فہرست

درِّ ثمین (اردو)

صفحات ۳–۱۹۰

نصرتِ الٰہی

خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے

جب آتی ہے تو پھر عالَم کو اِک عالَم دکھاتی ہے

وہ بنتی ہے ہَوا اور ہر خسِ رَہ کو اُڑاتی ہے

وہ ہو جاتی ہے آگ اور ہر مخالف کو جلاتی ہے

کبھی وہ خاک ہو کر دشمنوں کے سر پہ پڑتی ہے

کبھی ہو کر وہ پانی اُن پہ اِک طوفان لاتی ہے

غرض رُکتے نہیں ہرگز خدا کے کام بندوں سے

بھلا خالق کے آگے خَلق کی کچھ پیش جاتی ہے


براہین احمدیہ حصہ دوم صفحہ ۱۱۴۔ مطبوعہ ۱۸۸۰ء

دعوتِ فکر

یارو! خودی سے باز بھی آؤ گے یا نہیں؟

خُو اپنی پاک صاف بناؤ گے یا نہیں؟

باطل سے مَیل دل کی ہٹاؤ گے یا نہیں؟

حق کی طرف رجوع بھی لاؤ گے یا نہیں؟

کب تک رہو گے ضِدّ و تعصّب میں ڈوبتے؟

آخر قدم بَصِدق اٹھاؤ گے یا نہیں؟

کیونکر کرو گے رَدّ جو محقق ہے ایک بات؟

کچھ ہوش کر کے عذر سناؤ گے یا نہیں؟

سچ سچ کہو، اگر نہ بنا تم سے کچھ جواب!

پھر بھی یہ منہ جہاں کو دکھاؤ گے یا نہیں؟


براہین احمدیہ حصہ دوم۔ مطبوعہ ۱۸۸۰ء

فضائلِ قرآنِ مجید

جمال و حُسنِ قرآں نورِ جانِ ہر مُسلماں ہے

قمر ہے چاند اَوروں کا، ہمارا چاند قرآں ہے

نظیر اُس کی نہیں جمتی نظر میں فکر کر دیکھا

بھلا کیونکر نہ ہو یکتا کلامِ پاکِ رحماں ہے

بہارِ جاوداں پیدا ہے اُس کی ہر عبارت میں

نہ وہ خوبی چمن میں ہے نہ اُس سا کوئی بُستاں ہے

کلامِ پاکِ یَزْداں کا کوئی ثانی نہیں ہرگز

اگر لُؤلُؤئے عُمّاں ہے وگر لعلِ بدخشاں ہے

خدا کے قول سے قولِ بشر کیوں کر برابر ہو

وہاں قدرت یہاں درماندگی فرقِ نمایاں ہے

ملائک جس کی حضرت میں کریں اقرارِ لاعِلمی

سُخن میں اُس کے ہمتائی، کہاں مقدورِ انساں ہے

بنا سکتا نہیں اِک پاؤں کیڑے کا بشر ہرگز

تو پھر کیونکر بنانا نورِ حق کا اُس پہ آساں ہے

ارے لوگو! کرو کچھ پاس شانِ کبریائی کا

زباں کو تھام لو اب بھی اگر کچھ بُوئے ایماں ہے

خُدا سے غیر کو ہمتا بنانا سخت کَفراں ہے

خدا سے کچھ ڈرو یارو، یہ کیسا کِذب و بہتَاں ہے؟

اگر اِقرار ہے تم کو خُدا کی ذاتِ واحد کا

تو پھر کیوں اِس قدر دل میں تمہارے شرک پنہاں ہے؟

یہ کیسے پڑ گئے دل پر تمہارے جہل کے پردے؟

خطا کرتے ہو باز آؤ اگر کچھ خوفِ یزداں ہے

ہمیں کچھ کیں نہیں بھائیو نصیحت ہے غریبانہ

کوئی جو پاک دل ہووے دل وجاں اُس پہ قرباں ہے


براہینِ احمدیہ حصہ سوم صفحہ ۱۸۲۔ مطبوعہ ۱۸۸۲ء

عیسائیوں سے خطاب

آؤ عیسائیو! ادھر آؤ!

نورِ حق دیکھو! راہِ حق پاؤ!

جس قدر خوبیاں ہیں فرقاں میں

کہیں انجیل میں تو دکھلاؤ!

سر پہ خالق ہے اُس کو یاد کرو

یونہی مخلوق کو نہ بہکاؤ!

کب تلک جھوٹ سے کرو گے پیار

کچھ تو سچ کو بھی کام فرماؤ!

کچھ تو خوفِ خدا کرو لوگو!

کچھ تو لوگو! خُدا سے شرماؤ!

عیشِ دُنیا سدا نہیں پیارو

اِس جہاں کو بقا نہیں پیارو

یہ تو رہنے کی جا نہیں پیارو

کوئی اِس میں رہا نہیں پیارو

اِس خرابہ میں کیوں لگاؤ دل

ہاتھ سے اپنے کیوں جلاؤ دل

کیوں نہیں تم کو دینِ حق کا خیال

ہائے سَو سَو اُٹھے ہے دِل میں اُبال

کیوں نہیں دیکھتے طریقِ صواب؟

کس بلا کا پڑا ہے دل پہ حجاب؟

اِس قدر کیوں ہے کین و استکبار؟

کیوں خُدا یاد سے گیا یک بار؟

تم نے حق کو بھلا دیا ہَیْہَات

دِل کو پتھر بنا دیا ہَیْہَات

اے عزیزو! سُنو کہ بے قرآں

حق کو ملتا نہیں کبھی اِنسان

جن کو اِس نور کی خبر ہی نہیں

اُن پہ اُس یار کی نظر ہی نہیں

ہے یہ فرقاں میں اِک عجیب اثر

کہ بناتا ہے عاشقِ دلبر

جس کا ہے نام قادرِ اکبر

اُس کی ہستی سے دی ہے پُختہ خبر

کوئے دِلبر میں کھینچ لاتا ہے

پھر تو کیا کیا نشاں دکھاتا ہے

دِل میں ہر وقت نور بھرتا ہے

سینہ کو خوب صاف کرتا ہے

اُس کے اَوْصاف کیا کروں میں بیاں

وہ تو دیتا ہے جاں کو اَور اِک جاں

وہ تو چمکا ہے نیّرِ اکبر

اُس سے انکار ہو سکے کیونکر

وہ ہمیں دِلسِتاں تلک لایا

اُس کے پانے سے یار کو پایا!

بحرِ حِکمت ہے وہ کلامِ تمام

عشقِ حق کا پِلا رہا ہے جام

بات جب اُس کی یاد آتی ہے

یاد سے ساری خَلق جاتی ہے

سینہ میں نقشِ حق جماتی ہے

دِل سے غَیرِ خُدا اُٹھاتی ہے

دردمندوں کی ہے دوا وہی ایک

ہے خدا سے خدانما وہی ایک

ہم نے پایا خورِ ھدیٰ وہی ایک

ہم نے دیکھا ہے دِل رُبا وہی ایک

اُس کے منکر جو بات کہتے ہیں

یوں ہی اِک واہیات کہتے ہیں

بات جب ہو کہ میرے پاس آویں

میرے منہ پر وہ بات کہہ جاویں

مجھ سے اُس دِل ستاں کا حال سُنیں

مجھ سے وہ صورت و جمال سُنیں

آنکھ پھوٹی تو خیر کان سہی

نہ سہی یوں ہی امتحان سہی

براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ ۲۶۸۔ مطبوعہ ۱۸۸۲ء

اوصافِ قرآنِ مجید

نورِ فرقاں ہے جو سب نوروں سے اَجلیٰ نکلا

پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا

حق کی توحید کا مرجھا ہی چلا تھا پودا

ناگہاں غیب سے یہ چشمۂ اَصفٰی نکلا

یا الٰہی! تیرا فرقاں ہے کہ اِک عالَم ہے

جو ضروری تھا وہ سب اِس میں مہیا نکلا

سب جہاں چھان چکے ساری دُکانیں دیکھیں

مئےِ عرفاں کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا

کس سے اُس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ

وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا

پہلے سمجھے تھے کہ مُوسیٰ کا عصا ہے فرقاں

پھر جو سوچا تو ہر اِک لفظ مسیحا نکلا

ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور

ایسا چمکا ہے کہ صد نَیِّرِ بَیْضا نکلا

زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اِس دنیا میں

جن کا اِس نور کے ہوتے بھی دِل اعمٰی نکلا

جلنے سے آگے ہی یہ لوگ تو جل جاتے ہیں

جن کی ہر بات فقط جھوٹ کا پُتلا نکلا


براہینِ احمدیہ حصہ سوم صفحہ ۲۷۴۔ مطبوعہ ۱۸۸۲ء

حمدِ ربّ العالمین

کس قدر ظاہر ہے نور اُس مبدءِ الانوار کا

بن رہا ہے سارا عالَم آئینہ اَبصار کا

چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے گل ہو گیا

کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اُس میں جمالِ یار کا

اُس بہارِ حُسن کا دل میں ہمارے جوش ہے

مت کرو کچھ ذکر ہم سے تُرک یا تاتار کا

ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف

جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے ترے دیدار کا

چشمۂ خورشید میں موجیں تری مشہود ہیں

ہر ستارے میں تماشہ ہے تری چمکار کا

تو نے خود رُوحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھڑکا نمک

اُس سے ہے شورِ محبت عاشقانِ زار کا

کیا عجب تو نے ہر اک ذرّہ میں رکھے ہیں خواص

کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا

تیری قدرت کا کوئی بھی انتہا پاتا نہیں

کس سے کھل سکتا ہے پیچ اِس عُقدۂ دشوار کا

خُوبْرُویوں میں ملاحت ہے ترے اُس حُسن کی

ہر گلِ گلشن میں ہے رنگ اس ترے گلزار کا

چشمِ مستِ ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے

ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خمدار کا

آنکھ کے اندھوں کو حائل ہو گئے سَو سَو حجاب

ورنہ تھا قبلہ ترا رُخ کافر و دیندار کا

ہیں تری پیاری نگاہیں دلبر! اک تیغِ تیز

جن سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غمِ اغیار کا

تیرے ملنے کے لئے ہم مل گئے ہیں خاک میں

تا مگر دَرماں ہو کچھ اس ہجر کے آزار کا

ایک دم بھی کَل نہیں پڑتی مجھے تیرے سوا

جاں گھٹی جاتی ہے جیسے دل گھٹے بیمار کا

شور کیسا ہے ترے کوچہ میں لے جلدی خبر

خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا


سرمہ چشمِ آریہ صفحہ ۴۔ مطبوعہ ۱۸۸۶ء

سرائے خام

دنیا کی حرص و آز میں کیا کچھ نہ کرتے ہیں

نقصاں جو ایک پیسہ کا دیکھیں تو مرتے ہیں

زر سے پیار کرتے ہیں اور دل لگاتے ہیں

ہوتے ہیں زر کے ایسے کہ بس مر ہی جاتے ہیں

جب اپنے دلبروں کو نہ جلدی سے پاتے ہیں

کیا کیا نہ اُن کے ہجر میں آنسو بہاتے ہیں

پر اُن کو اُس سجن کی طرف کچھ نظر نہیں

آنکھیں نہیں ہیں کان نہیں دل میں ڈر نہیں

اُن کے طریق ودّھرم میں گو لاکھ ہو فساد

کیسا ہی ہو عیاں کہ وہ ہے جھوٹ اعتقاد

پر تب بھی مانتے ہیں اُسی کو بہر سبب

کیا حال کر دیا ہے تعصب نے، ہے غضب

دل میں مگر یہی ہے کہ مرنا نہیں کبھی

ترک اس عیال و قوم کو کرنا نہیں کبھی

اے غافلاں وفا نہ کند ایں سرائے خام

دنیائے دُوں نماند و نماند بہ کس مدام


سرمہ چشم آریہ صفحہ ۸۹۔ مطبوعہ ۱۸۸۶ء

وید

اُن کو سودا ہوا ہے ویدوں کا

اُن کا دل مبتلا ہے ویدوں کا

آریو! اِس قدر کرو کیوں جوش

کیا نظر آ گیا ہے ویدوں کا؟

نہ کِیا ہے نہ کر سکے پیدا

سوچ لو یہ خدا ہے ویدوں کا

عقل رکھتے ہو آپ بھی سوچو

کیوں بھروسہ کیا ہے ویدوں کا؟

بے خدا کوئی چیز کیونکر ہو

یہ سراسر خطا ہے ویدوں کا

ناستک مت کے وید ہیں حامی

بس یہی مدّعا ہے ویدوں کا

ایسے مذہب کبھی نہیں چلتے

کال سر پر کھڑا ہے ویدوں کا


سرمہ چشمِ آریہ صفحہ ۱۷۲۔ مطبوعہ ۱۸۸۶ء

وفاتِ مسیح ناصریؑ

کیوں نہیں لوگو تمہیں حق کا خیال؟

دل میں اُٹھتا ہے مرے سَو سَو اُبال

ابنِ مریمؑ مر گیا حق کی قَسم

داخلِ جنّت ہوا وہ محترم

مارتا ہے اُس کو فرقاں سر بسر

اُس کے مر جانے کی دیتا ہے خبر

وہ نہیں باہر رہا اموات سے

ہو گیا ثابت یہ تئیں آیات سے

کوئی مُردوں سے کبھی آیا نہیں

یہ تو فرقاں نے بھی بتلایا نہیں

عہد شُد از کردگارِ بے چگوں

غور کُن در اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ

اَے عزیزو! سوچ کر دیکھو ذرا

موت سے بچتا کوئی دیکھا بھلا؟

یہ تو رہنے کا نہیں پیارو مکاں

چل بسے سب انبیاءؑ و راستاں

ہاں نہیں پاتا کوئی اِس سے نجات

یوں ہی باتیں ہیں بنائیں واہیات

کیوں تمہیں انکار پر اصرار ہے

ہے یہ دیں یا سیرتِ کفّار ہے

برخلافِ نصّ یہ کیا جوش ہے

سوچ کر دیکھو اگر کچھ ہوش ہے

کیوں بنایا ابنِ مریمؑ کو خدا

سنّت اللہ سے وہ کیوں باہر رہا

کیوں بنایا اُس کو با شانِ کبیر

غیب دان و خالق و حیّ و قدیر

مر گئے سب پر وہ مرنے سے بچا

اب تلک آئی نہیں اس پر فنا

ہے وہی اکثر پرندوں کا خدا

اس خدادانی پہ تیرے مرحبا

مولوی صاحب! یہی توحید ہے

سچ کہو کس دیو کی تقلید ہے؟

کیا یہی توحیدِ حق کا راز تھا؟

جس پہ برسوں سے تمہیں اک ناز تھا

کیا بَشَر میں ہے خدائی کا نشاں؟

اَلْاَمَاں ایسے گماں سے اَلْاَمَاں!

ہے تعجب آپ کے اِس جوش پر

فہم پر اور عقل پر اور ہوش پر

کیوں نظر آتا نہیں راہِ صواب؟

پڑ گئے کیسے یہ آنکھوں پر حجاب

کیا یہی تعلیمِ فرقاں ہے بھلا

کچھ تو آخر چاہیے خوفِ خدا

مومنوں پر کفر کا کرنا گماں

ہے یہ کیا ایمانداروں کا نشاں؟

ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں

دل سے ہیں خدّامِ ختم المرسلیںؐ

شرک اور بدعت سے ہم بیزار ہیں

خاکِ راہِ احمدِؐ مختار ہیں

سارے حکموں پر ہمیں ایمان ہے

جان و دل اس راہ پر قربان ہے

دے چکے دل اب تنِ خاکی رہا

ہے یہی خواہش کہ ہو وہ بھی فدا

تم ہمیں دیتے ہو کافر کا خطاب

کیوں نہیں لوگو تمہیں خوفِ عِقاب

سخت شورے او فتاد اندر زمیں

رحم کُن بر خَلْق اے جاں آفریں

کچھ نمونہ اپنی قدرت کا دکھا

تجھ کو سب قدرت ہے اے ربّ الوریٰ

ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ ۶۴۲۔ مطبوعہ ۱۸۹۱ء

علامات المقربین

خدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار

جو سب کچھ ہی کرتے ہیں اُس پر نثار

اِسی فکر میں رہتے ہیں روز و شب

کہ راضی وہ دلدار ہوتا ہے کب؟

اُسے دے چکے مال و جاں بار بار

ابھی خوف دل میں کہ ہیں نابکار

لگاتے ہیں دل اپنا اُس پاک سے

وہی پاک جاتے ہیں اِس خاک سے


نشانِ آسمانی صفحہ ۴۶ حاشیہ۔ مطبوعہ ۱۸۹۲ء

قادرِ مُطلق کے حضور

اِک کرشمہ اپنی قدرت کا دِکھا

تجھ کو سب قدرت ہے اے ربّ الورٰی!

حق پرستی کا مٹا جاتا ہے نام

اِک نشاں دکھلا کہ ہو حُجّت تمام


آسمانی فیصلہ صفحہ ۸۔ مطبوعہ ۱۸۹۲ء

اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق

ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے

کوئی دیں دینِ محمدؐ سا نہ پایا ہم نے

کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دِکھلائے

یہ ثمر باغِ محمدؐ سے ہی کھایا ہم نے

ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا

نور ہے نور اُٹھو دیکھو سنایا ہم نے

اور دینوں کو جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا

کوئی دِکھلائے اگر حق کو چھپایا ہم نے

تھک گئے ہم تو انہی باتوں کو کہتے کہتے

ہر طرف دعوتوں کا تیر چلایا ہم نے

آزمائش کے لئے کوئی نہ آیا ہر چند

ہر مخالف کو مقابل پہ بلایا ہم نے

یونہی غفلت کے لحافوں میں پڑے سوتے ہیں

وہ نہیں جاگتے سَو بار جگایا ہم نے

جل رہے ہیں یہ سبھی بغضوں میں اور کینوں میں

باز آتے نہیں ہرچند ہٹایا ہم نے

آؤ لوگو! کہ یہیں نورِ خدا پاؤ گے!!

لو تمہیں طَورِ تسلی کا بتایا ہم نے

آج ان نوروں کا اِک زور ہے اِس عاجز میں

دل کو اِن نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے

جب سے یہ نور ملا نورِ پیمبرؐ سے ہمیں

ذات سے حق کی وجود اپنا ملایا ہم نے

مصطفیٰؐ پر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت

اُس سے یہ نور لیا بارِ خدایا ہم نے

ربط ہے جانِ محمّدؐ سے مری جاں کو مُدام

دل کو وہ جامِ لبالب ہے پلایا ہم نے

اُس سے بہتر نظر آیا نہ کوئی عالَم میں

لَاجَرَم غیروں سے دل اپنا چھڑایا ہم نے

مَورِدِ قہر ہوئے آنکھ میں اغیار کے ہم

جب سے عشق اُس کا تہِ دل میں بٹھایا ہم نے

زُعم میں اُن کے مسیحائی کا دعویٰ میرا

اِفترا ہے جسے از خود ہی بنایا ہم نے

کافر و مُلحِد و دجّال ہمیں کہتے ہیں!

نام کیا کیا غمِ ملّت میں رکھایا ہم نے

گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں اِن لوگوں کو

رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے

تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمدؐ

تیری خاطر سے یہ سب بار اُٹھایا ہم نے

تیری اُلفت سے ہے معمور مرا ہر ذرّہ

اپنے سینہ میں یہ اِک شہر بسایا ہم نے

صفِ دشمن کو کیا ہم نے بحُجّت پامال

سیف کا کام قلم سے ہی دکھایا ہم نے

نور دِکھلا کے ترا سب کو کیا ملزم و خوار

سب کا دل آتشِ سوزاں میں جلایا ہم نے

نقشِ ہستی تری اُلفت سے مٹایا ہم نے

اپنا ہر ذرّہ تری راہ میں اُڑایا ہم نے

تیرا مے خانہ جو اِک مَرجعِ عالَم دیکھا

خُم کا خُم منہ سے بصد حرص لگایا ہم نے

شانِ حق تیرے شمائل میں نظر آتی ہے

تیرے پانے سے ہی اُس ذات کو پایا ہم نے

چھُو کے دامن ترا ہر دام سے ملتی ہے نجات

لاَجَرَمْ در پہ ترے سر کو جھکایا ہم نے

دلبرا! مجھ کو قَسم ہے تری یکتائی کی

آپ کو تیری محبت میں بُھلایا ہم نے

بخدا دل سے مرے مٹ گئے سب غیروں کے نقش

جب سے دل میں یہ ترا نقش جمایا ہم نے

دیکھ کر تجھ کو عجب نور کا جلوہ دیکھا

نور سے تیرے شیاطیں کو جلایا ہم نے

ہم ہوئے خیرِ اُمم تجھ سے ہی اے خیرِ رُسلؐ

تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے

آدمی زاد تو کیا چیز فرشتے بھی تمام

مدح میں تیری وہ گاتے ہیں جو گایا ہم نے

قوم کے ظلم سے تنگ آ کے مرے پیارے آج

شورِ محشر ترے کوچہ میں مچایا ہم نے


آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ ۲۲۴۔ مطبوعہ ۱۸۹۳ء

چولہ بابا نانک

یہی پاک چولا ہے سکھوں کا تاج

یہی کابلی مَل کے گھر میں ہے آج

یہی ہے کہ نوروں سے معمور ہے

جو دُور اِس سے اُس سے خدا دُور ہے

یہی جنم ساکھی میں مذکور ہے

جو انگر سے اس وقت مشہور ہے

اِسی پر وہ آیات ہیں بَیِّنَات

کہ جن سے ملے جاودانی حیات

یہ نانک کو خلعت ملا سرفراز

خدا سے جو تھا دَرد کا چارہ ساز

اِسی سے وہ سب رازِ حق پا گیا

اِسی سے وہ حق کی طرف آ گیا

اِسی نے بَلا سے بچایا اُسے

ہر اِک بد گُہر سے چھڑایا اُسے

ذرا سوچو سکھّو! یہ کیا چیز ہے؟

یہ اُس مرد کے تن کا تعویذ ہے

یہ اُس بھگت کا رہ گیا اِک نشاں

نصیحت کی باتیں حقیقت کی جاں

گرنتھوں میں ہے شک کا اِک اِحتمال

کہ انساں کے ہاتھوں سے ہیں دست مال

جو پیچھے سے لکھتے لکھاتے رہے

خدا جانے کیا کیا بناتے رہے

گماں ہے کہ نقلوں میں ہو کچھ خطا

کہ انساں نہ ہووے خطا سے جدا

مگر یہ تو محفوظ ہے بالیقیں

وہی ہے جو تھا اس میں کچھ شک نہیں

اسے سر پہ رکھتے تھے اہلِ صفا

تذلّل سے، جب پیش آتی بلا!

جو نانک کی مدح و ثنا کرتے تھے

وہ ہر شخص کو یہ کہا کرتے تھے

کہ دیکھا نہ ہو جس نے وہ پارسا

وہ چولہ کو دیکھے کہ ہے رہنما

جسے اُس کے مَت کی نہ ہووے خبر

وہ دیکھے اسی چولہ کو اِک نظر

اُسے چوم کر، کرتے رو رو دعا

تو ہو جاتا تھا فضلِ قادرِ خدا

اسی کا تو تھا معجزانہ اثر

کہ نانک بچا جس سے وقتِ خطر

بچا آگ سے اور بچا آب سے

اُسی کے اثر سے، نہ اسباب سے

ذرا دیکھو انگد کی تحریر کو

کہ لکھتا ہے اس ساری تقریر کو

یہ چولا ہے قدرت کا جلوہ نما

کلامِ خدا اِس پہ ہے جابجا

جو شائق ہے نانک کے درشن کا آج

وہ دیکھے اسے، چھوڑ کر کام و کاج

برس گزرے ہیں چارسَو کے قریب

یہ ہے نو بہ نو اِک کرامت عجیب

یہ نانک سے کیوں رہ گیا اِک نشاں

بھلا اس میں حکمت تھی کیا در نہاں

یہی تھی کہ اسلام کا ہو گواہ

بتا دے وہ پچھلوں کو نانک کی راہ

خدا سے یہ تھا فضل اُس مرد پر

ہوا اُس کے درَدوں کا اِک چارہ گر

یہ مخفی امانت ہے کرتار کی

یہ تھی اِک کلید اُس کے اَسرار کی

محبت میں صادق وہی ہوتے ہیں

کہ اس چولہ کو دیکھ کر روتے ہیں

سنو مجھ سے اے لوگو! نانک کا حال

سنو! قصۂ قدرتِ ذُوالجلال !

وہ تھا آریہ قوم سے نیک ذات

خِردمند، خوش خو، مبارک صفات

ابھی عمر سےتھوڑے گزرے تھے سال

کہ دل میں پڑا اس کے دیں کا خیال

اِسی جستجو میں وہ رہتا مُدام

کہ کس راہ سے سچ کو پاوے تمام

اُسے وید کی رَہ نہ آئی پسند

کہ دیکھا بہت اسکی باتوں میں گند

جو دیکھا کہ یہ ہیں سڑے اور گلے

لگا ہونے دِل اس کا اُوپر تلے

کہا کیسے ہو یہ خدا کا کلام

ضلالت کی تعلیم، ناپاک کام !

ہوا پھر تو یہ دیکھ کر سخت غم

مگر دل میں رکھتا وہ رنج و اَلم

وہ رہتا تھا اِس غم سے ہر دم اُداس

زباں بند تھی دل میں سَو سَو ہراس

یہی فکر کھاتا اسے صبح و شام

نہ تھا کوئی ہم راز نے ہم کلام

کبھی باپ کی جب کہ پڑتی نظر

وہ کہتا کہ اے میرے پیارے پسر !

میں حیراں ہوں تیرا یہ کیا حال ہے

وہ غم کیا ہے جس سے تو پامال ہے؟

نہ وہ تیری صورت نہ وہ رنگ ہے

کہو کس سبب تیرا دل تنگ ہے؟

مجھے سچ بتا کھول کر اپنا حال

کہ کیوں غم میں رہتا ہے اے میرے لال؟

وہ رو دیتا کہہ کر کہ سب خیر ہے

مگر دل میں اِک خواہشِ سَیر ہے

پھر آخر کو نکلا وہ دیوانہ وار

نہ دیکھے بیاباں نہ دیکھا پہاڑ

اُتار اپنے مونڈھوں سے دنیا کا بار

طلب میں سفر کر لیا اختیار

خدا کے لئے ہو گیا دردمند

تَنَعُّم کی راہیں نہ آئیں پسند

طلب میں چلا بے خود و بے حواس

خدا کی عنایات کی کر کے آس

جو پوچھا کسی نے چلے ہو کدھر؟

غرض کیا ہے جس سے کیا یہ سفر؟

کہا رو کے حق کا طلب گار ہوں

نثارِ رہِ پاکِ کرتار ہوں

سفر میں وہ رو رو کے کرتا دعا

کہ اے میرے کرتار مشکل کُشا!

میں عاجز ہوں کچھ بھی نہیں خاک ہوں

مگر بندۂ درگہِ پاک ہوں

میں قرباں ہوں دل سے تیری راہ کا

نشاں دے مجھے مردِ آگاہ کا

نشاں تیرا پا کر وہیں جاؤں گا

جو تیرا ہو وہ اپنا ٹھہراؤں گا

کرم کر کے وہ راہ اپنی بتا

کہ جس میں ہو اے میرے تیری رضا

بتایا گیا اُس کو الہام میں

کہ پائے گا تو مجھ کو اسلام میں

مگر مردِ عارف فلاں مرد ہے

وہ اسلام کے راہ میں فرد ہے

ملا تب خدا سے اسے ایک پیر

کہ چشتی طریقہ میں تھا دستگیر

وہ بیعت سے اس کے ہوا فیضیاب

سنا شیخ سے ذکرِ راہِ صواب

پھر آیا وطن کی طرف اُس کے بعد

ملی پیر کے فیض سے بختِ سعد

کوئی دن تو پردہ میں مستور تھا

زبان چُپ تھی اور سینہ میں نور تھا

نہاں دل میں تھا درد و سوز و نیاز

شریروں سے چھپ چھپ کے پڑھتا نماز

پھر آخر کو مارا صداقت نے جوش

تعشّق سے جاتے رہے اُس کے ہوش

ہوا پھر تو حق کے چھپانے سے تنگ

محبت نے بڑھ بڑھ کے دکھلائے رنگ

کہا یہ تو مجھ سے ہوا اِک گناہ

کہ پوشیدہ رکھی سچائی کی راہ

یہ صدق و صفا سے بہت دُور تھا

کہ غیروں کے خوفوں سے دِل چُور تھا

تصوّر سے اِس بات کے ہو کے زار

کہا رو کے اے میرے پروردگار !

ترے نام کا مجھ کو اقرار ہے

ترا نام غفّار و ستّار ہے

بلا ریب تو حیّ و قُدّوس ہے

ترے بِن ہر اک راہ سالوس ہے

مجھے بخش اے خالقِ العالمین !

توسبّوح وَ اِنِّیْ مِنَ الظَّالِمِیْنَ

میں تیرا ہوں اے میرے کرتار پاک !

نہیں تیری راہوں میں خوفِ ہلاک

تیرے در پہ جاں میری قربان ہے

محبت تری خود مری جان ہے

وہ طاقت کہ ملتی ہے ابرار کو

وہ دے مجھ کو دکھلا کے اسرار کو

خطاوار ہوں مجھ کو وہ رہ بتا

کہ حاصل ہو جس رہ سے تیری رضا

اسی عجز میں تھا تذلّل کے ساتھ

کہ پکڑا خدا کی عنایت نے ہاتھ

ہوا غیب سے ایک چولہ عیاں

خدا کا کلام اس پہ تھا بے گماں

شہادت تھی اسلام کی جابجا

کہ سچا وہی دیں ہے اور رہنما

یہ لکھا تھا اُس میں بِخَطِّ جَلی

کہ اللہ ہے اِک اور محمّدؐ نبی

ہوا حکم پہن اس کو اے نیک مرد!

اتر جائیگی اس سے وہ ساری گرد

جو پوشیدہ رکھنے کی تھی اِک خطا

یہ کفّارہ اُس کا ہے اے با وفا !

