فہرست

کلامِ محمود

صفحات ۱–۲۸۸

۱

اپنے کرم سے بخش دے میرے خدا مجھے

بیمارِ عشق ہوں ترا دے تُو شفا مجھے

جبتک کہ دَم میں دَم ہے اسی دین پر رہوں

اسلام پر ہی آئے جب آئے قضا مجھے

بے کس نواز ذات ہے تیری ہی اے خُدا

آتا نظر نہیں کوئی تیرے سوا مجھے

منجملہ تیرے فضل و کرم کے ہے یہ بھی ایک

عیسیٰؑ مسیحؑ سا ہے دیا راہنما مجھے

تیری رضا کا ہوں مَیں طلب گار ہر گھڑی

گر یہ ملے تو جانوں کہ سب کچھ ملا مجھے

ہاں ہاں نگاہِ رحم ذرا اِس طرف بھی ہو

بحرِ گنہ میں ڈوب رہا ہوں بچا مجھے

موسیٰ کے ساتھ تیری رہیں لَنۡ تَرَانِیاں

زنہار مَیں نہ مانوں گا چہرہ دکھا مجھے

احساں نہ تیرا بھولوں گا تا زیست اے مسیحؑ

پہنچا دے گر تُو یار کے دَر پر ذرا مجھے

سجدہ کُناں ہوں دَر پہ ترے اے مرے خدا

اُٹھوں گا جب اٹھائیگی یاں سے قضا مجھے

ڈوبا ہوں بحرِ عشقِ الٰہی میں شادؔ میں

کیا دے گا خاک فائدہ آبِ بقا مجھے


۲

پڑھ لیا قُرآن عبدالحی نے

خوش بہت ہیں آج سب چھوٹے بڑے

ایسی چھوٹی عمر میں ختمِ قُرآں

کم نظیریں ایسی ملتی ہیں یہاں

مولوی صاحب مُبارک آپ کو

اور عبدالحی کے اُستاد کو

جس نے محنت کی شب و روز اسکے ساتھ

اور پڑھایا اس کو قُرآں باتھوں ہاتھ

صد مُبارک مہدیِ مسعود کو

کیوں خوشی سب سے نہ بڑھ کر اس کو ہو

جس کی سچائی کا ہے یہ اِک نشاں

جانتا ہے بات یہ سارا جہاں

اے خُدا تُو نے جو یہ لڑکا دِیا

کر اسے سب خُوبیاں بھی اب عطا

یا الٰہی ! عُمر طبعی اس کو دے

رکھ اسے محفوظ رَنج و دَرد سے

ہو یہ سرشارِ اُلفتِ دیں میں مُدام

رکھ اسے کَونَین میں تُو شاد کام

خوف سے تیرے رہے دِل پُرخطر

پہنچے اِس کو اہلِ دُنیا سے نہ شر

مہربانی کی تُو اس پہ رکھ نظر

کر عنایت اس پہ تُو شام وسحر

دین و دُنیا میں بڑا ہو مرتبہ

عمر و صحت بھی اسے کر تُو عطا

تیرا دلدادہ ہو دیں پر ہو فِدا

ہو یہ عاشق احمدِ مختار کا

غیرتِ دینی ہو اِس میں اِس قدر

واسطے دِیں کے ہو یہ سینہ سپر

ہے مری آخر میں یہ ، یا رَبّ دُعا

سایہ رکھ اِس پر تُو اپنے فضل کا


اخبار الحکم جلد ۹۔ ۳۰؍جون ۱۹۰۵ء ۔ یہ نظم حضرت خلیفۃ المسیح رضی اللہ عنہ کے صاحبزادہ میاں عبد الحی کی تقریب ختم قرآن کے موقعہ پر لکھی گئی۔

۳

میاں اسحق کی شادی ہوئی ہے آج اے لوگو

ہر اک مُنہ سے یہی آواز آتی ہے مُبارک ہو

دُعا کرتا ہوں میں بھی ہاتھ اُٹھا کر حق تعالیٰ سے

کہ اپنی خاص رحمت سے وہْ اِس شادی میں برکت دے

خُدایا اِس بنی پر اور بنے پر فضل کر اپنا

اور انکے دل میں پیدا کردے جوشِ دیں کی خدمت کا

کلامِ پاک کی اُلفت کا اُنکے دل میں گھر کردے

نبیؐ سے ہو محبّت اور تعشّق ان کو ہو تجھ سے

ہر اک دُشمن کے شر سے تُو بچا نا اے خدا ان کو

ہمیشہ کے لیے رحمت کا تیری ان پہ سایہ ہو

ہمیشہ کیلئے ان پر ہوں یا رب برکتیں تیری

دُعا کرتا ہوں یہ تُجھ سے خُدایا سُن دُعا میری

انہیں صبح و مسا، دیں اور دُنیا میں ترقی دے

نہ اُنکو کوئی چھوٹا سا بھی آزار اور دُکھ پہنچے

عطا کر انکو اپنے فضل سے صِحّت بھی اے مولیٰ

ہمیشہ ان پہ برسا اَبر اپنے فضل و رحمت کا

میں اگلے شعر پر کرتا ہوں ختم اس نظم کو یارو

اب اِنکے واسطے تم بھی خُدا سے کچھ دُعا مانگو

بہت بھایا ہے اے محموؐد یہ مصرعہ مرے دل کو

مُبارک ہو یہ شادی خانۂ آبادی مُبارک ہو


اخبار بدر جلد ۵ - ۱۶؍ فروری ۱۹۰۶ء ؁ یہ نظم حضرت میر محمد اسحق ابن حضرت میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ کی تقریب شادی کے موقع پر کہی گئی۔

۴

یاد ایّام کہ تھے ہند پہ اندھیر کے سال

ہر گلی کوچہ پہ ہر شہر پہ آیا تھا و بال

روزِ روشن میں لُٹا کرتے تھے لوگوں کے مال

دِل میں اللہ کا تھا خوف نہ حاکم کا خیال

ہر طرف شور و فغاں کی ہی صدا آتی تھی

سخت سے سخت دِلوں کو بھی جو تڑپاتی تھی

رحم کرنا تو کُجا ظُلم ہوا تھا پیشہ

لوگ بھولے تھے کہ ہے نام مروت کس کا

چار سُو مُلک میں تھا ہو رہا شور و غوغا

بلکہ سچ ہے کہ نمونہ وہ قیامت کا تھا

بھی آتا نہ کوئی دوست کسی دوست کے کام

دِل سے تھا محو ہُوا مہر و محبت کا نام

سلطنت میں بھی تزلزل کے نمایاں تھے نشاں

صاف ظاہر تھا کہ ہے چند دنوں کی مہماں

قاضی و مُفتی بھی کھو بیٹھے تھے اپنا ایماں

رحم و انصاف کے وہ نام سے بھی تھے انجاں

ایسے لوگوں سے تھا انصاف کا پانا معلوم

خیال انصاف کا تھا جنکے دِلوں سے معدوم

افسرِ فوج لڑائی کے فنوں میں چوپٹ

مُنہ سے جو بات نکل جائے پھر اس پر تھی ہٹ

رہتی آپس میں بھی ہر وقت تھی انکی کھٹ پٹ

تھے ڈہلاتے ہر اک دُوسرے کو ڈانٹ ڈپٹ

پر کوئی موقع لڑائی کا جو آ جاتا تھا

ہر کوئی صاف وہاں آنکھیں چُرا جاتا تھا

سلطنت کچھ تو انہی باتوں سے بے جان ہوئی

کچھ لٹیروں نے غضب کر دیا آفت ڈھائی

اِک طرف مرہٹوں کی فوج ہے لڑنے کو کھڑی

دوسری جا پہ ہے سکھوں نے بھی شورش کر دی

چاروں اطراف میں پھیلا تھا غرض اندھیرا

لشکرِ یاس نے ہر سمت سے تھا آ گھیرا

لڑتے بھڑتے رہیں آپس میں امیر اور وزیر

کیوں پسیں گھن کی طرح ساتھ غریب اور فقیر

مدّعا ان کا تو لڑنے سے ہے بس تاج و سرِیر

ہاتھ میں یاروں کے رہ جائے گی خالی کفِ گیر

ان غریبوں کو امیروں نے ڈبویا افسوس

بات جو بیت چکی اس پہ کریں کیا افسوس

الغرض چین کلیجے کو نہ دل کو آرام

رات کا فکر لگا رہتا تھا سب کو سرِ شام

صُبح کو خوف کہ ہو آج کا کیسا انجام

رات دن کاٹتے اس طرح سے تھے وہ ناکام

دل سے انکے یہ نکلتی تھیں دُعائیں دن رات

یا الٰہی تیرے فضلوں کی ہو ہم پر برسات

اُن پہ ڈالی گئی آخر کو تلطّف کی نظر

مِثلِ کافور اڑا دل سے جو تھا خوف و خطر

یک قلم مُلک سے موقوف ہوئے شورش و شر

نہ تو رہزن کا رہا کھٹکا نہ چوروں کا ڈر

پھاہے رکھے گئے واں مرہمِ کافوری کے

دیئے جاتے تھے جہاں زخم جگر کے چیر کے

قومِ اِنگلش نے دیا آ کے سہارا ہم کو

بحرِ افکار کے ہے پار اُتارا ہم کو

ورنہ صدموں نے تو تھا جان سے مارا ہم کو

آگے مشکل تھا بہت کرنا گزارا ہم کو

ہند کی ڈوبی ہوئی کشتی ترائی اُس نے

مُلک کی بگڑی ہوئی بات بنائی اُس نے

رحم وہ ہم پہ کئے جن کی نہیں کچھ گنتی

جن میں سے سب سے بڑی مذہبی ہے آزادی

ساتھ لاتے یہ ہزاروں نئی ایجادیں بھی

جو نہ کانوں تھیں سُنی اور نہ آنکھوں دیکھی

عدل و انصاف میں وہ نام کیا ہے پیدا

آج ہر مؔلک میں جس کا کہ بجا ہے ڈنکا

شیر و بکری بھی ہیں اک گھاٹ پہ پانی پیتے

نہیں ممکن کہ کوئی ترچھی نظر سے دیکھے

ایک ہی جا پہ ہیں سب رہتے بڑے اور بھلے

کیا مجال ان سے کسی کو بھی جو صدمہ پہنچے

سب جو آپس میں ہیں یوں ہو رہے شیر و شکر

اس لیے ہے کہ نظر سب پہ ہے ان کی یکسر

ہند میں ریل اُنہوں نے ہی تو جاری کی ہے

آمد و رفت میں جس سے بہت آسانی ہے

صیغۂ ڈاک کو انھوں نے ہی ترقی دی ہے

مُلک میں چاروں طرف تار بھی پھیلائی ہے

تاکہ انصاف کے پانے میں نہ ہو کچھ دقت

منصفوں اور حجوں تک کی بھی کی ہے کثرت

علم کا نام و نشاں یاں سے مٹا جاتا تھا

شوق پڑھنے کا دلوں میں سے اُٹھا جاتا تھا

کوئی عالم کبھی اس مُلک میں آجاتا تھا

دیکھ کر اس کا یہ حال اشک بہا جاتا تھا

یہ وہ بیمار تھا جس کو سبھی رو بیٹھے تھے

ہاتھ سب اس کی شفایابی سے دھو بیٹھے تھے

پر وہ ربّ جس نے کہ سب کچھ ہی کیا ہے پیدا

نہ تو ہے باپ کسی کا نہ کسی کا بیٹا

سارے گندوں سے ہے پاک اور ہے واحد یکتا

نہ وہ تھکتا ہے نہ سوتا ہے نہ کھاتا پیتا

رحم کرتا ہے ہمیشہ ہی وہ ہم بندوں پر

کرسیِ عدل پہ بیٹھے گا جو روزِ محشر

جو کہ قادر ہے جسے کچھ بھی نہیں ہے پَروا

ٹھیک کر دے اسے دم میں کہ ہو جو کچھ بگڑا

دیکھ کر اپنی یہ حالت اسے جب رحم آیا

دیکھو انگلینڈ سے اس قوم کو یاں لے آیا

جس نے آتے ہی وہ نقشہ ہی بدل ڈالا ہے

جس جگہ خار تھا اب واں پہ گُلِ لالہ ہے

سلسلے ہر جگہ تعلیم کے جاری ہیں کئے

شہروں اور گاؤں میں اسکول بکثرت کھولے

کالجوں کے بھی ہیں شہروں میں کھلے دروازے

ہر جگہ ہوتے ہیں اب علم و ہنر کے چرچے

کام وہ کر کے دکھایا کہ جو ناممکن تھا

آئے جب ہند میں وہ کیا ہی مُبارک دن تھا

قومِ انگلش! تیری ہر فرقے پہ ہے ایک نظر

اِس لئے تجھ پہ ہمیں ناز ہے سب سے بڑھ کر

تھا مسیحا بھی تو پیدائشِ وقتِ قیصر

زندگی چھوٹے بڑے چین سے کرتے تھے بسر

اب مکرّر جو ہے پھر وقتِ مسیحا آیا

قیصرِ رُوم کا کیوں ثانی نہ پیدا ہوتا

ابنِ مریمؑ سے ہے جس طرح یہ عالی رُتبہ

قیصرِ ہند بھی ہے قیصرِ رُوما سے بڑا

مُصطفٰے کا یہ غلام اور وہ غُلامِ مُوسیٰ

دیکھ لو کس کا ہے دونوں میں سے درجہ بالا

قیصرِ رُوم کے محکوم تھے اِک دُو صُوبے

تاجِ اِنگلیشیہ پہ ممکن نہیں سُورج ڈُوبے

حق سے محمودؔ بس اب اتنی دُعا ہے میری

جس نے ہم کو کیا خوش، رکھے اسے وہ راضی

فتح و نُصرت کی انہیں روز نئی پہنچے خوشی

دُور ہو دین میں ہے ان کی جو یہ گمراہی

دینِ اسلام بس اب ان کی سمجھ میں آ جائے

بات یہ کچھ بھی نہیں رَحِم اگر وہ فرمائے

اخبار بدر جلد ۵ - ۱۴؍ جون ۱۹۰۶ء

۵

ظہُورِ مہدیِ دَوراں

مِثلِ ہوش اُڑ جائیں گے اِس زلزلہ آنے کے دِن

باغِ احمدؐ پر جو آتے ہیں یہ مُرجھانے کے دِن

یُوں نہیں ہیں جھوٹی باتوں پر یہ اِترانے کے دِن

ہوش کر غافل کہ یہ دن تو ہیں گھبرانے کے دِن

سختیوں سے ہی جو جاگے گی تو جاگے گی یہ قوم

اے غنی ہرگز نہیں یہ تلوے سہلانے کے دِن

مہدیِ آخر زماں کا ہو چکا ہے اب ظہور

ہیں بہت جلد آنیوالے دِیں کے پھیلانے کے دِن

یہ شرارت سب دَھری رہ جائیگی جب وہ خدا

ہوش میں لائے گا تُم کو ہوش میں لانے کے دِن

طوطے اُڑ جائیں گے ہاتھوں کے تمہارے غافلو

اُس خُدائے مقتدر کے چہرہ دِکھلانے کے دِن

اِک جہاں مانے گا اِس دن مِلّتِ خیر الرّسلؐ

اب تو تھوڑے رہ گئے اِس دِیں کے جھُٹلانے کے دِن

چھوڑ دو سب عیش یارو اور فکرِ دیں کرو

آجکل ہرگز نہیں ہیں پاؤں پھیلانے کے دِن

کُچھ صلاحیت جو رکھتے ہو تو حق کو مان لو

یاد رکھو دوستو یہ پھر نہیں آنے کے دِن

بہرِ نخوت سے خدا را باز آؤ تُم کہ اب

جلد آنیوالے ہیں وہ آگ بھڑکانے کے دِن

نام لکھوا کر مُسلمانوں میں تُو خوش ہے عزیز

پر مَیں سچ کہتا ہوں ہیں یہ خُونِ دل کھانے کے دِن

جس لیے یہ نام پایا تھا، نہیں باقی وہ کام

اَب تو اپنے حال پر ہیں خود ہی شرمانے کے دِن

لوگوں کو غفلت کی تُو ترغیب دیتا ہے مگر

بھُول جائیگا یہ سب کچھ تُو سزا پانے کے دِن

کِس لیے خوش ہے یہ تجھکو بات ہاتھ آئی بے کیا

یہ نہ خوش ہونے کے دِن ہیں بلکہ تھرّانے کے دِن

مہدیِ آخر زماں کا کس طرح ہو گا ظہور

جب نہ آئینگے کبھی اِس دیں کے اُٹھ جانے کے دِن

دینِ احمَد پر اگر آیا زمانہ ضَعْف کا

آ چکَے تب تو مسیحِ وقت کے آنے کے دِن

کچھ بھی گر عقل و خرد سے کام تُو لیتا تو یہ

دیں میں جو ہیں بَل پڑے ہیں اِن کے سُلجھانیکے دِن

تُو تو ہنستا ہے مگر روتا ہوں میں اِس فکر میں

وہ ہیں اِس دُنیا سے اِک دُنیا کے اُٹھ جانے کے دِن

جلد کر توبہ کہ پچھتانا بھی پھر ، ہو گا فُضُول

ہاتھ سے جاتے رہیں گے جبکہ پچھتانے کے دِن

اِک قیامت کا سماں ہو گا کہ جب آئینگے وہ

مال کی ویرانی کے اور جان کے کھانے کے دِن

گو کہ اُس دِن پھیل جائے گی تباہی چار سُو

جبکہ پھر آئیں گے یارو زلزلہ آنے کے دِن

پھر بھی مُژدہ ہے اُنہیں جو دین کے غمخوار ہیں

کیونکہ وہ دِن ہیں یقیناً دیں کے پھیلائیکے دِن

يَا مَسِيْحَ الْخَلْقِ عَدْوَانًا پکار اُٹھینگے لوگ

خُود ہی منوائے گا سب سے یار بنوانے کے دِن

اے عزیزِ دہلوی سُن رکھ یہ گوشِ ہوش سے

پھر بہار آئی تو آئے زلزلہ آنے کے دِن

ہے دُعا محمودؐ کی تُجھ سے مرے پیارے خُدا

ہو محافظ تُو ہمارا خُونِ دِل کھانے کے دِن

اخبار الحکم جلد ۱۰- ۲۴ جون ۱۹۰۶ء

۶

وہ قصیدہ مَیں کروں وصفِ مسیحا میں رقم

فخر سمجھیں جسے لکھنا بھی مرے دست و قلم

مَیں وہ کامل ہوں کہ سُن لے مرے اشعار کو گر

پھینک دے جام کو اور چومے مرے پاؤں کج جم

مَیں کسی بحر میں دکھلاؤں جو اپنی تیزی

عرفی و ذوق کے بھی دست و زباں ہوویں قلم

کھولتا ہوں مَیں زباں وصف میں اس کے یارو

جس کے اوصافِ حمیدہ نہیں ہو سکتے رقم

جان ہے سارے جہاں کی وہ شہِ والا جاہ

منبعِ جُود و سخا ہے وہ بھرا ابرِ کرم

وہ نصیبا ہے ترا اے مرے پیارے عیسیٰ

فخر سمجھیں تری تقلید کو ابنِ مریم

فیض پہنچانے کا ہے تُو نے اُٹھایا بیڑا

لوگ بھولے ہیں ترے وقت میں نامِ حاتم

تاج اقبال کا سَر پر ہے مزیّن تیرے

نُصرت و فتح کا اُڑتا ہے ہوا میں پرچم

شان و شوکت کو تری دیکھ کے حسّاد و شریر

خونِ دل پیتے ہیں اور کھاتے ہیں وہ غصّہ و غم

کونسا مولوی ہے جو نہیں دُشمن تیرا

کون ہے جو کہ یہودی علمائے سے ہے کم

کونسا چھوڑا ہے حیلہ تیری رُسوائی کا

ہر جگہ کرتے ہیں یہ حق میں ترے سب ستم

پر تری پشت پہ وہ ہے جسے کہتے ہیں خُدا

جس کے آگے ہے ملائک کا بھی ہوتا سَر خم

جب کیا تجھ پہ کوئی حملہ تو کھائی ہے شکست

مار وہ اُن کو پڑی ہے کہ نہیں باقی دَم

مٹ گیا تیری عداوت کے سبب بے پایے

کوئی لیتا نہیں اب دہر میں نامِ آتھم

بھنبھناہٹ جو اُنھوں نے یہ لگا رکھی ہے

چیز کیا ہیں یہ مخالف تو ہیں پشہ سے بھی کم

کر نہیں سکتے یہ کچھ بھی ترا اے شاہِ جہاں

ہفت خواں بھی جو یہ بن جائیں تو تُو ہے رستم

چرخِ نیلی کی کمر بھی ترے آگے ہے خم

فیل کیا چیز ہیں اور کس کو ہیں کہتے ضیغم

جس کا جی چاہے مقابل پہ ترے آ دیکھے

دیکھنا چاہتا ہے کوئی اگر مُلکِ عدم

حیف ہے قوم ترے فعلوں پر اور عقلوں پر

دوست ہیں جو کہ ترے اُن پہ تُو کرتی ہے ستم

ہائے اُس شخص سے تُو بُغض و عداوت رکھے

رات دن جس کو لگا رہتا ہے تیرا ہی غم

نام تک اُس کا مٹادینے میں ہے تُو کوشاں

اس کا ہر بار مگر آگے ہی پڑتا ہے قدم

دیکھ کر تیرے نشانات کو اے مہدیِٔ وقت

آج انگشت بدندان ہے سارا عالم

مال کیا چیز ہے اور جاں کی حقیقت کیا ہے

آبرو تجھ پہ فدا کرنے کو تیار ہیں ہم

غرق ہیں بحرِ معاصی میں ہم اے پیارے مسیحؑ

پار ہو جائیں اگر تُو کرے کچھ ہم پہ کرم

آج دُنیا میں ہر اک سُو ہے شرارت پھیلی

پھنس گئی پنجۂ شیطاں میں ہے نسلِ آدم

اب ہنسی کرتے ہیں احکامِ الٰہی پر لوگ

نہ تو اللہ ہی کا ڈر ہے نہ عقبیٰ کا غم

کوئی اتنا تو بتائے یہ اکڑتے کیوں ہیں؟

بات کیا ہے کہ یہ پھرتے ہیں نہایت خرم

بات یہ ہے کہ یہ شیطاں کے فُسوں خوردہ ہیں

ان کے دل میں نہیں کچھ خوفِ خدائے عالم

اپنی کم علمی کا بھی علم ہے کامل اُن کو

ڈالتے ہیں انہیں دھوکے میں مگر دام و دِرم

صاف ظاہر ہے جو آتی ہے یہ آوازِ صریر

ان کے حالات کو لکھتے ہوئے روتا ہے قلم

یاں تو اِسلام کی قوموں کا ہے یہ حالِ ضعیف

اور واں کفر کا لہراتا ہے اُونچا پرچم

لاکھوں انسان ہوئے دین سے بے دیں ہیہات

آج اسلام کا گھر گھر میں پڑا ہے ماتم

کُفر نے کر دیا اسلام کو پامالِ غضب

شِرک نے گھیر لی توحید کی جا وائے ستم

ایسی حالت میں بھی نازل نہ ہو گر فضلِ خُدا

کُفر کے جبکہ ہوں اِسلام پہ حملے پیہم

جس طرف دیکھئے دشمن ہی نظر آتے ہیں

کوئی مونس نہیں دُنیا میں نہ کوئی ہمدم

دینِ اسلام کی ہر بات کو جُھٹلائیں غوی

احمدِؐ پاک کے حق میں بھی کریں سب دشنم

عاشقِ احمدؐ و دلدادۂ مولائے کریم

حسرت و یاس سے مر جائیں بہ چشمِ پُر نم

پر وہ غَیُور خُدا کب اسے کرتا ہے پسند

دینِ احمدؐ ہو تباہ اور ہو دشمن خُرّم

اپنے وعدے کے مطابق تجھے بھیجا اُس نے

اُمّتِ خیرِ رُسُل پر ہے کیا اُس نے کرم

تیرے ہاتھوں سے ہی دجّال کی ٹوٹے گی کمر

شِرک کے ہاتھ ترے ہاتھ سے ہی ہونگے قلم

دَجْل کا نام و نشاں دہر سے مِٹ جائے گا

ظِلِّ اسلام میں آجائے گا سارا عالَم

جو کہ ہیں تابعِ شیطاں نہیں ان کی پروا

ایک ہی حملے میں مٹ جائیگا سب اُنکا بھرم

جبکہ وہ زلزلہ جس کا کہ ہوا ہے وعدہ

ڈال دے گا تیرے اعداء کے گھروں میں ماتم

تب اُنہیں ہوگی خبر اور کہیں گے ہَیْھَات

ہم تو کرتے رہے ہیں اپنی ہی جانوں پہ ستم

تیری سچائی کا دُنیا میں بجے گا ڈنکا

بادشاہوں کے ترے سامنے ہونگے سر خم

تیرے اعداء جو ہیں دوزخ میں جگہ پائیں گے

پر جگہ تیرے مُریدوں کی تو ہے باغِ اِرم

التجا ہے میری آخر میں یہ اے پیارے مسیحؑ

حَشْر کے روز تو مَحْمُود کا بنیو ہمدم

اخبار بدر ۔ جلد ۵ ۔ ۶ ستمبر ۱۹۰۶ء

۷

غُصّہ میں بھرا ہُوا خُدا ہے

جاگو ابھی فرصتِ دُعا ہے

تُم کہتے ہو امن میں ہیں ہم، اور

مُنہ کھولے ہوئے کھڑی بَلا ہے

ڈرتی نہیں کچھ بھی تو خُدا سے

اے قوم! یہ تجھ کو کیا ہُوا ہے

مامُورِ خُدا سے دُشمنی ہے

کیا اِس کا ہی نام اِتّقا ہے

گُمراہ ہوئے ہو باز آؤ

کیا عقل تمہاری کو ہُوا ہے

موسیٰ کے غلام تھے مسیحا

ہاں اُن سے ہمارا کام کیا ہے

اب رہبرِ راہِ کوئے دلبر

واللہ غلامِ مُصطفٰے ہے

کِس راہ سے ابنِ مریم آئے

مُدّت ہوئی وہ تو مر چکا ہے

اب اور کا اِنتظار چھوڑو

آنا تھا جسے وہ تو آ چکا ہے

جس کو کیا ہے خُدا نے مامُور

اُس سے بھلا تم کو کیا گِلہ ہے

کیوں بُھولے ہو دوستو اِدھر آؤ

اِک مردِ خُدا پکارتا ہے

باز آؤ شرارتوں سے اپنی

کچھ تم میں اگر بُوئے وفا ہے

ورنہ ابھی غافلو! تمہارے

آئے گا وہ آگے جو کیا ہے

تقدیر سے ہو چکا مُقدَّر

قسمت میں تمھاری زلزلہ ہے

وہ دن کہ جب آئے گی مصیبت

آنکھوں میں ہماری گھومتا ہے

حیرانی میں ایک دُوسرے سے

اُس دن یہ کہے گا ہَیں یہ کیا ہے؟

چکھیں گے مزا عذاب کا جب

جانیں گے کہ ہاں کوئی خُدا ہے

پتّھر بھی پُکار کر کہیں گے

ان کافروں کی یہی سزا ہے

اے قوم خُدا کے واسطے تُو

بتلا کہ جو تیرا مُدَّعا ہے

حق نے جسے کر دیا ہے مامُور

تسلیم میں اس کی عُذر کیا ہے

اللہ سے چاہو عَفْوِ تقصیر

دیتا ہے اُسے جو مانگتا ہے

محمودؔ خدائے لم یزل سے

ہر وقت یہی مری دُعا ہے

اُس شخص کو شاد رکھے ہردم

جو دینِ قویم پر فِدا ہے

اور اس کو نکالے ظُلمتوں سے

جو شِرک میں کفر میں پھنسا ہے

اخبار بدر جلد ۵ ۔ ۲۰ ستمبر ۱۹۰۶ء

۸

جدھر دیکھو اَبرِ گنہ چھا رہا ہے

گناہوں میں چھوٹا بڑا مُبتلا ہے

مرے دوستو شِرک کو چھوڑ دو تم

کہ یہ سب بلاؤں سے بڑھ کر بلا ہے

یہ دَم ہے غنیمت کوئی کام کر لو

کہ اس زندگی کا بھروسہ ہی کیا ہے

محمدؐ پہ ہو جان قُرباں ہماری

کہ وہ کوئے دِلدار کا رہنما ہے

غضب ہے کہ یوں شِرک دُنیا میں پھیلے

مرا سینہ جلتا ہے دِل پھُنک رہا ہے

خُدا کے لیے مردِ میداں بنو تم

کہ اسلام چاروں طرف سے گِھرا ہے

تم اب بھی نہ آگے بڑھو تو غضب ہے

کہ دُشمن ہے بے کس، تمھارا خُدا ہے

بجالاؤ احکامِ احمَد خُدا را

ذرا سی بھی گر تُم میں بُوئے وفا ہے

صَداقت کو اب بھی نہ جانا تو پھر کب

کہ موجود اِک ہم میں مردِ خُدا ہے

تری عقل کو قوم کیا ہو گیا ہے

اسی کی ہے بدخواہ جو رہنما ہے

وہ اسلام دُنیا کا تھا جو محافظ

وہ خود آج محتاجِ امداد کا ہے

بپا کیوں ہوا ہے یہ طوفاں یکایک

بتاؤ تو اس بات کی وجہ کیا ہے

یہی ہے کہ گمراہ تم ہو گئے ہو

نہ پہلا سا علم اور نہ وہ اِتّقا ہے

اگر رہنما اب بھی کوئی نہ آئے

تو سمجھو کہ وقتِ آخری آ گیا ہے

ہمیں ہے اسی وقت ہادی کی حاجت

یہی وقت اِک رہنما چاہتا ہے

یہ ہے دُوسری بات مانو نہ مانو

مگر حق تو یہ ہے کہ وہ آ گیا ہے

اُٹھو اس کی امداد کے واسطے تم

حمیّت کا یارو یہی مقتضا ہے

اُٹھو دیکھو اسلام کے دن پھرے ہیں

کہ نائب مُحمّدؐ کا پیدا ہوا ہے

محبت سے کہتا ہے وہ تم کو ہر دم

اُٹھو سونے والو کہ وقت آ گیا ہے

دم و خم اگر ہو کسی کو تو آئے

وہ میداں میں ہر اک کو للکارتا ہے

ہر اک دشمنِ دیں کو ہے وہ بُلاتا

کہ آؤ اگر تم میں کچھ بھی حیا ہے

مقابل میں اس کے اگر کوئی آئے

نہ آگے بچے گا نہ اب تک بچا ہے

مسیحا و مہدیٔ دورانِ آخِر

وہ جس کے تھے تم مُنتظر آ گیا ہے

قدم اس کے ہیں شِرک کے سر کے اوپر

عَلَم ہر طرَف اس کا لہرا رہا ہے

خُدا ایک ہے اُس کا ثانی نہیں ہے

کوئی اس کا ہمسر بنانا خطا ہے

نہ باقی رہے شِرک کا نام تک بھی

خُدا سے یہ محمودؔ میری دُعا ہے

اخبار بدر جلد ۵۔ ۱۴؍اکتوبر ۱۹۰۶ء

۹

گناہ گاروں کے دردِ دل کی بس اِک قرآن ہی دوا ہے

یہی ہے خضرِ رہِ طریقت یہی ہے ساغر جو حق نما ہے

ہر اِک مخالف کے زور و طاقت کو توڑنے کا یہی ہے حربہ

یہی ہے تلوار جس سے ہر ایک دیں کا بد خواہ کانپتا ہے

تمام دُنیا میں تھا اندھیرا کیا تھا ظُلمت نے یاں بسیرا

ہُوا ہے جس سے جہان روشن وہ معرفت کا یہی دیا ہے

نگاہ جن کی زمین پر تھی نہ آسماں کی جنہیں خبر تھی

خُدا سے اُن کو بھی جا ملایا دکھائی ایسی رہِ ھُدیٰ ہے

بھٹکتے پھرتے ہیں راہ سے جو، اُنہیں یہ ہے پیارے سے مِلاتا

جواں کے واسطے یہ خضرِ رہ ہے، تو پیر کے واسطے عصا ہے

مصیبتوں سے نکالتا ہے، بلاؤں کو سر سے ٹالتا ہے

گلے کا تعویذ اسے بناؤ، ہمیں یہی حُکمِ مُصطفےٰ ہے

یہ ایک دریائے معرفت ہے، لگائے اس میں جو ایک غوطہ

تو اس کی نظروں میں ساری دنیا فریب ہے، جھوٹ ہے، دغا ہے

مگر مُسلمانوں پر ہے حیرت جنہوں نے پائی ہے ایسی نعمت

دلوں پہ چھائی ہے پھر بھی غفلت نہ یاد عقبیٰ ہے نے خُدا ہے

نہیں ہے کچھ دیں سے کام ان کا یونہی مُسلماں ہے نام ان کا

ہے سخت گندہ کلام ان کا، ہر ایک کام ان کا فتنہ زا ہے

زمیں سے جھگڑا فلک سے قضیہ یہاں ہے شورا اور وہاں شکر لب ہے

نہیں ہے اک دم بھی چین آتا خبر نہیں ان کو کیا ہوا ہے

یہ چلتے ہیں یوں اکڑ اکڑ کر کہ گویا ان کے ہیں بحر اور بَر

پڑے ہیں ایسے سمجھ پہ پتھر۔ کہ شرم ہے کچھ نہ کچھ حیا ہے

لڑیں گے آپس میں بھائی باہم۔ نہ ہوگا کوئی کسی کا ہمدم

مرا پیارا رَسُول اکرمؐ۔ یہ بات پہلے سے کہہ گیا ہے

نہ دل میں خوفِ خُدا رہے گا نہ دین کا کوئی نام لے گا

فلک پہ ایمان جا چڑھے گا یہی ازل سے لکھا ہوا ہے

مگر خُدائے رحیم و رحماں جو اپنے بندوں کا ہے نگہباں

جو ہے شہنشاہِ جن و انساں جو ذرّہ ذرّہ کو دیکھتا ہے

کرے گا قدرت سے اپنی پیدا وہ شخص جس کا کیا ہے وعدہ

مسیحِ دوراں مثیل عیسیٰؑ جو میری اُمت کا رہنما ہے

سو ساری باتیں ہوئی ہیں پوری نہیں کوئی بھی رہی ادھوری

دلوں میں اب بھی ہے جو دُوری تو اس میں اپنا قصور کیا ہے

پڑا عجب شور جا بجا ہے جو ہے وہ دُنیا پہ ہی فدا ہے

نہ دِل میں خوفِ خُدا رہا ہے نہ آنکھ میں ہی رہی حیا ہے

مسیحِ دوراں مثیلِ عیسیٰ ، بجا ہے دُنیا میں جس کا ڈنکا

خُدا سے ہے پا کے حکم آیا ، ملا اُسے منصبِ ہُدیٰ ہے

ہے چاند سُورج نے دی گواہی ، پڑی ہے طاعون کی تباہی

بچائے ایسے سے پھر خُدا ہی ، جو اب بھی اِنکار کر رہا ہے ۔

وہ مطلعِ آبدار لکھوں ، کہ جس سے حسّاد کا ہو دِل خُوں

حُرُوف کی جا گہر پروؤں ، کہ مُجھ کو کرنا یہی روا ہے

مسیح دُنیا کا رہنما ہے ، غلامِ احمد ہے مُصطفےٰ ہے

بُرُوزِ اقطاب و انبیاء ہے ، خُدا نہیں ہے خُدا نما ہے

جہاں سے ایمان اُٹھ گیا تھا ، فریب و مکّاری کا تھا چرچا

فساد نے تھا جمایا ڈیرا ، وہ نقشہ اِس نے اُلٹ دیا ہے

اسی کے دم سے مرا تھا آتھم ، اسی نے لیکھو کا سر کیا خم

اسی کا دُنیا میں آج پرچم ، ہما کے بازو پہ اُڑ رہا ہے

اسی کی شمشیرِ خوں چکاں نے کیا قصوری کو ٹکڑے ٹکڑے

یہ زلزلہ بار بار آ کے ، اسی کی تصدیق کر رہا ہے

جمایا طاعُوں نے ایسا ڈیرا ، ستون اس کا نہ پھر اکھَیڑا

دیا ہے خلقت کو وہ تریڑا ، کہ اپنی جاں سے ہوئی خفا ہے

مقابلہ میں جو تیرے آیا ، نہ خالی پنج کر کبھی بھی لوٹا

یہ دبدبہ دیکھ کر مسیحا ، جو کوئی حاسد ہے جل رہا ہے

خُدا نے لاکھوں نشاں دکھائے، نہ پھر بھی ایمان لوگ لائے

عذاب کے منتظر ہیں ہائے، نہیں جو بدبختی یہ تو کیا ہے

صبا ترا گر وہاں گزر ہو تو اِتنا پیغام میرا دیجو

اگرچہ تکلیف ہو گی تجھ کو پہ کام یہ بھی ثواب کا ہے

کہ اے مثیلِ مسیحؑ و عیسیٰ! ہُوں سخت محتاج مَیں دُعا کا

خُدا تری ہے قبول کرتا کہ تُو اِس اُمت کا ناخُدا ہے

خُدا سے میری یہ کر شفاعت کہ علم ونُور وہُدیٰ کی دولت

مُجھے بھی اب وہ کرے عنایت، یہی مری اُس سے التجا ہے

رہِ خُدا میں ہی جاں فدا ہو، دل عشقِ احمدؐ میں مُبتلا ہو

اسی پہ ہی میرا خاتمہ ہو، یہی مرے دل کا مُدّعا ہے

نہیں ہے محمودؔ فکر اس کا ، کہ یہ اثر کس قدر کرے گا

سُخن کہ جو دل سے ہے نکلتا، وہ دل میں ہی جاکے بیٹھتا ہے

اخبار بدر جلد ۶ - ۲۱؍ فروری ۱۹۰۷ء

۱۰

دوستو ہرگز نہیں یہ ناچ اور گانے کے دِن

مشرق ومغرب میں ہیں یہ دِیں کے پھیلانے کے دِن

اِس چمن پر جبکہ تھا دَورِ خزاں وہ دن گئے

اب تو ہیں اسلام پر یارو بہار آنے کے دِن

ظُلمت و تاریکی و ضد و تعصب مٹ چُکے

آگئے ہیں اب خُدا کے چہرہ دِکھلانے کے دِن

جاہ و حشمت کا زمانہ آنے کو ہے عنقریب

رہ گئے تھوڑے سے ہیں اب گالیاں کھانے کے دِن

ہے بہت افسوس اب بھی گر نہ ایماں لائیں لوگ

جبکہ ہر مُلکِ وطن پر ہیں عذاب آنے کے دِن

پیشگوئی ہو گئی پوری مسیحِ وقت کی

”پھر بہار آئی تو آئے ثلج کے آنے کے دِن“

ان دنوں کیا ایسی ہی بارش ہوا کرتی تھی یاں

سچ کہو کیا تھے یہ سردی سے ٹھٹھر جانے کے دِن

دوستو اب بھی کرو توبہ اگر کچھ عقل ہے

ورنہ خود سمجھائے گا وہ یار سمجھانے کے دِن

درد و دُکھ سے آگئی تھی تنگ اے محمودؔ قوم

اب مگر جاتے رہے ہیں رنج و غم کھانے کے دِن


اخبار بدر جلد ۶۔ ۲۸ فروری ۱۹۰۷ء

۱۱

ہر چار سُو ہے شُہرہ ہوا قادیان کا

مسکن ہے جو کہ مہدیٔ آخر زمان کا

آئیں گے اب مسیح دوبارہ زمیں پہ کیوں

نظارہ بھا گیا ہے اُنہیں آسمان کا

عیسیٰ تو تھا خلیفۂ موسیٰ او جاہلو!

تُم سے بتاؤ کام ہے کیا اُس جوان کا

تُم اُمّتِ محمّدِؐ خیر الرسل سے ہو

ہے لُطف و فضل تم پہ اسی مہربان کا

کہتے ہیں وہ امام تمھارا تَمِیں سے ہے

جو ہے بڑی ہی شوکت و جبروت و شان کا

پہنچے گا جلد اپنے کیے کی سزا کو وہ

اَب بھی گماں جو بَد ہے کسی بدگمان کا

ہاں جو نہ مانے احمدِؐ مُرسل کی بات بھی

کیا اِعتبار ایسے شقی کی زبان کا

سچ سچ کہو خُدا سے ذرا ڈر کے دو جواب

کیا تم کو انتظار نہ تھا پاسبان کا

اب آگیا تو آنکھیں چُراتے ہو کس لیے

کیوں راستہ ہو دیکھ رہے آسمان کا

جس نے خُدا کے پاس سے آنا تھا آ چکا

لو آ کے بوسہ سنگِ درِ آستان کا

اسلام کو اسی نے کیا آ کے پھر دُرست

ہو شکر کس طرح سے ادا مہربان کا

سینہ سپر ہوا یہ مقابل میں کُفر کے

خطرہ نہ مال کا ہی کیا اور نہ جان کا

توحید کا سبق ہی جو تعلیم شرک ہے

ہاں کُفر ہے بتانا اگر حق بیان کا

تو ایسے شرک پر ہوں فدا مال و آبرو

اور ایسا کفر روگ بنے میری جان کا

اے قوم کچھ تو عقل و خِرد سے بھی کام لے

لڑتی ہے جس سے مُردہ ہے کیسی شان کا

گو لاکھ تُو مقابلہ اس کا کرے مگر

بیکا نہ بال ہوگا کوئی اس جوان کا

اے دوستو! جو حق کیلئے رنج سہتے ہو

یہ رنج و درد و غم ہے فقط درمیان کا

کچھ یاس و نا اُمیدی کو دل میں جگہ نہ دو

اب جلد ہوچکے گا یہ موسم خزان کا

اب اسکے پورا ہوتے ہی آجائیگی بہار

وعدہ دیا ہے حق نے تمہیں جس نشان کا

چاہا اگر خُدا نے تو دیکھو گے جلد ہی

چاروں طرف ہے شور بپا اَلاَمان کا

کافر بھی کہہ اُٹھیں گے کہ سچا ہے وہ بزرگ

دعویٰ کیا ہے جس نے مسیح الزّمان کا

محمودؔ کیا بعید ہے دل پر جو قوم کے

نالہ اثر کرے یہ کسی نوحہ خوان کا

اخبار بدر جلد ۶۔ ۲۴؍ مارچ ۱۹۰۷ء

۱۲

اے مولویو ! کچھ تو کرو خوف خُدا کا

کیا تُم نے سُنا تک بھی نہیں نام حیا کا

کیا تم کو نہیں خوف رہا روزِ جزا کا

یوں سامنا کرتے ہو جو محبوبِ خُدا کا

ہر جنگ میں کفار کو ہے پیٹھ دکھائی

تم لوگوں نے ہی نام ڈُبویا ہے وفا کا

ٹھہراتے ہیں کافر اُسے جو ہادیٔ دیں ہے

یہ خوب نمونہ ہے یہاں کے علما کا

بیٹھا ہے فلک پر جو اُسے اب تو بُلاؤ

چُپ بیٹھے ہو کیوں تم ہے یہی وقت دُعا کا

پر حشر تلک بھی جو رہو اشک فشاں تمُ

ہرگز نہ پتا پاؤ گے کچھ آہِ رسا کا

وُہ شاہِ جہاں جس کے لیے چشم بَرَہ ہو

وہ قادیاں میں بیٹھا ہے محبوبِ خُدا کا

وحشی کو بھی دم بھر میں مہذب ہے بناتی

دیکھو تو اثر آ کے ذرا اس کی دُعا کا

وُہ قوّتِ اِعجاز ہے اس شخص نے پائی

دم بھر میں اُسے مار گرایا جسے تا کا

محمود نہ کیوں اس کے مخالف ہوں پریشاں

نائب ہے نبیؐ کا وہ فرستادہ خُدا کا


اخبار بدر جلد ۶- ۴ مارچ ۱۹۰۷ء

۱۳

یوں الگ گوشۂ ویراں میں جو چھوڑا ہم کو

نہیں معلوم کہ کیا قوم نے سمجھا ہم کو

کل تلک تو یہ نہ چھوڑے گا کہیں کا ہم کو

آج ہی سے جو لگا ہے غمِ فردا ہم کو

ہے خُدا کی ہی عنایت پہ بھروسہ ہم کو

نہ عبادت کا نہ ہے زُہد کا دعویٰ ہم کو

دردِ اُلفت میں مزہ آتا ہے ایسا ہم کو

کہ شفایابی کی خواہش نہیں اصلاً ہم کو

تجھ پہ رحمت ہو خُدا کی کہ سِکھا تُو نے

رشتۂ اُلفت و وحدت میں ہے باندھا ہم کو

اپنا چہرہ کہیں دکھلائے وہ ربّ العزت

مُدّتوں سے ہے یہی دل میں تمنّا ہم کو

گالیاں دشمنِ دیں ہم کو جو دیتے ہیں تو دیں

کام لیں صبر و تحمّل سے ہے زیبا ہم کو

کچھ نہیں فکر، لگائی ہے خُدا سے جب لَو

گو سمجھتا ہے بُرا اپنا پرایا ہم کو

ایک تسمہ کی بھی حاجت ہو تو مانگو مجھ سے

ہے ہمیشہ سے یہ اُس یار کا ایما ہم کو

زخمِ دل، زخمِ جگر ہنستے ہیں کھل کھل کر کیوں

حالتِ قوم پہ آتا ہے جو رونا ہم کو

کہیں مُوسٰی کی طرح حشر میں بیہوش نہ ہوں

لگ رہا ہے اسی عالم میں یہ دھڑکا ہم کو

ایک دم کے لیے بھی یاد سے کیوں ٹُوٹے

اور محبوب کہاں تجھ سا ملے گا ہم کو

تجھ پہ ہم کیوں نہ مریں مرے پیارے کہ ہے تُو

دولت و آبرو و جان سے پیارا ہم کو

آدمی کیا ہے تواضع کی نہ عادت ہو جسے

سخت لگتا ہے بُرا کبر کا پُتلا ہم کو

دُشمنِ دیں درندوں سے ہیں بڑھ کر خوںخوار

چھوڑیو مت مرے مولیٰ کبھی تنہا ہم کو

دیکھ کر حالتِ دیں خُونِ جگر کھاتے ہیں

مر ہی جائیں جو نہ ہو تیرا سہارا ہم کو

دل میں آ کے تیری یاد نے اے ربِّ ودود

بارہا پہروں تلک خُون رُلایا ہم کو

چونکہ توحید پہ ہے زور دیا ہم نے آج

اپنے بیگانے نے چھوڑا ہے اکیلا ہم کو

حق کو کڑوا ہی بتاتے چلے آئے ہیں لوگ

یہ نئی بات ہے لگتا ہے وہ میٹھا ہم کو

جوشِ اُلفت میں یہ لکھی ہے غزل اے محمودؔ

کچھ ستائش کی تمنا نہیں اصلاً ہم کو

اخبار بدر جلد ۶۔ ۲۳ مئی ۱۹۰۷ء

۱۴

کیوں ہو رہا ہے خرم و خوش آج کل جہاں

کیوں ہر دیار و شہر ہوا رشکِ بوستاں

چہرہ پہ اس مریض کے کیوں رونق آ گئی

جو کل تلک تھا سخت ضعیف اور ناتواں

ان بے کسوں کی ہمتیں کیوں ہو گئیں بلند

جن کا کہ کل جہاں میں نہ تھا کوئی پاسباں

وہ لوگ جو کہ راہ سے بے راہ تھے ہوئے

کیوں ان کے چہروں پر ہے خوشی کا اثر عیاں

تاریکی و جہالت و ظلمت کدھر گئی

دُنیا سے آج ان کا ہوا کیوں ہے گم نشاں

مجھ سے سُنو کہ اِتنا تغیر ہے کیوں ہوا

جو بات کل نہاں تھی ہوئی آج کیوں عیاں

یہ وقت وقتِ حضرتِ عیسیٰ ہے دوستو

جو نائبِ خُدا ہیں جو ہیں مہدیٔ زماں

ہو کر غلامِ احمدِؐ مُرسل کے آئے ہیں

قربان جن کے نام پہ ہوتے ہیں اِنس و جاں

سب دشمنانِ دیں کو اُنھوں نے کیا ذلیل

بخشی ہے ربِّ عزّ و جل نے وہ عزّ و شاں

جو ان سے لڑنے آئے وہ دُنیا سے اُٹھ گئے

باقی کوئی بچا بھی تو ہے اب وہ نیم جاں

ان کو ذلیل کرنے کا جس نے کیا خیال

ایسا ہوا ذلیل کہ جینا ہوا محال

رنج و غم و ملال کو دل سے بُھلا دیا

جو داغ دل پہ اپنے لگا تھا مٹا دیا

ہم بُھولے پھر رہے تھے کہیں کے کہیں مگر

جو راہِ راست تھا ہمیں اس نے بتا دیا

اک جامِ معرفت کا جو ہم کو پلا دیا

جتنے شکوک و شُبہ تھے سب کو مٹا دیا

دکھلا کے ہم کو تازہ نشانات و معجزات

چہرہ خدائے عزّ و جل کا دِکھا دیا

ہم کیوں کریں نہ اس پہ فدا جان و آبرو

روشن کیا ہے دین کا جس نے بُجھا دِیا

وہ دل جو بُغض و کینہ سے تھے کور ہو رہے

دیں کا کمال اُن کو بھی اس نے دِکھا دیا

اس نے ہی آ کے ہم کو اُٹھایا زمیں سے

تھا دشمنوں نے خاک میں ہم کو رلا دیا

ڈوئی۔ نتھو جی۔ دھرم پال۔ لیکھو وسو تراج

ساروں کو ایک وار میں اس نے گرا دیا

ایسے نشاں دکھائے کہ میں کیا کہوں تمہیں

کفار نے بھی اپنے سروں کو جھکا دیا

احسان اس کے ہم پہ ہیں بے حد و بیکراں

جو گن سکے انہیں نہیں ایسی کوئی زباں

برطانیہ جو تم پہ حکومت ہے کر رہا

تم جانتے نہیں ہو کہ ہے بھید اس میں کیا

یہ بھی اُسی کے دم سے ہے نعمت تمہیں ملی

تا شکرِ جان و دل سے خدا کا کرو ادا

نازل ہوئے تھے عیسیٰ مریم جہاں وہاں

اس وقت جاری قیصرِ روما کا حکم تھا

گو تھی یہودیوں کی نہ وہ اپنی سلطنت

پر اپنی سلطنت سے بھی آرام تھا سِوا

ویسی ہی سلطنت تھیں اللہ نے ہے دی

تا اپنی قسمتوں کا نہ تم کو رہے گلہ

پر جیسے اُس مسیح سے بڑھ کر ہے یہ مسیح

یہ سلطنت بھی پہلی سے ہے امن میں سوا

یہ رُعب اور شان بھلا اُس میں تھی کہاں

یہ دبدبہ تھا قیصرِ روما کو کب ملا

ہے ایسی شان قیصرِ ہندوستان کی

ہے دشمن اُس کی خنجرِ بُراں سے کانپتا

اس سلطنت کی تم کو بتاؤں وہ خوبیاں

جن سے کہ اس کی مہر و عنایات ہوں عیاں

اس کے سبب سے ہند میں امن و امان ہے

نے شور و شر کہیں ہے نہ آہ و فغان ہے

ہندوستاں میں ایسا کیا صلح انہوں نے مبذل

ہر شورہ پُشت جس سے ہوا نیم جان ہے

وہ جا جہاں پہ ہوتی تھی ہر روز لُوٹ مار

ہر طرح اس جگہ پہ اب اَمْنْ و امان ہے

خفیہ ہو کوئی بات تو بتلاؤں مَیں تمہیں

طرزِ حکومت ان کی ہر اک پر عیان ہے

ہندوستاں میں چاروں طرف ریل جاری کی

ان کا ہی کام ہے یہ، یہ ان کی ہی ٹَھان ہے

چیزیں ہزاروں ڈاک میں بھیجو تم آج کل

نقصان اس میں کوئی، نہ کوئی زیان ہے

پھیلایا تار مُلک میں آرام کے لیے

یہ سلطنت ہی ہم پہ بہت مہربان ہے

چھوٹوں بڑوں کی چین سے ہوتی ہے یاں بَسَر

نے مال کا خطر ہے نہ نقصانِ جَان ہے

پیتے ہیں ایک گھاٹ پہ شیر اور گوسفند

اس سلطنت میں یاں تلک امن و امان ہے

پھر بھی کوئی نہ مانے جو احساں تو کیا کریں

ایسے کو بے خرد کہیں یا بے حیا کہیں

ہندوستاں سے اُٹھ گیا تھا علم اور ہنر

یاں آتا تھا نہ عالم و فاضل کوئی نظر

پھیلا تھا ہر چہار طرف جہل مُلک پر

کوئی نہ تھا جو آ کے ہمارا ہو چارہ گر

اپنے پرائے چھوڑ کے سب ہو گئے الگ

ہم بے کسوں پہ آخر انہوں نے ہی کی نظر

انگریزوں نے ہی بے کس و بدحال دیکھ کر

کھولے ہیں علم و فضل کے ہم پر ہزار در

مذہب میں ہر طرح ہمیں آزاد کر دیا

چلتا نہیں سروں پہ اِکوئی جبر کا تَبَر

پُوجا کرے نماز پڑھے کوئی کچھ کرے

آزاد کر دیا ہے اُنھوں نے ہر اک بشر

القصّہ سلطنت یہ بڑی مہربان ہے

آتی نہیں جہان میں ایسی کوئی نظر

فضلِ خدا سے ہم کو ملی ہے یہ سلطنت

جو نفع دینے والی ہے اور ہے بھی بے ضرر

اور اس سے بڑھ کے رحم خدا کا یہ ہم پہ ہے

عیسیٰ مسیح سا ہے دیا ہم کو رہبر

محمودؔ دردِ دل سے یہ ہے اب مری دُعا

قیصر کو بھی ہدایتِ اسلام ہو عطا

اخبار بدر جلد ۶-۳۰؍ مئی ۱۹۰۷ء

۱۵

نہ کچھ قُوّت رہی ہے جسم و جاں میں

نہ باقی ہے اثر میری زباں میں

ہے تیاری سفر کی کارواں میں

مِرا دِل ہے ابھی خوابِ گراں میں

نہیں پھُٹتی نظر آتی ہری جاں

پھنسا ہوں اِس طرح قیدِ گراں میں

مزا جو یار پر مرنے میں ہے وُہ

نہیں لذّتِ حیاتِ جاوداں میں

ہر اک عارف کے دِل پر ہے وہ ظاہر

خُدا مخفی نہیں ہے آسماں میں

خدایا دردِ دل سے ہے یہ خواہش

مِرا تُو ساتھ دے دونوں جہاں میں

نظر میں کاملوں کی ہے وہ کامل

اُترتا ہے جو پُورا امتحاں میں

یہی جی ہے کہ پہنچے یار کے پاس

ہے مُرغِ دِل تڑپتا آشیاں میں

جو سُنتا ہے پکڑ لیتا ہے دِل کو

تڑپ ایسی ہے میری داستاں میں

ندائے دوست آئی کان میں کیا

کہ پھر جاں آ گئی اِک نیم جاں میں

کریں کیونکر نہ تیرا شُکر یا ربّ

کہ تُو نے لے لیا ہم کو اماں میں

ہر اک رنج و بلا سے ہم ہیں محفوظ

مصیبت پڑ رہی ہے گو جہاں میں

ہر اک جا نُور سے تیرے مُنوّر

تِرا ہی جلوہ ہے کون ومکاں میں

کہاں ہے لالہ و گُل میں وہ مِلتی

جو خُوبی ہے میرے اس دلستاں میں

ہے اِک مخلوق ربّ ذوالمنن کی

بھلا طاقت ہی کیا ہے آسماں میں

خُدا کا رحم ہونے کو ہے محمودؔ

تغیّر ہو رہا ہے آسماں میں

اخبار بدر جلد ۶- ۲۶؍ ستمبر ۱۹۰۷ء

۱۶

نشان ساتھ ہیں اتنے کہ کچھ شمار نہیں

ہمارے دین کا قِصّوں پہ ہی مدار نہیں

وہ دل نہیں جو جدائی میں بے قرار نہیں

نہیں وہ آنکھ جو فُرقت میں اشکبار نہیں

وہ ہم کہ فکرِ میں دیں کے ہمیں قرار نہیں

وہ تم کہ دینِ محمّدؐ سے کچھ بھی پیار نہیں

وہ لوگ درگہِ عالی میں جن کو بار نہیں

اُنہیں فریب و دغا ، مکر سے بھی عار نہیں

ہے خوف مجھ کو بہت اس کی طبعِ نازک سے

نہیں ہے یہ کہ مجھے آرزوئے یار نہیں

تڑپ رہی ہے مری رُوح جسمِ خاکی میں

ترے سوا مجھے اِک دَم بھی اب قرار نہیں

نہ طعنہ زن ہو مری بے خودی پہ اے ناصح

میں کیا کہوں کہ مرا اس میں اختیار نہیں

مِثالِ آئینہ ہے دل کہ یار کا گھر ہے

مجھے کسی سے بھی اس دہر میں غبار نہیں

جو دل میں آئے سو کہہ لو کہ اسمیں بھی ہے لطف

خُدا کے علم میں گر ہم ذلیل و خوار نہیں

ہُوا وہ پاک جو قُدّوس کا ہُوا شیدا

پلید ہے جسے حاصل یہ افتخار نہیں

وہ ہم کہ عشق میں پاتے ہیں لُطفِ یکتائی

ہمارا دوست نہیں کوئی غمگسار نہیں

چڑھے ہیں سینکڑوں ہی سُولیوں پہ ہم منصورؔ

ہمارے عشق کا اک دار پر مدار نہیں

یُونہی کہو نہ ہمیں لوگو ! کافر و مُرتد

ہمارے دل کی خبر تم پہ آشکار نہیں

امامِ وقت کا لوگو کرو نہ تم اِنکار

جو جھوٹے ہوتے ہیں وہ پاتے اِقتدار نہیں

دل و جگر کے پرخچے اُڑے ہوئے ہیں ہاں

اگرچہ دیکھنے میں اپنا حال زار نہیں

جگا رہے ہیں مسیحا بھی سے دُنیا کو

مگر غضب ہے کہ ہوتی وہ ہوشیار نہیں

مقابلہ میں مسیحِ زماں کے جو آئے

وہ لوگ وہ ہیں جنھیں حق سے کچھ بھی پیار نہیں

کلامِ پاک بھی موجود ہے اُسے پڑھ لے

ہمارا تجھ کو جو اے قوم اِعتبار نہیں

کبھی تو دل پہ بھی جا کر اثر کرے گی بات

سُنائے جائیں گے ہم تم کو ہو ہزار نہیں

کروڑ جاں ہو تو کر دوں فدا محمدؐ پر

کہ اس کے لُطف و عنایات کا شمار نہیں

اخبار بدر جلد ۶ ۔ ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۷ء

۱۷

ظہورِ مہدیٔ آخر زماں ہے

سنبھل جاؤ کہ وقتِ امتحاں ہے

محمّدؐ میرے تن میں مثلِ جاں ہے

یہ ہے مشہور جاں ہے تو جہاں ہے

گیا اسلام سے وقتِ خزاں ہے

ہوئی پیدا بہارِ جاوداں ہے

اگر پُوچھے کوئی عیسیٰ کہاں ہے

تو کہہ دو اس کا مسکن قادیاں ہے

ہر اک دُشمن بھی اب رطب اللساں ہے

مرے احمدؐ کی وہ شیریں زباں ہے

مقدّر اپنے حق میں عزّوشاں ہے

جو ذلّت ہے نصیبِ دُشمناں ہے

مسیحائے زماں کا یاں مکاں ہے

زمینِ قادیان دارالاماں ہے

فدا تجھ پہ مسیحا میری جاں ہے

کہ تُو ہم بے کسوں کا پاسباں ہے

مسیحا سے کوئی کہہ دو یہ جا کر

مریضِ عشق تیرا نیم جاں ہے

نہ پھولو دوستو دُنیائے دوں پر

کہ اس کی دوستی میں بھی زیاں ہے

دورنگی سے، ہمیں ہے سخت نفرت

جو دل میں ہے جبیں سے بھی عیاں ہے

ترے اس حالِ بد کو دیکھ کر قوم

جگر ٹکڑے ہے اور دل خوں فشاں ہے

جسے کہتی ہے دُنیا سنگِ پارس

مسیحا کا وہ سنگِ آستاں ہے

دیا ہے رہنما بڑھ کر خِضْرؑ سے

خُدا بھی ہم پہ کیا مہرباں ہے

فلک سے تا منارہ آئیں عیسٰی

مگر آگے تلاشِ نردباں ہے

ترقی احمدی فرقہ کی دیکھے

بٹالہ میں جو اِک پیرِ مغاں ہے

نہ یوں حملہ کریں اسلام پر لوگ

ہمارے منہ میں بھی آخر زباں ہے

مخالف اپنے ہیں گو زور پر آج

مگر ان سے قوی تر پاسباں ہے

مرا دَورْی دمِ معجز نما سے

یہ عیسٰی کی صداقت کا نشاں ہے

مسلمانوں کی بدحالی کے غم میں

دھرا سینہ پر اک سنگِ گراں ہے

پریشاں کیوں نہ ہوں دشمن، مسیحا!

