہو سکتے انہی اعتراضوں سے ہی بری کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کو کہا کہ وہ شیطان کے مَس سے پاک ہیں ورنہ کیا دوسرے انبیاء شیطان کے ہاتھ سے مَس شدہ ہیں؟ جو نعوذ باللہ دوسرے الفاظ میں یوں ہے کہ ان پر شیطان کا تسلط ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ شیطان کو کسی معمولی انسان پر بھی تسلّط نہیں ہوتا تو انبیاء پر کس طرح ہوسکتا ہے؟ اصل وجہ صرف یہی تھی کہ ان پر بڑے اعتراض کئے گئے تھے۔ اسی واسطے ان کی بریت کا اظہار فرمایا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا کَفَرَ سُلَیْمٰنُ(البقرۃ:۱۰۳) کوئی کہے کہ کیا انبیاء بھی کافر ہوا کرتے ہیں؟ نہیں ایسا نہیں۔ لوگوں نے ان پر اعتراض کیا تھا کہ وہ بُت پرست ہو گئے تھے ایک عورت کے لیے۔ اس اعتراض کا جواب دیا یہی حال ہے حضرت عیسیٰؑ کے متعلق۔۲؎
اس دن کی سیر کے دوران ایک اور ذکر بھی ہوا جو البدر میں یوں درج ہے۔
چونکہ آج کے دن بھی آریہ سماج کا جلسہ تھا اور کثرت سے لوگ اس جلسہ میں شامل ہوئے تھے کہ حضرت میرزا صاحب کی زیارت ہوگی۔ مگر جب ان کو معلوم ہوا کہ مباحثہ کی خبر غلط شائع کی گئی ہے تو اب وہ لوگ حضرت کی زیارت کے لیے بعض تو مسجد میں آتے رہے اور بعض سیر میں آکر ملے ان میں سے بعض نے پھر درخواست کی کہ آپ جلسہ میں آ کر کچھ گفتگو کریں۔
حضرت اقدس نے فرمایا کہ
گالی او ر بر محل بات میں فرق
حضرت اقدس نے فر م ایا کہ م ذہبی باتوں کو علمی رنگ میں بیان کرنا چاہیے اور یہ جب ہوسکتا ہے کہ جب انسان کو گیان حاصل ہو ورنہ بلا سوچے سمجھے کہہ دینے سے کچھ نتیجہ نہیں نکلا کرتا۔ ہر ایک مذہب میں کھلی کھلی بات اور گیان کی بات بھی ہوتی ہے جب تک انسان نفس کو صاف کر کے بات نہ کرے تو ٹھیک پتا نہیں لگتا۔ آج کل ہار جیت کو مدِّنظر رکھ کر لوگ بات کرتے ہیں۔ اس سے فساد کا اندیشہ ہوتا ہے۔
بار بار جہاد، طلاق، کثرت ازدواج کو پیش کیا جاتا ہے حالانکہ ان کے بزرگ سب یہ باتیں کرتے آئے ہیں۔ یہاں کے آریہ ہمیشہ میرے پاس آتے ہیں اور سوال وجواب بھی ہوتا ہے لیکن آپس میں ناراضگی کبھی نہیں ہوتی بعض بات اپنے محل پر چسپاں کہی جاتی ہے لوگ اسے غلط فہمی سے گالی خیال کر لیتے ہیں ان کو یہ علم نہیں ہوتا کہ گالی اور بر محل بات میں فرق کر سکیں۔ بات یہ ہے کہ جب انسان پرانے عقیدے پر جما ہوا ہوتا ہے تو اس کے عقیدے کو جب دوسرا بیان کرتا ہے تو اسے گالی خیال کرتا ہے۔
اس موقع پر ایک ہندو نے کہا کہ آپ نے بعض جگہ گالیاں دی ہوئی ہیں۔
فرمایا کہ کوئی ایسی بات پیش کرو جو اپنے محل پر چسپاں نہیں ہے۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ زبانی تقریریں اچھی نہیں ہیں۔ اور تحریر پیش کرتا ہوں کہ ہر ایک پڑھ کر اپنی اپنی جگہ پر رائے قائم کر لے اور جو اس کا جی چاہے کہے۔
چنانچہ اس موقع پر حضرت اقدس نے اس ہندو کو تحفہ آریہ یعنی ’’نسیم دعوت ‘‘نئی تصنیف دی کہ تم اسے دیکھو اور بتلاؤ کون سی بات ہے جو اپنے محل پر چسپاں نہیں ہے۔۱؎
(قبل از ظہر)
حضرت اقدس کی زیارت کے لیے کاشی رام ویدلاہور سے اور بعض اور لوگ تشریف لائے۔
حضرت اقدس نے مخاطب کر کے ان کو فرمایا۔
اختلاف مذہب کی حکمت
اختلاف مذاہب کا جو خدا تعالیٰ نے اپنی حکمت عملی سے رکھا ہے یہ بھی ایک عمدہ چیز ہے۔ اس سے انسانوں کی عقل بڑھتی ہے دنیا میں اگر کسی معاملہ میں اتفاق بھی کرتے ہیں تو اس کی باریک در باریک جزئیوں تک پہنچنا محال ہو جاتا ہے اور جزئی در جزئی نکلتی چلی آتی ہے۔ تبادلہ خیالات کے لیے مجمعوں میں تقریریں کرنی بھی اچھی چیز ہیں لیکن ابھی تک ہمارے ملک میں ایسے مہذب لوگ بہت ہی کم ہیں بلکہ نہیں ہیں جو آرام اور امن کے ساتھ اپنی مخالف رائے ظاہر کر سکیں۔
میں نے خود یہ چاہا تھا اور میرا ارادہ ہے کہ قادیان میں ایک جگہ ایسی بناویں جہاں مختلف لوگ مذاہب کے جمع ہو کر اپنے اپنے مذہب کی صداقت اور خوبیوں کو آزادی سے بیان کر سکیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ اگر اظہار حق کے لیے مباحثے اور تقریریں ہوں تو بہت اچھی بات ہے مگر تجربہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ ان میں فتنہ و فساد کا مظنّہ ہوتا ہے اس لیے میں نے ان مباحثوں کو چھوڑ دیا ہے ممکن ہے دو چار آدمی ایسے بھی ہوں جو صبر اور نرمی کے ساتھ اپنے مخالف کی بات سن لیں لیکن کثرت ایسے لوگوں کی ہوگی جو عوام الناس میں سے ہوتے ہیں اور وہ اپنے مخالف کے منہ سے ایک لفظ بھی اپنے مذہب کے خلاف نہیں سن سکتے خواہ وہ کتنا ہی نرم کیوں نہ ہو۔ چونکہ جب مخالف بیان کرے گا تو کوئی نہ کوئی لفظ اس کے منہ سے ایسا نکل سکتا ہے جو اس کے فریق مخالف کی غلطی کے اظہار میں ہو گا اور اس سے عوام میں جوش پھیل جاتا ہے ایسی جگہ تو تب امن رہ سکتا ہے جب سمجھانے والا اور سمجھنے والا اس طرح بیٹھیں کہ جیسے باپ بیٹے میں کوئی برائی دیکھتا ہے اور اس کو سمجھاتا ہے تو وہ نرمی اور صبر سے اس کو سن لیتا ہے ایسی محبت کی کشش سے البتہ فائدہ ہوتا ہے غیظ و غضب کی حالت میں یہ امید رکھنا کہ کوئی فائدہ ہو خام خیال ہے۔
ہندواور مسلمانوں کے با ہم تعلقات میں ابتری
اب مشکل آکر یہ پڑی ہے کہ ایک تو دین کا اختلاف ہی ہے پھر اس پر احقاقِ حق لوگوں کی غرض نہیں رہی بلکہ بغض وعناد میں اس قدر ترقی کی گئی ہے کہ اپنے فریق مخالف کا نام بھی ادب یا عزّت سے لینا گناہ سمجھا جاتا ہے میںـ دیکھتا ہوں کہ بڑی بے ادبی اور گستاخی سے بات کرتے ہیں پہلے ہندو مسلمانوں میں ایسے تعلقات تھے کہ برادری کی طرح رہتے تھے اب ایسا تفرقہ پیدا ہوا ہے کہ وہ اندرونی کشش جو ایک دوسرے میں تھی باقی نہیں رہی ہے بلکہ تعصب اور دشمنی بڑھ گئی ہے پس جب کہ کوئی حصہ انس اور کشش کا ہی باقی نہ ہو اور ہار جیت مقصود ہو تو پھر اظہار حق کس طرح ہو سکتا ہے۔
اظہارِ حق کے لئے ضروری امور
اظہار حق کے واسطے یہ ضروری اَمر ہے کہ تعصب سے اندر خالی ہو اور بغض اور عناد نہ ہو۔ ست است کے نرنے کے لیے بحث کا تو نام بھی درمیان میں نہیں آنا چاہیے بلکہ اس کو چاہیے کہ بحث کو چھوڑ دے۔
میں یہ بھی مانتا ہوں اور یہی میرا مذہب ہے کہ ایک اور غلطی میں لوگ پڑے ہوئے ہیں کسی مذہب پر حملہ کرتے وقت وہ اتنا غور نہیں کرتے کہ جو حملہ ہم کرتے ہیں اس مذہب کی کتاب میں بھی ہے یا نہیں؟ مسلّمہ کتب کو چھوڑ دیتے ہیں اور کسی شخص کی ذاتی رائے کو لے کر اس کو مذہب کی خبر بنا دیتے ہیں۔
ہم بہت سی باتوں میں آریہ مذہب کے خلاف ہیں اور ہم ان کو صحیح تسلیم نہیں کرتے لیکن ہم ان کو وید پر نہیں لگاتے ہم کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ اس میں کیا ہے ہاں پنڈت دیا نند پر ضرور لگاتے ہیں کیونکہ انہوں نے تسلیم کر لیا ہے ہم تو اس عقیدہ کے خلاف کہتے ہیں جو شائع کر دیا گیا ہے کہ یہ آریہ سماج کا عقیدہ ہے اسی طرح پر آریوں کو اگر کوئی اعتراض کرنا ہو تو چاہیے کہ وہ قرآن شریف پر کرے یا اس عقیدہ پر جو ہم نے مان لیا ہو اور اس کو شائع کر دیا ہو یہ مناسب نہیں کہ جس بات کو ہم مانتے ہی نہیں خواہ نخواہ ہمارے عقیدہ کی طرف اس کو منسوب کر دیا جاوے۔
مباحثہ اصول پر ہونا چاہیے
چونکہ بہت سے فرقے ہو گئے ہیں اس لیے جس نے ایک اصول مان لیا ہے اس پر اعتراض کرنا چاہیے اس لئے مباحثہ کے وقت کتاب کا نام لے۔ تفسیروں اور بھاشوں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ کس قدر اختلاف ہے۔ اگر اس اصل کو مدنظر رکھا جاوے تو سامعین فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ جب تک کتاب کو کسی نے سمجھا اور پڑھا ہی نہیں اس پر وہ اعتراض کرنے کا حق کس طرح رکھ سکتا ہے۔ مذہب کے معاملہ میں یہ ضروری بات ہے کہ مانی ہوئی اصل پر بحث کریں۔ اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ کل کتابیں پڑھی جاویں اس کے لیے تو عمر بھی وفا نہیں کر سکتی۔
مباحثہ اصول پر ہونا چاہیے۱؎ جو بطور بحث کے ہیں۔ اور چونکہ عام مجمعوں میں حق کو مشتبہ رکھا جاتا ہے انسان ضد اور تعصب سے کام لیتا ہے میں نے خدا سے عہد کر لیا ہے کہ اس طریق کو چھوڑ دیا جاوے۔
یہ کتاب۲؎ میں نے اصول مباحثہ کے لحاظ سے لکھی ہے۔ اور اسی طریق سے جو میں نے پیش کیا ہے بحث کی ہے جو لوگ ہم کو گالیاں دیتے ہیں ہم ان کی گالیوں کا کوئی جواب نہیں دیتے کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہم سے تو گالیوں کی قوت ہی کھودی ہے۔ کس کس کی گالی کا جواب دیں۔۳؎۴؎
۲؍مارچ ۱۹۰۳ء
(صبح کی سیر)
مسیح موعودؑ کے ذریعہ خانہ کعبہ کی حفاظت
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضور میرے ایک دوست نے لکھا ہے کہ تم تو حج کرنے کو گئے ہوئے ہو مگر ہمیں بھلا دیا ہے۔۱؎
فرمایا۔ اصل میں جو لوگ خدا کی طرف سے آتے ہیں ان کی خدمت میں دین سیکھنے کے واسطے جانا بھی اک طرح کا حج ہی ہے۔ حج بھی خدا تعالیٰ کے حکم کی پابندی ہی ہے اور ہم بھی تو اس کے دین اور اس کے گھر یعنی خانہ کعبہ کی حفاظت کے واسطے آئے ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کشف میں دیکھا تھا کہ دجّال اور مسیح موعود اکٹھے طواف کر رہے ہیں۔ اصل میں طواف کے معنی ہیں پھرنا، تو طواف دو ہی طرح کا ہوتا ہے، ایک تو رات کو چور پھرتے ہیں یعنی گھروں کے گرد طواف کرتے ہیں اور ایک چوکیدار طواف کرتا ہے مگر ان میں فرق یہ ہے کہ چور تو گھروں کو لوٹنے اور گھروں کو تباہ و برباد کرنے کے لئے اور چوکیدار ان گھروں کی حفاظت اور بچاؤ اور چوروں کے پکڑنے کے واسطے طواف کرتے ہیں۔ یہی حال مسیح اور دجّال کے طواف کا ہے۔ دجّال تو دنیا میں اس واسطے پھرتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ تا دنیا کو خدا کی طرف سے پھیر دے اور ان کے ایمان کو لُوٹ لیا جاوے مگر مسیح موعود اس کوشش میں ہے کہ تا اسے پکڑے اور مارے اور اس کے ہاتھ سے لوگوں کے دین و ایمان کے متاع کو بچاوے۔ غرض یہ ایک جنگ ہے جو ہمارا دجّال سے ہو رہا ہے۔
کا مل ایمان والے کو کسی نشان کی ضرورت نہیں ہوتی
ایک صاحب نے عرض کی حضور کیا وجہ ہے کہ بعض لوگوں کو مبشرات کثرت سے ہوتے ہیں اور بعض کو بہت کم بلکہ بالکل ہی نہیں۔ فرمایا کہ اصل میں اللہ تعالیٰ نے طبائع مختلف پیدا کی ہیں۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی ایمانی قوت ہی ایسی مضبوط ہوتی ہے کہ اسے کسی نشان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کا ایمان کامل ہوتا ہے دیکھو! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کون سا نشان دیکھا تھا؟ یا ان کو کون سا خواب آیا؟ یا کوئی بشارت ہوئی تھی جس سے انہوں نے آپ کو پہچان لیا تھا اگر ان کا کوئی خواب یا بشارت وغیرہ ہوتی تو اس کا ذکر حدیث شریف میں ضرور ہوتا۔ وہ ایک سفر پر گئے ہوئے تھے راستہ میں واپسی پر انہوں نے ایک شخص سے پوچھا کہ اپنے شہر کی کوئی نئی بات سنا اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ نبوت سے اسے آگاہ کیا۔ فوراً بے چون و چرا مان لیا۔ اس کی وجہ صرف یہی تھی کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے حالات دیکھے ہوئے تھے۔ وہ بخوبی آگاہ تھے کہ یہ شخص کاذب یا مفتری نہیں۔ ان کو پہلی واقفیت اور عقلِ سلیم نے آپ کو فوراً قبول کر لینے پر مجبور کیا۔ زمانہ کی حالت کو انہوں نے دیکھ لیا تھا۔ وقت تھا ضرورت تھی ایک صادق نے خدا کی طرف سے الہام پا کر دعویٰ کیا فوراً مان لیا۔ اصل میں نشانات کی ضرورت بھی کمزور ایمان کو ہوتی ہے۔ کامل ایمان کو نشان کی ضرورت ہی نہیں۔
خداکے مقرب عذابِ الٰہی سے محفوظ رکھے جاتے ہیں
فرمایا کہ خدا کے عذاب سے اور اپنے محفوظ رکھنے کے واسطے خدا کا قرب حاصل کرنا ضروری ہے۔ جتنا جتنا خدا سے انسان قریب ہوتا ہے اتنا ہی وہ مصائب، شدائد اور بلاؤں سے دور ہوتا ہے۔ جو خدا کا مقرب ہوتا ہے اسے کبھی خدا کے قہر کی آگ نہیں کھاتی۔ دیکھو! انبیاء کے وقت میں وبائیں اور طاعون سخت ہوتے رہے مگر کوئی بھی نبی ان عذابوں میں ہلاک نہیں ہوا۔ صحابہؓ کے وقت میں بھی طاعون پڑا۔ اور بہت سے صحابہؓ اس سے شہید بھی ہوئے مگر اس وقت وہ صحابہؓ کے واسطے شہادت تھی کیونکہ صحابہؓ اپنا کام پورا کر چکے تھے اور اعلیٰ درجہ کی کامیابی ان کو ہو چکی تھی اور نیز وہ کوئی تحدّی کا وقت بھی نہ تھا اور مَرنا تو ہر انسان کے ساتھ لازمی لگا ہوا ہے۔ اسی ذریعہ سے خدا تعالیٰ کو ان کی موت منظور تھی۔ ان کے واسطے شہادت تھی۔ مگر جب کسی عذاب کے واسطے پہلے سے خبر دی جاوے کہ خدا آسمان سے اپنی ناراضگی کی وجہ سے قہر نازل کرے گا تو ایسے وقت میں وہ وبا رحمت نہیں اور شہادت نہیں ہوا کرتی بلکہ لعنت ہوا کرتی ہے پس خدا کی طرف دوڑو کہ اسی کے پاس معالجے ہیں اور بچاؤ کے سامان ہیں۔۱؎
(بوقتِ ظہر)
ماننے کے قابل حدیث اور خواب
ایک شخص نے ایک پراگندہ سی خواب لکھ کر حضرت سے تعبیر پوچھی تھی۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ جس طرح سے حدیث ماننے کے قابل نہیں ہوتی جب تک قرآن کے موافق نہ ہو۔ اسی طرح کوئی خواب بھی ماننے کے لائق نہیں جب تک ہمارے موافق نہ ہو۔
(بوقتِ عصر)
اس وقت چند ایک سکھ حضرت کی ملاقات کے واسطے آئے اور اثنائے ذکر میں آپ نے فرمایا کہ زبان سے تو ایک انسان بھی اپنا بندہ نہیں بن سکتا خدا کیسے اپنا بن سکتا ہے۔ محبت ہوگی تو سانجھ ہو گی کھوٹ سے کوئی خدا سے کیا لے سکتا ہے۔۲؎
(دربارِ شام)
خدا تعالیٰ کے فرستادہ کی تلاش ضروری تھی
ایک صاحب نو وارد۳؎ تھے آپ نے ان سے فرمایا کہ دیکھو! دنیا چند روزہ ہے کسی کو بقا نہیں اور یہ دنیا اور اس کا جاہ و جلال کسی کے ساتھ ہمیشہ نہیں رہنے والے۔ چاہیے کہ اس وقت جو اللہ تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اس کو سمجھ جاوے۔ اگر وہ درحقیقت خدا ہی کی طرف سے ہے تو اس سے دور رہنا کیسی بدقسمتی کا موجب ہوگا۔ وقت نازک ہے۔ دنیا نے جس اَمر کو سمجھنا چاہیے تھا اسے نہیں سمجھا اور جس کی طرف توجہ کرنی چاہیے تھی اس کو پسِ پُشت ڈال دیا ہے۔ خدا کے فرستادہ کی تلاش ضروری تھی۔ دیکھو! دنیوی ضرورتوں کے واسطے کس طرح دنیا کوشش کرتی اور جانکاہ محنتوں سے ان کے حصول کے ذریعہ کو سوچتی ہے۔ مگر دین کیا ایسا ہی گیا گذرا اَمر ہے کہ اس کے واسطے اتنی بھی تکلیف نہ برداشت کی جاوے کہ چند روز کے واسطے ایک جگہ رہ کر اسلام کی تحقیق کی جاوے۔ ایک بیمار انسان جب کسی طبیب کے پاس جاتا ہے تو مریض کی اگر طبیب تشخیص کر بھی لیوے تو معالجہ میں بڑی دقتیں پیش آتی ہیں کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا دوا دی جاوے؟
ضرورتِ الہام
ایک شہر میں پہنچ کر انسان پھر بھی کسی خاص جگہ پر پہنچنے کے واسطے کسی راہبر کا محتاج ہوتا ہے تو کیا دین کی راہ معلوم کرنے اور خدا کی مرضی پانے کے واسطے انسانی ڈھکونسلے کام آسکتے ہیں؟ اور کیا صرف سفلی عقل کافی ہوسکتی ہے؟ ہرگز ہرگز نہیں جب تک اللہ تعالیٰ خود اپنی راہ کو نہ بتاوے اور اپنی مرضی کے وسائل کے حصول کے ذریعہ سے مطلع نہ کرے تب تک انسان کچھ کر نہیں سکتا۔ دیکھو! جب تک آسمان سے پانی نازل نہ ہو زمین بھی اپنا سبزہ نہیں نکالتی گو بیج اس میں موجود ہی کیوں نہ ہو بلکہ زمین کا پانی بھی دور چلا جاتا ہے تو کیا رُوحانی بارش کے بغیر ہی رُوحانی زمین سرسبز ہو جاتی اور بار آور ہوسکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ خدا کے الہام کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا۔ دیکھو! یہ جو اتنے بڑے عاقل کہلاتے ہیں اور بڑے موجد ہیں آئے دن تار نکلتی ہے ریل بنتی ہے اور انسانی عقل کو حیران کر دینے والے کام کئے جاتے ہیں کیا ان کی عقل کے برابر بھی کوئی اور عقل ہے؟ جب ایسے عاقل لوگوں کا یہ حال ہے کہ ایک عاجز انسان کو جو ایک عورت کے پیٹ سے عام لڑکوں کی طرح سے پیدا ہوا تھا اور اسی طرح عوارض وغیرہ کا نشانہ بنا رہا اور کھانا پینا سب کچھ کرتا ہوا یہودیوں کے ہاتھ سے سولی پر چڑھایا گیا تھا اس کو خداوند بنایا ہوا ہے اور اس کے کفارہ سے اپنی نجات جانتے ہیں اور ایسی بودی چال اختیار کی ہے کہ ایک بچہ بھی اس پر ہنسی کرے۔ اس کی کیا وجہ تھی؟ صرف یہی کہ انہوں نے سفلی عقل پر ہی بھروسا کیا اور ایک کوّے کی طرح نجاست پر گر پڑے۔
دیکھو! جب انسان خدا سے مدد چاہتا ہے اور اپنے آپ کو عاجز جانتا ہے اور گردن فرازی نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ خود اس کی مدد کرتا ہے ایک مکھی ہے کہ گندگی پر گرتی ہے اور دوسری کو خدا نے عزّت دی کہ سارا جہان اس کا شہد کھاتا ہے یہ صرف اس کی طرف جھکنے کی وجہ سے ہے۔ پس انسان کو چاہیے کہ ہر وقت اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ(الفاتحۃ:۵) کی دعا پر کار بند رہے اور اسی سے توفیق طلب کرے۔ ایسا کرنے سے انسان خدا کی تجلیات کا مظہر بھی بن سکتا ہے۔ چاند جب آفتاب کے مقابل میں ہوتا ہے تو اسے نور ملتا ہے مگر جوں جوں اس سے کنارہ کشی کرتا ہے توں توں اندھیرا ہوتا جاتا ہے۔ یہی حال ہے انسان کا جب تک اس کے دروازہ پر گرا رہے اور اپنے آپ کو اس کا محتاج خیال کرتا رہے تب تک اللہ تعالیٰ اسے اُٹھاتا اور نوازتا ہے ورنہ جب وہ اپنی قوتِ بازو پر بھروسا کرتا ہے تو وہ ذلیل کیا جاتا ہے۔۱؎
صادق کی معیت
وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ(التوبۃ:۱۱۹) بھی اسی واسطے فرمایا گیا ہے۔ سادھ سنگت بھی ایک ضرب المثل ہے۔ پس یہ ضروری بات ہے کہ انسان باوجود علم کے اور باوجود قوت وشوکت کے امام کے پاس ایک سادہ لوح کی طرح پڑا رہے تا اس پر عمدہ رنگت آوے۔ سفید کپڑا اچھا رنگا جاتا ہے اور جس میں اپنی خودی اور علم کا پہلے سے کوئی میل کچیل ہوتا ہے اس پر عمدہ رنگ نہیں چڑھتا۔ صادق کی معیت۲؎ میں انسان کی عقدہ کشائی ہوتی ہے اور اسے نشانات دیئے جاتے ہیں جن سے اس کا جسم منور اور رُوح تازہ ہوتی ہے۔۱؎
۳؍مارچ ۱۹۰۳ء
(بوقتِ سیر) حضرت صاحب تشریف لائے تو کل کے نو وارد مہمان بھی ہمراہ سیر کو چلے آپ نے ان کو مخاطب کرکے فرمایا۔ زندگی کا اعتبار نہیں ہے۔ ایک دن آنے کا ہے اور ایک دن جانے کا ہے معلوم نہیں کب مَرنا ہے۔ علم ایک طاقت انسان کے اندر ہے۔ اس کے اُوپر وساوس اور شبہات پڑتے ہیں۔ عادتوں کے کیڑے مثل برتن کی میل کی طرح انسان کے اندر چمٹے ہوئے ہیں۔ اس کا علاج یہی ہے کہ وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ(التوبۃ:۱۱۹) پس اگر آپ چند روز یہاں ٹھہر جاویں تو اس میں آپ کا کیا حرج ہے؟ اس طرح ہر ایک بات کا موقع آپ کو مل جائے گا دنیا کے کام تو یونہی چلے چلتے ہیں اور کبھی ختم نہیں ہوتے۔
کارِ دنیا کسے تمام نہ کرد
ہرچہ گیرید مختصر گیرید
بہت لوگ ہمارے پاس آئے اور جلد رُخصت ہونے لگے۔ ہم نے ان کو منع کیا مگر وہ چلے گئے۔ آخر کار پیچھے سے انہوں نے خط روانہ کئے کہ ہم نے گھر پہنچ کر بنایا تو کچھ نہیں اگر ٹھہر جاتے تو اچھا ہوتا اور انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ہمارا جلدی آنا ایک شیطانی وسوسہ تھا۔
مسیح موعود کی صحبت میں رہنے کی تاکید
یہ مرحلہ اس لئے قابلِ طے ہے کہ آنحضرتؐ نے بڑی تاکید فرمائی ہے کہ جب دنیا ختم ہونے پر ہوگی تو اس اُمّت میں سے مسیح موعود پیدا ہوگا۔ لوگوں کو چاہیے کہ اس کے پاس پہنچیں خواہ ان کو برف پر چل کر جانا پڑے۔ اس لیے صحبت میں رہنا ضروری ہے کیونکہ یہ سلسلہ آسمانی ہے۔ پاس رہنے سے باتیں جو ہوں گی ان کو سنے گا جو کوئی نشان ظاہر ہوا سے سوچے گا۔ آگے ہی زندگی کا کون سا اعتبار تھا مگر اب تو جب سے یہ سلسلہ طاعون کا شروع ہوا ہے کوئی اعتبار مطلق نہیں رہا۔ آپ نفس پر جبر کر کے ٹھہریئے اور جو شبہ و خیال پیدا ہو وہ سناتے رہیے۔ اَن پڑھ اور اُمّی لوگ جو آتے ہیں ان کی باتیں اور شبہات کا سننا بھی ہمارا فرض ہے۔ اس لیے آپ بھی اپنے شبہات ضرور سنایئے۔ یہ ہم نہیں کہتے کہ ہدایت ہو یا نہ ہو ہدایت تو اَمرِ رَبی ہے۔ کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔
مسلمان کون ہے؟
یہ بات سمجھنے والی ہے کہ ہر ایک مسلمان کیوں مسلمان کہلاتا ہے؟ مسلمان وہی ہے جو کہتا ہے کہ اسلام برحق ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں قرآن کتابِ آسمانی ہے۔ اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ میں اقرار کرتا ہوں کہ میں ان سے باہر نہ جاؤں گا۔ نہ عقیدہ میں نہ عبادت میں نہ عملدرآمد میں۔ میری ہر ایک بات اور عمل اس کے اندر اندر ہی ہوگا۔
گدی نشین اور بدعات
اب اس کے مقابل پر آپ انصاف سے دیکھیں کہ آج کل گدی والے اس ہدایت کے موافق کیا کچھ کرتے ہیں۔ اگر وہ خدا کی کتاب پر عمل نہیں کرتے تو قیامت کو اس کا جواب کیا ہوگا کہ تم نے میری کتاب پر عمل نہ کیا۔ اس وقت طوافِ قبر، کنجریوں کے جلسے اور مختلف طریقہ ذکر کے جن میں سے ایک ارّہ کا ذکر بھی ہے ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارا سوال ہے کہ کیا خدا بھول گیا تھا کہ اس نے یہ تمام باتیں کتاب میں نہ لکھ دیں اور نہ رسول کو بتلائیں۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت جانتا ہے اسے ماننا پڑے گا کہ اللہ اور اس کے رسول کے فرمودہ کے باہر نہ جانا چاہیے۔
کتاب اللہ کے برخلاف جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب بدعت ہے اور سب بدعت فی النّار ہے۔ اسلام اس بات کا نام ہے کہ بجُز اس قانون کے جو مقرر ہے اِدھر اُدھر بالکل نہ جاوے۔ کسی کا کیا حق ہے کہ بار بار ایک شریعت بناوے۔
بعض پیرزادے چوڑیاں پہنتے ہیں۔ مہندی لگاتے ہیں۔ لال کپڑے ہمیشہ رکھتے ہیں۔ سَدا سہاگن ان کا نام ہوتا ہے۔ اب ان سے کوئی پوچھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو مَرد تھے۔ اس کو مَرد سے عورت بننے کی کیا ضرورت پڑی؟ ہمارا رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کتاب قرآن کے سوا اور طریق سُنّت کے سوا نہیں۔ کس شَے نے ان کو جرأت دی ہے کہ اپنی طرف سے وہ ایسی باتیں گھڑ لیں۔ بجائے قرآن کے کافیاں پڑھتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا دل قرآن سے کھٹا ہوا ہوا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو میری کتاب پر چلنے والا ہو وہ ظلمت سے نور کی طرف آوے گا اور کتاب پر اگر نہیں چلتا تو شیطان اس کے ساتھ ہوگا۔
بندگانِ خدا کی علامت
مگر جو خدا کے بندے ہوتے ہیں ان میں خوشبو اور برکت ہوتی ہے فریب اور مکر سے ان کو کوئی غرض نہیں ہوتی۔ جیسے آفتاب اسے چمکتا ہوا نظر آتا ہے ایسے ہی دور سے ان کی چمک دکھائی دیتی ہے اور دنیا میں اصل چمک انہی کی ہے۔ یہ آفتاب اور قمر وغیرہ تو صرف نمونہ ہیں۔ ان کی چمک دائمی نہیں ہے کیونکہ یہ غروب ہو جاتے ہیں لیکن وہ غروب نہیں ہوتے۔ جس کو خدا اور رسول کی محبت کا شوق ہے اور ان کے خلاف کو پسند نہیں کرتا اور عفونت اور بد بو کو محسوس کرنے کا اس میں مادہ ہو وہ فوراً آ جائے گا کہ یہ طریق اسلام سے بہت بعید ہے۔ مثلِ یہود کے خدا نے ان کو چھوڑ دیا ہے۔ بلعم کی طرح اب مکر و فریب کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں رہا۔ صفائی والا انسان جلد دیکھ لیتا ہے کہ یہ جسم اس حقیقی رُوح سے خالی ہے۔
سجادہ نشینوں کے پَیرو سو چیں
انسان توجہ کرے تو اسے پتا لگتا ہے کہ جو لوگ صُمٌّۢ بُکۡمٌ(البقرۃ:۱۹) ہو کر سجادہ نشینوں کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہیں اور عرسوں وغیرہ میں شریک ہو جاتے ہیں ان کو یہ خیال نہیں آتا کہ وہ کون سی روشنی ہے جو کہ خانہ کعبہ سے شروع ہوئی تھی اور تمام دنیا میں پھیلی تھی اور انہوں نے اس میں سے کس قدر حصہ لیا ہے۔ ان کو ہرگز وہ نور نہیں ملتا جو آنحضرت مکہ سے لائے اور اس سے کُل دنیا کو فتح کیا۔ آج اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوں تو ان لوگوں کو جو اُمت کا دعویٰ کرتے ہیں کبھی شناخت بھی نہ کر سکیں۔ کون سا طریقہ آپ کا ان لوگوں نے رکھا ہے۔
شریعت تو اسی بات کا نام ہے کہ جو کچھ آنحضرتؐ نے دیا ہے اسے لے لے اور جس بات سے منع کیا ہے اس سے ہٹے۔ اب اس وقت قبروں کا طواف کرتے ہیں ان کو مسجد بنایا ہوا ہے۔ عرس وغیرہ ایسے جلسے نہ منہاجِ نبوت ہے نہ طریق سُنّت ہے۔ اگر منع کرو تو غیظ و غضب میں آتے ہیں اور دشمن بن جاتے ہیں۔ چونکہ یہ آخری زمانہ ہے ایسا ہی ہونا چاہیے تھا لیکن اسی زمانہ کے فسادوں کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اس زمانہ میں اکیلا رہنا اور اکیلا مَرجانا یا درختوں سے پنجہ مار کر مَر جانا ایسی صحبتوں سے اچھا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سب چیزیں پوری ہو رہی ہیں انسان دوسرے کے سمجھائے کچھ نہیں سمجھ سکتا۔ دل میں کسی بات کا بٹھا دینا یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ خدا جب کسی سے نیکی کرتا ہے تو اسے سمجھ عطا کرتا ہے۔ اس کے دل میں فراست پیدا ہو جاتی ہے اور دل ہی معیار ہوتا ہے مگر محجوب دل کام نہیں آتا۔ یہ کام ہمیشہ پاک دل سے نکلتا ہے۔ کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعۡمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعۡمٰی(بنی اسرآءیل:۷۳) ان باتوں کے لئے دعا کرنی چاہیے۔
نیک اعمال کے لئے صحبتِ صادقین کی ضرورت ہے
خدا کے فضل کے سوا تبدیلی نہیں ہوتی اعمالِ نیک کے واسطے صحبتِ صادقین کا نصیب ہونا بہت ضروری ہے۔ یہ خدا کی سنّت ہے ورنہ اگر چاہتا تو آسمان سے قرآن شریف یو نہی بھیج دیتا اور کوئی رسول نہ آتا۔ مگر انسان کو عمل درآمد کے لئے نمونہ کی ضرورت ہے۔ پس اگر وہ نمونہ نہ بھیجتا رہتا تو حق مشتبہ ہو جاتا۔
مخالفت کی وجہ
اب اس وقت علماء مخالف ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ صرف یہی کہ میں بار بار کہتا ہوں کہ یہ تمہارے عقیدہ وغیرہ سب خلافِ اسلام ہیں۔ اس میں میرا کیا گناہ ہے؟ مجھے تو خدا نے مامور کیا ہے اور بتلایا ہے کہ ان غلطیوں کو نکال دیا جاوے اور منہاجِ نبوت کو قائم کیا جاوے۔ اب یہ لوگ میرے مقابلہ پر قصّہ کہانیاں پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ مجھے خود ہر ایک اَمر بذریعہ وحی و الہام کے بتلایا جاتا ہے۔ ان کے کہنے سے میں اسے کیسے چھوڑ دوں؟ ان کا عقیدہ ہے کہ جب مسیح آوے گا تو جس قدر غلطیاں ہوں گی ان کو نکال دے گا اگر اس نے سب کچھ انہی کا قبول کرنا ہے اور اپنی طرف سے کچھ نہیں کہنا تو بتلاؤ کہ پھر اس کا کام کیا ہوگا؟
