باب اوّل
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ
میرا نام غلام احمد ابن مرزا غلام مرتضیٰ صاحب ابن مرزا عطا محمد صاحب ابن مرزا گل محمد صاحب ابن مرزا فیض محمد صاحب ابن مرزا محمد قائم صاحب ابن مرزا محمد اسلم صاحب ابن مرزا محمد دلاور صاحب ابن مرزا الٰہ دین صاحب ابن مرزا جعفر بیگ صاحب ابن مرزا محمد بیگ صاحب ابن مرزا عبدالباقی صاحب ابن مرزا محمد سلطان صاحب ابن میرزا ہادی بیگ صاحب مورث اعلیٰ۔ (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۱۷۲ حاشیہ در حاشیہ)
میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد میرے والد صاحب کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا صاحب کا نام عطا محمد اور میرے پردادا صاحب کا نام گل محمد تھا۔ اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے ہماری قوم مغل برلاس ہے اور میرے بزرگوں کے پُرانے کاغذات سے جواب تک محفوظ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اِس ملک میں سمرقند سے آئے تھے اور اُن کے ساتھ قریباً دو سو آدمی اُن کے توابع اور خدّام اور اہل و عیال میں سے تھے۔ اور وہ ایک معزز رئیس کی حیثیت سے اس ملک میں داخل ہوئے اور اس قصبہ کی جگہ میں جو اُس وقت ایک جنگل پڑا ہوا تھا جو لاہور سے تخمیناً بفاصلہ پچاس کوس بگوشۂ شمال مشرق واقع ہے فروکش ہو گئے۔ جس کو انہوں نے آباد کر کے اس کا نام اسلام پور رکھا جو پیچھے سے اسلام پور قاضی ماجھی کے نام سے مشہور ہوا اور رفتہ رفتہ اسلام پور کا لفظ لوگوں کو بھول گیا اور قاضی ماجھی کی جگہ پر قاضی رہا اور پھر آخر قادی بنا۔ اور پھر اس سے بگڑ کر قادیاں بن گیا۔ اور قاضی ماجھی کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ علاقہ جس کا طولانی حصّہ قریباً ساٹھ کوس ہے ان دنوں میں سب کا سب ماجھہ کہلاتا تھا۔ غالباً اس وجہ سے اس کا نام ماجھہ تھا کہ اس ملک میں بھینسیں بکثرت ہوتی تھیں اور ماجھ زبان ہندی میں بھینس کو کہتے ہیں اور چونکہ ہمارے بزرگوں کو علاوہ دیہات جاگیر داری کے اس تمام علاقہ کی حکومت بھی ملی تھی اس لئے قاضی کے نام سے مشہور ہوئے۔ مجھے کچھ معلوم نہیں کہ کیوں اور کس وجہ سے ہمارے بزرگ سمرقند سے اس ملک میں آئے مگر کاغذات سے یہ پتہ ملتا ہے کہ اُس ملک میں بھی وہ معزز امراء اور خاندان والیانِ ملک میں سے تھے اور انہیں کسی قومی خصومت اور تفرقہ کی وجہ سے اس ملک کو چھوڑنا پڑا تھا۔ پھر اس ملک میں آ کر بادشاہِ وقت کی طرف سے بہت سے دیہات بطور جاگیر اُن کو ملے۔ چنانچہ اس نواح میں ایک مستقل ریاست اُن کی ہو گئی۔
سکھوں کے ابتدائی زمانہ میں میرے پردادا صاحب میرزا گل محمد ایک نامور اور مشہور رئیس اس نواح کے تھے جن کے پاس اس وقت گانو تھے اور بہت سے گانو سکھوں کے متواتر حملوں کی وجہ سے اُن کے قبضہ سے نکل گئے تاہم اُن کی جوانمردی اور فیاضی کی یہ حالت تھی کہ اس قدر قلیل میں سے بھی کئی گاؤں انہوں نے مروّت کے طور پر بعض تفرقہ زدہ مسلمان رئیسوں کو دے دیئے تھے جو اب تک اُن کے پاس ہیں۔ غرض وہ اس طوائف الملوکی کے زمانہ میں اپنے نواح میں ایک خود مختار رئیس تھے۔ ہمیشہ قریب پانسو آدمی کے یعنی کبھی کم اور کبھی زیادہ اُن کے دسترخوان پر روٹی کھاتے تھے۔ اور ایک سو کے قریب علماء اور صلحاء اور حافظ قرآن شریف کے اُن کے پاس رہتے تھے جن کے کافی وظیفے مقرر تھے اور اُن کے دربار میں اکثر قال اللّٰہ اور قال الرسول کا ذکر بہت ہوتا تھا۔ اور تمام ملازمین اور متعلقین میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو تارک نماز ہو۔ یہاں تک کہ چکّی پیسنے والی عورتیں بھی پنجوقتہ نماز اور تہجد پڑھتی تھیں اور گرد و نواح کے معزز مسلمان جو اکثر افغان تھے قادیاں کو جو اس وقت اسلام پور کہلا تا تھا مکّہ کہتے تھے۔ کیونکہ اُس پُرآشوب زمانہ میں ہر ایک مسلمان کے لئے یہ قصبہ مبارکہ پناہ کی جگہ تھی اور دوسری اکثر جگہ میں کفر اور فسق اور ظلم نظر آتا تھا۔ اور قادیاں میں اسلام اور تقویٰ اور طہارت اور عدالت کی خوشبو آتی تھی۔ مَیں نے خود اس زمانہ سے قریب زمانہ پانے والوں کو دیکھا ہے کہ وہ اس قدر قادیاں کی عمدہ حالت بیان کرتے تھے کہ گویا وہ اس زمانہ میں ایک باغ تھا جس میں حامیانِ دین اور صلحاء اور علماء اور نہایت شریف اور جوانمرد آدمیوں کے صدہا پودے پائے جاتے تھے۔ اور اس نواح میں یہ واقعات نہایت مشہورہیں کہ میرزا گل محمد صاحب مرحوم مشائخِ وقت کے بزرگ لوگوں میں سے اور صاحبِ خوارق اور کرامات تھے۔ جن کی صحبت میں رہنے کے لئے بہت سے اہل اللہ اور صلحاء اور فضلاء قادیاں میں جمع ہو گئے تھے۔ اور عجیب تر یہ کہ کئی کرامات اُن کی ایسی مشہور ہیں جن کی نسبت ایک گروہ کثیر مخالفان دین کا بھی گواہی دیتا رہا ہے۔ غرض وہ علاوہ ریاست اور امارت کے اپنی دیانت اور تقویٰ اور مردانہ ہمت اور اولوالعزمی اور حمایتِ دین اور ہمدردی مسلمانوں کی صفت میں نہایت مشہور تھے اور اُن کی مجلس میں بیٹھنے والے سب کے سب متقی اور نیک چلن اور اسلامی غیرت رکھنے والے اور فسق و فجور سے دُور رہنے والے اور بہادر اور بارُعب آدمی تھے۔ چنانچہ میں نے کئی دفعہ اپنے والد صاحب مرحوم سے سنا ہے کہ اس زمانہ میں ایک دفعہ ایک وزیر سلطنت مغلیہ کا قادیاں میں آیا جو غیاث الدولہ کے نام سے مشہور تھا اور اس نے میرزا گل محمد صاحب کے مدبّرانہ طریق اور بیدار مغزی اور ہمت اور اولوالعزمی اور استقلال اور عقل اور فہم اور حمایتِ اسلام اور جوشِ نصرتِ دیں اور تقویٰ اور طہارت اور دربار کے وقار کو دیکھا اور ان کے اس مختصر دربار کو نہایت متین اور عقلمند اور نیک چلن اور بہادر مردوں سے پُر پایا تب وہ چشم پُرآب ہو کر بولا کہ اگر مجھے پہلے خبر ہوتی کہ اس جنگل میں خاندان مغلیہ میں سے ایسا مرد موجود ہے جس میں صفاتِ ضروریہ سلطنت کے پائے جاتے ہیں تو میں اسلامی سلطنت کے محفوظ رکھنے کے لئے کوشش کرتا کہ ایّام کسل اور نالیاقتی اور بدوضعی ملوکِ چغتائیہ میں اسی کو تختِ دہلی پر بٹھایا جائے۔
اس جگہ اس بات کا لکھنا بھی فائدہ سے خالی نہ ہو گا کہ میرے پردادا صاحب موصوف یعنی میرزا گُل محمدنے ہچکی کی بیماری سے جس کے ساتھ اَور عوارض بھی تھے وفات پائی تھی۔ بیماری کے غلبہ کے وقت اطباء نے اتفاق کر کے کہا کہ اس مرض کے لئے اگر چند روز شراب کو استعمال کرایا جائے تو غالباً اِس سے فائدہ ہو گا مگر جرأت نہیں رکھتے تھے کہ اُن کی خدمت میں عرض کریں۔ آخر بعض نے اُن میں سے ایک نرم تقریر میں عرض کر دیا۔ تب انہوں نے کہا کہ اگر خدا تعالیٰ کو شفا دینا منظور ہو تو اس کی پیدا کردہ اَور بھی بہت سی دوائیں ہیں۔ مَیں نہیں چاہتا کہ اس پلید چیز کو استعمال کروں اور مَیں خدا کے قضا و قدر پر راضی ہوں۔ آخر چند روز کے بعد اسی مرض سے انتقال فرما گئے۔ موت تو مقدر تھی مگر یہ اُن کا طریق تقویٰ ہمیشہ کے لئے یادگار رہا کہ موت کو شراب پر اختیار کر لیا۔ موت سے بچنے کے لئے انسان کیا کچھ نہیں کرتا۔ لیکن انہوں نے معصیت کرنے سے موت کو بہتر سمجھا۔ افسوس اُن بعض نوابوں اور امیروں اور رئیسوں کی حالت پر کہ اس چند روزہ زندگی میں اپنے خدا اور اس کے احکام سے بکلّی لاپرواہ ہو کر اور خدا تعالیٰ سے سارے علاقے توڑ کر دل کھول کر ارتکابِ معصیت کرتے ہیں اور شراب کو پانی کی طرح پیتے ہیں۔ اور اس طرح اپنی زندگی کو نہایت پلید اور ناپاک کر کے اور عمر طبعی سے بھی محروم رہ کر اور بعض ہولناک عوارض میں مبتلا ہو کر جلدتر مر جاتے ہیں اور آئندہ نسلوں کے لئے نہایت خبیث نمونہ چھوڑ جاتے ہیں۔
اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب میرے پردادا صاحب فوت ہوئے تو بجائے اُن کے میرے دادا صاحب یعنی مرزا عطا محمد فرزند رشید ان کے گدی نشین ہوئے۔ اُن کے وقت میں خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت سے لڑائی میں سکھ غالب آئے۔ دادا صاحب مرحوم نے اپنی ریاست کی حفاظت کے لئے بہت تدبیریں کیں مگر جبکہ قضا و قدر اُن کے ارادہ کے موافق نہ تھی اس لئے ناکام رہے اور کوئی تدبیر پیش نہ گئی اور روز بروز سکھ لوگ ہماری ریاست کے دیہات پر قبضہ کرتے گئے یہاں تک کہ دادا صاحب مرحوم کے پاس صرف ایک قادیاں رہ گئی اور قادیاں اس وقت ایک قلعہ کی صورت پر قصبہ تھا اور اُس کے چار بُرج تھے اور بُرجوں میں فوج کے آدمی رہتے تھے اور چند توپیں تھیں اور فصیل بائیس فٹ کے قریب اونچی اور اس قدر چوڑی تھی کہ تین چھکڑے آسانی سے ایک دوسرے کے مقابل اُس پر جا سکتے تھے۔ اور ایسا ہوا کہ ایک گروہ سکھوں کا جو رام گڑھیہ کہلاتا تھا اوّل فریب کی راہ سے اجازت لے کر قادیاں میں داخل ہوا اور پھر قبضہ کر لیا۔ اس وقت ہمارے بزرگوں پر بڑی تباہی آئی اور اسرائیلی قوم کی طرح وہ اسیروں کی مانند پکڑے گئے اور ان کے مال و متاع سب لوٹی گئی۔ کئی مسجدیں اور عمدہ عمدہ مکانات مسمار کئے گئے اور جہالت اور تعصب سے باغوں کو کاٹ دیا گیا اور بعض مسجدیں جن میں سے اب تک ایک مسجد سکھوں کے قبضہ میں ہے دھرم سالہ یعنی سکھوں کا معبد بنایا گیا۔ اس دن ہمارے بزرگوں کا ایک کتب خانہ بھی جلایا گیاجس میں سے پانسو نسخہ قرآن شریف کا قلمی تھا جو نہایت بے ادبی سے جلایا گیا اور آخر سکھوں نے کچھ سوچ کر ہمارے بزرگوں کو نکل جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ تمام مرد و زن چھکڑوں میں بٹھا کر نکالے گئے اور وہ پنجاب کی ایک ریاست میں پناہ گزین ہوئے۔ تھوڑے عرصہ کے بعد ان ہی دشمنوں کے منصوبے سے میرے دادا صاحب کو زہر دی گئی۔ پھر رنجیت سنگھ کی سلطنت کے آخری زمانہ میں میرے والد صاحب مرحوم مرزا غلام مرتضیٰ قادیاں میں واپس آئے اور مرزا صاحب موصوف کو اپنے والد صاحب کے دیہات میں سے پانچ گانو واپس ملے کیونکہ اس عرصہ میں رنجیت سنگھ نے دوسری اکثر چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو دبا کر ایک بڑی ریاست اپنی بنا لی تھی۔ سو ہمارے تمام دیہات بھی رنجیت سنگھ کے قبضہ میں آگئے تھے اور لاہور سے لے کر پشاور تک اور دوسری طرف لودھیانہ تک اس کی ملک داری کا سِلسلہ پھیل گیا تھا۔ غرض ہماری پورانی ریاست خاک میں مل کر آخر پانچ گاؤں ہاتھ میں رہ گئے پھربھی بلحاظ پورانے خاندان کے میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ اس نواح میں ایک مشہور رئیس تھے … …… چنانچہ سرلیپل گریفن صاحب نے بھی اپنی کتاب تاریخ رئیسانِ پنجاب میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔ غرض وہ حکام کی نظر میں بہت ہر دلعزیز تھے اور بسا اوقات اُن کی دلجوئی کے لئے حکّام وقت، ڈپٹی کمشنر، کمشنر اُن کے مکان پر آ کر اُن کی ملاقات کرتے تھے۔ یہ مختصر میرے خاندان کا حال ہے۔ مَیں ضروری نہیں دیکھتا کہ اس کو بہت طول دوں۔
اب میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے۔ اور مَیں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس کا یا سترھویں برس میں تھا اور ابھی ریش و بردت کا آغاز نہیں تھا۔ میری پیدائش سے پہلے میرے والد صاحب نے بڑے بڑے مصائب دیکھے۔ ایک دفعہ ہندوستان کا پیادہ پا سیر بھی کیا۔ لیکن میری پیدائش کے دنوں میں اُن کی تنگی کا زمانہ فراخی کی طرف بدل گیا تھا۔ اور یہ خدا تعالیٰ کی رحمت ہے کہ مَیں نے ان کے مصائب کے زمانہ سے کچھ بھی حصّہ نہیں لیا۔ اور نہ اپنے دوسرے بزرگوں کی ریاست اور ملک داری سے کچھ حصّہ پایا بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح جن کے ہاتھ میں صرف نام کی شہزادگی بوجہ داؤد کی نسل سے ہونے کے تھی اور ملک داری کے اسباب سب کچھ کھو بیٹھے تھے ایسا ہی میرے لئے بھی بگفتن یہ بات حاصل ہے کہ ایسے رئیسوں اور ملک داروں کی اولاد میں سے ہوں۔ شاید یہ اس لئے ہوا کہ یہ مشابہت بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ پوری ہو۔ اگرچہ مَیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ میرے لئے سر رکھنے کی جگہ نہیں مگر تاہم مَیں جانتا ہوں کہ وہ تمام صف ہمارے اجداد کی ریاست اور ملک داری کی لپیٹی گئی اور وہ سِلسلہ ہمارے وقت میں آ کر بالکل ختم ہو گیا اور ایسا ہوا تاکہ خدا تعالیٰ نیا سلسلہ قائم کرے جیسا کہ براہین احمدیہ میں اس سبحانہ ٗ کی طرف سے یہ الہام ہے۔
سُبْحَانَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی زَادَ مَجْدَکَ۔ یَنْقَطِعُ اٰبَآءُکَ وَیُبْدَئُ مِنْکَ۔
یعنی خدا جو بہت برکتوں والا اور بلند اور پاک ہے اُس نے تیری بزرگی کو تیرے خاندان کی نسبت زیادہ کیا۔ اب سے تیرے آبا کا ذکر قطع کیا جا ئے گا اور خدا تجھ سے شروع کرے گا۔ اور ایسا ہی اس نے مجھے بشارت دی کہ:۔
’’مَیں تجھے برکت دوں گا اور بہت برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔‘‘
پھر میں پہلے سِلسلہ کی طرف عود کر کے لکھتا ہوں کہ بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلّم میرے لئے نوکر رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اُس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا۔ اور جب میری عمر قریباً دس برس کے ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔ مَیں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدا تعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی اس لئے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور مَیں نے صَرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعدنَحو اُن سے پڑھے اور بعد اس کے جب مَیں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا اِن کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے مَیں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علومِ مروّجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں مَیں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے۔
اور اُن دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا مَیں دنیا میں نہ تھا۔ میرے والد صاحب مجھے بار بار یہی ہدایت کرتے تھے کہ کتابوں کا مطالعہ کم کرنا چاہئے کیونکہ وہ نہایت ہمدردی سے ڈرتے تھے کہ صحت میں فرق نہ آوے اور نیز اُن کا یہ بھی مطلب تھا کہ مَیں اس شغل سے الگ ہو کر اُن کے غموم و ہموم میں شریک ہو جاؤں۔ آخر ایسا ہی ہوا۔ میرے والد صاحب اپنے بعض آباء اجداد کے دیہات کو دوبارہ لینے کے لئے انگریزی عدالتوں میں مقدمات کر رہے تھے۔ انہوں نے ان ہی مقدمات میں مجھے بھی لگایا اور ایک زمانہ دراز تک مَیں ان کاموں میں مشغول رہا مجھے افسوس ہے کہ بہت سا وقتِ عزیز میرا اِن بے ہودہ جھگڑوں میں ضائع گیا اور اس کے ساتھ ہی والد صاحب موصوف نے زمینداری امور کی نگرانی میں مجھے لگا دیا۔ مَیں اس طبیعت اور فطرت کا آدمی نہیں تھا۔ اس لئے اکثر والد صاحب کی ناراضگی کا نشانہ رہتا رہا۔ ان کی ہمدردی اور مہربانی میرے پر نہایت درجہ پر تھی مگر وہ چاہتے تھے کہ دنیا داروں کی طرح مجھے رُو بہ خلق بنا ویں اور میری طبیعت اس طریق سے سخت بے زار تھی۔ ایک مرتبہ ایک صاحب کمشنر نے قادیاں میں آنا چاہا۔ میرے والد صاحب نے بار بار مجھ کو کہا کہ اُن کی پیشوائی کے لئے دو تین کوس جانا چاہئے مگر میری طبیعت نے نہایت کراہت کی اور مَیں بیمار بھی تھا اس لئے نہ جا سکا۔ پس یہ امر بھی ان کی ناراضگی کا موجب ہوا اور وہ چاہتے تھے کہ مَیں دنیوی امور میں ہر دم غرق رہوں جو مجھ سے نہیں ہو سکتا تھا۔ مگر تاہم مَیں خیال کرتا ہوں کہ مَیں نے نیک نیتی سے نہ دنیا کے لئے بلکہ محض ثوابِ اطاعت حاصل کرنے کے لئے اپنے والد صاحب کی خدمت میں اپنے تئیں محو کر دیا تھا اور اُن کے لئے دُعا میں بھی مشغول رہتا تھا اور وہ مجھے دلی یقین سے بِرٌّ بِالوالدین جانتے تھے اور بسا اوقات کہا کرتے تھے کہ میں صرف ترحّم کے طور پر اپنے اس بیٹے کو دنیا کے امور کی طرف توجہ دلاتا ہوں ورنہ میں جانتا ہوں کہ جس طرف اس کی توجہ ہے یعنی دین کی طرف صحیح اور سچ بات یہی ہے ہم تو اپنی عمر ضائع کر رہے ہیں۔ ایسا ہی ان کے زیر سایہ ہونے کے ایّام میں چند سال تک میری عمر کراہت طبع کے ساتھ انگریزی ملازمت میں بسر ہوئی۔ آخر چونکہ میرا جدا رہنا میرے والد صاحب پر بہت گران تھا اس لئے اُن کے حکم سے جو عین میری منشا کے موافق تھا مَیں نے استعفا دے کر اپنے تئیں اس نوکری سے جو میری طبیعت کے مخالف تھی سبکدوش کر دیا اور پھر والد صاحب کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ اِس تجربہ سے مجھے معلوم ہوا کہ اکثر نوکری پیشہ نہایت گندی زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان میں سے بہت کم ایسے ہوں گے جو پورے طور پر صوم اور صلوٰۃ کے پابند ہوں اور جو ان ناجائز حظوظ سے اپنے تئیں بچا سکیں جو ابتلاء کے طور پر ان کو پیش آتے رہتے ہیں۔ مَیں ہمیشہ اُن کے مُنہ دیکھ کر حیران رہا اور اکثر کو ایسا پایا کہ ان کی تمام دلی خواہشیں مال و متاع تک خواہ حلال کی وجہ سے ہو یا حرام کے ذریعہ سے محدود تھیں اور بہتوں کی دن رات کی کوششیں صرف اسی مختصر زندگی کی دنیوی ترقی کے لئے مصروف پائیں۔ مَیں نے ملازمت پیشہ لوگوں کی جماعت میں بہت کم ایسے لوگ پائے کہ جو محض خدا تعالیٰ کی عظمت کو یاد کر کے اخلاق فاضلہ حلم اور کرم اور عفت اور تواضع اور انکسار اور خاکساری اور ہمدردیٔ مخلوق اور پاک باطنی اور اَکلِ حلال اور صدق مقال اور پرہیز گاری کی صفت اپنے اندر رکھتے ہوں بلکہ بہتوں کو تکبّر اور بد چلنی اور لاپروائی دین اور طرح طرح کے اخلاق رذیلہ میں شیطان کے بھائی پایا۔ اور چونکہ خدا تعالیٰ کی یہ حکمت تھی کہ ہرایک قسم اور ہر ایک نوع کے انسانوں کا مجھے تجربہ حاصل ہو اس لئے ہر ایک صحبت میں مجھے رہنا پڑا اور بقول صاحب مثنوی رومی وہ تمام ایّام سخت کراہت اور درد کے ساتھ مَیں نے بسر کئے۔
من بہر جمعیتے نالاں شدم
جفت خوش حالاں و بدحالاں شدم1
ہر کسے از ظنِّ خود شد یارِ من
و ز درون من نجُست اسرارِ من2
اور جب میں حضرت والد صاحب مرحوم کی خدمت میں پھر حاضر ہوا تو بدستور انہی زمینداری کے کاموں میں مصروف ہو گیا۔ مگر اکثر حصّہ وقت کا قرآن شریف کے تدبّر اور تفسیروں اور حدیثوں کے دیکھنے میں صرف ہوتا تھا اور بسا اوقات حضرت والد صاحب کو وہ کتابیں سُنایا بھی کرتا تھا اور میرے والد صاحب اپنی ناکامیوں کی وجہ سے اکثر مغموم اور مہموم رہتے تھے۔ انہوں نے پیروی مقدمات میں ستّر ہزار روپیہ کے قریب خرچ کیا تھا جس کا انجام آخر ناکامی تھی۔ کیونکہ ہمارے بزرگوں کے دیہات مدت سے ہمارے قبضہ سے نکل چکے تھے اور اُن کا واپس آنا ایک خیالِ خام تھا۔
اسی نامرادی کی وجہ سے حضرت والد مرحوم ایک نہایت عمیق گرداب غم اور حزن اور اضطراب میں زندگی بسر کرتے تھے۔ اور مجھے ان حالات کو دیکھ کر ایک پاک تبدیلی پیدا کرنے کا موقعہ حاصل ہوتا تھا۔ کیونکہ حضرت والد صاحب کی تلخ زندگی کا نقشہ مجھے اس بے لوث زندگی کا سبق دیتا تھا جو دنیوی کدورتوں سے پاک ہے۔ اگرچہ حضرت مرزا صاحب کے چند دیہات ملکیت باقی تھے اور سرکار انگریزی کی طرف سے کچھ انعام بھی سالانہ مقرر تھا اور ایّام ملازمت کی پنشن بھی تھی مگر جو کچھ وہ دیکھ چکے تھے اس لحاظ سے وہ سب کچھ ہیچ تھا۔ اسی وجہ سے وہ ہمیشہ مغموم اور محزون رہتے تھے۔ اور بارہا کہتے تھے کہ جس قدر مَیں نے اس پلید دنیا کے لئے سعی کی ہے اگر مَیں وہ سعی دین کے لئے کرتا تو شاید آج قطبِ وقت یاغوثِ وقت ہوتا اور اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔
عمر بگذشت و نماند ست جز ایّامے چند
بہ کہ در یاد کسے صبح کنم شامے چند3
اور مَیں نے کئی دفعہ دیکھا کہ وہ ایک اپنا بنایا ہوا شعر رقت کے ساتھ پڑھتے تھے اور وہ یہ ہے۔
از در تو اے کسِ ہر بے کسے
نیست امیدم کہ روم ناامید4
اور کبھی درد دل سے یہ شعر اپنا پڑھا کرتے تھے۔
بآب دیدۂ عشاق و خاک پائے کسے
مرا دِلے ست کہ درخوں تپد بجائے کسے5
حضرت عزّت جل شانہٗ کے سامنے خالی ہاتھ جانے کی حسرت روز بروز آخری عمر میں اُن پر غلبہ کرتی گئی تھی۔ بارہا افسوس سے کہا کرتے تھے کہ دنیا کے بے ہودہ خرخشوں کے لئے میں نے اپنی عمر ناحق ضائع کر دی۔ ایک مرتبہ حضرت والد صاحب نے یہ خواب بیان کیا کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ایک بڑی شان کے ساتھ میرے مکان کی طرف چلے آتے ہیں جیسا کہ ایک عظیم الشان بادشاہ آتا ہے تو میں اس وقت آپ کی طرف پیشوائی کے لئے دوڑا۔ جب قریب پہنچا تو مَیں نے سوچا کہ کچھ نذر پیش کرنی چاہئے یہ کہہ کر جیب میں ہاتھ ڈالا جس میں صرف ایک روپیہ تھا اور جب غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ بھی کھوٹا ہے یہ دیکھ کر مَیں چشم پُر آب ہو گیا۔ اور پھر آنکھ ُکھل گئی۔‘‘ اور پھر آپ ہی تعبیر فرمانے لگے کہ دنیا داری کے ساتھ خدا اور رسول کی محبت ایک کھوٹے روپیہ کی طرح ہے۔ اور فرمایا کرتے تھے کہ میری طرح میرے والد صاحب کا بھی آخری حصّہ زندگی کا مصیبت اور غم اور حزن میں ہی گزرا۔ اور جہاں ہاتھ ڈالا آخر ناکامی تھی اور اپنے والد صاحب یعنی میرے پردادا صاحب کا ایک شعر بھی سُنایا کرتے تھے۔ جس کاایک مصرعہ راقم کو بُھول گیا ہے اور دوسرا یہ ہے کہ ع
’’جب تدبیر کرتا ہوں تو پھر تقدیر ہنستی ہے‘‘
اور یہ غم اور درد اُن کا پیرانہ سالی میں بہت بڑھ گیا تھا۔ اِسی خیال سے قریباً چھ ماہ پہلے حضرت والد صاحب نے اس قصبہ کے وسط میں ایک مسجد تعمیر کی کہ جو اس جگہ کی جامع مسجد ہے اور وصیت کی کہ مسجد کے ایک گوشہ میں میری قبر ہو تا خدائے عزّ و جل کا نام میرے کان میں پڑتا رہے کیا عجب کہ یہی ذریعہ مغفرت ہو۔ چنانچہ جس دن مسجد کی عمارت بہمہ وجوہ مکمل ہو گئی اور شاید فرش کی چند اینٹیں باقی تھیں کہ حضرت والد صاحب صرف چند روز بیمار رہ کر مرض پیچش سے فوت ہو گئے اور اِس مسجد کے اسی گوشہ میں جہاں انہوں نے کھڑے ہو کر نشان کیا تھا دفن کئے گئے۔ اَللّٰھُمَّ ارْحَمْہُ وَ اَدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ۔ آمین۔ قریباً اسی۸۰ یا پچاسی۸۵ برس کے عمر پائی۔
ان کی یہ حسرت کی باتیں کہ مَیں نے کیوں دنیا کے لئے وقت عزیز کھویا اب تک میرے دل پر دردناک اثر ڈال رہی ہیں اور مَیں جانتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو دنیا کا طالب ہو گا آخر اس حسرت کو ساتھ لے جائے گا۔ جس نے سمجھنا ہو سمجھے۔
میری عمر قریباً چونتیس یا پینتیس برس کی ہو گی جب حضرت والد صاحب کا انتقال ہوا۔ مجھے ایک خواب میں بتلایا گیا تھا کہ اب ان کے انتقال کا وقت قریب ہے۔ مَیں اس وقت لاہور میں تھا جب مجھے یہ خواب آیا تھا تب میں جلدی سے قادیاں میں پہنچا اور ان کو مر ض زحیر میں مبتلا پایا لیکن یہ امید ہرگز نہ تھی کہ وہ دوسرے دن میرے آنے سے فوت ہو جائیں گے کیونکہ مرض کی شدّت کم ہو گئی تھی اور وہ بڑے استقلال سے بیٹھے رہتے تھے۔ دوسرے دن شدت دوپہر کے وقت ہم سب عزیز ان کی خدمت میں حاضر تھے کہ مرزا صاحب نے مہربانی سے مجھے فرمایا کہ اس وقت تم ذرہ آرام کر لو کیونکہ جون کا مہینہ تھا اور گرمی سخت پڑتی تھی۔ مَیں آرام کے لئے ایک چوبارہ میں چلا گیا اور ایک نوکر پیر دبانے لگا کہ اتنے میں تھوڑی سی غنودگی ہو کر مجھے الہام ہوا وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ یعنی قسم ہے آسمان کی جو قضا و قدر کا مبدء ہے اور قسم ہے اس حادثہ کی جو آج آفتاب کے غروب کے بعدنازل ہو گا اور مجھے سمجھایا گیا کہ یہ الہام بطور عزا پُرسی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور حادثہ یہ ہے کہ آج ہی تمہارا والد آفتاب کے غروب کے بعد فوت ہو جائے گا۔ سبحان اللہ! کیا شان خدا وندِ عظیم ہے کہ ایک شخص جو اپنی عمر ضائع ہونے پر حسرت کرتا ہوا فوت ہوا ہے اُس کی وفات کو عزا پُرسی کے طور پر بیان فرماتا ہے۔ اس بات سے اکثر لوگ تعجب کریں گے کہ خدا تعالیٰ کی عزا پُرسی کیا معنی رکھتی ہے۔ مگر یاد رہے کہ حضرت عزت جلّ شانہٗ جب کسی کو رحمت سے دیکھتا ہے تو ایک دوست کی طرح ایسے معاملات اس سے کرتا ہے۔ چنانچہ خداتعالیٰ کا ہنسنا بھی جو حدیثوں میں آیا ہے۔ انہی معنوں کے لحاظ سے ہے۔
اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب مجھے حضرت والد صاحب مرحوم کی وفات کی نسبت اللہ جلّ شانہٗ کی طرف سے یہ الہام ہوا جو مَیں نے ابھی ذکر کیا ہے تو بشریت کی وجہ سے مجھے خیال آیا کہ بعض وجوہ آمدن حضرت والد صاحب کی زندگی سے وابستہ ہیں پھر نہ معلوم کیا کیا ابتلاء ہمیں پیش آئے گا۔ تب اُسی وقت یہ دوسرا الہام ہوا۔
اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ
یعنی کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں ہے اور اس الہام نے عجیب سکینت اور اطمینان بخشا اور فولادی میخ کی طرح میرے دل میں دھنس گیا۔ پس مجھے اس خدائے عزّ و جل کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے اپنے اس مبشرانہ الہام کو ایسے طور سے مجھے سچا کر کے دکھلایا کہ میرے خیال اور گمان میں بھی نہ تھا۔ میرا وہ ایسا متکفّل ہوا کہ کبھی کسی کا باپ ہرگز ایسا متکفّل نہیں ہو گا۔ میرے پر اس کے وہ متواتر احسان ہوئے کہ بالکل محال ہے کہ مَیں ان کا شمار کر سکوں۔ اور میرے والد صاحب اُسی دن بعد غروب آفتاب فوت ہو گئے یہ ایک پہلا دن تھا جو مَیں نے بذریعہ خدا کے الہام کے ایسا رحمت کا نشان دیکھا۔ جس کی نسبت مَیں خیال نہیں کر سکتا کہ میری زندگی میں کبھی منقطع ہو۔ مَیں نے اس الہام کو انہی دنوں میں ایک نگینہ میں کھدوا کر اُس کی انگشتری بنائی جو بڑی حفاظت سے اب تک رکھی ہوئی ہے۔ غرض میری زندگی قریب قریب چالیس برس کے زیر سایہ والد بزرگوار کے گزری۔ ایک طرف اُن کا دنیا سے اٹھایا جانا تھا اور ایک طرف بڑے زور شور سے سِلسلہ مکالماتِ الٰہیہ کا مجھ سے شروع ہوا۔ (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ ۱۶۲تا۱۹۵ حاشیہ)
باب دوم
’’مسیح جو آنے والا تھا یہی ہے چاہو تو قبول کرو۔ جس کسی کے کان سُننے کے ہوں سُنے۔ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور لوگوں کی نظروں میں عجیب !‘‘
امروز قوم مَن نہ شناسد مقامِ من
روزے بگریہ یاد کند وقت خوشترم1
خداوند کریم نے اُسی رسول مقبول کی متابعت اور محبت کی برکت سے اور اپنے پاک کلام کی پَیروی کی تاثیر سے اس خاکسار کو اپنے مخاطبات سے خاص کیا ہے۔ اور علوم لُدنّیہ سے سرفراز فرمایا ہے اور بہت سے اسرار مخفیہ سے اطلاع بخشی ہے اور بہت سے حقائق اور معارف سے اس ناچیز کے سینہ کو پُر کر دیا ہے اور با رہا بتلا دیا ہے کہ یہ سب عطیّات اور عنایات اور یہ سب تفضّلات اور احسانات اور یہ سب تلطّفات اور توجہات اور یہ سب انعامات اور تائید ات اور یہ سب مکالمات اور مخاطبات بیُمنِ متابعت و محبت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
جمالِ ہم نشین در من اثر کرد
وگرنہ من ہمان خاکم کہ ہستم2
مَیں خدا تعالیٰ کے ان تمام الہامات پر جو مجھے ہورہے ہیں ایسا ہی ایمان رکھتا ہوں جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن مقدس پر ایمان رکھتا ہوں اور میں اس خداتعالیٰ کو جانتا اور پہچانتا ہوں جس نے مجھے بھیجا ہے … سو مَیں اس وحئ پاک سے ایسا ہی کامل حصہ رکھتا ہوں جیسا کہ خدا تعالیٰ کے کامل قرب کی حالت میں انسان رکھ سکتا ہے۔ جب انسان ایک پُرجوش محبت کی آگ میں ڈالا جاتا ہے جیسا کہ تمام نبی ڈالے گئے تو پھر اس کی وحی کے ساتھ اضغاث احلام نہیں رہتے بلکہ جیسا کہ خشک گھاس تنور میں جل جاتا ہے ویسا ہی وہ تمام اوہام اور نفسانی خیالات جل جاتے ہیں اور خالص خدا کی وحی رہ جاتی ہے۔ اور یہ وحی صرف انہی کو ملتی ہے جو دنیا میں کمال صفا، محبت اور محویت کی وجہ سے نبیوں کے رنگ میں ہو جاتے ہیں جیسا کہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۰۴ اٹھارہویں سطر میں یہ الہام میری نسبت ہے جَرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَائِ یعنی خدا کا فرستادہ نبیوں کے حُلّہ میں۔ سو مَیں شکّی اور ظنّی الہام کے ساتھ نہیں بھیجا گیا بلکہ یقینی اور قطعی وحی کے ساتھ بھیجا گیا ہوں …… مجھے اس خدا کی قسم ہے کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مجھے دلائلِ قاطعہ سے یہ علم دیا گیا ہے اور ہر ایک وقت میں دیا جاتا ہے کہ جو کچھ مجھے القاء ہوتا ہے اور جو وحی میرے پر نازل ہوتی ہے وہ خدا کی طرف سے ہے نہ شیطان کی طرف سے۔ میں اس پر ایسا ہی یقین رکھتا ہوں جیسا کہ آفتاب اور ماہتاب کے وجود پر یا جیسا کہ اِس بات پر کہ دو اور دو چار ہوتے ہیں۔ ہاں جب میں اپنی طرف سے کوئی اجتہاد کروں یا اپنی طرف سے کسی الہام کے معنے کروں تو ممکن ہے کہ کبھی اس معنی میں غلطی بھی کھاؤں۔ مگر مَیں اس غلطی پر قائم نہیں رکھا جاتا۔ اور خدا کی رحمت جلد تر مجھے حقیقی انکشاف کی راہ دکھا دیتی ہے اور میری رُوح خداکے فرشتوں کی گود میں پرورش پاتی ہے۔ (تبلیغ رسالت جلد ہشتم صفحہ ۶۴، ۶۵۔ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۳۰۶، ۳۰۷ بار دوم)
وجذ بنی ربیّ الیہ و احسن مثوای، واسبغ عَلَیَّ من نعماء الدین و قادنی من تدنّسات الدنیا الی حظیرۃ قدسہ و اعطانی ما اعطانی وجعلنی من الملھمین المحدثین۔ فما کان عندی من مال الدنیا و خیلھا وأفراسھا غیر أنی اُعطیتُ جیاد الاقلام و رُزقتُ جواھر الکلام واُعطیتُ من نورٍ یؤمننی العثار و یبین لی الآثار۔ فھذہ الدولۃ الالٰھیۃ السماویّۃ وقدأغنتنی وجبرت عَیلتی و اضاء تنی و نورت لیلتی و ادخلتنی فی المُنْعَمِین۔
اور میرے رب نے اپنی طرف مجھے کھینچ لیا اور مجھے نیک جگہ دی۔ اور اپنی نعمتوں کو مجھ پر کامل کیا۔ اور مجھے دنیا کی آلودگیوں اور مکروہات سے نکال کر اپنی مقدس جگہ میں لے آیا اور مجھے اُس نے دیا جو کچھ دیااور مجھے ملہموں اور محدثوں میں سے کر دیا۔ سو میرے پاس دنیا کا مال اور دنیا کے گھوڑے اور دنیا کے سوار تو نہیں تھے بجز اس کے کہ عمدہ گھوڑے قلموں کے مجھ کو عطا کئے گئے اور کلام کے جواہر مجھ کو دیئے گئے اور وہ نور مجھ کو عطا ہوا جو مجھے لغزش سے بچاتا اور راست روی کے آثار مجھ پر ظاہر کرتا ہے۔ پس اس الٰہی اور آسمانی دولت نے مجھے غنی کر دیا اور میرے افلاس کا تدارک کیا اور مجھے روشن کیا۔ اور میری رات کو منور کر دیا اور مجھے منعموں میں داخل کیا۔ (نور الحق حصّہ اوّل۔ روحانی خزائن جلد۸ صفحہ ۳۸، ۳۹)
مَیں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر
مَیں وہ ہوں نورِ خدا جس سے ہوا دن آشکار
مَیں کچھ بیان نہیں کر سکتا کہ میرا کون سا عمل تھا جس کی وجہ سے یہ عنایت الٰہی شامل حال ہوئی۔ صرف اپنے اندر یہ احساس کرتا ہوں کہ فطرتاً میرے دل کو خدا تعالیٰ کی طرف وفاداری کے ساتھ ایک کشش ہے جو کسی چیز کے روکنے سے رُک نہیں سکتی۔ سو یہ اسی کی عنایت ہے۔ مَیں نے کبھی ریاضات شاقہ بھی نہیں کیں اور نہ زمانہ حال کے بعض صوفیوں کی طرح مجاہدات شدیدہ میں اپنے نفس کو ڈالا اور نہ گوشہ گزینی کے التزام سے کوئی چلّہ کشی کی۔ اور نہ خلاف سنت کوئی ایسا عمل رہبانیت کیا جس پر خدا تعالیٰ کے کلام کو اعتراض ہو بلکہ مَیں ہمیشہ ایسے فقیروں اور بدعت شعار لوگوں سے بیزار رہا جو انواع اقسام کے بدعات میں مبتلا ہیں۔ ہاں حضرت والد صاحب کے زمانہ میں ہی جب کہ ان کا زمانہ وفات بہت نزدیک تھا ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک بزرگ معمرّ پاک صورت مجھ کو خواب میں دکھائی دیا اور اُس نے یہ ذکر کر کے کہ ’’کسی قدر روزے انوارِ سماوی کی پیشوائی کے لئے رکھنا سنّتِ خاندانِ نبوت ہے۔‘‘ اِس بات کی طرف اشارہ کیا کہ مَیں اِس سنّتِ اہل بیت رسالت کو بجا لاؤں۔ سو مَیں نے کچھ مدت تک التزام صوم کو مناسب سمجھا۔ مگر ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ اِس امر کو مخفی طور پر بجا لانا بہتر ہے۔ پس میں نے یہ طریق اختیار کیا کہ گھر سے مردانہ نشست گاہ میں اپنا کھانا منگواتا اور پھر وہ کھانا پوشیدہ طور پر بعض یتیم بچّوں کو جن کو مَیں نے پہلے سے تجویز کر کے وقت پر حاضری کے لئے تاکید کر دی تھی دے دیتا تھا اور اس طرح تمام دن روزہ میں گزارتا اور بجز خدا تعالیٰ کے ان روزوں کی کسی کو خبر نہ تھی۔ پھر دو تین ہفتہ کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ ایسے روزوں سے جو ایک وقت میں پیٹ بھر کر روٹی کھا لیتا ہوں مجھے کچھ بھی تکلیف نہیں بہتر ہے کہ کسی قدر کھانے کو کم کروں سو مَیں اُس روز سے کھانے کو کم کرتا گیا یہاں تک کہ مَیں تمام رات دن میں صرف ایک روٹی پر کفایت کرتا تھا اور اسی طرح میں کھانے کو کم کرتا گیا یہاں تک کہ شاید صرف چند تولہ روٹی میں سے آٹھ پہر کے بعد میری غذا تھی۔ غالباً آٹھ یا نو ماہ تک مَیں نے ایسا ہی کیا اور باوجود اس قدر قلّتِ غذا کے کہ دو تین ماہ کا بچہ بھی اس پرصبر نہیں کر سکتا خدا تعالیٰ نے مجھے ہر ایک بلا اور آفت سے محفوظ رکھا۔
اور اس قسم کے روزہ کے عجائبات میں سے جو میرے تجربہ میں آئے وہ لطیف مکاشفات ہیں جو اُس زمانہ میں میرے پر کھلے۔ چنانچہ بعض گذشتہ نبیوں کی ملاقاتیں ہوئیں اور جو اعلیٰ طبقہ کے اولیاء اس امت میں گذر چکے ہیں اُن سے ملاقات ہوئی۔ ایک دفعہ عین بیداری کی حالت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معہ حسنین و علی رضی اللہ عنہ وفاطمہ رضی اللہ عنہا کے دیکھا۔ اور یہ خواب نہ تھی بلکہ ایک بیداری کی قسم تھی۔ غرض اسی طرح پر کئی مقدس لوگوں کی ملاقاتیں ہوئیں۔ جن کا ذکر کرنا موجب تطویل ہے اور علاوہ اس کے انوارِ روحانی تمثیلی طور پر برنگ ستون سبز و سُرخ ایسے دلکش و دلستان طور پر نظر آتے تھے جن کا بیان کرنا بالکل طاقتِ تحریر سے باہر ہے۔ وہ نورانی ستون جو سیدھے آسمان کی طرف گئے ہوئے تھے جن میں سے بعض چمکدار سفید اور بعض سبز اور بعض سُرخ تھے اُن کو دل سے ایسا تعلق تھا کہ ان کو دیکھ کر دل کو نہایت سرور پہنچتا تھاا ور دنیا میں کوئی بھی ایسی لذّت نہیں ہو گی جیسا کہ ان کو دیکھ کر دل اور رُوح کو لذّت آتی تھی۔ میرے خیال میں ہے کہ وہ ستون خدا اور بندہ کی محبت کی ترکیب سے ایک تمثیلی صورت میں ظاہر کئے گئے تھے یعنی وہ ایک نور تھا جو دل سے نکلا اور دوسرا وہ نور تھا جو اوپر سے نازل ہوا اور دونوں کے ملنے سے ایک ستون کی صورت پیدا ہو گئی۔ یہ رُوحانی امور ہیں کہ دنیا ان کو نہیں پہچان سکتی کیونکہ وہ دنیا کی آنکھوں سے بہت دُور ہیں لیکن دنیا میں ایسے بھی ہیں جن کو اِن امور سے خبر ملتی ہے۔
غرض اس مدت تک روزہ رکھنے سے جو میرے پر عجائبات ظاہر ہوئے وہ انواع اقسام کے مکاشفات تھے۔ ایک اور فائدہ مجھے یہ حاصل ہوا کہ مَیں نے ان مجاہدات کے بعد اپنے نفس کو ایسا پایا کہ مَیں وقتِ ضرورت فاقہ کشی پر زیادہ سے زیادہ صبر کر سکتا ہوں۔ مَیں نے کئی دفعہ خیال کیا کہ اگر ایک موٹا آدمی جو علاوہ فربہی کے پہلوان بھی ہو میرے ساتھ فاقہ کشی کے لئے مجبور کیا جائے تو قبل اس کے کہ مجھے کھانے کے لئے کچھ اضطرار ہو وہ فوت ہو جائے۔ اس سے مجھے یہ بھی ثبوت مِلا کہ انسان کسی حد تک فاقہ کشی میں ترقی کر سکتا ہے اور جب تک کسی کا جسم ایسا سختی کش نہ ہو جائے میرا یقین ہے کہ ایسا تنعم پسند روحانی منازل کے لائق نہیں ہو سکتا۔ لیکن مَیں ہر ایک کو یہ صلاح نہیں دیتا کہ ایسا کرے اور نہ مَیں نے اپنی مرضی سے ایسا کیا۔ مَیں نے کئی جاہل درویش ایسے بھی دیکھے ہیں جنہوں نے شدید ریاضتیں اختیار کیں اور آخر یبوست دماغ سے وہ مجنون ہو گئے اور بقیہ عمر اُن کی دیوانہ پن میں گذری یا دوسرے امراض سل اور دق وغیرہ میں مبتلا ہو گئے۔ انسانوں کے دماغی قویٰ ایک طرز کے نہیں ہیں۔ پس ایسے اشخاص جن کے فطرتاً قویٰ ضعیف ہیں اُن کو کسی قسم کا جسما نی مجاہدہ موافق نہیں پڑ سکتا اور جلد تر کسی خطرناک بیماری میں پڑ جاتے ہیں۔ سو بہتر ہے کہ انسان اپنی نفس کی تجویز سے اپنے تئیں مجاہدہ شدیدہ میں نہ ڈالے اور دین العجائز اختیار رکھے۔ ہاں اگر خداتعالیٰ کی طرف سے کوئی الہام ہو اور شریعتِ غرّاء اسلام سے منافی نہ ہو تو اس کو بجا لانا ضروری ہے لیکن آجکل کے اکثر نادان فقیر جو مجاہدات سکھلاتے ہیں اُن کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ پس ان سے پرہیز کرنا چاہئے۔
یاد رہے کہ مَیں نے کشف صریح کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر جسمانی سختی کشی کا حصہ آٹھ یا نوماہ تک لیا اور بھوک اور پیاس کا مزہ چکھا اور پھر اس طریق کو علی الدوام بجا لانا چھوڑ دیا۔ اور کبھی کبھی اس کو اختیار بھی کیا۔ یہ تو سب کچھ ہوا لیکن روحانی سختی کشی کا حصہ ہنوز باقی تھا۔ سو وہ حصّہ ان دنوں میں مجھے اپنی قوم کے مولویوں کی بد زبانی اور بد گوئی اور تکفیر اور توہین اور ایسا ہی دوسرے جہلاء کے دشنام اور دل آزاری سے مل گیا۔ اور جس قدر یہ حصہ بھی مجھے ملا میری رائے ہے کہ تیرہ سو برس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کم کسی کو ملا ہو گا۔ میرے لئے تکفیر کے فتوے طیار ہو کر مجھے تمام مشرکوں اور عیسائیوں اور دہریوں سے بدتر ٹھہرایا گیا اور قوم کے سفہاء نے اپنے اخباروں اور رسالوں کے ذریعہ سے مجھے وہ گالیاں دیں کہ اب تک مجھے کسی دوسرے کے سوانح میں ان کی نظیر نہیں ملی۔ سو مَیں اللہ تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ دونوں قسم کی سختی سے میرا امتحان کیا گیا۔ (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ ۱۹۵تا۲۰۱حاشیہ)
خدا تعالیٰ اس بات کو جانتا ہے اور وہ ہر ایک امر پر بہتر گواہ ہے کہ وہ چیز جو اس کے راہ میں مجھے سب سے پہلے دی گئی وہ قلب سلیم تھا یعنی ایسا دل کہ حقیقی تعلّق اس کا بجز خدائے عزّوکے کسی چیز کے ساتھ نہ تھا۔ مَیں کسی زمانہ میں جوان تھا اور اب بوڑھا ہؤا مگر مَیں نے کسی حصّہ عمر میں بجز خدائے عزّ و جل کسی کے ساتھ اپنا حقیقی تعلّق نہ پایا…… اور اسی تپشِ محبت کی وجہ سے مَیں ہرگز کسی ایسے مذہب پر راضی نہیں ہوا جس کے عقائد خدا تعالیٰ کی عظمت اور وحدانیت کے برخلاف تھے یا کسی قسم کی توہین کو مستلزم تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عیسائی مذہب مجھے پسندنہ آیا کیونکہ اس کے ہر ایک قدم میں خدائے عزّ وکی توہین ہے …… اِسی طرح ہندو مذہب جس کی ایک شاخ آریہ مذہب ہے وہ سچائی کی حالت سے بالکل گرا ہؤا ہے۔ ان کے نزدیک اس جہان کا ذرّہ ذرّہ قدیم ہے جن کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں۔ پس ہندوؤں کو اس خدا پر ایمان نہیں جس کے بغیر کوئی چیز ظہور میں نہیں آئی اور جس کے بغیر کوئی چیز قائم نہیں رہ سکتی …… غرض مَیں نے خوب غور سے دیکھا کہ یہ دونوں مذہب راستبازی کے مخالف ہیں اور خداتعالیٰ کی راہ میں جس قدر ان مذاہب میں روکیں اور نو میدی پائی جاتی ہے مَیں سب کواس رسالہ میں لکھ نہیں سکتا صرف بطور خلاصہ لکھتا ہوں کہ وہ خدا جس کو پاک روحیں تلاش کرتی ہیں اور جس کو پانے سے انسان اسی زندگی میں سچی نجات پا سکتا ہے اور اس پر انوار الٰہی کے دروازے کھل سکتے ہیں اور اس کی کامل معرفت کے ذریعہ سے کامل محبت پیدا ہو سکتی ہے اُس خدا کی طرف یہ دونوں مذہب رہبری نہیں کرتے اور ہلاکت کے گڑھے میں ڈالتے ہیں۔ ایسا ہی ان کے مشابہ دنیا میں اور مذاہب بھی پائے جاتے ہیں مگر یہ سب مذاہب خدا ئے واحد لاشریک تک نہیں پہنچا سکتے اور طالب کو تاریکی میں چھوڑتے ہیں۔
یہ وہ تمام مذاہب ہیں جن میں غور کرنے کے لئے مَیں نے ایک بڑا حصہ عمر کا خرچ کیا۔ اور نہایت دیانت اور تدبّر سے ان کے اصول میں غور کی مگر سب کو حق سے دُور اور مہجور پایا۔ ہاں یہ مبارک مذہب جس کا نام اسلام ہے وہی ایک مذہب ہے جو خدا تعالیٰ تک پہنچا تا ہے۔ اور وہی ایک مذہب ہے جو انسانی فطرت کے پاک تقاضاؤں کو پورا کرنے والا ہے ……… اسلام کا خدا کسی پر اپنے فیض کا دروازہ بندنہیں کرتا بلکہ اپنے دونوں ہاتھوں سے بُلا رہا ہے کہ میری طرف آؤ اور جو لوگ پورے زور سے اس کی طرف دوڑتے ہیں اُن کے لئے دروازہ کھولا جاتا ہے۔
سو مَیں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصّہ پایا ہے۔ جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔ اور میرے لئے اس نعمت کا پانا ممکن نہ تھا اگر مَیں اپنے سید و مولیٰ فخر الانبیاء اور خیر الوریٰ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہوں کی پیروی نہ کرتا۔ سو مَیں نے جو کچھ پایا اس پیروی سے پایا اور مَیں اپنے سچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفت کاملہ کا حصہ پا سکتا ہے۔ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۵۹تا ۶۵)
بعض نادانوں کا یہ خیال کہ گویا مَیں نے افترا کے طور پر الہام کا دعویٰ کیا ہے غلط ہے بلکہ درحقیقت یہ کام اس قادر خدا کا ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور اس جہان کو بنایا ہے۔ جس زمانہ میں لوگوں کا ایمان خدا پر کم ہو جاتا ہے اس وقت میرے جیسا ایک انسان پیدا کیا جاتا ہے اور خدا اس سے ہمکلام ہوتا ہے۔ اور اس کے ذریعہ سے اپنے عجائب کام دکھلاتا ہے۔ یہاں تک کہ لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ خدا ہے۔ مَیں عام اطلاع دیتا ہوں کہ کوئی انسان خواہ ایشیائی ہو خواہ یوروپین اگر میری صحبت میں رہے تو وہ ضرور کچھ عرصہ کے بعد میری ان باتوں کی سچائی معلوم کر لے گا۔ (اشتہار واجب الاظہار ۲۰ ؍ ستمبر ۱۸۹۷ء کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ۱۸)
جب تیرھویں صدی کا اخیر ہوا اور چودھویں صدی کا ظہور ہونے لگا تو خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدّد ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہؤا کہ:۔ اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ۔ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا اُنْذِرَ اٰبَآؤُہُمۡ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلَ اْلمُجْرِمِیْنَ۔ قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘ یعنی خدا نے تجھے قرآن سکھلایا اور اُس کے صحیح معنے تیرے پر کھول دیئے۔ یہ اس لئے ہوا کہ تا تو ان لوگوں کو بد انجام سے ڈرا وے کہ جو بباعث پُشت در پُشت کی غفلت اور نہ متنبہ کئے جانے کے غلطیوں میں پڑ گئے اور تا اُن مجرموں کی راہ کھل جائے کہ جو ہدایت پہنچنے کے بعد بھی راہِ راست کو قبول کرنا نہیں چاہتے۔ ان کو کہہ دے کہ مَیں مامور من اللہ اور اوّل المومنین ہوں۔ (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۲۰۱، ۲۰۲حاشیہ)
اما بعد واضح ہو کہ موافق اس سنّت غیر متبدلہ کے ہر یک غلبہ تاریکی کے وقت خدا تعالیٰ اِس امتِ مرحومہ کی تائید کے لئے توجہ فرماتا ہے اور مصلحت عامہ کے لئے کسی اپنے بندہ کوخاص کرکے تجدید دین متین کے لئے مامور فرما دیتا ہے۔ یہ عاجز بھی اس صدی کے سر پر خدا تعالیٰ کی طرف سے مجدّد کا خطاب پا کر مبعوث ہوا۔ اور جس نوع اور قسم کے فتنے دنیا میں پھیل رہے تھے۔ اُن کے رفع اور دفع اور قلع قمع کے لئے وہ علوم اور وسائل اس عاجز کو عطا کئے گئے کہ جب تک خاص عنایت الٰہی ان کو عطا نہ کرے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتے۔ (کرامات الصادقین۔ روحانی خزائن جلد۷ صفحہ ۴۵)
جب خدا تعالیٰ نے زمانہ کی موجودہ حالت کو دیکھ کر اور زمین کو طرح طرح کے فسق اور معصیت اور گمراہی سے بھرا ہوا پا کر مجھے تبلیغ حق اور اصلاح کے لئے مامور فرمایا اور یہ زمانہ بھی ایسا تھا کہ اِس دنیا کے لوگ تیرھویں صدی ہجری کو ختم کر کے چودھویں صدی کے سر پر پہنچ گئے تھے۔ تب مَیں نے اس حکم کی پابندی سے عام لوگوں میں بذریعہ تحریری اشتہارات اور تقریروں کے یہ ندا کرنی شروع کی کہ اس صدی کے سر پر جو خدا کی طرف سے تجدید دین کے لئے آنے والا تھا وہ مَیں ہی ہوں تا وہ ایمان جو زمین پر سے اُٹھ گیا ہے اُس کو دوبارہ قائم کروں اور خدا سے قوت پا کر اسی کے ہاتھ کی کشش سے دنیا کو صلاح اور تقویٰ اور راستبازی کی طرف کھینچوں۔ اور اُن کی اعتقادی اور عملی غلطیوں کو دُور کروں اور پھر جب اس پر چند سال گزرے تو بذریعہ وحی الٰہی میرے پر بتصریح کھولا گیا کہ وہ مسیح جو اس اُمت کے لئے ابتداء سے موعود تھا اور وہ آخری مہدی جو تنزل اسلام کے وقت اور گمراہی کے پھیلنے کے زمانہ میں براہِ راست خدا سے ہدایت پانے والا اور اس آسمانی مائدہ کو نئے سرے انسانوں کے آگے پیش کرنے والا تقدیر الٰہی میں مقررکیا گیا تھا جس کی بشارت آج سے تیرہ ۱۳۰۰سو برس پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی وہ مَیں ہی ہوں اور مکالماتِ الٰہیہ اور مخاطبات رحمانیہ اس صفائی اور تواتر سے اس بارے میں ہوئے کہ شک و شبہ کی جگہ نہ رہی۔ ہر ایک وحی جو ہوتی تھی ایک فولادی میخ کی طرح دل میں دھنستی تھی اور یہ تمام مکالماتِ الٰہیہ ایسی عظیم الشان پیشگوئیوں سے بھرے ہوئے تھے کہ روز روشن کی طرح وہ پوری ہوتی تھیں اور اُن کے تواتر اور کثرت اور اعجازی طاقتوں کے کرشمہ نے مجھے اس بات کے اقرار کے لئے مجبور کیا کہ یہ اُسی وحدہٗ لاشریک خدا کا کلام ہے جس کا کلام قرآن شریف ہے۔ اور مَیں اس جگہ توریت اور انجیل کا نام نہیں لیتا کیونکہ توریت اور انجیل تحریف کرنے والوں کے ہاتھوں سے اس قدر محرّف و مبدّل ہو گئی ہیں کہ اب ان کتابوں کو خدا کا کلام نہیں کہہ سکتے۔ غرض وہ خدا کی وحی جو میرے پر نازل ہوئی ایسی یقینی اور قطعی ہے کہ جس کے ذریعہ سے مَیں نے اپنے خدا کو پایا اور وہ وحی نہ صرف آسمانی نشانوں کے ذریعہ مرتبہ حق الیقین تک پہنچی بلکہ ہر ایک حصّہ اس کا جب خدا تعالیٰ کے کلامِ قرآن شریف پر پیش کیا گیا تو اس کے مطابق ثابت ہوا اور اس کی تصدیق کے لئے بارش کی طرح نشان آسمانی برسے۔ (تذکرۃ الشہادتین۔ روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ ۳، ۴)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ اْلکَرِیْمِ
اے بزرگان اسلام! خدا تعالیٰ آپ لوگوں کے دلوں میں تمام فرقوں سے بڑھ کر نیک ارادے پیدا کرے اور اس نازک وقت میں آپ لوگوں کو اپنے پیارے دین کا سچا خادم بناوے۔ مَیں اس وقت محض لِلّٰہ اِس ضروری امر سے اطلاع دیتا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس چودھویں صدی کے سر پر اپنی طرف سے مامور کر کے دین متین اسلام کی تجدید اور تائید کے لئے بھیجا ہے تاکہ میں اس پُرآشوب زمانہ میں قرآن کی خوبیاں اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتیں ظاہر کروں اور ان تمام دشمنوں کو جو اسلام پر حملہ کر رہے ہیں ان نوروں اور برکات اور خوارق اور علومِ لدنّیہ کی مدد سے جواب دوں جو مجھ کو عطا کئے گئے ہیں۔ (برکات الدعاء۔ روحانی خزائن جلد۶ صفحہ ۳۴)
اورمصنّف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدّدِ وقت ہے اور روحانی طور پر اُس کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک کو دوسرے سے بشدّت مناسبت و مشابہت ہے اور اس کو خواص انبیاء و رسل کے نمونہ پر محض بہ برکت متابعت حضرت خیر البشر و افضل الرسل صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان بہتوں پر اکابر اولیاء سے فضیلت دی گئی ہے کہ جو اِس سے پہلے گذر چکے ہیں۔ اور اس کے قدم پر چلنا موجب نجات و سعادت و برکت اور اس کے برخلاف چلنا موجب بُعد و حرمان ہے۔ (اشتہار منسلکہ آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد۵ صفحہ ۶۵۷)
ایک مرتبہ الہام ہوا جس کے معنے یہ تھے کہ ملاءِ اعلیٰ کے لوگ خصومت میں ہیں۔ یعنی ارادۂ الٰہی احیائے دین کے لئے جوش میں ہے لیکن ہنوز ملاءِاعلیٰ پر شخص مُحییِ کی تعیین ظاہر نہیں ہوئی اس لئے وہ اختلاف میں ہے۔ اس اثناء میں خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک مُحیی کو تلاش کرتے پھرتے ہیں اور ایک شخص اس عاجز کے سامنے آیا اور اشارہ سے اُس نے کہا۔ ھٰذَا رَجُلٌ یُّحِبُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ سے محبت رکھتا ہے۔ اور اس قول سے یہ مطلب تھا کہ شرطِ اعظم اس عہدہ کی محبتِ رسولؐ ہے سو وہ اس شخص میں متحقّق ہے۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد۱ صفحہ ۵۹۸حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳)
یہ زمانہ جس میں ہم ہیں یہ وہی زمانہ ہے جس میں دشمنوں کی طرف سے ہر یک قسم کی بدزبانی کمال کو پہنچ گئی ہے اور بدگوئی اور عیب گیری اور افترا پردازی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اب اس سے بڑھ کر ممکن نہیں اور ساتھ اس کے مسلمانوں کی اندرونی حالت بھی نہایت خطرناک ہو گئی ہے صدہا بدعات اور انواع اقسام کے شرک اور الحاد اور انکار ظہور میں آ رہے ہیں۔ اس لئے قطعی یقینی طور پر اب یہ وہی زمانہ ہے جس میں پیشگوئی مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کے مطابق عظیم الشان مصلح پیدا ہو۔ سو الحمد للہ کہ وہ مَیں ہوں۔ (تریاق القلوب۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ۴۵۳ حاشیہ)
مَیں ہر ایک مسلمان کی خدمت میں نصیحتًا کہتا ہوں کہ اسلام کے لئے جاگو کہ اسلام سخت فتنہ میں پڑا ہے۔ اس کی مدد کرو کہ اب یہ غریب ہے اور مَیں اسی لئے آیا ہوں اور مجھے خدا تعالیٰ نے علمِ قرآن بخشا ہے اور حقائق معارف اپنی کتاب کے میرے پر کھولے ہیں اور خوارق مجھے عطا کئے ہیں سو میری طرف آؤ تا اس نعمت سے تم بھی حصّہ پاؤ۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مَیں خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔ کیا ضرور نہ تھا کہ ایسی عظیم الفتن صدی کے سر پر جس کی کھلی کھلی آفات ہیں ایک مجدّد کھلے کھلے دعویٰ کے ساتھ آتا۔ سو عنقریب میرے کاموں کے ساتھ تم مجھے شناخت کرو گے ہر ایک جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا اس وقت کے علماء کی نا سمجھی اس کی سدِّ راہ ہوئی۔ آخر جب وہ پہچانا گیا تو اپنے کاموں سے پہچانا گیا کہ تلخ درخت شیریں پھل نہیں لا سکتا اور خدا غیر کو وہ برکتیں نہیں دیتا جو خاصوں کو دی جاتی ہیں۔ اے لوگو! اسلام نہایت ضعیف ہو گیا ہے اور اعداء دین کا چاروں طرف سے محاصرہ ہے اور تین ہزار سے زیادہ مجموعہ اعتراضات کا ہو گیا ہے۔ ایسے وقت میں ہمدردی سے اپنا ایمان دکھاؤ۔ اور مردانِ خدا میں جگہ پاؤ۔ والسلام علٰی من اتبع الھدٰی۔ (برکات الدعاء۔ روحانی خزائن جلد ۶صفحہ ۳۶، ۳۷)
اِس زمانہ کے مجدّد کا نام مسیح موعود رکھنا اس مصلحت پر مبنی معلوم ہوتا ہے کہ اس مجدّد کا عظیم الشان کام عیسائیت کا غلبہ توڑنا اور ان کے حملوں کو دفع کرنا اور ان کے فلسفہ کو جو مخالفِ قرآن ہے دلائل قویّہ کے ساتھ توڑنا اور اُن پر اسلام کی حجت پوری کرنا ہے کیونکہ سب سے بڑی آفت اس زمانہ میں اسلام کے لئے جو بغیر تائید الٰہی دُور نہیں ہو سکتی عیسائیوں کے فلسفیانہ حملے اور مذہبی نکتہ چینیاں ہیں جن کے دُور کرنے کے لئے ضرور تھا کہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے کوئی آوے۔ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۳۴۱)
مسلمانوں اور عیسائیوں کا کسی قدر اختلاف کے ساتھ یہ خیال ہے کہ’’حضرت مسیح بن مریم اسی عنصری وجود سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور پھر وہ کسی زمانہ میں آسمان سے اُتریں گے۔‘‘ مَیں اس خیال کا غلط ہونا اپنے اسی رسالہ میں لکھ چکا ہوں اور نیز یہ بھی بیان کر چکا ہوں کہ اس نزول سے مراد درحقیقت مسیح بن مریم کا نزول نہیں بلکہ استعارہ کے طور پر ایک مثیلِ مسیح کے آنے کی خبر دی گئی ہے جس کا مصداق حسب اعلام و الہام الٰہی یہی عاجز ہے۔ (توضیح مرام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۵۱)
مَیں ان تمام امور پر ایمان رکھتا ہوں جو قرآن کریم اور احادیثِ صحیحہ میں درج ہیں اور مجھے مسیح ابنِ مریم ہونے کا دعویٰ نہیں اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں بلکہ مجھے تو فقط مثیلِ مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔ جس طرح محدّثیت نبوت سے مشابہ ہے ایسا ہی میری روحانی حالت مسیح ابن مریم کی روحانی حالت سے اشد درجہ کی مناسبت رکھتی ہے غرض مَیں ایک مسلمان ہوں۔ اَیُّھَا الْمُسْلِمُوْنَ اَنَامِنْکُمْ وَاِمَامُکُمْ مِنْکُمْ بِاَمْرِاللّٰہِ تَعَالٰی۔3 خلاصہ کلام یہ کہ مَیں محدث اللہ ہوں اور مامور من اللہ ہوں اور بایں ہَمہ مسلمانوں میں سے ایک مسلمان ہوں جو صدی چار دہم کے لئے مسیح ابن مریم کی خصلت اور رنگ میں مجدّد دین ہو کر ربّ السّماوات والارض کی طرف سے آیا ہوں۔ مَیں مفتری نہیں ہوں وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰی خدا تعالیٰ نے دنیا پر نظر کی اور اس کو ظلمت میں پایا اور مصلحت عباد کے لئے ایک اپنے عاجز بندہ کو خاص کر دیا۔ کیا تمہیں اس سے کچھ تعجب ہے کہ وعدہ کے موافق صدی کے سر پر ایک مجدد بھیجا گیا اور جس نبی کے رنگ میں چاہا خدا تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا۔ کیا ضرور نہ تھا کہ مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی پوری ہوتی؟ بھائیو! مَیں مصلح ہوں بدعتی نہیں۔ اور معاذ اللہ میں کسی بدعت کے پھیلانے کے لئے نہیں آیا۔ حق کے اظہار کے لئے آیا ہوں اور ہر ایک بات جس کا اثر اور نشان قرآن اور حدیث میں پایا نہ جائے اور اس کے برخلاف ہو وہ میرے نزدیک الحاد اور بے ایمانی ہے۔ مگر ایسے لوگ تھوڑے ہیں جو کلام الٰہی کی تہہ تک پہنچتے اور ربّانی پیشگوئیوں کے باریک بھیدوں کو سمجھتے ہیں۔ مَیں نے دین میں کوئی کمی یا زیادتی نہیں کی۔ بھائیو! میرا وہی دین ہے جو تمہارا دین ہے اور وہی رسول کریم میرا مقتدا ہے جو تمہارا مقتدا ہے اور وہی قرآن شریف میرا ہادی ہے اور میرا پیارا اور میری دستاویز ہے جس کا ماننا تم پر بھی فرض ہے۔ ہاں یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ مَیں حضرت مسیح ابن مریم کو فوت شدہ اور داخلِ موتٰی یقین رکھتا ہوں اور جو آنے والے مسیح کے بارے میں پیشگوئی ہے وہ اپنے حق میں یقینی اور قطعی طور پر اعتقاد رکھتا ہوں لیکن اے بھائیو! یہ اعتقاد مَیں اپنی طرف سے اور اپنے خیال سے نہیں رکھتا بلکہ خدا وند کریم جلّ شانہٗ نے اپنے الہام و کلام کے ذریعہ سے مجھے اطلاع دے دی ہے کہ مسیح ابن مریم کے نام پر آنے والا تو ہی ہے اور مجھ پر قرآن کریم اور احادیثِ صحیحہ کے وہ دلائل یقینیہ کھول دیئے ہیں جن سے بتمام یقین و قطع حضرت عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ کا فوت ہو جانا ثابت ہوتا ہے اور مجھے اس قادر مطلق نے بار بار اپنے کلام خاص سے مشرف اور مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ آخری زمانہ کی یہودیت دُور کرنے کے لئے تجھے عیسیٰ بن مریم کے رنگ اور کمال میں بھیجا گیا ہے۔ سو مَیں استعارہ کے طور پر ابن مریم موعود ہوں جس کا یہودیت کے زمانہ اور تنصّر کے غلبہ میں آنے کا وعدہ تھا جو غربت اور روحانی قوت اور روحانی اسلحہ کے ساتھ ظاہر ہوا۔ (تبلیغ رسالت جلد دوم صفحہ ۲۱، ۲۲۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۲۱۵، ۲۱۶ بار دوم)
جب تم مسیح کا مُردوں میں داخل ہونا ثابت کر دو گے اور عیسائیوں کے دلوں میں نقش کر دو گے تو اس دن تم سمجھ لو کہ آج عیسائی مذہب دنیا سے رخصت ہوا۔ یقینا سمجھو کہ جب تک ان کا خدا فوت نہ ہو ان کا مذہب بھی فوت نہیں ہو سکتا۔ اور دوسری تمام بحثیں اُن کے ساتھ عبث ہیں۔ ان کے مذہب کا ایک ہی ستون ہے اور وہ یہ ہے کہ اب تک مسیح ابن مریم آسمان پر زندہ بیٹھا ہے۔ اس ستون کو پاش پاش کرو پھر نظر اُٹھا کر دیکھو کہ عیسائی مذہب دنیا میں کہاں ہے۔ چونکہ خدائے تعالیٰ بھی چاہتا ہے کہ اس ستون کو ریزہ ریزہ کر ے اور یوروپ اور ایشیا میں توحید کی ہوا چلا وے۔ اِس لئے اُس نے مجھے بھیجا اور میرے پر اپنے خاص الہام سے ظاہر کیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے۔ چنانچہ اس کا الہام یہ ہے کہ مسیح ابنِ مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے۔ وَکَانَ وَعْدُ اللّٰہِ مَفْعُوْلًا۔ اَنْتَ مَعِیْ وَ اَنْتَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِیْنِ۔ اَنْتَ مُصِیْبٌ وَّ مُعِیْنٌ لِلْحَقِّ ۔4
مَیں نے اس کتاب میں نہایت زبردست ثبوتوں سے مسیح کا فوت ہو جانا اور اموات میں داخل ہونا ثابت کر دیا ہے اور مَیں نے بداہت کی حد تک اس بات کو پہنچا دیا ہے کہ مسیح زندہ ہو کر جسم عنصری کے ساتھ ہرگز آسمان کی طرف اٹھایا نہیں گیا بلکہ اور نبیوں کی موت کی طرح اس پر بھی موت آئی اور دائمی طور پر وہ اس جہان سے رخصت ہوا۔ اگر کوئی مسیح کا ہی پرستار ہے تو سمجھ لے کہ وہ مر گیا اور مرنے والوں کی جماعت میں ہمیشہ کے لئے داخل ہو گیا سو تم تائید حق کے لئے اِس کتاب سے فائدہ اٹھاؤ اور سرگرمی کے ساتھ پادریوں کے مقابل پر کھڑے ہو جاؤ۔ چاہئے کہ یہی ایک مسئلہ ہمیشہ تمہارے زیر توجہ اور پورا بھروسہ کرنے کے لائق ہو جو درحقیقت مسیح ابن مریم فوت شدہ گروہ میں داخل ہے۔ (ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد۳ صفحہ۴۰۲، ۴۰۳)
یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے اور اس کے ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے خدا نے یہ بنیاد ڈالی ہے کہ اس کے افاضہ تشریعی اور روحانی کو قیامت تک جاری رکھا اور آخرکار اوس کی رُوحانی فیض رسانی سے اِس مسیح موعود کو دنیا میں بھیجا۔ جس کا آنا اسلامی عمارت کی تکمیل کے لئے ضروری تھا۔ کیونکہ ضرور تھا کہ یہ دنیا ختم نہ ہو جب تک کہ محمدی سلسلہ کے لئے ایک مسیح روحانی رنگ کا نہ دیا جاتا جیسا کہ موسوی سِلسلہ کے لئے دیا گیا تھا اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ موسیٰ نے وہ متاع پائی جس کو قرونِ اُولیٰ کھو چکے تھے۔ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ متاع پائی جس کو موسیٰ کا سلسلہ کھو چکا تھا اب محمدی سلسلہ موسوی سلسلہ کے قائم مقام ہے مگر شان میں ہزار ہا درجہ بڑھ کر۔ مثیلِ موسیٰ، موسیٰ سے بڑھ کر اور مثیلِ ابن مریم، ابن مریم سے بڑھ کر اور وہ مسیح موعودنہ صرف مدت کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوا جیسا کہ مسیح ابن مریم موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوا تھا بلکہ وہ ایسے وقت میں آیا جبکہ مسلمانوں کا وہی حال تھا جیسا کہ مسیح ابن مریم کے ظہور کے وقت یہودیوں کا حال تھا۔ سو وہ مَیں ہی ہوں۔ خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ نادان ہے وہ جو اس سے لڑے اور جاہل ہے وہ جو اس کے مقابل پر یہ اعتراض کرے کہ یوں نہیں بلکہ یُوں چاہئے تھا اور اُس نے مجھے چمکتے ہوئے نشانوں کے ساتھ بھیجا ہے جو دس ہزار سے بھی زیادہ ہیں۔ (کشتیٔ نوح۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۱۴)
اگر یہ استفسار ہو کہ جس خاصیت اور قوتِ روحانی میں یہ عاجز اور مسیح بن مریم مشابہت رکھتے ہیں۔ وہ کیا شے ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ایک مجموعی خاصیت ہے جو ہم دونوں کے روحانی قویٰ میں ایک خاص طور پر رکھی گئی ہے جس کے سلسلہ کی ایک طرف نیچے کو اور ایک طرف اوپر کو جاتی ہے۔ نیچے کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی دلسوزی اور غم خواری خلق اللہ ہے جو داعی الی اللہ اور اس کے مستعد شاگردوں میں ایک نہایت مضبوط تعلق اور جوڑ بخش کر نورانی قوت کو جو داعی الی اللہ کے نفس پاک میں موجود ہے ان تمام سرسبز شاخوں میں پھیلاتی ہے۔ اوپر کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی محبت قوی ایمان سے ملی ہوئی ہے جو اوّل بندہ کے دل میں بارادۂ الٰہیپیدا ہو کر ربّ قدیر کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور پھر ان دونوں محبتوں کے ملنے سے جو درحقیقت نر اور مادہ کا حکم رکھتی ہیں ایک مستحکم رشتہ اور ایک شدید مواصلت خالق اور مخلوق میں پیدا ہو کر الٰہی محبت کے چمکنے والی آگ سے جو مخلوق کی ہیزم مثال محبت کو پکڑ لیتی ہے ایک تیسری چیز پیدا ہو جاتی ہے جس کا نام رُوح القدس ہے۔ (توضیح مرام۔ روحانی خزائن جلد۳ صفحہ۶۱، ۶۲)
خدا کے سوا کوئی دوسرا خدا نہیں مگر مسیح ایک اَور بھی ہے جو اس وقت بول رہا ہے۔ خدا کی غیرت دکھلا رہی ہے کہ اس کا کوئی ثانی نہیں مگر انسان کا ثانی موجود ہے۔ اُس نے مجھے بھیجا تا مَیں اندھوں کو آنکھیں دوں۔ جو نہ چند سال سے بلکہ انیس۱۹ سو برس سے برابر اندھے چلے آتے ہیں۔ (الاشتہار مستیقنًا بوحی اللّٰہ القہّار مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ۸ بار دوم)
اِس زمانہ میں گندی تحریروں کے ذریعہ سے اس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی توہین کی گئی ہے کہ کبھی کسی زمانہ میں کسی نبی کی توہین نہیں ہوئی …… اور درحقیقت یہ ایسا زمانہ آ گیا ہے کہ شیطان اپنے تمام ذُرّیات کے ساتھ ناخنوں تک زور لگا رہا ہے کہ اسلام کو نابود کر دیا جاوے اور چونکہ بلاشبہ سچائی کا جھوٹ کے ساتھ یہ آخری جنگ ہے۔ اس لئے یہ زمانہ بھی اس بات کا حق رکھتا تھا کہ اس کی اصلاح کے لئے کوئی خدا کا مامور آوے۔ پس وہ مسیح موعود ہے جو موجود ہے۔ اور زمانہ حق رکھتا تھا کہ اس نازک وقت میں آسمانی نشانوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی دنیا پر حجّت پوری ہو۔ سو آسمانی نشان ظاہرہو رہے ہیں اور آسمان جوش میں ہے کہ اس قدر آسمانی نشان ظاہر کرے کہ اسلام کی فتح کا نقارہ ہر ایک ملک میں اور ہرایک حصّہ دنیا میں بج جائے۔ اے قادر خدا! تُو جلد وہ دن لا کہ جس فیصلہ کا تُونے ارادہ کیا ہے وہ ظاہر ہو جائے اور دنیا میں تیرا جلال چمکے اور تیرے دین اور تیرے رسول کی فتح ہو۔ آمین ثم آمین۔ (چشمۂ معرفت۔ روحانی خزائن جلد۲۳ صفحہ۹۴، ۹۵)
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ مَیں اخلاقی قوتوں کی تربیت کروں۔ چونکہ یہ سارا سِلسلہ اور ساری کارروائی مسیحی رنگ اپنے اندر رکھتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے میرا نام مسیح موعود رکھا۔ اب جبکہ مَیں نے اس حد تک بات کو پہونچایا ہے تو مَیں جانتا ہوں کہ مسیحی بھی میرے مخالف ہوں گے لیکن میں کسی کی مخالفت سے کب ڈر سکتا ہوں جب کہ خدا نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے۔ اگر یہ دعویٰ میری اپنی تراشی ہوئی بات ہوتی تو مجھے ایک ادنیٰ سی مخالفت بھی تھکا کر بٹھا دیتی۔ مگر یہ میرے اپنے اختیار کی بات نہیں ہے ہر سلیم الفطرت کو جس طرح وہ چاہے سمجھانے کے لئے میں طیار ہوں اور اُس کی تسلّی کے لئے ہر جائز اور مسنون راہ مَیں اختیار کر سکتا ہوں۔ مَیں سچ کہتا ہوں کہ یہی وہ زمانہ ہے جس کے لئے مسلمان اپنے اعتقاد کے موافق اور عیسائی اپنے خیال پر منتظر تھے۔ یہی وہ وقت تھا جس کا وعدہ تھا۔ اب آنے والا آ گیا۔ خواہ کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔ خدا تعالیٰ اپنے بھیجے ہوئے لوگوں کی تائید میں زبردست نشان ظاہر کیا کرتا ہے اور دلوں کو منوا دیتا ہے۔ جو کچھ مسیح موعود کے لئے مقدر تھا وہ ہو گیا۔ اب کوئی مانے نہ مانے مسیح موعود آ گیا اور وہ مَیں ہوں۔ (الحکم مورخہ ۱۷؍مئی ۱۹۰۱ء صفحہ۴ کالم نمبر ۲، ۳۔ ملفوظات جلداوّل صفحہ۴۹۹ جدیدایڈیشن)
مَیں نہیں چاہتا کہ ایک بُت کی طرح میری پوجا کی جائے۔ مَیں صرف اس خدا کا جلال چاہتا ہوں جس کی طرف سے مَیں مامور ہوں۔ جو شخص مجھے بے عزتی سے دیکھتا ہے وہ اس خدا کو بے عزّتی سے دیکھتا ہے جس نے مجھے مامور کیا ہے۔ اور جو مجھے قبول کرتا ہے وہ اس خدا کو قبول کرتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔ انسان میں اس سے زیادہ کوئی خوبی نہیں کہ تقویٰ کی راہ کو اختیار کر کے مامور من اللہ کی لڑائی سے پرہیز کرے اور اس شخص کی جلدی سے تکذیب نہ کرے جو کہتا ہے کہ مَیں مامور من اللہ ہوں اور محض تجدید دین کے لئے صدی کے سر پر بھیجا گیا ہوں۔ ایک متقی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ اِ س چودہویں صدی کے سرپر جس میں ہزاروں حملے اسلام پر ہوئے ایک ایسے مجدد کی ضرورت تھی کہ اسلام کی حقیّت ثابت کرے۔ ہاں اس مجدّد کا نام اس لئے مسیح ابن مریم رکھا گیا کہ وہ کسرِ صلیب کے لئے آیا ہے اور خدا اس وقت چاہتا ہے کہ جیسا کہ مسیح کو پہلے زمانہ میں یہودیوں کی صلیب سے نجات دی تھی اب عیسائیوں کی صلیب سے بھی اس کو نجات دے۔ چونکہ عیسائیوں نے انسان کو خدا بنانے کے لئے بہت کچھ افترا کیا ہے اس لئے خدا کی غیرت نے چاہا کہ مسیح کے نام پر ہی ایک شخص کو مامور کر کے اس افترا کو نیست و نابود کرے۔ یہ خدا کا کام ہے اور لوگوں کی نظر میں عجیب۔ (انجام آتھم۔ روحانی خزائن جلد۱۱ صفحہ ۳۲۰، ۳۲۱)
چونکہ میں مسیح موعود ہوں اور خدا نے عام طور پر میرے لئے آسمان سے نشان ظاہر کئے ہیں پس جس شخص پر میرے مسیح موعود ہونے کے بارہ میں خدا کے نزدیک اتمام حجت ہو چکا ہے اور میرے دعویٰ پر وہ اطلاع پا چکا ہے۔ وہ قابل مواخذہ ہو گا۔ کیونکہ خدا کے فرستادوں سے دانستہ مُنہ پھیرنا ایسا امر نہیں ہے کہ اس پر کوئی گرفت نہ ہو۔ اس گناہ کا داد خواہ میں نہیں ہوں۔ بلکہ ایک ہی ہے جس کی تائید کے لئے میں بھیجا گیا۔ یعنی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ میرا نہیں بلکہ اس کا نافرمان ہے جس نے میرے آنے کی پیشگوئی کی۔
ایسا ہی عقیدہ میرا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے بارہ میں بھی یہی ہے کہ جس شخص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچ چکی ہے اور وہ آپ کی بعثت سے مطلع ہو چکا ہے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے بارہ میں اس پر اتمام حجت ہو چکا ہے وہ اگر کفر پر مر گیا تو ہمیشہ کی جہنم کا سزا وار ہو گا۔ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲صفحہ ۱۸۴، ۱۸۵)
اگرچہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی۔ مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہوا تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہوں گے اس لئے مَیں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر حمل کرنا نہ چاہا بلکہ اس وحی کی تأویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا اور اسی کو براہین احمدیہ میں شائع کیا۔ لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی الٰہی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا تو ہی ہے اور ساتھ اس کے صد ہا نشان ظہور میں آئے اور زمین و آسمان دونوں میری تصدیق کے لئے کھڑے ہو گئے۔ اور خدا کے چمکتے ہوئے نشان میرے پر جبر کر کے مجھے اس طرف لے آئے کہ آخری زمانہ میں مسیح آنے والا میں ہی ہوں۔ ورنہ میرا اعتقاد تو وہی تھا جو مَیں نے براہین احمدیہ میں لکھ دیا تھا۔ اور پھر مَیں نے اس پر کفایت نہ کر کے اس وحی کو قرآن شریف پر عرض کیا تو آیات قطعیۃ الدلالت سے ثابت ہوا کہ درحقیقت مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور آخری خلیفہ مسیح موعود کے نام پر اسی امّت میں سے آئے گا۔ اور جیسا کہ جب دن چڑھ جاتا ہے توکوئی تاریکی باقی نہیں رہتی اسی طرح صد ہا نشانوں اور آسمانی شہادتوں اور قرآن شریف کی قطعیۃ الدلالت آیات اور نصوص صریحہ حدیثیہ نے مجھے اس بات کے لئے مجبور کر دیا کہ مَیں اپنے تئیں مسیح موعود مان لوں۔ میرے لئے یہ کافی تھا کہ وہ میرے پر خوش ہو۔ مجھے اس بات کی ہرگز تمنا نہ تھی۔ میں پوشیدگی کے حجرہ میں تھا اور کوئی مجھے نہیں جانتا تھا اور نہ مجھے یہ خواہش تھی کہ کوئی مجھے شناخت کرے۔ اس نے گوشۂ تنہائی سے مجھے جبراً نکالا۔ میں نے چاہا کہ میں پوشیدہ رہوں اور پوشیدہ مَروں۔ مگر اس نے کہا کہ مَیں تجھے تمام دنیا میں عزّت کے ساتھ شہرت دوں گا۔ پس یہ اس خدا سے پوچھو کہ ایسا تونے کیوں کیا؟ میرا اس میں کیا قصور ہے۔ اِسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو مَیں اس کو جُزئی فضلیت قرار دیتا تھا مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اُس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا۔ اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمتی۔ اور جیسا کہ مَیں نے نمونہ کے طور پر بعض عبارتیں خدا تعالیٰ کی وحی کی اس رسالہ میں بھی لکھی ہیں ان سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم کے مقابل پر خدا تعالیٰ میری نسبت کیا فرماتا ہے۔ مَیں خدا تعالیٰ کی تئیس۲۳ برس کی متواتر وحی کو کیونکر ردّ کر سکتا ہوں۔ مَیں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ اُن تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں اور مَیں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ مسیح ابن مریم آخری خلیفہ موسیٰ علیہ السلام کا ہے۔ اور مَیں آخری خلیفہ اس نبی کا ہوں جو خیر الرسل ہے اس لئے خدا نے چاہا کہ مجھے اس سے کم نہ رکھے۔ مَیں خوب جانتا ہوں کہ یہ الفاظ میرے ان لوگوں کو گوارا نہ ہوں گے جن کے دلوں میں حضرت مسیح کی محبت پرستش کی حد تک پہنچ گئی ہے مگر میں اُن کی پروا نہیں کرتا۔ مَیں کیا کروں کس طرح خدا کے حکم کو چھوڑ سکتا ہوں اور کس طرح اس روشنی سے جو مجھے دی گئی تاریکی میں آ سکتا ہوں۔ خلاصہ یہ کہ میری کلام میں کچھ تناقض نہیں۔ مَیں تو خدا تعالیٰ کی وحی کا پیروی کرنے والا ہوں۔ جب تک مجھے اس سے علم نہ ہوا مَیں وہی کہتا رہا جو اوائل میں مَیں نے کہا اور جب مجھ کو اس کی طرف سے علم ہوا تو مَیں نے اس کے مخالف کہا۔ مَیں انسان ہوں مجھے عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں۔ بات یہی ہے جو شخص چاہے قبول کرے یا نہ کرے۔ مَیں نہیں جانتا کہ خدا نے ایسا کیوں کیا۔ ہاں میں اس قدر جانتا ہوں کہ آسمان پر خدا تعالیٰ کی غیرت عیسائیوں کے مقابل پر بڑا جوش ما ر رہی ہے۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے مخالف وہ توہین کے الفاظ استعمال کئے ہیں کہ قریب ہے کہ ان سے آسمان پھٹ جائیں۔ پس خدا دکھلاتا ہے کہ اس رسول کے ادنیٰ خادم اسرائیلی مسیح ابن مریم سے بڑھ کر ہیں۔ جس شخص کو اس فقرہ سے غیظ و غضب ہو اس کو اختیار ہے کہ وہ اپنے غیظ سے مر جائے مگر خدا نے جو چاہا ہے کیا اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کیا انسان کا مقدور ہے کہ وہ اعتراض کرے کہ ایسا تونے کیوں کیا؟ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ۱۵۳، ۱۵۴)
مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا۔ اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا اور خدا کا فضل اپنے سے زیادہ مجھ پر پاتا۔ جبکہ مَیں ایسا ہوں تو اب سوچو کہ کیا مرتبہ ہے اس پاک رسولؐ کا جس کی غلامی کی طرف مَیں منسوب کیا گیا۔ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ (کشتیٔ نوح۔ روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ۶۰)
اور حضرت عیسیٰ کے نام پر اس عاجز کے آنے کا سرّیہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس عیسائی فتنہ کے وقت میں یہ فتنہ حضرت مسیح کو دکھایا۔ یعنی ان کو آسمان پر اس فتنہ کی اطلاع دے دی کہ تیری قوم اور تیری امت نے اس طوفان کو برپا کیا ہے تب وہ اپنی قوم کی خرابی کو کمال فساد پر دیکھ کر نزول کے لئے بے قرار ہوا اور اس کی رُوح سخت جنبش میں آئی اور اُس نے زمین پر اپنی ارادات کا ایک مظہر چاہا۔ تب خدا تعالیٰ نے اس وعدہ کے موافق جو کیا گیا تھا مسیح کی روحانیت اور اس کے جوش کو ایک جوہرِ قابل میں نازل کیا۔ سو ان معنوں کر کے وہ آسمان سے اُترا۔ اُسی کے موافق جو ایلیا نبی یوحنا کے رنگ میں اُترا تھا۔ (آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد۵صفحہ ۲۶۸، ۲۶۹ حاشیہ)
جیسا کہ وہ نبی شہزادہ دنیا میں غربت اور مسکینی سے آیا اور غربت اور مسکینی اور حلم کا دنیا کو نمونہ دکھلایا۔ اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ اس کے نمونہ پر مجھے بھی جو امیری اور حکومت کے خاندان سے ہوں اور ظاہری طور پر بھی اس شہزادہ نبی اللہ کے حالات سے مشابہت رکھتا ہوں۔ ان لوگوں میں کھڑا کرے جو ملکوتی اخلاق سے بہت دُور جا پڑے ہیں۔ سو اس نمونہ پر میرے لئے خدا نے یہی چاہا ہے کہ مَیں غربت اور مسکینی سے دنیا میں رہوں۔ خدا کے کلام میں قدیم سے وعدہ تھا کہ ایسا انسان دنیا میں پیدا ہو۔ اسی لحاظ سے خدا نے میرا نام مسیح موعود رکھا۔ یعنی ایک شخص جو عیسیٰ مسیح کے اخلاق کے ساتھ ہم رنگ ہے۔ (کشف الغطاء۔ روحانی خزائن جلد۱۴صفحہ ۱۹۲)
مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔ مَیں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور مَیں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔ (کشتیٔ نوح۔ روحانی خزائن جلد۱۹صفحہ۶۱)
اِس عاجز پر ظاہر کیا گیاہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے۔ اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں اور بحدی اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی باریک امتیاز ہے اور نیز ظاہری طور پر بھی ایک مشابہت ہے اور وہ یوں کہ مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی یعنی موسیٰ کا تابع اور خادم دین تھا۔ اور اس کی انجیل توریت کی فرع ہے۔ اور یہ عاجز بھی اس جلیل الشان نبی کے احقر خادمین میں سے ہے کہ جو سیّد الرسل اور سب رسولوں کا سرتاج ہے۔ اگر وہ حامد ہیں تو وہ احمد ہے۔ اگر وہ محمود ہیں تو وہ محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد۱ صفحہ۵۹۳، ۵۹۴حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳)
عیسائیوں نے شور مچا رکھا تھا کہ مسیح بھی اپنے قرب اور وجاہت کے رُو سے واحد لاشریک ہے۔ اب خدا بتلاتا ہے کہ دیکھو مَیں اس کا ثانی پیدا کروں گا جو اس سے بھی بہتر ہے جو غلام احمد ہے یعنی احمد کا غلام۔
زندگی بخش جامِ احمد ہے
کیا ہی پیارا یہ نامِ احمد ہے
لاکھ ہوں انبیاء مگر بخدا
سب سے بڑھ کر مقامِ احمد ہے
باغِ احمد سے ہم نے پھل کھایا
میرا بستاں کلامِ احمد ہے
ابنِ مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلامِ احمد ہے
آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا۔ اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگردنہیں ہو گا۔ سو مَیں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ مَیں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے یا کسی مفسّر یا محدّث کی شاگردی اختیار کی ہے۔ پس یہی مہدویّت ہے جو نبوتِ محمدیہ کے منہاج پر مجھے حاصل ہوئی ہے اور اسرار دین بلاواسطہ میرے پر کھولے گئے۔ (ایّام الصلح۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۳۹۴)
سوال: - مسیح ابن مریم نے تو بہت سے معجزات سے اپنے من جانب اللہ ہونے کا ثبوت دیا تھا۔ آپ نے کیا ثبوت دیا۔ کیا کوئی مُردہ زندہ کر دیا یا کوئی مادر زاد اندھا آپ سے اچھا ہوا۔ اگر ہم فرض بھی کر لیں کہ آپ مثیلِ مسیح ہیں تو ہمیں آپ کے وجود سے کیا فائدہ ہوا؟
امّاالجواب: - پس واضح ہو کہ انجیل کو پڑھ کر دیکھ لو کہ یہی اعتراض ہمیشہ مسیح پر رہا کہ اُس نے کوئی معجزہ تو دکھایا ہی نہیں یہ کیسا مسیح ہے کیونکہ ایسا مُردہ تو کوئی زندہ نہ ہوا کہ وہ بولتا اور اُس جہان کا سب حال سُناتا اور اپنے وارثوں کو نصیحت کرتا کہ مَیں تو دوزخ میں سے آیا ہوں۔ تم جلد ایمان لے آؤ۔ اگر مسیح صاف طور پر یہودیوں کے باپ دادے زندہ کر کے دکھا دیتا اور ان سے گواہی دلواتا تو بھلا کس کو انکار کی مجال تھی۔ غرض پیغمبروں نے نشان تو دکھائے مگر پھر بھی بے ایمانوں سے مخفی رہے۔ ایسا ہی یہ عاجز بھی خالی نہیں آیا بلکہ مُردوں کے زندہ ہونے کے لئے بہت سا آب حیات خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کو بھی دیا ہے۔ بے شک جو شخص اِس میں سے پئے گا زندہ ہو جائے گا۔ بلاشبہ مَیں اقرار کرتا ہوں کہ اگر میرے کلام سے مُردے زندہ نہ ہوں اور اندھے آنکھیں نہ کھولیں اور مجذوم صاف نہ ہوں تو مَیں خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں آیا کیونکہ خدائے تعالیٰ نے آپ اپنے پاک کلام میں میری طرف اشارہ کر کے فرمایا ہے۔
نبی ناصری کے نمونہ پر اگر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ وہ بندگانِ خدا کو بہت صاف کر رہا ہے اس سے زیادہ کہ کبھی جسمانی بیماریوں کو صاف کیا گیا ہو۔
یقینا سمجھو کہ روحانی حیات کا تخم ایک رائی کے بیج کی طرح بویا گیا ہے مگر قریب ہے ہاں بہت قریب ہے کہ ایک بڑا درخت ہو کر نظر آئے گا۔ جسمانی خیالات کا انسان جسمانی باتوں کو پسند کرتا ہے اور اُن کو بڑی چیز سمجھتا ہے مگر جس کو کچھ روحانیت کا حصہ دیا گیا ہے وہ رُوحانی زندگی کا طالب ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ کے راستباز بندے دنیا میں اس لئے نہیں آتے کہ لوگوں کو تماشے دکھلائیں بلکہ اصل مطلب اُن کا جذب الی اللہ ہوتا ہے اور آخرکار وہ اسی قوتِ قدسیہ کی وجہ سے شناخت کئے جاتے ہیں۔ وہ نور جو اُن کے اندر قوتِ جذب رکھتا ہے اگرچہ کوئی شخص امتحان کے طور سے اس کو دیکھ نہیں سکتا بلکہ ٹھوکر کھاتا ہے مگر وہ نور آپ ہی ایک ایسی جماعت کو اپنی طرف کھینچ کر جو کھینچے جانے کے لائق ہے۔ اپنا خارق عادت اثر ظاہر کر دیتا ہے۔
(۱) خدائے تعالیٰ کے خالص دوستوں کی یہ علامتیں ہیں کہ ایک خالص محبت اُن کو عطا کی جاتی ہے جس کا اندازہ کرنا اس جہان کے لوگوں کا کام نہیں۔
(۲) ان کے دلوں پر ایک خوف بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ دقائق اطاعت کی رعایت رکھتے ہیں ایسا نہ ہو کہ یارِ قدیم آزردہ ہو جائے۔
(۳) اُن کو خارق عادت استقامت دی جاتی ہے کہ اپنے وقت پر دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہے۔
(۴) جب ان کو کوئی بہت ستاتا ہے اور باز نہیں آتا تو اُن کے لئے غضب اس ذاتِ قوی کا جو اُن کا متولّی ہے یک دفعہ بھڑکتا ہے۔
(۵) جب ان سے کوئی بہت دوستی کرتا ہے اور سچی وفاداری اور اخلاص کے ساتھ اُن کی راہ میں فدا ہو جاتا ہے تو خدائے تعالیٰ اس کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس پر ایک خاص رحمت نازل کرتا ہے۔
(۶) اُن کی دعائیں بہ نسبت اَوروں کے بہت زیادہ قبول ہوتی ہیں یہاں تک کہ وہ شمار نہیں کر سکتے کہ کس قدر قبول ہوئیں۔
(۷) اُن پر اکثر اسرار غیب ظاہر کئے جاتے ہیں اور وہ باتیں جو ابھی ظہور میں نہیں آئیں اُن پر کھولی جاتی ہیں۔ اگرچہ اور مومنوں کو بھی سچی خوابیں اور سچے مکاشفات معلوم ہو جاتے ہیں مگر یہ لوگ تمام دنیا سے نمبر اوّل پر ہوتے ہیں۔
(۸) خدائے تعالیٰ خاص طور پر ان کا متولّی ہو جاتا ہے اور جس طرح اپنے بچوں کی کوئی پرورش کرتا ہے اس سے بھی زیادہ نگاہِ رحمت ان پر رکھتا ہے۔
(۹) جب ان پر کوئی بڑی مصیبت کا وقت آتا ہے تو اس وقت دو طور میں سے ایک طور کا اُن سے معاملہ ہوتا ہے یا خارق عادت طور پر اس مصیبت سے رہائی دی جاتی ہے اور یا ایک ایسا صبر جمیل عطا کیا جاتا ہے جس میں لذّت اور سرور اور ذوق ہو۔
(۱۰) ان کی اخلاقی حالت ایک ایسے اعلیٰ درجہ کی کی جاتی ہے جو تکبّر اور نخوت اور کمینگی اور خودپسندی اور ریاکاری اور حسد اور بخل اور تنگ دلی سب دور کی جاتی ہے اور انشراح صدر اور بشاشت عطا کی جاتی ہے۔
(۱۱) ان کی توکّل نہایت اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے اور اس کے ثمرات ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔
(۱۲) ان کو اُن اعمال صالحہ کے بجا لانے کی قوت دی جاتی ہے جو دوسرے اُن میں کمزور ہوتے ہیں۔
(۱۳) ان میں ہمدردی خلق اللہ کا مادہ بہت بڑھایا جاتا ہے اور بغیر توقع کسی اجر اور بغیر خیال کسی ثواب کے انتہائی درجہ کا جوش اُن میں خلق اللہ کی بھلائی کے لئے ہوتا ہے۔ اور خود بھی نہیں سمجھ سکتے کہ اس قدر جوش کس غرض سے ہے کیونکہ یہ امر فطرتی ہوتا ہے۔
(۱۴) خدائے تعالیٰ کے ساتھ ان لوگوں کو نہایت کامل وفاداری کا تعلق ہوتا ہے اور ایک عجیب مستی جانفشانی کی اُن کے اندر ہوتی ہے۔ اور اُن کی رُوح کو خدا ئے تعالیٰ کی روح کے ساتھ وفاداری کا ایک راز ہوتا ہے جس کو کوئی بیان نہیں کر سکا۔ اس لئے حضرت ِ احدیّت میں اُن کا ایک مرتبہ ہوتا ہے جس کو خلقت نہیں پہچانتی۔ وہ چیز جو خاص طور پر اُن میں زیادہ ہے اور جو سرچشمہ تمام برکات کا ہے اور جس کی وجہ سے یہ ڈوبتے ہوئے پھر نکل آتے ہیں اور موت تک پہنچ کر پھر زندہ ہو جاتے ہیں اور ذلتیں اوٹھا کر پھر تاجِ عزت دکھا دیتے ہیں اور مہجور اور اکیلے ہو کر پھر ناگہاں ایک جماعت کے ساتھ نظر آتے ہیں وہ یہی راز وفاداری ہے جس کے رشتہ محکم کو نہ تلواریں قطع کر سکتی ہیں اور نہ دنیا کا کوئی بلوہ اور خوف اور مفسدہ اس کو ڈھیلا کر سکتا ہے۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْھِمْ مِّنَ اللّٰہِ وَ مَلَآ ئِکَتِہٖ وَ مِنَ الصُّلَحَآئِ اَجْمَعِیْن۔
(۱۵) پندرھویں علامت اُن کی علمِ قرآن کریم ہے۔ قرآن کریم کے معارف اور حقائق و لطائف جس قدر ان لوگوں کو دیئے جاتے ہیں دوسرے لوگوں کو ہرگز نہیں دیئے جاتے۔ یہ لوگ وہی مطہّرون ہیں جن کے حق میں اللہ جلّشانہٗ فرماتا ہے۔ لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ
(۱۶) ان کی تقریر و تحریر میں اللہ جلّشانہٗ ایک تاثیر رکھ دیتا ہے جو علماء ظاہری کی تحریروں و تقریروں سے نرالی ہوتی ہے اور اس میں ایک ہیبت اور عظمت پائی جاتی ہے۔ اور بشرطیکہ حجاب نہ ہو دلوں کو پکڑ لیتی ہے۔
(۱۷) ان میں ایک ہیبت بھی ہوتی ہے جو خدائے تعالیٰ کی ہیبت سے رنگین ہوتی ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ ایک خاص طور پر اُن کے ساتھ ہوتا ہے اور اُن کے چہروں پر عشقِ الٰہی کا ایک نور ہوتا ہے۔ جو شخص اُس کو دیکھ لے اُس پر نارِ جہنم حرام کی جاتی ہے۔ اُن سے ذنب اور خطا بھی صادر ہو سکتا ہے مگر اُن کے دلوں میں ایک آگ ہوتی ہے جو ذنب اور خطا کو بھسم کر دیتی ہے۔ اور اُن کا خطا ٹھہرنے والی چیز نہیں بلکہ اس چیز کی مانند ہے جو ایک تیز چلنے والے پانی میں بہتی ہوئی چلی جاتی ہے۔ سو ان کا نکتہ چین ہمیشہ ٹھوکر کھاتا ہے۔
(۱۸) خدا ئے تعالیٰ ان کو ضائع نہیں کرتا اور ذلّت اور خواری کی مار اُن پر نہیں مارتا۔ کیونکہ وہ اس کے عزیز اور اس کے ہاتھ کے پودے ہیں۔ اُن کو اس لئے بلندی سے نہیں گراتا کہ تا ہلاک کرے بلکہ اس لئے گراتا ہے کہ تا اُن کا خارق عادت طور پر بچ جانا دکھاوے۔ اُن کو اس لئے آگ میں دھکا نہیں دیتا تا اُن کو جلا کر خاکستر کر دیوے بلکہ اس لئے دھکا دیتا ہے تا لوگ دیکھ لیویں کہ پہلے تو آگ تھی مگر اب کیسا خوشنما گلزار ہے۔
(۱۹) اُن کو موت نہیں دیتا جب تک کہ وہ کام پورا نہ ہو جائے جس کے لئے وہ بھیجے گئے ہیں اور جب تک پاک دلوں میں اُن کی قبولیت نہ پھیل جائے تب تک البتہ سفر آخرت اُن کو پیش نہیں آتا۔
(۲۰) ان کے آثارِ خیر باقی رکھے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کئی پشتوں تک اُن کی اولاد اور اُن کے جانی دوستوں کی اولاد پرخاص طور پر نظر رحمت رکھتا ہے اور ان کا نام دنیا سے نہیں مٹاتا۔
یہ آثار اولیاء الرحمن ہیں۔ اور ہر یک قسم اُن میں سے اپنے وقت پر جب ظاہر ہوتی ہے تو بھاری کرامت کی طرح جلوہ دکھاتی ہے۔ مگر اس کا ظاہر کرنا خدائے تعالیٰ کے ہی اختیار میں ہوتا ہے۔
اب یہ عاجز بحکم وَاَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ ا س بات کے اظہار میں کچھ مضائقہ نہیں دیکھتا کہ خدا وند کریم و رحیم نے محض فضل و کرم سے ان تمام امور سے اس عاجز کو حصہ وافرہ دیا ہے اور اس ناکارہ کو خالی ہاتھ نہیں بھیجا اور نہ بغیر نشانوں کے مامور کیا بلکہ یہ تمام نشان دیئے ہیں جو ظاہر ہو رہے ہیں اور ہوں گے اور خدائے تعالیٰ جب تک کھلے طور پر حجت قائم نہ کر لے تب تک ان نشانوں کو ظاہر کرتا جائے گا اور یہ جو کہا کہ تمہارے وجود سے ہمیں کیا فائدہ، تو اس کے جواب میں یاد رکھنا چاہئے کہ جو شخص مامور ہو کر آسمان سے آتا ہے اس کے وجود سے علیٰ حسب مراتب سب کو بلکہ تمام دنیا کو فائدہ ہوتا ہے اور درحقیقت وہ ایک روحانی آفتاب نکلتا ہے جس کی کم و بیش دُور دُ ور تک روشنی پہنچتی ہے اور جیسی آفتاب کی مختلف تاثیریں حیوانات و نباتات و جمادات اور ہر یک قسم کے جسم پر پڑ رہی ہیں اور بہت کم لوگ ہیں جو ان تاثیروں پر باستیفا علم رکھتے ہیں۔ اسی طرح وہ شخص جو مامور ہو کر آتا ہے تمام طبائع اور اطراف اکنافِ عالم پر اس کی تاثیریں پڑتی ہیں اور جب ہی سے کہ اس کا پُر رحمت تعیّن آسمان پر ظاہر ہوتا ہے آفتاب کی کرنوں کی طرح فرشتے آسمان سے نازل ہونے شروع ہوتے ہیں۔ اور دنیا کے دُور دُور کناروں تک جو لوگ راستبازی کی استعداد رکھتے ہیں۔ اُن کو سچائی کی طرف قدم اٹھانے کی قوت دیتے ہیں اور پھر خود بخودنیک نہاد لوگوں کی طبیعتیں سچ کی طرف مائل ہوتی جاتی ہیں۔ سو یہ سب اس ربّانی آدمی کی صداقت کے نشان ہوتے ہیں جس کے عہد ظہور میں آسمانی قوتیں تیز کی جاتی ہیں۔ سچی وحی کا خدائے تعالیٰ نے یہی نشان دیا ہے کہ جب وہ نازل ہوتی ہے تو ملائک بھی اس کے ساتھ ضرور اُترتے ہیں اور دنیا دن بدن راستی کی طرف پلٹا کھاتی جاتی ہے۔ سو یہ عام علامت اس مامور کی ہے جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور خاص علامتیں وہ ہیں جو ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں۔ (ازالہ اوہام حصہ دوم۔ روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۳۳۴تا ۳۳۹)
مسیح موعود کا دعویٰ اگر اپنے ساتھ ایسے لوازم رکھتا جن سے شریعت کے احکام اور عقائد پر کچھ مخالفانہ اثر پہنچتا تو بے شک ایک ہولناک بات تھی لیکن دیکھنا چاہئے کہ مَیں نے اس دعویٰ کے ساتھ کس اسلامی حقیقت کو منقلب کر دیا ہے۔ کو ن سے احکام اسلام میں سے ایک ذرّہ بھی کم یا زیادہ کر دیا ہے۔ ہاں ایک پیشگوئی کے وہ معنے کئے گئے ہیں جو خدا تعالیٰ نے اپنے وقت پر مجھ پر کھولے ہیں اور قرآن کریم ان معنوں کی صحت کے لئے گواہ ہے اور احادیثِ صحیحہ بھی ان کی شہادت دیتی ہیں پھر نہ معلوم کہ اس قدر کیوں شور و غوغا ہے!
ہاں طالب حق ایک سوال بھی اس جگہ کر سکتا ہے اور وہ یہ کہ مسیح موعود کا دعویٰ تسلیم کرنے کے لئے کون سے قرائن موجود ہیں کیونکہ کسی مدعی کی صداقت ماننے کے لئے قرائن تو چاہئے خصوصًا آج کل کے زمانہ میں جو مکر اور فریب اور بددیانتی سے بھرا ہوا ہے اور دعاوی باطلہ کا بازار گرم ہے۔
اس سوال کے جواب میں مجھے یہ کہنا کافی ہے کہ مندرجہ ذیل امور طالبِ حق کے لئے بطور علامات اور قرائن کے ہیں۔
(۱) اوّل وہ پیشگوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تواتر معنوی تک پہنچ گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ہر یک صدی کے سر پر وہ ایسے شخص کو مبعوث کرے گا جو دین کو پھر تازہ کر دے گا اور اس کی کمزوریوں کو دُور کرکے پھر اپنی اصلی طاقت اور قوت پر اس کو لے آوے گا اس پیشگوئی کی روسے ضرور تھا کہ کوئی شخص اس چودھویں صدی پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوتا اور موجود خرابیوں کی اصلاح کے لئے پیش قدمی دکھلاتا۔ سو یہ عاجز عین وقت پر مامور ہوا۔ اس سے پہلے صد ہا اولیا نے اپنے الہام سے گواہی دی تھی کہ چودھویں صدی کا مجدّد مسیح موعود ہو گا اور احادیث صحیحہ نبویہ پُکار پُکار کہتی ہیں کہ تیرھویں صدی کے بعد ظہور مسیح ہے۔ پس کیا اس عاجز کا یہ دعویٰ اس وقت عین اپنے محل اور اپنے وقت پر نہیں ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ فرمودہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم خطا جاوے۔ مَیں نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ اگر فرض کیا جاوے کہ چودھویں صدی کے سر پر مسیح موعود پیدا نہیں ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی پیشگوئیاں خطا جاتی ہیں اور صد ہا بزرگوار صاحب الہام جھوٹے ٹھہرتے ہیں۔
(۲) اس بات کو بھی سوچنا چاہئے کہ جب علماء سے یہ سوال کیا جائے کہ چودھویں صدی کا مجدّد ہونے کے لئے بجز اس احقر کے اور کس نے دعویٰ کیا ہے اور کس نے منجانب اللہ آنے کی خبر دی ہے اور ملہم ہونے اور مامور ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو اس کے جواب میں وہ بالکل خاموش ہیں اور کسی شخص کو پیش نہیں کر سکتے جس نے ایسا دعویٰ کیا ہو………
(۳) تیسری علامت اس عاجز کے صدق کی یہ ہے کہ بعض اہل اللہ نے اس عاجز سے بہت سے سال پہلے اس عاجز کے آنے کی خبر دی ہے یہاں تک کہ نام اور سکونت اور عمر کا حال بتصریح بتلایا ہے۔ جیسا کہ نشان آسمانی میں لکھ چکا ہوں۔
(۴) چوتھی علامت اس عاجز کے صدق کی یہ ہے کہ اِس عاجز نے بارہ ہزار کے قریب خط اور اشتہار الہامی برکات کے مقابلہ کے لئے مذاہب غیر کی طرف روانہ کئے بالخصوص پادریوں میں سے شاید ایک بھی نامی پادری یورپ اور امریکہ اور ہندوستان میں باقی نہیں رہا ہو گا جس کی طرف خط رجسٹری کر کے نہ بھیجا ہو مگر سب پر حق کا رعب چھا گیا۔ اب جو ہماری قوم کے ملّا مولوی لوگ اس دعوت میں نکتہ چینی کرتے ہیں درحقیقت یہ ان کی دروغ گوئی اور نجاست خواری ہے۔ مجھے یہ قطعی طور پر بشارت دی گئی ہے کہ اگر کوئی مخالف دین میرے سامنے مقابلہ کے لئے آئے گا تو مَیں اس پر غالب ہوں گا اور وہ ذلیل ہو گا۔ …
(۵) پانچویں علامت اس عاجز کے صدق کی یہ ہے کہ مجھے اطلاع دی گئی ہے کہ مَیں ان مسلمانوں پر بھی اپنے کشفی اور الہامی علوم میں غالب ہوں۔ ان کے ملہموں کو چاہئے کہ میرے مقابل پر آویں پھر اگر تائید الٰہی میں اور فیض سماوی میں اور آسمانی نشانوں میں مجھ پر غالب ہو جائیں تو جس کا رد سے چاہیں مجھ کو ذبح کر دیں مجھے منظور ہے۔ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد۵ صفحہ ۳۴۰تا۳۴۸)
مَیں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ جو نیچر اور صحیفۂ قدرت کے پیرو بننا چاہتے ہوں اُن کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ نہایت عمدہ موقع دیا ہے کہ وہ میرے دعوے کو قبول کریں کیونکہ وہ لوگ ان مشکلات میں گرفتار نہیں ہیں جن میں ہمارے دوسرے مخالف گرفتار ہیں۔ کیونکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے اور پھر ساتھ اس کے انہیں یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ مسیح موعود کی نسبت جو پیشگوئی احادیث میں موجود ہے وہ ان متواترات میں سے ہے جن سے انکار کرنا کسی عقلمند کا کام نہیں۔ پس اس صورت میں یہ بات ضروری طور پر انہیں قبول کرنی پڑتی ہے کہ آنے والا مسیح اِسی اُمت میں سے ہو گا۔ البتہ یہ سوال کرنا ان کا حق ہے کہ ہم کیونکر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا قبول کریں؟ اور اس پر دلیل کیا ہے کہ وہ مسیح موعود تم ہی ہو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس زمانہ اور جس ملک اور جس قصبہ میں مسیح موعود کا ظاہر ہونا قرآن شریف اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے اور جن افعال خاصہ کو مسیح کے وجود کی علّتِ غائی ٹھہرایا گیا ہے اور جن حوادثِ ارضی اور سماوی کو مسیح موعود کے ظاہر ہونے کی علامات بیان فرمایا گیا ہے اور جن علوم اور معارف کو مسیح موعود کا خاصہ ٹھہرایا گیا ہے وہ سب باتیں اللہ تعالیٰ نے مجھ میں اور میرے زمانہ میں اور میرے ملک میں جمع کر دی ہیں اور پھر زیادہ تر اطمینان کے لئے آسمانی تائیدات میرے شامل حال کی ہیں۔
چوں مرا حکم از پئے قومِ مسیحی دادہ اند
مصلحت را ابنِ مریم نامِ من بنہادہ اند
آسماں باردنشاں الوقت مے گوید زمیں
ایں دو شاہد از پئے تصدیق من استادہ اند5
اب تفصیل اس کی یہ ہے کہ اشارات نص قرآنی سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مثیلِ
موسیٰ
ہیں اور
آپ کا سِلسلۂ خلافت حضرت موسیٰ کے سِلسلۂ خلافت سے بالکل مشابہ ہے اور جس طرح حضرت موسیٰ کو وعدہ
دیا
گیا تھا
کہ آخری زمانہ میں یعنی جبکہ سِلسلہ اسرائیلی نبوت کا انتہا تک پہونچ جائے گا اور بنی اسرائیل کئی
فرقے
ہو جائیں
گے۔ اور ایک دوسرے کی تکذیب کرے گا۔ یہاں تک کہ بعض بعض کو کافر کہیں گے تب اللہ تعالیٰ ایک خلیفہ
حامی
دین
موسیٰ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کرے گا اور وہ بنی اسرائیل کی مختلف بھیڑوں کو اپنے پاس
اکٹھی کرے گا
اور بھیڑیئے اور بکری کو ایک جگہ جمع کر دے گا۔ اور سب قوموں کے لئے ایک حَکَم بن کر اندرونی اختلاف
کو
درمیان
سے اُٹھا دے گا اور بغض اور کینوں کو دُور کر دے گا۔
یہی وعدہ قرآن میں بھی دیا گیا تھا جس کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ (الجمعۃ: ۴) اور حدیثوں میں اِس کی بہت تفصیل ہے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ یہ امت بھی اسی قدر فرقے ہو جائیں گے جس قدر کہ یہود کے فرقے ہوئے تھے اور ایک دوسرے کی تکذیب اور تکفیر کرے گا اور یہ سب لوگ عناد اور بغض باہمی میں ترقی کریں گے۔ اس وقت تک کہ مسیح موعود حَکَم ہو کر دنیا میں آوے اور جب وہ حَکَم ہو کر آئے گا تو بغض اور شحناء کو دُور کر دے گا اور اُس کے زمانہ میں بھیڑیا اور بکری ایک جگہ جمع ہو جائیں گے۔ چنانچہ یہ بات تمام تاریخ جاننے والوں کو معلوم ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے ہی وقت میں آئے تھے کہ جب اسرائیلی قوموں میں بڑا تفرقہ پیدا ہو گیا تھا اور ایک دوسرے کے مکفّر اور مکذب ہو گئے تھے۔ اسی طرح یہ عاجز بھی ایسے وقت میں آیا ہے کہ جب اندرونی اختلافات انتہا تک پہونچ گئے اور ایک فرقہ دوسرے کو کافر بنانے لگا۔ اس تفرقہ کے وقت میں اُمّتِ محمدیہ کو ایکحَکَمکی ضرورت تھی۔ سو خدا نے مجھے حَکَمکر کے بھیجا ہے۔ (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ ۲۵۴ تا ۲۵۷ حاشیہ)
میری حیثیت ایک معمولی مولوی کی حیثیت نہیں ہے بلکہ میری حیثیت سُننِ انبیاء کی سی حیثیت ہے۔ مجھے ایک سماوی آدمی مانو پھر یہ سارے جھگڑے اور تمام نزاعیں جو مسلمانوں میں پڑی ہوئی ہیں، ایک دم میں طے ہو سکتی ہیں۔ جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر حَکَم بن کر آیا ہے جو معنی قرآن شریف کے وہ کرے گا وہی صحیح ہوں گے۔ اور جس حدیث کو وہ صحیح قرار دے گا وہی صحیح حدیث ہو گی۔ (الحکم مورخہ ۱۷؍ نومبر ۱۹۰۰ء صفحہ۲۔ ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۳۹۹ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
واضح ہو کہ حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ جو شخص اپنے زمانہ کے امام کو شناخت نہ کرے اُس کی موت جاہلیت کی موت ہوتی ہے ……سو بموجب اِ س نبوی وصیّت کے ضروری ہوا کہ ہر ایک حق کا طالب امام صادق کی تلاش میں لگا رہے ……… اب ایک ضروری سوال یہ ہے کہ امام الزمان کس کو کہتے ہیں اور اس کی علامات کیا ہیں اور اُس کو دوسرے ملہموں اور خواب بینوں اور اہل کشف پر ترجیح کیا ہے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ امام الزمان اُس شخص کا نام ہے کہ جس شخص کی رُوحانی تربیت کا خدا تعالیٰ متولّی ہو کر اُس کی فطرت میں ایک ایسی امامت کی روشنی رکھ دیتا ہے کہ وہ سارے جہان کے معقولیوں اور فلسفیوں سے ہر ایک رنگ میں مباحثہ کر کے ان کو مغلوب کر لیتا ہے۔ وہ ہر ایک قسم کے دقیق در دقیق اعتراضات کا خدا سے قوت پا کر ایسی عمدگی سے جواب دیتا ہے کہ آخر ماننا پڑتا ہے کہ اس کی فطرت دنیا کی اصلاح کا پورا سامان لے کر اِس مسافر خانہ میں آئی ہے۔ اس لئے اس کو کسی دشمن کے سامنے شرمندہ ہونا نہیں پڑتا۔ وہ روحانی طور پر محمدی فوجوں کا سپہ سالار ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کا ارادہ ہوتا ہے کہ اس کے ہاتھ پر دین کی دوبارہ فتح کرے اور وہ تمام لوگ جو اس کے جھنڈے کے نیچے آتے ہیں اُن کو بھی اعلیٰ درجہ کے قویٰ بخشے جاتے ہیں۔ اور وہ تمام شرائط جو اصلاح کے لئے ضروری ہوتے ہیں اور وہ تمام علوم جو اعتراضات کے اٹھانے اور اسلامی خوبیوں کے بیان کرنے کے لئے ضروری ہیں اس کو عطا کئے جاتے ہیں۔ (ضرورۃ الامام۔ روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ۴۷۲ تا۴۷۷)
یہ سوال باقی رہا کہ اس زمانہ میں امام الزمان کون ہے جس کی پیروی تمام عام مسلمانوں اور زاہدوں اور خواب بینوں اور ملہموں کو کرنی خدا تعالیٰ کی طرف سے فرض قرار دیا گیا ہے۔ سو مَیں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خداتعالیٰ کے فضل اور عنایت سے وہ امام الزمان مَیں ہوں اور مجھ میں خدا تعالیٰ نے وہ تمام علامتیں اور تمام شرطیں جمع کی ہیں اور اس صدی کے سر پر مجھے مبعوث فرمایا ہے۔ (ضرورۃ الامام۔ روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ ۴۹۵)
یاد رہے کہ امام الزمان کے لفظ میں نبی، رسول، محدّث، مجدّد سب داخل ہیں۔ مگر جو لوگ ارشاد اور ہدایت خلق اللہ کے لئے مامور نہیں ہوئے اور نہ وہ کمالات اُن کو دیئے گئے وہ گو ولی ہوں یا ابدال ہوں امام الزمان نہیں کہلاسکتے۔ (ضرورۃ الامام۔ روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ ۴۹۵)
چونکہ یہ عاجز راستی اور سچائی کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے اس لئے تم صداقت کے نشان ہر ایک طرف سے پاؤ گے۔ وہ وقت دُور نہیں بلکہ بہت قریب ہے کہ جب تم فرشتوں کی فوجیں آسمان سے اُترتی اور ایشیا اور یورپ اور امریکہ کے دلوں پر نازل ہوتی دیکھو گے۔ یہ تم قرآن شریف سے معلوم کر چکے ہو کہ خلیفۃ اللہ کے نزول کے ساتھ فرشتوں کا نازل ہونا ضروری ہے تا دلوں کو حق کی طرف پھیریں۔ سو تم اس نشان کے منتظر رہو۔ اگر فرشتوں کا نزول نہ ہوا اور ان کے اُترنے کی نمایاں تاثیریں تم نے دنیا میں نہ دیکھیں اور حق کی طرف دلوں کی جنبش کو معمول سے زیادہ نہ پایا تو تم نے یہ سمجھنا کہ آسمان سے کوئی نازل نہیں ہوا۔ لیکن اگر یہ سب باتیں ظہور میں آ گئیں تو تم انکار سے باز آؤ تا تم خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک سرکش قوم نہ ٹھہرو۔ (فتح اسلام۔ روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۱۳، ۱۴حاشیہ)
پس مَیں جبکہ اِس مدت تک ڈیڑھ سو پیشگوئی کے قریب خدا کی طرف سے پاکر بچشمِ خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہو گئیں تو مَیں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں اور جبکہ خدا تعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو مَیں کیونکر ردّ کردوں یا کیونکر اُس کے سوا کسی دوسرے سے ڈروں۔ مجھے اس خدا کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افترا کرنا لعنتیوں کا کام ہے کہ اُس نے مسیح موعود بنا کر مجھے بھیجا ہے۔ اور مَیں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرّہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی۔ جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور مَیں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔ میرے لئے زمین نے بھی گواہی دی اور آسمان نے بھی۔ اِس طرح پر میرے لئے آسمان بھی بولا اور زمین بھی کہ مَیں خلیفۃ اللہ ہوں مگر پیشگوئیوں کے مطابق ضرور تھا کہ انکار بھی کیا جاتا۔ اس لئے جن کے دلوں پر پردے ہیں وہ قبول نہیں کرتے۔ مَیں جانتا ہوں کہ ضرورخدا میری تائید کرے گا جیسا کہ وہ ہمیشہ اپنے رسولوں کی تائید کرتا رہا ہے۔ کوئی نہیں کہ میرے مقابل پر ٹھہر سکے۔ (ایک غلطی کا ازالہ۔ روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ۲۱۰)
چونکہ مَیں ایک ایسے نبی کا تابع ہوں جو انسانیت کے تمام کمالات کا جامع تھا اور اُس کی شریعت اکمل اور اتم تھی اور تمام دنیا کی اصلاح کے لئے تھی اس لئے مجھے وہ قوتیں عنایت کی گئیں جو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے ضروری تھیں تو پھر اس امر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا کی عنایت نے مجھے انجام دینے کی قوت دی۔ وھٰذا تحدیث نعمۃ اللّٰہ و لافخر۔ جیسا کہ ظاہر ہے کہ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ آتے تو اس کام کو انجام نہ دے سکتے اور اگر قرآن شریف کی جگہ توریت نازل ہوتی تو اس کام کو ہرگز انجام نہ دے سکتی جو قرآن شریف نے دیا۔ انسانی مراتب پردۂ غیب میں ہیں۔ اس بات میں بگڑنا اور مُنہ بنانا اچھا نہیں۔ کیا جس قادر مطلق نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کیا وہ ایسا ہی ایک اور انسان یا اس سے بہتر پیدا نہیں کر سکتا؟ اگر قرآن شریف کی کسی آیت سے ثابت ہوتا ہے تو وہ آیت پیش کرنی چاہئے۔ سخت مردود وہ شخص ہو گا جو قرآنی آیت سے انکار کرے۔ ورنہ مَیں اس پاک وحی کے مخالف کیونکر خلاف واقعہ کہہ سکتا ہوں جو قریباً تئیس برس سے مجھ کو تسلّی دے رہی ہے اور ہزار ہا خدا کی گواہیاں اور فوق العادت نشان اپنے ساتھ رکھتی ہے۔ خداتعالیٰ کے کام مصلحت اور حکمت سے خالی نہیں۔ اُس نے دیکھا کہ ایک شخص کو محض بے وجہ خدا بنایا گیا ہے جس کی چالیس کروڑ آدمی پرستش کر رہے ہیں۔ تب اُس نے مجھے ایسے زمانہ میں بھیجا کہ جب اس عقیدہ پر غلو انتہا تک پہنچ گیا تھا۔ اور تمام نبیوں کے نام میرے نام رکھے مگر مسیح ابن مریم کے نام سے خاص طور پر مجھے مخصوص کر کے وہ میرے پر رحمت اور عنایت کی گئی جو اس پر نہیں کی گئی تا لوگ سمجھیں کہ فضل خدا کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اگر مَیں اپنی طرف سے یہ باتیں کرتا ہوں تو جھوٹا ہوں لیکن اگر خدا میری نسبت اپنے نشانوں کے ساتھ گواہی دیتا ہے۔ تو میری تکذیب تقویٰ کے برخلاف ہے۔ (حقیقۃ الوحی حصہ اوّل۔ روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۱۵۷، ۱۵۸)
خدا تعالیٰ کے الہام اور وحی سے میں کہتا ہوں کہ وہ جو آنے والا تھا وہ میں ہوں۔ قدیم سے خدا تعالیٰ نے منہاج نبوت پر جو طریق ثبوت کا رکھا ہوا ہے وہ مجھ سے جس کا جی چاہے لے لے۔ (الحکم مورخہ ۲۱؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ۲ کالم نمبر۳۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ ۳۸۳ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مَیں اپنے خدائے پاک کے یقینی اور قطعی مکالمہ سے مشرف ہوں اور قریباً ہر روز مشرف ہوتا ہوں اور وہ خدا جس کو یسوع مسیح کہتا ہے کہ تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ اُس نے مجھے نہیں چھوڑا اور مسیحؑ کی طرح میرے پر بھی بہت حملے ہوئے مگر ہر ایک حملہ میں دشمن ناکام رہے۔ اور مجھے پھانسی دینے کے لئے منصوبہ کیا گیا مگر میں مسیح کی طرح صلیب پر نہیں چڑھا بلکہ ہر ایک بلا کے وقت میرے خدا نے مجھے بچایا اور میرے لئے اس نے بڑے بڑے معجزات دکھلائے اور بڑے بڑے قوی ہاتھ دکھلائے۔ اور ہزار ہا نشانوں سے اُس نے مجھ پر ثابت کر دیا کہ خدا وہی خدا ہے جس نے قرآن کو نازل کیا اور جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔ اور مَیں عیسیٰ مسیح کو ہرگز ان امور میں اپنے پر کوئی زیادت نہیں دیکھتا یعنی جیسے اُس پر خدا کا کلام نازل ہوا ایسا ہی مجھ پر بھی ہوا اور جیسے اُس کی نسبت معجزات منسوب کئے جاتے ہیں مَیں یقینی طور پر اُن معجزات کا مصداق اپنے نفس کو دیکھتا ہوں بلکہ اُن سے زیادہ اور یہ تمام شرف مجھے صرف ایک نبی کی پیروی سے ملا ہے جس کے مدارج اور مراتب سے دنیا بے خبر ہے یعنی سیدنا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔ یہ عجیب ظلم ہے کہ جاہل اور نادان لوگ کہتے ہیں کہ عیسیٰ آسمان پر زندہ ہے حالانکہ زندہ ہونے کے علامات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں پاتا ہوں۔ وہ خدا جس کو دنیا نہیں جانتی ہم نے اس خدا کو اس کے نبی کے ذریعہ سے دیکھ لیا اور وہ وحی الٰہی کا دروازہ جو دوسری قوموں پر بند ہے ہمارے پر محض اس نبی کی برکت سے کھولا گیا اور وہ معجزات جو غیر قومیں صرف قصّوں اور کہانیوں کے طور پر بیان کرتی ہیں ہم نے اس نبیؐ کے ذریعہ سے وہ معجزات بھی دیکھ لئے اور ہم نے اس نبیؐ کا وہ مرتبہ پایا جس کے آگے کوئی مرتبہ نہیں۔ مگر تعجب کہ دنیا اس سے بے خبر ہے۔ مجھے کہتے ہیں کہ مسیح موعود ہونے کا کیوں دعویٰ کیا مگر مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس نبیؐ کی کامل پیروی سے ایک شخص عیسیٰ سے بڑ ھ کر بھی ہو سکتا ہے۔ اندھے کہتے ہیں یہ کفر ہے۔ مَیں کہتا ہوں کہ تم خود ایمان سے بے نصیب ہو۔ پھر کیا جانتے ہو کہ کفر کیا چیز ہے۔ کفر خود تمہارے اندر ہے۔ اگر تم جانتے کہ اس آیت کے کیا معنے ہیں کہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ تو ایسا کفر مُنہ پر نہ لاتے۔ خدا تو تمہیں یہ ترغیب دیتا ہے کہ تم اس رسولؐ کی کامل پیروی کی برکت سے تمام رسولوں کے متفرق کمالات اپنے اندر جمع کر سکتے ہو۔ اور تم صرف ایک نبی کے کمالات حاصل کرنا کفر جانتے ہو۔ (چشمۂ مسیحی۔ روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ ۳۵۳ تا ۳۵۵)
مَیں اُسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جیسا کہ اُس نے ابراہیمؑ سے مکالمہ مخاطبہ کیا اور پھر اسحاقؑ سے اور اسمٰعیلؑ سے اور یعقوبؑ سے اور یوسفؑ سے اور موسیٰ ؑ سے اور مسیحؑ ابن مریم سے اور سب کے بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہمکلام ہوا کہ آپ پر سب سے زیادہ روشن اور پاک وحی نازل کی ایسا ہی اُس نے مجھے بھی اپنے مکالمہ مخاطبہ کا شرف بخشا۔ مگر یہ شرف مجھے محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے حاصل ہوا اگر مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی میں کبھی یہ شرف مکالمہ مخاطبہ ہرگز نہ پاتا کیونکہ اب بجز ّمحمدؐ ی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔ شریعت والا نبی کوئی نہیں آ سکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے مگر وہی جو پہلے اُمّتی ہو۔ پس اِسی بنا پر مَیں اُمّتی بھی ہوں اور نبی بھی۔ اور میری نبوت یعنی مکالمہ مخاطبہ الہٰیّہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ایک ظلّ ہے اور بجز اس کے میری نبوت کچھ بھی نہیں۔ وہی نبوتِ محمدؐ یہ ہے جو مجھ میں ظاہر ہوئی ہے۔ (تجلّیاتِ الٰہیہ۔ روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ ۴۱۱، ۴۱۲)
مَیں نے بار بار بیان کر دیا ہے کہ یہ کلام جو مَیں سناتا ہوں یہ قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام ہے جیسا کہ قرآن اور توریت خدا کا کلام ہے اور مَیں خدا کا ظلّی اور بروزی طور پر نبی ہوں اور ہر ایک مسلمان کو دینی امور میں میری اطاعت واجب ہے اور مسیح موعود ماننا واجب ہے اور ہر ایک جس کو میری تبلیغ پہنچ گئی ہے گو وہ مسلمان ہے مگر مجھے اپنا حَکَم نہیں ٹھہراتا اور نہ مجھے مسیح موعود مانتا ہے اور نہ میری وحی کو خدا کی طرف سے جانتا ہے وہ آسمان پر قابلِ مواخذہ ہے کیونکہ جس امر کو اس نے اپنے وقت پر قبول کرنا تھا اُس کو ردّ کر دیا۔ میں صرف یہ نہیں کہتا کہ مَیں اگر جھوٹا ہوتا تو ہلاک کیا جاتا بلکہ مَیں یہ بھی کہتا ہوں کہ موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ اور داؤدؑ اور آنحضرت صلعم کی طرح مَیں سچا ہوں اور میری تصدیق کے لئے خدا نے دس۱۰ ہزار سے بھی زیادہ نشان دکھلائے ہیں۔ قرآن نے میری گواہی دی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گواہی دی ہے۔ (تحفۃ الندوۃ۔ روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ۹۵، ۹۶)
چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے اور آپ خاتم الانبیاء ہیں اس لئے خدا نے یہ نہ چاہا کہ وحدت اقوامی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی کمال تک پہنچ جائے کیونکہ یہ صورت آپ کے زمانہ کے خاتمہ پر دلالت کرتی تھی یعنی شبہ گذرتا تھا کہ آپ کا زمانہ وہیں تک ختم ہو گیا۔ کیونکہ جو آخری کام آپ کا تھا وہ اسی زمانہ میں انجام تک پہنچ گیا۔ اس لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہو جائیں۔ زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈال دی جو قرب قیامت کا زمانہ ہے۔ اور اس تکمیل کے لئے اسی اُمّت میں سے ایک نائب مقرر کیا جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے۔ اور اسی کا نام خاتم الخلفاء ہے پس زمانہ محمدی کے سر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اُس کے آخر میں مسیح موعود ہے۔ اور ضرور تھا کہ یہ سِلسلہ دنیا کا منقطع نہ ہو جب تک کہ وہ پیدا نہ ہو لے کیونکہ وحدت اقوامی کی خدمت اِسی نائب النّبوت کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے۔ اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے۔
(الصّف: ۱۰) ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَدِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کر دے یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے … اِس آیت کی نسبت ان سب متقدّمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔ (چشمۂ معرفت۔ روحانی خزائن جلد۲۳ صفحہ۹۰، ۹۱)
مَیں اس خداکی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اُسی نے مجھے بھیجا ہے۔ اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اُسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اُس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں۔ جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔ (تتمہ حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۵۰۳)
مجھے خدا تعالیٰ نے میری وحی میں بار بار امتی کر کے بھی پکارا ہے اور نبی کر کے بھی پکارا ہے اور اِن دونوں ناموں کے سننے سے میرے دل میں نہایت لذّت پیدا ہوتی ہے اور مَیں شکر کرتا ہوں کہ اس مرکب نام سے مجھے عزت دی گئی۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد۱ ۲ صفحہ ۳۵۵)
اِسی طرح خدا تعالیٰ کی طرف سے دو نام مَیں نے پائے۔ ایک میرا نام اُمّتی رکھا گیا جیسا کہ میرے نام غلام احمد سے ظاہر ہے۔ دوسرے میرا نام ظلّی طور پر نبی رکھا گیا۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے حصصِ سابقہ براہین احمدیہ میں میرا نام احمد رکھا اور اسی نام سے بار بار مجھ کو پکارا اور یہ اسی بات کی طرف اشارہ تھا کہ مَیں ظلّی طور پر نبی ہوں۔ پس میں اُمّتی بھی ہوں اور ظلّی طور پر نبی بھی ہوں۔ اسی کی طرف وہ وحی الٰہی بھی اشارہ کرتی ہے جو حصص سابقہ براہین احمدیہ میں ہے۔ کُلُّ بَرَکَۃٍ مِنْ مُّحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَکَ مَنْ عَلَّمَ وَ تَعَلَّمَ۔ یعنی ہر ایک برکت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے۔ پس بہت برکت والا وہ انسان ہے جس نے تعلیم کی یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور پھر بعد اس کے بہت برکت والا وہ ہے جس نے تعلیم پائی یعنی یہ عاجز۔ پس اتباعِ کامل کی وجہ سے میرا نام اُمّتی ہوا اور پورا عکس نبوت حاصل کرنے سے میرا نام نبی ہو گیا۔ پس اس طرح پر مجھے دو نام حاصل ہوئے۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد۲۱ صفحہ ۳۶۰)
جس جس جگہ مَیں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں مگر ان معنوں سے کہ مَیں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پاکر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علمِ غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔ اِس طور کا نبی کہلانے سے مَیں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔ سو اب بھی مَیں اِ ن معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا اور میرا یہ قول کہ
’’مَن نیستم رسول و نیا وردہ اَم کتاب‘‘
اس کے معنے صرف اس قدر ہیں کہ مَیں صاحب شریعت نہیں ہوں۔ ہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے اور ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ مَیں باوجودنبی اور رسول کے لفظ کے ساتھ پکارے جانے کے خدا کی طرف سے اطلاع دیا گیا ہوں کہ یہ تمام فیوض بلاواسطہ میرے پر نہیں ہیں بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شاملِ حال ہے یعنی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمدؐ اور احمدؐ سے مسمّٰی ہو کر مَیں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی اور اس طور سے خاتم النّبییّن کی مہر محفوظ رہی کیونکہ مَیں نے انعکاسی اور ظلّی طور پر محبت کے آئینہ کے ذریعہ سے وہی نام پایا۔ اگر کوئی شخص اس وحی الٰہی پر ناراض ہو کہ کیوں خدا تعالیٰ نے میرا نام نبی اور رسول رکھا ہے تو یہ اس کی حماقت ہے کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کی مُہر نہیں ٹوٹتی۔ (ایک غلطی کا ازالہ۔ روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ۲۱۰، ۲۱۱)
خدا تعالیٰ نے آج سے چھبیس ۲۶ برس پہلے میرا نام براہین احمدیہ میں محمد اور احمد رکھا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز مجھے قرار دیا ہے اسی وجہ سے براہین احمدیہ میں لوگوں کو مخاطب کر کے فرما دیا ہے۔ قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ 6 اور نیز فرمایا ہے کُلُّ بَرَکَۃٍ مِنْ مُّحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَکَ مَنْ عَلَّمَ وَ تَعَلَّمَ 7 اور اگر کوئی یہ کہے کہ کس طرح معلوم ہوا کہ حدیث لَوْکَانَ الْاِیْمَانُ مَعَلَّقًا بِالثُّرَیَّا لَنَالَہٗ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسٍ8 اس عاجز کے حق میں ہے اور کیوں جائز نہیں کہ امت محمدیہ میں سے کسی اَور کے حق میں ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ براہین احمدیہ میں بار بار اس حدیث کا مصداق وحی الٰہی نے مجھے ٹھیرایا ہے۔ اور بتصریح بیان فرمایا کہ وہ میرے حق میں ہے اور مَیں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا۔ ومن ینکربہ فلیبارز للمباھلۃ ولعنۃ اللّٰہ علٰی من کذب الحق اوافترٰی علٰی حضرۃ العزّۃ۔9 اور یہ دعویٰ اُمّتِ محمدیہ میں سے آج تک کسی اَور نے ہرگز نہیں کیا کہ خدا تعالیٰ نے میرا یہ نام رکھا ہے اور خدا تعالیٰ کی وحی سے صرف میں اس نام کا مستحق ہوں اور یہ کہنا کہ نبوّت کا دعویٰ کیا ہے کس قدر جہالت کس قدر حماقت اور کس قدر حق سے خروج ہے۔ اے نادانو! میری مرادنبوت سے یہ نہیں ہے کہ میں نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں۔ صرف مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت و مخاطبت الٰہیہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہے۔ سو مکالمہ و مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ و مخاطبہ رکھتے ہیں مَیں اس کی کثرت کا نام بموجب حکم الٰہی نبوت رکھتا ہوں۔ وَلِکُلٍّ اَنْ یَّصْطَلِحَ۔ (تتمہ حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۵۰۲، ۵۰۳)
و انّی علٰی مقام الختم من الولایۃ کما کان سیدی المصطفٰی علی مقام الختم من النّبوّۃ و انہ خاتم الانبیاء و انا خاتم الاولیاء۔ لاولیّ بعدی الّا الذی ھو منی و علٰی عہدی۔ و انّی اُرْسِلْتُ من ربّی بِکُلّ قُوّۃ و برکۃ و عزّۃ۔ وانّ قدمی ھٰذہٖ علٰی منارۃٍ ختم علیھا کل رفعۃ۔10 (خطبہ الہامیہ۔ روحانی خزائن جلد۱۶ صفحہ ۶۹، ۷۰)
مَیں وہی ہوں جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا۔ ہاں ! مَیں وہی ہوں جس کا سارے نبیوں کی زبان پر وعدہ ہوا۔ (الحکم ۲۴؍ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۲ کالم ۲ ملفوظات جلددوم صفحہ ۴۶ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
خدا تعالیٰ نے میرا نام عیسیٰ ہی نہیں رکھا بلکہ ابتداء سے انتہا تک جس قدر انبیاء علیہم السلام کے نام تھے وہ سب میرے نام رکھ دیئے ہیں۔ چنانچہ براہین احمدیہ حصص سابقہ میں میرا نام آدم رکھا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ11 … اِسی طرح براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں خدا تعالیٰ نے میرا نام نوح بھی رکھا ہے اور میری نسبت فرمایاہے۔ وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اِنَّھُمْ مُّغْرَقُوْنَ12 …… اور خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا۔ اِصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا۔13 اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ14 ………
اِسی طرح براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں میرا نام ابراہیم بھی رکھا گیا ہے جیسا کہ فرمایا۔ سَلَامٌ عَلَیْکَ یَا اِبْرَاہِیْمُ (دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۵۸)یعنی اے ابراہیم تجھ پر سلام۔ ابراہیم علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے بہت برکتیں دی تھیں اور وہ ہمیشہ دشمنوں کے حملوں سے سلامت رہا۔ پس میرا نام ابراہیم رکھ کر خدا تعالیٰ یہ اشارہ کرتا ہے کہ ایسا ہی اس ابراہیم کو برکتیں دی جائیں گی اور مخالف اس کو کچھ ضرر نہیں پہنچا سکیں گے۔ ……اِسی طرح براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں میرا نام یوسف بھی رکھا گیا …… ایسا ہی براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں میرا نام موسیٰ رکھا گیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ تَلَطَّفْ بِالنَّاسِ وَ تَرَحَّمْ عَلَیْھِمْ اَنْتَ فِیْھِمْ بِمَنْزِلَۃِ مُوْسٰی وَاصْبِرْ عَلٰی مَایَقُوْلُوْنَ15 …… اِسی طرح خدا نے براہین احمدیہ حصص سابقہ میں میرا نام داؤد بھی رکھاجس کی تفصیل عنقریب اپنے موقع پر آئے گی۔ ایسا ہی براہین احمدیہ حصص سابقہ میں خدا تعالیٰ نے میرا نام سلیمان بھی رکھا اور اس کی تفصیل بھی عنقریب آئے گی۔ ایسا ہی براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں خدا تعالیٰ نے میرا نام احمدؐ اور محمدؐ بھی رکھا اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم نبوت ہیں ویسا ہی یہ عاجز خاتم ولایت ہے۔ اور بعد اس کے میری نسبت براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں یہ بھی فرمایا جَرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَآءِ۔ یعنی رسول خدا تمام گزشتہ انبیاء علیہم السلام کے پیرائیوں میں۔ اِس وحی الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ آدم سے لے کر اخیر تک جس قدر انبیاء علیہم السلام خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں آئے ہیں خواہ وہ اسرائیلی ہیں یا غیر اسرائیلی ان سب کے خاص واقعات یا خاص صفات میں سے اس عاجز کو کچھ حصہ دیا گیا ہے۔ اور ایک بھی نبی ایسا نہیں گذرا جس کے خواص یا واقعات میں سے اس عاجز کو حصہ نہیں دیا گیا۔ ہر ایک نبی کی فطرت کا نقش میری فطرت میں ہے۔ اِسی پر خدا نے مجھے اطلاع دی…اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راستباز مقدس نبی گزر چکے ہیں ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں۔ سو وہ مَیں ہوں …اِسی طرح خدا تعالیٰ نے میرا نام ذوالقرنین بھی رکھا کیونکہ خدا تعالیٰ کی میری نسبت یہ وحی مقدس کہ جَرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَآءِ۔ جس کے یہ معنے ہیں کہ خدا کا رسول تمام نبیوں کے پیرائیوں میں۔ یہ چاہتی ہے کہ مجھ میں ذوالقرنین کی بھی صفات ہوں کیونکہ سورۂ کہف سے ثابت ہے کہ ذوالقرنین بھی صاحب و حی تھا۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۱۲تا ۱۱۸)
خدا نے جو ہر ایک کام نرمی سے کرتا ہے اس زمانہ کے لئے سب سے پہلے میرا نام عیسیٰ ابن مریم رکھا کیونکہ ضرور تھا کہ مَیں اپنے ابتدائی زمانہ میں ابن مریم کی طرح قوم کے ہاتھ سے دُکھ اٹھاؤں اور کافر اور ملعون اور دجّال کہلاؤں اور عدالتوں میں کھینچا جاؤں سو میرے لئے ابن مریم ہونا پہلا زینہ تھا مگر مَیں خدا کے دفتر میں صرف عیسیٰ ابن مریم کے نام سے موسوم نہیں بلکہ اَور بھی میرے نام ہیں جو آج سے چھبیس۲۶ برس پہلے خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرے ہاتھ سے لکھا دیئے ہیں اور دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے۔ مَیں آدمؑ ہوں۔ مَیں نوحؑ ہوں۔ مَیں ابراہیمؑ ہوں۔ مَیں اسحاقؑ ہوں۔ مَیں یعقوبؑ ہوں۔ مَیں اسمٰعیل ہوں۔ مَیں موسٰیؑ ہوں۔ مَیں داؤدؑ ہوں۔ مَیں عیسیٰ ابن مریمؑ ہوں۔ مَیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں یعنی بُروزِی طور پر جیسا کہ خدا نے اسی کتاب میں یہ سب نام مجھے دیئے اور میری نسبت جَرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَآئِ فرمایا یعنی خدا کا رسول نبیوں کے پیرایوں میں۔ سو ضرور ہے کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی جاوے۔ اور ہر ایک نبی کی ایک صفت کا میرے ذریعہ سے ظہور ہو۔ مگر خدا نے یہی پسند کیا کہ سب سے پہلے ابن مریم کے صفات مجھ میں ظاہر کرے۔ سو مَیں نے اپنی قوم سے وہ سب دکھ اُٹھائے جو ابن مریم نے یہود سے اُٹھائے بلکہ تما م قوموں سے اٹھائے۔ یہ سب کچھ ہوا مگر پھر خدا نے کسر صلیب کے لئے میرا نام مسیح قائم رکھا تا جس صلیب نے مسیح کو توڑا تھا اور اس کو زخمی کیا تھا دوسرے وقت میں مسیح اس کو توڑے۔ مگر آسمانی نشانوں کے ساتھ نہ انسانی ہاتھوں کے ساتھ۔ کیونکہ خدا کے نبی مغلوب نہیں رہ سکتے۔ سو سنہ عیسوی کی بیسو۲۰۰۰یں صدی میں پھر خدا نے ارادہ فرمایا کہ صلیب کو مسیح کے ہاتھ سے مغلوب کرے لیکن جیسا کہ مَیں ابھی بیان کر چکا ہوں مجھے اور نام بھی دیئے گئے ہیں اور ہر ایک نبی کا مجھے نام دیا گیا ہے۔ چنانچہ جو ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گذرا ہے جس کو رُودّر گوپال بھی کہتے ہیں (یعنی فنا کرنے والا اور پرورش کرنے والا) اس کا نام بھی مجھے دیا گیا ہے۔ پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا اِ ن دنوں میں انتظار کرتے ہیں وہ کرشن مَیں ہی ہوں۔ اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تُو ہی ہے۔ آریوں کا بادشاہ … آریہ ورت کے محقق پنڈت بھی کرشن اوتار کا زمانہ یہی قرار دیتے ہیں اور اس زمانہ میں اس کے آنے کے منتظر ہیں گو وہ لوگ ابھی مجھ کو شناخت نہیں کرتے مگر وہ زمانہ آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ مجھے شناخت کر لیں گے کیونکہ خدا کا ہاتھ انہیں دکھائے گا کہ آنے والا یہی ہے۔ (تتمہ حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲صفحہ ۵۲۱ تا۵۲۳)
خدا تعالیٰ نے کشفی حالت میں با رہا مجھے اس بات پر اطلاع دی ہے کہ آریہ قوم میں کرشن نام ایک شخص جو گزرا ہے۔ وہ خدا کے برگزیدوں اور اپنے وقت کے نبیوں میں سے تھا۔ اور ہندوؤں میں اوتار کا لفظ درحقیقت نبی کے ہم معنی ہے۔ اور ہندؤں کی کتابوں میں ایک پیشگوئی ہے اور وہ یہ کہ آخری زمانہ میں ایک اَوتار آئے گا جو کرشن کے صفات پر ہو گا اور اُس کا بروز ہو گا اور میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ مَیں ہوں۔ کرشن کی دو صفت میں ایک رُودّ ر یعنی درندوں اور سؤروں کو قتل کرنے والا یعنی دلائل اور نشانوں سے۔ دوسرے گوپال یعنی گائیوں کو پالنے والا یعنی اپنے انفاس سے نیکوں کا مددگار۔ اور یہ دونوں صفتیں مسیح موعود کی صفتیں ہیں اور یہی دونوں صفتیں خدا تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی ہیں۔ (تحفہ گولڑویہ۔ روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ ۳۱۷ حاشیہ در حاشیہ)
مَیں ان گناہوں کے دور کرنے کے لئے جن سے زمین پُر ہو گئی ہے جیسا کہ مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہوں ایسا ہی راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں جو ہندو مذہب کے تمام اَوتاروں میں سے ایک بڑا اَوتار تھا۔ یا یوں کہنا چاہئے کہ روحانی حقیقت کی رُو سے مَیں وہی ہوں۔ یہ میرے خیال اور قیاس سے نہیں ہے بلکہ وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے اس نے یہ میرے پر ظاہر کیا ہے اور نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ مجھے بتلایا ہے کہ توہندؤں کے لئے کرشن اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود ہے۔ (لیکچر سیالکوٹ۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۲۸)
قَدْ اَنْبَأَنِیْ رَبِّیْ اَنَّنِیْ کَسَفِیْنَۃِ نُوْحٍ لِلْخَلْقِ فَمَنْ اَتَانِیْ وَ دَخَلَ فِی الْبَیْعَۃِ فَقَدْ نَجَا مِنَ الضَّیْعَۃِ۔16 (آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵صفحہ ۴۸۶)
وَ اِنِّیْ اَنَا الْخِضَرُفِیْ بَعْضِ صِفَاتِیْ لَا تُحَاطُ اَسْرَارِیْ۔17 (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نمبر ۱ مشتمل بر الہامات ۱۲؍ جنوری ۱۹۰۳ تا ۱۹؍ اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۶۶ قلمی18)
خدائے حکیم علیم نے وضع دنیا دوری رکھی ہے یعنی بعض نفوس بعض کے مشابہ ہوتے ہیں نیک نیکوں کے مشابہ اور بد بدوں کے مشابہ مگر باایں ہمہ یہ امر مخفی ہوتا ہے اور زور شور سے ظاہر نہیں ہوتا لیکن آخری زمانہ کے لئے خدا نے مقرر کیا ہؤا تھا کہ وہ ایک عام رجعت کا زمانہ ہو گا تا یہ اُمّت مرحومہ دوسری اُمتوں سے کسی بات میں کم نہ ہو۔ پس اُس نے مجھے پیدا کر کے ہر ایک گذشتہ نبی سے مجھے اُس نے تشبیہ دی کہ وہی میرا نام رکھ دیا۔ چنانچہ آدم، ابراہیم، نوح، موسیٰ، داؤد، سلیمان، یوسف، یحیٰی، عیسیٰ وغیرہ یہ تمام نام براہین احمدیہ میں میرے رکھے گئے اور اس صورت میں گویا تمام انبیاء گذشتہ اس امت میں دوبارہ پیدا ہو گئے۔ یہاں تک کہ سب کے آخر مسیح پیدا ہو گیا اور جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔ چنانچہ قرآن شریف میں اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور فرماتا ہے اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ (نزول المسیح۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۳۸۲ حاشیہ)
میرا انکار میرا انکار نہیں ہے بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار ہے کیونکہ جو میری تکذیب کرتا ہے وہ میری تکذیب سے پہلے معاذ اللہ اللہ تعالیٰ کو جھوٹا ٹھہرا لیتا ہے …… مَیں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اَلْحَمْدُ سے لے کر وَالنَّاسِ تک سارا قرآن چھوڑنا پڑے گا۔ پھر سوچو ! کہ کیا میری تکذیب کوئی آسان امر ہے۔ یہ مَیں از خودنہیں کہتا خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حق یہی ہے کہ جو مجھے چھوڑے گا اور میری تکذیب کرے گا وہ زبان سے نہ کرے مگر اپنے عمل سے اُس نے سارے قرآن کی تکذیب کر دی اور خدا کو چھوڑ دیا۔ (الحکم ۲۴؍ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲ کالم نمبر ۱، ۲۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ ۳۶۴، ۳۶۵ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
جن ناپاک طبع لوگوں نے تکفیر پر کمر باندھی ہے ان کے مقابل پر ایسے لوگ بھی بہت ہیں جن کو عالمِ رؤیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس عاجز کی نسبت دریافت کیا اور آپ نے فرمایا کہ وہ شخص درحقیقت منجانب اللہ ہے اور اپنے دعویٰ میں صادق ہے۔ چنانچہ ایسے لوگوں کی بہت سی شہادتیں ہمارے پاس موجود ہیں۔ جس شخص کو اس تحقیق کا شوق ہے وہ ہم سے اس کا ثبوت لے سکتا ہے۔ (ضمیمہ انجام آتھم۔ روحانی خزائن جلد۱۱ صفحہ ۳۴۳)
مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مجھے قرآن کے حقائق اور معارف کے سمجھنے میں ہر ایک رُوح پر غلبہ دیا گیا ہے۔ اور اگر کوئی مولوی مخالف میرے مقابل پر آتا جیسا کہ مَیں نے قرآنی تفسیر کے لئے بار بار ان کو بلایا تو خدا اس کو ذلیل اور شرمندہ کرتا۔ سو فہمِ قرآن جو مجھ کو عطا کیا گیا یہ اللہ جلّ شانہٗ کا ایک نشان ہے۔ میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ عنقریب دنیا دیکھے گی کہ مَیں اس بیان میں سچا ہوں۔ (سراج منیر۔ روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۴۱)
خدا نے یہی ارادہ کیا ہے کہ جو مسلمانوں میں سے مجھ سے علیحدہ رہے گا۔ وہ کاٹا جائے گا۔ بادشاہ ہو یا غیر بادشاہ۔ (اشتہار ۲۴ مئی ۱۸۹۷ء مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۱۰۴ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
مَیں حضرت قُدس کا باغ ہوں جو مجھے کاٹنے کا ارادہ کرے گا وہ خود کاٹا جائے گا مخالف روسیاہ ہو گا اور منکر شرمسار۔ (نشان آسمانی۔ روحانی خزائن جلد۴ صفحہ ۳۹۷)
پس پھر میں کھول کر کہتا ہوں کہ میری تکذیب آسان امر نہیں۔ مجھے کافر کہنے سے پہلے خود کافر بننا ہو گا۔ مجھے بے دین اور گمراہ کہنے میں دیر ہو گی مگر پہلے اپنی گمراہی اور رو سیاہی کو مان لینا پڑے گا۔ مجھے قرآن و حدیث کا چھوڑنے والا کہنے سے پہلے خود قرآن اور حدیث کو چھوڑ دینا پڑے گا اور پھر بھی وہی چھوڑے گا۔ مَیں قرآن و حدیث کا مصدّق و مصداق ہوں میں گمراہ نہیں بلکہ مہدی ہوں۔ مَیں کافر نہیں بلکہ اَنَا اََوَّلُ الْمُؤْمِنِیْن کا مصداقِ صحیح ہوں اور یہ جو کچھ مَیں کہتا ہوں خدا نے مجھ پر ظاہر کیا کہ یہ سچ ہے۔ جس کو خدا پر یقین ہے جو قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق مانتا ہے اُس کے لئے یہی حجت کافی ہے کہ میرے مُنہ سے سُن کر خاموش ہو جا ئے لیکن جو دلیر اور بے باک ہے اس کا کیا علاج؟ خدا خود اس کو سمجھائے گا۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ خدا کے واسطے اس امر پر غور کریں اور اپنے دوستوں کو بھی وصیّت کریں کہ وہ میرے معاملہ میں جلدی سے کام نہ لیں۔ بلکہ نیک نیتی اور خالی الذہن ہو کر سوچیں۔ (الحکم مورخہ ۲۴؍ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ۲۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ۳۶۵، ۳۶۶ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
ایک دفعہ کشفی رنگ میں مَیں نے دیکھا کہ مَیں نے نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کیا۔ اور پھر مَیں نے کہا کہ آؤ اب انسان کو پیدا کریں۔ اِس پر نادان مولویوں نے شور مچایا کہ دیکھو اب اس شخص نے خدائی کا دعویٰ کیا حالانکہ اُس کشف سے یہ مطلب تھا کہ خدا میرے ہاتھ پر ایک ایسی تبدیلی پیدا کرے گا کہ گویا آسمان اور زمین نئے ہو جائیں گے اور حقیقی انسان پیدا ہوں گے۔ (چشمۂ مسیحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۷۵، ۳۷۶ حاشیہ)
اِس زمانہ میں جس طرح خدا تعالیٰ قریب ہو کر ظاہر ہو رہا ہے اور صد ہا امور غیب اپنے بندہ پر کھول رہا ہے اس زمانہ کی گذشتہ زمانوں میں بہت ہی کم مثال ملے گی۔ لوگ عنقریب دیکھ لیں گے کہ اس زمانے میں خداتعالیٰ کا چہرہ ظاہر ہو گا گو یا وہ آسمان سے اترے گا۔ اس نے بہت مدت تک اپنے تئیں چھپائے رکھا اور انکار کیا گیا اور چُپ رہا لیکن وہ اب نہیں چھپائے گا اور دنیا اس کی قدرت کے وہ نمونے دیکھے گی کہ کبھی ان کے باپ دادوں نے نہیں دیکھے تھے یہ اس لئے ہو گا کہ زمین بگڑ گئی اور آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے پر لوگوں کا ایمان نہیں رہا۔ ہونٹوں پر اس کا ذکر ہے لیکن دل اس سے پھر گئے ہیں اس لئے خدا نے کہا کہ اب مَیں نیا آسمان اور نئی زمین بناؤں گا۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ زمین مر گئی۔ یعنی زمینی لوگوں کے دل سخت ہو گئے گویا مر گئے کیونکہ خدا کا چہرہ اُن سے چھپ گیا۔ اور گذشتہ آسمانی نشان سب بطور قصوں کے ہو گئے۔ سو خدا نے ارادہ کیا کہ وہ نئی زمین اور نیا آسمان بناوے۔ وہ کیا ہے نیاآسمان؟ اور کیا ہے نئی زمین؟ نئی زمین وہ پاک دل ہیں جن کو خدا اپنے ہاتھ سے تیار کر رہا ہے جو خدا سے ظاہر ہوئے اور خدا اُن سے ظاہر ہو گا۔ اور نیا آسمان وہ نشان ہیں جو اس کے بندے کے ہاتھ سے اُسی کے اذن سے ظاہر ہو رہے ہیں لیکن افسوس کہ دنیا نے خدا کی اس نئی تجلّی سے دشمنی کی۔ ان کے ہاتھ میں بجز قصوں کے اور کچھ نہیں اور ان کا خدا ان کے اپنے ہی تصورات ہیں۔ دل ٹیڑھے ہیں اور ہمتیں تھکی ہوئی ہیں اور آنکھوں پر پردے ہیں۔ (کشتیٔ نوح۔ روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ۷)
یہ عاجز اپنے ذاتی تجربہ سے بیان کرتا ہے کہ فی الحقیقت سورۂ فاتحہ مظہر انوار الٰہی ہے۔ اس قدر عجائبات اس سورۃ کے پڑھنے کے وقت دیکھے گئے ہیں کہ جن سے خدا کے پاک کلام کا قدر و منزلت معلوم ہوتا ہے۔ اس سورہ مبارکہ کی برکت سے اور اس کی تلاوت کے التزام سے کشف مغیبات اس درجہ تک پہنچ گیا کہ صد ہا اخبار غیبیہ قبل از وقوع منکشف ہوئیں اور ہر یک مشکل کے وقت اِس کے پڑھنے کی حالت میں عجیب طور پر رفع حجاب کیا گیا۔ اور قریب تین ہزار کے کشف صحیح اور رؤیا صادقہ یاد ہے کہ جو اب تک اس عاجز سے ظہور میں آ چکے۔ اور صبح صادق کے کھلنے کی طرح پوری بھی ہو چکی ہیں اور دو سو جگہ سے زیادہ قبولیت دعا کے آثار نمایاں ایسے نازک موقعوں پر دیکھے گئے جن میں بظاہر کوئی صورت مشکل کشائی کی نظر نہیں آتی تھی اور اسی طرح کشفِ قُبور اور دوسرے انواع اقسام کے عجائبات اسی سورہ کے التزام ورد سے ایسے ظہور پکڑتے گئے کہ اگر ایک ادنیٰ پر توہ ان کا کسی پادری یا پنڈت کے دل پر پڑ جائے تو یکدفعہ حُبِّ دُنیا سے قطع تعلّق کر کے اسلام کے قبول کرنے کے لئے مرنے پر آمادہ ہو جائے۔ اِسی طرح بذریعہ الہامات صادقہ کے جو پیشگوئیاں اس عاجز پر ظاہر ہوتی رہی ہیں جن میں سے بعض پیشگوئیاں مخالفوں کے سامنے پوری ہو گئی ہیں اور پوری ہوتی جاتی ہیں اس قدر ہیں کہ اس عاجز کے خیال میں دو انجیلوں کی ضخامت سے کم نہیں۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ۶۴۲تا۶۴۵حاشیہ نمبر ۱۱)
وانّی انا موت الزور و حرز المذعور۔ واناحربۃ المولی الرحمٰن۔ وحجۃ اللّٰہ الدیّان۔ وانا النہار والشمس و السبیل۔ و فی نفسی تحقّقت الاقاویل۔ وبی ابطلت الاباطیل۔ وانا الواصف والموصوف۔ وانا ساق اللّٰہ المکشوف۔ و انا قدم الرسول التی تحشر علیھا الاموات۔ وتُمحٰی بھا الضلالات۔19
(لجۃ النّور۔ روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۴۷۳، ۴۷۴)
مَیں اپنے نفس پر اتنا قابو رکھتا ہوں اور خدا تعالیٰ نے میرے نفس کو ایسا مسلمان بنایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سال بھر میرے سامنے میرے نفس کو گندی سے گندگی گالی دیتا رہے آخروہی شرمندہ ہو گا اور اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ میرے پاؤں جگہ سے اکھاڑ نہ سکا۔ (الحکم مورخہ ۲۴؍ جنوری ۱۹۰۰ء صفحہ ۷، ۸۔ ملفوظات جلد اوّل صفحہ۳۰۲ ایڈیشن ۲۰۰۳)
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ تفہیم الٰہی میرے شامل حال ہے اور وہ عزّ اسمہٗ جس وقت چاہتا ہے بعض معارف قرآنی میرے پر کھولتا ہے اور اصل منشاء بعض آیات کا معہ ان ثبوت کے میرے پر ظاہر فرماتا ہے اور میخ آہنی کی طرح میرے دل کے اندر داخل کر دیتا ہے۔ اب میں اس خدا دادنعمت کو کیونکر چھوڑ دوں اور جو فیض بارش کی طرح میرے پر ہو رہا ہے کیونکر اس سے انکار کروں ! (الحق مباحثہ لدھیانہ۔ روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۲۱)
یَدِبیضا کہ با او تابندہ
باز با ذوالفقار مے بینم20
اگر مَیں خود دعویٰ کرتا ہوں تو بے شک مجھے جھوٹا سمجھو لیکن اگر خدا کا پاک نبی اپنی پیشگوئیوں کے ذریعہ سے میری گواہی دیتا ہے اور خود خدا میرے لئے نشان دکھلاتا ہے تو اپنے نفسوں پر ظلم مت کرو۔ یہ مت کہو کہ ہم مسلمان ہیں ہمیں کسی مسیح وغیرہ کے قبول کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ مَیں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو مجھے قبول کرتا ہے وہ اسے قبول کرتا ہے جس نے میرے لئے آج سے تیرہ سو برس پہلے لکھا ہے اور میرے وقت اور زمانہ اور میرے کام کے نشان بتلائے ہیں اور جو مجھے ردّ کرتا ہے وہ اسے ردّ کرتا ہے جس نے حکم دیا ہے کہ ’’اسے مانو۔‘‘ (ایام الصلح۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۳۲۸، ۳۲۹)
حدیثوں کو پڑھو کہ وہ آخری زمانہ میں آنے والا اور اُس زمانہ میں آنے والا کہ جب قریش سے بادشاہی جاتی رہے گی اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک تفرقہ اور پریشانی میں پڑی ہوئی ہو گی زمیندار ہی ہو گا اور مجھ کو خدا تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ مَیں ہوں۔ احادیثِ نبویہ میں صاف لکھا ہے کہ آخری زمانہ میں ایک مؤید دین و ملّت پیدا ہو گا اور اس کی یہ علامت ہو گی کہ وہ حارث ہو گا یعنی زمیندار ہو گا۔ اس جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر یک مسلمان کو چاہئے کہ اس کو قبول کرلیوے اور اُس کی مدد کرے۔ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد۵ صفحہ ۳۰۳)
جو شخص مجھے قبول کرتا ہے وہ تمام انبیاء اور اُن کے معجزات کو بھی نئے سرے قبول کرتا ہے۔ اور جو شخص مجھے قبول نہیں کرتا اس کا پہلا ایمان بھی کبھی قائم نہیں رہے گا۔ کیونکہ اس کے پاس نرے قصّے ہیں نہ مشاہدات۔ خدانمائی کا آئینہ مَیں ہوں جو شخص میرے پاس آئے گا اور مجھے قبول کرے گا وہ نئے سرے اُس خدا کو دیکھ لے گا جس کی نسبت د وسرے لوگوں کے ہاتھ میں صرف قصّے باقی ہیں۔ مَیں اس خدا پر ایمان لایا ہوں جس کو میرے منکر نہیں پہچانتے اور مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جس پر وہ ایمان لاتے ہیں اُن کے وہ خیالی بُت ہیں نہ خُدا۔ اسی وجہ سے وہ بُت اُن کی کچھ مددنہیں کر سکتے۔ اُن کو کچھ قوت نہیں دے سکتے اُن میں کوئی پاک تبدیلی پیدا نہیں کر سکتے۔ ان کے لئے کوئی تائیدی نشان نہیں دکھلا سکتے۔ (نزول المسیح۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۴۶۲، ۴۶۳)
اِس تاریکی کے زمانہ کا نور مَیں ہی ہوں۔ جو شخص میری پیروی کرتا ہے وہ ان گڑھوں اور خندقوں سے بچایا جائے گا جو شیطان نے تاریکی میں چلنے والوں کے لئے تیار کئے ہیں۔ مجھے اس نے بھیجا ہے کہ تا مَیں امن اور حلم کے ساتھ دنیا کو سچّے خدا کی طرف رہبری کروں اور اسلام میں اخلاقی حالتوں کو دوبارہ قائم کر دوں۔ اور مجھے اس نے حق کے طالبوں کی تسلّی پانے کے لئے آسمانی نشان بھی عطا فرمائے ہیں اور میری تائید میں اپنے عجیب کام دکھلائے ہیں۔ اور غیب کی باتیں اور آئندہ کے بھید جو خدائے تعالیٰ کی پاک کتابوں کے رُوسے صادق کی شناخت کے لئے اصل معیار ہے میرے پر کھولے ہیں۔ اور پاک معارف اور علوم مجھے عطا فرمائے ہیں اس لئے اُن رُوحوں نے مجھ سے دشمنی کی جو سچائی کو نہیں چاہتیں اور تاریکی سے خوش ہیں مگر مَیں نے چاہا کہ جہاں تک مجھ سے ہو سکے نوع انسان کی ہمدردی کروں۔ (مسیح ہندوستا ن میں۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ۱۳)
دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک تو وہ جو خواہ مخواہ بلا کسی قسم کے استحقاق کے اپنے تئیں محامد، مناقب اور صفاتِ محمودہ سے موصوف کرنا چاہتے ہیں گویا وہ یہ چاہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی کبریائی کی چادر آپ اوڑھ لیں۔ ایسے لوگ لعنتی ہوتے ہیں۔
دوسری قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو طبعاً ہر قسم کی مدح و ثنا اور منقبت سے نفرت اور کراہت کرتے ہیں اور اگر وہ اپنے اختیار پر چھوڑ دیئے جاویں تو دل سے پسند کرتے ہیں کہ گوشۂ گمنامی میں زندگی گزار دیں۔ مگر خدا تعالیٰ اپنے مصالح اور باریک حکمتوں کی بنا پر ان کی تعریف اور تمجید کرتا ہے اور درحقیقت ہونا بھی اسی طرح چاہئے۔ کیونکہ جن لوگوں کو وہ مامورکر کے بھیجتا ہے۔ اُن کی ماموریت سے اس کا منشا یہ ہوتا ہے کہ اس کی حمد و ثنا او ر جلال دنیا میں ظاہر ہو۔ اگر ان ماموروں کی نسبت وہ یہ کہے کہ فلاں مامور جسے مَیں نے مبعوث کیا ہے ایسا نکمّا، بُزدل، نالائق، کمینہ، سفلہ اور ہر قسم کے فضائل سے عاری اور بیگانہ ہے تو کیا خدا تعالیٰ کی اس کے ذریعہ سے کوئی صفت قائم ہو سکے گی؟ حقیقت میں خدا کا ان کی تمجید اور مدارج اور فضائل بیان کرنا اپنے ہی جلال اور عظمت کی تمہید کے لئے ہوتا ہے۔ وہ تو اپنے نفس سے بالکل خالی ہوتے ہیں اور ہر قسم کے مَدح و ذمّ سے بے پروا ہوتے ہیں۔ چنانچہ سالہا سال اس سے پہلے جبکہ نہ کوئی مقابلہ تھا نہ گرد و پیش میں کوئی مجمع تھا نہ یہ مجلس اور اس کی کوئی تمہید تھی اور نہ دنیا میں کوئی شہرت تھی خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میری نسبت یہ فرمایا کہ: -
یحمدکَ اللّٰہ من عرشہ۔21 نحمدکَ و نصلّی۔22 کنتم خیر امّۃ اخرجت للناس وافتخارًا للمؤمنین۔23 یا احمد فاضت الرّحمۃ علٰی شفتیک انّکَ باعیننا۔24 یرفع اللّٰہ ذکرکَ ویتمّ نعمتہ علیک فی الدنیا والاٰخرۃ۔25 یا احمدی انت مرادی و معی۔26 غرست کرامتک بیدی۔27 یا احمد یتمّ اسمک ولایتمّ اسمی۔28 بورکت یا احمد وکان ما بارک اللّٰہ فیک حقًّافیک۔29 شانک عجیب واجرک قریب۔30 انی جاعلک للنّاس امامًا۔31 انت وجیہ فی حضرتی۔32 اخترتک لنفسی۔33 الارض و السّماء معک کماھو معی وسرّک سرّی۔34 انت منّی بمنزلۃ توحیدی و تفریدی۔35 سبحان اللّٰہ تبارک و تعالٰی زاد مجدک۔36 سلامٌ علیک جعلت مبارکًا۔37 وانی فضّلتک علَی العالمین۔38 و لقد کرّمنا بنی اٰدم و فضّلنا بعضھم علٰی بعضٍ۔39 دنٰی فتدلّٰی فکان قاب قوسین او ادنٰی۔40 وانّ علیک رحمتی فی الدنیا والدین۔41 والقیت علیک محبّۃ منّی ولتصنع علٰی عینی۔42 یحمدک اللّٰہ ویمشی الیک۔43 خلق اٰدم فاکرمہ جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء۔44 انت معی و انا معک۔45 خلقت لک لیلًا و نھارًا۔46 اعمل ماشئْت فانی قد غفرتُ لک۔47 انت منّی بمنزلۃ لایعلمھا الخلق۔48 ویعصمک اللّٰہ ولولم یعصمک الناس۔49 ولولم یعصمکَ الناس یعصمک اللّٰہ۔50 انت المسیح الذی لایضاع وقتہ۔51 کمثلک درّ لایضاع ۔52 انت الشیخ المسیح و انی معک و مع انصارک۔53 وانت اسمی الاعلٰی وانت منّی بمنزلۃ توحیدی و تفریدی و انت منّی بمنزلۃ المحبوبین۔54 علیک برکاتٌ و سلامٌ۔55 سلام قولًا من ربّ رّحیم۔56 مظہر الحیّ۔57 و انت منّی مبدء الامر۔58 وما ینطق عن الھوٰی ان ھو الّا وحیٌ یّوحٰی۔59
فرمایا: - مَیں اپنے قلب کو دیکھ کر یقین کرتا ہوں کہ کل انبیاء علیہم السلام طبعًاہر قسم کی تعریف اور مدح و ثنا سے کراہت کرتے تھے۔ مگر جو کچھ خدا تعالیٰ نے ان کے حق میں بیان فرمایا ہے اپنے مصالح کی بنا پر فرمایا ہے۔ اور مَیں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ الفاظ میرے الفاظ نہیں خدا تعالیٰ کے الفاظ ہیں اور یہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی عزت اور جلال اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور عظمت اور جلال خاک میں ملا دیا گیا ہے اور حضرت عیسیٰ اور حضرت حسین کے حق میں ایسا غُلو اور اطرا کیا گیا ہے کہ اس سے خدا کا عرش کانپتا ہے۔
اب جب کہ کروڑ ہا آدمی حضرت عیسیٰ کی مدح و ثناء سے گمراہ ہو چکے ہیں اور ایسا ہی بے انتہا مخلوق حضرت حسین کی نسبت غُلو اور اطرا کر کے ہلاک ہو چکی ہے تو خدا کی مصلحت اور غیرت اس وقت یہی چاہتی ہے کہ وہ تمام عزتوں کے کپڑے جو بے جا طور پر ان کو پہنائے گئے تھے اُن سے اتار کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خدا تعالیٰ کو پہنائے جاویں۔ پس ہماری نسبت یہ کلمات درحقیقت خدا تعالیٰ کی اپنی عزت کے اظہار اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے اظہار کے لئے ہیں۔
فرمایا: - مَیں حلفاً کہتا ہوں کہ میرے دل میں اصلی اور حقیقی جوش یہی ہے کہ تمام محامد اور مناقب …… اور تمام صفاتِ جمیلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کروں۔ میری تمام تر خوشی اسی میں ہے اور میری بعثت کی اصل غرض یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت دنیا میں قائم ہو۔ مَیں یقینا جانتا ہوں کہ میری نسبت جس قدر تعریفی کلمات اور تمجیدی باتیں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں یہ بھی درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف راجع ہیں اس لئے کہ مَیں آپ کا ہی غلام ہوں اور آپ ہی کے مشکوٰۃ نبوت سے نور حاصل کرنے والا ہوں اور مستقل طور پر ہمارا کچھ بھی نہیں۔ اِسی سبب سے میرا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ اگر کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ دعویٰ کرے کہ مَیں مستقل طور پر بلااستفاضہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مامور ہوں اور خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہوں تو وہ مردود اور مخذول ہے۔ خدا تعالیٰ کی ابدی مُہر لگ چکی ہے اس بات پر کہ کوئی شخص وصول الی اللہ کے دروازے سے آ نہیں سکتا بجز اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے۔
(الحکم مورخہ ۳۱؍مئی ۱۹۰۲ء صفحہ۷، ۸۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ ۲۱۳تا۲۱۵ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)اِ ن دونوں منصبوں کا مدعی مَیں ہوں جو تم میں اِس وقت پچیس سال سے موجود ہوں پس میرے بعد کس کا انتظار کرو گے؟ ان تمام علامتوں کا مصداق تو وہ ہے جو ان نشانوں کے ظہور کے وقت موجود ہے۔ نہ وہ کہ جس کا ابھی دنیا میں نام و نشان نہیں۔ یہ عجیب سخت دلی ہے جو سمجھ میں نہیں آتی جب کہ میرے دعویٰ کے ساتھ سب نشان ظاہر ہو چکے اور میری مخالفت میں کوششیں بھی ہو کر ان میں نامرادی اور ناکامی رہی مگر پھر بھی انتظار کسی اَور کی ہے؟ ہاں یہ سچ ہے کہ مَیں نہ جسمانی طور پر آسمان سے اُترا ہوں اور نہ مَیں دنیا میں جنگ اور خونریزی کرنے کے لئے آیا ہوں بلکہ صلح کے لئے آیا ہوں مگر مَیں خدا کی طرف سے ہوں۔ مَیں یہ پیشگوئی کرتا ہوں کہ میرے بعد قیامت تک کوئی ایسا مہدی نہیں آئے گا جو جنگ اور خونریزی سے دنیا میں ہنگامہ برپا کرے اور خدا کی طرف سے ہو۔ اور نہ کوئی ایسا مسیح آئے گا جو کسی وقت آسمان سے اترے گا۔ اِن دونوں سے ہاتھ دھو لو۔ یہ سب حسرتیں ہیں جو اس زمانہ کے تمام لوگ قبر میں لے جائیں گے۔ نہ کوئی مسیح اُترے گا اور نہ کوئی خونی مہدی ظاہر ہو گا۔ جو شخص آنا تھا وہ آچکا وہ مَیں ہی ہوں جس سے خدا کا وعدہ پورا ہوا۔ جو شخص مجھے قبول نہیں کرتا وہ خدا سے لڑتا ہے کہ تونے کیوں ایسا کیا۔ (تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ ۷۷، ۷۸۔ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۶۳۲، ۶۳۳ بار دوم)
کیوں عجب کرتے ہو گر مَیں آ گیا ہو کر مسیح
خود مسیحائی کا دم بھرتی ہے یہ بادِ بہار
آسماں پر دعوتِ حق کے لئے اِک جوش ہے
ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اُتار
آ رہا ہے اس طرف احرارِ یورپ کا مزاج
نبض پھر چلنے لگی مُردوں کی ناگہ زندہ وار
کہتے ہیں تثلیث کو اب اہلِ دانش الوداع
پھر ہوئے ہیں چشمۂ توحید پر از جاں نثار
باغ میں ملّت کے ہے کوئی گلِ رعنا کھلا
آئی ہے بادِ صبا گلزار سے مستانہ وار
آ رہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے
گو کہو دیوانہ مَیں کرتا ہوں اُس کا انتظار
اسمعوا صوت السماء جاء المسیح جاء المسیح
نیز بشنو از زمیں آمد امام کامگار
آسماں باردنشاں الوقت مے گوید زمیں
ایں دو شاہد از پئے من نعرہ زن چوں بے قرار
اب اِسی گلشن میں لوگو راحت و آرام ہے
وقت ہے جلد آؤ اے آوارگانِ دشتِ خار
اِک زماں کے بعد اب آئی ہے یہ ٹھنڈی ہوا
پھر خدا جانے کہ کب آئیں یہ دن اور یہ بہار
غیر کیا جانے کہ دلبر سے ہمیں کیا جوڑ ہے
وہ ہمارا ہو گیا اس کے ہوئے ہم جاں نثار
مَیں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
اِک شجر ہوں جس کو داؤدی صفت کے پھل لگے
مَیں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار
پر مسیحا بن کے مَیں بھی دیکھتا روئے صلیب
گر نہ ہوتا نام احمدؐ جس پہ میرا سب مدار
مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جدا
مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوانِ یار
ہم تو بستے ہیں فلک پر اس زمین کو کیا کریں
آسماں کے رہنے والوں کو زمیں سے کیا نقار
روضۂ آدم کہ تھا وہ نامکمّل اَب تلک
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار
وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے
اَب مَیں دیتا ہوں اگر کوئی ملے امیدوار
کیا شک ہے ماننے میں تمہیں اس مسیح کے
جس کی مماثلت کو خدا نے بتا دیا
حاذق طبیب پاتے ہیں تم سے یہی خطاب
خوبوں کو بھی تم نے مسیحا بنا دیا
یہ سراسر فضل و احساں ہے کہ مَیں آیا پسند
ورنہ درگہ میں تری کچھ کم نہ تھے خدمت گذار
دوستی کا دم جو بھرتے تھے وہ سب دشمن ہوئے
پر نہ چھوڑا ساتھ تُونے اے مرے حاجت برار
اے مرے یارِ یگانہ اے مری جاں کی پنہ
بس ہے تو میرے لئے مجھ کو نہیں تجھ بن بکار
مَیں تو مر کر خاک ہوتا گر نہ ہوتا تیرا لطف
پھر خدا جانے کہاں یہ پھینک دی جاتی غبار
اے فدا ہو تیری رہ میں میرا جسم و جان و دل
مَیں نہیں پاتا کہ تجھ سا کوئی کرتا ہو پیار
ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے
گود میں تیری رہا مَیں مثلِ طفلِ شیر خوار
نسلِ انساں میں نہیں دیکھی وفا جو تجھ میں ہے
تیرے بن دیکھا نہیں کوئی بھی یارِ غمگسار
لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول
مَیں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا در گہ میں بار
اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات و کرم
جن کا مشکل ہے تا روزِ قیامت ہو شمار
اِس میں میرا جُرم کیا جب مجھ کو یہ فرماں مِلا
کون ہوں تا ردّ کروں حکمِ شہِ ذِی الاقتدار
اب تو جو فرماں مِلا اس کا ادا کرنا ہے کام
گرچہ مَیں ہوں بس ضعیف و ناتوان و دلفگار
’’مَیں یقین رکھتا ہوں کہ جو صبر اور صدق دل سے میرے پیچھے آتا ہے وہ ہلاک نہ کیا جاوے گا۔ بلکہ وہ اس زندگی سے حصہ لے گا جس کو کبھی فنا نہیں۔‘‘
انبیاء علیہم السلام کے دنیا میں آنے کی سب سے بڑی غرض اور ان کی تعلیم اور تبلیغ کا عظیم الشان مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کو شناخت کریں اور اس زندگی سے جو انہیں جہنم اور ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے اور جس کو گناہ آلود زندگی کہتے ہیں نجات پائیں۔ حقیقت میں یہی بڑا بھاری مقصد اُن کے آگے ہوتا ہے۔ پس اس وقت بھی جو خدا تعالیٰ نے ایک سِلسلہ قائم کیا ہے اور اُس نے مجھے مبعوث فرمایا ہے تو میرے آنے کی غرض بھی وہی مشترک غرض ہے جو سب نبیوں کی تھی۔ یعنی مَیں بتانا چاہتا ہوں کہ خدا کیا ہے؟ بلکہ دکھانا چاہتا ہوں اور گناہ سے بچنے کی راہ کی طرف راہبری کرتا ہوں۔ (الحکم مورخہ ۱۷؍دسمبر ۱۹۰۱ء صفحہ۱۔ ملفوظات جلددوم صفحہ ۸، ۹ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
جب دنیا میں کوئی امام الزمان آتا ہے تو ہزارہا انوار اس کے ساتھ آتے ہیں اور آسمان میں ایک صورت انبساطی پیدا ہو جاتی ہے اور انتشار روحانیت اور نورانیت ہو کر نیک استعدادیں جاگ اٹھتی ہیں۔ پس جو شخص جو الہام کی استعداد رکھتا ہے اس کو سِلسلہ الہام شروع ہو جاتا ہے اور جو شخص فکر اور غور کے ذریعہ سے دینی تفقہ کی استعداد رکھتا ہے اس کے تدبّر اور سوچنے کی قوت کو زیادہ کیا جاتا ہے اور جس کو عبادات کی طرف رغبت ہو اس کو تعبد اور پرستش میں لذت عطا کی جاتی ہے اور جو شخص غیر قوموں کے ساتھ مباحثات کرتا ہے اس کو استدلال اور اتمام حجّت کی طاقت بخشی جاتی ہے اور یہ تمام باتیں درحقیقت اِسی انتشار روحانیت کا نتیجہ ہوتا ہے جو امام الزمان کے ساتھ آسمان سے اُترتی اور ہر ایک مستعد کے دل پر نازل ہوتی ہے۔ اور یہ ایک عام قانون اور سُنت الٰہی ہے جو ہمیں قرآن کریم اور احادیث کی رہنمائی سے معلوم ہوا اور ذاتی تجارب نے اس کا مشاہدہ کرایا ہے۔ مگر مسیح موعود کے زمانے کو اِس سے بھی بڑھ کر ایک خصوصیت ہے اور وہ یہ کہ پہلے نبیوں کی کتابوں اور احادیث نبویہ میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت یہ انتشارِ نورانیت اس حد تک ہو گا کہ عورتوں کو بھی الہام شروع ہو جائے گا اور نابالغ بچّے نبوت کریں گے۔ اور عوام الناس رُوح القدس سے بولیں گے اور یہ سب کچھ مسیح موعود کی روحانیت کا پرتَو ہو گا۔
جیسا کہ دیوار پر آفتاب کا سایہ پڑتا ہے تو دیوار منوّر ہو جاتی ہے اور اگرچونہ اور قلعی سے سفید کی گئی ہو تو پھر تو اَور بھی زیادہ چمکتی ہے اور اگر اس میں آئینے نصب کئے گئے ہوں تو ان کی روشنی اس قدر بڑھتی ہے کہ آنکھ کو تاب نہیں رہتی۔ مگر دیوار دعویٰ نہیں کر سکتی کہ یہ سب کچھ ذاتی طور پر مجھ میں ہے۔ کیونکہ سورج کے غروب کے بعد پھر اس روشنی کا نام و نشان نہیں رہتا۔ پس ایسا ہی تمام الہامی انوار امام الزمان کے انوار کا انعکاس ہوتا ہے۔
(ضرورۃ الامام۔ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۴۷۴، ۴۷۵)مَیں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تا ایمانوں کو قوی کروں اور خدا تعالیٰ کا وجود لوگوں پر ثابت کر کے دکھلاؤں کیونکہ ہر ایک قوم کی ایمانی حالتیں نہایت کمزور ہو گئی ہیں اور عالم آخرت صرف ایک افسانہ سمجھا جاتا ہے اور ہر ایک انسان اپنی عملی حالت سے بتا رہا ہے کہ وہ جیسا کہ یقین دنیا اور دنیا کی جاہ و مراتب پر رکھتا ہے اور جیسا کہ اُس کو بھروسہ دنیوی اسباب پر ہے یہ یقین اور یہ بھروسہ ہرگز اس کو خدا تعالیٰ اور عالم آخرت پر نہیں۔ زبانوں پر بہت کچھ ہے مگر دلوں میں دنیا کی محبت کا غلبہ ہے۔ حضرت مسیح نے اِسی حالت میں یہود کو پایا تھا۔ اور جیسا کہ ضعف ایمان کا خاصہ ہے یہود کی اخلاقی حالت بھی بہت خراب ہو گئی تھی اور خدا کی محبت ٹھنڈی ہو گئی تھی۔ اب میرے زمانہ میں بھی یہی حالت ہے۔ سو میں بھیجا گیا ہوں کہ تا سچائی اور ایمان کازمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو۔ سو یہی افعال میرے وجود کی علّتِ غائی ہیں۔ مجھے بتلایا گیا ہے کہ پھر آسمان زمین سے نزدیک ہو گا بعد اس کے کہ بہت دُور ہو گیا تھا۔ سو مَیں ان ہی باتوں کا مجدّد ہوں اور یہی کام ہیں جن کے لئے مَیں بھیجا گیا ہوں۔ (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۲۹۱ تا ۲۹۴ حاشیہ)
اب اتمام حجت کے لئے میں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ اُسی کے موافق جو ابھی مَیں نے ذکر کیا ہے خدائے تعالیٰ نے اس زمانہ کو تاریک پا کر اور دنیا کو غفلت اور کفر اور شرک میں غرق دیکھ کر اور ایمان اور صدق اور تقویٰ اور راستبازی کو زائل ہوتے ہوئے مشاہدہ کر کے مجھے بھیجا ہے تاکہ وہ دوبارہ دنیا میں علمی اور عملی اور اخلاقی اور ایمانی سچائی کو قائم کرے اور تا اسلام کو ان لوگوں کے حملہ سے بچائے جو فلسفیت اور نیچریّت اور اباحت اور شرک اور دہریت کے لباس میں اس الٰہی باغ کو کچھ نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ (آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵صفحہ ۲۵۱)
وہ کام جس کے لئے خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا میں اور اس کی مخلوق کے رشتہ میں جو کدورت واقعہ ہو گئی ہے اس کودُور کر کے محبت اور اخلاص کے تعلق کو دوبارہ قائم کروں اور سچائی کے اظہار سے مذہبی جنگوں کا خاتمہ کر کے صلح کی بنیاد ڈالوں اور وہ دینی سچائیاں جو دنیا کی آنکھ سے مخفی ہو گئی ہیں ان کو ظاہر کر دوں اور وہ روحانیت جو نفسانی تاریکیوں کے نیچے دب گئی ہے اس کا نمونہ دکھاؤں اور خدا کی طاقتیں جو انسان کے اندر داخل ہو کر توجہ یا دعا کے ذریعہ سے نمودار ہوتی ہیں حال کے ذریعہ سے نہ محض مقال سے اُن کی کیفیت بیان کروں اور سب سے زیادہ یہ کہ وہ خالص اور چمکتی ہوئی توحید جو ہر ایک قسم کے شرک کی آمیزش سے خالی ہے جو اب نابود ہو چکی ہے اس کا دوبارہ قوم میں دائمی پودا لگا دوں اور یہ سب کچھ میری قوت سے نہیں ہو گا بلکہ اس خدا کی طاقت سے ہو گا جو آسمان اور زمین کا خدا ہے۔ (لیکچر لاہور۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۱۸۰)
خدا نے مجھے دنیا میں اس لئے بھیجا کہ تا مَیں حلم اور خلق اور نرمی سے گم گشتہ لوگوں کو خدا اور اس کی پاک ہدایتوں کی طرف کھینچوں اور و ہ نور جو مجھے دیا گیا ہے اس کی روشنی سے لوگوں کو راہ راست پر چلاؤں۔ انسان کو اس بات کی ضرورت ہے کہ ایسے دلائل اُس کو ملیں جن کے رو سے اس کو یقین آ جائے کہ خدا ہے کیونکہ ایک بڑا حصہ دنیا کا اسی راہ سے ہلاک ہو رہا ہے کہ ان کو خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی الہامی ہدایتوں پر ایمان نہیں ہے۔ اور خدا کی ہستی کے ماننے کے لئے اس سے زیادہ صاف اور قریب الفہم اور کوئی راہ نہیں کہ وہ غیب کی باتیں اور پوشیدہ واقعات اور آئندہ زمانہ کی خبریں اپنے خاص لوگوں کو بتلاتا ہے اور وہ نہاں در نہاں اسرار جن کا دریافت کرنا انسانی طاقتوں سے بالاتر ہے اپنے مقربوں پر ظاہر کر دیتا ہے کیونکہ انسان کے لئے کوئی راہ نہیں جس کے ذریعہ سے آئندہ زمانہ کی ایسی پوشیدہ اور انسانی طاقتوں سے بالاتر خبریں اس کو مل سکیں۔ اور بلاشبہ یہ بات سچ ہے کہ غیب کے واقعات اور غیب کی خبریں بالخصوص جن کے ساتھ قدرت اور حکم ہے ایسے امور ہیں جن کے حاصل کرنے پر کسی طور سے انسانی طاقت خود بخود قادر نہیں ہو سکتی۔ سو خدا نے میرے پر یہ احسان کیا ہے جو اس نے تمام دنیا میں سے مجھے اس بات کے لئے منتخب کیا ہے کہ تا وہ اپنے نشانوں سے گمراہ لوگوں کو راہ پر لاوے لیکن چونکہ خداتعالیٰ نے آسمان سے دیکھا ہے کہ عیسائی مذہب کے حامی اور پیرو یعنی پادری سچائی سے بہت دُور جاپڑے ہیں اور وہ ایک ایسی قوم ہے کہ نہ صرف آپ صراط مستقیم کو کھو بیٹھے ہیں بلکہ ہزار ہا کوس تک خشکی تری کا سفر کر کے یہ چاہتے ہیں کہ اور وں کو بھی اپنے جیسا کر لیں۔ وہ نہیں جانتے کہ حقیقی خدا کون ہے بلکہ اُن کا خدا انہی کی ایک ایجاد ہے۔ اس لئے خدا کے اس رحم نے جو انسانوں کے لئے وہ رکھتا ہے تقاضا کیا کہ اپنے بندوں کو ان کے دام تزویر سے چھڑائے اس لئے اس نے اپنے اس مسیح کو بھیجا تا وہ دلائل کے حربہ سے اُس صلیب کو توڑے جس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بدن کو توڑا تھا اور زخمی کیا تھا۔ (تریاق القلوب۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۱۴۳، ۱۴۴)
یہ عاجز تو محض اِس غرض کے لئے بھیجا گیا ہے کہ تا یہ پیغام خلق اللہ کو پہنچا وے کہ دنیا کے تمام مذاہب موجودہ میں سے وہ مذہب حق پر اور خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے جو قرآن کریم لایا ہے۔ اور دارالنجات میں داخل ہونے کے لئے دروازہ لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ہے۔ (حجۃ الاسلام۔ روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۵۲، ۵۳)
اگر تم ایماندار ہو تو شکر کرو اور شکر کے سجدات بجا لاؤ کہ وہ زمانہ جس کا انتظار کرتے کرتے تمہارے بزرگ آباء گزر گئے اور بے شمار روحیں اس کے شوق میں ہی سفر کر گئیں وہ وقت تم نے پا لیا اَب اس کی قدر کرنا یانہ کرنا اور اس سے فائدہ اٹھانا یا نہ اٹھانا تمہارے ہاتھ میں ہے۔ مَیں اس کو بار بار بیان کروں گا اور اس کے اظہار سے مَیں رُک نہیں سکتا کہ مَیں وہی ہوں جو وقت پر اصلاحِ خلق کے لئے بھیجا گیا تا دین کو تازہ طور پر دلوں میں قائم کر دیا جائے۔ مَیں اُس طرح بھیجا گیا ہوں جس طرح سے وہ شخص بعد کلیم اللہ مردِ خدا کے بھیجا گیا تھا جس کی روح ہیروڈیس کے عہد حکومت میں بہت تکلیفوں کے بعد آسمان کی طرف اٹھائی گئی۔ سو جب دوسرا کلیم اللہ جو حقیقت میں سب سے پہلا اور سید الانبیاء ہے دوسرے فرعونوں کی سرکوبی کے لئے آیا جس کے حق میں ہے۔ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا تو اس کو بھی جو اپنی کارروائیوں میں کلیم اوّل کا مثیل مگر رُتبہ میں اُس سے بزرگ تر تھا ایک مثیل المسیح کا وعدہ دیا گیا اور وہ مثیل المسیح قوت اور طبع اور خاصیّت مسیح ابن مریم کی پا کر اُسی زمانہ کی مانند اور اُسی مدّت کے قریب قریب جو کلیم اوّل کے زمانہ سے مسیح ابن مریم کے زمانہ تک تھی یعنی چودھویں صدی میں آسمان سے اُترا۔ اور وہ اترنا روحانی طور پر تھا جیسا کہ مکمل لوگوں کا صعود کے بعد خلق اللہ کی اصلاح کے لئے نزول ہوتا ہے اور سب باتوں میں اُسی زمانہ کے ہم شکل زمانہ میں اترا جو مسیح ابن مریم کے اُترنے کا زمانہ تھا تا سمجھنے والوں کے لئے نشان ہو۔ پس ہر ایک کو چاہئے کہ اس سے انکار کرنے میں جلدی نہ کرے تا خدا تعالیٰ سے لڑنے والا نہ ٹھہرے۔ دنیا کے لوگ جو تاریک خیال اور اپنے پرانے تصورات پر جمے ہوئے ہیں وہ اس کو قبول نہیں کریں گے مگر عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے جو اُن کی غلطی ان پر ظاہر کر دے گا۔ ’’دنیا میں ایک نذیر آیا۔ پر دنیا نے اُس کو قبول نہیں کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔‘‘ یہ انسان کی بات نہیں خدا تعالیٰ کا الہام اور ربّ جلیل کا کلام ہے۔ اور مَیں یقین رکھتا ہوں کہ اُن حملوں کے دن نزدیک ہیں۔ مگر یہ حملے تیغ و تبر سے نہیں ہوں گے اور تلواروں اور بندوقوں کی حاجت نہیں پڑے گی بلکہ روحانی اسلحہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی مدد اُترے گی اور یہودیوں سے سخت لڑائی ہو گی۔ وہ کون ہیں؟ اس زمانہ کے ظاہر پرست لوگ جنہوں نے بالاتفاق یہودیوں کے قدم پر قدم رکھا ہے۔ اُن سب کو آسمانی سیف اللہ دو ٹکڑے کرے گی اور یہودیت کی خصلت مٹا دی جا ئے گی۔ اور ہر ایک حق پوش دَجَّال دنیا پرست یک چشم جو دین کی آنکھ نہیں رکھتا حجت قاطعہ کی تلوار سے قتل کیا جائے گا۔ اور سچائی کی فتح ہو گی اور اسلام کے لئے پھر اُس تازگی اور روشنی کا دن آئے گا جو پہلے وقتوں میں آ چکا ہے اور وہ آفتاب اپنے پورے کمال کے ساتھ پھر چڑھے گا جیسا کہ پہلے چڑھ چکا ہے۔ لیکن ابھی ایسا نہیں۔ ضرور ہے کہ آسمان اسے چڑھنے سے روکے رہے جب تک کہ محنت اور جانفشانی سے ہمارے جگر خُوں نہ ہو جائیں اور ہم سارے آراموں کو اس کے ظہور کے لئے نہ کھو دیں اور اعزاز اسلام کے لئے ساری ذلّتیں قبول نہ کرلیں۔ اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے وہ کیا ہے؟ ہمارا اِسی راہ میں مرنا یہی موت ہے جس پر اسلام کی زندگی مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تجلی موقوف ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کا دوسرے لفظوں میں اسلام نام ہے۔ اسی اسلام کا زندہ کرنا خدا تعالیٰ اب چاہتا ہے۔ اور ضرور تھا کہ وہ اس مہم عظیم کے روبراہ کرنے کے لئے ایک عظیم الشان کارخانہ جو ہر ایک پہلو سے مؤثر ہو اپنی طرف سے قائم کرتا۔ سو اس حکیم و قدیر نے اس عاجز کو اصلاحِ خلق کے لئے بھیج کر ایسا ہی کیا اور دنیا کو حق اور راستی کی طرف کھینچنے کے لئے کئی شاخوں پر امر تائید حق اور اشاعت اسلام کو منقسم کر دیا۔ چنانچہ منجملہ ان شاخوں کے ایک شاخ تالیف اور تصنیف کا سِلسلہ ہے جس کا اہتمام اس عاجز کے سپرد کیا گیا اور وہ معارف و دقائق سکھلائے گئے جو انسان کی طاقت سے نہیں بلکہ صرف خدا تعالیٰ کی طاقت سے معلوم ہو سکتے ہیں۔ اور انسانی تکلّف سے نہیں بلکہ رُوح القدس کی تعلیم سے مشکلات حل کر دیئے گئے۔
دوسری شاخ اس کارخانہ کی اشتہارات جاری کرنے کا سِلسلہ ہے جو بحکم الٰہی اتمامِ حجت کی غرض سے جاری ہے اور اب تک بیس ہزار سے کچھ زیادہ اشتہارات اسلامی حجتوں کو غیر قوموں پر پورا کرنے کے لئے شائع ہو چکے ہیں اور آئندہ ضرورت کے وقتوں میں ہمیشہ ہوتے رہیں گے۔
تیسری شاخ اس کارخانہ کی واردین اور صادرین اور حق کی تلاش کے لئے سفر کرنے والے اور دیگر اغراضِ متفرقہ سے آنے والے ہیں جو اِس آسمانی کارخانے کی خبر پا کر اپنی اپنی نیّتوں کی تحریک سے ملاقات کے لئے آتے رہتے ہیں یہ شاخ بھی برابر نشوونمامیں ہے ……
چوتھی شاخ اس کارخانہ کی وہ مکتوبات ہیں جو حق کے طالبوں یا مخالفوں کی طرف لکھے جاتے ہیں۔ چنانچہ اب تک عرصۂ مذکورہ بالا میں نوّے۹۰ ہزار سے بھی کچھ زیادہ خط آئے ہوں گے جن کا جواب لکھا گیا …… ہر ایک مہینے میں غالبًا تین سو۳۰۰ سے سات سو ۷۰۰ یا ہزار تک خطوط کی آمد و رفت کی نوبت پہنچتی ہے۔
پانچویں شاخ اس کارخانہ کی جو خدا تعالیٰ نے اپنی خاص وحی اور الہام سے قائم کی مریدوں اور بیعت کرنے والوں کاسِلسلہ ہے۔ چنانچہ اس نے اِس سلسلہ کے قائم کرنے کے وقت مجھے فرمایا کہ زمین میں طوفانِ ضلالت برپا ہے۔ تُو اِس طوفان کے وقت میں یہ کشتی طیار کر۔ جو شخص اِس کشتی میں سوار ہو گا وہ غرق ہونے سے نجات پا جائے گا۔ اور جو انکار میں رہے گا۔ اس کے لئے موت درپیش ہے اور فرمایا کہ جو شخص تیرے ہاتھ میں ہاتھ دے گا اُس نے تیرے ہاتھ میں نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہاتھ دیا اور اُس خدا وند خدا نے مجھے بشارت دی کہ مَیں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اُٹھا لوں گا مگر تیرے سچے متبعین اور محبّین قیامت کے دن تک رہیں گے اور ہمیشہ منکرین پر انہیں غلبہ رہے گا۔
(فتح اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۷تا۲۵)بیس برس کا عرصہ ہوا ہے کہ مجھے یہ الہام ہوا۔
’’قل جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقًا۔ کل برکۃ من محمّد صلی اللّٰہ علیہ وسلم فتبارک من علّم و تعلّم۔ قل ان افتریتہٗ فَعَلَیَّ اجرامی۔ ھوالذی ارسل رسولہ بالھدٰی و دین الحق لیظھرہٗ علی الدین کلہ لامبدل لکلمات اللّٰہ۔ ظُلموا وان اللّٰہ علٰی نصرھم لقدیر۔ بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں بر منار بلندتر محکم افتاد۔ پاک محمد مصطفیٰ نبیوں کا سردار۔ خدا تیرے سب کام درست کر دے گا اور تیری ساری مُرادیں تجھے دے گا۔ رب الافواج اس طرف توجہ کرے گا۔ اس نشان کا مدعا یہ ہے کہ قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔ جنابِ الٰہی کے احسانات کا دروازہ کھلا ہے اور اس کی پاک رحمتیں اِس طرح متوجہ ہیں۔ وہ دن آتے ہیں کہ خدا تمہاری مدد کرے گا۔ وہ خدا جو ذوالجلال اور زمین اور آسمان کا پیدا کرنے والا ہے۔‘‘…
ترجمہ: - حق آیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل نے ایک دن بھاگنا ہی تھا۔ ہر ایک برکت (جو تجھ کو ملی ہے) وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی ہے۔ دو انسان بڑی برکت والے ہیں جن کی برکتیں کبھی اور کسی زمانہ میں منقطع نہیں ہوں گی۔ ایک وہ یعنی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جس کی طرف سے اور جس کے فیضان سے یہ تمام برکتیں تجھ پر اتاری گئی ہیں۔ اور دوسرا وہ انسان جس پر یہ ساری برکتیں نازل ہوئیں (یعنی یہ عاجز) کہہ اگر میں نے افترا کیا ہے اور خدا کے الہام سے نہیں بلکہ یہ بات خود بنائی ہے تو اس کا وبال میرے پر ہوگا اور میں اس جرم کی سزا پاؤں گا۔ نہیں بلکہ حق یہ بات ہے کہ خدا نے اس رسول کو یعنی تجھ کو بھیجا ہے اور اس کے ساتھ زمانہ کی ضرورت کے موافق ہدایت یعنی راہ دکھلانے کے علم اور تسلی دینے کے علم اور ایمان قوی کرنے کے علم اور دشمن پر حجت پوری کرنے کے علم بھیجے ہیں اور اس کے ساتھ دین کو ایسی چمکتی ہوئی شکل کے ساتھ بھیجا ہے جس کا حق ہونا اور خدا کی طرف سے ہونا بدیہی طور پر معلوم ہو رہا ہے۔ خدا نے اس رسول کو یعنی کامل مجدد کو اس لئے بھیجا ہے کہ تا خدا اس زمانہ میں یہ ثابت کرکے دکھلا دے کہ اسلام کے مقابل پر سب دین اور تمام تعلیمیں ہیچ ہیں اور اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو تمام دینوں پر ہرایک برکت اور دقیقہ معرفت اور آسمانی نشانوں میں غالب ہے۔ یہ خدا کا ارادہ ہے کہ اس رسول کے ہاتھ پر ہر ایک طرح پر اسلام کی چمک دکھلاوے۔ کون ہے جو خدا کے ارادوں کو بدل سکے۔ خدا نے مسلمانوں کو اور ان کے دین کو اس زمانہ میں مظلوم پایا اور وہ آیا ہے کہ تا ان لوگوں اور ان کے دین کی مدد کرے یعنی روحانی طور پر اس دین کی سچائی اور چمک اور قوت دکھلاوے اور آسمانی نشانوں سے اس کی عظمت اور حقیّت دلوں پر ظاہر کرے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اپنی قوت اور اُمنگ کے ساتھ زمین پر چل یعنی لوگوں پر ظاہر ہو کہ تیرا وقت آگیا۔ اور تیرے وجود سے مسلمانوں کا قدم ایک محکم اور بلند مینار پر جا پڑا۔ محمدی غالب ہو گئے۔ وہی محمد جو پا ک اور برگزیدہ اور نبیوں کا سردار ہے۔ خدا تیرے سب کام درست کر دے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔ وہ جو فوجوں کا مالک ہے وہ اس طرف توجہ کرے گا یعنی آسمان سے تیری بڑی مدد کی جائے گی اور تمام فرشتے تیری مدد میں لگیں گے اور ایک بڑا نشان آسمان سے ظاہر ہو گا۔ اس نشان سے اصل غرض یہ ہے کہ تا لوگوں کو معلوم ہو کہ قرآن کریم خدا کا کلام اور میرے منہ کی باتیں ہیں یعنی وہ کلام میرے منہ سے نکلا ہے۔ خدا کے احسان کا دروازہ تیرے پر کھولا گیا ہے اور اس کی پاک رحمتیں تیری طرف متوجہ ہو رہی ہیں اور وہ دن آتے ہیں (بلکہ قریب ہیں )۔ ……اِن تمام الہامات میں یہ پیشگوئی تھی کہ خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے اور میرے ہی ذریعہ سے دین اسلام کی سچائی اور تمام مخالف دینوں کا باطل ہونا ثابت کر دے گا۔ سو آج وہ پیش گوئی پوری ہوئی کیونکہ میرے مقابل پر کسی مخالف کو تاب و تواں نہیں کہ اپنے دین کی سچائی ثابت کر سکے میرے ہاتھ سے آسمانی نشان ظاہر ہو رہے ہیں اور میرے قلم سے قرآنی حقائق اور معارف چمک رہے ہیں۔ اُٹھو اور تمام دنیا میں تلاش کرو کہ کیا کوئی عیسائیوں میں سے یا سکھوں میں سے یا یہودیوں میں سے یا کسی اور فرقہ میں سے کوئی ایسا ہے کہ آسمانی نشانوں کے دکھلانے اور معارف اور حقائق کے بیان کرنے میں میرا مقابلہ کر سکے۔ مَیں وہی ہوں جس کی نسبت یہ حدیث صحاح میں موجود ہے کہ اس کے عہد میں تمام ملتیں ہلاک ہو جائیں گی مگر اسلام کہ وہ ایسا چمکے گا جو درمیانی زمانوں میں کبھی نہیں چمکا ہو گا۔
(تریاق القلوب۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۶۵ تا ۲۶۸)خداوند تعالیٰ نے اِس احقر عباد کو اِس زمانہ میں پیدا کرکے اور صد ہا نشان آسمانی اور خوارقِ غیبی اور معارف و حقائق مرحمت فرما کر اور صد ہا دلائل عقلیہ قطعیہ پر علم بخش کر یہ ارادہ فرمایا ہے کہ تا تعلیماتِ حقّہ قرآنی کو ہر قوم اور ہر ملک میں شائع اور رائج فرما وے اور اپنی حجت اُن پر پوری کرے۔ اور اسی ارادہ کی وجہ سے خداوند کریم نے اس عاجز کو یہ توفیق دی کہ اتماماً للحجّۃ دس ہزار روپیہ کا اشتہار کتاب کے ساتھ شامل کیا گیا اور دشمنوں اور مخالفوں کی شہادت سے آسمانی نشانی پیش کی گئی اور ان کے معارضہ اور مقابلہ کے لئے تمام مخالفین کو مخاطب کیا گیا تا کوئی دقیقہ اتمام حجت کا باقی نہ رہے اور ہر یک مخالف اپنے مغلوب اور لاجواب ہونے کا آپ گواہ ہو جائے غرض خداوند کریم نے جو اسباب اور وسائل اشاعتِ دین کے اور دلائل اور براہین اتمام حجت کے محض اپنے فضل اور کرم سے اس عاجز کو عطا فرمائے ہیں وہ امم سابقہ میں سے آج تک کسی کو عطا نہیں فرمائے۔ اور جو کچھ اس بارے میں توفیقاتِ غیبیہ اس عاجز کو دی گئی ہیں وہ اُن میں سے کسی کو نہیں دی گئیں۔ وَ ذَالِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ سو چونکہ خداوند کریم نے اسباب خاصّہ سے اس عاجز کو مخصوص کیا ہے اور ایسے زمانہ میں اس خاکسار کو پیدا کیا ہے کہ جو اتمامِ خدمت تبلیغ کے لئے نہایت ہی معین و مددگار ہے اس لئے اُس نے اپنے تفضّلات و عنایات سے یہ خوشخبری بھی دی ہے کہ روزِ ازل سے یہی قرار یافتہ ہے کہ آیت کریمہ متذکرہ بالا اور نیز آیت وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوۡرِہٖ مخالفوں کے لئے لکھی ہیں خود مخالفوں تک پہنچا دے گا اور ان کا عاجز اور لاجواب اور مغلوب ہونا دنیا میں ظاہر کر کے مفہوم آیت متذکرہ بالا کا پورا کر دے گا۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِِ عَلٰی ذَالِک (براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۹۶، ۵۹۷ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳)
مَیں اس جگہ کچھ گزشتہ قصّوں کو بیان نہیں کرتا بلکہ مَیں وہی باتیں کرتا ہوں جن کا مجھے ذاتی علم ہے۔ مَیں نے قرآن شریف میں ایک زبردست طاقت پائی ہے مَیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پَیروی میں ایک عجیب خاصیت دیکھی ہے جو کسی مذہب میں وہ خاصیت اور طاقت نہیں اور وہ یہ کہ سچا پیرو اس کا مقاماتِ ولایت تک پہنچ جاتا ہے۔ خدا اس کو نہ صرف اپنے قول سے مشرف کرتا ہے بلکہ اپنے فعل سے اس کو دکھلاتا ہے کہ مَیں وہی خدا ہوں جس نے زمین و آسمان پیدا کیا تب اس کا ایمان بلندی میں دُور دُور کے ستاروں سے بھی آگے گذر جاتا ہے۔ چنانچہ مَیں اس امر میں صاحب مشاہدہ ہوں خدا مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے اور ایک لاکھ سے بھی زیادہ میرے ہاتھ پر اُس نے نشان دکھلائے ہیں سو اگرچہ مَیں دنیا کے تمام نبیوں کا ادب کرتا ہوں اور ان کی کتابوں کا بھی ادب کرتا ہوں مگر زندہ دین صرف اسلام کو ہی مانتا ہوں کیونکہ اس کے ذریعہ سے میرے پر خدا ظاہر ہوا جس شخص کو میرے اس بیان میں شک ہو اس کو چاہئے کہ ان باتوں کی تحقیق کے لئے کم سے کم دو ماہ کے لئے میرے پاس آ جائے۔ مَیں اس کے تمام اخراجات کا جو اس کے لئے کافی ہو سکتے ہیں اس مدت تک متکفّل رہوں گا۔ میرے نزدیک مذہب وہی ہے جو زندہ مذہب ہو اور زندہ اور تازہ قدرتوں کے نظارہ سے خدا کو دکھلا وے ورنہ صرف دعویٰ صحت مذہب ہیچ اور بلا دلیل ہے۔ (مضمون جلسہ لاہور صفحہ ۶۰ منسلکہ چشمۂ معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۴۲۸)
اگرچہ مَیں نے اپنی بہت سی کتابوں میں اس بات کی تشریح کر دی ہے کہ میری طرف سے یہ دعویٰ کہ مَیں عیسیٰ مسیح ہوں اور نیز محمد مہدی ہوں اس خیال پر مبنی نہیں ہیں کہ مَیں درحقیقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں اور نیز درحقیقت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ مگر پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے غور سے میری کتابیں نہیں دیکھیں وہ اس شبہ میں مبتلا ہو سکتے ہیں کہ گویا مَیں نے تناسخ کے طور پر اس دعوے کو پیش کیا ہے اور گویا مَیں اس بات کا مدعی ہوں کہ سَچ مُچ ان دو بزرگ نبیوں کی روحیں میرے اندر حلول کر گئی ہیں لیکن واقعی امر ایسا نہیں ہے۔ بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ آخری زمانہ کی نسبت پہلے نبیوں نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ وہ ایک ایسا زمانہ ہو گا کہ جو دو قسم کے ظلم سے بھر جائے گا ایک ظلم مخلوق کے حقوق کی نسبت ہو گا اور دوسرا ظلم خالق کے حقوق کی نسبت۔
مخلوق کے حقوق کی نسبت یہ ظلم ہو گا کہ جہاد کا نام رکھ کر نوع انسان کی خونریزیاں ہوں گی یہاں تک کہ جو شخص ایک بے گناہ کو قتل کرے گا وہ خیال کرے گا کہ گویا وہ ایسی خونریزی سے ایک ثواب عظیم کو حاصل کرتا ہے اور اس کے سوا اَور بھی کئی قسم کی ایذائیں محض دینی غیرت کے بہانہ پر نوع انسان کو پہونچائی جائیں گی…
اور دوسری قسم ظلم کی جو خالق کی نسبت ہے وہ اس زمانہ کے عیسائیوں کا عقیدہ ہے جو خالق کی نسبت کمال غلو تک پہنچ گیا ہے۔ اس میں تو کچھ شک نہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا تعالیٰ کے ایک بزرگ نبی ہیں اور بلاشبہ عیسیٰ مسیح خدا کا پیارا خدا کا برگزیدہ اور دنیا کا نور اور ہدایت کا آفتاب اور جناب الٰہی کا مقرب اور اس کے تخت کے نزدیک مقام رکھتا ہے اور کروڑ ہا انسان جو اس سے سچی محبت رکھتے ہیں اور اس کی وصیتوں پر چلتے ہیں اور اس کی ہدایات کے کاربند ہیں وہ جہنم سے نجات پائیں گے۔ لیکن بایں یہ سخت غلطی اور کفر ہے کہ اس برگزیدہ کو خدا بنایا جائے … اصل بات یہ ہے کہ جب رُوحانی اور آسمانی باتیں عوام کے ہاتھ میں آتی ہیں تو وہ ان کی جڑ تک پہونچ نہیں سکتے آخر کچھ بگاڑکر اور کچھ مجاز کو حقیقت پر حمل کر کے سخت غلطی اور گمراہی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ سو اسی غلطی میں آ جکل کے علماء مسیحی بھی گرفتار ہیں اور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا بنا دیا جائے۔ سو یہ حق تلفی خالق کی ہے اور اس حق کے قائم کرنے کے لئے اور توحید کی عظمت دلوں میں بٹھانے کے لئے ایک بزرگ نبی ملک عرب میں گذرا ہے جس کا نام محمدؐ اور احمدؐ تھا۔ خدا کے اُس پر بے شمار سلام ہوں۔ شریعت دو۲ حصوں پر منقسم تھی۔ بڑا حصہ یہ تھاکہ لا إلهَ إِلَّا الله یعنی توحید۔ اور دوسرا حصہ یہ کہ ہمدردی نوع انسان کرو اور ان کے لئے وہ چاہو جو اپنے لئے۔ سو ان دو حصوں میں سے حضرت مسیح نے ہمدردی نوع انسان پر زور دیا کیونکہ وہ زمانہ اسی زور کو چاہتا تھا۔ اور دوسرا حصّہ جو بڑا حصہ ہے یعنی لا إلهَ إِلَّا الله جو خدا کی عظمت اور توحید کا سرچشمہ ہے اُس پر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے زور دیا کیونکہ وہ زمانہ اسی قسم کے زور کو چاہتا تھا۔ پھر بعد اس کے ہمارا زمانہ آیا جس میں اب ہم ہیں۔ اس زمانہ میں یہ دونوں قسم کی خرابیاں کمال درجہ تک پہونچ گئی تھیں یعنی حقوقِ عباد کا تلف کرنا اور بے گناہ بندوں کا خون کرنا مسلمانو ں کے عقیدہ میں داخل ہو گیا تھا اور اس غلط عقیدہ کی وجہ سے ہزار ہا بے گناہوں کو وحشیوں نے تہ تیغ کر دیا تھا اور پھر دوسری طرف حقوقِ خالق کا تلف کرنا بھی کمال کو پہونچ گیا تھا اور عیسائی عقیدہ میں یہ داخل ہو گیا تھا ……سو اس وقت خدا نے جیسا کہ حقوق عباد کے تلف کے لحاظ سے میرا نام مسیح رکھا اور مجھے خُو اور بُو اور رنگ اور روپ کے لحاظ سے حضرت عیسیٰ مسیح کا اوتار کر کے بھیجا ایسا ہی اُس نے حقوقِ خالق کے تلف کے لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد رکھا۔ اور مجھے توحید پھیلانے کے لئے تمام خو اور بو اور رنگ اور روپ اور جامہ محمدی پہنا کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اَوتا ر بنا دیا۔ سو مَیں اِن معنوں کر کے عیسیٰ مسیح بھی ہوں اور محمد مہدی بھی۔ مسیح ایک لقب ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا تھا جس کے معنی ہیں خدا کو چھونے والااور خدائی انعام میں سے کچھ لینے والا اور اس کا خلیفہ اور صدق اور راستبازی کو اختیار کرنے والا۔ اور مہدی ایک لقب ہے جو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا تھا جس کے معنے ہیں کہ فطرتاً ہدایت یافتہ اور تمام ہدایتوں کا وارث اور اسم ہادی کے پورے عکس کامحل۔ سو خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت نے اس زمانہ میں ان دونوں لقبوں کا مجھے وارث بنا دیا۔ اور یہ دونوں لقب میرے وجود میں اکٹھے کر دیئے۔ سو مَیں اِن معنوں کے رو سے عیسیٰ مسیح بھی ہوں اور محمد مہدی بھی اور یہ وہ طریق ظہور ہے جس کو اسلامی اصطلاح میں بروز کہتے ہیں۔ سو مجھے دو بروز عطا ہوئے ہیں۔ بروز عیسیٰؑ و بروز محمد۔ غرض میرا وجود ان دونوں نبیوں کے وجود سے بروزی طور پر ایک معجونِ مرکب ہے۔ عیسیٰ مسیح ہونے کی حیثیت سے میرا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو وحشیانہ حملوں اور خونریزیوں سے روک دوں جیسا کہ حدیثوں میں صریح طور سے وارد ہو چکا ہے کہ جب مسیح دوبارہ دنیا میں آئے گا تو تمام دینی جنگوں کا خاتمہ کر دے گا۔ سو ایساہی ہوتا جاتا ہے …
اور محمد مہدی ہونے کی حیثیت سے میرا کام یہ ہے کہ آسمانی نشانوں کے ساتھ خدائی توحید کو دنیا میں دوبارہ قائم کر وں کیونکہ ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے محض آسمانی نشان دکھلا کر خدائی عظمت اور طاقت اور قدرت عرب کے بت پرستوں کے دلوں میں قائم کی تھی۔ سو ایسا ہی مجھے رُوح القدس سے مدد دی گئی ہے۔
(ضمیمہ رسالہ جہادملحقہ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد۔ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ۲۳ تا۲۹)تکمیلِ اشاعتِ ہدایت کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اتمامِ نعمت اور اکمال الدین ہوا تو اس کی دو صورتیں ہیں۔ اوّل تکمیل ہدایت۔ دوسری تکمیل اشاعتِ ہدایت۔ تکمیلِ ہدایت مِنْ کُلِِّّ الوُجُوْہ آپ کی آمد اوّل سے ہوئی اور تکمیل اشاعتِ ہدایت آپ کی آمد ثانی سے ہوئی کیونکہ سورۃ جمعہ میں جو اٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ والی آیت آپ کے فیض اور تعلیم سے ایک اور قوم کے تیار کرنے کی ہدایت کرتی ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی ایک بعثت اَور ہے اور یہ بعثت بروزی رنگ میں ہے جو اِس وقت ہو رہی ہے۔ پس یہ وقت تکمیلِ اشاعتِ ہدایت کا ہے۔ (الحکم۱۷ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ۳۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ ۳۶۱، ۳۶۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
سو اس عاجز کو اور بزرگوں کی فطرتی مشابہت سے علاوہ جس کی تفصیل براہین احمدیہ میں بہ بسطِ تمام مندرج ہے حضرت مسیح کی فطرت سے ایک خاص مشابہت ہے اور اسی فطرتی مشابہت کی وجہ سے مسیح کے نام پر یہ عاجز بھیجا گیا۔ تا صلیبی اعتقاد کو پاش پاش کر دیا جائے۔ سو مَیں صلیب کے توڑنے اور خنزیروں کے قتل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ مَیں آسمان سے اُترا ہوں اُن پاک فرشتوں کے ساتھ جو میرے دائیں بائیں تھے جن کو میرا خدا جو میرے ساتھ ہے میرے کام کے پورا کرنے کے لئے ہر ایک مستعد دل میں داخل کرے گا بلکہ کر رہا ہے اور اگر مَیں چُپ بھی رہوں اور میری قلم لکھنے سے رُکی بھی رہے تب بھی وہ فرشتے جو میرے ساتھ اُترے ہیں اپنا کام بندنہیں کر سکتے اور اُن کے ہاتھ میں بڑی بڑی گرزیں ہیں جو صلیب توڑنے اور مخلوق پرستی کے ہیکل کچلنے کے لئے دیئے گئے ہیں۔ (فتح اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۱ حاشیہ)
اِس زمانہ کے عیسائیوں پر گواہی دینے کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے کھڑا کیا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ تا میں لوگوں پر ظاہر کروں کہ ابن مریم کو خدا ٹھہرانا ایک باطل اور کفر کی راہ ہے اور مجھے اس نے اپنے مکالمات اور مخاطبات سے مشرف فرمایا ہے اور مجھے اس نے بہت سے نشانوں کے ساتھ بھیجا ہے اور میری تائید میں اُس نے بہت سے خوارق ظاہر فرمائے ہیں۔ اور درحقیقت اس کے فضل و کرم سے ہماری مجلس خدا نما مجلس ہے جو شخص اس مجلس میں صحتِ نیّت اور پاک ارادہ اور مستقیم جستجو سے ایک مدت تک رہے تو مَیں یقین کرتا ہوں کہ اگر وہ دہریہ بھی ہو تو آخر خدا تعالیٰ پر ایمان لاوے گا اور ایک عیسائی جس کو خدا تعالیٰ کا خوف ہو اور جو سچّے خدا کی تلاش کی بھوکھ اور پیاس رکھتا ہو اس کو لازم ہے کہ بے ہودہ قصّے اور کہانیاں ہاتھ سے پھینک دے اور چشم دید ثبوتوں کا طالب بن کر ایک مدت تک میری صحبت میں رہے پھر دیکھے کہ وہ خدا جو زمین اور آسمان کا مالک ہے کس طرح اپنے آسمانی نشان اُس پر ظاہر کرتا ہے۔ مگر افسوس کہ ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں جو درحقیقت خدا کو ڈھونڈنے والے اور اس تک پہونچنے کے لئے دن رات سرگرداں ہیں۔ (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ۵۵)
چونکہ مَیں تثلیث کی خرابیوں کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ہوں اس لئے یہ دردناک نظارہ کہ ایسے لوگ دنیا میں چالیس کروڑ سے بھی کچھ زیادہ پائے جاتے ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا سمجھ رکھا ہے میرے دل پر اس قدر صدمہ پہونچاتا رہا ہے کہ مَیں گمان نہیں کر سکتا کہ مجھ پر میری تمام زندگی میں اس سے بڑھ کر کوئی غم گذرا ہو بلکہ اگر ہم و غم سے مرنا میرے لئے ممکن ہوتا تو یہ غم مجھے ہلاک کر دیتا کہ کیوں یہ لوگ خدائے واحد لاشریک کو چھوڑ کر ایک عاجز انسان کی پرستش کر رہے ہیں۔ اور کیوں یہ لوگ اس نبی پر ایمان نہیں لاتے جو سچی ہدایت اور راہِ راست لے کر دنیا میں آیا ہے۔ ہر ایک وقت مجھے یہ اندیشہ رہا ہے کہ اس غم کے صدمات سے میں ہلاک نہ ہو جاؤں …… اور میرا اس درد سے یہ حال ہے کہ اگر دوسرے لوگ بہشت چاہتے ہیں تو میرا بہشت یہی ہے کہ مَیں اپنی زندگی میں اِس شرک سے انسانوں کو رہائی پاتے اور خدا کا جلال ظاہر ہوتے دیکھ لوں اور میری رُوح ہر وقت دعا کرتی ہے کہ اے خدا! اگر مَیں تیری طرف سے ہوں اور اگر تیرے فضل کا سایہ میرے ساتھ ہے تو مجھے یہ دن دکھلا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے سر سے یہ تہمت اٹھا دی جائے کہ گویا نعوذ باللہ انہوں نے خدائی کا دعویٰ کیا۔ ایک زمانہ گزر گیا کہ میرے پنجوقت کی یہی دعائیں ہیں کہ خدا ان لوگوں کو آنکھ بخشے اور وہ اس کی وحدانیت پر ایمان لاویں اور اس کے رسول کو شناخت کر لیں اور تثلیث کے اعتقاد سے توبہ کریں۔ (تبلیغ رسالت جلد ہشتم صفحہ ۷۱، ۷۲۔ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۳۱۲، ۳۱۳ بار دوم)
مسیح موعود کے وجود کی علّتِ غائی احادیث نبویہ میں یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ عیسائی قوم کے دجل کو دُور کرے گا اور ان کے صلیبی خیالات کو پاش پاش کر کے دکھلا دے گا۔ چنانچہ یہ امر میرے ہاتھ پر خداتعالیٰ نے ایسا انجام دیا کہ عیسائی مذہب کے اصول کا خاتمہ کر دیا۔ مَیں نے خدا تعالیٰ سے بصیرت کاملہ پا کر ثابت کر دیا کہ وہ لعنتی موت کہ جو نعوذ باللہ حضرت مسیح کی طرف منسوب کی جاتی ہے جس پر تمام مدار صلیبی نجات کا ہے وہ کسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی اور کسی طرح لعنت کا مفہوم کسی راستباز پر صادق نہیں آ سکتا۔ چنانچہ فرقہ پادریان اس جدید طرز کے سوال سے جو حقیقت میں اُن کے مذہب کو پاش پاش کرتا ہے ایسے لاجواب ہو گئے کہ جن جن لوگوں نے اِس تحقیق پر اطلاع پائی ہے وہ سمجھ گئے ہیں کہ اس اعلیٰ درجہ کی تحقیق نے صلیبی مذہب کو توڑ دیا ہے بعض پادریوں کے خطوط سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ اس فیصلہ کرنے والی تحقیق سے نہایت درجہ ڈر گئے ہیں۔ اور وہ سمجھ گئے ہیں کہ اس سے ضرور صلیبی مذہب کی بنیادگِرے گی اور اس کا گرنا نہایت ہو لناک ہو گا۔ (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۲۶۲، ۲۶۳ حاشیہ)
جیسا کہ ہم نے اس فارسی قصیدہ میں جو اوپر لکھا گیا ہے یہ بتلایا ہے کہ خدا کے کامل مامورین کی
علامتوں
میں
سے
ایک یہ علامت ہے کہ اُن سے آسمانی نشان ظاہر ہوتے ہیں ایسا ہی ہم اس جگہ ہزار ہزار شکر کے ساتھ
لکھتے
ہیں کہ
وہ
تمام علامتیں اِس بندۂ حضرت ِ احدّیت میں پوری ہوئیں اس زمانہ میں پادریوں کا متعصب فرقہ جو سراسر
حق
پوشی
کی
راہ سے کہا کرتا تھا کہ گویا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معجزہ ظہور میں نہیں آیا ان کو
خدا
تعالیٰ نے
سخت شرمندہ کرنے والا جواب دیا اور کھلے کھلے نشان اس اپنے بندہ کی تائید میں ظاہر فرمائے۔
ایک وہ زمانہ تھا کہ انجیل کے واعظ بازاروں اور گلیوں اور کوچوں میں نہایت دریدہ دہانی سے اور سراسر افترا سے ہمارے سیّد و مولیٰ خاتم الانبیاء اور افضل الرسل والاصفیاء اور سیّد المعصومین والاتقیاء حضرت محبوبِ جناب احدیت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ قابلِ شرم جھوٹ بولا کرتے تھے کہ گویا آنجناب سے کوئی پیش گوئی یا معجزہ ظہور میں نہیں آیا۔ اور اب یہ زمانہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے علاوہ ان ہزار ہا معجزات کے جو ہمارے سرور و مولیٰ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن شریف اور احادیث میں اس کثرت سے مذکور ہیں جو اعلیٰ درجہ کے تواتر پر ہیں تازہ بتازہ صد ہا نشان ایسے ظاہر فرمائے ہیں کہ کسی مخالف اور منکر کو اُن کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ ہم نہایت نرمی اور انکسار سے ہر ایک عیسائی صاحب اور دوسرے مخالفوں کو کہتے رہے ہیں اور اب بھی کہتے ہیں کہ درحقیقت یہ بات سچ ہے کہ ہر ایک مذہب جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو کر اپنی سچائی پر قائم ہوتا ہے اُس کے لئے ضرور ہے کہ ہمیشہ اُس میں ایسے انسان پیدا ہوتے رہیں کہ جو اپنے پیشوا اور ہادی اور رسول کے نائب ہو کر یہ ثابت کریں کہ وہ نبی اپنی روحانی برکات کے لحاظ سے زندہ ہے فوت نہیں ہوا کیونکہ ضرور ہے کہ وہ نبی جس کی پیروی کی جائے جس کو شفیع اور منجّی سمجھا جائے وہ اپنے روحانی برکات کے لحاظ سے ہمیشہ زندہ ہو اور عزّت اور رفعت اور جلال کے آسمان پر اپنے چمکتے ہوئے چہرہ کے ساتھ ایسا بدیہی طور پر مقیم ہو اور خدائے ازلی ابدی حَیُّ قیُّوم ذُوالْاِقْتِدَار کے دائیں طرف بیٹھنا اُس کا ایسے پُرزور الٰہی نُوروں سے ثابت ہو کہ اس سے کامل محبت رکھنا اور اس کی کامل پیروی کرنا لازمی طور پر اس نتیجہ کو پیدا کرتا ہو کہ پیروی کرنے والا رُوح القدس اور آسمانی برکات کا انعام پائے۔ اور اپنے پیارے نبی کے نوروں سے نور حاصل کر کے اپنے زمانہ کی تاریکی کو دُور کرے۔ اور مستعد لوگوں کو خدا کی ہستی پر وہ پختہ اور کامل اور درخشاں اور تاباں یقیں بخشے جس سے گناہ کی تمام خواہشیں اور سفلی زندگی کے تمام جذبات جل جاتے ہیں۔ یہی ثبوت اس بات کا ہے کہ وہ نبی زندہ اور آسمان پر ہے۔ سو ہم اپنے خدائے پاک ذوالجلال کا کیا شکر کریں کہ اس نے اپنے پیارے نبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور پیروی کی توفیق دے کر اور پھر اس محبت اور پیروی کے روحانی فیضوں سے جو سچّی تقویٰ اور سچے آسمانی نشان ہیں کامل حصہ عطا فرما کر ہم پر ثابت کر دیا کہ وہ ہمارا پیارا برگزیدہ نبی فوت نہیں ہوا بلکہ وہ بلند تر آسمان پر اپنے ملیک مقتدر کے دائیں طرف بزرگی اور جلال کے تخت پر بیٹھا ہے۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَیْہِ وَ بَارِکْ وَسَلِّمْ ۔ اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا
(تریاق القلوب۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۱۳۷ تا ۱۳۹)سو اسی بنا پر یہ عاجز اس سِلسلہ کے قائم رکھنے کے لئے مامور کیا گیا ہے اور چاہتا ہے کہ صحبت میں
رہنے
والوں کا
سِلسلہ اور بھی زیادہ وسعت سے بڑھا دیا جائے اور ایسے لوگ دن رات صحبت میں رہیں کہ جو ایمان اور
محبت
اور
یقین
کے بڑھانے کے لئے شوق رکھتے ہوں اور ان پر وہ انوار ظاہر ہوں کہ جو اس عاجز پر ظاہر کئے گئے ہیں۔
اور وہ
ذوق
ان
کو عطا ہو جو اس عاجز کو عطا کیا گیا ہے تا اسلام کی روشنی عام طور پر دنیا میں پھیل جائے اور حقارت
اور
ذلّت کا
سیاہ داغ مسلمانوں کی پیشانی سے دھویا جائے۔ اسی کی بشارت دے کر خداوندنے مجھے بھیجا۔ اور کہا
کہ
بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں بر منار بلند تر محکم افتاد۔60
خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا۔ ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔ یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا۔ سو تم اس مقصد کی پیروی کرو مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے۔ اور جب تک کوئی خدا سے رُوح القدس پا کر کھڑا نہ ہو سب میرے بعد مِل کر کام کرو۔ (رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۰۶، ۳۰۷)
اِس وقت جو ضرورت ہے وہ یقینا سمجھ لو سیف کی نہیں بلکہ قلم کی ہے۔ ہمارے مخالفین نے اسلام پر جو شبہات وارد کئے ہیں اور مختلف سائنسوں اور مکاید کی رو سے اللہ تعالیٰ کے سچّے مذہب پر حملہ کرنا چاہا ہے۔ اُس نے مجھے متوجہ کیا ہے کہ مَیں قلمی اسلحہ پہن کر اس سائنس اور علمی ترقی کے میدانِ کارزار میں اتروں اور اسلام کی روحانی شجاعت اور باطنی قوت کا کرشمہ بھی دکھاؤں۔ مَیں کب اس میدان کے قابل ہو سکتا تھا یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کی بے حد عنایت ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ وہ میرے جیسے عاجز انسان کے ہاتھ سے اُس کے دین کی عزت ظاہر ہو۔ (رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۶۸، ملفوظات جلد اوّل صفحہ۳۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
قُلۡ اِنۡ کَانَ لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدٌ ٭ۖ فَاَنَا اَوَّلُ الۡعٰبِدِیۡنَ
یہ اشتہار پادری صاحبوں کی خدمت میں نہایت عجز اور ادب اور انکسار سے لکھا جاتا ہے کہ اگر یہ سچ ہوتاکہ حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام درحقیقت خدا کا فرزند ہوتا یا خدا ہوتا تو سب سے پہلے مَیں اس کی پرستش کرتا اور مَیں تمام ملک میں اُس کی خدائی کی اشاعت کرتا اور اگرچہ مَیں دکھ اُٹھاتا اور مارا جاتا۔ اور قتل کیا جاتا اور اس کی راہ میں ٹکڑے ٹکڑے کیا جاتا تب بھی میں اس دعوت اور منادی سے باز نہ آتا۔ لیکن اے عزیزو! خدا تم پر رحم کرے اور تمہاری آنکھیں کھولے حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا نہیں وہ صرف ایک نبی ہے۔ ایک ذرّہ اس سے زیادہ نہیں اور بخدا مَیں وہ سچی محبت اس سے رکھتا ہوں جو تمہیں ہرگز نہیں اور جس نور کے ساتھ میں اسے شناخت کرتا ہوں تم ہرگز اسے شناخت نہیں کر سکتے۔ اِس میں کچھ شک نہیں کہ وہ خدا کا ایک پیارا اور برگزیدہ نبی تھا اور ان میں سے تھا جن پر خدا کاایک خاص فضل ہوتا ہے اور جو خدا کے ہاتھ سے پاک کئے جاتے ہیں مگر خدا نہیں تھا۔ اور نہ خدا کا بیٹا تھا۔ مَیں نے یہ باتیں اپنی طرف سے نہیں کیں بلکہ وہ خدا جو زمین و آسمان کا خالق ہے میرے پر ظاہر ہوا اور اُسی نے اِس آخری زمانہ کے لئے مجھے مسیح موعود کیا۔ اس نے مجھے بتلایا کہ سچ یہی ہے کہ یسوع ابن مریم نہ خدا ہے نہ خدا کا بیٹا ہے۔ اور اُسی نے میرے ساتھ ہمکلام ہو کر مجھے یہ بتلایا کہ وہ نبی جس نے قرآن پیش کیا اور لوگوں کو اسلام کی طرف بُلایا وہ سچا نبی ہے۔ اور وہی ہے جس کے قدموں کے نیچے نجات ہے اور بجز اس کی متابعت کے ہرگز ہرگز کسی کو کوئی نُور حاصل نہیں ہو گا۔ اور جب میرے خدا نے اس نبی کی وقعت اور قدر اور عظمت میرے پر ظاہر کی تو مَیں کانپ اُٹھا اور میرے بدن پر لرزہ پڑ گیا۔ کیونکہ جیسا کہ حضرت عیسیٰ مسیح کی تعریف میں لوگ حد سے بڑھ گئے یہاں تک کہ ان کو خدا بنا دیا اسی طرح اس مقدس نبیؐ کا لوگوں نے قدر شناخت نہیں کیا جیسا کہ حق شناخت کرنے کا تھا اور جیسا کہ چاہئے لوگوں کو اب تک اُس کی عظمتیں معلوم نہیں۔ وہی ایک نبی ہے جس نے توحید کا تخم ایسے طور پر بویا جو آج تک ضائع نہیں ہوا۔ وہی ایک نبی ہے جو ایسے وقت میں آیا جب تمام دنیا بگڑ گئی تھی اور ایسے وقت میں گیا جب ایک سمندر کی طرح توحید کو دنیا میں پھیلا گیا۔ اور وہی ایک نبی ہے جس کے لئے ہر ایک زمانہ میں خدا اپنی غیرت دکھلاتا رہا ہے اور اس کی تصدیق اور تائید کے لئے ہزارہا معجزات ظاہر کرتا رہا۔ اسی طرح اس زمانہ میں بھی اس پاک نبی کی بہت توہین کی گئی اِس لئے خدا کی غیرت نے جوش مارا اور سب گزشتہ زمانوں سے زیادہ جوش مارا اور مجھے اس نے مسیح موعود کر کے بھیجا تاکہ مَیں اُس کی نبوّت کے لئے تمام دنیا میں گواہی دوں اگر مَیں بے دلیل یہ دعویٰ کرتا ہوں تو جھوٹا ہوں لیکن اگر خدا اپنے نشانوں کے ساتھ اس طور سے میری گواہی دیتا ہے کہ اس زمانہ میں مشرق سے مغرب تک اور شمال سے لے کر جنوب تک اس کی نظیر نہیں تو انصاف اور خدا تر سی کا مقتضا یہی ہے کہ مجھے میری اس تمام تعلیم کے ساتھ قبول کریں۔ خدا نے میرے لئے وہ نشان دکھائے کہ اگر وہ ان اُمتوں کے وقت نشان دکھلائے جاتے جو پانی اور آگ اور ہوا سے ہلاک کی گئیں تو وہ ہلاک نہ ہوتیں مگر اس زمانے کے لوگوں کو مَیں کس سے تشبیہہ دوں وہ اُس بدقسمت کی طرح ہیں جس کی آنکھیں بھی ہیں پر دیکھتا نہیں اور کان بھی ہیں پر سنتانہیں اور عقل بھی ہے پر سمجھتا نہیں۔ مَیں اُن کے لئے روتا ہوں اور وہ مجھ پر ہنستے ہیں اور مَیں ان کو زندگانی کا پانی دیتا ہوں اور وہ مجھ پر آگ برساتے ہیں۔ خدا میرے پر نہ صرف اپنے قول سے ظاہر ہوا ہے بلکہ اپنے فعل کے ساتھ بھی اس نے میرے پر تجلّی کی اور میرے لئے وہ کام دکھلائے اور دکھلائے گا کہ جب تک کسی پر خدا کا خاص فضل نہ ہو اس کے لئے یہ کام دکھلائے نہیں جاتے۔ لوگوں نے مجھے چھوڑ دیا لیکن خدانے مجھے قبول کیا۔ کون ہے جو ان نشانوں کے دکھلانے میں میرے مقابل پر آ سکتا ہے۔ مَیں ظاہر ہوا ہوں تا خدا میرے ذریعہ سے ظاہر ہو۔ وہ ایک مخفی خزانہ کی طرح تھا مگر اَب اُس نے مجھے بھیج کر ارادہ کیا کہ تمام دَہریوں اور بے ایمانوں کا مُنہ بند کرے جو کہتے ہیں کہ خدا نہیں۔ مگر اے عزیزو! تم جو خدا کی طلب میں لگے ہوئے ہو۔ مَیں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ سچا خدا وہی ہے جس نے قرآن نازل کیا۔ وہی ہے جس نے میرے پر تجلّی کی اور جو ہر دم میرے ساتھ ہے۔
(اشتہار منسلکہ حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۶۱۹، ۶۲۰)
الَّذِیۡنَ یُبَایِعُوۡنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوۡنَ اللّٰہَ ؕ یَدُ اللّٰہِ فَوۡقَ اَیۡدِیۡہِمۡ
(الہامِ الٰہی)
اے ناظرین !
عَافَاکُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالدِّیْنِ62
آج یہ عاجز ایک مدّت مدید کے بعد اس الٰہی کارخانہ
کے بارے میں جو خدا تعالیٰ نے دین اسلام کی حمایت کے لئے میرے سپرد کیا ہے ایک ضروری مضمون کی
طرف آپ
لوگوں
کو
توجہ دلاتاہے۔ اور مَیں اس مضمون میں جہاں تک خدا تعالیٰ نے اپنی طرف سے مجھے تقریر کرنے کا
مادہ بخشا
ہے
اِس
سِلسلہ کی عظمت اور اس کارخانہ کی نصرت کی ضرورت آپ صاحبوں پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں تا وہ حق
تبلیغ جو
مجھ پر
واجب ہے اُس سے مَیں سبکدوش ہو جاؤں۔ پس اس مضمون کے بیان کرنے میں مجھے اس سے کچھ غرض نہیں کہ
اس تحریر
کا
دلوں
پر کیا اثر پڑے گا۔ صرف غرض یہ ہے کہ جو بات مجھ پر فرض ہے اور جو پیغام پہنچانا میرے پر قرضۂ
لازمہ کی
طرح
ہے
وہ جیسا کہ چاہئے مجھ سے ادا ہو جائے خوا ہ لوگ اس کو بسمعِ رضاسُنیں اور خواہ کراہت اور قبض کی
نظر سے
دیکھیں
اور خواہ میری نسبت نیک گمان رکھیں اور یا بدظنّی کو اپنے دلوں میں جگہ دیں۔
وَاُفَوِّضُ اَمۡرِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بَصِیۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ63
اب مَیں ذیل میں وہ مضمون جس کا اوپر وعدہ دیا ہے لکھتا ہوں۔
اے حق کے طالبو اور اسلام کے سچّے محبّو ! آپ لوگوں
پر واضح ہے کہ یہ زمانہ جس میں ہم لوگ زندگی بسر کر رہے ہیں یہ ایک ایسا تاریک زمانہ ہے کہ کیا
ایمانی
اور
کیا
عملی جس قدر امور ہیں سب میں سخت فساد واقع ہو گیا ہے اور ایک تیز آندھی ضلالت اور گمراہی کی ہر
طرف سے
چل
رہی
ہے۔ وہ چیز جس کو ایمان کہتے ہیں اس کی جگہ چند لفظوں نے لے لی ہے جن کا محض زبان سے اقرار کیا
جاتا ہے
اور
وہ
امور جن کا نام اعمالِ صالحہ ہے اُن کا مصداق چند رسوم یا اسراف اور ریا کاری کے کام سمجھے گئے
ہیں اور
جو
حقیقی
نیکی ہے اس سے بکلّی بیخبری ہے۔ اس زمانہ کا فلسفہ اور طبیعی بھی رُوحانی صلاحیّت کا سخت مخالف
پڑا ہے
اُس
کے
جذبات اُس کے جاننے والوں پر نہایت بد اثر کرنے والے اور ظلمت کی طرف کھینچنے والے ثابت ہوتے
ہیں۔ وہ
زہریلے
مواد کو حرکت دیتے اور سوئے ہوئے شیطان کو جگا دیتے ہیں۔ اِن علوم میں دخل رکھنے والے دینی امور
میں
اکثر
ایسی
بدعقیدگی پیدا کر لیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ اصولوں اور صوم و صلوٰۃ وغیرہ کے عبادت
کے طریقوں
کو
تحقیر اور استہزاء کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ اُن کے دلوں میں خدا تعالیٰ کے وجود کی بھی کچھ
وقعت اور
عظمت
نہیں بلکہ اکثر اُن میں سے الحاد کے رنگ سے رنگین اور دہریت کے رگ و ریشہ سے پُر اور مسلمانوں
کی اولاد
کہلا
کر
پھر دشمنِ دین ہیں۔ جو لوگ کالجوں میں پڑھتے ہیں اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ ہنوز وہ اپنے علوم
ضروریہ کی
تحصیل
سے
فارغ نہیں ہوتے کہ دین اور دین کی ہمدردی سے پہلے ہی فارغ اور مستعفی ہو چکتے ہیں۔ یہ مَیں نے
صرف ایک
شاخ
کا
ذکر کیا ہے۔ جو حال کے زمانہ میں ضلالت کے پھلوں سے لدی ہوئی ہے۔ مگر اس کے سوا صدہا اَور شاخیں
بھی ہیں
جو
اس
سے کم نہیں ! عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ دنیا سے امانت اور دیانت ایسی اُٹھ گئی ہے کہ گویا
بکلّی
مفقود ہو
گئی
ہے۔ دنیا کمانے کے لئے مکر اور فریب حد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ جو شخص سب سے زیادہ شریر ہو وہی
سب سے
زیادہ
لائق
سمجھا جاتا ہے۔ طرح طرح کی ناراستی، بد دیانتی، حرامکاری، دغا بازی، دروغ گوئی اور نہایت درجہ
کی روبہ
بازی
اور
لالچ سے بھرے ہوئے منصوبے اور بدذاتی سے بھری ہوئی خصلتیں پھیلتی جاتی ہیں اور نہایت بے رحمی سے
ملے
ہوئے
کینے
اور جھگڑے ترقی پر ہیں اور جذبات بہیمیّہ اور سبعیّہ کا ایک طوفان اٹھا ہوا ہے۔ اور جس قدر لوگ
ان علوم
اور
قوانینِ مروّجہ میں چست و چالاک ہوتے جاتے ہیں اُسی قدر نیک گوہری اور نیک کرداری کی طبعی
خصلتیں اور
حیا
اور
شرم اور خدا ترسی اور دیانت کی فطرتی خاصیتیں اُن میں کم ہوتی جاتی ہیں۔
عیسائیوں کی تعلیم بھی سچائی اور ایمان
داری کے اڑانے کے لئے کئی قسم کی سرنگیں طیّار کر رہی ہے اور عیسائی لوگ اسلام کے مٹا دینے کے
لئے جھوٹ
اور
بناوٹ کی تمام باریک باتوں کو نہایت درجہ کی جانکاہی سے پیدا کر کے ہر ایک رہزنی کے موقع اور
محل پر کام
میں
لا
رہے ہیں اور بہکانے کے نئے نئے نسخے اور گمراہ کرنے کی جدید جدید صورتیں تراشی جاتی ہیں اور اُس
اِنسان
کامل
کی
سخت توہین کر رہے ہیں جو تمام مقدسّوں کا فخر اور تمام مقربوں کا سرتاج اور تمام بزرگ رسولوں کا
سردار
تھا۔
یہاں
تک کہ ناٹک کے تماشاؤں میں نہایت شیطنت کے ساتھ اسلام اور ہادیٔ پاک اسلام کی بُرے بُرے
پیرائیوں میں
تصویریں
دکھلائی جاتی ہیں اور سوانگ نکالے جاتے ہیں اور ایسی افترائی تہمتیں تھیٹر کے ذریعہ سے پھیلائی
جاتی ہیں
جن
میں
اسلام اور نبی پاک کی عزّت کو خاک میں ملا دینے کے لئے پوری حرم زدگی خرچ کی گئی ہے۔
اب اے مسلمانو سنو! اور غور سے سنو! کہ اسلام کی پاک تاثیروں کے روکنے کے لئے جس قدر پیچیدہ
افترا اس
عیسائی
قوم
میں استعمال کئے گئے اور پُر مکر حیلے کام میں لائے گئے اور اُن کے پھیلانے میں جان توڑ کر اور
مال کو پانی کی
طرح بہا کر کوششیں کی گئیں یہاں تک کہ نہایت شرمناک ذریعے بھی جن کی تصریح سے اس مضمون کو
مُنّزہ رکھنا بہتر ہے
اِسی راہ میں ختم کئے گئے۔ یہ کرسچن قوموں اور تثلیث کے حامیوں کی جانب سے وہ ساحرانہ
کارروائیاں ہیں کہ جب تک
اُن کے اس سحر کے مقابل پر خدا تعالیٰ وہ پُر زور ہاتھ نہ دکھاوے جو مُعجزہ کی قدرت اپنے اندر
رکھتا ہو اور اُس
معجزہ سے اِس طلسمِ سحر کو پاش پاش نہ کرے تب تک اس جادوئے فرنگ سے سادہ لوح دلوں کو مَخلصی
حاصل ہونا بالکل
قیاس اور گمان سے باہر ہے۔
سو خدا تعالیٰ نے اس جادو کے باطل کرنے کے لئے اس زمانہ کے سچے مسلمانوں کو یہ معجزہ دیا کہ اپنے اِس بندہ کو اپنے الہام اور کلام اور اپنی برکاتِ خاصّہ سے مشرف کر کے اور اپنی راہ کے باریک علوم سے بہرۂ کامل بخش کر مخالفین کے مقابل پر بھیجا اور بہت سے آسمانی تحائف اور علوی عجائبات اور روحانی معارف و دقائق ساتھ دیئے تا اس آسمانی پتھر کے ذریعہ سے وہ موم کا بُت توڑ دیا جائے جو سحرِ فرنگ نے طیّار کیا ہے۔ سو اے مسلمانوں ! اِس عاجز کا ظہور ساحرانہ تاریکیوں کے اٹھانے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک معجزہ ہے۔ کیا ضرور نہیں تھا کہ سحر کے مقابل پر معجزہ بھی دنیا میں آتا۔ کیا تمہاری نظروں میں یہ بات عجیب اور اَنْ ہونی ہے کہ خدا تعالیٰ نہایت درجہ کے مکروں کے مقابلہ پر جو سحر کی حقیقت تک پہنچ گئے ہیں ایک ایسی حقّانی چمکار دکھاوے جو معجزہ کا اثر رکھتی ہو۔ (فتح اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۳صفحہ ۳تا۶)
اس جگہ مَیں بعض ان لوگوں کا وسوسہ بھی دُور کرنا چاہتا ہوں جو ذی مقدّرت لوگ ہیں اور اپنے تئیں بڑا فیّاض اور دین کی راہ میں فدا شدہ خیال کرتے ہیں لیکن اپنے مالوں کو محل پر خرچ کرنے سے بکلّی منحرف ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ہم کسی صادق مؤ یّد من اللہ کا زمانہ پاتے جو دین کی تائید کے لئے خداتعالیٰ کی طرف سے آیا ہوتا تو ہم اُس کی نصرت کی راہ میں ایسے جھکتے کہ قربان ہی ہو جاتے۔ مگر کیا کریں ہر طرف فریب اور مکر کا بازار گرم ہے۔ مگر اے لوگو! تم پر واضح ہے کہ دین کی تائید کے لئے ایک شخص بھیجا گیا لیکن تم نے اسے شناخت نہیں کیا وہ تمہارے درمیان ہے اور یہی ہے جو بول رہا ہے پر تمہاری آنکھوں پر بھاری پردے ہیں۔ اگر تمہارے دل سچائی سے طلب گار ہوں تو جو شخص خدا تعالیٰ کے ہمکلام ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس کا آزمانا بہت سہل ہے۔ اُس کی خدمت میں آؤ اس کی صحبت میں دو تین ہفتے رہو تا اگر خدا تعالیٰ چاہے تو اُن برکات کی بارشیں جو اُس پر ہو رہی ہیں اور وہ حقّانی وحی کے انوار جو اس پر اُتر رہے ہیں اُن میں سے تم بچشمِ خود دیکھ لو۔ جو ڈھونڈتا ہے وہی پاتا ہے جو کھٹکھٹاتا ہے اسی کے لئے کھولا جاتا ہے۔ اگر تم آنکھیں بند کر کے اور اندھیری کوٹھری میں چُھپ کر یہ کہو کہ آفتاب کہاں ہے تو یہ تمہاری عبث شکایت ہے۔ اے نادان! اپنی کوٹھری کے کواڑ کھول اور اپنی آنکھوں پر سے پردہ اُٹھا تا تجھے آفتاب نہ صرف نظر آوے بلکہ اپنی روشنی سے تجھے منور بھی کرے۔
بعض کہتے ہیں کہ انجمنیں قائم کرنا اور مدارس کھولنا ہی تائیدِ دین کے لئے کافی ہے مگر وہ نہیں سمجھتے کہ دین کس چیز کا نام ہے اور اس ہماری ہستی کی انتہائی اغراض کیا ہیں اور کیونکر اور کِن راہوں سے وہ اغراض حاصل ہو سکتے ہیں۔ سو انہیں جاننا چاہئے کہ انتہائی غرض اس زندگی کی خداتعالیٰ سے وہ سچا اور یقینی پیوند حاصل کرنا ہے جو تعلقاتِ نفسانیہ سے چُھڑا کر نجات کے سرچشمہ تک پہنچاتا ہے سو اس یقین کامل کی راہیں انسانی بناوٹوں اور تدبیروں سے ہرگز کھل نہیں سکتیں۔ اور انسانوں کا گھڑا ہوا فلسفہ اس جگہ کچھ فائدہ نہیں پہنچاتا بلکہ یہ روشنی ہمیشہ خدا تعالیٰ اپنے خاص بندوں کے ذریعہ سے ظلمت کے وقت میں آسمان سے نازل کرتا ہے اور جو آسمان سے اُترا وہی آسمان کی طرف لے جاتا ہے۔ سو اے وے لوگو! جو ظلمت کے گڑھے میں دبے ہوئے اور شکوک و شبہات کے نتیجہ میں اسیر اور نفسانی جذبات کے غلام ہو صرف اسمی اور رسمی اسلام پر ناز مت کرو اور اپنی سچی رفاہیت اور اپنی حقیقی بہبودی اور اپنی آخری کامیابی انہی تدبیروں میں نہ سمجھو جو حال کی انجمنوں اور مدارس کے ذریعہ سے کی جاتی ہیں۔ یہ اشغال بُنیادی طور پر فائدہ بخش تو ہیں اور ترقیات کا پہلا زینہ متصّور ہو سکتے ہیں مگر اصل مدعا سے بہت دُور ہیں۔ شاید ان تدبیروں سے دماغی چالاکیاں پیدا ہوں یا طبیعت میں پُرفنّی اور ذہن میں تیزی اور خشک منطق کی مشق حاصل ہو جائے یا عا لمیّت اور فاضلیّت کا خطاب حاصل کر لیا جائے اور شاید مدّت دراز کی تحصیل علمی کے بعد اصل مقصود کے کچھ ممد بھی ہو سکیں مگر تا تریاق از عراق آوردہ شود مار گزیدہ مردہ شود۔ سو جاگو اور ہو شیار ہو جاؤ ایسا نہ ہو کہ ٹھوکر کھاؤ۔ مُبادا سفر آخرت ایسی صورت میں پیش آوے جو درحقیقت الحاد اور بے ایمانی کی صورت ہو۔ یقینا سمجھو کہ فلاحِ عاقبت کی امیدوں کا تمام مدار و انحصار ان رسمی علوم کی تحصیل پر ہرگز نہیں ہو سکتا اور اس آسمانی نور کے اُترنے کی ضرورت ہے جو شکوک و شبہات کی آلائشوں کو دُور کرتا اور ہوا و ہوس کی آگ کو بجھاتا اور خدا تعالیٰ کی سچی محبت اور سچے عشق اور سچی اطاعت کی طرف کھینچتا ہے اگر تم اپنی کانشنس سے سوال کرو تو یہی جواب پاؤ گے کہ وہ سچی تسلّی اور سچا اطمینان کہ جو ایک دم میں رُوحانی تبدیلی کا موجب ہوتا ہے وہ ابھی تک تم کو حاصل نہیں۔ پس کمال افسوس کی جگہ ہے کہ جس قدر تم رسمی باتوں اور رسمی علوم کی اشاعت کے لئے جوش رکھتے ہو اس کا عشر عشیر بھی آسمانی سِلسلہ کی طرف تمہارا خیال نہیں۔ تمہاری زندگی اکثر ایسے کاموں کے لئے وقف ہو رہی ہے کہ اوّل تو وہ کام کسی قسم کا دین سے علاقہ ہی نہیں رکھتے اور اگر ہے بھی تو وہ علاقہ ایک ادنیٰ درجہ کا اور اصل مدعا سے بہت پیچھے رہا ہواہے۔ اگر تم میں وہ حواس ہوں اور وہ عقل جو ضروری مطلب پر جا ٹھہرتی ہے تو تم ہرگز آرام نہ کرو جب تک وہ اصل مطلب تمہیں حاصل نہ ہو جائے۔ اے لوگو! تم اپنے سچّے خداوند خدا اپنے حقیقی خالق اپنے واقعی معبود کی شناخت اور محبت اور اطاعت کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔ پس جب تک یہ امر جو تمہاری خلقت کی علّتِ غائی ہے بیّن طور پر تم میں ظاہر نہ ہو تب تک تم اپنی حقیقی نجات سے بہت دُور ہو اگر تم انصاف سے بات کرو تو تم اپنی اندرونی حالت پر آپ ہی گواہ ہو سکتے ہو کہ بجائے خدا پرستی کے ہر دم دنیا پرستی کا ایک قوی ہیکل بُت تمہارے دل کے سامنے ہے جس کو تم ایک ایک سکنڈ میں ہزار ہزار سجدہ کر رہے ہو اور تمہارے تمام اوقات عزیز دنیا کی جَق جَق بَک بَک میں ایسی مستغرق ہو رہے ہیں کہ تمہیں دوسری طرف نظر اُٹھانے کی فرصت نہیں کبھی تمہیں یاد بھی ہے کہ انجام اس ہستی کا کیا ہے! کہاں ہے تم میں انصاف! کہاں ہے تم میں اَمانت! کہا ں ہے تم میں وہ راست بازی اور خدا ترسی اور دیانت داری اور فروتنی جس کی طرف تمہیں قرآن بلاتا ہے تمہیں کبھی بھولے بسرے برسوں میں بھی تو یادنہیں آتا کہ ہمارا کوئی خدا بھی ہے۔ کبھی تمہارے دل میں نہیں گزرتا کہ اُس کے کیا کیا حقوق تم پر ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ تم نے کوئی غرض کوئی واسطہ کوئی تعلق اُس قیّومِ حقیقی سے رکھاہوا ہی نہیں۔ اور اس کا نام تک لینا تم پر مشکل ہے۔ اب چالاکی سے تم لڑو گے کہ ہرگز ایسا نہیں لیکن خدا تعالیٰ کا قانونِ قدرت تمہیں شرمندہ کرتا ہے جبکہ وہ تمہیں جتلاتا ہے کہ ایمانداروں کی نشانیاں تم میں نہیں۔ اگرچہ تم اپنی دنیوی فکروں اور سوچوں میں بڑے زور سے اپنی دانشمندی اور متانت رائے کے مدعی ہو۔ مگر تمہاری لیاقت تمہاری نکتہ رسی تمہاری دُور اندیشی صرف دنیا کے کناروں تک ختم ہو جاتی ہے۔ اور تم اپنی اس عقل کے ذریعہ سے اُس دوسرے عالم کا ایک ذرہ سا گوشہ بھی نہیں دیکھ سکتے جس کی سکونت ابدی کے لئے تمہاری روحیں پیدا کی گئی ہیں۔ تم دنیا کی زندگی پر ایسے مطمئن بیٹھے ہو جیسے کوئی شخص ایک چیز ہمیشہ رہنے والی پر مطمئن ہوتا ہے۔ مگر وہ دوسرا عالم جس کی خوشیاں سچے اطمینان کے لائق اور دائمی ہیں۔ وہ ساری عمر میں ایک مرتبہ بھی تمہیں یادنہیں آتا۔ کیا بدقسمتی ہے کہ ایک بڑے اَمرِ اہم سے تم قطعاً غافل اور آنکھیں بند کئے بیٹھے ہو اور جو گزشتنی گزاشتنی امور ہیں اُن کی ہوس میں دن رات سرپٹ دوڑ رہے ہو۔ تمہیں خوب خبر ہے کہ بلاشبہ وہ وقت تم پر آنے والا ہے جو ایک دم میں تمہاری زندگی اور تمہاری ساری آرزوؤں کا خاتمہ کر دے گا۔ مگر یہ عجیب شقاوت ہے کہ باوجود اس علم کے پھر اپنے تمام اوقات دنیا طلبی میں ہی برباد کر رہے ہو اور دنیا طلبی بھی صرف وسائل جائزہ تک محدودنہیں بلکہ تمام ناجائز وسیلے جھونٹھ اور دغا سے لے کر ناحق کے خون تک تم نے حلال کر رکھے ہیں اور ان تمام شرمناک جرائم کے ساتھ جو تم میں پھیلے ہوئے ہیں کہتے ہو کہ آسمانی نور اور آسمانی سلسلہ کی ہمیں ضرورت نہیں بلکہ اس سے سخت عداوت رکھتے ہو اور تم نے خداتعالیٰ کے آسمانی سِلسلہ کو بہت ہلکا سمجھ رکھا ہے یہاں تک کہ اس کے ذکر کرنے میں بھی تمہاری زبانیں کراہت سے بھرے ہوئے الفاظ کے ساتھ اور بڑی رعونت اور ناک چڑھانے کی حالت میں ہجو کا حق ادا کرتی ہیں اور تم بار بار کہتے ہو کہ ہمیں کیونکر یقین آوے کہ یہ سِلسلہ منجانب اللہ ہے۔ مَیں ابھی اس کا جواب دے چکا ہوں کہ اس درخت کو اُس کے پھلوں سے اور اس نیّر کو اس کی روشنی سے شناخت کرو گے۔ مَیں نے ایک دفعہ یہ پیغام تمہیں پہنچا دیا ہے اب تمہارے اختیار میں ہے کہ اس کو قبول کرو یا نہ کرو اور میری باتوں کو یاد رکھو یا لوحِ حافظہ سے بھلا دو۔
جیتے جی قدر بشر کی نہیں ہوتی پیارو
یاد آئیں گے تمہیں میرے سخن میرے بعد
مے سزد گرخوں ببارد دیدۂ ہر اہل دیں
بر پریشاں حالی اِسلام و قحط المسلمیں64
دِینِ حق را، گردش آمد، صعبناک و سَہمگیں
سخت شورے اوفتاد، اندر جہاں از کفروکیں65
آنکہ، نفسِ اوست، از ہر خیروخوبی بے نصیب
مے تراشد عیبہا در ذات خیر المرسلیں66
آنکہ در زندان ناپاکی ست محبوس و اسیر
ہست در شانِ امام پاک بازاں نکتہ چیں67
تیر بر معصوم مے بارد خبیثے بد گُہر
آسماں را مے سزد گر سنگ بارد بر زمیں68
پیش چشمانِ شما اسلام در خاک افتاد
چیست عذرے پیش حق اے مجمع المتنعّمیں69
ہرطرف کفر است جوشاں ہمچو افواجِ یزید
دین حق بیمار و بے کس ہمچو زین العابدیں70
مردم ذی مقدرت مشغول عشرت ہائے خویش
خُرم و خندان نشستہ با بُتانِ نازنیں71
عالماں را روز و شب باہم فساد از جوشِ نفس
زاہداں غافل سراسر از ضرورت ہائے دیں72
ہر کسے از بہرِ نفسِ دون خود طرفے گرفت
طرفِ دیں خالی شد و ہر دشمنے جست از کمیں73
ایسا ہی یہ عاجز بھی اِسی کام کے لئے بھیجا گیا ہے کہ تا قرآن شریف کے احکام بوضاحت بیان کر دیوے فرق صرف اتنا ہے کہ وہ مسیح موسیٰ کو دیا گیا تھا اور یہ مسیح مثیلِ موسیٰ کو عطا کیا گیا۔ سو یہ تمام مشابہت تو ثابت ہے اور مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے مگر جو شخص میرے ہاتھ سے جام پیئے گا جو مجھے دیا گیا ہے وہ ہرگز نہیں مرے گا۔ وہ زندگی بخش باتیں جو مَیں کہتا ہوں اور وہ حکمت جو میرے مُنہ سے نکلتی ہے اگر کوئی اَور بھی اس کی مانند کہہ سکتا ہے تو سمجھو کہ مَیں خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں آیا لیکن اگر یہ حکمت اور معرفت جو مُردہ دلوں کے لئے آب حیات کا حکم رکھتی ہے دوسری جگہ سے نہیں مل سکتی تو تمہارے پاس اس جرم کا کوئی عذر نہیں کہ تم نے اس کے سرچشمہ سے انکار کیا جو آسمان پر کھولا گیا۔ زمین پر اس کو کوئی بندنہیں کر سکتا۔ سو تم مقابلہ کے لئے جلدی نہ کرو اور دیدہ و دانستہ اس الزام کے نیچے اپنے تئیں داخل نہ کرو جو خدائے تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَلَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ اِنَّ السَّمۡعَ وَالۡبَصَرَ وَالۡفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنۡہُ مَسۡـُٔوۡلًا
بدظنی اور بدگمانی میں حد سے زیادہ مت بڑھو ایسا نہ ہو کہ تم اپنی باتوں سے پکڑے جاؤ اور
پھر اس دکھ کے
مقام میں تمہیں یہ کہنا پڑے کہ
مَا لَنَا لَا نَرٰی رِجَالًا کُنَّا نَعُدُّہُمۡ مِّنَ الۡاَشۡرَارِ
…… اے مسلمانوں !اگر تم سچے دل سے حضرت خداوند تعالیٰ اور اس کے مقدس رسول علیہ
السلام پر ایمان رکھتے ہو اور نصرت الٰہی کے منتظر ہو تو یقینا سمجھو کہ نصرت کا وقت آ گیا
اور یہ کاروبار انسان
کی طرف سے نہیں اور نہ کسی انسانی منصوبہ نے اِس کی بنا ڈالی بلکہ یہ وہی صبح صادق ظہور
پذیر ہو گئی ہے جس کی
پاک نوشتوں میں پہلے سے خبر دی گئی تھی۔ خدائے تعالیٰ نے بڑی ضرورت کے وقت تمہیں یاد کیا
قریب تھا کہ تم کسی
مہلک گڑھے میں جا پڑتے مگر اُس کے باشفقت ہاتھ نے جلدی سے تمہیں اُٹھا لیا سو شکر کرو اور
خوشی سے اُچھلو جو آج
تمہاری تازگی کا دن آگیا۔ خدا ئے تعالیٰ اپنے دین کے باغ کو جس کی راستبازوں کے خونوں سے
آبپاشی ہوئی تھی کبھی
ضائع کرنا نہیں چاہتا وہ ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ غیر قوموں کے مذاہب کی طرح اسلام بھی ایک
پُرانے قصّوں کا ذخیرہ
ہو جس میں موجودہ برکت کچھ بھی نہ ہو وہ ظلمت کے کامل غلبہ کے وقت اپنی طرف سے نور پہنچاتا
ہے۔ کیا اندھیری رات
کے بعدنئے چاند کے چڑھنے کی انتظار نہیں ہوتی؟ کیا تم سلخ کی رات کو جو ظلمت کی آخری رات ہے
دیکھ کر حکم نہیں
کرتے کہ کل نیا چاندنکلنے والا ہے۔ افسوس کہ تم اِس دنیا کے ظاہری قانونِ قُدرت کو تو خوب
سمجھتے ہو مگر اس
روحانی قانونِ فطرت سے جو اسی کا ہمشکل ہے بکلّی بے خبر ہو۔
اے نفسانی مولویو! اور خشک زاہدو! تم پر افسوس کہ تم آسمانی دروازوں کا کُھلنا چاہتے ہی نہیں بلکہ چاہتے ہو کہ ہمیشہ بند ہی رہیں اور تم پیر مغاں بنے رہو۔ اپنے دلوں پر نظر ڈالو اور اپنے اندر کو ٹٹولو کیا تمہاری زندگی دنیا پرستی سے منزّہ ہے؟ کیا تمہارے دلوں پر وہ زنگار نہیں جس کی وجہ سے تم ایک تاریکی میں پڑے ہو؟ کیا تم ان فقیہوں اور فریسیوں سے کچھ کم ہو جو حضرت مسیح کے وقت میں دن رات نفس پرستی میں لگے ہوئے تھے پھر کیا یہ سچ نہیں کہ تم مثیلِ مسیح کے لئے مسیحی مشابہت کا ایک گونہ سامان اپنے ہاتھ سے ہی پیش کر رہے ہو تا خدائے تعالیٰ کی حجت ہر یک طور سے تم پر وارد ہو۔ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایک کافر کا مومن ہو جانا تمہارے ایمان لانے سے زیادہ تر آسان ہے۔ بہت سے لوگ مشرق اور مغرب سے آئیں گے اور اس خوانِ نعمت سے حصّہ لیں گے لیکن تم اسی زنگ کی حالت میں ہی مرو گے۔ کاش تم نے کچھ سوچا ہوتا۔ (ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۰۳تا۱۰۵)
کیا ابھی اس آخری مصیبت کا وہ وقت نہیں آیا جو اسلام کے لئے دنیا کے آخری دنوں میں مقدّر تھا؟ کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی اور زمانہ بھی آنے والا ہے جو قرآن کریم اور حدیث کی رُو سے اِن موجودہ فتنوں سے کچھ زیادہ فتنے رکھتا ہو گا؟ سو بھائیو! تم اپنے نفسوں پر ظلم مت کرو اور خوب سوچ لو کہ وقت آ گیا اور بیرونی اور اندرونی فتنے انتہا کو پہنچ گئے۔ اگر تم ان تمام فتنوں کو ایک پلّہ میزان میں رکھو اور دوسرے پلّہ کے لئے تمام حدیثوں اور سارے قرآن کریم میں تلاش کرو تو ان کے برابر کیا ان کا ہزارم حصہ بھی وہ فتنے قرآن اور حدیث کی رو سے ثابت نہیں ہوں گے۔ پس وہ کون سا فساد کا زمانہ اور کس بڑے دجّال کا وقت ہے جو اس زمانہ کے بعد آ ئے گا اور فتنہ اندازی کے رُو سے اس سے بدتر ہو گا۔ کیا تم ثابت کر سکتے ہو کہ ان فتنوں سے بڑھ کر قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں ایسے اور فتنوں کا پتہ ملتا ہے جن کا اب نام و نشان نہیں یقینا یاد رکھو کہ اگر تم ان فتنوں کی نظیر تلاش کرنے کے لئے کوشش کرو یہاں تک کہ اسی کوشش میں مر بھی جاؤ تب بھی قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے ہرگز ثابت نہیں ہو گا کہ کبھی کسی زمانہ میں ان موجودہ فتنوں سے بڑھ کر کوئی اور فتنے بھی آنے والے ہیں۔
صاحبو! یہاں وہ دجّالیتیں پھیل رہی ہیں جو تمہارے فرضی دجّال کے باپ کو بھی یادنہیں ہوں گی۔ یہ کارروائیاں خلق اللہ کے اغوا کے لئے ہزار ہا پہلو سے جاری کی گئی ہیں جن کے لکھنے کے لئے بھی ایک دفتر چاہئے اور ان میں مخالفین کو کامیابی بھی ایسی اعلیٰ درجہ کی ہوئی ہے کہ دلوں کو ہلا دیا ہے اور اِن کے مکروں نے عام طور پر دلوں پر سخت اثر ڈالا ہے اور ان کی طبیعی اور فلسفہ نے ایسی شوخی اور بے باکی کا تخم پھیلا دیا ہے کہ گویا ہر ایک شخص اس کے فلسفہ دانوں میں سے انَاالرَّب ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ پس جاگو اور اٹھو اور دیکھو کہ یہ کیسا وقت آ گیا اور سوچو یہ موجودہ خیالات توحید محض کے کس قدر مخالف ہیں یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا خیال بھی ایک بڑی نادانی کا طریق سمجھا جاتا ہے۔ اور تقدیر کے لفظ کو مُنہ پر لانے والا بڑا بیوقوف کہلاتا ہے۔ اور فلسفی دماغ کے آدمی دہریت کو پھیلاتے جاتے ہیں۔ اور اِس فکر میں لگے ہوئے ہیں کہ تمام َکل الوہیت کی کسی طرح ہمارے ہاتھ میں ہی آ جاوے۔ ہم ہی جب چاہیں وباؤں کو دُور کر دیں۔ موتوں کو ٹال دیں اور جب چاہیں بارش برسا دیں۔ کھیتی اُگا لیں۔ اور کوئی چیز ہمارے قبضۂ قدرت سے باہر نہ ہو۔ سوچو کہ اس زمانہ میں ان بے راہیوں کا کچھ انتہا بھی ہے۔ اِن آفتوں نے اسلام کے دونوں بازؤں پر تبر رکھ دیا ہے۔
اے سونے والو بیدار ہو جاؤ۔ اے غافلو اُٹھ بیٹھو کہ ایک انقلاب عظیم کا وقت آ گیا۔ یہ رونے کا وقت ہے نہ سونے کا اور تضرع کا وقت ہے نہ ٹھٹھے اور ہنسی اور تکفیر بازی کا۔ دُعا کرو کہ خداوند کریم تمہیں آنکھیں بخشے تا تم موجودہ ظلمت کو بھی بتمام و کمال دیکھ لو اور نیز اس نور کو بھی جو رحمتِ الٰہیہ نے اس ظلمت کے مٹانے کے لئے تیار کیا ہے۔ پچھلی راتوں کو اُٹھو اور خدا تعالیٰ سے رو رو کر ہدایت چاہو اور ناحق حقّانی سِلسلہ کے مٹانے کے لئے بد دعائیں مت کرو اور نہ منصوبے سوچو۔ خدا تعالیٰ تمہاری غفلت اور ُبھول کے ارادوں کی پیروی نہیں کرتا۔ وہ تمہارے دماغوں اور دلوں کی بیوقوفیاں تم پر ظاہر کرے گا۔ اور اپنے بندہ کا مددگار ہو گا۔ اور اس درخت کو کبھی نہیں کاٹے گا جس کو اُس نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے کیا کوئی تم میں سے اپنے اس پودہ کو کاٹ سکتا ہے جس کے پھل لانے کی اس کو توقع ہے۔ پھر وہ جو دانا و بِینا اور ارحم الراحمین ہے وہ کیوں اپنے اس پودہ کو کاٹے جس کے پھلوں کے مبارک دنوں کی وہ انتظار کر رہا ہے۔ جبکہ تم انسان ہو کر ایسا کام کرنا نہیں چاہتے۔ پھر وہ جو عالم الغیب ہے جو ہر ایک دل کی تہ تک پہنچا ہواہے کیوں ایسا کام کرے گا۔ پس تم خوب یاد رکھو کہ تم اس لڑائی میں اپنے ہی اعضاء پر تلواریں مار رہے ہو سو تم ناحق آگ میں ہاتھ مت ڈالو ایسا نہ ہو کہ وہ آگ بھڑکے اور تمہارے ہاتھ کو بھسم کر ڈالے۔ یقینا سمجھو کہ اگر یہ کام انسان کا ہوتا تو بہتیرے اس کے نابود کرنے والے پیدا ہو جاتے اور نیز یہ اس اپنی عمر تک بھی ہرگز نہ پہنچتاجو بارہ برس کی مدت اور بلوغ کی عمر ہے۔ کیا تمہاری نظر میں کبھی کوئی ایسا مفتری گزرا ہے کہ جس نے خدا تعالیٰ پر ایسا افترا کر کے کہ وہ مجھ سے ہمکلام ہے پھر اس مدت مدید کے سلامتی کو پا لیا ہو۔ افسوس کہ تم کچھ بھی نہیں سوچتے اور قرآن کریم کی ان آیتوں کو یادنہیں کرتے جو خودنبی کریمؐ کی نسبت اللہ جَلّشَانُہٗ فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر تو ایک ذرّہ مجھ پر افترا کرتا تو مَیں تیری رگِ جان کاٹ دیتا۔ پس نبی کریمؐ سے زیادہ تر کون عزیز ہے کہ جو اتنا بڑا افترا کر کے اب تک بچا رہے بلکہ خدائے تعالیٰ کی نعمتوں سے مالا مال بھی ہو۔ سو بھائیو! نفسانیت سے باز آؤ اور جو باتیں خدائے تعالیٰ کے علم سے خاص ہیں اُن میں حد سے بڑھ کر ضد مت کرو اور عادت کے سِلسلہ کو توڑ کر اور ایک نئے انسان بن کر تقویٰ کی راہوں میں قدم رکھو تا تم پر رحم ہو اور خدا تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخش دیوے سو ڈرو اور باز آجاؤ۔ کیا تم میں ایک بھی رشیدنہیں؟ وَاِنْ لَّمْ تَنْتَھُوْا فَسَوْفَ یَأْٔتِی اللّٰہُ بِنُصْرَۃٍ مِّنْ عِنْدِہٖ وَ یَنْصُرُ عَبْدَہٗ وَیُمَزِّقُ اَعْدَائَ ہٗ وَلَا تَضُرُّوْنَہٗ شَیْئًا۔74
(آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۵۲تا۵۵)اے وے لوگو! جو نیکی اور راستبازی کے لئے بلائے گئے ہو۔ تم یقینا سمجھو کہ خدا کی کشش اس وقت تم میں پیدا ہو گی اور اسی وقت تم گناہ کے مکروہ داغ سے پاک کئے جاؤ گے جب کہ تمہارے دل یقین سے بھر جائیں گے۔ شائد تم کہو گے کہ ہمیں یقین حاصل ہے۔ سو یاد رہے کہ یہ تمہیں دھوکا لگا ہوا ہے۔ یقین تمہیں ہرگز حاصل نہیں کیونکہ اس کے لوازم حاصل نہیں وجہ یہ کہ تم گناہ سے باز نہیں آتے۔ تم ایسا قدم آگے نہیں اٹھاتے جو اٹھانا چاہئے۔ تم ایسے طور سے نہیں ڈرتے جو ڈرنا چاہئے۔ خود سوچ لو کہ جس کو یقین ہے کہ فلاں سوراخ میں سانپ ہے وہ اس سوراخ میں کب ہاتھ ڈالتا ہے اور جس کو یقین ہے کہ اس کے کھانے میں زہر ہے وہ اس کھانے کو کب کھاتا ہے۔ اور جو یقینی طور پر دیکھ رہا ہے کہ اس فلاں بَن میں ایک ہزار خونخوار شیر ہے اس کا قدم کیونکر بے احتیاطی اور غفلت سے اس بَن کی طرف اُٹھ سکتا ہے۔ سو تمہارے ہاتھ اور تمہارے پاؤں اور تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں کیونکر گناہ پر دلیری کر سکتی ہیں اگر تمہیں خدا اور جزا سزا پر یقین ہے۔ گناہ یقین پر غالب نہیں ہو سکتا اور جبکہ تم ایک بھسم کرنے اور کھا جانے والی آگ کو دیکھ رہے ہو تو کیونکر اُس آگ میں اپنے تئیں ڈال سکتے ہو اور یقین کی دیواریں آسمان تک ہیں شیطان اُن پر چڑھ نہیں سکتا۔ ہر ایک جو پاک ہوا وہ یقین سے پاک ہوا یقین دُکھ اُٹھانے کی قوت دیتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک بادشاہ کو تخت سے اُتارتا ہے اور فقیری جامہ پہناتا ہے۔ یقین ہر ایک دکھ کو سہل کر دیتا ہے یقین خدا کو دکھاتا ہے۔ ہر ایک کفارہ جھوٹا ہے اور ہر ایک فدیہ باطل ہے اور ہر ایک پاکیزگی یقین کی راہ سے آتی ہے۔ وہ چیز جو گناہ سے چھڑاتی اور خدا تک پہنچاتی اور فرشتوں سے بھی صدق اور ثبات میں آگے بڑھا دیتی ہے وہ یقین ہے۔ ہر ایک مذہب جو یقین کا سامان پیش نہیں کرتا وہ جھوٹا ہے۔ ہر ایک مذہب جو یقینی وسائل سے خدا کو دکھا نہیں سکتا وہ جھوٹا ہے۔ ہر ایک مذہب جس میں بجز پُرانے قصوں کے اَور کچھ نہیں وہ جھوٹا ہے۔ خدا جیسے پہلے تھا وہ اب بھی ہے اور اس کی قدرتیں جیسی پہلے تھیں وہ اب بھی ہیں۔ اور اس کا نشان دکھلانے پر جیسا کہ پہلے اقتدار تھا وہ اب بھی ہے۔ پھر تم کیوں صرف قصّوں پر راضی ہوتے ہو۔ وہ مذہب ہلاک شدہ ہے جس کے معجزات صرف قصّے ہیں۔ جس کی پیشگوئیاں صرف قصّے ہیں۔ اور وہ جماعت ہلاک شدہ ہے جس پر خدا نازل نہیں ہوا اور جو یقین کے ذریعہ سے خدا کے ہاتھ سے پاک نہیں ہوئی۔ (کشتیٔ نوح۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۶۷، ۶۸)
اس جگہ یہ بھی بطور تبلیغ کے لکھتا ہوں کہ حق کے طالب جو مؤاخذہ الٰہی سے ڈرتے ہیں وہ بلا تحقیق اس زمانہ کے مولویوں کے پیچھے نہ چلیں اور آخری زمانہ کے مولویوں سے جیسا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرایا ہے ویسا ہی ڈرتے رہیں اور اُن کے فتووں کو دیکھ کر حیران نہ ہو جاویں کیونکہ یہ فتوے کوئی نئی بات نہیں۔ اور اگر اس عاجز پر شک ہو اور وہ دعویٰ جو اس عاجز نے کیا ہے اس کی صحت کی نسبت دل میں شبہ ہو تو مَیں ایک آسان صورت رفع شک کی بتلاتا ہوں جس سے ایک طالب صادق انشاء اللہ مطمئن ہو سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اوّل توبہ نصوح کر کے رات کے وقت دو رکعت نماز پڑھیں جس کی پہلی رکعت میں سورۃ اور دوسری رکعت میں اکیس مرتبہ سورۃ اخلاص اور پھر بعد اس کے تین سو مرتبہ درود شریف اور تین سو مرتبہ استغفار پڑھ کر خدا تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ اے قادر کریم تو پوشیدہ حالات کو جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے اور مقبول اور مردود اور مفتری اور صادق تیری نظر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ پس ہم عاجزی سے تیری جناب میں التجا کرتے ہیں کہ اس شخص کا تیرے نزدیک کہ جو مسیح موعود اور مہدی اور مجدّد الوقت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے کیا حال ہے۔ کیا صادق ہے یا کاذب اور مقبول ہے یا مردود۔ اپنے فضل سے یہ حال رؤیا یا کشف یا الہام سے ہم پر ظاہر فرما تا اگر مردود ہے تو اس کے قبول کرنے سے ہم گمراہ نہ ہوں اور اگر مقبول ہے اور تیری طرف سے ہے تو اس کے انکار اور اس کی اہانت سے ہم ہلاک نہ ہو جائیں۔ ہمیں ہر ایک قسم کے فتنہ سے بچا کہ ہر ایک قوت تجھ کو ہی ہے۔ آمین۔ یہ استخارہ کم سے کم دو ہفتہ کریں لیکن اپنے نفس سے خالی ہو کر۔ کیونکہ جو شخص پہلے ہی بُغض سے بھرا ہوا ہے اور بدظنّی اُس پر غالب آ گئی ہے اگر وہ خواب میں اُس شخص کا حال دریافت کرنا چاہے جس کو وہ بہت ہی بُرا جانتا ہے تو شیطان آتا ہے اور موافق اس ظلمت کے جو اس کے دل میں ہے اَور پُر ظلمت خیالات اپنی طرف سے اس کے دل میں ڈال دیتا ہے۔ پس اس کا پچھلا حال پہلے سے بھی بدتر ہو تا ہے۔ سو اگر تُو خدائے تعالیٰ سے کوئی خبر دریافت کرنا چاہے تو اپنے سینے کو بکلّی بُغض اور عناد سے دھو ڈال اور اپنے تئیں بکلّی خالی النفس کر کے اور دونوں پہلوؤں بُغض اور محبت سے الگ ہو کر اس سے ہدایت کی روشنی مانگ کہ وہ ضرور اپنے وعدہ کے موافق اپنی طرف سے روشنی نازل کرے گا جس پر نفسانی اوہام کا کوئی دُخان نہیں ہو گا۔ سو اے حق کے طالبو! ان مولویوں کی باتوں سے فتنہ میں مت پڑو اُٹھو اور کچھ مجاہدہ کر کے اس قوی اور قدیر اور علیم اور ہادیٔ مطلق سے مدد چاہو اور دیکھو کہ اب مَیں نے یہ روحانی تبلیغ بھی کر دی ہے۔ آئندہ تمہیں اختیار ہے۔ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی
المبلغ غلام احمد عفی عنہ
(نشان آسمانی۔ روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ۰ ۴۰، ۴۰۱)یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے اس سِلسلہ کو بے ثبوت نہیں چھوڑے گا۔ وہ خود فرماتا ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے کہ ’’دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا‘‘ جن لوگوں نے انکار کیا اور جو انکار کے لئے مستعد ہیں اُن کے لئے ذلّت اور خواری مقدّر ہے۔ انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ اگر یہ انسان کا افترا ہوتا تو کب کا ضائع ہو جاتا کیونکہ خدا تعالیٰ مفتری کا ایسا دشمن ہے کہ دنیا میں ایسا کسی کا دشمن نہیں۔ وہ بیوقوف یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ کیا یہ استقامت اور جرأت کسی کذّاب میں ہو سکتی ہے؟ وہ نادان یہ بھی نہیں جانتے کہ جو شخص ایک غیبی پناہ سے بول رہا ہے وہی اس بات سے مخصوص ہے کہ اس کے کلام میں شوکت اور ہیبت ہو اور یہ اُسی کا جگر اور دل ہوتا ہے کہ ایک فرد تمام جہان کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔ یقینا منتظر رہو کہ وہ دن آتے ہیں بلکہ نزدیک ہیں کہ دشمن روسیاہ ہو گا اور دوست نہایت ہی بشّاش ہوں گے۔
کون ہے دوست؟ وہی جس نے نشان دیکھنے سے پہلے مجھے قبول کیا اور جس نے اپنی جان اور مال اور عزت کو ایسا فدا کر دیا ہے کہ گویا اس نے ہزارہا نشان دیکھ لئے ہیں۔ سو یہی میری جماعت ہے اور میرے ہیں جنہوں نے مجھے اکیلا پایا اور میری مدد کی۔ اور مجھے غمگین دیکھا اور میرے غمخوار ہوئے اور ناشناسا ہو کر پھر آشناؤں کا سا ادب بجا لائے خدا تعالیٰ کی اُن پر رحمت ہو۔ اگر نشانوں کے دیکھنے کے بعد کوئی کھلی صداقت کو مان لے گا تو مجھے کیا اور اس کو اجر کیا اور حضرت عزت میں اس کی عزت کیا۔ مجھے درحقیقت انہوں نے ہی قبول کیا ہے جنہوں نے دقیق نظر سے مجھ کو دیکھا اور فراست سے میری باتوں کو وزن کیا اور میرے حالات کو جانچا اور میری کلام کو سُنا اور اس میں غور کی تب اسی قدر قرائن سے خدا تعالیٰ نے اُن کے سینوں کو کھول دیا۔ اور میرے ساتھ ہوگئے۔ میرے ساتھ وہی ہے جو میری مرضی کے لئے اپنی مرضی کو چھوڑتا ہے اور اپنے نفس کے ترک اور اخذ کے لئے مجھے حَکَم بناتا ہے اور میری راہ پر چلتا ہے اور اطاعت میں فانی ہے اور انانیت کی جلد سے باہر آ گیا ہے۔ مجھے آہ کھینچ کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ کھلے نشانوں کے طالب وہ تحسین کے لائق خطاب اور عزت کے لائق مرتبے میرے خداوند کی جناب میں نہیں پا سکتے جو ان راستبازوں کو ملیں گے جنہوں نے چھپے ہوئے بھید کو پہچان لیا اور جو اللہّشانہٗ کی چادر کے تحت میں ایک چُھپا ہؤا بندہ تھا اس کی خوشبو ان کو آ گئی۔ انسان کا اِس میں کیا کمال ہے کہ مثلاً ایک شہزادہ کو اپنی فوج اور جاہ و جلال میں دیکھ کر پھر اس کو سلام کرے باکمال وہ آدمی ہے جو گداؤں کے پیرایہ میں اس کو پاوے اور شناخت کر لیوے۔ مگر میرے اختیار میں نہیں کہ یہ زِیرکی کسی کو دوں۔ ایک ہی ہے جو دیتا ہے وہ جس کو عزیز رکھتا ہے ایمانی فراست اس کو عطا کرتا ہے۔ انہی باتوں سے ہدایت پانے والے ہدایت پاتے ہیں اور یہی باتیں اُن کے لئے جن کے دلوں میں کجی ہے زیادہ تر کجی کا موجب ہو جاتی ہیں۔ (آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۳۴۹، ۳۵۰)
میرے ساتھ آپ کا مقابلہ تقویٰ سے بعید ہے کیونکہ آپ لوگوں کی دستاویز صرف وہ حدیثیں ہیں جن میں سے کچھ موضوع اور کچھ ضعیف اور کچھ ان میں سے ایسی ہیں جن کے معنے آپ لوگ سمجھتے نہیں مگر آپ کے مقابل پر میرا دعویٰ علیٰ وجہ البصیرت ہے اور جس وحی نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور آنے والا مسیح موعود یہی عاجز ہے اس پر میں ایسا ہی ایمان رکھتاہوں جیسا کہ مَیں قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہوں اور یہ ایمان صرف حسنِ اعتقاد سے نہیں بلکہ وحی الٰہی کی روشنی نے جو آفتاب کی طرح میرے پر چمکی ہے یہ ایمان مجھے عطا فرمایا ہے۔ جس یقین کو خدا نے خارق عادت نشانوں کے تواتر اور معارفِ یقینیہ کی کثرت سے اور ہر روزہ یقینی مکالمہ اور مخاطبہ سے انتہا تک پہنچا دیا ہے اس کو مَیں کیونکر اپنے دل میں سے باہر نکال دوں؟ کیا مَیں اس نعمت معرفت اور علم صحیح کو ردّ کر دوں جو مجھ کو دیا گیا ہے؟ یا وہ آسمانی نشان جو مجھے دکھائے جاتے ہیں مَیں اُن سے مُنہ پھیر لوں یا مَیں اپنے آقا اور اپنے مالک کے حکم سے سرکش ہو جاؤں۔ کیا کروں مجھے ایسی حالت سے ہزار دفعہ مرنا بہتر ہے کہ وہ جو اپنے حسن و جمال کے ساتھ میرے پر ظاہر ہوا ہے مَیں اُس سے برگشتہ ہو جاؤں۔ یہ دنیا کی زندگی کب تک اور یہ دنیا کے لوگ مجھ سے کیا وفاداری کریں گے تا مَیں اُن کے لئے اُس یار عزیز کو چھوڑ دوں۔ مَیں خوب جانتا ہوں کہ میرے مخالفوں کے ہاتھ میں محض ایک پوست ہے جس میں کیڑالگ گیا ہے۔ وہ مجھے کہتے ہیں کہ مَیں مغز کو چھوڑ دوں اور ایسے پوست کو مَیں بھی اختیار کر لوں۔ مجھے ڈراتے ہیں اور دھمکیاں دیتے ہیں لیکن مجھے اسی عزیز کی قسم ہے جس کو میں نے شناخت کر لیا ہے کہ مَیں ان لوگوں کی دھمکیوں کو کچھ بھی چیز نہیں سمجھتا مجھے اس کے ساتھ غم بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ دوسرے کے ساتھ خوشی ہو۔ مجھے اس کے ساتھ موت بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ اس کو چھوڑ کر لمبی عمر ہو۔ جس طرح آپ لوگ دن کو دیکھ کر اس کو رات نہیں کہہ سکتے۔ اسی طرح وہ نور جو مجھ کو دکھایا گیا مَیں اس کو تاریکی نہیں خیال کر سکتا اور جب کہ آپ اپنے ان عقائد کو چھوڑ نہیں سکتے جو صرف شکوک اور توہمات کا مجموعہ ہے تو میں کیونکر اُس راہ کو چھوڑ سکتا ہوں جس پر ہزار آفتاب چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔ کیا مَیں مجنوں یا دیوانہ ہوں کہ اس حالت میں جبکہ خدا تعالیٰ نے مجھے روشن نشانوں کے ساتھ حق دکھا دیا ہے۔ پھر بھی مَیں حق کو قبول نہ کروں۔ مَیں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہزارہا نشان میرے اطمینان کے لئے میرے پر ظاہر ہوئے ہیں جن میں سے بعض کو مَیں نے لوگوں کو بتایا اور بعض کو بتایا بھی نہیں اور مَیں نے دیکھا کہ یہ نشان خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور کوئی دوسرا بجز اس وَحْدَہٗ لَاشَریک کے اُن پر قادر نہیں۔
اور مجھ کو ماسوا اس کے علمِ قرآن دیا گیا اور احادیث کے صحیح معنے میرے پر کھولے گئے۔ پھر مَیں ایسی روشن راہ کو چھوڑ کر ہلاکت کی راہ کیوں اختیار کروں؟ جو کچھ مَیں کہتا ہوں علیٰ وجہ البصیرت کہتا ہوں اور جو کچھ آپ لوگ کہتے ہیں وہ صرف ظنّ ہے۔ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغۡنِیۡ مِنَ الۡحَقِّ شَیۡئًا اور اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے ایک اندھا ایک اونچی نیچی زمین میں تاریکی میں چلتا ہے اور نہیں جانتا کہ کہاں قدم پڑتا ہے سو مَیں اس روشنی کو چھوڑ کر جو مجھ کو دی گئی ہے تاریکی کو کیونکر لے لوں جبکہ مَیں دیکھتا ہوں کہ خدا میری دُعائیں سُنتا اور بڑے بڑے نشان میرے لئے ظاہر کرتا اور مجھ سے ہم کلام ہوتا اور اپنے غیب کے اسرار پر مجھے اِطلاع دیتا ہے اور دشمنوں کے مقابل پر اپنے قوی ہاتھ کے ساتھ میری مدد کرتا ہے اور ہر میدان میں مجھے فتح بخشتا ہے اور قرآن شریف کے معارف اور حقائق کا مجھے علم دیتا ہے تو مَیں ایسے قادر اور غالب خدا کو چھوڑ کر اس کی جگہ کس کو قبول کر لوں۔
مَیں اپنے پورے یقین سے جانتا ہوں کہ خدا وہی قادر خدا ہے جس نے میرے پر تجلّی فرمائی اور اپنے وجود سے اور اپنے کلام اور اپنے کام سے مجھے اطلاع دی اور مَیں یقین رکھتا ہوں کہ وہ قدرتیں جو مَیں اس سے دیکھتا ہوں اور وہ علمِ غیب جو میرے پر ظاہر کرتا ہے۔ اور وہ قوی ہاتھ جس سے مَیں ہر خطرناک موقع پر مدد پاتا ہوں۔ وہ اُسی کامل اور سچے خدا کی صفات ہیں جس نے آدمؑ کو پیدا کیا اور جو نوح پر ظاہر ہوا اور طوفان کا معجزہ دکھلایا۔ وہ وہی ہے جس نے موسیٰ کو مدد دی جبکہ فرعون اس کو ہلاک کرنے کو تھا۔ وہ وہی ہے جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سیّد الرسل کو کافروں اور مشرکوں کے منصوبوں سے بچا کر فتح کامل عطا فرمائی۔
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد ۲۱صفحہ۲۹۶تا۲۹۸)حقیقی نور کیا ہے؟ وہ جو تسلّی بخش نشانوں کے رنگ میں آسمان سے اُترتا اور دلوں کو سکینت اور اطمینان بخشتا ہے۔ اُس نور کی ہر ایک نجات کے خواہشمند کو ضرورت ہے۔ کیونکہ جس کو شبہات سے نجات نہیں اس کو عذاب سے بھی نجات نہیں۔ جو شخص اس دنیا میں خدا کے دیکھنے سے بے نصیب ہے وہ قیامت میں بھی تاریکی میں گِرے گا۔ خدا کا قول ہے کہ
کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعۡمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعۡمٰی اور خدا نے اپنی کتاب میں بہت جگہ اشارہ فرمایا ہے کہ مَیں اپنے ڈھونڈنے والوں کے دل نشانوں سے منور کروں گا یہاں تک کہ وہ خدا کو دیکھیں گے اور مَیں اپنی عظمت انہیں دکھلا دوں گا۔ یہاں تک کہ سب عظمتیں اُن کی نگاہ میں ہیچ ہو جائیں گی۔ یہی باتیں ہیں جو مَیں نے براہ راست خدا کے مکالمات سے بھی سُنیں۔ پس میری رُوح بول اُٹھی کہ خدا تک پہنچنے کی یہی راہ ہے اور گناہ پر غالب آنے کا یہی طریق ہے حقیقت تک پہنچنے کے لئے ضرور ہے کہ ہم حقیقت پر قدم ماریں۔ فرضی تجویزیں اور خیالی منصوبے ہمیں کام نہیں دے سکتے۔ ہم اس بات کے گواہ ہیں اور تمام دنیا کے سامنے اس شہادت کو ادا کرتے ہیں کہ ہم نے اس حقیقت کو جو خداتک پہنچاتی ہے قرآن سے پایا۔ ہم نے اُس خدا کی آواز سُنی اور اُس کے پُرزور بازو کے نشان دیکھے جس نے قرآن کو بھیجا۔ سو ہم یقین لائے کہ وہی سچا خدا اور تمام جہانوں کا مالک ہے۔ ہمارا دل اس یقین سے ایسا پُر ہے جیسا کہ سمندر کی زمین پانی سے۔ سو ہم بصیرت کی راہ سے اُس دین اور اُس روشنی کی طرف ہر ایک کو بلاتے ہیں۔ ہم نے اس نورِ حقیقی کو پایا جس کے ساتھ سب ظلمانی پردے اُٹھ جاتے ہیں اور غیر اللہ سے درحقیقت دل ٹھنڈاہو جاتا ہے۔ یہی ایک راہ ہے جس سے انسان نفسانی جذبات اور ظلمات سے ایسا باہر آجاتا ہے جیسا کہ سانپ اپنی کینچلی سے۔
(کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۳صفحہ ۶۵)
آج مَیں نے اتمام حجت کے لئے یہ ارادہ کیا ہے کہ مخالفین اور منکرین کی دعوت میں چالیس اشتہار
شائع کروں۔ تا قیامت کو میری طرف سے حضرتِ احدیت میں یہ حجّت ہو کہ مَیں جس امر کے لئے بھیجا
گیا تھا اس کو مَیں نے پورا کیا۔ سو اب میں بکمال ادب و انکسار حضرات علماء مسلمانان و علماء
عیسائیان و پنڈتان و ہندوان و آریان یہ اشتہار بھیجتا ہوں اور اطلاع دیتا ہوں کہ مَیں اخلاقی
و اعتقادی و ایمانی کمزوریوں اور غلطیوں کی اصلاح کے لئے دنیا میں بھیجا گیا ہوں اور میرا قدم
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قدم پر ہے انہی معنوں سے میں مسیح موعود کہلاتا ہوں۔ کیونکہ مجھے
حکم دیا گیا ہے کہ محض فوق العادت نشانوں اور پاک تعلیم کے ذریعہ سے سچائی کو دنیا میں
پھیلاؤں۔ مَیں اس بات کا مخالف ہوں کہ دین کے لئے تلوار اٹھائی جائے اور مذہب کے لئے خدا کے
بندوں کے خون کئے جائیں۔ اور مَیں مامور ہوں کہ جہاں تک مجھ سے ہو سکے ان تمام غلطیوں کو
مسلمانوں سے دُور کر دوں اور پاک اخلاق اور بُردباری اور حلم اور انصاف اور راستبازی کی راہوں
کی طرف اُن کو بلاؤں۔ مَیں تمام مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں اور آریوں پر یہ بات ظاہر
کرتا ہوں کہ دنیا میں کوئی میرا دشمن نہیں ہے۔ مَیں بنی نوع سے ایسی محبت کرتا ہوں کہ جیسے
والدہ مہربان اپنے بچوں سے بلکہ اس سے بڑھ کر۔ مَیں صرف ان باطل عقائد کا دشمن ہوں جن سے
سچائی کا خون ہوتا ہے۔ انسان کی ہمدردی میرا فرض ہے اور جھوٹ اور شرک اور ظلم اور ہر ایک بد
عملی اور ناانصافی اور بد اخلاقی سے بیزاری میرا اصول۔
میری ہمدردی کے جوش کا اصل محرک یہ ہے کہ مَیں نے ایک سونے کی کان نکالی ہے اور مجھے جواہرات
کے معدن پر اطلاع ہوئی ہے اور مجھے خوش قسمتی سے ایک چمکتا ہوا اور بے بہا ہیرا اس کان سے ملا
ہے اور اس کی اس قدر قیمت ہے کہ اگر مَیں اپنے ان تمام بنی نوع بھائیوں میں وہ قیمت تقسیم
کروں تو سب کے سب اس شخص سے زیادہ دولت مند ہو جائیں گے جس کے پاس آج دنیا میں سب سے بڑھ کر
سونا اور چاندی ہے۔ وہ ہیرا کیا ہے؟ سچا خدا اور اس کو حاصل کرنا یہ ہے کہ اس کو پہچاننا۔ اور
سچا ایمان اس پر لانا اور سچی محبت کے ساتھ اُس سے تعلق پیدا کرنا اور سچی برکات اُس سے پانا۔
پس اس قدر دولت پا کر سخت ظلم ہے کہ مَیں بنی نوع کو اس سے محروم رکھوں اور وہ بھوکے مریں اور
مَیں عیش کروں۔ یہ مجھ سے ہرگز نہیں ہو گا۔ میرا دل ان کے فقر و فاقہ کو دیکھ کر کباب ہو
جاتا ہے۔ ان کی تاریکی اور تنگ گزرانی پر میری جان گھٹتی جاتی ہے۔ مَیں چاہتا ہوں کہ آسمانی
مال سے ان کے گھر بھر جائیں اور سچائی اور یقین کے جواہر ان کو اتنے ملیں کہ اُن کے دامنِ
استعداد پُر ہو جائیں۔
ظاہر ہے کہ ہر ایک چیز اپنے نوع سے محبت کرتی ہے یہاں تک کہ چیونٹیاں
بھی اگر کوئی خود غرضی حائل نہ ہو۔ پس جو شخص کہ خدا تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے اس کا فرض ہے
کہ سب سے زیادہ محبت کرے سو مَیں نوع انسان سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔ ہاں اُن کی بد
عملیوں اور ہر ایک قسم کے ظلم اور فسق اور بغاوت کا دشمن ہوں کسی کی ذات کا دشمن نہیں۔ اس
لئے وہ خزانہ جو مجھے ملا ہے جو بہشت کے تمام خزانوں اور نعمتوں کی کنجی ہے وہ جوش محبت سے
نوع انسان کے سامنے پیش کرتا ہوں اور یہ امر کہ وہ مال جو مجھے ملا ہے وہ حقیقت میں از قسم
ہیرا اور سونا اور چاندی ہے۔ کوئی کھوٹی چیزیں نہیں ہیں بڑی آسانی سے دریافت ہو سکتا ہے۔ اور
وہ یہ کہ ان تمام دراہم اور دینار اور جواہرات پر سلطانی سکّہ کا نشان ہے۔ یعنی وہ آسمانی
گواہیاں میرے پاس ہیں جو کسی دوسرے کے پاس نہیں ہیں۔ مجھے بتلایا گیا ہے کہ تمام دینوں میں
سے دین اسلام ہی سچا ہے۔ مجھے فرمایا گیا ہے کہ تمام ہدایتوں میں سے صرف قرآنی ہدایت ہی صحت
کے کامل درجہ پر اور انسانی ملاوٹوں سے پاک ہے۔ مجھے سمجھایا گیا ہے کہ تمام رسولوں میں سے
کامل تعلیم دینے والا اور اعلیٰ درجہ کی پاک اور پُر حکمت تعلیم دینے والا اور انسانی کمالات
کا اپنی زندگی کے ذریعہ سے اعلیٰ نمونہ دکھلانے والا صرف حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ
صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور مجھے خدا کی پاک اور مطہّر وحی سے اطلاع دی گئی ہے کہ مَیں اس
کی طرف سے مسیح موعود اور مہدی معہود اور اندرونی اور بیرونی اختلافات کا حَکَمْ ہوں۔ یہ جو
میرا نام مسیح اور مہدی رکھا گیا ان دونوں ناموں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے مجھے مشرف
فرمایا۔ اور پھر خدا نے اپنے بلاواسطہ مکالمہ سے یہی میرا نام رکھا۔ اور پھر زمانہ کی حالت
موجودہ نے تقاضا کیا کہ یہی میرا نام ہو۔ غرض میرے ان ناموں پر یہ تین گواہ ہیں۔ میرا خدا جو
آسمان اور زمین کا مالک ہے۔ مَیں اس کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ میں اس کی طرف سے ہوں اور
وہ اپنے نشانوں سے میری گواہی دیتا ہے۔ اگر آسمانی نشانوں میں کوئی میرا مقابلہ کر سکے تو
مَیں جھوٹا ہوں۔ اگر دعاؤں کے قبول ہونے میں کوئی میرے برابر اُتر سکے تو مَیں جھوٹا ہوں
اگر قرآن کے نکات اور معارف بیان کرنے میں کوئی میرا ہم پلّہ ٹھہر سکے تو مَیں جھوٹا ہوں۔
اگر غیب کی پوشیدہ باتیں اور اسرار جو خدا کی اقتداری قوت کے ساتھ پیش از وقت مجھ سے ظاہر
ہوتے ہیں اُن میں کوئی میری برابری کر سکے تو مَیں خدا کی طرف سے نہیں ہوں۔
اب کہاں ہیں وہ پادری صاحبان جو کہتے تھے کہ نعوذ باللہ حضرت سیّدنا و سیّد الوریٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی پیشگوئی یا اور کوئی امر خارق عادت ظہور میں نہیں آیا۔ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ زمین پر وہ ایک ہی انسان کامل گزرا ہے جس کی پیشگوئیاں اور دعائیں قبول ہونا اور دوسرے خوارق ظہور میں آنا ایک ایسا امر ہے جو اب تک امت کے سچّے پیروؤں کے ذریعہ سے دریا کی طرح موجیں مار رہا ہے بجز اسلام وہ مذہب کہاں اور کدھر ہے جو یہ خصلت اور طاقت اپنے اندر رکھتا ہے۔ اور وہ لوگ کہاں اور کس ملک میں رہتے ہیں جو اسلامی برکات اور نشانوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اگر انسان صرف ایسے مذہب کا پَیرو ہو جس میں آسمانی رُوح کی کوئی ملاوٹ نہیں تو وہ اپنے ایمان کو ضائع کرتا ہے۔ مذہب وہی مذہب ہے جو زندہ مذہب ہو اور زندگی کی رُوح اپنے اندر رکھتا ہو اور زندہ خدا سے ملاتا ہو اور مَیں صرف یہی دعویٰ نہیں کرتا کہ خدا تعالیٰ کی پاک وحی سے غیب کی باتیں میرے پر کھلتی ہیں اور خارق عادت امر ظاہر ہوتے ہیں بلکہ یہ بھی کہتا ہوں کہ جو شخص دل کو پاک کر کے اور خدا اور اس کے رسول پر سچی محبت رکھ کر میری پیروی کرے گا وہ بھی خدا تعالیٰ سے یہ نعمت پائے گا۔ مگریاد رکھو کہ تمام مخالفوں کے لئے یہ دروازہ بند ہے اور اگر دروازہ بندنہیں ہے تو کوئی آسمانی نشانوں میں مجھ سے مقابلہ کرے اور یاد رکھیں کہ ہرگز نہیں کر سکیں گے۔ پس یہ اسلامی حقیقت اور میری حقانیت کی ایک زندہ دلیل ہے ……
وَالسَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الۡہُدٰی ۲۳؍ جولائی ۱۹۰۰ء
المشتھر مرزا غلام احمد مسیح موعود از قادیاں
(اربعین نمبر ۱۔ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۳۴۳ تا۳۴۶)توبہ کرو اور خدا سے ڈرو اور حد سے مت بڑھو۔ اگر دل سخت نہیں ہو گئے تو اس قدر کیوں دلیری ہے کہ خواہ نخواہ ایسے شخص کو کافر بنایا جاتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقی معنوں کی رُو سے خاتم الانبیاء سمجھتا ہے اور قرآن کو خاتم الکتب تسلیم کرتا ہے۔ تمام نبیوں پر ایمان لاتا ہے اور اہلِ قبلہ ہے اور شریعت کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھتا ہے۔
اے مفتری لوگو! مَیں نے کسی نبی کی توہین نہیں کی۔ مَیں نے کسی عقیدہ صحیحہ کے برخلاف نہیں کہا پر اگر تم خودنہ سمجھو تو مَیں کیا کروں۔ تم تو قائل ہو کہ جزئی فضیلت ایک ادنیٰ شہید کو ایک بڑے نبی پر ہو سکتی ہے۔ اور یہ سچ ہے کہ مَیں خدا کا فضل اپنے پر مسیح سے کم نہیں دیکھتا مگر یہ کفر نہیں۔ یہ خدا کی نعمت کا شکر ہے۔ تم خدا کے اسرار کو نہیں جانتے اس لئے کفر سمجھتے ہو۔ اُس کو کیا کہو گے جو کہہ گیا ’’ھُوَ اَفْضَلُ مِنْ بَعْضِ الْاَنْبِیَائِ‘‘75 ۔ ۱؎ اگر مَیں تمہاری نظر میں کافر ہوں تو بس ایسا ہی کافر جیسا کہ ابن مریم یہودی فقیہوں کی نظر میں کافر تھا۔ میرے پاس خدا کے فضل کی اس سے بھی بڑھ کر باتیں ہیں۔ مگر تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے۔ خوب یاد رکھو کہ مجھ کو کافر کہنا آسان نہیں۔ تم نے ایک بھاری بوجھ سر پر اٹھا یاہے۔ اور تم سے ان سب باتوں کا جواب پوچھا جائے گا۔ !!
اے بدقسمت لوگو! تم کہاں گِرے۔ کون سی چُھپی ہوئی بد اعمالیاں تھیں جو تمہیں پیش آ گئیں۔ اگر تم میں ایک ذرّہ بھی نیکی ہوتی تو خدا تمہیں ضائع نہ کرتا۔ ابھی کچھ تھوڑا وقت ہے اور بہت سا ثواب کھو چکے ہو باز آجاؤ۔ کیا خدا سے اس بیوقوف کی طرح لڑائی کرو گے جو زور آور کے آگے سے نہیں ہٹ جاتا یہاں تک کہ مار سے پیسا جاتا اور کچلا جاتا ہے اور آخر ہڈیاں چور ہو کر اور مُردہ سا بن کر زمین پر گر پڑتا ہے۔ یہودیوں نے لڑائی سے کیا لیا اور تم کیا لو گے؟ ھٰذَا وَ بَعْدَ الْمَوْتِ نَحْنُ نُخَاصِمُ۔76 بہت کچھ صوفیوں نے بھی انسانی کمالات کا اقرار کیا تھا کہ کہاں تک انسان پہونچتا ہے۔ آج وہ بھی سو گئے اے عقلمندو! میرے کاموں سے مجھے پہچانو۔ اگر مجھ سے وہ کام اور وہ نشان ظاہر نہیں ہوتے جو خدا کے تائید یافتہ سے ظاہر ہونے چاہئیں تو تم مجھے مت قبول کرو۔ لیکن اگر ظاہر ہوتے ہیں تو اپنے تئیں دانستہ ہلاکت کے گڑھے میں مت ڈالو۔ بدظنیاں چھوڑو۔ بدگمانیوں سے باز آ جاؤ کہ ایک پاک کی توہین کی وجہ سے آسمان سُرخ ہو رہا ہے اور تم نہیں دیکھتے۔ اور فرشتوں کی آنکھوں سے خون ٹپک رہا ہے اور تمہیں نظر نہیں آتا۔ خدا اپنے جلال میں ہے اور در و دیوار لرزہ میں۔ کہاں ہے وہ عقل جو سمجھ سکتی ہے۔ کہاں ہیں وہ آنکھیں جو وقتوں کو پہچانتی ہیں۔ آسمان پر ایک حکم لکھا گیا۔ کیا تم اس سے ناراض ہو؟ کیا تم ربّ العزت سے پوچھو گے کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اے نادان انسان! باز آ جا کہ صاعقہ کے سامنے کھڑا ہونا تیرے لئے اچھا نہیں !!!
(سراج منیر۔ روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۶، ۷)اے عزیزو ! اے پیارو! !کوئی انسان خدا کے ارادوں میں اُس سے لڑائی نہیں کر سکتا۔ یقینا سمجھ لو کہ کامل علم کا ذریعہ خدا تعالیٰ کا الہام ہے جو خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں کو ملا۔ پھر بعد اس کے اُس خدا نے جو دریائے فیض ہے یہ ہرگز نہ چاہا کہ آئندہ اس الہام کو مُہر لگا دے اور اس طرح پر دنیا کو تباہ کرے بلکہ اس کے الہام اور مکالمے اور مخاطبے کے ہمیشہ دروازے کھلے ہیں۔ ہاں اُن کو اُن کی راہوں سے ڈھونڈو تب وہ آسانی سے تمہیں ملیں گے۔ وہ زندگی کا پانی آسمان سے آیا اور مناسب مقام پر ٹھہرا۔ اب تمہیں کیا کرنا چاہئے تا تم اس پانی کو پی سکو۔ یہی کرنا چاہئے کہ اُفتاں و خیزاں اُس چشمہ تک پہنچو۔ پھر اپنا منہ اس چشمہ کے آگے رکھ دو تا اس زندگی کے پانی سے سیراب ہو جاؤ۔ انسان کی تمام سعادت اسی میں ہے کہ جہاں روشنی کا پتا ملے۔ اُسی طرف دوڑے اور جہاں اُس گم گشتہ دوست کا نشان پیدا ہو اُسی راہ کو اختیار کرے۔ دیکھتے ہو کہ ہمیشہ آسمان سے روشنی اُترتی اور زمین پر پڑتی ہے۔ اسی طرح ہدایت کا سچا نور آسمان سے ہی اُترتا ہے۔ انسان کی اپنی ہی باتیں اور اپنی ہی اٹکلیں سچا گیان اس کو نہیں بخش سکتیں کیا تم خدا کو بغیر خدا کی تجلّی کے پا سکتے ہو کیا تم بغیر اس آسمانی روشنی کے اندھیرے میں دیکھ سکتے ہو؟ اگر دیکھ سکتے ہو تو شائد اس جگہ بھی دیکھ لو۔ مگر ہماری آنکھیں گو بینا ہوں تاہم آسمانی روشنی کی محتاج ہیں۔ اور ہمارے کان گو شنوا ہوں تاہم اس ہوا کے حاجت مند ہیں جو خدا کی طرف سے چلتی ہے۔ وہ خدا سچا خدا نہیں ہے جو خاموش ہے اور سارا مدار ہماری اٹکلوں پر ہے بلکہ کامل اور زندہ خدا وہ ہے جو اپنے وجود کا آپ پتا دیتا رہا ہے اور اب بھی اُس نے یہی چاہا ہے کہ آپ اپنے وجود کا پتا دیوے۔ آسمانی کھڑکیاں کھلنے کو ہیں۔ عنقریب صبح صادق ہونے والی ہے۔ مبارک وہ جو اُٹھ بیٹھیں اور اب سچے خدا کو ڈھونڈیں۔ وہی خدا جس پر کوئی گردش اور مصیبت نہیں آتی جس کے جلال کی چمک پر کبھی حادثہ نہیں پڑتا۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
اَللّٰہُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ یعنی خدا ہی ہے جو ہر دم آسمان کا نور اور زمین کا نور ہے۔ اُسی سے ہر ایک جگہ روشنی پڑتی ہے۔ آفتاب کا وہی آفتاب ہے۔ زمین کے تمام جانداروں کی وہی جان ہے۔ سچا زندہ خدا وہی ہے۔ مبارک وہ جو اس کو قبول کرے۔
(اسلامی اصول کی فلاسفی۔ روحانی خزائن جلد ۱۰صفحہ۴۴۳، ۴۴۴)اے امیرو اور بادشاہو! اور دولتمندو!! آپ لوگوں میں ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں جو خدا سے ڈرتے اور اُس کی تمام راہوں میں راستباز ہیں۔ اکثر ایسے ہیں کہ دنیا کے ملک اور دنیا کے املاک سے دل لگائے ہیں اور پھر اُسی میں عمر بسر کر لیتے ہیں اور موت کو یادنہیں رکھتے۔ ہر ایک امیر جو نماز نہیں پڑھتا اور خدا سے لاپروا ہے اُس کے تمام نوکروں چاکروں کا گناہ اس کی گردن پر ہے۔ ہر ایک امیر جو شراب پیتا ہے اُس کی گردن پر ان لوگوں کا بھی گناہ ہے جو اس کے ماتحت ہو کر شراب میں شریک ہیں۔
اے عقلمندو! یہ دنیا ہمیشہ کی جگہ نہیں۔ تم سنبھل جاؤ۔ تم ہر ایک بے اعتدالی کو چھوڑ دو۔ ہر ایک نشہ کی چیز کو ترک کرو۔ انسان کو تباہ کرنے والی صرف شراب ہی نہیں بلکہ افیون، گانجا، چرس، بھنگ، تاڑی اور ہر ایک نشہ جو ہمیشہ کے لئے عادت کر لیا جاتا ہے وہ دماغ کو خراب کرتا اور آخر ہلاک کرتا ہے سو تم اس سے بچو۔ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ تم کیوں اِن چیزوں کو استعمال کرتے ہو جن کی شامت سے ہر ایک سال ہزار ہا تمہارے جیسے نشہ کے عادی اس دنیا سے کوچ کرتے جاتے ہیں اور آخرت کا عذاب الگ ہے۔ پرہیزگار انسان بن جاؤ تا تمہاری عمریں زیادہ ہوں اور تم خدا سے برکت پاؤ۔ حد سے زیادہ عیاشی میں بسر کرنا لعنتی زندگی ہے۔ حد سے زیادہ بدخلق اور بے مہر ہونا لعنتی زندگی ہے۔ حد سے زیادہ خدا یا اس کے بندوں کی ہمدردی سے لاپروا ہونا لعنتی زندگی ہے۔ ہر ایک امیر خدا کے حقوق اور انسانوں کے حقوق سے ایسا ہی پوچھا جائے گاجیسا کہ ایک فقیر بلکہ اس سے زیادہ۔ پس کیا بد قسمت وہ شخص ہے جو اس مختصر زندگی پر بھروسہ کر کے بکلّی خدا سے مُنہ پھیر لیتا ہے اور خدا کے حرام کو ایسی بے باکی سے استعمال کرتا ہے کہ گویا وہ حرام اس کے لئے حلال ہے۔ غصہ کی حالت میں دیوانوں کی طرح کسی کو گالی کسی کو زخمی اور کسی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور شہوات کے جوش میں بے حیائی کے طریقوں کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے سو وہ سچی خوشحالی کو نہیں پائے گا یہاں تک کہ مرے گا۔
اے عزیزو! تم تھوڑے دنوں کے لئے اس دنیا میں آئے ہو اور وہ بھی بہت کچھ گزر چکے۔ سو اپنے مولا کو ناراض مت کرو۔ ایک انسانی گورنمنٹ جو تم سے زبردست ہو اگر تم سے ناراض ہو تو وہ تمہیں تباہ کر سکتی ہے۔ پس تم سوچ لو کہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے کیونکر تم بچ سکتے ہو۔ اگر تم خدا کی آنکھوں کے آگے متقی ٹھہر جاؤ تو تمہیں کوئی بھی تباہ نہیں کر سکتا اور وہ خود تمہاری حفاظت کرے گا اور دشمن جو تمہاری جان کے درپے ہے تم پر قابو نہیں پائے گا ورنہ تمہاری جان کا کوئی حافظ نہیں اور تم دشمنوں سے ڈر کر یا اور آفات میں مبتلا ہو کر بے قراری سے زندگی بسر کرو گے اور تمہاری عمر کے آخری دن بڑے غم اور غصہ کے ساتھ گزریں گے۔ خدا اُون لوگوں کی پناہ ہو جاتا ہے جو اس کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔ سو خدا کی طرف آجاؤ اور ہر ایک مخالفت اس کی چھوڑ دو اور اس کے فرائض میں سستی نہ کرو اور اُس کے بندوں پر زبان سے یا ہاتھ سے ظلم مت کرو۔ اور آسمانی قہر اور غضب سے ڈرتے رہو کہ یہی راہ نجات کی ہے۔
(کشتی ٔ نوح۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۷۰تا ۷۲)انسان خدا کی پرستش کا دعویٰ کرتا ہے مگر کیا پرستش صرف بہت سے سجدوں اور رکوع اور قیام سے ہو سکتی ہے یا بہت مرتبہ تسبیح کے دانے پھیرنے والے پرستارِ الٰہی کہلا سکتے ہیں؟ بلکہ پرستش اس سے ہو سکتی ہے جس کو خدا کی محبت اس درجہ پر اپنی طرف کھینچے کہ اس کا اپنا وجود درمیان سے اُٹھ جائے۔ اوّل خدا کی ہستی پر پورا یقین ہو اور پھر خدا کے حسن و احسان پر پوری اطلاع ہو۔ اور پھر اس سے محبت کا تعلق ایسا ہو کہ سوزشِ محبت ہر وقت سینہ میں موجود ہو۔ اور یہ حالت ہر ایک دم چہرہ پر ظاہر ہو اور خدا کی عظمت دل میں ایسی ہو کہ تمام دنیا اس کی ہستی کے آگے مُردہ متصوّر ہو اور ہر ایک خوف اُسی کی ذات سے وابستہ ہو۔ اور اسی کی درد میں لذت ہو۔ اور اُسی کی خلوت میں راحت ہو اور اس کے بغیر دل کو کسی کے ساتھ قرار نہ ہو۔ اگر ایسی حالت ہو جائے تو اس کا نام پرستش ہے۔ مگر یہ حالت بجز خدا تعالیٰ کی خاص مدد کے کیونکر پیدا ہو۔ اِسی لئے خدا تعالیٰ نے یہ دُعا سکھلائی اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ یعنی ہم تیری پرستش تو کرتے ہیں مگر کہاں حق پرستش ادا کر سکتے ہیں جب تک تیری طرف سے خاص مددنہ ہو۔ خدا کو اپنا حقیقی محبوب قرار دے کر اُس کی پرستش کرنا یہی ولایت ہے جس سے آگے کوئی درجہ نہیں۔ مگر یہ درجہ بغیر اس کی مدد کے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کے حاصل ہونے کی یہ نشانی ہے کہ خدا کی عظمت دل میں بیٹھ جائے خدا کی محبت دل میں بیٹھ جائے اور دل اسی پر توکل کرے اور اُسی کو پسند کرے اور ہر ایک چیز پر اسی کو اختیار کرے اور اپنی زندگی کا مقصد اُسی کی یاد کو سمجھے اور اگر ابراہیمؑ کی طرح اپنے ہاتھ سے اپنی عزیز اولاد کے ذبح کرنے کا حکم ہو یا اپنے تئیں آگ میں ڈالنے کا اشارہ ہو تو ایسے سخت احکام کو بھی محبت کے جوش سے بجا لائے اور رضا جوئی اپنے آقائے کریم میں اس حد تک کوشش کرے کہ اس کی اطاعت میں کوئی کسر باقی نہ رہے۔ یہ بہت تنگ دروازہ ہے اور یہ شربت بہت ہی تلخ شربت ہے۔ تھوڑے لوگ ہیں جو اس دروازہ میں سے داخل ہوتے اور اس شربت کو پیتے ہیں۔ زنا سے بچنا کوئی بڑی بات نہیں اور کسی کو ناحق قتل نہ کرنا بڑا کام نہیں اور جھوٹھی گواہی نہ دینا کوئی بڑا ہنر نہیں مگر ہر ایک چیز پر خدا کو اختیار کر لینا اور اس کے لئے سچی محبت اور سچے جوش سے دنیا کی تمام تلخیوں کو اختیار کرنا بلکہ اپنے ہاتھ سے تلخیاں پیدا کر لینا یہ وہ مرتبہ ہے کہ بجز صدیقوں کے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ عبادت ہے جس کے ادا کرنے کے لئے انسان مامور ہے اور جو شخص یہ عبادت بجا لاتا ہے تب تو اس کے اس فعل پر خدا کی طرف سے بھی ایک فعل مترتب ہوتا ہے جس کا نام انعام ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے یعنی یہ دعا سکھلاتا ہے۔ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ (الفاتحہ: ۶، ۷) یعنی اے ہمارے خدا ہمیں اپنی سیدھی راہ دکھلا۔ ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا ہے اور اپنی خاص عنایات سے مخصوص فرمایاہے۔ حضرتِ اَحدیّت میں یہ قاعدہ ہے کہ جب خدمت مقبول ہو جاتی ہے تو اُس پر ضرور کوئی انعام متر ّتب ہوتا ہے۔ چنانچہ خوارق اور نشان جن کی دوسرے لوگ نظیر پیش نہیں کر سکتے یہ بھی خدا تعالیٰ کے انعام ہیں۔ جو خاص بندوں پر ہوتے ہیں۔
اے گرفتارِ ہوا در ہمہ اوقاتِ حیات
باچنین نفسِ سیہ چون رسدت زو عونے77
گر تو آن صدق بورزی کہ بورزید کلیم
عجبے نیست اگر غرق شود فرعونے78
خدا تعالیٰ نے زمانہ کی موجودہ حالت دیکھ کر اور زمین کو طرح طرح کے فسق اور معصیّت اور گمراہی سے بھرا ہوا پا کر مجھے تبلیغ حق اور اصلاح کے لئے مامور فرمایا۔ اور یہ زمانہ بھی ایسا تھا کہ…… اس دنیا کے لوگ تیرھویں صدی ہجری کو ختم کر کے چودھویں صدی کے سر پر پہنچ گئے تھے۔ تب مَیں نے اُس حکم کی پابندی سے عام لوگوں میں بذریعہ تحریری اشتہارات اور تقریروں کے یہ ندا کرنی شروع کی کہ اس صدی کے سر پر جو خدا کی طرف سے تجدید دین کے لئے آنے والا تھا وہ مَیں ہی ہوں تا وہ ایمان جو زمین پرسے اُٹھ گیا ہے اس کو دوبارہ قائم کروں۔ اور خدا سے قوت پا کر اُسی کے ہاتھ کی کشش سے دنیا کو صلاح اور تقویٰ اور راستبازی کی طرف کھینچوں اور ان کی اعتقادی اور عملی غلطیوں کو دُور کرو ں اور پھر جب اس پر چند سال گذرے تو بذریعہ وحیِ الٰہی میرے پر بتصریح کھولا گیا کہ وہ مسیح جو اس امّت کے لئے ابتداء سے موعود تھا اور وہ آخری مہدی جو تنزّل اسلام کے وقت اور گمراہی کے پھیلنے کے زمانہ میں براہ ِراست خدا سے ہدایت پانے والا اور اُس آسمانی مائدہ کو نئے سرے انسانوں کے آگے پیش کرنے والا تقدیرِ الٰہی میں مقرر کیا گیا تھا۔ جس کی بشارت آج سے تیرہ ۱۳۰۰ سو برس پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی وہ مَیں ہی ہوں اور مکالماتِ الہٰیّہ اور مخاطبات رحمانیہ اس صفائی اور تواتر سے اس بارے میں ہوئے کہ شک و شبہ کی جگہ نہ رہی۔ ہر ایک وحی جو ہوتی تھی ایک فولادی میخ کی طرح دل میں دھنستی تھی اور یہ تمام مکالماتِ اِلٰہیہ ایسی عظیم الشان پیشگوئیوں سے بھرے ہوئے تھے کہ روز روشن کی طرح پوری ہوتی تھیں اور ان کے تواتر اور کثرت اور اعجازی طاقتوں کے کرشمہ نے مجھے اس بات کے اقرار کے لئے مجبور کیا کہ یہ اُسی وحدہٗ لاشریک کا کلام ہے جس کا کلام قرآن شریف ہے۔ (تذکرۃ الشہادتین۔ روحانی خزائن جلد ۲۰صفحہ ۳، ۴)
ہم نے حضرت مسیح کی موت اور ان کے رفع روحانی کو ثابت کر دیا ہے۔ فَمَاذَا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ
اب موتِ مسیح کے بعد دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ مسیح موعود کا اسی امت میں سے آنا کن نصوصِ قرآنیہ اور حدیثیہ اور دیگر قرائن سے ثابت ہے سو وہ دلائل ذیل میں بیان کئے جاتے ہیں۔ غور سے سُنو شائد خدائے رحیم ہدایت کرے۔
منجملہ ان دلائل کے جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں جو آنے والا مسیح جس کا اس اُمت کے لئے وعدہ دیا گیا ہے وہ اسی امت میں سے ایک شخص ہو گا بخاری اور مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ اور اَمَّکُمْ مِنْکُمْ لکھا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ وہ تمہارا امام ہو گا اور تم ہی میں سے ہو گا چونکہ یہ حدیث آنے والے عیسیٰ کی نسبت ہے اور اس کی تعریف میں اس حدیث میں حَکَم اور عَدل کا لفظ بطور صفت موجود ہے جو اس فقرہ سے پہلے ہے اس لئے امام کا لفظ بھی اس کے حق میں ہے اور اس میں شک نہیں کہ اس جگہ مِنْکُمْ کے لفظ سے صحابہ کو خطاب کیا گیا ہے اور وہی مخاطب تھے لیکن ظاہر ہے کہ ان میں سے تو کسی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اس لئے منکم کے لفظ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو خدا تعالیٰ کے علم میں قائم مقام صحابہ ہے اور وہ وہی ہے جس کو اس آیت مفصلہ ذیل میں قائم مقام صحابہ کیا گیا ہے یعنی یہ کہ وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ ۔ کیونکہ اس آیت نے ظاہر کیا ہے کہ وہ رسول کی روحانیت سے تربیت یافتہ ہے۔ اور اسی معنے کے رو سے صحابہ میں داخل ہے اور اس آیت کی تشریح میں یہ حدیث ہے۔ لَوْکَانَ الْاِیْمَانُ مَعَلَّقًا بِالثُّرَیَّا لَنَالَہٗ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ اور چونکہ اس فارسی شخص کی طرف وہ صفت منسوب کی گئی ہے جو مسیح موعود اور مہدی سے مخصوص ہے یعنی زمین جو ایمان اور توحید سے خالی ہو کر ظلم سے بھر گئی ہے پھر اس کو عدل سے پُر کرنا لہٰذا یہی شخص مہدی اور مسیح موعود ہے اور وہ مَیں ہوں اور جس طرح کسی دوسرے مدعی مہدویت کے وقت میں کسوف خسوف رمضان میں آسمان پر نہیں ہوا ایسا ہی تیرہ سو برس کے عرصہ میں کسی نے خدا تعالیٰ کے الہام سے علم پا کر یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اِس پیشگوئی لَنَالَہٗ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ کا مصداق میں ہوں۔
(تحفہ گولڑویہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ۱۱۴، ۱۱۵)اور منجملہ ان دلائل کے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود اسی امت میں سے ہو گا قرآن شریف کی یہ آیت ہے کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ تم بہترین امت ہو جو اس لئے نکالی گئی ہو کہ تا تم تمام دجالوں اور دجال معہود کا فتنہ فرو کر کے اور اُن کے شر کو دفع کر کے مخلوق خدا کو فائدہ پہونچاؤ … یاد رہے کہ ہر ایک اُمت سے ایک خدمت دینی لی جاتی ہے اور ایک قسم کے دشمن کے ساتھ اس کا مقابلہ پڑتا ہے سو مقدر تھا کہ اس امت کا دجّال کے ساتھ مقابلہ پڑے گا جیسا کہ حدیث نافع بن عتبہ سے مسلم میں صاف لکھا ہے کہ تم دجّال کے ساتھ لڑو گے اور فتح پاؤ گے۔ اگرچہ صحابہ دجّال کے ساتھ نہیں لڑے مگر حسب منطوق اٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ مسیح موعود اور اس کے گروہ کو صحابہ قرار دیا۔ اب دیکھو اس حدیث میں بھی لڑنے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو جو امت ہیں قرار دیا اور یہ نہ کہا کہ مسیح بنی اسرائیلی لڑے گا اور نزول کا لفظ محض اجلال اور اکرام کے لئے ہے اور اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چونکہ اُس پُرفساد زمانہ میں ایمان ثریّا پر چلا جائے گااور تمام پیری مریدی اور شاگردی استادی اور افادہ استفادہ معرض زوال میں آجائے گا اس لئے آسمان کا خدا ایک شخص کو اپنے ہاتھ سے تربیت دے کر بغیر توسط زمینی سِلسلوں کے زمین پر بھیجے گا جیسے کہ بارش آسمان سے بغیر توسط انسانی ہاتھوں کے نازل ہوتی ہے۔
اور منجملہ دلائل قویّہ قطعیہ کے جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں جو مسیح موعود اسی امّتِ محمدیہ میں سے ہو گا قرآن شریف کی یہ آیت ہے وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ الخ۔ یعنی خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے جو ایمان دار ہیں اور نیک کام کرتے ہیں وعدہ فرمایا ہے جو ان کو زمین پر انہی خلیفوں کی مانند جو ان سے پہلے گذر چکے ہیں خلیفے مقرر فرمائے گا۔ اس آیت میں پہلے خلیفوں سے مراد حضرت موسیٰ کی امت میں سے خلیفے ہیں جن کو خداتعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی شریعت کو قائم کرنے کے لئے پے در پے بھیجا تھا اور خاص کر کسی صدی کو ایسے خلیفوں سے جو دین موسوی کے مجدّد تھے خالی نہیں جانے دیا تھا۔ اور قرآن شریف نے ایسے خلیفوں کا شمار کر کے ظاہر فرمایا ہے کہ وہ باراں۱۲ ہیں اور تیرھواں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو موسوی شریعت کا مسیح موعود ہے اور اس مماثلت کے لحاظ سے جو آیت ممدوحہ میں کَمَا کے لفظ سے مستنبط ہوتی ہے ضروری تھا کہ محمدی خلیفوں کو موسوی خلیفوں سے مشابہت اور مماثلت ہو سو اسی مشابہت کے ثابت اور متحقق کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں بارہ موسوی خلیفوں کا ذکر فرمایا جن میں سے ہر ایک حضرت موسیٰ کی قوم میں سے تھا اور تیرھواں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا جو موسیٰ کی قوم کا خاتم الانبیاء تھا مگر درحقیقت موسیٰ ؑ کی قوم میں سے نہیں تھا اور پھر خدا نے محمدی سلسلہ کے خلیفوں کو موسوی سلسلہ کے خلیفوں سے مشابہت دے کر صاف طور پر سمجھا دیا کہ اس سلسلہ کے آخر میں بھی ایک مسیح ہے اور درمیان میں باراں خلیفے ہیں تا موسوی سلسلہ کے مقابل پر اس جگہ بھی چوداں کا عدد پورا ہو۔ ایسا ہی سلسلہ محمدی خلافت کے مسیح موعود کو چودھویں صدی کے سر پر پیدا کیا کیونکہ موسوی سلسلہ کا مسیح موعود بھی ظاہر نہیں ہوا تھا جب تک کہ سن موسوی کے حساب سے چودھویں صدی نے ظہور نہیں کیا تھا۔ ایسا کیا گیا تا دونوں مسیحوں کا مبدء ِ سلسلہ سے فاصلہ باہم مشابہ ہو…… اگر درحقیقت وہی عیسیٰ علیہ السلام ہے جو دوبارہ آنے والا ہے تو اس سے قرآن شریف کی تکذیب لازم آتی ہے۔ کیونکہ قرآن جیسا کہ کَمَا کے لفظ سے مستنبط ہوتا ہے دونوں سِلسلوں کے تمام خلیفوں کو من وجہٍ مغائر قرار دیتا ہے اور یہ ایک نَصِّ قَطعی ہے کہ اگر ایک دنیا اس کے مخالف اکٹھی ہو جائے تب بھی وہ اس نَصِّ واضح کو ردّ نہیں کر سکتے کیونکہ جب پہلے سِلسلہ کا عین ہی نازل ہو گیا تو وہ مغائرت فوت ہو گئی اور لفظ کَمَا کا مفہوم باطل ہو گیا۔ پس اس صورت میں تکذیب قرآن شریف لازم ہوئی۔ وَھٰذَا بَاطِلٌ وَ کُلُّ مَا یَسْتَلْزِمُ الْبَاطِلَ فَھُوَبَاطِلٌ۔ یاد رہے کہ قرآن شریف نے آیت کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ میں وہی کَمَا استعمال کیا ہے جو آیت کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا میں ہے۔
(تحفہ گولڑویہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ۱۲۰ تا ۱۲۷)ایسا ہی قرآن شریف کی رو سے سلسلہ محمدیہ سلسلہ موسویہ سے ہر یک نیکی اور بدی میں مشابہت رکھتا ہے۔ اسی کی طرف ان آیتوں میں اشارہ ہے کہ ایک جگہ یہود کے حق میں لکھا ہے فَیَنۡظُرَ کَیۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ دوسری جگہ مسلمانوں کے حق میں لکھا ہے۔ لِنَنۡظُرَ کَیۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ ان دونوں آیتوں کے یہ معنے ہیں کہ خدا تمہیں خلافت اور حکومت عطا کر کے پھر دیکھے گا کہ تم راستبازی پر قائم رہتے ہو یا نہیں۔ ان آیتوں میں جو الفاظ یہود کے لئے استعمال کئے ہیں وہی مسلمانوں کے لئے یعنی ایک ہی آیت کے نیچے ان دونوں کو رکھا ہے۔ پس ان آیتوں سے بڑھ کر اس بات کے لئے اور کون سا ثبوت ہو سکتا ہے کہ خدا نے بعض مسلمانوں کو یہود قرار دے دیا ہے اور صاف اشارہ کر دیا ہے کہ جن بدیوں کے یہود مرتکب ہوئے تھے یعنی علماء ان کے۔ اس امت کے علماء بھی انہی بدیوں کے مرتکب ہوں گے اور اسی مفہوم کی طرف آیت غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ میں بھی اشارہ ہے کیونکہ اِس آیت میں باتفاق کل مفسرین مَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ سے مراد وہ یہود ہیں جن پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے انکار کی وجہ سے غضب نازل ہوا تھا۔ اور احادیثِ صحیحہ میں مَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ سے مراد وہ یہود ہیں جو موردِ غضب الٰہی دنیا میں ہی ہوئے تھے اور قرآن شریف یہ بھی گواہی دیتا ہے کہ یہود کو مَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ ٹھیرانے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان پر لعنت جاری ہوئی تھی۔ پس یقینی اور قطعی طور پر مَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ سے مراد وہ یہود ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر ہلاک کرنا چاہا تھا۔ اب خدا تعالیٰ کا یہ دُعا سکھلانا کہ خدا یا ایسا کر کہ ہم وہی یہودی نہ بن جائیں جنہوں نے عیسیٰ کو قتل کرنا چاہا تھا صاف بتلا رہا ہے کہ امت محمدیہ میں بھی ایک عیسیٰ پیدا ہونے والا ہے ورنہ اس دُعا کی کیا ضرورت تھی؟ اور نیز جبکہ آیات مذکورہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی زمانہ میں بعض علماء مسلمان بالکل علماء یہود سے مشابہ ہو جائیں گے اور یہود بن جائیں گے پھر یہ کہنا کہ ان یہودیوں کی اصلاح کے لئے اسرائیلی عیسیٰ آسمان سے نازل ہو گا بالکل غیرمعقول بات ہے۔ کیونکہ اوّل تو باہر سے ایک نبی کے آنے سے مُہر ختم نبوت ٹوٹتی ہے اور قرآن شریف صریح طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء ٹھیراتا ہے۔ ماسوا اس کے قرآن شریف کے رُو سے یہ امت خیر الامم کہلاتی ہے۔ پس اس کی اس سے زیادہ بے عزتی اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ یہودی بننے کے لئے تو یہ اُمت ہو مگر عیسیٰ باہر سے آوے۔ اگر یہ سچ ہے کہ کسی زمانہ میں اکثر علماء اس امت کے یہودی بن جائیں گے یعنی یہود خصلت ہو جائیں گے تو پھر یہ بھی سچ ہے کہ ان یہود کے درست کرنے کے لئے عیسیٰ باہر سے نہیں آئے گا بلکہ جیسا کہ بعض افراد کا نام یہود رکھا گیاہے ایسا ہی اس کے مقابل پر ایک فرد کا نام عیسٰی بھی رکھا جائے گا۔ اس بات کا انکار نہیں ہو سکتا کہ قرآن اور حدیث دونوں نے بعض افراد اس امت کا نام یہود رکھا ہے جیسا کہ آیت غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ سے بھی ظاہر ہے کیونکہ اگر بعض افراد اس امت کے یہودی بننے والے نہ ہوتے تو دُعا مذکورہ بالا ہرگز نہ سکھلائی جاتی۔ جب سے دنیا میں خدا کی کتابیں آئی ہیں خداتعالیٰ کا اُن میں یہی محاورہ ہے کہ جب کسی قوم کو ایک بات سے منع کرتا ہے کہ مثلاً تم زنا نہ کرو یا چوری نہ کرو یا یہودی نہ بنو تو اس منع کے اندر یہ پیشگوئی مخفی ہوتی ہے کہ بعض اُن میں سے ارتکاب ان جرائم کا کریں گے۔ دنیا میں کوئی شخص ایسی نظیر پیش نہیں کر سکتا کہ ایک جماعت یا ایک قوم کو خدا تعالیٰ نے کسی ناکردنی کام سے منع کیا ہو اور پھر وہ سب کے سب اس کام سے باز رہے ہوں۔ بلکہ ضرور بعض اس کام کے مرتکب ہو جاتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے توریت میں یہودیوں کو یہ حکم دیا کہ تم نے توریت کی تحریف نہ کرنا۔ سو اِس حکم کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض یہودنے توریت کی تحریف کی۔ مگر قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو کہیں حکم نہیں دیا کہ تم نے قرآن شریف کی تحریف نہ کرنا بلکہ یہ فرمایا کہ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ یعنی ہم نے ہی قرآن شریف کو اتارا اور ہم ہی اس کی محافظت کریں گے۔ اسی وجہ سے قرآن شریف تحریف سے محفوظ رہا۔ غرض یہ قطعی اور یقینی اور مسلّم سنّت الٰہی ہے کہ جب خدائے تعالیٰ کسی کتاب میں کسی قوم یا جماعت کو ایک بُرے کام سے منع کرتا ہے یا نیک کام کے لئے حکم فرماتا ہے تو اوس کے علم قدیم میں یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ اس کے حکم کی مخالفت بھی کریں گے۔ پس خدا تعالیٰ کا سورۂ فاتحہ میں یہ فرمانا کہ تم دُعا کیا کرو کہ تم وہ یہودی نہ بن جاؤ جنہوں نے عیسٰی علیہ السلام کو سولی دینا چاہا تھا جس سے دنیا میں ہی ان پرغضبِ الٰہی کی مار پڑی۔ اس سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے علم میں یہ مقدّر تھا کہ بعض افراد اس امت کے جو علماء امت کہلائیں گے اپنی شرارتوں اور تکذیب مسیحِ وقت کی وجہ سے یہودیوں کا جامہ پہن لیں گے ورنہ ایک لغو دعا کے سکھلانے کی کچھ ضرورت نہ تھی۔ یہ تو ظاہر ہے کہ علماء اِس امت کے اس طرح کے یہودی نہیں بن سکتے کہ وہ اسرائیل کے خاندان میں سے بن جائیں اور پھر اُس عیسیٰ بن مریم کو جو مدّت سے اس دنیا سے گذر چکا ہے سولی دینا چاہیں کیونکہ اب اس زمانہ میں نہ وہ یہودی اس زمین پر موجود ہیں نہ وہ عیسٰی موجود ہے۔ پس ظاہر ہے کہ اس آیت میں ایک آئندہ واقعہ کی طرف اشارہ ہے اور یہ بتلانا منظور ہے کہ اس امت میں عیسیٰ مسیح کے رنگ میں آخری زمانہ میں ایک شخص مبعوث ہو گا اور اس کے وقت کے بعض علماء اسلام ان یہودی علماء کی طرح اُوس کو دُکھ دیں گے جو عیسٰی علیہ السلام کو دُکھ دیتے تھے اور ان کی شان میں بدگوئی کریں گے بلکہ احادیث صحیحہ سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ یہودی بننے کے یہ معنی ہیں کہ یہودیوں کے بد اخلاق اور بد عادات علمائے اسلام میں پیدا ہو جائیں گی اور گو بظاہر مسلمان کہلائیں گے مگر اُن کے دل مسخ ہو کر اُن یہودیوں کے رنگ سے رنگین ہو جائیں گے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دُکھ دے کر موردِ غضب الٰہی ہوئے تھے۔ پس جبکہ یہودی یہی لوگ بنیں گے جو مسلمان کہلاتے ہیں تو کیا یہ اس امت مرحومہ کی بے عزّتی نہیں کہ یہودی بننے کے لئے تو یہ مقرر کئے جائیں مگر مسیح جو ان یہودیوں کو درست کرے گا وہ باہر سے آوے … جو شخص قرآن شریف کو ایک تقویٰ اور ایمان اور انصاف اور تدبّر کی نظر سے دیکھے گا اُس پر روز روشن کی طرح کھل جائے گا کہ خداوند قادر کریم نے اس امت محمدیہ کو موسوی امت کے بالکل بالمقابل پر پیدا کیا ہے۔ ان کی اچھی باتوں کے بالمقابل پر اچھی باتیں دی ہیں اور ان کی بُری باتوں کے مقابل پر بُری باتیں۔ اس امت میں بعض ایسے ہیں جوانبیاء بنی اسرائیل سے مشابہت رکھتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو مغضوب علیھم یہود سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اس کی ایسی مثال ہے جیسے ایک گھر ہے جس میں عمدہ عمدہ آراستہ کمرے موجود ہیں جو عالیشان اور مہذب لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہیں اور جس کے بعض حصّے میں پائخانے بھی ہیں اور بدررو بھی اور گھر کے مالک نے چاہا کہ اس محل کے مقابل پر ایک اَور محل بناوے کہ تا جو جو سامان اس پہلے محل میں تھا اس میں بھی موجود ہو۔ سو یہ دوسرا محل اسلام کا محل ہے اور پہلا محل موسوی سِلسلہ کا محل تھا۔ یہ دوسرا محل پہلے محل کا کسی بات میں محتاج نہیں۔ قرآن شریف توریت کا محتاج نہیں اور یہ امت کسی اسرائیلی نبی کی محتاج نہیں۔ ہر ایک کامل جو اس اُمت کے لئے آتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے پرورش یافتہ ہے اور اس کی وحی محمدی وحی کی ظل ہے۔ یہی ایک نکتہ ہے جو سمجھنے کے لائق ہے۔ افسوس ہمارے مخالف حضرت عیسیٰ کو دوبارہ لاتے ہیں، نہیں سمجھتے کہ مطلب تو یہ ہے کہ اسلام کو فخر مشابہت حاصل ہو۔ نہ یہ ذلّت کہ کوئی اسرائیلی نبی آوے تا اُمت اصلا ح پاوے۔ (تذکرۃ الشہادتین۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۱۳ تا۱۷)
تیسرا مرحلہ یہ ہے کہ آیا یہ امر ثابت ہے یا نہیں کہ آنے والا مسیح موعود اسی زمانہ میں آنا چاہئے جس میں ہم ہیں۔ سو دلائلِ مفصّلہ ذیل سے صاف طور پر کھل گیا ہے کہ ضرور ہے کہ وہ اسی زمانہ میں آوے۔
(۱) اوّل دلیل یہ ہے کہ صحیح بخاری میں جو اَصَحُّ الْکُتُبِ بَعْدَ کِتَابِ اللّٰہِ کہلاتی ہے لکھا ہے کہ مسیح موعود کسرِ صلیب کے لئے آئے گا اور ایسے وقت میں آئے گا کہ جب ملک میں ہر ایک پہلو سے بے اعتدالیاں قول اور فعل میں پھیلی ہوئی ہوں گی۔ سو اب اس نتیجہ تک پہنچنے کے لئے غور سے دیکھنے کی بھی حاجت نہیں کیونکہ ظاہر ہے کہ عیسائیت کا اثر لاکھوں انسانوں کے دلوں پر پڑ گیا ہے اور ملک اباحت کی تعلیموں سے متاثر ہوتا جاتا ہے۔ صدہا آدمی ہر ایک خاندان میں سے نہ صرف دین اسلام سے ہی مرتد ہو گئے ہیں بلکہ جناب سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت دشمن بھی ہو گئے ہیں اور اب تک صدہا کتابیں دین اسلام کے ردّ میں تالیف بھی ہو چکی ہیں۔ اور اکثر وہ کتابیں توہین اور گالیوں سے پُر ہیں اور اس مصیبت کے وقت جب ہم گذشتہ زمانہ کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک قطعی فیصلہ کے طور پر یہ رائے ظاہر کرنی پڑتی ہے کہ تیرہ سو برس کی بارہ صدیوں میں سے کوئی بھی ایسی صدی اسلام کے مضر نہیں گذری کہ جیسے تیرھویں صدی گذری ہے اور یا جو اب گذر رہی ہے۔ لہٰذا عقلِ سلیم اس بات کی ضرورت کو مانتی ہے کہ ایسے پُر خطر زمانہ کے لئے جس میں عام طور پر زمین میں بہت جوش مخالفت کا پھوٹ پڑا ہے اور مسلمانوں کی اندرونی زندگی بھی ناگفتہ بہ حالت تک پہونچ گئی ہے۔ کوئی مصلح صلیبی فتنوں کا فرو کرنے والا اور اندرونی حالت کو پاک کرنے والا پیدا ہو۔ اور تیرھویں صدی کے پورے سو برس کے تجربہ نے ثابت کر دیا ہے کہ ان زہریلی ہواؤں کی اصلاح جو بڑے زور شور سے چل رہی ہیں اور عام وباء کی طرح ہر ایک شہر اور گانوء سے کچھ کچھ اپنے قبض میں لا رہی ہیں۔ ہر ایک معمولی طاقت کا کام نہیں کیونکہ یہ مخالفانہ تاثیرات اور ذخیرۂ اعتراضات خود ایک معمولی طاقت نہیں بلکہ زمین نے اپنے وقت پر ایک جوش مارا ہے اور اپنے تمام زہروں کو بڑی قوت کے ساتھ اُگلا ہے اس لئے اِس زہر کی مدافعت کے لئے آسمانی طاقت کی ضرورت ہے کیونکہ لوہے کو لوہا ہی کاٹتا ہے سو اس دلیل سے روشن ہو گیا کہ یہی زمانہ مسیح موعود کے ظہور کا زمانہ ہے……
(۲) دوسری دلیل وہ بعض احادیث اور کشوف اولیاء کرام و علمائے عظام ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ مسیح موعود اور مہدی معہود چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہو گا۔ چنانچہ حدیث اَلْاٰیَاتُ بَعْدَ الْمِأَتَیْنِکی تشریح بہت سے متقدمین اور متاخرین نے یہی کی ہے جو مأتین کے لفظ سے وہ مِاَتَیْن مراد ہیں جو الف کے بعد ہیں یعنی ہزار کے بعد۔ اس طرح پر معنے اس حدیث کے یہ ہوئے کہ مہدی اور مسیح کی پیدائش جو آیاتِ کبریٰ میں سے ہے تیرھویں صدی میں ہو گی۔ اور چودھویں صدی میں اس کا ظہور ہو گا۔ یہی معنے محققین علماء نے کئے ہیں اور انہی قرائن سے انہوں نے حکم کیا ہے کہ مہدی معہود کا تیرھویں صدی میں پیدا ہو جانا ضروری ہے تا چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہو سکے۔ چنانچہ اسی بناء پر اور نیز کئی اور قرائن کے رو سے بھی مولوی نواب صدیق حسن خان صاحب مرحوم اپنی کتاب حجج الکرامہ میں لکھتے ہیں کہ میں بلحاظ قرائن قویّہ گمان کرتا ہوں کہ چودھویں صدی کے سر پر مہدیٔ معہود کا ظہور ہو گا ……
دارقطنی کی ایک حدیث بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مہدی معہود چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہو گا۔ وہ حدیث یہ ہے کہ اِنَّ لِمَھْدِیِّنَا اٰیَتَیْن الخ ترجمہ تمام حدیث کا یہ ہے کہ ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں۔ جب سے زمین و آسمان کی بنیاد ڈالی گئی وہ نشان کسی مامور اور مرسل اور نبی کے لئے ظہور میں نہیں آئے۔ اور وہ نشان یہ ہیں کہ چاند کا اپنی مقررہ راتوں میں سے پہلی رات میں اور سورج کا اپنے مقررہ دنوں میں سے بیچ کے دن میں رمضان کے مہینہ میں گرہن ہو گا۔ یعنی انہی دنوں میں جبکہ مہدی اپنا دعویٰ دنیا کے سامنے پیش کرے گا اور دنیا اس کو قبول نہیں کرے گی۔ آسمان پر اُس کی تصدیق کے لئے ایک نشان ظاہر ہو گا اور وہ یہ کہ مقررہ تاریخوں میں جیسا کہ حدیث مذکورہ میں درج ہیں سورج چاند کا رمضان کے مہینہ میں جو نزولِ کلام الٰہی کا مہینہ ہے گرہن ہو گا۔ اور ظلمت کے دکھلانے سے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ اشارہ ہو گا کہ زمین پر ظلم کیا گیا اور جو خدا کی طرف سے تھا اس کو مفتری سمجھا گیا۔ اب اس حدیث سے صاف طور پر چودھویں صدی متعین ہوتی ہے کیونکہ کسوف خسوف جو مہدی کا زمانہ بتلاتا ہے اور مکذبین کے سامنے نشان پیش کرتا ہے وہ چودھویں صدی میں ہی ہوا ہے۔
(تحفہ گولڑویہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ۱۲۸ تا ۱۳۳)چوتھا امر اس بات کا ثابت کرنا ہے کہ وہ مسیح موعود جس کا آنا چودھویں صدی کے سر پر مقدر تھا وہ مَیں ہی ہوں۔ سو اس امر کا ثبوت یہ ہے کہ میرے ہی دعوے کے وقت میں آسمان پر خسوف کسوف ہوا ہے اور میرے ہی دعویٰ کے وقت میں صلیبی فتنے پیدا ہوئے اور میرے ہی ہاتھ پر خدا نے اس بات کا ثبوت دیا کہ مسیح موعود اس امت میں سے ہونا چاہئے اور مجھے خدا نے اپنی طرف سے قوت دی ہے کہ میرے مقابل پر مباحثہ کے وقت کوئی پادری نہیں ٹھہر سکتا اور میرا رعب عیسائی علماء پر خدا نے ایسا ڈال دیا ہے کہ ان کو طاقت نہیں رہی کہ میرے مقابلہ پر آ سکیں۔ چونکہ خدا نے مجھے رُوح القدس سے تائید بخشی ہے اور اپنا فرشتہ میرے ساتھ کیا ہے اس لئے کوئی پادری میرے مقابل پر آ ہی نہیں سکتا۔ یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معجزہ نہیں ہوا کوئی پیشگوئی ظہور میں نہیں آئی اور اب بلائے جاتے ہیں پر نہیں آتے۔ اِس کا یہی سبب ہے کہ ان کے دلوں میں خدا نے ڈال دیا ہے کہ اس شخص کے مقابل پر ہمیں بجز شکست کے اَور کچھ نہیں۔ دیکھو ایسے وقت میں جب حضرت مسیح کے خدا بنانے پر سخت غلو کیا جاتا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رُوح القدس کی تائید سے خالی خیال کرتے تھے اور معجزات اور پیشگوئیوں سے انکار تھا ایسے وقت میں پادریوں کے مقابل پر کون کھڑا ہوا؟ کس کی تائید میں خدا تعالیٰ نے بڑے بڑے معجزے دکھلائے؟ کتاب تریاق القلوب کو پڑھو اور پھر انصاف سے کہو کہ اگرچہ صد ہا باتیں قصّوں کے رنگ میں بیان کی جاتی ہیں مگر یہ نشان اور پیشگوئیاں جو رؤیت کی شہادت سے ثابت ہیں جن کے بچشم خود دیکھنے والے اب تک لاکھوں انسان دنیا میں موجود ہیں یہ کس سے ظہور میں آئے۔ کون ہے جو ہر ایک نئی صبح کو مخالفین کو ملزم کر رہا ہے کہ آؤ! اگر تم میں رُوح القدس سے کچھ قوت ہے تو میرا مقابلہ کرو؟ عیسائیوں اور ہندوؤں اور آریوں میں کون ہے جو اس وقت میرے سامنے کہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا؟ سو یہ خدا کی حجّت ہے جو پوری ہوئی۔ سچائی سے انکار کرنا طریق دیانت اور ایمان نہیں ہے۔ بلاشبہ ہر ایک قوم پر اللہ کی حجت پوری ہو گئی ہے۔ آسمان کے نیچے اب کوئی نہیں کہ جو رُوح القدس کی تائید میں میرا مقابلہ کر سکے۔ (تحفہ گولڑویہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۱۴۸ تا ۱۵۰)
منجملہ ان دلائل کے جو میرے مسیح موعود ہونے پر دلالت کرتے ہیں وہ ذاتی نشانیاں ہیں جو مسیح موعود کی نسبت بیان فرمائی گئی ہیں اور اُن میں سے ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ مسیح موعود کے لئے ضروری ہے کہ وہ آخری زمانہ میں پیدا ہو جیسا کہ یہ حدیث ہے یَکُوْنُ فِیْ اٰخِرِ الزَّمَانِ عِنْدَ تَظَاھُرٍ مِّنَ الْفِتَنِ وَ اِنْقِطَاعٍ مِّنَ الزَّمَنِ79 اور اس بات کے ثبوت کے لئے کہ درحقیقت یہ آخری زمانہ ہے جس میں مسیح ظاہر ہوجانا چاہئے دو طور کے دلائل موجود ہیں۔ (۱) اوّل وہ آیات قرآنیہ اور آثارِ نبویہ جو قیامت کے قرب پر دلالت کرتے ہیں اور پورے ہو گئے ہیں جیسا کہ خسوف کسوف کا ایک ہی مہینہ میں یعنی رمضان میں ہونا جس کی تصریح آیت وَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ میں کی گئی ہے اور اونٹوں کی سواری کا موقوف ہو جانا جس کی تشریح آیت وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ سے ظاہر ہے اور ملک میں نہروں کا بکثرت نکلنا جیسا کہ آیت وَاِذَا الۡبِحَارُ فُجِّرَتۡ سے ظاہر ہے اور ستاروں کا متواتر ٹوٹنا جیساکہ آیت وَاِذَا الۡکَوَاکِبُ انۡتَثَرَتۡ سے ظاہر ہے اور قحط پڑنا اور وباء پڑنا اور امساک باراں ہونا جیسا کہ آیت اِذَا السَّمَآءُ انۡفَطَرَتۡ سے منکشف ہے اور سخت قسم کا کسوف شمس واقع ہونا جس سے تاریکی پھیل جائے جیسا کہ آیت اِذَا الشَّمۡسُ کُوِّرَتۡ سے ظاہر ہے اور پہاڑوں کو اپنی جگہ سے اُٹھا دینا جیسا کہ آیت وَاِذَا الۡجِبَالُ سُیِّرَتۡ سے سمجھا جاتا ہے۔ اور جو لوگ وحشی اور اراذل اور اسلامی شرافت سے بے بہرہ ہیں اُن کا اقبال چمک اٹھنا جیسا کہ آیت وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ سے مترشح ہو رہا ہے۔ اور تمام دنیا میں تعلقات اور ملاقاتوں کا سلسلہ گرم ہو جانا اور سفر کے ذریعہ سے ایک کا دوسرے کو ملنا سہل ہو جانا جیسا کہ بدیہی طور پر آیت وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ سے سمجھا جاتا ہے اور کتابوں اور رسالوں اور خطوط کا ملکوں میں شائع ہو جانا جیسا کہ آیت وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتۡ سے ظاہر ہو رہا ہے اور علماء کی باطنی حالت کا جو نجومِ اسلام ہیں مکدّر ہو جانا جیسا کہ وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡکَدَرَتۡ سے صاف معلوم ہوتا ہے اور بدعتوں اور ضلالتوں اور ہر قسم کے فسق و فجور کا پھیل جانا جیسا کہ آیت اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ سے مفہوم ہوتا ہے۔ یہ تمام علامتیں قرب قیامت کی ظاہر ہوچکی ہیں اور دنیا پر ایک انقلابِ عظیم آگیا ہے …… پھر ماسوا اس کے سورہ مرسلات میں ایک آیت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرب قیامت کی ایک بھاری علامت یہ ہے کہ ایسا شخص پیدا ہو جس سے رسولوں کی حد بست ہو جائے یعنی سلسلہ استخلاف محمدیہ کا آخری خلیفہ جس کا نام مسیح موعود اور مہدی معہود ہے ظاہر ہو جائے اور وہ آیت یہ ہے وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتۡ یعنی وہ آخری زمانہ جس سے رسولوں کے عدد کی تعیین ہو جائے گی یعنی آخری خلیفہ کے ظہور سے قضا و قدر کا اندازہ جو مرسلین کی تعداد کی نسبت مخفی تھا ظہور میں آ جائے گا۔ یہ آیت بھی اس بات پر نصّ صریح ہے کہ مسیح موعود اسی امت میں سے ہو گا۔ (تحفہ گولڑویہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ۲۴۱تا ۲۴۴)
سولہ خصوصیتیں ہیں جو موسوی سِلسلہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں رکھی گئی تھیں۔ پھر جبکہ خدا تعالیٰ نے موسوی سلسلہ کو ہلاک کر کے محمدی سِلسلہ قائم کیا جیسا کہ نبیوں کے صحیفوں میں وعدہ دیا گیا تھا تو اس حکیم و علیم نے چاہا کہ اس سِلسلہ کے اوّل اور آخر دونوں میں مشابہتِ تامہ پیدا کرے تو پہلے اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر مثیل موسیٰ قرار دیا جیسا کہ آیت اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا سے ظاہر ہے … مگر ضروری تھا کہ سِلسلہ محمدی کے آخری خلیفہ میں بھی سلسلہ موسویہ کے آخری خلیفہ سے مشابہت ہو تا خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ سِلسلہ محمدیہ بااعتبار امامِ سِلسلہ اور خلفاء سِلسلہ کے سِلسلہ موسویہ سے مشابہ ہے ٹھیک ہو اور ہمیشہ مشابہت اول اور آخر میں دیکھی جاتی ہے اور درمیانی زمانہ جو ایک طویل مدت ہوتی ہے گنجائش نہیں رکھتا کہ پوری پوری نظر سے اس کو جانچا جائے۔ مگر اوّل اور آخر کی مشابہت سے یہ قیاس پیدا ہو جاتا ہے کہ درمیان میں بھی ضرور مشابہت ہو گی گو نظر عقلی اس کی پوری پڑتال سے قاصر رہے اور ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں مذہبی پہلو کے رو سے سولہ خصوصیتیں تھیں جن کا اسلام کے آخری خلیفہ میں پایا جانا ضروری ہے تا اس میں اور حضرت عیسیٰؑ میں مشابہت تامہ ثابت ہو۔ پس
اوّل موعود ہونے کی خصوصیت ہے۔ اسلام میں اگرچہ ہزار ہا ولی اور اہل اللہ گذرے ہیں مگر اُن میں کوئی موعودنہ تھا لیکن وہ جو مسیحؑ کے نام پر آنے والا تھا وہ موعود تھا۔ ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پہلے کوئی نبی موعودنہ تھا صرف مسیحؑ موعود تھا۔
دوم۲ خصوصیّت سلطنت کے برباد ہوچکنے کی ہے۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ جیسا کہ حضرت عیسٰیؑ بن مریم سے کچھ دن پہلے اس ملک سے اسرائیلی سلطنت جاتی رہی تھی۔ ایسا ہی آخری مسیح کی پیدائش سے پہلے اسلامی سلطنت بباعث طرح طرح کی بد چلنیوں کے ملک ہندوستان سے اُٹھ گئی تھی اور انگریزی سلطنت اس کی جگہ قائم ہو گئی تھی۔
سوم۳ خصوصیّت جو پہلے مسیحؑ میں پائی گئی وہ یہ ہے کہ اُس کے وقت میں یہود لوگ بہت سے فرقوں پر منقسم ہو گئے تھے اور بالطبع ایک حَکَم کے محتاج تھے تا ان میں فیصلہ کرے۔ ایسا ہی آخری مسیح کے وقت میں مسلمانوں میں کثرت سے فرقے پھیل گئے تھے۔
چہارم ۴خصوصیّت جو پہلے مسیحؑ میں تھی وہ یہ ہے کہ وہ جہاد کے لئے مامور نہ تھا۔ ایسا ہی آخری مسیح جہاد کے لئے مامور نہیں ہے اور کیونکر مامور ہو زمانہ کی رفتار نے قوم کو متنبہ کر دیا ہے کہ تلوار سے کوئی دل تسلّی نہیں پا سکتا اور اب مذہبی امور کے لئے کوئی مہذب تلوار نہیں اُٹھاتا۔ ……
پنجم خصوصیّت جوپہلے مسیح میں تھی وہ یہ ہے کہ اُس کے زمانہ میں یہودیوں کا چال چلن بگڑ گیا تھا بالخصوص اکثر اُن کے جو علماء کہلاتے تھے وہ سخت مکّار اور دنیا پرست اور دنیا کے لالچوں میں اور دنیوی عزتوں کی خواہش میں غرق ہو گئے تھے۔ ایسا ہی آخری مسیح کے وقت میں عام لوگوں اور اکثر علمائے اسلام کی حالت ہو رہی ہے مفصل لکھنے کی کچھ حاجت نہیں۔
چھٹی خصوصیّت یعنی یہ کہ حضرت مسیح قیصر روم کے ماتحت مبعوث ہوئے تھے۔ سو اس خصوصیت میں آخری مسیح کا بھی اشتراک ہے کیونکہ میں بھی قیصر کی عملداری کے تحت مبعوث ہوا ہوں۔ یہ قیصر اس قیصر سے بہتر ہے جو مسیح کے وقت میں تھا ……
ساتویں خصوصیت یہ کہ مذہب عیسائی آخر قیصری قوم میں ُگھس گیا۔ سو اس خصوصیت میں بھی آخری مسیح کا اشتراک ہے۔ کیونکہ مَیں دیکھتا ہوں کہ یورپ اور امریکہ میں میرے دعویٰ اور دلائل کو بڑی دلچسپی سے دیکھا جاتا ہے اور ان لوگوں نے خود بخود صد ہا اخبار میں میرے دعویٰ اور دلائل کو شائع کیا ہے اور میری تائید اور تصدیق میں ایسے الفاظ لکھے ہیں کہ ایک عیسائی کے قلم سے ایسے الفاظ کا نکلنا مشکل ہے یہاں تک کہ بعض نے صاف لفظوں میں لکھ دیا ہے کہ یہ شخص سچا معلوم ہوتا ہے ………
آٹھویں خصوصیت مسیح میں یہ تھی کہ اس کے وقت میں ایک ستارہ نکلا تھا۔ اِس خصوصیت میں بھی مَیں آخری مسیح بننے میں شریک کیا گیا ہوں کیونکہ وہی ستارہ جو مسیح کے وقت میں نکلا تھا وہ دوبارہ میرے وقت میں نکلا ہے۔ اس بات کی انگریزی اخباروں نے بھی تصدیق کی ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ مسیح کے ظہور کا وقت نزدیک ہے۔
نویں خصوصیت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ جب اس کو صلیب پر چڑھایا گیا تو سورج کو گرہن لگا تھا۔ سو اس واقعہ میں بھی خدا نے مجھے شریک کیا ہے کیونکہ جب میری تکذیب کی گئی تو اس کے بعدنہ صرف سورج بلکہ چاند کو بھی ایک ہی مہینہ میں جو رمضان کا مہینہ تھا گرہن لگا تھا اور نہ ایک دفعہ بلکہ حدیث کے مطابق دو دفعہ یہ واقعہ ہوا اور ان دونوں گرہنوں کی انجیلوں میں بھی خبر دی گئی ہے اور قرآن شریف میں بھی یہ خبر ہے اور حدیثوں میں بھی جیسا کہ دارقطنی میں۔
دسویں خصوصیت یہ ہے کہ یسوع مسیح کو دُکھ دینے کے بعد یہودیوں میں سخت طاعون پھیلی تھی سو میرے وقت میں بھی سخت طاعون پھیل گئی۔
گیارھویں خصوصیت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ یہودیوں کے علماء نے کوشش کی کہ وہ باغی قرار پاوے اور اُس پر مقدمہ بنایا گیا اور زور لگایا گیا کہ اس کو سزائے موت دی جائے۔ سو اس قسم کے مقدمہ میں بھی قضاء و قدر الٰہی نے مجھے شریک کر دیا کہ ایک خون کا مقدمہ مجھ پر بنایا گیا۔ اور اسی کے ضمن میں مجھے باغی بنانے کی کوشش کی گئی۔ یہ وہی مقدمہ ہے جس میں فریق ثانی کی طرف سے مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی گواہ بن کر آئے تھے۔
بارھویں خصوصیت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ جب وہ صلیب پر چڑھایا گیا تو اس کے ساتھ ایک چور بھی صلیب پر لٹکایا گیا۔ سو اس واقعہ میں بھی مَیں شریک کیا گیا ہوں کیونکہ جس دن مجھ کو خون کے مقدمہ سے خدا تعالیٰ نے رہائی بخشی اور اس پیشگوئی کے موافق جو مَیں خدا سے وحی یقینی پا کر صد ہا لوگوں میں شائع کر چکا تھا مجھ کو بری فرمایا۔ اُس دن میرے ساتھ ایک عیسائی چور بھی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ یہ چور عیسائیوں کی مقدس جماعت مکتی فوج میں سے تھا جس نے کچھ روپیہ چُرا لیا تھا۔ اس چور کو صرف تین مہینے کی سزا ملی۔ پہلے مسیح کے رفیق چور کی طرح سزائے موت اس کو نہیں ہوئی۔
تیرھویں خصوصیت مسیح میں یہ تھی کہ جب وہ پیلاطوس گورنر کے سامنے پیش کیا گیا اور سزائے موت کی درخواست کی گئی تو پیلاطوس نے کہا کہ مَیں اس کا کوئی گناہ نہیں پاتا جس سے یہ سزا دوں۔ ایسا ہی کپتان ڈگلس صاحب ضلع مجسٹریٹ نے میرے ایک سوال کے جواب میں مجھ کو کہا کہ مَیں آپ پر کوئی الزام نہیں لگاتا۔
میرے خیال میں ہے کہ کپتان ڈگلس اپنی استقامت اور عادلانہ شجاعت میں پیلاطوس سے بہت بڑھ کر تھا۔ کیونکہ پیلا طوس نے آخرکار بُزدلی دکھائی اور یہودیوں کے شریر مولویوں سے ڈر گیا مگر ڈگلس ہرگز نہ ڈرا …… یہ نیک اخلاق اس ہمارے وقت کے پیلاطوس کے ہمیشہ ہمیں اور ہماری جماعت کو یاد رہیں گے اور دنیا کے اخیر تک اس کا نام عزت سے لیا جائے گا۔
چودھویں خصویت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ وہ باپ کے نہ ہونے کی وجہ سے بنی اسرائیل میں سے نہ تھا مگر بایں ہمہ موسوی سِلسلہ کا آخری پیغمبر تھا جو موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں پیدا ہوا۔ ایسا ہی مَیں بھی خاندان قریش میں سے نہیں ہوں اور چودھویں صدی میں مبعوث ہوا ہوں اور سب سے آخر ہوں۔
پندرھویں خصوصیت حضرت مسیح میں یہ تھی کہ اُن کے عہد میں دنیا کی وضع جدید ہو گئی تھی۔ سڑکیں ایجاد ہو گئی تھیں۔ ڈاک کا عمدہ انتظام ہو گیا تھا۔ فوجی انتظام میں بہت صلاحیت پید اہو گئی تھی اور مسافروں کے آرام کے لئے بہت کچھ باتیں ایجاد ہو گئی تھیں اور پہلے کی نسبت قانون معدلت نہایت صاف ہو گیا تھا۔ ایسا ہی میرے وقت میں دنیا کے آرام کے اسباب بہت ترقی کر گئے ہیں۔ یہاں تک کہ ریل کی سواری پیدا ہو گئی جس کی خبر قرآن شریف میں پائی جاتی ہے۔ باقی امور کو پڑھنے والا خود سمجھ لے۔
سولہویں خصوصیت حضرت مسیح میں یہ تھی کہ بن باپ ہونے کی وجہ سے حضرت آدم سے وہ مشابہ تھے۔ ایسا ہی میں بھی توام پیدا ہونے کی وجہ سے حضرت آدم سے مشابہ ہوں اور اس قول کے مطابق جو حضرت محی الدین ابن عربی لکھتے ہیں کہ خاتم الخلفاء صینی الاصل ہو گا یعنی مغلوں میں سے اور وہ جوڑہ یعنی توام پیدا ہو گا۔ پہلے لڑکی نکلے گی بعد اس کے وہ پیدا ہو گا۔ ایک ہی وقت میں اسی طرح میری پیدائش ہوئی کہ جمعہ کی صبح کو بطور توام مَیں پیدا ہوا۔ اوّل لڑکی اور بعدہٗ مَیں پیدا ہوا۔ نہ معلوم یہ پیشگوئی کہاں سے ابن عربی صاحب نے لی تھی جو پوری ہو گئی۔ اُن کی کتابوں میں اب تک یہ پیشگوئی موجود ہے۔
یہ سولہ مشابہتیں ہیں جو مجھ میں اور مسیح میں ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا تو مجھ میں اور مسیح ابن مریم میں اس قدر مشابہت ہرگز نہ ہوتی۔ یوں تو تکذیب کرنا قدیم سے ان لوگوں کا کام ہے جن کے حصّہ میں سعادت نہیں مگر اس زمانہ کے مولویوں کی تکذیب عجیب ہے۔ مَیں وہ شخص ہوں جو عین وقت پر ظاہر ہوا جس کے لئے آسمان پر رمضان کے مہینہ میں چاند اور سورج کو قرآن اور حدیث اور انجیل اور دوسرے نبیوں کی خبروں کے مطابق گرہن لگا۔ اور مَیں وہ شخص ہوں جس کے زمانہ میں تمام نبیوں کی خبر اور قرآن شریف کی خبر کے موافق اس ملک میں خارق عادت طور پر طاعون پھیل گئی۔ اور مَیں وہ شخص ہوں جو حدیث صحیح کے مطابق اس کے زمانہ میں حج روکا گیا۔ اور مَیں وہ شخص ہوں جس کے عہد میں وہ ستارہ نکلا جو مسیح ابن مریم کے وقت میں نکلا تھا۔ اور مَیں وہ شخص ہوں جس کے زمانہ میں اس ملک میں ریل جاری ہو کر اونٹ بے کار کئے گئے اور عنقریب وہ وقت آتا ہے بلکہ بہت نزدیک ہے جبکہ مکّہ اور مدینہ کے درمیان ریل جاری ہو کر وہ تمام اونٹ بے کار ہو جائیں گے جو تیرہ سو برس سے یہ سفر مبارک کرتے تھے۔ تب اس وقت ان اونٹوں کی نسبت وہ حدیث جو صحیح مسلم میں موجود ہے صادق آئے گی۔ یعنی یہ کہ لَیُتْرَکَنَّ الْقِلَاصُ فَلَایُسْعٰی عَلَیْھَا۔ یعنی مسیح کے وقت میں اونٹ بے کار کئے جائیں گے اور کوئی اُن پر سفر نہیں کرے گا۔ ایسا ہی مَیں وہ شخص ہوں جس کے ہاتھ پر صدہا نشان ظاہر ہوئے۔ کیا زمین پر کوئی ایسا انسان زندہ ہے کہ جو نشان نمائی میں میرا مقابلہ کر کے مجھ پر غالب آ سکے۔ مجھے اُس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اب تک دو لاکھ سے زیادہ میرے ہاتھ پر نشان ظاہر ہو چکے ہیں اور شاید دس ہزار کے قریب یا اس سے زیادہ لوگوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور آپ نے میری تصدیق کی اور اس ملک میں جو بعض نامی اہلِ کشف تھے جن کا تین تین چار چار لاکھ مرید تھا اُن کو خواب میں دکھلایا گیا کہ یہ انسان خدا کی طرف سے ہے ……
اب باوجود ان تمام شہادتوں اور معجزات اور زبردست نشانوں کے مولوی لوگ میری تکذیب کرتے ہیں اور ضرور تھا کہ ایسا ہی کرتے تا پیشگوئی آیت غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ کی پوری ہو جاتی۔ یاد رہے کہ اصل جڑ اس مخالفت کی ایک حماقت ہے اور وہ یہ کہ مولوی لوگ یہ چاہتے ہیں کہ جو کچھ ان کے پاس رطب و یابس کا ذخیرہ ہے وہ سب علامتیں مسیح موعود میں ثابت ہونی چاہئیں اور ایسے مدعی مسیحیت یا مہدویت کو ہرگز نہیں ماننا چاہئے کہ ان کی تمام حدیثوں میں سے گو ایک حدیث اس پر صادق نہ آوے۔ حالانکہ قدیم سے یہ امر غیر ممکن چلا آیا ہے۔ یہودنے جو جو علامتیں حضرت عیسیٰ کے لئے اپنی کتابوں میں تراش رکھی تھیں وہ پوری نہ ہوئیں۔ پھر انہی بدبخت لوگوں نے ہمارے سیّد و مولیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو جو علامتیں تراشی تھیں اور مشہور کر رکھی تھیں وہ بھی بہت ہی کم پوری ہوئیں۔ اُن کا خیال تھا کہ یہ آخری نبی بنی اسرائیل سے ہو گا مگر … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسماعیل میں پیدا ہوئے۔ اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو توریت میں لکھ دیتا کہ اس نبی کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوگا اور باپ کا نام عبداللہ اور دادا کا نام عبدالمطلب اور مکّہ میں پیدا ہو گا اور مدینہ اس کی ہجرت گاہ ہو گی۔ مگر خدا تعالیٰ نے یہ نہ لکھا۔ کیونکہ ایسی پیشگوئیوں میں کچھ امتحان بھی منظور ہوتا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ مسیح موعود کے لئے پہلے سے خبر دی گئی ہے کہ وہ اسلام کے مختلف فرقوں کے لئے بطور حَکَم کے آئے گا۔ اب ظاہر ہے کہ ہر ایک فرقہ کی جُدا جُدا حدیثیں ہیں۔ پس یہ کیونکر ممکن ہو کہ سب کے خیالات کی وہ تصدیق کرے۔ اگر اہلحدیث کی تصدیق کرے تو حنفی ناراض ہوں گے۔ اگر حنفیوں کی تصدیق کرے تو شافعی بگڑ جائیں گے۔ اور شیعہ جُدا یہ اصول ٹھہرائیں گے کہ اُن کے عقیدہ کے موافق وہ ظاہر ہو۔ اس صورت میں وہ کیونکر سب کو خوش کر سکتا ہے۔ علاوہ اس کے خود حَکَمْ کا لفظ چاہتا ہے کہ وہ ایسے وقت میں آ ئے گا کہ جب تمام فرقے کچھ نہ کچھ حق سے دُور جا پڑیں گے۔ اس صورت میں اپنی اپنی حدیثوں کے ساتھ اس کو آزمانا سخت غلطی ہے بلکہ قاعدہ یہ ہے کہ جو نشان اور قرار دادہ علامتیں اس کے وقت میں ظاہر ہو جائیں اُن سے فائدہ اٹھائیں اور باقی کو موضوع اور انسانی افتراء سمجھیں۔ یہی قاعدہ ان نیک بخت یہودیوں نے برتا جو مسلمان ہو گئے تھے۔ کیونکہ جو جو باتیں مقررکردہ احادیث یہود وقوع میں آگئیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر صادق آ گئیں اُن حدیثوں کو انہوں نے صحیح سمجھا اور جو پوری نہ ہوئیں اُن کو موضوع قرار دیا۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو پھر نہ حضرت عیسٰی کی نبوت یہودیوں کے نزدیک ثابت ہو سکتی نہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت۔ جو لوگ مسلمان ہوئے تھے انہیں یہود کی صد ہا جھوٹی حدیثوں کو چھوڑنا پڑا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ایک طرف بعض علامات قراردادہ پوری ہو گئیں اور ایک طرف تائیداتِ الٰہیہ کا خدا کے رسول میں ایک دریا جاری ہے تو انہوں نے اُن حدیثوں سے فائدہ اٹھایا جو پوری ہو گئیں۔ اگر ایسا نہ کرتے تو ایک شخص بھی اُن میں سے مسلمان نہ ہو سکتا۔ …
اب رہا میرا دعویٰ سو میرے دعویٰ کے ساتھ اس قدر دلائل ہیں کہ کوئی انسان نِرا بے حیا نہ ہو تو اس کے لئے اس سے چارہ نہیں ہے کہ میرے دعویٰ کو اسی طرح مان لے جیسا کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو مانا ہے۔ کیا یہ دلائل میرے دعویٰ کے ثبوت کے لئے کم ہیں کہ میری نسبت قرآن نے اِس قدر پورے پورے قرائن اور علامات کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ ایک طور سے میرا نام بتلا دیا ہے اور حدیثوں میں کدعہ کے لفظ سے میرے گاؤں کا نام موجود ہے اور حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اس مسیح موعود کی تیرھویں صدی میں پیدائش ہو گی اور چودھویں صدی میں اس کا ظہور ہو گا اور صحیح بخاری میں میرا تمام حلیہ لکھا ہے اور پہلے مسیح کی نسبت جو میرے حلیہ میں فرق ہے وہ ظاہر کر دیا ہے اور ایک حدیث میں صریح یہ اشارہ ہے کہ وہ مسیح موعود ہند میں ہوگا کیونکہ دجّال کا بڑا مرکز مشرق یعنی ہند قرار دیا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح موعود دمشق سے مشرق کی طرف ظاہر ہو گا۔ سو قادیان دمشق سے مشرق کی طرف ہے اور پھر دعویٰ کے وقت میں اور لوگوں کی تکذیب کے دنوں میں آسمان پر رمضان کے مہینے میں کسوف خسوف ہونا۔ زمین پر طاعون کا پھیلنا۔ حدیث اور قرآن کے مطابق ریل کی سواری پیدا ہو جانا۔ اونٹ بے کار ہو جانے۔ حج روکا جانا۔ صلیب کے غلبہ کا وقت ہونا میرے ہاتھ پر صد ہا نشانوں کا ظاہر ہونا۔ نبیوں کے مقرر کردہ وقت مسیح موعود کے لئے یہی وقت ہونا۔ صدی کے سر پر میرا مبعوث ہونا۔ ہزار ہا نیک لوگوں کا میری تصدیق کے لئے خوابیں دیکھنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف کا یہ فرمانا کہ وہ مسیح موعود میری اُمت میں سے پیدا ہو گا اور خدا تعالیٰ کی تائیدات کا میرے شاملِ حال ہونا۔ اور ہزارہا لوگوں کا دو لاکھ کے قریب میرے ہاتھ پر بیعت کر کے راستبازی اور پاک دلی اختیار کرنا اور میرے وقت میں عیسائی مذہب میں ایک عام تزلزل پڑنا یہاں تک کہ تثلیث کی طلسم کا برف کی طرح گداز ہونا شروع ہو جانا اور میرے وقت میں مسلمانوں کا بہت سے فرقوں پر منقسم ہو کر تنزل کی حالت میں ہونا اور طرح طرح کی بدعات اور شرک اور میخواری اور حرام کاری اور خیانت اور دروغ گوئی دنیا میں شائع ہو کر ایک عام تغیّر دنیا میں پیدا ہو جانا اور ہر ایک پہلو سے انقلابِ عظیم اس عالم میں پیدا ہو جانا اور ہر ایک دانشمند کی شہادت سے دنیا کا ایک مصلح کا محتاج ہونا۔ اور میرے مقابلہ سے خواہ وہ اعجازی کلام میں خواہ آسمانی نشانوں میں تمام لوگوں کا عاجز آ جانا اور میری تائید میں خدا تعالیٰ کی لاکھوں پیشگوئیاں پوری ہونا یہ تمام نشان اور علامات اور قرائن ایک خدا ترس کے لئے میرے قبول کرنے کے لئے کافی ہیں۔
(تذکرۃ الشہادتین۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۰ تا۴۱)اگر یہ عاجز مسیح موعود ہونے کے دعوے میں غلطی پر ہے توپھر آپ لوگ کچھ کوشش کریں کہ مسیح موعود جو آپ کے خیال میں ہے انہی دنوں میں آسمان سے اُتر آوے کیونکہ مَیں تو اس وقت موجود ہوں مگر جس کے انتظار میں آپ لوگ ہیں وہ موجودنہیں اور میرے دعوے کا ٹوٹنا صرف اسی صورت میں متصوّر ہے کہ اب وہ آسمان سے اُتر ہی آوے تا مَیں ملزم ٹھہر سکوں۔ آپ لوگ اگر سچ پر ہیں تو سب مل کر دُعا کریں کہ مسیح بن مریم جلد آسمان سے اُترتے دکھائی دیں۔ اگر آپ حق پر ہیں تو یہ دُعا قبول ہو جائے گی کیونکہ اہل حق کی دُعا مُبطلین کے مقابل پر قبول ہو جایا کرتی ہے لیکن آپ یقینا سمجھیں کہ یہ دُعا ہرگز قبول نہیں ہو گی کیونکہ آپ غلطی پر ہیں۔ مسیح تو آ چکا لیکن آپ نے اس کو شناخت نہیں کیا۔ اب یہ اُمید موہوم آپ کی ہرگز پوری نہیں ہو گی۔ یہ زمانہ گذر جائے گا اور کوئی ان میں سے مسیح کو اُترتے نہیں دیکھے گا۔ (ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۷۹)
یاد رہے کہ جو شخص اُترنے والا تھا وہ عین وقت پر اُتر آیا اور آج تمام نوشتے پورے ہو گئے۔ تمام نبیوں کی کتابیں اِسی زمانہ کا حوالہ دیتی ہیں …… اب ان تمام نشانوں کے بعد جو شخص مجھے ردّ کرتا ہے وہ مجھے نہیں بلکہ تمام نبیوں کو ردّ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ سے جنگ کر رہا ہے اگر وہ پیدا نہ ہوتا تو اس کے لئے بہتر تھا۔ (تذکرۃ الشہادتین۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۴، ۲۵)
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
نَحَْمَدُہٗ وَنُصَلِّی
پنجاب اور ہندوستان کے مشائخ اور صلحاء اور اہل اللہ باصفا
سے حضرت عزت اللہ جلّشانہٗ کی قسم دے کر ایک
درخواست
اے بزرگانِ دین و عباد اللہ الصالحین! مَیں اس وقت اللہ جلّ شانہٗ کی قسم دے کر ایک ایسی درخواست آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جس پر توجہ کرنا آپ صاحبوں پر رفع فتنہ و فساد کے لئے فرض ہے کیونکہ آپ لوگ فراست اور بصیرت رکھتے ہیں۔ اور نہ صرف اٹکل سے بلکہ نور اللہ سے دیکھتے ہیں اور اگرچہ ایسے ضروری امر میں جس میں تمام مسلمانوں کی ہمدردی ہے اور اسلام کے ایک بڑے بھاری تفرقہ کو مٹانا ہے قسم کی کچھ بھی ضرورت نہیں تھی مگر چونکہ بعض صاحب ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اپنے بعض مصالح کی وجہ سے خاموش رہنا پسند کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ سچی شہادت میں عام لوگوں کی ناراضگی متصوّر ہے اور جھوٹ بولنے میں معصیت ہے اور نہیں سمجھتے کہ اخفاء شہادت بھی ایک معصیت ہے ان لوگوں کو توجہ دلانے کے لئے قسم دینے کی ضرورت پڑی۔
اے بزرگانِ دین! وہ امر جس کے لئے آپ صاحبوں کو اللہ جلّ شانہٗ کی قسم دے کر اس کے کرنے کے لئے آپ کو مجبور کرتاہوں یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے عین ضلالت اور فتنہ کے وقت میں اس عاجز کو چودھویں صدی کے سر پر اصلاح خلق اللہ کے لئے مجدّد کر کے بھیجا۔ اور چونکہ اس صدی کا بھارا فتنہ جس نے اسلام کو نقصان پہنچایا تھا عیسائی پادریوں کا فتنہ تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے اس عاجز کا نام مسیح موعود رکھا ……… اور اس عاجز کو چودھویں صدی کے سر پر بھیجا اور وہ آسمانی حربہ مجھے عطا کیا جس سے مَیں صلیبی مذہب کو توڑ سکوں مگر افسوس کہ اس ملک کے کوتہ اندیش علماء نے مجھے قبول نہیں کیا اور نہایت بیہودہ عذرات پیش کئے جن کو ہر ایک پہلو سے توڑا گیا۔ ……… اور میرے بیان کے صدق پر اللہ جلّ شانہٗنے کئی طرح کے نشان ظاہر فرمائے اور چاند سورج کو میری تصدیق کے لئے خسوف کسوف کی حالت میں رمضان میں جمع کیا اور مخالفین سے ُکشتی کی طرح مقابلہ کر اکے آخر ہر ایک میدان میں اعجازی طور پر مجھے فتح دی اور دوسرے بہت سے نشان دکھلائے جن کی تفصیل رسالہ سراج منیر اور دوسرے رسالوں میں درج ہے۔ لیکن باوجودنصوصِ قرآنیہ و حدیثیہ و شواہد عقلیہ و آیاتِ سماویہ پھر بھی ظالم طبع مخالف اپنے ظلم سے باز نہ آئے اور طرح طرح کے افتراؤں سے مدد لے کر محض ظلم کے رو سے تکذیب کر رہے ہیں۔ لہٰذا اب مجھے اتمام حجت کے لئے ایک اَور تجویز خیال میں آئی ہے اور امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس میں برکت ڈال دے اور یہ تفرقہ جس نے ہزارہا مسلمانوں میں سخت عداوت اور دشمنی ڈال دی ہے۔ روباصلاح ہو جائے۔
اور وہ یہ ہے
کہ پنجاب اور ہندوستان کے تمام مشائخ اور فقراء اور صلحاء اور مردانِ باصفا کی خدمت میں اللہ جلّ شانہٗ کی
قسم دے کر التجا کی جائے کہ وہ میرے بارے میں اور میرے دعویٰ بارے میں دُعا اور تضرّع اور استخارہ سے جناب
الٰہی میں توجہ کریں۔ پھر اگر اُن کے الہامات اور کشوف اور رؤیا صادقہ سے جو حلفاً شائع کریں کثرت اس طرف
نکلے کہ گویا یہ عاجز کذّاب اور مفتری ہے تو بے شک تمام لوگ مجھے مردود اور مخذول اور ملعون اور مفتری اور
کذّاب خیال کر لیں اور جس قدر چاہیں لعنتیں بھیجیں اُن کو کچھ بھی گناہ نہیں ہو گا اور اس صورت میں ہر ایک
ایماندار کو لازم ہو گا کہ مجھ سے پرہیز کرے اور اس تجویز سے بہت آسانی کے ساتھ مجھ پر اور میری جماعت پر
وبال آ جائے گا لیکن اگر کشوف اور الہامات اور رؤیا ء صادقہ کی کثرت اس طرف ہو کہ یہ عاجز من جانب اللہ اور
اپنے دعویٰ میں سچا ہے تو پھر ہر ایک خدا ترس پرلازم ہو گا کہ میری پیروی کرے اور تکفیر اور تکذیب سے باز
آوے۔ ظاہر ہے کہ ہر ایک شخص کو آخر ایک دن مرنا ہے پس اگر حق کے قبول کرنے کے لئے اس دنیا میں کوئی ذلّت بھی
پیش آئے تو وہ آخرت کی ذلّت سے بہتر ہے لہٰذا میں تمام مشائخ اور فقراء اور صلحاء پنجاب اور ہندوستان کو
اللہ جلّ شانہٗ کی قسم دیتا ہوں جس کے نام پر گردن رکھ دینا سچے دینداروں کا کام ہے کہ وہ میرے بارے میں
جناب الٰہی میں کم سے کم اکیس۲۱ روز توجہ کریں یعنی اس صورت میں کہ اکیس۲۱ روز سے پہلے کچھ معلوم نہ ہو سکے
اور خدا سے انکشاف اس حقیقت کا چاہیں کہ مَیں کون ہوں؟ آیا کذاب ہوں یا من جانب اللہ۔ مَیں بار بار بزرگانِ
دین کی خدمت میں اللہ جلّ شانہٗ کی قسم دے کر یہ سوال کرتا ہوں کہ ضرور اکیس۲۱ روز تک اگر اس سے پہلے معلوم
نہ ہو سکے اس تفرقہ کے دُور کرنے کے لئے دُعا اور توجہ کریں۔ مَیں یقینا جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی قسم سُن
کر پھر التفات نہ کرنا راستبازوں کا کام نہیں اور مَیں جانتا ہوں کہ اس قَسم کو سُن کر ہر ایک پاک دل اور
خدا تعالیٰ کی عظمت سے ڈرنے والا ضرور توجہ کرے گا۔ پھر ایسی الہامی شہادتوں کے جمع ہونے کے بعد جس طرف کثرت
ہو گی وہ امر من جانب اللہ سمجھا جاوے گا۔
اگر مَیں حقیقت میں کذّاب اور دجّال ہوں تو اس اُمت پر بڑی مصیبت ہے کہ ایسی ضرورت کے وقت میں اور فتنوں اور بدعات اور مفاسد کے طوفان کے زمانہ میں بجائے ایک مصلح اور مجدّد کے چودھویں صدی کے سر پر دجّال پیدا ہوا۔ یاد رہے کہ ایسا ہر ایک شخص جس کی نسبت ایک جماعت اہلِ بصیرت مسلمانوں کی صلاح اور تقویٰ اور پاک دلی کا ظنّ رکھتی ہے وہ اس اشتہار میں میرا مخاطب ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ جو صلحاء شہرت کے لحاظ سے کم درجہ پر ہیں مَیں اُن کو کم نہیں دیکھتا ممکن ہے کہ وہ شہرت یافتہ لوگوں سے خدا کی نظر میں زیادہ اچھے ہوں۔ اِسی طرح میں صالحہ عفیفہ عورتوں کو بھی مردوں کی نسبت تحقیر کی نظر سے نہیں دیکھتا ممکن ہے کہ بعض شہرت یافتہ صالح مردوں سے بھی اچھی ہوں لیکن ہر ایک صاحب جو میری نسبت کوئی رؤیا یا کشف یا الہام لکھیں اُن پر ضروری طور پر واجب ہو گا کہ وہ حلفًا اپنی دستخطی تحریر سے مجھ کو اطلاع دیں تا ایسی تحریریں ایک جگہ جمع ہوتی جائیں اور پھر حق کے طالبوں کے لئے شائع کی جائیں اس تجویز سے انشاء اللہ بندگان خدا کو بہت فائدہ ہو گا اور مسلمانوں کے دل کثرتِ شواہد سے ایک طرف تسلّی پا کر فتنہ سے نجات پا جائیں گے۔ اور آثارِ نبویہ میں بھی اِسی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اوّل مہدی آخر الزمان کی تکفیر کی جائے گی اور لوگ اس سے دشمنی کریں گے اور نہایت درجہ کی بدگوئی سے پیش آئیں گے اور آخر خدا تعالیٰ کے نیک بندوں کو اس کی سچائی کی نسبت بذریعہ رؤیا و الہام وغیرہ اطلاع دی جائے گی اور دوسرے آسمانی نشان بھی ظاہر ہوں گے۔ تب علمائِ وقت طوعًا و کرہًا اس کو قبول کریں گے۔ سو اے عزیزو اور بزرگو! برائے خدا عالم الغیب کی طرف توجہ کرو۔ آپ لوگوں کو اللہ جلّ شانہٗ کی قسم ہے کہ میرے اس سوال کو مان لو۔ اس قدیر ذوالجلال کی تمہیں سو گند ہے کہ اس عاجز کی یہ درخواست ردّ مت کرو۔
عزیزان مے دہم صدبار سوگند
بروئے حضرتِ دادار سوگند
کہ در کارم جواب از حق بجوئید
بہ محبوب دلِ ابرار سوگند80
الملتمس خاکسار میرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپورہ پنجاب۔ ۱۵؍جولائی۱۸۹۷ء
(تبلیغ رسالت جلد ششم صفحہ ۱۴۴تا۱۵۱۔ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ۱۵۱تا۱۵۷ بار دوم)واضح ہو کہ یہ بات نہایت صاف اور روشن ہے کہ جنہوں نے اس عاجز کا مسیح موعود ہونا مان لیا ہے وہ لوگ ہر یک خطرہ کی حالت سے محفوظ اور معصوم ہیں اور کئی طرح کے ثواب اور اجر اور قوتِ ایمانی کے وہ مستحق ٹھہر گئے ہیں۔
اوّل یہ کہ انہوں نے اپنے بھائی پرحُسنِ ظن کیا ہے۔ اور اس کو مفتری یا کذّاب نہیں ٹھہرایا اور اس کی نسبت کسی طرح کے شکوک فاسدہ کو دل میں جگہ نہیں دی اس وجہ سے اس ثواب کا انہیں استحقاق حاصل ہوا کہ جو بھائی پر نیک ظن رکھنے کی حالت میں ملتا ہے۔
دوسری یہ کہ وہ حق کے قبول کرنے کے وقت کسی ملامت کنندہ کی ملامت سے نہیں ڈرے اور نہ نفسانی جذبات اُن پر غالب ہو سکے اِس وجہ سے وہ ثواب کے مستحق ٹھہر گئے کہ انہوں نے دعوتِ حق کو پا کر ایک ربّانی مناد کی آواز سُن کر پیغام کو قبول کر لیا اور کسی طرح کی روک سے رُک نہیں سکے۔
تیسری یہ کہ پیشگوئی کے مصداق پر ایمان لانے کی وجہ سے وہ ان تمام وساوس سے مخلصی پا گئے کہ جو انتظار کرتے کرتے ایک دن پیدا ہو جاتے ہیں اور آخر یاس کی حالت میں ایمان دُور ہو جانے کا موجب ٹھہرتے ہیں اور ان سعید لوگوں نے نہ صرف خطرات مذکورہ بالا سے مَخلصی پائی بلکہ خدائے تعالیٰ کا ایک نشان اور اس کے نبیؐ کی پیشگوئی اپنی زندگی میں پوری ہوتی دیکھ کر ایمانی قوت میں بہت ترقی کر گئے اور ان کے سماعی ایمان پر ایک معرفت کا رنگ آگیا۔ اب وہ ان تمام حیرتوں سے چھوٹ گئے جو اِن پیشگوئیوں کے بارے میں دلوں میں پیدا ہوا کرتی ہیں جو پوری ہونے میں نہیں آتیں۔
چوتھی یہ کہ وہ خدائے تعالیٰ کے بھیجے ہوئے بندہ پر ایمان لا کر اُس سُخط اور غضب الٰہی سے بچ گئے جو ان نافرمانوں پر ہوتا ہے کہ جن کے حصّہ میں بجز تکذیب و انکار کے اَور کچھ نہیں۔
پانچویں یہ کہ وہ ان فیوض اور برکات کے مستحق ٹھہر گئے جو ان مخلص لوگوں پر نازل ہوتے ہیں جوحسنِ ظن سے اُس شخص کو قبول کر لیتے ہیں کہ جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔
یہ تو وہ فوائد ہیں کہ جو انشاء اللہ الکریم ان سعید لوگوں کو بفضلہ تعالیٰ ملیں گے جنہوں نے اِس عاجز کو قبول کر لیا ہے لیکن جو لوگ قبول نہیں کرتے وہ اُن تمام سعادتوں سے محروم ہیں اور اُن کا یہ وہم بھی لغو ہے کہ قبول کرنے کی حالت میں نقصانِ دین کا اندیشہ ہے۔ مَیں نہیں سمجھ سکتا کہ وہ نقصان دین کس وجہ سے ہو سکتا ہے؟ نقصان تو اس صورت میں ہوتا کہ اگر یہ عاجز برخلاف تعلیم اسلام کے کسی اور نئی تعلیم پر چلنے کے لئے انہیں مجبور کرتا مثلاً کسی حلال چیز کو حرام یا حرام کو حلال بتلاتا یا ان ایمانی عقائد میں جو نجات کے لئے ضروری ہیں کچھ فرق ڈالتا یا یہ کہ صوم و صلوٰۃ و حج و زکوٰۃ وغیرہ اعمال شرعیہ میں کچھ بڑھاتا یا گھٹا دیتا۔ مثلاً پانچ وقت کی نماز کی جگہ دس وقت کی نماز کر دیتا یا دو وقت ہی رہنے دیتا یا ایک مہینہ کی جگہ دو مہینے کے روزے فرض کر دیتا یا اس سے کم کی طرف توجہ دلاتا تو بے شک سراسر نقصان بلکہ کفر و خسران تھا لیکن جس حالت میں یہ عاجز با ر بار یہی کہتا ہے کہ اے بھائیو! مَیں کوئی نیا دین یا نئی تعلیم لے کر نہیں آیا بلکہ مَیں بھی تم میں سے اور تمہاری طرح ایک مسلمان ہوں اور ہم مسلمانوں کے لئے بجز قرآن شریف اور کوئی دوسری کتاب نہیں جس پر عمل کریں یا عمل کرنے کے لئے دوسروں کو ہدایت دیں اور بجز جناب ختم المرسلین احمد عربی صلعم کے اَور کوئی ہمارے لئے ہادی اور مقتدا نہیں جس کی پیروی ہم کریں یا دوسروں سے کرانا چاہیں تو پھر ایک متدیّن مسلمان کے لئے میرے اس دعوے پر ایمان لانا جس کی الہام الٰہی پر بنا ہے کون سی اندیشہ کی جگہ ہے۔ بفرض محال اگر میرا یہ کشف اور الہام غلط ہے اور جو کچھ مجھے حکم ہو رہا ہے اس کے سمجھنے میں مَیں نے دھوکہ کھایا ہے تو ماننے والے کا اس میں ہرج ہی کیا ہے۔ کیا اس نے کوئی ایسی بات مان لی ہے جس کی وجہ سے اس کے دین میں کوئی رخنہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر ہماری زندگی میں سچ مچ حضرت مسیح ابن مریم ہی آسمان سے اُتر آئے تو دِلِ ماشا د و چشم ما روشن ہم اور ہمارا گروہ سب سے پہلے ان کو قبول کر لے گا ……… ورنہ دوسری صورت میں ایمان سلامت رہنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ کیونکہ اگر اخیر زندگی تک کوئی آدمی آسمان سے اُترتا انہیں دکھائی نہ دیا بلکہ اپنی ہی طیاری آسمان کی طرف جانے کے لئے ٹھہر گئی تو ظاہر ہے کہ کیا کیا شکوک و شبہات ساتھ لے جائیں گے اور نبی صادق کی پیشگوئی کے بارہ میں کیا کیا وساوس دل میں پڑیں گے اور قریب ہے کہ کوئی ایسا سخت وسوسہ پڑ جائے کہ جس کے ساتھ ایمان ہی برباد ہو کیونکہ یہ وقت انجیل اور احادیث کے اشارات کے مطابق وہی وقت ہے جس میں مسیح اُترنا چاہئے۔ اسی وجہ سے سلف صالح میں سے بہت سے صاحب مکاشفات مسیح کے آنے کا وقت چودھویں صدی کا شروع سال بتلا گئے ہیں۔
(ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۸۶ تا ۱۸۹)کیا وہ جو خدا کی طرف سے ہے لوگوں کی بدگوئی اور سخت عداوت سے ضائع ہو سکتا ہے؟
تا دلِ مردِ خدا نامد بدرد
ہیچ قومے را خدا رُسوا نکرد81
ہر ایک مسلمان عقلمند بھلا مانس نیک فطرت جو اپنی شرافت سے سچی بات کو قبول کرنے کے لئے طیار ہوتا ہے اس بات کو متوجہ ہو کر سُنے کہ ہم کسی ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کلمہ گو سے بھی کینہ نہیں رکھتے چہ جائیکہ ایسے شخص سے کینہ ہو جس کی حمایت میں کروڑ ہا اہل قبلہ زندگی بسر کرتے ہیں اور جس کی حفاظت کے نیچے خدا تعالیٰ نے اپنے مقدس مکانوں کو سپرد کر رکھا ہے۔ سلطان کی شخصی حالت اور اس کی ذاتیات کے متعلق نہ ہم نے کبھی کوئی بحث کی اور نہ اب ہے۔ بلکہ اللہ جلّشانہٗ جانتا ہے کہ ہمیں اس موجود سلطان کے بارے میں اُس کے باپ دادے کی نسبت زیادہ حسنِ ظنّ ہے۔ ہاں ہم نے گذشتہ اشتہارات میں ترکی گورنمنٹ پر بلحاظ اس کے بعض عظیم الدخل اور خراب اندرون ارکان اور عمائد اور وزراء کے نہ بلحاظ سلطان کی ذاتیات کے ضرور اس خدادادنور اور فراست اور الہام کی تحریک سے جو ہمیں عطا ہوا ہے چند ایسی باتیں لکھی ہیں جو خود ان کے مفہوم کے خوفناک اثر سے ہمارے دل پر ایک عجیب رِقّت اور درد طاری ہوتی ہے۔ سو ہماری وہ تحریر جیسا کہ گندے خیال والے سمجھتے ہیں کسی نفسانی جوش پر مبنی نہ تھی بلکہ اس روشنی کے چشمہ سے نکلی تھی جو رحمتِ الٰہی نے ہمیں بخشاہے۔ اگر ہمارے تنگ ظرف مخالف بدظنّی پر سرنگوں نہ ہوتے تو سلطان کی حقیقی خیر خواہی اس میں نہ تھی کہ وہ چوہڑوں اور چماروں کی طرح گالیوں پر کمر باندھتے بلکہ چاہئے تھا کہ آیت وَلَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ پر عمل کر کے اور نیز آیت اِنَّ بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌ کو یاد کر کے سلطان کی خیر خواہی اس میں دیکھتے کہ اس کے لئے صدق دل سے دُعا کرتے۔ میرے اشتہار کا بجز اس کے کیا مطلب تھا کہ رومی لوگ تقویٰ اور طہارت اختیار کریں کیونکہ آسمانی قضاء و قدر اور عذاب سماوی کے روکنے کے لئے تقویٰ اور توبہ اور اعمالِ صالحہ جیسی اور کوئی چیز قوی تر نہیں۔ مگر سلطان کے نادان خیر خواہوں نے بجائے اس کے مجھے گالیاں دینی شروع کردیں۔ اور بعضوں نے کہا کہ کیا سارے گناہ سلطان پر ٹوٹ پڑے اور یورپ مقدس اور پاک ہے جس کے عذاب کے لئے کوئی پیشگوئی نہیں کی جاتی مگر وہ نادان نہیں سمجھتے کہ سنّت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ کفّار کے فسق و فجور اور بُت پرستی اور انسان پرستی کی سزا دینے کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک دوسرا عالم رکھا ہوا ہے جو مرنے کے بعد پیش آئے گا۔ اور ایسی قوموں کو جو خدا پر ایمان نہیں رکھتیں اِسی دنیا میں موردِ عذاب کرنا خدا تعالیٰ کی عادت نہیں ہے بجز اس صورت کے کہ وہ لوگ اپنے گناہ میں حد سے زیادہ تجاوز کریں اور خدا کی نظر میں سخت ظالم اور موذی اور مفسد ٹھہر جائیں۔ جیسا کہ قومِ نوح اور قوم لوط اور قوم فرعون وغیرہ مفسد قومیں متواتر بے باکیاں کر کے مستوجب سزا ہو گئی تھیں لیکن خدا تعالیٰ مسلمانوں کی بے باکی کی سزا کو دوسرے جہان پر نہیں چھوڑتا بلکہ مسلمانوں کو ادنیٰ ادنیٰ قصور کے وقت اِسی دنیا میں تنبیہ کی جاتی ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے آگے اُن بچوں کی طرح ہیں جن کی والدہ ہر دم جھڑکیاں دے کر انہیں ادب سکھاتی ہے اور خدا تعالیٰ اپنی محبت سے چاہتا ہے کہ وہ اس ناپائیدار دنیا سے پاک ہو کر جائیں یہی باتیں تھیں کہ مَیں نے نیک نیتی سے سفیرِ روم پر ظاہر کی تھیں مگر افسوس کہ بے وقوف مسلمانوں نے ان باتوں کو اَور طرف کھینچ لیا۔ ان نادانوں کی ایسی مثال ہے کہ جیسے ایک حاذق ڈاکٹر کہ جو تشخیصِ امراض اور قواعدِ حفظِ ماتقدم کو بخوبی جانتا ہے وہ کسی شخص کی نسبت کمال نیک نیتی سے یہ رائے ظاہر کرے کہ اس کے پیٹ میں ایک قسم کی رسولی نے بڑھنا شروع کر دیا ہے اور اگر ابھی وہ رسولی کاٹی نہ جائے تو ایک عرصہ کے بعد اس شخص کی زندگی اس کے لئے وبال ہو جائے گی تب اس بیمار کے وارث اس بات کو سُن کر اُس ڈاکٹر پر سخت ناراض ہوں اور اس ڈاکٹر کے قتل کر دینے کے درپے ہو جائیں مگر رسولی کا کچھ بھی فکر نہ کریں یہاں تک کہ وہ رسولی بڑھے اور پُھولے اور تمام پیٹ میں پھیل جائے اور اس بیچارے بیمار کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے سو یہی مثال ان لوگوں کی ہے جو اپنی دانست میں سلطان کے خیر خواہ کہلاتے ہیں۔
پھر یہ بھی سوچو کہ جس حالت میں مَیں وہ شخص ہوں جو اُس مسیح موعود ہونے کا دعویٰ رکھتا ہوں جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے کہ ’’وہ تمہارا امام اور خلیفہ ہے اور اُس پر خدا اور اس کے نبی کا سلام ہے اور اُس کا دشمن لعنتی اور اس کا دوست خدا کا دوست ہے اور وہ تمام دنیا کے لئے حَکَم ہو کر آئے گا اور اپنے تمام قول اور فعل میں عادل ہو گا‘‘۔ تو کیا یہ تقویٰ کا طریق تھا کہ میرے دعویٰ کو سُن کر اور میرے نشانوں کو دیکھ کر اور میرے ثبوتوں کا مشاہدہ کر کے مجھے یہ صِلہ دیتے کہ گندی گالیاں اور ٹھٹھے اور ہنسی سے پیش آتے؟ کیا نشان ظاہر نہیں ہوئے؟ کیا آسمانی تائیدیں ظہور میں نہیں آئیں؟ کیا اُن سب وقتوں اور موسموں کا پتہ نہیں لگ گیا جو احادیث اور آثار میں بیان کی گئی تھیں؟ تو پھر اس قدر کیوں بے باکی دِکھلائی گئی؟ ہاں اگر میرے دعوے میں اب بھی شک تھا یا میرے دلائل اور نشانوں میں کچھ شبہ تھا تو غربت اور نیک نیتی اور خدا ترسی سے اُس شبہ کو دُ ور کرایا ہوتا مگر انہوں نے بجائے تحقیق اور تفتیش کے اس قدر گالیاں اور لعنتیں بھیجیں کہ شیعوں کو بھی پیچھے ڈال دیا۔ کیا یہ ممکن نہ تھا کہ جو کچھ مَیں نے رومی سلطنت کے اندرونی نظام کی نسبت بیان کیا وہ دراصل صحیح ہو اور ترکی گورنمنٹ کے شیرازہ میں ایسے دھاگے بھی ہوں جو وقت پر ٹوٹنے والے اور غداری سرشت ظاہر کرنے والے ہوں۔
پھر ماسوا اس کے میرے مخالف اپنے دلوں میں آپ ہی سوچیں کہ اگر مَیں درحقیقت وہی مسیح موعود ہوں جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک بازو قرار دیا ہے اور جس کو سلام بھیجا ہے اور جس کا نام حَکَمْ اور عدل اور امام اور خلیفۃ اللہ رکھا ہے تو کیا ایسے شخص پر ایک معمولی بادشاہ کے لئے لعنتیں بھیجنا، اُس کو گالیاں دینا جائز تھا؟ ذرا اپنے جوش کو تھام کے سوچیں نہ میرے لئے بلکہ اللہ اور رسول کے لئے کہ کیا ایسے مدعی کے ساتھ ایسا کرنا روا تھا؟ مَیں زیادہ کہنا نہیں چاہتا کیونکہ میرا مقدمہ تم سب کے ساتھ آسمان پر ہے۔ اگر مَیں وہی ہوں جس کا وعدہ نبیؐ کے پاک لبوں نے دیا تھا تو تم نے نہ میرا بلکہ خدا کا گناہ کیا ہے اور اگر پہلے سے آثار صحیحہ میں یہ واردنہ ہوتا کہ اس کو دُکھ دیا جائے گا اور اس پر لعنتیں بھیجی جائیں گی تو تم لوگوں کی مجال نہ تھی جو تم مجھے وہ دُکھ دیتے جو تم نے دیا۔ پر ضرور تھا کہ وہ سب نوشتے پورے ہوں جو خدا کی طرف سے لکھے گئے تھے اور اب تک تمہیں ملزم کرنے کے لئے تمہاری کتابو ں میں موجود ہیں جن کو تم زبان سے پڑھتے اور پھر تکفیر اور لعنت کر کے مُہر لگا دیتے ہو کہ وہ بَدعلماء اور ان کے دوست جو مہدی کی تکفیر کریں گے اور مسیح سے مقابلہ سے پیش آئیں گے وہ تم ہی ہو۔
مَیں نے بار بار کہا کہ آؤ اپنے شکوک مٹالو۔ پر کوئی نہیں آیا۔ مَیں نے فیصلہ کے لئے ہر ایک کو بلایا پر کسی نے اس طرف رُخ نہیں کیا۔ مَیں نے کہا کہ تم استخارہ کرو اور رو رو کر خدا تعالیٰ سے چاہو کہ وہ تم پر حقیقت کھولے پر تم نے کچھ نہ کیا اور تکذیب سے بھی باز نہ آئے۔ خدا نے میری نسبت سچ کہا کہ ’’دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔‘‘ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص درحقیقت سچا ہو اور ضائع کیا جائے؟ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص خدا کی طرف سے ہو اور بَربَاد ہو جائے؟ پس اے لوگو! تم خدا سے مت لڑو۔ یہ وہ کام ہے جو خدا تمہارے لئے اور تمہارے ایمان کے لئے کرنا چاہتا ہے اس کے مزاحم مت ہو۔ اگر تم بجلی کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہو مگر خدا کے سامنے تمہیں ہرگز طاقت نہیں۔ اگر یہ کاروبار انسان کی طرف سے ہوتا تو تمہارے حملوں کی کچھ بھی حاجت نہ تھی خدا اس کے نیست و نابود کرنے کے لئے خود کافی تھا۔ افسوس کہ آسمان گواہی دے رہا ہے اور تم نہیں سُنتے اور زمین ’’ ضرورت ضرورت‘‘ بیان کر رہی ہے اور تم نہیں دیکھتے! اے بدبخت قوم! اُٹھ اور دیکھ کہ اس مصیبت کے وقت میں جو اسلام پَیروں کے نیچے کچلا گیا اور مجرموں کی طرح بے عزت کیا گیا۔ وہ جھوٹوں میں شمار کیا گیا وہ ناپاکوں میں لکھا گیا۔ تو کیا خدا کی غیرت ایسے وقت میں جوش نہ مارتی۔ اب سمجھ کہ آسمان جُھکتا چلا آتا ہے اور وہ دن نزدیک ہیں کہ ہر ایک کان کو ’’اناالموجود‘‘ کی آواز آئے۔
ہم نے کفار سے بہت کچھ دیکھا۔ اب خدا بھی کچھ دکھلانا چاہتا ہے۔ سو اب تم دیدہ و دانستہ اپنے تئیں موردِ غضب مت بناؤ۔ کیا صدی کا سر تم نے نہیں دیکھا جس پر چودہ برس اور بھی گذر گئے؟ کیا خسوف کسوف رمضان میں تمہاری آنکھوں کے سامنے نہیں ہوا۔ کیا ستارہ ذوالسنین کے طلوع کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی؟ کیا تمہیں اس ہولناک زلزلہ کی کچھ خبر نہیں جو مسیح کی پیشگوئی کے مطابق اِن ہی دنوں میں وقوع میں آیا اور بہت سی بستیوں کو برباد کر گیا۔ اور خبر دی گئی تھی کہ اسی کے متصل مسیح بھی آئے گا؟ کیا تم نے آتھم کی نسبت وہ نشان نہیں دیکھا جو ہمارے سیّد و مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ظہور میں آیا جس کی خبر سترہ برس پہلے کتاب براہین احمدیہ میں دی گئی تھی؟ کیا لیکھرام کی نسبت پیشگوئی اب تک تم نے نہیں سُنی؟ کیا کبھی اس سے پہلے کسی نے دیکھا تھا کہ پہلوانوں کی کشتی کی طرح مقابلہ ہو کر اور لاکھوں انسانوں میں شہرت پا کر اور صدہا اشتہارات اور رسائل میں چھپ کر ایسا کھلا کھلا نشان ظاہر ہوا ہو جیسا کہ لیکھرام کی نسبت ظاہر ہوا؟ کیا تمہیں اس خدا سے کچھ بھی شرم نہیں آتی جس نے تمہاری تیرھویں صدی کے غم اور صدمے دیکھ کر چودھویں صدی کے آتے ہی تمہاری تائید کی؟ کیا ضرور نہ تھا کہ خدا کے وعدے عین وقت میں پورے ہوتے؟ بتلاؤ کہ ان سب نشانوں کو دیکھ کر پھر تمہیں کیا ہو گیا؟ کس چیز نے تمہارے دلوں پر مُہر لگا دی۔ اے کج دل قوم! خدا تیری ہر ایک تسلّی کر سکتا ہے۔ اگر تیرے دل میں صفائی ہو خدا تجھے کھینچ سکتا ہے اگر تو کھینچے جانے کے لئے طیار ہو۔ دیکھو یہ کیسا وقت ہے۔ کیسی ضرورتیں ہیں جو اسلام کو پیش آ گئیں۔ کیا تمہارا دل گواہی نہیں دیتا کہ یہ وقت خدا کے رحم کا وقت ہے؟ آسمان پر بنی آدم کی ہدایت کے لئے ایک جوش ہے اور توحید کا مقدمہ حضرتِ احدیّت کی پیشی میں ہے۔ مگر اس زمانہ کے اندھے اب تک بے خبر ہیں۔ آسمانی سِلسلہ کی اُن کی نظر میں کچھ بھی عزت نہیں۔ کاش اُن کی آنکھیں کھلیں اور دیکھیں کہ کس کس قسم کے نشان اُتر رہے ہیں اور آسمانی تائید ہو رہی ہے اور نور پھیلتا جاتا ہے۔ مبارک وہ جو اُس کو پاتے ہیں۔
(کتاب البریّہ۔ روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ ۳۲۵تا۳۳۱)قال اللّٰہ عزّ وجلّ۔ قُلۡ مَا یَعۡبَؤُا بِکُمۡ رَبِّیۡ لَوۡلَا دُعَآؤُکُمۡ یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا خدا تمہاری پروا کیا رکھتا ہے اگر تم بندگی نہ کرو اور دعاؤں میں مشغول نہ رہو۔
دوستو! خدا تعالیٰ آپ لوگوں کے حال پر رحم کرے۔ آپ صاحبوں کو معلوم ہو گا کہ مَیں نے آج سے قریباً نو ماہ پہلے الحکم اور البدر میں جو قادیان سے اخباریں نکلتی ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے اطلاع پا کر یہ وحی الٰہی شائع کرائی تھی کہ عَفَتِ الدِّیَارُ مَحِلُّھَا وَ مَقَامُھَا۔ یعنی یہ ملک عذاب الٰہی سے مٹ جانے کو ہے۔ نہ مستقل سکونت امن کی جگہ رہے گی اور نہ عارضی سکونت امن کی جگہ یعنی طاعون کی وبا ہر جگہ عام طور پر پڑے گی اور سخت پڑے گی …… اب مَیں دیکھتا ہوں کہ وہ وقت بہت قریب آ گیاہے۔ مَیں نے اس وقت جو آدھی رات کے بعد چار بج چکے ہیں بطور کشف دیکھا ہے کہ دردناک موتوں سے عجیب طرح پر شور قیامت برپا ہے۔ میرے منہ پر یہ الہام الٰہی تھا کہ موتا موتی لگ رہی ہے کہ مَیں بیدار ہو گیا اور اسی وقت جو ابھی کچھ حصّہ رات کا باقی ہے مَیں نے یہ اشتہار لکھنا شروع کیا۔ دوستو! اُٹھو اور ہشیار ہو جاؤ کہ اِس زمانہ کی نسل کے لئے نہایت مصیبت کا وقت آ گیا ہے۔ اب اس دریا سے پار ہونے کے لئے بجز تقویٰ کے اور کوئی کشتی نہیں۔ مومن خوف کے وقت خدا کی طرف جھکتا ہے کہ بغیر اس کے کوئی امن نہیں۔ اب دُکھ اٹھا کر اور سوز و گداز اختیار کر کے اپنا کفارہ آپ دو اور راستی میں محو ہو کر اپنی قربانی آپ ادا کرو اور تقویٰ کی راہ میں پورے زور سے کام لے کر اپنا بوجھ آپ اٹھاؤ کہ ہمارا خدا بڑا رحیم و کریم ہے کہ رونے والوں پر اوس کا غصّہ تھم جاتا ہے۔ مگر وہی جو قبل از وقت روتے ہیں نہ مُردوں کی لاشوں کو دیکھ کر۔ وہ خوف کرنے والوں کے سر پر سے عذاب کی پیشگوئی ٹال سکتا ہے …… سو نیکی کرو اور خدا کے رحم کے امیدوار ہو جاؤ۔ خدا تعالیٰ کی طرف پوری قوت کے ساتھ حرکت کرو اور اگر یہ نہیں تو بیمار کی طرح افتاں و خیزاں اس کی رضا کے دروازہ تک اپنے تئیں پہنچاؤ۔ اور اگر یہ بھی نہیں تو مُردہ کی طرح اپنے اوٹھائے جانے کا ذریعہ صدقہ خیرات کے راہ سے پیدا کرو۔ نہایت تنگی کے دن ہیں۔ اور آسمان پر خدا کاغضب بھڑک رہا ہے۔ آج محض زبانی لاف و گزاف سے تم پار نہیں ہو سکتے۔ ایسی حالت بناؤ اور ایسی تبدیلی اپنے اندر پیدا کرو اور ایسے تقویٰ کی راہ پر قدم مارو کہ وہ رحیم و کریم خو ش ہو جائے۔ اپنی خلوت گاہوں کو ذکر الٰہی کی جگہ بناؤ۔ اپنے دلوں پر سے ناپاکیوں کے زنگ دُور کرو بے جا کینوں اور بخلوں اور بدزبانیوں سے پرہیز کرو اور قبل اس کے کہ وہ وقت آوے کہ انسانوں کو دیوانہ سا بنا دے بے قراری کی دعاؤں سے خود دیوانے بن جاؤ۔ عجب بدبخت وہ لوگ ہیں کہ جو مذہب صرف اس بات کا نام رکھتے ہیں کہ محض زبان کی چالاکیوں پر سارا دارو مدار ہو اور دل سیاہ اور ناپاک اور دنیا کا کیڑا ہو۔ پس اگر تم اپنی خیر چاہتے ہو تو ایسے مت بنو۔ عجب بدقسمت وہ شخص ہے کہ جو اپنے نفس امّارہ کی طرف ایک نظر بھی اٹھا کر نہیں دیکھتا اور بدبو دار تعصّب سے دوسروں کو بدزبانی سے پکارتا ہے۔ پس ایسے شخص پر ہلاکت کی راہ کھلی ہے۔ سو تقویٰ سے پورا حصہ لو اور خد اترسی کا کامل وزن اختیار کرو اور دعاؤں میں لگے رہو تا تم پر رحم ہو … دیکھو مَیں اس وقت اپنا فرض ادا کر چکا ہوں اور قبل اس کے کہ تنگی کے دن آویں مَیں نے اطلاع دے دی ہے۔
(تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ ۷۲تا۷۵۔ مجموعہ اشتہارات جلد۲ صفحہ۶۲۸ تا ۶۳۰ بار دوم)چونکہ میرا کام دعوت اور تبلیغ ہے اس لئے مَیں دوبارہ ظاہر کرتا ہوں اور مَیں قسم حضرتِ احدیّت جلّ شانہٗ کی کھا کر کہتا ہوں کہ میرے پر خدا نے اپنی وحی کے ذریعہ سے ظاہر فرمایا ہے کہ میرا غضب زمین پر بھڑکا ہے کیونکہ اس زمانہ میں اکثر لوگ معصیّت اور دنیا پرستی میں ایسے غرق ہو گئے ہیں کہ خدائے تعالیٰ پر بھی ایمان نہیں رہا اور وہ جو اس کی طرف سے اصلاح خلق کے لئے بھیجا گیا ہے اُس سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے اور یہ ٹھٹھا اور لعن طعن حد سے گذر گیا ہے۔ پس خدا فرماتا ہے کہ مَیں ان سے جنگ کروں گا اور میرے وہ حملے ان پر ہوں گے جو ان کے خیال و گمان میں نہیں کیونکہ انہوں نے جھوٹ سے اس قدر دوستی کی کہ سچائی کو اپنے پاؤں کے نیچے پامال کرنا چاہا۔ پس خدا فرماتا ہے کہ مَیں نے اب ارادہ کیا ہے کہ اپنے غریب گروہ کو ان درندوں کے حملوں سے بچاؤں اور سچائی کی حمایت میں کئی نشان ظاہر کروں۔ اور وہ فرماتا ہے کہ ’’دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔‘‘ (تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ ۷۵، ۷۶۔ مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحہ ۶۳۱ بار دوم)
خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی کر کے اپنے تئیں بچا لو قبل اس کے کہ جو وہ ہولناک دن آوے جو ایک دم میں تباہ کر دے گا اور فرماتا ہے کہ خدا ان کے ساتھ ہے جو نیکی کرتے ہیں اور بدی سے بچتے ہیں اور پھر اُس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میرا فضل تیرے نزدیک آ گیا۔ یعنی وہ وقت آگیا کہ تو کامل طور پر شناخت کیا جاوے۔ حق آگیا اور باطل بھاگ گیا۔
حاصل مطلب یہ ہے کہ جو کچھ نشان ظاہر ہوا اور ہو گا اس سے یہ غرض ہے کہ لوگ بدی سے باز آویں اور اِس خدا کے فرستادہ کو جو اُن کے درمیان ہے شناخت کر لیں۔ پس اے عزیزو! جلد ہر ایک بدی سے پرہیز کرو کہ پکڑے جانے کا دن نزدیک ہے ہر ایک جو شرک کو نہیں چھوڑتا وہ پکڑا جائے گا۔ ہر ایک جو فسق و فجور میں مبتلا ہے وہ پکڑا جاوے گا۔ ہر ایک جو دنیا پرستی میں حد سے گذر گیا ہے اور دنیا کے غموں میں مبتلا ہے وہ پکڑا جائے گا۔ ہر ایک جو خدا کے وجود سے منکر ہے وہ پکڑا جائے گا…… ہر ایک جو خدا کے مقدس نبیوں اور رسولوں اور مرسلوں کو بد زبانی سے یاد کرتا ہے اور باز نہیں آتا وہ پکڑا جائے گا۔ دیکھو! آج مَیں نے بتلا دیا زمین بھی سنتی ہے اور آسمان بھی۔ کہ ہر ایک جو راستی کو چھوڑ کر شرارتوں پر آمادہ ہو گا اور ہر ایک جو زمین کو اپنی بدیوں سے ناپاک کرے گا وہ پکڑا جائے گا۔ خدا فرماتا ہے کہ قریب ہے جو میرا قہر زمین پر اُترے کیونکہ زمین پاپ اور گناہ سے بھر گئی ہے۔ پس اُٹھو! اور ہو شیار ہو جاؤ کہ وہ آخری وقت قریب ہے جس کی پہلے نبیوں نے بھی خبر دی تھی۔ مجھے اُس ذات کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا کہ یہ سب باتیں اس کی طرف سے ہیں، میری طرف سے نہیں ہیں۔ کاش یہ باتیں نیک ظنی سے دیکھی جاویں۔ کاش ! مَیں ان کی نظر میں کاذب نہ ٹھہرتا تا دنیا ہلاکت سے بچ جاتی۔ یہ میری تحریر معمولی تحریر نہیں دلی ہمدردی سے بھرے ہوئے نعرے ہیں۔ اگر اپنے اندر تبدیلی کرو گے اور ہر ایک بدی سے اپنے تئیں بچا لو گے تو بچ جاؤ گے کیونکہ خدا حلیم ہے جیسا کہ وہ قہار بھی ہے اور تم سے اگر ایک حصّہ بھی اصلاح پذیر ہو گا تب بھی رحم کیا جائے گا ورنہ وہ دن آتا ہے کہ انسانوں کو دیوانہ کر دے گا۔ نادان بدقسمت کہے گا کہ یہ باتیں جھوٹ ہیں۔ ہائے وہ کیوں اس قدر سوتا ہے آفتاب تو نکلنے کو ہے۔
(تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ ۸۰، ۸۱۔ مجموعہ اشتہارات جلددوم صفحہ۶۳۵، ۶۳۶ بار دوم)۹؍ اپریل ۱۹۰۵ء کو پھر خدا تعالیٰ نے مجھے ایک سخت زلزلہ کی خبر دی ہے جو نمونہ قیامت اور ہوش ربا ہو گا۔ چونکہ دو مرتبہ مکرر طور پر اس علیم مطلق نے اُس آئندہ واقعہ پر مجھے مطلع فرمایا ہے۔ اس لئے مَیں یقین رکھتا ہوں کہ یہ عظیم الشان حادثہ جو محشر کے حادثہ کو یاد دلاوے گا دُور نہیں ہے۔ مجھے خدائے عزّ و جلّ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ دونوں زلزلے تیری سچائی ظاہر کرنے کے لئے دو نشان ہیں۔ اُنہیں نشانوں کی طرح جو موسٰیؑ نے فرعون کے سامنے دکھلائے تھے۔ اور اس نشان کی طرح جو نوحؑ نے اپنی قوم کو دکھلایا تھا۔ اور یاد رہے کہ ان نشانوں کے بعد ابھی بس نہیں ہے بلکہ کئی نشان ایک دوسرے کے بعد ظاہر ہوتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ انسان کی آنکھ کھلے گی اور حیرت زدہ ہو کر کہے گا کہ یہ کیا ہوا چاہتا ہے۔ ہر ایک دن سخت اور پہلے سے بدتر آئے گا۔ خدا فرماتا ہے کہ مَیں حیرت ناک کام دکھلاؤں گا۔ اور بس نہیں کروں گا جب تک کہ لوگ اپنے دلوں کی اصلاح نہ کر لیں اور جس طرح یوسفؑ نبی کے وقت میں ہوا کہ سخت کال پڑا یہاں تک کہ کھانے کے لئے درختوں کے پتّے بھی نہ رہے۔ اسی طرح ایک آفت کا سامنا موجود ہو گا اور جیسا کہ یوسفؑ نے اناج کے ذخیرے سے لوگوں کی جان بچائی اسی طرح جان بچانے کے لئے خدا نے اس جگہ بھی مجھے ایک روحانی غذا کا مہتمم بنایا ہے جو شخص اس غذا کو سچے دل سے پورے وزن کے ساتھ کھائے گا مَیں یقین رکھتا ہوں کہ ضرور اس پر رحم کیا جائے گا۔ (تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ ۸۳، ۸۴۔ ۔ مجموعہ اشتہارات جلددوم صفحہ۶۳۷، ۶۳۸ بار دوم)
آج ۲۹؍ اپریل ۱۹۰۵ء کو پھر خدا تعالیٰ نے مجھے دوسری مرتبہ کے زلزلہ شدیدہ کی نسبت اِطلاع دی ہے۔ سو مَیں
محض ہمدردی مخلوق کے لئے عام طور پر تمام دنیا کو اطلاع دیتا ہوں کہ یہ بات آسمان پر قرار پا چکی ہے کہ
ایک
شدید آفت سخت تباہی ڈالنے والی دنیا پر آوے گی جس کا نام خدا تعالیٰ نے بار بار زلزلہ رکھا ہے۔ مَیں
نہیں
جانتا کہ وہ قریب ہے یا کچھ دنوں کے بعد خدا تعالیٰ اس کو ظاہر فرماوے گا۔ مگر بار بار خبر دینے سے یہی
سمجھا جاتا ہے کہ بہت دُور نہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کی خبر اور اُس کی خاص وحی ہے جو عالم الاسرار ہے۔ اس کے
مقابل پر جو لوگ یہ شائع کر رہے ہیں کہ ایسا کوئی سخت زلزلہ آنے والا نہیں ہے وہ اگر منجم ہیں یا کسی
اور
علمی طریق سے اٹکلیں دوڑاتے ہیں وہ سب جھوٹے ہیں اور لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ درحقیقت یہ سچ ہے اور
بالکل
سچ ہے کہ وہ زلزلہ اس ملک پر آنے والا ہے جو پہلے کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور نہ کسی کان نے سُنا اور نہ
کسی
دل میں گزرا۔ بجز توبہ اور دل کے پاک کرنے کے کوئی اس کا علاج نہیں۔ کوئی ہے جو ہماری اس بات پر ایمان
لائے؟اور کوئی ہے جو اس آواز کو دل لگا کر سُنے؟ یہ بھی ملک کی بدقسمتی ہے جو خدا کے کلام کو ٹھٹھے اور
ہنسی
سے دیکھتے ہیں اور اُن کے دل ڈرتے نہیں۔ خدا فرماتا ہے کہ
مَیں چُھپ کر آؤں گا۔ مَیں اپنی فوجوں کے ساتھ اُس
وقت آؤں گا کہ کسی کو گمان بھی نہ ہو گا کہ ایسا حادثہ ہونے والا ہے۔
غالباً وہ صبح کا وقت ہو گا یا کچھ حصہ
رات میں سے یا ایسا وقت ہو گا جو اس سے قریب ہے۔ پس اے عزیزو! تم جو خدا تعالیٰ کی وحی پر ایمان لاتے ہو
ہشیار ہو جاؤ اور اپنے توبہ کے جامہ کو خوب پاک اور صاف کرو کہ خدا تعالیٰ کا غضب آسمان پر بھڑکا ہے۔ وہ
چاہتا ہے کہ دنیا کو اپناچہرہ دکھاوے بجز توبہ کے کوئی پناہ نہیں۔ ہلاک ہو گئے وہ لوگ جن کا کام ٹھٹھا
اور
ہنسی ہے جو گناہ اور معصیت سے باز نہیں آتے اور اُن کی مجلسیں ناپاکی اور غفلت سے بھری ہوئی ہیں اور اُن
کی
زبانیں مُردار سے بدتر ہیں وہ بار بار کی شوخیوں سے خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑکاتے ہیں۔ وہ دلوں کے اندھے
ہیں
اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس روز مَیں اُن پر رحم کروں گا جن کے دل مجھ سے ترساں اور ہراساں ہیں۔ جو
نہ
بدی کرتے ہیں اور نہ بدی کی مجلسوں میں بیٹھتے ہیں اور خدا نے یہ بھی فرمایا کہ اس روز تیرے لئے فتح
نمایاں
ظاہر ہو گی۔ کیونکہ خدا اس روز وہ سب کچھ دکھلائے گا جو قبل از وقت دنیا کو سُنایا گیا۔ خوش قسمت وہ جو
اب
بھی سمجھ جائے۔
(تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ ۹۳، ۹۴۔ مجموعہ اشتہارات جلددوم صفحہ۶۴۵، ۶۴۶ بار دوم)
اے عزیزو! آپ لوگوں نے اُس زلزلہ کو دیکھ لیا ہو گا جو ۲۸ ؍فروری ۱۹۰۶ء کی رات کو ایک بجے کے بعد آیا تھا۔ یہ وہی زلزلہ تھا جس کی نسبت خدا تعالیٰ نے اپنی وحی میں فرمایا تھا۔ ’’پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔‘‘ ……… سو یہ وہ زلزلہ تھا جس کا موسم بہار میں آنا خدا تعالیٰ کی وحی کے مطابق ضروری تھا سو آگیا اور ممکن ہے کہ وہ موعود زلزلہ قیامت کا نمونہ بھی موسم بہار میں ہی آوے۔ اِس لئے میں مکّرر اطلاع دیتا ہوں اور متنبہ کرتا ہوں کہ جہاں تک میرا خیال ہے وہ دن دُور نہیں ہے۔ توبہ کرو اور پاک اور کامل ایمان اپنے دلوں میں پیدا کرو اور ٹھٹھا کرنے والوں کی مجلسوں میں مت بیٹھو تا تم پر رحم ہو۔ یہ مت خیال کرو کہ ہم اس سِلسلہ میں داخل ہیں۔ مَیں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہر یک جو بچایا جائے گا اپنے کامل ایمان سے بچایا جائے گا۔ کیا تم ایک دانہ سے سیر ہو سکتے ہو؟یا ایک قطرہ پانی کا تمہاری پیاس بُجھا سکتا ہے؟ اِسی طرح ناقص ایمان تمہاری رُوح کو کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکتا۔ آسمان پر وہی مومن لکھے جاتے ہیں جو وفاداری سے اور صدق سے اور کامل استقامت سے اور فی الحقیقت خدا کو سب چیزپر مقدم رکھنے سے اپنے ایمان پر مہر لگاتے ہیں۔ مَیں سخت درد مند ہوں کہ مَیں کیا کروں اور کس طرح اِن باتوں کو تمہارے دل میں داخل کر دوں اور کس طرح تمہارے دلوں میں ہاتھ ڈال کر گندنکال دوں۔ ہمارا خدا نہایت کریم و رحیم اور وفادار خدا ہے لیکن اگر کوئی شخص کوئی حصہ خباثت کا اپنے دل میں رکھتا ہے اور عملی طور پر اپنا پورا صدق نہیں دکھلاتا تو وہ خدا کے غضب سے بچ نہیں سکتا۔ سو تم اگر پوشیدہ بیج خیانت کا اپنے اندر رکھتے ہو تو تمہاری خوشی عبث ہے۔ اور مَیں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ تم بھی ان لوگوں کے ساتھ ہی پکڑے جاؤ گے جو خدا تعالیٰ کی نظر کے سامنے نفرتی کام کرتے ہیں۔ بلکہ خدا تمہیں پہلے ہلاک کرے گا اور بعد میں ان کو۔ تمہیں آرام کی زندگی دھوکا نہ دے کہ بے آرامی کے دن نزدیک ہیں اور ابتدا سے جو کچھ خدا تعالیٰ کے پاک نبی کہتے آئے ہیں وہ سب اِن دنوں میں پورا ہو گا۔ کیا خوش نصیب وہ شخص ہے جو میری بات پر ایمان لاوے اور اپنے اندر تبدیلی پیدا کرے۔ (تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ ۱۰۶، ۱۰۷۔ مجموعہ اشتہارات جلددوم صفحہ۶۵۶، ۶۵۷ بار دوم)
مَیں آپ کو اطلاع دیتا ہوں اور بشارت پہنچاتا ہوں کہ اس ناخدا نے جو آسمان اور زمین کا خدا ہے زمین کے طوفان زدوں کی فریاد سُن لی اور جیسا کہ اُس نے اپنی پاک کلام میں طوفان کے وقت اپنے جہاز کو بچانے کا وعدہ کیا ہوا تھا وہ وعدہ پورا کیا۔ اور اپنے ایک بندہ کو یعنی اس عاجز کو جو بول رہا ہے اپنی طرف سے مامور کر کے وہ تدبیریں سمجھا دیں جو طوفان پر غالب آویں اور مال و متاع کے صندوقوں کو دریا میں پھینکنے کی حاجت نہ پڑے۔ اب قریب ہے جو آسمان سے یہ آواز آوے کہ یٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِیۡ مَآءَکِ وَیٰسَمَآءُ اَقۡلِعِیۡ وَغِیۡضَ الۡمَآءُ وَقُضِیَ الۡاَمۡرُ وَاسۡتَوَتۡ عَلَی الۡجُوۡدِیِّ مگر ابھی تو طوفان زور میں ہے۔ اسی طوفان کے وقت خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو مامور کیا اور فرمایا۔ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡکَ بِاَعۡیُنِنَا وَوَحۡیِنَا یعنی تو ہمارے حکم سے اور ہماری آنکھوں کے سامنے کشتی تیار کر اُس کشتی کو اس طوفان سے کچھ خطرہ نہ ہو گا۔ اور خدائے تعالیٰ کا ہاتھ اس پر ہو گا۔ سو وہ خالص اسلام کی کشتی یہی ہے جس پر سوار ہونے کے لئے مَیں لوگوں کو بلاتا ہوں۔ اگر آپ جاگتے ہو تو اُٹھو اور اس کشتی میں جلد سوار ہو جاؤ کہ طوفان زمین پر سخت جوش کر رہا ہے اور ہر یک جان خطرہ میں ہے۔ (آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲۶۱، ۲۶۲ حاشیہ)
مَیں اس جگہ ایک اور پیغام بھی خلق اللہ کو عموماً اور اپنے بھائی مسلمانوں کو خصوصًا پہنچاتا ہوں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جو لوگ حق کے طالب ہیں وہ سچا ایمان اور سچی ایمانی پاکیزگی اور محبت مولیٰ کا راہ سیکھنے کے لئے اور گندی زیست اور کاہلانہ اور غدّارانہ زندگی کے چھوڑنے کے لئے مجھ سے بیعت کریں۔ پس جو لوگ اپنے نفسوں میں کسی قدر یہ طاقت پاتے ہیں انہیں لازم ہے کہ میری طرف آویں کہ مَیں ان کا غم خوار ہوں گا اور ان کا بار ہلکا کرنے کے لئے کوشش کروں گا اور خدا تعالیٰ میری دعا اور میری توجہ میں اُن کے لئے برکت دے گا بشرطیکہ وہ ربّانی شرائط پر چلنے کے لئے بدل و جان طیار ہوں گے۔ یہ ربّانی حکم ہے جو آج مَیں نے پہنچا دیا ہے۔ اس بارہ میں عربی الہام یہ ہے۔ اِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ82 وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا۔ اَلَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ یَدُ اللّٰہِ فَوْق اَیْدِیْھِمْ ۔83 والسلام علٰی من اتبع الھدٰی
رہی حقیقت بیعت کی سو وہ یہ ہے کہ بیعت کا لفظ بیع سے مشتق ہے اور بیع اس باہمی رضامندی کے معاملہ کو کہتے ہیں جس میں ایک چیز دوسری چیز کے عوض میں دی جاتی ہے۔ سو بیعت سے غرض یہ ہے کہ بیعت کرنے والا اپنے نفس کو مع اس کے تمام لوازم کے ایک رہبر کے ہاتھ میں اس غرض سے بیچے کہ تا اس کے عوض میں وہ معارفِ حقّہ اور برکاتِ کاملہ حاصل کرے جو موجب معرفت اور نجات اور رضا مندی باری تعالیٰ ہوں۔ اس سے ظاہر ہے کہ بیعت سے صرف توبہ منظور نہیں کیونکہ ایسی توبہ تو انسان بطور خود بھی کر سکتا ہے بلکہ وہ معارف اور برکات اور نشان مقصود ہیں جو حقیقی توبہ کی طرف کھینچتے ہیں۔ بیعت سے اصل مدعا یہ ہے کہ اپنے نفس کو اپنے رہبر کی غلامی میں دے کر وہ علوم اور معارف اور برکات اس کے عوض میں لیوے جن سے ایمان قوی ہو اور معرفت بڑھے اور خدا تعالیٰ سے صاف تعلق پیدا ہو اور اسی طرح دنیوی جہنم سے رہا ہو کر آخرت کے دوزخ سے ِمخلصی نصیب ہو اور دنیوی نابینائی سے شفا پا کر آخرت کی نابینائی سے بھی امن حاصل ہو۔ (ضرورت الامام۔ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۴۹۸)
مضمون تبلیغ جو اس عاجز نے اشتہار یکم دسمبر ۱۸۸۸ء میں شائع کیا ہے جس میں بیعت کے لئے حق کے طالبوں کو
بلایا ہے۔ اس کی مجمل شرائط کی تشریح یہ ہے:۔
اوّل
بیعت کنندہ سچے دل سے عہد اس بات کا کرے کہ آئندہ اس وقت
تک کہ قبر میں داخل ہو جائے شرک سے مجتنب رہے گا۔
دوم
یہ کہ جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر یک فسق اور فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں
سے بچتا رہے گا۔ اور نفسانی جوشوں کے وقت ان کا مغلوب نہیں ہو گا اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔
سوم
یہ کہ بلاناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہے گا۔ حتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے
اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اور ہر روز اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور
استغفار
کرنے میں مداومت اختیار کرے گا۔ اور دلی محبت سے خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اُس کی حمد اور
تعریف
کو اپنا ہر روزہ ورد بنائے گا۔
چہارم
یہ کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف
نہیں دے گا۔ نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔
پنجم
یہ کہ ہر حال رنج اور راحت اور عُسر اور یُسر اور نعمت اور بَلا میں خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کرے گا
اور بہرحالت راضی بقضاء ہو گا اور ہر ایک ذلّت اور دُکھ کے قبول کرنے کے لئے اس کی راہ میں تیار رہے گا
اور
کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اس سے مُنہ نہیں پھیرے گا بلکہ آگے قدم بڑھائے گا۔
ششم
یہ کہ اتباعِ رسم اور متابعت ہو او ہوس سے باز آ جائے گا اور قرآن شریف کی حکومت کو بکلّی اپنے سر پر
قبول کرلے گا اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنے ہر یک راہ میں دستور العمل قرار دے گا۔
ہفتم
یہ کہ تکبّر اور نخوت کو بکلّی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اور حلیمی اور مسکینی سے
زندگی بسر کرے گا۔
ہشتم
یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی اولاد اور
اپنے ہر یک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔
نہم
یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض لِلّٰہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خداداد
طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔
دہم
یہ کہ اس عاجز سے عقدِ اخوت محض لِلّٰہ باقرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تا وقتِ مرگ قائم رہے گا
اور اس عقدِ اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہو گا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ
حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔
یہ وہ شرائط ہیں جو بیعت کرنے والوں کے لئے ضروری ہیں ……جو لوگ اس ابتلاء کی حالت میں اس دعوتِ بیعت کو
قبول
کر کے اس سلسلۂ مبارکہ میں داخل ہو جائیں وہی ہماری جماعت سمجھے جائیں اور وہی ہمارے خالص دوست متصوّ ر
ہوں
اور وہی ہیں جن کے حق میں خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ مَیں انہیں اُن کے غیروں پر قیامت تک
فوقیت دوں گا اور برکت اور رحمت اُن کے شامل حال رہے گی اور مجھے فرمایا کہ تو میری اجازت سے اور میری
آنکھوں کے رو برو یہ کشتی تیار کر۔ جو لوگ تجھ سے بیعت کریں گے وہ خداسے بیعت کریں گے۔ خدا کا ہاتھ ان
کے
ہاتھوں پر ہو گا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے حضور میں اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ حاضر ہو جاؤ اور اپنے
رب
کریم کو اکیلا مت چھوڑو۔ جو شخص اُسے اکیلا چھوڑتا ہے وہ اکیلاچھوڑا جائے گا۔
سو حسب فرمودہ ایزدی دعوتِ بیعت کا عام اشتہار دیا جاتا ہے اور
مُتَحَمّلینِ
شرائط متذکرہ بالا کو عام اجازت
ہے کہ بعد ادائے استخارہ مسنونہ اس عاجز کے پاس بیعت کرنے کے لئے آویں۔ خدا تعالیٰ ان کا مدد گار ہو اور
ان
کی زندگی میں پاک تبدیلی کرے اور ان کو سچائی اور پاکیزگی اور محبت اور روشن ضمیری کی رُوح بخشے۔ آمین
ثم
آمین۔
واٰخر دعوانا ان الحمد للّٰہ ربّ العالمین۔
اگر کوئی عمدًا ان شرائط کی خلاف ورزی کرے جو اشتہار ۱۲؍ جنوری ۱۸۸۹ء میں مندرج ہیں اور اپنی بے باکانہ حرکات سے باز نہ آوے تو وہ اس سِلسلہ سے خارج شمارکیا جاوے گا۔ یہ سلسلہ بیعت محض بمراد فراہمی طائفہ متّقین یعنی تقویٰ شعار لوگوں کی جماعت کے جمع کرنے کے لئے ہے تا ایسے متقیوں کا ایک بھاری گروہ دنیا پر اپنا نیک اثر ڈالے۔ اور ان کا اتفاق اسلام کے لئے برکت و عظمت و نتائج خیر کا موجب ہو اور وہ ببرکت کلمہ واحدہ پر متفق ہونے کے اسلام کی پاک و مقدس خدمات میں جلد کام آ سکیں اور ایک کاہل اور بخیل و بے مصرف مسلمان نہ ہوں اور نہ نالائق لوگوں کی طرح جنہوں نے اپنے تفرقہ اور ناانصافی کی وجہ سے اسلام کو سخت نقصان پہنچایا ہے اور اس کے خوبصورت چہرہ کو اپنی فاسقانہ حالتوں سے داغ لگا دیا ہے اور نہ ایسے غافل درویشوں اور گوشہ گزینوں کی طرح جن کو اسلامی ضرورتوں کی کچھ بھی خبر نہیں اور اپنے بھائیوں کی ہمدردی سے کچھ غرض نہیں اور بنی نوع کی بھلائی کے لئے کچھ جوش نہیں بلکہ وہ ایسے قوم کے ہمدرد ہوں کہ غریبوں کی پناہ ہو جائیں۔ یتیموں کے لئے بطور باپوں کے بن جائیں اور اسلامی کاموں کے انجام دینے کے لئے عاشق زار کی طرح فدا ہونے کو تیار ہوں اور تمام تر کوشش اس بات کے لئے کریں کہ اُن کی عام برکات دنیا میں پھیلیں اور محبت الٰہی اور ہمدردی بندگان خدا کا پاک چشمہ ہر یک دل سے نکل کر اور ایک جگہ اکٹھا ہو کر ایک دریا کی صورت میں بہتا ہوا نظر آوے خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ محض اپنے فضل اور کرامت خاص سے اس عاجز کی دُعاؤں اور اس ناچیز کی توجہ کو اُن کی پاک استعدادوں کے ظہور و بروز کا وسیلہ ٹھہراوے اور اس قدوس جلیل الذات نے مجھے جوش بخشا ہے تا میں ان طالبوں کی تربیتِ باطنی میں مصروف ہو جاؤں اور ان کی آلودگی کے ازالہ کے لئے رات دن کوشش کرتا رہوں اور ان کے لئے وہ نور مانگوں جس سے انسان نفس اور شیطان کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے اور بالطبع خدائے تعالیٰ کی راہوں سے محبت کرنے لگتا ہے اور ان کے لئے وہ روح قدس طلب کروں جو ربوبیت تامہ اور عبودیت خالصہ کے جوڑ سے پیدا ہوتی ہے اور اس رُوح خبیث کی تکفیر سے ان کی نجات چاہوں کہ جو نفسِ امّارہ اور شیطان کے تعلقِ شدید سے جنم لیتی ہے۔ سو مَیں بتوفیقہٖ تعالیٰ کاہل اور سست نہیں رہوں گا اور اپنے دوستوں کی اصلاح طلبی سے جنہوں نے اِس سلسلہ میں داخل ہونا بصدق قدم اختیار کر لیا ہے غافل نہیں ہوں گا بلکہ ان کی زندگی کے لئے موت تک دریغ نہیں کروں گا اور ان کے لئے خدائے تعالیٰ سے وہ روحانی طاقت چاہوں گا جس کا اثر برقی مادہ کی طرح اُن کے تمام وجود میں دوڑ جائے اور مَیں یقین رکھتا ہوں کہ ان کے لئے جو داخلِ سِلسلہ ہو کر صبر سے منتظر رہیں گے ایسا ہی ہو گا۔ کیونکہ خدا ئے تعالیٰ نے اس گروہ کو اپنا جلال ظاہر کرنے کے لئے اور اپنی قدرت دکھانے کے لئے پیدا کرنا اور پھر ترقی دینا چاہا ہے تا دنیا میں محبت الٰہی اور توبہ نصوح اور پاکیزگی اور حقیقی نیکی اور امن اور صلاحیت اور بنی نوع کی ہمدردی کو پھیلاوے۔ سو یہ گروہ اس کا ایک خالص گروہ ہو گا اور وہ انہیں آپ اپنی رُوح سے قوت دے گا اور انہیں گندی زیست سے صاف کرے گا اور ان کی زندگی میں ایک پاک تبدیلی بخشے گا وہ جیسا کہ اس نے اپنی پاک پشین گوئیوں میں وعدہ فرمایا ہے کہ اس گروہ کو بہت بڑھائے گا اور ہزار ہا صادقین کو اس میں داخل کرے گا۔ وہ خود اس کی آبپاشی کرے گا اور اس کو نشوونما دے گا یہاں تک کہ ان کی کثرت اور برکت نظروں میں عجیب ہو جائے گی اور وہ اس چراغ کی طرح جو اونچی جگہ رکھا جاتا ہے دنیا کے چاروں طرف اپنی روشنی کو پھیلائیں گے اور اسلامی برکات کے لئے بطور نمونہ کے ٹھہریں گے وہ اس سِلسلہ کے کامل متبعین کو ہر یک قسم کی برکت میں دوسرے سِلسلہ والوں پر غلبہ دے گا اور ہمیشہ قیامت تک اُن میں سے ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جن کو قبولیت اور نصرت دی جائے گی۔ اُس ربّ جلیل نے یہی چاہا ہے وہ قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ ہر یک طاقت اور قدرت اسی کو ہے۔ فَالْحَمْدُ لَہٗ اَوَّلًا وَ اٰخِرًا وَظَاھِرًا وَ بَاطِنًا اَسْلَمْنَا لَہٗ ھُوَ مَوْلَانَا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ نِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْر۔
خاکسار
غلام احمد لودھیانہ… ۴؍مارچ ۱۸۸۹ء
(ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد ۳صفحہ۵۶۰ تا۵۶۳)عزیزان بے خلوص و صدق نکشایند راہے را
مُصفّا قطرۂ باید کہ تا گوہر شود پیدا84
یقینا یاد رکھو کہ لوگوں کی لعنت اگر خدائے تعالیٰ کی لعنت ساتھ نہ ہو کچھ بھی چیز نہیں اگر خدا ہمیں نابودنہ کرنا چاہے تو ہم کسی سے نابودنہیں ہو سکتے۔ لیکن اگر وہی ہمارا دشمن ہو جائے تو کوئی ہمیں پناہ نہیں دے سکتا۔ ہم کیونکر خدائے تعالیٰ کو راضی کریں اور کیونکر وہ ہمارے ساتھ ہو اِس کا اُس نے مجھے بار بار یہی جواب دیا کہ تقویٰ سے۔ سو اے میرے پیارے بھائیو! کوشش کرو تا متقی بن جاؤ بغیر عمل کے سب باتیں ہیچ ہیں اور بغیر اخلاص کے کوئی عمل مقبول نہیں۔ سو تقویٰ یہی ہے کہ ان تمام نقصانوں سے بچ کر خدا تعالیٰ کی طرف قدم اٹھاؤ اور پرہیزگاری کی باریک راہوں کی رعایت رکھو۔ سب سے اوّل اپنے دلوں میں انکسار اور صفائی اور اخلاص پیدا کرو اور سچ مچ دلوں کے حلیم اور سلیم اور غریب بن جاؤ کہ ہر یک خیر اور شر کا بیج پہلے دل میں ہی پیدا ہوتا ہے۔ اگر تیرا دل شر سے خالی ہے تو تیری زبان بھی شر سے خالی ہوگی اور ایسا ہی تیری آنکھ اور تیرے سارے اعضاء۔ ہر یک نور یا اندھیرا پہلے دل میں ہی پیدا ہوتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ تمام بدن پر محیط ہو جاتا ہے سو اپنے دلوں کو ہر دم ٹٹولتے رہو اور جیسے پان کھانے والا اپنے پانوں کو پھیرتا رہتا ہے اور ردّی ٹکڑے کو کاٹتا ہے اور باہر پھینکتا ہے اِسی طرح تم بھی اپنے دلوں کے مخفی خیالات اور مخفی عادات اور مخفی جذبات اور مخفی ملکات کو اپنی نظر کے سامنے پھیرتے رہو اور جس خیال یا عادت یا ملکہ کو ردّی پاؤ اس کو کاٹ کر باہر پھینکو ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے سارے دل کو ناپاک کر دیوے اور پھر تم کاٹے جاؤ۔
پھر بعد اس کے کوشش کرو اور نیز خدائے تعالیٰ سے قوت اور ہمت مانگو کہ تمہارے دلوں کے پاک ارادے اور پاک خیالات اور پاک جذبات اور پاک خواہشیں تمہارے اعضاء اور تمہارے تمام قویٰ کے ذریعہ سے ظہور پذیر اور تکمیل پذیر ہوں تا تمہاری نیکیاں کمال تک پہنچیں کیونکہ جو بات دل سے نکلے اور دل تک ہی محدود رہے وہ تمہیں کسی مرتبہ تک نہیں پہنچا سکتی خدا تعالیٰ کی عظمت اپنے دلوں میں بٹھاؤ اور اس کے جلال کو اپنی آنکھ کے سامنے رکھو اور یاد رکھو کہ قرآن کریم میں پانسو کے قریب حکم ہیں اور اُس نے تمہارے ہر یک عضو اور ہریک قوت اور ہر یک وضع اور ہر یک حالت اور ہر ایک عمر اور ہر یک مرتبہ فہم اور مرتبہ فطرت اور مرتبہ سلوک اور مرتبہ انفراد اور اجتماع کے لحاظ سے ایک نورانی دعوت تمہاری کی ہے سو تم اس دعوت کو شکر کے ساتھ قبول کرو اور جس قدر کھانے تمہارے لئے تیار کئے گئے ہیں وہ سارے کھاؤ اور سب سے فائدہ حاصل کرو۔ جو شخص ان سب حکموں میں سے ایک کو بھی ٹالتا ہے مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ عدالت کے دن مؤاخذہ کے لائق ہو گا۔ اگر نجات چاہتے ہو تو دین العجائز اختیار کرو اور مسکینی سے قرآن کریم کا ُ َجواا پنی گردنوں پر اٹھاؤ کہ شریر ہلاک ہو گا۔ اور سرکش جہنم میں گرایا جائے گا پر جو غریبی سے گردن جھکاتا ہے وہ موت سے بچ جائے گا۔ دنیا کی خوشحالی کی شرطوں سے خدا تعالیٰ کی عبادت مت کرو کہ ایسے خیال کے لئے گڑھا درپیش ہے بلکہ تم اس لئے اس کی پرستش کرو کہ پرستش ایک حق خالق کا تم پر ہے۔ چاہیے پرستش ہی تمہاری زندگی ہو جاوے اور تمہاری نیکیوں کی فقط یہی غرض ہو کہ وہ محبوب حقیقی اور محسنِ حقیقی راضی ہو جاوے کیونکہ جو اس سے کمتر خیال ہے وہ ٹھوکر کی جگہ ہے۔
خدا بڑی دولت ہے اس کے پانے کے لئے مصیبتوں کے لئے تیار ہو جاؤ۔ وہ بڑی مراد ہے اُس کے حاصل کرنے کے لئے جانوں کو فدا کرو۔ عزیزو!! خدائے تعالیٰ کے حکموں کو بے قدری سے نہ دیکھو موجودہ فلسفہ کی زہر تم پر اثر نہ کرے ایک بچہ کی طرح بن کر اس کے حکموں کے نیچے چلو۔ نماز پڑھو نماز پڑھو کہ وہ تمام سعادتوں کی کُنجی ہے اور جب تو نماز کے لئے کھڑا ہو تو ایسا نہ کر کہ گویا تو ایک رسم ادا کر رہا ہے بلکہ نماز سے پہلے جیسے ظاہری وضو کرتے ہو ایسا ہی ایک باطنی وضو بھی کرو اور اپنے اعضا کو غیر اللہ کے خیال سے دھو ڈالو تب ان دونوں وضوؤں کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور نماز میں بہت دُعا کرو اور رونا اور گڑگڑانا اپنی عادت کر لو تا تم پر رحم کیا جائے۔
سچائی اختیار کرو سچائی اختیار کرو کہ وہ دیکھ رہا ہے کہ تمہارے دل کیسے ہیں۔ کیا انسان اُس کو بھی دھوکا دے سکتا ہے؟ کیا اُس کے آگے بھی مکاریاں پیش جاتی ہیں؟ نہایت بدبخت آدمی اپنے فاسقانہ افعال اس حد تک پہنچاتا ہے کہ گویا خدا نہیں تب وہ بہت جلد ہلاک کیا جاتا ہے اور خدائے تعالیٰ کو اس کی کچھ پروا نہیں ہوتی۔
عزیزو! اِس دنیا کی مُجرد منطق ایک شیطان ہے اور اس دنیا کا خالی فلسفہ ایک ابلیس ہے جو ایمانی نور کو نہایت درجہ گھٹا دیتا ہے اور بے باکیاں پیدا کرتا ہے اور قریب قریب دہریّت کے پہنچاتا ہے سو تُم اس سے اپنے تئیں بچاؤ اور ایسا دل پیدا کرو جو غریب اور مسکین ہو اور بغیر چون چرا کے حکموں کو ماننے والے ہو جاؤ جیسا کہ بچہ اپنی والدہ کی باتوں کو مانتا ہے۔
قرآن کریم کی تعلیمیں تقویٰ کے اعلیٰ درجہ تک پہنچانا چاہتی ہیں ان کی طرف کان دھرو اور ان کے موافق اپنے تئیں بناؤ۔
قرآن شریف انجیل کی طرح تمہیں صرف یہ نہیں کہتا کہ نامحرم عورتوں یا ایسوں کو جو عورتوں کی طرح محل شہوت ہو سکتی ہیں شہوت کی نظر سے مت دیکھو بلکہ اس کی کامل تعلیم کا یہ منشا ہے کہ تو بغیر ضرورت نامحرم کی طرف نظر مت اُٹھا۔ نہ شہوت سے اور نہ بغیر شہوت بلکہ چاہئے کہ تو آنکھیں بند کر کے اپنے تئیں ٹھوکر سے بچاوے تا تیری دلی پاکیزگی میں کچھ فرق نہ آوے سو تم اپنے مولیٰ کے اس حکم کو خوب یاد رکھو اور آنکھوں کے زنا سے اپنے تئیں بچاؤ اور اس ذات کے غضب سے ڈرو جس کا غضب ایک دم میں ہلاک کر سکتا ہے۔ قرآن شریف یہ بھی فرماتا ہے کہ تواپنے کانوں کو بھی نامحرم عورتوں کے ذکر سے بچا اور ایسا ہی ہر یک ناجائز ذکر سے۔
مجھے اس وقت اس نصیحت کی حاجت نہیں کہ تم خون نہ کرو۔ کیونکہ بجز نہایت شریر آدمی کے کون ناحق کے خون کی طرف قدم اٹھاتا ہے مگر مَیں کہتا ہوں کہ ناانصافی پر ضد کر کے سچائی کا خون نہ کرو۔ حق کو قبول کر لو اگرچہ ایک بچہ سے اور اگر مخالف کی طرف حق پاؤ تو پھر فی الفور اپنی خشک منطق چھوڑ دو۔ سچ پر ٹھہر جاؤ اور سچی گواہی دو۔ جیسا کہ اللہ جل شانہٗ فرماتا ہے فَاجۡتَنِبُوا الرِّجۡسَ مِنَ الۡاَوۡثَانِ وَاجۡتَنِبُوۡا قَوۡلَ الزُّوۡرِ یعنی بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹھ سے بھی کہ وہ بُت سے کم نہیں۔ جو چیز قبلۂ حق سے تمہارا منہ پھیرتی ہے وہی تمہاری راہ میں بُت ہے۔ سچی گواہی دو اگرچہ تمہارے باپو ں یا بھائیوں یا دوستوں پر ہو۔ چاہئے کہ کوئی عداوت بھی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو۔
باہم بخل اور کینہ اور حسداوربُغض اور بے مہری چھوڑ دو اور ایک ہو جاؤ۔ قرآن شریف کے بڑے حکم دو ہی ہیں۔ ایک توحید و محبت و اطاعت باری عزّاسمہٗ دوسری ہمدردی اپنے بھائیوں اور اپنے بنی نوع کی۔
(ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ۵۴۶ تا۵۵۰)میری تمام جماعت جو اس جگہ حاضر ہے یا اپنے مقامات میں بود و باش رکھتے ہیں اس وصیت کو توجہ سے سنیں کہ وہ جو اس سلسلہ میں داخل ہو کر میرے ساتھ تعلق ارادت اور مریدی کا رکھتے ہیں اس سے غرض یہ ہے کہ تا وہ نیک چلنی اور نیک نیتی اور تقوٰی کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ جائیں اور کوئی فساد اور شرارت اور بدچلنی ان کے نزدیک نہ آ سکے۔ وہ پنجوقت نماز جماعت کے پابند ہوں۔ وہ جھوٹ نہ بولیں۔ وہ کسی کو زبان سے ایذا نہ دیں۔ وہ کسی قسم کی بدکاری کے مرتکب نہ ہوں۔ اور کسی شرارت اور ظلم اور فساد اور فتنہ کا خیال بھی دل میں نہ لاویں۔ غرض ہر ایک قسم کے معاصی اور جرائم اور ناکردنی اور ناگفتنی اور تمام نفسانی جذبات اور بے جا حرکات سے مجتنب رہیں اور خدا تعالیٰ کے پاک دل اور بے شر اور غریب مزاج بندے ہو جائیں اور کوئی زہریلا خمیر اُن کے وجود میں نہ رہے۔ گورنمنٹ برطانیہ جس کے زیر سایہ اُن کے مال اور جانیں اور آبروئیں محفوظ ہیں بصدق دل اُس کے وفادار تابعدار رہیں اور تمام انسانوں کی ہمدردی اون کا اصول ہو اور خدا تعالیٰ سے ڈریں اور اپنی زبانوں اور اپنے ہاتھوں اور اپنے دل کے خیالات کو ہر ایک ناپاک اور فساد انگیز طریقوں اور خیانتوں سے بچاویں اور پنجوقتہ نماز کو نہایت التزام سے قائم رکھیں اور ظلم اور تعدی اور غبن اور رشوت اور اتلافِ حقوق اور بے جا طرف داری سے باز رہیں اور کسی بد صحبت میں نہ بیٹھیں اور اگر بعد میں ثابت ہو کہ ایک شخص جو اُون کے ساتھ آمد و رفت رکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے احکام کا پابندنہیں ہے یا اس گورنمنٹ محسنہ کا خیر خواہ نہیں ہے یا حقوق عباد کی کچھ پرواہ نہیں رکھتا اور یا ظالم طبع اور شریر مزاج اور بدچلن آدمی ہے اور یا یہ کہ جس شخص سے تمہیں تعلق بیعت اور ارادت ہے اس کی نسبت ناحق اور بے وجہ بد گوئی اور زبان درازی اور بد زبانی اور بہتان اور افترا کی عادت جاری رکھ کر خدا تعالیٰ کے بندوں کو دھوکہ دینا چاہتا ہے تو تم پر لازم ہو گا کہ اس بدی کو اپنے درمیان سے دور کرو اور ایسے انسان سے پرہیز کرو جو خطرناک ہے اور چاہئے کہ کسی مذہب اور کسی قوم اور کسی گروہ کے آدمی کو نقصان رسانی کا ارادہ مت کرو اور ہر ایک کے لئے سچے ناصح بنو اور چاہئے کہ شریروں اور بدمعاشوں اور مفسدوں اور بدچلنوں کو ہرگز تمہاری مجلس میں گذر نہ ہو اور نہ تمہارے مکانوں میں رہ سکیں کہ وہ کسی وقت تمہاری ٹھوکر کا موجب ہوں گے۔
یہ وہ امور اور وہ شرائط ہیں جو میں ابتدا سے کہتا چلا آیا ہوں۔ میری جماعت میں سے ہر ایک فرد پرلازم ہو گا کہ ان تمام وصیتوں کے کاربند ہوں اور چاہئے کہ تمہاری مجلسوں میں کوئی ناپاکی اور ٹھٹھے اور ہنسی کا مشغلہ نہ ہو۔ اور نیک دل اور پاک طبع اور پاک خیال ہو کر زمین پر چلو اور یاد رکھو کہ ہر ایک شر مقابلہ کے لائق نہیں ہے اس لئے لازم ہے کہ اکثر اوقات عفو اور درگذر کی عادت ڈالو اور صبر اور حلم سے کام لو اور کسی پر ناجائز طریق سے حملہ نہ کرو اور جذباتِ نفس کو دبائے رکھو۔ اور اگر کوئی بحث کرو یا کوئی مذہبی گفتگو ہو تو نرم الفاظ اور مہذبانہ طریق سے کرو اور اگر کوئی جہالت سے پیش آوے تو سلام کہہ کر ایسی مجلس سے جلد اُٹھ جاؤ۔ اگر تم ستائے جاؤ اور گالیاں دیئے جاؤ اور تمہارے حق میں بُرے بُرے لفظ کہے جائیں توہوشیار رہو کہ سفاہت کا سفاہت کے ساتھ تمہارا مقابلہ نہ ہو ورنہ تم بھی ویسے ہی ٹھہرو گے جیسا کہ وہ ہیں۔ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہیں ایک ایسی جماعت بناوے کہ تم تمام دنیا کے لئے نیکی اور راستبازی کا نمونہ ٹھہرو سو اپنے درمیان سے ایسے شخص کو جلدنکالو جو بدی اور شرارت اور فتنہ انگیزی اور بدنفسی کا نمونہ ہے۔ جو شخص ہماری جماعت میں غربت اور نیکی اور پرہیز گاری اور حلم اور نرم زبانی اور نیک مزاجی اور نیک چلنی کے ساتھ نہیں رہ سکتا وہ جلد ہم سے جُدا ہو جائے کیونکہ ہمارا خدا نہیں چاہتا کہ ایسا شخص ہم میں رہے اور یقینا وہ بدبختی میں مرے گا کیونکہ اس نے نیک راہ کو اختیار نہ کیا۔ سو تم ہوشیار ہو جاؤ اور واقعی نیک دل اور غریب مزاج اور راستباز بن جاؤ۔ تم پنجوقتہ نماز اور اخلاقی حالت سے شناخت کئے جاؤ گے اور جس میں بدی کا بیج ہے وہ اس نصیحت پر قائم نہیں رہ سکے گا۔
چاہئے کہ تمہارے دل فریب سے پاک اور تمہارے ہاتھ ظلم سے بری اور تمہاری آنکھیں ناپاکی سے مُنزّہ ہوں اور تمہارے اندر بجز راستی اور ہمدردیٔ خلائق کے اور کچھ نہ ہو۔ میرے دوست جو میرے پاس قادیان میں رہتے ہیں مَیں اُمید رکھتا ہوں کہ وہ اپنے تمام انسانی قویٰ میں اعلیٰ نمونہ دکھائیں گے۔ مَیں نہیں چاہتا کہ اس نیک جماعت میں کبھی کوئی ایسا آدمی مل کر رہے جس کے حالات مشتبہ ہوں یا جس کے چال چلن پر کسی قسم کا اعتراض ہو سکے یا اس کی طبیعت میں کسی قسم کی مفسدہ پردازی ہو یا کسی اور قسم کی ناپاکی اُس میں پائی جائے لہٰذا ہم پریہ واجب اور فرض ہو گا کہ اگر ہم کسی کی نسبت کوئی شکایت سُنیں گے کہ وہ خدا تعالیٰ کے فرائض کو عمدًا ضائع کرتا ہے یا کسی ٹھٹھے اور بیہودگی کی مجلس میں بیٹھا ہے یا کسی اور قسم کی بدچلنی اس میں ہے تو وہ فی الفور اپنی جماعت سے الگ کر دیا جائے گا اور پھر وہ ہمارے ساتھ اور ہمارے دوستوں کے ساتھ نہیں رہ سکے گا …… اصل بات یہ ہے کہ ایک کھیت جو محنت سے طیار کیا جاتااور پکایا جاتا ہے اس کے ساتھ خراب بُوٹیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں جو کاٹنے اور جلانے کے لائق ہوتی ہیں۔ ایسا ہی قانون قدرت چلا آیا ہے جس سے ہماری جماعت باہر نہیں ہو سکتی اور مَیں جانتا ہوں کہ وہ لوگ جو حقیقی طور پر میری جماعت میں داخل ہیں اُن کے دل خدا تعالیٰ نے ایسے رکھے ہیں کہ وہ طبعًا بدی سے متنفّر اور نیکی سے پیار کرتے ہیں اور مَیں امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنی زندگی کا بہت اچھا نمونہ لوگوں کے لئے ظاہر کریں گے۔
(تبلیغ رسالت جلد ہفتم صفحہ ۴۲تا۴۵۔ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ۲۲۰ تا ۲۲۲ بار دوم)دنیا جائے گذشتنی گذاشتنی ہے اور جب انسان ایک ضروری وقت میں ایک نیک کام کے بجا لانے میں پوری کوشش نہیں کرتا تو پھر وہ گیا ہوا وقت ہاتھ نہیں آتا۔ اور خود مَیں دیکھتا ہوں کہ بہت سا حصہ عمر کا گذار چکا ہوں اور الہام الٰہی اور قیاس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ باقی ماندہ تھوڑا سا حصہ ہے۔ پس جو کوئی میری موجودگی اور میری زندگی میں میری منشا کے مطابق میری اغراض میں مدد دے گا مَیں امید رکھتا ہوں کہ وہ قیامت میں بھی میرے ساتھ ہو گا اور جو شخص ایسی ضروری مہمات میں مال خرچ کرے گا مَیں اُمیدنہیں رکھتا کہ اُس مال کے خرچ سے اُس کے مال میں کچھ کمی آ جائے گی بلکہ اس کے مال میں برکت ہو گی۔ پس چاہئے کہ خدا تعالیٰ پر توکل کر کے پورے اخلاص اور جوش اور ہمت سے کام لیں کہ یہی وقت خدمت گذاری کا ہے۔ پھر بعد اس کے وہ وقت آتا ہے کہ ایک سونے کاپہاڑ بھی اس راہ میں خرچ کریں تو اس وقت کے پیسہ کے برابر نہیں ہو گا۔ یہ ایک ایسا مبارک وقت ہے کہ تم میں وہ خدا کا فرستادہ موجود ہے جس کا صد ہا سال سے اُ ّمتیں انتظار کر رہی تھیں۔ اور ہر روز خدا تعالیٰ کی تازہ وحی تازہ بشارتوں سے بھری ہوئی نازل ہو رہی ہے۔ اور خدا تعالیٰ نے متواتر ظاہر کر دیا ہے کہ واقعی اور قطعی طور پر وہی شخص اس جماعت میں داخل سمجھا جائے گا کہ اپنے عزیز مال کو اس راہ میں خرچ کرے گا …… یہ مت خیال کرو کہ مال تمہاری کوشش سے آتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتاہے۔ اور یہ مت خیال کرو کہ تم کوئی حصہ مال کا دے کر یا کسی اور رنگ سے کوئی خدمت بجا لا کر خدا تعالیٰ اور اس کے فرستادہ پر کچھ احسان کرتے ہو بلکہ یہ اس کا احسان ہے کہ تمہیں اِس خدمت کے لئے بلاتا ہے اور مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تم سب کے سب مجھے چھوڑ دو اور خدمت اور امداد سے پہلو تہی کرو تو وہ ایک قوم پیدا کر دے گا کہ اس کی خدمت بجا لائے گی۔ تم یقیناسمجھو کہ یہ کام آسمان سے ہے اور تمہاری خدمت صرف تمہاری بھلائی کے لئے ہے۔ پس ایسا نہ ہو کہ تم دل میں تکبّر کرو۔ اور یا یہ خیال کرو کہ ہم خدمت مالی یا کسی قسم کی خدمت کرتے ہیں۔ مَیں بار بار تمہیں کہتا ہوں کہ خدا تمہاری خدمتوں کا ذرا محتاج نہیں ہاں تم پر یہ اس کا فضل ہے کہ تم کو خدمت کا موقع دیتا ہے۔ تھوڑے دن ہوئے کہ بمقام گورداسپور مجھ کو الہام ہوا تھا کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنَا فَاتَّخِذْنِیْ وَکِیْلًا۔ یعنی مَیں ہی ہوں کہ ہر ایک کا م میں کارساز ہوں۔ پس تو مجھ کو ہی وکیل یعنی کارساز سمجھ لے اور دوسروں کا اپنے کاموں میں بھی دخل مَت سمجھ جب یہ الہام مجھ کو ہوا تو میرے دل پر ایک لرزہ پڑا اور مجھے خیال آیا کہ میری جماعت ابھی اس لائق نہیں کہ خدا تعالیٰ ان کا نام بھی لے اور مجھے اِس سے زیادہ کوئی حسرت نہیں کہ مَیں فوت ہو جاؤں اور جماعت کو ایسی ناتمام اور خام حالت میں چھوڑ جاؤں۔ مَیں یقینا سمجھتا ہوں کہ بخل اور ایمان ایک ہی دل میں جمع نہیں ہو سکتے …… مَیں تم میں بہت دیر تک نہیں رہوں گا اور وہ وقت چلا آتا ہے کہ تم پھر مجھے نہیں دیکھو گے۔ اور بہتوں کو حسرت ہو گی کہ کاش ہم نے نظر کے سامنے کوئی قابل قدر کام کیا ہوتا۔ سو اِس وقت ان حسرات کا جلد تدارک کرو۔ جس طرح پہلے نبی رسول اپنی اُمّت میں نہیں رہے مَیں بھی نہیں رہوں گا۔ سو اس وقت کا قدر کرو۔ اور اگر تم اس قدر خدمت بجا لاؤ کہ اپنی غیر منقولہ جائدادوں کو اس راہ میں بیچ دو پھر بھی ادب سے دُور ہو گا کہ تم خیال کرو کہ ہم نے کوئی خدمت کی ہے۔ تمہیں معلوم نہیں کہ اس وقت رحمتِ الٰہی اِس دین کی تائید میں جوش میں ہے اور اُس کے فرشتے دلوں پر نازل ہو رہے ہیں۔ ہر ایک عقل اور فہم کی بات جو تمہارے دل میں ہے وہ تمہاری طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہے۔ آسمان سے عجیب سِلسلۂ انوار جاری اور نازل ہو رہا ہے۔ پس مَیں بار بار کہتا ہوں کہ خدمت میں جان توڑ کر کوشش کرو مگر دل میں مت لاؤ کہ ہم نے کچھ کیا ہے اگرتم ایسا کرو گے ہلاک ہو جاؤ گے۔ یہ تمام خیالات ادب سے دُور ہیں۔ اور جس قدر بے ادب جلد تر ہلاک ہو جاتا ہے ایسا جلد کوئی ہلاک نہیں ہوتا۔ (تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ ۵۳تا۵۶۔ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۶۱۲تا ۶۱۴ بار دوم)
واضح رہے کہ صرف زبان سے بیعت کا اقرار کرنا کچھ چیز نہیں ہے جب تک دل کی عزیمت سے اس پر پورا پورا عمل نہ ہو۔ پس جو شخص میری تعلیم پر پورا پورا عمل کرتا ہے وہ اس میرے گھر میں داخل ہو جاتا ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ کی کلام میں یہ وعدہ ہے ’’اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ‘‘ یعنی ہر ایک جو تیرے گھر کی چار دیوار کے اندر ہے مَیں اُوس کو بچاؤں گا۔ اس جگہ یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہی لوگ میرے گھر کے اندر ہیں جو میرے خاک و خشت کے گھر میں بود و باش رکھتے ہیں بلکہ وہ لوگ بھی جو میری پوری پیروی کرتے ہیں میرے روحانی گھر میں داخل ہیں۔ پیروی کرنے کے لئے یہ باتیں ہیں کہ وہ یقین کریں کہ ان کا ایک قادر اور قیّوم اور خالق الکل خدا ہے جو اپنی صفات میں ازلی ابدی اور غیر متغیّر ہے۔ نہ وہ کسی کا بیٹا نہ کوئی اس کا بیٹا۔ وہ دُکھ اُٹھانے اور صلیب پر چڑھنے اور مرنے سے پاک ہے۔ وہ ایسا ہے کہ باوجود دُور ہونے کے نزدیک ہے اور باوجودنزدیک ہونے کے وہ دُور ہے اور باوجود ایک ہونے کے اس کی تجلّیات الگ الگ ہیں۔ انسان کی طرف سے جب ایک نئے رنگ کی تبدیلی ظہور میں آوے تو اس کے لئے وہ ایک نیا خدا بن جاتا ہے۔ اور ایک نئی تجلّی کے ساتھ اس سے معاملہ کرتا ہے۔ اور انسان بقدر اپنی تبدیلی کے خدا میں بھی تبدیلی دیکھتا ہے مگر یہ نہیں کہ خدا میں کچھ تغیر آ جاتا ہے بلکہ وہ ازل سے غیر متغیّر اور کمال تام رکھتا ہے لیکن انسانی تغیرات کے وقت جب نیکی کی طرف انسان کے تغیر ہوتے ہیں تو خدا بھی ایک نئی تجلّی سے اس پر ظاہر ہوتا ہے۔ اور ہر ایک ترقی یافتہ حالت کے وقت جو انسان سے ظہور میں آتی ہے خدا تعالیٰ کی قادرانہ تجلّی بھی ایک ترقی کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔ وہ خارق عادت قدرت اسی جگہ دکھلاتا ہے جہاں خارق عادت تبدیلی ظاہر ہوتی ہے۔ خوارق اور معجزات کی یہی جڑ ہے۔ یہ خدا ہے جو ہمارے سِلسلہ کی شرط ہے اس پر ایمان لاؤ اور اپنے نفس پر اور اپنے آراموں پر اور اس کے کل تعلّقات پر اوس کو مقدم رکھو اور عملی طور پر بہادر ی کے ساتھ اس کی راہ میں صدق و وفا دکھلاؤ۔ دنیا اپنے اسباب اور اپنے عزیزوں پر اس کو مقدّم نہیں رکھتی مگر تم اس کو مقدم رکھو تا تم آسمان پر اُس کی جماعت لکھے جاؤ۔ رحمت کے نشان دکھلانا قدیم سے خدا کی عادت ہے مگر تم اس حالت میں اس عادت سے حصہ لے سکتے ہو کہ تم میں اور اس میں کچھ جدائی نہ رہے اور تمہاری مرضی اس کی مرضی اور تمہاری خواہشیں اُس کی خواہشیں ہو جائیں۔ اور تمہارا سر ہر ایک وقت اور ہر ایک حالت مراد یابی اور نامرادی میں اُس کے آستانہ پر پڑا رہے تا جو چاہے سو کرے۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تم میں وہ خدا ظاہر ہو گا جس نے مدت سے اپنا چہرہ چھپا لیا ہے۔ کیا کوئی تم میں ہے جو اس پر عمل کرے اور اس کی رضا کا طالب ہو جائے اور اس کی قضاء و قدر پر ناراض نہ ہو۔ سو تم مصیبت کو دیکھ کر اور بھی قدم آگے رکھو کہ یہ تمہاری ترقی کا ذریعہ ہے اور اُس کی توحید زمین پر پھیلانے کے لئے اپنی تمام طاقت سے کوشش کرو اور اس کے بندوں پر رحم کرو اور اُن پر زبان یا ہاتھ یا کسی تدبیر سے ظلم نہ کرو اور مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو اور کسی پر تکبّر نہ کرو گو اپنا ماتحت ہو اور کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو۔ غریب اور حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمدرد بن جاؤ تا قبول کئے جاؤ۔
بہت ہیں جو حلم ظاہر کرتے ہیں مگر وہ اندر سے بھیڑیئے ہیں۔ بہت ہیں جو اوپر سے صاف ہیں مگر اندر سے سانپ ہیں۔ سو تم اس کی جناب میں قبول نہیں ہو سکتے جب تک ظاہر و باطن ایک نہ ہو۔ بڑے ہو کر چھوٹوں پر رحم کرو نہ ان کی تحقیر اور عالم ہو کر نادانوں کو نصیحت کرو نہ خودنمائی سے اُن کی تذلیل۔ اور امیر ہو کر غریبوں کی خدمت کرو نہ خود پسندی سے اُن پر تکبّر۔ ہلاکت کی راہوں سے ڈرو۔ خدا سے ڈرتے رہو اور تقویٰ اختیار کرو اور مخلوق کی پرستش نہ کرو اور اپنے مولیٰ کی طرف منقطع ہو جاؤ۔ اور دنیا سے دل برداشتہ رہو۔ اور اُسی کے ہو جاؤ اور اُسی کے لئے زندگی بسر کرو۔ اور اس کے لئے ہر ایک ناپاکی اور گناہ سے نفرت کرو کیونکہ وہ پاک ہے۔ چاہئے کہ ہر ایک صبح تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی۔ اور ہر ایک شام تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا۔ دنیا کی لعنتوں سے مت ڈرو کہ وہ دھوئیں کی طرح دیکھتے دیکھتے غائب ہو جاتی ہیں۔ اور وہ دن کو رات نہیں کر سکتیں بلکہ تم خدا کی لعنت سے ڈرو جو آسمان سے نازل ہوتی اور جس پر پڑتی ہے اُس کی دونوں جہانوں میں بیخ کنی کر جاتی ہے۔ تم ریا کاری کے ساتھ اپنے تئیں بچا نہیں سکتے کیونکہ وہ خدا جو تمہارا خدا ہے اُس کی انسان کے پاتال تک نظر ہے۔ کیا تم اس کو دھوکا دے سکتے ہو؟ پس تم سیدھے ہو جاؤ۔ اور صاف ہو جاؤ اور پاک ہو جاؤ اور کھرے ہو جاؤ۔ اگر ایک ذرّہ تیرگی تم میں باقی ہے تو وہ تمہاری ساری روشنی کو دُور کر دے گی۔ اور اگر تمہارے کسی پہلو میں تکبّر ہے یا ریا ہے یا خود پسندی ہے یا کسل ہے تو تم ایسی چیز نہیں ہو کہ جو قبول کے لائق ہو۔ ایسا نہ ہو کہ تم صرف چند باتوں کو لے کر اپنے تئیں دھوکہ دو کہ جو کچھ ہم نے کرنا تھا کر لیا ہے۔ کیونکہ خدا چاہتا ہے کہ تمہاری ہستی پر پورا پورا انقلاب آوے اور وہ تم سے ایک موت مانگتا ہے جس کے بعد وہ تمہیں زندہ کرے گا۔ تم آپس میں جلد صلح کرو۔ اور اپنے بھائیوں کے گناہ بخشو کیونکہ شریر ہے وہ انسان کہ جو اپنے بھائی کے ساتھ صلح پر راضی نہیں وہ کاٹا جائے گا۔ کیونکہ وہ تفرقہ ڈالتا ہے۔ تم اپنی نفسانیت ہر ایک پہلو سے چھوڑ دو اور باہمی ناراضگی جانے دو اور سچّے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلّل کرو تا تم بخشے جاؤ۔ نفسانیت کی فربہی چھوڑ دو کہ جس دروازے کے لئے تم بلائے گئے ہو اس میں سے ایک فربہ انسان داخل نہیں ہو سکتا۔ کیا ہی بدقسمت وہ شخص ہے جو ان باتوں کو نہیں مانتا جو خدا کے مُنہ سے نکلیں اور مَیں نے بیان کیں۔ تم اگر چاہتے ہو کہ آسمان پر تم سے خدا راضی ہو تو تم باہم ایسے ایک ہو جاؤ جیسے ایک پیٹ میں سے دو بھائی۔ تم میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے اور بدبخت ہے وہ جو ضد کرتا ہے اور نہیں بخشتا سو اس کا مجھ میں حصّہ نہیں۔ خدا کی لعنت سے بہت خائف رہو کہ وہ قدّوس اور غیّور ہے۔ بدکار خدا کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ متکبّر اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ ظالم اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ خائن اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ اور ہر ایک جو اس کے نام کے لئے غیرت مندنہیں اُس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ وہ جو دنیا پر کُتّوں یا چیونٹیوں یا گِدّھوں کی طرح گِرتے ہیں اور دنیا سے آرام یافتہ ہیں وہ اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتے۔ ہر ایک ناپاک آنکھ اُس سے دُور ہے۔ ہر ایک ناپاک دل اُس سے بے خبر ہے وہ جو اس کے لئے آگ میں ہے وہ آگ سے نجات دیا جائے گا۔ وہ جو اُس کے لئے روتا ہے وہ ہنسے گا۔ وہ جو اس کے لئے دنیا سے توڑتا ہے وہ اُس کو ملے گا۔ تم سچے دل سے اور پورے صدق سے اور سرگرمی کے قدم سے خدا کے دوست بنو تا وہ بھی تمہارا دوست بن جائے۔ تم ماتحتوں پر اور اپنی بیویوں پر اور اپنے غریب بھائیوں پر رحم کرو تا آسمان پر تم پر بھی رحم ہو۔ تم سچ مچ اُس کے ہو جاؤ تا وہ بھی تمہارا ہو جاوے۔ دنیا ہزاروں بلاؤں کی جگہ ہے جن میں سے ایک طاعون بھی ہے سو تم خدا سے صدق کے ساتھ پنجہ مارو تا وہ یہ بلائیں تم سے دُور رکھے۔ کوئی آفت زمین پر پیدا نہیں ہوتی جب تک آسمان سے حکم نہ ہو اور کوئی آفت دور نہیں ہوتی جب تک آسمان سے رحم نازل نہ ہو۔ سو تمہاری عقل مندی اسی میں ہے کہ تم جڑ کو پکڑو نہ شاخ کو۔ تمہیں دوا اور تدبیر سے ممانعت نہیں ہے مگر اُون پر بھروسہ کرنے سے ممانعت ہے اور آخر وہی ہو گا جو خدا کا ارادہ ہوگا۔ اگر کوئی طاقت رکھے تو توکّل کا مقام ہر ایک مقام سے بڑھ کر ہے۔ اور تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اِسی میں زندگی ہے۔ جو لوگ قرآن کو عزّت دیں گے وہ آسمان پر عزّت پائیں گے۔ جو لوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدّم رکھیں گے اُون کو آسمان پر مقدّم رکھا جائے گا۔ نوع انسان کے لئے روئے زمین پر اَب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن۔ اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سو تم کو شش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلال کے نبیؐ کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ۔ اور یاد رکھو کہ نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہو گی بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دنیا میں اپنی روشنی دکھلاتی ہے۔ نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جو یقین رکھتا ہے جو خدا سچ ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم مرتبہ کوئی اور کتاب ہے اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے۔