ظفر کی تیرے ہاتھوں میں عناں ہے

نہیں دُنیا میں جس کا جوڑ کوئی

ہمارا پیشوا وہ پہلواں ہے

کرے قرآن پر چشمک حسد سے

کہاں دُشمن میں یہ تاب و تواں ہے

نہیں دُنیا کی خواہش، ہم کو ہرگز

فدا دیں پر ہی اپنا مال و جاں ہے

نہیں اسلام کو کچھ خوف محمودؔ

کہ اس گلشن کا احمدؔ باغباں ہے

اخبار بدر جلد ۶ - ۲۶؍دسمبر ۱۹۰۷ء

۱۸

مُحَمَّد پر ہماری جاں فدا ہے

کہ وہ کوئے صنم کا رہنما ہے

مرا دل اس نے روشن کر دیا ہے

اندھیرے گھر کا میرے وہ دِیا ہے

خبر لے، اے مسیحا دردِ دل کی

ترے بیمار کا دم گُھٹ رہا ہے

دلِ آفت زدہ کا دیکھ کر حال

مرا زخمِ جگر بھی ہنس رہا ہے

کسی کو بھی نہیں مذہب کی پَروا

ہر اک دنیا کا ہی شیدا ہوا ہے

بھنور میں پھنس رہی ہے کشتیٔ دیں

تلاطم بحرِ ہستی میں بپا ہے

سروں پر چھا رہا ہے ابرِ ظلمت

اُسی سے جنگ ہے جو ناخُدا ہے

خُدایا اِک نظر اِس تفتہ دل پر

کہ یہ بھی تیرے دَر کا اِک گدا ہے

غمِ اسلام میں میں جاں بلب ہوں

کلیجہ میرا منہ کو آ رہا ہے

ہمارے حال پر ہنستی ہے گو قوم

ہمیں پَر اس پہ رونا آ رہا ہے

مسیحا کو نہیں خوف و خطر کچھ

حمایت پر تُلا اس کی خُدا ہے

ہوئے ہیں لوگ دشمن امرِ حق کے

اسی کا نام کیا صدق و صفا ہے

حیاتِ جاوداں ملتی ہو اس سے

کلامِ پاک ہی آبِ بقا ہے

دَمِ عیسیٰ سے مُردے جی اُٹھے ہیں

جو اندھے تھے اُنہیں اب سوجھتا ہے

ذرا آنکھیں تو کھولو سونے والو!

تمھارے سَر پہ سُورج آ گیا ہے

زمین و آسماں ہیں اِس پہ شاہد

جہاں میں ہر طَرَف پھیلی وبا ہے

مِرا ہر ذرّہ ہو قُربانِ احمدؐ

مِرے دِل کا یہی اِک مُدّعا ہے

اُسی کے عِشق میں نکلے مری جاں

کہ یادِ یار میں بھی اِک مزا ہے

مُجھے اِس بات پر ہے فخرِ محموٗد

مِرا معشوق محبوٗبِ خُدا ہے

سُنو اے دُشمنانِ دینِ احمدؐ

نتیجہ بَد زبانی کا بُرا ہے

جہاں کو اِک نظر دیکھو خُدارا

جو بوتا ہے اُسی کو کاٹتا ہے

نہیں لگتے کبھی کِیکر کو انگور

نہ حنظل میں کبھی حُشرما لگا ہے

لگیں گو سینکڑوں تلوار کے زخم

زباں کا ایک زخم اُن سے بُرا ہے

شفا پا جاتے ہیں وہ رفتہ رفتہ

کہ آخر ہر مرض کی اِک دوا ہے

خزاں آتی نہیں زخمِ زباں پر

یہ رہتا آخری دَم تک ہَرا ہے

ہمارے انبیاء کو گالیاں دو

پھر اس کے ساتھ دعویٰ صُلح کا ہے

گریبانوں میں اپنے مُنہ تو ڈالو

ذرا سوچو اگر کچھ بھی حیا ہے

ہماری صُلح تم سے ہو گی کیونکر

تمھارے دِل میں جب یہ کچھ بھرا ہے

محمّدؐ کو بُرا کہتے ہو تم لوگ

ہماری جان و دِل جس پر فدا ہے

محمّدؐ جو ہمارا پیشوا ہے

محمّدؐ جو کہ محبوٗبِ خُدا ہے

ہو اس کے نام پر قربان سب کچھ

کہ وہ شاہنشہِ ہر دو سرا ہے

اسی سے میرا دِل پاتا ہے تسکیں

وہی آرام میری رُوح کا ہے

خدا کو اس سے مِل کر ہم نے پایا

وہی اِک راہِ دیں کا رہنما ہے

پس اس کی شان میں جو کچھ ہو کہتے

ہمارے دل جگر کو چھیدتا ہے

مزہ دو بار پہلے چکھ چکے ہو

مگر پھر بھی وہی طر زِ ادا ہے

خُدا کا قہر اب تم پر پڑے گا

کہ ہونا تھا جو کچھ اب ہو چکا ہے

چکھائے گی تمھیں غیرت خُدا کی

جو کچھ اس بدزبانی کا مزا ہے

ابھی طاعون نے چھوڑا نہیں ٹلک

نئی اور آنے والی اِک وبا ہے

شرارت اور بدی سے باز آؤ

دلوں میں کچھ بھی گر خوفِ خُدا ہے

بزرگوں کو ادب سے یاد کرنا

یہی اِکسیر ہے اور کیمیا ہے

اخبار بدر جلد ۶ - ۶ فروری ۱۹۰۷ء

۱۹

بابِ رحمت خود بخود پھر تم پہ وا ہو جائے گا

جب تمھارا قادرِ مُطلق خُدا ہو جائے گا

دُشمنِ جانی جو ہو گا آشنا ہو جائے گا

بُوم بھی ہو گا اگر گھر میں ہما ہو جائے گا

آدمی تقویٰ سے آخر کیمیا ہو جائے گا

جن میں دِل سے چھوئے گا وہ طلا ہو جائے گا

جو کہ شمعِ رُوئے دِلبر پر فدا ہو جائے گا

خاک بھی ہو گا تو پھر خاکِ شفا ہو جائے گا

جو کوئی اس یار کے دَر کا گدا ہو جائے گا

ملکِ رُوحانی کا وہ فرماں روا ہو جائے گا

جس کو تم کہتے ہو یارو یہ فنا ہو جائے گا

ایک دِن سارے جہاں کا پیشوا ہو جائے گا

کفر مٹ جائے گا زورِ اسلام کا ہو جائے گا

ایک دِن حاصل ہمارا مُدّعا ہو جائے گا

مہدیِ دوراں کا جو خاکِ پا ہو جائے گا

مہرِ عالمتاب سے روشن سوا ہو جائے گا

جو کوئی تقویٰ کرے گا پیشوا ہو جائے گا

قبلہ رُخ ہوتے ہوئے قبلہ نما ہو جائے گا

جس کا مسلک زُہد و ذکر و اتقا ہو جائے گا

پنجۂ شیطاں سے وہ بالکل رہا ہو جائے گا

دیکھ لینا ایک دِن خواہش بَر آئے گی مری

میرا ہر ذرّہ مُحمّدؐ پر فدا ہو جائے گا

نقشِ پا پر جو مُحمّدؐ کے چلے گا ایک دن

پیروی سے اس کی محبوبِ خُدا ہو جائے گا

دیر کرتے ہیں جو نیکی میں ہے کیا ان کا خیال

موت کی ساعت میں بھی کچھ التوا ہو جائے گا

دُشمنِ اسلام جب دیکھیں گے اک قہری نشاں

جان نکل جائے گی ان کی دَم فنا ہو جائے گا

نائبِ خیر الرسلؐ ہو کر کرے گا کام یہ

وارثِ تختِ مُحمّدؐ میرزا ہو جائے گا

حکمِ ربّی سے یہ ہے پیچھے پڑا شیطان کے

اس کے ہاتھوں سے اب اس کا فیصلہ ہو جائے گا

اس کی باتوں سے ہی ٹوٹے گا یہ دجّالی طلسم

اس کا ہر ہر لفظ موٗسیٰ کا عصا ہو جائے گا

خاک میں مل ملیں گے تجھ سے یا رب ایکدن

درد جب حد سے بڑھے گا تو دَوا ہو جائے گا

آبِ مَعانی سے جب سیراب ہوگا کل جہاں

پانی پانی شرم سے اک بے حیا ہو جائے گا

ہیں درِ مالک پہ بیٹھے ہم لگائے ٹکٹکی

ہاں کبھی تو اپنا نالہ بھی رسا ہو جائے گا

بُلبُلہ پانی کا ہے انساں نہیں کرتا خیال

ایک ہی صدمہ اُٹھا کر وہ، ہوا ہو جائے گا

سختیوں سے قوم کی گھبرا نہ ہرگز اے عزیز

کھا کے یہ پتھر تو لعلِ بے بہا ہو جائے گا

جو کوئی دریائے فکرِ دیں میں ہوگا غوطہ زن

میل اُتر جائیگی اس کی، دِل صفا ہو جائے گا

قوم کے بغض و عداوت کی نہیں پروا ہمیں

وقت یہ کٹ جائے گا، فضلِ خُدا ہو جائے گا

چھوڑ دو اعمالِ بد کے ساتھ بد صحبت بھی تم

زخم سے انگور مل کر پھر ہرا ہو جائے گا

حق پہ ہم ہیں یا کہ یہ حسّاد ہیں جھگڑا ہے کیا

فیصلہ اس بات کا روزِ جزا ہو جائے گا

تیرا ہر ہر لفظ اے پیارے مسیحائے زماں

حق کے پیاسوں کے لیے آبِ بقا ہو جائے گا

کیوں نہ گردابِ ہلاکت سے نکل آئے گی قوم

کشتیٔ دیں کا خدا جب ناخدا ہو جائے گا

کر لو جو کچھ موت کے آنے سے پہلے ہو سکے

تیر چُھٹ کر موت کا پھر کیا خطا ہو جائے گا

عشقِ مولیٰ دِل میں جب محمودؔ ہو گا موجزن

یاد کر اس دِن کو تُو پھر کیا سے کیا ہو جائے گا

اخبار بدر جلد ، - ۲۵؍ جون ۱۹۰۵ء

۲۰

یا الٰہی رحم کر اپنا کہ میں بیمار ہوں

دل سے تنگ آیا ہوں اپنی جان سے بیزار ہوں

بس نہیں چلتا تو پھر میں کیا کروں لاچار ہوں

ہر مصیبت کے اُٹھانے کے لیے تیار ہوں

ہو گئی ہیں انتظارِ یار میں آنکھیں سپید

اِک بُتِ سیمیں بدن کا طالبِ دیدار ہوں

کرمِ خاکی ہُوں، نہیں رکھتا کوئی پروا مِری

دشمنوں پر میں گراں ہوں دوستوں پر بار ہوں

کچھ نہیں حالِ کلیسا و صنم خانہ کا علم

نشۂ جامِ مئے وحدت میں میں سرشار ہوں

اس کی دُوری کو بھی پاتا ہوں مقامِ قُرب میں

خواب میں جیسے کوئی سمجھے کہ میں بیدار ہوں

کیا کروں جا کر حَرَم میں مجھ کو ہے تیری تلاش

دار کا طالب نہیں ہوں طالبِ دیدار ہوں

صبر و تمکیں تو الگ ، دِل تک نہیں باقی رہا

راہِ اُلفت میں لُٹا ایسا کہ اب نادار ہوں

اب تو جو کچھ تھا حوالے کر چکا دلدار کے

وہ گئے دن جبکہ کہتا تھا کہ میں دِل دار ہوں


اخبار بدر جلد۷ - ۹ جولائی ۱۹۰۸ء

۲۱

اے مرے مولیٰ! مرے مالک! مری جاں کی سِپَر

مُبتلائے رنج و غم ہُوں جلد لے میری خبر

دوستی کا دم جو بھرتے تھے وہ سب دُشمن ہوئے

اب کسی پر تیرے بن پڑتی نہیں میری نظر

اَمْن کی کوئی نہیں جا، خوف دامن گیر ہے

سانپ کی مانند مجھ کو کاٹتے ہیں بحر و بر

ہاتھ جوڑوں یا پڑوں پاؤں بتاؤ کیا کروں

دِل میں بیٹھا ہے مگر آتا نہیں مجھ کو نظر

جبکہ ہر شے مِلک ہے تیری مرے مولیٰ تو پھر

جس سے تو جاتا رہے بتلا کہ وہ جائے کِدھر

کام دیتی ہے عصا کا آیتِ لَا تَقْنَطُوا

وَرنہ عصیاں نے تو میری توڑ ڈالی ہے کمر

بے کسی میں رہزنِ رنج و مُصیبت آپڑا

سب متاعِ صبر و طاقت ہو گئی زیر و زبر


اخبار بدر جلد ۷ ، ۳ ستمبر ۱۹۰۸ء

۲۲

کوئی گیسو مرے دل سے پریشاں ہو نہیں سکتا

کوئی آئینہ مجھ سے بڑھ کے حیراں ہو نہیں سکتا

کوئی یادِ خُدا سے بڑھ کے مہماں ہو نہیں سکتا

وہ ہو جس خانۂ دل میں وہ ویراں ہو نہیں سکتا

الٰہی پھر سبب کیا ہے کہ درماں ہو نہیں سکتا

ہمارا در دِ دل جب تجھ سے پنہاں ہو نہیں سکتا

کوئی مجھ سا گناہوں پر پشیماں ہو نہیں سکتا

کوئی یوں غفلتوں پر اپنی گریاں ہو نہیں سکتا

چُھپاہے ابر کے پیچھے نظر آتا نہیں مجھ کو

میں اس کے چاند سے چہرہ پر قرباں ہو نہیں سکتا

خُدارا خواب میں ہی آکے اپنی شکل دکھلادے

بس اب تو صبر مجھ سے اے مری جاں ہو نہیں سکتا

وہاں ہم جا نہیں سکتے یہاں وہ آ نہیں سکتے

ہمارے دَرد کا کوئی بھی دَرماں ہو نہیں سکتا

چھپیں وہ لاکھ پردوں میں ہم انکو دیکھ لیتے ہیں

خیالِ روئے جاناں ہم سے پنہاں ہو نہیں سکتا

زرِ خالص سے بڑھ کے صاف ہونا چاہیے دل کو

ذرا بھی کھوٹ ہو جس میں مسلماں ہو نہیں سکتا

ہُوا آخر نکل جاتی ہے آزادِ محبت کی

چھپاؤ لاکھ تم اس کو وہ پنہاں ہو نہیں سکتا

نظر آتے تھے میرے حال پر وہ بھی پریشاں سے

یہ میرا خواب تو خوابِ پریشاں ہو نہیں سکتا

خُدایا مُدّتیں گذریں تڑپتے تیری فرقت میں

ترے ملنے کا کیا کوئی بھی ساماں ہو نہیں سکتا

بھلاؤں یاد سے کیونکر کلامِ پاک لب پر ہے

جُدا مجھ سے تو اک دم کو بھی قرآں ہو نہیں سکتا

مکانِ دل میں لا کر میں غمِ دلبَر کو رکھوں گا

مُبارک اس سے بڑھ کر کوئی مہماں ہو نہیں سکتا

وہ ہیں فردوس میں شاداں گرفتارِ بلا ہوں مَیں

وہ غمگیں ہو نہیں سکتے میں خنداں ہو نہیں سکتا

معافی دے نہ جبتک وہ مرے سارے گناہوں کی

جُدا ہاتھوں سے میرے اس کا داماں ہو نہیں سکتا

ہر اک دم اپنی قدرت کے انہیں جلوے دکھاتا ہے

جو اس کے ہو رہیں پھر ان سے پنہاں ہو نہیں سکتا

ہزاروں حسرتوں کا روز دل میں خُون ہوتا ہے

کبھی ویران یہ گنجِ شہیداں ہو نہیں سکتا

مثالِ کوہِ آتش بار کرتا ہوں فغاں ہر دم

کبھی کا مجھ سے بڑھ کے سینہ بریاں ہو نہیں سکتا

ہوں اتنا منفعل اس سے کہ بولا تک نہیں جاتا

مَیں اس سے مغفرت کا بھی تو خواہاں ہو نہیں سکتا

کیا تھا پہلے دل کا خون اب جاں لے کے چھوڑینگے

دِیت کا بھی تو میں اس ڈَھب سے خواہاں ہو نہیں سکتا

اخبار بدر جلد ۶ - ۲۲؍اکتوبر ۱۹۰۸ء

۲۳

وہ خواب ہی میں گر نظر آتے تو خُوب تھا

مرتے ہوئے کو آ کے جِلاتے تو خُوب تھا

اِس بے وفا سے دِل نہ لگاتے تو خُوب تھا

مٹی میں آبرو نہ ملاتے تو خُوب تھا

دِلبر سے رابطہ جو بڑھاتے تو خُوب تھا

یُوں عُمر رائیگاں نہ گنواتے تو خُوب تھا

اِک غمزدہ کو چہرہ دکھاتے تو خُوب تھا

روتے ہوئے کو آ کے ہنساتے تو خُوب تھا

اِک لفظ بھی زباں پہ نہ لاتے تو خُوب تھا

دُنیا سے اپنا عشق چھپاتے تو خُوب تھا

نظروں سے اپنی تم نہ گراتے تو خُوب تھا

پہلے ہی ہم کو مُنہ نہ لگاتے تو خُوب تھا

محمُودؔ دِل خدا سے لگاتے تو خُوب تھا

شیطاں سے دامن اپنا چُھڑاتے تو خُوب تھا

یُونہی پڑے نہ باتیں بناتے تو خُوب تھا

کچھ کام کر کے ہم بھی دکھاتے تو خُوب تھا

دُنیائے دُوں کو آگ لگاتے تو خُوب تھا

کُوچہ میں اس کے دھونی رماتے تو خُوب تھا

آبِ حیات پی کے خضرؔ تم نے کیا لیا

تم اس کی رہ میں خُون لُنڈھاتے تو خُوب تھا

اے کاش! عقل عشق میں دیتی ہمیں جواب

دیوانہ وار شور مچاتے تو خُوب تھا

مُدّت سے ہیں بھٹک رہے وادی میں عشق کی

وہ خود ہی آ کے راہ دکھاتے تو خُوب تھا

عزّت بھی اس کی دُوری میں بے آبروئی ہے

کُوچہ میں اس کے خاک اُڑاتے تو خُوب تھا

بحرِ گنہ میں پھر کبھی کشتی نہ ڈوبتی

ہم ناخُدا خُدا کو بناتے تو خُوب تھا

فُرقت میں اپنا حال ہُوا ہے یہاں جو غیر

احباب اُن کو جا کے سُناتے تو خُوب تھا


اخبار بدر جلد ۸۔ ۱۴ جنوری ۱۹۰۹ء

۲۴

مَیں نے جس دِن سے ہے پیارے ترا چہرہ دیکھا

پھر نہیں اور کسی کا رُخِ زیبا دیکھا

سچ کہوں گا کہ نہیں دیکھی یہ خوبی ان میں

چہرۂ یُوسف و اندازِ زلیخا دیکھا

خاک کے پُتلے تو دنیا میں بہت دیکھے تھے

پر کبھی ایسا نہ تھا نُور کا پُتلا دیکھا

جب کبھی دیکھی ہیں یہ تیری غزالی آنکھیں

مَیں نے دُنیا میں ہی فردوس کا نقشہ دیکھا

تیرے جاتے ہی ترا خیال چلا آتا ہے

تیرے جانے میں بھی آنے کا تماشا دیکھا

تیری آنکھوں میں ہے دیکھی مَلَک الموت کی آنکھ

ہم نے ہاتھوں میں ترے قبضۂ قضا کا دیکھا

مشتری بھی ہے ترا مشتری اے جانِ جہاں

اُس نے جس دِن سے ہے تیرا رُخِ زیبا دیکھا

اپنی آنکھوں سے کئی بار ہے سُورج کا بھی

پِتّہ اُلفت میں تِری مَیں نے پگھلتا دیکھا

دیکھ کر اس کو ہیں دُنیا کے حسیں دیکھ لئے

کیا بتاؤں کہ ترے چہرہ میں ہے کیا دیکھا

تیری غصّہ بھری آنکھوں کو جو دیکھامَیں نے

حُور کی آنکھ میں دوزخ کا نظارا دیکھا

ہلتے دیکھا جو کبھی تیرا ہلالِ ابرو

پارہ ہائے جگرِ شمس کو اُڑتا دیکھا

ظلم کرتے ہو جو کہتے ہو شفق پھولی ہے

تم نے عاشق کا ہے یہ خونِ تمنّا دیکھا


اخبار بدر جلد ۸۔ ۲۵؍ فروری ۱۹۰۹ء

۲۵

کیا جانتے کہ دل کو مرے آج کیا ہوا

کس بات کا ہے اس کو یہ دھڑکا لگا ہوا

کیوں اِس قدر یہ رنج و مصیبت میں چور ہے

کیوں اس سے اَمن و عیش ہے بالکل چھٹا ہوا

وہ جوشش اور خروش کہاں اب چلے گئے

رہتا ہے اس قدر یہ بھلا کیوں دبا ہوا

خالی ہے فرحت اور مسرت سے ، کیا سبب

رہتا ہے آبلہ کی طرح کیوں بھرا ہوا

چھائی ہوئی ہے اس پہ بھلا مُردنی یہ کیوں؟

جیسے کہ وقتِ صُبح دِیا ہو بُجھا ہوا

بادِ سَمُوم نے اسے مُرجھا دیا ہے کیوں؟

رہتا ہے کوئلہ کی طرح کیوں بُجھا ہوا

کیوں اس کی آب و تاب وہ مٹی میں مل گئی؟

جیسے ہو خاک میں کوئی موتی رُلا ہوا

کیا غم ہے اسے اور دَرد ہے کس بات کا اسے

کس رنج اور عذاب میں ہے مُبتلا ہوا

مجھ پر بھی اس کی فکر میں آرام ہے حرام

میں اس کے غم میں خود ہوں شکارِ بلا ہوا

سب شعر و شاعری کے خیالات اُڑ گئے

سب لُطف ایک بات میں ہی کِرکِرا ہوا

آہ و فغاں کرتے ہوئے تھک گیا ہوں میں

نالہ کہ جو رسا تھا مرا نارسا ہوا

ہر اک نے ساتھ چھوڑ دیا ایسے حال میں

سمجھے تھے با وفا جسے وہ بے وفا ہوا

اِس درد و غم میں آنکھیں تلک لے گئیں جواب

آنسو تلک بہانا انہیں ناروا ہوا

سارا جہاں مرے لیے تاریک ہو گیا

جو تھا مثالِ سایہ وہ مجھ سے جُدا ہوا

رہتی ہے چاک جیبِ شکیبائی ہر گھڑی

دامانِ صبر رہتا ہے ہر دَم پھٹا ہوا

اک عرصہ ہو گیا ہے کہ میں سوگوار ہوں

بیداد ہائے دہر سے زار و نزار ہوں

مدّت سے پارہ ہائے جگر کھا رہا ہوں میں

رنج و مِحَن کے قبضہ میں آیا ہوا ہوں میں

میری کمر کو قوم کے غم نے دیا ہے توڑ

کس ابتلا میں ہائے ہوا مُبتلا ہوں میں

کوشاں حصولِ مطلبِ دل میں ہوں اس قدر

کہتا ہوں تم کو سچ ہمہ تن التجا ہوں میں

کچھ اپنے تن کا فکر ہے مجھ کو نہ جان کا

دینِ مُحَمَّدی کے لیے مر رہا ہوں میں

میں رو رہا ہوں قوم کے مُرجھائے پھول پر

بُلبُل تو کیا ہے اس سے کہیں خوشنوا ہوں میں

بیمارِ رُوح کے لیے خاکِ شفا ہوں میں

ہاں کیوں نہ ہو کہ خاکِ درِ مُصطفےٰؐ ہوں میں

پھر کیوں نہ مجھ کو مذہبِ اسلام کا ہو فکر

جب جان و دل سے معتقدِ میرزا ہوں میں

دل اور جگر میں گھاؤ ہوئے جاتے ہیں کہ جب

چاروں طرف فساد پڑے دیکھتا ہوں میں

مرگِ پسر پہ پیٹتی ہے جیسے ماں کوئی

حالت پہ اپنی قوم کی یوں پیٹتا ہوں میں

دل میرا ٹکڑے ٹکڑے ہوا ہے خدا گواہ

غم دُور کرنے کے لیے گو ہنس رہا ہوں میں

تسکین دہ مرے لیے بس اِک وجود تھا

تم جانتے ہو اس سے بھی اب تو جُدا ہوں میں

برکت ہے سب کی سب اسی جانِ جہان کی

ورنہ مری بساط ہے کیا اور کیا ہوں میں

شیطاں سے جنگ کرنے میں جاں تک لڑاؤں گا

یہ عہد ذاتِ باری سے اب کر چکا ہوں میں

افسوس ہے کہ اس کو ذرا بھی خبر نہیں

جس سنگ دل کے واسطے یاں مَر مِٹا ہوں میں

کہتا ہوں سچ کہ فکر میں تیری ہی غرق ہوں

اے قوم سُن کہ تیرے لیے مَر رہا ہوں میں

کیا جانے تُو کہ کیسا مجھے اضطراب ہے

کیسا تپاں ہے سینہ کہ دل تک کباب ہے

حالات پر زمانے کے کچھ تو دھیان کرو

بے فائدہ نہ عمر کو یوں رائیگاں کرو

شیطاں ہے ایک عرصہ سے دُنیا پہ حکمران

اُٹھو اور اُٹھ کے خاک میں اس کو نہاں کرو

دِکھلاؤ پھر صحابہؓ سا جوش و خروش تم

دُنیا پہ اپنی قوّتِ بازو عیاں کرو

پھر آزماؤ اپنے ارادوں کی پختگی

پھر تم دِلوں کی طاقتوں کا امتحاں کرو

دل پھر مخالفانِ محمدؐ کے توڑ دو

پھر دُشمنانِ دین کو تم بے زباں کرو

پھر ریزہ ریزہ کر دو بتِ شرک و کفر کو

کفار و مشرکین کو پھر نیم جاں کرو

پھر خاک میں ملا دو یہ سب قصرِ شیطنت

نام و نشاں مٹا کے انہیں بے نشاں کرو

پہنچا کے چھوڑو جھوٹوں کو پھر اُن کے گھر تلک

ہاں پھر سمندِ طبع کی جولانیاں کرو

ہاں پھر یلانِ فوجِ لعیں کو پچھاڑ دو

میدانِ کارزار میں پھر گرمیاں کرو

پھر تم اُٹھاؤ رنج و تعب دیں کے واسطے

قربان راہِ دینِ محمدؐ میں جاں کرو

پھر اپنے ساتھ اور خلائق کو لو ملا

نا مہربان جو ہیں اُنہیں مہرباں کرو

پھر دُشمنوں کو حلقۂ اُلفت میں باندھ لو

جو تم سے لڑ رہے ہیں اُنہیں ہم زباں کرو

سینہ سے اپنے پھر اُسی مَہ رُو کو لو لگا

پھر دل میں اپنے یادِ خدا میہماں کرو

پھر اس پہ اپنے حالِ زبوں کو عیاں کرو

پھر اس کے آگے نالۂ و آہ و فغاں کرو

ہاں پھر اُسی صنم سے تعلق بڑھاؤ تم

پھر کاروانِ دل کو اُدھر ہی رواں کرو

پھر راتیں کاٹو جاگ کے یادِ حبیبؐ میں

پھر آنسوؤں کا آنکھ سے دَریا رواں کرو

پھر اس کی میٹھی میٹھی صداؤں کو تم سنو

پھر اپنے دل کو وصل سے تم شادماں کرو

ہاں ہاں اسی حبیبؐ سے پھر دل لگاؤ تم

پھر منعَمین لوگوں کے انعام پاؤ تم

رسالہ تشحیذ الاذہان ۔ ماہ فروری ۱۹۰۹ء

۲۶

قصّۂ ہجر ذرا ہوش میں آئوں تو کہوں

بات لمبی ہے یہ سَر پیر جو پائوں تو کہوں

عشق میں اِک گُل نازک کے ہوا ہوں مجنوں

دھجیاں جامۂ تن کی میں اُڑائوں تو کہوں

حالِ دل کہنے نہیں دیتی یہ بے تابیٔ دل

آؤ سینہ سے تمھیں اپنے لگائوں تو کہوں

حال یُوں ان سے کہوں جس سے وہ بیخود ہو جائیں

کوئی چُبھتی ہوئی میں بات بناؤں تو کہوں

شرم آتی ہے یہ کہتے کہ نہیں ملتا تو

تیری تصویر کو میں دِل سے مٹاؤں تو کہوں

وہ مزا ہے غمِ دلبر میں کہ میں کہتا ہوں

رنجِ فُرقت کوئی دِن اور اُٹھاؤں تو کہوں

راز داں اس کی شکایت ہو اسی کے آگے

اس کی تصویر کو آنکھوں سے ہٹاؤں تو کہوں

سخت ڈرتا ہوں میں اظہارِ محبت کرتے

پہلے اس شوخ سے میں عہد و وفا لوں تو کہوں

وہ خفا ہیں کہ بلا پُوچھے چلا آیا کیوں

یاں یہ ہے فکر کوئی بات بناؤں تو کہوں

تیرے یوسف کا مجھے خُوب پتہ ہے اے دِل

کوئی دن اور کنوئیں تجھ کو جھنکالوں تو کہوں

دل نہیں ہے یہ تو لعلِ دہنِ افعی ہے

دل کو اس زُلفِ سیہ سے جو چُھڑاؤں تو کہوں

چہرہ دکھلادے مجھے صدقے میں اِن آنکھوں کے

دامن اُن کا کبھی آنکھوں سے لگاؤں تو کہوں

جان جائے گی پہ چھوٹے گا نہ دامن تیرا

پتے نِیمسی کے میں دو چار چبائوں تو کہوں

یا الٰہی تری اُلفت میں ہُؤا ہوں مجنوں

خواب میں ہی کبھی میں تجھ کو جو پائوں تو کہوں


اخبار بدر جلد ۸ - ۱۱ مارچ ۱۹۰۹ء

۲۷

وہ چہرہ ہر روز ہیں دکھاتے رقیب کو تو چھپا چھپا کر

وہ ہم ہی آفت زدہ ہیں جن سے چھپاتے ہیں مُنہ دکھا دکھا کر

ہے مارا اک کو رُلا رُلا کر تو دُوسرے کو ہنسا ہنسا کر

جگر کے ٹکڑے کئے ہیں کس لیے دل کی حالت دکھا دکھا کر

اُڑائیے گا نہ ہوش میرے غزالی آنکھیں دکھا دکھا کر

چھری ہے چلتی دل و جگر پر نہ کیجئے باتیں چبا چبا کر

کوئی وہ دن تھا کہ پاس اپنے وہ تھے بٹھاتے بلا بلا کر

نکالتے ہیں مگر وہاں سے دھتّا مجھے اب بتا بتا کر

فراقِ جاناں نے دل کو دوزخ بنا دیا ہے جلا جلا کر

یہ آگ بجھتی نہیں ہے مجھ سے میں تھک گیا ہوں بجھا بجھا کر

جو ہے رقیبوں سے تم کو اُلفت تو دل میں پوشیدہ رکھو اس کو

مجھے ہو دیوانہ کیوں بناتے بتا بتا کر جتا جتا کر

مجھے سمجھتے ہو کیا قلی تم کہ نت نئے بوجھ لادتے ہو

بس اب تو جانے دو تھک گیا ہُوں غم و مصیبت اُٹھا اُٹھا کر

پڑے بلا جس کے سر پہ اگر اُسے وہی خُوب جانتا ہے

تماشا کیا دیکھتے ہو صاحب ہمارے دِل کو دُکھا دُکھا کر

کبھی جو تعریف کیجئے تو وہ کہتے ہیں یوں بگڑ بگڑ کر

مزاج میرا بگاڑتے ہیں بنا بنا کر بنا بنا کر

رہا الگ وہ ہمارا یوسف نہ اس کا دامن بھی چُھو سکے ہم

یُونہی عبث میں گنوائیں آنکھیں ہیں اشکِ خونیں بہا بہا کر

جو کوئی بے بِن بُلائے آیا تو اس کو تم کیوں نکالتے ہو

ہیں ایسے لاکھوں کہ بزم میں ہو اُنہیں بٹھاتے بُلا بُلا کر

ہیں چاندنی راتیں لاکھوں گذریں کھلی نہ دل کی کلی کبھی بھی

وہ عہد جو مجھ سے کر چکا ہے کبھی تو اے بے وفا! وفا کر

جدائی ہم میں ہے کس نے ڈالی خضر تھیں اسکا کچھ پتہ ہے؟

وہ کون تھا جو کہ لے گیا دل ہے مجھ سے آنکھیں مِلا مِلا کر

فراقِ جاناں میں ساتھ چھوڑا ہر ایک چھوٹے بڑے نے میرا

تھی دِل پہ اُمید سو اُسے بھی وہ لے گیا ہے بُجھا بُجھا کر

ہزار کوشش کرے کوئی پر وہ مجھ سے عہدہ برآ نہ ہو گا

جسے ہو کچھ زعم آزما لے ہوں کہتا ڈنکا بجا بجا کر

یہ چُھپ کے کیوں چُٹکیاں ہے لیتا تجھے بھلا کس کا ڈر پڑا ہے

جو شوق ہو دل کو چھیڑنے کا تو شوق سے بَر مَلا بُلا کر

یہی ہے دن رات میری خواہش کہ کاش مل جائے وہ پَری رُو

مٹاؤں پھر بے قراریِ دل گلے سے اس کو لگا لگا کر

جو مارنا ہے تو تیرِ مژگاں سے چھید ڈالو دل و جگر کو

نہ مجھ کو تڑپاؤ اب زیادہ تم آئے دن یوں ستا ستا کر

خُدا پہ الزامِ بے وفائی یہ بات محمودؐ پھر نہ کہیو

ہُوَا تجھے بندۂ خُدا کیا ، خُدا خُدا کر ، خُدا خُدا کر

جو کوچۂ عشق کی خبر ہو تو سب کریں ایسی بے حیائی

یہ اہلِ ظاہر جو مجھ سے کہتے ہیں کچھ تو اے بے حیا! حیا کر

اخبار بدر جلد ۸۔ ۱۸؍ مارچ ۱۹۰۹ء

۲۸

آؤ مَحْمُود ذرا حال پریشاں کر دیں

اور اس پردے میں دُشمن کو پشیماں کر دیں

خنجرِ ناز پہ ہم جان کو قُرْبان کر دیں

اور لوگوں کے لیے راستہ آساں کر دیں

کھینچ کر پردۂ رُخ یار کو عُریاں کر دیں

وُہ ہمیں کرتے ہیں ہم ان کو پریشاں کر دیں

وُہ کہیں ہم کہ گداگر کو سلیماں کر دیں

وُہ کریں کام کہ شیطاں کو مُسلماں کر دیں

پہلے ان آرزوؤں کا کوئی ساماں کر دیں

دل میں پھر اس شہِ خُوباں کو مہماں کر دیں

ایک ہی وقت میں چُھپتے نہیں سُورج اور چاند

یا تو رخسار کو یا اَبرو کو عُریاں کر دیں

آج بے طرح چڑھائی آتی ہے لعلِ لب پر

ان کو کہہ دو کہ وہ زُلفوں کو پریشاں کر دیں

آدمی ہو کے تڑپتا ہوں چکوروں کی طرح

کبھی بے پردہ اگر وُہ رُخِ تابان کر دیں

اِک دفعہ دیکھ چکے مُوسیٰؑ تو پردہ کیسا

ان سے کہہ دو کہ وہ اب چہرہ کو عُریاں کر دیں

دل میں آتا ہے کہ دل بیچ دیں دلدار کے ہاتھ

اور پھر جان کو ہم ہدیۂ جاناں کر دیں

وہ کریں دم کہ مسیحا کو بھی حیرت ہو جائے

شیر قالیں کو بھی ہم شیرِ نَیستاں کر دیں


اخبار بدر جلد ۸۔ ۲۹؍ اپریل ۱۹۰۹ء

۲۹

مُجھ سا نہ اِس جہاں میں کوئی دلفگار ہو

جس کا نہ یار ہو نہ کوئی غمگسار ہو

کتنی ہی پُل صراط کی گو تیز دھار ہو

یا رب مراد ہاں بھی قدم اُستوار ہو

دل چاہتا ہے طُور کا وہ لالہ زار ہو

اور آسماں پہ جلوہ کُناں میرا یار ہو

ساقی ہو مَے ہو جام ہو ابرِ بہار ہو

اتنی پیوں کہ حشر کے دن بھی خُمار ہو

جس سر پہ بھوت عشقِ صنم کا سوار ہو

قسمت یہی ہے اُس کی کہ دُنیا میں خوار ہو

تقویٰ کی جڑ ھ یہی ہے کہ خالق سے پیار ہو

گو ہاتھ کام میں ہوں مگر دل میں یار ہو

دُنیا کے عیش اس پہ سراسر ہیں پھر حرام

پہلو میں جس کے ایک دلِ بے قرار ہو

وہ لُطف ہے خلش میں کہ آرام میں نہیں

تیرِ نگاہ کیوں مرے سینہ کے پار ہو

رنجِ فراقِ گُل نہ کبھی ہو سکے بیاں

میرے مقابلہ میں ہزاروں ہزار ہو

جاں چاہتی ہے تجھ پہ نکلنا اے میری جاں

دل کی یہ آرزُو ہے کہ تجھ پہ نثار ہو

کیسا فقیر ہے وہ جو دِل کا نہ ہو غَنی

وہ زار کیا جو رنج و مصیبت سے زار ہو

خضر و مسیحؑ بھی نہ بچے جبکہ موت سے

پھر زندگی کا اور کسے اعتبار ہو

سُنتے ہیں بعدِ مرگ ہی ملتا ہے وہ صنم

مرنے کے بعد ہو جو ہمارا سِنگار ہو

میں کیوں پھروں کہ خالی نہیں آجتک پھرا

جو تیرے فضل و رحم کا اُمّیدوار ہو

موسیٰ سے تُو نے طُور پر جو کچھ کیا سلوک

مجھ سے بھی اب وُہی مرے پروردگار ہو

معشوق گر نہیں ہوں تو عاشق ہی جان لو

اِن میں نہیں تو اُن میں ہمارا شمار ہو

چیونٹی پہ بوجھ اُونٹ کا ہے کون لادتا

اِس جاں پہ اور یہ سِتمِ روزگار ہو

بتلاؤ کس جگہ پہ اُسے جاکے ڈھونڈیں ہم

جس کی تمام ارض و سما میں پُکار ہو

قربان کر کے جان دُوئی کا مٹاؤں نام

وہ خواب میں ہی آکے جو مجھ سے دوچار ہو

شاہ و گدا کی آنکھ میں سُرمہ کا کام دے

وہ جان جو کہ راہِ خُدا میں غُبار ہو

اخبار بدر جلد ۸۔۱۳؍ مئی ۱۹۰۹ء

۳۰

ہائے وہ دل کہ جسے طرزِ وفا یاد نہیں

وائے وہ رُوح جسے قولِ بَلیٰ یاد نہیں

بے حسابی نے گناہوں کی مجھے پاک کیا

مَیں سراپا ہوں خطا مجھ کو خطا یاد نہیں

جب سے دیکھا، اُسے اُس کا ہی رہتا ہے خیال

اور کچھ بھی مجھے اب اس کے سوا یاد نہیں

دردِ دل سوزِ جگر اشکِ رواں تھے مرے دوست

یار سے مل کے کوئی بھی تو رہا یاد نہیں

ایک دن تھا کہ محبت کے تھے مجھ سے اقرار

مجھ کو تو یاد ہیں سب آپ کو کیا یاد نہیں

بے وفائی کا لگاتے ہیں وہ کس پر الزام

مَیں تو وہ ہوں کہ مجھے لفظِ دغا یاد نہیں

مَیں وہ بیخود ہوں کہ تھے جس نے اُڑائے مرے ہوش

مجھ کو خود وہ نگہِ ہوش رُبا یاد نہیں

کوچہٴ یار سے ہے مجھ کو نکلنا دُو بھر

کیا تجھے وعدہٴ ترا لغزشِ پا یاد نہیں

ہائے بدبختیٴ قسمت کہ لگا ہے مجھ کو

وہ مرض جس کی مسیحا کو دَوا یاد نہیں

وہ جو رہتا ہے ہر اک وقت مری آنکھوں میں

ہائے کم بختی مجھے اس کا پتہ یاد نہیں

ہم وہ ہیں پیار کا بدلہ جنہیں ملتا ہے پیار

بُھولے ہیں روزِ جزا اور جزا یاد نہیں


اخبار بدر جلد ۸۔ ۲۰ مئی ۱۹۰۹ء

۳۱

وہ نکاتِ معرفت بتلائے کون

جامِ وصلِ دلرُبا پِلوائے کون

ڈھونڈتی ہے جلوۂ جاناں کو آنکھ

چاند سا چہرہ ہمیں دکھلائے کون

کون دے دل کو تسلّی ہر گھڑی

اب اڑے دقتوں میں آڑے آئے کون

کون دکھلائے ہمیں راہِ ہُدیٰ

حضرتِ باری سے اب ملوائے کون

سرد مہری سے جہاں کی دل ہے سَرد

گرمیِ تاثیر سے گرمائے کون

کون دنیا سے کرے ظلمت کو دُور

راہ پر بھولے ہوؤں کو لائے کون

یاس ونومیدی نے گھیرا ہے مجھے

اس کے پنجے سے مجھے چُھڑوائے کون

کون میرے واسطے زاری کرے

درگہِ ربّی میں سِیسرا جائے کون

وہ گلِ رعنا ہی جب مُرجھا گیا

پھر بہارِ جانفزا دکھلائے کون

کل نہیں پڑتی اسے اُس کے سوا

اس دلِ غمگیں کو اب سمجھائے کون

کس کی تقریروں سے اب دل شاد ہو

اپنی تحریروں سے اب پھڑکائے کون

کس کے کہنے پر ملے دل کو غذا

ہم کو آبِ زندگی پِلوائے کون

گرمیٔ اُلفت سے ہے یہ زخمِ دل

مرہمِ کافور سے کل پائے کون

اے مسیحا تیرے سودائی جو ہیں

ہوش میں بتلا کہ ان کو لائے کون

تُو تو واں جنت میں خوش اور شاد ہے

ان غریبوں کی خبر کو آئے کون

اے مسیحا ہم سے گو تُو چھُٹ گیا

دل سے پر اُلفت تری چھُڑوائے کون

جانتا ہوں صَبْر کرنا ہے ثواب

اِس دلِ نادان کو سمجھائے کون

تجھ سے تھی ہم کو تسلی ہر گھڑی

تیرے مرنے پر ہمیں بہلائے کون

کون دے دل کو مرے صبر و قرار

اشکِ خونیں آنکھ سے پُچھوائے کون

اخبار بدر جلد ۸۔ ۲۷ مئی ۱۹۰۹ء

۳۲

مئے عشقِ خدا میں سخت ہی مخمور رہتا ہوں

یہ ایسا نشہ ہے جس میں کہ ہر دم چُور رہتا ہوں

وہ ہے مجھ میں نہاں غیروں سے پردہ ہے اسے لازم

تبھی تو چشمِ بد بیناں سے میں مستور رہتا ہوں

قیامت ہے کہ وصلِ یار میں بھی رنجِ فرقت ہے

میں اس کے پاس رہ کر بھی ہمیشہ دُور رہتا ہوں

لیا کیوں رشتۂ پردی وفاداری نہ کیوں چھوٹی

نگاہِ دوستاں میں میں تبھی مقہور رہتا ہوں

مجھے اس کی نہیں پروا کوئی ناراض ہو بیشک

میں غداری کی سرحد سے بہت ہی دُور رہتا ہوں

مجھے فکرِ معاش و پوشش و خور کا الم کیوں ہو

میں عشقِ حضرتِ یزداں میں جب مخمور رہتا ہوں

تڑپ ہے دین کی مجھ کو اُسے دنیا کی لالچ ہے

مخالف پر ہمیشہ میں تبھی منصور رہتا ہوں

اُسے ہے قوم کا غم اور میں نیا سے بچتا ہوں

میں اب اس دل کے ہاتھوں سے بہت مجبور رہتا ہوں


اخبار بدر جلد ۸، نمبر ۸ جولائی ۱۹۰۹ء

۳۳

جگہ دیتے ہیں جب ہم اُنکو اپنے سینہ و دل میں

ہمیں وہ بیٹھنے دیتے نہیں کیوں اپنی محفل میں

بڑے چھوٹے سبھی کعبہ کو بیت اللہ کہتے ہیں

تو پھر تشریف کیوں لاتے نہیں وہ کعبۂ دل میں

کرے گا نعرۂ اللہ اکبر کوئے قاتل میں

ابھی تک کچھ نہ کچھ باقی ہے دم اس مُرغِ بسمل میں

اُسی کے جلوۂ ہائے مختلف پر مرتے ہیں عاشق

وُہی گُل میں وُہی بُلبل میں وہ ہی شمعِ محفل میں

وہی ہے طرزِ دلداری وہی رنگِ ستم گاری

تجسّس کیوں کروں اس کا کہ ہے یہ کون محمل میں

بُلاتے ہیں مجھے وہ پر جو میں اُٹھوں تو کہتے ہیں

کدھر جاتا ہے اے و ناغفل میں بیٹھا ہوں تِرے دل میں

ہزاروں دامنوں پر خون کے دھبّے چمکتے ہیں

مرے آنے پہ کیا ہولی ہوئی ہے کوئے قاتل میں

مَیں سمجھا تھا کہ اس کو دیکھ کر پڑ جائیگی ٹھنڈک

خبر کیا تھی کہ بھنک جاؤں گا جاکر اسکی محفل میں

گُلوں پر پڑ گئی کیا اوس دید رُئے جاناں سے

کوئی دیکھو تو کیسا شور برپا ہے عِنا دل میں

مصیبت راہِ اُلفت کی کٹے گی کس طرح یارب

مرے پاؤں تو بالکل رہ گئے ہیں پہلی منزل میں


اخبار بدر جلد ۸ - ۲۹؍ جولائی ۱۹۰۹ء

۳۴

یہیں سے اگلا جہاں بھی دکھا دیا مجھ کو

ہے ساغرِ مئے اُلفت پِلا دیا مجھ کو

بتاؤں کیا کہ مسیحا نے کیا دیا مجھ کو

مَیں کرمِ خاکی تھا انساں بنا دیا مجھ کو

کسی کی موت نے سب کچھ بُھلا دیا مجھ کو

اس ایک چوٹ نے ہی سِپٹا دیا مجھ کو

کسی نے ثانیِ شیطاں بنا دیا مجھ کو

کسی نے لے کے فرشتہ بنا دیا مجھ کو

نہ اِس کے بُغض نے پیچھے ہٹا دیا مجھ کو

نہ اُس کے پیار نے آگے بڑھا دیا مجھ کو

یہ دونوں میری حقیقت سے دُور ہیں محمودؔ

خُدا نے جو تھا بنانا بنا دیا مجھ کو

کبھی جو طالبِ دیدِ رُخِ نگار ہوا

تو آئینہ میں مرا مُنہ دکھا دیا مجھ کو

جفائے اہلِ جہاں کا ہوا جو مَیں شاکی

تھپک کے گود میں اپنی سُلا دیا مجھ کو

جہاں حسد کا گذر ہے نہ دخلِ بد بیں ہے

ہے ایسے مُلک کا وارث بنا دیا مجھ کو

مرے تو دل میں تھا کہ بڑھ کر نثار ہو جاؤں

پر اُس کے تیرِ نگہ نے ڈرا دیا مجھ کو

مرا قدم تھا کبھی عرش پر نظر آتا

الٰہی خاک میں کس نے ملا دیا مجھ کو

غمِ جماعتِ احمدؔ نہیں سہا جاتا

یہ آگ وہ ہے کہ جس نے جلا دیا مجھ کو


اخبار بدر جلد ۸- ۱۶؍ ستمبر ۱۹۰۹ء

۳۵

دل پھٹا جاتا ہے مثلِ ماہیِ بے آب کیوں

ہو رہا ہوں کس کے پیچھے اس قدر بیتاب کیوں

خالقِ اسباب ہی جب ہوں کسی پر خشمگیں

پھر بھلا اس آدمی کا ساتھ دیں اسباب کیوں

مجھ کو یہ سمجھیں کہ ہوں اُلفت میں مرفوع القلم

میرے پیچھے پڑ رہے ہیں سب کے سب احباب کیوں

جب کلیدِ معرفت ہاتھوں میں میرے آ گئی

تیرے انعاموں کا مجھ پر بند، پھر باب کیوں

اس میں ہوتی ہے مجھے دیدِ رُخِ جاناں نصیب

میری بیداری سے بڑھ کر ہو نہ میرا خواب کیوں

اُمّتِ احمدؐ نے چھوڑی ہے صراطِ مستقیم

کیوں نہ گھبراؤں نہ کھاؤں دل میں پیچ و تاب کیوں

جبکہ وہ یارِ یگانہ ہر گھڑی مجھ کو بلائے

پھر بتاؤ تو کہ آئے میرے دل کو تاب کیوں

جبکہ رونا ہے تو پھر دل کھول کر روئیں گے ہم

نہر چل سکتی ہو تو بنوائیں، ہم تالاب کیوں

چھوڑ دو جانے بھی دو سُنتا ہوں یہ بھی ہے علاج

ڈالتے ہو میرے زخمِ دل پہ تم تیزاب کیوں

گفتگوئے عاشقاں سُن سُن کے آخر یہ کہا

بات تو چھوٹی سی تھی اتنا کیا اطناب کیوں


اخبار بدر جلد ۸۔ ۴؍ نومبر ۱۹۰۹ء

۳۶

عہد شکنی نہ کرو اہلِ وفا ہو جاؤ

اہلِ شیطاں نہ بنو اہلِ خدا ہو جاؤ

گرتے پڑتے درِ مولیٰ پہ رسا ہو جاؤ

اور پروانے کی مانند فدا ہو جاؤ

جو ہیں خالق سے خفا اُن سے خفا ہو جاؤ

جو ہیں اس در سے جُدا اُن سے جُدا ہو جاؤ

حق کے پیاسوں کے لیے آبِ بقا ہو جاؤ

خشک کھیتوں کے لیے کالی گھٹا ہو جاؤ

غنچہٴ دیں کے لیے بادِ صبا ہو جاؤ

کفر و بدعت کے لیے دستِ قضا ہو جاؤ

سُرخرو رُو بَرُوئے داورِ محشر جاؤ

کاش تم حشر کے دِن عُہدہ برآ ہو جاؤ

بادشاہی کی تمنا نہ کرو ہرگز تم

کوچہٴ یارِ یگانہ کے گدا ہو جاؤ

بحرِ عرفان میں تم غوطے لگاؤ ہر دم

بانیِ کعبہ کی تم کاش دُعا ہو جاؤ

وصلِ مولیٰ کے جو بھوکے ہیں انہیں سیر کرو

وہ کرو کام کہ تم خوانِ ہُدیٰ ہو جاؤ

قطب کا کام دو تم ظلمت و تاریکی میں

بھولے بھٹکوں کے لیے راہ نما ہو جاؤ

پنبہٴ مرہمِ کافور ہو تم زخموں پر

دلِ بیمار کے درماں و دوا ہو جاؤ

طالبانِ رُخِ جاناں کو دکھاؤ دلبر

عاشقوں کے لیے تم قبلہ نما ہو جاؤ

ابرِ معروف کو تعویذ بناؤ جاں کا

بے کسوں کے لیے تم عُقدہ کشا ہو جاؤ

دمِ عیسیٰ سے بھی بڑھ کر ہو دُعاؤں میں اثر

یدِ بیضا بنو مُوسیٰ کا عَصا ہو جاؤ

راہِ مولیٰ میں جو مرتے ہیں وہی جیتے ہیں

موت کے آنے سے پہلے ہی فنا ہو جاؤ

مَوْرِدِ فضل و کرم وارثِ ایمان و ھُدیٰ

عاشقِ اَحمدؐ و محبوبِ خدا ہو جاؤ


اخبار بدر جلد ۹ - ۳۱ مارچ ۱۹۱۰ء

۳۷

وہ قیدِ نفسِ دَنی سے مجھے چھڑائیں گے کب

رہائی پنجۂ غم سے مجھے دلائیں گے کب

یہ صدمہ ہائے جُدائی اُٹھائے جائیں گے کب

دل اور جان مرے اُن کی تاب لائینگے کب

وہ میرے چاک جگر کا کریں گے کب درماں

جو دل پہ داغ لگے ہیں انہیں مٹائینگے کب

یُونہی تڑپتے تڑپتے نہ دَم نکل جائے

کوئی یہ پُوچھے تو آ، دم مجھے بلائیں گے کب

خوشی اُنہی کو ہے زیبا جو صاحبِ دل ہیں

جو دل ہیں ڈُب چکے پھر وہ نہیں ہنسائینگے کب

وفا طریق ہے اُن کا وہ ہیں بڑے محسن

لگا کے منہ نظروں سے مجھے گرائینگے کب

جو تم نے اُن کو بلانا ہو دل وسیع کرو

بڑے وسیع ہیں وہ اس جگہ سمائینگے کب

نہیں یہ ہوش کہ خود ان کے گھر میں رہتا ہوں

یہ رٹ لگی ہے کہ وہ میرے گھر پہ آئینگے کب

یہ میں نے مانا کہ ہے اُن کی ذات بے پایاں

مگر وہ چہرۂ زیبا مجھے دکھائیں گے کب

مُمِیت بن چکے مُحْیی بنیں گے کب میرے

وہ مجھ کو مار تو بیٹھے ہیں اب جلائینگے کب

نگاہِ چہرۂ جاناں پہ جا پڑی جن کی

پھر اور لوگوں کے انداز اُن کو بھائینگے کب

جو خود ہوں نُور جنھیں نُور سے محبت ہو

غریقِ بحرِ ضلالت سے دِل ملائینگے کب

الٰہی آپ کی درگہ سے گر پھرا خالی

تو پھر جو دشمنِ جاں ہیں وہ مُنہ لگائینگے کب

سُنا ہے خواب میں ممکن ہے رویتِ جاناں

مَیں منتظر ہوں کہ وہ اب مجھے سُلائینگے کب


اخبار بدر جلد ۹ - ۹؍ جون ۱۹۱۰ء

۳۸

درد ہے دِل میں مرے یا خار ہے

کیا ہے آخر اس کو کیا آزار ہے

اُف گناہوں کا بڑا انبار ہے

اور میری جاں نحیف و زار ہے

جلوۂ جانان و دیدِ یار ہے

خواب میں جو ہے وہی بیدار ہے

اپنی شوکت کا وہاں اظہار ہے

اپنی کمزوری کا یاں اِقرار ہے

گو مجھے مُدّت سے یہ اِصرار ہے

مُنہ دکھانے سے انہیں انکار ہے

کوئی خوش ہے شاد ہے سرشار ہے

کوئی اپنی جان سے بیزار ہے

میرے دِل پر رنج و غم کا بار ہے

ہاں خبر لیجے کہ حالت زار ہے

میرے دشمن کیوں ہوئے جاتے ہیں لوگ

مجھ سے پہنچا اُن کو کیا آزار ہے

میری غمخواری سے ہیں سب بے خبر

جو ہے میرے درپئے آزار ہے

فکر دیں میں گُھل گیا ہے میرا جسم

دِل مرا اِک کوہِ آتشبار ہے

کیا ڈراتے ہیں مجھے خنجر سے وہ

جن کے سر پر کھینچ رہی تلوار ہے

میری کمزوری کو مت دیکھیں کہ میں

جس کا بندہ ہوں بڑی سرکار ہے

بادشاہوں کو غرض پردہ سے کیا

ہم نے کھینچی آپ ہی دیوار ہے

وہ تو بے پردہ ہے پر آنکھیں ہیں بند

کام آساں ہے مگر دُشوار ہے

چھوڑتے ہیں غیر سے مل کر تجھے

یا الٰہی اس میں کیا اسرار ہے

خدمتِ اسلام سے دل سَرد ہیں

گرم کیا ہی کُفر کا بازار ہے

پارہ ہائے دل اُڑے جاتے ہیں کیوں

یہ جگر کا زخم کیوں خونبار ہے

تنگ ہوں اس بے وفا دُنیا سے میں

مجھ کو یا رب خواہشِ دیدار ہے

اخبار بدر جلد ۱۰۔ ۲۷ اپریل ۱۹۱۱ء

۳۹

آمین حضرت صاحبزادی اَمَۃُ الحفیظ بیگم سلمہا اللہ تعالٰی

خُدا سے چاہیئے ہے لَو لگانی

کہ سب فانی ہیں پر وہ غیر فانی

وہی ہے راحت و آرام دل کا

اُسی سے رُوح کو ہے شادمانی

وہی ہے چارہٴ آلامِ ظاہر

وہی تسکیں دہِ دردِ نہانی

سِپَر بنتا ہے وہ ہر ناتواں کی

وہی کرتا ہے اس کی پاسبانی

بچاتا ہے ہر اک آفت سے ان کو

ٹلاتا ہے بلائے ناگہانی

جسے اُس پاک سے رشتہ نہیں ہے

زمینی ہے ، نہیں وہ آسمانی

اُسی کو پا کے سب کچھ ہم نے پایا

کُھلا ہے ہم پہ یہ رازِ نہانی

خُدا نے ہم کو دی ہے کامرانی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَدْنَی الْاَمَانِیْ