آنحضرت کے وقت میں بھی یہی طریق ایسے لوگوں کا تھا کہ دور سے بیٹھے شور مچاتے اور پاس آکر نہ دیکھتے۔ ابوجہل نے مخالفت تو سالہا سال کی مگر پیغمبر خدا کی صحبت میں ایک دن بھی نہ بیٹھا حتی کہ مَر گیا۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے وَلَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ(بنی اسرآءیل:۳۷) اب ان سے پوچھا جاوے کہ بلا تحقیق کے کیوں فتوے لگاتے ہو؟
علامات ظہور مہدی ومسیح کا پورا ہونا
یہ خود کہتے تھے کہ صدی کے سر پر آنے والا ہے۔ پھر انہی کی کتابوں میں لکھا ہوا تھا کہ کسوف خسوف ہوگا، طاعون پڑے گی، حج بند ہوگا، ایک ستارہ جو مسیح کے وقت نکلا تھا نکل چکا ہے، اونٹوں کی سواری بے کار ہوگئی ہے۔ اسی طرح سب علامتیں پوری ہو گئی ہیں مگر ان لوگوں کا یہ کہنا کہ ابھی مسیح نہیں آیا یہ معنے رکھتا ہے کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ آنحضرتؐ کی کوئی پیشگوئی پوری نہ ہو۔ یہ سب اندرونی نشان ہیں۔ اب بیرونی دیکھئے کہ صلیب کا غلبہ کس قدر ہے۔ نصاریٰ نے تردید اسلام میں کیا کیا کوشش کی ہیں اور خود اندرونی طور پر تقویٰ، زہد، ریاضت میں فرق آگیا ہے۔ برائے نام مسلمان ہیں۔ جھوٹی گواہیاں دیتے ہیں۔ خیانتیں کرتے ہیں۔ قرضہ لے کر دبا لیتے ہیں۔ اگر خدا کو یہ منظور ہوتا کہ اسلام ہلاک ہو جاوے اور اندرونی اور بیرونی بلائیں اسے کھا جاویں تو وہ کسی کو پیدا نہ کرتا۔ اس کا وعدہ نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ(الحجر:۱۰) کا کہاں گیا؟ اوّل تو تاڑ تاڑ مجدّد آئے مگر جب مسلمانوں کی حالت تنزل میں ہوئی بد اطواری ترقی کرتی جاتی ہے سعادت کا مادہ ان میں نہ رہا اور اسلام غرق ہونے لگا تو خدا نے ہاتھ اُٹھا لیا؟ جب کہو تو یہی جواب ہے کہ حدیثوں میں لکھا ہے ۳۰ دجّال آویں گے۔ یہ بھی ایک دجّال ہے۔ او کمبختو! تمہاری قسمت میں دجّال ہی لکھے ہیں؟ غرض یہ باتیں غور کے قابل ہیں مگر دل کے کھولنے کی کنجی خدا کے ہاتھ میں ہے۔ جب تک وہ نہ کھولے دل میں اثر نہیں ہوتا۔ ابو جہل بھی تو چودہ برس تک باتیں سنتا ہی رہا۔ یہی ہماری جماعت ہے اس کی کون سی عقل زیادہ ہے کہ انہوں نے حقیقت کو سمجھ لیا اور بعضوں نے نہ سمجھا ایسے ہی دماغ اعضا وغیرہ باقی سب مخالفوں کے ہیں مگر وہ اس حقیقت کو نہیں پہنچے۔ ان کے دلوں کو قفل لگے ہیں۔
مختلف اعتراضات کے جواب پر فرمایا کہ
ا
سے دوکانداری کہتے ہیں۔ ہے تو دوکان مگر خدا کی، اگر انسان کی ہوتی تو دوالہ نکل جاتا، ٹوٹ جاتی، مگر خدا کی ہے جو محفوظ ہے۔
ہمارے گروہ کی خدا نے خود مدد کی ہے کہ اتنی جلدی ترقی کر دی۔ یہ مسجدوں کے مُلّاں وغیرہ جب دیکھیں گے کہ اب ان کی تعداد بہت ہے خود ہی ہاں میں ہاں ملا دیں گے۔ (قبل از عشاء)
ایک خانساماں کی استقامت
بٹالہ میں ایک خانسامہ جو مشنری لیڈی کے ہاں ملازم تھا۔ حضرت صاحب کا خادم تھا۔ مشنری لیڈی نے اسے اس تعصّب کے باعث برخواست کر دیا۔
حضرت اقدس نے فرمایا کہ اگر مکھن کھاتے دانت جاتے ہیں تو جاویں۔
مشنری لیڈی نے اسے کہا تھا کہ تم اتنی دیر ہمارے پاس رہے اور اثر نہ ہوا۔ اس پر حضرت نے فرمایا کہ اثر تو ہوا کہ اس نے مقابلہ کر کے دیکھ لیا کہ حق اِدھر ہے۔ فقط۱؎
۴ ؍مارچ ۱۹۰۳ء
(صبح کی سیر)
فرمایا کہ
جو خد اکے واسطے کھوتا ہے اسے ہزار چند دیا جاتا ہے
فرمایا کہ جو شخص خدا کی طرف قدم اٹھاتا ہے، خدا سے نور اترتا ہے۔ اپنے فرشتوں کو اس کی خدمت کے واسطے مامور فرماتا ہے۔ جو اس کے واسطے کچھ کھوتا ہے اس کو اس سے ہزار چند دیا جاتا ہے۔ دیکھو صحابہؓ میں سے سب سے پہلے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا سارا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیا تھا اور کمبل پوش بن پھر ا تھا مگر جب خدا نے اسے دیا تو کیا دیا۔ دیکھ لو کیسی مناسبت ہے کہ اس نے چونکہ سب صحابہؓ سے اوّل خرچ کیا تھا اسے سب سے پہلے خلافت کا تخت عطا کیا گیا۔ غرض خدا کوئی بخیل نہیں اور نہ اس کے فیض خاص خاص ہیں بلکہ ہر ایک جو صدقِ دل سے طالب بنتا ہے اسے عزّت دی جاتی ہے۔ یہ ہمارے دشمن تو اللہ تعالیٰ سے جنگ کرتے ہیں بھلا ان سے آسمانی باتیں اور تائیدات روکی جا سکتی ہیں۔ ہرگز نہیں۔ پرنالہ کے پانی کو تو کوئی روک بھی سکتا ہے مگر جو آسمان سے موسلا دھار بارش ہونے لگ جاوے اس کو کون روک سکے گا اور اس کے آگے کون سا بند لگاویں گے؟ ہمارا تو سارا کاروبار ہی آسمانی ہے پھر بھلا کسی کی کیا مجال کہ اس میں کسی قسم کا حرج یا خلل واقع کر سکے۔۱؎
لمبی مو نچھوں کی تعبیر
ایک خواب کی تعبیر میں فرمایا کہ اصل میں زیادہ لمبی لبیں (مونچھیں )رکھنا بھی تکبر اور نخوت کو بڑھاتا ہے اسی واسطے شریعت اسلام نے فرمایا ہے کہ مونچھیں کٹواؤ اور داڑھی کو بڑھاؤ۔ یہ یہود اور عیسائی اور ہندوؤں کا کام ہے کہ وہ اکثر تکبر سے مونچھوں کو بڑھاتے اور تاؤ دے دے کر ایک متکبرانہ وضع بناتے ہیں خصوصاً سکھ لوگ۔ مگر ہماری شریعت کیا پاک ہے کہ جس جگہ سے کسی قسم کی بدی کا احتمال بھی تھا اس سے بھی منع کر دیا۔ بھلا یہ باتیں کسی اور میں کہاں پائی جاتی ہیں۔۱؎۲؎
۵؍مارچ ۱۹۰۳ء
(دربار شام )حضرت اقدس نے فارسی میں فرمایا لہٰذا اس کا ترجمہ لکھا جاتا ہے۔
دوستوں کی جدائی پر غمگین ہونا
فرمایا۔ خدا تعالیٰ۳؎ نے یہ بات میرے دل میں ڈالی ہے اور میری فطرت میں رکھ دی ہے کہ جب کوئی دوست مجھ سے الگ ہونے لگتا ہے مجھے سخت قلق اور دردمحسوس ہوتا ہے میں خیال کرتا ہوں کہ خدا جانے زندگی کا بھروسہ نہیں۔ پھر ملاقات نصیب ہو گی یا نہیں۔ پھر میرے دل میں خیال آجاتا ہے کہ دوسروں کے بھی تو حقوق ہیں۔ بیوی ہے، بچے ہیں اور اور شتہ دار ہیں۔ مگر تا ہم جو چند روز بھی ہمارے پاس رہتا ہے اس کے جدا ہونے سے ہماری طبیعت کو صدمہ ضرور ہوتا ہے ہم بچے تھے اب بڑھاپے تک پہنچ گئے ہیں ہم نے تجربہ کر کے دیکھا ہے کہ انسان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں بجز اس کے کہ انسان خدا کے ساتھ تعلق پیدا کر لے۔
دعا اور توکّل
ساری عقدہ کشائیاں دعا سے ہو جاتی ہیں۔ ہمارے ہاتھ میں بھی اگر کسی کی خیر خواہی ہے تو کیا ہے۔ صرف ایک دعا کا آلہ ہی ہے جو خدا نے ہمیں دیا ہے کیا دوست کے لیے اور کیا دشمن کے لیے ہم سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ نہیں کر سکتے۔ ہمارے بس میں ایک ذرّہ بھر بھی نہیں ہے۔ مگر جو خدا ہمیں اپنے فضل سے عطا کر دے۔
انسان کو مشکلات کے وقت اگرچہ اضطراب تو ہوتا ہے مگر چاہیے کہ توکل کو کبھی بھی ہاتھ سے نہ دے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بدر کے موقع پر سخت اضطراب ہوا تھا۔۱؎ چنانچہ عرض کرتے تھے کہ یَا رَبِّ اِنْ اَھْلَکْتَ ھٰذِہِ الْعِصَابَۃَ فَلَنْ تُعْبَدَ فِی الْاَرْضِ اَبَدًا۔۔
مگر آپؐ کا اضطراب فقط بشری تقاضا سے تھا کیونکہ دوسری طرف توکل کو آپ نے ہرگز ہاتھ سے نہیں جانے دیا تھا آسمان کی طرف نظر تھی اور یقین تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ یاس کو قریب نہیں آنے دیا تھا ایسے اضطرابوں کا آنا تو انسانی اخلاق اور مدارج کی تکمیل کے واسطے ضروری ہے مگر انسان کو چاہیے کہ یاس کو پاس نہ آنے دے کیونکہ یاس تو کفار کی صفت ہے۔ انسان کو طرح طرح
۱؎ البدر میں ہے۔
خدا کے بندے مایوس اور ضائع نہیں ہوتے
اگر چہ انسان کو بشریت کے تقاضا سے اضطراب ہوتا ہے مگر وہ خاصہ بشریت ہے اور سب انبیاء بھی اس میں شریک ہیں جیسے کہ جنگ بدر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اضطراب ہوا تھا۔ عام لوگوں میں اور انبیا ؤں میں یہ فرق ہے کہ عام لوگوں کی طرح انبیا ؤں کے اضطراب میں یاس کبھی نہیں ہوتی۔ ان کو اس اَمر پر پورا یقین ہوتا ہے کہ خدا ضائع کبھی نہ کرے گا۔ میرا یہ حال ہے کہ اگر مجھے جلتی آگ میں بھی ڈالا جاوے تو بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ ضائع نہ ہوں گا۔ اضطراب تو ہوگا کہ آگ ہے اس سے انسان جل جاتا ہے مگر امید ہوتی ہے کہ ابھی آواز آوے گی یٰنَارُ کُوۡنِیۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ(لی) کن دوسرے لوگوں کے اضطراب میں یاس ہوتا ہے۔ خدا پر ان کو توقع نہیں ہوتی اور یہ کُفر ہے۔،،
(البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخہ ۱۳؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶۱ کے خیالات اضطراب کا وسوسہ ڈالتے ہیں مگر ایمان ان وساوس کو دور کر دیتا ہے بشریت اضطراب خریدتی ہے اور ایمان اس کو دفع کرتا ہے۔
ایمان وعرفان کی حقیقت
دیکھو! ایمان جیسی کوئی چیز نہیں۔ ایمان سے عرفان کا پھل پیدا ہوتا ہے۔ ایمان تو مجاہدہ اور کوشش کو چاہتا ہے اور عرفان خدا تعالیٰ کی موہبت اور انعام ہوتا ہے عرفان سے مراد کشوف اور الہامات جو ہر قسم کی شیطانی آمیزش اور ظلمت کی ملونی سے مبرّا ہوں اور نور اور خدا کی طرف سے ایک شوکت کے ساتھ ہوں وہ مراد ہیں۔ اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی طرف سے موہبت اور انعام ہوتا ہے۔ یہ چیز کچھ کسبی چیز نہیں مگر ایمان کسبی چیز ہوتا ہے اسی واسطے اوامر ہیں کہ یہ کرو۔ غرض ہزاروں احکام ہیں اور ہزاروں نواہی ہیں۔ ان پر پوری طرح سے کاربند ہونا ایمان ہے۔
غرض ایمان ایک خدمت ہے جو ہم بجالاتے ہیں اور عرفان اس پر ایک انعام اور موہبت ہے۔ انسان کو چاہیے کہ خدمت کئے جاوے۔ آگے انعام دینا خدا کا کام ہے یہ مومن کی شان سے بعید ہونا چاہیے کہ وہ اس انعام کے واسطے خدمت کرے۔
خد اکی محبت میں محو ہو جاؤ
مکاشفات اور الہامات کے ابواب کے کھلنے کے واسطے جلدی نہ کرنی چاہیے اگر تمام عمر بھی کشوف اور الہامات نہ ہوں تو گھبرانا نہ چاہیے اگر یہ معلوم کر لو کہ تم میں ایک عاشقِ صادق کی سی محبت ہے جس طرح وہ اس کے ہجر میں اس کے فراق میں بھوکا مَرتا ہے پیاس سہتا ہے نہ کھانے کا ہوش ہے نہ پانی کی پروا، نہ اپنے تن بدن کی کچھ خبر۔ اسی طرح تم بھی خدا کی محبت میں ایسے محو ہو جاؤ کہ تمہارا وجود ہی درمیان سے گم ہو جاوے۔ پھر اگر ایسے تعلق میں انسان مَر بھی جاوے تو بڑا ہی خوش قسمت ہے۔ ہمیں تو ذاتی محبت سے کام ہے نہ کشوف سے غرض نہ الہام کی پروا۔ دیکھو! جس طرح ایک شرابی شراب کے جام کے جام پیتا ہے اور لذّت اٹھاتا ہے اسی طرح تم اس کی ذاتی محبت کے جام بھر بھر پیو۔ جس طرح وہ دریا نوش ہوتا ہے اسی طرح تم بھی کبھی سیر نہ ہونے والے بنو۔ جب تک انسان اس اَمر کو محسوس نہ کرلے کہ میں محبت کے ایسے درجہ کو پہنچ گیا ہوں کہ اب عاشق کہلا سکوں تب تک پیچھے ہرگز نہ ہٹے۔ قدم آگے ہی آگے رکھتا جاوے اور اُس جام کو منہ سے نہ ہٹائے۔ اپنے آپ کو اس کے لیے بےقرار و شیدا و مضطرب بنالو۔ اگر اس درجہ تک نہیں پہنچے تو کوڑی کے کام کے نہیں۔ ایسی محبت ہو کہ خدا کی محبت کے مقابل پر کسی چیز کی پرواہ نہ ہو نہ کسی قسم کی طمع کے مطیع بنو اور نہ کسی قسم کے خوف کا تمہیں خوف۱؎ ہو چنانچہ کسی کا شعر ہے کہ
آن کس کہ ترا شناخت جان را چہ کُند
فرزند و عیال و خانمان را چہ کُند
دیوانہ کنی ہر دو جہانش بخشی
دیوانہ تو ہر دو جہان را چہ کُند
مَیں تو اگر اپنے فرزندوں کا ذکر کرتا ہوں تو نہ اپنی طرف سے بلکہ مجھ ے تو مجبوراً کرنا پڑتا ہے۔ کیا کروں اگر اس کے انعامات کا ذکر نہ کروں تو گنہ گار ٹھہروں۔ چنانچہ ہر لڑکے کی پہلے اُسی نے خود اپنی طرف سے بشارت دی۔ اب میں کیا کروں۔ غرض انسان کا اصل مدعا صرف یہی چاہیے کہ کسی طرح خدا کی رضا مل جاوے۔
نہ شبم نہ شب پرستم کہ حدیث خواب گویم۲؎
مدارِ نجات
صرف یہی اَمر ہے کہ سچا تقویٰ اور خدا کی خوشنودی اور خالق کی عبادت کا حق ادا کیا جاوے۔ الہامات و مکاشفات کی خواہش کرنا کمزوری ہے۔ مَرنے کے وقت جو چیز انسان کو لذّت دِہ ہوگی وہ صرف خدا تعالیٰ کی محبت اور اس سے صفائی معاملہ اور آگے بھیجے ہوئے اعمال ہوں گے جو ایمان صادق اور ذاتی محبت سے صادر ہوئے ہوئے ہوں گے مَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَانَ اللّٰہُ لَہٗ۔۔
اصل میں جو عاشق ہوتا ہے آخر کار ترقی کرتے کرتے وہ معشوق بن جاتا ہے کیونکہ جب کوئی کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کی توجہ بھی اس کی طرف پھرتی ہے اور آخر کار ہوتے ہوتے کشش سے وہ اس سے محبت کرنے لگتا ہے اور عاشق معشوق کا معشوق بن جاتا ہے۔ جب جسمانی اور مجازی عشق و محبت کا یہ حال ہے کہ ایک معشوق اپنے عاشق کا عاشق بن جاتا ہے تو کیا روحانی رنگ میں جو اس سے زیادہ کامل ہے ایسا ممکن نہیں کہ جو خدا سے محبت کرنے والا ہو آخر کار خدا اس سے محبت کرنے لگے اور وہ خدا کا محبوب بن جاوے۔ مجازی معشوقوں میں تو ممکن ہے کہ معشوق کو اپنے عاشق کی محبت کا پتا نہ لگے مگر وہ خدا تعالیٰ علیم بذاتِ الصدور ہے اس سے انسان مظہر کراماتِ الٰہی اور موردِ عنایات ایزدی ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی چادر میں مخفی ہو جاتا ہے۔ ان مکاشفات اور رؤیا اور الہامات کی طرف سے توجہ پھیر لو اور ان امور کی طرف تم خود بخود جرأت کر کے درخواست نہ کرو ایسا نہ ہو کہ جلد بازی کرنے والے ٹھہرو۔ اکثر لوگ میرے پاس آتے ہیں کہ ہمیں کوئی ایسا ورد وظیفہ بتا دو کہ جس سے ہمیں الہامات اور مکاشفات ہونے شروع ہو جاویں مگر میں ان کو کہتا ہوں کہ ایسا کرنے سے انسان مشرک بن جاتا ہے شرک یہی نہیں کہ بتوں کی پوجا کی جاوے بلکہ سخت شرک اور بڑا مشکل مرحلہ تو نفس کے بُت کو توڑنا ہوتا ہے۔ تم ذاتی محبت خریدو اور اپنے اندر وہ قلق وہ سوزش وہ گداز وہ رقّت پیدا کرو جو ایک عاشق صادق کے اندر ہوتی ہے۔ دیکھو! کمزور ایمان جو طمع یا خوف کے سہارا پر کھڑا ہو وہ کام نہیں آتا۔ بہشت کی طمع یا دوزخ کا خوف وغیرہ امور پر اپنے ایمان کا تکیہ نہ لگاؤ۔ بھلا کبھی کسی نے کوئی عاشق دیکھا ہے کہ وہ معشوق سے کہتا ہو کہ میں تو تجھ پر اس واسطے عاشق ہوں کہ تو مجھے اتنا روپیہ یا فلاں شَے دے دے، ہرگز نہیں۔ دیکھو! ایسی طبعی محبت پیدا کر لو جیسے ایک ماں کو اپنے بچہ سے ہوتی ہے۔ ماں کو نہیں معلوم ہوتا کہ وہ کیوں بچہ سے محبت کرتی ہے۔ اس میں ایک طبعی کشش اور ذاتی محبت ہوتی ہے۔
دیکھو! اگر کسی ماں کا بچہ گم ہو جاوے اور رات کا وقت ہو تو اس کی کیا حالت ہوتی ہے۔ جُوں جُوں رات زیادہ ہوگی اور اندھیرا بڑھتا جاوے گا اس کی حالت دگرگوں ہوتی جاوے گی گویا زندہ ہی مَرگئی ہے مگر جب اچانک اسے اس کا فرزند مل جاوے تو اس کی وہ حالت کیسی ہوتی ہے۔ ذرا مقابلہ کر کے تو دیکھو، پس صرف ایسی محبت ذاتی اور ایمان کامل سے ہی انسان دارالامان میں پہنچ سکتا ہے۔ سارے رسول خدا تعالیٰ کو اس لیے پیارے نہ تھے کہ ان کو الہامات ہوتے ہیں ان کے واسطے مکاشفات کے دروازے کھولے گئے ہیں، نہیں بلکہ ان کی ذاتی محبت کی وجہ سے وہ ترقی کرتے کرتے خدا کے معشوق اور محبوب بن گئے تھے۔ اسی واسطے کہتے ہیں کہ نبی کی نبوت سے اس کی ولایت افضل ہے۔
اسی لیے ہم نے اپنی جماعت کو بارہا تاکید کی ہے کہ تم کسی چیز کی بھی ہوس نہ رکھو۔ پاک دل اور بے طمع ہو کر خدا کی محبت ذاتی میں ترقی کرو۔ جب تک ذاتی محبت نہیں تب تک کچھ بھی نہیں۔ مگر جو کہتے ہیں کہ ہم کو خدا سے ذاتی محبت ہے اور اس کے نشان ان میں نہیں پائے جاتے یہ ان کا دعویٰ غلط ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ایک مجازی عاشق میں تو عشق کے آثار اور نشانات کھلے کھلے پائے جائیں بلکہ کہتے ہیں کہ عشق چھپائے سے چھپ نہیں سکتا تو کیا وجہ کہ روحانی عشق پوشیدہ رہ جائے۔ اس کے کچھ نشان ظاہر نہ ہوں۔ دھوکا کھاتے ہیں ایسے لوگ، ان میں محبت ہی نہیں ہوتی۔
صحبت صادقین اختیارکرو
اسی واسطے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ(التوبۃ:۱۱۹) یعنی صادق لوگوں کے ساتھ معیّت اختیار کرو۔ ان کی صحبت میں مدّتہائے دراز تک رہو۔ کیونکہ ممکن ہے کہ کوئی شخص چند روز ان کے پاس رہ جاوے اور ان ایام میں حکمت الٰہی سے کوئی ایسا اَمر واقع نہ ہو کیونکہ ان لوگوں کے اپنے اختیار میں تو نہیں کہ جب چاہیں کوئی نشان دکھاویں۔ اسی واسطے ضروری ہے کہ ان کی صحبت میں لمبے عرصہ اور دراز مدّت گذر جاوے بلکہ نشان دکھانا تو درکنار یہ لوگ تو اپنے خدا کے ساتھ کے تعلقات کا اظہار بھی گناہ جانتے ہیں۔ لکھا ہے کہ اگر کوئی ولی خلوت میں اپنے خدا کے ساتھ خاص حالت اور تعلق کے جوش میں ہو اور اس پر وہ حالت طاری ہو تو ایسے وقت میں اگر کوئی شخص اس کے اس حال سے آگاہ ہو جائے تو وہ ولی شخص ایسا شرمندہ اور پسینہ پسینہ ہو جاتا ہے جیسے کوئی زانی عین زنا کی حالت میں پکڑا جاوے کیونکہ یہ لوگ اپنے راز کو پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں۔ چونکہ طبعاً ایسا معاملہ تھا خدا نے اسی واسطے کہا وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ(التوبۃ:۱۱۹) کفار نے جو یہ کہا تھا کہ مَالِ ہٰذَا الرَّسُوۡلِ یَاۡکُلُ الطَّعَامَ وَیَمۡشِیۡ فِی الۡاَسۡوَاقِ(الفرقان:۸) تو انہوں نے بھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حالت دیکھ کر ہی یہ کلمہ منہ سے نکالا تھا کہ کیا ہے جی! یہ تو ہمارے جیسا آدمی ہی ہے۔ کھاتا پیتا بازاروں میں پھرتا ہے اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا فیض نہ تھا کہ ان کو کوئی رسالت کا اَمر نظر آتا وہ معذور تھے انہوں نے جو دیکھا تھا اسی کے مطابق رائے زنی کر دی۔ پس اس واسطے ضروری ہے کہ مامور من اللہ کی صحبت میں دیر تک رہا جاوے۔ ممکن ہے کہ کوئی جس نے نشان کوئی نہ دیکھا ہو کہہ دے کہ اجی ہماری طرح نماز روزہ کرتا ہے اور کیا ہے۔ دیکھو! حج کے واسطے جانا خلوص اور محبت سے آسان ہے مگر واپسی ایسی حالت میں مشکل۔ بہت ہیں جو وہاں سے نامراد اور سخت دل ہو کر آتے ہیں اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ وہاں کی حقیقت ان کو نہیں ملتی۔ قشر کو دیکھ کر رائے زنی کرنے لگ جاتے ہیں وہاں کے فیوض سے محروم ہوتے ہیں اپنی بدکاریوں کی وجہ سے اور پھر الزام دوسروں پر دھرتے ہیں۔ اس واسطے ضروری ہے کہ مامور کی خدمت میں صدق اور استقلال سے کچھ عرصہ رہا جاوے تا کہ اس کے اندرونی حالات سے بھی آگاہی ہو اور صدق پُورے طور پر نورانی ہو جاوے۔۱؎
سناتن دھرم
ہندوؤں کا ذکر چل پڑا۔ فرمایا کہ
یہ جو میں نے ایک اور رسالہ لکھا ہے اس کا نام سناتن دھرم ہی رکھا ہے یہ لوگ اسلام کے بہت ہی قریب ہیں۔ اگر زوائد کو چھوڑ دیں۔ بلکہ میں نے ان سے سنا ہے اور پڑھا بھی ہے کہ جب یہ جوگی ہو کر خدا کے بہت قریب ہو جاتے ہیں تو اس وقت بُت پرستی کو حرام جانتے ہیں۔ ابتدا میں صرف تمثیلی طور پر بُت پرستی انہوں نے غلطی سے رکھ لی لیکن اعلیٰ مراتب پر پہنچ کر اسے اس لیے چھوڑ دیتے ہیں کہ قریب ہو کر پھر بعید نہ ہوں اور اس حالت میں جو مَرتا ہے اسے جلاتے بھی نہیں بلکہ دفن کرتے ہیں۔
کلمۃ اللہ
کلمۃ اللہ پر فرمایا کہ وجود یوں کی طرف تو ہم نہیں جاتے مگر جب تک کلمۃ اللہ نہ کہا جاوے تو بات بھی نہیں بنتی۔ یہ علم بہت گہرا ہے۔ جو شَے خدا سے نکلی ہے اس پر رنگ تو خدا کا ہے مگر یہ لوگ اسے خدا سے الگ خیال نہیں کرتے۔ فیض کے یہ معنے ہیں کہ ہدایت ہو۔۱؎
۶ ؍مارچ ۱۹۰۳ء
بَلاؤں سے بچنے کا طریق
جمعہ کی نماز مسجد اقصیٰ میں ادا کرنے کے بعد چند ایک گردونواح کے آدمیوں نے بیعت کی۔ بیعت کے بعد حضرت اقدس کھڑے ہو گئے اور آپ نے ان کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ جب آدمی توبہ کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے پہلے گناہ بخش دیتا ہے۔۲؎ قرآن میں اس کا وعدہ ہے ہر طرح کے دکھ انسان کو دنیا میں ملتے ہیں۔ مگر جب خدا کا فضل ہوتا ہے تو ان سب بلاؤں سے انسان بچتا ہے۔ اس لیے تم لوگ اگر اپنے وعدہ کے موافق قائم رہو گے تو وہ تم کو ہر ایک بَلا سے بچالے گا۔ نماز میں پکے رہو۔ جو مسلمان ہو کر نماز نہیں ادا کرتا ہے وہ بے ایمان ہے۔ اگر وہ نماز نہیں ادا کرتا تو بتلاؤ کہ ایک ہندو میں اور اس میں کیا فرق ہے؟ زمینداروں کا دستور ہے کہ ذرا ذرا سے عذر پر نماز چھوڑ دیتے ہیں۔ کپڑے ناپاک۳؎ کا بہانہ کرتے ہیں لیکن اصل بات یہ ہے اگر کسی کے پاس کپڑے نہ ہوں تو اسی میں نماز پڑھ لے اور جب دوسرا کپڑا مل جاوے تو اس کو بدل دے۔ اسی طرح اگر غسل کرنے کی ضرورت ہو اور بیمار ہو وے تو تیمم کر لے۔ خدا نے ہر ایک قسم کی آسانی کر دی ہے تاکہ قیامت میں کسی کو عذر نہ ہو۔
اب ہم مسلمانوں کو دیکھتے ہیں کہ شطرنج گنجفہ وغیرہ بیہودہ باتوں میں وقت گذارتے ہیں۔ ان کو یہ خیال تک نہیں آتا کہ اگر ہم ایک گھنٹہ نمازوں میں گذار دیں گے تو کیا حرج ہوگا؟ سچے آدمی کو خدا مصیبت سے بچاتا ہے اگر پتھر بھی برسیں تو بھی اسے ضرور بچاوے گا۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو سچے اور جھوٹے میں کیا فرق ہوسکتا ہے؟ لیکن یاد رکھو کہ صرف ٹکریں مارنے سے خدا راضی نہیں ہوتا۔ کیا دنیا اور کیا دین میں جب تک پوری بات نہ ہو فائدہ نہیں ہوا کرتا۔ جیسے میں نے کئی بار بیان کیا ہے کہ روٹی اور پانی جب تک سیر ہو کر نہ کھائے پئے تو وہ کیسے بچ سکتا ہے؟ یہ موت طاعون کی جو اَب آئی ہے یہ اس وقت ٹلے گی کہ انسان قدم پورا رکھے۱؎ ادھورے قدم کو خدا پسند نہیں کرتا۔
بدی کو خدا کے خو ف سے چھو ڑدو
جو بات طاقت سے باہر ہے وہ تو خدا معاف کر دے گا۔ مگر جو طاقت کے اندر ہے اس سے مؤاخذہ ہوگا جب انسان نیک بنتا ہے تو دائیں بائیں آگے پیچھے خدا کی رحمت اور فرشتے ہوتے ہیں سچا مومن ولی کہلاتا ہے اور اس کی برکت اس کے گھر اور اس کے شہر میں ہوتی ہے۔ جو خدا کو ناراض کرتا ہے وہ نجاست کھاتا ہے۔ اگر انسان بدی کو خدا کے خوف سے چھوڑ دے تو خدا اس کی جگہ نیک بدلہ اسے دیتا ہے۔ مثلاً ایک چور اگر چوری کرتا ہے اور وہ چوری کو چھوڑ دیوے تو پھر خدا اس کی وجہ معاش حلال طور سے کر دے گا۔ اسی طرح زمینداروں میں پانی وغیرہ چرانے کا دستور ہوتا ہے اگر وہ چھوڑ دیویں تو خدا ان کی کھیتی میں دوسری طرف سے برکت دے دے گا۔ ایک نیک متقی زمیندار کے واسطے خدا تعالیٰ بادل کا ٹکڑا بھیج دیا کرتا ہے اور اس کے طفیل دوسرے کھیت بھی سیراب ہو جاتے ہیں خدا کو چھوڑ کر بدی اور گند میں رہنا صرف خدا کی نافرمانی ہی نہیں ہے بلکہ اس میں خدا تعالیٰ پر ایمان میں بھی شک ہوتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ چور جب چوری کرتا ہے تو ایمان اس میں نہیں ہوتا اور زانی جب زنا کرتا ہے تو ایمان اس میں نہیں ہوتا۔
یاد رکھو کہ وسوسہ جو بلا ارادہ دل میں پیدا ہوتے ہیں ان پر مؤاخذہ نہیں ہوتا جب پکی نیت انسان کسی کام کی کرے تو اللہ تعالیٰ مؤاخذہ کرتا ہے اچھا آدمی وہی ہے جو دل کو ان باتوں سے ہٹا دے۔ ہر ایک عضو کے گناہوں سے بچے۔ ہاتھ سے کوئی بدی کا کام نہ کرے۔ کان سے کوئی بری بات چغلی، غیبت، گلہ وغیرہ نہ سنے۔ آنکھ سے محرمات پر نظر نہ ڈالے۔ پا ؤں سے کسی گناہ کی جگہ چل کر نہ جاوے۔
شریروں کے لئے مہلت
بار بار میں کہتا ہوں کہ تم لوگ طاعون سے بے خوف نہ ہو اور یہ نہ سمجھو کہ اب اس کا دورہ ختم ہو گیا ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم کو کیوں نہیں آتی اور وہ بدی پر مصر ہیں ان کو وہ ضرور پکڑے گی۔ اس کا دستور ہے کہ اول دور دور رہتی ہے۔ اب دیکھو کہ مکہ میں قحط بھی پڑا، وبا بھی آئی لیکن ابو جہل کا بال بھی بانکا نہ ہوا حالانکہ وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کا سخت دشمن تھا۔ چودہ ۱۴ برس تک خدا نے اسے ایسا رکھا کہ سر درد تک نہ ہوا۔ آخر وہاں ہی قتل ہوا جہاں پیغمبر خدا نے اس کا نشان بتایا تھا۔ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ سب کام پردے سے کرتا ہے اگر وہ قہری بجلی ایک دن دکھا دے تو سب ہندو وغیرہ مسلمان ہو جاویں۔ تم میں سے کوئی تکبر اور غرور سے یہ نہ کہے کہ مجھے طاعون نہیں آتی۔ خدا تعالیٰ شریروں کو اس لیے مہلت دیتا ہے کہ شاید باز آجاویں اور ہدایت ہو۔۱؎
بیعت کرنے والوں کو نصیحت
آج تم لوگوں نے توبہ کی ہے۔ اگر سچے دل سے کی ہے تو پہلے سارے گناہ معاف ہو گئے اب اس وقت سے پھر نیا حساب کتاب شروع ہو گا۔ فرشتوں کو حکم ہوا ہے کہ تمہارے گذشتہ نامہ اعمال سب چاک کر دیویں اور تم نے اب ایک نیا جنم لیا ہے۔ یاد رکھو کہ جیسے ایک آقا نے اپنے غلام کے بہت سے قصور معاف کر دیئے ہوں اور اسے تاکید ہو کہ اب کرو گے تو سخت سزا ہو گی۔ پھر اگر وہ کوئی قصور کرے تو اسے سخت غصہ آتا ہے۔ ایسا ہی حال خدا کا ہے۔ خدا قہار ہے اگر اس کے بعد کوئی باز نہ آیا تو اس کا غضب بھڑ کے گا۔ جیسے وہ ستار ہے ویسا ہی منتقم اور غیور بھی ہے قرآن کو بہت پڑھو۔ نمازوں کو ادا کرو۔ عورتوں کو سمجھاؤ۔ بچوں کو نصیحت کرو۔ کوئی عمل اور بدعت ایسی نہ کرو جس سے خدا ناراض ہو۔ اگر ایسا کرو گے تو خدا تعالیٰ تم میں اور دوسرے لوگوں میں فرق کر کے دکھلا دے گا۔
(مجلس قبل از عشاء) جس صاحب نے کل حضرت اقدس سے رخصت طلب کی تھی ان سے مخاطب ہو کر حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہی مناسب ہے کہ عید کی نماز کے بعد روانہ ہوں کیونکہ پھر سخت گرمی کا موسم آنے والا ہے سفر میں بہت تکلیف ہو گی میں نے جیسے آپ سے وعدہ کیا ہے دعا کرتا رہوں گا مجھے کسی امیر یا بادشاہ کا خطر نہیں ہے۔ میرا کام دعا کرنا ہے۔
تو بہ کی انتہا فنا ہے
ہم سے رخصت ہونے والے احمدی دوست نے کہا کہ حضرت جب سے میں آپ پر ایمان لایا ہوں۔ میں آج تک فرق نہیں کر سکا کہ میری محبت آپ سے زیادہ ہے یا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) سے اور ایسے ہی نہیں معلوم کہ میں خدا سے زیادہ پیار کرتا ہوں یا آپ سے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ فطرت انسانی ہے یَّعۡمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ(بنی اسرآءیل:۸۵) یہی ہے۔ جب زر کو آگ میں ڈالتے ہیں تو آخر کار وہ ایسا ہی ہو جاتا ہے کہ آگ میں اور اس میں کوئی فرق نہیں رہتا اور اگر وہ آگ سے الگ ہو جاوے تو بھی ایک مفید شَے ضرور رہتا ہے۔ صرف اتنی بات ہوتی ہے کہ چِرک اس میں نہیں رہتا۔ آگ اپنے رنگ میں لا کر چِرک اس سے دور کر دیتی ہے۔
توبہ کی انتہا فنا ہے۔ جس کے معنے رجوع کے ہیں یعنی خدا تعالیٰ کے نزدیک ہونا۔ یہی آگ ہے جس سے انسان صاف ہوتا ہے۔ جو شخص اس کے نزدیک قدم رکھنے سے ڈرتا ہے کہ کہیں آگ سے جل نہ جاوے وہ ناقص ہے لیکن جو قدم آگے رکھتا ہے اور جیسے پروانہ آگ میں گر کر اپنے وجود کو جلاتا ہے ویسے ہی وہ بھی گرتا ہے۔ وہ کامیاب ہوتا ہے۔ مجاہدات کی انتہا فنا ہی ہے۔