(کشتی نوح۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ۱۰تا۱۴)اِن سب باتوں کے بعد پھر میں کہتا ہوں کہ یہ مت خیال کرو کہ ہم نے ظاہری طور پر بیعت کر لی ہے۔ ظاہر کچھ چیز نہیں خدا تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے اور اسی کے موافق تم سے معاملہ کرے گا دیکھو میں یہ کہہ کر فرض تبلیغ سے سبکدوش ہوتا ہوں کہ گناہ ایک زہر ہے اوس کو مت کھاؤ۔ خدا کی نافرمانی ایک گندی موت ہے اس سے بچو۔ دعا کرو تا تمہیں طاقت ملے جو شخص دُعا کے وقت خدا کو ہر ایک بات پر قادر نہیں سمجھتا بجز وعدہ کی مستثنیات کے وہ میری جماعت میں سے نہیں۔ جو شخص جھوٹ اور فریب کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص دنیا کے لالچ میں پھنسا ہوا ہے اور آخرت کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص درحقیقت دین کو دنیا پر مقدم نہیں رکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص پورے طور پر ہر ایک بدی سے اور ہر ایک بدعملی سے یعنی شراب سے قمار بازی سے بدنظری سے اور خیانت سے رشوت سے اور ہر ایک ناجائز تصرّف سے توبہ نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص پنجگانہ نماز کا التزام نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص دعا میں لگا نہیں رہتا اور انکسار سے خدا کو یادنہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص بد رفیق کو نہیں چھوڑتا جو اُوس پر بد اثر ڈالتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص اپنے ماں باپ کی عزت نہیں کرتا اور امور معروفہ میں جو خلافِ قرآن نہیں ہیں ان کی بات کو نہیں مانتا اور ان کی تعہّد خدمت سے لاپروا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص اپنی اہلیہ اور اس کے اقارب سے نرمی اور احسان کے ساتھ معاشرت نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص اپنے ہمسایہ کو ادنیٰ ادنیٰ خیر سے بھی محروم رکھتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص نہیں چاہتا کہ اپنے قصور وار کا گنہ بخشے اور کینہ پرور آدمی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ ہر ایک مرد جو بیوی سے یا بیوی خاوند سے خیانت سے پیش آتی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص اُس عہد کو جو اُس نے بیعت کے وقت کیا تھا کسی پہلو سے توڑتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص مجھے فی الواقع مسیح موعود و مہدی معہود نہیں سمجھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے اور جو شخص امورِ معروفہ میں میری اطاعت کرنے کے لئے طیار نہیں ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ اور جو شخص مخالفوں کی جماعت میں بیٹھتا ہے اور ہاں میں ہاں ملاتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ ہر ایک زانی، فاسق، شرابی، خونی، چور، قمار باز، خائن، مرتشی، غاصب، ظالم، دروغ گو، جعلساز اور اُن کا ہم نشین اپنے بھائیوں اور بہنوں پر تہمتیں لگانے والا جو اپنے افعالِ شنیعہ سے توبہ نہیں کرتا اور خراب مجلسوں کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔
یہ سب زہریں ہیں تم ان زہروں کو کھا کر کسی طرح بچ نہیں سکتے اور تاریکی اور روشنی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی۔ ہر ایک جو پیچ در پیچ طبیعت رکھتا ہے اور خدا کے ساتھ صاف نہیں ہے وہ اس برکت کو ہرگز نہیں پاسکتا جو صاف دلوں کو ملتی ہے۔ کیا ہی خوش قسمت وہ لوگ ہیں جو اپنے دلوں کو صاف کرتے ہیں اور اپنے دلوں کو ہر ایک آلودگی سے پاک کر لیتے ہیں اور اپنے خدا سے وفاداری کا عہد باندھتے ہیں کیونکہ وہ ہرگز ضائع نہیں کئے جائیں گے۔ ممکن نہیں کہ خدا ان کو رسوا کرے کیونکہ وہ خدا کے ہیں اور خدا ان کا۔ وہ ہر ایک بلا کے وقت بچائے جائیں گے۔ احمق ہے وہ دشمن جو ان کا قصد کرے کیونکہ وہ خدا کی گود میں ہیں اور خدا ان کی حمایت میں۔ کون خدا پر ایمان لایا؟ صرف وہی جو ایسے ہیں۔ ایسا ہی وہ شخص بھی احمق ہے جو ایک بے باک گنہگار اور بد باطن اور شریر النفس کے فکر میں ہے کیونکہ وہ خود ہلاک ہو گا جب سے خدا نے آسمان اور زمین کو بنایا کبھی ایسا اتفاق نہ ہوا کہ اس نے نیکو ں کو تباہ اور ہلاک اور نیست و نابود کر دیا ہو۔ بلکہ وہ ان کے لئے بڑے بڑے کام دکھلاتا رہا ہے اور اب بھی دکھلائے گا وہ خدا نہایت وفادار خدا ہے اور وفاداروں کے لئے اس کے عجیب کام ظاہر ہوتے ہیں۔ دنیا چاہتی ہے کہ اُن کو کھا جائے اور ہر ایک دشمن اُن پر دانت پیستا ہے مگر وہ جو ان کا دوست ہے ہر ایک ہلاکت کی جگہ سے اون کو بچاتا ہے اور ہر ایک میدان میں اون کو فتح بخشتا ہے۔ کیا ہی نیک طالع وہ شخص ہے جو اُس خدا کا دامن نہ چھوڑے۔ ہم اس پر ایمان لائے۔ ہم نے اس کو شناخت کیا۔ تمام دنیا کا وہی خدا ہے جس نے میرے پر وحی نازل کی۔ جس نے میرے لئے زبردست نشان دکھلائے جس نے مجھے اس زمانے کے لئے مسیح موعود کر کے بھیجا۔ اس کے سوا کوئی خدا نہیں نہ آسمان میں نہ زمین میں۔ جو شخص اس پر ایمان نہیں لاتا وہ سعادت سے محروم اور خذلان میں گرفتار ہے۔ ہم نے اپنے خدا کی آفتاب کی طرح روشن وحی پائی۔ ہم نے اُسے دیکھ لیا کہ دنیا کا وہی خدا ہے۔ اس کے سوا کوئی نہیں۔ کیا ہی قادر اور قیّوم خدا ہے جس کو ہم نے پایا۔ کیا ہی زبردست قدرتوں کا مالک ہے جس کو ہم نے دیکھا۔ سچ تو یہ ہے کہ اُس کے آگے کوئی بات اَنْ ہونی نہیں۔ مگر وہی جو اس کی کتاب اور وعدہ کے برخلاف ہے۔ سو جب تم دعا کرو تو اُن جاہل نیچریوں کی طرح نہ کرو جو اپنے ہی خیال سے ایک قانونِ قدرت بنا بیٹھے ہیں جس پر خدا کی کتاب کی مُہر نہیں کیونکہ وہ مردود ہیں۔ اُن کی دعائیں ہرگز قبول نہیں ہوں گی۔ وہ اندھے ہیں نہ سوجاکھے۔ وہ مردے ہیں نہ زندے۔ خدا کے سامنے اپنا تراشیدہ قانون پیش کرتے ہیں۔ اور اُس کی بے انتہا قدرتوں کی حد بست ٹھہراتے ہیں اور اس کو کمزور سمجھتے ہیں۔ سو اُن سے ایسا ہی معاملہ کیا جائے گا جیسا کہ اُن کی حالت ہے لیکن جب تو دُعا کے لئے کھڑا ہو تو تجھے لازم ہے یہ یقین رکھے کہ تیرا خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے تب تیری دعا منظور ہو گی اور تو خدا کی قدرت کے عجائبات دیکھے گا جو ہم نے دیکھے ہیں۔ اور ہماری گواہی رویت سے ہے نہ بطور قصّہ کے۔
(کشتی نوح۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ۱۸ تا۲۱)اگر تم خدا کے ہو جاؤ گے تو یقینا سمجھو کہ خدا تمہارا ہی ہے۔ تم سوئے ہوئے ہو گے اور خدا تعالیٰ تمہارے لئے جاگے گا۔ تم دشمن سے غافل ہو گے اور خدا اُسے دیکھے گا اور اس کے منصوبے کو توڑے گا تم ابھی تک نہیں جانتے کہ تمہارے خدا میں کیا کیا قدرتیں ہیں۔ اور اگر تم جانتے تو تم پر کوئی ایسا دن نہ آتا کہ تم دنیا کے لئے سخت غمگین ہو جاتے۔ ایک شخص جو ایک خزانہ اپنے پاس رکھتا ہے کیا وہ ایک پیسہ کے ضائع ہونے سے روتا ہے اور چیخیں مارتا ہے اور ہلاک ہونے لگتا ہے؟ پھر اگر تم کو اس خزانہ کی اطلاع ہوتی کہ خدا تمہارا ہر ایک حاجت کے وقت کام آنے والا ہے تو تم دنیا کے لئے ایسے بے خود کیوں ہوتے؟ خدا ایک پیارا خزانہ ہے اس کی قدر کرو کہ وہ تمہارے ہر ایک قدم میں تمہارا مددگار ہے۔ تم بغیر اس کے کچھ بھی نہیں۔ اور نہ تمہارے اسباب اور تدبیریں کچھ چیز ہیں۔ غیر قوموں کی تقلیدنہ کرو کہ جو بکلّی اسباب پر گر گئی ہیں ……… مَیں تمہیں حدِ اعتدال تک رعایتِ اسباب سے منع نہیں کرتا بلکہ اس سے منع کرتا ہوں کہ غیر قوموں کی طرح نرے اسباب کے بندے ہو جاؤ اور اس خدا کو فراموش کر دو جو اسباب کو بھی وہی مہیّا کرتا ہے۔ اگر تمہیں آنکھ ہو تو تمہیں نظر آ جائے کہ خدا ہی خدا ہے اور سب ہیچ ہے۔ تم نہ ہاتھ لمبا کر سکتے ہو اور نہ اکٹھا کر سکتے ہو مگر اوس کے اذن سے۔ ایک مُردہ اس پر ہنسی کرے گا مگر کاش اگر وہ مر جاتا تو اِس ہنسی سے اس کے لئے بہتر تھا۔ خبردار!!! تم غیر قوموں کو دیکھ کر اُن کی ریس مت کرو کہ انہوں نے دنیا کے منصوبوں میں بہت ترقی کر لی ہے آؤ ہم بھی انہی کے قدم پر چلیں۔ سنو اور سمجھو کہ وہ اس خدا سے سخت بیگانہ اور غافل ہیں جو تمہیں اپنی طرف بلاتا ہے۔ اُن کا خدا کیا چیز ہے؟ صرف ایک عاجز انسان۔ اس لئے وہ غفلت میں چھوڑے گئے۔ میں تمہیں دنیا کے کسب اور حرفت سے نہیں روکتا مگر تم ان لوگوں کے پیرو مت بنو جنہوں نے سب کچھ دنیا کو ہی سمجھ رکھا ہے۔ چاہئے کہ تمہارے ہر ایک کام میں خواہ دنیا کا ہو خواہ دین کا خدا سے طاقت اور توفیق مانگنے کا سِلسلہ جاری رہے۔ لیکن نہ صرف خشک ہونٹوں سے بلکہ چاہئے کہ تمہارا سچ مچ یہ عقیدہ ہو کہ ہر ایک برکت آسمان سے ہی اُترتی ہے تم راستباز اس وقت بنو گے جب کہ تم ایسے ہو جاؤ کہ ہر ایک کام کے وقت ہر ایک مشکل کے وقت قبل اس کے جو تم کوئی تدبیر کرو اپنا دروازہ بند کرو اور خدا کے آستانہ پر گرو کہ ہمیں یہ مشکل پیش ہے اپنے فضل سے مشکل کشائی فرما تب رُوح القدس تمہاری مدد کرے گی۔ اور غیب سے کوئی راہ تمہارے لئے کھولی جائے گی۔ اپنی جانوں پر رحم کرو اور جو لوگ خدا سے بکلّی علاقہ توڑ چکے ہیں اور ہمہ تن اسباب پر گِر گئے ہیں یہاں تک کہ طاقت مانگنے کے لئے وہ مُنہ سے انشاء اللہ بھی نہیں نکالتے اُن کے پیرو مت بن جاؤ۔ خدا تمہاری آنکھیں کھولے تا تمہیں معلوم ہو کہ تمہارا خدا تمہاری تمام تدابیر کا شہتیر ہے اگر شہتیر گر جائے تو کیا کڑیاں اپنی چھت پر قائم رہ سکتی ہیں؟ نہیں بلکہ یک دفعہ گریں گی اور احتمال ہے کہ ان سے کئی خون بھی ہو جائیں۔ اسی طرح تمہاری تدابیر بغیر خدا کی مدد کے قائم نہیں رہ سکتیں۔ اگر تم اس سے مددنہیں مانگو گے اور اس سے طاقت مانگنا اپنا اصول نہیں ٹھہراؤ گے تو تمہیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو گی۔ آخر بڑی حسرت سے مَرو گے۔ یہ مت خیال کرو کہ پھر دوسری قومیں کیونکر کامیاب ہو رہی ہیں حالانکہ وہ اوس خدا کو جانتی بھی نہیں جو تمہارا کامل اور قادر خدا ہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ وہ خدا کو چھوڑنے کی وجہ سے دنیا کے امتحان میں ڈالی گئی ہیں۔ خدا کا امتحان کبھی اس رنگ میں ہوتا ہے کہ جو شخص اُسے چھوڑتا ہے اور دنیا کی مستیوں اور لذّتوں سے دل لگاتا ہے اور دنیا کی دولتوں کا خواہشمند ہوتا ہے تو دنیا کے دروازے اُس پر کھولے جاتے ہیں اور دین کے روسے وہ نرا مفلس اور ننگا ہوتا ہے اور آخر دنیا کے خیالات میں ہی مرتا اور ابدی جہنم میں ڈالا جاتا ہے۔ اور کبھی اس رنگ میں بھی امتحان ہوتا ہے کہ دنیا سے بھی نامراد رکھا جاتا ہے۔ مگر مؤخر الذکر امتحان ایسا خطرناک نہیں جیسا کہ پہلا۔ کیونکہ پہلے امتحان والا زیادہ مغرور ہوتا ہے۔ بہرحال یہ دونوں فریق مغضوب علیھم ہیں۔ سچی خوشحالی کا سرچشمہ خدا ہے۔ پس جبکہ اس حیّ و قیّوم خدا سے یہ لوگ بے خبر ہیں بلکہ لاپروا ہیں اور اوس سے منہ پھیر رہے ہیں تو سچی خوشحالی ان کو کہاں نصیب ہو سکتی ہے۔ مبارکی ہو اس انسان کو جو اس راز کو سمجھ لے اور ہلاک ہو گیا وہ شخص جس نے اس راز کو نہیں سمجھا۔ اسی طرح تمہیں چاہئے کہ اس دنیا کے فلسفیوں کی پیروی مت کرو اور ان کو عزت کی نگہ سے مت دیکھو کہ یہ سب نادانیاں ہیں۔ سچا فلسفہ وہ ہے جو خدا نے تمہیں اپنی کلام میں سکھلایا ہے۔ ہلاک ہو گئے وہ لوگ جو اس دنیوی فلسفہ کے عاشق ہیں اور کامیاب ہیں وہ لوگ جنہوں نے سچے علم اور فلسفہ کو خدا کی کتاب میں ڈھونڈا۔ نادانی کی راہیں کیوں اختیار کرتے ہو؟ کیا تم خدا کو وہ باتیں سکھلاؤ گے جو اُسے معلوم نہیں؟ کیا تم اندھوں کے پیچھے دوڑتے ہو کہ وہ تمہیں وہ راہ دکھلاویں؟ اے نادانو! وہ جو خود اندھا ہے وہ تمہیں کیا راہ دکھائے گا؟ بلکہ سچّا فلسفہ رُوح القدس سے حاصل ہوتا ہے جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔ تم رُوح کے وسیلہ سے ان پاک علوم تک پہنچائے جاؤ گے جن تک غیروں کی رسائی نہیں۔ اگر صدق سے مانگو تو آخر تم اُسے پاؤ گے تب سمجھو گے کہ یہی علم ہے جو دل کو تازگی اور زندگی بخشتا ہے اور یقین کے مینار تک پہنچا دیتا ہے۔ وہ جو خود مُردار خوار ہے وہ کہاں سے تمہارے لئے پاک غذا لائے گا؟ وہ جوخود اندھا ہے وہ کیونکر تمہیں دکھاوے گا؟ ہر ایک پاک حکمت آسمان سے آتی ہے پس تم زمینی لوگوں سے کیا ڈھونڈتے ہو؟ جن کی روحیں آسمان کی طرف جاتی ہیں وہی حکمت کے وارث ہیں۔ جن کو خود تسلّی نہیں وہ کیونکر تمہیں تسلّی دے سکتے ہیں۔ مگر پہلے دلی پاکیزگی ضروری ہے۔ پہلے صدق و صفا ضروری ہے پھر بعد اس کے یہ سب کچھ تمہیں ملے گا۔ (کشتی نوح۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ۲۲ تا۲۴)
اب تم خود یہ سوچ لو اور اپنے دلوں میں فیصلہ کر لو کہ کیا تم نے میرے ہاتھ پر جو بیعت کی ہے اور مجھے مسیح موعود حَکَمْ عَدل مانا ہے تو اس کے ماننے کے بعد میرے کسی فیصلہ یا فعل پر اگر دل میں کوئی کدورت یا رنج آتا ہے تو اپنے ایمان کی فکر کرو۔ وہ ایمان جو خدشات اور توہمات سے بھرا ہوا ہے کوئی نیک نتیجہ پیدا کرنے والا نہیں ہو گا، لیکن اگر تم نے سچے دل سے تسلیم کر لیا ہے کہ مسیح موعودواقعی حَکَم ہے تو پھر اُس کے حُکم اور فعل کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دو۔ اور اس کے فیصلوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھو تا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک باتوں کی عزت اور عظمت کرنے والے ٹھہرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کافی ہے۔ وہ تسلّی دیتے ہیں کہ وہ تمہارا امام ہو گا۔ وہ حَکَم عدل ہو گا اگر اِس پر تسلّی نہیں ہوتی تو پھر کب ہو گی۔ (الحکم ۱۰؍ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ نمبر ۱۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ۵۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
تمام مخلصین داخلین سِلسلہ بیعت اس عاجز پر ظاہر ہو کہ بیعت کرنے سے غرض یہ ہے کہ تا دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو اور اپنے مولیٰ کریم اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دل پر غالب آ جائے اور ایسی حالتِ انقطاع پیدا ہو جائے جس سے سفر آخرت مکروہ معلوم نہ ہو لیکن اس غرض کے حصول کے لئے صحبت میں رہنا اور ایک حصّہ اپنی عمر کا اس راہ میں خرچ کرنا ضروری ہے تا اگر خدائے تعالیٰ چاہے تو کسی برہانِ یقینی کے مشاہدہ سے کمزوری اور ضعف اور کسل دُور ہو اور یقین کامل پیدا ہو کر ذوق اور شوق اور ولولہ عشق پیدا ہو جائے سو اس بات کے لئے ہمیشہ فکر رکھنا چاہئے اور دعا کرنا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ یہ توفیق بخشے اور جب تک یہ توفیق حاصل نہ ہو کبھی کبھی ضرور مِلنا چاہئے کیونکہ سِلسلہ بیعت میں داخل ہو کر پھر ملاقات کی پروا نہ رکھنا ایسی بیعت سراسر بے برکت اور صرف ایک رسم کے طور پر ہو گی۔ (اطلاع منسلکہ آسمانی فیصلہ۔ روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۵۱)
قلبِ انسانی بھی حجرِ اَسود کی طرح ہے اور اس کا سینہ بیت اللہ سے مشابہت رکھتا ہے ماسوی اللہ کے خیالات وہ بُت ہیں جو اس کعبہ میں رکھے گئے ہیں۔ مکّہ معظمہ کے بتوں کا قلع قمع اُس وقت ہوا تھا جبکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار قدوسیوں کی جماعت کے ساتھ وہاں جا پڑے تھے اور مکّہ فتح ہو گیا تھا۔ … پس ماسوی اللہ کے بتوں کی شکست اور استیصال کے لئے ضروری ہے کہ ان پر اسی طرح سے چڑھائی کی جائے۔ ……… غرض اس خانہ خدا کو بتوں سے پاک و صاف کرنے کے لئے ایک جہا دکی ضرورت ہے اور اس جہاد کی راہ مَیں تمہیں بتاتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں اگر تم اس پر عمل کرو گے تو ان بتوں کو توڑ ڈالو گے۔ اور یہ راہ میں اپنی خود تراشیدہ نہیں بتاتا بلکہ خدا نے مجھے مامور کیا ہے کہ مَیں بتاؤں۔ اور وہ راہ کیا ہے؟ میری پیروی کرو اور میرے پیچھے چلے آؤ۔ یہ آواز نئی آواز نہیں ہے۔ مکّہ کو بتوں سے پاک کرنے کے لئے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کہا تھا قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ اسی طرح پر اگر تم میری پیروی کرو گے تو اپنے اندر کے بتوں کو توڑ ڈالنے کے قابل ہو جاؤ گے۔ اور اس طرح پر سینہ کوجو طرح طرح کے بتوں سے بھرا پڑا ہے پاک کرنے کے لائق ہو جاؤ گے۔ تزکیہ نفس کے لئے چلّہ کشیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے چلّہ کشیاں نہیں کی تھیں۔ ارّہ اور نفی و اثبات وغیرہ کے ذکر نہیں کئے تھے بلکہ اُن کے پاس ایک اَور ہی چیز تھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں محو تھے۔ جو نور آپؐ میں تھا وہ اُس اطاعت کی نالی میں سے ہو کر صحابہؓ کے قلب پر گرتا تھا اور ماسوی اللہ کے خیالات کو پاش پاش کرتا جاتا تھا۔ تاریکی کے بجائے اُن سینوں میں نُور بھرا جاتا تھا۔ اس وقت بھی خوب یاد رکھو وہی حالت ہے۔ جب تک کہ وہ نُور جو خدا کی نالی میں سے آتا ہے تمہارے قلب پر نہیں گرتا تزکیہ نفس نہیں ہو سکتا انسان کا سینہ مھبط الانوار ہے اور اسی وجہ سے وہ بیت اللہ کہلاتا ہے۔ بڑا کام یہی ہے کہ اس میں جو بُت ہیں وہ توڑے جائیں اور اللہ ہی اللہ رہ جائے۔ (الحکم مورخہ ۱۷؍ اگست ۱۹۰۱ء صفحہ ۲، ۳۔ ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۲۰، ۱۲۱ جدید ایڈیشن)
اگرچہ ہمارا گروہ ابھی بکثرت دنیا میں نہیں پھیلا لیکن پشاور سے لے کر بمبئی اور کلکتہ اور حیدر آباد دکن اور بعض دیار عرب تک ہمارے پیرو دنیا میں پھیل گئے۔ پہلے یہ گروہ پنجاب میں بڑھتا پھولتا گیا اور اب مَیں دیکھتا ہوں کہ ہندوستان کے اکثر حصوں میں ترقی کر رہا ہے۔ ہمارے گروہ میں عوام کم اور خواص زیاد ہ ہیں …… اللہ تعالیٰ کے فضل اور قدرت نے مولویوں کو اُن کے ارادوں سے نامراد رکھ کر ہماری جماعت کو فوق العادت ترقی دی ہے اور دے رہا ہے۔ وہ لوگ جو درحقیقت پارسا طبع اور خدا ترس اور نوع انسان سے ہمدردی کرنے والے اور دین کی ترقی کے لئے بدل و جان کوشش کرنے والے اور خدا تعالیٰ کی عظمت کو دل میں بٹھانے والے اور عقلمند اور ذی فہم اور اوالوالعزم اور خدا اور رسول سے سچی محبت رکھنے والے ہیں وہ اس جماعت میں بکثرت پائے جائیں گے۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ خداوند کریم اس بات کا ارادہ کر رہا ہے کہ اس جماعت کو بڑہاوے اور برکت دے اور زمین کے کناروں تک سعادت مند انسانو ں کو کھینچ کر اس میں داخل کرے۔ (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۲۰۴، ۲۰۵ حاشیہ)
سوچ کر دیکھو کہ تیرہ سو برس میں ایسا زمانہ منہاجِ نبوت کا اَور کس نے پایا؟ اس زمانہ میں جس میں ہماری جماعت پیدا کی گئی ہے کئی وجوہ سے اس جماعت کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشابہت ہے وہ معجزات اور نشانوں کو دیکھتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے دیکھا۔ وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں اور تازہ بتازہ تائیدات سے نور اور یقین پاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے پایا۔ وہ خدا کی راہ میں لوگوں کے ٹھٹھے اور ہنسی اور لعن طعن اور طرح طرح کی دل آزاری اور بدزبانی اور قطع رحم وغیرہ کا صدمہ اٹھا رہے ہیں جیسا کہ صحابہ نے اٹھایا وہ خدا کے کھلے کھلے نشانوں اور آسمانی مدددوں اور حکمت کی تعلیم سے پاک زندگی حاصل کرتے جاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے حاصل کی۔ بہتیرے اُن میں سے ہیں کہ نماز میں روتے اور سجدہ گاہوں کو آنسوؤں سے تر کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم روتے تھے۔ بہتیرے ان میں ایسے ہیں جن کو سچی خوابیں آتی اور الہام الٰہی سے مشرف ہوتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔ بہتیرے ان میں ایسے ہیں کہ اپنے محنت سے کمائے ہوئے مالوں کو محض خدا تعالیٰ کی مرضات کے لئے ہمارے سِلسلہ میں خرچ کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم خرچ کرتے تھے۔ ان میں ایسے لوگ کئی پاؤ گے کہ جو موت کو یاد رکھتے اور دلوں کے نرم اور سچی تقویٰ پر قدم مار رہے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی سیرت تھی۔ وہ خدا کا گروہ ہے جن کو خدا آپ سنبھال رہا ہے اور دن بدن ان کے دلوں کو پاک کر رہا ہے اور ان کے سینوں کو ایمانی حکمتوں سے بھر رہا ہے اور آسمانی نشانوں سے ان کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے جیسا کہ صحابہ کو کھینچتاتھا۔ غرض اس جماعت میں وہ ساری علامتیں پائی جاتی ہیں۔ جو اٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ کے لفظ سے مفہوم ہو رہی ہیں اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا فرمودہ ایک دن پورا ہوتا!!!۔ (ایام الصلح۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ۳۰۶، ۳۰۷)
وہ خدا جو آنکھوں سے پوشیدہ مگر سب چیزوں سے زیادہ چمک رہا ہے جس کے جلال سے فرشتے بھی ڈرتے ہیں وہ شوخی اور چالاکی کو پسندنہیں کرتا اور ڈرنے والوں پر رحم کرتا ہے سو اس سے ڈرو اور ہر ایک بات سمجھ کر کہو۔ تم اس کی جماعت ہو جن کو اُس نے نیکی کا نمونہ دکھانے کے لئے چنا ہے سو جو شخص بدی نہیں چھوڑتا اور اس کے لَب جھوٹھ سے اور اس کا دل ناپاک خیالات سے پرہیز نہیں کرتا وہ اس جماعت سے کاٹا جائے گا۔ اے خدا کے بندو! دلوں کو صاف کرو اور اپنے اندرونوں کو دھو ڈالو۔ تم نفاق اور دورنگی سے ہر ایک کو راضی کر سکتے ہو مگر خدا کو اس خصلت سے غضب میں لاؤ گے۔ اپنی جانوں پر رحم کرو اور اپنی ذرّیت کو ہلاکت سے بچاؤ۔ کبھی ممکن ہی نہیں کہ خدا تم سے راضی ہو حالانکہ تمہارے دل میں اس سے زیادہ کوئی اور عزیز بھی ہے۔ اس کی راہ میں فدا ہو جاؤ اور اس کے لئے محو ہو جاؤ اور ہمہ تن اس کے ہو جاؤ۔ اگر چاہتے ہو کہ اسی دنیا میں خدا کو دیکھ لو۔ (راز حقیقت۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ۱۵۶، ۱۵۷)
خدا تعالیٰ نے جو اس جماعت کو بنانا چاہا ہے تو اس سے یہی غرض رکھی ہے کہ وہ حقیقی معرفت جو دنیا میں گم ہو چکی ہے اور وہ حقیقی تقویٰ و طہارت جو اس زمانہ میں پائی نہیں جاتی اسے دوبارہ قائم کرے۔ عام طور پر تکبّرکا لفظ دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ علماء اپنے علم کی شیخی اور تکبّر میں گرفتار ہیں۔ فقراء کو دیکھو تو ان کی بھی حالت اور ہی قسم کی ہو رہی ہے۔ ان کو اصلاحِ نفس سے کوئی کام ہی نہیں رہا۔ ان کی غرض و غایت صرف جسم تک محدود ہے۔ اس لئے اون کے مجاہدہ اور ریاضتیں بھی کچھ اور ہی قسم کے ہیں۔ جیسے ذکر ارّہ وغیرہ جن کا چشمہ نبوت سے پتہ نہیں چلتا۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ دل کو پاک کرنے کی طرف ان کی توجہ ہی نہیں صرف جسم ہی جسم باقی رہا ہوا ہے جس میں روحانیت کا کوئی نام و نشان نہیں۔ یہ مجاہدے دل کو پاک نہیں کر سکتے ہیں اور نہ کوئی حقیقی نور معرفت کا بخش سکتے ہیں پس یہ زمانہ بالکل خالی ہے۔ نبوی طریق جو پاک ہونے کا تھا وہ بالکل ترک کر دیا گیا ہے اور اس کو بھلا دیا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ عہدِ نبوت پھر آجاوے اور تقویٰ و طہارت پھر قائم ہو اور اس کو اس نے اس جماعت کے ذریعہ سے چاہا ہے۔ پس فرض ہے کہ حقیقی اصلاح کی طرف تم توجہ کرو اسی طرح پر جس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اصلاح کا طریق بتایا ہے۔ (الحکم مورخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۰۵ء صفحہ ۳ کالم ۱، ۲)
اے لوگو! خدا سے ڈرو اور درحقیقت اس سے صلح کر لو اور سچ مچ صلاحیت کا جامہ پہن لو اور چاہئے کہ ہر ایک شرارت تم سے دُور ہو جائے۔ خدا میں بے انتہا عجیب قدرتیں ہیں۔ خدا میں بے انتہا طاقتیں ہیں۔ خدا میں بے انتہا رحم اور فضل ہے۔ وہی ہے جو ایک ہولناک سیلاب کو ایک دم میں خشک کر سکتا ہے۔ وہی ہے جو مہلک بلاؤں کو ایک ہی ارادے سے اپنے ہاتھ سے اُٹھا کہ دُور پھینک دیتا ہے۔ مگر اس کی یہ عجیب قدرتیں انہی پر کھلتی ہیں جو اُس کے ہی ہو جاتے ہیں اور وہی یہ خوارق دیکھتے ہیں جو اس کے لئے اپنے اندر ایک پاک تبدیلی کرتے ہیں اور اس کے آستانے پر گرتے ہیں۔ اور اس قطرے کی طرح جس سے موتی بنتا ہے صاف ہو جاتے ہیں۔ اور محبت اور صدق اور صفا کی سوزش سے پگھل کر اس کی طرف بہنے لگتے ہیں تب وہ مصیبتوں میں اُن کی خبر لیتا ہے اور عجیب طور پر دشمنوں کی سازشوں اور منصوبوں سے انہیں بچا لیتا ہے اور ذلّت کے مقاموں سے انہیں محفوظ رکھتا ہے۔ وہ ان کا متولّی اور متعہّد ہو جاتا ہے۔ وہ ان مشکلات میں جبکہ کوئی انسان کام نہیں آ سکتا ان کی مدد کرتا ہے اور اس کی فوجیں اس کی حمایت کے لئے آتی ہیں۔ کس قدر شکر کا مقام ہے کہ ہمارا خدا کریم اور قادر خدا ہے۔ پس کیا تم ایسے عزیز کو چھوڑو گے؟ کیا اپنے نفس ناپاک کے لئے اس کی حدود کو توڑ دو گے؟ ہمارے لئے اس کی رضا مندی میں مرنا ناپاک زندگی سے بہتر ہے۔ (ایّام الصلح۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۳۴۱، ۳۴۲)
اے میرے عزیزو! میرے پیارو! میرے درختِ وجود کی سرسبز شاخو! جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے جو تم پر ہے میرے سِلسلہ بیعت میں داخل ہو اور اپنی زندگی۔ اپنا آرام۔ اپنا مال اس راہ میں فدا کر رہے ہو۔ اگرچہ میں جانتا ہوں کہ مَیں جو کچھ کہوں تم اسے قبول کرنا اپنی سعادت سمجھو گے۔ اور جہاں تک تمہاری طاقت ہے دریغ نہیں کرو گے لیکن میں اس خدمت کے لئے معیّن طور پر اپنی زبان سے تم پر کچھ فرض نہیں کر سکتا تاکہ تمہاری خدمتیں نہ میرے کہنے کی مجبوری سے بلکہ اپنی خوشی سے ہوں۔ میرا دوست کون ہے؟ اور میرا عزیز کون؟ وہی جو مجھے پہچانتا ہے۔ مجھے کون پہنچانتا ہے؟ صرف وہی جو مجھ پر یقین رکھتا ہے کہ مَیں بھیجا گیا ہوں اور مجھے اس طرح قبول کرتا ہے جس طرح وہ لوگ قبول کئے جاتے ہیں جو بھیجے گئے ہوں۔ دنیا مجھے قبول نہیں کر سکتی کیونکہ مَیں دنیا میں سے نہیں ہوں مگر جن کی فطرت کو اس عالم کا حصّہ دیا گیا ہے وہ مجھے قبول کرتے ہیں اور کریں گے۔ جو مجھے چھوڑتا ہے وہ اس کو چھوڑتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جو مجھ سے پیوند کرتا ہے وہ اس سے کرتا ہے جس کی طرف سے مَیں آیا ہوں۔ میرے ہاتھ میں ایک چراغ ہے جو شخص میرے پاس آتا ہے ضرور وہ اس روشنی سے حصہ لے گا۔ مگر جو شخص وہم اور بدگمانی سے دُور بھاگتا ہے وہ ظلمت میں ڈال دیا جائے گا۔ اس زمانہ کا حصن حصین مَیں ہوں۔ جو مجھ میں داخل ہوتا ہے وہ چوروں اور قزاقوں اور درندوں سے اپنی جان بچائے گا۔ مگر جو شخص میری دیواروں سے دُور رہنا چاہتا ہے۔ ہر طرف سے اس کو موت درپیش ہے اور اس کی لاش بھی سلامت نہیں رہے گی۔ مجھ میں کون داخل ہوتا ہے؟ وہی جو بدی کو چھوڑتا ہے اور نیکی کو اختیار کرتا ہے۔ اور کجی کو چھوڑتا اور راستی پر قسم مارتا ہے اور شیطان کی غلامی سے آزاد ہوتا اور خدا تعالیٰ کا ایک بندۂ مطیع بن جاتا ہے۔ ہر ایک جو ایسا کرتا ہے وہ مجھ میں ہے اور مَیں اُس میں ہوں۔ مگر ایسا کرنے پر فقط وہی قادر ہوتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نفسِ مزکّی کے سایہ میں ڈال دیتا ہے۔ تب وہ اس کے نفس کی دوزخ کے اندر اپنا پَیر رکھ دیتا ہے تو وہ ایسا ٹھنڈا ہو جاتا ہے کہ گویا اس میں کبھی آگ نہیں تھی۔ تب وہ ترقی پر ترقی کرتا ہے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی رُوح اس میں سکونت کرتی ہے اور ایک تجلّی خاص کے ساتھ ربّ العالمین کا استویٰ اُس کے دل پر ہوتا ہے۔ تب پورانی انسانیت اس کی جَل کر ایک نئی اور پاک انسانیت اس کو عطا کی جاتی ہے اور خدا تعالیٰ بھی ایک نیا خدا ہو کر نئے اور خاص طور پر اس سے تعلّق پکڑتا ہے اور بہشتی زندگی کا تمام پاک سامان اسی عالم میں اس کو مل جاتا ہے۔ (فتح اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۳صفحہ ۳۴، ۳۵)
اے میری جماعت خدا تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو۔ وہ قادر کریم آپ لوگوں کو سفرِ آخرت کے لئے ایسا طیار کرے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب طیار کئے گئے تھے خوب یاد رکھو کہ دنیا کچھ چیز نہیں ہے۔ لعنتی ہے وہ زندگی جو محض دنیا کے لئے ہے اور بدقسمت ہے وہ جس کا تمام ہم و غم دنیا کے لئے ہے۔ ایسا انسان اگر میری جماعت میں ہے تو وہ عبث طور میری جماعت میں اپنے تئیں داخل کرتا ہے کیونکہ وہ اس خشک ٹہنی کی طرح ہے جو پھل نہیں لائے گی۔
اے سعادت مند لوگو! تم زور کے ساتھ اس تعلیم میں داخل ہو جو تمہاری نجات کے لئے مجھے دی گئی ہے۔ تم خدا کو واحد لاشریک سمجھو۔ اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت کرو نہ آسمان میں سے نہ زمین میں سے۔ خدا اسباب کے استعمال سے تمہیں منع نہیں کرتا۔ لیکن جو شخص خدا کو چھوڑ کر اسباب پر ہی بھروسہ کرتا ہے وہ مشرک ہے۔ قدیم سے خدا کہتا چلا آیا ہے کہ پاک دل بننے کے سوا نجات نہیں۔ سو تم پاک دل بن جاؤ اور نفسانی کینوں اور غصّوں سے الگ ہو جاؤ۔ انسان کے نفس امارہ میں کئی قسم کی پلیدیاں ہوتی ہیں مگر سب سے زیادہ تکبّر کی پلیدی ہے۔ اگر تکبّر نہ ہوتا تو کوئی شخص کافر نہ رہتا۔ سو تم دل کے مسکین بن جاؤ۔ عام طور پر بنی نوع کی ہمدردی کرو۔ جبکہ تم انہیں بہشت دلانے کے لئے وعظ کرتے ہو۔ سو یہ وعظ تمہارا کب صحیح ہو سکتا ہے اگر تم اس چند روز ہ دنیا میں اُن کی بدخواہی کرو۔ خدا تعالیٰ کے فرائض کو دِلی خوف سے بجا لاؤ کہ تم ان سے پوچھے جاؤ گے۔ نمازوں میں بہت دُعا کرو کہ تا تمہیں خدا اپنی طرف کھینچے اور تمہارے دلوں کو صاف کرے۔ کیونکہ انسان کمزور ہے۔ ہر ایک بدی جو دُور ہوتی ہے وہ خدا تعالیٰ کی قوت سے دُور ہوتی ہے اور جب تک انسان خدا سے قوت نہ پاوے کسی بدی کے دُور کرنے پر قادر نہیں ہو سکتا۔ اسلام صرف یہ نہیں ہے کہ رسم کے طور پر اپنے تئیں کلمہ گو کہلاؤ بلکہ اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ تمہاری روحیں خدا تعالیٰ کے آستانہ پر گر جائیں اور خدا اور اس کے احکام ہر ایک پہلو کے رُو سے تمہاری دنیا پر تمہیں مقدم ہو جائیں۔
(تذکرۃ الشہادتین۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۶۳)میری طرف سے جماعت کے لئے بار بار وہی نصیحت ہے جو کہ مَیں کئی دفعہ اس جگہ اور دوسرے مقامات میں کر چکا ہوں کہ انسان کی عمر ناپائیدارہے اس کا کچھ بھروسہ نہیں ہے اس لئے کوشش کرنی چاہئے کہ خاتمہ بالخیر ہو جاوے۔ یہ ایک ایسی بات ہے کہ جس کے حاصل کرنے کے لئے راستہ میں بہت سے کانٹے ہیں۔ جب انسان دنیا میں آتا ہے تو اس کا اوّل حصّہ تو بیہوشی میں گذر جاتا ہے کیونکہ بچہ ہوتا ہے اور اسے کسی قسم کا علم ہرگز نہیں ہوتا۔ پھر دوسرا زمانہ اس پر آتا ہے کہ اگرچہ بچوں جیسی بیہوشی تو نہیں ہوتی مگر جوانی کی مستی کی ایک بے ہوشی ضرور ہوتی ہے۔ پس دو زمانے تو اس طرح مارے جاتے ہیں۔ پھر تیسرا زمانہ آتا ہے جو کہ پیرانہ سالی کا زمانہ ہوتا ہے کہ علم کے بعد پھر لَاعِلم ہو جاتا ہے۔ حواس میں فرق آجاتا ہے۔ اور بعض تو ایسے ہوتے ہیں کہ پیرانہ سالی میں قدم رکھتے ہی اُن میں جنون کے آثار شروع ہو جاتے ہیں اور مخبوط الحواس نظر آتے ہیں اور بچپن کے سے خواص اُن میں پائے جاتے ہیں۔ (البدر۔ یکم جنوری ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۰)
ایسے بہت سے خاندان ہیں کہ اُن میں ۶۰ یا ۷۰ سال کے بعد انسان کے حواس میں فتور آجاتا ہے۔ غرض اگر ایسا نہ بھی ہو تو بھی قویٰ کی کمزوری اور طاقتوں کے ضائع ہو جانے سے انسان ہوش میں بیہوش ہوتا ہے اور ضعف و تکاہل اپنا اثر کرنے لگتا ہے۔ انسان کی عمر کی تقسیم انہی تین زمانوں پر ہے اور یہ تینوں ہی خطرات اور مشکلات میں ہیں۔ پس اندازہ کرو کہ خاتمہ بالخیر کے لئے کس قدر مشکل مرحلہ ہے۔ (الحکم مورخہ ۱۰، جنوری ۱۹۰۵ء صفحہ۲)
اس مقصد کے حاصل کرنے کے واسطے(جیسا کہ مَیں پہلے کئی مرتبہ بیان کرچکا ہوں ) اوّل ضروری ہے کہ انسان دیدہ دانستہ اپنے آپ کو گناہ کے گڑھے میں نہ ڈالے ورنہ وہ ضرور ہلاک ہو گا۔ جو شخص دیدہ دانستہ بد راہ اختیار کرتا ہے یا کنوئیں میں گرتا ہے اور زہر کھاتا ہے وہ یقینا ہلاک ہو گا۔ ایسا شخص نہ دنیا کے نزدیک اور نہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابلِ رحم ٹھہر سکتا ہے۔ اس لئے یہ ضروری اور بہت ضروری ہے خصوصاً ہماری جماعت کے لئے (جس کو اللہ تعالیٰ نمونہ کے طور پر انتخاب کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک نمونہ ٹھہرے) کہ جہاں تک ممکن ہے بدصحبتوں اور بدعادتوں سے پرہیز کریں اور اپنے آپ کو نیکی کی طرف لگائیں۔ اس مقصد کے حاصل کرنے کے واسطے جہاں تک تدبیر کا حق ہے تدبیر کرنی چاہئے اور کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرنا چاہئے۔ یاد رکھو تدبیر بھی ایک مخفی عبادت ہے اس کو حقیر مت سمجھو اسی سے وہ راہ کھل جاتی ہے جو بدیوں سے نجات پانے کی راہ ہے جو لوگ بدیوں سے بچنے کی تجویز اور تدبیر نہیں کرتے ہیں وہ گویا بدیوں پر راضی ہو جاتے ہیں اور اس طرح پر خداتعالیٰ اُن سے الگ ہو جاتا ہے۔ مَیں سچ کہتا ہوں کہ جب انسان نفس امّارہ کے پنجہ میں گرفتار ہونے کے باوجود بھی تدبیروں میں لگا ہوا ہوتا ہے تو اس کا نفس امّارہ خدا تعالیٰ کے نزدیک لوّامہ ہو جاتا ہے اور ایسی قابل قدر تبدیلی پا لیتا ہے کہ یا تو وہ امّارہ تھا جو لعنت کے قابل تھا اور یا تدبیر اور تجویز کرنے سے وہی قابل لعنت نفس امّارہ، لوّامہ ہو جاتا ہے جس کو یہ شرف حاصل ہے کہ خداتعالیٰ بھی اس کی قسم کھاتا ہے۔ (الحکم مورخہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۰۵ء صفحہ ۳)
سو اے وے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو آسمان پر تم اُس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ مچ تقویٰ کی راہوں پرقدم مارو گے سو اپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہو اور اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ ہر ایک جو زکوٰۃ کے لائق ہے وہ زکوٰۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔ نیکی کو سنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کرو۔ یقینا یاد رکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو تقویٰ سے خالی ہو۔ ہر ایک نیکی کی جڑ تقویٰ ہے۔ جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہو گی وہ عمل بھی ضائع نہیں ہو گا۔ ضرور ہے کہ انواعِ رنج و مصیبت سے تمہارا امتحان بھی ہو جیسا کہ پہلے مومنوں کے امتحان ہوئے۔ سو خبردار رہو ایسا نہ ہو کہ ٹھوکر کھاؤ۔ زمین تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتی اگر تمہارا آسمان سے پختہ تعلّق ہے۔ جب کبھی تم اپنا نقصان کرو گے تو اپنے ہاتھوں سے نہ دشمن کے ہاتھوں سے۔ اگر تمہاری زمینی عزت ساری جاتی رہے تو خدا تمہیں ایک لازوال عزت آسمان پر دے گا سو تم اس کو مت چھوڑو۔ اور ضرور ہے کہ تم دکھ دیئے جاؤ اور اپنی کئی امیدوں سے بے نصیب کئے جاؤ۔ سو ان صورتوں سے تم دلگیر مت ہو کیونکہ تمہارا خدا تمہیں آزماتا ہے کہ تم اس کی راہ میں ثابت قدم ہو یا نہیں۔ اگر تم چاہتے ہو کہ آسمان پر فرشتے بھی تمہاری تعریف کریں تو تم ماریں کھاؤ اور خوش رہو اور گالیاں سنو اور شکر کرو اور ناکامیاں دیکھو اور پیوند مت توڑو۔ تم خدا کی آخری جماعت ہو سو وہ عمل نیک دکھلاؤ جو اپنے کمال میں انتہائی درجہ پر ہو۔ ہر ایک جو تم میں سُست ہو جائے گا وہ ایک گندی چیز کی طرح جماعت سے باہر پھینک دیا جائے گا اور حسرت سے مرے گا اور خدا کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ دیکھو مَیں بہت خوشی سے خبر دیتا ہوں کہ تمہارا خدا درحقیقت موجود ہے۔ اگرچہ سب اسی کی مخلوق ہے لیکن وہ اس شخص کو چن لیتا ہے جو اُس کو چُنتا ہے۔ وہ اُس کے پاس آ جاتا ہے جو اُس کے پاس جاتا ہے۔ جو اس کو عزّت دیتا ہے وہ اُس کو بھی عزت دیتا ہے۔
تم اپنے دلوں کو سیدھے کر کے اور زبانوں اور آنکھوں اور کانوں کو پاک کر کے اس کی طرف آجاؤ کہ وہ تمہیں قبول کرے گا۔ عقیدہ کے رو سے جو خدا تم سے چاہتا ہے وہ یہی ہے کہ خدا ایک اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کا نبی ہے اور وہ خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کر ہے اب بعد اس کے کوئی نبی نہیں مگر وہی جس پر بروزی طور سے محمدیّت کی چادر پہنائی گئی کیونکہ خادم اپنے مخدوم سے جدا نہیں اور نہ شاخ اپنی بیخ سے جُدا ہے۔
(کشتی نوح۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ۱۵، ۱۶)حقیقی مسلمان اللہ تعالیٰ سے پیار کرتا ہے یہ کہہ کر اور مان کر کہ وہ میرا محبوب و مولیٰ پیدا کرنے والا اور محسن ہے اس لئے اس کے آستانہ پر سر رکھ دیتا ہے۔ سچے مسلمان کو اگر کہا جاوے کہ ان اعمال کی پاداش میں کچھ بھی نہیں ملے گا اور نہ بہشت ہے اور نہ دوزخ ہے اور نہ آرام ہیں نہ لذّات ہیں تو وہ اپنے اعمال صالحہ اور محبت الٰہی کو ہرگز ہرگز چھوڑ نہیں سکتا کیونکہ اس کی عبادات اور خدا تعالیٰ سے تعلّق اور اس کی فرمانبرداری اور اطاعت میں فنا کسی پاداش یا اجر کی بناء اور امید پر نہیں ہے بلکہ وہ اپنے وجود کو ایسی چیز سمجھتا ہے کہ وہ حقیقت میں خدا تعالیٰ ہی کی شناخت، اس کی محبت اور اطاعت کے لئے بنائی گئی ہے اَور کوئی غرض اور مقصد اس کا ہے ہی نہیں۔ اسی لئے وہ اپنی خداداد قوتوں کو جب ان اغراض اور مقاصد میں صرف کرتا ہے تو اس کو اپنے محبوب حقیقی ہی کا چہرہ نظر آتا ہے۔ بہشت و دوزخ پر اس کی اصلًا نظر نہیں ہوتی۔ مَیں کہتا ہوں کہ اگر مجھے اس امر کا یقین دلادیا جاوے کہ خدا تعالیٰ سے محبت کرنے اور اس کی اطاعت میں سخت سے سخت سزا دی جاوے گی تو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری فطرت ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ ان تکلیفوں اور بلاؤں کو ایک لذّت اور محبت کے جوش اور شوق کے ساتھ برداشت کرنے کو تیار ہے اور باوجود ایسے یقین کے جو عذاب اور دُکھ کی صورت میں دلایا جاوے کبھی خدا کی اطاعت اور فرمانبرداری سے ایک قدم باہر نکلنے کو ہزار بلکہ لا انتہا موت سے بڑھ کر اور دکھوں اور مصائب کا مجموعہ قرار دیتی ہے۔ (الحکم مورخہ ۱۷؍مئی ۱۹۰۲ء صفحہ ۵۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ۱۳۳، ۱۳۴ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
ہماری جماعت کو واجب ہے کہ اب تقویٰ سے کام لیوے اور اولیاء بننے کی کوشش کرے۔ اِس وقت زمینی اسباب کچھ کام نہ آوے گا اور نہ منصوبہ اور نہ حجت بازی کام آوے گی۔ دنیا سے کیا دل لگانا ہے اور اس پر کیا بھروسہ کرنا ہے۔ یہی امر غنیمت ہے کہ خدا سے صلح کی جاوے اور اس کا یہی وقت ہے ان کو یہی فائدہ اٹھانا چاہئے کہ خدا سے اسی کے ذریعہ سے صلح کر لیں۔ بہت مرضیں ایسی ہوتی ہیں کہ دلالہ کا کام کرتی ہیں اور انسان کو خدا سے ملا دیتی ہیں خاص ہماری جماعت کو اس وقت وہ تبدیلی یک مرتبہ ہی کرنی چاہئے جو کہ اس نے دس برس میں کرنی تھی۔ اور کوئی اور جگہ نہیں ہے جہاں ان کو پناہ مل سکتی ہے۔ اگر وہ خدا پر بھروسہ کر کے دعائیں کریں تو ان کو بشارتیں بھی ہو جاویں گی۔ صحابہ پر جیسے سکینت اتری تھی ویسے ان پر اُترے گی۔ صحابہؓ کو انجام تو معلوم نہ ہوتا تھا کہ کیا ہو گا مگر دل میں یہ تسلّی ہو جاتی تھی کہ خدا ہمیں ضائع نہ کرے گا اور سکینت اسی تسلّی کا نام ہے۔ جیسے میں اگر طاعون زدہ ہو جاؤں اور گلے تک میری جان آ جاوے تو مجھے ہرگز یہ وہم تک نہیں ہو گا کہ مَیں ضائع ہو جاؤں گا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ صرف وہی تعلّق جو میرا خدا کے ساتھ ہے وہ بہت قوی ہے۔ انسان کے لئے ٹھیک ہونے کا یہ مفت کا موقع ہے۔ راتوں کو جاگو۔ دعائیں کرو۔ آرام کرو۔ جو کسل اور سُستی کرتا ہے وہ اپنے گھر والوں اور اولاد پر ظلم کرتا ہے کیونکہ وہ تو مثل جڑھ کے ہے اور اہل و عیال اُس کی شاخیں ہیں۔ تھوڑے ابتلا کا ہونا ضروری ہے جیسے لکھا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک طرف تو مکّہ میں فتح کی خبریں دی جاتی تھیں اور ایک طرف اُن کو جان کی بھی خیر نظر نہ آتی تھی۔ اگر نبوت کا دل نہ ہوتا تو خدا جانے کیا ہوتا۔ یہ اسی دل کا حوصلہ تھا۔ بعض ابتلا صرف تبدیلی کے واسطے ہوتے ہیں۔ عملی نمونے ایسے اعلیٰ درجہ کہ ہوں کہ اُن سے تبدیلیاں ہوں اور ایسی تبدیلی ہو کہ خود انسان محسوس کرے کہ اب مَیں وہ نہیں ہوں جو کہ میں پہلے تھا بلکہ اب مَیں ایک اور انسان ہوں۔ اس وقت خدا کو راضی کرو حتی کہ تم کو بشارتیں ہوں۔ کل لکھتے ہوئے ایک پُرانا الہام نظر پڑا۔ اَ یَّامُ غَضَبِ اللّٰہِ۔ غَضِبْتُ غَضْبًا شَدِیْدًا۔ نُنْجِیْ اَھْلَ السَّعَادَۃِ۔85 یہاں اہل سعادت سے مراد وہ شخص ہے جو عملی طورپر صدق دکھلاتا ہے۔ خالی زبان تک ایمان کا ہونا کوئی فائدہ نہیں دیتا جیسے صحابہؓ نے صدق دکھلایا کہ ہتھیلی پر جانیں رکھ لیں اور بال بچوں تک کو قربان کیا۔ مگر ہم آج ایک شخص کو اگر کہیں کہ سو کوس چلا جا تو وہ عذر کرتا ہے حتیٰ کہ آبرو عزت کا معاملہ پیش کرتا ہے اور کاروبار کا ذکر کرتا ہے کہ کسی طرح جانے سے رہ جاوے مگر انہوں (صحابہؓ ) نے جان، مال، آبرو، عزت سب کچھ خاک میں ملا دیا۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم پر فلاں فلاں آفت آئی حالانکہ ہم نے بیعت کی تھی مگر ہم نے بار بار جماعت کو کہا ہے کہ نری بیعت اور صرف زبان سے ماننے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ چاہئے کہ خدا میں گداز ہو کر ایک نیا وجود بن جائے۔ سارا قرآن دیکھو کہ کہیں بھی صرف اٰمنوا نہیں لکھا ہے ہر جگہ عمل صالح کا ساتھ ہی ذکر ہے غرضیکہ خدا ایک موت چاہتا ہے اور میرا تجربہ ہے کہ خدا مومن پر دو موتیں ہرگز جمع نہیں کرتا کہ ایک موت تو اُس کی خدا کے واسطے ہو اور دوسری دنیا کی لعن طعن کے واسطے۔ ایسے نازک وقت میں چاہئے کہ جماعت سمجھ جاوے اور ایک تیر کی طرح سیدھی ہو جاوے۔ اگر ہزاروں آدمی بھی طاعون سے مر جائیں تو مَیں ہرگز خدا کو ملزم نہ کروں گا اور یہی کہوں گا کہ انہوں نے احسان کا پہلو چھوڑ دیا۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ (البدر مورخہ ۲۶؍دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۶۷، ۶۸۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ ۵۸۱، ۵۸۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
اور چاہئے کہ تم بھی ہمدردی اور اپنے نفسوں کے پاک کرنے سے رُوح القدس سے حصّہ لو کہ بجز رُوح القدس کے حقیقی تقویٰ حاصل نہیں ہو سکتی۔ اور نفسانی جذبات کو بکلی چھوڑ کر خدا کی رضا کے لئے وہ راہ اختیار کرو جو اس سے زیادہ کوئی راہ تنگ نہ ہو۔ دنیا کی لذتوں پر فریفتہ مت ہو کہ وہ خدا سے جُدا کرتی ہیں اور خدا کے لئے تلخی کی زندگی اختیار کرو۔ درد جس سے خدا راضی ہو اس لذت سے بہتر ہے جس سے خدا ناراض ہو جائے اور وہ شکست جس سے خدا راضی ہو اس فتح سے بہتر ہے جو موجبِ غضب الٰہی ہو۔ اس محبت کو چھوڑ دو جو خدا کے غضب کے قریب کرے۔ اگر تم صاف دل ہو کر اس کی طرف آ جاؤ تو ہر ایک راہ میں وہ تمہاری مدد کرے گا اور کوئی دشمن تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ خدا کی رضا کو تم کسی طرح پا ہی نہیں سکتے جب تک تم اپنی رضا چھوڑ کر اپنی لذّات چھوڑ کر اپنی عزّت چھوڑ کر اپنا مال چھوڑ کر اپنی جان چھوڑ کر اس کی راہ میں وہ تلخی نہ اٹھاؤ جو موت کا نظارہ تمہارے سامنے پیش کرتی ہے لیکن اگر تم تلخی اٹھا لو گے تو ایک پیارے بچے کی طرح خدا کی گود میں آ جاؤ گے اور تم اُن راستبازوں کے وارث کئے جاؤ گے جو تم سے پہلے گذر چکے ہیں اور ہر ایک نعمت کے دروازے تم پر کھولے جائیں گے لیکن تھوڑے ہیں جو ایسے ہیں۔ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تقویٰ ایک ایسا درخت ہے جس کو دل میں لگانا چاہئے۔ وہی پانی جس سے تقویٰ پرورش پاتی ہے تمام باغ کو سیراب کر دیتا ہے۔ تقویٰ ایک ایسی جڑھ ہے کہ اگر وہ نہیں تو سب کچھ ہیچ ہے اور اگر وہ باقی رہے تو سب کچھ باقی ہے۔ انسان کو اس فضولی سے کیا فائدہ جو زبان سے خدا طلبی کا دعویٰ کرتا ہے لیکن قدمِ صدق نہیں رکھتا۔ دیکھو مَیں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ آدمی ہلاک شدہ ہے جو دین کے ساتھ کچھ دنیا کی ملونی رکھتا ہے اور اس نفس سے جہنم بہت قریب ہے جس کے تمام ارادے خدا کے لئے نہیں ہیں بلکہ کچھ خدا کے لئے اور کچھ دنیا کے لئے۔ پس اگر تم دنیا کی ایک ذرّہ بھی ملونی اپنے اغراض میں رکھتے ہو تو تمہاری تمام عبادتیں عبث ہیں۔ اس صورت میں تم خدا کی پیروی نہیں کرتے بلکہ شیطان کی پیروی کرتے ہو۔ تم ہرگز توقع نہ کرو کہ ایسی حالت میں خدا تمہاری مدد کرے گا بلکہ تم اس حالت میں زمین کے کیڑے ہو اور تھوڑے ہی دنوں تک تم اس طرح ہلاک ہو جاؤ گے جس طرح کہ کیڑے ہلاک ہوتے ہیں اور تم میں خدا نہیں ہو گا بلکہ تمہیں ہلاک کرکے خدا خوش ہو گا لیکن اگر تم اپنے نفس سے درحقیقت مر جاؤ گے تب تم خدا میں ظاہر ہو جاؤ گے اور خدا تمہارے ساتھ ہو گا۔ اور وہ گھر بابرکت ہو گا جس میں تم رہتے ہو گے اور ان دیواروں پر خدا کی رحمت نازل ہو گی جو تمہارے گھر کی دیواریں ہیں۔ اور وہ شہر بابرکت ہو گا جہاں ایسا آدمی رہتا ہو گا۔ اگر تمہاری زندگی اور تمہاری موت اور تمہار ی ہر ایک حرکت اور تمہاری نرمی اور گرمی محض خدا کے لئے ہو جائے گی اور ہر ایک تلخی اور مصیبت کے وقت تم خدا کا امتحان نہیں کرو گے اور تعلّق کو نہیں توڑو گے بلکہ آگے قدم بڑھاؤ گے تو مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ تم خدا کی ایک خاص قوم ہو جاؤ گے۔ تم بھی انسان ہو جیسا کہ مَیں انسان ہوں اور وہی میرا خدا تمہارا خدا ہے۔ پس اپنی پاک قوتوں کو ضائع مت کرو۔ اگر تم پورے طور پر خدا کی طرف جھکو گے تو دیکھو مَیں خدا کے منشاء کے موافق تمہیں کہتا ہوں کہ تم خدا کی ایک قوم برگزیدہ ہو جاؤ گے۔ خدا کی عظمت اپنے دلوں میں بٹھاؤ اور اس کی توحید کا اقرار نہ صرف زبان سے بلکہ عملی طور پر کرو تا خدا بھی عملی طور پر اپنا لطف و احسان تم پر ظاہر کرے۔ کینہ وری سے پرہیز کرو اور بنی نوع سے سچی ہمدردی کے ساتھ پیش آؤ۔ ہر ایک راہ نیکی کی اختیار کرو نہ معلوم کس راہ سے تم قبول کئے جاؤ۔
تمہیں خوشخبری ہو کہ قرب پانے کا میدان خالی ہے۔ ہر ایک قوم دنیا سے پیار کررہی ہے اور وہ بات جس سے خدا راضی ہو اس کی طرف دنیا کو توجہ نہیں۔ وہ لو گ جو پورے زور سے اس دروازہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں اُن کے لئے موقعہ ہے کہ اپنے جوہر دکھلائیں اور خدا سے خاص انعام پاویں۔
(رسالہ الوصیّت۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۳۰۷ تا۳۰۹)یاد رکھو کہ سچے اور پاک اخلاق راستبازوں کا معجزہ ہے جن میں کوئی غیر شریک نہیں کیونکہ وہ جو خدا میں محو نہیں ہوتے وہ اوپر سے قوت نہیں پاتے اس لئے ان کے لئے ممکن نہیں کہ وہ پاک اخلاق حاصل کر سکیں سو تم اپنے خدا سے صاف ربط پیدا کرو۔ ٹھٹھا، ہنسی، کینہ وری، گندہ زبانی، لالچ، جھوٹھ، بدکاری، بدنظری، بدخیالی، دنیا پرستی، تکبّر، غرور، خود پسندی، شرارت، کج بحثی سب چھوڑ دو۔ پھر یہ سب کچھ آسمان سے تمہیں ملے گا۔ جب تک وہ طاقت بالا جو تمہیں اوپر کی طرف کھینچ کر لے جائے تمہارے شامل حال نہ ہو اور رُوح القدس جو زندگی بخشتا ہے تم میں داخل نہ ہو تب تک تم بہت ہی کمزور اور تاریکی میں پڑے ہوئے ہو بلکہ ایک مُردہ ہو جس میں جان نہیں۔ اِس حالت میں نہ تو تم کسی مصیبت کا مقابلہ کر سکتے ہو۔ نہ اقبال اور دولتمندی کی حالت میں کبر اور غرور سے بچ سکتے ہو اور ہر ایک پہلو سے تم شیطان اور نفس کے مغلوب ہو۔ سو تمہارا علاج تو درحقیقت ایک ہی ہے کہ رُوح القدس جو خاص خدا کے ہاتھ سے اُترتی ہے تمہارا مُنہ نیکی اور راستبازی کی طرف پھیر دے۔ سو تم ابناء السماء بنو نہ ابناء الارض اور روشنی کے وارث بنو نہ تاریکی کے عاشق تا تم شیطان کی گذر گاہوں سے امن میں آ جاؤ۔ کیونکہ شیطان کو ہمیشہ رات سے غرض ہے۔ دن سے کچھ غرض نہیں کیونکہ وہ پورانا چور ہے جو تاریکی میں قدم رکھتا ہے۔ (کشتی نوح۔ روحانی خزائی جلد۱۹ صفحہ۴۵)
اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔ اس لئے اب اپنے ایمانوں کو خوب مضبوط کرو اور اپنی راہیں درست کرو اپنے دلوں کو پاک کرو اور اپنے مولیٰ کو راضی کرو۔ دوستو! تم اس مسافر خانہ میں محض چند روز کے لئے ہو۔ اپنے اصلی گھروں کو یاد کرو۔ تم دیکھتے ہو کہ ہر ایک سال کوئی نہ کوئی دوست تم سے رخصت ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی تم بھی کسی سال اپنے دوستوں کو داغ جدائی دے جاؤ گے۔ سو ہوشیار ہو جاؤ اور اس پُرآشوب زمانہ کی زہر تم میں اثر نہ کرے۔ اپنی اخلاقی حالتوں کو بہت صاف کرو کینہ اور بُغض اور نخوت سے پاک ہو جاؤ اور اخلاقی معجزات دنیا کو دکھلاؤ۔ (اربعین نمبر ۴۔ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ۴۴۲، ۴۴۳)
یقینا یاد رکھو کہ مومن متقی کے دل میں شر نہیں ہوتا۔ جس جس قدر انسان متقی ہوتا جاتا ہے اُسی قدر وہ کسی کی نسبت سزا اور ایذا کو پسندنہیں کرتا۔ مسلمان کبھی کینہ ور نہیں ہو سکتا۔ ہم خود دیکھتے ہیں کہ ان لوگوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا ہے۔ کوئی دکھ اور تکلیف جو وہ پہنچا سکتے تھے انہوں نے پہنچایا ہے۔ لیکن پھر بھی اُن کی ہزاروں خطائیں بخشنے کو اب بھی تیار ہیں۔ پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو یاد رکھو کہ تم ہر شخص سے خواہ وہ کسی مذہب کا ہو ہمدردی کرو۔ اور بلاتمیز ہر ایک سے نیکی کرو۔ (الحکم مورخہ ۲۴؍ جنوری ۱۹۰۵ء صفحہ ۴ کالم ۳)
ہمارا یہ اصول ہے کہ کل بنی نوع کی ہمدردی کرو۔ اگر ایک شخص ایک ہمسایہ ہندو کو دیکھتا ہے کہ اس کے گھر میں آگ لگ گئی اور یہ نہیں اُٹھتا کہ تا آگ بجھانے میں مدد دے تو مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ مجھ سے نہیں ہے۔ اگر ایک شخص ہمارے مریدوں میں سے دیکھتا ہے کہ ایک عیسائی کو کوئی قتل کرتا ہے اور وہ اس کے چھڑانے کے لئے مددنہیں کرتا تو مَیں تمہیں بالکل درست کہتا ہوں کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ … مَیں حلفاً کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ مجھے کسی قوم سے دشمنی نہیں ہاں جہاں تک ممکن ہے اُن کے عقائد کی اصلاح چاہتا ہوں اور اگر کوئی گالیاں دے تو ہمارا شکوہ خدا کی جناب میں ہے نہ کسی اَ ور عدالت میں اور بایں ہمہ نوع انسان کی ہمدردی ہمارا حق ہے۔ (سراج منیر۔ روحانی خزائن جلد ۱۲صفحہ ۲۸)
اور مَیں اس وقت اپنی جماعت کو جو مجھے مسیح موعود مانتی ہے خاص طور پر سمجھاتا ہوں کہ وہ ہمیشہ ان ناپاک عادتوں سے پرہیز کریں۔ مجھے خدا نے جو مسیح موعود کر کے بھیجا ہے اور حضرت مسیح ابن مریم کا جامہ مجھے پہنا دیا ہے اس لئے مَیں نصیحت کرتا ہوں کہ شر سے پرہیز کرو اور نوع انسان کے ساتھ حقِ ہمدرد ی بجا لاؤ۔ اپنے دلوں کو بغضوں اور کینوں سے پاک کرو کہ اس عادت سے تم فرشتوں کی طرح ہو جاؤ گے۔ کیا ہی گندہ اور ناپاک وہ مذہب ہے جس میں انسان کی ہمدردی نہیں اور کیا ہی ناپاک وہ راہ ہے جو نفسانی بغض کے کانٹوں سے بھرا ہے۔ سو تم جو میرے ساتھ ہو ایسے مت ہو تم سوچو کہ مذہب سے حاصل کیا ہے۔ کیا یہی کہ ہر وقت مردم آزاری تمہارا شیوہ ہو؟ نہیں بلکہ مذہب اس زندگی کے حاصل کر نے کے لئے ہے جو خدا میں ہے۔ اور وہ زندگی نہ کسی کو حاصل ہوئی اور نہ آئندہ ہو گی بجز اس کے کہ خدائی صفات انسان کے اندر داخل ہو جائیں۔ خدا کے لئے سب پر رحم کرو تا آسمان سے تم پر رحم ہو۔ آؤ مَیں تمہیں ایک ایسی راہ سکھاتا ہوں جس سے تمہارا نُور تمام نُوروں پر غالب رہے اور وہ یہ ہے کہ تم تمام سفلی کینوں اور حسدوں کو چھوڑ دو اور ہمدردنوع انسان ہو جاؤ اور خدا میں کھوئے جاؤ اور اس کے ساتھ اعلیٰ درجہ کی صفائی حاصل کرو کہ یہی وہ طریق ہے جس سے کرامتیں صادر ہوتی ہیں اور دعائیں قبول ہوتی ہیں اور فرشتے مدد کے لئے اُترتے ہیں۔ مگر یہ ایک دن کا کام نہیں ترقی کرو ترقی کرو اس دھوبی سے سبق سیکھو جو کپڑوں کو اوّل بھٹی میں جوش دیتا ہے اور دیئے جاتا ہے یہاں تک کہ آخر آگ کی تاثیریں تمام میل اور چرک کو کپڑوں سے علیٰحدہ کر دیتی ہیں۔ تب صبح اٹھتا ہے اور پانی پر پہنچتا ہے اور پانی میں کپڑوں کو تر کرتا ہے اور بار بار پتھروں پر مارتا ہے۔ تب وہ میل جو کپڑوں کے اندر تھی اور اُن کا جزو بن گئی تھی کچھ آگ سے صدمات اُٹھا کر اور کچھ پانی میں دھوبی کے بازو سے مار کھا کر یکدفعہ جُدا ہونی شروع ہو جاتی ہے یہاں تک کہ کپڑے ایسے سفید ہو جاتے ہیں جیسے ابتدا میں تھے۔ یہی انسانی نفس کے سفید ہونے کی تدبیر ہے۔ اور تمہاری ساری نجات اس سفیدی پر موقوف ہے۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰٮہَا (گورنمنٹ انگریزی اور جہاد۔ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۱۴، ۱۵)
ہر وقت جب تک انسان خدا تعالیٰ سے اپنا معاملہ صاف نہ رکھے اور ان ہر دو حقوق کی پوری تکمیل نہ کرے بات نہیں بنتی جیسا کہ مَیں نے کہا ہے کہ حقوق بھی دو قسم کے ہیں ایک حقوق اللہ دوسرے حقوق عباد۔
اور حقوق عباد بھی دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو دینی بھائی ہو گئے ہیں خواہ وہ بھائی ہے یا باپ ہے یا بیٹا مگر ان سب میں ایک دینی اخوت ہے اور ایک عام بنی نوع انسان سے سچی ہمدردی۔
اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سب سے بڑا حق یہی ہے کہ اُسی کی عبادت کی جاوے اور یہ عبادت کسی غرض ذاتی پر مبنی نہ ہو بلکہ اگر دوزخ اور بہشت نہ بھی ہوں تب بھی اُس کی عبادت کی جاوے اور اس ذاتی محبت میں جو مخلوق کو اپنے خالق سے ہونی چاہئے کوئی فرق نہ آوے۔ اِس لئے ان حقوق میں دوزخ اور بہشت کا سوال نہیں ہونا چاہئے۔ بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی میں میرا یہ مذہب ہے کہ جب تک دشمن کے لئے دُعا نہ کی جاوے پورے طور پر سینہ صاف نہیں ہوتا۔ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ میں اللہ تعالیٰ نے کوئی قیدنہیں لگائی کہ دشمن کے لئے دُعا کرو توقبول نہیں کروں گا بلکہ میرا تو یہ مذہب ہے کہ دشمن کے لئے دعا کرنا یہ بھی سنتِ نبوی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اسی سے مسلمان ہوئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لئے اکثر دعا کیا کرتے تھے۔ اس لئے بخل کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں کرنی چاہئے اور حقیقۃً موذی نہیں ہونا چاہئے۔ شکر کی بات ہے کہ ہمیں اپنا کوئی دشمن نظر نہیں آتا جس کے واسطے دو تین مرتبہ دُعا نہ کی ہو۔ ایک بھی ایسا نہیں۔ اور یہی مَیں تمہیں کہتا ہوں اور سکھاتا ہوں۔ خدا تعالیٰ اِس سے کہ کسی کو حقیقی طور پر ایذا پہونچائی جاوے اور ناحق بخل کی راہ سے دشمنی کی جاوے ایسا ہی بیزار ہے جیسے وہ نہیں چاہتا کہ کوئی اس کے ساتھ ملایا جاوے۔ ایک جگہ وہ فصل نہیں چاہتا اور ایک جگہ وصل نہیں چاہتا۔ یعنی بنی نوع کا باہمی فصل اور اپنا کسی غیر کے ساتھ وصل اور یہ وہی راہ ہے کہ منکروں کے واسطے بھی دعاکی جاوے۔ اس سے سینہ صاف اور انشراح پیدا ہوتا ہے۔ اور ہمت بلند ہوتی ہے۔ اس لئے جب تک ہماری جماعت یہ رنگ اختیار نہیں کرتی اُس میں اور اُس کے غیر میں پھر کوئی امتیاز نہیں ہے۔ میرے نزدیک یہ ضروری امر ہے کہ جو شخص ایک کے ساتھ دین کی راہ سے دوستی کرتا ہے اور اس کے عزیزوں سے کوئی ادنیٰ درجہ کا ہے تو اس کے ساتھ نہایت رفق اور ملائمت سے پیش آنا چاہئے اور اُن سے محبت کرنی چاہئے کیونکہ خدا کی یہ شان ہے۔ ع
بداں را بہ نیکاں بہ بخشد کریم86
واضح ہو کہ آج آریہ سماج قادیان کی طرف سے میری نظر سے ایک اشتہار گذرا جس پر سات فروری ۱۹۰۳ء تاریخ لکھی ہے اور مطبع چشمہ نور پریس امرتسر میں چھپا ہے جس کا عنوان اشتہار پر یہ لکھا ہے ’’کادیانی پوپ کے چیلوں کی ایک ڈینگ کا جواب‘‘ اس اشتہار میں ہمارے سیّد و مولیٰ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اور میری نسبت اور میرے معزز احباب جماعت کی نسبت اس قدر سخت الفاظ اور گالیاں استعمال کی ہیں کہ بظاہر یہی دل چاہتا تھا کہ ایسے لوگوں کو مخاطب نہ کیا جاوے مگر خدا تعالیٰ نے اپنی وحی خاص سے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ اس تحریر کا جواب لکھ اور مَیں جواب دینے میں تیرے ساتھ ہوں تب مجھے اس مبشر وحی سے بہت خوشی پہنچی کہ جواب دینے میں مَیں اکیلا نہیں۔ سو مَیں اپنے خدا سے قوت پا کر اٹھا اور اُس کی رُوح کی تائید سے مَیں نے اس رسالہ کو لکھا اور جیسا کہ خدا نے مجھے تائید دی مَیں نے یہی چاہا کہ ان تمام گالیوں کو جو میرے نبی مطاع کو اور مجھے دی گئیں نظر انداز کر کے نرمی سے جواب لکھوں اور پھر یہ کاروبار خدا تعالیٰ کے سپرد کر دوں۔
مگر قبل اس کے کہ مَیں اس اشتہار کا جواب لکھوں اپنی جماعت کے لوگوں کو نصیحتًا کہتا ہوں کہ جو کچھ اس اشتہار کے لکھنے والوں اور اُن کی جماعت نے محض دل دُکھانے اور توہین کی نیت سے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اعتراضات کے پیرایہ میں سخت الفاظ لکھے ہیں یا میری نسبت مال خور اور ٹھگ اور کاذب اور نمک حرام کے لفظ کو استعمال میں لائے ہیں اور مجھے لوگوں کا دغا بازی سے مال کھانے والا قرار دیا ہے اور یا جو خود میری جماعت کی نسبت سؤر اور کتّے اور مردار خوار اور گدھے اور بندر وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور ملیچھ ان کا نام رکھا ہے ان تمام دُکھ دینے والے الفاظ پر وہ صبر کریں اور مَیں اُس جوش اور اشتعال طبع کو خوب جانتا ہوں کہ جو انسان کو اس حالت میں پیدا ہوتا ہے کہ جب کہ نہ صرف اس کو گالیاں دی جاتی ہیں بلکہ اس کے رسول اور پیشوا اور امام کو توہین اور تحقیر کے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے اور سخت اور غضب پیدا کرنے والے الفاظ سُنائے جاتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر تم ان گالیوں اور بد زبانیوں پر صبر نہ کرو تو پھر تم میں اور دوسرے لوگوں میں کیا فرق ہو گا؟ اور یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ تمہارے ساتھ ہوئی اور پہلے کسی سے نہیں ہوئی ہر ایک سچا سلسلہ جو دنیا میں قائم ہوا ضرور دنیا نے اس سے دشمنی کی ہے سو چونکہ تم سچائی کے وارث ہو ضرور ہے کہ تم سے بھی دشمنی کریں۔ سو خبردار رہو۔ نفسانیت تم پر غالب نہ آوے۔ ہر ایک سختی کی برداشت کرو۔ ہر ایک گالی کا نرمی سے جواب دو تا آسمان پر تمہارے لئے اجر لکھا جاوے۔ تمہیں چاہئے کہ آریوں کے رشیوں اور بزرگوں کی نسبت ہرگز سختی کے الفاظ استعمال نہ کرو تا وہ بھی خدائے قدوس اور اس کے رسول پاک کو گالیاں نہ دیں کیونکہ ان کو معرفت نہیں دی گئی اس لئے وہ نہیں جانتے کہ کس کو گالیاں دیتے ہیں۔ یاد رکھو کہ ہر ایک جو نفسانی جوشوں کا تابع ہے ممکن نہیں کہ اس کے لبوں سے حکمت اور معرفت کی بات نکل سکے بلکہ ہر ایک قول اس کا فساد کے کیڑوں کا ایک انڈہ ہوتا ہے بجز اس کے اور کچھ نہیں۔ پس اگر تم رُوح القدس کی تعلیم سے بولنا چاہتے ہو تو تمام نفسانی جوش اور نفسانی غضب اپنے اندر سے باہر نکال دو تب پاک معرفت کے بھید تمہارے ہونٹوں پر جاری ہوں گے۔ اور آسمان پر تم دنیا کے لئے ایک مفید چیز سمجھے جاؤ گے اور تمہاری عمریں بڑھائی جائیں گی۔ تمسخر سے بات نہ کرو اور ٹھٹھے سے کام نہ لو۔ اور چاہئے کہ سفلہ پن اور اوباش پن کا تمہارے کلام پر کچھ رنگ نہ ہو تا حکمت کا چشمہ تم پر کھلے۔ حکمت کی باتیں دلوں کو فتح کرتی ہیں لیکن تمسخر اور سفاہت کی باتیں فساد پھیلاتی ہیں۔ جہاں تک ممکن ہو سکے سچی باتوں کو نرمی کے لباس میں بتاؤ تا سامعین کے لئے موجب ملال نہ ہوں۔ جو شخص حقیقت کو نہیں سوچتا اور نفس سرکش کا بندہ ہو کر بد زبانی کرتا ہے اور شرارت کے منصوبے جوڑتا ہے وہ ناپاک ہے۔ اوس کو کبھی خدا کی طرف راہ نہیں ملتی اور نہ کبھی حکمت اور حق کی بات اس کے مُنہ پر جاری ہوتی ہے۔ پس اگر تم چاہتے ہو کہ خدا کی راہیں تم پر کھلیں تو نفسانی جوشوں سے دُور رہو اور کھیل بازی کے طور پر بحثیں مت کرو کہ یہ کچھ چیز نہیں اور وقت ضائع کرنا ہے۔ بدی کا جواب بدی کے ساتھ مت دو نہ قول سے نہ فعل سے تا خدا تمہاری حمایت کرے اور چاہئے کہ درد مند دل کے ساتھ سچائی کو لوگوں کے سامنے پیش کرو نہ ٹھٹھے اور ہنسی سے۔ کیونکہ مُردہ ہے وہ دل جو ٹھٹھا ہنسی اپنا طریق رکھتا ہے۔ اور ناپاک ہے وہ نفس جو حکمت اور سچائی کے طریق کو نہ آپ اختیار کرتا ہے اور نہ دوسرے کو اختیار کرنے دیتا ہے سو تم اگر پاک علم کے وارث بننا چاہتے ہو تو نفسانی جوش سے کوئی بات مُنہ سے مت نکالو کہ ایسی بات حکمت اور معرفت سے خالی ہو گی اور سفلہ اور کمینہ لوگوں اور اوباشوں کی طرح نہ چاہو کہ دشمن کو خواہ نخواہ ہتک آمیز اور تمسخر کا جواب دیا جاوے بلکہ دل کی راستی سے سچا اور پُرحکمت جواب دو تا تم آسمانی اسرار کے وارث ٹھہرو۔
(نسیم دعوت۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ۳۶۳ تا ۳۶۶)تم خو ش ہو اور خوشی سے اُچھلو کہ خدا تمہارے ساتھ ہے۔ اگر تم صدق اور ایمان پر قائم رہو گے تو فرشتے تمہیں تعلیم دیں گے اور آسمانی سکینت تم پر اُترے گی اور رُوح القدس سے مدد دیئے جاؤ گے اور خدا ہر ایک قدم میں تمہارے ساتھ ہو گا اور کوئی تم پر غالب نہیں ہو سکے گا۔ خدا کے فضل کی صبر سے انتظار کرو۔ گالیاں سنو اور چپ رہو۔ ماریں کھاؤ اور صبر کرو۔ اور حتّی المقدور بدی کے مقابلہ سے پرہیز کرو تا آسمان پر تمہاری مقبولیت لکھی جاوے۔ یقینا یاد رکھو کہ جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں اور دل اُون کے خدا کے خوف سے پگھل جاتے ہیں اونہیں کے ساتھ خدا ہوتا ہے اور وہ اون کے دشمنوں کا دشمن ہو جاتا ہے۔ دنیا صادق کو نہیں دیکھتی پر خدا جو علیم و خبیر ہے وہ صادق کو دیکھ لیتا ہے پس اپنے ہاتھ سے اوس کو بچاتا ہے۔ کیا وہ شخص جو سچے دل سے تم سے پیار کرتا ہے اور سچ مچ تمہارے لئے مرنے کو بھی طیار ہوتا ہے اور تمہارے منشاء کے موافق تمہاری اطاعت کرتا ہے۔ اور تمہارے لئے سب کچھ چھوڑتا ہے کیا تم اوس سے پیار نہیں کرتے؟ اور کیا تم اوس کو سب سے عزیز نہیں سمجھتے؟ پس جبکہ تم انسان ہو کر پیار کے بدلہ میں پیار کرتے ہو پھر کیونکر خدا نہیں کرے گا۔ خدا خوب جانتا ہے کہ واقعی اوس کا وفادار دوست کون ہے اور کون غدّار اور دنیا کو مقدّم رکھنے والا ہے۔ سو تم اگر ایسے وفادار ہو جاؤ گے تو تم میں اور تمہارے غیروں میں خدا کا ہاتھ ایک فرق قائم کر کے دکھلائے گا۔ (تذکرۃ الشہادتین۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۶۸)
مَیں اس جگہ اس بات کا اظہار بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ جس قدر لوگ میرے سِلسلہئِ بیعت میں داخل ہیں وہ سب کے سب ابھی اس بات کے لائق نہیں کہ مَیں ان کی نسبت کوئی عمدہ رائے ظاہر کر سکوں بلکہ بعض خشک ٹہنیوں کی طرح نظر آتے ہیں جن کو میرا خداوند جو میرا متولّی ہے مجھ سے کاٹ کر جلنے والی لکڑیوں میں پھینک دے گا۔ بعض ایسے بھی ہیں کہ اوّل اُن میں دلسوزی اور اخلاص بھی تھا مگر اب اُن پر سخت قبض وارد ہے اور اخلاص کی سرگرمی اور مریدانہ محبت کی نُورانیت باقی نہیں رہی بلکہ صرف بلعم کی طرح مکاریاں باقی رہ گئی ہیں۔ اور بوسیدہ دانت کی طرح اب بجز اس کے کسی کام کے نہیں کہ مُنہ سے اُکھاڑ کر پَیروں کے نیچے ڈال دیئے جائیں۔ وہ تھک گئے اور درماندہ ہو گئے اور نابکار دنیا نے اپنے دام تزویر کے نیچے انہیں دبا لیا سو مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ عنقریب مجھ سے کاٹ دیئے جائیں گے بجز اس شخص کے کہ خدا تعالیٰ کا فضل نئے سرے سے اس کا ہاتھ پکڑ لیوے۔ ایسے بھی بہت ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے مجھے دیاہے اور وہ میرے درخت وجود کی سرسبز شاخیں ہیں۔ (فتح اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۳صفحہ ۴۰)
یہ عاجز اگرچہ ایسے کامل دوستوں کے وجود سے خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہے لیکن باوجود اس کے یہ بھی ایمان ہے کہ اگرچہ ایک فرد بھی ساتھ نہ رہے اور سب چھوڑ چھاڑ کر اپنا اپنا راہ لیں تب بھی مجھے کچھ خوف نہیں۔ مَیں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے۔ اگر مَیں پیسا جاؤں اور کچلا جاؤں اور ایک ذرّے سے بھی حقیر تر ہو جاؤں اور ہر ایک طرف سے ایذاء اور گالی اور لعنت دیکھوں تب بھی مَیں آخر فتح یاب ہوں گا۔ مجھ کو کوئی نہیں جانتا مگر وہ جو میرے ساتھ ہے۔ مَیں ہرگز ضائع نہیں ہو سکتا۔ دشمنوں کی کوششیں عبث ہیں اور حاسدوں کے منصوبے لاحاصل ہیں۔
اے نادانو اور اندھو! مجھ سے پہلے کون صادق ضائع ہوا جو مَیں ضائع ہو جاؤں گا۔ کس سچّے وفادار کو خدا نے ذلّت کے ساتھ ہلاک کر دیا جو مجھے ہلاک کرے گا۔ یقینا یاد رکھو اور کان کھول کر سنو کہ میری روح ہلاک ہونے والی رُوح نہیں اور میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں۔ مجھے وہ ہمت اور صدق بخشا گیا ہے جس کے آگے پہاڑ ہیچ ہیں۔ مَیں کسی کی پروا نہیں رکھتا۔ مَیں اکیلا تھا اور اکیلا رہنے پر ناراض نہیں۔ کیا خدا مجھے چھوڑ دے گا؟ کبھی نہیں چھوڑے گا۔ کیا وہ مجھے ضائع کر دے گا؟ کبھی نہیں ضائع کرے گا۔ دشمن ذلیل ہوں گے اور حاسد شرمندہ اور خدا اپنے بندہ کو ہر میدان میں فتح دے گا۔ مَیں اس کے ساتھ وہ میرے ساتھ ہے۔ کوئی چیز ہمارا پیوند توڑ نہیں سکتی اور مجھے اس کی عزّت اور جلال کی قسم ہے کہ مجھے دنیا اور آخرت میں اس سے زیادہ کوئی چیز بھی پیاری نہیں کہ اس کے دین کی عظمت ظاہر ہو۔ اس کا جلال چمکے اور اس کا بول بالا ہو۔ کسی ابتلاء سے اس کے فضل کے ساتھ مجھے خوف نہیں اگرچہ ایک ابتلا نہیں کروڑ ابتلا ہوں۔ ابتلاؤں کے میدان میں اور دکھوں کے جنگل میں مجھے طاقت دی گئی ہے۔ ؎
من نہ آنستم کہ روزے جنگ بینی پشت من
آں منم کاندرمیان خاک و خوں بینی سرے87
اکنون ہزار عذر بیاری گناہ را
مرشوئے کردہ را نبود زیب دختری88
مَیں تو بہت دعا کرتا ہوں کہ میری سب جماعت ان لوگوں میں ہو جائے جو خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور نماز پر قائم رہتے ہیں اور رات کو اُٹھ کر زمین پر گرتے ہیں اور روتے ہیں اور خدا کے فرائض کو ضائع نہیں کرتے اور بخیل اور ممسک اور غافل اور دنیا کے کیڑے نہیں ہیں۔ اور مَیں امید رکھتا ہوں کہ یہ میری دعائیں خدا تعالیٰ قبول کرے گا اور مجھے دکھائے گا کہ اپنے پیچھے مَیں ایسے لوگوں کو چھوڑتا ہوں لیکن وہ لوگ جن کی آنکھیں زنا کرتی ہیں اور جن کے دل پاخانہ سے بدتر ہیں اور جن کو مرنا ہرگز یادنہیں ہے۔ مَیں اور میرا خدا اُن سے بیزار ہیں۔ مَیں بہت خوش ہوں گا اگر ایسے لوگ اس پیوند کو قطع کر لیں کیونکہ خدا اس جماعت کو ایک ایسی قوم بنانا چاہتا ہے جس کے نمونہ سے لوگوں کو خدا یاد آوے اور جو تقویٰ اور طہارت کے اوّل درجہ پر قائم ہوں اور جنہوں نے درحقیقت دین کو دنیا پر مقدم رکھ لیا ہو لیکن وہ مفسد لوگ جو میرے ہاتھ کے نیچے ہاتھ رکھ کر اور یہ کہہ کرکہ ہم نے دین کو دنیا پر مقدم کیا پھر وہ اپنے گھروں میں جا کر ایسے مفاسد میں مشغول ہو جاتے ہیں کہ صرف دنیا ہی دنیا اُن کے دلوں میں ہوتی ہے۔ نہ ان کی نظر پاک ہے۔ نہ ان کا دل پاک ہے اور نہ ان کے ہاتھوں سے کوئی نیکی ہوتی ہے اور نہ ان کے پیر کسی نیک کام کرنے کے لئے حرکت کرتے ہیں۔ اور وہ اس چوہے کی طرح ہیں جو تاریکی میں ہی پرورش پاتا ہے اور اُسی میں رہتا اور اُسی میں مرتا ہے۔ وہ آسمان پر ہمارے سِلسلہ میں سے کاٹے گئے ہیں۔ وہ عبث کہتے ہیں کہ ہم اس جماعت میں داخل ہیں کیونکہ آسمان پر وہ داخل نہیں سمجھے جاتے۔ جو شخص میری اس وصیت کو نہیں مانتا کہ درحقیقت وہ دین کو دنیا پر مقدم کرے اور درحقیقت ایک پاک انقلاب اس کی ہستی پر آ جائے اور درحقیقت وہ پاک دل اور پاک ارادہ ہو جائے اور پلیدی اور حرامکاری کا تمام چولہ اپنے بدن پر سے پھینک دے۔ اور نوع انسان کا ہمدرد اور خدا کا سچا تابعدار ہو جائے اور اپنی تمام خود روی کو الوداع کہہ کر میرے پیچھے ہو لے۔ مَیں اُس شخص کو اس کتّے سے مشابہت دیتا ہوں جو ایسی جگہ سے الگ نہیں ہوتا جہاں مردار پھینکا جاتا ہے اور جہاں سڑے گلے مُردوں کی لاشیں ہوتی ہیں۔ کیا مَیں اِس بات کا محتاج ہوں کہ وہ لوگ زبان سے میرے ساتھ ہوں اور اس طر ح پر دیکھنے کے لئے ایک جماعت ہو۔ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تمام لوگ مجھے چھوڑ دیں اور ایک بھی میرے ساتھ نہ رہے تو میرا خدا میرے لئے ایک اَور قوم پیدا کرے گا جو صدق اور وفا میں اُن سے بہتر ہو گی۔ یہ آسمانی کشش کام کر رہی ہے جو نیک دل لوگ میری طرف دوڑتے ہیں۔ کوئی نہیں جو آسمانی کشش کو روک سکے۔ بعض لوگ خدا سے زیادہ اپنے مکر اور فریب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ شاید ان کے دلوں میں یہ بات پوشیدہ ہو کہ نبوتیں اور رسالتیں سب انسانی مکر ہیں اور اتفاقی طور پر شہرتیں اور قبولتیں ہو جاتی ہیں۔ اِس خیال سے کوئی خیال پلید تر نہیں اور ایسے انسان کو اُس خداپر ایمان نہیں جس کے ارادہ کے بغیر ایک پتا بھی گر نہیں سکتا۔ لعنتی ہیں ایسے دل اور ملعون ہیں ایسی طبیعتیں۔ خدا ان کو ذلّت سے مارے گا کیونکہ وہ خدا کے کارخانہ کے دشمن ہیں۔ ایسے لوگ درحقیقت دہریہ اور خبیث باطن ہوتے ہیں۔ وہ جہنمی زندگی کے دن گذارتے ہیں اور مرنے کے بعد بجز جہنم کی آگ کے اُن کے حصّہ میں کچھ نہیں۔ (تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ ۶۱، ۶۲۔ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۶۱۹، ۶۲۰ بار دوم)
مَیں خود جو اس راہ کا پورا تجربہ کار ہوں اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور فیض سے مَیں نے اِس راحت اور لذّت سے حظ اٹھایا ہے یہی آرزو رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کے لئے اگر مر کے پھر زندہ ہوں اور پھر مروں اور زندہ ہوں تو ہر بار میرا شوق ایک لذّت کے ساتھ بڑھتا ہی جاوے۔
پس مَیں چونکہ خود تجربہ کار ہوں اور تجربہ کر چکا ہوں اور اس وقف کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ جوش عطا فرمایا ہے کہ اگر مجھے یہ بھی کہہ دیا جاوے کہ اس وقف میں کوئی ثواب اور فائدہ نہیں ہے بلکہ تکلیف اور دُکھ ہو گا تب بھی مَیں اسلام کی خدمت سے رُک نہیں سکتا۔ اس لئے مَیں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اپنی جماعت کو وصیت کروں اور یہ بات پہونچا دوں، آئندہ ہر ایک کا اختیار ہے کہ وہ اسے سُنے یا نہ سُنے کہ اگر کوئی نجات چاہتا ہے اور حیاتِ طیبہ یا ابدی زندگی کا طلبگا ر ہے تو وہ اللہ کے لئے اپنی زندگی وقف کرے اور ہر ایک اس کوشش اور فکر میں لگ جاوے کہ وہ اس درجہ اور مرتبہ کو حاصل کرے کہ کہہ سکے کہ میری زندگی، میری موت، میری قربانیاں، میری نمازیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اس کی رُوح بول اٹھے اَسۡلَمۡتُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۔ جب تک انسان خدا میں کھویا نہیں جاتا۔ خدا میں ہو کر نہیں مرتا وہ نئی زندگی پا نہیں سکتا۔
پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تم دیکھتے ہو کہ خدا کے لئے زندگی کا وقف مَیں اپنی زندگی کی اصل اور غرض سمجھتا ہوں۔ پھر تم اپنے اندر دیکھو کہ تم میں سے کتنے ہیں جو میرے اس فعل کو اپنے لئے پسند کرتے اور خدا کے لئے زندگی وقف کرنے کو عزیز رکھتے ہیں۔
(الحکم مورخہ ۳۱؍ اگست ۱۹۰۰ء صفحہ ۳، ۴۔ ملفوظات جلداوّل صفحہ ۳۷۰ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)وہ نام جو اس سِلسلہ کے لئے موزوں ہے جس کو ہم اپنے لئے اور اپنی جماعت کے لئے پسند کرتے ہیں وہ نام مسلمان فرقہ احمدیہ ہے۔ اور جائز ہے کہ اس کو احمدی مذہب کے مسلمان کے نام سے بھی پکاریں …… اور اس فرقہ کا نام مسلمان فرقہ احمدیہ اس لئے رکھا گیا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام تھے ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرا احمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اسم محمدؐ جلالی نام تھا۔ اور اس میں یہ مخفی پیشگوئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان دشمنوں کو تلوار کے ساتھ سزا دیں گے جنہوں نے تلوار کے ساتھ اسلام پر حملہ کیا اور صد ہا مسلمانوں کو قتل کیا۔ لیکن اسم احمد جمالی نام تھا جس سے یہ مطلب تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں آشتی اور صلح پھیلائیں گے۔ سو خدا نے ان دوناموں کی اس طرح پر تقسیم کی کہ اوّل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکّہ کی زندگی میں اسم احمد کا ظہور تھا۔ اور ہر طرح سے صبر اور شکیبائی کی تعلیم تھی اور پھر مدینہ کی زندگی میں اسم محمد کا ظہور ہوا اور مخالفوں کی سرکوبی خدا کی حکمت اور مصلحت نے ضروری سمجھی لیکن یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ آخری زمانہ میں پھر اسم احمد ظہور کرے گا اور ایسا شخص ظاہر ہو گا جس کے ذریعہ سے احمدی صفات یعنی جمالی صفات ظہور میں آئیں گی اور تمام لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ پس اسی وجہ سے مناسب معلوم ہوا کہ اس فرقہ کا نام فرقہ احمدیہ رکھا جائے۔ تا اس نام کو سُنتے ہی ہر ایک شخص سمجھ لے کہ یہ فرقہ دنیا میں آشتی اور صلح پھیلانے آیا ہے اور جنگ اور لڑائی سے اس فرقہ کو کچھ سروکار نہیں۔ (تبلیغ رسالت جلدنہم صفحہ ۹۰، ۹۱۔ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۴۷۲، ۴۷۳ بار دوم)
لوگوں نے جو اپنے نام حنفی شافعی وغیرہ رکھے ہیں یہ سب بدعت ہیں۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ہی نام تھے محمد اور احمد صلی اللہ علیہ وسلم … حضرت موسٰیؑ نے آنحضرتؐ کا نام محمّد بتلایا۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ کیونکہ حضرت موسٰیؑ خود بھی جلالی رنگ میں تھے۔ اور حضرت عیسٰیؑ نے آپ کا نام احمد بتلایا کیونکہ وہ خود بھی ہمیشہ جمالی رنگ میں تھے۔ اب چونکہ ہمارا سِلسلہ بھی جمالی رنگ میں ہے اس واسطے اس کا نام احمدی ہوا۔ (الحکم مورخہ ۳۱؍ جنوری ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۱۔ ملفوظات جلد اوّل صفحہ۴۴۳، ۴۴۴ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
بحث کرنے والوں کے لئے یہ بہتر طریق ہو گاکہ کسی مذہب پر بیہودہ طور پر اعتراض نہ کریں بلکہ اُن کی مسلّم اور معتبر کتابوں کی رو سے ادب کے ساتھ اپنے شبہات پیش کریں اور ٹھٹھے اور ہنسی اور توہین سے اپنے تئیں بچاویں اور مباحثات میں حکیمانہ طرز اختیار کریں اور ایسے اعتراض بھی نہ کریں جو ان کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں …… غرض ایسے اعتراض جن میں معقول تقریر کے ساتھ کسی فرقہ کے عقائد کی غلطی کا اظہار ہو ہر ایک محقق کا حق ہے جو نرمی اور ادب کے ساتھ پیش کرے۔ اور حتی الوسع یہ کوشش ہو کہ وہ تمام اعتراضات علمی رنگ میں ہوں تا لوگوں کو اُن سے فائدہ پہنچ سکے۔ اور کوئی مفسدہ اور اشتعال پیدا نہ ہو۔ (اشتہار واجب الاظہار، مندرجہ کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۱۵، ۱۶)
مَیں ان مولویوں کو غلطی پر جانتا ہوں جو علوم جدیدہ کی تعلیم کے مخالف ہیں۔ وہ دراصل اپنی غلطی اور کمزوری کو چھپانے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ اُن کے ذہن میں یہ بات سمائی ہوئی ہے کہ علوم جدیدہ کی تحقیقات اسلام سے بدظن اور گمراہ کر دیتی ہے اور وہ یہ قرار دیئے بیٹھے ہیں کہ گویا عقل اور سائنس اسلام سے بالکل متضاد چیزیں ہیں۔ چونکہ خود فلسفہ کی کمزوریوں کو ظاہر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اس لئے اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لئے یہ بات تراشتے ہیں کہ علوم جدیدہ کا پڑھنا ہی جائز نہیں۔ اُن کی رُوح فلسفہ سے کانپتی ہے اور نئی تحقیقات کے سامنے سجدہ کرتی ہے۔ مگر وہ سچا فلسفہ اُن کو نہیں ملا جو الہام الٰہی سے پیدا ہوتا ہے جو قرآن کریم میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے وہ اُن کو اور صرف اُنہیں کو دیا جاتا ہے جو نہایت تذلّل اور نیستی سے اپنے تئیں اللہ تعالیٰ کے دروازے پر پھینک دیتے ہیں۔ جن کے دل اور دماغ سے متکبّرانہ خیالات کا تعفّن نکل جاتا ہے اور جو اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے گِڑگڑا کر سچی عبودیت کا اقرار کرتے ہیں۔ پس ضرورت ہے کہ آج کل دین کی خدمت اور اعلائے کلمۃ اللہ کی غرض سے علوم جدیدہ حاصل کرو اور بڑے جدوجہد سے حاصل کرو۔ لیکن مجھے یہ بھی تجربہ ہے جو بطور انتباہ بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ جو لوگ ان علوم ہی میں یکطرفہ پڑ گئے اور ایسے محو اور منہمک ہوئے کہ کسی اہل دل اور اہل ذکر کے پاس بیٹھنے کا اُن کو موقعہ نہ ملا اور خود اپنے اندر الٰہی نور نہ رکھتے تھے وہ عموماً ٹھوکر کھا گئے اور اسلام سے دُور جا پڑے اور بجائے اس کے کہ ان علوم کو اسلام کے تابع کرتے اْلٹا اسلام کو علوم کے ماتحت کرنے کی بے سود کوشش کر کے اپنے زعم میں دینی اور قومی خدمات کے متکفّل بن گئے۔ مگر یاد رکھو کہ یہ کام وہی کر سکتا ہے یعنی دینی خدمت وہی بجا لا سکتا ہے جو آسمانی روشنی اپنے اندر رکھتا ہو۔ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۴۳ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
مَیں یہ بھی اپنی جماعت کو نصیحت کرنی چاہتا ہوں کہ وہ عربی سیکھیں کیونکہ عربی کی تعلیم کے بدوں قرآن کریم کا مزا نہیں آتا۔ پس ترجمہ پڑھنے کے لئے ضروری اور مناسب ہے کہ تھوڑا تھوڑا عربی زبان کو سیکھنے کی کوشش کریں۔ آج کل تو آسان آسان طریق عربی پڑھنے کے نکل آئے ہیں۔ قرآن شریف کا پڑھنا جبکہ ہر مسلمان کا فرض ہے پھر اس کے کیا معنے ہیں کہ عربی زبان سیکھنے کی کوشش نہ کی جاوے اور ساری عمر انگریزی اور دوسری زبانوں کے حاصل کرنے میں کھو دی جاوے۔ (الحکم مورخہ ۱۲؍ مئی ۱۸۹۹ء صفحہ ۴۔ ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۱۹۶ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
مَیں بڑی تاکید سے اپنی جماعت کو جہاں کہیں وہ ہیں منع کرتا ہوں کہ وہ کسی قسم کا مباحثہ مقابلہ اور مجادلہ نہ کریں۔ اگر کہیں کسی کو کوئی درشت اور ناملائم بات سننے کا اتفاق ہو تو اعراض کرے۔ مَیں بڑے وثوق اور سچے ایمان سے کہتا ہوں کہ مَیں دیکھ رہا ہوں کہ ہماری تائید میں آسمان پر خاص تیاری ہو رہی ہے۔ ہماری طرف سے ہر پہلو کے لحاظ سے لوگوں پر حجت پوری ہو چکی ہے۔ اس لئے اب خدا تعالیٰ نے اپنی طرف سے اس کارروائی کے کرنے کا ارادہ فرمایا ہے جو وہ اپنی سنتِ قدیم کے موافقِ اتمام حجت کے بعد کیا کرتا ہے۔ مجھے خوف ہے کہ اگر ہماری جماعت کے لوگ بد زبانیوں اور فضول بحثوں سے باز نہ آئیں گے تو ایسا نہ ہو کہ آسمانی کارروائی میں کوئی تاخیر اور روک پیدا ہو جاوے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عادت ہے کہ ہمیشہ اس کا عتاب ان لوگوں پر ہوتا ہے جن پر اس کے فضل اور عطایات بے شمار ہوں اور جنہیں وہ اپنے نشانات دکھا چکا ہوتا ہے وہ ان لوگوں کی طرف کبھی متوجہ نہیں ہوتا کہ انہیں عتاب یا خطاب یا ملامت کرے جن کے خلاف اس کاآخری فیصلہ نافذ ہونا ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے۔ فَاصۡبِرۡ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الۡعَزۡمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسۡتَعۡجِلۡ لَّہُمۡ اور فرماتا ہے وَلَا تَکُنۡ کَصَاحِبِ الۡحُوۡتِ اور فَاِنِ اسۡتَطَعۡتَ اَنۡ تَبۡتَغِیَ نَفَقًا فِی الۡاَرۡضِ الآیۃ۔ یہ حجت آمیز عتاب اس بات پر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت جلد فیصلہ کفار کے حق میں چاہتے تھے مگر خدا تعالیٰ اپنے مصالح اور سُنن کے لحاظ سے بڑے توقف اور حلم کے ساتھ کام کرتا ہے۔ لیکن آخرکار آنحضرت صلی اللہ علیہ کے دشمنوں کو ایسا کچلا اور پیسا کہ اُن کا نام و نشان مٹا دیا۔ اِسی طرح پر ممکن ہے کہ ہماری جماعت کے بعض لوگ طرح طرح کی گالیاں، افترا پردازیاں اور بدزبانیاں خداتعالیٰ کے سچے سِلسلے کی نسبت سُن کر اضطراب اور استعجال میں پڑیں مگر انہیں خدا تعالیٰ کی اس سنّت کو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ برتی گئی ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے۔ اس لئے میں پھر اور باربار بتاکید حکم کرتا ہوں کہ جنگ وجدال کے مجمعوں تحریکوں اور تقریبوں سے کنارہ کشی کرو۔ اس لئے کہ جو کام تم کرنا چاہتے ہو یعنی دشمنوں پر حجت پوری کرنا وہ اب خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔
تمہارا کام اب یہ ہونا چاہئے کہ دعاؤں اور استغفار اور عبادتِ الٰہی اور تزکیہ و تصفیہ نفس میں مشغول ہو جاؤ۔ اس طرح اپنے تئیں مستحق بناؤ۔ خدا تعالیٰ کی ان عنایات اور توجہات کا جن کا اس نے وعدہ فرمایا ہے اگرچہ خدا تعالیٰ کے میرے ساتھ بڑے بڑے وعدے اور پیشگوئیاں ہیں جن کی نسبت یقین ہے کہ وہ پوری ہوں گی مگر تم خواہ نخواہ اُن پر مغرور نہ ہو جاؤ ہر قسم کے حسد، کینہ، بغض، غیبت اور کبر اور رعونت اور فسق و فجور کی ظاہری اور باطنی راہوں اور کسل اور غفلت سے بچو اور خوب یاد رکھو کہ انجام کار ہمیشہ متقیوں کا ہوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَالۡعَاقِبَۃُ لِلۡمُتَّقِیۡنَ اس لئے متقی بننے کی فکر کرو۔
(الحکم مورخہ ۳۱؍ مئی ۱۹۰۲ء صفحہ۵۔ ملفوظات جلددوم صفحہ۲۱۱، ۲۱۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)اِک نہ اِک دن پیش ہو گا تو فنا کے سامنے
چل نہیں سکتی کسی کی کچھ قضا کے سامنے
چھوڑنی ہو گی تجھے دنیائے فانی ایک دن
ہر کوئی مجبور ہے حکمِ خدا کے سامنے
مستقل رہنا ہے لازم اے بشر تجھ کو سدا
رنج و غم یاس و الم فکر و بلا کے سامنے
بارگاہِ ایزدی سے تو نہ یوں مایوس ہو
مشکلیں کیا چیز ہیں مشکل کشا کے سامنے
حاجتیں پوری کریں گے کیا تیری عاجز بشر
کر بیاں سب حاجتیں حاجت روا کے سامنے
چاہئے تجھ کو مٹانا قلب سے نقش دوئی
سر جھکا بس مالک ارض و سما کے سامنے
چاہئے نفرت بدی سے اور نیکی سے پیار
ایک دن جانا ہے تجھ کو بھی خدا کے سامنے
راستی کے سامنے کب جھوٹ پھلتا ہے بھلا
قدر کیا پتھر کی لعلِ بے بہا کے سامنے
باب سوم
’’مجھے بتلایا گیا ہے کہ تمام دینوں میں سے دین اسلام ہی سچا ہے۔ مجھے فرمایا گیا ہے کہ تمام ہدایتوں میں سے صرف قرآنی ہدایت ہی صحت کے کامل درجہ پر انسانی ملاوٹوں سے پاک ہے۔ مجھے سمجھایا گیا ہے کہ تمام رسولوں میں سے کامل تعلیم دینے والا اور اعلیٰ درجہ کی پاک اور پُرحکمت تعلیم دینے والا اور انسانی کمالات کا اپنی زندگی کے ذریعہ سے اعلیٰ نمونہ دکھلانے والا صرف حضرت سیّدنا و مولانا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔‘‘
’’انسان کے وجود کی اصل غرض معرفتِ باری تعالیٰ ہے۔‘‘
زِ عشاق فرقاں و پیغمبریم
بدیں آمدیم و بدیں بگذریم89
جن پانچ چیزوں پر اسلام کی بناء رکھی گئی ہے وہ ہمارا عقیدہ ہے اور جس خدا کی کلام یعنی قرآن کو پنجہ مارنا حکم ہے ہم اس کو پنجہ مار رہے ہیں اور فاروق رضی اللہ عنہ کی طرح ہماری زبان پر حَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہِ ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرح اختلاف اور تناقض کے وقت جب حدیث اور قرآن میں پیدا ہو قرآن کو ہم ترجیح دیتے ہیں۔ بالخصوص قصوں میں جو بالاتفاق نسخ کے لائق بھی نہیں ہیں اور ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبودنہیں اور سیدنا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔ اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ ملائک حق اور حشر اجساد حق اور روز حساب حق اور جنت حق اور جہنم حق ہے اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو کچھ اللہ شانہٗ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اور جو کچھ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب بلحاظ بیان مذکورہ بالا حق ہے اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو شخص اس شریعت اسلام میں سے ایک ذرّہ کم کرے یا ایک ذرّہ زیادہ کرے یا ترکِ فرائض اور اِبَاحَت کی بنیاد ڈالے وہ بے ایمان اور اسلام سے برگشتہ ہے اور ہم اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ سچے دل سے اس کلمہ طیبہ پر ایمان رکھیں کہ لَا الٰہ الّا اللّٰہ محمّد رسول اللّٰہ۔ اور اِسی پر مریں اور تمام انبیاء اور تمام کتابیں جن کی سچائی قرآن شریف سے ثابت ہے ان سب پر ایمان لاویں اور صوم اور صلوٰۃ اور زکوٰۃ اور حج اور خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے مقرر کردہ تمام فرائض کو فرائض سمجھ کر اور تمام منہیات کو منہیات سمجھ کر ٹھیک ٹھیک اسلام پر کاربند ہوں۔ غرض وہ تمام امور جن پر سلف صالح کو اعتقادی اور عملی طور پر اجماع تھا اور وہ امور جو اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں ان سب کا ماننا فرض ہے اور ہم آسمان اور زمین کو اس بات پر گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے۔ (ایاّم الصلح۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۳۲۳)
مجھے اللہ جلّشانہٗ کی قسم کہ مَیں کافر نہیں لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ میرا عقیدہ ہے اور لٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت میرا ایمان ہے۔ مَیں اپنے اس بیان کی صحت پر اس قدر قسمیں کھاتا ہوں جس قدر خدا تعالیٰ کے پاک نام ہیں۔ اور جس قدر قرآن کریم کے حرف ہیں۔ اور جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا تعالیٰ کے نزدیک کمالات ہیں۔ کوئی عقیدہ میرا اللہ اور رسول کے فرمودہ کے برخلاف نہیں۔ اور جو کوئی ایسا خیال کرتا ہے خود اس کی غلط فہمی ہے اور جو شخص مجھے اب بھی کافر سمجھتا ہے اور تکفیر سے باز نہیں آتا وہ یقینا یاد رکھے کہ مرنے کے بعد اس کو پُوچھا جائے گا۔ مَیں اللہ جَلَّ شَانُہٗ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا خدا اور رسول پر وہ یقین ہے کہ اگر اس زمانہ کے تمام ایمانوں کو ترازو کے ایک پلّہ میں رکھا جائے اور میرا ایمان دوسرے پلّہ میں تو بفضلہ تعالیٰ یہی پلّہ بھاری ہو گا۔ (کرامات الصّادقین۔ روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ۶۷)
مَیں اپنی تعلیم کو قریباً اُنیس ۱۹ برس سے شائع کر رہا ہوں …… اس تعلیم کا خلاصہ یہی ہے کہ خدا کو واحد لاشریک سمجھو اور خدا کے بندوں سے ہمدردی اختیار کرو اور نیک چلن اور نیک خیال انسان بن جاؤ۔ ایسے ہو جاؤ کہ کوئی فساد اور شرارت تمہارے دل کے نزدیک نہ آ سکے۔ جھوٹ مت بولو، افتراء مت کرو اور زبان اور ہاتھ سے کسی کو ایذا مت دو اور ہر ایک قسم کے گناہ سے بچتے رہو اور نفسانی جذبات سے اپنے تئیں روکے رکھو۔ کوشش کرو کہ تا تم پاک دل اور بے شر ہو جاؤ۔ وہ گورنمنٹ یعنی گورنمنٹ برطانیہ جس کے زیر سایہ تمہارے مال اور آبروئیں اور جانیں محفوظ ہیں بصدق اس کے وفادار تابعدار رہو اور چاہئے کہ تمام انسانوں کی ہمدردی تمہارا اصول ہو۔ اور اپنے ہاتھوں اور اپنی زبانوں اور اپنے دل کے خیالات کو ہر ایک ناپاک منصوبہ اور فساد انگیز طریقوں اور خیانتوں سے بچاؤ۔ خدا سے ڈرو اور پاک دلی سے اُس کی پرستش کرو اور ظلم اور تعدّی اور غبن اور رشوت اور حق تلفی اور بے جا طرفداری سے باز رہو اور بد صحبت سے پرہیز کرو۔ اور آنکھوں کو بدنگاہوں سے بچاؤ اور کانوں کوغیبت سُننے سے محفوظ رکھو اور کسی مذہب اور کسی قوم اور کسی گروہ کے آدمی کو بدی اور نقصان رسانی کا ارادہ مت کرو۔ اور ہر ایک کے لئے سچّے ناصح بنو۔ اور چاہئے کہ فساد انگیز لوگوں اور شریر اور بدمعاشوں اور بدچلنوں کو ہرگز تمہار ی مجلس میں گذر نہ ہو۔ ہر ایک بدی سے بچو اور ہر ایک نیکی کے حاصل کرنے کے لئے کوشش کرو اور چاہئے کہ تمہارے دل فریب سے پاک اور تمہارے ہاتھ ظلم سے بری اور تمہاری آنکھیں ناپاکی سے منزہ ہوں۔ اور تم میں کبھی بدی اور بغاوت کا منصوبہ نہ ہونے پاوے۔ اور چاہئے کہ تم اُس خدا کے پہچاننے کے لئے بہت کوشش کرو جس کا پانا عین نجات اور جس کا ملنا عین رستگاری ہے۔ وہ خدا اسی پر ظاہر ہوتا ہے جو دل کی سچائی اور محبت سے اس کو ڈھونڈتا ہے وہ اُسی پر تجلّی فرماتا ہے جو اُسی کا ہو جاتا ہے۔ وہ دل جو پاک ہیں وہ اس کا تخت گاہ ہیں اور وہ زبانیں جو جھوٹ اور گالی اور یاوہ گوئی سے منزہ ہیں وہ اس کی وحی کی جگہ ہیں۔ اور ہر ایک جو اس کی رضا میں فنا ہوتا ہے اس کی اعجازی قدرت کا مظہر ہو جاتا ہے۔ (کشف الغطاء۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۱۸۷، ۱۸۸)
یاد رہے کہ ہمارا یہ ایمان ہے کہ آخری کتاب اور آخری شریعت قرآن ہے اور بعد اس کے قیامت تک ان معنوں سے کوئی نبی نہیں ہے جو صاحب شریعت ہو یا بلاواسطہ متابعت آنحضرت صلعم وحی پا سکتا ہو بلکہ قیامت تک یہ دروازہ بند ہے۔ اور متابعتِ نبوی سے نعمتِ وحی حاصل کرنے کے لئے قیامت تک دروازے کھلے ہیں۔ وہ وحی جو اتباع کا نتیجہ ہے کبھی منقطع نہیں ہو گی مگر نبوت شریعت والی یا نبوتِ مستقلہ منقطع ہو چکی ہے۔ وَلَاسَبِیْلَ اِلَیْھَا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ وَ مَنْ قَالَ اِنِّیْ لَسْتُ مِنْ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَادَّعٰی اَنَّہٗ نَبِیٌّ صَاحِبُ الشَّرِیْعَۃِ اَوْمِنْ دُوْنِ الشَّرِیْعَۃِ وَلَیْسَ مِنَ الْاُمَّۃِ فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ رَجُلٍ غَمَّرَہُ السَّیْلُ الْمُنْھَمِرُ فَاَلْقَاہُ وَرَاءَہٗ وَلَمْ یُغَادِرْ حَتّٰی مَاتَ۔
اِ س کی تفصیل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جس جگہ یہ وعدہ فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اسی جگہ یہ اشارہ بھی فرما دیا ہے کہ آنجناب اپنی روحانیت کی رو سے اُن صلحاء کے حق میں باپ کے حکم میں ہیں جن کی بذریعہ متابعت تکمیل نفوس کی جاتی ہے اور وحی الٰہی اور شرف مکالمات کا اُن کو بخشا جاتا ہے جیسا کہ وہ جَلَّ شَانُہٗ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔
یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور خاتم الانبیاء ہے۔ اب ظاہر ہے کہ لٰکِنْ کا لفظ زبان عرب میں استدراک کے لئے آتا ہے یعنی تدارک مافات کے لئے سو اس آیت کے پہلے حصہ میں جو امر فوت شدہ قرار دیا گیا تھا یعنی جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے نفی کی گئی تھی وہ جسمانی طور سے کسی مرد کا باپ ہونا تھا سو لٰکِنْکے لفظ کے ساتھ ایسے فوت شدہ امر کا اس طرح تدارک کیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا گیا جس کے یہ معنے ہیں کہ آپ کے بعد براہ راست فیوض نبوت منقطع ہو گئے اور اب کمال نبوت صرف اسی شخص کو ملے گا جو اپنے اعمال پر اتباعِ نبوی کی مُہر رکھتا ہو گا اور اس طرح پر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا اور آپ کا وارث ہو گا۔ غرض اس آیت میں ایک طور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے باپ ہونے کی نفی کی گئی اور دوسرے طور سے باپ ہونے کا اثبات بھی کیا گیا تا وہ اعتراض جس کا ذکر آیت اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الۡاَبۡتَرُ میں ہے دُور کیا جائے۔ ماحصل اس آیت کا یہ ہوا کہ نبوت گو بغیر شریعت ہو اس طرح پر تو منقطع ہے کہ کوئی شخص براہ راست مقامِ نبوت حاصل کر سکے لیکن اس طرح پر ممتنع نہیں کہ وہ نبوت چراغ نبوت محمدیہ سے مکتسب اور مستفاض ہو یعنی ایسا صاحب کمال ایک جہت سے تو اُمتی ہو اور دوسری جہت سے بوجہ اکتساب انوار محمدیہ نبوت کے کمالات بھی اپنے اندررکھتا ہو اور اگر اس طور سے بھی تکمیل نفوسِ مستعدہ اُمّت کی نفی کی جائے تو اس سے نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دونوں طور سے اَبْتَرْ ٹھہرتے ہیں نہ جسمانی طور پر کوئی فرزندنہ روحانی طور پر کوئی فرزند اور معترض سچا ٹھہرتا ہے جو آنحضرت صلعم کا نام اَبْتَرْ رکھتا ہے۔
(ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی۔ روحانی خزائن جلد ۱۹صفحہ۲۱۳، ۲۱۴)اِس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں مگر میں اس کو بھی پسندنہیں کرتا کہ اِس میں عام مسلمانوں کو دھوکا لگ جانے کا احتمال ہے لیکن وہ مکالمات اور مخاطبات جو اللہ جل شانہٗ کی طرف سے مجھ کو ملے ہیں جن میں یہ لفظ نبوت اور رسالت کا بکثرت آیا ہے۔ اُن کو مَیں بوجہ مامور ہونے کے مخفی نہیں رکھ سکتا لیکن بار بار کہتا ہوں کہ ان الہامات میں جو لفظ مرسل یا رسول یا نبی کا میری نسبت آیا ہے وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل نہیں ہے اور اصل حقیقت جس کی مَیں علیٰ رؤس الاشہاد گواہی دیتا ہوں یہی ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آ ئے گا۔ نہ کوئی پُرانا اور نہ کوئی نیا۔ وَمَنْ قَالَ بَعْدَ رَسُوْلِنَا وَ سَیِّدِنَا اِنِّیْ نَبِیٌّ اَوْ رَسُوْلٌ عَلٰی وَجْہِ الْحَقِیْقَۃِ وَالْاِفْتِرَائِ وَتَرْکِ الْقُرْاٰنِ وَاَحْکَامِ الشَّرِیْعَۃِ الْغَرَّائِ فَھُوَکَافِرٌ کَذَّابٌ۔
غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامنِ فیوض سے اپنے تئیں الگ کرکے اور اس پاک سرچشمہ سے جُدا ہو کر آپ ہی براہ راست نبی اللہ بننا چاہے تو وہ مُلْحِد بے دین ہے اور غالبًا ایسا شخص اپنا کوئی نیا کلمہ بنائے گا۔ اور عبادات میں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا۔ اور احکام میں کچھ تغیر و تبدل کردے گا۔ پس بلاشبہ وہ مسیلمہ کذّاب کا بھائی ہے اور اس کے کافر ہونے میں کچھ شک نہیں۔ ایسے خبیث کی نسبت کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ قرآن شریف کو مانتا ہے۔
لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ جیسا کہ ابھی ہم نے بیان کیا ہے بعض اوقات خدائے تعالیٰ کے الہامات میں ایسے الفاظ استعارہ اور مجاز کے طور پر اُس کے بعض اولیاء کی نسبت استعمال ہو جاتے ہیں اور وہ حقیقت پر محمول نہیں ہوتے۔ سارا جھگڑا یہ ہے جس کو نادان متعصب اَور طرف کھینچ کر لے گئے ہیں۔ آنے والے مسیح موعود کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبان مقدس حضرت نبویؐ سے نبی اللہ نکلا ہے وہ انہی مجازی معنوں کی رو سے ہے جو صوفیاء کرام کی کتابوں میں مسلّم اور ایک معمولی محاورہ مکالماتِ الٰہیہ کا ہے۔ ورنہ خاتم الانبیاء کے بعدنبی کیسا؟
(انجام آتھم۔ روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۲۷، ۲۸ حاشیہ)ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں
دل سے ہیں خدّام ختم المرسلین
شرک اور بدعت سے ہم بیزار ہیں
خاکِ راہِ احمد مختار ہیں
سارے حکموں پر ہمیں ایمان ہے
جان و دل اس راہ پر قربان ہے
دے چکے دل اب تنِ خاکی رہا
ہے یہی خواہش کہ ہو وہ بھی فدا
خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ دنیا میں جس قدر نبیوں کی معرفت مذہب پھیل گئے ہیں اور استحکام پکڑ گئے ہیں اور ایک حصّہء دنیا پر محیط ہو گئے ہیں اور ایک عمر پا گئے ہیں اور ایک زمانہ اُن پر گذر گیا ہے اُن میں سے کوئی مذہب بھی اپنی اصلیّت کے رو سے جھوٹا نہیں۔ اور نہ اُن نبیوں میں سے کوئی نبی جھوٹا ہے۔ کیونکہ خدا کی سنّت ابتدا سے اسی طرح پر واقع ہے کہ وہ ایسے نبی کے مذہب کو جو خدا پر افترا کرتا ہے اور خدا کی طرف سے نہیں آیا بلکہ دلیری سے اپنی طرف سے باتیں بناتا ہے کبھی سرسبز ہونے نہیں دیتا۔ اور ایسا شخص جوکہتا ہے کہ مَیں خدا کی طرف سے ہوں حالانکہ خدا خوب جانتا ہے کہ وہ اس کی طرف سے نہیں ہے۔ خدا اُس بے باک کو ہلاک کرتا ہے اور اس کا تمام کاروبار درہم برہم کیا جاتا ہے اور اُس کی تمام جماعت متفرق کی جاتی ہے اور اُس کا پچھلا حال پہلے سے بدتر ہوتا ہے کیونکہ اس نے خدا پر جھوٹ بولا اور دلیری سے خدا پر افتراء کیا۔ پس خدا اس کو وہ عظمت نہیں دیتا جو راستبازوں کو دی جاتی ہے اور نہ وہ قبولیت اور استحکام بخشتا ہے جو صادق نبیوں کے لئے مقرر ہے۔ (تحفہ قیصریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ۲۵۶، ۲۵۷)
یہ اصول نہایت پیارا اور امن بخش اور صلح کاری کی بنیاد ڈالنے والا اور اخلاقی حالتوں کو مدد دینے والا ہے کہ ہم ان تمام نبیوں کو سچا سمجھ لیں جو دنیا میں آئے۔ خواہ ہند میں ظاہر ہوئے یا فارس میں یا چین میں یا کسی اور ملک میں اور خدا نے کروڑ ہا دلوں میں اُن کی عزت اور عظمت بٹھا دی اور ان کے مذہب کی جڑ قائم کر دی اور کئی صدیوں تک وہ مذہب چلا آیا۔ یہی اصول ہے جو قرآن نے ہمیں سکھلایا۔ اسی اصول کے لحاظ سے ہم ہر ایک مذہب کے پیشوا کو جن کی سوانح اس تعریف کے نیچے آ گئی ہیں عزت کی نگہ سے دیکھتے ہیں گو وہ ہندوؤں کے مذہب کے پیشوا ہوں یا فارسیوں کے مذہب کے یا چینیوں کے مذہب کے یا یہودیوں کے مذہب کے یا عیسائیوں کے مذہب کے۔ مگر افسوس کہ ہمار ے مخالف ہم سے یہ برتاؤ نہیں کر سکتے۔ اور خدا کا یہ پاک اور غیر متبدل قانون اُن کو یادنہیں کہ وہ جھوٹے نبی کو وہ برکت اور عزت نہیں دیتا جو سچے کو دیتا ہے اور جھوٹے نبی کا مذہب جڑ نہیں پکڑتا اور نہ عمر پاتا ہے جیسا کہ سچے کا جڑ پکڑتا ہے اور عمر پاتا ہے۔ پس ایسے عقیدہ والے لوگ جو قوموں کے نبیوں کو کاذب قرار دے کر بُرا کہتے رہتے ہیں ہمیشہ صلح کاری اور امن کے دشمن ہوتے ہیں کیونکہ قوموں کے بزرگوں کو گالیاں نکالنا اس سے بڑھ کر فتنہ انگیز اور کوئی بات نہیں۔ بسا اوقات انسان مرنا بھی پسند کرتا ہے مگر نہیں چاہتا کہ اس کے پیشوا کو بُرا کہا جائے۔ اگر ہمیں کسی مذہب کی تعلیم پر اعتراض ہو تو ہمیں نہیں چاہئے کہ اس مذہب کے نبی کی عزت پر حملہ کریں اور نہ یہ کہ اس کو بُرے الفاظ سے یاد کریں بلکہ چاہئے کہ صرف اس قوم کے موجودہ دستورالعمل پر اعتراض کریں۔ اور یقین رکھیں کہ وہ نبی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے کروڑ ہا انسانوں میں عزت پا گیا اور صدہا برسوں سے اس کی قبولیت چلی آتی ہے یہی پختہ دلیل اس کے منجانب اللہ ہونے کی ہے۔ اگر وہ خدا کا مقبول نہ ہوتا تو اِس قدر عزت نہ پاتا۔ مفتری کو عزت دینا اور کروڑ ہا بندوں میں اس کے مذہب کو پھیلانا اور زمانہ دراز تک اُس کے مفتریانہ مذہب کو محفوظ رکھنا خدا کی عادت نہیں ہے۔ سو جو مذہب دنیا میں پھیل جائے اور جم جائے اور عزت اور عمر پا جائے وہ اپنی اصلیت کے رُو سے ہرگز جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ (تحفہ قیصریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۲صفحہ۲۵۹، ۲۶۰)
یہ بات فی الواقع صحیح اور درست ہے کہ ابتدائے آفرینش میں بھی ایک الہامی کتاب نوع انسان کو ملی تھی مگر وہ وید ہرگز نہیں ہے اور موجودہ وید کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا اُس پاک ذات کی توہین ہے۔ (چشمہء معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ۷۴)
موجودہ وید بلاشبہ ایک گمراہ کرنے والی کتاب ہے جس میں پرمیشر کا بھی پتہ نہیں لگتا اور اس قدر مخلوق چیزوں کی اس میں پرستش کی تعلیم ہے کہ گویا وہ مخلوق پرستی کی ایک دوکان ہے۔ پس جس جگہ ہم وید پر کوئی حملہ کرتے ہیں یا اس کی تکذیب کے دلائل پیش کرتے ہیں اس جگہ یہی موجودہ وید مراد ہے جو سراسر محرّف مبدّل ہے۔ نہ وہ اصل وید کہ جو کسی زمانہ میں خدا کی طرف سے آیا تھا۔ اور ہم خدا کی تمام کتابوں پر ایمان لاتے ہیں۔ اور ایسا ہی اس وید پر جو کسی زمانہ میں ملک ہند کے کسی نبی پر نازل ہوا ہو گا۔ مگر موجودہ وید کی نسبت ہم اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں کہہ سکتے کہ جس قدر گندے فرقے مخلوق پرستوں کے اس ملک میں پھیلے ہوئے ہیں یہ سب وید کی ہی مہربانی ہے۔ (چشمہء معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ۱۱۴)
واضح ہو کہ راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیا گیا ہے درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی اور اپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا۔ جس پر خدا کی طرف سے رُوح القدس اترتا تھا۔ وہ خدا کی طرف سے فتح مند اور بااقبال تھا۔ جس نے آریہ ورت کی زمین کو پاپ سے صاف کیا۔ وہ اپنے زمانہ کا درحقیقت نبی تھا جس کی تعلیم کو پیچھے سے بہت باتوں میں بگاڑ دیا گیا۔ وہ خدا کی محبت سے پُر تھا۔ اور نیکی سے دوستی اور شر سے دشمنی رکھتا تھا۔ خدا کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اس کا بروز یعنی اوتار پیدا کرے سو یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا ہوا۔ مجھے منجملہ اور الہاموں کے اپنی نسبت ایک یہ بھی الہام ہؤا تھا کہ ہے کرشن رُودّر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔ سو مَیں کرشن سے محبت کرتا ہوں کیونکہ مَیں اس کا مظہر ہوں۔ (لیکچر سیالکوٹ۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۲۲۸، ۲۲۹)
ایک نبی کی سچائی تین ۳ طریقوں سے پہچانی جاتی ہے۔ اوّل عقل سے یعنی دیکھنا چاہئے کہ جس وقت وہ نبی یا رسول آیا ہے عقل سلیم گواہی دیتی ہے یا نہیں کہ اس وقت اس کے آنے کی ضرورت بھی تھی یا نہیں اور انسانوں کی حالت موجودہ چاہتی تھی یا نہیں کہ ایسے وقت میں کوئی مصلح پیدا ہو؟۔ دوسرے پہلے نبیوں کی پیشگوئی یعنی دیکھنا چاہئے کہ پہلے کسی نبی نے اُس کے حق میں یا اس کے زمانے میں کسی کے ظاہر ہونے کی پیشگوئی کی ہے یا نہیں تیسرے نصرت الٰہی اور تائید آسمانی یعنی دیکھنا چاہئے کہ اس کے شامل حال کوئی تائید آسمانی بھی ہے یا نہیں؟۔ یہ تین علامتیں سچے مامور من اللہ کی شناخت کے لئے قدیم سے مقرر ہیں۔ اب اے دوستو! خدا نے تم پر رحم کر کے یہ تینوں علامتیں میری تصدیق کے لئے ایک ہی جگہ جمع کر دی ہیں۔ اب چاہو تم قبول کرو یا نہ کرو۔ (لیکچر سیالکوٹ۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۴۱)
اِتّمام ّحجت کا علم محض خدا تعالیٰ کو ہے ہاں عقل اس بات کو چاہتی ہے کہ چونکہ لوگ مختلف استعداد اور مختلف فہم پر مجبول ہیں اس لئے اتمام حجت بھی صرف ایک ہی طرز سے نہیں ہو گا پس جو لوگ بوجہ علمی استعداد کے خدا کی براہین اور نشانوں اور دین کی خوبیوں کو بہت آسانی سے سمجھ سکتے ہیں اور شناخت کر سکتے ہیں وہ اگر خدا کے رسول سے انکار کریں تو وہ کفر کے اوّل درجہ پر ہوں گے اور جو لوگ اس قدر فہم اور علم نہیں رکھتے مگر خدا کے نزدیک اُن پر بھی اُن کے فہم کے مطابق حجت پوری ہو چکی ہے اُن سے بھی رسول کے انکار کا مواخذہ ہو گا مگر بنسبت پہلے منکرین کے کم۔ بہرحال کسی کے کفر اور اس پر اتما م حجت کے بارے میں فرد فرد کا حال دریافت کرنا ہمارا کام نہیں ہے یہ اس کا کام ہے جو عالم الغیب ہے ہم اس قدر کہہ سکتے ہیں کہ خدا کے نزدیک جس پر اِتّمام ّحجت ہو چکا ہے اور خدا کے نزدیک جو منکر ٹھیرچکا ہے وہ مواخذہ کے لائق ہو گا۔ ہاں چونکہ شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے اس لئے ہم منکر کو مومن نہیں کہہ سکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مواخذہ سے بَری ہے اور کافر منکر کو ہی کہتے ہیں کیونکہ کافر کا لفظ مومن کے مقابل پر ہے اور کفر دو قسم پر ہے۔
(اوّل) ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول نہیں مانتا (دوم) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے۔ اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔ کیونکہ جو شخص باوجود شناخت کر لینے کے خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتا وہ بموجب نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ اور اس میں شک نہیں کہ جس پر خدا تعالیٰ کے نزدیک اول قسم کفر یا دوسری قسم کفر کی نسبت اتمام حجت ہو چکا ہے وہ قیامت کے دن مواخذہ کے لائق ہو گا اور جس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے تو گو شریعت نے (جس کی بنا ظاہر پر ہے) اس کا نام بھی کافر ہی رکھا ہے اور ہم بھی اس کو باتباع شریعت کافر کے نام سے ہی پکارتے ہیں مگر پھر بھی وہ خدا کے نزدیک بموجب آیت لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا قابلِ مواخذہ نہیں ہو گا۔ ہاں ہم اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ ہم اس کی نسبت نجات کا حکم دیں۔ اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے ہمیں اس میں دخل نہیں اور جیسا کہ مَیں ابھی بیان کر چکا ہوں یہ علم محض خدا تعالیٰ کو ہے کہ اس کے نزدیک باوجود دلائل عقلیہ اور نقلیہ اور عمدہ تعلیم اور آسمانی نشانوں کے کس پر ابھی تک اِتّمام ّحجت نہیں ہوا۔ ہمیں دعویٰ سے کہنا نہیں چاہئے کہ فلاں شخص پر اتمام حجت نہیں ہوا۔ ہمیں کسی کے باطن کا علم نہیں ہے اور چونکہ ہر ایک پہلو کے دلائل پیش کرنے اور نشانوں کے دکھلانے سے خدا تعالیٰ کے ہر ایک رسول کا یہی ارادہ رہا ہے کہ وہ اپنی حجت لوگوں پر پوری کرے۔ اور اس بارے میں خدا بھی اس کا مویّد رہا ہے۔ اس لئے جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مجھ پر حجت پوری نہیں ہوئی وہ اپنے انکار کا ذمہ وار آپ ہے اور اس بات کا بار ثبوت اُسی کی گردن پر ہے اور وہی اس بات کا جواب دہ ہو گا کہ باوجود دلائل عقلیہ اور نقلیہ اور عمدہ تعلیم اور آسمانی نشانوں اور ہر ایک قسم کی رہنمائی کے کیوں اس پر حجت پوری نہیں ہوئی۔
(حقیقۃالوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۱۸۵تا۱۸۷)یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعوے کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف اُن نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکامِ جدیدہ لاتے ہیں لیکن صاحب الشریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدّث ہیں گو وہ کیسی ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں اُن کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔ ہاں بدقسمت منکر جو اُن مقربان الٰہی کا انکار کرتا ہے وہ اپنے انکار کی شامت سے دن بدن سخت دل ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ نور ایمان اس کے اندر سے مفقود ہو جاتا ہے۔ اور یہی احادیث نبویہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ انکار اولیاء اور اُن سے دشمنی رکھنا۔ اوّل انسان کو غفلت اور دنیا پرستی میں ڈالتا ہے اور پھر اعمالِ حسنہ اور افعال صدق اور اخلاص کی اُن سے توفیق چھین لیتا ہے اور پھر آخر سلب ایمان کا موجب ہو کر دینداری کی اصل حقیقت اور مغز سے اُن کو بے نصیب اور بے بہرہ کر دیتا ہے۔ اور یہی معنے ہیں اس حدیث کے کہ ’’مَنْ عَادَ وَلِیًّا لِّی فَقَدْ اٰذَنْتُہٗ لِلْحَرْبِ‘‘ یعنے جو میرے ولی کا دشمن بنتا ہے تو مَیں اس کو کہتا ہوں کہ بس اب میری لڑائی کے لئے طیار ہو جا۔ اگرچہ اوائل عداوت میں خدا وند کریم ورحیم کے آگے ایسے لوگوں کی طرف سے کسی قدر عدم معرفت کا عذر ہو سکتا ہے لیکن جب اس ولی اللہ کی تائید میں چاروں طرف سے نشان ظاہر ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور نورِ قلب اُس کو شناخت کر لیتا ہے اور اس کی قبولیت کی شہادت آسمان اور زمین دونوں کی طرف سے بآواز بلند کانوں کو سُنائی دیتی ہے تو نعوذ باللہ اس حالت میں جو شخص عداوت اور عناد سے باز نہیں آتا اور طریقِ تقویٰ کو بکلّی الوداع کہہ کر دل کو سخت کر لیتا ہے اور عناد اور دشمنی سے ہر وقت درپئے ایذا رہتا ہے تو اس حالت میں وہ حدیث مذکورہ بالا کے ماتحت آ جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ بڑا کریم و رحیم ہے وہ انسان کو جلدنہیں پکڑتا لیکن جب انسان ناانصافی اور ظلم کرتا کرتا حد سے گذر جاتا اور بہرحال اس عمارت کو گرانا چاہتا ہے اور اِس باغ کو جلانا چاہتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے طیار کیا ہے تو اس صورت میں قدیم سے اور جب سے کہ سِلسلۂ نبوت کی بنیاد پڑی ہے عادۃ اللہ یہی ہے کہ وہ ایسے مفسد کا دشمن ہو جاتا ہے اور سب سے پہلے دولت ایمان اُس سے چھین لیتا ہے۔ تب بلعم کی طرح صرف لفّاظی اور زبانی قیل و قال اس کے پاس رہ جاتی ہے اور جو نیک بندوں کی خدا تعالیٰ کی طرف نسبت اُنس اور شوق اور ذوق اور محبت اور تبتّل اور تقویٰ کی ہوتی ہے وہ اس سے کھوئی جاتی ہے۔ اور وہ خود محسوس کرتا ہے کہ ایّام موجودہ سے دس سال پہلے جو کچھ اس کو رقت اور انشراح اور بسط اور خدا کی طرف جھکنے اور دنیا اور اہل دنیا سے بیزاری کی حالت دل میں موجود تھی اور جس طرح سچّے زہد کی چمک کبھی کبھی اس کو آگاہ کرتی تھی کہ وہ خدا کے عباد صالحین میں سے ہو سکتا ہے اب وہ چمک بکلّی اس کے اندر سے جاتی رہی ہے اور دنیا طلبی کی ایک آگ اس کے اندر بھڑک اُٹھتی ہے۔ اور انکار اہل اللہ کی شامت سے اس کو یہ بھی خیال نہیں آتا کہ جس زمانہ میں اُس کے خیال نیک اور پاک اور زاہد انہ تھے اب اس زمانہ کی نسبت اس کی عمر بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ غرض اُس کو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ مجھ کو کیا ہو گیا اور دنیا طلبی میں گِرا جاتا اور دنیا کا جاہ ڈھونڈتا ہے حالانکہ موت کے قریب ہوتا ہے۔ غرض اسی طرح ایمان کا نور اس کے دل سے چھین لیتے ہیں اور اولیاء اللہ کی عداوت سے دوسرا سبب سلب ایمان کا یہ بھی ہو جاتا ہے کہ وہ اس ولی اللہ کی ہر حالت میں مخالفت کرتا رہتا ہے جو سرچشمہ نبوت سے پانی پیتا ہے جس کو سچائی پر قائم کیا جاتا ہے۔ سو چونکہ اس کی عادت ہو جاتی ہے کہ خواہ نخواہ ہر ایک ایسی سچائی کو ردّ کر تا ہے جو اس ولی کے مُنہ سے نکلتی ہے اور جس قدر اس کی تائید میں نشان ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ خیال کر لیتا ہے کہ ایسا ہونا جھوٹوں سے ممکن ہے اس لئے رفتہ رفتہ سِلسلہ نبوت بھی اُس پر مشتبہ ہو جاتا ہے۔ لہٰذا انجام کار اس مخالفت کے پردہ میں اس کی ایمانی عمارت کی اینٹیں گِرنی شروع ہو جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ کسی دن کسی ایسے عظیم الشان مسئلہ کی مخالفت یا نشان کا انکار کر بیٹھتا ہے جس سے ایمان جاتا رہتا ہے۔ ہاں اگر کسی کا کوئی سابق نیک عمل ہو جو حضرت احدیت میں محفوظ ہو تو ممکن ہے کہ آخرکار عنایت ازلی اس کو تھام لے اور وہ رات کویادن کو یک دفعہ اپنی حالت کا مطالعہ کرے یا بعض ایسے امور اس کی آنکھ روشن کرنے کے لئے پیدا ہو جائیں جن سے یک دفعہ وہ خواب غفلت سے جاگ اٹھے۔ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ (تریاق القلوب۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۴۳۲ تا۴۳۵ حاشیہ)
ابتدا سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجّال نہیں ہو سکتا۔ ہاں ضال اور جادہ صواب سے منحرف ضرور ہو گا اور مَیں اس کا نام بے ایمان نہیں رکھتا۔ ہاں مَیں ایسے سب لوگوں کو ضال اور جادہ صدق و صواب سے دُ ور سمجھتا ہوں جو ان سچائیوں سے انکار کرتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے میرے پر کھولی ہیں۔ مَیں بلاشبہ ایسے ہر ایک آدمی کو ضلالت کی آلودگی سے مبتلا سمجھتا ہوں جو حق اور راستی سے منحرف ہے لیکن مَیں کسی کلمہ گو کا نام کافر نہیں رکھتا جب تک کہ وہ میری تکفیر اور تکذیب کر کے اپنے تئیں خود کافر نہ بنا لیوے۔ سو اس معاملہ میں ہمیشہ سے سبقت میرے مخالفوں کی طرف سے ہے کہ انہوں نے مجھ کو کافر کہا۔ میرے لئے فتویٰ طیار کیا۔ میں نے سبقت کر کے اُن کے لئے کوئی فتویٰ طیار نہیں کیا۔ اور اس بات کا وہ خود اقرار کر سکتے ہیں کہ اگر مَیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک مسلمان ہوں تو مجھ کو کافر بنانے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فتویٰ اُن پر یہی ہے کہ وہ خود کافر ہیں۔ سو مَیں ان کو کافر نہیں کہتا بلکہ وہ مجھ کو کافر کہہ کر خود فتویٰ نبوی کے نیچے آتے ہیں۔ (تریاق القلوب۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ۴۳۲، ۴۳۳)
اسلام چیز کیا ہے خدا کے لئے فنا
ترکِ رضائے خویش پئے مرضیٔ خدا
’’میں دیکھتا ہوں کہ اسلام کے ماننے سے نور
کے چشمے میرے اندر بہہ رہے ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ مذہب کے اختیار کرنے سے اصل غرض یہ ہے کہ تا وہ خدا جو سرچشمہ نجات کا ہے اس پر ایسا کامل یقین آ جائے کہ گویا اس کو آنکھ سے دیکھ لیا جائے کیونکہ گناہ کی خبیث رُوح انسان کو ہلاک کرنا چاہتی ہے اور انسان گناہ کی مہلک زہر سے کسی طرح بچ نہیں سکتا جب تک اس کو اس کامل اور زندہ خدا پر پورا یقین نہ ہو اور جب تک معلوم نہ ہو کہ وہ خدا ہے جو مجرم کو سزا دیتا ہے اور راستباز کو ہمیشہ کی خوشی پہنچاتا ہے۔ یہ عام طور پر ہر روز دیکھا جاتاہے کہ جب تک کسی چیز کے مہلک ہونے پر کسی کو یقین آ جائے تو پھر وہ شخص اس چیز کے نزدیک نہیں جاتا مثلاً کوئی شخص عمداً زہر نہیں کھاتا۔ کوئی شخص شیر خونخوار کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا اور کوئی شخص عمدًا سانپ کے سوراخ میں ہاتھ نہیں ڈالتا۔ پھر عمدًا گناہ کیوں کرتا ہے۔ اس کا یہی باعث ہے کہ وہ یقین اس کو حاصل نہیں جو اِن دوسری چیزوں پر حاصل ہے۔ پس سب سے مقدم انسان کا یہ فرض ہے کہ خدا پر یقین حاصل کرے اور اس مذہب کو اختیار کرے جس کے ذریعہ سے یقین حاصل ہو سکتا ہے تا وہ خدا سے ڈرے اور گناہ سے بچے مگر ایسا یقین حاصل کیونکر ہو؟ کیا یہ صرف قصّوں کہانیوں سے حاصل ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیا یہ محض عقل کے ظنّی دلائل سے میسّر آسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ پس واضح ہوا کہ یقین کے حاصل ہونے کی صرف ایک ہی راہ ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے مکالمہ کے ذریعہ سے اس کے خارق عادت نشان دیکھے اور بار بار کے تجربہ سے اس کی جبروت اور قدرت پر یقین کرے یا ایسے شخص کی صحبت میں رہے جو اس درجہ تک پہونچ گیا ہے۔ (نسیمِ دعوت۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ۴۴۷، ۴۴۸)
مذہب سے غرض کیا ہے؟ بس یہی کہ خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفات کاملہ پر یقینی طور پر ایمان حاصل ہو کر نفسانی جذبات سے انسان نجات پا جاوے اور خدا تعالیٰ سے ذاتی محبت پیدا ہو کیونکہ درحقیقت وہی بہشت ہے جو عالم آخرت میں طرح طرح کے پیرائیوں میں ظاہر ہو گا۔ اور حقیقی خدا سے بے خبر رہنا اور اس سے دُور رہنا اور سچی محبت اس سے نہ رکھنا درحقیقت یہی جہنم ہے جو عالم آخرت میں انواع و اقسام کے رنگوں میں ظاہر ہو گا۔ اور اصل مقصود اس راہ میں یہ ہے کہ اس خدا کی ہستی پر پورا یقین حاصل ہو اور پھر پوری محبت ہو۔ اب دیکھنا چاہئے کہ کون سا مذہب اور کون سی کتاب ہے جس کے ذریعہ سے یہ غرض حاصل ہو سکتی ہے۔ انجیل تو صاف جواب دیتی ہے کہ مکالمہ اور مخاطبہ کا دروازہ بند ہے اور یقین کرنے کی راہیں مسدود ہیں۔ اور جو کچھ ہوا وہ پہلے ہو چکا اور آگے کچھ نہیں …… ہم ایسے مذہب کو کیا کریں جو مُردہ مذہب ہے۔ ہم ایسی کتاب سے کیا فائدہ اُٹھا سکتے ہیں جو مُردہ کتاب ہے۔ اور ہمیں ایسا خدا کیا فیض پہنچا سکتا ہے جو مُردہ خدا ہے۔ (چشمۂ مسیحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۵۲، ۳۵۳)
کسی مذہب کے قبول کرنے سے غرض یہ ہے کہ وہ طریق اختیار کیا جائے جس سے خدائے غنی مطلق جو مخلوق اور مخلوق کی عبادت سے بکلّی بے نیاز ہے راضی ہو جائے۔ اور اس کے فیوض رحمت اُترنے شروع ہو جائیں جن سے اندرونی آلائشیں دُور ہو کر صحن سینہ یقین اور معرفت سے پُر ہو جائے سو یہ تدبیر اپنی فکر سے پیدا کرنا انسان کا کام نہیں تھا۔ اس لئے اللہ جلّ شانہٗ نے اپنے وجود اور اپنے عجائبات قدرت خالقیت یعنی ارواح و اجسام و ملائک و دوزخ و بہشت و بعث و حشر و رسالت و دیگر تمام اسرار مبدء و معاد کو یکساں طور پر پردۂ غیب میں رکھ کر اور کچھ کچھ قیاسی یا امکانی طور پر عقل کو اس کوچہ میں گذر بھی دے کر غرض کچھ دکھلا کر اور کچھ چھپا کر بندوں کو ان سب باتوں پر ایمان لانے کے لئے مامور کیا۔ (سرمہ چشم آریہ۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۸۱)
سچا مذہب شناخت کرنے کے لئے صرف تین باتوں کا دیکھنا ضروری ہے (۱) اوّل یہ کہ اس مذہب میں خدا کی نسبت کیا تعلیم ہے۔ یعنی اس کی توحید اور قدرت اور علم اور کمال اور عظمت اور سزا اور رحمت اور دیگر لوازم اور خواص الوہیت کی نسبت کیا بیان ہے ……
(۲) دوسرے طالب حق کے لئے یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اس مذہب میں جس کو وہ پسند کرے اس کے نفس کے بارے میں اور ایسا ہی عام طور پر انسانی چال چلن کے بارے میں کیا تعلیم ہے۔ کیا کوئی ایسی تعلیم تو نہیں کہ جو انسانی حقوق کے باہمی رشتہ کو توڑتی ہو یا انسان کو دیّوثی کی طرف کھینچتی ہو۔ یا دیّوثی امور کو مستلزم ہو اور فطرتی حیا اور شرم کی مخالف ہو۔ اور نہ کوئی ایسی تعلیم ہو کہ جو خدا کے عام قانون قدرت کے مخالف پڑی ہو۔ اور نہ کوئی ایسی تعلیم ہو جس کی پابندی غیر ممکن یا منتج خطرات ہو۔ اور نہ کوئی ضروری تعلیم جو مفاسد کے روکنے کے لئے اہم ہے ترک کی گئی ہو۔ اور نیز یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ کیا وہ تعلیم ایسے احکام سکھلاتی ہے یا نہیں کہ جو خدا کو عظیم الشان محسن قرار دے کر بندہ کا رشتہ محبت اُس سے محکم کرتے ہوں اور تاریکی سے نور کی طرف لے جاتے ہوں اور غفلت سے حضور اور یادداشت کی طرف کھینچتے ہوں۔
(۳) تیسرے طالب حق کے لئے یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ وہ اس مذہب کو پسند کرے جس کا خدا ایک فرضی خدا نہ ہو جو محض قصّوں اور کہانیوں کے سہارے سے مانا گیا ہو۔ اور ایسا نہ ہو کہ صرف ایک مُردہ سے مشابہت رکھتا ہو۔ کیونکہ اگر ایک مذہب کا خدا صرف ایک مُردہ سے مشابہ ہے جس کا قبول کرنا محض اپنی خوش عقیدگی کی وجہ سے ہے نہ اس وجہ سے کہ اُس نے اپنے تئیں آپ ظاہر کیا ہے تو ایسے خدا کا ماننا گویا اُس پر احسان کرنا ہے۔ اور جس خدا کی طاقتیں کچھ محسوس نہ ہوں اور اپنے زندہ ہونے کے علامات وہ آپ ظاہر نہ کرے اُس پر ایمان لانا بے فائدہ ہے۔
(نسیمِ دعوت۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ۳۷۳، ۳۷۴)وہ مذہب جو محض خدا کی طرف سے ہے اُس کے ثبوت کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ منجانب اللہ ہونے کے نشان اور خدائی مُہر اپنے ساتھ رکھتا ہو تا معلوم ہو کہ وہ خاص خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے ہے۔ سو یہ مذہب اسلام ہے۔ وہ خدا جو پوشیدہ اور نہاں در نہاں ہے اسی مذہب کے ذریعہ سے اُس کا پتہ لگتا ہے اور اسی مذہب کے حقیقی پیروؤں پر وہ ظاہر ہوتا ہے۔ جو درحقیقت سچا مذہب ہے۔ سچّے مذہب پر خدا کا ہاتھ ہوتا ہے اور خدا اس کے ذریعہ سے ظاہر کرتا ہے کہ مَیں موجود ہوں۔ جن مذاہب کی محض قصّوں پر بنا ہے وہ بت پرستی سے کم نہیں۔ اُن مذاہب میں کوئی سچائی کی رُوح نہیں ہے۔ اگر خدا اب بھی زندہ ہے جیسا کہ پہلے تھا اور اگر وہ اب بھی بولتا اور سُنتا ہے جیسا کہ پہلے تھا تو کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ وہ اس زمانہ میں ایسا چُپ ہو جائے کہ گویا موجودنہیں۔ اگر وہ اس زمانہ میں بولتا نہیں تو یقینا وہ اب سُنتا بھی نہیں۔ گویا اب کچھ بھی نہیں۔ سو سچا وہی مذہب ہے کہ جو اس زمانہ میں بھی خدا کا سننا اور بولنا دونوں ثابت کرتا ہے۔ غرض سچّے مذہب میں خدا تعالیٰ اپنے مکالمہ مخاطبہ سے اپنے وجودکی آپ خبر دیتا ہے۔ خدا شناسی ایک نہایت مشکل کام ہے دنیا کے حکیموں اور فلاسفروں کا کام نہیں ہے جو خدا کا پتہ لگاویں۔ کیونکہ زمین و آسمان کو دیکھ کر صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس ترکیب محکم اور ابلغ کا کوئی صانع ہونا چاہئے۔ مگر یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ فی الحقیقت وہ صانع موجود بھی ہے۔ اور ہونا چاہئے اور ہے میں جو فرق ہے وہ ظاہر ہے۔ پس اِس وجود کا واقعی طور پر پتہ دینے والا صرف قرآن شریف ہے جو صرف خدا شناسی کی تاکیدنہیں کرتا بلکہ آپ دکھلا دیتا ہے اَور کوئی کتاب آسمان کے نیچے ایسی نہیں ہے کہ اس پوشیدہ وجود کا پتہ دے۔ (چشمۂ مسیحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۳۵۱، ۳۵۲)
یاد رہے کہ محض خشک جھگڑے اور سبّ وشتم اور سخت گوئی اور بد زبانی جو نفسانیت کی بنا پر مذہب کے نام پر ظاہر کی جاتی ہے اور اپنی اندرونی بدکاریوں کو دُور نہیں کیا جاتا اور اس محبوب حقیقی سے سچا تعلق پیدا نہیں کیا جاتا اور ایک فریق دوسرے فریق پر نہ انسانیت سے بلکہ کتوں کی طرح حملہ کرتا ہے اور مذہبی حمایت کی اوٹ میں ہر ایک قسم کی نفسانی بدذاتی دکھلاتا ہے کہ یہ گندہ طریق جو سراسر استخوان ہے اس لائق نہیں کہ اس کا نام مذہب رکھا جائے۔ افسوس ایسے لوگ نہیں جانتے کہ ہم دنیا میں کیوں آئے اور اصل اور بڑا مقصود ہمارا اس مختصر زندگی سے کیا ہے۔ بلکہ وہ ہمیشہ اندھے اور ناپاک فطرت رہ کر صرف متعصبانہ جذبات کا نام مذہب رکھتے ہیں۔ اور ایسے فرضی خدا کی حمایت میں دنیا میں بد اخلاقی دکھلاتے اور زبان درازیاں کرتے ہیں جس کے وجود کا اُن کے پاس کچھ بھی ثبوت نہیں۔ وہ مذہب کس کام کامذہب ہے جو زندہ خدا کا پرستا ر نہیں بلکہ ایسا خدا ایک مُردے کا جنازہ ہے۔ جو صرف دوسروں کے سہارے سے چل رہا ہے۔ سہارا الگ ہوا اور وہ زمین پر گِرا۔ ایسے مذہب سے اگر ان کو کچھ حاصل ہے تو صرف تعصب اور حقیقی خدا ترسی اور نوع انسان کی سچی ہمدردی جو افضل الخصائل ہے بالکل ان کی فطرت سے مفقود ہو جاتی ہے۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۲۸)
یاد رہے کہ کسی مذہب کی سچائی ثابت کرنے کے لئے یعنی اس بات کے ثبوت کے لئے کہ وہ مذہب منجانب اللہ ہے دو قسم کی فتح کا اُس میں پایا جانا ضروری ہے۔ اوّل یہ کہ وہ مذہب اپنے عقائد اور اپنی تعلیم اور اپنے احکام کی رو سے ایسا جامع اور اکمل اور اتم اور نقص سے دُور ہو کہ اس سے بڑھ کر عقل تجویز نہ کر سکے اور کوئی نقص اور کمی اُس میں دکھلائی نہ دے اور اس کمال میں وہ ہر ایک مذہب کو فتح کرنے والا ہو۔ یعنی ان خوبیوں میں کوئی مذہب اس کے برابر نہ ہو۔ جیسا کہ یہ دعویٰ قرآن شریف نے آپ کیا ہے کہ اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا یعنی آج میں نے تمہارے لئے اپنا دین کامل کر دیا۔ اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کیا۔ اور مَیں نے پسند کیا کہ اسلام تمہارا مذہب ہو۔ یعنی وہ حقیقت جو اسلام کے لفظ میں پائی جاتی ہے جس کی تشریح خود خدا تعالیٰ نے اسلام کے لفظ کے بارہ میں بیان کی ہے اس حقیقت پر تم قائم ہو جاؤ۔ اس آیت میں صریح یہ بیان ہے کہ قرآن شریف نے ہی کامل تعلیم عطا کی ہے اور قرآن شریف کا ہی ایسا زمانہ تھا جس میں کامل تعلیم عطا کی جاتی۔ پس یہ دعویٰ کامل تعلیم کا جو قرآن شریف نے کیا یہ اسی کا حق تھا۔ اس کے سوا کسی آسمانی کتاب نے ایسا دعویٰ نہیں کیا جیسا کہ دیکھنے والوں پر ظاہر ہے کہ توریت اور انجیل دونوں اس دعوے سے دست بردار ہیں۔ کیونکہ توریت میں خدا تعالیٰ کا یہ قول موجود ہے کہ مَیں تمہارے بھائیوں میں سے ایک نبی قائم کروں گا اور اپنا کلام اس کے مُنہ میں ڈالوں گا۔ اور جو شخص اس کے کلام کو نہ سُنے گا مَیں اس سے مطالبہ کروں گا۔ پس صاف ظاہر ہے کہ اگر آئندہ زمانہ کی ضرورتوں کی رو سے توریت کا سُننا کافی ہوتا تو کچھ ضرورت نہ تھی کہ کوئی اور نبی آتا اور مواخذہ الٰہیہ سے مخلصی پانا اس کلام کے سُننے پر موقوف ہوتا جو اس پر نازل ہوتا۔ ایسا ہی انجیل نے کسی مقام میں دعویٰ نہیں کیا کہ انجیل کی تعلیم کامل اور جامع ہے بلکہ صاف اور کھلا کھلا اقرار کیا ہے کہ اور بہت سی باتیں قابل بیان تھیں مگر تم برداشت نہیں کر سکتے۔ لیکن جب فارقلیط آئے گا تو وہ سب کچھ بیان کرے گا اب دیکھنا چاہئے کہ حضرت موسیٰ نے اپنی توریت کو ناقص تسلیم کر کے آنے والے نبی کی تعلیم کی طرف توجہ دلائی۔ ایسا ہی حضرت عیسیٰ نے بھی اپنی تعلیم کا نامکمل ہونا قبول کر کے یہ عذر پیش کر دیا کہ ابھی کامل تعلیم بیان کرنے کا وقت نہیں ہے لیکن جب فارقلیط آئے گا تو وہ کامل تعلیم بیان کر دے گا۔ مگر قرآن شریف نے توریت اور انجیل کی طرح کسی دوسرے کا حوالہ نہیں دیا بلکہ اپنی کامل تعلیم کا تمام دنیا میں اعلان کر دیا اور فرمایا کہ اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا …… پس اسلام کی سچائی ثابت کرنے کے لئے یہ ایک بڑی دلیل ہے کہ وہ تعلیم کی رُو سے ہر ایک مذہب کو فتح کرنے والا ہے اور کامل تعلیم کے لحاظ سے کوئی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
دوم ۲ ۔ پھر دوسری قسم فتح کی جو اسلام میں پائی جاتی ہے جس میں کوئی مذہب اس کا شریک نہیں اور جو اس کی سچائی پر کامل طور پر مہر لگاتی ہے اُس کی زندہ برکات اور معجزات ہیں جن سے دوسرے مذاہب بکلی محروم ہیں۔ یہ ایسے کامل نشان ہیں کہ ان کے ذریعہ سے نہ صرف اسلام دوسرے مذاہب پر فتح پاتا ہے بلکہ اپنی کامل روشنی دکھلا کر دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ یاد رہے کہ پہلی دلیل اسلام کی سچائی کی جو ابھی ہم لکھ چکے ہیں یعنی کامل تعلیم وہ درحقیقت اس بات کے سمجھنے کے لئے کہ مذہب اسلام منجانب اللہ ہے ایک کھلی کھلی دلیل نہیں ہے کیونکہ ایک متعصب منکر جس کی نظر باریک بین نہیں ہے کہہ سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ ایک کامل تعلیم بھی ہو اور پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہو۔ پس اگر چہ یہ دلیل ایک دانا طالب حق کو بہت سے شکوک سے مَخلصی دے کر یقین کے نزدیک کر دیتی ہے لیکن تاہم جب تک دوسری دلیل مذکورہ بالا اس کے ساتھ منضم اور پیوستہ نہ ہو کمال یقین کے مینار تک نہیں پہنچا سکتی۔ اور ان دونوں دلیلوں کے اجتماع سے سچے مذہب کی روشنی کمال تک پہنچ جاتی ہے۔ اور اگرچہ سچا مذہب ہزار ہا آثار اور انوار اپنے اندر رکھتا ہے لیکن یہ دونوں دلیلیں بغیر حاجت کسی اَور دلیل کے طالب حق کے دل کو یقین کے پانی سے سیراب کر دیتی ہیں۔ اور مکذّبوں پر پورے طور پر اتمام حجت کرتی ہیں۔ اس لئے ان دو قسم کی دلیلوں کے موجود ہونے کے بعد کسی اَور دلیل کی حاجت نہیں رہتی۔ اور مَیں نے پہلے ارادہ کیا تھا کہ اثباتِ حَقّیّتِ اسلام کے لئے تین سو۳۰۰ دلیل براہین احمدیہ میں لکھوں لیکن جب مَیں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ دو قسم کے دلائل ہزار ہا نشانوں کے قائم مقام ہیں۔ پس خدا نے میرے دل کو اس ارادہ سے پھیر دیا۔
(براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ دیباچہ صفحہ۳تا۶)خدا نے اپنے رسول نبی کریم کی اِتمام ّحجت میں کسر نہیں رکھی۔ وہ ایک آفتاب کی طرح آیا اور ہر ایک پہلو سے اپنی روشنی ظاہر کی۔ پس جو شخص اس آفتاب حقیقی سے مُنہ پھیرتا ہے اس کی خیر نہیں۔ ہم اس کو نیک نیت نہیں کہہ سکتے۔ کیا جو شخص مجذوم ہے اور جذام نے اس کے اعضاء کھا لئے ہیں وہ کہہ سکتا ہے کہ مَیں مجذوم نہیں یا مجھے علاج کی حاجت نہیں اور اگر کہے تو کیا ہم اُس کو نیک نیت کہہ سکتے ہیں۔ ماسوا اس کے اگر فرض کے طور پر کوئی ایسا شخص دنیا میں ہو کہ وہ باوجود پوری نیک نیتی اور ایسی پوری پوری کوشش کے کہ جیسا کہ وہ دنیا کے حصول کے لئے کرتا ہے اسلام کی سچائی تک پہنچ نہیں سکا تو اس کا حساب خدا کے پاس ہے۔ مگر ہم نے اپنی تمام عمر میں ایسا کوئی آدمی دیکھا نہیں۔ اس لئے ہم اس بات کو قطعًا محال جانتے ہیں کہ کوئی شخص عقل اور انصاف کی رو سے کسی دوسرے مذہب کو اسلام پر ترجیح دے سکے۔ نادان اور جاہل لوگ نفس امّارہ کی تعلیم سے ایک بات سیکھ لیتے ہیں کہ صرف توحید کافی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی ضرورت نہیں۔ مگر یاد رہے کہ تو حید کی ماں نبی ہی ہوتا ہے جس سے توحید پیدا ہوتی ہے اور خدا کے وجود کا اوس سے پتہ لگتا ہے اور خدا تعالیٰ سے زیادہ اِتّمام ّحجت کون جانتا ہے۔ اس نے اپنے نبی کریم کی سچائی ثابت کرنے کے لئے زمین و آسمان کو نشانوں سے بھر دیا ہے۔ اور اب اس زمانہ میں بھی خدا نے اس ناچیز خادم کو بھیج کر ہزار ہا نشان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کے لئے ظاہر فرمائے ہیں جو بارش کی طرح برس رہے ہیں۔ تو پھر اتمام حجت میں کون سی کسر باقی ہے۔ جس شخص کو مخالفت کرنے کی عقل ہے۔ وہ کیوں موافقت کی راہ کو سوچ نہیں سکتا؟ اور جو رات کو دیکھتا ہے کیوں اوس کو روزِ روشن میں نظر نہیں آتا؟ حالانکہ تکذیب کی راہوں کی نسبت تصدیق کی راہ بہت سہل ہے ہاں جو شخص مسلوب العقل کی طرح ہے اور انسانی قوتوں سے کم حصّہ رکھتا ہے۔ اس کا حساب خدا کے سپرد کرنا چاہئے۔ اس کے بارہ میں ہم کلام نہیں کر سکتے۔ وہ اُن انسانوں کی طرح ہے جو خورد سالی اور بچپن میں مر جاتے ہیں مگر ایک شریر مکذب یہ عذر نہیں کر سکتا کہ مَیں نیک نیتی سے تکذیب کرتا ہوں۔ دیکھنا چاہئے کہ اُس کے حواس اِس لائق ہیں یا نہیں کہ مسئلہ توحید اور رسالت کو سمجھ سکے۔ اگر معلوم ہوتا ہے کہ سمجھ سکتا ہے مگر شرارت سے تکذیب کرتا ہے تو وہ کیونکر معذور رہ سکتا ہے۔ اگر کوئی آفتاب کی روشنی کو دیکھ کر یہ کہے کہ دن نہیں بلکہ رات ہے تو کیا ہم اس کو معذور سمجھ سکتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ دانستہ کج بحثی کرتے ہیں اور اسلام کے دلائل کو توڑ نہیں سکتے کیا ہم خیال کر سکتے ہیں کہ وہ معذور ہیں۔ اور اسلام تو ایک زندہ مذہب ہے۔ جو شخص زندہ اور مردہ میں فرق کر سکتا ہے وہ کیوں اسلام کو ترک کرتا اور مردہ مذہب کو قبول کرتا ہے۔ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۱۸۰، ۱۸۱)
مَیں جب خدا کے پاک کلام پر غور کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ کیونکر اس نے اپنی تعلیموں میں انسان کو اس کی طبعی حالتوں کی اصلاح کے قواعد عطا فرما کر پھر آہستہ آہستہ اوپر کی طرف کھینچا ہے اور اعلیٰ درجہ کی رُوحانی حالت تک پہونچانا چاہا ہے تو مجھے یہ پُر معرفت قاعدہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اوّل خدا نے یہ چاہا ہے کہ انسان کو نشست برخاست اور کھانے پینے اور بات چیت اور تمام اقسام معاشرت کے طریق سکھلا کر اس کو وحشیانہ طریقوں سے نجات دیوے اور حیوانات کی مشابہت سے تمیز کلّی بخش کر ایک ادنیٰ درجہ کی اخلاقی حالت جس کو ادب اور شائستگی کے نام سے موسوم کر سکتے ہیں سکھلاوے۔ پھر انسان کی نیچرل عادات کو جن کو دوسرے لفظوں میں اخلاقِ رذیلہ کہہ سکتے ہیں اعتدال پر لاوے تا وہ اعتدال پا کر اخلاقِ فاضلہ کے رنگ میں آ جائیں۔ مگر یہ دونوں طریقے دراصل ایک ہی ہیں۔ کیونکہ طبعی حالتوں کی اصلاح کے متعلق ہیں۔ صرف اعلیٰ اور ادنیٰ درجہ کے فرق نے ان کو دو قسم بنا دیا ہے۔ اور اس حکیم مطلق نے اخلاق کے نظام کو ایسے طور سے پیش کیا ہے کہ جس سے انسان ادنیٰ خلق سے اعلیٰ خلق تک ترقی کر سکے۔ اور پھر تیسرا مرحلہ ترقیات کا یہ رکھا ہے کہ انسان اپنے خالق حقیقی کی محبت اور رضا میں محو ہو جائے اور سب وجود اس کا خدا کے لئے ہو جائے۔ یہ وہ مرتبہ ہے جس کو یاد دلانے کے لئے مسلمانوں کے دین کا نام اسلام رکھا گیا ہے کیونکہ اسلام اس بات کو کہتے ہیں کہ بکلّی خدا کے لئے ہو جانا اور اپنا کچھ باقی نہ رکھنا۔ (اسلامی اصول کی فلاسفی۔ روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ۳۲۴)
یہ خیال ایک سخت نادانی ہے کہ دین صرف چند بے سروپا باتوں کا نام ہے جو انجیل میں درج ہیں بلکہ وہ تمام امور جو تکمیل انسانیت کے لئے ضروری ہیں دین میں داخل ہیں۔ جو باتیں انسان کو وحشیانہ حالت سے پھیر کر حقیقی انسانیت سکھلاتی یا عام انسانیت سے ترقی دے کر حکیمانہ زندگی کی طرف منتقل کرتی ہیں اور یا حکیمانہ زندگی سے ترقی دے کر فنا فی اللہ کی حالت تک پہنچاتی ہیں انہی باتوں کا نام دوسرے لفظوں میں دین ہے۔ (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۸۹)
اِس میں کچھ بھی شک نہیں کہ انجیل انسانیت کے درخت کی پورے طور پر آبپاشی نہیں کر سکتی۔ ہم اس مسافر خانہ میں بہت سے قویٰ کے ساتھ بھیجے گئے ہیں۔ اور ہر ایک قوت چاہتی ہے کہ اپنے موقعہ پر اس کو استعمال کیا جائے۔ اور انجیل صرف ایک ہی قوت حلم اور نرمی پر زور مار رہی ہے۔ حلم اور عفو درحقیقت بعض مواضع میں اچھی ہے لیکن بعض دوسرے مواضع میں سَمِّ قَاتِل کی تاثیر رکھتی ہے۔ ہماری یہ تمدنی زندگی کہ مختلف طبائع کے اختلاط پر موقوف ہے بلاشبہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنے تمام قویٰ کو محل بینی اور موقعہ شناسی سے استعمال کیا کریں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ اگرچہ بعض جگہ ہم عفو اور درگذر کر کے اس شخص کو فائدہ جسمانی اور روحانی پہنچاتے ہیں جس نے ہمیں کوئی آزار پہنچایا ہے لیکن بعض دوسری جگہ ایسی بھی ہیں جو اس جگہ ہم اس خصلت کو استعمال کرنے سے شخص مجرم کو اور بھی مفسدانہ حرکات پر دلیر کرتے ہیں۔ ہماری روحانی زندگی کی طرز ہماری جسمانی زندگی کی طرز سے نہایت مشابہ ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر جگہ ایک ہی مزاج اور طبیعت کی اغذیہ اور ادویہ پر زور مارنے سے ہماری صحت بحال نہیں رہ سکتی۔ اگر ہم دس یا بیس ر وز متواتر ٹھنڈی چیزوں کے کھانے پر ہی زور دیں اور گرم غذاؤں کا کھانا حرام کی طرح اپنے نفس پر کر دیں تو ہم جلد تر کسی سرد بیماری میں جیسے فالج اور لقوہ اور رعشہ اور َصرع وغیرہ میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اور ایسا ہی اگر ہم متواتر گرم غذاؤں پر زور دیں یہاں تک کہ پانی بھی گرم کر کے ہی پیا کریں تو بلاشبہ کسی مرض حار میں گرفتار ہو جائیں گے۔ سوچ کر دیکھ لو کہ ہم اپنے جسمانی تمدن میں کیسے گرم اور سرد اور نرم اور سخت اور حرکت اور سکون کی رعایت رکھتے ہیں اور کیسی یہ رعایت ہماری صحتِ بدنی کے لئے ضروری پڑی ہوئی ہے۔ پس یہی قاعدہ صحتِ روحانی کے لئے برتنا چاہئے۔ خدا نے کسی بری قوت کو ہمیں نہیں دیا۔ اور درحقیقت کوئی بھی قوت بری نہیں صرف اس کی بد استعمالی بُری ہے مثلاً تم دیکھتے ہو کہ حسدنہایت ہی بُری چیز ہے لیکن اگر ہم اس قوت کو بُرے طور پر استعمال نہ کریں تو یہ صرف اس رشک کے رنگ میں آ جاتی ہے جس کو عربی میں غِبطہ کہتے ہیں۔ یعنی کسی کی اچھی حالت دیکھ کر خواہش کرنا کہ میری بھی اچھی حالت ہو جائے۔ اور یہ خصلت اخلاقِ فاضلہ میں سے ہے۔ اسی طرح تمام اخلاق ذمیمہ کا حال ہے کہ وہ ہماری ہی بداستعمالی یا افراط اور تفریط سے بدنما ہو جاتی ہیں۔ اور موقعہ پر استعمال کرنے اور حد اعتدال پر لانے سے وہی اخلاقِ ذمیمہ اخلاقِ فاضلہ کہلاتے ہیں۔
پس یہ کس قدر غلطی ہے کہ انسانیت کے درخت کی تمام ضروری شاخیں کاٹ کر صرف ایک ہی شاخ صبر اور عفو پر زور دیا جائے۔ اسی وجہ سے یہ تعلیم چل نہیں سکی اور آخر عیسائی سلاطین کو جرائم پیشہ کی سزا کے لئے قوانین اپنی طرف سے طیار کرنے پڑے۔ غرض انجیل موجودہ ہرگز نفوسِ انسانیہ کی تکمیل نہیں کر سکتی اور جس طرح آفتاب کے نکلنے سے ستارے مضمحل ہو تے جاتے ہیں یہاں تک کہ آنکھوں سے غائب ہو جاتے ہیں یہی حالت انجیل کی قرآن شریف کے مقابل پر ہے۔
(کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۳صفحہ ۶۶، ۶۷)دنیا کے مذاہب پر اگر نظر کی جائے تو معلوم ہو گا کہ بجز اسلام ہر ایک مذہب اپنے اندر کوئی نہ کوئی غلطی رکھتا ہے اور یہ اس لئے نہیں کہ درحقیقت وہ تمام مذاہب ابتداء سے جھوٹے ہیں۔ بلکہ اس لئے کہ اسلام کے ظہور کے بعد خدا نے ان مذاہب کی تائید چھوڑ دی اور وہ ایسے باغ کی طرح ہو گئے جس کا کوئی باغبان نہیں اور جس کی آبپاشی اور صفائی کے لئے کوئی انتظام نہیں۔ اس لئے رفتہ رفتہ اُن میں خرابیاں پیدا ہو گئیں۔ تمام پھلدار درخت خشک ہو گئے اور اُن کی جگہ کانٹے اور خراب بوٹیاں پھیل گئیں اور روحانیت جو مذہب کی جڑ ہوتی ہے وہ بالکل جاتی رہی اور صرف خشک الفاظ ہاتھ میں رہ گئے۔ مگر خدا نے اسلام کے ساتھ ایسا نہ کیا اور چونکہ وہ چاہتا تھا کہ یہ باغ ہمیشہ سرسبز رہے اِس لئے اُس نے ہر یک صدی پر اس باغ کی نئے سرے آبپاشی کی اور اس کو خشک ہونے سے بچایا۔ اگرچہ ہر صدی کے سر پر جب کبھی کوئی بندہ خدا اصلاح کے لئے قائم ہوا جاہل لوگ اس کا مقابلہ کرتے رہے اور ان کو سخت ناگوار گذرا کہ کسی ایسی غلطی کی اصلاح ہو جو ان کی رسم اور عادت میں داخل ہو چکی ہے لیکن خدا تعالیٰ نے اپنی سنّت کو نہ چھوڑا یہاں تک کہ اس آخری زمانہ میں جو ہدایت اور ضلالت کا آخری جنگ ہے۔ خدا نے چودھو۱۴۰۰یں صدی اور الف آخر کے سر پر مسلمانوں کو غفلت میں پا کر پھر اپنے عہد کو یاد کیا اور دین اسلام کی تجدید فرمائی مگر دوسرے دینوں کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ تجدید کبھی نصیب نہیں ہوئی۔ اس لئے وہ سب مذہب مر گئے۔ اُن میں روحانیت باقی نہ رہی اور بہت سی غلطیاں اُن میں ایسی جم گئیں کہ جیسے بہت مستعمل کپڑا پر جو کبھی دھویا نہ جائے میل جم جاتی ہے اور ایسے انسانوں نے جن کو روحانیت سے کچھ بہرہ نہ تھا اور جن کے نفسِ امّارہ سفلی زندگی کی آلائشوں سے پاک نہ تھے اپنی نفسانی خواہشوں کے مطابق ان مذاہب کے اندر بے جا دخل دے کر ایسی صورت اُن کی بگاڑ دی کہ اب وہ کچھ اَور ہی چیز ہیں مثلاً عیسائیت کے مذہب کو دیکھو کہ وہ ابتدا میں کیسے پاک اصول پر مبنی تھا اور جس تعلیم کو حضرت مسیح علیہ السلام نے پیش کیا تھا اگرچہ وہ تعلیم قرآنی تعلیم کے مقابل پر ناقص تھی کیونکہ ابھی کامل تعلیم کا وقت نہیں آیا تھا اور کمزور استعدادیں اِس لائق بھی نہ تھیں تاہم وہ تعلیم اپنے وقت کے مناسب حال نہایت عمدہ تعلیم تھی وہ اُسی خدا کی طرف رہنمائی کرتی تھی جس کی طرف توریت نے رہنمائی کی لیکن حضرت مسیحؑ کے بعد مسیحیوں کا خدا ایک اَور خدا ہو گیا جس کا توریت کی تعلیم میں کچھ بھی ذکر نہیں اور نہ بنی اسرائیل کو اس کی کچھ بھی خبرہے۔ اس نئے خدا پر ایمان لانے سے تمام سِلسلہ توریت کا اُلٹ گیا اور گناہوں سے حقیقی نجات اور پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے جو ہدایتیں تورات میں تھیں وہ سب درہم برہم ہو گئیں اور تمام مدار گناہ سے پاک ہونے کا اس اقرار پر آ گیا کہ حضرت مسیح نے دنیا کو نجات دینے کے لئے خود صلیب قبول کی۔ اور وہ خدا ہی تھے۔ اور نہ صرف اسی قدر بلکہ توریت کے اَور کئی ابدی احکام توڑ دیئے گئے۔ اور عیسائی مذہب میں ایک ایسی تبدیلی واقعہ ہوئی کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام خود بھی دوبارہ تشریف لے آویں تو وہ اس مذہب کو شناخت نہ کر سکیں۔ نہایت حیرت کا مقام ہے کہ جن لوگوں کو توریت کی پابندی کی سخت تاکید تھی انہوں نے یک لخت توریت کے احکام کو چھوڑ دیا۔ مثلاً انجیل میں کہیں حکم نہیں کہ توریت میں تو سور حرام ہے اور مَیں تم پر حلال کرتا ہوں۔ اور توریت میں تو ختنہ کی تاکید ہے اور مَیں ختنہ کا حکم منسوخ کرتا ہوں۔ پھر کب جائز تھا کہ جو باتیں حضرت عیسٰی علیہ السلام کے مُنہ سے نہیں نکلیں وہ مذہب کے اندر داخل کر دی جائیں۔ لیکن چونکہ ضرور تھا کہ خدا ایک عالمگیر مذہب یعنی اسلام دنیا میں قائم کرے اس لئے عیسائیت کا بگڑنا اسلام کے ظہور کے لئے بطور ایک علامت کے تھا۔ یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ اسلام کے ظہور سے پہلے ہندو مذہب بھی بگڑ چکا تھا اور تمام ہندوستان میں عام طور پر بت پرستی رائج ہو چکی تھی۔ اور اسی بگاڑ کے یہ آثارِ باقیہ ہیں کہ وہ خدا جو اپنی صفات کے استعمال میں کسی مادہ کا محتاج نہیں اب آریہ صاحبوں کی نظر میں وہ پیدائش مخلوقات میں ضرور مادہ کا محتاج ہے۔ اِس فاسد عقیدہ سے ان کو ایک دوسرا فاسد عقیدہ بھی جو شرک سے بھرا ہوا ہے قبول کرنا پڑا یعنی یہ کہ تمام ذرّاتِ عالم اور تمام ارواح قدیم اور انادی ہیں۔ مگر افسوس کہ اگر وہ ایک نظر غایر خدا کی صفات پر ڈالتے تو ایسا کبھی نہ کہہ سکتے۔ کیونکہ اگر خدا پیدا کرنے کی صفت میں جو اس کی ذات میں قدیم سے ہے انسان کی طرح کسی مادہ کا محتاج ہے تو کیا وجہ کہ وہ اپنی صفت شنوائی اور بینائی وغیرہ میں انسان کی طرح کسی مادہ کا محتاج نہیں۔ انسان بغیر توسط ہوا کے کچھ سن نہیں سکتا اور بغیر توسط روشنی کے کچھ دیکھ نہیں سکتا۔ پس کیا پرمیشر بھی ایسی کمزوری اپنے اندر رکھتا ہے؟ اور وہ بھی سننے اور دیکھنے کے لئے ہوا اور روشنی کا محتاج ہے؟ پس اگر وہ ہوا اور روشنی کا محتاج نہیں تو یقینا سمجھو کہ وہ صفت پیدا کرنے میں بھی کسی مادہ کا محتاج نہیں۔ یہ منطق سراسر جھوٹ ہے کہ خدا اپنی صفات کے اظہار میں کسی مادہ کا محتاج ہے۔ انسانی صفات کا خدا پر قیاس کرنا کہ نیستی سے ہستی نہیں ہو سکتی اور انسانی کمزوریوں کو خدا پر جمانا بڑی غلطی ہے۔ انسان کی ہستی محدود اور خدا کی ہستی غیر محدود ہے۔ پس وہ اپنی ہستی کی قوت سے ایک اور ہستی پیدا کر لیتا ہے۔ یہی تو خدا ئی ہے اور وہ اپنی کسی صفت میں مادہ کا محتاج نہیں ہے ورنہ وہ خدا نہ ہو۔ کیا اس کے کاموں میں کوئی روک ہو سکتی ہے؟ اور اگر مثلاً چاہے کہ ایک دم میں زمین و آسما ن پیدا کر دے تو کیا وہ پیدا نہیں کر سکتا۔ ہندؤں میں جو لوگ علم کے ساتھ روحانیت کا بھی حصہ رکھتے تھے اور نری خشک منطق میں گرفتار نہ تھے۔ کبھی ان کا یہ عقیدہ نہیں ہوا جو آج کل پرمیشر کی نسبت آریہ صاحبان نے پیش کیا ہے۔ یہ سراسر عدِم روحانیت کا نتیجہ ہے۔
غرض یہ تمام بگاڑ کہ ان مذاہب میں پیدا ہو گئے جن میں سے بعض ذکر کے بھی قابل نہیں۔ اور جو انسانی پاکیزگی کے بھی مخالف ہیں۔ اور یہ تمام علامتیں ضرورت اسلام کے لئے تھیں۔ ایک عقلمند کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اسلام سے کچھ دن پہلے تمام مذاہب بگڑ چکے تھے اور روحانیت کو کھو چکے تھے۔ پس ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اظہارِ سچائی کے لئے ایک مجدد اعظم تھے جو گم گشتہ سچائی کو دوبارہ دنیا میں لائے۔ اس فخر میں ہمارے نبی صلعم کے ساتھ کوئی بھی نبی شریک نہیں کہ آپ نے تمام دنیا کو ایک تاریکی میں پایا۔ اور پھر آپ کے ظہور سے وہ تاریکی نور سے بدل گئی۔
(لیکچر سیالکوٹ۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۲۰۳ تا۲۰۶)اب قبل اس کے جو ہم دوسری بحثوں کی طرف توجہ کریں اس بحث کا لکھنا نہایت ضروری ہے جو دینِ اسلام کی حقیقت کیا ہے اور اس حقیقت تک پہنچنے کے وسائل کیا ہیں اور اس حقیقت پر پابند ہونے کے ثمرات کیا ہیں؟ کیونکہ بہت سے اسرار دقیقہ کا سمجھنا اسی بات پر موقوف ہے کہ پہلے حقیقت اسلام اور پھر اس حقیقت کے وسائل اور پھر اس کے ثمرات بخوبی ذہن نشین ہو جائیں اور ہمارے اندرونی مخالفوں کے لئے یہ بات نہایت فائدہ مند ہو گی کہ وہ حقیقت اسلام اور اس کے ابحاث متعلقہ کو توجہ سے پڑھیں کیونکہ جن شکوک و شبہات میں وہ مبتلا ہیں اکثر وہ ایسے ہیں کہ فقط اسی وجہ سے دلوں میں پیدا ہوئے ہیں کہ اسلام کی اتم اور اکمل حقیقت اور اس کے وسائل و ثمرات پر غور نہیں کی گئی ……… ایسا ہی مخالفین مذہب کو بھی ان حقائق کے بیان کرنے سے بہت فائدہ ہو گا اور اس مقام سے سمجھ سکتے ہیں کہ مذہب کیا چیز ہے اور اس کی سچائی کے نشان کیا ہیں۔
اب واضح ہو کہ لغت عرب میں اسلام اس کو کہتے ہیں کہ بطور پیشگی ایک چیز کا مول دیا جائے اور یا یہ کہ کسی کو اپنا کام سونپیں اور یا یہ کہ صلح کے طالب ہوں اور یا یہ کہ کسی امر یا خصومت کو چھوڑ دیں۔
اور اصطلاحی معنے اسلام کے وہ ہیں جو اس آیت کریمہ میں اس کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ کہ بَلٰی ٭ مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ وَہُوَ مُحۡسِنٌ فَلَہٗۤ اَجۡرُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ۪ وَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ یعنی مسلمان وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے تمام وجود کو سونپ دیوے یعنی اپنے وجود کو اللہ تعالیٰ کے لئے اور اُس کے ارادوں کی پیروی کے لئے اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے وقف کر دیوے اور پھر نیک کاموں پر خدا تعالیٰ کے لئے قائم ہو جائے اور اپنے وجود کی تمام عملی طاقتیں اس کی راہ میں لگا دیوے۔ مطلب یہ ہے کہ اعتقادی اور عملی طور پر محض خدا تعالیٰ کا ہو جاوے۔
’’اعتقادی‘‘ طور پر اس طرح سے کہ اپنے تمام وجود کو درحقیقت ایک ایسی چیز سمجھ لے جو خدا تعالیٰ کی شناخت اور اس کی طاعت اور اُس کے عشق اور محبت اور اس کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔
اور ’’عملی‘‘ طور پر اس طرح سے کہ خالصًا لِلّٰہ حقیقی نیکیاں جو ہر ایک قوت اور ہر یک خداداد توفیق سے وابستہ ہیں بجا لاوے مگر ایسے ذوق و شوق و حضور سے کہ گویا وہ اپنی فرمانبرداری کے آئینہ میں اپنے معبود حقیقی کے چہرہ کو دیکھ رہا ہے۔
(آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۵۷، ۵۸)اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ اپنی گردن خدا کے آگے قربانی کے بکرے کی طرح رکھ دینا اور اپنے تمام ارادوں سے کھوئے جانا اور خدا کے ارادہ اور رضا میں محو ہو جانا اور خدا میں گم ہو کر ایک موت اپنے پر وارد کر لینا اور اس کی محبت ذاتی سے پورا رنگ حاصل کر کے محض محبت کے جوش سے اس کی اطاعت کرنا نہ کسی اور بنا پر۔ اور ایسی آنکھیں حاصل کرنا جو محض اس کے ساتھ دیکھتی ہوں اور ایسے کان حاصل کرنا جو محض اس کے ساتھ سنتے ہوں اور ایسا دل پیدا کرنا جو سراسر اس کی طرف جھکا ہوا ہو۔ اور ایسی زبان حاصل کرنا جو اس کے بلائے بولتی ہو۔ یہ وہ مقام ہے جس پر تمام سلوک ختم ہو جاتے ہیں۔ اور انسانی قویٰ اپنے ذمہ کا تمام کام کر چکتے ہیں۔ اور پورے طور پر انسان کی نفسانیت پر موت وارد ہو جاتی ہے۔ تب خدا تعالیٰ کی رحمت اپنے زندہ کلام اور چمکتے ہوئے نوروں کے ساتھ دوبارہ اس کو زندگی بخشتی ہے اور وہ خدا کے لذیذ کلام سے مشرف ہوتا ہے اور وہ دقیق در دقیق نور جس کو عقلیں دریافت نہیں کر سکتیں اور آنکھیں اس کی کُنہ تک نہیں پہنچتیں وہ خود انسان کے دل سے نزدیک ہو جاتا ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے نَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِیۡدِ یعنی ہم اس کی شاہ رگ سے بھی زیادہ اس سے نزدیک ہیں۔ پس ایسا ہی وہ اپنے قرب سے فانی انسان کو مشرف کرتا ہے۔ تب وہ وقت آتا ہے کہ نابینائی دُور ہو کر آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں اور انسان اپنے خدا کو ان نئی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور اس کی آواز سُنتا ہے اور اس کی نور کی چادر کے اندر اپنے تئیں لپٹا ہوا پاتا ہے۔ تب مذہب کی غرض ختم ہو جاتی ہے اور انسان اپنے خدا کے مشاہدہ سے سفلی زندگی کا گندہ چولا اپنے وجود پر سے پھینک دیتا ہے اور ایک نور کا پیراہن پہن لیتا ہے اور نہ صرف وعدہ کے طور پر اور نہ فقط آخرت کے انتظار میں خدا کے دیدار اور بہشت کا منتظر رہتا ہے۔ بلکہ اسی جگہ اور اسی دنیا میں دیدار اور گفتار اور جنت کی نعمتوں کو پا لیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَیۡہِمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَلَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ یعنی جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا خدا وہ خدا ہے جو جامع صفات کاملہ ہے جس کی ذات اور صفات میں اور کوئی شریک نہیں اور یہ کہہ کر پھر وہ استقامت اختیار کرتے ہیں اور کتنے ہی زلزلے آویں اور بلائیں نازل ہوں اور موت کا سامنا ہو اُن کے ایمان اور صدق میں فرق نہیں آتا۔ اُن پر فرشتے اُترتے ہیں اور خدا ان سے ہم کلام ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ تم بلاؤں سے اور خوفناک دشمنوں سے مت ڈرو۔ اور نہ گذشتہ مصیبتوں سے غمگین ہو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں اور مَیں اسی دنیا میں تمہیں بہشت دیتا ہوں جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا تھا۔ پس تم اس سے خوش ہو۔ اب واضح ہو کہ یہ باتیں بغیر شہادت کے نہیں اور یہ ایسے وعدے نہیں کہ جو پورے نہیں ہوئے بلکہ ہزاروں اہل دل مذہب اسلام میں اس روحانی بہشت کا مزا چکھ چکے ہیں۔ درحقیقت اسلام وہ مذہب ہے جس کے سچے پیروؤں کو خدا تعالیٰ نے تمام گذشتہ راستبازوں کا وارث ٹھیرایا ہے اور ان کی متفرق نعمتیں اس امت مرحومہ کو عطا کر دی ہیں۔ (لیکچر لاہور۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۱۶۰، ۱۶۱)
اسلام کی حقیقت تب کسی میں متحقّق ہو سکتی ہے کہ جب اس کا وجود مع اپنی تمام باطنی و ظاہری قویٰ کے محض خدا تعالیٰ کے لئے اور اس کی راہ میں وقف ہو جاوے اور جو امانتیں اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی ہیں پھر اسی معطی حقیقی کو واپس دی جائیں اور نہ صرف اعتقادی طور پر بلکہ عمل کے آئینہ میں بھی اپنے اسلام اور اس کی حقیقتِ کاملہ کی ساری شکل دکھلائی جاوے۔ یعنی شخص مدعی اسلام یہ بات ثابت کر دیوے کہ اس کے ہاتھ اور پیر اور دل اور دماغ اور اس کی عقل اور اس کا فہم اور اس کا غضب اور اس کا رحم اور اس کا حلم اور اس کا علم اور اس کی تمام روحانی اور جسمانی قوتیں اور اس کی عزت اور اس کا مال اور اس کا آرام اور سرور اور جو کچھ اس کا سر کے بالوں سے پیروں کے ناخنوں تک باعتبار ظاہر و باطن کے ہے۔ یہاں تک کہ اس کی نیّات اور اس کے دل کے خطرات اور اس کے نفس کے جذبات سب خدا تعالیٰ کے ایسے تابع ہو گئے ہیں کہ جیسے ایک شخص کے اعضاء اس شخص کے تابع ہوتے ہیں۔ غرض یہ ثابت ہو جائے کہ صدق قدم اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ جو کچھ اس کا ہے وہ اس کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہو گیا ہے اور تمام اعضاء اور قویٰ الٰہی خدمت میں ایسے لگ گئے ہیں کہ گویا وہ جو ارح الحق ہیں۔
اور ان آیات پر غور کرنے سے یہ بات بھی صاف اور بدیہی طور پر ظاہر ہو رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں زندگی کا وقف کرنا جو حقیقت اسلام ہے دو قسم پر ہے۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کو ہی اپنا معبود اور مقصود اور محبوب ٹھہرایا جاوے اور اس کی عبادت اور محبت اور خوف اور رجا میں کوئی دوسرا شریک باقی نہ رہے اور اس کی تقدیس اور تسبیح اور عبادت اور تمام عبودیت کے آداب اور احکام اور اوامر اور حدود اور آسمانی قضا و قدر کے امور بدل و جان قبول کئے جائیں۔ اور نہایت نیستی اور تذلل سے ان سب حکموں اور حدّوں اور قانونوں اور تقدیروں کو بارادت تام سر پر اٹھا لیا جاوے اور نیز وہ تمام پاک صداقتیں اور پاک معارف جو اس کی وسیع قدرتوں کی معرفت کا ذریعہ اور اس کی ملکوت اور سلطنت کے علّو مرتبہ کو معلوم کرنے کے لئے ایک واسطہ اور اُس کے آلاء اور نعماء کے پہچاننے کے لئے ایک قوی رہبر ہیں بخوبی معلوم کر لی جائیں۔
دوسری قسم اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کی یہ ہے کہ اس کے بندوں کی خدمت اور ہمدردی اور چارہ جوئی اور باربرداری اور سچی غم خواری میں اپنی زندگی وقف کر دی جاوے۔ دوسروں کو آرام پہنچانے کے لئے دُکھ اٹھاویں۔ اور دوسروں کی راحت کے لئے اپنے پر رنج گوارا کر لیں۔
اِس تقریر سے معلوم ہوا کہ اسلام کی حقیقت نہایت ہی اعلیٰ ہے اور کوئی انسان کبھی اس شریف لقب اہل اسلام سے حقیقی طور پر ملقب نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنا سارا وجود مع اس کی تمام قوتوں اور خواہشوں اور ارادوں کے حوالہ بخدا نہ کردیوے اور اپنی انانیت سے مع اس کے جمیع لوازم کے ہاتھ اٹھا کر اسی کی راہ میں نہ لگ جاوے۔ پس حقیقی طور پر اسی وقت کسی کو مسلمان کہا جائے گا جب اس کی غافلانہ زندگی پر ایک سخت انقلاب وارد ہو کر اس کے نفس امّارہ کا نقش ہستی مع اس کے تمام جذبات کے یکدفعہ مٹ جائے اور پھر اس موت کے بعد محسن للہ ہونے کے نئی زندگی اس میں پیدا ہو جائے اور وہ ایسی پاک زندگی ہو جو اس میں بجز طاعت خالق اور ہمدردیٔ مخلوق کے اور کچھ بھی نہ ہو۔
خالق کی طاعت اس طرح سے کہ اس کی عزت و جلال اور یگانگت ظاہر کرنے کے لئے بے عزتی اور ذلّت قبول کرنے کے لئے مستعد ہو اور اس کی وحدانیت کا نام زندہ کرنے کے لئے ہزاروں موتوں کے قبول کرنے کے لئے طیار ہو اور اس کی فرمانبرداری میں ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کو بخوشی خاطر کاٹ سکے اور اس کے احکام کی عظمت کا پیار اور اس کی رضا جوئی کی پیاس گناہ سے ایسی نفرت دلا وے کہ گویا وہ کھا جانے والی ایک آگ ہے یا ہلاک کرنے والی ایک زہر ہے یا بھسم کرد ینے والی ایک بجلی ہے جس سے اپنی تمام قوتوں کے ساتھ بھاگنا چاہے۔ غرض اس کی مرضی ماننے کے لئے اپنے نفس کی سب مرضیات چھوڑ دے اور اس کے پیوند کے لئے جانکاہ زخموں سے مجروح ہونا قبول کرلے اور اس کے تعلّق کا ثبوت دینے کے لئے سب نفسانی تعلقات توڑ دے۔
اور خلق اللہ کی خدمت اِس طرح سے کہ جس قدر خلقت کی حاجات ہیں اور جس قدر مختلف وجوہ اور طرق کی راہ سے قسّام ازل نے بعض کو بعض کا محتاج کر رکھا ہے ان تمام امور میں محض لِلّٰہ اپنی حقیقی اور بے غرضانہ اور سچی ہمدردی سے جو اپنے وجود سے صادر ہو سکتی ہے اُن کو نفع پہنچاوے اور ہر یک مدد کے محتاج کو اپنی خد۱داد قوت سے مدد دے اور اُن کی دنیا و آخرت دونوں کی اصلاح کے لئے زور لگاوے۔
(آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵صفحہ ۵۹تا۶۲)اب ہم کسی قدر اس بات کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ اسلام کے ثمرات کیا ہیں؟ سو واضح ہو کہ جب کوئی اپنے مولیٰ کا سچا طالب کامل طور پر اسلام پر قائم ہو جائے اور نہ کسی تکلّف اور بناوٹ سے بلکہ طبعی طور پر خدا تعالیٰ کی راہوں میں ہر ایک قوت اس کے کام میں لگ جائے تو آخری نتیجہ اُس کی اس حالت کا یہ ہوتا ہے کہ خدا ئے تعالیٰ کی ہدایت کی اعلیٰ تجلّیات تمام حجب سے مبّرا ہو کر اُس کی طرف رُخ کرتی ہیں۔ اور طرح طرح کی برکات اُس پر نازل ہوتی ہیں اور وہ احکام اور وہ عقائد جو محض ایمان اور سماع کے طورپر قبول کئے گئے تھے۔ اب بذریعہ مکاشفاتِ صحیحہ اور الہاماتِ یقینہ قطعیہ مشہود اور محسوس طور پر کھولے جاتے ہیں۔ اور مُغَلِّقات شَرع اور دین کے اَور اسرار سربستہ ملّتِ حنیفیہ کے اس پر منکشف ہو جاتے ہیں اور ملکوت الٰہی کا اس کو سیر کرایا جاتا ہے تا وہ یقین اور معرفت میں مرتبہ کامل حاصل کرے اور اس کی زبان اور اس کے بیان اور تمام افعال اور اقوال اور حرکات سکنات میں ایک برکت رکھی جاتی ہے اور ایک فوق العادت شجاعت اور استقامت اور ہمت اس کو عطا کی جاتی ہے اور شرح صدر کا ایک اعلیٰ مقام اس کو عنایت کیا جاتا ہے اور بشریت کے حجابوں کی تنگ دلی اور خست اور بخل اور بار بار کی لغزش اور تنگ چشمی اور غلامی شہوات اور رداءت اخلاق اور ہر ایک قسم کی نفسانی تاریکی بکلّی اس سے دُور کر کے اُس کی جگہ ربّانی اخلاق کا نور بھر دیا جاتا ہے۔ تب وہ بکلی مبدّل ہو کر ایک نئی پیدائش کا پیرایہ پہن لیتا ہے اور خدائے تعالیٰ سے سُنتا اور خدائے تعالیٰ سے دیکھتا اور خدائے تعالیٰ کے ساتھ حرکت کرتا اور خدا تعالیٰ کے ساتھ ٹھہرتا ہے اور اُس کا غضب خدائے تعالیٰ کا غضب اور اس کا رحم خدائے تعالیٰ کا رحم ہو جاتا ہے۔ اور اس درجہ میں اُس کی دُعائیں بطور اصطفاء کے منظور ہوتی ہیں نہ بطور ابتلا کے۔ اور وہ زمین پر حجت اللہ اور امان اللہ ہوتا ہے اور آسمان پر اس کے وجود سے خوشی کی جاتی ہے اور اعلیٰ سے اعلیٰ عطیّہ جو اس کو عطا ہوتا ہے مکالمات الٰہیہ اور مخاطبات حضرتِ یزدانی ہیں جو بغیر شک اور شبہ اور کسی غبار کے چاند کے نور کی طرح اُس کے دل پر نازل ہوتے رہتے ہیں۔ اور ایک شدید الاثر لذّت اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ اور طمانیت اور تسلّی اور سکینت بخشتے ہیں۔ اور اس کلام اور الہام میں فرق یہ ہے کہ الہام کا چشمہ تو گویا ہر وقت مقرب لوگوں میں بہتا ہے اور وہ رُوح القدس کے بلائے بولتے اور رُوح القدس کے دکھائے دیکھتے اور رُوح القدس کے سُنائے سُنتے اور ان کے تمام ارادے رُوح القدس کے نفخ سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ اور یہ بات سچ اور بالکل سچ ہے کہ وہ ظلّی طور پر اس آیت کا مصداق ہوتے ہیں ۔ وَمَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ لیکن مکالمہ الٰہیہ ایک الگ امر ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ وحی متلوّ کی طرح خدا تعالیٰ کا کلام اُن پر نازل ہوتا ہے اور وہ اپنے سوالات کا خدائے تعالیٰ سے ایسا جواب پاتے ہیں کہ جیسا ایک دوست دوست کو جواب دیتا ہے۔ اور اس کلام کی اگر ہم تعریف کریں تو صرف اس قدر کر سکتے ہیں کہ وہ اللہ جل شانہٗ کی ایک تجلّی خاص کا نام ہے جو بذریعہ اس کے مقرب فرشتہ کے ظہور میں آتی ہے اور اس سے غرض یہ ہوتی ہے کہ تا دعا کے قبول ہونے سے اطلاع دی جائے یا کوئی نئی اور مخفی بات بتائی جائے یا آئندہ کی خبروں پر آگاہی دی جائے۔ یا کسی امر میں خدا تعالیٰ کی مرضی اور عدم مرضی پر مطلع کیا جائے یا کسی اور قسم کے واقعات میں یقین اور معرفت کے مرتبہ تک پہنچایا جائے۔ بہرحال یہ وحی ایک الٰہی آواز ہے جو معرفت اور اطمینان سے رنگین کرنے کے لئے منجانب اللہ پیرایہ مکالمہ و مخاطبہ میں ظہور پذیر ہوتی ہے۔ اور اس سے بڑھ کر اس کی کیفیت بیان کرنا غیر ممکن ہے کہ وہ صرف الٰہی تحریک اور ربّانی نفخ سے بغیر کسی قسم کے فکر اور تدبّر اور خوض اور غور اور اپنے نفس کے دخل کے خدائے تعالیٰ کی طرف سے ایک قدرتی ندا ہے جو لذیذ اور پُربرکت الفاظ میں محسوس ہوتی ہے اور اپنے اندر ایک ربّانی تجلّی اور الٰہی صولت رکھتی ہے۔ (آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵صفحہ ۲۲۶تا۲۳۳)
مَیں صرف اسلام کو سچا مذہب سمجھتا ہوں اور دوسرے مذاہب کو باطل اور سراسر دروغ کا پُتلا خیال کرتا ہوں اور مَیں دیکھتا ہوں کہ اسلام کے ماننے سے نور کے چشمے میرے اندر بہہ رہے ہیں اور محض محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے وہ اعلیٰ مرتبہ مکالمہ الٰہیہ اور اجابت دُعاؤں کا مجھے حاصل ہوا ہے جو کہ بجز سچے نبی کے پیرو کے اَور کسی کو حاصل نہیں ہو سکے گا اور اگر ہندو اور عیسائی وغیرہ اپنے باطل معبودوں سے دُعا کرتے کرتے مر بھی جائیں تب بھی ان کو وہ مرتبہ مل نہیں سکتا اور وہ کلامِ الٰہی جو دوسرے ظنّی طور پر اس کو مانتے ہیں مَیں اُس کو سُن رہا ہوں اور مجھے دکھلایا اور بتلایا گیا اور سمجھایا گیا ہے کہ دنیا میں فقط اسلام ہی حق ہے اور میرے پر ظاہر کیا گیا کہ یہ سب کچھ ببرکت پیروی حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تجھ کو ملا ہے اور جو کچھ ملا ہے اُس کی نظیر دوسرے مذاہب میں نہیں کیونکہ وہ باطل پر ہیں۔ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵صفحہ ۲۷۵، ۲۷۶)
ہزار ہزار شکر اس خداوند کریم کا ہے جس نے ایسا مذہب ہمیں عطا فرمایا جو خدادانی اور خدا ترسی کا ایک ایسا ذریعہ ہے جس کی نظیر کبھی اور کسی زمانہ میں نہیں پائی گئی۔ اور ہزار ہا درود اُس نبی معصوم پر جس کے وسیلہ سے ہم اس پاک مذہب میں داخل ہوئے اور ہزارہا رحمتیں نبی کریم کے اصحاب پر ہوں جنہوں نے اپنے خونوں سے اس باغ کی آبپاشی کی۔
اسلام ایک ایسا بابرکت اور خدا نما مذہب ہے کہ اگر کوئی شخص سچّے طور پر اس کی پابندی اختیار کرے اور اُن تعلیموں اور ہدایتوں اور وصیّتوں پر کاربند ہو جائے جو خدائے تعالیٰ کے پاک کلام قرآن شریف میں مندرج ہیں تو وہ اسی جہان میں خدا کو دیکھ لے گا۔ وہ خدا جو دنیا کی نظر سے ہزاروں پردوں میں ہے اس کی شناخت کے لئے بجز قرآنی تعلیم کے اَور کوئی بھی ذریعہ نہیں۔ قرآن شریف معقولی رنگ میں اور آسمانی نشانوں کے رنگ میں نہایت سہل اور آسان طریق سے خدائے تعالیٰ کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور اس میں ایک برکت اور قوتِ جاذبہ ہے جو خد اکے طالب کو دم بدم خدا کی طرف کھینچتی اور روشنی اور سکینت اور اطمینان بخشتی ہے اور قرآن شریف پر سچا ایمان لانے والا صرف فلسفیوں کی طرح یہ ظن نہیں رکھتا کہ اس پُرحکمت عالم کا بنانے والا کوئی ہونا چاہئے بلکہ وہ ایک ذاتی بصیرت حاصل کرکے اور ایک پاک رؤیت سے مشرف ہو کر یقین کی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے کہ فی الواقع وہ صانع موجود ہے۔ اور اس پاک کلام کی روشنی حاصل کرنے والا محض خشک معقولیوں کی طرح یہ گمان نہیں رکھتا کہ خدا واحد لاشریک ہے بلکہ صد ہا چمکتے ہوئے نشانوں کے ساتھ جو اس کا ہاتھ پکڑ کر ظلمت سے نکالتے ہیں واقعی طور پر مشاہدہ کر لیتا ہے کہ درحقیقت ذات اور صفات میں خدا کا کوئی بھی شریک نہیں۔ اور نہ صرف اس قدر بلکہ وہ عملی طور پر دنیا کو دکھا دیتا ہے کہ وہ ایسا ہی خدا کو سمجھتا ہے اور وحدتِ الٰہی کی عظمت ایسی اُس کے دل میں سما جاتی ہے کہ وہ الٰہی ارادہ کے آگے تمام دنیا کو ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح بلکہ مطلق لَاشَے اور سراسر کالعدم سمجھتا ہے۔
(براہین احمدیہ حصّہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۲۵، ۲۶)سچے مذہب کا خدا ایسا مطابق عقل اور نور فطرت چاہئے کہ جس کا وجود اُن لوگوں پر بھی حجت ہو سکے جو عقل تو رکھتے ہیں مگر ان کو کتاب نہیں ملی۔ غرض وہ خدا ایسا چاہئے جس میں کسی زبردستی اور بناوٹ کی بُو نہ پائی جائے۔ سو یاد رہے کہ یہ کمال اس خدا میں ہے جو قرآن نے پیش کیا ہے۔ اور تمام دنیا کے تمام مذہب والوں نے یا تو اصل خدا کو بالکل چھوڑ دیا ہے جیسا کہ عیسائی اور یا ناواجب صفات اور اخلاق ذمیمہ اس کی طرف منسوب کرا دیئے ہیں جیسا کہ یہودی، اور یا واجب صفات سے اس کو علیٰحدہ کر دیا ہے جیسا کہ مشرکین اور آریہ۔ مگر اسلام کا خدا وہی سچّا خدا ہے جو آئینۂ قانون قدرت اور صحیفۂ فطرت سے نظر آ رہا ہے۔ اسلام نے کوئی نیا خدا پیش نہیں کیا بلکہ وہی خدا پیش کیا ہے جو انسان کا نور قلب اور انسان کا کانشنس اور زمین و آسمان پیش کر رہا ہے اور دوسری علامت سچے مذہب کی یہ ہے کہ مُردہ مذہب نہ ہو۔ بلکہ جن برکتوں اور عظمتوں کی ابتدا میں اس میں تخم ریزی کی گئی تھی وہ تمام برکتیں اور عظمتیں نوع انسان کی بھلائی کے لئے اس میں اخیر دنیا تک موجود رہیں تا موجودہ نشان گذشتہ نشانوں کے لئے مصدق ہو کر اس سچائی کے نور کو قصّہ کے رنگ میں نہ ہونے دیں۔ سو مَیں ایک مدت دراز سے لکھ رہا ہوں کہ جس نبوت کا ہمارے سیّد و مولیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ کیا تھا اور جو دلائل آسمانی نشانوں کے آنجنابؐ نے پیش کئے تھے وہ اب تک موجود ہیں اور پیروی کرنے والوں کو ملتے ہیں تا وہ معرفت کے مقام تک پہنچ جائیں۔ اور زندہ خدا کو براہ راست دیکھ لیں۔ مگر جن نشانوں کو یسوع کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اُن کا دنیا میں نام و نشان نہیں صرف قصّے ہیں۔ لہٰذا یہ مُردہ پرستی کا مذہب اپنے مُردہ معبود کی طرح مُردہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک سچائی کا بیان صرف قصّوں تک کفایت نہیں کر سکتا۔ کون سی قوم دنیا میں ہے جن کے پاس کراماتوں اور معجزوں کے قصّے نہیں۔ پس یہ اسلام ہی کا خاصہ ہے کہ وہ صرف قصّوں کی ناقص اور ناتمام تسلّی کو پیش نہیں کرتا بلکہ وہ ڈھونڈنے والوں کو زندہ نشانوں سے اطمینان بخشتا ہے اور اس شخص کو جو حق کاطالب ہو اس کو چاہئے کہ صرف بیہودہ مُردہ پرستی پر کفایت نہ کرے بلکہ نہایت ضروری ہے کہ محض ذلیل قصّوں پر سرنگوں نہ ہو۔ ہم دنیا کے بازار میں اچھی چیزوں کے خریدنے کے لئے آئے ہیں۔ ہمیں نہیں چاہئے کہ کوئی مغشوش چیز خرید کر نقد ایمان ضائع کریں۔ زندہ مذہب وہ ہے جس کے ذریعہ سے زندہ خدا ملے۔ زندہ خدا وہ ہے جو ہمیں بلاواسطہ مُلْہَم کر سکے اور کم سے کم یہ کہ ہم بلاواسطہ مُلْہِم کو دیکھ سکیں۔ سو مَیں تمام دنیا کو خوشخبری دیتا ہوں کہ یہ زندہ خدا اسلام کا خدا ہے۔ وہ مُردے ہیں نہ خدا جن سے اب کوئی ہمکلام نہیں ہو سکتا۔ اُس کے نشان نہیں دیکھ سکتا۔ سو جس کا خدا مردہ ہے وہ اُس کو ہر میدان میں شرمندہ کرتاہے اور ہر میدان میں اُسے ذلیل کرتا ہے اور کہیں اس کی مددنہیں کر سکتا۔ اس اشتہار کے دینے سے اصل غرض یہی ہے کہ جس مذہب میں سچائی ہے وہ کبھی اپنا رنگ نہیں بدل سکتی۔ جیسے اوّل ہے ویسے ہی آخر ہے۔ سچا مذہب کبھی خشک قصّہ نہیں بن سکتا۔ سو اسلام سچا ہے۔ مَیں ہر ایک کو کیا عیسائی کیا آریہ اور کیا یہودی اور کیا برہمو اس سچائی کے دکھلانے کے لئے بُلاتا ہوں۔ کیا کوئی ہے جو زندہ خدا کا طالب ہے ہم مُردوں کی پرستش نہیں کرتے۔ ہمارا زندہ خدا ہے۔ وہ ہماری مدد کرتا ہے۔ وہ اپنے الہام اور کلام اور آسمانی نشانوں سے ہمیں مدد دیتا ہے۔ اگر دنیا کے اس سرے سے اس سرے تک کوئی عیسائی طالب حق ہے تو ہمارے زندہ خدا اور اپنے مُردہ خدا کا مقابلہ کر کے دیکھ لے۔ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اِس باہم امتحان کے لئے چالیس ۴۰ دن کافی ہیں۔ (تبلیغ رسالت جلد ششم صفحہ ۱۳تا۱۵۔ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۱۱ تا ۱۳ بار دوم)
وہ اسلام جس کی خوبیاں ہم بیان کر چکے ہیں وہ ایسی چیز نہیں ہے جس کے ثبوت کے لئے ہم صرف گذشتہ کا حوالہ دیں۔ اور محض قبروں کے نشان دکھلائیں۔ اسلام مردہ مذہب نہیں تا یہ کہا جائے کہ اس کی سب برکات پیچھے رہ گئی ہیں اور آگے خاتمہ ہے۔ اسلام میں بڑی خوبی یہی ہے کہ اس کی برکات ہمیشہ اس کے ساتھ ہیں۔ اور وہ صرف گذشتہ حصوں 90 کا سبق نہیں دیتا بلکہ موجودہ برکات پیش کرتا ہے۔ دنیا کو برکات اور آسمانی نشانوں کی ہمیشہ ضرورت ہے۔ یہ نہیں کہ پہلے تھیں اور اب نہیں ہیں۔ ضعیف اور عاجز انسان جو اندھے کی طرح پیدا ہوتا ہے ہمیشہ اِس بات کا محتاج ہے کہ آسمانی بادشاہت کا اس کو کچھ پتہ لگے اور وہ خدا جس کے وجود پر ایمان ہے اُس کی ہستی اور قدرت کے کچھ آثار بھی ظاہر ہوں۔ پہلے زمانہ کے نشان دوسرے زمانہ کے لئے کافی نہیں ہو سکتے کیونکہ خبر معائنہ کی مانندنہیں ہو سکتی اور امتدادِ زمانہ سے خبریں ایک قصّہ کے رنگ میں ہو جاتی ہیں۔ ہریک نئی صدی جو آتی ہے تو گویا ایک نئی دنیا شروع ہو تی ہے اِس لئے اسلام کا خدا جو سچّا خد اہے ہریک نئی دنیا کے لئے نئے نشان دکھلاتا ہے اور ہر یک صدی کے سر پر اور خاص کر ایسی صدی کے سر پر جو ایمان اور دیانت سے دُور پڑ گئی ہے اور بہت سی تاریکیاں اپنے اندر رکھتی ہے ایک قائم مقام نبی کا پیدا کر دیتا ہے جس کے آئینہء فطرت میں نبی کی شکل ظاہرہوتی ہے اور وہ قائم مقام نبی متبوع کے کمالات کو اپنے وجود کے توسط سے لوگوں کو دکھلاتا ہے اور تمام مخالفوں کو سچائی اور حقیقت نمائی اور پردہ دری کے رُو سے ملزم کرتا ہے۔ (آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲۴۵تا۲۴۷)
سچے مذہب کی یہی نشانی ہے کہ اِس مذہب کی تعلیم سے ایسے راستباز پیدا ہوتے رہیں جو محدّث کے مرتبہ تک پہنچ جائیں جن سے خدا تعالیٰ آمنے سامنے کلام کرے۔ اور اسلام کی حقیت اور حقانیت کی اوّل نشانی یہی ہے کہ اس میں ہمیشہ ایسے راستباز جن سے خدا تعالیٰ ہم کلام ہو پیدا ہوتے ہیں۔ تَتَنَزَّلُ عَلَیۡہِمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَلَا تَحۡزَنُوۡا سو یہی معیار حقیقی سچے اور زندہ اور مقبول مذہب کی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ نور صرف اسلام میں ہے۔ عیسائی مذہب اس روشنی سے بے نصیب ہے۔ (حجۃ الاسلام۔ روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ۴۳)
ہم یقینی اور قطعی طور پر ہر ایک طالب حق کو ثبوت دے سکتے ہیں کہ ہمارے سیّد و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے آج تک ہر ایک صدی میں ایسے باخدا لوگ ہوتے رہے ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ غیر قوموں کو آسمانی نشان دکھلا کر ان کو ہدایت دیتا رہا ہے۔ جیسا کہ سیّد عبدالقادر جیلانی اور ابوالحسن خرقانی اور ابویزید بسطامی اور جنید بغدادی اور محی الدین ابن العربی۔ اور ذوالنون مصری اور معین الدین چشتی اجمیری اور قطب الدین بختیار کاکی۔ اور فرید الدین پاکپٹنی اور نظام الدین دہلوی، اور شاہ ولی اللہ دہلوی اور شیخ احمد سرہندی رضی اللہ عنہم و رضواعنہ اسلام میں گذرے ہیں اور ان لوگوں کا ہزار ہا تک عدد پہونچا ہے اور اس قدر ان لوگوں کے خوارق علماء اور فضلاء کی کتابوں میں منقول ہیں کہ ایک متعصب کو باوجود سخت تعصب کے آخر ماننا پڑتا ہے کہ یہ لوگ صاحب خوارق و کرامات تھے۔ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ مَیں نے نہایت صحیح تحقیقات سے دریافت کیا ہے کہ جہاں تک بنی آدم کے سلسلہ کا پتہ لگتا ہے سب پر غور کرنے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جس قدر اسلام میں اسلام کی تائید میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کی گواہی میں آسمانی نشان بذریعہ اس امت کے اولیاء کے ظاہر ہوئے اور ہو رہے ہیں اُن کی نظیر دوسرے مذاہب میں ہرگز نہیں۔ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس کی ترقی آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے ہمیشہ ہوتی رہی ہے اور اس کے بے شمار انوار اور برکات نے خدا تعالیٰ کو قریب کر کے دکھلا دیا ہے۔ یقینا سمجھو کہ اسلام اپنے آسمانی نشانوں کی وجہ سے کسی زمانہ کے آگے شرمندہ نہیں۔ اسی اپنے زمانہ کو دیکھو جس میں اگر تم چاہو تو اسلام کے لئے رؤیت کی گواہی دے سکتے ہو۔ تم سچ سچ کہو کہ کیا اِس زمانہ میں تم نے اسلام کے نشان نہیں دیکھے؟ پھر بتلاؤ کہ دنیا میں اور کون سا مذہب ہے کہ یہ گواہیاں نقدموجود رکھتا ہے؟ یہی باتیں تو ہیں کہ جن سے پادری صاحبوں کی کمر ٹوٹ گئی۔ جس شخص کو وہ خدا بناتے ہیں اس کی تائید میں بجز چند بے سر و پا قصّوں اور جھوٹی روایتوں کے اُن کے ہاتھ میں کچھ نہیں۔ اور جس پاک نبیؐ کی وہ تکذیب کرتے ہیں اُس کی سچائی کے نشان اس زمانہ میں بھی بارش کی طرح برس رہے ہیں۔ ڈھونڈنے والوں کے لئے اب بھی نشانوں کے دروازے کھلے ہیں جیسا کہ پہلے کھلے تھے۔ اور سچائی کے بھوکوں کے لئے اب بھی خوان نعمت موجود ہے جیسا کہ پہلے تھا۔ زندہ مذہب وہی ہوتا ہے جس پر ہمیشہ کے لئے زندہ خدا کا ہاتھ ہو۔ سو وہ اسلام ہے۔ (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۳صفحہ ۹۱، ۹۲)
اگر کسی کے دل میں یہ سوال پیدا ہو کہ دنیا میں صد ہا جھوٹے مذہب ہیں جو ہزاروں برسوں سے چلے آتے ہیں حالانکہ ابتداء اُن کی کسی کی افتراء سے ہی ہو گی۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ افتراء سے مراد ہمارے کلام میں وہ افتراء ہے کہ کوئی شخص عمداً اپنی طرف سے بعض کلمات تراش کر یا ایک کتاب بنا کر پھر یہ دعویٰ کرے کہ یہ باتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور اس نے مجھے الہام کیا ہے اور ان باتوں کے بارے میں میرے پر اُس کی وحی نازل ہوئی ہے۔ حالانکہ کوئی وحی نازل نہیں ہوئی۔ سو ہم نہایت کامل تحقیقات سے کہتے ہیں کہ ایسا افتراء کبھی کسی زمانہ میں چل نہیں سکا۔ اور خدا کی پاک کتاب صاف گواہی دیتی ہے کہ خدا تعالیٰ پر افتراء کرنے والے جلد ہلاک کئے گئے ہیں۔ او رہم لکھ چکے ہیں کہ توریت بھی یہی گواہی دیتی ہے اور انجیل بھی اور فرقان مجید بھی۔ ہاں جس قدر دنیا میں جھوٹے مذہب نظر آتے ہیں۔ جیسے ہندوؤں اور پارسیوں کا مذہب، اُن کی نسبت یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ وہ کسی جھوٹے پیغمبر کا سِلسلہ چلا آتا ہے بلکہ اصل حقیقت ان میں یہ ہے کہ خود لوگ غلطیوں میں پڑتے پڑتے ایسے عقائد کے پابند ہو گئے ہیں۔ دنیا میں تم کوئی ایسی کتاب دکھا نہیں سکتے جس میں صاف اور بے تناقض لفظوں میں کھلا کھلا یہ دعویٰ ہو کہ یہ خدا کی کتاب ہے۔ حالانکہ اصل میں وہ خدا کی کتاب نہ ہو بلکہ کسی مفتری کا افتراء ہو۔ اور ایک قوم اس کو عزت کے ساتھ مانتی چلی آئی ہو۔ ہاں ممکن ہے کہ خدا کی کتاب کے الٹے معنے کئے گئے ہوں۔ جس حالت میں انسانی گورنمنٹ ایسے شخص کو نہایت غیرت مندی کے ساتھ پکڑتی ہے کہ جھوٹے طور پر ملازمت سرکاری ہونے کا دعویٰ کرے تو خدا جو اپنے جلال اور ملکوت کے لئے غیرت رکھتا ہے کیوں جھوٹے مدعی کو نہ پکڑ ے۔ (انجام آتھم۔ روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۶۳، ۶۴۔ نوٹ)
’’یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے۔‘‘
وہ خدا جو تمام نبیوں پر ظاہر ہوتا رہا اور حضرت موسٰی کلیم اللہ پر بمقام طُور ظاہر ہو ااور حضرت مسیح پر شعیر کے پہاڑ پر طلوع فرمایا اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر فاران کے پہاڑ پر چمکا وہی قادر قدوس خدا میرے پر تجلّی فرما ہوا ہے۔ اُس نے مجھ سے باتیں کیں اور مجھے فرمایا کہ وہ اعلیٰ وجود جس کی پرستش کے لئے تمام نبی بھیجے گئے مَیں ہوں۔ مَیں اکیلا خالق اور مالک ہوں اور کوئی میرا شریک نہیں۔ اور مَیں پیدا ہونے اور مرنے سے پاک ہوں۔ (ضمیمہ رسالہ جہاد۔ روحانی خزائن جلد ۱۷صفحہ ۲۹)
وہ پاک زندگی جو گناہ سے بچ کر ملتی ہے وہ ایک لعلِ تاباں ہے جو کسی کے پاس نہیں ہے ہاں خداتعالیٰ نے وہ لعلِ تاباں مجھے دیا ہے اور مجھے اُس نے مامور کیا ہے کہ مَیں دنیا کو اس لعلِ تاباں کے حصول کی راہ بتا دوں۔ اس راہ پر چل کر مَیں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ہر ایک شخص یقینا یقینا اس کو حاصل کرلے گا اور وہ ذریعہ اور وہ راہ جس سے یہ ملتا ہے ایک ہی ہے جس کو خدا کی سچی معرفت کہتے ہیں۔ درحقیقت یہ مسئلہ بڑا مشکل اور نازک مسئلہ ہے۔ کیونکہ ایک مشکل امر پر موقوف ہے۔ فلاسفر جیسا کہ مَیں نے پہلے کہا ہے آسمان اور زمین کو دیکھ کر اور دوسرے مصنوعات کی ترتیب ابلغ و محکم پر نظر کر کے صرف اتنا بتاتا ہے کہ کوئی صانع ہونا چاہئے مگر مَیں اس سے بلند تر مقام پر لے جاتا ہوں اور اپنے ذاتی تجربوں کی بنا پر کہتا ہوں کہ خدا ہے۔ (الحکم مورخہ ۱۷؍دسمبر ۱۹۰۱ء صفحہ ۳، ۴۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ۱۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ ہماری اعلیٰ لذّات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔ یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔ اے محرومو! اِس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔ یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔ مَیں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔ کس دف سے مَیں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سُن لیں اور کس دوا سے مَیں علاج کروں تا سُننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔ (کشتی نوح۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ۲۱، ۲۲)
خدا آسمان وزمین کا ُنور ہے۔ یعنی ہر ایک نور جو بلندی اور پستی میں نظر آتا ہے خواہ وہ ارواح میں ہے خواہ اجسام میں اور خواہ ذاتی ہے اور خواہ عرضی اور خواہ ظاہری ہے اور خواہ باطنی اور خواہ ذ ہنی ہے خواہ خارجی اُسی کے فیض کا عطیّہ ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت رب العالمین کا فیض عام ہر چیز پر محیط ہو رہا ہے اور کوئی اس کے فیض سے خالی نہیں۔ وہی تمام فیوض کا مبدء ہے اور تمام انوار کا علت العلل اور تمام رحمتوں کا سرچشمہ ہے۔ اُسی کی ہستی حقیقی تمام عالم کی قیّوم اور تمام زیر و زبر کی پناہ ہے۔ وہی ہے جس نے ہر یک چیز کو ظلمت خانہ عدم سے باہر نکالا اور خلعت وجود بخشا۔ بجز اس کے کوئی ایسا وجودنہیں ہے کہ جو فی حدّ ذاتہٖ واجب اور قدیم ہو۔ یا اس سے مستفیض نہ ہو بلکہ خاک اور افلاک اور انسان اور حیوان اور حجر اور شجر اور روح اور جسم سب اُسی کے فیضان سے وجود پذیر ہیں۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۹۱، ۱۹۲ حاشیہ نمبر۱۱)
اسلام کا خدا وہی سچا خدا ہے جو آئینۂ قانون قدرت اور صحیفۂ فطرت سے نظر آ رہا ہے۔ اسلام نے کوئی نیا خدا پیش نہیں کیا بلکہ وہی خدا پیش کیا ہے جو انسان کا نور قلب اور انسان کا کانشنس اور زمین و آسمان پیش کر رہا ہے۔ (تبلیغ رسالت جلد ششم صفحہ ۱۴۔ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۱۲ بار دوم)
اس قادر اور سچے اور کامل خدا کو ہماری رُوح اور ہمارا ذرّہ ذرّہ وجود کا سجدہ کرتا ہے جس کے ہاتھ سے ہر ایک رُوح اور ہر ایک ذرّہ مخلوقات کا مع اپنی تمام قویٰ کے ظہور پذیر ہوا اور جس کے وجود سے ہر ایک وجود قائم ہے۔ اور کوئی چیز نہ اوس کے علم سے باہر ہے اور نہ اس کے تصرف سے نہ اس کے خَلق سے۔ اور ہزاروں درود اور سلام اور رحمتیں اور برکتیں اس پاک نبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوں جس کے ذریعہ سے ہم نے وہ زندہ خدا پایا جو آپ کلام کر کے اپنی ہستی کا آپ ہمیں نشان دیتا ہے اور آپ فوق العادت نشان دکھلا کر اپنی قدیم اور کامل طاقتوں اور قوتوں کا ہم کو چمکنے والا چہرہ دکھاتا ہے۔ سو ہم نے ایسے رسول کو پایا جس نے خدا کو ہمیں دکھلایا اور ایسے خدا کو پایا جس نے اپنی کامل طاقت سے ہر ایک چیز کو بنایا۔ اس کی قدرت کیا ہی عظمت اپنے اندر رکھتی ہے جس کے بغیر کسی چیز نے نقش وجودنہیں پکڑا۔ اور جس کے سہارے کے بغیر کوئی چیز قائم نہیں رہ سکتی۔ وہ ہمارا سچا خدا بے شمار برکتوں والا ہے اور بے شمار قدرتوں والا اور بے شمار حسن والا اور بے شمار احسان والا اوس کے سوا کوئی اور خدا نہیں۔ (نسیم دعوت۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۳۶۳)
خدا کی ذات غیب الغیب اور وراء الوراء اور نہایت مخفی واقع ہوئی ہے جس کو عقولِ انسانیہ محض اپنی طاقت سے دریافت نہیں کر سکتیں اور کوئی برہان عقلی اُس کے وجود پر قطعی دلیل نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ عقل کی دوڑ اور سعی صرف اس حد تک ہے کہ اس عالم کی صنعتوں پر نظر کر کے صانع کی ضرورت محسوس کرے۔ مگر ضرورت کا محسوس کرنا اور شے ہے۔ اور اس درجہ عین الیقین تک پہنچنا کہ جس خدا کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے وہ درحقیقت موجود بھی ہے یہ اَور بات ہے۔ اور چونکہ عقل کا طریق ناقص اور ناتمام اور مشتبہ ہے اس لئے ہر ایک فلسفی محض عقل کے ذریعہ سے خدا کو شناخت نہیں کر سکتا۔ بلکہ اکثر ایسے لوگ جو محض عقل کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا پتہ لگانا چاہتے ہیں آخرکار دہریہ بن جاتے ہیں۔ اور مصنوعات زمین و آسمان پر غورکرنا کچھ بھی اُن کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ اور خدا تعالیٰ کے کاملوں پر ٹھٹھا اور ہنسی کرتے ہیں اور اُن کی یہ حجت ہے کہ دنیا میں ہزار ہا ایسی چیزیں پائی جاتی ہیں جن کے وجود کا ہم کوئی فائدہ نہیں دیکھتے۔ اور جن میں ہماری عقلی تحقیق سے کوئی ایسی صنعت ثابت نہیں ہوتی جو صانع پر دلالت کرے بلکہ محض لغو اور باطل طور پر ان چیزوں کا وجود پایاجاتا ہے۔ افسوس وہ نادان نہیں جانتے کہ عدمِ علم سے عدمِ شے لازم نہیں آتا۔ اس قسم کے لوگ کئی لاکھ اس زمانہ میں پائے جاتے ہیں۔ جو اپنے تئیں اوّل درجہ کے عقلمند اور فلسفی سمجھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے وجود سے سخت منکر ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ اگر کوئی عقلی دلیل زبردست ان کو ملتی تو وہ خدا تعالیٰ کے وجود کا انکار نہ کرتے اور اگر وجودباری شانہٗ پر کوئی برہان یقینی عقلی اُن کو ملزم کرتی تو وہ سخت بے حیائی اور ٹھٹھے اور ہنسی کے ساتھ خداتعالیٰ کے وجود سے منکر نہ ہو جاتے۔ پس کوئی شخص فلسفیوں کی کشتی پر بیٹھ کر طوفان شبہات سے نجات نہیں پا سکتا بلکہ ضرور غرق ہو گا۔ اور ہرگز ہرگز شربتِ توحید خالص اوس کو میسر نہیں آئے گا۔ اب سوچو کہ یہ خیال کس قدر باطل اور بدبو دار ہے کہ بغیر وسیلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے توحید میسر آ سکتی ہے۔ اور اس سے انسان نجات پا سکتا ہے۔ اے نادانو! جب تک خدا کی ہستی پر یقین کامل نہ ہو اُس کی توحید پر کیونکر یقین ہو سکے۔ پس یقینا سمجھو کہ توحید یقینی محض نبی کے ذریعہ سے ہی مل سکتی ہے جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے دہریوں اور بدمذہبوں کو ہزار ہا آسمانی نشان دکھلا کر خدا تعالیٰ کے وجود کا قائل کر دیا اور اب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور کامل پیروی کرنے والے اُن نشانوں کو دہریوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ بات یہی سچ ہے کہ جب تک زندہ خدا کی زندہ طاقتیں انسان مشاہدہ نہیں کرتا شیطان اس کے دل میں سے نہیں نکلتا اور نہ سچی توحید اُس کے دل میں داخل ہوتی ہے اور نہ یقینی طور پر خدا کی ہستی کا قائل ہو سکتا ہے اور یہ پاک اور کامل توحید صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ملتی ہے۔ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۲۰، ۱۲۱)
یاد رکھو کہ انسان کی ہرگز یہ طاقت نہیں ہے کہ ان تمام دقیق در دقیق خدا کے کاموں کو دریافت کر سکے بلکہ خدا کے کام عقل اور فہم اور قیاس سے برتر ہیں اور انسان کو صرف اپنے اس قدر علم پر مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ اس کو کسی حد تک سلسلہ علل و معلولات کا معلوم ہو گیا ہے کیونکہ انسان کا وہ علم نہایت ہی محدود ہے جیسا کہ سمندر کے ایک قطرہ میں سے کروڑ م حصہ قطرہ کا۔ اور حق بات یہ ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ خودناپیدا کنار ہے ایسا ہی اس کے کام بھی ناپیدا کنار ہیں۔ اور اس کے ہر ایک کام کی اصلیت تک پہنچنا انسانی طاقت سے برتر اور بلند تر ہے۔ ہاں ہم اس کی صفاتِ قدیمہ پر نظر کر کے یہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ خدا تعالیٰ کی صفات کبھی معطل نہیں رہتیں اس لئے خدا تعالیٰ کی مخلوق میں قدامت نوعی پائی جاتی ہے۔ یعنی مخلوق کی انواع میں سے کوئی نہ کوئی نوع قدیم سے موجود چلی آئی ہے۔ مگر شخصی قدامت باطل ہے۔ اور باوجود اس کے خدا کی صفت افناء اور اہلاک بھی ہمیشہ اپنا کام کرتی چلی آتی ہے وہ بھی کبھی معطّل نہیں ہوئی۔ اور اگرچہ نادان فلاسفروں نے بہت ہی زور لگایا کہ زمین و آسمان کے اجرام و اجسام کی پیدائش کو اپنے سائینس یعنی طبعی قواعد کے اندر داخل کر لیں اور ہر ایک پیدائش کے اسباب قائم کریں مگر سچ یہی ہے کہ وہ اس میں ناکام اور نامراد رہے ہیں اور جو کچھ ذخیرہ اپنی طبعی تحقیقات کا انہوں نے جمع کیا ہے وہ بالکل ناتمام اور نامکمل ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی اپنے خیالات پر قائم نہیں رہ سکے اور ہمیشہ ان کے خود تراشیدہ خیالات میں تغیر تبدل ہوتا رہا ہے اور معلوم نہیں کہ آگے کس قدر ہو گا۔ اور چونکہ ان کی تحقیقاتوں کی یہ حالت ہے کہ تمام مدار ان کا صرف اپنی عقل اور قیاس پر ہے اور خدا سے کوئی مدد اُن کو نہیں ملتی اس لئے وہ تاریکی سے باہر نہیں آ سکتے۔ اور درحقیقت کوئی شخص خدا کو شناخت نہیں کر سکتا جب تک اس حد تک اس کی معرفت نہ پہنچ جائے کہ وہ اس بات کو سمجھ لے کہ خدا کے بے شمار کام ایسے ہیں کہ جو انسانی طاقت اور عقل اور فہم سے بالاتر اور بلند تر ہیں اور اس مرتبہ معرفت سے پہلے یا تو انسان محض دہریہ ہوتا ہے اور خدا کے وجود پر ایمان ہی نہیں رکھتا اور یا اگر خدا کو مانتا ہے تو صرف اس خدا کو مانتا ہے کہ جو اس کے خود تراشیدہ دلائل کا ایک نتیجہ ہے نہ اس خدا کو جو اپنی تجلّی سے اپنے تئیں آپ ظاہر کرتا ہے اور جس کی قدرتوں کے اسرار اس قدر ہیں کہ انسانی عقل ان کا احاطہ نہیں کہ سکتی۔ جب سے خدا نے مجھے یہ علم دیا ہے کہ خدا کی قدرتیں عجیب در عجیب اور عمیق در عمیق اور وراء الوراء لایُدرک ہیں تب سے مَیں ان لوگوں کو جو فلسفی کہلاتے ہیں پکّے کافر سمجھتا ہوں اور چھپے ہوئے دہریہ خیال کرتا ہوں۔ میرا خود ذاتی مشاہدہ ہے کہ کئی عجائب قدرتیں خدا تعالیٰ کی ایسے طور پر میرے دیکھنے میں آئی ہیں کہ بجز اس کے کہ اُن کو نیستی سے ہستی کہیں اور کوئی نام ان کا ہم رکھ نہیں سکتے جیسا کہ ان نشانوں کی بعض مثالیں بعض موقعہ پر مَیں نے لکھ دی ہیں۔ جس نے یہ کرشمہ قدرت نہیں دیکھا اُس نے کیا دیکھا؟ ہم ایسے خدا کو نہیں مانتے جس کی قدرتیں صرف ہماری عقل اور قیاس تک محدود ہیں اور آگے کچھ نہیں۔ بلکہ ہم اس خدا کو مانتے ہیں جس کی قدرتیں اس کی ذات کی طرح غیر محدود اور ناپیدا کنار اور غیر متناہی ہیں۔ (چشمۂ معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ۲۸۰ تا۲۸۲)
قرآن شریف میں ایسی تعلیمیں ہیں کہ جو خدا کو پیارا بنانے کے لئے کوشش کر رہی ہیں۔ کہیں اس کے حسن و جمال کو دکھاتی ہیں اور کہیں اُس کے احسانوں کو یاد دلاتی ہیں کیونکہ کسی کی محبت یا تو حسن کے ذریعہ سے دل میں بیٹھتی ہے اور یا احسان کے ذریعہ سے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ خدا اپنی تمام خوبیوں کے لحاظ سے واحد لاشریک ہے۔ کوئی بھی اس میں نقص نہیں۔ وہ مجمع ہے تمام صفات کاملہ کا اور مظہر ہے تمام پاک قدرتوں کا اور مبدا ہے تمام مخلوق کا اور سرچشمہ ہے تمام فیضوں کا اور مالک ہے تمام جزا سزا کا اور مرجع ہے تمام امور کا۔ اور نزدیک ہے باوجود دُوری کے اور دُور ہے باوجودنزدیکی کے۔ وہ سب سے اوپر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی اَور بھی ہے۔ اور وہ سب چیزوں سے زیادہ پوشیدہ ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس سے کوئی زیادہ ظاہر ہے۔ وہ زندہ ہے اپنی ذات سے اور ہرایک چیزاس کے ساتھ زندہ ہے۔ وہ قائم ہے اپنی ذات سے اور ہر ایک چیز اس کے ساتھ قائم ہے۔ اُس نے ہر یک چیز کو اُٹھا رکھا ہے اور کوئی چیز نہیں جس نے اُس کو اٹھا رکھا ہو۔ کوئی چیز نہیں جو اُس کے بغیر خود بخود پیدا ہوئی ہے یا اس کے بغیر خود بخود جی سکتی ہے۔ وہ ہر یک چیز پر محیط ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ کیسا احاطہ ہے۔ وہ آسمان اور زمین کی ہریک چیز کا نور ہے اور ہریک نور اُسی کے ہاتھ سے چمکا اور اُسی کی ذات کا پرتوہ ہے۔ وہ تمام عالموں کا پروردگار ہے کوئی رُوح نہیں جو اس سے پرورش نہ پاتی ہو اور خودبخود ہو۔ کسی رُوح کی کوئی قوت نہیں جو اُس سے نہ ملی ہو اور خودبخود ہو۔ اور اُس کی رحمتیں دو قسم کی ہیں۔ (۱) ایک وہ جو بغیر سبقت عمل کسی عامل کے قدیم سے ظہور پذیر ہیں۔ جیسا کہ زمین اور آسمان اور سورج اور چاند اور ستارے اور پانی اور آگ اور ہوا اور تمام ذرّات اس عالم کے جو ہمارے آرام کے لئے بنائے گئے۔ ایسا ہی جن جن چیزوں کی ہمیں ضرورت تھی وہ تمام چیزیں ہماری پیدائش سے پہلے ہی ہمارے لئے مہیّا کی گئیں اور یہ سب اُس وقت کیا گیا جب کہ ہم خود بخود موجودنہ تھے نہ ہمارا کوئی عمل تھا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ سورج میرے عمل کی وجہ سے پیدا کیا گیا یا زمین میرے کسی شدھ کرم کے سبب سے بنائی گئی۔ غرض یہ وہ رحمت ہے جو انسان اور اس کے عملوں سے پہلے ظاہر ہو چکی ہے جو کسی کے عمل کا نتیجہ نہیں۔ (۲) دوسری رحمت وہ ہے جو اعمال پر مترتب ہوتی ہے اور اس کی تصریح کی کچھ ضرورت نہیں۔