ہمارے گھر میں اس نے بھر دیا نُور

ہر اک ظُلمت کو ہم سے کر دیا دُور

ملایا خاک میں سب دشمنوں کو

کیا ہر مرحلہ میں ، ہم کو منصُور

حقیقت کھول دی اُن پر ہماری

مگر تاریکیٴ دل سے ہیں مجبُور

ہماری فتح و نُصرت دیکھ کر وہ

غم و رنج و مصیبت سے ، ہوئے چُور

ہماری رات بھی ہے نُور اَفشاں

ہماری صُبح خوش ہے شام مسرور

خُدا نے ہم کو وہ جلوہ دکھایا

جو مُوسیٰ کو دکھایا تھا سرِ طُور

ملے ہم کو وہ اُستاد و خلیفہ

کہ سارے کہہ اُٹھے نُوْرٌ عَلٰی نُوْر

خُدا نے ہم کو دی ہے کامرانی

فَسُبْحَانَ الَّذِيْٓ اَدْنَی الْاَمَانِیْ

خُدا کا اِس قدر ہے ہم پہ احساں

کہ جس کو دیکھ کر ہوں سخت حیراں

نہیں معلوم کیا خدمت ہوئی تھی

کہ سکھلایا کلامِ پاکِ یزداں

ہزاروں ہیں کہ ہیں محروم اس سے

نظر سے جن کی ہے وہ نُور پنہاں

جسے اِس نُور سے حصہ نہیں ہے

نہیں زندوں میں ہے وہ جسمِ بے جاں

یہی دِل کی تسلّی کا ہے موجب

اِسی سے ہو مَیَسَّر دیدِ جاناں

اِسی میں مُردہ دِل کی زندگی ہے

یہی کرتا ہے ہر مُشکل کو آساں

یہ ہے دُنیا میں کرتا رہنمائی

یہ عُقبیٰ میں کرے گا شاد و فرحاں

یہی ہر کامیابی کا ہے باعث

یہی کرتا ہے ہر مُشکل کو آساں

ملاتا ہے یہی اُس دِلرُبا سے

یہی کرتا ہے زائل دردِ ہجراں

یہ نعمت ، ہم کو بے خدمت ملی ہے

سکھایا ہے ہمیں مولیٰ نے قُرآں

خُدا نے ہم کو دی ہے کامرانی

فَسُبْحَانَ الَّذِيْٓ اَدْنَی الْاَمَانِیْ

کلام اللہ میں سب کچھ بھرا ہے

یہ سب بیماریوں کی اِک دَوا ہے

یہی اِک پاک دل کی آرزُو ہے

یہی ہر متّقی کا مُدّعا ہے

یہ جامع کیوں نہ ہو سب خُوبیوں کا

کہ اس کا بھیجنے والا خُدا ہے

مٹا دیتا ہے سب زنگوں کو دِل سے

اِسی سے قلب کو مِلتی جِلا ہے

یہ ہے تسکیں دِہِ عُشّاقِ مُضطَر

مریضانِ محبت کو شِفا ہے

خضر اِس کے سوا کوئی نہیں ہے

یہی بھُولے ہوؤں کا رہنما ہے

جو اِس کی دید میں آتی ہے لذّت

وہ سب دنیا کی خوشیوں سے سوا ہے

جو ہے اِس سے الگ حق سے الگ ہے

جو ہے اس سے جُدا حق سے جُدا ہے

یہ ہے بے عیب ہر نقص و کمی سے

کرے جو حرف گیری بے حیا ہے

ہمیں حاصل ہے اس سے دیدِ جاناں

کہ قُرآں مظہرِ شانِ خُدا ہے

خُدا نے ہم کو دی ہے کامرانی

فَسُبْحَانَ الَّذِيْ أَدْنَى الْأَمَانِيْ

ہیں اس دُنیا میں جتنے لوگ حق بیں

سچائی سے جنہیں کوئی نہیں کیں

وہ دل سے مانتے ہیں اس کی خوبی

وہ پاتے ہیں اسی میں دِل کی تسکیں

خُدا نے فضل سے اپنے ہمیں بھی

کھلائے اِس کے ہیں اَثمارِ شیریں

حفیظہ جو مری چھوٹی بہن ہے

نہ اب تک وہ ہوئی تھی اس میں رنگیں

ہوئی جب ہفت سالہ تو خُدا نے

یہ پہنایا اُسے بھی تاجِ زرّیں

کلام اللہ سب اس کو پڑھایا

بنایا گلشنِ قُرآں کا گُل چیں

زباں نے اس کو پڑھ کر پائی برکت

ہوئیں آنکھیں بھی اس سے نُور آگیں

اکٹھے ہو رہے ہیں آج احباب

منائیں تاکہ مل کر روزِ آمیں

ہوئے چھوٹے بڑے ہیں آج شاداں

نظر آتا نہیں کوئی بھی غمگیں

خُدا نے ہم کو دی ہے کامرانی

فَسُبْحَانَ الَّذِيْ أَدْنَى الْأَمَانِيْ

الٰہی جیسی یہ دولت عطا کی

ہمیں توفیق دے صِدق و صَفا کی

تِرے چاکر ہوں ہم پانچوں الٰہی

ہمیں طاقت عطا کر تُو دُعا کی

تِری خدمت میں پائیں جان و دل کو

گھڑی جب چاہے آجائے قضا کی

رہیں ہم دُور ہر بدکیش و بَد سے

رہے صُحبت ہمیں اہلِ وَفا کی

بنائیں دِل کو گُلزارِ حقیقت

لگائیں شاخ زُہد و اِتّقا کی

شفا ہوں ہر مریضِ رُوح کی ہم

دَوا بن جائیں دردِ لا دوا کی

نہ زور و ظُلم کے خوگر ہوں یارب

نہ عادت ہم میں ہو جَور و جَفا کی

محبت تیری دِل میں جاگزیں ہو

لگی ہو لَو ہمیں یادِ خُدا کی

ہمارے کام سب تیرے لیے ہوں

اطاعت ہو غرض ہر مُدّعا کی

رَسُول اللہ ہمارے پیشوا ہوں

ملے توفیق اُن کی اِقتدا کی

خُدا نے ہم کو دی ہے کامرانی

فَسُبْحَانَ الَّذِيْ أَوْفَى الْأَمَانِيْ

الٰہی تُو ہمارا پاسباں ہو

ہمیں ہر وقت تُو راحت رساں ہو

تِرے بِن زندگی کا کچھ نہیں لُطف

ہمارے ساتھ پیارے ہر زماں ہو

مصیبت میں ہمارا ہو مددگار

ہمارے دردِ دِل کا راز داں ہو

ہمیں اپنے لیے مخصوص کر لے

ہمارے دِل میں آ کر میہماں ہو

تجھے جس راہ سے لوگوں نے پایا

وہ رازِ معرفت ہم پر عیاں ہو

ہماری موت ہے فُرقت میں تیری

ہمیشہ ہم پہ تُو جلوہ کُناں ہو

ہمارا حافظ و ناصر ہو ہر دَم

ہمارے باغ کا تُو باغباں ہو

کرے اس کی اگر تُو آبپاشی

تو پھر ممکن نہیں بیمِ خزاں ہو

ذلیل و خوار و رُسوا ہو جہاں میں

جو حاسد ہو عَدُو ہو بدگماں ہو

عبادت میں کٹیں دن رات اپنے

ہمارا سَر ہو تیرا آستاں ہو

خُدا نے ہم کو دی ہے کامرانی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَوْفَی الْاَمَانِیْ

ہماری اے خُدا کر دے وہ تقدیر

کہ جس کو دیکھ کر حیراں ہو تدبیر

وہ ہم میں قوّتِ قُدسی ہو پیدا

جسے چھوویں وہی ہو جائے اکسیر

زباں مرہم بنے پیاروں کے حق میں

مگر اعداء کو کاٹے مثلِ شمشیر

وہ جذبہ ہم میں پیدا ہو الٰہی

جو دشمن ہیں کریں اُن کی بھی تسخیر

دلوں کی ظلمتوں کو دُور کر دیں

ہماری بات میں ایسی ہو تاثیر

گناہوں سے بچا لے ہم کو یا رب

نہ ہونے پائے کوئی ہم سے تقصیر

خِضَر بن جائیں اُن کے واسطے ہم

جو ہیں بھولے ہوئے رستے کے رہ گیر

وہی بولیں جو دل میں ہو ہمارے

خلافِ فعل ہو اپنی نہ تقریر

خُدا نے ہم کو دی ہے کامرانی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَوْفَی الْاَمَانِیْ

عطا کر جاہ و عزّت دو جہاں میں

ملے عظمت زمین و آسماں میں

بنیں ہم بُلبُلِ بُستانِ احمدؐ

رہے برکت ہمارے آشیاں میں

ہمارا گھر ہو مثلِ باغِ جنّت

ہو آبادی ہمیشہ اِس مکاں میں

ہماری نسل کو یا رب بڑھا دے

ہمیں آباد کر کون و مکاں میں

ہماری بات میں برکت ہو ایسی

کہ ڈالے رُوح مُردہ اُستخواں میں

الٰہی! نُور تیرا جاگزیں ہو

زباں میں، سینہ میں، دل میں، دہاں میں

غم و رنج و مُصیبت سے بچا کر

ہمیشہ رکھ ہمیں اپنی اَماں میں

بنیں ہم سب کے سب خُدّامِ احمدؐ

کلامِ اللہ پھیلائیں جہاں میں

عطا کر عِز و صِحّت ہم کو یا رب

ہمیں مت ڈال پیارے اِمتحاں میں

یہ ہوں میری دُعائیں ساری مقبُول

ملے عِزّت ہمیں دونوں جہاں میں

تِرا وہ فضل ہو نازل الٰہی

کہ ہو یہ شور ہر کون و مکاں میں

خُدا نے ہم کو دی ہے کامرانی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَوْفَى الْاَمَانِیْ

اخبار الحکم جلد ۵۔ ۱۲؍جولائی ۱۹۱۱ء

۴۰

کیا سبب میں ہو گیا ہوں اس طرح زار ونزار

کس مصیبت نے بنایا ہے مجھے نقشِ جدار

کیوں پھٹا جاتا ہے سینہ جیبِ عاشق کی مثال

روز و شب صبح و مسا رہتا ہوں میں کیوں دلفگار

کیوں تسلّی اِس دلِ بے تاب کو ہوتی نہیں

کیا سبب اس کا کہ رہتا ہے یہ ہر دَم بے قرار

صُحبتِ عیش و طرب اس کو نہیں ہوتی نصیب

درد و غم رنج و اَلم یاس و قَلق سے ہے دوچار

کیا سبب جو خُون ہو کر بہہ گیا میرا جگر

بھید کیا ہے میری آنکھیں جو رواں ہیں سیل وار

زرد ہے چہرہ تو آنکھیں گھُس گئیں حلقوں میں ہیں

جسم میرا ہو گیا ہے خشک ہو کر مِثلِ خار

سوچتا رہتا ہوں کیا دل میں مجھے کیا فکر ہے

جستجو میں کس کی چِلّاتا ہوں میں دیوانہ وار

چھوٹے جاتے ہیں مجھے ہوش و حواس وعقل کیوں

کیوں نہیں باقی رہا دل پر مجھے کچھ اختیار

کون ہے صیّاد میرا کس کے پھندے میں ہُوں میں

کس کی افسونی نگاہ نے کر لیا مجھ کو شکار

مُرغِ دل میرا پھنسا ہے کس کے دامِ عشق میں

کس کے نقشِ پا کے پیچھے اُڑ گیا میرا غبار

صفحۂ دل سے مٹایا کیوں مجھے احباب نے

کیوں مرے دُشمن ہوئے کیوں مجھ سے ہے کینہ نقار

جو کوئی بھی ہے وہ مجھ سے بر سرِ پرخاش ہے

ہر کوئی ہوتا ہے آ کر میری چھاتی پر سوار

سرنگوں ہوں میں مثالِ سایۂ دیوار کیوں

پُشت کیوں خَم ہے ہُوَاہوں اسقدر کیوں زیرِ بار

ہے بہارِ باغ و گُل مِثلِ خزاں افسردہ کُن

ہے جہاں میری نظر میں مِثلِ شب تاریک و تار

ابرِ باراں کی طرح آنکھیں ہیں میری اشک بار

ہے گریباں چاک گر میرا تو دامن تار تار

مَیں جو ہنستا ہوں تجھے میری ہنسی بھی برق دش

جس کے پیچھے پھر مجھے پڑتا ہے رونا بار بار

مات کرتا ہے مرا دن بھی اندھیری رات کو

میری شب کو دیکھ کر زلفِ حسیناں شرمسار

میری ساری آرزوئیں دل ہی دل میں مر گئیں

میرا سینہ کیا ہے لاکھوں حسرتوں کا ہے مزار

ہو گیا میری تمناؤں کا پودا خشک کیوں

کیا بلا اس پر پڑی جس سے ہوا بے برگ و بار

کیوں میں میدانِ تفکر میں برہنہ پا ہوا

کیوں چلے آتے ہیں دوڑے میری پابوسی کو خار

اپنے ہم چشموں کی آنکھوں میں سُبک کیوں ہو گیا

دیدۂ اغیار میں ٹھہرا ہوں کیوں بے اعتبار

دشتِ غربت میں ہوں تنہا رہ گیا با حالِ زار

چھوڑ کر مجھ کو کہاں کو چل دیئے اغیار و یار

کچھ خبر بھی ہے تمہیں مجھ سے یہ سب کچھ کیوں ہوا

کیوں ہوئے اتنے مصائب مجھ سے آ کر ہمکنار

کیا قصور ایسا ہوا جس سے ہُوا معتوب مَیں

کیا کیا جس پر ہوئے چاروں طرف سے مجھ پہ وار

اِک رُخِ تاباں کی اُلفت میں پھنسا بیٹھا ہوں دل

اپنے دل سے اور جاں سے مَیں کرتا ہوں پیار

وہ مری آنکھوں کی ٹھنڈک میرے دل کا نُور ہے

ہے فدا اُس شعلہ رُو پر میری جاں پروانہ وار

اُس کا اِک اِک لفظ میرے واسطے ہے جانفزا

اُس کے اِک اِک قول سے گھٹیا ہے دُرِّ شاہوار

ایک کُنْ کہنے سے پیدا کر دیئے اُس نے تمام

یہ زمیں یہ آسماں یہ دورۂ لیل و نہار

یہ چمن یہ باغ یہ بُستاں یہ گُل یہ پھول سب

کرتے ہیں اُس ماہ رُو کی قدرتوں کو آشکار

ذرّہ ذرّہ میں نظر آتی ہیں اس کی طاقتیں

ہر مکان و دہر و زماں میں جلوہ گاہِ حُسنِ یار

ہر حسیں کو حُسن بخشا ہے اُسی دلدار نے

ہر گُل و گلزار نے پائی اسی سے ہے بہار

ہر نگاہِ فتنہ گر نے اُس سے پائی ہے جلا

ورنہ ہوتی بختِ عاشق کی طرح تاریک و تار

نُور اُس کا جلوہ گر ہے ہر دَر و دیوار میں

ہے جہاں کے آئنہ میں منعکس تصویرِ یار

اُس کی اُلفت نے بنایا ہے مکاں ہر نبض میں

ہر دلِ دیندار اس کے رُخ پہ ہوتا ہے نثار

بُلبُلیں بھی سَر پٹکتی ہیں اُسی کی یاد میں

گُل بھی رہتے ہیں اُسی کی چاہ میں سینہ فگار

سَرو بھی ہیں سَر بَہ قَد رہتے اُسی کے سامنے

قُمریاں بھی ہیں محبّت میں اُسی کی بے قرار

سب حسینانِ جہاں اُس کے مقابل ہیچ ہیں

ساری دُنیا سے نرالا ہے وہ میرا شہریار

اَب تو سمجھے کس کے پیچھے ہے مجھے یہ اضطرار

یاد میں کس ماہ رُو کی ہُوں میں رہتا اشکبار

کس کی فرقت میں ہوا ہُوں رنج و غم سے ہمکنار

ہجر میں کس کی تڑپتا رہتا ہوں لَیل و نہار

کس کے لعلِ لب نے چھینا سب شکیب و اصطبار

کس کی دُزدیدہ نگاہ نے لے لیا میرا قرار

کس کے نازوں نے بنایا ہے مجھے اپنا شکار

کس کے غمزہ نے کیا ہے مثلِ باراں اشکبار

ہائے پر اُس کے مقابل میں نہیں مَیں کوئی چیز

وہ سراپا نُور ہے میں مُضْغَۂ تاریک تار

اُس کی شاں کو عقلِ اِنسانی سمجھ سکتی نہیں

ذرّہ ذرّہ پر ہے اُس کو مالکانہ اِقتدار

وہ اگر خالق ہے مَیں ناچیز سی مخلوق ہُوں

ہر گھڑی محتاج ہُوں اُس کا وہ ہے پروردگار

پاک ہے ہر طرح کی کمزوریوں سے اس کی ذات

اور مُجھ میں پائے جاتے ہیں نقائص صد ہزار

منبعِ ہر خوبی و ہر حُسن و ہر نیکی ہے وہ

مَیں ہُوں اپنے نفس کے ہاتھوں مَغلُوب اور خوار

وہ ہے آقا مَیں ہوں خادم وہ ہے مالک مَیں غُلام

مَیں ہوں اک ادنیٰ رعایا اور وہ ہے تاجدار

علمِ کامل کا وہ مالک اور مَیں محرومِ علم

وہ سراسر نُور ہے لیکن ہُوں میں تاریک تار

اس کی قُدرت کی کوئی بھی اِنتہا پاتا نہیں

اور پوشیدہ نہیں ہے تم سے میرا حالِ زار

اپنی مرضی کا ہے وہ مالک تو مَیں محکُوم ہُوں

میری کیا طاقت کہ پاؤں زور درگاہ میں بار

عزّت افزائی ہے میری گر کوئی اِرشاد ہو

فخر ہے میرا جو پاؤں رُتبۂ خِدمت گذار

طالبِ دُنیا نہیں ہُوں طالبِ دیدار ہُوں

تب جگر ٹھنڈا ہو جب دیکھوں رُخِ تابانِ یار

کہتے ہیں بہرِ خریدِ یوسفِ فرخندہ فال

ایک بڑھیا آئی تھی با حالتِ زار و نزار

ایک گالا رُوئی کا لائی تھی اپنے ساتھ وہ

اور یوسف کی خریداری کی تھی اُمیدوار

دہ تو کچھ رکھتی بھی تھی پر میں تو خالی ہاتھ ہوں

بے عمل ہوتے ہوئے ہے تجھ نے دست یار

ہوں غلامی میں مگر ہے عشق کا دعویٰ مجھے

چاکروں میں ہوں مگر ہے خواہشِ قربِ جوار

پر وہ عالی بارگہ ہے منبع فضل و کرم

کیا تعجب ہے جو مجھ کو بھی بنا دے کامگار

بات کیا ہے گر وہ میری آرزو پوری کرے

دے مری جاں کو تسلی دے میرے دِل کو قرار

ہو کے بے پردہ وہ میرے سامنے آئے نکل

میرے دل سے دُور کر دے ہجر و فرقت کا غبار

جس قدر رستہ میں روکیں ہیں ہٹادے وہ انہیں

جس قدر حائل ہیں پردے ان کو کردے تار تار

بے ملے اس کے تو جینا بھی ہے بدتر موت سے

ہے وہی زندہ جسے اس کا ملے قربِ جوار

کور ہیں آنکھیں جنہوں نے شکل وہ دیکھی نہیں

گوش کڑ ہیں جو نہیں سنتے کبھی گفتارِ یار

آرزو ہے گر فلاح و کامیابی کی تھیں

اس شہِ خوباں پہ کر دو بے تامل جان نثار

کھول کر قرآں پڑھو اس کے کلامِ پاک کو

دل کے آئینہ پہ تم اک کھینچ لو تصویرِ یار

شوق ہو دل میں اگر کوئی تو اس کی دید کا

کان میں کوئی صدا آئے نہ جز گفتارِ یار

ہر رگ و ریشہ میں ہو اس کی محبت جاگزیں

ہر کہیں آئے نظر نقشہ وہی منصور وار

اپنی مرضی چھوڑ دو تم اس کی مرضی کے لیے

جو ارادہ وہ کرے تم بھی کرو وہ اختیار

عشق میں اس کے نہ ہو کوئی ملوّث جھوٹ کی

جو زباں پر ہو وہی اعمال سے ہو آشکار

پاک ہو جاؤ کہ وہ شاہِ جہاں بھی پاک ہے

جو کہ ہو ناپاک دل اس سے نہیں کرتا وہ پیار

چھوڑ دو رنج و عداوت ترک کر دو بغض و کیں

پیار و اُلفت کو کرو تم جان و دل سے اختیار

چھوڑ دو غیبت کی عادت بھی کہ یہ اک زہر ہے

رُوحِ انسانی کو ڈس جاتی ہے یہ مانندِ مار

کبر کی عادت بھلاؤ انکساری سیکھ لو

جہل کی عادت کو چھوڑو علم کر لو اختیار

دونوں ہاتھوں سے پکڑ لو دامنِ تقویٰ کو تم

ایک ساعت میں کرا دیتا ہے یہ دیدارِ یار

کہتے ہیں پیاروں کا جو کچھ ہو وہ آتا ہے پسند

اس لیے جو کوئی اُس کا ہو کرو تم اُس سے پیار

اُس کے مامُوروں کو رکھو تم دِل و جاں سے عزیز

اُس کے نبیوں کے رہو تم چاکر و خدمت گذار

اُس کے حُکموں کو نہ ٹالو ایک دم کے واسطے

مال و دولت جان و دِل ہر شئے کرو اُس پر نثار

ساری دُنیا میں کرو تم مُشْتَہَر اس کی کتاب

تا کہ ہوں بیدار وہ بندے جو ہیں غفلت شعار

ابتدا میں لوگ گو پاگل پکاریں گے تمہیں

اور ہوں گے دَرپئے ایذا دہی دیوانہ وار

گالیاں دیں گے تمہیں کافر بتائیں گے تمہیں

جس طرح ہو گا کریں گے وہ تمہیں رُسوا و خوار

سنگ باری سے بھی ان کو کچھ نہ ہو گا اجتناب

بے جھجک دکھلائیں گے وہ تم کو تیغِ آبدار

پر خُدا ہو گا تمہارا ہر مصیبت میں معین

شرّ سے دُشمن کے بچائے گا تمہیں لیل و نہار

اُس کی اُلفت میں کبھی نقصاں اُٹھاؤ گے نہ تم

اُس کی اُلفت میں کبھی ہو گے نہ تم رُسوا و خوار

امتحاں میں پورے اُترے گر تو پھر انعام میں

جامِ وصلِ یار پینے کو ملیں گے بار بار

تم پہ کھولے جائیں گے جنت کے دروازے یہیں

تم پہ ہو جائیں گے سب اسرارِ قدرت آشکار

درد میں لذت ملے گی دُکھ میں پاؤ گے سُرور

بے قراری بھی اگر ہو گی تو آئے گا قرار

سرنگوں ہو جائیں گے دشمن تمہارے سامنے

مُلتجی ہوں گے برائے عفو وہ باحالِ زار

الغرض یہ عشقِ مولیٰ بھی عجب اِک چیز ہے

جو گداگر کو بنا دیتا ہے دم میں شہریار

بس یہی اِک راہ ہے جس سے کہ ملتی ہے نجات

بس یہی ہے اِک طریقہ جس سے ہو عِزّ و وقار

اخبار الحکم جلد ۱۶۔ ۷؍ جنوری ۱۹۱۲ء

۴۱

دوڑے جاتے ہیں بَاُمّیدِ تمنّا سُوئے باب

شاید آجائے نظر رُوئے دل آرامِ بے نقاب

غافلو کیوں ہو رہے ہو عاشقِ چنگ و رَباب

آسماں پر کُھل رہے ہیں آج سب عرفاں کے باب

مست ہو کیوں اس قدر اغیار کے اقوال پر

اِس شہِ خُوباں کی تم کیوں چھوڑ بیٹھے ہو کتاب

کیا ہُوا کیوں عقل پر ان سب کے پتھر پڑ گئے

چھوڑ کر دیں، عاشقِ دنیا ہوئے ہیں شیخ و شاب

اپنے پیچھے چھوڑے جاتے ہیں یہ اِک حِصنِ حصیں

بھاگے جاتے ہیں یہ احمق کیوں بھلا سُوئے نِجاب

امر بالمعروف کا بیڑا اٹھاتے ہیں جو لوگ

ان کو دینا چاہتے ہیں ہر طرح کا یہ عذاب

پر جو مولیٰ کی رضا کے واسطے کرتے ہیں کام

اور ہی ہوتی ہے اُنکی عزّ و شان و آب و تاب

وہ شجر ہیں سنگباروں کو بھی جو دیتے ہیں پھل

ساری دُنیا سے نرالا اُن کا ہوتا ہے جواب

لوگ اُن کے لاکھ دشمن ہوں وہ سب کے دوست ہیں

خاک کے بدلے میں ہیں وہ پھینکتے مشک و گُلاب

یا الٰہی آپ ہی اب میری نُصرت کیجئے

کام ہیں لاکھوں مگر ہے زندگی مثلِ حُباب

کیا بتاؤں کس قدر جھمڑیلوں میں ہُوں پھنسا

سب جہاں بیزار ہو جائے جو ہُوں میں بے نقاب

مَیں ہوں خالی ہاتھ مجھ کو یونہی جانے دیجئے

شاہ ہو کر آپ کیا لیں گے فقیروں سے حساب

تشنگی بڑھتی گئی جتنا کیا دُنیا سے پیار

پانی سمجھے تھے جسے وہ تھا حقیقت میں سراب

میری خواہش ہے کہ دیکھوں اس مقامِ پاک کو

جس جگہ نازل ہوئی مولیٰ تری اُمّ الکتاب

ابنِ ابراہیمؑ آئے تھے جہاں با تشنہ لب

کر دیا خشکی کو تُو نے ان کی خاطر آب آب

میرے والد کو بھی ابراہیمؑ ہے تُو نے کہا

جس کو جو چاہے بنائے تیری ہے عالی جناب

ابنِ ابراہیمؑ بھی ہوں اور تشنہ لب بھی ہوں

اس لیے جاتا ہوں میں مکہ کو با اُمّیدِ آب

اِک رُخِ روشن سُدا رہتا ہے آنکھوں کے تلے

ہیں نظر آتے مجھے تاریک ماہ و آفتاب

اِس قدر بھی بے رُخی اچھی نہیں عُشّاق سے

ہاں کبھی تو اپنا چہرہ کیجئے گا بے نقاب

چشمۂ انوار میرے دل میں جاری کیجئے

پھر دکھا دیجے مجھے عنوان رُوئے آفتاب

رسالہ تشحیذ الاذہان۔ ماہ فروری ۱۹۱۳ء

۴۲

اے چشمۂِ علم وہُدیٰ! اے صاحبِ فہم و ذکا

اے نیک دِل! اے با صفا! اے پاک طینت باحیا

اے مقتدا! اے پیشوا! اے میرزا! اے رہنما

اے مُجتبٰے! اے مُصطفٰے! اے نائبِ ربِ العلیٰ

کچھ یاد تو کیجے ذرا ٭ ہم سے کوئی اقرار ہے

دیتے تھے تم جس کی خبر، بندھتی تھی جس سے یاں کمر

مِٹ جائیگا سب شور و شر، موت آئیگی شیطان پر

پاؤ گے تم فتح و ظفر، ہوں گے تمہارے بحر و بَر

آرام سے ہوگی بسر، ہوگا خدا مَندِ نظر

واں تھے یہ وعدے خوب تر ٭ یاں حالتِ ادبار ہے

ہر دِل میں پُر ہے بغض و کیں، ہر نفس شیطاں کا رہیں

جو ہو فدائے نُورِ دیں، کوئی نہیں، کوئی نہیں

ہر ایک کے ہے سَر میں کیں، ہے کبر کا دیوِ لعیں

اِک دم کو یاد آتی نہیں، دَرگاہِ ربّ العالمیں

بے چین ہے جانِ حزیں ٭ حالت ہماری زار ہے

کہنے کو سب تیار ہیں، چالاک ہیں ہشیار ہیں

مُنہ سے تو سو اقرار ہیں، پر کام سے بیزار ہیں

ظاہر میں سب ابرار ہیں، باطن میں سب اشرار ہیں

مُصلِح ہیں پر بَدکار ہیں، ہیں ڈاکٹر پر زار ہیں

حالات پُر اسرار ہیں ٭ دل مسکنِ افکار ہے

چھینے گئے ہیں مُلک سب باقی ہیں اب شام و عرب

پیچھے پڑا ہے ان کے اب دشمن لگائے تا نقب

ہم ہو رہے ہیں جاں بلب، بنتا نہیں کوئی سبب

ہیں منتظر اس کے کہ کب، آتے ہیں امدادِ رب

پیالہ بھرا ہے لب بہ لب ہ ٹھوکر ہی اِک درکار ہے

کیا آپ پر الزام ہے، یہ خود ہمارا کام ہے

غفلت کا یہ انجام ہے، سستی کا یہ انعام ہے

قسمت یونہی بدنام ہے دل خود اسیرِ دام ہے

اب کس جگہ اسلام ہے باقی فقط اک نام ہے

ملتی نہیں سُب جام ہے ہ بس اِک یہی آزار ہے

رسالہ تشحیذ الاذہان ۔ ماہ مارچ ۱۹۱۳ء

۴۳

محمودؔ بحالِ زار کیوں ہو

کیا رنج ہے بے قرار کیوں ہو

کس بات سے تم کو پہنچی تکلیف

کیا صدمہ ہے دِل فگار کیوں ہو

ہاں سُوکھ گیا ہے کونسا کھیت

کچھ بولو تو اشکبار کیوں ہو

جب تک نہ ہو کوئی باعثِ درد

بے وجہ پھر اضطرار کیوں ہو

میں باعثِ رنج کیا بتاؤں

کیا کہتے ہو بے قرار کیوں ہو

دل ہی نہ رہا ہو جس کے بَس میں

وہ صبر سے شرمسار کیوں ہو

سب جس کی اُمیدیں مر چکی ہوں

زندوں میں وہ پھر شمار کیوں ہو

دُولہا نہ رہا ہو جب دُلہن کا

بیچاری کا پھر سنگار کیوں ہو

کاٹے گئے جب تمام پودے

گُلشن میں مرے بہار کیوں ہو

آنکھوں میں رہی نہ جب بصارت

دیدارِ رُخِ نِگار کیوں ہو

جس شخص کا لُٹ رہا ہو گھر بار

خوشیوں سے بھلا دو چار کیوں ہو

اسلام گھرا ہے دشمنوں میں

مُسلم کا نہ دل فگار کیوں ہو

ماضی نے کیا ہے جب پریشان

آئندہ کا اعتبار کیوں ہو

کیا نفع اُٹھایا ترکِ دیں سے؟

دُنیا پہ ہی جاں نثار کیوں ہو

رسالہ تشحیذ الاذہان ۔ ماہ جون ۱۹۱۳ء

۴۴

نہ مَے رہے نہ رہے خُم نہ یہ سُبُو باقی

بس ایک دِل میں رہے تیری آرزو باقی

پڑی ہے کیسی مصیبت یہ غنچۂ دِیں پر

رہی وہ شکل و شباہت نہ رنگ و بُو باقی

کہاں وہ مجلسِ عیش و طرب وہ راز و نیاز

بس اب تو رہ گئی ہے ایک گفتگو باقی

جو پُوچھ لو کبھی اتنا کہ آرزو کیا ہے

رہے نہ دل میں مرے کوئی آرزو باقی

مِلا ہُوں خاک میں باقی رہا نہیں کچھ بھی

مگر ہے دِل میں مرے اُن کی جُسْتَجُو باقی

وہ گاؤں گا تِری تعریف میں ترانۂ حمد

رہے گا ساز ہی باقی نہ پھر گَلو باقی

گیا ہُوں سُوکھ غمِ مِلّتِ مُحَمَّد میں

رہا نہیں ہے مرے جسم میں لہُو باقی

قرونِ اُولیٰ کے مُسْلم کا نام باقی ہے

نہ اُس کے کام ہیں باقی نہ اس کی خُو باقی

خدا کے واسطے مُسلم ذرا تو ہوش میں آ

نہیں تو تیری رہے گی نہ آبرو باقی

شکایتیں تھیں ہزاروں بھری پڑی دل میں

رہی نہ ایک بھی پر اُن کے رُو بَرُو باقی


اخبار الفضل جلد ۱ - ۲۷ اگست ۱۹۱۳ء

۴۵

مِلَّتِ احمدؐ کے ہمدردوں میں غمخواروں میں ہُوں

بیوفاؤں میں نہیں ہُوں مَیں وفاداروں میں ہُوں

فخر ہے مجھ کو کہ ہُوں مَیں خدمتِ سرکار میں

ناز ہے مجھکو کہ اس کے ناز برداروں میں ہُوں

سر میں ہے جوشِ جنوں دِل میں بھرا ہے نورِ علم

مَیں نہ دیوانوں میں شامل ہُوں نہ ہشیاروں میں ہُوں

پُوچھتا ہے مجھ سے وہ کیونکر ترا آنا ہُؤا

کیا کہوں اس گہ مَیں تیرے طلبگاروں میں ہُوں

مَیں نے مانا تُو نے لاکھوں نعمتیں کی ہیں عطا

پر مَیں ان کو کیا کروں تیرے طلبگاروں میں ہُوں

شاہدوں کی کیا ضرورت ہے کسے انکار ہے

مَیں تو خود کہتا ہُوں مولیٰ مَیں گنہگاروں میں ہُوں

حملہ کرتا ہے اگر دشمن تو کرنے دو اُسے

وہ ہے اغیاروں میں مَیں اس یار کے یاروں میں ہُوں

ظُلمتیں کافور ہو جائیں گی اِک دِن دیکھنا

مَیں بھی اِک نورانی چہرہ کے پرستاروں میں ہُوں

اہلِ دُنیا کی نظر میں خوابِ غفلت میں سہی

اہلِ دل پر جانتے ہیں یہ کہ بیداروں میں ہُوں

ہُوں تو دیوانہ مگر بہتوں سے عاقل ہُوں مَیں

ہُوں تو بیماروں میں لیکن تیرے بیماروں میں ہُوں

مُدّتوں سے مر چکا ہوتا غم و اندوہ سے

گر نہ یہ معلوم ہوتا مَیں ترے پیاروں میں ہُوں

جانتا ہے کس پہ تیرا وار پڑتا ہے مُدُو

کیا تجھے معلوم ہے کس کے جگر پاروں میں ہُوں

ساری دُنیا چھوڑ دے پر مَیں نہ چھوڑوں گا تجھے

درد کہتا ہے کہ مَیں تیرے وفاداروں میں ہُوں

ہو رہا ہُوں مستِ دیدِ چشمِ مستِ یار میں

لوگ یہ سمجھے ہوئے بیٹھے ہیں مَے خواروں میں ہُوں

عشق میں کھوئے گئے ہوش و حواس و فکر و عقل

اب سوالِ دید جائز ہے کہ ناداروں میں ہُوں

گو مرا دِل مخزنِ تیرِ نگاہِ یار ہے

پر یہ کیا کم ہے کہ اس کے تیر برداروں میں ہُوں


اخبار الفضل۔ جلد ۱ ۔ ۲۷؍ اگست ۱۹۱۳ء

۴۶

مُحمَّدِ عربی کی ہو آل میں برکت

ہو اس کے حُسن میں برکت جمال میں برکت

ہو اُس کی قدر میں برکت کمال میں برکت

ہو اُس کی شان میں برکت جلال میں برکت

حلال کھا کہ ہے رزقِ حلال میں برکت

زکوٰۃ دے کہ بڑھے تیرے مال میں برکت

ملے گی سالکِ رہ! تجھ کو حال میں برکت

کبھی بھی ہو گی میسّر نہ قال میں برکت

جہاں پہ کل تھے وہیں آج تم نہ رُک رہنا

قدم بڑھاؤ کہ ہے انتقال میں برکت

لگائیو نہ درختِ شکوک دل میں کبھی

نہ اس کے پھل میں ہے برکت نہ ڈال میں برکت

یقین سی نہیں نعمت کوئی زمانے میں

نہ شک میں خیر ہے نئے احتمال میں برکت

جو چاہے خیر تو کر استخارۂ مسنون

عبث تلاش نہ کر تیر و فال میں برکت

ہر ایک کام کو تو سوچ کر بچار کے کر

ہمیشہ پائے گا اس دیکھ بھال میں برکت

خُدا کی راہ میں دے جس قدر بھی ممکن ہو

کہ اس کے فضل سے ہو تیرے حال میں برکت

ہے عیش و عشرتِ دُنیا تو ایک فانی شئے

خدا کرے کہ ہو تیرے مال میں برکت

قُلُوبِ صافیہ ہوتے ہیں مَہْبَطِ انوار

کبھی بھی دیکھی ہے رنج و ملال میں برکت

نہ چُپ رہو کہ خموشی دلیلِ نخوت ہے

دُعائیں مانگو کہ ہے عرضِ حال میں برکت


گنہ کے بعد ہو توبہ سے بابِ رحمت وا

خطا کے بعد ملے اِنفعال میں برکت

رہِ سداد نہ تفریط ہے نہ ہے افراط

خُدا نے رکھی ہے بس اِعتدال میں برکت

اُسی کے دم سے فقط ہے بقائے موجودات

خُدا نے رکھی ہے وہ اِتّصال میں برکت

ہو ماند چودھویں کا چاند بھی مقابل پر

خدا وہ بخشے ہمارے ہلال میں برکت

روئیں روئیں میں سما جائے عشقِ خالقِ حُسن

ظہور جس سے کرے بال بال میں برکت

چڑھے تو نام نہ لے ڈوبنے کا پھر وہ کبھی

کچھ ایسی ہو میرے یومِ وصال میں برکت

اخبار الفضل ۔ جلد ۵۔ ۸؍ جنوری ۱۹۱۸ء

۴۷

آہ دُنیا پہ کیا پڑی اُفتاد

دین و ایمان ہو گئے برباد

مہرِ اسلام ہو گیا مخفی

سارے عالَم پہ چھا گیا ہے سواد

آج مسلم ہیں رنج و غم سے چُور

اور کافر ہیں خندہ زن دلشاد

رُوحِ اسلام ہو گئی محصُور

کُفر کا دیو ہو گیا آزاد

جو بھی ہے دُشمنِ صداقت ہے

دینِ حق سے ہے اسکو بغض و عناد

جھوٹ نے خُوب سر نکالا ہے

ہے صداقت کی ہل گئی بنیاد

دشمنانِ شریعتِ حقّہ

چاہتے ہیں تعلّب و اِفساد

اس ارادے پہ گھر سے نکلے ہیں

دینِ اسلام کو کریں برباد

ہے ہمارے علاج کا دعویٰ

کہتے ہیں اپنے آپ کو فُصّاد

مگر اس فصد کے بہانے سے

کر رہے ہیں وہ کارِ صد جلّاد

ستم و جَور بڑھ گیا حد سے

انتہا سے نکل گئی ہے داد

ہے غضب ہیں وہ شائقِ بیداد

پھر ستم یہ کہ ہیں ستم ایجاد

پھر یہ ہے قہر ظُلم کر کے وہ

خود،ہمیں سے ہیں ہوتے طالبِ داد

اے خدا اے شہِ مَکین و مکاں

قادر و کارساز و ربّ عباد

دینِ احمدؐ کا تُو ہی ہے بانی

پس تجھی سے ہماری ہے فریاد

تیرا در چھوڑ کر کہاں جائیں

کس سے جا کر طلب کریں امداد

چاروں اطراف سے گِھرے ہیں ہم

آگے پیچھے ہمارے ہیں حُسّاد

ہے اِدھر پابشکستگی کی قید

اور اُدھر سر پہ آ گیا صیّاد

زلزلوں سے ہماری ہستی کی

ہِل گئی سر سے پا تلک بنیاد

کچھ تو فرمائیے کریں اب کیا

کچھ تو اب کیجئے ہمیں ارشاد

کب تلک بے گناہ رہیں گے ہم

تختۂ مشقِ بازوئے جلّاد

کب طلسمِ فریب ٹوٹے گا

کب گرے گا وہ پنجۂ فولاد

اِن دُکھوں سے نجات پائیں گے کب

ہوں گے کب اِن غموں سے ہم آزاد

کب رہا ہو گی قید سے فطرت

دُور کب ہو گا دَورِ استبداد

شانِ اسلام ہو گی کب ظاہر

کب مسلماں ہوں گے خرّم و شاد

پوری ہو گی یہ آرزو کس وقت

کب بَر آئے گی یہ ہماری مُراد

مَیں بھی کہتا ہوں آج تجھ سے وہی

جو ہیں پہلے سے کہہ گئے اُستاد

نام لیوا رہے گا تیرا کون

ہم اگر ہو گئے یونہی برباد

کون ہو گا فدا ترے رُخ پر

کون کہلائے گا ترا فرہاد

کون رکھے گا پھر امانتِ عشق

کس کے دِل میں رہے گی تیری یاد

احمدی اُٹھ کہ وقتِ خدمت ہے

یاد کرتا ہے تجھ کو ربِّ عباد

شکر کر شکر یاد کرتا ہے

گُدگداتی تھی دِل کو جس کی یاد

خدمتِ دیں ہوئی ہے تیرے سپرد

دُور کرنا ہے تُو نے شرّ و فساد

تجھ پہ ہے فرض نُصرتِ اسلام

تجھ پہ واجب ہے دعوتُ الارشاد

خدمتِ دیں کے واسطے ہو جا

ساری قیدوں کو توڑ کر آزاد

دشمنِ حق ہیں گو بہت لیکن

کام دے گی انہیں نہ کچھ تعداد

کُفر و الحاد کے مٹانے کی

حق نے رکھی ہے تجھ میں اِستعداد

فتح تیرے لیے مُقدّر ہے

تیری تائید میں ہے ربِّ عباد

قصرِ کفر و ضلالت و بدعت

تیرے ہاتھوں سے ہو گا اب برباد

ہاں تری راہ میں ایک دوزخ ہے

جس میں بھڑکی ہے نارِ بغض و عناد

اُنکے شعلوں کی زد میں جو آجائے

دیکھتے دیکھتے ، ہو جل کے رماد

پر نہ لا خوف دِل میں تُو کوئی

کیونکہ ہے ساتھ تیرے ربِّ عباد

بےدھڑک اور بےخطر اس میں

کُود جا کہہ کے ہرچہ بادا باد

اخبار الفضل جلد ۶ ۔ ۵ جنوری ۱۹۲۰ء

۴۸

ہے دستِ قبلہ نما لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

ہے دردِ دل کی دَوا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

کسی کی چشمِ فسوں ساز نے کیا جادُو

تو دل سے نکلی صدا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

جو پھونکا جائیگا کانوں میں دل کے مُردوں کے

کرے گا حشر بپا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

قریب تھا کہ میں گِر جاؤں بارِ عصیاں سے

بنا ہے یک عصا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

گرہ نہیں رہی باقی کوئی مرے دل کی

ہوا ہے عُقدہ کشا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

عقیدہ ثنویت ہو یا کہ ہو تثلیث

ہے کذب بحث خطا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

ہے گاتی نغمۂ توحید نے نَیستاں میں

ہے کہتی بادِ صبا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

ترا تو دل ہے صنم خانہ پھر تجھے کیا نفع

اگر زباں سے کہا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

حضورِ حضرتِ دیّاں شفاعتِ نادم

کرے گا روزِ جزا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

زمیں سے ظلمتِ شرک ایک دَم میں ہوگی دُور

ہُوا جو جلوہ نما لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

ہزاروں ہوں گے حسیں لیک قابلِ اُلفت

وہی ہے میرا پیا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

نہ دھوکا کھائیو ناداں کہ شش جہات میں بس

وہی ہے چہرہ نما لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

چُھپی نہیں کبھی رہ سکتی وہ نگہ جس نے

ہے مجھ کو قتل کیا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

بروزِ حشر بھی تیرا ساتھ چھوڑیں گے

کرے گا ایک وفا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

ہزاروں بلکہ ہیں لاکھوں علاج رُوحانی

مگر ہے رُوحِ شفا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ


گلدستہ احمدیہ ۔ حصہ دوم ۔ ۱۵؍ فروری ۱۹۲۰ء

۴۹

غم اپنے دوستوں کا بھی کھانا پڑے ہمیں

اغیار کا بھی بوجھ اُٹھانا پڑے ہمیں

اس زندگی سے موت ہی بہتر ہے اے خُدا

جس میں کہ تیرا نام چُھپانا پڑے ہمیں

منبر پہ چڑھ کے غیر رکھے اپنا مُدّعا

سینہ میں اپنے جوش دبانا پڑے ہمیں

یہ کیسا عدل ہے کہ کریں اَور، ہم بھریں

اغیار کا بھی قضیہ چُکانا پڑے ہمیں

سُن مُدّعی نہ بات بڑھاتا نہ ہو یہ بات

کوچہ میں اس کے شور مچانا پڑے ہمیں

اتنا نہ دُور کر کہ کٹے رشتۂ وداد

سینہ سے اپنے غیر لگانا پڑے ہمیں

پھیلائیں گے صداقتِ اسلام کچھ بھی ہو

جائیں گے ہم جہاں بھی کہ جانا پڑے ہمیں

پروا نہیں جو ہاتھ سے اپنے ہی اپنا آپ

حرفِ غلط کی طرح مٹانا پڑے ہمیں

محمودؔ کر کے چھوڑیں گے ہم حق کو آشکار

رُوئے زمیں کو خواہ ہلانا پڑے ہمیں


اخبار الفضل۔ جلد ۷۔ ۲۹؍اپریل ۱۹۲۰ء

۵۰

مری تدبیر جب مجھ کو مصیبت میں پھنساتی ہے

تو تقدیرِ الٰہی آن کر اس سے چھڑاتی ہے

جُدائی دیکھتا ہوں جب تو مجھ کو موت آتی ہے

اُمیدِ وصل لیکن آ کے پھر مجھ کو جِلاتی ہے

نگاہِ مہر سالوں کی خصومت کو بُھلاتی ہے

خوشی کی اک گھڑی برسوں کی کُلفت کو مٹاتی ہے

محبت تو وفا ہو کر وفا سے جی چُراتی ہے

ہماری بن کے اے ظالم ہماری خاک اُڑاتی ہے

محبت کیا ہے کچھ تم کو خبر بھی ہے سُنو مجھ سے

یہ ہے وہ آگ جو خود گھر کے مالک کو جلاتی ہے

کہاں یہ خانۂ ویراں کہاں وہ حضرتِ ذی شاں

کشش لیکن ہمارے دل کی انکو کھینچ لاتی ہے

ہوئی ہے بے سبب کیوں عاشقوں کی جان کی دُشمن

نسیمِ صُبح ان کے منہ سے کیوں نہ آنچل اُٹھاتی ہے

مٹائیگا ہمیں کیا ، تُو ہے اپنی جان کا دُشمن

اے ناداں کبھی عُشّاق کو بھی موت آتی ہے

نہ اپنی ہی خبر رہتی ہے نے یادِ اَعزّہ ہی

جب اس کی یاد آتی ہے تو پھر سب کچھ بھلاتی ہے

خُدا کو چھوڑنا اے مسلمو! کیا کھیل سمجھے تھے

تمہاری تیرہ بختی دیکھئے کیا رنگ لاتی ہے

محبت کی جھلک چُھپتی کہاں ، لاکھ ہوں پردے

نگاہِ زِیر میں مجھ سے بھلا تو کیا چُھپاتی ہے

معاذ اللہ مرا دل اور ترکِ عشق کیا مُمکن

میں ہُوں وہ باوفا جس وفا کو شرم آتی ہے

وہ کیسا سَر ہے جو جھکتا ہے آگے ہر کہ و مہ کے

وہ کیسی آنکھ ہے جو ہر جگہ دریا بہاتی ہے

اِتنا فل ہو چکا صاحب خبر لیجے نہیں تو پھر

کوئی دم میں یہ سُن لوگے فلاں کی نبض جاتی ہے

طریقِ عشق میں اے دل سیادت کیا غلامی کیا

محبت خادم و آقا کو اِک حلقہ میں لاتی ہے

بلائے ناگہاں بیٹھے ہیں ہم آغوشِ دلبَر میں

خبر بھی ہے تجھے کچھ تُو کہنہیں آنکھیں دکھاتی ہے

تری رہ میں بچھائے بیٹھے ہیں دل مدتوں سے ہم

سواری دیکھئے اب دلرُبا کب تیری آتی ہے

ہمارا اِمتحاں لے کر تمہیں کیا فائدہ ہوگا ؟

ہماری جان تو بے امتحاں ہی نکلی جاتی ہے

گھرا ہوں حلقۂ احباب میں گو میں مگر تجھ بن

مرے یارا دلِ تنہائی پھر بھی کاٹے کھاتی ہے

ہماری خاک تک بھی اُڑ چکی ہے اس کے رستہ میں

ہلاکت تُو بھلا کس بات سے ہم کو ڈراتی ہے

غمِ دل لوگ کہتے ہیں نہایت تلخ ہوتا ہے

مگر میں کیا کروں اس کو غذا یہ مجھ کو بھاتی ہے

مری جاں تیرے جامِ وصل کی خواہش میں اے پیارے

مثالِ ماہیِ بے آب ہر دم تلملاتی ہے

مرے دل میں تو آتا ہے کہ سب اَحوال کہہ ڈالوں

نہ شکوہ جان لیں، اس سے طبیعت ہچکچاتی ہے

کبھی جو روتے روتے یاد میں میں اس کی سو جاؤں

شبیہِ یار آکر مجھ کو سینے سے لگاتی ہے

انانیت پرے ہٹ جا مجھے مت مُنہ دکھا اپنا

مَیں اپنے حال سے واقف ہوں تُو کس کو بناتی ہے

کبھی کا ہو چکا ہوتا شکارِ یاس و نومیدی

مگر یہ بات اے محمودؔ میرا دل بڑھاتی ہے

جو ہوں خدّامِ دیں ان کو خدا سے نصرت آتی ہے

جب آتی ہے تو پھر عالم کو اِک عالَم دکھاتی ہے

اخبار الفضل ۔ جلد ۷ ۔ ۱۶؍ اگست ۱۹۲۰ء

۵۱

تِری محبت میں میرے پیارے ہر اک مصیبت اُٹھائیں گے ہم

مگر نہ چھوڑیں گے تجھ کو ہرگز نہ تیرے دَر پر سے جائیں گے ہم

تِری محبت کے جُرم میں ہاں جو پِیس بھی ڈالے جائیں گے ہم

تو اس کو جانیں گے عین راحت نہ دل میں کچھ خیال لائیں گے ہم

سُنیں گے ہرگز نہ غیر کی ہم نہ اس کے دھوکے میں آئیں گے ہم

بس ایک تیرے حضور میں ہی سرِ اطاعت جھکائیں گے ہم

جو کوئی ٹھوکر بھی مارے گا تو اُس کو سہہ لیں گے ہم خوشی سے

کہیں گے اپنی سزا یہی تھی زباں پہ شکوہ نہ لائیں گے ہم

ہمارے حالِ خراب پر گو ہنسی اُنہیں آج آرہی ہے

مگر کسی دن تمام دُنیا کو ساتھ اپنے رُلائیں گے ہم

ہُوا ہے سارا زمانہ دُشمن ہیں اپنے بیگانے خوں کے پیاسے

جو تُو نے بھی ہم سے بے رُخی کی تو پھر تو بس مر ہی جائیں گے ہم

یقیں دلاتے رہے ہیں دُنیا کو تیری اُلفت کا مدتوں سے

جو آج تُو نے نہ کی رفاقت کسی کو کیا منہ دکھائیں گے، ہم

پڑے ہیں پیچھے جو فلسفے کے اُنہیں خبر کیا ہے کہ عشق کیا ہے

مگر ہیں ہم رہروِ طریقت خمارِ اُلفت ہی کھائیں گے ہم

سمجھتے کیا ہو کہ عشق کیا ہے یہ عشق پیارو کٹھن بلا ہے

جو اس کی فرقت میں ہم پہ گذری کبھی وہ قصّہ سنائیں گے ہم

ہمیں نہیں عطر کی ضرورت کہ اس کی خوشبو ہے چند روزہ

بُوئے محبّت سے اس کی اپنے دماغ و دل کو بسائیں گے ہم

ہمیں بھی ہے نسبتِ تلمّذ کسی مسیحا نفس سے حاصل

ہُوا ہے بے جان گو کہ مُسلم مگر اب اس کو جِلائیں گے ہم

مٹا کے نقش و نگارِ دیں کو یُونہی ہے خوش دشمنِ حقیقت

جو پھر کبھی بھی نہ مٹ سکے گا اب ایسا نقشہ بنائیں گے ہم

خُدا نے ہے خضرِ رہ بنایا ، ہمیں طریقِ مُہتدی کا

جو بُھولے بھٹکے ہوئے ہیں ان کو صنم سے لا کر ملائیں گے ہم

ہماری ان خاکساریوں پر نہ کھائیں دھوکا ہمارے دُشمن

جو دیں کو تِرچھی نظر سے دیکھا تو خاک اُن کی اُڑائیں گے ہم

مٹا کے کفر و ضلال و بدعت کریں گے آثارِ دیں کو تازہ

خُدا نے چاہا تو کوئی دن میں ظفر کے پرچم اُڑائیں گے ہم

خبر بھی ہے کچھ تجھے او ناداں کہ مَردُمِ چشمِ یار ہیں ہم

اگر ہمیں کج نظر سے دیکھا تو تجھ پہ بجلی گرائیں گے ہم

وہ شہر جو کُفر کا ہے مرکز ہے جس پہ دینِ مسیح نازاں

خُدائے واحد کے نام پر اک اَب اس میں مسجد بنائیں گے ہم

پھر اس کے مینار پر سے دُنیا کو حق کی جانب بلائیں گے ہم

کلامِ ربّ رحیم و رحماں ببانگِ بالا سُنائیں گے ہم

اخبار الفضل۔ جلد۷، ۱۹ ستمبر ۱۹۲۰ء

۵۲

نَوْنہالانِ جماعت مجھے کچھ کہنا ہے

پر ہے یہ شرط کہ ضائع مرا پیغام نہ ہو

چاہتا ہوں کہ کروں چند نصائح تم کو

تاکہ پھر بعد میں مجھ پر کوئی الزام نہ ہو

جب گذر جائیں گے ہم تم پہ پڑے گا سب بار

سستیاں ترک کرو طالبِ آرام نہ ہو

خدمتِ دین کو اِک فضلِ الٰہی جانو

اس کے بدلے میں کبھی طالبِ اِنعام نہ ہو

دل میں ہو سوز تو آنکھوں سے رواں ہوں آنسو

تم میں اسلام کا ہو مغز، فقط نام نہ ہو

سَر میں نخوت نہ ہو آنکھوں میں نہ ہو برقِ غضب

دل میں کینہ نہ ہو لب پر کبھی دشنام نہ ہو

خیر اندیشیٔ احباب رہے مدِّ نظر

عیب چینی نہ کرو مفسد و بد نام نہ ہو

چھوڑ دو حرص کرو زہد و قناعت پیدا

زر نہ محبوب بنے سیم دل آرام نہ ہو

رغبتِ دل سے ہو پابندِ نماز و روزہ

نظر انداز کوئی حصّۂ احکام نہ ہو

پاس ہو مال تو دو اس سے زکوٰۃ و صدقہ

فکرِ مسکیں رہے تم کو غمِ اَیّام نہ ہو

حُسن اس کا نہیں کھلتا تمہیں یہ یاد رہے

دوشِ مُسلم پہ اگر چادرِ اِحرام نہ ہو

عادتِ ذکر بھی ڈالو کہ یہ ممکن ہی نہیں

دل میں ہو عشقِ صنم لب پہ مگر نام نہ ہو

عقل کو دین پہ حاکم نہ بناؤ ہرگز

یہ تو خود اندھی ہے گر نیرِّ الہام نہ ہو

جو صداقت بھی ہو تم شوق سے مانو اسکو

علم کے نام سے پر تابعِ اَوہام نہ ہو

دشمنی ہو نہ مُحبّانِ مُحمّد سے تمہیں

جو معاند ہیں تمہیں ان سے کوئی کام نہ ہو

امن کے ساتھ رہو فتنوں میں حصّہ مت لو

باعثِ فکر و پریشانیٔ حُکّام نہ ہو

اپنی اس عمر کو اِک نعمتِ عظمیٰ سمجھو

بعد میں تاکہ تمہیں شکوۂ ایّام نہ ہو

حُسن ہر رنگ میں اچھا ہے گر خیال رہے

دانہ سمجھے ہو جسے تم وہ کہیں دام نہ ہو

تم مدبّر ہو کہ جرنیل ہو یا عالِم ہو

ہم نہ خوش ہوں گے کبھی تم میں گر اسلام نہ ہو

سیلف ریسپکٹ کا بھی خیال رکھو تم بیشک۱؎

یہ نہ ہو پُر کہ کسی شخص کا اِکرام نہ ہو

عُسر ہو یُسر، ہو تنگی ہو کہ آسائش ہو

کچھ بھی ہو، بند مگر دعوتِ اسلام نہ ہو

تم نے دُنیا بھی جو کی فتح تو کچھ بھی نہ کیا

نفسِ وحشی و جفاکیش اگر رام نہ ہو

مَنّ و احسان سے اعمال کو کرنا نہ خراب

رشتۂ وصل کہیں قطع سرِ بام نہ ہو

بھولیو مت کہ نزاکت ہے نصیبِ نسواں

مرد وہ ہے جو جفاکش ہو گُل اندام نہ ہو

شکل مے دیکھ کے گرنا نہ مگَس کی مانند

دیکھ لینا کہ کہیں دُردِ تہِ جام نہ ہو

یاد رکھنا کہ کبھی بھی نہیں پاتا عزّت

یار کی راہ میں جب تک کوئی بدنام نہ ہو

کام مشکل ہے بہت منزلِ مقصود ہے دُور

اے مرے اہلِ وفا سُست کبھی گام نہ ہو

گامزن ہو گے رہِ صدق و صفا پر گر تم

کوئی مشکل نہ رہے گی جو سرانجام نہ ہو

حشر کے روز نہ کرنا ہمیں رُسوا و خراب

پیار و آموختۂ درسِ وفا خام نہ ہو

ہم تو جس طرح بنے کام کیے جاتے ہیں

آپ کے وقت میں یہ سلسلہ بدنام نہ ہو

میری تو حق میں تمھارے یہ دُعا ہے پیارو

سر پہ اللہ کا سایہ رہے ناکام نہ ہو

ظُلمتِ رنج و غم و دَرد سے محفوظ رہو

مہرِ اَنوار درخشندہ رہے شام نہ ہو

اخبار الحکم جلد ۲۲ ۔ ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۲۰ء

۵۳

یاد جس دل میں ہو اس کی وہ پریشان نہ ہو

ذکر جس گھر میں ہو اس کا کبھی ویران نہ ہو

حیف اس سر پہ کہ جو تابع فرمان نہ ہو

تُف ہے اس دل پہ کہ جو بندۂ احسان نہ ہو

مُسلم سوختہ دل! یوں ہی پریشان نہ ہو

تجھ پہ اللہ کا سایہ ہے ہراساں نہ ہو

وقتِ حسرت نہیں یہ ہمت و کوشش کا ہے وقت

عقل و دانائی سے کچھ کام لے نادان نہ ہو

ربّ افواج خود آتا ہے تری نُصرت کو

باندھ لے اپنی کمر بندۂ حرمان نہ ہو

اُٹھ کے دشمن کے مقابل پہ کھڑا ہو جا تُو

اپنے احباب سے ہی دست و گریبان نہ ہو

یاد رکھ لیک کہ غلبہ نہ ملے گا جب تک

دل میں ایمان نہ ہو ہاتھ میں قرآن نہ ہو

اپنے الہام پہ نازاں نہ ہو اے طفلِ سلوک

تیرے بہکانے کو آیا کہیں شیطان نہ ہو

کیا یہ ممکن ہے کہ نازل ہو کلامِ قادر

ظاہر اس سے مگر اللہ کی کچھ شان نہ ہو

تم نے منہ پھیر لیا ان کے اُلٹتے ہی نقاب

کیا یہ ممکن ہے کہ دلبر کی بھی پہچان نہ ہو

اس میں جو بھول گیا دونوں جہانوں سے گیا

کوچۂ عشق میں داخل کوئی انجان نہ ہو

ہجر کے دَرد کا درماں نہیں ممکن جب تک

برگِ اعمال نہ ہوں شربتِ ایمان نہ ہو

نہ تو ہے زاد نہ ہمت نہ ہی طاقت نہ رفیق

میرے جیسا بھی کوئی بے سرو سامان نہ ہو

کس طرح جانیں کہ ہے عشقِ حقیقی تم کو

جیب پارہ نہ ہو گر چاک گریبان نہ ہو

خانۂ دل کبھی آباد نہ ہوگا جب تک

میزباں میں نہ بنوں اور وہ مہمان نہ ہو

رندِ مجلس نظر آئیں نہ کبھی یوں مخمور

جامِ اسلام میں گر بادۂ عرفان نہ ہو

کس طرح مانوں کہ سب کچھ ہے خزانے میں ترے

پر ترے پاس مرے دَرد کا درمان نہ ہو

مَیں تو بھوکا ہوں فقط دیدِ رُخِ جاناں کا

باغِ فردوس نہ ہو روضۂ رضوان نہ ہو

یہ جو معشوق لیے پھرتی ہے اندھی دُنیا

میرے محبوب سی ہی ان میں کہیں آن نہ ہو

عشق وہ ہے کہ جو تن من کو جلا کر رکھ دے

دردِ فرقت وہ ہے جس کا کوئی دَرمان نہ ہو

کام وہ ہے کہ ہو جس کام کا انجام اچھا

بات وہ ہے کہ جسے کہہ کے پشیمان نہ ہو

وہ بھی کچھ یار ہے جو یار سے یکجاں نہ کرے

وہ بھی کیا یار ہے جو خوبیوں کی کان نہ ہو

عشق کا لُطف ہی جاتا رہے اے ابلہِ طبیب

درد گر دل میں نہ ہو دَرد بھی پنہان نہ ہو

طعنے دیتا ہے مجھے بات تو تب ہے واعظ

اس کو تو دیکھ کے انگشت بدندان نہ ہو

اے عدو مَکر ترے کیوں نہ ضرر پہنچائیں

ہاں اگر سر پہ مرے سایۂ رحمان نہ ہو

ہے یہ آئینِ سماوی کے منافی محمودؔ

عشق ہو وصل کا لیکن کوئی سامان نہ ہو

اخبار الفضل۔ جلد ۷، ۲۱ اکتوبر ۱۹۲۰ء

۵۴

آریوں کو میری جانب سے سُنائے کوئی

ہو جو ہمت تو میرے سامنے آئے کوئی

مردِ میدان بنے اپنے دلائل لائے

گھر میں بیٹھا ہوا باتیں نہ بنائے کوئی

آسمانی جو شہادت ہو اسے پیش کرے

یُونہی بے ہودہ نہ بے پَر کی اُڑائے کوئی

سچا مذہب بھی ہے پر ساتھ دلائل ہی نہیں

ایسی باتیں کسی احمق کو سُنائے کوئی

ہے وہ صیّاد جسے صید سمجھ بیٹھے ہیں

ان کی عقلوں سے یہ پَردہ تو اُٹھائے کوئی

بیٹھ کر شیش محل میں نہ کرے نادانی

ساکنِ قلعہ پہ پتھر نہ چلائے کوئی

تاک میں لشکرِ محمود ابھی بیٹھا ہے

ہاں سمجھ کر ذرا ناقوس بجائے کوئی

ہم ہیں تیّار بتانے کو کمالِ قرآں

خُوبیاں وید کی بھی ہم کو بتائے کوئی

کس طرح مانیں کہ مولیٰ کی ہدایت ہے وہ

وید کو جب نہ پڑھے اور نہ پڑھائے کوئی

ایسی ویسی جو کوئی بات نہ ہو ویدوں میں

ان کو اس طرح سے کیوں گھر میں چھپائے کوئی

خود ہی جب وید کے پڑھنے سے وہ محروم رہے

پھر کسی غیر کو کس طرح سکھاتے کوئی


یہ نظم اندازاً سنہ ۱۹۲۰ء کی ہے۔ مجلّہ الجامعہ مصلح موعود نمبر ص۱۳۶

۵۵

ساغرِ حُسن تو پُر ہے کوئی مَے خوار بھی ہو

ہے وہ بے پردہ کوئی طالبِ دیدار بھی ہو

وصل کا لُطف تبھی ہے کہ رہیں ہوش بجا

دل بھی قبضہ میں رہے پہلو میں دلدار بھی ہو

رسم مخفی بھی رہے اُلفتِ ظاہر بھی رہے

ایک ہی وقت میں اِخفا بھی ہو اظہار بھی ہو

عشق کی راہ میں دیکھے گا وہی روئے فلاح

جو کہ دیوانہ بھی ہو عاقل و ہشیار بھی ہو

اُس کا دَر چھوڑ کے کیوں جاؤں کہاں جاؤں میں

اور دُنیا میں کوئی اس کی سی سرکار بھی ہو

ہمسری مجھ سے تجھے کس طرح حاصل ہو عُدُو

حال پر تیرے او ناداں نَظَرِ یار بھی ہو

بات کیسے ہو مؤثر جو نہ ہو دل میں سوز

روشنی کیسے ہو دل مہبطِ انوار بھی ہو

یُونہی بے فائدہ سر مارتے ہیں دِید وطبیب

اُن کے ہاتھوں سے جو اچھا ہو وہ آزار بھی ہو

دَرد کا میرے تو اے جان فقط تم ہو علاج

چارہ کار بھی ہو مَحْرَمِ اَسرار بھی ہو

دل میں اک دَرد ہے پر کس سے کہوں مَیں جا کر

کوئی دُنیا میں مرا مونس و غمخوار بھی ہو

سالکِ راہِ مِنیٰ ایک ہے منہاجِ وصول

عشقِ دلدار بھی ہو صحبتِ ابرار بھی ہو


اخبار الفضل - جلد ۸ - ۶؍ جنوری ۱۹۲۱ء

۵۶

مجھ سے ملنے میں انہیں عذر نہیں ہے کوئی

دل پہ قابو نہیں اپنا یہی دُشواری ہے

پیاس میری نہ بُجھی گر تو بُجھے کیا اس سے

چشمۂ فیض و عنایات اگر جاری ہے

چاک کر دیجئے، ہیں بیچ میں جتنے یہ حجاب

میری منظور اگر آپ کو دلداری ہے

مَر کے بھی دیکھ لو شاید کہ میسّر ہو وصال

لوگ کہتے ہیں یہ تدبیر بڑی کاری ہے

میری یہ آنکھیں کجا رویتِ دِلدار کجا

حالتِ خواب میں ہوں مَیں کہ یہ بیداری ہے

دل کے زنگوں نے ہی محجوب کیا ہے اس سے

شاہد اس بات پہ اک پردۂ زنگاری ہے

دُشمنِ دیں ترے حملے تو سب مَیں نے سہے

اَب ذرا ہوش سے رہیو کہ مری باری ہے

نخلِ اسلام پہ رکھا ہے مخالف نے تبر

واغیاثاہ کہ ساعت یہ بڑی بھاری ہے

عِشق کہتا ہے کہ محمودؔ لپٹ جا اُٹھ کر

رُعب کہتا ہے پئے ہٹ بڑی لاچاری ہے


اخبار الفضل جلد ۹۔ یکم اگست ۱۹۲۱ء

۵۷

میں ترا دَر چھوڑ کر جاؤں کہاں

چینِ دل آرامِ جاں پاؤں کہاں

یاں نہ گر روؤں کہاں روؤں بتا

یاں نہ چِلّاؤں تو چِلّاؤں کہاں

تیرے آگے ہاتھ پھیلاؤں نہ گر

کِس کے آگے اور پھیلاؤں کہاں

جاں تو تیرے دَر پہ قرباں ہو گئی

سَر کہ پھر میں اور ٹکراؤں کہاں

کون غمخواری کرے تیرے سوا

بارِ فکر و حزن لے جاؤں کہاں

دِل ہی تھا سو وہ بھی تجھ کو دے دیا

اَب مَیں اُمّیدوں کو دفناؤں کہاں

بڑھ رہی ہے خارشِ زخمِ نہاں

کِس طرح کھجلاؤں ۔ کھجلاؤں کہاں

کثرتِ عصیاں سے دامن تر ہوا

ابرِ اشکِ توبہ برساؤں کہاں


احمدی جنتری ۱۹۲۲ء ۔ دسمبر ۱۹۲۱ء

۵۸

طُور پہ جلوہ گُناں ہے وہ ذرا دیکھو تو

مُحن کا باب کُھلا ہے بخُدا دیکھو تو

رُعبِ حُسنِ شہِ خُوباں کو ذرا دیکھو تو

ہاتھ باندھے ہیں کھڑے شاہ و گدا دیکھو تو

اپنے بیگانوں نے جب چھوڑ دیا ساتھ مرا

وہ مرے ساتھ رہا اس کی وفا دیکھو تو

عاقلو! عقل پہ اپنی نہ ابھی نازاں ہو

پہلے تم وہ زنجیرِ ہوش رُبا دیکھو تو

غیرممکن کو یہ مُمکن میں بدل دیتی ہے

اے مرے فلسفیو! زورِ دُعا دیکھو تو

ہیں تو معشوق مگر ناز اُٹھاتے ہیں مرے

جمع ہیں ایک ہی باحُسن و وفا دیکھو تو

عاشقو! دیکھ چکے عشقِ مجازی کے کمال

اب مرے یار سے بھی دل کو لگا دیکھو تو

ہے کبھی رویتِ دلدار کبھی وصلِ حبیب

کیسی عُشّاق کی ہے صُبح و مسا دیکھو تو

چاروں اطراف میں مجنوں ہی نظر آتے ہیں

نہ ہُوَاہُو وہ کہیں جلوہ نما دیکھو تو

ہے کہیں جنگ کہیں زلزلہ طاعون کہیں

لے گرپڑے کا ہے کہیں شور پڑا دیکھو تو

کِس نے اپنے رُخِ زیبا پہ سے اُلٹی ہے نقاب

جس سے عالم میں ہے یہ حشر بپا دیکھو تو

جلوۂ یار ہے کچھ کھیل نہیں ہے لوگو!