مقا م لقا
اس کے آگے جو لقا ہے وہ اَمر کسبی نہیں بلکہ وہبی ہے۔ اس کاروبار کا انتہا مَرنا ہے اور یہ تخم ریزی ہے۔ اس کے بعد روئیدن یعنی پیدا کرنا وہ فعل خدا کا ہے۔ ایک دانہ زمین میں جا کر جب بالکل نیست ہوتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ اسے سبزہ بنا دیتا ہے مگر یہ مرحلہ بہت خوفناک ہے۔ بالکل ٹھیک کہا ہے۔
عشق اول سرکش و خونی بود
تا گریزد ہر کہ بیرونی بود
جب آدمی سلوک میں قدم رکھتا ہے تو ہزار ہا بَلا اس پر وارد ہوتی ہیں جیسے جنّات اور دیو نے حملہ کر دیا ہے مگر جب وہ شخص فیصلہ کر لیتا ہے کہ میں اب واپس نہ ہوں گا اور اسی راہ میں جان دے دوں گا تو پھر وہ حملہ نہیں ہوتا اور آخر کار وہ بَلا ایک باغ میں متبدّل ہو جاتی ہے اور جو اس سے ڈرتا ہے اس کے لیے وہ دوزخ بن جاتی ہے۔ اس کا انتہائی مقام بالکل دوزخ کا تمثّل ہوتا ہے تا کہ خدا تعالیٰ اسے آزماوے جس نے اس دوزخ کی پروا نہ کی وہ کامیاب ہوا۔ یہ کام بہت نازک ہے۔ بجز موت کے چارہ نہیں۔۱؎
سالہا سال کا میرا تجربہ ہے کہ جو مقام انسان تلاش کرتا ہے وہ مکاشفات میں نہیں ہے وہ تو صرف ایک موہبتِ الٰہی ہے اور مَرنے کے بعد یہ نصیب ہوتا ہے جب کہ نفسانیت بالکل جل جاوے پھر تبدیل ہو کر وہ اور شَے بن جاوے تو اس وقت وہ ابدال ہوتا ہے۔ یہ بات انسان کے اندر در دِدل سے پیدا ہوتی ہے اور جب تک خدا خود نہ درد دے تب تک درد پیدا نہیں ہوتا۔ اس درد کا نمونہ ایک ماں میں ہوتا ہے اگر اس کا بچہ بیمار ہو تو اس کا جگر پارہ پارہ ہوتا ہے یہ ایک بڑی بزرگ شَے ہے جو کہ زر اور زور سے حاصل نہیں ہوتی صرف موہبت ہے اور صرف درد بھی کوئی شَے نہیں ہے جب تک اس کے ساتھ عمل نہ ہو۔ خدا کی محبت کا زبانی دعویٰ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ رؤیا اور خواب بھی کیا شَے ہیں۔ ہندو بھی اس میں شریک ہیں حالانکہ ان کے عمل کیسے ناپاک ہوتے ہیں۔ میں تو ان باتوں کو ایک جَو کے بدلے بھی نہیں خریدتا۔ بلعم کیسا صاحبِ الہام تھا مگر اسے دردِ دل نہ تھا۔ تکبر تھا اس لئے اسے موسیٰ پر جرأت بددعا کی ہوئی اس نے خیال کیا کہ موسیٰ میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں حالانکہ موسیٰ کو دردِ دل تھا۔ آخر خدا نے اسے کتّے سے مشابہت دی۔ پس دردِ دل کو تلاش کرو۔ ماں کو بچے سے عاشق کو معشوق سے جو محبت ہے وہ در دِدل ہے دردِ دل وہ کام کرتا ہے کہ دوسرے اس سے حیران ہو جاتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ ایک عورت ایک مَرد پر عاشق تھی۔ دونوں کی عمر ۳۰ یا ۳۵ سال کی تھی پھر وہ عورت اس کے دروازے کے آگے گری رہتی لوگ اسے پتھر مار مار کر لہولہان کرتے اور گھسیٹ گھسیٹ کر دور پھینک جاتے مگر وہ پھر وہیں آ پڑتی۔ میں نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ یہ اصل میں محبت حقیقی کا نمونہ ہے۔
خدا تعالیٰ بعض دفعہ سالہا سال تک بیزار ہو کر متمثّل ہوتا ہے مگر بیزار نظر آتا ہے۔ جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف میں بہت سخت تکلیف اٹھائی آخر خدا سے عرض کی کہ اگر مجھ پر عتاب ہے تو اس وقت تک میں صبر کروں گا کہ تو راضی ہو جاوے۔ اصل میں خدا تعالیٰ کی بیزاری نہ تھی وہ بھی ایک پیرایہ میں محبت تھی۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو امتحان ہوتے ہیں اس میں ایک بیزاری بھی ہے بعض لوگ جو اس کے اہل نہیں ہوتے وہ دھوکا کھاتے ہیں۔ اکثر دہریہ ہو جاتے ہیں سعید وہ ہے جو ازل سے سعید ہے گویا اس نے خدا کی گود میں پرورش پائی ہے۔۱؎
۹ ؍ما رچ ۱۹۰۳ء
(دورانِ سیر
وبا زدہ علا قہ میں ما مو ر یا نبی کے جانے کی تعبیر
ایک شخص کی خواب پر فرمایا کہ معبرین نے لکھا ہے کہ اگر وبائی جگہ پر کوئی مامور یا نبی گیا ہوا دیکھا جاوے تو جاننا چاہیے کہ وہاں آرام ہوگا کیونکہ وہ لوگ خدا کی رحمت ساتھ لاتے ہیں۔
ایک رؤیا
پھر فرمایا کہ رات کو میں نے ایک خواب دیکھی کہ ایک شخص نے مجھے ایک پروانہ دیا ہے وہ لمبا سا کاغذ ہے میں نے پڑھا تو لکھا ہوا تھا کہ عدالت سے چار جگہ کے لیے طاعون کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ اس پروانے سے پایا جاتا تھا کہ اس کا اجرا میں نے کیا ہے جیسے کاغذات محافظ دفتر کے پاس ہوتے ہیں ویسے ہی وہ میرے پاس ہے میں نے کہا کہ یہ حکم ایک عرصہ سے ہے اور اس کی تعمیل آج تک نہ ہوئی؟ اب میں اس کا کیا جواب دوں گا۔ اس سے مجھے ایک خوف طاری ہوا اور تمام رات میں اسی خدشہ میں رہا اور اس پر روشن خط میں لفظ طاعون کا لکھا تھا گویا حکم میرے نام آتا ہے اور میں جاری کرتا ہوں پھر میں نے دیکھا کہ اپنی جماعت کے چند آدمی کُشتی کر رہے ہیں میں نے کہا آؤ میں تم کو ایک خواب سناؤں مگر وہ نہ آئے۔ میں نے کہا کیوں نہیں سنتے جو شخص خدا کی باتیں نہیں سنتا وہ دوزخی ہوتا ہے۔
التحیات میں انگشت سبابہ اُٹھانے کی حکمت
ایک شخص نے سوال کیا کہ التحیات کے وقت نماز میں انگشت سبابہ کیوں اُٹھاتے ہیں؟ فرمایا کہ لوگ زمانہ جاہلیت میں گالیوں کے واسطے یہ اُنگلی اُٹھایا کرتے تھے اس لیے اس کو سبابہ کہتے ہیں یعنی گالی دینے والی۔ خدا تعالیٰ نے عرب کی اصلاح فرمائی اور وہ عادت ہٹا کر فرمایا کہ خدا کو واحد لاشریک کہتے وقت یہ اُنگلی اُٹھایا کرو تا کہ اس سے وہ الزام اُٹھ جاوے۔ ایسے ہی عرب کے لوگ پانچ وقت شراب پیتے تھے۔ اس کے عوض میں پانچ وقت نماز رکھی۔
اس کے بعد اس اَمر پر ذکر رہا کہ ہر ایک فرقہ میں نذیر آیا ہے جیسے قرآن سے ثابت ہے۔ اسی لیے رام چندر اور کرشن وغیرہ اپنے زمانے کے نبی وغیرہ ہوں گے۔
تبلیغ کے لئے مفت اشاعت
عرب صاحب نے سوال کیا کہ لوگ آپ کو سادہ مزاج کہتے ہیں اس لیے کہ کتب مفت تقسیم کی جاتی ہیں۔
فرمایا کہ گفتہ اند کہ نکوئی کن وَ در آپ انداز۔ کتابیں ہم مفت دیتے ہیں مگر اس میں ہماری سادگی نہیں ہے اور نہ ہم غلطی پر ہیں۔ ہمارا منشا تبلیغ کا ہوتا ہے اگر ہزار کتاب شائع ہو اور ایک شخص بھی راہ راست پر آ جاوے تو ہمارا مطلب پورا ہو گیا۔۱؎
(دربارِ شام)
ایک جامع درس
نومارچ ۱۹۰۳ء کے دربار شام میں حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک جامع تقریر فرمائی۔ ہم کو افسوس ہے کہ اس روز ہم ایک مصروفیت کی وجہ سے موجود نہ تھے اس لیے اس تقریر کو خود قلمبند نہیں کر سکے تاہم ہمارے ایک عزیز نے اس کے کچھ نوٹ لیے تھے جن کو مرتّب کر کے ناظرین کے فائدہ کے لیے مَا لَا یُدْرَکُ کُلُّہٗ لَا یُتْرَکُ کُلُّہ پر عمل کرنے کے لیے اسے ہی پیش کر دیتے ہیں۔ (ایڈیٹر)
نو مبا ئعین کو نصیحت
چند احباب بتقریب نماز عید اضحی دارالامان میں تشریف لائے اور انہوں نے بیعت کی۔ حضرت اقدس امام پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کھڑے ہو کر یہ تقریر فرمائی۔
فرمایا۔ دیکھو! جس قدر آپ لوگوں نے اس وقت بیعت کی ہے اور جو پہلے کر چکے ہیں ان کو چند کلمات بطور نصیحت کے کہتا ہوں۔ چاہیے کہ اسے پوری توجہ سے سنیں۔
آپ لوگوں کی یہ بیعت۔ بیعت توبہ ہے۱؎ توبہ دو طرح سے ہوتی ہے ایک تو گذشتہ گناہوں سے یعنی ان کی اصلاح کرنے کے واسطے جو کچھ پہلے غلطیاں کر چکا ہے ان کی تلافی کرے اور حتی الوسع ان بگاڑوں کی اصلاح کی کو کشش کرنا اور آیندہ کے گناہوں سے باز رہنا اور اپنے آپ کو اس آگ سے بچائے رکھنا۔
توبہ
اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ توبہ سے تمام گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں معاف ہو جاتے ہیں بشرطیکہ وہ توبہ صدقِ دل اور خلوصِ نیت سے ہو اور کوئی پوشیدہ دغا بازی دل کے کسی کونہ میں پوشیدہ نہ ہو۔ وہ دلوں کے پوشیدہ اور مخفی رازوں کو جانتا ہے وہ کسی کے دھوکا میں نہیں آتا پس چاہیے کہ اس کو دھوکا دینے کی کو کشش نہ کی جاوے اور صدق سے نہ نفاق سے اس کے حضور توبہ کی جاوے۔
توبہ انسان کے واسطے کوئی زائد یا بے فائدہ چیز نہیں ہے اور اس کا اثر صرف قیامت پر ہی منحصر نہیں بلکہ اس سے انسان کی دنیا و دین دونوں سنور جاتے ہیں۔ اور اسے اس جہان میں اور آنے والے جہان میں دونوں میں آرام اور سچی خوشحالی نصیب ہوتی ہے۔۲؎
دیکھو! قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّفِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ(البقرۃ:۲۰۲) اے ہمارے رب ہمیں اس دنیا میں بھی آرام و آسائش کے سامان عطا فرما اور آنے والے جہان میں بھی آرام اور راحت عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
دیکھو! درحقیقت رَبَّنَا کے لفظ میں توبہ ہی کی طرف ایک باریک اشارہ ہے کیونکہ رَبَّنَا کا لفظ چاہتا ہے۳؎ کہ وہ بعض اور ربوں کو جو اس نے پہلے بنائے ہوئے تھے ان سے بے زار ہو کر اس ربّ کی طرف آیا ہے اور یہ لفظ حقیقی درد اور گداز کے سوا انسان کے دل سے نکل ہی نہیں سکتا۔ ربّ کہتے ہیں بتدریج کمال کو پہنچانے والے اور پرورش کرنے والے کو۔ اصل میں انسان نے اپنے بہت سے ارباب بنائے ہوئے ہوتے ہیں اپنے حیلوں اور دغا بازیوں پر اسے پورا بھروسا ہوتا ہے تو وہی اس کے رب ہیں۔ اگر اسے اپنے علم کا یا قوتِ بازو کا گھمنڈ ہے تو وہی اس کے رب ہیں۔ اگر اسے اپنے حسن یا مال و دولت پر فخر ہے تو وہی اس کا رب ہے غرض اس طرح کے ہزاروں اسباب اس کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ جب تک ان سب کو ترک کر کے ان سے بیزار ہو کے اس واحد لاشریک سچے اور حقیقی رب کے آگے سر نیاز نہ جھکائے اور رَبَّنَا کی پُر درد اور دل کو پگھلانے والی آوازوں سے اس کے آستانہ پر نہ گرے۔ تب تک وہ حقیقی رب کو نہیں سمجھا۔ پس جب ایسی دلسوزی اور جاں گدازی سے اس کے حضور اپنے گناہوں کا اقرار کر کے توبہ کرتا اور اسے مخاطب کرتا ہے کہ رَبَّنَا یعنی اصلی اور حقیقی ربّ تو تُو ہی تھا مگر ہم اپنی غلطی سے دوسری جگہ بہکتے پھرتے رہے۔ اب میں نے ان جھوٹے بتوں اور باطل معبودوں کو ترک کر دیا ہے اور صدق دل سے تیری ربوبیت کا اقرار کرتا ہوں۔ تیرے آستانہ پر آتا ہوں۔
غرض بجز اس کے خدا کو اپنا ربّ بنانا مشکل ہے جب تک انسان کے دل سے دوسرے ربّ اور ان کی قدر و منزلت و عظمت و وقار نکل نہ جاوے تب تک حقیقی ربّ اور اس کی ربوبیت کا ٹھیکہ نہیں اٹھاتا۔ بعض لوگوں نے جھوٹ ہی کو اپنا ربّ بنایا ہوا ہوتا ہے وہ جانتے ہیں کہ ہمارا جھوٹ کے بدوں گذارہ ہی مشکل ہے بعض چوری و راہزنی اور فریب دہی ہی کو اپنا ربّ بنائے ہوئے ہیں۔ ان کا اعتقاد ہے کہ اس راہ کے سوا ان کے واسطے کوئی رزق کا راہ ہی نہیں۔ سو ان کے ارباب وہ چیزیں ہیں۔ دیکھو! ایک چور جس کے پاس سارے نقب زنی کے ہتھیار موجود ہیں اور رات کا موقع بھی اس کے مفید مطلب ہے اور کوئی چوکیدار وغیرہ بھی نہیں جاگتا ہے تو ایسی حالت میں وہ چوری کے سوا کسی اور راہ کو بھی جانتا ہے جس سے اس کا رزق آسکتا ہے؟ وہ اپنے ہتھیاروں کو ہی اپنا معبود جانتا ہے۔ غرض ایسے لوگ جن کو اپنی ہی حیلہ بازیوں پر اعتماد اور بھروسا ہوتا ہے ان کو خدا سے استعانت اور دعا کرنے کی کیا حاجت؟ دعا کی حاجت تو اسی کو ہوتی ہے جس کے سارے راہ بند ہوں اور کوئی راہ سوائے اس دَر کے نہ ہو اسی کے دل سے دعا نکلتی ہے۔ غرض رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا(البقرۃ:۲۰۱ تا ۲۰۲) الـخ ایسی دعا کرنا صرف انہیں لوگوں کا کام ہے جو خدا ہی کو اپنا رب جان چکے ہیں اور ان کو یقین ہے کہ ان کے رب کے سامنے اور سارے اربابِ باطلہ ہیچ ہیں۔
آگ سے مراد صرف وہی آگ نہیں جو قیامت کو ہو گی بلکہ دنیا میں بھی جو شخص ایک لمبی عمر پاتا ہے وہ دیکھ لیتا ہے کہ دنیا میں بھی ہزاروں طرح کی آگ ہیں۔ تجربہ کار جانتے ہیں کہ قسم قسم کی آگ دنیا میں موجود ہے طرح طرح کے عذاب خوف، خون، فقر و فاقے، امراض، ناکامیاں، ذلّت و ادبار کے اندیشے، ہزاروں قسم کے دکھ، اولاد، بیوی وغیرہ کے متعلق تکالیف اور رشتہ داروں کے ساتھ معاملات میں الجھن۔ غرض یہ سب آگ ہیں۔ تو مومن دعا کرتا ہے کہ ساری قسم کی آگوں سے ہمیں بچا۔ جب ہم نے تیرا دامن پکڑا ہے تو ان سب عوارض سے جو انسانی زندگی کو تلخ کرنے والے ہیں اور انسان کے لیے بمنزلہ آگ ہیں بچائے رکھ۔
سچی توبہ ایک مشکل اَمر ہے۔ بجز خدا کی توفیق اور مدد کے توبہ کرنا اور اس پر قائم ہو جانا محال ہے۔ توبہ صرف لفظوں اور باتوں کا نام نہیں۔ دیکھو! خدا قلیل سی چیز سے خوش نہیں ہو جاتا۔ کوئی ذرا سا کام کر کے خیال کر لینا کہ بس اب ہم نے جو کرنا تھا کر لیا اور رضا کے مقام تک پہنچ گئے یہ صرف ایک خیال اور وہم ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب ایک بادشاہ کو ایک دانہ دے کر یا مٹی کی مٹھی دے کر خوش نہیں کر سکتے بلکہ اس کے غضب کے مورد بنتے ہیں تو کیا وہ احکم الحاکمین اور بادشاہوں کا بادشاہ ہماری ذرا سی ناکارہ حرکت سے یا دو لفظوں سے خوش ہو سکتا ہے۱؎ خدا تعالیٰ پوست کو پسند نہیں کرتا وہ مغز چاہتا ہے۔
شرک کی حقیقت
دیکھو! خدا یہ بھی نہیں چاہتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاوے۔ بعض لوگ اپنے شرکاءِ نفسانی کے واسطے بہت سا حصہ رکھ لیتے ہیں اور پھر خدا کا بھی حصہ مقرر کرتے ہیں۔ سو ایسے حصہ کو خدا قبول نہیں کرتا وہ خالص حصہ چاہتا ہے۔ اس کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک بنانے سے زیادہ اس کو غضبناک کرنے کا اور کوئی آلہ نہیں ہے۔ ایسا نہ کرو کہ کچھ تو تم میں تمہارے نفسانی شرکاء کا حصہ ہو اور کچھ خدا کے واسطے۔ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں سب گناہ معاف کروں گا مگر شرک نہیں معاف کیا جاوے گا۔
یاد رکھو شرک یہی نہیں کہ بتوں اور پتھروں کی تراشی ہوئی مورتوں کی پوجا کی جاوے۔ یہ تو ایک موٹی بات ہے یہ بڑے بیوقوفوں کا کام ہے دانا آدمی کو تو اس سے شرم آتی ہے۔ شرک بڑا باریک ہے وہ شرک جو اکثر ہلاک کرتا ہے وہ شرک فی الاسباب ہے یعنی اسباب پر اتنا بھروسا کرنا کہ گویا وہی اس کے مطلوب و مقصود ہیں جو شخص دنیا کو دین پر مقدم رکھتا ہے اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ اس کو دنیا کی چیزوں پر بھروسہ ہوتا ہے اور وہ امید ہوتی ہے جو دین و ایمان سے نہیں۔ نقد فائدہ کو پسند کرتے ہیں اور آخرت سے محروم۔ جب وہ اسباب پر ہی اپنی ساری کامیابیوں کا مدار خیال کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کے وجود کو تو اس وقت وہ لغو محض اور بے فائدہ جانتا ہے اور تم ایسا نہ کرو۔ تم توکل اختیار کرو۔
توکّل
توکّل یہی ہے۱؎ کہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے کسی اَمر کے حاصل کرنے کے واسطے مقرر کئے ہوئے ہیں ان کو حتی المقدور جمع کرو۔ اور پھر خود دعاؤں میں لگ جاؤ کہ خدا تو ہی اس کا انجام بخیر کر۔ صدہا آفات ہیں اور ہزاروں مصائب ہیں جو ان اسباب کو بھی برباد و تہ و بالا کر سکتے ہیں۔ ان کی دست بُرد سے بچا کر ہمیں سچی کامیابی اور منزل مقصود پر پہنچا۔
حقیقت توبہ
توبہ کے معنی ہی یہ ہیں کہ گناہ کو ترک کرنا اور خدا کی طرف رجوع کرنا۔ بدی چھوڑ کر نیکی کی طرف آگے قدم بڑھانا۔ توبہ ایک موت کو چاہتی ہے جس کے بعد انسان زندہ کیا جاتا ہے اور پھر نہیں مَرتا۔ توبہ کے بعد انسان ایسا بن جاوے کہ گویا نئی زندگی پا کر دنیا میں آیا ہے نہ اس کی وہ چال ہو، نہ اس کی وہ زبان، نہ ہاتھ نہ پاؤں، سارے کا سارا نیا وجود ہو جو کسی دوسرے کے ماتحت کام کرتا ہوا نظر آ جاوے۔ دیکھنے والے جان لیں کہ یہ وہ نہیں یہ تو کوئی اَور ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ یقین جانو کہ توبہ میں بڑے بڑے ثمرات ہیں۔ یہ برکات کا سرچشمہ ہے۔ درحقیقت اولیاء اور صلحاء بھی لوگ ہوتے ہیں جو توبہ کرتے اور پھر اس پر مضبوط ہو جاتے ہیں۔ وہ گناہ سے دور اور خدا کے قریب ہوتے جاتے ہیں۔ کامل توبہ کرنے والا شخص ہی ولی، قطب اور غوث کہلا سکتا ہے۔ اسی حالت سے وہ خدا کا محبوب بنتا ہے اس کے بعد بَلائیں اور مصائب جو انسان کے واسطے مقدر ہوتی ہیں ٹل جاتی ہیں۔
انبیاء اور مومنوں پر مصائب آنے کی حکمت
اس سے یہ خیال نہ آوے کہ پھر انبیاء اور نیک مومنوں کو کیوں تکلیفیں آتی ہیں؟ ان لوگوں پر بعض بَلائیں آتی ہیں اور ان کے واسطے آثارِ رحمت ہوتا ہے۔۱؎ دیکھو! ہمارے نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کیسی کیسی مصائب آئی تھیں۔ ان کا گننا بھی کسی بڑے زبردست دِل کا کام ہے۔ ان کے نام سے ہی انسان کے بدن پر لرزہ آتا ہے۔ پھر جو کچھ سلوک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہیوں سے ہوئے ان کی بھی تاریخ گواہ ہے۔ کیا کوئی ایسی بھی تکلیف تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کو پہنچائی نہ گئی ہو؟ جس طرح ان کی ایذاء دہی میں کفار نے کوئی دقیقہ باقی اٹھا نہ رکھا تھا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے کمالات میں کوئی کمی باقی نہ رکھی۔ اصل میں ان لوگوں کے واسطے یہ مصائب اور سختیاں تریاق ہو جایا کرتی ہیں۔ ان لوگوں کے واسطے خدا کی رحمت کے خزانے انہیں سختیوں ہی کی وجہ سے کھولے جاتے ہیں۔
ہر بَلا کیں قوم را حق دادہ است
زیر آں گنج کرم بنہادہ است
مگر ایسے وقت میں انسان کو چاہیے کہ صبرِ جمیل کرے اور خدا سے بدظن نہ ہو۔ وہ لوگ تو خدا کے اسلام کو انعام کے رنگ میں دیکھتے ہیں اور ابتلا میں لذّت پاتے ہیں۔ قرب کے مراتب جس طرح جلد ابتلا کے وقت میں طے ہوتے ہیں وہ یوں زُہد و تعبّد یا ریاضت سے تو سالہا سال میں بھی تمام نہیں کئے جاتے۔ ان لوگوں میں سے جو خدا کے قرب کا نمونہ بنے اور خلق کی ہدایت کا تمغہ ان کو دیا گیا یا وہ خدا کے محبوب ہوئے ایک بھی نہیں جس پر کبھی نہ کبھی مصائب اور شدائد کے پہاڑ نہ گرے ہوں۔ ان لوگوں کی مثال مشک کے نافہ کی سی ہوتی ہے وہ جب تک بند ہے اس میں اور ایک پتھر یا مٹی کے ڈھیلے میں کچھ تفاوت نہیں پایا جاتا مگر جب اس پر سختی سے جراحی کا عمل کیا جاوے اور اس کو چُھری یا چاقو سے چیرا جاوے تو معاً اس میں سے ایک خوش کن خوشبو نکلتی ہے جس سے مکان کا مکان معطر ہو جاتا ہے اور قریب آنے والا بھی معطر کیا جاتا ہے۔ سو یہی حال ہے انبیاء اور صادق مومنوں کا کہ جب تک ان کو مصائب نہ پہنچیں تب تک ان کے اندرونی قویٰ چھپے رہتے ہیں اور ان کی ترقیات کا دروازہ بند ہوتا ہے ان لوگوں کے قویٰ دو قسم کے موقعوں پر اظہار پذیر ہوتے ہیں۔ بعض تو مصائب شدائد اور دکھوں کے زمانہ میں اور بعض ان کی کامیابی کے زمانہ میں کیونکہ یک طرفہ کارروائی قابلِ اعتماد نہیں ہوتی۔ ممکن ہے کہ ایک شخص جس نے بچپن سے خوشحالی اور آرام اور آسائش کے سوا کچھ دیکھا ہی نہیں اس کے قویٰ کا پورا اندازہ نہیں ہو سکتا ہے اور دوسرا جو بچپن سے غربت کی مار بدحالی میں مبتلا رہا ہے اس کے قویٰ کا بھی پورا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ کسی شخص کے اخلاق فاضلہ اور اس کے خلق کے متعلق اس کے حالات کا اندازہ تب ہی ہوسکتا ہے جب اس پر انعام و ابتلا ہر دو طرح کے زمانے آچکے ہوں۔ سو اس اَمر کے دیکھنے کے لیے بھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سی اور کوئی مثال نہیں کیونکہ باقی انبیاء میں سے اکثر ایسے تھے کہ انہوں نے نہایت کار ایک زمانہ دیکھا دوسرے کی نوبت ہی نہیں آئی مثلاً حضرت عیسیٰ ہیں۔ ہمارا اعتقاد ہے کہ وہ خدا کے برگزیدہ اور پاک نبی تھے۔ خدا کے نزدیک ان کے بڑے مدارج ہیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل میں رکھ کر اگر ان کو اسی کسوٹی پر پرکھا جاوے تو ان کے اخلاق بہت گرے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ انہوں نے اقتدار اور ثروت کا زمانہ نہ پایا اور نہ اس کے متعلق ان کے اخلاق کا اظہار ہوا۔ ہمیں تو قرآن شریف مجبور کرتا ہے ورنہ ہم اگر ان کے حالات کے لحاظ سے اور ان کی عام سوانح کی وجہ سے دیکھیں تو وہ تو ایک کامل انسان کے مرتبہ سے بھی گرے ہوئے معلوم ہوتے ہیں کجا یہ کہ عیسائی ان کو خدائے قدوس کا مرتبہ دے بیٹھے ہیں۔ بھلا ان کا صبر، ان کی داد و دہش، ان کی جود و سخا کا کون سا نمونہ دنیا میں باقی رہا ہے۔ ان کی شجاعت کے اظہار کا کون سا موقع تھا۔ کس جنگ میں انہوں نے اس اَمر کا ثبوت دیا۔۱؎ ان کی بعثت کا زمانہ صرف تین سال تھا اور وہ بھی مصائب کا زمانہ۔ مقابلہ پر صرف ایک اپنی ہی قوم تھی جو معدودے چند سے زیادہ ہرگز نہ تھی۔ ان کا پیش کردہ اَمر بھی ان کے لیے کوئی نرالا نہ تھا جس کی مثال پہلے نہ پائی جاتی ہو۔ قوم پہلے ہی توحید پسند تھی ان کے خلاق اور ان کے عقائد کا بہت سا حصہ نسبتاً اچھا تھا۔ ان میں خدا ترس، گوشہ نشین وغیرہ بھی تھے غرض ان کا کام نہایت سہل اور آسان تھا۔ ادھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھو کہ آپ کی نبوت کے زمانہ میں سے ۱۳سال مصائب اور شدائد کے تھے اور دس سال قوت و ثروت اور حکومت کے۔ مقابل میں کئی قومیں۔ اول تو اپنی ہی قوم تھی۔ یہودی تھے عیسائی تھے۔ بُت پرست قوموں کا گروہ تھا۔ مجوس تھے وغیرہ جن کا کام کیا ہے؟ بُت پرستی۔ جو ان کا حقیقی خدا کے اعتقاد سے پختہ اعتقاد اور مسلک تھا وہ کوئی کام کرتے ہی نہ تھے جو ان بتوں کی عظمت کے خلاف ہو۔ شراب خوری کی یہ نوبت کہ دن میں پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ شراب۔ بلکہ پانی کے بجائے شراب ہی سے کام لیا جاتا تھا۔ حرام کو تو شیرِ مادر جانتے تھے اور قتل وغیرہ تو ان کے نزدیک ایک گاجر مولی کی طرح تھا۔ غرض کل دنیا کی اقوام کا نچوڑ اور گندے عقائد کا عطر ان کے حصہ میں آیا ہوا تھا۔ اس قوم کی اصلاح کرنی اور پھر ان کو درست کرنا اور پھر اس پر زمانہ وہ کہ یکہ و تنہا بے یار پھرتے ہیں کبھی کھانے کو ملا اور کبھی بھوکے ہی سو رہے جو چند ایک ہمراہی ہیں ان کی بھی ہر روز بری گت بنتی ہے۔ بے کس اور بے بس۔ ادھر کے ادھر اور ادھر کے ادھر مارے مارے پھرتے ہیں۔ وطن سے بے وطن کر دیئے گئے ہیں۔
پھر دوسرا زمانہ تھا کہ تمام جزیرہ عرب ایک سرے سے دوسرے سرے تک غلام بنا ہوا ہے کوئی مخالفت کے رنگ میں چوں بھی نہیں کر سکتا اور ایسا اقتدار اور رعب خدا نے دیا ہوا ہے کہ اگر چاہتے تو کل عرب کو قتل کر ڈالتے اگر ایک نفسانی انسان ہوتے تو ان سے ان کی کرتوتوں کا بدلہ لینے کا عمدہ موقع تھا۔ جب الٹ کر مکہ فتح کیا تو لَا تَثۡرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ(یوسف:۹۳) فرمایا۔ غرض اس طرح سے جو دونوں زمانے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آئے اور دونوں کے واسطے ایک کافی موقع تھا کہ اچھی طرح سے جانچے پرکھے جاتے اور ایک جوش یا فوری ولولہ کی حالت نہ تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر طرح کے اخلاق فاضلہ کا پورا پورا امتحان ہو چکا تھا اور آپ کے صبر، استقلال، عفت، حلم، بردباری، شجاعت، سخاوت، جود وغیرہ وغیرہ غرض کل اخلاق کا اظہار ہو چکا تھا اور کوئی ایسا حصہ باقی نہ تھا کہ باقی رہ گیا ہو۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت
غرض ایسے ایسے مصائب ہیں جو ان کے لیے رحمت ہیں اور ان سے ان لوگوں کے اندرونی گُن ظاہر ہوتے ہیں۔ دیکھو! حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ جنہوں نے ہمیشہ ناز و نعمت میں پرورش پائی تھی اور سید سید کر کے پکارے جاتے تھے۔ انہوں نے بھی تو سختی کا زمانہ نہ دیکھا تھا۔ ان کو ایسے ایسے زمانے دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا کہ وہ ان صحابہؓ کے مراتب کو پہنچ سکتے۔ ان کی ساری زندگی ناز و نعمت میں گذری تھی نہ انہوں نے کسی جہاد میں حصہ لیا تھا نہ کسی کفر ہی کو توڑا تھا تو خدا نے جو اُن کو شہید کیا، کیا اُن پر ظلم کیا؟ ہر گز نہیں۔ انہوں نے پچاس پچپن برس کی عمر تک وہ زمانہ نہ دیکھا تھا کہ شدائد کیا ہوا کرتے ہیں اور انہوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ جب صحابہؓ بکریوں کی طرح ذبح ہوتے تھے تو پھر ان کا کیا حق تھا کہ وہ شہداء میں درجہ پاتے یا کسی طرح کے آخرت میں خدا کے قرب میں عزّت پاتے۔ کیا ان کو فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بیٹا کہلانے کا فخر بس تھا؟ اور ان کے واسطے یہی کافی تھا؟ نہیں اس سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی منع فرمایا تھا۔ اس سے کوئی حق قربِ الٰہی نہیں ہوسکتا تھا۔ غرض ان کی اپنی تو ایسی بظاہر کوئی کارنمائی نہ تھی جس سے وہ ان درجات اعلیٰ کے وارث یا حقدار ہوتے مگر چونکہ ان کو آنحضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک قسم کا تعلق تھا۔ اللہ تعالیٰ نے نہ چاہا کہ آنحضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کا تعلق رکھنے والے کو ضائع کرے۱؎ سو ان کے واسطے ایسے ایسے سامان میسّر کر دیئے کہ وہ خدا کی راہ میں شہادت پانے کے قابل ہو گئے اور اس طرح وہ سابقین کے ساتھ مل گئے جن کے حالات سے وہ محض ناواقف تھے۔ ایک ذرا سی تکلیف اور اجر عظیم مل گیا۔ شیعہ کیا بیوقوف ہیں، اس حکمت الٰہی کی طرف تو غور نہیں کرتے اور الٹا روتے ہیں کہ ان کو شہید کر دیا۔
ابتلا پر صبر کا اجر
پس تم مومن ہونے کی حالت میں ابتلا کو بُرا نہ جانو اور بُرا وہی جانے گا جو مومن کامل نہیں ہے قرآن شریف فرماتا ہے کہ وَلَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَالۡجُوۡعِ وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ؕ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(البقرۃ:۱۵۶، ۱۵۷) خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم کبھی تم کو مال سے یا جان سے یا اولاد یا کھیتوں وغیرہ کے نقصان سے آزمایا کریں گے مگر جو ایسے وقتوں میں صبر کرتے اور شاکر رہتے ہیں تو ان لوگوں کو بشارت دو کہ ان کے واسطے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے کشادہ اور ان پر خدا کی برکتیں ہوں گی جو ایسے وقتوں میں کہتے ہیں اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(البقرۃ:۱۵۷) یعنی ہم اور ہمارے متعلق کل اشیاء یہ سب خدا ہی کی طرف سے ہیں اور پھر آخر کار ان کا لوٹنا خدا ہی کی طرف ہے کسی قسم کے نقصان کا غم ان کے دل کو نہیں کھاتا اور وہ لوگ مقامِ رضا میں بودوباش رکھتے ہیں۔
ایسے لوگ صابر ہوتے ہیں اور صابروں کے واسطے خدا نے بے حساب اجر رکھے ہوئے ہیں۔۱؎
مُہْتَدُوْنَ سے مراد