یہ ممکن ہے کشفی ہو یہ ماجرا

دکھایا گیا ہو بہ حُکمِ خدا

پھر اُس طرز پر یہ بنایا گیا

بحُکمِ خدا پھر لکھایا گیا

مگر یہ بھی ممکن ہے اے پختہ کار

کہ خود غیب سے ہو یہ سب کاروبار

کہ پردے میں قادر کے اسرار ہیں

کہ عقلیں وہاں ہیچ و بے کار ہیں

تُو یک قطرہ داری ز عقل و خرد

مگر قُدرتَش بحرِ بے حد و عد

اگر بشنوی قِصّۂِ صادقاں

مَجُنْباں سرِ خود چو مُستَہزِیاں

تو خود را خردمند فہمیدۂ

مقاماتِ مرداں کُجا دِیدہ

غرض اُس نے پہنا وہ فَرخ لباس

نہ رکھتا تھا مخلوق سے کچھ ہراس

وہ پھرتا تھا گوچوں میں چولہ کے ساتھ

دکھاتا تھا لوگوں کو قدرت کے ہاتھ

کوئی دیکھتا جب اُسے دُور سے

تو ملتی خبر اُس کو اُس نور سے

جسے دُور سے وہ نظر آتا تھا

اُسے چولہ خود بھید سمجھاتا تھا

وہ ہر لحظہ چولے کو دکھلاتا تھا

اسی میں وہ ساری خوشی پاتا تھا

غرض یہ تھی تا یار خُرسَند ہو

خطا دُور ہو پختہ پیوند ہو

جو عشّاق اُس ذات کے ہوتے ہیں

وہ ایسے ہی ڈر ڈر کے جاں کھوتے ہیں

وہ اُس یار کو صِدق دِکھلاتے ہیں

اِسی غم میں دیوانہ بن جاتے ہیں

وہ جاں اس کی رہ میں فدا کرتے ہیں

وہ ہر لحظہ سَو سَو طرح مرتے ہیں

وہ کھوتے ہیں سب کچھ بَصِدْق و صفا

مگر اُس کی ہو جائے حاصل رِضا

یہ دیوانگیِ عشق کا ہے نشاں

نہ سمجھے کوئی اِس کو جُز عاشقاں

غرض جوشِ اُلفت سے مجذوب وار

یہ نانک نے چولا بنایا شِعار

مگر اِس سے راضی ہو وہ دِلستاں

کہ اُس بن نہیں دل کو تاب و تواں

خدا کے جو ہیں وہ یہی کرتے ہیں

وہ لعنت سے لوگوں کی کب ڈرتے ہیں

وہ ہو جاتے ہیں سارے دِلدار کے

نہیں کوئی اُن کا بجُز یار کے

وہ جاں دینے سے بھی نہ گھبراتے ہیں

کہ سب کچھ وہ کھو کر اُسے پاتے ہیں

وہ دلبر کی آواز بن جاتے ہیں

وہ اُس جاں کے ہمراز بن جاتے ہیں

وہ ناداں جو کہتا ہے دَر بند ہے

نہ الہام ہے اور نہ پیوند ہے

نہیں عقل اُس کو نہ کچھ غور ہے

اگر وید ہے یا کوئی اور ہے

یہ سَچ ہے کہ جو پاک ہو جاتے ہیں

خدا سے خدا کی خبر لاتے ہیں

اگر اس طرف سے نہ آوے خبر

تو ہو جائے یہ راہ زیر و زبر

طلب گار ہو جائیں اس کے تباہ

وہ مر جائیں دیکھیں اگر بند راہ

مگر کوئی معشوق ایسا نہیں

کہ عاشق سے رکھتا ہو یہ بُغض و کیں

خدا پر تو پھر یہ گماں عیب ہے

کہ وہ راحم و عالم الغیب ہے

اگر وہ نہ بولے تو کیونکر کوئی

یقیں کر کے جانے کہ ہے مُخْتَفِی

وہ کرتا ہے خود اپنے بھگتوں کو یاد

کوئی اُس کے رہ میں نہیں نامراد

مگر وید کو اس سے انکار ہے

اِسی سے تو بے خیر و بے کار ہے

کرے کوئی کیا ایسے طُومار کو

بلا کر دکھاوے نہ جو یار کو

وہ ویدوں کا ایشر ہے یا اک حجر

کہ بولے نہیں جیسے اِک گنگ و گڑ

تو پھر ایسے ویدوں سے حاصل ہی کیا

ذرا سوچو اے یارو بہرِ خدا !

وہ انکار کرتے ہیں الہام سے

کہ ممکن نہیں خاص اور عام سے

یہی سالکوں کا تو تھا مُدّعا

اِسی سے تو کھلتی تھیں آنکھیں ذرا

اگر یہ نہیں پھر تو وہ مر گئے

کہ بے سُود جاں کو فدا کر گئے

یہ ویدوں کا دعویٰ سنا ہے ابھی

کہ بعد اُن کے ملہم نہ ہو گا کبھی

وہ کہتے ہیں یہ کوچہ مسدُود ہے

تلاش اِس کی عارف کو بے سُود ہے

وہ غافل ہیں رحماں کے اُس داب سے

کہ رکھتا ہے وہ اپنے احباب سے

اگر اُن کو اِس رہ سے ہوتی خبر

اگر صدق کا کچھ بھی رکھتے اثر

تو انکار کو جانتے جائے شرم

یہ کیا کہہ دیا وید نے ہائے شرم !

نہ جانا کہ الہام ہے کیمیا

اِسی سے تو ملتا ہے گنجِ لِقاء

اِسی سے تو عارف ہوئے بادہ نوش

اِسی سے تو آنکھیں کھلیں اور گوش

یہی ہے کہ نائب ہے دیدار کا

یہی ایک چشمہ ہے اسرار کا

اِسی سے ملے اُن کو نازک علوم

اِسی سے تو اُنکی ہوئی جگ میں دھوم

خدا پر خدا سے یقیں آتا ہے

وہ باتوں سے ذات اپنی سمجھاتا ہے

کوئی یار سے جب لگاتا ہے دل

تو باتوں سے لذت اُٹھاتا ہے دل

کہ دِلدار کی بات ہے اِک غذا

مگر تُو ہے منکِر تجھے اِس سے کیا

نہیں تجھ کو اِس رہ کی کچھ بھی خبر

تو واقف نہیں اس سے اے بے ہنر !

وہ ہے مہربان و کریم و قدیر

قسم اُس کی ! اُس کی نہیں ہے نظیر

جو ہوں دِل سے قربانِ ربِّ جلیل

نہ نقصاں اُٹھاویں نہ ہوویں ذلیل

اسی سے تو نانک ہوا کامیاب

کہ دل سے تھا قربانِ عالی جناب

بتایا گیا اس کو الہام میں

کہ پائے گا تو مجھ کو اسلام میں

یقیں ہے کہ نانک تھا ملہم ضرور

نہ کر وید کا پاس اے پُرغرور!

دیا اس کو کرتار نے وہ گیان

کہ ویدوں میں اُس کا نہیں کچھ نشان

اکیلا وہ بھاگا ہنودوں کو چھوڑ

چلا مکہ کو ہند سے منہ کو موڑ

گیا خانہ کعبہ کا کرنے طواف

مسلماں بنا پاک دل بے خلاف

لِیا اُس کو فضلِ خدا نے اُٹھا

مِلی دونوں عالَم میں عزّت کی جا

اگر تُو بھی چھوڑے یہ ملکِ ہوا

تجھے بھی یہ رُتبہ کرے وہ عطا

تُو رکھتا نہیں ایک دم بھی روا

جو بیوی اور بچوں سے ہووے جدا

مگر وہ تو پِھرتا تھا دیوانہ وار

نہ جی کو تھا چَین اور نہ دل کو قرار

ہر اِک کہتا تھا دیکھ کر اِک نظر

کہ ہے اُس کی آنکھوں میں کچھ جلوہ گر

محبت کی تھی سینہ میں اِک خلش

لئے پِھرتی تھی اُس کو دل کی تپش

کبھی شرق میں اور کبھی غرب میں

رہا گھومتا قلق اور کرب میں

پرندے بھی آرام کر لیتے ہیں

مجَانیں بھی یہ کام کر لیتے ہیں

مگر وہ تو اِک دم نہ کرتا قرار

ادا کر دیا عشق کا کاروبار

کسی نے یہ پوچھی تھی عاشق سے بات

وہ نسخہ بتا جس سے جاگے تُو رات

کہا نیند کی ہے دوا سوز و دَرد

کہاں نیند جب غم کرے چہرہ زرد

وہ آنکھیں نہیں جو کہ گِریاں نہیں

وہ خود دل نہیں جو کہ بریاں نہیں

تُو انکار سے وقت کھوتا ہے کیا

تجھے کیا خبر عشق ہوتا ہے کیا؟

مجھے پوچھو اور میرے دل سے یہ راز

مگر کون پوچھے بجز عشق باز

جو برباد ہونا کرے اختیار

خدا کے لئے، ہے وہی بختیار

جو اُس کے لئے کھوتے ہیں پاتے ہیں

جو مرتے ہیں وہ زندہ ہو جاتے ہیں

وہی وَحْدَہٗ لا شریک اور عزیز

نہیں اُس کی مانند کوئی بھی چیز

اگر جاں کروں اس کی راہ میں فدا

تو پھر بھی نہ ہو شکر اُس کا ادا

مَیں چولے کا کرتا ہوں پھر کچھ بیاں

کہ ہے یہ پیارا مجھے جیسے جاں

ذرا جنم ساکھی کو پڑھ اے جواں!

کہ انگد نے لکھا ہے اس میں عیاں

کہ قدرت کے ہاتھوں کے تھے وہ رقم

خدا ہی نے لکھا بہ فضل و کرم

وہ کیا ہے یہی ہے کہ اللہ ہے ایک

محمدؔ نبیؐ اُس کا پاک اور نیک

بغیر اس کے دل کی صفائی نہیں

بجز اس کے غم سے رہائی نہیں

یہ معیار ہے دیں کی تحقیق کا

کھلا فرق دجّال و صِدّیق کا

ذرا سوچو یارو! گر انصاف ہے

یہ سب کشمکش اس گھڑی صاف ہے

یہ نانک سے کرنے لگے جب جُدا

رہے زور کر کر کے بے مُدّعا

کہا دُور ہو جاؤ تم ہار کے

یہ خِلعت ہے ہاتھوں سے کرتار کے

بشر سے نہیں تا اُتارے بشر

خدا کا کلام اِس پہ ہے جلوہ گر

دعا کی تھی اُس نے کہ اے کردگار!

بتا مجھ کو رہ اپنی خود کر کے پیار

یہ چولا تھا اُس کی دُعا کا اثر

یہ قدرت کے ہاتھوں کا تھا سر بسر

یہی چھوڑ کر وہ ولی مر گیا

نصیحت تھی مقصد ادا کر گیا

اُسے مردہ کہنا خطا ہے خطا

کہ زندوں میں وہ زندہ دل جا ملا

وہ تن گم ہوا یہ نشاں رہ گیا

ذرا دیکھ کر اِس کو آنسو بہا

کہاں ہے محبت کہاں ہے وفا

پیاروں کا چولا ہوا کیوں بُرا؟

وفادار عاشق کا ہے یہ نشاں

کہ دِلبر کا خط دیکھ کر ناگہاں

لگاتا ہے آنکھوں سے ہو کر فدا

یہی دیں ہے دلدادگاں کا سدا

مگر جس کے دل میں محبت نہیں

اُسے ایسی باتوں سے رغبت نہیں

اُٹھو جلد تر لاؤ فوٹو گراف

ذرا کھینچو تصویر چولے کی صاف

کہ دنیا کو ہرگز نہیں ہے بقا

فنا سب کا انجام ہے جُز خدا

سو لو عکس جلدی کہ اب ہے ہراس

مگر اس کی تصویر رہ جائے پاس

یہ چولا کہ قدرت کی تحریر ہے

یہی رہ نما اور یہی پیر ہے

یہ انگد نے خود لکھ دیا صاف صاف

کہ ہے وہ کلامِ خدا بے گزاف

وہ لکھا ہے خود پاک کرتار نے

اسی حَیّ و قیّوم و غفّار نے

خدا نے جو لکھا وہ کب ہو خطا

وہی ہے خدا کا کلامِ صفا

یہی راہ ہے جس کو بھولے ہو تم

اُٹھو یارو اب مت کرو راہ گم

یہ نورِ خدا ہے خدا سے ملا

ارے جلد آنکھوں سے اپنی لگا

ارے لوگو! تم کو نہیں کچھ خبر

جو کہتا ہوں مَیں اُس پہ رکھنا نظر

زمانہ تعصّب سے رکھتا ہے رنگ

کریں حق کی تکذیب سب بے درنگ

وہی دیں کے راہوں کی سنتا ہے بات

کہ ہو متّقی مرد اور نیک ذات

مگر دوسرے سارے ہیں پُرعناد

پیارا ہے ان کو غرور اور فساد

بناتے ہیں باتیں سراسر دروغ

نہیں بات میں اُن کی کچھ بھی فروغ

بھلا بعد چولے کے اے پُرغرور !

وہ کیا کسر باقی ہے جس سے تو دُور؟

تُو ڈرتا ہے لوگوں سے اے بےہُنر !

خدا سے تجھے کیوں نہیں ہے خطر؟

یہ تحریر چولہ کی ہے اِک زباں

سنو ! وہ زباں سے کرے کیا بیاں؟

کہ دینِ خدا دینِ اسلام ہے

جو ہو منکر اُس کا بدانجام ہے

محمّدؐ وہ نبیوں کا سردار ہے

کہ جس کا عدو مِثْلِ مُردار ہے

تجھے چولے سے کچھ تو آوے حیا

ذرا دیکھ ظالم کہ کرتا ہے کیا

کہو جو رضا ہو مگر سُن لو بات

وہ کہنا کہ جس میں نہیں پکّش پات

کہ حق جُو سے کرتار کرتا ہے پیار

وہ انساں نہیں جو نہیں حق گذار

کہو جب کہ پوچھے گا مولیٰ حساب

تو بھائیو بتاؤ کہ کیا ہے جواب؟

مَیں کہتا ہوں اِک بات اے نیک نام !

ذرا غور سے اُس کو سُنیو تمام

کہ بے شک یہ چولہ پُر از نور ہے

تمرّد، وفا سے بہت دُور ہے

دکھائیں گے چولہ تمہیں کھول کر

کہ دو اُس کا اُتّر ذرا بول کر

یہی پاک چولہ رہا اِک نشاں

گُرو سے کہ تھا خَلْق پر مہرباں

اِسی پر دوشالے چڑھے اور زر

یہی فخر سکھوں کا ہے سربسر

یہی ملک و دولت کا تھا اِک ستوں

عمل بَد کئے ہو گئے سرنگوں

خدا کے لئے چھوڑ اب بُغض وکیں

ذرا سوچو باتوں کو ہو کر اَمیں

وہ صِدق و محبت وہ مہر و وفا

جو نانک سے رکھتے تھے تم برملا

دِکھاؤ ذرا آج اُس کا اثر

اگر صِدق ہے جلد دَوڑو اِدھر

گُرو نے تو کر کے دکھایا تمہیں

وہ رستہ چلو جو بتایا تمہیں

کہاں ہیں جو نانک کے ہیں خاکِ پا

جو کرتے ہیں اُس کے لئے جاں فدا

کہاں ہیں جو اس کے لئے مرتے ہیں

جو ہے واک اُس کا وہی کرتے ہیں

کہاں ہیں جو ہوتے ہیں اُس پر نثار

جھکاتے ہیں سر اپنے کو کر کے پیار

کہاں ہیں جو رکھتے ہیں صدق و ثبات

گُرو سے ملے جیسے شیر و نبات

کہاں ہیں کہ جب اُس سے کچھ پاتے ہیں

تعشّق سے قرباں ہوئے جاتے ہیں

کہاں ہیں جو اُلفت سے سرشار ہیں

جو مرنے کو بھی دل سے تیار ہیں

کہاں ہیں جو وہ بُخل سے دور ہیں

محبت سے نانک کی معمور ہیں

کہاں ہیں جو اِس رہ میں پرجوش ہیں

گُرو کے تعشّق میں مدہوش ہیں

کہاں ہیں وہ نانک کے عاشق کہاں

کہ آیا ہے نزدیک اب امتحاں

کہاں ہیں جو بھرتے ہیں اُلفت کا دم

اطاعت سے سر کو بنا کر قدم

گُرو جس کے اِس رہ پہ ہوویں فدا

وہ چیلا نہیں جو نہ دے سر جھکا

اگر ہاتھ سے وقت جاوے نکل

تو پھر ہاتھ مل مل کے رونا ہے کل

نہ مردی ہے تیر اور تلوار سے

بنو مرد مَردوں کے کردار سے

سنو! آتی ہے ہر طرف سے صَدا

کہ باطل ہے ہر چیز حق کے سوا

کوئی دن کے مہماں ہیں ہم سب سبھی

خبر کیا کہ پیغام آوے ابھی

گُرو نے یہ چولہ بنایا شعار

دکھایا کہ اِس رہ پہ ہوں مَیں نثار

وہ کیونکر ہو ان ناسعیدوں سے شاد

جو رکھتے نہیں اُس سے کچھ اِعتقاد

اگر مان لو گے گُرو کا یہ واک

تو راضی کرو گے اُسے ہو کے پاک

وہ احمق ہیں جو حق کی رہ کھوتے ہیں

عبث ننگ و ناموس کو روتے ہیں

کہاں ہیں جو بہرِ تے ہیں الفت کا دم

اطاعت پہ سر کو بنا کر قدم

ادھر آئیں دیکھیں تصویر ہے

یہی پاک چولہ جہانگیر ہے

[تصویرِ چولہ مبارک حضرت بابا گرونانک صاحب مکتوب بہ آیاتِ قرآنیہ و ادعیہ]

دیکھو اپنے دیں کو کس کس صدق دکھلا گیا

وہ بہادر تھا نہ رکھتا تھا کسی دشمن سے ڈر

وہ سوچیں کہ کیا لِکھ گیا پیشوا

وصیت میں کیا کیا کہہ گیا بَرملا

کہ اسلام ہم اپنا دیں رکھتے ہیں

محمّدؐ کی رہ پر یقیں رکھتے ہیں

اُٹھو سونے والو! کہ وقت آ گیا

تمہارا گُرو تم کو سمجھا گیا!

نہ سمجھے تو آخر کو پچھتاؤ گے

گُرو کے سراپوں کا پھل پاؤ گے


ست بچن صفحہ ۴۱۔ مطبوعہ ۱۸۹۵ء

تاثیرِ صداقت

واہ رے زورِ صداقت خوب دکھلایا اثر

ہو گیا نانک نثارِ دینِ احمدؐ سربسر

جب نظر پڑتی ہے اس چولہ کے ہر ہر لفظ پر

سامنے آنکھوں کے آ جاتا ہے وہ فرّخ گُہر

دیکھو اپنے دین کو کس صِدق سے دِکھلا گیا

وہ بہادر تھا نہ رکھتا تھا کسی دشمن سے ڈر


ست بچن صفحہ ۵۲۔ مطبوعہ ۱۸۹۵ء

محمود کی آمین

حمدوثنا اُسی کو جو ذات جاودانی

ہمسر نہیں ہے اُس کا کوئی نہ کوئی ثانی

باقی وہی ہمیشہ غیر اُس کے سب ہیں فانی

غیروں سے دِل لگانا جھوٹی ہے سب کہانی

سب غیر ہیں وہی ہے اک دل کا یارِ جانی

دل میں میرے یہی ہے سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

ہے پاک پاک قدرت عظمت ہے اُس کی عظمت

لرزاں ہیں اہلِ قربت کرّوبیوں پہ ہیبت

ہے عام اس کی رحمت کیونکر ہو شکرِ نعمت

ہم سب ہیں اس کی صنعت اس سے کرو محبت

غیروں سے کرنا اُلفت کب چاہے اس کی غیرت

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

جو کچھ کہ ہمیں راحت سب اس کی جُود و مِنّت

اُس سے ہے دل کو بیعت دل میں ہے اس کی عظمت

بہتر ہے اُس کی طاعت، طاعت میں ہے سعادت

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

سب کا وہی سہارا رحمت ہے آشکارا

ہم کو وہی پیارا دِلبر وہی ہمارا

اُس بن نہیں گذارا غیر اُس کے جھوٹ سارا

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

یا رب ہے تیرا احساں میں تیرے دَر پہ قرباں

تُو نے دیا ہے ایماں تو ہر زماں نگہباں

تیرا کرم ہے ہر آں تُو ہے رحیم و رحماں

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

کیونکر ہو شکر تیرا تیرا ہے جو ہے میرا

تُو نے ہر اک کرم سے گھر بھر دیا ہے میرا

جب تیرا نور آیا جاتا رہا اندھیرا

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

تو نے یہ دن دکھایا محمود پڑھ کے آیا

دل دیکھ کر یہ اِحساں تیری ثنائیں گایا

صد شکر ہے خدایا صد شکر ہے خدایا

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

ہو شکر تیرا کیونکر اے میرے بندہ پرور

تُو نے مجھے دئے ہیں یہ تین تیرے چاکر

تیرا ہوں مَیں سراسر تو میرا ربّ اکبر

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

ہے آج ختمِ قرآں نکلے ہیں دل کے ارماں

تو نے دکھایا یہ دن مَیں تیرے مُنہ کے قرباں

اَے میرے ربِّ محسن کیونکر ہو شکرِ احساں

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

تیرا یہ سب کرم ہے تُو رحمتِ اتمّ ہے

کیونکر ہو حمد تیری کب طاقتِ قلم ہے

تیرا ہوں مَیں ہمیشہ جب تک کہ دَم میں دَم ہے

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

اے قادر و توانا! آفات سے بچانا

ہم تیرے در پہ آئے ہم نے ہے تجھ کو مانا

غیروں سے دل غنی ہے جب سے ہے تجھ کو جانا

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

احقر کو میرے پیارے! اک دم نہ دُور کرنا

بہتر ہے زندگی سے تیرے حضور مرنا

واللہ خوشی سے بہتر غم سے تیرے گذرنا

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

سب کام تو بنائے لڑکے بھی تجھ سے پائے

سب کچھ تیری عطا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے

تو نے ہی میرے جانی خوشیوں کے دن دکھائے

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

یہ تین جو پسر ہیں تجھ سے ہی یہ ثمر ہیں

یہ میرے بار و بر ہیں تیرے غلامِ در ہیں

تو سچے وعدوں والا منکر کہاں کدھر ہیں

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

کر انکو نیک قسمت دے انکو دین و دولت

کر ان کی خود حفاظت ہو ان پر تیری رحمت

دے رُشد اور ہدایت اور عُمر اور عزّت

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

اے میرے بندہ پرور کر ان کو نیک اختر

رُتبہ میں ہوں یہ برتر اور بخش تاج و افسر

تو ہے ہمارا رہبر، تیرا نہیں ہے ہمسر

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

شیطاں سے دُور رکھیو اپنے حضور رکھیو

جاں پُر زِ نُور رکھیو دِل پُر سرور رکھیو

ان پَر مَیں تیرے قرباں! رحمت ضرور رکھیو

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ

میری دعائیں ساری کریو قبول باری

مَیں جاؤں تیرے واری کر تُو مدد ہماری

ہم تیرے در پہ آئے لیکر اُمید بھاری

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ

لختِ جگر ہے میرا محمود بندہ تیرا

دے اِس کو عمر و دولت کر دُور ہر اندھیرا

دن ہوں مُرادوں والے پُر نُور ہو سویرا

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ

اِس کے ہیں دو برادر، ان کو بھی رکھیو خوش تر

تیرا بشیر احمد تیرا شریف اصغر

کر فضل سب پہ یکسر رحمت سے کر مُعطّر

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ

یہ تینوں تیرے بندے رکھیو نہ ان کو گندے

کر ان سے دُور یا ربّ دنیا کے سارے پھندے

چنگے رہیں ہمیشہ کریو نہ ان کو مندے

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ

اے میرے دل کے پیارے اے مہرباں ہمارے

کر ان کے نام روشن جیسے کہ ہیں ستارے

یہ فضل کر کہ ہوویں نیکو گُہر یہ سارے

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ

اے میری جاں کے جانی! اے شاہِ دو جہانی

کر ایسی مہربانی ان کا نہ ہووے ثانی

دے بختِ جاودانی اور فیضِ آسمانی

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

سُن میرے پیارے باسی میری دعائیں ساری

رحمت سے ان کو رکھنا مَیں تیرے منہ کے واری

اپنی پنہ میں رکھیو سُن کر یہ میری زاری

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

اے واحد و یگانہ اے خالقِ زمانہ

میری دعائیں سن لے اور عرضِ چاکرانہ

تیرے سپرد تینوں دیں کے قمر بنانا

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

فکروں میں دل حزیں ہے جاں درد سے قریں ہے

جو صبر کی تھی طاقت اب مجھ میں وہ نہیں ہے

ہر غم سے دُور رکھنا تو ربِّ عالمیں ہے

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

اقبال کو بڑھانا اب فضل لے کے آنا

ہر رنج سے بچانا دُکھ دَرد سے چُھڑانا

خود میرے کام کرنا یا ربّ نہ آزمانا!

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

یہ تینوں تیرے چاکر ہوویں جہاں کے رہبر

یہ ہادیٔ جہاں ہوں یہ ہوویں نُورِ یکسر

یہ مرجعِ شہاں ہوں یہ ہوویں مہرِ انور

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

اہلِ وقار ہوویں فخرِ دیار ہوویں

حق پر نثار ہوویں مولیٰ کے یار ہوویں

با برگ و بار ہوویں اِک سے ہزار ہوویں

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

تو ہے جو پالتا ہے، ہر دم سنبھالتا ہے

غم سے نکالتا ہے، درودوں کو ٹالتا ہے

کرتا ہے پاک دل کو حق دل میں ڈالتا ہے

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

تو نے سکھایا فرقاں جو ہے مدارِ ایماں

جس سے ملے ہے عرفاں اور دُور ہووے شیطاں

یہ سب ہے تیرا احساں تجھ پر نثار ہو جاں

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

تیرا نبیؐ جو آیا اُس نے خدا دکھایا

دینِ قَوِیم لایا بدعات کو مٹایا

حق کی طرف بلایا مل کر خدا ملایا

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

قرباں ہیں تجھ پہ سارے جو ہیں مرے پیارے

احساں ہیں تیرے بھارے گن گن کے ہم تو ہارے

دل خوں ہیں غم کے مارے کشتی لگا کنارے

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

اِس دل میں تیرا گھر ہے تیری طرف نظر ہے

تجھ سے میں ہوں مُنَوَّر میرا تو تُو قمر ہے

تجھ پر مرا تَوَکُّل دَر پر تیرے یہ سَر ہے

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

جب تجھ سے دل لگایا سَو سَو ہے غم اُٹھایا

تن خاک میں ملایا جاں پر وَبال آیا

پر شُکر اے خدایا! جاں کھو کے تجھ کو پایا

یہ روزِ کرم مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِی

دیکھا ہے تیرا مُنہ جب چمکا ہے، ہم پہ کوکب

مقصودِ دل گیا سب ہے جام اب لبالب

تیرے کرم سے یا ربّ میرا بَر آیا مطلب

یہ روزِ کرم مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِی

احباب سارے آئے تُو نے یہ دن دکھائے

تیرے کرم نے پیارے یہ مہرباں بُلائے

یہ دِن چڑھا مبارک مقصود جس میں پائے

یہ روزِ کرم مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِی

مہماں جو کر کے اُلفت آئے بصد محبت

دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت

پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقتِ رخصت

یہ روزِ کرم مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِی

دُنیا بھی اِک سَرا ہے بچھڑے گا جو مِلا ہے

گر سَو برس رہا ہے آخر کو پھر جُدا ہے

شِکوہ کی کچھ نہیں جا یہ گھر ہی بے بقا ہے

یہ روزِ کرم مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِی

اے دوستو پیارو! عقبیٰ کو مت بسارو

کچھ زادِ راہ لے لو، کچھ کام میں گذارو

دُنیا ہے جائے فانی دل سے اسے اُتارو

یہ روزِ کرم مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِی

جی مت لگاؤ اِس سے دل کو چھڑاؤ اِس سے

رغبت ہٹاؤ اِس سے بس دُور جاؤ اِس سے

یارو! یہ اژدہا ہے جاں کو بچاؤ اِس سے

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

قرآں کتابِ رحماں سکھلائے راہِِ عرفاں

جو اس کے پڑھنے والے اُن پر خدا کے فیضاں

اُن پر خدا کی رحمت جو اس پہ لائے ایماں

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

ہے چشمۂ ہدایت جس کو ہو یہ عنایت

یہ ہیں خدا کی باتیں اِن سے ملے ولایت

یہ نور دِل کو بخشے دِل میں کرے سرایت

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

قرآں کو یاد رکھنا پاک اِعتقاد رکھنا

فکرِ معاد رکھنا پاس اپنے زاد رکھنا

اکسیر ہے پیارے صِدق و سداد رکھنا

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ

آمین


مطبوعہ ۷؍ جون ۱۸۹۷ء

خدا تعالیٰ کا شکر اور دعا

بزبانِ حضرت امّاں جان

ہے عجب میرے خدا میرے پہ احساں تیرا

کس طرح شکر کروں اے مرے سُلطاں تیرا

ایک ذرّہ بھی نہیں تُو نے کیا مجھ سے فرق

میرے اِس جسم کا ہر ذرّہ ہو قرباں تیرا

سَر سے پا تک ہیں الٰہی ترے احساں مجھ پر

مجھ پہ برسا ہے سَدا فضل کا باراں تیرا

تُو نے اِس عاجزہ کو چار دئے ہیں لڑکے

تیری بخشش ہے یہ اور فضل نمایاں تیرا

پہلا فرزند ہے محمودؔ، مبارکؔ چوتھا

دونوں کے بیچ بشیرؔ اور شریفاںؔ تیرا

تُو نے اِن چاروں کی پہلے سے بشارت دی تھی

تُو وہ حاکم ہے کہ ٹلتا نہیں فرماں تیرا

تیرے احسانوں کا کیونکر ہو بیاں اے پیارے

مجھ پہ بے حد ہے کرم اے مرے جاناں تیرا

تخت پر شاہی کے ہے مجھ کو بٹھایا تُو نے

دین و دُنیا میں ہُؤا مجھ پہ ہے احساں تیرا

کس زباں سے مَیں کروں شکر کہاں ہے وہ زباں

کہ مَیں ناچیز ہوں اور رحمِ فراواں تیرا

مجھ پہ وہ لطف کئے تُو نے جو برتر زِخیال

ذات برتر ہے تِری پاک ہے ایواں تیرا

چُن لیا تُو نے مجھے اپنے مسیحا کے لیے

سب سے پہلے یہ کرم ہے مرے جاناں تیرا

کس کے دل میں یہ ارادے تھے یہ تھی کس کو خبر

کون کہتا تھا کہ یہ بخت ہے رخشان تیرا

پر مرے پیارے! یہی کام ترے ہوتے ہیں

ہے یہی فضل تری شان کے شایاں تیرا

فضل سے اپنے بچا مجھ کو ہر اک آفت سے

صِدق سے ہم نے لیا ہاتھ میں داماں تیرا

کوئی ضائع نہیں ہوتا جو ترا طالب ہے

کوئی رُسوا نہیں ہوتا جو ہے جویاں تیرا

آسماں پر سے فرشتے بھی مدد کرتے ہیں

کوئی ہو جائے اگر بندۂ فرماں تیرا

جس نے دل تجھ کو دیا ہو گیا سب کچھ اُس کا

سب ثنا کرتے ہیں جب ہووے ثناخواں تیرا

اِس جہاں میں ہے وہ جنت میں ہی بے رَیب و گماں

وہ جو اِک پختہ توکّل سے ہے مہماں تیرا

میری اولاد کو تُو ایسی ہی کر دے پیارے

دیکھ لیں آنکھ سے وہ چہرۂ تاباں تیرا

عمر دے، رِزق دے اور عافیت و صحت بھی

سب سے بڑھ کر یہ کہ پا جائیں وہ عرفاں تیرا

اب مجھے زندگی میں ان کی مصیبت نہ دِکھا

بخش دے میرے گنہ اور جو عِصیاں تیرا

اِس جہاں کے نہ بنیں کیڑے، یہ کر فضل ان پر

ہر کوئی اِن میں سے کہلائے مُسلماں تیرا

غیر ممکن ہے کہ تدبیر سے پاؤں یہ مراد

بات جب بنتی ہے جب سارا ہو ساماں تیرا

بادشاہی ہے تِری ارض و سما دونوں میں

حکم چلتا ہے ہر اِک ذرّہ پہ ہر آں تیرا

میرے پیارے مجھے ہر دَرد و مصیبت سے بچا

تُو ہے غفّار یہی کہتا ہے قرآں تیرا

صبر جو پہلے تھا اب مجھ میں نہیں ہے پیارے

دُکھ سے اب مجھ کو بچا نام ہے رحماں تیرا

ہر مصیبت سے بچا اے میرے آقا ہر دم

حکم تیرا ہے زمیں تیری ہے دَوراں تیرا


اخبار الحکم ۔ ۱۷؍ نومبر ۱۹۰۰ء

اُمُّ الکتاب

اے دوستو جو پڑھتے ہو اُمُّ الکتاب کو

اب دیکھو میری آنکھوں سے اِس آفتاب کو

سوچو دعاء فاتحہ کو پڑھ کے بار بار

کرتی ہے یہ تمام حقیقت کو آشکار

دیکھو خدا نے تم کو بتائی دُعا یہی

اُس کے حبیبؐ نے بھی پڑھائی دُعا یہی

پڑھتے ہو پنج وقت اِسی کو نماز میں

جاتے ہو اس کی رہ سے درِ بے نیاز میں

اُس کی قَسَم کہ جس نے یہ سُورۃ اُتاری ہے

اُس پاک دل پہ جس کی وہ صورت پیاری ہے

یہ میرے ربّ سے میرے لیے اک گواہ ہے

یہ میرے صدقِ دعویٰ پہ مُہرِ الٰہ ہے

میرے مسیح ہونے پہ یہ اک دلیل ہے

میرے لئے یہ شاہدِ ربِّ جلیل ہے

پھر میرے بعد اَوروں کی ہے انتظار کیا

توبہ کرو کہ جینے کا ہے اعتبار کیا


اعجازالمسیح ٹائیٹل پیج صفحہ ۲۔ مطبوعہ ۲۰؍ فروری ۱۹۰۱ء

معرفتِ حق

آواز آرہی ہے یہ فونوگراف سے

ڈھونڈو خدا کو دل سے نہ لاف و گزاف سے

جب تک عمل نہیں ہے دلِ پاک و صاف سے

کمتر نہیں یہ مشغلہ بُت کے طواف سے

باہر نہیں اگر دلِ مردہ غلاف سے

حاصل ہی کیا ہے جنگ و جدال و خلاف سے

وہ دیں ہی کیا ہے جس میں خدا سے نشاں نہ ہو

تائیدِ حق نہ ہو مددِ آسماں نہ ہو

مذہب بھی ایک کھیل ہے جب تک یقیں نہیں

جو نور سے تہی ہے خدا سے وہ دیں نہیں

دینِ خدا وہی ہے جو دریائے نُور ہے

جو اس سے دُور ہے وہ خدا سے بھی دُور ہے

دینِ خدا وہی ہے جو ہے وہ خدانما

کس کام کا وہ دیں جو نہ ہووے گرہ کشا

جن کا یہ دیں نہیں ہے نہیں اُن میں کچھ بھی دَم

دُنیا سے آگے ایک بھی چلتا نہیں قدم

وہ لوگ جو کہ معرفتِ حق میں خام ہیں

بُت ترک کر کے پھر بھی بُتوں کے غلام ہیں


اخبار الحکم ۲۴ نومبر ۱۹۰۱ء

بشیر احمد شریف احمد اور مبارکہ کی آمین

خدایا اے مرے پیارے خدایا

یہ کیسے ہیں ترے مجھ پر عطایا

کہ تو نے پھر مجھے یہ دِن دکھایا

کہ بیٹا دوسرا بھی پڑھ کے آیا

بشیر احمد جسے تو نے پڑھایا

شفا دی آنکھ کو بینا بنایا

شریف احمد کو بھی یہ پھل کھلایا

کہ اُس کو تو نے خود فرقاں سکھایا

یہ چھوٹی عمر پر جب آزمایا

کلامِ حق کو ہے فرفر سنایا

برس میں ساتویں جب پیر آیا

تو سَر پر تاج قرآں کا سجایا

ترے اِحساں ہیں اے ربّ البرایا

مبارک کو بھی پھر تو نے جِلایا

جب اپنے پاس اِک لڑکا بُلایا

تو دے کر چار جلدی سے ہنسایا

غموں کا ایک دِن اور چار شادی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