احمدیت کا بھلا نقش مٹا دیکھو تو

کیا ہوا تم سے جو ناراض ہے دنیا محمودؔ

کس قدر تم پہ ہیں اَلطافِ خُدا دیکھو تو


اخبار الفضل جلد ۹ - ۲؍ جنوری ۱۹۲۲ء

۵۹

حقیقی عشق گر ہوتا تو سچّی جُستجُو ہوتی

تلاشِ یار ہر ہر دِہ میں ہوتی کُو بَکُو ہوتی

مئے وصلِ حبیبِ لایَزَال ولم یزل ہوتی

تو دل کیا میری جاں بھی بڑھ کے قربان سَبُو ہوتی

جو تم سے کوئی خواہش تھی تو بس اتنی ہی خواہش تھی

تمھارا رنگ چڑھ جاتا تمھاری مجھ میں بُو ہوتی

وفا ! تجھ سے مری شہرت نہیں برعکس ہے قصّہ

تری ہستی تو مجھ سے ہے نہ میں ہوتا نہ تُو ہوتی

جہاں جاتا ہُوں اُن کا خیال مجھ کو ڈھونڈ لیتا ہے

نہ ہوتا پیار گر مجھ سے تو کیا یوں جُستجُو ہوتی

نہ رہتی آرزو دل میں کوئی جُز دِید جاناناں

کبھی پوری الٰہی ! یہ ہماری آرزُو ہوتی

اگر تم دامنِ رحمت میں اپنے مجھ کو لے لیتے

تمھارا کچھ نہ جاتا لیک میری آبرو ہوتی

نہ بنتے تم جو بیگانے تو پھر پَردہ ہی کیوں ہوتا

شبیہِ یار آکر خود بخود ہی رُو بَرُو ہوتی

دَرِ مئے خانہٴ الفت اگر میں وا کبھی پاتا

تو بس کرتا نہ گھونٹوں پر صُراحی ہی سبُو ہوتی

مری جنّت تو یہ تھی میں ترے سایہ تلے رہتا

رواں دل میں بحرِ عرفانِ بے پایاں کی جُو ہوتی

تسلّی پا گیا تُو کس طرح ؟ تب لطف تھا سالک

کہ آنکھیں چار ہوتیں اور باہم گفتگو ہوتی

ہوئی ہے پارہ پارہ چادرِ تقویٰ مسلماں کی

ترے ہاتھوں سے ہو سکتی تھی مولیٰ گر رَفُو ہوتی


اخبار الفضل جلد ۹ - ۵ رجنوری ۱۹۲۲ء

۶۰

مَلک بھی رشک ہیں کرتے وہ خوش نصیب ہُوں مَیں

وہ آپ مجھ سے ہے کہتا نہ ڈر قریب ہوں میں

غضب ہے شاہ بُلائے، غلام مُنہ موڑے

ستم ہے چُپ رہے یہ، وہ کہے حبیب ہوں میں

وہ بوجھ اُٹھا نہ سکے جس کو آسمان و زمیں

اُسے اُٹھانے کو آیا ہوں کیا عجیب ہوں میں

مقابلہ پہ مَدو کے نہ گالیاں دُوں گا

کہ وہ تو ہے وہی جو کچھ کہ ہے، نجیب ہوں میں

ہے گالیوں کے سوا اس کے پاس کیا رکھا

غریب کیا کرے مُفلس ہے وہ، نعیب ہوں میں

کرے گا فاصلہ کیا جب کہ دِل اکٹھے ہوں

ہزار دُور رہوں اس سے پھر قریب ہوں میں

ہے عقلِ نفس سے کہتی کہ ہوش کر ناداں

ہزار قیب ہے تُو اور تِری رقیب ہوں میں

کر اپنے فضل سے تو میرے ہم سفر پیدا

کہ اس دیار میں اے جانِ من غریبؔ ہوں میں

مرے پکڑنے پہ قدرت کہاں تجھے صیّاد

کہ باغِ حُسنِ محمّدؐ کی عندلیبؔ ہوں میں

نہ سلطنت کی تمنّا نہ خواہشِ اِکرام

یہی ہے کافی کہ مولیٰ کا اک نقیبؔ ہوں میں

ہری طرف چلے آئیں مریضِ رُوحانی

کہ ان کے دَردوں دُکھوں کے لیے طبیبؔ ہوں میں


اخبار الفضل جلد ۱۰۔ ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۲۲ء

۶۱

میرے مولیٰ مری بگڑی کے بنانے والے

میرے پیارے مجھے فتنوں سے بچانیوالے

جلوہ دکھلا مجھے او چہرہ چھپانے والے

رحم کر مجھ پہ او مُنہ پھیر کے جانے والے

مَیں تو بدنام ہوں جس دم سے ہُوا ہوں عاشق

کہہ لیں جو دل میں ہو الزام لگانے والے

تشنۂ لب ہوں بڑی مدّت سے خُدا شاہد ہے

بھر دے اک جام تُو کوثر کے لُٹانے والے

ڈالتا جا نظرِ مہر بھی اِس غمگیں پر

نظرِ قہر سے مٹی میں ملانے والے

کبھی تو جلوۂ بے پردہ سے ٹھنڈک پہنچا

سینۂ و دل میں مرے آگ لگانے والے

تجھ کو تیری ہی قسم کیا یہ وفاداری ہے

دوستی کر کے مجھے دل سے بُھلانے والے

کیا نئیں آنکھوں میں اب کچھ بھی مروّت باقی

مجھ مصیبت زدہ کو آنکھیں دکھانے والے

مجھ کو دکھلاتے ہوئے آپ بھی رہ کھو بیٹھے

اے خضر کیسے ہو تم راہ دکھانے والے

ڈھونڈتی ہیں مگر آنکھیں نہیں پاتیں اُن کو

ہیں کہاں وہ مجھے روتے کو ہنسانے والے

ساتھ ہی چھوڑ دیا سب نے شبِ ظلمت میں

ایک آنسو ہیں لگی دل کی بُجھانے والے

تا قیامت رہے جاری یہ سخاوت تیری

او مرے گنجِ معارف کے لُٹانے والے

رہ گئے مُنہ ہی ترا دیکھتے وقتِ رحلت

ہم پسینہ کی جگہ خُون بہانے والے

ہو نہ تجھ کو بھی خوشی دونوں جہانوں میں نصیب

کوچۂ یار کے رستہ کے بُھلانے والے

ہم تو ہیں صبح و مسا رنج اُٹھانے والے

کوئی ہوں گے کہ جو ہیں عیش منانے والے

مجھ سے بڑھ کر ہے مرا فکر تجھے دامن گیر

تیرے قربان مرا بوجھ اٹھانے والے

اخبار الفضل جلد ۱۰۔ ۲۷ نومبر ۱۹۲۲ء

۶۲

پیٹھ میدانِ دُعا میں نہ دکھائے کوئی

مُنہ پہ یا عشق کا پھر نام نہ لائے کوئی

حُسنِ فانی سے نہ دل کاش لگائے کوئی

اپنے ہاتھوں سے نہ خاک اپنی اُڑائے کوئی

کون کہتا ہے لگی دل کی بجھائے کوئی

عشق کی آگ مرے دل میں لگائے کوئی

صدمۂ درد و غم و ہم سے بچائے کوئی

اس گرفتارِ مصیبت کو چھڑائے کوئی

رہ سے شیطن کو جب تک نہ ہٹائے کوئی

اس کے ملنے کے لیے کس طرح آئے کوئی

اپنے کوچے میں تو کُتّے بھی ہیں بن جاتے شیر

بات تب ہے کہ مرے سامنے آئے کوئی

دعویٰ حُسْنِ بیاں سچ ہے میں تب جانوں

مجھ سے جو بات نہ بن آئے بنائے کوئی

ہجر کی آگ ہی کیا کم ہے جلانے کو مِرے

غیر سے مِل کے مرا دل نہ دُکھائے کوئی

دیدۂ شوق اُسے ڈھونڈ ہی لے گا آخر

لاکھ پردوں میں بھی گو خود کو چھپائے کوئی

گُرز و نَگدر کے اُٹھانے سے بھلا کیا حاصل

خاک آلودہ برادر کو اٹھائے کوئی

خفگی دو چار دنوں کی تو ہوئی پر یہ کیا

سالہا سال مجھے مُنہ نہ دکھائے کوئی

جُرعۂ بادۂ اُلفت جو کبھی مِل جاتے

دُخترِ رز کو نہ کبھی مُنہ سے لگائے کوئی

تَشْنِگی میری نہ پیالوں سے بُجھے گی ہرگز

خُم کا خُم لے کے مرے منہ سے لگائے کوئی

خَلق دَیکھین جہاں راست پہ سچ پوچھو تو

بات تب ہے کہ مری بگڑی بنائے کوئی

دے دیا دل تو بھلا شرم رہی کیا باقی

ہم تو جائیں گے بلائے نہ بُلائے کوئی

قُرب اُس کا نہیں پاتا، نہیں پاتا محمودؔ

نفس کو خاک میں جب تک نہ ملائے کوئی

اخبار الفضل جلد ۱۰۔ ۴؍جنوری ۱۹۲۳ء

۶۳

پردۂ زلفِ دو تا رُخ سے ہٹالے پیارے

ہجر کی موت سے لِلّٰہ بچالے پیارے

چادرِ فضل وعنایت میں چھپالے پیارے

مجھ گنہ گار کو اپنا ہی بنالے پیارے

نفس کی قید میں ہوں مجھ کو چھڑالے پیارے

غرق ہوں بحرِ معاصی میں بچالے پیارے

تُو کہے اور نہ مانے مرا دل ناممکن

کس کی طاقت ہے ترے حکم کو ٹالے پیارے

جلد آجلد کہ ہَوں لشکرِ اعدا میں گھرا

پڑ رہے ہیں مجھے اب جان کے لالے پیارے

فضل کر فضل کہ مَیں یکہ و تنہا جاں ہوں

ہیں مقابل پہ حوادث کے رسالے پیارے

رہ چکے پاؤں ، نہیں جسم میں باقی طاقت

رحم کر گود میں اب مجھ کو اُٹھالے پیارے

غیر کو سونپ نہ دیجو کہ کوئی خادمِ دَر

گر گیا تھا ہمیں تیرے ہی حوالے پیارے

دشت و کہسار میں جب آئے نظر جلوۂ حُسن

تیرے دیوانے کو پھر کون سنبھالے پیارے

کیوں کروں فرق یونہی دونوں مجھے یکساں ہیں

سب ترے بندے ہیں گورے ہوں کہ کالے پیارے

ہو کے کنگال جو عاشق ہو رُخِ سُلطاں پر

حوصلے دل کے وہ پھر کیسے نکالے پیارے

مجھ سے بڑھ کے میری حالت کو یہ کرتے ہیں بیاں

مُنہ سے گو چپ ہیں مگر پاؤں کے چھالے پیارے

ظاہری دُکھ ہو تو لاکھوں ہیں فدائی موجود

دل کے کانٹوں کو مگر کون نکالے پیارے

ہم کو اِک گھونٹ ہی دے صدقہ میں مینا کے

پی گئے لوگ مئے وصل کے پیالے پیارے

گر نہ دیدار میسر ہو نہ گفتار نصیب

کوچۂ عشق میں جا کر کوئی کیا لے پیارے

فضل سے تیرے جماعت تو ہوئی ہے تیار

حزبِ شیطاں کہیں رخنہ نہ ڈالے پیارے

قوم کے دِل پہ کوئی بات نہیں کرتی اثر

تُو ہی کھولے گا تو کھولے گا یہ تالے پیارے

پردۂ غیب سے امداد کے ساماں کردے

سب کے سب بوجھ مرے آپ اُٹھالے پیارے

نام کی طرح مرے کام بھی کر دے مَحمُود

مجھ کو ہر قسم کے عیبوں سے بچالے پیارے

اخبار الفضل جلد ۱۰۔ ۸ جنوری ۱۹۲۳ء

۶۴

کیوں غلامی کروں شیطاں کی خُدا کا ہو کر

اپنے ہاتھوں سے بُرا کیوں بنوں اچھا ہو کر

مُدعا تو ہے وُہی جو رہے پُورا ہو کر

اِلتجا ہے وہی جو ٹُوٹے پذیرا ہو کر

دَرد سے ذکر ہوا پیدا ، ہوا ذکر سے جذب

میری بیماری لگی مجھ کو مسیحا ہو کر

رہ گیا سایہ سے محروم ہوا بے برکت

سر د نے کیا لیا احباب سے اُونچا ہو کر

جب نظر میری پڑی ماضی پہ دل خُوں ہوا

جان بھی تن سے مری نکلی پسینہ ہو کر

چاہئیے کوئی تو تقریب ترحّم کے لیے

مَیں نے کیا لینا ہے اے دوستو اچھا ہو کر

نہ ملے تو بھی دھڑکتا ہے ملیں تو بھی اے دل

تجھ کو کیا بیٹھنا آتا نہیں نِچلا ہو کر

حُسنِ ظاہر پہ نہ تُو بُھول کہ سو حسرت و غم

چھوڑ جائے گا بس آخر یہ تماشا ہو کر

اس کی ہر جنبشِ لب کرتی ہے مُردے زندہ

حشر دکھلائے گا اب کیا ہمیں برپا ہو کر

دل کو گھبرا نہ سکے لشکرِ افکار و ہموم

بارک اللہ ! لڑا خُوب ہی تنہا ہو کر

ہائے وہ شخص کہ جو کام بھی کرنا چاہے

دل میں رہ جائے وہی اس کے تمنا ہو کر

ایسے بیمار کا پھر اور ٹھکانا معلُوم

دے سکے تم نہ شفا جس کو مسیحا ہو کر

وہ غنی ہے پہ نہیں اس کو یہ ہرگز بھی پسند

غیر سے تیرا تعلق رہے اُس کا ہو کر

ذلت و نکبت و خواری ہوئی مُسلم کے نصیب

دیکھئے اور ابھی رہتا ہے کیا کیا ہو کر

داغ بدنامی اُٹھائے گا جو حق کی خاطر

آسماں پر وہی چمکے گا ستارا ہو کر

یہ غیر ممکن ہے کہ تُو مائدۂ سُلطاں پر

کھا سکے خوانِ ہدایت سگِ دُنیا ہو کر

قلبِ عاصی جو بدل جائے تو کیوں پاک نہ ہو

مَے اگر طیّب و صافی بنے سرکہ ہو کر

حق نے محمودؔ ترا نام ہے رکھا محمودؔ

چاہیے تُجھ کو چمکنا یدِ بیضا ہو کر

اخبار الفضل جلد ۱۱۔ ۴؍ جنوری ۱۹۲۴ء

۶۵

ہے رضائے ذاتِ باری اب رضائے قادیاں

مدّعائے حق تعالیٰ مدّعائے قادیاں

وہ ہے خوش اموال پر، یہ طالبِ دیدار ہے

بادشاہوں سے بھی افضل ہے گدائے قادیاں

گر نہیں عرشِ مُعلّٰی سے یہ ٹکراتی تو پھر

سب جہاں میں گونجتی ہے کیوں صدائے قادیاں

دعوائے طاعت بھی ہوگا ادّعائے پیار بھی

تم نہ دیکھو گے کہیں لیکن وفائے قادیاں

میرے پیارے دوستو تم دم نہ لینا جب تلک

ساری دُنیا میں نہ لہرائے لوائے قادیاں

بن کے سُورج ہے چمکتا آسماں پر روز و شب

کیا عجب معجز نما ہے رہنمائے قادیاں

غیر کا افسون اس پہ چل نہیں سکتا کبھی

لے اُڑی ہو جس کا دِل زلفِ دوتائے قادیاں

اے بتو! اب جُستجو اس کی ہے اُمّیدِ محال

لے چکا ہے دِل مرا تو دلربائے قادیاں

یا تو ہم پھرتے تھے اُن میں یا ہُوا یہ انقلاب

پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے کوچہ ہائے قادیاں

خیال رہتا ہے ہمیشہ اس مقامِ پاک کا

سوتے سوتے بھی یہ کہہ اُٹھتا ہوں ہائے قادیاں

آہ کیسی خوش گھڑی ہوگی کہ با نیلِ مرام

باندھیں گے رختِ سفر کو ہم برائے قادیاں

پہلی اینٹوں پر ہی رکھتے ہیں نئی اینٹیں ہمیش

ہے تمہی چرخِ چہارم پر بنائے قادیاں

صبر کر اے ناقۂ راہِ ھُدیٰ ہمّت نہ ہار

دُور کر دے گی اندھیروں کو ضیائے قادیاں

ایشیا و یُورپ و امریکہ و افریقہ سب

دیکھ ڈالے پر کہاں وہ رنگ ہائے قادیاں

مُنہ سے جو کچھ چاہے بن جائے کوئی پر حق یہ ہے

ہے بہارِ اَشَدّ حُبًّا و بہائے قادیاں

گُلشنِ احمدؐ کے پھولوں کی اُڑا لائی جو بُو

زخم تازہ کر گئی بادِ صبائے قادیاں

جب کبھی تم کو ملے موقع دُعائے خاص کا

یاد کر لینا ہمیں اہلِ وفائے قادیاں؎

اخبار الفضل جلد ۱۲- ۲۵؍ جولائی ۱۹۲۴ء ؎ ۱ یہ نظم حضور نے ۱۹۲۴ء میں سفر یورپ کے دوران فرمائی تھی۔

۶۶

مَیں تو کمزور تھا اِس واسطے آیا نہ گیا

کس طرح مانوں کہ تم سے بھی بُلایا نہ گیا

نفس کو بُھولنا چاہا پہ بُھلایا نہ گیا

جان جاتی رہی پر اپنا پَرایا نہ گیا

عِشق اِک راز ہے اور راز بھی اِک پیارے کا

مجھ سے یہ رازِ صدافسوس چُھپایا نہ گیا

دیکھ کر ارض و سما بارِ گرانِ تشریع

رہ گئے ششدر و حیران اُٹھایا نہ گیا

ہم بھی کمزور تھے طاقت نہ تھی، ہم میں بھی کچھ

قول آقا کا مگر ہم سے ہَٹایا نہ گیا

کس طرح تجھ کو گناہوں پہ ہوئی یوں جرأت

اپنے ہاتھوں سے کبھی زہر تو کھایا نہ گیا

کُفر نے لاکھ تدابیر کیں لیکن پھر بھی

صفحۂ دہر سے اِسلام مِٹایا نہ گیا

ملتا کس طرح کہ تدبیر ہی صائب نہ ہوئی

دل میں ڈھونڈا نہ گیا غیر میں پایا نہ گیا

اس کے جلوے کی بتاؤں تمہیں کیا کیفیت

مجھ سے دیکھا نہ گیا تم کو دِکھایا نہ گیا

جاہ و عزّت تو گئے ، کِبر نہ چھوٹا مُسلم !

بُھوت تو چھوڑ گیا تجھ کو پہ سایا نہ گیا

پین سے بیٹھتے تو بیٹھتے کس طرح کہ ہم

دُور بیٹھانہ گیا پاس بٹھایا نہ گیا

جانِ محمود، ترا حُسن ہے اک حُسن کی کان

لاکھ چاہا پہ ترا نقش اُڑایا نہ گیا


اخبار الفضل جلد ۱۲ - ۷؍ اگست ۱۹۲۴ء

۶۷

صید و شکارِ غم ہے تُو مُسلمِ خستہ جان کیوں

اُٹھ گئی سب جہان سے تیرے لیے امان کیوں

بیٹھنے کا تو ذکر کیا ، بھاگنے کو جگہ نہیں

ہو کے فراخ اس قدر تنگ ہوا جہان کیوں

ڈھونڈتے ہیں تجھی کو کیوں سارے جہاں کے ابتلا

پستی ہے تجھی کو ہاں گردشِ آسماں کیوں

کیوں بنیں پہلی رات کا خواب تری بڑائیاں

قصۂ مامضیٰ ہوئی تیری وہ آن بان کیوں

ہاتھ میں کیوں نہیں وہ زور بات میں کیوں نہیں اثر

چھین گئی ہے سیف کیوں کاٹی گئی زبان کیوں

واسطہ جہل سے پڑا وہم ہوا رفیقِ دہر

علم کدھر کو چل دیا، جاتا رہا بیان کیوں

رہتی ہیں بے شمار کیوں تیری تمام محنتیں

تیری تمام کوششیں جاتی ہیں رائیگان کیوں

سارے جہاں کے ظلم کیوں ٹوٹتے ہیں تجھی پہ آج

بڑھ گیا حدِّ صبر سے عرصۂ امتحان کیوں

تیری زمیں، رہن کیوں ہاتھ میں گبروسخت کے

تیری تجارتوں میں ہے مَبْیَع ومَسْأَیَان کیوں

کسبِ معاش کی رہیں تیری ہر اک گھڑی ہے جب

تیرے عزیز پھر بھی ہیں فاقوں سے نیم جان کیوں

کیوں ہیں یہ تیرے قلب پر کُفر کی چیرہ دستیاں

دل سے ہوئی ہے تیرے محو خصلتِ اِمْتنان کیوں

خُلق ترے کدھر گئے خَلق کو جن پہ ناز تھا

دل تیرا کیوں بدل گیا بگڑی تری زبان کیوں

تجھ کو اگر خبر نہیں اس کے سبب کی مجھ سے سُن

تجھ کو بتاؤں مَیں کہ برگشتہ ہوا جہان کیوں

منبعِ امن کو جو تُو چھوڑ کے دُور چل دیا

تیرے لیے جہان میں اَمن ہو کیوں اَمان کیوں

ہو کے غلام تُو نے جب رسم و داد قطع کی

اس کے غلام در جو ہیں تجھ پہ ہوں مہربان کیوں


اخبار الفضل جلد ۱۲۔ ۲۳؍اگست ۱۹۲۴ء

۶۸

اہلِ پیغام ! یہ معلُوم ہُؤا ہے مُجھ کو

بعض احبابِ وفا کیش کی تحریروں سے

میرے آتے ہی اِدھر تم پہ کُھلا ہے یہ راز

تم بھی میدانِ دلائل کے ہو زن بیروں سے

تم میں دَہ زور دَہ طاقت ہے اگر چاہو تو

چھلنی کر سکتے ہو تم پشتِ عدو تیروں سے

آزمائش کے لیے تم نے چُنا ہے مُجھ کو

پُشت پر ٹوٹ پڑے ہو مری شمشیروں سے

مُجھ کو کیا شکوہ ہو تم سے کہ میرے دشمن ہو

تم تُواسنی کرتے چلے آئے ہو جب سیروں سے

حق تعالیٰ کی حفاظت میں ہُوں مَیں یاد رہے

وہ بچائے گا مجھے سارے خطا گیروں سے

میری غیبت میں لگا لو جو لگانا ہو زور

تیر بھی پھینکو کرو حملے بھی شمشیروں سے

پھیر لو جتنی جماعت ہے مری بیعت میں

باندھ لو ساروں کو تم مکروں کی زنجیروں سے

پھر بھی مغلُوب رہو گے میرے تا یومِ البعث

ہے یہ تقدیر خداوند کی تقدیروں سے

ماننے والے میرے بڑھ کے رہینگے تم سے

یہ قضا وہ ہے جو بدلے گی نہ تدبیروں سے

مُجھ کو حاصل نہ اگر ہوتی خُدا کی امداد

کب کے تم چھید چکے ہوتے مجھے تیروں سے

ایک تنکے سے بھی بد تر تھی حقیقت میری

فضل نے اس کے بنایا مجھے شہتیروں سے

تم بھی گر چاہتے ہو کچھ تو جُھکو اس کی طرف

فائدہ کیا تمہیں اس قسم کی تدبیروں سے

نفسِ طامع بھی کبھی دیکھتا ہے روئے نجات

فتح ہوتے ہیں کبھی مُلک بھی کف گیروں سے

تم مرے قتل کو نکلے تو ہو پر غور کرو!

شیشے کے ٹُکڑوں کو نسبت بھلا کیا ہیروں سے

جن کی تائید میں مولیٰ ہو اُنہیں کس کا ڈر

کبھی صیاد بھی ڈر سکتے ہیں نخچیروں سے

اخبار الفضل جلد ۱۲۔ ۱۱؍ ستمبر ۱۹۲۴ء ؁

۶۹

نہیں ممکن کہ میں زندہ رہوں تم سے جُدا ہو کر

رہوں گا تیرے قدموں میں ہمیشہ خاکِ پا ہو کر

جو اپنی جان سے بیزار ہو پہلے ہی لے جاناں

تمہیں کیا فائدہ ہو گا بھلا اُس پر خفا ہو کر

ہمیشہ نفسِ امّارہ کی باگیں مَستحکم رکھیو

گِرا دے گا یہ سرکش ورنہ تم کو رَیخ پا ہو کر

علاجِ عاشقِ مضطر نہیں ہے کوئی دُنیا میں

اُسے ہوگی اگر راحت میسّر تو فنا ہو کر

خدا شاہد ہے اسکی راہ میں مرنے کی خواہش میں

مِرا ہر ذرّۂ تن جُھک رہا ہے اِلتجا ہو کر

پھر ایسی کچھ نہیں پروا کہ دُکھ ہو یا کہ راحت ہو

رہو دل میں مِرے گر عمر بھر تم مُدّعا ہو کر

مِری حالت پہ جاناں رحم آنے کا نہ کیا تم کو

اکیلا چھوڑ دو گے مجھ کو کیا تم با وفا ہو کر

کہاں ہیں مانی و بہزاد دیکھیں فنِ احمدؑ کو

دکھایا کیسی خُوبی سے مَثیلِ مُصطفٰے ہو کر


اخبار الفضل جلد ۱۲ - ۹؍ دسمبر ۱۹۲۴ء

۷۰

سیدہ مریم صدیقہ کی آمین

مریم نے کیا ہے ختم قرآں

اللہ کا ہے یہ اس پہ احساں

الفاظ تو پڑھ لیے ہیں سارے

اب باقی ہے مطلب اور عرفاں

اللہ سے یہ مری دُعا ہے

ان کو بھی کرے وہ اس پہ آساں۔ آمین

توفیق ملے اُسے عمل کی

کامل ہو ہر اک جہت سے ایماں۔ آمین

مولیٰ کی عنایت و کرم کا

سایہ ہے اس کے سر پہ ہر آں۔ آمین

حلقہ میں ملائکہ کے کھیلے

ہردم رہے دُور اس سے شیطاں۔ آمین

ہو فضلِ خُدا کی اس پہ بارش

پھیلا ہے خوب اس کا داماں۔ آمین

ہو مرہمِ زخمِ دل شکستہ

ہو عادتِ مہر و لُطف و احساں۔ آمین

سر وقفِ خیالِ یارِ ازلی

دل نورِ وفا سے مہرِ تاباں۔ آمین

ہو عرصۂ فکر رشکِ گلشن

میدانِ خیال صد گلستاں۔ آمین

آنکھوں میں حیا چمک رہی ہو

مُنہ حکمت و علم سے دُر افشاں۔ آمین

فکروں سے خُدا اسے بچائے

پیدا کرے خرمی کے ساماں۔ آمین

ہو دونوں جہان میں معزَّز

ہوں چھوٹے بڑے سبھی ثناخواں۔ آمین

مرضی ہو خُدا کی اس کی مرضی

مولیٰ کی رضا کی ہو یہ جویاں۔ آمین

سب عمر بسر ہو اِتِّقا میں

ہر لحظہ رہے یہ زیرِ فرماں۔ آمین

آمین۔ کہیں میری دُعا پر

بیٹھے ہیں تمام لوگ جو یاں۔ آمین

مولیٰ سے دُعا ہے پیاری بہنو!

تمکو بھی دکھائے وہ یہ خوشیاں۔ آمین


اخبار الفضل جلد ۱۲۔ ۱۴؍ مئی ۱۹۲۵ء

۷۱

دل مرا بے قرار رہتا ہے

سینہ میرا فگار رہتا ہے

نیک و بد کا نہیں مجھے کچھ ہوش

سَر میں ہر دم خمار رہتا ہے

تیرے عاشق کا کیا بتائیں حال

رات دن اشکبار رہتا ہے

اس کی شب کا نہ پوچھ تُو جس کا

دن بھی تاریک و تار رہتا ہے

دل مرا توڑتے ہو کیوں جانی

آپ کا اس میں پیار رہتا ہے

کیا نرالی یہ رسم ہے عاشق

دے کے دل بے قرار رہتا ہے

المدد! ورنہ لوگ سمجھیں گے

تیرا بندہ بھی خوار رہتا ہے

مُجھ کو گندہ سمجھ کے مت دھتکار

قربِ گُل میں ہی خار رہتا ہے

ہے دلِ سوختہ کی بھاپ طبیب

تُو یہ سمجھا بُخار رہتا ہے

وحشتِ عارضی ہے ورنہ حضور

کہیں بندہ فرار رہتا ہے

بابِ رحمت نہ بند کیجئے گا

ایک اُمّیدوار رہتا ہے

اس کو بھی پھینک دیجئے گا کہیں

ایک مُٹھی غبار رہتا ہے

فکر میں جس کی گُھل رہے ہیں ہم

اُن کو ہم سے نفار رہتا ہے

برکتیں دینا گالیاں سُننا

اب یہی کاروبار رہتا ہے

فربہ تن کس طرح سے ہو محمودؔ

رنج و غم کا شکار رہتا ہے


اخبار الفضل جلد ۱۲۔ ۶؍ جون ۱۹۲۵ء

۷۲

یارو! مسیحِ وقت کہ تھی جن کی انتظار

رہ تکتے تکتے جن کی کروڑوں ہی مر گئے

آئے بھی اور آ کے چلے بھی گئے وہ آہ!

ایامِ سَعد اُن کے بَسُرعت گذر گئے

آمد تھی ان کی یا کہ خُدا کا نزول تھا

صدیوں کا کام تھوڑے سے عرصہ میں کر گئے

وُہ پیڑ، ہو رہے تھے جو مُدّت سے چوبِ خُشک

پڑتے ہی ایک چھینٹا دُلھن سے نکھر گئے

پَل بھر میں میل سینکڑوں برسوں کی دُھل گئی

صدیوں کے بگڑے ایک نظر میں سدھر گئے

پُر کر گئے فلاح سے جھولی مُراد کی

دامانِ آرزو کو سعادت سے بھر گئے

پر تُم یُونہی پڑے رہے غفلت میں خواب کی

دیکھا نہ آنکھ کھول کے ساتھی کدھر گئے

صد حیف ایسے وقت کو ہاتھوں سے کھو دیا

واحسرتا! کہ جیتے ہی جی تم تو مَر گئے

سُونگھی نہ بُوئے خوش نہ ہوئی دیدِ گُل نصیب

افسوس دن بہار کے یُونہی گذر گئے


اخبار الفضل جلد ۱۲ - ۹؍ جون ۱۹۲۵ء

۷۳

کونسا دل ہے جو شرمندۂ احسان نہ ہو

کونسی رُوح ہے جو خائف و ترسان نہ ہو

میرے ہاتھوں سے جُدا یار کا دامان نہ ہو

میری آنکھوں سے وہ اوجھل کبھی اِک آن نہ ہو

مُضغۂ گوشت ہے وہ دل میں جو ایمان نہ ہو

خاک سی خاک ہے وہ جسم میں گر جان نہ ہو

اپنی حالت پہ یونہی خرم و شادان نہ ہو

یہ سکوں پیش رَوِ آمدِ طوفان نہ ہو

مبتلائے غم و آلام پہ خندان نہ ہو

یہ کہیں تیری تباہی کا ہی سامان نہ ہو

اپنے اعمال پہ غرّہ ارے نادان نہ ہو

تُو بھلا چیز ہے کیا اُس کا جو احسان نہ ہو

نہ ٹلیں گے نہ ٹلیں گے نہ ٹلیں گے ہم بھی

جب تلک سر بدع و کفر کا میدان نہ ہو

رنگ بھی روپ بھی ہو حُسن بھی ہو لیکن پھر

فائدہ کیا ہے اگر سیرت انسان نہ ہو

نہ سہی جُود پہ وہ کام تو کر تُو جس میں

غیر کا نفع ہو تیرا کوئی نقصان نہ ہو

عشق کا دعویٰ ہے تو عشق کے آثار دکھا

دعویٰ باطل ہے وہ جس دعویٰ پہ برہان نہ ہو

مرحبا! وحشتِ دل تیرے سبب سے یہ سُنا

مَیں ترے پاس ہوں سرگشتہ و حیران نہ ہو

بادۂ نوشی میں کوئی لطف نہیں ہے جبتک

صحبت یار نہ ہو مجلس رندان نہ ہو

بُلبُلِ زار تو مر جائے تڑپ کر فوراً

گر گُلِ تازہ نہ ہو بُوئے گلستان نہ ہو

تیری خدمت میں یہ ہے عرض بعدِ عجز و نیاز

قبضۂ غیر میں اے جاں ہری جاں نہ ہو

تُو ہے مقبولِ الٰہی بھی تو یہ بات نہ بھول

سامنے تیرے کوئی موسیِٰ عمران نہ ہو

ابنِ آدم ہے نہ کچھ اور تجھے خیال رہے

جدّ نسیان سے بڑھ کر کہیں عصیان نہ ہو

تجھ میں ہمت ہے تو کچھ کر کے دکھا دُنیا کو

اپنے اجداد کے اعمال پہ نازان نہ ہو

اپنے ہاتھوں سے ہی خود اپنی عمارت نہ گرا

مُخرِبِ دین نہ بن دُشمنِ ایمان نہ ہو

جُود و احسانِ شہنشہ پہ نظر رکھ اپنی

جَوْرِ اغیار پہ افسردہ و نالان نہ ہو

اپنے اوقات کو اے نفسِ حریص و طامع

شکرِ منت میں لگا طالبِ احسان نہ ہو

آگ ہو گی تو دُھواں اس سے اُٹھے گا محمودؔ

غیر ممکن ہے کہ ہو عشق پہ اعلان نہ ہو

اخبار الفضل جلد ۱۲ - ۱۶ جون ۱۹۲۵ء

۷۴

ہوتا تھا کبھی میں بھی کسی آنکھ کا تارا

بتلاتے تھے اک قیمتی دل کا مجھے پارا

دُنیا کی نگہ پڑتی تھی جن ماہ وشوں پر

وہ بھی مجھے رکھتے تھے دِل و جان سے پیارا

ہو جاتی تھی موجود ہر اک نعمتِ دُنیا

بس چاہئے ہوتا تھا مرا ایک اشارا

محبوبوں کا محبوب تھا دلداروں کا دلدار

معشوقوں کا معشوق دُلَاروں کا دُلارا

تھوڑی سی بھی تکلیف مری اُن پہ گراں تھی

کرتے نہ تھے اک کانٹے کا چبھنا بھی گوارا

یا آج مرے حال پہ روتا ہے فلک بھی

سُورج کا جگر بھی ہے غم و رنج سے پارا

یا غیر بھی آ کر مری کرتے تھے خوشامد

یا اپنوں نے بھی ذہن سے اپنے ہے اُتارا

یا میری ہنسی بھی تھی عبادت میں ہی داخل

یا زُھد و تعبد میں بھی پاتا ہوں خسارا

یا کُند چھری ہاتھ میں دیتا نہ تھا کوئی

یا زخموں سے اب جسم مرا چُور ہے سارا

یا زانوئے دلدار مرا تکیہ تھا یا اب

سَر رکھنے کو ملتا نہیں پتھر کا سہارا

جو گھنٹوں محبت سے کیا کرتے تھے باتیں

اب سامنے آنے سے بھی کرتے ہیں کنارا

جس پر مجھے اُمّید تھی شافع مرا ہوگا

اِس ساعتِ عُسرت میں ہے اُس نے بھی بسارا

ہے صبر جو جاں سوز تو فریاد حیا سوز

بے تاب خموشی ہے نہ گویائی کا چارا

قوّت تو مجھے چھوڑ چکی ہی تھی کبہی کی

اب صبر بھی کیا جانے کدھر کو ہے سدھارا

اَب نکلوں تو کس طرح ان آفات سے نکلوں

یہ ایسا سمندر ہے نہیں جس کا کنارا

سالک تھا اسی فکر و غم و رنج میں ڈوبا

ناگاہ اُسے ہاتفِ غیبی نے پکارا

اے صیدِ مصائب پنجۂ یار کے کُشتے

جس نے تجھے مارا ہے وہی ہے ترا چارا

تکلیف میں ہوتا نہیں کوئی بھی کسی کا

احباب بھی کر جاتے ہیں اس وقت کنارا

مرنا ہے تو اس دَر پہ ہی مَر، جی تو وہیں جی

ہوگا تو وہیں ہوگا ترے دَرد کا چارا

مانا کہ ترے پاس نہیں دولتِ اعمال

مانا ترا دُنیا میں نہیں کوئی سہارا

پر صورتِ احوال اُنہیں جا کے بتا تُو

شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را

اخبار الفضل جلد ۱۳ - ۹ جولائی ۱۹۲۵ء

۷۵

عشق و وفا کے افسانے

پُوچھو جو اُن سے زُلف کے دیوانے کیا ہوئے

فرماتے ہیں کہ میری بلا جانے کیا ہوئے

اے شمع رُو بتا، ترے پروانے کیا ہوئے

جل بُھن کے مر رہے تھے جو دیوانے کیا ہوئے

خُم خانہ دیکھتے تھے جو آنکھوں میں یار کی

تھے بے پیئے کے مَست جو مستانے کیا ہوئے

جن پر ہر اک حقیقتِ مخفی تھی منکشف

وہ واقفانِ رازِ دَہِ فرزانے کیا ہوئے

سب لوگ کیا سبب ہے، کہ بے کیف ہو گئے

ساقی کدھر کو چل دیئے میخانے کیا ہوئے

ابوابِ بغض و غَدْر و شقاوت ہیں کُھل رہے

عشق و وفا و مہر کے افسانے کیا ہوئے

اُمّیدِ وصل حسرت و غم سے بدل گئی

نقشِ قدومِ یارِ فدا جانے کیا ہوئے


اخبار الفضل جلد ۱۳۔ ۱۲؍ اگست ۱۹۲۵ء ؁ :اس نظم میں پہلا شعر حضور کی حرم محترمہ حضرت امتہ الحی کا منتخب کردہ ہے باقی شعر حضور کے اپنے ہیں۔

۷۶

فضل الٰہی کے غیبی سامان

ہم انہیں دیکھ کے حیران ہوئے جاتے ہیں

خود بخود چاک گریباں ہوئے جاتے ہیں

دشمنِ آدم کے جو نادان ہوئے جاتے ہیں

ہائے انسان سے شیطان ہوئے جاتے ہیں

گیسوئے یار پریشان ہوئے جاتے ہیں

اب تو واعظ بھی پشیمان ہوئے جاتے ہیں

غیب سے فضل کے سامان ہوئے جاتے ہیں

مرحلے سارے ہی آسان ہوئے جاتے ہیں

حُسن ہے داد طلب عشق تماشائی ہے

لاکھ پردوں میں وہ عریان ہوئے جاتے ہیں

تیری تعلیم میں کیا جادو بھرا ہے مرزا

جس سے حیوان بھی انسان ہوئے جاتے ہیں

سینکڑوں عیب نظر آتے تھے جن کو اس میں

وہ بھی اب عاشقِ قرآن ہوئے جاتے ہیں

گورے کالے کی اُٹھی جاتی ہے دُنیا سے تمیز

سب ترے تابعِ فرمان ہوئے جاتے ہیں

سکتہ اشک پر دلّی ہے وہ تو نے واللہ

گبر بھی اب تو مسلماں ہوئے جاتے ہیں

مرد و زن عشق میں تیرے ہیں برابر سرشار

ہر ادا پر تری قربان ہوئے جاتے ہیں

ہے ترقی پہ مرا جوشِ جنوں ہر ساعت

تنگ سب دشت و بیابان ہوئے جاتے ہیں

بیٹھ جاؤ ذرا پہلو میں مرے آ کے کہ آج

سب ارادے مرے ارمان ہوئے جاتے ہیں

جوشِ گریہ سے پھٹا جاتا ہے دل پھر محمودؔ

اشک پھر قطرہ سے طوفان ہوئے جاتے ہیں


اخبار الفضل جلد ۱۳ - ۸؍ جنوری ۱۹۲۶ء

۷۷

بخش دو رحم کرو شکوے گلے جانے دو

مر گیا ہجر میں میں پاس مجھے آنے دو

دوستو! کچھ نہ کہو مجھ سے بَھلے جانے دو

خنجرِ ناز سے تم سر مجھے کٹوانے دو

پڑ گئی جس پہ نظر ہو گیا مدہوش وہی

میرے دلدار کی آنکھیں ہیں کہ مَےخانے دو

دوستو! رحم کرو کھول دو زنجیروں کو

جا کے جنگل میں مجھے دل ذرا بہلانے دو

سر پہ ہے پر فکر نہیں، دل ہے پر اُمّید نہیں

اب ہیں بس شہر کے باقی یہی ویرانے دو

تمھیں تریاق مبارک ہو مجھے زہر کے گھونٹ

غم ہی اچھا ہے مجھے تم مجھے غم کھانے دو

دوستو! سمجھو تو ہے زندگی اس موت کا نام

یار کی راہ میں اب تم مجھے مر جانے دو

دل کی دل جانے مجھے کام نہیں کچھ اس سے

اپنی ڈالی ہوئی گتھی اسے سُلجھانے دو

نفس پر بوجھ ہی ڈالو گے تو ہو گی اصلاح

اونٹ لدتے ہیں یونہی چیخنے چلّانے دو

فکر پر فکر تو غم پر ہے غموں کی بوچھاڑ

سانس تو لینے دو تھوڑا سا تو ستانے دو

اِک طرف عقل کے شیطان، تو اِک جانب نفس

ایک دانا کو ہیں گھیرے ہوئے دیوانے دو

کبھی غیرت کے بھی دکھلانے کا موقع ہو گا

یا یونہی کہتے چلے جاؤ گے تم جانے دو

کٹ گئی عمر رگڑتے ہوئے ماتھا در پر

کاش تم کہتے کبھی تو کہ اسے آنے دو

مجھ سے ہے اور تو غیروں سے ہے کچھ اور سلوک

دلبرا آپ بھی کیا رکھتے ہیں پیمانے دو

تن سے کیا جان جُدا رہتی ہے، یا جان سے تن

راستہ چھوڑ دو دربانو مجھے جانے دو


اخبار الفضل جلد ۱۴۔ ۲۴ اگست ۱۹۲۶ء

۷۸

تُو وہ قادر ہے کہ تیرا کوئی ہمسر ہی نہیں

مَیں بُرے بن ہوں کہ بے پَر بھی ہوں، بے پَر ہی نہیں

لذتِ جہل سے محروم کیا علم نے آہ!

خواہش اُڑنے کی تو رکھتا ہوں مگر پر ہی نہیں

گھونسلے چڑیوں کے ہیں ماندیں ہیں شیروں کیلئے

پر مرے واسطے دُنیا میں کوئی گھر ہی نہیں

خوف اگر ہے تو یہ ہے تجھ کو نہ پاؤں نادمن

جان جانے کا تو اے جانِ جہاں ڈر ہی نہیں

عشق بھی کھیل ہے ان کا کہ جو دل رکھتے ہیں

ہو جو سَودا تو کہاں ہو کہ یہاں سَر ہی نہیں

آنکھیں پُر نَم ہیں جگر ٹکڑے ہے سینہ ہے چاک

یاد میں تیری تڑپتا دِلِ مُضطر ہی نہیں

ذرّہ ذرّہ مجھے عالم کا یہ کہتا ہے کہ دیکھ

مَیں بھی ہوں آئنہ اس کا مہِ و اختر ہی نہیں

دل کے بہہ جانے کی نالے بھی خبر دیتے ہیں

شاہد اس بات پہ نوکِ مژۂ تر ہی نہیں

خواہشِ وصل کروں بھی تو کروں کیونکر مَیں

کیا کہوں اُن سے کہ مجھ میں کوئی جوہر ہی نہیں

دل سے ہے وسعتِ ترحیبِ محبّت مفقود

ساقی اِستادہ ہے مینا لیے ساغر ہی نہیں

قربِ دلدار کی راہیں تو کھلی ہیں لیکن

کیا کروں مَیں پئے اسباب میسّر ہی نہیں

ہے غمِ نفس اِدھر، لشکرِ اَدھر عالم کا

چین ممکن ہی نہیں، اَمن مقدّر ہی نہیں


اخبار الفضل جلد ۱۴- ۳۱ اگست ۱۹۲۶ء

۷۹

مرے ہمراز بیشک دل محبت کا ہے پیمانہ

ہے اس کا حال رندانہ تو اس کی چال مستانہ

مئے جاں بخش بٹتی ہے جہاں ہے یہ وہ مَے خانہ

مگر وہ کیا کرے جس کا کہ دل ہو جائے ویرانہ

نظر آئیں تمناؤں کی چاروں سمت میں قبریں

مرے ہمراز کہتے ہیں کہ اک شئے نُور ہوتی ہے

جب آتی ہے تو تاریکی معا ً کافور ہوتی ہے

علاجِ رنج و غم ہائے دلِ رنجور ہوتی ہے

طبیعت کتنی ہی افسردہ ہو مسرُور ہوتی ہے

مگر ہم کیا کریں جن کے کہ دِن بھی ہو گئے راتیں

مرے ہمراز آنکھیں بھی خُدا کی ایک نعمت ہیں

ہزاروں دولتیں قربان ہوں جس پر وہ دولت ہیں

بنائے جسم میں سچ ہے کہ بابِ علم و حکمت ہیں

مثالِ خضر ہمراہِ طلب گارِ زیارت ہیں

مگر وہ مُنھ نہ دکھلائیں تو پھر ہم کیا کریں آنکھیں

وہ خوش قسمت ہیں جو گر پڑ کے اس مجلس میں جا پہنچے

کبھی پاؤں پہ سر رکھا کبھی دامن سے جا لپٹے

غرض جس طرح بن آیا مطالب اُن سے منوائے

مرے ہمراز پر وہ پَرسکستہ کیا کریں جن کے

ہوا میں اُڑ گئے نالے، گئیں بے کار فریادیں

بجا ہے ساری دُنیا ایک لفظِ کُن کا ہے نقشہ

جدھر دیکھو چمک اُس کی جدھر دیکھو ظہور اس کا

برے ہم راز سب دُنیا کا کام اس میں نہ ہے چلتا

مگر میں بھی تبھی ہوتی ہے جب ہو سامنا تُو کا

بھلا وہ کیا کریں جن کو جو ان کی یاد سے اُتریں

دلِ مایوس سینہ میں اندھیرا چاروں جانب میں

نہ آنکھیں ہیں کہ رہ پائیں نہ پَر ہیں جن سے اُڑ جائیں

نہ احساسِ انانیت کہ اس کے زور سے پہنچیں

مرے دلدار ہم پر بند ہیں سب وصل کی راہیں

سوا اس کے کہ اب خود آپ ہی کچھ لطف فرمائیں

ہمارے بیکسوں کا آپ کے بن کون ہے پیارے

نظر آتے ہیں مارے غم کے اب تو دن کو بھی تارے

نہیں دل اپنے سینوں میں دھرے ہیں بلکہ انگارے

پھنکے جاتے ہیں سَر سے پاؤں تک ہم ہجر کے مارے

بس اب تو رحم فرمائیں چلے آئیں چلے آئیں

اخبار الفضل جلد ۱۴- ۲۸؍ ستمبر ۱۹۲۶ء

۸۰

پہنچائیں در پہ یار کے وہ بال و پَر کہاں

دیکھے جمالِ یار جو ایسی نَظَر کہاں

کر دے رسا دُعا کو مری وہ اثر کہاں

دھو دے جو سب گنہ مرے وہ چشمِ تر کہاں

ہر شب اسی اُمید میں سوتا ہوں دوستو!

شاید ہو وصلِ یار میسر ، مگر کہاں

سجدہ کا اِذن دے کے مجھے تاجْور کیا

پاؤں ترے کہاں مرا ناچیز سَر کہاں

میری طرح ہر اک ہے یہاں مبتلائے عشق

حیران ہوں کہ ڈھونڈوں میں اب نامہ بر کہاں

از بس کہ انفعال سے دل آب آب تھا

آنکھوں سے بہہ گیا مرا نُورِ نظر کہاں

فُرقت میں تیری ہر جگہ ویرانہ بن گئی

اَب زندگی کے دن یہ کروں میں بَسَر کہاں

ہر لحظہ انتظار ہے ہر وقت جُستجُو

رہتا ہے اب تو مُنہ پہ مرے بس کِدھر کہاں

جب نقدِ جان سونپ دیا تجھ کو جانِ من

پاس آکے بھلا مرے خوف و خطر کہاں

کچھ بھی خبر نہیں کہ کہاں ہوں کہاں نہیں

جب جان کی خبر نہیں تن کی خَبَر کہاں

حیران ہوں کہ دن کسے کہتے ہیں دوستو!