مُہْتَدُوْن سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے خدا کے منشا کو پا لیا اور اس کے مطابق عمل درآمد کرنے لگ گئے۔ ایسے ہی لوگ تو ولی ہوتے ہیں۔ انہی کو تو لوگ قطب کہتے ہیں یہی تو غوث کہلاتے ہیں پس کوشش کرو کہ تم بھی ان مدارج عالیہ کو حاصل کرنے کے قابل ہو سکو۔
خدا تعالیٰ نے تو انسان سے نہایت تنزّل کے رنگ میں دوستانہ برتاؤ کیا ہے۔ دوستانہ تعلق کیا ہوتا ہے یہی کہ کبھی ایک دوست دوسرے دوست کی بات کو مان لیتا ہے اور کبھی دوسرے سے اپنی بات منوانا چاہتا ہے چنانچہ خدا تعالیٰ بھی ایسا ہی کرتا ہے چنانچہ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ(المؤمن:۶۱) اور سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ(البقرۃ:۱۸۷) سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ انسان کی بات کو مان لیتا ہے اور اس کی دعا کو قبول فرماتا ہے اور دوسری جگہ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَلۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ(البقرۃ:۱۸۷) الآیۃ سے اور وَلَنَبۡلُوَنَّکُمۡ(محمد:۳۲) آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔
بعض لوگ اللہ تعالیٰ پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ہماری دعا کو قبول نہیں کرتا یا اولیاء لوگوں پر طعن کرتے ہیں کہ ان کی فلاں دعا قبول نہیں ہوئی۔ اصل میں وہ نادان اس قانون الٰہی سے نا آشنا محض ہوتے ہیں۔ جس انسان کو خدا سے ایسا معاملہ پڑا ہو گا وہ خوب اس قاعدہ سے آگاہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے مان لینے کے اور منوانے کے دو نمونے پیش کئے ہیں۔ انہی کو مان لینا ایمان ہے تم ایسے نہ بنو کہ ایک ہی پہلو پر زور دو۔ ایسا نہ ہو کہ تم خدا کی مخالفت کر کے اس کے مقررہ قانون کو توڑنے کی کوشش کرنے والے بنو۔۲؎
مصائب کی لذّت
مومن کے لیے مصائب ہمیشہ نہیں رہتے اور نہ لمبے ہوتے ہیں بلکہ اس کے واسطے رحمت، محبت اور لذّت کا چشمہ جاری کیا جاتا ہے۔ عاشق لوگ عشق کے غلبہ کے وقتوں اور اس کے دردوں میں ہی لذّت پاتے ہیں۔ یہ باتیں گو ایک خشک محض انسان کے لیے سمجھانی مشکل ہیں مگر جنہوں نے اس راہ میں قدم مارا ہے وہ ان کو خوب جانتے ہیں بلکہ ان کو تو معمولی آرام اور آسائش میں وہ چین اور لذّت نہیں ہوتی جو دکھ کے اوقات میں ہوتی ہے۔
مثنوی رومی میں ایک حکایت ہے کہ ایک مرض ایسا ہے کہ اس میں جب تک ان کو مکّے مارتے کوٹتے اور لتاڑتے رہتے ہیں تب تک وہ آرام میں رہتا ہے ورنہ تکلیف میں رہتا ہے سو یہی حال اہل اللہ کا ہے کہ جب تک ان کو مصائب و شدائد کے مشکلات آتے رہیں اور ان کو مار پڑتی رہے تب تک وہ خوش ہوتے اور لذّت اٹھاتے ہیں ورنہ بے چین اور بے آرام رہتے ہیں۔
مومن کے جوہرمصائب سے کھلتے ہیں
اللہ تعالیٰ قادر تھا کہ اپنے بندوں کو کسی قسم کی ایذا نہ پہنچنے دیتا اور ہر طرح سے عیش و آرام میں ان کی زندگی بسر کرواتا۔ ان کی زندگی شاہانہ زندگی ہوتی۔ ہر وقت ان کے لیے عیش و طرب کے سامان مہیا کئے جاتے مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس میں بڑے اسرار اور راز نہانی ہوتے ہیں۔ دیکھو! ایک والدین کو اپنی لڑکی کیسی پیاری ہوتی ہے بلکہ اکثر لڑکوں کی نسبت زیادہ پیاری ہوتی ہیں مگر ایک وقت آتا ہے کہ والدین ان کو اپنے سے الگ کر دیتے ہیں وہ وقت ایسا ہوتا ہے کہ اس وقت کو دیکھنا بڑے جگر والوں کا کام ہوتا ہے۔۱؎ دونوں طرف کی حالت ہی بڑی قابلِ رحم ہوتی ہے قریباً چودہ پندرہ سال ایک جگہ رہے ہوئے ہوتے ہیں آخر ان کی جدائی کا وقت نہایت ہی رقّت کا وقت ہوتا ہے۔ اس جدائی کو بھی کوئی نادان بے رحمی کہہ دے تو بجا ہے مگر اس لڑکی میں بعض ایسے قویٰ۱؎ البدر میں ہے۔ ’’والدہ ایک طرف روتی ہے اور والد ایک طرف روتا ہے تاہم وہ سب تکالیف برداشت کر کے اس کو ہمیشہ کے لئے الگ کرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ وہ جانتے ہیں کہ اس لڑکی میں ایک جوہر ہے جو کہ سسرال میں جا کر ظاہر ہوگا اس لیے مومن کے جوہر بھی مصائب سے کھلتے ہیں۔ ‘‘(البدر جلد ۲ نمبر ۹ مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶۷ ہوتے ہیں جن کا اظہار اس علیحدگی اور سسرال میں جا کر شوہر سے معاشرت ہی کا نتیجہ ہوتا ہے جو طرفین کے لیے موجبِ برکت اور رحمت ہوتا ہے۔
یہی حال اہل اللہ کا ہے۔ ان لوگوں میں بعض خلق ایسے پوشیدہ ہوتے ہیں کہ جب تک ان پر تکالیف اور شدائد نہ آویں ان کا اظہار ناممکن ہوتا ہے۔
دیکھو! اب ہم لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بیان کرنے میں بڑے فخر اور جرأت سے کام لیتے ہیں یہ بھی تو صرف اسی وجہ سے ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ دونوں زمانے آچکے ہوئے ہیں ورنہ ہم یہ فضیلت کس طرح بیان کرتے۔ دکھ کے زمانہ کو بری نظر سے نہ دیکھو یہ خدا سے لذّت کو اور اس کے قرب کو اپنی طرف کھینچتا ہے اسی لذّت کے حاصل کرنے کے واسطے جو خدا کے مقبولوں کو ملا کرتی ہے دنیوی اور سفلی کل لذّات کو طلاق دینی پڑا کرتی ہے۔ خدا کا مقرب بننے کے واسطے ضروری ہے کہ دکھ سہتے جاویں اور شکر کیا جاوے اور نئے دن ایک نئی موت اپنے اوپر لینی پڑتی ہے جب انسان دنیوی ہوا و ہوس اور نفس کی طرف سے بکلّی موت اپنے اوپر وارد کرلیتا ہے تب اسے وہ حیات ملتی ہے جو کبھی فنا نہیں ہوتی۔ پھر اس کے بعد مَرنا کبھی نہیں ہوتا۔
قرآن کا نزول بحالت غم ہوا ہے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن شریف غم کی حالت میں نازل ہوا ہے۔ تم بھی اسے غم ہی کی حالت میں پڑھا کرو۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا بہت بڑا حصہ غم والم میں گذرا ہے۔
توبہ کا درخت اور اس کا پھل
توبہ کے درخت بو۱ لو۱؎ تا تم اس کے پھل کھاؤ۔ توبہ کا درخت بھی بالکل ایک باغ کے درخت کی مانند ہے جو جو حفاظتیں اور خدمات اس باغ کے لیے جسمانی طور سے ہیں وہی اس توبہ کے درخت کے واسطے روحانی طور پر ہیں پس اگر توبہ کے درخت کا پھل کھانا چاہو تو اس کے متعلق قوانین اور شرائط کو پورا کرو ورنہ بے فائدہ ہوگا۔
یہ خیال نہ کرو کہ توبہ کرنا مَرنا ہوتا ہے۔ خدا قلیل شَے سے خوش نہیں ہوتا اور نہ وہ دھوکا کھاتا ہے۔ دیکھو! اگر تم بھوک کو دور کرنے کے لیے ایک لقمہ کھانے کا کھاؤ یا پیاس کے دور کرنے کے لیے ایک قطرہ پانی کا پیوتو ہرگز تمہاری مقصد براری نہ ہوگی۔ ایک مرض کے دفع کرنے کے واسطے ایک طبیب جو نسخہ تجویز کرتا ہے جب تک اس کے مطابق پورا پورا عمل نہ کیا جاوے تب تک اس کے فائدہ کی امید اَمر موہوم ہے۱؎ اور پھر طبیب پر بھی الزام۔ غلطی اپنی ہی ہے اسی طرح توبہ کے واسطے مقدار ہے اور اس کے بھی پرہیز ہیں۔ بد پرہیز بیمار صحت یاب نہیں ہوسکتا۔
خدا سے صلح پیدا کرو
اب طاعون کے متعلق اللہ تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ اِلَّا الَّذِیْنَ عَلَوْا بِاسْتِکْبَارٍ۔ دیکھو! خدا تو سب کا خدا ہے مگر اس کے تعلقات خاص خاص کے ساتھ خاص خاص ہیں۔ جتنی جتنی۲؎ کوئی اس سے صلح کرتا ہے اتنا ہی وہ اس کی حفاظت کرتا ہے۔ تم میں سے ہر ایک کو بھی آواز آ سکتی ہے جو مجھے آئی اگر تم سچی تبدیلی اور اس سے صلح پیدا کرو۔ خدا بخیل نہیں مگر ہاں اس نے ایک اندازہ رکھا ہوا ہے جب تک اس تک انسان نہ پہنچے تو وہ کامل نہیں ہوتا اور نہ اس پر وہ فیض جاری کیا جاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شرابی کو اگر پوری مقدار شراب کی نہ دی جاوے تب تک وہ بے ہوش نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح جب اس انتہائی درجہ محبت تک ترقی نہ کی جاوے تب تک لا حاصل ہوتا ہے۔ قانونِ قدرت جس طرح جسمانی چیزوں کے واسطے ہے ایسے ہی روحانی امور کے واسطے بھی ہیں۔
دیکھو! ابوالحسن خرقانی، بایزید بسطامی یا شیخ عبدالقادر جیلانی صاحب رحمۃ اللہ علیہم اجمعین وغیرہ یہ سب خدا کے مقرب تھے اور انہوں نے بھی شریعت ہی کی پابندی سے یہ درجہ پایا تھا نہ کہ کوئی نئی شریعت بنا کر۔ جیسا کہ آج کل کے گدی نشین کرتے ہیں۔ یہی نماز تھی اور یہی روزے تھے مگر انہوں نے اس کی حقیقت اور اصل غرض کو سمجھا ہوا تھا۔ بات یہ تھی کہ انہوں نے نیکی کی مگر سنوار کر۔ انہوں نے اعمال کو بیگار کے طور پر پورا نہ کیا تھا بلکہ صدق اور وفا کے رنگ میں ادا کرتے تھے سو خدا نے ان کے صدق وسداد کو ضائع نہ کیا۔ خدا کسی کا احسان اپنے اوپر نہیں رکھتا وہ ایک پیسہ کے بدلے میں جب تک ہزار نہ دے لے تب تک نہیں چھوڑتا۔ پس جب کسی انسان میں وہ برکات اور نشانات نہیں ہیں۔۱؎ اور وہ خدا کی محبت اور تقوے کا دعویٰ کرتا ہے تو جھوٹھا ہے مگر خدا پر الزام نہیں لگاتا بلکہ اپنا گند ظاہر کرتا ہے۔ خدا کی جناب میں بخل ہرگز نہیں۔ پس کوشش کرو کہ اس کی رضا کے موافق عمل درآمد کر سکو۔ اگر مصائب کے وقت میں تم مومن ہو اور خدا سے صلح کرنے والے اور اس کی محبت میں آگے قدم بڑھانے والے ہو تو۔ تو وہ رحمت ہے تمہارے واسطے کیونکہ خدا قادر ہے کہ آگ کو گلزار کرے اور اگر تم فاسق ہو تو ڈرو کہ وہ آگ ہے جو بھسم کرنے والی ہے اور قہر اور غضب ہے جو نیست و نابود کرنے والا ہے۔ فقط۲؎
۱۱؍مارچ ۱۹۰۳ء
(قبل از عشاء) ایک نے خواب بیان کی کہ کان میں اس نے کچھ بات سنی ہے اس کی تعبیر میں فرمایا کہ دہنا کان دین ہوتا ہے اور بایاں دنیا۔ کان میں بات کا ہونا بشارت پر محمول کیا جاتا ہے۔
پھر ایک ذکر پر فرمایا کہ جو خدا کی طرف رجوع ہوتا ہے ایک دن کامیاب ہو ہی جاتا ہے ہاں تھکے نہ۔ کیونکہ خدا کے واسطے لہریں ہوتی ہیں باد نسیم چلتی ہے۔ ویسے رحمت کی نسیم بھی اپنے وقت پر چلا کرتی ہے۔ انسان کو ہمیشہ طیار رہنا چاہیے۔۱؎
۱۳؍مارچ ۱۹۰۳ء
نظر آئے گی دنیا کو تیرے اسلام کی رفعت
مسیحا کا بنے گا جب یہاں منار۔ یا اللہ!
منار ۃ ا لمسیح کی بنیادی اینٹ
بعد نماز جمعہ حضرت حجۃ اللہ المسیح الموعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے حضور ہمارے مکرم دوست حکیم فضل الٰہی صاحب لاہوری، مرزا خدا بخش صاحب، شیخ مولا بخش صاحب، قاضی ضیاء الدین صاحب وغیرہ احباب نے عرض کی کہ حضور منارۃ المسیح کی بنیادی اینٹ حضور کے دست مبارک سے رکھی جاوے تو بہت ہی مناسب ہے۔
فرمایا کہ ہمیں تو ابھی تک معلوم بھی نہیں کہ آج اس کی بنیاد رکھی جاوے گی۔ اب آپ ایک اینٹ لے آئیں میں اس پر دعا کروں گا اور پھر جہاں میں کہوں وہاں آپ جا کر رکھ دیں۔ چنانچہ حکیم فضل الٰہی صاحب اینٹ لے آئے۔ اعلیٰ حضرت نے اس کو ران مبارک پر رکھ لیا اور بڑی دیر تک آپ نے لمبی دعا کی۔ معلوم نہیں کہ آپ نے کیسی کیسی اور کس کس جوش سے دعائیں اسلام کی عظمت و جلال کے اظہار اور اس کی روشنی کے کل اقطاع واقطار عالم میں پھیل جانے کی کی ہوں گی۔ وہ وقت قبولیت کا وقت معلوم ہوتا تھا۔ جمعہ کا مبارک دن اور حضرت مسیح موعود منارۃ المسیح کی بنیادی اینٹ رکھنے سے پہلے اس کے لیے دلی جوش کے ساتھ دعائیں مانگ رہے ہیں۔ یعنی دعا کے بعد آپ نے اس اینٹ پر دم کیا اور حکیم فضل الٰہی صاحب کو دی کہ آپ اس کو منارۃ المسیح کے مغربی حصہ میں رکھ دیں۔
غرض اس عظیم الشان مینار کی بنیاد خدا کے برگزیدہ مامور اور مسیح و مہدی علیہ السلام کے ہاتھ سے ۱۳؍مارچ ۱۹۰۳ء کو رکھ دی گئی۔۲؎
حجرہ دعا
بعد نماز جمعہ مورخہ ۱۳؍ مارچ ۱۹۰۳ء کو حضرت اقدس نے تجویز فرمایا کہ چونکہ بیت الفکر میں اکثر مستورات وغیرہ اور بچے بھی آ جاتے ہیں اور دعا کا موقع کم ملتا ہے اس لیے ایک ایسا حجرہ اس کے ساتھ تعمیر کیا جاوے۔ جس میں صرف ایک آدمی کے نشست کی گنجائش ہو اور چار پائی بھی نہ بچھ سکے تا کہ اس میں کوئی اور نہ آ سکے۔ اس طرح سے مجھے دعا کے لیے عمدہ وقت اور موقع مل سکے گا۔۱؎۲؎
(مجلس قبل از عشاء)
قبل از عشاء مجلس میں صرف یہ ذکر ہوا کہ ایک صاحب نے حضرت اقدس سے ایمان مجمل اور مفصل کی تفسیر دریافت کی۔
حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ ایک سیدھے طور پر ایمان لانے کی بات ہے زیادہ دقیق بیان بے موقع ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور صفات کو قرآن میں بیان کیا ہے اس طرح مان لینا ایمان باللہ ہے اور جیسے خدا نے کتابوں کا ذکر قرآن شریف میں کیا ہے اسی طرح ان کو مان لینا ایمان بالکتب ہے اور ایمان بالرّسل یہ ہے کہ جن کا ذکر قرآن شریف میں آگیا ان کو بھی مانا اور جو لَّمۡ نَقۡصُصۡ(المؤمن:۷۹) میں آئے اور خدا نے ان کا ذکر نہیں کیا ان پر بھی ایمان چاہیے اور قدر خیر اور شر پر اور مُردوں کے جی اٹھنے پر ایمان لانا چاہیے اس کی تفصیل خدا کے سپرد ہے اس کی زیادہ تفصیل سمجھنے کے واسطے قرآن شریف کو تدبّر سے دیکھنا کافی ہے اس کو پڑھو اور ایمان لاؤ۔۳؎
۱۴؍مارچ ۱۹۰۳ء
(قبل از نماز عشاء)
حکّام کو نیکی کی تلقین کرنی چاہیے
مفتی صاحب نے اخبار سول ملٹری میں طاعون کا مضمون پڑھ کر سنایا اس مضمون کو سن کر حضرت نے فرمایا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا لفظ ہرگز منہ پر نہیں لاتے حالانکہ اگر حاکم کے منہ سے ایک بات نکلتی ہے تو ہزاروں آدمیوں پر اس کا اثر ہوتا ہے۔ بٹالہ کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ ایک اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر جو کہ ایک دیسی آدمی تھا اس کے منہ سے یہ بات نکلی کہ نماز پڑھنی چاہیے۔ اس پر بہت سے مسلمانوں نے نماز شروع کر دی۔ اسی طرح کبھی گورنمنٹ کی طرف سے یہ تاکید ہو کہ یہ لوگ خدا کی طرف رجوع کریں تو دیکھئے پھر لوگوں کی کیا تبدیلی ہوتی ہے مگر اس وقت امراء لوگ ایسے فسق و فجور میں مبتلا ہیں کہ گویا یہ ان کے نطفہ کا ایک جزو بن گیا ہے۔
عورتوں کے حقوق
اس کے بعد مفتی محمد صادق صاحب نے ایک مضمون سول ملٹری گزٹ سے سنایا جو کہ اسلامی عورتوں کے حقوق وغیرہ پر تھا۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ابھی کچھ دن ہوئے تھے کہ آنحضرتؐ کی شان میں ایک گندہ مضمون سنایا گیا تھا اب خدا نے اس کے مقابلہ پر فرحت بخش مضمون بھیج دیا ہے خدا کا فضل ہے کہ ہر ہفتہ ایک نہ ایک بات ایسی نکل آتی ہے جس سے طبیعت کو ایک تروتازگی مل جاتی ہے۔ اس مضمون کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام میں عورتوں کو وہی حقوق دیئے ہیں جو کہ مَردوں کو دیئے گئے ہیں۔ حتی کہ اسلامی عورتوں میں پاکیزہ اور مقدس عورتیں بھی ہوتی ہیں اور ولیہ بھی ہوتی ہیں ان سے خارقِ عادت امور سرزد ہوتے ہیں اور جو لوگ اسلام پر اس بارہ میں اعتراض کرتے ہیں۔ وہ غلطی پر ہیں۔ اس پر حضرت اقدس نے عورتوں کے بارے میں فرمایا کہ
عورتوں کی اصلاح کا طریق
مرد اگر پارسا طبع نہ ہو تو عورت کب صالح ہو سکتی ہے۔ ہاں اگر مَرد خود صالح بنے تو عورت بھی صالح بن سکتی ہے قول سے عورت کو نصیحت نہ دینی چاہیے بلکہ فعل سے اگر نصیحت دی جاوے تو اس کا اثر ہوتا ہے۔ عورت تو درکنار اور بھی کون ہے جو صرف قول سے کسی کی مانتا ہے.... اگر مَرد کوئی کجی یا خامی اپنے اندر رکھے گا تو عورت ہر وقت کی اس پر گواہ ہے اگر وہ رشوت لے کر گھر آیا ہے تو اس کی عورت کہے گی کہ جب خاوند لایا ہے تو میں کیوں حرام کہوں۔ غرضیکہ مَرد کا اثر عورت پر ضرور پڑتا ہے اور وہ خود ہی اسے خبیث اور طیّب بناتا ہے اس لیے لکھا ہے وَالۡخَبِیۡثُوۡنَ لِلۡخَبِیۡثٰتِ ۚ وَالطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیۡنَ(النّور:۲۷) اس میں یہی نصیحت ہے کہ تم طیّب بنو ورنہ ہزاروں ٹکریں مارو کچھ نہ بنے گا۔ جو شخص خدا سے خود نہیں ڈرتا تو عورت اس سے کیسے ڈرے؟ نہ ایسے مولویوں کا وعظ اثر کرتا ہے نہ خاوند کا۔ ہر حال میں عملی نمونہ اثر کیا کرتا ہے بھلا جب خاوند رات کو اٹھ اٹھ کر دعا کرتا ہے، روتا ہے تو عورت ایک دن، دو دن تک دیکھے گی آخر ایک دن اسے بھی خیال آوے گا اور ضرور مؤثر ہوگی۔ عورت میں مؤثر ہونے کا مادہ بہت ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب خاوند عیسائی وغیرہ ہوتے ہیں تو عورتیں ان کے ساتھ عیسائی وغیرہ ہو جاتی ہیں ان کی درستی کے واسطے کوئی مدرسہ بھی کفایت نہیں کر سکتا جتنا خاوند کا عملی نمونہ کفایت کرتا ہے۔ خاوند کے مقابلہ میں عورت کے بھائی بہن وغیرہ کا بھی اثر کچھ اس پر نہیں ہوتا۔ خدا نے مَرد عورت دونوں کا ایک ہی وجود فرمایا ہے۔
یہ مَردوں کا ظلم ہے کہ وہ اپنی عورتوں کو ایسا موقع دیتے ہیں کہ وہ ان میں نقص پکڑیں۔ ورنہ ان کو چاہیے کہ عورتوں کو ہرگز ایسا موقع نہ دیں کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ تو فلاں بدی کرتا ہے بلکہ عورت ٹکر مار مار کر تھک جاوے اور کسی بدی کا پتا اسے مل ہی نہ سکے تو اس وقت اس کو دینداری کا خیال ہوتا ہے اور وہ دین کو سمجھتی ہے۔۱؎
مَرد۲؎ اپنے گھر کا امام ہوتا ہے پس اگر وہی بداثر قائم کرتا ہے تو پھر کس قدر بداثر پڑنے کی امید ہے۔ مَرد کو چاہیے کہ اپنے قویٰ کو برمحل اور حلال موقع پر استعمال کرے مثلاً ایک قوت غضبی ہے جب وہ اعتدال سے زیادہ ہو تو جنون کا پیش خیمہ ہوتی ہے جنون میں اور اس میں بہت تھوڑا فرق ہے جو آدمی شدید الغضب ہوتا ہے اس سے حکمت کا چشمہ چھین لیا جاتا ہے۔ بلکہ اگر کوئی مخالف ہو تو اس سے بھی مغلوب الغضب ہو کر گفتگو نہ کرے۔
مَرد کی ان تمام باتوں اور اوصاف کو عورت دیکھتی ہے۔ اسی طرح وہ دیکھتی ہے کہ میرے خاوند میں فلاں فلاں اوصاف تقویٰ کے ہیں جیسے سخاوت، حلم، صبر اور جیسے اسے پرکھنے کا موقع ملتا ہے وہ دوسرے کو مل نہیں سکتا۔ اسی لیے عورت کو سارق بھی کہا ہے کیونکہ یہ اندر ہی اندر اخلاق کی چوری کرتی رہتی ہے حتی کہ آخر کار ایک وقت پورا اخلاق حاصل کر لیتی ہے۔
ایک شخص کا ذکر ہے وہ ایک دفعہ عیسائی ہوا تو عورت بھی اس کے ساتھ عیسائی ہوگئی۔ شراب وغیرہ اول شروع کی پھر پردہ بھی چھوڑ دیا۔ غیر لوگوں سے بھی ملنے لگی۔ خاوند نے پھر اسلام کی طرف رجوع کیا تو اس نے بیوی کو کہا کہ تو بھی میرے ساتھ مسلمان ہو اس نے کہا کہ اب میرا مسلمان ہونا مشکل ہے۔ یہ عادتیں جو شراب وغیرہ اور آزادی کی پڑ گئی ہیں یہ نہیں چھوٹ سکتیں۔۱؎
۱۵؍مارچ ۱۹۰۳ء
(دورانِ سیر)
آریوں کے متعلق لٹریچر کی اشاعت
کتابوں کی اشاعت کے متعلق خلیفہ صاحب سے فرمایا کہ ان کی اشاعت کرو ایسا نہ ہو کہ صندوقوں میں بند پڑی رہیں۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آریہ لوگ ان کتابوں کے جواب میں ایک گالیوں کا طومار لکھیں گے کیونکہ جواب دینے کی تو ان میں طاقت نہیں ہوتی۔ صرف گند ہی گند بولیں گے۔ ہم نے تو نہایت نرم الفاظ میں لکھی ہیں مگر یہ بہتان لگائے بغیر نہ رہیں گے شاید ایک اَور کتاب پھر اس کے جواب میں لکھنی پڑے۔ دیانند کو اسلام کی خبر نہیں تھی مگر چونکہ اس نے کتابیں ناگری زبان میں لکھیں اس لیے لوگوں کو اس کی گندہ زبانی کی خبر نہیں ہے لیکھرام نے اردو میں لکھیں اس کی خبر سب کو ہوئی۔
میرا اصول ہے کہ جو شخص حکمت اور معرفت کی باتیں لکھنا چاہے وہ جوش سے کام نہ لیوے ورنہ اثر نہ ہوگا۔ ہاں بعض امورِ حقّہ بر محل عبارت میں لکھنے پڑتے ہیں مگر اَلْـحَقُّ مُرٌّ کا معاملہ ہو کر ہم اس میں مجبور ہو جاتے ہیں۔ میرے خیال میں سناتن دھرم اور نسیم دعوت وغیرہ لاہور، بمبئی، کشمیر وغیرہ شہروں میں آریوں کے پاس ضرور روانہ کرنی چاہئیں اگر شائع نہ ہوں تو پھر وہی مثال ہے۔
ز بہر نہ ا دن چہ سنگو چہ ز ر
ا
مامت مسجد اور ختم و نذروغیرہ
خدا کے پاک کلام قرآن کو ناپاک باتوں سے ملا کر پڑھنا بے ادبی ہے وہ تو صرف روٹیوں کی غرض سے مُلّاں لوگ پڑھتے ہیں اس ملک کے لوگ ختم وغیرہ دیتے ہیں تو ملّاں لوگ لمبی لمبی سورتیں پڑھتے ہیں کہ شوربا اور روٹی زیادہ ملے۔ وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِاٰیٰتِیۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا(البقرۃ:۴۲) یہ کفر ہے۔ جو طریق آج کل پنجاب میں نماز کا ہے میرے نزدیک ہمیشہ سے اس پر بھی اعتراض ہے۔ ملّاں لوگ صرف مقررہ آدمیوں پر نظر کر کے جماعت کراتے ہیں ایسا امام شرعاً نا جائز ہے۔ صحابہؓ میں کہیں نظیر نہیں ہے کہ اس طرح اجرت پر امامت کرائی ہو۔ پھر اگر کسی کو مسجد سے نکالا جاوے تو چیف کورٹ تک مقدمہ چلتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک دفعہ ایک ملّاں نے نماز جنازہ کی ۶ یا ۷ تکبیریں کہیں۔ لوگوں نے پوچھا تو جواب دیا کہ یہ کام روز مرّہ کے محاورہ سے یاد رہتا ہے کبھی سال میں ایک آدمی مَرتا ہے تو کیسے یاد رہے جب مجھے یہ بات بھول جاتی ہے کہ کوئی مَرا بھی کرتا ہے تو اس وقت کوئی میّت ہوتی ہے۔
اسی طرح ایک ملّا یہاں آ کر رہا۔ ہمارے میرزا صاحب نے اسے محلے تقسیم کر دیئے ایک دن وہ روتا ہوا آیا کہ مجھے جو محلہ دیا ہے اس کے آدمیوں کے قد چھوٹے ہیں اس لیے ان کے مَرنے پر جو کپڑا ملے گا اس سے چادر بھی نہ بنے گی۔
اس وقت ان لوگوں کی حالت بہت ردّی ہے صوفی لکھتے ہیں کہ مُردہ کا مال کھانے سے دل سخت ہو جاتا ہے۔
مولُودخو انی ایک۱؎ شخص نے مولود خوانی پر سوال کیا۔
مولُودخوانی
فرمایا کہ آنحضرتؐ کا تذکرہ بہت عمدہ ہے بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ اولیاء اور انبیاء کی یاد سے رحمت نازل ہوتی ہے۲؎ اور خود خدا نے بھی انبیاء کے تذکرے کی ترغیب دی ہے۳؎ لیکن اگر اس کے ساتھ ایسے بدعات مل جاویں جن سے توحید میں خلل واقع ہو تو وہ جائز نہیں۔ خدا کی شان خدا کے ساتھ اور نبی کی شان نبی کے ساتھ رکھو۔ آج کل کے مولودوں میں بدعت کے الفاظ زیادہ ہوتے ہیں اور وہ بدعات خدا کے منشا کے خلاف ہیں۔ اگر بدعات نہ ہوں تو پھر تو وہ ایک وعظ ہے۔ آنحضرت کی بعثت، پیدائش اور وفات کا ذکر ہو تو موجب ثواب ہے۴؎ ہم مجاز نہیں ہیں کہ اپنی شریعت یا کتاب بنالیویں۔
بعض ملّا اس میں غلو کر کے کہتے ہیں کہ مولود خوانی حرام ہے۱؎ اگر حرام ہے تو پھر کس کی پیروی کرو گے؟ کیونکہ جس کا ذکر زیادہ ہو اس سے محبت بڑھتی ہے اور پیدا ہوتی ہے۔
مولود کے وقت کھڑا ہونا جائز نہیں ان اندھوں کو اس بات کا علم ہی کب ہوتا ہے کہ آنحضرتؐ کی روح آگئی۲؎ ہے بلکہ ان مجلسوں میں تو طرح طرح کے بدطینت اور بدمعاش لوگ ہوتے ہیں وہاں آپؐ کی روح کیسے آسکتی ہے اور یہ کہاں لکھا ہے کہ روح آتی ہے؟ وَلَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ(بنی اسرآءیل:۳۷)۔
دونوں طرف کی رعایت رکھنی چاہیے۔ جب تک وہابی جو کہ آنحضرتؐ کی عظمت نہیں سمجھتا وہ بھی خدا سے دور ہے۔ انہوں نے بھی دین کو خراب کر دیا ہے۔ جب کسی نبی، ولی کا ذکر آجاوے تو چلّا اٹھتے ہیں کہ ان کو ہم پر کیا فضیلت ہے۔ انہوں نے انبیاء کے خوارق سے فائدہ اٹھانا نہیں چاہا۔ دوسرے فرقے نے شرک اختیار کیا حتی کہ قبروں کو سجدہ کیا اور اس طرح اپنا ایمان ضائع کیا۔ ہم نہیں کہتے کہ انبیاء کی پرستش کرو بلکہ سوچو اور سمجھو.... خدا بارش بھیجتا ہے ہم تو اس پر قادر نہیں ہوتے مگر بارش کے بعد کیسی سرسبزی اور شادابی نظر آتی ہے۔ اسی طرح انبیاء کا وجود بھی بارش ہے۔۳؎
پھر دیکھو کہ کوڑی اور موتی دونوں دریا ہی سے نکلتے ہیں پتھر اور ہیرہ بھی ایک ہی پہاڑ سے نکلتا ہے۔ مگر سب کی قیمت الگ الگ ہوتی ہے اسی طرح خدا نے مختلف وجود بنائے ہیں۔ انبیاء کا وجود اعلیٰ درجہ کا ہوتا ہے اور خدا کی محبت سے بھرا ہوا۔ اس کو اپنے جیسا سمجھ لینا اس سے بڑھ کر اور کیا کفر ہوگا۔ بلکہ خدا نے تو وعدہ کیا ہے کہ جو اس سے محبت کرتا ہے وہ انہی میں سے شمار ہوگا۔ آنحضرتؐ نے ایک دفعہ فرمایا کہ بہشت میں ایک ایسا مقام عطا ہوگا جس میں صرف میں ہی ہوں گا۔ ایک صحابی رو پڑا کہ حضور مجھے جو آپ سے محبت ہے میں کہاں ہوں گا آپ نے فرمایا کہ تو بھی میرے ساتھ ہوگا۔ پس سچی محبت سے کام نکلتا ہے ایک مشرک ہرگز سچی محبت نہیں رکھتا۔۱؎ میں نے جہاں تک دیکھا ہے وہابیوں میں تیزی اور چالاکی ہوتی ہے۔ خاکساری اور انکساری تو ان کے نصیب نہیں ہوتی یہ ایک طرح سے مسلمانوں کے آریہ ہیں۔ وہ بھی الہام کے منکر، یہ بھی منکر۔ جب تک انسان براہ راست یقین حاصل نہ کرے قصص کے رنگ میں ہرگز خدا تک پہنچ نہیں سکتا۔ جو شخص خدا پر پورا ایمان رکھتا ہے ضرور ہے کہ اس پر کچھ تو خدا کا رنگ آ جاوے۔
دوسرے گروہ میں سوائے قبر پرستی اور پیر پرستی کے کچھ روح باقی نہیں ہے۔ قرآن کو چھوڑ دیا ہے۔ خدا نے اُمّت وسط کہا تھا۔ وسط سے مراد میانہ رو اور وہ دونوں گروہ نے چھوڑ دیا ہے۔ پھر خدا فرماتا ہے اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ(اٰل عمران:۳۲) کیا۲؎ آنحضرتؐ نے کبھی روٹیوں پر قرآن پڑھا تھا؟ اگر آپ نے ایک روٹی پر پڑھا ہوتا تو ہم ہزار پر پڑھتے۔ ہاں آنحضرت نے ایک دفعہ خوش الحانی۳؎ سے قرآن سنا تھا اور آپ اس پر روئے بھی تھے۔ جب یہ آیت آئی وَّجِئۡنَا بِکَ عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ شَہِیۡدًا(النساء:۴۲) آپ روئے اور فرمایا کہ بس کر میں آگے نہیں سن سکتا۔ آپ کو اپنے گواہ گذرنے پر خیال گذرا ہوگا۔ ہمیں خود خواہش رہتی ہے کہ کوئی خوش الحان حافظ ہو تو قرآن سنیں۔
آنحضرتؐ نے ہر ایک کام کا نمونہ دکھلا دیا ہے وہ ہمیں کرنا چاہیے۔ سچے مومن کے واسطے کافی ہے کہ دیکھ لیوے کہ یہ کام آنحضرت نے کیا ہے کہ نہیں۔ اگر نہیں کیا تو کرنے کا حکم دیا ہے کہ نہیں؟ حضرت ابراہیمؑ آپ کے جدّامجد تھے اور قابلِ تعظیم تھے کیا وجہ کہ آپ نے ان کا مولود نہ کروایا؟
اشعار اور نظم پڑھنا
اشعار اور نظم پر سوال ہوا تو فرمایا کہ نظم تو ہماری مجلس میں بھی سنائی جاتی ہے آنحضرتؐ نے بھی ایک دفعہ ایک شخص... خوش الحان کی تعریف سن کر اس سے چند ایک اشعار سنے پھر فرمایا کہ رَحِـمَکَ اللّٰہُ یہ لفظ آپ جسے کہتے تھے وہ جلد شہید ہی ہو جاتا۔ چنانچہ وہ بھی میدان میں جاتے ہی شہید ہو گیا۔ ایک صحابیؓ نے آنحضرتؐ کے بعد مسجد میں شعر پڑھے۔ حضرت عمرؓ نے روکا کہ مسجد میں مت پڑھو۔ وہ غصہ میں آگیا اور کہا کہ تو کون ہے کہ مجھے روکتا ہے میں نے اسی جگہ اور اسی مسجد میں آنحضرتؐ کے سامنے اشعار پڑھے تھے اور آپ نے مجھے منع نہ کیا۔ حضرت عمرؓ خاموش ہو گئے۔
شعر کہنا
ایک شخص کا اعتراض پیش ہوا کہ میرزا صاحب شعر کہتے ہیں۔ فرمایا کہ آنحضرت نے بھی خود شعر پڑھے ہیں۔ پڑھنا اور کہنا ایک ہی بات ہے۔ پھر آنحضرتؐ کے کل صحابی شاعر تھے۔ حضرت عائشہؓ، امام حسنؓ اور امام حسینؓ کے قصائد مشہور ہیں۔ حسان بن ثابتؓ نے آنحضرتؐ کی وفات پر قصیدہ لکھا ہے۔
سید عبدالقادر صاحب نے بھی قصائد لکھے ہیں۔ کسی صحابیؓ کا ثبوت نہ دے سکو گے کہ اس نے تھوڑا یا بہت شعر نہ کہا ہو مگر آنحضرتؐ نے کسی کو منع نہ فرمایا۔ قرآن کی بہت سی آیات شعروں سے ملتی ہیں۔