ایسا ہی قرآن شریف میں وارد ہے کہ خدا کی ذات ہر یک عیب سے پاک ہے اور ہر ایک نقصان سے مبّرا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انسان بھی اس کی تعلیم کی پیروی کر کے عیبوں سے پاک ہو۔ اور وہ فرماتا ہے وَمَنۡ کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعۡمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعۡمٰی یعنی جو شخص اس دنیا میں اندھا رہے گا اور اس ذاتِ بے چوں کا اس کو دیدار نہیں ہو گا وہ مرنے کے بعد بھی اندھا ہی ہو گا اور تاریکی اُس سے جُدا نہیں ہو گی کیونکہ خدا کے دیکھنے کے لئے اِسی دنیا میں حواس ملتے ہیں۔ اور جو شخص ان حواس کو دنیا سے ساتھ نہیں لے جائے گا وہ آخرت میں بھی خدا کو دیکھ نہیں سکے گا۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے صاف سمجھا دیا ہے کہ وہ انسان سے کس ترقی کا طالب ہے اور انسان اس کی تعلیم کی پیروی سے کہاں تک پہنچ سکتا ہے۔ پھر اس کے بعد وہ قرآن شریف میں اس تعلیم کو پیش کرتا ہے جس کے ذریعہ سے اور جس پر عمل کرنے سے اِسی دنیا میں دیدار الٰہی میسّر آ سکتا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلۡیَعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا یُشۡرِکۡ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا یعنی جو شخص چاہتا ہے کہ اِسی دنیا میں اس خدا کا دیدار نصیب ہو جائے جو حقیقی خدا اور پیداکنندہ ہے پس چاہئے کہ وہ ایسے نیک عمل کرے جن میں کسی قسم کا فسادنہ ہو یعنی عمل اس کے نہ لوگوں کے دکھلانے کے لئے ہوں۔ نہ ان کی وجہ سے دل میں تکبّر پیدا ہو کہ مَیں ایسا ہوں اور ایسا ہوں۔ اور نہ وہ عمل ناقص اور ناتمام ہوں اور نہ اُن میں کوئی ایسی بدبُو ہو جو محبت ذاتی کے برخلاف ہو بلکہ چاہئے کہ صدق اور وفاداری سے بھرے ہوئے ہوں اور ساتھ اس کے یہ بھی چاہئے کہ ہر ایک قسم کے شرک سے پرہیز ہو۔ نہ سورج نہ چاندنہ آسمان کے ستارے، نہ ہوا نہ آگ نہ پانی نہ کوئی اور زمین کی چیز معبود ٹھہرائی جائے اور نہ دنیا کے اسباب کو ایسی عزت دی جائے اور ایسا اُن پر بھروسہ کیا جائے کہ گویا وہ خدا کے شریک ہیں اور نہ اپنی ہمّت اور کوشش کو کچھ چیز سمجھاجائے کہ یہ بھی شرک کی قسموں میں سے ایک قسم ہے بلکہ سب کچھ کر کے یہ سمجھا جائے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا اور نہ اپنے علم پر کوئی غرور کیا جائے اور نہ اپنے عمل پر کوئی ناز۔ بلکہ اپنے تئیں فی الحقیقت جاہل سمجھیں اور کاہل سمجھیں اور خدا تعالیٰ کے آستانہ پر ہر ایک وقت رُوح گِری رہے اور دعاؤں کے ساتھ اُس کے فیض کواپنی طرف کھینچا جائے اور اس شخص کی طرح ہو جائیں کہ جو سخت پیاسا اور بے دست و پا بھی ہے اور اُس کے سامنے ایک چشمہ نمودار ہوا ہے نہایت صافی اور شیریں۔ پس اُس نے افتاں و خیزاں بہرحال اپنے تئیں اس چشمہ تک پہنچا دیا اور اپنی لبوں کو اس چشمہ پر رکھ دیا اور علیٰحدہ نہ ہوا جب تک سیراب نہ ہوا اور پھر قرآن میں ہمارا خدا اپنی خوبیوں کے بارے میں فرماتا ہے۔ قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اَللّٰہُ الصَّمَدُ لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَلَمۡ یُوۡلَدۡ وَلَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ یعنی تمہارا خدا وہ خدا ہے جو اپنی ذات اور صفات میں واحد ہے نہ کوئی ذات اُس کی ذات جیسی ازلی اور ابدی یعنی انادی اور اکال ہے۔ نہ کسی چیز کے صفات اس کی صفات کے مانند ہیں۔ انسان کا علم کسی معلّم کا محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر اس کا علم کسی معلّم کا محتاج نہیں اور بایں ہمہ غیر محدود ہے۔ انسان کی شنوائی ہوا کی محتاج ہے اور محدود ہے مگر خدا کی شنوائی ذاتی طاقت سے ہے اور محدودنہیں۔ اور انسان کی بینائی سورج یا کسی دوسری روشنی کی محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر خدا کی بینائی ذاتی روشنی سے ہے اور غیر محدود ہے۔ ایسا ہی انسان کی پیدا کرنے کی قدرت کسی مادہ کی محتاج ہے اور نیز وقت کی محتاج اور پھر محدود ہے لیکن خدا کی پیدا کرنے کی قدرت نہ کسی مادہ کی محتاج ہے نہ کسی وقت کی محتاج اور غیرمحدود ہے کیونکہ اس کی تمام صفات بے مثل و مانند ہیں اور جیسے کہ اس کی کوئی مثل نہیں اس کی صفات کی بھی کوئی مثل نہیں …… اگر ایک صفت میں وہ ناقص ہو تو پھر تمام صفات میں ناقص ہو گا۔ اس لئے اس کی توحید قائم نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ اپنی ذات کی طرح اپنے تمام صفات میں بے مثل و مانندنہ ہو۔ پھر اس سے آگے آیت ممدوحہ بالا کے یہ معنے ہیں کہ خدا نہ کسی کا بیٹا ہے نہ کوئی اس کا بیٹا ہے۔ کیونکہ وہ غنی بالذات ہے۔ اس کو نہ باپ کی حاجت ہے اور نہ بیٹے کی۔ یہ توحید ہے جو قرآن شریف نے سکھلائی ہے جو مدارِ ایمان ہے۔ (لیکچر لاہور۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۱۵۲ تا۱۵۵)
خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ مَیں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائے ایسا ایمان جو اس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان نفاق یا بُزدلی سے آلودہ نہیں اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہیں۔ ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں اور خدا فرماتا ہے کہ وہی ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے۔
اے سُننے والو سنو! ! کہ خدا تم سے کیا چاہتا ہے۔ بس یہی کہ تم اُسی کے ہو جاؤ اُس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو نہ آسمان میں نہ زمین میں۔ ہمارا خدا وہ خدا ہے جو اب بھی زندہ ہے جیسا کہ پہلے زندہ تھا اور اب بھی وہ بولتا ہے جیسا کہ وہ پہلے بولتا تھا اور اب بھی وہ سُنتا ہے جیسا کہ پہلے سُنتا تھا۔ یہ خیال خام ہے کہ اس زمانہ میں وہ سُنتا تو ہے مگر بولتا نہیں۔ بلکہ وہ سُنتا اور بولتا بھی ہے- اُس کی تمام صفات ازلی ابدی ہیں کوئی صفت بھی معطّل نہیں اور نہ کبھی ہو گی۔ وہ وہی واحد لاشریک ہے جس کا کوئی بیٹا نہیں اور جس کی کوئی بیوی نہیں۔ وہ وہی بے مثل ہے جس کا کوئی ثانی نہیں اور جس کی طرح کوئی فرد کسی خاص صفت سے مخصوص نہیں اور جس کا کوئی ہمتا نہیں جس کا کوئی ہم صفات نہیں اور جس کی کوئی طاقت کم نہیں۔ وہ قریب ہے باوجود دُور ہونے کے اور دُور ہے باوجودنزدیک ہونے کے۔ وہ تمثّل کے طور پر اہل کشف پر اپنے تئیں ظاہر کر سکتا ہے مگر اس کے لئے نہ کوئی جسم ہے اور نہ کوئی شکل ہے اور وہ سب سے اوپر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی اَور بھی ہے اور وہ عرش پر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ زمین پر نہیں۔ وہ مجمع ہے تمام صفات کاملہ کا اور مظہر ہے تمام مَحَامدِ حقّہ کا اور سرچشمہ ہے تمام خوبیوں کا اور جامع ہے تمام طاقتوں کا اور مبدء ہے تمام فیضوں کا اور مرجع ہے ہر ایک شے کا۔ اور مالک ہے ہر ایک ملک کا اور متّصف ہے ہر ایک کمال سے اور منزّہ ہے ہر ایک عیب اور ضعف سے۔ اور مخصوص ہے اس امر میں کہ زمین والے اور آسمان والے اسی کی عبادت کریں اور اس کے آگے کوئی بات بھی اَن ہونی نہیں۔ اور تمام روح اور ان کی طاقتیں اور تمام ذرّات اور ان کی طاقتیں اُسی کی پیدائش ہیں۔ اس کے بغیر کوئی چیز ظاہر نہیں ہوتی۔ وہ اپنی طاقتوں اور اپنی قدرتوں اور اپنے نشانوں سے اپنے تئیں آپ ظاہر کرتا ہے اور اس کو اُسی کے ذریعہ سے ہم پا سکتے ہیں۔ اور وہ راستبازوں پر ہمیشہ اپنا وجود ظاہر کرتا رہتا ہے اور اپنی قدرتیں ان کو دکھلاتا ہے۔ اسی سے وہ شناخت کیا جاتا اور اُسی سے اس کی پسندیدہ راہ شناخت کی جاتی ہے۔
وہ دیکھتا ہے بغیر جسمانی آنکھوں کے۔ اور سُنتا ہے بغیر جسمانی کانوں کے اور بولتا ہے بغیر جسمانی زبان کے۔ اِسی طرح نیستی سے ہستی کرنا۔ اس کا کام ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ خواب کے نظارہ میں بغیر کسی مادہ کے ایک عالم پید اکر دیتا ہے اور ہر ایک فانی اور معدوم کو موجود دکھلا دیتا ہے۔ پس اسی طرح اس کی تمام قدرتیں ہیں۔ نادان ہے وہ جو اس کی قدرتوں سے انکار کرے۔ اندھا ہے وہ جو اس کی عمیق طاقتوں سے بے خبر ہے۔ وہ سب کچھ کرتا ہے اور کر سکتا ہے بغیر ان امور کے جو اُس کی شان کے مخالف ہیں یا اس کے مواعید کے برخلاف ہیں۔ اور وہ واحد ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور افعال میں اور قدرتوں میں اور اس تک پہنچنے کے لئے تمام دروازے بند ہیں مگر ایک دروازہ جو فرقان مجیدنے کھولا ہے۔
(رسالہ الوصیت۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۳۰۹ تا۳۱۱)اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ۔ تمام محامد اس ذاتِ معبود برحق مستجمع جمیع صفات کاملہ کو ثابت ہیں جس کا نام اللہ ہے۔ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ قرآن شریف کی اصطلاح میں اللہ اس ذات کا مل کا نام ہے کہ جو معبود برحق اور مستجمع جمیع صفاتِ کاملہ اور تمام رذائل سے منزّہ اور واحد لاشریک اور مبدء جمیع فیوض ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ نے اپنے کلام پاک قرآن شریف میں اپنے نام اللہ کو تمام دوسرے اسماء وصفات کا موصوف ٹھہرایا ہے اور کسی جگہ کسی دوسرے اسم کو یہ رُتبہ نہیں دیا۔ پس اللہ کے اسم کو بوجہ موصوفیّتِ تامہ ان تمام صفتوں پر دلالت ہے جن کا وہ موصوف ہے۔ اور چونکہ وہ جمیع اسماء اور صفات کا موصوف ہے اس لئے اس کا مفہوم یہ ہوا کہ وہ جمیع صفاتِ کاملہ پر مشتمل ہے۔ پس خلاصہ مطلب اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ۔ کا یہ نکلا کہ تمام اقسام حمد کے کیا باعتبار ظاہر کے اور کیا باعتبار باطن کے اور کیا باعتبار ذاتی کمالات کے اور کیا باعتبار قدرتی عجائبات کے اللہ سے مخصوص ہیں۔ اور اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔ اور نیز جس قدر محامد صحیحہ اور کمالاتِ تامہ کو عقل کسی عاقل کی سوچ سکتی ہے یا فکر کسی متفکر کا ذہن میں لا سکتا ہے وہ سب خوبیاں اللہ تعالیٰ میں موجود ہیں اور کوئی ایسی خوبی نہیں کہ عقل اس خوبی کے امکان پر شہادت دے مگر اللہ تعالیٰ بدقسمت انسان کی طرح اُس خوبی سے محروم ہو بلکہ کسی عاقل کی عقل ایسی خوبی پیش ہی نہیں کر سکتی کہ جو خدا میں نہ پائی جائے جہاں تک انسان زیادہ سے زیادہ خوبیاں سوچ سکتا ہے وہ سب اس میں موجود ہیں اور اس کو اپنی ذات اور صفات اور محامد میں من کل الوجوہ کمال حاصل ہے اور رذائل سے بکلّی منزّہ ہے۔ اب دیکھو یہ ایسی صداقت ہے جس سے سچا اور جھوٹا مذہب ظاہر ہو جاتا ہے کیونکہ
تمام مذہبوں پر غور کرنے سے
معلوم ہوگا کہ بجز اسلام دنیا میں کوئی بھی ایسا مذہب نہیں ہے کہ جو خدائے تعالیٰ کو جمیع رذائل سے منزّہ
اور تمام محامدِ کاملہ سے متصف سمجھتا ہو۔ عام ہندو اپنے دیوتاؤں کو کارخا نہ ربوبیّت میں شریک سمجھتے ہیں
اور خدا کے کاموں میں ان کو مستقل طور پر دخیل قرار دیتے ہیں بلکہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ خدا کے ارادوں کو
بدلنے والے اور اس کی تقدیروں کو زیر و زبر کرنے والے ہیں اور نیز ہندو لوگ کئی انسانوں اور دوسرے جانوروں
کی نسبت بلکہ بعض ناپاک اور نجاست خوار حیوانات یعنی خنزیز وغیرہ کی نسبت یہ خیال کرتے ہیں کہ کسی زمانہ میں
اُن کا پرمیشر ایسی ایسی جونوں میں تولّد پا کر ان تمام آلائشوں اور آلودگیوں سے ملوّث ہوتا رہا ہے کہ جو ان
چیزوں کے عائد حال ہیں اور نیزانہیں چیزوں کی طرح بھوک اور پیاس اور درد اور دکھ اور خوف اور غم اور بیماری
اور موت اور ذلّت اور رسوائی اور عاجزی اور ناتوانی کی آفات میں گرفتار ہوتا رہا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ تمام
اعتقادات خدائے تعالیٰ کی خوبیوں میں بٹہ لگاتے ہیں اور اس کے ازلی و ابدی جاہ و جلال کو گھٹاتے ہیں۔ اور
آریہ سماج والے جو اُن کے مہذب بھائی نکلے ہیں جن کا یہ گمان ہے کہ وہ ٹھیک ٹھیک وید کی لکیر پر چلتے ہیں وہ
خدائے تعالیٰ کو خالقیت سے ہی جواب دیتے ہیں اور تمام رُوحوں کو اُس کی ذات کامل کی طرح غیر مخلوق اور واجب
الوجود اور موجود بوجودِ حقیقی قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ عقلِ سلیم خدا ئے تعالیٰ کی نسبت صریح یہ نقص سمجھتی
ہے کہ وہ دنیا کا مالک کہلا کر پھر کسی چیز کا ربّ اور خالق نہ ہو اور دنیا کی زندگی اس کے سہارے سے نہیں
بلکہ اپنے ذاتی وجوب کے رُو سے ہو۔ اور جب عقل سلیم کے آگے یہ دونوں سوال پیش کئے جائیں کہ آیا خداوند قادرِ
مطلق کے محامد تامہ کے لئے یہ بات اصلح اور انسب ہے کہ وہ آپ ہی اپنی قدرت کاملہ سے تمام موجودات کو منصّۂ
ظہور میں لا کر ان سب کارب اور خالق ہو اور تمام کائنات کا سِلسلہ اسی کی ربوبیت تک ختم ہوتا ہو اور خالقیت
کی صفت اور قدرت اُس کی ذاتِ کامل میں موجود ہو اور پیدائش اور موت کے نقصان سے پاک ہو یا یہ باتیں اُس کی
شان کے لائق ہیں کہ جس قدر مخلوقات اس کے قبضۂ تصّرف میں ہیں یہ چیزیں اس کی مخلوق نہیں ہیں اور نہ اس کے
سہارے سے اپنا وجود رکھتی ہیں اور نہ اپنے وجود اور بقا میں اس کی محتاج ہیں اور نہ وہ اُن کا خالق اور ربّ
ہے اور نہ خالقیت کی صفت اور قدرت اُس میں پائی جاتی ہے اور نہ پیدائش اور موت کے نقصان سے پاک ہے تو ہرگز
عقل یہ فتویٰ نہیں دیتی کہ وہ جو دنیا کا مالک ہے وہ دنیا کا پیدا کنند ہ نہیں اور ہزاروں پُرحکمت صفتیں کہ
جو رُوحوں اور جسموں میں پائی جاتی ہیں وہ خود بخود ہیں اور ان کا بنانے والا کوئی نہیں اور خدا جو اِن سب
چیزوں کا مالک کہلاتا ہے وہ فرضی طور پر مالک ہے۔ اور نہ یہ فتویٰ دیتی ہے کہ اُس کو پیدا کرنے سے عاجز
سمجھا جاوے یا ناطاقت اور ناقص ٹھہرایا جاوے یا پلیدی اور نجاست خواری کی نالائق اور قبیح عادت کو اس کی طرف
منسوب کیا جائے یا موت اور درد اور دکھ اور بے علمی اور جہالت کو اُس پر روا رکھا جائے بلکہ صاف یہ شہادت
دیتی ہے کہ خدائے تعالیٰ ان تمام رذیلتوں اور نقصانوں سے پاک ہونا چاہئے اور اُس میں کمالِ تام چاہئے۔ اور
کمالِ تام قدرت تام سے مشروط ہے اور جب خدائے تعالیٰ میں قدرتِ تام نہ رہی اور نہ وہ کسی دوسری چیز کو پیدا
کر سکا اور نہ اپنی ذات کو ہریک قسم کے نقصان اور عیب سے بچا سکا تو اُس میں کمالِ تام بھی نہ رہا۔ اور جب
کمالِ تام نہ رہا تو محامدِ کاملہ سے وہ بے نصیب رہا۔
یہ ہندؤں اور آریوں کا حال ہے اور جو کچھ عیسائی لوگ خدائے تعالیٰ کا جلال ظاہر کر رہے ہیں وہ ایک ایسا امر ہے کہ صرف ایک ہی سوال سے داناانسان سمجھ سکتا ہے یعنی اگر کسی دانا سے پُوچھا جائے کہ کیا اس ذات کامل اور قدیم اور غنی اور بے نیاز کی نسبت جائز ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ اپنے تمام عظیم الشان کاموں میں جو قدیم سے وہ کرتا رہا ہے آپ ہی کافی ہو آپ ہی بغیر حاجت کسی باپ یا بیٹے کے تمام دنیا کو پیدا کیا ہو اور آپ ہی تمام روحوں اور جسموں کو وہ قوتیں بخشی ہوں جن کی انہیں حاجت ہے اور آپ ہی تمام کائنات کا حافظ اور قیّوم اور مدبّر ہو بلکہ ان کے وجود سے پہلے جو کچھ اُن کو زندگی کے لئے درکار تھا وہ سب اپنی صفت رحمانیت سے ظہور میں لایا اور بغیر انتظار عمل کسی عامل کے سورج اور چاند اور بے شمار ستارے اور زمین اور ہزارہا نعمتیں جو زمین پر پائی جاتی ہیں محض اپنے فضل و کرم سے انسانوں کے لئے پیدا کی ہوں اور ان سب کاموں میں کسی بیٹے کا محتاج نہ ہوا ہو لیکن پھر وہی کامل خدا آخری زمانہ میں اپنا تمام جلال اور اقتدار کالعدم کر کے مغفرت اور نجات دینے کے لئے بیٹے کا محتاج ہو جائے اور پھر بیٹا بھی ایسا ناقص بیٹا جس کو باپ سے کچھ بھی مناسبت نہیں جس نے باپ کی طرح نہ کوئی گوشہ آسمان کا اور نہ کوئی قطعہ زمین کا پیدا کیا جس سے اس کی اُلوہیّت ثابت ہو بلکہ مرقس کے ۸ باب ۱۲ آیت میں اس کی عاجزانہ حالت کو اس طرح بیان کیا ہے کہ اُس نے اپنے دل سے آہ کھینچ کر کہا کہ اس زمانہ کے لوگ کیوں نشان چاہتے ہیں۔ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اس زمانہ کے لوگوں کو کوئی نشان دیا نہ جائے گا اور اس کے مصلوب ہونے کے وقت بھی یہودیوں نے کہا کہ اگر وہ اب ہمارے رو برو زندہ ہو جائے تو ہم ایمان لائیں گے۔ لیکن اس نے اُن کو زندہ ہو کر نہ دکھلایا۔ اور اپنی خدائی اور قدرت کاملہ کاایک ذرّہ ثبوت نہ دیا۔ اور اگر بعض معجزات بھی دکھلائے تو وہ دکھلائے کہ اُس سے پہلے اَور نبی بکثرت دکھلا چکے تھے۔ بلکہ اُسی زمانہ میں ایک حوض کے پانی سے بھی ایسے ہی عجائبات ظہور میں آتے تھے (دیکھو باب پنجم انجیل یوحنا) غرض وہ اپنے خدا ہونے کا کوئی نشان دکھلا نہ سکا۔ جیسا کہ آیت مذکورہ بالا میں خود اس کا اقرار موجود ہے بلکہ ایک ضعیفہ عاجزہ کے پیٹ سے تولد پا کر (بقول عیسائیوں ) وہ ذلّت اور رسوائی اور ناتوانی اور خواری عمر بھر دیکھی کہ جو انسانوں میں سے وہ انسان دیکھتے ہیں کہ جو بدقسمت اور بے نصیب کہلاتے ہیں۔ اور پھر مدت تک ظلمت خانہ رحم میں قید رہ کر اور اُس ناپاک راہ سے کہ جو پیشاب کی بدر رَوہے پیدا ہو کر ہریک قسم کی آلودہ حالت کو اپنے اوپر وارد کر لیا اور بشری آلودگیوں اور نقصانوں میں سے کوئی ایسی آلودگی باقی نہ رہی جس سے وہ بیٹا باپ کا بدنام کنندہ ملوث نہ ہوا اور پھر اس نے اپنی جہالت اور بے علمی اور بے قدرتی اور نیز اپنے نیک نہ ہونے کا اپنی کتاب میں آپ ہی اقرار کر لیا۔ اور پھر در صورتیکہ وہ عاجز بندہ کہ خواہ نخواہ خدا کا بیٹا قرار دیا گیا بعض بزرگ نبیوں سے فضائل علمی اور عملی میں کم بھی تھا اور اُس کی تعلیم بھی ایک ناقص تعلیم تھی کہ جو موسٰیؑ کی شریعت کی ایک فرع تھی تو پھر کیونکر جائز ہے کہ خداوند قادر مطلق اور ازلی اور ابدی پر یہ بہتان باندھا جاوے کہ وہ ہمیشہ اپنی ذات میں کامل اور غنی اور قادرِ مطلق رہ کر آخر کار ایسے ناقص بیٹے کا محتاج ہو گیا اور اپنے سارے جلال اور بزرگی کو بیکبارگی کھو دیا۔ مَیں ہرگز باور نہیں کرتا کہ کوئی دانا اس ذاتِ کامل کی نسبت کہ جو مستجمع جمیع صفاتِ کاملہ ہے ایسی ایسی ذلتیں جائز رکھے۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱صفحہ ۴۳۵ تا۴۴۱ حاشیہ نمبر ۱۱)
یہ بات بغیر کسی بحث کے قبول کرنے کے لائق ہے کہ وہ سچا اور کامل خدا جس پر ایمان لانا ہر ایک بندہ کا فرض ہے وہ رب العالمین ہے اور اس کی ربوبیت کسی خاص قوم تک محدودنہیں اور نہ کسی خاص زمانہ تک اور نہ کسی خاص ملک تک بلکہ وہ سب قوموں کا رب ہے اور تمام زمانوں کا ربّ ہے اور تمام مکانوں کا ربّ ہے۔ اور تمام ملکوں کا وہی رب ہے اور تمام فیضوں کا وہی سرچشمہ ہے اور ہر ایک جسمانی اور روحانی طاقت اُسی سے ہے اور اُسی سے تمام موجودات پرورش پاتی ہیں اور ہر ایک وجود کا وہی سہارا ہے۔
خدا کا فیض عام ہے جو تمام قوموں اور تمام ملکوں اور تمام زمانوں پر محیط ہو رہا ہے۔ یہ اس لئے ہوا کہ تا کسی قوم کو شکایت کرنے کا موقعہ نہ ملے اور یہ نہ کہیں کہ خدا نے فلاں فلاں قوم پر احسان کیا مگر ہم پر نہ کیا۔ یا فلاں قوم کو اس کی طرف سے کتاب ملی تا وہ اس سے ہدایت پاویں مگر ہم کو نہ ملی۔ یا فلاں زمانہ میں وہ اپنی وحی اور الہام اور معجزات کے ساتھ ظاہر ہوا مگر ہمارے زمانہ میں مخفی رہا۔ پس اس نے عام فیض دکھلا کر ان تمام اعتراضات کو دفع کر دیا اور اپنے ایسے وسیع اخلاق دکھلائے کہ کسی قوم کو اپنے جسمانی اور روحانی فیضوں سے محروم نہیں رکھا۔ اور نہ کسی زمانہ کو بے نصیب ٹھہرایا۔
(پیغامِ صلح۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ۴۴۲)اے خدا اے کارساز و عیب پوش و کردگار
اے مرے پیارے مرے محسن مرے پروردگار
کس طرح تیرا کروں اے ذوالمنن شکر و سپاس
وہ زباں لاؤں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار
یہ سراسر فضل و احساں ہے کہ مَیں آیا پسند
ورنہ درگہ میں تری کچھ کم نہ تھے خدمت گذار
دوستی کا دم جو بھرتے تھے وہ سب دشمن ہوئے
پر نہ چھوڑاساتھ تُونے اے میرے حاجت برار
اے مرے یارِیگانہ اے مری جاں کی پنہ
بس ہے تو میرے لئے مجھ کو نہیں تجھ بن بکار
مَیں تو مر کر خاک ہوتا گر نہ ہوتا تیرا لطف
پھر خدا جانے کہاں یہ پھینک دی جاتی غبار
اے فدا ہو تیری رہ میں میرا جسم و جان و دل
مَیں نہیں پاتا کہ تجھ سا کوئی کرتا ہو پیار
ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے
گود میں تیری رہا میں مثلِ طفلِ شیر خوار
نسلِ انساں میں نہیں دیکھی وفا جو تجھ میں ہے
تیرے بن دیکھا نہیں کوئی بھی یارِ غمگسار
لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول
مَیں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگہ میں بار
اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات و کرم
جن کا مشکل ہے کہ تا روزِ قیامت ہو شمار
خدا تعالیٰ نے عاجز انسانوں کو اپنی کامل معرفت کا علم دینے کے لئے اپنی صفات کو قرآن شریف میں دو رنگ پر
ظاہر کیا ہے۔ (۱) اوّل اس طور پر بیان کیا ہے جس سے اس کی صفات استعارہ کے طریق پر مخلوق کی صفات کی ہم شکل
ہیں۔ جیسا کہ وہ کریم رحیم ہے۔ محسن ہے اور وہ غضب بھی رکھتا ہے اور اُس میں محبت بھی ہے اور اس کے ہاتھ بھی
ہیں اور اس کی آنکھیں بھی ہیں اور اس کی ساقین بھی ہیں اور اُس کے کان بھی ہیں اور نیز یہ کہ قدیم سے سِلسلہ
مخلوق کا اس کے ساتھ چلا آیا ہے مگر کسی چیز کو اس کے مقابل پر قدامتِ شخصی نہیں ہاں قدامت نوعی ہے اور وہ
بھی خدا کی صفت خلق کے لئے ایک لازمی امر نہیں کیونکہ جیسا کہ خَلْق یعنی پیدا کرنا اس کی صفات میں سے ہے
ایسا ہی کبھی اور کسی زمانہ میں تجلّیٔ وحدت اور تجرّد اس کی صفات میں سے ہے اور کسی صفت کے لئے تعطّل دائمی
جائز نہیں ہاں تعطّل میعادی جائز ہے۔
غرض چونکہ خدا نے انسان کو پیدا کر کے اپنی ان تشبیہی صفات کو اُس پر ظاہر کیا جن صفات کے ساتھ انسان بظاہر
شراکت رکھتا ہے۔ جیسے خالق ہونا کیونکہ انسان بھی اپنی حد تک بعض چیزوں کا خالق یعنی موجد ہے۔ ایسا ہی انسان
کو کریم بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنی حد تک کرم کی صفت بھی اپنے اندر رکھتا اور اسی طرح انسان کو رحیم
بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنی حد تک قوتِ رحم بھی اپنے اندر رکھتا ہے اور قوتِ غضب بھی اس میں ہے۔ ایسا
ہی آنکھ کان وغیرہ سب انسان میں موجود ہیں۔ پس اِن تشبیہی صفات سے کسی کے دل میں شبہ پیدا ہو سکتا تھا کہ
گویا انسان اِن صفات میں خدا سے مشابہہ ہے اور خدا انسان سے مشابہہ ہے اِس لئے خدا نے ان صفات کے مقابل پر
قرآن شریف میں اپنی تنزیہی صفات کا بھی ذکر کر دیا یعنی ایسی صفات کا ذکر کیا جن سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا کو
اپنی ذات اور صفات میں کچھ بھی شراکت انسان کے ساتھ نہیں اور نہ انسان کو اس کے ساتھ کچھ مشارکت ہے۔ نہ اُس
کا خَلق یعنی پیدا کرنا انسان کی خَلق کی طرح ہے۔ نہ اس کا رحم انسان کے رحم کی طرح ہے۔ نہ اس کا غضب انسان
کے غضب کی طرح ہے۔ نہ اس کی محبت انسان کی محبت کی طرح ہے۔ نہ وہ انسان کی طرح کسی مکان کا محتاج ہے۔
اور یہ ذکر یعنی خدا کا اپنی صفات میں انسان سے بالکل علیٰحدہ ہونا قرآن شریف کی کئی آیات میں تصریح کے ساتھ
کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ایک یہ آیت ہے
لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ ۚ وَہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ
یعنی کوئی چیز اپنی ذات اور صفات میں خدا کی شریک نہیں اور وہ سُننے
والا اور دیکھنے والا ہے۔ اور پھر ایک جگہ فرمایا۔
اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ۬ۚ لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوۡمٌ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَمَا خَلۡفَہُمۡ ۚ وَلَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ۚ وَلَا یَـُٔوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَا ۚ وَہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ
۔ ترجمہ حقیقی وجود اور حقیقی بقا اور تمام صفات حقیقیہ
خاص خدا کے لئے ہیں اور کوئی ان میں اس کا شریک نہیں۔ وہی بذاتہٖ زندہ ہے اور باقی تمام زندے اُس کے
ذریعے
سے ہیں۔ اور وہی اپنی ذات سے آپ قائم ہے اور باقی تمام چیزوں کا قیام اس کے سہارے سے ہے اور جیسا کہ موت
اس
پر جائز نہیں ایسا ہی ادنیٰ درجہ کا تعطّل حوا س بھی جو نیند اور اونگھ سے ہے وہ بھی اس پر جائز نہیں
مگر
دوسروں پر جیسا کہ موت وارد ہوتی ہے نیند اور اونگھ بھی وارد ہوتی ہے۔ جو کچھ تم زمین میں دیکھتے ہو یا
آسمان میں وہ سب اُسی کا ہے اور اُسی سے ظہور پذیر اور قیام پذیر ہے۔ کون ہے جو بغیر اس کے حکم کے اس کے
آگے
شفاعت کر سکتا ہے۔ وہ جانتا ہے جو لوگوں کے آگے ہے اور جو پیچھے ہے یعنی اس کا علم حاضر اور غائب پر
محیط
ہے۔ اور کوئی اس کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکتا لیکن جس قدر وہ چاہے۔ اس کی قدرت اور علم کا تمام
زمین و آسمان پر تسلّط ہے۔ وہ سب کو اٹھائے ہوئے ہے۔ یہ نہیں کہ کسی چیز نے اس کو اٹھا رکھا ہے۔ اور وہ
آسمان و زمین اور ان کی تمام چیزوں کے اٹھانے سے تھکتا نہیں اور وہ اس بات سے بزرگ تر ہے کہ ضعف و
ناتوانی
اور کم قدرتی اس کی طرف منسوب کی جائے۔
اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے
اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ
(ترجمہ) تمہارا پروردگار وہ خدا ہے جس نے زمین و آسمان کو چھ
۶
دن میں پیدا
کیا۔
پھر اس نے عرش پر قرار پکڑا یعنی اُس نے زمین و آسمان اور جو کچھ اُن میں ہے پیدا کر کے اور تشبیہی صفات
کا
ظہور فرما کر پھر تنزیہی صفات کے ثابت کرنے کے لئے مقام تنزہ اور تجرد کی طرف رُخ کیا جو وراء الوراء
مقام
اور مخلوق کے قرب و جوار سے دُور تر ہے۔ وہی بلند تر مقام ہے جس کو عرش کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔
تشریح
اس کی یہ ہے کہ پہلے تو تمام مخلوق حیّز عدم میں تھی اور خدا تعالیٰ وراء الوراء مقام میں اپنی تجلّیات
ظاہر
کر رہا تھا جس کا نام عرش ہے۔ یعنی وہ مقام جو ہر ایک عالم سے بلند تر اور برتر ہے اور اُسی کا ظہور اور
پر
تو تھا اور اس کی ذات کے سوا کچھ نہ تھا۔ پھر اس نے زمین و آسمان اور جو کچھ اُن میں ہے پیدا کیا۔ اور
جب
مخلوق ظاہر ہوئی تو پھر اس نے اپنے تئیں مخفی کر لیا اور چاہا کہ وہ اِ ن مصنوعات کے ذریعہ سے شناخت کیا
جائے۔ مگر یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ دائمی طور پر تعطّل صفاتِ الٰہیہ کبھی نہیں ہوتا اور بجز خدا
کے
کسی چیز کے لئے قدامت شخصی تو نہیں مگر قدامتِ نوعی ضروری ہے اور خدا کی کسی صفت کے لئے تعطّل دائمی تو
نہیں
مگر تعطّل میعادی کا ہونا ضروری ہے۔ اور چونکہ صفت ایجاد اور صفت افنا باہم متضاد ہیں۔ اس لئے جب افنا
کی
صفت کا ایک کامل دَور آ جاتا ہے تو صفت ایجاد ایک معیاد تک معطّل رہتی ہے۔ غرض ابتدا میں خدا کی صفت
وحدت کا
دور تھا۔ اور ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس دَور نے کتنی دفعہ ظہور کیا۔ بلکہ یہ دَور قدیم اور غیر متناہی ہے۔
بہرحال صفت وحدت کے دَور کو دوسری صفات پر تقدّم زمانی ہے۔ پس اِسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ ابتدا میں خدا
اکیلا تھا اور اس کے ساتھ کوئی نہ تھا اور پھر خدا نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ اُن میں ہے پیدا کیا۔
اور
اسی تعلّق کی وجہ سے اس نے اپنے یہ اسماء ظاہر کئے کہ وہ کریم اور رحیم ہے اور غفور اور توبہ قبول کرنے
والا
ہے۔ مگر جو شخص گناہ پر اصرار کرے اور باز نہ آوے اس کو وہ بے سزا نہیں چھوڑتا اور اُس نے اپنا یہ اسم
بھی
ظاہر کیا کہ وہ توبہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے اور اس کا غضب صرف انہی لوگوں پر بھڑکتا ہے جو ظلم اور
شرارت اور معصیت سے باز نہیں آتے ………
اُس کی تمام صفات اس کی ذات کے مناسب حال ہیں۔ انسان کی صفات کی مانندنہیں۔ اور اس کی آنکھ وغیرہ جسم اور جسمانی نہیں اور اس کی کسی صفت کو انسان کی کسی صفت سے مشابہت نہیں۔ مثلاً انسان اپنے غضب کے وقت پہلے غضب کی تکلیف آپ اُٹھاتا ہے اور جوش و غضب میں فوراً اس کا سر ور دُور ہو کر ایک جلن سی اس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے اور ایک مادہ سوداوی اُس کے دماغ میں چڑھ جاتا ہے اور ایک تغیر اس کی حالت میں پیدا ہو جاتا ہے۔ مگر خداان تغیرات سے پاک ہے۔ اور اس کا غضب ان معنوں سے ہے کہ وہ اس شخص سے جو شرارت سے باز نہ آوے اپنا سایۂ حمایت اٹھا لیتا ہے اور اپنے قدیم قانون قدرت کے موافق اس سے ایسا معاملہ کرتا ہے جیسا کہ ایک غضبناک انسان کرتا ہے۔ لہٰذا استعارہ کے رنگ میں وہ معاملہ اس کا غضب کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ایسا ہی اس کی محبت انسان کی محبت کی طرح نہیں کیونکہ انسان غلبۂ محبت میں بھی دُکھ اٹھاتا ہے اور محبوب کے علیٰحدہ اور جُدا ہونے سے اس کی جان کو تکلیف پہنچتی ہے مگر خدا ان تکالیف سے پاک ہے۔ ایسا ہی اس کا قرب بھی انسان کے قرب کی طرح نہیں کیونکہ انسان جب ایک کے قریب ہوتا ہے تو اپنے پہلے مرکز کو چھوڑ دیتا ہے۔ مگر وہ باوجود قریب ہونے کے دُور ہوتا ہے اور باوجود دُور ہونے کے قریب ہوتا ہے۔ غرض خدا تعالیٰ کی ہر ایک صفت انسانی صفات سے الگ ہے اور صرف اشتراک لفظی ہے اس سے زیادہ نہیں۔ اِسی لئے خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ یعنی کوئی چیز اپنی ذات یا صفات میں خدا تعالیٰ کے برابر نہیں۔ (چشمۂ معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ۲۷۲ تا۲۷۶)
خدا کبھی معطّل نہیں ہو گا۔ ہمیشہ خالق، ہمیشہ رازق، ہمیشہ رب، ہمیشہ رحمان، ہمیشہ رحیم ہے اور رہے گا۔ میرے نزدیک ایسے عظیم الشان جبروت والے کی نسبت بحث کرنا گناہ میں داخل ہے۔ خدا نے کوئی چیز منوانی نہیں چاہی جس کا نمونہ یہاں نہیں دیا۔ (البدر مورخہ ۱۶؍ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۱ کالم نمبر۱۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ۶۳۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
یاد رہے کہ جس طرح ستارے ہمیشہ نوبت بہ نوبت طلوع کرتے رہتے ہیں اِسی طرح خدا کے صفات بھی طلوع کرتے رہتے ہیں۔ کبھی انسان خدا کے صفاتِ جلالیہ اور استغنائے ذاتی کے پرتوہ کے نیچے ہوتا ہے۔ اور کبھی صفات جمالیہ کا پرتوہ اس پر پڑتا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کُلَّ یَوۡمٍ ہُوَ فِیۡ شَاۡنٍ پس یہ سخت نادانی کا خیال ہے کہ ایسا گمان کیا جائے کہ بعد اس کے کہ مجرم لوگ دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ پھر صفاتِ کرم اور رحم ہمیشہ کے لئے معطّل ہو جائیں گی اور کبھی ان کی تجلّی نہیں ہو گی کیونکہ صفاتِ الٰہیہ کا تعطّل ممتنع ہے بلکہ حقیقی صفت خدا تعالیٰ کی محبت اور رحم ہے اور وہی اُمُّ الصِّفات ہے اور وہی کبھی انسانی اصلاح کے لئے صفاتِ جلالیّہ اور غَضْبِیَّہ کے رنگ میں جوش مارتی ہے اور جب اصلاح ہو جاتی ہے تو محبت اپنے رنگ میں ظاہر ہو جاتی ہے اور پھر بطور موہبت ہمیشہ کے لئے رہتی ہے۔ خدا ایک چڑچڑے انسان کی طرح نہیں ہے جو خواہ نخواہ عذاب دینے کا شائق ہو اور وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ اپنے پر آپ ظلم کرتے ہیں۔ اس کی محبت میں تمام نجات اور اس کو چھوڑنے میں تمام عذاب ہے۔ (چشمۂ مسیحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۳۶۹، ۳۷۰)
جاننا چاہئے کہ جس خدا کی طرف ہمیں قرآن شریف نے بلایا ہے اُس کی اُس نے یہ صفات لکھی ہیں۔ ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَالشَّہَادَۃِ ۚ ہُوَ الرَّحۡمٰنُ الرَّحِیۡمُ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ اَلۡمَلِکُ الۡقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ الۡمُؤۡمِنُ الۡمُہَیۡمِنُ الۡعَزِیۡزُ الۡجَبَّارُ الۡمُتَکَبِّرُ ہُوَ اللّٰہُ الۡخَالِقُ الۡبَارِئُ الۡمُصَوِّرُ لَہُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی ؕ یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ۚ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ۔ قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اَللّٰہُ الصَّمَدُ لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَلَمۡ یُوۡلَدۡ وَلَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ
یعنی وہ خدا جو واحد لاشریک ہے جس کے سوا کوئی بھی پرستش اور فرمانبرداری کے لائق نہیں۔ یہ اس لئے فرمایا کہ اگر وہ لاشریک نہ ہو تو شائد اس کی طاقت پر دشمن کی طاقت غالب آ جائے۔ اس صورت میں خدائی معرض خطرہ میں رہے گی۔ اور یہ جو فرمایا کہ اس کے سوا کوئی پرستش کے لائق نہیں اس سے یہ مطلب ہے کہ وہ ایسا کامل خدا ہے جس کی صفات اور خوبیاں اور کمالات ایسے اعلیٰ اور بلند ہیں کہ اگر موجودات میں سے بوجہ صفات کاملہ کے ایک خدا انتخاب کرنا چاہیں یا دل میں عمدہ سے عمدہ اور اعلیٰ سے اعلیٰ خدا کی صفات فرض کریں تو سب سے اعلیٰ جس سے بڑھ کر کوئی اعلیٰ نہیں ہو سکتا وہی خدا ہے جس کی پرستش میں ادنیٰ کو شریک کرنا ظلم ہے۔ پھر فرمایا کہ عالم الغیب ہے یعنی اپنی ذات کو آپ ہی جانتا ہے اُس کی ذات پر کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔ ہم آفتاب اور ماہتاب اور ہر ایک مخلوق کا سراپا دیکھ سکتے ہیں مگر خدا کا سراپا دیکھنے سے قاصر ہیں۔ پھر فرمایا کہ وہ عالم الشہادۃ ہے یعنی کوئی چیز اس کی نظر سے پردہ میں نہیں ہے۔ یہ جائز نہیں کہ وہ خدا کہلا کر پھر علمِ اشیاء سے غافل ہو۔ وہ اس عالم کے ذرّہ ذرّہ پر اپنی نظر رکھتا ہے لیکن انسان نہیں رکھ سکتا وہ جانتا ہے کہ کب اس نظام کو توڑ دے گا اور قیامت برپا کر دے گا۔ اور اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ایسا کب ہو گا۔ سو وہی خدا ہے جو ان تمام وقتوں کو جانتا ہے۔ پھر فرمایا کہ ہُوَ الرَّحۡمٰنُ یعنی وہ جانداروں کی ہستی اور ان کے اعمال سے پہلے محض اپنے لطف سے نہ کسی غرض سے اور نہ کسی عمل کی پاداش میں اُن کے لئے سامان راحت میسّر کرتا ہے جیسا کہ آفتاب اور زمین اور دوسری تمام چیزوں کو ہمارے وجود اور ہمارے اعمال کے وجود سے پہلے ہمارے لئے بنا دیا۔ اِس عطیّہ کا نام خدا کی کتاب میں رحمانیت ہے اور اس کام کے لحاظ سے خدائے تعالیٰ رحمٰن کہلاتا ہے اور پھر فرمایا الرَّحِیۡمِ یعنی وہ خدا نیک عملوں کی نیک تر جزادیتا ہے اور کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا اور اس کام کے لحاظ سے رحیم کہلاتا ہے اور یہ صفت رحیمیّت کے نام سے موسوم ہے۔ اور پھر فرمایا مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ یعنی وہ خدا ہر ایک کی جزا اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔ اس کا کوئی ایسا کارپرداز نہیں جس کو اس نے زمین و آسمان کی حکومت سونپ دی ہو اور آپ الگ ہو بیٹھا ہو۔ اور آپ کچھ نہ کرتا ہو۔ وہی کارپرداز سب کچھ جزا سزا دیتا ہو یا آئندہ دینے والا ہو۔ اور پھر فرمایا اَلْمَلِکُ القُدُّوْس یعنی وہ خدا بادشاہ ہے جس پر کوئی داغ عیب نہیں۔ یہ ظاہر ہے کہ انسانی بادشاہت عیب سے خالی نہیں۔ اگر مثلاً تمام رعیّت جلاوطن ہو کر دوسرے ملک کی طرف بھاگ جاوے تو پھر بادشاہی قائم نہیں رہ سکتی۔ یا اگر مثلاً تمام رعیّت قحط زدہ ہو جائے تو پھر خراج شاہی کہاں سے آئے۔ اور اگر رعیّت کے لوگ اس سے بحث شروع کر دیں کہ تجھ میں ہم سے زیادہ کیا ہے تو وہ کونسی لیاقت اپنی ثابت کرے۔ پس خدا تعالیٰ کی بادشاہی ایسی نہیں ہے۔ وہ ایک دم میں تمام ملک کو فنا کر کے اور مخلوقات پیدا کر سکتا ہے۔ اگر وہ ایسا خالق اور قادرنہ ہوتا تو پھر بجز ظلم کے اس کی بادشاہت چل نہ سکتی کیونکہ وہ دنیا کو ایک مرتبہ معافی اور نجات دے کر پھر دوسری دنیا کہاں سے لاتا۔ کیا نجات یافتہ لوگوں کو دنیا میں بھیجنے کے لئے پھر پکڑتا اور ظلم کی راہ سے اپنی معافی اور نجات دہی کو واپس لیتا؟ تو اس صورت میں اس کی خدائی میں فرق آتا۔ اور دنیا کے بادشاہوں کی طرح داغدار بادشاہ ہوتا۔ جو دنیا کے لئے قانون بناتے ہیں۔ بات بات میں بگڑتے ہیں اور اپنی خود غرضی کے وقتوں پر جب دیکھتے ہیں کہ ظلم کے بغیر چارہ نہیں تو ظلم کو شیرمادر سمجھ لیتے ہیں مثلاً قانون شاہی جائز رکھتا ہے کہ ایک جہاز کو بچانے کے لئے ایک کشتی کے سواروں کو تباہی میں ڈال دیا جائے اور ہلاک کیا جائے مگر خدا کو تو یہ اضطرار پیش نہیں آنا چاہئے۔ پس اگر خدا پورا قادر اور عدم سے پیدا کرنے والا نہ ہوتا تو یا تو وہ کمزور راجوں کی طرح قدرت کی جگہ ظلم سے کام لیتا اور یا عادل بن کر خدائی ہی کو الوداع کہتا۔ بلکہ خدا کا جہاز تمام قدرتوں کے ساتھ سچّے انصاف پر چل رہا ہے۔ پھر فرمایا اَلسَّلَامُ یعنی وہ خدا جو تمام عیبوں اور مصائب اور سختیوں سے محفوظ ہے بلکہ سلامتی دینے والا ہے۔ اس کے معنی بھی ظاہر ہیں کیونکہ اگر وہ آپ ہی مصیبتوں میں پڑتا۔ لوگوں کے ہاتھ سے مارا جاتا اور اپنے ارادوں میں ناکام رہتا تو پھر اس بدنمونہ کو دیکھ کر کس طرح دل تسلّی پکڑتے کہ ایسا خدا ہمیں ضرور مصیبتوں سے چُھڑاوے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ باطل معبودوں کے بارہ میں فرماتا ہے اِنَّ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَنۡ یَّخۡلُقُوۡا ذُبَابًا وَّلَوِ اجۡتَمَعُوۡا لَہٗ ؕ وَاِنۡ یَّسۡلُبۡہُمُ الذُّبَابُ شَیۡئًا لَّا یَسۡتَنۡقِذُوۡہُ مِنۡہُ ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالۡمَطۡلُوۡبُ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ سورۂ حج۔ جن لوگوں کو تم خدا بنائے بیٹھے ہو وہ تو ایسے ہیں کہ اگر سب مِل کر ایک مکّھی پیدا کرنا چاہیں تو کبھی پیدا نہ کر سکیں۔ اگرچہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں بلکہ اگر مکھّی اُن کی چیز چھین کر لے جائے تو انہیں طاقت نہیں ہو گی کہ وہ مکھی سے چیز واپس لے سکیں۔ اُن کے پرستار عقل کے کمزور اور وہ طاقت کے کمزور ہیں۔ کیا خدا ایسے ہوا کرتے ہیں؟ خدا تو وہ ہے کہ سب قوتوں والوں سے زیادہ قوت والا اور سب پر غالب آنے والا ہے۔ نہ اس کو کوئی پکڑ سکے اور نہ مار سکے۔ ایسی غلطیوں میں جو لوگ پڑتے ہیں وہ خدا کی قدر نہیں پہچانتے اور نہیں جانتے خدا کیسا ہونا چاہئے اور پھر فرمایا کہ خدا امن کا بخشنے والا اور اپنے کمالات اور توحید پر دلائل قائم کرنے والا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سچے خدا کا ماننے والا کسی مجلس میں شرمندہ نہیں ہو سکتا اور نہ خدا کے سامنے شرمندہ ہو گا۔ کیونکہ اس کے پاس زبردست دلائل ہوتے ہیں لیکن بناوٹی خدا کا ماننے والا بڑی مصیبت میں ہوتا ہے۔ وہ بجائے دلائل بیان کرنے کے ہر ایک بے ہودہ بات کو راز میں داخل کرتا ہے تا ہنسی نہ ہو۔ اور ثابت شدہ غلطیوں کو چھپانا چاہتا ہے۔
اور پھر فرمایا الۡمُہَیۡمِنُ الۡعَزِیۡزُ الۡجَبَّارُ الۡمُتَکَبِّرُ کہ یعنی وہ سب کا محافظ ہے اور سب پر غالب اور بگڑے ہوئے کاموں کا بنانے والا ہے اور اس کی ذات نہایت ہی مستغنی ہے۔ اور فرمایا ہُوَ اللّٰہُ الۡخَالِقُ الۡبَارِئُ الۡمُصَوِّرُ لَہُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی یعنی وہ ایسا خدا ہے کہ جسموں کا بھی پیدا کرنے والا اور روحوں کا بھی پیدا کرنے والا۔ رِحم میں تصویر کھینچنے والا ہے۔ تمام نیک نام جہاں تک خیال میں آ سکیں سب اُسی کے نام ہیں اور پھر فرمایا یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ۚ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ یعنی آسمان کے لوگ بھی اس کے نام کو پاکی سے یاد کرتے ہیں اور زمین کے لوگ بھی۔ اس آیت میں اشارہ فرمایا کہ آسمانی اجرام میں آبادی ہے اور وہ لوگ بھی پابند خدا کی ہدایتوں کے ہیں اور پھر فرمایا۔ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ یعنی خدا بڑا قادر ہے۔ یہ پرستاروں کے لئے تسلّی ہے کیونکہ اگر خدا عاجز ہو اور قادر نہ ہو تو ایسے خدا سے کیا اُمید رکھیں اور پھر فرمایا۔ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ یعنی وہی خدا ہے جو تمام عالموں کا پرورش کرنے والا۔ رحمن رحیم اور جزا کے دن کا آپ مالک ہے۔ اس اختیار کو کسی کے ہاتھ میں نہیں دیا۔ ہر ایک پکارنے والے کی پکار کو سُننے والا اور جواب دینے والایعنی دعاؤں کا قبول کرنے والا۔ اور پھر فرمایا۔ اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ۔ یعنی ہمیشہ رہنے والا اور تمام جانوں کی جان اور سب کے وجود کا سہارا۔ یہ اس لئے کہا کہ وہ ازلی ابدی نہ ہو تو اس زندگی کے بارے میں بھی دھڑکا رہے گاکہ شاید ہم سے پہلے فوت نہ ہو جائے اور پھر فرمایا کہ وہ خدا اکیلا خدا ہے۔ نہ وہ کسی کا بیٹا اور نہ کوئی اس کا بیٹا اور نہ کوئی اُس کے برابر اور نہ کوئی اس کا ہم جنس۔
(اسلامی اصول کی فلاسفی۔ روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۳۷۲ تا ۳۷۶)خدا تعالیٰ کی چار اعلیٰ درجہ کی صفتیں ہیں جو اُم الصفات ہیں اور ہر ایک صفت ہماری بشریت سے ایک امر مانگتی ہے۔ اور وہ چار صفتیں یہ ہیں۔ ربوبیّت، رحمانیّت، رحیمیّت، مالکیّت یوم الدّین۔
(۱) ربوبیّت۔ اپنے فیضان کے لئے عدم محض یا مشابہ بالعدم کو چاہتی ہے اور تمام انواع مخلوق کی جاندار ہوں یا غیر جاندار اسی سے پیرایۂ وجود پہنتے ہیں۔
(۲) رحمانیّت اپنے فیضان کے لئے صرف عدم کو ہی چاہتی ہے یعنی اس عدم محض کو جس کے وقت میں وجود کا کوئی اثر اور ظہور نہ ہو اور صرف جانداروں سے تعلق رکھتی ہے اور چیز وں سے نہیں۔
(۳) رحیمیّت اپنے فیضان کے لئے موجود ذوالعقل کے مُنہ سے نیستی اور عدم کا اقرار چاہتی ہے اور صرف نوع انسان سے تعلق رکھتی ہے۔
(۴) مالکیّت یوم الدّین اپنے فیضان کے لئے فقیرانہ تضرع اور الحاح کو چاہتی ہے اور صرف اُن انسانوں سے تعلق رکھتی ہے جو گداؤں کی طرح حضرتِ احدیت کے آستانہ پر گرتے ہیں اور فیض پانے کے لئے دامنِ اخلاص پھیلاتے ہیں اور سچ مچ اپنے تئیں تہی دست پا کر خدا تعالیٰ کی مالکیت پر ایمان لاتے ہیں۔
یہ چار الٰہی صفتیں ہیں جو دنیا میں کام کر رہی ہیں اور ان میں سے جو رحیمیت کی صفت ہے وہ دُعا کی تحریک کرتی ہے اور مالکیت کی صفت خوف اور قلق کی آگ سے گداز کر کے سچا خشوع اور خضوع پیدا کرتی ہے کیونکہ اس صفت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ مالک جزا ہے کسی کا حق نہیں جو دعویٰ سے کچھ طلب کرے اور مغفرت اور نجات محض فضل پر ہے۔
(ایام الصلح۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ۲۴۲، ۲۴۳)سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی چار صفتیں بیان فرمائیں۔ یعنی ربّ ۱ العالمین۔ رحمٰن ۲ ۔ رحیم ۳ ۔ مالک ۴ یوم الدّین اور ان چہار صفتوں میں سے ربّ العالمین کو سب سے مقدّم رکھا اور پھر بعد اس کے صفت رحمٰن کو ذکر کیا۔ پھر صفت رحیم کو بیان فرمایا۔ پھر سب سے اخیر صفت مالک یوم الدین کو لائے۔ پس سمجھنا چاہئے کہ یہ ترتیب خدائے تعالیٰ نے کیوں اختیار کی۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ اِن صفاتِ اربعہ کی ترتیب طبعی یہی ہے اور اپنی واقعی صورت میں اسی ترتیب سے یہ صفتیں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ دنیا پر خدا کا چار طور پر فیضان پایا جاتا ہے جو غورکرنے سے ہر یک عاقل اس کو سمجھ سکتا ہے۔ پہلا فیضان فَیضانِ اَعَم ہے۔ یہ وہ فیضانِ مطلق ہے کہ جو بلا تمیز ذی رُوح و غیر ذی رُوح افلاک سے لے کر خاک تک تمام چیزوں پر عَلَی الْاِ تِّصال جاری ہے اور ہر یک چیز کا عدم سے صورتِ وجود پکڑنا اور پھر وجود کا حدّ کمال تک پہنچنا اسی فیضان کے ذریعہ سے ہے۔ اور کوئی چیز جاندار ہو یا غیر جاندار اس سے باہر نہیں۔ اسی سے وجود تمام ارواح و اجسام ظہور پذیر ہوا اور ہوتا ہے اور ہر یک چیز نے پرورش پائی اور پاتی ہے۔ یہی فیضان تمام کائنات کی جان ہے۔ اگر ایک لمحہ منقطع ہو جائے تو تمام عالم نابود ہو جائے اور اگر نہ ہوتا تو مخلوقات میں سے کچھ بھی نہ ہوتا۔ اس کا نام قرآن شریف میں ربوبیت ہے اور اسی کے رو سے خدا کا نام رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ہے جیسا کہ اس نے دوسری جگہ بھی فرمایا ہے۔ وَّہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیۡءٍ الجزو نمبر ۸ یعنی خدا ہر یک چیز کا رب ہے اور کوئی چیز عالم کی چیزوں میں سے اس کی ربوبیت میں سے باہر نہیں۔ سو خدا نے سورۃ فاتحہ میں سب صفاتِ فیضانی میں سے پہلے صفت ربّ العالمین کو بیان فرمایا۔ اور کہا اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۔ یہ اس لئے کہا کہ سب فیضانی صفتوں میں سے تقدم طبعی صفت ربوبیت کو حاصل ہے۔ یعنی ظہور کے رُو سے یہی صفت مقدم الظہور اور تمام صفات فیضانی سے اعم ہے۔ کیونکہ ہر یک چیز پر خواہ جاندار ہو خواہ غیر جاندار مشتمل ہے۔
پھر دوسرا قسم فیضان کا جو دوسرے مرتبہ پر واقعہ ہے فیضان عام ہے۔ اِس میں اور فَیضانِ اَعَم میں یہ فرق ہے کہ فیضان اعم تو ایک عام ربوبیت ہے جس کے ذریعہ سے کل کائنات کا ظہور اور وجود ہے اور یہ فیضان جس کا نام فیضانِ عام ہے۔ یہ ایک خاص عنایت ازلیہ ہے جو جانداروں کے حال پر مبذول ہے۔ یعنی ذی رُوح چیزوں کی طرف حضرت باری کی جو ایک خاص توجہ ہے۔ اس کا نام فیضان عام ہے اور اس فیضان کی یہ تعریف ہے کہ یہ بلا استحقاق اور بغیر اس کے کہ کسی کا کچھ حق ہو سب ذی رُوحوں پر حسب حاجت ان کے جاری ہے۔ کسی کے عمل کا پاداش نہیں اور اسی فیضان کی برکت سے ہر یک جاندار جیتا، جاگتا، کھاتا، پیتا اور آفات سے محفوظ اور ضروریات سے متمتع نظر آتا ہے۔ اور ہر یک ذی رُوح کے لئے تمام اسباب زندگی کے جو اس کے لئے یا اُس کے نوع کے بقا کے لئے مطلوب ہیں میسّر نظر آتے ہیں اور یہ سب آثار اُسی فیضان کے ہیں کہ جو کچھ رُوحوں کو جسمانی تربیت کے لئے درکار ہے۔ سب کچھ دیا گیا ہے۔ اور ایسا ہی جن روحوں کو علاوہ جسمانی تربیت کے روحانی تربیت کی بھی ضرورت ہے یعنی روحانی ترقی کی استعداد رکھتے ہیں۔ اُن کے لئے قدیم سے عین ضرورتوں کے وقتوں میں کلام الٰہی نازل ہوتا رہا ہے۔ غرض اسی فیضان رحمانیت کے ذریعہ سے انسان اپنی کروڑ ہا ضروریات پر کامیاب ہے۔ سکونت کے لئے سطح زمین، روشنی کے لئے چاند اور سورج، دم لینے کے لئے ہوا، پینے کے لئے پانی، کھانے کے لئے انواع اقسام کے رزق اور علاج امراض کے لئے لاکھوں طرح کی ادویّہ۔ اور پوشاک کے لئے طرح طرح کی پوشیدنی چیزیں اور ہدایت پانے کے لئے صحف ربّانی موجود ہیں۔ اور کوئی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ یہ تمام چیزیں میرے عملوں کی برکت سے پیدا ہو گئی ہیں اور مَیں نے ہی کسی پہلے جنم میں کوئی نیک عمل کیا تھا جس کی پاداش میں یہ بے شمار نعمتیں خدا نے بنی آدم کو عنایت کیں۔ پس ثابت ہے کہ یہ فیضان جو ہزار ہا طور پر ذی روحوں کے آرام کے لئے ظہور پذیر ہو رہا ہے یہ عطیہ بِلَااِستحقاق ہے جو کسی عمل کے عوض میں نہیں فقط ربّانی رحمت کا ایک جوش ہے تا ہر یک جاندار اپنے فطرتی مطلوب کو پہنچ جائے اور جو کچھ اس کی فطرت میں حاجتیں ڈالی گئیں وہ پوری ہو جائیں۔ پس اس فیضان میں عنایت ازلیہ کا کام یہ ہے کہ انسان اور جمیع حیوانات کی ضروریات کا تعہد کرے اور ان کی بائسیّت اور نابائسیّت کی خبر رکھے تا وہ ضائع نہ ہو جائیں اور ان کی استعدادیں حیّز کتمان میں نہ رہیں۔ اور اس صفت فیضانی کا خدائے تعالیٰ کی ذات میں پایا جانا قانون قدرت کے ملاحظہ سے نہایت بدیہی طور پر ثابت ہو رہا ہے کیونکہ کسی عاقل کو اس میں کلام نہیں کہ جو کچھ چاند اور سورج اور زمین اور عناصر وغیرہ ضروریات دنیا میں پائی جاتی ہیں جن پر تمام ذی روحوں کی زندگی کا مدار ہے اِسی فیضان کے اثر سے ظہور پذیر ہیں اور ہر یک متنفس بلاتمیز انسان و حیوان و مومن و کافر و نیک و بد حسب حاجت اپنے ان فیوض مذکورہ بالا سے مستفیض ہو رہا ہے اور کوئی ذی روح اس سے محروم نہیں۔ اور اس فیضان کا نام قرآن شریف میں رحمانیت ہے اور اِسی کے رُو سے خدا کا نام سورۂ فاتحہ میں بعد صفت ربّ العالمین رحمٰن آیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ الرَّحۡمٰنِ اسی صفت کی طرف قرآن شریف کے کئی ایک اَور مقامات میں بھی اشارہ فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ منجملہ ان کے ایک یہ ہے وَاِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اسۡجُدُوۡا لِلرَّحۡمٰنِ قَالُوۡا وَمَا الرَّحۡمٰنُ ٭ اَنَسۡجُدُ لِمَا تَاۡمُرُنَا وَزَادَہُمۡ نُفُوۡرًا تَبٰرَکَ الَّذِیۡ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوۡجًا وَّجَعَلَ فِیۡہَا وَہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ الَّیۡلَ وَالنَّہَارَ خِلۡفَۃً لِّمَنۡ اَرَادَ اَنۡ یَّذَّکَّرَ اَوۡ اَرَادَ شُکُوۡرًا وَعِبَادُ الرَّحۡمٰنِ الَّذِیۡنَ یَمۡشُوۡنَ عَلَی الۡاَرۡضِ ہَوۡنًا وَّاِذَا خَاطَبَہُمُ الۡجٰہِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا یعنی جب کافروں اور بے دینوں اور دہریوں کو کہا جاتا ہے کہ تم رحمن کو سجدہ کرو تو وہ رحمن کے نام سے متنفّر ہو کر بطور انکار سوال کرتے ہیں کہ رحمن کیا چیز ہے؟ (پھر بطور جواب فرمایا) رحمن وہ ذات کثیر البرکت اور مصدرِ خیراتِ دائمی ہے جس نے آسمان میں بُرج بنائے۔ برجوں میں آفتاب اور چاند کو رکھا جو کہ عامہ مخلوقات کو بغیر تفریق کافر و مومن کے روشنی پہنچاتے ہیں۔ اُسی رحمن نے تمہارے لئے یعنی تمام بنی آدم کے لئے دن اور رات بنائے جو کہ ایک دوسرے کے بعد دورہ کرتے رہتے ہیں تا جو شخص طالب معرفت ہو وہ ان دقائق حکمت سے فائدہ اٹھاوے اور جہل اور غفلت کے پردہ سے خلاصی پاوے اور جو شخص شکر نعمت کرنے پر مستعد ہو وہ شکر کرے۔ رحمن کے حقیقی پرستار وہ لوگ ہیں کہ جو زمین پر بُردباری سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ اُن سے سخت کلامی سے پیش آئیں تو سلامتی اور رحمت کے لفظوں سے ان کا معاوضہ کرتے ہیں یعنی بجائے سختی کے نرمی اور بجائے گالی کے دعا دیتے ہیں اور تشبہ باخلاق رحمانی کرتے ہیں کیونکہ رحمن بھی بغیر تفریق نیک و بد کے اپنے سب بندوں کو سورج اور چاند اور زمین اور دوسری بے شمار نعمتوں سے فائدہ پہنچاتا ہے۔ پس ان آیات میں خدائے تعالیٰ نے اچھی طرح کھول دیا کہ رحمن کا لفظ اِن معنوں کر کے خدا پر بولا جاتا ہے کہ اس کی رحمت وسیع عام طور پر ہر یک بُرے بھلے پر محیط ہو رہی ہے۔ جیسا ایک جگہ اَور بھی اسی رحمت عام کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ عَذَابِیۡۤ اُصِیۡبُ بِہٖ مَنۡ اَشَآءُ ۚ وَرَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ یعنی مَیں اپنا عذاب جس کو لائق اس کے دیکھتا ہوں پہنچاتا ہوں اور میری رحمت نے ہر یک چیز کو گھیر رکھا ہے اور پھر ایک اور موقع پر فرمایا قُلۡ مَنۡ یَّکۡلَؤُکُمۡ بِالَّیۡلِ وَالنَّہَارِ مِنَ الرَّحۡمٰنِ یعنی ان کافروں اور نافرمانوں کو کہہ کہ اگر خدا میں صفت رحمانیت کی نہ ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ تم اس کے عذاب سے محفوظ رہ سکتے۔ یعنی اس کی رحمانیت کا اثر ہے کہ وہ کافروں اور بے ایمانوں کو مہلت دیتا ہے اور جلد تر نہیں پکڑتا۔ پھر ایک اور جگہ اسی رحمانیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے اَوَلَمۡ یَرَوۡا اِلَی الطَّیۡرِ فَوۡقَہُمۡ صٰٓفّٰتٍ وَّیَقۡبِضۡنَ ؔۘؕ مَا یُمۡسِکُہُنَّ اِلَّا الرَّحۡمٰنُ الجزو نمبر ۲۹۔ یعنی کیا ان لوگوں نے اپنے سروں پر پرندوں کو اُڑتے ہوئے نہیں دیکھا کہ کبھی وہ بازو کھلے ہوئے ہوتے ہیں اور کبھی سمیٹ لیتے ہیں۔ رحمن ہی ہے کہ اُن کو گرنے سے تھام رکھتا ہے۔ یعنی فیضانِ رحمانیت ایسا تمام ذی رُوحوں پر محیط ہو رہا ہے کہ پرندے بھی جو ایک پیسہ کے دو تین مل سکتے ہیں وہ بھی اس فیضان کے وسیع دریا میں خوشی اور سُرور سے تیر رہے ہیں۔ اور چونکہ ربوبیت کے بعد اسی فیضان کا مرتبہ ہے اس جہت سے اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں رب العالمین کی صفت بیان فرما کر پھر اس کے رحمن ہونے کی صفت بیان فرمائی تا ترتیب طبعی ان کی ملحوظ رہے۔
تیسری قسم فیضان کی فیضانِ خاص ہے۔ اِ س میں اور فیضان عام میں یہ فرق ہے کہ فیضان عام میں مستفیض پر لازم نہیں کہ حصولِ فیض کے لئے اپنی حالت کو نیک بناوے اور اپنے نفس کو حجب ظلمانیہ سے باہر نکالے یا کسی قسم کا مجاہدہ اور کوشش کرے۔ بلکہ اس فیضان میں جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں خدائے تعالیٰ آپ ہی ہر یک ذی رُوح کو اُس کی ضروریات جن کا وہ حسب فطرت محتاج ہے عنایت فرماتا ہے اور بن مانگے اور بغیر کسی کوشش کے مہیّا کر دیتا ہے لیکن فیضان خاص میں جہد اور کوشش اور تزکیۂ قلب اور دُعا اور تضرّع اور توجّہ الی اللہ اور دوسرا ہر طرح کا مجاہدہ جیسا کہ موقعہ ہو شرط ہے۔ اور اس فیضان کو وہی پاتا ہے جو ڈھونڈتا ہے۔ اور اُسی پر وارد ہوتا ہے جو اس کے لئے محنت کرتا ہے۔ اور اس فیضان کا وجود بھی ملاحظہ قانون قدرت سے ثابت ہے کیونکہ یہ بات نہایت بدیہی ہے کہ خدا کی راہ میں سعی کرنے والے اور غافل رہنے والے دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ بلاشبہ جو لوگ دل کی سچائی سے خدا کی راہ میں کوشش کرتے ہیں۔ اور ہر یک تاریکی اور فساد سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں ایک خاص رحمت ان کے شامل حال ہو جاتی ہے۔ اس فیضان کے رُو سے خدائے تعالیٰ کا نام قرآن شریف میں رحیم ہے اور یہ مرتبہ صفت رحیمیت کا بوجہ خاص ہونے اور مشروط بشرائط ہونے کے مرتبہء صفت رحمانیت سے مؤخّر ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے اوّل صفت رحمانیت ظہور میں آئی ہے۔ پھر بعد اس کے صفت رحیمیت ظہور پذیر ہوئی۔ پس اِسی ترتیب طبعی کے لحاظ سے سورۃ فاتحہ میں صفت رحیمیت کو صفت رحمانیت کے بعد میں ذکر فرمایا اور کہا الرَّحمٰن الرَّحیم۔ اور صفت رحیمیّت کے بیان میں کئی مقاماتِ قرآن شریف میں ذکر موجود ہے۔ جیسا ایک جگہ فرمایا ہے۔ وَکَانَ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَحِیۡمًا یعنی خدا کی رحیمیت صرف ایمان داروں سے خاص ہے جس سے کافر کو یعنی بے ایمان اور سرکش کو حصّہ نہیں۔
اس جگہ دیکھنا چاہئے کہ خدا نے کیسی صفت رحیمیت کو مومن کے ساتھ خاص کر دیا۔ لیکن رحمانیت کو کسی جگہ مومنین کے ساتھ خاص نہیں کیا اور کسی جگہ یہ نہیں فرمایا کہ کانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحْمَانًا ۔ بلکہ جو مومنین سے رحمت خاص متعلق ہے۔ ہر جگہ اس کو رحیمیت کی صفت سے ذکر کیا ہے۔ پھر دوسری جگہ فرمایا ہے اِنَّ رَحۡمَتَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ مِّنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ یعنی رحیمیت الٰہی انہیں لوگوں سے قریب ہے جو نیکوکار ہیں پھر ایک اور جگہ فرمایا ہے اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَجٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَ اللّٰہِ ؕ وَاللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ یعنی جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے لئے وطنوں سے یا نفس پرستیوں سے جدائی اختیار کی اور خدا کی راہ میں کوشش کی وہ خدا کی رحیمیت کے امیدوار ہیں اور خدا غفور اور رحیم ہے۔ یعنی اس کا فیضان رحیمیت ضرور اُن لوگوں کے شامل حال ہو جاتا ہے کہ جو اس کے مستحق ہیں۔ کوئی ایسا نہیں جس نے اس کو طلب کیا اور نہ پایا۔
عاشق کہ شد کہ یار بحالش نظر نہ کرد
اے خواجہ دردنیست وگرنہ طبیب ہست91
یہ فیوضِ اربعہ ہیں جن کو ہم نے تفصیل وار لکھ دیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ صفت رحمن کو صفت رحیم پر مقدّم رکھنا نہایت ضروری اور مقتضائے بلاغت کاملہ ہے کیونکہ صحیفۂ قدرت پر جب نظر ڈالی جائے تو پہلے پہل خدائے تعالیٰ کی عام ربوبیت پر نظر پڑتی ہے۔ پھر اس کی رحمانیت پر۔ پھر اس کی رحیمیت پر۔ پھر اُس کے مالک یوم الدین ہونے پر او رکمال بلاغت اسی کا نام ہے کہ جو صحیفۂ فطرت میں ترتیب ہو وہی ترتیب صحیفۂ الہام میں بھی ملحوظ رہے کیونکہ کلام میں ترتیب قدرتی کو مُنقلب کرنا گویا قانون قدرت کو منقلب کرنا ہے اور نظام طبعی کو اُلٹا دینا ہے۔ کلام بلیغ کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ نظام کلام کا نظام طبعی کے ایسا مطابق ہو کہ گویا اُسی کی عکسی تصویر ہو اور جو امر طبعاً اور وقوعاً مقدّم ہو اس کو وضعاً بھی مقدّم رکھا جائے۔ سو آیت موصوفہ میں یہ اعلیٰ درجہ کی بلاغت ہے کہ باوجود کمال فصاحت اور خوش بیانی کے واقعی ترتیب کا نقشہ کھینچ کر دکھلا دیا ہے اور وہی طرزِ بیان اختیار کی ہے جو کہ ہر یک صاحب نظر کو نظام عالم میں بدیہی طور پر نظر آ رہی ہے کیا یہ نہایت سیدھا راستہ نہیں ہے کہ جس ترتیب سے نعماء الٰہی صحیفۂ فطرت میں واقعہ ہیں اُسی ترتیب سے صحیفہ الہام میں بھی واقع ہوں۔ سو ایسی عمدہ اور پُر حکمت ترتیب پر اعتراض کرنا حقیقت میں اُنہی اندھوں کاکام ہے جن کی بصیرت اور بصارت دونوں یکبارگی جاتی رہی ہیں۔
چشم بد اندیش کہ برکندئہ باد
عیب نماید ہنرش در نظر93
دوسری صداقت رَحْمٰن ہے کہ جو بعد رب العالمین بیان فرمایا گیا۔ اور رحمٰن کے معنے جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں یہ ہیں کہ جس قدر جاندار ہیں خواہ ذی شعور اور خواہ غیر ذی شعور اور خواہ نیک اور خواہ بد اُن سب کے قیام اور بقاء وجود اور بقائے نوع کے لئے ان کی تکمیل کے لئے خدائے تعالیٰ نے اپنی رحمت عامہ کے رُو سے ہر یک قسم کے اسباب مطلوبہ میسّر کر دیئے ہیں اور ہمیشہ میسّر کرتا رہتا ہے۔ اور یہ عطیّہ محض ہے کہ جو کسی عامل کے عمل پر موقوف نہیں۔
تیسری صداقت رَحِیْم ہے کہ جو بعد رحمٰن کے مذکور ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ خدا ئے تعالیٰ سعی کرنے والوں کی سعی پر بمقتضائے رحمت خاصہ ثمراتِ حسنہ مترتب کرتا ہے۔ توبہ کرنے والوں کے گناہ بخشتا ہے۔ مانگنے والوں کو دیتا ہے۔ کھٹکھٹانے والوں کے لئے کھولتا ہے۔
چوتھی صداقت جو سورۃ فاتحہ میں مندرج ہے مالک یوم الدین ہے یعنی باکمال و کامل جزا سزا کہ جو ہر یک قسم کے امتحان و ابتلاء اور توسطِ اسباب غفلت افترا سے منزّہ ہے اور ہریک کدورت اور کثافت اور شک اور شبہ اور نقصان سے پاک ہے اور تجلّیاتِ عظمیٰ کا مظہر ہے اس کا مالک بھی وہی اللہ قادر مطلق ہے اور وہ اس بات سے ہرگز عاجز نہیں کہ اپنی کامل جزا کو جو دن کی طرح روشن ہے ظہور میں لاوے اور اس صداقت عظمیٰ کے ظاہر کرنے سے حضرتِ احدیّت کا یہ مطلب ہے کہ تا ہر یک نفس پر بطور حق الیقین امور مفصّلہ ذیل کھل جائیں۔ اوّل یہ امر کہ جزا سزا ایک واقعی اور یقینی امر ہے کہ جو مالکِ حقیقی کی طرف سے اور اُسی کے ارادۂ خاص سے بندوں پر وارد ہوتا ہے۔ اور ایسا کھل جانا دنیا میں ممکن نہیں کیونکہ اِس عالم میں یہ بات عام لوگوں پر ظاہر نہیں ہوتی کہ جو کچھ خیر و شر و راحت و رنج پہنچ رہا ہے وہ کیوں پہنچ رہا ہے اور کس کے حکم اور اختیار سے پہنچ رہا ہے اور کسی کو ان میں سے یہ آواز نہیں آتی کہ وہ اپنی جزا پا رہا ہے اور کسی پر بطور مشہود و محسوس منکشف نہیں ہوتا کہ جو کچھ وہ بھگت رہا ہے حقیقت میں وہ اس کے عملوں کا بدلہ ہے۔
دوسرے اس صداقت میں اس امر کا کھلنا مطلوب ہے کہ اسباب عادیہ کچھ چیز نہیں ہیں اور فاعلِ حقیقی خدا ہے اور وہی ایک ذات عظمیٰ ہے کہ جو جمیع فیوض کا مبدء اور ہر یک جزا سزا کا مالک ہے۔
تیسرے اس صداقت میں اس بات کا ظاہر کرنا مطلوب ہے کہ سعادتِ عظمیٰ اور شقاوتِ عظمیٰ کیا چیز ہے۔ یعنی سعادتِ عظمیٰ وہ فوزِ عظیم کی حالت ہے کہ جب نور اور سرور اور لذت اور راحت انسان کے تمام ظاہر و باطن اور تن اور جان پر محیط ہو جائے اور کوئی عضو اور قوت اس سے باہر نہ رہے۔ اور شقاوتِ عظمیٰ وہ عذاب الیم ہے کہ جو بباعث نافرمانی اور ناپاکی اور بُعد اور دُوری کے دلوں سے مشتعل ہو کر بدنوں پر مستولی ہو جائے اور تمام وجود فِی النَّارِ وَ السَّقَر معلوم ہو اور یہ تجلّیاتِ عظمیٰ اس عالم میں ظاہر نہیں ہو سکتیں کیونکہ اس تنگ اور منقبض اور مکدّر عالم کو جو رُوپوشِ اسباب ہو کر ایک ناقص حالت میں پڑا ہے اِن کے ظہور کی برداشت نہیں بلکہ اس عالم پر ابتلاء اور آزمائش غالب ہے۔ اور اس کی راحت اور رنج دونوں ناپائیدار اور ناقص ہیں اور نیز اِس عالم میں جو کچھ انسان پر وارد ہوتا ہے وہ زیر پردہ اسباب ہے جس سے مالک الجزاء کا چہرہ محجوب اور مکتوم ہو رہا ہے اس لئے یہ خالص اور کامل اور منکشف طو ر پر یَومُ الجَزَاء نہیں ہو سکتا بلکہ خالص اور کامل اور منکشف طور پر یوم الدین یعنی یوم الجزاء وہ عالم ہو گا کہ جو اس عالم کے ختم ہونے کے بعد آوے گا۔ اور وہی عَالَمِ تجلّیاتِ عُظمٰی کا مظہر اور جلال اور جمال کے پوری ظہور کی جگہ ہے۔ اور چونکہ یہ عالم دنیوی اپنی اصل وضع کی رُو سے دارالجزاء نہیں بلکہ دارالابتلاء ہے اس لئے جو کچھ عُسر و یُسر و راحت و تکلیف اور غم اور خوشی اس عالم میں لوگوں پر وارد ہوتی ہے اُس کو خدائے تعالیٰ کے لطف یا قہر پر دلالتِ قطعی نہیں۔ مثلاً کسی کا دولت مند ہو جانا اس بات پر دلالتِ قطعی نہیں کرتاکہ خدائے تعالیٰ اس پر خوش ہے اور نہ کسی کا مفلس اور نادار ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ اُس پر ناراض ہے۔ بلکہ یہ دونوں طور کے ابتلاء ہیں تا دولتمند کو اس کی دولت میں اور مفلس کو اُس کی مفلسی میں جا نچا جائے۔ یہ چار صداقتیں ہیں جن کا قرآن شریف میں مفصّل بیان موجود ہے۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ۴۴۴تا۴۶۱ حاشیہ نمبر۱۱)یہ بات بہ بداہت ثابت ہے کہ عالم کے اشیاء میں سے ہر یک موجود جو نظر آتا ہے اُس کا وجود اور قیام نظراً علٰی ذاتہٖ ضروری نہیں مثلاً زمین کروی الشکل ہے اور قطر اس کا بعض کے گمان کے موافق تخمیناً چار ہزار کوس پختہ ہے مگر اس بات پر کوئی دلیل قائم نہیں ہو سکتی کہ کیوں یہی شکل اور یہی مقدار اس کے لئے ضروری ہے اور کیوں جائز نہیں کہ اس سے زیادہ یا اس سے کم ہو یا برخلاف شکل حاصل کے کسی اور شکل سے متشکّل ہو اور جب اس پر کوئی دلیل قائم نہ ہوئی تو یہ شکل اور مقدار جس کے مجموعہ کا نام وجود ہے زمین کے لئے ضروری نہ ہوا اور علیٰ ہذا القیاس عالم کی تمام اشیاء کا وجود اور قیام غیر ضروری ٹھہرا۔ اور صرف یہی بات نہیں کہ وجود ہر یک ممکن کا نَظْرًا عَلٰی ذَاتِہٖ غیر ضروری ہے بلکہ بعض صورتیں ایسی نظر آتی ہیں کہ اکثر چیزوں کے معدوم ہونے کے اسباب بھی قائم ہو جاتے ہیں۔ پھر وہ چیزیں معدوم نہیں ہوتیں۔ مثلاً باوجود اس کے کہ سخت سخت قحط اور وباء پڑتی ہیں مگر پھر بھی ابتدا زمانہ سے تخم ہر یک چیز کا بچتا چلا آیا ہے حالانکہ عند العقل جائز بلکہ واجب تھاکہ ہزار ہا شدائد اور حوادث میں سے جو ابتدا سے دنیا پر نازل ہوتی رہی کبھی کسی دفعہ ایسا بھی ہوتا کہ شدّتِ قحط کے وقت غلّہ جو کہ خوراک انسان کی ہے بالکل مفقود ہو جاتا یا کوئی قسم غلّہ کی مفقود ہو جاتی یا کبھی شدّت وباء کے وقت نوع انسان کا نام و نشان باقی نہ رہتا یا کوئی اور انواع حیوانات میں سے مفقود ہو جاتے یا کبھی اتفاقی طور پر سورج یا چاند کی َکل بگڑ جاتی یا دوسری بے شمار چیزوں سے جو عالم کی درستیٔ نظام کے لئے ضروری ہیں کسی چیز کے وجود میں خلل راہ پا جاتا کیونکہ کروڑہا چیزوں کا اختلال اور فساد سے سالم رہنا اور کبھی اُن پر آفت نازل نہ ہونا قیاس سے بعید ہے۔ پس جو چیزیں نہ ضروری الوجود ہیں نہ ضروری القیام بلکہ ان کا کبھی نہ کبھی بگڑ جانا ان کے باقی رہنے سے زیادہ تر قرین قیاس ہے۔ ان پر کبھی زوال نہ آنا اور احسن طور پر بہ ترتیب محکم اور ترکیب ابلغ ان کا وجود اور قیام پایاجانا اور کروڑ ہا ضروریاتِ عالم میں سے کبھی کسی چیز کا مفقودنہ ہونا صریح اس بات پر نشان ہے کہ ان سب کے لئے ایک محی اور محافظ اور قیّوم ہے جو جامع صفات کاملہ یعنی مدبّر اور حکیم اور رحمان اور رحیم اور اپنی ذات میں ازلی ابدی اور ہر یک نقصان سے پاک ہے جس پر کبھی موت اور فنا طاری نہیں ہوتی بلکہ اونگھ اور نیند سے بھی جو فی الجملہ موت سے مشابہ ہے پاک ہے۔ سو وہی ذات جامع صفاتِ کاملہ ہے جس نے اس عالم امکانی کو برعایت کمال حکمت و موزونیت وجود عطا کیا اور ہستی کو نیستی پر ترجیح بخشی اور وہی بوجہ اپنی کمالیّت اور خالقیّت اور ربوبیّت اور قیّومیّت کے مستحقِ عبادت ہے۔ یہاں تک تو ترجمہ اس آیت کا ہوا اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ۬ۚ لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوۡمٌ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ اب بنظرِ انصاف دیکھنا چاہئے کہ کس بلاغت اور لطافت اور متانت اور حکمت سے اس آیت میں وجودِ صانع عالم پر دلیل بیان فرمائی ہے اور کس قدر تھوڑے لفظوں میں معانی کثیرہ اور لطائفِ حکمیہ کو کوٹ کوٹ کر بھر دیا ہے اور مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ کے لئے ایسی محکم دلیل سے وجود ایک خالقِ کامل الصفات کا ثابت کر دکھایا ہے جس کے کامل اور محیط بیان کے برابر کسی حکیم نے آج تک کوئی تقریر بیان نہیں کی بلکہ حکماء ناقص الفہم نے ارواح اور اجسام کو حادث بھی نہیں سمجھا اور اس رازِ دقیق سے بے خبر رہے کہ حیاتِ حقیقی اور ہستی حقیقی اور قیام حقیقی صرف خدا ہی کے لئے مسلّم ہے۔ یہ عمیق معرفت اسی آیت سے انسان کو حاصل ہوتی ہے جس میں خدا نے فرمایا کہ حقیقی طور پر زندگی اور بقاء زندگی صرف اللہ کے لئے حاصل ہے جو جامع صفاتِ کاملہ ہے۔ اس کے بغیر کسی دوسری چیز کو وجود حقیقی اور قیام حقیقی حاصل نہیں اور اسی بات کو صانع عالم کی ضرورت کے لئے دلیل ٹھہرایا اور فرمایا۔ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ یعنی جبکہ عالم کے لئے نہ حیات حقیقی حاصل ہے نہ قیامِ حقیقی تو بالضرور اس کو ایک علّتِ موجبہ کی حاجت ہے جس کے ذریعہ سے اس کو حیات اور قیام حاصل ہوا اور ضرور ہے کہ ایسی علّتِ موجبہ جامع صفات کاملہ اور مدبّر بالارادہ اور حکیم اور عالم الغیب ہو۔ سو وہی اللہ ہے کیونکہ اللہ بموجب اصطلاح قرآن شریف کے اس ذات کا نام ہے جو مستجمع کمالاتِ تامہ ہے۔ اسی وجہ سے قرآن شریف میں اللہ کے اسم کو جمیع صفات کاملہ کا موصوف ٹھہرایا ہے اور جابجا فرمایا ہے کہ اللہ وہ ہے جو کہ ربّ العالمین ہے۔ رحمن ہے۔ رحیم ہے مدّبر بالارادہ ہے۔ حکیم ہے۔ عالم الغیب ہے۔ قادر مطلق ہے۔ ازلی ابدی ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ قرآن شریف کی ایک اصطلاح ٹھہر گئی ہے کہ اللہ ایک ذات جامع جمیع صفات کاملہ کا نام ہے۔ اسی جہت سے اس آیت کے سر پر بھی اللہ کا اسم لائے اور فرمایا اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ یعنی اس عالم بے ثبات کا قیّوم ذات جامع الکمالات ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ عالم جس ترتیب محکم اور ترکیب ابلغ سے موجود اور مترتب ہے اس کے لئے یہ گمان کرنا باطل ہے کہ انہی چیزوں میں سے بعض چیزیں بعض کے لئے علّتِ موجبہ ہو سکتی ہیں۔ بلکہ اس حکیمانہ کام کے لئے جو سراسر حکمت سے بھرا ہوا ہے ایک ایسے صانع کی ضرورت ہے جو اپنی ذات میں مدبّر بالارادہ اور حکیم اور علیم اور رحیم اور غیر فانی اور تمام صفاتِ کاملہ سے متّصف ہو۔ سو وہی اللہ ہے جس کو اپنی ذات میں کمال تام حاصل ہے۔ پھر بعد ثبوت وجود صانع عالم کے طالب حق کو اس بات کا سمجھانا ضروری تھا کہ وہ صانع ہر یک طور کی شرکت سے پاک ہے۔ سو اس کی طرف اشارہ فرمایا قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اَللّٰہُ الصَّمَدُ اس اقل عبارت کو جو بقدر ایک سطر بھی نہیں دیکھنا چاہئے کہ کس لطافت اور عمدگی سے ہر یک قسم کی شراکت سے وجودِ حضرت باری کا منزّہ ہونا بیان فرمایا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ شرکت از روئے حصر عقلی چار قسم پر ہے۔ کبھی شرکت عدد میں ہوتی ہے اور کبھی مرتبہ میں اور کبھی نسب میں اور کبھی فعل اور تاثیر میں۔ سو اس سورۃ میں ان چاروں قسموں کی شرکت سے خدا کا پاک ہونا بیان فرمایا اور کھول کر بتلا دیا کہ وہ اپنے عدد میں ایک ہے دو یا تین نہیں اور وہ صَمَد ہے یعنی اپنے مرتبہء وجوب اور محتاج الیہ ہونے میں منفرد اور یگانہ ہے اور بجز اس کے تمام چیزیں ممکن الوجود اور ہالک الذات ہیں جو اس کی طرف ہر دم محتاج ہیں اور وہ لَمۡ یَلِدۡ ہے یعنی اُس کا کوئی بیٹا نہیں تا بوجہ بیٹا ہونے کے اس کا شریک ٹھہر جائے اور وہ لَمۡ یُوۡلَدۡ ہے یعنی اس کا کوئی باپ نہیں تا بوجہ باپ ہونے کے اس کا کوئی شریک بن جائے اور وہ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ہے یعنی اس کے کاموں میں کوئی اس سے برابری کرنے والا نہیں تا باعتبار فعل کے اس کا کوئی شریک قرار پاوے۔ سو اس طور سے ظاہر فرما دیا کہ خدائے تعالیٰ چاروں قسم کی شرکت سے پاک اور منزّہ ہے اور وحدہٗ لاشریک ہے۔ پھر بعد اس کے اُس کے وحدہٗ لاشریک ہونے پر ایک عقلی دلیل بیان فرمائی اور کہا۔ لَوۡ کَانَ فِیۡہِمَاۤ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا وَّمَا کَانَ مَعَہٗ مِنۡ اِلٰہٍ الخ۔ یعنی اگر زمین آسمان میں بجز اس ایک ذات جامع صفاتِ کاملہ کے کوئی اَور بھی خدا ہوتا تو وہ دونوں بگڑ جاتے کیونکہ ضرور تھا کہ کبھی وہ جماعت خدائیوں کی ایک دوسرے کے برخلاف کام کرتے۔ پس اسی پھوٹ اور اختلاف سے عالم میں فساد راہ پاتا اور نیز اگر الگ الگ خالق ہوتے تو ہر واحد اُن میں سے اپنی ہی مخلوق کی بھلائی چاہتا اور اُن کے آرام کے لئے دوسروں کا برباد کرنا روا رکھتا پس یہ بھی موجب فساد عالم ٹھہرتا۔ یہاں تک تو دلیل لِمّی سے خدا کا واحد لاشریک ہونا ثابت کیا۔ پھر بعد اس کے خدا کے وحدہٗ لاشریک ہونے پر دلیل اِنّی بیان فرمائی اور کہا الخ یعنی مشرکین اور منکرین وجود حضرت باری کو کہہ کہ اگر خدا کے کارخانہ میں کوئی اور لوگ بھی شریک ہیں یا اسباب موجودہ ہی کافی ہیں تو اس وقت کہ تم اسلام کے دلائلِ حقیّت اور اس کی شوکت اور قوت کے مقابلہ پر مقہور ہو رہے ہو ان اپنے شرکاء کو مدد کے لئے بلاؤ اور یاد رکھو وہ ہرگز تمہاری مشکل کشائی نہ کریں گے اور نہ بلا کو تمہارے سر پر سے ٹال سکیں گے۔ اے رسول! ان مشرکین کو کہہ کہ تم اپنے شرکاء کو جن کی پرستش کرتے ہو میرے مقابلہ پر بلاؤ اور جو تدبیر میرے مغلوب کرنے کے لئے کر سکتے ہو وہ سب تدبیر یں کرو اور مجھے ذرا مہلت مت دو اور یہ بات سمجھ رکھو کہ میرا حامی اور ناصر اور کارساز وہ خدا ہے جس نے قرآن کو نازل کیا ہے اور وہ اپنے سچے اور صالح رسولوں کی آپ کارسازی کرتا ہے مگر جن چیزوں کو تم لوگ اپنی مدد کے لئے پکارتے ہو وہ ممکن نہیں ہے جو تمہاری مدد کر سکیں اور نہ کچھ اپنی مدد کر سکتے ہیں۔ پھر بعد اس کے خدا کا ہریک نقصان اور عیب سے پاک ہونا قانون قدرت کے رُو سے ثابت کیا اور فرمایا تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَالۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِیۡہِنَّ الخ۔ یعنی ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے خدا کی تقدیس کرتے ہیں اور کوئی چیز نہیں جو اُس کی تقدیس نہیں کرتی۔ پر تم اُن کی تقدیسوں کو سمجھتے نہیں۔ یعنی زمین آسمان پر نظر غور کرنے سے خدا کا کامل اور مقدس ہونا اور بیٹوں اور شریکوں سے پاک ہونا ثابت ہو رہا ہے۔ مگر ان کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں۔ پھر بعد اس کے جزئی طور پر مخلوق پرستوں کو ملزم کیا اور اُن کا خطا پر ہونا ظاہر فرمایا اور کہا قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا سُبۡحٰنَہٗ ؕ ہُوَ الۡغَنِیُّ الخ۔ یعنی بعض لوگ کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے۔ حالانکہ بیٹے کا محتاج ہونا ایک نقصان ہے اور خدا ہر یک نقصان سے پاک ہے وہ تو غنی اور بے نیاز ہے جس کو کسی کی حاجت نہیں۔ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب اُسی کا ہے۔ کیا تم خدا پر ایسا بہتان لگاتے ہو جس کی تائید میں تمہارے پاس کسی نوع کا علم نہیں۔ خدا کیوں بیٹوں کا محتاج ہونے لگا۔ وہ کامل ہے اور فرائضِ الوہیّت کے ادا کرنے کے لئے وہ ہی اکیلا کافی ہے کسی اور منصوبہ کی حاجت نہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ خدا بیٹیاں رکھتا ہے حالانکہ وہ ان سب نقصانوں سے پاک ہے۔ کیا تمہارے لئے بیٹے اور اس کے لئے بیٹیاں؟ یہ تو ٹھیک ٹھیک تقسیم نہ ہوئی۔ اے لوگو! تم اس خدائے واحد لاشریک کی پرستش کرو جس نے تم کو اور تمہارے باپ دادوں کو پیدا کیا۔ چاہئے کہ تم اس قادرِ توانا سے ڈروجس نے زمین کو تمہارے لئے بچھونا اور آسمان کو تمہارے لئے چھت بنایا۔ اور آسمان سے پانی اُتار کر طرح طرح کے رزق تمہارے لئے پھلوں میں سے پیدا کئے۔ سو تم دیدہ و دانستہ انہیں چیزوں کو خدا کا شریک مت ٹھہراؤ جو تمہارے فائدہ کے لئے بنائی گئی ہیں۔ خدا ایک ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ وہی آسمان میں خدا ہے اور وہی زمین میں خدا۔ وہی اوّل ہے اور وہی آخر۔ وہی ظاہر ہے وہی باطن۔ آنکھیں اُس کی کُنہ دریافت کرنے سے عاجز ہیں اور اس کو آنکھوں کی کُنہ معلوم ہے۔ وہ سب کا خالق ہے اور کوئی چیز اس کی مانندنہیں۔ اور اُس کے خالق ہونے پر یہ دلیل واضح ہے کہ ہر یک چیز کو ایک اندازۂ مقرری میں محصور اور محدود پیدا کیا ہے۔ جس سے وجود اس ایک حاصِر اور محدّد کا ثابت ہوتا ہے۔ اس کے لئے تمام محامد ثابت ہیں اور دنیا و آخرت میں وہی منعم حقیقی ہے۔ اور اسی کے ہاتھ میں ہر یک حکم ہے اور وہی تمام چیزوں کا مرجع و مآب ہے۔ خدا ہر یک گناہ کو بخش دے گا جس کے لئے چاہے گا پر شرک کو ہرگز نہیں بخشے گا۔ سو جو شخص خدا کی ملاقات کا طالب ہے اُسے لازم ہے کہ ایسا عمل اختیار کرے جس میں کسی نوع کا فسادنہ ہو اور کسی چیز کو خدا کی بندگی میں شریک نہ کرے۔ تُو خدا کے ساتھ کسی دوسری چیز کو ہرگز شریک مت ٹھہراؤ۔ خدا کا شریک ٹھہرانا سخت ظلم ہے۔ تو بجز خدا کے کسی اور سے مُرادیں مت مانگ، سب ہلاک ہو جائیں گے۔ ایک اسی کی ذات باقی رہ جاوے گی۔ اُسی کے ہاتھ میں حکم ہے اور وہی تمہارا مرجع ہے۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۱۵ تا۵۲۱ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳)
خدا کا قانونِ قدرت اور ایسا ہی صحیفۂ فطرت جس کا سلسلہ قدیم سے اور انسان کی بنیاد کے وقت سے چلا آتا ہے۔ وہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خدا کے ساتھ تعلّق شدید پیدا ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کے احسان اور حسن سے تمتع اٹھایا ہو اور ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ احسان سے مراد خدا تعالیٰ کے وہ اخلاقی نمونے ہیں جو کسی انسان نے اپنی ذات کی نسبت بچشم خود دیکھے ہوں مثلاً بیکسی اور عاجزی اور کمزوری اور یتیمی کے وقت میں خدا اس کا متولّی ہوا ہو۔ اور حاجتوں اور ضرورتوں کے وقت میں خدا نے خود اس کی حاجت براری کی ہو اور سخت اور کمرشکن غموں کے وقت میں خدا نے خود اس کو مدد کی ہو اور خدا کی طلبی کے وقت میں بغیر توسط کسی مرشد اور ہادی کے خود خدا نے اس کو رہنمائی کی ہو اور حسن سے مُراد بھی خداتعالیٰ کی وہی صفاتِ حسنہ ہیں جو احسان کے رنگ میں ملاحظہ ہوتی ہیں مثلاً خدا کی قدرتِ کاملہ اور رفق اور وہ لطف اور وہ ربوبیّت اور وہ رحم جو خدا میں پایاجاتا ہے اور وہ عام ربوبیّت اس کی جو مشاہدہ ہو رہی ہے اور وہ عام نعمتیں اس کی جو انسانوں کے آرام کے لئے بکثرت موجود ہیں اور وہ علم اس کا جس کو انسان نبیوں کے ذریعہ سے حاصل کرتا اور اس کے ذریعہ سے موت اور تباہی سے بچتا ہے اور اس کی یہ صفت کہ وہ بے قراروں اور درماندوں کی دعائیں قبول کرتا ہے۔ اور اُس کی یہ خوبی کہ جو لوگ اس کی طرف جھکتے ہیں وہ اُن سے زیادہ ان کی طرف جھکتا ہے یہ تمام صفات خدا کی اس کے حسن میں داخل ہیں اور پھر وہی صفات ہیں کہ جب ایک شخص خاص طور پر اُن سے فیضیاب بھی ہو جاتا ہے تو وہ اس کی نسبت احسان بھی کہلاتی ہیں گو دوسرے کی نسبت فقط حسن میں داخل ہیں۔ اور جو شخص خدا تعالیٰ کی ان صفات کو جو درحقیقت اس کا حسن اور جمال ہے احسان کے رنگ میں بھی دیکھ لیتا ہے تو اس کا ایمان نہایت درجہ قوی ہو جاتا ہے اور وہ خدا کی طرف ایسا کھنچا جاتا ہے جیسا کہ ایک لوہا آہن ربا کی طرف کھنچاجاتا ہے۔ اس کی محبت خدا سے بہت بڑھ جاتی ہے اور اس کا بھروسہ خدا پر بہت قوی ہو جاتا ہے اور چونکہ وہ اس بات کو آزما لیتا ہے جو اس کی تمام بھلائی خدا میں ہے اس لئے اُس کی اُمیدیں خدا پر نہایت مضبوط ہو جاتی ہیں اور وہ طبعاً نہ کسی تکلّف اور بناوٹ سے خدا کی طرف جھکا رہتا ہے اور اپنے تئیں ہر دم خدا سے مدد پانے کا محتاج دیکھتا ہے اور اس کی ان صفاتِ کاملہ کے تصور سے یقین رکھتا ہے کہ وہ ضرور کامیاب ہو گا کیونکہ خدا کے فیض اور کرم اور جود کے بہت سے نمونے اس کا چشم دید مشاہدہ ہوتا ہے۔ اس لئے اس کی دعائیں قوت اور یقین کے چشمہ سے نکلتی ہیں اور اس کا عقدِ ہمت نہایت مضبوط اور مستحکم ہوتا ہے اور آخرکار بمشاہدہ آلاء اور نعماء الٰہی کے نورِ یقین بہت زور کے ساتھ اس کے اندر داخل ہو جاتا ہے اور اس کی ہستی بکلّی جل جاتی ہے اور بباعث کثرت تصور عظمت اور قدرتِ الٰہی کے اُس کا دل خدا کا گھر ہو جاتا ہے اور جس طرح انسان کی رُوح اس کے زندہ ہونے کی حالت میں کبھی اُس کے جسم سے جدا نہیں ہوتی اسی طرح خدائے قادر ذوالجلال کی طرف سے جو یقین اس کے اندر داخل ہوا ہے وہ کبھی اس سے علیحدہ نہیں ہوتا اور ہر وقت پاک رُوح اس کے اندر جوش مارتی رہتی ہے اور اسی پاک رُوح کی تعلیم سے وہ بولتا اور حقائق اور معارف اس کے اندر سے نکلتے ہیں اور خدائے ذُوالعِزّت وَ الجَبْرُوت کی عظمتکا خیمہ ہر وقت اس کے دل میں لگا رہتا ہے اور یقین اور صدق اور محبت کی لذت ہر وقت پانی کی طرح اس کے اندر بہتی رہتی ہے جس کی آبپاشی سے ہریک عضو اس کا سیراب نظر آتا ہے۔ آنکھو ں میں ایک جُدا سیرابی مشہود ہوتی ہے۔ پیشانی پر الگ ایک نور اُس سیرابی کا لہراتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور چہرہ پر محبت الٰہی کی ایک بارش برستی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اور زبان بھی اس نور کی سیرابی سے پورا حصہ لیتی ہے۔ اِسی طرح تمام اعضا پر ایک ایسی شگفتگی نظر آتی ہے جیسا کہ ابر بہار کے برسنے کے بعد موسم بہار میں ایک دلکش تازگی درختوں کی ٹہنیوں اور پتوں اور پھولوں اور پھلوں میں محسوس ہوتی ہے۔ لیکن جس شخص میں یہ رُوح نہیں اُتری اور یہ سیرابی اس کو حاصل نہیں ہوئی۔ اس کا تمام جسم مردار کی طرح ہوتا ہے اور یہ سیرابی اور تازگی اور شگفتگی جس کی قلم تشریح نہیں کر سکتی یہ اُس مردار دل کو مل ہی نہیں سکتی جس کو نور یقین کے چشمہ نے شاداب نہیں کیا بلکہ ایک طرح کی سڑی ہوئی بدبو اس سے آتی ہے۔ مگر وہ شخص جس کو یہ نور دیا گیا ہے اور جس کے اندر یہ چشمہ پھوٹ نکلا ہے اس کی علامات سے یہ ایک علامت ہے کہ اس کا جی ہر وقت یہی چاہتا ہے کہ ہریک بات میں اور ہر یک قول میں اور ہر یک فعل میں خدا سے قوت پاوے اِسی میں اس کی لذت ہوتی ہے اور اِسی میں اس کی راحت ہوتی ہے۔ وہ اس کے بغیر جی ہی نہیں سکتا۔ (عصمت انبیاء علیہم السلام۔ روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ۶۶۸ تا ۶۷۱ کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن)
کامل تعریف دو قسم کی خوبیوں کے لئے ہوتی ہے ایک کمالِ حسن اور ایک کمال احسان اور اگر کسی میں دونوں خوبیاں
جمع ہوں تو پھر اس کے لئے دل فدا اور شیدا ہو جاتا ہے اور قرآن شریف کا بڑا مطلب یہی ہے کہ خداتعالیٰ کی
دونوں قسم کی خوبیاں حق کے طالبوں پر ظاہر کرے تا اُس بے مثل و مانند ذات کی طرف لوگ کھینچے جائیں۔ اور رُوح
کے جوش اور کشش سے اس کی بندگی کریں۔ اِس لئے پہلی سورۃ میں ہی یہ نہایت لطیف نقشہ دکھلانا چاہا ہے کہ وہ
خدا جس کی طرف قرآن بلاتا ہے وہ کیسی خوبیاں اپنے اندر رکھتا ہے۔ سو اسی غرض سے اس سورۃ کو
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ
سے شروع کیا گیا جس کے یہ معنے ہیں کہ سب تعریفیں اس کی ذات کے لئے لائق ہیں جس کا نام اللہ ہے۔ اور
قرآن کی اصطلاح کی رُو سے اللہ اس ذات کا نام ہے جس کی تمام خوبیاں حسن و احسان کے کمال کے نقطہ پر پہنچی
ہوئی ہوں اور کوئی منقصت اس کی ذات میں نہ ہو۔ قرآن شریف میں تمام صفات کا موصوف صرف اللہ کے اسم کو ہی
ٹھہرایا ہے تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اللہ کا اسم تب متحقق ہوتا ہے کہ جب تمام صفات کاملہ اس میں پائی
جائیں۔ پس جبکہ ہر ایک قسم کی خوبی اس میں پائی گئی تو حسن اس کا ظاہر ہے۔ اسی حسن کے لحاظ سے قرآن شریف میں
اللہ تعالیٰ کا نام نور ہے۔ جیسا کہ فرمایا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا نور ہے ہر ایک نور اُسی کے
نور کا پرتو ہ ہے۔
اور احسان کی خوبیاں اللہ تعالیٰ میں بہت ہیں۔ جن میں سے چار بطور اصل الاصول ہیں۔ اور اُن کی ترتیب طبعی کے لحاظ سے پہلی خوبی وہ ہے جس کو سورہ فاتحہ میں رب العالمین کے فقرہ میں بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ربوبیت یعنی پیدا کرنا اور کمال مطلوب تک پہونچانا تمام عالموں میں جاری و ساری ہے یعنی عالم سماوی اور عالم ارضی اور عالمِ اجسام اور عالمِ ارواح اور عالم جواہر اور عالم اعراض اور عالم حیوانات اور عالم نباتات اور عالم جمادات اور دوسرے تمام قسم کے عالم اس کی ربوبیت سے پرورش پا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ خود انسان پر ابتدا نطفہ ہونے کی حالت سے یا اس سے پہلے بھی جو جو عالم موت تک یا دوسری زندگی کے زمانہ تک آتے ہیں وہ سب چشمہء ربوبیّت سے فیض یافتہ ہیں۔ پس ربوبیّتِ الٰہی بوجہ اس کے کہ وہ تمام ارواح و اجسام و حیوانات و نباتات و جمادات وغیرہ پر مشتمل ہے فَیْضَانِ اَعَم سے موسوم ہے کیونکہ ہر ایک موجود اس سے فیض پاتا ہے اور اسی کے ذریعہ سے ہر ایک چیز وجود پذیر ہے۔ ہاں البتہ ربوبیّتِ الٰہی اگرچہ ہر ایک موجود کی موجد اور ہر ایک ظہور پذیر چیز کی مربی ہے لیکن بحیثیت احسان کے سب سے زیادہ فائدہ اس کا انسان کو پہونچتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی تمام مخلوقات سے انسان فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس لئے انسان کو یاد دلایا گیا ہے کہ تمہارا خدا ربّ العالمین ہے تا انسان کی امید زیادہ ہو اور یقین کرے کہ ہمارے فائدہ کے لئے خدا تعالیٰ کی قدرتیں وسیع ہیں اور طرح طرح کے عالم اسباب ظہور میں لا سکتا ہے۔ دوسری خوبی خدا تعالیٰ کی جو دوسرے درجہ کا احسان ہے جس کو فیضانِ عام سے موسوم کر سکتے ہیں رحمانیت ہے جس کو سورۃ فاتحہ میں الرَّحْمٰن کے فقرہ میں بیان کیا گیا ہے اور قرآن شریف کی اصطلاح کی رو سے خدا تعالیٰ کا نام رحمن اس وجہ سے ہے کہ اس نے ہر ایک جاندار کو جن میں انسان بھی داخل ہے۔ اس کے مناسب حال صورت اور سیرت بخشی یعنی جس طرز کی زندگی اس کے لئے ارادہ کی گئی اس زندگی کے مناسب حال جن قوتوں اور طاقتوں کی ضرورت تھی یا جس قسم کی بناوٹ جسم اور اعضاء کی حاجت تھی وہ سب اس کو عطا کئے اور پھر اس کی بقاء کے لئے جن جن چیزوں کی ضرورت تھی وہ اس کے لئے مہیا کیں۔ پرندوں کے لئے پرندوں کے مناسب حال اور چرندوں کے لئے چرندوں کے مناسب حال اور انسان کے لئے انسان کے مناسب حال طاقتیں عنایت کیں۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ ان چیزوں کے وجود سے ہزار ہا برس پہلے بوجہ اپنی صفت رحمانیت کے اجرامِ سماوی و ارضی کو پیدا کیا تا وہ اِن چیزوں کے وجود کی محافظ ہوں۔ پس اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ کی رحمانیّتمیں کسی کے عمل کا دخل نہیں بلکہ وہ رحمت محض ہے جس کی بنیاد اِن چیزوں کے وجود سے پہلے ڈالی گئی۔ ہاں انسان کو خدا تعالیٰ کی رحمانیت سے سب سے زیادہ حصّہ ہے کیونکہ ہر ایک چیز اس کی کامیابی کے لئے قربان ہو رہی ہے۔ اس لئے انسان کو یاد دلایا گیا کہ تمہارا خدا رحمٰنہے۔ تیسری خوبی خدا تعالیٰ کی جو تیسرے درجے کا احسان ہے رحیمیّت ہے۔ جس کو سورۂ فاتحہ میں اَلرَّحیم کے فقرہ میں بیان کیا گیا ہے۔ اور قرآن شریف کی اصطلاح کے رُو سے خدا تعالیٰ رحیم اس حالت میں کہلاتا ہے جبکہ لوگوں کی دُعا اور تضرّع اور اعمال صالحہ کو قبول فرما کر آفات اور بلاؤں اور تَضْییعِ اَعمال سے اُن کو محفوظ رکھتا ہے۔ یہ احسان دوسرے لفظوں میں فیضِ خاص سے موسوم ہے اور صرف انسان کی نوع سے مخصوص ہے۔ دوسری چیزوں کو خدا نے دُعا اور تضرّع اور اعمالِ صالحہ کا ملکہ نہیں دیا مگر انسان کو دیا ہے۔ انسان حیوان ناطق ہے اور اپنی نطق کے ساتھ بھی خدا تعالیٰ کا فیض پا سکتا ہے۔ دوسری چیزوں کو نطق عطا نہیں ہوا۔ پس اس جگہ سے ظاہر ہے کہ انسان کا دُعا کرنا اُس کی انسانیت کا ایک خاصہ ہے جو اس کی فطرت میں رکھا گیا ہے اور جس طرح خدا تعالیٰ کی صفات ربوبیّت اور رحمانیّت سے فیض حاصل ہوتا ہے۔ اِسی طرح صفت رحیمیّت سے بھی ایک فیض حاصل ہوتا ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ ربوبیّت اور رحمانیّتکی صفتیں دُعا کو نہیں چاہتیں کیونکہ وہ دونوں صفات انسان سے خصوصیت نہیں رکھتیں اور تمام پرند چرند کو اپنے فیض سے مستفیض کر رہی ہیں بلکہ صفت ربوبیّت تو تمام حیوانات اور نباتات اور جمادات اور اجرامِ ارضی اور سماوی کو فیض رسان ہے اور کوئی چیز اس کے فیض سے باہر نہیں برخلاف صفت رحیمیّت کے کہ وہ انسان کے لئے ایک خلعتِ خاصہ ہے اور اگر انسان ہو کر اس صفت سے فائدہ نہ اٹھاوے تو گویا ایسا انسان حیوانات بلکہ جمادات کے برابر ہے جبکہ خدا تعالیٰ نے فیض رسانی کی چار صفت اپنی ذات میں رکھی ہیں اور رحیمیّت کو جو انسان کی دعا کو چاہتی ہے خاص انسان کے لئے مقرر فرمایا ہے پس اس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ میں ایک قسم کا وہ فیض ہے جو دُعا کرنے سے وابستہ ہے اور بغیر دعا کے کسی طرح مل نہیں سکتا۔ یہ سنّت اللہ اور قانون الٰہی ہے جس میں تخلّف جائز نہیں یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی اُمتوں کے لئے دُعائیں مانگتے رہے۔ توریت میں دیکھو کہ کتنی دفعہ بنی اسرائیل خدا تعالیٰ کو ناراض کر کے عذاب کے قریب پہونچ گئے اور پھر کیونکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا اور تضرّع اور سجدہ سے وہ عذاب ٹل گیاحالانکہ بار بار وعدہ بھی ہوتا رہا کہ مَیں ان کو ہلاک کروں گا۔
اب اِ ن تمام واقعات سے ظاہر ہے کہ دُعا محض لغو امر نہیں ہے اور نہ صرف ایسی عبادت جس پر کسی قسم کا فیض نازل نہیں ہوتا۔ یہ ان لوگوں کے خیال ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کا وہ قدر نہیں کرتے جو حق قدر کرنے کا ہے اور نہ خدا کی کلام کو نظر عمیق سے سوچتے ہیں اور نہ قانونِ قدرت پر نظر ڈالتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دُعا پر ضرور فیض نازل ہوتا ہے جو ہمیں نجات بخشتا ہے اِسی کا نام فیض رحیمیت ہے جس سے انسان ترقی کرتا جاتا ہے۔ اسی فیض سے انسان ولایت کے مقامات تک پہنچتا ہے اور خدا تعالیٰ پر ایسا یقین لاتا ہے کہ گویا آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے مسئلہ شفاعت بھی صفت رحیمیت کی بناء پر ہے۔ خدا تعالیٰ کی رحیمیت نے ہی تقاضا کیا کہ اچھے آدمی بُرے آدمیوں کی شفاعت کریں۔
چوتھا احسان خدا تعالیٰ کا جو قسم چہارم کی خوبی ہے جس کو فَیْضَانِ اَخَصّ سے موسوم کر سکتے ہیں مالکیت یوم الدین ہے جس کو سورۃ فاتحہ میں فقرہ مالک یوم الدین میں بیان فرمایا گیا ہے اور اس میں اور صفت رحیمیّت میں یہ فرق ہے کہ رحیمیت میں دعا اور عبادت کے ذریعہ سے کامیابی کا استحقاق قائم ہوتا ہے اور صفت مالکیّت یوم الدّین کے ذریعہ سے وہ ثمرہ عطا کیا جاتا ہے۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے ایک انسان گورنمنٹ کا ایک قانون یاد کرنے میں محنت اور جدوجہد کر کے امتحان دے اور پھر اس میں پاس ہو جائے۔ پس رحیمیّت کے اثر سے کسی کامیابی کے لئے استحقاق پیدا ہو جانا پاس ہو جانے سے مشابہ ہے اور پھر وہ چیز یا وہ مرتبہ میسر آ جانا جس کے لئے پاس ہوا تھا اِس حالت سے مشابہ انسان کے فیض پانے کی وہ حالت ہے جو پرتوہ صفت مالکیّت یوم الدّین سے حاصل ہوتی ہے۔ ان دونوں صفتوں رحیمیّت اور مالکیّت یوم الدّین میں یہ اشارہ ہے کہ فیض رحیمیّت خدا تعالیٰ کے رحم سے حاصل ہوتا ہے اور فیضِ مالکیّت یوم الدّین خدا تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوتا ہے اور مالکیّت یوم الدّین اگرچہ وسیع اور کامل طور پر عالم معاد میں متجلّی ہو گی مگر اس عالم میں بھی اس عالم کے دائرہ کے موافق یہ چاروں صفتیں تجلّی کر رہی ہیں۔
(ایّام الصلح۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۲۴۷ تا۲۵۱)خدا تعالیٰ دنیا میں تین قسم کے کام کیا کرتا ہے۔ (۱) خدائی کی حیثیت سے (۲) دوسری دوست کی حیثیت سے (۳) تیسرے دشمن کی حیثیت سے۔ جو کام عام مخلوقات سے ہوتے ہیں وہ محض خدائی حیثیت سے ہوتے ہیں۔ او رجو کام محبین اور محبوبین سے ہوتے ہیں وہ نہ صرف خدائی حیثیت سے بلکہ دوستی کی حیثیت کا رنگ ان پر غالب ہوتا ہے۔ اور صریح دنیا کو محسوس ہوتا ہے کہ خدا اوس شخص کی دوستانہ طور پر حمایت کر رہا ہے۔ اور جو کام دشمنوں کی حیثیت سے ہوتے ہیں اُن کے ساتھ ایک موذی عذاب ہوتا ہے اور ایسے نشان ظاہر ہوتے ہیں جن سے صریح دکھائی دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس قوم یا اس شخص سے دشمنی کر رہا ہے اور خدا جو اپنے دوست کے ساتھ کبھی یہ معاملہ کرتا ہے جو تمام دنیا کو اس کا دشمن بنا دیتا ہے اور کچھ مدت کے لئے ان کی زبانوں یا اُن کے ہاتھوں کو اُس پر مسلّط کر دیتاہے یہ اس لئے خدائے غیور نہیں کرتا کہ اس اپنے دوست کو ہلاک کرنا چاہتا ہے یا بے عزّت اور ذلیل کرنا چاہتا ہے بلکہ اس لئے کرتا ہے کہ تا دنیا کو اپنے نشان دکھاوے اور تا شوخ دیدہ مخالفوں کو معلوم ہو کہ انہوں نے دشمنی میں ناخنوں تک زور لگا کر نقصان کیا پہنچایا۔ (نزول المسیح۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۱۷، ۵۱۸)
قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کے اسماء مفعول کے لفظ میں نہیں جیسے قدّوس تو ہے مگر معصوم نہیں لکھا کیونکہ پھر بچانے والا اور ہو گا۔ (الحکم، مورخہ ۱۰؍نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۵ کالم نمبر۳۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ ۴۴۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
ہمارا خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ جھوٹے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ نہ اس نے رُوح پیدا کی اور نہ ذرّاتِ اجسام وہ خدا سے غافل ہیں ہم ہر روز اُس کی نئی پیدائش دیکھتے ہیں اور ترقیات سے نئی نئی رُوح وہ ہم میں پھونکتا ہے اگر وہ نیست سے ہست کرنے والا نہ ہوتا تو ہم تو زندہ ہی مر جاتے۔ عجیب ہے وہ خدا جو ہمارا خدا ہے کون ہے جو اس کی مانند ہے؟ اور عجیب ہیں اس کے کام۔ کون ہے جس کے کام اس کی مانند ہیں۔ وہ قادرِ مطلق ہے۔ (نسیم دعوت۔ روحانی خزائن جلد ۱۹صفحہ ۴۳۵)
درحقیقت نفی صفاتِ الٰہی کی کرنا اور خدا تعالیٰ کو قادرانہ تصرّف سے معطّل سمجھنا یہی اصل موجب دیوتا پرستی اور تناسخ کا ہے کیونکہ جبکہ خداتعالیٰ اپنے مدبّرانہ کاموں سے معطل خیال کیا گیا تو حاجت براری کے لئے دیوتے گھڑے گئے اور تقدیری تغیرات اور انقلابات کو گذشتہ عملوں کا نتیجہ ٹھہرایا گیا سو اس ایک ہی خیال سے یہ دونوں خرابیاں پیدا ہو گئیں یعنی اواگون اور دیوتا پرستی۔ (شحنۂ حق۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۰۷، ۴۰۸)
قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت
اُس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے
جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ مَیں ضرور
ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے
ہمارے خدا میں بے شمار عجائبات ہیں مگر وہی دیکھتے ہیں جو صدق اور وفا سے اُس کے ہو گئے ہیں وہ غیروں پر جو اس کی قدرتوں پر یقین نہیں رکھتے اور اس کے صادق وفادار نہیں ہیں وہ عجائبات ظاہر نہیں کرتا۔ کیا بدبخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ (کشتی نوح۔ روحانی خزائن جلد ۱۹صفحہ ۲۱)
اُس کی قدرتیں غیر محدود ہیں اور اس کے عجائب کام ناپیداکنار ہیں اور وہ اپنے خاص بندوں کے لئے اپنا قانون بھی بدل لیتا ہے مگر وہ بدلنا بھی اس کے قانون میں ہی داخل ہے۔ جب ایک شخص اس کے آستانہ پر ایک نئی رُوح لے کر حاضر ہوتا ہے اور اپنے اندر ایک خاص تبدیلی محض اس کی رضا مندی کے لئے پیدا کرتا ہے تب خدا بھی اس کے لئے ایک تبدیلی پیدا کر لیتا ہے کہ گویا اس بندے پر جو خدا ظاہر ہوا ہے وہ اَور ہی خدا ہے۔ نہ وہ خدا جس کو عام لوگ جانتے ہیں۔ وہ ایسے آدمی کے مقابل پر جس کا ایمان کمزور ہے کمزور کی طرح ظاہر ہوتا ہے لیکن جو اس کی جناب میں ایک نہایت قوی ایمان کے ساتھ آتا ہے وہ اس کو دکھلا دیتا ہے کہ تیری مدد کے لئے مَیں بھی قوی ہوں۔ اِس طرح انسانی تبدیلیوں کے مقابل پر اُس کی صفات میں بھی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ جو شخص ایمانی حالت میں ایسا مفقود الطاقت ہے کہ گویا میّت ہے۔ خدا بھی اس کی تائید اور نصرت سے دستکش ہو کر ایسا خاموش ہو جاتا ہے کہ گویا نعوذ باللہ وہ مر گیا ہے مگر یہ تمام تبدیلیاں وہ اپنے قانون کے اندر اپنے تقدس کے موافق کرتا ہے اور چونکہ کوئی شخص اس کے قانون کی حدبست نہیں کر سکتا اس لئے جلدی سے بغیر کسی قطعی دلیل کے جو روشن اور بدیہی ہو یہ اعتراض کرنا کہ فلاں امر قانونِ قدرت کے مخالف ہے محض حماقت ہے کیونکہ جس چیز کی ابھی حدبست نہیں ہوئی اور نہ اس پر کوئی قطعی دلیل قائم ہے اس کی نسبت کون رائے زنی کر سکتا ہے؟ (چشمۂ معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۱۰۴، ۱۰۵)
اگر خدا کو قادر نہ مانا جاوے تو پھر اس سے ساری اُمیدیں باطل ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ ہماری دعاؤں کی قبولیت اس بات پر موقوف ہے کہ خدا تعالیٰ جب چاہے ذرّات اجسام میں یا ارواح میں وہ قوتیں پیدا کر دے جو اُن میں موجودنہ ہوں مثلاً ہم ایک بیمار کے لئے دُعا کرتے ہیں اور بظاہر مرنے والے آثار اس میں ہوتے ہیں تب ہماری درخواست ہوتی ہے کہ خدا اس کے ذرّاتِ جسم میں ایک ایسی قوت پیدا کر دے جو اس کے وجود کو موت سے بچا لے تو ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر وہ دُعا قبول ہوتی ہے اور بسا اوقات اول ہمیں علم دیا جاتا ہے کہ یہ شخص مرنے کو ہے اور اس کی زندگی کی قوتوں کا خاتمہ ہے لیکن جب دعا بہت کی جاتی ہے اور انتہا تک پہنچ جاتی ہے اور شدت دعا اور قلق اور کرب سے ہماری حالت ایک موت کی سی ہو جاتی ہے تب ہمیں خدا سے وحی ہوتی ہے کہ اس شخص میں زندگی کی طاقتیں پھر پیدا کی گئیں تب وہ یک دفعہ صحت کے آثار ظاہر کرنے لگتا ہے گویا مردہ سے زندہ ہو گیا۔ ایسا ہی مجھے یاد ہے کہ جب مَیں نے طاعون کے وقت میں دُعا کی کہ اے خدائے قادر! ہمیں اس بلا سے بچا اور ہمارے جسم میں وہ ایک تریاقی خاصیت پیدا کر دے جس سے ہم طاعون کی زہر سے بچ جائیں تب وہ خاصیت خدا نے ہم میں پیدا کر دی اور فرمایا کہ مَیں طاعون کی موت سے تمہیں بچاؤں گا اور فرمایا کہ تیرے گھر کی چار دیواری کے لوگ جو تکبّر نہیں کرتے یعنی خدا کی اطاعت سے سرکش نہیں اور پرہیز گار ہیں مَیں اُن سب کو بچاؤں گا اور نیز میں قادیان کو طاعون کے سخت غلبہ اور عام ہلاکت سے محفوظ رکھوں گا یعنی وہ سخت تباہی جو دوسرے دیہات کو فنا کر دے گی اس قدر قادیان میں تباہی نہیں ہو گی۔ سو ہم نے دیکھا اور خدا تعالیٰ کی ان تمام باتوں کو مشاہدہ کیا۔ پس ہمارا خدا یہی خدا ہے جو نئی نئی قوتیں اور گُن اور خاصیتیں ذرّات عالم میں پیدا کرتا ہے ……… ہم نے اس کامل خدا سے خبر پاکر ٹیکہ کے انسانی حیلہ سے دست کشی کی اور بہت سے لوگ ٹیکہ کرانے والے اس جہاں سے گذر گئے اور ہم اب تک خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ موجود ہیں۔ پس اسی طرح خدا تعالیٰ ذرّات پیدا کرتا ہے جس طرح اوس نے ہمارے لئے ہمارے جسم میں تریاقی ذرّات پیدا کر دیئے اور اسی طرح وہ خدا رُوح پیدا کرتا ہے جس طرح مجھ میں اُس نے وہ پاک رُوح پھونک دی جس سے مَیں زندہ ہو گیا۔ ہم صرف اس بات کے محتاج نہیں کہ وہ رُوح پیدا کر کے ہمارے جسم کوزندہ کرے بلکہ خود ہماری رُوح بھی ایک اَور رُوح کی محتاج ہے جس سے وہ مُردہ رُوح زندہ ہو۔ پس ان دونوں روحوں کو خدا ہی پیدا کرتا ہے جس نے اس راز کو نہیں سمجھا وہ خدا کی قدرتوں سے بے خبر اور خدا سے غافل ہے۔ (نسیم دعوت۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ۳۹۰، ۳۹۱)
خدائے تعالیٰ کی خدائی اور الوہیّت اس کی قدرت غیر محدودہ اور اسرار نامعدودہ سے وابستہ ہے جس کو قانون کے طور پر کسی حد کے اندر گھیر لینا انسان کا کام نہیں ہے۔ خدا شناسی کے لئے یہ بڑا بھاری بنیادی مسئلہ ہے کہ خدائے ذوالجلال کی قدرتیں اور حکمتیں بے انتہا ہیں۔ اس مسئلہ کی حقیقت سمجھنے اور اس پر عمیق غور کرنے سے سب الجھاؤ اور پیچ خیالات کا رفع ہو جاتا ہے اور سیدھا راہ حق شناسی اور حق پرستی کا نظر آنے لگتا ہے ہم اس جگہ اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ خدائے تعالیٰ ہمیشہ اپنی ازلی ابدی صفات کے موافق کام کرتا ہے اور اگر ہم دوسرے لفظوں میں انہی ازلی ابدی صفات پر چلنے کا نام قانون الٰہی رکھیں تو بے جا نہیں مگر ہمارا کلام اور بحث اس میں ہے کہ وہ آثار صفات ازلی ابدی یا یوں کہو کہ وہ قانون قدیم الٰہی محدود یا معدود کیوں مانا جائے۔ ہاں بے شک یہ تو ہم مانتے ہیں اور مان لینا چاہئے کہ جو کچھ صفتیں جناب الٰہی کی ذات میں موجود ہیں انہیں صفاتِ غیر محدود کے آثار اپنے اپنے وقتوں میں ظہور میں آتے ہیں نہ کوئی امر اُن کا غیر۔ اور وہ صفات ہر یک مخلوق ارضی و سماوی پر مؤثر ہو رہی ہیں اور انہی آثار الصفات کا نام سنّت اللہ یا قانون قدرت ہے مگر چونکہ خدائے تعالیٰ معہ اپنی صفات کاملہ کے غیر محدود اور غیر متناہی ہے اس لئے ہماری بڑی نادانی ہو گی اگر ہم یہ دعویٰ کریں کہ اس کے آثار الصفات یعنی قوانین قدرت باندازہ ہمارے تجربہ یا فہم یا مشاہدہ کے ہیں اس سے بڑھ کر نہیں۔ آج کل کے فلسفی الطبع لوگوں کی یہ بڑی بھاری غلطی ہے کہ اوّل وہ قانونِ قدرت کو ایسا سمجھ بیٹھے ہیں جس کی من کل الوجوہ حدبست ہو چکی ہے اور پھر بعد اس کے جو امر نیا پیش آئے اس کو ہرگز نہیں مانتے۔ اور ظاہر ہے کہ اِس خیال کی بناء راستی پر نہیں ہے۔ اور اگر یہی سچ ہوتا تو پھر کسی نئی بات کے ماننے کے لئے کوئی سبیل باقی نہ رہتا۔ اور امور جدیدہ کا دریافت کرنا غیر ممکن ہو جاتا۔ کیونکہ اس صورت میں ہر یک نیا فعل بصورت نقص قوانین طبعی نظر آئے گا۔ اور اس کے ترک کرنے سے ناحق ایک جدید صداقت کو ترک کرنا پڑے گا …… اگر کوئی صفحات تاریخ زمانہ میں واقعات سو انح عمری حکماء پر غور کرے تو اس کو معلوم ہو جائے گا کہ اُن کے خیالات کی ٹرین کتنی مختلف سڑکوں یا یہ کہ کس قدر متناقص چالوں پر چلی ہے اور کیسے داغ خجالت اور ندامت کے ساتھ ایک رائے کو دوسری رائے سے تبدیل کرتے آئے ہیں اور کیونکر انہوں نے ایک مدت دراز تک کسی بات کا انکار کر کے اور قانون قدرت سے اس کو باہر سمجھ کر آخر نہایت متندمانہ حالت میں اسی بات کو قبول کر لیا ہے سو اس تبدیل آراء کا کیا سبب تھا؟ یہی تو تھا کہ جو کچھ انہوں نے سمجھ رکھا تھا وہ ایک ظنّی بات تھی جس کی مشاہدات جدیدہ نے تکذیب کی۔ سو جن شکلوں اور حالتوں میں وہ مشاہدات جدیدہ جلوہ گر ہوئے انہی کے موافق اُن کی راؤں کی پٹری بدلتی اور الٹتی پلٹتی رہی۔ اور جدھر تجارب جدیدہ کا رُخ پلٹتا رہا اُدھر ہی ان کے خیالات کی ہوائیں پلٹا کھاتی رہیں۔ غرض فلسفیوں کے خیالات کی لگام ہمیشہ امورجدید الظہور کے ہاتھ میں رہی ہے اور اب بھی بہت کچھ اُن کی نظروں سے چُھپا ہوا ہے جس کی نسبت اُمید کی جاتی ہے کہ وہ آئندہ ٹھوکریں کھا کھا کر اور طرح طرح کی رسوائیاں اٹھا اٹھا کر کسی نہ کسی وقت قبول کریں گے۔ کیونکہ قوانین قدرت انسانی عقل کے دفتر میں ابھی تک ایسے منضبط نہیں اور نہ ہو سکتے ہیں جن پر نظر کر کے نئی تحقیقاتوں سے نو امیدی ہو۔ کیا کوئی عقلمند خیال کر سکتا ہے کہ انسان دنیا کے مکتب خانہ میں باوجود اپنی اس قدر عمر قلیل کے تحصیل اسرار ازلی ابدی سے بکلی فراغت پا چکا ہے اور اب اس کا تجربہ عجائبات الٰہیہ پر ایسا محیط ہو گیا ہے کہ جو کچھ اس کے تجربہ سے باہر ہو وہ فی الحقیقت خدائے تعالیٰ کی قدرت سے باہر ہے۔ مَیں جانتا ہوں کہ ایسا خیال بجز ایک بے شرم اور اَبلہ آدمی کے کوئی دانشمندنہیں کر سکتا۔ فلاسفروں میں سے جو واقعی نیک دانا اور سچے روحانی آدمی گذرے ہیں انہوں نے خود تسلیم کر لیا کہ ہمارے خیالات جو محدود اور منقبض ہیں خدا اور اس کے بے انتہا بھیدوں اور حکمتوں کی شناخت کا ذریعہ نہیں ہو سکتے۔ ……… یہ نہایت محقق صداقت ہے کہ ہر یک چیزاپنے اندر ایک ایسی خاصیت رکھتی ہے جس سے وہ خدائے تعالیٰ کی غیر متناہی قدرتوں سے اثر پذیر ہوتی رہی۔ سو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خواص اشیاء ختم نہیں ہو سکتیں گو ہم ان پر اطلاع پائیں یا نہ پائیں۔ اگر ایک دانہ خشخاش کے خواص تحقیق کرنے کے لئے تمام فلاسفر اوّلین و آخرین قیامت تک اپنی دماغی قوتیں خرچ کریں تو کوئی عقلمند ہرگز باور نہیں کر سکتا کہ وہ ان خواص پر احاطۂ تام کر لیں۔ سو یہ خیال کہ اجرام علوی یا اجسام سفلی کے خواص جس قدر بذریعہ علم ہیئت یا طبعی دریافت ہو چکے ہیں اُسی قدر پر ختم ہیں۔ اِس سے زیادہ کوئی بے سمجھی کی بات نہیں۔
اب خلاصہ اس تمام مقدمہ کا یہ ہے کہ قانون قدرت کوئی ایسی شے نہیں ہے کہ ایک حقیقت ثابت شدہ کے آگے ٹھہر سکے کیونکہ قانون قدرت خدائے تعالیٰ کے ان افعال سے مراد ہے جو قدرتی طور پر ظہور میں آئے یا آئندہ آئیں گے لیکن چونکہ ابھی خدائے تعالیٰ قدرتوں کے دکھلانے سے تھک نہیں گیا ہے اور نہ یہ کہ اب قدرت نمائی سے بے زور ہو گیا ہے یا سو گیا ہے یا کسی طرف کو کھسک گیا ہے یا کسی خارجی قاسر سے مجبور کیا گیا ہے اور مجبوراً آئندہ کے عجائب کاموں سے دستکش ہو گیا ہے اور ہمارے لئے وہی چند صدیوں کی کارگذاری (یا اس سے کچھ زیادہ سمجھ لو) چھوڑ گیا ہے۔ اس لئے ساری عقلمندی اور حکمت اور فلسفیت اور ادب اور تعلیم اسی میں ہے کہ ہم چند موجودہ مشہودہ قدرتوں کو جن میں ابھی صدہا طور کا اجمال باقی ہے مجموعہ قوانین قدرت خیال نہ کر بیٹھیں اور اس پر نادان لوگوں کی طرح ضدنہ کریں کہ ہمارے مشاہدات سے خدائے تعالیٰ کا فعل ہرگز تجاوز نہیں کر سکتا …… مَیں سوچ میں ہوں کہ کیونکر ایسی چیزیں کامل اور قطعی طور پر مقیاس الصداقت یا میزان الحق ٹھہر سکتی ہیں جن کے اپنے ہی پورے طور کے انکشاف میں ابھی بہت سی منازل باقی ہیں اور اس پیچ در پیچ معما نے یاں تک حکماء کو حیران اور سرگردان کر رکھا ہے کہ بعض اُن میں سے حقائق اشیاء کے منکر ہی ہو گئے (منکرین حقائق کا وہی گروہ ہے جس کو سوفسطائی کہتے ہیں ) اور بعض اُن میں سے یہ بھی کہہ گئے کہ اگرچہ خواص اشیاء ثابت ہیں تاہم دائمی طور پر ان کا ثبوت نہیں پایا جاتا۔ پانی آگ کو بُجھا دیتا ہے۔ مگر ممکن ہے کہ کسی ارضی یا سماوی تاثیر سے کوئی چشمہ پانی کا اس خاصیت سے باہر آ جائے۔ آگ لکڑی کو جلا دیتی ہے۔ مگر ممکن ہے کہ ایک آگ بعض موجبات اندرونی یا بیرونی سے اس خاصیت کو ظاہر نہ کر سکے کیونکہ ایسی عجائب باتیں ہمیشہ ظہور میں آتی رہتی ہیں۔ حکماء کا یہ بھی قول ہے کہ بعض تاثیراتِ ارضی یا سماوی ہزاروں بلکہ لاکھوں برسوں کے بعد ظہور میں آتی ہیں جو ناواقف اور بے خبر لوگوں کو بطور خارق عادت معلوم دیتی ہیں اور کبھی کبھی کسی کسی زمانہ میں ایسا کچھ ہوتا رہتا ہے کہ کچھ عجائبات آسمان میں یا زمین میں ظاہر ہوتے ہیں جو بڑے بڑے فیلسوفوں کو حیرت میں ڈالتے ہیں۔ اور پھر فلسفی لوگ اُن کے قطعی ثبوت اور مشاہدہ سے خیرہ اور متندم ہو کر کچھ نہ کچھ تکلّفات کر کے طبعی یا ہیئت میں اُن کو گھسیڑ دیتے ہیں تا ان کے قانون قدرت میں کچھ فرق نہ آ جائے۔ ایسا ہی یہ لوگ اِدھر کے اُدھر لگا کر اور نئی باتوں کو کسی علمی قاعدہ میں جبراً دھنسا کر گزارہ کر لیتے ہیں۔ جب تک پردار مچھلی نہیں دیکھی گئی تھی تب تک کوئی فلسفی اس کا قائل نہ تھا اور جب تک متواتر دُم کے کٹنے سے دم کٹے کتّے پیدا نہ ہونے لگے تب تک اس خاصیت کا کوئی فلاسفر اقراری نہ ہوا اور جب تک بعض زمینوں میں کسی سخت زلزلہ کی وجہ سے کوئی ایسی آگ نہ نکلی کہ وہ پتھروں کو پگھلا دیتی تھی مگر لکڑی کو جلا نہیں سکتی تھی تب تک فلسفی لوگ ایسی خاصیت کا آگ میں ہونا خلاف قانون قدرت سمجھتے رہے۔ جب تک اسپی ریٹر کا آلہ نہیں نکلا تھا کس فلسفی کو معلوم تھا کہ عمل ٹرینس فیوژن آف بلڈ (یعنی ایک انسان کا خون دوسرے انسان میں داخل کرنا) قانون فطرت میں داخل ہے؟ بھلا اس فلاسفر کا نام لینا چاہئے جو الیکٹرک مشین یعنی بجلی کی کل نکلنے سے پہلے اس بجلی لگانے کے عمل کا قائل تھا؟…
علّامہ شارح قانون جو طبیب حاذق اور بڑا بھاری فلسفی ہے ایک جگہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے جو یونانیوں میں یہ قصے بہت مشہور ہیں جو بعض عورتوں کو جو اپنے وقت میں عفیفہ اور صالحہ تھیں بغیر صحبت مرد کے حمل ہو کر اولا د ہوئی ہے۔ پھر علاّمہ موصوف بطور رائے کے لکھتا ہے کہ یہ سب قصّے افتراء پر محمول نہیں ہو سکتے کیونکہ بغیر کسی اصل صحیح کے مختلف افراد اور مہذب قوموں میں ایسے دعاوی ہرگز فروغ نہیں پا سکتے …… ان سب قصّوں کی نسبت گو کسی منکر کی کیسی ہی رائے ہو مگر صرف ان کے نادرالوقوع ہونے کی وجہ سے وہ سب کی سب ردّ نہیں کی جا سکتیں اور ان کے ابطال پر کوئی دلیل فلسفی قائم نہیں ہو سکتی …… اور علّامہ موصوف نے اِس مقام میں ایک تقریر بہت ہی عمدہ لکھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اگرچہ سب انسان ایک نوع میں ہونے کی وجہ سے باہم مناسب الطبع واقعہ ہیں مگر پھر بھی اُن میں سے بعض کو نادر طور پر کبھی کبھی کسی کسی زمانہ میں خاص خاص طاقتیں یا کسی اعلیٰ درجہ کی قوتیں عطا ہوتی ہیں جو عام طور پر دوسروں میں نہیں پائی جاتیں جیسے مشاہدہ سے ثابت ہوا ہے کہ بعض نے حال کے زمانہ میں تین سو برس سے زیادہ عمر پائی جو بطور خارق عادت ہے اور بعض کی قوت حافظہ یا قوتِ نظر ایسے کمال درجہ کو پہنچی ہے جو اس کی نظیر نہیں پائی گئی اور اس قسم کے لوگ بہت نادر الوجود ہوتے ہیں جو صد ہا یا ہزاروں برسوں کے بعد کوئی فرد ان میں سے ظہور میں آتاہے اور چونکہ عوام الناس کی نظر اکثر امور کثیر الوقوع اور متواتر الظہور پر ہوا کرتی ہے اور یہ بھی ہوتا ہے کہ عام لوگوں کی نگاہ میں جو باتیں کثیر الوقوع اور متواتر الظہور ہوں وہ بطور قاعدہ یا قانون قدرت کے مانی جاتی ہیں اور انہی کی سچائی پر انہیں اعتماد ہوتا ہے اس لئے دوسرے امور جو نادرالوقوع ہوتے ہیں وہ بمقابل امور کثیر الوقوع کے نہایت مضمحل اور مشتبہ بلکہ باطل کے رنگ میں دکھائی دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے عوام کیا بلکہ خواص کو بھی اُن کے وجود میں شکوک اور شبہات پیدا ہو جاتے ہیں۔ سو بڑی غلطی جو حکماء کو پیش آتی ہے اور بڑی بھاری ٹھوکر جو اُن کو آگے قدم رکھنے سے روکتی ہے یہ ہے کہ وہ امور کثیر الوقوع کے لحاظ سے نادر الوقوع کی تحقیق کے درپے نہیں ہوتے اور جو کچھ اُن کے آثار چلے آتے ہیں اُن کو صرف قصّے اور کہانیاں خیال کر کے اپنے سر پر سے ٹال دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ قدیم سے عادت اللہ ہے جو امور کثیر الوقوع کے ساتھ نادرالوقوع عجائبات بھی کبھی کبھی ظہور میں آتے رہتے ہیں۔ اس کی نظیریں بہت ہیں جن کا لکھنا موجب تطویل ہے۔ اور حکیم بقراط نے اپنی ایک طبّی کتاب میں چند چشم دید بیماروں کا بھی حال لکھا ہے جو قواعد طبّی اور تجربہ اطباء کی رو سے وہ ہرگز قابل علاج نہیں تھے مگر ان بیماروں نے عجیب طور پر شفا پائی جس کی نسبت اُن کا خیال ہے کہ یہ شفا بعض نادر تاثیرات ارضی یا سماوی سے ہے۔ اس جگہ ہم اس قدر اور لکھنا چاہتے ہیں کہ یہ بات صرف نوع انسان میں محدودنہیں کہ کثیر الوقوع اور نادر الوقوع خواص کا اس میں سلسلہ چلا آتا ہے بلکہ اگر غور کے دیکھیں تو یہ دوہرا سلسلہ ہر یک نوع میں پایا جاتا ہے مثلاً نباتات میں سے آک کے درخت کو دیکھو کہ کیسا تلخ اور زہر ناک ہوتا ہے مگر کبھی مدتوں اور برسوں کے بعد ایک قسم کی نبات اس میں پیدا ہو جاتی ہے جو نہایت شیریں اور لذیذ ہوتی ہے۔ اب جس شخص نے اس نبات کو کبھی نہ دیکھا ہو اور معمولی قدیمی تلخی کو دیکھتا آیا ہو بے شک وہ اس نبات کو ایک امر طبعی کی نقیض سمجھے گا۔ ایسا ہی بعض دوسری نوع کی چیزوں میں بھی دُور دراز عرصہ کے بعد کوئی نہ کوئی خاصہ نادر ظہور میں آ جا تا ہے۔ کچھ تھوڑا عرصہ گذرا ہے کہ مظفر گڈھ میں ایک ایسا بکرا پیدا ہوا کہ جو بکریوں کی طرح دودھ دیتا تھا۔ جب اس کا شہر میں بہت چرچا پھیلا تو میکالف صاحب ڈپٹی کمشنر مظفر گڈھ کو بھی اطلاع ہوئی تو انہوں نے یہ ایک عجیب امر قانون قدرت کے برخلاف سمجھ کر وہ بکرا اپنے روبرو منگوایا۔ چنانچہ وہ بکر اجب اُن کے روبرو دوہا گیا تو شاید قریب ڈیڑھ سیر دودھ کے اُس نے دیا …۔
اس کے بعد تین معتبر اور ثقہ اور معزز آدمی نے میرے پاس بیان کیا کہ ہم نے بچشم خود چند مردوں کو عورتوں کی طرح دودھ دیتے دیکھا ہے ……… ایسا ہی بعض لوگوں کا تجربہ ہے کہ کبھی ریشم کے کیڑے کی مادہ بے نر کے انڈے دے دیتی ہیں اور اُن میں سے بچے نکلتے ہیں۔ بعض نے یہ بھی دیکھا کہ چوہا مٹی خشک سے پیدا ہوا جس کا آدھا دھڑ تو مٹی تھا اور آدھا چوہا بن گیا۔ حکیم فاضل قرشی یا شائد علّامہ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ایک بیمار ہم نے دیکھا جس کا کان ماؤف ہو کر بہرہ ہو گیا تھا۔ پھر کان کے نیچے ایک ناسور سا پیدا ہو گیا جوآخر وہ سوراخ سے ہو گئے۔ اس سوراخ کی راہ سے وہ برابر سُن لیتا تھا گویا خدا نے اس کے لئے دوسرا کان عطا کیا …… جالینوس سے سوال کیا گیا کہ کیا انسان آنکھوں کی راہ سے سُن سکتا تھا؟ اُس نے جواب دیا کہ ہنوز تجربہ شہادت نہیں دیتا لیکن ممکن ہے کہ کوئی ایسی مشارکت کانوں اور آنکھوں کی مخفی ہو جو کسی ہاتھ کے عمل سے یا کسی سماوی موجب سے ظہور پذیر ہو کر اس خاصیت کے ظہور کا موجب ہو جائے۔ کیونکہ ابھی علم استدراک خواص مُخْتَتِم نہیں۔ ڈاکٹر بَرنی آر نے اپنے سفرنامہ کشمیر میں پیر پنجال کی چڑھائی کی تقریب بیان پر بطور ایک عجیب حکایت کے لکھا ہے کہ جو ترجمہ کتاب مذکور کے صفحہ ۸۰ میں درج ہے کہ ایک جگہ پتھروں کے ہلانے جلانے سے ہم کو ایک بڑا سیاہ بچھو نظر پڑا جس کو ایک نوجوان مغل نے جو میری جان پہچان والوں میں سے تھا اٹھا کر اپنی مٹھی میں دبا لیا اور پھر میرے نوکر کے اور میرے ہاتھ میں دے دیا۔ مگر اُس نے ہم میں سے کسی کو بھی نہ کاٹا۔ اس نوجوان سوار نے اس کا باعث یہ بیان کیا کہ مَیں نے اس پر قرآن کی ایک آیت پڑھ کر پھونک دی ہے اور اسی عمل سے اکثر بچھوؤں کو پکڑ لیتا ہوں۔ اور صاحب کتاب فتوحات و فصوص جو ایک بڑا بھارا نامی فاضل اور علوم فلسفہ و تصوف میں بڑا ماہر ہے۔ وہ اپنی کتاب فتوحات میں لکھتا ہے کہ ہمارے مکان پر ایک فلسفی اور کسی دوسرے کی خاصیّت احراق آگ میں کچھ بحث ہو کر اس دوسرے شخص نے یہ عجیب بات دکھلائی کہ فلسفی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کوئلوں کی آگ میں جو ہمارے سامنے مجمر میں پڑی ہوئی تھی ڈال دیا اور کچھ عرصہ اپنا اور فلسفی کا ہاتھ آگ پر رہنے دیا مگر آگ نے اُن دونوں ہاتھوں میں سے کسی پر ایک ذرا بھی اثر نہ کیا۔ اور راقم اس رسالہ نے ایک درویش کو دیکھا کہ وہ سخت گرمی کے موسم میں یہ آیت قرآنی پڑھ کر وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِیۡنَ زنبور کو پکڑ لیتا تھا اور اُس کی نیش زنی سے بکلّی محفوظ رہتا تھا اور خود اس راقم کے تجربہ میں بعض تاثیرات عجیبہ آیت قرآنی کی آچکی ہیں جن سے عجائبات قدرت حضرت باری جلّشانہٗ معلوم ہوتے ہیں۔ غرض یہ عجائب خانہ دنیا کا بے شمار عجائبات سے بھرا ہوا ہے۔ جو دانا اور شریف حکیم گذرے ہیں انہوں نے اپنی چند معدود معلومات پر ہرگز ناز نہیں کیا اور وہ اس بات کوبہت بے شرمی اور گستاخی سمجھتے رہے ہیں کہ اپنے محدود تجربہ کا نام خدائے تعالیٰ کا قانون قدرت رکھیں۔ … کیا جس نے یہ پُر بہار آسمان جو مہر و ماہ اور ستاروں کے چراغوں سے سج رہا ہے اور یہ رشک گلزار زمین جو رنگا رنگ مخلوقات سے آباد ہو رہی ہے بغیر ایک ذرّہ مشقت اٹھانے کے صرف اپنے ارادہ سے پیدا کر دیا اس کی قدرتوں کا کوئی انتہا پا سکتا ہے؟
(سرمہ چشم آریہ۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۹۰ تا۱۰۱)یہ ایک سِرّ ربوبیّت ہے جو کلمات اللہ سے مخلوقات الٰہی پیدا ہو جاتی ہے اس کو اپنی اپنی سمجھ کے موافق ہر یک شخص ذہن نشین کر سکتا ہے۔ چاہے اس طرح سمجھ لے کہ مخلوقات کلماتِ الٰہی کے اظلال و آثار ہیں یا ایسا سمجھ سکتا ہے کہ خود کلماتِ الٰہی ہی ہیں جو بقدرت الٰہی مخلوقیت کے رنگ میں آ جاتے ہیں۔ کلام الٰہی کی عبارت ان دونوں معنوں کے سمجھنے کے لئے وسیع ہے اور بعض مواضع قرآن کی ظاہر عبارت میں مخلوقات کا نام کلمات اللہ رکھا گیا ہے جو تجلّیات ربوبیت سے بقدرتِ الٰہی لوازم و خواص جدیدہ حاصل کر کے حدوث کے کامل رنگ سے رنگین ہو گئے ہیں اور درحقیقت یہ ایک سرّ اُن اسرار خالقیّت میں سے ہے جو عقل کے چرخ پر چڑھا کر اچھی طرح سمجھ میں نہیں آ سکتے اور عوام کے لئے سیدھا راہ سمجھنے کا یہی ہے کہ خدا ئے تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کرنا چاہا وہ ہو گیا اور سب کچھ اسی کا پیدا کردہ اور اُسی کی مخلوق اور اُسی کے دست قدرت سے نکلا ہوا ہے۔ لیکن عارفوں پر کشفی طور سے بعد مجاہدات یہ کیفیت حدوث کھل جاتی ہے اور نظر کشفی میں کچھ ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام ارواح و اجسام کلمات اللہ ہی ہیں۔ جو بحکمت کاملہ الٰہی پیرایۂ حدوث و مخلو ّقیت سے متلبّس ہو گئے ہیں۔ مگر اصل محکم جس پر قدم مارنا اور قائم رہنا ضروری ہے یہ ہے کہ اِن کشفیات و معقولات سے قدر مشترک لیا جائے یعنی یہ کہ خدائے تعالیٰ ہر یک چیز کا خالق اور محدث ہے اور کوئی چیز کیا ارواح اور کیا اجسام بغیر اس کے ظہور پذیر نہیں ہوئے اور نہ ہو سکتی ہے کیونکہ کلامِ الٰہی کی عبارت اس جگہ درحقیقت ذوالوجوہ ہے اور جس قدر قطع اور یقین کے طور پر قرآن شریف ہدایت کرتا ہے وہ یہی ہے کہ ہر یک چیز خدائے تعالیٰ سے ظہور پذیرو وجود پذیر ہوئی ہے اور کوئی چیز بغیر اس کے پیدا نہیں ہوئی اور نہ خود بخود ہے۔ سو اس قدر اعتقاد ابتدائی حالت کے لئے کافی ہے۔ پھر آگے معرفت کے میدانوں میں سیر کرنا جس کو نصیب ہو گا اس پر بعد مجاہدات خود وہ کیفیت کھل جائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا (سرمہ چشم آریہ۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ۱۷۳ تا ۱۷۵ حاشیہ)
اس جگہ اِس نکتہ کا بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ خدائے تعالیٰ جو عِلّت الِعلل ہے جس کے وجود کے ساتھ تمام وجودوں کا سِلسلہ وابستہ ہے جب وہ کبھی مربیانہ یا قاہرانہ طور پر کوئی جنبش اور حرکت ارادی کسی امر کے پیدا کرنے کے لئے کرتا ہے تو وہ حرکت اگر اتم اور اکمل طور پر ہو تو جمیع موجودات کی حرکت کو مستلزم ہوتی ہے اور اگر بعض شیون کے لحاظ سے یعنی جُزئی حرکت ہو تو اُسی کے موافق عالم کے بعض اجزاء میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ خدائے عزّ و جل کے ساتھ اُس کی تمام مخلوقات اور جمیع عالموں کا جو علاقہ ہے وہ اُس علاقہ سے مشابہ ہے جو جسم کو جان سے ہوتا ہے اور جیسے جسم کے تمام اعضاء رُوح کے ارادوں کے تابع ہوتے ہیں اور جس طرف رُوح جھکتی ہے اُسی طرف وہ جھک جاتے ہیں۔ یہی نسبت خدائے تعالیٰ اور اس کی مخلوقات میں پائی جاتی ہے۔ اگرچہ مَیں صاحبِ فصوص کی طرح حضرت واجب الوجود کی نسبت یہ تو نہیں کہتا کہ خَلَقَ الْاَشْیَآئَ وَ ھُوَ عَیْنُھَا مگر یہ ضرور کہتا ہوں خَلَقَ الْاَشْیَآئَ وَھُوَ کَعَیْنِھَا۔ ھٰذَا الْعَالَمُ کَصَرْحٍ مُّمَرَّدٍ مِنْ قَوَارِیْرَ وَمَا الطَّاقَۃُ العُظْمٰی یَجْرِیْ تَحْتَھَا وَ یَفْعَلُ مَایُرِیْدُ یُخَیَّلُ فِیْ عُیُوْنٍ قَاصِرَۃٍ کَاَنَّھَا ھُوَ۔ یَحْسَبُوْنَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُؤَثِّرَاتٍ بِذَاتِھَا وَ لَامُؤَثِّرَ اِلَّا ھُوَ۔
حکیم مطلق نے میرے پر یہ راز سربستہ کھول دیا ہے کہ یہ تمام عالم معہ اپنے جمیع اجزاء کے اس علت العلل کے کاموں اور ارادوں کی انجام دہی کے لئے سچ مچ اس اعضاء کی طرح واقع ہے جو خودبخود قائم نہیں بلکہ ہر وقت اس رُوح اعظم سے قوت پاتا ہے۔ جیسے جسم کی تمام قوتیں جان کی طفیل سے ہی ہوتی ہیں اور یہ عالم جو اس وجود اعظم کے لئے قائم مقام اعضاء کا ہے۔ بعض چیزیں اس میں ایسی ہیں کہ گویا اس کے چہرہ کا نور ہیں جو ظاہری یا باطنی طور پر اس کے ارادوں کے موافق روشنی کا کام دیتی ہیں اور بعض ایسی چیزیں ہیں کہ گویا اس کے ہاتھ ہیں اور بعض ایسی ہیں کہ گویا اُس کے پیر ہیں اور بعض اس کے سانس کی طرح ہیں۔ غرض یہ مجموعۂ عالم خدائے تعالیٰ کے لئے بطور ایک اندام کے واقعہ ہے۔ اور تمام آب و تاب اس اندام کی اور ساری زندگی اس کی اسی رُوح اعظم سے ہے جو اس کی قیّوم ہے۔ اور جو کچھ اس قیّوم کی ذات میں ارادی حرکت پیدا ہوتی ہے وہی حرکت اس اندام کے کل اعضاء یا بعض میں جیسا کہ اُس قیّوم کی ذات کا تقاضا ہو پیدا ہو جاتی ہے۔
اِس بیان مذکورہ بالا کی تصویر دکھلانے کے لئے تخیلی طور پر ہم فرض کر سکتے ہیں کہ قیّوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے لئے بے شمار ہاتھ بے شمار پیر اور ہر یک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہا عرض اور طول رکھتا ہے اور تندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں جو صفحۂ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں اور کشش کا کام دے رہی ہے یہ وہی اعضاء ہیں جن کا دوسرے لفظوں میں عالم نام ہے۔ جب قیّومعالم کوئی حرکت جزوی یا کلّی کرے گا تو اس کی حرکت کے ساتھ اس کے اعضاء میں حرکت پیدا ہو جانا ایک لازمی امر ہو گا اور وہ اپنے تمام ارادوں کو انہیں اعضاء کے ذریعہ سے ظہور میں لائے گا نہ کسی اور طرح سے۔ پس یہی ایک عام فہم مثال اس روحانی امر کی ہے کہ جو کہا گیا ہے کہ مخلوقات کی ہر یک جزو خدائے تعالیٰ کے ارادوں کی تابع اور اُس کے مقاصد مخفیہ کو اپنے خادمانہ چہرہ میں ظاہر کر رہی ہے۔ اور کمال درجہ کی اطاعت سے اُس کے ارادوں کی راہ میں محو ہو رہی ہے۔ اور یہ اطاعت اس قسم کی ہرگز نہیں ہے جس کی صرف حکومت اور زبردستی پر بنا ہو بلکہ ہر یک چیز کو خدائے تعالیٰ کی طرف ایک مقناطیسی کشش پائی جاتی ہے اور ہر ایک ذرّہ ایسا بالطبع اس کی طرف جھکا ہوا معلوم ہوتا ہے جیسے ایک وجود کے متفرق اعضاء اُس وجود کی طرف جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ پس درحقیقت یہی سچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ یہ تمام عالم اُس وجود اعظم کے لئے بطور اعضا ء کے واقعہ ہے اور اسی وجہ سے وہ قیوم العالمین کہلاتا ہے کیونکہ جیسی جان اپنے بدن کی قیوم ہوتی ہے ایسا ہی وہ تمام مخلوقات کا قیوم ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو نظام عالم کا بالکل بگڑ جاتا۔
ہر یک ارادہ اس قیّومکا خواہ وہ ظاہری ہے یا باطنی۔ دینی ہے یا دنیوی اسی مخلوقات کے توسط سے ظہور پذیر ہوتا ہے اور کوئی ایسا ارادہ نہیں کہ بغیر ان وسائط کے زمین پر ظاہر ہوتا ہو۔ یہی قدیمی قانونِ قدرت ہے کہ جو ابتداء سے بندھا ہوا چلا آتا ہے۔
(توضیح مرام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ۸۸ تا۹۱)اس میں کلام کی جگہ نہیں کہ جو کچھ اجرام فلکی اور عناصر میں جسمانی اور فانی طور پر صفات پائی جاتی ہیں وہ روحانی اور ابدی طور پر خدا تعالیٰ میں موجود ہیں۔ اور خدا تعالیٰ نے یہ بھی ہم پر کھول دیا ہے کہ سورج وغیرہ بذات خود کچھ چیز نہیں ہیں۔ یہ اسی کی طاقت زبردست ہے جو پردہ میں ہر ایک کام کر رہی ہے۔ وہی ہے جو چاند کو پردہ پوش اپنی ذات کا بنا کر اندھیری راتوں کو روشنی بخشتا ہے جیسا کہ وہ تاریک دلوں میں خود داخل ہو کر اُن کو منوّر کر دیتا ہے اور آپ انسان کے اندر بولتا ہے۔ وہی ہے جو اپنی طاقتوں پر سورج کا پردہ ڈال کر دن کو ایک عظیم الشان روشنی کا مظہر بنا دیتا ہے اور مختلف فصلوں میں مختلف اپنے کام ظاہر کرتا ہے۔ اُسی کی طاقت آسمان سے برستی ہے جو مینہ کہلاتی ہے اور خشک زمین کو سرسبز کر دیتی ہے اور پیاسوں کو سیراب کر دیتی ہے۔ اُسی کی طاقت آگ میں ہو کر جلاتی ہے اور ہوا میں ہو کر دم کو تازہ کرتی اور پھولوں کو شگفتہ کرتی اور بادلوں کو اُٹھاتی اور آواز کو کانوں تک پہنچاتی ہے۔ یہ اُسی کی طاقت ہے کہ زمین کی شکل میں مجسّم ہو کر نوع انسان اور حیوانات کو اپنی پشت پر اٹھا رہی ہے۔ مگر کیا یہ چیزیں خدا ہیں؟ نہیں بلکہ مخلوق مگر ان کے اجرام میں خدا کی طاقت ایسے طور سے پیوست ہو رہی ہے کہ جیسے قلم کے ساتھ ہاتھ ملا ہوا ہے۔ اگرچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ قلم لکھتی ہے مگر قلم نہیں لکھتی بلکہ ہاتھ لکھتا ہے یا مثلاً ایک لوہے کا ٹکڑا جو آگ میں پڑ کر آگ کی شکل میں بن گیا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ جلاتا ہے اور روشنی بھی دیتا ہے۔ مگر دراصل وہ صفات اس کی نہیں بلکہ آگ کی ہیں۔ اسی طرح تحقیق کی نظر سے یہ بھی سچ ہے کہ جس قدر اجرام فلکی و عناصر ارضی بلکہ ذرّہ ذرّہ عالم سفلی اور علوی کا مشہود اور محسوس ہے یہ سب باعتبار اپنی مختلف خاصیتوں کے جو اُن میں پائی جاتی ہیں خدا کے نام ہیں اور خدا کی صفات ہیں اور خدا کی طاقت ہے جو ان کے اندر پوشیدہ طور پر جلوہ گر ہے اور یہ سب ابتداء میں اسی کے کلمے تھے جو اس کی قدرت نے ان کو مختلف رنگوں میں ظاہر کر دیا۔ نادان سوال کرے گا کہ خدا کے کلمے کیونکر مجسم ہوئے۔ کیا خدا اُن کے علیحدہ ہونے سے کم ہو گیا۔ مگر اس کو سوچنا چاہئے کہ آفتاب سے جو ایک آتشی شیشی آگ حاصل کرتی ہے وہ آگ کچھ آفتاب میں سے کم نہیں کرتی۔ ایسا ہی جو کچھ چاند کی تاثیر سے پھلوں میں فربہی آتی ہے وہ چاند کو دُبلا نہیں کر دیتی۔ یہی خدا کی معرفت کا ایک بھید اور تمام نظام روحانی کا مرکز ہے کہ خدا کے کلمات سے ہی دنیا کی پیدائش ہے۔ (نسیم دعوت۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ۴۲۳، ۴۲۴)
جب میں ان بڑے بڑے اجرام کو دیکھتا ہوں اور اُن کی عظمت اور عجائبات پر غور کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ صرف ارادۂ الٰہی سے اور اس کے اشارہ سے ہی سب کچھ ہو گیا تو میری رُوح بے اختیار بول اُٹھتی ہے کہ اے ہمارے قادر خدا تو کیا ہی بزرگ قدرتوں والا ہے۔ تیرے کام کیسے عجیب اور وراء العقل ہیں۔ نادان ہے وہ جو تیری قدرتوں سے انکار کرے اور احمق ہے وہ جو تیری نسبت یہ اعتراض پیش کرے کہ اس نے اِن چیزوں کو کس مادہ سے بنایا؟ (نسیم دعوت۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۴۲۵ حاشیہ)
خدا تعالیٰ جو ہمارا خدا کہلاتا ہے اُس کی خُدائی کی اصل حقیقت ہی یہی ہے کہ وہ ایک مبدء فیض وجود ہے جس کے ہاتھ سے سب وجودوں کا نمود ہے۔ اُسی سے اس کا استحقاق معبودیّت پیدا ہوتا ہے اور اسی سے ہم بخوشی دل قبول کرتے ہیں کہ اس کا ہمارے بدن و دل و جان پر قبضہ استحقاقی قبضہ ہے۔ کیونکہ ہم کچھ بھی نہ تھے اسی نے ہم کو وجود بخشا۔ پس جس نے عدم سے ہمیں موجود کیا وہ کامل استحقاق سے ہمارا مالک ہے۔ (شحنۂ حق۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۲۸، ۴۲۹)
اصل بات یہ ہے کہ خدا کی قدرت میں جو ایک خصوصیت ہے جس سے وہ خدا کہلاتا ہے وہ روحانی اور جسمانی قوتوں کے پیدا کرنے کی خاصیت ہے۔ مثلاً جانداروں کے جسم کو جو اوس نے آنکھیں عطا کی ہیں اس کام میں اس کا اصل کمال یہ نہیں ہے کہ اُس نے یہ آنکھیں بنائیں بلکہ کمال یہ ہے کہ اُس نے ذرّات جسم میں پہلے سے یہ پوشیدہ طاقتیں پیدا کر رکھی تھیں جن میں بینائی کا نور پیدا ہو سکے۔ پس اگر وہ طاقتیں خود بخود ہیں تو پھر خدا کچھ بھی چیز نہیں۔ کیونکہ بقول شخصے کہ’’گھِی سنوارے سالنا بڑی بہو کا نام‘‘۔ اس بینائی کو وہ طاقتیں پیدا کرتی ہیں خدا کو اس میں کچھ دخل نہیں اور اگر ذرّاتِ عالم میں وہ طاقتیں نہ ہوتیں تو خدائی بے کار رہ جاتی۔ پس ظاہر ہے کہ خدائی کا تمام مدار اس پر ہے کہ اوس نے روحوں اور ذرّات عالم کی تمام قوتیں خود پیدا کی ہیں اور کرتا ہے اور خود اُن میں طرح طرح کے خواص رکھے ہیں اور رکھتا ہے۔ پس وہی خواص جوڑنے کے وقت اپنا کرشمہ دکھلاتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے خدا کے ساتھ کوئی موجد برابر نہیں ہو سکتا کیونکہ گو کوئی شخص ریل کا موجد ہو یا تار کا یا فوٹو گراف کا یا پریس کا یا کسی اَور صنعت کا اس کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ ان قوتوں کا موجدنہیں جن قوتوں کے استعمال سے وہ کسی صنعت کو طیار کرتا ہے۔ بلکہ یہ تمام موجد بنی بنائی قوتوں سے کام لیتے ہیں جیسا کہ انجن چلانے میں بھاپ کی طاقتوں سے کام لیا جاتا ہے۔ پس فرق یہی ہے کہ خدا نے عنصر وغیرہ میں یہ طاقتیں خود پیدا کی ہیں۔ مگر یہ لوگ خود طاقتیں اور قوتیں پیدا نہیں کر سکتے۔ پس جب تک خدا کو ذرّات عالم اور ارواح کی تمام قوتوں کا موجدنہ ٹھہرایا جائے تب تک خدائی اُس کی ہرگز ثابت نہیں ہو سکتی اور اس صورت میں اس کا درجہ ایک معمار یا نجّار یا حدّاد یا گِلگو سے ہرگز زیادہ نہیں ہو گا۔ یہ ایک بدیہی بات ہے جو ردّ کے قابل نہیں۔ (نسیم دعوت۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۳۸۳، ۳۸۴)
ہم اپنے کامل ایمان اور پوری معرفت سے یہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ اصول آریہ سماجیوں کا ہرگز درست نہیں کہ ارواح اور ذرّات اپنی تمام قوتوں کے ساتھ قدیم اور انادی اور غیر مخلوق ہیں۔ اِس سے تمام وہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے جو خدا میں اور اوس کے بندوں میں ہے۔ یہ ایک نیا اور مکروہ مذہب ہے جو پنڈت دیانندنے پیش کیا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ وید سے کہاں تک اس مذہب کا تعلق ہے لیکن ہم اس پر بحث کرتے ہیں کہ یہ اصول جو آریہ سماجیوں نے اپنے ہاتھ سے شائع کیا ہے یہ عقل سلیم کے نزدیک کامل معرفت اور کامل غور اور کامل سوچ کے بعد ہرگز درست نہیں۔ سناتن دھرم کا اصول جو اس کے مقابل پر پڑا ہوا ہے اس کو اگرچہ ویدانت کے بے جا مبالغہ نے بدشکل کر دیا ہے اور ویدانتیوں کی افراط نے بہت سے اعتراضات کا موقعہ دے دیا ہے تاہم اِس میں سچائی کی ایک چمک ہے۔ اگر اس عقیدے کو زوائد سے الگ کر دیا جائے تو ماحصل اس کا یہی ہوتا ہے کہ ہر ایک چیز پرمیشر کے ہی ہاتھ سے نکلی ہے۔ پس اس صورت میں تمام شبہات دُور ہو جاتے ہیں اور ماننا پڑتا ہے کہ بموجب اصول سناتن دھرم کے وید کا عقیدہ بھی یہی ہے کہ یہ تمام ارواح اور ذرّات اجسام اور ان کی قوتیں اور طاقتیں اور گُن اور خا ّصیتیں خدا کی طرف سے ہیں۔ (نسیم دعوت۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۳۸۷)
قرآن شریف نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ انسان مع اپنی رُوح اور تمام قوتوں اور ذرّہ ذرّہ وجود کے خدا کی مخلوق ہے۔ جس کو اُس نے پیدا کیا۔ لہٰذا قرآن شریف کی تعلیم کی رُو سے ہم خدا تعالیٰ کے خالص مِلک ہیں اور اُس پر ہمارا کوئی بھی حق نہیں ہے جس کا ہم اُس سے مطالبہ کریں۔ یا جس کے ادا نہ کرنے کی وجہ سے وہ ملزم ٹھہر سکے۔ اس لئے ہم اپنے مقابل پر خدا کا نام منصف نہیں رکھ سکتے بلکہ ہم بالکل تہی دست ہونے کی وجہ سے اُس کا نام رحیم رکھتے ہیں۔ غرض منصف کہنے کے اندر یہ شرارت مخفی ہے کہ گویا ہم اس کے مقابل پر کوئی حقوق رکھتے ہیں اور اُس حق کے ادا نہ کرنے کی صورت میں اس کو حق تلفی کی طرف منسوب کر سکتے ہیں۔ (چشمہء معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۶)
لیکن قرآن شریف نے وید کی طرح بے وجہ اور محض زبردستی کے طور پر اللہشانہٗ کو تمام ارواح اور ہر ایک ذرّہ ذرّہ اجسام کا مالک نہیں ٹھہرایا۔ بلکہ اُس کی ایک وجہ بیان کی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ خَلَقَ کُلَّ شَیۡءٍ فَقَدَّرَہٗ تَقۡدِیۡرًا۔ (ترجمہ) یعنی زمین اور آسمان اور جو کچھ اُن میں ہے سب خدا تعالیٰ کی ملکیت ہے کیونکہ وہ سب چیزیں اسی نے پیدا کی ہیں اور پھر ہر ایک مخلوق کی طاقت اور کام کی ایک حد مقرر کر دی ہے تا محدود چیزیں ایک محدّد پر دلالت کریں جو خدا تعالیٰ ہے۔ سو ہم دیکھتے ہیں کہ جیسا کہ اجسام اپنے اپنے حدود میں مقید ہیں اور اس حد سے باہر نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح ارواح بھی مقید ہیں اور اپنی مقررہ طاقتوں سے زیادہ کوئی طاقت پیدا نہیں کر سکتے۔ اب پہلے ہم اجسام کے محدود ہونے کے بارہ میں بعض مثالیں پیش کرتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ مثلاً چاند ایک مہینہ میں اپنا دورہ ختم کر لیتا ہے یعنی انتیس۲۹ یا تیس۳۰ دن تک مگر سورج تین سو چوسٹھ دن میں اپنے دورہ کو پورا کرتا ہے۔ اور سورج کو یہ طاقت نہیں ہے کہ اپنے دورہ کو اس قدر کم کر دے جیسا کہ چاند کے دورہ کا مقدار ہے۔ اور نہ چاند کی یہ طاقت ہے کہ اس قدر اپنے دورہ کے دن بڑھا دے کہ جس قدر سورج کے لئے دن مقرر ہیں۔ اور اگر تمام دنیا اس بات کے لئے اتفاق بھی کر لے کہ ان دونوں نیرّوں کے دَوروں میں کچھ کمی بیشی کر دیں تو یہ ہرگز اُن کے لئے ممکن نہیں ہو گا اور نہ خود سورج اور چاند میں یہ طاقت ہے کہ اپنے اپنے دوروں میں کچھ تغیر، تبدل کر ڈالیں۔
پس وہ ذات جس نے ان ستاروں کو اپنی اپنی حدّ پر ٹھہرا رکھا ہے۔ یعنی جو ان کا محدّد اور حد باندھنے والا ہے وہی خدا ہے۔ ایسا ہی انسان کے جسم اور ہاتھی کے جسم میں بڑا فرق ہے۔ اگر تمام ڈاکٹر اس بات کے لئے اکٹھے ہوں کہ انسان اپنی جسمانی طاقتوں اور جسم کی ضخامت میں ہاتھی کے برابر ہو جاوے تو یہ اُن کے لئے غیر ممکن ہے۔ اور اگر یہ چاہیں کہ ہاتھی محض انسان کے قد تک محدود رہے تو یہ بھی اُن کے لئے غیر ممکن ہے۔ پس اس جگہ بھی ایک تحدید ہے یعنی حد باندھنا۔ جیسا کہ سورج اور چاند میں ایک تحدید ہے اور وہی تحدید ایک محدّد یعنی حد باندھنے والے پر دلالت کرتی ہے یعنی اس ذات پر دلالت کرتی ہے جس نے ہاتھی کو وہ مقدار بخشا اور انسان کے لئے وہ مقدار مقرر کیا۔ اور اگر غور کر کے دیکھا جائے تو ان تمام جسمانی چیزوں میں عجیب طور سے خدا تعالیٰ کا ایک پوشیدہ تصرّف نظر آتا ہے اور عجیب طور پر اس کی حد بندی مشاہدہ ہوتی ہے۔ ان کیڑوں کی مقدار سے لے کر جو بغیر دوربین کے دکھائی نہیں دے سکتے ان بڑی بڑی مچھلیوں کی مقدار تک جو ایک بڑے جہاز کو بھی چھوٹے سے لقمہ کی طرح نگل سکتی ہیں حیوانی اجسام میں ایک عجیب نظارہ حد بندی کا نظر آتا ہے۔ کوئی جانور اپنے جسم کی رُو سے اپنی حد سے باہر نہیں جا سکتا ایسا ہی وہ تمام ستارے جو آسمان پر نظر آتے ہیں اپنی اپنی حد سے باہر نہیں جا سکتے۔ پس یہ حدبندی دلالت کر رہی ہے کہ در پردہ کوئی حد باندھنے والا ہے۔ یہی معنی اس مذکورہ بالا آیت کے ہیں کہ خَلَقَ کُلَّ شَیۡءٍ فَقَدَّرَہٗ تَقۡدِیۡرًا۔
اب واضح ہو کہ جیسا کہ یہ حد بندی اجسام میں پائی جاتی ہے۔ ایسا ہی یہ حد بندی ارواح میں بھی ثابت ہے۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ جس قدر انسانی رُوح اپنے کمالات ظاہر کر سکتا ہے۔ یا یوں کہو کہ جس قدر کمالات کی طرف ترقی کر سکتا ہے وہ کمالات ایک ہاتھی کی رُوح کو باوجود ضخیم اور جسیم ہونے کے حاصل نہیں ہو سکتے۔ اِسی طرح ہر ایک حیوان کی رُوح بلحاظ اپنی قوتوں اور طاقتوں کے اپنے نوع کے دائرہ کے اندر محدود ہے اور وہی کمالات حاصل کر سکتے ہیں کہ جو اس کے نوع کے لئے مقرر اور مقدّر ہیں۔ پس جس طرح اجسام کی حد بندی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اُن کا کوئی حد باندھنے والا اور خالق ہے اسی طرح ارواح کی طاقتوں کی حد بندی اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ ان کا بھی کوئی خالق اور حد باندھنے والا ہے۔
(چشمۂ معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۱۷ تا ۱۹)اگر دل میں یہ وہم گذرتا ہو کہ خدا نے مختلف طبائع کیوں پیدا کیں اور کیوں سب کو ایسی قوتیں عنایت نہ فرمائیں جن سے وہ معرفتِ کاملہ اور محبت کاملہ کے درجہ تک پہنچ جاتے۔ تو یہ سوال بھی خدا کے کاموں میں ایک فضول دخل ہے جو ہرگز جائز نہیں۔ ہر یک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ تمام مخلوقات کو ایک ہی درجہ پر رکھنا اور سب کو اعلیٰ کمالات کی قوتیں بخشنا خدا پر حق واجب نہیں۔ یہ تو صرف اس کا فضل ہے۔ اسے اختیار ہے جس پر چاہے کرے اور جس پر چاہے نہ کرے۔ مثلاً تم کو خدا نے آدمی بنایا اور گدھے کو آدمی نہ بنایا۔ تم کو عقل دی اور اس کو نہ دی یا تمہارے لئے علم حاصل ہوا اور اس کو نہ ہوا۔ یہ سب مالک کی مرضی کی بات ہے کوئی ایسا حق نہیں کہ تمہارا تھا اور اُس کا نہ تھا۔ غرض جس حالت میں خدا کی مخلوقات میں صریح تفاوتِ مراتب پایا جاتا ہے جس کے تسلیم کرنے سے کسی عاقل کو چارہ نہیں تو کیا مالک بااختیار کے سامنے ایسی مخلوقات جن کا موجود ہونے میں بھی کوئی حق نہیں چہ جائیکہ بڑا بننے میں کوئی حق ہو کچھ دم مار سکتی ہے۔ خدائے تعالیٰ کا بندوں کو خلعتِ وجود بخشنا ایک عطا اور احسان ہے اور ظاہر ہے کہ مُعطی و مُحسن اپنی عطا اور احسان میں کمی بیشی کا اختیار رکھتا ہے اور اگر اس کو کم دینے کا اختیار نہ ہو تو پھر زیادہ دینے کا بھی اختیار نہ ہو۔ تو اس صورت میں وہ مالکانہ اختیارات کے نافذ کرنے سے بالکل قاصر رہ جائے اور خود ظاہر ہے کہ اگر مخلوق کا خالق پر خواہ نخواہ کوئی حق قرار دیا جائے تو اس سے تسلسل لازم آتا ہے کیونکہ جس درجہ پر خالق کسی مخلوق کو بنائے گا اسی درجہ پر وہ مخلوق کہہ سکتا ہے کہ میرا حق اس سے زیادہ ہے۔ اور چونکہ خدائے تعالیٰ غیر متناہی مراتب پر بنا سکتا ہے۔ اور اس کی لا انتہا قدرت کے آگے صرف آدمی بنانے پر فضیلت پیدائش ختم نہیں تو اس صورت میں سلسلۂ سوالاتِ مخلوق کبھی ختم نہ ہو گا اور ہر یک مرتبۂ پیدائش پر اِلیٰ غیر النّہایت اس کو اپنے حق کے مطالبہ کا استحقاق حاصل ہو گا اور یہی تسلسل ہے۔
ہاں اگر یہ جستجو ہے کہ اس تفاوتِ مراتب رکھنے میں حکمت کیا ہے تو سمجھنا چاہئے کہ اِس بارہ میں قرآن شریف نے تین حکمتیں بیان فرمائی ہیں۔ جو عند العقل نہایت بدیہی اور روشن ہیں جن سے کوئی عاقل انکار نہیں کر سکتا۔ اور وہ بہ تفصیل ذیل ہیں۔
اوّل یہ کہ تا مہمّات دنیا یعنی امورِ معاشرت باحسن وجہ صورت پذیر ہوں جیسا فرمایا ہے۔ وَقَالُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡیَتَیۡنِ عَظِیۡمٍ۔اَہُمۡ یَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّکَ ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَیۡنَہُمۡ مَّعِیۡشَتَہُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَرَفَعۡنَا بَعۡضَہُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعۡضُہُمۡ بَعۡضًا سُخۡرِیًّا ؕ وَرَحۡمَتُ رَبِّکَ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ ۔ الجزو نمبر ۲۵۔ یعنی کفار کہتے ہیں کہ یہ قرآن مکّہ اور طائف کے بڑے بڑے مال داروں اور رئیسوں میں سے کسی بھاری رئیس اور دولتمند پر کیوں نازل نہ ہوا تا اس کی رئیسانہ شان کے شایان ہوتا۔ اور نیز اس کے رعب اور سیاست اور مال خرچ کرنے سے جلد تر دین پھیل جاتا۔ ایک غریب آدمی جس کے پاس دنیا کی جائیداد میں سے کچھ بھی نہیں کیوں اس عہدہ سے ممتاز کیا گیا؟ (پھر آگے بطور جواب فرمایا) اَہُمۡ یَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّکَ کیا قسّام ازل کی رحمتوں کا تقسیم کرنا ان کا اختیار ہے یعنی یہ خداوند حکیم مطلق کا فعل ہے کہ بعضوں کی استعدادیں اور ہمتیں پست رکھیں اور وہ زخارف دنیا میں پھنسے رہے۔ اور رئیس اور امیر اور دولتمند کہلانے پر پھولتے رہے اور اصل مقصود کو بھول گئے اور بعض کو فضائل روحانیت اور کمالات قدسیہ عنایت فرمائے اور وہ اس محبوبِ حقیقی کی محبت میں محو ہو کر مقرب بن گئے اور مقبولانِ حضرتِ احدّیت ہو گئے۔ (پھر بعد اس کے اس حکمت کی طرف اشارہ فرمایا کہ جو اس اختلافِ استعدادات اور تباین خیالات میں مخفی ہے) نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَیۡنَہُمۡ مَّعِیۡشَتَہُمۡ الخ۔ یعنی ہم نے اس لئے بعض کو دولتمند اور بعض کو درویش اور بعض کو لطیف طبع اور بعض کو کثیف طبع اور بعض طبیعتوں کو کسی پیشہ کی طرف مائل اور بعض کو کسی پیشہ کی طرف مائل رکھا ہے تا اُن کو یہ آسانی پیدا ہو جائے کہ بعض کے لئے بعض کار برار اور خادم ہوں اور صرف ایک پربھار نہ پڑے۔ اور اس طور پر مہّمات بنی آدم بآسانی تمام چلتے رہیں۔ اور پھر فرمایا کہ اس سلسلہ میں دنیا کے مال و متاع کی نسبت خدا کی کتاب کا وجود زیادہ تر نفع رساں ہے۔ یہ ایک لطیف اشارہ ہے جو ضرورتِ الہام کی طرف فرمایا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ انسان مدنی الطبع ہے اور بجز ایک دوسرے کی مدد کے کوئی امر اس کا انجام پذیر نہیں ہو سکتا۔ مثلاً ایک روٹی کو دیکھئے جس پر زندگانی کا مدار ہے۔ اس کے طیار ہونے کے لئے کس قدر تمدّن و تعاون درکار ہے۔ زراعت کے تردّد سے لے کر اس وقت تک کہ روٹی پک کر کھانے کے لائق ہو جائے بیسیوں پیشہ وروں کی اعانت کی ضرورت ہے۔ پس اس سے ظاہر ہے کہ عام امورِ معاشرت میں کس قدر تعاون اور باہمی مدد کی ضرورت ہو گی۔ اِسی ضرورت کے انصرام کے لئے حکیم مطلق نے بنی آدم کو مختلف طبیعتوں اور استعدادوں پر پیدا کیا تا ہر یک شخص اپنی استعداد اور میلِ طبع کے موافق کسی کام میں بہ طِیبِ خاطر مصروف ہو کوئی کھیتی کرے۔ کوئی آلات زراعت بناوے۔ کوئی آٹا پیسے۔ کوئی پانی لاوے۔ کوئی روٹی پکاوے کوئی سوت کاتے۔ کوئی کپڑا بُنے۔ کوئی دوکان کھولے۔ کوئی تجارت کا اسباب لاوے۔ کوئی نوکری کرے اور اس طرح پر ایک دوسرے کے معاون بن جائیں۔ اور بعض کو بعض مدد پہنچاتے رہیں۔ پس جب ایک دوسرے کی معاونت ضروری ہوئی تو ان کا ایک دوسرے سے معاملہ پڑنا بھی ضروری ہو گیا۔ اور جب معاملہ اور معاوضہ میں پڑ گئے اور اس پر غفلت بھی جو استغراقِ امور دنیا کا خاصہ ہے عائدِ حال ہو گئی تو اُن کے لئے ایک ایسے قانونِ عدل کی ضرورت پڑی جو اُن کو ظلم اور تعدّی اور بغض اور فساد اور غفلت من اللہ سے روکتا رہے تا نظامِ عالم میں ابتری واقع نہ ہو۔ کیونکہ معاش و معاد کا تمام مدار انصاف اور خداشناسی پر ہے۔ اور التزام انصاف و خدا ترسی ایک قانون پر موقوف ہے جس میں دقائق معدلت و حقائق معرفت الٰہی بدرستیٔ تمام درج ہوں اور سہواً یا عمداً کسی نوع کا ظلم یا کسی نوع کی غلطی نہ پائی جاوے۔ اور ایسا قانون اسی کی طرف سے صادر ہو سکتا ہے جس کی ذات سہو و خطا و ظلم و تعدی سے بکلّی پاک ہو۔ اور نیز اپنی ذات میں واجب الانقیاد اور واجب التعظیم بھی ہو۔ کیونکہ گو کوئی قانون عمدہ ہو مگر قانون کا جاری کرنے والا اگر ایسا نہ ہو جس کو باعتبار مرتبہ اپنے کے سب پر فوقیت اور حکمرانی کا حق ہو یا اگر ایسا نہ ہو جس کا وجود لوگوں کی نظر میں ہر یک طور کے ظلم و خبث اور خطا اور غلطی سے پاک ہو تو ایسا قانون اوّل تو چل ہی نہیں سکتا۔ اور اگر کچھ دن چلے بھی تو چند ہی روز میں طرح طرح کے مفاسد پیدا ہو جاتے ہیں۔ اور بجائے خیر کے شر کا موجب ہو جاتا ہے۔ اِن تمام وجوہ سے کتاب الٰہی کی حاجت ہوئی کیونکہ ساری نیک صفتیں اور ہر یک طور کی کمالیت و خوبی صرف خدا ہی کی کتاب میں پائی جاتی ہے وبس۔
دوم حکمت تفاوتِ مراتب رکھنے میں یہ ہے کہ تا نیک اور پاک لوگوں کی خوبی ظاہر ہو۔ کیونکہ ہر یک خوبی مقابلہ ہی سے معلوم ہوتی ہے۔ جیسے فرمایا ہے اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَی الۡاَرۡضِ زِیۡنَۃً لَّہَا لِنَبۡلُوَہُمۡ اَیُّہُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا الجزو نمبر ۱۵۔ یعنی ہم نے ہر یک چیز کو جو زمین پر ہے زمین کی زینت بنا دیا ہے۔ تا جو لوگ صالح آدمی ہیں بمقابلہ بُرے آدمیوں کے اُن کی صلاحیت آشکارا ہو جائے۔ اور کثیف کے دیکھنے سے لطیف کی لطافت کھل جائے۔ کیونکہ ضِد کی حقیقت ضِد ہی سے شناخت کی جاتی ہے اور نیکوں کا قدر و منزلت بدوں ہی سے معلوم ہوتا ہے۔
سوم حکمت تفاوتِ مراتب رکھنے میں انواع و اقسام کی قدرتوں کاظاہر کرنا۔ اور اپنی عظمت کی طرف توجہ دلانا ہے۔ جیسا فرمایا مَا لَکُمۡ لَا تَرۡجُوۡنَ لِلّٰہِ وَقَارًا وَقَدۡ خَلَقَکُمۡ اَطۡوَارًا نمبر ۲۹۔ یعنی تم کو کیا ہو گیا کہ تم خدا کی عظمت کے قائل نہیں ہوتے۔ حالانکہ اُس نے اپنی عظمت ظاہر کرنے کے لئے تم کو مختلف صورتوں اور سیرتوں پر پیدا کیا یعنی اختلاف استعدادات و طبائع اِسی غرض سے حکیم مطلق نے کیا تا اُس کی عظمت و قدرت شناخت کی جائے۔ جیسا دوسری جگہ بھی فرمایا ہے۔ وَاللّٰہُ خَلَقَ کُلَّ دَآبَّۃٍ مِّنۡ مَّآءٍ ۚ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّمۡشِیۡ عَلٰی بَطۡنِہٖ ۚ وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّمۡشِیۡ عَلٰی رِجۡلَیۡنِ ۚ وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّمۡشِیۡ عَلٰۤی اَرۡبَعٍ ؕ یَخۡلُقُ اللّٰہُ مَا یَشَآءُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ۔ الجزو نمبر ۱۸۔ یعنی خدا نے ہریک جاندار کو پانی سے پیدا کیا۔ سو بعض جاندار پیٹ پر چلتے ہیں اور بعض دو پانؤں پر۔ بعض چار پانؤں پر۔ خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ یہ بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا نے یہ مختلف چیزیں اس لئے بنائیں کہ تا مختلف قدرتیں اس کی ظاہر ہوں۔ غرض اختلافِ طبائع جو فطرتِ مخلوقات میں واقع ہے اس میں حکمتِ الٰہیہ انہیں امورِ ثلاثہ میں منحصر ہے جن کو خدائے تعالیٰ نے آیاتِ ممدوحہ میں بیان کر دیا۔ فتدبّر۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۰۳ تا ۲۰۷ حاشیہ نمبر۱۱)پنڈت دیانند کی ستیارتھ پرکاش اردو کے صفحہ ۵۰۱ میں لکھا ہے کہ پرمیشر کسی کا گناہ بخش نہیں سکتا ایسا کرے تو بے انصاف ٹھہرتا ہے پس اس نے مان لیا ہے کہ پرمیشر محض ایک جج کی طرح ہے مالکانہ حیثیت اس کو حاصل نہیں۔ ایسا ہی پنڈت دیانندنے اپنی کتاب ترجمہ شدہ کے صفحہ ۵۰۱ میں لکھا ہے کہ پرمیشر محدود افعال کا ثمرہ غیر محدودنہیں دے سکتا پس ظاہر ہے کہ اگر وہ مالکانہ اختیار رکھتا ہے تو محدود خدمت کے عوض میں غیر محدود ثمرہ دینے میں اس کا کیا حرج ہے کیونکہ مالک کے کاموں کے ساتھ انصاف کو کچھ تعلق نہیں۔ ہم بھی اگر کسی مالک کے مالک ہو کر سوالیوں کو کچھ دینا چاہیں تو کسی سوالی کا حق نہیں کہ یہ شکایت کرے کہ فلاں شخص کو زیادہ دیا اور مجھے کم دیا۔ اسی طرح کسی بندہ کا خداتعالیٰ کے مقابل پر حق نہیں کہ اس سے انصاف کا مطالبہ کرے۔ کیونکہ جس حالت میں جو کچھ بندہ کا ہے وہ سب کچھ خدا کا ہے۔ تو نہ تو یہ بندہ کا حق ہے کہ انصاف کی رو سے اس سے فیصلہ چاہے اور نہ خدا کی یہ شان ہے کہ اپنی مخلوق کا یہ مرتبہ تسلیم کر لے کہ وہ لوگ اس سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کے لئے مجاز ہیں۔ پس درحقیقت جو کچھ خدا تعالیٰ بندہ کو اس کے اعمال کی جزائیں دیتا ہے وہ اس کا محض انعام اکرام ہے ورنہ اعمال کچھ چیز نہیں بغیر خدا کی تائید اور فضل کے اعمال کب ہو سکتے ہیں۔ پھر ماسوا اس کے جب ہم خداتعالیٰ کے قانونِ قدرت کی طرف نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ اپنے بندوں کے لئے مہیا کیا ہے یا کرتا ہے وہ دو قسم کی بخشش ہے۔
ایک تو اس کے وہ انعام اکرام ہیں جو انسانوں کے وجود سے بھی پہلے ہیں اور ایک ذرّہ انسانوں کے عمل کا اُن میں دخل نہیں جیسا کہ اوس نے انسانوں کے آرام کے لئے سورج چاند ستارے زمین پانی ہوا آگ وغیرہ چیزیں پیدا کی ہیں اور کچھ شک نہیں کہ اِن چیزوں کو انسانوں کے وجود اور اُن کے عملوں پر تقدم ہے اور انسان کا وجود اُن کے وجود کے بعد ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی وہ رحمت کی قسم ہے جس کو قرآنی اصطلاح کی رو سے رحمانیت کہتے ہیں۔ یعنی ایسی جود و عطا جو بندہ کے اعمال کی پاداش میں نہیں بلکہ محض فضل کی راہ سے ہے۔
دوسری قسم رحمت کی وہ ہے جس کو قرآنی اصطلاح میں رحیمیت کہتے ہیں یعنے وہ انعام اکرام جو بنام نہاد پاداش اعمال حسنہ انسان کو عطا ہوتا ہے۔ پس جس خدا نے اپنی فیاضانہ مالکیت کا وہ نمونہ دکھلایا کہ عاجز بندوں کے لئے زمین و آسمان اور چاند سورج وغیرہ بنا دیئے اس وقت میں جبکہ بندوں اور اُن کے اعمال کا نام ونشان نہ تھا کیا اس کی نسبت یہ گمان کر سکتے ہیں کہ وہ بندوں کا مدیون ہو کر صرف اُن کے حقوق ادا کرتا ہے اس سے بڑھ کر نہیں؟ کیا بندوں کا کوئی حق تھا کہ وہ اُن کے لئے زمین و آسمان بناتا اور ہزاروں چمکتے ہوئے اجرام آسمان پر اور ہزار ہا آرام او رراحت کی چیزیں زمین پر مہیّا کرتا۔ پس اُس فیاض مطلق کو محض ایک جج کی طرح فقط انصاف کرنے والا قرار دینا اور اس کے مالکانہ مرتبہ اور شان سے انکار کرنا کس قدر کفرانِ نعمت ہے۔
(چشمہ معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۲۶ تا ۲۸)یاد رہے کہ مالک ایک ایسا لفظ ہے جس کے مقابل پر تمام حقوق مسلوب ہو جاتے ہیں۔ اور کامل طور پر اطلاق اس لفظ کا صرف خدا پر ہی آتا ہے کیونکہ کامل مالک وہی ہے جو شخص کسی کو اپنی جان وغیرہ کا مالک ٹھہراتاہے تو وہ اقرار کرتا ہے کہ اپنی جان اور مال وغیرہ پر میرا کوئی حق نہیں اور میرا کچھ بھی نہیں سب مالک کا ہے اس صورت میں اپنے مالک کو یہ کہنا اس کے لئے ناجائز ہو جاتا ہے کہ فلاں مالی یا جانی معاملہ میں میرے ساتھ انصاف کر کیونکہ انصاف حق کو چاہتا ہے اور وہ اپنے حقوق سے دستبردار ہو چکا ہے۔ اسی طرح انسان نے جو اپنے مالک حقیقی کے مقابل پر اپنا نام بندہ رکھا یا اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ کا اقرار کیا۔ یعنی ہمارا مال، جان، بدن، اولاد سب خدا کی ملک ہے تو اس اقرار کے بعد اس کا کوئی حق نہ رہا جس کا وہ خدا سے مطالبہ کرے اِسی وجہ سے وہ لوگ جو درحقیقت عارف ہیں باوجود صد ہا مجاہدات اور عبادات اور خیرات کے اپنے تئیں خدا تعالیٰ کے رحم پر چھوڑتے ہیں اور اپنے اعمال کو کچھ بھی چیز نہیں سمجھتے اور کوئی دعویٰ نہیں کرتے کہ ہمارا کوئی حق ہے یا ہم کوئی حق بجا لائے ہیں کیونکہ درحقیقت نیک وہی ہے جس کی توفیق سے کوئی انسان نیکی کر سکتا ہے اور وہ صرف خدا ہے۔ پس انسان کسی اپنی ذاتی لیاقت اور ہنر کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے انصاف کا مطالبہ ہرگز نہیں کرسکتا۔ قرآن شریف کی رو سے خدا کے کام سب مالکانہ ہیں جس طرح کبھی وہ گناہ کی سزا دیتا ہے۔ ایسا ہی وہ کبھی گناہ کو بخش بھی دیتا ہے۔ یعنی دونوں پہلوؤں پر اس کی قدرت نافذ ہے۔ جیسا کہ مقتضائے مالکیّت ہوناچاہئے اور اگر وہ ہمیشہ گناہ کی سزا دے تو پھر انسان کا کیا ٹھکانہ ہے بلکہ اکثر وہ گناہ بخش دیتا ہے اور تنبیہ کی غرض سے کسی گناہ کی سزا بھی دیتا ہے تاغافل انسان متنبہ ہو کر اس کی طرف متوجہ ہو جیسا کہ قرآن شریف میں یہ آیت ہے۔ وَمَاۤ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِیۡکُمۡ وَیَعۡفُوۡا عَنۡ کَثِیۡرٍ دیکھو سورۃ الشوریٰ (ترجمہ) اور جو کچھ تمہیں کچھ مصیبت پہنچتی ہے پس تمہاری بد اعمالی کے سبب سے ہے اور خدا بہت سے گناہ بخش دیتا ہے اور کسی گناہ کی سزا دیتا ہے۔ اور پھر اسی سورۃ میں یہ آیت بھی ہے وَہُوَ الَّذِیۡ یَقۡبَلُ التَّوۡبَۃَ عَنۡ عِبَادِہٖ وَیَعۡفُوۡا عَنِ السَّیِّاٰتِ یعنی تمہارا خدا وہ خدا ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی بدیاں اُن کو معاف کر دیتا ہے۔ کسی کو یہ دھوکا نہ لگے کہ قرآن شریف میں یہ آیت بھی ہے۔ وَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ یعنی جو شخص ایک ذرّہ بھی شرارت کرے گا وہ اس کی سزا پائے گا۔ پس یاد رہے کہ اس میں اور دوسری آیات میں کچھ تناقض نہیں۔ کیونکہ اس شرّ سے وہ شرّ مراد ہے جس پر انسان اصرار کرے اور اس کے ارتکاب سے باز نہ آوے اور توبہ نہ کرے۔ اسی غرض سے اس جگہ شرّ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ نہ ذنب کا تا معلوم ہو کہ اس جگہ کوئی شرارت کا فعل مراد ہے جس سے شریر آدمی باز آنا نہیں چاہتا۔ ورنہ سارا قرآن شریف اس بارہ میں بھرا پڑا ہے کہ ندامت اور توبہ اور ترک اصرار اور استغفار سے گناہ بخشے جاتے ہیں۔ بلکہ خدا تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَیُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے اور نیز ان لوگوں سے پیار کرتا ہے کہ جو اس بات پر زور لگاتے ہیں کہ کسی طرح گناہ سے پاک ہو جائیں۔ غرض ہر ایک بدی کی سزا دینا خدا کے اخلاق عفو اور درگذر کے برخلاف ہے کیونکہ وہ مالک ہے نہ صرف ایک مجسٹریٹ کی طرح جیسا کہ اُس نے قرآن شریف کی پہلی سورۃ میں ہی اپنا نام مالک رکھا ہے۔ اور فرمایا کہ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ یعنی خدا جزا سزا دینے کا مالک ہے۔ اور ظاہر ہے کہ کوئی مالک مالک نہیں کہلا سکتا جب تک دونوں پہلوؤں پر اس کو اختیار نہ ہو۔ یعنی چاہے تو پکڑے اور چاہے تو چھوڑ دے۔ (چشمۂ معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۲۳، ۲۴)
پھر ہم اصل بحث کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ آریوں کے اصول کی رُو سے اُن کے پرمیشر کا نام مالک ٹھہر نہیں سکتا کیونکہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ قدرت نہیں رکھتا کہ بغیر کسی کے حق واجب کے اس کو بطور اکرام انعام کچھ دے سکے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جو شخص کسی مال کا مالک ہوتا ہے وہ اختیار رکھتا ہے کہ جس قدر اپنے پاس سے چاہے کسی کو دے دے۔ مگر پرمیشر کی نسبت آریوں کا یہ اصول ہے کہ نہ وہ گناہ بخش سکتا ہے اور نہ جود و عطا کے طور پر کسی کو وہ کچھ دے سکتا ہے اور اگر وہ ایسا کرے تو اس سے بے انصافی لازم آتی ہے۔ لہٰذا تناسخ کے ماننے والے کسی طرح کہہ نہیں سکتے کہ پرمیشر مخلوقات کا مالک ہے۔ یہ تو ہم کئی دفعہ لکھ چکے ہیں کہ مالک کی نسبت انصاف کی پابندی کی شرط لگانا بالکل بے جا ہے۔ ہاں ہم مالک کی صفاتِ حسنہ میں سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ رحیم ہے وہ جَوَّاد ہے وہ فیاض ہے وہ گنہ بخشنے والا ہے مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اپنے زر خرید غلاموں اور گھوڑوں اور گائیوں کی نسبت منصف مزاج ہے کیونکہ انصاف کا لفظ وہاں بولا جاتا ہے جبکہ دونوں طرف ایک قسم کی آزادی حاصل ہو مثلاً ہم مجازی سلاطین کی نسبت کہہ سکتے ہیں کہ وہ منصف ہیں اور رعایا کے ساتھ انصاف کا سلوک کرتے ہیں اور جب تک رعایا اُن کی اطاعت کرے اُن پر بھی انصاف کا قانون یہ واجب کرتا ہے کہ وہ بھی رعایا کی اطاعت اور خراج گذاری کے عوض میں اُن کے مال و جان کی پوری نگہبانی کریں اور ضرورتوں کے وقت اپنے مال میں سے اُن کی مدد کریں۔ پس ایک پہلو سے سلاطین رعایا پر حکم چلاتے ہیں اور دوسرے پہلو سے رعیت سلاطین پر حکم چلاتی ہے۔ اور جب تک یہ دونوں پہلو اعتدال سے چلتے ہیں تب تک اس ملک میں امن رہتا ہے اور جب کوئی بے اعتدالی رعایا کی طرف سے یا بادشاہوں کی طرف سے ظہور میں آتی ہے تبھی ملک میں سے امن اُٹھ جاتا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ ہم بادشاہوں کو حقیقی طور پر مالک نہیں کہہ سکتے کیونکہ ان کو رعایا کے ساتھ اور رعایا کو اُن کے ساتھ انصاف کا پابند رہنا پڑتا ہے۔ مگر ہم خدا کو اُس کی مالکیت کے لحاظ سے رحیم تو کہہ سکتے ہیں مگر منصف نہیں کہہ سکتے۔ کوئی شخص مملوک ہو کر مالک سے انصاف کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ ہاں تضرع اور انکسار سے رحم کی درخواست کر سکتا ہے۔ اِسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے تمام قرآن شریف میں اپنا نام منصف نہیں رکھا کیونکہ انصاف دوطرفہ برابری اور مساوات کو چاہتا ہے۔ ہاں اس طرح پر خدا تعالیٰ منصف ہے کہ بندوں کے باہمی حقوق میں انصاف کرتا ہے لیکن اس طرح منصف نہیں کہ کوئی بندہ شریک کی طرح اس سے کوئی حق طلب کر سکے کہ کیونکہ بندہ خدا کی مِلک ہے اور اس کو اختیار ہے کہ اپنی مِلک کے ساتھ جس طرح چاہے معاملہ کرے۔ جس کو چاہے بادشاہ بنا وے۔ جس کو چاہے فقیر بنا وے۔ اور جس کو چاہے چھوٹی عمر میں وفات دے اور جس کو چاہے لمبی عمر عطا کرے۔ اور ہم بھی تو جب کسی مالک کے مالک ہوتے ہیں تو اس کی نسبت پوری آزادی رکھتے ہیں ہاں خدا رحیم ہے بلکہ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن ہے وہ اپنے رحم کے تقاضا سے نہ کسی انصاف کی پابندی سے اپنی مخلوقات کی پرورش کرتا ہے۔ کیونکہ ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ مالک کا مفہوم منصف کے مفہوم سے بالکل ضِد پڑا ہوا ہے۔ جبکہ ہم اس کے پیدا کردہ ہیں تو ہمیں کیا حق پہنچتا ہے کہ ہم اس سے انصاف کا مطالبہ کریں۔ ہاں نہایت عاجزی سے اس کے رحم کی ضرور درخواست کرتے ہیں اور اس بندہ کی نہایت بدذاتی ہے جو خدا سے اُس کے کاروبار کے متعلق جو اس بندہ کی نسبت خدا تعالیٰ کرتا ہے انصاف کا مطالبہ کرے۔ جبکہ انسانی فطرت کا سب تار و پود خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور تمام قویٰ روحانی جسمانی اُسی کی عطا کر دہ ہیں اور اُسی کی توفیق اور تائید سے ہر ایک اچھا عمل ظہور میں آ سکتا ہے تو اپنے اعمال پر بھروسہ کر کے اُس سے انصاف کا مطالبہ کرنا سخت بے ایمانی اور جہالت ہے۔ اور ایسی تعلیم کو ہم وِدّیا کی تعلیم نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ تعلیم سچّے گیان سے بالکل محروم اور سراسر حماقت سے بھری ہوئی تعلیم ہے سو ہمیں خدا تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب میں جو قرآن شریف ہے یہی سکھایا ہے کہ بندہ کے مقابل پر خدا کا نام منصف رکھنا نہ صرف گناہ بلکہ کفر صریح ہے۔ (چشمۂ معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۲ تا ۳۴)
یہ وسوسہ کہ عدل اور رحم دونوں خدا تعالیٰ کی ذات میں جمع نہیں ہو سکتے کیونکہ عدل کا تقاضا ہے کہ سزا دی جائے اور رحم کا تقاضا ہے کہ درگذر کی جائے یہ ایک ایسا دھوکا ہے کہ جس میں قلّتِ تدبر سے کوتہ اندیش عیسائی گرفتار ہیں۔ وہ غور نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ کا عدل بھی تو ایک رحم ہے۔ وجہ یہ کہ وہ سراسر انسانوں کے فائدہ کے لئے ہے۔ مثلاً اگر خدا تعالیٰ ایک خونی کی نسبت باعتبار اپنے عدل کے حکم فرماتا ہے کہ وہ مارا جائے۔ تو اس سے اس کی الوہیت کو کچھ فائدہ نہیں بلکہ اس لئے چاہتا ہے کہ تا نوع انسان ایک دوسرے کو مار کر نابودنہ ہو جائیں سو یہ نوعِ انسان کے حق میں رحم ہے اور یہ تمام حقوق عباد خدا تعالیٰ نے اِسی لئے قائم کئے ہیں کہ تا امن قائم رہے اور ایک گروہ دوسرے گروہ پر ظلم کر کے دنیا میں فسادنہ ڈالیں۔ سو وہ تمام حقوق اور سزائیں جو مال اور جان اور آبرو کے متعلق ہیں درحقیقت نوع انسان کے لئے ایک رحم ہے …… پس عدل اور رحم میں کوئی جھگڑا نہیں گویا وہ دو۲ نہریں ہیں جو اپنی اپنی جگہ پر چل رہی ہیں۔ ایک نہر دوسرے کی ہرگز مزاحم نہیں ہے۔ دنیا کی سلطنتوں میں بھی یہی دیکھتے ہیں کہ جرائم پیشہ کو سزا ملتی ہے لیکن جو لوگ اچھے کاموں سے گورنمنٹ کو خوش کرتے ہیں وہ مورد انعام و اکرام ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی اصل صفت رحم ہے اور عدل عقل اور قانون عطا کرنے کے بعد پیدا ہوتا ہے اور حقیقت میں وہ بھی ایک رحم ہے جو اَور رنگ میں ظاہر ہوتا ہے۔ جب کسی انسان کو عقل عطا ہوتی ہے اور بذریعہ عقل وہ خدا تعالیٰ کے حدود اور قوانین سے واقف ہوتا ہے تب اس حالت میں وہ عدل کے مؤاخذہ کے نیچے آتا ہے۔ لیکن رحم کے لئے عقل اور قانون کی شرط نہیں۔ اور چونکہ خدا تعالیٰ نے رحم کر کے انسانوں کو سب سے زیادہ فضیلت دینی چاہی اس لئے اس نے انسانوں کے لئے عدل کے قواعد اور حدود مرتب کئے۔ سو عدل اور رحم میں تناقض سمجھنا جہالت ہے۔ (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۷۳، ۷۴)
یہ ایک نہایت باریک صداقت ہے کہ علم باری تعالیٰ جس کی کاملیت کی وجہ سے وہ ذرّہ ذرّہ کے ظاہر و باطن پر اطلاع رکھتا ہے کیونکر اور کس طور سے ہے۔ اگرچہ اس کی اصل کیفیت پر کوئی عقل محیط نہیں ہو سکتی مگر پھر بھی اتنا کہنا سراسر سچائی پر مبنی ہے کہ وہ تمام علم کے قسموں میں سے جو ذہن میں آ سکتے ہیں اشد و اقویٰ و اتم و اکمل قسم ہے۔ جب ہم اپنے حصول علم کے طریقوں کو دیکھتے ہیں اور اس کے اقسام پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اپنے سب معمولی علموں میں سے بڑا یقینی اور قطعی وہی علم معلوم ہوتا ہے جو ہم کو اپنی ہستی کی نسبت ہے۔ کیونکہ ہم اور ایسا ہی ہر ایک انسان کسی حالت میں اپنی ہستی کو فراموش نہیں کر سکتا اور نہ اس میں کوئی شک کر سکتا ہے سو جہاں تک ہماری عقل کی رسائی ہے ہم اس قسم کے علم کو اشد و اقویٰ و اتم و اکمل پاتے ہیں اور یہ بات ہم سراسر خدائے تعالیٰ کی ذات کامل سے بعید دیکھتے ہیں کہ جو اس درجہ اَور اس قسم کے علم سے اس کا علم اپنے بندوں کے بارہ میں کمتر ہو۔ کیونکہ یہ بڑے نقص کی بات ہے کہ جو اعلیٰ قسم علم کی ذہن میں آ سکتی ہے وہ خدائے تعالیٰ میں نہ پائی جائے۔ اور اعتراض ہو سکتا ہے کہ کس وجہ سے خدائے تعالیٰ کا علم اعلیٰ درجہ کے علم سے متنزل رہا۔ آیا اس کے اپنے ہی ارادہ سے یا کسی قاسر کے قسر سے۔ اگر کہو کہ اس کے اپنے ہی ارادہ سے تو یہ جائز نہیں کیونکہ کوئی شخص اپنے لئے بالارادہ نقصان روا نہیں رکھتا تو پھر کیونکر خدائے تعالیٰ جو بذاتِ خود کمالات کو دوست رکھتا ہے ایسے ایسے نقصان اپنی نسبت روا رکھے اور اگر کہو کہ کسی قاسر کے قسر سے یہ نقصان اس کو پیش آیا تو چاہئے کہ ایسا قاسر اپنی طاقتوں اور قوتوں میں خدائے تعالیٰ پر غالب ہو۔ تا وہ زیادت قوت کی وجہ سے اس کو اس کے ارادوں سے روک سکے اور یہ خود ممتنع اور محال ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ پر اور کوئی قاسر نہیں جس کی مزاحمت سے اس کو کوئی مجبوری پیش آوے۔ پس ثابت ہوا کہ ضرور خدائے تعالیٰ کا علم کامل تام ہے۔ اور پہلے ہم ابھی ثابت کر چکے ہیں کہ علم کی تمام قسموں میں سے کامل و تام وہ علم ہے کہ جو ایسا ہو جیسے ایک انسان کو اپنی ہستی کی نسبت علم ہوتا ہے۔ سو ماننا پڑا کہ خدائے تعالیٰ کا علم اپنی مخلوقات کے بارہ میں اسی علم کی مانند اور اس کے مشابہ ہے گو ہم اس کی اصل کیفیت پر محیط نہیں ہو سکتے لیکن ہم اپنی عقل سے جس کی رو سے ہم مکّلف ہیں یہ سمجھ سکتے ہیں کہ بڑا قطعی اور یقینی علم یہی ہے جو عالم اور معلوم میں کسی نوع کا بُعد اور حجاب نہ ہو سو وہ قسم علم کی یہی ہے۔ اور جس طرح ایک انسان کو اپنی ہستی پر مطلع ہونے کے لئے کسی دوسرے وسائل کی ضرورت نہیں بلکہ جاندار ہونا اور اپنے تئیں جاندار سمجھنا دونوں باتیں ایسی باہم قریب واقع ہیں کہ ان میں ایک بال کا فرق نہیں۔ سو ایسا ہی جمیع موجودات کے بارہ میں خداتعالیٰ کا علم ہونا ضروری ہے۔ یعنی اس جگہ بھی عالم اور معلوم میں ایک ذرّہ فرق اور فاصلہ نہیں چاہئے۔ اور یہ اعلیٰ درجہ علم کا جو باری تعالیٰ کو اپنے تحقّق الوہیت کے لئے اس کی ضرورت ہے اسی حالت میں اس کے لئے مسلّم ہو سکتا ہے کہ جب پہلے اُس کی نسبت یہ مان لیا جائے کہ اس میں اور اس کے معلومات میں اس قدر قرب اور تعلّق واقع ہے جس سے بڑھ کر تجویز کرنا ممکن ہی نہیں اور یہ کامل تعلّق معلومات سے اسی صورت میں اس کو ہو سکتا ہے کہ جب عالم کی سب چیزیں جو اس کی معلومات ہیں اس کے دست قدرت سے نکلی ہوں اور اس کی پیدا کردہ اور مخلوق ہوں اور اُس کی ہستی سے اُن کی ہستی ہو۔ یعنی جب ایسی صورت ہو کہ موجود حقیقی وہی ایک ہو اور دوسرے سب وجود اس سے پیدا ہوئے ہوں۔ اور اس کے ساتھ قائم ہوں۔ یعنی پیدا ہو کر بھی اپنے وجود میں اس سے بے نیاز اور اس سے الگ نہ ہوں بلکہ درحقیقت سب چیزوں کے پیدا ہونے کے بعد بھی زندہ حقیقی وہی ہو۔ اور دوسری ہر ایک زندگی اسی سے پیدا ہوئی ہو۔ اور اس کے ساتھ قائم ہو۔ اور بے قید حقیقی وہی ایک ہو اور دوسری سب چیزیں کیا ارواح اور کیا اجسام اُس کی لگائی ہوئی قیدوں میں مقید اور اس کے ہاتھ کے بندوں سے بندھے ہوئے اور اس کی مقرر کردہ حدوں میں محدود ہوں اور وہ ہر چیز پر محیط ہو اور دوسری سب چیزیں اس کی ربوبیت کے نیچے احاطہ کی گئی ہوں اور کوئی ایسی چیز نہ ہو جو اس کے ہاتھ سے نکلی نہ ہو۔ اور اس کی ربوبیت کا اس پر احاطہ نہ ہو۔ یا اُس کے سہارے سے وہ چیز قائم نہ ہو۔ غرض اگر ایسی صورت ہو تب خدائے تعالیٰ کا تعلّق تام جو علم تام کے لئے شرط ہے اپنے معلومات سے ہو گا۔ اِسی تعلق تام کی طرف اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ قرآن شریف میں اشارہ فرمایا جیسے وہ فرماتا ہے۔ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِیۡدِ یعنی ہم انسان کی جان سے اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ تر نزدیک ہیں ایسا ہی اس نے قرآن شریف میں ایک دوسری جگہ فرمایا ہے۔ ھُوَاَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ یعنی حقیقی حیات اسی کو ہے اور دوسری سب چیزیں اس سے پیدا اور اُس کے ساتھ زندہ ہیں۔ یعنی درحقیقت سب جانوں کی جان اور سب طاقتوں کی طاقت وہی ہے۔ ……
اگر رُوح کو مخلوق اور حادث تسلیم نہ کیا جائے تو اس بات کے تسلیم کرنے کے لئے کوئی وجہ نہیں کہ ایک بے تعلق شخص جو فرضی طور پر پرمیشر کے نام سے موسوم ہے رُوح کی حقیقت سے کچھ اطلاع رکھتا ہے اور اس کا علم اس کی تہ تک پہنچا ہوا ہے کیونکہ جو شخص کسی چیز کی نسبت پورا پورا علم رکھتا ہے تو البتہ اس کے بنانے پر بھی قادر ہوتا ہے اور اگر قادر نہیں ہو سکتا تو اس کے علم میں ضرور کوئی نہ کوئی نقص ہوتا ہے اور اگر پورا علم نہ ہو تو قطع نظر بنانے سے متشابہ چیزوں میں باہم امتیاز کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ سو اگر خدائے تعالیٰ خالق الاشیاء نہیں تو اس میں صرف یہی نقص نہیں ہے کہ اس صورت میں وہ ناقص العلم ٹھہرا بلکہ اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ وہ کروڑ ہا روحوں کے امتیاز اور تمیز اور شناخت میں روز بروز دھوکے بھی کھایا کرے اور بسا اوقات زید کی رُوح کو بکر کی رُوح سمجھ بیٹھے کیونکہ ادھورے علم کو ایسے دھوکے ضرور لگ جایا کرتے ہیں اور اگر کہو کہ نہیں لگتے تو اِس پر کوئی دلیل پیش کرنی چاہئے۔
(سرمہ چشم آریہ۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۲۱ تا ۲۲۶ حاشیہ)شائد کسی دل کو اس جگہ یہ وسوسہ پکڑے کہ اگر کسی شے پر پورا پورا علمی احاطہ ہونے سے وہ شے مخلوق ہو جاتی ہے تو علم حق سبحانہٗ تعالیٰ جو اپنی ذات سے متعلق ہے وہ بھی بہرحال کامل ہے۔ تو کیا خدائے تعالیٰ اپنی ذات کا آپ خالق ہے یا اپنی مثل بنانے پر قادر ہے؟ اس میں اعتراض کے پہلے ٹکڑے کا تو یہ جواب ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ اپنے وجود کا آپ خالق ہو تو اس سے لازم آتا ہے کہ اپنے وجود سے پہلے موجود ہو۔ اور ظاہر ہے کہ کوئی شے اپنے وجود سے پہلے موجودنہیں ہو سکتی۔ ورنہ تقدم الشیٔ علٰی نفسہٖ لازم آتا ہے۔ بلکہ خدائے تعالیٰ جو اپنی ذات کا علم کامل رکھتا ہے تو اس جگہ عالم اور علم اور معلوم ایک ہی شے ہے جس میں علیحدگی اور دوئی کی گنجائش نہیں تو پھر اس جگہ وہ الگ چیز کون سی ہے جس کو مخلوق ٹھہرا یا جائے سو ذاتی علم خدائے تعالیٰ کا جو اس کی ذات سے تعلق رکھتا ہے دوسری چیزوں پر اس کا قیاس نہیں کر سکتے۔ غرض علم ذاتی باری تعالیٰ میں جو اس کی ذات سے متعلق ہے عالم اپنے معلوم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے تا ایک خالق اور مخلوق قرار دیا جاوے۔ ہاں اس کے وجود میں بجائے مخلوق کہنے کے یہ کہنا چاہئے کہ وہ وجود کسی دوسرے کی طرف سے مخلوق نہیں بلکہ ازلی ابدی طور پر اپنی طرف سے آپ ہی ظہو رپذیر ہے اور خدا ہونے کے بھی یہی معنے ہیں کہ خود آئندہ ہے۔
دوسرا ٹکڑا اعتراض کا کہ تقریر مذکورہ بالا سے خدائے تعالیٰ کا اپنی مثل بنانے پر قادر ہونا لازم آتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قدرتِ الٰہی صرف اُن چیزوں کی طرف رجوع کرتی ہے جو اُس کی صفات ازلیہ ابدیہ کی منافی اور مخالف نہ ہوں بے شک یہ بات تو صحیح اور ہر طرح سے مدلّل اور معقول ہے کہ جس چیز کا علم خدائے تعالیٰ کو کامل ہو اس چیز کو اگر چاہے تو پیدا بھی کر سکتا ہے لیکن یہ بات ہرگز صحیح اور ضروری نہیں کہ جن باتوں کے کرنے پر وہ قادر ہو اُن سب باتوں کو بلالحاظ اپنی صفات کمالیہ کے کر کے بھی دکھاوے بلکہ وہ اپنی ہر ایک قدرت کے اجراء اور نفاذ میں اپنی صفات کمالیہ کا ضرور لحاظ رکھتا ہے کہ آیا وہ امر جس کو وہ اپنی قدرت سے کرنا چاہتا ہے اُس کی صفات کاملہ سے منافی و مبائن تو نہیں۔ مثلاً وہ قادر ہے کہ ایک بڑے پرہیزگار صالح کو دوزخ کی آگ میں جلاوے۔ لیکن اس کے رحم اور عدل اور مجازات کی صفت اس بات کی منافی پڑی ہوئی ہے کہ وہ ایسا کرے۔ اس لئے وہ ایسا کام کبھی نہیں کرتا۔ ایسا ہی اس کی قدرت اس طرف میں رجوع نہیں کرتی کہ وہ اپنے تئیں ہلاک کرے۔ کیونکہ یہ فعل اس کی صفت حیاتِ ازلی ابدی کی منافی ہے۔ پس اسی طرح سے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اپنے جیسا خدا بھی نہیں بناتا کیونکہ اُس کی صفت احدیت اور بے مثل اور مانند ہونے کی جو ازلی ابدی طور پر اس میں پائی جاتی ہے اس طرف توجہ کرنے سے اس کو روکتی ہے۔ پس ذرہ آنکھ کھول کر سمجھ لینا چاہئے کہ ایک کام کرنے سے عاجزہونا اَور بات ہے لیکن باوجود قدرت کے بلحاظ صفات کمالیہ امر منافی صفات کی طرف توجہ نہ کرنا یہ اَور بات ہے۔
(سرمہ چشم آریہ۔ روحانی خزائن جلد۲ صفحہ ۲۳۰ تا ۲۳۳ حاشیہ)اپنے ذاتی اقتدار اور اپنی ذاتی خاصیت سے عالم الغیب ہونا خدائے تعالیٰ کی ذات کا ہی خاصہ ہے۔ قدیم سے اہلِ حق حضرات واجب الوجود کے علم غیب کی نسبت وجوب ذاتی کا عقیدہ رکھتے ہیں اور دوسرے تمام ممکنات کی نسبت امتناع ذاتی اور امکان بالواجب عزّاسمہٗ کا عقیدہ ہے۔ یعنی یہ عقیدہ کہ خدا ئے تعالیٰ کی ذات کے لئے عالم الغیب ہونا واجب ہے اور اس کے ہویت حقہ کی یہ ذاتی خاصیت ہے کہ عالم الغیب ہو۔ مگر ممکنات جو ہَالِکَۃُ الذَّات اور بَاطِلَۃُ الْحَقِیْقَت ہیں اس صفت میں اور ایسا ہی دوسری صفات میں شراکت بحضرت باری عَزّ اِسْمُہٗ جائز نہیں۔ اور جیسا ذات کی رو سے شریک الباری ممتنع ہے ایسا ہی صفات کی رو سے بھی ممتنع ہے۔ پس ممکنات کے لئے نَظْرًا عَلٰی ذَاتِہِم عالم الغیب ہونا ممتنعات میں سے ہے۔ خواہ نبی ہوں یا محدّث ہوں یا ولی ہوں۔ ہاں الہام الٰہی سے اسرار غیبیہ کو معلوم کرنا یہ ہمیشہ خاص اور برگزیدہ کو حصہ ملتا رہا ہے۔ اور اب بھی ملتا ہے جس کو ہم صرف تابعین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں پاتے ہیں۔ (ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات۔ روحانی خزائن جلد۴ صفحہ۴۵۳، ۴۵۴)
ہمارا زندہ حیّ و قیّوم خدا ہم سے انسان کی طرح باتیں کرتا ہے۔ ہم ایک بات پوچھتے ہیں اور دعا کرتے ہیں تو وہ قدرت کے بھرے ہوئے الفاظ کے ساتھ جواب دیتا ہے۔ اگر یہ سِلسلہ ہزار مرتبہ تک بھی جاری رہے تب بھی وہ جواب دینے سے اعراض نہیں کرتا۔ وہ اپنے کلام میں عجیب در عجیب غیب کی باتیں ظاہر کرتا ہے اور خارق عادت قدرتوں کے نظارے دکھلاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ یقین کرا دیتا ہے کہ وہ وہی ہے جس کو خدا کہنا چاہئے۔ دعائیں قبول کرتا ہے اور قبول کرنے کی اطلاع دیتا ہے۔ وہ بڑی بڑی مشکلات حل کرتا ہے اور جو مُردوں کی طرح بیمار ہوں اُن کو بھی کثرتِ دُعا سے زندہ کر دیتا ہے اور یہ سب ارادے اپنے قبل از وقت اپنے کلام سے بتلا دیتا ہے۔ خدا وہی خدا ہے جو ہمارا خدا ہے۔ وہ اپنے کلام سے جو آئندہ کے واقعات پر مشتمل ہوتا ہے ہم پر ثابت کرتا ہے کہ زمین و آسمان کا وہی خدا ہے۔ وہی ہے جس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ مَیں تجھے طاعون کی موت سے بچاؤں گا اور نیز ان سب کو جو تیرے گھر میں نیکی اور پرہیز گاری کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں بچاؤں گا۔ اس زمانہ میں کون ہے جس نے میرے سوا ایسا الہام شائع کیا اور اپنے نفس اور اپنی بیوی اور اپنے بچوں اور دوسرے نیک انسانوں کے لئے جو اس کی چار دیوار کے اندر رہتے ہیں خدا کی ذمہ داری ظاہر کی۔ (نسیم دعوت۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۴۴۸، ۴۴۹)
منجملہ انسان کی طبعی حالتوں کے جو اس کی فطرت کو لازم پڑی ہوئی ہیں ایک برترہستی کی تلاش ہے جس کے لئے اندر ہی اندر انسان کے دل میں ایک کشش موجود ہے اور اس تلاش کا اثر اسی وقت سے محسوس ہونے لگتا ہے جب کہ بچہ ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے۔ کیونکہ بچہ پیدا ہوتے ہی پہلے روحانی خاصیّت اپنی جو دکھاتا ہے وہ یہی ہے کہ ماں کی طرف جُھکا جاتا ہے اور طبعاً اپنی ماں کی محبت رکھتا ہے۔ اور پھر جیسے جیسے حواس اس کے کھلتے جاتے ہیں اور شگوفہ فطرت اس کا کھلتا جاتا ہے یہ کشش محبت جو اس کے اندر چھپی ہوئی تھی اپنا رنگ و روپ نمایاں طور پر دکھاتی چلی جاتی ہے پھر تو یہ ہوتا ہے کہ بجز اپنی ماں کی گود کے کسی جگہ آرام نہیں پاتا۔ اور پورا آرام اس کا اسی کے کنارِ عاطفت میں ہوتا ہے۔ اور اگر ماں سے علیحدہ کر دیا جائے اور دُور ڈال دیا جائے تو تمام عیش اس کا تلخ ہو جاتا ہے اور اگرچہ اس کے آگے نعمتوں کا ایک ڈھیر ڈال دیا جاوے تب بھی وہ اپنی سچی خوشحالی ماں کی گود میں ہی دیکھتا ہے اور اس کے بغیر کسی طرح آرام نہیں پاتا۔ سو وہ کششِ محبت جو اس کو اپنی ماں کی طرف پیدا ہوتی ہے وہ کیا چیز ہے؟
درحقیقت یہ وہی کشش ہے جو معبود حقیقی کے لئے بچہ کی فطرت میں رکھی گئی ہے بلکہ ہر ایک جگہ جو انسان تعلّق محبت پیدا کرتا ہے درحقیقت وہی کشش کام کر رہی ہے۔ اور ہر ایک جگہ جو یہ عاشقانہ جوش دکھلاتا ہے درحقیقت اسی محبت کا وہ ایک عکس ہے۔ گویا دوسری چیزوں کو اٹھا اٹھا کر ایک گم شدہ چیز کی تلاش کر رہا ہے۔ جس کا اب نام بھول گیا ہے سو انسان کا مال یا اولاد یا بیوی سے محبت کرنا یا کسی خوش آواز کے گیت کی طرف اس کی رُوح کا کھینچے جانا درحقیقت اسی گمشدہ محبوب کی تلاش ہے اور چونکہ انسان اس دقیق در دقیق ہستی کو جو آگ کی طرح ہر ایک میں مخفی اور سب پر پوشیدہ ہے اپنی جسمانی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتا اور نہ اپنی ناتمام عقل سے اس کو پا سکتا ہے۔ اس لئے اس کی معرفت کے بارے میں انسان کو بڑی بڑی غلطیاں لگی ہیں اور سہو کاریوں سے اس کا حق دوسرے کو دیا گیا ہے۔ خدا نے قرآن شریف میں یہ خوب مثال دی ہے کہ دنیا ایک ایسے شیش محل کی طرح ہے جس کی زمین کا فرش نہایت مصفّٰی شیشوں سے کیا گیا ہے اور پھر ان شیشوں کے نیچے پانی چھوڑا گیا ہے جو نہایت تیزی سے چل رہا ہے۔ اب ہر ایک نظر جو شیشوں پر پڑتی ہے وہ اپنی غلطی سے ان شیشوں کو بھی پانی سمجھ لیتی ہے۔ اور پھر انسان ان شیشوں پر چلنے سے ایسا ڈرتا ہے جیسا کہ پانی سے ڈرنا چاہئے حالانکہ وہ درحقیقت شیشے ہیں مگر صاف شفاف۔ سو یہ بڑے بڑے اجرام جو نظر آتے ہیں جیسے آفتاب و ماہتاب وغیرہ یہ وہی صاف شیشے ہیں جن کی غلطی سے پرستش کی گئی اور ان کے نیچے ایک اعلیٰ طاقت کام کر رہی ہے جو ان شیشوں کے پردہ میں پانی کی طرح بڑی تیزی سے چل رہی ہے او رمخلوق پرستوں کی نظر کی یہ غلطی ہے کہ انہی شیشوں کی طرف کام کو منسوب کر رہے ہیں جو ان کے نیچے کی طاقت دکھلا رہی ہے یہی تفسیر اس آیت کریمہ کی ہے۔ اِنَّہٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنۡ قَوَارِیۡرَ
غرض چونکہ خدا تعالیٰ کی ذات باوجودنہایت روشن ہونے کے پھر بھی نہایت مخفی ہوتی ہے اس لئے اس کی شناخت کے لئے صرف یہ نظام جسمانی جو ہماری نظروں کے سامنے ہے کافی نہ تھا اور یہی وجہ ہے کہ ایسے نظام پر مدار رکھنے والے باوجودیکہ اس ترتیب ابلغ اور محکم کو جو صد ہا عجائبات پر مشتمل ہے نہایت غور کی نظر سے دیکھتے رہے بلکہ ہیئت اور طبعی اور فلسفہ میں وہ مہارتیں پیدا کیں کہ گویا زمین و آسمان کے اندر دھنس گئے مگر پھر بھی شکوک اور شبہات کی تاریکی سے نجات نہ پا سکے اور اکثر اُن کے طرح طرح کی خطاؤں میں مبتلا ہو گئے اور بے ہودہ اوہام میں پڑ کر کہیں کے کہیں چلے گئے اور اگر ان کو اس صانع کے وجود کی طرف کچھ خیال بھی آیا تو بس اِسی قدر کہ اس اعلیٰ اور عمدہ نظام کو دیکھ کر یہ اُن کے دل میں پڑا کہ اس عظیم الشان سِلسلہ کا جو پُرحکمت نظام اپنے ساتھ رکھتا ہے کہ کوئی پیدا کرنے والا ضرور چاہئے مگر ظاہر ہے کہ یہ خیال ناتمام اور یہ معرفت ناقص ہے کیونکہ یہ کہنا کہ اس سِلسلہ کے لئے ایک خدا کی ضرورت ہے اس دوسرے کلام سے ہرگز مساوی نہیں کہ وہ خدا درحقیقت ہے بھی۔ غرض یہ اُن کی صرف قیاسی معرفت تھی جو دل کو اطمینان اور سکینت نہیں بخش سکتی اور نہ شکوک کو بکلی دل پر سے اٹھا سکتی ہے اور نہ یہ ایسا پیالہ ہے جس سے وہ پیاس معرفت تامہ کی بُجھ سکے جو انسان کی فطرت کو لگائی گئی ہے۔ بلکہ ایسی معرفت ناقصہ نہایت پُرخطر ہوتی ہے۔ کیونکہ بہت شور ڈالنے کے بعد پھر آخر ہیچ اور نتیجہ ندارد ہے۔
غرض جب تک خود خدا تعالیٰ اپنے موجود ہونے کو اپنے کلام سے ظاہر نہ کرے جیسا کہ اُس نے اپنے کام سے ظاہر کیا تب تک صرف کام کا ملاحظہ تسلّی بخش نہیں ہے۔ مثلاً اگر ہم ایک ایسی کوٹھڑی کو دیکھیں جس میں یہ بات عجیب ہو کہ اندر سے کنڈیاں لگائی گئی ہیں تو اس فعل سے ہم ضرور اوّل یہ خیال کریں گے کہ کوئی انسان اندر ہے جس نے اندر سے زنجیر کو لگایا ہے۔ کیونکہ باہر سے اندر کی زنجیروں کو لگانا غیر ممکن ہے۔ لیکن جب ایک مدت تک بلکہ برسوں تک باوجود بار بار آواز دینے کے اس انسان کی طرف سے کوئی آواز نہ آوے تو آخر یہ رائے ہماری کہ کوئی اندر ہے بدل جائے گی اور یہ خیال کریں گے کہ اندر کوئی نہیں بلکہ کسی حکمت عملی سے اندر کی کنڈیاں لگائی گئی ہیں۔ یہی حال ان فلاسفروں کا ہے جنہوں نے صرف فعل کے مشاہدہ پر اپنی معرفت کو ختم کر دیا ہے یا بڑی غلطی ہے جو خدا کو ایک مُردہ کی طرح سمجھا جائے جس کو قبر سے نکالنا صرف انسان کا کام ہے۔ اگر خدا ایسا ہے جو صرف انسانی کوشش نے اُس کا پتہ لگایا ہے تو ایسے خدا کی نسبت ہماری سب اُمیدیں عبث ہیں۔ بلکہ خدا تو وہی ہے جو ہمیشہ سے اور قدیم سے آپ اَنَا المَوْجُوْد کہہ کر لوگوں کو اپنی طرف بلاتا رہا ہے۔ یہ بڑی گستاخی ہو گی کہ ہم ایسا خیال کریں کہ اس کی معرفت میں انسان کا احسان اس پر ہے۔ اور اگر فلاسفر نہ ہوتے تو گویا وہ گم کا گم ہی رہتا۔ اور یہ کہنا کہ خدا کیونکر بول سکتا ہے۔ کیا اس کی زبان ہے؟ یہ بھی ایک بڑی بے باکی ہے۔ کیا اُس نے جسمانی ہاتھوں کے بغیر تمام آسمانی اجرام اور زمین کو نہیں بنایا۔ کیا وہ جسمانی آنکھوں کے بغیر تمام دنیا کو نہیں دیکھتا۔ کیا وہ جسمانی کانوں کے بغیر ہماری آوازیں نہیں سُنتا۔ پس کیا یہ ضروری نہ تھا کہ اسی طرح وہ کلام بھی کرے۔ یہ بات بھی ہرگز صحیح نہیں ہے کہ خدا کا کلام کرنا آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گیا ہے۔ ہم اس کے کلام اور مخاطبات پر کسی زمانہ تک مہر نہیں لگاتے۔ بے شک وہ اب بھی ڈھونڈنے والوں کو الہامی چشمہ سے مالا مال کرنے کو طیار ہے جیسا کہ پہلے تھا۔ اور اب بھی اس کے فیضان کے ایسے دروازے کھلے ہیں جیسے کہ پہلے تھے۔ ہاں ضرورتوں کے ختم ہونے پر شریعتیں اور حدود ختم ہو گئیں اور تمام رسالتیں اور نبوتیں اپنے آخری نقطہ پر آ کر جو ہمارے سید و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تھا کمال کو پہونچ گئیں۔
(اسلامی اصول کی فلاسفی۔ روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۳۶۳ تا ۳۶۷)حقیقی خدا دانی تمام اسی میں منحصر ہے کہ اُس زندہ خدا تک رسائی ہو جائے کہ جو اپنے مقرب انسانوں سے نہایت صفائی سے ہم کلام ہوتا ہے اور اپنی پُرشوکت اور لذیذ کلام سے اُن کو تسلّی اور سکینت بخشتا ہے۔ اور جس طرح ایک انسان دوسرے انسان سے بولتا ہے ایسا ہی یقینی طور پر جو بکلّی شک و شبہ سے پاک ہے اُن سے باتیں کرتا ہے اُن کی بات سُنتا ہے اور اُس کا جواب دیتا ہے اور اُن کی دعاؤں کو سُن کر دُعا کے قبول کرنے سے ان کو اطلاع بخشتا ہے اور ایک طرف لذیذ اور پُرشوکت قول سے اور دوسری طرف معجزانہ فعل سے اور اپنے قوی اور زبردست نشانوں سے اُن پر ثابت کر دیتا ہے کہ مَیں ہی خدا ہوں۔ وہ اوّل پیشگوئی کے طور پر اُن سے اپنی حمایت اور نصرت اور خاص طور کی دستگیری کے وعدے کرتا ہے اور پھر دوسری طرف اپنے وعدوں کی عظمت بڑھانے کے لئے ایک دنیا کو اُن کے مخالف کر دیتا ہے اور وہ لوگ اپنی تمام طاقت اور تمام مکرو فریب اور ہر ایک قسم کے منصوبوں سے کوشش کرتے ہیں کہ خدا کے اُن وعدوں کو ٹال دیں جو اس کے اُن مقبول بندوں کی حمایت اور نصرت اور غلبہ کے بارے میں ہیں اور خدا ان تمام کوششوں کو برباد کرتا ہے۔ وہ شرارت کی تخم ریزی کرتے ہیں اور خدا اس کی جڑ باہر پھینکتا ہے۔ وہ آگ لگاتے ہیں اور خدا اس کو بُجھا دیتا ہے۔ وہ ناخنوں تک زور لگاتے ہیں۔ آخر خدا اُن کے منصوبوں کو اُنہی پر اُلٹا کر مارتا ہے۔ خدا کے مقبول اور راستباز نہایت سیدھے اور سادہ طبع اور خداتعالیٰ کے سامنے اُن بچوں کی طرح ہوتے ہیں جو ماں کی گود میں ہوں اور دنیا اُن سے دشمنی کرتی ہے کیونکہ وہ دنیا میں سے نہیں ہوتے۔ اور طرح طرح کے مکر اور فریب اُن کی بیخ کنی کے لئے کئے جاتے ہیں۔ قومیں اُن کے ایذا دینے کے لئے متفق ہو جاتی ہیں۔ اور تمام نااہل لوگ ایک ہی کمان سے ان کی طرف تیر چلاتے ہیں اور طرح طرح کے افترا اور تہمتیں لگائی جاتی ہیں تا کسی طرح وہ ہلاک ہو جائیں اور ان کا نشان نہ رہے مگر آخر خدا ئے تعالیٰ اپنی باتوں کو پوری کر کے دکھلا دیتا ہے۔ اسی طرح اُن کی زندگی میں یہ معاملہ اُن سے جاری رہتا ہے کہ ایک طرف وہ مکالماتِ صحیحہ واضحہ یقینیّہ سے مشرف کئے جاتے ہیں اور امورِ غیبیہ جن کا علم انسانوں کی طاقت سے باہر ہے اُن پر خدائے کریم و قدیر اپنے صریح کلام کے ذریعہ سے منکشف کرتا رہتا ہے اور دوسری طرف معجزانہ افعال سے جو اُن اقوال کو سچ کر کے دکھلاتے ہیں اُن کے یقین کو نورٌ علٰی نور کیا جاتا ہے۔ اور جس قدر انسان کی طبیعت تقاضا کرتی ہے کہ خدا کی یقینی شناخت کے لئے اس قدر معرفت چاہئے وہ معرفت قولی اور فعلی تجلّی سے پوری کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک ذرّہ کے برابر بھی تاریکی درمیان نہیں رہتی۔ یہ خدا ہے جس کے ان قولی فعلی تجلّیات کے بعد جو ہزاروں انعامات اپنے اندر رکھتی ہیں اور نہایت قوی اثر دل پر کرتی ہیں انسان کو سچا اور زندہ ایمان نصیب ہوتا ہے اور ایک سچا اور پاک تعلّق خدا سے ہو کر نفسانی غلاظتیں دُور ہو جاتی ہیں۔ اور تمام کمزوریاں دُور ہو کر آسمانی روشنی کی تیز شعاعوں سے اندرونی تاریکی الوداع ہوتی ہے اور ایک عجیب تبدیلی ظہور میں آتی ہے۔
پس جو مذہب اس خدا کو جس کا ان صفات سے متصف ہونا ثابت ہے پیش نہیں کرتا اور ایمان کو صرف گذشتہ قصوں کہانیوں اور ایسی باتوں تک محدود رکھتا ہے جو دیکھنے اور کہنے میں نہیں آئی ہیں وہ مذہب ہرگز سچا مذہب نہیں ہے۔ اور ایسے فرضی خدا کی پیروی ایسی ہے کہ جیسے ایک مردہ سے توقع رکھنا کہ وہ زندوں جیسے کام کرے گا۔ ایسے خدا کا ہونا نہ ہونا برابر ہے جو ہمیشہ تازہ طور پر اپنے وجود کو آپ ثابت نہیں کرتا گویا وہ ایک بُت ہے جو نہ بولتا ہے اور نہ سُنتا ہے اور نہ سوال کا جواب دیتا ہے اور نہ اپنی قادرانہ قوت کو ایسے طور پر دکھا سکتا ہے جو ایک پکّا دہریہ بھی اس میں شک نہ کر سکے۔
(براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۱، ۳۲)وسوسہ ہشتم۔ انسان کو خدا کا ہم کلام تجویز کرنا ادب سے دُور ہے۔ فانی کو ذاتِ ازلی ابدی سے کیا نسبت۔ اور مشتِ خاک کو نور و جوب سے کیا مشابہت؟
جواب۔ یہ وہم بھی سراسر بے اصل اور پوچ ہے۔ اور اس کے قلع وقمع کے لئے انسان کو اِسی بات کا سمجھنا کافی ہے کہ جس کریم اور رحمن نے افراد ِ کاملہء بنی آدم کے دل میں اپنی معرفت کے لئے بے انتہا جوش ڈال دیا اور ایسا اپنی محبت اور اپنی اُنس اور اپنے شوق کی طرف کھینچا کہ وہ بالکل اپنی ہستی سے کھوئے گئے تو اس صورت میں یہ تجویز کرنا کہ خدا ان کا ہم کلام ہونا نہیں چاہتا اس قول کے مساوی ہے کہ گویا اُن کا تمام عشق اور محبت ہی عبث ہے اور اُن کے سارے جوش یک طرفہ خیالات ہیں۔ لیکن خیال کرنا چاہئے کہ ایسا خیال کس قدر بے ہودہ ہے۔ کیا جس نے انسان کو اپنے تقرب کی استعداد بخشی اور اپنی محبت اور عشق کے جذبات سے بے قرار کر دیا اس کے کلام کے فیضان سے اس کا طالب محروم رہ سکتا ہے؟ کیا یہ صحیح ہے کہ خدا کا عشق اور خدا کی محبت اور خدا کے لئے بے خود اور محو ہو جانا یہ سب ممکن اور جائز ہے اور خدا کی شان میں کچھ حارج نہیں۔ مگر اپنے محب صادق کے دل پر خدا کا الہام نازل ہونا غیر ممکن اور ناجائز ہے اور خدا کی شان میں حارج ہے۔ انسان کا خدا کی محبت کے بے انتہا دریا میں ڈوبنا اور پھر کسی مقام میں بس نہ کرنا اس بات پر شہادت قاطع ہے کہ اس کی عجیب الخلقت رُوح خدا کی معرفت کے لئے بنائی گئی ہے۔ پس جو چیز خدا کی معرفت کے لئے بنائی گئی ہے اگر اس کو وسیلہ معرفت کامل کا جو الہام ہے عطا نہ ہو تو یہ کہنا پڑے گا کہ خدا نے اس کو اپنی معرفت کے لئے نہیں بنایا حالانکہ اس بات سے برہمو سماج والوں کو بھی انکار نہیں کہ انسان سلیم الفطرت کی رُوح خدا کی معرفت کی بھوکی اور پیاسی ہے۔ بس اب ان کو آپ ہی سمجھنا چاہئے کہ جس حالت میں انسان صحیح الفطرت خود فطرتًا خدا کی معرفت کا طالب ہے اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ معرفت الٰہی کا ذریعہ کامل بجز الہام الٰہی اَور کوئی دوسرا امر نہیں تو اس صورت میں اگر وہ معرفت کامل کا ذریعہ غیر ممکن الحصول بلکہ اس کا تلاش کرنا دُور از ادب ہے تو خدا کی حکمت پر بڑا اعتراض ہو گا کہ اُس نے انسان کو اپنی معرفت کے لئے جوش تو دیا پر ذریعۂ معرفت عطا نہ کیا گویا جس قدر بھوک تھی اُس قدر روٹی دینا نہ چاہا۔ اور جس قدر پیاس لگا دی اس قدر پانی دینا منظور نہ ہوا۔ مگر دانشمند لوگ اس بات کو خوب سمجھتے ہیں کہ ایسا خیال سراسر خدا کی عظیم الشان رحمتوں کی نا قدر شناسی ہے۔ جس حکیم مطلق نے انسان کی ساری سعادت اس میں رکھی ہے کہ وہ اِسی دنیا میں الوہیت کی شعاعوں کو کامل طور پر دیکھے تا اس زبردست کشش سے خدا کی طرف کھینچا جائے پھر ایسے کریم اور رحیم کی نسبت یہ گمان کرنا کہ وہ انسان کو اپنی سعادتِ مطلوبہ اور اپنے مرتبۂ فطرتیہ تک پہنچانا نہیں چاہتا یہ حضراتِ برہمو کی عجب عقلمندی ہے۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد۱ صفحہ ۲۳۰ تا۲۳۲ حاشیہ نمبر۱۱)خدا نے انسانوں میں جس مطلب کا ارادہ کیا ہے پہلے سے اس مطلب کی تکمیل کے لئے تمام قوتیں خود پیدا کر رکھی ہیں مثلاً انسانی رُوحوں میں ایک قوت عشقی موجود ہے اور گو کوئی انسان اپنی غلطی سے دوسرے سے محبت کرے اور اپنے عشق کا محل کسی اَور کو ٹھہرا وے لیکن عقل سلیم بڑی آسانی سے سمجھ سکتی ہے کہ یہ قوتِ عشقی اس لئے رُوح میں رکھی گئی ہے کہ تا وہ اپنے محبوب حقیقی سے جو اس کا خدا ہے اپنے سارے دل اور ساری طاقت اور سارے جوش سے پیار کرے۔
پس کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ قوت عشقی جو انسانی رُوح میں موجود ہے جس کی موجیں ناپیدا کنار ہیں اور جس کے کمال تموّج کے وقت انسان اپنی جان سے بھی دستبردار ہونے کو طیار ہوتا ہے۔ یہ خودبخود رُوح میں قدیم سے ہے ہرگز نہیں۔ اگر خدا نے انسان اور اپنی ذات میں عاشقانہ رشتہ قائم کرنے کے لئے رُوح میں خود قوتِ عشقی پیدا کر کے یہ رشتہ آپ پیدا نہیں کیا تو گویا یہ امر اتفاقی ہے کہ پرمیشر کی خوش قسمتی سے روحوں میں قوتِ عشقی پائی گئی اور اگر اس کے مخالف کوئی اتفاق ہوتا یعنی قوتِ عشقی روحوں میں نہ پائی جاتی تو کبھی لوگوں کو پرمیشر کی طرف خیال بھی نہ آتا اور نہ پرمیشر اس میں کوئی تدبیر کر سکتا کیونکہ نیستی سے ہستی نہیں ہو سکتی لیکن ساتھ ہی اس بات کو بھی سوچنا چاہئے کہ پرمیشر کا بھگتی اور عبادت اور نیک اعمال کے لئے مؤاخذہ کرنا اِس بات پر دلیل ہے کہ اُس نے خود محبت اور اطاعت کی قوتیں انسان کی رُوح کے اندر رکھی ہیں۔ لہٰذا وہ چاہتا ہے کہ انسان جس میں خود اوس نے یہ قوتیں رکھی ہیں اس کی محبت اور اطاعت میں محو ہو جائے ورنہ پرمیشر میں یہ خواہش پیدا کیوں ہوئی کہ لوگ اس سے محبّت کریں اس کی اطاعت کریں اور اس کی مرضی کے موافق رفتار اور گفتار بناویں۔
(نسیم دعوت۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۳۸۵، ۳۸۶)قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰٮہَا
کوئی اُس پاک سے جو دل لگاوے
کرے پاک آپ کو تب اُس کو پاوے