سُورج ہی جب طلوع نہ ہو تو سحر کہاں

عاشق کے آنسوؤں کی ذرا آب دیکھ لیں

ہیرے کہاں ہیں لعل کہاں ہیں گُہر کہاں

دردِ آشنائی غمِ ہجراں میں ہیں کہاں

فرقت نصیب مادر و فاقد پدر کہاں

اے دل اُسی کے در پہ بس اب جا کے بیٹھ جا

مارا پھروں گا ساتھ ترے در بدر کہاں

تیری نگاہِ لطف اُتارے گی مجھ کو پار

کہتے ہیں مجھ سے عِشق کے یہ بحر و بَر کہاں

ہچکولے کھا رہی ہے مری ناؤ دیر سے

دیکھوں کہ پھینکتی ہے قضا و قدر کہاں

دیکھو کہ دل نے ڈالی ہے جا کر کہاں کمند

کُودا تو ہے یہ بحرِ محبت میں پر کہاں

ممکن کہاں کہ غیر کرے مجھ سے ہمسری

وہ دل کہاں وہ گردے کہاں وہ جگر کہاں

اخبار الفضل جلد ۱۴- ۱۹؍ اکتوبر ۱۹۲۶ء

۸۱

سعیِ پیہم میری ناکام ہوئی جاتی ہے

صُبح آتی ہی نہیں شام ہوئی جاتی ہے

وُہ لبِ سُرخ ہیں گویائی پہ آمادہ پھر

سخت ارزاں مئےِ گلفام ہوئی جاتی ہے

لُطفِ خلوت جو اُٹھانا ہو اُٹھا لو یارو

دعوتِ پیرِ مغاں عام ہوئی جاتی ہے

مُضطرب ہو کے چلے آتے ہیں میری جانب

موت ہی وصل کا پیغام ہوئی جاتی ہے

ان کو اظہارِ محبت سے ہے نفرت محمودؔ

آہ میری یونہی بدنام ہوئی جاتی ہے

عشق ہے جلوہ فگن فطرتِ وحشی پہ مری

دیکھ لینا کہ ابھی رام ہوئی جاتی ہے

جُرأتِ زُلف تو دیکھو کہ بروزِ روشن

در پئےِ قتل سرِ بام ہوئی جاتی ہے

خود سری تیری گر اسلام ہوئی جاتی ہے

ان کی رنجش بھی تو انعام ہوئی جاتی ہے

لذتِ عیشِ جہاں دیکھ کے بھُولا مُسلم

دانہ سمجھا تھا جسے دام ہوئی جاتی ہے

کیا سبب ہے کہ تجھے دے کے دل اے چشمۂ فیض

میری جاں مَعْرِضِ الزام ہوئی جاتی ہے

پھر مٹے جاتے ہیں ہر قسم کے دُنیا سے فساد

عقل پھر تابعِ اِلہام ہوئی جاتی ہے


از احمدی جنتری ۱۹۲۸ء مطبوعہ دسمبر ۱۹۲۷ء

۸۲

یہ خاکسار نابکار دِلبرؔ وُہی تو ہے

کہ جس کو آپ کہتے تھے ہے باوفا وُہی تو ہے

جو پہلے دن سے کہہ چکا ہوں مدّعا وُہی تو ہے

میری طلب وُہی تو ہے میری دُعا وُہی تو ہے

جو غیر پر نگہ نہ ڈالے آشنا وُہی تو ہے

جو غیر کے سوانہ دیکھے چشم وا وُہی تو ہے

نظر تھی جس پہ رحم کی جو خوشہ چینِ فضل تھا

وہی غلامِ جاں نثار آپ کا وُہی تو ہے

یہ بے رُخی ہے کس سبب سے میں دہی ہوں جو کہ تھا

میرے گنہ وہی تو ہیں میری خطا وُہی تو ہے

سزائے عشق ہجر ہے جزائے صبر وصل ہے

میری سزا وہی تو ہے میری جَزا وہی تو ہے

نہیں ہیں میرے قلب پہ کوئی نئی تجلیاں

حِرا میں تھا جو جلوہ گر میرا خُدا وہی تو ہے

نہیں ہے جس کے ہاتھ میں کوئی بھی شے وہی تو ہوں

جو ہے قدیر خیر و شر میرا خدا وہی تو ہے

بھنور میں پھنس رہی ہے گو نہیں ہے خوف ناؤ کو

بچایا جس نے نوحؑ کو تھا ناخُدا وہی تو ہے

ہے جس کا پھول خوشنما ہے جس کی چال جانفزا

میرا چمن وہی تو ہے میری صبا وُہی تو ہے


از احمدی جنتری ۱۹۲۵ء مطبوعہ دسمبر ۱۹۲۶ء

۸۳

تیرے دَر پر ہی میری جان نکلے

خُدایا یہ مرا ارمان نکلے

نِکل جائے مری جاں خواہ تن سے

نہ دل سے پَر مرے ایمان نکلے

ہوں اِک عرصہ سے خواہانِ اجازت

مرے بارے میں بھی فرمان نکلے

مرے پاس آ کے لِلّٰہ بیٹھ جاؤ

کہ پہلو سے مرے شیطان نکلے

سمجھتا تھا ارادے ساتھ دیں گے

مگر وہ بھی یونہی مہمان نکلے

مُجھے سب رنج و کلفت بھول جائے

جو تیری دید کا ارمان نکلے

گنوا دی قشر کی خواہش میں سب عُمر

دریغا! ہم بہت نادان نکلے

ہُوا کیا سَیرِ عالَم کا نتیجہ

پریشاں آئے تھے حیران نکلے

ترے ہاتھوں سے اے نفسِ دَنِی سُن

جنہیں دیکھا وہی نالاں نکلے

لُٹا دُوں جان و مال و آبرو سب

جو میرے گھر کبھی تُو آن نکلے

نکلتی ہے مری جاں تو نکل جائے

نہ دل سے پر ترا پیکان نکلے

نہ پایا دوسرا تجھ سا کوئی بھی

زمین و آسماں سب چھان نکلے

غضب کا ہے ترا یہ حُسنِ مخفی

جنھیں دیکھا ترے خواہان نکلے

تری نسبت سُنے تھے جس قدر عیب

وہ سارے جھوٹ اور بہتان نکلے

کبھی نکلے نہ دل سے یاد تیری

کبھی سر سے نہ تیرا دھیان نکلے

نہ کی ہم نے کمی کچھ مانگنے میں

مگر تم بخششوں کی کان نکلے

سمجھتا تھا کہ ہُوں صیدِ مصائب

مگر سوچا تو سب احسان نکلے


از احمدی جنتری ۱۹۲۸ء مطبوعہ دسمبر ۱۹۲۷ء

۸۴

ہے زمیں پر سر مرا لیکن وہی مسجُود ہے

آنکھ سے اوجھل ہے گو دل میں وہی موجود ہے

مُطلَقاً غیر اَز فنا راہِ بقا مسدُود ہے

مِٹ گیا جو راہ میں اُس کی وہی موجود ہے

سوچتا کوئی نہیں فردوس کیوں مقصُود ہے

آرزو باقی ہے لیکن مُدّعا مفقُود ہے

شاید اس کے دل میں آیا میری جانب غبار

آسماں چاروں طرف سے کیوں غبار آلود ہے

وہ مرا ہے تا اَبد مَیں ہوں اسی کا اَز اَزل

مجھ کو کیا حُور و جناں سے وہ مرا مقصُود ہے

احتیاج اِک نقص ہے جلوہ گری ہے اِک کمال

مقتضائے حُسنِ سترِ شاہد و مشہُود ہے

بے ہُنر کو پُوچھتا ہی کون ہے دُنیا میں آج

ہے کوئی تو تجھ میں جوہر تُو اگر محسُود ہے

مانگ پر ہوتی ہے پیداوار چونکہ وہ نہیں

جنسِ تقویٰ اس لیے دُنیا سے اب مفقُود ہے

کیوں نہ پاؤں اُس کی درگہ سے جزائے بے حساب

ہے مری نیت تو بے حد گو عمل محدُود ہے

دل کی حالت پر کسی بندے کو ہو کیا اِطّلاع

بس وہی محمُود ہے جو اس کے ہاں محمُود ہے

مُدّعا ہے میری ہستی کا کہ مانگوں بار بار

مقتضا اُن کی طبیعت کا سخا و جُود ہے

باپ کی سُنّت کو چھوڑا ہو گیا صیدِ ہَوا

ابنِ آدم بارگہ سے اس لیے مطرُود ہے

جب تلک تدبیر پنجہ کش نہ ہو تقدیر سے

آرزو بے فائدہ ہے اِلتجا بے سُود ہے

عشق و بیکاری اکٹھے ہو نہیں سکتے کبھی

عرصۂ سعیِ مُحبّاں تا اَبد ممدُود ہے


از احمدی جنتری ۱۹۲۸ء مطبوعہ دسمبر ۱۹۲۷ء

۸۵

مَیں تمہیں جانے نہ دُوں گا

کیا محبت جائے گی یوں

کیا پڑا روؤں گا میں خوں

یاد کر کے چشمِ مے گُوں

مَیں تمہیں جانے نہ دُوں گا

مَیں تمہیں جانے نہ دُوں گا

خواہ تم کتنا ہی ڈانٹو

خواہ تم کتنا ہی کوسو

خواہ تم کتنا بھی جھڑکو

مَیں تمہیں جانے نہ دُوں گا

مَیں تمہیں جانے نہ دُوں گا

کیا ہوئی اُلفت ہماری

کیا ہوئی چاہت تمہاری

کھا چکا ہوں زخمِ کاری

مَیں تمہیں جانے نہ دُوں گا

مَیں تمہیں جانے نہ دُوں گا

مجھ سے تم نفرت کرو گے

سامنے میرے نہ ہو گے

ساتھ میرا چھوڑ دو گے

مَیں تمہیں جانے نہ دُوں گا

مَیں تمہیں جانے نہ دُوں گا

دل میں رکھوں گا چھپا کر

آنکھ کی پُتلی بنا کر

اپنے سینے سے لگا کر

مَیں تمہیں جانے نہ دُوں گا

مَیں تمہیں جانے نہ دُوں گا

اِس قدر محنت اُٹھا کر

دولتِ راحت لُٹا کر

تم کو پایا جاں گنوا کر

اب تو مَیں جانے نہ دُوں گا

مَیں تمہیں جانے نہ دُوں گا

آسماں شاہد نہیں کیا

میرے اِقرارِ وفا کا

اے مری جاں میرے مولیٰ

مَیں تمہیں جانے نہ دُوں گا

مَیں تمہیں جانے نہ دُوں گا

تم ہو میری راحتِ جاں

تم سے وابستہ ہے ارماں

زور سے پکڑوں گا داماں

مَیں تمہیں جانے نہ دُوں گا

مَیں تمہیں جانے نہ دُوں گا

کیا سُناتے ہو مجھے تم

کیوں ستاتے ہو مجھے تم

بس بتاتے ہو مجھے تم

مَیں تمہیں جانے نہ دُوں گا

مَیں تمہیں جانے نہ دُوں گا

سر کو پاؤں پر دَھروں گا

آنکھیں تلووں سے مَelementsلُوں گا

نقشِ پا کو چُوم لُوں گا

مَیں تمہیں جانے نہ دُوں گا

مَیں تمہیں جانے نہ دُوں گا

کیا مُلاقاتوں کی راتیں

تھیں جو مجھ کو شب براتیں

یُوں ہی ہو جائیں گی باتیں

مَیں تمہیں جانے نہ دُوں گا

مَیں تمہیں جانے نہ دُوں گا

میری حالت پر نظر کر

جیب سے غش بند کر

ڈھیر ہو جاؤں گا مَر کر

پر تجھے جانے نہ دوں گا

مَیں تمہیں جانے نہ دوں گا

ٹوٹ جائیں کس طرح سے

عہد کے مضبوط رشتے

اس لیے ہم کیا ملے تھے

مَیں تمہیں جانے نہ دوں گا

مَیں تمہیں جانے نہ دوں گا

خواہ مجھ سے رُوٹھ جاؤ

مُنہ نہ سالوں تک دکھاؤ

یاد سے اپنی بُھلاؤ

مَیں تمہیں جانے نہ دوں گا

مَیں تمہیں جانے نہ دوں گا

تم تو میرے ہو چکے ہو

تم مرے گھر کے دیے ہو

میرے دل میں بس رہے ہو

مَیں تمہیں جانے نہ دوں گا

مَیں تمہیں جانے نہ دوں گا

آؤ آؤ مان جاؤ

مجھ کو سینے سے لگاؤ

دل سے سب شکوے مٹاؤ

مَیں تمہیں جانے نہ دوں گا

مَیں تمہیں جانے نہ دوں گا

اخبار الفضل جلد ۱۵ - ۱۰ فروری ۱۹۲۸ء

۸۶

اِک عمر گزر گئی ہے روتے روتے

دامانِ عمل کا داغ دھوتے دھوتے

یارانِ وطن! یہ خوابِ جنّت کس کام

دوزخ میں پہنچ چکے ہو سوتے سوتے

آتا ہے تو اب گنہ میں لُطف آتا ہے

نوبت یہ پہنچ گئی ہے ہوتے ہوتے

کیا کعبہ کو جاؤ گے تبھی تم جس وقت

تھک جاؤ گے کِشتِ ظلم بوتے بوتے

چھانا کئے سب جہاں کو ان کی خاطر

جب دیکھا تو دیکھا ان کو سوتے سوتے

دیکھا نہ نگاہِ یار پا لی ہم نے

فُرقت میں حواس و ہوش کھوتے کھوتے


اخبار الفضل جلد ۱۶- ۶؍ جولائی ۱۹۲۸ء

۸۷

مَیں اپنے پیاروں کی نسبت

ہرگز نہ کروں گا پسند کبھی

وہ چھوٹے درجہ پہ راضی ہوں

اور اُن کی نگاہ رہے نیچی

وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر

شیروں کی طرح غرّاتے ہوں

ادنیٰ سا قصور اگر دیکھیں

تو مُنہ میں کف بھر لاتے ہوں

وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں پر

اُمّید لگائے بیٹھے ہوں

وہ ادنیٰ ادنیٰ خواہش کو

مقصود بنائے بیٹھے ہوں

شمشیرِ زباں سے گھر بیٹھے

دشمن کو مارے جاتے ہوں

میدانِ عمل کا نام بھی لو

تو جھینپتے ہوں گھبراتے ہوں

گیدڑ کی طرح وہ تاک میں ہوں

شیروں کے شکار پہ جانے کی

اور بیٹھے خوابیں دیکھتے ہوں

وہ ان کا جوٹھا کھانے کی

اے میری اُلفت کے طالب!

یہ میرے دل کا نقشہ ہے

اب اپنے نفس کو دیکھ لے تُو

وہ ان باتوں میں کیسا ہے

گر تیری ہمّت چھوٹی ہے

گر تیرے ارادے مُردہ ہیں

گر تیری اُمّنگیں کوتَہ ہیں

گر تیرے خیال افسردہ ہیں

کیا تیرے ساتھ لگا کر دل

مَیں خود بھی کمینہ بن جاؤں

ہُوں جنّت کا مینار ، مگر

دوزخ کا زینہ بن جاؤں

ہے خواہش میری اُلفت کی

تو اپنی نگاہیں اُونچی کر

تدبیر کے جالوں میں مت پھنس

کر قبضہ جا کے مقدّر پر

مَیں واحد کا ہُوں دل دادہ

اور واحد میرا پیارا ہے

گر تُو بھی واحد بن جائے

تو میری آنکھ کا تارا ہے

تُو ایک ہو ساری دُنیا میں

کوئی ساجھی اور شریک نہ ہو

تُو سب دُنیا کو دے لیکن

خود تیرے ہاتھ میں بھیک نہ ہو

اخبار الفضل جلد ۱۷۔ ۱۰؍ جنوری ۱۹۳۰ء

۸۸

خُدایا اے میرے پیارے خُدایا

اِلہٰ العالمین ربّ البرایا

ملیک و مالک و خلاّقِ عالم

رحیم و راحم و بحر العطایا

تری درگہ میں اِک اُمّید لے کر

تِرا اِک بندۂ عاصی ہے آیا

وہ خالی ہاتھ ہے ہر پیشکش سے

نہیں لایا وہ ساتھ اپنے هدایا

جو تُو نے دی تھی اس کو طاقتِ خیر

وہ کر بیٹھا ہے اس کا بھی صفایا

وہ حیوانوں سے بدتر ہو رہا ہے

نہیں تقویٰ میں حاصل کوئی پایا

سمٹ کر بن گئی نیکی سویدا

اُفق پر چھا گئیں اس کی خطایا

بتاؤں کیا کہ شیطاں نے کہاں سے

کہاں لے جا کے ہے اس کو گرایا

نہیں آرام پل بھر بھی میسّر

ہے اس ظالم نے کچھ ایسا ستایا

جہاں کا چپّہ چپّہ دیکھ ڈالا

مگر کوئی ٹھکانا بھی نہ پایا

ہُوا مایوس جب چاروں طرف سے

نہ جب کوشش نے اس کا کچھ بنایا

تو ہر پِھر کر یہی تدبیر سوجھی

تری تقدیر کا در کھٹکھٹایا

یہی ہے آرزُو اس کی الٰہی

یہی ہے التجا اس کی خُدایا

کہ مشرق اور مغرب دیکھ ڈالے

سُکوں لیکن کہیں اس نے نہ پایا

تری درگاہ میں وہ آخر الامر

تمنا دل میں لے کر ہے یہ آیا

تری رحمت کی دیواروں کے اندر

کلام اللہ کا مل جائے سایا

تو وہ دُھونی محبّت کی رما کر

جلا دے سب جہالت اور مایا

اخبار الفضل جلد ۱، ۱۷ جنوری ۱۹۱۳ء

۸۹

آمین

عزیزان امۃ السلام بیگم۔ مرزا ناصر احمد۔ ناصرہ بیگم۔ مرزا مبارک احمد۔ امۃ القیوم بیگم مرزا منور احمد۔ امۃ الرشید بیگم۔ امۃ العزیز بیگم۔ سَلَّمَهُمُ اللہُ وَبَارَكَ لَهُمْ ؞

مِرا دل ہو گیا خوشیوں سے معمور

ہُوئے ہیں آج سب رنج و اَلم دُور

نویدِ راحت افزا آ رہی ہے

بشارت ساتھ اپنے لا رہی ہے

سلام۔ اللہ کی پہلی عنایت

مسیحا نے جسے بخشی تھی برکت

مرا ناصر ۔ مرا فرزند اکبر

مِلا ہے جس کو حق سے تاجِ وافر

وہ میری ناصرہ وہ نیک اختر

عقیلہ با سعادت پاک جوہر

مبارک جو کہ بیٹا دوسرا ہے

خُدا نے اپنی رحمت سے دیا ہے

مری قیّوم ۔ میرے دل کی راحت

خدا نے جس کو بخشی ہے سعادت

منوّر جو کہ مولیٰ کی عطا ہے

بشارت سے خدا کی جو مِلا ہے

رشیدہ جس کو حق نے رُشد بخشا

بنایا نیک طینت اور اچھا

عزیزہ سب سے چھوٹی نیک فطرت

بہت خاموش پائی ہے طبیعت

یہ سارے ختم قرآں کر چکے ہیں

دلوں کو نُورِ حق سے بھر چکے ہیں

خُدا کا فضل ان پر ہو گیا ہے

کلام اللہ کا خِلعت مِلا ہے

یہ نعمَت سارے انعاموں کی ماں ہے

جو سچ پُوچھو یہی باغِ جناں ہے

ملی ہے ہم کو یہ فضلِ خُدا سے

حبیبِ پاک حضرت مُصْطَفٰے سے

شہِ لَوْلَاکْ یہ نِعمت نہ پاتے

تو اس دُنیا سے ہم اندھے ہی جاتے

کُجا ہم اور کُجا مولیٰ کی باتیں

کُجا دن اور کُجا تاریک راتیں

رسائی کب تھی ہم کو آسماں تک

جو اُڑتے بھی تو ہم اُڑتے کہاں تک

خدا ہی تھا کہ جس نے دی یہ نعمت

مُحَمَّدؐ ہی تھے جو لائے یہ خِلْعت

پس اے میرے عزیزو میرے بچو!

دل و جاں سے اسے محبوب رکھو

یہی ہے دین و دُنیا کی بھلائی

اسی سے دُور رہتی ہے بُرائی

اسی سے ہوتی ہے راحت میسر

اسی میں دیکھتے ہیں رُوئے دِلبر

یہی لے جاتی ہے مولیٰ کے دَر تک

یہی پہنچاتی ہے مومن کو گھر تک

خُدایا اے مرے پیارے خُدایا

اِلٰہَ العَالَمِیْن رَبَّ البَرایا

ہو سب میرے عزیزوں پر عنایت

ملے تجھ سے انہیں تقویٰ کی خِلْعت

کلام اللہ پر ہوں سب وہ عامل

نگاہوں میں تری ہوں نفْسِ کامل

بس اِک تیری ہی ان کے دل میں جاہ ہو

نہ دیکھیں غیر کو کوئی ہو کیا ہو

محبت تیری اُن کے دل میں رَچ جائے

ہر اک شیطاں کے پنجے سے بچ جائے

علومِ آسمانی اُن کو رل جائیں

دلوں کی اُن کے کلیاں خُوب کھل جائیں

ترا اِلہام بھی ہو ان پہ نازل

تِرا اِکرام بھی ہو ان کے شامل

کریں تیرے فرشتے ان سے باتیں

معارف کی بہیں سینوں میں نہریں

ہر اِک ان میں سے ہو شمعِ ہدایت

بتائے اِک جہاں کو رازِ قُدْرت

دلوں کو نور سے ہوں بھرنے والے

ہوں تیری رہ میں ہر دم مرنے والے

بُرائی دشمنوں کی بھی نہ چاہیں

ہمیشہ خیر ہی دیکھیں نگاہیں

لڑائی اور جھگڑے دُور کر دیں

دلوں کو پیار سے معمور کر دیں

جو بیکس ہوں یہ ان کے یار ہو جائیں

سرِ ظالم پہ اِک تلوار ہو جائیں

بنیں ابلیسِ نافرمان کے قاتل

لوائے احمدیت کے ہوں حامل

یہ میدانِ وفا میں جب بھی آئیں

تو دل اعداء کے سینوں میں دَہل جائیں

بنائے شرک کو جڑ سے ہلا دیں

نشانِ کفر و بدعت کو مٹا دیں

خُدا کا نُور چمکے ہر نظر میں

نمک آئیں نظر چشمِ بشر میں

بڑھیں اور ساتھ دُنیا کو بڑھائیں

پڑھیں اور ایک عالم کو پڑھائیں

الٰہی دُور ہوں ان کی بلائیں

پڑیں دشمن پہ ہی اس کی جفائیں

الٰہی تیز ہوں ان کی نگاہیں

نظر آئیں سبھی تقویٰ کی راہیں

ہوں بحرِ معرفت کے یہ شناور

سمائے علم کے ہوں مہرِ انور

یہ قصرِ احمدی کے پاسباں ہوں

یہ ہر میداں کے یا رب پہلواں ہوں

ثُریا سے یہ پھر ایمان لائیں

یہ پھر واپس تِرا قرآن لائیں

اخبار الفضل جلد ۱۹۔ ۷ جولائی ۱۹۳۱ء

۹۰

چھلک رہا ہے مرے غم کا آج پیمانہ

کسی کی یاد میں مَیں ہو رہا ہوں دیوانہ

زمانہ گذرا کہ دیکھیں نہیں وہ مَست آنکھیں

کہ جن کو دیکھ کے مَیں ہو گیا تھا مستانہ

وہ شمع رُو کہ جسے دیکھ کر ہزاروں شمع

بھڑک اُٹھی تھیں بسوزِ ہزار پروانہ

وہ جس کے چہرہ سے ظاہر تھا نُورِ ربّانی

ملک کو بھی جو بناتا تھا اپنا دیوانہ

کہاں ہے وہ کہ مَلوں آنکھیں اسکے تلووں سے

کہاں ہے وہ کہ گردوں اس پہ مثلِ پروانہ

وہ محبّتیں کہ نئی زندگی دلاتی تھیں

وہ آج میرے لیے کیوں بنی ہیں افسانہ

وہ یار جس کی محبّت پہ ناز تھا مجھ کو

کوئی بتاؤ کہ کیوں ہو رہا ہے بیگانہ

جو کوئی روک تھی اس کو یہاں پہ آنے کی

بُلا لیا نہ وہیں کیوں نہ اپنا دیوانہ

نہ چھیڑ دشمنِ ناداں نہ چھیڑ کہتا ہوں

چھلک رہا ہے مرے غم کا آج پیمانہ

تری نصیحتیں بے کار تیرے مکر فضول

یہ چھیڑ جا کے کسی اور جا پہ افسانہ

چھڑائے گا بھلا کیا دل سے میرے یاد اُس کی

تُو اور مجھ کو بناتا ہے اُس کا دیوانہ

نہ تیرے ظلم سے ٹوٹے گا رشتۂ اُلفت

نہ حرص مجھ کو بنائے گی اُس سے بیگانہ

ہے تیری سعی دلیلِ حماقتِ مطلق

ہے تیری جدّوجہد ایک فعلِ طفلانہ

ترا خیال کدھر ہے یہ سوچ لے ناداں

رہا ہے دُور کبھی شمع سے بھی پروانہ

حدیثِ مدرسہ و خانقاہ مگو بخدا

فتاد بر سرِ حافظ ہوائے میخانہ

اخبار الفضل جلد ۲۰۔ یکم جنوری ۱۹۳۲ء

۹۱

حضرت سیّدہ سارہ بیگم کی وفات پر

کر رحم اے رحیم مرے حالِ زار پر

زخمِ جگر پہ دردِ دلِ بے قرار پر

مجھ پر کہ ہوں عزیزوں کے حلقہ میں مثلِ غیر

اِس بے کس و نحیف و غریب الدّیار پر

جس کی حیات اک ورقِ سوز و ساز تھی

جیتی تھی جو غذائے تمنائے یار پر

مقصود جس کا عِلم و تعلُّم کا حصول تھا

رکھتی تھی جو نگہ بَنگہِ لُطفِ یار پر

تھی حاصلِ حیات کا اک سعیِ ناتمام

کاٹی گئی غریب حوادث کی دھار پر

دل کی اُمیدیں دِل ہی میں سب دفن ہوگئیں

پائے اُمید ثبت رہا انتظار پر

ہاں اے مغیث سُن لے مری التجا کو آج

کر رحم اس وجودِ محبت شعار پر

اُس مے گسارِ بادۂ اُلفت کی رُوح پر

اُس بوستانِ عشق و وفا کی مزار پر

ہاں اُس شہیدِ عِلم کی تُربت پہ کر نزول

خُوشیوں کا باب کھول غموں کی شکار پر

میری طرف سے اس کو جزائے نِک دے

کر رحم اے رحیم دلِ سوگوار پر

حاضر نہ تھا وفات کے وقت اے مرے خُدا

بھاری ہے یہ خیال دلِ ریش و زار پر

ڈرتا ہوں وہ مجھے نہ کہے بازبانِ حال

جاؤں کبھی دُعا کو جو اس کے مزار پر

جب مر گئے تو آئے، ہمارے مزار پر

پتھر پڑیں صنم ترے ایسے پیار پر


اخبار الفضل جلد ۲۱ - ۱۹ / جولائی ۱۹۳۳ء ؎۱ حضور کی حرم محترمہ جنہوں نے ۱۹۳۳ء میں وفات پائی۔ انا لله وانا اليه راجعون

۹۲

آہ پھر موسمِ بہار آیا

دل میں میرے خیالِ یار آیا

لالہ و گُل کو دیکھ کر محمودؔ

یاد مُجھ کو وہ گلعذار آیا

زخمِ دل ہو گئے ہرے میرے

ہر چمن سے میں اشکبار آیا

خوں رُلاتا تھا لالہ زار کا رنگ

مجلسِ یار کی بہار کا رنگ

تازہ کرتے تھے یاد اس کی پھول

یاد آتا تھا گلعذار کا رنگ

لوگ سب شادمان و خوش آئے

ایک مَیں تھا کہ سوگوار آیا

سبزۂ گیاہ کا کہوں کیا حال

چپّہ چپّہ پہ ڈالتا تھا جال

مستِ نظارۂ جمال تھے سب

آنکھیں دُنیا کی ہو رہی تھیں لال

زخمِ دل ہو گئے ہرے میرے

ہر چمن سے میں اشکبار آیا

مَیں وہاں ایک اور خیال میں تھا

کیا کہوں مَیں نرالے حال میں تھا

سبزہ اک عکسِ زلفِ جاناں ہے

یہ تصوّر ہی بال بال میں تھا

لوگ سب شادمان و خوش آئے

ایک مَیں تھا کہ سوگوار آیا

ندیاں ہر طرف کو بہتی تھیں

قلبِ صافی کا حال کہتی تھیں

آبشاروں کی شکل میں گر کر

صدمۂ افتراق سہتی تھیں

زخمِ دل ہو گئے ہرے میرے

ہر چمن سے میں اشکبار آیا

دیوداروں کی ہر طرف تھی قطار

یاد کرتا تھا دیکھ کر قدِ یار

لوگ دل کر رہے تھے ان پہ نثار

جان سے ہو رہا تھا میں بیزار

لوگ سب شادمان وخوش آئے

ایک میں تھا کہ سوگوار آیا

ابْر آتے تھے اور جاتے تھے

دل کو ہر اک کے خوب بھاتے تھے

بجلیوں کی چمک میں مجھ کو نظر

جلوے اس کی ہنسی کے آتے تھے

زخمِ دل ہو گئے ہرے میرے

ہر چمن سے میں اشکبار آیا

شاخِ گُل پر ہزار بیٹھی تھی

کانپتی بے قرار بیٹھی تھی

نغمہ سُن سُن کے اسکے سب خوش تھے

وہ مگر دل فگار بیٹھی تھی

لوگ سب شادمان وخوش آئے

ایک میں تھا کہ سوگوار آیا

کیسی ٹھنڈی ہوائیں چلتی تھیں

ناز و رعنائی سے مچلتی تھیں

اُن کی رفتار کی دلا کر یاد

دل مرا چٹکیوں میں مَلتی تھیں

زخمِ دل ہو گئے ہرے میرے

ہر چمن سے میں اشکبار آیا

تھے طَرَب سے درخت بھی رقصاں

گویا قسمت پہ اپنی تھے نازاں

پتے پتے کے پاس جا کر میں

سُونگھتا تھا بُوئے مَہِ کنعاں

لوگ سب شادمان و خوش آئے

ایک مَیں تھا کہ سوگوار آیا

جلوے اس کے نمایاں ہر شئے میں

مَے اُسی کی تھی پیدا ہر نئے میں

رنگ اُسی کا جھلک رہا تھا آہ

کَفِ ساقی میں ساغرِ مے میں

زخم دل ہو گئے ہرے میرے

ہر چمن سے مَیں اشکبار آیا

اس کے نزدیک ہو کے دُور بھی تھا

دل اُمید وار چُور بھی تھا

نارِ فُرقت میں جل رہا تھا مَیں

گو پسِ پردہ اِک ظہور بھی تھا

لوگ سب شادمان و خوش آئے

ایک مَیں تھا کہ سوگوار آیا

دیکھئے کب وہ مُنہ دکھاتا ہے

پردہ چہرہ سے کب اُٹھاتا ہے

کب مرے غم کو دُور کرتا ہے

پاس اپنے مجھے بُلاتا ہے

ہنس کے کہتا ہے دیکھ کر مُجھ کو

دیکھو وہ میرا دِل فگار آیا

مَیں یونہی اس کو آزماتا تھا

پاک کرنے کو دل جلاتا تھا

عشق کی آگ تیز کرنے کو

مُنہ چھپاتا کبھی دکھاتا تھا

میری خاطر اگر یہ تھا بے چین

کب مجھے اس کے بن قرار آیا

اخبار الفضل جلد ۲۱-۲۵؍ جولائی ۱۹۳۴ء

۹۳

اے چاند تجھ میں نُورِ خدا ہے چمک رہا

جس سے کہ جامِ حُسن ترا ہے چھلک رہا

تیری زمین پاک ہے لَوثِ گناہ سے

محفوظ خاک ہے تری ہر رُو سیاہ سے

تو زیرِ تابشِ رُخِ انور ہے روز و شب

ظُلمت کدہ میں لوٹ رہا ہوں مَیں دم بہ لب

قُرآنِ پاک میں بھی ترا نام نُور ہے

کیفِ وصال سے ترا دل پُر سُرور ہے

گم گشتۂ راہ کے لیے تو خضرِ راہ ہے

تیری ضیا، رفیقِ ازل کی نگاہ ہے

تجھ میں جمالِ یار کی پاتا ہوں مَیں جھلک

اُٹھتی ہے جس کو دیکھ کے دل میں مِرے کسک

دُوری کو اپنی دیکھ کے مَیں شرمسار ہوں

عاشق تو ہوں پہ حرص و ہَوا کا شکار ہوں

اِک شعاعِ نُور کی مجھ پر بھی ڈال دے

تاریکیٔ گناہ سے باہر نکال دے


اخبار الفضل جلد ۲۳ - ۱۳؍ جولائی ۱۹۳۵ء

۹۴

دُشمن کو ظُلم کی برچھی سے تم سینہ و دل بَرمانے دو

یہ درد ہے بے گاہن کے دُداتم صبر کرو وقت آنے دو

یہ عشق و وفا کے کھیت کبھی خوں سینچے بغیر نہ پَنپیں گے

اِس اَو میں جان کی کیا پروا جاتی ہے گر تو جانے دو

تم دیکھو گے کہ انہی میں سے قطراتِ محبت ٹپکیں گے

بادَل آفات و مصائب کے چھاتے ہیں اگر تو چھانے دُو

صادق ہے اگر تو صدق دکھا قربانی کر ہر خواہش کی

ہیں جِنسِ وفا کے ماپنے کے دُنیا میں یہی پیمانے دُو

جب سونا آگ میں پڑتا ہے تو کُندن بن کے چمکتا ہے

پھر گالیوں سے کیوں ڈرتے ہو دل جلتے ہیں جل جانے دو

عاقل کا یہاں پر کام نہیں فہ لاکھوں بھی بے فائدہ ہیں

مقصود مرا پورا ہو اگر مل جائیں مجھے دیوانے دُو

وہ اپنا سر ہی پھوڑے گا وہ اپنا خون ہی پیئے گا

دُشمن حق کے پہاڑ سے گر ٹکراتا ہے ٹکرانے دُو

یہ زخم تمھارے سینوں کے بن جائینگے رشکِ چمن اِس دِن

ہے قادرِ مطلق یار مِرا، تم میرے یار کو آنے دو

جو سچے مومن بن جاتے ہیں موت بھی اُن سے ڈرتی ہے

تم سچے مومن بن جاؤ! اور خوف کو پاس نہ آنے دو

یا صدقِ محمّدؐ عربی ہے یا احمدِ ہندی کی ہے وفا

باقی تو پُرانے قصّے ہیں زندہ ہیں یہی افسانے دُو

وہم کو حسینؑ بناتے ہیں اور آپ یزیدی بنتے ہیں

یہ کیا ہی سستا سودا ہے دشمن کو تیر چلانے دو

میخانہ وہی ساقی بھی وہی پھر اسمیں کہاں غیرت کا محل

ہے دُھن خود بھیگا جس کو آتے ہیں نظر خُمخانے دُو

محمودؔ اگر منزل ہے کٹھن، تو راہ نما بھی کامل ہے

تم اُس پہ توکّل کر کے چلو، آفات کا خیال ہی جانے دو


اخبار الفضل جلد ۲۳۔ ۱۴؍ جولائی ۱۹۳۵ء

۹۵

پڑھ چکے احرار بس اپنی کتابِ زندگی

ہو گیا پھٹ کر ہوا اُن کا حُبابِ زندگی

لُوٹنے نکلے تھے وہ امن و سکونِ بیکساں

خُود انہی کے لُٹ گئے حُسن و شبابِ زندگی

دیکھ لینا اُن کی اُمیدیں بنیں گی حسرتیں

اِک پریشاں خواب نکلے گا یہ خوابِ زندگی

فتنہ و افساد و سبّ و شتم و ہزل و ابتذال

اِس جماعت کا ہے یہ لُبّ لبابِ زندگی

پڑ رہی ہیں انگلیاں اربابِ حلّ و عقد کی

بج رہا ہے اس طرح ان کا رُبابِ زندگی

کیا خبر ان کو ہے کیا جامِ شہادت کا مزا

دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں جو سرابِ زندگی

ہے حیاتِ شمع کا سب ماحصل سوز و گداز

اِک دلِ پُر خون ہے یہ اِکتسابِ زندگی

دہر الزام تو دیتے ہیں چھپنے کا تجھے

اوڑھے بیٹھے ہیں مگر ہم خود نقابِ زندگی

دستِ عزرائیل میں مخفی ہے سب اٰبِ حیات

موت کے پیالوں میں بنتی ہے شرابِ زندگی

غفلتِ خوابِ حیاتِ عارضی کو دُور کر

ہے تجھے گر خواہشِ تعبیرِ خوابِ زندگی


اخبار الفضل جلد ۲۳۔ ۶؍ ستمبر ۱۹۳۵ء

۹۶

میری نہیں زبان جو اس کی زباں نہیں

میرا نہیں وہ دل کہ جو اس کا مکاں نہیں

ہے دل میں عشق پر مرے منہ میں زباں نہیں

نالے نہیں ہیں آہیں نہیں ہیں فغاں نہیں

فرقت میں تیری حالِ دلِ زار کیا کہیں

وہ آگ لگ رہی ہے کہ جس میں دھواں نہیں

قرباں ہوں زخمِ دل پہ کہ سب حال کہہ دیا

شکوہ کا حرف کوئی مگر درمیاں نہیں

کیوں چھوڑتا ہے دل مجھے اسکی تلاش میں

آوارگی سے فائدہ کیا، وہ کہاں نہیں

مطلوب ہے فقط مجھے خوشنودیٔ مزاج

اُمّیدِ حُور و خواہشِ باغِ جناں نہیں

جلوہ ہے ذرّہ ذرّہ میں دلبر کے حُسن کا

سارے مکاں اُسی کے ہیں وہ لامکاں نہیں

مشتاق ہے جہاں کہ سُنے معرفت کی بات

لیکن حیا و شرم سے چلتی زباں نہیں

یا ربّ تری مدد ہو تو اصلاحِ خَلْق ہو

اُٹھنے کا ورنہ مجھ سے یہ بارِ گراں نہیں

کھویا گیا خود آپ کسی کی تلاش میں

کچھ بھی خبر نہیں کہ کہاں ہوں کہاں نہیں

اے دوست تیرا عشق ہی کچھ خام ہو تو ہو

یہ تو نہیں کہ یار ترا مہرباں نہیں

ایمان جس کے ساتھ نہ ہو قُوّتِ عمل

کشتی ہے جس کے ساتھ کوئی بادباں نہیں


اخبار الفضل جلد ۲۴ - ۲۱ دسمبر ۱۹۳۶ء

۹۷

موت اس کی رَہ میں گر تمہیں منظور ہی نہیں

کہہ دو کہ عشق کا ہمیں مقدور ہی نہیں

کیوں جرمِ نقضِ عہد کے ہوں مرتکب جناب

جب آپ عہد کرنے پہ مجبور ہی نہیں

مومن تو جانتے ہی نہیں بُزدلی ہے کیا

اس قوم میں فرار کا دستور ہی نہیں

ڈر کا اثر ہو ان پہ نہ لالچ کا ہو اثر

ہوش آئیں جن کو ایسے یہ مخمور ہی نہیں

دل دے چکے تو ختم ہوا قصّۂ حساب

معشوق سے حساب کا دستور ہی نہیں

بحرِ فنا میں غوطہ لگانے کی دیر ہے

منزل قریب تر ہے وہ کچھ دُور ہی نہیں

دشمن کی چیرہ دستیوں پر اے خدا گواہ

ہیں زخمِ دل بھی سینے کے ناسور ہی نہیں

اس مہرِ نیم روز کو دیکھیں تو کس طرح

آنکھوں میں ظالموں کے اگر نُور ہی نہیں


اخبار الفضل جلد ۲۶ - ۲۹؍ دسمبر ۱۹۳۸ء

۹۸

ذرا دل تھام لو اپنا کہ اک دیوانہ آتا ہے

شرارِ حُسن کا جلتا ہُوا پروانہ آتا ہے

کمالِ جرأتِ انسانیت عاشق دکھاتا ہے

کہ میدانِ بلا میں بس وُہی مردانہ آتا ہے

نگاہِ لُطف میری جستجو میں بڑھتی آتی ہے

ہَوں وہ مَیخوار جس کے پاس خود مَیخانہ آتا ہے

مجھے کیا اس سے گر دُنیا مجھے فرزانہ کہتی ہے

تمنا ہے کہ تم کہہ دو مرا دیوانہ آتا ہے

بھڑک اُٹھتی ہے پھر شمعِ جہاں کی روشنی یکدم

عدم سے سُوئے ہستی جب کوئی پروانہ آتا ہے

مری تو زندگی کٹتی ہے تیری یاد میں پیارے

کبھی تیری زباں پر بھی مرا افسانہ آتا ہے

ہزاروں حسرتیں جل کر فنا ہونے کی رکھتا ہے

ہٹا بھی دیں ذرا فانوس اک پروانہ آتا ہے


اخبار الفضل جلد ۲۶ - ۳۱؍دسمبر ۱۹۳۸ء

۹۹

صاحبزادی امتہ القیوم کی تقریب رخصتانہ کے موقعہ پر

کل دوپہر کو ہم جب

تم سے ہوئے تھے رخصت

ظاہر میں چُپ تھے لیکن

دل خُون ہو رہا تھا

افسردہ ہو رہا تھا

محزون ہو رہا تھا

اے میری پیاری بیٹی

میرے جگر کا ٹکڑا

میری کمر کی بیٹی

تم یاد آ رہی ہو

دل کو ستا رہی ہو

مَیں کیا کروں کہ ہر دَم

تم دُور جا رہی ہو

ٹوٹی ہوئی کمر کا

اللہ ہی ہے سہارا

اللہ ہی ہے ہمارا

اللہ ہی ہو تمہارا

اللہ کی تم پہ رحمت

اللہ کی تم پہ برکت

اللہ کی مہربانی

اللہ کی ہو عنایت

وہ ہم سفر تمہارا

آنکھوں کا میری تارا

اللہ کا صفی ہو

اللہ کا ہو پیارا

لو میری پیاری بچّی

تم کو خُدا کو سونپا

اُس مہربان آقا

اُس باوفا کو سونپا

کرنا خُدا سے اُلفت

رہنا تم اُس سے ڈر کر

تم اس سے پیار رکھنا

بس اس کو یاد رکھنا

سو نا ِر عشق اس کا

تم دل کے پار رکھنا

دلبر ہے وہ ہمارا

تم اس سے چاہ رکھنا

مشکل کے وقت دونوں

اس پر نگاہ رکھنا

اُلفت نہ اُس کی کم ہو

رشتہ نہ اُس کا ٹوٹے

پھٹ جائے خواہ کوئی

دامن نہ اُس کا چھوٹّے

اخبار الفضل جلد ۲۷ – ۲۸؍ دسمبر ۱۹۳۹ء

۱۰۰

نہیں کوئی بھی تو مناسبت رہِ شیخ و طرزِ ایاز میں

اُسے ایک آہ میں مل گیا نہ ملا جو اِس کو نماز میں

جو اَدب کے حُسن کی بجلیاں ہوں چمک رہی کفِ ناز میں

تو نگاہِ حُسن کو کچھ نہ پھر نظر آئے رُوئے نیاز میں

تُجھے اِس جہان کے آئینہ میں جمالِ یار کی جستجو

مُجھے سو جہان دکھائی دیتا ہے چشمِ آئینہ ساز میں

نظر آ رہا ہے وہ جلوۂ حُسنِ ازل کا شمعِ حجاز میں

کہ کوئی بھی اب تو مزا نہیں رہا قیسِ عشقِ مجاز میں

مِرا عشق دامنِ یار سے ہے کبھی کا جا کے لپٹ رہا

تِری عقل ہے کہ بھٹک رہی ہے ابھی نشیب و فراز میں

تِرے جام کو مرے خون سے ہی ملا ہے رنگ یہ دلفریب

ہے یہ اضطراب یہ زیر و بم مرے سوز سے ترے ساز میں


اخبار الفضل جلد ۲۸ - ۳؍ جنوری ۱۹۴۰ء

۱۰۱

ہم کس کی محبت میں دوڑے چلے آئے تھے

وہ کونسے رشتے تھے جو کھینچ کے لائے تھے

آخر وہ ہوئے ثابت پیغام ہلاکت کا

جو غمزے مرے دل کو بیحد ترے بھائے تھے

جن باتوں کو سمجھے تھے بنیاد ترقی کی

جب غور سے دیکھا تو مٹتے ہوئے سائے تھے

اکسیر کا دیتے ہیں اب کام وہ دُنیا میں

خونِ دلِ عاشق میں جو تیر بُجھائے تھے

تھا غرقِ گنہ لیکن پڑتے ہی نگہ اُن کی

اشک آنکھوں میں اور ہاتھوں میں عرش کے پائے تھے

یہ جسم مرا سَر سے پا تک جو مُعطّر ہے

راز اس میں ہے یہ زاہد وہ خواب میں آئے تھے

اس مرہمِ فردوسی میں حق ہے ہمارا بھی

کچھ زخم تری خاطر ہم نے بھی تو کھائے تھے


اخبار الفضل جلد ۲۸- ۳؍ جنوری ۱۹۴۰ء

۱۰۲

بادۂ عرفاں پلا دے ہاں پلا دے آج تُو

چہرۂ زیبا دکھا دے ہاں دکھا دے آج تُو

خوابِ غفلت میں پڑا سویا کروں گا کب تلک

داورِ محشر جگا دے ہاں جگا دے آج تُو

جس کے پڑھ لینے سے کھل جاتا ہے رازِ کائنات

وہ سبق مجھ کو پڑھا دے ہاں پڑھا دے آج تُو

مجھ کو سینہ سے لگالے ہاں لگالے پھر مجھے

حسرتیں دل کی مٹادے ہاں مٹادے آج تُو

نا اُمیدی اور مایوسی کے بادل پھاڑ دے

حوصلہ میرا بڑھا دے ہاں بڑھا دے آج تُو

کب تلک رستا رہے گا جانِ من ناسورِ دل

زخم پر مرہم لگا دے ہاں لگا دے نَہ آج تُو

یا مرے پہلو میں آ کر بیٹھ جا پھر بیٹھ جا

یا مری خواہش مٹا دے ہاں مٹا دے آج تُو

جس سے جل جائیں خیالاتِ من و مائی تمام

آگ وہ دل میں لگا دے ہاں لگا دے آج تُو

دامنِ دل پھیلتا جاتا ہے بے حد و حساب

دھجیاں اس کی اُڑا دے ہاں اُڑا دے آج تُو

جس سے سب چھوٹے بڑے شاداب ہوں سیراب ہوں

دل سے وہ چشمہ بہا دے ہاں بہا دے آج تُو

میرے تیرے درمیاں حائل ہوا ہے اک عدو

خاک میں اس کو ملا دے ہاں ملا دے آج تُو

کب تلک پہنا کروں اوراقِ جنت کا لباس

چادرِ تقویٰ اوڑھا دے ہاں اوڑھا دے آج تُو

پھر مری خوش قسمتی سے جمع ہیں ابر و بہار

جام اک بھر کر پلا دے ہاں پلا دے آج تُو

ساکنانِ جنتِ فردوس بھی ہو جائیں مست

دل میں وہ خوشبو بسا دے ہاں بسا دے آج تُو

ارتباطِ عاشق و معشوق کے سامان کر

پھر مری بگڑی بنا دے ہاں بنا دے آج تُو

مطربِ عشق و محبت گوش بر آواز ہوں

نغمۂ شیریں سُنا دے ہاں سُنا دے آج تُو

یا مُحَمَّد دلبرم از عاشقانِ رُوئے تُست

مجھ کو بھی اس سے ملادے ہاں ہِلادے آج تُو

دستِ کوتاہم کجا اثمارِ فردوسی کجا

شاخِ طُوبیٰ کو ہِلادے ہاں ہِلادے آج تُو

درسِ اُلفت ہی نہ گر پایا تو کیا پایا بتا

گُر محبّت کے سکھادے ہاں سکھادے آج تُو

اخبار الفضل جلد ۲۸۔ ۴ جنوری ۱۹۴۰ء

۱۰۳

یوں اندھیری رات میں اے چاند تُو چمکا نہ کر

حشر اک سیمیں بدن کی یاد میں برپا نہ کر

کیا لبِ دریا مِری بے تابیاں کافی نہیں

تُو جگر کو چاک کر کے اپنے یوں تڑپا نہ کر

دُور رہنا اپنے عاشق سے نہیں دیتا ہے زیب

آسماں پر بیٹھ کر تُو یوں مجھے دیکھا نہ کر

عکس تیرا چاند میں گر دیکھ لوں کیا عیب ہے

اس طرح تُو چاند سے اے میری جاں پردہ نہ کر

بیٹھ کر جب عشق کی کشتی میں آؤں تیرے پاس

آگے آگے چاند کی مانند تُو بھاگا نہ کر

اے شعاعِ نُور یوں ظاہر نہ کر میرے عیوب

غیر ہیں چاروں طرف ان میں مجھے رُسوا نہ کر

ہے محبت ایک پاکیزہ امانت اے عزیز

عشق کی عزّت ہے واجب عشق سے کھیلا نہ کر

ہے عمل میں کامیابی موت میں ہے زندگی

جا پٹ جا لہر سے دریا کی کچھ پَروا نہ کر


اخبار الفضل جلد ۲۸-۶؍جولائی ۱۹۴۰ء

۱۰۴

یہ نُور کے شعلے اُٹھتے ہیں میرا ہی دل گرمانے کو

جو بجلی اُفق میں چمکی ہے چمکی ہے مِرے تڑپانے کو

یا بزمِ طرب کے خواب نہ تُو دِکھلا اپنے دیوانے کو

یا جام کو حرکت دے لیلیٰ اور چکّر دے پیمانے کو

پھر عقل کا دامن چُھٹتا ہے پھر وحشت جوش میں آتی ہے

جب کہتے ہیں وہ دُنیا سے چھیڑو نہ مِرے دیوانے کو

کچھ لوگ وہ ہیں جو ڈھونڈتے ہیں آرام کو ٹھنڈے سایوں میں

پَر ملتی ہے تسکین دل جلنے میں تیرے پَروانے کو

یہ میری حیات کی اُلجھن تو ہر روز ہی بڑھتی جاتی ہے

وہ نازک ہاتھ ہی چاہیئے ہیں اِس گُتھی کے سُلجھانے کو

عرفان کے رازوں سے جاہل تسلیم کی راہوں سے غافل

جو آپ بھٹکتے پھرتے ہیں آئے ہیں مِرے سمجھانے کو


اخبار الفضل جلد ۲۸-۹ جولائی ۱۹۴۰ء

۱۰۵

اِک دن جو آہ دل سے ہمارے نکل گئی

غیرت کی اور عِشق کی آپس میں چل گئی

لے ہی چلی تھی حَشَد سے میری خطا مجھے

اُن کی نگاہِ مہر سے تقدیر ٹل گئی

شاید کہ پھر اُمّید کی پیدا ہوئی جھلک

نتھنوں تک آ کے رُوح ہماری مچل گئی

آئینہٴ خیال میں صُورت دکھا گئے

یوں گرتے گرتے میری طبیعت سنبھل گئی

احوالِ عِشق پوچھتے ہو مجھ سے کیا ندیم

طبعِ بشر پھسلنے پہ آئی پھسل گئی

محمود رازِ حُسن کو ہم جانتے ہیں خُوب

صُورت کسی کی نُور کے سانچے میں ڈھل گئی


اخبار الفضل جلد ۲۸- ۲۹؍ اکتوبر ۱۹۴۰ء

۱۰۶

مری رات دن بس یہی اک صدا ہے

کہ اس عالَمِ کون کا اِک خُدا ہے

اُسی نے ہے پیدا کیا اِس جہاں کو

ستاروں کو سُورج کو اور آسماں کو

وُہ ہے ایک اُس کا نہیں کوئی ہمسر

وُہ مالک ہے، سب کا وُہ حاکم ہے سب پر

نہ ہے باپ اُس کا نہ ہے کوئی بیٹا

ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا

نہیں اُس کو حاجت کوئی بیویوں کی

ضرورت نہیں اُس کو کچھ ساتھیوں کی

ہر اک چیز پر اُس کو قدرت ہے حاصل

ہر اک کام کی اُس کو طاقت ہے حاصل

پہاڑوں کو اُس نے ہی اونچا کیا ہے

سمندر کو اُس نے ہی پانی دیا ہے

یہ دریا جو چاروں طرف بہہ رہے ہیں

اُسی نے تو قدرت سے پیدا کیے ہیں

سمندر کی مچھلی ہوا کے پرندے

گھریلو چرندے بنوں کے درندے

سبھی کو وُہی رِزق پہنچا رہا ہے

ہر اک اپنے مطلب کی شَے کا مِلا ہے

ہر اک شَے کو روزی وہ دیتا ہے ہر دم

خزانے کبھی اس کے ہوتے نہیں کم

وُہ زندہ ہے اور زندگی بخشتا ہے

وُہ قائم ہے ہر ایک کا آسرا ہے

کوئی شَے نظر سے نہیں اس کے مخفی

بڑی سے بڑی ہو کہ چھوٹی سے چھوٹی

دلوں کی چھپی بات بھی جانتا ہے

بدوں اور نیکوں کو پہچانتا ہے

وہ دیتا ہے بندوں کو اپنے ہدایت

دکھاتا ہے ہاتھوں پہ اُن کے کرامت

ہے فریاد مظلوم کی سُننے والا

صداقت کا کرتا ہے وہ بول بالا

گناہوں کو بخشش سے ہے ڈھانپ دیتا

غریبوں کو رحمت سے ہے تھام لیتا

یہی رات دن اب تو میری صدا ہے

یہ میرا خُدا ہے یہ میرا خُدا ہے

اخبار الفضل جلد ۲۹۔ یکم جنوری ۱۹۴۱ء

۱۰۷

زخمِ دل جو ہو چکا مت مدّتوں سے مُندَمِل

پھر ہَرا ہونے کو ہے وہ پھر ہَرا ہونے کو ہے

پھر مرے سر میں لگے اُٹھنے خیالاتِ جُنوں

فتنہٴ محشر مرے دل میں بپا ہونے کو ہے

پھر مری شامتِ کِیس لے جا رہی ہے کھینچ کر

کیا کوئی پھر مائلِ جور و جفا ہونے کو ہے

پھر کسی کی تیغِ اَبرو اُٹھ رہی ہے بار بار

پھر مرا گھر مَوْرِدِ کرب و بلا ہونے کو ہے

پھر بہا جاتا ہے آنکھوں سے مری اِک سیلِ اشک

پھر مرے سینہ میں اک طُوفاں بپا ہونے کو ہے

پھر چُھٹا جاتا ہے ہاتھوں سے مرے دامانِ صبر

نالہٴ آہ و فغاں کا باب وا ہونے کو ہے

عمر گزرے گی مری کیا یُونہی اُن کی یاد میں

کیا نہ رکھیں گے قدم وہ اِس دلِ ناشاد میں


اخبار الفضل جلد ۲۰۔ یکم جنوری ۱۹۳۲ء

۱۰۸

ایمان مجھ کو دے دے عرفان مجھ کو دے دے

قربان جاؤں تیرے قرآن مجھ کو دے دے

دل پاک کر دے میرا دُنیا کی چاہتوں سے

سُبُّوحِیّت سے حصّہ سُبحان مجھ کو دے دے

دل جل رہا ہے میرا فُرقت سے تیری ہر دم

جامِ وصال اپنا اے جانِ مجھ کو دے دے

کر دے جو حق و باطل میں امتیازِ کامل

اے میرے پیارے ایسا فُرقان مجھ کو دے دے

ہم کو تری رفاقت حاصل رہے ہمیشہ

ایسا نہ ہو کہ دھوکہ شیطان مجھ کو دے دے

وہ دل مجھے عطا کر جو ہو نثارِ جاناں

جو ہو فدائے دلبر وہ جان مجھ کو دے دے

دُنیائے کُفر و بدعت کو اس میں غرق کر دوں

طُوفانِ نُوح سا اِک طوفان مجھ کو دے دے

جن پر پڑیں فرشتوں کی رشک سے نگاہیں

اے میرے مُحسن ایسے احسان مجھ کو دے دے

دُھل جائیں دل بدی سے سینے ہوں نُور سے پُر

امراضِ رُوح کا وہ درمان مجھ کو دے دے

دجال کی بڑائی کو خاک میں ملا دُوں

قُوّت مجھے عطا کر سلطان مجھ کو دے دے

ہو جائیں جس سے ڈھیلی سب فلسفہ کی چولیں

میرے حکیم ایسا بُرہان مجھ کو دے دے


اخبار الفضل جلد ۲۲ - ۲۱؍ مئی ۱۹۳۴ء

۱۰۹

میری مریم

گھر سے میرے وہ گلعذار گیا

دل کا سُکھ چین اور قرار گیا

مُسکراتے ہوئے ہوا رُخصت

ساتھ اس کے میں اشکبار گیا

باغ سُونا ہوا مرا جب سے

شجرِ سبز و بار دار گیا

اب تو ہم ہیں، خزاں ہے، نالے ہیں

بُلبلو! موسمِ بہار گیا

ہو گیا گل دیا مرے گھر کا

اَمن اور چین کا حصار گیا

نغمہ ہائے چمن ہوئے خاموش

کیا ہوا کس طرف ہزار گیا

آہوئے عشق رہ گیا باقی

عنبریں مُو و مُشک بار گیا

درد ہی درد رہ گئی ہے اب

عیشِ دُنیا کا سب خُمار گیا

وہ گئے تھے تو خیر جانا تھا

دل پہ کیوں میرا اختیار گیا

ہر طرف سے رہا مجھے گھاٹا

دل گیا دل کا اعتبار گیا

اے خُدا اس کا چارہ کیا جس کا

غم کے بڑھتے ہی غمگسار گیا

سانس رُکتے ہی اس کا اے محمودؔ

تیر اک دل کے آر پار گیا


حضرت سیدہ مریم بیگم مرحومہ (اُمّ طاہر) اخبار الفضل جلد ۲۲ - ۲۴ مئی ۱۹۴۴ء

۱۱۰

بحضور ربّ ودود

با دلِ ریش و حالِ زار گیا

اُس کی درگہ میں بار بار گیا

دِل اندوہگیں کو لے کر ساتھ

چاک دامان و اشکبار گیا

آہیں بھرتا ہوا ہوا حاضر

سینہ کوبان و سوگوار گیا

ساری عرضوں کا پُر ملا یہ جواب

ہم نے مانا ترا قرار گیا

پُر تجھے کیا مَحَلِ شکوہ ہے

یار کے پاس اُس کا یار گیا


۱۱۱

سیدہ مریم بیگم مرحومہ کی رُوح کو خطاب

اے میری جاں! ہم بندے ہیں اک آقا کے آزاد نہیں

اور سچے بندے مالک کے ہر حکم پہ قرباں جاتے ہیں

ہے حکم تمہیں گھر جانے کا اور ہم کو ابھی کچھ ٹھہرنے کا

تم ٹھنڈے ٹھنڈے گھر جاؤ، ہم پیچھے پیچھے آتے ہیں


۱۱۲

بحضور ربّ غفور

وہ میرے دل کو چٹکیوں میں مَل مَل کر یوں فرماتے ہیں

کیا عاشق بھی معشوق کا شکوہ اپنی زباں پر لاتے ہیں

مَیں ان کے پاؤں چھوتا ہوں اور دامن چُوم کے کہتا ہوں

دل آپ کا ہے جاں آپ کی ہے پھر آپ یہ کیا فرماتے ہیں


اخبار الفضل ۲۴ مئی ۱۹۴۴ء

۱۱۳

مَرْثِيَّةُ حَضْرَةِ سَيِّدَة أُمِّ طَاهِرٍ

اَبْكِيْ عَلَيْكِ كُلَّ يَوْمٍ وَ لَيْلَةٍ

اَرْثِيْكِ يَا زَوْجِيْ بِقَلْبٍ دَامِيْ

میری بیوی میں تجھ پر ہر دن رات روتا ہوں۔ میں خون آلودہ دل سے تیرا مرثیہ کہتا ہوں

صِرْتُ كَصَيْدٍ صِيْدَ فِي الصُّبْحِ غِيْلَةً

قَدْ غَابَ عَنِّيْ مَقْصَدِيْ وَ مَرَامِيْ

میں اس شکار کی طرح ہو گیا ہوں جو صُبح ہی اس کی غفلت کیوجہ پھانس لیا جاتا ہے میرا اصل مقصد میری آنکھوں سے اوجھل ہو گیا

لَوْ لَمْ يَكُنْ تَاْيِيْدُ رَبِّيْ مُسَاعِدِيْ

لَاَ صْبَحْتُ مَيْتًا عُرْضَةً لِسِهَامِيْ

اگر خدا تعالیٰ کی تائید میری مدد پر نہ ہوتی تو میں اپنے دل کے تیروں کا نشانہ بن کر مردہ کی طرح ہو جاتا

وَ لٰكِنْ فَضْلُ اللہِ جَاءَ بِنَجْدَتِيْ

وَ اَنْقَذَنِيْ مِنْ زَلَّةِ الْاَقْدَامِ

مگر اللہ تعالیٰ کا فضل میری مدد کے لیے آ گیا اور اس نے مجھے قدموں کے پھسلنے سے محفوظ رکھا

يَا رَبِّ سَتِّرْنِيْ بِجُنَّةِ عَفْوِكَ

كُنْ نَاصِرِيْ وَ مُصَاحِبِيْ وَ مُحَامِيْ

اے میرے رب! مجھے اپنی بخشش کی ڈھال سے ڈھانپ لے۔ میرا ساتھی میرا مددگار اور میرا محافظ بن جا

اَلْغَمُّ كَالضِّرْغَامِ يَاْكُلُ لَحْمَنَا

لَا تَجْعَلَنِّيْ لُقْمَةَ الضِّرْغَامِ

غم شیر کی طرح ہمارا گوشت کھا رہا ہے۔ اے خُدا مجھے اس شیر کا لقمہ نہ بننے دیجائیو

يَا رَبِّ صَاحِبْهَا بِلُطْفِكَ دَائِمًا

وَ اجْعَلْ لَهَا مَأْوًى بِقَبْرٍ سَامِيْ

اے میرے رب اس پر ہمیشہ لُطف کرتے رہنا اور اس کا ٹھکانا ایک بلند شان قبر میں بنانا

يَا رَبِّ اَنْعِمْهَا بِقُرْبِ مُحَمَّدٍ

ذِي الْمَجْدِ وَ الْاِحْسَانِ وَ الْاِكْرَامِ

اے میرے رب اسکو قُربِ محمدؐ کی نعمت عطا فرما، جو بڑی بزرگی اور بڑا احسان کرنیوالے ہیں جنکو تُو نے عزت بخشی ہے