ایک نے عرض کی کہ سورۃ شعراء میں آخیر پر شاعروں کی مذمت کی ہے۔ فرمایا کہ وہ مقام پڑھو۔ وہاں خدا نے فسق و فجور کرنے والے شاعروں کی مذمت کی ہے اور مومن شاعر کا وہاں خود استثنا کر دیا ہے۔ پھر ساری زبور نظم ہے، یرمیاہ، سلیمان اور موسیٰ کی نظمیں تورات میں ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نظم گناہ نہیں ہے ہاں فسق و فجور کی نظم نہ ہو۔ ہمیں خود الہام ہوتے ہیں۔ بعض ان میں سے مقفّٰی اور بعض شعروں میں ہوتے ہیں۔
(مجلس قبل از عشاء
کتّے اور بندر سے مراد
کتّے سے مراد ایک طماع آدمی جو کہ تھوڑی سی بات پر راضی اور تھوڑی سی بات پر ناراض ہو جاتے ہیں اور بندر سے مراد ایک مسخ شدہ آدمی ہے۔
مفسّرین سے یہ بات ثابت نہیں ہے کہ مسخ شدہ یہود پر پشم بھی پیدا ہوگئی تھی اور ان کی دم بھی نکل آئی تھی بلکہ ان کے عادات مثل بندروں کے ہو گئے تھے۔ اس وقت بھی امت مثل یہود کے ہوگئی ہے۔ اس سے مراد یہی ہے کہ ان کی خصلت ان میں آگئی ہے کہ مامور کا انکار کرتے ہیں۔
کسرصلیب
کسر صلیب پر فرمایا کہ اب ایک ہوا چل پڑی ہے جیسے ہمارے دلوں میں ڈالا ہے کہ مسیح مَر گیا ویسے ہی اب ان کے (اہلِ یورپ و امریکہ کے )لوگوں کے دلوں میں ڈالا ہے۔ اخبار اور رسالے نکلتے ہیں اور مسیح کی امید لگ رہی ہے سب پکار رہے ہیں کہ یہی زمانہ ہے۔
تعبیر رؤیا
دانت کی داڑھ نکل کر اگر کانچ کی نظر آوے تو خطرناک ہوا کرتی ہے۔ دانت اگر ٹوٹ کر ہاتھ میں رہے تو عمدہ ہے۔
خواتین کی اصلا ح کا طریق
اس کے بعد مفتی محمد صادق صاحب پھر سول اخبار کا بقیہ مضمون سناتے رہے جس میں اسلامی عورتوں کا ذکر تھا اس پر حضرت نے فرمایا کہ کوئی زمانہ ایسا نہیں ہے جس میں اسلامی عورتیں صالحات میں نہ ہوں، گو تھوڑی ہوں مگر ہوں گی ضرور جس نے عورت کو صالح بنانا ہو وہ آپ صالح بنے۔ ہماری جماعت کے لیے ضروری ہے کہ اپنی پرہیزگاری کے لئے عورتوں کو پرہیزگاری سکھاویں ورنہ وہ گنہگار ہوں گے اور جب کہ اس کی عورت سامنے ہو کر بتلا سکتی ہے کہ تجھ میں فلاں فلاں عیب ہیں تو پھر عورت خدا سے کیا ڈرے گی۔ جب تقویٰ نہ ہو تو ایسی حالت میں اولاد بھی پلید پیدا ہوتی ہے۔ اولاد کا طیّب ہونا تو طیّبات کا سلسلہ چاہتا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو پھر اولاد خراب ہوتی۔ اس لیے چاہیے کہ سب توبہ کریں اور عورتوں کو اپنا اچھا نمونہ دکھلاویں۔ عورت خاوند کی جاسوس ہوتی ہے۔ وہ اپنی بدیاں اس سے پوشیدہ نہیں رکھ سکتا۔ نیز عورتیں چھپی ہوئی دانا ہوتی ہیں۔ یہ نہ خیال کرنا چاہیے کہ وہ احمق ہیں۔ وہ اندر ہی اندر تمہارے سب اثروں کو حاصل کرتی ہیں۔ جب خاوند سیدھے رستہ پر ہو گا تو وہ اس سے بھی ڈرے گی اور خدا سے بھی۔ ایسا نمونہ دکھانا چاہیے کہ عورت کا یہ مذہب ہو جاوے کہ میرے خاوند جیسا اور کوئی نیک بھی دنیا میں نہیں ہے۔ اور وہ یہ اعتقاد کرے کہ یہ باریک سے باریک نیکی کی رعایت کرنے والا ہے۔ جب عورت کا یہ اعتقاد ہو جاوے گا تو ممکن نہیں کہ وہ خود نیکی سے باہر رہے۔ سب انبیاؤوں اولیاؤوں کی عورتیں نیک تھیں اس لیے کہ ان پر نیک اثر پڑتے تھے۔ جب مَرد بدکار اور فاسق ہوتے ہیں تو ان کی عورتیں بھی ویسی ہی ہوتی ہیں۔ ایک چور کی بیوی کو یہ خیال کب ہو سکتا ہے کہ میں تہجد پڑھوں۔ خاوند تو چوری کرنے جاتا ہے تو کیا وہ پیچھے تہجد پڑھتی ہے؟ اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ(النساء:۳) ۶) اسی لیے کہا ہے کہ عورتیں خاوندوں سے متاثر ہوتی ہیں جس حد تک خاوند صلاحیت اور تقویٰ بڑھاوے گا کچھ حصہ اس سے عورتیں ضرور لیں گی۔ ویسے ہی اگر وہ بدمعاش ہو گا تو بد معاشی سے وہ حصہ لیں گی۔۱؎
۱۶؍مارچ ۱۹۰۳ء
بروز دوشنبہ (بوقتِ سیر)
خوا ب اور اس کی ت ع بیر بع ض احباب نے اپنے اپنے رؤیا سنائے۔ آپ نے فرمایا کہ
خواب ب
ھی ایک اجمال ہوتا ہے اور اس کی تعبیر صرف قیاسی ہوتی ہے۔
ایک رؤیا اور ایک الہام
رات کو میں نے خواب دیکھا کہ ایک شخص اپنی جماعت میں سے گھوڑے پر سے گر پڑا پھر آنکھ کھل گئی سوچتا رہا کہ کیا تعبیر کریں۔ قیاسی طور پر جو بات اقرب ہو وے لگائی جاسکتی ہے کہ اس اثناء میں غنودگی غالب ہوئی اور الہام ہوا۔’’ استقامت میں فرق آگیا۔
‘‘ایک صاحب نے کہا کہ وہ کون شخص ہے حضرت نے فرمایا کہ معلوم تو ہے مگر جب تک خدا کا اذن نہ ہو میں بتلایا نہیں کرتا میرا کام دعا کرنا ہے۔
سُود کی حرمت
ایک نے سوال کیا کہ ضرورت پر سودی روپیہ لے کر تجارت وغیرہ کرنے کا کیا حکم ہے۔
فرمایا۔ حرام ہے۔ ہاں اگر کسی دوست اور تعارف کی جگہ سے روپیہ لیا جاوے اور کوئی وعدہ اس کو زیادہ دینے کا نہ ہو، نہ اس کے دل میں زیادہ لینے کا خیال ہو۔ پھر اگر مقروض اصل سے کچھ زیادہ دیدے تو وہ سود نہیں ہوتا بلکہ یہ تو ہَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ(الرحمٰن:۶۱) ہے۔
اس پر ایک صاحب نے سوال کیا کہ اگر ضرورت سخت ہو اور سوائے سود کے کام نہ چل سکے تو پھر؟
اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اس کی حرمت مومنوں کے واسطے مقرر کی ہے اور مومن وہ ہوتا ہے جو ایمان پر قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ اس کا متولی اور متکفل ہوتا ہے۔ اسلام میں کروڑہا ایسے آدمی گذرے ہیں جنہوں نے نہ سود لیا نہ دیا آخر ان کے حوائج بھی پورے ہوتے رہے کہ نہ؟۱؎ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ لو نہ دو جو ایسا کرتا ہے وہ گویا خدا کے ساتھ لڑائی کی طیاری کرتا ہے۔ ایمان ہو تو اس کا صلہ خدا بخشتا ہے ایمان بڑی با برکت شَے ہے اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ(البقرۃ:۱۰۷) اگر اسے خیال ہو کہ پھر کیا کرے؟ تو کیا خدا کا حکم بھی بے کار ہے؟ اس کی قدرت بہت بڑی ہے سود تو کوئی شَے ہی نہیں ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا کہ زمین کا پانی نہ پیا کرو۱؎ تو وہ ہمیشہ بارش کا پانی آسمان سے دیا کرتا اسی طرح ضرورت پر وہ خود ایسی راہ نکال ہی دیتا ہے کہ جس سے اس کی نافرمانی بھی نہ ہو۔ جب تک ایمان میں میل کچیل ہوتا ہے تب تک یہ ضعف اور کمزوری ہے۔ کوئی گناہ چھوٹ نہیں سکتا جب تک خدا نہ چھڑاوے ورنہ انسان تو ہر ایک گناہ پر یہ عذر پیش کر سکتا ہے کہ ہم چھوڑ نہیں سکتے اگر چھوڑیں تو گذارہ نہیں چلتا۔ دوکانداروں عطاروں کو دیکھا جاوے کہ پرانا مال سالہا سال تک بیچتے ہیں۔ دھوکا دیتے ہیں۔ ملازم پیشہ لوگ رشوت خوری کرتے ہیں اور سب یہ عذر کرتے ہیں۲؎ کہ گذارہ نہیں چلتا۔ ان سب کو اگر اکٹھا کر کے نتیجہ نکالا جاوے تو پھر یہ نکلتا ہے کہ خدا کی کتاب پر عمل ہی نہ کرو کیونکہ گذارہ نہیں چلتا۔ حالانکہ مومن کے لیے خدا خود سہولت کر دیتا ہے۔ یہ تمام راست بازوں کا مجرب علاج ہے کہ مصیبت اور صعوبت میں خدا خود راہ نکال دیتا ہے لوگ خدا کی قدر نہیں کرتے جیسے بھروسا ان کو حرام کے دروازے پر ہے ویسا خدا پر نہیں ہے۔ خدا پر ایمان یہ ایک ایسا نسخہ ہے کہ اگر قدر ہو تو جی چاہے کہ جیسے اَور عجیب نسخہ مخفی رکھنا چاہتے ہیں ویسے ہی اسے بھی مخفی رکھا جاوے۔ میں نے کئی دفعہ بیماریوں میں آزمایا ہے کہ پیشاب بار بار آ رہا ہے دست بھی لگے ہیں۔ آخر خدا سے دعا کی۔ صبح کو الہام ہوا۔ دُعَاءُکَ مُسْتَجَابٌ اس کے بعد ہی وہ کثرت جاتی رہی اور کمزوری کی جگہ طاقت آگئی۔ یہ خدا کی طاقت ہے ایسا خدا عجیب ہے کہ ان نسخوں سے بھی زیادہ قابلِ قدر ہے جو کیمیا وغیرہ کے ہوتے ہیں۔ مجھے بھی ایک دفعہ خیال آیا کہ یہ تو چھپانے کے قابل ہے پھر سوچا کہ یہ تو بخل ہے ایسی مفید شَے کو دنیا پر اظہار کرنا چاہیے کہ مخلوق الٰہی کو فائدہ حاصل ہو۔ یہی فرق اسلام اور دوسرے مذاہب کے خدا میں ہے۔ ان کا خدا بولتا نہیں۔ خدا معلوم یہ بھی کیسا ایمان ہے۔ اسلام کا خدا جیسے پہلے تھا ویسے ہی اب ہے۔ نہ طاقت کم ہوئی نہ بوڑھا ہوا۔ نہ کچھ اور نقص اس میں واقع ہوا۔ ایسے خدا پر جس کا ایمان ہو وہ اگر آگ میں بھی پڑا ہو تو اسے حوصلہ ہوتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کو آخر آگ میں ڈالا ہی تھا۔ ویسے ہی ہم بھی آگ میں ڈالے گئے۔۱؎ خون کا مقدمہ بنایا گیا۔ اگر اس میں ۵ یا دس سال کی قید ہو جاتی تو سب سلسلہ تباہ ہو جاتا۔ سب قوموں نے متفق ہو کر یہ آگ سلگائی تھی۔ کیا کم آگ تھی؟ اس وقت سوائے خدا کے اور کون تھا؟ اور وہی الہام ہوئے جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہوئے تھے آخر میں الہام ہوا ’’اِ براء ‘‘اور تسلّی دی کہ سب کچھ میرے ہاتھ میں ہے۔
پراویڈنٹ فنڈ
ایک صاحب نے سوال کیا کہ ریلوے میں جو لوگ ملازم ہوتے ہیں۔ ان کی تنخواہ میں سے ۱؍ (ایک آنہ) فی روپیہ کاٹ کر رکھا جاتا ہے پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ روپیہ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ کچھ زائد روپیہ بھی وہ دیتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟ فرمایا کہ شرع میں سُود کی یہ تعریف ہے کہ ایک شخص اپنے فائدے کے لیے دوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے یہ تعریف جہاں صادق آوے گی وہ سود کہلاوے گا۔۲؎ لیکن جس نے روپیہ لیا ہے اگر وہ وعدہ وعید تو کچھ نہیں کرتا اور اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے تو وہ سود سے باہر ہے چنانچہ انبیاء ہمیشہ شرائط کی رعایت رکھتے آئے ہیں۔ اگر بادشاہ کچھ روپیہ لیتا ہے اور وہ اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے اور دینے والا اس نیت سے نہیں دیتا کہ سود ہے تو وہ بھی سود میں داخل نہیں ہے وہ بادشاہ کی طرف سے احسان ہے۔ پیغمبر خدا نے کسی سے ایسا قرضہ نہیں لیا کہ ادائیگیٔ وقت اسے کچھ نہ کچھ ضرور زیادہ (نہ) دے دیا ہو۔ یہ خیال رہنا چاہیے کہ اپنی خواہش نہ ہو۔ خواہش کے برخلاف جو زیادہ ملتا ہے وہ سُود میں داخل نہیں ہے۔
سُود اور سُود در سُود
ایک صاحب نے بیان کیا کہ سید احمد خان صاحب نے لکھا ہے اَضۡعَافًا مُّضٰعَفَۃً(اٰل عمران:۱۳۱) کی ممانعت ہے۔
فرمایا کہ یہ بات غلط ہے کہ سُود در سُود کی ممانعت کی گئی ہے اور سود جائز رکھا ہے۔ شریعت کا ہرگز یہ منشا نہیں ہے۔ یہ فقرہ اسی قسم کے ہوتے ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ گناہ در گناہ مت کرتے جاؤ اس سے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ گناہ ضرور کرو۔
اس قسم کا روپیہ جو کہ گورنمنٹ سے ملتا ہے وہ اسی حالت میں سود ہوگا جب کہ لینے والا اسی خواہش سے روپیہ دیتا ہے کہ مجھ کو سود ملے ورنہ گورنمنٹ جو اپنی طرف سے احساناً دیوے وہ سود میں داخل نہیں ہے۔
رشوت کے روپیہ سے بنائی گئی جائیداد
ایک صاحب نے سوال کیا کہ اگر ایک شخص تائب ہو تو اس کے پاس جو اول جائیداد رشوت وغیرہ سے بنائی ہو اس کا کیا حکم ہے۔
فرمایا۔ شریعت کا حکم ہے کہ توبہ کرے تو جس جس کا وہ حق ہے وہ اسے پہنچایا جاوے۔۱؎ رشوت اور ہدیہ میں ہمیشہ تمیز چاہیے۔ رشوت وہ مال ہے کہ جب کسی کی حق تلفی کے واسطے دیا یا لیا جاوے ورنہ اگر کسی نے ہمارا ایک کام محنت سے کر دیا ہے اور حق تلفی بھی کسی کی نہیں ہوئی تو اس کو جو دیا جاوے گا۔ وہ اس کی محنت کا معاوضہ ہے۔
انشورنس یا بیمہ
انشورنس۲؎ اور بیمہ پر سوال کیا گیا۔ فرمایا کہ سود اور قمار بازی کو الگ کر کے دوسرے اقراروں اور ذمہ داریوں کو شریعت نے صحیح قرار دیا ہے قمار بازی میں ذمہ داری نہیں ہوتی۔ دنیا کے کاروبار میں ذمہ داری کی ضرورت ہے۔
دوسرے ان تمام سوالوں میں اس اَمر کا خیال بھی رکھنا چاہیے کہ قرآن شریف میں حکم ہے کہ بہت کھوج نکال نکال کر مسائل نہ پوچھنے چاہئیں۔ مثلاً اب کوئی دعوت کھانے جاوے تو اب اسی خیال میں لگ جاوے کہ کسی وقت حرام کا پیسہ ان کے گھر آیا ہوگا۔ پھر اس طرح تو آخر کار دعوتوں کا کھانا ہی بند ہو جاوے گا۔ خدا کا نام ستار بھی ہے ورنہ دنیا میں عام طور پر راست باز کم ہوتے ہیں۔ مستور الحال بہت ہوتے ہیں۔ یہ بھی قرآن میں لکھا ہے وَّلَا تَجَسَّسُوۡا(الحجرات:۱۳) یعنی تجسّس مت کیا کرو ورنہ اس طرح تم مشقت میں پڑو گے۔
(مجلس قبل از عشاء
پنڈت نند کشورسناتن دھرمی سے گفتگو
پنڈت نند کشور صاحب جو کہ سناتن دھرم مذہب کے ایک عالم فاضل متبحر لیکچرار ہیں حضرت صاحب کی ملاقات کے واسطے تشریف لائے۔ آتے ہی حضرت صاحب سے سلام وعلیکم کیا اور مصافحہ کیا۔ حضرت صاحب نے نسیم دعوت اور سناتن دھرم وغیرہ کی نسبت ان کی رائے دریافت کی۔ پنڈت صاحب نے فرمایا کہ ان کتب میں آپ نے ویسے ہی لکھا ہے جیسے انبیاء کا دستور ہے خدا کے برگزیدوں سے گندے لفظ نکل ہی نہیں سکتے آریہ لوگوں کی مثال انہوں نے یہ دی کہ جیسے کھارے چشمہ سے میٹھا پانی نہیں نکل سکتا۔ اسی طرح وہ لوگ لکھ ہی کیا سکتے ہیں۔
حضرت اقدس نے آریہ سماج کی نسبت ذکر کیا کہ
آریہ سماج
یہ لوگ بالکل حقیقت ایمان سے بے نصیب ہیں۔ ایمان تو عقلمندوں کی آزمائش کے لیے ہے کہ کچھ عقل سے کام لیوے اور کچھ ایمان سے۔ معجزات میں یہ عادت اللہ ہرگز نہیں ہے کہ ایسے کام دکھلائے جاویں جو کہ خدا کی عادت کے برخلاف دنیا میں ہوں۔ مثلاً سوال کرتے ہیں کہ سو یا پچاس سال کے مُردہ آکر شہادت دیویں گو کہ یہ ہو تو سکتا ہے مگر سوال ہے کہ جو اس کے بعد قبول کرے گا اسے کیا فائدہ ہوگا؟ جب سب حقیقت کھل گئی اور ایک سو دو سو آدمی کی شہادت بھی مل گئی تو اب کس کی عقل ماری ہے کہ انکار کرے نہ ہندو نہ چمار کسی کو گنجائش ہی انکار کی نہیں رہتی۔ ہمارے ہاں لکھا ہے کہ اس قسم کا ایمان فائدہ نہیں دیتا۔ اگر دن چڑھا ہوا ہو اور کوئی کہے کہ میں دن پر ایمان لایا، یا چاند پورا چودہویں کا ہے اور کوئی اس پر ایمان لاوے تو اسے کیا فائدہ ہوگا؟ اور کس تعریف کا مستحق ہے؟ ہاں اگر اول شب کے چاند پر جس کا نام ہلال ہے کوئی اسے دیکھ کر بتلا دے تو اس کی نظر کی تعریف کی جاوے گی اور جس کی نظر کم و بیش ہے وہ کھل جاوے گی۔ تو نشانوں میں یہی اصول خدا نے رکھا ہے کہ ایک پہلو میں ایمان سے فائدہ اٹھاویں اور ایک پہلو میں عقل سے ورنہ ایمان ایمان نہیں رہتا۔ ایک مخفی اَمر کو عقل سے سوچ کر قرائن ملا کر مان لینے کا نام ایمان ہے... ان لوگوں کی عقل موٹی ہے۔ ایسے نشان طلب کرتے ہیں جو کہ عادت اللہ کے خلاف ہیں ہم یہ پیش کرتے ہیں کہ جو سچا مذہب ہوتا ہے اس میں امتیاز ہوتا ہے جس قدر تائیدات اور خوارق جس حد تک خدا نے اسلام کی تائید میں رکھے ہیں وہ کسی دوسرے مذہب کے لیے ہرگز نہیں ہیں۔ مگر یہ ان امور میں مقابلہ چاہتے ہیں جو کہ عادت اللہ کے خلاف ہیں۔ دوسرے خدا غلام نہیں ہے کہ کسی کے تابع ہو بلکہ وہ خدا کے تابع ہیں۔
فیصلہ کا آسان طریق
ہم نے ان سے یہ چاہا ہے کہ اس طرح سے فیصلہ کر لو کہ ہزاروں اعتراض جو تم لوگ کرتے ہو ان میں سے دو اعتراض چُن لو اگر وہ سچے نکل آویں تو باقی کے تمہارے سب سچے اور اگر وہ جھوٹے نکل آویں تو باقی کے سب جھوٹے۔ مگر ان لوگوں کو موت کا خوف نہیں۔ اگر عقل ہو تو لازم ہے کہ وہ اسلام کے سوائے کوئی سچا پاک مذہب دکھلا دیں۔ اور طلاق کی نسبت اعتراض ہے ہم کہتے ہیں کہ اچھا آج تک جس قدر طلاق اسلام میں ہوئی ہیں ان کی فہرست ہم سے لو اور جس قدر نیوگ تم میں ہوا اس کی فہرست ہمیں دو۔
مد اس کے بعد مختلف ذکر ہوتے رہے کبھی چولہ پر کبھی کسی پر،
ا
ثنائے گفتگو میں فرمایا کہ مدارات اسے کہتے ہیں کہ نرمی سے گفتگو کی جاوے تاکہ دوسرے کو ذہن نشین ہو اور حق کو اس طرح اظہار کرنا کہ ایک کلمہ بھی باقی نہ رہے اور سب ادا ہو جاوے اور مداہنہ اسے کہتے ہیں کہ ڈر کر حق کو چھپالینا۔ کھا لینا۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ لوگ نرمی سے گفتگو کر کے پھر گرمی پر آجاتے ہیں۔ یہ مناسب نہیں ہے حق کو پورا پورا ادا کرنے کے واسطے ایک ہنر چاہیے۔ وہ شخص بہت بہادر ہے جو کہ ایسی خوبی سے حق کو بیان کرے کہ بڑے غصہ والے آدمی بھی اسے سن لیویں۔ خدا ایسوں پر راضی ہوتا ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ حق گو سے لوگ راضی نہ ہوں اگرچہ وہ نرمی بھی کرے مگر تاہم درمیان میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو اچھا کہنے لگتے ہیں۔۱؎
۱۷؍مارچ ۱۹۰۳ء
(قبل از عشاء)
معجزہ شق القمر کی شہادت ہندوستا ن میں
پنڈت نند کشور صاحب سے معجزات پر گفتگو ہوئی پنڈت صاحب نے معجزہ شق القمر کی نسبت کہا کہ بھوج سوانح ایک کتاب سنسکرت میں ہے مجھ سے پنڈتوں نے بیان کیا ہے کہ اس میں شق القمر کی شہادت راجہ بھوج سے ہے کہ وہ اپنے محل پر تھا یکا یک اس نے چاند کو ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھا۔ اس نے پنڈتوں کو بلا کر پوچھا کہ یہ کیا بات ہے کہ چاند اس طرح پھٹا۔ راجہ نے خیال کیا کہ کوئی عظیم الشان حادثہ ہوگا۔ پنڈتوں نے جواب دیا کہ کوئی خطرہ نہیں ہے پچھم کے دیس میں ایک مہاتما پیدا ہوا ہے۔ وہ بہت یوگی ہے اس نے اپنے یوگ بھاش سے چاند کو ایسا کر دیا ہے تب راجہ نے اسے تحفہ تحائف ارسال کئے۔
تفسیر قر آن کا طریق
قرآن کی تفسیر کے متعلق فرمایا کہ خدا کے کلام کے صحیح معنے تب سمجھ میں آتے ہیں کہ اس کے تمام رشتہ کی سمجھ ہو۔ جیسے قرآن شریف کی نسبت ہے کہ اس کا بعض حصہ بعض کی تفسیر کرتا ہے۔ اس کے سوا جو اور کلام ہوگا وہ تو اپنا کلام ہوگا۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض وقت ایک آیت کے معنے کرنے کے وقت دوسو آیتیں شامل ہوتی ہیں۔ ایجادی معنے کرنے والوں کا منہ اس سے بند ہو جاتا ہے۔۱؎
۱۸ ؍مارچ ۱۹۰۳ء
(مجلس قبل از عشاء)
)بعد مغرب گرمی کو محسوس کر کے اپنے احباب سے مشورہ کیا کہ اب موسم بدلا ہوا ہے اس لیے اگر مناسب ہو تو اوپر چل بیٹھیں چنانچہ احباب نے اس سے اتفاق کیا اور اسی وقت تمام احباب اور حضرت اقدس اوپر بالائی مسجد میں تشریف لے گئے۔ اپنے شہ نشین پر بیٹھ کر ابو سعید صاحب سے فرمایا کہ اگر آپ چلے گئے ہوتے تو اوپر کا جلسہ کیسے دیکھتے اور یہ کہاں نصیب ہونا تھا۔ اس اثناء میں نواب صاحب تشریف لائے۔ حضرت نے فرمایا۔ مدت کے بعد آج پھر نواب صاحب کا چہرہ نظر آیا ہے۔ آگے تو ایک گھر سے نکل کر دوسرے گھر میں جا بیٹھا کرتے اور اندھیرے میں چہرہ بھی نظر نہ آتا تھا۔ فراغت بیٹھے بیٹھے آپ نے ذکر فرمایا کہ
فراغت
جیسے ایک مرض ہوتی ہے کہ اس میں جب تک مکیاں مارتے رہیں تو آرام رہتا ہے۔ اسی طرح فراغت میرے واسطے مرض ہے ایک دن بھی فارغ رہوں تو بے چین ہو جاتا ہوں اس لیے ایک کتاب شروع کر دی ہے جس کا نام حقیقت دعا رکھا ہے ایک رسالہ کی طرز پر لکھا ہے۔
دعا
دعا ایسی شَے ہے کہ جب آدم کا شیطان سے جنگ ہوا تو اس وقت سوائے دعا کے اور کوئی حربہ کام نہ آیا۔ آخر شیطان پر آدم نے فتح بذریعہ دعا کے پائی رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا ٜ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ(الاعراف:۲۴) اور آخر میں بھی دجال کے مارنے کے واسطے دعا ہی رکھی ہے۔ گویا اول بھی دعا اور آخر بھی دعا ہی دعا ہے۔ حالت موجودہ بھی یہی چاہتی ہے تمام اسلامی طاقیتں کمزور ہیں۔ اور ان موجودہ اسلحہ سے وہ کیا کام کر سکتی ہیں؟ اب اس کفر وغیرہ پر غالب آنے کے واسطے اسلحہ کی ضرورت بھی نہیں۔ آسمانی حربہ کی ضرورت ہے۔۲؎
۱۹؍مارچ ۱۹۰۳ء
(مجلس قبل از عشاء)
آپ نے شہ نشین پر جلوہ گر ہو کر فرمایا کہـ
آج طبیعت نہایت علیل تھی کہ اٹھنے کی طاقت نہیں ہوئی۔ اسی لیے ظہر و عصر کے اوقات میں نہ آسکا۔
چند ایک دریدہ دہن آریوں کے بیباکانہ اعتراض پر فرمایا کہ
یہ گندہ زبانی سے باز نہیں آتے ہم بھی ان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔
گر نباشد بدوست راہ بردن
شرط عشق است در طلب مُردن
جب انسان کے دل میں میل ہوتا ہے تو ایک فرشتے کو بھی میلا سمجھ لیتا ہے۔
ایک رؤیا
فرمایا کہ آج میں نے ایک خواب دیکھا جیسے آنکھ کے آگے ایک نظارہ گذر جاتا ہے۔ دیکھتا ہوں کہ دوسنڈھوں کے سر جسم سے الگ کٹے ہوئے ہاتھوں میں ہیں۔ ایک ایک ہاتھ میں اور دوسرا دوسرے ہاتھ میں۔
اسلام کی حالت کا علاج دعا ہے
جس حالت میں اب اسلام ہے اس کا علاج اب سوائے دعا کے اور کیا ہو سکتا ہے۔ لوگ جہاد جہاد کہتے ہیں مگر اس وقت تو جہاد حرام ہے اس لیے خدا نے مجھے دعاؤں میں وہ جوش دیا ہے جیسے سمندر میں ایک جوش ہوتا ہے چونکہ توحید کے لیے دعا کا جوش دل میں ڈلا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ارادہ الٰہی بھی یہی ہے جیسا کہ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ(المؤمن:۶۱) اس کا وعدہ ہے۔۱؎
۲۰؍مارچ ۱۹۰۳ء
بیعت کا مدّعا سچی توبہ ہے
جمعہ کے دن چند آدمیوں نے بیعت کی اور بعد بیعت حضرت اقدس نے ان کو خطاب کر کے فرمایا۔
اصل مدّعا بیعت کا یہی ہے کہ توبہ کرو۔ استغفار کرو۔ نمازوں کو درست کر کے پڑھو۔ ناجائز کاموں سے بچو۔ میں جماعت کے لیے دعا کرتا رہتا ہوں مگر جماعت کو چاہیے کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو پاک کرے۔
یاد رکھو غفلت کا گناہ پشیمانی کے گناہ سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ یہ گناہ زہریلا اور قاتل ہوتا ہے۔ توبہ کرنے والا تو ایسا ہی ہوتا ہے کہ گویا اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔ جس کو معلوم ہی نہیں کہ میں کیا کر رہا ہوں وہ بہت خطرناک حالت میں ہے پس ضرورت ہے کہ غفلت کو چھوڑو اور اپنے گناہوں سے توبہ کرو اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ جو شخص توبہ کر کے اپنی حالت کو درست کر لے گا وہ دوسروں کے مقابلہ میں بچایا جاوے گا۔ پس دعا اسی کو فائدہ پہنچا سکتی ہے جو خود بھی اپنی اصلاح کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنے سچے تعلق کو قائم کرتا ہے۔ پیغمبر کسی کے لیے اگر شفاعت کرے لیکن وہ شخص جس کی شفاعت کی گئی ہے اپنی اصلاح نہ کرے اور غفلت کی زندگی سے نہ نکلے تو وہ شفاعت اس کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔۱؎
جب تک خود خدا تعالیٰ کی رحمت کے مقام پر کھڑا ہو تو دعا بھی اس کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ نر ا اسباب پر بھروسا نہ کر لو کہ بیعت کر لی ہے اللہ تعالیٰ لفظی بیعتوں کو پسند نہیں کرتا۔ بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ جیسے بیعت کے وقت توبہ کرتے ہو اس توبہ پر قائم رہو اور ہر روز نئی توجہ پیدا کرو جو اس کے استحکام کا موجب ہو۔ اللہ تعالیٰ پناہ ڈھونڈھنے والوں کو پناہ دیتا ہے جو لوگ خدا کی طرف سے آتے ہیں وہ ان کو ضائع نہیں کرتا۔
اس بات کو خوب سمجھ لو کہ جب پورا خوف دامنگیر ہو اور جاں کندن کی سی حالت ہو گئی۔ اس وقت کی توبہ، توبہ نہیں۔ جب بَلا نازل ہو گئی پھر اس کا ردّ کرنا اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ تم بَلا کے نزول سے پہلے فکر کرو۔ جو بَلا کے نزول سے پہلے ڈرتا ہے وہ عاقبت بیں اور باریک بیں ہوتا ہے اور بَلا کے آجانے کے وقت تو کافر بھی ڈرتے ہیں۔ میں نے سُنا ہے کہ بعض گاؤں میں جہاں طاعون کی شدت ہوئی ہے ہندوؤں نے مسلمانوں کو بلا کر اپنے گھروں میں اذانیں دلوائی ہیں۔ وہی اذان جس سے پہلے ان کو پرہیز تھا۔۱؎ جو مومن غرض کے لیے خدا سے نہیں ڈرتا خدا اس سے خوف کو دور کر دیتا ہے مگر جس کے دروازہ پر بَلا نازل ہو جاوے تو وہ خواہ نخواہ اس سے ڈرے گا۔ بہت دعائیں کرتے رہو تا کہ ان بَلاؤں سے نجات ہو اور خاتمہ بالخیر ہو۔ عملی نمونہ کے سوا بیہودہ قیل وقال فائدہ نہیں دیتی اور جیسے یہ ضروری ہے کہ ڈر کے سامانوں سے پہلے ڈرنا چاہیے یہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ڈر کے سامان قریب ہوں تو ڈر جاؤ اور جب وہ دور چلے جاویں تو بے باک ہو جاؤ۔ بلکہ تمہاری زندگی ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے خوف سے بھری ہوئی ہو خواہ مصیبت کے سامان ہوں یا نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ مقتدر ہے۲؎ وہ جب چاہتا ہے مصیبت کا دروازہ کھول دیتا ہے اور جب چاہتا ہے کشائش کرتا ہے جو اس پر بھی بھروسا کرتا ہے وہ بچایا جاتا ہے۔ ڈرنے والا اور نہ ڈرنے والا کبھی برابر نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں میں ایک فرق رکھ دیتا ہے۔ پس ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ سچی توبہ کریں اور گناہ سے بچیں۔ جو بیعت کر کے پھر گناہ سے نہیں بچتا وہ گویا جھوٹا اقرار کرتا ہے۔۳؎ اور یہ میرا ہاتھ نہیں خدا کا ہاتھ ہے جس پر وہ ایسا جھوٹ بولتا ہے اور پھر خدا کے ہاتھ پر جھوٹ بول کر کہاں جاوے؟ کَبُرَ مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰہِ(الصّف:۴) اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ(الصّف:۴) مَقْت خدا کے غضب کو کہتے ہیں یعنی بڑا غضب ان پر ہوتا ہے جو اقرار کرتے ہیں اور پھر کرتے نہیں ایسے آدمی پر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے اس لیے دعائیں کرتے رہو۔ کوئی ثابت قدم نہیں رہ سکتا جب تک خدا نہ رکھے۔۱؎
۲۱؍مارچ ۱۹۰۳ء
(بوقتِ سیر)
کسی خاص شخص کی ہدایت کے لئے دعا
کسی خاص شخص کی ہدایت پر زور دینے کے بارے میں فرمایا کہ ایک فرد واحد پر ہدایت کے لیے زور دینا ٹھیک نہیں ہوتا اور نہ اس طرح کبھی انبیاء کو کامیابی ہوئی ہے۔ عام دعا چاہیے پھر جو لائق ہوتا ہے وہ اس سے خود بخود مؤثر ہوتا ہے۔
حقیقت توبہ
توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ گناہ سے کُلّی طور پر بیزار ہو کر خدا کی طرف رجوع کرے اور سچے طور سے یہ عہد ہو کہ موت تک پھر گناہ نہ کروں گا۔ ایسی توبہ پر خدا کا وعدہ ہے کہ میں بخش دوں گا۔ اگرچہ یہ توبہ دوسرے دن ہی ٹوٹ جاوے مگر بات یہ ہے کہ کرنے والے کا اس وقت عزم مصمم ہو اور اس کے دل میں ٹوٹی ہوئی نہ ہو۔