اور اِن کے ساتھ دی ہے ایک دُختر

ہے کچھ کم پانچ کی وہ نیک اختر

کلام اللہ کو پڑھتی ہے فَرْ فَرْ

خدا کا فضل اور رحمت سراسر

ہوا اِک خواب میں یہ مجھ پہ اظہر

کہ اس کو بھی ملے گا بختِ برتر

لقب عزّت کا پاوے وہ مقرّر

یہی روزِ اَزَل سے ہے مقدّر

خدا نے چار لڑکے اور یہ دُختر

عطا کی، پس یہ اِحساں ہے سراسر

یہ کیا اِحساں ترا ہے بندہ پَرور

کروں کس منہ سے شکر اے میرے داور

اگر ہر بال ہو جائے سُخن ور

تو پھر بھی شکر ہے اِمکاں سے باہر

کریما! دُور کر، تو اِن سے ہر شرّ

رحیما! نیک کر اور پھر معمّر

پڑھایا جس نے اُس پر بھی کرم کر

جزا دے دین اور دُنیا میں بہتر

رہِ تعلیم اِک تو نے بتا دی۱؎

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

دیئے ہیں تو نے مجھ کو چار فرزند

اگر چہ مجھ کو بس تجھ سے ہے پیوند

بنا اِن کو نِکو کار و خِردمند

کرم سے ان پہ کر راہِ بدی بند

ہدایت کر انہیں میرے خداوند

کہ بے توفیق کام آوے نہ کچھ پند

تو خود کر پرورش اے میرے اخوند

وہ تیرے ہیں ہماری عُمر تاچند

یہ سب تیرا کرم ہے میرے ہادی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

مرے مولیٰ مری یہ اِک دُعا ہے

تری درگاہ میں عجز و بُکا ہے

وہ دے مجھ کو جو اِس دل میں بھرا ہے

زباں چلتی نہیں شرم و حیا ہے

مری اولاد جو تیری عطا ہے

ہر اک کو دیکھ لُوں وہ پارسا ہے

تری قدرت کے آگے روک کیا ہے

وہ سب دے اِن کو جو مجھ کو دیا ہے

عجب مُحسن ہے تو بَحْرُ الْاَیَادِیْ

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

نجات اِن کو عطا کر گندگی سے

برات اِن کو عطا کر بندگی سے

رہیں خوشحال اور فرخندگی سے

بچانا اے خدا! بد زندگی سے

وہ ہوں میری طرح دیں کے مُنادی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

عیاں کر ان کی پیشانی پہ اقبال

نہ آوے اِن کے گھر تک رُعبِ دجّال

بچانا اِن کو ہر غم سے بہرحال

نہ ہوں وہ دُکھ میں اور رنجوں میں پامال

یہی اُمّید ہے دِل نے بتا دی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

دعا کرتا ہوں اے میرے یگانہ

نہ آوے اِن پہ رنجوں کا زمانہ

نہ چھوڑیں وہ ترا یہ آستانہ

مرے مولیٰ! انہیں ہر دم بچانا

یہی اُمّید ہے اے میرے ہادی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

نہ دیکھیں وہ زمانہ بے کسی کا

مصیبت کا، اَلَم کا، بے بسی کا

یہ ہو مَیں دیکھ لوں تقویٰ سبھی کا

جب آوے وقت میری واپسی کا

بشارت تو نے پہلے سے سُنا دی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

ہمیں اُس یار سے تقویٰ عطا ہے

نہ یہ ہم سے کہ احسانِ خدا ہے

کرو کوشش اگر صدق و صفا ہے

کہ یہ حاصل ہو جو شرطِ لقا ہے

یہی آئینۂ خالق نما ہے

یہی اِک جوہرِ سیفِ دُعا ہے

ہر اِک نیکی کی جڑ یہ اِتّقا ہے

اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے۱؎

یہی اک فخرِ شانِ اولیاء ہے

بجز تقویٰ زیادت اِن میں کیا ہے

ڈرو یارو کہ وہ بینا خدا ہے

اگر سوچو، یہی دارُ الجزاء ہے

مجھے تقویٰ سے اُس نے یہ جزا دی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

عجب گوہر ہے جس کا نام تقویٰ

مبارک وہ ہے جس کا کام تقویٰ

سنو! ہے حاصلِ اسلام تقویٰ

خدا کا عشق مَے اور جام تقویٰ

مُسلما نو! بناؤ تام تقویٰ

کہاں ایماں اگر ہے خام تقویٰ

یہ دولت تو نے مجھ کو اے خدا دی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

خدایا تیرے فضلوں کو کروں یاد

بشارت تُو نے دی اور پھر یہ اولاد

کہا ہرگز نہیں ہوں گے یہ برباد

بڑھیں گے جیسے باغوں میں ہوں شمشاد

خبر مجھ کو یہ تُو نے بارہا دی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

مری اولاد سب تیری عطا ہے

ہر اک تیری بشارت سے ہوا ہے

یہ پانچوں جو کہ نسلِ سیّدہ ہے

یہی ہیں پَنج تن جن پر بنا ہے

یہ تیرا فضل ہے اے میرے ہادی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

دِیئے تُو نے مجھے یہ مہر و مہتاب

یہ سب ہیں میرے پیارے تیرے اسباب

دِکھایا تُو نے وہ اے ربِّ ارباب

کہ کم ایسا دکھا سکتا کوئی خواب

یہ تیرا فضل ہے اے میرے ہادی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

میں کیونکر گن سکوں تیرے یہ انعام

کہاں ممکن ترے فضلوں کا ارقام

ہر اک نعمت سے تُو نے بھر دیا جام

ہر اِک دشمن کیا مَردُود و ناکام

یہ تیرا فضل ہے اے میرے ہادی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

بشارت دی کہ اِک بیٹا ہے تیرا

جو ہو گا ایک دِن محبوب میرا

کروں گا دُور اُس مَہ سے اندھیرا

دکھاؤں گا کہ اِک عالَم کو پھیرا

بشارت کیا ہے اِک دل کی غذا دی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْٓ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

مری ہر بات کو تُو نے جِلا دی

مری ہر روک بھی تُو نے اُٹھا دی

مری ہر پیش گوئی خود بنا دی

تَرٰی نَسْلًا بَعِیْدًا بھی دِکھا دی

جو دی ہے مُجھ کو وہ ،کس کو عطا دی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْٓ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

بہار آئی ہے اِس وقتِ خزاں میں

لگے ہیں پھول میرے بوستاں میں

ملاحت ہے عجب اس دلستاں میں

ہوئے بدنام ہم اِس سے جہاں میں

عدُو جب بڑھ گیا شور و فُغاں میں

نہاں ہم ہو گئے یارِ نہاں میں

ہوا مُجھ پر وہ ظاہر میرا ہادی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْٓ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

کروں کیونکر اَدا میں شکرِ باری

فِدا ہو اُس کی رہ میں عمر ساری

مرے سَر پر ہے مِنّت اس کی بھاری

چلی اس ہاتھ سے کشتی ہماری

مری بگڑی ہوئی اُس نے بنا دی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْٓ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

تجھے حمدوثنا زیبا ہے پیارے

کہ تو نے کام سب میرے سنوارے

ترے احساں مرے سر پر ہیں بھارے

چمکتے ہیں وہ سب جیسے ستارے

گڑھے میں تُو نے سب دُشمن اُتارے

ہمارے کر دئیے اُونچے منارے

مقابل میں مرے یہ لوگ ہارے

کہاں مرتے تھے پر تُو نے ہی مارے

شریروں پر پڑے اُن کے شرارے

نہ اُن سے رُک سکے مقصد ہمارے

اُنہیں ماتم ہمارے گھر میں شادی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

تری رحمت ہے، میرے گھر کا شہتیر

مری جاں تیرے فضلوں کی پنہ گیر

حریفوں کو لگے ہر سَمت سے تیر

گرفتار آ گئے جیسے کہ نخچیر

ہوا آخر وُہی جو تیری تقدیر

بھلا چلتی ہے تیرے آگے تدبیر

خدا نے اُن کی عظمت سب اُڑا دی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

مری اُس نے ہر اِک عزّت بنا دی

مخالف کی ہر اک شیخی مٹا دی

مجھے ہر قسم سے اُس نے عطا دی

سعادت دی، ارادت دی، وفا دی

ہر اک آزار سے مجھ کو شفا دی

مرض گھٹتا گیا جُوں جُوں دوا دی

محبت غیر کی دل سے ہٹا دی

خدا جانے کہ کیا دل کو سُنا دی

دوا دی اور غذا دی اور قبا دی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

مجھے کب خواب میں بھی تھی یہ اُمید

کہ ہو گا میرے پر یہ فضلِ جاوید

ملی یوسف کی عزت لیک بے قید

نہ ہو تیرے کرم سے کوئی نومید

مراد آئی ، گئی سب نامرادی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

تری رحمت عجب ہے اے مرے یار

ترے فضلوں سے میرا گھر ہے گلزار

غریقوں کو کرے اِک دم میں تُو پار

جو ہو نومید تجھ سے، ہے وہ مُردار

وہ ہو آوارۂ ہر دَشت و وادی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

ہوئے ہم تیرے اے قادر توانا

ترے دَر کے ہوئے اور تجھ کو جانا

ہمیں بس ہے تری درگہ پہ آنا

مصیبت سے ہمیں ہر دم بچانا

کہ تیرا نام ہے غفّار و ہادی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

تجھے دنیا میں ہے کِس نے پکارا

کہ پھر خالی گیا قسمت کا مارا

تو پھر ہے کس قدر اس کو سہارا

کہ جس کا تُو ہی ہے سب سے پیارا

ہوا مَیں تیرے فضلوں کا مُنادی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

میں کیونکر گن سکوں تیری عنایات

ترے فضلوں سے پُر ہیں میرے دن رات

مری خاطر دکھائیں تو نے آیات

تَرَحُّم سے مری سُن لی ہر اک بات

کرم سے تیرے دُشمن ہو گئے مات

عطا کیں تُو نے سب میری مُرادات

پڑا پیچھے جو میرے غولِ بدذات

پڑی آخر خود اُس موذی پہ آفات

ہوا انجام سب کا نامُرادی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

بنائی تُو نے پیارے میری ہر بات

دکھائے تُو نے اِحساں اپنے دن رات

ہر اک میداں میں دیں تُو نے فتوحات

بد اندیشوں کو تُو نے کر دیا مَات

ہر اک بگڑی ہوئی تُو نے بنا دی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

تری نُصرت سے اب دُشمنؔ تبہ ہے

ہر اک جا میں ہماری تُو پَنَہ ہے

ہر اک بد خواہ اب کیوں رُوسیہ ہے

کہ وہ مثلِ خسوفِ مہرومہ ہے

سیاہی چاند کی مُنہ نے دِکھا دی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

ترے فضلوں سے جاں بُستاں سرا ہے

ترے نوروں سے دِل شمسُ الضُّحیٰ ہے

اگر اندھوں کو اِنکار و اِبا ہے

وہ کیا جانیں کہ اِس سینہ میں کیا ہے

کہیں جو کچھ کہیں سَر پر خدا ہے

پھر آخر ایک دِن روزِ جزا ہے

بَدی کا پَھل بَدی اور نامُرادی

فَسُبْحَانَ الَّذِيْٓ اَخْزَى الْاَعَادِیْ

تُجھے سب زور و قُدرت ہے خُدایا

تجھے پایا ہر اِک مطلب کو پایا

ہر اک عاشق نے ہے اِک بُت بنایا

ہمارے دِل میں یہ دِلبر سمایا

وُہی آرامِ جاں اور دِل کو بھایا

وہی جس کو کہیں رَبّ البرایا

ہوا ظاہر وہ مُجھ پر بِالْاَیَادِی

فَسُبْحَانَ الَّذِيْٓ اَخْزَى الْاَعَادِیْ

مجھے اُس یار سے پیوندِ جاں ہے

وُہی جنت، وہی دارالاماں ہے

بیاں اس کا کروں طاقت کہاں ہے

محبت کا تو اِک دریا رواں ہے

یہ کیا اِحساں ہیں ترے میرے ہادی

فَسُبْحَانَ الَّذِيْٓ اَخْزَى الْاَعَادِیْ

تری نِعمت کی کچھ قِلّت نہیں ہے

تہی اِس سے کوئی ساعت نہیں ہے

شمارِ فضل اور رحمت نہیں ہے

مجھے اَب شکر کی طاقت نہیں ہے

یہ کیا اِحساں ہیں ترے میرے ہادی

فَسُبْحَانَ الَّذِيْٓ اَخْزَى الْاَعَادِیْ

ترے کُوچے میں کن راہوں سے آؤں

وہ خدمت کیا ہے جس سے تجھ کو پاؤں

محبت ہے کہ جس سے کھینچا جاؤں

خدائی ہے خُودی جس سے جلاؤں

محبت چیز کیا کس کو بتاؤں

وفا کیا راز ہے کس کو سناؤں

مَیں اِس آندھی کو اب کیونکر چھپاؤں

یہی بہتر کہ خاک اپنی اڑاؤں

کہاں ہم اور کہاں دنیائے مادی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْٓ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

کوئی اُس پاک سے جو دل لگا いたवे

کرے پاک آپ کو تب اُس کو پاوے

جو مرتا ہے وہی زندوں میں جاوے

جو جلتا ہے وہی مُردے جلاوے

ثمر ہے دُور کا کب غیر کھاوے

چلو اُوپر کو وہ نیچے نہ آوے

نہاں اندر نہاں ہے کون لاوے

غَرِیقِ عشق وہ موتی اُٹھاوے

وہ دیکھے نیستی رحمت دکھاوے

خودی اور خود روی کب اُسکو بھاوے

مجھے تو نے یہ دولت اے خدا دی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْٓ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

کہاں تک حرص و شوقِ مالِ فانی!

اُٹھو ڈھونڈو متاعِ آسمانی

کہاں تک جوشِ آمال و اَمانی

یہ سَو سَو چھید ہیں تم میں نہانی

تو پھر کیونکر ملے وہ یارِ جانی

کہاں غِربال میں رہتا ہے پانی

کرو کچھ فِکِرِ مُلکِ جاودانی

یہ مُلک و مال جھوٹی ہے کہانی

بسر کرتے ہو غفلت میں جوانی

مگر دِل میں یہی تم نے ہے ٹھانی

خدا کی ایک بھی تم نے نہ مانی

ذرا سوچو یہی ہے زندگانی !

خدا نے اپنی رہ مجھ کو بتا دی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْٓ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

کرو توبہ کہ تا ہو جائے رحمت

دِکھاؤ جلد تر صدق و اِنابت

کھڑی ہے سر پہ ایسی ایک ساعت

کہ یاد آ جائے گی جس سے قیامت

مجھے یہ بات مولیٰ نے بتا دی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْٓ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

مُسلمانوں پہ تب اِدبار آیا

کہ جب تعلیمِ قُرآں کو بُھلایا

رسُولِ حق کو مٹی میں سُلایا

مسیحا کو فلک پر ہے بٹھایا

یہ توہیں کر کے پھل ویسا ہی پایا

اہانت نے اُنہیں کیا کیا دِکھایا

خدا نے پھر تمہیں اب ہے بُلایا

کہ سوچو عِزّتِ خیرالبَرایا

ہمیں یہ رہ خُدا نے خود دِکھا دی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْٓ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

کوئی مُردوں سے کیونکر راہ پاوے

مرے تب بےگماں مُردوں میں جاوے

خدا عیسیٰ کو کیوں مُردوں سے لاوے

وُہ خود کیوں مُہرِ خَتَمِیَّت مٹاوے

کہاں آیا کوئی تا وہ بھی آوے

کوئی اِک نام ہی ہم کو بتاوے

تمہیں کس نے یہ تعلیمِ خطا دی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْٓ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

وہ آیا منتظر تھے جس کے دن رات

معمّہ کھل گیا روشن ہوئی بات

دکھائیں آسماں نے ساری آیات

زمیں نے وقت کی دیدیں شہادت

پھر اس کے بعد کون آئیگا ہیہات

خدا سے کچھ ڈرو چھوڑو معادات

خدا نے اِک جہاں کو یہ سُنا دی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْٓ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

مسیحِ وقت اَب دنیا میں آیا

خدا نے عہد کا دن ہے دِکھایا

مبارک وہ جو اَب ایمان لایا

صحابہؓ سے ملا جب مجھ کو پایا

وہی مَے اُن کو ساقی نے پِلا دی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْٓ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

خدا کا ہم پہ بس لُطف و کرم ہے

وہ نعمت کون سی باقی جو کم ہے

زمینِ قادیاں اَب مُحترم ہے

ہجومِ خَلق سے ارضِ حَرم ہے

ظہورِ عَوْن و نُصرت دمبدم ہے

حسد سے دشمنوں کی پُشت خم ہے

سُنو اب وقتِ توحیدِ اَتَمّ ہے

سِتم اب مائلِ مُلکِ عدم ہے

خدا نے روک ظلمت کی اُٹھا دی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْٓ اَخْزَی الْاَعَادِیْ


مجموعہ آمین۔ مطبوعہ ۲۷؍ نومبر ۱۹۰۱ء

شانِ احمدِ عربی

زندگی بخش جامِ احمد ہے

کیا ہی پیارا یہ نامِ احمد ہے

لاکھ ہوں انبیاء مگر بخدا

سب سے بڑھ کر مقامِ احمد ہے

باغِ احمد سے ہم نے پھل کھایا

میرا بُستاں کلامِ احمد ہے

ابنِ مریم کے ذِکر کو چھوڑو

اس سے بہتر غُلامِ احمد ہے


دافع البلاء صفحہ ۲۰۔ مطبوعہ ۱۹۰۲ء

اشاعتِ دین بزورِ شمشیر حرام ہے

اب چھوڑ دو جہاد ا؎ کا اے دوستو خیال

دِیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

اب آگیا مسیح جو دیں کا امام ہے

دیں کی تمام جنگوں کا اب اِختتام ہے

اب آسماں سے نُورِ خدا کا نزول ہے

اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے

دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد

منکر نبیؐ کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

کیوں چھوڑتے ہو لوگو نبیؐ کی حدیث کو

جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اُس خبیث کو

کیوں بھولتے ہو تم يَضَعُ الْحَرْبَ کی خبر

کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر

فرما چکا ہے سیّدِ کونین مصطفےٰ

عیسیٰ مسیح جنگوں کا کر دے گا اِلتوا

جب آئے گا تو صُلح کو وہ ساتھ لائے گا

جنگوں کے سلسلہ کو وہ یکسر مٹائے گا

پیویں گے ایک گھاٹ پہ شیر اور گوسپند

کھیلیں گے بچے سانپوں سے بے خوف و بے گزند

یعنی وہ وقت امن کا ہو گا نہ جنگ کا

بھولیں گے لوگ مشغلہ تیر و تفنگ کا

یہ حکم سُن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا

وہ کافروں سے سخت ہزیمت اُٹھائے گا

اک معجزہ کے طور سے یہ پیش گوئی ہے

کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے

القصّہ یہ مسیح کے آنے کا ہے نشاں

کردے گا ختم آ کے وہ دیں کی لڑائیاں

ظاہر ہیں خود نشاں کہ زماں وہ زماں نہیں

اب قوم میں ہماری وہ تاب و تواں نہیں

اب تم میں خود وہ قوّت و طاقت نہیں رہی

وہ سلطنت وہ رعب وہ شوکت نہیں رہی

وہ نام وہ نمود وہ دولت نہیں رہی

وہ عزمِ مُقبلانہ وہ ہمّت نہیں رہی

وہ عِلم وہ صلاح وہ عِفّت نہیں رہی

وہ نور اور وہ چاند سی طلعت نہیں رہی

وہ دَرد وہ گداز وہ رِقّت نہیں رہی

خلقِ خدا پہ شفقت و رحمت نہیں رہی

دل میں تمہارے یار کی اُلفت نہیں رہی

حالت تمہاری جاذبِ نصرت نہیں رہی

حمق آگیا ہے سر میں وہ فِطْنَت نہیں رہی

کُسَّل آگیا ہے دِل میں جلادت نہیں رہی

وہ علم و معرفت وہ فراست نہیں رہی

وہ فکر وہ قیاس وہ حِکمت نہیں رہی

دُنیا و دیں میں کچھ بھی لیاقت نہیں رہی

اب تم کو غیر قوموں پہ سبقت نہیں رہی

وہ اُنس و شوق و وَجد وہ طاعت نہیں رہی

ظلمت کی کچھ بھی حدّ و نہایت نہیں رہی

ہر وقت جھوٹ، سچ کی تو عادت نہیں رہی

نورِ خدا کی کچھ بھی علامت نہیں رہی

سَو سَو ہے گند دِل میں طہارت نہیں رہی

نیکی کے کام کرنے کی رغبت نہیں رہی

خوانِ تہی پڑا ہے وہ نعمت نہیں رہی

دیں بھی ہے ایک قشر حقیقت نہیں رہی

مولیٰ سے اپنے کچھ بھی محبت نہیں رہی

دِل مر گئے ہیں نیکی کی قدرت نہیں رہی

سب پر یہ اک بلا ہے کہ وحدت نہیں رہی

اِک پُھوٹ پڑ رہی ہے، مَوَدَّت نہیں رہی

تم مَر گئے تمہاری وہ عظمت نہیں رہی

صورت بگڑ گئی ہے وہ صورت نہیں رہی

اب تم میں کیوں وہ سیف کی طاقت نہیں رہی

بھید اس میں ہے یہی کہ وہ حاجت نہیں رہی

اب کوئی تم پہ جبر نہیں غیر قوم سے

کرتی نہیں ہے منع صلوٰۃ اور صوم سے

ہاں آپ تم نے چھوڑ دیا دیں کی راہ کو

عادت میں اپنی کر لیا فِسق و گناہ کو

اب زندگی تمہاری تو سب فاسقانہ ہے

مومن نہیں ہو تم کہ قدم کافرانہ ہے

اَے قوم! تم پہ یار کی اب وہ نظر نہیں

روتے رہو دعاؤں میں بھی وہ اثر نہیں

کیونکر ہو وہ نظر کہ تمہارے وہ دِل نہیں

شیطاں کے ہیں خدا کے پیارے وہ دِل نہیں

تقویٰ کے جامے جتنے تھے سب چاک ہو گئے

جتنے خیال دِل میں تھے ناپاک ہو گئے

کچھ کچھ جو نیک مرد تھے وہ خاک ہو گئے

باقی جو تھے وہ ظالم و سفّاک ہو گئے

اب تم تو خود ہی موردِ خشمِ خدا ہوئے

اُس یار سے بشامتِ عصیاں جُدا ہوئے

اب غیروں سے لڑائی کے معنے ہی کیا ہوئے

تم خود ہی غیر بن کے محلِّ سزا ہوئے

سچ سچ کہو کہ تم میں اَمانت ہے اب کہاں

وہ صدق اور وہ دین و دیانت ہے اب کہاں

پھر جبکہ تم میں خود ہی وہ ایماں نہیں رہا

وہ نورِ مومنانہ وہ عرفاں نہیں رہا

پھر اپنے کفر کی خبر اَے قوم! لیجئے

آیت عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ یاد کیجئے

ایسا گماں کہ مہدیٔ خونی بھی آئے گا

اور کافروں کے قتل سے دیں کو بڑھائے گا

اے غافلو! یہ باتیں سراسر دروغ ہیں

بہتاں ہیں بے ثبوت ہیں اور بے فروغ ہیں

یارو جو مرد آنے کو تھا وہ تو آ چکا

یہ راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا

اب سال سترہ۱؎ بھی صدی سے گزر گئے

تم میں سے ہائے سوچنے والے کدھر گئے

تھوڑے نہیں نشاں جو دکھائے گئے تمہیں

کیا پاک راز تھے جو بتائے گئے تمہیں

پر تم نے اُن سے کچھ بھی اُٹھایا نہ فائدہ

مُنہ پھیر کر ہٹا دیا تم نے یہ مائدہ

بُخلوں سے یارو باز بھی آؤ گے یا نہیں

خُو اپنی پاک صاف بناؤ گے یا نہیں

باطل سے میل دل کی ہٹاؤ گے یا نہیں

حق کی طرف رجوع بھی لاؤ گے یا نہیں

اب عذر کیا ہے کچھ بھی بتاؤ گے یا نہیں

مخفی جو دل میں ہے وہ سُناؤ گے یا نہیں

آخر خدا کے پاس بھی جاؤ گے یا نہیں

اُس وقت اُس کو مُنہ بھی دکھاؤ گے یا نہیں

تم میں سے جس کو دین و دیانت سے ہے پیار

اب اس کا فرض ہے کہ وہ دل کر کے استوار

لوگوں کو یہ بتائے کہ وقتِ مسیح ہے

اب جنگ اور جہاد حرام اور قبیح ہے

ہم اپنا فرض دوستو اب کر چکے ادا

اب بھی اگر نہ سمجھو تو سمجھائے گا خدا


ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۲۶۔ مطبوعہ ۱۹۰۲ء

تعلق باللہ

کبھی نُصرت نہیں ملتی درِ مولیٰ سے گندوں کو

کبھی ضائع نہیں کرتا وہ اپنے نیک بندوں کو

وُہی اُس کے مقرّب ہیں جو اپنا آپ کھوتے ہیں

نہیں رہ اُس کی عالی بارگہ تک خُود پسندوں کو

یہی تدبیر ہے پیارو کہ مانگو اُس سے قُربت کو

اُسی کے ہاتھ کو ڈھونڈو جَلاؤ سب کمندوں کو


ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ۵ صفحہ اول۔ مطبوعہ ۱۹۰۲ء

جوشِ صداقت

کیوں نہیں لوگو تمہیں حق کا خیال

دِل میں آتا ہے مرے سَو سَو اُبال

آنکھ تر ہے دِل میں میرے درد ہے

کیوں دِلوں پر اِس قدر یہ گرد ہے

دِل ہوا جاتا ہے ہر دم بے قرار

کِس بیاباں میں نکالوں یہ بخار

ہو گئے ہم دَرد سے زیر و زبر

مَر گئے ہم پر نہیں تم کو خبر

آسماں پر غافلو اِک جوش ہے

کچھ تو دیکھو گر تمہیں کچھ ہوش ہے

ہو گیا دِیں کفر کے حملوں سے چُور

چُپ رہے کب تک خداوندِ غیور

اِس صَدی کا بیسواں اب سال ہے

شِرک و بدعت سے جہاں پامال ہے

بدگماں کیوں ہو خدا کچھ یاد ہے

اِفترا کی کب تلک بنیاد ہے

وہ خدا میرا جو ہے جوہر شناس

اِک جہاں کو لا رہا ہے میرے پاس

لعنتی ہوتا ہے مردِ مُفتری

لعنتی کو کب ملے یہ سروری


اعجاز احمدی صفحہ ۳۲۔ مطبوعہ ۱۹۰۲ء

نسیمِ دعوت

نام اِس کا نسیمِ دعوت ہے

آریوں کے لئے یہ رحمت ہے

دِلِ بیمار کا یہ درماں ہے

طالبوں کا یہ یارِ خلوت ہے

کُفر کے زہر کو یہ ہے تریاق

ہر وَرق اِس کا جامِ صحت ہے

غور کر کے اِسے پڑھو پیارو

یہ خدا کے لئے نصیحت ہے

خاکساری سے ہم نے لکھا ہے

نہ تو سختی نہ کوئی شِدّت ہے

قوم سے مت ڈرو، خدا سے ڈرو

آخر اُس کی طرف ہی رِحلت ہے

سخت دِل کیسے ہو گئے ہیں لوگ

سر پہ طاعوں ہے پھر بھی غفلت ہے

ایک دُنیا ہے مر چکی اب تک

پھر بھی توبہ نہیں یہ حالت ہے


نسیمِ دعوت ٹائٹل پیج۔ مطبوعہ ۱۹۰۳ء

آریوں کو دعوتِ حق

اَے آریہ سماج پھنسومت عذاب میں

کیوں مبتلا ہو یارو خیالِ خراب میں

اَے قومِ آریہ تیرے دِل کو یہ کیا ہوا

تو جاگتی ہے یا تِری باتیں ہیں خواب میں

کیا وہ خدا جو ہے تِری جاں کا خدا نہیں

ایماں کی بونہیں ترے ایسے جواب میں

گر عاشقوں کی رُوح نہیں اُس کے ہاتھ سے

پھر غیر کیلئے ہیں وہ کیوں اِضطراب میں

گر وہ الگ ہے ایسا کہ چھُو بھی نہیں گیا

پھر کِس نے لکھ دیا ہے وہ دل کی کتاب میں

جس سوز میں ہیں اُس کیلئے عاشقوں کے دِل

اِتنا تو ہم نے سوز نہ دیکھا کباب میں

جامِ وصال دیتا ہے اُس کو جو مَر چکا

کچھ بھی نہیں ہے فرق یہاں شَیْخ و شاب میں

ملتا ہے وہ اُسی کو جو ہو خاک میں مِلا!

ظاہر کی قیل و قال بھلا کس حساب میں

ہوتا ہے وہ اُسی کا جو اُس کا ہی ہو گیا

ہے اسکی گود میں جو گِرا اس جناب میں

پھولوں کو جا کے دیکھو اسی سے وہ آب ہے

چمکے اُسی کا نور مہہ لے و آفتاب میں

خُوبوں کے حُسن میں بھی اُسی کا وہ نور ہے

کیا چیز حُسن ہے وہی چمکا حجاب میں

اِس کی طرف ہے ہاتھ ہر اک تارِ زُلف کا

ہجراں سے اسکے رہتی ہے وہ پیچ و تاب میں

ہر چشمِ مست دیکھو اسی کو دکھاتی ہے

ہر دِل اسی کے عشق سے ہے التہاب میں

جن مُورکھوں کو کاموں پہ اسکے یقیں نہیں

پانی کو ڈھونڈتے ہیں عبث وہ سراب میں

قُدرت سے اُس قدیر کی اِنکار کرتے ہیں!