اخبار الفضل جلد ۳۲ - ۱۲؍ جولائی ۱۹۴۴ء

۱۱۴

وہ یار کیا جو یار کو دل سے اُتار دے

وہ دل ہی کیا جو خوف سے میدان ہار دے

اِک پاک صاف دل مجھے پَروردگار دے

اور اس میں عکسِ حُسنِ ازل کا اُتار دے

وہ سیم تن جو خواب میں ہی مجھ کو پیار دے

دل کیا ہے بندہ جان کی بازی بھی ہار دے

افسردگی سے دل مرا مُرجھا رہا ہے آج

اے چشمۂ فیوض نئی اِک بہار دے

دُنیا کا غم اِدھر ہے اُدھر آخرت کا خوف

یہ بوجھ میرے دل سے الٰہی اُتار دے

مَسند کی آرزو نہیں بس جوتیوں کے پاس

درگہ میں اپنی مجھ کو بھی اِک بار بار دے

گُزری ہے عُمر ساری گناہوں میں اے خُدا

کیا پیشکش حضور میں یہ شرمسار دے

وحشت سے پھٹ رہا ہے مرا سَر مرے خُدا

اِس بے قرار دل کو ذرا تو قرار دے

تُو بارگاہِ حُسن ہے مَیں ہُوں گدائے حُسن

مانگوں گا بار بار مَیں تُو بار بار دے

دن بھی اسی کے راتیں بھی اس کی جو خوش نصیب

آقا کے دَر پہ عُمر کو اپنی گذار دے

دل چاہتا ہے جان ہو اِسلام پر نثار

توفیق اس کی اے مرے پَروردگار دے

میرے دل و دماغ پہ چھا جا او خوب رُو

اور ماسوا کا خیال بھی دل سے اُتار دے

ممکن نہیں کہ چین ملے وصل کے سوا

فُرقت میں کوئی دل کو تسلی ہزار دے

کیسے اُٹھے وہ بوجھ جو لاکھوں پہ بار ہو

جب غم دیا ہے ساتھ کوئی غمگسار دے

ہے سب جہاں سے جنگ سہیڑی ترے لیے

اب یہ نہ ہو کہ تُو ہمیں دل سے اُتار دے

تنگ آگیا ہُوں نفس کے ہاتھوں سے میری جاں

جلد آ اور آکے اس مرے دُشمن کو مار دے

بچھڑے ہوؤں کو جنّتِ فردوس میں مِلا

بخیر صِراط سے بہ سہولت گذار دے


اخبار الفضل جلد ۲۲۔ ۲۰؍ جولائی ۱۹۳۴ء

۱۱۵

کبھی حضور میں اپنے جو بار دیتے ہیں

ہَوا و حِرص کی دُنیا کو مار دیتے ہیں

وہ عاشقوں کے لیے بیقرار ہیں خود بھی

وہ بے قرار دلوں کو قرار دیتے ہیں

کسی کا قرض نہیں رکھتے اپنے سَر پر وہ

جو ایک دے انہیں اس کو ہزار دیتے ہیں

عطا و بخشش و انعام کی کوئی حد ہے

جسے بھی دیتے ہیں وہ بیشمار دیتے ہیں

جو اُن کے واسطے ادنیٰ سا کام کرتا ہے

وہ دین و دُنیا کو اُس کی سُدھار دیتے ہیں

جو دن میں آہ بھرے ان کی یاد میں اِک بار

وہ رات پہلو میں اُس کے گذار دیتے ہیں

بگاڑے کوئی ان کے لیے جو دُنیا سے

وہ سات پُشت کو اُس کی سنوار دیتے ہیں

وہ جیتنے پہ ہوں مائل تو عاشقِ صادق

خوشی سے جان کی بازی بھی ہار دیتے ہیں

وُہی فلک پہ چمکتے ہیں بن کے شمس و قمر

جو دَر پہ یار کے عمریں گذار دیتے ہیں

وہ ایک آہ سے بیتاب ہو کے آتے ہیں

ہم اِک نگاہ پہ سو جان ہار دیتے ہیں

جو تیرے عشق میں دل کو لگے ہیں زخم اے جاں

اِدھر تو دیکھ وہ کیسی بہار دیتے ہیں


اخبار الفضل جلد ۲۲ - ۲؍ اگست ۱۹۳۴ء

۱۱۶

ذرہ ذرہ میں نشاں ملتا ہے اس دِلدار کا

اس سے بڑھ کر کیا ذریعہ چاہیے اظہار کا

فلسفی ہے فلسفہ سے رازِ قُدرت ڈھونڈتا

عاشقِ صادق ہے جویاں یار کے دیدار کا

عقل پر کیا طالبِ دُنیا کی ہیں پردے پڑے

ہے عمارت پر فدا منکر مگر معمار کا

تیری رہ میں موت سے بڑھ کر نہیں عزت کوئی

دار پر سے ہے گزرنا راہ تیرے دار کا

غیر کیوں آگاہ ہو رازِ محبت سے مرے

دُشمنوں کو کیا پتہ ہو میرے تیرے پیار کا

ڈھونڈتا پھرتا ہے کونہ کونہ میں گھر گھر میں کیوں

اس طرف آئیں پتہ دوں تجھ کو تیرے یار کا

اے خُدا کر دے منوّر سینہ و دِل کو مرے

مہر سے پاتک میں بنوں مخزن ترے اَنوار کا

سَیر کروا دے مجھے تو عالمِ لاہُوت کی

کھول دے تو باب مجھ پر رُوح کے اسرار کا

قید و بندِ حرص میں گردن پھنسائی آپ نے

اس حماقت پر ہے دعویٰ فاعلِ مختار کا

رشتۂ اُلفت میں باندھے جارہے ہیں آج لوگ

توڑ بھی کیا فائدہ ہے اس ترے زُنّار کا

فلسفہ بھی رازِ قُدرت بھی رُموزِ عشق بھی

کیا نرالا ڈھنگ ہے پیارے تری گفتار کا

بن رہی ہے آسماں پر ایک پوشاکِ جدید

تانا بانا ٹوٹنے والا ہے اب کُفّار کا

اُن کے ہاتھوں سے تو جامِ زہر بھی تریاق ہے

وہ پلائیں گر تو پھر زُہرہ کے اِنکار کا

چھٹ گیا ہاتھوں سے میرے دامنِ صبر و شکیب

چل گیا دل پر مرے جادُو تری رفتار کا


اخبار الفضل جلد ۲۲۔ ۳ نومبر ۱۹۳۴ء

۱۱۷

دستِ کوتاہ کو پھر درازی بخش

خاکساروں کو سرفرازی بخش

جیت لوں تیرے واسطے سب دِل

وہ ادا ہائے جاں نوازی بخش

پانی کر دے علومِ قُرآں کو

گاؤں گاؤں میں ایک رازی بخش

رُوح فاقوں سے ہو رہی ہے نڈھال

ہم کو پھر نعمتِ حجازی بخش

بُتِ مغرب ہے ناز پر مائل

اپنے بندوں کو بے نیازی بخش

جھوٹ کو چاروں شانے چِت کر دیں

مومنوں کو وہ راستبازی بخش

رُوحِ اقدام و دُور بین نگاہ

قلبِ شیر و نگاہِ بازی بخش

پائے اَقدس کو چُوم لوں بڑھ کر

مجھ کو تُو ایسی پاکبازی بخش

سرگرانی میں عمر گزری ہے

سروری بخش سرفرازی بخش

کُفر کی چیرہ دستیوں کو مٹا

دستِ اسلام کو درازی بخش

سَیّد الانبیاء کی اُمّت کو

جو ہوں غازی بھی وہ نمازی بخش

ہوں جہاں گرد ہم میں پھر پیدا

سند باد اور پھر جہازی بخش

میرے محمودؐ بن مرا مَحمُود

مجھ کو تُو سیرتِ اَیازی بخش


اخبار الفضل جلد ۲۲۔ ۳۰؍ دسمبر ۱۹۳۴ء

۱۱۸

اے حُسن کے جادُو مجھے دیوانہ بنادے

اے شمعِ رُخ اپنا مجھے پروانہ بنادے

ہر وقت مئے عشق یہاں سے رہے بٹتی

ویرانہ دل کو مِرے میخانہ بنادے

مجھ کو تری مخمور نگاہوں کی قسم ہے

اِک بار اِدھر دیکھ کے مستانہ بنادے

کر دے مجھے اَسرارِ مَحبّت سے شناسا

دیوانہ بنا گر مجھے فرزانہ بنا دے

اُس اُلفتِ ناقص کی تمنّا نہیں مجھ کو

جو دِل کو مِرے گوہرِ یکتانہ بنا دے

لیں جائزہ عشق مِرے عشق سے عاشق

دل کو مِرے عُشّاق کا پیمانہ بنادے

جو ختم نہ ہو ایسا دکھا جلوۂ تاباں

جو مَر نہ سکے مجھ کو وہ پروانہ بنادے

دل میں مِرے کوئی نہ بسے تیرے سوا اور

گر تُو نہیں بستا اسے ویرانہ بنادے

ابلیس کا سَر پاؤں سے تُو اپنے مسل دے

ایسا نہ ہو پھر کعبہ کو بُت خانہ بنادے


اخبار الفضل جلد ۲۲ ۔ ۳۰؍ دسمبر ۱۹۳۴ء

۱۱۹

فیضانِ محمّدی صلی اللہ علیہ وسلّم

كَمْ نَوَّرَ وَجْهَ النَّبِيِّ صَحَابُهُ

كَالْفُلْكِ ضَاءَ سَطْحُهَا بِنُجُوْمِهَا

آپ کے صحابہؓ نے نبی کریمؐ کا چہرہ کس قدر منوّر کر دیا۔ جیسے سطح سماوی اپنے تاروں سے روشن ہو جاتی ہے

كَمْ تَنْفَعُ الثَّقَلَيْنِ تَعْلِيْمَاتُهُ

قَدْ خُصَّ دِيْنُ مُحَمَّدٍ بِعُمُوْمِهَا

آپ کے علوم جن و انس کو کسقدر نفع دے رہے ہیں۔ یہ علوم سارے کے سارے دینِ محمّدی سے ہی خاص ہیں

ظَهَرَتْ هِدَايَةُ رَبِّنَا بِقُدُوْمِهِ

زَالَتْ ظَلَامُ الدَّهْرِ عِنْدَ قُدُوْمِهَا

ہمارے رَبّ کی ہدایت آپ کے آنے سے ظاہر ہوئی۔ ہدایت کے آنے سے زمانہ بھر کا اندھیرا دُور ہو گیا

جَاءَ بِتِرْيَاقٍ مُزِيْلٍ سِقَامَنَا

غَابَتْ غَوَايَتُنَا بِكُلِّ سُمُوْمِهَا

ایسا تریاق لائے جو ہماری بیماریاں دُور کرنے والا تھا۔ ہماری گمراہی اپنے تمام زہروں سمیت چھپ گئی

نَزَلَتْ مَلَئِكَةُ السَّمَاءِ لِنَصْرِهِ

قَدْ فَاقَتِ الْأَرْضُ سَمِی بِظُلُوْمِهَا

آپ کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے اُترے۔ اپنی چمک دمک سے زمین آسمان پر فوقیت لے گئی

رَدَّ عَلَى الْأَرْضِ كُنُوْزًا صَحَابُهُ

فُتِنَ الْيَهُوْدُ بِبَقْلِهَا وَ بِفُوْمِهَا

آپ کے صحابہؓ نے زمین کو اس کے خزانے واپس کر دیئے مگر یہود اپنی ترکاریوں اور لہسن کے فتنہ میں پڑ گئے

رُفِعَتْ بُيُوْتُ الْمُؤْمِنِيْنَ رَفَاعَةً

خُسِفَ الْبِلَادُ بِفُرْسِهَا وَ بِرُوْمِهَا

مرتبہ میں مومنوں کے گھر بلند ہو گئے۔ فارس اور رُوم کے شہروں کے شہر ذلیل ہو گئے

دَخَلَتْ صُفُوْفَ عِدًى بِغَيْرِ رَوِيَّةٍ

فَازَتْ جَمَاعَةُ صَحْبِهِ بِقُحُوْمِهَا

دُشمن کی صفوں میں بے دھڑک جا گھسے ۔ آپ کے صحابہؓ کی جماعت با وجود کمزور ہونیکے کامیاب ہوگئی

مُنِحَ الْعُلُوْمَ صَغِيْرُهَا وَكَبِيْرُهَا

صَبَّتْ سَمَاءُ الْعِلْمِ مَاءَ غُيُوْمِهَا

چھوٹے بڑے سب ہی کو علوم بخشے ۔ علم کے آسمان نے علم کے بادلوں کا پانی بہا دیا

فَاضَتْ صُفُوْفُ الْكَوْثَرِ شَوْقًا لَّهُ

وَعَدَتْ إِلَيْهِ الْجَنَّةُ بِكُرُوْمِهَا

کوثر کے پانی بہہ پڑے ان کے اشتیاق کی وجہ سے ۔ جنّت دوڑی آپؐ کی طرف اپنے انگوروں کو لے کر


اخبار الفضل جلد ۲۳ — ۴ جنوری ۱۹۳۵ء

۱۲۰

تعریف کے قابل ہیں یا ربّ ترے دیوانے

آباد ہوئے جن سے دُنیا کے ہیں ویرانے

کب پیٹ کے دھندوں سے مُسلم کو بھلا فُرصت

ہے دین کی کیا حالت یہ اس کی بلا جانے

جو جاننے کی باتیں تھیں اُن کو بھُلایا ہے

جب پُوچھیں سبب کیا ہے کہتے ہیں خُدا جانے

پُر مستی سے خالی ہے دِل عشق سے عاری ہے

بیکار گئے اُن کے سب ساغر و پیمانے

خاموشی سی طاری ہے مجلس کی فضاؤں پر

فانوس ہی اندھا ہے یا اندھے ہیں پروانے

فرزانوں نے دُنیا کے شہروں کو اُجاڑا ہے

آباد کریں گے اب دیوانے یہ ویرانے

ہوتی نہ اگر روشن وہ شمعِ رُخِ انور

کیوں جمع یہاں ہوتے سب دُنیا کے پروانے

ہے ساعتِ سَعد آئی اسلام کی جنگوں کی

آغاز تو میں کردوں انجام خُدا جانے


اخبار الفضل جلد ۳۴ - ۲؍ جنوری ۱۹۴۶ء

۱۲۱

معصیت و گناہ سے دل مرا داغدار تھا

پھر بھی کسی کے وصل کے شوق میں بیقرار تھا

بے عمل و خطا شعار بیکس و بے وقار تھا

پر میری جان یہ تو سوچ، کن میں مرا شمار تھا

ہجر میں وصل کا مزا پا لیا میں نے ہمنشیں

لب پہ تو تھا نہیں مگر آنکھ میں اُن کی پیار تھا

سوؤں تو تجھ کو دیکھ کر جاگوں تو تجھ پہ ہو نظر

موت سے تھا کسے دریغ اس کا ہی اِنتظار تھا

آہ غریب کم نہیں غیظِ شہِ جہاں سے کچھ

جس سے ہوا جہاں تباہ دل کا مرے غبار تھا

شکوہ کا کیا سوال ہے ان کا عتاب بھی ہے مہر

مُنہ سے میں بُدخواہ تھا دل میں مَیں شرمسار تھا

دیر کے بعد وہ ملے اُٹھ کے ملے کہے نِکت

دل میں خوشی کی لہر تھی آنکھ سے اشکبار تھا

شکرِ خدا گذر گئی ناز و نیاز میں ہی عمر

مجھ کو بھی ان سے عشق تھا اُنکو بھی مجھ سے پیار تھا


اخبار الفضل جلد ۲۴ - ۳ / جنوری ۱۹۳۶ء

۱۲۲

ہمنشیں تجھ کو ہے اک پُر اَمن منزل کی تلاش

مجھ کو اک آتش فشاں پُر وَلوَلہ دل کی تلاش

سعیِ پیہم اور گنجِ عافیت کا جوڑ کیا

مجھ کو ہے منزل سے نفرت تجھ کو منزل کی تلاش

ڈھونڈتی پھرتی تھی شمعِ نُور کو محفل کبھی

اب تو ہے خود شمع کو دُنیا میں محفل کی تلاش

یا تو سرگردان تھا دل جستجوئے یار میں

یا ہے اس یارِ ازل کو خود مرے دل کی تلاش

مَیں وہ مجنوں ہوں کہ جس کے دل میں ہے گھر یار کا

اور ہوگا وہ کوئی جس کو ہے مَحمل کی تلاش

گلشنِ عالَم کی رونق ہے فقط انسان سے

گُل بنانے ہوں اگر تُو نے تو کر گِل کی تلاش

اس رُخِ روشن سے مٹ جاتی ہیں سب تاریکیاں

عاشقِ سفلی کو ہے کیوں اس میں اک تِل کی تلاش

آسمانی ہے وہ اور پیدا زمینی ، اس لیے

مَیں فلک کا ذرّہ ہوں اس کو ہے بے بَل کی تلاش


اخبار الفضل جلد ۲۴ - ۲۷؍ اپریل ۱۹۳۶ء

۱۲۳

اللہ کے پیاروں کو تم کیسے بُرا سمجھے

خاک ایسی سمجھ پر ہے سمجھے بھی تو کیا سمجھے

شاگرد نے جو پایا اُستاد کی دولت ہے

اَحْمَدْ کو محمّدؐ سے تم کیسے جُدا سمجھے

دُشمن کو بھی جو مومن کہتا نہیں وہ باتیں

تم اپنے کرم فرما کے حق میں روا سمجھے

جو چال چلے ٹیڑھی جو بات کہی اُلٹی

بیماری اگر آئی تم اس کو شفا سمجھے

لعنت کو پکڑ بیٹھے انعام سمجھ کر تم

حق نے جو ردا پھینکی تم اس کو رِدیٰ سمجھے

کیوں قعرِ مذلت میں گرتے نہ چلے جاتے

تم بُوم کے سائے کو جب ظلِّ ہُما سمجھے

انصاف کی کیا اس سے اُمّید کرے کوئی

بے داد کو جو ظالم آئینِ وفا سمجھے

غفلت تری اے مُسلم کب تک چلی جائے گی

یا فرض کو تُو سمجھے یا تجھ سے خُدا سمجھے


اخبار الفضل جلد ۴ ۴ - ۲۸؍دسمبر ۱۹۳۶ء

۱۲۴

دردِ نہاں کا حال کسی کو سُنائیں کیا

طُوفان اُٹھ رہا ہے جو دِل میں بتائیں کیا

کچھ لوگ کھا رہے ہیں غمِ قوم صُبح و شام

کچھ صُبح و شام سوچتے رہتے ہیں کھائیں کیا

جس پیار کی نگہ سے ہمیں دیکھتا ہے وہ

اُس پیار کی نگاہ سے دیکھیں گی مائیں کیا

جامِ شراب و سازِ طرب رقصِ پُرخروش

دُنیا میں دیکھتا ہوں میں یہ دائیں بائیں کیا

دُنیا ہے ایک زالِ عمر خوردہ و ضعیف

اس زالِ زشت رُو سے بھلا دل لگائیں کیا

دامن تہی ہے، فکر مشوّش، نگہ غلط

آئیں تو تیرے دَر پہ مگر ساتھ لائیں کیا

حرص و ہوا و کبر و تغلب کی خواہشات

چمٹی ہوئی ہیں دامنِ دل سے بلائیں کیا

اپنا ہی سب قصُور ہے اپنی ہی سب خطا

الزام اُن پہ ظُلم و جفا کا لگائیں کیا


اخبار الفضل جلد ۱۔ لاہور پاکستان۔ ۲۸؍دسمبر ۱۹۴۷ء

۱۲۵

يَا رَازِقَ الثَّقَلَيْنِ اَيْنَ جَنَاكَ

جِئْنَاكَ رَاجِيْنَ لِبَعْضِ نَدَاكَ

اے جن و انس کے رازق تیرا پھل کہاں ہے ہم تیری بخشش سے کچھ حصہ لینے کے اُمیدوار بن کر تیرے پاس آئے ہیں

نَشْكُوْ اَمَامَ النَّاسِ غَمَّ جَفَاكَ

وَالْحَقُّ لَيْسَ وَفَاءُ نَا كَوَفَاكَ

ہم لوگوں کے سامنے تیری جفا کا شکوہ تو کرتے ہیں مگر بات یہ ہے کہ ہماری وفا تیری وفا جیسی نہیں ہے

كُنْتَ تَنَحَّى عَنْهُ كُلَّ تَنَحِّی

يَا قَلْبِيَ الْمَجْرُوْحَ كَيْفَ رَمَاكَ

اے میرے زخمی دل! تو تو اس سے بہت کنارہ کش رہتا تھا۔ اب جو تُو اُس کی محبت کا شکار ہو گیا ہے تو یہ تیر اس نے تجھ پر کیسے چلایا

لَمَّا يَئِسْتُ وَ قُلْتُ اَيْنَ نَجَاتِيْ

قَالَتْ عِنَايَتُهُ هُنَاكَ هُنَاكَ

جب میں مایوس ہو گیا اور کہا کہ میری نجات کہاں گئی؟ تو اللہ تعالیٰ کی عنایت نے کہا یہاں یہاں میرے پاس

يَا هَادِيَ الْاَرْوَاحِ كَاشِفَ هَمِّهَا

جِئْنَا بِبَابِكَ طَالِبِيْنَ هُدَاكَ

اے رُوحوں کے ہادی اور اُن کے غم کو دُور کرنیوالے۔ ہم تیری رہنمائی کے طلبگار بن کر تیرے پاس آئے ہیں

يَا اَيُّهَا الْمَنَّانُ مُنَّ بِرَحْمَةٍ

وَارْزُقْ قُلُوْبَ عِبَادِكَ تَقْوَاكَ

اے منّان اپنی رحمت اور اپنے فضل سے احسان کر اور اپنے بندوں کے دلوں کو تقویٰ عطا کر

اَحْيَيْتَ نَفْسِيْ بِابْتِسَامٍ وَّ نَظْرَةٍ

غَطَّتْ وُجُوْدِيْ كُلَّهُ نُعْمَاكَ

تُو نے ایک ہی مُسکراہٹ اور نظرِ محبت کے ساتھ مجھے زندہ کر دیا اور تیری نعمتوں نے میرے سراپا کو ڈھانک لیا

مَنْ يُّخْجِلُ الْوَرْدَ الطَّرِيَّ بِلَوْنِهِ

عَيْنَايَ دَامِيَتَانِ أَوْ خَدَّاكَ

اپنے سُرخ رنگ سے ترو تازہ گُلِ گلاب کو کون شرمسار کر رہا ہے میری دونوں خونبار آنکھیں یا تیرے سُرخ رُخسار

مِنْكَ السُّكُوْنُ وَكُلُّ رَوْحٍ وَّرَاحَةٍ

مَنْ ذَا الَّذِيْ لَا يَبْتَغِيْ لُقْيَاكَ

سکون اور ہر قسم کا آرام و راحت تجھی سے ملتا ہے (تو پھر) وہ کون ہے جو تیرے دیدار کا طالب نہ ہو

يَا مَنْ تَخَافُ عَدُوَّكَ مُتَزَحْزِحًا

عِنْدَ الْمَلِيْكِ الْمُقْتَدِرِ مَثْوَاكَ

اے وہ شخص جو دشمن سے گھبراتا اور ڈرتا ہے تجھے ڈرنے کی کیا وجہ ہے تو خدائے ملیکِ مقتدر کے پاس بیٹھا ہے

عَطِشَتْ قُلُوْبُ الْعَاشِقِيْنَ لِرَاحِكَ

فَأَدِرْ كُؤُسَكَ وَاسْقِ مِنْ سُقْيَاكَ

عاشقوں کے دل تیری شراب کے لیے تڑپ رہے ہیں پس تو انکی مجلس میں اپنے پیالوں کا دَور چلا اور شرابِ محبت کی تقسیم سے انکو بھی حصہ دے

اخبار الفضل جلد ۲ - لاہور پاکستان ۲ جنوری ۱۹۴۸ء

۱۲۶

شاخِ طوبیٰ پہ آشیانہ بنا

تا اَبد جو رہے فسانہ بنا

عرش بھی جس سے مُرْتَعِش ہو جائے

سوزشِ دل سے وہ ترانہ بنا

فلسفی! زندگی سے کیا پایا؟

حیف ہے گر ترا خُدا نہ بنا

لذّتِ وصل ہی میں سب کچھ ہے

اس سے ملنے کا کچھ بہانہ بنا

چھوڑنا ہے جو نقش عالم پر!

کس کمر، عزمِ مُقبلانہ بنا

وہ تو بے پردہ ہو گئے تھے مگر

حیف یہ دل ہی آئینہ نہ بنا

دل کو لے کر میں کیا کروں پیارے

تُو اگر میرا دِلبَرانہ بنا

خاک کر دے ،ملا دے مٹی میں

پر مرے دل کو بے وفا نہ بنا

گر کے قدموں پہ، ہو گیا میں ڈھیر

وقت پر خُوب ہی بہانہ بنا

چال عُشّاق کی چَلوں میں بھی

تُو بھی انداز دلبرانہ بنا

نعمتِ وصل بے سوال ہی دے

اپنے عاشق کو بے حیا نہ بنا

جو بھی دینا ہے آپ ہی دے دے

مجھ کو اغیار کا گدا نہ بنا

تجھ سے مل کر نہ غیر کو دیکھوں

غیر کا مجھ کا مُبتلا نہ بنا

جس کے نیچے ہوں سب جمع عُشّاق

اپنی رحمت کا شامیانہ بنا

بخششِ حق نے پالیا مجھ کو

کیا ہوا میں اگر بھلا نہ بنا

مجھ سے لاکھوں ہیں تیری دُنیا میں

تجھ سا پَر کوئی دوسرا نہ بنا

تیری صنعت پہ حرف آتا ہے

توڑ دے پر مجھے بُرا نہ بنا

دل ودلبَر میں چھیڑ جاری ہے

ہے یہ اک طُرفہ شاخسانہ بنا

دیکھ کر آدمی میں دانہ کی حرص

آج ابلیس خود ہے دانہ بنا

اخبار الفضل جلد ۲ - لاہور پاکستان - ۲۲ اپریل ۱۹۴۸ء

۱۲۷

بٹھا نہ مَسند پہ پاس اپنے نہ دے جگہ اپنی انجمن میں

یہ میرا دل تو مرا ہی دل ہے اسے تو رہنے دو میرے تن میں

نہ ہو میّسر جو حُریّت تو ہے بے وطن آدمی وطن میں

قفس قفس ہی رہیگا پھر بھی ہزار رکھو اسے چمن میں

جو دل سلامت رہے تو عالم کا ذرہ ذرہ ہے مُسکراتا

ہزار نجمِ نظر ہیں آتے ہزار پیوند پیرہن میں

جسے نوازے خُدا کی رحمت اسی میں سب خوبیاں ہوں پیدا

غزال لاکھوں ہیں اور بھی تو ہے بات کیا اُس نئے مُغَنّ میں

ہُوا جو مکہ میں نُور پیدا اسی کو مکہ نے دُور پھینکا

کبھی ملی ہے نبی کو عزت بتا تو اے معترض وطن میں

ہیں رنگ لیاں منا رہے لوگ ساغرِ مے چھلک رہے ہیں

وہ لُطف اُنکو کہاں میسّر ملا جو مجھ کو تری لگن میں

تری محبت ہے میرے دل میں مری محبت ہے تیرے دل میں

زبان میری ترے تصرّف میں بات تیری ہے ہر دہن میں

مقابلہ دینِ مُصْطَفٰے کا یہ دیگر ادیان کیا کریں گے

ہیں مُردہ نبضوں کے مُردہ مذہب لپیٹ رکھو انہیں کفن میں

نظر بظاہر ہے عاشقوں اور مالداروں کا حال یکساں

وہ مَست رہتے ہیں اپنی دُھن میں یہ مَست رہتے ہیں اپنے دَھن میں

ہزاروں کلیاں چٹک رہی ہیں ہزاروں غنچے چہک رہے ہیں

نسیمِ رحمت کی چل رہی ہے چمن چمن میں چمن چمن میں


اخبار الفضل جلد ۲۔ لاہور پاکستان۔ ۲۸؍ اپریل ۱۹۴۸ء

۱۲۸

یہ غزل جو درحقیقت پندرہ سولہ سال پہلے لکھی گئی تھی مگر کہیں گم ہوگئی، اب کچھ یاد سے کام لے کر کچھ نئے شعر کہہ کر مکمل ہوئی ہے۔

(مرزا محمود احمد)

نگاہوں نے تری مجھ پر کیا ایسا فسوں ساقی

کہ دل میں جوشِ وحشت ہے، تو سر میں ہے جنوں ساقی

جیوں تو تیری خوشنودی کی خاطر ہی جیوں ساقی

مروں تو تیرے دروازے کے آگے ہی مروں ساقی

پلائے تو اگر مجھ کو تو میں اتنی پیوں ساقی

رہوں تاحشر قدموں پر ترے میں سرنگوں ساقی

تری دنیا میں فرزانے بہت سے پائے جاتے ہیں

مجھے تُو بخش دے اپنی محبت کا جنوں ساقی

سوا اک تیرے میخانے کے سب مَے خانے خالی ہیں

پلائے گر نہ تُو مجھ کو تو پھر میں کیا کروں ساقی

تجھے معلوم ہے جو کچھ مرے دل کی تمنا ہے

مرا ہر ذرہ گویا ہے زباں سے کیا کہوں ساقی

وہ کیا صُورت ہے، جس سے میں نگاہِ لُطف کو پاؤں

چھوؤں دامن کو تیرے یا ترے پاؤں پڑوں ساقی

مُجھے قیدِ مُحبّت لاکھ آزادی سے اچھی ہے

کچھ ایسا کر کہ پابندِ سلاسل ہی رہوں ساقی

ترے دَر کی گدائی سے بڑا ہے کونسا درجہ

مجھے گر بادشاہت بھی ملے تو میں نہ لُوں ساقی

فدا ہوتے ہیں پروانے اگر شمعِ منوّر پر

تو تیرے رُوئے روشن پر نہ میں کیوں جان دُوں ساقی

نہ صورت امن کی مسجد میں پیدا ہے نہ مندر میں

زمانہ میں یہ کیسا ہو رہا ہے کُشت و خُوں ساقی

شہیدانِ محبت سے ہی میخانے کی رونق ہے

چمکتا ہے ترے پیمانے میں اُن کا ہی خوں ساقی


اخبار الفضل جلد ۲۔ لاہور پاکستان۔ در مئی ۱۹۵۳ء

۱۲۹

مُرادیں لوٹ لِیں دیوانگی نے

نہ دیکھی کامیابی آگہی نے

مِری جانب یونہی دیکھا کسی نے

نظر آنے لگے ہر جا دَفِینے

مزاجِ یار کو بَرہم کیا ہے

مِری اُلفت مری دلبستگی نے

زمین و آسماں کی بادشاہت

عطا کی مجھ کو تیری بندگی نے

جُدائی کا خیال آیا جو دل میں

لگے آنے پسینوں پر پسینے

کنارہ آ ہی جائے گا کبھی تو

چلائے جا رہے ہیں ہم سفینے

اُسی کے دَر پہ اب دُھونی رمادوں

کیا ہے فیصلہ یہ میرے جی نے

جو میرا تھا اب اُس کا ہو گیا ہے

مِرے دل سے کیا یہ کیا کبھی نے

جُدائی میں تِری تڑپا ہوں برسوں

یُونہی گذرے ہیں ہفتے اور مہینے

وہ مَہ رُخ آگیا خود پاس میرے

لگائے چاند مجھ کو بے بسی نے

وہ آنکھیں جو ہوئیں اُلفت میں بے نُور

بنیں وہ اُس کی اُلفت کے نگینے

اُسی کا فضل ڈھانپے گا مرا سِتْر

نہ کام آئیں گے پشمینے مرینے

پرستارانِ زر یہ تو بتاؤ

غریبوں کو بھی پوچھا ہے کسی نے

کنویں جھانکا کیا ہوں عُمر بھر میں

ڈبویا مجھ کو دِل کی دوستی نے

اُنہیں ٹوٹا ہی سمجھو ہر گھڑی تم

وہ دل جو بن رہے ہیں آبگینے

خُدارا اس کو رہنے دیں سلامت

یہ دل مجھ کو دیا تھا آپ ہی نے

علامت کفر کی ہے تنگیِ نفس

مگر اسلام سے کُھلتے ہیں سینے

وہی ہیں غوطہ خورِ بحرِ ہستی

دُرَر سے ہیں بھرے جن کے سفینے

مہاجر بننے والو یہ بھی سوچا

کہ پیچھے چھوڑے جاتے ہو مدینے

اخبار الفضل جلد ۲ - لاہور پاکستان - ۱۲؍ مئی ۱۹۴۸ء

۱۳۰

عِشق و وَفا کی راہ دکھایا کرے کوئی

رازِ وصالِ یار بتایا کرے کوئی

آنکھوں میں نُور بن کے سمایا کرے کوئی

میرے دل ودِماغ پہ چھایا کرے کوئی

سالوں تک اپنا منہ نہ دکھایا کرے کوئی

یُوں تو نہ اپنے دل سے بُھلایا کرے کوئی

دُنیا کو کیا غرض کہ سُنے داستانِ عشق

یہ قصّہ اپنے دل کو سُنایا کرے کوئی

میں اُس کے ناز روز اُٹھاتا ہوں جان پر

میرے بھی تو ناز اُٹھایا کرے کوئی

چہرہ مرے حبیب کا ہے مہرِ نیم روز

اس آفتاب کو نہ چُھپایا کرے کوئی

ہے دعوتِ نظر تری طرزِ حجاب میں

ڈھونڈا کرے کوئی تجھے پایا کرے کوئی

محفل میں قصّے عشق کے ہوتے ہیں صُبح وشام

حُسن اپنی بات بھی تو سُنایا کرے کوئی

پیدائشِ جہاں کی غرض بس یہی تو ہے

بِگڑا کرے کوئی تو بنایا کرے کوئی


اخبار الفضل جلد ۲ - لاہور پاکستان - ۲۳؍ مئی ۱۹۴۸ء

۱۳۱

اتر سوں خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص ہے اور وہ میری ایک نظم خوش الحانی سے بلند آواز سے پڑھ رہا ہے آنکھ کھلی تو شعر تو کوئی یاد نہ رہا مگر وزن اور قافیہ ردیف خوب اچھی طرح یاد رہے۔ اسی وقت ایک مصرعہ بنایا کہ وزن قافیہ ردیف یاد رہ جائیں۔ مسبّع اس پر غزل کہی جو چھپنے کے لیے ارسال ہے۔

(مرزا محمود احمد)