ایک توبہ انسان کی طرف سے ہوتی ہے اور ایک خدا کی طرف سے۔ خدا کی توبہ کے معنے رجوع کے ہیں کیونکہ اس کا نام توّاب ہے۔ انسان توبہ کرتا ہے تو گناہ سے نیکی کی طرف آتا ہے اور جب خدا توبہ کرتا ہے تو وہ رحمت سے اس کی طرف آتا ہے اور اس انسان کو لغزش سے سنبھال لیتا ہے۔ جب اس قسم کی خدا کی توبہ ہو تو پھر لغزش نہیں ہوتی۔ حدیث میں ہے کہ انسان توبہ کرتا ہے پھر اس سے ٹوٹ جاتی ہے اور قضا و قدر غالب آتی ہے پھر وہ روتا ہے گڑگڑاتا ہے پھر توبہ کرتا ہے مگر پھر ٹوٹ جاتی ہے اور وہ بار بار تضرّع کرتا ہے اور توبہ کرتا ہے پھر آخر کار جب انتہا تک اس کی تضرّع اور ابتہال پہنچ جاتے ہیں تو پھر خدا توبہ کرتا ہے یعنی اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور کہتا ہے اِعْـمَلْ مَا شِئْتَ اِنِّیْ غَفَرْتُ لَکَ۔ اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ اب اس کی فطرت ایسی بدل دی گئی ہے کہ گناہ نہ ہو سکے گا جیسے کسی بدکار کا آلہ تناسل کاٹ دیا جاوے تو پھر وہ کیا بدکاری کر سکے گا یا آنکھیں نکال دی جاویں تو وہ کیا بد نظری کرے گا اسی طرح خدا سرشت بدل دیتا ہے اور بالکل پاکیزہ فطرت بنا دیتا ہے۔ بدر میں جب صحابہ کرام نے جان لڑائی تو ان کی اس ہمّت اور اخلاص کو دیکھ کر خدا نے ان کو بخش دیا۔ ان کے دلوں کو صاف کر دیا کہ پھر گناہ ہو ہی نہ سکے۔ یہ بھی ایک درجہ ہے جب فطرت بدل جاتی ہے تو وہ خدا کی رضا کے برخلاف کچھ کر ہی نہیں سکتا۔ اگر انسان سے گناہ نہ ہوں اور وہ توبہ نہ کرے تو خدا ان کو ہلاک کر کے ایک ایسی قوم پیدا کرے جو گناہ کرے اور پھر خدا ان کو بخشے اگر یہ نہ ہو تو پھر خدا کی صفت غفوریّت کیسے کام کرے گی۔
گناہ توبہ کے ساتھ مل کر تر یا ق بنتا ہے
گناہ ایک مہلک زہر مثل سم الفار وسڑکنیا وغیرہ کے ہیں مگر توبہ کے ساتھ مل کر یہ تریاق کا حکم رکھتے ہیں انسان کے نفس کے اندر رعونت پیدا ہو جاتی ہے پھر گناہ سے کسر نفس پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے زہر کو زہر مارتی ہے ایسا ہی رعونت وغیرہ کی زہر کو گناہ مارتا ہے۔ حضرت آدم کے ساتھ جو ذلّت آئی اس کے بھی یہی معنے ہیں ورنہ اس کے اندر تکبر پیدا ہوتا کہ میں وہ ہوں جسے خدا نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور ملائکہ نے سجدہ کیا مگر اس خطا سے وہ شرمسار ہوئے اور اس تکبر کی نوبت ہی نہ آئی۔ پھر اس شرمساری سے سارے گناہ معاف ہوئے اسی طرح بعض سادات آج کل فخر کرتے ہیں مگر نسبی دعویٰ کیا شَے ہے؟ اس سے رعونت پیدا ہوتی ہے۔ ہر ایک تکبر زہر قاتل ہوتا ہے اسے کسی نہ کسی طرح مارنا چاہیے۔
آدم کی جنّت
سوال ہوا کہ آدم کی جنّت کہاں تھی؟
فرمایا۔ ہمارا مذہب یہی ہے کہ زمین میں ہی تھی خدا فرماتا ہے مِنۡہَا خَلَقۡنٰکُمۡ وَفِیۡہَا نُعِیۡدُکُمۡ(طٰہٰ:۵۶) آدم کی بود و باش آسمان پر یہ بات بالکل غلط ہے۔
شجر ممنوعہ
شجر کی نسبت سوال ہوا کہ وہ کون سا درخت تھا جس کی ممانعت کی گئی تھی؟
فرمایا کہ مفسّروں نے کئی باتیں لکھی ہیں مگر معلوم ہوتا ہے کہ انگور ہوگا۔ شراب اس سے پیدا ہوتی ہے اور شراب کی نسبت لکھا ہے رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ(المائدۃ:۹۱) یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت کا انگور ایسا ہی ہو کہ بغیر سڑانے گلانے کے اس کے تازہ شیرہ میں نشہ ہوتا ہو جیسے تاڑی کہ ذرا سی دیر کے بعد اس میں نشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
تمباکو
تمباکو کی نسبت فرمایا کہ یہ شراب کی طرح تو نہیں ہے کہ اس سے انسان کو فسق وفجور کی طرف رغبت ہو مگر تاہم تقویٰ یہی ہے کہ اس سے نفرت اور پرہیز کرے۔ منہ میں اس سے بدبو آتی ہے اور یہ منحوس صورت ہے کہ انسان دھواں اندر داخل کرے اور پھر باہر نکالے۔ اگر آنحضرت کے وقت یہ ہوتا تو آپ اجازت نہ دیتے کہ اسے استعمال کیا جاوے۔ ایک لغو اور بیہودہ حرکت ہے ہاں مسکّرات میں اسے شامل نہیں کر سکتے۔ اگر علاج کے طور پر ضرورت ہو تو منع نہیں ہے ورنہ یونہی مال کو بے جا صرف کرنا ہے۔ عمدہ تندرست وہ آدمی ہے جو کسی شَے کے سہارے زندگی بسر نہیں کرتا ہے۔ انگریز بھی چاہتے ہیں کہ اسے دور کر دیں۔۱؎
(دربارِ شام
نومبایعین کو نصیحت
چند نو وارد شخصوں نے بیعت کی۔ اور بعد از بیعت فرمایا۔ دیکھو! بیعت تو تمہاری ہو چکی تمہیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو خدا کا قہر سخت ہوتا ہے اگرچہ دنیا کا عذاب بھی سخت اور نا قابل برداشت ہوتا ہے مگر تا ہم جس طرح ہوتا ہے۔ اچھے برے دن گذر جاتے ہیں مگر آخرت کا عذاب تو ناپیدا کنار ہے اس لیے مناسب ہے کہ اس کے واسطے کافی سامان کیا جاوے۔
ہمیں کہنا پڑتا ہے کیونکہ جو شخص آتا ہے اور بیعت کرتا ہے ہم پر فرض ہوتا ہے کہ اسے کرنے اور نہ کرنے کے کاموں سے آگاہ کریں۔ جیسا بے خبر آیا تھا ویسا ہی بے خبر واپس نہ جاوے۔ ایسا ہونے سے معصیت کا خوف ہے اسے کیوں نہ بتایا گیا؟ سو تم سوچ لو کہ مقدّم اَمر دین ہی کا ہے دنیا کے دن تو کسی نہ کسی طرح گذر ہی جاتے ہیں۔
شب تنور گذشت و شب سمور گذشت
غرباء اور مساکین بھی جن کو کھانے کو ایک وقت ملتا ہے اور دوسرے وقت نہیں ملتا اور آرام کے مکان بھی نہیں ہوتے ان کی بھی گذر ہی جاتی ہے اور امراء اور پلاؤ زردے کھانے والوں اور عمدہ مکانوں اور بالا خانوں میں رہنے والے بھی اپنے دن پورے کر ہی رہے ہیں۔ کسی کا دکھ درد سے اور کسی کا عیش میں گذارہ ہوتا ہے مگر عاقبت کا دکھ جھیلنا بہت مشکل ہے اور وہ عذاب اور اس کے دکھ درد ناقابل برداشت ہوں گے لہٰذا دانا وہی ہے کہ جو اس ہمیشہ رہنے والے جہان کی فکر میں لگ جاوے۔
حقیقتِ نماز
سو تم نمازوں کو سنوارو اور خدا تعالیٰ کے احکام کو اس کے فرمودہ کے بموجب کرو۔ اس کی نواہی سے بچے رہو۔ اس کے ذکر اور یاد میں لگے رہو۔ دعا کا سلسلہ ہر وقت جاری رکھو اپنی نماز میں جہاں جہاں رکوع و سجود میں دعا کا موقع ہے دعا کرو اور غفلت کی نماز کو ترک کر دو۔ رسمی نماز کچھ ثمرات مترتّب نہیں لاتی اور نہ وہ قبولیت کے لائق ہے۔ نماز وہی ہے کہ کھڑے ہونے سے سلام پھیرنے کے وقت تک پورے خشوع خضوع اور حضور قلب سے ادا کی جاوے اور عاجزی اور فروتنی اور انکساری اور گریہ زاری سے اللہ تعالیٰ کے حضور میں اس طرح سے ادا کی جاوے کہ گویا اس کو دیکھ رہے ہو۔ اگر ایسا نہ ہو سکے تو کم از کم یہ تو ہو کہ وہی تم کو دیکھ رہا ہے۔ اس طرح کمال ادب اور محبت اور خوف سے بھری ہوئی نماز ادا کرو۔
بے وقت موتوں کا زمانہ
دیکھو! یہ زمانہ بے وقت موتوں کا زمانہ آ گیا ہے۔ بھلا پہلے کبھی تم نے اپنے باپ و دادا سے بھی سنا ہے کہ اس طرح اچانک موت کا سلسلہ کبھی جاری ہوا ہو۔ رات کو اچھا بھلا کام کاج کرتا اور چلتا پھرتا آدمی سوتا ہے اور صبح کو ایسی نیند میں سویا ہوا ہوتا ہے کہ جس سے جاگنا ہی نہیں۔ اب جس گھر میں یہ موت آئی، گھر کا گھر اور گاؤں کے گاؤں اس نے خالی کر دئیے ابھی انجام کی خبر نہیں۔ کیا کیا دن آنے ہیں۔ ایک نادان اپنی نادانی کی وجہ سے جب طاعون چند دن کے لیے رک جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کسی مصلحت سے اسے بند کرتا ہے وہ کہتا ہے کہ بس اب گئی اب نہیں آئے گی۔ اومیاں! ایسا ہمیشہ ہی ہوا کرتا ہے کہ بیماریاں آتی ہیں چار دن رہ کر چلی جاتی ہیں مگر خدا کی باریک تدابیر سے وہ ناواقف ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ وہ مہلت دیتا ہے کہ بھلا ابھی ان میں کچھ صلاحیت اور تقویٰ اور خوف بھی پیدا ہوا ہے یا نہیں۔
اس طاعون کا پچھلا تجربہ بتاتا ہے کہ ایک ایک دورہ ستر ستر سال کا ہوا کرتا ہے اس سے تو جنگل کے جانوروں نے بھی پناہ مانگی ہے۔ جب انسانوں کو ختم کر چکتی ہے تو اس جنگل کے حیوانوں اور درندوں کو بھی ختم کر دیتی ہے۔ ایسے وقتوں میں خدا تعالیٰ بچا لیتا ہے ان لوگوں کو جو اِن مصائب اور عذابوں کے نازل ہونے سے پہلے اپنے آپ کی اصلاح کرتے اور دوسروں سے عبرت پکڑتے ہیں۔ خدا تعالیٰ ان کی حفاظت خود کرتا ہے عذابوں اور شدائد کے وقتوں میں جو آرام اور عیش کے وقت میں اس سے ڈرتے اور پناہ مانگتے ہیں مگر جب عذاب کسی پر نازل ہو جاوے تب توبہ بھی قبول نہیں ہوتی۔
اپنے آپ کو درست کر لو
پس اب موقع ہے کہ تم خدا کے سامنے اپنے آپ کو درست کر لو اور اس کے فرائض کی بجا آوری میں کمی نہ کرو۔ خلق اللہ سے کبھی بھی خیانت، ظلم، بدخلقی، ترشروئی، ایذا دہی سے پیش نہ آؤ۔ کسی کی حق تلفی نہ کرو کیونکہ ان چیزوں کے بدلے میں بھی خدا مؤاخذہ کرے گا۔ جس طرح خدا کے احکام کی نافرمانی، اس کی عظمت، توحید اور جلال کے خلاف کرنے اور اس سے شرک کرنا گناہ ہیں اسی طرح اس کی خلق سے ظلم کرنا۔ اور ان کی حق تلفیاں نہ کرو۔ زبان یا ہاتھ سے دکھ یا کسی قسم کی گالی گلوچ دینا بھی گناہ ہیں پس تم دونوں طرح کے گناہوں سے پاک بنو اور نیکی کو بدی سے خلط ملط نہ کرو۔
تمہارا دین اسلام ہے
تمہارا دین اسلام ہے اسلام کے معنے ہیں خدا کے آگے گردن رکھ دینا۔ جس طرح ایک بکرا ذبح کرنے کی خاطر منہ کے بل لٹایا جاتا ہے۔ اسی طرح تم بھی خدا کے احکام کی بجا آوری میں بے چون و چرا گردن رکھ دو۔ جب تک کامل طور سے تم اپنے ارادوں سے خالی اور نفسانی ہوا وہوس سے پاک نہ ہو جاؤ گے تب تک تمہارا اسلام اسلام نہیں ہے۔ بہت ہیں کہ ہماری ان باتوں کو قصہ کہانی جانتے ہوں گے اور ٹھٹھے اور ہنسی سے ان کا ذکر کرتے ہوں گے مگر یاد رکھو کہ یہ اب آخری دن ہیں۔ خدا تعالیٰ فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔ لوگ بے حیائی، حیلہ بازی اور نفس پرستی میں حد سے زیادہ گذرے جاتے ہیں۔ خدا کے عظمت و جلال اور توحید کا ان کے دلوں میں ذرا بھی خیال نہیں گویا ناستک مت ہو گئے ہیں۔ کوئی کام بھی ان کا خدا کے لیے نہیں ہے۔
ایک ما مور کی بعثت
پس ایسے وقت میں اس نے اپنے ایک خاص بندہ کو بھیجا ہے تا اس کے ذریعہ سے دنیا میں ہدایت کا نور پھیلا دے اور گمشدہ ایمان اور توحید کو از سر نو دنیا میں قائم کرے۔ مگر جب دنیا نے اس کی پروانہ کی اور الٹا دکھ دیا اور اس کی تکذیب کے لئے کمر بستہ ہو گئے تو خدا نے ان کو قہر کی آگ سے ہلاک کرنا شروع کیا۔ کئی طرح کے عذابوں سے اس نے دنیا کو جگایا ہے کہیں قحط ہوئے اور کہیں زلزلے آئے۔ آتش فشانیاں ہوئیں۔ ہزار در ہزار لوگ تباہ ہوئے۔ انہیں میں سے ایک طاعون بھی ہے۔ یہ دور نہ ہوگی اور نہ جاوے گی جب تک یہ دنیا کو سیدھا نہ کر لے۔ لوگ تسلّی پاجاتے ہیں کہ بس اب گئی اب نہیں آوے گی مگر وہ دھوکا کھاتے ہیں۔ ان نادانوں کا تو کام ہی خدا سے جنگ کرنا ہو گیا ہے مگر وہ کہاں تک؟ وہ دنیا کو بتانا چاہتا ہے کہ میں ضرور موجود ہوں اور ان کی بیباکیوں اور شرارتوں کو دور کرنا چاہتا ہوں مگر آہستہ آہستہ۔ اس کے تمام کام بتدریج ہوا کرتے ہیں۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ دنیا طرح طرح کے ظلم اور فسادوں سے بھر گئی اور خدا کا نام دنیا سے اٹھ گیا۔ اس کی توحید اور اس کی کتاب اور اس کے رسول کی ہتک کی گئی تو وہ ایسے وقت میں اپنے خاص رحم سے اپنی رحمت کا دروازہ کھولتا ہے اور اپنی خلقت کو ایک ایسے شخص کے سپرد کرتا ہے جو اس کو خدا کے عذاب سے بچانے کے واسطے کوشش کرتا اور ان کا بڑا خیر خواہ ہے مگر جب دنیا اس کی پروا نہیں کرتی اور بجائے اس کے کہ اس سے محبت کریں اس کو ستایا جاتا اور دکھ دیا جاتا ہے تو خدا بھی اپنے غضب سے دنیا میں اپنا عذاب نازل کرتا ہے جو نافرمانوں کو آگ کی طرح بھسم کرتا ہے اور خدا کی سلطنت کا رعب قائم کرتا اور صادق کی نصرت اور اس کے ہمراہیوں کو بطور نمونہ اس سے بچاتا ہے۔
توبہ کرو
بس اب یہ وقت ہے توبہ کرو۔ اگر عذاب آ گیا تو پھر توبہ کا دروازہ بھی بند ہو گیا۔ توبہ میں بہت کچھ ہے۔ دیکھو! جب کوئی بادشاہ کے کسی اَمر کے متعلق سمجھاوے تم اس سے رک جاؤ تمہارا بھلا ہو گا تو اگر وہ شخص رک جاوے تو بہتر ورنہ پھر اس کا عذاب کیسا سخت ہوتا ہے اس طرح پہلے چھوٹے چھوٹے عذابوں سے خدا تعالیٰ لوگوں کو سمجھوتیاں دیتا ہے کہ باز آ جاؤ موقع ہے ورنہ پچھتاؤ گے مگر جیسا وہ نہیں سمجھتے اور اس کی نافرمانی سے نہیں رکتے تو پھر اس کا عذاب ایسا ہوتا ہے یَخَافُ عُقۡبٰہَا(الشّمس:۱۶)۔
صرف بیعت کافی نہیں
تم لوگوں نے جو میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے اسی پر بھروسا نہ کر لینا صرف اتنی ہی بات کافی نہیں۔ زبانی اقرار سے کچھ نہیں بنتا جب تک عملی طور سے اس اقرار کی تصدیق نہ کر کے دکھلائی جاوے۔ یوں زبانی تو بہت سے خوشامدی لوگ بھی اقرار کر لیا کرتے ہیں مگر صادق وہی ہے جو عملی رنگ سے اس اقرار کا ثبوت دیتا ہے۔ خدا کی نظر انسان کے دل پر پڑتی ہے۔ پس اب سے اقرار سچا کر لو اور دل کو اس اقرار میں زبان کے ساتھ شریک کر لو کہ جب تک قبر میں جاویں ہر قسم کے گناہ سے شرک وغیرہ سے بچیں گے۔ غرض حق اللہ اور حق العباد میں کوئی کمی یا سستی نہیں کریں گے۔ اسی طرح سے خدا تم کو ہر طرح کے عذابوں سے بچاوے گا اور تمہاری نصرت ہر میدان میں کرے گا۔ ظلم کو ترک کرو، خیانت، حق تلفی اپنا شیوہ نہ بناؤ اور سب سے بڑا گناہ جو غفلت ہے اس سے اپنے آپ کو بچاؤ۔۱؎
۲۲؍ مارچ ۱۹۰۳ء
(مجلس قبل از عشاء)
اسلا م
مذہب کے مقابلے پر گفتگو فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ اسلام وہ زندہ مذہب ہے جس نے اپنے اقبال کے ساتھ تمام مذاہب کو اپنے پیروں میں لے لیا ہوا ہے۔ اسلام ایسے ملک سے شروع ہوا جہاں لوگ درندوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے اور طرح طرح کی بداعمالیوں میں مبتلا تھے۔ ان کو حیوانیت سے انسانیت میں اسلام ہی لایا۔ ہر طرف اس کی مخالفت ہوئی لوگوں نے دشمنی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔ پھر بھی وہ تمام کام پورے ہو کر رہے جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے تھے اور کوئی فرد بشر بھی اس کا بال نہ بگاڑ سکا۔ حتی کہ ندا آ گئی اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا(المائدۃ:۴)۱؎
۲۳؍مارچ ۱۹۰۳ء
(قبل از عشاء)
ہندوؤں سے گفتگو کا طریق
جیسے کہ بعض لوگوں کا دستور ہے کہ جب ہندو مسلمانوں میں کوئی گفتگو ہو تو گاؤ خوری وغیرہ باتوں پر بحث ہوا کرتی ہے اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ اصل اشیاء میں حلت ہے اب دنیا میں کروڑہا اشیاء ہیں کوئی کچھ کھاتا ہے اور کوئی کچھ۔ اس لیے ایسی باتوں میں پڑنا مناسب نہیں ہوا کرتا۔ چاہیے کہ ایسے مباحثات میں ہمیشہ اسلام کی خوبیاں اور صداقت بیان کی جائے اور ظاہر کیا جاوے کہ کن کن نیک اعمال کی تعلیم اسلام نے دی ہے کن مہلکات سے بچایا ہے۔ گاؤ خوری کے مسائل وغیرہ بیان کرنے سے کیا فائدہ؟ جو اسلام کو پسند کرے گا۔ وہ خود گاؤ خوری کو بھی پسند کرے گا جس بات کا فساد اس کے نفع سے بڑھ کر ہو اس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔۲؎
ختم اور فا تحہ خوانی
ایک بزرگ نے عرض کی کہ حضور میں نے اپنی ملازمت سے پہلے یہ منت مانی تھی کہ جب میں ملازم ہو جاؤں گا تو آدھ آنہ فی روپیہ کے حساب سے نکال کر اس کا کھانا پکوا کر حضرت پیران پیر کا ختم دلاؤں گا۔ اس کے متعلق حضور کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا کہ خیرات تو ہر طرح اور ہر رنگ میں جائز ہے اور جسے چاہے انسان دے مگر اس فاتحہ خوانی سے ہمیں نہیں معلوم کیا فائدہ اور یہ کیوں کیا جاتا ہے؟ میرے خیال میں یہ جو ہمارے ملک میں رسم جاری ہے کہ اس پر کچھ قرآن شریف وغیرہ پڑھا کرتے ہیں یہ طریق تو شرک ہے اور اس کا ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے نہیں۔ غرباء و مساکین کو بے شک کھانا کھلاؤ۔
نصیحت بعد ازبیعت
چند احباب نے بیعت کی تھی اس پر ان کو چند کلمات بطور نصیحت فرمائے۔ پانچوں نمازیں عمدہ طرح سے پڑھا کرو۔ روزہ صدق سے رکھو اور اگر صاحبِ توفیق ہو تو زکوۃ، حج وغیرہ اعمال میں بھی کمر بستہ رہو۔ اور ہر قسم کے گناہ سے اور شرک اور بدعت سے بیزار رہو۔ اصل میں گناہ کی شناخت کے اصول صرف دو ہی ہیں۔
اوّل۔ حق اللہ کی بجا آوری میں کمی یا کوتاہی۔ دوم۔ حق العباد کا خیال نہ کرنا۔
اصل اصول عبادت بھی یہی ہیں کہ ان دونو حقوں کی محافظت کما حقہ کی جاوے اور گناہ بھی انہیں میں کوتاہی کرنے کا نام ہے اپنے عہد پر قائم رہو اور جو الفاظ اس وقت تم نے میرے ہاتھ پر بطور اقرار زبان سے نکالے ہیں ان پر مَرتے دم تک قائم رہو۔ انسان بعض اوقات دھوکا کھاتا ہے وہ جانتا ہے کہ میں نے اپنے لیے توبہ کا درخت بولیا ہے اب اس کے پھل کی امید رکھتا ہے یا ایمان میں نے حاصل کر لیا ہے اس کے اب نتائج مترتّب ہونے کا منتظر ہوتا ہے مگر اصل میں وہ خدا کے نزدیک نہ تائب اور نہ سچا مومن، کچھ بھی نہیں ہوتا کیونکہ جو چیز اللہ تعالیٰ کی پسندیدگی اور منظوری کی حد تک نہ پہنچی ہوئی ہو وہ چیز اس کی نظر میں ردی اور حقیر ہوتی ہے۔ اس کی کوئی قدر و قیمت خدا کے نزدیک نہیں ہوتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک انسان جب کسی چیز کے خریدنے کا ارادہ کرتا ہے جب تک کوئی چیز اس کی پسندیدگی میں نہ آوے تب تک اس کی نظر میں ایک ردی محض اور بے قیمت ہوتی ہے۔ تو جب انسان کا یہ حال ہے تو خدا تو قدّوس اور پاک اور بے لوث ہستی ہے۔ وہ ایسی ردّی چیز کو اپنی جناب میں کب منظور کرنے لگا؟
دیکھو! یہ دن ابتلا کے دن ہیں وبائیں ہیں قحط ہے غرض اس وقت خدا کا غضب زمین پر نازل ہو رہا ہے۔ ایسے وقت میں اپنے آپ کو دھوکا مت دو اور صاف دل سے اپنی کوئی پناہ بنالو۔
یہ بیعت اور توبہ اس وقت فائدہ دیتی ہے جب انسان صدق دل اور اخلاص نیت سے اس پر قائم اور کاربند بھی ہو جاوے۔ خدا خشک لفّاظی سے جو حلق کے نیچے نہیں جاتی ہرگز ہرگز خوش نہیں ہوتا۔ ایسے بنو کہ تمہارا صدق اور وفا اور سوز و گداز آسمان پر پہنچ جاوے۔ خدا تعالیٰ ایسے شخص کی حفاظت کرتا اور اس کو برکت دیتا ہے جس کو دیکھتا ہے کہ اس کا سینہ صدق اور محبت سے بھرا ہوا ہے وہ دلوں پر نظر ڈالتا اور جھانکتا ہے نہ کہ ظاہری قیل وقال پر۔ جس کا دل ہر قسم کے گند اور ناپاکی سے معرّا اور مبرّا پاتا ہے اس میں آاترتا ہے اور اپنا گھر بناتا ہے مگر جس دل میں کوئی کسی قسم کا بھی رخنہ یا ناپاکی ہے اس کو لعنتی بناتا ہے۔
دیکھو! جس طرح تمہارے عام جسمانی حوائج کے پورا کرنے کے واسطے ایک مناسب اور کافی مقدار کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح تمہاری روحانی حوائج کا حال ہے۔ کیا تم ایک قطرہ پانی زبان پر رکھ کر پیاس بجھا سکتے ہو؟ کیا تم ایک ریزہ کھانے کا منہ میں ڈال کر بھوک سے نجات حاصل کر سکتے ہو؟ ہرگز نہیں۔ پس اسی طرح تمہاری روحانی حالت معمولی سی توبہ یا کبھی کسی ٹوٹی پھوٹی نماز یا روزہ سے سنور نہیں سکتی۔ روحانی حالت کے سنوارنے اور اس باغ کے پھل کھانے سے بھی تم کو چاہیے کہ اس باغ کو بھی وقت پر خدا کی جناب میں نمازیں ادا کر کے اپنی آنکھوں کا پانی پہنچاؤ اور اعمال صالحہ کے پانی کی نہر سے اس باغ کو سیراب کرو تا وہ ہرا بھرا ہو اور پھلے پھولے اور اس قابل ہو سکے کہ تم اس سے پھل کھاؤ۔
ایمان اور اعمال صالحہ
یاد رکھو ایمان بغیر اعمال صالحہ کے ادھورا ایمان ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اگر ایمان کامل ہو تو اعمال صالحہ سرزد نہ ہوں؟ اپنے ایمان اور اعتقاد کو کامل کرو ورنہ کسی کام کا نہ ہوگا۔ لوگ اپنے ایمان کو پورا ایمان تو بناتے نہیں پھر شکایت کرتے ہیں کہ وہ ہمیں انعامات نہیں ملتے جن کا وعدہ تھا۔ بے شک خدا نے وعدہ فرمایا ہوا ہے کہ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا وَّیَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ(الطلاق:۳، ۴)۔
یعنی جو خدا کا متقی اور اس کی نظر میں متقی بنتا ہے اس کو خدا تعالیٰ ہر ایک قسم کی تنگی سے نکالتا اور ایسی طرز سے رزق دیتا ہے کہ اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ کہاں سے اور کیوں کر آتا ہے۔ خدا کا یہ وعدہ برحق ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ خدا اپنے وعدوں کا پورا کرنے والا اور بڑا رحیم کریم ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کا بنتا ہے وہ اسے ہر ذلّت سے نجات دیتا ہے اور خود اس کا حافظ و ناصر بن جاتا ہے۔ مگر وہ جو ایک طرف دعویٰ اتقا کرتے ہیں اور دوسری طرف شاکی ہوتے ہیں کہ ہمیں وہ برکات نہیں ملے ان دونوں میں سے ہم کس کو سچا کہیں اور کس کو جھوٹھا؟ خدا تعالیٰ پر ہم کبھی الزام نہیں لگا سکتے اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ(اٰل عمران:۱۰) خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کا خلاف نہیں کرتا۔ ہم اس مدعی کو جھوٹا کہیں گے۔ اصل یہ ہے کہ ان کا تقویٰ یا ان کی اصلاح اس حد تک نہیں ہوتی کہ خدا کی نظر میں قابلِ وقعت ہو۔ یا وہ خدا کے متقی نہیں ہوتے لوگوں کے متقی اور ریا کار انسان ہوتے ہیں سو ان پر بجائے رحمت اور برکت کے لعنت کی مار ہوتی ہے جس سے سرگرداں اور مشکلات دنیا میں مبتلا رہتے ہیں۔ خدا تعالیٰ متقی کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ وہ اپنے وعدوں کا پکا اور سچا اور پورا ہے۔
متّقین کے لئے رزق
رزق بھی کئی طرح کے ہوتے ہیں یہ بھی تو ایک رزق ہے کہ بعض لوگ صبح سے شام تک ٹوکری ڈھوتے ہیں اور برے حال سے شام کو دو تین آنے ان کے ہاتھ میں آتے ہیں یہ بھی تو رزق ہے مگر لعنتی رزق ہے نہ رزق مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ(الطلاق:۴)۔۱؎
حضرت داؤد زبور میں فرماتے ہیں کہ میں بچہ تھا جوان ہوا۔ جوانی سے اب بڑھاپا آیا مگر میں نے کبھی کسی متقی اور خدا ترس کو بھیکھ مانگتے نہ دیکھا اور نہ اس کی اولاد کو در بدر دھکے کھاتے اور ٹکڑے مانگتے دیکھا یہ بالکل سچ اور راست ہے کہ خدا اپنے بندوں کو ضائع نہیں کرتا اور ان کو دوسروں کے آگے ہاتھ پسارنے سے محفوظ رکھتا ہے بھلا اتنے جو انبیاء ہوئے ہیں اولیاء گذرے ہیں کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ بھیکھ مانگا کرتے تھے؟ یا ان کی اولاد پر یہ مصیبت پڑی ہو کہ وہ در بدر خاک بسر ٹکڑے کے واسطے پھرتے ہوں؟ ہرگز نہیں۔ میرا تو اعتقاد ہے کہ اگر ایک آدمی باخدا اور سچا متقی ہو تو اس کی سات پشت تک بھی خدا رحمت اور برکت کا ہاتھ رکھتا اور ان کی خود حفاظت فرماتا ہے۔
قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے ایک ذکر کیا ہے کہ ایک دیوار دو یتیم لڑکوں کی تھی۔ وہ گرنے والی تھی اس کے نیچے خزانہ تھا۔ لڑکے ابھی نابالغ تھے۔ اس دیوار کے گرنے سے اندیشہ تھا کہ خزانہ ننگا ہو کر لوگوں کے ہاتھ آ جائے گا۔ وہ لڑکے بیچارے خالی ہاتھ رہ جاویں گے تو اللہ تعالیٰ نے دو نبیوں۱؎ کو اس خدمت کے واسطے مقرر فرمایا۔ وہ گئے اور اس دیوار کو درست کر دیا کہ جب وہ بڑے ہوں تو پھر کسی طرح ان کے ہاتھ وہ خزانہ آ جاوے۔ پس اس جگہ اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا کہ وَکَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا(الکھف:۸۳) یعنی ان لڑکوں کا باپ نیک مَرد تھا۔ جس کے واسطہ ہم نے ان کے خزانہ کی حفاظت کی۔ اللہ تعالیٰ کے ایسا فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لڑکے کچھ اچھے نہ تھے اور نہ اچھے ہونے والے تھے۔ ورنہ یہ فرماتا کہ یہ اچھے لڑکے ہیں صالح ہیں اور صالح ہونے والے ہیں۔ نہیں بلکہ ان کے باپ کا ہی حوالہ دیا کہ ان کے باپ کی نیکی کی وجہ سے ایسا کیا گیا ہے۔ دیکھو! یہی تو شفاعت ہے۔
حقیقی متقی بنو
وہ لوگ جو بڑے بڑے ادعا کرتے ہیں کہ ہم یوں نیکی کرتے ہیں اور متقی ہیں مگر ان کے یہ دعوے قرآن شریف کے مطابق نہیں ہوتے اور نہ اس کسوٹی پر صادق ثابت ہوتے ہیں کیونکہ وہ فرماتا ہے وَہُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیۡنَ(الاعراف:۱۹۷) اِنۡ اَوۡلِیَآؤُہٗۤ اِلَّا الۡمُتَّقُوۡنَ(الانفال:۳۵) تو اس وقت افسوس سے ہمیں ان لوگوں کی ہی حالت پر رحم آتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں اصل سبب اس کا یہ ہے کہ ان کا صدق و وفا اور اخلاص خدا کے نزدیک اس درجہ کا نہیں ہوتا بلکہ وہ دوسروں کے شرک سے قابل نفرت ہو گیا ہوا ہوتا ہے۔ ایمان کم ہوتا ہے اور لافیں زیادہ ہوتی ہیں خدا تعالیٰ بار بار فرماتا ہے تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا(الاحزاب:۶۳)۱؎ بھلا یہ کیوں کر ہو سکتا ہے کہ ہم خدا کو وعدہ خلاف یا جھوٹا کہیں اور اس کی نسبت الزام کا خیال بھی کریں۔ اصل میں ایسے لوگوں کا ایمان ناکارہ ایمان ہوتا ہے جو لعنت کے مورد ہوتے ہیں نہ رحمت کے۔ وہ اصل میں خدا کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ ظاہر کچھ ہوتا ہے اور باطن کچھ۔ بھلا خلق نے تو دھوکا کھا بھی لیا مگر وہ جس کی نظر اندرون در اندرون پہنچتی ہے وہ کسی کے دھوکا میں آ سکتا ہے۔
انبیاء کے نقش قدم پر چلو
انسان کو چاہیے کہ ساری کمندوں کو جلا دے اور صرف محبت الٰہی ہی کی کمند کو باقی رہنے دے۔ خدا نے بہت سے نمونے پیش کئے ہیں آدم سے لے کر نوح و ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفیٰ علیہم الصلوٰۃ والسلام تک کل انبیاء اسی نمونہ کی خاطر ہی تو اس نے بھیجے ہیں تا لوگ ان کے نقش قدم پر چلیں۔ جس طرح وہ خدا تک پہنچے اسی طرح اور بھی کوشش کریں سچ ہے کہ جو خدا کا ہو جاتا ہے خدا اس کا ہو جاتا ہے۔ یاد رکھو کہ ایسا نہ ہو کہ تم اپنے اعمال سے ساری جماعت کو بدنام کرو۔ شیخ سعدی صاحب فرماتے ہیں۔
بد نام کنندہ نکو نامے چند
بلکہ ایسے بنو کہ تا تم پر خدا کی برکات اور اس کی رحمت کے آثار نازل ہوں۔ وہ عمروں کو بڑھا بھی سکتا ہے مگر ایک وہ شخص جس کا عمر پانے سے مقصد صرف ورلی دنیا ہی کے لذائذ اور حظوظ ہیں اس کی عمر کیا فائدہ بخش ہو سکتی ہے؟ اس میں تو خدا کا حصہ کچھ بھی نہیں۔ وہ اپنی عمر کا مقصد صرف عمدہ کھانے کھانے اور نیند بھر کے سونے اور بیوی بچوں اور عمدہ مکان کے یا گھوڑے وغیرہ رکھنے یا عمدہ باغات یا فصل پر ہی ختم کرتا ہے۔ وہ تو صرف اپنے پیٹ کا بندہ اور شکم کا عابد ہے۔ اس نے تو اپنا مقصود و مطلوب اور معبود صرف خواہشات نفسانی اور لذائذ حیوانی ہی بنایا ہوا ہے۔ مگر خدا نے انسان کے سلسلہ پیدائش کی علّت غائی صرف اپنی عبادت رکھی ہے وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ(الذّٰریٰت:۵۷) پس حصر کر دیا ہے کہ صرف صرف عبادت الٰہی مقصد ہونا چاہیے اور صرف اسی غرض کے لیے یہ سارا کارخانہ بنایا گیا ہے برخلاف اس کے اَور ہی اَور ارادے اور اَور ہی اَور خواہشات ہیں۔
بھلا سوچو تو سہی کہ ایک شخص ایک شخص کو بھیجتا ہے کہ میرے باغ کی حفاظت کر۔ اس کی آب پاشی اور شاخ تراشی سے اسے عمدہ طور کا بنا اور عمدہ عمدہ پھول بیل بوٹے لگا کہ وہ ہرا بھرا ہو جاوے۔ شاداب اور سرسبز ہو جاوے مگر بجائے اس کے وہ شخص آتے ہی جتنے عمدہ عمدہ پھل پھول اس میں لگے ہوئے تھے ان کو کاٹ کر ضائع کر دے یا اپنے ذاتی مفاد کے لیے فروخت کر لے اور ناجائز دست اندازی سے باغ کو ویران کر دے تو بتاؤ کہ وہ مالک جب آوے گا تو اس سے کیا سلوک کرے گا؟