بکتے ہیں جیسے غرق ہو کوئی شراب میں

دِل میں نہیں کہ دیکھیں وہ اُس پاک ذات کو

ڈرتے ہیں قوم سے کہ نہ پکڑیں عتاب میں

ہم کو تو اے عزیز دکھا اپنا وہ جمال

کب تک وہ مُنہ رہیگا حجاب و نقاب میں


سناتن دھرم ٹائیٹل پیج ۔ صفحہ ۲ مطبوعہ ۱۹۰۳ء

پیشگوئی زلزلۂ عظیمہ

سونے والو! جلد جاگو یہ نہ وقتِ خواب ہے

جو خبر دی وحیِ حق نے اُس سے دِل بیتاب ہے

زلزلہ سے دیکھتا ہوں میں زمیں زیر و زبر

وقت اب نزدیک ہے آیا کھڑا سیلاب ہے

ہے سرِ رَہ پر کھڑا نیکوں کی وہ مولیٰ کریم

نیک کو کچھ غم نہیں ہے گو بڑا گرداب ہے

کوئی کشتی اب بچا سکتی نہیں اِس سَیل سے

حیلے سب جاتے رہے اِک حضرتِ تَوّاب ہے


اشتہار النداء من وحی السماء مطبوعہ اخبار بدر مئی ۱۹۰۵ء

اِنذار

اشتہار واجب الاظہار از طرف این خاکسار دربارہ پیشگوئی زلزلہ

دوستو! جا گو کہ اب پھر زلزلہ آنے کو ہے

پھر خدا قُدرت کو اپنی جلد دکھلانے کو ہے

وہ جو ماہِ فروری میں تم نے دیکھا زلزلہ

تم یقیں سمجھو کہ وہ اک زجر سمجھانے کو ہے

آنکھ کے پانی سے یارو! کچھ کرو اس کا علاج

آسماں اے غافلو اب آگ برسانے کو ہے

کیوں نہ آویں زلزلے، تقویٰ کی رہ گم ہوگئی

اِک مُسلماں بھی مُسلماں صرف کہلانے کو ہے

کس نے مانا مجھ کو ڈر کر کس نے چھوڑا بغض و کیں

زندگی اپنی تو اُن سے گالیاں کھانے کو ہے

کافر و دجّال اور فاسق ہمیں سب کہتے ہیں

کون ایماں صدق اور اِخلاص سے لانے کو ہے

جس کو دیکھو بدگمانی میں ہی حد سے بڑھ گیا

گر کوئی پوچھے تو سَو سَو عیب بتلانے کو ہے

چھوڑتے ہیں دیں کو اور دُنیا سے کرتے ہیں پیار

سَو کریں وعظ و نصیحت کون پچھتانے کو ہے

ہاتھ سے جاتا ہے دل دیں کی مصیبت دیکھ کر

پر خدا کا ہاتھ اب اِس دِل کو ٹھہرانے کو ہے

اس لیے اب غیرت اس کی کچھ تمہیں دکھلائے گی

ہر طرف یہ آفتِ جاں ہاتھ پھیلانے کو ہے

موت کی رہ سے ملے گی اب تو دیں کو کچھ مدد

ورنہ دیں اے دوستو! اِک روز مَر جانے کو ہے

یا تو اِک عالم تھا قُرباں اُس پہ یا آئے یہ دن

ایک عبد العبد بھی اس دیں کے جھٹلانے کو ہے

چشمۂ مسیحی ٹائیٹل پیج صفحہ ۲۔ مطبوعہ ۱۹۰۶ء

قادیان کے آریہ

آریوں پر ہے صد ہزار افسوس

دِل میں آتا ہے بار بار افسوس

ہو گئے حق کے سخت نافرمان

کر دیا دِیں کو قوم پر قُرباں!

وہ نشاں جس کی روشنی سے جہاں

ہو کے بیدار ہو گیا لرزاں

اِن نشانوں سے ہیں یہ اِنکاری

پر کہاں تک چلے گی طرّاری

اُن کے باطن میں اِک اندھیرا ہے

کِین و نخوت نے آ کے گھیرا ہے

لڑ رہے ہیں خُدائے یکتا سے

باز آتے نہیں ہیں غوغا سے

قوم کے خوف سے وہ مرتے ہیں

سَو نشاں دیکھیں کب وہ ڈرتے ہیں

موتِ لیکھو بڑی کرامت ہے

پر سمجھتے نہیں یہ شامت ہے

میرے مالک تو اِن کو خود سمجھا

آسماں سے پھر اِک نِشان دکھلا


”قادیان کے آریہ اور ہم“ ٹائیٹل پیج۔ صفحہ ۲۔ مطبوعہ ۱۹۰۷ء

شانِ اسلام

اِسلام سے نہ بھاگو راہِ ہدٰی یہی ہے

اَے سونے والو جاگو! شمسُ الضُّحٰی یہی ہے

مجھ کو قسم خدا کی جس نے ہمیں بنایا

اَب آسماں کے نیچے دینِ خدا یہی ہے

وہ دِلسِتاں نہاں ہے، کس رَہ سے اُس کو دیکھیں

اِن مشکلوں کا یارو! مشکل کُشا یہی ہے

باطن سیہ ہیں جن کے اِس دِیں سے ہیں وہ مُنکر

پر اَے اندھیرے والو! دِل کا دِیا یہی ہے

دنیا کی سب دُکانیں ہیں ہم نے دیکھی بھالیں

آخر ہوا یہ ثابت دَارُ الشّفاء یہی ہے

سب خشک ہو گئے ہیں جتنے تھے باغ پہلے

ہر طرف مَیں نے دیکھا بُستاں ہرا یہی ہے

دُنیا میں اِس کا ثانی کوئی نہیں ہے شربت

پی لو تم اِس کو یارو! آبِ بقا یہی ہے

اِسلام کی سچائی ثابت ہے جیسے سورج

پر دیکھتے نہیں ہیں دُشمن بَلا یہی ہے

جب کُھل گئی سچائی پھر اس کو مان لینا

نیکوں کی ہے یہ خصلت راہِ حیا یہی ہے

جو ہو مفید لینا جو بد ہو اُس سے بچنا

عقل و خِرَد یہی ہے فہم و ذکا یہی ہے

مِلتی ہے بادشاہی اِس دِیں سے آسمانی

اے طالبانِ دولت! ظِلِّ ہُما یہی ہے

سب دیں ہیں اِک فسانہ شِرکوں کا آشیانہ

اُس کا ہے جو یگانہ چہرہ نما یہی ہے

سَو سَو نشاں دکھا کر لاتا ہے وہ بُلا کر

مجھ کو جو اُس نے بھیجا بس مُدّعا یہی ہے

کرتا ہے معجزوں سے وہ یار دِیں کو تازہ

اِسلام کے چمن کی بادِ صبا یہی ہے

یہ سب نشاں ہیں جن سے دیں اب تلک ہے تازہ

اے گرنے والو دوڑو دیں کا عصا یہی ہے

کِس کام کا وہ دیں ہے جس میں نشاں نہیں ہے

دیں کی مرے پیارو! زرّیں قبا یہی ہے

افسوس آریوں پر جو ہو گئے ہیں شپّڑ

وہ دیکھ کر ہیں مُنکِر ظلم و جفا یہی ہے

معلوم کر کے سب کچھ محروم ہو گئے ہیں

کیا اِن نیوگیوں کا ذہنِ رسا یہی ہے

اِک ہیں جو پاک بندے اِک ہیں دِلوں کے گندے

جیتیں گے صادق آخر حق کا مزا یہی ہے

اِن آریوں کا پیشہ ہر دَم ہے بدزبانی

ویدوں میں آریوں نے شاید پڑھا یہی ہے

پاکوں کو پاک فطرت دیتے نہیں ہیں گالی

پر اِن سیہ دِلوں کا شیوہ سدا یہی ہے

افسوس سبّ و توہیں سب کا ہوا ہے پیشہ

کِس کو کہوں کہ ان میں ہرزہ دَرا یہی ہے

آخر یہ آدمی تھے پھر کیوں ہوئے درندے

کیا جُون اِن کی بگڑی یا خود قضا یہی ہے

جس آریہ کو دیکھیں تہذیب سے ہے عاری

کِس کِس کا نام لیویں ہر سُو وَبا یہی ہے

لیکھو کی بدزبانی کارَدّ ہوئی تھی اس پر

پھر بھی نہیں سمجھتے حُمق و خطا یہی ہے

اپنے کیے کا ثمرہ لیکھو نے کیسا پایا

آخر خدا کے گھر میں بَد کی سزا یہی ہے

نبیوں کی ہتک کرنا اور گالیاں بھی دینا

کتوں سا کھولنا مُنہ تخمِ فنا یہی ہے

میٹھے بھی ہو کے آخر نَشتر ہی ہیں چلاتے

اِن تیرہ باطنوں کے دِل میں دغا یہی ہے

جاں بھی اگرچہ دیویں اِن کو بطورِ احساں

عادت ہے ان کی کُفراں رنج و عنا یہی ہے

ہندو کچھ ایسے بگڑے دِل پُر ہیں بُغض و کیں سے

ہر بات میں ہے توہیں طرزِ ادا یہی ہے

جاں بھی ہے اِن پہ قُرباں گر دِل سے ہوویں صافی

پس ایسے بدگُھوں کا مجھ کو گِلا یہی ہے

احوال کیا کہوں مَیں اِس غم سے اپنے دِل کا

گویا کہ اِن غموں کا مہماں سرا یہی ہے

لیتے ہی جنم اپنا دُشمن ہوا یہ فرقہ

آخر کی کیا اُمیدیں جب ابتدا یہی ہے

دِل پَھٹ گیا ہمارا تحقیر سُنتے سُنتے

غم تو بہت ہیں دِل میں پر جاں گزاہی ہے

دنیا میں گرچہ ہو گی سَو قِسم کی بُرائی

پاکوں کی ہتک کرنا سب سے بُرا یہی ہے

غفلت پہ غافلوں کی روتے رہے ہیں مُرْسَلْ

پر اِس زماں میں لوگو! نوحہ نیا یہی ہے

ہم بد نہیں ہیں کہتے اُن کے مقدّسوں کو

تعلیم میں ہماری حکمِ خُدا یہی ہے

ہم کو نہیں سکھاتا وہ پاک بدزبانی

تقویٰ کی جڑ ھ یہی ہے صِدق و صفا یہی ہے

پر آریوں ۱؎ کے دیں میں گالی بھی ہے عبادت

کہتے ہیں سب کو جُھوٹے کیا اِتّقا یہی ہے

جتنے نبی تھے آئے موسیٰ ہو یا کہ عیسیٰ

مکّار ہیں وہ سارے اِن کی نِدا یہی ہے

اِک وید ہے جو سجّا باقی کتابیں ساری

جھوٹی ہیں اور جعلی اِک راہنما یہی ہے

یہ ہے خیال اِن کا پَربَت بنایا تِنکا

پر کیا کہیں جب اِن کا فہم و ذکا یہی ہے

کِیڑا جو دَب رہا ہے گوبر کی تہ کے نیچے

اُس کے گماں میں اُس کا اَرض و سما یہی ہے

ویدوں ۲؎ کا سب خلاصہ ہم نے نیوگ پایا

اِن پُستکوں کی رُو سے کارَج بھلا یہی ہے

جس اِستریؔ۱ کو لڑکا پیدا نہ ہو پِیاؔ۲ سے

ویدوں کی رُو سے اُس پر واجب ہوا یہی ہے

جب ہے یہی اشارہ پھر اس سے کیا ہے چارہ

جب تک نہ ہوویں گیارہ لڑکے رَوا یہی ہے

ایشَر کے گُن عجب ہیں ویدوں میں اے عزیزو!

اس میں نہیں مروّت ہم نے سُنا یہی ہے

دے کر نجات ومُکتی پھر چھینتا ہے سب سے

کیسا ہے وہ دیالو جس کی عطا یہی ہے

ایشَر بنا ہے مُنہ سے خالق نہیں کسی کا

رُوحیں ہیں سب اَنادی پھر کیوں خدا یہی ہے

رُوحیں اگر نہ ہوتیں ایشر سے کچھ نہ بنتا

اس کی حکومتوں کی ساری بِنا یہی ہے

اُن کا ہی مُنہ ہے تکتا ہر کام میں جو چاہے

گویا وہ بادشہ ہیں اُن کا گدا یہی ہے

القصّہ آریوں کے ویدوں کا یہ خدا ہے

اُن کا ہے جس پہ تکیہ وُہ بے نَوا یہی ہے

اے آریو! کہو اب ایشر کے ہیں یہی گُن

جس پر ہو ناز کرتے بولو وہ کیا یہی ہے

ویدوں کو شرم کر کے تم نے بہت چُھپایا

آخر کو رازِ بستہ اُس کا کھلا یہی ہے

قدرت نہیں ہے جس میں وہ خاک کا ہے ایشر

کیا دینِ حق کے آگے زور آزما یہی ہے

کچھ کم نہیں بُتوں سے یہ ہندوؤں کا ایشر

سچ پوچھئے تو واللہ بُت دوسرا یہی ہے

ہم نے نہیں بنائیں یہ اپنے دِل سے باتیں

ویدوں سے اے عزیزو ہم کو مِلا یہی ہے

فطرت ہر اِک بشر کی کرتی ہے اس سے نفرت

پھر آریوں کے دِل میں کیونکر بسا یہی ہے

یہ حکم وید کے ہیں جن کا ہے یہ نمونہ

ویدوں سے آریوں کو حاصل ہوا یہی ہے

خوش خوش عمل ہیں کرتے اوباش سارے اس پر

سارے نیوگیوں کا اِک آسرا یہی ہے

پھر کِس طرح وُہ مانیں تعلیمِ پاکِ فُرقاں

اُن کے تو دِل کا رہبر اور مُقتدا یہی ہے

جب ہو گئے ہیں مُلزم اُترے ہیں گالیوں پر

ہاتھوں میں جاہلوں کے سنگِ جفا یہی ہے

رُکتے نہیں ہیں ظالم گالی سے ایک دم بھی

اِن کا تو شغل و پیشہ صبح و مسا یہی ہے

کہنے کو وید والے پر دل ہیں سب کے کالے

پَردہ اُٹھا کے دیکھو اِن میں بھراؔ یہی ہے

فِطرت کے ہیں درندے مُردار ہیں نہ زندے

ہر دم زباں کے گندے قہرِ خداؔ یہی ہے

دینِ خدا کے آگے کچھ بن نہ آئی آخر

سب گالیوں پہ اُترے دل میں اُٹھا یہی ہے

شرم و حیا نہیں ہے آنکھوں میں اُن کے ہرگز

وہ بڑھ چکے ہیں حد سے اب اِنتہا یہی ہے

ہم نے ہے جس کو مانا قادر ہے وہ توانا

اُس نے ہے کچھ دِکھانا اس سے رجا یہی ہے

اِن سے دو چار ہونا عزّت ہے اپنی کھونا

ان سے ملاپ کرنا راہِ رِیا یہی ہے

بس اے مِرے پیارو! عقبیٰ کو مت بسارو

اِس دیں کو پاؤ یارو بدر الدّجیٰ یہی ہے

مَیں ہُوں ستم رسیدہ اُن سے جو ہیں رمیدہ

شاہد ہے آبِ دیدہ واقف بڑا یہی ہے

مَیں دِل کی کیا سُناؤں، کس کو یہ غم بتاؤں

دُکھ درد کے ہیں جھگڑے مجھ پر بلا یہی ہے

دِیں کے غموں نے مارا اب دل ہے پارہ پارہ

دِلبر کا ہے سہارا ورنہ فنا یہی ہے

ہم مر چکے ہیں غم سے کیا پوچھتے ہو ہم سے

اس یار کی نظر میں شرطِ وفا یہی ہے

برباد جائیں گے ہم گر وہ نہ پائیں گے ہم

رونے سے لائیں گے ہم دِل میں رجا یہی ہے

وہ دن گئے کہ راتیں کٹتی تھیں کر کے باتیں

اَب موت کی ہیں گھاتیں غم کی کتھا یہی ہے

جلد آپیارے ساقی اب کچھ نہیں ہے باقی

دے شربتِ تلاقی حِرص و ہَوا یہی ہے

شکرِ خدائے رحماں! جس نے دیا ہے قرآں

غنچے تھے سارے پہلے اب گُل کِھلا یہی ہے

کیا وصف اس کے کہنا ہر حرف اس کا گہنا

دِلبر بہت ہیں دیکھے دِل لے گیا یہی ہے

دیکھی ہیں سب کتابیں مُجمل ہیں جیسی خوابیں

خالی ہیں اُن کی قابیں خوانِ ہُدیٰ یہی ہے

اُس نے خدا ملایا وہ یار اُس سے پایا

راتیں تھیں جتنی گزریں اب دِن چڑھا یہی ہے

اُس نے نشاں دکھائے طالب سبھی بلائے

سوتے ہوئے جگائے بس حق نُما یہی ہے

پہلے صحیفے سارے لوگوں نے جب بگاڑے

دُنیا سے وہ سدھارے نوشہ نیا یہی ہے

کہتے ہیں حُسنِ یوسفؑ دلکش بہت تھا لیکن

خوبی و دِلبری میں سب سے سوا یہی ہے

یوسفؑ تو سُن چکے ہو اِک چاہ میں گِرا تھا

یہ چاہ سے نکالے جس کی صَدا یہی ہے

اِسلام کے محاسن کیونکر بیاں کروں مَیں

سب خشک باغ دیکھے پھُولا پھَلا یہی ہے

ہر جا زمیں کے کیڑے دیں کے ہوئے ہیں دشمن

اِسلام پر خدا سے آج اِبتلا یہی ہے

تَھم جاتے ہیں کچھ آنسو یہ دیکھ کر کہ ہر سُو

اِس غم سے صادقوں کا آہ و بُکا یہی ہے

سب مشرکوں کے سر پر یہ دیں ہے ایک خنجر

یہ شرک سے چھڑاوے اُن کو اَذیٰ یہی ہے

کیوں ہو گئے ہیں اس کے دُشمن یہ سارے گمراہ

وہ رہنما ہے رازِ چُون و چَرا یہی ہے

دِیں غار میں چُھپا ہے اِک شور کُفر کا ہے

اب تم دُعائیں کر لو غارِ حرا یہی ہے

وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نُور سارا

نام اُس کا ہے محمّدؐ دلبر مرا یہی ہے

سب پاک ہیں پیمبر اِک دُوسرے سے بہتر

لیک از خدائے برتر خیر الوریٰ یہی ہے

پہلوں سے خوب تر ہے خوبی میں اِک قمر ہے

اُس پر ہر اِک نظر ہے بدرُ الدُّجیٰ یہی ہے

پہلے تو رہ میں ہارے پار اُس نے ہیں اُتارے

مَیں جاؤں اُس کے وارےؔ بس ناخدا یہی ہے

پردے جو تھے ہٹائے اندر کی رہ دکھائے

دِل یار سے ملائے وہ آشنا یہی ہے

وہ یارِ لامکانی، وہ دلبرِ نہانی

دیکھا ہے ہم نے اس سے بس رہ نُما یہی ہے

وہ آج شاہِ دیں ہے وہ تاجِ مرسلیں ہے

وہ طَیِّب و اَمیں ہے اُس کی ثناء یہی ہے

حق سے جو حکم آئے سب اُس نے کر دکھائے

جو راز تھے بتائے نِعْمَ العطاء یہی ہے

آنکھ اُس کی دُور بیں ہے دِل یار سے قریں ہے

ہاتھوں میں شمعِ دیں ہے عینُ الضیاء یہی ہے

جو رازِ دیں تھے بھارے اُس نے بتائے سارے

دولت کا دینے والا فرماں روا یہی ہے

اُس نُور پر فدا ہوں اُس کا ہی مَیں ہوا ہوں

وہ ہے مَیں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے

وہ دلبرِ یگانہ عِلموں کا ہے خزانہ

باقی ہے سب فسانہ سچ بے خطا یہی ہے

سب ہم نے اُس سے پایا شاہد ہے تُو خدایا

وہ جس نے حق دِکھایا وہ مہ لقا یہی ہے

ہم تھے دِلوں کے اندھے سَو سَو دِلوں میں پھندے

پھر کھولے جس نے جندڑے۱ وہ مجتبٰی یہی ہے

اے میرے ربِّ رَحماں تیرے ہی ہیں یہ احساں

مشکل ہو تجھ سے آساں ہر دم رجا یہی ہے

اے میرے یارِ جانی! خود کر تو مہربانی

ورنہ بلائے دُنیا اِک اژدھا یہی ہے

دِل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چُوموں

قرآں کے رِگرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے

جلد آمرے سہارے غم کے ہیں بوجھ بھارے

مُنہ مت چُھپا پیارے میری دوا یہی ہے

کہتے ہیں جوشِ اُلفت یکساں نہیں ہے رہتا

دِل پر مرے پیارے ہر دم گھٹا یہی ہے

ہم خاک میں ملے ہیں شاید ملے وہ دِلبر

جیتا ہوں اِس ہَوَس سے میری غذا یہی ہے

دُنیا میں عِشق تیرا باقی ہے سب اندھیرا

معشوق ہے تو میرا عشقِ صفا یہی ہے

مُشتِ غبار اپنا تیرے لئے اُڑایا

جب سے سُنا کہ شرطِ مہر و وفا یہی ہے

دِلبَر کا دَرد آیا حرفِ خودی مِٹایا

جب مَیں مَرا جلایا جامِ بقا یہی ہے

اِس عشق میں مصائب سَو سَو ہیں ہر قدم میں

پر کیا کروں کہ اس نے مجھ کو دیا یہی ہے

حرفِ وَفا نہ چھوڑوں اِس عہد کو نہ توڑوں

اِس دلبرِ ازل نے مجھ کو کہا یہی ہے

جب سے ملا وہ دِلبر دُشمن ہیں میرے گھر گھر

دل ہو گئے ہیں پتھر قدر و قضا یہی ہے

مجھ کو ہیں وہ ڈراتے پھر پھر کے در پہ آتے

تیغ و تبر دکھاتے ہر سُو ہَوا یہی ہے

دلبر کی رہ میں یہ دل ڈرتا نہیں کسی سے

ہشیار ساری دُنیا اِک باؤلا یہی ہے

اس رہ میں اپنے قصّے تم کو مَیں کیا سُناؤں

دُکھ دَرد کے ہیں جھگڑے سب ماجرا یہی ہے

دل کر کے پارہ پارہ چاہوں مَیں اِک نظارہ

دِیوانہ مت کہو تم عقلِ رسا یہی ہے

اے میرے یارِ جانی! کر خود ہی مہربانی

مت کہہ کہ لَنْ تَرَانِیْ تجھ سے رجا یہی ہے

فرقت بھی کیا بنی ہے ہر دم میں جاں کنی ہے

عاشق جہاں پہ مرتے وہ کربلا یہی ہے

تیری وفا ہے پوری ہم میں ہے عیب دُوری

طاعت بھی ہے اَدھُوری ہم پر بَلا یہی ہے

تُجھ میں وفا ہے پیارے سچے ہیں عہد سارے

ہم جا پڑے کنارے جائے بُکا یہی ہے

ہم نے نہ عہد پالا یاری میں رخنہ ڈالا

پر تُو ہے فضل والا ہم پر کھلا یہی ہے

اے میرے دِل کے درماں ہجراں ہے تیرا سوزاں

کہتے ہیں جس کو دوزخ وہ جاں گزا یہی ہے

اِک دیں کی آفتوں کا غم کھا گیا ہے مجھ کو

سینہ پہ دشمنوں کے پتّھر پڑا یہی ہے

کیونکر تباہ وہ ہووے کیونکر فنا وہ ہووے

ظالم جو حق کا دشمن وہ سوچتا یہی ہے

ایسا زمانہ آیا جس نے غضب ہے ڈھایا

جو پیستی ہے دیں کو وہ آسیا یہی ہے

شادابی و لطافت اس دیں کی کیا کہوں مَیں

سب خشک ہوگئے ہیں پُھولا پھلا یہی ہے

آنکھیں ہر ایک دیں کی بے نور ہم نے پائیں

سُرمہ سے معرفت کے اِک سُرمہ سا یہی ہے

لعلِ یمن بھی دیکھے دُرِّ عدن بھی دیکھے

سب جوہروں کو دیکھا دِل میں جچا یہی ہے

اِنکار کر کے اِس سے پچھتاؤ گے بہت تم

بنتا ہے جس سے سونا وہ کیمیا یہی ہے

پر آریوں کی آنکھیں اَندھی ہوئی ہیں ایسی

وہ گالیوں پہ اُترے دِل میں پڑا یہی ہے

بدتر ہر ایک بد سے وہ ہے جو بد زباں ہے

جس دل میں یہ نجاست بیت الخلا یہی ہے

گو ہیں بہت درندے انسان کی پوستیں میں

پاکوں کا خوں جو پیوے وہ بھیڑیا یہی ہے

کِس دیں پہ ناز اُن کو جو وید کے ہیں حامی۱

مذہب جو پھل سے خالی وہ کھوکھلا یہی ہے

اے آریو! یہ کیا ہے کیوں دِل بگڑ گیا ہے

اِن شوخیوں کو چھوڑو راہِ حیا یہی ہے

مجھ کو ہو کیوں ستاتے سَو اِفترا بناتے

بہتر تھا باز آتے دُور از بلا یہی ہے

جس کی دعا سے آخر لیکھوؔ١ مرا تھا کٹ کر

ماتم پڑا تھا گھر گھر وہ میرزا یہی ہے

اچھا نہیں ستانا پاکوں کا دِل دُکھانا

گُستاخ ہوتے جانا اس کی جزا یہی ہے

اِس دیں کی شان وشوکت یا ربّ مجھے دِکھا دے

سب جھوٹے دِیں مٹا دے میری دعا یہی ہے

کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق

اِس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدّعا یہی ہے


”قادیان کے آریہ اور ہم“ صفحہ ۴۸۔ مطبوعہ ۱۹۰۷ء

آریوں سے خطاب

عزیزو! دوستو! بھائیو! سُنو بات

خدا بخشے تمہیں عالی خیالات

ہمیں کچھ کِیں نہیں تم سے پیارو

نہ کِیں کی بات ہے تم خود بچارو

اگر کھینچے کوئی کینے کی تلوار

تو اس سے کب ملے بچھڑا ہوا یار

غرض پَند و نصیحت ہے نہ کچھ اور

خدا کے واسطے تم خود کرو غور

کہ گر اِیشر نہیں رکھتا یہ طاقت

کہ اک جاں بھی کرے پیدا بقدرت

تو پھر اس پر خدائی کا گماں کیا

وگر قدرت بھی پھر وہ ناتواں کیا

کہاں کرتی ہے عقل اس کو گوارا

کہ بن قدرت ہوا یہ جَگت سارا

وگر تم خالق اس کو مانتے ہو

تو پھر اب ناتواں کیوں جانتے ہو

بھلا تم خود کہو انصاف سے صاف

کہ اِیشر کے یہی لائق ہیں اوصاف

کہ کر سکتا نہیں اِک جاں کو پیدا

نہ اِک ذرّہ ہُوا اس سے ہویدا

نہ اُن بِن چل سکے اس کی خُدائی

نہ اُن بِن کر سکے زور آزمائی

نظر سے اس کے ہوں محجوب و مکتوم

نہ ہو تعداد تک بھی اس کو معلوم

معاذ اللہ! یہ سب باطل گماں ہے

وہ خود اِیشر نہیں جو ناتواں ہے

اگر بُھولے رہے اس سے کوئی جاں

تو پھر ہو جاوے اس کا ملک ویراں

پیارو! یہ روا ہرگز نہیں ہے

خدا وہ ہے جو ربّ العالمیں ہے

یہ ایسی بات مُنہ سے مت نکالو

خطا کرتے ہو ہوش اپنے سنبھالو

اگر ہر ذرّہ اُس بِن خود عیاں ہو

تو ہر ذرّے کا وہ مالک کہاں ہو

اگر خالق نہیں رُوحوں کی وہ ذات

تو پھر کاہے کی ہے قادر وہ ہیہات

خدا پر عجز و نقصاں کب روا ہے

اگر ہے دیں یہی پھر کُفر کیا ہے

اگر اس بِن بھی ہو سکتی ہیں اشیاء

تو پھر اُس ذات کی حاجت رہی کیا

اگر سب شئے نہیں اُس نے بنائی

تو بس پھر ہو چکی اُس سے خدائی

اگر اس میں بنانے کا نہیں زور

تو پھر اتنا خُدائی کا ہے کیوں شور

وہ ناکامل خدا ہو گا کہاں سے

کہ عاجز ہو بنانے جسم و جاں سے

ذرا سوچو کہ وہ کیسا خدا ہے

کہ جس سے جَگت رُوحوں کا جُدا ہے

سَدا رہتا ہے ان رُوحوں کا محتاج

انہیں سب کے سہارے پر کرے راج

جسے حاجت رہے غیروں کی دن رات

بھلا اس کو خدا کہنا ہی کیا بات

جب اس نے ان کی گنتی بھی نہ جانی

کہاں من من کا ہو انتر گیانی

اگر آگے کو پیدائش ہے سب بند

تو پھر سوچو ذرا ہو کے خِردمند

کہ جس دم پا گئی مکتی ہر اک جاں

تو پھر کیا رہ گیا ایشر کا ساماں

کہاں سے لائے گا وہ دوسری رُوح

کہ تا قدرت کا ہو پھر باب مفتوح

غرض جب سب نے اس مکتی کو پایا

تو ایشر کی ہوئی سب ختم مایا

تناسخ اُڑ گیا آئی قیامت

کرو کچھ فکر اب حضرت سلامت

عزیزو کچھ نہیں اس بات میں جاں

اگر کچھ ہے تو دکھلاؤ بمیداں

بہت ہم نے بھی اس میں زور مارا

خیالستاں کو جانچا ہے سارا

مگر ملتی نہیں کوئی بھی بُرہاں

بھلا سچ کس طرح ہو جائے بہتان

نہ ہو گا کوئی ایسا مَٹ زمیں پر

کہ یہ باتیں کہے جاں آفریں پر

دُعا کرتے رہو ہر دَم پیارو

ہدایت کے لیے حق کو پکارو

دعا کرنا عجب نعمت ہے پیارے

دعا سے آ لگے کشتی کنارے

اگر اس نخل کو طالب لگائے

تو اک دن ہو رہے برتھا نہ جائے

ہمارا کام تھا وعظ و منادی

سو ہم سب کر چکے وَاللّٰہِ ہادی

الراقم مرزا غلام احمد رئیس قادیان الثامن من الشهر المبارک المحرم بارکہ اللّٰہ لجمیع المؤمنین ۱۲۹۵ ہجری المقدس علی صاحبہ الصلوٰۃ والسلام۱


غیرتِ اسلامی کو اپیل

کیوں نہیں لوگو تمہیں حق کا خیال

دِل میں اُٹھتا ہے مِرے سَو سَو اُبال

اِس قدر کِین و تعصّب بڑھ گیا

جس سے کچھ ایماں جو تھا وہ سڑ گیا

کیا یہی تقویٰ یہی اِسلام تھا

جس کے باعث سے تمہارا نام تھا


حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۴۲۔ مطبوعہ ۱۹۰۷ء

تو بہ سے عذاب ٹل جاتا ہے

کیا تضرّع اور توبہ سے نہیں ٹلتا عذاب

کس کی یہ تعلیم ہے دِکھلاؤ تم مجھ کو شتاب

اَے عزیزو! اِس قدر کیوں ہو گئے تم بے حیا

کلمہ گو ہو کچھ تو لازم ہے تمہیں خوفِ خدا


تتمہ حقیقت الوحی صفحہ ۱۱۹۔ مطبوعہ ۱۹۰۷ء

اللہ تعالیٰ کو خاکساری پسند ہے

الٰہی بخش کے کیسے تھے یہ تیر

کہ آخر ہو گیا اُن کا وہ نخچیر

اسی پر اس کی لعنت کی پڑی مار

کوئی ہم کو تو سمجھاوے یہ اسرار

تکبّر سے نہیں ملتا وہ دِلدار

ملے جو خاک سے اُس کو ملے یار

کوئی اس پاک سے جو دِل لگاوے

کرے پاک آپ کو تب اُس کو پاوے

پسند آتی ہے اُس کو خاکساری

تذلّل ہے رہِ درگاہِ باری

عجب ناداں ہے وہ مغرور و گمراہ

کہ اپنے نفس کو چھوڑا ہے بے راہ

بدی پر غیر کی ہر دم نظر ہے

مگر اپنی بدی سے بے خبر ہے


تتمہ حقيقة الوحی صفحہ ۱۱۵۔ مطبوعہ ۱۹۰۷ء

اتمامِ حُجّت

نشاں کو دیکھ کر اِنکار کب تک پیش جائے گا

ارے اِک اور جھوٹوں پر قیامت آنے والی ہے

یہ کیا عادت ہے کیوں سچی گواہی کو چُھپاتا ہے

تِری اِک روز اے گستاخ! شامت آنے والی ہے

ترے مکروں سے اے جاہل! مرا نقصاں نہیں ہرگز

کہ یہ جاں آگ میں پڑ کر سلامت آنے والی ہے

اگر تیرا بھی کچھ دیں ہے بدل دے جو مَیں کہتا ہوں

کہ عِزّت مجھ کو اور تجھ پر ملامت آنے والی ہے

بہت بڑھ بڑھ کے باتیں کی ہیں تُو نے اور چھپایا حق

مگر یہ یاد رکھ اِک دن ندامت آنے والی ہے

خدا رُسوا کرے گا تم کو مَیں اعزاز پاؤں گا

سنو اے منکرو! اب یہ کرامت آنے والی ہے

خدا ظاہر کرے گا اِک نشاں پُر رُعب و پُر ہیبت

دِلوں میں اِس نشاں سے استقامت آنے والی ہے

خدا کے پاک بندے دوسروں پر ہوتے ہیں غالب

مری خاطر خدا سے یہ علامت آنے والی ہے


تتمہ حقیقت الوحی صفحہ ۱۵۷۔ مطبوعہ ۱۹۰۷ء

انذار و تبشیر

پھر چلے آتے ہیں یارو زلزلہ آنے کے دن

زلزلہ کیا اِس جہاں سے کُوچ کر جانے کے دن

تم تو ہو آرام میں، پر اپنا قصّہ کیا کہیں

پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے سخت گھبرانے کے دن

کیوں غضب بھڑکا خدا کا مجھ سے پوچھو غافلو!