یاد رہے کہ بندہ تو حسن معاملہ دکھلا کر اپنے صدق سے بھری ہوئی محبت ظاہر کرتا ہے مگر خدا تعالیٰ اس کے مقابلہ پر حد ہی کر دیتا ہے۔ اس کی تیز رفتار کے مقابل پر برق کی طرح اس کی طرف دوڑتا چلا آتا ہے۔ اور زمین و آسمان سے اس کے لئے نشان ظاہر کرتا ہے اور اس کے دوستوں کا دوست اور اس کے دشمنوں کا دشمن بن جاتا ہے اور اگر پچاس کروڑ انسان بھی اس کی مخالفت پر کھڑا ہو تو اُن کو ایسا ذلیل اور بے دست و پا کر دیتا ہے جیسا کہ ایک مرا ہوا کیڑا اور محض ایک شخص کی خاطر کے لئے ایک دنیا کو ہلاک کر دیتا ہے اور اپنی زمین و آسمان کو اس کے خادم بنا دیتا ہے۔ اور اس کی کلام میں برکت ڈال دیتا ہے اور اس کے تمام در و دیوار پر نور کی بارش کرتا ہے اور اس کی پوشاک میں اور اس کی خوراک میں اور اس مٹی میں بھی جس پر اس کا قدم پڑتا ہے ایک برکت رکھ دیتا ہے اور اس کو نامراد ہلاک نہیں کرتا اور ہر ایک اعتراض جو اُس پر ہو اس کا آپ جواب دیتا ہے۔ اور اس کی آنکھیں ہو جاتا ہے جن سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے کان ہو جاتا ہے جن سے وہ سُنتا ہے اور اس کی زبان ہو جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے اور اس کے پانؤں ہو جاتا ہے جن سے وہ چلتا ہے اور اس کے ہاتھ ہو جاتا ہے جن سے وہ دشمنوں پر حملہ کرتا ہے۔ وہ اس کے دشمنوں کے مقابل پر آپ نکلتا ہے۔ اور شریروں پر جو اس کو دُکھ دیتے ہیں آپ تلوار کھینچتا ہے ہر میدان میں اوس کو فتح دیتا ہے اور اپنی قضاء و قدر کے پوشیدہ راز اوس کو بتلاتا ہے۔ غرض پہلا خریدار اس کے روحانی حسن و جمال کا جو حسن معاملہ اور محبتِ ذاتیہ کے بعد پیدا ہوتا ہے خدا ہی ہے۔ پس کیا ہی بدقسمت وہ لوگ ہیں جو ایسا زمانہ پاویں اور ایسا سورج ان پر طلوع کرے اور وہ تاریکی میں بیٹھے رہیں۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۲۲۵)
روحانی قالب کے کامل ہونے کے بعد محبت ذاتیہ الٰہیہ کا شعلہ انسان کے دل پر ایک رُوح کی طرح پڑتاہے اور دائمی حضور کی حالت اس کو بخش دیتا ہے۔ کمال کو پہنچتا ہے اور تبھی روحانی حسن اپنا پورا جلوہ دکھاتا ہے لیکن یہ حسن جو روحانی حسن ہے جس کو حسن معاملہ کے ساتھ موسوم کر سکتے ہیں یہ وہ حسن ہے جو اپنی قوی کششوں کے ساتھ حُسنِ ُبشرہ سے بہت بڑھ کر ہے کیونکہ حُسنِ ُبشرہ صرف ایک یا دو شخص کے فانی عشق کا موجب ہو گا جو جلد زوال پذیر ہو جائے گا اور اس کی کشش نہایت کمزور ہو گی لیکن وہ روحانی حسن جس کو حسنِ معاملہ سے موسوم کیا گیا ہے وہ اپنی کششوں میں ایسا سخت اور زبردست ہے کہ ایک دنیا کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور زمین و آسمان کا ذرّہ ذرّہ اس کی طرف کھنچا جاتا ہے اور قبولیت دُعا کی بھی درحقیقت فلاسفی یہی ہے کہ جب ایسا روحانی حسن والا انسان جس میں محبتِ الٰہیہ کی رُوح داخل ہو جاتی ہے جب کسی غیر ممکن اور نہایت مشکل امر کے لئے دعا کرتا ہے اور اس دعا پر پورا پورا زور دیتا ہے تو چونکہ وہ اپنی ذات میں حسن روحانی رکھتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ کے امر اور اذن سے اس عالم کا ذرّہ ذرّہ اس کی طرف کھینچا جاتا ہے۔ پس ایسے اسباب جمع ہو جاتے ہیں جو اس کی کامیابی کے لئے کافی ہوں۔ تجربہ اور خدا تعالیٰ کی پاک کتاب سے ثابت ہے کہ دنیا کے ہر ایک ذرہ کو طبعاً ایسے شخص کے ساتھ ایک عشق ہوتا ہے اور اس کی دُعائیں ان تمام ذرّات کو ایسا اپنی طرف کھینچتی ہیں جیسا کہ آہن رُبا لوہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ پس غیر معمولی باتیں جن کا ذکر کسی علم طبعی اور فلسفہ میں نہیں اس کشش کی باعث ظاہر ہو جاتی ہیں اور وہ کشش طبعی ہوتی ہے۔ جب سے کہ صانع مطلق نے عالمِ اجسام کو ذرّات سے ترکیب دی ہے ہر ایک ذرّے میں وہ کشش رکھی ہے اور ہر ایک ذرّہ روحانی حسن کا عاشقِ صادق ہے۔ اور ایسا ہی ہر ایک سعید رُوح بھی کیونکہ وہ حسنِ تجلّی گاہ حق ہے۔ وہی حسن تھا جس کے لئے فرمایا اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ اور اب بھی بہتیرے ابلیس ہیں جو اس حسن کو شناخت نہیں کرتے مگر وہ حسن بڑے بڑے کام دکھلاتا رہا ہے۔
نوح میں وہی حسن تھا جس کی پاس خاطر حضرت عزّت جل شانہٗ کو منظور ہوئی اور تمام منکروں کو پانی کے عذاب سے ہلاک کیا گیا۔ پھر اس کے بعد موسٰی بھی وہی حسنِ روحانی لے کر آیا جس نے چند روز تکلیفیں اٹھا کر آخر فرعون کا بیڑا غرق کیا۔ پھر سب کے بعد سیّد الاَنبیاء و خَیرُ الوَرٰی مولانا و سیدنا حضرت محمد مصطفی صلے اللہ علیہ وسلم ایک عظیم الشان روحانی حسن لے کر آئے جس کی تعریف میں یہی آیت ِ کریمہ کافی ہے۔ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوۡسَیۡنِ اَوۡ یعنی وہ نبی جناب الٰہی کے بہت نزدیک چلا گیا اور پھر مخلوق کی طرف جھکا اور اس طرح پر دونوں حقوق کو جو حق اللہ اور حق العباد ہے ادا کر دیا اور دونوں قسم کا حسنِ روحانی ظاہر کیا۔
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصّہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد ۲۱صفحہ ۲۱۹تا۲۲۱)اُسی مضمون میں جو جلسہ میں پڑھا گیا مضمون کے پڑھنے والے نے یہ بیان کیا کہ پرمیشر غضب اور کینہ اور بغض اور حسد سے الگ ہے۔ شاید اس تقریر سے اس کا یہ مطلب ہے کہ قرآن شریف میں خداتعالیٰ کی نسبت غضب کا لفظ آیا ہے تو گویا وہ اپنے اس مضمون میں قرآن شریف کے مقابل پر وید کو اس تعلیم سے مبّرا کرتاہے کہ خدا غضب بھی کیا کرتا ہے مگر یہ اس کی سراسر غلطی ہے۔ یاد رہے کہ قرآن شریف میں کسی بے جا اور ظالمانہ غضب کی طرف خدا تعالیٰ کو منسوب نہیں کیا گیا بلکہ مطلب صرف اس قدر ہے کہ بوجہ نہایت پاکیزگی اور تقدس کے خدا تعالیٰ میں ہم رنگ غضب ایک صفت ہے اور وہ صفت تقاضا کرتی ہے کہ نافرمان کو جو سرکشی سے باز نہیں آتا اس کی سزا دی جائے اور ایک دوسری صفت ہم رنگ محبت ہے اور وہ تقاضا کرتی ہے کہ فرمانبردار کو اس کی اطاعت کی جزا دی جائے۔ پس سمجھانے کے لئے پہلی صفت کا نام غضب اور دوسری صفت کا نام محبت رکھا گیا ہے۔ لیکن نہ وہ غضب انسانی غضب کی طرح ہے اور نہ وہ محبت انسانی محبت کی طرح جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے۔ یعنی خدا کی ذات اور صفات کی مانند کوئی چیز نہیں۔ بھلا ہم پوچھتے ہیں کہ آریوں کے وید کی رو سے ان کا پرمیشر کیوں گنہگاروں کو سزا دیتا ہے۔ یہاں تک کہ انسانی جون سے بہت نیچے پھینک کر کُتا، سؤر، بندر، بلّا بنا دیتا ہے آخر اُس میں ایک ایسی صفت ماننی پڑتی ہے کہ جو اس فعل کے لئے وہ محرک ہو جاتی ہے۔ اسی صفت کا نام قرآن شریف میں غضب ہے …… اگر اُس میں اس قسم کی صفت موجودنہیں کہ وہ تقاضا کرتی ہے کہ پرمیشر گنہگاروں کو سزا دے تو پھر کیوں پرمیشر کی طبیعت سزا دینے کی طرف متوجہ ہوتی ہے؟ آخر اس میں ایک صفت ہے جو بدلہ دینے کے لئے توجہ دلاتی ہے۔ پس اسی صفت کا نام غضب ہے۔ لیکن وہ غضب نہ انسان کے غضب کی مانند ہے بلکہ خدا کی شان کی مانند۔ اِسی غضب کا ذکر قرآن شریف میں موجود ہے۔ … جب وہ ایک اچھے عمل کرنے والے پر اپنا انعام و اکرام وارد کرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اُس نے اس سے محبت کی اور جب وہ ایک بُرا عمل کرنے والے کو سزا دیتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اُس نے اُس پر غضب کیا غرض جیسا کہ ویدوں میں غضب کا ذکر ہے ایسا ہی قرآن شریف میں بھی ذکر ہے۔ صرف یہ فرق ہے کہ ویدوں نے خدا کے غضب کو اس حد تک پہنچا دیا کہ یہ تجویز کیا کہ وہ شدت غضب کی وجہ سے انسانوں کو گنہ کی وجہ سے کیڑے مکوڑے بنا دیتا ہے مگر قرآن شریف نے خدا تعالیٰ کے غضب کو اس حد تک نہیں پہنچایا بلکہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ خدا باوجود سزا دینے کے پھر بھی انسان کو انسان ہی رکھتا ہے کسی اَور جون میں نہیں ڈالتا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن شریف کی رو سے خدا تعالیٰ کی محبت اور رحمت اس کے غضب سے بڑھ کر ہے۔ اور وید کے رو سے گنہگاروں کی سزا ناپیدا کنار ہے اور پرمیشر میں غضب ہی غضب ہے رحمت کا نام و نشان نہیں مگر قرآن شریف سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ انجام کار دوزخیوں پر ایسا زمانہ آوے گا کہ خدا سب پر رحم فرمائے گا۔ (چشمۂ معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳صفحہ ۴۶ تا ۵۰)
اِنجیل میں ہے کہ تم اس طرح دعا کرو کہ اے ہمارے باپ کہ جو آسمان پر ہے تیرے نام کی تقدیس ہو۔ تیری بادشاہت آوے تیری مرضی جیسی آسمان پر ہے زمین پر آوے۔ ہماری روزانہ روٹی آج ہمیں بخش اور جس طرح ہم اپنے قرضداروں کو بخشتے ہیں تو اپنے قرض کو ہمیں بخش دے اور ہمیں آزمائش میں نہ ڈال بلکہ برائی سے بچا کیونکہ بادشاہت اور قدرت اور جلال ہمیشہ تیرے ہی ہیں۔ مگر قرآن کہتا ہے کہ یہ نہیں کہ زمین تقدیس سے خالی ہے بلکہ زمین پر بھی خدا کی تقدیس ہو رہی ہے نہ صرف آسمان پر جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَاِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمۡدِہٖ یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ یعنی ذرّہ ذرّہ زمین کا اور آسمان کا خدا کی تحمید اور تقدیس کر رہا ہے اور جو کچھ اُن میں ہے وہ تحمید اور تقدیس میں مشغول ہے، پہاڑ اوس کے ذکر میں مشغول ہیں، دریا اوس کے ذکر میں مشغول ہیں۔ درخت اس کے ذکر میں مشغول ہیں۔ اور بہت سے راستباز اس کے ذکر میں مشغول ہیں اور جو شخص دل اور زبان کے ساتھ اس کے ذکر میں مشغول نہیں اور خدا کے آگے فروتنی نہیں کرتا اس سے طرح طرح کے شکنجوں اور عذابوں سے قضا و قدر الٰہی فروتنی کر ارہی ہے اور جو کچھ فرشتوں کے بارے میں خدا کی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ نہایت درجہ اطاعت کر رہے ہیں یہی تعریف زمین کے پات پات اور ذرّہ ذرّہ کی نسبت قرآن شریف میں موجود ہے کہ ہر ایک چیز اوس کی اطاعت کر رہی ہے۔ ایک پتہ بھی بجز اس کے امر کے گر نہیں سکتا اور بجز اس کے حکم کے نہ کوئی دوا شفا دے سکتی ہے اور نہ کوئی غذا موافق ہو سکتی ہے اور ہر ایک چیز غایت درجہ کے تذلل اور عبودیّت سے خدا کے آستانہ پر گِری ہوئی ہے اور اس کی فرمانبرداری میں مستغرق ہے۔ پہاڑوں اور زمین کا ذرّہ ذرّہ اور دریاؤں اور سمندروں کا قطرہ قطرہ اور درختوں اور بوٹیوں کا پات پات اور ہر ایک جز اُن کا اور انسان اور حیوانات کے کل ذرّات خدا کو پہچانتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی تحمید و تقدیس میں مشغول ہیں اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ یعنی جیسے آسمان پر ہر یک چیز خدا کی تسبیح و تقدیس کر رہی ہے ویسے زمین پر بھی ہر ایک چیز اس کی تسبیح و تقدیس کرتی ہے۔ پس کیا زمین پر خدا کی تحمید و تقدیس نہیں ہوتی؟ ایسا کلمہ ایک کامل عارف کے مُنہ سے نہیں نکل سکتا بلکہ زمین کی چیزوں میں سے کوئی چیز تو شریعت کے احکام کی اطاعت کر رہی ہے اور کوئی چیز قضا و قدر کے احکام کے تابع ہے اور کوئی دونوں کی اطاعت میں کمربستہ ہے۔ کیا بادل، کیا ہوا، کیا آگ، کیا زمین سب خدا کی اطاعت اور تقدیس میں محو ہیں۔ اگر کوئی انسان الٰہی شریعت کے احکام کا سرکش ہے تو الٰہی قضا و قدر کے حکم کا تابع ہے۔ ان دونوں حکومتوں سے باہر کوئی نہیں۔ کسی نہ کسی آسمانی حکومت کا جُوا ہر ایک کی گردن پر ہے۔ ہاں البتہ انسانی دلوں کی اصلاح اور فساد کے لحاظ سے غفلت اور ذکر الٰہی نوبت بہ نوبت زمین پر اپنا غلبہ کرتے ہیں مگر بغیر خدا کی حکمت اور مصلحت کے یہ مدّ و جزر خود بخودنہیں۔ خدا نے چاہا کہ زمین میں ایسا ہو سو ہو گیا۔ سو ہدایت اور ضلالت کا دَور بھی دن رات کے دور کی طرح خدا کے قانون اور اذن کے موافق چل رہا ہے نہ خود بخود باوجود اس کے ہر ایک چیز اس کی آواز سُنتی ہے اور اس کی پاکی یاد کرتی ہے مگر انجیل کہتی ہے کہ زمین خدا کی تقدیس سے خالی ہے۔ اس کا سبب اس انجیلی دُعا کے اگلے فقرہ میں بطور اشارہ بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ ابھی اوس میں خدا کی بادشاہت نہیں آئی۔ اس لئے حکومت نہ ہونے کی وجہ سے نہ کسی اور وجہ سے خدا کی مرضی ایسے طور سے زمین پر نافذ نہیں ہو سکی جیسا کہ آسمان پر نافذ ہے مگر قرآن کی تعلیم سراسر اس کے برخلاف ہے وہ تو صاف لفظوں میں کہتا ہے کہ کوئی چور، خونی، زانی، کافر، فاسق، سرکش، جرائم پیشہ کسی قسم کی بدی زمین پر نہیں کر سکتا جب تک کہ آسمان پر سے اس کو اختیار نہ دیا جائے۔ پس کیونکر کہا جائے کہ آسمانی بادشاہت زمین پر نہیں۔ کیا کوئی مخالف قبضہ زمین پر خدا کے احکام کے جاری ہونے سے مزاحم ہے۔ سبحان اللہ! ایسا ہرگز نہیں بلکہ خدا نے خود آسمان پر فرشتوں کے لئے جدا قانون بنایا اور زمین پر انسانوں کے لئے جُدا اور خدا نے اپنی آسمانی بادشاہت میں فرشتوں کو کوئی اختیار نہیں دیا بلکہ اون کی فطرت میں ہی اطاعت کا مادہ رکھ دیا ہے وہ مخالفت کر ہی نہیں سکتے اور سہو اور نسیان ان پر واردنہیں ہو سکتا لیکن انسانی فطرت کو قبول، عدم قبول کا اختیار دیا گیا ہے اور چونکہ یہ اختیار اوپر سے دیا گیا ہے اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ فاسق انسان کے وجود سے خدا کی بادشاہت زمین سے جاتی رہی بلکہ ہر رنگ میں خدا کی ہی بادشاہت ہے۔ ہاں صرف قانون دو ہیں ایک آسمانی فرشتوں کے لئے قضا و قدر کا قانون ہے کہ وہ بدی کر ہی نہیں سکتے اور ایک زمین پر انسانوں کے لئے خدا کے قضا و قدر کے متعلق ہے اور وہ یہ کہ آسمان سے اون کو بدی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے مگر جب خدا سے طاقت طلب کریں یعنی استغفار کر یں تو رُوح القدس کی تائید سے ان کی کمزوری دُور ہو سکتی ہے اور وہ گناہ کے ارتکاب سے بچ سکتے ہیں جیسا کہ خدا کے نبی اور رسول بچتے ہیں اور اگر ایسے لوگ ہیں کہ گنہگار ہو چکے ہیں تو استغفار ان کو یہ فائدہ پہنچاتا ہے کہ گناہ کے نتائج سے یعنی عذاب سے بچائے جاتے ہیں کیونکہ نور کے آنے سے ظلمت باقی نہیں رہ سکتی۔ اور جرائم پیشہ جو استغفار نہیں کر تے یعنی خدا سے طاقت نہیں مانگتے وہ اپنے جرائم کی سزا پاتے رہتے ہیں۔ دیکھو آج کل طاعون بھی بطور سزا کے زمین پر اتری ہے اور خداکے سرکش اوس سے ہلاک ہوتے جاتے ہیں پھر کیونکر کہا جائے کہ خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں یہ خیال مت کرو کہ اگر زمین پر خدا کی بادشاہت ہے تو پھر لوگوں سے جرائم کیوں ظہور میں آتے ہیں کیونکہ جرائم بھی خدا کے قانون قضاء و قدر کے نیچے ہیں سو اگرچہ وہ لوگ قانون شریعت سے باہر ہو جاتے ہیں مگر قانون تکوین یعنی قضاء و قدر سے وہ باہر نہیں ہو سکتے۔ پس کیونکر کہا جائے کہ جرائم پیشہ لوگ الٰہی سلطنت کا ُ َجوا اپنی گردن پر نہیں رکھتے …… اگر خدا کا قانون ابھی سخت ہو جائے اور ہر یک زنا کرنے والے پر بجلی پڑے اور ہریک چور کو یہ بیماری پیدا ہو کہ ہاتھ گل سڑ کر گر جائیں اور ہر یک سرکش خدا کا منکر اس کے دین کا منکر طاعون سے مرے تو ایک ہفتہ گذرنے سے پہلے ہی تمام دنیا راستبازی اور نیک بختی کی چادر پہن سکتی ہے۔ پس خدا کی زمین پر بادشاہت تو ہے لیکن آسمانی قانون کی نرمی نے اس قدر آزادی دے رکھی ہے کہ جرائم پیشہ جلدی نہیں پکڑے جاتے ہاں سزائیں بھی ملتی رہتی ہیں۔ زلزلے آتے ہیں۔ بجلیاں پڑتی ہیں۔ کوہ آتش فشاں آتش بازی کی طرح مشتعل ہو کر ہزاروں جانوں کا نقصان کرتے جاتے ہیں۔ جہاز غرق ہو تے ہیں۔ ریل گاڑیوں کے ذریعہ سے صد ہا جانیں تلف ہوتی ہیں۔ طوفان آتے ہیں۔ مکانات گرتے ہیں۔ سانپ کاٹتے ہیں۔ درندے پھاڑتے ہیں۔ وبائیں پڑتی ہیں۔ اور فنا کرنے کا نہ ایک دروازہ بلکہ ہزارہا دروازے کھلے ہیں جو مجرمین کی پاداش کے لئے خدا کے قانون قدرت نے مقرر کر رکھے ہیں۔ پھر کیونکر کہا جائے کہ خدا کی زمین پر بادشاہت نہیں۔ سچ یہی ہے کہ بادشاہت تو ہے۔ ہر ایک مجرم کے ہاتھ میں ہتھکڑیاں پڑی ہیں اور پاؤں میں زنجیر ہیں مگر حکمت الٰہی نے اس قدر اپنے قانون کو نرم کر دیا ہے کہ وہ ہتکڑیاں اور وہ زنجیریں فی الفور اپنا اثر نہیں دکھاتی ہیں اور آخر اگر انسان باز نہ آوے تو دائمی جہنم تک پہنچاتی ہیں اور اس عذاب میں ڈالتی ہیں جس سے ایک مجرم نہ زندہ رہے اور نہ مرے۔ غرض قانون دو۲ ہیں۔ ایک وہ قانون جو فرشتوں کے متعلق ہے یعنی یہ کہ وہ محض اطاعت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور اُن کی اطاعت محض فطرت روشن کا ایک خاصہ ہے۔ وہ گناہ نہیں کر سکتے مگر نیکی میں ترقی بھی نہیں کر سکتے (۲) دوسرا قانون وہ ہے جو انسانوں کے متعلق ہے۔ یعنی یہ کہ انسانوں کی فطرت میں یہ رکھا گیا ہے کہ وہ گنہ کر سکتے ہیں مگرنیکی میں ترقی بھی کر سکتے ہیں۔ یہ دونوں فطرتی قانون غیرمتبدل ہیں اور جیسا کہ فرشتہ انسان نہیں بن سکتا ہے ایسا ہی انسان بھی فرشتہ نہیں ہو سکتا ہے یہ دونوں قانون بدل نہیں سکتے ازلی اور اٹل ہیں۔ اس لئے آسمان کا قانون زمین پر نہیں آ سکتا اور نہ زمین کا قانون فرشتوں کے متعلق ہو سکتا ہے۔ انسانی خطا کاریاں اگر توبہ کے ساتھ ختم ہوں تو وہ انسان کو فرشتوں سے بہت اچھا بنا سکتی ہیں۔ کیونکہ فرشتوں میں ترقی کا مادہ نہیں انسان کے گنہ توبہ سے بخشے جاتے ہیں۔ اور حکمتِ الٰہی نے بعض افراد میں سِلسلہ خطا کاریوں کا باقی رکھا ہے تا وہ گناہ کر کے اپنی کمزوری پر اطلاع پاویں اور پھر توبہ کر کے بخشے جاویں۔ یہی قانون ہے جو انسان کے لئے مقرر کیا گیا ہے اور اسی کو انسانوں کی فطرت چاہتی ہے۔ سہو و نسیان انسانی فطرت کا خاصہ ہے فرشتہ کا خاصہ نہیں پھر وہ قانون جو فرشتوں کے متعلق ہے انسانوں میں کیونکر نافذ ہو سکے۔ یہ خطا کی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف کمزوری منسوب کی جاوے۔ صرف قانون کے نتائج ہیں جو زمین پر جاری ہو رہے ہیں۔ نعوذ باللہ کیا خدا ایسا کمزور ہے جس کی بادشاہت اور قدرت اور جلال صرف آسمان تک ہی محدود ہے یا زمین کا کوئی اَور خدا ہے جو زمین پر مخالفانہ قبضہ رکھتا ہے۔ اور عیسائیوں کو اس بات پر زور دینا اچھا نہیں کہ صرف آسمان میں ہی خدا کی بادشاہت ہے جو ابھی زمین پر نہیں آئی کیونکہ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ آسمان کچھ چیز نہیں اب ظاہر ہے کہ جبکہ آسمان کچھ چیز نہیں جس پر خدا کی بادشاہت ہو اور زمین پر ابھی خدا کی بادشاہت آئی نہیں تو گویا خدا کی بادشاہت کسی جگہ بھی نہیں۔ ماسوا اس کے ہم خدا کی زمینی بادشاہت کو بچشم خود دیکھ رہے ہیں۔ اُس کے قانون کے موافق ہماری عمریں ختم ہو جاتی ہیں اور ہماری حالتیں بدلتی رہتی ہیں اور صد ہا رنگ کے راحت اور رنج ہم دیکھتے ہیں۔ ہزار ہا لوگ خدا کے حکم سے مرتے ہیں اور ہزار ہا پیدا ہوتے ہیں۔ دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ نشان ظاہر ہوتے ہیں۔ زمین ہزار ہا قسم کے نباتات اور پھل اور پھول اس کے حکم سے پیدا کرتی ہے تو کیا یہ سب کچھ خدا کی بادشاہت کے بغیر ہو رہا ہے بلکہ آسمانی اجرام تو ایک ہی صورت اور منوال پر چلے آتے ہیں۔ اور ان میں تغییر و تبدیل جس سے ایک مغیّر مبدل کا پتہ ملتا ہو کچھ محسوس نہیں ہوتی مگر زمین ہزار ہا تغیرات اور انقلابات اور تبّدلات کا نشانہ ہو رہی ہے۔ ہر روز کروڑ ہا انسان دنیا سے گذرتے ہیں اور کروڑ ہا پیدا ہوتے ہیں اور ہر ایک پہلو اور ہر ایک طور سے ایک مقتدر صانع کا تصرف محسوس ہو رہا ہے تو کیا ابھی تک خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں اور انجیل نے اس پر کوئی دلیل پیش نہیں کی کہ کیوں ابھی تک خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں آئی۔ البتہ مسیح کا باغ میں اپنے بچ جانے کے لئے ساری رات دعا کرنا اور دُعا قبول بھی ہو جانا جیسا کہ عبرانیاں ۵ آیت ۷ میں لکھا ہے۔ مگر پھر بھی خدا کا اس کے چھڑانے پر قادر نہ ہونا یہ بزعم عیسائیاں ایک دلیل ہو سکتی ہے کہ اس زمانہ میں خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں تھی۔ مگر ہم نے اس سے بڑھ کر ابتلا دیکھے ہیں اور اُن سے نجات پائی ہے ہم کیونکر خدا کی بادشاہت کا انکار کر سکتے ہیں۔ کیا وہ خون کا مقدمہ جو میرے قتل کرنے کے لئے مارٹن کلارک کی طرف سے عدالت کپتان ڈگلس میں پیش ہوا تھا۔ وہ اوس مقدمہ سے کچھ خفیف تھا جو محض مذہبی اختلاف کی وجہ سے نہ کسی خون کے اتہام سے یہودیوں کی طرف سے عدالت پیلاطوس میں دائر کیا گیا تھا مگر چونکہ خدا زمین کا بھی بادشاہ ہے جیسا کہ آسمان کا اس لئے اس نے اس مقدمہ کی پہلے سے مجھے خبر دیدی کہ یہ ابتلا آنے والا ہے اور پھر خبر دے دی کہ مَیں تم کو بری کروں گا اور وہ خبر صد ہا انسانوں کو قبل از وقت سنائی گئی۔ اور آخر مجھے بری کیا گیا۔ پس یہ خدا کی بادشاہت تھی جس نے اس مقدمہ سے مجھے بچالیا جو مسلمانو ں اور ہندوؤں اور عیسائیوں کے اتفاق سے مجھ پر کھڑا کیا گیا تھا۔ ایسا ہی نہ ایک دفعہ بلکہ بیسیوں دفعہ مَیں نے خدا کی بادشاہت کو زمین پر دیکھا اور مجھے خدا کی اس آیت پر ایمان لانا پڑا کہ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ یعنی زمین پر بھی خدا کی بادشاہت ہے اور آسمان پر بھی اور پھر اس آیت پرایمان لانا پڑا کہ اِنَّمَاۤ اَمۡرُہٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیۡئًا اَنۡ یَّقُوۡلَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ یعنی تمام زمین و آسمان اس کی اطاعت کر رہے ہیں۔ جب ایک کام کو چاہتا ہے تو کہتا ہے کہ ہو جا تو فی الفور وہ کام ہو جاتا ہے اور پھر فرماتا ہے وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰۤی اَمۡرِہٖ وَلٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ یعنی خدا اپنے ارادہ پر غالب ہے مگر اکثر لوگ خدا کے قہر اور جبروت سے بے خبر ہیں۔
غرض یہ تو انجیل کی دُعا ہے جو انسانو ں کو خدا کی رحمت سے نومید کرتی ہے اور اس کی ربوبیت اور افاضہ اور جزا سزا سے عیسائیوں کو بے باک کرتی ہے اور اس کو زمین پر مدد دینے کے قابل نہیں جانتی جب تک اس کی بادشاہت زمین پر نہ آوے لیکن اس کے مقابل پر جو دُعا خدا نے مسلمانوں کو قرآن میں سکھلائی ہے وہ اس بات کو پیش کرتی ہے کہ زمین پر خُدا مسلوب السلطنت لوگوں کی طرح بے کار نہیں ہے بلکہ اس کا سلسلۂ ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت اور مجازات زمین پر جاری ہے اور وہ اپنے عابدوں کو مدد دینے کی طاقت رکھتا ہے اور مجرموں کو اپنے غضب سے ہلاک کر سکتا ہے۔ وہ دعا یہ ہے۔
ترجمہ: وہ خدا ہی ہے جو تمام تعریفوں کا مستحق ہے یعنی اس کی بادشاہت میں کوئی نقص نہیں اور اس کی خوبیوں کے لئے کوئی ایسی حالت منتظرہ باقی نہیں جو آج نہیں مگر کل حاصل ہو گی اور اس کی بادشاہت کے لوازم میں سے کوئی چیز بے کار نہیں تمام عالموں کی پرورش کر رہا ہے۔ بغیر عوض اعمال کے رحمت کرتا ہے اور نیز بعوض اعمال رحمت کرتا ہے۔ جزا سزا وقت مقررہ پر دیتا ہے۔ اُسی کی ہم عبادت کرتے ہیں اور اسی سے ہم مدد چاہتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ ہمیں تمام نعمتوں کی راہیں دکھلا اور غضب کی راہوں اور ضلالت کی راہوں سے دُور رکھ۔
یہ دعا جو سورۃ فاتحہ میں ہے انجیل کی دُعا سے بالکل نقیض ہے کیونکہ انجیل میں زمین پر خدا کی موجودہ بادشاہت ہونے سے انکار کیا گیا ہے۔ پس انجیل کے رو سے نہ زمین پر خدا کی ربوبیت کچھ کام کر رہی ہے نہ رحمانیّت نہ رحیمیّت نہ قدرت جزا سزا کیونکہ ابھی زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں آئی۔ مگر سورۃ فاتحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر خدا کی بادشاہت موجود ہے۔ اِسی لئے سورۃ فاتحہ میں تمام لوازم بادشاہت کے بیان کئے گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ بادشاہ میں یہ صفات ہونی چاہئیں کہ وہ لوگوں کی پرورش پر قدرت رکھتا ہو۔ سو سورۃ فاتحہ میں ربّ العالمین کے لفظ سے اس صفت کو ثابت کیا گیا ہے۔ پھر دوسری صفت بادشاہ کی یہ چاہئے کہ جو کچھ اس کی رعایا کو اپنی آبادی کے لئے ضروری سامان کی حاجت ہے وہ بغیر عوض ان کی خدمات کے خود رحم خسروانہ سے بجا لاوے سو الرَّحمٰن کے لفظ سے اس صفت کو ثابت کر دیا ہے۔ تیسری صفت بادشاہ میں یہ چاہئے کہ جن کاموں کو اپنی کوشش سے رعایا انجام تک نہ پہنچا سکے ان کے انجام کے لئے مناسب طور پر مدد دے۔ سو الرَّحیم کے لفظ سے اس صفت کو ثابت کیا ہے۔ چوتھی صفت بادشاہ میں یہ چاہئے کہ جزا و سزا پر قادر ہوتا سیاست مدنی کے کام میں خلل نہ پڑے۔ سو مَالک یوم الدِّین کے لفظ سے اس صفت کو ظاہر کر دیا ہے۔ خلاصہ کام یہ کہ سورۃ موصوفہ بالا نے تمام وہ لوازم بادشاہت پیش کئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ زمین پر خدا کی بادشاہت اور بادشاہی تصرفات موجود ہیں ……… سنو اور سمجھو کہ بڑی معرفت یہی ہے کہ زمین کا ذرّہ ذرّہ بھی ایسا ہی خدا کے قبضۂ اقتدار میں ہے جیسا کہ آسمان کا ذرّہ ذرّہ خدا کی بادشاہت میں ہے۔ اور جیسا کہ آسمان پر ایک عظیم الشان تجلّی ہے زمین پر بھی ایک عظیم الشان تجلّی ہے بلکہ آسمان کی تجلّی تو ایک ایمانی امر ہے۔ عام انسان نہ آسمان پر گئے نہ اوس کا مشاہدہ کیا مگر زمین پر جو خدا کی بادشاہت کی تجلّی ہے وہ تو صریح ہر ایک شخص کو آنکھوں سے نظر آ رہی ہے۔ ہر ایک انسان خواہ کیسا ہی دولت مند ہو اپنی خواہش کے مخالف موت کا پیالہ پیتا ہے۔ پس دیکھو اس شاہ حقیقی کے حکم کی کیسی زمین پر تجلّی ہے کہ جب حکم آ جاتا ہے تو کوئی اپنی موت کو ایک سیکنڈ بھی روک نہیں سکتا۔ ہر ایک خبیث اور ناقابلِ علاج مرض جب دامن گیر ہوتی ہے تو کوئی طبیب ڈاکٹر اس کو دُور نہیں کر سکتا۔ پس غور کرو یہ کیسی خدا کی بادشاہت کی زمین پر تجلّی ہے جو اس کے حکم ردّ نہیں ہو سکتے۔ پھر کیونکر کہا جائے کہ زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں بلکہ آئندہ کسی زمانہ میں آئے گی۔ دیکھو اسی زمانہ میں خدا کے آسمانی حکم نے طاعون کے ساتھ زمین کو ہلا دیا تا اس کے مسیح موعود کے لئے ایک نشان ہو پس کون ہے جو اس کی مرضی کے سوا اس کو دُور کر سکے پس کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ ابھی زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں۔ ہاں ایک بدکار قیدیوں کی طرح اس کی زمین میں زندگی بسر کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ کبھی نہ مرے لیکن خدا کی سچی بادشاہت اس کو ہلاک کر دیتی ہے اور وہ آخر پنجۂ ملک الموت میں گرفتا ر ہو جاتا ہے۔ پھر کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ ابھی تک خدا کی زمین پر بادشاہت نہیں۔ دیکھو زمین پر ہر روز خد اکے حکم سے ایک ساعت میں کروڑ ہا انسان مر جاتے ہیں اور کروڑ ہا اوس کے ارادہ سے پیدا ہو جاتے ہیں اور کروڑ ہا اُس کی مرضی سے فقیر سے امیر اور امیر سے فقیر ہو جاتے ہیں پھر کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ ابھی تک زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں۔ آسمانوں پر تو فرشتے رہتے ہیں مگر زمین پر آدمی بھی ہیں اور فرشتے بھی جو خدا کے کارکن ہیں اور اس کی سلطنت کے خادم ہیں جو انسانوں کے مختلف کاموں کے محافظ چھوڑے گئے ہیں اور وہ ہر وقت خدا کی اطاعت کرتے ہیں اور اپنی رپورٹیں بھیجتے رہتے ہیں۔ پس کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں بلکہ خدا سب سے زیادہ اپنی زمینی بادشاہت سے پہچانا گیا ہے کیونکہ ہر ایک شخص خیال کرتا ہے کہ آسمان کا راز مخفی اور غیر مشہود ہے۔ بلکہ حال کے زمانہ میں قریبًا تمام عیسائی اور ان کے فلاسفر آسمانوں کے وجود کے ہی قائل نہیں جن پر خدا کی بادشاہت کا انجیلوں میں سارا مدار رکھا گیا ہے مگر زمین تو فی الواقع ایک کرّہ ہمارے پاؤں کے نیچے ہے۔ اور ہزار ہا قضا و قدر کے امور اس پر ظاہر ہو رہے ہیں جو خود سمجھ آتا ہے کہ یہ سب کچھ تغیّر و تبدّل اور حدوث اور فنا کسی خاص مالک کے حکم سے ہو رہا ہے پھر کیونکر کہا جائے کہ زمین پر ابھی خدا کی بادشاہت نہیں …ہمارے خدائے عزّ و جلّنے سورۃ فاتحہ میں نہ آسمان کا نام لیا نہ زمین کا۔ اور یہ کہہ کر حقیقت سے ہمیں خبر دے دی کہ وہ رب العالمین ہے یعنی جہاں تک آبادیاں ہیں اور جہاں تک کسی قسم کی مخلوق کا وجود موجود ہے۔ خواہ اجسام خواہ ارواح ان سب کا پیدا کرنے والا اور پرورش کرنے والا خدا ہے جو ہر وقت ان کی پرورش کرتا ہے اور ان کے مناسب حال ان کا انتظام کر رہا ہے۔ اور تمام عالموں پر ہر وقت ہر دم اس کا سلسلۂ ربوبیّت اور رحمانیّت اور رحیمیّت اور جزا سزا کا جاری ہے۔ اور یاد رہے کہ سورۃ فاتحہ میں فقرہ مَالک یوم الدِّین سے صرف یہ مرادنہیں ہے کہ قیامت کو جزا سزا ہو گی بلکہ قرآن شریف میں بار بار اور صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ قیامت تو مجازات کُبریٰ کا وقت ہے۔ مگر ایک قسم کی مجازات اسی دنیا میں شروع ہے جس کی طرف آیت یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ فُرۡقَانًا اشارہ کرتی ہے۔
(کشتی نوح۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۳۲ تا ۴۲)واضح ہو کہ قرآن شریف کی تعلیم کی رُو سے خدا جیسا کہ آسمان پر ہے زمین پر بھی ہے جیسا کہ اوس نے فرمایا وَہُوَ الَّذِیۡ فِی السَّمَآءِ اِلٰہٌ وَّفِی الۡاَرۡضِ اِلٰہٌ یعنی زمین میں وہی خدا ہے اور وہی آسمان میں خدا۔ اور فرمایا کہ کسی پوشیدہ مشورہ میں تین آدمی نہیں ہوتے جن کے ساتھ چوتھا خدا نہیں ہوتا اور فرمایا کہ وہ غیر محدود ہے جیسا کہ اس آیت میں لکھا ہے لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ ۫ وَہُوَ یُدۡرِکُ الۡاَبۡصَارَ یعنی آنکھیں اس کے انتہا کو نہیں پا سکتیں اور وہ آنکھوں کے انتہا تک پہنچتا ہے۔ ایسا ہی خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِیۡدِ یعنی ہم انسان کی شاہ رگ سے بھی زیادہ اس سے نزدیک ہیں۔ اور یہ بھی ایک جگہ فرمایا کہ خدا ہر ایک چیز پر محیط ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اَنَّ اللّٰہَ یَحُوۡلُ بَیۡنَ الۡمَرۡءِ وَقَلۡبِہٖ یعنی خدا وہ ہے جو انسان اور اُس کے دل میں حائل ہو جاتا ہے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ اَللّٰہُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ یعنی خدا وہ ہے جو زمین اور آسمان میں اسی کے چہرہ کی چمک ہے اور اس کے بغیر سب تاریکی ہے اور یہ بھی فرمایا کہ کُلُّ مَنۡ عَلَیۡہَا فَانٍ وَّیَبۡقٰی وَجۡہُ رَبِّکَ ذُو الۡجَلٰلِ وَالۡاِکۡرَامِ یعنی ہر ایک وجود ہلاک ہونے والا اور تغیّر پذیر ہے اور وہ جو باقی رہنے والا ہے وہی خدا ہے یعنی ہر ایک چیز فنا کو قبول کرتی ہے اور تغیّر قبول کرتی ہے مگر انسانی فطرت اس بات کے ماننے کے لئے مجبور ہے کہ اس تمام عالم ارضی اور سماوی میں ایک ایسی ذات بھی ہے کہ جب سب پر فنا اور تغیّر وارد ہو اس پر تغیّر اور فنا واردنہیں ہو گی۔ وہ اپنے حال پر باقی رہتا ہے وہی خدا ہے لیکن چونکہ زمین پر گناہ اور معصیت اور ناپاک کام بھی ظاہرہوتے ہیں اور خدا کو صرف زمین تک محدود رکھنے والے آخر کار بُت پرست اور مخلوق پرست ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ تمام ہندو ہو گئے۔
اس لئے قرآن شریف میں ایک طرف تو یہ بیان کیا کہ خدا کا اپنی مخلوق سے شدید تعلق ہے اور وہ ہر ایک جان کی جان ہے اور ہر ایک ہستی اُس کے سہارے سے ہے۔ پھر دوسری طرف اس غلطی سے محفوظ رکھنے کے لئے کہ تا اس کے تعلق سے جو انسان کے ساتھ ہے کوئی شخص انسان کو اس کا عین ہی نہ سمجھ بیٹھے جیسا کہ ویدانت والے سمجھتے ہیں۔ یہ بھی فرما دیا کہ وہ سب سے برتر اور تمام مخلوقات سے وراء الوراء مقام پر ہے جس کو شریعت کی اصطلاح میں عرش کہتے ہیں۔ اور عرش کوئی مخلوق چیز نہیں ہے صرف وراء الوراء مرتبہ کا نام ہے نہ یہ کہ کوئی ایسا تخت ہے جس پر خدا تعالیٰ کو انسان کی طرح بیٹھا ہوا تصوّر کیا جائے بلکہ جو مخلوق سے بہت دور اور تنزہ اور تقدس کا مقام ہے اس کو عرش کہتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ سب کے ساتھ خالقیت اور مخلوقیت کا تعلّق قائم کر کے پھر عرش پر قائم ہو گیا یعنی تمام تعلقات کے بعد الگ کا الگ رہا اور مخلوق کے ساتھ مخلوط نہیں ہوا۔
غرض خدا کا انسان کے ساتھ ہونا اور ہر ایک چیز پر محیط ہونا یہ خدا کی تشبیہی صفت ہے۔ اور خدا نے قرآن شریف میں اس لئے اس صفت کا ذکر کیا ہے کہ تا وہ انسان پر اپنا قرب ثابت کرے اور خدا کا تمام مخلوقات سے وراء الوراء ہونا اور سب سے برتر اور اعلیٰ اور دُور تر ہونا اور اس تنزّہ اور تقدّس کے مقام پر ہونا جو مخلوقیت سے دُور ہے جو عرش کے نام سے پکارا جاتا ہے اس صفت کا نام تنزیہی صفت ہے اور خدا نے قرآن شریف میں اس لئے اس صفت کا ذکر کیا تا وہ اس سے اپنی توحید اور اپنا وحدہٗ لاشریک ہونا اور مخلوق کی صفات سے اپنی ذات کا منزہ ہونا ثابت کرے۔ دوسری قوموں نے خدا تعالیٰ کی ذات کی نسبت یا تو تنزیہی صفت اختیار کی ہے یعنی نرگن کے نام سے پکارا ہے اور یا اس کو سرگن مان کر ایسی تشبیہ قرار دی ہے کہ گویا وہ عین مخلوقات ہے اور ان دونوں صفات کو جمع نہیں کیا۔ مگر خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ان دونوں صفات کے آئینہ میں اپنا چہرہ دکھلایا ہے اور یہی کمالِ توحید ہے۔
(چشمہء معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۹۷ تا۹۹)مسلمانوں کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ عرش کوئی جسمانی اور مخلوق چیز ہے جس پر خدا بیٹھا ہوا ہے تمام قرآن شریف کو اوّل سے آخر تک پڑھو اوس میں ہرگز نہیں پاؤ گے کہ عرش بھی کوئی چیز محدود اور مخلوق ہے۔ خدا نے باربار قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ ہر ایک چیز جو کوئی وجود رکھتی ہے اس کا میں ہی پیدا کرنے والا ہوں۔ مَیں ہی زمین آسمان اور روحوں اور اُن کی تمام قوتوں کا خالق ہوں۔ مَیں اپنی ذات میں آپ قائم ہوں اور ہر ایک چیز میرے ساتھ قائم ہے۔ ہر ایک ذرّہ اور ہر ایک چیز جو موجود ہے وہ میری ہی پیدائش ہے مگر کہیں نہیں فرمایا کہ عرش بھی کوئی جسمانی چیز ہے جس کا میں پیدا کرنے والا ہوں۔ ……… قرآن شریف میں لفظ عرش کا جہاں جہاں استعمال ہوا ہے۔ اُس سے مراد خدا کی عظمت اور جبروت اور بلندی ہے۔ اسی وجہ سے اس کو مخلوق چیزوں میں داخل نہیں کیا اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کے مظہر چار ہیں جو وید کے رُو سے چار دیوتے کہلاتے ہیں مگر قرآنی اصطلاح کی رُو سے اون کا نام فرشتے بھی ہے۔ (نسیم دعوت۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۴۵۳ تا۴۵۶)
عرش سے مراد قرآن شریف میں وہ مقام ہے جو تشبیہی مرتبہ سے بالاتر اور ہر ایک عالم سے برتر اور نہاں در نہاں اور تقدّس اور تنزّہ کا مقام ہے وہ کوئی ایسی جگہ نہیں کہ پتھر یا اینٹ یا کسی اور چیز سے بنائی گئی ہو اور خدا اُس پر بیٹھا ہوا ہے۔ اِسی لئے عرش کو غیر مخلوق کہتے ہیں اور خدا تعالیٰ جیسا کہ یہ فرماتا ہے کہ کبھی وہ مومن کے دل پر اپنی تجلّی کرتا ہے ایسا ہی وہ فرماتا ہے کہ عرش پر اُس کی تجلّی ہوتی ہے اور صاف طور پر فرماتا ہے کہ ہر ایک چیز کو مَیں نے اٹھایا ہوا ہے۔ یہ کہیں نہیں کہا کہ کسی چیز نے مجھے بھی اٹھایا ہوا ہے اور عرش جو ہر ایک عالم سے برتر مقام ہے وہ اُس کی تنزیہی صفت کا مظہر ہے اور ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ ازل سے اور قدیم سے خدا میں دو صفتیں ہیں۔ ایک صفت تشبیہی دوسری صفت تنزیہی اور چونکہ خدا کے کلام میں دونوں صفات کا بیان کرنا ضروری تھا یعنی ایک تشبیہی صفت اور دوسری تنزیہی صفت۔ اِس لئے خدا نے تشبیہی صفات کے اظہار کے لئے اپنے ہاتھ، آنکھ، محبت، غضب وغیرہ صفات قرآن شریف میں بیان فرمائے اور پھر جبکہ احتمال تشبیہ کا پیدا ہوا تو بعض جگہ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ کہہ دیا اور بعض جگہ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ کہہ دیا جیسا کہ سورۃ رعد جزو نمبر ۱۱ میں بھی یہ آیت ہے۔ اَللّٰہُ الَّذِیۡ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَہَا ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ (ترجمہ) تمہارا خدا وہ خدا ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے بلند کیا جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو اور پھر اُس نے عرش پر قرار پکڑا۔ اس آیت کے ظاہری معنی کی رو سے اس جگہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پہلے خدا کا عرش پر قرار نہ تھا؟ اس کا یہی جواب ہے کہ عرش کوئی جسمانی چیز نہیں ہے بلکہ وراء الوراء ہونے کی ایک حالت ہے جو اس کی صفت ہے پس جبکہ خدا نے زمین و آسمان اور ہر ایک چیز کو پیدا کیا اور ظلّی طور پر اپنے نور سے سورج چاند اور ستاروں کو نور بخشا اور انسان کو بھی استعارہ کے طور پر اپنی شکل پر پیدا کیا اور اپنے اخلاقِ کریمہ اُس میں پھونک دیئے تو اِس طور سے خدا نے اپنے لئے ایک تشبیہہ قائم کی مگر چونکہ وہ ہر ایک تشبیہہ سے پاک ہے اس لئے عرش پر قرار پکڑنے سے اپنے تنزہ کا ذکر کردیا۔ خلاصہ یہ کہ وہ سب کچھ پیدا کر کے پھر مخلوق کا عین نہیں ہے بلکہ سب سے الگ اور وراء الوراء مقام پر ہے۔ (چشمۂ معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۲۷۶، ۲۷۷)
ایک اور اعتراض مخالف لوگ پیش کرتے ہیں۔ اور وہ یہ کہ قرآن شریف کے بعض مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔ جس سے اشارۃ النص کے طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں چار فرشتے عرش کو اٹھاتے ہیں۔ اور اب اس جگہ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ تو اس بات سے پاک اور برتر ہے کہ کوئی اُس کے عرش کو اٹھا وے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ابھی تم سُن چکے ہو کہ عرش کوئی جسمانی چیز نہیں ہے جو اٹھائی جائے یا اٹھانے کے لائق ہو بلکہ صرف تنزہ اور تقدس کے مقام کا نام عرش ہے۔ اِسی لئے اس کو غیر مخلوق کہتے ہیں۔ ورنہ ایک مجسم چیز خدا کی خالقیت سے کیونکر باہر رہ سکتی ہے۔ اور عرش کی نسبت جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ سب استعارات ہیں۔ پس اسی سے ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ ایسا اعتراض محض حماقت ہے۔ اب ہم فرشتوں کے اٹھانے کا اصل نکتہ ناظرین کو سُناتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے تنزہ کے مقام میں یعنی اس مقام میں جبکہ اس کی صفت تنزہ اس کی تمام صفات کو روپوش کر کے اس کو وراء الوراء اور نہاں در نہاں کر دیتی ہے جس مقام کا نام قرآن شریف کی اصطلاح میں عرش ہے تب خدا عقولِ انسانیہ سے بالاتر ہو جاتا ہے اور عقل کو طاقت نہیں رہتی کہ اس کو دریافت کر سکے تب اس کی چار صفتیں جن کو چار فرشتوں کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ جو دنیا میں ظاہر ہو چکی ہیں اس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہیں۔
(۱) اوّل ربوبیّت جس کے ذریعہ سے وہ انسان کی روحانی اور جسمانی تکمیل کرتا ہے چنانچہ رُوح اور جسم کا ظہور ربوبیت کے تقاضا سے ہے۔ اور اسی طرح خدا کا کلام نازل ہونا اور اس کے خارق عادت نشان ظہور میں آنا ربوبیت کے تقاضا سے ہے۔
(۲) دوم خدا کی رحمانیّت جو ظہور میں آ چکی ہے۔ یعنی جو کچھ اس نے بغیر پاداش اعمال بے شمار نعمتیں انسان کے لئے میسر کی ہیں۔ یہ صفت بھی اس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے۔
(۳) تیسری خدا کی رحیمیّت ہے اور وہ یہ کہ نیک عمل کرنے والوں کو اوّل تو صفت رحمانیت کے تقاضا سے نیک اعمال کی طاقتیں بخشتا ہے اور پھر صفت رحیمیت کے تقاضا سے نیک اعمال اُن سے ظہور میں لاتا ہے اور اس طرح پر ان کو آفات سے بچاتا ہے۔ یہ صفت بھی اس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے۔
(۴) چوتھی صفت مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن ہے۔ یہ بھی اس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا دیتا ہے۔
یہ چاروں صفتیں ہیں جو اس کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں یعنی اس کے پوشیدہ وجود کا ان صفات کے ذریعہ سے اِس دنیا میں پتہ لگتا ہے۔ اور یہ معرفت عالم آخرت میں دو چند ہو جائے گی گویا بجائے چا۴ر کے آٹھ۸ فرشتے ہو جائیں گے۔
(چشمہء معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۲۷۸، ۲۷۹)توحید ایک نور ہے جو آفاقی و انفسی معبودوں کی نفی کے بعد دل میں پیدا ہوتا ہے اور وجود کے ذرّہ ذرّہ میں سرایت کر جاتا ہے پس وہ بجز خدا اور اس کے رسول کے ذریعہ کے محض اپنی طاقت سے کیونکر حاصل ہو سکتا ہے۔ انسان کا فقط یہ کام ہے کہ اپنی خودی پر موت وارد کرے اور اس شیطانی نخوت کو چھوڑ دے کہ مَیں علوم میں پرورش یافتہ ہوں اور ایک جاہل کی طرح اپنے تئیں تصور کرے اور دعا میں لگا رہے تب توحید کا نور خدا کی طرف سے اس پر نازل ہو گا۔ اور ایک نئی زندگی اس کو بخشے گا۔ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۴۸)
پس چونکہ قدیم سے اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے خدا کا شناخت کرنا نبی کے شناخت کرنے سے وابستہ ہے۔ اس لئے یہ خود غیر ممکن اور محال ہے کہ بجز ذریعۂ نبی کے توحید مل سکے۔ نبی خدا کی صورت دیکھنے کا آئینہ ہوتا ہے اسی آئینہ کے ذریعہ سے خدا کاچہرہ نظر آتا ہے جب خدا تعالیٰ اپنے تئیں دنیا پر ظاہر کرنا چاہتا ہے تو نبی کو جو اس کی قدرتوں کا مظہر ہے دنیا میں بھیجتا ہے اور اپنی وحی اس پر نازل کرتا ہے اور اپنی ربوبیت کی طاقتیں اس کے ذریعہ سے دکھلاتا ہے۔ تب دنیا کو پتہ لگتا ہے کہ خدا موجود ہے۔ پس جن لوگوں کا وجود ضروری طور پر خدا کے قدیم قانون ازلی کے رو سے خدا شناسی کے لئے ذریعہ مقرر ہو چکا ہے اُن پر ایمان لانا توحید کی ایک جزو ہے اور بجز اس ایمان کے توحید کامل نہیں ہو سکتی کیونکہ ممکن نہیں کہ بغیر اُن آسمانی نشانوں اور قدرت نما عجائبات کے جو نبی دکھلاتے ہیں اور معرفت تک پہنچاتے ہیں وہ خالص توحید جو چشمۂ یقین کامل سے پیدا ہوتی ہے میسر آ سکے۔ وہی ایک قوم ہے جو خدا نما ہے جن کے ذریعہ سے وہ خدا جس کا وجود دقیق در دقیق اور مخفی در مخفی اور غیب الغیب ہے ظاہر ہوتا ہے۔ اور ہمیشہ سے وہ کنز مخفی جس کا نام خدا ہے نبیوں کے ذریعہ سے ہی شناخت کیا گیا ہے۔ ورنہ وہ توحید جو خدا کے نزدیک توحید کہلاتی ہے جس پر عملی رنگ کامل طو رپر چڑھا ہوا ہوتا ہے اس کا حاصل ہونا بغیر ذریعہ نبی کے جیسا کہ خلاف عقل ہے ویسا ہی خلاف تجارب سالکین ہے۔ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۱۵، ۱۱۶)
یاد رہے کہ حقیقی توحید جس کا اقرارخدا ہم سے چاہتا ہے اور جس کے اقرار سے نجات وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے خواہ بُت ہو خواہ انسان ہو خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکر فریب ہو منزہ سمجھنا اور اس کے مقابل پر کوئی قادر تجویز نہ کرنا۔ کوئی رازق نہ ماننا۔ کوئی معزّ اور مذلّ خیال نہ کرنا۔ کوئی ناصر اور مددگار قرار نہ دینا اور دوسرے یہ کہ اپنی محبت اُسی سے خاص کرنا۔ اپنی عبادت اُسی سے خاص کرنا۔ اپنا تذلّل اُسی سے خاص کرنا۔ اپنی اُمیدیں اُسی سے خاص کرنا۔ اپنا خوف اُسی سے خاص کرنا۔ پس کوئی توحید بغیر ان تین قسم کی تخصیص کے کامل نہیں ہو سکتی۔ اوّل ذات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ اس کے وجود کے مقابل پر تمام موجودات کو معدوم کی طرح سمجھنا اور تمام کو ہالکۃ الذات اور باطلۃ الحقیقت خیال کرنا۔ دوم صفات کے لحاظ سے توحید۔ یعنی یہ کہ ربوبیّت اور الوہیّت کی صفات بُجز ذاتِ باری کسی میں قرا ر نہ دینا اور جو بظاہر ربّ الانواع یا فیض رساں نظر آتے ہیں یہ اُسی کے ہاتھ کا ایک نظام یقین کرنا۔ تیسرے اپنی محبت اور صدق اور صفا کے لحاظ سے توحید۔ یعنی محبت وغیرہ شعارِ عبودیّت میں دوسرے کو خدا تعالیٰ کا شریک نہ گرداننا اور اُسی میں کھوئے جانا۔ (سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔ روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۳۴۹، ۳۵۰)
آج کل توحید اور ہستی الٰہی پر بہت زور آور حملے ہو رہے ہیں۔ عیسائیوں نے بھی بہت کچھ زور مارا اور لکھا ہے۔ لیکن جو کچھ کہا اور لکھا وہ اسلام کے خدا کی بابت ہی لکھا ہے نہ کہ ایک مُردہ مصلوب اور عاجز خدا کی بابت۔ ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ہستی اور وجود پر قلم اٹھائے گا اس کو آخر کار اُسی خدا کی طرف آنا پڑے گا جو اسلام نے پیش کیا ہے۔ کیونکہ صحیفۂ فطرت کے ایک ایک پتّے میں اس کا پتہ ملتا ہے۔ اور بالطبع انسان اُسی خدا کا نقش اپنے اندر رکھتا ہے۔ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۵۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
حضرات عیسائی خوب یاد رکھیں کہ مسیح علیہ السلام کا نمونہ قیامت ہونا سرمو ثابت نہیں اور نہ عیسائی جی اُٹھے بلکہ مردہ اور سب مردوں سے اوّل درجہ پر اور تنگ و تاریک قبروں میں پڑے ہوئے اور شرک کے گڑھے میں گِرے ہوئے ہیں۔ نہ ایمانی رُوح اُن میں ہے نہ ایمانی رُوح کی برکت۔ بلکہ ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ توحید کا جو مخلوق پرستی سے پرہیز کرنا ہے وہ بھی اُن کو نصیب نہیں ہوا اور ایک اپنے جیسے عاجز اور ناتوان کو خالق سمجھ کر اس کی پرستش کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ توحید کے تین درجے ہیں۔ سب سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اپنے جیسی مخلوق کی پرستش نہ کریں۔ نہ پتھر کی۔ نہ آگ کی۔ نہ آدمی کی۔ نہ کسی ستارہ کی۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ اسباب پر بھی ایسے نہ گریں کہ گویا ایک قسم کا اُن کو ربوبیت کے کارخانہ میں مستقل دخیل قرار دیں۔ بلکہ ہمیشہ مسبّب پر نظر رہے نہ اسباب پر۔ تیسر۳ا درجہ توحید کا یہ ہے کہ تجلّیات الٰہیہ کا کامل مشاہدہ کر کے ہر یک غیر کے وجود کو کالعدم قرار دیں اور ایسا ہی اپنے وجود کو بھی۔ غرض ہر یک چیز نظر میں فانی دکھائی دے بجز اللہ تعالیٰ کی ذات کامل الصفات کے۔ یہی روحانی زندگی ہے کہ یہ مراتبِ ثلاثہ توحید کے حاصل ہو جائیں۔ اب غور کر کے دیکھ لو کہ رُوحانی زندگی کے تمام جاودانی چشمے محض حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی طفیل دنیا میں آئے ہیں۔ یہی اُمت ہے کہ اگرچہ نبی تو نہیں مگر نبیوں کی مانند خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہو جاتی ہے۔ اور اگر چہ رسول نہیں مگر رسولوں کی مانند خدا تعالیٰ کے روشن نشان اس کے ہاتھ پر ظاہرہوتے ہیں اور روحانی زندگی کے دریا اس میں بہتے ہیں اور کوئی نہیں کہ اس کا مقابلہ کر سکے۔ کوئی ہے کہ جو برکات اور نشانوں کے دکھلانے کے لئے مقابل میں کھڑا ہو کر ہمارے اِس دعویٰ کا جواب دے!!! (آئینۂ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵صفحہ ۲۲۳۔ ۲۲۴)
افسوس ہے کہ مجھے وہ لفظ نہیں ملے جس میں غیر اللہ کی طرف رجوع کرنے کی برائیاں بیان کر سکوں۔ لوگوں کے پاس جا کر منت خوشامد کرتے ہیں۔ یہ بات خدا تعالیٰ کی غیرت کو جوش میں لاتی ہے کیونکہ یہ تو لوگوں کی نماز ہے پس وہ اس سے ہٹتا اور اسے دُور پھینک دیتا ہے مَیں موٹے الفاظ میں اس کو بیان کرتا ہوں۔ گو یہ امر اس طرح پر نہیں ہے مگر سمجھ میں خوب آ سکتا ہے کہ جیسے ایک مرد غیّور کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اپنی بیوی کو کسی غیر کے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہوئے دیکھ سکے اور جس طرح پر وہ مرد ایسی حالت میں اس نابکار عورت کو واجب القتل سمجھتا بلکہ بسا اوقات ایسی واردتیں ہو جاتی ہیں ایسا ہی جوش اور غیرت الوہیّت کا ہے۔ عبودیت اور دعا خاص اُسی ذات کے مدّمقابل ہیں۔ وہ پسندنہیں کر سکتا کہ کسی اور کو معبود قرار دیا جائے یا پکارا جاوے۔ پس خوب یاد رکھو! اور پھر یاد رکھو! کہ غیراللہ کی طرف جُھکنا خدا سے کاٹنا ہے نماز اور توحید کچھ ہی کہو کیونکہ توحید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے، اس وقت بے برکت اور بے سود ہوتی ہے جب اس میں نیستی اور تذلّل کی رُوح اور حنیف دل نہ ہو!!! (الحکم مورخہ ۱۲؍اپریل ۱۸۹۹ء صفحہ ۶۔ ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۱۰۶، ۱۰۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
شرک کی کئی قسم ہیں ایک تو وہ موٹا اور صریح شرک ہے جس میں ہندو عیسائی یہود اور دوسرے بت پرست لوگ گرفتار ہیں۔ جس میں کسی انسان یا پتھر یا اور بے جان چیزوں یا قوتو ں یا خیالی دیویوں اور دیوتاؤں کو خدا بنا لیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ شرک ابھی تک دنیا میں موجود ہے لیکن یہ زمانہ روشنی اور تعلیم کا کچھ ایسا زمانہ ہے کہ عقلیں اس قسم کے شرک کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگ گئی ہیں۔ یہ جُدا امر ہے کہ وہ قومی مذہب کی حیثیت سے بظاہر ان بے ہودگیوں کا اقرار کریں لیکن دراصل بالطبع لوگ ان سے متنفر ہو تے جاتے ہیں۔ مگر ایک اور قسم کا شرک ہے جو مخفی طور پر زہر کی طرح اثر کر رہا ہے اور وہ اس زمانہ میں بہت بڑھتا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد بالکل نہیں رہا۔
ہم یہ ہرگز نہیں کہتے اور نہ ہمارا یہ مذہب ہے کہ اسباب کی رعایت بالکل نہ کی جاوے کیونکہ خدا تعالیٰ نے رعایت اسباب کی ترغیب دی ہے اور اس حد تک جہاں تک یہ رعایت ضروری ہے۔ اگر رعایت اسباب نہ کی جاوے تو انسانی قوتوں کی بے حرمتی کرنا اور خدا تعالیٰ کے ایک عظیم الشان فعل کی توہین کرناہے۔ کیونکہ ایسی حالت میں جبکہ بالکل رعایت اسباب کی نہ کی جاوے ضروری ہو گا کہ تمام قوتوں کو جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی ہیں بالکل بے کار چھوڑ دیا جاوے اور ان سے کوئی کام نہ لیا جاوے اور ان سے کام نہ لینا اور ان کو بے کار چھوڑ دینا خدا تعالیٰ کے فعل کو لغو اور عبث قرار دینا ہے۔ جو بہت بڑا گناہ ہے۔ پس ہمارا یہ منشا اور مذہب ہرگز نہیں کہ اسباب کی رعایت بالکل ہی نہ کی جاوے بلکہ رعایت اسباب اپنی حد تک ضروری ہے آخرت کے لئے بھی اسباب ہی ہیں۔ خدا تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری اور بدیوں سے بچنا اور دوسری نیکیوں کو اختیار کرنا اسی لئے ہے کہ اس عالم اور دوسرے عالم میں سکھ ملے تو گویا یہ نیکیاں اسباب کے قائم مقام ہیں۔
اِسی طرح پر یہ بھی خدا تعالیٰ نے منع نہیں کیا کہ دنیوی ضرورتوں کے پورا کرنے کے لئے اسباب کو اختیار کیا جاوے۔ نوکری والا نوکری کرے۔ زمینداراپنی زمینداری کے کاموں میں رہے۔ مزدور مزدوریاں کریں تا وہ اپنے عیال و اطفال اور دوسرے متعلقین اور اپنے نفس کے حقوق کو ادا کر سکیں۔ پس ایک جائز حد تک یہ سب درست ہے اور اس کو منع نہیں کیا جاتا۔ لیکن جب انسان حد سے تجاوز کر کے اسباب ہی پر پورا بھروسہ کرے اور سارا دار و مدار اسباب ہی پر جا ٹھہرے تو یہ وہ شرک ہے جو انسان کو اس کے اصل مقصد سے دور پھینک دیتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ اگر فلاں سبب نہ ہوتا تو مَیں بھوکا مر جاتا۔ یا اگر یہ جائیداد یا فلاں کام نہ ہوتا تو میرا بُرا حال ہو جاتا۔ فلاں دوست نہ ہوتا تو تکلیف ہوتی۔ یہ امور اس قسم کے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان کو ہرگز پسندنہیں کرتا کہ جائیداد یا اور اسباب و احباب پر اس قدر بھروسہ کیا جاوے کہ خدا تعالیٰ سے بکلی دُور جا پڑے۔ یہ خطرناک شرک ہے جو قرآن شریف کی تعلیم کے صریح خلاف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَفِی السَّمَآءِ رِزۡقُکُمۡ وَمَا تُوۡعَدُوۡنَ اور فرمایا وَمَنۡ یَّتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسۡبُہٗ اور فرمایا وَمَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا وَّیَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ اور فرمایا وَہُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیۡنَ قرآن شریف اس قسم کی آیتوں سے بھرا پڑا ہے کہ وہ متقیوں کا متولی اور متکفل ہوتا ہے تو پھر جب انسان اسباب پر تکیہ اور توکل کرتا ہے تو گویا خدا تعالیٰ کی ان صفات کا انکار کرتا ہے اور ان اسباب کو ان صفات سے حصہ دیتا ہے۔ اور ایک اَور خدا اپنے لئے ان اسباب کا تجویز کرتا ہے۔ چونکہ وہ ایک پہلو کی طرف جھکتا ہے۔ اس سے شرک کی طرف گویا قدم اٹھاتا ہے۔ جو لوگ حکام کی طرف جُھکے ہوئے ہیں اور اُن سے انعام یا خطاب پاتے ہیں اُن کے دل میں ان کی عظمت خدا کی سی عظمت داخل ہو جاتی ہے وہ ان کے پرستار ہو جاتے ہیں اور یہی ایک امر ہے جو توحید کا استیصال کرتا ہے اور انسان کو اس کے اصل مرکز سے ہٹا کر دُور پھینک دیتا ہے۔ پس انبیاء علیہم السلام یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اسباب اور توحید میں تناقض نہ ہونے پاوے بلکہ ہر ایک اپنے اپنے مقام پر رہے۔ اور مآل کار توحید پر جا ٹھہرے۔ وہ انسان کو یہ سکھانا چاہتے ہیں کہ ساری عزتیں سارے آرام اور حاجات بر اری کا متکفل خدا ہی ہے۔ پس اگر اس کے مقابل میں کسی اَور کو بھی قائم کیا جاوے تو صاف ظاہر ہے کہ دو ضدّوں کے تقابل سے ایک ہلاک ہو جاتی ہے۔ اس لئے مقدم ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید ہو۔ رعایت اسباب کی جاوے۔ اسباب کو خدا نہ بنایا جاوے۔ اِسی توحید سے ایک محبت خدا تعالیٰ سے پیدا ہوتی ہے جبکہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ نفع و نقصان اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ محسن حقیقی وہی ہے۔ ذرّہ ذرّہ اُسی سے ہے۔ کوئی دوسرا درمیان نہیں آتا۔ جب انسان اس پاک حالت کو حاصل کر لے تو وہ موحّد کہلاتا ہے۔ غرض ایک حالت توحید کی یہ ہے کہ انسان پتھروں یا انسانوں یا اور کسی چیز کو خدا نہ بناوے بلکہ ان کو خدا بنانے سے بیزاری اور نفرت ظاہر کرے اور دوسری حالت یہ ہے کہ رعایتِ اسباب سے نہ گذرے۔ تیسری قسم یہ ہے کہ اپنے نفس اور وجود کے اغراض کو بھی درمیان سے اٹھا دیا جاوے اور اس کی نفی کی جاوے۔ بسا اوقات انسان کے زیر نظر اپنی خوبی اور طاقت بھی ہوتی ہے کہ فلاں نیکی مَیں نے اپنی طاقت سے کی ہے۔ انسان اپنی طاقت پر ایسا بھروسہ کرتا ہے کہ ہر کام کو اپنی ہی قوت سے منسوب کرتا ہے۔ انسان موحّد تب ہوتا ہے کہ جب اپنی طاقتوں کی بھی نفی کر دے۔
(الحکم مورخہ ۳۱؍جولائی ۱۹۰۲ء صفحہ ۵، ۶۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ ۵۶ تا ۵۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)عیسائی صاحبوں کا یہ اعتقاد ہے کہ جو لوگ تثلیث کا عقیدہ اور یسوع کا کفارہ نہیں مانتے وہ ہمیشہ کے جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ ……… غیر محدود خدا کو تین اقنوم میں یا چار اقنوم میں محدود کرنا اور پھر ہر ایک اقنوم کو کامل بھی سمجھنا اور ترکیب کا محتاج بھی اور پھر خدا پر یہ روا رکھنا کہ وہ ابتدا میں کلمہ تھا۔ پھر وہی کلمہ جو خدا تھا مریم کے پیٹ میں پڑا اور اس کے خون سے مجسم ہوا اور معمولی راہ سے پیدا ہوا اور سارے دکھ خسرہ چیچک دانتوں کی تکلیف جو انسان کو ہوتی ہیں سب اٹھائے۔ آخر کو جوان ہو کر پکڑا گیا اور صلیب پر چڑھایا گیا۔ یہ نہایت گندہ شرک ہے جس میں انسان کو خدا ٹھہر ایاگیا ہے خدا اس سے پاک ہے کہ وہ کسی کے پیٹ میں پڑے اور مجسم ہو اور دشمنوں کے ہاتھ میں گرفتا ر ہو۔ انسانی فطرت اس کو قبول نہیں کر سکتی کہ خداپرایسے دُکھ کی ماراوریہ مصیبتیں پڑیں اور وہ جو تمام عظمتوں کا مالک اور تمام عزتوں کا سرچشمہ ہے اپنے لئے یہ تمام ذلتیں روا رکھے۔ عیسائی اس بات کو مانتے ہیں کہ خدا کی اس رسوائی کا یہ پہلا ہی موقعہ ہے اور اس سے پہلے اس قسم کی ذلتیں خدا نے کبھی نہیں اٹھائیں۔ کبھی یہ امر وقوع میں نہیں آیا کہ خدا بھی انسان کی طرح کسی عورت کے رحم میں نطفہ میں مخلوط ہو کر قرار پکڑ گیا ہو۔ جب سے کہ لوگوں نے خدا کا نام سنا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ بھی انسان کی طرح کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔ یہ تمام وہ باتیں ہیں جن کا عیسائیوں کو خود اقرار ہے اور اس بات کا بھی اقرار ہے کہ گو پہلے یہ تین اقنوم تین جسم علیحدہ علیحدہ نہیں رکھتے تھے مگراب اس خاص زمانہ سے جس کو اب ۱۸۹۶ برس جاتا ہے تینوں اقنوم کے لئے تین علیحدہ علیحدہ جسم مقرر ہو گئے۔ باپ کی وہ شکل ہے جو آدم کی کیونکہ اس نے آدم کو اپنی شکل پر بنایا دیکھو توریت پیدائش باب ۱ آیت ۲۷۔ اور بیٹا یسوع کی شکل پر مجسم ہوا دیکھو یوحنا باب ۱ آیت ۱، اور رُوح القدس کبوتر کی شکل پر متشکل ہوا۔ دیکھو متی باب ۳ آیت ۱۶………یہ تینوں مجسم خدا عیسائیوں کے زعم میں ہمیشہ کے لئے مجسم اور ہمیشہ کے لئے علیٰحدہ علیٰحدہ وجود رکھتے ہیں۔ اور پھر بھی یہ تینوں مل کر ایک خدا ہے لیکن اگر کوئی بتلا سکتا ہے تو ہمیں بتلا وے کہ باوجود اس دائمی تجسم اور تغیّر کے یہ تینوں ایک کیونکر ہیں۔ بھلا ہمیں کوئی ڈاکٹر مارٹن کلارک اور پادری عماد الدین اور پادری ٹھاکر داس کو باوجود ان کے علیٰحدہ علیٰحدہ جسم کے ایک کر کے تو دکھلاوے ہم دعوٰی سے کہتے ہیں کہ اگر تینوں کو کوٹ کر بھی بعض کا گوشت بعض کے ساتھ ملا دیا جاوے پھر بھی جن کو خدا نے تین بنایا تھا ہرگز ایک نہیں ہو سکیں گے۔ پھر جبکہ اس فانی جسم کے حیوان باوجود امکانِ تحلیل کے اور تفرق جسم کے ایک نہیں ہو سکتے پھر ایسے تین مجسم جن میں بموجب عقیدہ عیسائیاں تحلیل اور تفریق جائز نہیں کیونکر ایک ہو سکتے ہیں؟
یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ عیسائیوں کے یہ تین خدا بطور تین ممبر کمیٹی کے ہیں اور بزعم ان کے تینوں کی اتفاق رائے سے ہر ایک حکم نافذ ہوتا ہے یا کثرت رائے پر فیصلہ ہو جاتا ہے۔ گویا خدا کا کارخانہ بھی جمہوری سلطنت ہے اور گویا اُن کے گاڈ صاحب کو بھی شخصی سلطنت کی لیاقت نہیں۔ تمام مدار کونسل پر ہے۔ غرض عیسائیوں کا یہ مرکب خدا ہے جس نے دیکھنا ہو دیکھ لے۔
(انجام آتھم۔ روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۳۴ تا ۳۶)عیسائی مذہب توحید سے تہی دست اور محروم ہے بلکہ ان لوگوں نے سچے خدا سے منہ پھیر کر ایک نیا خدا اپنے لئے بنایا ہے جو ایک اسرائیلی عورت کا بیٹا ہے مگر کیا یہ نیا خدا ان کا قادر ہے۔ جیسا کہ اصلی خدا قادر ہے؟ اس بات کے فیصلہ کے لئے خود اس کی سرگذشت گوا ہ ہے کیونکہ اگر وہ قادر ہوتا تو یہودیوں کے ہاتھ سے ماریں نہ کھاتا۔ رومی سلطنت کی حوالات میں نہ دیا جاتا اور صلیب پر کھینچا نہ جاتا۔ اور جب یہودیوں نے کہا تھا کہ صلیب پر سے خود بخود اُتر آ ہم ابھی ایمان لے آئیں گے۔ اُس وقت اُتر آتا لیکن اس نے کسی موقعہ پر اپنی قدرت نہیں دکھلائی۔ رہے اُس کے معجزات سو واضح ہو کہ اُس کے معجزات دوسرے اکثر نبیوں کی نسبت بہت ہی کم ہیں مثلاً اگر کوئی عیسائی ایلیا نبی کے معجزات سے جو بائیبل میں مفصّل مذکور ہیں جن میں سے مُردوں کا زندہ کرنا بھی ہے مسیح ابن مریم کے معجزات سے مقابلہ کرے تو اس کو ضرور اقرار کرنا پڑے گا کہ ایلیا نبی کے معجزات شان اور شوکت اور کثرت میں مسیح ابن مریم کے معجزات سے بہت بڑھ کر ہیں۔ ہاں انجیلوں میں بار بار اس معجزہ کا ذکر ہے کہ یسوع مسیح مصر وعوں یعنی مرگی زدہ لوگوں میں سے جن نکالا کرتا تھا اور یہ بڑا معجزہ اس کا شمار کیا گیا ہے جو محققین کے نزدیک ایک ہنسی کی جگہ ہے۔ آج کل کی تحقیقات سے ثابت ہے کہ مرضِ صَرع ضعف دماغ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے یا بعض اوقات کوئی رسولی دماغ میں پیدا ہو جاتی ہے اور بعض دفعہ کسی اور مرض کا یہ عرض ہوتی ہے لیکن ان تمام محققین نے کہیں نہیں لکھا کہ اس مرض کا سبب جنّ بھی ہوا کرتے ہیں ……
مسیح کے کسی معجزہ یا طرز ولادت میں کوئی ایسا اعجوبہ نہیں کہ وہ اس کی خدائی پر دلالت کرے۔ اِسی امر کی طرف اشارہ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے مسیح کی ولادت کے ذکر کے ساتھ یحیٰی کی ولادت کا ذکر کر دیا تا معلوم کہ جیسا کہ یحیٰی کی خارق عادت ولادت ان کو انسان ہونے سے باہر نہیں لے جاتی۔ ایسا ہی مسیح ابن مریم کی ولادت اس کو خدا نہیں بناتی ……وہ ہرگز کسی بات پر قادر نہیں تھا۔ صرف ایک عاجز انسان تھا۔ اور انسانی ضعف اور لاعلمی اپنے اندر رکھتا تھا۔ اور انجیل سے ظاہر ہے کہ اس کو غیب کا علم ہرگز نہیں تھا کیونکہ وہ ایک انجیر کے درخت کی طرف پھل کھانے گیا۔ اور اُس کو معلوم نہ ہوا کہ اُس پر کوئی پھل نہیں ہے اور وہ خود اقرار کرتا ہے کہ قیامت کی خبر مجھے معلوم نہیں۔ پس اگر وہ خدا ہوتا تو ضرور قیامت کا علم اوس کو ہونا چاہئے تھا۔ اِسی طرح کوئی صفت الوہیت اوس میں موجودنہیں تھی اور کوئی ایسی بات اس میں نہیں تھی کہ دوسروں میں نہ پائی جائے۔ عیسائیوں کو اقرار ہے کہ وہ مر بھی گیا۔ پس کیسا بدقسمت وہ فرقہ ہے جس کا خدا مر جائے۔ یہ کہنا کہ پھر وہ زندہ ہو گیا تھا کوئی تسلّی کی بات نہیں۔ جس نے مر کر ثابت کر دیا کہ وہ مر بھی سکتا ہے اُس کی زندگی کا کیا اعتبار؟
(نسیم دعوت۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۳۷۸ تا۳۸۲)ایسا خدا کس کام کا جو ایک انسان کی طرح جو بڈھا ہو کر بعض قویٰ اُس کے بیکار ہو جاتے ہیں۔ امتدادِ زمانہ کی وجہ سے بعض قویٰ اُس کے بھی بیکار ہو گئے۔ اور نیز ایسا خدا کس کام کا کہ جب تک ٹکٹکی سے باندھ کر اُس کو کوڑے نہ لگیں اور اس کے منہ پر نہ تھوکا جائے اور چند روز اُس کو حوالات میں نہ رکھا جائے اور آخر اُس کو صلیب پر نہ کھینچا جائے تب تک وہ اپنے بندوں کے گناہ نہیں بخش سکتا۔ ہم تو ایسے خدا سے سخت بیزار ہیں جس پر ایک ذلیل قوم یہودیوں کی جو اپنی حکومت بھی کھو بیٹھی تھی غالب آ گئی۔ ہم اس خدا کو سچا خدا جانتے ہیں جس نے ایک مکّہ کے غریب بے کس کو اپنا نبی بنا کر اپنی قدرت اور غلبہ کا جلوہ اُسی زمانہ میں تمام جہان کو دکھا دیا۔ یہاں تک کہ جب شاہ ایران نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کے لئے اپنے سپاہی بھیجے تو اُس قادر خدا نے اپنے رسول کو فرمایا کہ سپاہیوں کو کہہ دے کہ آج رات میرے خدا نے تمہارے خداوند کو قتل کر دیا ہے۔ اب دیکھنا چاہئے کہ ایک طرف ایک شخص خدائی کا دعویٰ کرتا ہے اور اخیر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گورنمنٹ رومی کا ایک سپاہی اس کو گرفتار کر کے ایک دو گھنٹہ میں جیل خانہ میں ڈال دیتا ہے اور تمام رات کی دُعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں۔ اور دوسری طرف وہ مرد ہے کہ صرف رسالت کا دعویٰ کرتا ہے اور خدا اس کے مقابلہ پر بادشاہوں کو ہلاک کرتا ہے۔ یہ مقولہ طالبِ حق کے لئے نہایت نافع ہے کہ’’ یار غالب شو کہ تا غالب شوی ‘‘۔ ہم ایسے مذہب کو کیا کریں جو مُردہ مذہب ہے۔ ہم ایسی کتاب سے کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو مُردہ کتاب ہے۔ اور ہمیں ایسا خدا کیا فیض پہنچا سکتا ہے جو مُردہ خدا ہے۔ (چشمہء مسیحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۵۳)
جس بات کی طرف وہ بلاتے ہیں وہ نہایت ذلیل خیال اور قابلِ شرم عقیدہ ہے۔ کیا یہ بات عند العقل قبول کرنے کے لائق ہے کہ ایک عاجز مخلوق جو تمام لوازم انسانیت کے اپنے اندر رکھتا ہے خدا کہلاوے؟ کیا عقل اس بات کو مان سکتی ہے کہ مخلوق اپنے خالق کو کوڑے مارے اور خدا کے بندے اپنے قادر خدا کے مُنہ پر تھوکیں اور اُس کو پکڑیں اور اُس کو سولی دیں اور وہ خدا ہو کر اُن کے مقابلہ سے عاجز ہو؟ کیا یہ بات کسی کو سمجھ آ سکتی ہے کہ ایک شخص خدا کہلا کر تمام رات دُعا کرے اور پھر اُس کی دعا قبول نہ ہو؟ کیا کوئی دل اس بات پر اطمینان پکڑ سکتا ہے کہ خدا بھی عاجز بچوں کی طرح نو مہینے تک پیٹ میں رہے۔ اور خونِ حیض کھاوے اور آخر چیختا ہوا عورتوں کی شرمگاہ سے پیدا ہو؟ کیا کوئی عقلمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ خدا بے شمار اور بے ابتدا زمانہ کے بعد مجسم ہو جائے۔ اور ایک ٹکڑا اس کا انسان کی صورت بنے اور دوسرا کبوتر کی اور یہ جسم ہمیشہ کے لئے اُن کے گلے کا ہار ہو جائے۔ (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۸۶، ۸۷)
کِس قدر ظاہر ہے نور اس مبدء الانوار کا
بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا
چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا
کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا
اُس بہارِ حُسن کا دل میں ہمارے جوش ہے
مت کرو کچھ ذکر ہم سے ترک یا تاتار کا
ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف
جس طرف دیکھیں وہی راہ ہے ترے دیدار کا
چشمۂ خورشید میں موجیں تری مشہود ہیں
ہر ستارے میں تماشہ ہے تری چمکار کا
تونے خود روحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھڑکا نمک
اُس سے ہے شورِ محبت عاشقانِ زار کا
کیا عجب تونے ہر اک ذرّہ میں رکھے ہیں خواص
کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا
تیری قدرت کا کوئی بھی انتہا پاتا نہیں
کس سے کھل سکتا ہے پیچ اس عقدۂ دشوار کا
خوب روؤں میں ملاحت ہے ترے اس حسن کی
ہر گل و گلشن میں ہے رنگ اس تری گلزار کا
چشمِ مستِ ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے
ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خمدار کا
آنکھ کے اندھوں کو حائل ہو گئے سو سو حجاب
ورنہ تھا قبلہ ترا رُخ کافر و دیندار کا
ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اِک تیغ تیز
جن سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غمِ اغیار کا
تیرے ملنے کے لئے ہم مل گئے ہیں خاک میں
تا مگر درماں ہو کچھ اس ہجر کے آزار کا
ایک دم بھی کل نہیں پڑتی مجھے تیرے سوا
جان گھٹی جاتی ہے جیسے دل گھٹے بیمار کا
شور کیسا ہے تیرے کوچہ میں لے جلدی خبر
خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا
جو ہمارا تھا وہ اب دلبر کا سارا ہو گیا
آج ہم دلبر کے اور دلبر ہمارا ہو گیا
شکر للّٰہ مِل گیا ہم کو وہ لعلِ بے بدل
کیا ہوا گر قوم کا دل سنگِ خارا ہو گیا
حمد و ثنا اُسی کو جو ذات جاودانی
ہم سر نہیں ہے اس کا کوئی نہ کوئی ثانی
باقی وہی ہمیشہ غیر اُس کے سب ہیں فانی
غیروں سے دل لگانا جھوٹی ہے سب کہانی
سب غیر ہیں وہی ہے اِک دل کا یارجانی
دل میں مرے یہی ہے
سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
ہے پاک پاک قدرت عظمت ہے اس کی عظمت
لرزاں ہیں اہل قربت کرّوبیوں پہ ہیبت
ہے عام اس کی رحمت کیونکر ہو شکرِ نعمت
ہم سب ہیں اُس کی صنعت اُس سے کرو محبت
غیروں سے کرنا اُلفت کب چاہے اُس کی غیرت
یہ روز کر مبارک
سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
جو کچھ ہمیں ہے راحت سب اُس کی جود و منّت
اُس سے ہے دل کی بیعت دل میں ہے اس کی عظمت
بہتر ہے اس کی طاعت طاعت میں ہے سعادت
یہ روز کر مبارک
سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
سب کا وہی سہارا رحمت ہے آشکارا
ہم کو وہی پیارا دلبر وہی ہمارا
اُس بن نہیں گذارا غیر اس کے جھوٹ سارا
یہ روز کر مبارک
سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
یارب ہے تیرا احساں مَیں تیرے در پہ قرباں
تونے دیا ہے ایمان تو ہر زماں نگہباں
تیرا کرم ہے ہر آں تو ہے رحیم و رحماں
یہ روز کر مبارک
سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
کیونکر ہو شکر تیرا، تیرا ہے جو ہے میرا
تُونے ہر اِک کرم سے گھر بھر دیا ہے میرا
جب تیرا نور آیا جاتا رہا اندھیرا
یہ روز کر مبارک
سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
جگر کا ٹکڑا مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک خو تھا
وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے ہمارے دل کو حزیں بنا کر
کہا کہ آئی ہے نیند مجھ کو یہی تھا آخر کا قول لیکن
کچھ ایسے سوئے کہ پھر نہ جاگے تھکے بھی ہم پھر جگا جگا کر
برس تھے آٹھ اور کچھ مہینے کہ جب خدا نے اُسے بُلایا
بُلانے والا ہے سب سے پیارا اُسی پہ اے دل تو جاں فدا کر
وہ دیکھتا ہے غیروں سے کیوں دل لگاتے ہو
جو کچھ بُتوں میں پاتے ہو اُس میں وہ کیا نہیں
سورج پہ غور کر کے نہ پائی وہ روشنی
جب چاند کو بھی دیکھا تو اس یار سا نہیں
واحد ہے لاشریک ہے اور لازوال ہے
سب موت کا شکار ہیں اُس کو فنا نہیں
سب خیر ہے اِسی میں کہ اس سے لگاؤ دل
ڈھونڈو اُسی کو یارو! بُتوں میں وفا نہیں
اس جائے پُر عذاب سے کیوں دل لگاتے ہو
دوزخ ہے یہ مقام یہ بُستاں سرا نہیں
تجھے سب زور و قدرت ہے خدایا
تجھے پایا ہر اِک مطلب کو پایا
ہر اک عاشق نے ہے اِک بُت بنایا
ہمارے دل میں یہ دلبر سمایا
وہی آرام جاں اور دل کو بھایا
وہی جس کو کہیں رَبُّ البرایا
ہوا ظاہر وہ مجھ پر بِالْاَیَادی
فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ
مجھے اس یار سے پیوند جاں ہے
وہی جنت وہی دارالاماں ہے
بیاں اس کا کروں طاقت کہاں ہے
محبت کا تو اِک دریا رواں ہے
یہ کیا احساں ہیں تیرے میرے ہادی
فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ
تری نعمت کی کچھ قلّت نہیں ہے
تہی اس سے کوئی ساعت نہیں ہے
شمار فضل اور رحمت نہیں ہے
مجھے اب شکر کی طاقت نہیں ہے
یہ کیا احساں ترے ہیں میرے ہادی
فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ
ترے کُوچہ میں کن راہوں سے آؤں
وہ خدمت کیا ہے جس سے تجھ کو پاؤں
محبت ہے کہ جس سے کھینچا جاؤں
خدائی ہے خودی جس سے جلاؤں
محبت چیز کیا، کس کو بتاؤں
وفا کیا راز ہے کس کو سُناؤں
مَیں اس آندھی کو اب کیونکر چھپاؤں
یہی بہتر کہ خاک اپنی اڑاؤں
کہاں ہم اور کہاں دنیائے مادی
فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ
’’میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہر یک دروازہ بند ہو جاتا ہے مگر رُوح القدس کے اُترنے کا کبھی دروازہ بندنہیں ہوتا۔ تم اپنے دلوں کے دروازے کھول دو تا وہ اُن میں داخل ہو۔‘‘
کوئی قانون عاصم ہمارے پاس ایسا نہیں ہے کہ جس کے ذریعہ سے ہم لزومًا غلطی سے بچ سکیں۔ یہی باعث ہے کہ جن حکیموں نے قواعد منطق کے بنائے اور مسائل مناظرہ کے ایجاد کئے اور دلائل فلسفہ کے گھڑے وہ بھی غلطیوں میں ڈوبتے رہے اور صد ہا طور کے باطل خیال اور جھوٹا فلسفہ اور نکمّی باتیں اپنی نادانی کے یادگار میں چھوڑ گئے۔ پس اس سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ اپنی ہی تحقیقات سے جمیع امور حقّہ اور عقائد صحیحہ پر پہونچ جانا اور کہیں غلطی نہ کرنا ایک محال عادی ہے کیونکہ آج تک ہم نے کوئی فرد بشر ایسا نہیں دیکھا اور نہ سنا اور نہ کسی تاریخی کتاب میں لکھا ہوا پایا کہ جو اپنی تمام نظر اور فکر میں سہو اور خطا سے معصوم ہو۔ پس بذریعہ قیاس استقرائی کے یہ صحیح اور سچا نتیجہ نکلتا ہے کہ وجود ایسے اشخاص کا کہ جنہوں نے صرف قانون قدرت میں فکر اور غور کر کے اور اپنے ذخیرۂ کانشنس کو واقعات عالم سے مطابقت دے کر اپنی تحقیقات کو ایسے اعلیٰ پایۂ صداقت پر پہونچا دیا ہو کہ جس میں غلطی کا نکلنا غیر ممکن ہو۔ خود عادتًا غیر ممکن ہو۔ …… صاف ظاہر ہے کہ جس حالت میں نہ خود انسان اپنے علم اور واقفیت سے غلطی سے بچ سکے اور نہ خدا (جو رحیم و کریم اور ہر ایک سہو و خطا سے مبرّا اور ہر امر کی اصل حقیقت پر واقف ہے) بذریعہ اپنے سچے الہام کے اپنے بندوں کی مدد کرے تو پھر ہم عاجز بندے کیونکر ظلماتِ جہل اور خطا سے باہر آویں اور کیونکر آفات شک شبہ سے نجات پائیں۔ لہٰذا میں مستحکم رائے سے یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ مقتضائِ حکمت اور رحمت اور بندہ پروری اُس قادر مطلق کا یہی ہے کہ وقتاً فوقتاً جب مصلحت دیکھے ایسے لوگوں کو پیدا کرتا رہے کہ عقائد حقہ کے جاننے اور اخلاقِ صحیحہ کے معلوم کرنے میں خدا کی طرف سے الہام پائیں اور تفہیم تعلیم کا ملکہ وہبی رکھیں تاکہ نفوس بشریہ کہ سچی ہدایت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اپنی سعادت مطلوبہ سے محروم نہ رہیں۔ (پُرانی تحریریں۔ روحانی خزائن جلد ۲صفحہ ۲۰، ۲۱)
خدائے تعالیٰ نے اپنے عجیب عالم کو تین حصہ پرمنقسم کر رکھا ہے۔
(۱) عالم ظاہر جو آنکھوں اور کانوں اور دیگر حواس ظاہری کے ذریعہ اور آلات خارجی کے توسّل سے محسوس ہو سکتا ہے۔
(۲) عالم باطن جو عقل اور قیاس کے ذریعہ سے سمجھ میں آ سکتا ہے۔
(۳) عالم باطن در باطن جو ایسا نازک اور لایدرک و فوق الخیالات عالم ہے جو تھوڑے ہیں جو اس سے خبر رکھتے ہیں۔ وہ عالم غیب محض ہے جس تک پہنچنے کے لئے عقلوں کو طاقت نہیں دی گئی مگر ظنّ محض۔ اور اس عالم پر کشف اور وحی اور الہام کے ذریعہ سے اِطلاع ملتی ہے نہ اَور کسی ذریعہ سے۔ اور جیسی عادت اللہ بدیہی طور پر ثابت اور متحقق ہے کہ اُس نے ان دو پہلے عالموں کے دریافت کرنے کے لئے جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے انسان کو طرح طرح کے حواس و قوتیں عنایت کی ہیں اسی طرح اس تیسرے عالم کے دریافت کرنے کے لئے بھی اس فیّاضِ مطلق نے انسان کے لئے ایک ذریعہ رکھا ہے اور وہ ذریعہ وحی اور الہام اور کشف ہے جو کسی زمانہ میں بکلی بند اور موقوف نہیں رہ سکتا بلکہ اس کے شرائط بجا لانے والے ہمیشہ اس کو پاتے رہے ہیں اور ہمیشہ پاتے رہیں گے۔ چونکہ انسان ترقیات غیر محدودہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور خدا تعالیٰ بھی عیب بخل و امساک سے بکلی پاک ہے پس اس قوی دلیل سے ایسا خیال بڑا ناپاک خیال ہے جو یہ سمجھا جائے جو خدائے تعالیٰ نے انسان کے دل میں تینوں عالموں کے اسرار معلوم کرنے کا شوق ڈال کر پھر تیسرے عالم کے وسائل وصول سے بکلّی اس کو محروم رکھا ہے۔ پس یہ وہ دلیل ہے جس سے دانشمند لوگ دائمی طور پر الہام اور کشف کی ضرورت کو یقین کر لیتے ہیں۔ اور آریوں کی طرح چار رشیوں پر الہام کو ختم نہیں کرتے جن کی مانند کوئی پانچواں اس کمال تک پہنچنا اُن کی نظر عجیب میں ممکن ہی نہیں بلکہ عقلمند لوگ خدا تعالیٰ کے فیّاضِ مطلق ہونے پر ایمان لا کر الہامی دروازوں کو ہمیشہ کھلا سمجھتے ہیں۔ اور کسی ولایت اور ملک سے اس کو مخصوص نہیں رکھتے۔ ہاں اس صراط مستقیم سے مخصوص رکھتے ہیں جس پر ٹھیک ٹھیک چلنے سے یہ برکات حاصل ہوتے ہیں کیونکہ ہر یک چیز کے حصول کے لئے یہ لازم پڑا ہوا ہے کہ انہی قواعد اور طریقوں پر عمل کیا جائے جن کی پابندی سے وہ چیز مل سکتی ہے۔ غرض عقلمند لوگ عالم کشف کے عجائبات سے انکار نہیں کرتے بلکہ انہیں ماننا پڑتا ہے کہ جس جَوَّادِ مُطْلَق نے عالم اوّل کے ادنیٰ ادنیٰ امور کے دریافت کرنے کے لئے انسان کو حواس اور طاقتیں عنایت کی ہیں وہ تیسرے عالم کے معظم اور عالیشان امور کے دریافت سے جس سے حقیقی اور کامل تعلّق خدا تعالیٰ سے پیدا ہوتا ہے اور سچّی اور یقینی معرفت حاصل ہو کر اِسی دنیا میں انوارِ نجات نمایاں ہو جاتے ہیں کیوں انسان کو محروم رکھتابے شک یہ طریق بھی دوسرے دونوں طریقوں کی طرح کھلا ہوا ہے اور صادق لوگ بڑے زور سے اس پر قدم مارتے ہیں اور اس کو پاتے ہیں۔ اور اس کے ثمرات حاصل کرتے ہیں۔ عجائبات اس عالم ثالث کے بے انتہاء ہیں۔ اور اس کے مقابل پر دوسرے عالم ایسے ہیں جیسے آفتاب کے مقابل پر ایک دانہ خشخاش۔ اِس بات پر زور لگانا کہ اس عالم کے اسرار عقلی طاقت سے بکلّی منکشف ہو جائیں یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک انسان آنکھوں کو بند کر کے مثلاً اس بات پر زور لگائے کہ وہ قابلِ رؤیت چیزوں کو قوّت شامّہ کے ذریعہ سے دیکھ لے۔ بلکہ عجائبات عالم باطن درباطن سے عقل ایسی حیران ہے کہ کچھ دم نہیں مار سکتی کہ یہ کیا بھید ہے۔ رُوحوں کی پیدائش پر انسان کیوں تعجب کرے اِسی دنیا میں صاحب کشف پر ایسے ایسے اسرار ظاہر ہوتے ہیں کہ اُن کی کُنہ کو سمجھنے میں بکلّی عقل عاجز رہ جاتی ہے۔ بعض اوقات صاحب کشف صد ہا کوسوں کے فاصلہ سے باوجود حائل ہونے بے شمار حجابوں کے ایک چیز کو صاف صاف دیکھ لیتا ہے۔ بلکہ بعض اوقات عین بیداری میں باذنہٖ تعالیٰ اس کی آواز بھی سُن لیتا ہے اور اِس سے زیادہ تر تعجب کی یہ بات ہے کہ بعض اوقات وہ شخص بھی اس کی آواز سُن لیتا ہے جس کی صورت اُس پر منکشف ہوئی ہے۔ بعض اوقات صاحب کشف اپنے عالم کشف میں جو بیداری سے نہایت مشابہ ہے ارواحِ گذشتہ سے ملاقات کرتا ہے اور عام طور پر ملاقات ہر یک نیک بخت رُوح یا بدبخت رُوح کے کشفِ قبور کے طور پر ہو سکتی ہے۔ چنانچہ خود اِس میں مؤلف رسالہ ہذا صاحب تجربہ ہے۔ اور یہ امر ہندوؤں کے مسئلہ تناسخ کی بیخ کنی کرنے والا ہے۔ اور سب سے تعجب کا یہ مقام ہے کہ بعض اوقات صاحب کشف اپنی توجہ اور قوتِ تاثیر سے ایک دوسرے شخص پر باوجود صد ہا کوسوں کے فاصلہ کے باذنہٖ تعالیٰ عالم بیداری میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ حالانکہ اس کا وجود عنصری اپنے مقام سے جنبش نہیں کرتا اور عقل کے زور سے ایک چیز کا دو جگہ ہونا محال ہے۔ سو وہ محال اس عالم ثالث میں ممکن الوقوع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح صد ہا عجائبات کو عارف بچشم خود دیکھتا ہے۔ اور ان کو رباطنوں کے انکار سے تعجب پر تعجب کرتا ہے جو اس عالم ثالث کے عجائبات سے قطعًا منکر ہیں۔ راقم رسالہ ہذا نے اِس عالم ثالث کے عجائبات اور نادر مکاشفات کو قریب پانچ ہزار کے بچشم خود دیکھا اور اپنے ذاتی تجربہ سے مشاہدہ کیا اور اپنے نفس پر انہیں وارد ہوتے پایا ہے۔ اگر ان سب کی تفصیل لکھی جائے تو ایک بڑی بھاری کتاب تالیف ہو سکتی ہے۔ ان سب عجائبات میں سے ایک بڑی عجیب بات یہ ثابت ہوئی ہے کہ بعض کشفی امور جن کا خارج میں نام و نشان نہیں محض قدرت غیبی سے وجود خارجی پکڑ لیتے ہیں۔ اگرچہ صاحب فتوحات و فصوص و دیگر اکثر اکابر متصوفین نے اس بارے میں بہت سے اپنے خود گذشت قصّے اپنی تالیفات میں لکھے ہیں لیکن چونکہ دید و شنید میں فرق ہے اس لئے مجردّ ان قصّوں کی سماعت سے ہم کو وہ کیفیت یقینی حاصل نہیں ہو سکتی تھی جو اپنے ذاتی مشاہدہ سے حاصل ہوئی۔ ایک مرتبہ مجھے یاد ہے کہ مَیں نے عالم کشف میں دیکھا کہ بعض احکام قضاء و قدر مَیں نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہیں کہ آئندہ زمانہ میں ایسا ہو گا اور پھر اس کو دستخط کرانے کے لئے خداوند قادر مطلق جلّ شانہٗ کے سامنے پیش کیا ہے (اور یاد رکھنا چاہئے کہ مکاشفات اور رؤیا صالحہ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بعض صفاتِ جمالیہ یا جلالیہ الٰہیہ انسان کی شکل پر متمثل ہو کر صاحب کشف کو نظر آ جاتے ہیں اور مجازی طور پر وہ یہی خیال کرتا ہے کہ وہی خداوند قادرِ مطلق ہے۔ اور یہ امر ارباب کشوف میں شائع و متعارف و معلوم الحقیقت ہے جس سے کوئی صاحب کشف انکار نہیں کر سکتا) غرض وہی صفت جمالی جو بعالم کشف قوتِمتخیلہ کے آگے ایسی دکھلائی دی تھی جو خداوند قادر مطلق ہے۔ اس ذات بیچون و بے چگون کے آگے وہ کتاب قضا ء و قدر پیش کی گئی اور اُس نے جو ایک حاکم کی شکل پر متمثل تھا اپنے قلم کو سُرخی کی دوات میں ڈبو کر اوّل اس سُرخی کو اس عاجز کی طرف چھڑکا اور بقیّہ سُرخی کا قلم کے مُنہ میں رہ گیا اس سے اس کتاب پر دستخط کر دیئے۔ اور ساتھ ہی وہ حالتِ کشفیہ دُور ہو گئی اور آنکھ کھول کر جب خارج میں دیکھا تو کئی قطرات سُرخی کے تازہ بتازہ کپڑوں پر پڑے چنانچہ ایک صاحب عبداللہ نام جو سنور ریاست پٹیالہ کے رہنے والے تھے اور اس وقت اس عاجز کے پاس نزدیک ہو کر بیٹھے ہوئے تھے دو یا تین قطرہ سُرخی کے اُن کی ٹوپی پر پڑے۔ پس وہ سُرخی جو ایک امر کشفی تھا وجود خارجی پکڑ کر نظر آ گئی۔ اِسی طرح اور کوئی مکاشفات میں جن کا لکھنا موجب تطویل ہے مشاہدہ کیا گیا ہے اور اپنے ذاتی تجارب سے ثابت ہو گیا جو بلاشبہ امور کشفیہ کبھی کبھی باذنہٖ تعالیٰ وجود خارجی پکڑتے ہیں۔ یہ امور عقل کے ذریعہ سے ہرگز ذہن نشین نہیں ہو سکتے بلکہ جو شخص عقل کے گھمنڈ اور غرور میں پھنسا ہوا ہے وہ ایسی باتوں کو سُنتا ہے نہایت تکبّر سے کہے گا کہ یہ سراسر امر محال اور خیال باطل ہے اور ایسا کہنے والا یا تو دروغ گو ہے یا دیوانہ یا اس کو سادہ لوحی کی وجہ سے دھوکہ لگا ہے اور بباعث نقصان تحقیق بات کی تہ تک پہنچنے سے محروم رہ گیا ہے لیکن افسوس تو یہ ہے کہ ان عقلمندوں کو کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ وہ امور جن کی صداقت پر ہزار ہا عارف وراستباز اپنے ذاتی تجارب سے شہادتیں دے گئے ہیں اور اب بھی دیتے ہیں اور صحبت گزین پر ثابت کر دینے کے لئے بفضلہ تعالیٰ اپنی ذ مہ داری لیتے ہیں کیا وہ ایسے خفیف امور ہیں جو صرف منکرانہ زبان ہلانے سے باطل ہو سکتے ہیں اور حق بات تو یہ ہے کہ عالم کشف کے عجائبات تو ایک طرف رہے جو عالم عقل ہے یعنی جس عالم تک عقل کی رسائی ہونا ممکن ہے اس عالم کا بھی ابھی تک عقل نے تصفیہ نہیں کیا اور لاکھوں اسرارِ الٰہی پردۂ غیب میں دبے پڑے ہیں جن کی عقلمندوں کو ہوا تک نہیں پہنچی۔
(سرمہ چشم آریہ۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۷۵تا۱۸۱ حاشیہ)خدا ئے تعالیٰ نے جیسے انسان کی فطرت میں مبادی امور کے کسی قدر سمجھنے کے لئے ایک عقلی قوت رکھی ہے اِسی طرح انسان میں کشف اور الہام کے پانے کی بھی ایک قوت مخفی ہے۔ جب عقل انسانی اپنی حد مقررہ تک چل کر آگے قدم رکھنے سے رہ جاتی ہے تو اس جگہ خدائے تعالیٰ اپنے صادق اور وفادار بندوں کو کمال عرفان اور یقین تک پہنچانے کی غرض سے الہام اور کشف سے دستگیری فرماتا ہے۔ اور جو منزلیں بذریعہ عقل طے کرنے سے رہ گئی تھیں اب وہ بذریعہ کشف اور الہام طے ہو جاتی ہیں اور سالکین مرتبہ عین الیقین بلکہ حق الیقین تک پہنچ جاتے ہیں یہی سنت اللہ اور عادت اللہ ہے جس کی رہنمائی کے لئے تمام پاک نبی دنیا میں آئے ہیں اور جس پر چلنے کے بغیر کوئی شخص سچی اور کامل معرفت تک نہیں پہنچا۔ مگر کم بخت خشک فلسفی کو کچھ ایسی جلدی ہوتی ہے کہ وہ یہی چاہتا ہے کہ جو کچھ کھلنا ہے وہ عقلی مرتبہ پر ہی کھل جائے اور نہیں جانتا کہ عقل انسانی اپنی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتی اور نہ طاقت سے آگے قدم رکھ سکتی ہے اور نہ اس بات کی طرف فکردوڑاتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے انسان کو اس کے کمالاتِ مطلوبہ تک پہنچانے کے لئے صرف جوہر عقل ہی عطا نہیں کیا بلکہ کشف اور الہام پانے کی قوت بھی اُس کی فطرت میں رکھی ہے سو جو کچھ خدائے تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ سے وسائل خدا شناسی انسان کی سرشت کو عطا کئے ہیں ان وسائل میں سے صرف ایک ابتدائی اور ادنیٰ درجہ کے وسیلہ کو استعمال میں لانا اور باقی وسائل خدا شناسی سے بکلّی بے خبر رہنا بڑی بھاری بدنصیبی ہے۔ اور اِن قوتوں کو ہمیشہ بے کار رکھ کر ضائع کر دینا اور ان سے فائدہ نہ اُٹھانا پرلے درجہ کی بے سمجھی ہے۔ سو ایسا شخص سچا فلسفی ہرگز نہیں ہو سکتا کہ جو کشف اور الہام پانے کی قوت کو معطل اور بے کار چھوڑتا ہے بلکہ اس سے انکار کرتا ہے حالانکہ ہزاروں مقدسوں کی شہادت سے کشف اور الہام کا پایا جانا بپایۂ ثبوت پہنچ چکا ہے اور تمام سچے عارف اسی طریق سے معرفت کاملہ تک پہنچے ہیں۔ (سرمہ چشم آریہ۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۸۷ تا۹۰ مقدمہ)
بعض خشک ملاؤں کو یہاں تک انکار میں غلوّ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ مکالماتِ الٰہیہ کا دروازہ ہی بند ہے اور اس بدقسمت امت کے یہ نصیب ہی نہیں کہ یہ نعمت حاصل کر کے اپنے ایمان کو کامل کرے اور پھر کشش ایمانی سے اعمال صالح کو بجا لاوے۔
ایسے خیالات کا یہ جواب ہے کہ اگر یہ امت درحقیقت ایسی ہی بدبخت اور اندھی اور شرّ الامم ہے تو خدا نے کیوں اس کا نام خیر الامم رکھا بلکہ سچ بات یہ ہے کہ وہی لوگ احمق اور نادان ہیں کہ جو ایسے خیالات رکھتے ہیں ورنہ جس طرح خدا تعالیٰ نے اس اُمت کو وہ دعا سکھلائی ہے جو سورۃ فاتحہ میں ہے ساتھ ہی اُس نے یہ ارادہ بھی فرمایا ہے کہ اس امت کو وہ نعمت عطا بھی کرے جو نبیوں کو دی گئی تھی یعنی مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ جو سرچشمہ تمام نعمتوں کا ہے۔ کیا خدا تعالیٰ نے وہ دُعا سکھلا کر صرف دھوکا ہی دیا ہے اور ایسی ناکارہ اور ذلیل اُمت میں کیا خیر ہو سکتی ہے جوبنی اسرائیل کی عورتوں سے بھی گئی گذری ہے۔
ظاہر ہے کہ حضرت موسٰیؑ کی ماں اور حضرت عیسیٰؑ کی ماں دونوں عورتیں تھیں اور بقول ہمارے مخالفین کے نبیّہ نہیں تھیں تاہم خدا تعالیٰ کے یقینی مکالمات اور مخاطبات اُن کو نصیب تھے اور اب اگر اِس امت کا ایک شخص اس قدر طہارت نفس میں کامل ہو کہ ابراہیمؑ کا دل پیدا کرلے اور اتنا خدا تعالیٰ کا تابعدار ہو جو تمام نفسانی چولہ پھینک دے اور اتنا خدا تعالیٰ کی محبت میں محو ہو کہ اپنے وجود سے فنا ہو جائے تب بھی وہ باوجود اس قدر تبدیلی کے موسٰیؑ کی ماں کی طرح بھی وحی ٔ الٰہی نہیں پا سکتا۔ کیا کوئی عقلمند خدا تعالیٰ کی طرف ایسا بخل منسوب کر سکتا ہے؟ اب ہم بجز اِس کے کیا کہیں کہ لعنت اللّٰہ علی الکاذبین۔
اصل بات یہ ہے کہ جب ایسے لوگ سراسر دنیا کے کیڑے ہو گئے اور اسلام کا شعار صرف پگڑی اور داڑھی اور ختنہ اور زبان کے چند اقرار اور رسمی نماز روزہ رہ گیا تو خدا تعالیٰ نے اُن کے دلوں کو مسخ کر دیا اور ہزار ہا تاریکی کے پردے آنکھوں کے آگے آ گئے اور دل مرگئے اور کوئی زندہ نمونہ روحانی حیات کا اُن کے ہاتھ میں نہ رہا ناچار ان کو مکالماتِ الٰہیہ سے انکار کرنا پڑا اور یہ انکار درحقیقت اسلام سے انکار ہے۔ لیکن چونکہ دل مر چکے ہیں اِس لئے یہ لوگ محسوس نہیں کرتے کہ ہم کس حالت میں پڑے ہیں۔
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ۳۱۰، ۳۱۱)اے مسلمانو! ہشیار ہو جاؤ کہ ایسا خیال سراسر جہالت اور نادانی ہے۔ اگر اسلام ایسا ہی مُردہ مذہب ہے تو کس قوم کو تم اس کی طرف دعوت کر سکتے ہو؟ کیا اِس مذہب کی لاش جاپان لے جاؤ گے یا یورپ کے سامنے پیش کرو گے اور ایسا کون بے وقوف ہے جو ایسے مردہ مذہب پر عاشق ہو جائے گا جو بمقابلہ گذشتہ مذہبوں کے ہر ایک برکت اور روحانیت سے بے نصیب ہے۔ گذشتہ مذہبوں میں عورتوں کو بھی الہام ہوا جیسا کہ موسٰیؑ کی ماں اور مریم کو۔ مگر تم مرد ہو کر ان عورتوں کے برابر بھی نہیں بلکہ اے نادانو!! اور آنکھوں کے اندھو!!! ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ہمارے سید و مولیٰ (اس پر ہزارہا سلام) اپنے افاضہ کی رو سے تمام انبیاء سے سبقت لے گئے ہیں۔ کیونکہ گذشتہ نبیوں کا افاضہ ایک حد تک آ کر ختم ہو گیا اور اب وہ قومیں اور وہ مذہب مردے ہیں کوئی اُن میں زندگی نہیں۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رُوحانی فیضان قیامت تک جاری ہے۔ اسی لئے باوجود آپ کے اس فیضان کے اس اُمت کے لئے ضروری نہیں کہ کوئی مسیح باہر سے آوے بلکہ آپ کے سایہ میں پرورش پانا ایک ادنیٰ انسان کو مسیحؑ بنا سکتا ہے جیسا کہ اُس نے اس عاجز کو بنایا۔ (چشمۂ مسیحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۸۹)
یہ دعویٰ ہمارا بالکل صحیح اور نہایت صفائی سے ثابت ہے کہ صراط مستقیم پر چلنے سے طالب صادق الہام الٰہی پا سکتا ہے کیونکہ اوّل تو اس پر تجربہ ذاتی شاہد ہے ماسوائے اس کے ہر یک عاقل سمجھ سکتا ہے کہ اِس دنیا میں اس سے بڑھ کر اَور کوئی معرفت الٰہی کا اعلیٰ رتبہ نہیں ہے کہ انسان اپنے ربّ کریم شانہٗ سے ہم کلام ہو جائے۔ یہی درجہ ہے جس سے روحیں تسلّی پاتی ہیں اور سب شکوک و شبہات دُور ہو جاتے ہیں اور اسی درجۂ صافیہ پر پہنچ کر انسان اس دقیقۂ معرفت کو پا لیتا ہے جس کی تحصیل کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے اور دراصل نجات کی کنجی اور ہستی موہوم کا عقدہ کشا یہی درجہ ہے جس سے ثابت ہوتا ہے اور کھل جاتا ہے کہ خالقِ حقیقی کو اپنی مخلوقِ ضعیف سے کس قدر قرب واقع ہے۔ اس درجہ تک پہنچنے کی خبر ہمیں اسی نور نے دی ہے جس کا نام قرآن ہے۔ وہ نور صاف عام طور پر بشارت دیتا ہے کہ الہام کا چشمہ کبھی بندنہیں ہو سکتا۔ جب کوئی مشرق کا رہنے والا یا مغرب کا باشندہ دلی صفائی سے خدائے تعالیٰ کو ڈھونڈھے گا اور اس سے پوری پوری صلح کر لے گا اور درمیان کے حجاب اٹھائے گا تو ضرور اُسے پائے گا۔ اور جب واقعی اور سچے اور کامل طور پر پائے گا تو ضرور خدا اس سے ہم کلام ہو گا۔ مگرویدوں نے انسان کے اس درجہ تک پہنچنے سے انکار کیا ہے اور صرف چار رشیوں تک جو ویدوں کے مصنف ہیں (بقول آریہ سماج والوں کے) اس درجہ کو محدود رکھا ہے۔ یہ ویدوں کی ایسی ہی غلطی ہے جیسے اور بڑی بڑی غلطیوں سے وہ پُر ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ سب بنی آدم متحد الفطرت ہیں اور جو بات ایک آدمی کے لئے ممکن ہے وہ سب کے لئے ممکن ہے اور جو قرب و معرفت ایک فرد بشر کے لئے جائز ہے وہ سب کے لئے جائز ہے کیونکہ وہ سب اصل طینت میں ایک ہی جوہر سے ہیں۔ ہاں کمالات میں کمی بیشی ہے۔ مگر جنس کمالات میں سرے سے جواب تو نہیں۔ اور اگر کوئی ایسا شخص ہو کہ اس میں تحصیل کمالات انسانی کے ایک ذرہ بھی استعدادنہ ہو تو وہ خود انسان ہی نہیں ہو سکتا۔ غرض تھوڑے بہت کا تو انسانی استعدادوں میں فرق ضرور ہوتا ہے مگر انسان ہو کر یکلخت فقدانِ استعدادنہیں ہو سکتا۔ (سرمہ چشم آریہ۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۳۹، ۲۴۰)
وہ خدا جو کریم و رحیم ہے جیسا کہ اس نے انسانی فطرت کو اپنی کامل معرفت کی بھوک اور پیاس لگا دی ہے ایسا ہی اس نے اس معرفت کاملہ تک پہنچانے کے لئے انسانی فطرت کو دو قسم کے قویٰ عنایت فرمائے ہیں۔ ایک معقولی قوتیں جن کا منبع دماغ ہے اور ایک روحانی قوتیں جن کا منبع دل ہے۔ اور جن کی صفائی دل کی صفائی پر موقوف ہے۔ اور جن باتوں کو معقولی قوتیں کامل طور پر دریافت نہیں کر سکتیں روحانی قوتیں اُن کی حقیقت تک پہونچ جاتی ہیں۔ اور روحانی قوتیں صرف انفعالی طاقت اپنے اندر رکھتی ہیں یعنی ایسی صفائی پیدا کرناکہ مبدء فیض کے فیوض اُن میں منعکس ہو سکیں۔ سو اُن کے لئے یہ لازمی شرط ہے کہ حصول فیض کے لئے مستعد ہوں اور حجاب اور روک درمیان نہ ہو تا خدا تعالیٰ سے معرفت کاملہ کا فیض پا سکیں۔ اور صرف اس حد تک ان کی شناخت محدودنہ ہو کہ اس عالم پُر حکمت کا کوئی صانع ہونا چاہئے بلکہ اس صانع سے شرف مکالمہ مخاطبہ کامل طور پر پا کر اور بلاواسطہ اس کے بزرگ نشان دیکھ کر اس کا چہرہ دیکھ لیں۔ اور یقین کی آنکھ سے مشاہدہ کر لیں کہ فی الحقیقت وہ صانع موجود ہے۔ لیکن چونکہ اکثر انسانی فطرتیں حجاب سے خالی نہیں اور دنیا کی محبت اور دنیا کے لالچ اور تکبّر اور نخوت اور عُجب اور ریاء کاری اور نفس پرستی اور دوسرے اخلاقی رذائل اور حقوق اللہ اور حقوق عباد کی بجا آوری میں عمداً قصور اور تساہل اور شرائط صدق و ثبات اور دقائق محبت اور وفا سے عمداً انحراف اور خدا تعالیٰ سے عمداً قطع تعلق اکثر طبائع میں پایا جاتا ہے اس لئے وہ طبیعتیں بباعث طرح طرح کے حجابوں اور پردوں اور روکوں کے اور نفسانی خواہشوں اور شہوات کے اس لائق نہیں کہ قابل قدر فیضان مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ کا اُن پر نازل ہو جس میں قبولیت کے انوار کا کوئی حصّہ ہو۔ ہاں عنایت ازلی نے جو انسانی فطرت کو ضائع کرنا نہیں چاہتی تخم ریزی کے طور پر اکثر انسانی افراد میں یہ عادت اپنی جاری کر رکھی ہے کہ کبھی کبھی سچی خوابیں یا سچے الہام ہو جاتے ہیں تا وہ معلوم کر سکیں کہ اُن کے لئے آگے قدم رکھنے کے لئے ایک راہ کھلی ہے۔ لیکن ان کی خوابوں اور الہاموں میں خدا کی قبولیت اور محبت اور فضل کے کچھ آثار نہیں ہوتے اور نہ ایسے لوگ نفسانی نجاستوں سے پاک ہوتے ہیں۔ اور خوابیں محض اس لئے آتی ہیں کہ تا اُن پر خد اکے پاک نبیوں پر ایمان لانے کے لئے ایک حجّت ہو۔ کیونکہ اگر وہ سچی خوابوں اور سچے الہامات کی حقیقت سمجھنے سے قطعًا محروم ہوں اور اس بارے میں کوئی ایسا علم جس کو علم الیقین کہنا چاہئے اُن کو حاصل نہ ہو تو خدا تعالیٰ کے سامنے اُن کا عذر ہو سکتا ہے کہ وہ نبوت کی حقیقت کو سمجھ نہیں سکتے تھے۔ کیونکہ اس کوچہ سے بکلی نا آشنا تھے اور وہ کہہ سکتے ہیں کہ نبوت کی حقیقت سے ہم محض بے خبر تھے اور اس کے سمجھنے کے لئے ہماری فطرت کو کوئی نمونہ نہیں دیا گیا تھا۔ پس ہم اس مخفی حقیقت کو کیونکر سمجھ سکتے۔ اس لئے سنت اللہ قدیم سے اور جب سے دنیا کی بناء ڈالی گئی اس طرح پر جاری ہے کہ نمونہ کے طور پر عام لوگوں کو قطع نظر اس سے کہ وہ نیک ہوں یا بد ہوں اور صالح ہوں یا فاسق ہوں۔ اور مذہب میں سچے ہوں یا جھوٹا مذہب رکھتے ہوں کسی قدر سچی خوابیں دکھلائی جاتی ہیں یا سچے الہام بھی دیئے جاتے ہیں تا ان کا قیاس اور گمان جو محض نقل اور سماع سے حاصل ہے علم الیقین تک پہونچ جائے اور تا روحانی ترقی کے لئے اُن کے ہاتھ میں کوئی نمونہ ہو اور حکیم مطلق نے اس مدعا کے پورا کرنے کے لئے انسانی دماغ کی بناوٹ ہی ایسی رکھی ہے اور ایسے روحانی قویٰ اس کو دیئے ہیں کہ وہ بعض سچی خوابیں دیکھ سکتا ہے اور بعض سچے الہام پا سکتا ہے مگر وہ سچی خوابیں اور سچے الہام کسی وجاہت اور بزرگی پر دلالت نہیں کرتے بلکہ وہ محض نمونہ کے طور پر ترقی کے لئے ایک راہیں ہوتی ہیں۔ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۸ تا۱۰)
جاننا چاہئے کہ دلیل دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک لمّی اور لمّی دلیل اس کو کہتے ہیں کہ دلیل سے مدلول کا پتہ لگا لیں جیسا کہ ہم نے ایک جگہ دُھواں دیکھا تو اس سے ہم نے آگ کا پتہ لگا لیا اور دوسری دلیل کی قسم اِنِّیْ ہے۔ اور اِنِّی اس کو کہتے ہیں کہ مدلول سے ہم دلیل کی طرف انتقال کریں جیسا کہ ہم نے ایک شخص کو شدید تپ میں مبتلا پایا تو ہمیں یقین ہوا کہ اس میں ایک تیز صفرا موجود ہے جس سے تپ چڑھ گیا۔ سو اس جگہ ہم انشاء اللہ تعالیٰ دونوں قسم کی دلیلیں پیش کریں گے۔
سو پہلے ہم لِمِّی دلیل ضرورت الہام کے لئے پیش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ انسان کے جسم کا جسمانی اور روحانی نظام ایک ہی قانون قدرت کے ماتحت ہے پس اگر ہم انسان کے جسمانی حالات پر نظر ڈال کر دیکھیں تو ظاہر ہو گا کہ خدا وند کریم نے جس قدر انسان کے جسم کو خواہشیں لگا دی ہیں اُن کے پورا کرنے کے لئے بھی سامان مہیّا کئے ہیں۔ چنانچہ انسان کا جسم بباعث بھوک کے اناج کا محتاج تھا سو اس کے لئے طرح طرح کی غذائیں پیدا کی ہیں۔ ایسا ہی انسان بباعث پیاس کے پانی کا محتاج تھا۔ سو اس کے لئے کنوئیں اور چشمے اور نہریں پیدا کر دیئے ہیں۔ اِسی طرح انسان اپنی بصارت سے کام لینے کے لئے آفتاب یا کسی اور روشنی کا محتاج تھا سو اس کے لئے خدا نے آسمان پر سورج اور زمین پر دوسری اقسام کی روشنی پیدا کر دی ہے اور انسان اس ضرورت کے لئے کہ سانس لے اور نیز اس ضرورت کے لئے کہ کسی دوسرے کی آواز کو سُن سکے ہوا کا محتاج تھا سو اس کے لئے خدا نے ہوا پیدا کر دی۔ ایسا ہی انسان بقائے نسل کے لئے اپنے جوڑے کا محتاج تھا سو خدا نے مرد کے لئے عورت اور عورت کے لئے مرد پیدا کر دیا ہے۔ غرض خدا تعالیٰ نے جو جو خواہشیں انسانی جسم کو لگا دی ہیں اُن کے لئے تمام سامان بھی پیدا کر دیا ہے پس اب سوچنا چاہئے کہ جبکہ انسانی جسم کو باوجود اس کے فانی ہونے کے تمام اس کی خواہشوں کا سامان دیا گیا ہے۔ تو انسان کی رُوح کو جو دائمی اور ابدی محبت اور معرفت اور عبادت کے لئے پیدا کی گئی ہے کس قدر اس کی پاک خواہشوں کے سامان دیئے گئے ہوں گے۔ سو وہی سامان خدا کی وحی ہے اور اس کے تازہ نشان ہیں جو ناقص العلم انسان کو یقین تام تک پہنچاتے ہیں۔ خدا نے جیسا کہ جسم کو اس کی خواہشوں کا سامان دیا ایسا ہی رُوح کو بھی اُس کی خواہشوں کا سامان دیا تا جسمانی اور روحانی نظام دونوں باہم مطابق ہوں ……
یہ دلیل جو لِمِّی ہے پوری نہیں ہو سکتی جب تک اُس کے ساتھ اِنِّیْ دلیل نہ ہو یعنی جب تک تازہ نمونہ الہام کا نہ دیکھا جائے۔ بلاشبہ ضرورت کا محسوس کرنا اور چیز ہے اور پھر اس ضرورت کو حاصل بھی کر لینا یہ اَور امر ہے۔ ………… تم دیکھتے ہو کہ اِس زمانہ میں تمہارے جسم کے لئے غذا اور پانی دونوں موجود ہیں یہ نہیں کہ فقط کسی پہلے زمانہ میں تھیں اور اب نہیں ہیں۔ مگر جب الہام اور وحی کا ذکر آتا ہے تو پھر تم کسی ایسے پہلے زمانہ کا حوالہ دیتے ہو جس پر کروڑ ہا برس گذر چکے ہیں مگر موجود کچھ نہیں دکھلا سکتے۔ پھر خدا کا جسمانی اور روحانی قانونِ قدرت باہم مطابق کیونکر ہوا۔ ذرا ٹھہر کر سوچو یونہی جلدی سے جواب مت دو۔ تم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ جسما نی خواہشوں کے سامان تو تمہارے ہاتھوں میں موجود ہیں مگر رُوحانی خواہشوں کے سامان تمہارے ہاتھوں میں موجودنہیں بلکہ صرف قصّے تمہارے ہاتھوں میں ہیں جو بودے اور باسی ہو چکے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ اس زمانہ تک تمہارے جسمانی چشمے بندنہیں ہوئے جن کا تم پانی پی کر پیاس کی جلن اور سوزش کو دُور کرتے ہو۔ اور نہ جسمانی کھیتوں کی زمین ناقابلِ زراعت ہو گئی ہے جن کے اناج سے تم دو وقت پیٹ بھرتے ہو مگر وہ روحانی چشمے اب کہاں ہیں۔ جو الہام الٰہی کا تازہ پانی پلا کر پیاس کی سوزش کو دُور کرتے تھے۔ اور اب وہ روحانی اناج بھی تمہارے پاس نہیں ہے جس کو کھا کر تمہاری رُوح زندہ رہ سکتی تھی۔ اب تم گویا ایک جنگل میں ہو جس میں نہ اناج ہے نہ پانی ہے۔
(چشمۂ معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۶۳ تا۶۶)ہے غضب کہتے ہیں اب وحیِ خدا مفقود ہے
اب قیامت تک ہے اس اُمت کا قصّوں پر مدار
یہ عقیدہ برخلافِ گفتۂ دادار ہے
پر اتارے کون برسوں کا گلے سے اپنے ہار
وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم
اب بھی اس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار
گوہرِ وحیِ خدا کیوں توڑتا ہے ہوش کر
اِک یہی دیں کے لئے ہے جائے عزّ و افتخار
یہ وہ گُل ہے جس کا ثانی باغ میں کوئی نہیں
یہ وہ خوشبو ہے کہ قرباں اس پہ ہو مُشکِ تتار
یہ وہ ہے مفتاح جس سے آسماں کے در کھلیں
یہ وہ آئینہ ہے جس سے دیکھ لیں روئے نگار
بس یہی ہتھیار ہے جس سے ہماری فتح ہے
بس یہی اِک قصر ہے جو عافیت کا ہے حصار
ہے خدادانی کا آلہ بھی یہی اسلام میں
محض قصّوں سے نہ ہو کوئی بشر طوفاں سے پار
ہے یہی وحیِ خدا عرفانِ مولیٰ کا نشاں
جس کو یہ کامل ملے اس کو ملے وہ دوستدار
واہ رے باغ محبت موت جس کی رہ گذر
وصلِ یار اس کا ثمر پر ارد گرد اس کے ہیں خار
الہام ایک القاء غیبی ہے کہ جس کا حصول کسی طرح کی سوچ اور تردّد اور تفکّر اور تدبّر پر موقوف نہیں ہوتا اور ایک واضح اور منکشف احساس سے کہ جیسے سامع کو متکلّم سے یا مضروب کو ضارب سے یا ملموس کو لامس سے ہو محسوس ہوتا ہے۔ اور اس سے نفس کو مثل حرکاتِ فکریّہ کے کوئی الم رُوحانی نہیں پہونچتا بلکہ جیسے عاشق اپنے معشوق کی رویت سے بلاتکلّف انشراح اور انبساط پاتا ہے۔ ویسا ہی رُوح کو الہام سے ایک ازلی اور قدیمی رابطہ ہے کہ جس سے رُوح لذت اوٹھاتا ہے۔ غرض یہ ایک منجانب اللہ اعلام لذیذ ہے کہ جس کو نفث فی الروع اور وحی بھی کہتے ہیں۔ (پُرانی تحریریں۔ روحانی خزائن جلد دوم صفحہ ۲۰)
یاد رہے کہ الہام کے لفظ سے اس جگہ یہ مرادنہیں ہے کہ سوچ اور فکر کی کوئی بات دل میں پڑ جائے۔ جیسا کہ
جب
شاعر شعر کے بنانے میں کوشش کرتا ہے یا ایک مصرع بنا کر دوسرا سوچتا رہتا ہے تو دوسرا مصرع دل میں پڑتا
ہے
سو یہ دل میں پڑ جانا الہام نہیں ہے بلکہ یہ خدا کے قانون قدرت کے موافق اپنے فکر اور سوچ کا ایک نتیجہ
ہے۔
جو شخص اچھی باتیں سوچتا ہے یابُری باتوں کے لئے فکر کرتا ہے اُس کی تلاش کے موافق کوئی بات ضرور اس کے
دل
میں پڑ جاتی ہے۔ ایک شخص مثلاً نیک اور راستباز آدمی ہے جو سچائی کی حمایت میں چند شعر بناتا ہے اور
دوسرا
شخص جو ایک گندہ اور پلید آدمی ہے اپنے شعروں میں جھوٹھ کی حمایت کرتا ہے اور راستبازوں کو گالیاں
نکالتا ہے
تو بلاشبہ یہ دونوں کچھ نہ کچھ شعر بنا لیں گے بلکہ کچھ تعجب نہیں کہ وہ راستبازوں کا دشمن جو جھوٹھ کی
حمایت کرتا ہے بباعث دائمی مشق کے اس کا شعر عمدہ ہو۔ سو اگر صرف دل میں پڑ جانے کا نام الہام ہے تو پھر
ایک
بدمعاش شاعر جو راست بازی اور راستبازوں کا دشمن اور ہمیشہ حق کی مخالفت کے لئے قلم اٹھاتا اور افتراؤں
سے
کام لیتا ہے خدا کا ملہم کہلائے گا۔ دنیا میں ناولوں وغیرہ میں جادو بیانیاں پائی جاتی ہیں اور تم
دیکھتے ہو
کہ اس طرح سراسر باطل مگر مسلسل مضمون لوگوں کے دلوں میں پڑتے ہیں پس کیا ہم ان کو الہام کہہ سکتے ہیں؟
بلکہ
اگر الہام صرف دل میں بعض باتیں پڑ جانے کا نام ہے تو ایک چور بھی ملہم کہلا سکتا ہے کیونکہ وہ بسااوقات
فکر
کر کے اچھے اچھے طریق نقب زنی کے نکال لیتا ہے اور عمدہ عمدہ تدبیریں ڈاکہ مارنے اور خون ناحق کرنے کی
اس کے
دل میں گذر جاتی ہیں تو کیا لائق ہے کہ ہم ان تمام ناپاک طریقوں کا نام الہام رکھ دیں؟ ہرگز نہیں بلکہ
یہ ان
لوگوں کا خیال ہے جن کو اب تک اس سچے خدا کی خبر نہیں جو آپ خاص مکالمہ سے دلوں کو تسلّی دیتا اور
ناواقفوں
کو روحانی علوم سے معرفت بخشتا ہے۔
الہام کیا چیز ہے؟ وہ پاک اور قادر خدا کا ایک برگزیدہ بندہ کے ساتھ یا اس کے ساتھ جس کو برگزیدہ کرنا
چاہتا
ہے اور زندہ اور باقدرت کلام کے ساتھ مکالمہ اور مخاطبہ ہے۔ سو جب یہ مکالمہ اور مخاطبہ کافی اور تسلّی
بخش
سِلسلہ کے ساتھ شروع ہو جائے اور اس میں خیالات فاسدہ کی تاریکی نہ ہو اور نہ غیرمکتفی اور چند بے سرو
پا
لفظ ہوں۔ اور کلام لذیذ اور پر حکمت اور پُر شوکت ہو تو وہ خدا کا کلام ہے جس سے وہ اپنے بندہ کو تسلّی
دینا
چاہتا ہے۔ اور اپنے تئیں اُس پر ظاہر کرتا ہے۔ ہاں کبھی ایک کلام محض امتحان کے طور پر ہوتا ہے اور پورا
اور
بابرکت سامان ساتھ نہیں رکھتا۔ اس میں خدا تعالیٰ کے بندہ کو اُس کی ابتدائی حالت میں آزمایا جاتا ہے تا
وہ
ایک ذرّہ الہام کا مزہ چکھ کر پھر واقعی طور پر اپنا حال و قال سچے ملہموں کی طرح بناوے یا ٹھوکر کھاوے۔
پس
اگر وہ حقیقی راستبازی صدیقوں کی طرح اختیار نہیں کرتا تو اس نعمت کے کمال سے محروم رہ جاتا ہے اور صرف
بے
ہودہ لاف زنی اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ کروڑ ہا نیک بندوں کو الہام ہوتا رہا ہے مگر اُن کا مرتبہ خدا کے
نزدیک ایک درجہ کا نہیں بلکہ خدا کے پاک نبی جو پہلے درجہ پر کمال صفائی سے خدا کا الہام پانے والے ہیں
وہ
بھی مرتبہ میں برابر نہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔
تِلۡکَ الرُّسُلُ فَضَّلۡنَا بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ
یعنی بعض نبیوں کو بعض نبیوں پر فضیلت ہے۔ اس سے ثابت ہوتاہے کہ الہام محض فضل ہے اور فضیلت کے وجود میں اس کو دخل نہیں بلکہ فضیلت اس صدق اور اخلاص اور وفا داری کی قدر پر ہے جس کو خدا جانتا ہے۔ ہاں الہام بھی اگر اپنی بابرکت شرائط کے ساتھ ہو تو وہ بھی ان کا ایک پھل ہے۔ اِس میں کچھ شک نہیں کہ اگر اس رنگ میں الہام ہو کہ بندہ سوال کرتا ہے اور خدا اس کا جواب دیتا ہے اِسی طرح ایک ترتیب کے ساتھ سوال و جواب ہو اور الٰہی شوکت اور نور الہام میں پایا جاوے اور علوم غیب یا معارف صحیحہ پر مشتمل ہو تو وہ خدا کا الہام ہے۔ خدا کے الہام میں یہ ضروری ہے کہ جس طرح ایک دوست دوسرے دوست سے مل کر باہم ہم کلام ہوتا ہے اسی طرح رب اور اس کے بندے میں ہم کلامی واقع ہو۔ اور جب کسی امر میں سوال کرے تو اس کے جواب میں ایک کلام لذیذ فصیح خداتعالیٰ کی طرف سے سُنے جس میں اپنے نفس اور فکر اور غور کا کچھ بھی دخل نہ ہو اور وہ مکالمہ اور مخاطبہ اس کے لئے موہبت ہو جائے تو وہ خدا کا کلام ہے۔ اور ایسا بندہ خداکی جناب میں عزیز ہے مگر یہ درجہ کہ الہام بطور موہبت ہو اور زندہ اور پاک الہام کا سِلسلہ اپنے بندہ سے خدا کو حاصل ہو اور صفائی اور پاکیزگی کے ساتھ ہو یہ کسی کو نہیں ملتا بجز ان لوگوں کے جو ایمان اور اخلاص اور اعمال صالحہ میں ترقی کریں اور نیز اس چیز میں جس کو ہم بیان نہیں کر سکتے۔ سچا اور پاک الہام الوہیت کے بڑے بڑے کرشمے دکھلاتا ہے۔ با رہا ایک نہایت چمکدار نور پیدا ہوتا ہے اور ساتھ اس کے پُرشوکت اور ایک چمکدار الہام آتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اَور کیا ہو گا کہ ملہم اس ذات سے باتیں کرتا ہے جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے۔ دنیا میں خدا کا دیدار یہی ہے کہ خدا سے باتیں کرے مگر اس ہمارے بیان میں انسان کی وہ حالت داخل نہیں ہے جو کسی کی زبان پر بے ٹھکانہ کوئی لفظ یا فقرہ یا شعر جاری ہو اور ساتھ اس کے کوئی مکالمہ اور مخاطبہ نہ ہو بلکہ ایسا شخص خدا کے امتحان میں گرفتار ہے کیونکہ خدا اس طریق سے بھی سُست اور غافل بندوں کو آزماتا ہے کہ کبھی کوئی فقرہ یا عبارت کسی کے دل پر یا زبان پر جاری کی جاتی ہے اور وہ شخص اندھے کی طرح ہو جاتا ہے۔ نہیں جانتا کہ وہ عبارت کہاں سے آئی خدا سے یا شیطان سے۔ سو ایسے فقرات سے استغفار لازم ہے۔ لیکن اگر ایک صالح اور نیک بندہ کو بے حجاب مکالمہ الٰہی شروع ہو جائے اور مخاطبہ اور مکالمہ کے طور پر ایک کلام روشن۔ لذیذ۔ پُرمعنی۔ پُر حکمت پوری شوکت کے ساتھ اس کو سُنائی دے اور کم سے کم با رہا اس کو ایسا اتفاق ہوا ہو کہ خدا میں اور اُس میں عین بیداری میں دس مرتبہ سوال و جواب ہوا ہو۔ اُس نے سوال کیا خدا نے جواب دیا پھر اُسی وقت عین بیداری میں اُس نے کوئی اَور عرض کی اور خدا نے اس کا بھی جواب دیا۔ پھر گذارش عاجزانہ کی خدا نے اس کا جواب بھی عطا فرمایا۔ ایسا ہی دس مرتبہ تک خدا میں اور اُس میں باتیں ہوتی رہیں اور خدا نے با رہا ان مکالمات میں اس کی دُعائیں منظور کیں ہوں عمدہ عمدہ معارف پر اس کو اطلاع دی ہو۔ آنے والے واقعات کی اس کو خبر دی ہو اور اپنے برہنہ مکالمہ سے بار بار کے سوال و جواب میں اس کو مشرف کیا ہو تو ایسے شخص کو خداتعالیٰ کا بہت شکر کرنا چاہئے۔ اور سب سے زیادہ خدا کی راہ میں فدا ہونا چاہئے۔ کیونکہ خدا نے محض اپنے کرم سے اپنے تمام بندوں میں سے اُسے چن لیا اور ان صدیقوں کا اس کو وارث بنا دیا جو اُس سے پہلے گذر چکے ہیں۔ یہ نعمت نہایت ہی نادر الوقوع اور خوش قسمتی کی بات ہے جس کو ملی۔ اس کے بعد جو کچھ ہے وہ ہیچ ہے۔ اس مرتبہ اور اس مقام کے لوگ اسلام میں ہمیشہ ہوتے رہے ہیں اور ایک اسلام ہی ہے جس میں خدا بندہ سے قریب ہو کر اس سے باتیں کرتا اور اس کے اندر بولتا ہے وہ اس کے دل میں اپنا تخت بناتا اور اس کے اندر سے اُسے آسمان کی طرف کھینچتا ہے اور اس کو وہ سب نعمتیں عطا فرماتا ہے جو پہلوں کو دی گئیں۔ افسوس اندھی دنیا نہیں جانتی کہ انسان نزدیک ہوتا ہوتا کہاں تک پہنچ جاتا ہے۔ وہ آپ تو قدم نہیں اُٹھاتے اور جو قدم اٹھائے یا تو اُس کو کافرٹھہرایا جاتا ہے اور یا اُس کو معبود ٹھہرا کر خدا کی جگہ دی جاتی ہے۔ (اسلامی اصول کی فلاسفی۔ روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۴۳۷ تا۴۴۱)
رہی یہ بات کہ الہام بے اصل اور بے سود اور بے حقیقت چیز ہے جس کا ضرر اس کے نفع سے بڑھ کر ہے۔ سو جاننا چاہئے کہ ایسی باتیں وہی شخص کرے گا جس نے کبھی اس شراب طہور کا مزا نہیں چکھا اور نہ یہ خواہش رکھتا ہے کہ سچا ایمان اس کو حاصل ہو۔ بلکہ رسم اور عادت پر خوش ہے اور کبھی نظر اس طرف اٹھا کر نہیں دیکھتا کہ مجھے خداوند کریم پر یقین کہاں تک حاصل ہے اور میری معرفت کا درجہ کس حد تک ہے اور مجھے کیا کرنا چاہئے کہ تا میری اندرونی کمزوریاں دُور ہوں اور میرے اخلاق اور اعمال اور ارادوں میں ایک زندہ تبدیلی پیدا ہو جائے اور مجھے وہ عشق اور محبت حاصل ہو جائے جس کی وجہ سے مَیں بآسانی سفرآخرت کر سکوں اور مجھ میں ایک نہایت عمدہ قابل ترقی مادہ پیدا ہو جائے۔
بے شک یہ بات سب کے فہم میں آ سکتی ہے کہ انسان اپنی اس غافلانہ زندگی میں جو ہر دم تحت الثریٰ کی طرف کھینچ رہی ہے اور علاوہ اس کے تعلقات زن و فرزند اور ننگ و ناموس کے بوجھل اور بھاری پتّھر کی طرح ہر لحظہ نیچے کی طرف لے جا رہے ہیں ایک بالائی طاقت کا ضرور محتاج ہے جو اس کو سچی بینائی اور سچّا کشف بخش کر خدا ئے تعالیٰ کے جمال باکمال کا مشتاق بنا دیوے۔ سو جاننا چاہئے کہ وہ بالائی طاقت الہامِ ربّانی ہے جو عین دُکھ کے وقت میں سرور پہنچاتا ہے۔ اور مصائب کے ٹیلوں اور پہاڑوں کے نیچے بڑے آرام اور لذّت کے ساتھ کھڑا کر دیتا ہے۔ وہ دقیق در دقیق وجود جس نے عقلی طاقتوں کو خیرہ کر رکھا ہے اور تمام حکیموں کی عقل اور دانش کو سکتہ میں ڈال دیا ہے وہ الہام ہی کے ذریعہ سے کچھ اپنا پتہ دیتا ہے اور انا الموجود کہہ کر سالکوں کے دلوں کو تسلّی بخشتا ہے اور سکینت نازل کرتا ہے اور انتہائی وصول کی ٹھنڈی ہوا سے جان پژمردہ کو تازگی بخشتا ہے۔ یہ بات تو سچ کہ قرآن کریم ہدایت دینے کے لئے کافی ہے۔ مگر قرآن کریم جس کو ہدایت کے چشمہ تک پہنچاتا ہے اس میں پہلی علامت یہی پیدا ہو جاتی ہے کہ مکالمہ طیّبہ الٰہیہ اُس سے شروع ہو جاتا ہے جس سے نہایت درجہ کی انکشافی معرفت اور چشم دید برکت و نورانیت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ عرفان حاصل ہونا شروع ہو جاتا ہے جو مجرد تقلیدی اٹکلوں یا عقلی ڈھکوسلوں سے ہرگز نہیں مل سکتا کیونکہ تقلیدی علوم محدود و مشتبہ ہیں اور عقلی خیالات ناقص و ناتمام ہیں اور ہمیں ضرور حاجت ہے کہ براہ راست اپنے عرفان کی توسیع کریں۔ کیونکہ جس قدر ہمارا عرفان ہو گا اُسی قدر ہم میں ولولہ و شوق جوش مارے گا۔ کیا ہمیں باوجودناقص عرفان کے کامل ولولہ و شوق کی کچھ توقع ہے؟ نہیں کچھ بھی نہیں سو حیرت اور تعجب ہے کہ وہ لوگ کیسے بد فہم ہیں جو ایسے ذر یعۂ کاملہ وصول حق سے اپنے تئیں مستغنی سمجھتے ہیں جس سے روحانی زندگی وابستہ ہے۔
یاد رکھنا چاہئے کہ روحانی علوم اور روحانی معارف صرف بذریعہ الہامات و مکاشفات ہی ملتے ہیں۔ اور جب تک ہم وہ درجہ روشنی کا نہ پالیں تب تک ہماری انسانیت کسی حقیقی معرفت یا حقیقی کمال سے بہرہ یاب نہیں ہو سکتی………
ہم ایک بڑے بھاری مطلب کے لئے جو یقینی معرفت ہے پیدا کئے گئے ہیں اور وہی معرفت ہماری نجات کا مدار بھی ہے جو ہر یک خبیث اور مغشوش طریق سے ہمیں آزادی بخش کر ایک پاک اور شفاف دریا کے کنار ہ پر ہمارا مُنہ رکھ دیتی ہے اور وہ صرف بذریعہ الہامِ الٰہی ہمیں ملتی ہے۔ جب ہم اپنے نفس سے بکلّی فنا ہو کر دردمند دل کے ساتھ لایدرک وجود میں ایک گہرا غوطہ مارتے ہیں تو ہماری بشریت الوہیت کے دربار میں پڑنے سے عند العود کچھ آثار و انوار اس عالم کے ساتھ لے آتی ہے۔ سو جس چیز کو اس دنیا کے لوگ بنظر حقارت دیکھتے ہیں درحقیقت وہی ایک چیز ہے جو مدّت کے جُدا شدہ کو ایک دم میں اپنے محبوب سے ملاتی ہے وہی ہے جس سے عُشّاقِ اِلٰہی تسلّی پاتے ہیں اور طرح طرح کی نفسانی قیدوں سے بیک بار اپنا پیر باہر نکال لیتے ہیں جب تک وہ سچی روشنی دلوں پر نازل نہ ہو ہرگز ممکن ہی نہیں کہ کوئی دل منور ہو سکے۔ غرض انسانی عقل کی ناقابلیت اور رسمی علوم کی محدودیت ضرورتِ الہام پر شہادت دے رہی ہے۔
(ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۳۲۶ تا۳۲۹)وسوسہء نہم۔ یہ اعتقاد کہ خدا آسمان سے اپنا کلام نازل کرتا ہے یہ بالکل درست نہیں کیونکہ قوانین نیچریہ اِس کی تصدیق نہیں کرتے۔ اور کوئی آواز اوپر سے نیچے کو آتی ہم کبھی نہیں سُنتے بلکہ الہام صرف اُن خیالات کا نام ہے کہ جو فکر اور نظر کے استعمال سے عقلمند لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں وبس۔
جواب۔ جو صداقت بجائے خود ثابت ہے اور جس کو بے شمار صاحبِ معرفت لوگوں نے بچشم خود مشاہدہ کر لیا ہے اور جس کا ثبوت ہر زمانہ میں طالب حق کو مل سکتا ہے اگر اس سے کوئی ایسا انسان منکر ہو کہ جو روحانی بصیرت سے بے بہر ہ ہے یا اگر اُس کی تصدیق سے کسی محجوب القلب کا فکر قاصر اور علمِ ناقص ناکام رہے تو اُس صداقت کا کچھ بھی نقصان نہیں اور نہ وہ ایسے لوگوں کے بَک بَک کرنے سے قوانین قدرتیہ سے باہر ہو سکتی ہے۔ مثلاً تم سوچو کہ اگر کوئی اس قوت جاذبہ سے جو مقناطیس میں ہے بے خبر ہو اور اُس نے کبھی مقناطیس دیکھا ہی نہ ہو اور یہ دعویٰ کرے کہ مقناطیس ایک پتھر ہے اور جہاں تک قوانین قدرتیہ کا مجھے علم ہے اس طور کی کشش کو مَیں نے کبھی کسی پتھر میں مشاہدہ نہیں کیا اس لئے میری رائے میں جو مقناطیس کی نسبت ایک خاصیت جذب خیال کی گئی ہے وہ غلط ہے کیونکہ قوانین نیچریہ کے برخلاف ہے تو کیا اس کی اس فضول گوئی سے مقناطیس کی ایک متحقق خاصیت غیر معتبر اور مشکوک ہو جائے گی؟ ہرگز نہیں بلکہ ایسے نادان کی ان فضول باتوں سے اگر کچھ ثابت بھی ہو گا تو یہی ثابت ہو گا کہ وہ سخت درجہ کا احمق اور جاہل ہے کہ جو اپنے عدم علم کو عدم شے پر دلیل ٹھہراتا ہے اور ہزار ہا صاحب تجربہ لوگوں کی شہادت کو قبول نہیں کرتا۔ بھلا یہ کیونکر ہو سکے کہ قوانین قدرتیہ کے لئے یہ بھی شرط ہو کہ ہر یک فرد بشر عام طور پر خود ان کو آزما لیوے۔ خدا نے نوع انسان کو ظاہری و باطنی قوتوں میں متفاوت پیدا کیا ہے مثلاً بعض کی قوت باصرہ نہایت تیز ہے۔ بعض ضعیف البصر ہیں۔ بعض بعض اندھے بھی ہیں۔ جوضعیف البصر ہیں وہ جب دیکھتے ہیں کہ تیز بصارت والوں نے دُور سے کسی باریک چیز کو مثلاً ہلال کو دیکھ لیا تو وہ انکار نہیں کرتے بلکہ انکار کرنا اپنی ذلّت اور پردہ دری کا موجب سمجھتے ہیں اور اندھے بیچارے تو ایسے معاملہ میں دم بھی نہیں مارتے۔ اِسی طرح جن کی قوت شامہ مفقود ہے وہ صدہا ثقہ اور راست گو لوگوں کی زبان سے خوشبو، بدبو کی خبریں جب سُنتے ہیں تو یقین کر لیتے ہیں اور ذرہ شک نہیں کرتے اور خوب جانتے ہیں کہ اس قدر لوگ جھوٹ نہیں بولتے ضرور سچے ہیں اور بلاشبہ ہماری ہی قوت شامہ ندارد ہے کہ جو ہم ان مشمومات کے دریافت کرنے سے محروم ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس باطنی استعدادوں میں بھی بنی آدم مختلف ہیں۔ بعض ادنیٰ ہیں اور حُجب نفسانی میں محجوب ہیں۔ اور بعض قدیم سے ایسے نفوس عالیہ اور صافیہ ہوتے چلے آئے ہیں کہ جو خدا سے الہام پاتے رہے ہیں۔ اور ادنیٰ فطرت کے لوگ کہ جو محجوب النفس ہیں اُن کا نفوسِ عالیہ لطیفہ کے خصائصِ ذاتیہ سے انکار کرنا ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی اندھا یا ضعیف البصر صاحب بصارت قویّہ کے مرئیات سے انکار کرے۔ یا جیسا ایک اخشم آدمی جس کی قوتِ بویائی ابتدا پیدائش سے ہی باطل ہو صاحبِ قوت شامہ کے مشموعات سے منکر ہو۔
اور پھر منکر کے ملزم کرنے کے لئے بھی جو ظاہری طور پر تدابیر ہیں وہی باطنی طور پر بھی تدابیر موجود ہیں۔ مثلاً جس کی قوتِ شامہ کا مفقود ہونا بعلّتِ مولودی ہے اگر وہ بدبو کے وجود سے منکر ہو بیٹھے اور جس قدر لوگ صاحب قوتِ شامہ ہیں سب کو دروغ گو یا وہمی قرار دے تو اس کو یُوں سمجھا سکتے ہیں کہ اُس کو یہ کہا جائے کہ وہ بہت سی چیز وں مثلاً پارچات میں سے بعض پر عطر مل کر اور بعض کو خالی رکھ کر صاحب قوت شامہ کا امتحان کر لے تا تکرار تجربہ سے اس کو اس بات پر یقین ہو جائے کہ قوت شامہ کا وجود بھی واقعی اور حقیقی ہے اور ایسے لوگ فی الحقیقت پائے جاتے ہیں کہ جو معطّر اور غیر معطّر میں فرق کر لیتے ہیں۔ ایسا ہی تکرار تجربہ سے الہام کا وجود طالبِ حق پر ثابت ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جب صاحبِ الہام پروہ امورِ غیبیہ اور دقائقِ مخفیہ منکشف ہوتے ہیں کہ جو مجرد عقل سے منکشف نہیں ہو سکتے۔ اور کتابِ الہامی ان عجائبات پر مشتمل ہوتی ہے جن پر کوئی دوسری کتاب مشتمل نہیں ہوتی، تو طالبِ حق اسی دلیل سے سمجھ لیتا ہے کہ الہام الٰہی ایک متحقق الوجود صداقت ہے۔ اور اگر نفوس صافیہ میں سے ہو تو خودٹھیک ٹھیک راہ راست پر چلنے سے کسی قدر بہ حیثیت نورانیت قلب اپنے کے الہام الٰہی کو اولیاء اللہ کی طرح پا بھی لیتا ہے جس سے وحی ٔ رسالت پر بطور حق الیقین اس کو علم حاصل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ طالبِ حق کے لئے کہ جو اسلام کے قبول کرنے پر دلی سچائی اور روحانی صدق اور خالص اطاعت سے رغبت ظاہر کرے ہم ہی اس طور پر تسلّی کر دینے کا ذمہ اٹھاتے ہیں۔ وَ اِنْ کَانَ اَحَدٌ فِیْ شَکٍّ مِّنْ قَوْلِیْ فَلْیَرْجِعْ اِلَیْنَا بِصِدْقِ الْقَدَمِ۔ وَاللّٰہُ عَلٰی مَانَقُوْلُ قَدِیْرٌ۔ وَھُوَ فِیْ کُلِّ اَمْرٍ نَصِیْرٌ۔
اور یہ خیال کرنا کہ جو جو دقائق فکر اور نظر کے استعمال سے لوگوں پر کھلتے ہیں وہی الہام ہیں بجز ان کے کوئی شے الہام نہیں۔ یہ بھی ایک ایسا وہم ہے جس کا موجب صرف کور باطنی اور بے خبری ہے۔ اگر انسانی خیالات ہی خدا کا الہام ہوتے تو انسان بھی خدا کی طرح بذریعہ اپنے فکر اور نظر کے اُمور غیبیہ کو معلوم کر سکتا۔ لیکن ظاہر ہے کہ گو انسان کیسا ہی دانا ہو مگر وہ فکر کر کے کوئی امر غیب بتلا نہیں سکتا اور کوئی نشان طاقت الوہیت کا ظاہر نہیں کر سکتا اور خدا کی قدرتِ خاصہ کی کوئی علامت اُس کے کلام میں پیدا نہیں ہوتی بلکہ اگر وہ فکر کرتا کرتا مر بھی جائے تب بھی ان پوشیدہ باتوں کو معلوم نہیں کر سکتا کہ جو اس کی عقل اور نظر اور حواس سے وراء الوراء ہیں اور نہ اس کا کلام ایسا عالی ہوتا ہے کہ جس کے مقابلہ سے انسانی قوتیں عاجز ہوں۔ پس اس وجہ سے عاقل کو یقین کرنے کے لئے وجوہ کافی ہیں کہ جو کچھ انسان اپنی فکر اور نظر سے بھلے یا بُرے خیالات پیدا کرتا ہے وہ خدا کا کلام نہیں بن سکتے۔ اگر وہ خدا کا کلام ہوتا تو انسا ن پر سارے غیب کے دروازے کھل جاتے اور وہ امور بیان کر سکتا جن کا بیان کرنا الوہیّت کی قوت پر موقوف ہے۔ کیونکہ خدا کے کام اور کلام میں خدائی کے تجلّیات کا ہونا ضروری ہے لیکن اگر کسی کے دل میں یہ شبہ گذرے کہ نیک اور بد تدبیریں اور ہر یک شر و خیر کے متعلق باریک حکمتیں اور طرح طرح کے مکر و فریب کی باتیں کہ جو فکر اور نظر کے وقت انسان کے دل میں پڑ جاتی ہیں وہ کس کی طرف سے اور کہاں سے پڑتی ہیں اور کیونکر سوچتے سوچتے یک دفعہ مطلب کی بات سُوجھ جاتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تمام خیالات خلق اللہ ہیں، امر اللہ نہیں اور اس جگہ خلق اور امر میں ایک لطیف فرق ہے۔ خلق تو خدا کے اس فعل سے مراد ہے کہ جب خدائے تعالیٰ عالم کی کسی چیز کو بتوسطِ اسباب پیدا کر کے بوجہ عِلَّتُ الْعِلَل ہونے کے اپنی طرف اس کو منسوب کرے اور امر وہ ہے جو بلاتوسط اسباب خالص خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہو اور کسی سبب کی اس سے آمیزش نہ ہو۔ پس کلامِ الٰہی جو اُس قادر مطلق کی طرف سے نازل ہوتا ہے اس کا نزول عالم امر سے ہے نہ عالم خلق ہے۔ اور دوسرے جو جو خیالات انسانوں کے دلوں میں بوقت نظر و فکر اٹھا کرتے ہیں وہ بتمامہا عالمِ خلق سے ہیں کہ جن میں قدرتِ الٰہیہ زیر پردہ اسباب و قویٰ متصرف ہوتی ہے اور ان کی نسبت بسطِ کلام یوں ہے کہ خدا نے انسان کو اس عالمِ اسباب میں طرح طرح کی قوتوں اور طاقتوں کے ساتھ پیدا کر کے اُن کی فطرت کو ایک ایسے قانونِ قدرت پر مبنی کر دیا ہے یعنی ان کی پیدائش میں کچھ اس قسم کی خاصیت رکھ دی ہے کہ جب وہ کسی بھلے یا بُرے کام میں اپنی فکر کو متحرک کریں تو اُسی کے مناسب ان کو تدبیریں سُوجھ جایا کریں۔ جیسے ظاہری قوتوں اور حواسوں میں انسان کے لئے یہ قانون قدرت رکھا گیا ہے کہ جب وہ اپنی آنکھ کھولے تو کچھ نہ کچھ دیکھ لیتا ہے اور جب اپنے کانوں کو کسی آواز کی طرف لگاوے تو کچھ نہ کچھ سُن لیتا ہے۔ اسی طرح جب وہ کسی نیک یا بدکام میں کوئی کامیابی کا راستہ سوچتا ہے تو کوئی نہ کوئی تدبیر سُوجھ ہی جاتی ہے۔ صالح آدمی نیک راہ میں فکر کر کے نیک باتیں نکالتا ہے اور چور نقب زنی کے باب میں فکر کر کے کوئی عمدہ طریق نقب زنی کا ایجاد کرتا ہے۔ غرض جس طرح بدی کے بارے میں انسان کو بڑے بڑے عمیق اور نازک بدی کے خیال سُوجھ جاتے ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس اُسی وقت کو جب انسان نیک راہ میں استعمال کرتا ہے تو نیکی کے عمدہ خیال بھی سوجھ جاتے ہیں۔ اور جس طرح بد خیالات گو کیسے ہی عمیق اور دقیق اور جادو اثر کیوں نہ ہوں خدا کا کلام نہیں ہو سکتے ایسا ہی انسان کے خود تراشیدہ خیالات جن کو وہ اپنے زعم میں نیک سمجھتا ہے کلام الٰہی نہیں ہیں۔ خلاصہ یہ کہ جو کچھ نیکوں کو نیک حکمتیں یا چوروں اور ڈاکوؤں اور خونیوں اور زانیوں اور جعلسازوں کو فکر اور نظر کے بعد بُری تدبیریں سوجھتی ہیں وہ فطرتی آثار اور خواص ہیں۔ اور بوجہ علّت العلل ہونے حضرت باری کے اُن کو خلق اللہ کہا جاتا ہے نہ امر اللہ۔ وہ انسان کے لئے ایسے ہی فطرتی خواص ہیں جیسے نباتات کے لئے قوتِ اسہال یا قوتِ قبض یا دوسری قوتیں فطرتی خواص ہیں۔ غرض جیسا اور چیزوں میں حکیم مطلق نے طرح طرح کے خواص رکھے ہیں ایسا ہی انسان کی قُوّت متفکّرہ میں یہ خاصہ رکھا ہے کہ جس نیک یا بد میں انسان اس سے مدد لینا چاہتا ہے اُسی قسم کی اس سے مدد ملتی ہے۔ ایک شاعر کسی کی ہجو میں شعر بناتا ہے۔ اس کو فکر کرنے سے ہجو کے شعر سوجھتے جاتے ہیں۔ دوسرا شاعر اُسی شخص کی تعریف کرنی چاہتا ہے اس کو تعریف کا ہی مضمون سوجھتا ہے۔ سو اس قسم کے خیالات نیک اور بد خدا کی خاص مرضی کا آئینہ نہیں ہو سکتے اور نہ اُس کا کام اور کلام کہلا سکتے ہیں۔ خدا کا پاک کلام وہ کلام ہے کہ جو انسانی قویٰ سے بکلّی برتر و اعلیٰ ہے۔ اور کمالیّت اور قدرت اور تقدّس سے بھرا ہوا ہے جس کے ظہور و بروز کے لئے اوّل شرط یہی ہے کہ بشری قوتیں بکلّی معطّل اور بے کار ہوں۔ نہ فکر ہو نہ نظر ہو بلکہ انسان مثل میّت کے ہو اور سب اسباب منقطع ہوں۔ اور خدا جس کا وجود واقعی اور حقیقی ہے آپ اپنے کلام کو اپنے خاص ارادہ سے کسی کے دل پر نازل کرے۔ پس سمجھنا چاہئے کہ جس طرح آفتاب کی روشنی صرف آسمان سے آتی ہے آنکھ کے اندر سے پیدا نہیں ہو سکتی اِسی طرح نور الہام کا بھی خاص خدا کی طرف سے اور اس کے ارادہ سے نازل ہوتا ہے۔ یونہی اندر سے جوش نہیں مارتا۔ جبکہ خدا فی الواقعہ موجود ہے اور فی الواقع وہ دیکھتا، سُنتا، جانتا، کلام کرتا ہے تو پھر اُس کا کلام اُسی حیّ قیّوم کی طرف سے نازل ہونا چاہئے نہ یہ کہ انسان کے اپنے ہی خیالات خدا کا کلام بن جائیں۔ ہمارے اندر سے وہی خیالات بھلے یا بُرے جوش مارتے ہیں کہ جو ہمارے اندازۂ فطرت کے مطابق ہمارے اندر سمائے ہوئے ہیں مگر خدا کے بے انتہا علم اور بے شمار حکمتیں ہمارے دل میں کیونکر سما سکیں۔ اس سے زیادہ تر اور کیا کفر ہو گا کہ انسان ایسا خیال کرے کہ جس قدر خدا کے پاس خزائن علم و حکمت اور اسرار غیب ہیں وہ سب ہمارے ہی دل میں موجود ہیں اور ہمارے ہی دل سے جوش مارتے ہیں۔ پس دوسرے لفظوں میں اس کا خلاصہ تو یہی ہوا کہ حقیقت میں ہم ہی خدا ہیں اور بجز ہمارے اور کوئی ذات قائم بنفسہٖ اور متّصف بصفاتہٖ موجودنہیں جس کو خدا کہا جائے۔ کیونکر اگر فی الواقعہ خدا موجود ہے اور اس کے علوم غیر متناہی اُسی سے خاص ہیں جن کا پیمانہ ہمارا دل نہیں ہو سکتا تو اس صورت میں کس قدر یہ قول غلط اور بے ہودہ ہے کہ خدا کے بے انتہا علوم ہمارے ہی دل میں بھرے پڑے ہیں اور خدا کے تمام خزائن حکمت ہمارے ہی قلب میں سما رہے ہیں۔ گویا خدا کا علم اسی قدر ہے جس قدر ہمارے دل میں موجود ہے۔ پس خیال کرو کہ اگر یہ خدائی کا دعویٰ نہیں تو اور کیا ہے؟ لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ انسان کا دل خدا کے جمیع کمالات کا جامع ہو جائے؟ کیا یہ جائز ہے کہ ایک ذرہ امکان آفتاب وجوب بن جائے؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔ ہم پہلے ابھی لکھ چکے ہیں کہ الوہیت کے خواص جیسے علم غیب اور احاطۂ دقائق حکمیہ اور دوسرے قدرتی نشان انسان سے ہرگز ظہور پذیر نہیں ہو سکتے۔ اور خدا کا کلام وہ ہے جس میں خدا کی عظمت، خدا کی قدرت، خدا کی برکت، خدا کی حکمت، خدا کی بے نظیری پائی جاوے۔ سو وہ تمام شرائط قرآن شریف میں ہیں جیسے انشاء اللہ ثبوت اس کا اپنے موقعہ پر ہو گا۔ پس اگر اب بھی برہمو سماج والوں کو ایسے الہام کے وجود سے انکار ہو کہ جو امور غیبیہ اور دوسرے امور قدرتیہ پر مشتمل ہو تو اُن کو اپنی آنکھ کھولنے کے لئے قرآن شریف کو بغور تمام دیکھنا چاہئے تا انہیں معلوم ہو کہ کیسے اس کلام پاک میں ایک دریا اخبارِ غیب کا اور نیز اُن تمام امور قدرتیہ کا کہ جو انسانی طاقتوں سے باہر ہیں بہ رہا ہے۔ اور اگر بوجہ قلّتِ بصیرت و بصارت ان فضائل قرآنیہ کو خود بخود معلوم نہ کر سکیں تو ہماری اس کتاب کو ذرا آنکھ کھول کر پڑھیں تا وہ خزائن اُمور غیبیہ و اسرار قدرتیہ کہ جو قرآن شریف میں بھرے پڑے ہیں بطور مشتے نمونہ از خروارے اُن کو معلوم ہو جائیں اور یہ بھی ان کو معلوم رہے کہ تحقق وجود الہام ربّانی کے لئے کہ جو خاص خدا کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔ اور اُمورِ غیبیہ پر مشتمل ہوتا ہے ایک اور بھی راستہ کھلا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اُمتِ محمدیہ میں کہ جو سچے دین پر ثابت اور قائم ہیں ہمیشہ ایسے لوگ پیدا کرتا ہے کہ جو خدا کی طرف سے ملہم ہو کر ایسے اُمورِ غیبیہ بتلاتے ہیں جن کا بتلانا بجز خدائے واحد لاشریک کے کسی کے اختیار میں نہیں۔ اور خداوند تعالیٰ اس پاک الہام کو اُنہی ایمانداروں کو عطا کرتا ہے جو سچے دل سے قرآن شریف کو خدا کاکلام جانتے ہیں اور صدق اور اخلاص سے اس پر عمل کرتے ہیں۔ اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا سچا اور کامل پیغمبر اور سب پیغمبروں سے افضل اور اعلیٰ اور بہتر اور خاتم الرسل اور اپنا ہادی اور رہبر سمجھتے ہیں دوسروں کو یہ الہام یعنی یہودیوں عیسائیوں آریوں اور برہمیوں وغیرہ کو ہرگز نہیں ہوتا۔ بلکہ ہمیشہ قرآن شریف کے کامل تابعین کو ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہوتا ہے اور آئندہ بھی ہو گا۔ اور گو وحی ٔ رسالت بجہت عدمِ ضرورت منقطع ہے لیکن یہ الہام کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بااخلاص خادموں کو ہوتا ہے یہ کسی زمانہ میں منقطع نہیں ہو گا۔ اور یہ الہام وحی ٔ رسالت پر ایک عظیم الشان ثبوت ہے جس کے سامنے ہر یک منکر و مخالفِ اسلام ذلیل اور رُسوا ہے اور چونکہ یہ مبارک الہام اپنی تمام برکت اور عزت اور عظمت اور جلال کے ساتھ صرف اُن عزت دار بندوں میں پایا جاتا ہے کہ جو اُمتِ محمدیہ میں داخل ہیں اور خدّام آنحضرت ِ والا جاہ ہیں۔ دوسرے کسی فرقہ میں یہ نور کامل کہ جو تقّرب اور قبولیت اور خوشنودی حضرتِ عزّت کی بشارتیں بخشتا ہے ہرگز پایا نہیں جاتا۔ اس لئے وجود اس مبارک الہام کا صرف نفسِ الہام کی حقانیت کو ثابت نہیں کرتا بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ دنیا میں مقبول اور مستقیم دین پر جو فرقہ ہے وہ فقط اہلِ اسلام ہی کا فرقہ ہے اور باقی سب لوگ باطل پرست اور کجرو اور موردِ غضبِ الٰہی ہیں۔ نادان لوگ میری اس بات کو سنتے ہی طرح طرح کی باتیں بنائیں گے اور انکار سے سر ہلائیں گے یا احمقوں اور شریروں کی طرح ٹھٹھا کریں گے مگر اُن کو سمجھنا چاہئے کہ خواہ نخواہ انکار اور ہنسی سے پیش آنا شریف النفس اور طالب الحق انسانوں کا کام نہیں بلکہ اُن خبیث الطینت اور شریر النفس لوگوں کا کام ہے جن کو خدا اور راستی سے غرض نہیں۔ دنیا میں ہزار ہا چیزوں میں ایسے خواص ہیں کہ جو عقلی طور پر سمجھے نہیں جاتے صرف تجربہ سے انسان ان کو سمجھتا ہے۔ اسی وجہ سے عام طور پر تمام عقلمندوں کا یہی قاعدہ ہے کہ جب تکرار تجربہ سے کسی چیز کی خاصیت ظاہر ہو جاتی ہے تو پھر اس خاصیّت کے تحقّق وجود میں کسی عاقل کو شک باقی نہیں رہتا۔ اور آزمانے کے بعد وہی شخص شک کرتا ہے کہ جو نرا گدھا ہے۔ مثلاً تُربد میں جو قوت اسہال ہے یا مقناطیس میں جو قوتِ جذب ہے اگرچہ اس بات پر کوئی دلیل قائم نہیں کہ کیوں ان میں یہ قوتیں ہیں لیکن جب کہ تکرارِ تجربہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ ضرور اِن چیزوں میں یہ قوتیں پائی جاتی ہیں تو گو اُن کی کیفیت وجود پر عقلی طور پر کوئی دلیل قائم نہ ہو لیکن بضرورت شہادت قاطعہ تجربہ اور امتحان کے ہر ایک عاقل کو ماننا پڑتا ہے کہ فی الحقیقت تربد میں قوتِ اسہال ہے اور مقناطیس میں خاصہ جذب موجود ہے اور اگرکوئی ان کے وجود سے اِ س بنا پر انکار کرے کہ عقلی طور پر مجھ کو کوئی دلیل نہیں ملتی تو ایسے شخص کو ہر ایک دانا پاگل اور دیوانہ جانتا ہے اور سودائی اور مسلوب العقل قرار دیتا ہے۔ سو اب ہم برہمو لوگوں اور دوسرے مخالفین کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے الہام کی نسبت بیان کیا ہے یعنی یہ کہ وہ اب بھی امت محمدیہ کے کامل افراد میں پایا جاتا ہے اور انہی سے مخصوص ہے۔ ان کے غیر میں ہرگز پایا نہیں جاتا۔ یہ بیان ہمارا بلا ثبوت نہیں بلکہ جیسابذریعہ تجربہ ہزار ہا صداقتیں دریافت ہو رہی ہیں۔ ایسا ہی یہ بھی تجربہ اور امتحان سے ہر یک طالب پر ظاہر ہو سکتا ہے اور اگر کسی کو طلب حق ہو تو اس کا ثابت کر دکھانا بھی ہمارا ہی ذمہ ہے۔ بشرطیکہ کوئی برہمو یا اور کوئی منکر دین اسلام کا طالب حق بن کر اور بصدقِ دل دین اسلام قبول کرنے کا وعدہ تحریری مشتہر کر کے اخلاص اور نیک نیتی اور اطاعت سے رجوع کرے۔ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِالۡمُفۡسِدِیۡنَ بعض لوگ یہ وہم بھی پیش کرتے ہیں کہ جس حالت میں امورِ غیبیہ کے بتانے والے دنیا میں کئی فرقے پائے جاتے ہیں کہ جو کبھی نہ کبھی اور کچھ نہ کچھ بتلا دیتے ہیں اور بعض اوقات کسی قدر ان کا مقولہ بھی سچ ہو رہتا ہے جیسے منجم، طبیب، قیافہ دان، کاہن، رمّال، جفری، فال بین اور بعض بعض مجانین اور حال کے زمانہ میں مسمریزم کے بعض امور ان سے مکشوف ہوتے رہے ہیں تو پھر اُمور غیبیہ الہام کی حقّانیت پر کیونکر حجت قاطع ہوں گے۔ اس کے جواب میں سمجھنا چاہئے کہ یہ تمام فرقے جن کا اوپر ذکر ہوا صرف ظن اور تخمین بلکہ وہم پرستی سے باتیں کرتے ہیں یقینی اور قطعی علم ان کو ہرگز نہیں ہوتا اور نہ ان کا ایسا دعویٰ ہوتا ہے اور بعض حوادثِ کونیّہ سے جو یہ لوگ اطلاع دیتے ہیں تو اُن کی پیشین گوئیوں کا ماخذ صرف علامات و اسبابِ ظنّیہ ہوتے ہیں جنہوں نے قطع اور یقین کے مرتبہ سے مس بھی نہیں کیا ہوتا اور احتمالِ تلبیس اور اشتباہ اور خطا کا اُن سے مرتفع نہیں ہوتا بلکہ اکثر ان کی خبریں سراسر بے اصل اور بے بنیاد اور دروغ محض نکلتی ہیں اور باوصف اِس کِذب فاش اور خلاف واقعہ نکلنے کے اُن کی پیشین گوئیوں میں عزت اور قبولیّت اور منصوریّت اور کامیابی کے انوار پائے نہیں جاتے اور ایسے خبریں بتانے والے اپنی ذاتی حالت میں اکثر افلاس زدہ اور بدنصیب اور بدبخت اور بے عزت اور دونِ ہمت اور دنی النفس اور ناکام اور نامراد ہی نظر آتے ہیں اور امورِ غیبیہ کو اپنی حسب مراد ہرگز نہیں کر سکتے بلکہ اُن کے حالات پر خدا کے قہر کی علامات نمودار ہوتی ہیں اور خدا کی طرف سے کوئی برکت اور عزّت اور نصرت اُن کے شامل حال نہیں ہوتی۔ مگر انبیاء اور اولیاء صرف نجومیوں کی طرح اُمور غیبیہ کو ظاہرنہیں کرتے بلکہ خدا کے کامل فضل اور بزرگ رحمت سے کہ جو ہر دم اُن کے شاملِ حال ہوتی ہے ایسی اعلیٰ پیشین گوئیاں بتلاتے ہیں جن میں انوارِ قبولیت اور عزت کے آفتاب کی طرح چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں اور جو عزت اور نصرت کی بشارت پر مشتمل ہوتے ہیں۔ نہ نحوست اور نہ نکبت پر۔ قرآن شریف کی پیشین گوئیوں پر نظر ڈالو تو معلوم ہو کہ وہ نجومیوں وغیرہ درماندہ لوگوں کی طرح ہرگز نہیں بلکہ اُن میں صریح ایک اقتدار اور جلال جوش مارتا ہوا نظر آتا ہے اور اس میں تمام پیشین گوئیوں کا یہی طریق اور طرز ہے کہ اپنی عزّت اور دشمن کی ذلّت اور اپنا اقبال اور دشمن کا ادبار اور اپنی کامیابی اور دشمن کی ناکامی اور اپنی فتح اور دشمن کی شکست اور اپنی ہمیشہ کی سرسبزی اور دشمن کی تباہی ظاہر کی ہے۔ کیا اس قسم کی پیشین گوئیاں کوئی نجومی بھی کر سکتا ہے یا کسی رمّال یا مسمریزم کے ذریعہ سے ظہور پذیر ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ ہمیشہ اپنی ہی خیر ظاہر کرنا اور مخالف کا زوال اور وبال جتلانا اور جو بات مخالف مُنہ پر لاوے اُسی کو توڑنا اور جو بات اپنے مطلب کی ہو اُس کے ہو جانے کا وعدہ کرنا یہ تو صریح خدائی ہے انسان کا کام نہیں۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۳۲ تا۲۴۲ بقیہ حاشیہ نمبر ۱۱)انسان باوجودیکہ ہزار ہا برسوں سے اپنے علوم طبعیہ اور ریاضیہ کے ذریعہ سے خدا کی قدرتوں کے دریافت کرنے کے لئے جان توڑ کوششیں کر رہا ہے مگر ابھی تک اس قدر اس کے معلومات میں کمی ہے کہ اس کو نامراد اور ناکام ہی کہنا چاہئے۔ صدہا اسرار غیبیہ اہل کشف اور اہل مکالمہ الٰہیہ پر کُھلتے ہیں اور ہزار ہا راستباز ان کے گواہ ہیں مگر فلسفی لوگ اب تک ان کے منکر ہیں۔ جیسا کہ فلسفی لوگ تمام مدار ادراکِ معقولات اور تدبّر اور تفکّر کا دماغ پر رکھتے ہیں مگر اہلِ کشف نے اپنی صحیح رؤیت اور روحانی تجارب کے ساتھ معلوم کیا ہے کہ انسانی عقل اور معرفت کا سرچشمہ دل ہے۔ جیسا کہ میں پینتیس۳۵ برس سے اس بات کا مشاہدہ کر رہا ہوں کہ خدا کا الہام جو معارفِ روحانیہ اور علومِ غیبیہ کا ذخیرہ ہے دل پر ہی نازل ہوتا ہے بسا اوقات ایک ایسی آواز سے دل کا سرچشمہء علوم ہونا کھل جاتا ہے کہ وہ آواز دل پر اس طور سے بشدّت پڑتی ہے کہ جیسے ایک ڈول زور کے ساتھ ایک ایسے کنوئیں میں پھینکا جاتا ہے جو پانی سے بھرا ہوا ہے تب وہ دل کا پانی جوش مار کر ایک غنچہ کی شکل میں سربستہ اوپر کو آتا ہے اور دماغ کے قریب ہو کر پُھول کی طرح کِھل جاتا ہے اور اس میں سے ایک کلام پیدا ہوتا ہے وہی خد اکا کلام ہے۔ پس اِن تجارب صحیحہ روحانیہ سے ثابت ہے کہ دماغ کو علوم اور معارف سے کچھ تعلّق نہیں۔ ہاں اگر دماغ صحیح واقعہ ہو اور اس میں کوئی آفت نہ ہو تو وہ دل کے علومِ مخفیہ سے مستفیض ہوتا ہے اور دماغ چونکہ منبت اعصاب ہے اس لئے وہ ایسی کَلْ کی طرح ہے جو پانی کو کنوئیں سے کھینچ سکتی ہے اور دل وہ کنواں ہے جو علومِ مخفیہ کا سرچشمہ ہے۔ یہ وہ راز ہے جو اہلِ حق نے مکاشفاتِ صحیحہ کے ذریعہ سے معلوم کیا ہے جس میں مَیں خود صاحبِ تجربہ ہوں۔ (چشمہء معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۲۸۲، ۲۸۳)
یہ عاجز قریباً گیارہ برس سے شرفِ مکالمہ الٰہیہ سے مشرف ہے اور اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ وحی درحقیقت آسمان سے ہی نازل ہوتی ہے۔ وحی کی مثال اگر دنیا کی چیزوں میں سے کسی چیز کے ساتھ دی جائے تو شائد کسی قدر تار برقی سے مشابہ ہے جو اپنے ہر یک ّتغیرکی آپ خبر دیتی ہے۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ اس وحی کے وقت جو برنگِ وحی ٔ ولایت میرے پر نازل ہوتی ہے ایک خارجی اور شدید الاثر تصرف کا احساس ہوتا ہے اور بعض دفعہ یہ تصّرف ایسا قوی ہوتا ہے کہ مجھ کو اپنے انوار میں ایسا دبا لیتا ہے کہ مَیں دیکھتا ہوں کہ مَیں اس کی طرف ایسا کھینچا گیا ہوں کہ میری کوئی قوت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس تصرف میں کُھلا اور روشن کلام سُنتا ہوں۔ بعض وقت ملائکہ کو دیکھتا ہوں اور سچائی میں جو اثر اور ہیبت ہوتی ہے مشاہدہ کرتا ہوں اور وہ کلام بسا اوقات غیب کی باتوں پر مشتمل ہوتا ہے اور ایسا تصّرف اور اخذ خارجی ہوتا ہے جس سے خدا تعالیٰ کا ثبوت ملتا ہے۔ اب اِس سے انکار کرنا ایک کھلی کھلی صداقت کا خون کرنا ہے۔ (برکات الدعا۔ روحانی خزائن جلد ۶صفحہ ۲۶)
مجھے اُس اللہ جَلَّشانہٗ کی قسم ہے کہ یہ بات واقعی صحیح ہے کہ وحی آسمان سے دل پر ایسی گِرتی ہے جیسے کہ آفتاب کی شعاع دیوار پر۔ مَیں ہر روز دیکھتا ہوں کہ جب مکالمہ الٰہیہ کا وقت آتا ہے تو اوّل یک دفعہ مجھ پر ایک ربودگی طاری ہوتی ہے تب مَیں ایک تبدیل یافتہ چیز کی مانند ہو جاتا ہوں اور میری حِس اور میرا اِدراک اور ہوش گو بگفتن باقی ہوتا ہے مگر اس وقت مَیں پاتا ہوں کہ گویا ایک وجود شدید الطاقت نے میرے تمام وجود کو اپنی مٹھی میں لے لیا ہے اور اس وقت احساس کرتا ہوں کہ میری ہستی کی تمام رگیں اُس کے ہاتھ میں ہیں اور جو کچھ میرا ہے اب وہ میرا نہیں بلکہ اس کا ہے۔ جب یہ حالت ہو جاتی ہے تو اس وقت سب سے پہلے خدا تعالیٰ دل کے اُن خیالات کو میری نظر کے سامنے پیش کرتا ہے جن پر اپنے کلام کی شعاع ڈالنا اس کو منظور ہوتا ہے۔ تب ایک عجیب کیفیت سے وہ خیالات یکے بعد دیگرے نظر کے سامنے آتے ہیں۔ اور ایسا ہوتاہے کہ جب ایک خیال مثلاً زید کی نسبت دل میں آیا کہ وہ فلاں مرض سے صحت یاب ہوگا یا نہ ہو گا تو جھٹ اس پر ایک ٹکڑا کلام الٰہی کا ایک شعاع کی طرح گرتا ہے اور بسااوقات اس کے گرنے کے ساتھ تمام بدن ہل جاتا ہے۔ پھر وہ مقدمہ طے ہو کر دوسرا خیال سامنے آتا ہے۔ اِدھر وہ خیال نظر کے سامنے کھڑا ہوا اور اُدھر ساتھ ہی ایک ٹکڑا الہام کا اُس پر گِرا۔ جیسا کہ ایک تیر انداز ہر یک شکار کے نکلنے پر تیر مارتا جاتا ہے اور عین اُس وقت میں محسوس ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ خیالات کا ہمارے ملکہ فطرت سے پیدا ہوتا ہے اور کلام جو اس پر گِرتا ہے وہ اوپر سے نازل ہوتا ہے۔ اگرچہ شعراء وغیرہ کو بھی سوچنے کے بعد القاء ہوتا ہے مگر اُس وحی کو اس سے مناسبت دینا سخت بے تمیزی ہے کیونکہ وہ القاء خوض اور فکر کا ایک نتیجہ ہوتا ہے اور ہوش و حواس کی قائمی اور انسانیت کی حد میں ہونے کی حالت میں ظہور کرتا ہے۔ لیکن یہ القاء صرف اس وقت ہوتا ہے کہ جب انسان اپنے تمام وجود کے ساتھ خدا تعالیٰ کے تصرف میں آ جاتا ہے اور اپنا ہوش اور اپنا خوض کسی طور سے اس میں دخل نہیں رکھتا۔ اُس وقت زبان ایسی معلوم ہوتی ہے کہ گویا یہ اپنی زبان نہیں اور ایک دوسری زبردست طاقت اس سے کام لے رہی ہے اور یہ صورت جو مَیں نے بیان کی ہے اس سے صاف سمجھ میں آ جاتا ہے کہ فطرتی سلسلہ کیا چیز ہے اور آسمان سے کیا نازل ہوتا ہے؟ (برکات الدعا۔ روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۲۲، ۲۳ حاشیہ)
مکالمہ الٰہیہ کے وقت میں جو انسان کو ایک قسم کی نیند اور غنودگی آتی ہے جس غنودگی کی حالت میں خدا کا کلام دل پر نازل ہوتا ہے وہ غنودگی اسباب مادیہ کی حکومت اور تاثیر سے بالکل باہر ہے اور اس جگہ طبعی کے تمام اسباب اور علل معطّل اور بے کار رہ جاتے ہیں۔ مثلاً جب ایک صادق انسان جس کا درحقیقت خدا تعالیٰ سے محبت اور وفا کا تعلّق ہے اپنے اس جوش تعلّق میں اپنے رب کریم سے کسی حاجت کے متعلق کوئی سوال کرتا ہے تو ایسا ہوتا ہے کہ وہ ابھی اسی دُعا میں مشغول ہوتا ہے کہ ناگہ ایک غنودگی اُس پر طاری ہو جاتی ہے اور ساتھ ہی آنکھ کھل جاتی ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اس سوال کا جواب اس غنودگی کے پردہ میں نہایت فصیح بلیغ الفاظ میں اس کو مل جاتا ہے۔ وہ الفاظ اپنے اندر ایک شوکت اور لذت رکھتے ہیں۔ اور اُن میں الوہیت کی طاقت اور قوت چمکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور میخ آ ہنی کی طرح دل کے اندر دھنس جاتے ہیں۔ اور وہ الہامات اکثر غیب پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب ایک سوال کے بعد وہ صادق بندہ اُسی پہلے سوال کے متعلق کچھ اور عرض کرنا چاہتا ہے یا کوئی نیا سوال کرتا ہے تو پھر غنودگی اُس پر طاری ہو جاتی ہے اور ایک سیکنڈ تک یا اُس سے بھی کم تر حالت میں وہ غنودگی کھل جاتی ہے اور اُس میں سے پھر ایک پاک کلام نکلتا ہے جیسے ایک میوہ کے غلاف میں سے اس کا مغز نکلتا ہے جو نہایت لذیذ اور پُرشوکت ہوتا ہے۔ اِسی طرح وہ خدا جو نہایت کریم اور رحیم اور اخلاق میں سب سے بڑھا ہوا ہے ہر ایک سوال کا جواب دیتا ہے۔ اور جواب دینے میں نفرت اور بیزاری ظاہر نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ اگر ساٹھ۶۰ یا ستر۷۰ یا سو۱۰۰ دفعہ سوال کیا جائے تو اس کا جواب اسی صورت اور اسی پیرایہ میں دیتا ہے یعنی ہر ایک سوال کے وقت ایک خفیف سی غنودگی وارد حال ہو جاتی ہے اور کبھی ایک بھاری غنودگی اور ربودگی طاری حال ہو جاتی ہے کہ گویا انسان ایک غشی کی حالت میں پڑ گیا ہے۔ اور اکثر عظیم الشان امور میں اس قسم کی وحی ہوتی ہے اور یہ وحی کی تمام قسموں میں برتر و اعلیٰ ہے۔ پس ایسے حالات میں جو سوال اور دعا کے وقت لحظہ لحظہ پر غنودگی طاری ہوتی ہے اور اس غنودگی کے پردہ میں وحی الٰہی نازل ہوتی ہے۔ یہ طرز غنودگی اسباب مادیّہ سے برتر ہے۔ اور جو کچھ طبعی والوں نے خواب کے متعلق قانون قدرت سمجھ رکھا ہے۔ اُس کو پاش پاش کرتی ہے۔ ایسا ہی صد ہا رُوحانی امور ہیں جو ظاہری فلسفہ والوں کے خیالات کو نہایت ذلیل ثابت کرتے ہیں۔ بسا اوقات انسان کشفی رنگ میں کئی ہزار کوس کی دُور کی چیزوں کو ایسے طور سے دیکھ لیتا ہے گویا وہ اُس کی آنکھ کے سامنے ہیں اور بسا اوقات اُن روحوں سے جو فوت ہو چکے ہیں عین بیداری میں ملاقات کرتا ہے۔ (چشمہء معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۱۱۱، ۱۱۲)
صورت اوّل الہام کی منجملہ اُن کئی صورتوں کے جن پر خدا نے مجھ کو اطلاع دی ہے یہ ہے کہ جب خداوند تعالیٰ کوئی امر غیبی اپنے بندہ پر ظاہر کرنا چاہتا ہے تو کبھی نرمی سے اور کبھی سختی سے بعض کلمات زبان پر کچھ تھوڑی غنودگی کی حالت میں جاری کر دیتا ہے۔ اور جو کلمات سختی اور گرانی سے جاری ہوتے ہیں۔ وہ ایسی پُرشدّت اور عنیف صورت میں زبان پر وارد ہوتے ہیں جیسے گڑے یعنی اولے بیکبارگی ایک سخت زمین پر گرتے ہیں یا جیسے تیز اور پُر زور رفتار میں گھوڑے کا سُم زمین پر پڑتا ہے۔ اس الہام میں ایک عجیب سُرعت اور شدّت اور ہیبت ہوتی ہے جس سے تمام بدن متأثر ہو جاتا ہے اور زبان ایسی تیزی اور بارُعب آواز میں خودبخود وڑتی جاتی ہے کہ گویا وہ اپنی زبان ہی نہیں اور ساتھ اس کے جو ایک تھوڑی سی غنودگی اور ربودگی ہوتی ہے وہ الہام کے تمام ہونے کے بعد فی الفور دُور ہو جاتی ہے اور جب تک کلماتِ الہام تمام نہ ہوں تب تک انسان ایک میّت کی طرح بے حس و حرکت پڑا ہوتا ہے۔ یہ الہام اکثر اُن صورتوں میں نازل ہوتا ہے کہ جب خداوند کریم ورحیم اپنی عین حکمت اور مصلحت سے کسی خاص دُعا کو منظور کرنا نہیں چاہتا یا کسی عرصہ تک توقف ڈالنا چاہتا ہے یا کوئی اور خبر پہنچانا چاہتا ہے کہ جو بہ مقتضائے بشریت انسان کی طبیعت پر گراں گذرتی ہو۔ مثلاً جب انسان جلدی سے کسی امر کا حاصل کر لینا چاہتا ہو اور وہ حاصل ہونا حسب مصلحت ربّانی اس کے لئے مقدر نہ ہو یا توقف سے مقدر ہو اس قسم کے الہام بھی یعنی جو سخت اور گراں صورت کے الفاظ خداکی طرف سے زبان پر جاری ہوتے ہیں بعض اوقات مجھ کو ہوتے رہے ہیں جس کا بیان کرنا موجب طوالت ہے مگر ایک مختصر فقرہ بطور نمونہ بیان کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ شائد تین سال کے قریب عرصہ گذرا ہو گا کہ مَیں نے اسی کتاب کے لئے دُعا کی کہ لوگ اس کی مدد کی طرف متوجہ ہوں تب یہی الہام شدید الکلمات جس کی مَیں نے ابھی تعریف کی ہے اِن لفظوں میں ہوا۔
’’بِالفعل نہیں‘‘
اور یہ الہام جب اس خاکسار کو ہوا تو قریب دس یا پندرہ ہندو اور مسلمان لوگوں کے ہوں گے کہ جو قادیان میں اب تک موجود ہیں جن کو اُسی وقت اس الہام سے خبر دی گئی۔ اور پھر اُسی کے مطابق جیسے لوگوں کی طرف سے عدم توجہی رہی وہ حال بھی ان تمام صاحبوں کو بخوبی معلوم ہے۔
دوسری قسم الہام کی یعنی وہ قسم جس میں کچھ ملائمت سے کلمات زبان پر جاری ہوتے ہیں اس قسم میں اپنے ذاتی مشاہدات میں سے صرف اس قدر لکھنا کافی ہے کہ جب پہلے الہام کے بعد جس کو مَیں ابھی ذکر کر چکا ہوں ایک عرصہ گذر گیا اور لوگوں کی عدم توجہی سے طرح طرح کی دقتیں پیش آئیں اور مشکل حد سے بڑھ گئی تو ایک دن قریب مغرب کے خداوند کریم نے یہ الہام کیا۔ ھُزِّ اِلَیْکَ بِجِذْعِ النَّخْلَۃِ تُسَاقِطْ عَلَیْکَ رُطَبًا جَنِیًّا۔160 سو مَیں نے سمجھ لیا کہ یہ تحریک اور ترغیب کی طرف اشارہ ہے اور یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ بذریعہ تحریک کے اس حصّۂ کتاب کے لئے سرمایہ جمع ہو گا۔ اور اس کی خبر بھی بدستور کئی ہندو اور مسلمانوں کو دی گئی۔ اور اتفاقًا اُسی روز یا دوسرے روز حافظ ہدایت علی خاں صاحب کہ جو ان دنوں اس ضلع میں اکسٹرا اسسٹنٹ تھے قادیان میں آ گئے اُن کو بھی اس الہام سے اطلاع دی گئی اور مجھے بخوبی یاد ہے کہ اسی ہفتہ میں مَیں نے آپ کے دوست مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب کو بھی اس الہام سے اطلاع دی تھی۔ اب خلاصہء کلام یہ کہ اس الہام کے بعد میں نے حسب الارشاد حضرت احدیت کسی قدر تحریک کی تو تحریک کرنے کے بعد لاہور، پشاور، راولپنڈی، کوٹلہ مالیر اور چند دوسرے مقاموں سے جس قدر اور جہاں سے خدا نے چاہا اس حصہ کے لئے جو چھپتا تھا مدد پہنچ گئی۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذَالِک۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱صفحہ ۲۴۸تا ۲۵۱ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۱)صورت دوم الہام کی جس کا مَیں باعتبار کثرت عجائبات کے کامل الہام نام رکھتا ہوں یہ ہے کہ جب خدائے تعالیٰ بندہ کو کسی امر غیبی پر بعد دعا اس بندہ کے یا خود بخود مطلع کرنا چاہتا ہے تویک دفعہ ایک بیہوشی اور ربودگی اس پر طاری کر دیتا ہے جس سے وہ بالکل اپنی ہستی سے کھویا جاتا ہے۔ اور ایسا اس بیخودی اور ربودگی اور بے ہوشی میں ڈوبتا ہے جیسے کوئی پانی میں غوطہ مارتا ہے اور نیچے پانی کے چلا جاتا ہے۔ غرض جب بندہ اس حالت ربودگی سے کہ جو غوطہ سے بہت ہی مشابہ ہے باہر آتا ہے تو اپنے اندر میں کچھ ایسا مشاہدہ کرتا ہے جیسے ایک گونج پڑی ہوئی ہوتی ہے اور جب وہ گونج کچھ فرو ہوتی ہے تو ناگہاں اُس کو اپنے اندر سے ایک موزون اور لطیف اور لذیذ کلام محسوس ہو جاتی ہے اور یہ غوطہ ربودگی کا ایک نہایت عجیب امر ہے جس کے عجائبات بیان کرنے کے لئے الفاظ کفایت نہیں کرتے۔ یہی حالت ہے جس سے ایک دریا معرفت کا انسان پر کھل جاتا ہے کیونکہ جب بار بار دعا کرنے کے وقت خدا وند تعالیٰ اس حالت غوطہ اور ربودگی کو اپنے بندہ پر وارد کرکے اس کی ہر یک دعا کا اس کو ایک لطیف اور لذیذ کلام میں جواب دیتا ہے اور ہر یک استفسار کی حالت میں وہ حقائق اس پر کھولتا ہے جن کا کھلنا انسان کی طاقت سے باہر ہے تو یہ امر اس کے لئے موجب مزید معرفت اور باعثِ عرفان کامل ہوجاتا ہے۔ بندہ کا دُعا کرنا اور خدا کا اپنی الوہیت کی تجلّی سے ہر یک دعا کا جواب دینا یہ ایک ایسا امر ہے کہ گویا اسی عالم میں بندہ اپنے خدا کو دیکھ لیتا ہے اور دونوں عالم اس کے لئے بلاتفاوت یکساں ہو جاتے ہیں۔ جب بندہ اپنی کسی حاجت کے وقت بار بار اپنے مولیٰ کریم سے کوئی عقدہ پیش آمدہ دریافت کرتا ہے اور عرض حال کے بعد حضرتِ خداوند کریم سے جواب پاتا ہے اسی طرح کہ جیسے ایک انسان دوسرے انسان کی بات کا جواب دیتا ہے اور جواب ایسا ہوتا ہے کہ نہایت فصیح اور لطیف الفاظ میں بلکہ کبھی کسی ایسی زبان میں ہوتا ہے کہ جس سے وہ بندہ ناآشنا محض ہے اور کبھی امور غیبیہ پر مشتمل ہوتا ہے کہ جو مخلوق کی طاقتوں سے باہر ہیں اور کبھی اس کے ذریعہ سے مواہب عظیمہ کی بشارت ملتی ہے اور منازلِ عالیہ کی خوشخبری سُنائی جاتی ہے اور قرب حضرت باری کی مبارکباد ی دی جاتی ہے۔ اور کبھی دنیوی برکتوں کے بارے میں پیشگوئی ہوتی ہے تو ان کلماتِ لطیفہ و بلیغہ کے سُننے سے کہ جو مخلوق کی قوتوں سے نہایت بلند اور اعلیٰ ہوتے ہیں جس قدر ذوق اور معرفت حاصل ہوتی ہے اس کو وہی بندہ جانتا ہے جس کو یہ نعمت عطا ہوتی ہے۔ فی الحقیقت وہ خدا کو ایسا ہی شناخت کر لیتا ہے جیسے کوئی شخص تم میں سے اپنے پکّے اور پُرانے دوست کو شناخت کرتا ہے۔ اور یہ الہام اکثر معظّمات امور میں ہوتا ہے۔ کبھی اُس میں ایسے الفاظ بھی ہوتے ہیں جن کے معنے لغت کی کتابیں دیکھ کر کرنے پڑتے ہیں اور بلکہ بعض دفعہ یہ الہام کسی اجنبی زبان مثلاً انگریزی یا کسی ایسی دوسری زبان میں ہوا ہے جس زبان سے ہم محض ناواقف ہیں۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۶۰ تا۲۶۴ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۱)
صورت سوم الہام کی یہ ہے کہ نرم اور آہستہ طور پر انسان کے قلب پر القاء ہوتا ہے یعنی یک مرتبہ دل میں کوئی کلمہ گذر جاتا ہے جس میں وہ عجائبات بہ تمام و کمال نہیں ہوتے کہ جو دوسری صورت میں بیان کئے گئے ہیں بلکہ اِس میں ربودگی اور غنودگی بھی شرط نہیں۔ بسا اوقات عین بیداری میں ہو جاتا ہے اور اُس میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا غیب سے کسی نے وہ کلمہ دل میں پُھونک دیا ہے یا پھینک دیا ہے۔ انسان کسی قدر بیداری میں ایک استغراق اور محویت کی حالت میں ہوتا ہے اور کبھی بالکل بیدار ہوتا ہے کہ یکدفعہ دیکھتا ہے کہ ایک نووارد کلام اُس کے سینہ میں داخل ہے یا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ معًا وہ کلام دل میں داخل ہوتے ہی اپنی پُر ز ور روشنی ظاہر کر دیتا ہے اور انسان متنبّہ ہو جاتا ہے کہ خدا کی طرف سے یہ القاء ہے۔ اور صاحبِ ذوق کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جیسے تنفسی ہوا اندر جاتی ہے اور تمام دل وغیرہ اعضاء کو راحت پہنچاتی ہے ویسا ہی وہ الہام دل کو تسلّی اور سکینت اور آرام بخشتا ہے اور طبیعت مضطرب پر اُس کی خوشی اور خُنکی ظاہر ہوتی ہے۔ یہ ایک باریک بھید ہے جو عوام لوگوں سے پوشیدہ ہے۔ مگر عارف اور صاحب معرفت لوگ جن کو حضرت واہب حقیقی نے اسرار ربّانی میں صاحب تجربہ کر دیا ہے وہ اس کو خوب سمجھتے اور جانتے ہیں اور اس صورت کا الہام بھی اس عاجز کو بار ہا ہوا ہے جس کا لکھنا بالفعل کچھ ضروری نہیں۔
صورت چہارم الہام کی یہ ہے کہ رؤیا صادقہ میں کوئی امر خدائے تعالیٰ کی طرف سے منکشف ہو جاتا ہے یا کبھی کوئی فرشتہ انسان کی شکل میں متشکل ہو کر کوئی غیبی بات بتلاتا ہے یا کوئی تحریر کاغذ یا پتھر وغیرہ پر مشہود ہو جاتی ہے جس سے کچھ اسرار ّغیبیہ ظاہرہوتے ہیں۔ وَغَیْرُہَا مِنَ الصُّوَرِ۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۷۳، ۲۷۴ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۱)صورت پنجم الہام کی وہ ہے جس کا انسان کے قلب سے کچھ تعلق نہیں بلکہ ایک خارج سے آواز آتی ہے اور یہ آواز ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے ایک پردہ کے پیچھے سے کوئی آدمی بولتا ہے۔ مگر یہ آواز نہایت لذیذ اور شگفتہ اور کسی قدر سرعت کے ساتھ ہوتی ہے اور دل کو اس سے ایک لذّت پہنچتی ہے۔ انسان کسی قدر استغراق میں ہوتا ہے کہ یک دفعہ یہ آواز آ جاتی ہے اور آوازسن کر وہ حیران رہ جاتا ہے کہ کہاں سے یہ آواز آئی اور کس نے مجھ سے کلام کی۔ اور حیرت زدہ کی طرح آگے پیچھے دیکھتا ہے۔ پھر سمجھ جاتا ہے کہ کسی فرشتہ نے یہ آواز دی۔ اور یہ آواز خارجی اکثر اس حالت میں بطور بشارت آتی ہے کہ جب انسان کسی معاملے میں نہایت متفکر اور مغموم ہوتا ہے یا کسی بد خبری کے سُننے سے کہ جو اصل میں محض دروغ تھی کوئی سخت اندیشہ اس کو دامنگیر ہو جاتا ہے۔ مگر صورت دوم کی طرح اس میں مکرر دعاؤں پر اُس آواز کا صادر ہونا مشہودنہیں ہوا۔ بلکہ ایک ہی دفعہ اُسی وقت کہ جب خدائے تعالیٰ چاہتا ہے کوئی فرشتہ غیب سے ناگہانی طور پر آواز کرتا ہے برخلاف صورت دوم کے اُس میں اکثر کامل دعاؤں پر حضرت احدیت کی طرف سے جواب صادر ہونا مشہود ہوا ہے اور خواہ سو مرتبہ دُعا اور سوال کرنے کا اتفاق ہو اس کا جواب سو مرتبہ ہی حضرت فیاض مطلق کی طرف سے صادر ہو سکتا ہے جیسا کہ متواتر تجربہ خود اس خاکسار کا اس بات کا شاہد ہے۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱صفحہ ۲۸۷، ۲۸۸ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۱)
مَیں نے کئی دفعہ کشفی طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کو دیکھا ہے اور اَور بعض نبیوں سے بھی مَیں نے عین بیداری میں ملاقات کی ہے اور مَیں نے سیّد و مولیٰ اپنے امام نبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کئی دفعہ عین بیداری میں دیکھا ہے اور باتیں کی ہیں۔ اور ایسی صاف بیداری سے دیکھا ہے جس کے ساتھ خواب یا غفلت کا نام و نشان نہ تھا اور مَیں نے بعض اَور وفات یافتہ لوگوں سے بھی اُن کی قبر پر یا اور موقعہ پر عین بیداری میں ملاقات کی ہے اور اُن سے باتیں بھی کی ہیں۔ میں خوب جانتا ہوں کہ اس طرح پر عین بیداری میں گذشتہ لوگوں کی ملاقات ہو جاتی ہے اور نہ صرف ملاقات بلکہ گفتگو ہوتی ہے اور مصافحہ بھی ہوتا ہے اور اس بیداری اور روز مرہ کی بیداری میں لوازمِ حواس میں کچھ بھی فرق نہیں ہوتا۔ دیکھا جاتا ہے کہ ہم اسی عالم میں ہیں اور یہی کان ہیں اور یہی آنکھیں ہیں اور یہی زبان ہے مگر غور سے معلوم ہوتاہے کہ وہ عالم اَور ہے دنیا اس قسم کی بیداری کو نہیں جانتی کیونکہ دنیا غفلت کی زندگی میں پڑی ہے۔ یہ بیداری آسمان سے ملتی ہے۔ یہ ان کو دی جاتی ہے جن کو نئے حواس ملتے ہیں۔ یہ ایک صحیح بات ہے اور واقعات َ ّحقہ میں سے ہے۔ (مسیح ہندوستان میں۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۳۶، ۳۷)
صاحب الہام ہونے میں استعداد اور قابلیت شرط ہے۔ یہ بات نہیں ہے کہ ہر کس و ناکس خدائے تعالیٰ کا پیغمبر بن جائے اور ہر یک پر حقانی وحی نازل ہو جایا کرے۔ اس کی طرف اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں آپ ہی اشارہ فرمایا ہے اور وہ یہ ہے۔ وَاِذَا جَآءَتۡہُمۡ اٰیَۃٌ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ حَتّٰی نُؤۡتٰی مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِیَ رُسُلُ اللّٰہِ ؕۘؔ اَللّٰہُ اَعۡلَمُ حَیۡثُ یَجۡعَلُ رِسَالَتَہٗ الجزونمبر۸یعنی جس وقت قرآن کی حقّیّت ظاہر کرنے کے لئے کوئی نشانی کفار کو دکھلائی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ جب تک خود ہم پر ہی کتاب الٰہی نازل نہ ہو تب تک ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے خدا خوب جانتا ہے کہ کس جگہ اور کس محل پر رسالت کو رکھنا چاہئے یعنی قابل اور ناقابل اُسے معلوم ہے اور اُسی پر فیضانِ الہام کرتا ہے کہ جو جوہرِ قابل ہے۔
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حکیم مطلق نے افرادِ بشریہ کو بوجہ مصالحۂ مختلفہ مختلف طوروں پر پیدا کیا ہے۔ اور تمام بنی آدم کا سلسلۂ فطرت ایک ایسے خط سے مشابہ رکھا ہے جس کی ایک طرف نہایت ارتفاع پر واقعہ ہو اور دوسری طرف نہایت اِنْحِضَاض پر۔ طرف ارتفاع میں وہ نفوس صافیہ ہیں جن کی استعدادیں حسب مراتب متفاوتہ کامل درجہ پر ہیں اور طرف اِنْحِضَاض میں وہ نفوس ہیں جن کو اس سلسلہ میں ایسی پست جگہ ملی ہے کہ حیوانات لایعقل کے قریب قریب پہنچ گئے ہیں اور درمیان میں وہ نفوس ہیں جو عقل وغیرہ میں درمیان کے درجہ میں ہیں اور اس کے اثبات کے لئے مشاہدۂ افرادِ مُخْتَلِفَۃُ الْاِسْتِعْدَاد کافی دلیل ہے کیونکہ کوئی عاقل اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ افرادِ بشریّہ عقل کے رُو سے تقویٰ اور خدا ترسی کے لحاظ سے محبتِ الٰہیہ کی وجہ سے مختلف مدارج پر پڑی ہوئی ہیں اور جس طرح قدرتی واقعات سے کوئی خوبصورت پیدا ہوتاہے کوئی بدصورت کوئی سوجاکھا، کوئی اندھا، کوئی ضعیف البصر، کوئی قوی البصر، کوئی تامُّ الخلقت، کوئی ناقص الخلقت اسی طرح قویٰ دماغیہ اور انوارِ قلبیہ کا تفاوتِ مراتب بھی مشہود اور محسوس ہے۔ ہاں یہ سچ بات ہے کہ ہر یک فرد بشر بشرطیکہ نِرا مخبط الحواس اور مسلوب العقل نہ ہو۔ عقل میں تقویٰ میں محبتِ الٰہیہ میں ترقی کر سکتا ہے مگر اس بات کو بخوبی یاد رکھنا چاہئے کہ کوئی نفس اپنے دائرہ قابلیت سے زیادہ ہرگز ترقی نہیں کر سکتا۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۸۱، ۱۸۲ حاشیہ نمبر ۱۱)طبائع انسانی جواہر کانی کی طرح مختلف الاقسام ہیں۔ بعض طبیعتیں چاندی کی طرح روشن اور صاف۔ بعض گندھک کی طرح بدبو دار اور جلد بھڑکنے والی۔ بعض زیبق کی طرح بے ثبات اور بے قرار۔ بعض لوہے کی طرح سخت اور کثیف اور جیسا یہ اختلافِ طبائع بدیہی الثبوت ہے ایسا ہی اِنتظامِ ربّانی کے بھی موافق ہے کچھ بے قاعدہ بات نہیں۔ کوئی ایسا امر نہیں کہ قانونِ نظامِ عالم کے برخلاف ہو بلکہ آسائش و آبادئ عالم اسی پر موقوف ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر تمام طبیعتیں ایک ہی مرتبۂ استعداد پر ہوتیں تو پھر مختلف طور کے کام (جو مختلف طور کی استعدادوں پر موقوف تھے) جن پر دنیا کی آبادی کا مدار تھا حیّزِ التوا میں رہ جاتے کیونکہ کثیف کاموں کے لئے وہ طبیعتیں مناسب حال ہیں جو کثیف ہیں اور لطیف کاموں کے لئے وہ طبیعتیں مناسبت رکھتی ہیں جو لطیف ہیں۔ یونانی حکیموں نے بھی یہی رائے ظاہر کی ہے کہ جیسے بعض انسان حیوانات کے قریب قریب ہوتے ہیں۔ اِسی طرح عقل تقاضا کرتی ہے کہ بعض انسان ایسے بھی ہوں جن کا جوہر نفس کمال صفوت اور لطافت پر واقع ہو تا جس طرح طبائع انسانی کا سِلسلہ نیچے کی طرف اس قدر متنزل نظر آتا ہے کہ حیوانات سے جا کر اتصال پکڑ لیا ہے۔ اِسی طرح اوپر کی طرف بھی ایسا متصاعد ہو کہ عالم اعلیٰ سے اتصال پکڑ لے۔
اب جبکہ ثابت ہو گیا کہ افرادِ بشریّہ عقل میں، قوائے اخلاقیہ میں، نورِ قلب میں متفاوت المراتب ہیں تو اسی سے وحی ٔ ربّانی کا بعض افراد بشریہ سے خاص ہونا یعنی ان سے جو مِن کُلِّ الوُجُوہ کامل ہیں بہ پایۂ ثبوت پہنچ گیا کیونکہ یہ بات تو خود ہر یک عاقل پر روشن ہے کہ ہر یک نفس اپنی استعداد و قابلیت کے موافق انوار الٰہیہ کو قبول کرتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔ اِ س کے سمجھنے کے لئے آفتاب نہایت روشن مثال ہے کیونکہ ہر چند آفتاب اپنی کرنیں چاروں طرف چھوڑ رہا ہے لیکن اس کی روشنی قبول کرنے میں ہر یک مکان برابر نہیں۔ جس مکان کے دروازے بند ہیں اس میں کچھ روشنی نہیں پڑ سکتی۔ اور جس میں بمقابل آفتاب ایک چھوٹا سا روز نہ ہے اس میں روشنی تو پڑتی ہے مگر تھوڑی جو بکلّی ظلمت کو نہیں اٹھا سکتی لیکن وہ مکان جس کے دروازے بمقابل آفتاب سب کے سب کھلے ہیں اور دیواریں بھی کسی کثیف شے سے نہیں بلکہ نہایت مصفیٰ اور روشن شیشہ سے ہیں اس میں صرف یہی خوبی نہیں ہو گی کہ کامل طور پر روشنی قبول کرے گا بلکہ اپنی روشنی چاروں طرف پھیلا وے گا اور دوسروں تک پہنچا وے گا۔ یہی مثال مؤخر الذکر نفوسِ صافیہ انبیاء کے مطابق حال ہے یعنی جن نفوسِ مقدسہ کو خدا اپنی رسالت کے لئے چُن لیتا ہے وہ بھی رفعِ حُجب اور مکمل صفوت میں اس شیش محل کی طرح ہوتے ہیں جس میں نہ کوئی کثافت اور نہ کوئی حجاب باقی ہے۔ پس ظاہر ہے کہ جن افراد بشریّہ میں وہ کمال تام موجودنہیں۔ ایسے لوگ کسی حالت میں مرتبہء رسالتِ الٰہی نہیں پا سکتے۔ بلکہ یہ مرتبہ قسّام ازل سے اُنہی کو ملا ہوا ہے جن کے نفوسِ مقدسہ حُجب ظلمانی سے بکلّی پاک ہیں جن کو اَغْشِیَہء جسمانی سے بغایت درجہ آزادگی ہے۔ جن کا تقدس و تنزہ اُس درجہ پر ہے کہ جس کے آگے خیال کرنے کی گنجائش ہی نہیں۔ وہی نفوس تامہء کاملہ وسیلہء ہدایت جمیع مخلوقات ہیں اور جیسے حیات کا فیضان تمام اعضاء کو قلب کے ذریعہ سے ہوتا ہے ایسا ہی حکیم مطلق نے ہدایت کا فیضان اُنہیں کے ذریعہ سے مقرر کیا ہے کیونکہ وہ کامل مناسبت جومفیض اور مستفیض میں چاہئے وہ صرف انہیں کو عنایت کی گئی ہے۔ اور یہ ہرگز ممکن نہیں کہ خداوند تعالیٰ جو نہایت تجّرد و تنزّہ میں ہے ایسے لوگوں پر افاضہ انوارِ وحی ٔ مقدس اپنے کاکرے جن کی فطرت کے دائرہ کا اکثر حصّہ ظلمانی اور دود آمیز ہے اور نیز نہایت تنگ اور منقبض اور جن کی طبائع خِسیسہ کدوراتِ سفلیہ میں مُنغمس اور آلودہ ہیں اگر ہم اپنے تئیں آپ ہی دھوکہ نہ دیں تو بے شک ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ مبدء قدیم سے اتصالِ تام پانے کے لئے اور اس قدوسِ اعظم کا ہم کلام بننے کے لئے ایک ایسی خاص قابلیت اور نورانیّت شرط ہے کہ جو اس مرتبہء عظیم کی قدر اور شان کے لائق ہے۔ یہ بات ہرگز نہیں کہ ہر یک شخص جو عین نقصان اور فرومائیگی اور آلودگی کی حالت میں ہے اور صد ہا حُجب ظلمانیہ میں محجوب ہے وہ باوصف اپنی پست فطرتی اور دون ہمّتی کے اس مرتبہ کو پا سکتا ہے۔ اِس بات سے کوئی دھوکہ نہ کھاوے کہ منجملہ اہل کتاب عیسائیوں کا یہ خیال ہے کہ انبیاء کے لئے جو وحی اللہ کے منزل علیہ ہیں تقدس اور تنزّہ اور عصمت اور کمال محبتِ الٰہیہ حاصل نہیں کیونکہ عیسائی لوگ اصولِ حقّہ کو کھو بیٹھے ہیں اور ساری صداقتیں صرف اس خیال پر قربان کر دی ہیں کہ کسی طرح حضرت مسیح خدا بن جائیں اور کفارہ کا مسئلہ جم جائے۔ سو چونکہ نبیوں کا معصوم اور مقدس ہونا اُن کی اِس عمارت کو گراتا ہے جو وہ بنا رہے ہیں اس لئے ایک جھوٹ کی خاطر سے دوسرا جھوٹ بھی انہیں گھڑنا پڑا۔ اور ایک آنکھ کے مفقود ہونے سے دوسری بھی پھوڑنی پڑی۔ پس ناچار انہوں نے باطل سے پیار کرکے حق کو چھوڑ دیا۔ نبیوں کی اہانت روا رکھی۔ پاکوں کو ناپاک بنایا اور ان دلوں کو جو مہبطِ وحی تھے کثیف اور مکدّر قرار دیا تاکہ اُن کے مصنوعی خدا کی کچھ عظمت نہ گھٹ جائے یا منصوبۂ کفارہ میں کچھ فرق نہ آ جائے۔ اسی خود غرضی کے جوش سے انہوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ اِس سے فقط نبیوں کی توہین نہیں ہوتی بلکہ خدا کی قدّوسی پر بھی حرف آتا ہے کیونکہ جس نے نعوذ باللہ ناپاکوں سے ربط ارتباط اور میل ملاپ رکھا وہ آپ بھی کاہے کا پاک ہوا۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۸۸تا۱۹۰ حاشیہ نمبر ۱۱)ُنورِ وحی کے نازل ہونے کا یہی فلسفہ ہے کہ وہ ُنور پر ہی وارد ہوتا ہے تاریکی پر واردنہیں ہوتا۔ کیونکہ فیضان کے لئے مناسبت شرط ہے اور تاریکی کو ُنور سے کچھ مناسبت نہیں بلکہ ُنور کو ُنور سے مناسبت ہے اور حکیم مطلق بغیر رعایت مناسبت کوئی کام نہیں کرتا۔ ایسا ہی فیضان نور میں بھی اس کا یہی قانون ہے کہ جس کے پاس کچھ نور ہے اُسی کو اَور نور بھی دیا جاتا ہے۔ اور جس کے پاس کچھ نہیں اس کو کچھ نہیں دیا جاتا۔ جو شخص آنکھوں کا نور رکھتا ہے وہی آفتاب کا نور پاتاہے اور جس کے پاس آنکھوں کا نور نہیں وہ آفتاب کے نور سے بھی بے بہرہ رہتا ہے اور جس کو فطرتی نور کم ملا ہے اس کو دوسرا نور بھی کم ہی ملتا ہے اور جس کو فطرتی نور زیادہ ملا ہے اس کو دوسرا نور بھی زیادہ ہی ملتا ہے۔ اور انبیاء جملہ سِلسلہ متفاوتہ فطرتِ انسانی کے وہ افرادِ عالیہ ہیں جن کو اس کثرت اور کمال سے نورِ باطنی عطا ہوا ہے کہ گویا وہ نورِ مجسّم ہو گئے ہیں۔ اِسی جہت سے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نور اور سراج منیر رکھا ہے۔ جیسا فرمایا ہے قَدۡ جَآءَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ نُوۡرٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیۡنٌ الجزو نمبر وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذۡنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیۡرًا ۶ نمبر ۲۲ یہی حکمت ہے کہ نورِ وحی جس کے لئے نورِ فطرتی کا کامل اور عظیم الشان ہونا شرط ہے صرف انبیاء کو ملا اور اُنہی سے مخصوص ہوا۔ پس اب اس حجت موجّہ سے کہ جو مثال مقدم الذکر میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی بطلان ان لوگوں کے قول کا ظاہر ہے جنہوں نے باوصف اِس کے کہ فطرتی تفاوت مراتب کے قائل ہیں۔ پھر محض حُمق و جہالت کی راہ سے یہ خیال کر لیا ہے کہ جو نور افراد کامل الفطرت کو ملتا ہے وہی نور افرادناقصہ کو بھی مل سکتا ہے۔ ان کو دیانت اور انصاف سے سوچنا چاہئے کہ فیضانِ وحی کے بارہ میں کس قدر غلطی میں وہ مبتلا ہو رہے ہیں۔ صریح دیکھتے ہیں کہ خدا کا قانونِ قدرت اُن کے خیال باطل کی تصدیق نہیں کرتا۔ پھر شدّت تعصّب و عناد سے اِسی خیال فاسد پر جمے بیٹھے ہیں۔ ایسا ہی عیسائی لوگ بھی نور کے فیضان کے لئے فطرتی نور کا شرط ہونا نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ جس دل پر نورِ وحی نازل ہو اس کے لئے اپنے کسی خاصۂ اندرونی میں نورانیت کی حالت ضروری نہیں بلکہ اگر کوئی بجائے عقل سلیم کے کمال درجہ کا نادان اور سفیہ ہو اور بجائے صفت شجاعت کے کمال درجہ کا بُزدل اور بجائے صفتِ سخاوت کے کمال درجہ کا بخیل اور بجائے صفتِ حمیّت کے کمال درجہ کا بے غیرت اور بجائے صفتِ محبتِ الٰہیہ کے کمال درجہ کا محبِّ دنیا اور بجائے صفت زہدو ورع و امانت کے بڑا بھارا چور اور ڈاکو اور بجائے صفت عفّت و حیا کے کمال درجہ کا بے شرم اور شہوت پرست اور بجائے صفتِ قناعت کے کمال درجہ کا حریص اور لالچی۔ تو ایسا شخص بھی بقول حضرات عیسائیاں باوصف ایسی حالت خراب کے خدا کا نبی اور مقرب ہو سکتا ہے بلکہ ایک مسیح کو باہر نکال کر دوسرے تمام انبیاء جن کی نبوت کو بھی وہ مانتے ہیں اور ان کی الہامی کتابوں کو بھی مقدس مقدس کر کے پکارتے ہیں وہ نعوذ باللہ بقول اُن کے ایسے ہی تھے اور کمالاتِ قدسیہ سے جو مستلزمِ عصمت و پاک دلی ہیں محروم تھے۔ عیسائیوں کی عقل اور خداشناسی پر بھی ہزار آفرین۔ کیا اچھا نورِ وحی کے نازل ہونے کا فلسفہ بیان کیا مگر ایسے فلسفہ کے تابع ہونے والے اور اس کو پسند کرنے والے وہی لوگ ہیں جو سخت ظلمت اور کور باطنی کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں ورنہ نور کے فیض کے لئے نور کا ضروری ہونا ایسی بدیہی صداقت ہے کہ کوئی ضعیف العقل بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۹۵ تا۱۹۷ حاشیہ نمبر ۱۱)
یہ افسوس کا مقام ہے کہ اکثر لوگ ہر ایک بات کو جو غنودگی کی حالت میں ان کی زبان پر جاری ہوتی ہے خدا کا کلام قرار دیتے ہیں۔ اور اس طرح پر آیت کریمہ تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ کے نیچے اپنے تئیں داخل کر دیتے ہیں اور یاد رکھنا چاہئے کہ اگر کوئی کلام زبان پر جاری ہو اور قال اللّٰہ قال الرسول سے مخالف بھی نہ ہو تب بھی وہ خدا کا کلام نہیں کہلا سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا فعل اس پر گواہی نہ دے۔ کیونکہ شیطان لعین جو انسان کا دشمن ہے جس طرح اور طریقوں سے انسان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اِسی طرح اس مُضلّ کا ایک یہ بھی طریق ہے کہ اپنے کلمات انسان کے دل میں ڈال کر اس کو یہ یقین دلاتا ہے کہ گویا وہ خدا کا کلام ہے اور آخر انجام ایسے شخص کا ہلاکت ہوتی ہے۔
پس جس پر کوئی کلام نازل ہو جب تک تین۳ علامتیں اُس میں نہ پائی جائیں اُس کو خدا کا کلام کہنا اپنے تئیں ہلاکت میں ڈالنا ہے۔
اوّل۔ وہ کلام قرآن شریف سے مخالف اور معارض نہ ہو۔ مگر یہ علامت بغیر تیسری علامت کے جو ذیل میں لکھی جائے گی ناقص ہے بلکہ اگر تیسری علامت نہ ہو تو محض اس علامت سے کچھ بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔
دوم۔ وہ کلام ایسے شخص پر نازل ہو جس کا تزکیہ نفس بخوبی ہو چکا ہو اور وہ اُن فانیوں کی جماعت میں داخل ہو جو بکلّی جذباتِ نفسانیہ سے الگ ہو گئے ہیں اور اُن کے نفس پر ایک ایسی موت وارد ہو گئی ہے جس کے ذریعہ سے وہ خدا سے قریب اور شیطان سے دُور جا پڑے ہیں کیونکہ جو شخص جس کے قریب ہے اُسی کی آواز سُنتا ہے پس جو شیطان کے قریب ہے وہ شیطان کی آواز سُنتا ہے اور جو خدا سے قریب ہے وہ خدا کی آواز سُنتا ہے اور انتہائی کوشش انسان کی تزکیۂ نفس ہے۔ اور اس پر تمام سلوک ختم ہو جاتا ہے اور دوسرے لفظوں میں یہ ایک موت ہے جو تمام اندرونی آلائشوں کو جلا دیتی ہے۔ پھر جب انسان اپنا سلوک ختم کر چکتا ہے تو تصرفاتِ الٰہیہ کی نوبت آتی ہے۔ تب خدا اپنے اس بندہ کو جو سَلْبِ جذباتِ نفسانیہ سے فنا کے درجہ تک پہنچ چکا ہے معرفت اور محبت کی زندگی سے دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ اور اپنے فوق العادت نشانوں سے عجائباتِ رُوحانیہ کی اُس کو سیر کراتا ہے اور محبت ذاتیہ کی وراء الوراء کشش اُس کے دل میں بھر دیتا ہے جس کو دنیا سمجھ نہیں سکتی اس حالت میں کہا جاتا ہے کہ اس کو نئی حیات مل گئی جس کے بعد موت نہیں۔
پس یہ نئی حیات کامل معرفت اور کامل محبت سے ملتی ہے۔ اور کامل معرفت خدا کے فوق العادت نشانوں سے حاصل ہوتی ہے اور جب انسان اس حد تک پہنچ جاتا ہے تب اُس کو خدا کا سچا مکالمہ مخاطبہ نصیب ہوتا ہے مگر یہ علامت بھی بغیر تیسرے درجے کی علامت کے قابلِ اطمینان نہیں کیونکہ کامل تزکیہ ایک امر پوشیدہ ہے۔ اس لئے ہر ایک فضول گو ایسا دعویٰ کر سکتا ہے۔
تیسری۳ علامت ملہم صادق کی یہ ہے کہ جس کلام کو وہ خدا کی طرف منسوب کرتا ہے خدا کے متواتر افعال اس پر گواہی دیں یعنی اس قدر اس کی تائید میں نشانات ظاہر ہوں کہ عقل سلیم اس بات کو ممتنع سمجھے کہ باوجود اس قدر نشانوں کے پھر بھی وہ خدا کا کلام نہیں اور یہ علامت درحقیقت تمام علامتوں سے بڑھ کر ہے ……… یہ ایسی کامل علامت ہے جو کوئی اس کو توڑ نہیں سکتا۔ یہی علامت ہے جس سے خدا کے سچے نبی جھوٹوں پر غالب آتے رہے ہیں کیونکہ جو شخص دعویٰ کرے کہ میرے پر خدا کا کلام نازل ہوتا ہے پھر اس کے ساتھ صد ہا نشان ظاہر ہوں اور ہزاروں قسم کی تائید اور نصرتِ الٰہی شامل حال ہو اور اُس کے دشمنوں پر خدا کے کھلے کھلے حملے ہوں پھر کس کی مجال ہے کہ ایسے شخص کو جھوٹا کہہ سکے ……… وہ لوگ جو خدا کے نزدیک ملہم اور مکلّم کہلاتے ہیں اور مکا لمہ اور مخا طبہ کا شرف رکھتے ہیں اور دعوت خلق کے لئے مبعوث ہوتے ہیں ان کی تائید میں خدا تعا لیٰ کے نشان بارش کی طرح برستے ہیں اور دنیا ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور فعل الٰہی اپنی کثرت کے ساتھ گواہی دیتا ہے کہ جو کلام وہ پیش کرتے ہیں وہ کلام الٰہی ہے اگر الہام کا دعویٰ کرنے والے اس علامت کو مدنظر رکھتے تو وہ اس فتنہ سے بچ جاتے۔
(تتمہ حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۳۴ تا۵۳۸)واضح ہو کہ شیطانی الہا مات ہونا حق ہے اور بعض نا تمام سا لک لو گو ں کو ہوا کرتے ہیں اور حدیث النفس بھی ہوتی ہے جس کو اضغاث احلام کہتے ہیں۔ اور جو شخص اس سے انکار کرے وہ قرآن شریف کی مخالفت کرتا ہے۔ کیونکہ قرآن شریف کے بیان سے شیطانی الہام ثابت ہیں اور اللہ تعا لیٰ فرماتا ہے کہ جب تک انسان کاتزکیہ نفس پورے اور کامل طور پر نہ ہوتب تک اس کو شیطانی الہام ہوسکتا ہے اور وہ آیت عَلٰی کُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیۡمٍ کے نیچے آ سکتا ہے مگر پاکوں کو شیطانی وسوسہ پر بلاتوقف مطلع کیا جاتا ہے۔ افسوس کہ بعض پادری صاحبان نے اپنی تصنیفات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت اس واقعہ کی تفسیر میں کہ جب اُن کو ایک پہاڑی پر شیطان لے گیا اس قدر جرأت کی ہے کہ وہ لکھتے ہیں۔ یہ کوئی خارجی بات نہ تھی جس کو دنیا دیکھتی اور جس کو یہودی بھی مشاہدہ کرتے بلکہ یہ تین مرتبہ شیطانی الہام حضرت مسیح کو ہوا تھا جس کو انہوں نے قبول نہ کیا۔ مگر انجیل کی ایسی تفسیر سُننے سے ہمارا تو بدن کانپتا ہے کہ مسیح اور پھر شیطانی الہام …… پاکوں کے دل میں شیطانی خیال مستحکم نہیں ہو سکتا اور اگر کوئی تیرتا ہوا سرسری وسوسہ اُن کے دل کے نزدیک آ بھی جائے تو جلد تر وہ شیطانی خیال دُور اور دفع کیا جاتا ہے اور اُن کے پاک دامن پر کوئی داغ نہیں لگتا۔ قرآن شریف میں اس قسم کے وسوسہ کو جو ایک کم رنگ اور ناپختہ خیال سے مشابہ ہوتا ہے طائف کے نام سے موسوم کیا ہے اور لغتِ عرب میں اس کا نام طَائِف اور طَوف اور طَیَّف اور طَیف بھی ہے۔ اور اس وسوسہ کا دل سے نہایت ہی کم تعلق ہوتا ہے گویا نہیں ہوتا۔ یا یوں کہو کہ جیسا کہ دُور سے کسی درخت کا سایہ بہت ہی خفیف سا پڑتا ہے ایسا ہی یہ وسوسہ ہوتا ہے۔ اور ممکن ہے کہ شیطان لعین نے حضرت مسیح علیہ السلام کے دل میں اسی قسم کے خفیف وسوسہ کے ڈالنے کا ارادہ کیا ہو اور انہوں نے قوت نبوت سے اس وسوسہ کو دفع کر دیا ہو …… یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے قوتِ نبوت اور نورِ حقیقت کے ساتھ شیطانی القا کو ہرگز ہرگز نزدیک آنے نہیں دیا اور اس کے ذب اور دفع میں فورًا مشغول ہو گئے اور جس طرح نور کے مقابل پر ظلمت ٹھہر نہیں سکتی۔ اسی طرح شیطان اُن کے مقابل پر نہیں ٹھہر سکا۔ اور بھاگ گیا۔ یہی اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنٌ کے صحیح معنے ہیں کیونکہ شیطان کا سلطان یعنی تسلّط درحقیقت اُن پر ہے جو شیطانی وسوسہ اور الہام کو قبول کر لیتے ہیں۔ لیکن جو لوگ دُور سے نور کے تیر سے شیطان کو مجروح کرتے ہیں اور اُس کے مُنہ پر زجر اور توبیخ کا جوتا مارتے ہیں اور اپنے مُنہ سے وہ کچھ بکے جائے اس کی پیروی نہیں کرتے وہ شیطانی تسلّط سے مستثنیٰ ہیں مگر چونکہ ان کو خدا تعالیٰ مَلَکُوْتُ السَّمٰوٰت وَالْاَرْض دکھانا چاہتاہے اور شیطان مَلَکُوْتُ الْاَرْض میں سے ہے اس لئے ضروری ہے کہ وہ مخلوقات کے مشاہدہ کا دائرہ پورا کرنے کے لئے اس عجیب الخلقت وجود کا چہرہ دیکھ لیں اور کلام سُن لیں جس کا نام شیطان ہے۔ اس سے اُن کے دامنِ تنزّہ اور عصمت کو کوئی داغ نہیں لگتا۔ حضرت مسیح سے شیطان نے اپنے قدیم طریقہ وسوسہ اندازی کے طرز پر شرارت سے ایک درخواست کی تھی سو اُن کی پاک طبیعت نے فی الفور اس کو ردّ کیا اور قبول نہ کیا۔ اِس میں ان کی کوئی کسرِ شان نہیں۔ کیا بادشاہوں کے حضور میں کبھی بدمعاش کلام نہیں کرتے؟ سو ایسا ہی روحانی طور سے شیطان نے یسوع کے دل میں اپنا کلام ڈالا۔ یسوع نے اس شیطانی الہام کو قبول نہ کیا بلکہ ردّ کیا۔ سو یہ تو قابل تعریف بات ہوئی اس سے کوئی نکتہ چینی کرنا حماقت اور روحانی فلاسفی کی بے خبری ہے لیکن جیسا کہ یسوع نے اپنے نور کے تازیانہ سے شیطانی خیال کو دفع کیا اور اس کے الہام کی پلیدی فی الفور ظاہر کر دی۔ ہر ایک زاہد اور صوفی کا یہ کام نہیں۔ سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ شیطانی الہام مجھے بھی ہوا تھا۔ شیطان نے کہا کہ اے عبدالقادر تیری عبادتیں قبول ہوئیں۔ اب جو کچھ دوسروں پر حرام ہے تیرے پر حلال اور نماز سے بھی اب تجھے فراغت ہے جو چاہے کر۔ تب مَیں نے کہا کہ اے شیطان دُور ہو۔ وہ باتیں میرے لئے کب روا ہو سکتی ہیں جو نبی علیہ السلام پر روا نہیں ہوئیں۔ تب شیطان مع اپنے سنہری تخت کے میری آنکھوں کے سامنے سے گم ہو گیا۔ اب جبکہ سیّد عبدالقادر جیسے اہل اللہ اور مرد فرد کو شیطانی الہام ہوا تو دوسرے عامۃ الناس جنہوں نے ابھی اپنا سلوک بھی تمام نہیں کیا وہ کیونکر اس سے بچ سکتے ہیں۔ او ر ان کو وہ نورانی آنکھیں کہاں حاصل ہیں تا سیّد عبدالقادر اور حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح شیطانی الہام کو شناخت کر لیں۔ یاد رہے کہ وہ کاہن جو عرب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے بکثرت تھے۔ ان لوگوں کو بکثرت شیطانی الہام ہوتے تھے اور بعض وقت وہ پیشگوئیاں بھی الہام کے ذریعہ سے کیا کرتے تھے۔ اور تعجب یہ کہ اُن کی بعض پیشگوئیاں سچی بھی ہوتی تھیں چنانچہ اسلامی کتابیں ان قصّوں سے بھری پڑی ہیں۔ پس جو شخص شیطانی الہام کا منکر ہے وہ انبیاء علیہم السلام کی تمام تعلیموں کا انکاری ہے اور نبوت کے تمام سِلسلہ کا منکر ہے۔ بائیبل میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ چار سو نبی کو شیطانی الہام ہوا تھا اور انہوں نے الہام کے ذریعہ سے جو ایک سفید جن کا کرتب تھا ایک بادشاہ کی فتح کی پیشگوئی کی۔ آخر وہ بادشاہ بڑی ذلت سے اسی لڑائی میں مارا گیا۔ اور بڑی شکست ہوئی۔ اور ایک پیغمبر جس کو حضرت جبرائیل سے الہام ملا تھا اُس نے یہی خبر دی تھی کہ بادشاہ مارا جائے گا۔ اور کتّے اس کا گوشت کھائیں گے۔ اور بڑی شکست ہو گی سو یہ خبر سچی نکلی مگر اس چار سو نبی کی پیشگو ئی جھوٹھی ظاہر ہوئی۔
اس جگہ طبعًا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب کہ اس کثرت سے شیطانی الہام بھی ہوتے ہیں تو پھر الہام سے امان اٹھتا ہے اور کوئی الہام بھروسہ کے لائق نہیں ٹھہرتا کیونکہ احتمال ہے کہ شیطانی ہو۔ خاص کر جبکہ مسیح جیسے اولی العزم نبی کو بھی یہی واقعہ پیش آیا تو پھر اس سے تو ملہموں کی کمر ٹوٹتی ہے۔ تو الہام کیا ایک بلا ہو جاتی ہے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بے دل ہونے کا کوئی محل نہیں۔ دنیا میں خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ایسا ہی واقع ہوا ہے کہ ہر ایک عمدہ جوہر کے ساتھ مغشوش چیزیں بھی لگی ہوئی ہیں۔ دیکھو ایک تو وہ موتی ہیں جو دریا سے نکلتے ہیں۔ دوسرے وہ سستے موتی ہیں جو لوگ آپ بنا کر بیچتے ہیں۔ اب اس خیال سے کہ دنیا میں جھوٹے موتی بھی ہیں سچے موتیوں کی خرید و فروخت بندنہیں ہو سکتی۔ کیونکہ وہ جوہری جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرت دی ہے ایک ہی نظر سے پہچان جاتے ہیں کہ یہ سچا اور یہ جھوٹاہے۔ سو الہامی جواہرات کا جوہری امام الزمان ہوتا ہے۔ اس کی صحبت میں رہ کر انسان جلد اصل اور مصنوعی میں فرق کر سکتا ہے۔ اے صوفیو!! اور اس مہوسّی کے گرفتارو!! ذرا ہوش سنبھال کر اس راہ میں قدم رکھو اور خوب یاد رکھو کہ سچا الہام جوخالص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے مندرجہ ذیل علامتیں اپنے ساتھ رکھتا ہے:۔
(۱) وہ اس حالت میں ہوتا ہے کہ جبکہ انسان کا دل آتشِ درد سے گداز ہو کر مصفّا پانی کی طرح خداتعالیٰ کی طرف بہتا ہے۔ اِسی طرف حدیث کا اشارہ ہے کہ قرآن غم کی حالت میں نازل ہوا۔ لہٰذا تم بھی اس کو غمناک دل کے ساتھ پڑھو۔
(۲) سچا الہام اپنے ساتھ ایک لذّت اور سرور کی خاصیت لاتا ہے اور نامعلوم وجہ سے یقین بخشتا ہے اور ایک فولادی میخ کی طرح دل کے اندر دھنس جاتا ہے اور اُس کی عبارت فصیح اور غلطی سے پاک ہوتی ہے۔
(۳) سچے الہام میں ایک شوکت اور بلندی ہوتی ہے اور دل پر اُس سے مضبوط ٹھوکر لگتی ہے۔ اور قوت اور رعب ناک آواز کے ساتھ دل پر نازل ہوتا ہے مگر جھوٹے الہام میں چوروں اور مخنثوں اور عورتوں کی سی دھیمی آواز ہوتی ہے۔ کیونکہ شیطان چور اور مخنث اور عورت ہے۔
(۴) سچا الہام خدا تعالیٰ کی طاقتوں کا اثر اپنے اندر رکھتا ہے اور ضرور ہے کہ اُس میں پیشگوئیاں بھی ہوں اور وہ پوری بھی ہو جائیں۔
(۵) سچا الہام انسان کو دن بدن نیک بناتا جاتا ہے اور اندرونی کثافتیں اور غلاظتیں پاک کرتا ہے اور اخلاقی حالتوں کو ترقی دیتا ہے۔
(۶) سچے الہام پر انسان کی تمام اندرونی قوتیں گواہ ہو جاتی ہیں اور ہر ایک قوت پر ایک نئی اور پاک روشنی پڑتی ہے اور انسان اپنے اندر ایک تبدیلی پاتا ہے۔ اور اس کی پہلی زندگی مر جاتی ہے اور نئی زندگی شروع ہو تی ہے۔ اور وہ بنی نوع کی ایک عام ہمدردی کا ذریعہ ہوتا ہے۔
(۷) سچا الہام ایک ہی آواز پر ختم نہیں ہوتا۔ کیونکہ خد اکی آواز ایک سِلسلہ رکھتی ہے۔ وہ نہایت ہی حلیم ہے جس کی طرف توجہ کرتا ہے اس سے مکالمت کرتاہے اور سوالات کا جواب دیتا ہے اور ایک ہی مکان اور ایک ہی وقت میں انسان اپنے معروضات کا جواب پا سکتا ہے۔ گو اس مکالمہ پر کبھی فترت کا زمانہ بھی آ جا تا ہے۔
(۸) سچے الہام کا انسان کبھی بزدل نہیں ہوتا اور کسی مدعیٔ الہام کے مقابلہ سے اگرچہ وہ کیسا ہی مخالف ہو نہیں ڈرتا۔ جانتا ہے کہ میرے ساتھ خدا ہے اور وہ اُس کو ذلّت کے ساتھ شکست دے گا۔
(۹) سچا الہام اکثر علوم اور معارف کے جاننے کا ذریعہ ہوتا ہے کیونکہ خدا اپنے ملہم کو بے علم اور جاہل رکھنا نہیں چاہتا۔
(۱۰) سچے الہام کے ساتھ اَور بھی بہت سی برکتیں ہوتی ہیں اور کلیم اللہ کو غیب سے عزّت دی جاتی ہے اور رعب عطا کیا جاتا ہے۔
(ضرورۃ الامام۔ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۴۸۳ تا۴۹۰)میں جوان تھا اور اب بوڑھا ہو گیا مگر میں اپنے ابتدائی زمانہ سے ہی اس بات کا گواہ ہوں کہ وہ خدا جو ہمیشہ پوشیدہ چلا آ یا ہے وہ اسلام کی پیروی سے اپنے تئیں ظاہر کرتا ہے۔ اگر کوئی قرآن شریف کی سچی پیروی کرے اور کتاب اللہ کے منشاء کے موافق اپنی اصلاح کی طرف مشغول ہو اور اپنی زندگی نہ دنیا داروں کے رنگ میں بلکہ خادم دین کے طور پر بناوے اور اپنے تئیں خدا کی راہ میں وقف کر دے اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھے اور اپنی خودنمائی اور تکبّر اور عُجب سے پاک ہو اور خدا کے جلال اور عظمت کا ظہور چاہے نہ یہ کہ اپنا ظہور چاہے اور اس راہ میں خاک میں مل جائے تو آخری نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ مکالماتِ الٰہیہ عربی فصیح بلیغ میں اس سے شروع ہو جاتے ہیں۔ اور وہ کلام لذیذ اور باشوکت ہوتا ہے جو خدا کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔ حدیث النفس نہیں ہوتا۔ حدیث النفس کا کلام آہستہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ ایک مخنث یا بیمار بولتا ہے۔ مگر خدا کا کلام پُرشوکت ہوتا ہے اور اکثر عربی زبان میں ہوتا ہے۔ بلکہ اکثر آیات قرآنی میں ہوتا ہے اور جو کچھ ہمارے تجربہ میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ اوّل دل پر اس کی سخت ضرب محسوس ہوتی ہے اور اس ضرب کے ساتھ ایک گونج پیدا ہوتی ہے اور پھر پُھول کی طرح وہ شگفتہ ہو جاتا ہے۔ اور اس سے پاک اور لذیذ کلام نکلتا ہے اور وہ کلام اکثر امور غیبیہ پر مشتمل ہوتا ہے اور اپنے اندر ایک شوکت اور طاقت اور تاثیر رکھتا ہے اور ایک آ ہنی میخ کی طرح دل میں دھنس جاتا ہے۔ اور خدا کی خوشبو اس سے آتی ہے۔ یہ تمام لوازم اس لئے اس کے ساتھ لگائے گئے ہیں کہ بعض ناپاک طبع انسان شیطانی الہام بھی پاتے ہیں یا حدیث النفس کے فریب میں آ جاتے ہیں۔ اس لئے خدا نے اپنے کلام کے ساتھ چمکتے ہوئے انوار رکھے ہیں تا دونوں میں فرق ظاہرہو۔ (چشمہء معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۱۴، ۳۱۵)
اکثر نادان لوگ شیطانی القا کو بھی خدا کا کلام سمجھنے لگتے ہیں اور ان کو شیطانی اور رحمانی الہام میں تمیز نہیں۔ پس یاد رہے کہ رحمانی الہام اور وحی کے لئے اوّل شرط یہ ہے کہ انسان محض خدا کا ہو جائے اور شیطان کا کوئی حصہ اُس میں نہ رہے۔ کیونکہ جہاں مُردار ہے ضرور ہے کہ وہاں کتّے بھی جمع ہو جائیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہَلۡ اُنَبِّئُکُمۡ عَلٰی مَنۡ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیۡنُ تَنَزَّلُ عَلٰی کُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیۡمٍ مگر جس میں شیطان کا حصّہ نہیں رہا۔ اور وہ سفلی زندگی سے ایسا دُور ہؤا کہ گویا مر گیا اور راستباز وفادار بندہ بن گیا اور خدا کی طرف آ گیا۔ اس پر شیطان حملہ نہیں کر سکتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنٌ جو شیطان کے ہیں اور شیطان کی عادتیں اپنے اندر رکھتے ہیں انہی کی طرف شیطان دوڑتا ہے کیونکہ وہ شیطان کے شکار ہیں۔ اور نیزیاد رہے کہ خدا کے مکالمات ایک خاص برکت اور شوکت اور لذّت اپنے اندر رکھتے ہیں۔ اور چونکہ خدا سمیع و علیم و رحیم ہے اس لئے وہ اپنے متقی اور راستباز اور وفادار بندوں کو اُن کے معروضات کا جواب دیتا ہے اور یہ سوال و جواب کئی گھنٹوں تک طول پکڑ سکتے ہیں۔ جب بندہ عجز و نیاز کے رنگ میں ایک سوال کرتا ہے تواس کے بعد چند منٹ تک اس پر ایک ربودگی طاری ہو کر اس ربودگی کے پردہ میں اس کو جواب مل جاتا ہے۔ پھر بعد اس کے بندہ اگر کوئی سوال کرتا ہے تو پھر دیکھتے دیکھتے اس پر ایک اور ربودگی طاری ہو جاتی ہے اور بدستور اس کے پردہ میں جواب مل جاتا ہے اور خدا ایسا کریم اور رحیم اور حلیم ہے کہ اگر ہزار دفعہ بھی ایک بندہ کچھ سوالات کرے تو جواب مل جاتا ہے مگر چونکہ خدا تعالیٰ بے نیاز بھی ہے اور حکمت اور مصلحت کی بھی رعایت رکھتا ہے اس لئے بعض سوالات کے جواب میں اظہار مطلوب نہیں کیا جاتا اور اگر یہ پوچھا جاوے کہ کیونکر معلوم ہو کہ وہ جوابات خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ شیطان کی طرف سے۔ اس کا جواب ہم ابھی دے چکے ہیں۔
ماسوا اس کے شیطان گُنگاہے۔ اپنی زبان میں فصاحت اور روانگی نہیں رکھتا اور گُنگے کی طرح وہ فصیح اور کثیر المقدار باتوں پر قادر نہیں ہو سکتا۔ صرف ایک بدبو دار پیرایہ میں فقرہ دو فقرہ دل میں ڈال دیتا ہے۔ اس کو ازل سے یہ توفیق ہی نہیں دی گئی کہ لذیذ اور باشوکت کلام کر سکے اور یا چند گھنٹہ تک سلسلہ کلام کا سوالات کے جواب دینے میں جاری رکھ سکے اور وہ بہرہ بھی ہے ہر ایک سوال کا جواب نہیں دے سکتا اور وہ عاجز بھی ہے اپنے الہامات میں کوئی قدرت اور اعلیٰ درجہ کی غیب گوئی کا نمونہ دکھلا نہیں سکتا اور اُس کا گلا بھی بیٹھا ہوا ہے پُرشوکت اور بلند آواز سے بول نہیں سکتا۔ مخنثوں کی طرح اس کی آواز دھیمی ہے۔ انہیں علامات سے شیطانی وحی کو شناخت کرلو گے۔ لیکن خدا تعالیٰ گُنگے اور بہرے اور عاجز کی طرح نہیں وہ سُنتا ہے اور برابر جواب دیتا ہے۔ اور اس کے کلام میں شوکت اور ہیبت اور بلندیٔ آواز ہوتی ہے۔ اور کلام پُر اثر اور لذیذہوتا ہے اور شیطان کا کلام دھیما اور زنانہ اور مشتبہ رنگ میں ہوتا اس میں ہیبت اور شوکت اور بلندی نہیں ہوتی۔ اور نہ وہ بہت دیر تک چل سکتا ہے گویا جلدی تھک جاتا ہے اور اس میں بھی کمزوری اور بُزدلی ٹپکتی ہے۔ مگر خدا کا کلام تھکنے والا نہیں ہوتا۔ اور ہر ایک قسم کی طاقت اپنے اندر رکھتا ہے اور بڑے بڑے غیبی امور اور اقتداری وعدوں پر مشتمل ہوتا ہے اور خدائی جلال اور عظمت اور قدرت اور قدوسی کی اس سے بُو آتی ہے اور شیطان کے کلام میں یہ خاصیت نہیں ہوتی اور نیز خداتعالیٰ کا کلام ایک قوی تاثیر اپنے اندر رکھتا ہے اور ایک میخ فولادی کی طرح دل میں دھنس جاتاہے اور دل پر ایک پاک اثر کرتا ہے اور دل کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور جس پر نازل ہوتا ہے اُس کو مردِ میدان کر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر اُس کو تیز تلوار کے ساتھ ٹکڑہ ٹکڑہ کر دیا جاوے یا اس کو پھانسی دیا جاوے یا ہرایک قسم کا دُکھ جو دنیا میں ممکن ہے پہنچایا جاوے اور ہر ایک قسم کی بے عزتی اور توہین کی جائے یا آتشِ سوزاں میں بٹھایا جاوے یا جلایا جاوے وہ کبھی نہیں کہے گا کہ یہ خدا کا کلام نہیں جو میرے پر نازل ہوتا ہے کیونکہ خدا اس کو یقین کامل بخش دیتا ہے اور اپنے چہرہ کا عاشق کر دیتا ہے اور جان اور عزت اور مال اس کے نزدیک ایسا ہوتا ہے جیسا کہ ایک تنکا۔ وہ خدا کا دامن نہیں چھوڑتا اگرچہ تمام دنیا اس کو اپنے پیروں کے نیچے کچل ڈالے اور توکل اور شجاعت اور استقامت میں بے مثل ہوتا ہے مگر شیطان سے الہام پانے والے یہ قوت نہیں پاتے وہ بُزدل ہوتے ہیں کیونکہ شیطان بُزدل ہے۔
(حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲صفحہ ۱۴۲ تا۱۴۴)اب اگر یہ سوال ہو کہ جبکہ شیطان کے دخل سے بکلّی امن نہیں تو ہم کیونکہ اپنی خوابوں پر بھروسہ کر لیں کہ وہ رحمانی ہیں کیا ممکن نہیں کہ ایک خواب کو ہم رحمانی سمجھیں اور دراصل وہ شیطانی ہو اور یا شیطانی خیال کریں اور دراصل وہ رحمانی ہو تو اس وہم کا جواب یہ ہے کہ رحمانی خواب اپنی شوکت اور برکت اور عظمت اور نورانیت سے خود معلوم ہو جاتی ہے۔ جو چیز پاک چشمہ سے نکلی ہے وہ پاکیزگی اور خوشبو اپنے اندر رکھتی ہے اور جو چیز ناپاک اور گندے پانی سے نکلی ہے اس کا گند اور اس کی بدبو فی الفور آ جاتی ہے۔ سچی خوابیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں۔ وہ ایک پاک پیغام کی طرح ہوتی ہیں جن کے ساتھ پریشان خیالات کا کوئی مجموعہ نہیں ہوتا۔ اور اپنے اندر ایک اثر ڈالنے والی قوت رکھتی ہیں اور دل اُن کی طرف کھینچے جاتے ہیں اور رُوح گواہی دیتی ہے کہ یہ منجانب اللہ ہے کیونکہ اس کی عظمت اور شوکت ایک فولادی میخ کی طرح دل کے اندر دھنس جاتی ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص سچی خواب دیکھتا ہے اور خدائے تعالیٰ اس کے کسی مجلسی کو بطور گواہ ٹھہرانے کے وہی خواب یا اس کے کوئی ہم شکل دکھلا دیتا ہے۔ تب اس خواب کو دوسرے کی خواب سے قوت مل جاتی ہے۔ (آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵صفحہ ۳۵۴)
بعض کوتہ فکر لوگ یہ وسوسہ پیش کرتے ہیں کہ الہام میں یہ خرابی اور نقص ہے کہ وہ معرفت کامل تک پہنچنے سے کہ جو حیاتِ ابدی اور سعادتِ دائمی کے حصول کا مدار علیہ ہے مانع اور مزاحم ہے اور تقریر اس اعتراض کی یوں کرتے ہیں کہ الہام خیالات کی ترقی کو روکتا ہے اور تحقیقات کے سِلسلہ کو آگے چلنے سے بند کرتا ہے۔ کیونکہ الہام کے پابند ہونے کی حالت میں ہریک بات میں یہی جواب کافی سمجھا جاتا ہے کہ یہ امر ہماری الہامی کتاب میں جائز یا ناجائز لکھا ہے اور قویٰ عقلیہ کو ایسا معطل اور بے کار چھوڑ دیتے ہیں کہ گویا خدا نے ان کو وہ قوتیں عطا ہی نہیں کیں۔ سو بالآخر عدم استعمال کے باعث سے وہ تمام قوتیں رفتہ رفتہ ضعیف بلکہ قریب قریب مفقود کے ہوتی جاتی ہیں اور انسانی سرشت بالکل منقلب ہو کر حیوانات سے مشابہت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور نفس انسانی کا عمدہ کمال کہ جو ترقی فی المعقولات ہے ناحق ضائع ہو جاتا ہے اور معرفت کاملہ کے حاصل کرنے سے انسان رُک جاتا ہے اور جس حیاتِ ابدی اور سعادت دائمی کے حصول کی انسان کو ضرورت ہے اس کے حصول سے الہامی کتابیں سَدِّراہ ہو جاتی ہیں۔
امّاالجواب۔ واضح ہو کہ ایسا سمجھنا کہ گویا خُدا کی سچّی کتاب پر عمل کرنے سے قویٰ عقلیہ کو بالکل بے کار چھوڑا جاتا ہے اور گویا الہام اور عقل ایک دوسرے کی نقیض اور ضد ہیں کہ جو ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں یہ برہمولو گو ں کی کما ل درجہ کی بدفہمی اور بداندیشی اور ہٹ دھرمی ہے۔ اوراس عجیب وہم کی عجیب طرح کی ترکیب ہے جس کے اجزاء میں سے کچھ تو جھوٹ اور کچھ تعصب اور کچھ جہالت ہے۔ جھوٹ یہ کہ باوصف اس بات کے اُن کو بخوبی معلوم ہے کہ حقّانی صداقتوں کی ترقی ہمیشہ انہیں لوگوں کے ذریعہ سے ہوتی رہی ہے کہ جو الہام کے پابندہوئے ہیں اور وحدانیّت الٰہی کے اسرار دنیا میں پھیلانے والے وہی بر گزیدہ لوگ ہیں کہ جو خدا کی کلام پر ایمان لائے مگر پھر عمداً اس واقعۂ معلومہ کے بر خلاف بیان کیا ہے۔ اور تعصب یہ کہ اپنی بات کو خواہ نخواہ سر سبز کرنے کے لئے اس بد یہی صداقت کو چھپایا ہے کہ الہٰیات میں عقل مجرد مر تبۂ یقین کامل تک نہیں پہنچا سکتی۔ اور جہالت یہ کہ الہام اور عقل کو دو امر متناقض سمجھ لیا ہے کہ جو ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ اور الہام کو عقل کا مضر اور مخالف قرار دیا ہے۔ حا لا نکہ یہ خدشہ سراسر بے اصل ہے۔ ظاہرہے کہ سچے الہام کا تابع عقلی تحقیقا توں سے رُک نہیں سکتا بلکہ حقائق اشیاء کو معقول طور پر دیکھنے کے لئے الہام سے مدد پاتا ہے اور الہام کی حمایت اور اس کی روشنی کی بر کت سے عقلی وجوہ میں کو ئی دھوکا اس کو پیش نہیں آتا اور ناخطا کار عاقلوں کی طرح بے جا دلائل کے بنانے کی حاجت پڑتی ہے اور نہ کچھ تکلّف کرنا پڑتا ہے بلکہ جو ٹھیک ٹھیک عقلمندی کا راہ ہے وہی اُس کو نظر آ جاتا ہے اور جو حقیقی سچائی ہے اُسی پر اُس کی نگاہ جا ٹھہرتی ہے غرض عقل کا کام یہ ہے کہ الہام کے واقعات کو قیاسی طور پر جلوہ دیتی ہے۔ اور الہام کا کام یہ کہ وہ عقل کو طرح طرح کی سرگردانی سے بچاتا ہے۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ عقل اور الہام میں کوئی جھگڑا نہیں۔ اور ایک دوسرے کا نقیض اور ضدنہیں اور نہ الہام حقیقی یعنی قرآن شریف عقلی ترقیات کے لئے سنگ راہ ہے بلکہ عقل کو روشنی بخشنے والا اور اس کا بزرگ معاون اور مددگار اور مربی ہے اور جس طرح آفتاب کا قدر آنکھ ہی سے پیدا ہوتا ہے اور روزِ روشن کے فوائد اہل بصارت ہی پر ظاہر ہوتے ہیں اِسی طرح خدا کی کلام کا کامل طور پر انہیں کو قدر ہوتا ہے کہ جو اہل عقل ہیں۔ جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے آپ فرمایا ہے۔ وَتِلۡکَ الۡاَمۡثَالُ نَضۡرِبُہَا لِلنَّاسِ ۚ وَمَا یَعۡقِلُہَاۤ اِلَّا الۡعٰلِمُوۡنَ الجزو نمبر۲۱ یعنی یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں پر ان کو معقول طور پر وہی سمجھتے ہیں کہ جو صاحب علم اور دانشمند ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس جس طرح آنکھ کے نور کے فوائد صرف آفتاب ہی سے کھلتے ہیں اگر وہ نہ ہو تو پھر بینائی اور نابینائی میں کچھ فرق باقی نہیں رہتا۔ اِسی طرح بصیرت عقلی کی خوبیاں بھی الہام ہی سے کھلتی ہیں۔ کیونکہ وہ عقل کو ہزار ہا طور کی سرگردانی سے بچا کر فکر کرنے کے لئے نزدیک کا راستہ بتلا دیتا ہے اور جس راہ پر چلنے سے جلد تر مطلب حاصل ہو جائے وہ راہ دکھلادیتا ہے اور ہریک عاقل خوب سمجھتا ہے کہ اگر کسی باب میں فکر کرنے کے وقت اس قدر مدد مل جائے کہ کسی خاص طریق پر راہِ راست اختیار کرنے کے لئے علم حاصل ہو جائے تو اس علم سے عقل کو بڑی مدد ملتی ہے اور بہت سے پراگندہ خیالوں اور ناحق کی درد سَریوں سے نجات ہو جاتی ہے۔ الہام کے تابعین نہ صرف اپنے خیال سے عقل کے عمدہ جوہر کو پسند کرتے بلکہ خود الہام ہی اُن کو عقل کے پختہ کرنے کے لئے تاکید کرتا ہے۔ پس اُن کو عقلی ترقیات کے لئے دوہری کشش کھینچتی ہے۔ ایک تو فطرتی جوش جس سے بالطبع انسان ہر یک چیز کی ماہیّت اور حقیقت کو مدلّل اور عقلی طور پر جاننا چاہتا ہے دوسری الہامی تاکیدیں کہ جو آتشِ شوق کو دوبالا کر دیتی ہیں چنانچہ جو لوگ قرآن شریف کو نظر سرسری سے بھی دیکھتے ہیں وہ بھی اس بدیہی امر سے انکار نہیں کر سکتے کہ اس کلام مقدس میں فکر اور نظر کی مشق کے لئے بڑی بڑی تاکیدیں ہیں یہاں تک کہ مومنوں کی علامت ہی یہی ٹھہرا دی ہے کہ وہ ہمیشہ زمین اور آسمان کے عجائبات میں فکر کرتے رہتے ہیں اور قانون حکمتِ الٰہیہ کو سوچتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ ایک جگہ قرآن شریف میں فرمایا ہے۔ اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ وَیَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا یعنی آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے اختلاف میں دانشمندوں کے لئے صانع عالم کی ہستی اور قدرت پر کئی نشان ہیں۔ دانشمند وہی لوگ ہوتے ہیں کہ جو خدا کو بیٹھے کھڑے اور پہلو پر پڑے ہونے کی حالت میں یاد کرتے رہتے ہیں اور زمین اور آسمان اور دوسری مخلوقات کی پیدائش میں تفکّر اور تدّبر کرتے رہتے ہیں اور اُن کے دل اور زبان پر یہ مناجات جاری رہتی ہے کہ اے ہمارے خداوند تُونے ان چیزوں میں سے کسی چیز کو عبث اور بے ہودہ طور پر پیدا نہیں کیا بلکہ ہر یک چیز تیری مخلوقات میں سے عجائبات قدرت اور حکمت سے بھری ہوئی ہے کہ جو تیری ذاتِ بابرکات پر دلالت کرتی ہے۔ ہاں دوسری الہامی کتابیں کہ جو محرف اور مبدّل ہیں اُن میں نا معقول اور محال باتوں پر جمے رہنے کی تاکید پائی جاتی ہے۔ جیسی عیسائیوں کی انجیل شریف۔ مگر یہ الہام کا قصور نہیں یہ بھی حقیقت میں عقل ناقص کا ہی قصور ہے۔ اگر باطل پرستوں کی عقل صحیح ہوتی اور حواس درست ہوتے تو وہ کاہے کو ایسی محرف اور مبدّل کتابوں کی پیروی کرتے اور کیوں وہ غیر متغیّر اور کامل اور قدیم خدا پر یہ آفات اور مصیبتیں جائز رکھتے کہ گویا وہ ایک عاجز بچہ ہو کر ناپاک غذا کھاتا رہا اور ناپاک جسم سے مجسّم ہوا اور ناپاک راہ سے نکلا اور دارالفنا میں آیا اور طرح طرح کے دُکھ اٹھا کر آخر بڑی بدبختی اور بدنصیبی اور ناکامی کی حالت میں ایلی ایلی کرتا مر گیا۔ آخر الہام ہی تھا جس نے اس غلطی کو بھی دُور کیا۔ سبحان اللہ! کیا بزرگ اور دریائے رحمت وہ کلام ہے جس نے مخلوق پرستوں کو پھر توحید کی طرف کھینچا۔ واہ! کیا پیارا اور دلکش وہ نور ہے کہ جو ایک عالم کو ظلمت کدہ سے باہر لایا اور بجز اس کے ہزار ہا لوگ عقلمند کہلا کر اور فلاسفر بن کر اس غلطی اور اس قسم کی بے شمار غلطیوں میں ڈوبے رہے اور جب تک قرآن شریف نہ آیا کسی حکیم نے زور شور سے اس اعتقاد باطل کا ردّ نہ لکھا اور نہ اس قوم تباہ شدہ کی اصلاح کی بلکہ خود حکماء اس قسم کے صد ہا ناپاک عقیدوں میں آلودہ اور مبتلا تھے۔ جیسا پادری یوت 161 صاحب لکھتے ہیں کہ حقیقت میں یہ عقیدہ تثلیث کا عیسائیوں نے افلاطون سے اخذ کیا ہے۔ اور اس احمق یونانی کی غلط بنیاد پر ایک دوسری غلط بنیاد رکھ دی ہے۔ غرض خدا کا سچا اور کامل الہام عقل کا دشمن نہیں ہے بلکہ عقل ناقص نیم عاقلوں کی آپ دشمن ہے جیسا ظاہر ہے کہ تریاق فی حدّ ذاتہٖ انسان کے بدن کے لئے کوئی بُری چیز نہیں ہے لیکن اگر کوئی اپنی کوتہ عقلی سے زہر کو تریاق سمجھ لے تو یہ خود اس کی عقل کا قصور ہے نہ تریاق کا۔ پس یاد رکھنا چاہئے کہ یہ وہم کہ ہر یک امر کی تفتیش کے لئے الہامی کتاب کی طرف رجوع کرنا محل خطر ہے یہ سراسر حمق اور نادانی ہے۔ کیونکہ جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں الہام عقل کے لئے ایک آئینہ حق نما ہے اور اس کی سچائی پر بھی یہی دلیل اعظم ہے کہ وہ ایسے تمام امور سے بکلّی پاک ہے کہ جو خدا کی قدرت اور کمالیت اور قدوسی پر نظر کرنے کے بعد محال ثابت ہوں۔ بلکہ دقائقِ الٰہیات میں کہ جو نہایت مخفی اور عمیق ہیں عقل ضعیف انسانی کا وہی ایک ہادی اور ر ہبر ہے۔ پس ظاہر ہے کہ اس کی طرف رجوع کرنا عقل کو بے کار نہیں کرتا بلکہ عقل کو اُن باریک بھیدوں تک پہنچاتا ہے جن تک خود بخود پہنچنا عقل کے لئے سخت مشکل تھا۔ سو الہام حقیقی سے یعنی قرآن شریف سے عقل کو سراسر فائدہ اور نفع پہنچتا ہے نہ زیاں اور نقصان اور عقل بذریعہ الہام حقیقی خطرات سے بچ جاتی ہے نہ یہ کہ خطرات میں پڑتی ہے کیونکہ یہ بات ہر یک دانا کے نزدیک مسلّم بلکہ اجلیٰ بدیہات ہے کہ محض تشخیص عقلی میں خطا اور غلطی ممکن ہے۔ لیکن عالم الغیب کی کلام میں خطا اور غلطی ممکن نہیں۔ پس اب تم آپ ہی ذرہ منصف ہو کر سوچو کہ جس چیز کو کبھی کبھی سخت لغزشیں پیش آجاتی ہیں۔ اگر اس کے ساتھ ایک ایسا رفیق ملایا گیا کہ جو اس کو لغزشوں سے بچاوے اور پانؤ پھسلنے کی جگہ سے سنبھل رکھے تو کیا اس کے لئے اچھا ہوا یا بُرا ہوا۔ اور کیا اس رفیق نے اس کو اپنے کمال مطلوب تک پہنچایا یا کمال مطلوب سے روک دیا؟ یہ کیسی کور باطنی ہے کہ معین اور مددگار کو مخالف اور مزاحم سمجھا جاوے اور مکمل اور متمم کو رہزن اور نقصان رساں قرار دیا جائے۔ آپ لوگ جب اپنے حواس میں قائم ہو کر اور طالبِ حق بن کر اس مسئلہ میں غور کریں گے تو آپ پر فی الفور واضح ہو جائے گا کہ خدا نے جو عقل کا رفیق الہام کو ٹھہرا دیا ہے یہ عقل کے حق میں کوئی ضرر کی بات نہیں کی بلکہ اس کو سرگردان اور حیران پا کر حق شناسی کے لئے ایک یقینی آلہ عطا کیاہے جس کی نشان دہی سے عقل کو یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ وہ صدہا کج اور ناراست راہوں میں بھٹکتے پھرنے سے بچ جاتی ہے اور سرگشتہ اور آوارہ نہیں ہوتی اور ہر طرف حیرانی سے بھٹکتی نہیں پھرتی بلکہ اصل مقصود کی خاص راہ کو پالیتی ہے اور جو ٹھیک ٹھیک گوہرِ مراد کی جگہ ہے اس کو دیکھ لیتی ہے اور بے ہودہ جان کنی سے امن میں رہتی ہے۔ اس کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی سچا مخبر کسی گمشدہ شخص کا بدرستی ٔ تمام پتہ لگادیوے کہ وہ فلاں طرف گیا ہے اور فلاں شہر اور فلاں محلہ اور فلاں جگہ میں چھپا ہوا بیٹھا ہے۔ سو ظاہر ہے کہ ایسے مخبر پر جو کسی گمشدہ کا ٹھیک ٹھیک پتہ لگا دیتا ہے اور اس تک پہنچنے کا سہل اور آسان راستہ بتلا دیتا ہے کوئی باعقل آدمی یہ اعتراض نہیں کرتا کہ وہ ہماری کارروائی کا حارج ہوا ہے بلکہ اس کے بغایت درجہ ممنو ن اور شکر گذار ہوتے ہیں کہ ہم بے خبر تھے اس نے خبر دی اور ہم ہر طرف بھٹکتے پھرتے تھے اس نے خاص جگہ بتلا دی اور ہم نری اٹکلیں دوڑاتے تھے اس نے یقین کا دروازہ ہم پر کھول دیا۔ ایسا ہی وہ لوگ جن کو خدا نے عقلِ سلیم بخشی ہے حقیقی الہام کے مرہون منّت اور ثنا خواں اور مدّاح ہیں اور بخوبی جانتے اور سمجھتے ہیں کہ الہام حقیقی ان کو خیالات کی ترقی سے نہیں روکتا بلکہ خیالات کی سرگشتگی سے روکتا ہے اور انواع اقسام کے پیچ در پیچ اور مشتبہ راہوں میں سے ایک خاص راہِ مقصود جتلا دیتا ہے جس پر قدم مارنا عقل کو نہایت آسان ہو جاتا ہے اور جو جو مشکلات انسان کو بباعث قلّتِ عمر اور قلتِ طاقتِ علمی و کمی ٔ بصیرت پیش آتی ہیں ان سب سے خلاصی بخشتا ہے۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۹۲تا۳۰۹ حاشیہ نمبر ۱۱)واضح ہو کہ اگرچہ یہ سچ بات ہے کہ عقل بھی خدا نے انسان کو ایک چراغ عطا کیا ہے کہ جس کی روشنی اس کو حق اور راستی کی طرف کھینچتی ہے اور کئی طرح کے شکوک اور شبہات سے بچاتی ہے اور انواع اقسام کے بے بنیاد خیالوں اور بے جا وساوس کو دُور کرتی ہے نہایت مفید ہے بہت ضروری ہے بڑی نعمت ہے مگر پھر بھی باوجود ان سب باتوں اور ان تمام صفتوں کے اِس میں یہ نقصان ہے کہ صرف وہی اکیلی معرفتِ حقائق اشیاء میں مرتبۂِ یقینِ کامل تک نہیں پہنچا سکتی۔ کیونکہ مرتبہء یقین کامل کا یہ ہے کہ جیسا کہ حقائق اشیاء کے واقعہ میں موجود ہیں انسان کو بھی اُن پر ایسا ہی یقین آ جائے کہ ہاں حقیقت میں موجود ہیں مگر مجرّد عقل انسان کو اس اعلیٰ درجہ یقین کا مالک نہیں بنا سکتی کیونکہ غایت درجہ حکم عقل کا یہ ہے کہ وہ کسی شے کے موجود ہونے کی ضرورت کو ثابت کرے جیسا کسی چیز کی نسبت یہ حکم دے کہ اس چیز کا ہونا ضروری ہے یا یہ چیز ہونی چاہئے۔ مگر ایسا حکم ہرگز نہیں دے سکتی کہ واقعہ میں یہ چیز ہے بھی اور یہ پایہ یقین کامل کاکہ علم انسان کا کسی امر کی نسبت ہونا چاہئے کے مرتبہ سے ترقی کر کے ہے کے مرتبہ تک پہنچ جائے تب حاصل ہوتا ہے کہ جب عقل کے ساتھ کوئی دوسرا ایسا رفیق مل جاتا ہے کہ جو اُس کی قیاسی وجوہات کو تصدیق کر کے واقعاتِ مشہودہ کا لباس پہناتا ہے۔ یعنی جس امر کی نسبت عقل کہتی ہے کہ ہونا چاہئے وہ رفیق اس امر کی نسبت یہ خبر دے دیتا ہے کہ واقعہ میں وہ امر موجود بھی ہے کیونکہ جیساکہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں عقل صرف ضرورتِ شے کو ثابت کرتی ہے خود شے کو ثابت نہیں کر سکتی۔ اور ظاہر ہے کہ کسی شے کی ضرورت کا ثابت ہونا امر دیگر ہے اور خود اُس شے کا ثابت ہوجانا امر دیگر۔ بہرحال عقل کے لئے ایک رفیق کی حاجت ہوئی کہ تا وہ رفیق عقل کے اس قیاسی اور ناقص قول کا کہ جو ہونا چاہئے کے لفظ سے بولا جاتا ہے مشہودی اور کامل قول سے جو ہے کے لفظ سے تعبیر کیا جاتاہے۔ جبر نقصان کرے اور واقعات سے جیسا کہ وہ نفس الامر میں واقعہ ہیں آگاہی بخشے سو خدا نے جو بڑا ہی رحیم اور کریم ہے اور انسان کو مراتب قُصوی یقین تک پہنچانا چاہتا ہے اس حاجت کو پوری کیا ہے اور عقل کے لئے کئی رفیق مقرر کر کے راستہ یقینِ کامل کا اس پر کھول دیا ہے تا نفس انسان کا کہ جس کی ساری سعادت اور نجات یقین کامل پر موقوف ہے اپنی سعادت مطلوبہ سے محروم نہ رہے اور ہونا چاہئے کے نازک اور پُرخطر پُل سے کہ عقل نے شکوک اور شبہات کے دریا پر باندھا ہے بہت جلد آگے عبور کر کے ہے کے قصرِ عالی میں جو دارالامن والا طمینان ہے داخل ہو جائے اور وہ رفیق عقل کے جو اس کے یار اور مددگار ہیں ہر مقام اور موقعہ میں الگ الگ ہیں لیکن از روئے حصرِ عقلی کے تین سے زیادہ نہیں اور ان تینوں کی تفصیل اِس طرح پر ہے کہ اگر حکم عقل کا دنیا کے محسوسات اور مشہودات سے متعلق ہو جو ہر روز دیکھے جاتے یا سُنے جاتے یا سونگھے جاتے یا ٹٹولے جاتے ہیں تو اس وقت رفیق اس کا جو اس کے حکم کو یقین کامل تک پہنچاوے مشاہدہ صحیحہ ہے کہ جس کا نام تجربہ ہے۔ اور اگر حکم عقل کا اُن حوادث و واقعات سے متعلق ہو جو مختلف از منہ اور امکنہ میں صدور پاتے رہے ہیں یا صدور پاتے ہیں تو اس وقت اس کا ایک اور رفیق بنتاہے کہ جس کا نام تواریخ اور اخبار اور خطوط اور مراسلات ہے اور وہ بھی تجربہ کی طرح عقل کی دُود آمیز روشنی کو ایسا مُصفَّا کر دیتا ہے کہ پھر اُس میں شک کرنا ایک حُمق اور جنون اور سودا ہوتا ہے اور اگر حکم عقل کا اُن واقعات سے متعلق ہو جو ماوراء المحسوسات ہیں جن کو ہم نہ آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں اور نہ کان سے سُن سکتے ہیں اور نہ ہاتھ سے ٹٹول سکتے ہیں اور نہ اس دنیا کی تواریخ سے دریافت کر سکتے ہیں تو اس وقت اس کا ایک تیسرا رفیق بنتا ہے کہ جس کا نام الہام اور وحی ہے اور قانون قدرت بھی یہی چاہتا ہے کہ جیسے پہلے دو مواضع میں عقل ناتمام کو دو رفیق میسّر آ گئے ہیں تیسر ے موضع میں بھی میسّر آیا ہو۔ کیونکہ قوانینِ فطرتیہ میں اختلاف نہیں ہو سکتا۔ بالخصوص جبکہ خدا نے دنیا کے علوم اور فنون میں کہ جن کے نقصان اور سہو اور خطا میں چنداں حرج بھی نہیں انسان کو ناقص رکھنا نہیں چاہا تو اس صورت میں خدا کی نسبت یہ بڑی بدگمانی ہو گی جو ایسا خیال کیا جاوے جو اس نے ان امور کی معرفت تامہ کے بارے میں کہ جن پر کامل یقین رکھنا نجات اخروی کی شرط ہے اور جن کی نسبت شک رکھنے سے جہنم ابدی طیار ہے انسان کو ناقص رکھنا چاہا ہے اور اس کے علمِ اخروی کو صرف ایسے ایسے ناقص خیالات پر ختم کر دیاہے کہ جن کی محض اٹکلوں پر ہی ساری بنیاد ہے اور ایسا ذریعہ اس کے لئے کوئی بھی مقرر نہیں کیا کہ جو شہادت واقعہ دے کر اس کے دل کو یہ تسلّی اور تشفی بخشے کہ وہ اصولِ نجات کہ جن کا ہونا عقل بطور قیاس اور اٹکل کے تجویز کرتی ہے وہ حقیقت میں موجود ہی ہیں اور جس ضرورت کو عقل قائم کرتی ہے وہ فرضی ضرورت نہیں بلکہ حقیقی اور واقعی ضرورت ہے اب جبکہ یہ ثابت ہوا کہ الہٰیات میں یقین کامل صرف الہام ہی کے ذریعہ سے ملتا ہے اور انسان کو اپنی نجات کے لئے یقین کامل کی ضرورت ہے اور خود بغیر یقین کامل کے ایمان سلامت لے جانا مشکل۔ تو نتیجہ ظاہر ہے کہ انسان کو الہام کی ضرورت ہے۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۷۸تا۸۰ حاشیہ نمبر ۴)
اِس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ مجرد عقلی خیالوں میں صرف اتنا ہی نقص نہیں کہ وہ مراتبِ یقینیہ سے قاصر ہیں اور دقائق الٰہیات کے مجموعہ پر قابض نہیں ہو سکتے بلکہ ایک یہ بھی نقص ہے کہ مجرد عقلی تقریریں دلوں پر اثر کرنے میں بھی بغایت درجہ کمزور و بے جان ہیں اور کمزور ہونے کی وجہ یہ ہے کہ کسی کلام کا دل پر کارگر ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ اس کلام کی سچائی سامع کے ذہن میں ایسی متحقق ہو کہ جس میں ایک ذرا شک کرنے کی گنجائش نہ ہو اور دلی یقین سے یہ بات دل میں بیٹھ جائے کہ جس واقعہ کی مجھ کو خبر دی گئی ہے اس میں غلطی کا امکان نہیں اور ابھی ظاہر ہو چکا ہے کہ مجرد عقل یقین کامل تک پہنچا ہی نہیں سکتی۔ پس اس صورت میں یہ بات بدیہی ہے کہ وہ آثار کہ یقین کامل پر مترتب ہوتے ہیں اور وہ تاثیریں کہ جو یقینی کلام دلوں پر کرتی ہے وہ مجرد عقل سے ہرگز متوقع نہیں اور اس کا ثبوت روزمرّہ تجربہ سے ظاہر ہے مثلاً ایک شخص ایک دور دراز ولایت کا سیر کر کے آتا ہے تو جب اپنے وطن میں پہنچتا ہے تو ہر یک خویش و بیگانہ اس ولایت کی خبریں اُس سے دریافت کرتا ہے اور اُس کی چشم دید خبریں بشرطیکہ وہ دروغ گوئی کی عادت سے متہم نہ ہو دلوں پر بہت اثر کرتی ہیں اور بغیر کسی تردّد اور شک کے فی الواقعہ راست اور صحیح سمجھی جاتی ہیں۔ بالخصوص جب ایسا مخبر ہو کہ لوگوں کی نظر میں ایک بزرگوار اور صالح آدمی ہو۔ اس قدر تاثیر اس کی کلام میں کیوں ہوتی ہے اس لئے ہوتی ہے کہ اوّل اس کو ایک شریف اور راستباز تسلیم کر کے پھر اس کی نسبت یہ یقین کیا گیاہے کہ وہ جو جو ان ملکوں کے واقعات بیان کرتا ہے ان کو اُس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور جو جو خبریں بتلاتا ہے وہ سب اس کا چشم دید ماجرا ہے۔ پس اِسی باعث سے اس کی باتوں کا دلوں پر سخت اثر واقع ہوتا ہے اور اس کے بیانات طبیعتوں میں ایسے جم جاتے ہیں کہ گویا ان واقعات کی تصویر نظر کے سامنے آ موجود ہوتی ہے بلکہ بسا اوقات جب وہ اپنے سفر کی ایک رقّت آمیز حکایت سُناتا ہے یا کسی قوم کا درد انگیز قصہ بیان کرتا ہے تو سُنتے ہی وہ بات سامعین کے دل کو ایسا پکڑ لیتی ہے کہ اُن کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے ہیں اور ان کی ایک ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ گویا وہ موقع پر موجود ہیں اور اس واقعہ کو بچشم خود دیکھ رہے ہیں۔ لیکن جو شخص اپنے گھر کی چار دیوار سے کبھی باہر نہیں نکلا نہ اس ملک میں کبھی گیا اور نہ دیکھنے والوں سے کبھی اس کا حال سُنا اگر وہ اُٹھ کر صرف اپنی اٹکل سے اس ملک کی خبریں بیان کرنے لگے تو اس کی بک بک سے خاک بھی تاثیر نہیں ہوتی۔ بلکہ لوگ اُسے کہتے ہیں کہ کیا تو پاگل اور دیوانہ ہے کہ ایسی باتیں بیان کرنے لگا کہ جو تیرے معائنہ اور تجربہ سے باہر ہیں اور تیرے ناقص علم سے بلند تر ہیں اور اس پر ایسا ہی کہتے ہیں کہ جیسا ایک بزرگ نے کسی احمق کا قصّہ لکھا ہے کہ وہ ایک جگہ گیہوں کی روٹی کی بہت سی تعریفیں کر رہا تھا کہ وہ بہت ہی مزیدار ہوتی ہے اور جب پوچھا گیا کہ کیا تو نے بھی کبھی کھائی ہے تو اس نے جواب دیا کہ مَیں نے کھائی تو کبھی نہیں پر میرے دادا جی بات کیا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ہم نے کسی کو کھاتے دیکھا ہے۔
غرض جب تک کوئی سامعین کی نظر میں کسی واقعہ پر بکلّی محیط نہ ہو تب تک بجائے اس کے کہ اُس کا کلام دلوں پر کچھ اثر کرے خواہ نخواہ ٹھٹھا اور ہنسی کرانے کا موجب ٹھہرتا ہے یہی وجہ ہے کہ مجرد عقلمندوں کی خشک تقریروں نے کسی کو عالم آخرت کی طرف یقینی طور پر متوجہ نہیں کیا اور لوگ یہی سمجھتے رہے کہ جیسا یہ لوگ صرف اٹکل سے باتیں کرتے ہیں علیٰ ہذا القیاس ہم بھی اُن کی رائے کے مخالف اٹکلیں دوڑا سکتے ہیں۔ نہ انہوں نے موقع پر جا کر اصل حقیقت کو دیکھا نہ ہم نے۔ اِسی باعث سے جب ایک طرف بعض عقلمندوں نے خدا کی ہستی پر رائے ظاہر کرنی شروع کی تو دوسرے عقلمندوں نے ان کے مخالف ہو کر دہریہ مذہب کی تائید میں کتابیں تصنیف کیں اور سچ تو یہ ہے کہ ان عاقلوں کا فرقہ کہ جو خدا کی ہستی کے کسی قدر قائل تھے وہ بھی دہریہ پن کی رگ سے کبھی خالی نہیں ہوا اور نہ اب خالی ہے۔ انہی برہمو لوگوں کو دیکھو کب وہ خدا کو کامل صفتوں سے متصف سمجھتے ہیں کب ان کو اقرار ہے کہ خدا گونگا نہیں بلکہ اُس میں حقیقی طور پر صفت تکلّم بھی ہے جیسی ایک جیتے جاگتے میں ہونی چاہئے۔ کب وہ اس کو حقّانی طور پر پورا پورا مدبر اور رزاق سمجھتے ہیں۔ کب ان کو اس بات پر ایمان ہے کہ حقیقت میں خدا حَیُّ و قیّوم ہے اور اپنی آوازیں صادق دلوں تک پہنچا سکتاہے۔ بلکہ وہ تو اس کے وجود کو ایک موہومی اور مردہ سا خیال کرتے ہیں کہ جس کو عقل انسانی صرف اپنے ہی تصوّرات سے ایک فرضی طور پر ٹھہرا لیتی ہے اور اس طرف سے زندوں کی طرح کبھی آواز نہیں آتی۔ گویا وہ خدا نہیں ایک بُت ہی ہے کہ جو کسی گوشہ میں پڑا ہے۔ مَیں متعجب ہوں کہ ایسے کچے اور ضعیف خیالات سے کیونکر یہ لوگ خوش ہوئے بیٹھے ہیں اور ایسے خود تراشیدہ باتوں سے کن ثمرات کی توقع ہے۔ کیوں سچے طالبوں کی طرح اس خدا کو نہیں ڈھونڈتے کہ جو قادر توانا اور جیتا جاگتا ہے اور اپنے وجود پر آپ اطلاع دینے کی قدرت رکھتا ہے اور اِنِّیْ اَنَااللّٰہُ کی آواز سے مُردوں کو ایک دم میں زندہ کر سکتا ہے۔ جب یہ لوگ خود جانتے ہیں کہ عقل کی روشنی دُود آمیز ہے تو پھر کامل روشنی کے کیوں خواہاں نہیں ہوتے۔ عجب احمق ہیں کہ اپنے مریض ہونے کے تو قائل ہیں پر علاج کا کچھ فکر نہیں۔ ہائے افسوس! کیو ں ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں تا وہ حق الامر کو دیکھ لیں۔ کیوں ان کے کانوں پر سے پردہ نہیں اُٹھتا تا وہ حقانی آواز کو سُن لیں۔ کیوں ان کے دل ایسے کجرو اور ان کی سمجھیں ایسی الٹی ہو گئیں کہ جو اعتراض حقیقت میں اُ نہی پر وارد ہوتا تھا وہ الہام حقیقی کے تابعین پر کرنے لگے ……
اسی وہم کا ضمیمہ برہمو سماج والوں کا ایک اور وہم بھی ہے کہ الہام ایک قید ہے اور ہم ہر یک قید سے آزاد ہیں یعنی ہم اچھے ہیں کیونکہ آزاد قیدی سے اچھا ہوتا ہے۔ ہم اس نکتہ چینی کو مانتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ بلاشبہ الہام ایک قید ہے مگر ایسی قید ہے کہ جس کے بغیر سچی آزادی حاصل ہونا ممکن نہیں کیونکہ سچی آزادی وہ ہے کہ انسان کو ہر یک نوع کی غلطی اور شکوک اور شبہات سے نجات ہو کر مرتبہ یقین کامل کا حاصل ہو جائے اور اپنے مولیٰ کریم کو اِسی دنیا میں دیکھ لے۔ سو جیسا کہ ہم اسی حاشیہ میں ثابت کر چکے ہیں یہ حقیقی آزادی دنیا میں کامل اور خدا دوست مسلمانوں کو بذریعہ قرآن شریف حاصل ہے اور بجز ان کے کسی برہمو وغیرہ کو حاصل نہیں۔ ……
اِسی وہم کا ضمیمہ برہمو سماج والوں کا ایک اور مقولہ ہے کہ گویا انہوں نے اپنے اسی قامت ناساز کو ایک دوسرے لباس میں ظاہر کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ الہام کا تابع ہونا ایک حرکت خلاف وضعِ استقامت اور مبائن طریق فطرت ہے کیونکہ ہر یک امر کی حقیقت پر مطلع ہونے کے لئے صاف اور سیدھا راستہ کہ جس کو ہر یک انسان کا نفس ناطقہ بمقتضائے اپنی فطرت کے چاہتا ہے یہی ہے کہ عقلی دلائل سے اس حقیقت کو کھولا جائے۔ جیسے مثلاً فعل سرقہ کے قبیح ہونے کے لئے حقیقی وجہ جس پر روحانی اطمینان موقوف ہے یہی ہے کہ وہ ایک ظلم اور تعدّی ہے کہ عند العقل نامناسب اور ناجائز ہے۔ یہ وجہ نہیں ہے کہ جو کسی الہامی کتاب نے اس کا مرتکب ہونا گناہ لکھا ہے۔ یا مثلاً سم الفار جو ایک زہر ہے اُس کے کھانے کی ممانعت حقیقی طور پر اس بنا پر ہو سکتی ہے کہ وہ قاتل اور مہلک ہے نہ اس بنا پر کہ خدا کے کلام میں اس کے اکل و شرب سے نہی وارد ہے۔ پس ثابت ہے کہ واقعی اور حقیقی سچائی کی رہ نما صرف عقل ہے نہ الہام لیکن اِن حضرات کو ابھی تک یہ خبر بھی نہیں کہ اس وہم کا تو اسی وقت قلع قمع ہو گیا کہ جب مضبوط اور قوی دلائل سے ان کی عقل کا خام اور ناتمام ہونا بپایۂ ثبوت پہنچ گیا۔ کیا یہ عقلمندی ہے کہ جس وسوسہ کو دلائل قویہ کے پُر زور لشکر نے پیس ڈالا ہے اُسی مُردہ خیال کو بے شرم آدمی کی طرح بار بار پیش کیا جائے۔ افسوس افسوس!! ارے بابا کیا تم با رہا سُن نہیں چکے کہ گو حقائق اشیاء عقلی دلائل سے کسی قدر منکشف ہوتے ہیں مگر ایسا تو نہیں کہ تمام مراتبِ یقین کا استکمال عقل ہی پر موقوف ہے۔ آپ تو اپنی ہی مثال پیش کردہ سے ملزم ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ سم الفار کا قاتل اور مہلک ہونا مجرد عقل کے ذریعہ سے بپایۂ ثبوت نہیں پہنچا بلکہ یقینی طور پر یہ خاصیت اس کی تب معلوم ہوئی جب عقل نے تجربہ صحیحہ کو اپنا رفیق بنا کر سمُّ الفار کی خاصیّت مخفیہ کو مشاہدہ کر لیا ہے۔ سو ہم بھی آپ کو یہی سمجھاتے ہیں کہ جیسی سم الفار کی خاصیت یقینی طور پر دریافت کرنے کے لئے عقل کو ایک دوسرے رفیق کی حاجت ہوئی یعنی تجربہ صحیحہ کی حاجت۔ ایسا ہی الہٰیات اور عالمِ معاد کے حقائق علیٰ وجہ الیقین دریافت کرنے کے لئے عقل کو الہام الٰہی کی حاجت ہے اور بغیر اس رفیق کے عقل کا کام علم دین میں چل نہیں سکتا۔ جیسے دوسرے علوم میں بغیر دوسرے رفیقوں کے عقل بے دست و پا اور ناقص اور ناتمام ہے۔ غرض عقل فی حدّ ذاتہٖ مستقل طور پر کسی کام کو یقینی طور پر انجام نہیں دے سکتی جب تک کوئی دوسرا رفیق اس کے ساتھ شامل نہ ہو۔ اور بغیر شمول رفیق کے ممکن نہیں کہ خطا اور غلطی سے محفوظ اور معصوم رہ سکے بالخصوص علم الٰہی میں جس کے تمام ابحاث کی کُنہ اور حقیقت اس عالم کی وراء الوراء ہے۔ اور جس کا کوئی نمونہ اس دنیا میں موجودنہیں۔ ان امور میں عقلِ ناقص انسانی غلطی سے تو کیا بچے گی کمال معرفت کے مرتبہ تک بھی نہیں پہنچا سکتی …… جو دِ ّقتیں اُس نادیدہ عالم کے واقعات میں پیش آتی ہیں اور جس طرح غیر مرئی اور غیب الغیب جہان کے تصوّر کرنے کے وقت میں حیرتیں رونما ہوتی ہیں اور نظر اور فکر کے آگے ایک دریا ناپیدا کنار دکھلائی دیتا ہے اس جگہ اس کا ہزارم حصہ بھی نہیں تو اس صورت میں اگر ہم صریحاً و عمداً بے راہی اختیار نہ کریں تو بلاشبہ اس اقرار کرنے کے لئے مجبور ہیں کہ ہمیں اس عالم کے حالات اور واقعات ٹھیک ٹھیک معلوم کرنے کے لئے اور اُن پر یقین کامل لانے کی غرض سے دنیا کی نسبت صد ہا درجہ زیادہ مؤرخوں اور واقعہ نگاروں اور تجربہ کاروں کی حاجت ہے اور جبکہ اس عالم کا مؤرخ اور واقعہ نگار بجز خدا کی کلام کے کوئی اور نہیں ہو سکتا اور ہمارے یقین کا جہاز بغیر وجود واقعہ نگار کے تباہ ہوا جاتا ہے۔ اور بادِ صر صر وساوس کی ایمان کی کشتی کو ورطۂ ہلاکت میں ڈالتی جاتی ہے تو اس صورت میں کون عاقل ہے کہ جو صرف عقل ناقص کی رہبری پر بھروسہ کر کے ایسے کلام کی ضرورت سے مُنہ پھیرے جس پر اُس کی جان کی سلامتی موقوف ہے اور جس کے مضامین صرف قیاسی اٹکلوں میں محدودنہیں بلکہ وہ عقلی دلائل کے علاوہ بحیثیت ایک مؤرخ صادق عالم ثانی کے واقعاتِ صحیحہ کی خبر بھی دیتا ہے اور چشم دید ماجرا بیان کرتا ہے۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۳۲۷ تا۳۳۵ حاشیہ نمبر ۱۱)حضرات! !تم خوب سوچ کر دیکھ لو کہ الہام کے بغیر نہ یقین کامل ممکن ہے نہ غلطی سے بچنا ممکن۔ نہ توحید خالص پر قائم ہونا ممکن۔ نہ جذبات نفسانیہ پر غالب آنا حیّزِ امکان میں داخل ہے۔ وہ الہام ہی ہے جس کے ذریعہ سے خدا کی نسبت ہے کی دھوم مچی ہوئی ہے اور تمام دنیا ہَست ہَست کر کے اُس کو پکار رہی ہے وہ الہام ہی ہے جو ابتدا سے دلوں میں جوش ڈالتا آیا کہ خدا موجود ہے۔ وہی ہے جس سے پرستاروں کو پرستش کی لذّت آتی ہے۔ ایمان داروں کو خدا کے وجود اور عالمِ آخرت پر تسلّی ملتی ہے۔ وہی ہے جس سے کروڑ ہا عارفوں نے بڑی استقامت اور جوش محبت الٰہیہ سے اس مسافر خانہ کو چھوڑا۔ وہی ہے جس کی صداقت پر ہزار ہا شہیدوں نے اپنے خون سے مہریں کر دیں۔ ہاں وہی ہے جس کی قوتِ جاذبہ سے بادشاہوں نے فقر کا جامہ پہن لیا۔ بڑے بڑے مالداروں نے دولتمندی پر درویشی اختیار کر لی۔ اسی کی برکت سے لاکھوں اُمّی اور ناخواندہ اور بوڑھی عورتوں نے بڑے پُرجوش ایمان سے کوچ کیا۔ وہی ایک کشتی ہے جس نے بارہا یہ کام کر دکھایا کہ بے شمار لوگوں کو ورطۂ مخلوق پرستی اور بد گمانی سے نکال کر ساحل توحید اور یقین کامل تک پہنچا دیا۔ وہی آخری دم کا یار اور نازک وقت کا مددگار ہے۔ لیکن فقط عقل کے پردے سے جس قدر دنیا کو ضرر پہنچا ہے وہ کچھ پوشیدہ نہیں۔ بھلا تم آپ ہی بتلاؤ کس نے افلاطون اور اس کے توابع کو خدا کی خالقیت سے منکر بنایا؟ کِس نے جالینوس کو رُوحوں کے باقی رہنے اور جزا سزا کے بارہ میں شک میں ڈال دیا؟ کِس نے تمام حکیموں کو خدا کے عالم بالجزئیات ہونے سے انکاری رکھا۔ کس نے بڑے بڑے فلاسفروں سے بُت پرستی کرائی؟ کس نے مُورتوں کے آگے مُرغوں اور دوسرے حیوانات کو ذبح کرایا؟ کیا یہی عقل نہیں تھی جس کے ساتھ الہام نہ تھا؟ اور یہ شبہ پیش کرنا کہ بہت سے لوگ الہام کے تابع ہو کر بھی مشرک بن گئے۔ نئے نئے خدا بنا لئے درست نہیں کیونکہ یہ خدا کے سچے الہام کا قصور نہیں بلکہ ان لوگوں کا قصور ہے جنہوں نے سچ کے ساتھ جھوٹ ملا دیا اور خدا پرستی پر ہوا پرستی کو اختیار کر لیا۔ پھر بھی الہام الٰہی اُن کے تدارک سے غافل نہیں رہا۔ اُن کو فراموش نہیں کیا بلکہ جن جن باتوں میں وہ حق سے دُور پڑ گئے دوسرے الہام نے ان باتوں کی اصلاح کی۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۶۳، ۱۶۴ حاشیہ نمبر ۱۱)
ہاں سچ بات ہے کہ عقل بھی بے سود اور بے فائدہ نہیں اور ہم نے کب کہا ہے کہ بے فائدہ ہے۔ مگر اس بدیہی صداقت کے ماننے سے ہم کس طرح بھاگ سکتے ہیں کہ مجرّد عقل اور قیاس کے ذریعہ سے ہمیں وہ کامل یقین کا سرمایہ حاصل نہیں ہو سکتا کہ جو عقل اور الہام کے اشتمال سے حاصل ہوتا ہے اور نہ لغزشوں اور غلطیوں اور خطاؤں اور گمراہیوں اور خود پسندیوں اور خود بینیوں سے بچ سکتے ہیں۔ اور نہ ہمارے خود تراشیدہ خیالات خدا کے پُرزور اور پُرجلا ل اور پُررعب حکم کی طرح جذباتِ نفسانی پر غالب آسکتے ہیں اور نہ ہمارے طبعزاد تصوّرات اور خشک تخیلات اور بے اصل توہّمات ہم کو وہ سرور اَور خوشی اور تسلّی اور تشفی پہنچا سکتے ہیں کہ جو محبوب حقیقی کا دلآویز کلام پہنچاتا ہے تو پھر کیا ہم ایک اکیلی عقل کے پیرو ہو کر اُن تمام نقصانوں اور زیانوں اور بدبختیوں اور بدنصیبیوں کو اپنے لئے قبول کر لیں اور ہزار ہا بلاؤں کااپنے نفس پر دروازہ کھول دیں۔ عاقل انسان کسی طرح اس مہمل بات کو باور نہیں کر سکتا کہ جس نے کامل معرفت کی پیاس لگا دی ہے اُس نے پوری معرفت کا لبالب پیالہ دینے سے دریغ کیا ہے اور جس نے آپ ہی دلوں کو اپنی طرف کھینچا ہے اس نے حقیقی عرفان کے دروازے بند کر رکھے ہیں اور خدا شناسی کے تمام مراتب کو صرف فرضی ضرورت پرخیال دوڑانے میں محدود کر دیا ہے۔ کیا خدا نے انسان کو ایسا ہی بدبخت اور بے نصیب پیدا کیا ہے کہ جس کامل تسلّی کو خدا شناسی کی راہ میں اس کی رُوح چاہتی ہے اور دل تڑپتا ہے اور جس کے حصول کا جوش اُس جان و جگر میں بھرا ہوا ہے اُس کے حصول سے اِس دنیا میں اس کو بکلّی یاس اور ناامیدی ہے۔ کیا تم ہزار ہا لوگوں میں سے کوئی بھی ایسی رُوح نہیں کہ اس بات کو سمجھے کہ جو معرفت کے دروازے صرف خدا کے کھولنے سے کھلتے ہیں وہ انسانی قوتوں سے کھل نہیں سکتے اور جو خدا کا آپ کہنا ہے کہ مَیں موجود ہوں اس سے انسانوں کے صرف قیاسی خیالات برابر نہیں ہو سکتے۔ بلاشبہ خدا کا اپنے وجود کی نسبت خبر دینا ایسا ہے کہ گویا خدا کو دکھلا دیتا ہے مگرصرف قیاسًا انسان کا کہنا ایسا نہیں ہے۔ اور جبکہ خدا کے کلام سے کہ جو اس کے وجود خاص پر دلالت کرتا ہے ہمارے عقلی خیالات کسی طرح برابر نہیں ہو سکتے تو پھر تکمیل یقین کے لئے کیوں اس کے کلام کی حاجت نہیں؟ کیا اس صریح تفاوت کو دیکھنا تمہارے دل کو ذرا بھی بیدار نہیں کرتا؟ کیا ہمارے کلام میں کوئی بھی ایسی بات نہیں کہ جو تمہارے دل پر مؤثر ہو؟ اے لوگو! اِس بات کے سمجھنے میں کچھ بھی دقّت نہیں کہ عقل انسانی مغیبات کے جاننے کا آلہ نہیں ہو سکتی۔ اور کون تم میں سے اس بات کا منکر ہو سکتا ہے کہ جو کچھ بعد فوت کے پیش آنے والا ہے وہ سب مغیبات میں ہی داخل ہے۔ مثلاً تم سوچو کہ کسی کو واقعی طور پر کیا خبر ہے کہ موت کے وقت کیونکر انسان کی جان نکلتی ہے اور کہاں جاتی ہے اور کون ہمراہ لے جاتا ہے اور کس مقام میں ٹھہرائی جاتی ہے اور پھر کیا کیا معاملہ اس پر گذرتا ہے؟ اِن سب باتوں میں عقل انسانی کیونکر قطعی فیصلہ کر سکے۔ قطعی طور پر تو انسان تب فیصلہ کر سکتا ہے کہ جب ایک دو مرتبہ پہلے مر چکا ہوتا اور وہ راہیں اُسے معلوم ہوتیں جن راہوں سے خدا تک پہنچتا تھا اور وہ مقامات اُسے یاد ہوتے جن میں ایک عرصہ تک اس کی سکونت رہی تھی مگر اب تو نِری اٹکلیں ہیں گو ہزار احتمال نکالو موقعہ پر جا کر تو کسی عاقل نے نہ دیکھا۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ ایسے بے بنیاد خیالات سے آپ ہی تسلّی پکڑنا ایک طفل تسلّی ہے حقیقی تسلّی نہیں ہے۔ اگر تم محقّقانہ نگاہوں سے دیکھو تو آپ ہی شہادت دو کہ انسان کی عقل اور اس کا کانشنس ان سب امور کو علیٰ وجہ الیقین ہرگز دریافت نہیں کر سکتا۔ اور صحیفۂ قدرت کا کوئی صفحہ ان اُمور پر یقینی دلالت نہیں کرتا۔ دُور دراز کی باتیں تو یک طرف رہیں اوّل قدم میں ہی عقل کو حیرانی ہے کہ رُوح کیا چیز ہے اور کیونکر داخل ہوتی اور کیونکر نکلتی ہے۔ ظاہرًا تو کچھ نکلتا نظر نہیں آتا اور نہ داخل ہوتا نظر آتا ہے اور اگر کسی جاندار کو وقت نزع جان کے کسی شیشہ میں بھی بند کرو تب بھی کوئی چیز نکلتی نظر نہیں آتی اور اگر بند شیشہ کے اندر کسی مادہ میں کیڑے پڑ جائیں تو ان رُوحوں کے داخل ہونے کا بھی کوئی راہ دکھائی نہیں دیتا۔ انڈے میں اس سے بھی زیادہ تعجب ہے کس راہ سے رُوح پرواز کر کے آتی ہے اور اگر بچہ اندر ہی مر جائے تو کس راہ سے نکل جاتی ہے؟ کیا کوئی عاقل اس معمہ کو صرف اپنی ہی عقل کے زور سے کھول سکتا ہے؟ وہم جتنے چاہو دوڑاؤ مگر مجرد عقل کے ذریعہ سے کوئی واقعی اور یقینی بات تو معلوم نہیں ہوتی۔ پھر جبکہ پہلے ہی قدم میں یہ حال ہے تو پھر یہ ناقص عقل امور معاد میں قطعی طور پر کیا دریافت کر لے گی؟ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۳۳۶ تا۳۳۸ حاشیہ نمبر ۱۱)
اُس حکیم مطلق نے انسان ضعیف البنیان کو اپنی ہی رائے اور قیاس پر چھوڑنا نہیں چاہا بلکہ جس طور کے واعظوں اور متکلّموں سے اس کی تسلّی اور تشفّی ہو سکتی ہے اور اس کے جذباتِ نفسانی دَب سکتے ہیں اور اُس کی روحانی بے قرار یاں دُور ہو سکتی ہیں وہ سب متکلم اس کے لئے پیدا کئے ہیں اور جس کلام سے اس کی امراض و اعراض دُور ہو سکتی ہیں وہ کلام اس کے لئے مہیّا کیا ہے۔ یہ ثبوت ضرورتِ الہام کا کسی اور طرز سے نہیں بلکہ خدا کا ہی قانون قدرت اُسے ثابت کرتا ہے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ دنیا میں کروڑ ہا آدمی کہ جو مصیبت میں معصیّت میں غفلت میں گرفتار ہوتے ہیں ہمیشہ وہ دوسرے واعظ اور ناصح سے مُتأثر ہوا کرتے ہیں اور ہر جگہ اپنا ہی علم اور اپنے ہی خیالات ہرگز کافی نہیں ہوتے اور ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ جس قدر متکلم کی ذاتی عظمت اور وقعت سامع کی نظر میں ثابت ہو اُسی قدر اُس کا کلام تسلّی اور تشفی بخشتا ہے۔ اُسی شخص کا وعدہ موجب تسکینِ خاطر ہوتا ہے کہ جو سامع کی نظر میں صادق الوعد اور ایفائے وعدہ پر قادر بھی ہو۔ اِس صورت میں کون اس بدیہی بات میں کلام کر سکتا ہے کہ امورِ معاد اور ماوراء المحسوسات میں اعلیٰ مرتبہ تسلّی اور تشفی اور تسکین خاطر کا کہ جو جذباتِ نفسانی اور آلامِ رُوحانی کو دور کرنے والا ہو صرف خدا کے کلام سے حاصل ہو سکتا ہے۔ اور قانونِ قدرت پر نظر ڈالنے سے اس سے عمدہ تر موجب تسلّی و تشفّی کا اور کوئی امر قرار نہیں پا سکتا۔ جب کوئی آدمی خدا کے کلام پر پورا پورا ایمان لاتا ہے اور کوئی اعراض صوری یا معنوی درمیان نہیں ہوتا تو خدا کا کلام اس کو بڑے بڑے گردابوں میں سے بچا لیتا ہے۔ اور سخت سخت جذباتِ نفسانی کا مقابلہ کرتا ہے اور بڑے بڑے پُر دہشت حادثوں میں صبر بخشتا ہے۔ جب دانا انسان کسی مشکل یا جذبہ نفسانی کے وقت میں خدا کے کلام میں وعد اور وعید پاتا ہے یا کوئی دوسرا اُسے سمجھاتا ہے کہ خدا نے ایسا فرمایا ہے تو ایکبارگی اُس سے ایسا مُتأثّر ہو جاتا ہے کہ توبہ پر توبہ کرتا ہے۔ انسان کو خدا کی طرف سے تسلّی پانے کی بڑی بڑی حاجتیں پڑتی ہیں۔ بسا اوقات وہ ایسی سخت مصیبت میں گرفتار ہو جاتا ہے کہ اگر خدا کا کلام آیا نہ ہوتا اور اُس کو اپنی اس بشارت سے مطلع نہ کرتا۔ وَلَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَالۡجُوۡعِ وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ؕ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَرَحۡمَۃٌ ۟ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُہۡتَدُوۡنَ تو وہ بے حوصلہ ہو کر شاید خدا کے وجود سے ہی انکار کرتا اور یا نااُمیدی کی حالت میں خدا سے بکلی رابطہ توڑ دیتا اور یا غموں کے صدمہ سے ہلاک ہو جاتا۔ اِسی طرح جذبات نفسانی ایسے ہیں کہ جن کی کسر ثوران کے لئے خدا کے کلام کی ضرورت تھی اور قدم قدم میں انسان کو وہ اُمور پیش آتے ہیں جن کا تدارک صرف خدا کا کلام کر سکتا ہے۔ جب انسان خدا کی طرف متوجہ ہونا چاہتا ہے تو صد ہا موانع اُس کو اس توجہ سے روکتے ہیں۔ کبھی اس دنیا کی لذّت یاد ہوتی ہے کبھی ہم مشربوں کی صحبت دامن کھینچتی ہے کبھی اِس راہ کی تکالیف ڈراتی ہیں۔ کبھی قدیمی عادات اور ملکات راسخہ سنگ راہ ہو جاتی ہیں کبھی ننگ کبھی نام کبھی ریاست کبھی حکومت اس راہ سے روکنا چاہتی ہے اور کبھی یہ سارے ایک لشکر کی طرح ایک جگہ فراہم ہو کر اپنی طرف کھینچتے ہیں اور اپنے فوائدنقد کی خوبیاں پیش کرتے ہیں پس ان کے اتفاق اور اژدہام میں ایک ایسا زور پیدا ہو جاتا ہے کہ خیالات خود تراشیدہ ان کی مدافعت نہیں کر سکتے بلکہ ایک دم بھی اُن کے مقابلہ پر ٹھہر نہیں سکتے۔ ایسے جنگ کے موقعہ میں خدا کے کلام کی پُر زور بندوقیں درکار ہیں کہ تا مخالف کی صف کو ایک ہی فیر میں اڑا دیں۔ کیا کوئی کام یک طرفہ بھی ہو سکتا ہے۔ پس یہ کیونکر ممکن ہے کہ خدا ایک پتھر کی طرح ہمیشہ خاموش رہے اور بندہ وفاداری میں صدق میں صبر میں خود بخود بڑھتا جائے اور صرف یہی ایک خیال کہ آسمان اور زمین کا البتہ کوئی خالق ہو گا اُس کو ہمیشہ کی قوت دے کر عشق کے میدانوں میں آگے سے آگے کھینچتا چلا جائے خیالی باتیں واقعی باتوں کی ہرگز قائم مقام نہیں ہو سکتیں اور نہ کبھی ہوئیں مثلاًایک مفلس قرضدار نے کسی راستباز دولتمند سے وعدہ پایا ہے کہ عین وقت پر مَیں تیرا کُل قرضہ ادا کردوں گا اور دوسرا ایک اور مفلس قرض دار ہے اُس کو کسی نے اپنی زبان سے وعدہ نہیں دیا وہ اپنے ہی خیالات دوڑاتا ہے کہ شاید مجھ کو بھی وقت پر روپیہ مل جائے۔ کیا تسلّی پانے میں یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں یہ سب قوانین قدرت ہی ہیں۔ قوانین قُدرت سے کون سی حقّانی صداقت باہر ہے۔ پر افسوس ان لوگوں پر کہ جو قوانینِ قُدرت کی پابندی کا دعویٰ کرتے کرتے پھر انہیں توڑ کر دوسری طرف بھاگ گئے اور جو کچھ کہا تھا اُس کے برعکس عمل میں لائے۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۳۴۰ تا ۳۴۲ حاشیہ نمبر ۱۱)
نہ معلوم آپ لوگوں کو کس نے بہکا دیا کہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ گویا عقل اور الہام میں کسی قدر باہم تناقض ہے جس کے باعث وہ دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ خدا تمہاری آنکھیں کھولے اور تمہارے دلوں کے پردے اُٹھا دے۔ کیا تم اس آسان بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ جس حالت میں الہام کی طفیل سے عقل اپنے کمال کو پہنچتی ہے اپنی غلطیوں پر متنبہ ہوتی ہے اپنی راہِ مقصود کی سمتِ خاص کو دریافت کرلیتی ہے آوارہ گردی اور سرگردانی سے چھوٹ جاتی ہے اور ناحق کی محنتوں اور بے ہودہ مشقتوں اور بے فائدہ جان کنی سے رہائی پاتی ہے اور اپنے مشتبہ اور مظنون علم کو یقینی اور قطعی کر لیتی ہے اور مجرد اٹکلوں سے آگے بڑھ کر واقعی وجود پر مطلع ہو جاتی ہے تسلّی پکڑتی ہے آرام اور اطمینان پاتی ہے تو پھر اس صورت میں الہام اس کا مُحسن و مددگار اور مربی ہوا یا اس کا دشمن اور مخالف اور ضرر رساں ہوا یہ کس قسم کا تعصب اور کسِ نوع کی نابینائی ہے کہ جو ایک بزرگ مربی کو جو صریح رہبری اور رہنمائی کا کام دے رہا ہے رہزن اور مزاحم تصوّر کیا جاتا ہے اور جو گڑھے سے باہر نکالتا ہے اس کو گڑھے کے اندر دھکیلنے والا سمجھ رہے ہیں۔ سارا جہان جانتا ہے اور تمام آنکھوں والے دیکھ رہے ہیں اور غور کرنے والی طبیعتیں مشاہدہ کر رہی ہیں کہ دنیا میں عقل کی خوبی اور عظمت کو ماننے والے لاکھوں ایسے ہو گذرے ہیں اور اب بھی ہیں کہ جو باوجود اس کے کہ عقل کے پیغمبر پر ایمان لائے اور عاقل کہلائے اور عقل کو عُمدہ چیز اور اپنا رہبر سمجھتے تھے مگر بایں ہمہ خدا کے وجود سے منکر ہی رہے اور منکر ہی مرے۔ لیکن ایسا آدمی کوئی ایک تو دکھلاؤ کہ جو الہام پر ایمان لا کر پھر بھی خدا کے وجود سے انکاری رہا۔ پس جس حالت میں خدا پر محکم ایمان لانے کے لئے الہام ہی شرط ہے تو ظاہر ہے کہ جس جگہ شرط مفقود ہو گی اُس جگہ مشروط بھی ساتھ ہی مفقود ہو گا سو اب بدیہی طور پر ثابت ہے کہ جو لوگ الہام سے منکر ہو بیٹھے ہیں انہوں نے دیدہ و دانستہ بے ایمانی کی راہوں سے پیار کیا ہے اور دہریہ مذہب کے پھیلنے اور شائع ہوجانے کو روا رکھا ہے۔ یہ نادان نہیں سوچتے کہ جو وجود غیب الغیب ہے نہ دیکھنے میں آ سکتا ہے نہ سونگھنے میں نہ ٹٹولنے میں اگر قوتِ سامعہ بھی اُس ذاتِ کامل کے کلام سے محروم اور بے خبر ہو تو پھر اِس ناپیدا وجود پر کیونکر یقین آوے۔ اور اگر مصنوعات کے ملاحظہ سے صانع کا کچھ خیال بھی دل میں آیا لیکن جب طالب حق نے مدت العمر کوشش کر کے نہ کبھی اس صانع کو اپنی آنکھوں سے دیکھا نہ کبھی اس کے کلام پر مطلع ہوا نہ کبھی اُس کی نسبت کوئی ایسا نشان پایا کہ جو جیتے جاگتے میں ہونا چاہئے تو کیا آخر اس کو یہ وسوسہ نہیں گذرے گا کہ شاید میری فکر نے ایسے صانع کے قرار دینے میں غلطی کی ہو اور شاید دہریہ اور طبعیہ ہی سچے ہوں کہ جو عالم کی بعض اجزا کو بعض کا صانع قرار دیتے ہیں اور کسی دوسرے صانع کی ضرورت نہیں سمجھتے مَیں جانتا ہوں کہ جب نِرا عقل پرست اِس باب میں اپنے خیال کو آگے سے آگے دوڑائے گا تو وسوسہ مذکورہ ضرور اُس کے دل کو پکڑلے گا کیونکہ ممکن نہیں کہ وہ خدا کے ذاتی نشان سے باوجود سخت جستجو اور تگاپَو کے ناکام رہ کر پھر ایسے وساوس سے بچ جائے وجہ یہ کہ انسان میں یہ فطرتی اور طبعی عادت ہے کہ جس چیز کے وجود کو قیاسی قرائن سے واجب اور ضروری سمجھے اور پھر باوجودنہایت تلاش اور پَرلے درجہ کی جستجو کے خارج میں اس چیز کا کچھ پتہ نہ لگے تو اپنے قیاس کی صحت میں اس کو شک بلکہ انکار پیدا ہو جاتا ہے اور اُس قیاس کے مخالف اور منافی سینکڑوں احتمال دل میں نمودار ہو جاتے ہیں۔ بارہا ہم تم ایک مخفی امر کی نسبت قیاس دوڑایا کرتے ہیں کہ یوں ہو گا یا ووں ہو گا اور جب بات کھلتی ہے تو وہ اَور ہی ہوتی ہے۔ انہی روزمرہ کے تجارب نے انسان کو یہ سبق دیا ہے کہ مجرد قیاسوں پر طمانیت کر کے بیٹھنا کمال نادانی ہے غرض جب تک قیاسی اٹکلوں کے ساتھ خبر واقعہ نہ ملے تب تک ساری نمائش عقل کی ایک سراب ہے اس سے زیادہ نہیں جس کا آخری نتیجہ دہریہ پن ہے سو اگر دہریہ بننے کا ارادہ ہے تو تمہاری خوشی۔ ورنہ وساوس کے تند سیلاب سے کہ جو تم سے بہتر ہزار ہا عقلمندوں کو اپنی ایک ہی موج سے تحت الثریٰ کی طرف لے گیا ہے صرف اسی حالت میں تم بچ سکتے ہو کہ جب عروہ و ثقیٰ الہامِ حقیقی کو مضبوطی سے پکڑلو۔ ورنہ یہ تو ہرگز نہیں ہو گا کہ تم مجرد خیالاتِ عقلیہ میں ترقی کرتے کرتے آخر خدا کو کسی جگہ بیٹھا ہوا دیکھ لو گے بلکہ تمہارے خیالات کی ترقی کا اگر کچھ انجام ہو گا تو بالآخر یہی انجام ہو گا کہ تم خدا کو بے نشان پا کر اور زندوں کی علامات سے خالی دیکھ کر اور اُس کے سُراغ لگانے سے عاجز اور درماندہ رہ کر اپنے دہریہ بھائیوں سے ہاتھ جا ملاؤ گے۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱صفحہ ۳۴۴ تا۳۴۶ حاشیہ نمبر ۱۱)
وسوسہ ششم۔ معرفت کامل کا ذریعہ وہ چیز ہو سکتی ہے جو ہر وقت اور ہر زمانہ میں کھلے طور پر نظر آتی ہو۔ سو یہ صحیفۂ نیچر کی خاصیت ہے جو کبھی بندنہیں ہوتا اور ہمیشہ کھلا رہتا ہے اور یہی رہبر ہونے کے لائق ہے کیونکہ ایسی چیز کبھی رہنما نہیں ہو سکتی جس کا دروازہ اکثر اوقات بند رہتا ہو اور کسی خاص زمانہ میں کھلتا ہو۔
جواب۔ صحیفۂ فطرت کو بمقابلہ کلام الٰہی کھلا ہوا خیال کرنا یہی آنکھوں کے بند ہونے کی نشانی ہے جن کی بصیرت اور بصارت میں کچھ خلل نہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ اسی کتاب کو کُھلے ہوئے کہا جاتا ہے جس کی تحریر صاف نظر آتی ہو جس کے پڑھنے میں کوئی اشتباہ باقی نہ رہتا ہو پر کون ثابت کر سکتا ہے کہ مجرد صحیفۂ قدرت پر نظر کرنے سے کبھی کسی کا اشتباہ دُور ہوا؟ کس کو معلوم ہے کہ اس نیچری تحریر نے کبھی کسی کو منزلِ مقصود تک پہنچایا ہے؟ کون دعویٰ کر سکتا ہے کہ مَیں نے صحیفۂ قدرت کے تمام دلالات کو بخوبی سمجھ لیا ہے؟ اگر یہ صحیفہ کھلا ہوا ہوتا تو جو لوگ اسی پربھروسہ کرتے تھے وہ کیوں ہزار ہا غلطیوں میں ڈوبتے۔ کیوں اسی ایک صحیفہ کو پڑھ کر باہم اس قدر مختلف الرائے ہو جاتے کہ کوئی خد اکے وجود کا کسی قدر قائل اور کوئی سِرے سے انکاری ہم نے بفرض محال یہ بھی تسلیم کیا کہ جس نے اس صحیفہ کو پڑھ کر خدا کے وجود کو ضروری نہیں سمجھا وہ اس قدر عمر پا لے گا کہ کبھی نہ کبھی اپنی غلطی پر متنبّہ ہو جائے گا مگر سوال تو یہ ہے کہ اگر یہ صحیفہ کھلا ہوا تھا تو اس کو دیکھ کر ایسی بڑی بڑی غلطیاں کیوں پڑ گئیں؟ کیا آپ کے نزدیک کھلی ہوئی کتاب اِسی کو کہتے ہیں جس کو پڑھنے والے خدا کے وجود میں ہی اختلاف کریں اور بسم اللہ ہی غلط ہو۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اِسی صحیفۂ فطرت کوپڑھ کر ہزار ہا حکیم اور فلاسفر دہریے اور طبعی ہو کر مرے یا بتوں کے آگے ہاتھ جوڑتے رہے اور وہی شخص اُن میں سے راہ راست پر آیا جو الہام الٰہی پر ایمان لایا۔ کیا اِس میں کچھ جھوٹ بھی ہے کہ فقط اس صحیفہ کے پڑھنے والے بڑے بڑے فیلسوف کہلا کر پھر خدا کے مدبّر و خالق بالارادہ اور عالم بالجزئیات ہونے سے منکر رہے اور انکار ہی کی حالت میں مر گئے۔ کیا خدا نے تم کو اِس قدر بھی سمجھ نہیں دی کہ جس خط کے مضمون کو مثلاً زید کچھ سمجھے اور بکر کچھ خیال کرے اور خالد ان دونوں کے برخلاف کچھ اور تصور کر بیٹھے تو اس خط کی تحریر کھلی ہوئی اور صاف نہیں کہلاتی بلکہ مشکوک اور مشتبہ اور مبہم کہلاتی ہے۔ یہ کوئی ایسی دقیق بات نہیں جس کے سمجھنے کے لئے باریک عقل درکار ہو بلکہ نہایت بدیہی صداقت ہے مگر ان کا کیا علاج جو سراسر تحکم کی راہ سے ظلمت کو نور اور نور کو ظلمت قرار دیں اور دن کو رات اور رات کو دن ٹھہرا ویں۔ ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ مطالبِ دلی کو پورا پورا بیان کرنے کے لئے یہی سیدھا راستہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے کہ بذریعہ قولِ واضح کے اپنا مافی الضمیر ظاہر کیا جائے کیونکہ دلی ارادوں کو ظاہر کرنے کے لئے صرف قوتِ نطقیہ آلہ ہے اِسی آلہ کے ذریعہ سے ایک انسان دوسرے انسان کے مافی القلب سے مطلع ہوتا ہے۔ اور ہریک امر جو اس آلہ کے ذریعہ سے سمجھایا نہ جائے وہ تفہیم کامل کے درجہ سے متنزل رہتا ہے۔ ہزار ہا امور ایسے ہیں کہ اگر ہم اُن میں فطرتی دلالت سے مطلب نکالنا چاہیں تو یہ امر ہمارے لئے غیر ممکن ہو جاتا ہے اور اگر فکر بھی کریں تو غلطی میں پڑ جاتے ہیں۔ مثلاً ظاہر ہے کہ خدا نے آنکھ دیکھنے کے لئے بنائی ہے اور کان سُننے کے لئے پیدا کئے ہیں۔ زبان بولنے کے لئے عطا کی ہے۔ اِس قدر تو ہم نے اِن اعضاء کی فطرت پر نظر کرکے اور ان کے خواص کو سوچ کر معلوم کر لیا لیکن اگر ہم اِسی فطرتی دلالت پر کفایت کریں اور تصریحاتِ کلام الٰہی کی طرف متوجہ نہ ہوں تو بموجب دلالتِ فطرتی ہمارا یہ اصول ہونا چاہئے کہ ہم جس چیز کو چاہیں بِلا تفریق مواضع حِلّت و حرمت دیکھ لیا کریں اور جو چاہیں سُن لیں اور جو بات دل میں آوے بول اٹھیں کیونکہ قانون فطرت ہم کو اس قدر سمجھاتا ہے کہ آنکھ دیکھنے کے لئے، کان سُننے کے لئے، زبان بولنے کے لئے مخلوق ہے اور ہم کو صریح اس دھوکے میں ڈالتا ہے کہ گویا ہم قوتِ بصارت اور قوتِ سَمع اور قوتِ نُطق کے استعمال کرنے میں بکلّی آزاد اور مُطلق العِنان ہیں۔ اب دیکھنا چاہئے کہ اگر خدا کا کلام قانونِ قدرت کے اجمال کی تصریح نہ کرے اور اس کے ابہام کو اپنے بیان واضح اور کُھلی ہوئی تقریر سے دور نہ فرماوے تو کس قدر خطرات ہیں جو محض قانون فطرت کا تابعدار ہو کر اُن میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہے یہ خدا ہی کا کلام ہے جس نے اپنے کھلے ہوئے اور نہایت واضح بیان سے ہم کو ہمارے ہریک قول اور فعل اور حرکت اور سکون میں حدودِ معیّنہ مشخصہ پر قائم کیا اور ادبِ انسانیت اور پاک روشنی کا طریقہ سکھلایا وہی ہے جس نے آنکھ اور کان اور زبان وغیرہ اعضاء کی محافظت کے لئے بکمال تاکید فرمایا۔ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِہِمۡ وَیَحۡفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمۡ ؕ ذٰلِکَ اَزۡکٰی لَہُمۡ نمبر۱۸یعنی مومنوں کو چاہئے کہ وہ اپنی آنکھوں اور کانوں اور سترگاہوں کو نامحرموں سے بچاویں اور ہر یک نادیدنی اور ناشنیدنی اور ناکردنی سے پرہیز کریں کہ یہ طریقہ اُن کی اندرونی پاکی کا موجب ہو گا یعنی ان کے دل طرح طرح کے جذبات نفسانیہ سے محفوظ رہیں گے کیونکہ اکثر نفسانی جذبات کو حرکت دینے والے اور قوائے بہیمیّہ کو فتنہ میں ڈالنے والے یہی اعضاء ہیں۔ اب دیکھئے کہ قرآن شریف نے نامحرموں سے بچنے کے لئے کیسی تاکید فرمائی اور کیسے کھول کر بیان کیا کہ ایمان دار لوگ اپنی آنکھوں اور کانوں اور ستر گاہوں کو ضبط میں رکھیں اور ناپاکی کے مواضع سے روکتے رہیں۔ اسی طرح زبان کو صدق و صواب پر قائم رکھنے کے لئے تاکید فرمائی اور کہا۔ وَلۡیَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِیۡدًا نمبر ۲۲۔ یعنی وہ بات مُنہ پر لاؤ جو بالکل راست اور نہایت معقولیت میں ہو اور لغو اور فضول اور جھوٹ کا اس میں سرِمُو دخل نہ ہو۔ اور پھر جمیع اعضا کی وضع استقامت پر چلانے کے لئے ایک ایسا کلمہء جامعہ اور پُرتہدید بطور تنبیہہ و انذار فرمایا جو غافلوں کو متنبّہ کرنے کے لئے کافی ہے۔ اَور کہا اِنَّ السَّمۡعَ وَالۡبَصَرَ وَالۡفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنۡہُ مَسۡـُٔوۡلًا نمبر ۱۵۔ یعنی کان اور آنکھ اور دل اور ایسا ہی تمام اعضا اور قوتیں جو انسان میں موجود ہیں ان سب کے غیر محل استعمال کرنے سے باز پُرس ہو گی۔ اور ہر یک کمی و بیشی اور افراط اور تفریط کے بارہ میں سوال کیا جائے گا۔ اب دیکھو اعضا اور تمام قوتوں کو مجریٰ خیر اور صلاحیت پر چلانے کے لئے کس قدر تصریحات و تاکیدات خدا کے کلام میں موجود ہیں۔ اور کیسے ہریک عضو کو مرکزِ اعتدال اور خطِ استوا پر قائم رکھنے کے لئے بکمال وضاحت بیان فرمایا گیا ہے جس میں کسی نوع کا ابہام و اجمال باقی نہیں رہا۔ کیا یہ تصریح و تفصیل صحیفۂ قدرت کے کسی صفحہ کو پڑھ کر معلوم ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ سو اب تم آپ ہی سوچو کہ کھلا ہوا اور واضحہ صحیفہ یہ ہے یا وہ۔ اور فطرتی دلالتوں کے مصالحہ اور حدود کو اُس نے بیان کیا یا اِس نے۔ اے حضرات!! اگر اشارات سے کام نکلتا تو پھر انسان کو زبان کیوں دی جاتی۔ جس نے تم کو زبان دی کیا وہ آپ نُطق پر قادر نہیں جس نے تم کو بولنا سکھایا کیا وہ آپ بول نہیں سکتا جس نے اپنے فعل میں یہ قدرت دکھلائی کہ اتنا بڑا عالم بغیر مدد کسی مادہ ہیولیٰ کے اور بغیر احتیاج معماروں اور مزدوروں اور نجاروں کے بمجرد ارادہ سب کچھ بنا ڈالا کیا اُس کی نسبت یہ کہنا جائز ہے کہ وہ بات کرنے پر قادر نہیں؟ یا قادر تو ہے مگر بباعث بُخل کے اپنے کلام کے فیضان سے محروم رکھا۔ کیا یہ درست ہے؟ کہ قادرِ مطلق کی نسبت ایسا خیال کیا جائے کہ وہ اپنی طاقتوں میں حیوانات سے بھی فرو تر ہے؟ کیونکہ ایک ادنیٰ جانور بذریعہ اپنی آواز کے دوسرے جانور کو یقینی طور پر اپنے وجود کی خبر دے سکتا ہے۔ ایک مکھی بھی اپنی طنین سے دوسری مکھیوں کو اپنے آنے سے آگاہ کر سکتی ہے پر نعوذ باللہ بقول تمہارے اُس قادر مطلق میں ایک مکھّی جتنی بھی قدرت نہیں۔ پھر جب اُس کی نسبت تمہارا صاف بیان ہے کہ اُس کا مُنہ کبھی نہیں کھلا اور کبھی اس کو بولنے کی طاقت نہیں ہوئی تو تم کو تو یہ کہنا چاہئے کہ وہ ادھورا اور ناقص ہے جس کی اور صفتیں تو معلوم ہو گئیں پر صفت گویائی کا کبھی پتہ نہ ملا۔ اُس کی نسبت تم کس مُنہ سے کہہ سکتے ہو کہ اُس نے کوئی کھلا ہوا صحیفہ جس میں اُس نے بخوبی اپنا ما فی الضمیر ظاہر کر دیا ہو تم کو عطا کیا ہے بلکہ تمہاری رائے کا تو خلاصہ ہی یہی ہے کہ خدائے تعالیٰ سے رہنمائی میں کچھ نہیں ہو سکا تمہیں نے اپنی قابلیت اور لیاقت سے شناخت کر لیا۔ ماسوا اس کے الہامی تعلیم ان معنوں کر کے کھلی ہوئی ہے کہ اُس کا اثر عام طور پر تمام لوگوں کے دلوں پر پڑتا ہے اور ہر یک طور کی طبیعت اس سے مستفیض ہوتی ہے اور مختلف اقسام کی فطرتیں اس سے نفع اٹھاتی ہیں اور ہر رنگ کے طالب کو اس سے مدد پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بذریعہ کلام الٰہی بہت لوگ ہدایت یاب ہوئے ہیں اور ہوتے ہیں اور بذریعہ مجرد عقلی دلائل کے بہت ہی کم بلکہ کالعدم، اور قیاس بھی یہی چاہتا ہے کہ ایسا ہی ہو کیونکہ یہ بات نہایت ظاہر ہے کہ جو شخص بہ حیثیت مخبر صادق لوگوں کی نظر میں ثابت ہو کر واقعاتِ معاد میں اپنا تجربہ اور امتحان اور ملاحظہ اور معائنہ بیان کرتا ہے اور ساتھ ہی دلائل عقلیہ بھی سمجھاتا ہے وہ حقیقت میں ایک دوہرا زور اپنے پاس رکھتا ہے کیونکہ ایک تو اس کی نسبت یہ یقین کیا گیا ہے کہ وہ واقعہ نفس الامر کا معائنہ کرنے والا اور سچائی کو بچشم خود دیکھنے والا ہے اور دوسرے وہ بطور معقول بھی سچائی کی روشنی کو دلائل واضحہ سے ظاہر کرتا ہے۔ پس ان دونوں ثبوتوں کے اشتمال سے ایک زبردست کشش اس کے وعظ اور نصیحت میں ہو جاتی ہے کہ جو بڑے بڑے سنگین دلوں کو کھینچ لاتی ہے اور ہر نوع کے نفس پر کارگر بھی پڑتی ہے کیونکہ اس کی بات میں مختلف طور کی تفہیم کی قدرت ہوتی ہے جس کے سمجھنے کے لئے ایک خاص لیاقت کے لوگ شرط نہیں ہیں بلکہ ہر یک ادنیٰ و اعلیٰ و زیرک و غبی بجز ایسے شخص کے کہ جو بکلّی مسلوب العقل ہو اس کی تقریروں کو سمجھ سکتے ہیں اور وہ فوراً ہر یک قسم کے آدمی کی اُسی طور پر تسلّی کر سکتا ہے کہ جس طور پر اس آدمی کی طبیعت واقعہ ہے یا جس درجہ پر اس کی استعداد پڑی ہوئی ہے۔ اس لئے کلام اُس کی خدا کی طرف خیالات کو کھینچنے میں اور دنیا کی محبت چھوڑانے میں اور احوال الآخرت نقشِ دل کرنے میں بڑی وسیع قدرت رکھتی ہے۔ اور اُن تنگ اور تاریک تصوروں میں محدودنہیں ہوتی۔ جن میں مجرد عقل پرستوں کی باتیں محدود ہوتیں ہیں۔ اِسی جہت سے اس کا اثر عام اور اس کا فائدہ تام ہوتا ہے۔ اور ہر یک ظرف اپنی اپنی وسعت کے مطابق اس سے پُر ہو جاتا ہے۔ اِسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے کلامِ مقدس میں اشارہ فرمایا ہے۔ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتۡ اَوۡدِیَۃٌۢ بِقَدَرِہَا نمبر ۱۳۔ خدا نے آسمان سے پانی (اپنا کلام) اُتارا۔ سو اس پانی سے ہر یک وادی اپنی قدر کے موافق بہ نکلی۔ یعنی ہر یک کو اس میں سے اپنی طبیعت اور خیال اور لیاقت کے موافق حصّہ ملا طبائع عالیہ اسرارِ حکمیّہ سے متمتّع ہوئیں اور جو اُن سے بھی اعلیٰ تھے انہوں نے ایک عجیب روشنی پائی کہ جو حدّ تحریر و تقریر سے خارج ہے اور جو کم درجہ پر تھے انہوں نے مخبرِ صادق کی عظمت اور کمالیتِ ذاتی کو دیکھ کر دلی اعتقاد سے اس کی خبروں پر یقین کر لیا اور اس طرح پر وہ بھی یقین کی کشتی میں بیٹھ کر ساحل نجات تک جا پہنچے اور صرف وہی لوگ باہر رہ گئے جن کو خدا سے کچھ غرض نہ تھی اور فقط دنیا کے ہی کیڑے تھے اور نیز قوتِ اثر پر نظر کرنے سے بھی طریق متابعت ِ الہام کا نہایت کُھلا ہوا اور وسیع معلوم ہوتا ہے کیونکہ جاننے والے اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ تقریر میں اُسی قدر برکت اور جوش اور قوت اور عظمت اور دلکشی پیدا ہوتی ہے کہ جس قدر متکلّم کا قدم مدارجِ یقین اور اخلاص اور وفا داری کے اعلیٰ درجہ پر پہنچا ہوا ہوتا ہے۔ سو یہ کمالیت بھی اُسی شخص کی تقریر میں متحقّق ہو سکتی ہے کہ جس کو دوہرے طور پر معرفت الٰہی حاصل ہو۔ اور یہ خود ہر یک عاقل پر روشن ہے کہ پُر جوش تقریر کہ جس پر ترتیبِ اثر موقوف ہے تب ہی انسان کے مُنہ سے نکلتی ہے کہ جب دل اس کا یقین کے جوش سے پُر ہو اور وہی باتیں دلوں پر بیٹھتی ہیں جو کامل الیقین دلوں سے جوش مار کر نکلتی ہیں۔ پس اس جگہ بھی یہی ثابت ہوا کہ باعتبار شدّتِ اثر بھی الہامی تربیت ہی مُنْفَتِحُ الْاَبْوَابہے۔ غرض باعتبار عمومیّت تاثیر اور باعتبار شدّت تاثیر فقط صحیفۂ وحی کا کھلا ہوا ہونا بپایۂ ثبوت پہنچتا ہے وبس۔ اور یہ مسئلہ بدیہات سے کچھ کم نہیں ہے کہ خدا کے بندوں کو زیادہ تر نفع پہنچانے والا وہی شخص ہوتا ہے کہ جو الہام اور عقل کا جامع ہو اور اُس میں یہ لیاقت ہوتی ہے کہ ہریک طور کی طبیعت اور ہر قسم کی فطرت اُس سے مستفیض ہو سکے۔ مگر جو شخص صرف براہین منطقیہ کے زور سے راہ راست کی طرف کھچنا چاہتا ہے اگر اُس کی مغززنی پر کچھ ترتیب اثر بھی ہو تو صرف اُنہی خاص طبیعتوں پر ہو گا کہ جو بوجہ تعلیم یافتہ و لائق و فائق ہونے کے اس کی عمیق و دقیق باتوں کو سمجھتے ہیں۔ دوسرے تو ایسا دل و دماغ ہی نہیں رکھتے کہ جو اُس کی فلاسفری تقریر کو سمجھ سکیں۔ ناچار اس کے علم کا فیضان فقط اُنہیں قدر قلیل لوگوں میں محدود رہتا ہے کہ جو اس کی منطق سے واقف ہیں۔ اور اُنہیں کو اُس کا فائدہ پہنچتا ہے کہ جو اس کی طرح معقولی حجتوں میں دخل رکھتے ہیں۔ اس امر کا ثبوت اُس حالت میں بوضاحت تمام ہو سکتا ہے کہ جب مجرد عقل اور الہام حقیقی کی کارروائیوں کو پہلو بہ پہلو رکھ کر وزن کیا جاوے۔ چنانچہ جن کو گذشتہ حکماء کے حالات سے اطلاع ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ کیسے وہ لوگ اپنی تعلیم کی اشاعت عامہ سے ناکام رہے اور کیونکر اُن کے منقبض اور ناتمام بیان نے عام دلوں پر مؤثر ہونے سے اپنی محرومی دکھلائی اور پھر بمقابلہ اس حالتِ متنزلہ اُن کی کے قرآن شریف کی اعلیٰ درجہ کی تاثیروں کو بھی دیکھئے کہ کس قوت سے اُ س نے وحدانیت الٰہی کو اپنے سچّے متبعین کے دلوں میں بھرا ہے اور کس عجیب طور سے اُس کی عالی شان تعلیموں نے صدہا سالوں کی عادات راسخہ اور ملکات ردیہ کا قلع و قمع کر کے اور ایسی رسومِ قدیمہ کو کہ جو طبیعت ثانی کی طرح ہو گئیں تھیں دِلوں کے رگ و ریشہ سے اٹھا کر وحدانیت الٰہی کا شربت عذب کروڑ ہا لوگوں کو پلا دیا ہے۔ وہی ہے جس نے اپنا کار نمایاں اور نہایت عمدہ اور دیر پا نتائج دکھلا کر اپنی بے نظیر تاثیر کی دوبدو شہادت سے بڑے بڑے معاندوں سے اپنی لاثانی فضیلتوں کا اقرار کرایا۔ یہاں تک کہ سخت بے ایمانوں اور سرکشوں کے دلوں پر بھی اس کا اس قدر اثر پڑا کہ جس کو انہوں نے قرآن شریف کی عظمتِ شان کا ایک ثبوت سمجھا اور بے ایمانی پر اصرار کرتے کرتے آخر اس قدر انہیں بھی کہنا پڑا کہ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ جزو نمبر۲۳ ہاں وہی ہے جس کی زبردست کششوں نے ہزار ہا درجہ عادت سے بڑھ کر ایسا خدا کی طرف خیال دلایا کہ لاکھوں خدا کے بندوں نے خدا کی وحدانیت پر اپنے خون سے مُہریں لگا دیں۔ ایسا ہی ہمیشہ سے بانی کار اور ہادی اس کام کا الہام ہی چلا آیا ہے جس سے انسانی عقل نے نشوونما پایا۔ ورنہ بڑے بڑے حکیموں اور عقلمندوں کے لئے بھی یہ بات سخت محال رہی ہے کہ اُن کو اُمور ماوراء المحسوسات کی ہر جزئی کے دریافت کرنے میں ایسا موقعہ ہمیشہ مل جائے کہ یہ بات معلوم کر سکیں کہ کِس کِس وضع اور خصوصیّت سے وہ جزئیات موجود ہیں اور جن کو طاقت بشری تک عقل حاصل ہی نہیں یا جہد اور کوشش کرنے کے سامان میسر نہیں آئے وہ تو اُن کی نسبت بھی زیادہ لاعلم اور بے خبر ہیں۔ پس اس بارہ میں جو جو سہولتیں خدا کے سچّے اور کامل الہام نے کہ جو قرآن شریف ہے عقل کو عطا کی ہیں اور جن جن سرگردانیوں سے فکر اور نظر کو بچایا ہے وہ ایک ایسا امر ہے کہ جس کا ہر یک عاقل کو شکر کرنا لازم ہے۔ سو کیا اس اعتبار سے کہ ابتداء امر خدا شناسی کی الہام ہی کے ذریعہ سے ہوئی ہے اور کیا اس وجہ سے کہ معرفت الٰہی کا ہمیشہ از سر نو زندہ ہونا الہام ہی کے ہاتھ سے ہوتا آیا ہے۔ اور کیا اس خیال سے کہ مشکلات راہ سے رہائی پانا الہام ہی کی امداد پر منحصر ہے۔ ہر عاقل کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ راہ جو نہایت صاف اور سیدھی اور ہمیشہ سے کھلی ہوئی اور مقصود تک پہنچاتی ہوئی چلی آئی ہے وہ وحی ٔ ربّانی ہے اور یہ سمجھنا کہ وہ کھلا ہوا صحیفہ نہیں محض لاطائل اور سراسر حُمق ہے۔ علاوہ برآں ہم پہلے اِس سے برہمو سماج والوں کی خدا شناسی کے بارہ میں بہ تفصیل لکھ چکے ہیں کہ ایمان اُن کا جو صرف دلائل عقلیہ پر مبنی ہے۔ ہونا چاہئے کے مرتبہ تک محدود ہے اور مرتبہء کاملہ ہے کا انہیں نصیب نہیں۔ سو اس تحقیقات سے بھی یہی ثابت ہے کہ کھلا ہوا اور واضح راستہ معرفتِ الٰہی کا صرف بذریعہ کلام الٰہی ملتا ہے۔ اور کوئی ذریعہ اس کے وصول و حصول کا نہیں۔ ایک بچہ نوزاد کو تعلیم سے محروم رکھ کر صرف صحیفۂ فطرت پر چھوڑ دو پھر دیکھو کہ وہ اس صحیفہ کے ذریعہ سے جس کو برہمو سماج والے کھلا ہوا خیال کر رہے ہیں کون سی معرفت حاصل کر لیتا ہے اور کس درجہ خدا شناسی پر پہنچ جاتا ہے بہت سے تجارب سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اگر کوئی سماعی طور پر جس کا اصل الہام ہے خدا کے وجود سے اطلاع نہ پاوے تو پھر اُس کو کچھ پتہ نہیں لگتا کہ اس عالم کا کوئی صانع ہے یا نہیں۔ اور اگر کچھ صانع کی تلاش میں توجہ بھی کرے تو صرف بعض مخلوقات جیسے پانی، آگ، چاند سورج وغیرہ کو اپنی نظر میں خالق و قابل پرستش قرار دے لیتا ہے۔ جیسا یہ امر جنگلی آدمیوں پر نظر کرنے سے ہمیشہ بہ پایۂ تصدیق پہنچتا رہا ہے۔ پس یہ الہام ہی کا فیض ہے جس کی برکتوں سے انسان نے اُس خدائے بے مثل و مانند کو اسی طرح پر شناخت کر لیا جیسا اس کی ذاتِ کامل و بے عیب کے لائق ہے۔ اور جو لوگ الہام سے بے خبر ہو گئے اور کوئی کتاب الہامی اُن میں موجودنہ رہی اور نہ کوئی ذریعہ الہام پر اطلاع پانے کا اُن کو میسّر آیا باوجود اس کے کہ آنکھیں بھی رکھتے تھے اور دل بھی مگر کچھ بھی معرفتِ الٰہی اُن کو نصیب نہ ہوئی بلکہ رفتہ رفتہ انسانیت سے بھی باہر ہو گئے اور قریب قریب حیواناتِ لایعقل کے پہنچ گئے اور صحیفۂ فطرت نے کچھ بھی اُن کو فائدہ نہ پہنچایا۔ پس ظاہر ہے کہ اگر وہ صحیفہ کھلا ہوا ہوتا تو اس سے جنگلی لوگ فائدہ اٹھا کر معرفت اور خدا شناسی میں ان لوگوں کے برابر ہو جاتے جنہوں نے بذریعہ الہام الٰہی خدا شناسی میں ترقی کی۔ پس صحیفۂ فطرت کے بند ہونے میں اس سے زیادہ تر اور کیا ثبوت ہو گا کہ جس کسی کا کام صرف اسی صحیفہ سے پڑا اور الہام الٰہی کا اُس نے کبھی نام نہ سُنا۔ وہ خدا کی شناخت سے بالکل محروم بلکہ انسانیت کے آداب سے بھی دُور اور مہجور رہا اور اگر صحیفۂ فطرت کے کھلے ہوئے ہونے سے یہ مطلب ہے کہ وہ جسمانی طور پر نظر آتا ہے تو یہ بے سود خیال ہے جس کو بحث ہذا سے کچھ تعلق نہیں کیونکہ جس حالت میں کوئی شخص صرف اس صحیفۂ فطرت پر نظر کر کے کوئی فائدہ علمِ دین کا اٹھا نہیں سکتا اور جب تک الہام رہبری نہ کرے خدا کو پا نہیں سکتا تو پھر ہمیں اِس سے کیا کہ کوئی چیز ہر وقت نظر آ رہی ہے یا نہیں۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱صفحہ ۲۰۷ تا۲۱۶ حاشیہ نمبر۱۱)تمام تواریخ دان بخوبی جانتے ہیں کہ از منۂ سابقہ میں بھی جب کسی نے خدا کے نام اور اُس کی صفات کاملہ سے پوری پوری واقفیت حاصل کی تو الہام ہی کے ذریعہ سے کی اور عقل کے ذریعہ سے کسی زمانہ میں بھی توحیدِ الٰہی شائع نہ ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ جس جگہ الہام نہ پہنچا اس جگہ کے لوگ خدا کے نام سے بے خبر اور حیوانات کی طرح بے تمیز اور بے تہذیب رہے کون کوئی ایسی کتاب ہمارے سامنے پیش کر سکتا ہے کہ جو ازمنۂ سابقہ میں سے کسی زمانہ میں علمِ الٰہی کے بیان میں تصنیف ہوئی ہو اور حقیقی سچائیوں پر مشتمل ہو جس میں مصنّف نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ اُس نے خدا شناسی کے مستقیم راہ کو بذریعہ الہام حاصل نہیں کیا اور نہ خدائے واحد کی ہستی پر بطور سماع اِطلاع پائی ہے بلکہ خدا کا پتہ لگانے اور صفاتِ الٰہیہ کے جاننے اور معلوم کرنے میں صرف اپنی ہی عقل اور اپنے ہی فکر اور اپنی ہی ریاضت اور اپنی ہی عرقریزی سے مدد ملی ہے اور بلاتعلیم غیرے آپ ہی مسئلہ وحدانیت الٰہی کو معلوم کر لیا ہے اور خودبخود ذہن خدائے تعالیٰ کی سچی معرفت اور کامل شناسائی تک پہنچ گیا ہے۔ کون ہم کو ثابت کر کے دکھلا سکتا ہے کہ کوئی ایسا زمانہ بھی تھا کہ دنیا میں الہامِ الٰہی کا نام و نشان نہ تھا اور خدا کی مقدس کتابوں کا دروازہ بند تھا اور اس زمانے کے لوگ محض صحیفہء فطرت کے ذریعہ سے توحید اور خدا شناسی پر قائم تھے۔ کون کسی ایسے ملک کا نشان بتلا سکتا ہے جس کے باشندے الہام کے وجود سے محض بے خبر رہ کر پھر فقط عقل کے ذریعہ سے خدا تک پہنچ گئے اور صرف اپنی ہی فکر و نظر سے وحدانیّت حضرت باری پر ایمان لے آئے۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۱۹، ۲۲۰ حاشیہ نمبر۱۱)
یہ بات کہ کیوں توحیدِ خالص الہام الٰہی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی اور کیوں الہام کا منکر شرک کی آلودگی سے پاک نہیں ہوتا خود توحید کی حقیقت پر نظرکرنے سے معلوم ہو سکتی ہے۔ کیونکہ توحید اس بات کا نام ہے کہ خدا کی ذات اور صفات کو شرکت بالغیر سے منزہ سمجھیں اور جو کام اس کی قوت اور طاقت سے ہونا چاہئے وہ کام دوسرے کی طاقت سے انجام پذیر ہو جانا روا نہ رکھیں اِسی توحید کے چھوڑنے سے آتش پرست، آفتاب پرست، بُت پرست وغیرہ وغیرہ مشرک کہلاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بتوں اور دیوتاؤں سے ایسی ایسی مرادیں مانگتے ہیں جن کا عطا کرنا صرف خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جو لوگ الہام سے انکاری ہیں وہ بھی بُت پرستوں کی طرح خدا کی صفتوں سے مخلوق کا متصف ہونا اعتقاد رکھتے ہیں۔ اور اس قادر مطلق کی طاقتوں کا بندوں میں پایا جانا مانتے ہیں کیونکہ ان کا یہ خیال ہے کہ ہم نے اپنی ہی عقل کے زور سے خدا کا پتہ لگایا ہے۔ اور ہمیں انسانوں کو ابتدا میں یہ خیال آیا تھا کہ کوئی خدا مقرر کرنا چاہئے اور ہماری ہی کوششوں سے وہ گوشہ گمنامی سے باہر نکلا۔ شناخت کیا گیا۔ معبودِ خلائق ہوا۔ قابل پرستش ٹھہرا۔ ورنہ پہلے اِسے کون جانتا تھا؟ اس کے وجود کی کسے خبر تھی؟ ہم عقلمند لوگ پیدا ہوئے تب اس کے بھی نصیب جاگے۔ کیا یہ اعتقاد بُت پرستوں کے اعتقاد سے کچھ کم ہے؟ ہرگز نہیں۔ اگر کچھ فرق ہے تو صرف اتنا ہے کہ بُت پرست لوگ اَور اَور چیزوں کو اپنا منعم اور محسن قرار دیتے ہیں اور یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر اپنی ہی دود آمیز عقل کو اپنی ہادی اور محسن جانتے ہیں بلکہ اگر غور کیجئے تو بُت پرستوں سے بھی اُن کا پلّہ کچھ بھاری معلوم ہوتا ہے کیونکہ اگرچہ بُت پرست اِس بات کے تو قائل ہیں کہ خدا نے ہمارے دیوتاؤں کو بڑی بڑی طاقتیں دے رکھی ہیں اور وہ کچھ نذر نیاز لے کر اپنے پوجاریوں کو مرادیں دے دیا کرتے ہیں لیکن اب تک انہوں نے یہ رائے ظاہر نہیں کی کہ خدا کا پتہ اِنہیں دیوتاؤں نے لگایا ہے اور یہ نعمت عظمیٰ وجودِ حضرتِ باری کی اُنہیں کے زور بازو سے معلوم ہوئی ہے۔ یہ بات تو اِنہی حضرات (منکرین الہام) کو سوجھی جنہوں نے خدا کو بھی اپنی ایجادات کی فہرست میں درج کر لیا اور بکمال خردماغی بلند آواز سے بول اُٹھے کہ خدا کی طرف سے اَنَا المَوجُود ہونے کی کبھی آواز نہیں آئی یہ ہماری ہی بہادری ہے جنہوں نے خود بخود بے جتلائے بے بتلائے اسے معلوم کر لیا۔ وہ تو ایسا چپ تھا جیسے کوئی سویا ہوا یا مرا ہوا ہوتا ہے ہمیں نے فکر کرتے کرتے کھودتے کھودتے اُس کا کھوج لگایا گویا خدا کا احسان تو ان پر کیا ہونا تھا ایک طور پر اُنہیں کا خدا پر احسان ہے کہ اِس بات کی پختہ خبر ملنے کے بغیر کہ خدا بھی ہے اور اس امر کے یقینِ کامل ہونے کے بدوں کہ اس کی نافرمانی سے ایسا ایسا عذاب اور اس کی فرمانبرداری سے ایسا ایسا انعام مل رہے گا یونہی بے کہے کہائے اور سُنے سُنائے کے اس خدائی کے موہوم کی فرمانبرداری کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیا۔ گویا آپ ہی پکایا اور آپ ہی کھایا۔ لیکن خدا ایسا کمزور اور ضعیف تھا کہ اُس سے اتنا نہ ہو سکا کہ اپنے وجود کی آپ خبر دیتا اور اپنے وعدوں کے بارے میں آپ تسلّی بخشتا بلکہ وہ چھپا ہوا تھا۔ انہوں نے ظاہر کیا۔ وہ گمنام تھا انہوں نے شہرت دی وہ چپ تھا انہوں نے اس کا کام آپ کیا۔ گویا وہ تھوڑی سی مدت سے اپنی خدائی میں مشہور ہوا ہے اور وہ بھی ان کی کوششوں سے ہر یک عاقل جانتا ہے کہ یہ قول بُت پرستوں سے بھی بڑھ کر ہے۔ کیونکہ بُت پرست لوگ اپنے دیوتاؤں کو صرف اپنی نسبت محسن اور منعم قرار دیتے ہیں لیکن منکرین الہام نے تو حد کر دی کہ اُن کے زعم میں ان کی دیوی کا (کہ عقل ہے) نہ فقط لوگوں پر بلکہ خدا پر بھی احسان ہے جس کے ذریعہ سے (بقول ان کے) خدا نے شہرت پائی۔ اس صورت میں نہایت روشن ہے کہ الہام کے انکاری ہونے سے صرف اُن میں یہی فسادنہیں کہ خدا کے وجود پر مشتبہ اور مظنون طور پر ایمان لاتے ہیں اور طرح طرح کی غلطیوں میں مبتلا ہیں بلکہ یہ فساد بھی ہے کہ توحید کامل سے بھی محروم اور بے نصیب ہیں اور شرک سے آلودہ ہیں کیونکہ شرک اور کیا ہوتا ہے؟ یہی تو شرک ہے کہ خدا کے احسانات اور انعامات کو دوسرے کی طرف سے سمجھا جاوے۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱صفحہ ۱۶۵ تا۱۶۷ حاشیہ نمبر ۱۱)
آسمانی نشانوں سے حصّہ لینے والے تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں۔ اوّل وہ جو کوئی ہنر اپنے اندر نہیں رکھتے اور کوئی تعلّق خدا تعالیٰ سے اُن کا نہیں ہوتا صرف دماغی مناسبت کی وجہ سے اُن کو بعض سچی خوابیں آجاتی ہیں اور سچے کشف ظاہر ہو جاتے ہیں۔ جن میں کوئی مقبولیت اور محبوبیت کے آثار ظاہر نہیں ہوتے اور ان سے کوئی فائدہ اُن کی ذات کو نہیں ہوتا اور ہزاروں شریر اور بدچلن اور فاسق و فاجر ایسی بدبو دار خوابوں اور الہاموں میں اُن کے شریک ہوتے ہیں۔ ……… پھر دوسری قسم کے خواب بین یا ملہم وہ لوگ ہیں جن کو خدا تعالیٰ سے کسی قدر تعلّق ہے مگر کامل تعلّق نہیں۔ ان لوگوں کی خوابوں یا الہاموں کی حالت اس جسمانی نظارہ سے مشابہ ہے جبکہ ایک شخص اندھیری رات اور شَدِیْدُ الْبَرْد رات میں دُور سے ایک آگ کی روشنی دیکھتا ہے۔ اس کے دیکھنے سے اِتنا فائدہ تو اسے حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ ایسی راہ پر چلنے سے پرہیز کرتا ہے جس میں بہت سے گڑھے اور کانٹے اور پتھر اور سانپ اور درندے ہیں۔ مگر اس قدر روشنی اس کو سردی اور ہلاکت سے بچا نہیں سکتی۔ پس اگر وہ آگ کے گرم حلقہ تک پہنچ نہ سکے تو وہ بھی ایسا ہی ہلاک ہو جاتا ہے جیسا کہ اندھیرے میں چلنے والا ہلاک ہو جاتا ہے۔
پھر تیسری قسم کے ملہم اور خواب بین وہ لوگ ہیں جن کے خوابوں اور الہاموں کی حالت اُس جسمانی نظارہ سے مشابہ ہے جبکہ ایک شخص اندھیری اور شَدِیْدُ الْبَرْد رات میں نہ صرف آگ کی کامل روشنی ہی پاتا ہے اور اُس میں چلتا ہے بلکہ اُس کے گرم حلقہ میں داخل ہو کر بکلی سردی کے ضرر سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اِس مرتبہ تک وہ لوگ پہنچتے ہیں جو شہواتِ نفسانیہ کا چولہ آتش محبت الٰہی میں جلا دیتے ہیں۔ اور خدا کے لئے تلخی کی زندگی اختیار کر لیتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں جو آگے موت ہے اور دوڑ کر اس موت کو اپنے لئے پسند کر لیتے ہیں۔ وہ ہر ایک درد کو خدا کی راہ میں قبول کرتے ہیں۔ اور خدا کے لئے اپنے نفس کے دشمن ہو کر اور اُس کے برخلاف قدم رکھ کر ایسی طاقت ایمانی دکھلاتے ہیں کہ فرشتے بھی اُن کے اس ایمان سے حیرت اور تعجب میں پڑ جاتے ہیں۔ وہ روحانی پہلوان ہوتے ہیں۔ اور شیطان کے تمام حملے اُن کی روحانی قوت کے آگے ہیچ ٹھیرتے ہیں۔ …… ہم اس مرتبہ ثالثہ کی جو اعلیٰ اور اکمل مرتبہ ہے اس طرح پر تصویر کھینچتے ہیں کہ وہ وحی کامل جو اقسام ثلاثہ میں سے تیسری قسم کی وحی ہے جو کامل فرد پر نازل ہوتی ہے اُس کی یہ مثال ہے کہ جیسے سورج کی دھوپ اور شعاع ایک مصفٰی آئینہ پر پڑتی ہے جو عین اس کے مقابل پر پڑا ہے ……… تب وہی شعاع ایک سے دہ چند ہو کر ظاہر ہوتی ہے جسے آنکھ بھی برداشت نہیں کر سکتی۔
پس اسی طرح جب نفس تزکیہ یافتہ پر جو تمام کدورتوں سے پاک ہو جاتا ہے وحی نازل ہوتی ہے تو اس کا نور فوق العادت نمایاں ہوتا ہے اور اس نفس پر صفاتِ الٰہیہ کا انعکاس پورے طور پر ہو جاتا ہے اور پورے طور پر چہرۂ حضرتِ احدیت ظاہر ہوتا ہے ……
غرض وحی الٰہی کے انوار اَکمل اور اَتمّ طور پر وہی نفس قبول کرتا ہے جو اکمل اور اتم طور پر تزکیہ حاصل کر لیتا ہے اور صرف الہام اور خواب کا پانا کسی خوبی اور کمال پر دلالت نہیں کرتا جب تک کسی نفس کو بوجہ تزکیہ تام کے یہ انعکاسی حالت نصیب نہ ہو اور محبوبِ حقیقی کا چہرہ اس کے نفس میں نمودار نہ ہو جائے۔
(حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۲ تا۲۶)تین قسمیں خوابوں کی ہوتی ہیں ایک نفسانی اور ایک شیطانی اور ایک رحمانی۔ نفسانی جیسے بلّی کو چھچھڑوں کے خواب، شیطانی وہ جس میں ڈرانا اور وحشت ہو۔ رحمانی خواب خدا کی طرف سے پیغام ہوتے ہیں۔ اور اُن کا ثبوت صرف تجربہ ہے اور یہ خدا کی باتیں ہیں جوکہ اس دنیا سے بہت دُور تر ہیں۔ اگر ہم ان کے متعلق عقلی دلائل پر توجہ کریں تو نہ دوسرا اون سے سمجھ سکتا ہے نہ ہم سمجھا سکتے ہیں۔ یہ خدا کی ہستی کے نشان ہیں جو وہ غیب سے دل پر ڈالتا ہے اور جب دیکھ لیتے ہیں کہ ایک بات بتلائی گئی اور وہ پوری ہوئی تو پھر اس پر خود ہی اعتبار ہو جاتا ہے۔ اِس عالم کے امور کا جو آلہ ہے وہ اسے شناخت نہیں کر سکتا یہ روحانی امور ہیں اِنہی سے ان کو پہچانا جاوے تو سمجھ آتی ہے اور خواب اپنی صداقت پر آپ ہی گواہی دیتے ہیں۔ (البدر مورخہ ۲۳ تا ۳۰ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳ کالم نمبر ۳۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ ۶۵۴ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
کشف اور خواب بھی ہر ایک کے یکساں نہیں ہوتے۔ وہ کامل کشف جس کو قرآن شریف میں اظہار علی الغیب سے تعبیر کیا گیا ہے جو دائرہ کی طرح پورے علم پر مشتمل ہوتا ہے وہ ہر ایک کو عطا نہیں کیا جاتا صرف برگزیدوں کو دیا جاتا ہے۔ اور ناقصوں کا کشف اور الہام ناقص ہوتا ہے جو بالآخر ان کو بہت شرمندہ کرتا ہے۔ اظہار علی الغیب کی حقیقت یہ ہے کہ جیسے کوئی اونچے مکان پر چڑھ کر اردگرد کی چیزوں کو دیکھتا ہے تو بلاشبہ آسانی سے ہر ایک چیز اس کو نظر آ سکتی ہے لیکن جو شخص نشیب کے مکان سے ایسی چیزوں کو دیکھنا چاہتا ہے تو بہت سی چیزیں دیکھنے سے رہ جاتی ہیں۔ اور برگزیدوں سے خدا کی یہ عادت ہے کہ اُن کی نظر کو اونچے مکان تک لے جاتا ہے تب وہ آسانی سے ہر ایک چیز کو دیکھ سکتے ہیں اور انجام کی خبر دیتے ہیں۔ اور نشیب کا آدمی انجام کی خبر نہیں دے سکتا۔ اس لئے بلعم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پہچاننے میں دھوکہ کھایا اور اس کو اُن کا وہ عالی مرتبہ برگزیدگی کا معلوم نہ ہو سکا جس سے ڈر کر وہ ادب اختیار کرتا۔ (حقیقۃ المہدی۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۴۴۲، ۴۴۳)
یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ وحی دو۲ قسم کی ہے وحی الابتلاء اور وحی الاصطفاء، وحی الابتلاء بعض اوقات موجب ہلاکت ہو جاتی ہے جیسا کہ بلعم اسی وجہ سے ہلاک ہوا مگر صاحبِ وحی الاصطفاء کبھی ہلاک نہیں ہوتا اور وحی الابتلاء بھی ہر ایک کو حاصل نہیں ہوتی بلکہ بعض انسانی طبیعتیں ایسی بھی ہیں کہ جیسے جسمانی طور پر بہت سے لوگ گونگے اور بہرے اور اندھے پیدا ہوتے ہیں ایسا ہی بعض کی روحانی قوتیں کالعدم ہوتی ہیں اور جیسے اندھے دوسروں کی رہنمائی سے اپنا گذارہ کر سکتے ہیں ایسا ہی یہ لوگ بھی کرتے ہیں۔ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۱)
بَرَکَۃٍ مِّنْ مُّحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَکَ مَنْ عَلَّمَ وَ تَعَلَّم‘‘
(الہامِ الٰہی)
سیّدنا و سیّد المطہرین شفیع المذنبین خاتم النّبیین سرورِ کائنات فخر موجودات
’’بعد از خدا بعشقِ محمّدؐ مخمّرم
گر کفر ایں بَوَدْ بخدا سخت کافرم‘‘
وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو وہ ملایک میں نہیں تھا، نجوم میں نہیں تھا، قمر میں نہیں تھا آفتاب میں بھی نہیں تھا، وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا، وہ لعل اور یاقوت اور زمرّد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔ غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سیّد و مولیٰ سید الانبیاء سیّد الاحیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ سو وہ نور اس انسان کو دیا گیا اور حسب مراتب اُس کے تمام ہمرنگوں کو بھی یعنی ان لوگوں کو بھی جو کسی قدر وہی رنگ رکھتے ہیں … اور یہ شان اعلیٰ اور اکمل اور اتم طور پر ہمارے سیّد ہمارے مولیٰ ہمارے ہادی نبی اُمّی صادق مصدوق محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی۔ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵صفحہ ۱۶۰تا ۱۶۲)
میں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے (ہزار ہزار درود اور سلام اس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ تو حید جو دنیا سے گُم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اوس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی۔ اس لئے خدا نے جو اُس کے دل کے راز کا واقف تھا اُس کو تمام انبیاء اور تمام اوّلین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مُرادیں اس کی زندگی میں اُس کو دیں۔ وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریّت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اُس کو عطا کیا گیا ہے جو اُس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہے۔ ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ ہم کافر نعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اس نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اس کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسّر آیا ہے۔ اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں۔ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۱۸، ۱۱۹)
اے تمام وہ لوگو جو زمین پر رہتے ہو! اور اے تمام وہ انسانی روحو جو مشرق اور مغرب میں آباد ہو! مَیں پورے زور کے ساتھ آپ کو اس طرف دعوت کرتا ہوں کہ اب زمین پر سچا مذہب صرف اسلام ہے اور سچا خدا بھی وہی خدا ہے جو قرآن نے بیان کیا ہے اور ہمیشہ کی روحانی زندگی والا نبی اور جلال اور تقدس کے تخت پر بیٹھنے والا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ جس کی روحانی زندگی اور پاک جلال کا ہمیں یہ ثبوت ملا ہے کہ اُس کی پیروی اور محبت سے ہم رُوح القدس اور خدا کے مکالمہ اور آسمانی نشانوں کے انعام پاتے ہیں۔ (تریاق القلوب۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۱۴۱)
وہ انسان جس نے اپنی ذات سے اپنی صفات سے اپنے افعال سے اپنے اعمال سے اور اپنے روحانی اور پاک قویٰ کے پُر زور دریا سے کمال تام کا نمونہ علماً و عملاً و صدقاً و ثباتًا دکھلایا اور انسان کامل کہلایا …… وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسانِ کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مرا ہوا اُس کے آنے سے زندہ ہو گیا۔ وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء امام الاصفیاء ختم المرسلین فخر النّبیّین جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے پیار ے خدا! اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے تُونے کسی پر نہ بھیجا ہو۔ اگر یہ عظیم الشان نبی دنیا میں نہ آتا تو پھر جس قدر چھوٹے چھوٹے نبی دنیا میں آئے جیسا کہ یونس اور ایوب اور مسیح بن مریم اور ملاکی اور یحیٰ اور زکریا وغیرہ وغیرہ ان کی سچائی پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تھی۔ اگرچہ سب مقرب اور وجیہہ اور خداتعالیٰ کے پیارے تھے۔ یہ اسی نبی کا احسان ہے کہ یہ لوگ بھی دنیا میں سچے سمجھے گئے۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَ بَارِکْ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَاٰخِرُ دَعْوَا نَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن۔ (اتمام الحجّۃ۔ روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۳۰۸)
ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سِلسلۂ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جوانمردنبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں یعنی وہی نبیوں کا سردار، رسولوں کا فخر، تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفیٰ و احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کے زیر سایہ دس۱۰ دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزار برس تک نہیں مل سکتی تھی …… سو آخری وصیت یہی ہے کہ ہر ایک روشنی ہم نے رسول نبی اُمی کی پیروی سے پائی ہے اور جو شخص پیروی کرے گا۔ وہ بھی پائے گا اور ایسی قبولیت اس کو ملے گی کہ کوئی بات اُس کے آگے اَنْہونی نہیں رہے گی۔ زندہ خدا جو لوگوں سے پوشیدہ ہے اُس کا خدا ہو گا اور جھوٹے خدا سب اس کے پیروں کے نیچے کچلے اور روندے جائیں گے۔ وہ ہر ایک جگہ مبارک ہو گا اور الٰہی قوتیں اُس کے ساتھ ہوں گی۔ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۔ (سراج منیر۔ روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۸۲، ۸۳)
اب آسمان کے نیچے فقط ایک ہی نبی اور ایک ہی کتاب ہے یعنی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جو اعلیٰ و افضل سب نبیوں سے اور اتم و اکمل سب رسولوں سے اور خاتم الانبیاء اور خیر الناس ہیں جن کی پیروی سے خدائے تعالیٰ ملتا ہے اور ظلماتی پردے اُٹھتے ہیں اور اسی جہان میں سچی نجات کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔ اور قرآن شریف جو سچی اور کامل ہدایتوں اور تاثیروں پر مشتمل ہے جس کے ذریعہ سے حقّانی علوم اور معارف حاصل ہوتے ہیں اور بشری آلودگیوں سے دل پاک ہوتا ہے اور انسان جہل اور غفلت اور شبہات کے حجابوں سے نجات پاکر حق الیقین کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۵۷، ۵۵۸ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳)
دنیا میں کروڑ ہا ایسے پاک فطرت گذرے ہیں اور آگے بھی ہوں گے۔ لیکن ہم نے سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ اور سب سے خوب تر اس مرد خدا کو پایا ہے جس کا نام ہے محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم۔ اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا ان قوموں کے بزرگوں کا ذکر تو جانے دو جن کا حال قرآن شریف میں تفصیل سے بیان نہیں کیا گیا صرف ہم اُن نبیوں کی نسبت اپنی رائے ظاہر کرتے ہیں جن کا ذکر قرآن شریف میں ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ حضرت داؤد حضرت عیسیٰ علیھم السلام اور دوسرے انبیاء سو ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں نہ آتے اور قرآن شریف نازل نہ ہوتا اور وہ برکات ہم بچشم خودنہ دیکھتے جو ہم نے دیکھ لئے تو ان تمام گذشتہ انبیاء کا صدق ہم پر مشتبہ رہ جاتا کیونکہ صرف قصّوں سے کوئی حقیقت حاصل نہیں ہو سکتی اور ممکن ہے کہ وہ قصّے صحیح نہ ہوں اور ممکن ہے کہ وہ تمام معجزات جو اُن کی طرف منسوب کئے گئے ہیں وہ سب مبالغات ہوں کیونکہ اب ان کا نام و نشان نہیں بلکہ ان گذشتہ کتابوں سے تو خدا کا پتہ بھی نہیں لگتا اور یقینا نہیں سمجھ سکتے کہ خدا بھی انسان سے ہم کلام ہوتا ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے یہ سب قصّے حقیقت کے رنگ میں آگئے۔ اب ہم نہ قال کے طور پر بلکہ حال کے طور پر اس بات کو خوب سمجھتے ہیں کہ مکالمہ الٰہیہ کیا چیز ہوتا ہے۔ اور خدا کے نشان کس طرح ظاہر ہوتے ہیں اور کس طرح دعائیں قبول ہو جاتی ہیں اور یہ سب کچھ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے پایا اور جو کچھ قصوں کے طور پر غیر قومیں بیان کرتی ہیں۔ وہ سب کچھ ہم نے دیکھ لیا۔ پس ہم نے ایک ایسے نبی کا دامن پکڑا ہے جو خدا نما ہے۔ کسی نے یہ شعر بہت ہی اچھا کہا ہے۔ ؎
محمّدؐ
عربی بادشاہ ہر دو سرا
کرے ہے رُوح قدس جس کے دَر کی دربانی
اسے خدا تو نہیں کہہ سکوں پہ کہتا ہوں
کہ اس کی مرتبہ دانی میں ہے خدا دانی
قُلۡ رَّبِّ زِدۡنِیۡ عِلۡمًا۔ یعنی اے میرے رب تو مجھے اپنی عظمت اور معرفت شیون اور صفات کا علم کامل بخش۔ اور پھر دوسری جگہ فرمایا۔ وَبِذٰلِکَ اُمِرۡتُ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ان دونوں آیتوں کے ملانے سے معلوم ہوا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو اَوَّلُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ۔ ٹھہرے تو اس کا یہی باعث ہوا کہ اَوروں کی نسبت علوم معرفت الٰہی میں اعلم ہیں یعنی علم اُن کا معارفِ الٰہیہ کے بارے میں سب سے بڑھ کر ہے۔ اس لئے ان کا اسلام بھی سب سے اعلیٰ ہے اور اوّل المسلمین ہیں۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس زیادت علم کی طرف اس دوسری آیت میں بھی اشارہ ہے جیسا کہ اللہ جَلَّ شَانُہٗ فرماتا ہے۔ وَعَلَّمَکَ مَا لَمۡ تَکُنۡ تَعۡلَمُ ؕ وَکَانَ فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکَ عَظِیۡمًا الجزو نمبر ۵۔ یعنی خدا تعالیٰ نے تجھ کو وہ علوم عطا کئے جو تو خود بخودنہیں جا ن سکتا تھا اور فضل الٰہی سے فیضان الٰہی سب سے زیادہ تیرے پر ہوا۔ یعنی تو معارفِ الٰہیہ اور اسرار اور علوم ربّانی میں سب سے بڑھ گیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی معرفت کے عطر کے ساتھ سب سے زیادہ تجھے معطّر کیا غرض علم اور معرفت کو خدا تعالیٰ نے حقیقت اسلامیہ کے حصول کا ذریعہ ٹھہرایا ہے۔ اور اگرچہ حصول حقیقت اسلام کے وسائل اَور بھی ہیں جیسے صوم و صلوٰۃ اور دُعا اور تمام احکامِ الٰہی جو چھ سو سے بھی کچھ زیاد ہ ہیں لیکن علم عظمت و وحدانیت ذات اور معرفت شیون وصفات جلالی و جمالی حضرت باری عزّ اسمہٗ وسیلۃ الوسائل اور سب کا موقوف علیہ ہے کیونکہ جو شخص غافل دل اور معرفت الٰہی سے بکلی بے نصیب ہے وہ کب توفیق پا سکتا ہے کہ صوم اور صلوٰۃ بجا لاوے یا دعا کرے یا اور خیرات کی طرف مشغول ہو۔ ان سب اعمال صالحہ کا محرک تو معرفت ہی ہے اور یہ تمام دوسرے وسائل دراصل اسی کے پیدا کردہ اور اسی کے بنین و بنات ہیں۔ اور ابتدا اس معرفت کی پرتوہ اسم رحمانیت سے ہے نہ کسی عمل سے نہ کسی دعا سے بلکہ بِلاعِلّت فیضان سے صرف ایک موہبت ہے یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ وَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآئُ۔ مگر پھر یہ معرفت اعمال صالحہ اور حسن ایمان کے شمول سے زیادہ ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ آخر الہام اور کلام الٰہی کے رنگ میں نزول پکڑ کر تمام صحنِ سینہ کو اس ُنور سے منوّر کر دیتی ہے جس کا نام اسلام ہے۔ اور اس معرفتِ تامّہ کے درجہ پر پہنچ کر اسلام صرف لفظی اسلام نہیں رہتا بلکہ وہ تمام حقیقت اس کی جو ہم بیان کر چکے ہیں حاصل ہو جاتی ہے اور انسانی رُوح نہایت انکسار سے حضرتِ احدیّت میں اپنا سر رکھ دیتی ہے۔ تب دونوں طرف سے یہ آواز آتی ہے کہ جو میرا سو تیرا ہے۔ یعنی بندہ کی رُوح بھی بولتی ہے اور اقرار کرتی ہے کہ یا الہٰی! جو میرا ہے سو تیرا ہے۔ اور خدا تعالیٰ بھی بولتا ہے اور بشارت دیتا ہے کہ اے میرے بندے! جو کچھ زمین و آسمان وغیرہ میرے ساتھ ہے وہ سب تیرے ساتھ ہے۔ اسی مرتبہ کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے قُلۡ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا الجزو ۲۴ سورۃ الزمر۔ یعنی کہہ اے میرے غلامو! جنہوں نے اپنے نفسوں پر زیادتی کی ہے کہ تم رحمت الٰہی سے ناامید مت ہو۔ خدا تعالیٰ سارے گناہ بخش دے گا۔ اب اس آیت میں بجائے قُلْ لِعِبَادِ اللہ کے جس کے یہ معنے ہیں کہ کہہ اے خدا تعالیٰ کے بندو۔ یہ فرمایا کہ قُلۡ یٰعِبَادِیَ یعنی کہہ کہ اے میرے غلامو! اس طرز کے اختیار کرنے میں بھید یہی ہے کہ یہ آیت اس لئے نازل ہوئی ہے کہ تا خدا تعالیٰ بے انتہا رحمتوں کی بشارت دیوے اور جو لوگ کثرت گناہوں سے دل شکستہ ہیں ان کو تسکین بخشے۔ سو اللہ جَلَّ شَانُہٗ نے اس آیت میں چاہا کہ اپنی رحمتوں کا ایک نمونہ پیش کرے اور بندہ کو دکھلاوے کہ مَیں کہاں تک اپنے وفادار بندوں کو انعامات خاصہ سے مشرف کرتا ہوں۔ سو اُس نے قُلْ یَا عِبَادِی اللّٰہ کے لفظ سے یہ ظاہر کیا کہ دیکھو یہ میرا پیارا رسول، دیکھو یہ برگزیدہ بندہ کہ کمال طاعت سے کس درجہ تک پہنچا کہ اب جو کچھ میرا ہے وہ اس کا ہے۔ جو شخص نجات چاہتا ہے وہ اس کا غلام ہو جائے یعنی ایسا اس کی طاعت میں محو ہو جاوے کہ گویا اس کا غلام ہے۔ تب وہ گو کیسا ہی پہلے گنہگار تھا بخشا جائے گا۔ جاننا چاہئے کہ عَبْد کا لفظ لغتِ عرب میں غلام کے معنوں پر بھی بولا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ جَلَّ شَانُہٗ فرماتا ہے وَلَعَبۡدٌ مُّؤۡمِنٌ خَیۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِکٍ اور اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو شخص اپنی نجات چاہتا ہے وہ اِس نبیؐ سے غلامی کی نسبت پیدا کرے۔ یعنی اس کے حکم سے باہر نہ جائے اور اس کے دامنِ طاعت سے اپنے تئیں وابستہ جانے جیسا کہ غلام جانتاہے تب وہ نجات پائے گا۔ اس مقام میں اِن کور باطن نام کے موحّدوں پر افسوس آتا ہے کہ جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یاں تک بغض رکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک یہ نام کہ غلام نبی، غلام رسول، غلام مصطفیٰ، غلام احمد، غلام محمد شرک میں داخل ہیں اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ مدار نجات یہی نام ہیں اور چونکہ عبد کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ ہر ایک آزادگی اور خود روی سے باہر آ جائے اور پورا متبع اپنے مولیٰ کا ہو۔ اس لئے حق کے طالبوں کو یہ رغبت دی گئی کہ اگر نجات چاہتے ہیں تو یہ مفہوم اپنے اندر پیدا کریں اور درحقیقت یہ آیت اور یہ دوسری آیت قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَیَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ از رو مفہوم کے ایک ہی ہیں کیونکہ کمال اتباع اس محویّت اور اطاعت تامہ کو مستلزم ہے جو عبد کے مفہوم میں پائی جاتی ہے۔ یہی سر ہے کہ جیسے پہلی آیت میں مغفرت کا وعدہ بلکہ محبوبِ الٰہی بننے کی خوشخبری ہے۔ گویا یہ آیت کہ قُلْ یَا عِبَادِیْ دوسرے لفظوں میں اس طرح پر ہے کہ قُلْ یَا مُتَّبِعِیْ یعنی اے میری پیروی کرنے والو! جو بکثرت گناہوں میں مبتلا ہو رہے ہو رحمت الٰہی سے نومید مت ہو کہ اللہ جَلَّ شَانُہٗ ببرکت میری پیروی کے تمام گناہ بخش دے گا اور اگر عِبَادسے صرف اللہ تعالیٰ کے بندے ہی مراد لئے جائیں تو معنے خراب ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ ہرگز درست نہیں کہ خدا تعالیٰ بغیر تحقق شرطِ ایمان اور بغیر تحقق شرط پیروی تمام مشرکوں اور کافروں کو یونہی بخش دیوے۔ ایسے معنے تو نصوص بیّنہ قرآن سے صریح مخالف ہیں۔
اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ ماحصل اس آیت کا یہ ہے کہ جو لوگ دل و جان سے تیرے یا رسول اللہ غلام بن جائیں گے اُن کو وہ نور ایمان اور محبت اور عشق بخشا جائے گا کہ جو اُن کو غیر اللہ سے رہائی دے دے گا اور وہ گناہوں سے نجات پا جائیں گے اور اسی دنیا میں ایک پاک زندگی اُن کو عطا کی جائے گی اور نفسانی جذبات کی تنگ و تاریک قبروں سے وہ نکالے جائیں گے اِسی کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے۔ اَنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْ یُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی قَدَمِی ۔ یعنی مَیں وہ مُردوں کو اٹھانے والا ہوں جس کے قدموں پر لوگ اٹھائے جاتے ہیں۔ واضح ہو کہ قرآن کریم اس محاورہ سے بھرا پڑا ہے کہ دنیا مر چکی تھی اور خدا تعالیٰ نے اپنے اس نبی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج کر نئے سرے دنیا کو زندہ کیا۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یُحۡیِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا یعنی اس بات کو سُن رکھو کہ زمین کو اس کے مرنے کے بعد خدا تعالیٰ زندہ کرتا ہے۔ پھر اسی کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حق میں فرماتا ہے وَاَیَّدَہُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡہُ یعنی ان کو رُوح القدس کے ساتھ مدد دی۔ اور رُوح القدس کی مدد یہ ہے کہ دلوں کو زندہ کرتا ہے اور روحانی موت سے نجات بخشتا ہے اور پاکیزہ قوتیں اور پاکیزہ حواس اور پاک علم عطا فرماتا ہے اور علومِ یقینیہ اور براہین قطعیہ سے خدا تعالیٰ کے مقام قرب تک پہنچا دیتا ہے …… اور یہ علوم جو مدارِ نجات ہیں یقینی اور قطعی طور پر بجز اس حیات کے حاصل نہیں ہو سکتے جو بتوسط رُوح القدس انسان کو ملتی ہے اور قرآن کریم کا بڑے زور شور سے یہ دعویٰ ہے کہ وہ حیاتِ روحانی صرف متابعت اِس رسولِ کریم سے ملتی ہے اور تمام وہ لوگ جو اس نبی کریم کی متابعت سے سرکش ہیں وہ مُردے ہیں جن میں اس حیات کی رُوح نہیں ہے اور حیات روحانی سے مراد انسان کے وہ علمی اور عملی قویٰ ہیں جو روح القدس کی تائید سے زندہ ہو جاتے ہیں اور قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ جن احکام پر اللہ جَلَّ شَانُہٗ انسان کو قائم کرنا چاہتا ہے۔ وہ چھ ۶۰۰ سو ہیں۔ ایسا ہی اس کے مقابل پر جبرائیل علیہ السلام کے پر بھی چھ سو ہیں اور بیضۂ بشریت جب تک چھ ۶۰۰ سو حکم کو سر پر رکھ کر جبرائیل کے پروں کے نیچے نہ آوے اُس میں فنا فی اللہ ہونے کا بچہ نہیں ہوتا اور انسانی حقیقت اپنے اندر چھ سو بیضہ کی استعداد رکھتی ہے۔ پس جس شخص کا چھ سو بیضہ استعداد جبرائیل کے چھ سو پَر کے نیچے آگیا وہ انسان کامل اور یہ تولّد اس کا تولّد کامل اور یہ حیات حیاتِ کامل ہے اور غور کی نظر سے معلوم ہوتا ہے کہ بیضۂ بشریت کے روحانی بچے جو روح القدس کی معرفت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کی برکت سے پیدا ہوئے وہ اپنی کمیت اور کیفیت اور صورت اور نوع اور حالت میں تمام انبیاء کے بچوں سے اتم اور اکمل ہیں۔ اِسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جَلَّ شَانُہٗ فرماتا ہے کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ یعنی تم سب اُمتوں سے بہتر ہو جو لوگوں کی اصلاح کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔
(آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۱۸۶ تا ۱۹۷)دنیا میں ایک رسولؐ آیا تاکہ ان بہروں کو کان بخشے کہ جو نہ صرف آج سے بلکہ صد ہا سال سے بہرے ہیں۔ کون اندھا ہے اور کون بہرا وہی جس نے توحید کو قبول نہیں کیا اور نہ اس رسول کو جس نے نئے سرے سے زمین پر توحید کو قائم کیا۔ وہی رسول جس نے وحشیوں کو انسان بنایا۔ اور انسان سے بااخلاق انسان یعنی سچّے اور واقعی اخلاق کے مرکز اعتدال پر قائم کیا۔ اور پھر بااخلاق انسان سے باخدا ہونے کے الٰہی رنگ سے رنگین کیا۔ وہی رسولؐ ہاں وہی آفتاب صداقت جس کے قدموں پر ہزاروں مردے شرک اور دہریت اور فسق اور فجور کے جی اُٹھے۔ اور عملی طور پر قیامت کا نمونہ دکھلایا۔ نہ یسوع کی طرح صرف لاف و گزاف۔ جس نے مکّہ میں ظہور فرما کر شرک اور انسان پرستی کی بہت سی تاریکی کو مٹایا۔ ہاں دنیا کا حقیقی نور وہی تھا جس نے دنیا کو تاریکی میں پا کر فی الواقع وہ روشنی عطا کی کہ اندھیری رات کو دن بنا دیا۔ اُس کے پہلے دنیا کیا تھی اور پھر اس کے آنے کے بعد کیا ہوئی یہ ایک سوال نہیں ہے جس کے جواب میں کچھ دقّت ہو۔ اگر ہم بے ایمانی کی راہ اختیار نہ کریں تو ہمارا کانشنس ضرور اس بات کے منوانے کے لئے ہمارا دامن پکڑے گا کہ اُس جنابؐ عالی سے پہلے خدا کی عظمت کو ہر ایک ملک کے لوگ بھول گئے تھے۔ اور اُس سچے معبود کی عظمت اوتاروں اور پتھروں اور ستاروں اور درختوں اور حیوانوں اور فانی انسانوں کو دی گئی تھی اور ذلیل مخلوق کو اُس ذوالجلال و قدّوس کی جگہ پر بٹھایا تھا۔ اور یہ ایک سچا فیصلہ ہے کہ اگر یہ انسان اور حیوان اور درخت اور ستارے درحقیقت خدا ہی تھے جن میں سے ایک یسوع بھی تھا تو پھر اس رسول کی کچھ ضرورت نہ تھی لیکن اگر یہ چیزیں خدا نہیں تھیں تو وہ دعویٰ ایک عظیم الشان روشنی اپنے ساتھ رکھتا ہے جو حضرت سیّدنا محمّد صلی اللہ علیہ وسلم نے مکّہ کے پہاڑ پر کیا تھا۔ وہ کیادعویٰ تھا؟ وہ یہی تھا کہ آپ نے فرمایا۔ کہ خدا نے دنیا کو شرک کی سخت تاریکی میں پا کر اس تاریکی کو مٹانے کے لئے مجھے بھیج دیا۔ یہ صرف دعویٰ نہ تھا بلکہ اُس رسول مقبول نے اس دعویٰ کو پورا کر کے دکھلا دیا۔ اگر کسی نبی کی فضیلت اُس کے ان کاموں سے ثابت ہو سکتی ہے جن سے بنی نوع کی سچی ہمدردی سب نبیوں سے بڑھ کر ظاہر ہو تو اے سب لوگو! اُٹھو اور گواہی دو کہ اِس صفت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں ……… اندھے مخلوق پرستوں نے اس بزرگ رسولؐ کو شناخت نہیں کیا جس نے ہزاروں نمونے سچی ہمدردی کے دکھلائے۔ لیکن اب مَیں دیکھتا ہوں کہ وہ وقت پہنچ گیا ہے کہ یہ پاک رسولؐ شناخت کیا جائے۔ چاہو تو میری بات کو لکھ رکھو کہ اب کے بعد مُردہ پرستی روز بروز کم ہو گی یہاں تک کہ نابود ہو جائے گی۔ کیا انسان خدا کا مقابلہ کرے گا؟ کیا ناچیز قطرہ خدا کے ارادوں کو ردّ کر دے گا کیا فانی آدم زاد کے منصوبے الٰہی حکموں کو ذلیل کر دیں گے؟ اے سننے والو! سنو! اور اے سوچنے والو! سوچو اور یاد رکھو کہ حق ظاہر ہو گا۔ اور وہ جو سچا ُنور ہے چمکے گا۔ (تبلیغ رسالت جلد ششم صفحہ ۹تا ۱۱۔ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۸، ۹ بار دوم)
میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچے دل سے پیروی کرنا اور آپ سے محبت رکھنا انجام کار انسان کو خدا کا پیارا بنا دیتا ہے۔ اس طرح پر کہ خود اُس کے دل میں محبتِ الٰہی کی ایک سوزش پیدا کر دیتا ہے۔ تب ایسا شخص ہر ایک چیز سے دل برداشتہ ہو کر خدا کی طرف جھک جاتا ہے اور اس کا اُنس و شوق صرف خدا تعالیٰ سے باقی رہ جاتا ہے۔ تب محبت الٰہی کی ایک خاص تجلّی اس پر پڑتی ہے اور اس کو ایک پورا رنگ عشق اور محبت کا دے کر قوی جذبہ کے ساتھ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ تب جذبات نفسانیہ پر وہ غالب آجاتا ہے۔ اور اس کی تائید اور نصرت میں ہر ایک پہلو سے خدا تعالیٰ کے خارق عادت افعال نشانوں کے رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں۔ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲صفحہ ۶۷، ۶۸)
درود شریف کے طفیل …… مَیں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فیوض عجیب نوری شکل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاتے ہیں اور پھر وہاں جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں جذب ہو جاتے ہیں اور وہاں سے نکل کر ان کی لا انتہا نالیاں ہوتی ہیں اور بقدر حصہ رسدی ہر حقدار کو پہنچتی ہیں۔ یقینا کوئی فیض بدوں وساطت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں تک پہونچ ہی نہیں سکتا…… درود شریف کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُس عرش کو حرکت دینا ہے جس سے یہ نور کی نالیاں نکلتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کا فیض اور فضل حاصل کرنا چاہتا ہے اُس کو لازم ہے کہ وہ کثرت سے درود شریف پڑھے تاکہ اس فیض میں حرکت پیدا ہو۔ (الحکم مورخہ ۲۸؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷ کالم نمبر ۱، ۲)
ایک رات اِس عاجز نے اِس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل وجان اس سے معطّر ہو گیا۔ اُسی رات خواب میں دیکھا کہ آب زلال کی شکل پر نور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں۔ اور ایک نے اُن میں سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تونے محمد کی طرف بھیجی تھی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۹۸ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳)
یہ وسوسہ دل میں نہیں لانا چاہئے کہ کیونکر ایک ادنیٰ اُمتی آں رسول مقبولؐ کے اسماء یا صفات یا محامد میں شریک ہو سکے۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ حقیقی طور پر کوئی نبی بھی آنحضرت کے کمالات قدسیہ سے شریکِ مساوی نہیں ہو سکتا بلکہ تمام ملائکہ کو بھی اس جگہ برابری کا دم مارنے کی جگہ نہیں چہ جائیکہ کسی اور کو آنحضرت کے کمالات سے کچھ نسبت ہو۔ مگر اے طالب حق! اَرْشَدَکَ اللّٰہ تم متوجہ ہو کر اس بات کو سنو کہ خداوند کریم نے اس غرض سے کہ تا ہمیشہ اس رسول مقبولؐ کی برکتیں ظاہر ہوں اور تا ہمیشہ اس کے نور اور اس کی قبولیت کی کامل شعاعیں مخالفین کو ملزم اور لاجواب کرتی رہیں۔ اِس طرح پر اپنی کمال حکمت اور رحمت سے انتظام کر رکھا ہے کہ بعض افرادِ اُمتِ محمدؐ یہ کہ جو کمال عاجزی اور تذلل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت اختیار کرتے ہیں اور خاکساری کے آستانہ پر پڑ کر بالکل اپنے نفس سے گئے گذرے ہوتے ہیں خدا ان کو فانی اور ایک مُصفّا شیشہ کی طرح پا کر اپنے رسول مقبول کی برکتیں اُن کے وجود بے نمود کے ذریعہ سے ظاہر کرتا ہے اور جو کچھ منجانب اللہ ان کی تعریف کی جاتی ہے یا کچھ آثار اور برکات اور آیات اُن سے ظہور پذیر ہوتی ہیں حقیقت میں مرجع تام ان تمام تعریفوں کا اور مصدر کامل ان تمام برکات کا رسول کریمؐ ہی ہوتا ہے۔ اور حقیقی اور کامل طور پر وہ تعریفیں اُسی کے لائق ہوتی ہیں اور وہی ان کا مصداقِ اتم ہوتا ہے۔ مگر چونکہ متبع سُنن آں سرورِ کائنات کا اپنے غایت اتباع کے جہت سے اس شخص نورانی کے لئے کہ جو وجودِ باوجود حضرتِ نبوی ہے مثل ظل کے ٹھہر جاتا ہے۔ اس لئے جو کچھ اس شخص مقدس میں انوارِ الٰہیہ پیدا اور ہویدا ہیں اُس کے اِس ظل میں بھی نمایاں اور ظاہر ہوتے ہیں۔ اور سایہ میں اس تمام وضع اور انداز کا ظاہر ہونا کہ جو اس کے اصل میں ہے ایک ایسا امر ہے کہ جو کسی پر پوشیدہ نہیں ہاں سایہ اپنی ذات میں قائم نہیں اور حقیقی طور پر کوئی فضیلت اس میں موجودنہیں بلکہ جو کچھ اس میں موجود ہے وہ اس کے شخص اصلی کی ایک تصویر ہے جو اس میں نمودار اور نمایاں ہے۔ پس لازم ہے کہ آپ یا کوئی دوسرے صاحب اس بات کو حالت نقصان خیال نہ کریں کہ کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انوارِ باطنی اُن کی اُمّت کے کامل متبعین کو پہنچ جاتے ہیں اور سمجھنا چاہئے کہ اس انعکاس انوار سے کہ جو بطریق افاضۂ دائمی نفوسِ صافیہ اُمت محمدیہ پر ہوتا ہے دو بزرگ امر پیدا ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بدرجہ غایت کمالیت ظاہر ہوتی ہے کیونکہ جس چراغ سے دوسرا چراغ روشن ہو سکتا ہے اور ہمیشہ روشن ہوتا ہے وہ ایسے چراغ سے بہتر ہے جس سے دوسرا چراغ روشن نہ ہو سکے۔ دوسرے اس اُمت کی کمالیت اور دوسری اُمتوں پر اس کی فضیلت اس افاضۂ دائمی سے ثابت ہوتی ہے۔ اور حقّیّت دین اسلام کا ثبوت ہمیشہ تر و تازہ ہوتا رہتا ہے۔ صرف یہی بات نہیں ہوتی کہ گذشتہ زمانہ پر حوالہ دیا جائے۔ اور یہ ایک ایسا امر ہے کہ جس سے قرآن شریف کی حقانیت کے انوار آفتاب کی طرح ظاہر ہو جاتے ہیں اور دین اسلام کے مخالفوں پر حجت اسلام پوری ہوتی ہے اور معاندین اسلام کی ذلّت اور رسوائی اور روسیاہی کامل طور پر کھل جاتی ہے کیونکہ وہ اسلام میں وہ برکتیں اور وہ نور دیکھتے ہیں جن کی نظیر کو وہ اپنی قوم کے پادریوں اور پنڈتوں وغیرہ میں ثابت نہیں کر سکتے۔ فَتَدَبَّرْ اَیُّھَا الصَّادِقُ فِی الطَّلَبِ اَیَّدَکَ اللّٰہُ فِیْ طَلَبِکَ ……
حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی کس قدر شانِ بزرگ ہے اور اس آفتابِ صداقت کی کیسی اعلیٰ درجہ پر روشن تاثیریں ہیں جس کا اتباع کسی کو مومن کامل بناتا ہے۔ کسی کو عارف کے درجے تک پہنچاتا ہے۔ کسی کو آیت اللہ اور حجت اللہ کا مرتبہ عنایت فرماتا ہے اور محامدِ الٰہیہ کا مورد ٹھہراتا ہے۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۶۸ تا۲۷۱ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۱)جب سے کہ آفتابِ صداقت ذاتِ بابرکات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں آیا اُسی دم سے آج تک ہزار ہا نفوس جو استعداد اور قابلیت رکھتے تھے متابعت کلامِ الٰہی اور اتباعِ رسول مقبولؐ سے مدارجِ عالیہ مذکورہ بالا تک پہنچ چکے ہیں اور پہنچتے جاتے ہیں۔ اور خدائے تعالیٰ اس قدر اُن پر پے در پے اور عَلَی الاتِّصال تلطّفات و تفضّلات وارد کرتا ہے اور اپنی حمائتیں اور عنائتیں دکھلاتا ہے کہ صافی نگاہوں کی نظر میں ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ لوگ منظورانِ نظر احدیّت سے ہیں۔ جن پر لطفِ ربّانی کا ایک عظیم الشان سایہ اور فَضْلِ یَزْدَانی کا ایک جلیل القدر پَیرایہ ہے اور دیکھنے والوں کو صریح دکھائی دیتا ہے کہ وہ انعاماتِ خارق عادت سے سرفراز ہیں اور کراماتِ عجیب و غریب سے ممتاز ہیں اور محبوبیّت کے عطر سے معطّر ہیں اور مقبولیت کے فخروں سے مُفْتَخِر ہیں اور قادرِ مطلق کا نور ان کی صحبت میں، ان کی توجہ میں، اُن کی ہمت میں، اُن کی دُعا میں، اُن کی نظر میں، اُن کے اخلاق میں، اُن کی طرز معیشت میں، اُن کی خوشنودی میں، اُن کے غضب میں، اُن کی رغبت میں، اُن کی نفرت میں، اُن کی حرکت میں، اُن کے سکون میں، اُن کے نطق میں، ان کی خاموشی میں، اُن کے ظاہر میں، اُن کے باطن میں ایسا بھرا ہوا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ایک لطیف اور مُصفّا شیشہ ایک نہایت عمدہ عطر سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور اُن کے فیض صحبت اور ارتباط اور محبت سے وہ باتیں حاصل ہو جاتی ہیں کہ جو ریاضاتِ شاقہ سے حاصل نہیں ہو سکتیں اور اُن کی نسبت ارادت اور عقیدت پیدا کرنے سے ایمانی حالت ایک دوسرا رنگ پیدا کر لیتی ہے اور نیک اخلاق کے ظاہر کرنے میں ایک طاقت پیدا ہو جاتی ہے اور شوریدگی اور امّارگی نفس کی روبکمی ہونے لگتی ہے اور اطمینان اور حلاوت پیدا ہوتی جاتی ہے۔ اور بقدر استعداد اور مناسبت ذوقِ ایمانی جوش مارتا ہے اور اُنس اور شوق ظاہر ہوتا ہے اور اِلْتِذَاذ بِذِکْرِاللّٰہ بڑھتا ہے اور اُن کی صحبت طویلہ سے بضرورت یہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی ایمانی قوتوں میں اور اخلاقی حالتوں میں اور انقطاع عن الدنیا میں اور توجہ الی اللہ میں اور محبتِ الٰہیہ میں اور شفقت علی العباد میں اور وفا اور رضا اور استقامت میں اس عالی مرتبہ پر ہیں جس کی نظیر دنیا میں نہیں دیکھی گئی۔ اور عقلِ سلیم فی الفور معلوم کر لیتی ہے کہ وہ بند اور زنجیر اُن کے پانوء ن سے اتارے گئے ہیں جن میں دوسرے لوگ گرفتار ہیں اور وہ تنگی اور انقباض اُن کے سینہ سے دُور کیا گیا ہے جس کے باعث سے دوسرے لوگوں کے سینے منقبض اور کوفتہ خاطر ہیں۔ ایسا ہی وہ لوگ تحدیث اور مکالماتِ حضرتِ احدیت سے بکثرت مشرف ہوتے ہیں اور متواتر اور دائمی خطابات کے قابل ٹھہر جاتے ہیں اور حق و علیٰ اور اُس کے مستعد بندوں میں ارشاد اور ہدایت کے لئے واسطہ گردانے جاتے ہیں۔ اُن کی نورانیت دوسرے دلوں کو منور کردیتی ہے۔ اور جیسے موسم بہار کے آنے سے نباتی قوتیں جوش زن ہو جاتی ہیں ایسا ہی ان کے ظہور سے فطرتی نور طبائع سلیمہ میں جوش مارتے ہیں اور خود بخود ہر یک سعید کا دل یہی چاہتا ہے کہ اپنی سعادت مندی کی استعدادوں کو بکوشش تمام منصّۂ ظہور میں لاوے اور خواب غفلت کے پردوں سے خلاصی پاوے اور معصیت اور فسق و فجور کے داغوں سے اور جہالت اور بے خبری کی ظلمتوں سے نجات حاصل کرے۔ سو اُن کے مبارک عہد میں کچھ ایسی خاصیت ہوتی ہے اور کچھ اس قسم کا انتشار نورانیت ہو جاتا ہے کہ ہر یک مومن اور طالب حق بقدر طاقت ایمانی اپنے نفس میں بغیر کسی ظاہری موجب کے انشراح اور شوق دینداری کا پاتا ہے اور ہمت کو زیادت اور قوت میں دیکھتا ہے۔ غرض اُن کے اس عطر لطیف سے جو اُن کو کامل متابعت کی برکت سے حاصل ہوا ہے ہر یک مخلص کو بقدر اپنے اخلاص کے حظ پہنچتا ہے۔ ہاں جو لوگ شقی ازلی ہیں وہ اس سے کچھ حصّہ نہیں پاتے بلکہ اَور بھی عناد اور حسد اور شقاوت میں بڑھ کر ہاویہ جہنم میں گرتے ہیں۔ اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۲۹ تا۵۳۲ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳)
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ آفتاب کی طرح چمک رہا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جاودانی زندگی پر یہ بھی بڑی ایک بھاری دلیل ہے کہ حضرت ممدوح کا فیض جاودانی جاری ہے اور جو شخص اس زمانہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتا ہے وہ بلاشبہ قبر میں سے اٹھایا جاتا ہے۔ اور ایک روحانی زندگی اس کو بخشی جاتی ہے نہ صرف خیالی طور پر بلکہ آثار صحیحہ صادقہ اُس کے ظاہر ہوتے ہیں اور آسمانی مدد یں اور سماوی برکتیں اور رُوح القدس کی خارق عادت تائیدیں اس کے شامل حال ہو جاتی ہیں اور وہ تمام دنیا کے انسانوں میں سے ایک ُمتفرد انسان ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ خدا تعالیٰ اس سے ہمکلام ہوتا ہے اور اپنے اسرار خاصّہ اُس پر ظاہر کرتا ہے اور اپنے حقائق و معارف کھولتا ہے۔ اور اپنی محبت اور عنایت کے چمکتے ہوئے علامات اس میں نمودار کر دیتا ہے اور اپنی نصرتیں اُس پر اوتارتا ہے اور اپنی برکات اس میں رکھ دیتا ہے۔ اور اپنی ربوبیت کا آئینہ اُس کو بنا دیتا ہے۔ اُس کی زبان پر حکمت جاری ہوتی ہے اور اس کے دل سے نکاتِ لطیفہ کے چشمے نکلتے ہیں۔ اور پوشیدہ بھید اُس پر آشکار کئے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ ایک عظیم الشان تجلّی اس پر فرماتا ہے اور اس سے نہایت قریب ہو جاتا ہے۔ اور وہ اپنی استجابت دُعاؤں میں اور اپنی قبولیتوں میں اور فتح ابواب معرفت میں اور انکشاف اسرار غیبیہ میں اور نزول برکات میں سب سے اوپر اور سب پر غالب رہتا ہے۔ چنانچہ اس عاجز نے خدا تعالیٰ سے مامور ہو کر اِنہیں امور کی نسبت اور اسی اتمام حجت کی غرض سے کئی ہزار رجسٹری شدہ خط ایشیا اور یورپ اور امریکہ کے نامی مخالفوں کی طرف روانہ کئے تھے تا اگر کسی کا یہ دعویٰ ہو کہ یہ رُوحانی حیات بجز اتباع خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی اور ذریعہ سے بھی مل سکتی ہے تو وہ اس عاجز کا مقابلہ کرے۔ اور اگر یہ نہیں تو طالبِ حق بن کر یک طرفہ برکات اور آیات اور نشانوں کے مشاہدہ کے لئے حاضر آوے لیکن کسی نے صدق اور نیک نیتی سے اس طرف رُخ نہ کیا اور اپنی کنارہ کشی سے ثابت کر دیا کہ وہ سب تاریکی میں گِرے ہوئے ہیں۔ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲۲۱۔ ۲۲۲)
ہم یقینا جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا سب سے بڑا نبی اور سب سے زیادہ پیارا جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کیونکہ دوسرے نبیوں کی اُمتیں ایک تاریکی میں پڑی ہوئی ہیں اور صرف گذشتہ قصّے اور کہانیاں اُن کے پاس ہیں مگر یہ امت ہمیشہ خدا تعالیٰ سے تازہ بتازہ نشان پاتی ہے۔ لہٰذا اس امت میں اکثر عارف ایسے پائے جاتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ پر اس درجہ کا یقین رکھتے ہیں کہ گویا اس کو دیکھتے ہیں۔ اور دوسری قوموں کو خدا تعالیٰ کی نسبت یہ یقین نصیب نہیں۔ لہٰذا ہماری رُوح سے یہ گواہی نکلتی ہے کہ سچا اور صحیح مذہب صرف اسلام ہے …… ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات صرف قصّوں کے رنگ میں نہیں ہیں بلکہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر کے خود ان نشانوں کو پا لیتے ہیں لہٰذا معائنہ اور مشاہدہ کی برکت سے ہم حق الیقین تک پہونچ جاتے ہیں۔ سو اس کامل اور مقدس نبی کی کس قدر شان بزرگ ہے جس کی نبوت ہمیشہ طالبوں کو تازہ ثبوت دکھلاتی رہتی ہے اور ہم متواتر نشانوں کی برکت سے اس کمال سے مراتب عالیہ تک پہونچ جاتے ہیں کہ گویا خدا تعالیٰ کو ہم آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں۔ پس مذہب اسے کہتے ہیں اور سچا نبی اس کا نام ہے جس کی سچائی کی ہمیشہ تازہ بہار نظر آئے۔ محض قصوں پر جن میں ہزاروں طرح کی کمی بیشی کا امکان ہے بھروسہ کر لینا عقلمندوں کا کام نہیں ہے۔ دنیا میں صد ہا لوگ خدا بنائے گئے اور صدہا پورانے افسانوں کے ذریعہ سے کراماتی کر کے مانے جاتے ہیں۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ سچا کراماتی وہی ہے جس کی کرامات کا دریا کبھی خشک نہ ہو۔ سو وہ شخص ہمارے سیّد و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ خدا تعالیٰ نے ہر ایک زمانہ میں اس کامل اور مقدّس کے نشان دکھلانے کے لئے کسی نہ کسی کو بھیجا ہے۔ اور اس زمانہ میں مسیح موعود کے نام سے مجھے بھیجا ہے۔ دیکھو! آسمان سے نشان ظاہر ہو رہے ہیں اور طرح طرح کے خوارق ظہور میں آرہے ہیں۔ اور ہر ایک حق کا طالب ہمارے پاس رہ کر نشانوں کو دیکھ سکتا ہے گو وہ عیسائی ہو یا یہودی یا آریہ۔ یہ سب برکات ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں۔
محمد است امام و چراغِ ہر دوجہاں
محمد است فروزندۂ زمین و زماں
خدا نگویمش از ترسِ حق مگر بخدا
خدا نماست وجودش برائے عالمیاں162
روحانی زندگی کا ثبوت صرف ہمارے نبی علیہ السلام کی ذات بابرکات میں پایا جاتا ہے خدا کی ہزاروں رحمتیں اس کے شاملِ حال رہیں …… بے سود ہے وہ زندگی جو نفع رساں نہیں اور لاحاصل ہے وہ بقاء جس میں فیض نہیں۔ دنیا میں صرف دو زندگیئیں قابل تعریف ہیں۔ (۱) ایک وہ زندگی جو خود خدائے حیُّ و قَیُّوم مبداء فیض کی زندگی ہے۔ (۲) دوسری وہ زندگی جو فیض بخش اور خدا نما ہو۔ سو آؤ ہم دکھاتے ہیں کہ وہ زندگی صرف ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہے۔ جس پر ہر ایک زمانہ میں آسمان گواہی دیتا رہا ہے اور اب بھی دیتا ہے اور یاد رکھو کہ جس میں فیّاضانہ زندگی نہیں وہ مُردہ ہے نہ زندہ اور مَیں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کا نام لے کر جھوٹ بولنا سخت بد ذاتی ہے کہ خدا نے مجھے میرے بزرگ واجب الاطاعت سیّدنا محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوحانی دائمی زندگی اور پورے جلال اور کمال کا یہ ثبوت دیا ہے کہ مَیں نے اس کی پیروی سے اور اُس کی محبت سے آسمانی نشانوں کو اپنے اوپر اُترتے ہوئے اور دل کو یقین کے نور سے پُر ہوتے ہوئے پایا۔ اور اس قدر نشان غیبی دیکھے کہ اُن کھلے کھلے نوروں کے ذریعہ سے مَیں نے اپنے خدا کو دیکھ لیا ہے۔ (تریاق القلوب۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۱۳۹، ۱۴۰)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت جس قدر بعض مقامات پر فروتنی اور انکساری میں کمال پر پہونچی ہوئی نظر آتی ہے۔ وہاں معلوم ہوتا ہے کہ اسی قدر آپ رُوح القدس کی تائید اور روشنی سے مؤید اور منور ہیں جیسا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی اور فعلی حالت سے دکھایا ہے۔ یہاں تک کہ آپ کے انوار و برکات کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ ابدالآباد تک اس کانمونہ اور ظل نظر آتا ہے۔ چنانچہ اس زمانہ میں بھی جو کچھ خدا تعالیٰ کا فیض اور فضل نازل ہو رہا ہے وہ آپ ہی کی اطاعت اور آپ ہی کی اتباع سے ملتا ہے۔ مَیں سچ کہتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ کوئی شخص حقیقی نیکی کرنے والا اور خدا تعالیٰ کی رضا کو پانے والا نہیں ٹھہر سکتا اور ان انعام و برکات اور معارف اور حقائق اور کشوف سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا جو اعلیٰ درجہ کے تزکیۂ نفس پر ملتے ہیں جب تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں کھویا نہ جائے اور اِس کا ثبوت خود خداتعالیٰ کے کلام سے ملتا ہے۔ قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ اور خدا تعالیٰ کے اس دعویٰ کی عملی اور زندہ دلیل مَیں ہوں۔ ان نشانات کے ساتھ جو خدا تعالیٰ کے محبوبوں اور ولیوں کے قرآن شریف میں مقرر ہیں مجھے شناخت کرو۔ (الحکم مورخہ ۱۷؍ ستمبر ۱۹۰۱ء صفحہ ۱، ۲۔ ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۱۳۱، ۱۳۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا جس کے لوازم میں سے محبت اور تعظیم اور اطاعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ اس کا ضروری نتیجہ ہے کہ انسان خدا کا محبوب بن جاتا ہے اور اس کے گناہ بخشے جاتے ہیں یعنی اگر کوئی گناہ کی زہر کھا چکا ہے تو محبت اور اطاعت اور پیروی کے تریاق سے اس زہر کا اثر جاتا رہتا ہے اور جس طرح بذریعہ دوا مرض سے ایک انسان پاک ہو سکتا ہے ایسا ہی ایک شخص گناہ سے پاک ہو جاتا ہے اور جس طرح نور ظلمت کو دُور کرتا ہے اور تریاق زہر کا اثر زائل کرتا ہے اور آگ جلاتی ہے ایسا ہی سچی اطاعت اور محبت کا اثر ہوتا ہے۔ دیکھو آگ کیونکر ایک دم میں جلا دیتی ہے۔ پس اسی طرح پر جوش نیکی جو محض خدا کا جلال ظاہر کرنے کے لئے کی جاتی ہے وہ گناہوں کا خس و خاشاک بھسم کرنے کے لئے آگ کا حکم رکھتی ہے۔ جب ایک انسان سچے دل سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہے اور آپ کی تمام عظمت اور بزرگی کو مان کر پورے صدق و صفا اور محبت اور اطاعت سے آپ کی پیروی کرتا ہے یہاں تک کہ کامل اطاعت کی وجہ سے فنا کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ تب اس تعلق شدید کی وجہ سے جو آپ کے ساتھ ہو جاتا ہے۔ وہ الٰہی نور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اُترتا ہے اُس سے یہ شخص بھی حصّہ لیتا ہے۔ تب چونکہ ظلمت اور نور کی باہم منافات ہے وہ ظلمت جو اس کے اندر ہے دُور ہو نی شروع ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ کوئی حصہ ظلمت کا اس کے اندر باقی نہیں رہتا اور پھر اس نور سے قوت پا کر اعلیٰ درجہ کی نیکیاں اُ س سے ظاہر ہوتی ہیں اور اس کے ہر ایک عضو میں سے محبت الٰہی کا نور چمک اٹھتا ہے۔ تب اندرونی ظلمت بکلی دُور ہو جاتی ہے اور علمی رنگ سے بھی اس میں نور پیدا ہو جاتا ہے اور عملی رنگ سے بھی نور پیدا ہو جاتا ہے۔ آخر ان نوروں کے اجتماع سے گناہ کی تاریکی اس کے دل سے کوچ کرتی ہے یہ تو ظاہر ہے کہ نور اور تاریکی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے لہٰذا ایمانی نور اور گناہ کی تاریکی بھی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی اور اگر ایسے شخص سے اتفاقاً کوئی گناہ ظہور میں نہیں آیا تو اس کو اس اتباع سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ آئندہ گناہ کی طاقت اُس سے مسلوب ہو جاتی ہے اور نیکی کرنے کی طرف اس کو رغبت پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ اس کی نسبت اللہ تعالیٰ آپ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ حَبَّبَ اِلَیۡکُمُ الۡاِیۡمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ وَکَرَّہَ اِلَیۡکُمُ الۡکُفۡرَ وَالۡفُسُوۡقَ وَالۡعِصۡیَانَ (ریویو آف ریلیجنز اردو جلد ۱ نمبر ۵ صفحہ ۱۹۴، ۱۹۵)
جاننا چاہئے کہ محبوبیت اور قبولیت اور ولایتِ حقہ کا درجہ جس کے کسی قدر مختصر طور پر نشان بیان کر چکا ہوں یہ بجز اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا اور سچے متبع کے مقابل پر اگر کوئی عیسائی یا آریہ یا یہودی قبولیت کے آثار و انوار دکھلانا چاہے تو یہ اس کے لئے ہرگز ممکن نہ ہو گا اور نہایت صاف طریق امتحان کا یہ ہے کہ اگر ایک مسلمان صالح کے مقابل پر جو سچا مسلمان اور سچائی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو کوئی دوسرا شخص عیسائی وغیرہ معارضہ کے طور پر کھڑا ہو اور یہ کہے کہ جس قدر تجھ پر آسمان سے کوئی نشان ظاہر ہو گا یا جس قدر اسرار غیبیہ تجھ پر کھلیں گے یا جو کچھ قبولیت دعاؤں سے تجھے مدد دی جائے گی یا جس طور تیری عزت اور شرف کے اظہار کے لئے کوئی نمونہ قدرت ظاہر کیا جائے گا یا اگر انعامات خاصہ کا بطور پیشگوئی تجھے وعدہ دیا جائے گا۔ یا اگر تیرے کسی موذی مخالف پر کسی تنبیہہ کے نزول کی خبر دی جائے گی تو ان سب باتوں میں جو کچھ تجھ سے ظہور میں آئے گا۔ اور جو کچھ تو دکھائے گا وہ مَیں بھی دکھلاؤں گا تو ایسا معارضہ کسی مخالف سے ہرگز ممکن نہیں اور ہرگز مقابل پر نہیں آئیں گے کیونکہ ان کے دل شہادت دے رہے ہیں کہ وہ کذّاب ہیں۔ انہیں اُس سچے خدا سے کچھ بھی تعلق نہیں کہ جو راستبازوں کا مددگار اور صدیقوں کا دوست دار ہے۔ (ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات۔ روحانی خزائن جلد۴ صفحہ ۴۸۰ تا ۴۸۲)
خدا کے رسول کو ماننا توحید کے ماننے کے لئے علّت موجبہ کی طرح ہے اور ان کے باہمی ایسے تعلقات ہیں کہ ایک دوسرے سے جدا ہو ہی نہیں سکتے اور جو شخص بغیر پیروی رسول کے توحید کا دعویٰ کرتا ہے اس کے پاس صرف ایک خشک ہڈی ہے جس میں مغز نہیں اور اس کے ہاتھ میں محض ایک مُردہ چراغ ہے جس میں روشنی نہیں ہے۔ اور ایسا شخص کہ جو یہ خیال کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص خدا کو واحد لاشریک جانتا ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانتا ہو وہ نجات پائے گا یقینا سمجھو کہ اس کا دل مجذوم ہے اور وہ اندھا ہے اور اس کو توحید کی کچھ بھی خبر نہیں کہ کیا چیز ہے۔ اور ایسی توحید کے اقرار میں شیطان اس سے بہتر ہے کیونکہ اگرچہ شیطان عاصی اور نافرمان ہے لیکن وہ اس بات پر تو یقین رکھتا ہے کہ خدا موجود ہے مگر اس شخص کو تو خدا پر یقین بھی نہیں۔ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۲۲)
اگر اس جگہ یہ استفسار ہو کہ اگر یہ درجہ اس عاجز اور مسیح کے لئے مسلّم ہے تو پھر جناب سیّدنا و مولانا سیّد الکل و افضل الرسل حضرت خاتم النبیین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کون سا درجہ باقی ہے؟ سو واضح ہو کہ وہ ایک اعلیٰ مقام اور برتر مرتبہ ہے جو اس ذات کامل الصفات پر ختم ہو گیا ہے جس کی کیفیت کو پہنچنا بھی کسی دوسرے کا کام نہیں چہ جائیکہ وہ کسی اور کو حاصل ہو سکے ……
مراتب قرب و محبت باعتبار اپنے روحانی درجات کے تین قسم پر منقسم ہیں۔ سب سے ادنیٰ درجہ جو درحقیقت وہ بھی بڑا ہے یہ ہے کہ آتش محبت الٰہی لوحِ قلب انسان کو گرم تو کرے اور ممکن ہے کہ ایسا گرم کرے کہ بعض آگ کے کام اس محرور سے ہو سکیں لیکن یہ کسر باقی رہ جائے کہ اس متاثر میں آگ کی چمک پیدا نہ ہو۔ اس درجہ کی محبت پر جب خدائے تعالیٰ کی محبت کا شعلہ واقع ہو تو اُس شعلہ سے جس قدر رُوح میں گرمی پیدا ہو تی ہے اس کو سکینت و اطمینان اور کبھی فرشتہ و ملک کے لفظ سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔
دوسرا درجہ محبت کا وہ ہے … جس میں دونوں محبتوں کے ملنے سے آتش محبت الٰہی لوحِ قلب انسان کو اس قدر گرم کرتی ہے کہ اُس میں آگ کی صورت پر ایک چمک پیدا ہو جاتی ہے لیکن اُس چمک میں کسی قسم کا اشتعال یا بھڑک نہیں ہوتی فقط ایک چمک ہوتی ہے جس کو رُوح القدس کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔
تیسرا درجہ محبت کا وہ ہے جس میں ایک نہایت افروختہ شعلہ محبت الٰہی کا انسانی محبت کے مستعد فتیلہ پر پڑ کر اس کو افروختہ کر دیتا ہے اور اس کے تمام اجزا اور تمام رگ و ریشہ پر استیلاء پکڑ کر اپنے وجود کا اتم اور اکمل مظہر اس کو بنا دیتا ہے اور اس حالت میں آتشِ محبت الٰہی لوحِ قلب انسان کو نہ صرف ایک چمک بخشتی ہے بلکہ معاً اس چمک کے ساتھ تمام وجود بھڑک اٹھتا ہے اور اس کی لوئیں اور شعلے اردگرد کو روز روشن کی طرح روشن کر دیتے ہیں اور کسی قسم کی تاریکی باقی نہیں رہتی اور پورے طور پر اور تمام صفات کاملہ کے ساتھ وہ سارا وجود آگ ہی آگ ہو جاتا ہے اور یہ کیفیت جو ایک آتش افروختہ کی صورت پر دونوں محبتوں کے جوڑ سے پیدا ہو جاتی ہے اُس کو رُوح امین کے نام سے بولتے ہیں کیونکہ یہ ہر یک تاریکی سے امن بخشتی ہے اور ہر یک غبار سے خالی ہے اور اُس کا نام شدید القویٰ بھی ہے کیونکہ یہ اعلیٰ درجہ کی طاقت وحی ہے جس سے قوی تر وحی متصور نہیں اور اُس کا نام ذوالافق الاعلیٰ بھی ہے کیونکہ یہ وحی الٰہی کے انتہائی درجہ کی تجلّی ہے اور اِس کو رَأَی مَارَأَی کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے کیونکہ اس کیفیت کا اندازہ تمام مخلوقات کے قیاس اور گمان اور وہم سے باہر ہے۔ اور یہ کیفیت صرف دنیا میں ایک ہی انسان کو ملی ہے جو انسانِ کامل ہے جس پر تمام سِلسلہ انسانیہ کا ختم ہو گیا ہے اور دائرہ استعدادات بشریہ کا کمال کو پہنچا ہے اور وہ درحقیقت پیدائش الٰہی کے خط ممتد کی اعلیٰ طرف کا آخری نقطہ ہے جو ارتفاع کے تمام مراتب کا انتہا ہے۔ حکمت الٰہی کے ہاتھ نے ادنیٰ سے ادنیٰ خلقت سے اور اسفل سے اسفل مخلوق سے سِلسلہ پیدائش کا شروع کر کے اس اعلیٰ درجہ کے نقطہ تک پہنچا دیا ہے جس کا نام دوسرے لفظوں میں محمّدؐ ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ نہایت تعریف کیا گیا یعنی کمالاتِ تامہ کا مظہر۔ سو جیسا کہ فطرت کے رو سے اس نبی کا اعلیٰ اور ارفع مقام تھا ایسا ہی خارجی طور پر بھی اعلیٰ و ارفع مرتبہ وحی کا اُس کو عطا ہوا اور اعلیٰ و ارفع مقام محبت کا ملا۔ یہ وہ مقام عالی ہے کہ میں اور مسیح دونوں اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس کا نام مقامِ جمع اور مقام وحدتِ تامّہ ہے۔ پہلے نبیوں نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خبر دی ہے اِسی پتہ و نشان پر خبر دی ہے اور اسی مقام کی طرف اشارہ کیا ہے اور جیسا کہ مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طورپر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں ایسا ہی یہ وہ مقام عالی شان مقام ہے کہ گذشتہ نبیوں نے استعارہ کے طور پر صاحب مقام ھٰذا کے ظہور کو خدائے تعالیٰ کا ظہور قرار دے دیا ہے اور اس کا آناخدائے تعالیٰ کا آنا ٹھہرایا ہے۔
(توضیح مرام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۶۲ تا۶۴)ہمارے سیّد و مولیٰ جناب مقدس خاتم الانبیاء کی نسبت صرف حضرت مسیح نے ہی بیان نہیں کیا کہ آنجناب کا دنیا میں تشریف لانا درحقیقت خدائے تعالیٰ کا ظہور فرمانا ہے بلکہ اس طرز کا کلام دوسرے نبیوں نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں اپنی اپنی پیشگوئیوں میں بیان کیا ہے اور استعارہ کے طور پر آنجناب کے ظہور کو خدائے تعالیٰ کا ظہور قرار دیا ہے بلکہ بوجہ خدائی کے مظہر اتم ہونے کے آنجناب کو خدا کر کے پکارا ہے چنانچہ حضرت داؤد کے زبور میں لکھا ہے۔ تو حسن میں بنی آدم سے کہیں زیادہ ہے۔ تیرے لبوں میں نعمت بنائی گئی اس لئے خدا نے تجھ کو ابد تک مبارک کیا (یعنی تو خاتم الانبیاء ٹھہرا) اے پہلوان تو جاہ و جلال سے اپنی تلوار حمائل کرکے اپنی ران پر لٹکا۔ امانت اور حلم اور عدالت پر اپنی بزرگواری اور اقبال مندی سے سوار ہو کر تیرا دہنا ہاتھ تجھے ہیبت ناک کام دکھائے گا۔ بادشاہ کے دشمنوں کے دلوں میں تیرے تبر تیز ی کرتے ہیں۔ لوگ تیرے سامنے گڑ جاتے ہیں۔ اے خدا تیرا تخت ابد الآباد ہے۔ تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے۔ تونے صدق سے دوستی اور شر سے دشمنی کی ہے اسی لئے خدا نے جو تیرا خدا ہے خوشی کے روغن سے تیرے مصاحبوں سے زیادہ تجھے معطر کیا ہے۔ (دیکھو زبور ۴۵)
اب جاننا چاہئے کہ زبور کا یہ فقرہ کہ اے خدا تیرا تخت ابدالآباد ہے۔ تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے۔ یہ محض بطور استعارہ ہے جس سے غرض یہ ہے کہ جو روحانی طور پر شان محمدی ہے اُس کو ظاہر کر دیا جائے۔ پھر یسعیاہ نبی کی کتاب میں بھی ایسا ہی لکھا ہے چنانچہ اس کی عبارت یہ ہے۔
’’دیکھو میرا بندہ جسے میں سنبھا لوں گا، میرا برگزیدہ جس سے میرا جی راضی ہے۔ مَیں نے اپنی رُوح اس پر رکھی۔ وہ قوموں پر راستی ظاہر کرے گا۔ وہ نہ چلائے گا اور اپنی صدا بلندنہ کرے گا اور اپنی آواز بازاروں میں نہ سُنائے گا۔ وہ مسلی ہوئی سینتھی کو نہ توڑے گا اور سِن کو جس سے دھواں اٹھتا ہے نہ بُجھائے گا جب تک کہ راستی کو امن کے ساتھ نہ ظاہر کرے۔ وہ نہ گھٹے گا نہ تھکے گا جب تک کہ راستی کو زمین پر قائم نہ کرے اور جزیرے اُس کی شریعت کے منتظر ہو ویں۔ … خداوند خدا ایک بہادر کی مانندنکلے گا وہ جنگی مرد کی مانند اپنی غیرت کو اسکائے گا۔ الخ‘‘ (یسعیاہ باب ۲۴ آیت ۱ تا ۲۳)اب جاننا چاہئے کہ یہ فقرہ کہ خداوند خدا ایک بہادر کی مانندنکلے گا۔ یہ بھی بطور استعارہ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پُر ہیبت ظہور کا اظہار کر رہا ہے۔ دیکھو یسعیاہ نبی کی کتاب باب ۴۲ اور ایسا ہی اور کئی نبیوں نے بھی اسی استعارہ کو اپنی پیشگوئیوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں استعمال کیا ہے۔ (توضیح مرام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۶۵ تا۶۷ حاشیہ)
مذہبی مسائل میں سے نجات اور شفاعت کا مسئلہ ایک ایسا عظیم الشان اور مدار المہام مسئلہ ہے کہ مذہبی پابندی کے تمام اغراض اسی پر جا کر ختم ہو جاتے ہیں۔ اور کسی مذہب کے صدق اور سچائی کے پرکھنے کے لئے وہی ایک ایسا صاف اور کھلا کھلا نشان ہے جس کے ذریعہ سے پوری تسلّی اور اطمینان سے معلوم ہو سکتا ہے کہ فلاں مذہب درحقیقت سچا اور خدا کی طرف سے ہے۔ اور یہ بات بالکل راست اور درست ہے کہ جس مذہب نے اس مسئلہ کو صحیح طور پر بیان نہیں کیا یا اپنے فرقہ میں نجات یافتہ لوگوں کے موجودہ نمونے کھلے کھلے امتیاز کے ساتھ دکھلا نہیں سکا اس مذہب کے باطل ہونے کے لئے کسی اَور دلیل کی ضرورت نہیں مگر جس مذہب نے کمال صحت سے نجات کی اصل حقیقت دکھلائی ہے۔ اور نہ صرف اِس قدر بلکہ اپنے موجودہ زمانے میں ایسے انسان بھی پیش کئے ہیں جن میں کامل طور پر نجات کی رُوح پھونکی گئی ہے۔ اُس نے مہر لگا دی ہے کہ وہ سچا اور منجانب اللہ ہے۔
یہ تو ظاہر ہے کہ ہر ایک انسان طبعًا اپنے دل میں محسوس کرتا ہے کہ وہ صد ہا طرح کی غفلتوں اور پَردوں اور نفسانی حملوں اور لغزشوں اور کمزوریوں اور جہالتوں اور قدم قدم پر تاریکیوں اور ٹھوکروں اور مسلسل خطرات اور وساوس کی وجہ سے اور نیز دنیا کی انواع و اقسام کی آفتوں اور بلاؤں کے سبب سے ایک ایسے زبردست ہاتھ کا ضرور محتاج ہے جو اس کو ان تمام مکروہات سے بچاوے کیونکہ انسان اپنی فطرت میں ضعیف ہے اور وہ کبھی ایک دم کے لئے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہیں کر سکتا کہ وہ خود بخودنفسانی ظلمات سے باہر آ سکتا ہے۔ یہ تو انسانی کانشنس کی شہادت ہے۔ اور ماسوا اس کے اگر غور اور فکر سے کام لیا جائے تو عقل سلیم بھی اسی کو چاہتی ہے کہ نجات کے لئے شفیع کی ضرورت ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نہایت درجہ تقدس اور تطہّر کے مرتبہ پر ہے اور انسان نہایت درجہ ظلمت اور معصیت اور آلودگی کے گڑھے میں ہے اور بوجہ فقدان مناسبت اور مشابہت عام طبقہ انسانی گروہ کا اس لائق نہیں کہ وہ براہ راست خدا تعالیٰ سے فیض پا کر مرتبہ نجات کا حاصل کر لیں۔ پس اس لئے حکمت اور رحمت الٰہی نے یہ تقاضا فرمایا کہ نوع انسان اور اس میں بعض افراد کاملہ جو اپنی فطرت میں ایک خاص فضیلت رکھتے ہوں درمیان واسطہ ہوں اور وہ اس قسم کے انسان ہوں جن کی فطرت نے کچھ حصّہ صفات لاہوتی سے لیا ہو اور کچھ حصّہ صفات ناسوتی سے تا بباعث لاہوتی مناسبت کے خدا سے فیض حاصل کریں اور بباعث ناسوتی مناسبت کے اس فیض کو جو اوپر سے لیا ہے نیچے کو یعنی بنی نوع کو پہنچاویں اور یہ کہنا واقعی صحیح ہے کہ اِس قسم کے انسان بوجہ زیادت کمال لاہوتی اور ناسوتی کے دوسرے انسانوں سے ایک خاص امتیاز رکھتے ہیں۔ گویا یہ ایک مخلوق ہی الگ ہے کیونکہ جس قدر ان لوگوں کو خدا کا جلال اور عظمت ظاہر کرنے کے لئے جوش دیا جاتا ہے اور جس قدر ان کے دلوں میں وفا داری کا مادہ بھرا جاتا ہے اور پھر جس قدر بنی نوع کی ہمدردی کا جوش ان کو عطا کیا جاتا ہے وہ ایک ایسا امر فوق العادت ہے جو دوسرے کے لئے اُس کا تصور کرنا بھی مشکل۔ ہاں یہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ یہ تمام اشخاص ایک مرتبہ پر نہیں ہوتے بلکہ ان فطرتی فضائل میں کوئی اعلیٰ درجہ پر ہے کوئی اس سے کم اور کوئی اس سے کم۔ اور ایک سلیم العقل کا پاک کانشنس سمجھ سکتا ہے کہ شفاعت کا مسئلہ کوئی بناوٹی اور مصنوعی مسئلہ نہیں ہے بلکہ خدا کے مقرر کردہ انتظام میں ابتدا سے اس کی نظیریں موجود ہیں۔ اور قانون قدرت میں اس کی شہادتیں صریح طور پر ملتی ہیں۔
اب شفاعت کی فلاسفی یوں سمجھنی چاہئے کہ شفع لُغت میں جفت کو کہتے ہیں۔ پس شفاعت کے لفظ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ضروری امر جو شفیع کی صفات میں سے ہوتا ہے یہ ہے کہ اس کو دوطرفہ اتحاد حاصل ہو یعنی ایک طرف اُس کے نفس کو خدا تعالیٰ سے تعلق شدید ہو ایسا کہ گویا وہ کمال اتحاد کے سبب حضرت احدیت کے لئے بطور جفت اور پیوند کے ہو اور دوسری طرف اس کو مخلوق سے بھی شدید تعلق ہو۔ گویا وہ اُن کے اعضا کی ایک جز ہو۔ پس شفاعت کا اثر مترتب ہونے کے لئے درحقیقت یہی دو جز ہیں جن پر ترتب اثر موقوف ہے۔ یہی راز ہے جو حکمتِ الٰہیہ نے آدم کو ایسے طور سے بنایا کہ فطرت کی ابتدا سے ہی اُس کی سرشت میں دو قسم کے تعلّق قائم کر دیئے یعنی ایک تعلق تو خدا سے قائم کیا جیسا قرآن شریف میں فرمایا فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَنَفَخۡتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ یعنی جب آدم کو ٹھیک ٹھیک بنا لوں اور مَیں اپنی روح اُس میں پھونک دوں تو اے فرشتو اُسی وقت تم سجدہ میں گر جاؤ۔ اس مذکورہ بالا آیت سے صاف ثابت ہے کہ خدا نے آدم میں اس کی پیدائش کے ساتھ ہی اپنی روح پھونک کر اُس کی فطرت کو اپنے ساتھ ایک تعلق قائم کر دیا۔ سو یہ اِس لئے کیا گیا کہ تا انسان کوفطرتًا خدا سے تعلق پیدا ہو جائے۔ ایسا ہی دوسری طرف یہ بھی ضروری تھا کہ ان لوگوں سے بھی فطرتی تعلق ہو جو بنی نوع کہلائیں گے کیونکہ جبکہ ان کا وجود آدم کی ہڈی میں سے ہڈی اور گوشت میں سے گوشت ہو گا تو وہ ضرور اس روح میں سے بھی حصہ لیں گے جو آدم میں پھونکی گئی۔ پس اس لئے آدم طبعی طور پر اُن کا شفیع ٹھہرے گا کیونکہ بباعث نفخ روح جو راستبازی آدم کی فطرت کو دی گئی ہے ضرور ہے کہ اُس کی راستبازی کا کچھ حصہ اس شخص کو بھی ملے جو اس میں سے نکلا ہے جیسا کہ ظاہر ہے کہ ہر ایک جانور کا بچہ اس کی صفات اور افعال میں سے حصہ لیتا ہے اور دراصل شفاعت کی حقیقت بھی یہی ہے کہ فطرتی وارث اپنے مورث سے حصہ لے کیونکہ ابھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ شفاعت کا لفظ شَفَعَ کے لفظ سے نکلا ہے جو زوج کو کہتے ہیں۔ پس جو شخص فطرتی طور پر ایک دوسرے شخص کا زوج ٹھہر جائے گا ضرور اُس کی صفات میں سے حصہ لے گا۔
اِسی اصول پر تمام سِلسلہ خلقی توارث کا جاری ہے یعنی انسان کا بچہ انسانی قویٰ میں سے حصّہ لیتا ہے اور گھوڑے کا بچہ گھوڑے کے قویٰ میں سے حصہ لیتاہے اور بکری کا بچہ بکری کے قویٰ میں سے حصہ لیتا ہے اور اسی وراثت کا نام دوسرے لفظوں میں شفاعت سے فیضیاب ہونا ہے کیونکہ جب شفاعت کی اصل شفع یعنی زوج ہے پس تمام مدار شفاعت سے فیض اُٹھانے کا اس بات پر ہے کہ جس شخص کی شفاعت سے مستفیض ہونا چاہتا ہے اُس سے فطرتی تعلق اس کو حاصل ہوتا ہے تا جو کچھ اس کی فطرت کو دیا گیا ہے۔ اس کی فطرت کو بھی وہی ملے۔ یہ تعلق جیسا کہ وہبی طور پر انسانی فطرت میں موجود ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کی ایک جز ہے ایسا ہی کسبی طور پر بھی یہ تعلق زیادت پذیر ہے۔ یعنی جب ایک انسان یہ چاہتا ہے کہ جو فطرتی محبت اور فطرتی ہمدردی بنی نوع کی اس میں موجود ہے اس میں زیادت ہو تو اس میں بقدر دائرۂ فطرت اور مناسبت کے زیادت بھی ہو جاتی ہے۔ اِسی بنا پر قوتِ عشقی کا تموّج بھی ہے کہ ایک شخص ایک شخص سے اِس قدر محبت بڑھاتا ہے کہ بغیر اس کے دیکھنے کے آرام نہیں کر سکتا آخر اس کی شدت محبت اس دوسرے شخص کے دل پر بھی اثر کرتی ہے اور جو شخص انتہا درجہ پر کسی سے محبت کرتا ہے۔ وہی شخص کامل طور پر اور سچے طور پر اُس کی بھلائی کو بھی چاہتا ہے چنانچہ یہ امر بچوں کی نسبت ان کی ماؤں کی طرف سے مشہود اور محسوس ہے۔ پس اصل جڑ شفاعت کی یہی محبت ہے جب اس کے ساتھ فطرتی تعلق بھی ہو کیونکہ بجز فطرتی تعلق کے محبت کا کمال جو شرط شفاعت ہے غیر ممکن ہے۔ اس تعلق کو انسانی فطرت میں داخل کرنے کے لئے خدا نے حوّا کوعلیحدہ پیدا نہ کیا بلکہ آدم کی پسلی سے ہی اس کو نکالا جیسا کہ قرآن شریف میں فرمایا ہے وَّخَلَقَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا یعنی آدم کے وجود میں سے ہی ہم نے اس کا جوڑا پیدا کیا جو حوّاہے تا آدم کا تعلق حوّا اور اس کی اولاد سے طبعی ہو نہ بناوٹی۔ اور یہ اس لئے کیا کہ تا آدم زادوں کے تعلق اور ہمدردی کو بقا ہو کیونکہ طبعی تعلقات غیر منفک ہوتے ہیں مگر غیر طبعی تعلقات کے لئے بقا نہیں ہے کیونکہ ان میں وہ باہمی کشش نہیں ہے جو طبعی میں ہوتی ہے۔ غرض خدا نے اِس طرح پر دونوں قسم کے تعلق جو آدمؑ کے لئے خدا سے اور بنی نوع سے ہونے چاہئے تھے طبعی طور پر پیدا کئے پس اس تقریر سے صاف ظاہر ہے کہ کامل انسان جو شفیع ہونے کے لائق ہو وہی شخص ہو سکتا ہے جس نے ان دونوں تعلقوں سے کامل حصّہ لیا ہو اور کوئی شخص بجز ان ہردو قسم کے کمال کے انسان کامل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے آدم کے بعد یہی سنت اللہ ایسے طرح پر جاری ہوئی کہ کامل انسان کے لئے جو شفیع ہو سکتا ہے یہ دونوں تعلق ضروری ٹھہرائے گئے۔ یعنی ایک یہ تعلق کہ اُن میں آسمانی رُوح پھونکی گئی اور خدا نے ایسا اُن سے اتصال کیا کہ گویا اُن میں اُتر آیا اور دوسرے یہ کہ بنی نوع کی زوجیت کا وہ جوڑا جو حوّا اور آدم میں باہمی ہمدردی اور محبت کے ساتھ مستحکم کیا گیا تھا اُن میں سب سے زیادہ چمکایا گیا۔ اِسی تحریک سے اُن کو بیویوں کی طرف بھی رغبت ہوئی اور یہی ایک اوّل علامت اس بات کی ہے کہ ان میں بنی نوع کی ہمدردی کا مادہ ہے اور اسی کی طرف وہ حدیث اشارہ کرتی ہے جس کے یہ الفاظ ہیں کہ خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ بِاَھْلِہٖ یعنی تم میں سے سب سے زیادہ بنی نوع کے ساتھ بھلائی کرنے والا وہی ہو سکتا ہے کہ پہلے اپنی بیوی کے ساتھ بھلائی کرے۔ مگر جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ ظلم اور شرارت کا برتاؤ رکھتا ہے ممکن نہیں کہ وہ دوسروں کے ساتھ بھی بھلائی کر سکے کیونکہ خدا نے آدم کو پیدا کر کے سب سے پہلے آدم کی محبت کا مصداق اس کی بیوی کو ہی بنایا ہے۔ پس جو شخص اپنی بیوی سے محبت نہیں کرتا یا اس کی خود بیوی ہی نہیں وہ کامل انسان ہونے کے مرتبہ سے گِرا ہوا ہے اور شفاعت کی دو شرطوں میں سے ایک شرط اُس میں مفقود ہے۔ اِس لئے اگر عصمت اُس میں پائی بھی جائے تب بھی وہ شفاعت کرنے کے لائق نہیں لیکن جو شخص کوئی بیوی نکاح میں لاتا ہے وہ اپنے لئے بنی نوع کی ہمدردی کی بنیاد ڈالتا ہے کیونکہ ایک بیوی بہت سے رشتوں کا موجب ہو جاتی ہے اور بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اُن کی بیویاں آتی ہیں اور بچوں کی نانیاں اور بچوں کے ماموں وغیرہ ہوتے ہیں۔ اور اِس طرح پر ایسا شخص خواہ نخواہ محبت اور ہمدردی کا عادی ہو جاتا ہے۔ اور اُس کی اِس عادت کا دائرہ وسیع ہو کر سب کو اپنی ہمدردی سے حصہ دیتا ہے۔ لیکن جو لوگ جوگیوں کی طرح نشوونما پاتے ہیں اُن کو اس عادت کے وسیع کرنے کا کوئی موقع نہیں ملتا اس لئے ان کے دل سخت اور خشک رہ جاتے ہیں۔
اور عصمت کو شفاعت سے کوئی حقیقی تعلق نہیں کیونکہ عصمت کا مفہوم صرف اِس حد تک ہے کہ انسان گناہ سے بچے اور گناہ کی تعریف یہ ہے کہ انسان خدا کے حکم کو عمدًا توڑ کر لائق سزا ٹھہرے۔ پس صاف ظاہر ہے کہ عصمت اور شفاعت میں کوئی تلازم ذاتی نہیں کیونکہ تعریف مذکورہ بالا کے رو سے نابالغ بچے اور پیدائشی مجنوں بھی معصوم ہیں وجہ یہ کہ وہ اس لائق نہیں ہیں کہ کوئی گناہ عمدًا کریں اور نہ وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک کسی فعل کے ارتکاب سے قابل سزا ٹھہرتے ہیں۔ پس بلاشبہ وہ حق رکھتے ہیں کہ ان کو معصوم کہا جائے مگر کیا وہ یہ حق بھی رکھتے ہیں کہ وہ انسانوں کے شفیع ہوں اور منجی کہلائیں؟ پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ منجی ہونے اور معصوم ہونے میں کوئی حقیقی نہیں ……
شخص شفیع کے لئے جیسا کہ ابھی مَیں نے بیان کیا ہے ضروری ہے کہ خدا سے اس کو ایک ایسا گہرا تعلق ہو کہ گویا خدا اُس کے دل میں اُترا ہوا ہو اور اس کی تمام انسانیت مر کر بال بال میں لاہوتی تجلّی پیدا ہو گئی ہو۔ اور اس کی رُوح پانی کی طرح گداز ہو کر خدا کی طرف بہ نکلی ہو اور اس طرح پر الٰہی قرب کے انتہائی نقطہ پر جا پہنچی ہو۔ اور اسی طرح شفیع کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جس کے لئے وہ شفاعت کرنا چاہتا ہے اُس کی ہمدردی میں اس کا دل اُڑا جاتا ہو ایسا کہ گویا عنقریب اس پر غشی طاری ہو گی۔ گویا شدتِ قلق سے اُس کے اعضاء اُس سے علیٰحدہ ہوتے جاتے ہیں اور اُس کے حواس منتشر ہیں اور اُس کی ہمدردی نے اُس کو اس مقام تک پہنچایا ہو کہ جو باپ سے بڑھ کر اور ماں سے بڑھ کر اور ہر ایک غم خوار سے بڑ ھ کر ہے۔ پس جب یہ دونوں حالتیں اس میں پیدا ہو جائیں گی تو وہ ایسا ہو جائے گا کہ گویا وہ ایک طرف سے لاہوت کے مقام سے جفت ہے اور دوسری طرف ناسوت کے مقام سے جفت، تب دونوں پلّہ میزان کے اُس میں مساوی ہوں گے۔ یعنی وہ مظہر لاہوت کامل بھی ہو گا اور مظہر ناسوت کامل بھی اور بطور برزخ دونوں حالتوں میں واقع ہو گا۔ اس طرح پر…
اِسی مقامِ شفاعت کی طرف قرآن شریف میں اشارہ فرما کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شفیع ہونے کی شان میں فرمایا ہے ۔ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوۡسَیۡنِ اَوۡ اَدۡنٰی یعنی یہ رسول خدا کی طرف چڑھا اور جہاں تک امکان میں ہے خدا سے نزدیک ہوا۔ اور قرب کے تمام کمالات کو طے کیا اور َلاہُوتی مقام سے پورا حصّہ لیا۔ اور پھر نَاسُوت کی طرف کامل رجوع کیا۔ یعنی عبودیّت کے انتہائی نقطہ تک اپنے تئیں پہنچایا اور بشریت کے پاک لوازم یعنی بنی نوع کی ہمدردی اور محبت سے جو نَاسُوتی کمال کہلاتا ہے پورا حصہ لیا۔ لہٰذا ایک طرف خدا کی محبت میں اور دوسری بنی نوع کی محبت میں کمال تام تک پہنچا۔ پس چونکہ وہ کامل طور پر خدا سے قریب ہوا اور پھر کامل طور پر بنی نوع سے قریب ہؤا۔ اس لئے دونوں طرف کے مساوی قرب کی وجہ سے ایسا ہو گیا۔ جیسا کہ دو قوسوں میں ایک خط ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ شرط جو شفاعت کے لئے ضروری ہے اس میں پائی گئی اور خدا نے اپنے کلام میں اس کے لئے گواہی دی کہ وہ اپنے بنی نوع میں اور اپنے خدا میں ایسے طور سے درمیان ہے جیسا کہ وتر دو قوسوں کے درمیان ہوتا ہے۔
اور پھر ایک اور مقام میں اس کے الٰہی قرب کی نسبت یوں فرمایا۔ قُلۡ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَنُسُکِیۡ وَمَحۡیَایَ وَمَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ یعنی لوگوں کو اطلاع دے دے کہ میری یہ حالت ہے کہ مَیں اپنے وجود سے بالکل کھویا گیا ہوں۔ میری تمام عبادتیں خدا کے لئے ہو گئی ہیں۔ …… یہ آیت بتلا رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر خدا میں گم اور محو ہو گئے تھے کہ آپ کی زندگی کے تمام انفاس اور آپ کی موت محض خدا کے لئے ہو گئی تھی۔ اور آپ کے وجود میں نفس اور مخلوق اور اسباب کا کچھ حصہ باقی نہیں رہا تھا اور آپ کی روح خدا کے آستانہ پر ایسے اخلاص سے گِری تھی کہ اس میں غیر کی ایک ذرّہ آمیزش نہیں رہی تھی ……
اور چونکہ خدا سے محبت کرنا اور اس کی محبت میں اعلیٰ مقامِ قرب تک پہنچنا ایک ایسا امر ہے جو کسی غیر کو اس پر اطلاع نہیں ہو سکتی اس لئے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے افعال ظاہر کئے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے درحقیقت تمام چیزوں پر خدا کو اختیار کر لیا تھا اور آپ کے ذرّہ ذرّہ اور رگ اور ریشہ میں خدا کی محبت اور خدا کی عظمت ایسے رچی ہوئی تھی کہ گویا آپ کا وجود خدا کی تجلّیات کے پورے مشاہدہ کے لئے ایک آئینہ کی طرح تھا۔ خدا کی محبت کاملہ کے آثار جس قدر عقل سوچ سکتی ہے وہ تمام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود تھے۔
(عصمت انبیاء علیہم السلام۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۶۵۵ تا ۶۶۶۔ کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن)سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اپنے جیسا خدا بھی نہیں بناتا کیونکہ اس کی صفت احدیت اور بے مثل اور مانند ہونے کی جو ازلی ابدی طور پر اس میں پائی جاتی ہے اس طرف توجہ کرنے سے اُس کو روکتی ہے ……
ہاں اِس طرح پر وہ اپنی ذات بے مثل و مانند کا نمونہ پیدا کرتا ہے کہ اپنی ذاتی خوبیاں جن پر اس کا علم محیط ہے عکسی طور پر بعض اپنی مخلوقات میں رکھ دیتا ہے۔ اور کمالات کا انتہائی درجہ جو حقیقی طور پر اس کو حاصل ہے ظلّی طور پر اس مخلوق کو بھی بخش دیتا ہے جیسا کہ اِسی کی طرف قرآن شریف میں اشارہ بھی ہے وَرَفَعَ بَعۡضَہُمۡ دَرَجٰتٍ اس جگہ صاحب درجاتِ رفیعہ سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں جن کو ظلی طور پر انتہائی درجہ کے کمالات جو کمالاتِ الوہیت کے اظلال و آثار ہیں بخشے گئے اور وہ خلافت حقہ جس کے وجود کامل کے تحقق کے لئے سِلسلہ بنی آدم کا قیام بلکہ ایجاد کل کائنات کا ہوا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجودِ باجود سے اپنے مرتبۂ اتم و اکمل میں ظہور پذیر ہو کر آئینہ خدا نما ہوئے۔ یہ بحث معارف الٰہیہ میں سے نہایت باریک بحث ہے اور ہمارے مخالفین جو ان نازک نکاتِ عرفانی سے بیگانہ اور اس کوچہ اسرار الوہیت سے ناآشنا محض ہیں وہ تعجب کریں گے کہ کیونکر کروڑ ہا اور بے شمار مخلوقات میں سے صرف ایک ہی شخص کو مرتبہ کاملہ خلافتِ تامہ حقّہ کا جو ظل مرتبہ الوہیت ہے حاصل ہو سکتا ہے۔ سو اگرچہ اس بحث کے طول دینے کا یہ موقع نہیں ہے لیکن تاہم اس قدر بیان کر دینا طالب حق کے سمجھانے کے لئے ضروری ہے کہ عادت اللہ یا تم یوں ہی سمجھ لو کہ اس کا قانون قدرت جو اس کی صفت وحدت کے مناسب حال ہے یہی ہے کہ وہ بوجہ واحد ہونے کے اپنے افعالِ خالقیت میں رعایت وحدت کو دوست رکھتا ہے جو کچھ اُس نے پیدا کیا ہے اگر ہم اس سب کی طرف نظر غور سے دیکھیں تو اس ساری مخلوقات کو جو اس دستِ قدرت سے صادر ہوئی ہے ایک ایسے سِلسلہ وحدانی اور باترتیب رشتہ میں منسلک پائیں گے کہ گویا وہ ایک خط مستقیم ممتد محدود ہے جس کی دونوں طرفوں میں سے ایک طرف ارتفاع اور دوسری طرف انخفاض ہے …… طرف ارتفاع کے اخیر نقطہ پر اُس استعداد کا انسان ہو گا جو اپنی استعداد انسانی میں سب نوع انسان سے بڑھ کر ہے اور طرف انحضاض میں وہ ناقص الاستعداد روح ہو گی جو اپنے غایت درجہ کے نقصان کی وجہ سے حیوانات لایعقل کے قریب قریب ہے۔ اور اگر سِلسلہ جمادی کی طرف نظر ڈال کر دیکھیں تو اس قاعدہ کو اَور بھی اس سے تائید پہنچتی ہے۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ نے چھوٹے سے چھوٹے جسم سے جو ایک ذرّہ ہے لے کر ایک بڑے سے بڑے جسم تک جو آفتاب ہے اپنی صفت خالقیّت کو تمام کیا ہے اور بلاشبہ خدائے تعالیٰ نے اس جمادی سِلسلہ میں آفتاب کو ایک ایسا عظیم الشان اور نافع اور ذی برکت وجود پیدا کیا ہے کہ طرف ارتفاع میں اس کے برابر کوئی دوسرا ایسا وجودنہیں ہے۔ سو اس سِلسلہ کے ارتفاع اور انخفاض پر نظر ڈال کر جو ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے روحانی سِلسلہ جو اُسی ہاتھ سے نکلا ہے اور اسی عادت اللہ سے ظہور پذیر ہوا ہے خود بلا تامل سمجھ میں آتا ہے کہ وہ بھی بلاتفاوت اِسی طرح واقعہ ہے اور یہی ارتفاع اور انخفاض اس میں بھی موجود ہے۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ کے کام یک رنگ اور یکساں ہیں اس لئے کہ وہ واحد ہے اور اپنے اصدار افعال میں وحدت کو دوست رکھتا ہے۔ پریشانی اور اختلاف اس کے کاموں میں راہ نہیں پا سکتا اور خود یہ کیا ہی پیارا اور موزوں طریق معلوم ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کے کام باقاعدہ اور ایک ترتیب سے مرتب اور ایک سلک میں منسلک ہوں۔
اب جبکہ ہم نے ہر طرح سے ثبوت پا کر بلکہ بہ بداہت دیکھ کر خدائے تعالیٰ کے اِس قانون قدرت کو مان لیا کہ اس کے تمام کام کیا روحانی اور کیا جسمانی پریشان اور مختلف طور پر نہیں ہیں جن میں یونہی گڑبڑ پڑا ہو بلکہ ایک حکیمانہ ترتیب سے مرتب اور ایک ایسے باقاعدہ سِلسلہ میں بندھے ہوئے ہیں۔ جو ایک ادنیٰ درجہ سے شروع ہو کر انتہائی درجہ تک پہنچتا ہے اور یہی طریق وحدت اُسے محبوب بھی ہے تو اس قانون قدرت کے ماننے سے ہمیں یہ بھی ماننا پڑا کہ جیسے خدائے تعالیٰ نے جمادی سِلسلہ میں ایک ذرّہ سے لے کر اس وجودِاعظم تک یعنی آفتاب تک نوبت پہنچائی ہے جو ظاہری کمالات کا جامع ہے۔ جس سے بڑھ کر اور کوئی جسم جمادی نہیں۔ ایسا ہی روحانی آفتاب بھی کوئی ہو گا جس کا وجود خطِ مستقیم مثالی میں ارتفاع کے اخیر نقطہ پر واقع ہو۔ اب تفتیش اس بات کی کہ وہ انسانِ کامل جس کو روحانی آفتاب سے تعبیر کیا گیا ہے وہ کون ہے اور اُس کا کیا نام ہے؟ یہ ایسا کام نہیں ہے جس کا تصفیہ مجرد عقل سے ہو سکے کیونکہ بجز خدائے تعالیٰ کے یہ امتیاز کس کو حاصل ہے اور کون مجرد عقل سے ایسا کام کر سکتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کے کروڑ ہا اور بے شمار بندوں کو نظر کے سامنے رکھ کر اور اُن کی روحانی طاقتوں اور قوتوں کا موازنہ کر کے سب سے بڑے کو الگ کر کے دکھلاوے۔ بلاشبہ عقلی طور پر کسی کو اس جگہ دم مارنے کی جگہ نہیں ہاں ایسے بلند اور عمیق دریافت کرنے کے لئے کتب الہامی ذریعہ ہیں جن میں خود خدائے تعالیٰ نے پیش از ظہور بلکہ ہزار ہا برس پہلے اس انسان کامل کا پتہ و نشان بیان کر دیا ہے۔ پس جس شخص کے دل کو خدائے تعالیٰ اپنی توفیق خاص سے اس طرف ہدایت دے گا کہ وہ الہام اور وحی پر ایمان لاوے اور ان پیشگوئیوں پر غور کرے کہ بائیبل میں درج ہیں تو اُسے ضرور ماننا پڑے گا کہ وہ انسان کامل جو آفتاب روحانی ہے جس سے نقطہ ارتفاع کا پورا ہوا ہے اور جو دیوار نبوت کی آخری اینٹ ہے وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں …… اور وجود خیر مجسم جس کا نفسی نقطہ انتہائی درجۂ کمال ارتفاع پر واقع ہے یعنی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس کا مقام معراج خارجی جو منتہائے مقامِ عروج (یعنی عرش ربّ العالمین ہے) بتلایا گیا ہے۔ یہ درحقیقت اِسی انتہائی درجۂ کمال ارتفاع کی طرف اشارہ ہے جو اس وجود باجود کو حاصل ہے۔ گویا جو کچھ اس وجود خیر مجسم کو عالمِ قضاء و قدر میں حاصل تھا وہ عالمِ مثال میں مشہود و محسوس طور پر دکھایا گیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ اس نبی کریم کی شانِ رفیع کے بارہ میں فرماتا ہے وَرَفَعَ بَعۡضَہُمۡ دَرَجٰتٍ پس اس رفع درجات سے وہی انتہائی درجہ کا ارتفاع مراد ہے جو ظاہری اور باطنی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے اور یہ وجود باجود جو خیر مجسم ہے مقربین کی تین قسموں سے اعلیٰ و اکمل ہے جو الوہیت کا مظہر اتم کہلاتا ہے۔
جاننا چاہئے کہ قرب الٰہی کی تین قسمیں تین قسم کی تشبیہہ پر موقوف ہیں جن کی تفصیل سے مراتب ثلاثہ قرب کی حقیقت معلوم ہوتی ہے اوّل قسم قرب کی خادم اور مخدوم کے تشبہ سے مناسبت رکھتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ یعنی مومن جن کو دوسرے لفظوں میں بندہ فرمانبردار کہہ سکتے ہیں سب چیز سے زیادہ اپنے مولیٰ سے محبت رکھتے ہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جیسے ایک نوکر بااخلاص و باصفا و باوفا بوجہ مشاہدہ احساناتِ متواترہ و انعاماتِ متکاثرہ و کمالاتِ ذاتیہ اپنے آقا کی اِس قدر محبت و اخلاص و یک رنگی میں ترقی کر جاتا ہے جو بوجہ ذاتی محبت کے جو اس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے اپنے آقا سے ہم طبیعت و ہم طریق ہو جاتا ہے اور اُس کی مرادات کا ایسا ہی طالب اور خواہاں ہوتا ہے جیسے آقا خود اپنی مرادات کا خواہاں ہے۔ اِسی طرح بندۂ وفادار کی حالت اپنے مولیٰ کریم کے ساتھ ہوتی ہے۔ یعنی وہ بھی اپنے خلوص اور صدق و صفا میں ترقی کرتا کرتا اس درجہ تک پہنچ جاتا ہے کہ اپنے وجود سے بکلّی محو و فنا ہو کر اپنے مولاکریم کے رنگ میں مل جاتا ہے ……
قرب کی دوسری قسم ولد اور والد کی تشبہ سے مناسبت رکھتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ کَذِکۡرِکُمۡ اٰبَآءَکُمۡ اَوۡ اَشَدَّ ذِکۡرًا یعنی اپنے اللہ جَلَّشَانہٗ کو ایسے دلی جوش محبت سے یاد کرو جیسا باپوں کو یاد کیا جاتا ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ مخدوم اُس وقت باپ سے مشابہ ہو جاتا ہے جب محبت میں غایت درجہ شدّت واقع ہو جاتی ہے اور حُبّ جو ہر یک کدورت اور غرض سے مصفّا ہے دل کے تمام پردے چیر کر دل کی جڑ میں اس طرح سے بیٹھ جاتی ہے کہ گویا اُس کی جز ہے۔ تب جس قدر جوش محبت اور پیوند شدید اپنے محبوب سے ہے وہ سب حقیقت میں مادر زاد معلوم ہوتا ہے اور ایسا طبیعت سے ہم رنگ اور اس کی جز ہو جاتا ہے کہ سعی اور کوشش کا ذریعہ ہرگز یادنہیں رہتا۔ اور جیسے بیٹے کو اپنے باپ کا وجود تصوّر کرنے سے ایک روحانی نسبت محسوس ہوتی ہے ایسا ہی اس کو بھی ہر وقت باطنی طور پر اس نسبت کا احساس ہوتا رہتا ہے۔ اور جیسے بیٹا اپنے باپ کا حلیہ اور نقوش نمایاں طور پر اپنے چہرہ پر ظاہر رکھتا ہے اور اس کی رفتار اور کردار اور خو اور بو بصفائی تمام اس میں پائی جاتی ہے۔ علیٰ ہذا القیاس یہی حال اس میں ہوتا ہے …
تیسری قسم کا قرب ایک ہی شخص کی صورت اور اس کے عکس سے مشابہت رکھتا ہے یعنی جیسے ایک شخص آئینہ صاف وسیع میں اپنی شکل دیکھتا ہے تو تمام شکل اس کی معہ اپنے تمام نقوش کے جو اس میں موجود ہیں عکسی طور پر اس آئینہ میں دکھائی دیتی ہے۔ ایسا ہی اس قسمِ ثالث قرب میں تمام صفات الٰہیہ صاحب قرب کے وجود میں بہ تمامتر صفائی منعکس ہو جاتی ہیں اور یہ انعکاس ہر یک قسم کی تشبّہ سے جو پہلے اس سے بیان کیا گیا ہے اتم و اکمل ہے کیونکہ یہ صاف ظاہر ہے کہ جیسے ایک شخص آئینہ صاف میں اپنا منہ دیکھ کر اس شکل کو اپنی شکل کے مطابق پاتا ہے۔ وہ مطابقت اور مشابہت اس کی شکل سے نہ کسی غیر کو کسی حیلہ یا تکلّف سے حاصل ہو سکتی ہے اور نہ کسی فرزند میں ایسی ہو بہو مطابقت پائی جاتی ہے اور یہ مرتبہ کس کے لئے میسّر ہے اور کون اس کامل درجہ قرب سے موسوم ہے؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ یہ اُسی کو میسّر آتا ہے کہ جو الوہیت و عبودیت کے دونوں قوسوں کے بیچ میں کامل طور پر ہو کر دونوں قوسوں سے ایسا شدید تعلّق پکڑتا ہے کہ گویا ان دونوں کا عین ہو جاتا ہے اور اپنے نفس کو بکلّی درمیان سے اٹھا کر آئینہ صاف کا حکم پیدا کر لیتا ہے اور وہ آئینہ ذوجہتین ہونے کی وجہ سے ایک جہت سے صورتِ الٰہیہ بطور ظلّی حاصل کرتا ہے اور دوسری جہت سے وہ تمام فیض حسب استعداد و طبائع مختلفہ اپنے مقابلین کو پہنچاتا ہے۔ اِسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوۡسَیۡنِ اَوۡ اَدۡنٰی پھر نزدیک ہوا (یعنی اللہ تعالیٰ سے) پھر نیچے کی طرف اُترا (یعنی مخلوق کی طرف تبلیغ احکام کے لئے نزول کیا) پس اسی جہت سے کہ وہ اوپر کی طرف صعود کر کے انتہائی درجہ قرب تام کو پہنچا اور اس میں اور حق میں کوئی حجاب نہ رہا اور پھر نیچے کی طرف اُس نے نزول کیا اور اس میں اور خلق میں کوئی حجاب نہ رہا یعنی چونکہ وہ اپنے صعود اور نزول میں اتم و اکمل ہوا اور کمالات انتہائیہ تک پہنچ گیا اس لئے دو قوسوں کے بیچ میں یعنی وتر کی جگہ میں جو قُطر دائرہ ہے اتم اور اکمل طور پر اس کا مقام ہوا بلکہ وہ قوس الوہیت اور قوس عبودیت کی طرف اس سے بھی زیادہ تر جو خیال و گمان و قیاس میں نہیں آ سکتا نزدیک ہوا۔ مثلاً صورت ان دو قوسوں کی یہ ہے۔
اِس شکل میں جو خطِ مرکز دائرہ کو قطع کرتاہے یعنی جو قطر دائرہ ہے وہی قاب قوسین یعنی دونوں قوسوں کا وتر ہے۔ جاننا چاہئے کہ دونو ں قسم وجود واجب اور ممکن کے ایک ایسے دائرہ کی طرح ہیں کہ جو خط گذرندہ برمرکز سے دو قوسوں پر منقسم ہو۔ وہی خط جو قطر دائرہ ہے جس کو قرآن شریف میں سے تعبیر کیا ہے اور عام بول چال علم ہندسہ میں اس کو وتر قوسین کہتے ہیں وہ ذات مفیض اور مستفیض میں بطور برزخ واقع ہے کہ جو اپنے اخص کمال میں جو انتہائی درجہ کمالات کا ہے نقطہ مرکز دائرہ سے جو وتر قوس کا درمیانی نقطہ ہے مشابہت رکھتا ہے۔ یہی نقطہ تمام کمالات انسان کامل کا دل ہے جو قوس الوہیت و عبودیت کی طرف بخطوط مساویہ نسبت رکھتا ہے اور یہی نقطہ ارفع نقاط ان خطوط عمودیہ کا ہے جو محیط سے قطر دائرہ تک کھینچے جائیں۔ اگرچہ وتر قوسین اور بہت سے ایسے نقاط سے تالیف یافتہ ہے جو درحقیقت کمالات روحانیہ صاحب وتر کے صور محسوسہ ہیں لیکن بجز ایک نقطہ مرکز کے اور جس قدر نقاط وتر ہیں ان میں دوسرے انبیاء و رسل و ارباب صدق و صفا بھی شریک ہیں اور نقطہ مرکز اس کمال کی صورت ہے کہ جو صاحب وتر کو بہ نسبت جمیع دوسرے کمالات کے اعلیٰ و ارفع و اخص و ممتاز طور پر حاصل ہے جس میں حقیقی طور پر مخلوق میں سے کوئی اس کا شریک نہیں ہاں اتباع و پیروی سے ظلی طور پر شریک ہو سکتا ہے۔ اب جاننا چاہئے کہ دراصل اسی نقطہ وسطیٰ کا نام حقیقتِ محمدیہ ہے جو اجمالی طور پر جمیع حقائق عالم کا منبع و اصل ہے اور درحقیقت اسی ایک نقطہ سے خط وتر انبساط و امتداد پذیر ہوا ہے۔ اور اسی نقطہ کی روحانیت تمام خط وتر میں ایک ہویّت ساریہ ہے جس کا فیض اقدس اس سارے خط کو تعین بخش ہو گیا ہے عالم جس کو متصوفین اسماء اللہ سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ اس کا اوّل و اعلیٰ مظہر جس سے وہ عَلٰی وَجْہِ التَّفْصِیْل صدور پذیر ہوا ہے یہی نقطہ درمیانی ہے جس کو اصطلاحات اہل اللہ میں نفسی نقطہ احمد مجتبیٰ و محمد مصطفیٰؐ نام رکھتے ہیں اور فلاسفہ کی اصطلاحات میں عقل اوّل کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔ اور اس نقطہ کو دوسرے وتری نقاط کی طرف وہی نسبت ہے جو اسم اعظم کو دوسرے اسماء الٰہیہ کی طرف نسبت واقعہ ہے۔ غرض سرچشمہ رموز غیبی و مفتاح کنوز لاریبی اور انسان کامل دکھلانے کا آئینہ یہی نقطہ ہے اور تمام اسرار مبدء ومعاد کی علّتِ غائی اور ہر یک زیر و بالا کی پیدائش کی لمیت یہی ہے جس کے تصوّر بالکنہ و تصور بکنہ سے تمام عقول و افہام بشریّہ عاجز ہیں اور جس طرح ہر یک حیات خدائے تعالیٰ کی حیات سے مستفاض اور ہر یک وجود اس کے وجود سے ظہور پذیر اور ہر یک تعین اس کے تعین سے خلعت پوش ہے۔ ایسا ہی نقطہ محمدیہ جمیع مراتب اکوان اور خطائر امکان میں بِاِذْنِہٖ تَعَالٰی حسب استعداداتِ مختلفہ و طبائع متفاوتہ مؤثر ہے۔ اور چونکہ یہ نقطہ جمیع مراتب الٰہیہ کا ظلّی طور پر اور جمیع مراتب کونیہ کا منبعی و اصلی طور پر جامع بلکہ انہیں دونوں کا مجموعہ ہے اس لئے یہ ہر یک مرتبہ کونیہ پر جو عقول و نفوس کلیّہ و جزئیہ و مراتب طبعیہ الیٰ آخر تنزلات وجود سے مراد ہے اجمالی طور پر احاطہ رکھتا ہے۔ ایسا ہی ظل الوہیت ہونے کی وجہ سے مرتبہ الٰہیہ سے اس کو ایسی مشابہت ہے جیسے آئینہ کے عکس کو اپنے اصل سے ہوتی ہے۔ اور امہات صفاتِ الٰہیہ یعنی حیات، علم، ارادہ، قدرت، سمع، بصر، کلام مع اپنے جمیع فروع کے اتم و اکمل طور پر اس میں انعکاس پذیر ہیں۔ اس نقطہ مرکز کو جو بزرخ بین اللہ و بین الخلق ہے یعنی نفسی نقطہ حضرت سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو مجرد کلمۃ اللہ کے مفہوم تک محدودنہیں کر سکتے جیسا کہ مسیح کو اس نام سے محدود کیا گیا ہے کیونکہ یہ نقطہ محمدیہ ظلّی طور پر مستجمع جمیع مراتب الوہیت ہے۔ اسی وجہ سے تمثیلی بیان میں حضرت مسیح کو ابن سے تشبیہہ دی گئی ہے بباعث اس نقصان کے جو اُن میں باقی رہ گیا ہے کیونکہ حقیقت عیسویہ مظہر اتم صفات الوہیت نہیں ہے بلکہ اس کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے۔ برخلاف حقیقت محمدیہ کے کہ وہ جمیع صفات الٰہیہ کا اتم و اکمل مظہر ہے جس کا ثبوت عقلی و نقلی طور پر کمال درجہ پر پہنچ گیا ہے۔ سو اسی وجہ سے تمثیلی بیان میں ظلی طور پر خدائے قادر ذوالجلال سے آنحضرتؐ کو آسمانی کتابوں میں تشبیہہ دی گئی ہے جو اِبْن کے لئے بجائے اَبْ ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیم کا اضافی طور پر ناقص ہونا اور قرآنی تعلیم کا سب الہامی تعلیموں سے اکمل و اتم ہونا وہ بھی درحقیقت اسی بنا پر ہے۔ کیونکہ ناقص پر ناقص فیضان ہوتا ہے اور اکمل پر اکمل۔
اور جو تشبیہات قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ظلّی طور پر خداوند قادر مطلق سے دی گئی ہیں اُن میں سے ایک یہی آیت ہے جو اللہ تعالی فرماتا ہے۔ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوۡسَیۡنِ اَوۡ اَدۡنٰی یعنی وہ (حضرت سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی ترقیات کاملہ قرب کی وجہ سے دو قوسوں میں بطور وتر کے واقع ہے بلکہ اس سے نزدیک تر۔ اب ظاہر ہے کہ وتر کی طرف اعلیٰ میں قوس الوہیت ہے۔ سو جبکہ نفس پاک محمدؐ ی اپنے شدّت قرب اور نہایت درجہ کی صفائی کی وجہ سے وتر کی حد سے آگے بڑھا اور دریائے الوہیت سے نزدیک تر ہوا تو اس ناپیدا کنار دریا میں جا پڑا اور الوہیت کے بحر اعظم میں ذرّہ بشریت گم ہو گیا اور یہ بڑھنا نہ مستحدث اور جدید طور پر بلکہ وہ ازل سے بڑھا ہوا تھا اور ظلّی اور مستعار طو رپر اس بات کے لائق تھا کہ آسمانی صحیفے اور الہامی تحریریں اس کو مظہر اتم الوہیت قرار دیں اور آئینہ حق نما اس کو ٹھہراویں۔ پھر دوسری آیت قرآن شریف کی جس میں یہی تشبیہہ نہایت اصفیٰ اور اجلٰی طور پر دی گئی ہے یہ ہے اِنَّ الَّذِیۡنَ یُبَایِعُوۡنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوۡنَ اللّٰہَ ؕ یَدُ اللّٰہِ فَوۡقَ اَیۡدِیۡہِمۡ یعنی جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ واضح ہو کہ جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تھے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کیا کرتے تھے اور مردوں کے لئے یہی طریق بیعت کا ہے۔ سو اس جگہ اللہ تعالیٰ نے بطریق مجاز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کو اپنی ذاتِ اقدس ہی قرار دے دیا اور ان کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا۔ یہ کلمہ مقامِ جمع میں ہے۔ جو بوجہ نہایت قرب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بولا گیا ہے اور اِسی مرتبہ جمع کی طرف جو محبّت تامہ دوطرفہ پر موقوف ہے اس آیت میں بھی اشارہ ہے۔ رَمَیۡتَ اِذۡ رَمَیۡتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی تُونے نہیں چلایا خدا نے ہی چلایا جبکہ تُو نے چلایا۔ ایسا ہی یہ اشارہ اس دوسری آیت میں پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
قُلۡ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا یعنی ان کو کہہ دے کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر اسراف کیا (یعنی ارتکاب کبائر کیا) تم خدا کی رحمت سے نومید مت ہو۔ وہ تمہارے سب گناہ بخش دے گا۔ اب ظاہر ہے کہ بنی آدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تو بندے نہیں ہیں بلکہ سب نبی و غیر نبی خدائے تعالیٰ کے بندے ہیں۔ لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مولیٰ کریم سے قُربِ اتم یعنی تیسرے درجے کا قرب حاصل تھا۔ سو یہ سخن بھی مقامِ جمع سے سرزد ہوا اور مقام جمع قاب قوسین کا مقام ہے جس کی تفاصیل کتب تصوف میں موجود ہے۔ ایسا ہی اللہ تعالیٰ نے مقامِ جمع کے لحاظ سے کئی نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے رکھ دیئے ہیں جو خاص اُس کی صفتیں ہیں۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد رکھا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ نہایت تعریف کیا گیا۔ سو یہ غایت درجہ کی تعریف حقیقی طور پر خدائے تعالیٰ کی شان کے لائق ہے۔ مگر ظلّی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی۔ ایسا ہی قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نور جو دنیا کو روشن کرتا ہے اور رحمت جس نے عالم کو زوال سے بچایا ہوا ہے آیا ہے اور رؤوف اور رحیم جو خدائے تعالیٰ کے نام ہیں۔ ان ناموں سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پکارے گئے ہیں اور کئی مقام قرآن شریف میں اشارات و تصریحات سے بیان ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مظہر اتم الوہیت ہیں اور ان کا کلام خدا کا کلام اور ان کا ظہور خدا کا ظہور اور ان کا آنا خدا کا آنا ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں اِس بارے میں ایک یہ آیت بھی ہے۔ کہہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل نے بھاگنا ہی تھا۔ حق سے مراد اس جگہ اللہشانہٗ اور قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور باطل سے مراد شیطان اور شیطان کا گروہ اور شیطانی تعلیمیں ہیں۔ سو دیکھو اپنے نام میں خدائے تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیونکر شامل کر لیا اور آنحضرت کا ظہور فرمانا خدائے تعالیٰ کا ظہور فرمانا ہوا ایسا جلالی ظہور جس سے شیطان معہ اپنے تمام لشکروں کے بھاگ گیا۔ اور اس کی تعلیمیں ذلیل اور حقیر ہو گئیں اور اس کے گروہ کو بڑی بھاری شکست آئی۔ اسی جامعیت تامہ کی وجہ سے سورۃ آل عمران جزو تیسری میں مفصّل یہ بیان ہے کہ تمام نبیوں سے عہد و اقرار لیا گیا کہ تم پر واجب و لازم ہے کہ عظمت و جلالّیت شان خاتم الرسل پر جو محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ایمان لاؤ اور ان کی اس عظمت اور جلالیت کی اشاعت کرنے میں بدل و جان مدد کرو۔ اسی وجہ سے حضرت آدم صفی اللہ سے لے کر تا حضرت مسیح کلمۃ اللہ جس قدر نبی و رسول گذرے ہیں وہ سب کی سب عظمت و جلالّیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اقرار کرتے آئے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے توریت میں یہ بات کہہ کر کہ خدا سینا سے آیا اور سعیر سے طلوع ہوا اور فاران کے پہاڑ سے اُن پر چمکا صاف جتلا دیا کہ جلالیت الٰہی کا ظہور فاران پر آکر اپنے کمال کو پہنچ گیا اور آفتاب صداقت کی پوری پوری شعاعیں فاران پر ہی آ کر ظہور پذیر ہوئیں اور وہی توریت ہم کو یہ بتلاتی ہے کہ فاران مکّہ معظمہ کا پہاڑ ہے جس میں حضرت اسماعیل علیہ السلام جدّ امجد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سکونت پذیر ہوئے اور یہی بات جغرافیہ کے نقشوں سے بپایۂ ثبوت پہنچتی ہے اور ہمارے مخالف بھی جانتے ہیں کہ مکّہ معظمہ میں سے بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی رسول نہیں اُٹھا۔ سو دیکھو حضرت موسیٰ۔ کیسی صاف صاف شہادت دی گئی ہے کہ وہ آفتاب صداقت جو فاران کے پہاڑ سے ظہور پذیر ہو گا اُس کی شعاعیں سب سے زیادہ تیز ہیں اور سلسلۂ ترقیات نور صداقت اُسی کی ذات جامع برکات پر ختم ہے۔ …
اس تمام تقریر کا مدعا و خلاصہ یہ ہے کہ عند العقل قرب الٰہی کے مراتب تین قسم پر منقسم ہیں اور تیسرا مرتبہ قرب کا جو مظہر اتم الوہیت اور آئینہ خدا نما ہے حضرت سیّدنا و مولانا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مُسلّم ہے جس کی شعاعیں ہزارہا دلوں کو منور کر رہی ہیں اور بے شمار سینوں کو اندرونی ظلمتوں سے پاک کر کے نور قدیم تک پہنچا رہے ہیں۔ وَلِلّٰہِ دَرُّ الْقَائِل
محمدؐ عربی بادشاہ ہر دو سرا
کرے ہے رُوح قدس جس کے در کی دربانی
اسے خدا تو نہیں کہہ سکوں پہ کہتا ہوں
کہ اس کی مرتبہ دانی میں ہے خدا دانی
تا بر دلم نظر شد از مہر و ماہِ مارا
کردست سیم خالص قلبِ سیاہ مارا
لطف عمیم دلبر ہر دم مرا بخواند
ہر چند می زنند ایں اغیار راہِ مارا
درکوئے دلستانم چوں خاک کو شب و روز
دیگر نشاں چہ باشد اقبال و جاہِ مارا163
قرآن شریف میں اس مسئلہ کو ایک عمدہ مثال میں بیان کیا ہے جو ذیل میں معہ ایک لطیف تحقیقات جو اس کی تفسیر سے متعلق اور بحث ہذا کی تکمیل کے لئے ضروری ہے لکھی جاتی ہے اور وہ یہ ہے
خدا آسمان و زمین کا نور ہے یعنی ہر ایک نُور جو بلندی اور پستی میں نظر آتا ہے خواہ وہ ارواح میں ہے خواہ اجسام میں اور خواہ ذاتی ہے اور خواہ عرضی اور خواہ ظاہری ہے اور خواہ باطنی اور خواہ ذہنی ہے خواہ خارجی اُسی کے فیض کا عطیہ ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرتِ ربّ العالمین کا فیض عام ہر چیز پر محیط ہو رہا ہے اور کوئی اس کے فیض سے خالی نہیں۔ وہی تمام فیوض کا مبدء ہے اور تمام انوار کا عِلَّتُ الْعِلَل اور تمام رحمتوں کا سرچشمہ ہے۔ اُسی کی ہستی حقیقی تمام عالم کی قیّوم اور تمام زیر و زبر کی پنا ہ ہے۔ وہی ہے جس نے ہر یک چیز کو ظلمت خانۂ عدم سے باہر نکالا اور خلعت وجود بخشا۔ بجز اس کے کوئی ایسا وجودنہیں ہے کہ جو فی حدِّ ذاتہٖ واجب اور قدیم ہو یا اس سے مستفیض نہ ہو بلکہ خاک اور افلاک اور انسان اور حیوان اور حجر اور شجر اور رُوح اور جسم سب اُسی کے فیضان سے وجود پذیر ہیں۔ یہ تو عام فیضان ہے جس کا بیان آیت اَللّٰہُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ میں ظاہر فرمایا گیا۔ یہی فیضان ہے جس نے دائرہ کی طرح ہر یک چیز پر احاطہ کر رکھا ہے جس کے فائز ہونے کے لئے کوئی قابلیت شرط نہیں لیکن بمقابلہ اس کے ایک خاص فیضان بھی ہے جو مشروط بشرائط ہے اور اُنہیں افرادِ خاصہ پر فائض ہوتا ہے جن میں اس کے قبول کرنے کی قابلیت و استعداد موجود ہے۔ یعنی نفوس کاملہ انبیاء علیہم السلام پر جن میں سے افضل و اعلیٰ ذات جامع البرکات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے دوسروں پر ہرگز نہیں ہوتا۔ اور چونکہ وہ فیضان ایک نہایت باریک صداقت ہے اور دقائق حکمیہ میں سے ایک دقیق مسئلہ ہے اس لئے خداوند تعالیٰ نے اوّل فیضان عام کو (جو بدیہی الظہور ہے) بیان کر کے پھر اس فیضان خاص کو بغرضِ اظہار کیفیت نور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ایک مثال میں بیان فرمایا ہے کہ جو اس آیت سے شروع ہوتی ہے۔ مَثَلُ نُوْرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ فِیْھَا مِصْبَاحٌ الخ۔ اور بطور مثال اس لئے بیان کیا کہ تا اس دقیقۂ نازک کے سمجھنے میں ابہام اور دقّت باقی نہ رہے کیونکہ معانی ٔ معقولہ کو صُورِ محسوسہ میں بیان کرنے سے ہر یک غبی و بلید بھی بآسانی سمجھ سکتا ہے۔ بقیہ ترجمہ آیاتِ ممدوحہ یہ ہے۔ اُس نور کی مثال (فرد کامل میں جو پیغمبر ہے) یہ ہے جیسے ایک طاق (یعنی سینہ مشروح حضرت پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم) اور طاق میں ایک چراغ (یعنی وحی اللہ) اور چراغ ایک شیشہ کی قندیل میں جو نہایت مصفّٰی ہے (یعنی نہایت پاک اور مقدس دل میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دل ہے جو کہ اپنی اصل فطرت میں شیشۂ سفید اور صافی کی طرح ہر َیک طور کی کثافت اور کدورت سے منزہ اور مطہّر ہے۔ اور تعلقاتِ ماسوی اللّٰہ سے بکلّی پاک ہے) اور شیشہ ایسا صاف کہ گویا اُن ستاروں میں سے ایک عظیم النّور ستارہ ہے جو کہ آسمان پر بڑی آب و تاب کے ساتھ چمکتے ہوئے نکلتے ہیں جن کو کوکب درّی کہتے ہیں۔ (یعنی حضرت خاتم الانبیاء کا دل ایسا صاف کہ کوکبِ درّی کی طرح نہایت منور اور درخشندہ جس کی اندرونی روشنی اس کے بیرونی قالب پر پانی کی طرح بہتی ہوئی نظر آتی ہے) وہ چراغ زیتون کے شجرۂ مبارکہ سے (یعنی زیتون کے روغن سے) روشن کیا گیا ہے۔ (شجرۂ مبارکہ زیتون سے مراد وجود مبارک محمدؐ ی ہے کہ جو بوجہ نہایت جامعیت و کمال انواع و اقسام کی برکتوں کا مجموعہ ہے جس کا فیض کسی جہت و مکان و زمان سے مخصوص نہیں بلکہ تمام لوگوں کے لئے عام علیٰ سبیل الدوام ہے اور ہمیشہ جاری ہے کبھی منقطع نہیں ہو گا) اور شجرہ مبارکہ نہ شرقی ہے نہ غربی (یعنی طینت پاک محمدی میں نہ افراط ہے نہ تفریط۔ بلکہ نہایت توسط و اعتدال پر واقع ہے اور احسن تقویم پر مخلوق ہے اور یہ جو فرمایا کہ اس شجرۂ مبارکہ کے روغن سے چراغِ وحی روشن کیا گیا ہے سو روغن سے مراد عقلِ لطیف نورانی محمدی معہ جمیع اخلاق فاضلہ فطرتیہ ہے جو اس عقل کامل کے چشمہ صافی سے پروردہ ہیں۔ اور وحی کا چراغ لطائف محمدیہ سے روشن ہونا ان معنوں کر کے ہے کہ ان لطائف قابلہ پر وحی کا فیضان ہوا اور ظہور وحی کا موجب وہی ٹھہرے۔ اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ فیضانِ وحی ان لطائف محمدیہ کے مطابق ہوا اور انہیں اعتدالات کے مناسب حال ظہور میں آیا کہ جو طینت محمدیہ میں موجود تھی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہر یک وحی نبی ٔ منزّل علیہ کی فطرت کے موافق نازل ہوتی ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مزاج میں جلال اور غضب تھا۔ توریت بھی موسوی فطرت کے موافق ایک جلالی شریعت نازل ہوئی۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے مزاج میں حلم اور نرمی تھی سو انجیل کی تعلیم بھی حِلم اور نرمی پر مشتمل ہے۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج بغایت درجہ وضع استقامت پر واقع تھا نہ ہر جگہ حِلم پسند تھا اور نہ ہر مقام غضب مرغوب خاطر تھا۔ بلکہ حکیمانہ طور پر رعایت محل اور موقع کی ملحوظ طبیعت مبارک تھی سو قرآن شریف بھی اِسی طرزِ موزون و معتدل پر نازل ہوا کہ جامع شدت و رحمت و ہیبت و شفقت و نرمی و درشتی ہے۔ سو اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا کہ چراغِ وحی ٔ فرقان اس شجرۂ مبارکہ سے روشن کیا گیا ہے کہ نہ شرقی ہے اور نہ غربی یعنی طینت معتدلہ محمدیہ کے موافق نازل ہوا ہے۔ جس میں نہ مزاجِ موسوی کی طرح درشتی ہے نہ مزاج عیسوی کی مانندنرمی بلکہ درشتی اور نرمی اور قہر اور لطف کا جامع ہے۔ اور مظہر کمال اعتدال اور جامع بین الجلال و الجمال ہے۔ اور اخلاق معتدلہ فاضلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کہ جو بمعیّتِ عقل لطیف روغن ظہور روشنی وحی قرار پائی اُن کی نسبت ایک دوسرے مقام میں بھی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو مخاطب کرکے فرمایا ہے اور وہ یہ ہے۔ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ۔ نمبر ۲۹ یعنی تو اے نبی ایک خلقِ عظیم پر مخلوق و مفطور ہے یعنی اپنی ذات میں تمام مکارمِ اخلاق کا ایسا متمّم ومکمل ہے کہ اس پر زیادت متصور نہیں کیونکہ لفظ عظیم محاورۂ عرب میں اس چیز کی صفت میں بولا جاتا ہے جس کو اپنا نوعی کمال پور اپورا حاصل ہو۔ مثلاً جب کہیں کہ یہ درخت عظیم ہے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ جس قدر طول و عرض درخت میں ہو سکتا ہے وہ سب اس میں موجود ہے اور بعضوں نے کہا ہے کہ عظیم وہ چیز ہے جس کی عظمت اِس حدّ تک پہنچ جائے کہ حیطۂ ادراک سے باہر ہو۔ اور خُلق کے لفظ سے قرآن شریف اور ایسا ہی دوسری کتب حکمیہ میں صرف تازہ روی اور حسنِ اختلاط یا نرمی و تلطّف و ملائمت (جیسا عوام الناس خیال کرتے ہیں ) مرادنہیں ہے۔ بلکہ خَلق بفتح خا اور خُلق بضمّ خا دو لفظ ہیں جو ایک دوسرے کے مقابل واقعہ ہیں۔ خَلق بفتح خا سے مراد وہ صورت ظاہری ہے جو انسان کو حضرت وَاہِبُ الصُّوَر کی طرف سے عطا ہوئی جس صورت کے ساتھ وہ دوسرے حیوانات کی صورتوں سے ممیز ہے اور خُلق بضمِّ خا سے مراد وہ صورت باطنی یعنی خواصِ اندرونی ہیں جن کی رُو سے حقیقت انسانیہ حقیقت حیوانیہ سے امتیاز کلّی رکھتی ہے۔ پس جس قدر انسان میں من حیث الانسانیت اندرونی خواص پائے جاتے ہیں اور شجرۂ انسانیت کو نچوڑ کر نکل سکتے ہیں۔ جو کہ انسان اور حیوان میں من حیث الباطن مابہ الامتیاز ہیں ان سب کا نام خُلق ہے۔ اور چونکہ شجرۂ فطرت انسانی اصل میں توسط اور اعتدال پر واقعہ ہے اور ہر یک افراط و تفریط سے جو قویٰ حیوانیہ میں پایا جاتا ہے۔ منزہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ نمبر ۳۰۔ اس لئے خُلق کے لفظ سے جو کسی مذمت کی قید کے بغیر بولا جائے ہمیشہ اخلاقِ فاضلہ مراد ہوتے ہیں۔ اور وہ اخلاقِ فاضلہ جو حقیقت انسانیہ ہے تمام وہ خواص اندرونی ہیں جو نفس ناطقہ انسان میں پائے جاتے ہیں۔ جیسے عقل، ذکا، سُرعت فہم، صفائی ذہن، حسن تحفظ، حسن تذکر، عفت، حیا، صبر، قناعت، زہد، تورع، جوانمردی، استقلال، عدل، امانت، صدقِ لہجہ، سخاوت فی محلّہٖ، ایثار فی محلّہٖ، کرم فی محلّہٖ، مروّت فی محلّہٖ، شجاعت فی محلّہٖ، علو ہمت فی محلّہٖ، حلم فی محلّہٖ، تحمل فی محلّہٖ، حمیّت فی محلّہٖ، تواضع فی محلّہٖ، ادب فی محلّہٖ، شفقت فی محلّہٖ، رأفت فی محلّہٖ، رحمت فی محلّہٖ، خوف الٰہی، محبت الٰہیہ، اُنس باللہ، انقطاع الی اللہ وغیرہ وغیرہ) اور تیل ایسا صاف اور لطیف کہ بن آگ ہی روشن ہونے پر آمادہ (یعنی عقل اور جمیع اخلاق فاضلہ اس نبی معصوم کے ایسے کمال موزونیت و لطافت و نورانیت پر واقعہ کہ الہام سے پہلے ہی خود بخود روشن ہونے پر مستعد تھے) نور فائض ہوا نور پر یعنی جب کہ وجود مبارک حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میں کئی نور جمع تھے۔ سو اُن نوروں پر ایک اور نورِ آسمانی جو وحی ٔ الٰہی ہے وارد ہو گیا اور اُس نور کے وارد ہونے سے وجودِ با جود خاتم الانبیاء کا مجمع الانوار بن گیا۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۹۱تا۱۹۵ حاشیہ نمبر ۱۱)معراج انقطاعِ تام تھا اور سّر اس میں یہ تھا کہ تا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقطۂ نفسی کو ظاہر کیا جاوے۔ آسمان پر ہر ایک رُوح کے لئے ایک نقطہ ہوتا ہے اس سے آگے وہ نہیں جاتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نقطۂ نفسی عرش تھا اور رفیق اعلیٰ کے معنے بھی خدا ہی کے ہیں۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر اور کوئی معزز و مکرم نہیں ہے۔ (الحکم مورخہ ۱۷؍فروری ۱۹۰۱ء صفحہ ۷ کالم نمبر ۲۔ ملفوظات جلد۱ صفحہ ۳۹۶ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
سیر معراج اس جسمِ کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا جس کو درحقیقت بیداری کہنا چاہئے۔ ایسے کشف کی حالت میں انسان ایک نوری جسم کے ساتھ حسب استعدادنفس ناطقہ اپنے کے آسمانوں کی سیر کر سکتا ہے۔ پس چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس ناطقہ کی اعلیٰ درجہ کی استعداد تھی اور انتہائی نقطہ تک پہنچی ہوئی تھی اس لئے وہ اپنی معراجی سیر میں معمورۂ عالم کے انتہائی نقطہ تک جو عرشِ عظیم سے تعبیر کیا جاتا ہے پہنچ گئے۔ سو درحقیقت یہ سیر کشفی تھا جو بیداری سے اشد درجہ پر مشابہ ہے بلکہ ایک قسم کی بیداری ہی ہے مَیں اس کا نام خواب ہرگز نہیں رکھتا اور نہ کشف کے ادنیٰ درجوں میں سے اس کوسمجھتا ہوں بلکہ یہ کشف کا بزرگ ترین مقام ہے جو درحقیقت بیداری بلکہ اس کثیف بیداری سے یہ حالت زیادہ اصفٰی اور اجلٰی ہوتی ہے اور اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحبِ تجربہ ہے۔ (ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۲۶ حاشیہ)
جس کامل انسان پر قرآن شریف نازل ہوا اُس کی نظر محدودنہ تھی اور اس کی عام غم خواری اور ہمدردی میں کچھ قصور نہ تھا۔ بلکہ کیا باعتبار زمان اور کیا باعتبار مکان اُس کے نفس کے اندر کامل ہمدردی موجود تھی۔ اس لئے قدرت کی تجلیات کا پورا اور کامل حصّہ اس کو ملا اور وہ خاتم الانبیاء بنے مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحبِ خاتم ہے بجز اُس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا۔ اور اس کی امت کے لئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ کا دروازہ کبھی بندنہ ہو گا اور بجز اس کے کوئی نبی صاحبِ خاتم نہیں ایک وہی ہے جس کی مُہر سے ایسی نبوت بھی مِل سکتی ہے جس کے لئے اُمتی ہونا لازمی ہے۔ اور اُس کی ہمت اور ہمدردی نے امت کو ناقص حالت پر چھوڑنا نہیں چاہا اور اُن پر وحی کا دروازہ جو حصول معرفت کی اصل جڑ ہے۔ بند رہنا گوارا نہیں کیا۔ ہاں اپنی ختم رسالت کا نشان قائم رکھنے کے لئے یہ چاہا کہ فیضِ وحی آپ کی پیروی کے وسیلہ سے ملے اور جو شخص اُمتی نہ ہو اُس پر وحی الٰہی کا دروازہ بند ہو۔ سو خدا نے ان معنوں سے آپ کو خاتم الانبیاء ٹھیرایا۔ لہٰذا قیامت تک یہ بات قائم ہوئی کہ جو شخص سچی پیروی سے اپنا اُمتی ہونا ثابت نہ کرے اور آپ کی متابعت میں اپنا تمام وجود محو نہ کرے ایسا انسان قیامت تک نہ کوئی کامل وحی پا سکتا ہے اور نہ کامل ملہم ہو سکتا ہے۔ کیونکہ مستقل نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئی ہے۔ مگر ظلّی نبوت جس کے معنے ہیں کہ محض فیض محمدی سے وحی پانا وہ قیامت تک باقی رہے گی تا انسانوں کی تکمیل کا دروازہ بندنہ ہو اور تا یہ نشان دنیا سے مٹ نہ جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمّت نے قیامت تک یہی چاہا ہے کہ مکالمات اور مخاطبات الٰہیہ کے دروازے کھلے رہیں اور معرفت الٰہیہ جو مدارِ نجات ہے مفقودنہ ہو جائے۔ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲صفحہ ۲۹، ۳۰)