انسان کی پیدائش کا مقصد
خدا نے تو اسے بھیجا تھا کہ عبادت کرے اور حق اللہ اور حق العباد کو بجا لاوے مگر یہ آتے ہی بیویوں میں مشغول، بچوں میں محو اور اپنے لذائذ کا بندہ بن گیا اور اس اصل مقصد کو بالکل بھول ہی گیا بتاؤ اس کا خدا کے سامنے کیا جواب ہوگا؟ دنیا کے یہ سامان اور یہ بیوی بچے اور کھانے پینے تو اللہ تعالیٰ نے صرف بطور بھاڑہ کے بنائے تھے جس طرح ایک یکہ بان چند کوس تک ٹٹو سے کام لے کر جب سمجھتا ہے کہ وہ تھک گیا ہے اسے کچھ نہاری اور پانی وغیرہ دیتا ہے اور کچھ مالش کرتا ہے تا اس کے تکان کا کچھ علاج ہو جاوے اور آگے چلنے کے قابل ہو اور درماندہ ہو کر کہیں آدھ میں ہی نہ رہ جاوے۔ اس سہارے کے لیے اسے نہاری دیتا ہے۔ سو یہ دنیوی آرام اور عیش اور بیوی بچے اور کھانے کی خوراکیں بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھاڑے مقرر کئے ہیں کہ تا وہ تھک کر اور درماندہ ہو کر بھوک سے پیاس سے مَر نہ جاوے اور اس کے قویٰ کے تحلیل ہونے کی تلافی مآفات ہوتی جاوے۔ پس یہ چیزیں اس حد تک جائز ہیں کہ انسان کو اس کی عبادت اور حق اللہ اور حق العباد کے پورا کرنے میں مدد دیں۔ ورنہ اس حد سے آگے نکل کر وہ حیوانوں کی طرح صرف پیٹ کا بندہ اور شکم کا عابد بنا کر مشرک بناتی ہیں اور وہ اسلام کے خلاف ہیں۔ سچ کہا ہے کسی نے
خوردن برائے زیستن و ذکر کردن است
تو م عتقد کہ زیستن از بہر خوردن است م گر اب کروڑوں مسلمان ہیں کہ انہوں نے عمدہ عمدہ کھانے کھانا، عمدہ عمدہ مکانات بنانا، اعلیٰ درجہ کے عہدوں پر ہونا ہی اسلام سمجھ رکھا ہے مومن شخص کا کام ہے کہ پہلے اپنی زندگی کا مقصد اصلی معلوم کرے اور پھر اس کے مطابق کام کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلۡ مَا یَعۡبَؤُا بِکُمۡ رَبِّیۡ لَوۡلَا دُعَآؤُکُمۡ(الفرقان:۷۸) خدا کو تمہاری پروا ہی کیا ہے اگر تم اس کی عبادت نہ کرو اور اس سے دعائیں نہ مانگو، یہ آیت بھی اصل میں اس پہلی آیت کہ وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ(الذّٰریٰت:۵۷) ہی کی شرح ہے۔ جب خدا کا ارادہ انسانی خلقت سے صرف عبادت ہے تو مومن کی شان نہیں کہ کسی دوسری چیز کو عین مقصود بنالے حقوق نفس تو جائز ہیں مگر نفس کی بے اعتدالیاں جائز نہیں۔ حقوق نفس بھی اس لیے جائز ہیں کہ تا وہ درماندہ ہو کر رہ ہی نہ جاوے۔ تم بھی ان چیزوں کو اسی واسطے کام میں لاؤ۔ ان سے کام اس واسطے لو کہ یہ تمہیں عبادت کے لائق بنائے رکھیں نہ اس لیے کہ وہی تمہارا مقصود اصلی ہوں۔
قرآن شریف تو موت وارد کرنا چاہتا ہے کھانا پینا صرف جسم کے سہارے کے واسطے ہوں۔ انسانی بدن ہر وقت چونکہ معرض تحلیل میں ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے جائز رکھا کہ اس کے قویٰ کی بحالی رکھنے اور قیام کے لیے یہ چیزیں استعمال کی جاویں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قرآن شریف کے شارح ہیں آپ ایک موقع پر بڑے گھبرائے ہوئے تھے حضرت عائشہؓ کو کہا کہ اے عائشہؓ ہمیں آرام پہنچاؤ۔۱؎ اور اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے آدم کے ساتھ حوا کو بھی بنا دیا تا وہ اس کے واسطے ضرورت کے وقت سہارے کا موجب ہو۔ غرض یہ باتیں ہیں جو ان پر عمل کرنا اور ان کو خوب یاد رکھنا ضروری ہے اور ان سب پر پوری طرح سے قائم ہونا چاہیے۔ دیکھو! ایک طبیب جب نسخہ لکھ کر دیتا ہے تو اس کی پوری طرح تعمیل کرنی چاہیے ورنہ فائدہ سے ہاتھ دھونے چاہئیں۔ ایک شخص اگر بجائے اس نسخہ کے تحریر کردہ امور کے اس کاغذ ہی کو دھو دھو کر پیے تو اسے فائدہ کی امید ہوگی؟ ہرگز نہیں۔ پس اسی طرح تم بھی ہماری ہر ایک بات پر قائم رہو۔ جھوٹی اور خشک محبت کام نہیں آتی بلکہ تعلیم پر پوری طرح سے عمل کرنا ہی کارآمد ہوگا۔ خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کا سچا ہے وہ بڑا رحیم کریم اور ماں سے، باپ سے بھی زیادہ مہربان ہے مگر وہ دغا باز کو بھی خوب جانتا ہے۔
قبولیت آسمان سے ہی نازل ہوتی ہے
تذکرۃ الاولیاء میں ہے کہ ایک شخص چاہتا تھا کہ وہ لوگوں کی نظر میں بڑا قابل اعتماد بنے اور لوگ اسے نمازی اور روزہ دار اور بڑا پا کباز کہیں اور اسی نیت سے وہ نماز لوگوں کے سامنے پڑھتا اور نیکی کے کام کرتا تھا مگر وہ جس گلی میں جاتا اور جدھر اس کا گذر ہوتا تھا لوگ اسے کہتے تھے کہ دیکھو یہ شخص بڑا ریا کار ہے اور اپنے آپ کو لوگوں میں نیک مشہور کرنا چاہتا ہے۔ پھر آخر کار اس کے دل میں ایک دن خیال آیا کہ میں کیوں اپنی عاقبت کو برباد کرتا ہوں خدا جانے کس وقت مَرجاؤں گا کیوں اس لعنت کو میں اپنے لیے تیار کر رہا ہوں۱؎ اس نے صاف دل ہو کر پورے صدق وصفا اور سچے دل سے توبہ کی اور اس وقت سے نیت کر لی کہ میں سارے نیک اعمال لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ کیا کروں گا اور کبھی کسی کے سامنے نہ کروں گا۔ چنانچہ اس نے ایسا کرنا شروع کر دیا اور یہ پاک تبدیلی اس کے دل میں بھر گئی نہ صرف زبان تک ہی محدود رہی۔ پھر اس کے بعد لکھا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو بظاہر ایسا بنا لیا کہ تارک صوم وصلوٰۃ ہے اور گندہ اور خراب آدمی ہے مگر اندرونی طور پر پوشیدہ اور نیک اعمال بجالاتا تھا۔ پھر وہ جدھر جاتا اور جدھر اس کا گذر ہوتا تھا لوگ اور لڑکے اسے کہتے تھے کہ دیکھو یہ شخص بڑا نیک اور پارسا ہے۔ یہ خدا کا پیارا اور اس کا برگزیدہ ہے۔ غرض اس سے یہ ہے کہ قبولیت اصل میں آسمان سے نازل ہوتی ہے اولیاء اور نیک لوگوں کا یہی حال ہوتا ہے کہ وہ اپنے اعمال کو پوشیدہ رکھا کرتے ہیں وہ اپنے صدق و وفا کو دوسروں پر ظاہر کرنا عیب جانتے ہیں۔ ہاں بعض ضروری امور کو جن کی اجازت شریعت نے دی ہے یا دوسروں کی تعلیم کے لیے اظہار بھی کیا کرتے ہیں۔
ریاء
نیکی جو صرف دکھانے کی غرض سے کی جاتی ہے وہ ایک لعنت ہوتی ہے۔ خدا کے وجود کے ساتھ دوسروں کا وجود بالکل ہیچ جاننا چاہیے دوسروں کے وجود کو ایک مُردہ کیڑے کی طرح خیال کرنا چاہیے۔ ان کے کسی قسم کے نفع یا ضرر کا خوف نہ کرنا چاہیے کیونکہ وہ کچھ کسی کا بگاڑ نہیں سکتے اور نہ سنوار سکتے ہیں۔ نیکی کو نیک لوگ اگر ہزار پردوں کے اندر بھی کریں تو خدا نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ اسے ظاہر کر دے گا اور اسی طرح بدی کا حال ہے بلکہ لکھا ہے کہ اگر کوئی عابد زاہد خدا کی عبادت میں مشغول ہو اور اس صدق اور جوش کا جو اس کے دل میں ہے انتہا کے نقطہ تک اظہار کر رہا ہو اور اتفاقاً کنڈی لگانی بھول گیا ہو تو کوئی اجنبی باہر سے آ کر اس کا دروازہ کھول دے تو اس کی حالت بالکل وہی ہوتی ہے جو ایک زانی کی عین زنا کے وقت پکڑا جانے سے۔ کیونکہ اصل غرض تو دونوں کی ایک ہی ہے یعنی اخفائے راز اگرچہ رنگ الگ الگ ہیں ایک نیکی کو اور دوسرا بدی کو پوشیدہ رکھنا چاہتا ہے غرض خدا کے بندوں کی حالت تو اس نقطہ تک پہنچی ہوئی ہوتی ہے۔ نیک بھی چاہتے ہیں کہ ہماری نیکی پوشیدہ رہے اور بد بھی اپنی بدی کو پوشیدہ رکھنے کی دعا کرتا ہے مگر اس اَمر میں دونوں نیک و بد کی دعا قبول نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو قانون بنا رکھا ہے کہ وَاللّٰہُ مُخۡرِجٌ مَّا کُنۡتُمۡ تَکۡتُمُوۡنَ(البقرۃ:۷۳) خدا کی رضا میں فانی لوگ نہیں چاہتے کہ ان کو کوئی درجہ اور امامت دی جاوے وہ ان درجات کی نسبت گوشہ نشینی اور تنہا عبادت کے مزے لینے کو زیادہ پسند کرتے ہیں مگر ان کو خدا تعالیٰ کشاں کشاں خلق کی بہتری کے لیے ظاہر کرتا اور مبعوث فرماتا ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو غار میں ہی رہا کرتے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ ان کا کسی کو پتا بھی ہو آخر خدا نے ان کو باہر نکالا اور دنیا کی ہدایت کا بار ان کے سپرد کیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہزاروں شاعر آتے اور آپ کی تعریف میں شعر کہتے تھے مگر لعنتی ہے وہ دل جو خیال کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تعریفوں سے پھولتے تھے وہ ان کو مُردہ کیڑے کی طرح خیال کرتے تھے۔ مدح وہی ہوتی ہے جو خدا آسمان سے کرے۔ یہ لوگ محبت ذاتی میں غرق ہوتے ہیں ان کو دنیا کی مدح وثنا کی پروا نہیں ہوتی۔
تو یہ مقام ایسا ہوتا ہے کہ خدا آسمان اور عرش سے ان کی تعریف اور مدح کرتا ہے۔
توفیق سب اللہ تعالیٰ کو ہی ہے
سنو! ہماری یہ باتیں اس واسطے نہیں کہ ہم کسی کے ایمان کو کچھ بڑھا سکتے ہیں یا کسی کے دل میں کچھ ڈال سکتے ہیں نہیں ہم کسی کے ایمان کو ایک جَو بھر بھی زیادہ نہیں کر سکتے۔۱؎ ہم صرف اس واسطے کہتے ہیں کہ تم اتنے جمع ہو شاید ہے کہ کسی کے دل کو کوئی بات پکڑ لے اور اس کی اصلاح ہو جاوے۔ توفیق تو سب اللہ ہی کو ہے خدا تعالیٰ قادر ہے کہ کسی کے دل میں ایمان کی حقیقی جڑ لگا دے اور پھر اسے اس کے ثمرات کھلاوے یا کسی کو اس کی بدی کی وجہ سے قہر کی آگ سے ہلاک کرے۔ پس دعا ہی کرنی چاہیے تا اس کی توفیق شامل انسان ہو۔۲؎
۲۴؍مارچ ۱۹۰۳ء
(بوقتِ سیر)
آریہ مذہب کی نسبت فرمایا کہ مذہب کی جڑ خدا شناسی ہے اور اس سے کمتر درجہ یہ کہ باہمی تعلق پاکیزگی کے ہوں سو یہ دونوں باتیں گری ہوئی ہیں۔۳؎
(در بارِ شام)
طاعون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ
ا
صل میں لوگ اس کے حقیقی علاج کی طرف سے تو بالکل غافل ہیں اور اَور طرف ہاتھ پاؤں مارتے پھرتے ہیں مگر جب تک وہ اس کے اصل علاج کی طرف رجوع نہ کریں گے تب تک نجات کہاں؟ کوئی طبیبوں یا ڈاکٹروں کی طرف بھاگتا ہے اور کوئی ٹیکہ کے واسطے بازو پھیلاتا ہے کوئی نئے تجربہ سے اور نئی ایجاد کے درپے ہے۔ ہماری شریعت نے اگرچہ اسباب سے منع تو نہیں کیا بلکہ فِیۡہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ(النحل:۷۰) سے معلوم ہوتا ہے کہ دواؤں میں خدا تعالیٰ نے خواص شفاء مرض بھی رکھے ہوئے ہیں اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ دواؤں میں تاثیرات ہوتی ہیں اور امراض کے معالجات ہوا کرتے ہیں۔ مگر ان اسباب پر بھروسا کر لینا اور یہ گمان کرنا کہ انہی کے ذریعہ سے نجات اور کامیابی ہو جاوے گی یہ سخت شرک اور کفر ہے۔ بھروسا اسباب پر ہرگز نہ چاہیے بلکہ یوں چاہیے کہ اسباب کو مہیا کر کے پھر بھروسا خدا پر کرنا چاہیے کہ اگر وہ چاہے تو اِن اسباب کو مفید بناوے اور اسی سے پھر بھی دعا کرنی چاہیے کیونکہ اسباب پر نتائج مرتّب کرنا تو اُسی کا کام ہے اور یہی توکل ہے۔
نماز کی اہمیت اور حقیقت
ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور نماز کے متعلق ہمیں کیا حکم ہے۔ فرمایا۔ نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قوم اسلام لائی اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ہمیں نماز معاف فرمادی جاوے کیونکہ ہم کاروباری آدمی ہیں۔ مویشی وغیرہ کے سبب سے کپڑوں کا کوئی اعتماد نہیں ہوتا اور نہ ہمیں فرصت ہوتی ہے تو آپؐ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ دیکھو! کہ جب نماز نہیں تو ہے ہی کیا؟ وہ دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں۔ نماز کیا ہے؟ یہی کہ اپنے عجز، نیاز اور کمزوریوں کو خدا کے سامنے پیش کرنا اور اسی سے اپنی حاجت روائی چاہنا۔ کبھی اس کی عظمت اور اس کے احکام کی بجا آوری کے واسطے دست بستہ کھڑا ہونا اور کبھی کمال مذلّت اور فروتنی سے اس کے آگے سجدہ میں گر جانا، اس سے اپنی حاجات کا مانگنا، یہی نماز ہے۔ ایک سائل کی طرح کبھی اس مسئول کی تعریف کرنا کہ تو ایسا ہے، تو ایسا ہے اس کی عظمت اور جلال کا اظہار کر کے اس کی رحمت کو جنبش دلانا اور پھر اس سے مانگنا، پس جس دین میں یہ نہیں وہ دین ہی کیا ہے۔ انسان ہر وقت محتاج ہے کہ اس سے اس کی رضا کی راہیں مانگتا رہے اور اس کے فضل کا اسی سے خواستگار ہو کیونکہ اسی کی دی ہوئی توفیق سے کچھ کیا جا سکتا ہے۔ اے خدا ہم کو توفیق دے کہ ہم تیرے ہو جائیں اور تیری رضا پر کار بند ہو کر تجھے راضی کر لیں۔ خدا کی محبت، اسی کا خوف، اسی کی یاد میں دل لگا رہنے کا نام نماز ہے اور یہی دین ہے۔ پھر جو شخص نماز ہی سے فراغت حاصل کرنی چاہتا ہے اس نے حیوانوں سے بڑھ کر کیا کیا؟ وہی کھانا پینا اور حیوانوں کی طرح سو رہنا۔ یہ تو دین ہرگز نہیں یہ سیرت کفار ہے۔ بلکہ جو دم غافل وہ دم کافر والی بات بالکل راست اور صحیح ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں ہے کہ فَاذۡکُرُوۡنِیۡۤ اَذۡکُرۡکُمۡ وَاشۡکُرُوۡا لِیۡ وَلَا تَکۡفُرُوۡنِ(البقرۃ:۱۵۳) یعنی اے میرے بندو تم مجھے یاد کیا کرو اور میری یاد میں مصروف رہا کرو میں بھی تم کو نہ بھولوں گا تمہارا خیال رکھوں گا اور میرا شکر کیا کرو، میرے انعامات کی قدر کیا کرو اور کفر نہ کیا کرو۔ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ذکر الٰہی کے ترک اور اس سے غفلت کا نام کفر ہے پس جو دم غافل وہ دم کافر والی بات صاف ہے یہ پانچو وقت تو خدا تعالیٰ نے بطور نمونہ کے مقرر فرمائے ہیں۔ ورنہ خدا کی یاد میں تو ہر وقت دل کو لگا رہنا چاہیے اور کبھی کسی وقت بھی غافل نہ ہونا چاہیے۔ اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ہر وقت اسی کی یاد میں غرق ہونا بھی ایک ایسی صفت ہے کہ انسان اس سے انسان کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے اور خدا تعالیٰ پر کسی طرح کی امید اور بھروسا کرنے کا حق رکھ سکتا ہے۔
نماز خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ ہے
اصل میں قاعدہ ہے کہ اگر انسان نے کسی خاص منزل پر پہنچنا ہے۔ اس کے واسطے چلنے کی ضرورت ہوتی ہے جتنی لمبی وہ منزل ہو گی اتنا ہی زیادہ تیزی، کوشش اور محنت اور دیر تک اسے چلنا ہو گا۔ سو خدا تک پہنچنا بھی تو ایک منزل ہے اور اس کا بُعد اور دوری بھی لمبی۔ پس جو شخص خدا سے ملنا چاہتا ہے اور اس کے دربار میں پہنچنے کی خواہش رکھتا ہے اس کے واسطے نماز ایک گاڑی ہے جس پر سوار ہو کر وہ جلد تر پہنچ سکتا ہے اور جس نے نماز ترک کر دی وہ کیا پہنچے گا۔
اصل میں مسلمانوں نے جب سے نماز کو ترک کیا یا اسے دل کی تسکین، آرام اور محبت سے اس کی حقیقت سے غافل ہو کر پڑھنا ترک کیا ہے تب ہی سے اسلام کی حالت بھی معرضِ زوال میں آئی ہے۔
وہ زمانہ جس میں نمازیں سنوار کر پڑھی جاتی تھیں غور سے دیکھ لو کہ اسلام کے واسطے کیسا تھا۔ ایک دفعہ تو اسلام نے تمام دنیا کو زیرِ پا کر دیا تھا جب سے اسے ترک کیا وہ خود متروک ہو گئے ہیں۔ دردِ دل سے پڑھی ہوئی نماز ہی ہے کہ تمام مشکلات سے انسان کو نکال لیتی ہے۔ ہمارا بارہا کا تجربہ ہے کہ اکثر کسی مشکل کے وقت دعا کی جاتی ہے ابھی نماز میں ہی ہوتے ہیں کہ خدا نے اس اَمر کو حل اور آسان کر دیا ہوا ہوتا ہے۔
نماز میں کیا ہوتا ہے یہی کہ عرض کرتا ہے۔ التجا کے ہاتھ بڑھاتا ہے اور دوسرا اس کی عرض کو اچھی طرح سنتا ہے پھر ایک ایسا وقت بھی ہوتا ہے کہ جو سنتا تھا وہ بولتا ہے اور گذارش کرنے والے کو جواب دیتا ہے۔ نمازی کا یہی حال ہے خدا کے آگے سر بسجود رہتا ہے اور خدا کو اپنے مصائب اور حوائج سناتا ہے۔ پھر آخر سچی اور حقیقی نماز کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ ایک وقت جلد آ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے جواب کے واسطے بولتا اور اس کو جواب دے کر تسلّی دیتا ہے۔ بھلا یہ بجز حقیقی نماز کے ممکن ہے؟ ہرگز نہیں۔ اور پھر جن کا خدا ہی ایسا نہیں وہ بھی گئے گذرے ہیں ان کا کیا دین اور کیا ایمان ہے۔ وہ کس امید پر اپنے اوقات ضائع کرتے ہیں۔
اسلام کے عروج وزوال کے حقیقی اسباب
ہمارے زمانہ میں جو سوال پیش ہوا کہ کیا وجوہات ہیں جن سے اسلام کو زوال آیا اور پھر وہ کیا ذریعے ہیں جن سے اس کی ترقی کی راہ نکل سکتی ہے۔ اس کے مختلف قسم کے لوگوں نے اپنے اپنے خیال کے مطابق جواب دیئے ہیں مگر سچا جواب یہی ہے کہ قرآن کو ترک کرنے سے تنزل آیا اور اسی کی تعلیم کے مطابق عمل کرنے سے ہی اس کی حالت سنور جاوے گی۔ موجودہ زمانہ میں جو ان کو اپنے خونی مہدی اور مسیح کی آمد کی امید اور شوق ہے کہ وہ آتے ہی ان کو سلطنت لے دے گا اور کفار تباہ ہوں گے یہ ان کے خام خیال اور وسوسے ہیں۔ ہمارا اعتقاد ہے کہ خدا نے جس طرح ابتدا میں دعا کے ذریعہ سے شیطان کو آدم کے ذریعہ زیر کیا تھا اسی طرح اب آخری زمانہ میں بھی دعا ہی کے ذریعہ سے غلبہ اور تسلّط عطا کرے گا نہ تلوار سے۔ ہر ایک اَمر کے لیے کچھ آثار ہوتے ہیں اور اس کے پہلے تمہیدیں ہوتی ہیں ’’ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات ‘‘بھلا اگر ان کے خیال کے موافق یہ زمانہ ان کے دن پلٹنے کا ہی تھا اور مسیح نے آکر ان کو سلطنت دلانی تھی تو چاہیے تھا کہ ظاہری طاقت ان میں جمع ہونے لگتی۔ ہتھیار ان کے پاس زیادہ رہتے۔ فتوحات کا سلسلہ ان کے واسطے کھولا جاتا۔ مگر یہاں تو بالکل ہی برعکس نظر آتا ہے ہتھیار ان کے ایجاد نہیں۔ ملک و دولت ہے تو اَوروں کے ہاتھ ہے۔ ہمّت و مَردانگی ہے تو اَوروں میں۔ یہ ہتھیاروں کے واسطے بھی دوسروں کے محتاج۔ دن بدن ذلّت اور ادبار ان کے گرد ہے۔ جہاں دیکھو جس میدان میں سنو انہیں کو شکست ہے۔ بھلا کیا یہی آثار ہوا کرتے ہیں اقبال کے؟ ہرگز نہیں یہ بھولے ہوئے ہیں۔ زمینی تلوار اور ہتھیاروں سے ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ابھی تو ان کی خود اپنی حالت ایسی ہے کہ بے دینی اور لا مذہبی کا رنگ ایسا آیا ہے کہ قابلِ عذاب اور موردِ قہر ہیں۔ پھر ایسوں کو ک بھی تلوار ملی ہے؟ ہرگز نہیں۔ ان کی ترقی کی وہی سچی راہ ہے کہ اپنے آپ کو قرآن کی تعلیم کے مطابق بناویں اور دعا میں لگ جاویں۔ ان کو اب اگر مدد آوے گی تو آسمانی تلوار سے اور آسمانی حربہ سے نہ اپنی کوششوں سے اور دعا ہی سے ان کی فتح ہے نہ قوتِ بازو سے۔ یہ اس لیے ہے کہ جس طرح ابتدا تھی انتہا بھی اسی طرح ہو۔ آدم اول کو شیطان پر فتح دعا ہی سے ہوئی تھی رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا(الاعراف:۲۴) اور آدم ثانی کو بھی جو آخری زمانہ میں شیطان سے آخری جنگ کرتا ہے اسی طرح دعا ہی کے ذریعہ سے فتح ہوگی۔۱؎،۲؎
۱، ۲۵ ؍مارچ ۱۹۰۳ء
(مجلس قبل ازعشاء)
ہمارا سب سے بڑا کام کسر صلیب ہے
حضرت اقدس نے جو حجرہ دعائیہ بنایا ہے اس کی نسبت فرمایا کہ ہمارا سب سے بڑا کام تو کسر صلیب ہے۔ اگر یہ کام ہو جاوے تو ہزاروں شبہات اور اعتراضات کا جواب خود بخود ہی ہو جاتا ہے اور اسی کے ادھورا رہنے سے سینکڑوں اعتراضات ہم پر وارد ہو سکتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ چالیس یا پچاس کتابیں لکھی ہیں مگر ان سے ابھی وہ کام نہیں نکلا جس کے لیے ہم آئے ہیں۔ اصل میں ان لوگوں نے جس طرح قدم جمائے اور اپنا دام فریب پھیلایا ہے وہ ایسا نہیں کہ کسی انسانی طاقت سے درہم برہم ہو سکے۔ دانا آدمی جانتا ہے کہ اس قوم کا تختہ کس طرح پلٹا جا سکتا ہے۔ یہ کام بجز خدائی ہاتھ کے انجام پذیر ہوتا نظر نہیں آتا۔ اسی واسطے ہم نے ان ہتھیاروں یعنی قلم کو چھوڑ کر دعا کے واسطے یہ مکان (حجرہ) بنوایا ہے کیونکہ دعا کا میدان خدا نے بڑا وسیع رکھا ہے اور اس کی قبولیت کا بھی اس نے وعدہ فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ مِّنۡ کُلِّ حَدَبٍ یَّنۡسِلُوۡنَ(الانبیآء:۹۷) اس اَمر کے اظہار کے واسطے کافی ہے کہ یہ کل دنیا کی زمینی طاقتوں کو زیر پا کریں گے ورنہ اس کے سوا اور کیا معنے ہیں؟ کیا یہ قومیں دیواروں اور ٹیلوں کو کودتی اور پھاندتی پھریں گی؟ نہیں بلکہ اس کے یہی معنے ہیں کہ وہ دنیا کی کل ریاستوں اور سلطنتوں کو زیر پا کر لیں گی اور کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہ کر سکے گی۔
فتح دعا کے ذریعہ ہو گی
واقعات جس اَمر کی تفسیر کریں وہی تفسیر ٹھیک ہوا کرتی ہے اس آیت کے معنے خدا تعالیٰ نے واقعات سے بتا دیئے ہیں ان کے مقابلہ میں اگر کسی قسم کی سیفی قوت کی ضرورت ہوتی تو اب جیسے کہ بظاہر اسلامی دنیا کے امیدوں کے آخری دن ہیں چاہیے تھا کہ اہل اسلام کی سیفی طاقت بڑھی ہوئی ہوتی اور اسلامی سلطنتیں تمام دنیا پر غلبہ پاتیں اور کوئی ان کے مقابل پر ٹھہر نہ سکتا مگر اب تو معاملہ اس کے برخلاف نظر آتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور تمہید یا عنوان کے یہ زمانہ ہے کہ ان کی فتح اور ان کا غلبہ دنیوی ہتھیاروں سے نہیں ہو سکے گا۔ بلکہ ان کے واسطے آسمانی طاقت کام کرے گی جس کا ذریعہ دعا ہے۔ غرضیکہ ہم نے اس لیے سوچا کہ عمر کا اعتبار نہیں ہے ساٹھ یا پینسٹھ سال عمر سے گذر چکے ہیں۔ موت کا وقت مقرر نہیں۔ خدا جانے کس وقت آ جاوے اور کام ہمارا ابھی بہت باقی پڑا ہے ادھر قلم کی طاقت کمزور ثابت ہوئی ہے۔ رہی سیف اس کے واسطے خدا تعالیٰ کا اذن اور منشا نہیں ہے لہٰذا ہم نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور اسی سے قوت پانے کے واسطے ایک الگ حجرہ بنایا اور خدا سے دعا کی کہ اس مسجد البیت اور بیت الدعا کو امن اور سلامتی اور اعدا پر بذریعہ دلائل نیّرہ اور براہین ساطع کے فتح کا گھر بنا۔ ہم نے دیکھا کہ اب ان مسلمانوں کی حالت تو خود موردِ عذاب اور شامتِ اعمال سے قہرِ الٰہی کے نزول کی محرّک بنی ہوئی ہ وئی ہ ے اور خدا کی نصرت اور اس کے فضل و کرم کی جاذب مطلق نہیں رہی۔ جب تک یہ خود نہ سنوریں تب تک خوشحالی کا منہ نہیں دیکھ سکتے۔ اعلاء کلمۃ اللہ کا ان کو فکر نہیں ہے خدا کے دین کے واسطے ذرا بھی سرگرمی نہیں۔ اس لیے خدا کے آگے دست دعا پھیلانے کا قصد کر لیا ہے کہ وہ اس قوم کی اصلاح کرے اور شیطان کو ہلاک کرے تا کہ خدا کا سچا نور دنیا پر دوبارہ چمک جاوے اور راستی کی عظمت پھیلے۔ بنی اسرائیل کی کتابوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ قوم فسق و فجور میں تباہ ہو جاتی اور اس کی توحید و جلال کو بالکل بھول جاتی تھی تو ان کے انبیاء اسی طرح جنگلوں اور الگ مکانوں میں دست بدعا ہوتے تھے اور خدا کی رحمت کے تخت کو جنبشں دیا کرتے تھے۔ دنیا کو علم نہیں ہے کہ آجکل عیسائی کیا کر رہے ہیں مسلمانوں کی کس قدر ذرّیت کو انہوں نے برباد کیا ہے۔ کس قدر خاندان ان کے ہاتھوں سے نالاں ہیں گویا دنیا کا تختہ بالکل پلٹ گیا ہے۔ اب خدا کی غیرت نے نہ چاہا کہ اس کی توحید اور جلال کی ہتک ہو اور اس کے رسول کی زیادہ بے عزّتی کی جاوے۔ اس کی غیرت نے تقاضا کیا کہ اپنے نور کو اب روشن کرے اور سچائی اور حق کا غلبہ ہو سو اس نے مجھے بھیجا اور اب میرے دل میں تحریک پیدا کی کہ میں ایک حجرہ بیت الدعا صرف دعا کے واسطے مقرر کروں اور بذریعہ دعا کے اس فساد پر غالب آؤں تا کہ اول آخر سے مطابق ہو جاوے اور جس طرح سے پہلے آدم کو دعا ہی کے ذریعے سے شیطان پر فتح نصیب ہوئی تھی اب آخری آدم کے مقابل پر آخری شیطان پر بھی بذریعہ دعا کے فتح ہو۔۱؎
۲۶ ؍مارچ ۱۹۰۳ء۱؎
(بوقتِ سیر)
رفع یدین
رفع یدین کے متعلق فرمایا کہ اس میں چنداں حرج نہیں معلوم ہوتا، خواہ کوئی کرے یا نہ کرے احادیث میں بھی اس کا ذکر دونوں طرح پر ہے اور وہابیوں اور سنیوں کے طریق عمل سے بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ کیونکہ ایک تو رفع یدین کرتے ہیں اور ایک نہیں کرتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی وقت رفع یدین کیا اور بعد ازاں ترک کر دیا۔
وتر
فرمایا کہ اکیلا ایک وتر کہیں سے ثابت نہیں ہوتا۔ وتر ہمیشہ تین ہی پڑھنے چاہئیں۔ خواہ تینوں اکٹھے ہی پڑھ لیں خواہ دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر لیں اور پھر ایک رکعت الگ پڑھی جاوے۔
قبض و بسط
بابو نبی بخش صاحب احمدی کلرک لاہور نے عرض کی کہ بعض وقت تو دل میں خود بخود ایک ایسی تحریک پیدا ہوتی ہے کہ طبیعت عبادت کی طرف راغب ہوتی ہے اور قلب میں ایک عجیب فرحت اور سرور محسوس ہوتا ہے اور بعض وقت یہ حالت ہوتی ہے کہ نفس پر جبر اور بوجھ ڈالنے سے حلاوت پیدا نہیں ہوتی اور عبادت ایک بارگراں معلوم ہوتی ہے حضرت اقدس نے فرمایا کہ اسے قبض اور بسط کہتے ہیں قبض اس حالت کا نام ہے جب کہ ایک غفلت کا پردہ اس کے دل پر چھا جاتا ہے اور خدا کی طرف محبت کم ہوتی ہے اور طرح طرح کے فکر اور رنج اور غم اور اسباب دنیوی میں مشغول ہو جاتا ہے اور بسط اس کا نام ہے کہ انسان دنیا سے دل برداشتہ ہو کر خدا کی طرف رجوع کرے اور موت کو ہر وقت یاد رکھے۔ جب تک اس کو اپنی موت بخوبی یاد نہیں ہوتی وہ اس حالت تک نہیں پہنچ سکتا۔ موت تو ہر وقت قریب آتی جاتی ہے کوئی آدمی ایسا نہیں جس کے قریبی رشتہ دار فوت نہیں ہو چکے اور آجکل تو وبا سے گھر کے گھر صاف ہوتے جاتے ہیں اور موت کے لیے طبیعت پر زور دے کر سوچنے کی حاجت ہی نہیں رہی۔
یہ حالتیں قبض اور بسط کی اس شخص کو پیدا ہوتی ہیں جس کو موت یاد نہیں ہوتی کیونکہ تجربہ سے دیکھا گیا ہے کہ بعض دفعہ انسان قبض کی حالت میں ہوتا ہے اور ایک ناگہانی حادثہ پیش آجانے سے وہ حالتِ قبض معاً دور ہو جاتی ہے جیسے کوئی زلزلہ آجاوے یا موت کا حادثہ ہو جاوے تو ساتھ ہی اس کا انشراح ہو جاتا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قبض اصل میں ایک عارضی شَے ہے جو کہ موت کے بہت یاد کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا پیوست ہو جانے سے دور ہو جاتی ہے اور پھر بسط کی حالت دائمی ہو جاتی ہے عارفوں کو قبض کی حالت بہت کم ہوتی ہے۔ نادان انسان سمجھتا ہے کہ دنیا بہت دیر رہنے کی جگہ ہے میں پھر نیکی کر لوں گا۔ اس واسطے غلطی کرتا ہے اور عارف سمجھتا ہے کہ آج کا دن جو ہے یہ غنیمت ہے خدا معلوم کل زندگی ہے کہ نہیں۔
ایک رؤیا
میں اس مکان کی طرف سے مسجد کی طرف چلا جا رہا ہوں۔ میں نے ایک شخص کو آتے ہوئے دیکھا جو کہ ایک سکھ کی طرح معلوم ہوتا تھا جس طرح سے اکالئے اور کو کہ سکھ ہوتے ہیں۔ اس کے ہاتھ میں ایک بہت تیز خوفناک بڑا اور چوڑا چھرا تھا اور اس چھرے کا دستہ چھوٹا سا تھا وہ چھرا بڑا ہی تیز معلوم ہوتا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا گویا وہ اس سے لوگوں کو قتل کرتا پھرتا تھا۔ جہاں اس نے چھرا رکھا اور گردن اڑ گئی۔ کچھ اس طرح معلوم ہوتا تھا جس طرح میں نے لیکھرام کے وقت میں ایک آدمی خواب میں دیکھا تھا اس کی صورت بڑی ڈراؤنی تھی اور بڑا ہی دہشت ناک آدمی معلوم ہوتا تھا۔ مجھے بھی اس سے خوف معلوم ہوا اور میں نے اس کی طرف جانا نہ چاہا لیکن میرے پاؤں بہت بوجھل ہو گئے اور میں بڑا ہی زور لگا کر ادھر سے نکلا لیکن اس نے میری مزاحمت نہ کی اور اگرچہ مجھ کو اس سے خوف معلوم ہوا لیکن اس نے مجھ کو کوئی تکلیف نہ دی اور پھر وہ خبر نہیں کہ کس طرف کو نکل گیا۔