مَردوں کی طرح باہر نکلو اور ناز و اَدا کو رہنے دو

سل رکھ لو اپنے سینوں پر اور آہ و بکا کو رہنے دو

اب تیرِ نظر کو پھینک کے تم اک خنجرِ آہن ہاتھ میں لو

یہ فولادی پنجوں کے ہیں دَن اب دستِ حنا کو رہنے دو

کیا جنگوں سے مومن کہے ڈروہ موت سے کھیلا کرتا ہے

تم اس کے نَر کرنے کیلئے میدانِ وفا کو رہنے دو

ایامِ طرب میں ساتھ رہے جب غم آیا تم بھاگ اُٹھے

ہے دیکھی ہوئی اپنی یہ وفا تم اپنی وفا کو رہنے دو

مُسلم جو خُدا کا بندہ تھا افسوس کہ اب یوں کہتا ہے

اسباب کرو کوئی پیدا جبریلؑ و خُدا کو رہنے دو

خود کام کو چوپٹ کر کے تم اللہ کے سر مَندھ دیتے ہو

تم اپنے کاموں کو دیکھو اور اس کی قضا کو رہنے دو

جو اس کے پیچھے چلتے ہیں ہر قسم کی عزت پاتے ہیں

لگ جاؤ اسی کی طاعت میں اور چُوں و چرا کو رہنے دو

وہ اُسکی تیکھی چتون میں جنت کا نظارہ دیکھتا ہے

اس جور و جفا کے واسطے تم پابندِ وفا کو رہنے دو


اخبار الفضل جلد ۲۔ لاہور پاکستان۔ ۳؍ جون ۱۹۴۵ء

۱۳۲

ہَوا زمانہ کی جب بھی کبھی بگڑتی ہے

مری نگاہ تو بس جا کے تجھ پہ پڑتی ہے

بدل کے بھیس معالج کا خود وہ آتے ہیں

زمانہ کی جو طبیعت کبھی بگڑتی ہے

زبان میری تو رہتی ہے اُنکے آگے گُنگ

نگاہ میری نگاہوں سے اُن کی لڑتی ہے

اُلجھ اُلجھ کے میں گرتا ہوں دامنِ تر سے

مری اُمیدوں کی بستی یونہی اُجڑتی ہے

کبھی جو ناخنِ تدبیر مَیں ہِلاتا ہوں

مجھے شکنجہ میں قسمت مری جکڑتی ہے

منٹ منٹ پہ مرا امتحان لیتے ہیں

قدم قدم پہ مصیبت یہ آن پڑتی ہے


اخبار الفضل جلد ۲۔ لاہور پاکستان۔ ۶؍ جولائی ۱۹۴۸ء

۱۳۳

ذِکرِ خُدا پہ زور دے ظُلمتِ دِل مٹائے جا

گوہرِ شب چراغ بن دُنیا میں جگمگائے جا

دوستوں دُشمنوں میں فرق دابِ سلوک یہ نہیں

آپ بھی جامِ مئے اُڑا غیر کو بھی پِلائے جا

خالی اُمید ہے فضول سَعیِ عمل بھی چاہیے

ہاتھ بھی تُو ہلائے جا آس کو بھی بڑھائے جا

جو لگے تیرے ہاتھ سے زخم نہیں علاج ہے

میرا نہ کچھ خیال کر زخم یونہی لگائے جا

مانے نہ مانے اس سے کیا بات تو ہوگی دو گھڑی

قصّۂ دل طویل کر بات کو تُو بڑھائے جا

کشورِ دل کو چھوڑ کر جائیں گے وہ بھلا کہاں

آئیں گے وہ یہاں ضرور تُو انہیں بس بلائے جا

منزلِ عشق ہے کٹھن راہ میں راہزن بھی ہیں

پیچھے نہ مڑ کے دیکھ تُو آگے قدم بڑھائے جا

عشق کی سوزشیں بڑھا جنگ کے شعلوں کو دبا

پانی بھی سب طرف چھڑک آگ بھی تو لگائے جا


اخبار الفضل جلد ۲۔ لاہور پاکستان۔ ۹؍ جولائی ۱۹۴۸ء

۱۳۴

مَسحُور کر دیا مجھے دیوانہ کر دیا

تیری نگاہِ لُطف نے کیا کیا نہ کر دیا

جادُو بھرا ہُوا ہے وہ آنکھوں میں آپ کی

اچھے بھلے کو دیکھ کے دیوانہ کر دیا

سوزِ دَروں نے جوش جو مارا تو دیکھنا

خود شمع بن گئے مجھے پروانہ کر دیا

آنکھوں میں گھُس کے وہ مرے دل میں سما گئے

مسجد کو اک نگاہ میں بُت خانہ کر دیا

خُم کی طرف نگاہ کی ساقی نے جب کبھی

مَیں نے بھی اُس کے سامنے پیمانہ کر دیا

ہیں ناخدائے قوم بنے صاحبانِ عقل

ہے اس خیال نے مجھے دیوانہ کردیا

ہر جلوۂ جدید نے تختہ اُلٹ دیا

خود مُجھ کو اپنے آپ سے بیگانہ کر دیا

میری شکایتوں کو ہنسی میں اُڑا دیا

لایا تھا جو مَیں سنگ اُسے دانہ کردیا

کہتے ہیں میرے ساتھ رقیبوں کو بھی تُو چاہ

و اور مجھ غریب پہ جُرمانہ کردیا

ناصح وہ اعتراض ترے کیا ہوئے بتا

یکتا کے پیار نے مجھے یکتا نہ کردیا؟


اخبار الفضل جلد ۲- لاہور پاکستان- ۱۳؍ جولائی ۱۹۴۸ء

۱۳۵

ہو چکا ہے ختم اب چکر تری تقدیر کا

سونے والے اُٹھ کہ وقت آیا ہے اب تدبیر کا

شکوۂ جورِ فلک کب تک رہے گا بر زباں

دیکھ تُو اب دُوسرا رُخ بھی ذرا تصویر کا

کاغذی جامہ کو پھینک اور آہنی زرّیں پہن

وقت اب جاتا رہا ہے شوخیِ تحریر کا

نیزۂ دشمن ترے سینہ میں پیوستہ نہ ہو

اس کے دل کے پار ہو سُو فار تیرے تیر کا

اپنی خوش اخلاقیوں سے موہ لے دشمن کا دل

دلبری کر، چھوڑ سودا نالۂ دل گیر کا

مُدتوں کھیلا کیا ہے لعل و گوہر سے عدو

اب دکھا دے تُو ذرا جو ہر اُسے شمشیر کا

پیٹ کے دھندوں کو چھوڑ اور قوم کے فکروں میں پڑ

ہاتھ میں شمشیر لے عاشق نہ بن کف گیر کا

ملک کے چھوٹے بڑے کو وعظ کر پھر وعظ کر

وعظ کرتا جا، نہ کچھ بھی فکر کر تاثیر کا

کل کے کاموں کو بھی ممکن ہو اگر تو آج کر

اے مری جاں وقت یہ ہرگز نہیں تاخیر کا

ہو چکی مشقِ ستم اَپنوں کے سینوں پر بہت

اَب ہو دشمن کی طرف رُخ خنجر و شمشیر کا

اے مرے فرہاد رکھ دے کاٹ کر کوہِ دغل

تیرا فرض اوّلیں لانا ہے جُوئے شیر کا

ہو رہا ہے کیا جہاں میں کھول کر آنکھیں تو دیکھ

وقت آپہنچا ہے تیرے خواب کی تعبیر کا


اخبار الفضل جلد ۲۔ لاہور پاکستان۔ ۳ ار جولائی ۱۹۴۸ء

۱۳۶

چھوڑ کر چل دئے میدان کو دو ماتوں سے

مرد بھی چھوڑتے ہیں دِل کبھی اِن باتوں سے

مَیں دل و جاں بخوشی اُن کی نذر کر دیتا

ماننے والے اگر ہوتے وہ سو باتوں سے

دِن ہی چڑھتا نہیں قسمت کا مری اے افسوس

مُنتظر ہُوں تری آمد کا کئی راتوں سے

رنگ آجاتا ہے اُلفت کا نگاہوں میں تری

ورنہ کیا کام ترے رندوں کا برساتوں سے

میرا مقدور کہاں شکوہ کروں اُن کے حضور

مجھ کو فرصت ہی کہاں اُن کی مناجاتوں سے

کامیابی کی تمنا ہے تو کر کوہ کنی

یہ پری شیشے میں اُتری ہے کہیں باتوں سے

بار مِل جاتا ہے مجلس میں کسی کی دَو پہر

دِن ہوئے جاتے ہیں روشن سحر اب راتوں سے

ناز سے غمزہ سے عشوہ سے فسوں سازی سے

لے گئے دل کو اڑاکر مرے کن گھاتوں سے

کبھی گریہ ہے کبھی آہ و فغاں ہے اے دل

تنگ آیا ہوں بہت مَیں تری اِن باتوں سے

تُو ہری جاں کی غذا ہے مرے دل کی راحت

پیٹ بھرتا ہی نہیں تیری ملاقاتوں سے


اخبار الفضل جلد ۲۶۔ لاہور پاکستان۔ ۲۲/ جولائی ۱۹۳۸ء

۱۳۷

آنکھوں میں وہ ہماری رہے ابتدا یہ ہے

ہم اس کے دل میں بسنے لگیں انتہا یہ ہے

روزہ نماز میں کبھی کٹتی تھی زندگی

اب تم خدا کو بھول گئے، انتہا یہ ہے

لاکھوں خطائیں کرکے جو جھکتا ہوں اُس طرف

پھیلا کے ہاتھ ملتے ہیں مجھ سے وفا یہ ہے

راتوں کو آ کے دیتا ہے مجھ کو تسلیاں

مُردہ خُدا کو کیا کروں میرا خُدا یہ ہے

کیا حَرَج ہے جو ہم کو پہنچ جائے کوئی شَرّ

پہنچے کسی کو ہم سے اگر شَرّ بُرا یہ ہے

اس کی وفا و مہر میں کوئی کمی نہیں

تم اس کو چھوڑ بیٹھے ہو ظلم و جفا یہ ہے

مارے جلائے کچھ بھی کرے مجھ کو اس سے کیا

مجلس میں اُس کے پاس رہوں مُدّعا یہ ہے

بُوئے چمن اُڑاتے پھرے جو ، وہ کیا صبا

لائی ہے بُوئے دوست اُڑا کر صبا یہ ہے


اخبار الفضل جلد ۲۔ لاہور پاکستان ۲۸؍ جولائی ۱۹۴۷ء

۱۳۸

عاشق تو وہ ہے جو کہ کہے اور سُنے تری

دُنیا سے آنکھ پھیر کے مرضی کرے تری

جو کام تجھ سے لینا تھا وہ کام لے چکے

پر واہ رہ گئی ہے یہاں اب کے کے تری

اُمّیدِ کامیابی و شُغلِ سرُود و رَقص

یہ بیل چڑھ سکے گی نہ ہرگز منڈھے تری

ہو رُوحِ عشق تیری مِرے دل میں جاگزیں

تصویر میری آنکھ میں آکر بسے تری

مٹ جائے میرا نام تو اس میں حرج نہیں

قائم جہاں میں عزّت و شوکت رہے تری

میداں میں شیرِ نَر کی طرح لڑ کے جان دے

گردن کبھی نہ غیر کے آگے جُھکے تری

دل مانگ جان مانگ کے عُذر ہے یہاں

منظور ہے ہمیشہ سے خاطر بُجھے تری

نکلے گی وصل کی کوئی صُورت کبھی ضرور

چاہت تجھے مری ہے تو چاہت مجھے تری

یکتا ہے تُو تو مَیں بھی ہُوں اِک مُنفرد وُجود

میرے سوا ہے آج مَحبّت کے کے تری


اخبار الفضل جلد ۲ - لاہور پاکستان - ۳۱؍ جولائی ۱۹۴۸ء

۱۳۹

وہ گلِ رعنا کبھی دل میں جو مہماں ہو گیا

گوشہ گوشہ خانۂ دل کا گلستاں ہو گیا

محسنِ بدمیں کی مُحبّت حق کی خاطر چھوڑ دی

کافرِ نِعمت بنا لیکن مُسلماں ہو گیا

دل کو ہے وہ قوّت و طاقت عطا کی ضبط نے

نالہ جو دل سے اٹھا میرے وہ طوفاں ہو گیا

کم نہیں کچھ کیمیا سے سوزِ اُلفت کا اثر

اشکِ خوں جو بھی بہا لعلِ بدخشاں ہو گیا

آپ ہی وہ آ گئے بیتاب ہو کر میرے پاس

درد جب دل کا بڑھا تو خود ہی درماں ہو گیا

سامنے آنے سے میرے جس کو ہوتا تھا گریز

دل میں میرے چھپا غیروں سے پنہاں ہو گیا

مَیں دکھانا چاہتا تھا ان کو حالِ دل ، مگر

وہ ہوئے ظاہر تو دل کا درد پنہاں ہو گیا

پہلے تو دل نے دکھائی خود سری بے انتہا

رفتہ رفتہ پھر یہ سَرکش بھی مسلماں ہو گیا

عشق کی سوزش نے آخر کر دیا دونوں کو ایک

وہ بھی حیراں رہ گیا اور مَیں بھی حیراں ہو گیا

اس دلِ نازک کے صدقے جو مری لغزش کے وقت

دیکھ کر میری پریشانی پریشاں ہو گیا

اِک مکمل گلستاں ہے وہ مرا غنچہ دہن

جب ہوا وہ خندہ زن مَیں گُل بداماں ہو گیا

آ گیا غیرت میں فوراً ہی مرا عیسیٰ نفس

مرتے ہی پھر زندگی کا میری ساماں ہو گیا

مَیں بڑھا اک گز تو وہ سو گز بڑھے میری طرف

کام مشکل تھا مگر اس طرح آساں ہو گیا

حیف اس پر جس کو رَدّی جان کر پھینکا گیا

ورنہ ہر ہر گُل چمن کا نذرِ جاناں ہو گیا


اخبار الفضل جلد ۲ - لاہور پاکستان - ۱۱؍اگست ۱۹۴۸ء

۱۴۰

وہ آئے سامنے منہ پر کوئی نقاب نہ تھا

یہ اِنقلاب کوئی کم تو انقلاب نہ تھا

مرے ہی پاؤں اُٹھائے نہ اُٹھ سکے افسوس

انہیں تو سامنے آنے میں کچھ حجاب نہ تھا

تھا یادگار تری کیوں مٹا دیا اس کو

مرا یہ دردِ مَحبّت کوئی عذاب نہ تھا

جو دل پہ ہجر میں گزری بتاؤں کیا پیارے

عذاب تھا وہ مرے دل کا اِضطراب نہ تھا

ہُوئے نہ انجمن آراء اگر تو کیا کرتے

کہ ان کے حُسن کا کوئی بھی تو جواب نہ تھا

بُلا رہے تھے اشاروں سے بار بار مجھے

مُراد میں ہی تھا مجھ سے مگر خطاب نہ تھا

وفورِ حُسن سے آنکھیں جہاں کی خیرہ تھیں

نظر نہ آتے تھے منہ پر کوئی نقاب نہ تھا

عطائیں ان کی بھی بے انتہا تھیں مجھ پہ مگر

مطالبوں کا مرے بھی کوئی حساب نہ تھا

چھڑک دیا جو فضاؤں پہ عفو کا پانی

وہ کونسا تھا بدن جو کہ آب آب نہ تھا

بس ایک ٹھیس سے ہی پھٹ کے رہ گیا اے شیخ

یہ کیا ہوا ترا دل تھا کوئی حباب نہ تھا

ضیاءِ مہر ہے ادنیٰ سی اک جھلک اس کی

نہ جس کو دیکھ سکائیں وہ آفتاب نہ تھا

جو پورا کرتے اُسے آپ کیا خرابی تھی

مرا خیال کوئی بوالہوس کا خواب نہ تھا


اخبار الفضل جلد ۲۔ لاہور پاکستان۔ ۱۳؍ نومبر ۱۹۴۸ء

۱۴۱

دل دے کے ہم نے ان کی محبت کو پا لیا

بے کار چیز دے کے دُرِ بے بہا لیا

میں مانگنے گیا تھا کوئی تسکینِ یادگار

لیکن وہاں اُنھوں نے مرا دل اُڑا لیا

کہتے ہیں لوگ کھاتے ہیں ہم صبح و شام غم

ہم ان سے کیا کہیں کہ ہمیں غم نے کھا لیا

گر کر گڑھے میں عرش کے پائے کو جا چُھوا

کھوئے گئے جہاں سے مگر اُن کو پا لیا

نکلا تھا میں کہ بوجھ اُٹھاؤں گا اُن کا میں

لیکن اُنھوں نے گود میں مجھ کو اُٹھا لیا

بھاگا تھا اُن کو چھوڑ کے یونسؑ کی طرح میں

لیکن اُنھوں نے بھاگ کے پیچھے سے آ لیا

ہنستے ہی ہنستے رُوٹھ گئے تھے وہ ایک دن

ہم نے بھی رُوٹھ رُوٹھ کے اُن کو منا لیا

جا جا کے اُن کے دَر پہ تھکے پاؤں جب مرے

دہ چال کی کہ ان کو ہی دل میں بسا لیا

یہ دیکھ کر کہ دل کو لیے جا رہے ہیں وہ

میں نے بھی اُن کے حُسْن کا نقشہ اُڑا لیا

ناراضگی سے آپ کی آتی ہے لب پہ جان

اب تھوک دیجے غصّہ بہت کچھ ستا لیا

کیا دامِ عشق سے کبھی نکلا ہے صید بھی

کیا بات تھی کہ آپ نے عہدِ وفا لیا

نقصاں اگر ہُوا تو فقط آپ کا ہُوا

دل کو ستا کے اے مرے دلدار کیا لیا

میں صاف دل ہوں مجھ سے خطا جب کبھی ہوئی

آبِ خجال سے میں اسی دم نہا لیا

ہونے دی ان کی بات نہ ظاہر کسی پہ بھی

جو زخم بھی لگا اسے دل میں چُھپا لیا

عشق و وفا کا کام نہیں نالہ و فغاں

بھر آیا دل تو چُپکے سے آنسو بہا لیا


اخبار الفضل جلد ۲ - لاہور پاکستان - ۲۰/ دسمبر ۱۹۴۸ء

۱۴۲

کُھلے جو آنکھ تو لوگ اُس کو خواب کہتے ہیں

ہو عقل اندھی تو اُس کو شباب کہتے ہیں

کسی کے حُسن کی ہے اس میں آب کہتے ہیں

بنی ہے طین اسی سے تراب کہتے ہیں

وہ عمر جس میں کہ پاتی ہے عقل نور و جلا

تم اس کو شیب کہو ہم شباب کہتے ہیں

سرورِ رُوح جو چاہے تو دل کی سُن آواز

کہ تارِ دل ہی کو چنگ و رُباب کہتے ہیں

وہ سلسبیل کا چشمہ کہ جس سے ہو سیراب

حَسَد سے اس کو مُدَّعیوں سراب کہتے ہیں

نگاہِ یار سے ہوتے ہیں سب طَبَق روشن

رُموزِ عشق کی اس کو کتاب کہتے ہیں

ہمیں بھی تجھ سے ہے نسبت اور رندِ بادہ نوش

نگاہِ یار کو ہم بھی شراب کہتے ہیں

جو چاہے تُو تو دہی غیر فانی بن جائے

وہ زندگی کہ جسے سب حُباب کہتے ہیں

یہ فخر کم نہیں مجھ کو کہ دل مَل کے مرا

وہ پیار سے مجھے خانہ خراب کہتے ہیں

بڑھا کے نیکیاں میری خطائیں کر کے معاف

وہ اس ظہورِ کرم کو حساب کہتے ہیں

فراق میں جو مری آنکھ سے بہے تھے اَشک

انہی سے حُسن نے پائی ہے آب کہتے ہیں

قدم بڑھا کہ ہے دیدارِ یار کی ساعت

اُلٹنے والا ہے مُنہ سے نقاب کہتے ہیں


اخبار الفضل جلد ۳۔ لاہور پاکستان۔ ۳۱؍دسمبر ۱۹۴۹ء

۱۴۳

آ آ کہ تِری راہ میں ہم آنکھیں بچھائیں

آ آ کہ تجھے سینہ سے ہم اپنے لگائیں

تُو آئے تو ہم تجھ کو سَرِ آنکھوں پہ بٹھائیں

جاں نذر میں دیں تجھ کو تجھے دِل میں بسائیں

آپ آ کے محمّدؐ کی عمارت کو بنائیں

ہم کُفر کے آثار کو دُنیا سے مٹائیں

ہیں مغرب و مشرق کے تو معشوق ہزاروں

بھاتی ہیں مگر آپ کی ہی مجھ کو ادائیں

رحمت کی طرف اپنی نگہ کیجئے آقا

جانے بھی دیں کیا چیز ہیں یہ میری خطائیں

مَیں جانتا ہوں آپ کے اندازِ تلطف

مانوں گا نہ جب تک کہ ہری مان نہ جائیں

ہے چیز تو چھوٹی سی مگر کام کی ہے چیز

دِل کو بھی مرے اپنی اداؤں سے لُبھائیں

دے ہم کو یہ توفیق کہ ہم جان لڑا کر

اسلام کے سَر پر سے کریں دُور بلائیں

ربوہ کو ترا مرکزِ توحید بنا کر

اِک نعرۂ تکبیر فلک بوس لگائیں

پھر نات میں دُنیا کی ترا گاڑ دیں نیزہ

پھر پرچمِ اسلام کو عالَم میں اُڑائیں

جس شان سے آپ آئے تھے مکّتہ میں ہی حابلؔ

اِک بار اسی شان سے ربوہ میں بھی آئیں

ربوہ رہے کعبہ کی بڑائی کا دُعا گو

کعبہ کی پہنچتی رہیں ربوہ کو دُعائیں


اخبار الفضل جلد ۴۳ ۔ لاہور پاکستان ۔ ۱۹؍ جنوری ۱۹۵۵ء

۱۴۴

سُنانے والے افسانے ہُمَا کے

کبھی دیکھے بھی ہیں بندے خُدا کے

نہ واپس آیا دل اُس دَر پہ جا کے

وہیں بیٹھا رہا دُھونی رما کے

بھٹکتے پھر رہے ہو سب جہاں میں

لیا کیا تم نے دِلبر کو بُھلا کے

درِ مے خانہ پا کر بند اے شیخ

چلے ہیں آپ بھی گھر کو خُدا کے

یہ تم کو ہو گیا کیا اَہلِ ملّت

نہیں کیا یاد وہ وعدے وفا کے

کیا کرتے ہیں ہم سَیرِ دو عالم

کسی کو اپنے پہلو میں بٹھا کے

خُدا ہی نے لگائی پار کشتی

اُٹھائے یُونہی اِحساں ناخُدا کے

مجھے دیگر جب بھی دیکھتے ہیں

بٹھا لیتے ہیں پاس اپنے بُلا کے

کسی دن لے کے چھوڑیں گے وہ یہ مال

بھلا رکھو گے کب تک دل چُھپا کے

جو پھر نکلو تو جو چاہو سو کہنا

ذرا دیکھو تو اِس محفل میں آ کے

جنھوں نے ہوش مَے خانے میں کھوئے

وہ کیا لیں گے بھلا مسجد میں جا کے

یزیدی شان کے مالک اِدھر آ

مناظر دیکھتا جا کربلا کے

مرے کانوں میں آوازیں خُدا کی

ترے کانوں میں آنچ بم کے دہماکے

مری اُمّید وابستہ فلک سے

تری نظروں میں اس دُنیا کے خاکے

مِلا تجھ کو نہ کچھ دنیا میں آ کے

نہ تُو دیکھے گا راحت یاں سے جا کے


اخبار الفضل جلد ۴۳۔ لاہور پاکستان۔ ۱۰؍ مئی ۱۹۵۰ء

۱۴۵

بتاؤں تمہیں کیا کہ کیا چاہتا ہوں

ہوں بندہ مگر میں خُدا چاہتا ہوں

میں اپنے سیاہ خانۂ دل کی خاطر

وفاؤں کے خالق ! وفا چاہتا ہوں

جو پھر سے ہَرا کر دے ہر خشک پودا

چمن کے لیے وہ صبا چاہتا ہوں

مجھے بَیر ہرگز نہیں ہے کسی سے

میں دُنیا میں سب کا بھلا چاہتا ہوں

وہی خاک جس سے بنا میرا پُتلا

میں اس خاک کو دیکھنا چاہتا ہوں

نکالا مجھے جس نے میرے چمن سے

میں اس کا بھی دل سے بھلا چاہتا ہوں

مرے بال و پَر میں وہ ہمّت ہے پیدا

کہ لے کر قفَس کو اُڑا چاہتا ہوں

کبھی جس کو رِشیوں نے مُنہ سے لگایا

وُہی جام اب میں پیا چاہتا ہوں

رقیبوں کو آرام و راحت کی خواہش

مگر میں تو کرب و بَلا چاہتا ہوں

دِکھائے جو ہر دم ترا حُسن مجھ کو

مری جاں ! میں وہ آئینہ چاہتا ہوں


رسالہ مصباح ۔ ماہ جنوری ۱۹۵۱ء

۱۴۶

عشق نے کر دیا خراب مجھے

ورنہ کہتے تھے لاجواب مجھے

کچھ اُمَنگیں تھیں کچھ اُمیدیں تھیں

یاد آتے ہیں اب وہ خواب مجھے

میں تو بیٹھا ہوں بر لبِ جُو

کیا دکھاتا ہے تُو سَراب مجھے

مَست ہوں میں تو روزِ اوّل سے

فائدہ دے گی کیا شراب مجھے

زِشت رُو میں ہوں آپ مالکِ حُسن

چھوڑیئے دیجئے نقاب مجھے

داروئے ہر مرض شفائے جہاں

حق نے بخشی ہے وہ کتاب مجھے

جس میں حصہ نہ ہو مرے دیں کا

کیسے بھائے وہ آب و تاب مجھے

میرا باجا ہے تیغ کی جھنکار

زہر لگتا ہے یہ رُباب مجھے

دُشمنوں سے تو رکھ مرا پردہ

اس طرح کر نہ بے حجاب مجھے

بے حد و بے شمار میرے گناہ

کس طرح دیں گے وہ حساب مجھے

عزم بھی اُن کا ہاتھ بھی اُن کے

وہ کریں کام ۔ دیں ثواب مجھے

بس کے آنکھوں میں دل میں گھر کر کے

کر گئے یوں وہ لاجواب مجھے

دل میں بیداریاں ہیں پھر پیدا

پھر دکھا چشمِ نیم خواب مجھے


اخبار الفضل جلد ۵ - لاہور پاکستان - ۲۴؍ مارچ ۱۹۵۱ء

۱۴۷

اے بے یاروں کے یار، نِگاہِ لُطف غریبِ مُسلماں پر

اِس بیچارے کا ہندوستاں میں اب کوئی بھی یار نہیں

اے ہند کے مُسْلِم صبر بھی کر ہمّت بھی کر، شکوہ بھی کر

فریادیں گو الفاظ ہی ہیں پر پھر بھی وہ بے کار نہیں

ہر ظلم بھی سہہ ہر بات بھی سُن پر دین کا دامن تھامے رہ

غدّار نہ بن، بُزدل بھی نہ بن یہ مومن کا کردار نہیں

تُو ہندوستاں میں روتا ہے میں پاکستان میں کُڑھتا ہوں

ہے میرا دل بھی زار فقط تیرا ہی حالِ زار نہیں

آ گر جائیں ہم سجدہ میں اور سجّادوں کو تَر کر دیں

اللہ کے دَر پر سَر ٹیکیں جس سا کوئی دَربار نہیں


اخبار الفضل جلد ۵ - لاہور پاکستان - ۲۷؍ مارچ ۱۹۵۱ء

۱۴۸

عقبیٰ کو بُھلایا ہے تُو نے تُو احمق ہے ہشیار نہیں

یہ تیری ساری شیخی بے کار ہے گر کردار نہیں

اس یار کے دَر پر جانا کچھ مشکل نہیں کچھ دُشوار نہیں

اس طرف جو راہیں جاتی ہیں وہ ہرگز نا ہموار نہیں

مَیں اس کا ہاتھ پکڑ کرنہ افلاک سے اونچا اُڑتا ہوں

پر میرے دُشمن کا کوئی دربار نہیں سر کار نہیں

وہ خاک سے پیدا کرتا ہے وہ مُردے زندہ کرتا ہے

جو اس کی راہ میں مرتا ہے وہ زندہ ہے مُردار نہیں

تم انسانوں کے چیلے ہو مَیں اس کے دَر کا ریزہ ہوں

مَیں عالم ہُوں مَیں فاضل ہوں پر سر پہ مرے دستار نہیں

جادُو ہے میری نظروں میں تاثیر ہے میری باتوں میں

مَیں سب دُنیا کا فاتح ہوں ہاتھوں میں مگر تلوار نہیں

مَیں تیز قدم ہوں گاموں میں بجلی ہے مری رفتار نہیں

مَیں مظلوموں کی ڈھارس ہوں مرہم ہے مری گفتار نہیں

ہوں صدقہ شاہِ کوئی بھی ہوں مَیں ان سے دب کر کیوں بیٹھو

سرکار مری ہے مدینہ میں یہ لوگ مری سرکار نہیں

تُو اس کے پیارے ہاتھوں کو اپنی گردن کا طوق بنا

کیا تُو نے گلے میں ڈالا ہے ذُو النار ہے یہ زُنّار نہیں

اسلام پہ آفت آئی ہے لیکن تُو غافل بیٹھا ہے

اُٹھ دُشمن پر یہ ثابت کر تُو زندہ ہے مُردار نہیں

جن معنوں میں وہ کہتا ہے قہار بھی ہے جبار بھی ہے

جن معنوں میں تم کہتے ہو قہار نہیں جبّار نہیں

دوزخ میں جلنا سخت بَرا پر یہ بھی کوئی بات نہ تھی

سو عیب کا اس میں عیب ہے یہ گفتار نہیں دیدار نہیں

کچھ اس کی کشش ہی ایسی ہے، دل ہاتھ سے نکلا جاتا ہے

ورنہ مَیں اپنی جان سے کچھ ایسا بھی تو بیزار نہیں

جاں میری گھٹتی جاتی ہے دل پارہ پارہ ہوتا ہے

تم بیٹھے ہو چُپ چاپ جو یوں کیا تم میرے دلدار نہیں

مَیں تیرے فن کا شاہد ہوں تُو میری کمزوری کا گواہ

تجھ سا بھی طبیب نہیں کوئی مجھ سا بھی کوئی بیمار نہیں

وُہ جو کچھ مجھ سے کہتا ہے پھر مَیں جو اس سے کہتا ہوں

اِک رازِ محبت ہے جس کا اعلان نہیں اظہار نہیں

مَیں ہر صورت سے اچھا ہوں اِک دل میں سوزش رہتی ہے

گر عشق کوئی آزار نہیں مجھ کو بھی کوئی آزار نہیں

کیا اس سے بڑھ کر راحت ہے، جاں نکلے تیرے ہاتھوں میں

تُو جان کا لینے والا بن مجھ کو تو کوئی اِنکار نہیں

اخبار الفضل جلد ۵ - ۳؍اپریل ۱۹۵۱ء - لاہور پاکستان۔

۱۴۹

حریمِ قدس کے ساکن کو نام سے کیا کام

ہَوا و حرص کے بندہ کو کام سے کیا کام

ہو لاَمکاں تو قصرِ رُخام سے کیا کام

جو ہر جگہ ہو اسے اِک مقام سے کیا کام

رہینِ عشق کو کیفِ مُدام سے کیا کام

پلائیے مجھے آنکھوں سے جام سے کیا کام

ہر ایک حال میں ہے لب پہ میرے نامِ خُدا

خُدا پرست ہوں میں، رام رام سے کیا کام

سِبوئے دل کو ڈبوتا ہوں جُوئے رحمت میں

مُجھے ہے ساغر و مینا و جام سے کیا کام

ہے میرے دل میں مُحمّد تو اسکے دل میں مَیں

مُجھے پیامبروں کے پیام سے کیا کام

مُجھے پلانی ہو ساقی تو ابرِ رحمت بھیج

بغیر اَبر کے صہبار و جام سے کیا کام

مِرا حبیب تو بَستا ہے میری آنکھوں میں

مجھے حسینوں کے دَر اور بام سے کیا کام

جو اس کی ذات میں کھو بیٹھے اپنی ہستی کو

اُسے ہو اپنے پرایوں کے نام سے کیا کام

کبھی بھی عشق میں سودے ہوا نہیں کرتے

جو جاں ہی دینے پہ آئے تو دام سے کیا کام

سمندِ عزم پہ جو ہو گیا سوار تو پھر

اُسے رکاب سے مطلب لگام سے کیا کام

اُسے تو موت کے سایہ میں مل چکی ہے حیات

شہیدِ عشق کو عیشِ دوام سے کیا کام

مجھے خدا نے سکھایا ہے علمِ ربّانی

مجھے ہے فلسفہ ، منطق ، کلام سے کیا کام

جو ہولی کھیلتے رہتے ہیں خونِ مُسلم سے

انہیں دَفاد وفاق و نظام سے کیا کام

بغل میں بیٹھے ہوئے دستکوں کی کیا حاجت

ہوں پختہ کار تو پھر عشقِ خام سے کیا کام

پنچھے ہیں دام تو ان کے لیے جو اُڑتے ہیں

اسیرِ عشق ہُوں میں، مُجھ کو دام سے کیا کام

اخبار الفضل جلد ۵ - ۱۹؍ اپریل ۱۹۵۱ء۔ لاہور پاکستان

۱۵۰

چاند چمکا ہے گال ہیں ایسے

تاج ہو جیسے بال ہیں ایسے

تن پہ کمخواب پیٹ میں حلوان

جاں پہ ان کی وبال ہیں ایسے

جن کو عقبیٰ کا فِکر رہتا ہو

ہیں مگر خال خال ہیں ایسے

لوٹنے سے اُنہیں کہاں فرصت

وہ پریشان حال ہیں ایسے

لیڈرِ قوم بھی ہیں ڈاکو بھی

اُن کے اندر کمال ہیں ایسے

ئے کے پھندے میں جو پھنسا سو پھنسا

اِس کے مضبوط جال ہیں ایسے

جل کے رہ جاتے ہیں تمام افکار

دل کے اندر اُبال ہیں ایسے

جو کہ شرمندۂ جواب نہیں

ان کے دل میں سوال ہیں ایسے

اُن کو فرصت ہی صلح کی کب ہے؟

وقفِ جنگ و جدال ہیں ایسے

وہ کریں بے وفائی! اے توبہ

آپ کے ہی خیال ہیں ایسے

قوم کے مال پر خیانت سے

کون چھوڑے یہ مال ہیں ایسے

سجدۂ بارگہ بھی بوجھل ہے

کیا کریں وہ نڈھال ہیں ایسے

گالیاں تکیۂ کلام اُن کا

یہ مَدو خوش خصال ہیں ایسے

دین و دُنیا کی سُدھ نہیں اُن کو

محوِ حُسن و جمال ہیں ایسے

توڑنے کو بھی دل نہیں کرتا

یہ محبّت کے جال ہیں ایسے

ساری دُنیا میں مُشک پھینکیں گے

میرے بھی کچھ غزال ہیں ایسے


اخبار الفضل جلد ۵ - ۲۴؍ اپریل ۱۹۵۱ء۔ لاہور پاکستان

۱۵۱

جو دل پہ زخم لگے ہیں مجھے دکھا تو سہی

ہُوا ہے حال ترا کیا مجھے سُنا تو سہی

ثمارِ عشق ہیں کیسے ! کبھی تو چکھ کر دیکھ

یہ بیج باغ میں اپنے کبھی لگا تو سہی

لگاؤں سینہ سے دل میں بٹھاؤں میں تجھ کو

نہ دُور بھاگ یونہی ، میرے پاس آ تو سہی

وُہ مُنہ چھپائے ہوئے مُجھ سے ہمکلام ہوئے

وصال گو نہ ہوا خیر کچھ ہوا تو سہی

فریب خوردۂ اُلفت فریب خوردہ ہے

مگر تُو سامنے اس کو کبھی بُلا تو سہی

وہ آپ خود چلے آئیں گے تیری مجلس میں

خودی کے نقش ذرا دل سے تُو مٹا تو سہی

بُرا جما کہ بھلا اپنی اپنی قسمت ہے

ہمارے دل پہ ترا نقش کچھ جما تو سہی

زمانہ دشمنِ جاں ہے نہ اِس کی جانب پھر

تُو اُس کو اپنی مدد کے لیے بُلا تو سہی

نظر نہ آئے وُہ تجھ کو یہ کیسے ممکن ہے

حجاب آنکھوں کے آگے سے تُو ہٹا تو سہی

نکلتے ہیں کہ نہیں رُوح میں پَرِ پرواز

تُو اپنی جان کو اس شمع میں جلا تو سہی

جو دشت و کوہ بھی رقصاں نہ ہوں مجھے کہیو

تُو اُس کی سُر سے ذرا اپنی سُر ملا تو سہی


اخبار الفضل جلد ۵ - ۱۰ مئی ۱۹۵۱ء لاہور پاکستان۔

۱۵۲

نِکل گئے جو ترے دل سے خار کیسے ہیں

جو تجھ کو چھوڑ گئے وہ نگار کیسے ہیں

نہ آرزوئے ترقی نہ صدمۂ ذلت

خدا بچائے یہ لیل و نہار کیسے ہیں

کبھی سے خانۂ خَمّار کا کُھلا ہے دَر

جو چپکے بیٹھے ہیں وہ بادہ خوار کیسے ہیں

نہ حُسْنِ خُلْق ہے تجھ میں نہ حُسْنِ سیرت ہے

تُو ہی بتا کہ یہ نقش و نگار کیسے ہیں

خُدا کی بات کوئی بے سبب نہیں ہوتی

نہیں ہے ساقی تو اَبر و بہار کیسے ہیں

نہ غم سے غم نہ خوشی سے مری تجھے ہے خوشی

خُدا کی مار یہ قُرْب و جوار کیسے ہیں

نہ دل کو چین نہ سر پر ہے سایۂ رحمت

ستم ظریف ! یہ باغ و بہار کیسے ہیں

نہ وصل کی کوئی کوشش نہ دید کی تدبیر

خبر نہیں کہ وہ پھر بے قرار کیسے ہیں

وہی ہے چال وہی راہ ہے وہی ہے رَوِش

ستم دہی ہیں تو پھر شرمسار کیسے ہیں

وہ لالہ رُخ ہی یہاں پر نظر نہیں آتا

تو اس جہان کے یہ لالہ زار کیسے ہیں

وہ حسرتیں ہیں جو پوری نہ ہو سکیں افسوس

بتاؤں کیا مرے دل میں مزار کیسے ہیں

مصیبتوں میں تعاون نہیں تو کچھ بھی نہیں

جو غم شریک نہیں غمگسار کیسے ہیں


اخبار الفضل جلد ۵ - ۲۴؍مئی ۱۹۵۱ء لاہور۔ پاکستان

۱۵۳

تم نظر آتے ہو ذرّہ میں غائب بھی ہو تم

سب خطاؤں سے بھی ہو تم پاک تائب بھی ہو تم

فہم سے بالا بھی ہو فہمِ مجسم بھی ہو تم

عام سے عام بھی ہو بستہِ غرائب بھی ہو تم

تم ہی آقا ہو میرے تم ہی میرے مالک ہو

میرے ساعاتِ غم و رنج میں نائب بھی ہو تم

غیر کی نصرت و تائید سے ہو مُستغنی

اور پھر صاحبِ اَجناد و کتائب بھی ہو تم

منبعِ خلق تم ہی ہو پیکرِ خالق باری

صُلْب بھی تم ہو مری جان تَرائب بھی ہو تم


اخبار الفضل جلد ۵ - ۱۱؍ جولائی ۱۹۵۱ء ۔ لاہور پاکستان

۱۵۴

خطاب بہ رَسُولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم

اے شاہِ معالیؔ آ بھی جا

اے ضَوْءِ لَالِئْ آ بھی جا

اے شاہِ جلالیؔ آ بھی جا

اے رُوحِ جمالیؔ آ بھی جا

تو میرؔ دل میں دل تجھ میں

قَصْدِیْ وَ مَنَالِیْ آ بھی جا

دشمن نے گھیرا ہے مجھ کو

صَبْرِیْ وَ بَسَالِیْ آ بھی جا

سب کام مرے تجھ بن اے جاں!

ہیں لُطف سے خالی آ بھی جا


۱۵۵

اِرادے غیر کے ناگُفتنی ہیں

نگاہیں زہر میں ڈوبی ہوئی ہیں

حقارت کی نگاہیں ہیں سُکڑتی

محبّت کی نگاہیں پھیلتی ہیں

اُمیدوں کو نہ مار اے دشمنِ جاں

اُمیدیں ہی تو مغزِ زندگی ہیں

محبّت سے تجھے ہے روکتا کون

محبّت کی شرائط پُر کڑی ہیں

کوئی ملتا نہیں دُنیا کو رہبر

نگاہیں آ کے مجھ پر ہی ٹکی ہیں


اخبار الفضل جلد ۵ - ۱۸؍ جولائی ۱۹۵۱ء لاہور۔ پاکستان

۱۵۶

زمیں کا بوجھ وہ سر پر اُٹھائے پھرتے ہیں

اِک آگ سینہ میں اپنے دبائے پھرتے ہیں

وہ جس نے ہم کو کیا بَرسَرِ جہاں رُسوا

اُسی کی یاد کو دل میں چُھپائے پھرتے ہیں

وہ پھول ، ہونٹوں سے ان کے جھڑے تھے جو اِک بار

اُنہی کو سینہ سے اپنے لگائے پھرتے ہیں

ہماری جان تو ہاتھوں میں اُس کے ہے لٹو

جدھر بھی جب بھی وہ اس کو پھراتے پھرتے ہیں

وہ دیکھ لے تو ہر اک ذرّہ پھول بن جائے

وہ موڑے مُنہ تو سب اپنے پرائے پھرتے ہیں

خُدا تو عرش سے اُترا ہے مُنہ دکھانے کو

پر آدمی ہیں کہ بس مُنہ بنائے پھرتے ہیں


اخبار الفضل جلد ۵ - ۱۹؍ جولائی ۱۹۵۱ء لاہور۔ پاکستان

۱۵۷

نوٹ : اُردو میں عام طور پر مٹائے نہیں مٹتی بولا جاتا ہے اور وہاں یہ مُراد ہوتا ہے کہ انسان مٹانا چاہتا ہے مگر نشان نہیں مٹتا۔ اس کے برخلاف ایک نقش ایسا ہوتا ہے کہ کوئی خود تو اسے مٹانا نہیں چاہتا، لیکن مرورِ زمانہ سے وہ کمزور پڑتا جاتا ہے، چونکہ میں نے اسی مضمون کو لیا ہے، اس لیے بجائے ،مٹائے نہیں مٹتی، کے مٹتے نہیں مٹتی استعمال کیا ہے۔ جاہل ادیبوں کے نزدیک یہ بات ناجائز تصرف معلوم ہو گا۔ مگر واقفوں کے نزدیک مفید اضافہ۔ مرزا محمود احمد۔ (۲۸؍جولائی ۱۹۵۱ء)


یہ کیسی ہے تقدیر جو مٹتے نہیں مٹتی

پتھر کی ہے تحریر جو مٹتے نہیں مٹتی

سب اور تصوّر تو مرے دل سے مٹے ہیں

ہے اِک تری تصویر جو مٹتے نہیں مٹتی

اب تک ہے مرے قلب کے ہر گوشہ میں موجود

اُن لفظوں کی تاثیر جو مٹتے نہیں مٹتی

کِس زور سے کعبہ میں کہی تم نے مری جاں

اِک گونجتی تکبیر جو مٹتے نہیں مٹتی

انسان کی تدبیر پہ غالب ہے ہمیشہ

اللہ کی تدبیر جو مٹتے نہیں مٹتی

ڈلہوزی و شملہ کی تو ہے یاد ہوئی محو

ہے خواہشِ کشمیر جو مٹتے نہیں مٹتی

اسلام کو ہے نُور مِلا نورِ خُدا سے

ہے ایسی یہ تنویر جو مٹتے نہیں مٹتی

کُن کہہ کے نیا بابِ بلاغت کا ہے کھولا

ہے چھوٹی سی تقریر جو مٹتے نہیں مٹتی


اخبار الفضل جلد ۵ - ۳۱؍ جولائی ۱۹۵۱ء لاہور۔ پاکستان

۱۵۸

آنکھ گر مُشتاق ہے جلوہ بھی تو بیتاب ہے

دل دھڑکتا ہے مرا آنکھ اُن کی بھی پُر آب ہے

سَر میں ہیں اَفکار یا اِک بادلوں کا ہے ہجوم

دل مرا سینہ میں ہے یا قطرۂِ سیماب ہے

ظلمتوں نے گھیر رکھا ہے مجھے پُر غم نہیں

دُور اُفق میں جگمگاتا چہرۂِ مہتاب ہے

حق کی جانب سے مِلا ہو جس کو تقویٰ کا لباس

جسم پر اُس کے اگر گاڑھا بھی ہو کمخواب ہے

جسمِ ایماں سعی و کوشش سے ہی پاتا ہے نُمُو

آرزوئے بے عمل کچھ بھی نہیں اِک خواب ہے

عشقِ صادق میں ترا رونا ہے اِک آبِ حیات

بے غرض رونا ترا اِک بے پنہ سیلاب ہے


اخبار الفضل جلد ۵ - ۴ اگست ۱۹۵۱ء لاہور۔ پاکستان

۱۵۹

قید کافی ہے فقط اس حُسْنِ عالمگیر کی

تیرے عاشق کو بھلا حاجت ہی کیا زنجیر کی

دُہ کہاں اور ہم کہاں پر رحم آڑے آ گیا

رہ گئی عزّت ہمارے نالۂ دلگیر کی

تب کہیں جا کر ہُوا حاصل وصالِ ذاتِ پاک

مدّتوں میں نے پرستش کی تِری تصویر کی

مجھ کو لڑنا ہی پڑا اعداءِ کینہ توز سے

جنگ آخر ہو گئی تدبیر سے تقدیر کی

جن کے سینوں میں نہ دل ہوں بلکہ پتھر ہوں دھرے

کیا پہنچ ان تک ہمارے نالۂ دلگیر کی

صیدِ زخمی کی تڑپ میں تم نے پایا ہے مزہ

ہے مرا دل جانتا لذّت تمہارے تیر کی

مجھ کو رہتی ہے ہمیشہ اس کے ہاتھوں کی تلاش

فکر رہتی ہے تجھے مِسح و مَساکف گیر کی

جُستجوئے خَس نہ کر تُو دوسرے کی آنکھ میں

فکر کر نادان اپنی آنکھ کے شہتیر کی


اخبار الفضل جلد ۵ - ۹؍اگست ۱۹۵۱ء لاہور۔ پاکستان

۱۶۰

توبہ کی بیل چڑھنے لگی ہے منڈھے پہ آج

اے درد ! میری آنکھ کا فوارہ پھوڑ دے

رحمت کے چھینٹے دینے پہ مدِ شکر و اِمتنان

دل کے لیے بھی پُر کوئی انگارہ چھوڑ دے

جنت میں ایسی جنس کا جانا حرام ہے

اپنے ذنوب کا یہیں پُشتارہ چھوڑ دے

لعنت خدا کے بندوں پہ حاشا ! کبھی نہیں

بچنا ہے گر تو لعنتِ کفارہ چھوڑ دے

اسلام کھانے پینے پہننے کے حق میں ہے

پُر یہ نہ ہو کہ نفس کو آوارہ چھوڑ دے


اخبار الفضل جلد ۵ - ۱۶ اگست ۱۹۵۱ء لاہور۔ پاکستان

۱۶۱

سر پہ حاوی وہ حماقت ہے کہ جاتی ہی نہیں

کفر و بدعت سے وہ رغبت ہے کہ جاتی ہی نہیں

نہ خُدا سے ہے مَحبّت نہ مُحمّد سے ہے پیار

تم کو وہ دیں سے عداوت ہے کہ جاتی ہی نہیں

نام اسلام کا ہے کُفر کے ہیں کام تمام

اس پہ پھر ایسی رعونت ہے کہ جاتی ہی نہیں

تم نے سَو بار مجھے نیچا دکھانا چاہا

پَر مرے دل کی مروّت ہے کہ جاتی ہی نہیں

تم کو مجھ سے ہے عداوت تو مجھے تم سے ہے پیار

میری یہ کیسی مَحبّت ہے کہ جاتی ہی نہیں

ہر مصیبت میں دیا ساتھ تمہارا لیکن

تم کو کچھ ایسی شکایت ہے کہ جاتی ہی نہیں

توبہ بھی ہو گئی مقبول حضوری بھی ہوئی

پَر مرے دل کی ندامت ہے کہ جاتی ہی نہیں

گالیاں کھائیں، پٹے، خوب ہی رُسوا بھی ہوئے

عشق کی ایسی حلاوت ہے کہ جاتی ہی نہیں

کیا ہوا ہاتھ سے اسلام کے نکلی جو زمیں

دل پہ وہ اُس کی حکومت ہے کہ جاتی ہی نہیں

وسوسے غیر نے ڈالے کئے اپنوں نے فساد

میری تیری وہ رفاقت ہے کہ جاتی ہی نہیں

غیر بھی بیٹھے ہیں اپنے بھی ہیں گھیرا ڈالے

مجھ میں اور تجھ میں وہ خلوت ہے کہ جاتی ہی نہیں

پھینکتے رہتے ہیں اعدار مرے کپڑوں پر گند

تُو نے دی مجھ کو وہ نکہت ہے کہ جاتی ہی نہیں

رنج ہو غم ہو کوئی حال ہو خوش رہتا ہوں

دل میں کچھ ایسی طراوت ہے کہ جاتی ہی نہیں

صدیوں سے لُوٹ رہا ہے تیری دولت دَجّال

دلبرا تیری وہ ثَروت ہے کہ جاتی ہی نہیں

کُفر نے تیرے گرانے کے کئے لاکھ جتن

تیری وہ شان وہ شوکت ہے کہ جاتی ہی نہیں

مَیں تری راہ میں مَر مَر کے جیا ہوں سَو بار

موت سے مجھ کو وہ رغبت ہے کہ جاتی ہی نہیں


اخبار الفضل جلد ۵ - ۶؍ نومبر ۱۹۵۱ء لاہور، پاکستان

۱۶۲

ایک دل شیشہ کی مانند ہوا کرتا ہے

ٹھیس لگ جائے ذرا سی تو صدا کرتا ہے

مَیں بھی کمزور مرے دوست بھی کمزور تمام

کام میرے تو سبھی میرا خُدا کرتا ہے

ہوش کر دشمنِ ناداں یہ تُو کیا کرتا ہے

ساتھ ہے جس کے خُدا اُس پہ جفا کرتا ہے

زندگی اُس کی ہے دن اُس کے ہیں راتیں اُس کی

وہ جو محبوب کی صُحبت میں رہا کرتا ہے

قلبِ مومن پہ ہے اَنوارِ سماوی کا نزول

روشن اِس جگ کو یہ اللہ کا دِیا کرتا ہے

(۱۹۴۶ء۔ کراچی کے سفر میں)


اخبار الفضل جلد ۵ - ۱۱ نومبر ۱۹۵۱ء لاہور۔ پاکستان۔

۱۶۳

جو کچھ بھی دیکھتے ہو فقط اُس کا نُور ہے

ورنہ جمالِ ذات تو کوسوں ہی دُور ہے

ہے ہر گھڑی کرامت و ہر لمحہ معجزہ

یہ میری زندگی ہے کہ حقّ کا ظہور ہے

دیکھا نہ تُو نے آئینہ خانہ میں بھی جمال

تیری تو عقل میں کوئی آیا فُتُور ہے

مُردہ دلوں کے واسطے ہر لفظ ہے حیات

میری صَدا نہیں یہ فرشتوں کا صُوۡر ہے

ہے زندگی میں دخل نہ کچھ موت پر ہے زور

تُو چیز کیا ہے ایک سرِ پُر غرور ہے

وہ زشت رُو کہ جس سے چڑیلیں بھی خوف کھائیں

اُس کو بھی دیکھئے کہ تمنّائے حُوۡر ہے

(جولائی ۱۹۴۸ء۔ سندھ)


اخبار الفضل جلد ۵ - ۱۱؍نومبر ۱۹۵۱ء لاہور۔ پاکستان۔

۱۶۴

اُس کی رعنائی مِرے قلبِ حزیں سے پُوچھئے

حُور و غلماں کی خبر خُلدِ بریں سے پُوچھئے

استجابت کے مزے عرشِ بریں سے پُوچھئے

سجدہ کی کیفیتیں میری جبیں سے پُوچھئے

نسخۂ وصلِ خُدا ہے بس ہری دُکان پر

ہر جگہ پر دیکھ لیجے گا کہیں سے پُوچھئے

کوچۂ دلبر کے رستہ سے ہے دُنیا بے خبر

پُوچھنا ہو اپنے گھر تو، ہمیں سے پُوچھئے

آسمانی بادشاہت کی خبر احمدؐ کو ہے

کِس کی ملکیت ہے خاتمؐ یہ نگیں سے پُوچھئے

ابتدائے عشق سے دل کھو چکا ہے عقل و ہوش

بتر الفت اُس نگاہِ سرمگیں سے پُوچھئے

دُوسروں کی خوبیاں اس کی نظر میں عیب ہیں

تجھ کو اپنی بھی خبر ہے؟ نکتہ چیں سے پُوچھئے

آسماں کی راز جوئی عقل سے ممکن نہیں

رازِ خانہ پُوچھنا ہو تو مکیں سے پُوچھئے

فَقْر نے بخشا ہے لاکھوں کو شہنشاہی کا تاج

کیا ہوا ہے سحر یہ نانِ جویں سے پُوچھئے

کِس قدر تو باہیں توڑی ہیں یہ ہے دل کو خبر

کِس قدر پونچھے ہیں آنسو آستیں سے پُوچھئے

کِس قدر صدمے اُٹھائے ہیں ہمارے واسطے

قلبِ پاکِ رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن سے پُوچھئے

(اکتوبر ۱۹۵۱ء۔ لاہور)


الفضل جلد ۵ - ۲۴/نومبر ۱۹۵۱ء لاہور۔ پاکستان۔

۱۶۵

جُونہی دیکھا اُنہیں چشمہ مَحَبّت کا اُبل آیا

درختِ عشق میں مایُوسیوں کے بعد پھل آیا

خطائیں کیں جفائیں کیں ہر اِک ناکردنی کر لی

کیا سب کچھ مگر پیشانی پر اُن کے نہ بَل آیا

مُلَمَّع ساز اس کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں دُنیا میں

مگر وہ عاشقِ صادق کے پہلو سے نکل آیا

اُمیدیں روز ہی ہوتی تھیں پیدا مشکلِ نَو لے کر

مگر قلبِ حزیں کو صبر آج آیا نہ کل آیا

نہیں بیچارگی و جبْر کا دخل ان کی محفل میں

جو آیا ان کی محفل میں وہ چل کے سَر کے بَل آیا

(۱۱؍جولائی ۱۹۵۱ء دورانِ سفر سکیسر)


اخبار الفضل جلد ۵ - ۲۸؍نومبر ۱۹۵۱ء لاہور۔ پاکستان۔

۱۶۶

آؤ تمہیں بتائیں محبت کے راز ہم

چھیڑیں تمھاری رُوح کے خوابیدہ ساز ہم

میدانِ عشق میں ہیں رہے پیش پیش وہ

محمود بن گئے وہ بنے جب ایاز ہم

بطحا سے نکلے وہ کبھی سینا سے آئے وہ

جدت طراز وہ ہیں کہ جدت طراز ہم

ایسی وفا ملے گی ہمیں اور کس جگہ

آئیں گے اُن کے عشق سے ہرگز نہ باز ہم

وہ آئے اور عشق کا اظہار کر دیا

پڑھتے رہے اندھیرے میں چھپ کر نماز ہم

عشقِ صنم سے عشقِ خدا غیر چیز ہے

اس رہ کے جانتے ہیں نشیب و فراز ہم

اِک ذرّۂ حقیر کی قیمت ہی کیا بھلا

کرتے ہیں اُن کے لُطف کے بل پر ہی ناز ہم

گاتے ہیں جب فرشتے کوئی نغمۂ جدید

ہاتھوں میں تھام لیتے ہیں فوراً ہی ساز ہم


اخبار الفضل جلد ۵ - ۶؍ دسمبر ۱۹۵۱ء لاہور۔ پاکستان۔

۱۶۷

جب وہ بیٹھے ہوئے ہوں پاس مرے

پاس آنے ہی کیوں ہراس مرے

ساعتِ وصل آ رہی ہے قریب

ہو رہے ہیں بجا حواس مرے

میرے پہلو سے اُٹھ گئے گر تم

گِرد گھوما کرے گی یاس مرے

خاک کر دے گی کفر کا خاشاک

دل سے نکلی ہے جو بھڑاس مرے

دے گئے تھے جواب تاب و تواں

کام آئی ہے ایک آس مرے


اخبار الفضل جلد ۵ - ۹؍دسمبر ۱۹۵۱ء لاہور۔ پاکستان۔

۱۶۸

عاشقوں کا شوقِ قربانی تو دیکھ

خُون کی اِس رہ میں ارزانی تو دیکھ

بڑھ رہا ہے حد سے کیوں تقریر میں

ہوش کر کچھ اُن کی پیشانی تو دیکھ

طعنِ پاکاں شغلِ صبح و شام ہے

مولوی صاحب کی نَفسانی تو دیکھ

صدیوں اس نے ہے ترا پہرہ دیا

اُس نگہباں کی نگہبانی تو دیکھ

وعظِ قرآں پر کبھی تو کان دَھر

علم کی اِس میں فراوانی تو دیکھ

شکوۂ قسمت کے چکر میں نہ پھنس

اپنی غفلت اور نادانی تو دیکھ

خوردہ گیری آسماں کی چھوڑ بھی

ابنِ آدم ! اپنی عُریانی تو دیکھ

اپنے دل تک سے ہے انساں بے خبر

پھر یہ دعوائے ہمہ دانی تو دیکھ

فرش سے جا کر لیا دَم عرش پر

مُصطفٰےؐ کی سیرِ رُوحانی تو دیکھ

اَبرِ رحمت پر تعجب کس لیے

کُفر کی دُنیا میں طغیانی تو دیکھ

دامنِ رحمت وہ پھیلائے نہ کیوں

مومنوں کی تنگ دامانی تو دیکھ

آسماں سے کیوں نہ اُتریں اب مَلَک

کُفر کی افواجِ طوفانی تو دیکھ

اَب نہ باندھیں گے تو کب باندھیں گے بند

کُفر کا بڑھتا ہُوا پانی تو دیکھ

کُفر کے چشمے سے کیا نسبت اسے

میرے چشمہ کا ذرا پانی تو دیکھ

ہے اکیلا کُفر سے زور آزما

احمدی کی رُوحِ ایمانی تو دیکھ


اخبار الفضل جلد ۶ ۔ یکم جنوری ۱۹۵۲ء لاہور ۔ پاکستان ۔

۱۶۹

کیا آپ ہی کو نیزہ چبھونا نہیں آتا؟

یا مُجھ کو ہی تکلیف میں رونا نہیں آتا

حاصل ہو سُکوں چھُو لوں اگر دامنِ دلبر

دامن کا مگر ہاتھ میں کونا نہیں آتا

بھڑ جاؤں تو اُٹھتے ہوئے طوفانوں سے لیکن

کشتی کو سمندر میں ڈبونا نہیں آتا

جو کام کا تھا وقت وہ رو رو کے گذارا

اب رونے کا ہے وقت تو رونا نہیں آتا

کہتے ہیں کہ مٹ جاتا ہے دھونے سے ہر اک داغ

اے وائے مجھے داغ کا دھونا نہیں آتا

آ جاتے ہو تم یاد تو لگتا ہوں تڑپنے

ورنہ کسے آرام سے سونا نہیں آتا

دامن بھی ہے غفراں کا سمندر بھی ہے موجود

دامن کو سمندر میں ڈبونا نہیں آتا

موتی تو ہیں پر ان کو پرونا نہیں آتا

آنسو تو ہیں آنکھوں میں پہ رونا نہیں آتا

میں لاکھ جتن کرتا ہوں دل دینے کی خاطر

پر اُن کی نگہ میں یہ کھلونا نہیں آتا

کیا فائدہ اس دَر پہ تجھے جانے کا اے دل

دامن کو جو اشکوں سے بھگونا نہیں آتا

کس برتے پہ اُمّید رکھوں اُس سے جزا کی

کانٹوں گا میں کیا خاک کہ بونا نہیں آتا


اخبار الفضل جلد ۶ - ۳ جنوری ۱۹۵۲ء۔ لاہور۔ پاکستان۔

۱۷۰

لگ رہی ہے جہان بھر میں آگ

گھر میں ہے آگ رہ گزر میں آگ

بھائی بھائی کی جان کا بَیری

لَب پہ ہے صُلح اور بَر میں آگ

دشمنی کی چلی ہوئی ہے رَو

بات میٹھی ہے پُر نظر میں آگ

کس پہ انسان اعتبار کرے

زور میں آگ ہے تو زر میں آگ

مٹی پانی کا ایک پُتلا تھا

بھر گئی کیسے پھر بَشر میں آگ

ابنِ آدم کو لگ گیا کیا روگ

آگ ہے دل میں اور سَر میں آگ

کیسے نکلی ہے نُور سے یہ نار

باپ میں نُور تھا پِسر میں آگ

کھا رہی ہے جحیم دُنیا کو

شہر میں آگ ہے نگر میں آگ

اُن کو جنت سے واسطہ ہی کیا

ہو لگی جن کے بام ودَر میں آگ

بَن نہ بدخواہ تُو کسی کا بھی

خیر میں ثلج ہے تو شَر میں آگ

ابرِ رحمت خُدا ہی برسائے

ہے بھڑک اُٹھی بحر و بَر میں آگ


اخبار الفضل جلد ۶ ۔ یکم اگست ۱۹۵۲ء لاہور ۔ پاکستان۔

۱۷۱

دُنیا میں یہ کیا فتنہ اُٹھا ہے مِرے پیارے

ہر آنکھ کے اندر سے نکلتے ہیں شرارے

یہ مُنہ ہیں کہ آہنگروں کی دھونکنیاں ہیں

دِل سینوں میں ہیں یا کہ سپیروں کے پٹارے

راتیں تو ہوا کرتی ہیں راتیں ہی ہمیشہ

پُر ہم کو نظر آتے ہیں اب دِن کو بھی تارے

ہے اَمن کا داروغہ بنایا جنھیں تُو نے

خود کر رہے ہیں فتنوں کو آنکھوں سے اشارے

اِسلام کے شیدائی ہیں خونریزی پہ مائل

ہاتھوں میں جو خنجر ہیں تو پہلو میں کٹارے

سچ بیٹھا ہے اِک کونہ میں مُنہ اپنا جھکا کر

اور جھوٹ کے اُڑتے ہیں فضاؤں میں غبارے

ظلم و ستم و جور بڑھے جاتے ہیں حد سے

ان لوگوں کو اب تُو ہی سنوارے تو سنوارے

طُوفان کے بعد اُٹھتے چلے آتے ہیں طوفاں

لگنے نہیں آتی ہے مری کشتی کنارے

گر زندگی دینی ہے تو دے ہاتھ سے اپنے

کیا جینا ہے یہ جیتے ہیں غیروں کے سہارے


اخبار الفضل جلد ۶ - ۵؍ اگست ۱۹۵۲ء لاہور۔ پاکستان۔

۱۷۲

کُفر کی طاقتوں کا توڑ ہیں ہم

رُوحِ اسلام کا نچوڑ ہیں ہم

گنتیوں سے مَقام بالا ہے

ایک بھی ہوں اگر کروڑ ہیں ہم

اُن سے مِلنا ہے گر تو ہم سے مِل

وصل کی وادیوں کے موڑ ہیں ہم

تم میں ہم میں مناسبت کیسی؟

تم مفاصل ہو اور جوڑ ہیں ہم

ہم اُمّیدوں سے پُر ہیں تم مایوس

رونی صُورت ہو تم ہنسوڑ ہیں ہم

۱۳؍ جولائی ۱۹۵۱ء بمقام سیسر


اخبار الفضل جلد ۶ - ۱۶؍ اگست ۱۹۵۲ء لاہور۔ پاکستان۔

۱۷۳

وہ دل کو جوڑتا ہے تو ہیں دِلفگار ہم

وہ جان بخشتا ہے تو ہیں جاں نثار ہم

دُولہا ہمارا زندۂ جاوید ہے جناب

کیا بے وقوف ہیں کہ بنیں سوگوار ہم

دَر اُس کا آج گر نہ کُھلا خیر کل سہی

جائیں گے اس کے دَر پہ یونہی بار بار ہم

تدبیر ایک پردہ ہے تقدیر اصل ہے

ہوں گے بس اس کے فضل سے ہی کامگار ہم

کوئی عمل بھی کر نہ سکے اُس کی راہ میں

رہتے ہیں اِس خیال سے ہی شرمسار ہم

دُنیا کی مِنّتوں سے تو کوئی بنا نہ کام

روئیں گے اُس کے سامنے اب زار زار ہم

اُٹھ کر رہے گا پردہ کِسی دِن تو دیکھنا

باندھے کھڑے ہیں سامنے اس کے قطار ہم

دُشمن ہے خوش کہ نعمتِ دنیا ملی اسے

لُوٹیں گے اس کی گود میں جا کر بہار ہم

قسمت نے کیسا جوڑ ملایا ہے دیکھنا

وہ خالقِ جہاں ہے تو مُشتِ غبار ہم


اخبار الفضل جلد ۶ - ۳۱؍ دسمبر ۱۹۵۲ء لاہور : پاکستان۔

۱۷۴

اُلفت اُلفت کہتے ہیں پر دِل اُلفت سے خالی ہے

ہے دِل میں کچھ اور مُنہ پر کچھ دُنیا کی رِیت نرالی ہے

کہتے ہیں آ دُنیا کو دیکھ ہیں اس میں کیسے نظارے

مَیں کہتا ہوں بس چُپ بھی رہو یہ میری دیکھی بھالی ہے

یاں عالم اُنکو کہتے ہیں جو دیں سے کورے ہوتے ہیں

جب دیکھو بھیڑیا نکلے گا جو بھیڑوں کا رکھوالی ہے

تقویٰ کا جھنڈا جھکتا ہے پر کُفر کی گُڈی چڑھتی ہے

اِس دُنیا میں اب نیکوں کا کوئی تو اللہ والی ہے

اندھیاری راتوں میں سجدے کرنا تو پہلی باتیں تھیں

اب دن اِک مجلس عیش کی ہے اور رات جو ہے دیوالی ہے

اب صوفے کوچیں گرجامیں اِک شان سے رکھے رہتے ہیں

مسجد میں چٹائی ہوتی تھی سو ظالم نے سرکالی ہے

کافر کے ہاتھ میں بندوقیں مومن کے ہاتھ سلاسل میں

کافر کا ہاتھ خزانوں پر مومن کی پیالی خالی ہے


اخبار الفضل جلد ، - ۳؍ جنوری ۱۹۵۴ء ۔ لاہور ۔ پاکستان۔

۱۷۵

ارے مسلم طبیعت تیری کیسی لااُبالی ہے

ترے اعمال دُنیا سے جُدا فطرت نِرالی ہے

خُدا کو دیکھ کر بھی تُو کبھی خاموش رہتا ہے

کبھی اِس زِشت رُو کو دیکھ کر اُئے اوہ کہتا ہے

کبھی اِس چشمۂ صافی کے ہمساؔئے میں بستا ہے

کبھی اِک قطرۂ آبِ مقطّر کو ترستا ہے

کبھی خروارِ غلے کے اُٹھا کر پھینک دیتا ہے

کبھی چیونٹی کے ہاتھوں سے بھی دانہ چھین لیتا ہے

کبھی آفاتِ ارضی و سماوی سے ہے ٹکراتا

کبھی لُو بھی جو لگ جائے تو تیرا مُنہ ہے مُرجھاتا

کبھی کہتا ہے تو اللہ کو کس نے بنایا ہے ؟

کبھی کہتا ہے رازِ خلق دُنیا کس نے پایا ہے؟

کبھی اللہ کی قُدرت کا بھی اِنکار ہے تجھ کو

کبھی انسان کی رفعت پہ بھی اِصرار ہے تجھ کو

کمالِ ذاتِ انسانی پہ تُو سَو ناز کرتا ہے

کبھی شانِ خداوندی پہ تُو سَو حرف دھرتا ہے

جو راحت ہو تو مُنہ راحت رساں سے موڑ لیتا ہے

مصیبت ہو تو اس کے دَر پہ سَر جا پھوڑ لیتا ہے

جہانِ فلسفہ کی علّتوں کا چارہ گر ہے تُو

مگر جو آنکھ کے آگے ہے اس سے بے خبر ہے تُو

تُو مشرق کی بھی کہتا ہے تُو مغرب کی بھی کہتا ہے

مگر رازِ درونِ خانہ پوشیدہ ہی رہتا ہے

سرود و ساز و رقص و جامِ انگوری و مئے خواری

پھر اسکے ساتھ تکبیریں بھی ہیں کیسی ہے خود داری

اگر چاہے تو بندے کو خُدا سے بھی بڑھا دے تُو

اگر چاہے تو کروبی کو دوزخ میں گرا دے تُو

غلامی رُوس کی ہو یا غلامی مغربیت کی

کوئی بھی نام رکھ لے تُو وہ ہے زنجیر لعنت کی

تُو آزادی کا ٹھپّہ کیوں غلامی پر لگاتا ہے

غلافِ قومِیَّت لے کے قرآں پر چڑھاتا ہے

یہ کھیل ارتداد کی عرصہ سے تیرے گھر میں جاری ہے

کبھی ہے مارکس کا چرچا کبھی دَرسِ بخاری ہے

مُسلمانی ہے پر اسلام سے نا آشنائی ہے

نہیں ایمان کَسَبی ، باپ دادوں کی کمائی ہے

کبھی نعروں پہ تُو قُرباں کبھی گفتار پر قُرباں

ہرے بھرے صَنَم میں اِس تِلے کردار پر قُرباں

اخبار المصلح جلد ۶ - ۲۵؍ ستمبر ۱۹۵۳ء ۔ کراچی ۔ پاکستان۔

۱۷۶

دل کعبہ کو چلا مرا بُت خانہ چھوڑ کر

زمزم کی ہے تلاش اُسے مَےخانہ چھوڑ کر

کیوں چل دیا ہے شمع کو پروانہ چھوڑ کر

جاتا ہے کوئی یوں بھی کاشانہ چھوڑ کر

منجدھار میں ہے کشتی ڈبوئی خِرد نے آہ

کیا پایا میں نے خصلتِ رندانہ چھوڑ کر

اِک گونہ بیخودی مجھے دن رات چاہیے

کیوں کر جیوں گا ہاتھ سے پیمانہ چھوڑ کر

سچ ہے کہ فرق دوزخ و جنّت میں ہے خفیف

پائی نجات دام سے اِک دانہ چھوڑ کر

ہے لذّتِ سماع بھی لُطفِ نگاہ بھی

کیوں جا رہے ہو صُحبتِ جانانہ چھوڑ کر

مُلک و بِلاد سونپ دیئے دشمنوں کو سب

بیٹھے ہو گھر میں خصلتِ مَردانہ چھوڑ کر

ہے گنجِ عرش ہاتھ میں قرآن طاق پر

مینا کے ہو رہے ہیں وہ مَےخانہ چھوڑ کر

دل دے رہا ہوں آپ کو لیتے تو جائیے

کیوں جا رہے ہیں آپ یہ نذرانہ چھوڑ کر


اخبار الفضل جلد ۸ - ۲۶ ؍ ستمبر ۱۹۵۴ء لاہور۔ پاکستان

۱۷۷

ہے مدّت سے شیطان کے ہاتھ آئی

حکومت جہاں کی خُدا کی خُدائی

ہر اک چیز اُلٹی نظر آ رہی ہے

بھلائی بُرائی ، بُرائی بھلائی

یہ گنگا تو اُلٹی بہے جا رہی ہے

جو مُسلم کی دولت تھی کافر نے کھائی

میں خود اپنے گھر کا بھی مالک نہیں ہوں

ہے غیروں کے ہاتھوں میں میری بَڑائی

فرائد کا ہے ذکر ہر اک زباں پر

ہیں بھولے ہوئے اب بخاری نسائی

شجر کفر کا کاٹنا ہے مصیبت

ہے ڈمڑی کی بڑھیا نِکا سَر منڈائی

ترے باپ دادوں کے مخزن مقفَّل

ترے دل کو بھائی ہے دولت پرائی

ہیں مدح و ثنا حصۂ گبر و ترسا

یہ مُسلم کی قسمت میں ہے جگ ہنسائی

شیاطیں کا قبضہ ہے مُسلم کے دل پر

خُدا کی دُہائی خُدا کی دہائی

تُو اِک بار مجلس میں مجھ کو بُلا تو

کروں گا نہ تجھ سے کبھی بے وفائی

خُدا میرا بدلہ ہے لیتا ہمیشہ

جو گذری مرے دل پہ دُنیا پہ آئی

سُنا کرتے ہیں دل کی حالت ہمیشہ

کبھی آپ نے بھی ہے اپنی سنائی

مرا کام جلتی پہ پانی چھڑکنا

رقیبوں کا حصّہ لگائی بجھائی

محمّدؐ کی اُمّت مسیحا کا لشکر

پہیلی یہ میری سمجھ میں نہ آئی

نبوت سے مُنکر وراثت کا دعویٰ

ذرا دیکھنا مولوی کی ڈھٹائی

رہی ہے نہ تیری نہ شیطان کی وہ

کچھ ایسی ہے بگڑی خُدایا خدائی


اخبار الفضل جلد ۸ - ۷ اکتوبر ۱۹۵۳ء لاہور۔ پاکستان

۱۷۸

دِلبر کے دَر پہ جیسے ہو جانا ہی چاہیئے

گر ہو سکے تو حال سُنانا ہی چاہیئے

بیکار رکھ کے سینہ میں دل کیا کرونگا مَیں

آخر کسی کے کام تو آنا ہی چاہیئے

رنگِ وفا دکھاتے ہیں ادنیٰ دُحُوٗش بھی

غم دوستوں کا کچھ تمھیں کھانا ہی چاہیئے

اِس سیہ رُوئی پہ شوقِ ملاقات ہے عبث

اس ماہ رُو کا رنگ چڑھانا ہی چاہیئے

بے عیب چیز لیتے ہیں تحفہ میں خُوب رُو

داغِ دلِ اثیم مٹانا ہی چاہیئے

فتنہ و فسادِ دہر بڑھا جا رہا ہے آج

اس کے مٹانے کو کوئی دانا ہی چاہیئے

ساتھی بنیں گے تب کہ بڑھاؤگے دوستی

دِل غیر کا بھی تم کو نبھانا ہی چاہیئے

تعمیر کعبہ کے لیے کوئی جگہ تو ہو

پہلے صنم کدہ کو گرانا ہی چاہیئے

رونق مکاں کی ہوتی ہے اسکے مکین سے

اس دلرُبا کو دل میں بسانا ہی چاہیئے

دل ہے شکارِ حرص و ہَوا و ہَوَس ہُوا

پنجہ سے ان کے اس کو چھڑانا ہی چاہیئے

(اگست ۱۹۵۴ء: ناصر آباد۔سندھ)


اخبار الفضل جلد ۸ - ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۵۴ء لاہور پاکستان۔

۱۷۹

ہے تاروں کی دُنیا بہت دُور ، ہم سے

ہم ان سے ہیں اور وہ ہیں مہجور ہم سے

خُدا جانے ان کو ہے آزادی حاصل

کہ ہیں وہ بھی معذور ومجبور ، ہم سے

زمانہ کو حاصل ، ہو نُورِ نبوت

جو سیکھے قوانین و دَستور ، ہم سے

خدا جانے دونوں میں کیا رس بھرا ہے

ہم ان سے ہیں اور وہ ہیں مخمور ہم سے

ہم ان سے نگاہیں لڑائیں گے پیہم

وہ باتیں کریں گے بسد طُور ، ہم سے

اِدھر ہم بَند ہیں اُدھر دل بَند ہے

ہم اُس سے ہیں اور وہ ہے مجبور ہم سے

رقیبوں سے بھی چھیڑ جاری رہے گی

تعلق رہے گا بَدستور ، ہم سے

دلِ دوستاں کو نہ توڑیں گے ہرگز

نہ ٹوٹے گا ہرگز یہ بلّور ، ہم سے

دھرا ہم پہ بارِ شریعت تو پھر کیوں

فرشتوں پہ ظاہر ، ہو مستور ، ہم سے

مبارک ہو یہ دُرّآدَن کو ہی رشتہ

قرابت نہیں رکھتے لنگور ہم سے

(ناصر آباد۔سندھ)


اخبار الفضل جلد ۸ - ۲۱؍اکتوبر ۱۹۵۳ء لاہور۔ پاکستان

۱۸۰

آدم سےلیکر آج تک پیچھا ترا چھوڑا نہیں

شیطان ساتھی ہے ترا لیکن وہ ہے بئس القریں

گو بارہا دیکھا انہیں لیکن وہ لذت اور تھی

دل سے کوئی پوچھے ذرا لُطفِ نگاہِ اوّلیں

اُن سے اسے نسبت ہی کیا وہ نُور ہیں یہ نار ہے

گر وہ بلائے تو ملیں ان کے قدم میری جبیں

سو بار توبہ توڑ کر جھکتی نہیں میری نظر

جھکتی ہے ناکردہ گنہ ان کی نگاہِ شرمگیں

آنے کو وہ تیار تھے میں خود ہی کچھ شرما گیا

ان کو بٹھاؤں میں کہاں دل میں صفائی تک نہیں

ابدال کیا، اقطاب کیا، جبریل کیا، میکال کیا

جب تو خُدا کا ہو گیا سب ہو گئے زیرِ نگیں

اس پر ہوئے ظاہر محمّدؐ مُصطفٰے حبّ الورٰی

بالا ہے نہ افلاک سے کر دو بیو! میری زمیں

کھولا ہے کس تدبیر سے بابِ لقائے دلرُبا

آتے ہیں کس انداز سے اوڑھے رداء المرسلیں

آ دوست دامن تھام لیں ہم مُصطفٰے کا زور سے

ہے اک یہی بچنے کی رہ ہے اک یہی حَبْلُ الْمَتِیں

کیا فکر ہے تجھکو اگر شیطاں ہے بازی لے گیا

دُنیا خُدا کی ملک ہے تیری نہیں میری نہیں


اخبار الفضل جلد ۸ - ۲۳؍نومبر ۱۹۵۴ء لاہور۔ پاکستان

۱۸۱

مَیں نے مانا میرے دلبر تری تصویر نہیں

تیرے دیدار کی کیا کوئی بھی تدبیر نہیں

سب ہی ہو جائیں مُسلماں تری تقدیر نہیں

یا دُعاؤں میں ہی میری کوئی تاثیر نہیں

دل میں بیٹھے کہ سمائے میری آنکھوں میں تُو

میری تعظیم ہے اس میں تری تحقیر نہیں

دلربا کیسا ہے جو دل نہ لبھائے میرا

سینے کے پار نہ ہو جائے تو وہ تیر نہیں

ہے قیادت سے بھی پُر لطف اطاعت مجھکو

ہَوں تو مَیں پیر مگر شکر ہے بے پیر نہیں

صاف ہو جائے دلِ کافر و مُنکر جس سے

تیری تقدیر میں ایسی کوئی تدبیر نہیں

اُس کی آواز پہ پھر کیوں نہیں کٹتے لبیک

طوق گردن میں نہیں پاؤں میں زنجیر نہیں

مجھ سے وحشی کو کیا ایک اشارے میں رام

کیا یہ جادُو نہیں کیا رُوح کی تسخیر نہیں

سبق آزادی کا دیتے ہیں دلِ عاشق کو

اُن کی زُلفوں میں کوئی زُلف گرہ گیر نہیں

کوئی دُشمن اُسے کر سکتا نہیں مجھ سے جُدا

ہے تصوّر ترا دل میں کوئی تصویر نہیں

ان کی جادُو بھری باتوں پہ مرا جاتا ہوں

قتل کرتے ہیں مگر ہاتھ میں شمشیر نہیں

جس کی تھی چیز اُسی کے ہی حوالے کر دی

دے کے دل خوش ہوں مَیں اس بات پہ دلگیر نہیں

جس پہ عاشق ہوا ہُوں مَیں وہ اسی قابل تھا

خود ہی تم دیکھ لو اس میں میری تقصیر نہیں

رُوحِ انسانی کو جو بخشے جلا ہے اکسیر

مس کو چھُو کر جو طِلا کر دے وہ اکسیر نہیں


اخبار الفضل جلد ۴۸۔ ۱۷؍دسمبر ۱۹۵۳ء لاہور۔ پاکستان۔

۱۸۲

تصویر کا پہلا رُخ

مَر رہا ہے بھوک کی شدت سے بیچارہ غریب

ڈھانکنے کو تن کے گاڑھا تک نہیں اسکو نصیب

کھاتے ہیں زردہ پلاؤ و قورما و شیر مال

مخملی دوشالے اوڑھے پھرتے ہیں اسکے رقیب

تیرے بندے اے خُدا دُنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں

اصطبل میں گھوڑے ہیں بھینسیں بھی ہیں کچھ شیر دار

سبزے کی کثرت سے گھر بھی بن رہا ہے مرغزار

لب پہ انکے قہقہے ہیں اُن کی آنکھوں میں بہار

رُوح انسانی ہے پُر خاموش بیٹھی سوگوار

تیرے بندے اے خُدا دُنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں

جب وَبا آئے تو پہلے اس سے مرتے ہیں غریب

مالداروں کو مگر لگتے ہیں ٹیکے ، ہے عجیب

موت جس کے پاس ہے بے دُہ تو محروم دَوا

اور جو محفوظ ہیں ان کو دوائیں ہیں نصیب

تیرے بندے اے خُدا دُنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں

نُورِ قُرآں کی تجلی ہے زمانہ بھر میں آج

احمد ثانی نے رکھ لی احمدِ اوّل کی لاج

کُفر نے بُت توڑ ڈالے دَیر کو ویراں کیا

پر مُسلمانوں کے گھر میں ہے جہالت ہی کا راج

تیرے بندے اے خُدا دُنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں

ورثہٴ بنوئی کے ڈر سے مولوی کا احترام

الفتِ پدری کی خاطر سَیِّدوں کے ہیں غلام

جو بھی کچھ ہے غیر کا ہے ان کی حالت ہے تہیہ

دولتِ عقبیٰ سے خالی نعمتِ دُنیا حرام

تیرے بندے اے خُدا دُنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں

یاد ہیں قُرآن کے الفاظ تو ان کو تمام

اور پُوچھیں تو ہیں کہتے یہ ہے اللہ کا کلام

پر یقیں مفقود ہے ایمان ہے بالکل ہی خام

علم وعرفاں کی غذا ان پر ہے قطعا ہی حرام

تیرے بندے اے خُدا دُنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں

مال سے ہے جیب خالی علم سے خالی ہے سَر

یادِ خالق سے ہے غفلت رہتی ہے فکرِ دگر

مال خود برباد دیراں مال دیگر پر نظر

منزلِ آخر سے غافل پھر رہے ہیں دَر بدر

تیرے بندے اے خُدا دُنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں

بے قدم دُنیا کا ہر دم آگے آگے جا رہا

تیز تر گردش میں ہیں پہلے سے اب اَرض وسما

آج کوئی بھی نظر آتا نہیں ساکن ہمیں

ایک مُسلم ہے کہ ہے آرام سے بیٹھا ہُوا

تیرے بندے اے خُدا دُنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں

فکر انسانی فلک پر اُڑ رہا ہے آج کل

فلسفہ دکھلا رہا ہے خوب اپنا زور و بَل

پَر مسلماں راستہ پر محوِ حیرت ہے کھڑا

کہہ رہا ہے اس کو مُلّا اک قدم آگے نہ چل

تیرے بندے اے خُدا دُنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں

شمعِ نورِ آسمانی کو دیا جس نے بجھا

باب وحی حق کا جس نے بند بالکل کردیا

جس نے فضلِ ایزدی کی راہیں سب مسدود کیں

ہے اسی مُلّا کو مُسلم نے بنایا راہ نما

تیرے بندے اے خُدا دُنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں

اخبار الفضل جلد ۸ - ۳۱؍دسمبر ۱۹۵۴ء - ربوہ ۔ پاکستان

تصویر کا دوسرا رُخ

وہ بھی ہیں کچھ جو کہ تیرے عشق سے مخمور ہیں

دُنیوی آلائشوں سے پاک ہیں اور دُور ہیں

دُنیا والوں نے اُنہیں بے گھر کیا بے در کیا

پھر بھی ان کے قلب حُبّ خلق سے معمور ہیں

تیرے بندے اے خُدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں

ڈھانپتے رہتے ہیں ہر دم دوسروں کے عیب کو

ہیں چھپاتے رہتے وہ دنیا جہاں کے عیب کو

ان کا شیوہ نیک ظنی نیک خواہی ہے سدا

آنے دیتے ہی نہیں دل میں کبھی بھی رَیب کو

تیرے بندے اے خُدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں

روز و شب قرآن میں فکر و تدبّر مشغلہ

اُن پہ دروازہ کُھلا ہے دین کے اَسرار کا

مجھ میں اُن میں غیریت کوئی نظر آتی نہیں

ہیں اگر وہ مال تیرا تُو بھی ان کا ہے صلہ

تیرے بندے اے خُدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں

اک طرف تیری محبّت اک طرف دُنیا کا درد

دل پھٹا جاتا ہے سینے میں ہے چہرہ زرد زرد

ہیں لگے رہتے دُعاؤں میں وہ دن بھی رات بھی

ہیں زمین و آسماں میں پھر رہے وہ رَہ نَورد

تیرے بندے اے خُدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں

جن کو بیماری لگی ہے وہ ہیں غافل سو رہے

پَر یہ ان کی فکر میں ہیں سخت بے کل ہو رہے

ایک بیماری سے گھائل ایک فکروں کا شکار

دیکھئے دُنیا میں باقی یہ رہے یا وہ رہے

تیرے بندے اے خُدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں

بادۂِ عرفاں سے تیری ان کے سر مخمور ہیں

جذبۂ الفت سے تیرے ان کے دل معمور ہیں

ان کے سینوں میں اُٹھا کرتے ہیں طوفاں نِت نئے

وہ زمانہ بھر میں دیوانے ترے مشہور ہیں

تیرے بندے اے خُدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں

طاقت و قوّت کے مالک ان کا مُنہ کرتے ہیں بند

دین کی گدی کے وارث پھینکتے ہیں ان پہ گند

وہ ہر اک صیّاد کے تیروں کا بنتے ہیں ہدف

جس کا بس چلتا ہے پہنچاتا ہے وہ ان کو گزند

تیرے بندے اے خُدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں

فکرِ خود سے فکرِ دُنیا کے لیے آزاد ہیں

شاد کرتے ہیں زمانہ بھر کو خود ناشاد ہیں

دُنیا والوں کی نظر میں پھر بھی ٹھہرتے ہیں حقیر

ہیں گنہ لازم مگر سب نیکیاں برباد ہیں

تیرے بندے اے خُدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں

بند کر کے آنکھ دُنیا کی طرف سے آج وہ

رکھ رہے ہیں تیرے دیں کی سب جہاں میں لاج وہ

تیری خاطر سہہ رہے ہیں ہر طرح کی ذلّتیں

پر ادا کرتے نہیں شیطاں کو ہرگز باج وہ

تیرے بندے اے خُدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں

ساری دُنیا سے ہے بڑھ کر حوصلہ ان کا بلند

پھینکتے ہیں عرش کے کنگوروں پر اپنی کمند

کیوں نہ ہو وہ صاحبِ معراج کے شاگرد ہیں

آسماں پر اُڑ رہا ہے اس لیے ان کا سمند

تیرے بندے اے خُدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں

جن کو سمجھی تھی بُرا دُنیا دُہی تیرے ہوئے

شیر کی مانند اُٹھے ہیں وہ اب بھرے ہوئے

نام تیرا کر رہے ہیں ساری دُنیا میں بلند

جاں ہتھیلی پر دھرے سر پر کفن باندھے ہوئے

تیرے بندے اے خدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں


۱۸۳

بڑھتی رہے خُدا کی محبت خُدا کرے

حاصل ہو تم کو دید کی لذت خُدا کرے

توحید کی ہو لب پہ شہادت خُدا کرے

ایمان کی ہو دل میں حلاوت خُدا کرے

پڑ جائے ایسی نیکی کی عادت خُدا کرے

سر زد نہ ہو کوئی بھی شرارت خُدا کرے

حاکم رہے دلوں پہ شریعت خُدا کرے

حاصل ہو مُصطفٰے کی رفاقت خُدا کرے

مٹ جائے دل سے زنگِ ذالت خُدا کرے

آ جائے پھر سے دَورِ شرافت خُدا کرے

مل جائیں تم کو زہد و امانت خُدا کرے

مشہور ہو تمہاری دیانت خُدا کرے

بڑھتی رہے ہمیشہ ہی طاقت خُدا کرے

جسموں کو چھو نہ جائے نقاہت خُدا کرے

مل جائے تم کو دین کی دولت خُدا کرے

چمکے فلک پہ تارۂ قسمت خُدا کرے

ٹل جائے جو بھی آئے مصیبت خُدا کرے

پہنچے نہ تم کو کوئی اذیت خُدا کرے

منظور ہو تمہاری اطاعت خُدا کرے

مقبول ہو تمہاری عبادت خُدا کرے

سُن لے ندائے حق کو یہ اُمت خُدا کرے

پکڑے بزور دامنِ ملت خُدا کرے

چھوٹے کبھی نہ جامِ سخاوت خُدا کرے

ٹوٹے کبھی نہ پائے صداقت خُدا کرے

راضی رہو خُدا کی قضا پر ہمیشہ تم

لب پر نہ آئے حرفِ شکایت خُدا کرے

احسان و لُطف عام رہے سب جہان پر

کرتے رہو ہر اک سے مروّت خُدا کرے

گہوارۂ علوم تمہارے بنیں قلوب

پھٹکے نہ پاس تک بھی جہالت خُدا کرے

بدیوں سے پہلو اپنا بچاتے رہو مدام

تقویٰ کی راہیں طے ہوں بعجلت خُدا کرے

سُننے لگے وہ بات تمھاری بذوق و شوق

دُنیا کے دل سے دُور ہو نفرت خُدا کرے

اِخلاص کا درخت بڑھے آسمان تک

بڑھتی رہے تمھاری اِرادت خُدا کرے

پھیلاؤ سب جہان میں قولِ رَسُوْل کو

حاصل ہو شرق و غرب میں سطوت خُدا کرے

پایاب ہو تمھارے لیے بحرِ معرفت

کُھل جائے تم پہ رازِ حقیقت خُدا کرے

اُٹھتا رہے ترقی کی جانب قدم ہمیشہ

ٹوٹے کبھی تمھاری نہ ہمّت خُدا کرے

تبلیغِ دین و نشرِ ہدایت کے کام پر

مائل رہے تمھاری طبیعت خُدا کرے

سایہ فگن رہے وہ تمھارے وجود پر

شامل رہے خُدا کی عنایت خُدا کرے

زندہ رہیں علوم تمھارے جہان میں

پائندہ ہو تمھاری لیاقت خُدا کرے

سَو سَو حجاب میں بھی نظر آئے اُس کی شان

تم کو عطا ہو ایسی بصیرت خُدا کرے

ہر گام پر فرشتوں کا لشکر ہو ساتھ ساتھ

ہر نَک میں تمھاری حفاظت خُدا کرے

قرآنِ پاک ہاتھ میں ہو دل میں نُوْر ہو

مِل جائے مومنوں کی فراست خُدا کرے

دجّال کے بچھائے ہوئے جال توڑ دو

حاصل ہو تم کو ایسی ذہانت خُدا کرے

پرواز ہو تمھاری نہ افلاک سے بلند

پیدا ہو بازوؤں میں وہ قوّت خُدا کرے

بطحا کی وادیوں سے جو نکلا تھا آفتاب

بڑھتا رہے وہ نورِ نبوّت خُدا کرے

قائم ہو پھر سے حکمِ مُحَمَّدْ جہان میں

ضائع نہ ہو تمھاری یہ محنت خُدا کرے

تم ہو خُدا کے ساتھ خُدا ہو تمھارے ساتھ

ہوں تم سے ایسے وقت میں رُخصت خُدا کرے

اِک وقت آئے گا کہ کہیں گے تمام لوگ

مِلّت کے اس فدائی پہ رحمت خُدا کرے

اخبار الفضل جلد ۹۔ یکم جنوری ۱۹۵۵ء ربوہ : پاکستان۔

۱۸۴

دید کی راہ بتائی تھی ہے تیرا احساں

اُس کی تدبیر سُجھائی تھی ہے تیرا احساں

تم سے ملنے کی خُدا کو بھی ہے خواہش یہ خبر

مُصْطَفٰے تُو نے سُنائی تھی ہے تیرا احساں

ہفت اقلیم کو جو راکھ کئے دیتی تھی

تُو نے وہ آگ بجھائی تھی ہے تیرا احساں

راہ گیروں کو بچانے کے لیے ظُلمت میں

شمع اِک تُو نے جلائی تھی ہے تیرا احساں

جس نے ویرانوں کو دُنیا کے کیا ہے آباد

بستی وہ تُو نے بسائی تھی ہے تیرا احساں

جس کی گرمی سے مری رُوح ہوئی ہے پُختہ

تُو نے وہ آگ جلائی تھی ہے تیرا احساں

عرش سے کھینچ کے لے آئی خدا کو جو چیز

تیری بر وقت دُہائی تھی ہے تیرا احساں

آج مُسلم کو جو ملتی ہے ولایت وَاللہ

سب ترے حصّہ میں آئی تھی ہے تیرا احساں

قیدِ شیطاں سے چھڑانے کے لیے عاصی کو

کس نے تکلیف اٹھائی تھی ہے تیرا احساں

تُو نے انسان کو انسان بنایا پھر سے

ورنہ شیطا ن کی بَن آئی تھی ہے تیرا احساں


الفضل جلد ۹ ۔ ۱۰؍ فروری ۱۹۵۵ء۔ ربوہ۔ پاکستان

۱۸۵

کرو جان قُربان راہِ خُدا میں

بڑھاؤ قدم تم طریقِ وفا میں

فرشتوں سے مل کر اُڑو تُم ہوا میں

مہک جائے خوشبوئے ایماں فضا میں

ہوا کیا کہ دشمن ہے ابلیس پیارو

خُدا نے نوازا ہے ہر دو سَرا میں

ہے قرآن میں جو سُرور اور لذّت

نہ ہے مثنوی میں نہ بانگِ درا میں

محبت رہے زندہ تیرے ہی دم سے

تُو مشہورِ عالَم ہو عہدِ وفا میں

خُدا کی نظر میں رہے تُو ہمیشہ

ہو مشغول دل تیرا ذکرِ خُدا میں

تجھے غیر کے غم میں مرنے کی عادت

مہارت ہے غیروں کو جور و جفا میں

مساواتِ اسلام قائم کرو تم

رہے فرق باقی نہ شاہ و گدا میں


اخبار الفضل جلد ۱۰ - ۳۰/ دسمبر ۱۹۵۶ء ربوہ ۔ پاکستان ۔

۱۸۶

کچھ دن کی بات ہے بارہ بجے کے قریب میری آنکھ کھلی تو زبان پر یہ اشعار جاری تھے ۔ گویا یہ غزل القائی ہے ۔ ہاں اتنا فرق ہے کہ پہلا شعر تو لفظ بلفظ یاد رہا ہے اور باقی اشعار میں سے اکثر ایسے ہیں جن کے بعض لفظ تو بھول گئے اور جاگنے پر خود اس کمی کو پورا کیا گیا اور دو تین شعر ایسے ہیں جو سارے کے سارے جاگنے پر بنائے گئے ۔ اب یہ سب اشعار اشاعت کے لیے الفضل کو بھجوائے جاتے ہیں۔