مَیں بڑے یقین اور دعویٰ سے کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کمالاتِ نبوت ختم ہو گئے وہ شخص جھوٹا اور مفتری ہے جو آپ کے خلاف کسی سِلسلہ کو قائم کرتا ہے اور آپ کی نبوت سے الگ ہو کر کوئی صداقت پیش کرتا اور چشمۂ نبوت کو چھوڑتا ہے۔ مَیں کھول کر کہتا ہوں کہ وہ شخص لعنتی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا آپ کے بعد کسی اور کو نبی یقین کرتا ہے اور آپ کی ختمِ نبوت کو توڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی ایسا نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدنہیں آ سکتا جس کے پاس وہی مہر نبوت محمدی نہ ہو۔ ہمارے مخالف الرائے مسلمانوں نے یہی غلطی کھائی ہے کہ وہ ختم نبوت کی مہر کو توڑ کر اسرائیلی نبی کو آسمان سے اُتارتے ہیں۔ اور مَیں یہ کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسی اور آپ کی ابدی نبوت کا یہ ادنیٰ کرشمہ ہے کہ تیرہ سو سال کے بعد بھی آپ ہی کی تربیت اور تعلیم سے مسیح موعود آپ کی امت میں وہی مہر نبوت لے کر آتا ہے۔ اگر یہ عقیدہ کفر ہے تو پھر مَیں اس کفر کو عزیز رکھتا ہوں لیکن یہ لوگ جن کی عقلیں تاریک ہو گئی ہیں جن کو نور نبوت سے حصہ نہیں دیا گیا اس کو سمجھ نہیں سکتے۔ اور اس کو کفر قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ وہ بات ہے جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال اور آپ کی زندگی کا ثبوت ہوتا ہے۔ (الحکم ۱۰ ؍ جون ۱۹۰۵ء صفحہ ۲کالم ۲)
تمام نبوتیں اور تمام کتابیں جو پہلے گذر چکیں اُن کی الگ طور پر پیروی کی حاجت نہیں رہی کیونکہ نبوت محمدیہ ان سب پر مشتمل اور حاوی ہے۔ اور بجز اس کے سب راہیں بند ہیں۔ تمام سچائیاں جو خدا تک پہنچاتی ہیں اسی کے اند رہیں۔ نہ اس کے بعد کوئی نئی سچائی آئے گی اور نہ اس سے پہلے کوئی ایسی سچائی تھی جو اس میں موجودنہیں اس لئے اِس نبوت پر تمام نبوتوں کا خاتمہ ہے اور ہونا چاہئے تھا کیونکہ جس چیز کے لئے ایک آغاز ہے اس کے لئے ایک انجام بھی ہے۔ لیکن یہ نبوتِ محمّدیہ اپنی ذاتی فیض رسانی سے قاصر نہیں بلکہ سب نبوتوں سے زیادہ اِس میں فیض ہے اس نبوت کی پیروی خدا تک بہت سہل طریق سے پہنچا دیتی ہے اور اس کی پیروی سے خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے مکالمہ مخاطبہ کا اِس سے بڑھ کر انعام مل سکتا ہے جو پہلے ملتا تھا۔ مگر اس کا کامل پیرو صرف نبی نہیں کہلا سکتا کیونکہ نبوت کاملہ تامّہ محمدیہ کی اِس میں ہتک ہے ہاں اُمتی اور نبی دونوں لفظ اجتماعی حالت میں اس پر صادق آ سکتے ہیں۔ کیونکہ اس میں نبوت تامہ کاملہ محمدیہ کی ہتک نہیں بلکہ اس نبوت کی چمک اس فیضان سے زیادہ تر ظاہرہوتی ہے۔ (الوصیّت۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۱۱)
ہم تو کہتے ہیں کہ کافر ہے وہ شخص جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے ذرّہ بھربھی اِدھر اُدھر ہوتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے روگردانی کرنے والا ہی ہمارے نزدیک جب کافر ہے تو پھر اس شخص کا کیا حال جو کوئی نئی شریعت لانے کا دعویٰ کرے یا قرآن اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں تغیر و تبدل کرے یا کسی حکم کو منسوخ جانے۔ ہمارے نزدیک تو مومن وہی ہے جو قرآن شریف کی سچّی پیروی کرے اور قرآن شریف ہی کو خاتم الکتب یقین کرے اور اسی شریعت کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دُنیا میں لائے تھے اسی کو ہمیشہ تک رہنے والے مانے اور اُس میں ایک ذرہ بھر اور ایک شعشہ بھی نہ بدلے اور اس کی اتباع میں فنا ہو کر اپنا آپ کھو دے اور اپنے وجود کا ہر ذرّہ اسی راہ میں لگائے۔ عملاً اور علماً اس کی شریعت کی مخالفت نہ کرے۔ تب پکّا مسلمان ہوتا ہے۔ (الحکم ۶ ؍ مئی ۱۹۰۸ء صفحہ ۵ کالم ۲)
اکثر نادان عیسائی مغفرت کی سچی حقیقت نہ دریافت کرنے کی وجہ سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ جو شخص مغفرت مانگے وہ فاسق اور گنہگار ہوتا ہے مگر مغفرت کے لفظ پر خوب غور کرنے کے بعد صاف طور پر سمجھ آجاتا ہے کہ فاسق اور بدکار وہی ہے جو خدا تعالیٰ سے مغفرت نہیں مانگتا کیونکہ جبکہ ہر یک سچی پاکیزگی اُسی کی طرف سے ملتی ہے اور وہی نفسانی جذبات کے طوفان سے محفوظ اور معصوم رکھتا ہے۔ تو پھر خدا تعالیٰ کے راستباز بندوں کا ہر یک طرفۃ العین میں یہی کام ہونا چاہئے کہ وہ اس حافظ اور عاصمِ حقیقی سے مغفرت مانگا کریں۔ اگر ہم جسمانی عالم میں مغفرت کا کوئی نمونہ تلاش کریں تو ہمیں اس سے بڑھ کر اور کوئی مثال نہیں مل سکتی کہ مغفرت اس مضبوط اور ناقابل بند کی طرح ہے جو ایک طوفان اور سیلاب کے روکنے کے لئے بنایا جاتا ہے۔ پس چونکہ تمام زور تمام طاقتیں خدا تعالیٰ کے لئے مسلّم ہیں اور انسان جیسا کہ جسم کے رو سے کمزور ہے۔ رُوح کے رُو سے بھی ناتواں ہے اور اپنے شجرۂ پیدائش کے لئے ہر یک وقت اس لازوال ہستی سے آبپاشی چاہتا ہے جس کے فیض کے بغیر یہ جی ہی نہیں سکتا اس لئے استغفار مذکورہ معانی کے رُو سے اس کے لازم حال پڑا ہے اور جیسا کہ چاروں طرف درخت اپنی ٹہنیاں چھوڑتا ہے گویا ارد گرد کے چشمہ کی طرف اپنے ہاتھوں کو پھیلاتا ہے کہ اے چشمہ میری مدد کر اور میری سرسبزی میں کمی نہ ہونے دے اور میرے پھلوں کا وقت ضائع ہونے سے بچا۔ یہی حال راستبازوں کا ہے روحانی سرسبزی کے محفوظ اور سلامت رہنے کے لئے یا اس سرسبزی کی ترقیات کی غرض سے حقیقی زندگی کے چشمہ سے سلامتی کا پانی مانگنا بھی وہ امر ہے جس کو قرآن کریم دوسرے لفظوں میں استغفار کے نام سے موسوم کرتا ہے۔ قرآن شریف کو سوچو اور غور سے پڑھو استغفار کی اعلیٰ حقیقت پاؤ گے اور ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ مغفرت لغت کے رُو سے ایسے ڈھانکنے کو کہتے ہیں جس سے کسی آفت سے بچنا مقصود ہے مثلاً پانی درختوں کے حق میں ایک مغفرت کرنے والا عنصر ہے یعنی اُن کے عیبوں کو ڈھانکتا ہے۔ یہ بات سوچ لو کہ اگر کسی باغ کو برس دو برس بالکل پانی نہ ملے تو اُس کی کیا شکل نکل آئے گی۔ کیا یہ سچ نہیں کہ اُس کی خوبصورتی بالکل دُور ہو جائے گی اور سرسبزی اور خوشنمائی کا نام و نشان نہیں رہے گا اور وہ وقت پر کبھی پھل نہیں لائے گا اور اندر ہی اندر جل جائے گا اور پھول بھی نہیں آئیں گے بلکہ اس کے سرسبز اور نرم نرم لہلہاتے ہوئے پتے چند روز ہی میں خشک ہو کر گر جائیں گے اور خشکی غالب ہو کر مجذوم کی طرح آہستہ آہستہ اس کے تمام اعضاء گرنے شروع ہو جائیں گے۔ یہ تمام بلائیں کیوں اس پر نازل ہوں گی؟ اس وجہ سے کہ وہ پانی جو اس کی زندگی کا مدار تھااس نے اس کو سیراب نہیں کیا۔ اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللّٰہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ یعنی پاک کلمہ پاک درخت کی مانند ہے۔ پس جیسا کہ کوئی عمدہ اور شریف درخت بغیر پانی کے نشوونما نہیں کر سکتا اسی طرح راستباز انسان کے کلمات طیّبہ جو اس کے منہ سے نکلتے ہیں اپنی پوری سرسبزی دکھلا نہیں سکتے اور نہ نشوونما کر سکتے ہیں جب تک وہ پاک چشمہ اُن کی جڑھوں کو استغفار کے نالے میں بہہ کر تر نہ کرے۔ سو انسان کی رُوحانی زندگی استغفار سے ہے جس کے نالے میں ہو کر حقیقی چشمہ انسانیت کی جڑھوں تک پہونچتا ہے اور خشک ہونے اور مرنے سے بچا لیتا ہے۔ جس مذہب میں اِس فلسفہ کا ذکر نہیں وہ مذہب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہرگز نہیں اور جس شخص نے نبی یا رسول یا راستباز یا پاک فطرت کہلا کر اس چشمہ سے مُنہ پھیرا ہے وہ ہرگز خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ اور ایسا آدمی خدا تعالیٰ سے نہیں بلکہ شیطان سے نکلا ہے کیونکہ شیط مرنے کو کہتے ہیں۔ پس جس نے اپنے روحانی باغ کو سرسبز کرنے کے لئے اُس حقیقی چشمہ کو اپنی طرف کھینچنا نہیں چاہا اور استغفار کے نالے کو اس چشمہ سے لبالب نہیں کیا وہ شیطان ہے یعنی مرنے والا ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ کوئی سرسبز درخت بغیر پانی کے زندہ رہ سکے۔ ہر یک متکبّر جو اس زندگی کے چشمہ سے اپنے روحانی درخت کو سرسبز کرنا نہیں چاہتا وہ شیطان ہے اور شیطان کی طرح ہلاک ہو گا۔ کوئی راستباز نبی دنیا میں نہیں آیا جس نے استغفار کی حقیقت سے مُنہ پھیرا اور اس حقیقی چشمہ سے سرسبز ہونا نہ چاہا۔ ہاں سب سے زیادہ اس سرسبزی کو ہمارے سید و مولیٰ ختم المرسلین فخر الاولین و الآخرین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگا اس لئے خدا نے اس کو اس کے تمام ہم منصبوں سے زیادہ سرسبز اور معطّر کیا۔ (نور القرآن نمبر۱۔ روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۳۵۶ تا۳۵۸)
آپؐ کے مبارک ناموں میں ایک سرّیہ ہے کہ محمدؐ اور احمدؐ جو دو نام ہیں اُن میں دو جُدا جُدا کمال ہیں۔ محمدؐ کا نام جلال اور کبریائی کو چاہتا ہے جو نہایت درجہ تعریف کیا گیا ہے اور اِس میں ایک معشوقانہ رنگ ہے کیونکہ معشوق کی تعریف کی جاتی ہے۔ پس اس میں جلالی رنگ ہونا ضروری ہے۔ مگر احمدؐ کا نام اپنے اندر عاشقانہ رنگ رکھتا ہے کیونکہ تعریف کرنا عاشق کا کام ہے۔ وہ اپنے محبوب اور معشوق کی تعریف کرتا رہتاہے۔ اس لئے جیسے محمدؐ محبوبانہ شان میں جلال اور کبریائی کو چاہتا ہے اسی طرح پر احمد عاشقانہ شان میں ہو کر غربت اور انکساری کو چاہتا ہے۔ اس میں ایک سّر یہ تھا کہ آپؐ کی زندگی کی تقسیم دو حصوں پر کر دی گئی۔ ایک تو مکّی زندگی جو ۱۳ برس کے زمانہ کی ہے اور دوسری وہ زندگی جو مدنی زندگی ہے اور وہ دس برس کی ہے۔ مکّہ کی زندگی میں اسم احمد کی تجلّی تھی۔ اس وقت آپؐ کے دن رات خدا تعالیٰ کے حضور گریہ و بکا اور طلبِ استعانت اور دعا میں گذرتی تھی۔ اگر کوئی شخص آپ کی اِس زندگی کے بسر اوقات پر پوری اطلاع رکھتا ہو تو اُسے معلوم ہو جائے گا کہ جو تضرع اور زاری آپؐ نے اس مکّی زندگی میں کی ہے وہ کبھی کسی عاشق نے اپنے محبوب و معشوق کی تلاش میں کبھی نہیں کی اور نہ کرسکے گا۔ پھر آپؐ کی تضرع اپنے لئے نہ تھی بلکہ یہ تضرع دنیا کی حالت کی پوری واقفیت کی وجہ سے تھی۔ خدا پرستی کا نام و نشان چونکہ مٹ چکا تھا اور آپ کی رُوح اور خمیر میں اللہ تعالیٰ میں ایمان رکھ کر ایک لذت اور ایک سرور آچکا تھا اور فطرتًا دنیا کو اس لذت اور محبت سے سرشار کرنا چاہتے تھے۔ ادھر دنیا کی حالت کو دیکھتے تھے تو اُن کی استعدادیں اور فطرتیں عجیب طرز پر واقع ہو چکی تھیں اور بڑے مشکلات اور مصائب کا سامنا تھا۔ غرض دنیا کی اس حالت پر آپؐ گریہ و زاری کرتے تھے اور یہاں تک کرتے تھے کہ قریب تھا کہ جان نکل جاتی۔ اسی کی طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفۡسَکَ اَلَّا یَکُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ یہ آپ کی متضرعانہ زندگی تھی اور اسم احمد کا ظہور تھا اُس وقت آپؐ ایک عظیم الشان توجہ میں پڑے ہوئے تھے۔ اس توجہ کا ظہور مدنی زندگی اور اسم محمد کی تجلّی کے وقت ہوا جیسا کہ اس آیت سے پتہ لگتا ہے۔ وَاسۡتَفۡتَحُوۡا وَخَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیۡدٍ (الحکم ۱۷ جنوری ۱۹۰۱ء صفحہ۴۔ ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۴۲۳ جدید ایڈیشن)
جو شخص قرآن کریم کی اسالیب کلام کو بخوبی جانتا ہے اس پر یہ پوشیدہ نہیں کہ بعض اوقات وہ کریم و رحیم جلّ شانہٗ اپنے خواص عباد کے لئے ایسا لفظ استعمال کر دیتا ہے کہ بظاہر بدنما ہوتا ہے مگر معنًا نہایت محمود اور تعریف کا کلمہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللّٰہ جلّ شانہٗ نے اپنے نبی ٔ کریم کے حق میں فرمایا۔ وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی اب ظاہر ہے کہ ضال کے معنے مشہور اور متعارف جو اہلِ لُغت کے مُنہ پر چڑھے ہوئے ہیں گمراہ کے ہیں۔ جس کے اعتبار سے آیت کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے (اے رسول اللہؐ ) تجھ کو گمراہ پایا اور ہدایت دی حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی گمراہ نہیں ہوئے اور جو شخص مسلمان ہو کر یہ اعتقاد رکھے کہ کبھی آنحضرت صلعم نے اپنی عمر میں ضلالت کا عمل کیا تھا تو وہ کافر بے دین اور حدّ شرعی کے لائق ہے بلکہ آیت کے اس جگہ وہ معنی لینے چاہے جو آیت کے سیاق اور سباق سے ملتے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اللّٰہ جلّ شانہٗ نے پہلے آنحضرت صلعم کی نسبت فرمایا۔ وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی وَوَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغۡنٰی یعنی خدا تعالیٰ نے تجھے یتیم اور بے کس پایا اور اپنے پاس جگہ دی اور تجھ کو ضَالّ (یعنی عاشق وجہ اللّٰہ ) پایا پس اپنی طرف کھینچ لایا اور تجھے درویش پایا پس غنی کر دیا۔ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۱۷۰، ۱۷۱)
حضرت موسیٰ بردباری اور حلم میں بنی اسرائیل کے تمام نبیوں سے سبقت لے گئے تھے اور بنی اسرائیل میں نہ مسیح اور نہ کوئی دوسرا نبی ایسا نہیں ہوا جو حضرت موسیٰ کے مرتبۂ عالیہ تک پہنچ سکے توریت سے ثابت ہے جو حضرت موسیٰ رفق اور حلم اور اخلاق فاضلہ میں سب اسرائیلی نبیوں سے بہتر اور فائق تر تھے۔ جیسا کہ گنتی باب دو ازدہم آیت سوم توریت میں لکھا ہے کہ موسیٰ سارے لوگوں سے جو روئے زمین پر تھے زیادہ بردبار تھا۔ سو خدا نے توریت میں موسیٰ کی بُردباری کی ایسی تعریف کی جو بنی اسرائیل کے تمام نبیوں میں سے کسی کی تعریف میں یہ کلمات بیان نہیں فرمائے۔ ہاں جو اخلاقِ فاضلہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن شریف میں ذکر ہے وہ حضرت موسیٰ سے ہزار ہا درجہ بڑھ کر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تمام اُن اخلاقِ فاضلہ کا جامع ہے جو نبیوں میں متفرق طو رپر پائے جاتے تھے اور نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا ہے۔ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ تو خلق عظیم پر ہے۔ اور عظیم کے لفظ کے ساتھ جس چیز کی تعریف کی جائے وہ عرب کے محاورہ میں اُس چیز کی انتہائے کمال کی طرف اشارہ ہوتا ہے مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ یہ درخت عظیم ہے تو اس سے یہ مطلب ہو گا کہ جہاں تک درختوں کے لئے طول وعرض اور تناوری ممکن ہے وہ سب اس درخت میں حاصل ہے۔ ایسا ہی اس آیت کا مفہوم ہے کہ جہاں تک اخلاق فاضلہ و شمائلِ حسنہ نفس انسانی کو حاصل ہو سکتے ہیں وہ تمام اخلاق کاملہ تامّہ نفسِ محمدی میں موجود ہیں۔ سو یہ تعریف ایسی اعلیٰ درجہ کی ہے جس سے بڑھ کر ممکن نہیں۔ اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو دوسری جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا: - وَکَانَ فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکَ عَظِیۡمًا یعنی تیرے پر خدا کا سب سے زیادہ فضل ہے اور کوئی نبی تیرے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہی تعریف بطور پیشگوئی زبور باب ۴۵ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں موجود ہے جیسا کہ فرمایا ہے کہ خدا نے جو تیرا خدا ہے خوشی کے روغن سے تیرے مصاحبوں سے زیادہ تجھے معطّر کیا۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۰۵، ۶۰۶ حاشیہ نمبر ۳)
قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَتُؤۡمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنۡصُرُنَّہٗ پس اِس طرح تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہوئے۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۰۰)
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کے نام اپنے اندر جمع رکھتے ہیں کیونکہ وہ وجود پاک جامع کمالات متفرقہ ہے۔ پس وہ موسیٰ بھی ہے اور عیسیٰؑ بھی اور آدمؑ بھی اور ابراہیمؑ بھی اور یوسفؑ بھی اور یعقوبؑ بھی۔ اِسی کی طرف اللّٰہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے فَبِہُدٰٮہُمُ اقۡتَدِہۡ ۲؎ یعنی اے رسول اللہ تو ان تمام ہدایات متفرقہ کو اپنے وجود میں جمع کر لے جو ہر یک نبی خاص طور پر اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ پس اِس سے ثابت ہے کہ تمام انبیاء کی شانیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں شامل تھیں اور درحقیقت محمدؐ کا نام صلی اللہ علیہ وسلم اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ محمدؐ کے یہ معنے ہیں کہ بغایت تعریف کیا گیا۔ اور غایت درجہ کی تعریف تبھی متصور ہو سکتی ہے کہ جب انبیاء کے تمام کمالاتِ متفرقہ اور صفاتِ خاصّہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع ہوں۔ چنانچہ قرآن کریم کی بہت سی آیتیں جن کا اِس وقت لکھنا موجب طوالت ہے اِسی پر دلالت کرتی بلکہ بصراحت بتلاتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک باعتبار اپنی صفات اور کمالات کے مجموعۂ انبیاء تھی اور ہر یک نبی نے اپنے وجود کے ساتھ مناسبت پا کر یہی خیال کیا کہ میرے نام پر وہ آنے والا ہے اور قرآن کریم ایک جگہ فرماتا ہے کہ سب سے زیادہ ابراہیم سے مناسبت رکھنے والا یہ نبی ہے اور بخاری میں ایک حدیث ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری مسیح سے بشدت مناسبت ہے اور اُس کے وجود سے میرا وجود ملا ہوا ہے۔ پس اس حدیث میں حضرت مسیحؑ کے اس فقرہ کی تصدیق ہے کہ وہ نبی میرے نام پر آئے گا۔ سو ایسا ہی ہوا کہ ہمارا مسیح صلی اللہ علیہ وسلم جب آیا تو اُس نے مسیح ناصری کے ناتمام کاموں کو پورا کیا اور اس کی صداقت کے لئے گواہی دی اور اُن تہمتوں سے اُس کو بری قرار دیا جو یہود اور نصاریٰ نے اس پر لگائی تھیں اور مسیح کی رُوح کو خوشی پہنچائی۔ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵صفحہ ۳۴۳)
وحی الٰہی ایک ایسا آئینہ ہے جس میں خدائے تعالیٰ کی صفات کمالیہ کا چہرہ حسب صفائی باطن نبی منزل علیہ کے نظر آتا ہے اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پاک باطنی و انشراح صدری و عصمت و حیا و صدق و صفا و توکّل و وفا اور عشق الٰہی کے تمام لوازم میں سب انبیاء سے بڑھ کر اور سب سے افضل و اعلیٰ و اکمل و ارفع و اجلیٰ و اصفیٰ تھے اس لئے خدائے جلّ شانہٗ نے ان کو عطر کمالاتِ خاصّہ سے سب سے زیادہ معطّر کیا اور وہ سینہ اور دل جو تمام اوّلین و آخرین کے سینہ و دل سے فراخ تر و پاک تر و معصوم تر و روشن تر و عاشق تر تھا وہ اسی لائق ٹھہرا کہ اس پر ایسی وحی نازل ہو کہ جو تمام اوّلین و آخرین کی وحیوں سے اقویٰ و اکمل وارفع و اتم ہو کر صفاتِ الٰہیہ کے دکھلانے کے لئے ایک نہایت صاف اور کشادہ اور وسیع آئینہ ہو۔ سو یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف ایسے کمالاتِ عالیہ رکھتا ہے جو اس کی تیز شعاعوں اور شوخ کرنوں کے آگے تمام صحف سابقہ کی چمک کالعدم ہو رہی ہے۔ کوئی ذہن ایسی صداقت نکال نہیں سکتا جو پہلے ہی سے اس میں درج نہ ہو۔ کوئی فکر ایسی برہان عقلی پیش نہیں کر سکتا جو پہلے ہی سے اس نے پیش نہ کی ہو۔ کوئی تقریر ایسا قوی اثر کسی دل پر ڈال نہیں سکتی جیسے قوی اور پُربرکت اثر لاکھوں دلوں پر وہ ڈالتا آیا ہے۔ وہ بلاشبہ صفات کمالیہ حق تعالیٰ کا ایک نہایت مصفّٰی آئینہ ہے جس میں سے وہ سب کچھ ملتا ہے جو ایک سالک کو مدارجِ عالیہ معرفت تک پہنچنے کے لئے درکار ہے۔ (سرمہ چشم آریہ۔ روحانی خزائن جلد ۲صفحہ ۷۱، ۷۲ حاشیہ)
چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم افضل الانبیا اور سب رسولوں سے بہتر اور بزرگ تر تھے اور خدائے تعالیٰ کو منظور تھا کہ جیسے آنحضرتؐ اپنے ذاتی جوہر کے رُو سے فی الواقعہ سب انبیاء کے سردار ہیں ایسا ہی ظاہری خدمات کے رُو سے بھی ان کا سب سے فائق اور برتر ہونا دنیا پر ظاہر اور روشن ہو جائے اس لئے خدائے تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو کافہ بنی آدم کے لئے عام رکھا تا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محنتیں اور کوششیں عام طور پر ظہور میں آویں۔ موسٰی اور ابن مریم کی طرح ایک خاص قوم سے مخصوص نہ ہوں اور تا ہر یک طرف سے اور ہر یک گروہ اور قوم سے تکالیف شاقہ اٹھا کر اس اجرِ عظیم کے مستحق ٹھہر جائیں کہ جو دوسرے نبیوں کو نہیں ملے گا۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱صفحہ ۶۵۳، ۶۵۴)
میرا مذہب یہ ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو الگ کیا جاتا اور کل نبی جو اُس وقت تک گذر چکے تھے سب کے سب اکٹھے ہو کر وہ کام اور وہ اصلاح کرنا چاہتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہرگز نہ کر سکتے۔ اُن میں وہ دل، وہ قوت نہ تھی جو ہمارے نبیؐ کو ملی تھی۔ اگر کوئی کہے کہ یہ نبیوں کی معاذ اللہ سوئِ ادبی ہے تو وہ نادان مجھ پر افترا کرے گا۔ مَیں نبیوں کی عزت و حرمت کرنا اپنے ایمان کا جزو سمجھتا ہوں لیکن نبی کریمؐ کی فضلیت کل انبیاء پر میرے ایمان کا جزو اعظم ہے اور میری رگ و ریشہ میں ملی ہوئی بات ہے۔ یہ میرے اختیار میں نہیں کہ اس کو نکال دوں۔ بدنصیب اور آنکھ نہ رکھنے والا مخالف جو چاہے سوکہے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کام کیا ہے جو نہ الگ الگ اور نہ مل مل کر کسی سے ہو سکتا تھا اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ ذَالِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَائُ۔ (الحکم ۱۷جنوری ۱۹۰۱ء صفحہ۲، ۳۔ ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۴۲۰ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
یہودیوں کی کتب مقدسہ میں نہایت صفائی سے بیان کیا گیا ہے کہ موسیٰ کی مانند ایک منجی ان کے لئے بھیجا جائے گا۔ یعنی وہ ایسے وقت میں آئے گا کہ جب قوم یہود فرعون کے زمانہ کی طرح سخت ذلّت اور دُکھ میں ہو گی اور پھر اس منجی پر ایمان لانے سے وہ تمام دکھوں اور ذلتوں سے رہائی پائیں گے تو کچھ شک نہیں کہ یہ پیشگوئی جس کی طرف یہود کی ہر زمانہ میں آنکھیں لگی رہی ہیں وہ ہمارے سیّد و مولیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کے ذریعہ سے توریت کی پیشگوئی کمال وضاحت سے پوری ہو گئی کیونکہ جب یہودی ایمان لائے تو اُن میں سے بڑے بڑے بادشاہ ہوئے۔ یہ اس بات پر دلیل واضح ہے کہ خداتعالیٰ نے اسلام لانے سے ان کا گناہ بخشا اور اُن پر رحم کیا جیسا کہ توریت میں وعدہ تھا۔ (ایّام الصلح۔ روحانی خزائن جلد ۱۴صفحہ ۳۰۲، ۳۰۳)
مسیحؑ کو جو کچھ بزرگی ملی وہ بوجہ تابعداری حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملی کیونکہ مسیح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی خبر دی گئی اور مسیح آنجناب پر ایمان لایا اور بوجہ اس ایمان کے مسیح نے نجات پائی۔ (الحکم ۳۰؍ جون ۱۹۰۱ء صفحہ ۳کالم نمبر۲)
جب ہم حضرت مسیحؑ اور جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا اس بات میں بھی مقابلہ کرتے ہیں کہ موجودہ گورنمنٹوں نے اُن کے ساتھ کیا برتاؤ کیااور کس قدر اُن کے ربّانی رعب یا الٰہی تائیدنے اثر دکھایا تو ہمیں اقرار کرنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیحؑ میں بمقابلہ جناب مقدس نبوی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدائی تو کیا نبوت کی شان بھی پائی نہیں جاتی۔ جناب مقدس نبویؐ کے جب پادشاہوں کے نام فرمان جاری ہوئے تو قیصر روم نے آہ کھینچ کر کہا کہ مَیں تو عیسائیوں کے پنجہ میں مبتلا ہوں۔ کاش اگر مجھے اس جگہ سے نکلنے کی گنجایش ہوتی تو مَیں اپنا فخر سمجھتا کہ خدمت میں حاضر ہو جاؤں اور غلاموں کی طرح جناب مقدس کے پاؤں دھویا کروں مگر ایک خبیث اور پلید دل پادشاہ کِسریٰ ایران کے فرماں روا نے غصہ میں آ کر آپ کے پکڑنے کے لئے سپاہی بھیج دیئے۔ وہ شام کے قریب پہنچے اور کہا کہ ہمیں گرفتاری کا حکم ہے۔ آپؐ نے اس بے ہودہ بات سے اعراض کر کے فرمایا۔ تم اسلام قبول کرو۔ اُس وقت آپ صرف دو چار اصحاب کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے مگر ربّانی رُعب سے وہ دونوں بید کی طرح کانپ رہے تھے۔ آخر انہوں نے کہا کہ ہمارے خداوند کے حکم یعنی گرفتاری کی نسبت جناب عالی کا کیا جواب ہے؟ کہ ہم جو اب ہی لے جائیں۔ حضرت نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا کل تمہیں جواب ملے گا۔ صبح کو جو وہ حاضر ہوئے تو آنجنابؐ نے فرمایا کہ وہ جسے تم خداوند خداوند کہتے ہو وہ خداوندنہیں ہے۔ خداوند وہ ہے جس پر موت اور فنا طاری نہیں ہوتی مگر تمہارا خداوند آج رات کو مارا گیا۔ میرے سچے خداوندنے اُسی کے بیٹے شیرویہ کو اُس پر مسلّط کر دیا۔ سو وہ آج رات اُس کے ہاتھ سے قتل ہو گیا اور یہی جواب ہے۔ یہ بڑا معجزہ تھا۔ اس کو دیکھ کر اس ملک کے ہزارہا لوگ ایمان لائے کیونکہ اُسی رات درحقیقت خسرو پرویز یعنی کسریٰ مارا گیا تھا اور یاد رکھنا چاہئے کہ یہ بیان انجیلوں کی بے سرو پا اور بے اصل باتوں کی طرح نہیں بلکہ احادیث صحیحہ اور تاریخی ثبوت اور مخالفوں کے اقرار سے ثابت ہے۔ چنانچہ ڈیون پورٹ صاحب بھی اس قصہ کو اپنی کتاب میں لکھتاہے لیکن اُس وقت کے بادشاہوں کے سامنے حضرت مسیح کی جو عزت تھی وہ آپ پر پوشیدہ نہیں وہ اور اق شائد اب تک انجیل میں موجود ہوں گے جن میں لکھا ہے کہ ہیرودیس نے حضرت مسیح کو مجرموں کی طرح پیلاطوس کی طرف چالان کیا۔ اور وہ ایک مدت تک شاہی حوالات میں رہے کچھ بھی خدائی پیش نہیں گئی۔ اور کسی پادشاہ نے یہ نہ کہا کہ میرا فخر ہو گا اگر مَیں اُس کی خدمت میں رہوں اور اس کے پاؤ ں دھویا کروں بلکہ پلاطوس نے یہودیوں کے حوالہ کر دیا۔ کیا یہی خدائی تھی؟ عجیب مقابلہ ہے۔ دو شخصوں کو ایک ہی قسم کے واقعات پیش آئے اور دونوں نتیجہ میں ایک دوسرے سے بالکل ممتاز ثابت ہوتے ہیں۔ ایک شخص کے گرفتار کرنے کو ایک متکبر جبار کا شیطان کے وسوسہ سے برانگیختہ ہونا اور خود آخر لعنتِ الٰہی میں گرفتار ہو کر اپنے بیٹے کے ہاتھ سے بڑی ذلّت کے ساتھ قتل کیا جانا۔ اور ایک دوسرا انسان ہے جسے قطع نظر اپنے اصلی دعووں کے غلوّ کرنے والوں نے آسمان پر چڑھا رکھا ہے سچ مچ گرفتار ہو جانا۔ چالان کیا جانا اور عجیب ہیئت کے ساتھ ظالم پولیس کی حوالت میں ایک شہر سے دوسرے شہر میں منتقل کیا جانا۔ (نور القرآن نمبر ۲۔ روحانی خزائن جلد ۹صفحہ ۳۸۴ تا۳۸۶)
ایک وہ زمانہ تھا کہ انجیل کے واعظ بازاروں اور گلیوں اور کوچوں میں نہایت دریدہ دہانی سے اور سراسر افترا سے ہمارے سید و مولیٰ خاتم الانبیاء اور افضل الرسل والاصفیاء اور سید المعصومین والاتقیاء حضرت محبوب جناب احدیت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ قابلِ شرم جھوٹ بولا کرتے تھے کہ گویا آنجناب سے کوئی پیشگوئی یا معجزہ ظہور میں نہیں آیا اور اب یہ زمانہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے علاوہ ان ہزار ہا معجزات کے جو ہمارے سرور و مولیٰ شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن شریف اور احادیث میں اس کثرت سے مذکور ہیں جو اعلیٰ درجہ کے تواتر پر ہیں۔ تازہ بتازہ صد ہا نشان ایسے ظاہر فرمائے ہیں کہ کسی مخالف اور منکر کو اُن کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ ہم نہایت نرمی اور انکسار سے ہر ایک عیسائی صاحب اور دوسرے مخالفوں کو کہتے رہے ہیں اور اب بھی کہتے ہیں کہ درحقیقت یہ بات سچ ہے کہ ہر ایک مذہب جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو کر اپنی سچائی پر قائم ہوتا ہے اس کے لئے ضرور ہے کہ ہمیشہ اُس میں ایسے انسان پیدا ہوتے رہیں کہ جو اپنے پیشوا اور ہادی اور رسول کے نائب ہو کر یہ ثابت کریں کہ وہ نبی اپنی روحانی برکات کے لحاظ سے زندہ ہے فوت نہیں ہوا کیونکہ ضرور ہے کہ وہ نبی جس کی پیروی کی جائے جس کو شفیع اور منجّی سمجھا جائے وہ اپنی روحانی برکات کے لحاظ سے ہمیشہ زندہ ہو اور عزت اور رفعت اور جلال کے آسمان پر اپنے چمکتے ہوئے چہرہ کے ساتھ ایسا بدیہی طور پر مقیم ہو اور خدائے ازلی ابدی حیّ قیوم ذوالاقتدار کے دائیں طرف بیٹھنا اُس کا ایسے پُرزور الٰہی نوروں سے ثابت ہو کہ اُس سے کامل محبت رکھنا اور اُس کی کامل پیروی کرنا لازمی طور پر اس نتیجہ کو پیدا کرتا ہو کہ پیروی کرنے والا رُوح القدس اور آسمانی برکات کا انعام پائے اور اپنے پیارے نبی کے نوروں سے نور حاصل کر کے اپنے زمانہ کی تاریکی کو دُور کرے اور مستعد لوگوں کو خدا کی ہستی پر وہ پختہ اور کامل اور درخشاں اور تاباں یقین بخشے جس سے گناہ کی تمام خواہشیں اور سفلی زندگی کے تمام جذبات جل جاتے ہیں۔ یہی ثبوت اس بات کا ہے کہ وہ نبی زندہ اور آسمان پر ہے۔ سو ہم اپنے خدائے پاک ذوالجلال کا کیا شکر کریں کہ اس نے اپنے پیارے نبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور پیروی کی توفیق دے کر اور پھر اس محبت اور پیروی کے رُوحانی فیضوں سے جو سچی تقویٰ اور سچے آسمانی نشان ہیں کامل حصہ عطا فرما کر ہم پر ثابت کر دیا کہ وہ ہمارا پیارا برگزیدہ نبی فوت نہیں ہوا بلکہ وہ بلند تر آسمان پر اپنے ملیک مقتدر کے دائیں طرف بزرگی اور جلال کے تخت پر بیٹھا ہے۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَیْہِ وَ بَارِکْ وَسَلِّم۔ اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا
اب ہمیں کوئی جواب دے کہ روئے زمین پر یہ زندگی کس نبی کے لئے بجز ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ثابت ہے؟ کیا حضرت موسٰیؑ کے لئے؟ ہرگز نہیں۔ کیا حضرت داؤد کے لئے؟ ہرگز نہیں۔ کیا حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے؟ ہرگز نہیں۔ کیا راجہ رامچندر یا راجہ کرشن کے لئے؟ ہرگز نہیں۔ کیا وید کے اُن رشیوں کے لئے جن کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ ان کے دلوں پر وید کا پرکاش ہوا تھا؟ ہرگز نہیں۔ جسمانی زندگی کا ذکر بے سود ہے اور حقیقی اور روحانی اور فیض رساں زندگی وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی زندگی کے مشابہ ہو کر نور اور یقین کے کرشمے نازل کرتی ہو ورنہ جسمانی وجود کے ساتھ ایک لمبی عمر پانا اگر فرض بھی کر لیں اور فرض کے طور پر مان بھی لیں کہ ایسی عمر کسی کو دی گئی ہے تو کچھ بھی جائے فخر نہیں۔ مصر کی بعض پورانی عمارتیں ہزار ہا برس سے چلی آتی ہیں اور بابل کے کھنڈرات اب تک موجود ہیں جن میں اُلّو بولتے ہیں اور اس ملک میں اجودھیا اور بندرابن بھی پُرانے زمانے کی آبادیاں ہیں اور اٹلی اور یونان میں بھی ایسی قدیم عمارتیں پائی جاتی ہیں تو کیا اس جسمانی طور پر لمبی عمر پانے سے یہ تمام چیزیں اُس جلال اور بزرگی سے حصہ لے سکتی ہیں جو روحانی زندگی کی وجہ سے خدا کے مقدس لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔
اب اس بات کا فیصلہ ہو گیا ہے کہ اس روحانی زندگی کا ثبوت صرف ہمارے نبی علیہ السلام کی ذات بابرکات میں پایا جاتا ہے۔ خدا کی ہزاروں رحمتیں اس کے شامل حال رہیں۔
(تریاق القلوب۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۱۳۷ تا۱۳۹)ہمارے سیّد و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تین ہزار سے زیادہ معجزات ہوئے ہیں اور پیشگوئیوں کا تو شمار نہیں۔ مگر ہمیں ضرورت نہیں کہ ان گذشتہ معجزات کو پیش کریں بلکہ ایک عظیم الشان معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ہے کہ تمام نبیوں کی وحی منقطع ہو گئی اور معجزات نابود ہو گئے اور اُن کی اُمت خالی اور تہی دست ہے صرف قصّے ان لوگوں کے ہاتھ میں رہ گئے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی منقطع نہیں ہوئی۔ اور نہ معجزات منقطع ہوئے بلکہ ہمیشہ بذریعہ کاملین امت جو شرفِ اتباع سے مشرف ہیں ظہور میں آتے ہیں۔ اسی وجہ سے مذہب اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور اس کا خدا زندہ خدا ہے۔ چنانچہ اس زمانہ میں بھی اس شہادت کے پیش کرنے کے لئے یہی بندۂ حضرت عزّت موجود ہے اور اب تک میرے ہاتھ پر ہزار ہا نشان تصدیق رسول اللہ اور کتاب اللہ کے بارہ میں ظاہر ہو چکے ہیں اور خداتعالیٰ کے پاک مکالمہ سے قریباً ہر روز مَیں مشرف ہو تا ہوں۔ (چشمہء مسیحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۵۰، ۳۵۱)
اِس درجہ لقاء میں بعض اوقات انسان سے ایسے امور صادر ہوتے ہیں کہ جو بشریت کی طاقتوں سے بڑھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور الٰہی طاقت کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں جیسے ہمارے سیّد و مولیٰ سیّد الرسل حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں ایک سنگریزوں کی مٹھی کفار پر چلائی اور وہ مٹھی کسی دعا کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خود اپنی روحانی طاقت سے چلائی مگر اُس مٹھی نے خدائی طاقت دکھلائی اور مخالف کی فوج پر ایسا خارق عادت اس کا اثر پڑا کہ کوئی اُن میں سے ایسا نہ رہا کہ جس کی آنکھ پر اس کا اثر نہ پہنچا ہو۔ اور وہ سب اندھوں کی طرح ہو گئے اور ایسی سراسیمگی اور پریشانی اُن میں پیدا ہو گئی کہ مدہوشوں کی طرح بھاگنا شروع کیا۔ اِسی معجزہ کی طرف اللہشانہٗ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے۔ وَمَا رَمَیۡتَ اِذۡ رَمَیۡتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی یعنی جب تُونے اُس مٹھی کو پھینکا وہ تونے نہیں پھینکا بلکہ خدا تعالیٰ نے پھینکا یعنی درپردہ الٰہی طاقت کام کر گئی۔ انسانی طاقت کا یہ کام نہ تھا۔
اور ایسا ہی دوسرا معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو شق القمر ہے اسی الٰہی طاقت سے ظہور میں آیا تھا۔ کوئی دُعا اس کے ساتھ شامل نہ تھی کیونکہ وہ صرف انگلی کے اشارہ سے جو الٰہی طاقت سے بھری ہوئی تھی وقوع میں آ گیا تھا۔ اور اس قسم کے اَور بھی بہت سے معجزات ہیں جو صرف ذاتی اقتدار کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھلائے جن کے ساتھ کوئی دعا نہ تھی کئی دفعہ تھوڑے سے پانی کو جو صرف ایک پیالہ میں تھا اپنی انگلیوں کو اُس پانی کے اندر داخل کرنے سے اس قدر زیادہ کر دیا کہ تمام لشکر اور اونٹوں اور گھوڑوں نے وہ پانی پیا اور پھر بھی وہ پانی ویسا ہی اپنی مقدار پر موجود تھا۔ اور کئی دفعہ دو چار روٹیوں پر ہاتھ رکھنے سے ہزار ہا بھوکوں پیاسوں کا اُن سے شکم سیر کر دیا۔ اور بعض اوقات تھوڑے دودھ کو اپنے لبوں سے برکت دے کر ایک جماعت کا پیٹ اس سے بھر دیا۔ اور بعض اوقات شور آب کنوئیں میں اپنے مُنہ کا لعاب ڈال کر اُس کو نہایت شیریں کر دیا۔ اور بعض اوقات سخت مجروحوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر ان کو اچھا کر دیا۔ اور بعض اوقات آنکھوں کو جن کے ڈیلے لڑائی کے کسی صدمہ سے باہر جا پڑے تھے اپنے ہاتھ کی برکت سے پھر درست کر دیا۔ ایسا ہی اور بھی بہت سے کام اپنے ذاتی اقتدار سے کئے جن کے ساتھ ایک چھپی ہوئی طاقت الٰہی مخلوط تھی۔
حال کے برہمو اور فلسفی اور نیچری اگر ان معجزات سے انکار کریں تو وہ معذور ہیں کیونکہ وہ اس مرتبہ کو شناخت نہیں کر سکتے جس میں ظلّی طور پر الٰہی طاقت انسان کو ملتی ہے۔ پس اگر وہ ایسی باتوں پر ہنسیں تو وہ اپنے ہنسنے میں بھی معذور ہیں کیونکہ انہوں نے بجز طفلانہ حالت کے اور کسی درجہ رُوحانی بلوغ کو طے نہیں کیا۔ اور نہ صرف اپنی حالت ناقص رکھتے ہیں بلکہ اس بات پر خوش ہیں کہ اسی حالتِ ناقصہ میں مریں بھی۔
مگر زیادہ تر افسوس ان عیسائیوں پر ہے جو بعض خوارق اسی کے مشابہ مگر ان سے ادنیٰ حضرت مسیح میں سن سنا کر اُن کی الوہیت کی دلیل ٹھہرا بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت مسیح کا مُردوں کا زندہ کرنا اور مفلوجوں اور مجذوموں کا اچھا کرنا اپنے اقتدار سے تھا کسی دعا سے نہیں تھا اور یہ دلیل اس بات پر ہے کہ وہ حقیقی طور پر ابن اللہ بلکہ خدا تھا۔ لیکن افسوس کہ ان بیچاروں کو خبر نہیں کہ اگر انہی باتوں سے انسان خدا بن جاتا ہے تو اس خدائی کا زیادہ تر استحقاق ہمارے سیّد و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے کیونکہ اس قسم کے اقتداری خوارق جس قدر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھلائے ہیں حضرت مسیح علیہ السلام ہرگز دکھلا نہیں سکے اور ہمارے ہادی و مقتدا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اقتداری خوارق نہ صرف آپ ہی دکھلائے بلکہ ان خوارق کا ایک لنبا سلسلہ روز قیامت تک اپنی امت میں چھوڑ دیا جو ہمیشہ اور ہر زمانہ میں حسب ضرورت زمانہ ظہور میں آتا رہا ہے اور اِس دنیا کے آخری دنوں تک اِسی طرح ظاہر ہو تا رہے گا اور الٰہی طاقت کا پر توہ جس قدر اس اُمت کی مقدس روحوں پر پڑا ہے اس کی نظر دوسری اُمتوں میں ملنی مشکل ہے۔ پھر کس قدر بیوقوفی ہے کہ ان خارق عادت امور کی وجہ سے کسی کو خدا یا خدا کا بیٹا قرار دیا جائے۔ اگر ایسے ہی خوارق سے انسان خدا بن سکتا ہے تو پھر خداؤں کا کچھ انتہاء بھی ہے؟
(آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵صفحہ ۶۵تا ۶۷)ہم یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ شق القمر کا معجزہ اہل اسلام کی نظر میں ایسا امر نہیں ہے کہ جو مدار ثبوت اسلام اور دلیل اعظم حقانیت کلام اللہ کا ٹھرایا گیا ہو۔ بلکہ ہزار ہا شواہد اندرونی و بیرونی و صد ہا معجزات و نشانوں میں سے یہ بھی ایک قدرتی نشان ہے جو تاریخی طور پر کافی ثبوت اپنے ساتھ رکھتا ہے جس کا ذکر آئندہ عنقریب آئے گا۔ سو اگر تمام کھلے کھلے ثبوتوں سے چشم پوشی کر کے فرض بھی کر لیں کہ یہ معجزہ ثابت نہیں ہے اور آیت کے اس طور پر معنے قرار دیں جس طور پر حال کے عیسائی و نیچری یا دوسرے منکرین خوارق کرتے ہیں ……… تو اس عدم ثبوت کا اسلام پر کوئی بد اثر نہیں پہنچ سکتا۔ سچ تو یہ ہے کہ کلام الٰہی نے مسلمانوں کو دوسرے معجزات سے بکلّی بے نیاز کر دیا ہے۔ وہ نہ صرف اعجاز بلکہ اپنی برکات و تنویرات کے رُو سے اعجاز آفرین بھی ہے۔ فی الحقیقت قرآن شریف اپنی ذات میں ایسی صفاتِ کمالیہ رکھتاہے جو اُس کو خارجیہ معجزات کی کچھ بھی حاجت نہیں۔ خارجیہ معجزات کے ہونے سے اس میں کچھ زیادتی نہیں ہوتی اور نہ ہونے سے کوئی نقص عائد حال نہیں ہوتا۔ اِس کا بازارِ حسن معجزاتِ خارجیہ کے زیور سے رونق پذیر نہیں بلکہ وہ اپنی ذات میں آپ ہی ہزار ہا معجزات عجیبہ و غریبہ کا جامع ہے۔ جن کو ہر یک زمانہ کے لوگ دیکھ سکتے ہیں۔ نہ یہ کہ صرف گذشتہ کا حوالہ دیا جائے وہ ایسا ملیح الحسن محبوب ہے کہ ہر یک چیز اس سے مل کر آرائش پکڑتی ہے اور وہ اپنی آرائش میں کسی کی آمیزش کا محتاج نہیں۔ ؎
ہمہ خوبانِ عالم را بزیورہا بیا رایند
تو سیمیں تن چناں خوبی کہ زیور ہا بیا رائی164
مَیں کہتا ہوں کہ بلاشبہ یہ سب سچ مگر کیا اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ قدرتِ الٰہی کے طریقے اور اس کے قانون اسی حد تک ہیں جو ہمارے تجربہ اور مشاہدہ میں آ چکے ہیں اِس سے زیادہ نہیں؟ جس حالت میں الٰہی قدرتوں کو غیر محدود ماننا ایک ایسا ضروری مسئلہ ہے جو اسی سے نظامِ کارخانۂ الوہیت وابستہ اور اسی سے ترقیاتِ علمیہ کا ہمیشہ کے لئے دروازہ کھلا ہوا ہے تو پھر کس قدر غلطی کی بات ہے کہ ہم یہ ناکارہ حجت پیش کریں کہ جو امر ہماری سمجھ اور مشاہدہ سے باہر ہے وہ قانون قدرت سے بھی باہر ہے بلکہ جس حالت میں ہم اپنے مُنہ سے اقرار کر چکے کہ قوانین قدرتیہ غیر متناہی اور غیر محدود ہیں تو پھر ہمارا یہ اصول ہونا چاہئے کہ ہر یک نئی بات جو ظہور میں آوے پہلے ہی اپنی عقل سے بالاتر دیکھ کر اُس کو ردّ نہ کریں بلکہ خوب متوجہ ہو کر اُس کے ثبوت یا عدم ثبوت کا حال جانچ لیں۔ اگر وہ ثابت ہو تو اپنے قانون قدرت کی فہرست میں اس کو بھی داخل کر لیں۔ اور اگر وہ ثابت نہ ہو تو صرف اتنا کہہ دیں کہ ثابت نہیں مگر اس بات کے کہنے کے ہم ہرگز مجاز نہیں ہوں گے کہ وہ امر قانون قدرت سے باہر ہے۔ بلکہ قانون قدرت سے باہر کسی چیز کو سمجھنے کے لئے ہمارے لئے پُر ضرور ہے کہ ہم ایک دائرہ کی طرح خدائے تعالیٰ کے تمام قوانین ازلی و ابدی پر محیط ہو جائیں اور بخوبی ہمارا فکر اس بات پر احاطۂ تام کر لے کہ خدائے تعالیٰ نے روز ازل سے آج تک کیا کیا قدرتیں ظاہر کیں اور آئندہ اپنے ابدی زمانہ میں کیا کیا قدرتیں ظاہر کرے گا … بہرحال اگر ہم خدائے تعالیٰ کی قدرتوں کو غیر محدود مانتے ہیں تو یہ جنون اور دیوانگی ہے کہ اس کی قدرتوں پر احاطہ کرنے کی اُمید رکھیں۔ کیونکہ اگر وہ ہمارے مشاہدہ کے پیمانہ میں محدود ہو سکیں تو پھر غیر محدود اور غیر متناہی کیونکر رہیں؟ اور اس صورت میں نہ صرف یہ نقص پیش آتا ہے کہ ہمارا فانی اور ناقص تجربہ خدائے ازلی و ابدی کی تمام قدرتوں کا حد بست کرنے والا ہو گا بلکہ ایک بڑا بھاری نقص یہ بھی ہے کہ اُس کی قدرتوں کے محدود ہونے سے وہ خود بھی محدود ہو جائے گا اور پھر یہ کہنا پڑے گا کہ جو کچھ خدائے تعالیٰ کی حقیقت اور کُنہ ہے ہم نے سب معلوم کر لی ہے اور اس کے گہراؤ اور تہہ تک ہم پہنچ گئے ہیں اور اس کلمہ میں جس قدرکفر اور بے ادبی اور بے ایمانی بھری ہوئی ہے وہ ظاہر ہے حاجت بیان نہیں۔
(سرمہ چشم آریہ۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۶۰ تا۶۵)مَیں پوچھتا ہوں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے عام اور اعلانیہ طور پر یہ دعویٰ مشہور کر دیا تھا کہ میرے ہاتھ سے معجزہ شق القمر وقوع میں آ گیا ہے اور کفار نے اس کو بچشم خود دیکھ بھی لیا ہے مگر اس کو جادو قرار دیا اپنے اس دعویٰ میں سچّے نہیں تھے تو پھر کیوں مخالفین آنحضرتؐ جو اُسی زمانہ میں تھے جن کو یہ خبریں گویا نقّارہ کی آواز سے پہنچ چکی تھیں چُپ رہے اور کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مؤاخذہ نہ کیا کہ آپ نے کب چاند کو دو ٹکڑے کر کے دکھایا اور کب ہم نے اس کو جادو کہا اور اس کے قبول سے مُنہ پھیرا اور کیوں اپنے مرتے دم تک خاموشی اختیار کی اور مُنہ بند رکھا یاں تک کہ اس عالم سے گذر گئے؟ کیا ان کی یہ خاموشی جو اُن کی مخالفانہ حالت اور جوش مقابلہ کے بالکل برخلاف تھی اس بات کا یقین نہیں دلاتے کہ کوئی ایسی سخت روک تھی جس کی وجہ سے کچھ بول نہیں سکتے تھے مگر بجز ظہور سچائی کے اور کون سی روک تھی؟ یہ معجزہ مکّہ میں ظہور میں آیا تھا اور مسلمان ابھی بہت کمزور اور غریب اور عاجز تھے۔ پھر تعجب یہ کہ اُن کے بیٹوں یا پوتوں نے بھی انکار میں کچھ زبان کشائی نہ کی حالانکہ اُ ن پر واجب و لازم تھا کہ اتنا بڑا دعویٰ اگر افترا محض تھا اور صد ہا کوسوں میں مشہور ہو گیا تھا اُس کی ردّ میں کتابیں لکھتے اور دنیامیں شائع اور مشہور کرتے اور جبکہ ان لاکھوں آدمیوں عیسائیوں، عربوں، یہودیوں، مجوسیوں وغیرہ میں سے ردّ لکھنے کی کسی کو جرأت نہ ہوئی اور جو لوگ مسلمان تھے وہ علانیہ ہزاروں آدمیوں کے روبرو چشمدید گواہی دیتے رہے جن کی شہادتیں آج تک اس زمانہ کی کتابوں میں مندرج پائی جاتی ہیں تو یہ صریح دلیل اس بات پر ہے کہ مخالفین ضرور شق القمر مشاہدہ کر چکے تھے اور ردّلکھنے کیلئے کوئی بھی گنجائش باقی نہیں رہی تھی۔ … پھر ان سب باتوں کے بعدہم یہ بھی لکھتے ہیں کہ شق القمر کے واقعہ پر ہندوؤں کی معتبر کتابوں میں بھی شہادت پائی جاتی ہے۔ مہابھارتہ کے دھرم پرب میں بیاس جی صاحب لکھتے ہیں کہ اُن کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہو کر پھر مل گیاتھا۔ اور وہ اس شق قمر کو اپنے بے ثبوت خیال سے بسوامتر کا معجزہ قرار دیتے ہیں … معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کی شہرت ہندوؤں میں مؤلف تاریخ فرشتہ کے وقت میں بھی بہت کچھ پھیلی ہوئی تھی کیونکہ اُس نے اپنی کتاب کے مقا لہ یاز دہم میں ہندوؤں سے یہ شہرت یا فتہ نقل لے کر بیان کی ہے کہ شہر دہار کہ جو متصل دریائے پہنبل صوبہ مالوہ میں واقع ہے اب اس کو شائد دہارانگری کہتے ہیں واں کا راجہ اپنے محل کی چھت پر بیٹھا تھا ایکبارگی اُس نے دیکھا کہ چاند دو ٹکڑے ہو گیا اور پھر مل گیا اور بعد تفتیش اس راجہ پر کھل گیا کہ یہ نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے تب وہ مسلمان ہو گیا۔ (سرمہ چشم آریہ۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۲۲ تا۱۲۷)
ہمارے سیدو مولیٰ آنحضرت صلے اﷲعلیہ وسلم کو جس قدر خداتعالیٰ کی طرف سے نشان اور معجزات ملے وہ صرف اُس زمانہ تک محدودنہ تھے بلکہ قیامت تک اُن کا سلسلہ جاری ہے اور پہلے زمانوں میں جو کوئی نبی ہوتا تھا وہ کسی گذشتہ نبی کی اُمت نہیں کہلاتا تھا گو اس کے دین کی نصرت کرتا تھا اور اس کو سچا جانتا تھا مگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ایک خاص فخر دیا گیا ہے کہ وہ ان معنوں سے خاتم الانبیاء ہیں کہ ایک تو تمام کمالاتِ نبوت ان پر ختم ہیں اور دوسرے یہ کہ اُن کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسول نہیں اور نہ کوئی ایسا نبی ہے جو اُن کی اُمت سے باہر ہو بلکہ ہر ایک کو جو شرفِ مکالمہ الٰہیہ ملتا ہے وہ اُنہیں کے فیض اور اُنہیں کے وساطت سے ملتا ہے اور وہ اُمتی کہلاتا ہے نہ کوئی مستقل نبی اور رجوع خلائق اور قبولیت کا یہ عالم ہے کہ آج کم سے کم بیس کروڑ ہر طبقہ کے مسلمان آپ کی غلامی میں کمربستہ کھڑے ہیں اور جب سے خدا نے آپؐ کو پیدا کیا ہے۔ بڑے بڑے زبردست بادشاہ جو ایک دنیا کو فتح کرنے والے تھے آپؐ کے قدموں پر ادنیٰ غلاموں کی طرح گِرے رہے ہیں۔ اور اس وقت کے اسلامی بادشاہ بھی ذلیل چاکروں کی طرح آنجناب کی خدمت میں اپنے تئیں سمجھتے ہیں اور نام لینے سے تخت سے اُتر آتے ہیں۔
اب سوچنا چاہئے کہ کیا یہ عزت کیا یہ شوکت کیا یہ اقبال کیا یہ جلال کیا یہ ہزاروں نشان آسمانی کیا یہ ہزاروں برکات ربّانی جھوٹے کو بھی مل سکتے ہیں؟ ہمیں بڑا فخر ہے کہ جس نبی علیہ السلام کا ہم نے دامن پکڑا ہے خدا کا اس پر بڑا ہی فضل ہے۔ وہ خدا تو نہیں مگر اس کے ذریعہ سے ہم نے خدا کو دیکھ لیا ہے۔ اُس کا مذہب جو ہمیں ملا ہے خدا کی طاقتوں کا آئینہ ہے۔ اگر اسلام نہ ہوتا تو اس زمانہ میں اس بات کا سمجھنا محال تھا کہ نبوت کیا چیز ہے؟ او ر کیا معجزات بھی ممکنات میں سے ہیں؟ اور کیا وہ قانون قدرت میں داخل ہیں؟ اس عقدے کو اُسی نبی کے دائمی فیض نے حل کیا اور اُسی کے طفیل سے اب ہم دوسری قوموں کی طرح صرف قصّہ گو نہیں ہیں بلکہ خدا کا نور اور خدا کی آسمانی نصرت ہمارے شامل حال ہے۔ ہم کیا چیز ہیں جو اس شکر کو ادا کر سکیں کہ وہ خدا جو دوسروں پر مخفی ہے اور وہ پوشیدہ طاقت جو دوسروں سے نہاں در نہاں ہے وہ ذوالجلال خدا محض اس نبی کریمؐ کے ذریعہ سے ہم پر ظاہر ہو گیا۔
(مضمون جلسہ لاہور منسلکہ چشمہ معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۸۰، ۳۸۱)جس قدر معجزات کل نبیوں سے صادر ہوئے اُن کے ساتھ ہی اُن معجزات کا بھی خاتمہ ہو گیا مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ایسے ہیں کہ وہ ہر زمانہ میں اور ہروقت تازہ بتازہ اور زندہ موجود ہیں۔ ان معجزات کا زندہ ہونا اور ان پر موت کا ہاتھ نہ چلنا صاف طور پر اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی زندہ نبی ہیں اور حقیقی زندگی یہی ہے جو آپؐ کو عطا ہوئی اور کسی دوسرے کو نہیں ملی۔ آپ کی تعلیم اس لئے زندہ تعلیم ہے کہ اُس کے ثمرات اور برکات اس وقت بھی ویسے ہی موجود ہیں جو آج سے تیرہ سو سال پیشتر موجود تھے۔ دوسری کوئی تعلیم ہمارے سامنے اس وقت ایسی نہیں ہے جس پر عمل کرنے والا یہ دعویٰ کر سکے کہ اس کے ثمرات اور برکات اور فیوض سے مجھے حصہ دیا گیا ہے اور مَیں ایک آیت اللہ ہو گیا ہوں۔ لیکن ہم خدا تعالیٰ کے فضل و کرم، قرآن شریف کی تعلیم کے ثمرات اور برکات کا نمونہ اب بھی موجود پاتے ہیں اور ان تمام آثار اور فیوض کو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع سے ملتے ہیں اب بھی پاتے ہیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کو اسی لئے قائم کیا ہے تا وہ اسلام کی سچائی پر زندہ گواہ ہو اور ثابت کرے کہ وہ برکات اور آثار اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل اتباع سے ظاہر ہوتے ہیں جو تیرہ سو برس پہلے ظاہر ہوتے تھے۔ چنانچہ صد ہا نشان اِس وقت تک ظاہر ہو چکے ہیں اور ہر قوم اور مذہب کے سرگروہوں کو ہم نے دعوت کی ہے کہ وہ ہمارے مقابلہ میں آ کر اپنی صداقت کا نشان دکھائیں مگر ایک بھی ایسا نہیں کہ جن سے اپنے مذہب کی سچائی کا کوئی نمونہ عملی طور پر دکھائے۔ (الحکم، مورخہ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ نمبر ۲ کالم نمبر ۱، ۲۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ ۲۷، ۲۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
جس قدر خداوند قادرِ مطلق نے تمام دنیا کے مقابلہ پر تمام مخالفوں کے مقابلہ پر تمام دشمنوں کے مقابلہ پر تمام منکروں کے مقابلہ پر تمام دولتمندوں کے مقابلہ پر تمام زور آوروں کے مقابلہ پر تمام بادشاہوں کے مقابلہ پر تمام حکیموں کے مقابلہ پر تمام فلاسفروں کے مقابلہ پر تمام اہل مذہب کے مقابلہ پر ایک عاجز ناتوان بے زر بے زور ایک اُمّی ناخوان بے علم بے تربیت کو اپنی خداوندی کے کامل جلال سے کامیابی کے وعدے دیئے ہیں کیا کوئی ایمانداروں اور حق کے طالبوں میں سے شک کر سکتا ہے کہ یہ تمام مواعید کہ جو اپنے وقتوں پر پورے ہو گئے اور ہوتے جاتے ہیں یہ کسی انسان کا کام ہے۔ دیکھو ایک غریب اور تنہا اور مسکین نے اپنے دین کے پھیلنے کے اور اپنے مذہب کی جڑ پکڑنے کی اُس وقت خبر دی کہ جب اُس کے پاس بجز چند بے سامان درویشوں کے اَور کچھ نہ تھا۔ اور تمام مسلمان صرف اس قدر تھے کہ ایک چھوٹے سے حجرہ میں سما سکتے تھے اور انگلیوں پر نام بنام گنے جا سکتے جن کو گانوء کے چند آدمی ہلاک کر سکتے تھے جن کا مقابلہ اُن لوگوں سے پڑا تھا کہ جو دنیا کے بادشاہ اور حکمران تھے اور جن کو ان قوموں کے ساتھ سامنا پیش آیا تھا کہ جو باوجود کروڑوں مخلوقات ہونے کے ان کے ہلاک کرنے اور نیست و نابود کرنے پر متفق تھے۔ مگر اب دنیا کے کناروں تک نظر ڈال کے دیکھو کہ کیونکر خدا نے انہیں ناتوان اور قدر قلیل لوگوں کو دنیا میں پھیلا دیا۔ اور کیونکر اُن کو طاقت اور دولت اور بادشاہت بخش دی اور کیونکر ہزار ہا سال کی تخت نشینیوں کے تاج اور تخت اُن کے سپرد کئے گئے۔ ایک دن وہ تھا کہ وہ جماعت اتنی بھی نہیں تھی کہ جس قدر ایک گھر کے آدمی ہوتے ہیں اور اب وہی لوگ کئی کروڑ دنیا میں نظر آتے ہیں۔ خداوندنے کہا تھا کہ مَیں اپنے کلام کی آپ حفاظت کروں گا۔ اب دیکھو کیا یہ سچ ہے یا نہیں کہ وہی تعلیم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدائے تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ اُس کی کلام کے پہنچائی تھی وہ برابر اس کی کلام میں محفوظ چلی آتی ہے اور لاکھوں قرآن شریف کے حافظ ہیں کہ جو قدیم سے چلے آتے ہیں۔ خدا نے کہا تھا کہ میری کتاب کا کوئی شخص حکمت میں، معرفت میں، بلاغت میں فصاحت میں، احاطۂ علوم ربّانیہ میں، بیان دلائل دینیہ میں مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ سو دیکھو کسی سے مقابلہ نہیں ہو سکا اور اگر کوئی اس سے منکر ہے تو اب کر کے دکھلا دے۔ اور جو کچھ ہم نے اس کتاب میں جس کے ساتھ دس ہزار روپے کا اشتہار بھی شامل ہے حقائق و دقائق و عجائبات قرآن شریف کے کہ جو انسانی طاقتوں سے باہر ہیں لکھے ہیں کسی دوسری کتاب میں سے پیش کرے۔ اور جب تک پیش نہ کرے تب تک صریح حجت خدا کی اُس پر وارد ہے۔ اور خدا نے کہا تھا کہ مَیں ارضِ شام کو عیسائیوں کے قبضہ میں سے نکال کر مسلمانوں کو اس زمین کا وارث کروں گا۔ سو دیکھو اب تک مسلمان ہی اس زمین کے وارث ہیں اور یہ سب خبریں ایسی ہیں کہ جن کے ساتھ اقتدار اور قدرتِ الوہیت شامل ہے۔ یہ نہیں کہ نجومیوں کی طرح صرف ایسی ہی خبریں ہوں کہ زلزلے آویں گے۔ قحط پڑیں گے۔ قوم پر قوم چڑھائی کرے گی۔ وباء پھیلیں گی۔ مری پڑے گی وغیرہ وغیرہ اور بہ تبعیت خدا کے کلام کی اور اُسی کی تاثیر اور برکت سے وہ لوگ کہ جو قرآن شریف کا اتباع اختیار کرتے ہیں اور خدا کے رسول مقبول پر صدق دلی سے ایمان لاتے ہیں اور اُس سے محبت رکھتے ہیں اور اس کو تمام مخلوقات اور تمام نبیوں اور تمام رسولوں اور تمام مقدسوں اور تمام اُن چیزوں سے جو ظہور پذیر ہوئیں یا آئندہ ہوں بہتر اور پاک تر اور کامل تر اور افضل اور اعلیٰ سمجھتے ہیں وہ بھی اُن نعمتوں سے اب تک حصہ پاتے ہیں اور جو شربت موسٰی اور مسیح کو پلایا گیا۔ وہی شربت نہایت کثرت سے نہایت لطافت سے نہایت لذت سے پیتے ہیں اور پی رہے ہیں۔ اسرائیلی نور اُن میں روشن ہیں۔ بنی یعقوب کے پیغمبروں کی اُن میں برکتیں ہیں سبحان اللہ ! ثم سبحان اللہ! حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کس شان کے نبی ہیں۔ اللہ اللہ ! کیا عظیم الشان نور ہے جس کے ناچیز خادم جس کی ادنیٰ سے ادنیٰ امت جس کے احقر سے احقر چاکر مراتب مذکورہ بالا تک پہنچ جاتے ہیں۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی نَبِیِّکَ وَحَبِیْبِکَ سَیِّدِ الْاَنْبِیَائِ وَ اَفْضَلِ الرُّسُلِ وَ خَیْرِ الْمُرْسَلِیْنَ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ وَ بَارِکْ وَسَلِّم۔
اِس زمانہ کے پادری اور پنڈت اور برہمو اور آریہ اور دوسرے مخالف چونک نہ اٹھیں کہ وہ برکتیں کہاں ہیں۔ وہ آسمانی نور کدھر ہیں جن میں اُمت مرحومہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مسیح اور موسیٰ کی برکتوں میں شریک ہے اور اُن نوروں کی وارث ہے جن سے اور تمام قومیں اور تمام اہل مذاہب محروم اور بے نصیب ہیں۔ اِس وسوسہ کے دُور کرنے کے لئے بارہا ہم نے اِسی حاشیئے میں لکھ دیا ہے کہ طالب حق کے لئے کہ جو اسلام کے فضائل خاصّہ دیکھ کر فی الفور مسلمان ہونے پر مستعد ہے اس ثبوتِ دینی کے ہم آپ ہی ذمہ وار ہیں۔ اور حاشیہ در حاشیہ صورتِ دوم میں اسی کی طرف ہم نے صریح اشارہ کیا ہے۔ بلکہ خدائے تعالیٰ جس جس طرح پر اپنی خداوندی کی طاقتوں اور فضلوں اور برکتوں کو مسلمانوں پر ظاہر کرتا ہے۔ اُنہیں ربّانی مواعید اور بشارتوں میں سے کہ جو انسانی طاقتوں سے باہر ہیں کسی قدر حاشیہ ممدوحہ میں لکھ دیا ہے۔ پس اگر کوئی پادری یا پنڈت یا برہمو کہ جو اپنی کور باطنی سے منکر ہیں یا کوئی آریہ اور دوسرے فرقوں میں سے سچائی اور راستی سے خدا تعالیٰ کا طالب ہے تو اس پر لازم ہے کہ سچے طالبوں کی طرح اپنے تمام تکبّروں اور غروروں اور نفاقوں اور دنیا پرستیوں اور ضِدّوں اور خصومتوں سے بکلی پاک ہو کر اور فقط حق کا خواہاں اور حق کا جویاں بن کر ایک مسکین اور عاجز اور ذلیل آدمی کی طرح سیدھا ہماری طرف چلا آوے اور پھر صبر اور برداشت اور اطاعت اور خلوص کو صادق لوگوں کی طرح اختیار کرے تا انشاء اللہ اپنے مطلب کو پاوے۔ اور اگر اب بھی کوئی مُنہ پھیرے تو وہ خود اپنی بے ایمانی پر آپ گواہ ہے۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱صفحہ ۲۶۶تا۲۷۵ حاشیہ نمبر۱۱)
قرآن شریف نے بہت زور شور سے اس دعویٰ کو پیش کیا ہے کہ وہ خدا کا کلام ہے اور حضرت سیدنا و مولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سچے نبی اور رسول ہیں جن پر وہ پاک کلام اُترا ہے۔ چنانچہ یہ دعویٰ آیات مندرجہ ذیل میں بخوبی مصرح و مندرج ہے۔
(آل عمران ۱ و ۲) الٓمَّٓ اللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۙ الۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ نَزَّلَ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ یعنی وہی اللہ ہے اُس کا کوئی ثانی نہیں۔ اُسی سے ہر ایک کی زندگی اور بقا ہے اُس نے حق اور ضرورتِ حقہ کے ساتھ تیرے پر کتاب اتاری۔ اور پھر فرمایا یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَکُمُ الرَّسُوۡلُ بِالۡحَقِّ الجزو نمبر۵ سورۃ النّساء یعنی اے لوگو! حق اور ضرورتِ حقہ کے ساتھ تمہارے پاس یہ نبی آیا ہے۔ اور پھر فرمایا۔ وَبِالۡحَقِّ اَنۡزَلۡنٰہُ وَبِالۡحَقِّ نَزَلَ الجزو نمبر ۱۵ یعنی ضرورتِ حقہ کے ساتھ ہم نے اس کلام کو اتارا ہے اور ضرورتِ حقہ کے ساتھ اُترا ہے اور پھر فرمایا۔ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَکُمۡ بُرۡہَانٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ نُوۡرًا مُّبِیۡنًا الجزو نمبر ۶ سورۃ النساء لوگو! تمہارے پاس یہ یقینی بُرہان پہونچی ہے اور ایک کھلا نور تمہاری طرف ہم نے اتارا ہے اور پھر فرمایا۔ قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا الجزو نمبر ۹ یعنی لوگوں کو کہہ دے کہ میں تم سب کی طرف پیغمبر ہو کر آیا ہوں اور پھر فرمایا وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاٰمَنُوۡا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّہُوَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّہِمۡ ۙ کَفَّرَ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَاَصۡلَحَ بَالَہُمۡ الجزو نمبر ۲۶ یعنی جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کئے اور اس کتاب پر ایمان لائے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور وہی حق ہے خدا اُن کے گناہ دُور کرے گا اور اُن کے حال چال کو درست کر دے گا۔
ایسا ہی صد ہا آیات اَور ہیں جن میں نہایت صفائی سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ قرآن کریم خدا کا کلام اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے سچے نبی ہیں لیکن ہم بالفعل اِسی قدر لکھنا مناسب و کافی دیکھتے ہیں مگر ساتھ ہی اپنے مخالفوں کو یاد دلاتے ہیں کہ جس شدّ و مدّ سے قرآن شریف میں یہ دعویٰ موجود ہے کسی اَور کتاب میں ہرگز موجودنہیں۔ ہم نہایت مشتاق ہیں اگر آریہ اپنے ویدوں میں اتنا ہی ثابت کردیں کہ اُن کے ہر چہار ویدوں نے الٰہی کلام ہونے کا دعویٰ کیا اَور بتصریح بتلایا کہ فلاں فلاں شخص پر فلاں زمانہ میں وہ اُترے ہیں۔ کتاب اللہ کے ثبوت کے لئے پہلا ضروری امر یہی ہے کہ وہ کتاب اپنے من جانب اللہ ہونے کی مدعی بھی ہو۔ کیونکہ جو کتاب اپنے من جانب اللہ ہونے کی طرف آپ کوئی اشارہ نہیں کرتی اس کو خداوند تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا ایک بیجا مداخلت ہے۔
اب دوسرا امر قابلِ تذکرہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے اپنے منجانب اللہ ہونے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے بارے میں صرف دعویٰ ہی نہیں کیا بلکہ اس دعویٰ کو نہایت مضبوط اور قوی دلیلوں کے ساتھ ثابت بھی کر دیا ہے اور ہم انشاء اللہ تعالیٰ سِلسلہ وار ان تمام دلائل کو لکھیں گے اور اُن میں سے پہلی دلیل ہم اسی مضمون میں تحریر کرتے ہیں تا حق کے طالب اوّل اِسی دلیل میں دوسری کتابوں کا قرآن کے ساتھ مقابلہ کریں اور نیز ہم ہر یک مخالف کو بھی بُلاتے ہیں کہ اگر یہ طریق ثبوت جس کا ایک کتاب میں پایا جانا اس کی سچائی پر بدیہی دلیل ہے اُن کی کتابوں اور نبیوں کی نسبت بھی پایا جاتا ہے تو وہ ضرور اپنے اخباروں اور رسالوں کے ذریعہ سے پیش کریں۔ ورنہ ان کو اقرار کرنا پڑے گا کہ اُن کی کتابیں اس اعلیٰ درجہ کے ثبوت سے عاری اور بے نصیب ہیں۔ اور ہم نہایت یقین اور وثوق سے کہتے ہیں کہ یہ طریقِ ثبوت ان کے مذہب میں ہرگز نہیں پایا جاتا۔ پس اگر ہم غلطی پر ہیں تو ہماری غلطی ثابت کریں اور وہ پہلی دلیل جو قرآن شریف نے اپنے منجانب اللہ ہونے پر پیش کی ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ عقل سلیم ایک سچی کتاب اور ایک سچے منجانب اللہ رسول کے ماننے کے لئے اِس بات کو نہایت بزرگ دلیل ٹھہراتی ہے کہ اُن کا ظہور ایک ایسے وقت میں ہو جبکہ زمانہ تاریکی میں پڑا ہو اور لوگوں نے توحید کی جگہ شرک اور پاکیزگی کی جگہ فسق اور انصاف کی جگہ ظلم اور علم کی جگہ جُہل اختیار کر لیا ہو اور ایک مصلح کی اشد حاجت ہو۔ اور پھر ایسے وقت میں وہ رسول دنیا سے رخصت ہو جبکہ وہ اصلاح کا کام عمدہ طور سے کر چکا ہو۔ اور جب تک اس نے اصلاح نہ کی ہو دشمنوں سے محفوظ رکھا گیا ہو۔ اور نوکروں کی طرح حکم سے آیا ہو اور حکم سے واپس گیا ہو۔ غرضیکہ وہ ایسے وقت ظاہر ہو جبکہ وہ وقت بزبانِ حال پکار پکار کہہ رہا ہو کہ ایک آسمانی مصلح اور کتاب کا آنا ضروری ہے۔ اور پھر ایسے وقت میں الہامی پیشگوئی کے ذریعہ سے واپس بلایا جاوے کہ جب اصلاح کے پودا کو مستحکم کر چکا ہو اور ایک عظیم الشان انقلاب ظہور میں آچکا ہو۔ اب ہم اس بات کو بڑے فخر کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ یہ دلیل جس طرح قرآن اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں نہایت روشن چہرہ کے ساتھ جلوہ نما ہوئی ہے کسی اَور نبی اور کتاب کے حق میں ہرگز ظاہر نہیں ہوئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعویٰ تھا کہ مَیں تمام قوموں کے لئے آیا ہوں۔ سو قرآن شریف نے تمام قوموں کو ملزم کیا ہے کہ وہ طرح طرح کے شرک اور فسق و فجور میں مبتلا ہیں جیسا کہ وہ فرماتا ہے ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ یعنی دریا بھی بگڑ گئے اور جنگل بھی بگڑ گئے اور پھر فرماتا ہے لِیَکُوۡنَ لِلۡعٰلَمِیۡنَ نَذِیۡرَا یعنی ہم نے تجھے بھیجا تاکہ تو دنیا کی تمام قوموں کو ڈراوے یعنی ان کو متنبہ کرے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور میں اپنی بدکاریوں اور عقیدوں کی وجہ سے سخت گنہگار ٹھہری ہیں۔
یاد رہے کہ جو اس آیت میں نذیر کا لفظ دنیا کے تمام فرقوں کے مقابل پر استعمال کیا گیا ہے جس کے معنے گنہگاروں اور بدکاروں کو ڈرانا ہے۔ اِسی لفظ سے یقینی سمجھا جاتا ہے کہ قرآن کا یہ دعویٰ تھا کہ تمام دنیا بگڑ گئی اور ہر ایک نے سچائی اور نیک بختی کا طریق چھوڑ دیا کیونکہ انذار کا محل فاسق اور مشرک اور بدکار ہی ہیں اور انذار اور ڈرانا مجرموں کی ہی تنبیہ کے لئے ہوتا ہے نہ نیک بختوں کے لئے۔ اس بات کو ہر یک جانتا ہے کہ ہمیشہ سرکشوں اور بے ایمانوں کو ہی ڈرایا جاتا ہے اور سنّت اللہ اِسی طرح پر ہے کہ نبی نیکوں کے لئے بشیر ہوتے ہیں اور بدوں کے لئے نذیر۔ پھر جبکہ ایک نبی تمام دنیا کے لئے نذیر ہوا تو ماننا پڑا کہ تمام دنیا کو نبی کی وحی نے بداعمالیوں میں مبتلا قرار دیا ہے اور یہ ایک ایسا دعویٰ ہے کہ نہ توریت نے موسٰی کی نسبت کیا اور نہ انجیل نے عیسیٰ کے زمانہ کی نسبت بلکہ صرف قرآن شریف نے کیا اور پھر فرمایا کہ وَکُنۡتُمۡ عَلٰی شَفَا حُفۡرَۃٍ مِّنَ النَّارِ یعنی تم اس نبی کے آنے سے پہلے دوزخ کے گڑھے کے کنارہ پر پہونچ چکے تھے۔ اور عیسائیوں اور یہودیوں کو بھی متنبہ کیا کہ تم نے اپنے دجل سے خدا کی کتابوں کو بدل دیا اور تم ہر یک شرارت اور بدکاری میں تمام قوموں کے پیشرو ہو اور بُت پرستوں کو بھی جابجا ملزم کیا کہ تم پتھروں اور انسانوں اور ستاروں اور عناصر کی پرستش کرتے ہو اور خالقِ حقیقی کو ُبھول گئے ہو۔ اور تم یتیموں کا مال کھاتے اور بچوں کو قتل کرتے اور شرکاء پر ظلم کرتے ہو۔ اور ہر یک بات میں حدّ اعتدال سے گذر گئے ہو۔ اور فرمایا اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یُحۡیِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا یعنی یہ بات تمہیں معلوم ہے کہ زمین سب کی سب مر گئی تھی اب خدا نئے سِرے اُس کو زندہ کرتا ہے۔ غرض تمام دنیا کو قرآن نے شرک اور فسق اور بت پرستی کے الزام سے ملزم کیا جو ام الخبائث ہیں اور عیسائیوں اور یہودیوں کو دنیا کی تمام بدکاریوں کی جڑ ٹھہرایا اور ہر یک قسم کی بدکاریاں اُن کی بیان کر دیں۔ اور ایک ایسا نقشہ کھینچ کر زمانہ موجودہ کا اعمال نامہ دکھلا دیا کہ جب سے دنیا کی بناء پڑی ہے بجز نوحؑ کے زمانہ کے اور کوئی زمانہ اس زمانہ سے مشابہ نظر نہیں آتا۔ اور ہم نے اس جگہ جس قدر آیات لکھ دی ہیں وہ اتمام حجت کے لئے اوّل درجہ پر کام دیتی ہیں۔ لہٰذا ہم نے طول کے خوف سے تمام آیات کو نہیں لکھا۔ ناظرین کو چاہئے کہ قرآن شریف کو غور سے پڑھیں تا انہیں معلوم ہو کہ کسِ شدّ و مدّ اور کس قدر مؤثر کلام سے جا بجا قرآن شریف بیان کر رہا ہے کہ تمام دنیا بگڑ گئی، تمام زمین مر گئی اور لوگ دوزخ کے گڑھے کے قریب پہونچ گئے اور کیسے بار بار کہتا ہے کہ تمام دنیا کو ڈراکہ وہ خطرناک حالت میں پڑی ہیں۔ یقینا قرآن کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شرک اور فسق اور بُت پرستی اور طرح طرح کے گناہوں میں سڑ گئی اور بدکاریوں کے عمیق کنوئیں میں ڈوب گئی ہیں۔ یہ بات سچ ہے کہ انجیل میں بھی کسی قدر یہودیوں کی بدچلنیوں کا ذکر ہے لیکن مسیح نے کہیں یہ ذکر تو نہیں کیا کہ جس قدر دنیا کے صفحہ میں لوگ موجود ہیں جن کو عالمین کے نام سے نامزد کر سکتے ہیں وہ بگڑ گئے مر گئے اور دنیا شرک اور بدکاریوں سے بھر گئی اور نہ رسالت کا عام دعویٰ کیا۔ پس ظاہر ہے کہ یہودی ایک تھوڑی سی قوم تھی جو مسیح کے مخاطب تھی بلکہ وہی تھی جو مسیح کی نظر کے سامنے اور چند دیہات کے باشندے تھے۔ لیکن قرآن کریم نے تو تمام زمین کے مر جانے کا ذکر کیا ہے۔ اور تمام قوموں کی بری حالت کو وہ بتلاتا ہے اور صاف بتلاتا ہے کہ زمین ہر قسم کے گناہ سے مر گئی۔ یہودی تو نبیوں کی اولاد اور تورات کو اپنے اقرار سے مانتے تھے گو عمل سے قاصر تھے لیکن قرآن کے زمانہ میں علاوہ فسق اور فجور کے عقائد میں بھی فتور ہو گیا تھا۔ ہزار ہا لوگ دہریہ تھے۔ ہزار ہا وحی اور الہام سے منکر تھے۔ اور ہر قسم کی بدکاریاں زمین پر پھیل گئی تھیں۔ اور دنیا میں اعتقادی اور عملی خرابیوں کا ایک سخت طوفان برپا تھا۔ ماسوا اس کے مسیح نے اپنی چھوٹی سی قوم یہودیوں کی بد چلنی کا کچھ ذکر تو کیا جس سے البتہ یہ خیال پیدا ہوا کہ اُس وقت یہود کی ایک خاص قوم کو ایک مصلح کی ضرورت تھی۔ مگر جس دلیل کو ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منجانب اللہ ہونے کے بارے میں بیان کرتے ہیں۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فساد عام کے وقت میں آنا اور کامل اصلاح کے بعد واپس بلائے جانا اور ان دونوں پہلوؤں کا قرآن شریف کا آپ پیش کرنا اور آپ دنیا کو اس کی طرف توجہ دلانا یہ ایک ایسا امر ہے کہ انجیل تو کیا بجز قرآن شریف کسی پہلی کتاب میں بھی نہیں پایا جاتا۔ قرآن شریف نے آپ یہ دلائل پیش کئے ہیں اور آپ فرما دیا ہے کہ اِس کی سچائی اِن دونوں پہلوؤں پر نظر ڈالنے سے ثابت ہوتی ہے یعنی ایک تو وہی جو ہم بیان کر چکے ہیں کہ ایسے زمانہ میں ظہور فرمایا جبکہ زمانہ میں عام طور طرح طرح کی بدکاریاں، بد اعتقادیاں پھیل گئی تھیں اور دنیا حق اور حقیقت اور توحید اور پاکیزگی سے بہت دُور جا پڑی تھی اور قرآن شریف کے اس قول کی اس وقت تصدیق ہوتی ہے جبکہ ہر یک قوم کی تاریخ اس زمانہ کے متعلق پڑھی جائے کیونکہ ہر یک قوم کے اقرار سے یہ عام شہادت پیدا ہوتی ہے کہ درحقیقت وہ ایسا پُرظلمت زمانہ تھا کہ ہر ایک قوم مخلوق پرستی کی طرف جھک گئی تھی اور یہی وجہ ہے کہ جب قرآن نے تمام قوموں کو گمراہ اور بدکار قرار دیا تو کوئی اپنا بری ہونا ثابت نہ کر سکا۔ دیکھو اللہ تعالیٰ کیسے زور سے اہل کتاب کی بدیوں اور تمام دنیا کے مر جانے کا ذکر کرتا ہے اور فرماتا ہے۔ وَلَا یَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلُ فَطَالَ عَلَیۡہِمُ الۡاَمَدُ فَقَسَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَکَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یُحۡیِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ قَدۡ بَیَّنَّا لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ (سورۃ الحدید جزو ۲۷ رکوع۱۷) یعنی مومنوں کو چاہئے کہ اہل کتاب کی چال و چلن سے پرہیز کریں۔ اُن کو اس سے پہلے کتاب دی گئی تھی۔ پس اُن پر ایک زمانہ گذر گیا سو اُن کے دل سخت ہو گئے۔ اور اکثر اُن میں سے فاسق اور بدکار ہی ہیں۔ یہ بات بھی جانو کہ زمین مر گئی تھی اور اب خدا نئے سِرے سے زمین کو زندہ کر رہا ہے۔ یہ قرآن کی ضرورت اور سچائی کے نشان ہیں جو اس لئے بیان کئے گئے تاکہ تم نشانوں کو دریافت کر لو۔
اب سوچ کر دیکھو کہ یہ دلیل جو تمہارے سامنے پیش کی گئی ہے یہ ہم نے اپنے ذہن سے ایجادنہیں کی بلکہ قرآن شریف آپ ہی اس کو پیش کرتا ہے۔ اور دلیل کے دونوں حصّے بیان کرکے پھر آپ ہی فرماتا ہے قَدۡ بَیَّنَّا لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ یعنی اس رسول اور اس کتاب کے منجانب اللہ ہونے پر یہ بھی ایک نشان ہے جس کو ہم نے بیان کر دیا تا تم سوچو اور سمجھو اور حقیقت تک پہونچ جاؤ۔
دوسرا پہلو اس دلیل کا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت میں دُنیا سے اپنے مولیٰ کی طرف بلائے گئے جب کہ وہ اپنے کام کو پورے طور پر انجام دے چکے۔ اور یہ امر قرآن شریف سے بخوبی ثابت ہے۔ جیسا کہ اللہ جل شانہٗ فرماتا ہے: اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا یعنی آج مَیں نے قرآن شریف کے اُتارنے اور تکمیلِ نفوس سے تمہارا دین تمہارے لئے کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لئے دینِ اسلام پسند کر لیا۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ جس قدر قرآن مجیدنازل ہونا تھا نازل ہو چکا اور مستعد دلوں میں نہایت عجیب اور حیرت انگیز تبدیلیاں پیدا کر چکا اور تربیت کو کمال تک پہونچا دیا اور اپنی نعمت کو اُن پر پورا کر دیا۔ اور یہی دو رُکن ضروری ہیں جو ایک نبی کے آنے کی علّتِ غائی ہوتے ہیں۔ اب دیکھو یہ آیت کس زور شور سے بتلا رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز اس دنیا سے کوچ نہ کیا جب تک کہ دین اسلام کو تنزیلِ قرآن اور تکمیلِ نفوس سے کامل نہ کیا گیا۔ اور یہی ایک خاص علامت منجانب اللہ ہونے کی ہے جو کاذب کو ہرگز نہیں دی جاتی بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی صادق نبی نے بھی اس اعلیٰ شان کے کمال کا نمونہ نہیں دکھلایا کہ ایک طرف کتاب اللہ بھی آرام اور امن کے ساتھ پوری ہو جائے اور دوسری طرف تکمیل نفوس بھی ہو۔ اور بایں ہمہ کفر کو ہر یک پہلو سے شکست اور اسلام کو ہر یک پہلو سے فتح ہو۔
اور پھر دوسری جگہ فرمایا اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ وَالۡفَتۡحُ وَرَاَیۡتَ النَّاسَ یَدۡخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اَفۡوَاجًا فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ وَاسۡتَغۡفِرۡہُ ؕؔ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا یعنی جبکہ آنے والی مدد اور فتح آ گئی جس کا وعدہ دیا گیا تھا اور تُونے دیکھ لیا کہ لوگ فوج در فوج دین اسلام میں داخل ہوتے جاتے ہیں۔ پس خدا کی حمد اور تسبیح کر یعنی یہ کہہ کہ یہ جو ہوا وہ مجھ سے نہیں بلکہ اس کے فضل اور کرم اور تائید سے ہے اور الوداعی استغفار کر کیونکر وہ رحمت کے ساتھ بہت ہی رجوع کرنے والا ہے۔ استغفار کی تعلیم جو نبیوں کو دی جاتی ہے اس کو عام لوگوں کے گناہ میں داخل کرنا عین حماقت ہے بلکہ دوسرے لفظوں میں یہ لفظ اپنی نیستی اور تذلّل اور کمزوری کا اقرار اور مدد طلب کرنے کا متواضعانہ طریق ہے۔ چونکہ اس سورۃ میں فرمایا گیا ہے کہ جس کام کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے وہ پورا ہو گیا۔ یعنی یہ کہ ہزار ہا لوگوں نے دین اسلام قبول کر لیا اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی طرف بھی اشارہ ہے چنانچہ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک برس کے اندر فوت ہو گئے۔ پس ضرور تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے نزول سے جیسا کہ خوش ہوئے تھے غمگین بھی ہوں کیونکہ باغ تو لگایا گیا مگر ہمیشہ کی آب پاشی کا کیا انتظام ہوا؟ سو خدا تعالیٰ نے اسی غم کے دور کرنے کے لئے استغفار کا حکم دیا کیونکہ لُغت میں ایسے ڈھانکنے کو کہتے ہیں جس سے انسان آفات سے محفوظ رہے اِسی وجہ سے مِغْفَر جو خود کے معنے رکھتا ہے اِسی میں سے نکالا گیا ہے۔ اور مغفرت مانگنے سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ جس بلا کا خوف ہے یا جس گناہ کا اندیشہ ہے خدا تعالیٰ اُس بَلا یا اُس گناہ کو ظاہر ہونے سے روک دے اور ڈھانکے رکھے۔ سو اس استغفار کے ضمن میں یہ وعدہ دیا گیا کہ اِس دین کے لئے غم مت کھا۔ خدا تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرے گا اور ہمیشہ رحمت کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرتا رہے گا اور ان بلاؤں کو روک دے گا جو کسی ضعف کے وقت عائد حال ہو سکتی ہیں۔
(نور القرآن نمبر ۱۔ روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۳۳۳ تا۳۵۶)پھر ہم اپنے پہلے مقصد کی طرف عود کر کے لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور قرآن کریم کی حقّانیت پر اس دلیل سے نہایت اعلیٰ و اجلی ثبوت پیدا ہوتا ہے کہ آنجناب علیہ الصلوٰۃ والسَّلام ایسے وقت میں دنیا میں بھیجے گئے کہ جب دنیا زبانِ حال سے ایک عظیم الشان مصلح کو مانگ رہی تھی۔ اور پھر نہ مرے اور نہ مارے گئے جب تک کہ راستی کو زمین پر قائم نہ کر دیا۔ جب نبوت کے ساتھ ظہور فرما ہوئے تو آتے ہی اپنی ضرورت دنیا پر ثابت کر دی۔ اور ہر یک قوم کو اُن کے شرک اور ناراستی اور مفسدانہ حرکات پر ملزم کیا۔ جیسا کہ قرآن کریم اس سے بھرا ہوا ہے مثلاً اسی آیت کو سوچ کر دیکھو جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَبٰرَکَ الَّذِیۡ نَزَّلَ الۡفُرۡقَانَ عَلٰی عَبۡدِہٖ لِیَکُوۡنَ لِلۡعٰلَمِیۡنَ نَذِیۡرَا یعنی وہ بہت ہی برکت والا ہے جس نے قرآن کو اپنے بندہ پر اس غرض سے اتارا جو تمام جہانوں کو ڈرانے والا ہو۔ یعنی تا اُن کی بد راہی اور بد عقیدگی پر اُن کو متنبہ کرے۔ پس یہ آیت بصراحت اس بات پر دلیل ہے کہ قرآن کا یہی دعویٰ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت میں تشریف لائے تھے جبکہ تمام دنیا اور تمام قومیں بگڑ چکی تھیں اور مخالف قوموں نے اِس دعویٰ کو نہ صرف اپنی خاموشی سے بلکہ اپنے اقراروں سے مان لیا ہے۔ پس اِس سے ببداہت نتیجہ نکلا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم درحقیقت ایسے وقت میں آئے تھے جس وقت میں ایک سچے اور کامل نبی کو آنا چاہئے۔ پھر جب ہم دوسرا پہلو دیکھتے ہیں کہ آنجناب صلعم کس وقت واپس بلائے گئے تو قرآن صاف اور صریح طور پر ہمیں خبر دیتا ہے کہ ایسے وقت میں بلانے کا حکم ہوا کہ جب اپنا کام پورا کر چکے تھے یعنی اس وقت کے بعد بلائے گئے جبکہ یہ آیت نازل ہو چکی کہ مسلمانوں کے لئے تعلیم کا مجموعہ کامل ہو گیا اور جو کچھ ضروریات دین میں نازل ہونا تھا وہ سب نازل ہو چکا اور نہ صرف یہی بلکہ یہ بھی خبر دی گئی کہ خدا تعالیٰ کی تائیدیں بھی کمال کو پہونچ گئیں اور جوق در جوق لو گ دین اسلام میں داخل ہو گئے اور یہ آیتیں بھی نازل ہو گئیں کہ خدا تعالیٰ نے ایمان اور تقویٰ کو ان کے دلوں میں لکھ دیا اور فسق اور فجور سے انہیں بیزار کر دیا اور پاک اور نیک اخلاق سے وہ متصف ہو گئے اور ایک بھاری تبدیلی اُن کے اخلاق اور چلن اور روح میں واقع ہو گئی تب ان تمام باتوں کے بعد سورۃ النصر نازل ہوئی جس کا ماحصل یہی ہے کہ نبوت کے تمام اغراض پورے ہو گئے اور اسلام دلوں پر فتحیاب ہو گیا۔ تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عام طور پر اعلان دے دیا کہ یہ سورۃ میری وفات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ بلکہ اس کے بعد حج کیا اور اس کا نام حجّۃ الوداع رکھا اور ہزار ہا لوگوں کی حاضری میں ایک اونٹنی پر سوار ہو کر ایک لمبی تقریر کی اور کہا کہ سنو! اے خدا کے بندو! مجھے میرے رب کی طرف سے یہ حکم ملے تھے کہ تا میں یہ سب احکام تمہیں پہونچا دوں۔ پس کیا تم گواہی دے سکتے ہو کہ یہ سب باتیں مَیں نے تمہیں پہونچا دیں۔ تب ساری قوم نے بآواز بلند تصدیق کی کہ ہم تک یہ سب پیغام پہونچائے گئے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اے خدا اِن باتوں کا گواہ رہ اور پھر فرمایا کہ یہ تمام تبلیغ اس لئے مکرر کی گئی کہ شاید آئندہ سال میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں گا اور پھر دوسری مرتبہ تم مجھے اس جگہ نہیں پاؤ گے۔ تب مدینہ میں جا کر دوسرے سال میں فوت ہو گئے۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَیْہِ وَ بَارِکْ وَسَلِّمْ۔ درحقیقت یہ تمام اشارات قرآن سے ہی مستنبط ہوتے ہیں جس کی تصدیق اسلام کی متفق علیہ تاریخ سے بہ تفصیل تمام ہوتی ہے۔
اب کیا دنیا میں کوئی عیسائی یا یہودی یا آریہ اپنے کسی ایسے مصلح کو بطور نذیر پیش کر سکتا ہے جس کا آنا ایک عام اور اشد ضرورت پر مبنی ہو اور جانا اس غرض کی تکمیل کے بعد ہو اور ان مخالفوں کو اپنی ناپاک حالت اور بدعملیوں کا خود اقرار ہو جن کی طرف وہ رسول بھیجا گیا ہو مَیں جانتا ہوں کہ یہ ثبوت بجز اسلام کے کسی کے پاس موجودنہیں۔ ظاہر ہے کہ حضرت موسٰیؑ صرف فرعون کی سرکوبی کے لئے اور اپنی قوم کو چھڑانے کے لئے اور نیز راہ راست دکھلانے کے لئے آئے تھے۔ سارے جہان کے فساد یا عدم فساد کی اُن کو کچھ غرض نہیں تھی اور یہ تو سچ ہے کہ فرعون کے ہاتھ سے انہوں نے اپنی قوم کو چھوڑا دیا مگر شیطان کے ہاتھ سے چھوڑا نہ سکے اور نیز وعدہ کے ملک تک ان کو پہونچا نہ سکے۔ اور اُن کے ہاتھ سے بنی اسرائیل کو تزکیۂ نفس نصیب نہیں ہوا اور بار بار نا فرمانیاں کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت موسیٰ فوت ہو گئے اور ان کا وہی حال تھا۔ اور حضرت مسیح کے حواریوں کی حالت خود انجیل سے ظاہر ہے۔ حاجت تصریح نہیں۔ اور یہ بات کہ یہودی جن کے لئے حضرت مسیح نبی ہو کر آئے تھے کس قدر ان کی زندگی میں ہدایت پذیر ہو گئے تھے یہ بھی ایک ایسا امر ہے کہ کسی پر پوشیدہ نہیں بلکہ اگر حضرت مسیح کی نبوت کو اس معیار سے جانچا جائے تو نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اُن کی نبوت اس معیار کی رُو سے کسی طرح ثابت نہیں ہو سکتی۔
(نور القرآن نمبر ۱۔ روحانی خزائن جلدنمبر ۹ صفحہ ۳۵۸ تا۳۶۹)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُس زمانہ میں مبعوث ہوئے تھے کہ جب تمام دنیا میں شرک اور گمراہی اور مخلوق پرستی پھیل چکی تھی اور تمام لوگوں نے اصول حقہ کو چھوڑ دیا تھا اور صراط مستقیم کو بُھول بُھلا کر ہریک فرقہ نے الگ الگ بدعتوں کا راستہ لے لیا تھا۔ عرب میں بُت پرستی کا نہایت زور تھا۔ فارس میں آتش پرستی کا بازار گرم تھا۔ ہند میں علاوہ بُت پرستی کے اَور صد ہا طرح کی مخلوق پرستی پھیل گئی تھی۔ اور اُنہی دنوں میں کئی پوران اور پُستک کہ جن کے رُو سے بیسیوں خدا کے بندے خدا بنائے گئے اور اوتار پرستی کی بنیاد ڈالی گئی تصنیف ہو چکی تھی۔ اور بقول پادری بورٹ 165 صاحب اور کئی فاضل انگریزوں کے اُن دنوں عیسائی مذہب سے زیادہ اَور کوئی مذہب خراب نہ تھا اور پادری لوگوں کی بدچلنی اور بد اعتقادی سے مذہب عیسوی پر ایک سخت دھبہ لگ چکا تھا اور مسیحی عقائد میں نہ ایک نہ دو بلکہ کئی چیزوں نے خدا کا منصب لے لیا تھا۔ پس آنحضرتؐ کا ایسی عام گمراہی کے وقت میں مبعوث ہونا کہ جب خود حالت موجودہ زمانہ کی ایک بزرگ معالج اور مصلح کو چاہتی تھی اور ہدایت ربّانی کی کمال ضرورت تھی اور پھر ظہور فرما کر ایک عالم کو توحید اور اعمال صالحہ سے منوّر کرنا اور شرک اور مخلوق پرستی کا جو امّ الشّرور ہے قلع قمع فرمانا اس بات پر صاف دلیل ہے کہ آنحضرتؐ خدا کے سچّے رسول اور سب رسولوں سے افضل تھے۔ سچا ہونا ان کا تو اس بات سے ثابت ہے کہ اس عام ضلالت کے زمانہ میں قانون قدرت ایک سچے ہادی کا متقاضی تھا اور سنّتِ الٰہیہ ایک رہبر صادق کی مقتضی تھی۔ کیونکہ قانونِ قدیم حضرتِ ربّ العالمین کا یہی ہے کہ جب دنیا میں کسی نوع کی شدت اور صعوبت اپنے انتہاء کو پہنچ جاتی ہے تو رحمتِ الٰہی اُس کے دُور کرنے کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ جیسے جب امساکِ باراں سے غایت درجہ کا قحط پڑ کر خلقت کا کام تمام ہونے لگتا ہے تو آخر خداوند کریم بارش کر دیتا ہے۔ اور جب وباء سے لاکھوں آدمی مرنے لگتے ہیں تو کوئی صورت اصلاح ہوا کی نکل آتی ہے یا کوئی دوا ہی پیدا ہو جاتی ہے۔ اور جب کِسی ظالم کے پنجہ میں کوئی قوم گرفتار ہوتی ہے تو آخر کوئی عادل اور فریاد رس پیدا ہو جاتا ہے۔ پس ایسا ہی جب لوگ خدا کا راستہ بھول جاتے ہیں اور توحید اور حق پرستی کو چھوڑ دیتے ہیں تو خدا وند تعالیٰ اپنی طرف سے کسی بندہ کو بصیرت کامل عطا فرما کر اور اپنے کلام اور الہام سے مشرف کر کے بنی آدم کی ہدایت کے لئے بھیجتا ہے کہ تا جس قدر بگاڑ ہو گیا ہے اُس کی اصلاح کرے۔ اِس میں اصل حقیقت یہ ہے کہ پروردگار جو قیوم عالم کا ہے اور بقا اور وجود عالم کا اُسی کے سہارے اور آسرے سے ہے کسی اپنی فیضان رسانی کی صفت کو خلقت سے دریغ نہیں کرتا اور نہ بے کار اور معطل چھوڑتا ہے بلکہ ہر یک صفت اس کی اپنے موقعہ پر فی الفور ظہور پذیر ہو جاتی ہے۔ پس جبکہ از روئے تجویز عقلی کے اس بات پر قطع واجب ہوا کہ ہر یک آفت کا غلبہ توڑنے کے لئے خدا تعالیٰ کی وہ صفت جو اُس کے مقابل پر پڑی ہے ظہور کرتی ہے اور یہ بات تواریخ سے اور خود مخالفین کے اقرار سے اور خاص فرقان مجید کے بیانِ واضح سے ثابت ہو چکی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت میں یہ آفت غالب ہو رہی تھی کہ دنیا کی تمام قوموں نے سیدھا راستہ توحید اور اخلاص اور حق پرستی کا چھوڑ دیا تھا۔ اور نیز یہ بات بھی ہر یک کو معلوم ہے کہ اِس فسادموجودہ کے اصلاح کرنے والے اور ایک عالم کو ظلماتِ شرک اور مخلوق پرستی سے نکال کر توحید پر قائم کرنے والے صرف آنحضرتؐ ہی ہیں کوئی دوسرا نہیں تو اِن سب مقدمات سے نتیجہ یہ نکلا کہ آنحضرتؐ خدا کی طرف سے سچے ہادی ہیں۔ چنانچہ اس دلیل کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں آپ ارشاد فرمایا ہے اور وہ یہ ہے۔ تَاللّٰہِ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ فَہُوَ وَلِیُّہُمُ الۡیَوۡمَ وَلَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ۔وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِی اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ۙ وَہُدًی وَّرَحۡمَۃً لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ۔وَاللّٰہُ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّسۡمَعُوۡنَ۔ (سورۃ النحل الجزو ۱۴)………………
اب غور سے دیکھنا چاہئے کہ وہ تینوں مقدمات متذکرہ بالا کہ جن سے ابھی ہم نے آنحضرتؐ کے سچے ہادی ہونے کا نتیجہ نکالا تھا کہ کس خوبی اور لطافت سے آیات ممدوحہ میں درج ہیں۔ اوّل گمراہوں کے دلوں کو جو صد ہا سال کی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے زمین خشک اور مُردہ سے تشبیہ دے کر اور کلام الٰہی کو مینہ کا پانی جو آسمان کی طرف سے آتا ہے ٹھہرا کر اس قانونِ قدیم کی طرف اشارہ فرمایا جو امساک باراں کی شدت کے وقت ہمیشہ رحمت الٰہی بنی آدم کو برباد ہونے سے بچا لیتی ہے اور یہ بات جتلا دی کہ یہ قانون قدرت صرف جسمانی پانی میں محدودنہیں بلکہ روحانی پانی بھی شدت اور صعوبت کے وقت میں جو پھیل جانا عام گمراہی کا ہے ضرور نازل ہوتا ہے۔ اور اس جگہ بھی رحمتِ الٰہی آفتِ قلوب کا غلبہ توڑنے کے لئے ضرور ظہور کرتی ہے۔ اور پھر انہیں آیات میں یہ دوسری بات بھی بتلا دی کہ آنحضرتؐ کے ظہور سے پہلے تمام زمین گمراہ ہو چکی تھی۔ اور اِسی طرح اخیر پر یہ بھی ظاہر کر دیا کہ اِن رُوحانی مُردوں کو اس کلامِ پاک نے زندہ کیا اور آخر یہ بات کہہ کر کہ اس میں اس کتاب کی صداقت کا نشان ہے۔ طالبین حق کو اس نتیجہ نکالنے کی طرف توجہ دلائی کہ فرقان مجید خدا کی کتاب ہے۔
اور جیسا کہ اس دلیل سے حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی صادق ہونا ثابت ہوتا ہے ایسا ہی اس سے آنحضرتؐ کا دوسرے نبیوں سے افضل ہونا بھی ثابت ہوتا ہے کیونکہ آنحضرتؐ کو تمام عالم کا مقابلہ کرنا پڑا اور جو کام حضرت ممدوحؐ کے سپرد ہوا وہ حقیقت میں ہزار دوہزار نبی کا کام تھا۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۱۲ تا۱۱۶ حاشیہ نمبر ۱۰)وہ زمانہ کہ جس میں آنحضرتؐ مبعوث ہوئے حقیقت میں ایسا زمانہ تھا کہ جس کی حالت موجودہ ایک بزرگ اور عظیم القدر مصلح ربّانی اور ہادیٔ آسمانی کی اشد محتاج تھی۔ اور جو جو تعلیم دی گئی وہ بھی واقعہ میں سچّی اور ایسی تھی کہ جس کی نہایت ضرورت تھی اور اُن تمام امور کی جامع تھی کہ جس سے تمام ضرورتیں زمانہ کی پوری ہوتی تھیں اور پھر اس تعلیم نے اثر بھی ایسا کر دکھایا کہ لاکھوں دلوں کو حق اور راستی کی طرف کھینچ لائی اور لاکھوں سینوں پر لا اله الا اللہ کا نقش جما دیا اور جو نبوت کی علّتِ غائی ہوتی ہے یعنی تعلیم اصول نجات کے اس کو ایسا کمال تک پہنچایاجو کسی دوسرے نبی کے ہاتھ سے وہ کمال کسی زمانہ میں بہم نہیں پہنچا۔ تو ان واقعات پر نظر ڈالنے سے بلااختیار یہ شہادت دل سے جوش مار کر نکلے گی کہ آنحضرتؐ ضرور خدا کی طرف سے سچّے ہادی ہیں۔ جو شخص تعصب اور ضدّیت سے انکاری ہو اُس کی مرض تو لاعلاج ہے خواہ وہ خدا سے بھی منکر ہو جائے ورنہ یہ سارے آثارِ صداقت جو آنحضرتؐ میں کامل طور پر جمع ہیں کِسی اور نبی میں کوئی ایک تو ثابت کر کے دکھلاوے تا ہم بھی جانیں۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۱۲ تا ۱۱۴)
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اظہار سچائی کے لئے ایک مجدّد اعظم تھے جو گم گشتہ سچائی کو دوبارہ دنیا میں لائے۔ اس فخر میں ہمارے نبی صلعم کے ساتھ کوئی بھی نبی شریک نہیں کہ آپ نے تمام دنیا کو ایک تاریکی میں پایا اور پھر آپ کے ظہور سے وہ تاریکی نور سے بدل گئی۔ جس قوم میں آپ ظاہر ہوئے آپ فوت نہ ہوئے جب تک کہ اس تمام قوم نے شرک کا چولہ اتار کر توحید کا جامہ نہ پہن لیا۔ اور نہ صرف اس قدر بلکہ وہ لوگ اعلیٰ مراتب ایمان کو پہونچ گئے اور وہ کام صدق اور وفا اور یقین کے ان سے ظاہر ہوئے کہ جس کی نظیر دنیا کے کسی حصّہ میں پائی نہیں جاتی۔ یہ کامیابی اور اس قدر کامیابی کسی نبی کو بجز آنحضرت صلعم کے نصیب نہیں ہوئی یہی ایک بڑی دلیل آنحضرت صلعم کی نبوت پر ہے کہ آپ ایک ایسے زمانہ میں مبعوث اور تشریف فرما ہوئے جبکہ زمانہ نہایت درجہ کی ظلمت میں پڑا ہوا تھا اور طبعًا ایک عظیم الشان مصلح کا خواستگار تھا۔ اور پھر آپ نے ایسے وقت میں دُنیا سے انتقال فرمایا جبکہ لاکھوں انسان شرک اور بُت پرستی کو چھوڑ کر توحید اور راہ ِ راست اختیار کر چکے تھے اور درحقیقت یہ کامل اصلاح آپ ہی سے مخصوص تھی کہ آپ نے ایک قوم وحشی سیرت اور بہائم خصلت کو انسانی عادات سکھلائے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ بہائم کو انسان بنایا اور پھر انسانوں سے تعلیم یافتہ انسان بنایا۔ اور پھر تعلیم یافتہ انسانوں سے باخدا انسان بنایا اور روحانیت کی کیفیت ان میں پُھونک دی۔ اور سچّے خدا کے ساتھ ان کا تعلق پیدا کر دیا۔ وہ خدا کی راہ میں بکریوں کی طرح ذبح کئے گئے اور چیونیٹیوں کی طرح پیروں میں کچلے گئے مگر ایمان کو ہاتھ سے نہ دیا بلکہ ہر ایک مصیبت میں آگے قدم بڑھایا۔ پس بلاشبہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم روحانیت قائم کرنے کے لحاظ سے آدمِ ثانی تھے بلکہ حقیقی آدم وہی تھے جن کے ذریعہ اور طفیل سے تمام انسانی فضائل کمال کو پہونچے اور تمام نیک قوتیں اپنے اپنے کام میں لگ گئیں اور کوئی شاخ فطرت انسانی کی بے بار و بر نہ رہی اور ختم نبوت آپ پر نہ صرف زمانہ کے تأخر کی وجہ سے ہوا بلکہ اس وجہ سے بھی کہ تمام کمالاتِ نبوت آپ پر ختم ہو گئے اور چونکہ آپ صفات الٰہیہ کے مظہرِ اتم تھے اس لئے آپ کی شریعت صفات جلالیہ و جمالیہ دونوں کی حامل تھی اور آپؐ کے دو نام محمّد اور احمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی غرض سے ہیں اور آپؐ کی نبوتِ عامہ میں کوئی حصہ بخل کا نہیں بلکہ وہ ابتدا سے تمام دنیا کے لئے ہے۔ (لیکچر سیالکوٹ۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۰۶، ۲۰۷)
اصل حقیقت یہ ہے کہ سب نبیوں سے افضل وہ نبی ہے کہ جو دنیا کا مربّئ اعظم ہے یعنی وہ شخص کہ جس کے ہاتھ سے فساد اعظم دنیا کا اصلاح پذیر ہوا جس نے توحید گم گشتہ اور ناپدید شدہ کو پھر زمین پر قائم کیا۔ جس نے تمام مذاہب باطلہ کو حجت اور دلیل سے مغلوب کر کے ہر یک گمراہ کے شبہات مٹائے۔ جس نے ہر یک ملحد کے وسواس دُور کئے اور سچا سامان نجات کا کہ جس کے لئے کسی بے گناہ کو پھانسی دینا ضروری نہیں اور خدا کو اپنی قدیمی اور ازلی جگہ سے کھسکا کر کسی عورت کے پیٹ میں ڈالنا کچھ حاجت نہیں اصول حقہ کی تعلیم سے از سرِ نو عطا فرمایا۔ پس اس دلیل سے اس کا فائدہ اور افاضہ سب سے زیادہ ہے۔ اس کا درجہ اور رتبہ بھی سب سے زیادہ ہے۔ اب تواریخ بتلاتی ہے۔ کتاب آسمانی شاہد ہے اور جن کی آنکھیں ہیں وہ آپ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ نبی جو بموجب اس قاعدہ کے سب نبیوں سے افضل ٹھہرتا ہے وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ (براہین احمدیہ ہرچہارحصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۹۷ حاشیہ نمبر ۶)
خیال کرنا چاہئے کہ کس استقلال سے آنحضرتؐ اپنے دعوٰیٔ نبوت پر باوجودپیدا ہو جانے ہزاروں خطرات اور کھڑے ہو جانے لاکھوں معاندوں اور مزاحموں اور ڈرانے والوں کے اول سے اخیر دم تک ثابت اور قائم رہے۔ برسوں تک وہ مصیبتیں دیکھیں اور وہ دُکھ اُٹھانے پڑے جو کامیابی سے بکلّی مایوس کرتے تھے اور روز بروز بڑھتے جاتے تھے کہ جن پر صبر کرنے سے کسی دنیوی مقصد کا حاصل ہو جانا وہم بھی نہیں گذرتا تھا۔ بلکہ نبوت کا دعویٰ کرنے سے ازدست اپنی پہلی جمعیت کو بھی کھو بیٹھے اور ایک بات کہہ کرلاکھ تفرقہ خرید لیا۔ اور ہزاروں بلاؤں کو اپنے سر پر بلا لیا۔ وطن سے نکالے گئے۔ قتل کے لئے تعاقب کئے گئے۔ گھر اور اسباب تباہ اور برباد ہو گیا۔ بارہا زہر دی گئی۔ اور جو خیر خواہ تھے وہ بدخواہ بن گئے اور جو دوست تھے وہ دشمنی کرنے لگے اور ایک زمانہ دراز تک وہ تلخیاں اٹھانی پڑیں کہ جن پر ثابت قدمی سے ٹھہرے رہنا کسی فریبی اور مکّار کا کام نہیں۔ اور پھر جب مدت مدید کے بعد غلبہ اسلام کا ہواتو ان دولت اور اقبال کے دنوں میں کوئی خزانہ اکٹھا نہ کیا۔ کوئی عمارت نہ بنائی۔ کوئی بارگاہ طیارنہ ہوئی۔ کوئی سامانِ شاہانہ عیش وعشرت کا تجویز نہ کیا گیا۔ کوئی اَور ذاتی نفع نہ اٹھایا بلکہ جو کچھ آیا وہ سب یتیموں اور مسکینوں اور بیوہ عورتوں اور مقروضوں کی خبر گیری میں خرچ ہوتا رہا۔ اور کبھی ایک وقت بھی سیر ہو کر نہ کھایا۔ اور پھر صاف گوئی اس قدر کہ توحید کا وعظ کرکے سب قوموں اور سارے فرقوں اور تمام جہان کے لوگوں کو جو شرک میں ڈوبے ہوئے تھے مخالف بنا لیا۔ جو اپنے اور خویش تھے ان کو بُت پرستی سے منع کر کے سب سے پہلے دشمن بنایا۔ یہودیوں سے بھی بات بگاڑ لی کیونکہ ان کو طرح طرح کی مخلوق پرستی اور پیر پرستی اور بد اعمالیوں سے روکا۔ حضرت مسیحؑ کی تکذیب اور توہین سے منع کیا۔ جس سے ان کا نہایت دل جل گیا۔ اور سخت عداوت پر آمادہ ہو گئے۔ اور ہر دم قتل کر دینے کی گھات میں رہنے لگے۔ اِسی طرح عیسائیوں کو بھی خفا کر دیا گیا۔ کیونکہ جیسا کہ اُن کا اعتقاد تھا حضرت عیسٰیؑ کو نہ خدا، نہ خدا کا بیٹا قرار دیا اور نہ ان کو پھانسی مل کر دوسروں کو بچانے والا تسلیم کیا۔ آتش پرست اور ستارہ پرست بھی ناراض ہو گئے۔ کیونکہ ان کو بھی اُن کے دیوتوں کی پرستش سے ممانعت کی گئی۔ اور مدار نجات کا صرف توحید ٹھہرائی گئی۔ اب جائے انصاف ہے کہ کیا دنیا حاصل کرنے کی یہی تدبیر تھی؟ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۰۸، ۱۰۹)
آنحضرت اعلیٰ درجہ کے یک رنگ اور صاف باطن اور خدا کے لئے جان باز اور خلقت کے بیم و امید سے بالکل مُنہ پھیرنے والے اور محض خدا پر توکل کرنے والے تھے کہ جنہوں نے خدا کی خواہش اور مرضی میں محو اور فنا ہو کر اس بات کی کچھ بھی پروا نہ کی کہ توحید کی منادی کرنے سے کیا کیا بَلا میرے سر پر آوے گی۔ اور مشرکوں کے ہاتھ سے کیا کچھ دُکھ اور درد اُٹھانا ہو گا۔ بلکہ تمام شدتوں اور سختیوں اور مشکلوں کو اپنے نفس پر گوارا کر کے اپنے مولیٰ کاحکم بجا لائے اور جو جو شرط مجاہدہ اور وعظ اور نصیحت کی ہوتی ہے وہ سب پوری کی اور کسی ڈرانے والے کو کچھ حقیقت نہ سمجھا۔ ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ تمام نبیوں کے واقعات میں ایسے مواضعاتِ خطرات اور پھر کوئی ایسا خدا پر توکّل کر کے کھلا کھلے شرک اور مخلوق پرستی سے منع کرنے والا اور اس قدر دشمن اور پھر کوئی ایسا ثابت قدم اور استقلال کرنے والا ایک بھی ثابت نہیں۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۱۱، ۱۱۲)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ سالہ زندگی جو مکّہ میں گذری اس میں جس قدر مصائب اور مشکلات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آئیں ہم تو ان کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ دل کانپ اُٹھتا ہے جب اُن کا تصور کرتے ہیں۔ اِس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عالی حوصلگی، فراخدلی، استقلال اور عزم و استقامت کا پتہ لگتا ہے۔ کیسا کوہِ وقار انسان ہے کہ مشکلات کے پہاڑ ٹوٹے پڑتے ہیں مگر اس کو ذرا بھی جنبش نہیں دے سکتے۔ وہ اپنے منصب کے ادا کرنے میں ایک لمحہ سُست اور غمگین نہیں ہوا۔ وہ مشکلات اس کے ارادے کو تبدیل نہیں کر سکیں۔ بعض لوگ غلط فہمی سے کہہ اُٹھتے ہیں کہ آپ تو خدا کے حبیب مصطفیٰ اور مجتبیٰ تھے پھر یہ مصیبتیں اور مشکلات کیوں آئیں؟ مَیں کہتا ہوں کہ پانی کے لئے جب تک زمین کو کھودا نہ جاوے اس کا جگر پھاڑا نہ جاوے وہ کب نکل سکتا ہے۔ کتنے ہی گز گہرا زمین کو کھودتے چلے جائیں تب کہیں جا کر خوشگوار پانی نکلتا ہے جو مایۂ حیات ہوتا ہے۔ اِسی طرح وہ لذت جو خدا تعالیٰ کی راہ میں استقلال اور ثباتِ قدم کے دکھانے سے نہیں ملتی جب تک ان مشکلات اور مصائب میں سے ہو کر انسان نہ گذرے۔ وہ لوگ جو اس کوچہ سے بے خبر ہیں وہ اِن مصائب کی لذت سے کب آشنا ہو سکتے ہیں اور کب اسے محسوس کر سکتے ہیں۔ انہیں کیا معلوم ہے کہ جب آپ کو کوئی تکلیف پہونچتی تھی اندر سے ایک سرور اور لذت کا چشمہ پھوٹ نکلتاتھا۔ خدا تعالیٰ پر توکّل، اس کی محبت اور نصرت پر ایمان پیدا ہوتا تھا۔ (الحکم مورخہ ۳۰؍جون ۱۹۰۱ء صفحہ ۲ کالم نمبر ۲، ۳۔ ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۵۱۶، ۵۱۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
کیا یہ حیرت انگیز ماجرا نہیں کہ ایک بے زر، بے زور، بے کس، اُمّی، یتیم، تنہا، غریب ایسے زمانہ میں کہ جس میں ہر ایک قوم پوری پوری طاقت مالی اور فوجی اور علمی رکھتی تھی ایسی روشن تعلیم لایا کہ اپنی براہین قاطعہ اور حُجَجِ وَاضِحَہ سے سب کی زبان بند کر دی۔ اور بڑے بڑے لوگوں کی جو حکیم بنے پھرتے تھے اور فیلسوف کہلاتے تھے فاش غلطیاں نکالیں اور پھر باوجود بے کسی اور غریبی کے زور بھی ایسا دکھایا کہ بادشاہوں کو تختوں سے گرا دیا اور انہیں تختوں پر غریبوں کو بٹھایا۔ اگر یہ خداکی تائیدنہیں تھی تو اَور کیا تھی؟ کیا تمام دنیا پر عقل اور علم اور طاقت اور زور میں غالب آ جانا بغیر تائید الٰہی کے بھی ہوا کرتا ہے؟ خیال کرنا چاہئے کہ جب آنحضرتؐ نے پہلے پہل مکے کے لوگوں میں منادی کی کہ مَیں نبی ہوں۔ اُس وقت ان کے ہمراہ کون تھا اور کِس بادشاہ کا خزانہ ان کے قبضہ میں آ گیا تھا کہ جس پر اعتماد کر کے ساری دنیا سے مقابلہ کرنے کی ٹھہر گئی؟ یا کون سی فوج اکٹھی کر لی تھی کہ جس پر بھروسہ کر کے تمام بادشاہوں کے حملوں سے امن ہو گیا تھا؟ ہمارے مخالف بھی جانتے ہیں کہ اُس وقت آنحضرت زمین پر اکیلے اور بے کس اور بے سامان تھے صرف اُن کے ساتھ خدا تھا جس نے ان کو ایک بڑے مطلب کے لئے پیدا کیا تھا۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۱۹، ۱۲۰)
پانچ موقعے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہایت نازک پیش آئے تھے جن میں جان کا بچنا محالات سے معلوم ہوتا تھا۔ اگر آنجنابؐ درحقیقت خدا کے سچے رسول نہ ہوتے تو ضرور ہلاک کئے جاتے۔ ایک تو وہ موقعہ تھا جب کفار قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کیا اور قسمیں کھا لی تھیں کہ آج ہم ضرور قتل کریں گے۔ (۲)دوسراوہ موقعہ تھا جبکہ کافر لوگ اُس غار پر معہ ایک گروہِ کثیر کے پہنچ گئے تھے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مع حضرت ابوبکرؓ کے چُھپے ہوئے تھے۔ (۳)تیسرا وہ نازک موقعہ تھا جبکہ اُحد کی لڑائی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ گئے تھے اور کافروں نے آپ کے گرد محاصرہ کر لیا تھا۔ اور آپ پر بہت سی تلواریں چلائیں مگر کوئی کارگر نہ ہوئی۔ یہ ایک معجزہ تھا۔ (۴)چوتھا وہ موقعہ تھا جبکہ ایک یہودیہ نے آنجنابؐ کو گوشت میں زہر دے دی تھی اور وہ زہر بہت تیز اور مہلک تھی اور بہت وزن اُس کا دیا گیا تھا (۵)پانچواں وہ نہایت خطرناک موقع تھا جبکہ خسرو پرویز شاہ فارس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے مصمم ارادہ کیا تھا اور گرفتار کرنے کے لئے اپنے سپاہی روانہ کئے تھے۔ پس صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِن تمام پر خطر موقعوں سے نجات پانا اور ان تمام دشمنوں پر آخر کار غالب ہو جانا ایک بڑی زبردست دلیل اس بات پر ہے کہ درحقیقت آپؐ صادق تھے اور خدا آپؐ کے ساتھ تھا۔ (چشمۂ معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۲۶۳، ۲۶۴ حاشیہ)
انبیاء اور اولیاء کا وجود اس لئے ہوتا ہے کہ تا لوگ جمیع اخلاق میں اُن کی پیروی کریں۔ اور جن امور پر خدا نے ان کو استقامت بخشی ہے اُسی جادۂ استقامت پر سب حق کے طالب قدم ماریں اور یہ بات نہایت بدیہی ہے کہ اخلاق فاضلہ کسی انسان کے اس وقت بپایۂ ثبوت پہنچتے ہیں کہ جب اپنے وقت پر ظہور پذیر ہوں اور اُسی وقت دلوں پر اُن کی تاثیریں بھی ہوتی ہیں مثلاً عفو وہ معتبر اور قابل تعریف ہے کہ جو قدرت انتقام کے وقت میں ہو اور پرہیز گاری وہ قابل اعتبار ہے کہ جو نفس پروری کی قدرت موجود ہوتے ہوئے پھر پرہیز گاری قائم رہے۔ غرض خدائے تعالیٰ کا ارادہ انبیاء اور اولیاء کی نسبت یہ ہوتا ہے کہ اُن کے ہر یک قسم کے اخلاق ظاہر ہوں اور بہ پایۂ ثبوت پہنچ جائیں۔ سو خدائے تعالیٰ اسی ارادہ کو پورا کرنے کی غرض سے ان کی نورانی عمر کو دو حصہ پر منقسم کر دیتا ہے۔ ایک حصّہ تنگیوں اور مصیبتوں میں گذرتا ہے اور ہر طرح سے دُکھ دیئے جاتے ہیں اور ستائے جاتے ہیں تا وہ اعلیٰ اخلاق اُن کے ظاہر ہو جائیں کہ جو بجز سخت تر مصیبتوں کے ہرگز ظاہر اور ثابت نہیں ہو سکتے۔ اگر اُن پر وہ سخت تر مصیبتیں نازل نہ ہوں تو یہ کیونکر ثابت ہو کہ وہ ایک ایسی قوم ہے کہ مصیبتوں کے پڑنے سے اپنے مولیٰ سے بے وفائی نہیں کرتے بلکہ اَور بھی آگے قدم بڑھاتے ہیں۔ اور خداوند کریم کا شکر کرتے ہیں کہ اُس نے سب کو چھوڑ کر انہیں پر نظر عنایت کی اور انہیں کو اس لائق سمجھا کہ اُس کے لئے اور اُس کی راہ میں ستائے جائیں۔ سو خدائے تعالیٰ اُن پر مصیبتیں نازل کرتا ہے تا ان کا صبر ان کا صدق قدم اُن کی مردی ان کی استقامت ان کی وفاداری ان کی فتوت شعاری لوگوں پر ظاہر کر کے الاستقامۃ فوق الکرامۃ کا مصداق ان کو ٹھہرا وے۔ کیونکہ کامل صبر بجز کامل مصیبتوں کے ظاہر نہیں ہو سکتا۔ اور اعلیٰ درجہ کی استقامت اور ثابت قدمی بجز اعلیٰ درجہ کے زلزلہ کے معلوم نہیں ہو سکتی اور یہ مصائب حقیقت میں انبیاء اور اولیاء کے لئے روحانی نعمتیں ہیں جن سے دنیا میں ان کے اخلاق فاضلہ جن میں وہ بے مثل و مانند ہیں ظاہر ہوتے ہیں اور آخرت میں ان کے درجات کی ترقی ہوتی ہے۔ اگر خدا ان پر یہ مصیبتیں نازل نہ کرتا تو یہ نعمتیں بھی ان کو حاصل نہ ہوتیں اور نہ عوام پر اُن کے شمائلِ حسنہ کماحقہ کھلتے۔ بلکہ دوسرے لوگوں کی طرح اور ان کے مساوی ٹھہرتے۔ اور گو اپنی چند روزہ عمر کو کیسے ہی عشرت اور راحت میں بسر کرتے پر آخر ایک دن اس دار فانی سے گذر جاتے اور اس صورت میں نہ وہ عیش اور عشرت اُن کی باقی رہتی نہ آخرت کے درجات عالیہ حاصل ہوتے نہ دنیا میں اُن کی وہ فتوت اور جواں مردی اور وفا داری اور شجاعت شہرۂ آفاق ہوتی جس سے وہ ایسے ارجمند ٹھہرے جن کا کوئی مانندنہیں اور ایسے یگانہ ٹھہرے جن کا کوئی ہم جنس نہیں اور ایسے فرد الفرد ٹھہرے جن کا کوئی ثانی نہیں اور ایسے غیب الغیب ٹھہرے جن تک کسی ادراک کی رسائی نہیں۔ اور ایسے کامل اور بہادر ٹھہرے کہ گویا ہزار ہا شیر ایک قالب میں ہیں۔ اور ہزار ہا پلنگ ایک بدن میں جن کی قوت اور طاقت سب کی نظروں سے بلند تر ہو گئی اور جو تقرب کے اعلیٰ درجات تک پہنچ گئی۔
اور دوسرا حصہ انبیاء اور اولیاء کی عمر کا فتح میں، اقبال میں، دولت میں، بمرتبۂ کمال ہوتا ہے تا وہ اخلاق اُن کے ظاہر ہو جائیں کہ جن کے ظہور کے لئے فتح مند ہونا، صاحب اقبال ہونا، صاحب دولت ہونا، صاحب اختیار ہونا، صاحب اقتدار ہونا، صاحب طاقت ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ اپنے دُکھ دینے والوں کے گناہ بخشنا اور اپنے ستانے والوں سے درگذر کرنا اور اپنے دشمنوں سے پیار کرنا۔ اور اپنے بداندیشوں کی خیر خواہی بجا لانا دولت سے دل نہ لگانا۔ دولت سے مغرور نہ ہونا۔ دولتمندی میں امساک اور بخل اختیار نہ کرنا اور کرم اور جود اور بخشش کا دروازہ کھولنا اور دولت کو ذریعہ نفس پروری نہ ٹھہرانا اور حکومت کو آلۂ ظلم و تعدی نہ بنانا یہ سب اخلاق ایسے ہیں کہ جن کے ثبوت کے لئے صاحب دولت اور صاحب طاقت ہونا شرط ہے اور اُسی وقت بپایۂ ثبوت پہنچتے ہیں کہ جب انسان کے لئے دولت و اقتدار دونوں میسر ہوں۔ پس چونکہ بجز زمانۂ مصیبت و ادبار و زمانۂ دولت و اقتدار یہ دونوں قسم کے اخلاق ظاہر نہیں ہو سکتے اِس لئے حکمتِ کاملہ ایزدی نے تقاضا کیا کہ انبیاء اور اولیاء کو ان دونوں طور کی حالتوں سے کہ جو ہزار ہا نعمتوں پر مشتمل ہیں متمتع کرے لیکن ان دونوں حالتوں کا زمانۂ وقوع ہر یک کے لئے ایک ترتیب پر نہیں ہوتا بلکہ حکمت الٰہیہ بعض کے لئے زمانۂ امن و آسائش پہلے حصۂِ عمر میں میسر کر دیتی ہے اور زمانۂ تکالیف پیچھے سے اور بعض پر پہلے وقتوں میں تکالیف وارد ہوتی ہیں اور پھر آخر کار نصرتِ الٰہی شامل ہو جاتی ہے اور بعض میں یہ دو نوں حالتیں مخفی ہوتی ہیں۔ اور بعض میں کامل درجہ پر ظہور و بروز پکڑتی ہیں اور اس بارے میں سب سے اوّل قدم حضرت خاتم الرسل محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کمال وضاحت سے یہ دونوں حالتیں وارد ہو گئیں اور ایسی ترتیب سے آئیں کہ جس سے تمام اخلاقِ فاضلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثل آفتاب کے روشن ہو گئے اور مضمون اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ کا بپایۂ ثابت پہنچ گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا دونوں طور پر علیٰ وجہ الکمال ثابت ہونا تمام انبیاء کے اخلاق کو ثابت کرتا ہے کیونکہ آنجناب نے ان کی نبوت اور ان کی کتابوں کو تصدیق کیا اور ان کا مقرب اللہ ہونا ظاہر کر دیا ہے۔ پس اس تحقیق سے یہ اعتراض بھی بالکل دُور ہو گیا کہ جو مسیحؑ کے اخلاق کی نسبت دلوں میں گذر سکتا ہے۔ یعنی یہ کہ اخلاق حضرت مسیح علیہ السلام دونوں قسم مذکورہ بالا پر علیٰ وجہ الکمال ثابت نہیں ہو سکتے بلکہ ایک قسم کے رو سے بھی ثابت نہیں ہیں کیونکہ مسیح نے جو زمانۂ مصیبتوں میں صبر کیا تو کمالیت اور صحت اس صبر کی تب بپایۂ صداقت پہنچ سکتی تھی کہ جب مسیح اپنے تکلیف دہندوں پر اقتدار اور غلبہ پا کر اپنے موذیوں کے گناہ دلی صفائی سے بخش دیتا جیسا حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں اور دوسرے لوگوں پر بکلّی فتح پا کر اور ان کو اپنی تلوار کے نیچے دیکھ کر پھر ان کا گناہ بخش دیا۔ اور صرف انہیں چند لوگوں کو سزادی جن کو سزا دینے کے لئے حضرت احدیت کی طرف سے قطعی حکم وارد ہو چکا تھا او ر بجز ان ازلی ملعونوں کے ہریک دشمن کا گناہ بخش دیا اور فتح پا کر سب کو لَا تَثۡرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ کہا اور اسی عفو تقصیر کی وجہ سے کہ جو مخالفوں کی نظر میں ایک امرِ محال معلوم ہوتا تھا اور اپنی شرارتوں پر نظر کرنے سے وہ اپنے تئیں اپنے مخالف کے ہاتھ میں دیکھ کر مقتول خیال کرتے تھے ہزاروں انسانوں نے ایک ساعت میں دین اسلام قبول کر لیا اور حقانی صبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ جو ایک زمانہ دراز تک آنجنابؐ نے اُن کی سخت سخت ایذاؤں پر کیا تھا آفتاب کی طرح اُن کے سامنے روشن ہو گیا۔ اور چونکہ فطرتاً یہ بات انسان کی عادت میں داخل ہے کہ اسی شخص کے صبر کی عظمت اور بزرگی انسان پر کامل طور پر روشن ہوتی ہے کہ جو بعد ز مانہ آزار کشی کے اپنے آزار دہندہ پر قدرت انتقام پا کر اس کے گناہ کو بخش دے۔ اِسی وجہ سے مسیح کے اخلاق کہ جو صبر اور حلم اور برداشت کے متعلق تھے بخوبی ثابت نہ ہوئے۔ اور یہ امر اچھی طرح نہ کھلا کہ مسیح کا صبر اور حلم اختیاری تھا یا اضطراری تھا۔ کیونکہ مسیح نے اقتدار اور طاقت کا زمانہ نہیں پایا تا دیکھا جاتا کہ اس نے اپنے موذیوں کے گناہ کو عفو کیا یا انتقام لیا۔ برخلاف اخلاق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کہ وہ صد ہا مواقع میں اچھی طرح کھل گئے۔ اور امتحان کئے گئے اور اُن کی صداقت آفتاب کی طرح روشن ہو گئی اور جو اخلاق کرم اور جود اور سخاوت اور ایثار اور فتوت اور شجاعت اور زہد اور قناعت اور اِعْرَاض عَنِ الدُّنْیَا کے متعلق تھے وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک میں ایسے روشن اور تاباں اور درخشاں ہوئے کہ مسیح کیا بلکہ دنیا میں آنحضرتؐ سے پہلے کوئی بھی ایسا نبی نہیں گزرا جس کے اخلاق ایسی وضاحت تامہ سے روشن ہو گئے ہوں۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ نے بے شمار خزائن کے دروازے آنحضرتؐ پر کھول دیئے سو آنجنابؐ نے اُن سب کو خدا کی راہ میں خرچ کیا اور کسی نوع کی تن پروری میں ایک حبّہ بھی خرچ نہ ہوا۔ نہ کوئی عمارت بنائی نہ کوئی بارگاہ طیار ہوئی بلکہ ایک چھوٹے سے کچے کوٹھے میں جس کو غریب لوگوں کے کوٹھوں پر کچھ بھی ترجیح نہ تھی اپنی ساری عمر بسر کی۔ بدی کرنے والوں سے نیکی کر کے دکھلائی اور وہ جو دل آزار تھے اُن کو اُن کی مصیبت کے وقت اپنے مال سے خوشی پہنچائی۔ سونے کے لئے اکثر زمین پر بستر اور رہنے کے لئے ایک چھوٹا سا جھونپڑا اور کھانے کے لئے نانِ جَو یا فاقہ اختیار کیا۔ دنیا کی دولتیں بکثرت اُن کو دی گئیں۔ پر آنحضرتؐ نے اپنے پاک ہاتھوں کو دنیا سے ذرا آلودہ نہ کیا اور ہمیشہ فقر کو تونگری پر اور مسکینی کو امیری پر اختیار رکھا اور اُس دن سے جو ظہور فرمایا تا اس دن تک جو اپنے رفیق اعلیٰ سے جا ملے بجز اپنے مولیٰ کریم کے کسی کو کچھ چیز نہ سمجھا۔ اور ہزاروں دشمنوں کے مقابلہ پر معرکۂ جنگ میں کہ جہاں قتل کیا جانا یقینی امر تھا خالصًا خدا کے لئے کھڑے ہو کر اپنی شجاعت اور وفاداری اور ثابت قدمی دکھلائی۔ غرض جود اور سخاوت اور زہد اور قناعت اور مردی اور شجاعت اور محبت الٰہیہ کے متعلق جو جو اخلاق فاضلہ ہیں وہ بھی خداوند کریم نے حضرت خاتم الانبیاء میں ایسے ظاہر کئے کہ جن کی مثل نہ کبھی دنیا میں ظاہر ہوئی اور نہ آئندہ ظاہر ہو گی۔ لیکن حضرت مسیح علیہ السلام میں اس قسم کے اخلاق بھی اچھی طرح ثابت نہیں ہوئے کیونکہ یہ سب اخلاق بجز زمانۂ اقتدار اور دولت کے بہ پایۂ ثبوت نہیں پہنچ سکتے اور مسیح نے اقتدار اور دولت کا زمانہ نہیں پایا اس لئے دونوں قسم کے اخلاق اس کے زیر پردہ رہے اور جیسا کہ شرط ہی ظہور پذیر نہ ہوئی۔ پس یہ اعتراض مذکورہ بالا جو مسیح کی ناقص حالت پر وارد ہوتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل حالت سے بکلی مندفع ہو گیا کیونکہ وجودِ باجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر یک نبی کے لئے متمم اور مکمل ہے اور اس ذات عالی کے ذریعہ سے جو کچھ امر مسیح اور دوسرے نبیوں کا مشتبہ اور مخفی رہا تھا وہ چمک اٹھا اور خدا نے اس ذات مقدس پر انہیں معنوں کر کے وحی اور رسالت کو ختم کیا کہ سب کمالات اس وجودِ باجود پر ختم ہو گئے۔ وَھٰذَا فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ۔
(براہین احمدیہ ہرچہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۷۶تا۲۹۲ حاشیہ نمبر ۱۱)خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح کو دو حصوں پر منقسم کر دیا۔ ایک حصہ دُکھوں اور مصیبتوں اور تکلیفوں کا اور دوسرا حصہ فتح یابی کا تا مصیبتوں کے وقت میں وہ خُلق ظاہر ہوں جو مصیبتوں کے وقت ظاہر ہوا کرتے ہیں اور فتح اور اقتدار کے وقت میں وہ خلق ثابت ہوں جو بغیر اقتدار کے ثابت نہیں ہوتے۔ سو ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں قسم کے اخلاق دونوں زمانوں اور دونوں حالتوں کے وارد ہونے سے کمال وضاحت سے ثابت ہو گئے۔ چنانچہ وہ مصیبتوں کا زمانہ جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تیرہ برس تک مکّہ معظمہ میں شامل حال رہا اس زمانہ کی سوانح پڑھنے سے نہایت واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اخلاق جو مصیبتوں کے وقت کامل راستباز کو دکھلانے چاہئیں یعنی خدا پر توکل رکھنا اور جزع فزع سے کنارہ کرنا اور اپنے کام میں سُست نہ ہونا اور کسی کے رعب سے نہ ڈرنا ایسے طور پر دکھلا دیئے جو کفار ایسی استقامت دیکھ کر ایمان لائے اور شہادت دی کہ جب تک کسی کا پورا بھروسہ خدا پر نہ ہو تو اس استقامت اور اس طور سے دکھوں کی برداشت نہیں کر سکتا۔
اور پھر جب دوسرا زمانہ آیا یعنی فتح اور اقتدار اور ثروت کا زمانہ تو اس زمانہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ اخلاق عفو اور سخاوت اور شجاعت کے ایسے کمال کے ساتھ صادر ہوئے جو ایک گروہ کثیر کفار کا انہی اخلاق کو دیکھ کر ایمان لایا۔ دُکھ دینے والوں کو بخشا اور شہر سے نکالنے والوں کو امن دیا۔ ان کے محتاجوں کو مال سے مالا مال کر دیا اور قابو پا کر اپنے بڑے بڑے دشمنوں کو بخش دیا چنانچہ بہت سے لوگوں نے آپ کے اخلاق دیکھ کر گواہی دی کہ جب تک کوئی خدا کی طرف سے اور حقیقۃً راستباز نہ ہو یہ اخلاق ہرگز دکھلا نہیں سکتا یہی وجہ ہے کہ آپ کے دشمنوں کے پُرانے کینے یکلخت دُور ہو گئے۔ آپ کا بڑا بھاری خُلق جس کو آپؐ نے ثابت کر کے دکھلا دیا وہ خلق تھا جو قرآن شریف میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ اور وہ یہ ہے۔ قُلۡ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَنُسُکِیۡ وَمَحۡیَایَ وَمَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ
یعنی ان کو کہہ دے کہ میری عبادت اور میری قربانی اور میرا مرنا اور میرا جینا خدا کی راہ میں ہے یعنی اس کا جلال ظاہر کرنے کے لئے اور نیز اس کے بندوں کے آرام دینے کے لئے ہے۔ تا میرے مرنے سے اُن کو زندگی حاصل ہو۔
(اسلامی اصول کی فلاسفی۔ روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۴۴۷، ۴۴۸)سب عزتوں سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت ہے جس کا کل اسلامی دنیا پر اثر ہے آپ ہی کی غیرت نے پھر دنیا کو زندہ کیا۔ عرب جن میں زنا، شراب اور جنگ جوئی کے سوا کچھ رہا ہی نہ تھا اور حقوق العباد کا خون ہو چکا تھا۔ ہمدردی اور خیر خواہی نوع انسان کا نام و نشان تک مٹ چکا تھا اور نہ صرف حقوق العباد ہی تباہ ہو چکے تھے بلکہ حقوق اللہ پر اس سے بھی زیادہ تاریکی چھا گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی صفات پتھروں، بوٹیوں اور ستاروں کو دی گئی تھیں۔ قسم قسم کا شرک پھیلا ہوا تھا۔ عاجز انسان اور انسان کی شرمگاہوں تک کی پوجا دنیا میں ہو رہی تھی۔ ایسی حالت مکروہ کا نقشہ اگر ذرا دیر کے لئے بھی ایک سلیم الفطرت انسان کے سامنے آجاوے تو وہ ایک خطرناک ظلمت اور ظلم وجور کے بھیانک اور خوفناک نظارہ کو دیکھے گا۔ فالج ایک طرف گِرتا ہے مگر یہ فالج ایسا فالج تھا کہ دونوں طرف گِرا تھا۔ فساد کامل دنیا میں برپا ہو چکا تھا۔ نہ بحر میں امن و سلامتی تھی اور نہ بَر پر سکون و راحت۔ اب اس تاریکی اور ہلاکت کے زمانہ میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہیں۔ آپؐ نے آ کر کیسے کامل طور پر اِس میزان کے دونوں پہلو درست فرمائے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو اپنے اصلی مرکز پر قائم کر دکھایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی طاقت کا کمال اس وقت ذہن میں آ سکتا ہے جبکہ اس زمانے کی حالت پر نگاہ کی جاوے۔ مخالفوں نے آپؐ کو اور آپؐ کے متبعین کو جس قدر تکالیف پہونچائیں اور اس کے بالمقابل آپ نے ایسی حالت میں جبکہ آپ کو پورا اقتدار اور اختیار حاصل تھا اُن سے جو کچھ سلوک کیا وہ آپ کے علوِّ شان کو ظاہر کرتا ہے۔
ابوجہل اور اس کے دوسرے رفیقوں نے کونسی تکلیف تھی جو آپ کو اور آپ کے جاں نثار خادموں کو نہیں دی۔ غریب مسلمان عورتوں کو اونٹوں سے باندھ کر مخالف جہات میں دوڑایا اور وہ چیری جاتی تھیں محض اس گناہ پر کہ وہ لا الہ الا اللہ پر کیوں قائل ہوئیں مگر آپ نے اس کے مقابل صبر و برداشت سے کام لیا اور جبکہ مکّہ فتح ہوا تو لَا تَثۡرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ کہہ کر معاف فرمایا۔ یہ کس قدر اخلاقی کمال ہے جو کسی دو سرے نبی میں نہیں پایا جاتا۔ اللّھم صلّ علٰی محمّد و علٰی آل محمّد۔
(الحکم مورخہ ۹؍جولائی ۱۹۰۰ء صفحہ ۴ کالم ۳وصفحہ۵ کالم۱۔ ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۳۵۶، ۳۵۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت نے اپنے رسول مقبولؐ کی راہ میں ایسا اتحاد اور ایسی روحانی یگانگت پیدا کر لی تھی کہ اسلامی اخوت کی رو سے سچ مچ عضوِ واحد کی طرح ہو گئی تھی اور ان کے روزانہ برتاؤ اور زندگی اور ظاہر و باطن میں انوارِ نبوت ایسے رچ گئے تھے کہ گویا وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عکسی تصویریں تھے۔ سو یہ بھاری معجزہ اندرونی تبدیلی کا جس کے ذریعہ سے فحش بت پرستی کرنے والے کامل خدا پرستی تک پہنچ گئے۔ اور ہر دم دنیا میں غرق رہنے والے محبوب حقیقی سے ایسا تعلق پکڑ گئے کہ اس کی راہ میں پانی کی طرح اپنے خونوں کو بہا دیا۔ یہ دراصل ایک صادق اور کامل نبی کی صحبت میں مخلصانہ قدم سے عمر بسر کرنے کا نتیجہ تھا۔ (فتح اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۲۱، ۲۲)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایک عظیم الشان کامیاب زندگی ہے۔ آپ کیا بلحاظ اپنے اخلاقِ فاضلہ کے اور کیا بلحاظ اپنی قوتِ قدسی اور عقد ہمت کے اور کیا بلحاظ اپنی تعلیم کی خوبی اور تکمیل کے اور کیا بلحاظ اپنے کامل نمونہ اور دعاؤں کی قبولیت کے۔ غرض ہر طرح اور ہر پہلو میں چمکتے ہوئے شواہد اور آیات اپنے ساتھ رکھتے ہیں کہ جن کو دیکھ کر ایک غبی سے غبی انسان بھی بشرطیکہ اس کے دل میں بے جا ضد اور عداوت نہ ہو صاف طور پر مان لیتا ہے کہ آپ تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہ کا کامل نمو نہ اور کامل انسان ہیں۔ (الحکم ۱۰؍ اپریل ۱۹۰۲ء صفحہ ۵ کالم نمبر ۲)
وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گذرا کہ لاکھوں مردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الٰہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے۔ اور گونگوں کی زبان پر الٰہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں یک دفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سُنا۔ کچھ جانتے ہوکہ وہ کیا تھا؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دُعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچا دیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اُس اُمّی بے کس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَ بَارِکْ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ بِعَدَدِ ھَمِّہٖ وَ غَمِّہٖ وَ حُزْنِہٖ لِھٰذِہِ الْاُمَّۃِ وَ اَنْزِلْ عَلَیْہِ اَنْوَارَ رَحْمَتِکَ اِلَی الْاَبَد۔ (برکات الدعاء۔ روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۱۰، ۱۱)
ابتدائے اسلام میں بھی جو کچھ ہوا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا نتیجہ تھا جو کہ مکہ کی گلیوں میں خداتعالیٰ کے آگے رو رو کر آپ نے مانگیں۔ جس قدر عظیم الشان فتوحات ہوئیں کہ تمام دنیا کے رنگ ڈھنگ کو بدل دیا وہ سب آنحضرتؐ کی دعاؤں کا اثرتھا۔ ورنہ صحابہؓ کی قوت کا تو یہ حال تھا کہ جنگ بدر میں صحابہ کے پاس صرف تین تلواریں تھیں اور وہ بھی لکڑی کی بنی ہوئی تھیں۔ (الحکم ۱۷ ؍ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۴ کالم ۳، ۴)
ہمارے سیّد و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلاح نہایت وسیع اور عام اور مسلّم الطوائف ہے اور یہ مرتبہ اصلاح کا کسی گذشتہ نبی کو نصیب نہیں ہوا۔ اور اگر کوئی عرب کی تاریخ کو آگے رکھ کر سوچے تو اسے معلوم ہو گا کہ اُس وقت کے بُت پرست اور عیسائی اور یہودی کیسے متعصب تھے۔ اور کیونکر ان کی اصلاح کی۔ صد ہا سال سے نومیدی ہو چکی تھی۔ پھر نظر اٹھا کر دیکھیے کہ قرآنی تعلیم نے جو ان کے بالکل مخالف تھی کیسی نمایاں تاثیریں دکھلائیں اور کیسی ہر یک بد اعتقادی اور ہر یک بدکاری کا استیصال کیا۔ شراب کو جو اُم الخبائث ہے دور کیا۔ قمار بازی کی رسم کو موقوف کیا دختر کشی کا استیصال کیا اور جو انسانی رحم اور عدل اور پاکیزگی کے برخلاف عادات تھیں سب کی اصلاح کی۔ ہاں مجرموں نے اپنے جرموں کی سزائیں بھی پائیں۔ جن کے پانے کے وہ سزا وار تھے۔ پس اصلاح کا امر ایسا امر نہیں ہے جس سے کوئی انکار کر سکے۔ (نور القرآن نمبر ۱۔ روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۳۶۶ حاشیہ)
ہمارے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت سے اَور کوئی بڑھ کر شہادت نہیں ہمارا تو اس بات کو سن کر بدن کانپ جاتا ہے کہ جب ایک شخص کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پیش کیا جائے تو وہ اس کو قبول نہیں کرتا اور دوسری طرف بہکتا پھرتا ہے۔ (ا تمام الحجۃ۔ روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۲۹۳)
مسلمان وہ قوم ہے جو اپنے نبی کریمؐ کی عزت کے لئے جان دیتے ہیں اور وہ اس بے عزتی سے مرنا بہتر سمجھتے ہیں کہ ایسے شخصوں سے دلی صفائی کریں اور ان کے دوست بن جائیں جن کا کام دن رات یہ ہے کہ وہ ان کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں اور اپنے رسالوں اور کتابوں اور اشتہاروں میں نہایت توہین سے ان کا نام لیتے ہیں اور نہایت گندے الفاظ سے اُن کو یاد کرتے ہیں۔ آپ یاد رکھیں کہ ایسے لوگ اپنی قوم کے بھی خیر خواہ نہیں ہیں۔ کیونکہ وہ اُن کی راہ میں کانٹے بوتے ہیں۔ اور مَیں سچ سچ کہتاہوں کہ اگر ہم جنگل کے سانپوں اور بیابانوں کے درندوں سے صلح کر لیں تو یہ ممکن ہے مگر ہم ایسے لوگوں سے صلح نہیں کر سکتے جو خدا کے پاک نبیوں کی شان میں بدگوئی سے باز نہیں آتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ گالی اور بد زبانی میں ہی فتح ہے مگر ہر ایک فتح آسمان سے آتی ہے۔ (مضمون جلسہ لاہور منسلکہ چشمہء معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۸۵، ۳۸۶)
اس زمانہ میں جو کچھ دین اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی گئی اور جس قدر شریعتِ ربّانی پر حملے ہوئے اور جس طور سے ارتداد اور الحاد کا دروازہ کھلا۔ کیا اس کی نظیر کسی دوسرے زمانہ میں بھی مل سکتی ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ تھوڑے ہی عرصہ میں اس ملک ہند میں ایک لاکھ کے قریب لوگوں نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا۔ اور چھ کروڑ اور کسی قدرزیادہ اسلام کے مخالف کتابیں تالیف ہوئیں اور بڑے بڑے شریف خاندانوں کے لوگ اپنے پاک مذہب کو کھو بیٹھے یہاں تک کہ وہ جو آل رسول کہلاتے تھے وہ عیسائیت کا جامہ پہن کر دشمن رسولؐ بن گئے اور اس قدر بد گوئی اور اہانت اور دشنا م دہی کی کتابیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں چھاپی گئیں اور شائع کی گئیں کہ جن کے سُننے سے بدن پر لرزہ پڑتا اور دل رو رو کر یہ گواہی دیتا ہے کہ اگر یہ لوگ ہمارے بچوں کو ہماری آنکھوں کے سامنے قتل کرتے اور ہمارے جانی اور دلی عزیزوں کو جو دنیا کے عزیز ہیں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے اور ہمیں بڑی ذلت سے جان سے مارتے اور ہمارے تمام اموال پر قبضہ کر لیتے تو واللہ ثم و اللہ ہمیں رنج نہ ہوتا۔ اور اس قدر کبھی دل نہ دُکھتا جو ان گالیوں اور اس توہین سے جو ہمارے رسول کریم کی کی گئی دُکھا۔ (آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۵۱، ۵۲)
(آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد۵ صفحہ ۵۹۰ تا ۵۹۴) (کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۷۰، ۷۱)ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے
کوئی دیں دینِ محمدؐ سا نہ پایا ہم نے
کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دکھلاوے
یہ ثمر باغِ محمدؐ سے ہی کھایا ہم نے
ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا
نور ہے نور اُٹھو دیکھو سنایا ہم نے
آزمائش کے لئے کوئی نہ آیا ہر چند
ہر مخالف کو مقابل پہ بلایا ہم نے
آؤ لوگو! کہ یہیں نورِ خدا پاؤ گے
لو تمہیں طور تسلّی کا بتایا ہم نے
آج ان نوروں کا اِک زور ہے اِس عاجز میں
دِل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے
جب سے یہ نور ملا نورِ پیمبر سے ہمیں
ذات سے حق کے وجود اپنا ملایا ہم نے
مصطفیٰ پر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت
اُس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے
ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام
دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے
ترے مُونہہ کی ہی قسم میرے پیارے احمدؐ
تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے
دلبرا! مجھ کو قسم ہے تیری یکتائی کی
آپ کو تیری محبت میں بھلایا ہم نے
کہتے ہیں یورپ کے ناداں یہ نبیؐ کامل نہیں
وحشیوں میں دیں کو پھیلانا یہ کیا مشکل تھا کار
پر بنانا آدمی وحشی کو ہے اِک معجزہ
معنی رازِ نبوت ہے اِسی سے آشکار
نور لائے آسماں سے خود بھی وہ اِک نور تھے
قوم وحشی میں اگر پیدا ہوئے کیا جائے عار
روشنی میں مہرِ تاباں کی بھلا کیا فرق ہو
گرچہ نکلے روم کی سرحد سے یا از زنگ بار
برتر گمان و وہم سے احمدؐ کی شان ہے
جس کا غلام دیکھو مسیح الزمان ہے
وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا
نام اُس کا ہے محمدؐ دلبر میرا یہی ہے
سب پاک ہیں پیمبر اِک دوسرے سے بہتر
لیک از خدائے برتر خیر الوریٰ یہی ہے
پہلوں سے خوب تر ہے خوبی میں اِک قمر ہے
اس پر ہر اِک نظر ہے بدر الدّ ٰجی یہی ہے
پہلے تو رہ میں ہارے پار اس نے ہیں اوتارے
مَیں جاؤں اس کے وارے بس ناخدا یہی ہے
پردے جو تھے ہٹائے اندر کی رہ دکھائے
دل یار سے ملائے وہ آشنا یہی ہے
وہ یارِ لامکانی وہ دلبرِ نہانی
دیکھا ہے ہم نے اس سے بس رہنما یہی ہے
وہ آج شاہِ دیں ہے وہ تاجِ مرسلیں ہے
وہ طیّب و امیں ہے اُس کی ثنا یہی ہے
حق سے جو حکم آئے اُس نے وہ کر دکھائے
جو راز تھے بتائے نعم العطاء یہی ہے
آنکھ اُس کی دُوربیں ہے دل یار سے قریں ہے
ہاتھوں میں شمع دیں ہے عین الضیاء یہی ہے
جو رازِ دیں تھے بھارے اُس نے بتائے سارے
دولت کا دینے والا فرمانروا یہی ہے
اُس نور پر فدا ہوں اُس کا ہی مَیں ہوا ہوں
وہ ہے مَیں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے
وہ دلبر یگانہ عِلموں کا ہے خزانہ
باقی ہے سب فسانہ سچ بے خطا یہی ہے
سب ہم نے اُس سے پایا شاہد ہے تو خدایا
وہ جس نے حق دکھایا وہ مَہ لقا یہی ہے
ہم تھے دلوں کے اندھے سو۱۰۰ سو دلوں پہ پھندے
پھر کھولے جس نے جندے وہ مجتبیٰ یہی ہے
رُوح او در گُفتنِ قول بلٰی 321
اوّل کسے
آدم توحید و پیش از آدمش پیوندِ یار
دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں
قرآں کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے
’’قرآن جواہرات کی تھیلی ہے اور لوگ اس سے بے خبر ہیں۔‘‘
ہم اِس بات کے گواہ ہیں اور تمام دنیا کے سامنے اِس شہادت کو ادا کرتے ہیں کہ ہم نے اِس حقیقت کو جو خدا تک پہنچاتی ہے قرآن سے پایا۔ ہم نے اُس خدا کی آواز سنی اور اس کے پُر زور بازو کے نشان دیکھے جس نے قرآن کو بھیجا۔ سو ہم یقین لائے کہ وہی سچا خدا اور تمام جہانوں کا مالک ہے۔ ہمارا دل اس یقین سے ایسا پُر ہے جیسا کہ سمندر کی زمین پانی سے۔ سو ہم بصیرت کی راہ سے اِس دین اور اس روشنی کی طرف ہر ایک کو بلاتے ہیں۔ ہم نے اس نورِ حقیقی کو پایا جس کے ساتھ سب ظلمانی پردے اُٹھ جاتے ہیں اور غیر اللہ سے درحقیقت دل ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ یہی ایک راہ ہے جس سے انسان نفسانی جذبات اور ظلمات سے ایسا باہر آجاتا ہے جیسا کہ سانپ اپنی کینچلی سے۔ (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۶۵)
یہ تو ظاہر ہے کہ ہر ایک چیز کی بڑی خوبی یہی سمجھی جائے گی کہ جس غرض کے پورا کرنے کے لئے وہ وضع کی گئی ہے اس غرض کو بوجہ احسن پوری کر سکے۔ مثلاً اگر کسی بیل کو قلبہ رانی کے لئے خریدا گیا ہے تو اُس بیل کی یہی خوبی دیکھی جائے گی کہ وہ بیل قلبہ رانی کے کام کو بوجہ احسن ادا کر سکے اِسی طرح ظاہر ہے کہ اصلی غرض آسمانی کتاب کی یہی ہونی چاہئے کہ اپنی پیروی کرنے والے کو اپنی تعلیم اور تاثیر اور قوتِ اصلاح اور اپنی روحانی خاصیت سے ہر ایک گناہ اور گندی زندگی سے چھوڑا کر ایک پاک زندگی عطا فرماوے اور پھر پاک کرنے کے بعد خدا کی شناخت کے لئے ایک کامل بصیرت عطا کرے۔ اور اس ذات بے مثل کے ساتھ جو تمام خوشیوں کا سرچشمہ ہے محبت اور عشق کا تعلق بخشے۔ کیونکہ درحقیقت یہیمحبت نجات کی جڑ ہے۔ اور یہی وہ بہشت ہے جس میں داخل ہونے کے بعد تمام کوفت اور تلخی اور رنج و عذاب دُور ہو جاتا ہے۔ اور بلاشبہ زندہ اور کامل کتاب الہامی وہی ہے جو طالب خدا کو اس مقصود تک پہنچاوے اور اس کو سفلی زندگی سے نجات دے کر اس محبوب حقیقی سے ملاوے جس کا وصال عین نجات ہے اور تمام شکوک و شبہات سے مخلصی بخش کر ایسی کامل معرفت اس کو عطا کرے کہ گویا وہ اپنے خدا کو دیکھ لے اور خدا کے ساتھ ایسے مستحکم تعلقات اس کو بخش دے کہ وہ خدا کا وفادار بندہ بن جائے اور خدا اس پر ایسا لطف و احسان کرے کہ اپنی انواع و اقسام کی نصرت اور مدد اور حمایت سے اس میں اور اُس کے غیر میں فرق کر کے دکھلائے اور اپنی معرفت کے دروازے اُس پر کھول دے۔ اور اگر کوئی کتاب اپنے اس فرض کو ادا نہ کرے جو اس کا اصلی فرض ہے اور دوسرے بے ہودہ دعووں سے اپنی خوبی ثابت کرنی چاہے تو اس کی یہی مثال ہے کہ ایک شخص مثلاً طبیب حاذق ہونے کا دعویٰ کرے اور جب کوئی بیمار اس کے سامنے پیش کیا جائے کہ اِس کو اچھا کر کے دکھلاؤ تو وہ یہ جواب دے کہ میں اس کو اچھا تو نہیں کر سکتا لیکن مَیں کشتی کرنا خوب جانتا ہوں۔ یا یہ کہے کہ علم ہیئت اور فلسفہ میں مجھے بہت دخل ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا آدمی مسخرہ کہلائے گا اور عقلمندوں کے نزدیک قابلِ سرزنش ہو گا۔ خدا کی کتاب اور خدا کے رسول جو دنیا میں آتے ہیں بڑی غرض اُن کی یہی ہوتی ہے جو دنیا کو پاپ اور گناہ کی زندگی سے چھوڑا ویں اور خدا سے پاک تعلقات قائم کریں۔ اُن کی یہ غرض تو نہیں ہوتی کہ دنیا کے علوم ان کو سکھاویں اور دنیا کی ایجادوں سے اُن کو آگاہ کریں۔
غرض ایک عقلمند اور منصف مزاج آدمی کے نزدیک اس بات کا سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے کہ خدا کی کتاب کا فرض یہی ہے کہ وہ خدا کو ملاوے اور خدا کی ہستی کے بارہ میں یقین کے درجہ تک پہنچاوے اور خدا کی عظمت اور ہیبت دل میں بٹھا کر گناہ کے ارتکاب سے روک دے ورنہ ہم ایسی کتاب کو کیا کریں جو نہ دل کا گند دُور کر سکتی ہے اور نہ ایسی پاک اور کامل معرفت بخش سکتی ہے جو گناہ سے نفرت کرنے کا موجب ہو سکے۔ یاد رہے کہ گناہ کی رغبت کا جذام نہایت خطرناک جذام ہے اور یہ جذام کسی طرح دُور ہی نہیں ہو سکتا جب تک کہ خدا کی زندہ معرفت کی تجلیات اور اس کی ہیبت اور عظمت اور قدرت کے نشان بارش کی طرح واردنہ ہوں اور جب تک کہ انسان خدا کو اُس کی مہیب طاقتوں کے ساتھ ایسا نزدیک نہ دیکھے جیسے وہ بکری کہ جب شیر کو دیکھتی ہے کہ صرف وہ اُس سے دو قدم کے فاصلہ پر ہے۔ انسان کو یہ ضرورت ہے کہ وہ گناہ کے مہلک جذبات سے پاک ہو اور اِس قدر خدا کی عظمت اُس کے دل میں بیٹھ جائے کہ وہ بے اختیار کرنے والی نفسانی شہوات کی خواہش کہ جو بجلی کی طرح اُس پر گرتی اور اُس کے تقویٰ کے سرمایہ کو ایک دم میں جلا دیتی ہے وہ دُور ہو جاوے۔ مگر کیا وہ ناپاک جذبات کہ جو مرگی کی طرح بار بار پڑتے ہیں اور پرہیز گاری کے ہوش و حواس کو کھو دیتے ہیں وہ صرف اپنے ہی خود تراشیدہ پرمیشر کے تصوّر سے دُور ہو سکتے ہیں یا صرف اپنے ہی تجویز کردہ خیالات سے دب سکتے ہیں اور یا کسی ایسے کفارہ سے رُک سکتے ہیں جس کا دُکھ اپنے نفس کو چُھؤا بھی نہیں؟ ہرگز نہیں۔ یہ بات معمولی نہیں بلکہ سب باتوں سے بڑھ کر عقلمند کے نزدیک غور کرنے کے لائق یہی بات ہے کہ وہ تباہی جو اس بے باکی اور بے تعلّقی کی وجہ سے پیش آنے والی ہے جس کی اصلی جڑ گناہ اور معصیت ہے اس سے کیونکر محفوظ رہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ انسان یقینی لذات کو محض ظنّی خیالات سے چھوڑ نہیں سکتا۔ ہاں ایک یقین دوسرے یقینی امر سے دست بردار کرا سکتا ہے۔ مثلاً ایک بَنْ کے متعلق ایک یقین ہے کہ اس جگہ سے کئی ہرن ہم بآسانی پکڑ سکتے ہیں اور ہم اس یقین کی تحریک پر قدم اٹھانے کے لئے مستعد ہیں مگر جب یہ دوسرا یقین ہو جائے گا کہ وہاں پچاس شیر ببر بھی موجود ہیں اور ہزارہا خونخوار اژدہا بھی ہیں جو منہ کھولے بیٹھے ہیں تب ہم اس ارادہ سے دست کش ہو جائیں گے۔ اِسی طرح بغیر اس درجۂ یقین کے گناہ بھی دُور نہیں ہو سکتا لوہا لوہے سے ہی ٹوٹتا ہے۔ خدا کی عظمت اور ہیبت کا وہ یقین چاہئے جو غفلت کے پردوں کو پاش پاش کر دے اور بدن پر ایک لرزہ ڈال دے اور موت کو قریب کر کے دکھلادے اور ایسا خوف دل پر غالب کرے جس سے تمام تار و پودنفس امّارہ کے ٹوٹ جائیں۔ اور انسان ایک غیبی ہاتھ سے خدا کی طرف کھینچا جائے اور اُس کا دل اِس یقین سے بھر جائے کہ درحقیقت خدا موجود ہے جو بے باک مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑتا۔ پس ایک حقیقی پاکیزگی کا طالب ایسی کتاب کو کیا کرے جس کے ذریعہ سے یہ ضرورت رفع نہ ہو سکے؟
اِس لئے مَیں ہر ایک پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ وہ کتاب جو ان ضرورتوں کو پورا کرتی ہے وہ قرآن شریف ہے اس کے ذریعہ سے خدا کی طرف انسان کو ایک کشش پیدا ہو جاتی ہے اور دنیا کی محبت سرد ہو جاتی ہے۔ اور وہ خدا جو نہایت نہاں در نہاں ہے اُس کی پیروی سے آخر کار اپنے تئیں ظاہر کرتا ہے اور وہ قادر جس کی قدرتوں کو غیر قومیں نہیں جانتیں قرآن کی پیروی کرنے والے انسان کو خدا خود دکھا دیتا ہے اور عالمِ ملکوت کا اس کو سیر کراتا ہے اور اپنے انا الموجود ہونے کی آواز سے آپ اپنی ہستی کی اس کو خبر دیتا ہے۔ مگر وید میں یہ ہنر نہیں ہے۔ ہرگز نہیں ہے۔ اور وید اس بوسیدہ گٹھڑی کی مانند ہے جس کا مالک مر جائے اور یا جس کی نسبت پتہ نہ لگے کہ یہ کس کی گٹھڑی ہے۔ جس پرمیشر کی طرف وید بلاتا ہے اس کا زندہ ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ وید اس بات پر کوئی دلیل قائم نہیں کرتا کہ اُس کا پرمیشر موجود بھی ہے اور وید کی گمراہ کنندہ تعلیم نے اس بات میں بھی رخنہ ڈال دیا ہے کہ مصنوعات سے صانع کا پتہ لگایا جائے کیونکہ اس کی تعلیم کی رُو سے ارواح اور پر مانو یعنی ذرّات سب قدیم اور غیر مخلوق ہیں۔ پس غیر مخلوق کے ذریعہ سے صانع کا کیونکر پتہ لگے۔ ایسا ہی وید کلام الٰہی کا دروازہ بند کرتا ہے اور خدا کے تازہ نشانوں کا منکر ہے۔ اور وید کی رو سے پرمیشر اپنے خاص بندوں کی تائید کے لئے کوئی ایسا نشان ظاہر نہیں کر سکتا کہ جو معمولی انسانوں کے علم اور تجربہ سے بڑھ کر ہو۔ پس اگر وید کی نسبت بہت ہی حسنِ ظن کیا جائے تو اس قدر کہیں گے کہ وہ صرف معمولی سمجھ کے انسانوں کی طرح خدا کے وجود کا اقرار کرتا ہے اور خدا کی ہستی پر کوئی یقینی دلیل پیش نہیں کرتا غرض وید وہ معرفت عطا نہیں کر سکتا جو تازہ طور پر خدا کی طرف سے آتی ہے اور انسان کو زمین سے اٹھا کر آسمان تک پہنچا دیتی ہے۔ مگر ہمارا مشاہدہ اور تجربہ اور اُن سب کا جو ہم سے پہلے گذر چکے ہیں اس بات کا گواہ ہے کہ قرآن شریف اپنی روحانی خاصیت اور اپنی ذاتی روشنی سے اپنے سچے پیرو کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اور اس کے دل کو منور کرتا ہے اور پھر بڑے بڑے نشان دکھلا کر خدا سے ایسے تعلقات مستحکم بخش دیتا ہے کہ وہ ایسی تلوار سے بھی ٹوٹ نہیں سکتے جو ٹکڑہ ٹکڑہ کرنا چاہتی ہے۔ وہ دل کی آنکھ کھولتا ہے اور گناہ کے گندے چشمہ کو بند کرتا ہے اور خدا کے لذیذ مکالمہ مخاطبہ سے شرف بخشتا ہے۔ اور علوم غیب عطا فرماتا ہے اور دُعا قبول کرنے پر اپنے کلام سے اطلاع دیتا ہے۔ اور ہر ایک جو اس شخص سے مقابلہ کرے جو قرآن شریف کا سچا پیرو ہے خدا اپنے ہیبت ناک نشانوں کے ساتھ اس پر ظاہر کر دیتا ہے کہ وہ اس بندہ کے ساتھ ہے جو اس کے کلام کی پیروی کرتا ہے۔
(چشمہء معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۰۵ تا۳۰۹)وہ خدا جس کے ملنے میں انسان کی نجات اور دائمی خوشحالی ہے وہ بجز قرآن شریف کی پیروی کے ہرگز نہیں مل سکتا۔ کاش جو مَیں نے دیکھا ہے لوگ دیکھیں اور جو مَیں نے سُنا ہے وہ سُنیں اور قصّوں کو چھوڑ دیں اور حقیقت کی طرف دوڑیں۔ وہ کامل علم کا ذریعہ جس سے خدا نظر آتا ہے وہ میل اتارنے والا پانی جس سے تمام شکوک دُور ہو جاتے ہیں۔ وہ آئینہ جس سے اُس برتر ہستی کا درشن ہو جاتا ہے خدا کا وہ مکالمہ اور مخاطبہ ہے جس کا میں ابھی ذکر کر چکا ہوں۔ جس کی رُوح میں سچائی کی طلب ہے وہ اُٹھے اور تلاش کرے۔ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر رُوحوں میں سچی تلاش پیدا ہو اور دلوں میں سچی پیاس لگ جائے تو لوگ اس طریق کو ڈھونڈیں اور اس راہ کی تلاش میں لگیں۔ مگر یہ راہ کس طریق سے کھلے گی اور حجاب کس دوا سے اُٹھے گا۔ مَیں سب طالبوں کو یقین دلاتا ہوں کہ صرف اسلام ہی ہے جو اس راہ کی خوشخبری دیتا ہے اور دوسری قومیں تو خدا کے الہام پر مدت سے مہر لگا چکی ہیں۔ سو یقینا سمجھو کہ یہ خدا کی طرف سے مہر نہیں بلکہ محرومی کی وجہ سے انسان ایک حیلہ پیدا کر لیتا ہے اور یقینا سمجھو کہ جس طرح یہ ممکن نہیں کہ ہم بغیر آنکھوں کے دیکھ سکیں یا بغیر کانوں کے سُن سکیں یا بغیر زبان کے بول سکیں اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ بغیر قرآن کے اوس پیارے محبوب کا مُنہ دیکھ سکیں۔ مَیں جوان تھا اب بوڑھا ہوا مگر مَیں نے کوئی نہ پایا جس نے بغیر اس پاک چشمہ کے اس کھلی کھلی معرفت کا پیالہ پیا ہو۔ (اسلامی اصول کی فلاسفی۔ روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۴۴۲، ۴۴۳)
سب سے سیدھی راہ اور بڑا ذریعہ جو انوار یقین اور تواتر سے بھرا ہوا اور ہماری رُوحانی بھلائی اور ترقیء علمی کے لئے کامل رہنما ہے۔ قرآن کریم ہے جو تمام دنیا کے دینی نزاعوں کے فیصل کرنے کے متکفل ہو کر آیا ہے جس کی آیت آیت اور لفظ لفظ ہزار ہا طور کا تواتر اپنے ساتھ رکھتی ہے اور جس میں بہت سا آبِ حیات ہماری زندگی کے لئے بھرا ہوا ہے اور بہت سے نادر اور بیش قیمت جواہر اپنے اندر مخفی رکھتا ہے جو ہر روز ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔ یہی ایک عمدہ محک ہے جس کے ذریعہ سے ہم راستی اور ناراستی میں فرق کر سکتے ہیں۔ یہی ایک روشن چراغ ہے جو عین سچائی کی راہیں دکھاتا ہے۔ بلاشبہ جن لوگوں کو راہ راست سے مناسبت ہے اور ایک قسم کا رشتہ ہے اُن کا دل قرآن شریف کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے۔ اور خدائے کریم نے اُن کے دل ہی اس طرح کے بنا رکھے ہیں کہ وہ عاشق کی طرح اپنے اس محبوب کی طرف جھکتے ہیں اور بغیر اس کے کسی جگہ قرار نہیں پکڑتے اور اس سے ایک صاف اور صریح بات سن کر پھر کسی دوسرے کی نہیں سنتے۔ اس کی ہر یک صداقت کو خوشی سے اور دوڑ کر قبول کر لیتے ہیں اور آخر وہی ہے جو موجب اشراق اور روشن ضمیری کا ہو جاتا ہے اور عجیب در عجیب انکشافات کا ذریعہ ٹھہرتا ہے اور ہر یک کو حسب استعداد معراج ترقی پر پہنچاتا ہے۔ راستبازوں کو قرآن کریم کے انوار کے نیچے چلنے کی ہمیشہ حاجت رہی ہے اور جب کبھی کسی حالتِ جدیدہ زمانہ نے اسلام کو کسی دوسرے مذہب کے ساتھ ٹکرا دیا ہے تو وہ تیز اور کارگر ہتھیار جو فی الفور کام آیا ہے قرآن کریم ہی ہے۔ ایسا ہی جب کہیں فلسفی خیالات مخالفانہ طور پر شائع ہوتے رہے تو اِس خبیث پودہ کی بیخ کنی آخر قرآن کریم ہی نے کی اور ایسا اس کو حقیر اور ذلیل کر کے دکھلا دیا کہ ناظرین کے آگے آئینہ رکھ دیا کہ سچا فلسفہ یہ ہے نہ وہ۔ حال کے زمانہ میں بھی جب اول عیسائی واعظوں نے سر اُٹھایا اور بدفہم اور نادان لوگوں کو توحید سے کھینچ کر ایک عاجز بندہ کا پرستار بنانا چاہا اور اپنے مغشوش طریق کو سوفسطائی تقریروں سے آراستہ کر کے اُن کے آگے رکھ دیا اور ایک طوفان ملک ہند میں برپا کر دیا۔ آخر قرآن کریم ہی تھا جس نے انہیں ایسا پسپا کیا کہ اب وہ لوگ کسی باخبر آدمی کو مُنہ بھی نہیں دکھلا سکتے۔ اور ان کے لمبے چوڑے عذرات کو یوں الگ کر کے رکھ دیا جس طرح کوئی کاغذ کا تختہ لپیٹے۔ (ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۳۸۱، ۳۸۲)
واللّٰہ انّہ درۃ یتیمۃ ظاہرہٗ نورٌ و باطنہ نورٌ و فوقہٗ نورٌ و تحتہٗ نورٌ و فی کل لفظہ و کلمتہ نورٌ۔ جنۃ روحانیۃ ذللت قطوفھا تذلیلًا وتجری من تحتھا الانھار۔ کل ثمرۃ السعادۃ توجد فیہ و کل قبس یقتبس منہ۔ و من دونہ خرط القتاد۔ موارد فیضہ سائغۃ فطوبٰی للشاربین۔ و قد قذف فی قلبی انوار منہ۔ ما کان لی ان استحصلھا بطریق اٰخر۔ وواللّٰہ لولا القراٰن ماکان لی لطف حیاتی۔ رأیت حسنہ از ید من مائۃ الف یوسف۔ فملت الیہ اشد میلی و اشرب ھو فی قلبی۔ ھو ربّانی کما یربی الجنین۔ ولہ علی قلبی اثر عجیب و حسنہ یراودنیٖ عن نفسی۔ وانّی أدرکت بالکشف انّ حظیرۃ القدس تسقِی بماء القراٰن و ھو بحر موّاج من ماء الحیاۃ من شرب منہ فھو یحیٰ بل یکون من المحیین۔ 409 (آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۵۴۵، ۵۴۶)
خاتم النّبیّین کا لفظ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بولا گیا ہے بجائے خود چاہتا ہے اور بالطبع اسی لفظ میں یہ رکھا گیا ہے کہ وہ کتاب جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے وہ بھی خاتم الکتب ہو اور سارے کمالات اُس میں موجود ہوں اور حقیقت میں وہ کمالات اس میں موجود ہیں کیونکہ کلام الٰہی کے نزول کا عام قاعدہ اور اصول یہ ہے کہ جس قدر قوت قدسی اور کمال باطنی اس شخص کا ہوتا ہے جس پر کلامِ الٰہی نازل ہوتا ہے اُسی قدر قوت اور شوکت اس کلام کی ہوتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسی اور کمالِ باطنی چونکہ اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کا تھا جس سے بڑھ کر کسی انسان کا نہ کبھی ہوا اور نہ آئندہ ہو گا۔ اس لئے قرآن شریف بھی تمام پہلی کتابوں اور صحائف سے اس اعلیٰ مقام اور مرتبہ پر واقع ہوا ہے جہاں تک کوئی دوسرا کلام نہیں پہونچا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی استعداد اور قوتِ قدسی سب سے بڑھی ہوئی تھی اور تمام مقامات کمال آپؐ پر ختم ہو چکے تھے اور آپ انتہائی نقطہ پر پہونچے ہوئے تھے۔ اس مقام پر قرآن شریف جو آپ پر نازل ہوا کمال کو پہونچا ہوا ہے اور جیسے نبوت کے کمالات آپ پر ختم ہو گئے اسی طرح پر اعجاز کلام کے کمالات قرآن شریف پر ختم ہو گئے آپ خاتم النّبیّین ٹھہرے اور آپ کی کتاب خاتم الکتب ٹھہری۔ جس قدر مراتب اور وجوہ اعجاز کلام کے ہو سکتے ہیں اُن سب کے اعتبار سے آپ کی کتاب انتہائی نقطہ پر پہونچی ہوئی ہے یعنی کیا باعتبار فصاحت و بلاغت۔ کیا باعتبار ترتیب مضامین۔ کیا باعتبار تعلیم۔ کیا باعتبار کمالاتِ تعلیم۔ کیا باعتبار ثمراتِ تعلیم۔ غرض جس پہلو سے دیکھو اُسی پہلو سے قرآن شریف کا کمال نظر آتا ہے اور اس کااعجاز ثابت ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے کسی خاص امر کی نظیر نہیں مانگی بلکہ عام طور پر نظیر طلب کی یعنی جس پہلو سے چاہو مقابلہ کرو۔ خواہ بلحاظ فصاحت و بلاغت۔ خواہ بلحاظ مطالب و مقاصد۔ خواہ بلحاظ تعلیم۔ خواہ بلحاظ پیشگوئیوں اور غیب کے جو قرآن شریف میں موجود ہے۔ غرض کسی رنگ میں دیکھو یہ معجزہ ہے۔ (الحکم ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱ کالم ۳ و صفحہ ۲ کالم ۱۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ ۲۶، ۲۷۔ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
قرآن شریف ایسا معجزہ ہے کہ نہ وہ اوّل مثل ہوا اور نہ آخر کبھی ہو گا۔ اُس کے فیوض و برکات کا در ہمیشہ جاری ہے اور وہ ہر زمانہ میں اس طرح نمایاں اور درخشاں ہے جیسا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تھا۔ علاوہ اس کے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہر شخص کا کلام اُس کی ہمت کے موافق ہوتا ہے جس قدر اس کی ہمت اور عزم اور مقاصد عالی ہو ں گے اسی پایہ کا وہ کلام ہو گا۔ اور وحی ٔ الٰہی میں بھی یہی رنگ ہو گا۔ جس شخص کی طرف اُس کی وحی آتی ہے جس قدر ہمت بلند رکھنے والا وہ ہو گا اُسی پایہ کا کلام اُسے ملے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت و استعداد اور عزم کا دائرہ چونکہ بہت ہی وسیع تھا اس لئے آپؐ کو جو کلام ملا وہ بھی اس پایہ اور رُتبہ کا ہے اور دوسرا کوئی شخص اِس ہمت اور حوصلہ کا کبھی پیدا نہ ہو گا کیونکہ آپ کی دعوت کسی محدود وقت یا مخصوص قوم کے لئے نہ تھی جیسے آپ سے پہلے نبیوں کی ہوتی تھی بلکہ آپ کے لئے فرمایا گیا۔ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا اور مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ جس شخص کی بعثت اور رسالت کا دائرہ اس قدر وسیع ہو اس کا مقابلہ کون کر سکتا ہے۔ اِس وقت اگر کسی کو قرآن شریف کی کوئی آیت بھی الہام ہو تو ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ اس کے اس الہام میں اتنا دائرہ وسیع نہیں ہو گا جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا اور ہے۔ (الحکم ۳۱؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱ کالم ۳ و صفحہ ۲ کالم ۱۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ ۴۰، ۴۱ جدید ایڈیشن)
قرآن شریف میں جس قدر باریک صداقتیں علم دین کی اور علوم دقیقہ الٰہیات کے اور براہینِ قاطعہ اصول حقہ کے معہ دیگر اسرار اور معارف کے مندرج ہیں اگرچہ وہ تمام فی حدّذاتہا ایسے ہیں کہ قویٰ بشریہ ان کو بہ ہیئت مجموعی دریافت کرنے سے عاجز ہیں اور کسی عاقل کی عقل ان کے دریافت کرنے کے لئے بطور خود سبقت نہیں کر سکتی کیونکہ پہلے زمانوں پر نظر استقراری ڈالنے سے ثابت ہو گیا ہے کہ کوئی حکیم یا فیلسوف ان علوم و معارف کا دریافت کرنے والا نہیں گذرا لیکن اس جگہ عجیب بر عجیب اور بات ہے یعنی یہ کہ وہ علوم اور معارف ایک ایسے اُمی کو عطا کی گئی کہ جو لکھنے پڑھنے سے نا آشنا محض تھا جس نے عمر بھر کسی مکتب کی شکل نہیں دیکھی تھی اور نہ کسی کتاب کا کوئی حرف پڑھا تھا اور نہ کسی اہل علم یا حکیم کی صحبت میسّر آئی تھی بلکہ تمام عمر جنگلیوں اور وحشیوں میں سکونت رہی انہیں میں پرورش پائی اور انہیں میں سے پیدا ہوئے اور انہیں کے ساتھ اختلاط رہا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمی اور اَن پڑھ ہونا ایک ایسا بدیہی امر ہے کہ کوئی تاریخ دان اسلام کا اس سے بے خبر نہیں۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۶۱تا۵۶۳)
جو چیز محض قدرت کاملہ خدائے تعالیٰ سے ظہور پذیر ہو خواہ وہ چیز اس کی مخلوقات میں سے کوئی مخلوق ہو اور خواہ وہ اس کی پاک کتابوں میں سے کوئی کتاب ہو جو لفظاً اور معناً اسی کی طرف سے صادر ہو اُس کا اس صفت سے متصف ہونا ضروری ہے کہ کوئی مخلوق اُس کی مثل بنانے پر قادر نہ ہو اور یہ اصول عام جو ہریک صادر من اللہ سے متعلق ہے دو طور سے ثابت ہوتا ہے۔ اوّل قیاس سے کیونکہ از روئے قیاس صحیح و مستحکم کے خدا کا اپنی ذات اور صفات اور افعال میں واحد لاشریک ہونا ضروری ہے اور اس کی کسی صنعت یا قول یا فعل میں شراکت مخلوق کی جائز نہیں۔ دلیل اس پر یہ ہے کہ اگر اس کی کسی صنعت یا قول یا فعل میں شراکت مخلوق کی جائز ہو تو البتہ پھر سب صفات اور افعال میں جائز ہو اور اگر سب صفات اور افعال میں جائز ہو تو پھر کوئی دوسرا خدا بھی پیدا ہونا جائز ہو کیونکہ جس چیز میں تمام صفات خدا کی پائی جائیں اُسی کا نام خدا ہے اور اگر کسی چیز میں بعض صفات باری تعالیٰ کی پائی جائیں تب بھی وہ بعض میں شریک باری تعالیٰ کے ہوئے اور شریک الباری ببداہت عقل ممتنع ہے۔ پس اس دلیل سے ثابت ہے کہ خدا کا اپنی تمام صفات اور اقوال اور افعال میں واحد لاشریک ہونا ضروری ہے اور ذات اُس کی ان تمام نالائق امور سے متنزہ ہے جو شریک الباری پیدا ہونے کی طرف منجر ہوں۔ دوسرے ثبوت اس دعویٰ کا استقراء تام سے ہوتا ہے جو ان سب چیزوں پر جو صادر من اللہ ہیں نظر تدبّر کر کے بہ پایہ صحت پہنچ گیا ہے۔ کیونکہ تمام جزئیات عالم جو خدا کی قدرت کاملہ سے ظہور پذیر ہیں جب ہم ہر یک کو اُن میں سے عمیق نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اعلیٰ سے ادنیٰ تک بحدّیکہ حقیر سے حقیر چیزوں کو جیسے مکھی اور مچھر اور عنکبوت وغیرہ ہیں خیال میں لاتے ہیں تو اِن میں سے کوئی بھی ایسی چیز ہم کو معلوم نہیں ہوتی جس کے بنانے پر انسان بھی قدرت رکھتا ہو بلکہ ان چیزوں کی بناوٹ اور ترکیب پر غور کرنے سے ایسے عجائب کام دست قدرت کے ان کے جسم میں مشہود اور موجود پاتے ہیں جو صانع عالم کے وجود پر دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ ہیں۔ علاوہ ان سب دلائل کے یہ بات بھی ہر یک دانشمند پر روشن ہے کہ اگر یہ جائز ہوتا کہ جو چیزیں خدا کے دست قدرت سے ظہور پذیر ہیں اُن کے بنانے پر کوئی دوسرا شخص بھی قادر ہو سکتا تو کسی مصنوع کو اُس خالقِ حقیقی کے وجود پر دلالت کامل نہ رہتی اور امر معرفت صانع عالم کا بالکل مشتبہ ہو جاتا کیونکہ جب بعض ان اشیاء کو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے صادر ہوئیں ہیں بجز خدا کے کوئی اور بھی بنا سکتا ہے تو پھر اس بات پر کیا دلیل ہے جو کل اشیاء کوئی اَور نہیں بنا سکتا۔ اب جبکہ دلائل مستحکمہ سے ثابت ہو گیا کہ جو چیزیں خدا کی طرف سے ہیں اُن کا بے نظیر ہونا اور پھر ان کی بے نظیری اُن کے منجانب اللہ ہونے پر دلیل قاطع ہونا اُن کی صادر من اللہ ہونے کے لئے شرط ضروری ہے تو اِس تحقیق سے جھوٹ ان لوگوں کا صاف کھل گیا جن کی یہ رائے ہے کہ کلام الٰہی کا بے نظیر ہونا ضروری نہیں یا اس کے بے نظیر ہونے سے اس کا خدا کی طرف سے ہونا ثابت نہیں ہو سکتا …… پس اس تمام تحقیقات سے ظاہر ہے کہ بے نظیر ہونے کی حقیقت اور کیفیت ربّانی کام او رکلام سے مختص ہے۔ اور ہر یک دانشمند جانتا ہے کہ خدا کی خدائی ماننے کے لئے بڑا بھارا ذریعہ جو کہ عقل کے ہاتھ میں ہے وہ یہی ہے کہ ہر یک صادر من اللہ ایسی بے نظیری کے رتبہ پر ہے کہ اس صانع وحید کے وجود پر دلالت کامل کر رہا ہے اور اگر یہ ذریعہ نہ ہوتا تو پھر عقل کو خدا تک پہنچنے کا راستہ مسدود تھا۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۴۹ تا۱۸۲)
قرآن شریف وہ کتاب ہے جس نے اپنی عظمتوں اپنی حکمتوں اپنی صداقتوں اپنی بلاغتوں اپنے لطائف و نکات اپنے انوار رُوحانی کا آپ دعویٰ کیا ہے اور اپنا بے نظیر ہونا آپ ظاہر فرما دیا ہے۔ یہ بات ہرگز نہیں کہ صرف مسلمانوں نے فقط اپنے خیال میں اُس کی خوبیوں کو قرار دے دیا ہے بلکہ وہ تو خود اپنی خوبیوں اور اپنے کمالات کو بیان فرماتا ہے اور اپنا بے مثل و مانند ہونا تمام مخلوقات کے مقابلہ پر پیش کر رہا ہے اور بلند آواز سے ھل من معارض کا نقارہ بجا رہا ہے اور دقائق حقائق اس کے صرف دو تین نہیں جس میں کوئی نادان شک بھی کرے بلکہ اس کے دقائق تو بحر ذخار کی طرح جوش ما ر رہے ہیں اور آسمان کے ستاروں کی طرح جہاں نظر ڈالو چمکتے نظر آتے ہیں۔ کوئی صداقت نہیں جو اس سے باہر ہو۔ کوئی حکمت نہیں جو اِس کے محیط بیان سے رہ گئی ہو۔ کوئی نور نہیں جو اس کی متابعت سے نہ ملتا ہو اور یہ باتیں بلاثبوت نہیں۔ کوئی ایسا امر نہیں جو صرف زبان سے کہا جاتا ہے بلکہ یہ وہ متحقق اور بدیہی الثبوت صداقت ہے کہ جو تیرہ سو برس سے برابر اپنی روشنی دکھلاتی چلی آئی ہے اور ہم نے بھی اس صداقت کو اپنی اس کتاب میں نہایت تفصیل سے لکھا ہے اور دقائق اور معارفِ قرآنی کو اس قدر بیان کیا ہے کہ جو ایک طالب صادق کی تسلّی اور تشفی کے لئے بحرِ عظیم کی طرح جوش ما ر رہے ہیں۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۶۲تا۶۶۵ حاشیہ نمبر ۱۱)
وَکُلُّ الْعِلْمِ فِی الْقُرْاٰنِ لٰکِنْجاننا چاہئے کہ اس زمانہ میں اسباب ضلالت میں سے ایک بڑا سبب یہ ہے کہ اکثر لوگوں کی نظر میں عظمت قرآن شریف کی باقی نہیں رہی۔ ایک گروہ مسلمانوں کا ایسا فلاسفہ ضالہ کا مقلد ہو گیا کہ وہ ہر ایک امر کا عقل سے ہی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کا بیان ہے کہ اعلیٰ درجہ کا حَکَم جو تصفیہ تنازعات کے لئے انسان کو ملا ہے وہ عقل ہی ہے۔ ایسے ہی لوگ جب دیکھتے ہیں کہ وجو د جبرائیل اور عزرائیل اور دیگر ملائکہ کرام جیسا کہ شریعت کی کتابوں میں لکھا ہے اور وجود جنت و جہنم جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے وہ تمام صداقتیں عقلی طور پر بپایۂ ثبوت نہیں پہنچتیں تو فی الفور اُن سے منکر ہو جاتے ہیں اور تاویلاتِ رکیکہ شروع کر دیتے ہیں کہ ملائک سے صرف قوتیں مراد ہیں اور وحی ٔ رسالت صرف ایک ملکہ ہے اور جنت اور جہنم صرف ایک روحانی راحت یا رنج کا نام ہے۔ اِن بے چاروں کو خبر نہیں کہ آلۂ دریافت مجہولات صرف عقل نہیں ہے وبس بلکہ اعلیٰ درجہ کی صداقتیں اور انتہائی مقام کے معارف تو وہی ہیں جو مبلغ عقل سے صد ہا درجہ بلند تر ہیں جو بذریعہ مکاشفاتِ صحیحہ ثابت ہوتی ہیں اور اگر صداقتوں کا محک صرف عقل کو ہی ٹھہرایا جائے تو بڑے بڑے عجائبات کارخانہ الوہیت کے درپردہ ٔ مستوری و محجوبی رہیں گے اور سلسلہ معرفت کا محض ناتمام اور ناقص اور ادھورا رہ جائے گا اور کسی حالت میں انسان شکوک اور شبہات سے مخلصی نہیں پا سکے گا اور اس یکطرفہ معرفت کا آخری نتیجہ یہ ہوگا کہ بوجہ نہ ثابت ہونے بالائی رہنمائی کے اور بباعث نہ معلوم ہونے تحریکات طاقتِ بالا کے خود اس صانع کی ذات کے بارہ میں طرح طرح کے وساوس دلوں میں پیدا ہوجائیں گے۔ سو ایسا خیال کہ خالق حقیقی کے تمام دقیق در دقیق بھیدوں کے سمجھنے کے لئے صرف عقل ہی کافی ہے کس قدر خام اور نا سعادتی پر دلالت کر رہا ہے۔
تَقَاصَرَ مِنْہُ اَفْھَامُ الرِّجَالِ
یہ وہی مال ہے جس کی نسبت پیشگوئی کے طور پر لکھا تھا کہ مسیح دنیا میں آ کر اس مال کو اس قدر تقسیم کرے گا کہ لوگ لیتے لیتے تھک جائیں گے۔ یہ نہیں کہ مسیح درم و دینا رکو جو مصداق آیت اَنَّمَاۤ اَمۡوَالُکُمۡ وَاَوۡلَادُکُمۡ فِتۡنَۃٌ ہے جمع کرے گا اور دانستہ ہر یک کو مال کثیر دے کر فتنہ میں ڈال دے گا۔ مسیح کی پہلی فطرت کو بھی ایسے مال سے مناسبت نہیں۔ وہ خود انجیل میں بیان کر چکا ہے کہ مومن کا مال درم و دینار نہیں بلکہ جواہر حقائق و معارف اس کا مال ہیں۔ یہی مال انبیاء خدائے تعالیٰ سے پاتے ہیں اور اسی کو تقسیم کرتے ہیں۔ اسی مال کی طرف اشارہ ہے کہ اَنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَاللّٰہُ ھُوَ الْمُعْطِی۔ حدیثوں میں یہ بات بوضاحت لکھی گئی ہے کہ مسیح موعود اس وقت دنیا میں آئے گا کہ جب علمِ قرآن زمین پر سے اُٹھ جائے گا اور جہل شیوع پا جائے گا یہ وہی زمانہ ہے جس کی طرف ایک حدیث میں یہ اشارہ ہے لَوْکَانَ الْاِیْمَانُ مُعَلَّقًا عِنْدَ الثُّرَیَّا لَنَالَہٗ رَجُلٌ مِنْ فَارِس۔ یہ وہ زمانہ ہے جو اس عاجز پر کشفی طور پر ظاہر ہوا جو کمال طغیان اس کا اس سنہ ہجری میں شروع ہو گا جو آیت وَ إِنَّا عَلَى ذَهَابٍ بِهِ لَقَدِرُونَ۔ میں بحساب جمل مخفی ہے یعنی سنہ۱۲۷۴ء۔
اس مقام کو غور سے دیکھو اور جلدی سے نکل نہ جاؤ اور خدا سے دعا مانگو کہ وہ تمہارے سینوں کو کھول دے۔ آپ لوگ تھوڑے سے تامل کے ساتھ یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ حدیثوں میں یہ وارد ہے کہ آخری زمانہ میں قرآن زمین سے اُٹھا لیا جائے گا اور علم قرآن مفقود ہو جائے گا۔ اور جہل پھیل جائے گا اور ایمانی ذوق اور حلاوت دِلوں سے دُور ہو جائے گی۔ پھر ان حدیثوں میں یہ حدیث بھی ہے کہ اگر ایمان ثریا کے پاس جا ٹھہرے گا یعنی زمین پر اس کا نام و نشان نہیں رہے گا تو ایک آدمی فارسیوں میں سے اپنا ہاتھ پھیلائے گا اور وہیں ثرّیا کے پاس سے اس کو لے لے گا۔ اب تم خود سمجھ سکتے ہو کہ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جب جہل اور بے ایمانی اور ضلالت جو دوسری حدیثوں میں دخان کے ساتھ تعبیر کی گئی ہے دنیا میں پھیل جائے گی اور زمین میں حقیقی ایمان داری ایسی کم ہو جائے گی کہ گویا وہ آسمان پر اُٹھ گئی ہو گی اور قرآن کریم ایسا متروک ہو جائے گا کہ گویا وہ خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھایا گیا ہو گا تب ضرور ہے کہ فارس کی اصل سے ایک شخص پیدا ہو اور ایمان کو ثریا سے لے کر پھر زمین پر نازل ہو۔ سو یقینا سمجھو کہ نازل ہونے والا ابن مریم یہی ہے۔
(ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۴۵۲ تا۴۵۶)مَیں جوان تھا اور اب بوڑھا ہو گیا اور اگر لوگ چاہیں تو گواہی دے سکتے ہیں کہ مَیں دنیا داری کے کاموں میں نہیں پڑا اور دینی شغل میں ہمیشہ میری دلچسپی رہی۔ مَیں نے اس کلام کو جس کا نام قرآن ہے نہایت درجہ تک پاک اور روحانی حکمت سے بھرا ہوا پایا۔ نہ وہ کسی انسان کو خدا بناتا اور نہ روحوں اور جسموں کو اس کی پیدائش سے باہر رکھ کر اس کی مذمت اور نندیا کرتاہے اور وہ برکت جس کے لئے مذہب قبول کیا جاتا ہے اس کو یہ کلام آخر انسان کے دل پر وارد کر دیتا ہے اور خدا کے فضل کااس کو مالک بنا دیتا ہے۔ پس کیونکر ہم روشنی پا کر پھر تاریکی میں آویں اور آنکھیں پا کر پھر اندھے بن جاویں۔ (سناتن دھرم۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۴۷۴)
یہ امر ثابت شدہ ہے کہ قرآن شریف نے دین کے کامل کرنے کا حق ادا کر دیا ہے۔ جیسا کہ وہ خود فرماتاہے اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا یعنی آج مَیں نے تمہارا دین تمہارے لئے کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی ہے اور مَیں اسلام کو تمہارا دین مقرر کر کے خوش ہوا۔ سو قرآن شریف کے بعد کسی کتاب کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ جس قدر انسان کی حاجت تھی وہ سب کچھ قرآن شریف بیان کر چکا۔ اب صرف مکالماتِ الٰہیہ کا دروازہ کھلا ہے اور وہ بھی خود بخودنہیں بلکہ سچے اور پاک مکالمات جو صریح اور کھلے طور پر نصرتِ الٰہی کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں اور بہت سے امور غیبیہ پر مشتمل ہوتے ہیں وہ بعد تزکیہ نفس محض پیر وی قرآ ن شریف اور اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل ہوتے ہیں۔ (چشمۂ معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۸۰)
یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ایک الہام کے لئے وہ سنت اللہ بطور امام اور مہیمن اور پیشرو کے ہے جو قرآن کریم میں وارد ہو چکی ہے اور ممکن نہیں کہ کوئی الہام اس سنت کو توڑ کر ظہور میں آوے کیونکہ اس سے پاک نوشتوں کا باطل ہونا لازم آتا ہے۔ (تبلیغ رسالت جلد سوم صفحہ ۱۵۶۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۴۲۹ بار دوم)
جاننا چاہئے کہ کھلا کھلا اعجاز قرآن شریف کا جو ہر ایک قوم اور ہر یک اہل زبان پر روشن ہو سکتا ہے جس کو پیش کرکے ہم ہر یک ملک کے آدمی کو خواہ وہ ہندی ہو یا پارسی یا یورپین یا امریکن یا کسی اور ملک کا ہو ملزم و ساکت و لاجواب کر سکتے ہیں۔ وہ غیر محدود معارف و حقائق و علوم حکمیہ قرآنیہ ہیں جو ہر زمانہ میں اس زمانہ کی حاجت کے موافق کھلتے جاتے ہیں اور ہر یک زمانہ کے خیالات کو مقابلہ کرنے کے لئے مسلّح سپاہیوں کی طرح کھڑے ہیں۔ اگر قرآن شریف اپنے حقائق و دقائق کے لحاظ سے ایک محدود چیز ہوتی تو ہرگز وہ معجزہ تامہ نہیں ٹھہر سکتا تھا فقط بلاغت و فصاحت ایسا امر نہیں ہے جس کی اعجازی کیفیت ہریک خواندہ، ناخواندہ کو معلوم ہو جائے۔ کھلا کھلا اعجاز اس کا تو یہی ہے کہ وہ غیر محدود معارف و دقائق اپنے اندر رکھتا ہے۔ جو شخص قرآن شریف کے اس اعجاز کو نہیں مانتا وہ علم قرآن سے سخت بے نصیب ہے۔ وَمَنْ لَّمْ یُؤْمِنْ بِذَالِکَ الْاِعْجَازِ فَوَ اللّٰہِ مَا قَدَرَ الْقُرْاٰنَ حَقَّ قَدْرِہٖ وَ مَا عَرَفَ اللّٰہَ حَقَّ مَعْرِفَتِہٖ وَمَا وَقَرَالرَّسُوْلَ حَقَّ تَوْقِیْرِہٖ ۔410
اے بندگانِ خدا! یقینا یاد رکھو کہ قرآن شریف میں غیر محدود معارف و حقائق کا اعجاز ایسا کامل اعجاز ہے جس نے ہر ایک زمانہ میں تلوار سے زیادہ کام کیا ہے۔ اور ہر یک زمانہ اپنی نئی حالت کے ساتھ جو کچھ شبہات پیش کرتا ہے یا جس قسم کے اعلیٰ معارف کا دعویٰ کرتا ہے اس کی پوری مدافعت اور پورا الزام اور پورا پورا مقابلہ قرآن شریف میں موجود ہے۔ کوئی شخص برہمو ہو یا بدھ مذہب والا یا آریہ یا کسی اور رنگ کا فلسفی کوئی ایسی الٰہی صداقت نکال نہیں سکتا جو قرآن شریف میں پہلے سے موجودنہ ہو۔ قرآن شریف کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔ اور جس طرح صحیفۂ فطرت کے عجائب و غرائب خواص کسی پہلے زمانہ تک ختم نہیں ہو چکے بلکہ جدید در جدید پیدا ہوتے جاتے ہیں۔ یہی حال اِن صحف مطہرہ کا ہے تا خدائے تعالیٰ کے قول اور فعل میں مطابقت ثابت ہو۔ اور مَیں اس سے پہلے لکھ چکا ہوں کہ قرآن شریف کے عجائبات اکثر بذریعہ الہام میرے پر کھلتے رہتے ہیں اور اکثر ایسے ہوتے ہیں کہ تفسیروں میں ان کا نام و نشان نہیں پایا جاتا۔ مثلاً یہ جو اس عاجز پر کھلا ہے کہ ابتدائے خلقت آدم سے جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ بعثت تک مدت گذری تھی وہ تمام مدت سورۃ والعصر کے اعداد حروف میں بحساب قمری مندرج ہے یعنی چار ہزار سات سو چالیس۔ ۴۷۴۰ اب بتلاؤ کہ یہ دقائق قرآنیہ جس میں قرآن کریم کا اعجاز نمایاں ہے کس تفسیر میں لکھے ہیں۔ ایسا ہی خدا ئے تعالیٰ نے میرے پر یہ نکتہ معارفِ قرآنیہ کا ظاہر کیا کہ اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الۡقَدۡرِ کے صرف یہی معنے نہیں کہ ایک بابرکت رات ہے جس میں قرآن شریف اُترا بلکہ باوجود ان معنوں کے جو بجائے خود صحیح ہیں۔ اِس آیت کے بطن میں دوسرے معنے بھی ہیں جو رسالہ فتح اسلام میں درج کئے گئے ہیں۔ اب فرمایئے کہ یہ تمام معارف حقہ کس تفسیر میں موجود ہیں؟ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ قرآن شریف کے ایک معنے کے ساتھ اگر دوسرے معنے بھی ہوں تو ان دونوں معنوں میں کوئی تناقض پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہدایت قرآنی میں کوئی نقص عائد حال ہوتا ہے بلکہ ایک نور کے ساتھ دوسرا نور مل کر عظمت فرقانی کی روشنی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے اور چونکہ زمانہ غیر محدود انقلابات کی وجہ سے غیر محدود خیالات کا بالطبع محرک ہے لہٰذا اس کا نئے پیرایہ میں ہو کر جلوہ گر ہونا یا نئے نئے علوم کو بمنصّہ ظہور لانا یا نئے نئے بدعات اور محدثات کو دکھلانا ایک ضروری امر اس کے لئے پڑا ہوا ہے۔ اب اس حالت میں ایسی کتاب جو خاتم الکتب ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اگر زمانہ کے ہر یک رنگ کے ساتھ مناسب حال اس کا تدارک نہ کرے تو وہ ہرگز خاتم الکتب نہیں ٹھہر سکتی اور اگر اس کتاب میں مخفی طور پر وہ سب سامان موجود ہے جو ہر یک حالت زمانہ کے لئے درکار ہے تو اس صورت میں ہمیں ماننا پڑے گا کہ قرآن شریف بلاریب غیر محدود معارف پر مشتمل ہے اور ہر یک زمانہ کی ضروراتِ لاحقہ کا کامل طور پر متکفّل ہے۔
اب یہ بھی یاد رہے کہ عادت اللہ ہر یک کامل ملہم کے ساتھ یہی رہی ہے کہ عجائبات مخفیہ فرقان اس پر ظاہر ہوتے رہے ہیں۔ بلکہ بسا اوقات ایک ملہم کے دل پر قرآن شریف کی آیت الہام کے طور پر القاء ہوتی ہے اور اصل معنی سے پھیر کر کوئی اور مقصود اس سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ مولوی عبداللہ صاحب مرحوم غزنوی اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں کہ مجھے ایک مرتبہ الہام ہوا۔ قلنا یا نار کونی بردًا و سلامًا۔ مگر مَیں اس کے معنے نہ سمجھا۔ پھر الہام ہوا ’’ قلنا یا صبر کونی بردًا و سلامًا ‘‘ تب مَیں سمجھ گیا کہ نار سے مراد اس جگہ صبر ہے۔
(ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۲۵۵ تا۲۶۲)یہی زمانہ ہے کہ جس میں ہزار ہا قسم کے اعتراضات اور شبہات پیدا ہوگئے ہیں۔ اور انواع اقسام کے عقلی حملے اسلام پر کئے گئے ہیں۔ اور خدائے تعالیٰ فرماتا ہے وَاِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا عِنۡدَنَا خَزَآئِنُہٗ ۫ وَمَا نُنَزِّلُہٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ یعنی ہر یک چیز کے ہمارے پاس خزانے ہیں۔ مگر بقدر معلوم اور بقدر ضرورت ہم ان کو اتارتے ہیں۔ سو جس قدر معارف و حقائق بطون قرآن کریم میں چُھپے ہوئے ہیں جو ہر یک قسم کے ادیان فلسفیہ و غیر فلسفیہ کو مقہور و مغلوب کرتے ہیں۔ ان کے ظہور کا زمانہ یہی تھا۔ کیونکہ وہ بجز تحریک ضرورت پیش آمدہ کے ظاہر نہیں ہو سکتے تھے۔ سو اب مخالفانہ حملے جو نئے فلسفہ کی طرف سے ہوئے تو ان معارف کے ظاہر ہونے کا وقت آ گیا اور ممکن نہیں تھا کہ بغیر اس کے کہ وہ معارف ظاہر ہوں اسلام تمام ادیان باطلہ پر فتح پا سکے کیونکہ سیفی فتح کچھ چیز نہیں اور چند روزہ اقبال کے دور ہونے سے وہ فتح بھی معدوم ہو جاتی ہے۔ سچی اور حقیقی فتح وہ ہے جو معارف اور حقائق اور کامل صداقتوں کے لشکر کے ساتھ حاصل ہو۔ سو وہ یہ فتح ہے جو اب اسلام کو نصیب ہو رہی ہے۔ بلاشبہ یہ پیشگوئی اسی زمانہ کے حق میں ہے۔ اور سلف صالح بھی ایسا ہی سمجھتے آئے ہیں۔ یہ زمانہ درحقیقت ایک ایسا زمانہ ہے جو بالطبع تقاضا کر رہا ہے جو قرآن شریف اپنے ان تمام بطون کو ظاہر کرے جو اس کے اندر مخفی چلے آتے ہیں۔ ……… یہ بات ہر یک فہیم کو جلدی سمجھ میں آ سکتی ہے کہ اللّٰہ جلّ شانہٗ کی کوئی مصنوع دقائق و غرائب خواص سے خالی نہیں۔ اور اگر ایک مکّھی کے خواص و عجائبات کی قیامت تک تفتیش وتحقیقات کرتے جائیں تو وہ بھی کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ تو اب سوچنا چاہئے کہ کیا خواص و عجائبات قرآن کریم کے اپنے قدر و اندازہ میں مکّھی جتنے بھی نہیں؟ بلاشبہ وہ عجائبات تمام مخلوقات کے مجموعی عجائبات سے بہت بڑھ کر ہیں اور ان کا انکار درحقیقت قرآن کریم کے منجانب اللہ ہونے کا انکار ہے کیونکہ دنیا میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں کہ جو خدا ئے تعالیٰ کی طرف سے صادر ہو اور اُس میں بے انتہا عجائبات نہ پائے جائیں …… وہ نکات و حقائق جو معرفت کو زیاد ہ کرتے ہیں وہ ہمیشہ حسب ضرورت کھلتے رہتے ہیں۔ اور نئے نئے فسادوں کے وقت نئے نئے پُرحکمت معانی بمنصّۂ ظہور آتے رہتے ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ قرآن کریم بذاتِ خود معجزہ ہے اور بڑی بھاری وجہ اعجاز کی اُس میں یہ ہے کہ وہ جامع حقائق غیر متناہیہ ہے مگر بغیر وقت کے وہ ظاہر نہیں ہوتے۔ جیسے جیسے وقت کی مشکلات تقاضا کرتی ہیں وہ معارف خفیہ ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔ دیکھو دنیوی علوم جو اکثر مخالف قرآن کریم اور غفلت میں ڈالنے والے ہیں کیسے آج کل ایک زورسے ترقی کر رہے ہیں اور زمانہ اپنے علوم ریاضی اور طبعی اور فلسفہ کی تحقیقاتوں میں کیسی ایک عجیب طور کی تبدیلیاں دکھلا رہا ہے کیا ایسے نازک وقت میں ضرور نہ تھا کہ ایمانی اور عرفانی ترقیات کے لئے بھی دروازہ کھولا جاتا تا شرورِ محدثہ کی مدافعت کے لئے آسانی پیدا ہو جاتی۔ سو یقینا سمجھو کہ وہ دروازہ کھولا گیا ہے اور خدا تعالیٰ نے ارادہ کر لیا ہے کہ تا قرآن کریم کے عجائبات مخفیہ اس دنیا کے متکبّر فلسفیوں پر ظاہر کرے۔ اب نیم ملاں دشمنِ اسلام اس ارادہ کو روک نہیں سکتے۔ اگر اپنی شرارتوں سے باز نہیں آئیں گے تو ہلاک کئے جائیں گے اور قہری طمانچہ حضرتِ قہار کا ایسا لگے گا کہ خاک میں مل جائیں گے۔ اِن نادانوں کو حالتِ موجودہ پر بالکل نظر نہیں۔ چاہتے ہیں کہ قرآن کریم مغلوب اور کمزور اور ضعیف اور حقیر سا نظر آوے لیکن اب وہ ایک جنگی بہادر کی طرح نکلے گا۔ ہاں وہ ایک شیر کی طرح میدان میں آئے گا اور دنیا کے تمام فلسفہ کو کھا جائے گا اور اپنا غلبہ دکھائے گا اور لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ کی پیشگوئی کو پوری کر دے گا اور پیشگوئی وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ کو روحانی طور سے کمال تک پہنچائے گا کیونکہ دین کا زمین پر بوجہ کمال قائم ہو جانا محض جبر اور اکراہ سے ممکن نہیں۔ دین اس وقت زمین پر قائم ہوتا ہے کہ جب اس کے مقابل پر کوئی دین کھڑا نہ رہے اور تمام مخالف سِپر ڈال دیں۔ سو اب وہی وقت آ گیا۔ اب وہ وقت نادان مولویوں کے روکنے سے رک نہیں سکتا۔ اب وہ ابن مریم جس کا روحانی باپ زمین پر بجز معلّم حقیقی کے کوئی نہیں جو اس وجہ سے آدم سے بھی مشابہت رکھتا ہے۔ بہت سا خزانہ قرآ ن کریم کا لوگوں میں تقسیم کرے گا۔ یہاں تک کہ لوگ قبول کرتے کرتے تھک جائیں گے اور لایَقْبِلُہٗ اَحَد کا مصداق بن جائیں گے اور ہر یک طبیعت اپنے ظرف کے مطابق پُر ہو جائے گی۔ (ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد ۳صفحہ ۴۶۴تا۴۶۷)
پاک اور کامل تعلیم قرآن شریف کی ہے جو انسانی درخت کی ہر ایک شاخ کی پرورش کرتی ہے اور قرآن شریف صرف ایک پہلو پر زورنہیں ڈالتا بلکہ کبھی تو عفو اور درگذر کی تعلیم دیتا ہے مگر اس شرط سے کہ عفو کرنا قرین مصلحت ہو اور کبھی مناسب محل اور وقت کے مجرم کو سزا دینے کے لئے فرماتا ہے۔ پس درحقیقت قرآن شریف خدا تعالیٰ کے اُس قانونِ قدرت کی تصویر ہے جو ہمیشہ ہماری نظر کے سامنے ہے۔ یہ بات نہایت معقول ہے کہ خدا کا قول اور فعل دونوں مطابق ہونے چاہئیں یعنی جس رنگ اور طرز پر دنیا میں خدا تعالیٰ کا فعل نظر آتا ہے ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ کی سچی کتاب اپنے فعل کے مطابق تعلیم کرے نہ یہ کہ فعل سے کچھ اور ظاہر ہو اور قول سے کچھ اور ظاہر ہو۔ خدا تعالیٰ کے فعل میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہمیشہ نرمی اور درگذر نہیں بلکہ وہ مجرموں کو طرح طرح کے عذابوں سے سزا یاب بھی کرتا ہے۔ ایسے عذابوں کا پہلی کتابوں میں بھی ذکر ہے ہمارا خدا صرف حلیم خدا نہیں بلکہ وہ حلیم بھی ہے اور اس کا قہر بھی عظیم ہے۔ سچی کتاب وہ کتاب ہے جو اس کے قانونِ قدرت کے مطابق ہے اور سچا قولِ الٰہی وہ ہے جو اس کے فعل کے مخالف نہیں۔ ہم نے کبھی مشاہدہ نہیں کیا کہ خدا نے اپنی مخلوق کے ساتھ ہمیشہ حلم اور درگذر کا معاملہ کیا ہو اور کوئی عذاب نہ آیا ہو۔ اب بھی ناپاک طبع لوگوں کے لئے خدا تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے ایک عظیم الشان اور ہیبت ناک زلزلہ کی خبر دے رکھی ہے جو اُن کو ہلاک کرے گا۔ (چشمۂ مسیحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۴۶، ۳۴۷)
ایک اور اعتراض تھا جو ہم نے عیسائیوں کی موجودہ انجیلوں پر کیا تھا جس کی وجہ سے پادری صاحبوں کو بہت شرمندگی اُٹھانی پڑی اور وہ یہ ہے کہ انجیل انسان کی تمام قوتوں کی مربی نہیں ہو سکتی اور جو کچھ اُس میں کسی قدر اخلاقی حصّہ موجود ہے اور وہ بھی دراصل توریت کا انتخاب ہے۔ اس پر بعض عیسائیوں نے یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ ’’خدا کی کتاب کے مناسب حال صرف اخلاقی حصہ ہوتا ہے اور سزا جزا کے قوانین خدا کی کتاب کے مناسب حال نہیں۔ کیونکہ جرائم کی سزائیں حالات متبدلہ کی مصلحت کی رُو سے ہونی چاہیئیں اور وہ حالات غیر محدود ہیں اِس لئے اُن کے لئے صرف ایک ہی قانون سزا ہونا ٹھیک نہیں ہے۔ ہر ایک سزا جیسا کہ وقت تقاضا کرے اور مجرموں کی تنبیہ اور سرزنش کے لئے مفید پڑ سکے دینی چاہئے لہٰذا ہمیشہ ایک ہی رنگ میں ان کا ہونا اصلاحِ خلائق کے لئے مفیدنہیں ہو گا اور اِس طرح پر قوانینِ دیوانی اور فوجداری اور مال گذاری کو محدود کر دینا اس بدنتیجہ کا موجب ہو گا کہ جو ایسی نئی صورتوں کے وقت میں پیدا ہو سکتا ہے جو ان قوانین محدودہ سے باہر ہوں۔ مثلاً ایک ایسی جدید طرز کے امور تجارت پر مخالفانہ اثر کرے جو ایسے عام رواج پر مبنی ہوں جن سے اس گورنمنٹ میں کسی طرح گریز نہ ہو سکے اور یا کسی اور طرز کے جدید معاملات پر مؤثر ہو اور یا کسی اور تمدنی حالت پر اثر رکھتا ہو اور یا بد معاشوں کے ایسے حالات راسخہ پر غیر مفید ثابت ہو جو ایک قسم کی سزا کی عادت پکڑ گئے ہوں یا اس سزا کے لائق نہ رہے ہوں۔‘‘ مگر مَیں کہتا ہوں کہ یہ خیالات ان لوگوں کے ہیں جنہوں نے کبھی تدبّر سے خدا کی کلام قرآن شریف کو نہیں پڑھا۔ اب مَیں حق کے طالبوں کو سمجھاتا ہوں کہ قرآن شریف میں ایسے احکام جو دیوانی اور فوجداری اور مال کے متعلق ہیں دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جن میں سزا یا طریق انصاف کی تفصیل ہے۔ دوسرے وہ جن میں ان امور کو صرف قواعد کلیّہ کے طور پر لکھا ہے اور کسی خاص طریق کی تعیین نہیں کی۔ اور وہ احکام اس غرض سے ہیں کہ تا اگر کوئی نئی صورت پیدا ہو تو مجتہد کو کام آویں۔ مثلاً قرآن شریف میں ایک جگہ تو یہ ہے کہ دانت کے بدلے دانت آنکھ کے بدلے آنکھ۔ یہ تو تفصیل ہے۔ اور دوسری جگہ یہ اجمالی عبارت ہے کہ وَجَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثۡلُہَا پس جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ اجمالی عبارت توسیع قانون کے لئے بیان فرمائی گئی ہے کیونکہ بعض صورتیں ایسی ہیں کہ ان میں یہ قانون جاری نہیں ہو سکتا۔ مثلاً ایک ایسا شخص کسی کا دانت توڑے کہ اُس کے منہ میں دانت نہیں اور بباعث کبرسنی یا کسی اور سبب سے اُس کے دانت نکل گئے ہیں تو دندان شکنی کی سزا میں ہم اُس کا دانت توڑ نہیں سکتے کیونکہ اس کے تو منہ میں دانت ہی نہیں۔ ایسا ہی اگر ایک اندھا کسی کی آنکھ پھوڑ دے تو ہم اس کی آنکھ نہیں پھوڑ سکتے کیونکہ اُس کی تو آنکھیں ہی نہیں۔ خلاصہ مطلب یہ کہ قرآن شریف نے ایسی صورتوں کو احکام میں داخل کرنے کے لئے اس قسم کے قواعد کلیہ بیان فرمائے ہیں۔ پس اس کے احکام اور قوانین پر کیونکر اعتراض ہو سکے اور اُس نے صرف یہی نہیں کہا بلکہ ایسے قواعد کلیہ بیان فرما کر ہر ایک کو اجتہاد اور استخراج اور استنباط کی ترغیب دی ہے مگر افسوس کہ یہ ترغیب اور طرز تعلیم توریت میں نہیں پائی جاتی اور انجیل تو اس کامل تعلیم سے بالکل محروم ہے اور انجیل میں صرف چند اخلاق بیان کئے ہیں اور وہ بھی کسی ضابطہ اور قانون کے سلسلہ میں منسلک نہیں ہیں اور یاد رہے کہ عیسائیوں کا یہ بیان کہ انجیل نے قوانین کی باتوں کو انسانوں کی سمجھ پر چھوڑ دیا ہے جائے فخر نہیں بلکہ جائے انفعال اور ندامت ہے کیونکہ ہر ایک امر جو قانونِ کلّی اور قواعد مرتبہ منتظمہ کے رنگ میں بیان نہ کیا جائے وہ امر گو کیسا ہی اپنے مفہوم کے رو سے نیک ہو بد استعمالی کے رو سے نہایت بد اور مکروہ ہو جاتا ہے۔ (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۸۷، ۸۸)
ہمارا خداوند کریم کہ جو دلوں کے پوشیدہ بھیدوں کو خوب جانتا ہے اِس بات پر گواہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایک ذرّہ کا ہزارم حصہ بھی قرآن شریف کی تعلیم میں کچھ نقص نکال سکے یا بمقابلہ اس کے اپنی کسی کتاب کی ایک ذرّہ بھر کوئی ایسی خوبی ثابت کر سکے کہ جو قرآنی تعلیم کے برخلاف ہو اور اس سے بہتر ہو تو ہم سزائے موت بھی قبول کرنے کو طیار ہیں۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۹۸ حاشیہ نمبر۲)
آج روئے زمین پر سب الہامی کتابوں میں سے ایک فرقان مجید ہی ہے کہ جس کا کلامِ الٰہی ہونا دلائلِ قطعیہ سے ثابت ہے جس کے اصول نجات کے بالکل راستی اور وضع فطرتی پر مبنی ہیں جس کے عقائد ایسے کامل اور مستحکم ہیں جو براہین قویہ ان کی صداقت پر شاہدناطق ہیں جس کے احکام حق محض پر قائم ہیں۔ جس کی تعلیمات ہر یک طرح کی آمیزشِ شرک اور بدعت اور مخلوق پرستی سے بکلّی پاک ہیں۔ جس میں توحید اور تعظیمِ الٰہی اور کمالات حضرتِ عزت کے ظاہر کرنے کے لئے انتہا کا جوش ہے جس میں یہ خوبی ہے کہ سراسر وحدانیت جناب الٰہی سے بھرا ہوا ہے اور کسی طرح کا دھبّہ نقصان اور عیب اور نالائق صفات کا ذات پاک حضرتِ باری تعالیٰ پر نہیں لگاتا اور کسی اعتقاد کو زبردستی تسلیم کرانا نہیں چاہتا بلکہ جو تعلیم دیتا ہے۔ اس کی صداقت کی وجوہات پہلے دکھلا لیتا ہے۔ اور ہر ایک مطلب اور مدعا کو حجج اور براہین سے ثابت کرتا ہے اور ہر یک اصول کی حقیت پر دلائل واضح بیان کر کے مرتبہ یقین کامل اور معرفتِ تام تک پہنچاتا ہے اور جو جو خرابیاں اور ناپاکیاں اور خلل اور فساد لوگوں کے عقائد اور اعمال اور اقوال اور افعال میں پڑے ہوئے ہیں ان تمام مفاسد کو روشن براہین سے دُور کرتا ہے اور وہ تمام آداب سکھاتا ہے کہ جن کا جاننا انسان کو انسان بننے کے لئے نہایت ضروری ہے اور ہر یک فساد کی اُسی زور سے مدافعت کرتا ہے کہ جس زور سے وہ آجکل پھیلا ہوا ہے۔ اُس کی تعلیم نہایت مستقیم اور قوی اور سلیم ہے گویا احکامِ قدرتی کا ایک آئینہ ہے اور قانونِ فطرت کی ایک عکسی تصویر ہے اور بینائی دلی اور بصیرتِ قلبی کے لئے ایک آفتاب چشم افروز ہے اور عقل کے اجمال کو تفصیل دینے والا اور اس کے نقصان کا جبر کرنے والا ہے۔ لیکن دوسری کتابیں جو الہامی کہلاتی ہیں جب اُن کی حالت موجودہ کو دیکھا گیا تو بخوبی ثابت ہو گیا جو وہ سب کتابیں اِن صفاتِ کاملہ سے بالکل خالی اور عاری ہیں اور خدا کی ذات اور صفات کی نسبت طرح طرح کی بدگمانیاں اُن میں پائی جاتی ہیں۔ اور مقلد ان کتابوں کے عجیب عجیب عقائد کے پابند ہو رہے ہیں۔ کوئی فرقہ ان میں سے خدا کو خالق اور قادر ہونے سے جواب دے رہا ہے اور قدیم اور خودبخود ہونے میں اس کا بھائی اور حصہ دار بن بیٹھا ہے اور کوئی بتوں اور مورتوں اور دیوتوں کو اس کے کارخانہ میں دخیل اور اس کی سلطنت کا مدار المہام سمجھ رہا ہے۔ کوئی اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں اور پوتے اور پوتیاں تراش رہا ہے۔ اور کوئی خود اسی کو َمچھ اور َکچھ کا جنم دے رہا ہے۔ غرض ایک دوسرے سے بڑھ کر اس ذات کامل کو ایسا خیال کر رہے ہیں کہ گویا وہ نہایت ہی بدنصیب ہے کہ جس کمال تام کو اس کے لئے عقل چاہتی تھی۔ وہ اس کو میسّر نہ ہوا۔ اب اے بھائیو! خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب مَیں نے ایسے ایسے باطل عقائد میں لوگوں کو مبتلا دیکھا اور اس درجہ کی گمراہی میں پایا کہ جس کو دیکھ کر جی پگھل آیا اور دل اور بدن کانپ اُٹھا تو مَیں نے اُن کی رہنمائی کے لئے اس کتاب کا تالیف کرنا اپنے نفس پر ایک حق واجب اور دین لازم دیکھا جو بجز ادا کرنے کے ساقط نہ ہو گا۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۸۱ تا ۸۳)
وہ براہین جو قرآن شریف کی حقیت اور افضلیت پر بیرونی شہادتیں ہیں چار قسم پرہیں۔ ایک ۱ وہ جو امور محتاج الاصلاح سے ماخوذ ہیں۔ دوسری ۲ وہ جو امور محتاج التکمیل سے ماخوذ ہیں۔ تیسری ۳ وہ جو امور قدرتیہ سے ماخوذ ہیں۔ چوتھی ۴ وہ جو امورِ غیبیہ سے ماخوذ ہیں لیکن وہ براہین جو قرآن شریف کی حقیت اور افضلیت پر اندرونی شہادتیں ہیں وہ تمام امور قدرتیہ ہی سے ماخوذ ہیں اور تعریف اقسام مذکورہ کی بہ تفصیل ذیل ہے۔
امور محتاج الاصلاح سے وہ امور کفر اور بے ایمانی اور شرک اور بد عملی کے مراد ہیں جن کو بنی آدم نے بجائے عقائد حقہ اور اعمال صالحہ کے اختیار کر رکھا ہو اور جو عام طور پر تمام دنیا میں پھیلنے کی وجہ سے اس لائق ہو گئے ہوں کہ عنایت ازلیہ ان کی اصلاح کی طرف توجہ کرے۔
امور محتاج التکمیل سے وہ امور تعلیمیہ مراد ہیں کہ جو کتب الہامیہ میں ناقص طور پر پائے جاتے ہوں اور حالت کاملہ تعلیم پر نظر کرنے سے اُن کا ناقص اور ادھورا ہونا ثابت ہوتا ہو اور اِس وجہ سے وہ ایک ایسی کتاب الہامی کے محتاج ہوں جو اُن کو مرتبۂ کمال تک پہنچاوے۔
امور قدرتیہ دو طور پر ہیں۔
۱۔ بیرونی شہادتیں ۔ اِن سے وہ امور مراد ہیں جو بغیر وسیلہ انسانی تدبیروں کے خدا کی طرف سے پیدا ہو جائیں اور ہر ایک ذرّہ بے مقدار کو وہ شوکت و شان اور عظمت و بزرگی بخشیں جس کا حاصل ہونا عند العقل محالاتِ عادیہ سے متصور ہو اور جس کی نظیر صفحۂ دنیا میں کہیں نہ پائی جاتی ہو۔
۲۔ اندرونی شہادتیں ۔ ان سے وہ محاسن صوری اور معنوی کتاب الہامی کے مراد ہیں جن کا مقابلہ کرنے سے قویٰ بشریہ عاجز ہوں اور جو فی الواقعہ بے مثل و مانند ہو کر ایسے قادر یکتا پر دلالت کرتی ہوں کہ گویا آئینہ خدا نما ہوں۔
امور غیبیہ سے وہ امور مراد ہیں جو ایک ایسے شخص کی زبان سے نکلیں جس کی نسبت یہ یقین کیا جائے کہ اِن امور کا بیان کرنا من کل الوجوہ اس کی طاقت سے باہر ہے یعنی ان امور پر نظر کرنے اور اس شخص کے حال پر نظر کرنے سے یہ بات بہ بداہت واضح ہو کہ نہ وہ امور اس کے لئے حکم بدیہی اور مشہود کا رکھتے ہیں اور نہ بذریعہ نظر اور فکر کے اس کو حاصل ہو سکتے ہیں اور نہ اُس کی نسبت عند العقل یہ گمان جائز ہے کہ اُس نے بذریعہ کسی دوسرے واقف کار کے ان امور کو حاصل کر لیا ہو گا۔ گو وہی امور کسی دوسرے شخص کی طاقت سے باہر نہ ہوں۔ پس اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ امور غیبیہ اضافی اور نسبتی امور ہیں۔ یعنی ایسے امور ہیں کہ جب بعض خاص اشخاص کی طرف اُن کو نسبت دی جاتی ہے تو اس قابل ہو جاتے ہیں کہ امورِ غیبیہ ہونے کا اُن پر اطلاق ہو اور پھر جب وہی امور بعض دیگر کی طرف منسوب کئے جائیں تو یہ قابلیت اُن میں متحقق نہیں ہوتی۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۴۳ تا۱۴۵)بعض معجزات و پیشگویاں قرآن شریف کی ایسی ہیں کہ وہ ہمارے لئے بھی جو اس زمانہ میں مشہود و محسوس کا حکم رکھتی ہیں اور کوئی ان سے انکار نہیں کر سکتا۔ چنانچہ وہ یہ ہیں۔
(۱) عذابی نشان کا معجزہ جو اس وقت کے کفار کو دکھلایا گیا تھا یہ ہمارے لئے بھی فی الحقیقت ایسا ہی نشان ہے جس کو چشم دید کہنا چاہئے۔ وجہ یہ کہ یہ نہایت یقینی مقدمات کا ایک ضروری نتیجہ ہے جس سے کوئی موافق اور مخالف کسی صورت سے انکار نہیں کر سکتا۔ اوّل یہ مقدمہ جو بطور بنیاد معجزہ کے ہے نہایت بدیہی اور مسلّم الثبوت ہے کہ یہ عذابی نشان اس وقت مانگا گیا تھا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور چند رفیق آنجناب کے مکّہ میں دعوت حق کی وجہ سے خود صد ہا تکالیف اور دردوں اور دُکھوں میں مبتلا تھے۔ اور وہ ایام دین اسلام کے لئے ایسے ضعف اور کمزوری کے دن تھے کہ خود کفار مکّہ ہنسی اور ٹھٹھے کی راہ سے مسلمانوں کو کہا کرتے تھے کہ اگر تم حق پر ہو تو اِس قدر عذاب اور مصیبت اور دکھ اور درد ہمارے ہاتھ سے کیوں تمہیں پہنچ رہا ہے اور وہ خدا جس پر تم بھروسہ کرتے ہو وہ کیوں تمہاری مددنہیں کرتا اور کیوں تم ایک قدر قلیل جماعت ہو جو عنقریب نابود ہونے والی ہے اور اگر تم سچے ہو تو کیوں ہم پر عذاب نازل نہیں ہوتا؟ اِن سوالات کے جواب میں جو کچھ کفار کو قرآن شریف کے متفرق مقامات میں ایسے زمانہ تنگی و تکالیف میں کہا گیا وہ دوسرا مقدمہ اس پیشگوئی کی عظمتِ شان سمجھنے کے لئے ہے کیونکہ وہ زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہؓ پر ایسا نازک زمانہ تھا کہ ہر وقت اپنی جان کا اندیشہ تھا اور چاروں طرف ناکامی مُنہ دکھلا رہی تھی۔ سو ایسے زمانہ میں کفار کو اُن کے عذابی نشان مانگنے کے وقت صاف صاف طور پر یہ کہا گیا تھا کہ عنقریب تمہیں اسلام کی فتح مندی اور تمہارے سزا یاب ہونے کا نشان دکھلایا جائے گا۔ اور اسلام جو اب ایک تخم کی طرح نظر آتا ہے کسی دن ایک بزرگ درخت کی مانند اپنے تئیں ظاہر کر ے گا۔ اور وہ جو عذاب کا نشان مانگتے ہیں وہ تلوار کی دھار سے قتل کئے جائیں گے اور تمام جزیرۂ عرب کفر اور کافروں سے صاف کیا جائے گا۔ اور تمام عرب کی حکومت مومنوں کے ہاتھ میں آ جائے گی اور خدائے تعالیٰ دین اسلام کو عرب کے ملک میں ایسے طور سے جمادے گا کہ پھر بُت پرستی کبھی پیدا نہیں ہو گی۔ اور حالت موجودہ جو خوف کی حالت ہے بکلّی امن کے ساتھ بدل جائے گی۔ اور اِسلام قوت پکڑے گا اور غالب ہوتا چلا جائے گا یہاں تک کہ دوسرے ملکوں پر اپنی فتح اور نصرت کا سایہ ڈالے گا۔ اور دور دور تک اُس کی فتوحات پھیل جائیں گی۔ اور ایک بڑی بادشاہت قائم ہو جائے گی جس کا اخیر دنیا تک زوال نہیں ہو گا۔
اب جو شخص پہلے اِن دونوں مقدمات پر نظر ڈال کر معلوم کرلیوے کہ وہ زمانہ جس میں یہ پیشگوئی کی گئی اسلام کے لئے کیسی تنگی اور ناکامی اور مصیبت کا زمانہ تھا اور جو پیشگوئی کی گئی وہ کس قدر حالت موجودہ سے مخالف اور خیال اور قیاس سے نہایت بعید بلکہ صریح محالاتِ عادیہ سے نظر آتی تھی۔ پھر بعد اس کے اسلام کی تاریخ پر جو دشمنوں اور دوستوں کے ہاتھ میں موجود ہے ایک منصفانہ نظر ڈالے کہ کیسی صفائی سے یہ پیشگوئی پوری ہو گئی اور کس قدر دلوں پر ہیبت ناک اثر اس کا پڑا۔ اور کیسے مشارق اور مغارب میں تمام تر قوت اور طاقت کے ساتھ اس کا ظہور ہوا۔ تو اس پیشگوئی کو یقینی اور قطعی طور پر چشم دید معجزہ قرار دے گا جس میں اس کو ایک ذرّہ بھی شک و شبہ نہیں ہو گا۔
پھر دوسرا معجزہ قرآن شریف کا جو ہمارے لئے حکم مشہود و محسوس کا رکھتا ہے وہ عجیب و غریب تبدیلیاں ہیں جو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ببرکت پیروی قرآن شریف و اثر صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ظہور میں آئیں۔ جب ہم اس بات کو دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ مشرف باسلام ہونے سے پہلے کیسے اور کس طریق اور عادت کے آدمی تھے اور پھر بعد شرف صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم و اتباعِ قرآن شریف کس رنگ میں آگئے اور کیسے اخلاق میں عقائد میں چلن میں گفتار میں رفتار میں کردار میں اور اپنی جمیع عادات خبیث حالت سے منتقل ہو کر نہایت طیّب اور پاک حالت میں داخل کئے گئے تو ہمیں اس تاثیر عظیم کو دیکھ کر جس نے اُن کے زنگ خوردہ وجودوں کو ایک عجیب تازگی اور روشنی اور چمک بخشدی تھی اقرار کرنا پڑتا ہے کہ یہ تصرف ایک خارق عادت تصرف تھا جو خاص خدائے تعالیٰ کے ہاتھ نے کیا ……… یہ تبدیلی ایک خارق عادت تبدیلی ہے جسے معجزہ کہنا چاہئے۔
پھر تیسرا معجزہ قرآن شریف کا جو ہماری نظروں کے سامنے موجود ہے اُس کے حقائق و معارف و لطائف و نکات ہیں جو اس کی بلیغ و فصیح عبارات میں بھرے ہوئے ہیں۔ اس معجزہ کو قرآن شریف میں بڑی شدّ و مدّ سے بیان کیا گیا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر تمام جن و انس اکٹھے ہو کر اس کی نظیر بنانا چاہیں تو اُن کے لئے ممکن نہیں۔ یہ معجزہ اس دلیل سے ثابت اور متحقق الوجود ہے کہ اس زمانہ تک کہ تیرہ سو برس سے زیادہ گذر رہا ہے باوجودیکہ قرآن شریف کی منادی دنیا کے ہر ایک نواح میں ہو رہی ہے اور بڑے زور سے ھَلْ مِنْ مُّعَارِضٍ کا نقارہ بجایا جاتا ہے مگر کبھی کسی طرف سے آواز نہیں آئی۔ پس اس سے اس بات کا صریح ثبوت ملتا ہے کہ تمام انسانی قوتیں قرآن شریف کے مقابلہ و معارضہ سے عاجز ہیں۔ بلکہ اگر قرآن شریف کی صد ہا خوبیوں میں سے صرف ایک خوبی کو پیش کر کے اُس کی نظیر مانگی جائے تو انسان ضعیف البنیان سے یہ بھی ناممکن ہے کہ اس کے ایک جزو کی نظیر پیش کر سکے۔ مثلاً قرآن شریف کی خوبیوں میں سے ایک یہ بھی خوبی ہے کہ وہ تمام معارفِ دینیہ پر مشتمل ہے اور کوئی دینی سچائی جو حق اور حکمت سے تعلق رکھتی ہے ایسی نہیں جو قرآن شریف میں پائی نہ جاتی ہو مگر ایسا شخص کون ہے کہ کوئی دوسری کتاب ایسی دکھلائے جس میں یہ صفت موجود ہو اور اگر کسی کو اس بات میں شک ہو کہ قرآن شریف جامع تمام حقائق دینیہ ہے تو ایسا مشکک خواہ عیسائی ہو خواہ آریہ اور خواہ برہمو ہو خواہ دہریہ اپنی طرز اور طور پر امتحان کر کے اپنی تسلّی کرا سکتا ہے اور ہم تسلّی کر دینے کے ذمہ دار ہیں۔ بشرطیکہ کوئی طالب حق ہماری طرف رجوع کرے۔ بائبل میں جس قدر پاک صداقتیں ہیں یا حکماء کی کتابوں میں جس قدر حق اور حکمت کی باتیں ہیں جن پر ہماری نظر پڑی ہے یا ہندؤں کے وید وغیرہ میں جو اتفاقاً بعض سچائیاں درج ہو گئیں یا باقی رہ گئیں ہیں جن کو ہم نے دیکھا ہے یا صوفیوں کی صد ہا کتابوں میں جو حکمت و معرفت کے نکتے ہیں جن پر ہمیں اطلاع ہوئی ہے ان سب کو ہم قرآن شریف میں پاتے ہیں۔ اور اس کامل استقراء سے جو تیس برس کے عرصہ سے نہایت عمیق اور محیط نظر کے ذریعہ سے ہم کو حاصل ہے نہایت قطع اور یقین سے ہم پر یہ بات کھل گئی ہے کہ کوئی روحانی صداقت جو تکمیل نفس اور دماغی اور دلی قویٰ کی تربیت کے لئے اثر رکھتی ہے ایسی نہیں ہے جو قرآن شریف میں درج نہ ہو اور یہ صرف ہمارا ہی تجربہ نہیں بلکہ یہی قرآن شریف کا دعویٰ بھی ہے جس کی آزمائش نہ فقط میں نے بلکہ ہزار ہا علماء ابتداء سے کرتے آئے اور اس کی سچائی کی گواہی دیتے آئے ہیں۔
پھر چوتھا معجزہ قرآن شریف کا اس کی رُوحانی تاثیرات ہیں جو ہمیشہ اس میں محفوظ چلی آتی ہیں۔ یعنی یہ کہ اس کی پیروی کرنے والے قبولیت الٰہی کے مراتب کو پہنچتے ہیں اور مکالمات الٰہیہ سے مشرف کئے جاتے ہیں۔ خدائے تعالیٰ اُن کی دعاؤں کو سنتا اور انہیں محبت اور رحمت کی راہ سے جواب دیتا ہے اور بعض اسرارِ غیبیہ پر نبیوں کی طرح ان کو مطلع فرماتا ہے اور اپنی تائید اور نصرت کے نشانوں سے دوسری مخلوقات سے انہیں ممتاز کرتا ہے۔ یہ بھی ایسا نشان ہے کہ جو قیامت تک امتِ محمدیہ میں قائم رہے گا اور ہمیشہ ظاہر ہوتا چلا آیا ہے اور اب بھی موجود اور متحقق الوجود ہے۔ مسلمانوں میں سے ایسے لوگ اب بھی دُنیا میں پائے جاتے ہیں کہ جن کو اللہ جلّ شانہٗ اپنی تائیداتِ خاصہ سے مؤید فرما کر الہاماتِ صحیحہ و صادقہ و مبشرات و مکاشفاتِ غیبیہ سے سرفراز فرماتا ہے۔