ایک اور رؤیا
ایک حنائی رنگ کا کاغذ لکھا ہوا دوورقہ کاغذ کچھ تھوڑے فاصلہ پر گر پڑا ہے میں نے ایک ہندو کو کہا کہ اس کو پکڑو۔ جب وہ پکڑنے لگا تو وہ کاغذ کچھ تھوڑی دور آگے جا پڑا... پھر وہ ہندو اٹھانے لگا تو وہ وہاں سے اڑ کر اور آگے جا پڑا لیکن وہ دو ورقہ اس طرح کچھ ترتیب سے کھل کر اڑتا رہا ہے کہ اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ کوئی جاندار چیز ہے جب وہ کچھ فاصلہ تک چلا گیا تو وہ ہندو وہاں جا کر پھر اس کو پکڑنے لگا تب وہ دو ورقہ اڑ کر میرے پاس آگیا تو اس وقت میری زبان سے یہ کلمہ نکلا جس کا تھا اس کے پاس آگیا۔ پھر میں نے اس کو مخاطب ہو کر کہا کہ ہم وہ قوم ہیں جو روح القدس کے بلائے بولتے ہیں ہم وہ قوم ہیں جن کے حق میں خدا نے فرمایا ہے لَنَفَخْنَا فِیْـھِمْ مِّنْ صِدْقِنَا فقط۔
اسلامی خدمات کسی دوسرے سے اللہ تعالیٰ لینا ہی نہیں چاہتا۔ شاید دوسرا اس میں کچھ غلطی بھی کرے۔ واللہ اعلم۔ جو شخص اسلام کے عقائد کا منافی ہے وہ اسلام کی تائید کیا کرے گا۔
سناتن دھرم میں اس طرح کے بھی آدمی ہوتے ہیں کہ وہ کسی فرقہ کے مکذب نہیں ہوتے اور معمولی چیزوں کے آگے بھی ہاتھ جوڑتے پھرتے ہیں۔
خدا نہیں چاہتا کہ جو سلسلہ اس نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے اس کا کوئی شریک ہو یہاں سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا کاغذ ہمارے پاس آگیا۔۱؎
آیا تِ مبین
میرے نزدیک آیات مبین وہ ہوتی ہیں مخالف جس کے مقابلہ سے عاجز ہو جاوے خواہ وہ کچھ ہی ہو جس کا مخالف مقابلہ نہ کر سکے وہ اعجاز ٹھہر جائے گا جب کہ اس کی تحدی کی گئی ہو۔
یاد رکھنا چاہیے کہ اقتراح کے نشانوں کو اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے نبی کبھی جرأت کر کے یہ نہیں کہے گا کہ تم جو نشان مجھ سے مانگو میں وہی دکھانے کو طیار ہوں۔ اس کے منہ سے جب نکلے گا یہی نکلے گا اِنَّمَا الۡاٰیٰتُ عِنۡدَ اللّٰہِ(الانعام:۱۱۰) اور یہی اس کی صداقت کا نشان ہوتا ہے۔ کم نصیب مخالف اس قسم کی آیتوں سے یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ معجزات سے انکار کیا گیا ہے مگر وہ آنکھوں کے اندھے ہیں ان کو معجزات کی حقیقت ہی معلوم نہیں ہوتی اس لیے وہ ایسے اعتراض کرتے ہیں اور نہ ذات باری کی عزّت اور جبروت کا ادب ان کے دل پر ہوتا ہے۔ ہمارا خدا تعالیٰ پر کیا حق ہے کہ ہم جو کہیں وہ وہی کر دے۔ یہ سوءِ ادب ہے۔ اور ایسا خدا خدا ہی نہیں ہوسکتا۔ ہاں یہ اس کا فضل ہے کہ اس نے ہم کو امید اور حوصلہ دلا یا کہ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ(المؤمن:۶۱) یہ نہیں کہا کہ تم جو مانگو گے وہی دیا جاوے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بعض اقترا حی نشانات مانگے گئے تو آپ نے یہی خدا کی تعلیم سے جواب دیا قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا(بنی اسرآءیل:۹۴) خدا کے رسول کبھی اپنی بشریت کی حد سے نہیں بڑھتے اور وہ آداب الٰہی کو مد نظر رکھتے ہیں یہ باتیں منحصر ہیں معرفت پر جس قدر معرفت بڑھی ہوئی ہوتی ہے اسی قدر خدا تعالیٰ کا خوف اور خشیت دل پر مستولی ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر معرفت انبیاء علیہم السلام ہی کی ہوتی ہے۔ اس لیے ان کی ہر بات اور ہر ادا میں بشریت کا رنگ جدا نظر آتا ہے اور تائیدات الٰہیہ الگ نظر آتی ہیں۔
ہمارا ایمان ہے کہ خدا تعالیٰ نشان دکھاتا ہے جب چاہتا ہے۔ وہ دنیا کو قیامت بنانا نہیں چاہتا۔ اگر وہ ایسا کھلا ہوا ہو کہ جیسے سورج تو پھر ایمان کیار ہا؟ اور اس کا ثواب کیا؟ ایسی صورت میں کون بد بخت ہوگا جو انکار کرے گا؟ نشان بیّن ہوتے ہیں مگر ان کو باریک بیں دیکھ سکتے ہیں اور کوئی نہیں اور یہ دقت نظر اور معرفت سعادت کی وجہ سے عطا ہوتی ہے اور تقویٰ سے ملتی ہے شقی اور فاسق اس کو نہیں دیکھ سکتا۔ ایمان اس وقت تک ایمان ہے جب تک اس میں کوئی پہلو اِخفا کا بھی ہو لیکن جب بالکل پردہ برانداز ہو تو وہ ایمان نہیں رہتا اگر مٹھی بند ہو اور کوئی بتاوے کہ اس میں یہ ہے تو اس کی فراست قابل تعریف ہوسکتی ہے لیکن جب مٹھی کھول کر دکھادی اور پھر کسی نے کہا کہ میں بتا دیتا ہوں تو کیا ہوا؟ یا پہلی رات کا چاند اگر کوئی دیکھ کر بتائے تو البتہ اسے تیز نظر کہیں گے۔ لیکن جب چودھویں کا چاند ہو گیا اس وقت کوئی کہے کہ میں نے چاند دیکھ لیا وہ چڑھا ہوا ہے تو لوگ اس کو پاگل کہیں گے۔
معجزہ
غرض معجزات وہی ہوتے ہیں جس کی نظیر لانے پر دوسرے عاجز ہوں۔ انسان کا یہ کام نہیں کہ وہ ان کی حد بند کرے کہ ایسا ہونا چاہیے یا ویسا ہونا چاہیے۔ اس میں ضرور ہے کہ بعض پہلو اخفا کے ہوں کیونکہ نشانات کے ظاہر کرنے سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ایمان بڑھے اور اس میں ایک عرفانی رنگ پیدا ہو جس میں ذوق ملا ہوا ہو لیکن جب ایسی کھلی باتیں ہوں گی تو اس میں ایمانی رنگ ہی نہیں آسکتا چہ جائیکہ عرفانی اور ذوقی رنگ ہو۔ پس اقتراحی نشانات سے اس لیے منع کیا جاتا ہے اور روکا جاتا ہے کہ اس میں پہلی رگ سوءِ ادبی کی پیدا ہو جاتی ہے جو ایمان کی جڑ کاٹ ڈالتی ہے۔۱؎
نشانات کس سے صادرہوتے ہیں
اس سوال کا جواب حضرت حجۃ اللہ علیہ السلام نے ایک بار اپنی ایک مختصر سی تقریر میں دیا ہے۔
فرمایا۔ نشانات کس سے صادر ہوتے ہیں؟ جس کے اعمال بجائے خود خوارق کے درجہ تک پہنچ جائیں مثلاً ایک شخص خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کرتا ہے وہ ایسی وفاداری کرے کہ اس کی وفا خارقِ عادت ہو جاوے۔ اس کی محبت، اس کی عبادت خارقِ عادت ہو۔ ہر شخص ایثار کر سکتا ہے اور کرتا بھی ہے لیکن اس کا ایثار خارقِ عادت ہو غرض اس کے اخلاق، عبادات اور سب تعلقات جو خدا تعالیٰ کے ساتھ رکھتا ہے اپنے اندر ایک خارقِ عادت نمونہ پیدا کریں تو چونکہ خارق عادت کا جواب خارقِ عادت ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر نشانات ظاہر کرنے لگتا ہے۔ پس جو چاہتا ہے کہ اس سے نشانات کا صدور ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنے اعمال کو اس درجہ تک پہنچائے کہ ان میں خارقِ عادت نتائج کے جذب کی قوت پیدا ہونے لگے۔ انبیاء علیہم السلام میں یہی ایک نرالی بات ہوتی ہے کہ ان کا تعلق اندرونی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا شدید ہوتا ہے کہ کسی دوسرے کا ہرگز نہیں ہوتا۔ ان کی عبودیت ایسا رشتہ دکھاتی ہے کہ کسی اور کی عبودیت نہیں دکھا سکتی۔ پس اس کے مقابلہ میں ربوبیت اپنی تجلّی اور اظہار بھی اسی حیثیت اور رنگ کا کرتی ہے۔ عبودیت کی مثال عورت کی سی ہوتی ہے کہ جیسے وہ حیا و شرم کے ساتھ رہتی ہے اور جب مَرد بیاہنے جاتا ہے تو وہ اعلانیہ جاتا ہے اسی طرح پر عبودیت پردہ اخفا میں ہوتی ہے لیکن اُلُوہیّت جب اپنی تجلّی کرتی ہے تو پھر وہ ایک بیّن اَمر ہو جاتا ہے اور ان تعلقات کا جو ایک سچے مومن اور عباد اور اس کے رب میں ہوتے ہیں خارق عادت نشانات کے ذریعہ ظہور ہوتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے معجزات کا یہی راز ہے اور چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلقات اللہ تعالیٰ کے ساتھ کل انبیاء علیہم السلام سے بڑھے ہوئے تھے اس لیے آپؐ کے معجزات بھی سب سے بڑھے ہوئے ہیں۔۱؎
۲۸ ؍مارچ ۱۹۰۳ء
بچپن کی عمر پر ذکر ہوا فرمایا کہ
انسان اور بہائم میں فرق
انسان کی فطرت میں یہ بات ہے کہ وہ رفتہ رفتہ ترقی کرتا ہے۔ بچوں میں عادت ہوتی ہے کہ جھوٹ بولتے ہیں۔ آپس میں گالی گلوچ ہوتے ہیں۔ ذرا ذرا سی باتوں پر لڑتے جھگڑتے ہیں۔ جوں جوں عمر میں وہ ترقی کرتے جاتے ہیں عقل اور فہم میں بھی ترقی ہوتی جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ انسان تزکیۂ نفس کی طرف آتا ہے۔
انسان کی بچپن کی حالت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ گائے بیل وغیرہ جانوروں ہی کی طرح انسان بھی پیدا ہوتا ہے۔ صرف انسان کی فطرت میں ایک نیک بات یہ ہوتی ہے کہ وہ بدی کو چھوڑ کر نیکی کو اختیار کرتا ہے اور یہ صفت انسان میں ہی ہوتی ہے۔ کیونکہ بہائم میں تعلیم کا مادہ نہیں ہوتا۔ سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی ایک قصہ نظم میں لکھا ہے کہ ایک گدھے کو ایک بیوقوف تعلیم دیتا تھا اور اس پر شب و روز محنت کرتا۔ ایک حکیم نے اسے کہا کہ اے بیوقوف تو یہ کیا کرتا ہے؟ اور کیوں اپنا وقت اور مغز بے فائدہ گنواتا ہے؟ یعنی گدھا تو انسان نہ ہوگا تو بھی کہیں گدھا نہ بن جاوے۔
در حقیقت انسان میں کوئی ایسی الگ شئے نہیں ہے جو کہ اور جانوروں میں نہ ہو۔ عموماً سب صفات درجہ وار تمام مخلوق میں پائے جاتے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ انسان اپنے اخلاق میں ترقی کرتا ہے اور حیوان نہیں کرتا۔
اخلاق کی حقیقت
دیکھو! ارنڈ کا تیل اور کھانڈ کیسے غلیظ ہوتے ہیں لیکن جب خوب صاف کیا جاوے تو مصفّٰی ہوکر خوش نما ہو جاتے ہیں۔ یہی حال اخلاق اور صفات کا ہے۔ اصل میں صفات کل نیک ہوتے ہیں جب ان کو بے موقع اور ناجائز طور پر استعمال کیا جاوے تو وہ برے ہو جاتے ہیں اور ان کو گندہ کر دیا جاتا ہے لیکن جب ان ہی صفات کو افراط تفریط سے بچا کر محل اور موقع پر استعمال کیا جاوے تو ثواب کے موجب ہو جاتے ہیں۔ قرآن مجید میں ایک جگہ فرمایا ہے شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ(الفلق:۶) اور دوسری جگہ وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ(التوبۃ:۱۰۰) اب سبقت لے جانا بھی تو ایک قسم کا حسد ہی ہے سبقت لے جانے والا کب چاہتا ہے کہ اس سے اور کوئی آگے بڑھ جاوے۔ یہ صفت بچپن ہی سے انسان میں پائی جاتی ہے اگر بچوں کو آگے بڑھنے کی خواہش نہ ہو تو وہ محنت نہیں کرتے اور کوشش کرنے والے کی استعداد بڑھ جاتی ہے سابقون گویا حاسد ہی ہوتے ہیں لیکن اس جگہ حسد کا مادہ مصفّٰی ہوکر سابق ہوجاتا ہے اسی طرح حاسد ہی بہشت میں سبقت لے جاویں گے۔
اسی طرح سے غضب اگر موقع اور محل پر استعمال کیا جاوے تو وہ ایک صفت محمود ہے وہ انسان ہی کیا ہے جسے مستورات کی عصمت کی محافظت کے لیے بھی غضب نہ پیدا ہوتا ہو۔ حضرت عمرؓ میں غضب اور غصہ بہت تھا۔ مسلمان ہونے کے بعد کسی نے آپ سے پوچھا کہ اب وہ غضب اور غصہ کہاں گیا؟ فرمایا کہ غضب تو اسی طرح میرے میں ہے لیکن آگے بےمحل اور بے موقع اور ظلم کے رنگ میں تھا اور اب محل اور موقع پر استعمال ہوتا ہے اب انصاف کے رنگ میں ہے۔
صفات بدلتے نہیں ہیں ہاں ان میں اعتدال آ جاتا ہے۔ اسی طرح گلہ کرنا نا جائز ہے لیکن استاد یا ماں باپ اگر گلہ کریں تو وہ قابل مذمت نہیں کیونکہ مرشد، استاد یا باپ اگر گلہ کرتے ہیں تو وہ اس کی ترقی کے لیے گلہ کرتے ہیں اور اس کے عیوب کو اس کے لیے بیان کرتے ہیں تا کہ عبرت ہو اور اس کے اعمال میں اصلاح ہو۔ ایسے ہی چوری بھی ایک بری صفت ہے لیکن اگر اپنے دوستوں کی چیز بلا اجازت استعمال کر لی جاوے تو معیوب نہیں (بشرطیکہ دوست ہوں۔
کما ل دوستی کا ایک واقعہ
دو شخصوں میں باہمی دوستی کمال درجہ کی تھی اور ایک دوسرے کا محسن تھا۔ اتفاقاً ایک شخص سفر میں گیا دوسرا اس کے بعد اس کے گھر میں آیا اور اس کی کنیز سے دریافت کیا کہ میرا دوست کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ سفر کو گیا ہے پھر اس نے پوچھا کہ اس کے روپے والے صندوق کی چابی تیرے پاس ہے؟ کنیز نے کہا کہ میرے پاس ہے اس نے کنیز سے وہ صندوق منگوا کر چابی لی اور خود کھول کر کچھ روپیہ اس میں سے لے گیا جب کہ صاحب خانہ سفر سے واپس آیا تو کنیز نے کہا کہ آپ کا دوست گھر میں آیا تھا۔ یہ سن کر صاحب خانہ کا رنگ زرد ہو گیا اور اس نے پوچھا کہ کیا کہتا تھا؟ کنیز نے کہا کہ اس نے مجھ سے صندوق اور چابی منگوا کر خود آپ کا روپیہ والا صندوق کھولا اور اس میں سے روپیہ نکال کر لے گیا۔ پھر تو وہ صاحب خانہ اس کنیز پر اس قدر خوش ہوا کہ بہت ہی پھولا اور صرف اس صلہ میں کہ اس نے اس کے دوست کا کہا مان لیا اس کو ناراض نہیں کیا۔ اس کنیز کو اس نے آزاد کر دیا اور کہا کہ اس نیک کام کے اجر میں جو کہ تجھ سے ہوا ہے میں آج ہی تجھ کو آزاد کرتا ہوں۔
غرض جس قدر یہ جرائم ہیں جن کی نواہی کی شریعت میں تاکید ہے مثلاً گلہ نہ کرو، چوری نہ کرو وغیرہ وغیرہ یہ سب صفات بد استعمال کی وجہ سے خراب ہو گئے ہیں۔ ورنہ حقیقتاً ان کا موقع اور محل پر استعمال درست اور انسان کی فطرت کے مطابق ہے۔ عفو ایک موقع پر تو قابل استعمال ہوتا ہے اور بعض موقع پر قابل ترک۔ کیونکہ اگر کسی مجرم کو بار بار عفو ہی کر دیا جاوے تو وہ اور زیادہ بے باک ہو کر جرم کرے گا۔ ایسے موقع پر اس سے انتقام لینا ہی عفو ہوتا ہے۔
انجیل کی غیرمتوازن تعلیم
انجیل کی تعلیم میں جو کہ بعض جگہ زیادہ نرمی کی ہدایت ہے اس کا بھی یہی مقصود ہوگا کیونکہ وہ تو صرف یہود کے لیے ہے (اس کی تمام تعلیم بالمقصود تھی) جو کہ سخت سرکش اور ظالم طبع لوگ تھے۔ اس مسئلہ کو آج کل لوگوں نے خوب سمجھ لیا ہے برہمو لوگوں نے بھی اس پر اعتراض کئے ہیں میں نے ایک برہمو کی کتاب میں دیکھا وہ لکھتا ہے کہ تمام عمر مار ہی کھاتے جانا اور ہمیشہ طمانچے کھانا بلکہ ایک گال زخمی کرا کر دوسری گال بھی پھیر دینا یہ کہاں کا انصاف ہے؟ دوم انسان اس پر عمل کب کر سکتا ہے اور نہ کسی سے آج تک اس طرح کے عفو پر عمل ہو سکا۔ انجیل کی اس تعلیم کے متبع عیسائی لوگ کبھی بھی اس مسئلہ پر عمل نہ کر سکے۔ آج کسی عیسائی کو ایک بات کہو جو کہ اس کی مرضی کے بر خلاف ہو پھر دیکھو وہ کتنی سناتا ہے اور عدالت کی طرف دوڑتا ہے کہ نہیں۔ بعض نادان عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح کی اس تعلیم سے یہ مقصود ہے کہ مار اور طمانچہ کھا کر عرضی ڈال دو اور عدالت سے چارہ جوئی کرو۔ لیکن اتنا نہیں سوچتے کہ اگر کسی شخص نے ایک عیسائی کو طمانچہ مار کر اس کے دانت نکال دئیے پھر اس نے حسب حکم شریعت دوسری گال آگے کی اور اس نے ادھر کے بھی دانت نکال دئیے کیونکہ دشمن کا طمانچہ کوئی پیار کا طمانچہ تو نہ ہوگا وہ تو تمام قوت سے طمانچہ مارے گا اب جب دونوں طرف کے دانت نکل گئے تو پھر عدالت میں جانے سے وہ دانت کیا واپس لگ جاویں گے؟ اگر مجرم کو سزا بھی ہو گی تو اس کو کیا ملے گا؟ جو ساری عمر کے لیے ایک نعمت سے محروم ہو کر عمدہ کھانے پینے بولنے کی لذّات سے جاتا رہا۔
ایسے ہی اگر ایک بدکار کسی عیسائی کی عورت پر نا جائز حملہ کرنا چاہے تو وہ عیسائی اس وقت تو اس کا مزاحم نہ ہو مگر بعد میں عدالت کے ذریعے چارہ جوئی کرے اور گواہ اور ثبوت دیتا پھرے عجب تعلیم ہے۔
پھر ذکر ہوا کہ بلادِ یورپ اور امریکہ اور جرمن وغیرہ میں آج کل ایک عجیب تحریک پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔ لوگ خود بخود ہی ان خیالات فاسدہ سے دست کش ہوتے جاتے ہیں اور ان کی تجویز ہے کہ ان تثلیث اور کفارہ کے بے دلیل خیالات کو مہذب دنیا سے اُڑا کر با دلیل اور آزادی پسند خیالات نوجوانوں کے آگے پیش کئے جاویں۔
توحید کے قیام کے آثار
فرمایا کہ اب خدا چاہتا ہے کہ اس کی توحید دنیا میں قائم ہو اور اسی کا تصرف تمام دنیا پر اور لوگوں کے دلوں پر رہے اور کوئی کام نہیں ہو سکتا جب تک کہ خدا تعالیٰ نہ چاہے۔ اس زمانہ میں ان تمام پرانی، جہالت کے زمانہ کی غلطیوں کا اس طرح خود بخود ظاہر ہو جانا یہ بھی ایک مسیح موعودؑ کے زمانہ کی نشانی ہے تا کہ زمانہ کی حالت بھی ایسی ہو کہ وہ مسیح موعود کی تائید کرے جب خدا کسی بات کو چاہتا ہے کہ وہ ہو جاوے تو وہ تمام زمانہ کو اس کی طرف پھیر دیتا ہے پھر ہر طرف سے اس کی تائید ہی تائید ظاہر ہوتی ہے کیا زمین کیا آسمان گویا سب ہی اس کی خدمت میں لگ جاتے ہیں۔ اگر زمین کسی اور طرف رجوع کرے اور آسمان کسی اور طرف تو پھر حالت ٹھیک نہیں رہتی۔ اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ ہماری تائید کرے اور چاہتا ہے کہ ہر قسم کے شرک، کفر اور بطلان کو ذلیل کر کر توحید کی سچائی کو دنیا میں قائم کرے۔ اسی لیے اس نے تمام زمانہ میں ایک عجیب تحریک پیدا کر دی ہے اور ہر ایک طرف سے ہماری ہی تائید نظر آتی ہے مثلاً ایک ذراسی آگ تمام جہان کے جلانے کے لیے کافی ہے۔ اسی طرح زمانہ میں یہ آگ لگ گئی ہے اور اب تو یہ ہوا چل رہی ہے کہ ان کے دلوں میں پھونک دیا گیا ہے کہ وہ ان تمام پرانے اور بے معنے بلکہ غیر معقول خیالات سے خود بخود بیزار ہو کر حقیقت اور راستی کے جو یاں ہو جاویں۔ جیسے اب جرمن کے بادشاہ کے مذہب میں سخت انقلاب ہوا ہے۔ یہی ایک کافی مثال ہے۔ جب سلاطین کے دل میں اللہ کریم نے ایسے ایسے خیالات ڈال دئیے ہیں تو رعیّت کا تو بہت سا حصہ ایسا بھی ہوتا ہے جو کہ بادشاہ کے مذہب کے ہوتے ہیں اور اپنے بادشاہ کے اشاروں پر چلتے ہیں۔
اللہ کی شان ہے کہ ایک زمانہ میں تو حضرت مسیح کی حد سے زیادہ اور مبالغہ سے بڑھ کر تعریف کی گئی تھی اور اب اس کا ر دّ درود یوار سے خود بخود عیاں ہوتا جاتا ہے۔
(مجلس قبل از عشاء)
حضرت ابوطالب کی نجات
بعض لوگ جو کہ غیر مذاہب میں برائے نام ہوتے ہیں مگر خلوص دل سے وہ اسلام کے مداح ہوتے ہیں ان کے ذکر پر فرمایا کہ ابی طالب کی بھی ایسی ہی حالت تھی۔ خدا تعالیٰ کی یہ عادت نہیں ہے کہ ایک خبیث اور شریر کو ایک ادب اور لحاظ کرنے والے کے برابر کر دیوے۔ اگر اس نے بظاہر تو مذہب قبول نہیں کیا مگر بزرگ سالی کی رعونت اس میں نہ تھی۔ احادیث میں بھی اس قدر تحقیقات کہیں نہیں ہوئی ہے ممکن ہے کہ اس نے کبھی کلمہ پڑھ دیا ہو۔ بجز اعتقاد کے محبت نہیں ہوا کرتی۔ اول عظمت دل میں بیٹھتی ہے پھر محبت ہوتی ہے۔
سادہ خوراک
ایک ذکر پر فرمایا کہ ایک سال سے زیادہ عرصہ گذرا ہے کہ میں نے گوشت کا منہ نہیں دیکھا ہے اکثر مسی روٹی (بیسنی )یا اچار اور دال کے ساتھ کھا لیتا ہوں آج بھی اچار کے ساتھ روٹی کھائی ہے۔
نسخ
فرمایا کہ ایک سالک کی عمر میں نسخ ہوتا رہتا ہے۔ انبیاء کی زندگی میں بھی نسخ ہوتا ہے اسی لیے اول حالت آخر حالت کے ساتھ مطابق نہیں ہوا کرتی۔ جسمانی حالتوں میں بھی نسخ دیکھا جاتا ہے۔۱؎
۲۹؍مارچ۱۹۰۳ء
(مجلس قبل از عشاء)
عصمت انبیاء
فرمایا۔ صلیب چونکہ جرائم پیشہ کے واسطے ہے۔ اس واسطے نبی کی شان سے بعید ہے کہ اسے بھی صلیب دی جاوے۔ اس لیے توریت میں لکھا تھا کہ جو کاٹھ پر لٹکایا جائے وہ ملعون ہے۔ آتشک وغیرہ جو خبیث امراض خبیث لوگوں کو ہوتے ہیں اس سے بھی انبیاء محفوظ رہتے ہیں۔ نفس قتل انبیاء کے لئے معیوب نہیں ہے مگر کسی نبی کا قتل ہونا ثابت نہیں ہے جس آلہ سے خبیث قتل ہو اس آلہ سے نبی قتل نہیں ہوتا۔
خوش خطی
خوش خطی پر ذکر ہوا فرمایا کہ حسن تناسب اعضا کا نام ہے جب تک یہ نہ ہو ملاحت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے اپنی صفت فَسَوّٰٮکَ فَعَدَلَکَ(الانفطار:۸) فرمائی ہے عَدَلَکَ کے معنے تناسب کے ہیں کہ نسبتی اعتدال ہر جگہ ملحوظ رہے۔۲؎
۳۰؍ مارچ ۱۹۰۳ء
بعد ادائے نماز مغرب ایک صاحب نے کسی شخص غیر حاضر کی طرف سے مسئلہ دریافت کیا کہ اس نے غصّہ میں اپنی عورت کو طلاق دی ہے اور لکھ بھی دی ہے مگر ایک ہفتہ کے قریب گذرنے پر وہ رجوع کرنا چاہتا ہے اس میں کیا ارشاد ہے؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ
جب تک وہ شخص خود حاضر ہو کر بیان نہ کرے ہم نہیں فتویٰ دے سکتے۔۱؎
صدقات اور دعا
لوگ اس نعمت سے بے خبر ہیں کہ صدقات، دعا اور خیرات سے رد بلا ہوتا ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو انسان زندہ ہی مَر جاتا۔ مصائب اور مشکلات کے وقت کوئی اُمید اس کے لیے تسلّی بخش نہ ہوتی مگر نہیں اسی نے لَا یُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ(اٰل عمران:۱۰) فرمایا ہے لَا یُخْلِفُ الْوَعِیْدَ نہیں فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے وعید معلّق ہوتے ہیں جو دعا اور صدقات سے بدل جاتے ہیں اس کی بے انتہا نظیریں موجود ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو انسان کی فطرت میں مصیبت اور بَلا کے وقت دعا اور صدقات کی طرف رجوع کرنے کا جوش ہی نہ ہوتا۔
جس قدر راست باز اور نبی دنیا میں آئے ہیں خواہ وہ کسی ملک اور قوم میں آئے ہوں مگر یہ بات ان سب کی تعلیم میں یکساں ملتی ہے کہ انہوں نے صدقات اور خیرات کی تعلیم دی۔ اگر خدا تعالیٰ تقدیر کے محو و اثبات پر قادر نہیں تو پھر یہ ساری تعلیم فضول ٹھہر جاتی ہے اور پھر ماننا پڑے گا کہ دعا کچھ نہیں اور ایسا کہنا ایک عظیم الشان صداقت کا خون کرنا ہے۔ اسلام کی صداقت اور حقیقت دعا ہی کے نکتہ کے نیچے مخفی ہے کیونکہ اگر دعا نہیں تو نماز بے فائدہ، زکوۃ بے سود اور اسی طرح سب اعمال معاذ اللہ لغو ٹھہرتے ہیں۔
ہمارا بھروسا خدا پر ہے
ہمارے مخالف ہر طرف سے کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے نابود کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں۔ ہر قسم کی تدبیریں اور منصوبے کرتے ہیں مگر ان کو معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ پہلے ہی ہم کو تسلّی دے چکا ہے وَمَکَرُوۡا وَمَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَاللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ(اٰل عمران:۵۵) خدا کے ساتھ لڑ کر کبھی کوئی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ان کا بھروسا اپنی تدابیر اور حیل پر ہے اور ہمارا خدا پر۔
استقامت و صبر
کوئی مشکل مشکل اور کوئی مصیبت مصیبت رہ سکتی ہی نہیں اگر کوئی شخص استقامت اور صبر اپنا شیوہ کر لے اور خدا تعالیٰ پر توکّل اور بھروسا کرے۔
خدا داری چہ غم داری
نشانات کا ظہور
نشانات جو ظاہر ہوتے ہیں یہ اسی طرح ظاہر ہوتے ہیں جیسے ایک بچہ پیدا ہوتا ہے۔ ایک رات تک تو ماں خیال کرتی ہے کہ میں مَر جاؤں گی اور وہ دردِ زہ کی تکلیف سے قریب المرگ ہو جاتی ہے۔ اسی طرح پر نبیوں کے نشان بھی مصیبت کے وقت ظاہر ہوتے ہیں۔ نشان کی جڑ دعا ہی ہوتی ہے یہ اسم اعظم ہے اور دنیا کا تختہ پلٹ سکتی ہے۔ دعا مومن کا ہتھیار ہے اور ضرور ہے کہ پہلے ابتہال اور اضطراب کی حالت پیدا ہو۔۱؎
حواشی
- (بقیہ حاشیہ) ہ) سیر ملتوی رہی۔’’الحکم ‘‘میں ۷؍جنوری کی سیر کی جو ڈائری چھپی ہے۔ اس میں تو ذکر نہیں لیکن البدر میں سیر کی ڈائری میں صاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ حضور نے فرمایا کہ ’’اب دو تین دن سیر بند رہے گی کیونکہ آج کل بارشیں نہیں ہوئیں۔ اس لئے راستہ میں خاک بہت اڑتی ہے اور اسی سے میں بیمار بھی ہوگیا تھا۔ ‘‘(البدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخہ ۱۳؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۶ )اس کے بعد ۲۴؍جنوری کو مغرب کے بعد جب حضور علیہ السلام مجلس میں تشریف فرما ہوئے تو فرمایا۔ ’’اب بارش ہونے کی وجہ سے گرد و غبار کم ہو گیا ایک دو دن ذرا باہر ہو آویں (یعنی سیر کو جایا کریں)۔ ‘‘(البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخہ ۲۰؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۶) اس سے معلوم ہو گیا کہ اس عرصہ میں حضور علیہ السلام سیر کے لئے تشریف نہیں لے گئے اور جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے۔ ’’الحکم ‘‘اور ’’البدر ‘‘دونو میں اس عرصہ میں سیر کا کوئی ذکر نہیں اور نہ سیر کی کوئی ڈائری ہے۔ حالانکہ باقی اوقات کی ڈائریاں ان ایام کی موجود ہیں۔ نیز ان ایام میں حضور علیہ السلام کتاب ’’مواہب الرحمٰن ‘‘کی تصنیف میں بے حد مصروف تھے۔ ۱۴؍جنوری کو فجر کی نماز کے وقت حضور نے فرمایا ’’میں کتاب تو ختم کر چکا ہوں۔ رات آدھی رات تک بیٹھا رہا۔ ‘‘(البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخہ ۲۰؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۴ )اور ۱۵؍جنوری کو فجر کی نماز کے وقت تشریف لائے تو فرمایا ’’رات تین بجے تک جاگتا رہا تو کاپیاں اور پروف صحیح ہوئے۔ ‘‘اور پھر فرمایا کہ ’’میرے اعضا تو بے شک تھک جاتے ہیں مگر دل نہیں تھکتا۔ ‘‘(البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخہ ۲۰؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۴ )نیز (الحکم جلد ۷ نمبر ۵ مورخہ ۷؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۳ )اور پھر اسی روز ظہر کے وقت ظہر و عصر کی نمازیں جمع ادا فرما کر حضور جہلم کے لئے روانہ ہوئے۔ یہ سب قرائن بتاتے ہیں کہ ۱۵؍جنوری ۱۹۰۳ء کو حضور سیر کے لئے تشریف نہیں لے گئے۔ یہ ڈائری یقیناً کسی گذشتہ تاریخ کی ہے جس پر سہواً ۱۵؍جنوری ۱۹۰۳ء کی تاریخ لکھی گئی ہے۔ (مرتّب) گئے ہیں۔ ↩ [ص 74]
- ۱؎ اس جگہ ایڈیٹر الحکم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مندرجہ ذیل شعر درج کیا ہے جو بہت بر محل ہے۔ وَلِلّٰہِ دَرُّکَ ؎ آں خدائے کہ ازو اہل جہاں بےخبر اند بر من او جلوہ نمود است گر اہلی بپذیر (مرتّب) ↩ [ص 109]
- ۱؎ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۴؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱ تا ↩ [ص 116]
- ۴؎ البدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخہ ۶؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۴ ↩ [ص 185]
- ۱؎ البدر سے۔ ’’یہ بات غلط ہے کہ کسی نبی یا ولی کے پاس جانے سے ایک دم میں ہی ایک پُھونک سے سب کچھ ہو جاتا ہے اور وہ ہدایت پاتا ہے۔ ہدایت تو اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے یہ نہ نبی کا کام ہے نہ کسی اَور کا ‘‘(البدر جلد ۲ نمبر ۷ مورخہ ۶؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۵۲) ↩ [ص 204]
- ۱؎ یعنی منکروں ↩ [ص 213]
- ۲؎ البدر میں اس کا پہلا مصرعہ بھی لکھا ہے۔ ؎ من ذرّہ ز آفتابم ہم از آفتاب گویم نہ شبم نہ شب پرستم کہ حدیث خواب گویم (البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخہ ۱۳؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ↩ [ص 273]