(مرزا محمود احمد)

اے خُدا دل کو مرے مَزْرَعِ تقویٰ کر دیں

ہوں اگر بد بھی تو تُو بھی مجھے اچھا کر دیں

میری آنکھیں نہ ہٹیں آپ کے چہرہ سے کبھی

دل کو وارفتہ کریں محوِ تماشا کر دیں

دانۂ سُبْحَہ پراگندہ ہیں چاروں جانب

ہاتھ پر میرے اُنہیں آپ اکٹھا کر دیں

ساری دُنیا کے پیاسوں کو کروں میں سیراب

چشمۂ شور بھی ہوں گر مجھے میٹھا کر دیں

مَیں بھی اُس سیّدِ بطحا کا غلامِ در ہوں

دَم سے روشن مرے بھی وادئِ بطحا کر دیں

ٹیڑھے رستہ پہ چلے جاتے ہیں تیرے بندے

پھیر لائیں اُنھیں اور راہ کو سیدھا کر دیں

منتظر بیٹھے ہیں دروازہ پہ عاشق اے رَبّ

تھوک دیں غصّہ کو دروازہ کو پھر وا کر دیں

احمدی لوگ ہیں دُنیا کی نگاہوں میں ذلیل

اُن کی عِزّت کو بڑھائیں اُنہیں اُونچا کر دیں

میرے قدموں پہ کھڑے ہو کے تجھے دیکھیں لوگ

ربّ اَبْرَام مجھے اِس کا مصلّےٰ کر دیں

مجھ سے کھویا ہُوا ایمان مُسلماں پائیں

ہوں تو سفلی پہ مجھے آپ ثریا کر دیں

لوگ بیتاب ہیں بیحد کہ نمونہ دیکھیں

سالکِ رہ کے لیے مجھ کو نمونہ کر دیں

مقصدِ خلق بر آئے گا یہی تو ہو گا

اندھی دُنیا کو اگر فضل سے بینا کر دیں

غلطیاں آپ کو سجتی نہیں میرے پیارے

پردے سب چاک کریں چہرہ کو ننگا کر دیں

اپنے ہاتھوں سے ہوئی ہے مری قسمت برباد

میری بیماری کا اب آپ مداویٰ کر دیں

بار آور ہو جو ایسا کہ جہاں بھر کھائے

دل میں میرے وہ شجرِ خیر کا پیدا کر دیں

میں تہی دست ہوں رکھتا نہیں کچھ راسِ عمل

جو نہیں پاس مرے آپ مہیا کر دیں

اخبار الفضل جلد ۱۱۔ ۶ فروری ۱۹۲۵ء ربوہ ۔ پاکستان ۲؎ مراد مُسلمان ہیں ۳؎ ابراہیم علیہ السّلام

۱۸۷

میرے آقا ! پیش ہے یہ حاصلِ شام و سحر

سینۂ صافی کی آہیں آنکھ کے لعل و گُہر

مَیں نے سمجھا تھا جوانی میں گزر جاؤنگا پار

اب جو دیکھا سامنے ہیں پھر وہی خوف و خطر

کثرتِ آثام سے ہے خم ہوئی میری کمر

اَب یہی اِس کا مداوا ہے کہ کردیں درگزر

آپ تو ہیں مالکِ ارض و سمائے میری جاں

آپ کا خادم مگر پھرتا ہے کیوں یوں دَربدر

بے سروساماں ہوں اِس دُنیا میں اے میرے خُدا

اپنی جنّت میں بنا دیں آپ میرا ایک گھر

آدمِؑ اوّل سے لےکر وہ ہے زندہ آج تک

ایسی طاقت دے کچل ڈالوں میں اب شیطاں کا سر

مومنِ کامل کا گھر ہے جنّتِ اعراف میں

اور دوزخ کا مکیں ہے جو بنا ہے مَنْ کَفَرْ

وُہ بھی اوجھل ہے مری آنکھوں سے جو ہے سامنے

ہے ترے علمِ ازل میں جو ہے غائب مُستتر

میرے ہاتھوں میں نہیں ہے نیک ہو یا بَد ہو وُ

ملک میں تیری ہے یا رب خیر ہو وہ یا کہ شر

آج سب مُسلم خواتین کی ہیں عُریاں زینتیں

تُو نے فرمایا تھا ہے پردے سے باہر مَا ظَهَرَ

سایۂ کفّار سے رکھیو مجھے باہر ہمیش

اے مرے قدّوس اے میرے مَلِک بحر و بَرّ

لاکھ حملہ کُن ہو مجھ پر فتنۂ زندیقیت

بیچ میں آ جائیو ، بن جائیو میری سِپَر

ہیں ترے بندے مگر ہاتھوں کی طاقت سلب ہے

کفر کا خیمہ لگا ہے قریہ قریہ گھر بہ گھر

جن کو حاصل تھا تقرب وُہ ہیں اب معتوبِ دہر

اور ہیں مسند پہ بیٹھے جو ہیں خِچّر اور خَر


اخبار الفضل جلد ۱۱۔ ۳۱؍ دسمبر ۱۹۵۶ء ربوہ ۔ پاکستان۔

۱۸۸

ہوئی طے آدمؑ و حوّا کی منزل اُنس و قُربت سے

مگر ابلیس اندھا تھا کہ چِٹّھا حق کی لعنت سے

خُدا کا قُرب پائیگا نہ راحت سے نہ غفلت سے

یہ درجہ گر ملے گا تو فقط ایثار و محنت سے

الٰہی تُو بچالے سب مُسلمانوں کو ذِلّت سے

کہ جو کچھ کر رہے ہیں کر رہے ہیں مُنہ جہالت سے

عزیزو! دِل رہیں آباد بس اس کی مُحبّت سے

بنو زاہد، کرو اُلفت نہ ہرگز مال و دولت سے

خُدا سے پیار کرو دِل سے اگر رہنا ہو عزّت سے

کہ ابراہیمؑ کی عزّت تھی سب مولیٰ کی خُلّت سے

اگر رہنا ہو راحت سے تو رہ کامل قناعت سے

کبھی بھی تر نہ ہو تیری زباں حرفِ شکایت سے

تعلق کوئی بھی رکھنا نہ تم بُغض و عداوت سے

کہ مومن کو ترقی ملتی ہے مہر و محبّت سے

تری یہ عاجزی بالا ہے سب دُنیا کی عزّت سے

تجھے کیا کام ہے دُنیا کی رفعت اور شوکت سے

تِرا دُشمن بُرائی چاہتا ہے گر شرارت سے

تو اس کا توڑ لے مُنہ تُو محبّت سے مروّت سے

مِلا ہے عِلم سے مجھ کو نہ کچھ اپنی لیاقت سے

مِلا ہے مجھ کو جو کچھ بھی سو مولیٰ کی عنایت سے

بسر کر عُمر تو اپنی نہ سو سو کر نہ غفلت سے

کہ ملتی ہے ہر اک عزّت اطاعت سے عبادت سے

گئی ابلیس کی تدبیر ضائع سب بہ فضلِ اللہ

ملی ہے آدم و حوّا کو جنّت حق کی رحمت سے

کلیم اللہ کے پیرو بنے ہیں پیروِ شیطاں

دکھایا سامری نے کیا تماشہ اپنی لُعبت سے

جنھوں نے پائی ہے اللہ کی کوئی شریعت بھی

اُنھیں تُو ٹھیک کر سکتا نہیں، پُر تقی و حکمت سے

مرے ہاتھوں تو پیدا ہو گئی ہیں الجھنیں لاکھوں

جو سُلجھیں گی تو سُلجھیں گی ترے دستِ مروّت سے

مرا سردار کوثر بانٹنے بیٹھا ہے جب پانی

تو دل میں خیال مت لا کہ وہ بانٹے گا جُست سے

مسیحا کے لیے لکھا ہے وہ شیطاں کو مارے گا

نہ مارے گا وہ آہن سے کریگا قتل حجّت سے

مری بخشش تو وابستہ ہے تیری چشم پوشی سے

الٰہی رحم کر مجھ پر مرا جاتا ہوں خِفّت سے

مجھے تو اے خُدا دُنیا میں ہی تُو بخش دے جنّت

تسلّی پا نہیں سکتا ، قیامت کی زیارت سے

ترے دَر کے سوا دیکھوں نہ دروازہ کسی گھر کا

کبھی مت کھینچیو ہاتھ اپنا تو میری کفالت سے

نہ بُھول اے ابنِ آدم اپنے دادا کی حکایت کو

نکالا تھا اُسے ابلیس نے دھوکہ سے جنّت سے

خُدا سے بڑھ کے تم کو چاہنے والا نہیں کوئی

کسی کا پیار بڑھ سکتا نہیں ہے اُسکی چاہت سے

کرو دجّال کو تم سرنگوں اطرافِ عالم میں

کہ ہے بر ریز دل اس کا محمدؐ کی عداوت سے

کبھی مغرب کی باتوں میں نہ آنا اے مرے پیارو

نہیں کوئی ثقافت بڑھ کے اسلامی ثقافت سے

یہ ظاہر میں غلامی ہے مگر باطن میں آزادی

نہ ہونا منحرف ہرگز محمدؐ کی حکومت سے

کہا تھا طُور پر موسیٰؑ کو اس نے لَنْ تَرَانِيْ پرّ

محمدؐ پر ہوا جلوہ تَدَلّٰی کا عنایت سے

ترے دشمن تو سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ جائیں گے

نہ ڈر اُن سے کھڑا ہو سامنے تُو اُنکے جُرأت سے

ہے کرنا زیر شیطاں کا بہت مشکل مگر سمجھو

کہ حل ہوتی ہے یہ مشکل دُعاؤں کی اِجابت سے

خُدایا دُور کر دے ساری بدیاں تو مرے دِل سے

ہُوا برباد ہے میرا سکوں عقبیٰ کی دہشت سے

اخبار الفضل جلد ۱۲ — ۲۱؍ دسمبر ۱۹۵۸ء ۔ ربوہ ۔ پاکستان۔

۱۸۹

بَلا کی آگ بَرستی ہے آسماں سے آج

ہیں تیر جھپٹ رہے تقدیر کی کماں سے آج

اُٹھ اور اُٹھ کے دکھا زور حُبّ ملت کا

یہ التجا ہے مِری پیر اور جواں سے آج

وہ چاہتا ہے کہ ظاہر کرے زمانہ پر

ہمارے دل کے ارادے اس امتحاں سے آج

جو دل کو چھید دے جاکر عدوِّ مُسلم کے

وہ تیر نکلے الٰہی مری کماں سے آج

خُدا ہماری مدد پر ہے جو کہ ہیں مظلوم

مٹائے گا وہ عَدُو کو مرے جہاں سے آج

جلا کے چھوڑیں گے اعدائے کینہ پرور کو

نکل رہے ہیں جو شعلے دِلِ تپاں سے آج

ہزار سال مُسلماں نے تجھ کو پالا ہے

یہ غیظ تجھ میں اُبھر آیا ہے کہاں سے آج

جو قلبِ مومنِ صادق سے اُٹھ رہی ہے دُعا

اُتر رہے ہیں فرشتے بھی کہکشاں سے آج

ہمارے نیک ارادوں پر اس قدر شبہات

خُدا ضرور ہی نپٹے گا بدگماں سے آج

عَدُو یہ چاہتا ہے ہم کو لامکاں کردے

ہمیں بھی آئے گی امداد لامکاں سے آج

فرشتے بھر رہے ہیں اس کو اپنے دامن میں

نکل رہی ہے دُعا جو مری زباں سے آج

پڑے گی رُوح نئی جسمِ زارِ مُسلم میں

وہ کام ہوگا مرے جسمِ نیم جاں سے آج

دُعائیں شعلۂ جوالہ بن کے اُتریں گی

جلا کے رکھ دیں گے اعداء کو ہم فغاں سے آج

جیوشِ ابرہہ کو تہس نہس کر دے گی

اُڑے گی فوجِ طیور اپنے آشیاں سے آج

شہید ہوں گے جو اسلام کی حفاظت میں

ملاقی ہوں گے وہی اپنے دلستاں سے آج

انہیں کے نام سے زندہ رہے گا نامِ وطن

گھروں سے نکلیں گے جو ہاتھ دھو کے جان سے آج

ہمیں وہ دامنِ رحمت سے ڈھانپ لیں گے ضرور

بھریں گے گھر کو ہمارے وہ ارمغاں سے آج

مشامِ جان معطر کرے گی جو خوشبو!

مہک رہی ہے وہی میرے بوستاں سے آج

اخبار الفضل جلد ۵۴/۱۹ - ۱۵؍ ستمبر ۱۹۶۵ء ربوہ ۔ پاکستان۔

۱۹۰

یہ نظم بہت پرانی ہے غالباً ۱۹۳۴ء کے لگ بھگ کی، کھو گئی تھی۔ صرف حضورؐ کو مطلع یاد رہ گیا تھا اور حضورؐ نے ۱۹۴۷ء میں دوبارہ اسی مطلع پر نظم کہی تھی۔ جو ۹؍ نومبر ۱۹۵۱ء کے ’الفضل‘ میں شائع ہوئی! اب کاغذات دیکھتے ہوئے پہلی نظم حضورؐ کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی مل گئی ہے۔ جو ذیل میں شائع کی جا رہی ہے۔

(مریم صدیقہ)

ایک دل شیشہ کی مانند ہوا کرتا ہے

ٹھیس لگ جائے ذرا سی تو صدا کرتا ہے

مَیں نے پوچھا جو ہو کیوں چُپ تو تَنَک کر بولے

ہم بھرے بیٹھے ہیں جانے بھی دے کیا کرتا ہے

دوستی اور وفاداری ہے سب عیش کے وقت

آڑے وقتوں میں بھلا کون وفا کرتا ہے

چلتے کاموں میں مدد دینے کو سب حاضر ہیں

جب بگڑ جائیں فقط ایک خدا کرتا ہے

کیا بتاؤں تجھے کیا باعثِ خاموشی ہے

میرے سینہ میں یُونہی دَرد، ہوا کرتا ہے

مَیں تو بیداری میں رکھتا ہوں سنبھالے دل کو

جب مَیں سو جاؤں تو یہ آہ و بَکا کرتا ہے

تم نے بھی آگ بجھائی نہ کبھی آ کے ہری

میری آنکھوں سے مرا دل یہ گلہ کرتا ہے

درد تو اور ہی کرتا ہے تقاضا دل سے

پر وہ اظہارِ محبت سے دَبا کرتا ہے

ہجر میں زیست مجھے موت نظر آتی ہے

کوئی ایسا بھی ہے عاشق جو جیا کرتا ہے

بیٹھ جاتا ہوں وہیں تھام کے اپنے سر کو

جب کبھی دل میں مرے درد اُٹھا کرتا ہے


اخبار الفضل جلد ۵۵/۲۰ - ۲۶؍ مارچ ۱۹۶۶ء

۱۹۱

قبل از ہجرت قادیاں میں

آمد کا تیری پیارے ہو انتظار کب تک

ترسے گا تیرے مُنہ کو یہ دلفگار کب تک

کرتا رہے گا وعدے اے گلعذار کب تک

چبھتا رہے گا دل میں حسرت کا خار کب تک

کھولے گا مجھ پہ کب تک یہ رازِ خلق و خالق

دیکھونگا تیری جانب آئینہ دار کب تک

ہر چیز اس جہاں کی ڈھلتا ہوا ہے سایہ

روزِ شباب کب تک لطفِ بہار کب تک

ان وادیوں کی رونق کب تک رہے گی قائم

یہ اَبر و باد و باراں یہ سبزہ زار کب تک

یہ قدّ وخال کب تک یہ چال ڈھال کب تک

اس حُسنِ عارضی میں آخر نکھار کب تک

بیٹھیں گے ابنِ آدم کب کُنجِ عافیت میں

شور و شغب یہ کب تک یہ خرخشار کب تک

بعد ہجرت سندھ کے سفر میں

تری تدبیر جب تقدیر سے لڑتی ہے اے ناداں

تو اِک نقصان کے بدلے ترے ہوتے ہیں سو نقصاں

وہ خود دیتے ہیں جب مجھکو بھلا انکار ممکن ہے

مَیں کیوں فاقے رہوں جب شاہ کے گھر میں ہواہمہاں

بٹھا کر مائدہ پر لاکھ وہ خاطر کریں میری

گدا پھر بھی گدا ہے اور سُلطاں پھر بھی ہے سُلطاں

جب آئے دل میں آؤ اور جو چاہو کہو اس سے

یہ وہ دَر ہے کہ جس کا کوئی حاجب ہے ، نہ ہے دَرباں


اخبار الفضل جلد ۵۵/۳۴ - ۲۶؍ مارچ ۱۹۶۶ء

۱۹۲

جنابِ مولوی تشریف لائیں گے تو کیا ہو گا

وہ بھڑکائیں گے لوگوں کو مگر اپنا حُدا ہو گا

یہی ہو گا نا۔ غصّہ میں وہ ہم کو گالیاں دیں گے

سُنائیں گے وہ کچھ پہلے نہ جو ہم نے سُنا ہو گا

ہم اُن کی تلخ گفتاری پہ ہرگز کچھ نہ بولیں گے

جو بگڑے گا تو اُن کا منہ ۔ ہمارا ہرج کیا ہو گا

وہ کافر اور مُلحد ہم کو بتلائیں گے منبر پر

ہمارے زندقہ کا فتویٰ سب میں برملا ہو گا

کہیں گے قتل کرنا اس کا جائز بلکہ واجب ہے

جو اس کو قتل کر دے گا وہ محبوبِ خدا ہو گا

جو اس کا مال لوٹے گا وہ ہو گا داخلِ جنّت

جو حملہ اس کی عزت پر کرے گا با صفا ہو گا

جو اس کے ساتھ چھو جائے اچھوتوں کی طرح ہو گا

جو اس سے بات کرے گا وہ شیطاں سے بُرا ہو گا

ہر اک جاہل یہ باتیں سُن کے بھر جائے گا غصہ سے

ہمارے قتل پر آمادہ ہر چھوٹا بڑا ہو گا

وہ جن کے پیار و اُلفت کی قسم کھاتے تھے ہم اب تک

ہر اک اُن میں سے کل پیاسا ہمارے خُون کا ہو گا

تعلق چھوڑ دیں گے باپ ماں بھائی برادر سب

جو اب تک یارِ جانی تھا وہ کل نا آشنا ہو گا

وہ جس کی صحبت و مجلس میں دن اپنے گزرتے تھے

ہمارے ساتھ اس کا کل سُلُوکِ ناروا ہو گا

ہماری سنگ باری کے لیے پتھر چنیں گے سب

کمر میں ہر کَس و ناکس کے اک خنجر بندھا ہو گا

اکابر جمع ہو کر بھنگیوں کے گھر بھی جائیں گے

کہیں گے گر کرو گے کام ان کا تو بُرا ہو گا

اگر سودے کی خاطر ہم کبھی بازار جائیں گے

ہر اک تاجر کہے گا جا میاں! ورنہ بُرا ہو گا

ہمارے واسطے دُنیا بنے گی ایک ویرانہ

سوا اُس یار جانی کے نہ کوئی دُوسرا ہو گا

ہمیں وہ ہر طرف سے ڈھانپ لے گا اپنی رحمت سے

جو آنکھوں میں بسا ہو گا تو دل میں وہ چُھپا ہو گا

تبھی توحید کا بھی لطف آئے گا ہمیں صاحب

زمین پر بھی خدا ہو گا فلک پر بھی جُدا ہو گا

سمجھتے ہو کہ یہ سب کچھ ہمارے ساتھ کیوں ہوگا ؟

یہ ظلمِ ناروا کس وجہ سے ہم پر روا ہوگا ؟

ہمارا جُرم بس یہ ہے کہ ہم ایمان رکھتے ہیں

کہ جب ہو گا اِسی اُمّت سے پیدا رہنما ہوگا

نہ آئے گا مسلمانوں کا رہبر کوئی باہر سے

جو ہوگا خود مسلمانوں کے اندر سے کھڑا ہوگا

ہمارے سیّد و مولا نہیں محتاج غیروں کے

قیامت تک بس اب دَورہ اُنہی کے فیض کا ہوگا

جو اپنی زندگی اُن کی غلامی میں گزارے گا

بنے گا رہنمائے قوم فخرالانبیاء ہوگا

اخبار الفضل ربوہ - ۲۰؍ جون ۱۹۶۶ء

۱۹۳

خُدا کی رحمت سے مہرِعالم اُفق کی جانب سے اُٹھ رہا ہے

رگِ محبّت پھڑک رہی ہے دل ایک شُعلہ بنا ہوا ہے

تمہارے گھٹتے ہوئے ہیں سائے ہمارے بڑھتے ہوئے ہیں سائے

ہماری قسمت میں یہ لکھا ہے تمہاری قسمت میں وہ لکھا ہے

اِدھر بھی دیکھو اُدھر بھی دیکھو زمیں کو دیکھو فلک کو دیکھو

تو راز کُھل جائے گا یہ تم پر کہ بندہ بندہ ، خُدا خُدا ہے

وہ شمسِ دُنیائے معرفت جو چمک رہا تھا کبھی فلک پر

خُدا کے بندوں کی غفلتوں سے وہ دلدلوں میں پھنسا ہوا ہے

کلامِ یزداں پہ آج مُلّا نے ڈھیروں کپڑے چڑھا رکھے ہیں

کبھی جو تھا زندگی کا چشمہ وہ آج جوہڑ بنا ہوا ہے

نگاہِ کافر زمیں سے نیچے نگاہِ مومن فلک سے اُوپر

وہ قعرِ دوزخ میں جل رہا ہے یہ اپنے مولیٰ سے جا ملا ہے

تلاش اس کی عبث ہے واعظ کجا ترا دل کجا وہ دلبر

وہ تیرے دل سے نکل چکا ہے نگاہِ مومن میں بس رہا ہے

ہیں مجھ میں لاکھوں ہی عیب پھر بھی نگاہِ دلبر پہ چڑھ گیا ہوں

جو بات سچّی ہے کہہ رہا ہوں نہ کچھ خفا ہے نہ کچھ ریا ہے


اخبار الفضل ربوہ - ۱۱؍ جنوری ۱۹۶۵ء ۔ یہ اشعار جون ۱۹۵۰ء؁ میں سندھ کے سفر میں کہے گئے تھے۔

۱۹۴

قدموں میں اپنے آپ کو مولا کے ڈال تُو

خوف و ہراس غیر کا دل سے نکال تُو

لعلِ دگر کے عشق میں دُنیا ہے پھنس رہی

تُو اس سے آنکھ موڑ ہے مولا کا لال تُو

سایہ ہے تیرے سر پہ خدائے جلیل کا

دُشمن کے جور و ظلم سے ہے کیوں نڈھال تُو

اے میرے مہربان خُدا ! اِک نگاہِ مہر

کانٹا جو میرے دل میں چُبھا ہے نکال تُو

اس لالہ رُخ کے عشق میں مَیں مَستِ حال ہُوں

آنکھیں دکھا رہا ہے مجھے لال لال تُو

دُنیا کے گوشہ گوشہ میں پھیلا ہوا ہے گند

ہر ہر قدم پہ ہوش سے دامن سنبھال تُو

تیرا جہانِ وہم ہے میرا جہاں عمل

مَیں مَستِ حال ہُوں تو ہے مستِ خیال تُو

(نومبر ۱۹۵۱ء)


اخبار الفضل ۳۱؍دسمبر ۱۹۶۸ء

۱۹۵

دل دے کے مُشتِ خاک کو دلدار ہو گئے

اپنی عطاء کے آپ خریدار ہو گئے

پہلے تو ساحروں کے عصا ناز ہو گئے

لیکن عصائے موسیٰ سے بیکار ہو گئے

اس عشق میں گلاب بھی اب خار ہو گئے

دل کے پھپھولے جل اُٹھے انگار ہو گئے

تیری عنایتوں نے دکھایا ہے یہ کمال

اعداء سخت آج نگوں سار ہو گئے

میرے مسیح ! تیرا تقدس کمال ہے

بے دین تھے جو آج وہ دیندار ہو گئے

کیوں کانپتا ہے دشمنِ جاں تیرے پیار سے

جو دوست تھے وہ طالبِ آزار ہو گئے

اُن کو سزا بھی دی تو بڑائی ہے اس میں کیا

جو خود ہی اپنے نفس سے بیزار ہو گئے

اللہ کے فرشتوں کی طاقت تو دیکھ تُو

جو ہم کو مارتے تھے گرفتار ہو گئے

جھوٹوں کو حق نے کر کے دکھایا ہے سر بلند

جو تھے ذلیل قوم کے سردار ہو گئے

بھائی ! زمانہ کا یہ تغیّر تو دیکھنا

جو صاحبِ جلال تھے بے کار ہو گئے

مولا کی مہربانی تو دیکھو کہ کس طرح

جو تابعِ فرنگ تھے سرکار ہو گئے

سُستی نے خُونِ قوم کا چُوسا ہے اس طرح

جو سربراہ کار تھے بے کار ہو گئے

عشقِ خُدا نے خول چڑھایا تھا اس کے گرد

اَنگار بھی خلیلؑ پہ گلزار ہو گئے


اخبار الفضل جلد ۴- ۲۶ دسمبر ۱۹۱۶ء

۱۹۶

حضورؓ کی یہ نظم ہمیں حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہا العالی نے عطا فرمائی ہے۔

روتے روتے ہی کٹ گئیں راتیں

ذکر میں ہی بَسَر ہوئیں راتیں

جن میں ہوتا ہے وصلِ یار نصیب

ایسی بھی ہوتی ہیں کہیں راتیں

ایسی راتوں کو یاد کرتا ہوں

دل مکاں ہے تو ہیں مکیں راتیں

جن کو ہوتا ہے یار کا دیدار

ہیں انہیں کے لیے بنی راتیں

لاکھ دن ان کے نام پر قرباں

نگہتیں راتیں عنبریں راتیں

عاشقوں کے لیے ہیں اک رحمت

ناز بردار نازنیں راتیں

دن کی تاریکیاں ہیں کرتی دُور

مہ نما ہیں یہ مہ جبیں راتیں

جن میں موقع ملے تہجد کا

ہوتی ہیں بس وہ بہترین راتیں

شمع پروانوں کو نصیب ہو جب

دن کہو ان کو وہ نہیں راتیں

سوتے سوتے میں جو گذر جائیں

وہی راتیں ہیں بد ترین راتیں


۱۹۷

اس کی چشم نیم وا کے مَیں بھی سرشاروں میں ہوں

درمیاں میں ہوں نہ سوتوں میں نہ بیداروں میں ہوں

گرد اس کے گھومتا ہوں روز و شب دیوانہ وار

لوگ گر سمجھیں تو بس اِک مَیں ہی ہشیاروں میں ہوں

ہم سفر سنبھلے ہوئے آنا کہ رستہ ہے خراب

پر قدم ڈھیلا نہ ہو مَیں تیز رفتاروں میں ہوں

خود پلائی ہے مجھے اُس نے مئے عرفانِ خاص

معترض ! نازاں ہوں مَیں اس پر کہ میخواروں میں ہوں

پائی جاتی ہے وفا جو اُس میں مجھ میں وہ کہاں

مَیں کہوں کس مُنہ سے اسکو مَیں وفاداروں میں ہوں


۱۹۸

یا فاتحِ رُوحِ ناز ہو جا

یا تُو ہمہ تن نیاز ہو جا

خدمت میں ہی عشق کا مزا ہے

محمود نہ بن ایاز ہو جا

کر خانۂ فکر کو مقفَّل

ہاتھوں میں کسی کے ساز ہو جا

ہے جنبشِ صراط پر ترا پاؤں

وا دیدہ و گوش باز ہو جا

کوتاہ نگاہیاں یہ کب تک

گیسو کی طرح دراز ہو جا

جا دُھونی رما دے اُس کے دَر پر

انجام سے بے نیاز ہو جا

پیارے تجھے غیر سے ہے کیا کام

آ آ مرے دل کا راز ہو جا


اخبار الفضل جلد ۱۲ - ۲۲ نومبر ۱۹۲۴ء • اخبار الفضل جلد ۲۰ - ۳ جنوری ۱۹۳۳ء

۱۹۹

گو بحرِ گنہ میں بے بس ہو کر

پہم غوطے کھاتے جاؤ

دل مت چھوڑو پیارو اپنا

سر لہروں میں اُٹھاتے جاؤ

جس ذات سے پالا پڑتا ہے

وہ دل کو دیکھنے والی ہے

مایوس نہ ہو تم جتنا ڈوبو

اُتنی اُمّید بڑھاتے جاؤ


۲۰۰

ہو فضل تیرا یا رب یا کوئی اِبتلا ہو

راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تری رَضا، ہو

مٹ جاؤں مَیں تو اس کی پَروا نہیں ہے کچھ بھی

میری فنا سے حاصل گر دین کو بقا، ہو

سینے میں جوشِ غیرت اور آنکھ میں حیا ہو

لَب پر ہو ذکر تیرا دل میں تری وفا، ہو

شیطان کی حکومت مٹ جائے اِس جہاں سے

حاکم تمام دُنیا پہ میرا مُصطفےٰ ہو

محمودؔ عمر میری کٹ جائے کاش یُونہی

ہو رُوح میری سجدہ میں سامنے خُدا ہو


۲۰۱

نکال دے میرے دل سے خیال غیروں کا

محبّت اپنی مرے دل میں ڈال دے پیارے

یہ گھر تو تُو نے بنایا تھا اپنے رہنے کو

بُتوں کو کعبۂ دل سے نکال دے پیارے

اُچھل چکا ہے بہت نام لات وعُزّٰی کا

اَب اپنا نام جہاں میں اُچھال دے پیارے

حیات بخش وہ جس پر فنا نہ آئے کبھی

نہ ہو سکے جو تبہ ایسا مال دے پیارے

بجھا دے آگ مرے دل کی آبِ رحمت سے

مصائب اور مَکاره کو ٹال دے پیارے


اخبار الفضل جلد ۲۰ - ۳ جنوری ۱۹۳۳ء از رسالہ فرقان ۔ ماہ اپریل ۱۹۴۳ء اخبار الفضل جلد ۲۲ - ۱۷ مئی ۱۹۳۴ء

۲۰۲

پڑے سو رہے ہیں جگا دے ہمیں

مُرے جا رہے ہیں جِلا دے ہمیں

ارادت کی راہیں دکھا دے ہمیں

مَحَبّت کی گھاتیں سکھا دے ہمیں

جو پیاروں کے کانوں میں کہتے ہیں لوگ

وہ میٹھی سی باتیں سُنا دے ہمیں

وہ کثرت پہ اپنی ہیں رکھتے گھمنڈ

تُو اپنے کرم سے بڑھا دے ہمیں

ہیں رو رو کے آنکھیں بھی جاتی رہیں

مری جان اب تو ہنسا دے ہمیں

(ناصر آباد ۔ سندھ)


۲۰۳

عِشقِ خُدا کی مے سے بھرا جام لائے ہیں

ہم مصطفٰے کے ہاتھ پہ اسلام لائے ہیں

عاشق بھی گھر سے نکلے ہیں جاں دینے کیلئے

تشریف آج وہ بھی سرِ بام لائے ہیں

تم غیر کو دکھا کے ہمیں قتل کیوں کرو

ہم کب زباں پہ شکوہ سرِ عام لائے ہیں

ہم اپنے دِل کا خُون اُنہیں پیش کرتے ہیں

گُلرُو کے واسطے مَئے گُلفام لائے ہیں

دُنیا میں اس کے عشق کا چرچا ہے چار سُو

تحفہ کے طور پر دلِ بدنام لائے ہیں

قرآں سے ہم نے سیکھی ہے تدبیرِ بے خطا

صیدِ ہُما کے واسطے اِک دام لائے ہیں

(کنبجی (سندھ) اور ربوہ کے سفر کے دوران)


اخبار الفضل جلد ۸ - ۵ ستمبر ۱۹۵۴ء لاہور ۔ پاکستان۔ اخبار الفضل جلد ۸ - ۱۴ ستمبر ۱۹۵۴ء لاہور ۔ پاکستان

۲۰۴

ہے بھاگتی دُنیا مجھے دیوانہ سمجھ کر

ہے شمع قریب آ رہی پروانہ سمجھ کر

دیکھا تو ہر اک جام میں تھا زہرِ ہلاہل

ہم آئے تھے اِس دُنیا کو میخانہ سمجھ کر

مَیں تم سے ہُوں تم مجھ سے ہو تن ایک ہے جاں ایک

کیوں چھوڑتے ہو تم مجھے بیگانہ سمجھ کر

کہتے رہے ہم اُن سے دلِ زار کی حالت

سُنتے رہے وہ غیر کا افسانہ سمجھ کر

لٹکی ہے ہر اک گوشہ میں تصویر سبھی کی

دل کو نہ مرے چھوڑیئے ویرانہ سمجھ کر


۲۰۵

لاکھ دوزخ سے بھی بدتر ہے جدائی آپ کی

بادشاہی سے ہے بڑھ کر آشنائی آپ کی

اک نگہ میں زالِ دُنیا چھین کر دل لے گئی

رہ گئی بے کار ہو کر دِل رُبائی آپ کی

مُسلمِ بے چارہ قیدِ عیسوی میں ہے پھنسا

یہ خدائی کُفر کی ہے یا خُدائی آپ کی

حُسن و اِحساں میں نہیں ہے آپ کا کوئی نظیر

آپ اندھا ہے جو کرتا ہے بُرائی آپ کی

اِس کا ہر ہر قول حُجّت ہے زمانہ بھر پہ آج

میرزاؐ میں جلوہ گر ہے میرزائی آپ کی


اخبار الفضل جلد ۴۰ - ۲۶؍اکتوبر ۱۹۵۲ء لاہور۔ پاکستان ✤ اخبار الفضل جلد ۴۰ - ۱۴؍نومبر ۱۹۵۲ء لاہور۔ پاکستان

۲۰۶

اے مُحَمَّدؐ ! اے حبیبِ کردگار !

مَیں ترا عاشق ، ترا دلدادہ ہوں

گو ہیں قالب دو مگر ہے جان ایک

کیوں نہ ہو ایسا کہ خادم زادہ ہوں

اے مرے پیارے ! سہارا دو مجھے

بیکس و بے بس ہوں خاک اُفتادہ ہوں

جنتِ فردوس سے آیا ہوں مَیں

تشنہ لب آئیں کہ جامِ بادہ ہوں

میری اُلفت بڑھ کے ہر اُلفت سے ہے

تیری رہ میں مرنے پر آمادہ ہوں


۲۰۷

میرے تیرے پیار کا ، ہو راز داں کوئی نہ اور

روک مجھ میں اور تجھ میں پھر نہ کچھ باقی رہے

ایک مَیں ہوں پینے والا ایک تو ساقی رہے

کاش تو پہلو میں میرے خود ہی آ کر بیٹھ جائے

عشق سے مخمور ہو کر وصل کا ساغر پلائے

ایک بیکس نیم جاں کو آزمانا چھوڑ دے

نارِ فرقت سے مرے دل کو جلانا چھوڑ دے


اخبار الفضل جلد ۱۲- ۱۶ جولائی ۱۹۵۸ء - ربوہ۔ پاکستان اخبار الفضل جلد ۱۶- ۲۵ دسمبر ۱۹۶۲ء - ربوہ۔ پاکستان

۲۰۸

صُبح اپنی دانہ چیں ہے شام اپنی ملک گیر

ہاں بڑھائے جا قدم سُستی نہ کر اے ہم صفیر

اپنی تدبیر و تفکر سے نہ ہرگز کام لے

راہ نُما ہے تیرا کامل راہ او مُحکم بگِیر

آسماں کے راستوں سے ایک تُو ہے باخبر

ورنہ بھٹکے پھر رہے ہیں آج سب برنا و پِیر

ذرہ ذرہ ہے جہاں کا تابعِ فرمانِ حق

تم ترقی چاہتے ہو تو بنو اس کے اسِیر


۲۰۹

وہ علم دے جو کتابوں سے بے نیاز کرے

وہ عقل دے کہ دو عالم میں سرفراز کرے

وہ بھر دے جوشِ جنوں میرے سر میں اے مولیٰ

جو آگے بڑھ کے دَرِ وصل پھر سے باز کرے

مجھے تو اس سے غرض ہے کہ راضی ہو دلبر

یہ کام قیس کرے یا کوئی اَیاز کرے

نہ آئیں اس کے بُلانے پہ وہ ہے ناممکن

جو شخص عشق کی راہوں میں دل گداز کرے

خدا کرے اسے دُنیا و آخرت میں تباہ

جو دشمنانِ محمّد سے ساز باز کرے

تری ہتھیلی پہ میں اپنے جان و دل دَھر دُوں

گر اپنا ہاتھ مری سمت تو دراز کرے

خدا کرے مری سب عمر یوں گذر جائے

میں اس کے ناز اٹھاؤں وہ مجھ پہ ناز کرے


۲۱۰

گُناہوں سے بھری دُنیا میں پیدا کر دیا مُجھ کو

مرے خالق مرے مالک یہ کیسا گھر دیا مجھ کو

تقدس کی تڑپ دِل میں تو آنکھوں میں حیا رکھی

مگر ان خواہشوں کے ساتھ دامن تَر دیا مُجھ کو

اِنہیں اضداد میں گر زندگی میری گزرنی تھی

نہ کیوں اِک عقل و دانائی سے خالی کر دیا مُجھ کو

مثالِ سنگ بحرِ سعیِ پیہم میں پڑا رہتا

نہ کچھ پرواہ ہوتی پاس رہتا یا جُدا رہتا

لُڑھکنا ہی تھا قسمت میں تو بیہوشی بھلی ہوتی

نہ احساسِ وفار رہتا نہ پاسِ آشنا رہتا

مگر یہ کیا کہ میرے ہاتھ پاؤں باندھ کر تُو نے

لگا دی آگ اور وقفِ تمنا کر دیا مُجھ کو


۲۱۱

خَم ہو رہی ہے میری کمر جسم چُور ہے

منزل خُدا ہی جانے ابھی کتنی دُور ہے

میرا تو کچھ نہیں ہے اُسی کا ظہور ہے

فانوس ہوں مَیں اور خدا اس کا نُور ہے

کھڑکی جمالِ یار کی ہیں ”عجز و انکسار“

سب سے بڑا حجاب سَرِ پُر غرور ہے

ہمت نہ ہار اس کے کرم پر نگاہ رکھ

مایوسیوں کو چھوڑ وُہ ربِّ غفور ہے


اخبار الفضل مورخہ ۱۹؍دسمبر ۱۹۶۵ء ۔ ربوہ ۔ پاکستان۔

قطعات


باغِ کفّار سے ہم نت نئے پھل کھاتے ہیں

دل ہی دل میں وہ جسے دیکھ کے جل جاتے ہیں

یہ نہ سمجھو کہ وہ بن کھائے پئے جیتے ہیں

وہ بھی کھاتے ہیں مگر نیزوں کے پھل کھاتے ہیں

بدر ۱۸؍ فروری ۱۹۰۵ء


لیکھو سے کہا تھا جو، ہوا وہ پورا

کیا تم نے وہ دیکھی نہیں مرزا کی دُعا

اب بھی کرو انکار تو حیرت کیا ہے

مشہور ہے بے شرم کی ہے دُور بلا

بدر ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۷ء


چھ مارچ کو لیکھو نے اُٹھایا لنگر

دُنیا سے کیا کُوچ سُوئے نارِ سقر

تھی موت کے وقت اس کی یہ طُرفہ حالت

لب پہ تھی اگر آہ تو تن میں خنجر

یہ آریہ کہتے ہیں کہ لیکھو ہے شَہِید

ایسی تو نہ تھی ہم کو بھی اُن سے اُمّید

تھی موت وہ ذلّت کی شہادت کیسی

کیا جن پہ پڑے قہرِ خُدا ہیں وہ شہید

بدر ۲۱؍ مارچ ۱۹۰۷ء


کہتا ہے زاہد کہ میں فرمانروائی چھوڑ دوں

گر خدا مجھ کو ملے ساری خدائی چھوڑ دوں

دانۂ تسبیح اور اشکوں کا مطلب ہے اگر

آب و دانہ کے لیے سب پارسائی چھوڑ دوں

بدر ۱۸؍ فروری ۱۹۰۹ء


ہائے کثرت مرے گناہوں کی

وائے کوتاہی میری آہوں کی

اِس پہ یہ فضل یہ کرم یہ رحم

کیا طبیعت ہے بادشاہوں کی

بدر ۳۰ جون ۱۹۱۰ء


ہائے اس غفلت میں ہم یاروں سے پیچھے رہ گئے

یہ بھی کیسا پیار ہے پیاروں سے پیچھے رہ گئے

بڑھ گئے ہم سے صحابہؓ توڑ کر ہر روک کو

ہم سُبک ہو کر گراںباروں سے پیچھے رہ گئے

بدر ۲۰؍جولائی ۱۹۱۰ء


عابد کو عبادت میں مزا آتا ہے

قاری کو تلاوت میں مزا آتا ہے

مَیں بندۂ عشق ہُوں مجھے تو صاحب

دلبر کی محبت میں مزا آتا ہے

الفضل ۹؍ اگست ۱۹۱۷ء


مرکزِ شرک سے آوازۂ توحید اُٹھا

دیکھنا دیکھنا مغرب سے ہے خورشید اُٹھا

نُور کے سامنے ظُلمت بھلا کیا ٹھہرے گی

جان لو جلد ہی اب ظُلَمِ صنادید اُٹھا

۲۱؍ستمبر ۱۹۲۰ء


اُٹھی آواز جب اذاں کی اللہ کے گھر سے

تو گونج اُٹھے گا لندن نعرۂ اللہ اکبر سے

اُڑے گا پرچمِ توحید پھر سقفِ مُعلّٰی پر

پلٹینگے دھکے دیوِ شرک کو گھر گھر سے دَر دَر سے

الفضل ۱۱؍اکتوبر ۱۹۲۰ء


اے جان و دل کے مالک میری جان نکل رہی ہے

تیری یاد چٹکیوں میں میرے دل کو کَل رہی ہے

نہیں جُز دعائے یُونسؑ کے رہا کوئی بھی چارہ

کہ غم و الم کی مچھلی مجھے اب نگل رہی ہے

کبھی وہ گھڑی بھی ہو گی کہ کہوں گا یا الٰہی!

مری عرض تُو نے سُن لی وہ مجھے اُگل رہی ہے

اخبار الفضل ۲۲؍نومبر ۱۹۲۳ء


عبث ہیں باغِ احمدؐ کی تباہی کی یہ تدبیریں

چُھپی بیٹھی ہیں تیری راہ میں مولیٰ کی تقدیریں

بھلا مومن کو قاتل ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے

نگاہیں اس کی بجلی ہیں تو آہیں اس کی شمشیریں

تری تقصیریں خود ہی تجھ کو لے ڈوبیں گی اے ظالم

پٹ جائینگی تیرے پاؤں میں لُوہ بن کے زنجیریں

اخبار الفضل ۳۰؍دسمبر ۱۹۳۷ء


نظر آرہی ہے چمک اُس حُسْنِ ازل کی شمعِ مجاز میں

کہ کوئی بھی اب تو مزا نہیں رہا قَیْسِ عشقِ مجاز میں


سمندر سے ہوائیں آرہی ہیں

میرے دل کو بہت گرما رہی ہیں

عرب جو ہے مرے دلبر کا مسکن

بُوئے خوش اس کی لے کر آرہی ہیں

بشارت دینے سب خورد و کلاں کو

اُچھلتی کودتی وہ آ رہی ہیں


اے مسیحا کبھی پُوچھو گے بھی بیمار کا حال

کون ہے جس سے کہے جا کے دلِ زار کا حال

آنکھ کا کام نکل سکتا ہے کب کانوں سے

دل کے اندھوں سے کہوں کیا ترے دیدار کا حال۳؎

اندازاً ۱۹۳۸ء یا ۱۹۳۹ء


رہے حسرتوں کا پیارے میری جاں شکار کب تک؟

ترے دیکھنے کو ترسے دلِ بے قرار کب تک؟

شبِ ہجر ختم ہوگی کہ نہ ہو گی یا الٰہی!

مجھے اتنا تو بتا دے کروں اِنتظار کب تک؟

کبھی پُوچھو گے بھی آ کر کہ بتا تُو حال کیا ہے

یوں ہی خوں بہائے جائے دلِ داغدار کب تک؟

اندازاً ۳۶-۱۹۳۹ء


گُل ہیں پُر ان میں پہلی سی اَب بُو نہیں رہی

مُوئی تو مِل ہی جاتے ہیں پَر چُھو نہیں رہی

مغرب کا ہے بچھونا تو مغرب کا اوڑھنا

اسلام کی تو کوئی بھی اَب خُو نہیں رہی

از رسالہ ریویو آف ریلیجنز اُردو ماہ جولائی ۱۹۴۴ء


اِس زمانہ میں اماموں کی بڑی کثرت ہے

مقتدی ملتے نہیں ان کی بڑی قِلت ہے

اِس پہ یہ اور ہے آفت کہ ہیں باغی پَیرو

اور لیڈر کو جو دیکھو تو وہ کم ہمت ہے

از رسالہ ریویو آف ریلیجنز اُردو ۔ ماہ جولائی ۱۹۴۴ء


یہ متاعِ ہوش و بیداری کبھی لُٹنا بھی ہے

اس جہاں کی قید و بندش سے کبھی چُھٹنا بھی ہے

گر توکّل جس قدر چاہے کہ اِک نعمت ہے، یہ

یہ بتائے باندھ رکھا اُونٹ کا گھٹنا بھی ہے

۲۰؍جولائی ۱۹۵۱ء۔ نوشہرہ


اپنا لیا عدو نے ہر ایک غیر قوم کو

تقسیم ہو کے رہ گئے ہو تم شعوب میں

سالک! تجھے نویدِ خوشی دینے کے لیے

پھرتا ہوں مشرق و مغرب و شمال و جنوب میں

مفتی سے اِس سوال کا حل ہو نہیں سکا

ہیں تجھ میں ہی قلُوب کہ تُو ہے قلُوب میں

۲۰؍جولائی ۱۹۵۱ء


قرض سے دُور رہو قرض بڑی آفت ہے

قرض لیکر جو اکڑتا ہے وہ بے غیرت ہے

اپنے محسن پہ ستم اِس سے بڑا کیا ہو گا

قرض لیکر جو نہ دے سخت ہی بَد فطرت ہے


اخبار المصلح جلد ۷، ۳۱ جنوری ۱۹۵۴ء۔ کراچی۔ پاکستان۔

فاقوں مَر جائے پہ جائے نہ دیانت تیری

دُور و نزدیک ہو مشہور اَمانت تیری

جان بھی دینی پڑے گر تو نہ ہو اس سے دریغ

کسی حالت میں نہ جھوٹی ہو ضمانت تیری


غضب خدا کا کہ مالِ حَرام کھاتا ہے

نہیں ہے حرص کی حَد، صبح و شام کھاتا ہے

نماز چھوٹے تو چُھٹ جائے کچھ نہیں پَروا

مگر حَرام کی روٹی مُدام کھاتا ہے


حرام مال پہ تو جان و دل سے مرتا ہے

وہ جس طرح سے بھی ہاتھ آئے کر گذرتا ہے

یہ کیسا پیار ہے اھل و عیال سے تیرا

شِکم غریبوں کا انگاروں سے جو بھرتا ہے


وقف ہے جاں بہرِ مال و سِیم و زر

مال دینے والے سے ہے بے خبر

ایسے اَندھے کا کریں ہم کیا علاج

مغز سے غافل ہے چھلکے پر نظر


وقف کرنا جاں کا ہے کسبِ کمال

جو ہو صادق وقف میں ہے بیمثال

چمکیں گے واقف کبھی مانندِ بدر

آج دُنیا کی نظر میں ہیں ہلال


دھیرے دھیرے ہوتا ہے کسبِ کمال

بُو بکرؓ کو بننا پڑتا ہے بلالؓ

شمس پہلے دن سے کہلاتا ہے شمس

بدر ہوتا ہے مگر پہلے ہلال


آ کہ پھر ظاہر کریں اُلفت کے راز

پیار میں ہو جائیں گم، عُمْرت دراز

میرے پیچھے پیچھے چلتا آ کہ میں

بندۂ محمود ہوں اور تُو اَیاز


تیری اُلفت کا جو شکار ہُوا

مر کے پھر زندہ لاکھ بار ہُوا

سر کو سینہ پہ رکھ لیا میرے

غم سے جب بھی مَیں اشکبار ہُوا

۳۱؍جنوری ۱۹۵۷ء


تیری خوشی گیاہ میں میری خوشی نگاہ میں

میرا جہان اور ہے تیرا جہان اور ہے

ہیں اسی بحر کے گُہر ہے اسی حبیب کا یہ نُور

ظالمو! بات ہے وہی لیک زُبان اور ہے

رسالہ جامعہ النصرت میگزین جلد ۴ نمبر ۱۔ بابت ماہ جون ۱۹۶۶ء


الہامی قطعہ

آج ۲۶؍ جنوری کی رات کو میں نے دیکھا کہ کراچی کا کوئی اخبار ہے۔ جو کسی دوست نے مجھے بھیجا ہے اور اس میں کچھ باتیں احمدیت کی تائید میں لکھی ہوئی ہیں۔ اس اخبار میں سیاہی سے اس دوست نے نشان کر دیا ہے تاکہ میں اس کو پڑھ سکوں۔ اس کا مطالعہ کرنے کے بعد میں نے دیکھا کہ اخبار کے اوپر کے حصہ میں چار کالموں میں چار قطعات دُو دُو شعر کے چھپے ہوئے ہیں اور اچھے اچھے موٹے موٹے حروف میں لکھے ہوئے ہیں۔ مضمون تو میرے ذہن میں نہیں مگر مجھے وہ پسند آیا اور میں نے چاہا کہ میں بھی ایک قطعہ لکھوں۔ اس پر میں نے رؤیا میں ایک قطعہ کہنا شروع کیا جو یہ ہے :


مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ اے حضرتِ لولاکؔ

ہوتے نہ اگر آپؐ تو بنتے نہ یہ افلاک

جو آپؐ کی خاطر ہے بنا آپؐ کی شے ہے

میرا تو نہیں کچھ بھی یہ ہیں آپؐ کے اَملاک


یہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جوں جوں یہ شعر کہتا جاتا ہوں گویا اس جگہ یعنی اس اخبار میں بہت ہی خوبصورت طور پر ساتھ ہی لکھے بھی جاتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ الفاظ بعینہٖ سارے کے سارے اسی طرز پر تھے لیکن مضمون اور اکثر الفاظ یہی تھے۔ پھر رؤیا کی حالت بدل جانے کے بعد غنودگی میں مَیں یہ شعر پڑھتا رہا ہوں۔ اس لیے ممکن ہے کہ بعض الفاظ اس میں بدل کر آگئے ہوں۔


اخبار الفضل جلد ۶ ۔ ۲۷؍ جنوری ۱۹۵۲ء لاہور ۔ پاکستان ۔

اک طرف تقدیرِ مبرم اک طرف عرض و دُعا

فضل کا پلڑا جھکا دے اے مرے مُشکل کُشا


روزِ جزا قریب ہے اور رَہ بعید ہے

اخبار الفضل بابت ۱۹۳۵ء


رہے وفا و صداقت پہ میرا پاؤں مدام

ہو میرے سر پہ مری جان! تیری چھاؤں مدام

اخبار الفضل جلد ۲۵۔ ۴؍نومبر ۱۹۳۶ء


جاتے ہوئے حضور کی تقدیر نے جناب

پاؤں کے نیچے سے ہر سے پانی بہا دیا

دارالہجرت ربوہ کے متعلق الہامی شعر اندازاً اپریل ۱۹۴۹ء