ہو گئے ہیں اِس کا مُوجب میرے جھٹلانے کے دن

غیر کیا جانے کہ غیرت اس کی کیا دِکھلائے گی

خود بتائے گا اُنہیں وہ یار بتلانے کے دن

وہ چمک دِکھلائے گا اپنے نِشاں کی پنج بار

یہ خدا کا قول ہے سمجھو گے سمجھانے کے دن

طالبو! تم کو مبارک ہو کہ اب نزدیک ہیں

اُس مرے محبوب کے چہرہ کے دِکھلانے کے دن

وہ گھڑی آتی ہے جب عیسیٰ پکاریں گے مجھے

اب تو تھوڑے رہ گئے دجّال کہلانے کے دن

اے مرے پیارے! یہی میری دعا ہے روز و شب

گود میں تیری ہوں ہم اُس خونِ دِل کھانے کے دن

کرمِ خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں

فضل کا پانی پلا اِس آگ برسانے کے دن

اے مرے یارِ یگانہ! اے مری جاں کی پناہ!

کر وہ دِن اپنے کرم سے دیں کے پھیلانے کے دن

پھر بہارِ دیں کو دکھلا اے مرے پیارے قدیر!

کب تلک دیکھیں گے ہم لوگوں کے بہکانے کے دن

دن چڑھا ہے دشمنانِ دیں کا ہم پر رات ہے

اے مرے سُورج دکھا اِس دیں کے چمکانے کے دن

دل گھٹا جاتا ہے ہر دم جاں بھی ہے زیر و زبر

اِک نظر فرما کہ جلد آئیں ترے آنے کے دن

چہرہ دکھلا کر مجھے کر دیجئے غم سے رہا

کب تلک لمبے چلے جائیں گے ترسانے کے دن

کچھ خبر لے تیرے کُوچہ میں یہ کس کا شور ہے

کیا مرے دلدار تُو آئے گا مر جانے کے دن

ڈوبنے کو ہے یہ کشتی آ مرے اے ناخدا

آگئے اِس باغ پر اے یار مُرجھانے کے دن

تیرے ہاتھوں سے مرے پیارے اگر کچھ ہو تو ہو

ورنہ دیں میّت ہے اور یہ دِن ہیں دفنانے کے دن

اِک نشاں دِکھلا کہ اب دیں ہو گیا ہے بے نشاں

دل چلا ہے ہاتھ سے لا جلد ٹھہرانے کے دن

میرے دل کی آگ نے آخر دِکھایا کچھ اثر

آ گئے ہیں اب زمیں پر آگ بھڑکانے کے دن

جب سے میرے ہوشِ غم سے دیں کے ہیں جاتے رہے

طَور دُنیا کے بھی بدلے ایسے دیوانے کے دن

چاند اور سورج نے دکھلائے ہیں دو داغِ کسوف

پھر زمیں بھی ہو گئی بے تاب تھرّانے کے دن

کون روتا ہے کہ جس سے آسماں بھی رو پڑا

لرزہ آیا اِس زمیں پر اُس کے چلّانے کے دن

صبر کی طاقت جو تھی مجھ میں وہ پیارے اب نہیں

میرے دِلبر اب دِکھا اس دِل کے بہلانے کے دن

دوستو اُس یار نے دِیں کی مصیبت دیکھ لی

آئیں گے اِس باغ کے اب جلد لہرانے کے دن

اِک بڑی مُدّت سے دِیں کو کُفر تھا کھاتا رہا

اَب یقیں سمجھو کہ آئے کفر کو کھانے کے دن

دن بہت ہیں سخت اور خوف و خطر درپیش ہے

پر یہی ہیں دوستو اُس یار کے پانے کے دن

دیں کی نُصرت کے لئے اِک آسماں پر شور ہے

اَب گیا وقتِ خزاں آئے ہیں پھل لانے کے دن

چھوڑ دو وہ راگ جس کو آسماں گاتا نہیں

اَب تو ہیں اے دل کے اندھو دیں کے گُن گانے کے دن

خدمتِ دیں کا تو کھو بیٹھے ہو بُغض و کیں سے وقت

اَب نہ جائیں ہاتھ سے لوگو! یہ پچھتانے کے دن


مشتہرہ پیسہ اخبار ۳۱ مارچ ۱۹۰۶ء

ایک دفعہ حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے بچپن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی کہ ان کے بھائی صاحبزادہ مرزا مبارک احمد (مرحوم) ان سے ناراض ہو گئے ہیں اور کسی طرح راضی نہیں ہو رہے۔ حضورؑ نے جو اس وقت ایک کتاب تصنیف فرما رہے تھے مندرجہ ذیل اشعار لکھ کر دیئے جو حضرت نواب مبارکہ بیگم نے صاحبزادہ صاحب کے سامنے پڑھ دیئے تو وہ خوش ہو گئے۔

روایت حکیم دین محمد صاحب رجسٹر روایات جلد ۱۳ صفحہ ۶۲

مبارک کو میں نے ستایا نہیں

کبھی میرے دل میں یہ آیا نہیں

میں بھائی کو کیونکر ستا سکتی ہوں

وہ کیا میری امّاں کا جایا نہیں

الٰہی خطا کر دے میری معاف

کہ تجھ بن تو رَبّ البرایا نہیں!


الفضل ۷ جولائی ۱۹۴۳ء صفحہ ۳

لوحِ مزار میرزا مبارک احمد

(نوشتہ ماہِ ستمبر ۱۹۰۷ء)

جِگر کا ٹکڑا مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک خُو تھا

وہ آج ہم سے جُدا ہُوا ہے ہمارے دل کو حَزِیں بنا کر

کہا کہ آئی ہے نیند مجھ کو یہی تھا آخر کا قول لیکن

کچھ ایسے سوئے کہ پھر نہ جاگے تھکے بھی ہم پھر جگا جگا کر

برس تھے آٹھ اور کچھ مہینے کہ جب خدا نے اُسے بلایا

بُلانے والا ہے سب سے پیارا اُسی پہ اے دل تو جاں فدا کر۱؎


’’جا مبارک تجھے فردوس مبارک ہووے‘‘۲؎

محاسنِ قرآنِ کریم

ہے شُکرِ ربِّ عَزَّ وجَلّ خارج از بیاں

جس کے کلام سے ہمیں اس کا مِلا نشاں

وہ روشنی جو پاتے ہیں ہم اس کتاب میں

ہو گی نہیں کبھی وہ ہزار آفتاب میں

اس سے ہمارا پاک دل و سینہ ہو گیا

وہ اپنے مُنہ کا آپ ہی آئینہ ہو گیا

اُس نے درختِ دِل کو معارف کا پھل دیا

ہر سینہ شک سے دھو دیا ہر دِل بدل دیا

اُس سے خدا کا چہرہ نمودار ہو گیا

شیطاں کا مکر و وَسوسہ بے کار ہو گیا

وہ رہ جو ذاتِ عزّوجل کو دکھاتی ہے

وہ رہ جو دِل کو پاک و مُطَہّر بناتی ہے

وہ رہ جو یارِ گم شُدہ کو کھینچ لاتی ہے

وہ رہ جو جامِ پاک یقیں کا پلاتی ہے

وہ رہ جو اس کے ہونے پہ مُحْکم دلیل ہے

وہ رہ جو اُس کے پانے کی کامل سبیل ہے

اُس نے ہر ایک کو وہی رستہ دِکھا دیا

جتنے شکوک و شُبہ تھے سب کو مِٹا دیا

افسردگی جو سینوں میں تھی دُور ہو گئی

ظلمت جو تھی دلوں میں وہ سب نور ہوگئی

جو دَور تھا خزاں کا وہ بدلا بہار سے

چلنے لگی نسیم عنایاتِ یار سے

جاڑے کی رُت ظہور سے اس کے پلٹ گئی

عشقِ خدا کی آگ ہر اک دل میں اَٹ گئی

جتنے درخت زندہ تھے وہ سب ہوئے ہرے

پھل اِس قدر پڑا کہ وہ میووں سے لَد گئے

موجوں سے اُس کی پردے وساوس کے پھٹ گئے

جو کُفر اور فسق کے ٹیلے تھے کٹ گئے

قرآں خدا نُما ہے خدا کا کلام ہے!

بے اِس کے معرفت کا چمن ناتمام ہے

جو لوگ شک کی سردیوں سے تھرتھراتے ہیں

اِس آفتاب سے وہ عجب دُھوپ پاتے ہیں

دُنیا میں جس قدر ہے مذاہب کا شور و شر

سب قصّہ گو ہیں نور نہیں ایک ذرّہ بھر

پر یہ کلام نورِ خدا کو دکھاتا ہے

اُس کی طرف نشانوں کے جلوہ سے لاتا ہے

جس دیں کا صرف قصّوں پہ سارا مدار ہے

وہ دِیں نہیں ہے ایک فسانہ گُزار ہے

سچ پُوچھئے تو قِصّوں کا کیا اعتبار ہے

قِصّوں میں جھوٹ اور خطا بے شمار ہے

ہے دِیں وہی کہ صرف وہ اِک قصّہ گو نہیں

زندہ نشانوں سے ہے دکھاتا رہِ یقیں

ہے دِیں وہی کہ جس کا خدا آپ ہو عیاں

خود اپنی قُدرتوں سے دکھاوے کہ ہے کہاں

جو معجزات سُنتے ہو قِصّوں کے رنگ میں

اُن کو تو پیش کرتے ہیں سب بحث و جنگ میں

جتنے ہیں فرقے سب کا یہی کاروبار ہے

قِصّوں میں مُعجزوں کا بیاں بار بار ہے

پر اپنے دیں کا کچھ بھی دِکھاتے نہیں نشاں

گویا وہ ربِّ ارض و سما اَب ہے ناتواں

گویا اب اس میں طاقت و قدرت نہیں رہی

وہ سلطنت، وہ زور، وہ شوکت نہیں رہی

یا یہ کہ اَب خدا میں وہ رحمت نہیں رہی

نیّت بدل گئی ہے وہ شفقت نہیں رہی

ایسا گماں خطا ہے کہ وہ ذات پاک ہے

ایسے گماں کی نوبتِ آخر ہلاک ہے

سچ ہے یہی کہ ایسے مذاہب ہی مر گئے

اَب اُن میں کچھ نہیں ہے کہ جاں سے گذر گئے

پابند ایسے دِینوں کے دُنیا پرست ہیں

غافل ہیں ذوقِ یار سے دُنیا میں مَست ہیں

مقصود اِن کا جینے سے دُنیا کمانا ہے

مومن نہیں ہیں وہ کہ قدم فاسقانہ ہے

تم دیکھتے ہو کیسے دِلوں پر ہیں اُن کے زنگ

دنیا ہی ہوگئی ہے غرض، دِین سے آئے ننگ

وہ دِیں ہی چیز کیا ہے کہ جو رہنما نہیں

ایسا خدا ہے اس کا کہ گویا خدا نہیں

پھر اُس سے سچی راہ کی عظمت ہی کیا رہی

اور خاص وجہِ صَفْوَتِ ملّت ہی کیا رہی

نورِ خدا کی اس میں علامت ہی کیا رہی

توحیدِ خشک رہ گئی نِعمت ہی کیا رہی

لوگو سُنو! کہ زندہ خدا وہ خدا نہیں

جس میں ہمیشہ عادتِ قُدرت نما نہیں

مُردہ پرست ہیں وہ جو قصّہ پرست ہیں

پس اِس لئے وہ مَوْرِدِ ذِلّ و شکست ہیں

بن دیکھے دِل کو دوستو! پڑتی نہیں ہے کل

قصّوں سے کیسے پاک ہو یہ نفسِ پُرخلل

کچھ کم نہیں یہودیوں میں یہ کہانیاں

پر دیکھو کیسے ہوگئے شیطاں سے ہم عناں

ہر دم نشانِ تازہ کا محتاج ہے بشر

قِصّوں کے مُعجزات کا ہوتا ہے کب اثر

کیونکر ملے فسانوں سے وہ دلبرِ ازل

گر اِک نِشاں ہو ملتا ہے سب زندگی کا پھل

قِصّوں کا یہ اثر ہے کہ دِل پُر فساد ہے

اِیماں زباں پہ سینہ میں حق سے عناد ہے

دُنیا کی حِرص و آز میں یہ دِل ہیں مر گئے

غفلت میں ساری عمر بسر اپنی کر گئے

اَے سونے والو! جاگو کہ وقتِ بہار ہے

اب دیکھو آ کے دَر پہ ہمارے وہ یار ہے

کیا زندگی کا ذوق اگر وہ نہیں ملا

لعنت ہے ایسے جینے پہ گر اُس سے ہیں جُدا

اس رُخ کو دیکھنا ہی تو ہے اصلِ مُدّعا

جنّت بھی ہے یہی کہ ملے یارِ آشنا

اَے حُبِّ جاہ والو! یہ رہنے کی جا نہیں

اِس میں تو پہلے لوگوں سے کوئی رہا نہیں

دیکھو تو جا کے اُن کے مقابر کو اِک نظر

سوچو کہ اب سلف ہیں تمہارے گئے کدھر

اِک دن وہی مقام تمہارا مقام ہے

اِک دن یہ صبحِ زندگی کی تم پہ شام ہے

اِک دن تمہارا لوگ جنازہ اُٹھائیں گے

پھر دفن کر کے گھر میں تاسّف سے آئیں گے

اَے لوگو! عیشِ دُنیا کو ہرگز وفا نہیں

کیا تم کو خوفِ مرگ و خیالِ فنا نہیں

سوچو کہ باپ دادے تمہارے کدھر گئے

کس نے بُلا لیا وہ سبھی کیوں گزر گئے

وہ دِن بھی ایک دن تمہیں یارو نصیب ہے

خوش مت رہو کہ کوچ کی نوبت قریب ہے

ڈھونڈو وہ راہ جس سے دل و سینہ پاک ہو

نفسِ دَنی خدا کی اطاعت میں خاک ہو

ملتی نہیں عزیزو! فقط قصّوں سے یہ راہ

وہ روشنی نشانوں سے آتی ہے گاہ گاہ

وہ لغو دِیں ہے جس میں فقط قصّہ جات ہیں

اُن سے رہیں الگ جو سعید الصّفات ہیں

صد حَیف اِس زمانہ میں قصّوں پہ ہے مدار

قصّوں پہ سارا دِیں کی سچائی کا اِنحصار

پر نقدِ معجزات کا کچھ بھی نِشاں نہیں

پس یہ خُدائے قصّہ خُدائے جہاں نہیں

دُنیا کو ایسے قصّوں نے یک سر تباہ کیا!

مُشرک بنا کے گبر دیا رُوسِیہ کیا

جس کو تلاش ہے کہ ملے اُس کو کِردگار

اُس کے لئے حَرام جو قصّوں پہ ہو نِثار

اُس کا تو فرض ہے کہ وہ ڈھونڈے خدا کا نور

تا ہووے شک و شبہ سبھی اس کے دِل سے دُور

تا اُس کے دِل پہ نورِ یقیں کا نزول ہو

تا وہ جنابِ عزّوجل میں قبول ہو

قِصّوں سے پاک ہونا کبھی کیا مجال ہے

سچ جانو یہ طریق سراسر محال ہے

قِصّوں سے کب نجات ملے ہے گناہ سے

ممکن نہیں وصالِ خدا ایسی راہ سے

مُردہ سے کب اُمید کہ وہ زندہ کر سکے

اُس سے تو خود محال کہ رہ بھی گذر سکے

وہ رَہ جو ذاتِ عزّوجل کو دِکھاتی ہے

وہ رَہ جو دِل کو پاک و مطہّر بناتی ہے

وہ رہ، جو یارِ گُم شدہ کو ڈھونڈ لاتی ہے

وہ رہ جو جامِ پاک یقیں کا پلاتی ہے

وہ تازہ قدرتیں جو خدا پر دلیل ہیں

وہ زندہ طاقتیں جو یقیں کی سبیل ہیں

ظاہر ہے یہ کہ قِصّوں میں ان کا اثر نہیں

افسانہ گو کو راہِ خدا کی خبر نہیں

اُس بے نشاں کی چہرہ نمائی نِشاں سے ہے

سچ ہے کہ سب ثبوتِ خدائی نِشاں سے ہے

کوئی بتائے ہم کو کہ غیروں میں یہ کہاں

قِصّوں کی چاشنی میں حلاوت کا کیا نشاں

یہ ایسے مذہبوں میں کہاں ہے دِکھائیے

ورنہ گزاف قِصّوں پہ ہرگز نہ جائیے

جب سے کہ قصّے ہو گئے مقصود راہ میں

آگے قدم ہے قوم کا ہر دم گناہ میں

تم دیکھتے ہو قوم میں عِفّت نہیں رہی

وہ صدق، وہ صفا، وہ طہارت نہیں رہی

مومن کے جو نشاں ہیں وہ حالت نہیں رہی

اُس یارِ بے نشاں کی محبت نہیں رہی

اِک سَیل چل رہا ہے گناہوں کا زور سے

سُنتے نہیں ہیں کچھ بھی معاصی کے شور سے

کیوں بڑھ گئے زمیں پہ بُرے کام اِس قدر

کیوں ہو گئے عزیزو! یہ سب لوگ کور وکَر

کیوں اب تمہارے دِل میں وہ صدق وصفا نہیں

کیوں اِس قدر ہے فِسق کہ خوف و حیا نہیں

کیوں زندگی کی چال سبھی فاسقانہ ہے

کچھ اِک نظر کرو کہ یہ کیسا زمانہ ہے

اِس کا سبب یہی ہے کہ غفلت ہی چھا گئی

دُنیا ئے دُوں کی دِل میں محبت سَما گئی

تقویٰ کے جامے جتنے تھے سب چاک ہو گئے

جتنے خیال دِل میں تھے ناپاک ہو گئے

ہر دم کے خُبث و فِسق سے دل پر پڑے حجاب

آنکھوں سے اُن کی چھپ گیا ایماں کا آفتاب

جس کو خدائے عزّ و جل پر یقیں نہیں

اُس بد نصیب شخص کا کوئی بھی دیں نہیں

پر وہ سعید جو کہ نشانوں کو پاتے ہیں

وہ اُس سے مِل کے دل کو اسی سے ملاتے ہیں

وہ اُس کے ہو گئے ہیں اسی سے وہ جیتے ہیں

ہر دم اُسی کے ہاتھ سے اِک جام پیتے ہیں

جس مَے کو پی لیا ہے وہ اُس مے سے مَست ہیں

سب دُشمن اُن کے اُن کے مقابل میں پَست ہیں

کچھ ایسے مست ہیں وہ رُخِ خُوبِ یار سے

ڈرتے کبھی نہیں ہیں وہ دشمن کے وار سے

اُن سے خدا کے کام سبھی معجزانہ ہیں

یہ اِس لئے کہ عاشقِ یارِ یگانہ ہیں

اُن کو خدا نے غیروں سے بخشا ہے امتیاز

اُن کے لئے نشاں کو دِکھاتا ہے کارساز

جب دشمنوں کے ہاتھ سے وہ تنگ آتے ہیں

جب بدشعار لوگ اُنہیں کچھ ستاتے ہیں

جب اُن کے مارنے کے لئے چال چلتے ہیں

جب اُن سے جنگ کرنے کو باہر نکلتے ہیں

تب وہ خدائے پاک نشاں کو دِکھاتا ہے

غیروں پہ اپنا رُعب نِشاں سے جماتا ہے

کہتا ہے یہ تو بندۂ عالی جناب ہے

مجھ سے لڑو اگر تمہیں لڑنے کی تاب ہے

اُس ذاتِ پاک سے جو کوئی دِل لگاتا ہے

آخر وہ اُس کے رحم کو ایسا ہی پاتا ہے

جِن کو نِشانِ حضرتِ باری ہوا نصیب

وہ اس جنابِ پاک سے ہر دم ہوئے قریب

کھینچے گئے کچھ ایسے کہ دُنیا سے سو گئے!

کچھ ایسا نور دیکھا کہ اُس کے ہی ہو گئے

بِن دیکھے کیسے پاک ہو اِنسان گناہ سے

اِس چاہ سے نکلتے ہیں لوگ اُس کی چاہ سے

تصویرِ شیر سے نہ ڈرے کوئی گوسپند

نے مارِ مُردہ سے ہے کچھ اندیشہٴ گزند

پھر وہ خدا جو مُردہ کی مانند ہے پڑا

پس کیا اُمید ایسے سے اور خوف اُس سے کیا

اَیسے خدا کے خوف سے دِل کیسے پاک ہو

سینہ میں اس کے عِشق سے کیونکر تپاک ہو

بِن دیکھے کس طرح کسی مہ رُخ پہ آئے دِل

کیونکر کوئی خیالی صنم سے لگائے دِل

دیدار گر نہیں ہے تو گفتار ہی سہی

حُسن و جمالِ یار کے آثار ہی سہی

جب تک خدائے زندہ کی تم کو خبر نہیں

بے قید اور دلیر ہو کچھ دِل میں ڈر نہیں

سَو روگ کی دَوا یہی وصلِ الٰہی ہے

اِس قید میں ہر ایک گُنہ سے رہائی ہے

پر جس خدا کے ہونے کا کچھ بھی نہیں نشاں

کیونکر نثار اَیسے پہ ہو جائے کوئی جاں

ہر چیز میں خدا کی ضیاء کا ظہور ہے

پر پھر بھی غافلوں سے وہ دِلدار دُور ہے

جو خاک میں ملے اُسے ملتا ہے آشنا

اَے آزمانے والے! یہ نسخہ بھی آزما

عاشق جو ہیں وہ یار کو مر مر کے پاتے ہیں

جب مر گئے تو اُس کی طرف کھینچے جاتے ہیں

یہ راہ تنگ ہے پہ یہی ایک راہ ہے

دِلبَر کی مرنے والوں پہ ہر دَم نگاہ ہے

ناپاک زندگی ہے جو دُوری میں کٹ گئی

دیوار زُہدِ خشک کی آخر کو پھٹ گئی

زندہ وُہی ہیں جو کہ خدا کے قریب ہیں

مقبول بن کے اُس کے عزیز و حبیب ہیں

وہ دُور ہیں خدا سے جو تقویٰ سے دُور ہیں

ہر دم اَسیرِ نخوت و کِبر و غرور ہیں

تقویٰ یہی ہے یارو کہ نخوت کو چھوڑ دو

کِبر و غرور و بُخل کی عادت کو چھوڑ دو

اِس بے ثبات گھر کی محبت کو چھوڑ دو

اُس یار کے لئے رہِ عِشرت کو چھوڑ دو

لعنت کی ہے یہ راہ سو لعنت کو چھوڑ دو

ورنہ خیالِ حضرتِ عِزّت کو چھوڑ دو

تلخی کی زندگی کو کرو صِدق سے قبول

تا تُم پہ ہو ملائکۂ عرش کا نزول

اِسلام چیز کیا ہے؟ خدا کے لئے فنا

ترکِ رضائے خویش پئے مرضیِ خدا

جو مر گئے انہی کے نصیبوں میں ہے حیات

اِس رہ میں زندگی نہیں ملتی بجز ممات

شوخی و کِبر دیوِ لعیں کا شعار ہے

آدم کی نَسل وہ ہے جو وہ خاکسار ہے

اے کرمِ خاک! چھوڑ دے کِبر و غُرور کو

زیبا ہے کِبر حضرتِ ربِّ غیور کو

بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں

شاید اِسی سے دخل ہو دار الوِصال میں

چھوڑو غُرور و کِبر کہ تقویٰ اِسی میں ہے

ہو جاؤ خاک مرضیٔ مولیٰ اِسی میں ہے

تقویٰ کی جڑ خدا کیلئے خاکساری ہے

عِفّت جو شرطِ دیں ہے وہ تقویٰ میں ساری ہے

جو لوگ بدگمانی کو شیوہ بناتے ہیں

تقویٰ کی راہ سے وہ بہت دُور جاتے ہیں

بے احتیاط اُن کی زباں وار کرتی ہے

اِک دم میں اس علیم کو بیزار کرتی ہے

اک بات کہہ کے اپنے عمل سارے کھوتے ہیں

پھر شوخیوں کا بیج ہر اک وقت بوتے ہیں

کچھ ایسے سوگئے ہیں ہمارے یہ ہم وطن

اُٹھتے نہیں ہیں ہم نے تو سَو سَو کئے جتن

سب عُضو سُست ہو گئے غفلت ہی چھا گئی

قوّت تمام نوکِ زباں میں ہی آ گئی

یا بد زباں دِکھاتے ہیں یا ہیں وہ بدگماں

باقی خبر نہیں ہے کہ اسلام ہے کہاں

تم دیکھ کر بھی بد کو بچو بدگمان سے

ڈرتے رہو عقابِ خدائے جہان سے

شاید تمہاری آنکھ ہی کر جائے کچھ خطا

شاید وہ بد نہ ہو جو تمہیں ہے وہ بدنُما

شاید تمہاری فہم کا ہی کچھ قصور ہو!

شاید وہ آزمائشِ ربِّ غفور ہو

پھر تم تو بدگمانی سے اپنی ہوئے ہلاک

خود سر پہ اپنے لے لیا خشمِ خدائے پاک

گر ایسے تم دلیریوں میں بے حیا ہوئے

پھر اِتّقا کے، سوچو، کہ معنے ہی کیا ہوئے

موسیٰ بھی بدگمانی سے شرمندہ ہو گیا

قرآں میں، خضر نے جو کیا تھا، پڑھو ذرا

بندوں میں اپنے بھید خدا کے ہیں صَد ہزار

تم کو نہ علم ہے نہ حقیقت ہے آشکار

پس تم تو ایک بات کے کہنے سے مر گئے

یہ کیسی عقل تھی کہ بَرِاہِ خطر گئے

بدبخت تر تمام جہاں سے وُہی ہوا

جو ایک بات کہہ کے ہی دوزخ میں جا گرا

پس تم بچاؤ اپنی زباں کو فساد سے

ڈرتے رہو عقوبتِ ربّ العباد سے

دو عضو اپنے جو کوئی ڈر کر بچائے گا

سیدھا خدا کے فضل سے جنّت میں جائے گا

وہ اِک زباں ہے، عُضوِ نہانی ہے دوسرا

یہ ہے حدیثِ سیّدنا سیّد الوریٰ

پر وہ جو مجھ کو کاذب و مکّار کہتے ہیں

اور مُفتری و کافر و بدکار کہتے ہیں

اُن کے لئے تو بس ہے خدا کا یہی نِشاں

یعنی وہ فضل اُس کے جو مُجھ پر ہیں ہر زماں

دیکھو! خدا نے ایک جہاں کو جھکا دیا!

گُم نام پا کے شُہرۂ عالَم بنا دیا!

جو کچھ مری مراد تھی سب کچھ دِکھا دیا

میں اِک غریب تھا مجھے بے انتہا دیا

دنیا کی نعمتوں سے کوئی بھی نہیں رہی

جو اُس نے مُجھ کو اپنی عنایات سے نہ دی

ایسے بدوں سے اُس کے ہوں ایسے معاملات

کیا یہ نہیں کرامت و عادت سے بڑھ کے بات

جو مُفتری ہے اُس سے یہ کیوں اِتّحاد ہے

کِس کو نظیر ایسی عنایت کی یاد ہے

مُجھ پر ہر اِک نے وار کیا اپنے رنگ میں

آخر ذلیل ہو گئے انجامِ جنگ میں

ان کینوں میں کسی کو بھی ارماں نہیں رہا

سب کی مُراد تھی کہ مَیں دیکھوں رہِ فنا

تھے چاہتے کہ مجھ کو دِکھائیں عدم کی راہ

یا حاکموں سے پھانسی دِلا کر کریں تباہ

یا کم سے کم یہ ہو کہ مَیں زِنداں میں جا پڑوں

یا یہ کہ ذِلّتوں سے مَیں ہو جاؤں سرنِگوں

یا مُخبری سے ان کی کوئی اَور ہی بلا

آ جائے مُجھ پہ یا کوئی مقبول ہو دُعا

پس ایسے ہی ارادوں سے کر کے مقدّمات

چاہا گیا کہ دِن مرا ہو جائے مجھ پہ رات

کوشش بھی وہ ہوئی کہ جہاں میں نہ ہو کبھی

پھر اِتّفاق وہ کہ زماں میں نہ ہو کبھی

مُجھ کو ہلاک کرنے کو سب ایک ہو گئے

سمجھا گیا مَیں بد پہ وہ سب نیک ہو گئے

آخر کو وہ خدا جو کریم و قدیر ہے

جو عالِمُ القلوب و علیم و خبیر ہے

اُترا مری مدد کے لئے کر کے عہد یاد

پس رہ گئے وہ سارے سِیہ رُوی و نامراد

کچھ ایسا فضل حضرتِ ربِّ الوریٰ ہوا

سب دُشمنوں کے دیکھ کے اوساں ہوئے خطا

اِک قطرہ اُس کے فضل نے دریا بنا دیا

میں خاک تھا اُسی نے ثُریّا بنا دِیا

مَیں تھا غریب و بیکس و گُم نام بے ہُنر

کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کِدھر

لوگوں کی اِس طرف کو ذرا بھی نظر نہ تھی

میرے وجود کی بھی کسی کو خبر نہ تھی

اب دیکھتے ہو کیسا رجوعِ جہاں ہوا

اِک مرجعِ خواص یہی قادیاں ہوا

پر پھر بھی جن کی آنکھ تعصّب سے بند ہے

اُن کی نظر میں حال مرا ناپسند ہے

مَیں مُفتری ہوں اُن کی نِگاہ و خیال میں

دنیا کی خیر ہے مِری موت و زوال میں

لعنت ہے مُفتری پہ خدا کی کتاب میں

عِزّت نہیں ہے ذرّہ بھی اُس کی جناب میں

توریت میں بھی نیز کلامِ مجید میں

لکھا گیا ہے رنگِ وعیدِ شدید میں

کوئی اگر خدا پہ کرے کچھ بھی اِفترا

ہو گا وہ قتل ہے یہی اس جُرم کی سزا

پھر یہ عجیب غفلتِ ربِّ قدیر ہے

دیکھے ہے ایک کو کہ وہ ایسا شریر ہے

پچیس سال سے ہے وہ مشغولِ افترا

ہر دن ہر ایک رات یہی کام ہے رہا

ہر روز اپنے دل سے بناتا ہے ایک بات

کہتا ہے یہ خدا نے کہا مجھ کو آج رات

پھر بھی وہ ایسے شوخ کو دیتا نہیں سزا

گویا نہیں ہے یاد جو پہلے سے کہہ چکا

پھر یہ عجیب تر ہے کہ جب حامیانِ دِیں

اَیسے کے قتل کرنے کو فاعل ہوں یا مُعین

کرتا نہیں ہے اُن کی مدد وقتِ اِنتقام

تا مُفتری کے قتل سے قصّہ ہی ہو تمام

اپنا تو اس کا وعدہ رہا سارا طاق پر

اَوروں کی سعی و جُہد پہ بھی کُچھ نہیں نظر

کیا وہ خدا نہیں ہے جو فُرقاں کا ہے خدا

پھر کیوں وہ مُفتری سے کرے اِس قدر وفا

آخر یہ بات کیا ہے کہ ہے ایک مُفتری

کرتا ہے ہر مقام میں اُس کو خدا بَری

جب دشمن اُس کو پیچ میں کوشش سے لاتے ہیں

کوشش بھی اس قدر کہ وہ بس مر ہی جاتے ہیں

اِک اتّفاق کر کے وہ باتیں بناتے ہیں

سَو جھوٹ اور فریب کی تہمت لگاتے ہیں

پھر بھی وہ نامراد مقاصد میں رہتے ہیں

جاتا ہے بے اثر وہ جو سَو بار کہتے ہیں

ذِلّت ہیں چاہتے یہاں اِکرام ہوتا ہے

کیا مُفتری کا ایسا ہی انجام ہوتا ہے

اَے قوم کے سرآمدہ! اے حامیانِ دِیں!

سوچو کہ کیوں خدا تمہیں دیتا مدد نہیں

تم میں نہ رحم ہے نہ عدالت نہ اِتَّقا

پس اِس سبب سے ساتھ تمہارے نہیں خدا

ہو گا تمہیں کلارک کا بھی وقت خوب یاد

جب مجھ پہ کی تھی تہمتِ خوں از رہِ فساد

جب آپ لوگ اُس سے ملے تھے بدیں خیال

تا آپ کی مدد سے اُسے سہل ہو جدال

پر وہ خدا جو عاجز و مسکیں کا ہے خدا

حاکم کے دِل کو میری طرف اُس نے کر دیا

تم نے تو مجھ کو قتل کرانے کی ٹھانی تھی

یہ بات اپنے دل میں بہت سہل جانی تھی

تھے چاہتے صلیب پہ یہ شخص کھینچا جائے

تا تم کو ایک فخر سے یہ بات ہاتھ آئے

”جھوٹا تھا مفتری تھا تبھی یہ ملی سزا“

آخر مری مدد کے لئے خود اُٹھا خدا

ڈگلس پہ سارا حال بریت کا کھل گیا

عِزّت کے ساتھ تب میں وہاں سے بَری ہوا

الزام مجھ پہ قتل کا تھا سخت تھا یہ کام

تھا ایک پادری کی طرف سے یہ اِتّہام

جتنے گواہ تھے وہ تھے سب میرے بر خلاف

اِک مولوی بھی تھا جو یہی مارتا تھا لاف

دیکھو! یہ شخص اب تو سزا اپنی پائے گا

اب بِن سزائے سخت یہ بَچ کر نہ جائے گا

اِتنی شہادتیں ہیں کہ اب کھل گیا قصور

اب قید یا صلیب ہے، اِک بات ہے ضرور

بعضوں کو بددُعا میں بھی تھا ایک انہماک

اِتنی دُعا کہ گھس گئی سجدے میں اُن کی ناک

القصّہ جُہد کی نہ رہی کچھ بھی اِنتہا

اِک سُو تھا مَکر ایک طرف سجدہ و دُعا

آخر خدا نے دی مجھے اِس آگ سے نجات

دُشمن تھے جتنے اُن کی طرف کی نہ اِلتفات

کیسا یہ فضل اُس سے نمودار ہو گیا

اِک مفتری کا وہ بھی مددگار ہو گیا

اُس کا تو فرض تھا کہ وہ وعدہ کو کر کے یاد

خود مارتا وہ گردنِ کذّابِ بدنہاد

گر اُس سے رہ گیا تھا کہ وہ خود دِکھائے ہاتھ

اِتنا تو سہل تھا کہ تمہارا بٹائے ہاتھ

یہ بات کیا ہوئی کہ وہ تم سے الگ رہا

کچھ بھی مدد نہ کی نہ سُنی کوئی بھی دُعا

جو مُفتری تھا اُس کو تو آزاد کر دیا

سب کام اپنی قوم کا برباد کر دِیا

سب جِدّ و جہد و سعی اکارت چلی گئی

کوشش تھی جس قدر وہ بغارت چلی گئی

کیا ”راستی کی فتح“ نہیں وعدۂ خدا

دیکھو تو کھول کر سخنِ پاکِ کبریا

پھر کیوں یہ بات میری ہی نسبت پلٹ گئی

یا خود تمہاری چادرِ تقویٰ ہی پھٹ گئی

کیا یہ عجب نہیں ہے کہ جب تم ہی یار ہو

پھر میرے فائدے کا ہی سب کاروبار ہو

پھر یہ نہیں کہ ہوگئی ہے صرف ایک بات

پاتا ہوں ہر قدم میں خدا کے تفضّلات

دیکھو وہ بھیّں کا شخص کرم دِیں ہے جس کا نام

لڑنے میں جس نے نیند بھی اپنے پہ کی حرام

جس کی مدد کے واسطے لوگوں میں جوش تھا

جس کا ہر ایک دُشمنِ حق عیب پوش تھا

جس کا رفیق ہوگیا ہر ظالم و غَوِی!

جس کی مدد کے واسطے آئے تھے مولوی

اِن میں سے ایسے تھے کہ جو بڑھ بڑھ کے آتے تھے

اپنا بیاں لِکھانے میں کرتب دکھاتے تھے

ہُشیاری مُستغیث بھی اپنی دِکھاتا تھا

سَو سَو خلافِ واقعہ باتیں بناتا تھا

پر اپنے بدعمل کی سزا کو وہ پا گیا

ساتھ اس کے یہ کہ نام بھی کاذب رکھا گیا

کذّاب نام اُس کا دفاتر میں رہ گیا

چالاکیوں کا فخر جو رکھتا تھا بہہ گیا

اے ہوش و عقل والو! یہ عبرت کا ہے مقام

چالاکیاں تو ہیچ ہیں، تقویٰ سے ہوویں کام

جو متقی ہے اس کا خدا خود نصیر ہے

انجام فاسقوں کا عذابِ سعیر ہے

جڑ ہے ہر ایک خیر و سعادت کی اِتّقا

جس کی یہ جڑ رہی ہے عمل اس کا سب رہا

مومن ہی فتح پاتے ہیں انجام کار میں

ایسا ہی پاؤ گے سُخنِ کردگار میں

کوئی بھی مُفتری ہمیں دنیا میں اب دِکھا

جس پر یہ فضل ہو یہ عنایات یہ عطا

اس بدعمل کی قتل سزا ہے نہ یہ کہ پیت

پس کس طرح خدا کو پسند آ گئی یہ رِیت

کیا تھا یہی معاملہ پاداشِ اِفترا

کیا مُفتری کے بارے میں وعدہ یہی ہوا

کیوں ایک مُفتری کا وہ ایسا ہے آشنا

یا بے خبر ہے عیب سے دھوکے میں آ گیا

آخر کوئی تو بات ہے جس سے ہوا وہ یار

بَدکار سے تو کوئی بھی کرتا نہیں ہے پیار

تم بد بنا کے پھر بھی گرفتار ہو گئے

یہ بھی تو ہیں نشاں جو نمودار ہو گئے

تاہم وہ دوسرے بھی نشاں ہیں ہمارے پاس

لکھتے ہیں اب خدا کی عنایت سے بے ہراس

جس دِل میں رَچ گیا ہے محبت سے اسکا نام

وُہ خود نشاں ہے نیز نشاں سارے اسکے کام

کیا کیا نہ ہم نے نام رکھائے زمانہ سے

مَردوں سے نیز فرقۂ ناداں زنانہ سے

اُن کے گماں میں ہم بد و بدحال ہو گئے

اُن کی نظر میں کافر و دجّال ہو گئے

ہم مُفتری بھی بن گئے اُن کی نِگاہ میں

بے دِیں ہوئے فساد کیا حق کی راہ میں

پر ایسے کفر پر تو فِدا ہے ہماری جاں

جس سے ملے خدائے جہان و جہانیاں

لعنت ہے ایسے دیں پہ کہ اِس کفر سے ہے کم

سَو شکر ہے کہ ہو گئے غالب کے یار ہم

ہوتا ہے کردگار اِسی رہ سے دستگیر

کیا جانے قدر اِس کا جو قِصّوں میں ہے اَسیر

وحیِ خدا اِسی رہِ فَرّخ سے پاتے ہیں

دِلبر کا بانکپن بھی اِسی سے دِکھاتے ہیں

اَے مُدَّعی! نہیں ہے ترے ساتھ کردگار

یہ کفر تیرے دیں سے ہے بہتر ہزار بار


براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۱ اول نصرۃ الحق مطبوعہ ۱۹۰۸ء

مُناجات اور تبلیغِ حق

اَے خدا اَے کارساز و عیب پوش و کردگار

اَے مرے پیارے مرے محسن مرے پروردگار

کس طرح تیرا کروں اے ذُوالمَنَن شکر و سپاس

وہ زباں لاؤں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار

بدگمانوں سے بچایا مجھ کو خود بن کر گواہ

کر دیا دشمن کو اِک حملہ سے مغلوب اور خوار

کام جو کرتے ہیں تیری رہ میں پاتے ہیں جزا

مجھ سے کیا دیکھا کہ یہ لطف و کرم ہے بار بار

تیرے کاموں سے مجھے حیرت ہے اے میرے کریم

کس عمل پر مجھ کو دی ہے خلعتِ قرب و جوار

کرمِ خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں

ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

یہ سراسر فضل و اِحساں ہے کہ مَیں آیا پسند

ورنہ درگہ میں تری کچھ کم نہ تھے خدمت گزار

دوستی کا دم جو بھرتے تھے وہ سب دشمن ہوئے

پر نہ چھوڑا ساتھ تُو نے اَے مرے حاجت برار

اَے مرے یارِ یگانہ اَے مری جاں کی پنہ

بس ہے تو میرے لئے مجھ کو نہیں تُجھ بن بکار

میں تو مر کر خاک ہوتا گر نہ ہوتا تیرا لُطف

پھر خدا جانے کہاں یہ پھینک دی جاتی غبار

اے فدا ہو تیری رہ میں میرا جسم و جان و دِل

مَیں نہیں پاتا کہ تُجھ سا کوئی کرتا ہو پیار

ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے

گود میں تیری رہا مَیں مثلِ طفلِ شیر خوار

نسلِ انساں میں نہیں دیکھی وفا جو تجھ میں ہے

تیرے بن دیکھا نہیں کوئی بھی یارِ غمگسار

لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول

مَیں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگہ میں بار

اس قدر مُجھ پر ہوئیں تیری عنایات و کرم

جن کا مشکل ہے کہ تا روزِ قیامت ہو شمار

آسماں میرے لئے تُو نے بنایا اک گواہ

چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک و تار

تُو نے طاعوں کو بھی بھیجا میری نُصرت کے لئے

تا وہ پورے ہوں نشاں جو ہیں سچائی کا مدار

ہو گئے بیکار سب حیلے جب آئی وہ بلا

ساری تدبیروں کا خاکہ اُڑ گیا مثلِ غبار

سرزمینِ ہند میں ایسی ہے شہرت مجھ کو دی

جیسے ہووے برق کا اک دم میں ہر جا انتشار

پھر دوبارہ ہے اُتارا تُو نے آدم کو یہاں

تا وہ نخلِ راستی اِس ملک میں لاوے ثمار

لوگ سَو بک بک کریں پر تیرے مقصد اور ہیں

تیری باتوں کے فرشتے بھی نہیں ہیں راز دار

ہاتھ میں تیرے ہے ہر خسران و نفع و عُسْر و یُسْر

تُو ہی کرتا ہے کسی کو بے نوا یا بختیار

جس کو چاہے تختِ شاہی پر بٹھا دیتا ہے تُو

جس کو چاہے تخت سے نیچے گرادے کر کے خوار

مَیں بھی ہوں تیرے نشانوں سے جہاں میں اک نشان

جس کو تُو نے کردیا ہے قوم و دیں کا افتخار

فانیوں کی جاہ و حشمت پر بلا آوے ہزار

سلطنت تیری ہے جو رہتی ہے دائم برقرار

عِزّت و ذلّت یہ تیرے حکم پر موقوف ہیں

تیرے فرماں سے خزاں آتی ہے اور بادِ بہار

میرے جیسے کو جہاں میں تُو نے روشن کر دیا

کون جانے اے مرے مالک ترے بھیدوں کی سار

تیرے اے میرے مُربی کیا عجائب کام ہیں

گرچہ بھاگیں جبْر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار

ابتدا سے گوشۂ خلوت رہا مُجھ کو پسند

شُہرتوں سے مجھ کو نفرت تھی ہر اک عظمت سے عار

پر مجھے تُو نے ہی اپنے ہاتھ سے ظاہر کیا

میں نے کب مانگا تھا یہ تیرا ہی ہے سب برگ و بار

اِس میں میرا جُرم کیا جب مجھ کو یہ فرماں ملا

کون ہوں تا رَدّ کروں حکمِ شہِ ذی الاقتدار

اب تو جو فرماں ملا اس کا ادا کرنا ہے کام

گرچہ مَیں ہوں بس ضعیف و ناتوان و دلفگار

دعوتِ ہر ہَرزہ گو کچھ خدمتِ آساں نہیں

ہر قدم میں کوہِ ماراں ہر گزر میں دشتِ خار

چرخ تک پہنچے ہیں میرے نعرہ ہائے روز و شب

پر نہیں پہنچی دلوں تک جاہلوں کے یہ پُکار

قبضۂ تقدیر میں دل ہیں اگر چاہے خدا

پھیر دے میری طرف آ جائیں پھر بے اختیار

گر کرے معجز نمائی ایک دم میں نرم ہو

وہ دِلِ سنگیں جو ہووے مثلِ سنگِ کوہسار

ہائے میری قوم نے تکذیب کر کے کیا لیا

زلزلوں سے ہو گئے صدہا مساکن مثلِ غار

شرطِ تقویٰ تھی کہ وہ کرتے نظر اسوقت پر

شرط یہ بھی تھی کہ کرتے صبر کچھ دن اور قرار

کیا وہ سارے مرحلے طے کر چکے تھے علم کے

کیا نہ تھی آنکھوں کے آگے کوئی رہ تاریک و تار

دل میں جو ارماں تھے وہ دل میں ہمارے رہ گئے

دُشمنِ جاں بن گئے جن پر نظر تھی بار بار

ایسے کچھ بگڑے کہ اب بننا نظر آتا نہیں

آہ کیا سمجھے تھے ہم اور کیا ہوا ہے آشکار

کس کے آگے ہم کہیں اس دردِ دل کا ماجرا

اُن کو ہے ملنے سے نفرت بات سننا دَرکنار

کیا کروں کیونکر کروں میں اپنی جاں زیروزبر

کس طرح میری طرف دیکھیں جو رکھتے ہیں نقار

اِس قدر ظاہر ہوئے ہیں فضلِ حق سے معجزات

دیکھنے سے جن کے شیطاں بھی ہوا ہے دِلفگار

پر نہیں اکثر مخالف لوگوں کو شرم و حیا

دیکھ کر سَو سَو نشاں پھر بھی ہے توہین کاروبار

صاف دل کو کثرتِ اعجاز کی حاجت نہیں

اِک نشاں کافی ہے گر دل میں ہے خوفِ کردگار

دِن چڑھا ہے دُشمنانِ دیں کا ہم پر رات ہے

اے مرے سورج نکل باہر کہ میں ہوں بے قرار

اے مرے پیارے فدا ہو تجھ پہ ہر ذرّہ مرا

پھیر دے میری طرف اے سارباں جگ کی مہار

کچھ خبر لے تیرے کوچہ میں یہ کیسا شور ہے

خاک میں ہوگا یہ سر گر تو نہ آیا بن کے یار

فضل کے ہاتھوں سے اب اِس وقت کر میری مدد

کشتیٔ اسلام تا ہو جائے اِس طوفاں سے پار

میرے سقم و عیب سے اب کیجئے قطعِ نظر

تا نہ خوش ہو دُشمنِ دیں جس پہ ہے لعنت کی مار

میرے زخموں پر لگا مرہم کہ مَیں رنجور ہوں

میری فریادوں کو سُن مَیں ہو گیا زار و نزار

دیکھ سکتا ہی نہیں مَیں ضعفِ دینِ مصطفےٰ

مجھ کو کر اے میرے سُلطاں کامیاب و کامگار

کیا سُلائے گا مجھے تو خاک میں قبل از مُراد

یہ تو تیرے پر نہیں اُمّید اے میرے حصار

یا الٰہی فضل کر اسلام پر اور خود بچا

اِس شکستہ ناؤ کے بندوں کی اب سُن لے پکار

قوم میں فِسق و فجور و معصیت کا زور ہے

چھارہا ہے ابرِ یاس اور رات ہے تاریک و تار

ایک عالَم مر گیا ہے تیرے پانی کے بغیر

پھیر دے اب میرے مولیٰ اس طرف دریا کی دھار

اب نہیں ہیں ہوش اپنے ان مصائب میں بجا

رحم کر بندوں پہ اپنے تا وہ ہوویں رستگار

کس طرح نپٹیں کوئی تدبیر کچھ بنتی نہیں

بے طرح پھیلی ہیں یہ آفات ہر سُو ہر کنار

ڈوبنے کو ہے یہ کشتی آ مرے اے ناخدا

آ گیا اس قوم پر وقتِ خزاں اندر بہار

نورِ دل جاتا رہا اور عقل موٹی ہو گئی

اپنی کجرائی پہ ہر دل کر رہا ہے اعتبار

جس کو ہم نے قطرۂ صافی تھا سمجھا اور تقی

غور سے دیکھا تو کیڑے اس میں بھی پائے ہزار

دُوربینِ معرفت سے گند نکلا ہر طرف

اِس وبا نے کھا لئے ہر شاخِ ایماں کے ثمار

اَے خدا بن تیرے ہو یہ آبپاشی کس طرح

جل گیا ہے باغِ تقویٰ دیں کی ہے اب اِک مزار

تیرے ہاتھوں سے مرے پیارے اگر کچھ ہو تو ہو

ورنہ فتنہ کا قدم بڑھتا ہے ہر دم سیل وار

اِک نشاں دکھلا کہ اب دیں ہو گیا ہے بے نشاں

اِک نظر کر اس طرف تا کچھ نظر آوے بہار

کیا کہوں دنیا کے لوگوں کی کہ کیسے سو گئے

کس قدر ہے حق سے نفرت اور ناحق سے پیار

عقل پر پردے پڑے سَو سَو نشاں کو دیکھ کر

نور سے ہو کر الگ چاہا کہ ہوویں اہل نار

گر نہ ہوتی بدگمانی کفر بھی ہوتا فنا

اس کا ہووے ستیاناس اِس سے بگڑے ہوشیار

بدگمانی سے تو رائی کے بھی بنتے ہیں پہاڑ

پَر کے اِک ریشہ سے ہو جاتی ہے کُوّوں کی قطار

حد سے کیوں بڑھتے ہو لوگو کچھ کرو خوفِ خدا

کیا نہیں تم دیکھتے نصرت خدا کی بار بار

کیا خدا نے اتقیاء کی عَوْن و نُصرت چھوڑ دی

ایک فاسق اور کافر سے وہ کیوں کرتا ہے پیار

ایک بدکردار کی تائید میں اتنے نشاں

کیوں دکھاتا ہے وہ کیا ہے بدکنوں کا رشتہ دار

کیا بدلتا ہے وُہ اب اس سُنّت و قانون کو

جس کا تھا پابند وہ از ابتدائے روزگار

آنکھ گر پھوٹی تو کیا کانوں میں بھی کچھ پڑ گیا

کیا خدا دھوکے میں ہے اور تم ہو میرے راز دار

جس کے دعوٰی کی سراسر افترا پر ہے بنا

اس کی یہ تائید ہو پھر جھوٹ سچ میں کیا نکھار

کیا خدا بھولا رہا تم کو حقیقت مل گئی

کیا رہا وہ بے خبر اور تم نے دیکھا حالِ زار

بدگمانی نے تمہیں مجنون و اندھا کر دیا

ورنہ تھے میری صداقت پر براہیں بیشمار

جہل کی تاریکیاں اور سُو ءِ ظن کی تند باد

جب اکٹھے ہوں تو پھر ایماں اُڑے جیسے غبار

زہر کے پینے سے کیا انجام جز موت وفنا

بدگمانی زہر ہے اس سے بچو اے دیں شعار

کانٹے اپنی راہ میں بوتے ہیں ایسے بدگماں

جن کی عادت میں نہیں شرم و شکیب و اصطبار

یہ غلط کاری بشر کی بدنصیبی کی ہے جڑ

پر مقدّر کو بدل دینا ہے کس کے اِختیار

سخت جاں ہیں ہم کسی کے بُغض کی پروا نہیں

دل قوی رکھتے ہیں ہم دردوں کی ہے ہم کوسہار

جو خدا کا ہے اُسے للکارنا اچھا نہیں

ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبہِ زار و نزار

ہے سرِ رہ پر مرے وہ خود کھڑا مولیٰ کریم

پس نہ بیٹھو میری رہ میں اے شریرانِ دیار

سنّتِ اللہ ہے کہ وہ خود فرق کو دکھلائے ہے

تا عیاں ہو کون پاک اور کون ہے مُردار خوار

مجھ کو پَردے میں نظر آتا ہے اِک میرا مُعین

تیغ کو کھینچے ہوئے اُس پر جو کرتا ہے وہ وار

دشمنِ غافل اگر دیکھے وہ بازو وہ سلاح

ہوش ہو جائیں خطا اور بھول جائے سب نقار

اِس جہاں کا کیا کوئی داوَر نہیں اور داد گر

پھر شریر النَّفس ظالم کو کہاں جائے فرار

کیوں عجب کرتے ہو گر مَیں آگیا ہوکر مسیح

خود مسیحائی کا دَم بھرتی ہے یہ بادِ بہار

آسمان پر دعوتِ حق کے لئے اِک جوش ہے

ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اُتار

آ رہا ہے اس طرف احرارِ یورپ کا مزاج

نبض پھر چلنے لگی مُردوں کی ناگہ زندہ وار

کہتے ہیں تثلیث کو اب اہلِ دانش اَلْوِدَاع

پھر ہوئے ہیں چشمۂ توحید پر از جاں نثار

باغ میں ملّت کے ہے کوئی گُلِ رعنا کھلا

آئی ہے بادِ صبا گلگزار سے مستانہ وار

آ رہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے

گو کہو دیوانہ مَیں کرتا ہوں اُس کا انتظار

ہر طرف ہر مُلک میں ہے بُت پرستی کا زوال

کچھ نہیں انساں پرستی کو کوئی عِزّ و وقار

آسماں سے ہے چلی توحیدِ خالق کی ہوا

دل ہمارے ساتھ ہیں گو مُنہ کریں بک بک ہزار

اِسْمَعُوْا صَوْتَ السَّمَاءِ جَاءَ الْمَسِيْحُ جَاءَ الْمَسِيْح

نیز بشنو از زمیں آمد امامِ کامگار

آسماں بارد نشان اَلْوَقت می گوید زمیں

این دو شاہد از پئے من نعرہ زن چوں بیقرار

اب اسی گلشن میں لوگو راحت و آرام ہے

وقت ہے جلد آؤ اے آوارگانِ دشتِ خار

اِک زماں کے بعد اب آئی ہے یہ ٹھنڈی ہوا

پھر خدا جانے کہ کب آویں یہ دن اور یہ بہار

اَے مکذّب کوئی اِس تکذیب کا ہے انتہا

کب تلک تو خوئے شیطاں کو کرے گا اختیار

ملّتِ احمدؐ کی مالک نے ڈالی تھی بِنا

آج پوری ہو رہی ہے اے عزیزانِ دیار

گلشنِ احمدؐ بنا ہے مسکنِ بادِ صبا

جس کی تحریکوں سے سنتا ہے بشر گفتارِ یار

ورنہ وہ ملّت وہ رَہ وہ رَسم وہ دیں چیز کیا

سایہ افگن جس پہ نورِ حق نہیں خورشید وار

دیکھ کر لوگوں کے کینے دل مرا خوں ہو گیا

قصد کرتے ہیں کہ ہو پامال دُرِّ شاہوار

ہم تو ہر دم چڑھ رہے ہیں اک بلندی کی طرف

وہ بلاتے ہیں کہ ہو جائیں نہاں ہم زیرِ غار

نورِ دل جاتا رہا اک رسم دیں کی رہ گئی

پھر بھی کہتے ہیں کہ کوئی مصلحِ دیں کیا بکار

راگ وہ گاتے ہیں جس کو آسماں گاتا نہیں

وہ ارادے ہیں کہ جو ہیں بر خلافِ شہریار

ہائے مارِ آستیں وہ بن گئے دیں کے لئے

وُہ تو فربہ ہو گئے پر دیں ہوا زار و نزار

ان غموں سے دوستو خَم ہو گئی میری کمر

مَیں تو مر جاتا اگر ہوتا نہ فضلِ کردگار

اِس تپش کو میری وہ جانے کہ رکھتا ہے تپش

اِس اَلَم کو میرے وہ سمجھے کہ ہے وہ دلفگار

کون روتا ہے کہ جس سے آسماں بھی رو پڑا

مہر و مہ کی آنکھ غم سے ہو گئی تاریک و تار

مُفتری کہتے ہوئے اُن کو حیا آتی نہیں

کیسے عالم ہیں کہ اُس عالَم سے ہیں یہ برکنار

غیر کیا جانے کہ دلبر سے ہمیں کیا جوڑ ہے

وہ ہمارا ہو گیا اُس کے ہوئے ہم جاں نثار

مَیں کبھی آدمؑ کبھی موسیٰؑ کبھی یعقوبؑ ہوں

نیز ابراہیمؑ ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

اک شجر ہوں جس کو داؤدی صفت کے پھل لگے

مَیں ہوا داؤدؑ اور جالوت ہے میرا شکار

پر مسیحا بن کے مَیں بھی دیکھتا رُوئے صلیب

گر نہ ہوتا نامِ احمدؐ جس پہ میرا سب مدار

دشمنو! ہم اس کی رہ میں مر رہے ہیں ہر گھڑی

کیا کرو گے تم ہماری نیستی کا انتظار

سر سے میرے پاؤں تک وہ یار مجھ میں ہے نہاں

اے مرے بدخواہ کرنا ہوش کر کے مجھ پہ وار

کیا کروں تعریفِ حُسنِ یار کی اور کیا لکھوں

اِک اَدا سے ہو گیا میں سیلِ نفسِ دُوں سے پار

اس قدر عرفاں بڑھا میرا کہ کافر ہو گیا

آنکھ میں اسکی کہ ہے وہ دُور تر از صحنِ یار

اُس رُخِ روشن سے میری آنکھ بھی روشن ہوئی

ہو گئے اَسرار اُس دِلبر کے مجھ پر آشکار

قوم کے لوگو! اِدھر آؤ کہ نکلا آفتاب

وادیٔ ظلمت میں کیا بیٹھے ہو تم لیل و نہار

کیا تماشا ہے کہ مَیں کافر ہوں تم مومن ہوئے

پھر بھی اس کافر کا حامی ہے وہ مقبولوں کا یار

کیا اَنبَھی بات ہے کافر کی کرتا ہے مدد

وہ خدا جو چاہیئے تھا مومنوں کا دوستدار

اہلِ تقویٰ تھا کرم دیں بھی تمہاری آنکھ میں

جس نے ناحق ظلم کی رہ سے کیا تھا مجھ پہ وار

بےمعاون مَیں نہ تھا، تھی نصرتِ حق میرے ساتھ

فتح کی دیتی تھی وحیِ حق بشارت بار بار

پر مجھے اُس نے نہ دیکھا آنکھ اُس کی بند تھی

پھر سزا پا کر لگایا سرمۂ دُنبالہ دار

نام بھی کذّاب اس کا دفتروں میں رہ گیا

اب مٹا سکتا نہیں یہ نام تا روزِ شمار

اب کہو کس کی ہوئی نُصرت جنابِ پاک سے

کیوں تمہارا متقی پکڑا گیا ہو کر کے خوار

پھر ادھر بھی کچھ نظر کرنا خدا کے خوف سے

کیسے میرے یار نے مجھ کو بچایا بار بار

قتل کی ٹھانی شریروں نے چلائے تیرِ مکر

بن گئے شیطاں کے چیلے اور نسلِ ہونہار

پھر لگایا ناخنوں تک زور بن کر اِک گروہ

پر نہ آیا کوئی بھی منصوبہ اُن کو ساز وار

ہم نِگہ میں ان کی دجّال اور بے ایماں ہوئے

آتشِ تکفیر کے اُڑتے رہے پیہم شرار

اب ذرا سوچو دیانت سے کہ یہ کیا بات ہے

ہاتھ کس کا ہے کہ رَدّ کرتا ہے وہ دشمن کا وار

کیوں نہیں تم سوچتے کیسے ہیں یہ پردے پڑے

دل میں اُٹھتا ہے مَرکَہ رہ کے اب سَو سَو بخار

یہ اگر انساں کا ہوتا کاروبار اے ناقصاں!

ایسے کاذب کیلئے کافی تھا وہ پروردگار

کچھ نہ تھی حاجت تمہاری نے تمہارے مکر کی

خود مجھے نابود کرتا وہ جہاں کا شہریار

پاک و برتر ہے وہ جھوٹوں کا نہیں ہوتا نصیر

ورنہ اُٹھ جائے اماں پھر سچے ہوویں شرمسار

اِس قدر نُصرت کہاں ہوتی ہے اِک کذّاب کی

کیا تمہیں کچھ ڈَر نہیں ہے کرتے ہو بڑھ بڑھ کے وار

ہے کوئی کاذب جہاں میں لاؤ لوگو کچھ نظیر

میرے جیسی جس کی تائید میں ہوئی ہوں بار بار

آفتابِ صبح نکلا اب بھی سوتے ہیں یہ لوگ

دن سے ہیں بیزار اور راتوں سے وہ کرتے ہیں پیار

روشنی سے بُغض اور ظلمت پہ وہ قربان ہیں

ایسے بھی شبپر نہ ہونگے گرچہ تم ڈھونڈو ہزار

سَر پہ اک سورج چمکتا ہے مگر آنکھیں ہیں بند

مرتے ہیں بِن آب وہ اور دَر پہ نہرِ خوشگوار

طُرفہ کیفیت ہے اُن لوگوں کی جو منکر ہوئے

یوں تو ہر دم مشغلہ ہے گالیاں لیل و نہار

پر اگر پوچھیں کہ ایسے کاذبوں کے نام لو

جن کی نُصرت سالہا سے کر رہا ہو کردگار

مُردہ ہو جاتے ہیں اس کا کچھ نہیں دیتے جواب

زرد ہو جاتا ہے منہ جیسے کوئی ہو سوگوار

ان کی قسمت میں نہیں دیں کے لئے کوئی گھڑی

ہو گئے مفتونِ دُنیا دیکھ کر اُس کا سنگار

جی چُرانا راستی سے کیا یہ دیں کا کام ہے

کیا یہی ہے زُہد و تقویٰ کیا یہی راہِ خیار

کیا قسم کھائی ہے یا کچھ پیچ قسمت میں پڑا

روزِ روشن چھوڑ کر ہیں عاشقِ شبہائے تار

انبیاء کے طور پر حجّت ہوئی ان پر تمام

ان کے جو حملے ہیں ان میں سب نبی ہیں حصّہ دار

میری نسبت جو کہیں کیں سے وہ سب پر آتا ہے

چھوڑ دینگے کیا وہ سب کو کفر کر کے اختیار

مجھ کو کافر کہہ کے اپنے کفر پر کرتے ہیں مُہر

یہ تو ہے سب شکل ان کی ہم تو ہیں آئینہ دار

ساٹھ سے ہیں کچھ برس میرے زیادہ اس گھڑی

سال ہے اب تیسواں دعویٰ پہ از رُوئے شمار

تھا برس چالیس کا میں اس مسافرخانہ میں

جبکہ مَیں نے وحیِ ربّانی سے پایا افتخار

اِس قدر یہ زندگی کیا افترا میں کٹ گئی

پھر عجب تر یہ کہ نُصرت کے ہوئے جاری بَحار

ہر قدم میں میرے مولیٰ نے دیئے مجھ کو نشاں

ہر عدو پر حجّتِ حق کی پڑی ہے ذوالفقار

نعمتیں وہ دیں مرے مولیٰ نے اپنے فضل سے

جن سے ہیں معنیٰ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ آشکار

سایہ بھی ہو جائے ہے اوقاتِ ظُلمت میں جُدا

پر رہا وہ ہر اندھیرے میں رفیق و غمگسار

اِس قدر نُصرت تو کاذب کی نہیں ہوتی کبھی

گر نہیں باور نظیریں اس کی تم لاؤ دو چار

پھر اگر ناچار ہو اس سے کہ دو کوئی نظیر

اُس مُہَیْمِن سے ڈرو جو بادشاہِ ہر دو دار

یہ کہاں سے سُن لیا تم نے کہ تم آزاد ہو

کچھ نہیں تم پر عقوبت گو کرو عصیاں ہزار

نعرۂ اِنَّا ظَلَمْنَا سُنَّتِ ابرار ہے

زہر مُنہ کی مت دکھاؤ تم نہیں ہونِسلِ مار

جسم کو مَل مَل کے دھونا یہ تو کچھ مشکل نہیں

دل کو جو دھووے وہی ہے پاک نزدِ کردگار

اپنے ایماں کو ذرا پردہ اُٹھا کر دیکھنا

مجھ کو کافر کہتے کہتے خود نہ ہوں از اہلِ نار

گر حیا ہو سوچ کر دیکھیں کہ یہ کیا راز ہے

وہ مری ذِلّت کو چاہیں پا رہا ہوں مَیں وقار

کیا بگاڑا اپنے مکروں سے ہمارا آج تک

اژدہا بن بن کے آئے ہو گئے پھر سُوسمار

اے فقیہو عالَمو! مجھ کو سمجھ آتا نہیں

یہ نشانِ صِدق پا کر پھر یہ کیں اور یہ نقار

صدق کو جب پایا اصحابِ رسولِ اللہ نے

اُس پہ مال و جان وتن بڑھ بڑھ کے کرتے تھے نثار

پھر عجب یہ علم یہ تنقیدِ آثار و حدیث

دیکھ کر سَو سَو نشاں پھر کر رہے ہو تم فرار

بحث کرنا تم سے کیا حاصل اگر تم میں نہیں

رُوحِ انصاف و خدا ترسی کہ ہے دیں کا مدار

کیا مجھے تم چھوڑتے ہو جاہِ دنیا کے لئے

جاہِ دُنیا کب تلک دُنیا ہے خود ناپائیدار

کون دَر پردہ مجھے دیتا ہے ہر میداں میں فتح

کون ہے جو تم کو ہر دَم کر رہا ہے شرمسار

تم تو کہتے تھے کہ یہ نابود ہو جائے گا جلد

یہ ہمارے ہاتھ کے نیچے ہے اِک ادنیٰ شکار

بات پھر یہ کیا ہوئی کس نے مری تائید کی

خائب و خاسر رہے تم، ہو گیا مَیں کامگار

اِک زمانہ تھا کہ میرا نام بھی مستور تھا

قادیاں بھی تھی نہاں ایسی کہ گویا زیرِ غار

کوئی بھی واقف نہ تھا مجھ سے نہ میرا مُعتقد

لیکن اب دیکھو کہ چرچا کس قدر ہے ہر کنار

اُس زمانہ میں خدا نے دی تھی شہرت کی خبر

جو کہ اب پوری ہوئی بعد از مُرورِ روزگار

کھول کر دیکھو براہیں جو کہ ہے میری کتاب

اِس میں ہے یہ پیشگوئی پڑھ لو اُس کو ایک بار

اب ذرہ سوچو کہ کیا یہ آدمی کا کام ہے

اِس قدر امرِ نہاں پر کس بشر کو اِقتدار

قُدرتِ رحمان ومکرِ آدمی میں فرق ہے

جو نہ سمجھے وہ غبی از فرق تا پا ہے حمار

سوچ لو اے سوچنے والو کہ اب بھی وقت ہے

راہِ حرماں چھوڑ دو رحمت کے ہو اُمّیدوار

سوچ لو یہ ہاتھ کس کا تھا کہ میرے ساتھ تھا

کس کے فرماں سےمیں مقصد پا گیا اور تم ہو خوار

یہ بھی کچھ ایماں ہے یارو ہم کو سمجھائے کوئی

جس کا ہر میداں میں پھل حرماں ہے اور ذِلّت کی مار

غل مچاتے ہیں کہ یہ کافر ہے اور دجّال ہے

میں تو خود رکھتا ہوں اُن کے دِیں اور ایماں سے عار

گر یہی دیں ہے جو ہے ان کی خصائل سے عیاں

مَیں تو اِک کوڑی کو بھی لیتا نہیں ہوں زینہار

جان و دل سے ہم نثارِ ملّتِ اسلام ہیں

لیک دیں وہ رہ نہیں جس پر چلیں اہلِ نقار

واہ رے جوشِ جہالت خوب دکھلائے ہیں رنگ

جھوٹ کی تائید میں حملے کریں دیوانہ وار

ناز مت کر اپنے ایماں پر کہ یہ ایماں نہیں

اس کو ہیرا مت گماں کر ہے یہ سنگِ کوہسار

پیٹنا ہوگا دو ہاتھوں سے کہ ہے ہے مر گئے

جبکہ ایماں کے تمہارے گند ہوں گے آشکار

ہے یہ گھر گرنے پہ آئے مغرور لے جلدی خبر

تا نہ دَب جائیں ترے اہلِ وعیال و رِشتہ دار

یہ عجب بد قسمتی ہے کس قدر دعوت ہوئی

پر اُترتا ہی نہیں ہے جامِ غفلت کا خمار

ہوش میں آتے نہیں سَو سَو طرح کوشش ہوئی

ایسے کچھ سوئے کہ پھر ہوتے نہیں ہیں ہوشیار

دن بُرے آئے اکٹھے ہو گئے قحط و وبا

اب تلک توبہ نہیں اب دیکھئے انجامِ کار

ہے غضب کہتے ہیں اب وحی خدا مفقود ہے

اب قیامت تک ہے اس اُمّت کا قصّوں پر مدار

یہ عقیدہ برخلافِ گفتۂ دادار ہے!

پر اُتارے کون برسوں کا گلے سے اپنے ہار

وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم

اب بھی اُس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار

گوہرِ وحیِ خدا کیوں توڑتا ہے ہوش کر

اِک یہی دیں کیلئے ہے جائے عزّ و افتخار

یہ وہ گُل ہے جس کا ثانی باغ میں کوئی نہیں

یہ وہ خوشبو ہے کہ قرباں اس پہ ہو مُشکِ تتار

یہ وہ ہے مفتاح جس سے آسماں کے دَر کُھلیں

یہ وہ آئینہ ہے جس سے دیکھ لیں رُوئے نگار

بس یہی ہتھیار ہے جس سے ہماری فتح ہے

بس یہی اِک قصر ہے جو عافیت کا ہے حصار

ہے خدا دانی کا آلہ بھی یہی اسلام میں

محض قصّوں سے نہ ہو کوئی بشر طوفاں سے پار

ہے یہی وحیِ خدا عرفانِ مولیٰ کا نشان

جس کو یہ کامل ملے اُس کو ملے وہ دوستدار

واہ رے باغِ محبت موت جس کی رہگذر

وصلِ یار اس کا ثمر پر اِرد گِرد اس کے ہیں خار

ایسے دل پر داغِ لعنت ہے ازل سے تا ابَد

جو نہیں اس کی طلب میں بیخود و دیوانہ وار

پر جو دُنیا کے بنے کیڑے وہ کیا ڈھونڈیں اسے

دیں اُسے ملتا ہے جو دیں کے لئے ہو بے قرار

ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج

جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار

یا د وہ دن جبکہ کہتے تھے یہ سب ارکانِ دیں

مہدیِ موعودِ حق اب جلد ہو گا آشکار

کون تھا جس کی تمنّا یہ نہ تھی اِک جوش سے

کون تھا جس کو نہ تھا اُس آنیوالے سے پیار

پھر وہ دن جب آگئے اور چودھویں آئی صدی

سب سے اوّل ہو گئے مُنکر یہی دیں کے منار

پھر دوبارہ آ گئی اَحبار میں رسمِ یہود

پھر مسیحِ وقت سے دشمن ہوئے یہ جُبّہ دار

تھا نُوِشتوں میں یہی از ابتدا تا انتہا

پھر مٹے کیونکر کہ ہے تقدیر نے نقشِ جدار

مَیں تو آیا اِس جہاں میں ابن مریم کی طرح

مَیں نہیں مامور از بہرِ جہاد و کارزار

پر اگر آتا کوئی جیسی انہیں اُمید تھی

اور کرتا جنگ اور دیتا غنیمت بیشمار

ایسے مہدی کیلئے میداں کھلا تھا قوم میں

پھر تو اس پر جمع ہوتے ایکدم میں صد ہزار

پر یہ تھا رحمِ خُداوندی کہ مَیں ظاہر ہوا

آگ آتی گر نہ مَیں آتا تو پھر جاتا قرار

آگ بھی پھر آ گئی جب دیکھ کر اتنے نشاں

قوم نے مجھ کو کہا کذّاب ہے اور بدشعار

ہے یقیں یہ آگ کچھ مُدّت تلک جاتی نہیں

ہاں مگر توبہ کریں باصد نیاز و انکسار

یہ نہیں اِک اتفاقی امر تا ہوتا علاج

ہے خدا کے حکم سے یہ سب تباہی اور تبار

وہ خدا جس نے بنایا آدمی اور دِیں دیا

وہ نہیں راضی کہ بے دینی ہو ان کا کاروبار

بے خدا بے زہد و تقویٰ بے دیانت بے صفا

بَن ہے یہ دنیا، دُوں طاعوں کرے اس میں شکار

صَیدِ طاعوں مت بنو پورے بنو تم مُتّقی

یہ جو ایماں ہے زباں کا، کچھ نہیں آتا بکار

موت سے گر خود ہو بے ڈر کچھ کرو بچوں پہ رحم

امن کی رہ پر چلو بَن کو کرو مت اختیار

بَن کے رہنے والو تم ہرگز نہیں ہو آدمی

کوئی ہے رُوبہ کوئی خنزیر اور کوئی ہے مار

ان دلوں کو خود بدل دے اے مرے قادر خدا

تو تو ربّ العالمین ہے اور سب کا شہریار

تیرے آگے محو یا اِثبات ناممکن نہیں

جوڑنا یا توڑنا یہ کام تیرے اختیار

ٹوٹے کاموں کو بنادے جب نگاہِ فضل ہو

پھر بنا کر توڑ دے اِک دم میں کر دے تار تار

تو ہی بگڑی کو بناوے توڑ دے جب بن چکا

تیرے بھیدوں کو نہ پاوے سَو کرے کوئی بچار

جب کوئی دل ظلمتِ عصیاں میں ہووے مبتلا

تیرے بن روشن نہ ہووے گو چڑھے سورج ہزار

اِس جہاں میں خواہشِ آزادگی بےسُود ہے

اِک تری قیدِ محبت ہے جو کر دے رستگار

دل جو خالی ہو گدازِ عشق سے وہ دل ہے کیا

دل وہ ہے جس کو نہیں بے دلبرِ یکتا قرار

فقر کی منزل کا ہے اوّل قدم نفیِ وجود

پس کرو اس نفس کو زیر و زبر از بہرِ یار

تلخ ہوتا ہے ثمر جبتک کہ ہو وہ ناتمام

اِسطرح ایماں بھی ہے جبتک نہ ہو کامل پیار

تیرے مُنہ کی بھوک نے دل کو کیا زیر و زبر

اے مرے فردوسِ اعلیٰ اب گرا مجھ پر ثمار

اَے خدا اَے چارہ سازِ دردِہم کو خود بچا

اے مرے زخموں کے مرہم دیکھ میرا دل فگار

باغ میں تیری محبت کے عجب دیکھے ہیں پھل

ملتے ہیں مشکل سے ایسے سیب اور ایسے انار

تیرے بن اے میری جاں یہ زندگی کیا خاک ہے

ایسے جینے سے تو بہتر مر کے ہو جانا غبار

گر نہ ہو تیری عنایت سب عبادت ہیچ ہے

فضل پر تیرے ہے سب جُہد و عمل کا انحصار

جن پہ ہے تیری عنایت وہ بدی سے دور ہیں

رہ میں حق کی قوّتیں اُن کی چلیں بن کر قطار

چُھٹ گئے شیطاں سے جو تھے تیری الفت کے اسیر

جو ہوئے تیرے لئے بے برگ و بر پائی بہار

سب پیاسوں کو تر تیرے مُنہ کی ہے پیاس

جس کا دل اس سے ہے بریاں پا گیا وہ آبشار

جس کو تیری دُھن لگی آخر وہ تجھ کو جا ملا

جس کو بے چینی ہے یہ وہ پا گیا آخر قرار

عاشقی کی ہے علامت گریہ و دامانِ دشت

کیا مبارک آنکھ جو تیرے لئے ہو اشکبار

تیری درگہ میں نہیں رہتا کوئی بھی بے نصیب

شرط رہ پر صبر ہے اور ترکِ نامِ اضطرار

مَیں تو تیرے حکم سے آیا مگر افسوس ہے

چل رہی ہے وہ ہوا جو رخنہ اندازِ بہار

جیفۂ دُنیا پہ یکسر گر گئے دُنیا کے لوگ

زندگی کیا خاک اُن کی جو کہ ہیں مُردار خوار

دیں کو دے کر ہاتھ سے دُنیا بھی آخر جاتی ہے

کوئی آسودہ نہیں بن عاشق و شیدائے یار

رنگِ تقویٰ سے کوئی رنگت نہیں ہے خوب تر

ہے یہی ایماں کا زیور ہے یہی دیں کا سنگار

سَو چڑھے سورج نہیں بن رُوئے دلبر روشنی

یہ جہاں بے وصلِ دلبر ہے شبِ تاریک و تار

اے مرے پیارے جہاں میں تو ہی ہے اِک بے نظیر

جو ترے مجنوں حقیقت میں وہی ہیں ہوشیار

اس جہاں کو چھوڑنا ہے تیرے دیوانوں کا کام

نقد پا لیتے ہیں وہ اور دوسرے امیدوار

کون ہے جسکے عمل ہوں پاک بے انوارِ عشق

کون کرتا ہے وفا بن اُسکے جس کا دل فگار

غیر ہو کر غیر پر مرنا کسی کو کیا غرض

کون دیوانہ بنے اس راہ میں لیل و نہار

کون چھوڑے خوابِ شیریں کون چھوڑے اکل و شرب

کون لے خارِ مغیلاں چھوڑ کر پھولوں کے ہار

عشق ہے جس سے ہوں طے یہ سارے جنگل پُر خطر

عشق ہے جو سر جھکا دے زیرِ تیغِ آبدار

پر ہزار افسوس دنیا کی طرف ہیں جُھک گئے

وہ جو کہتے تھے کہ ہے یہ خانہٴ ناپائیدار

جسکو دیکھو آجکل وہ شوخیوں میں طاق ہے

آہ رحلت کر گئے وہ سب جو تھے تقویٰ شعار

منبروں پر اُنکے سارا گالیوں کا وعظ ہے

مجلسوں میں اُنکی ہر دم سبّ وغیبت کاروبار

جس طرف دیکھو یہی دُنیا ہی مقصد ہو گئی

ہر طرف اُس کے لئے رغبت دِلائیں بار بار

ایک کانٹا بھی اگر دیں کیلئے اُن کو لگے

چیخ کر اس سے وہ بھاگیں شیر سے جیسے حمار

ہر زماں شکوہ زباں پر ہے اگر ناکام ہیں

دِیں کی کچھ پروا نہیں دنیا کے غم میں سوگوار

لوگ کچھ باتیں کریں میری تو باتیں اور ہیں

مَیں فدائے یار ہوں گو تیغ کھینچے صد ہزار

اے میرے پیارے بتا تُو کس طرح خوشنود ہو

نیک دِن ہوگا وہ ہی جب تجھ پر ہوویں ہم نثار

جسطرح تُو دُور ہے لوگوں سے میں بھی دُور ہوں

ہے نہیں کوئی بھی جو ہو میرے دِل کا راز دار

نیک ظن کرنا طریقِ صالحانِ قوم ہے

لیک سو پردے میں ہوں اُن سے نہیں ہوں آشکار

بے خبر دونوں ہیں جو کہتے ہیں بد یا نیک مرد

میرے باطن کی نہیں ان کو خبر اک ذرّہ وار

ابنِ مریم ہوں مگر اُترا نہیں مَیں چرخ سے

نیز مہدی ہوں مگر بے تیغ اور بے کار زار

ملک سے مجھ کو نہیں مطلب نہ جنگوں سے ہے کام

کام میرا ہے دلوں کو فتح کرنا نے دیار

تاج و تختِ ہند قیصر کو مُبارک ہو مدام

ان کی شاہی میں مَیں پاتا ہوں رفاہِ روزگار

مجھ کو کیا ملکوں سے میرا مِلک ہے سب سے جُدا

مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوانِ یار

ہم تو بستے ہیں فلک پر اِس زمیں کو کیا کریں

آسماں کے رہنے والوں کو زمیں سے کیا نِقار

مُلکِ روحانی کی شاہی کی نہیں کوئی نظیر

گو بہت دُنیا میں گزرے ہیں امیر و تاجدار

داغِ لعنت ہے طلب کرنا زمیں کا عِزّ و جاہ

جس کا جی چاہے کرے اس داغ سے وہ تن فگار

کام کیا عِزّت سے ہم کو شہرتوں سے کیا غرض

گروہ ذِلّت سے ہو راضی اُس پہ سو عِزّت نثار

ہم اُسی کے ہو گئے ہیں جو ہمارا ہو گیا

چھوڑ کر دُنیائے دُوں کو ہم نے پایا وہ نِگار

دیکھتا ہوں اپنے دل کو عرشِ ربّ العالمیں

قرب اتنا بڑھ گیا جس سے ہے اُترا مجھ میں یار

دوستی بھی ہے عجب جس سے ہوں آخر دوستی

آ ملی الفت سے اُلفت ہو کے دو دِل پر سوار

دیکھ لو میل و محبت میں عجب تاثیر ہے

ایک دل کرتا ہے جھک کر دوسرے دل کو شکار

کوئی رہ نزدیک تر راہِ محبت سے نہیں

طَے کریں اس راہ سے سالک ہزاروں دشتِ خار

اُس کے پانے کا یہی اے دوستو اک راز ہے

کیمیا ہے جس سے ہاتھ آجائیگا زر بے شمار

تیرِ تاثیرِ محبت کا خطا جاتا نہیں

تیر اندازو! نہ ہونا سست اس میں زینہار

ہے یہی اِک آگ تا تم کو بچاوے آگ سے

ہے یہی پانی کہ نکلیں جس سے صدہا آبشار

اس سے خود آ کر ملے گا تم سے وہ یارِ ازل

اِس سے تم عرفانِ حق کے پہنو گے پھولوں کے ہار

وہ کتابِ پاک و برتر جس کا فُرقاں نام ہے

وُہ یہی دیتی ہے طالب کو بشارت بار بار

جن کو ہے انکار اس سے سخت ناداں ہیں وہ لوگ

آدمی کیونکر کہیں جب اُن میں ہے حُمقِ حمار

کیا یہی اسلام کا ہے دُوسرے دینوں پہ فخر

کر دیا قصّوں پہ سارا ختم دیں کا کاروبار

مغزِ فرقانِ مُطَهَّرْ کیا یہی ہے زُہدِ خشک

کیا یہی چوہا ہے نکلا کھود کر یہ کوہسار

گر یہی اسلام ہے بس ہو گئی اُمّت ہلاک

کِس طرح رہ مل سکے جب دیں ہی ہو تاریک و تار

مُنہ کو اپنے کیوں بگاڑانا اُمیدوں کی طرح

فیض کے در کھل رہے ہیں اپنے دامن کو پسار

کِس طرح کے تُم بشر ہو دیکھتے ہو صد نشاں

پھر وُہی ضِدّ و تعصّب اور وہی کین و نقار

بات سب پوری ہوئی پر تُم وہی ناقص رہے

باغ میں ہو کر بھی قسمت میں نہیں دیں کے ثمار

دیکھ لو وہ ساری باتیں کیسی پوری ہو گئیں

جن کا ہونا تھا بعید از عقل و فہم و افتکار

اُس زمانہ میں ذرا سوچو کہ میں کیا چیز تھا

جس زمانہ میں براہیں کا دیا تھا اِشتہار

پھر ذرا سوچو کہ اب چرچا مرا کیسا ہوا

کِس طرح سرعت سے شہرت ہو گئی در ہر دیار

جانتا تھا کون کیا عزّت تھی پبلک میں مجھے

کِس جماعت کی تھی مجھ سے کچھ ارادت یا پیار

تھے رجوعِ خلق کے اسباب مال و علم و حِکم

خاندانِ فقر بھی تھا باعثِ عِزّ و وقار

لیک اِن چاروں سے مَیں محروم تھا اور بے نصیب

ایک انساں تھا کہ خارج از حساب و از شمار

پھر رکھایا نام کافر ہو گیا مطعُونِ خلق

کفر کے فتووں نے مجھ کو کر دیا بے اعتبار

اِس پہ بھی میرے خدا نے یاد کر کے اپنا قول

مرجعِ عالم بنایا مجھ کو اور دِیں کا مدار

سارے منصوبے جو تھے میری تباہی کیلئے

کر دیئے اُس نے تَبَہ جیسے کہ ہو گرد و غبار

سوچ کر دیکھو کہ کیا یہ آدمی کا کام ہے

کوئی بتلائے نظیر اس کی اگر کرنا ہے وار

مکرِ انساں کو مٹا دیتا ہے انسانِ دگر

پر خدا کا کام کب بگڑے کسی سے زینہار

مفتری ہوتا ہے آخر اس جہاں میں روسیاہ

جلدتر ہوتا ہے برہم اِفترا کا کاروبار

افترا کی ایسی دُم لمبی نہیں ہوتی کبھی

جو ہو مِثْلِ مُدّتِ فخرالرسل فخرالخیار

حسرتوں سے میرا دل پُر ہے کہ کیوں منکر ہو تم

یہ گھٹا اب جُھوم جُھوم آتی ہے دل پر بار بار

یہ عجب آنکھیں ہیں سورج بھی نظر آتا نہیں

کچھ نہیں چھوڑا حَسد نے عقل اور سوچ اور بچار

قوم کی بدقسمتی اس سرکشی سے کُھل گئی

پر وہی ہوتا ہے جو تقدیر سے پایا قرار

قوم میں ایسے بھی پاتا ہوں جو ہیں دُنیا کے کِرْم

مقصد اُنکی زیست کا ہے شہوت وخَمر وقِمار

مکر کے بل چل رہی ہے اُن کی گاڑی روز و شب

نفس و شیطاں نے اُٹھایا ہے انہیں جیسے کہار

دیں کے کاموں میں تو اُن کے لڑکھڑاتے ہیں قدم

لیک دُنیا کے لئے ہیں نوجوان و ہوشیار

حِلّت و حُرمت کی کچھ پروا نہیں باقی رہی

ٹُھونس کر مُردار پیٹوں میں نہیں لیتے ڈکار

لافِ زُہد و راستی اور پاپ دل میں ہے بھرا

ہے زباں میں سب شرف اور نیچ دل جیسے چمار

اَے عزیز و کب تلک چل سکتی ہے کاغذ کی ناؤ

ایک دن ہے غرق ہونا با دو چشمِ اشکبار

جاودانی زندگی ہے موت کے اندر نہاں

گلشنِ دِلبر کی راہ ہے وادئ غُربت کے خار

اے خدا کمزور ہیں ہم اپنے ہاتھوں سے اُٹھا

ناتواں ہم ہیں ہمارا خود اُٹھا لے سارا بار

تیری عظمت کے کرشمے دیکھتا ہوں ہر گھڑی

تیری قُدرت دیکھ کر دیکھا جہاں کو مُردہ وار

کام دکھلائے جو تُو نے میری نُصرت کے لئے

پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے ہر زماں وہ کاروبار

کس طرح تُو نے سچائی کو مری ثابت کیا

مَیں ترے قرباں مری جاں تیرے کاموں پر نثار

ہے عجب اِک خاصیت تیرے جمالِ حُسن میں

جس نے اِک چمکار سے مجھ کو کیا دیوانہ وار

اے مرے پیارے ضلالت میں پڑی ہے میری قوم

تیری قدرت سے نہیں کچھ دُور گر پائیں سُدھار

مجھ کو کافر کہتے ہیں مَیں بھی انہیں مومن کہوں

گر نہ ہو پرہیز کرنا جھوٹ سے دیں کا شعار

مجھ پہ اے واعظ نظر کی یار نے تجھ پر نہ کی

حیف اُس ایماں پہ جس سے کُفر بہتر لاکھ بار

روضۂ آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک

میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار

وہ خدا جس نے نبی کو تھا زرِ خالص دیا

زیورِ دیں کو بناتا ہے وہ اب مثلِ سُنار

وہ دکھاتا ہے کہ دیں میں کچھ نہیں اِکراہ و جبر

دیں تو خود کھینچے ہے دل مثلِ بُتِ سیمیں عذار

بس یہی ہے رمز جو اُس نے کیا منع از جہاد

تا اُٹھاوے دیں کی رَہ سے جو اُٹھا تھا اِک غبار

تا دکھاوے مُنکروں کو دیں کی ذاتی خوبیاں

جن سے ہوں شرمندہ جو اسلام پر کرتے ہیں وار

کہتے ہیں یورپ کے ناداں یہ نبی کامل نہیں

وحشیوں میں دیں کو پھیلانا یہ کیا مشکل تھا کار

پر بنانا آدمی وحشی کو ہے اِک معجزہ

معنیِ رازِ نبوّت ہے اِسی سے آشکار

نور لائے آسماں سے خود بھی وہ اِک نور تھے

قومِ وحشی میں اگر پیدا ہوئے کیا جائے عار

روشنی میں مہرِ تاباں کی بھلا کیا فرق ہو

گرچہ نکلے روم کی سرحد سے یا از زنگبار

اے مرے پیارو! شکیب و صبر کی عادت کرو

وہ اگر پھیلائیں بد بو تم بنو مُشْکِ تَتَار

نفس کو مارو کہ اُس جیسا کوئی دشمن نہیں

چپکے چپکے کرتا ہے پیدا وہ سامانِ دمار

جس نے نفسِ دُوں کو ہمت کر کے زیرِ پا کیا

چیز کیا ہیں اُس کے آگے رُستم و اسفندیار

گالیاں سُن کر دعا دو پا کے دُکھ آرام دو

کِبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ اِنکسار

تم نہ گھبراؤ اگر وہ گالیاں دیں ہر گھڑی

چھوڑ دو اُن کو کہ چھپوائیں وہ ایسے اشتہار

چُپ رہو تم دیکھ کر اُن کے رسالوں میں ستم

دم نہ مارو گر وہ ماریں اور کر دیں حالِ زار

دیکھ کر لوگوں کا جوش و غیظ مت کچھ غم کرو

شدّتِ گرمی کا ہے محتاج بارانِ بہار

اِفترا اُن کی نگاہوں میں ہمارا کام ہے

یہ خیال، اللہ اکبر، کس قدر ہے نابکار

خیر خواہی میں جہاں کی خوں کیا ہم نے جگر

جنگ بھی تھی صلح کی نیت سے اور کیں سے فرار

پاک دل پر بدگمانی ہے یہ شقوت کا نشاں

اب تو آنکھیں بند ہیں دیکھیں گے پھر انجامِ کار

جبکہ کہتے ہیں کہ کاذب پھولتے پھلتے نہیں

پھر مجھے کہتے ہیں کاذب دیکھ کر میرے ثمار

کیا تمہاری آنکھ سب کچھ دیکھ کر اندھی ہوئی

کچھ تو اُس دن سے ڈرو یارو! کہ ہے روزِ شمار

آنکھ رکھتے ہو ذرا سوچو کہ یہ کیا راز ہے

کس طرح ممکن کہ وہ قدّوس ہو کاذب کا یار

یہ کرم مُجھ پر ہے کیوں کوئی تو اس میں بات ہے

بے سبب ہرگز نہیں یہ کاروبارِ کردگار

مجھ کو خود اس نے دیا ہے چشمۂ توحید پاک

تا لگاوے از سرِ نو باغِ دیں میں لالہ زار

دوش پر میرے وہ چادر ہے کہ دی اُس یار نے

پھر اگر قُدرت ہے اے مُنکر تو یہ چادر اُتار

خیرگی سے بدگمانی اِس قدر اچھی نہیں

ان دنوں میں جب کہ ہے شورِ قیامت آشکار

ایک طوفاں ہے خدا کے قہر کا اب جوش پر

نوحؑ کی کشتی میں جو بیٹھے وہی ہو رستگار

صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے

ہیں درندے ہر طرف مَیں عافیت کا ہوں حصار

پُشتیِ دیوارِ دیں اور مامنِ اسلام ہوں

نارسا ہے دستِ دشمن تا بفرقِ ایں جدار

جاہلوں میں اِس قدر کیوں بدگمانی بڑھ گئی

کچھ بُرے آئے ہیں دن یا پڑ گئی لعنت کی مار

کچھ تو سمجھیں بات کو یہ دل میں ارماں ہی رہا

واہ رے شیطاں عجب ان کو کیا اپنا شکار

اَے کہ ہر دم بدگمانی تیرا کاروبار ہے

دوسری قوّت کہاں گم ہوگئی اَے ہوشیار

مَیں اگر کاذب ہوں کذابوں کی دیکھوں گا سزا

پر اگر صادق ہوں پھر کیا عُذر ہے روزِ شمار

اِس تعصّب پر نظر کرنا کہ مَیں اسلام پر

ہوں فدا پھر بھی مجھے کہتے ہیں کافر بار بار

مَیں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر

مَیں وہ ہوں نورِ خدا جس سے ہوا دن آشکار

ہائے وہ تقویٰ جو کہتے تھے کہاں مخفی ہوئی

ساربانِ نفسِ دُوں نے کس طرف پھیری مہار

کام جو دکھلائے اس خَلّاق نے میرے لئے

کیا وہ کرسکتا ہے جو ہو مُفتری شیطاں کا یار

مَیں نے روتے روتے دامن کر دیا تر درد سے

اب تلک تم میں وہی خشکی رہی با حالِ زار

ہائے یہ کیا ہو گیا عقلوں پہ کیا پتھر پڑے

ہو گیا آنکھوں کے آگے اُن کے دن تاریک و تار

یا کسی مخفی گنہ سے شامتِ اعمال ہے

جس سے عقلیں ہو گئیں بیکار اور اک مُردہ وار

گردنوں پر اُن کی ہے سب عام لوگوں کا گنہ

جنکے وعظوں سے جہاں کے آگیا دل میں غُبار

ایسے کچھ سوئے کہ پھر جاگے نہیں ہیں اب تلک

ایسے کچھ بھولے کہ پھر نسیاں ہوا گردن کا ہار

نوعِ انساں میں بدی کا تخم بونا ظلم ہے

وہ بدی آتی ہے اُس پر جو ہوا اُس کا کاشتکار

چھوڑ کر فُرقاں کو آثارِ مخالف پر جمے

سر پہ مسلم اور بُخاری کے دیا ناحق کا بار

جبکہ ہے امکانِ کذب و کج روی اخبار میں

پھر حماقت ہے کہ رکھیں سب انہی پر اِنحصار

جبکہ ہم نے نورِ حق دیکھا ہے اپنی آنکھ سے

جبکہ خود وحیِ خدا نے دی خبر یہ بار بار

پھر یقیں کو چھوڑ کر ہم کیوں گمانوں پر چلیں

خود کہو رؤیت ہے بہتر یا نقولِ پُر غُبار

تفرقہ اسلام میں نقلوں کی کثرت سے ہوا

جس سے ظاہر ہے کہ راہِ نقل ہے بے اعتبار

نقل کی تھی اِک خطا کاری مسیحا کی حیات

جس سے دیں نصرانیت کا ہو گیا خدمت گذار

صد ہزاراں آفتیں نازل ہوئیں اسلام پر

ہو گئے شیطاں کے چیلے گردنِ دیں پر سوار

موتِ عیسیٰ کی شہادت دی خدا نے صاف صاف

پھر احادیثِ مخالف رکھتی ہیں کیا اعتبار

گر گماں صحت کا ہو پھر قابلِ تاویل ہیں

کیا حدیثوں کے لئے فرقاں پہ کر سکتے ہو وار

وہ خدا جس نے نشانوں سے مجھے تمغہ دیا

اب بھی وہ تائیدِ فُرقاں کر رہا ہے بار بار

سر کو پیٹو آسماں سے اب کوئی آتا نہیں

عُمرِ دنیا سے بھی اب ہے آ گیا ہفتم ہزار۱؎

اِس کے آتے آتے دیں کا ہو گیا قصّہ تمام

کیا وہ تب آئے گا جب دیکھے گا اس دیں کا مزار

کشتیِ اسلام بے لُطفِ خدا اب غرق ہے

اے جنوں کچھ کام کر بیکار ہیں عقلوں کے وار

مجھ کو دے اک فوقِ عادت اے خدا جوش و تپش

جس سے ہو جاؤں میں غم میں دیں کے اِک دیوانہ وار

وہ لگا دے آگ میرے دل میں مِلّت کیلئے

شعلے پہنچیں جس سے ہر دم آسماں تک بیشمار

اے خُدا تیرے لئے ہر ذرّہ ہو میرا فدا

مجھ کو دکھلا دے بہارِ دیں کہ مَیں ہُوں اشکبار

خاکساری کو ہماری دیکھ اے دانائے راز

کام تیرا کام ہے ہم ہو گئے اب بے قرار

اِک کرم کر پھیر دے لوگوں کو فرقاں کی طرف

نیز دے توفیق تا وہ کچھ کریں سوچ اور بچار

ایک فرقاں ہے جو شک اور ریب سے وہ پاک ہے

بعد اس کے ظنِّ غالب کو ہیں کرتے اختیار

پھر یہ نقلیں بھی اگر میری طرف سے پیش ہوں

تنگ ہو جائے مخالف پر مجالِ کارزار

باغ مُرجھایا ہوا تھا گر گئے تھے سب ثمر

مَیں خدا کا فضل لایا پھر ہوئے پیدا ثمار

مرہمِ عیسیٰ نے دی تھی محض عیسیٰ کو شفا

میری مرہم سے شفا پائے گا ہر مُلک و دیار

جھانکتے تھے نور کو وہ روزنِ دیوار سے

لیک جب دَر کُھل گئے پھر ہو گئے شِپّر شعار

وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے

اب مَیں دیتا ہوں اگر کوئی ملے اُمّید وار

پر ہوئے دِیں کے لئے یہ لوگ مارِ آستیں

دُشمنوں کو خوش کیا اور ہو گیا آزردہ یار

غُل مچاتے ہیں کہ یہ کافر ہے اور دجّال ہے

پاک کو ناپاک سمجھے ہو گئے مُردار خوار

گو وہ کافر کہہ کے ہم سے دُورتر ہیں جا پڑے

انکے غم میں ہم تو پھر بھی ہیں حزین و دلفگار

ہم نے یہ مانا کہ انکے دل ہیں پتھر ہو گئے

پھر بھی پتھر سے نکل سکتی ہے دینداری کی نار

کیسے ہی وہ سخت دل ہوں ہم نہیں ہیں نا اُمید

آیتِ لَا تَیْئَسُوْا رکھتی ہے دِل کو استوار

پیشہ ہے رونا ہمارا پیشِ ربِّ ذُوالْمَنَن

یہ شجر آخر کبھی اِس نہر سے لائیں گے بار

جن میں آیا ہے مسیحِ وقت وہ مُنکر ہوئے

مر گئے تھے اِس تمنّا میں خواصِ ہر دیار

مَیں نہیں کہتا کہ میری جاں ہے سب سے پاک تر

مَیں نہیں کہتا کہ یہ میرے عمل کے ہیں ثمار

مَیں نہیں رکھتا تھا اِس دعویٰ سے اک ذرّہ خبر

کھول کر دیکھو براہین کو کہ تا ہو اِعتبار

گر کہے کوئی کہ یہ منصب تھا شایانِ قریش

وہ خُدا سے پوچھ لے میرا نہیں یہ کاروبار

مجھ کو بس ہے وہ خدا عہدوں کی کچھ پَروا نہیں

ہو سکے تو خود بنو مہدی بحکمِ کردگار

افترا لعنت ہے اور ہر مفتری ملعون ہے

پھر لعیں وہ بھی ہے جو صادق سے رکھتا ہے نقار

تشنہ بیٹھے ہو کنارِ جوئے شیریں حیف ہے

سرزمینِ ہند میں چلتی ہے نہرِ خوشگوار

اِنْ نِشانوں کو ذرہ سوچو کہ کس کے کام ہیں۱

کیا ضرورت ہے کہ دکھلاؤ غضب دیوانہ وار

مُفت میں ملزم خدا کے مت بنو اے مُنکرو

یہ خدا کا ہے نہ ہے یہ مُفتری کا کاروبار

یہ فتوحاتِ نمایاں یہ تواتر سے نشاں

کیا یہ ممکن ہیں بشر سے کیا یہ مکّاروں کا کار

ایسی سُرعت یہ شہرت ناگہاں سالوں کے بعد

کیا نہیں ثابت یہ کرتی صِدقِ قولِ کردگار

کچھ تو سوچو ہوش کر کے کیا یہ معمولی ہے بات

جس کا چرچا کر رہا ہے ہر بشر اور ہر دیار

مٹ گئے حیلے تمہارے ہو گئی حُجّت تمام

اب کہو کس پر ہوئی اے مُنکر و لعنت کی مار

بندہٴ درگاہ ہوں اور بندگی سے کام ہے

کچھ نہیں ہے فتح سے مطلب نہ دل میں خوفِ ہار

مت کرو بک بک بہت اُس کی دلوں پر ہے نظر

دیکھتا ہے پاکیِ دل کو نہ باتوں کی سنوار

کیسے پتھر پڑ گئے ہے ہے تمہاری عقل پر

دیں ہے مُنہ میں گُرگ کے تم گُرگ کے خود پاسدار

ہر طرف سے پڑ رہے ہیں دینِ احمدؐ پر تبر

کیا نہیں تم دیکھتے قوموں کو اور اُن کے وہ وار

کون سی آنکھیں جو اُس کو دیکھ کر روتی نہیں

کون سے دل ہیں جو اِس غم سے نہیں ہیں بے قرار

کھا رہا ہے دیں طمانچے ہاتھ سے قوموں کے آج

اِک تزلزل میں پڑا اسلام کا عالی منار

یہ مصیبت کیا نہیں پہنچی خدا کے عرش تک

کیا یہ شمس الدین نہاں ہو جائے گا اب زیرِ غار

جنگِ روحانی ہے اب اس خادم و شیطاں کا

دِل گھٹا جاتا ہے یا ربّ سخت ہے یہ کارزار

ہر نبی وقت نے اِس جنگ کی دی تھی خبر

کر گئے وہ سب دعائیں با دو چشمِ اشکبار

اَے خدا شیطاں پہ مجھ کو فتح دے رحمت کے ساتھ

وہ اکٹھی کر رہا ہے اپنی فوجیں بے شمار

جنگ یہ بڑھ کر ہے جنگِ روس اور جاپان سے

مَیں غریب اور ہے مقابل پر حریفِ نامدار

دِل نکل جاتا ہے قابو سے یہ مشکل سوچ کر

اے مری جاں کی پناہ فوجِ ملائک کو اُتار

بسترِ راحت کہاں اِن فکر کے ایام میں

غم سے ہر دن ہو رہا ہے بدتر از شب ہائے تار

لشکرِ شیطاں کے نرغے میں جہاں ہے گھر گیا

بات مشکل ہو گئی قدرت دکھا اے میرے یار

نسلِ انساں سے مدد اب مانگنا بیکار ہے

اب ہماری ہے تری درگاہ میں یاربّ پکار

کیوں کریں گے وہ مدد اُن کو مدد سے کیا غرض

ہم تو کافر ہو چکے اُن کی نظر میں بار بار

پر مجھے رہ رہ کے آتا ہے تعجب قوم سے

کیوں نہیں وہ دیکھتے جو ہو رہا ہے آشکار

شکر لِلّٰہ میری بھی آہیں نہیں خالی گئیں

کچھ بنیں طاعوں کی صورت کچھ زلازل کے بُخار

اِک طرف طاعونِ خونی کھا رہا ہے مُلک کو

ہو رہے ہیں صد ہزاراں آدمی اُس کا شکار

دوسرے۲ منگل کے دن آیا تھا ایسا زلزلہ

جس سے اِک محشر کا عالَم تھا بصد شور و پکار

ایک ہی دم میں ہزاروں اس جہاں سے چل دیئے

جس قدر گھر گر گئے اُن کا کروں کیونکر شمار

یا تو وہ عالی مکاں تھے زینت و زیبِ جلوس

یا ہوئے اِک ڈھیر اینٹوں کے پُر از گرد و غبار

حشر جس کو کہتے ہیں اک دم میں برپا ہو گیا

ہر طرف میں مرگ کی آواز تھی اور اِضطرار

دَب گئے نیچے پہاڑوں کے کئی دیہات و شہر

مر گئے لاکھوں بشر اور ہو گئے دُنیا سے پار

اِس نشاں کو دیکھ کر پھر بھی نہیں ہیں نرم دِل

پس خدا جانے کہ اب کس حشر کا ہے اِنتظار

وہ جو کہلاتے تھے صوفی کیں میں سب سے بڑھ گئے

کیا یہی عادت تھی شیخِ غزنوی کی یادگار

کہتے ہیں لوگوں کو ہم بھی زبدۃ الابرار ہیں!

پڑتی ہے ہم پر بھی کچھ کچھ وحیِ رحماں کی پھوار

پر وہی نافہم ملہم اوّل الاعدا ہوئے

آ گیا چرخِ بریں سے ان کو تکفیروں کا تار

سب نشاں بیکار اُن کے بغض کے آگے ہوئے

ہو گیا تیرِ تعصب ان کے دل میں وار پار

دیکھتے ہرگز نہیں قدرت کو اس ستّار کی

گو سناویں اُن کو وہ اپنی بجاتے ہیں ستار

صوفیا! اب ہیچ ہے تیری طرح تیری تراہ

آسماں سے آ گئی میری شہادت بار بار

قُدرتِ حق ہے کہ تم بھی میرے دُشمن ہو گئے

یا محبت کے وہ دِن تھے یا ہوا ایسا نِقار

دھو دیئے دل سے وہ سارے صحبتِ دیریں کے رنگ

پھول بن کر ایک مُدّت تک ہوئے آخر کو خار

جس قدر نقدِ تعارف تھا وہ کھو بیٹھے تمام

آہ! کیا یہ دل میں گذرا، ہوں مَیں اس سے دلفگار

آسماں پر شور ہے پر کچھ نہیں تم کو خبر

دن تو روشن تھا مگر ہے بڑھ گئی گرد و غبار

اِک نشاں ہے آنیوالا آج سے کچھ دن کے بعد۱

جس سے گردش کھائیں گے دیہات و شہراور مرغزار

آئے گا قہرِ خدا سے خلق پر اِک اِنقلاب

اِک برہنہ سے نہ یہ ہو گا کہ تاباندھے اِزار

یک بیک اِک زلزلہ سے سخت جنبش کھائینگے۲

کیا بشر اور کیا شجر اور کیا حجر اور کیا بحار

اِک جھپک میں یہ زمیں ہو جائے گی زیروزبر

نالیاں خوں کی چلیں گی جیسے آبِ رود بار

رات جو رکھتے تھے پوشاکیں برنگِ یاسمن

صبح کر دے گی اُنہیں مثلِ درختانِ چنار

ہوش اُڑ جائیں گے انساں کے پَرندوں کے حواس

بھولیں گے نغموں کو اپنے سب کبوتر اور ہزار(بلبل)

ہر مُسافر پر وہ ساعت سخت ہے اور وہ گھڑی

راہ کو بھولیں گے ہو کر مَست و بیخود راہوار

خون سے مُردوں کے کوہستان کے آبِ رواں

سُرخ ہو جائیں گے جیسے ہو شرابِ انْجِبار

مضمحل ہو جائینگے اِس خوف سے سب جِنّ و انس

زار بھی ہوگا تو ہوگا اُس گھڑی باحالِ زار

اِک نمونہ قہر کا ہوگا وہ ربّانی نشاں

آسماں حملے کرے گا کھینچ کر اپنی کٹار

ہاں نہ کر جلدی سے انکار اے سفیہِ ناشناس

اِس پہ ہے میری سچائی کا سبھی دار و مدار

وحیِ حق کی بات ہے ہو کر رہے گی بے خطا

کچھ دِنوں کر صبر ہو کر متّقی اور بُردبار

یہ گماں مت کر کہ یہ سب بدگمانی ہے معاف

قرض ہے واپس ملے گا تجھ کو یہ سارا اُدھار


براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۹۷۔ مطبوعہ ۱۹۰۸ء

درسِ توحید

وہ دیکھتا ہے غیروں سے کیوں دِل لگاتے ہو

جو کچھ بتوں میں پاتے ہو اُس میں وہ کیا نہیں

سورج پہ غور کر کے نہ پائی وہ روشنی

جب چاند کو بھی دیکھا تو اُس یار سا نہیں

واحِد ہے لاشریک ہے اور لازوال ہے

سب موت کا شکار ہیں اُس کو فنا نہیں

سب خیر ہے اسی میں کہ اس سے لگاؤ دِل

ڈھونڈو اسی کو یارو! بتوں میں وفا نہیں

اِس جائے پُر عذاب سے کیوں دِل لگاتے ہو

دوزخ ہے یہ مقام یہ بُستاں سَرا نہیں


رسالہ تشحیذ الاذہان ماہ دسمبر ۱۹۰۸ء

پیش گوئی جنگِ عظیم

یہ نشانِ زلزلہ جو ہو چکا منگل کے دِن

وہ تو اِک لقمہ تھا جو تم کو کھلایا ہے نہار

اِک ضیافت ہے بڑی اے غافلو کچھ دن کے بعد

جس کی دیتا ہے خبر فرقاں میں رحماں بار بار

فاسقوں اور فاجروں پر وہ گھڑی دُشوار ہے

جس سے قیمہ بن کے پھر دیکھیں گے قیمہ کا بگھار

خوب کھل جائیگا لوگوں پہ کہ دیں کس کا ہے دیں

پاک کر دینے کا تیرتھ کعبہ ہے یا ہر دوار

وحی حق کے ظاہری لفظوں میں ہے وہ زلزلہ

لیک ممکن ہے کہ ہو کچھ اور ہی قسموں کی مار

کچھ ہی ہو پر وہ نہیں رکھتا زمانہ میں نظیر

فوقِ عادت ہے کہ سمجھا جائے گا روزِ شمار

یہ جو طاعوں ملک میں ہے اسکو کچھ نسبت نہیں

اُس بلا سے وہ تو ہے اک حشر کا نقش و نگار

وقت ہے توبہ کرو جلدی مگر کچھ رحم ہو!

سُست کیوں بیٹھے ہو جیسے کوئی پی کر کوکنار

تم نہیں لوہے کے کیوں ڈرتے نہیں اس وقت سے

جس سے پڑ جائیگی اِک دم میں پہاڑوں میں بُغار

وہ تباہی آئے گی شہروں پہ اور دیہات پر

جس کی دنیا میں نہیں ہے مثل کوئی زینہار

ایک دم میں غم کدے ہو جائینگے عشرت کدے

شادیاں کرتے تھے جو پیٹیں گے ہوکر سوگوار

وہ جو تھے اُونچے محل اور وہ جو تھے قصرِ بریں

پست ہو جائینگے جیسے پست ہو اِک جائے غار

ایک ہی گردش سے گھر ہو جائیں گے مٹی کا ڈھیر

جس قدر جانیں تلف ہوں گی نہیں ان کا شمار

پر خدا کا رحم ہے کوئی بھی اس سے ڈر نہیں

اُن کو جو جھکتے ہیں اس درگہ پہ ہو کر خاکسار

یہ خوشی کی بات ہے سب کام اُس کے ہاتھ ہے

وہ جو ہے دھیما غضب میں اور ہے آمرزگار

کب یہ ہوگا؟ یہ خدا کو علم ہے پر اس قدر

دی خبر مجھ کو کہ وہ دِن ہوں گے ایّامِ بہار

”پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی“

یہ خدا کی وحی ہے اب سوچ لو اے ہوشیار

یاد کر فرقاں سے لفظِ زُلْزِلَتْ زِلْزَالَهَا

ایک دن ہو گا وہی جو غیب سے پایا قرار

سخت ماتم کے وہ دِن ہونگے مصیبت کی گھڑی

لیک وہ دِن ہونگے نیکوں کیلئے شیریں ثمار

آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائینگے

جو کہ رکھتے ہیں خُدائے ذوالعجائب سے پیار

انبیاء سے بُغض بھی اَے غافلو! اچھا نہیں

دُور تر ہٹ جاؤ اس سے ہے یہ شیروں کی کچھار

کیوں نہیں ڈرتے خدا سے کیسے دل اندھے ہوئے

بے خدا ہرگز نہیں بدقسمتو! کوئی سہار

یہ نشانِ آخری ہے کام کر جائے مگر

ورنہ اب باقی نہیں ہے تم میں اُمّیدِ سُدھار

آسماں پر ان دنوں قہرِ خدا کا جوش ہے

کیا نہیں تم میں سے کوئی بھی رشید و ہونہار

اس نشاں کے بعد ایماں قابلِ عزّت نہیں

ایسا جامہ ہے کہ نوپوشوں کا جیسے ہو اُتار

اس میں کیا خوبی کہ پڑ کر آگ میں پھر صاف ہوں

خوش نصیبی ہو اگر اب سے کرو دِل کی سنوار

اب تو نرمی کے گئے دن اب خدائے خشمگیں

کام وہ دکھلائے گا جیسے ہتھوڑے سے لُہار لے

اُس گھڑی شیطاں بھی ہوگا سجدہ کرنے کو کھڑا

دل میں یہ رکھ کر کہ حکمِ سجدہ ہو پھر ایک بار

بےخدا اِس وقت دنیا میں کوئی مامن نہیں

یا اگر ممکن ہو اب سے سوچ لو راہِ فرار

تم سے غائب ہے مگر مَیں دیکھتا ہوں ہر گھڑی

پھرتا ہے آنکھوں کے آگے وہ زماں وہ روزگار

گر کرو توبہ تو اب بھی خیر ہے کچھ غم نہیں

تم تو خود بنتے ہو قہرِ ذُوالْمِنَن کے خواستگار

وہ خدا حِلم و تفضّل میں نہیں رکھتا نظیر

کیوں پھرے جاتے ہو اُس کے حکم سے دیوانہ وار

مَیں نے روتے روتے سجدہ گاہ بھی تر کردیا

پر نہیں اِن خشک دل لوگوں کو خوفِ کردگار

یا الٰہی اِک نشاں اپنے کرم سے پھر دکھا

گردنیں جھک جائیں جس سے اور مکذّب ہوں خوار

اِک کرشمہ سے دکھا اپنی وہ عظمت اے قدیر

جس سے دیکھے تیرے چہرے کو ہر اک غفلت شعار

تیری طاقت سے جو منکر ہیں انہیں اَب کچھ دِکھا

پھر بدل دے گلگشن و گلزار سے یہ دشتِ خار

زور سے جھٹکے اگر کھاوے زمیں کچھ غم نہیں

پر کسی ڈھب سے تزلزل سے ہو ملّت رستگار

دین و تقویٰ گم ہوا جاتا ہے یا رب رحم کر

بے بسی سے ہم پڑے ہیں کیا کریں کیا اختیار

میرے آنسو اس غمِ دل سوز سے تھمتے نہیں

دیں کا گھر ویراں ہے اور دُنیا کے ہیں عالی منار

دیں تو اک ناچیز ہے دُنیا ہے جو کچھ چیز ہے

آنکھ میں اُن کی جو رکھتے ہیں زر و عزّ و وقار

جس طرف دیکھیں وہیں اِک دہریت کا جوش ہے

دیں سے ٹھٹھا اور نمازوں روزوں سے رکھتے ہیں عار

جاہ و دولت سے یہ زہریلی ہوا پیدا ہوئی

موجبِ نَخوت ہوئی رفعت کہ تھی اِک زہرِ مار

ہے بلندی شانِ ایزد گر بشر ہووے بلند

فخر کی کچھ جا نہیں وہ ہے متاعِ مُستعار

ایسے مغروروں کی کثرت نے کیا دیں کو تباہ

ہے یہی غم میرے دل میں جس سے ہوں مَیں دِلفگار

اَے مرے پیارے مجھے اِس سَیلِ غم سے کر رہا

ورنہ ہو جائے گی جاں اس درد سے تجھ پر نثار

از نوٹ بُک حضرت مسیح موعود علیہ السلام

بدظنی سے بچو

اگر دِل میں تمہارے شر نہیں ہے

تو پھر کیوں ظنِّ بد سے ڈر نہیں ہے

کوئی جو ظنِّ بد رکھتا ہے عادت

بدی سے خود وہ رکھتا ہے ارادت

گمانِ بد شیاطیں کا ہے پیشہ

نہ اہلِ عِفّت و دیں کا ہے پیشہ

تمہارے دِل میں شیطاں دے ہے بچّے

اسی سے ہیں تمہارے کام کچّے

وُہی کرتا ہے ظنِّ بد بلا رَیب

کہ جو رکھتا ہے پَردہ میں وہی عیب

وہ فاسق ہے کہ جس نے رہ گنوایا

نظر بازی کو اِک پیشہ بنایا

مگر عاشق کو ہرگز بد نہ کہیو!

وہاں بدظنّیوں سے بچ کے رہیو

اگر عُشّاق کا ہو پاک دامن

یقیں سمجھو کہ ہے تریاق دامن

مگر مشکل یہی ہے درمیاں میں

کہ گُل بے خار کم ہیں بوستاں میں

تمہیں یہ بھی سُناؤں اِس بیاں میں

کہ عاشق کِس کو کہتے ہیں جہاں میں

وُہ عاشق ہے کہ جس کو حسبِ تقدیر

محبت کی کماں سے آ لگا تیر

نہ شہوت ہے نہ ہے کچھ نَفْس کا جوش

ہوا اُلفت کے پیمانوں سے مدہوش

لگی سینہ میں اُس کے آگ غم کی

نہیں اس کو خبر کچھ پیچ و خم کی

از مسوّدات حضرت مسیح موعود علیہ السلام

ہجومِ مشکلات سے نجات حاصل کرنے کا طریق

ذیل میں جو نظم درج کی جاتی ہے یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک صاحب شیخ محمد بخش رئیس کڑیانوالہ ضلع گجرات کو لکھ کر عطا فرمائی تھی جبکہ وہ سخت مالی مشکلات میں مبتلا تھے۔ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دُعا کے طفیل اُن کی تکالیف دُور کر دیں۔

اِک نہ اِک دن پیش ہوگا تو فنا کے سامنے

چل نہیں سکتی کسی کی کچھ قضا کے سامنے

چھوڑنی ہوگی تجھے دُنیا ئے فانی ایک دن

ہر کوئی مجبور ہے حکمِ خدا کے سامنے

مستقل رہنا ہے لازم اے بشر تجھ کو سدا

رنج و غم یاس و الم فکر و بلا کے سامنے

بارگاہِ ایزدی سے تو نہ یوں مایوس ہو

مشکلیں کیا چیز ہیں مشکل کشا کے سامنے

حاجتیں پوری کریں گے کیا تری عاجز بشر

کر بیاں سب حاجتیں حاجت روا کے سامنے

چاہیے تجھ کو مٹانا قلب سے نقشِ دُوئی

سر جُھکا بس مالکِ ارض وسما کے سامنے

چاہیے نفرت بدی سے اور نیکی سے پیار

ایک دن جانا ہے تجھ کو بھی خدا کے سامنے

راستی کے سامنے کب جھوٹ پھلتا ہے بھلا

قدر کیا پتھر کی لعلِ بے بہا کے سامنے


اخبار ”الفضل“ ۱۳ جنوری ۱۹۲۸ء

متفرق اشعار

۱

نہیں محصور ہرگز راستہ قُدرت نمائی کا

خدا کی قدرتوں کا حصر دعویٰ ہے خدائی کا

براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ ۴۰۱ مطبوعہ ۱۸۸۴ء

۲

قُدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت

اس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے

جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور

ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے

اشتہار اعلان مطبوعہ ریاض ہند امرتسر۔ ۲۲؍مارچ ۱۸۸۶ء

۳

جس نے پیدا کیا وہی جانے

دوسرا کیونکر اُس کو پہچانے

غیر کو غیر کی خبر کیا ہو

نظرِ دُور کارگر کیا ہو

سُرمہ چشم آریہ صفحہ ۱۸۴ مطبوعہ ۱۸۸۶ء

۴

ہم نے اُلفت میں تِری بار اُٹھایا کیا کیا

تجھ کو دکھلا کے فلک نے ہے دکھایا کیا کیا

اشتہار محک اخیار و اشرار (سرمہ چشم آریہ) مطبوعہ ۱۸۸۶ء

۵

جو ہمارا تھا وہ اب دِلبر کا سارا ہو گیا

آج ہم دِلبر کے اور دِلبر ہمارا ہو گیا

شکرِ لِلّٰہ! مل گیا ہم کو وہ لعلِ بے بدل

کیا ہوا گر قوم کا دل سنگِ خارا ہو گیا

ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ ۶۶۵ مطبوعہ ۱۸۹۱ء

۶

پیش گوئی کا جب انجام ہویدا ہو گا!

قُدرتِ حق کا عجب ایک تماشا ہو گا

جھوٹ اور سچ میں جو ہے فرق وہ پیدا ہو گا

کوئی پا جائے گا عزت کوئی رُسوا ہو گا!

آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ ۲۸۱ مطبوعہ ۱۸۹۳ء

۷

لوگوں کے بُغضوں سے اور کینوں سے کیا ہوتا ہے

جس کا کوئی بھی نہیں اُس کا خدا ہوتا ہے

بے خدا کوئی بھی ساتھی نہیں تکلیف کے وقت

اپنا سایہ بھی اندھیرے میں جُدا ہوتا ہے

حاشیہ اشتہار معیار الاخیار والا شرار مطبوعہ ۱۷؍مارچ ۱۸۹۴ء

۸

جس کی تعلیم یہ خیانت ہے

ایسے دِیں پر ہزار لعنت ہے

آریہ دھرم صفحہ ۴۵ مطبوعہ ۱۸۹۵ء

۹

دوستو اِک نظر خدا کے لئے

سیّدُ الخلق مصطفےٰؐ کے لئے

اشتہار مُسْتَیْقِنًا بِوَحْيِ اللہِ الْقَهَّارِ ۱۲؍جنوری ۱۸۹۷ء

۱۰

کوئی جو مُردوں کے عالَم میں جاوے

وہ خود ہو مُردہ تب وہ راہ پاوے

کہو زِندوں کا مُردوں سے ہے کیا جوڑ

یہ کیونکر ہو کوئی ہم کو بتاوے

ایّام الصلح صفحہ ۱۴۳۔ مطبوعہ ۱۸۹۹ء

۱۱

مر گیا بدبخت اپنے وار سے

کٹ گیا سَر اپنی ہی تلوار سے

کھل گئی ساری حقیقت سیف کی

کم کرو اب ناز اُس مُردار سے

نزول المسیح صفحہ ۲۲۴۔ مطبوعہ ۱۹۰۹ء

۱۲

کیسے کافر ہیں مانتے ہی نہیں

ہم نے سَو سَو طرح سے سمجھایا

اِس غرض سے کہ زندہ یہ ہوویں

ہم نے مرنا بھی دِل میں ٹھہرایا

بھر گیا باغ اب تو پُھولوں سے

آؤ بُلبُل چلیں کہ وقت آیا

رسالہ تشحیذ الاذہان ماہِ دسمبر ۱۹۰۹ء

۱۳

جب سے اے یار! تجھے یار بنایا ہم نے

ہر نئے روز نیا نام رکھایا ہم نے

کیوں کوئی خلق کے طعنوں کی ہمیں دے دھمکی

تو سب نقش دل اپنے سے مٹایا ہم نے

از مسوّدات حضرت مسیح موعود علیہ السلام

۱۴

اگر وہ جاں کو طلب کرتے ہیں تو جاں ہی سہی

بلا سے کچھ تو نپٹ جائے فیصلہ دِل کا

اگر ہزار بلا ہو تو دِل نہیں ڈرتا

ذرا تو دیکھئے کیسا ہے حوصلہ دِل کا

اخبار الفضل ۳۱؍دسمبر۱۹۱۳ء

۱۵

وقت تھا وقتِ مسیحا، نہ کسی اور کا وقت

مَیں نہ آتا تو کوئی اَور ہی آیا ہوتا

از مسوّدات حضرت مسیح موعود علیہ السلام

۱۶

چل رہی ہے نسیمِ رحمت کی

جو دعا کیجئے قبول ہے آج

نزول المسیح صفحہ ۲۲۵۔ مطبوعہ ۱۹۰۹ء

الہامی اشعار

۱

کیا شک ہے ماننے میں تمہیں اس مسیح کے

جس کی مماثلت کو خدا نے بتا دیا

حاذق طبیب پاتے ہیں تم سے یہی خطاب

خوبوں کو بھی تو تم نے مسیحا بنا دیا

ٹائیٹل پیج فتح اسلام مطبوعہ ۱۸۹۰ء

۲

قادِر کے کاروبار نمودار ہو گئے

کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہو گئے


۳

کافر جو کہتے تھے وہ نگوں سار ہو گئے

جتنے تھے سب کے سب ہی گرفتار ہو گئے


۴

دُشمن کا بھی خوب وار نکلا

تِس پر بھی وہ وار پار نکلا

الحکم ۳۰؍اپریل ۱۹۰۲ء

۵

قادر ہے وہ بارگاہ ٹوٹا کام بناوے

بنا بنایا توڑ دے کوئی اُس کا بھید نہ پاوے

اخبار بدر ۲۲؍نومبر ۱۹۰۶ء

۶

برتر گمان و وہم سے احمدؐ کی شان ہے

جس کا غلام دیکھو مسیح الزمان ہے

حقیقۃ الوحی۔ صفحہ ۲۷۴ حاشیہ۔ مطبوعہ ۱۹۰۷ء

الہامی مصرعے

۱۔ ہے سِرِ راہ پر تمہارے وہ جو ہے مولیٰ کریم

۲۔ پھر بہار آئی خُدا کی بات پھر پوری ہوئی

۳۔ کشتیاں چلتی ہیں تا ہوں کُشتیاں

۴۔ پھر بہار آئی تو آئے ثلج کے آنے کے دن

۵۔ پاک محمدؐ مُصطفےٰ نبیوں کا سردار

۶۔ جے تُوں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو

۷۔ عشقِ الٰہی وَسّے مُنہ پر وَلیاں ایہہ نشانی

۸۔ جدھر دیکھتا ہوں اُدھر تو ہی تو ہے

۹۔ پر خدا کا رحم ہے کوئی بھی اس سے ڈر نہیں

۱۰۔ اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے

۱۱۔ بڑھیں گے جیسے باغوں میں ہوں شمشاد

۱۲۔ چمک دکھلاؤں گا تم کو اس نشان کی پنج بار

۱۳۔ زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی با حالِ زار