اب اے حق کے طالبو! اور سچے نشانوں کے بھوکو اور پیاسو! انصاف سے دیکھو اور ذرا پاک نظر سے غور کرو کہ جن نشانوں کا خدا ئے تعالیٰ نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے کس اعلیٰ درجہ کے نشان ہیں اور کیسے ہر زمانے کے لئے مشہورو محسوس کا حکم رکھتے ہیں۔ پہلے نبیوں کے معجزات کا اب نام و نشان باقی نہیں صرف قصّے ہیں خدا جانے اِن کی اصلیت کہاں تک درست ہے۔
(ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات۔ روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ۴۴۵تا۴۵۰)معجزات اور خوارق قرآنی چار قسم پر ہیں۔ (۱) معجزات عقلیہ (۲) معجزات علمیہ (۳) معجزات برکات روحانیہ (۴) معجزات تصرفات خارجیہ۔
نمبر اوّل دو وتین کے معجزات خواصِ ذاتیہ قرآن شریف میں سے ہیں اور نہایت عالیشان اور بدیہی الثبوت ہیں جن کو ہر یک زمانہ میں ہر یک شخص تازہ بتازہ طور پر چشم دید ماجرا کی طرح دریافت کر سکتا ہے لیکن نمبر چار کے معجزات یعنی تصرفات خارجیہ یہ بیرونی خوارق ہیں جن کو قرآن شریف سے کچھ ذاتی تعلق نہیں۔ انہی میں سے معجزہ شق القمر بھی ہے۔ اصل خوبی اور حسن و جمال قرآن شریف کا پہلے تینوں قسم کے معجزات سے وابستہ ہے بلکہ ہر ایک کلامِ الٰہی کا یہی نشانِ اعظم ہے کہ یہ تینوں قسم کے معجزات کسی قدر اس میں پائے جائیں اور قرآن شریف میں تو یہ ہر سہ قسم کے اعجاز اعلیٰ و اکمل و اتم طور پر پائے جاتے ہیں۔ اور انہی کو قرآن شریف اپنے بے مثل و مانند ہونے کے اثبات میں بار بار پیش کرتا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے۔ قُلۡ لَّئِنِ اجۡتَمَعَتِ الۡاِنۡسُ وَالۡجِنُّ عَلٰۤی اَنۡ یَّاۡتُوۡا بِمِثۡلِ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لَا یَاۡتُوۡنَ بِمِثۡلِہٖ وَلَوۡ کَانَ بَعۡضُہُمۡ لِبَعۡضٍ ظَہِیۡرًا یعنی ان منکرین کو کہہ دے کہ اگر تمام جن و انس یعنی تمام مخلوقات اس بات پر متفق ہو جائے کہ اس قرآن کی کوئی مثل بنانی چاہئے تو وہ ہرگز اس بات پر قادر نہیں ہوں گے کہ ایسی ہی کتاب انہی ظاہری باطنی خوبیوں کی جامع بنا سکیں۔ اگرچہ وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔ اور پھر دوسرے مقام میں فرماتا ہے۔ مَا فَرَّطۡنَا فِی الۡکِتٰبِ مِنۡ شَیۡءٍ ……… اور پھر فرماتا ہے یَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً فِیۡہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ ……… اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے۔ لَوۡ اَنۡزَلۡنَا ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیۡتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنۡ خَشۡیَۃِ اللّٰہِ ؕ وَتِلۡکَ الۡاَمۡثَالُ نَضۡرِبُہَا لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ …… لیکن بایں ہمہ تصرفات خارجیہ کے اعجاز بھی قرآن شریف میں بکثرت درج ہیں۔ اور اس قسم کے معجزات جمالِ قرآنی کے لئے بطور اس زیور کے ہیں جو خوبوں کو پہنایا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ نفس خوبصورتی زیور کے محتاج نہیں گو اس سے حُسن کی آب و تاب کسی قدر اور بڑھ جاتی ہے۔ اس جگہ واضح رہے کہ تصرفات خارجیہ کے معجزات قرآن شریف میں کئی نوع پر مندرج ہیں۔ ایک نوع تو یہی کہ جو دعائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خدا ئے تعالیٰ نے آسمان پر اپنا قادرانہ تصرف دکھلایا اور چاند کو دو۲ ٹکڑے کر دیا۔ دوسرے وہ تصرف جو خدائے تعالیٰ نے جناب ممدوح کی دُعا سے زمین پر کیا اور ایک سخت قحط سات برس تک ڈالا۔ یاں تک کہ لوگوں نے ہڈیوں کو پیس کر کھایا۔ تیسرے وہ تصرف اعجازی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شر کفار سے محفوظ رکھنے کے لئے بروز ہجرت کیا گیا۔ یعنی جبکہ کفار مکّہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اللّٰہ جلّ شانہٗ نے اپنے اس پاک نبی کو اس بد ارادہ کی خبر دے دی اور مکّہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر جانے کا حکم فرمایا۔ اور پھر بفتح و نصرت واپس آنے کی بشارت دی۔ بدھ کا روز اور دوپہر کا وقت اور سختی گرمی کے دن تھے جب یہ ابتلاء منجانب اللہ ظاہر ہوا۔ اس مصیبت کی حالت میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ناگہانی طور پر اپنے قدیمی شہر کو چھوڑنے لگے اور مخالفین نے مار ڈالنے کی نیت سے چاروں طرف سے اس مبارک گھر کو گھیر لیا۔ تب ایک جانی عزیز جس کا وجود محبت اور ایمان سے خمیر کیا گیا تھا جانبازی کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر باشارہ نبوی اِس غرض سے مُنہ چھپا کر لیٹ رہا کہ تا مخالفوں کے جاسوس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکل جانے کی کچھ تفتیش نہ کریں اور اسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر قتل کرنے کے لئے ٹھہرے رہیں۔
سو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس وفادار اور جاں نثار عزیز کو اپنی جگہ چھوڑ کر چلے گئے تو آخر تفتیش کے بعد ان نالائق بد باطن لوگوں نے تعاقب کیا اور چاہا کہ راہ میں کسی جگہ پا کر قتل کر ڈالیں۔ اس وقت اور اس مصیبت کے سفر میں بجز ایک بااخلاص اور یک رنگ اور دلی دوست کے اور کوئی انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نہ تھا۔ ہاں ہر وقت اور نیز اس پُر خطر سفر میں وہ مولیٰ کریم ساتھ تھا جس نے اپنے اس کامل وفادار بندہ کو ایک عظیم الشان اصلاح کے لئے دنیا میں بھیجا تھا سو اس نے اپنے اس پیارے بندہ کو محفوظ رکھنے کے لئے بڑے بڑے عجائب تصرفاف اس راہ میں دکھلائے جو اجمالی طور پر قرآن شریف میں درج ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جاتے وقت کسی مخالف نے نہیں دیکھا۔ حالانکہ صبح کا وقت تھا اور تمام مخالفین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کر رہے تھے۔ سو خدائے تعالیٰ نے جیسا کہ سورۂ یٰسین میں اس کا ذکر کیا ہے ان سب اشقیاء کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور آنحضرت اُن کے سروں پر خاک ڈال کر چلے گئے۔ ازا نجملہ ایک یہ کہ اللہ جلّ شانہٗ نے اپنے نبی ٔ معصوم کے محفوظ رکھنے کے لئے یہ امر خارق عادت دکھلایا کہ باوجودیکہ مخالفین اس غار تک پہنچ گئے تھے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معہ اپنے رفیق کے مخفی تھے مگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہ سکے کیونکہ خدائے تعالیٰ نے ایک کبوتر کا جوڑا بھیج دیا جس نے اُسی رات غار کے دروازہ پر آشیانہ بنا دیا اور انڈے بھی دیدیئے اور اِسی طرح اذنِ الٰہی سے عنکبوت نے اس غار پر اپنا گھر بنا دیا۔ جس سے مخالف لوگ دھوکا میں پڑ کر ناکام واپس چلے گئے۔ ازانجملہ ایک یہ کہ ایک مخالف جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پکڑنے کے لئے مدینہ کی راہ پر گھوڑا دوڑائے چلا جاتا تھا جب وہ اتفاقاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچا تو جناب ممدوح کی بد دُعا سے اس کے گھوڑے کے چاروں سُم زمین میں دھنس گئے اور وہ گِر پڑا۔ اور پھر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پناہ مانگ کر اور عفو تقصیر کرا کر واپس لوٹ آیا۔ چوتھی وہ تصرف اعجازی کہ جب دشمنوں نے اپنی ناکامی سے منفعل ہو کر لشکر کثیر کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھائی کی تا مسلمانوں کو جو ابھی تھوڑے سے آدمی تھے نابود کر دیں اور دین اسلام کا نام و نشان مٹا دیں۔ تب اللّٰہ جلّ شانہٗ نے جناب موصوف کے ایک مٹھی کنکریوں کے چلانے سے مقام بدر میں دشمنوں میں ایک تہلکہ ڈال دیا اور اُن کے لشکر کو شکست فاش ہوئی اور خدائے تعالیٰ نے ان چند کنکریوں سے مخالفین کے بڑے بڑے سرداروں کو سراسیمہ اور اندھا اور پریشان کر کے وہیں رکھا اور اُن کی لاشیں انہی مقامات میں گرائیں جن کے پہلے ہی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے الگ الگ نشان بتلا رکھے تھے۔ ایسا ہی اور کئی عجیب طور کے تائیدات و تصرفاتِ الٰہیہ کا (جو خارق عادت ہیں ) قرآن شریف میں ذکر ہے جن کا ماحصل یہ ہے کہ کیونکر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مسکینی اور غریبی اور یتیمی اور تنہائی اور بے کسی کی حالت میں مبعوث کر کے پھر ایک نہایت قلیل عرصہ میں جو تیس برس سے بھی کم تھا ایک عالم پر فتحیاب کیا۔ اور شہنشاہ قسطنطنیہ و بادشاہان دیار شام و مصر و ممالک مابین دجلہ و فرات وغیرہ پر غلبہ بخشا۔ اور اس تھوڑے ہی عرصہ میں فتوحات کو جزیرہ نما عرب سے لے کر دریائے جیحون تک پھیلایا۔ اور ان ممالک کے اسلام قبول کرنے کی بطور پیشگوئی قرآن شریف میں خبر دی۔ اس حالت بے سامانی اور پھر ایسی عجیب و غریب فتحوں پر نظر ڈال کر بڑے بڑے دانشمند اور فاضل انگریزوں نے بھی شہادت دی ہے کہ جس جلدی سے اسلامی سلطنت اور اسلام دنیا میں پھیلا ہے اس کی نظیر صفحۂ تواریخ دنیا میں کسی جگہ نہیں پائی جاتی۔ اور ظاہرہے کہ جس امر کی کوئی نظیر نہ پائی جائے اسی کو دوسرے لفظوں میں خارق عادت بھی کہتے ہیں۔ غرض قرآن شریف میں تصرفات خارجیہ کا ذکر بھی بطور خارق عادت بہت جگہ آیا ہے بلکہ ذرا نظر کھول کر دیکھو تو اس پاک کلام کا ہر یک مقام تائیداتِ الٰہیہ کا نقارہ بجا رہا ہے۔(سرمہ چشم آریہ۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۶۰ تا۶۷ حاشیہ)معرفت حقانی کے عطا کرنے کے لئے تین دروازے قرآن شریف میں کھلے ہوئے ہیں۔ ایک عقلی یعنی خدائے تعالیٰ کی ہستی اور خالقیت اور اُس کی توحید اور قدرت اور رحم اور قیومی اور مجازات وغیرہ صفات کی شناخت کے لئے جہاں تک علومِ عقلیہ کا تعلق ہے استدلالی طریق کو کامل طور پر استعمال کیا ہے اور اس استدلال کے ضمن میں صناعت منطق و علم بلاغت و فصاحت و علوم طبعی و طبابت و ہیئت و ہندسہ و دقائق فلسفیہ و طریق جدل و مناظرہ وغیرہ تمام علوم کو نہایت لطیف و موزوں طور پر بیان کیا ہے جس سے اکثر دقیق مسائل کا پیچ کھلتا ہے۔ پس یہ طرز بیان جو فوق العادت ہے از قسم اعجاز عقلی ہے۔ کیونکہ بڑے بڑے فیلسوف جنہوں نے منطق کو ایجاد کیا اور فلاسفی کے قواعد مرتب کئے اور بہت کچھ طبعی اور ہیئت میں کوشش و مغز زنی کی وہ بباعث نقصانِ عقل اپنے ان علوم سے اپنے دین کو مددنہیں دے سکے اور نہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کر سکے اور نہ اور وں کو فائدہ دینی پہنچا سکے بلکہ اکثر اُن کے دہریہ اور ملحد اور ضعیف الایمان رہے اور جو بعض ان میں سے کسی قدر خدائے تعالیٰ پر ایمان لائے انہوں نے ضلالت کو صداقت کے ساتھ ملا کر اور خبیث کو طیّب کے ساتھ مخلوط کر کے راہ راست کو چھوڑ دیا۔ پس یہ الٰہی عقل از قبیل خارق عادت ہے جس کے استدلال میں کوئی غلطی نہیں اور جس نے علوم مذکورہ سے ایک ایسی شائستہ خدمت لی ہے جو کبھی کسی انسان نے نہیں لی۔ اور اس کے ثبوت کے لئے یہی کافی ہے کہ دلائل وجود باری عزّاسمہٗ اور اس کی توحید و خالقیت وغیرہ صفاتِ کمالیہ کے اثبات میں بیان قرآن شریف کا ایسا محیط و حاوی ہے جس سے بڑھ کر ممکن ہی نہیں کہ کوئی انسان کوئی جدید برہان پیش کر سکے اگر کسی کو شک ہو تو وہ چند دلائل عقلی متعلق اثبات ہستی باری عزّاسمہٗ یا اس کی توحید یا اس کی خالقیت یا کسی دوسری الٰہی صفت کے متعلق بطور امتحان پیش کرے تا بالمقابل قرآن شریف میں سے وہی دلائل یا ان سے بڑھ کر اُس کو دکھلائے جائیں۔ جس کے دکھلانے کے ہم آپ ہی ذمہ وار ہیں۔ غرض یہ دعویٰ اور یہ تعریف قرآنی لاف و گزاف نہیں بلکہ حقیقت میں حق ہے۔ اور کوئی شخص عقائد حقہ کے اثبات میں کوئی ایسی دلیل پیش نہیں کر سکتا جس کے پیش کرنے سے قرآن شریف غافل رہا ہو۔ قرآن شریف بآواز بلند بیسیوں جگہ اپنے احاطۂ تامہ کا دعویٰ پیش کرتا ہے………
دوسرا دروازہ معرفت الٰہی کا جو قرآن شریف میں نہایت وسیع طور پر کھلا ہوا ہے دقائق علمیہ ہیں۔ جن کو بوجہء خارق عادت ہونے کے علمی اعجاز کہنا چاہئے۔ وہ علوم کئی قسم کے ہیں۔ اوّل علم معارف دین یعنی جس قدر معارفِ عالیہ دین اور اس کی پاک صداقتیں ہیں اور جس قدر نکات و لطائف علم الٰہی ہیں جن کی اس دنیا میں تکمیل نفس کے لئے ضرورت ہے۔ ایسا ہی جس قدر نفس امّارہ کی بیماریاں اور اس کے جذبات اور اس کی دَوری یا دائمی آفات ہیں یا جو کچھ ان کا علاج اور اصلاح کی تدبیریں ہیں اور جس قدر تزکیہ و تصفیہ نفس کے طریق ہیں اور جس قدر اخلاق فاضلہ کے انتہائی ظہور کی علامات و خواص و لوازم ہیں یہ سب کچھ باستیفائے تام فرقان مجید میں بھرا ہوا ہے۔ اور کوئی شخص ایسی صداقت یا ایسا نکتہ الٰہیہ یا ایسا طریق وصول الی اللہ یا کوئی ایسا نادر یا پاک طور مجاہدہ و پرستش الٰہی کا نکال نہیں سکتا جو اس پاک کلام میں درج نہ ہو۔ دوسرے علم خواص روح و علم نفس ہے جو ایسے احاطہ تام سے اس کلام معجز نظام میں اندراج پایا ہے کہ جس سے غور کرنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ بجز قادرِ مطلق کے یہ کسی کا کام نہیں۔ تیسرے علم مبدء و معاد و دیگر امور غیبیہ جو عالم الغیب کے کلام کا ایک لازمی خاصہ ہے جس سے دلوں کو تسلّی و تشفی ملتی ہے اور غیب دانی خدائے قادر مطلق کی مشہودی طور پر ثابت و متحقق ہوتی ہے۔ یہ علم اس تفصیل اور کثرت سے قرآن شریف میں پایا جاتا ہے کہ دنیا میں کوئی دوسری کتاب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ پھر علاوہ اس کے قرآن شریف نے تائید دین میں اَور اَور علوم سے بھی اعجازی طور پر خدمت لی ہے۔ اور منطق اور طبعی اور فلسفہ اور ہیئت اور علمِ نفس اور طبابت اور علم ہندسہ اور علم بلاغت وفصاحت وغیرہ علوم کے وسائل سے علم دین کا سمجھانا اور ذہن نشین کرنا یا اس کا تفہیم درجہ بدرجہ آسان کر دینا یا اس پر کوئی برہان قائم کرنا یا اس سے کسی نادان کا اعتراض اٹھانا مدنظر رکھا ہے۔ غرض طفیلی طور پر یہ سب علوم خدمتِ دین کے لئے بطور خارق عادت قرآن شریف میں اس عجیب طرز سے بھرے ہوئے ہیں جن سے ہر یک درجہ کا ذہن فائدہ اُٹھا سکتا ہے …… تیسرا دروازہ معرفتِ الٰہی کا جو قرآن شریف میں اللہ جلّ شانہٗ نے اپنی عنایت خاص سے کھول رکھا ہے برکاتِ رُوحانیہ ہیں جس کو اعجاز ِ تاثیری کہنا چاہئے۔ یہ بات کسی سمجھ دار پر مخفی نہیں ہو گی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زاد بوم ایک محدود جزیرہ نما ملک ہے جس کو عرب کہتے ہیں۔ جو دوسرے ملکوں سے ہمیشہ بے تعلق رہ کر گویا ایک گوشۂ تنہائی میں پڑا رہا ہے۔ اِس ملک کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے بالکل وحشیانہ اور درندوں کی طرح زندگی بسر کرنا اور دین اور ایمان اور حق اللہ اور حق العباد سے بے خبر محض ہونا اور سینکڑوں برسوں سے بت پرستی و دیگر ناپاک خیالات میں ڈوبے چلے آنا اور عیاشی اور بدمستی اور شراب خواری اور قمار بازی وغیرہ فسق کے طریقوں میں انتہائی درجہ تک پہنچ جانا اور چوری اور قزاقی اور خون ریزی اور دختر کشی اور یتیموں کا مال کھا جانے اور بیگانہ حقوق دبا لینے کو کچھ گناہ نہ سمجھنا۔ غرض ہر یک طرح کی بُری حالت اور ہر یک نوع کا اندھیرا اور ہر قسم کی ظلمت و غفلت عام طور پر تمام عربوں کے دلوں پر چھائی ہوئی ہونا ایک ایسا واقعہ مشہورہ ہے کہ کوئی متعصب مخالف بھی بشرطیکہ کچھ واقفیت رکھتا ہو اس سے انکار نہیں کر سکتا اور پھر یہ امر بھی ہر یک منصف پر ظاہر ہے کہ وہی جاہل اور وحشی اور یاوہ اور ناپارسا طبع لوگ اسلام میں داخل ہونے اور قرآن کو قبول کرنے کے بعد کیسے ہو گئے۔ اور کیونکر تاثیرات کلام الٰہی اور صحبت نبی معصوم نے بہت ہی تھوڑے عرصہ میں ان کے دلوں کو یکلخت ایسا مبدل کر دیا کہ وہ جہالت کے بعد معارفِ دینی سے مالا مال ہو گئے۔ اور محبت دنیا کے بعد الٰہی محبت میں ایسے کھوئے گئے کہ اپنے وطنوں اپنے مالوں، اپنے عزیزوں، اپنی عزتوں، اپنی جان کے آراموں کو اللہ جلّ شانہٗ کے راضی کرنے کے لئے چھوڑ دیا۔ چنانچہ یہ دونوں سلسلے اُن کی پہلی حالت اور اس نئی زندگی کے جو بعد اسلام انہیں نصیب ہوئے قرآن شریف میں ایسی صفائی سے درج ہیں کہ ایک صالح اور نیک دل آدمی پڑھنے کے وقت بے اختیار چشم پُر آب ہو جاتا ہے۔ پس وہ کیا چیز تھی جو ان کو اتنی جلدی ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف کھینچ کر لے گئی۔ وہ دو ہی باتیں تھیں۔ ایک یہ کہ وہ نبی معصوم اپنی قوتِ قدسیہ میں نہایت ہی قوی الاثر تھا ایسا کہ نہ کبھی ہوا اور نہ ہو گا۔ دوسری خدائے قادر مطلق حیّ قیوم کی پاک کلام کی زبردست اور عجیب تاثیریں تھیں کہ جو ایک گروہ کثیر کو ہزاروں ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئیں۔ بلاشبہ یہ قرآنی تاثیریں خارق عادت ہیں کیونکہ کوئی دنیا میں بطور نظیر نہیں بتلا سکتا کہ کبھی کسی کتاب نے ایسی تاثیر کی۔ کون اس بات کا ثبوت دے سکتا ہے کہ کسی کتاب نے ایسی عجیب تبدیل و اصلاح کی جیسی قرآن شریف نے کی ……
لاکھوں مقدسوں کا یہ تجربہ ہے کہ قرآن شریف کے اتباع سے برکات الٰہی دل پر نازل ہوتی ہیں اور ایک عجیب پیوند مولاکریم سے ہو جاتا ہے اور خدائے تعالیٰ کے انوار اور الہام ان کے دلوں پر اُترتے ہیں اور معارف اور نکات ان کے مُنہ سے نکلتے ہیں۔ ایک قوی توکل ان کو عطا ہوتی ہے اور ایک محکم یقین ان کو دیا جاتا ہے اور ایک لذیذ محبت الٰہی جو لذت وصال سے پرورش یاب ہے اُن کے دلوں میں رکھی جاتی ہے۔ اگر اُن کے وجودوں کو ہاونِ مصائب میں پیسا جائے اور سخت شکنجوں میں دے کر نچوڑا جائے تو اُن کا عرق بجز حب الٰہی کے اَور کچھ نہیں۔ دنیا اُن سے ناواقف اور وہ دنیا سے دُور تر و بلند تر ہیں۔ خدا کے معاملات اُن سے خارق عادت ہیں۔ اُنہیں پر ثابت ہوا ہے کہ خدا ہے۔ اُنہیں پر کھلا ہے کہ ایک ہے۔ جب وہ دعا کرتے ہیں تو وہ اُن کی سنتا ہے۔ جب وہ پکارتے ہیں تو وہ انہیں جواب دیتا ہے۔ جب وہ پناہ چاہتے ہیں تو وہ اُن کی طرف دوڑتا ہے۔ وہ باپوں سے زیادہ اُن سے پیار کرتا ہے۔ اور ان کی در و دیوار پر برکتوں کی بارش برساتا ہے۔ پس وہ اس کی ظاہری و باطنی و روحانی و جسمانی تائیدوں سے شناخت کئے جاتے ہیں اور وہ ہر یک میدان میں اُن کی مدد کرتا ہے کیونکہ وہ اس کے اور وہ اُن کا ہے۔ یہ باتیں بلا ثبوت نہیں۔
(سرمہ چشم آریہ۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۷۲تا۷۹ حاشیہ)بعض برہمو سماج والے یہ وسوسہ پیش کیا کرتے ہیں کہ اگر کامل معرفت قرآن پر ہی موقوف ہے توپھر خدا نے اس کو تمام ملکوں میں اور تمام معمورات قدیم و جدید میں کیوں شائع نہ کیا اور کیوں کروڑ ہا مخلوقات کو اپنی معرفت کاملہ اور اعتقاد صحیح سے محروم رکھا؟
جواب:۔ یہ وسوسہ بھی کوتہ اندیشی سے پیدا ہوا ہے …… اگر آفتاب عالمتاب کی روشنی بعض امکنۂ ظلمانیہ تک نہیں پہنچی یا اگر بعض نے اُلّو کی طرح آفتاب کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیں تو کیا اِس سے یہ لازم آ جائے گا کہ آفتاب منجانب اللہ نہیں؟ اگر مینہ کسی زمین شور پر نہیں پڑا یا کوئی کلری زمین اس سے فیضیاب نہیں ہوئی تو کیا اِس سے وہ بارانِ رحمت انسان کا فعل خیال کیا جائے گا؟ ایسے اوہام دور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے آپ ہی قرآن شریف میں بکمال وضاحت اس بات کو کھول دیا ہے کہ الہام الٰہی کی ہدایت ہریک طبیعت کے لئے نہیں بلکہ ان طبائع صافیہ کے لئے ہے جو صفت تقویٰ اور صلاحیت سے متصف ہیں۔ وہی لوگ ہدایت کاملہ الہام سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور اس سے منتفع ہوتے ہیں اور ان تک الہامِ الٰہی بہر صورت پہنچ جاتا ہے۔ چنانچہ بعض آیات اِن میں سے ذیل میں لکھی جاتی ہیں۔
آیات مندرجہ بالا میں پہلے اس آیت پر یعنی الٓـمّٓ ۚ۔ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ۔ پر غور کرنا چاہئے کہ کس لطافت اور خوبی اور رعایتِ ایجاز سے خدائے تعالیٰ نے وسوسۂ مذکور کا جواب دیا ہے۔ اوّل قرآن شریف کے نزول کی علّت فاعلی بیان کی اور اس کی عظمت اور بزرگی کی طرف اشارہ فرمایا اور کہا الٓـمّٓ مَیں خدا ہوں جو سب سے زیادہ جانتا ہوں یعنی نازل کنندہ اس کتاب کا مَیں ہوں جو علیم و حکیم ہوں جس کے علم کے برابر کسی کا علم نہیں۔ پھر بعد اس کے علّت مادی قرآن کے بیان میں فرمائی اور اس کی عظمت کی طرف اشارہ فرمایا اور کہا ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ وہ کتاب ہے یعنی ایسی عظیم الشان اور عالی مرتبت کتاب ہے جس کی علّت مادی علم الٰہی ہے یعنی جس کی نسبت ثابت ہے کہ اس کا منبع اور چشمہ ذاتِ قدیم حضرتِ حکیم مطلق ہے۔ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے وہ کا لفظ اختیار کرنے سے جو بُعد اور دُوری کے لئے آتا ہے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ کتاب اُس ذات عالی صفات کے علم سے ظہور پذیر ہے جو اپنی ذات میں بے مثل ومانند ہے جس کے علومِ کاملہ و اسرار دقیقہ نظرانسانی کی حدّ جولان سے بہت بعید اور دُور ہیں۔ پھر بعد اِس کے علّت صوری کا قابل تعریف ہونا ظاہر فرمایا اور کہا لَا رَیۡبَ فِیۡہِ یعنی قرآن اپنی ذات میں ایسی صورت مدلّل و معقول پر واقعہ ہے کہ کسی نوع کے شک کرنے کی اس میں گنجائش نہیں۔ یعنی وہ دوسری کتابوں کی طرح بطور کتھا اور کہانی کے نہیں بلکہ ادلّہ یقینیہ و براہین قطعیہ پر مشتمل ہے اور اپنے مطالب پر حجج بیّنہ اور دلائل شافیہ بیان کرتا ہے اور فی نفسہٖ ایک معجزہ ہے جو شکوک اور شبہات کے دُور کرنے میں سیف قاطع کا حکم رکھتا ہے اور خدا شناسی کے بارہ میں صرف ہونا چاہئے کے ظنّی مرتبہ میں نہیں چھوڑتا بلکہ ہے کے یقینی اور قطعی مرتبہ تک پہنچاتا ہے۔ یہ تو عللِ ثلاثہ کی عظمت کا بیان فرمایا اور پھر باوجود عظیم الشان ہونے اِن ہر سہ علّتوں کے جن کو تاثیر اور اصلاح میں دخلِ عظیم ہے علّت رابعہ یعنی علّت غائی نزول ِ قرآن شریف کو جو رہنمائی اور ہدایت ہے صرف متقین میں منحصر کر دیا اور فرمایا ھُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ یعنی یہ کتاب صرف ان جواہر قابلہ کی ہدایت کے لئے نازل کی گئی ہے جو بوجہ پاک باطنی و عقل سلیم و فہم مستقیم و شوق طلب حق و نیتِ صحیح انجام کار درجۂ ایمان و خدا شناسی و تقویِٔ کامل پر پہنچ جائیں گے۔ یعنی جن کو خدا اپنے علمِ قدیم سے جانتا ہے کہ ان کی فطرت اس ہدایت کے مناسب حال واقعہ ہے اور وہ معارف حقانی میں ترقی کر سکتے ہیں وہ بالآخر اس کتاب سے ہدایت پا جائیں گے اور بہرحال یہ کتاب ان کو پہنچ رہے گی۔ اور قبل اس کے جو وہ مریں خدا اُن کو راہ راست پر آنے کی توفیق دے دے گا۔ اب دیکھو اس جگہ خدائے تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ جو لوگ خدائے تعالیٰ کے علم میں ہدایت پانے کے لائق ہیں اور اپنی اصل فطرت میں صفتِ تقویٰ سے متصف ہیں وہ ضرور ہدایت پا جائیں گے۔ اور پھر ان آیات میں جو اس آیت کے بعد میں لکھی گئی ہے اس کی زیادہ تر تفصیل کر دی اور فرمایا کہ جس قدر لوگ (خدا کے علم میں ) ایمان لانے والے ہیں وہ اگرچہ ہنوز مسلمانوں میں شامل نہیں ہوئے پر آہستہ آہستہ سب شامل ہو جائیں گے اور وہی لوگ باہر رہ جائیں گے جن کو خدا خوب جانتا ہے کہ طریقہ حقہ اسلام قبول نہیں کریں گے اور گوا ن کو نصیحت کی جائے یا نہ کی جائے ایمان نہیں لائیں گے یا مراتب کاملہ تقویٰ و معرفت تک نہیں پہنچیں گے۔ غرض اِن آیات میں خدائے تعالیٰ نے کھول کر بتلا دیا کہ ہدایت قرآنی سے صرف متقی منتفع ہو سکتے ہیں جن کی اصل فطرت میں غلبہ کسی ظلمت نفسانی کا نہیں ……
اور اگر یہ کہو کہ جن تک کتاب الہامی نہیں پہنچی اُن کی نجات کا کیا حال ہے؟ اِس کا یہ جواب ہے کہ اگر ایسے لوگ بالکل و حشی اور عقل انسانی سے بے بہرہ ہیں تو وہ ہر یک باز پُرس سے بری اور مرفوع القلم ہیں اور مجانین اور مسلوب الحواسوں کا حکم رکھتے ہیں۔ لیکن جن میں کسی قدر عقل اور ہوش ہے اُن سے بقدر عقل اُن کی محاسبہ ہو گا۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۹۸ تا۲۰۳ حاشیہ نمبر ۱۱)جو کچھ قرآن شریف نے تو حید کا تخم بلادعرب۔ فارس۔ مصر۔ شام۔ ہند۔ چین۔ افغانستان۔ کشمیر وغیرہ بلاد میں بو دیا ہے اور اکثر بلاد سے بت پرستی اور دیگر اقسام کی مخلوق پرستی کا تخم جڑ سے اکھاڑ دیا ہے یہ ایک ایسی کارروائی ہے کہ اس کی نظیر کسی زمانہ میں نہیں پائی جاتی۔ مگر بمقابل اِس کے جب ہم وید کی طرف دیکھتے ہیں تو ثابت ہوتا ہے کہ وہ آریہ ورت کی بھی اصلاح نہیں کر سکا۔ (چشمہء معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳صفحہ ۷۷)
تم ہوشیار رہو اور خدا کی تعلیم اور قرآن کی ہدایت کے برخلاف ایک قدم بھی نہ اٹھاؤ۔ مَیں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو شخص قرآن کے سات ۷۰۰ سو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتا ہے۔ حقیقی اور کامل نجات کی راہیں قرآن نے کھولیں اور باقی سب اُس کے ظل تھے۔ سو تم قرآن کو تدبّر سے پڑھو اور اوس سے بہت ہی پیار کرو۔ ایسا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیا ہو۔ کیونکہ جیسا کہ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ الخیر کلّہ فِی القراٰن کہ تمام قسم کی بھلائیاں قرآن میں ہیں۔ یہی بات سچ ہے افسوس ان لوگوں پر جو کسی اَور چیز کو اوس پر مقدم رکھتے ہیں۔ تمہاری تمام فلاح اور نجات کا سرچشمہ قرآن میں ہے۔ کوئی بھی تمہاری ایسی دینی ضرورت نہیں جو قرآن میں نہیں پائی جاتی۔ تمہارے ایمان کا مصدق یا مکذّب قیامت کے دن قرآن ہے۔ اور بجز قرآن کے آسمان کے نیچے اور کوئی کتاب نہیں جو بلا واسطہ قرآن تمہیں ہدایت دے سکے۔ خدا نے تم پر بہت احسان کیا ہے جو قرآن جیسی کتاب تمہیں عنایت کی۔ مَیں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ کتاب جو تم پر پڑھی گئی اگر عیسائیوں پر پڑھی جاتی تو وہ ہلاک نہ ہوتے اور یہ نعمت اور ہدایت جو تمہیں دی گئی اگر بجائے توریت کے یہودیوں کو دی جاتی تو بعض فرقے اُن کے قیامت سے منکر نہ ہوتے پس اس نعمت کی قدر کرو جو تمہیں دی گئی۔ یہ نہایت پیاری نعمت ہے۔ یہ بڑی دولت ہے۔ اگر قرآن نہ آتا تو تمام دنیاایک گندے مُضغہ کی طرح تھی۔ قرآن وہ کتاب ہے جس کے مقابل پر تمام ہدائتیں ہیچ ہیں۔ (کشتی نوح۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۲۶، ۲۷)
فرقان مجید باوجود ان تمام کمالاتِ بلاغت و فصاحت و احاطۂ حکمت و معرفت ایک رُوحانی تاثیر اپنی ذات بابرکات میں ایسی رکھتا ہے کہ اس کا سچا اتباع انسان کو مستقیم الحال اور منور الباطن اور منشرح الصدر اور مقبول الٰہی اور قابلِ خطاب حضرتِ عزّت بنا دیتا ہے اور اس میں وہ انوار پیدا کرتا ہے اور وہ فیوض غیبی اور تائیدات لاریبی اس کے شاملِ حال کر دیتا ہے کہ جو اغیار میں ہرگز پائی نہیں جاتیں اور حضرتِ احدیت کی طرف سے وہ لذیذ اور دل آرام کلام اُس پر نازل ہوتا ہے جس سے اُس پر دم بدم کھلتا جاتا ہے کہ وہ فرقان مجید کی سچی متابعت سے اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیروی سے اُن مقامات تک پہنچایا گیا ہے کہ جو محبوبان الٰہی کے لئے خاص ہیں اور اُن ربّانی خوشنودیوں اور مہربانیوں سے بہرہ یاب ہو گیا ہے جن سے وہ کامل ایمان دار بہرہ یاب تھے جو اس سے پہلے گذر چکے ہیں۔ اور نہ صرف مقال کے طور پر بلکہ حال کے طور پر بھی ان تمام محبتوں کا ایک صافی چشمہ اپنے پر صدق دل میں بہتاہوا دیکھتا ہے اور ایک ایسی کیفیت تعلّق باللہ کی اپنے منشرح سینہ میں مشاہدہ کرتا ہے جس کو نہ الفاظ کے ذریعہ سے اور نہ کسی مثال کے پیرائے میں بیان کر سکتا ہے۔ اور انوار الٰہی کو اپنے نفس پر بارش کی طرح برستے ہوئے دیکھتا ہے۔ اور وہ انوار کبھی اخبار غیبیہ کے رنگ میں اور کبھی علوم و معارف کی صورت میں اور کبھی اخلاقِ فاضلہ کے پیرایہ میں اس پر اپنا پر توہ ڈالتے رہتے ہیں۔ یہ تاثیرات فرقان مجید کی سِلسلہ وار چلی آتی ہیں۔ اور جب سے کہ آفتابِ صداقت ذاتِ بابرکات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں آیا اُسی دم سے آج تک ہزار ہا نفوس جو استعداد اور قابلیت رکھتے تھے متابعت کلام الٰہی اور اتباع رسول مقبولؐ سے مدارجِ عالیہ مذکورئہ بالا تک پہنچ چکے ہیں اور پہنچتے جاتے ہیں۔ اور خدائے تعالیٰ اس قدر اُن پر پے در پے اور علی الاتصال تلطّفات اور تفضلات وارد کرتا ہے اور اپنی حمایتیں اور عنایتیں دکھلاتا ہے کہ صافی نگاہوں کی نظر میں ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ لوگ منظورانِ نظر احدیت سے ہیں جن پر لطف ربّانی کا ایک عظیم الشان سایہ اور فضلِ یزدانی کا ایک جلیل القدر پیرایہ ہے اور دیکھنے والوں کو صریح دکھائی دیتا ہے کہ وہ انعامات خارق عادت سے سرفراز ہیں اور کرامات عجیب اور غریب سے ممتاز ہیں۔ اور محبوبیت کے عطر سے معطّر ہیں اور مقبولیت کے فخروں سے مفتخر ہیں اور قادرِ مطلق کا نور اُن کی صحبت میں ان کی توجّہ میں اُن کی ہمت میں اُن کی دُعا میں اُن کی نظر میں اُن کے اخلاق میں اُن کی طرزِ معیشت میں اُن کی خوشنودی میں اُن کے غضب میں اُن کی رغبت میں اُن کی نفرت میں اُن کی حرکت میں اُن کے سکون میں اُن کے نُطق میں اُن کی خاموشی میں اُن کے ظاہر میں اُن کے باطن میں ایسا بھرا ہوا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ایک لطیف اور مصفّا شیشہ ایک نہایت عمدہ عطر سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور اُن کے فیض صحبت اور ارتباط اور محبت سے وہ باتیں حاصل ہو جاتی ہیں کہ جو ریاضات شاقہ سے حاصل نہیں ہو سکتیں اور اُن کی نسبت ارادت اور عقیدت پیدا کرنے سے ایمانی حالت ایک دوسرا رنگ پیدا کر لیتی ہے اور نیک اخلاق کے ظاہر کرنے میں ایک طاقت پیدا ہو جاتی ہے اور شوریدگی اور امّارگی نفس کی روبکمی ہونے لگتی ہے اور اطمینان اور حلاوت پیدا ہوتی جاتی ہے اور بقدر استعداد اور مناسبتِ ذو قِ ایمانی جوش مارتا ہے اور انس اور شوق ظاہر ہوتا ہے اور اِلْتِذَاذْ بِذِکْرِ اللّٰہ بڑھتا ہے اور اُن کی صحبت طویلہ سے بضرورت یہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی ایمانی قوتوں میں اور اخلاقی حالتوں میں اور انقطاع عن الدنیا میں اور توجہ الی اللہ میں اور محبت الٰہیہ میں اور شفقت علی العبادمیں اور وفا اور رضا اور استقامت میں اس عالی مرتبہ پر ہیں جس کی نظیر دنیا میں نہیں دیکھی گئی۔ اور عقل سلیم فی الفور معلوم کرلیتی ہے کہ وہ بند اور زنجیر اُن کے پانوئں سے اتارے گئے ہیں جن میں دوسرے لوگ گرفتار ہیں۔ اور وہ تنگی اور انقباض اُن کے سینے سے دور کیا گیا ہے جس کے باعث سے دوسرے لوگوں کے سینے منقبض اور کوفتہ خاطر ہیں۔ ایسا ہی وہ لوگ تحدیث اور مکالمات حضرت احدیت سے بکثرت مشرف ہوتے ہیں اور متواتر اور دائمی خطابات کے قابل ٹھہر جاتے ہیں۔ اور حق جَلَّ وَ عَلَا اور اس کے مستعد بندوں میں ارشاد اور ہدایت کے لئے واسطہ گردانے جاتے ہیں۔ اُن کی نورانیت دوسرے دلوں کو منور کر دیتی ہے۔ اور جیسے موسم بہار کے آنے سے نباتی قوتیں جوش زن ہو جاتی ہیں ایسا ہی اُن کے ظہور سے فطرتی نور طبائع سلیمہ میں جوش مارتے ہیں اور خود بخود ہر یک سعید کا دل یہی چاہتا ہے کہ اپنی سعادت مندی کی استعدادوں کو بکوشش تمام منصّۂ ظہور میں لاوے اور خواب غفلت کے پَردوں سے خلاصی پاوے اور معصیت اور فسق و فجور کے داغوں سے اور جہالت اور بے خبری کی ظلمتوں سے نجات حاصل کرے۔ سو ان کے مبارک عہد میں کچھ ایسی خاصیت ہوتی ہے اور کچھ اس قسم کا انتشارِ نورانیت ہو جاتا ہے کہ ہر یک مومن اور طالبِ حق بقدر طاقتِ ایمانی اپنے نفس میں بغیر کسی ظاہری موجب کے انشراح اور شوق دینداری کا پاتا ہے اور ہمت کو زیادت اور قوت میں دیکھتا ہے۔ غرض ان کے اس عطرِ لطیف سے جو ان کو کامل متابعت کی برکت سے حاصل ہوا ہے۔ ہر یک مخلص کو بقدر اپنے اخلاص کے حظ پہنچتا ہے۔ ہاں جو لوگ شقّی ازلی ہیں وہ اِس سے کچھ حصہ نہیں پاتے بلکہ اور بھی عناد اور حسد اور شقاوت میں بڑھ کر ہاویہ جہنم میں گرتے ہیں۔ اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ۵۲۸ تا۵۳۲ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳)
متبعین قرآن شریف کو جو انعامات ملتے ہیں اور جو مواہبِ خاصّہ ان کے نصیب ہوتے ہیں اگرچہ وہ بیان اور تقریرسے خارج ہیں مگر اُن میں سے کئی ایک ایسے انعاماتِ عظیمہ ہیں جن کو اس جگہ مفصل طور پر بغرض ہدایت طالبین بطور نمونہ لکھنا قرین مصلحت ہے۔ چنانچہ وہ ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔
ازاں جملہ علوم و معارف ہیں جو کامل متبعین کو خوانِ نعمت فرقانیہ سے حاصل ہوتے ہیں۔ جب انسان فرقان مجید کی سچی متابعت اختیار کرتا ہے اور اپنے نفس کو اس کے امر ونہی کے بکلی حوالہ کر دیتا ہے اور کامل محبت اور اخلاص سے اس کی ہدایتوں میں غور کرتا ہے اور کوئی اعراض صوری و معنوی باقی نہیں رہتا۔ تب اس کی نظر اور فکر کو حضرت فیاض مطلق کی طرف سے ایک نور عطا کیا جاتا ہے اور ایک لطیف عقل اس کو بخشی جاتی ہے جس سے عجیب غریب لطائف اور نکات علم الٰہی کے جو کلام الٰہی میں پوشیدہ ہیں اُس پر کھلتے ہیں اور ابرنیساں کے رنگ میں معارف دقیقہ اس کے دل پر برستے ہیں۔ وہی معارف دقیقہ ہیں جن کو فرقان مجید میں حکمت کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ جیسا کہ فرمایا ہے یُّؤۡتِی الۡحِکۡمَۃَ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَمَنۡ یُّؤۡتَ الۡحِکۡمَۃَ فَقَدۡ اُوۡتِیَ خَیۡرًا کَثِیۡرًا یعنی خدا جس کو چاہتا ہے حکمت دیتا ہے اور جس کو حکمت دی گئی اُس کو خیر کثیر دی گئی ہے۔ یعنی حکمت خیر کثیر پر مشتمل ہے اور جس نے حکمت پائی اُس نے خیر کثیر کو پا لیا۔ سو یہ علوم و معارف جو دوسرے لفظوں میں حکمت کے نام سے موسوم ہیں۔ یہ خیر کثیر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے بحرِ محیط کے رنگ میں ہیں جو کلامِ الٰہی کے تابعین کو دیئے جاتے ہیں اور ان کے فکر اور نظر میں ایک ایسی برکت رکھی جاتی ہے جو اعلیٰ درجہ کے حقائق حقّہ اُن کے نفس آئینہ صفت پر منعکس ہوتے رہتے ہیں اور کامل صداقتیں اُن پر منکشف ہوتی رہتی ہیں اور تائیدات الٰہیہ ہر یک تحقیق اور تدقیق کے وقت کچھ ایسا سامان اُن کے لئے میسّر کر دیتی ہیں جس سے بیان اُن کا ادھورا اور ناقص نہیں رہتا اور نہ کچھ غلطی واقعہ ہوتی ہے۔ سو جو جو علوم و معارف و دقائق حقائق و لطائف و نکات و ادلّہ و براہین ان کو سوجھتے ہیں وہ اپنی کمیّت اور کیفیت میں ایسے مرتبۂ کاملہ پر واقع ہوتے ہیں کہ جو خارق عادت ہے اور جس کا موازنہ اور مقابلہ دوسرے لوگوں سے ممکن نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے آپ ہی نہیں بلکہ تفہیم غیبی اور تائید صمدی اُن کی پیش رو ہوتی ہے اور اُسی تفہیم کی طاقت سے وہ اسرار اور انوارِ قرآنی اُن پر کھلتے ہیں کہ جو صرف عقل کی دُود آمیز روشنی سے کھل نہیں سکتے اور یہ علوم و معارف جو اُن کو عطا ہوتے ہیں جن سے ذات اور صفاتِ الٰہی کے متعلق اور عالمِ معاد کی نسبت لطیف اور باریک باتیں اور نہایت عمیق حقیقتیں ان پر ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ ایک رُوحانی خوارق ہیں کہ جو بالغ نظروں کی نگاہوں میں جسمانی خوارق سے اعلیٰ اور الطف ہیں بلکہ غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ عارفین اور اہل اللہ کا قدر و منزلت دانشمندوں کی نظر میں انہیں خوارق سے معلوم ہوتا ہے۔ اور وہی خوارق اُن کی منزلت عالیہ کی زینت اور آرائش اور اُن کے چہرۂ صلاحیت کی زیبائی اور خوبصورتی ہیں کیونکہ انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ علوم و معارفِ حقہ کی ہیبت سب سے زیادہ اس پر اثر ڈالتی ہے۔ اور صداقت اور معرفت ہر یک چیز سے زیادہ اس کو پیاری ہے اور اگر ایک زاہد عابد ایسا فرض کیا جائے کہ صاحب مکاشفات ہے اور اخبارِ غیبیہ بھی اُسے معلوم ہوتے ہیں اور ریاضاتِ شاقہ بھی بجا لاتا ہے اور کئی اور قسم کے خوارق بھی اُس سے ظہور میں آتے ہیں۔ مگر علمِ الٰہی کے بارہ میں سخت جاہل ہے یہاں تک کہ حق اور باطل میں تمیز ہی نہیں کر سکتا بلکہ خیالات فاسدہ میں گرفتار اور عقائد غیر صحیحہ میں مبتلا ہے۔ ہر یک بات میں خام اور ہر یک رائے میں فاش غلطی کرتا ہے تو ایسا شخص طبائع سلیمہ کی نظر میں نہایت حقیر اور ذلیل معلوم ہو گا۔ اس کی یہی وجہ سے کہ جس شخص سے داناانسان کو جہالت کی بدبُو آتی ہے اور کوئی احمقانہ کلمہ اُس کے مُنہ سے سُن لیتا ہے تو فی الفور اس کی طرف سے دل متنفّر ہو جاتا ہے اور پھر وہ شخص عاقل کی نظر میں کسی طور سے قابلِ تعظیم نہیں ٹھہر سکتا اور گو کیسا ہی زاہد عابد کیوں نہ ہو کچھ حقیر سا معلوم ہوتا ہے۔ پس انسان کی اس فطرتی عادت سے ظاہر ہے کہ خوارق روحانی یعنی علوم و معارف اُس کی نظر میں اہل اللہ کے لئے شرط لازمی اور اکابر دین کی شناخت کے لئے علامات خاصہ اور ضروریہ ہیں۔ پس یہ علامتیں فرقان شریف کی کامل تابعین کو اکمل اور اتم طور پر عطا ہوتی ہیں اور باوجودیکہ اِن میں سے اکثروں کی سرشت پر اُمیّت غالب ہوتی ہے اور علوم رسمیہ کو باستیفاء حاصل نہیں کیا ہوتا لیکن نکات اور لطائف علم الٰہی میں اس قدر اپنے ہمعصروں سے سبقت لے جاتے ہیں کہ بسا اوقات بڑے بڑے مخالف اُن کی تقریروں کو سُن کر یا اُن کی تحریروں کو پڑھ کر اور دریائے حیرت میں پڑ کر بلا اختیار بول اُٹھتے ہیں کہ ان کے علوم و معارف ایک دوسرے عالم سے ہیں جو تائیدات الٰہی کے رنگ خاص سے رنگین ہیں اور اس کا ایک یہ بھی ثبوت ہے کہ اگر کوئی منکر بطور مقابلہ کے الٰہیات کے مباحث میں سے کسی بحث میں اُن کی محققانہ اور عارفانہ تقریروں کے ساتھ کسی تقریر کا مقابلہ کرنا چاہے تو اخیر پر بشرطِ انصاف و دیانت اس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ صداقتِ حقہ اسی تقریر میں تھی جو اُن کے منہ سے نکلی تھی اور جیسے جیسے بحث عمیق ہوتی جائے گی بہت سے لطیف اور دقیق براہین ایسے نکلتے آئیں گے جن سے روز روشن کی طرح ان کا سچا ہونا کھلتا جائے گا۔ چنانچہ ہر یک طالب حق پر اس کا ثبوت ظاہر کرنے کے لئے ہم آپ ہی ذمہ دار ہیں۔
ازاں جملہ ایک عِصمت بھی ہے جس کو حفظِ الٰہی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ عصمت بھی فرقان مجید کے کامل تابعین کو بطور خارق عادت عطا ہوتی ہے اور اس جگہ عصمت سے مراد ہماری یہ ہے کہ وہ ایسی نالائق اور مذموم عادات اور خیالات اور اخلاق اور افعال سے محفوظ رکھے جاتے ہیں جن میں دوسرے لوگ دن رات آلودہ اور ملوث نظر آتے ہیں اور اگر کوئی لغزش بھی ہو جائے تو رحمت الٰہیہ جلد تر ان کا تدارک کر لیتی ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ عصمت کا مقام نہایت نازک اور نفس امّارہ کے مقتضیات سے نہایت دور پڑا ہوا ہے جس کا حاصل ہونا بجز توجہ خاص الٰہی کے ممکن نہیں۔ مثلاً اگر کسی کو یہ کہا جائے کہ وہ صرف ایک کذب اور دروغ گوئی کی عادت سے اپنے جمیع معاملات اور بیانات اور حرفوں اور پیشوں میں قطعی طور پر باز رہے تو یہ اس کے لئے مشکل اور ممتنع ہو جاتا ہے۔ بلکہ اگر اس کام کے کرنے کے لئے کوشش اور سعی بھی کرے تو اس قدر موانع اور عوائق اس کو پیش آتے ہیں کہ بالآخر خود اس کا یہ اصول ہو جاتا ہے کہ دنیا داری میں جھوٹ اور خلاف گوئی سے پرہیز کرنا ناممکن ہے۔ مگر ان سعید لوگوں کے لئے کہ جو سچّی محبّت اور پُر جوش ارادت سے فرقان مجید کی ہدایتوں پر چلنا چاہتے ہیں صرف یہی امر آسان نہیں کیا جاتا کہ وہ دروغ گوئی کی قبیح عادت سے باز رہیں بلکہ وہ ہر ناکردنی اور ناگفتنی کے چھوڑنے پر قادرِ مطلق سے توفیق پاتے ہیں اور خدائے تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ سے ایسی تقریباتِ شنیعہ سے اُن کو محفوظ رکھتا ہے جن سے وہ ہلاکت کے ورطوں میں پڑیں۔ کیونکہ وہ دنیا کا نور ہوتے ہیں اور ان کی سلامتی میں دنیا کی سلامتی اور اُن کی ہلاکت میں دنیا کی ہلاکت ہوتی ہے۔ اِسی جہت سے وہ اپنے ہر یک خیال اور علم اور فہم اور غضب اور شہوت اور خوف اور طمع اور تنگی اور فراخی اور خوشی اور غمی اور عُسر اور یُسر میں تمام نالائق باتوں اور فاسد خیالوں اور نادرست علموں اور ناجائز عملوں اور بے جافہموں اور ہریک افراط اور تفریط نفسانی سے بچائے جاتے ہیں اور کسی مذموم بات پر ٹھہرنا نہیں پاتے کیونکہ خود خداوند کریم اُن کی تربیت کا متکفل ہوتا ہے اور جس شاخ کو ان کے شجرۂ طیبّہ میں خشک دیکھتا ہے اس کو فی الفور اپنے مربیانہ ہاتھ سے کاٹ ڈالتا ہے اور حمایتِ الٰہی ہر دم اور ہر لحظہ ان کی نگرانی کرتی رہتی ہے اور یہ نعمت محفوظیت کی جو اُن کو عطا ہوتی ہے۔ یہ بھی بغیر ثبوت نہیں بلکہ زیرک انسان کسی قدر صحبت سے اپنی پوری تسلّی سے اس کو معلوم کر سکتا ہے۔
ازانجملہ ایک مقام توکل ہے جس پر نہایت مضبوطی سے اُن کو قائم کیا جاتا ہے۔ اور ان کے غیر کو وہ چشمۂ صافی ہرگز میسر نہیں آ سکتا بلکہ انہیں کے لئے وہ خوشگوار اور موافق کیا جاتا اور نور معرفت ایسا ان کو تھامے رہتا ہے کہ وہ بسا اوقات طرح طرح کی بے سامانی میں ہو کر اور اسبابِ عادیہ سے بکلّی اپنے تئیں دُور پا کر پھر بھی ایسی بشاشت اور انشراح خاطر سے زندگی بسر کرتے ہیں اور ایسی خوشحالی سے دنوں کو کاٹتے ہیں کہ گویا اُن کے پاس ہزار ہا خزائن ہیں۔ اُن کے چہروں پر تونگری کی تازگی نظر آتی ہے اور صاحب دولت ہونے کی مستقل مزاجی دکھائی دیتی ہے۔ اور تنگیوں کی حالت میں بکمال کشادہ دلی اور یقین کامل اپنے مولیٰ کریم پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ سیرت ایثار ان کا مشرب ہوتا ہے۔ اور خدمت خلق ان کی عادت ہوتی ہے اور کبھی انقباض ان کی حالت میں راہ نہیں پاتا۔ اگرچہ سارا جہان ان کا عیال ہو جائے اور فی الحقیقت خدائے تعالیٰ کی ستّاری مستوجب شکر ہے جو ہر جگہ اُن کی پردہ پوشی کرتی ہے اور قبل اس کے جو کوئی آفت فوق الطاقت نازل ہو ان کو دامن عاطفت میں لے لیتی ہے کیونکہ اُن کے تمام کاموں کا خدا متولّی ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس نے آپ ہی فرمایا ہے لیکن دوسروں کو دنیا داری کے دلآزار اسباب میں چھوڑا جاتا ہے اور وہ خارق عادت سیرت جو خاص ان لوگوں کے ساتھ ظاہر کی جاتی ہے کسی دوسرے کے ساتھ ظاہر نہیں کی جاتی اور یہ خاصہ ان کا بھی صحبت سے بہت جلد ثابت ہو سکتا ہے۔
ازانجملہ ایک مقام محبت ذاتی کا ہے جس پر قرآن شریف کے کامل متبعین کو قائم کیا جاتا ہے اور اُن کے رگ و ریشہ میں اس قدر محبت الٰہیہ تاثیر کر جاتی ہے کہ ان کے وجود کی حقیقت بلکہ ان کی جان کی جان ہو جاتی ہے اور محبوب حقیقی سے ایک عجیب طرح کا پیار اُن کے دلوں میں جوش مارتا ہے اور ایک خارق عادت اُنس اور شوق ان کے قلوب صافیہ پرمستولی ہو جاتا ہے کہ جو غیر سے بکلّی منقطع اور گُسِستہ کر دیتا ہے اور آتشِ عشقِ الٰہی ایسی افروختہ ہوتی ہے کہ جو ہم صحبت لوگوں کو اوقات خاصہ میں بدیہی طور پر مشہود اور محسوس ہوتی ہے بلکہ اگر محبانِ صادق اس جوش محبت کو کسی حیلہ اور تدبیر سے پوشیدہ رکھنا بھی چاہیں تو یہ ان کے لئے غیر ممکن ہو جاتا ہے۔ جیسے عشاقِ مجازی کے لئے بھی یہ بات غیر ممکن ہے کہ وہ اپنے محبوب کی محبت کو جس کے دیکھنے کے لئے دن رات مرتے ہیں اپنے رفیقوں اور ہم صحبتوں سے چھپائے رکھیں بلکہ وہ عشق جو ان کے کلام اور اُن کی صو رت اور ان کی آنکھ اور ان کی وضع اور ان کی فطرت میں گھس گیا ہے اور اُن کے بال بال سے مترشح ہو رہا ہے وہ اُن کے چھپانے سے ہرگز چھپ ہی نہیں سکتا اور ہزار چھپائیں کوئی نہ کوئی نشان اس کا نمودار ہو جاتا ہے اور سب سے بزرگ تر اُن کے صدق قدم کا نشان یہ ہے کہ وہ اپنے محبوب حقیقی کو ہر یک چیز پر اختیار کر لیتے ہیں۔ اور اگر آلام اُس کی طرف سے پہنچیں تو محبت ذاتی کے غلبہ سے برنگ انعام اُن کو مشاہدہ کرتے ہیں اور عذاب کو شربت عذب کی طرح سمجھتے ہیں۔ کسی تلوار کی تیز دھار اُن میں اور اُن کے محبوب میں جدائی نہیں ڈال سکتی اور کوئی بلیّہ عظمٰی اُن کو اپنے اس پیارے کی یادداشت سے روک نہیں سکتے۔ اسی کو اپنی جان سمجھتے ہیں اور اسی کی محبت میں لذات پاتے اور اُسی کی ہستی کو ہستی خیال کرتے ہیں اور اُسی کے ذکر کو اپنی زندگی کا ماحصل قرار دیتے ہیں۔ اگر چاہتے ہیں تو اُسی کو اگر آرام پاتے ہیں تو اُسی سے۔ تمام عالم میں اسی کو رکھتے ہیں اور اُسی کے ہو رہتے ہیں۔ اُسی کے لئے جیتے ہیں اور اُسی کے لئے مرتے ہیں۔ عالم میں رہ کر پھر بے عالم ہیں۔ اور باخود ہو کر پھر بے خود ہیں۔ نہ عزت سے کام رکھتے ہیں نہ نام سے نہ اپنی جان سے نہ اپنے آرام سے بلکہ سب کچھ ایک کے لئے کھو بیٹھتے ہیں اور ایک کے پانے کے لئے سب کچھ دے ڈالتے ہیں۔ لایُدرک آتش سے جلتے جاتے ہیں اور کچھ بیان نہیں کر سکتے کہ کیوں جلتے ہیں اور تفہیم اور تفہّم سے صمٌّ بکمٌ ہوتے ہیں اور ہر یک مصیبت اور ہر یک رسوائی کے سہنے کو طیار رہتے ہیں اور اُس سے لذّت پاتے ہیں ؎
عشق است کہ برخاک مذلّت غلطاند
عشق است کہ بر آتش سوزاں بنشاند
کس بہر کسے سرندہد جان نہ فشاند
عشق است کہ ایں کار بصد صدق کناند412
اور منجملہ اُن عطیات کے ایک کمالِ عظیم جو قرآن شریف کے کامل تابعین کو دیا جاتا ہے عبودیت ہے۔ یعنی وہ باوجود بہت سے کمالات کے ہر وقت نقصان ذاتی اپنا پیش نظر رکھتے ہیں اور بشہود کبریائی حضرت باری تعالیٰ ہمیشہ تذلّل اور نیستی اور انکسار میں رہتے ہیں۔ اور اپنی اصل حقیقت ذلت اور مفلسی اور ناداری اور پُر تقصیری اور خطا واری سمجھتے ہیں۔ اور ان تمام کمالات کو جو ان کو دیئے گئے ہیں اس عارضی روشنی کی مانند سمجھتے ہیں جو کسی وقت آفتاب کی طرف سے دیوار پر پڑتی ہے جس کو حقیقی طور پر دیوار سے کچھ بھی علاقہ نہیں ہوتا اور لباس مستعار کی طرح معرضِ زوال میں ہوتی ہے۔ پس وہ تمام خیر و خوبی خدا ہی میں محصور رکھتے ہیں اور تمام نیکیوں کا چشمہ اُسی کی ذات کامل کو قرار دیتے ہیں اور صفاتِ الٰہیہ کے کامل شہودسے اُن کے دل میں حق الیقین کے طور پر بھر جاتا ہے کہ ہم کچھ چیز نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنے وجود اور ارادہ اور خواہش سے بکلّی کھوئے جاتے ہیں۔ او رعظمت الٰہی کا پُر جوش دریا اُن کے دلوں پر ایسا محیط ہو جاتا ہے کہ ہزار ہا طور کی نیستی اُن پر وارد ہو جاتی ہے اور شرکِ خفی کے ہر یک رگ و ریشہ سے بکلی پاک اور منزہ ہو جاتے ہیں۔
اور منجملہ ان عطیات کے ایک یہ ہے کہ اُن کی معرفت اور خدا شناسی بذریعہ کشوف صادقہ و علومِ لدنّیہ و الہامات صریحہ و مکالمات و مخاطبات حضرتِ احدیت و دیگر خوارق عادت بدرجہ اکمل و اتم پہنچائی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اُن میں اور عالمِ ثانی میں ایک نہایت رقیق اور شفّاف حجاب باقی رہ جاتا ہے۔ جس میں سے ان کی نظر عبور کر کے واقعاتِ اُخروی کو اسی عالم میں دیکھ لیتی ہے برخلاف دوسرے لوگوں کے کہ جو بباعث پُرظلمت ہونے اپنی کتابوں کے اس مرتبۂ کاملہ تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے بلکہ اُن کی کج تعلیم کتابیں اُن کے حجابوں پر اَور بھی صد ہا حجاب ڈالتے ہیں اور بیماری کو آگے سے آگے بڑھا کر موت تک پہنچاتے ہیں اور فلسفی جن کے قدموں پر آج کل برہمو سماج والے چلتے ہیں اور جن کے مذہب کا سارا مدار عقلی خیالات پر ہے وہ خود اپنے طریق میں ناقص ہیں اور اُن کے نقصان پر یہی دلیل کافی ہے کہ اُن کی معرفت باوجود صد ہا طرح کی غلطیوں کی نظری وجوہ سے تجاوز نہیں کرتی اور قیاسی اٹکلوں سے آگے نہیں بڑھتی اور ظاہر ہے کہ جس شخص کی معرفت صرف نظری طور پر محدود ہے اور وہ بھی کئی طرح کی خطا کی آلودگیوں سے ملوّث۔ وہ شخص بمقابلہ اُس شخص کے جس کا عرفان بداہت کے مرتبہ تک پہنچ گیا ہے اپنی علمی حالت میں بغایت درجہ پست اور متنزل ہے۔ ظاہر ہے کہ نظر اور فکر کے مرتبہ کے آگے ایک مرتبہ بداہت اور شہود کا باقی ہے۔ یعنی جو امور نظری اور فکری طور پر معلوم ہوتے ہیں وہ ممکن ہیں کہ کسی اور ذریعہ سے بدیہی اور مشہود طور پر معلوم ہوں۔ سو یہ مرتبہ بداہت کا عند العقل ممکن الوجود ہے اور گو برہمو سماج والے اس مرتبہ کے وجود فی الخارج سے انکار ہی کریں پر اس بات سے انہیں انکار نہیں کہ وہ مرتبہ اگر خارج میں پایا جاوے تو بلاشبہ اعلیٰ و اکمل ہے اور جو نظر اور فکر میں خفا یا باقی رہ جاتے ہیں ان کا ظہور اور بروز اِسی مرتبہ پر موقوف ہے۔ اور خود اِس بات کو کون نہیں سمجھ سکتا کہ ایک امرکا بدیہی طور پر کھل جانا نظری طور سے اعلیٰ اور اکمل ہے مثلاً اگرچہ مصنوعات کو دیکھ کر دانا اور سلیم الطبع انسان کا اس طرف خیال آ سکتا ہے کہ اِن چیزوں کا کوئی صانع ہو گا۔ مگر نہایت بدیہی اور روشن طریق معرفت الٰہی کا جو اُس کے وجود پر بڑی ہی مضبوط دلیل ہے یہ ہے کہ اُس کے بندوں کو الہام ملتا ہے اور قبل اس کے جو حقائقِ اشیاء کا انجام کھلے اُن پر کھولا جاتا ہے اور وہ اپنے معروضات میں حضرتِ احدیت سے جوابات پاتے ہیں۔ اور اُن سے مکالمات اور مخاطبات ہوتے ہیں اور بنظرِ کشفی اُن کو عالمِ ثانی کے واقعات دکھلائے جاتے ہیں اور جزا سزا کی حقیقت پر مطلع کیا جاتا ہے اور دوسر ے کئی طور کے اسرارِ اخروی اُن پر کھولے جاتے ہیں۔ اور کچھ شک نہیں کہ یہ تمام امور علم الیقین کو اتم اور اکمل مرتبہ تک پہنچاتے ہیں اور نظر ی ہونے کے عمیق نشیب سے بداہت کے بلند مینار تک لے جاتے ہیں بالخصوص مکالمات اور مخاطبات حضرتِ احدیت ان سب اقسام سے اعلیٰ ہیں کیونکہ اُن کے ذریعہ سے صرف اخبار غیبیہ ہی معلوم نہیں ہوتے بلکہ عاجز بندہ پر جو جو مولیٰ کریم کی عنایتیں ہیں اُن سے بھی اطلاع دی جاتی ہے اور ایک لذیذ اور مبارک کلام سے ایسی تسلّی اور تشفی اس کو عطا ہوتی ہے اور خوشنودی حضرت باری تعالیٰ سے مطلع کیا جاتا ہے جس سے بندہ مکروہاتِ دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے بڑی قوت پاتا ہے۔ گویا صبر اور استقامت کے پہاڑ اس کو عطا کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح بذریعہ کلام اعلیٰ درجہ کے علوم اور معارف بھی بندہ کو سکھلائے جاتے ہیں اور وہ اسرارِ خفیہ و دقائق عمیقہ بتلائے جاتے ہیں کہ جو بغیر تعلیم خاص ربّانی کے کسی طرح معلوم نہیں ہو سکتے اور اگر کوئی یہ شبہ پیش کرے کہ یہ تمام امور جن کی نسبت بیان کیا گیا ہے کہ قرآن شریف کے کامل اتباع سے حاصل ہوتے ہیں کیونکر اسلام میں اُن کا مُتَحقّق فی الخارج ہونا بہ پایۂ ثبوت پہنچ سکتا ہے تو اس وہم کا جواب یہ ہے کہ صحبت سے اور اگرچہ ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں لیکن بغیر اندیشہ طول کے پھر مکرر ہر یک مخالف پر ظاہر کرتے ہیں کہ فی الحقیقت یہ دولت عظمیٰ اسلام میں پائی جاتی ہے کسی دوسرے مذہب میں ہرگز پائی نہیں جاتی اور طالب حق کے لئے اِس کے ثبوت کے بارے میں ہم آپ ہی ذمہ دار ہیں۔ بشرطِ صحبت وحسن ارادت و تحقق مناسبت اور صبر اور ثبات کے یہ امور ہر ایک طالب پر بقدر استعداد اور لیاقت ذاتی اُس کی کے کُھل سکتے ہیں۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۳۲تا۵۴۵ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳)قرآن شریف جو آنحضرت کے اتباع کا مدار علیہ ہے ایک ایسی کتاب ہے جس کی متابعت سے اِسی جہان میں آثار نجات کے ظاہر ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ وہی کتاب ہے کہ جو دونوں طریق ظاہری اور باطنی کے ذریعہ سے نفوسِ ناقصہ کو بمرتبہء تکمیل پہنچاتی ہے اور شکوک اور شبہات سے خلاصی بخشتی ہے۔ ظاہری طریق سے اس طرح پر کہ بیان اس کا ایسا جامع دقائق و حقائق ہے کہ جس قدر دنیا میں ایسے شبہات پائے جاتے ہیں کہ جو خدا تک پہنچنے سے روکتے ہیں جن میں مبتلا ہو کر صد ہا جھوٹے فرقے پھیل رہے ہیں اور صد ہا طرح کے خیالاتِ باطلہ گمراہ لوگوں کے دلوں میں جم رہے ہیں سب کا ردّ معقولی طور پر اس میں موجود ہے۔ اور جو جو تعلیم حقّہ اور کاملہ کی روشنی ظلمت موجودہ زمانہ کے لئے درکار ہے۔ وہ سب آفتاب کی طرح اس میں چمک رہی ہے اور تمام امراض نفسانی کا علاج اس میں مندرج ہے اور تمام معارف حقہ کا بیان اِس میں بھرا ہوا ہے اور کوئی دقیقہ علم الٰہی نہیں کہ جو آئندہ کسی وقت ظاہر ہو سکتا ہے اور اس سے باہر رہ گیا ہو۔ اور باطنی طریق سے اس طور پر کہ اس کی کامل متابعت دل کو ایسا صاف کر دیتی ہے کہ انسان اندرونی آلودگیوں سے بالکل پاک ہو کر حضرتِ اعلیٰ سے اِتّصال پکڑ لیتا ہے اور انوارِ قبولیت اُس پر وارد ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور عنایاتِ الٰہیہ اس قدر اُس پر احاطہ کر لیتی ہیں کہ جب وہ مشکلات کے وقت دُعا کرتا ہے تو کمال رحمت اور عطوفت سے خداوند کریم اس کا جواب دیتا ہے اور بسا اوقات ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ اگر وہ ہزار مرتبہ ہی اپنی مشکلات اور ہجوم غموں کے وقت میں سوال کرے تو ہزار ہا مرتبہ ہی اپنے مولیٰ کریم کی طرف سے نہایت فصیح اور لذیذ اور متبرک کلام میں محبت آمیز جواب پاتا ہے اور الہام الٰہی بارش کی طرح اس پر برستا ہے اور وہ اپنے دل میں محبت الٰہیہ کو ایسا بھرا ہوا پاتا ہے جیسا ایک نہایت صاف شیشہ ایک لطیف عطر سے بھرا ہوتا ہے۔ اور انس اور شوق کی ایک ایسی پاک لذت اس کو عطا کی جاتی ہے کہ جو اُس کے سخت سخت نفسانی زنجیروں کو توڑ کر اور اِس دُخانستان سے باہر نکال کر محبوبِ حقیقی کی ٹھنڈی اور دل آرام ہوا سے اس کو ہر دم اور ہر لحظہ تازہ زندگی بخشتی رہتی ہے۔ پس وہ اپنی وفات سے پہلے ہی اُن عنایاتِ الٰہیہ کو بچشم خود دیکھ لیتا ہے جن کے دیکھنے کے لئے دوسرے لوگ بعد مرنے کے اُمیدیں باندھتے ہیں۔ اور یہ سب نعمتیں کسی راہبانہ محنت اور ریاضت پر موقوف نہیں بلکہ صرف قرآن شریف کے کامل اتباع سے دی جاتی ہیں اور ہر یک طالب صادق ان کو پاسکتا ہے۔ ہاں اُن کے حصول میں خاتم الرسلؐ اور فخر الرسلؐ کی بدرجہ کامل محبت بھی شرط ہے۔ تب بعد محبت نبی اللہ کے انسان ان نوروں میں سے بقدر استعداد خود حصہ پا لیتا ہے کہ جو کامل طور پر نبی اللہ کو دی گئی ہیں۔ پس طالبِ حق کے لئے اِس سے بہتر اور کوئی طریق نہیں کہ وہ کسی صاحب بصیرت اور معرفت کے ذریعہ سے خود اس دین متین میں داخل ہو کر اور اتباعِ کلام الٰہی اور محبت رسولِ مقبول اختیار کرکے ہمارے اِن بیانات کی حقیت کو بچشم خود دیکھ لے اور اگر وہ اس غرض کے حصول کے لئے ہماری طرف بصدق دل رجوع کرے تو ہم خدا کے فضل اور کرم پر بھروسہ کر کے اُس کو طریق اتباع بتلانے کو طیار ہیں پر خدا کا فضل اور استعداد ذاتی درکار ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ سچی نجات سچی تندرستی کی مانند ہے پس جیسی سچی تندرستی وہ ہے کہ جس میں تمام آثار تندرستی کے ظاہر ہوں اور کوئی عارضہ منافی اور مغائر تندرستی کا لاحق نہ ہو اِسی طرح سچی نجات بھی وہی ہے کہ جس میں حصول نجات کے آثار بھی پائے جائیں کیونکہ جس چیز کا واقعی طور پر وجود متحقق ہو۔ اُس وجود متحقق کے لئے آثار و علامات کا پائے جانا لازم پڑا ہوا ہے اور بغیر تحقق وجود ان آثار و علامات کے وجود اس چیز کا متحقق نہیں ہو سکتا۔ اور جیسا کہ ہم بارہا لکھ چکے ہیں تحقق نجات کے لئے یہ علامات خاصہ ہیں کہ انقطاع الی اللہ اور غلبہء حب الٰہی اس قدر کمال کے درجہ تک پہنچ جائے کہ اس شخص کی صحبت اور توجہ اور دعا سے بھی یہ امور دوسرے ذی استعداد لوگوں میں پیدا ہو سکیں اور خود وہ اپنی ذاتی حالت میں ایسا منور الباطن ہو کہ اس کی برکات طالب حق کی نظر میں بدیہی الظہور ہوں اور اس میں وہ تمام خصوصیات اور مخاطبات حضرت احدیت پائی جائیں کہ جو مقربین میں پائی جاتی ہیں۔ اِس جگہ کوئی شخص نجومیوں اور جوتشیوں وغیرہ غیب گویوں کی پیشگوئیوں پر دھوکہ نہ کھاوے اور بخوبی یاد رکھے کہ ان لوگوں کو اہل اللہ کے انوار اور برکات سے کچھ بھی مناسبت نہیں۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے کہ قادرانہ پیشگوئیاں اور کریمانہ مواعید کہ جو حق محض ہیں اور جن میں سراسر فتح اور نصرت کی بشارتیں اور اقبال اور عزت کی خبریں بھری ہوئی ہیں۔ ان سے انسانی آلات کو کچھ بھی نسبت نہیں۔ خداوند تعالیٰ نے اہل اللہ کو ایسی فطرت بخشی ہے کہ ان کی نظر اور صحبت اور توجہ اور دُعا اکسیر کا حکم رکھتی ہے بشرطیکہ شخص مستفیض میں قابلیت موجود ہو۔ اور ایسے لوگ صرف پیشگوئیوں سے نہیں بلکہ اپنے خزائن معرفت سے اپنی توکل خارق عادت سے اپنی کامل محبت سے اپنے انقطاع تام سے اپنے صدق اور ثبات سے اپنے اُنس باللہ اور شوق اور ذوق سے اور اپنے غلبہ خشوع اور خضوع سے اور اپنے تزکیۂ نفس سے اور اپنی ترکِ محبت دنیا سے اور اپنی کثیرالوجود برکتوں سے کہ جو بارش کی طرح برستی ہیں۔ اور اپنے مؤید من اللہ ہونے سے اور اپنی بے مثل استقامت اور اعلیٰ درجہ کی وفاداری اور لاثانی تقویٰ اور طہارت اور عظیم الشان ہمت اور انشراح صدر سے شناخت کئے جاتے ہیں اور پیشگوئیاں ان کا اصل منصب نہیں ہے۔ بلکہ وہ اس غرض سے ہے کہ تا وہ ان برکتوں کو جو اُن پر اور اُن کے متعلقین پر وارد ہونے کو ہیں قبل از وقوع بیان کر کے توجہ خاص حضرتِ احدیّت پر یقین دلائیں۔ اور نیز وہ مخاطبات اور مکالمات جو حضرت احدیّت کی طرف سے اُن کو ہوتے ہیں اُن کی صحت اور منجانب اللہ ہونے پر ایک قطعی اور یقینی حجت پیش کریں اور ایسے انسان جن کو یہ سب برکات قدسیہ بکثرت عطا ہوتی ہیں اُن کی نسبت خدا کی قدرت اور حکمتِ قدیمہ کے قانون میں یہی قرار پایا ہے کہ وہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے سچے اور پاک عقائد ہوں اور جو سچے مذہب پر ثابت اور مستقیم ہوں اور حضرت احدیّت سے غایت درجہ کا اتصال اور دنیا و مافیہا سے غایت درجہ کا انقطاع رکھتے ہوں۔ ایسے لوگ کبریت احمر کا حکم رکھتے ہیں اور اُن کی فطرت کو ربّانی انوار اور حقانی مذہب لازم ہے اور ان کی ذات ستودہ صفات کو کہ جو جامع البرکات ہے بدبخت نجومیوں اور جوتشیوں سے نسبت دینا کمال درجہ کی کج فہمی اور غایت درجہ کی بدنصیبی ہے کیونکہ وہ دنیا کے ذلیل جیفہ خواروں کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں رکھتے بلکہ وہ آفتاب اور چاند کی طرح آسمانی نور ہیں اور حکمتِ الٰہیہ کے قانونِ قدیم نے اِسی غرض سے ان کو پیدا کیا ہے کہ تا دنیا میں آکر دنیا کو منور کریں۔ یہ بات بتوجہ تمام یاد رکھنی چاہئے کہ جیسے خدا نے امراض بدنی کے لئے بعض ادویہ پیدا کی ہیں اور عمدہ عمدہ چیزیں جیسے تریاق وغیرہ انواع و اقسام کے آلام اسقام کے لئے دنیا میں موجود کی ہیں اور ان ادویہ میں ابتدا سے یہ خاصیت رکھی ہے کہ جب کوئی بیمار بشرطیکہ اس کی بیماری درجہ شفایابی سے تجاوز نہ کر گئی ہو ان دواؤں کو برعایت پرہیز وغیرہ شرائط استعمال کرتا ہے تو اس حکیم مطلق کی اسی طرح پر عادت جاری ہے کہ اس بیمار کو حسب استعداد اور قابلیت کسی قدر صحت اور تندرستی سے حصہ بخشتا ہے یا بکلّی شفا عنایت کرتا ہے۔ اِسی طرح خداوند کریم نے نفوسِ طیّبہ ان مقربین میں بھی روز ازل سے یہ خاصیت ڈال رکھی ہے کہ اُن کی توجہ اور دعا اور صحبت اور عقد ہمت بشرطِ قابلیت امراض رُوحانی کی دوا ہے۔ اور اُن کے نفوس حضرت احدیّت سے بذریعہ مکالمات و مخاطبات و مکاشفات انواع اقسام کے فیض پاتے رہتے ہیں اور پھر وہ تمام فیوض خلق اللہ کی ہدایت کے لئے ایک عظیم الشان اثر دکھلاتے ہیں۔ غرض اہل اللہ کا وجود خلق اللہ کے لئے ایک رحمت ہوتا ہے۔ اور جس طرح اِس جائے اسباب میں قانونِ قدرت حضرت احدیّت کا یہی ہے کہ جوشخص پانی پیتا ہے وہی پیاس کی درد سے نجات پاتا ہے اور جو شخص روٹی کھاتا ہے وہی بھوک کے دُکھ سے خلاصی حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح عادت الٰہیہ جاری ہے کہ امراضِ روحانی دُ ور کرنے کے لئے انبیاء اور اُن کے کامل تابعین کو ذریعہ اور وسیلہ ٹھہرا رکھا ہے۔ اُنہی کی صحبت میں دل تسلّی پکڑتے ہیں۔ اور بشریت کی آلائشیں رُوبکمی ہوتی ہیں اور نفسانی ظلمتیں اُٹھتی ہیں۔ اور محبّت الٰہی کا شوق جوش مارتا ہے اور آسمانی برکات اپنا جلوہ دکھاتی ہیں اور بغیر ان کے ہرگز یہ باتیں حاصل نہیں ہوتیں۔ پس یہی باتیں اُن کی شناخت کی علاماتِ خاصہ ہیں۔ فَتَدَبَّرْ وَلَا تَغْفَلْ۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۳۴۵ تا۳۵۶ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۲)
اب ہم اس جگہ بغرض فائدہ عام یہ بات بطور قاعدہ کلیّہ بیان کرتے ہیں کہ کلام کا وہ کونسا مرتبہ ہے جس مرتبہ پر کوئی کلام واقعہ ہونے سے اس صفت سے متّصف ہو جاتا ہے کہ اس کو بے نظیر اور منجانب اللہ کہا جائے اور پھر بطور نمونہ کوئی سُورہ قرآن شریف کی لکھ کر اس میں یہ ثابت کر کے دکھلائیں گے کہ وہ تمام وجود بے نظیری جو قاعدہ کلیّہ میں قرار دی گئی ہیں اس سورہ میں بہ تمام و کمال پائی جاتی ہیں۔ اور اگر کسی کو اِن وجوہ بے نظیری کے قبول کرنے میں پھر بھی انکار ہو گا تو یہ بارِ ثبوت اُسی کے ذمہ ہو گا کہ کوئی دوسرا کلام پیش کر کے دکھلاوے جس میں وہ تمام وجوہ بے نظیری پائے جاویں۔
سو واضح ہو کہ اگر کوئی کلام ان تمام چیزوں میں سے کہ جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے صادر اور اُس کے دستِ قدرت کی صنعت ہیں کسی چیز سے مشابہت کلّی رکھتا ہو یعنی اُس میں عجائبات ظاہری و باطنی ایسے طور پر جمع ہوں کہ جو مصنوعات الٰہیہ میں سے کسی شے میں جمع ہیں تو اس صورت میں کہا جائے گا کہ وہ کلام ایسے مرتبہ پر واقع ہے کہ جس کی مثل بنانے سے انسانی طاقتیں عاجز ہیں۔ کیونکہ جس چیز کی نسبت بے نظیر اور صادر من اللہ ہونا عند الخواص والعوام ایک مسلّم اور مقبول امر ہے جس میں کسی کو اختلاف و نزاع نہیں اُس کی وجوہ بے نظیری میں کسی شے کی شراکت تامہ ثابت ہونا بلاشبہ اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ وہ شے بھی بے نظیر ہی ہے۔ مثلاً اگر کوئی چیز اُس چیز سے بکلّی مطابق آجائے جو اپنے مقدار میں دس گز ہے تو اس کی نسبت بھی یہ علم صحیح قطعی مفید یقین جازم حاصل ہو گا کہ وہ بھی دس گز ہے۔
اب ہم ان مصنوعاتِ الٰہیہ میں سے ایک لطیف مصنوع کو مثلاً گلاب کے پھول کو بطور مثال قرار دے کر اس کے وہ عجائبات ظاہری و باطنی لکھتے ہیں جن کی رُو سے وہ ایسی اعلیٰ حالت پر تسلیم کیا گیا ہے کہ اُس کی نظیر بنانے سے انسانی طاقتیں عاجز ہیں۔ اور پھر اس بات کو ثابت کر کے دکھلائیں گے کہ ان سب عجائبات سے سورۃ فاتحہ کے عجائبات اور کمالات ہموزن ہیں بلکہ ان عجائبات کا پلّہ بھاری ہے۔ اور اس مثال کے اختیار کرنے کا موجب یہ ہوا کہ ایک مرتبہ اس عاجز نے اپنی نظر کشفی میں سورۃ فاتحہ کو دیکھا کہ ایک ورق پر لکھی ہوئی اس عاجز کے ہاتھ میں ہے اور ایک ایسی خوبصورت اور دلکش شکل میں ہے کہ گویا وہ کاغذ جس پر سورۃ فاتحہ لکھی ہوئی ہے سُرخ سُرخ اور ملائم گلاب کے پھولوں سے اس قدر لدا ہوا ہے کہ جس کا کچھ انتہا نہیں۔ اور جب یہ عاجز اس صورت کی کوئی آیت پڑھتا ہے تو اُس میں سے بہت سے گلاب کے پُھول ایک خوش آواز کے ساتھ پرواز کر کے اوپر کی طرف اُڑتے ہیں اور وہ پھول نہایت لطیف اور بڑے بڑے اور سندر اور تر و تازہ اور خوشبو دار ہیں جن کے اوپر چڑھنے کے وقت دل و دماغ نہایت معطر ہو جاتا ہے اور ایک ایسا عالم مستی کا پیدا کرتے ہیں کہ جو اپنی بے مثل لذّتوں کی کشش سے دنیا و مافیہا سے نہایت درجہ کی نفرت دلاتے ہیں۔ اِس مکاشفہ سے معلوم ہوا کہ گلاب کے پُھول کو سورۃ فاتحہ کے ساتھ ایک رُوحا نی مناسبت ہے سو ایسی مناسبت کے لحاظ سے اس مثال کو اختیار کیا گیا اور مناسب معلوم ہوا کہ اوّل بطور مثال گلاب کے پُھول کے عجائبات کو کہ جو اس کے ظاہر و باطن میں پائے جاتے ہیں لکھا جائے اور پھر بمقابلہ اس کے عجائبات کے سورۃ فاتحہ کے عجائبات ظاہری و باطنی قلمبند ہوں تا ناظرین باانصاف کو معلوم ہو کہ جو خوبیاں گلاب کے پھول میں ظاہراً و باطنًا پائی جاتی ہیں جن کے رُو سے اُس کی نظیر بنانا عادتاً محال سمجھا گیا ہے۔ اُسی طور پر اور اس سے بہتر خوبیاں سورۃ فاتحہ میں موجود ہیں اور تا اس مثال کے لکھنے سے اشارہ کشفی پر بھی عمل ہو جائے۔ پس جاننا چاہئے کہ یہ امر ہر یک عاقل کے نزدیک بغیر کسی تردّد اور توقف کے مسلّم الثبوت ہے کہ گلاب کا پُھول بھی مثل اَور مصنوعاتِ الٰہیہ کے ایسی عمدہ خوبیاں اپنی ذات میں جمع رکھتا ہے جن کی مثل بنانے پر انسان قادر نہیں اور وہ دو۲ طور کی خوبیاں ہیں۔ ایک وہ کہ جو اس کی ظاہری صورت میں پائی جاتی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اس کا رنگ نہایت خوشنما اور خوب ہے۔ اور اس کی خوشبو نہایت دل آرام اور دلکش ہے۔ اور اُس کے ظاہر بدن میں نہایت درجہ کی ملائمت اور ترو تازگی اور نرمی اور نزاکت اور صفائی ہے۔ اور دوسری وہ خوبیاں ہیں کہ جو باطنی طور پر حکیم مطلق نے اُس میں ڈال رکھی ہیں۔ یعنی وہ خواص کہ جو اُس کے جوہر میں پوشیدہ ہیں اور وہ یہ ہیں کہ وہ مفرّح اور مقوّی قلب اور مسکّن صفراء ہے اور تمام قویٰ اور ارواح کو تقویت بخشتا ہے اور صفراء اور بلغم رقیق کا مسہل بھی ہے اور اسی طرح معدہ اور جگر اور گردہ اور امعاء اور رحم اور پھیپھڑہ کو بھی قوت بخشتا ہے اور خفقانِ حار اور غشی اور ضعف قلب کے لئے نہایت مفید ہے اور اسی طرح اور کئی امراض بدنی کو فائدہ مند ہے۔ پس انہیں دونوں طور کی خوبیوں کی وجہ سے اُس کی نسبت اعتقاد کیا گیا ہے کہ وہ ایسے مرتبۂ کمال پر واقع ہے کہ ہرگز کسی انسان کے لئے ممکن نہیں کہ اپنی طرف سے کوئی ایسا پھول بناوے کہ جو اس پُھول کی طرح رنگ میں خوشنما اور خوشبو میں دل کش اور بدن میں نہایت تر و تازہ اور نرم اور نازک اور مصفّا ہو اور باوجود اِس کے باطنی طور پر تمام وہ خواص بھی رکھتا ہو جو گلاب کے پھول میں پائے جاتے ہیں۔ اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ کیوں گلاب کے پُھول کی نسبت ایسا اعتقاد کیا گیا کہ انسانی قوتیں اس کی نظیر بنانے سے عاجز ہیں اور کیوں جائز نہیں کہ کوئی انسان اس کی نظیر بنا سکے اور جو خوبیاں اس کی ظاہر و باطن میں پائی جاتی ہیں وہ مصنوعی پھول میں پیدا کر سکے تو اس سوال کا جواب یہی ہے کہ ایسا پھول بنانا عادتاً ممتنع ہے۔ اور آج تک کوئی حکیم اور فیلسوف کسی ایسی ترکیب سے کسی قسم کی ادویہ کو بہم نہیں پہنچا سکا کہ جن کے باہم مخلوط اور ممنروج کرنے سے ظاہرو باطن میں گلاب کے پھول کی سی صورت اور سیرت پیدا ہو جائے۔ اب سمجھنا چاہئے کہ یہی وجوہ بے نظیری کی سورۃ فاتحہ میں بلکہ قرآن شریف کے ہر یک حصہ اقل قلیل میں کہ جو چار آیت سے بھی کم ہو پائی جاتی ہیں۔ پہلے ظاہری صورت پر نظر ڈال کر دیکھو کہ کیسی رنگینی ٔ عبارت اور خوش بیانی اور جودتِ الفاظ اور کلام میں کمال سلاست اور نرمی اور روانگی اور آب و تاب اور لطافت وغیرہ لوازم حسن کلام اپنا کامل جلوہ دکھا رہے ہیں۔ ایسا جلوہ کہ جس پر زیادت متصور نہیں اور وحشت کلمات اور تعقید ترکیبات سے بکلّی سالم اور بری ہے۔ ہریک فقرہ اس کا نہایت فصیح اور بلیغ ہے اور ہر یک ترکیب اس کی اپنے اپنے موقعہ پر واقعہ ہے اور ہریک قسم کا التزام جس سے حسنِ کلام بڑھتا ہے اور لطافت عبارت کھلتی ہے سب اُس میں پایاجاتا ہے اور جس قدر حسن تقریر کے لئے بلاغت اور خوش بیانی کا اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ ذہن میں آ سکتا ہے وہ کامل طور پر اس میں موجود اور مشہود ہے اور جس قدر مطلب کے دل نشین کرنے کے لئے حسنِ بیان درکار ہے وہ سب اِس میں مہیّا اور موجود ہے اور باوجود اس بلاغتِ معانی اور التزام کمالیّتِ حسنِ بیان کے صدق اور راستی کی خوشبو سے بھرا ہوا ہے کوئی مبالغہ ایسا نہیں جس میں جھوٹ کی ذرا آمیزش ہو۔ کوئی رنگینی ٔ عبارت اس قسم کی نہیں جس میں شاعروں کی طرح جھوٹ اور ہزل اور فضول گوئی کی نجاست اور بدبو سے مدد لی گئی ہو۔ پس جیسے شاعروں کا کلام جھوٹ اور ہزل اور فضول گوئی کی بدبو سے بھرا ہوا ہوتا ہے یہ کلام صداقت اور راستی کی لطیف خوشبو سے بھرا ہوا ہے اور پھر اس خوشبو کے ساتھ خوش بیانی اور جودتِ الفاظ اور رنگینی اور صفائی عبارت کو ایسا جمع کیا گیا ہے کہ جیسے گلاب کے پھول میں خوشبو کے ساتھ اُس کی خوش رنگی اور صفائی بھی جمع ہوتی ہے۔ یہ خوبیاں تو باعتبار ظاہر کے ہیں اور باعتبار باطن کے اس میں یعنی سورۃ فاتحہ میں یہ خواص ہیں کہ وہ بڑی بڑی امراض روحانی کے علاج پر مشتمل ہے اور تکمیل قوت علمی اور عملی کے لئے بہت سا سامان اس میں موجود ہے اور بڑے بڑے بگاڑوں کی اِصلاح کرتی ہے اور بڑے بڑے معارف اور دقائق اور لطائف کہ جو حکیموں اور فلسفیوں کی نظر سے چھپے رہے اس میں مذکور ہیں۔ سالک کے دل کو اس کے پڑھنے سے یقینی قوت بڑھتی ہے اور شک اور شبہ اور ضلالت کی بیماری سے شفا حاصل ہوتی ہے اور بہت سی اعلیٰ درجہ کی صداقتیں اور نہایت باریک حقیقتیں کہ جو تکمیل نفسِ ناطقہ کے لئے ضروری ہیں اس کے مبارک مضمون میں بھری ہوئی ہیں۔ اور ظاہرہے کہ یہ کمالات بھی ایسے ہیں کہ گلاب کے پھول کے کمالات کی طرح ان میں بھی عادتًا ممتنع معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی انسان کے کلام میں مجتمع ہو سکیں اور یہ امتناع نہ نظری بلکہ بدیہی ہے کیونکہ جن دقائق و معارفِ عالیہ کو خدائے تعالیٰ نے عین ضرورتِ حقہ کے وقت اپنے بلیغ اور فصیح کلام میں بیان فرما کر ظاہری اور باطنی خوبی کا کمال دکھلایا ہے اور بڑی نازک شرطوں کے ساتھ دونوں پہلوؤں ظاہر و باطن کو کمالیت کے اعلیٰ مرتبہ تک پہنچایا ہے یعنی اول تو ایسے معارفِ عالیہ ضروریہ لکھے ہیں کہ جن کے آثار پہلی تعلیموں سے مندرس اور محو ہو گئے تھے اور کسی حکیم یا فیلسوف نے بھی اُن معارفِ عالیہ پر قدم نہیں ماراتھا اور پھر اُن معارف کو غیر ضروری اور فضول طور پر نہیں لکھا بلکہ ٹھیک ٹھیک اُس وقت اور اُس زمانہ میں ان کو بیان فرمایا جس وقت حالت موجودہ زمانہ کی اصلاح کے لئے اُن کا بیان کرنا از بس ضروری تھا۔ اور بغیر ان کے بیان کرنے کے زمانہ کی ہلاکت اور تباہی متصوّر تھی اور پھر وہ معارفِ عالیہ ناقص اور ناتمام طور پر نہیں لکھے گئے بلکہ کمّاً و کیفاً کامل درجہ پر واقع ہیں اور کسی عاقل کی عقل کوئی ایسی دینی صداقت پیش نہیں کر سکتی جو ان سے باہر رہ گئی ہو۔ اور کسی باطل پرست کا کوئی ایسا وسوسہ نہیں جس کا ازالہ اس کلام میں موجودنہ ہو۔ اِن تمام حقائق و دقائق کے التزام سے کہ جو دوسری طرف ضرورتِ حقّہ کے التزام کے ساتھ وابستہ ہیں فصاحت بلاغت کے اُن اعلیٰ کمالات کو ادا کرنا جن پر زیادت متصور نہ ہو یہ تو نہایت بڑا کام ہے کہ جو بشری طاقتوں سے بہ بداہت نظر بلند تر ہے۔ مگر انسان تو ایسا بے ہنر ہے کہ اگر ادنیٰ اور ناکارہ معاملات کو کہ جو حقائق عالیہ سے کچھ تعلّق نہیں رکھتے کسی رنگین اور فصیح عبارت میں بہ التزام راست بیانی اور حق گوئی کے لکھنا چاہے تو یہ بھی اس کے لئے ممکن نہیں جیسا کہ یہ بات ہر عاقل کے نزدیک نہایت بدیہی ہے کہ اگر مثلاً ایک دوکاندار جو کامل درجہ کا شاعر اور انشا پرداز ہو یہ چاہے کہ جو اپنی اس گفتگو کو جو ہر روز اُسے رنگا رنگ کے خریداروں اور معاملہ داروں کے ساتھ کرنی پڑتی ہے کمال بلاغت اور رنگینی ٔ عبارت کے ساتھ کیا کرے اور پھر یہ بھی التزام رکھے کہ ہر محل اور ہر موقعہ میں جس قسم کی گفتگو کرنا ضروری ہے وہی کرے۔ مثلاً جہاں کم بولنا مناسب ہے وہاں کم بولے اور جہاں بہت مغززنی مصلحت ہے وہاں بہت گفتگو کرے۔ اور جب اس میں اور اس کے خریدار میں کوئی بحث آ پڑے تو وہ طرز تقریر اختیار کرے جس سے اس بحث کو اپنے مفید مطلب طے کر سکے یا مثلاً ایک حاکم جس کا یہ کام ہے کہ فریقین اور گواہوں کے بیان کو ٹھیک ٹھیک قلمبند کرے اور ہر یک بیان پر جو جو واقعی اور ضروری طور پر جرح قدح کرنا چاہئے وہی کرے اور جیسا کہ تنقیح مقدمہ کے لئے شرط ہے اور تفتیش امر متنازعہ فیہ کے لئے قرین مصلحت ہے سوال کے موقعہ پر سوال اور جواب کے موقعہ پر جواب لکھے اور جہاں قانونی وجوہ کا بیان کرنا لازم ہو اُن کو درست طور پر حسبِ منشاء قانون بیان کرے اور جہاں واقعات کا بہ ترتیب تمام کھولنا واجب ہو اُن کوبہ پابندیٔ ترتیب و صحت کھول دے اور پھر جو کچھ فی الواقعہ اپنی رائے اور بتائید اُس رائے کے وجوہات ہیں اُن کو بصحت تمام بیان کرے اور باوصف ان التزامات کے فصاحت بلاغت کے اس اعلیٰ درجہ پر اس کا کلام ہو کہ اس سے بہتر کسی بشر کے لئے ممکن نہ ہو تو اس قسم کی بلاغت کو بانجام پہنچانا بہ بداہت اُن کے لئے محال ہے۔ سو انسانی فصاحتوں کا یہی حال ہے کہ بجز فضول اور غیر ضروری اور واہیات باتوں کے قدم ہی نہیں اُٹھ سکتا اور بغیر جھوٹ اور ہزل کے اختیار کرنے کے کچھ بول ہی نہیں سکتے اور اگر کچھ بولے بھی تو ادھورا۔ ناک ہے تو کان نہیں۔ کان ہیں تو آنکھ ندارد۔ سچ بولے تو فصاحت گئی۔ فصاحت کے پیچھے پڑے تو جھوٹ اور فضول گوئی کے انبار کے انبار جمع کر لئے۔ پیاز کی طرح سب پوست ہی پوست اور بیچ میں کچھ بھی نہیں۔ پس جس صورت میں عقل سلیم صریح حکم دیتی ہے کہ ناکارہ اور خفیف معاملات اور سیدھے سادے واقعات کو بھی ضرورت حقہ اور راستی کے التزام سے رنگین اور بلیغ عبارت میں ادا کرنا ممکن نہیں تو پھر اس بات کا سمجھنا کس قدر آسان ہے کہ معارفِ عالیہ کو ضرورتِ حقہ کے التزام کے ساتھ نہایت رنگین اور فصیح عبارت میں جس سے اعلیٰ اور اصفٰی متصور نہ ہو بیان کرنا بالکل خارق عادت اور بشری طاقتوں سے بعید ہے اور جیسا کہ گلاب کے پھول کی طرح کوئی پھول کہ جو ظاہر و باطن میں اس سے مشابہ ہو بنانا عادتاً محال ہے ایسا ہی یہ بھی محال ہے کیونکہ جب ادنیٰ ادنیٰ امور میں تجربہ صحیحہ شہادت دیتا ہے اور فطرت سلیمہ قبول کرتی ہے کہ انسان اپنی کسی ضروری اور راست راست بات کو خواہ وہ بات کسی معاملہ خرید و فروخت سے متعلق ہو یا تحقیقاتِ عدالت وغیرہ سے تعلق رکھتی ہو جب اس کو اصلح اور انسب طور پر بجا لانا چاہے تو یہ بات غیر ممکن ہو جاتی ہے کہ اس کی عبارت خواہ نخواہ ہر محل میں موزوں اور مقفّٰی اور فصیح اور بلیغ بلکہ اعلیٰ درجہ کی فصاحت اور بلاغت پر ہو تو پھر ایسی تقریر کہ جو علاوہ التزام راستی اور صدق کے معارف اور حقائق عالیہ سے بھی بھری ہوئی اور ضرورت حقہ کے رُو سے صادر ہو اور تمام حقانی صداقتوں پر محیط ہو اور اپنے منصب اصلاح حالت موجودہ اور اتمام حجت اور الزام منکرین میں ایک ذرا فرو گزاشت نہ کرتی ہو اور مناظرہ اور مباحثہ کے تمام پہلوؤں کی کماحقہٗ رعایت رکھتی ہو اور تمام ضروری دلائل اور ضروری براہین اور ضروری تعلیم اور ضروری سوال اور ضروری جواب پر مشتمل ہو کیونکر باوجود اِن مشکلات پیچ در پیچ کے کہ جو پہلی صورت سے صد ہا درجہ زیادہ ہیں ایسی فصاحت اور بلاغت کے ساتھ کسی بشر کی تحریر میں جمع ہو سکتی ہے کہ وہ بلاغت بھی بے مثل و مانند ہو اور اس مضمون کو اس سے زیادہ فصیح عبارت میں بیان کرنا ممکن نہ ہو۔
یہ تو وہ وجوہ ہیں کہ جو سورۃ فاتحہ اور قرآن شریف میں ایسے طور سے پائی جاتی ہیں جن کو گلاب کے پھول کی وجوہ بے نظیری سے بکلّی مطابقت ہے لیکن سورۃ فاتحہ اور قرآن شریف میں ایک اور خاصۂ بزرگ پایا جاتا ہے کہ جو اُسی کلام پاک سے خاص ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کو توجہ اور اخلاص سے پڑھنا دل کو صاف کرتا ہے اور ظلمانی پردوں کو اٹھاتا ہے اور سینے کو منشرح کرتا ہے اور طالب حق کو حضرت احدیت کی طرف کھینچ کر ایسے انوار اور آثار کا مورد کرتا ہے کہ جو مقربانِ حضرت احدیت میں ہونی چاہئے اور جن کو انسان کسی دوسرے حیلہ یا تدبیر سے ہرگز حاصل نہیں کر سکتا اور اس رُوحانی تاثیر کا ثبوت بھی ہم اس کتاب میں دے چکے ہیں اور اگر کوئی طالب حق ہو تو بالمواجہ ہم اُس کی تسلّی کر سکتے ہیں اور ہر وقت تازہ بتازہ ثبوت دینے کو طیار ہیں اور نیز اس بات کو بخوبی یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن شریف کا اپنی کلام میں بے مثل و مانند ہونا صرف عقلی دلائل میں محصور نہیں بلکہ زمانہ دراز کا تجربہ صحیحہ بھی اس کا مؤید اور مصدق ہے کیونکہ باوجود اِس کے کہ قرآن شریف برابر تیرہ سو برس سے اپنی تمام خوبیاں پیش کر کے ھل من معارض کا نقارہ بجا رہا ہے اور تمام دنیا کو بآواز بلند کہہ رہا ہے کہ وہ اپنی ظاہری صورت اور باطنی خواص میں بے مثل و مانند ہے اور کسی جنّ یا انس کو اس کے مقابلہ یا معارضہ کی طاقت نہیں مگر پھر بھی کسی متنفس نے اِس کے مقابلہ پر دم نہیں مارا بلکہ اس کی کم سے کم کسی سورۃ مثلاً سورۃ فاتحہ کی ظاہری و باطنی خوبیوں کا بھی مقابلہ نہیں کر سکا۔ تو دیکھو اِس سے زیادہ بدیہی اور ُکھلا ُکھلا معجزہ اَور کیا ہو گا کہ عقلی طور پر بھی اس پاک کلام کا بشری طاقتوں سے بلند تر ہونا ثابت ہوتا ہے اور زمانہ دراز کا تجربہ بھی اس کے مرتبہء اعجاز پر گواہی دیتا ہے۔ اور اگر کسی کو یہ دونوں طور کی گواہی کہ جو عقل اور تجربہ زمانہ دراز کے رو سے بہ پایۂ ثبوت پہنچ چکی ہے نا منظور ہو اور اپنے علم اور ہنر پر نازاں ہو یا دنیا میں کسی ایسے بشر کی انشا پردازی کا قائل ہو کہ جو قرآن شریف کی طرح کوئی کلام بنا سکتا ہے تو ہم جیسا کہ وعدہ کر چکے ہیں کچھ بطور نمونہ حقائق و دقائق سورۃ فاتحہ کے لکھتے ہیں۔ اُس کو چاہئے کہ بمقابلہ ان ظاہری و باطنی سورۃفاتحہ کی خوبیوں کے کوئی اپنا کلام پیش کرے۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۳۹۴ تا۴۰۳ حاشیہ نمبر ۱۱)سورۃ فاتحہ میں تمام قرآن شریف کی طرح دو قسم کی خوبیاں کہ جو بے مثل و مانند ہیں پائی جاتی ہیں۔ یعنی ایک ظاہری صورت میں خوبی اور ایک باطنی خوبی۔ ظاہری خوبی یہ کہ جیسا کہ بارہا ذکر کیا گیا ہے اس کی عبارت میں ایسی رنگینی اور آب و تاب اور نزاکت ولطافت و ملائمت اور بلاغت اور شیرینی اور روانگی اور حسنِ بیان اور حسن ترتیب پایا جاتا ہے کہ ان معانی کو اس سے بہتر یا اس سے مساوی کسی دوسری فصیح عبارت میں ادا کرنا ممکن نہیں اور اگر تمام دنیا کے انشا پرداز اور شاعر متفق ہو کر یہ چاہیں کہ اِسی مضمون کو لے کر اپنے طور سے کسی دوسری فصیح عبارت میں لکھیں کہ جو سورۃ فاتحہ کی عبارت سے مساوی یا اس سے بہتر ہو تو یہ بات بالکل محال اور ممتنع ہے کہ ایسی عبارت لکھ سکیں۔ کیونکہ تیرہ سو برس سے قرآن شریف تمام دنیا کے سامنے اپنی بے نظیری کا دعویٰ پیش کر رہا ہے … مخالفین کی سینکڑوں برسوں کی خاموشی اور لاجواب رہنے نے اس کو وہ کامل مرتبہ ثبوت کا بخشا ہے کہ جو گلاب کے پھول وغیرہ کو وہ ثبوت بے نظیری کا حاصل نہیں۔ کیونکہ دنیا کے حکیموں اور صنعت کاروں کو کسی دوسری چیز میں اس طور پر معارضہ کے لئے کبھی ترغیب نہیں دی گئی۔ اور نہ اس کی مثل بنانے سے عاجز رہنے کی حالت میں کبھی ان کو یہ خوف دلایا گیا کہ وہ طرح طرح کی تباہی اور ہلاکت میں ڈالے جائیں گے ……
اب ہم باطنی خوبیوں کو بھی دہرا کر ذکر کرتے ہیں تا اچھی طرح غور کرنے والوں کے ذہن میں آجائیں۔ سو جاننا چاہئے کہ جیسا خداوند حکیم مطلق نے گلاب کے پھول میں بدن انسان کے لئے طرح طرح کے منافع رکھے ہیں کہ وہ دل کو قوت دیتا ہے اور قویٰ اور ارواح کو تقویت بخشتا ہے اور کئی اور مرضوں کو مفید ہے ایسا ہی خدا وند کریم نے سورۃ فاتحہ میں تمام قرآن شریف کی طرح رُوحانی مرضوں کی شفا رکھی ہے اور باطنی بیماریوں کا اس میں وہ علاج موجود ہے کہ جو اُس کے غیر میں ہرگز نہیں پایا گیا۔ کیونکہ اس میں وہ کامل صداقتیں بھری ہوئی ہیں کہ جو روئے زمین سے نابود ہو گئی تھیں اور دنیا میں ان کا نام و نشان باقی نہیں رہا تھا … اور حقیقت میں وہ بارانِ رحمت ہی تھا کہ سخت پیاسوں کی جان رکھنے کے لئے آسمان سے اُترا اور دنیا کی رُوحانی حیات اسی بات پر موقوف تھی کہ وہ آب حیات نازل ہو اور کوئی قطرہ اس کا ایسا نہ تھا کہ کسی موجود الوقت بیماری کی دوا نہ ہو اور حالت موجودہ زمانہ نے صد ہا سال تک اپنی معمولی گمراہی پر رہ کر یہ ثابت کر دیا تھا کہ وہ ان بیماریوں کے علاج کو خود بخود بغیر اُترنے اس نور کے حاصل نہیں کر سکتا اور نہ اپنی ظلمت کو آپ اٹھا سکتا ہے بلکہ ایک آسمانی نور کا محتاج ہے کہ جو اپنی سچائی کی شعاعوں سے دنیا کو روشن کرے اور اُن کو دکھاوے جنہوں نے کبھی نہیں دیکھا اور اُن کو سمجھا وے جنہوں نے کبھی نہیں سمجھا۔ اس آسمانی نور نے دنیا میں آ کر صرف یہی کام نہیں کیا کہ ایسے معارفِ حقہ ضروریہ پیش کئے جن کا صفحۂ زمین پر نشان باقی نہیں رہا تھا بلکہ اپنے روحانی خاصہ کے زو ر سے ان جواہر حق اور حکمت کو بہت سے سینوں میں بھر دیا اور بہت سے دلوں کو اپنے دلرباچہرہ کی طرف کھینچ لایا اور اپنی قوی تاثیر سے بہتوں کو علم اور عمل کے اعلیٰ مقام تک پہنچایا۔ اب یہ دونوں قسم کی خوبیاں کہ جو سورۃ فاتحہ اور تمام قرآن شریف میں پائی جاتی ہیں کلام الٰہی کی بے نظیری ثابت کرنے کے لئے ایسے روشن دلائل ہیں کہ جیسی وہ خوبیاں جو گلاب کے پھول میں سب کے نزدیک انسانی طاقتوں سے اعلیٰ تسلیم کی گئی ہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جس قدر یہ خوبیاں بدیہی طور پر عادت سے خارج اور طاقت انسانی سے باہر ہیں۔ اس شان کی خوبیاں گلاب کے پھول میں ہرگز نہیں پائی جاتیں۔ اِن خوبیوں کی عظمت اور شوکت اور بے نظیری اُس وقت کھلتی ہے جب انسان سب کو مِن حیث الاجتماع اپنے خیال میں لاوے اور اس اجتماعی ہیئت پر غور اور تدبّر سے نظر ڈالے۔ مثلاً اوّل اس بات کے تصوّر کرنے سے کہ ایک کلام کی عبارت ایسے اعلیٰ درجہ کی فصیح اور بلیغ اور ملائم اور شیریں اور سلیس اور خوش طرز اور رنگین ہو کہ اگر کوئی انسان کوئی ایسی عبارت اپنی طرف سے بنانا چاہے کہ جو بتمام و کمال انہیں معانی پر مشتمل ہو کہ جو اس بلیغ کلام میں پائی جاتی ہیں تو ہرگز ممکن نہ ہو کہ وہ انسانی عبارت اس پایۂ بلاغت و رنگینی کو پہنچ سکے پھر ساتھ ہی یہ دوسرا تصور کرنے سے کہ اس عبارت کا مضمون ایسے حقائق دقائق پر مشتمل ہو کہ جو فی الحقیقت اعلیٰ درجہ کی صداقتیں ہوں اور کوئی فقرہ اور کوئی لفظ اور کوئی حرف ایسا نہ ہو کہ جو حکیمانہ بیان پر مبنی نہ ہو۔ پھر ساتھ ہی یہ تیسرا تصوّر کرنے سے کہ وہ صداقتیں ایسی ہوں کہ حالتِ موجودہ زمانہ کو اُن کی نہایت ضرورت ہو۔ پھر ساتھ ہی یہ چوتھا تصور کرنے سے کہ وہ صداقتیں ایسی بے مثل و مانند ہوں کہ کسی حکیم یا فیلسوف کا پتہ نہ مل سکتا ہو کہ ان صداقتوں کو اپنی نظر اور فکر سے دریافت کرنے والا ہو چکا ہو۔ پھر ساتھ ہی یہ پانچواں تصوّر کرنے سے کہ جس زمانہ میں وہ صداقتیں ظاہر ہوئی ہوں ایک تازہ نعمت کی طرح ظاہر ہوئی ہوں اور اس زمانہ کے لوگ اُن کے ظہور سے پہلے اس راہ راست سے بکلّی بے خبر ہوں۔ پھر ساتھ ہی یہ چھٹا تصوّر کرنے سے کہ اس کلام میں ایک آسمانی برکت بھی ثابت ہو کہ جو اس کی متابعت سے طالب حق کو خداوند کریم کے ساتھ ایک سچا پیوند اور ایک حقیقی اُنس پیدا ہو جائے اور وہ انوار اُس میں چمکنے لگیں کہ جو مردانِ خدا میں چمکنے چاہئیں۔ یہ کل مجموعی ایک ایسی حالت میں معلوم ہوتا ہے کہ عقل سلیم بلاتوقف و تردّد حکم دیتی ہے کہ بشری کلام کا ان تمام مراتب کاملہ پر مشتمل ہونا ممتنع اور محال اور خارق عادت ہے۔ اور بلاشبہ ان تمام فضائل ظاہری و باطنی کو بنظر یکجائی دیکھنے سے ایک رُعب ناک حالت ان میں پائی جاتی ہے کہ جو عقل مند کو اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ اس کل مجموعی کا انسانی طاقتوں سے انجام پذیر ہونا عقل اور قیاس سے باہر ہے اور ایسی رُعبناک حالت گلاب کے پھول میں ہرگز پائی نہیں جاتی۔ کیونکہ قرآن شریف میں یہ خصوصیت زیادہ ہے کہ اس کی صفات مذکورہ کہ جو بے نظیری کا مدار ہیں نہایت بدیہی الثبوت ہیں اور اسی وجہ سے جب معارض کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا ایک حرف بھی ایسے موقعہ پر نہیں رکھا گیا کہ جو حکمت اور مصلحت سے دُور ہو اور اس کا ایک فقرہ بھی ایسا نہیں کہ جو زمانہ کی اصلاح کے لئے اشد ضروری نہ ہو اور پھر بلاغت کا یہ کمال کہ ہرگز ممکن ہی نہیں کہ اس کی ایک سطر کی عبارت تبدیل کر کے بجائے اس کے کوئی دوسری عبارت لکھ سکیں۔ تو اِن بدیہی کمالات کے مشاہدہ کرنے سے معارض کے دل پر ایک بزرگ رُعب پڑجاتا ہے۔ ہاں کوئی نادان جس نے اِن باتوں میں کبھی غور نہیں کی شاید بباعث نادانی سوال کرے کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ یہ ساری خوبیاں سورۃ فاتحہ اور تمام قرآن شریف میں متحقق اور ثابت ہیں۔ سو واضح ہو کہ اس بات کا یہی ثبوت ہے کہ جنہوں نے قرآن شریف کے بے مثل کمالات پر غور کی اور اس کی عبارت کو ایسے اعلیٰ درجہ کی فصاحت اور بلاغت پر پایا کہ اس کی نظیر بنانے سے عاجز رہ گئے اور پھر اس کے دقائق و حقائق کو ایسے مرتبہ عالیہ پر دیکھا کہ تمام زمانہ میں اس کی نظیر نظر نہ آئی اور اس میں وہ تاثیراتِ عجیبہ مشاہدہ کیں کہ جو انسانی کلمات میں ہرگز نہیں ہوا کرتیں اور پھر اس میں یہ صفت پاک دیکھی کہ وہ بطور ہزل اور فضول گوئی کے نازل نہیں ہوا بلکہ عین ضرورتِ حقہ کے وقت نازل ہوا تو انہوں نے ان تمام کمالات کے مشاہدہ کرنے سے بے اختیار اس کی بے مثل عظمت کو تسلیم کر لیا اور ان میں سے جو لوگ بباعث شقاوتِ ازلی نعمتِ ایمان سے محروم رہے۔ اُن کے دلوں پر بھی اس قدر ہیبت اور رعب اس بے مثل کلام کا پڑا کہ انہوں نے بھی مبہوت اور سراسیمہ ہو کر یہ کہا کہ یہ تو سحرِ مبین ہے۔ اَور پھر منصف کو اس بات سے بھی قرآن شریف کے بے مثل و مانند ہونے پر ایک قوی دلیل ملتی ہے اور روشن ثبوت ہاتھ میں آتا ہے کہ باوجود اس کے کہ مخالفین کو تیرہ سو برس سے خود قرآن شریف مقابلہ کرنے کی سخت غیرت دلاتا ہے اور لا جواب رہ کر مخالفت اور انکار کرنے والوں کا نام شریر اور پلید اور لعنتی اور جہنمی رکھتا ہے مگر پھر بھی مخالفین نے نامردوں اور مخنثوں کی طرح کمال بے شرمی اور بے حیائی سے اس تمام ذلت اور بے آبروئی اور بے عزتی کو اپنے لئے منظور کیا اور یہ روا رکھا کہ اُن کا نام جھوٹا اور ذلیل اور بے حیا اور خبیث اور پلید اور شریر اور بے ایمان اور جہنمی رکھا جاوے۔ مگر ایک قلیل المقدار سورۃ کا مقابلہ نہ کر سکے۔ اور نہ ان خوبیوں اور صفتوں اور عظمتوں اور صداقتوں میں کچھ نقص نکال سکے کہ جن کو کلام الٰہی نے پیش کیا ہے۔ حالانکہ ہمارے مخالفین پر در حالتِ انکار لازم تھا اور اب بھی لازم ہے کہ اگر وہ اپنے کفر اور بے ایمانی کو چھوڑنا نہیں چاہتے تو وہ قرآن شریف کی کسی سورۃ کی نظیر پیش کریں اور کوئی ایسا کلام بطور معارضہ ہمارے سامنے لاویں کہ جس میں یہ تمام ظاہری و باطنی خوبیاں پائی جاتی ہوں کہ جو قرآن شریف کی ہر یک اقل قلیل سورۃ میں پائی جاتی ہیں۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۴۰۳ تا۴۱۰ حاشیہ نمبر ۱۱)اب اتمام حجت کے لئے کچھ دقائق و حقائق سورۃ فاتحہ کے ذیل میں لکھے جاتے ہیں مگر اوّل سورۃ فاتحہ کو لکھ کر پھر اس کے معارفِ عالیہ کا لکھنا شروع کریں گے اور سورۃ فاتحہ یہ ہے۔
اس سورۃ کی تفسیر جس میں کسی قدر بطور نمونہ اس سورۃ کے معارف و حقائق مذکور ہیں ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ یہ آیت سورۂ ممدوحہ کی آیتوں میں سے پہلی آیت ہے اور قرآن شریف کی دوسری سورتوں پر بھی لکھی گئی ہے اور ایک اَور جگہ بھی قرآن شریف میں یہ آیت آئی ہے اور جس قدر تکرار اس آیت کا قرآن شریف میں بکثرت پایا جاتا ہے اور کسی آیت میں اس قدر تکرار نہیں پایا جاتا اور چونکہ اسلام میں یہ سنّت ٹھہر گئی ہے کہ ہر یک کام کے ابتداء میں جس میں خیر اور برکت مطلوب ہو بطریق تبرک اور استمداد اس آیت کو پڑھ لیتے ہیں۔ اس لئے یہ آیت دشمنوں اور دوستوں اور چھوٹوں اور بڑوں میں شہرت پا گئی ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص تمام قرآنی آیات سے بے خبر مطلق ہو تب بھی اُمید قوی ہے کہ اس آیت سے ہرگز اُس کو بے خبری نہیں ہو گی۔
اب یہ آیت جن کامل صداقتوں پر مشتمل ہے اُن کوبھی سن لینا چاہئے۔ سو منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ اصل مطلب اس آیت کے نزول سے یہ ہے کہ تا عاجز اور بے خبر بندوں کو اس نکتۂ معرفت کی تعلیم کی جائے کہ ذات واجب الوجود کا اسم اعظم جو اللہ ہے کہ جو اصطلاح قرآنی ربّانی کی رُو سے ذات مستجمع جمیع صفاتِ کاملہ اور منزہ عن جمیع رذائل اور معبود بر حق اور واحد لاشریک اور مبدء جمیع فیوض پر بولا جاتا ہے۔ اس اسم اعظم کی بہت سی صفات میں سے جو دو صفتیں بسم اللّٰہ میں بیان کی گئی ہیں یعنی صفت رحمانیت و رحیمیت انہی دو صفتوں کے تقاضا سے کلام الٰہی کا نزول اور اس کے انوار و برکات کا صدور ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ خدا کے پاک کلام کا دنیا میں اُترنا اور بندوں کو اس سے مطلع کیا جانا یہ صفت رحمانیت کا تقاضا ہے کیونکہ صفت رحمانیت کی کیفیت (جیسا کہ آگے بھی تفصیل سے لکھا جائے گا) یہ ہے کہ وہ صفت بغیر سبقت عمل کسی عامل کے محض جود اور بخشش الٰہی کے جوش سے ظہور میں آتی ہے جیسا خدا نے سورج اور چاند اور پانی اور ہوا وغیرہ کو بندوں کی بھلائی کے لئے پیدا کیا ہے یہ تمام جود اور بخشش صفت رحمانیت کی رُو سے ہے اور کوئی شخص دعویٰ نہیں کر سکتا کہ یہ چیزیں میرے کسی عمل کی پاداش میں بنائی گئی ہیں۔ اسی طرح خدا کا کلام بھی کہ جو بندوں کی اصلاح اور رہنمائی کے لئے اُترا وہ بھی اس صفت کے رُو سے اُترا ہے اور کوئی ایسا متنفس نہیں کہ یہ دعویٰ کر سکے کہ میرے کسی عمل یا مجاہدہ یا کسی پاک باطنی کے اجر میں خدا کا پاک کلام کہ جو اُس کی شریعت پر مشتمل ہے نازل ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ اگرچہ طہارت اور پاک باطنی کا دم مارنے والے اور زہد اور عبادت میں زندگی بسر کرنے والے اب تک ہزاروں لوگ گذرے ہیں لیکن خدا کا پاک اور کامل کلام کہ جو اس کے فرائض اور احکام کو دنیا میں لایا اور اس کے ارادوں سے خلق اللہ کو مطلع کیا اُنہیں خاص وقتوں میں نازل ہوا ہے کہ جب اس کے نازل ہونے کی ضرورت تھی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ خدا کا پاک کلام اُنہیں لوگوں پر نازل ہو کہ جو تقدس اور پاک باطنی میں اعلیٰ درجہ رکھتے ہوں کیونکہ پاک کو پلید سے کچھ میل اور مناسبت نہیں۔ لیکن یہ ہرگز ضرور نہیں کہ ہر جگہ تقدس اور پاک باطنی کلامِ الٰہی کے نازل ہونے کو مستلزم ہو بلکہ خدائے تعالیٰ کی حقانی شریعت اور تعلیم کا نازل ہونا ضروراتِ حقہ سے وابستہ ہے۔ پس جس جگہ ضرورات حقہ پیدا ہو گئیں اور زمانہ کی اصلاح کے لئے واجب معلوم ہوا کہ کلام الٰہی نازل ہو اُسی زمانہ میں خدائے تعالیٰ نے جو حکیم مطلق ہے اپنے کلام کو نازل کیا اور کسی دوسرے زمانہ میں گو لاکھوں آدمی تقویٰ اور طہارت کی صفت سے متصف ہوں اور گو کیسی ہی تقدس اور پاک باطنی رکھتے ہوں ان پر خدا کا وہ کامل کلام ہرگز نازل نہیں ہوتا کہ جو شریعت حقانی پر مشتمل ہو۔ ہاں مکالمات و مخاطبات حضرت احدیت کے بعض پاک باطنوں سے ہو جاتے ہیں۔ اور وہ بھی اُس وقت کہ جب حکمتِ الٰہیہ کے نزدیک ان مکالمات اور مخاطبات کے لئے کوئی ضرورت حقہ پیدا ہو اور اِن دونوں طور کی ضرورتوں میں فرق یہ ہے کہ شریعت حقانی کا نازل ہونا اس ضرورت کے وقت پیش آتا ہے کہ جب دنیا کے لوگ بباعث ضلالت اور گمراہی کے جادۂ استقامت سے منحرف ہو گئے ہوں اور اُن کے راہ راست پر لانے کے لئے ایک نئی شریعت کی حاجت ہو کہ جو ان کی آفات ِموجودہ کا بخوبی تدارک کر سکے اور ان کی تاریکی اور ظلمت کو اپنے کامل اور شافی بیان کے نور سے بکلّی اٹھا سکے۔ اور جس طور کا علاج حالت فاسدہ زمانہ کے لئے درکار ہے وہ علاج اپنے پُر زور بیان سے کر سکے لیکن جو مکالمات و مخاطبات اولیاء اللہ کے ساتھ ہوتے ہیں اُن کے لئے غالبًا اس ضرورتِ عظمٰی کا پیش آنا ضروری نہیں بلکہ بسا اوقات صرف اُسی قدر ان مکالمات سے مطلب ہوتا ہے کہ تا ولی کے نفس کو کسی مصیبت اور محنت کے وقت صبر اور استقامت کے لباس سے متحلی کیا جائے یا کسی غم اور حزن کے غلبہ میں کوئی بشارت اس کو دی جائے۔ مگر وہ کامل اور پاک کلام خدائے تعالیٰ کا کہ جو نبیوں اور رسولوں پر نازل ہوتا ہے وہ جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا ہے اس ضرورتِ حقہ کے پیش آنے پر نزول فرماتا ہے کہ جب خلق اللہ کو اُس کے نزول کی بشدت حاجت ہو۔ غرض کلام الٰہی کے نازل ہونے کا اصل موجب ضرورت حقہ ہے۔ جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ جب تمام رات کا اندھیر ہو جاتا ہے اور کچھ نور باقی نہیں رہتا تو اُسی وقت تم سمجھ جاتے ہو کہ اَب ماہِ نو کی آمدنزدیک ہے اِسی طرح جب گمراہی کی ظلمت سخت طور پر دنیا پر غالب آ جاتی ہے تو عقلِ سلیم اس رُوحانی چاند کے نکلنے کو بہت نزدیک سمجھتی ہے۔ ایسا ہی جب امساکِ باراں سے لوگوں کا حال تباہ ہو جاتا ہے تو اس وقت عقلمند لوگ بارانِ رحمت کا نازل ہونا بہت قریب خیال کرتے ہیں اور جیسا کہ خدا نے اپنے جسمانی قانون میں بھی بعض مہینے برسات کے لئے مقرر کر رکھے ہیں یعنی وہ مہینے جن میں فی الحقیقت مخلوق اللہ کو بارش کی ضرورت ہوتی ہے اور ان مہینوں میں جو مینہہ برستا ہے اُس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاتا کہ خاص ان مہینوں میں لوگ زیادہ نیکی کرتے ہیں اور دوسرے مہینوں میں فسق و فجور میں مبتلا رہتے ہیں بلکہ یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ وہ مہینے ہیں جن میں زمین داروں کو بارش کی ضرورت ہے اور جن میں بارش کا ہو جانا تمام سال کی سر سبزی کا موجب ہے۔ ایسا ہی کلامِ الٰہی کا نزول فرمانا کسی شخص کی طہارت اور تقویٰ کی جہت سے نہیں ہے۔ یعنی علّت موجبہ اس کلام کے نزول کی یہ نہیں ہو سکتی کہ کوئی شخص غایت درجہ کا مقدس اور پاک باطن تھا یا راستی کا بھوکا اور پیاسا تھا بلکہ جیسا کہ ہم کئی دفعہ لکھ چکے ہیں کُتبِ آسمانی کے نزول کا اصلی موجب ضرورتِ حقہ ہے۔ یعنی وہ ظلمت اور تاریکی کہ جو دنیا پر طاری ہو کر ایک آسمانی نور کو چاہتی ہے کہ تا وہ نور نازل ہو کر اس تاریکی کو دُور کرے۔ اور اِسی کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ جو خدائے تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں فرمایا ہے۔ اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الۡقَدۡرِ یہ لیلۃ القدر اگرچہ اپنے مشہور معنوں کی رُو سے ایک بزرگ رات ہے لیکن قرآنی اشارات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی ظلمانی حالت بھی اپنی پوشیدہ خوبیوں میں لیلۃ القدر کا ہی حکم رکھتی ہے اور اس ظلمانی حالت کے دنوں میں صدق اور صبر اور زہد اور عبادت خدا کے نزدیک بڑا قدر رکھتا ہے۔ اور وہی ظلمانی حالت تھی کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعثت کے وقت تک اپنے کمال کو پہنچ کر ایک عظیم الشان نور کے نزول کو چاہتی تھی اور اسی ظلمانی حالت کو دیکھ کر اور ظلمت زدہ بندوں پر رحم کر کے صفت رحمانیت نے جوش مارا اور آسمانی برکتیں زمین کی طرف متوجہ ہوئیں سو وہ ظلمانی حالت دنیا کے لئے مبارک ہو گئی اور دنیا نے اس سے ایک عظیم الشان رحمت کا حصہ پایا کہ ایک کامل انسان اور سیّد الرسل کہ جس سا کوئی پیدا نہ ہوا اور نہ ہو گا دنیا کی ہدایت کے لئے آیا اور دنیا کے لئے اس روشن کتاب کو لایا جس کی نظیر کسی آنکھ نے نہیں دیکھی۔ پس یہ خدا کی کمال رحمانیت کی ایک بزرگ تجلی تھی کہ جو اس نے ظلمت اور تاریکی کے وقت ایسا عظیم الشان نور نازل کیا جس کا نام فرقان ہے جو حق اور باطل میں فرق کرتا ہے جس نے حق کو موجود اور باطل کو نابود کر کے دکھلا دیا۔ وہ اس وقت زمین پر نازل ہوا جب زمین ایک موت روحانی کے ساتھ مر چکی تھی اور بر اور بحر میں ایک بھاری فساد واقع ہو چکا تھا۔ پس اُس نے نزول فرما کر وہ کام کر دکھایا جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے آپ اشارہ فرما کر کہا ہے اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یُحۡیِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا یعنی زمین مر گئی تھی اب خدا اُس کو نئے سِرے زندہ کرتا ہے۔ اب اس بات کو بخوبی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ نزول قرآن شریف کا کہ جو زمین کے زندہ کرنے کے لئے ہوا یہ صفت رحمانیت کے جوش سے ہوا۔ وہی صفت ہے کہ جو کبھی جسما نی طور پر جوش مار کر قحط زدوں کی خبر لیتی ہے اور بارانِ رحمت خشک زمین پر برساتی ہے اور وہی صفت کبھی رُوحانی طور پر جوش مار کر ان بھوکوں اور پیاسوں کی حالت پر رحم کرتی ہے کہ جو ضلالت اور گمراہی کی موت تک پہنچ جاتے ہیں اور حق اور صداقت کی غذا کہ جو روحانی زندگی کا موجب ہے ان کے پاس نہیں رہتی پس رحمانِ مطلق جیسا جسم کی غذا کو اس کی حاجت کے وقت عطا فرماتا ہے ایسا ہی وہ اپنی رحمتِ کاملہ کے تقاضا سے روحانی غذا کو بھی ضرورتِ حقہ کے وقت مہیّا کر دیتا ہے۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ خدا کا کلام اُنہیں برگزیدہ لوگوں پر نازل ہوتا ہے جن سے خدا راضی ہے اور اُنہیں سے وہ مکالمات اور مخاطبات کرتا ہے جن سے وہ خوش ہے۔ مگر یہ بات ہرگز درست نہیں کہ جس سے خدا راضی اور خوش ہو اُس پر خواہ نخواہ بغیر کسی ضرورتِ حقہ کے کتاب آسمانی نازل ہو جایا کرے یا خدائے تعالیٰ یونہی بلاضرورتِ حقہ کسی کی طہارت لازمی کی وجہ سے لازمی اور دائمی طور پر اس سے ہر وقت باتیں کرتا رہے بلکہ خدا کی کتاب اُسی وقت نازل ہوتی ہے کہ جب فی الحقیقت اس کے نزول کی ضرورت پیش آ جائے۔ اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ وحی اللہ کے نزول کا اصل موجب خدائے تعالیٰ کی رحمانیت ہے کسی عامل کا عمل نہیں اور یہ ایک بزرگ صداقت ہے جس سے ہمارے مخالف برہمو وغیرہ بے خبر ہیں۔
پھر بعد اس کے سمجھنا چاہئے کہ کسی فردِ انسانی کا کلام الٰہی کے فیض سے فی الحقیقت مستفیض ہو جانا اور اس کی برکات اور انوار سے متمتع ہو کر منزلِ مقصود تک پہنچنا اور اپنی سعی اور کوشش کے ثمرہ کو حاصل کرنا یہ صفت رحیمیت کی تائید سے وقوع میں آتا ہے اور اِسی جہت سے خدائے تعالیٰ نے بعد ذکر صفت رحمانیت کے صفت رحیمیت کو بیان فرمایا تا معلوم ہو کہ کلام الٰہی کی تاثیریں جو نفوسِ انسانیہ میں ہوتی ہیں یہ صفت رحیمیت کا اثر ہے جس قدر کوئی اعراض صوری و معنوی سے پاک ہو جاتا ہے جس قدر کسی کے دل میں خلوص اور صدق پیدا ہو جاتا ہے جس قدر کوئی جدوجہد سے متابعت اختیار کرتا ہے اُسی قدر کلامِ الٰہی کی تاثیر اس کے دل پر ہوتی ہے اور اُسی قدر وہ اس کے انوار سے متمتع ہوتا ہے اور علاماتِ خاصہ مقبولانِ الٰہی کی اُس میں پیدا ہو جاتی ہیں۔
دوسری صداقت کہ جو بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ میں مودع ہے یہ ہے کہ یہ آیت قرآن شریف کے شروع کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے اور اس کے پڑھنے سے مدعا یہ ہے کہ تا اس ذات مستجمع جمیع صفات کاملہ سے مدد طلب کی جائے جس کی صفتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ رحمان ہے اور طالب حق کے لئے محض تفضّل اور احسان سے اسباب خیرا ور برکت اور رشد کے پیدا کر دیتا ہے اور دوسری صفت یہ ہے کہ وہ رحیم ہے یعنی سعی اور کوشش کرنے والوں کی کوشش کو ضائع نہیں کرتا بلکہ اُن کی جدوجہد پر ثمراتِ حسنہ مترتب کرتا ہے اور ان کی محنت کا پھل اُن کو عطا فرماتا ہے اور یہ دونوں صفتیں یعنی رحمانیت اور رحیمیت ایسی ہیں کہ بغیر ان کے کوئی کام دنیا کا ہو یا دین کا انجام کو پہنچ نہیں سکتا اور اگر غور کر کے دیکھو تو ظاہر ہو گا کہ دنیا کی تمام مہمّات کے انجام دینے کے لئے یہ دونوں صفتیں ہر وقت اور ہر لحظہ کام میں لگی ہوئی ہیں۔ خدا کی رحمانیت اس وقت سے ظاہر ہو رہی ہے کہ جب انسان ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ سو وہ رحمانیت انسان کے لئے ایسے ایسے اسباب بہم پہنچاتی ہے کہ جو اس کی طاقت سے باہر ہیں اور جن کو وہ کسی حیلہ یا تدبیر سے ہرگز حاصل نہیں کر سکتا اور وہ اسباب کسی عمل کی پاداش میں نہیں دیئے جاتے بلکہ تفضل اور احسان کی راہ سے عطا ہوتے ہیں۔ جیسے نبیوں کا آنا۔ کتابوں کا نازل ہونا۔ بارشوں کا ہونا۔ سورج اور چاند اور ہوا اور بادل وغیرہ کا اپنے اپنے کاموں میں لگے رہنا اور خود انسان کا طرح طرح کی قوتوں اور طاقتوں کے ساتھ مشرف ہو کر اس دنیا میں آنا اور تندرستی اور امن اور فرصت اور ایک کافی مدت تک عمر پانا۔ یہ وہ سب امور ہیں کہ جو صفت رحمانیت کے تقاضا سے ظہور میں آتے ہیں۔ اِسی طرح خدا کی رحیمیت تب ظہور کرتی ہے کہ جب انسان سب توفیقوں کو پا کر خدا داد قوتوں کو کسی فعل کے انجام کے لئے حرکت دیتا ہے اور جہاں تک اپنا زور اور طاقت اور قوت ہے خرچ کرتا ہے تو اس وقت عادتِ الٰہیہ اس طرح پر جاری ہے کہ وہ اس کی کوششوں کو ضائع ہونے نہیں دیتا بلکہ اُن کوششوں پر ثمراتِ حسنہ مترتب کرتا ہے۔ پس یہ اس کی سراسر رحیمیت ہے کہ جو انسان کی مردہ محنتوں میں جان ڈالتی ہے۔ اب جاننا چاہئے کہ آیتِ ممدوحہ کی تعلیم سے مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف کے شروع کرنے کے وقت اللہ تعالیٰ کی ذات جامع صفاتِ کاملہ کی رحمانیت اور رحیمیت سے استمداد اور برکت طلب کی جائے۔ صفت رحمانیت سے برکت طلب کرنا اس غرض سے ہے کہ تا وہ ذات کامل اپنی رحمانیت کی وجہ سے اُن سب اسباب کو محض لطف اور احسان سے میسر کر دے کہ جو کلام الٰہی کی متابعت میں جدوجہد کرنے سے پہلے درکار ہیں۔ جیسے عمر کا وفا کرنا۔ فرصت اور فراغت کا حاصل ہونا۔ وقتِ صفا میسرآجانا طاقتوں اور قوتوں کا قائم ہونا۔ کوئی ایسا امر پیش نہ آجانا کہ جو آسائش اور امن میں خلل ڈالے۔ کوئی ایسا مانع نہ آپڑنا کہ جو دل کو متوجہ ہونے سے روک دے۔ غرض ہر طرح سے توفیق عطا کئے جانایہ سب امور صفتِ رحمانیت سے حاصل ہوتے ہیں۔ اور صفت رحیمیت سے برکت طلب کرنا اس غرض سے ہے کہ تا وہ ذاتِ کامل اپنی رحیمیت کی وجہ سے انسان کی کوششوں پر ثمراتِ حسنہ مترتب کرے۔ اور انسان کی محنتوں کو ضائع ہونے سے بچاوے اور اس کی سعی اور جدوجہد کے بعد اس کے کام میں برکت ڈالے۔ پس اِس طور پر خدائے تعالیٰ کی دونوں صفتوں رحمانیت اور رحیمیت سے کلام الٰہی کے شروع کرنے کے وقت بلکہ ہریک ذیشان کام کے ابتداء میں تبرک اور استمداد چاہنا یہ نہایت اعلیٰ درجہ کی صداقت ہے جس سے انسان کو حقیقت توحید کی حاصل ہوتی ہے اور اپنے جہل اور بے خبری اور نادانی اور گمراہی اور عاجزی اور خواری پر یقین کامل ہو کر مبدء فیض کی عظمت اور جلال پر نظر جا ٹھہرتی ہے اور اپنے تئیں بکلّی مفلس اور مسکین اور ہیچ اور ناچیز سمجھ کر خداوند قادرِ مطلق سے اُس کی رحمانیت اور رحیمیت کی برکتیں طلب کرتا ہے اور اگرچہ خدائے تعالیٰ کی یہ صفتیں خود بخود اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں مگر اس حکیم مطلق نے قدیم سے انسان کے لئے یہ قانون قدرت مقرر کر دیا ہے کہ اس کی دُعا اور استمداد کو کامیابی میں بہت سا دخل ہے۔ جو لوگ اپنی مہمات میں دلی صدق سے دعا مانگتے ہیں اور ان کی دُعا پورے پورے اخلاص تک پہنچ جاتی ہے تو ضرور فیضان الٰہی اُن کی مشکل کشائی کی طرف توجہ کرتا ہے ہریک انسان جو اپنی کمزوریوں پر نگاہ کرتا ہے اور اپنے قصوروں کو دیکھتا ہے وہ کسی کام پر آزادی اور خود بینی سے ہاتھ نہیں ڈالتا بلکہ سچی عبودیت اس کو یہ سمجھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کہ جو متصرف مطلق ہے اُس سے مدد طلب کرنی چاہئے۔ یہ سچی عبودیت کا جوش ہر یک ایسے دل میں پایا جاتا ہے کہ جو اپنی فطرتی سادگی پر قائم ہے۔ اور اپنی کمزوری پر اطلاع رکھتا ہے۔ پس صادق آدمی جس کے رُوح میں کسی قسم کے غرور اور عجُب نے جگہ نہیں پکڑی اور جو اپنے کمزور اور ہیچ اور بے حقیقت وجود پر خوب واقف ہے اور اپنے تئیں کسی کام کے انجام دینے کے لائق نہیں پاتا اور اپنے نفس میں کچھ قوت اور طاقت نہیں دیکھتا جب کسی کام کو شروع کرتا ہے تو بلا تصنع اُس کی کمزور رُوح آسمانی قوت کی خواستگار ہوتی ہے اور ہر وقت اس کو خدا کی مقتدر ہستی اپنے سارے کمال و جلال کے ساتھ نظر آتی ہے اور اس کی رحمانیت اور رحیمیت ہر یک کام کے انجام کے لئے مدار دکھلائی دیتی ہے۔ پس وہ بلاساختہ اپنا ناقص اور ناکارہ زور ظاہر کرنے سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کی دُعا سے امدادِ الٰہی چاہتا ہے پس اس انکسار اور فروتنی کی وجہ سے اس لائق ہو جاتا ہے کہ خدا کی قوت سے قوت اور خدا کی طاقت سے طاقت اور خدا کے علم سے علم پاوے اور اپنی مرادات میں کامیابی حاصل کرے۔ اس بات کے ثبوت کے واسطے کسی منطق یا فلسفہ کے دلائل پُر از تکلّف درکار نہیں ہیں بلکہ ہر یک انسان کے رُوح میں اس کے سمجھنے کی استعداد موجود ہے اور عارفِ صادق کے اپنے ذاتی تجارب اس کی صحت پر بہ تواتر شہادت دیتے ہیں۔ بندہ کا خدا سے امداد چاہنا کوئی ایسا امر نہیں ہے جو صرف بے ہودہ اور بناوٹ ہو یا جو صرف بے اصل خیالات پر مبنی ہو اور کوئی معقول نتیجہ اس پر مترتب نہ ہو بلکہ خداوند کریم کہ جو فی الحقیقت قیوم عالم ہے اور جس کے سہارے پر سچ مچ اس عالم کی کشتی چل رہی ہے اس کی عادتِ قدیمہ کے رو سے یہ صداقت قدیم سے چلی آتی ہے کہ جو لوگ اپنے تئیں حقیر اور ذلیل سمجھ کر اپنے کاموں میں اُس کا سہارا طلب کرتے ہیں اور اس کے نام سے اپنے کاموں کو شروع کرتے ہیں تو وہ اُن کو اپنا سہارا دیتا ہے جب وہ ٹھیک ٹھیک اپنی عاجزی اور عبودیت سے رو بخدا ہو جاتے ہیں تو اُس کی تائیدیں اُن کے شامل حال ہو جاتی ہیں۔ غرض ہر یک شاندار کام کے شروع میں اُس مبدء فیوض کے نام سے مدد چاہنا کہ جو رحمان و رحیم ہے ایک نہایت ادب اور عبودیت اور نیستی اور فقر کا طریقہ ہے اور ایسا ضروری طریقہ ہے کہ جس سے توحید فی الاعمال کا پہلا زینہ شروع ہوتا ہے جس کے التزام سے انسان بچوں کی سی عاجزی اختیار کرکے ان نخوتوں سے پاک ہو جاتا ہے کہ جو دنیا کے مغرور دانشمندوں کے دلوں میں بھری ہوتی ہیں۔ اور پھر اپنی کمزوری اور امداد الٰہی پر یقین کامل کر کے اِس معرفت سے حصہ پالیتا ہے کہ جو خاص اہل اللہ کو دی جاتی ہے اور بلا شبہ جس قدر انسان اس طریقہ کو لازم پکڑتا ہے جس قدر اس پر عمل کرنا اپنا فرض ٹھہرا لیتا ہے جس قدر اس کے چھوڑنے میں اپنی ہلاکت دیکھتا ہے اُسی قدر اس کی توحید صاف ہوتی ہے اور اُسی قدر عُجب اور خود بینی کی آلائشوں سے پاک ہوتا جاتا ہے اور اُسی قدر تکلف اور بناوٹ کی سیاہی اس کے چہرہ پر سے اُٹھ جاتی ہے اور سادگی اور بھولاپن کا نور اس کے منہ پر چمکنے لگتا ہے۔ پس یہ وہ صداقت ہے کہ جو رفتہ رفتہ انسان کو فنا فی اللہ کے مرتبہ تک پہنچاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ دیکھتا ہے کہ میرا کچھ بھی اپنا نہیں بلکہ سب کچھ مَیں خدا سے پاتا ہوں۔ جہاں کہیں یہ طریق کسی نے اختیار کیا وہیں توحید کی خوشبو پہلی دفعہ میں ہی اس کو پہنچنے لگتی ہے اور دل اور دماغ کا معطّر ہونا شروع ہوتا جاتا ہے۔ بشرطیکہ قوتِ شامہ میں کچھ فسادنہ ہو۔ غرض اس صداقت کے التزام میں طالب صادق کو اپنے ہیچ اور بے حقیقت ہونے کا اقرار کرنا پڑتا ہے اور اللہ جلّ شانہِٗ کے متصرف مطلق اور مبدء فیوض ہونے پر شہادت دینی پڑتی ہے۔ اور یہ دونوں ایسے امر ہیں کہ جو حق کے طالبوں کا مقصود ہے اور مرتبۂ فنا کے حاصل کرنے کے لئے ایک ضروری شرط ہے۔ اس ضروری شرط کے سمجھنے کے لئے یہی مثال کافی ہے کہ بارش اگرچہ عالمگیر ہو مگر تاہم اس پر پڑتی ہے کہ جو بارش کے موقعہ پر آ کھڑا ہوتا ہے۔ اسی طرح جو لوگ طلب کرتے ہیں وہی پاتے ہیں اور جو ڈھونڈتے ہیں اُنہیں کو ملتا ہے۔ جو لوگ کسی کام کے شروع کرنے کے وقت اپنے ہنر یا عقل یا طاقت پر بھروسہ رکھتے ہیں اور خدائے تعالیٰ پر بھروسہ نہیں رکھتے وہ اس ذات قادر مطلق کا کہ جو اپنی قیّومی کے ساتھ تمام عالم پر محیط ہے کچھ قدر شناخت نہیں کرتے اور ان کا ایمان اُس خشک ٹہنی کی طرح ہوتا ہے کہ جس کو اپنے شاداب اور سرسبز درخت سے کچھ علاقہ نہیں رہا اور جو ایسی خشک ہو گئی ہے کہ اپنے درخت کی تازگی اور پھول اور پھل سے کچھ بھی حصّہ حاصل نہیں کرسکتے۔ صرف ظاہری جوڑ ہے جو ذرا سی جنبش ہو اسے یا کسی اَور شخص کے ہلانے سے ٹوٹ سکتا ہے۔ پس ایسا ہی خشک فلسفیوں کا ایمان ہے کہ جو قیوّمِ عالم کے سہارے پر نظر نہیں رکھتے اور اس مبدء فیوض کو جس کا نام اللہ ہے ہر یک طرفۃ العین کے لئے اور ہر حال میں اپنا محتاج الیہ قرار نہیں دیتے پس یہ لوگ حقیقی توحید سے ایسے دُور پڑے ہوئے ہیں جیسے نُور سے ظلمت دُور ہے۔ انہیں یہ سمجھ ہی نہیں کہ اپنے تئیں ہیچ اور لاشئے سمجھ کر قادر مطلق کی طاقتِ عظمٰی کے نیچے آ پڑنا عبودیت کے مراتب کی آخری حد ہے اور توحید کا انتہائی مقام ہے جس سے فناء اتم کا چشمہ جوش مارتا ہے اور انسان اپنے نفس اور اُس کے ارادوں سے بالکل کھویا جاتا ہے او ر سچے دل سے خدا کے تصرف پر ایمان لاتا ہے۔ اس جگہ اُن خشک فلسفیوں کے اس مقولہ کو بھی کچھ چیز نہیں سمجھنا چاہئے کہ جو کہتے ہیں کہ کسی کام کے شروع کرنے میں استمداد الٰہی کی کیا حاجت ہے۔ خدا نے ہماری فطرت میں پہلے سے طاقتیں ڈال رکھی ہیں پس ان طاقتوں کے ہوتے ہوئے پھر دوبارہ خدا سے طاقت مانگنا تحصیل حاصل ہے کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ بے شک یہ بات سچ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے بعض افعال کے بجا لانے کے لئے کچھ کچھ ہم کو طاقتیں بھی دی ہیں مگر پھر بھی اس قیوم عالم کی حکومت ہمارے سر پر سے دُور نہیں ہوئی اور وہ ہم سے الگ نہیں ہوا اور اپنے سہارے سے ہم کو جُدا کرنا نہیں چاہا اور اپنے فیوض غیر متناہی سے ہم کو محروم کرنا روا نہیں رکھا۔ جو کچھ ہم کو اُس نے دیا ہے وہ ایک امر محدود ہے اور جو کچھ اس سے مانگا جاتا ہے اُس کی نہایت نہیں۔ علاوہ اس کے جو کام ہماری طاقت سے باہر ہیں ان کے حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی ہم کو طاقت نہیں دی گئی۔ اب اگر غور کر کے دیکھو اور ذرا پوری فلسفیت کو کام میں لاؤ تو ظاہر ہو گا کہ کامل طور پر کوئی بھی طاقت ہم کو حاصل نہیں مثلاً ہماری بدنی طاقتیں ہماری تندرستی پر موقوف ہیں اور ہماری تندرستی بہت سے ایسے اسباب پر موقوف ہے کہ کچھ ان میں سے سماوی اور کچھ ارضی ہیں اور وہ سب کی سب ہماری طاقت سے بالکل باہر ہیں اور یہ تو ہم نے ایک موٹی سی بات عام لوگوں کی سمجھ کے موافق کہی ہے لیکن جس قدر درحقیقت وہ قیوم عالم اپنے علت العلل ہونے کی وجہ سے ہمارے ظاہر اور ہمارے باطن اور ہمارے اول اور ہمارے آخر اور ہمارے فوق اور ہمارے تحت اور ہمارے یمین اور ہمارے یسار اور ہمارے دل اور ہماری جان اور ہمارے رُوح کی تمام طاقتوں پر احاطہ کر رہا ہے وہ ایک ایسا مسئلہ دقیق ہے جس کے کنہ تک عقول بشریہ پہنچ ہی نہیں سکتیں۔ اور اُس کے سمجھانے کی اس جگہ ضرورت بھی نہیں کیونکہ جس قدر ہم نے اوپرلکھا ہے وہی مخالف کے الزام اور افہام کے لئے کافی ہے۔ غرض قیّوم عالم کے فیوض حاصل کرنے کا یہی طریق ہے کہ اپنی ساری قوت اور زور اور طاقت سے اپنا بچاؤ طلب کیا جائے۔ اور یہ طریق کچھ نیا طریق نہیں ہے بلکہ یہ وہی طریق ہے جو قدیم سے بنی آدم کی فطرت کے ساتھ لگا چلا آتا ہے۔ جو شخص عبودیت کے طریقہ پر چلنا چاہتا ہے وہ اسی طریق کو اختیار کرتا ہے اور جو شخص خدا کے فیوض کا طالب ہے وہ اِسی راستے پر قدم مارتا ہے اور جو شخص موردِ رحمت ہونا چاہتا ہے وہ انہی قوانینِ قدیمہ کی تعمیل کرتا ہے۔ یہ قوانین کچھ نئے نہیں ہیں۔ یہ عیسائیوں کے خدا کی طرح کچھ مستحدث بات نہیں بلکہ خدا کا یہ ایک قانونِ محکم ہے کہ جو قدیم سے بندھا ہوا چلا آتا ہے اور سُنت اللہ ہے کہ جو ہمیشہ سے جاری ہے جس کی سچائی کثرت تجارب سے ہر یک طالبِ صادق پر روشن ہے … فی الحقیقت ہر یک برکت اِسی راہ سے آتی ہے کہ وہ ذات جو متصرف مطلق اور علّت العلل اور تمام فیوض کا مبدء ہے جس کا نام قرآن شریف کی اصطلاح میں اللہ ہے خود متوجہ ہو کر اوّل اپنی صفت رحمانیت کو ظاہر کرے اور جوکچھ قبل از سعی درکار ہے اُس کو محض اپنے تفضل اور احسان سے بغیر توسط عمل کے ظہور میں لاوے پھر جب وہ صفت رحمانیت کی اپنے کام کو بہ تمام و کمال کر چکے اور انسان توفیق پا کر اپنی قوتوں کے ذریعہ سے محنت اور کوشش کا حق بجا لاوے تو پھر دوسرا کام اللہ تعالیٰ کا یہ ہے کہ اپنی صفت رحیمیت کو ظاہر کرے اور جو کچھ بندہ نے محنت اور کوشش کی ہے اُس پر نیک ثمرہ مترتب کرے اور اُس کی محنتوں کو ضائع ہونے سے بچا کر گوہر مراد عطا فرماوے۔ اِسی صفت ثانی کی رُو سے کہا گیا ہے کہ جو ڈھونڈتا ہے پاتا ہے جو مانگتا ہے اس کو دیا جاتا ہے جو کھٹکھٹاتا ہے اُس کے واسطے کھولا جاتا ہے ……… یہ شبہ کرنا کہ یہ استعانت بعض اوقات کیوں بے فائدہ اور غیر مفید ہوتی ہے اور کیوں خدا کی رحمانیت و رحیمیت ہر یک وقت استعانت میں تجلی نہیں فرماتی۔ پس یہ شبہ صرف ایک صداقت کی غلط فہمی ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ ان دعاؤں کو کہ جو خلوص کے ساتھ کی جائیں ضرور سنتا ہے اور جس طرح مناسب ہو مدد چاہنے والوں کے لئے مدد بھی کرتا ہے۔ مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کی استمداد اور دُعا میں خلوص نہیں ہوتا نہ انسان دلی عاجزی کے ساتھ امدادِ الٰہی چاہتا ہے اور نہ اس کی روحانی حالت درست ہوتی ہے۔ بلکہ اُس کے ہونٹوں میں دعا اور اُس کے دل میں غفلت یا ریا ء ہوتی ہے یا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا اس کی دُعا کو سن تو لیتا ہے اور اس کے لئے جو کچھ اپنی حکمت کاملہ کے رُو سے مناسب اور اصلح دیکھتا ہے عطا بھی فرماتا ہے لیکن نادان انسان خدا کی ان الطافِ خفیہ کو شناخت نہیں کرتا اور بباعث اپنے جہل اور بے خبری کے شکوہ اور شکایت شروع کر دیتا ہے اور اس آیت کے مضمون کو نہیں سمجھتا اَنۡ تَکۡرَہُوۡا شَیۡئًا وَّہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ۚ وَعَسٰۤی اَنۡ تُحِبُّوۡا شَیۡئًا وَّہُوَ شَرٌّ لَّکُمۡ ؕ وَاللّٰہُ یَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ یعنی یہ ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو بُری سمجھو اور وہ اصل میں تمہارے لئے اچھی ہو۔ اور ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو دوست رکھو اور وہ اصل میں تمہارے لئے بُری ہو۔ اور خدا چیزوں کی اصل حقیقت کو جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
اب ہماری اس تمام تقریر سے واضح ہے کہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کس قدر عالی شان صداقت ہے جس میں حقیقی توحید اور عبودیت اور خلوص میں ترقی کرنے کا نہایت عمدہ سامان موجود ہے جس کی نظیر کسی اور کتاب میں نہیں پائی جاتی۔ اور اگر کسی کے زعم میں پائی جاتی ہے تو وہ اِس صداقت کو معہ تمام دوسری صداقتوں کے جو ہم نیچے لکھتے ہیں نکال کر پیش کرے۔
اس جگہ بعض کوتہ اندیش اور نادان دشمنوں نے ایک اعتراض بھی بسم اللہ کی بلاغت پر کیا ہے۔ ان معترضین میں سے ایک صاحب تو پادری عماد الدین نام ہیں جس نے اپنی کتاب ہدایت المسلمین میں اعتراض مندرجہ ذیل لکھا ہے۔ دوسرے صاحب باوا نرائن سنگھ نام وکیل امرتسری ہیں جنہوں نے پادری کے اعتراض کو سچ سمجھ کر اپنے دلی عناد کے تقاضا کی وجہ سے وہی پوچ اعتراض اپنے رسالہ ودّیا پرکاشک میں درج کر دیا ہے۔ سو ہم اس اعتراض کو معہ جواب اس کے کے لکھنا مناسب سمجھتے ہیں تا منصفین کو معلوم ہو کہ فرط تعصب نے ہمارے مخالفین کو کس درجہ کی کور باطنی اور نابینائی تک پہنچا دیا ہے کہ جو نہایت درجہ کی روشنی ہے۔ وہ ان کو تاریکی دکھائی دیتی ہے اور جو اعلیٰ درجہ کی خوشبو ہے وہ اُس کو بدبو تصوّر کرتے ہیں۔ سو اب جاننا چاہئے کہ جو اعتراض بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کی بلاغت پر مذکورہ بالا لوگوں نے کیا ہے وہ یہ ہے کہ الرحمن الرحیم جو بسم اللہ میں واقع ہے یہ فصیح طرز پر نہیں۔ اگر رحیم الرحمن ہوتا تو یہ فصیح اور صحیح طرز تھی کیونکہ خدا کا نام رحمن باعتبار اس رحمت کے ہے کہ جو اکثر اور عام ہے اور رحیم کا لفظ بہ نسبت رحمن کے اس رحمت کے لئے آتا ہے کہ جو قلیل اور خاص ہے۔ اور بلاغت کا کام یہ ہے کہ قلّت سے کثرت کی طرف انتقال ہو نہ یہ کہ کثرت سے قلّت کی طرف۔
یہ اعتراض ہے کہ ان دونوں صاحبوں نے اپنی آنکھیں بند کر کے اس کلام پر کیا ہے جس کلام کی بلاغت کو عرب کے تمام اہل زبان جن میں بڑے بڑے شاعر بھی تھے باوجود سخت مخالفت کے تسلیم کر چکے ہیں بلکہ بڑے بڑے معاند اس کلام کی شانِ عظیم سے نہایت درجہ تعجب میں پڑ گئے اور اکثر اُن میں سے کہ جو فصیح اور بلیغ کلام کے اسلوب کو بخوبی جاننے پہچاننے والے اور مذاقِ سخن سے عارف اور باانصاف تھے وہ طرزِ قرآنی کو طاقتِ انسانی سے باہر دیکھ کر ایک معجزہ عظیم یقین کر کے ایمان لے آئے۔ جن کی شہادتیں جا بجا قرآن شریف میں درج ہیں ……… افسوس یہ کہ اس نادان عیسائی کو اب تک یہ بھی خبر نہیں کہ بلاغت حقیقی اس امر میں محدودنہیں کہ قلیل کو کثیر پر ہر جگہ اور ہر محل میں خواہ نخواہ مقدم رکھا جائے بلکہ اصل قاعدہ بلاغت کا یہ ہے کہ اپنے کلام کو واقعی صورت اور مناسب وقت کا آئینہ بنایا جاوے۔ سو اس جگہ بھی رحمان کو رحیم پر مقدّم کرنے میں کلام کو واقعی صورت اور ترتیب کا آئینہ بنایا گیا ہے۔ چنانچہ اس ترتیب طبعی کا مفصّل ذکر ابھی سورۃ فاتحہ کی آئندہ آیتوں میں آوے گا۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۴۱۴ تا۴۳۵ حاشیہ نمبر ۱۱)ایک خاصہ روحانی سورۃ فاتحہ میں یہ ہے کہ دلی حضور سے اپنی نماز میں اس کو ورد کر لینا اور اُس کی تعلیم کو فی الحقیقت سچ سمجھ کر اپنے دل میں قائم کر لینا تنویر باطن میں نہایت دخل رکھتا ہے یعنی اس سے انشراح خاطر ہوتا ہے اور بشریت کی ظلمت دور ہوتی ہے اور حضرت مبدء فیوض کے فیوض انسان پر وارد ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ اور قبولیتِ الٰہی کے انوار اس پر احاطہ کر لیتے ہیں یہاں تک کہ وہ ترقی کرتا کرتا مخاطباتِ الٰہیہ سے سرفراز ہو جاتا ہے اور کشوف صادقہ اور الہامات واضحہ سے تمتع تام حاصل کرتا ہے اور حضرت الوہیت کے مقربین میں دخل پا لیتا ہے اور وہ وہ عجائبات القائے غیبی اور کلام لاریبی اور استجابتِ ادعیہ اور کشفِ مغیبات اور تائید حضرت قاضی الحاجات اُس سے ظہور میں آتی ہیں کہ جس کی نظیر اس کے غیر میں نہیں پائی جاتی۔ اگر مخالفین اس سے انکار کریں اور غالباً انکار ہی کریں گے تو اس کا ثبوت اس کتاب میں دیا گیا ہے۔ اور یہ احقر ہر یک طالب حق کی تسلّی کرنے کو طیار ہے اور نہ صرف مخالفین کو بلکہ اسمی اور رسمی موافقین کو بھی جو بظاہر مسلمان ہیں مگر محجوب مسلمان اور قالب بے جان ہیں جن کو اس پُر ظلمت زمانہ میں آیاتِ سماویہ پر یقین نہیں رہا۔ اور الہاماتِ حضرتِ احدیت کو محال خیال کرتے ہیں۔ اور از قبیل اوہام اور وساوس قرار دیتے ہیں۔ جنہوں نے انسان کی ترقیات کا نہایت تنگ اور منقبض دائرہ بنا رکھا ہے کہ جو صرف عقلی اٹکلوں اور قیاسی ڈھکوسلوں پر ختم ہوتا ہے اور دوسری طرف خدائے تعالیٰ کو بھی نہایت درجہ کا کمزور اور ضعیف سا خیال کر رہے ہیں۔ سو یہ عاجز ان سب صاحبوں کی خدمت میں بادب تمام عرض کرتا ہے کہ اگر اب تک تاثیرات قرآنی سے انکار ہے اور اپنے جہل قدیم پر اصرار ہے تو اب نہایت نیک موقعہ ہے کہ یہ احقر خادمین اپنے ذاتی تجارب سے ہر یک منکر کی پور ی پوری اطمینان کر سکتا ہے۔ اس لئے مناسب ہے کہ طالب حق بن کر اِس احقر کی طرف رجوع کریں اور جو جو خواص کلامِ الٰہی کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ اس کو بچشم خود دیکھ لیں اور تاریکی اور ظلمت میں سے نکل کر نورِ حقیقی میں داخل ہو جائیں۔ اب تک تو یہ عاجز زندہ ہے مگر وجود خاکی کی کیا بنیاد اور جسم فانی کا کیا اعتماد۔ پس مناسب ہے کہ اس عام اعلان کو سنتے ہی احقاقِ حق اور ابطال باطل کی طرف توجہ کریں۔ تا اگر دعویٰ اس احقر کا بہ پایۂ ثبوت نہ پہنچ سکے تو منکر اور روگردان رہنے کے لئے ایک وجہ موجّہ پیدا ہو جائے لیکن اگر اس عاجز کے قول کی صداقت جیسا کہ چاہئے بہ پایۂ ثبوت پہنچ جائے تو خدا سے ڈر کر اپنے باطل خیالات سے باز آئیں اور طریقۂ حقہ اسلام پر قدم جما ویں تا اس جہان میں ذلت اور رسوائی سے اور دوسرے جہان میں عذاب اور عقوبت سے نجات پاویں۔ سو دیکھو اے بھائیو! اے عزیزو! اے فلاسفرو! اے پنڈتو! اے پادریو! اے آریو! اے نیچریو! اے براہم دھرم والو! کہ مَیں اس وقت صاف صاف اور اعلانیہ کہہ رہا ہوں کہ اگر کسی کو شک ہو اور خاصہ مذکورہ بالا کے ماننے میں کچھ تامل ہو تو و ہ بلاتوقف اِس عاجز کی طرف رجوع کریں اور صبوری اور صدق دلی سے کچھ عرصہ تک صحبت میں رہ کر بیانات مذکورہ بالا کی حقیقت کو بچشم خود دیکھ لے ایسا نہ ہو کہ اس ناچیز کے گذرنے کے بعد کوئی نامنصف کہے کہ کب مجھ کو کھول کر کہا گیا کہ تا مَیں اس جستجو میں پڑتا۔ کب کسی نے اپنی ذمہ داری سے دعویٰ کیا تا مَیں ایسے دعویٰ کا ثبوت اس سے مانگتا۔ سو اے بھائیو! اے حق کے طالبو! اِدھر دیکھو کہ یہ عاجز کھول کر کہتا ہے اور اپنے خدا پر توکّل کر کے جس کے انوار دن رات دیکھ رہا ہے اس بات کا ذمہ وار بنتا ہے کہ اگر تم دلی صدق اور صفائی سے حق کے جویاں اور خواہاں ہو کر صبر اور ارادت سے کچھ مدت تک اِس احقر کی صحبت میں زندگی بسر کرو گے تو یہ بات تم پر بدیہی طور پر کھل جائے گی کہ فی الحقیقت وہ خواصِ روحانی جن کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے سورۃ فاتحہ اور قرآن شریف میں پائے جاتے ہیں۔ سو کیا مبارک وہ شخص ہے کہ جو اپنے دل کو تعصب اور عناد سے خالی کر کے اور اسلام کے قبول کرنے پر مستعد ہو کر اس مطلب کے حصول کے لئے بصدق و ارادت توجہ کرے۔ اور کیا بدقسمت وہ آدمی ہے کہ اِس قدر واشگاف باتیں سن کر پھر بھی نظر اٹھا کر نہ دیکھے اور دیدہ و دانستہ خدائے تعالیٰ کی لعنت اور غضب کا مورد بن جاوے۔ مرگ نہایت نزدیک ہے اور بازیٔ اجل سر پر ہے۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۲۶ تا۶۳۵ حاشیہ نمبر۱۱)
سورۃ فاتحہ مجمل طور پر تمام مقاصد قرآن شریف پر مشتمل ہے گویا یہ سورۃ مقاصد قرآنیہ کا ایک ایجاز لطیف ہے۔ اِسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے۔ وَلَقَدۡ اٰتَیۡنٰکَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِیۡ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِیۡمَ یعنی ہم نے تجھے اے رسول سات آیتیں سورۃ فاتحہ کی عطا کی ہیں جو مجمل طورپر تمام مقاصد قرآنیہ پر مشتمل ہیں اور ان کے مقابلہ پر قرآن عظیم بھی عطا فرمایا ہے جو مفصل طور پر مقاصدِ دینیہ کو ظاہر کرتا ہے۔ اور اِسی جہت سے اس سورۃ کا نام امّ الکتاب اور سورۃ الجامع ہے اُمُّ الکتاب اس جہت سے کہ جمیع مقاصدِ قرآنیہ اس سے مستخرج ہوتے ہیں اور سورۃ الجامع اس جہت سے کہ علومِ قرآنیہ کے جمیع انواع پر بصورت اجمالی مشتمل ہے۔ اسی جہت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ جس نے سورۃ فاتحہ کو پڑھا گویا اُس نے سارے قرآن کو پڑھ لیا۔ غرض قرآن شریف اور احادیث نبوی سے ثابت ہے کہ سورۃ فاتحہ ممدوحہ ایک آئینہ قرآن نما ہے۔ اس کی تصریح یہ ہے کہ قرآن شریف کے مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ وہ تمام محامدِ کاملہ باری تعالیٰ کو بیان کرتا ہے۔ اور اس کی ذات کے لئے جو کمال تام حاصل ہے اس کو بوضاحت بیان فرماتا ہے۔ سو یہ مقصد اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ میں بطور اجمال آ گیا کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ تمام محامد کاملہ اللہ کے لئے ثابت ہیں جو مستجمع جمیع کمالات اور مستحق جمیع عبادات ہے۔
دوسرا مقصد قرآن شریف کا یہ ہے کہ وہ خدا کا صانع کامل ہونا اور خالق العالمین ہونا ظاہر کرتا ہے اور عالم کے ابتداء کا حال بیان فرماتا ہے اور جو دائرہ عالم میں داخل ہو چکا اس کو مخلوق ٹھہراتا ہے۔ اور ان امور کے جو لوگ مخالف ہیں اُن کا کذب ثابت کرتا ہے سو یہ مقصد رَبِّ الۡعٰلَمِیۡ میں بطور اجمال آ گیا۔
تیسرا مقصد قرآن شریف کا خدا کا فیضان بلا استحقاق ثابت کرنا اور اس کی رحمتِ عامہ کا بیان کرنا ہے سو یہ مقصد لفظ رحمٰن میں بطور اجمال آ گیا۔
چوتھا مقصد قرآن شریف کا خدا کا وہ فیضان ثابت کرنا ہے جو محنت اور کوشش پر مترتب ہوتا ہے سو یہ مقصد لفظ رحیم میں آ گیا۔
پانچواں مقصد قرآن شریف کا عالمِ معاد کی حقیقت بیان کرنا ہے سو یہ مقصد مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ میں آ گیا۔
چھٹا مقصد قرآن شریف کا اخلاص اور عبودیت اور تزکیہ نفس عن غیر اللہ اور علاج امراض روحانی اور اصلاحِ اخلاق ردّیہ اور توحید فی العبادت کا بیان کرنا ہے سو یہ مقصد اِیَّاکَ نَعۡبُدُ میں بطور اجمال آگیا۔
ساتواں مقصد قرآن شریف کا ہر یک کام میں فاعلِ حقیقی خدا کو ٹھہرانا اور تمام توفیق اور لطف اور نصرت اور ثبات علی الطاعت اور عصمت عن العصیان اور حصولِ جمیع اسبابِ خیر اور صلاحیت دنیا و دین اُسی کی طرف سے قرار دینا اور ان تمام امور میں اُسی سے مدد چاہنے کے لئے تاکید کرنا سو یہ مقصد اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ میں بطور اجمال آ گیا۔
آٹھواں مقصد قرآن شریف کا صراطِ مستقیم کے دقائق کو بیان کرنا ہے اور پھر اس کی طلب کے لئے تاکید کرنا کہ دعا اور تضرع سے اُس کو طلب کریں سو یہ مقصد اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ میں بطور اجمال کے آ گیا۔
نواں مقصد قرآن شریف کا ان لوگوں کا طریق وخلق بیان کرنا ہے جن پر خدا کا انعام و فضل ہوا تا طالبینِحق کے دل جمعیت پکڑیں۔ سو یہ مقصد صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ میں آگیا۔
دسواں ۱۰ مقصد قرآن شریف کا اُن لوگوں کا خلق و طریق بیان کرنا ہے جن پر خدا کا غضب ہوا یا جو راستہ بھول کر انواع اقسام کی بدعتوں میں پڑ گئے تاحق کے طالب ان کی راہوں سے ڈریں سو یہ مقصد غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ میں بطور اجمال آ گیا ہے۔
یہ مقاصد عشرہ ہیں جو قرآن شریف میں مندرج ہیں جو تمام صداقتوں کا اصل الاصول ہیں۔ سو یہ تمام مقاصد سورۃ فاتحہ میں بطور اجمال آگئے۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد۱ صفحہ ۵۸۰ تا۵۸۵ حاشیہ نمبر۱۱)یاد رہے کہ اکیلی عقل کو ماننے والے جیسے علم اور معرفت اور یقین میں ناقص ہیں ویسا ہی عمل اور وفاداری اور صدقِ قدم میں بھی ناقص اور قاصر ہیں۔ اور ان کی جماعت نے کوئی ایسا نمونہ قائم نہیں کیا جس سے یہ ثبوت مل سکے کہ وہ بھی ان کروڑ ہا مقدس لوگوں کی طرح خدا کے وفادار اور مقبول بندے ہیں کہ جن کی برکتیں ایسی دنیامیں ظاہر ہوئیں کہ ان کے وعظ اور نصیحت اور دعا اور توجہ اور تاثیرِ صحبت سے صدہا لوگ پاک روش اور باخدا ہو کر ایسے اپنے مولیٰ کی طرف جھک گئے کہ دنیا و مافیہا کی کچھ پرواہ نہ رکھ کر اور اس جہان کی لذتوں اور راحتوں اور خوشیوں اور شہرتوں اور فخروں اور مالوں اور ملکوں سے بالکل قطع نظر کر کے اس سچائی کے راستہ پر قدم مارا جس پر قدم مارنے سے اُن میں سے سینکڑوں کی جانیں تلف ہوئیں ہزار ہا سر کاٹے گئے لاکھوں مقدسوں کے خون سے زمین تر ہو گئی پر باوجود ان سب آفتوں کے انہوں نے ایسا صدق دکھایا کہ عاشق دلدادہ کی طرح پابزنجیر ہو کر ہنستے رہے اور دُکھ اُٹھا کر خوش ہوتے رہے اور بلاؤں میں پڑ کر شکر کرتے رہے اور اُسی ایک کی محبت میں وطنوں سے بے وطن ہو گئے اور عزت سے ذلت اختیار کی اور آرام سے مصیبت کو سر پر لے لیا اور تونگری سے مفلسی قبول کر لی اور ہریک پیوند و رابطہ اور خویشی سے غریبی اور تنہائی اور بے کسی پر قناعت کی اور اپنے خون کے بہانے سے اور اپنے سروں کے کٹانے سے اور اپنی جانوں کے دینے سے خدا کی ہستی پر مہریں لگا دیں اور کلام الٰہی کی سچی متابعت کی برکت سے وہ انوارِ خاصہ اُن میں پیدا ہو گئے کہ جو ان کے غیر میں کبھی نہیں پائے گئے۔ اور ایسے لوگ نہ صرف پہلے زمانوں میں موجود تھے بلکہ یہ برگزیدہ جماعت ہمیشہ اہل اسلام میں پیدا ہوتی رہتی ہے اور ہمیشہ اپنے نورانی وجود سے اپنے مخالفین کو ملزم و لاجواب کرتی آئی ہے۔ لہٰذا منکرین پر ہماری یہ حجت بھی تمام ہے کہ قرآن شریف جیسے مراتب علمیہ میں اعلیٰ درجہ کمال تک پہنچاتا ہے ویسا ہی مراتب عملیہ کے کمالات بھی اسی کے ذریعہ سے ملتے ہیں اور آثار و انوار قبولیت حضرتِ احدیت اُنہیں لوگوں میں ظاہر ہوتے رہے ہیں اور اب بھی ظاہر ہوتے ہیں جنہوں نے اس پاک کلام کی متابعت اختیار کی ہے دوسروں میں ہرگز ظاہر نہیں ہوتے۔ پس طالب حق کے لئے یہی دلیل جس کو وہ بچشم خود معائنہ کر سکتا ہے کافی ہے یعنی یہ کہ آسمانی برکتیں اور ربّانی نشان صرف قرآن شریف کے کامل تابعین میں پائے جاتے ہیں اور دوسرے تمام فرقے کہ جو حقیقی اور پاک الہام سے روگردان ہیں کیا برہمو اور کیا آریہ اور کیا عیسائی وہ اس نور صداقت سے بے نصیب اور بے بہرہ ہیں۔ چنانچہ ہریک منکر کی تسلّی کرنے کے لئے ہم ہی ذمہ اُٹھاتے ہیں بشرطیکہ وہ سچے دل سے اسلام قبول کرنے پر مستعد ہو کر پوری پوری ارادت اور استقامت اور صبر اور صداقت سے طلب حق کے لئے اس طرف تکلیف کش ہو۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۳۵۰ تا۳۵۲ حاشیہ نمبر ۱۱)
اور جس قدر قرآن شریف میں قصے ہیں وہ بھی درحقیقت قصے نہیں بلکہ وہ پیشگوئیاں ہیں جو قصوں کے رنگ میں لکھی گئی ہیں۔ ہاں وہ توریت میں تو ضرور صرف قصّے پائے جاتے ہیں مگر قرآن شریف نے ہر ایک قصہ کو رسول کریم کے لئے اور اسلام کے لئے ایک پیشگوئی قرار دے دیا ہے اور یہ قصوں کی پیشگوئیاں بھی کمال صفائی سے پوری ہوئی ہیں۔ غرض قرآن شریف معارف و حقائق کا ایک دریاہے اور پیشگوئیوں کا ایک سمندر ہے اور ممکن نہیں کہ کوئی انسان بجز ذریعہ قرآن شریف کے پورے طور پر خدا تعالیٰ پر یقین لا سکے کیونکہ یہ خاصیت خاص طور پر قرآن شریف میں ہی ہے کہ اس کی کامل پیروی سے وہ پردے جو خدا میں اور انسان میں حائل ہیں سب دور ہو جاتے ہیں۔ ہر ایک مذہب والا محض قصہ کے طور پر خدا کا نام لیتا ہے مگر قرآن شریف اس محبوب حقیقی کا چہرہ دکھلا دیتا ہے اور یقین کا نور انسان کے دل میں داخل کر دیتا ہے۔ اور وہ خدا جو تمام دنیا پر پوشیدہ ہے وہ محض قرآن شریف کے ذریعہ سے دکھائی دیتا ہے۔ (چشمہء معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۲۷۱، ۲۷۲)
قرآن کریم صرف اپنی بلاغت و فصاحت ہی کے رو سے بے نظیر نہیں بلکہ اپنی ان تمام خوبیوں کی رو سے بے نظیر ہے جن خوبیوں کا جامع وہ خود اپنے تئیں قرار دیتا ہے اور یہی صحیح بات بھی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ صادر ہے اُس کی صرف ایک خوبی ہی بے مثل نہیں ہونی چاہئے بلکہ ہر یک خوبی بے مثل ہو گی۔ بلاشبہ جو لوگ قرآن کریم کو غیر محدود حقائق اور معارف کا جامع نہیں سمجھتے وہ مَاقَدَرُوا القُرْاٰنَ حَقَّ قَدْرِہٖ میں داخل ہیں۔ خدا تعالیٰ کی پاک اور سچی کلام کو شناخت کرنے کے لئے یہ ایک ضروری نشانی ہے کہ وہ اپنی جمیع صفات میں بے مثل ہو کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جو چیز خدا تعالیٰ سے صادر ہوئی ہے اگر مثلاً ایک جَو کا دانہ ہے وہ بھی بے نظیر ہے اور انسانی طاقتیں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ اور بے مثل ہونا غیر محدود ہونے کو مستلزم ہے یعنی ہر یک چیز اسی حالت میں بے نظیر ٹھہر سکتی ہے جبکہ اس کی عجائبات اور خواص کی کوئی حدّ اور کنارہ نظر نہ آوے اور جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں یہی خاصیت خداتعالیٰ کی ہر یک مخلوق میں پائی جاتی ہے مثلاً اگر ایک درخت کے پتے کی عجائبات کی ہزار برس تک بھی تحقیقات کی جائے تو وہ ہزار برس ختم ہو جائے گا مگر اس پتے کے عجائبات ختم نہیں ہوں گے اور اِس میں سرّ یہ ہے کہ جو چیز غیر محدود قدرت سے وجود پذیر ہوئی ہے اس میں غیر محدود عجائبات اور خواص کا پیدا ہونا ایک لازمی اور ضروری امر ہے اور یہ آیت کہ قُلۡ لَّوۡ کَانَ الۡبَحۡرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیۡ لَنَفِدَ الۡبَحۡرُ قَبۡلَ اَنۡ تَنۡفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیۡ وَلَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِہٖ مَدَدًا اپنے ایک معنے کی رُو سے اِسی امر کی مؤیدہے کیونکہ مخلوقات اپنے مجازی معنوں کی رُو سے تمام کلمات اللہ ہی ہیں … سو اِن معنوں کے رو سے اس آیت کا یہی مطلب ہوا کہ خواص ِ مخلوقات بے حد اور بے نہایت ہیں اور جبکہ ہر یک چیز اور ہر یک مخلوق کے خواص بے حد اور بے نہایت ہیں اور ہر یک چیز غیر محدود عجائبات پر مشتمل ہے تو پھر کیونکر قرآن کریم جو خدا تعالیٰ کا پاک کلام ہے صرف اِن چند معانی میں محدود ہو گا کہ جو چالیس پچاس یا مثلاً ہزار جزو کی کسی تفسیر میں لکھے ہوں یا جس قدر ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک زمانہ محدود میں بیان کئے ہوں نہیں بلکہ ایسا کلمہ مُنہ پر لانا میرے نزدیک قریب قریب کفر کے ہے اگر عمداً اس پر اصرار کیا جائے تو اندیشہ کفر ہے۔ یہ سچ ہے کہ جو کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے معنے بیان فرمائے ہیں وہی صحیح اور حق ہیں۔ مگر یہ ہرگز سچ نہیں کہ جو کچھ قرآن کریم کے معارف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے اُن سے زیادہ قرآن کریم میں کچھ بھی نہیں۔ یہ اقوال ہمارے مخالفوں کے صاف دلالت کر رہے ہیں کہ وہ قرآن کریم کی غیر محدودہ عظمتوں اور خوبیوں پر ایمان نہیں لاتے اور ان کا یہ کہنا کہ قرآن کریم ایسوں کے لئے اُترا ہے جو اُمّی تھے اَور بھی اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ وہ قرآن شناسی کی بصیرت سے بکلی بے بہرہ ہیں وہ نہیں سمجھتے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم محض اُمیوں کے لئے نہیں بھیجے گئے بلکہ ہر یک رتبہ اور طبقہ کے انسان اُن کی امت میں داخل ہیں۔ اللّٰہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔ قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا پس اس آیت سے ثابت ہے کہ قرآن کریم ہر یک استعداد کی تکمیل کے لئے نازل ہوا ہے اور درحقیقت آیت وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے۔ پس یہ خیال کہ گویا جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے بارہ میں بیان فرمایا اس سے بڑھ کر ممکن نہیں بدیہی البطلان ہے۔ ہم نہایت قطعی اور یقینی دلائل سے ثابت کر چکے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی کلام کے لئے ضروری ہے کہ اس کا عجائبات غیر محدود اور نیز بے مثل ہوں اور اگر یہ اعتراض ہو کہ اگر قرآن کریم میں ایسے عجائبات اور خواص مخفیہ تھے تو پہلوں کا کیا گناہ تھا کہ اُن کو اِن اسرار سے محروم رکھا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ بکلّی اسرار قرآنی سے محروم تو نہیں رہے بلکہ جس قدر معلوماتِ عرفانیہ خداتعالیٰ کے ارادہ میں اُن کے لئے بہتر تھے وہ ان کو عطا کئے گئے اور جس قدر اس زمانہ کی ضرورتوں کے موافق اس زمانہ میں اسرار ظاہر ہونے ضروری تھے وہ اس زمانہ میں ظاہر کئے گئے مگر وہ باتیں جو مدارِ ایمان ہیں اور جن کے قبول کرنے اور جاننے سے ایک شخص مسلمان کہلا سکتا ہے۔ وہ ہر زمانہ میں برابر طور پر شائع ہوتی رہیں۔ مَیں متعجب ہوں کہ ان ناقص الفہم مولویوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ خدا تعالیٰ پریہ حق واجب ہے کہ جو کچھ آئندہ زمانہ میں بعض آلاء و نعماء حضرت باری عزّاسمہٗ ظاہر ہوں پہلے زمانہ میں بھی اُن کا ظہور ثابت ہو۔ (کرامات الصادقین۔ روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۶۰ تا۶۲)
جاننا چاہئے کہ سب سے اوّل معیار تفسیر صحیح کا شواہد قرآنی ہیں۔ یہ بات نہایت توجہ سے یاد رکھنی چاہئے کہ قرآن کریم اور معمولی کتابوں کی طرح نہیں جو اپنی صداقتوں کے ثبوت یا انکشاف کے لئے دوسرے کا محتاج ہو۔ وہ ایک ایسی متناسب عمارت کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ ہلانے سے تمام عمارت کی شکل بگڑ جاتی ہے۔ اس کی کوئی صداقت ایسی نہیں ہے جو کم سے کم دس یا بیس شاہد اُس کے خود اُسی میں موجودنہ ہوں۔ سو اگر ہم قرآن کریم کی ایک آیت کے ایک معنے کریں تو ہمیں دیکھنا چاہئے کہ اِن معنوں کی تصدیق کے لئے دوسرے شواہد قرآن کریم سے ملتے ہیں یا نہیں۔ اگر دوسرے شواہد دستیاب نہ ہوں بلکہ ان معنے کی دوسری آیتوں سے صریح معارض پائے جاویں تو ہمیں سمجھنا چاہئے کہ وہ معنے بالکل باطل ہیں کیونکہ ممکن نہیں کہ قرآن کریم میں اختلاف ہو اور سچے معنوں کی یہی نشانی ہے کہ قرآن کریم میں سے ایک لشکر شواہد بیّنہ کا اس کا مصدق ہو۔
دوسرا معیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر ہے۔ اِس میں کچھ شک نہیں کہ سب سے زیادہ قرآن کریم کے معنے سمجھنے والے ہمارے پیارے اور بزرگ نبی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تفسیر ثابت ہو جائے تو مسلمان کا فرض ہے کہ بلاتوقف اور بلادغدغہ قبول کرے۔ نہیں تو اس میں الحاد اور فلسفیت کی رگ ہو گی۔
تیسرا معیار صحابہ کی تفسیر ہے۔ اِس میں کچھ شک نہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم آنحضرتؐ کے نوروں کو حاصل کرنے والے اور علمِ نبوت کے پہلے وارث تھے اور خدا تعالیٰ کا اُن پر بڑا فضل تھا۔ اور نصرتِ الٰہی اُن کی قوت مدرکہ کے ساتھ تھی کیونکہ اُن کا نہ صرف قال بلکہ حال تھا۔
چوتھا معیار خود اپنا نفسِ مطہّر لے کر قرآن کریم میں غور کرنا ہے۔ کیونکہ نفس مطہّرہ سے قرآن کریم کو مناسبت ہے اللہ شانہٗ فرماتا ہے لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ یعنی قرآن کریم کے حقائق صرف اُن پر کھلتے ہیں جو پاک دل ہوں۔ کیونکہ مطہّر القلب انسان پر قرآن کریم کے پاک معارف بوجہ مناسبت کھل جاتے ہیں اور وہ اُن کو شناخت کر لیتا ہے۔ اور سونگھ لیتا ہے اور اُس کا دل بول اُٹھتا ہے کہ ہاں یہی راہ سچی ہے اور اُس کا نور قلب سچائی کی پرکھ کے لئے ایک عمدہ معیار ہوتا ہے۔ پس جب تک انسان صاحب حال نہ ہو اور اس تنگ راہ سے گذرنے والا نہ ہو جس سے انبیاء علیہم السَّلام گذرے ہیں تب تک مناسب ہے کہ گستاخی اور تکبّر کی جہت سے مفسّرالقرآن نہ بن بیٹھے ورنہ وہ تفسیر بالرائے ہو گی جس سے نبی علیہ السلام نے منع فرمایا ہے اور کہا ہے کہ مَنْ فَسَّرَ الْقُرْاٰنَ بِرَأْیِہٖ فَاَصَابَ فَقَدْ اَخْطَأَ یعنی جس نے صرف اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کی اور اپنے خیال میں اچھی کی تب بھی اُس نے بُری تفسیر کی۔
پانچواں معیار لُغت عرب بھی ہے۔ لیکن قرآن کریم نے اپنے وسائل آپ اس قدر قائم کر دیئے ہیں کہ چنداں لغات عرب کی تفتیش کی حاجت نہیں۔ ہاں موجب زیادتِ بصیرت بے شک ہے بلکہ بعض اوقات قرآن کریم کے اسرار مخفیہ کی طرف لُغت کھودنے سے توجہ پیدا ہو جاتی ہے اور ایک بھید کی بات نکل آتی ہے۔
چھٹا معیار روحانی سِلسلہ کے سمجھنے کے لئے سلسلہ جسمانی ہے کیونکہ خدا وند تعالیٰ کے دونوں سِلسلوں میں بکلّی تطابق ہے۔
ساتواں معیار وحی ٔولایت اور مکاشفات محدثین ہیں اور یہ معیار گویا تمام معیاروں پر حاوی ہے کیونکہ صاحبِ وحی ٔ محدثیت اپنے نبی ٔ متبوع کا پورا ہمرنگ ہوتا ہے اور بغیر نبوت اور تجدید احکام کے وہ سب باتیں اس کو دی جاتی ہیں جو نبی کو دی جاتی ہیں اور اس پر یقینی طور پر سچی تعلیم ظاہر کی جاتی ہے اور نہ صرف اس قدر بلکہ اُس پر وہ سب امور بطور انعام اکرام کے وارد ہو جاتے ہیں جو نبی ٔ متبوع پر وارد ہوتے ہیں۔ سو اس کا بیان محض اٹکلیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ دیکھ کر کہتا ہے اور سن کر بولتا ہے اور یہ راہ اس اُمت کے لئے کھلی ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ وارث حقیقی کوئی نہ رہے۔
(برکات الدعاء۔ روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۱۷تا ۲۱)یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ہم الٰہی کلام کی کسی آیت میں تغییر اور تبدیل اور تقدیم اور تاخیر اور فقرات تراشی کے مجاز نہیں ہیں۔ مگر صرف اس صورت میں کہ جب خودنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہو اور یہ ثابت ہو جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ بذات خود ایسی تغییر اور تبدیل کی ہے اور جب تک ایسا ثابت نہ ہو تو ہم قرآن کی ترصیع اور ترتیب کو زیر و زبر نہیں کر سکتے اور نہ اس میں اپنی طرف سے بعض فقرات ملا سکتے ہیں اور اگر ایسا کریں تو عند اللہ مجرم اور قابل مؤاخذہ ہیں۔ (اتمام الحجۃ۔ روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ۲۹۱)
اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ قرآن کریم دس قسم کے نظامِ مفردات پر مشتمل ہے۔
(۱) ایسے مفردات کا نظام جن میں بیان وجودِ باری اور دلائل وجود باری اور نیز خدا تعالیٰ کی ایسے صفات اور اسماء اور افعال اور سنن اور عادات کا بیان ہے کہ جو باہمی امتیازوں کے ساتھ اللہ جلّ شانہٗ کی ذات سے مخصوص ہیں۔ اور نیز وہ کلمات جو اس کی اس کامل مدح اور ثنا کے متعلق ہیں جو بیان جلال اور جمال اور عظمت اور کبریائی کے بارے میں ہیں۔
(۲) اُن مفردات کا نظام جو توحید باری اور دلائل توحید باری پر مشتمل ہیں۔
(۳) اُن مفردات کا نظام جن میں وہ صفات اور افعال اور اعمال اور عادات اور کیفیاتِ روحانیہ یا نفسانیہ بیان کی گئی ہیں جو باہمی امتیازوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے سامنے اس کی مرضی کے موافق یا خلاف مرضی بندوں سے صادر ہوتی ہیں یا ظہور و بروز میں آتی ہیں۔
(۴) ان مفردات کا نظام جو وصایا اور تعلیم اخلاق اور عقائد اور حقوق اللہ اور حقوق العباد اور علومِ حکمیہ اور حدود اور احکام اور اوامر اور نہی اور حقائق و معارف کے رنگ میں خداتعالیٰ کی طرف سے کامل ہدایتیں ہیں۔
(۵) ان مفردات کا نظام جن میں بیان کیا گیا ہے کہ نجات حقیقی کیا شے ہے اور اُس کے حصول کے لئے حقیقی وسائل اور ذرائع کیا کیا ہیں اور نجات یافتہ مومنوں اور مقربوں کے آثار اور علامات کیا ہیں۔
(۶) اُن مفردات کا نظام جن میں بیان کیا گیا ہے کہ اسلام کیا شے ہے اور کفر اور شرک کیا شے ہے اور اسلام کی حقیت پر دلائل اور نیز اعتراضات کی مدافعت ہے۔
(۷) ایسے مفردات کا نظام جو مخالفین کے تمام عقائد باطلہ کا ردّ کرتے ہیں۔
(۸) ایسے مفردات کا نظام جو انذار اور تبشیر اور وعد اور وعید اور عالم معاد کے بیان کے رنگ میں یا معجزات کی صورت میں یا مثالوں کے طور پر یا ایسی پیشگوئیوں کی صورت میں جو موجب زیادتِ ایمان یا اور مصالح پر مشتمل ہوں یا ایسے قصوں کی طرز میں جو تنبیہ یا ڈرانے یا خوشخبری دینے کی غرض سے ہوں مرتب کیا گیا ہے۔
(۹) ایسے مفردات کا نظام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح اور پاک صفات اور آنجناب کی پاک زندگی کے اعلیٰ نمونہ پر مشتمل ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے دلائل کاملہ بھی ہیں۔
(۱۰) ایسے مفردات کا نظام جو قرآن کریم کے صفات اور تاثیرات اور اس کے ذاتی خواص کو بیان کرتے ہیں۔
یہ دس ۱۰ نظام وہ ہیں جو اپنے کمال تام کی وجہ سے دس۱۰ دائروں کی طرح قرآن میں پائے جاتے ہیں جن کو دوائر عشرہ سے موسوم کر سکتے ہیں۔ ان دس۱۰ دائروں میں خداتعالیٰ نے قرآن کریم میں ایسے پاکیزہ اور باہمی امتیاز رکھنے والے مفردات سے کام لیا ہے جو عقل سلیم فی الفور گواہی دیتی ہے کہ یہ اکمل اور اتم سِلسلہ مفردات کا اسی لئے عربی میں مقرر کیا گیا تھا کہ تا قرآن کا خادم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سِلسلہ مفردات کا قرآن کریم کی تعلیمی نظام سے جو اکمل اور اتم ہے بالکل مطابق آ گیا لیکن دوسری زبانوں کے مفردات کا سِلسلہ ان کتابوں کے تعلیمی نظام سے ہرگز مطابق نہیں آتا جو الٰہی کتابیں کہلاتی ہیں اور جن کا ان زبانوں میں نازل ہونا بیان کیا گیا ہے اور نہ دوائر عشرہ مذکورہ ان کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔ پس ان کتابوں کے ناقص ہونے کی وجوہ سے یہ بھی ایک بھاری وجہ ہے کہ وہ دوائر ضروریہ سے بے بہرہ اور نیز زبان کے مفردات ان کتابوں کی تعلیم سے وفا نہیں کر سکے اور اس میں بھید یہی ہے کہ وہ کتابیں حقیقی کتابیں نہیں تھیں بلکہ وہ صرف چند روزہ کا رروائی تھی حقیقی کتاب دنیا میں ایک ہی آئی جو ہمیشہ کے لئے انسانوں کی بھلائی کے لئے تھی۔ لہٰذا وہ دوائر عشرہ کاملہ کے ساتھ نازل ہوئی اور اس کے مفردات کا نظام تعلیمی نظام کا بالکل ہم وزن اور ہم پلّہ تھا اور ہر یک دائرہ اس کا دوائر عشرہ میں سے اپنے طبیعی نظام کے اندازہ اور قدر پر مفردات کا نظام ساتھ رکھتا تھا جس میں الٰہی صفات کے اظہار کے لئے اور اقسام اربعہ مذکورہ کے مدارج بیان کرنے کی غرض سے الگ الگ الفاظ مفردہ مقرر تھے اور ہریک تعلیم کے دائرہ کے موافق مفردات کا کامل دائرہ موجود تھا۔
(منن الرحمن۔ روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۱۵۰ تا۱۵۲ حاشیہ)ہر چند میرا مذہب یہی ہے کہ قرآن اپنی تعلیم میں کامل ہے اور کوئی صداقت اس سے باہر نہیں۔ کیونکہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے وَنَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ تِبۡیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ یعنی ہم نے تیرے پر وہ کتاب اتاری ہے جس میں ہر ایک چیز کا بیان ہے اور پھر فرماتا ہے مَا فَرَّطۡنَا فِی الۡکِتٰبِ مِنۡ شَیۡءٍ یعنی ہم نے اس کتاب سے کوئی چیز باہر نہیں رکھی لیکن ساتھ اس کے یہ بھی میرا اعتقاد ہے کہ قرآن کریم سے تمام مسائل دینیہ کا استخراج و استنباط کرنا اور اس کی مجملات کی تفاصیلِ صحیحہ پر حسب منشاء الٰہی قادرہونا ہر ایک مجتہد اور مولوی کا کام نہیں بلکہ یہ خاص طور پر ان کا کام ہے جو وحی ٔ الٰہی سے بطور نبوت یا بطور ولایت عظمٰی مدد دیئے گئے ہوں۔ سو ایسے لوگوں کے لئے جو استخراج و استنباط معارف قرآنی پر بعلت غیر ملہم ہونے کے قادر نہیں ہو سکتے یہی سیدھی راہ ہے کہ وہ بغیر قصد استخراج و استنباط قرآن کے ان تمام تعلیمات کو جو سُنن متوارثہ متعاملہ کے ذریعہ سے ملی ہیں بلاتامل و توقف قبول کر لیں اور جو لوگ وحی ٔ ولایتِ عظمیٰ کی روشنی سے منوّر ہیں اور ا ِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ کے گروہ میں داخل ہیں۔ اُن سے بلاشبہ عادت اللہ یہی ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً دقائقِ مخفیہ قرآن کے اُن پر کھولتا رہتا ہے اور یہ بات اُن پر ثابت کر دیتا ہے کہ کوئی زائد تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز نہیں دی بلکہ احادیث صحیحہ میں مجملات و ارشاداتِ قرآن کریم کی تفصیل ہے۔ سو اس معرفت کے پانے سے اعجاز قرآن کریم اُن پر کھل جاتا ہے اور نیز ان آیات بیّنات کی سچائی اُن پر روشن ہو جاتی ہے جو اللہ شانہٗ فرماتا ہے جو قرآن کریم سے کوئی چیز باہر نہیں۔ (الحق مباحثہ لدھیانہ۔ روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ۸۰، ۸۱)
ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیۡہِمۡ وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کے بڑے فائدے دو ہیں جن کے پہنچانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آئے تھے۔ ایک حکمتِ فرقان یعنی معارف و دقائق قرآن۔ دوسری تاثیر قرآن جو موجب تزکیہ نفوس ہے۔ اور قرآن کی حفاظت صرف اسی قدر نہیں جو اس کے صحف مکتوبہ کو خوب نگہبانی سے رکھیں کیونکہ ایسے کام تو اوائل حال میں یہود اور نصاریٰ نے بھی کئے۔ یہاں تک کہ توریت کے نقطے بھی گن رکھے تھے بلکہ اس جگہ مع حفاظت ظاہری حفاظت فوائدو تاثیرات قرآنی مراد ہے اور وہ موافق سنّت اللہ کے تبھی ہو سکتی ہے کہ جب وقتاً فوقتاً نائب رسول آویں جن میں ظلّی طور پر رسالت کی تمام نعمتیں موجود ہوں اور جن کو وہ تمام برکات دی گئی ہوں جو نبیوں کو دی جاتی ہیں۔ جیسا کہ ان آیات میں اِسی امر عظیم کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ ہے وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا ؕ یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا ؕ وَمَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ۔ پس یہ آیت در حقیقت اِس دوسری آیت اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ کے لئے بطور تفسیر کے واقع ہے اور اس سوال کا جواب دے رہی ہے کہ حفاظت قرآن کیونکر اور کس طور سے ہو گی۔ سو خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ مَیں اِس نبی کریم کے خلیفے وقتاً فوقتاً بھیجتا رہوں گا۔ (شہادت القرآن۔ روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۳۳۸، ۳۳۹)
وہ یقینی اور کامل اور آسان ذریعہ کہ جس سے بغیر تکلیف اور مشقت اور مزاحمت شکوک اور شبہات اور خطا اور سہو کے اصول صحیحہ معہ اُن کی دلائل عقلیہ کے معلوم ہو جائیں اور یقین کامل سے معلوم ہوں وہ قرآن شریف ہے اور بجز اس کے دنیا میں کوئی ایسی کتاب نہیں اور نہ کوئی ایسا دوسرا ذریعہ ہے کہ جس سے یہ مقصد اعظم ہمارا پورا ہو سکے۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد۱ صفحہ ۷۷)
اب اے صاحبو! میں یہ بیان کرتا ہوں کہ وہ امتیازی نشان کہ جو الہامی کتاب کی شناخت کے لئے عقل سلیم نے قرار دیا ہے وہ صرف خدا تعالیٰ کی مقدس کتاب قرآن شریف میں پایا جاتا ہے اور اس زمانہ میں وہ تمام خوبیاں جو خدا کی کتاب میں امتیازی نشان کے طور پر ہونی چاہئیں دوسری کتابوں میں قطعاً مفقود ہیں۔ ممکن ہے کہ ان میں وہ خوبیاں پہلے زمانہ میں ہوں گی مگر اب نہیں ہیں اور گو ہم ایک دلیل سے جو ہم پہلے لکھ چکے ہیں ان کو الہامی کتابیں سمجھتے ہیں مگر وہ گو الہامی ہوں لیکن اپنی موجودہ حالت کے لحاظ سے بالکل بے سود ہیں اور اس شاہی قلعہ کی طرح ہیں جو خالی اور ویران پڑا ہے اور دولت اور فوجی طاقت سب اس میں سے کوچ کر گئی ہے۔ (مضمون جلسہ لاہور منسلکہ چشمۂ معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۴۰۲)
اگر کوئی مخالفین اسلام میں سے یہ اعتراض کرے کہ قرآن شریف کو سب الہامی کتابوں سے افضل اور اعلیٰ قرار دینے میں یہ لازم آتا ہے کہ دوسری الہامی کتابیں ادنیٰ درجہ کی ہوں حالانکہ وہ سب ایک خدا کی کلام ہے۔ اُس میں ادنیٰ اور اعلیٰ کیونکر تجویز ہو سکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک بہ اعتبار نفس الہام کے سب کتابیں مساوی ہیں مگر باعتبار زیادت بیان امور مکملات دین کے بعض کو بعض پر فضیلت ہے پس اسی جہت سے قرآن شریف کو سب کتابوں پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ جس قدر قرآن شریف میں امور تکمیل دین کے جیسے مسائل توحید اور ممانعت انواع و اقسام شرک اور معالجات امراض روحانی اور دلائل ابطال مذاہب باطلہ اور براہین اثبات عقائد حقہ وغیرہ بکمال شد و مد بیان فرمائے گئے ہیں وہ دوسری کتابوں میں درج نہیں۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۷۴ حاشیہ نمبر ۲)
یہ دعویٰ پادریوں کا سراسر غلط ہے کہ ’’قرآن توحید اور احکام میں نئی چیز کونسی لایا جو توریت میں نہ تھی‘‘۔ بظاہر ایک نادان توریت کو دیکھ کر دھوکہ میں پڑے گا کہ توریت میں توحیدبھی موجود ہے اور احکام عبادت اور حقوق عباد کا بھی ذکر ہے۔ پھر کونسی نئی چیز ہے جو قرآن کے ذریعہ سے بیان کی گئی۔ مگر یہ دھوکا اُسی کو لگے گا جس نے کلام الٰہی میں کبھی تدبّر نہیں کیا۔ واضح ہو کہ الٰہیات کا بہت سا حصہ ایسا ہے کہ توریت میں اس کا نام و نشان نہیں۔ چنانچہ توریت میں توحید کے باریک مراتب کا کہیں ذکر نہیں۔ قرآن ہم پر ظاہر فرماتا ہے کہ توحید صرف اس بات کا نام نہیں کہ ہم بتوں اور انسانوں اور حیوانوں اور عناصر اور اجرام فلکی اور شیاطین کی پرستش سے باز رہیں بلکہ توحید تین درجہ پر منقسم ہے۔
درجہ اوّل عوام کے لئے یعنی اُن کے لئے جو خدا تعالیٰ کے غضب سے نجات پانا چاہتے ہیں۔
دوسرا درجہ خواص کے لئے یعنی اُن کے لئے جو عوام کی نسبت زیادہ تر قرب الٰہی کے ساتھ خصوصیت پیدا کرنی چاہتے ہیں۔
اور تیسرا درجہ خواص الخواص کے لئے جو قرب کے کمال تک پہنچنا چاہتے ہیں۔
اوّل مرتبہ توحید کا تو یہی ہے کہ غیر اللہ کی پرستش نہ کی جائے اور ہر ایک چیز جو محدود اور مخلوق معلوم ہوتی ہے خواہ زمین پر ہے خواہ آسمان پر اس کی پرستش سے کنارہ کیا جائے۔
دوسرا مرتبہ توحید کا یہ ہے کہ اپنے اور دوسروں کے تمام کاروبار میں مؤثر حقیقی خدا تعالیٰ کو سمجھا جائے اور اسباب پر اتنا زور نہ دیا جائے جس سے وہ خدا تعالیٰ کے شریک ٹھہر جائیں مثلاً یہ کہنا کہ زیدنہ ہوتا تو میرا یہ نقصان ہوتا اور بکر نہ ہوتا تو مَیں تباہ ہو جاتا۔ اگر یہ کلمات اس نیت سے کہے جائیں کہ جس سے حقیقی طور پر زید و بکر کو کچھ چیز سمجھا جائے تو یہ بھی شرک ہے۔
تیسری قسم توحید کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت میں اپنے نفس کے اغراض کو بھی درمیان سے اُٹھانا اور اپنے وجود کو اس کی عظمت میں محو کرنا۔
یہ توحید توریت میں کہاں ہے۔ ایسا ہی توریت میں بہشت اور دوزخ کا کچھ ذکر نہیں پایا جاتا اور شاید کہیں کہیں اشارات ہوں۔ ایسا ہی توریت میں خدا تعالیٰ کی صفات کاملہ کا کہیں پورے طور پر ذکر نہیں۔ اگر توریت میں کوئی ایسی سورۃ ہوتی جیسا کہ قرآن شریف میں قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اَللّٰہُ الصَّمَدُ لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَلَمۡ یُوۡلَدۡ وَلَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ہے تو شاید عیسائی اس مخلوق پرستی کی بلا سے رُک جاتے۔ ایسا ہی توریت نے حقوق کے مدارج کو پورے طور پر بیان نہیں کیا۔ لیکن قرآن نے اس تعلیم کو بھی کمال تک پہنچایا ہے مثلاً وہ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَالۡاِحۡسَانِ وَاِیۡتَآیِٔ ذِی الۡقُرۡبٰی یعنی خدا حکم کرتا ہے کہ تم عدل کرو اور اس سے بڑھ کر یہ کہ تم احسان کرو اور اس سے بڑھ کر یہ کہ تم لوگوں کی ایسے طور سے خدمت کرو کہ جیسے کوئی قرابت کے جوش سے خدمت کرتا ہے یعنی بنی نوع سے تمہاری ہمدردی جوش طبعی سے ہو کوئی ارادہ احسان رکھنے کا نہ ہو جیسا کہ ماں اپنے بچہ سے ہمدردی رکھتی ہے۔ ایسا ہی توریت میں خدا کی ہستی اور اس کی وحدانیت اور اس کی صفات کاملہ کو دلائل عقلیہ سے ثابت کرکے نہیں دکھلایا لیکن قرآن شریف نے ان تمام عقائد اور نیز ضرورتِ الہام اور نبوت کو دلائل عقلیہ سے ثابت کیا ہے اور ہر ایک بحث کو فلسفہ کے رنگ میں بیان کر کے حق کے طالبوں پر اس کا سمجھنا آسان کر دیا ہے اور یہ تمام دلائل ایسے کمال سے قرآن شریف میں پائے جاتے ہیں کہ کسی کی مقدور میں نہیں کہ مثلاً ہستی باری پر کوئی ایسی دلیل پیدا کر سکے کہ جو قرآن شریف میں موجودنہ ہو۔
ماسوا اس کے قرآن شریف کے وجود کی ضرورت پر ایک اور بڑی دلیل یہ ہے کہ پہلی تمام کتابیں موسٰی کی کتاب توریت سے انجیل تک ایک خاص قوم یعنی بنی اسرائیل کو اپنا مخاطب ٹھہراتی ہیں۔ اور صاف اور صریح لفظوں میں کہتے ہیں کہ ان کی ہدایتیں عام فائدہ کے لئے نہیں بلکہ صرف بنی اسرائیل کے وجود تک محدود ہیں مگر قرآن شریف کے مدّنظر تمام دنیا کی اصلاح ہے اور اُس کی مخاطب کوئی خاص قوم نہیں بلکہ کھلے کھلے طور پر بیان فرماتا ہے کہ وہ تمام انسانوں کے لئے نازل ہوا ہے اور ہر ایک کی اصلاح اس کا مقصود ہے۔
(کتاب البریّہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۸۳تا ۸۵)آؤ عیسائیو! اِدھر آؤ
نورِ حق دیکھو! راہ حق پاؤ
جس قدر خوبیاں ہیں فرقاں میں
کہیں انجیل میں تو دکھلاؤ
سر پہ خالق ہے اُس کو یاد کرو
یونہی مخلوق کو نہ بہکاؤ
کب تلک جھوٹ سے کرو گے پیار
کچھ تو سچ کو بھی کام فرماؤ
کچھ تو خوف خدا کرو لوگو!
کچھ تو لوگو خدا سے شرماؤ
عیشِ دنیا سدا نہیں پیارو
اِس جہاں کو بقا نہیں پیارو
یہ تو رہنے کی جا نہیں پیارو
کوئی اِس میں رہا نہیں پیارو
اے عزیزو! سنو کہ بے قرآں
حق کو ملتا نہیں کبھی انساں
جن کو اس نور کی خبر ہی نہیں
اُن پہ اس یار کی نظر ہی نہیں
ہے یہ فرقاں میں اک عجیب اثر
کہ بناتا ہے عاشقِ دِلبر
مجھ سے اُس دِلستاں کا حال سُنیں
مجھ سے وہ صورت و جمال سُنیں
آنکھ پُھوٹی تو خیر کان سہی
نہ سہی یونہی امتحان سہی
قرآن عمیق حکمتوں سے پُر ہے اور ہر ایک تعلیم میں انجیل کی نسبت حقیقی نیکی کے سکھلانے کے لئے آگے قدم رکھتا ہے بالخصوص سچے اور غیر متغیر خدا کے دیکھنے کا چراغ تو قرآن ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اگر وہ دنیا میں نہ آیا ہوتا تو خدا جانے دنیا میں مخلوق پرستی کا عدد کس نمبر تک پہنچ جاتا۔ سو شکر کا مقام ہے کہ خدا کی وحدانیت جو زمین سے گم ہو گئی تھی دوبارہ قائم ہو گئی۔ (تحفہ قیصریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ۲۸۲)
قرآن شریف ایک ایسی پُر حکمت کتاب ہے جس نے طب روحانی کے قواعد کلیہ کو یعنی دین کے اصول کو جو دراصل طب روحانی ہے طبّ جسمانی کے قواعد کلیہ کے ساتھ تطبیق دی ہے۔ اور یہ تطبیق ایک ایسی لطیف ہے جو صد ہا معارف اور حقائق کے کھلنے کا دروازہ ہے۔ اور سچّی اور کامل تفسیر قرآن شریف کی وہی شخص کر سکتا ہے جو طبّ جسمانی کے قواعد کلیہ پیش نظر رکھ کر قرآن شریف کے بیان کردہ قواعد میں نظر ڈالتا ہے۔ ایک دفعہ مجھے بعض محقق اور حاذق طبیبوں کی بعض کتابیں کشفی رنگ میں دکھلائی گئیں جو طبّ جسمانی کے قواعد کلیہ اور اصول علمیہ اور ستّہ ضروریہ وغیرہ کی بحث پر مشتمل اور متضمن تھیں جن میں طبیب حاذق قرشی کی کتاب بھی تھی اور اشارہ کیا گیا کہ یہی تفسیر قرآن ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ علم الابدان اور علم الادیان میں نہایت گہرے اور عمیق تعلقات ہیں اور ایک دوسرے کے مصدق ہیں اور جب مَیں نے ان کتابوں کو پیش نظر رکھ کر جو طبّ جسمانی کی کتابیں تھیں قرآن شریف پر نظر ڈالی تو وہ عمیق در عمیق طبّ جسمانی کے قواعدِ کلیہ کی باتیں نہایت بلیغ پیرایہ میں قرآن شریف میں موجود پائیں۔ (چشمہء معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۱۰۲، ۱۰۳)
جو کتاب ابتدائے آفرینش کے وقت آئی ہو گی اس کی نسبت عقل قطعی طور پر تجویز کرتی ہے کہ وہ کامل کتاب نہیں ہو گی بلکہ وہ صرف اس اوستاد کی طرح ہو گی جو ابجد خواں بچوں کو تعلیم دیتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ ایسی ابتدائی تعلیم میں بہت لیاقت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہاں جس زمانہ میں انسانی تجربہ نے ترقی کی اور نیز نوع انسان کئی قسم کی غلطیوں میں پڑ گئی۔ تب باریک تعلیم کی حاجت پڑی۔ بالخصوص جب گمراہی کی تاریکی دنیا میں بہت پھیل گئی اور انسانی نفوس کئی قسم کی علمی اور عملی ضلالت میں مبتلا ہو گئے تب ایک اعلیٰ اور اکمل تعلیم کی حاجت پڑی اور وہ قرآن شریف ہے لیکن ابتدائے زمانہ کی کتاب کے لئے اعلیٰ درجہ کی تعلیم کی ضرورت نہ تھی کیونکہ ابھی انسانی نفوس سادہ تھے اور ہنوز اُن میں کوئی ظلمت اور ضلالت جاگزین نہیں ہوئی تھی۔ ہاں اُس کتاب کے لئے اعلیٰ تعلیم کی ضرورت تھی جو انتہائی درجہ کی ضلالت کے وقت ظاہر ہوئی اور ان لوگوں کی اصلاح کے لئے آئی جن کے دلوں میں عقائد فاسدہ راسخ ہوچکے تھے اور اعمال قبیحہ ایک عادت کے حکم میں ہو گئے تھے۔ (چشمہء معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ۷۰ حاشیہ)
پھر ہم اصل مدعا کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ یہ بات فی الواقع صحیح اور درست ہے کہ ابتدائے آفرینش میں بھی ایک الہامی کتاب نوع انسان کو ملی تھی۔ مگر وہ وید ہرگز نہیں ہے اور موجودہ وید کو خداتعالیٰ کی طرف منسوب کرنا اس پاک ذات کی توہین ہے۔ اس جگہ اگر کوئی یہ سوال کرے کہ ابتدائے زمانہ میں صرف ایک الہامی کتاب انسانوں کو کیوں دی گئی۔ ہر ایک قوم کے لئے جُدا جدا کتابیں کیوں نہ دی گئیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ابتدائے زمانہ میں انسان تھوڑے تھے اور اس تعداد سے بھی کم تر تھے جو ان کو ایک قوم کہا جائے۔ اس لئے اُن کے لئے صرف ایک کتاب کافی تھی۔ پھر بعد اس کے جب دنیا میں انسان پھیل گئے اور ہر ایک حصہ زمین کے باشندوں کا ایک قوم بن گئی اور بباعث دُور دراز مسافتوں کے ایک قوم دوسری قوم کے حالات سے بالکل بے خبر ہو گئی ایسے زمانوں میں خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت نے تقاضا فرمایا کہ ہر ایک قوم کے لئے جُدا جُدا رسول اور الہامی کتابیں دی جائیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور پھر جب نوع انسان نے دنیا کی آبادی میں ترقی کی اور ملاقات کے لئے راہ کھل گئی اور ایک ملک کے لوگوں کو دوسرے ملک کے لوگوں کے ساتھ ملاقات کرنے کے لئے سامان میسر آ گئے اور اس بات کا علم ہو گیا کہ فلاں فلاں حصہ زمین پر نوع انسان رہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ ان سب کو پھر دوبارہ ایک قوم کی طرح بنا دیا جائے اور بعد تفرقہ کے پھر اُن کو جمع کیا جاوے تب خدا نے تمام ملکوں کے لئے ایک کتاب بھیجی اور اس کتاب میں حکم فرمایا کہ جس جس زمانہ میں یہ کتاب مختلف ممالک میں پہنچے ان کا فرض ہو گا کہ ان کو قبول کر لیں اور اُس پر ایمان لاویں اور وہ کتاب قرآن شریف ہے جو تمام ملکوں کا باہمی رشتہ قائم کرنے کے لئے آئی ہے۔ قرآن سے پہلی سب کتابیں مختص القوم کہلاتی تھیں یعنی صرف ایک قوم کے لئے ہی آتی تھیں۔ چنانچہ شامی فارسی ہندی چینی مصری رومی یہ سب قومیں تھیں جن کے لئے جو کتابیں یا رسول آئے وہ صرف اپنی قوم تک محدود تھے دوسری قوم سے اُن کو کچھ تعلق اور واسطہ نہ تھا۔ مگر سب کے بعد قرآن شریف آیا جو ایک عالمگیر کتاب ہے۔ اور کسی خاص قوم کے لئے نہیں بلکہ تمام قوموں کے لئے ہے۔ ایسا ہی قرآن شریف ایک ایسی اُمت کے لئے آیا جو آہستہ آہستہ ایک ہی قوم بننا چاہتی تھی۔ سو اب زمانہ کے لئے ایسے سامان میسر آ گئے ہیں جو مختلف قوموں کو وحدت کا رنگ بخشتے جاتے ہیں۔ باہمی ملاقات جو اصل جڑ ایک قوم بننے کی ہے ایسی سہل ہو گئی ہے کہ برسوں کی راہ چند دنوں میں طے ہو سکتی ہے اور پیغام رسانی کے لئے وہ سبیلیں پید اہو گئی ہیں کہ جو ایک برس میں بھی کسی دُور دراز ملک کی خبر نہیں آ سکتی تھی۔ وہ اب ایک ساعت میں آ سکتی ہے۔ زمانہ میں ایک ایسا انقلابِ عظیم پیدا ہو رہا ہے اور تمدنی دریا کی دھار نے ایک ایسی طرف رُخ کر لیا ہے جس سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ اب خدا تعالیٰ کا یہی ارادہ ہے کہ تمام قوموں کو جو دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں ایک قوم بنا دے۔ اور ہزار ہا برسوں کے بچھڑے ہوؤں کو پھر باہم ملادے۔ اور یہ خبر قرآن شریف میں موجود ہے اور قرآن شریف نے ہی کھلے طور پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ دنیاکی تمام قوموں کے لئے آیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا یعنی تمام لوگوں کو کہہ دے کہ مَیں تم سب کے لئے رسول ہو کر آ یا ہوں۔ اور پھر فرماتا ہے وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ یعنی مَیں نے تمام عالموں کے لئے تجھے رحمت کر کے بھیجا ہے اور پھر فرماتا ہے لِیَکُوۡنَ لِلۡعٰلَمِیۡنَ نَذِیۡرَا یعنی ہم نے اس لئے بھیجا ہے کہ تمام دنیا کو ڈراوے لیکن ہم بڑے زور سے کہتے ہیں کہ قرآن شریف سے پہلے دنیا کی کسی الہامی کتاب نے یہ دعویٰ نہیں کیا بلکہ ہر ایک نے اپنی رسالت کو اپنی قوم تک ہی محدود رکھا یہاں تک کہ جس نبی کو عیسائیوں نے خدا قرار دیا اس کے منہ سے بھی یہی نکلا کہ مَیں اسرائیل کی بھیڑوں کے سوا اور کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا اور زمانہ کے حالات نے بھی گواہی دی کہ قرآن شریف کا یہ دعویٰ تبلیغ عام کا عین موقع پر ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت تبلیغ عام کا دروازہ کھل گیا تھا۔ (چشمہء معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ۷۴ تا۷۷)
قرآن شریف میں یہ وعدہ تھا کہ خدا تعالیٰ فتنوں اور خطرات کے وقت میں دین اسلام کی حفاظت کرے گا جیسا کہ وہ فرماتا ہے اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ سو خدا تعالیٰ نے بموجب اس وعدہ کے چار قسم کی حفاظت اپنے کلام کی کی۔ اوّل حافظوں کے ذریعہ سے اس کے الفاظ اور ترتیب کو محفوظ رکھا اور ہر ایک صدی میں لاکھوں ایسے انسان پیدا کئے جو اس کی پاک کلام کو اپنے سینوں میں حفظ رکھتے ہیں۔ ایسا حفظ کہ اگر ایک لفظ پوچھا جائے تو اس کا اگلا پچھلا سب بتا سکتے ہیں۔ اور اس طرح پر قرآن کو تحریف لفظی سے ہر ایک زمانہ میں بچایا۔ دوسرے ایسے ائمہ اور اکابر کے ذریعہ سے جن کو ہر ایک صدی میں فہم قرآن عطا ہوا ہے۔ جنہوں نے قرآن شریف کے اجمالی مقامات کی احادیث نبویہؐ کی مدد سے تفسیر کر کے خدا کی پاک کلام اور پاک تعلیم کو ہر ایک زمانہ میں تحریف معنوی سے محفوظ رکھا تیسرے متکلمین کے ذریعہ سے جنہوں نے قرآنی تعلیمات کو عقل کے ساتھ تطبیق دے کر خدا کی پاک کلام کو کوتہ اندیش فلسفیوں کے استخفاف سے بچایا ہے۔ چوتھے رُوحانی انعام پانے والوں کے ذریعہ سے جنہوں نے خدا کی پاک کلام کو ہر ایک زمانہ میں معجزات اور معارف کے منکروں کے حملہ سے بچایا ہے۔ (ایّام الصلح۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۲۸۸)
شاید اس جگہ کسی کے دل میں یہ وسوسہ اُٹھے کہ مسلمانوں کا بھی یہی اعتقاد ہے کہ وحی حضرت آدم سے شروع ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئی۔ سو اس عقیدہ کے رو سے بھی بعد زمانہ حضرت خاتم الانبیاء کے انقطاع وحی کا ہمیشہ کے لئے لازم آیا۔ سو اس کے جواب میں یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارا ہندوؤں کی طرح ہرگز یہ اعتقادنہیں جو خدا کے پاس اتنی ہی کلام تھی جتنی وہ ظاہر کر چکا بلکہ بموجب اعتقاد اسلام کے خدا کی کلام اور خدا کا علم اور حکمت مثل ذات اس کی کے غیر محدود ہے۔ چنانچہ اس بارہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ فرمایا ہے۔ قُلۡ لَّوۡ کَانَ الۡبَحۡرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیۡ لَنَفِدَ الۡبَحۡرُ قَبۡلَ اَنۡ تَنۡفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیۡ وَلَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِہٖ مَدَدًا (سورۃ کہف الجزو۱۶) یعنی اگر خدا کی کلام کے لکھنے کے لئے سمندر کو سیاہی بنایا جائے تو لکھتے لکھتے سمندر ختم ہو جائے اور کلام میں کچھ کمی نہ ہو۔ گو ویسے ہی اَور سمندر بطور مدد کے کام میں لائے جائیں۔ رہی یہ بات کہ ہم لوگ ختم ہونا وحی کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کن معنوں سے مانتے ہیں۔ سو اس میں اصل حقیقت یہ ہے کہ گو کلام الٰہی اپنی ذات میں غیر محدود ہے لیکن چونکہ وہ مفاسد کہ جن کی اصلاح کے لئے کلام الٰہی نازل ہوتی رہی یا وہ ضرورتیں کہ جن کو الہام ربّانی پورا کرتا رہا ہے وہ قدر محدود سے زیادہ نہیں ہیں۔ اِس لئے کلام الٰہی بھی اسی قدر نازل ہوئی ہے کہ جس قدر بنی آدم کو اس کی ضرورت تھی اور قرآن شریف ایسے زمانہ میں آیا تھا کہ جس میں ہر ایک طرح کی ضرورتیں کہ جن کا پیش آنا ممکن ہے پیش آ گئی تھیں۔ یعنی تمام امور اخلاقی اور اعتقادی اور قولی اور فعلی بگڑ گئے تھے۔ اور ہر ایک قسم کا افراط تفریط اور ہر ایک نوع کا فساد اپنے انتہا کو پہنچ گیا تھا۔ اس لئے قرآن شریف کی تعلیم بھی انتہائی درجہ پر نازل ہوئی۔ پس انہی معنوں سے شریعت فرقانی مختتم اور مکمل ٹھہری اور پہلی شریعتیں ناقص رہیں کیونکہ پہلے زمانوں میں وہ مفاسد کہ جن کی اصلاح کے لئے الہامی کتابیں آئیں وہ بھی انتہائی درجہ پر نہیں پہنچے تھے اور قرآن شریف کے وقت میں وہ سب اپنی انتہاء کو پہنچ گئے تھے۔ پس اب قرآن شریف اور دوسری الہامی کتابوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی کتابیں اگر ہر ایک طرح کے خلل سے محفوظ بھی رہتیں۔ پھر بھی بوجہ ناقص ہونے تعلیم کے ضرور تھا کہ کسی وقت کامل تعلیم یعنی فرقانِ مجید ظہور پذیر ہوتا مگر قرآن شریف کے لئے اب یہ ضرورت درپیش نہیں کہ اس کے بعد کوئی اَور کتاب بھی آوے کیونکہ کمال کے بعد اور کوئی درجہ باقی نہیں۔ ہاں اگر یہ فرض کیا جائے کہ کسی وقت اصول حقہ قرآن شریف کے وید اور انجیل کی طرح مشرکانہ اصول بنائے جائیں گے اور تعلیم توحید میں تبدیل اور تحریف عمل میں آوے گی یا اگر ساتھ اس کے یہ بھی فرض کیا جائے جو کسی زمانہ میں وہ کروڑہا مسلمان جو توحید پر قائم ہیں وہ بھی پھر طریق شرک اور مخلوق پرستی کا اختیار کر لیں گے۔ تو بے شک ایسی صورتوں میں دوسری شریعت اور دوسرے رسول کا آنا ضروری ہو گا مگر دونوں قسم کے فرض محال ہیں۔ قرآن شریف کی تعلیم کا محرف مبدّل ہونا اس لئے محال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ (سورۃ الحجر الجزو ۱۴) یعنی اس کتاب کو ہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ رہیں گے۔ سو تیرہ سو برس سے اِس پیشینگوئی کی صداقت ثابت ہو رہی ہے۔ اب تک قرآن شریف میں پہلی کتابوں کی طرح کوئی مشرکانہ تعلیم ملنے نہیں پائی اور آئندہ بھی عقل تجویز نہیں کر سکتی کہ اُس میں کسی نوع کی مشرکانہ تعلیم مخلوط ہو سکے کیونکہ لاکھوں مسلمان اس کے حافظ ہیں۔ ہزار ہا اس کی تفسیریں ہیں۔ پانچ وقت اس کی آیات نمازوں میں پڑھی جاتی ہیں۔ ہر روز اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔ اِسی طرح تمام ملکوں میں اس کا پھیل جانا، کروڑ ہا نسخے اس کے دنیا میں موجود ہونا، ہر یک قوم کا اس کی تعلیم سے مطلع ہو جانا یہ سب امور ایسے ہیں کہ جن کے لحاظ سے عقل اس بات پر قطع واجب کرتی ہے کہ آئندہ بھی کسی نوع کا تغیر اور تبدل قرآن شریف میں واقع ہونا ممتنع اور محال ہے۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد۱ صفحہ ۱۰۰ تا ۱۰۲ حاشیہ نمبر ۹)
وسوسۂ ہفتم۔ کسی کتاب پر علم الٰہی کی ساری صداقتیں ختم نہیں ہو سکتیں۔ پھر کیونکر امید کی جائے کہ ناقص کتابیں کامل معرفت تک پہنچا دیں گی۔
جواب۔ یہ وسوسہ اس وقت قابلِ التفات ہوتا کہ جب برہم سماج والوں میں سے کوئی صاحب اپنی عقل کے زور سے خدا شناسی یا کسی دوسرے امر معاد کے متعلق کوئی ایسی جدید صداقت نکالتا جس کا قرآن شریف میں کہیں ذکر نہ ہوتا۔ اور ایسی حالت میں بلاشبہ حضراتِ برہمو بڑے ناز سے کہہ سکتے تھے کہ علمِ معاد اور خدا شناسی کی ساری صداقتیں کتاب الہامی میں مندرج نہیں بلکہ فلاں فلاں صداقت باہر رہ گئی ہے جس کو ہم نے دریافت کیا ہے۔ اگر ایسا کر کے دکھلاتے تب تو شاید کسی نادان کو کوئی دھوکہ بھی دے سکتے۔ پر جس حالت میں قرآن شریف کھلا کھلی دعویٰ کر رہا ہے۔ مَا فَرَّطۡنَا فِی الۡکِتٰبِ مِنۡ شَیۡءٍ الجزو نمبر ۷۔ یعنی کوئی صداقت علم الٰہی کے متعلق جو انسان کے لئے ضروری ہے اس کتاب سے باہر نہیں۔ اور پھر فرمایا یَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً فِیۡہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ الجزو نمبر ۳۰ یعنی خدا کا رسول پاک صحیفے پڑھتا ہے جن میں تمام کامل صداقتیں اور علوم اوّلین و آخرین درج ہیں۔ اور پھر فرمایا کِتٰبٌ اُحۡکِمَتۡ اٰیٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتۡ مِنۡ لَّدُنۡ حَکِیۡمٍ خَبِیۡرٍ الجزو نمبر ۱۱۔ یعنی اس کتاب میں دو خوبیاں ہیں۔ ایک تو یہ کہ حکیم مطلق نے محکم اور مدلّل طور پر یعنی علوم حکمیہ کی طرح اس کو بیان کیا ہے بطور کتھا یا قصہ نہیں۔ دوسری یہ خوبی کہ اس میں تمام ضروریات علم معاد کی تفصیل کی گئی ہے۔ اور پھر فرمایا اِنَّہٗ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ وَّمَا ہُوَ بِالۡہَزۡلِ یعنی علم معاد میں جس قدر تنازعات اُٹھیں سب کا فیصلہ یہ کتاب کرتی ہے بے سود اور بیکار نہیں ہے اور پھر فرمایا وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِی اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ۙ وَہُدًی وَّرَحۡمَۃً لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ الجزو نمبر ۱۴ یعنی ہم نے اس لئے کتاب کو نازل کیا ہے تا جو اختلافات عقولِ ناقصہ کے باعث سے پیدا ہو گئے ہیں یا کسی عمداً افراط و تفریط کرنے سے ظہور میں آئے ہیں ان سب کو دُور کیا جائے اور ایمانداروں کے لئے سیدھا راستہ بتلایا جاوے۔ اس جگہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جو فساد بنی آدم کے مختلف کلاموں سے پھیلا ہے اس کی اصلاح بھی کلام ہی پر موقوف ہے۔ یعنی اس بگاڑ کے درست کرنے کے لئے جو بے ہودہ اور غلط کلاموں سے پیدا ہوا ہے ایسے کلام کی ضرورت ہے کہ جو تمام عیوب سے پاک ہو کیونکہ یہ نہایت بدیہی بات ہے کہ کلام کارہزدہ کلام ہی کے ذریعہ سے راہ راست پر آ سکتا ہے صرف اشاراتِ قانونِ قدرت تنازعاتِ کلامیہ کا فیصلہ نہیں کر سکتے اور نہ گمراہ کو اس کی گمراہی پر بصفائی تمام ملزم کر سکتے ہیں۔ جیسے اگر جج نہ مدعی کی وجوہات بہ تصریح قلمبند کرے نہ مدعا علیہ کے عذرات کو بدلائل قاطعہ توڑے تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ صرف اس کے اشارات سے فریقین اپنے اپنے سوالات و اعتراضات و وجوہات کا جواب پا لیں اور کیونکر ایسے مبہم اشارات پر جن سے کسی فریق کا باطمینان کامل رفع عذر نہیں ہوا حکم آخیر مترتب ہو سکتا ہے۔ اِسی طرح خدا کی حجت بھی بندوں پر تب ہی پوری ہوتی ہے کہ جب اس کی طرف سے یہ التزام ہو کہ جو لوگ غلط تقریروں کے اثر سے طرح طرح کی بد عقیدگی میں پڑ گئے ہیں ان کو بذریعہ اپنی کامل و صحیح تقریر کے غلطی پر مطلع کرے۔ اور مدلّل اور واضح بیان سے اُن کا گمراہ ہونا ان کو جتلا دے تا اگر اطلاع پا کر پھر بھی وہ باز نہ آویں اور غلطی کو نہ چھوڑیں تو سزا کے لائق ہوں۔ خدائے تعالیٰ ایک کو مجرم ٹھہرا کر پکڑے اور سزا دینے کو طیار ہو جائے مگر بیان واضح سے اس کے دلائل بریّت کا غلط ہونا ثابت نہ کرے۔ اور اس کے دلی شبہات کو اپنی کھلی کلام سے نہ مٹادے۔ کیا یہ اس کا منصفانہ حکم ہو گا؟ پھر اسی کی طرف دوسری آیت میں بھی اشارہ فرمایا ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَالۡفُرۡقَانِ الجزو نمبر ۲۔ یعنی قرآن میں تین صفتیں ہیں۔ اوّل یہ کہ جو علومِ دین لوگوں کو معلوم نہیں رہے تھے اُن کی طرف ہدایت فرماتا ہے۔ دوسرے جن علوم میں پہلے کچھ اجمال چلا آتا تھا اُن کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ تیسرے جن امور میں اختلاف اور تنازعہ پیدا ہو گیا تھا اُن میں قولِ فیصل بیان کرکے حق اور باطل میں فرق ظاہر کرتا ہے۔ اور پھر اُسی جامعیت کے بارہ میں فرمایا وَکُلَّ شَیۡءٍ فَصَّلۡنٰہُ تَفۡصِیۡلًا الجزو نمبر ۱۵ یعنی اس کتاب میں ہر یک علم دین کو بہ تفصیل تمام کھول دیا ہے اور اس کے ذریعہ سے انسان کی جزئی ترقی نہیں بلکہ یہ وہ وسائل بتلاتا ہے اور ایسے علوم کاملہ تعلیم فرماتا ہے جن سے کلی طور پر ترقی ہو اور پھر فرمایا وَنَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ تِبۡیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ وَّہُدًی وَّرَحۡمَۃً وَّبُشۡرٰی لِلۡمُسۡلِمِیۡنَ الجزو نمبر ۱۴۔ یعنی یہ کتاب ہم نے اس لئے تجھ پر نازل کی کہ تا ہر یک دینی صداقت کو کھول کر بیان کر دے۔ اور تا یہ بیان کامل ہمارا ان کے لئے جو اطاعتِ الٰہی اختیار کرتے ہیں موجب ہدایت و رحمت ہو۔ اور پھر فرمایا۔ الٓرٰ ۟ کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ اِلَیۡکَ لِتُخۡرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ الجزو نمبر ۱۳ یعنی یہ عالی شان کتاب ہم نے تجھ پر نازل کی تاکہ تو لوگوں کو ہر یک قسم کی تاریکی سے نکال کر نور میں داخل کرے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جس قدر انسان کے نفس میں طرح طرح کے وساوس گذرتے ہیں اور شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ اُن سب کو قرآن شریف دُور کرتا ہے اور ہر ایک طور کے خیالات فاسدہ کو مٹاتا ہے اور معرفت کامل کا نور بخشتا ہے یعنی جو کچھ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے اور اس پر یقین لانے کے لئے معارف و حقائق درکار ہیں سب عطافرماتا ہے اور پھر فرمایا مَا کَانَ حَدِیۡثًا یُّفۡتَرٰی وَلٰکِنۡ تَصۡدِیۡقَ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَتَفۡصِیۡلَ کُلِّ شَیۡءٍ وَّہُدًی وَّرَحۡمَۃً لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ الجزو نمبر ۱۳۔ یعنی قرآن ایسی کتاب نہیں کہ انسان اس کو بنا سکے بلکہ اس کے آثارِ صدق ظاہر ہیں کیونکہ وہ پہلی کتابوں کو سچا کرتا ہے یعنی کتب سابقہ انبیاء میں جو اس کے بارہ میں پیشینگوئیں موجود تھیں وہ اس کے ظہور سے بہ پایۂ صداقت پہنچ گئیں اور جن عقائد حقہ کے بارہ میں ان کتابوں میں دلائل واضح موجودنہ تھیں اُن کے قرآن نے دلائل بتلائے اور ان کی تعلیم کو مرتبۂ کمال تک پہنچایا۔ اس طور پر ان کتابوں کو سچا کیا جس سے خود سچائی اُس کی ثابت ہوتی ہے۔ دوسرے نشانِ صدق یہ کہ ہر یک صداقت دینی کو وہ بیان کرتا ہے اور تمام وہ امور بتلاتا ہے کہ جو ہدایت کامل پانے کے لئے ضروری ہیں۔ اور یہ اس لئے نشان صدق ٹھہرا کہ انسان کی طاقت سے یہ بات باہر ہے کہ اس کا علم ایسا وسیع و محیط ہو جس سے کوئی دینی صداقت و حقائق دقیقہ باہر نہ رہیں۔
غرض ان تمام آیات میں خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ قرآن شریف ساری صداقتوں کا جامع ہے۔ اور یہی بزرگ دلیل اس کی حقانیت پر ہے۔ اور اس دعویٰ پر صدہا برس بھی گذر گئے پر آج تک کسی برہمو وغیرہ نے اِس کے مقابلہ پر دم بھی نہ مارا تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ بغیر پیش کرنے کسی ایسی جدید صداقت کے کہ جو قرآن شریف سے باہر رہ گئی ہو۔ یونہی دیوانوں اور سودائیوں کی طرح اوہامِ باطلہ پیش کرنا جن کی کچھ بھی اصلیت نہیں اس بات پر پختہ دلیل ہے کہ ایسے لوگوں کو راستبازوں کی طرح حق کا تلاش کرنا منظور ہی نہیں۔ بلکہ نفس امّارہ کو خوش رکھنے کے لئے اس فکر میں پڑے ہوئے ہیں کہ کسی طرح خدا کے پاک کلام احکام سے بلکہ خدا ہی سے آزادگی حاصل کرلیں۔ اِسی آزادگی کے حصول کی غرض سے خدا کی سچی کتاب سے جس کی حقانیت اظہر من الشمس ہے ایسے منحرف ہو رہے ہیں کہ نہ متکلّم بن کر شائستہ طریق پر کلام کرتے ہیں اور نہ سامع ہونے کی حالت میں کسی دوسرے کی بات سنتے ہیں۔ بھلا کوئی اُن سے پوچھے کہ کب کسی نے کوئی صداقت دینی قرآن کے مقابلہ پر پیش کی جس کا قرآن نے کچھ جواب نہ دیا اور خالی ہاتھ بھیج دیا۔ جس حالت میں تیرہ سو برس سے قرآن شریف بآواز بلند دعویٰ کر رہا ہے کہ تمام دینی صداقتیں اُس میں بھری پڑی ہیں تو پھر یہ کیسا خبث طینت ہے کہ امتحان کے بغیر ایسی عالی شان کتاب کو ناقص خیال کیا جائے۔ اور یہ کس قسم کا مکابرہ ہے کہ نہ قرآن شریف کے بیان کو قبول کریں اور نہ اُس کے دعویٰ کو توڑ کر دکھلائیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان لوگوں کے لبوں پر تو ضرور کبھی کبھی خدا کا ذکر آ جاتا ہے مگر اُن کے دل دنیا کی گندگی سے بھرے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی دینی بحث شروع بھی کریں تو اس کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں چاہتے بلکہ ناتمام گفتگو کا ہی جلدی سے گلا گھونٹ دیتے ہیں تا ایسا نہ ہو کہ کوئی صداقت ظاہر ہو جائے اور پھر بے شرمی یہ کہ گھر میں بیٹھ کر اس کامل کتاب کو ناقص بیان کرتے ہیں جس نے بوضاحت تمام فرما دیا۔ اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ الجزو نمبر۶۔ یعنی آج میں نے اِس کتاب کے نازل کرنے سے علم دین کو مرتبہء کمال تک پہنچا دیا اور اپنی تمام نعمتیں ایمان داروں پر پوری کر دیں۔ اے حضرات! کیا تمہیں کچھ بھی خدا کا خوف نہیں؟ کیا تم ہمیشہ اسی طرح جیتے رہو گے؟ کیا ایک دن خدا کے حضور میں اِس جُھوٹے مُنہ پر لعنتیں نہیں پڑیں گی؟ اگر آپ لوگ کوئی بھاری صداقت لئے بیٹھے ہیں جس کی نسبت تمہارا یہ خیال ہے کہ ہم نے کمال جانفشانی اور عرق ریزی اور موشگافی سے اس کو پیدا کیا ہے اور جو تمہارے گمان باطل میں قرآن شریف اس صداقت کے بیان کرنے سے قاصر ہے تو تمہیں قسم ہے کہ سب کاروبار چھوڑ کر وہ صداقت ہمارے رُوبرو پیش کرو تاہم تم کو قرآن شریف میں سے نکال کر دکھلا دیں۔
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۲۳ تا۲۲۷ حاشیہ نمبر ۱۱)جمال و حسنِ قرآں نور جانِ ہر مسلماں ہے
قمر ہے چاند اَوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے
نظیر اُس کی نہیں جمتی نظر میں فکر کر دیکھا
بھلا کیونکر نہ ہو یکتا کلام پاک رحماں ہے
بہار جاوداں پیدا ہے اُس کی ہر عبارت میں
نہ وہ خوبی چمن میں ہے نہ اُس سا کوئی بُستاں ہے
کلامِ پاک یزداں کا کوئی ثانی نہیں ہرگز
اگر لولوئے عمّاں ہے وگر لعلِ بدخشاں ہے
خدا کے قول سے قولِ بشر کیونکر برابر ہو
وہاں قدرت یہاں درماندگی فرقِ نمایاں ہے
ملائک جس کی حضرت میں کریں اقرار لاعلمی
سخن میں اس کے ہمتائی کہاں مقدور انساں ہے
بنا سکتا نہیں اک پانوء کیڑے کا بشر ہرگز
تو پھر کیونکر بنانا نورِ حق کا اُس پہ آساں ہے
ارے لوگو کرو کچھ پاس شانِ کبریائی کا
زباں کو تھام لو اب بھی اگر کچھ بُوئے ایماں ہے
خدا سے غیر کو ہمتا بنانا سخت کفراں ہے
خدا سے کچھ ڈرو یارو یہ کیسا کذب و بہتاں ہے
اگر اقرار ہے تم کو خدا کی ذاتِ واحد کا
تو پھر کیوں اس قدر دل میں تمہارے شرک پنہاں ہے
یہ کیسے پڑ گئے دل پر تمہارے جہل کے پردے
خطا کرتے ہو باز آؤ اگر کچھ خوف یزداں ہے
ہمیں کچھ کیں نہیں بھائیو! نصیحت ہے غریبانہ
کوئی جو پاک دل ہووے دل و جاں اُس پر قرباں ہے
نورِ فرقاں ہے جو سب نوروں سے اجلٰی نکلا
پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا
حق کی توحید کا مُرجھا ہی چلا تھا پودا
ناگہاں غیب سے یہ چشمۂ اصفٰی نکلا
یاالٰہی! تیرا فرقاں ہے کہ اِک عالم ہے
جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیّا نکلا
سب جہاں چھان چکے ساری دکانیں دیکھیں
مئے عرفاں کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا
کس سے اِس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ
وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا
پہلے سمجھے تھے کہ موسٰی کا عصا ہے فرقاں
پھر جو سوچا تو ہر اِک لفظ مسیحا نکلا
ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور
ایسا چمکا ہے کہ صدنیّر بیضا نکلا
زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اس دنیا میں
جن کا اِس نور کے ہوتے بھی دل اعمٰی نکلا
مسلمانوں کے ہاتھ میں اسلامی ہدایتوں پر قائم ہونے کے لئے تین چیزیں ہیں۔
(۱) قرآن شریف جو کتاب اللہ ہے جس سے بڑھ کر ہمارے ہاتھ میں کوئی کلام قطعی اور یقینی نہیں۔ وہ خدا کا کلام ہے وہ شک اور ظن کی آلائشوں سے پاک ہے۔
(۲) دوسری سُنت۔ اور اس جگہ ہم اہلحدیث کی اصطلاحات سے الگ ہو کر بات کرتے ہیں یعنی ہم حدیث اور سنت کو ایک چیز قرار نہیں دیتے جیسا کہ رسمی محدثین کا طریق ہے بلکہ حدیث الگ چیز ہے اور سنت الگ چیز۔ سنت سے مراد ہماری صرف آنحضرتؐ کی فعلی روش ہے جو اپنے اندر تواتر رکھتی ہے اور ابتدا سے قرآن شریف کے ساتھ ہی ظاہر ہوئی اور ہمیشہ ساتھ ہی رہے گی یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ قرآن شریف خدا تعالیٰ کا قول ہے اور سنت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل اور قدیم سے عادت اللہ یہی ہے کہ جب انبیاء علیہم السلام خدا کا قول لوگوں کی ہدایت کے لئے لاتے ہیں تو اپنے فعل سے یعنی عملی طور پر اس قول کی تفسیر کر دیتے ہیں تا اس قول کا سمجھنا لوگوں پر مشتبہ نہ رہے اور اس قول پر آپ بھی عمل کرتے ہیں اور دوسروں سے بھی عمل کراتے ہیں۔
(۳) تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے۔ اور حدیث سے مراد ہماری وہ آثار ہیں کہ جو قصوں کے رنگ میں آنحضرتؐ سے قریباً ڈیڑھ سو برس بعد مختلف راویوں کے ذریعوں سے جمع کئے گئے ہیں۔ پس سنت اور حدیث میں مابہ الامتیاز یہ ہے کہ سنت ایک عملی طریق ہے جو اپنے ساتھ تواتر رکھتا ہے جس کو آنحضرتؐ نے اپنے ہاتھ سے جاری کیا۔ اور وہ یقینی مراتب میں قرآن شریف سے دوسرے درجہ پر ہے۔ اور جس طرح آنحضرتؐ قرآن شریف کی اشاعت کے لئے مامور تھے۔ ایسا ہی سنت کی اقامت کے لئے بھی مامور تھے۔ پس جیسا کہ قرآن شریف یقینی ہے ایسا ہی سنت معمولہ متواترہ بھی یقینی ہے۔ یہ دونوں خدمات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے بجا لائے۔ اور دونوں کو اپنا فرض سمجھا۔ مثلاً جب نماز کے لئے حکم ہوا۔ تو آنحضرتؐ نے خدا تعالیٰ کے اس قول کو اپنے فعل سے کھول کر دکھلا دیا اور عملی رنگ میں ظاہر کر دیا کہ فجر کی نماز کی یہ رکعات ہیں اور مغرب کی یہ۔ اور باقی نمازوں کے لئے یہ یہ رکعات ہیں۔ ایسا ہی حج کر کے دکھلا یا اور پھر اپنے ہاتھ سے ہزار ہا صحابہؓ کو اس فعل کا پابند کر کے سِلسلہ تعامل بڑے زور سے قائم کر دیا۔ پس عملی نمونہ جو اب تک اُمت میں تعامل کے رنگ میں مشہود و محسوس ہے۔ اسی کا نام سنُت ہے۔ لیکن حدیث کو آنحضرت صلعم نے اپنے روبرو نہیں لکھوایا اور نہ اس کے جمع کرنے کے لئے کوئی اہتمام کیا۔ کچھ حدیثیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جمع کی تھیں۔ لیکن پھر تقویٰ کے خیال سے انہوں نے وہ سب حدیثیں جلا دیں۔ کہ یہ میرا سماع بلاواسطہ نہیں ہے خدا جانے اصل حقیقت کیا ہے پھر جب وہ دور صحابہ رضی اللہ عنہم کا گذر گیا تو بعض تبع تابعین کی طبیعت کو خدا نے اس طرف پھیر دیا کہ حدیثوں کو بھی جمع کر لینا چاہئے۔ تب حدیثیں جمع ہوئیں۔ اِس میں شک نہیں ہو سکتا کہ اکثر حدیثوں کے جمع کرنے والے بڑے متقی اور پرہیز گار تھے۔ انہوں نے جہاں تک ان کی طاقت میں تھا حدیثوں کی تنقید کی اور ایسی حدیثوں سے بچنا چاہا جو اُن کی رائے میں موضوعات میں سے تھیں۔ اور ہر ایک مشتبہ الحال راوی کی حدیث نہیں لی بہت محنت کی۔ مگر تاہم چونکہ وہ ساری کارروائی بعد از وقت تھی اس لئے وہ سب ظن کے مرتبہ پر رہی۔ باایں ہمہ یہ سخت ناانصافی ہو گی کہ یہ کہا جائے کہ وہ سب حدیثیں لغو اور نکمّی اور بے فائدہ اور جھوٹی ہیں۔ بلکہ ان حدیثوں کے لکھنے میں اس قدر احتیاط سے کام لیا گیا ہے اور اس قدر تحقیق اور تنقید کی گئی ہے جو اس کی نظیر دوسرے مذاہب میں نہیں پائی جاتی۔ یہودیوں میں بھی حدیثیں ہیں اور حضرت مسیح کے مقابل پر بھی وہی فرقہ یہودیوں کا تھا جو عامل بالحدیث کہلاتا تھا۔ لیکن ثابت نہیں کیا گیا کہ یہودیوں کے محدثین نے ایسی احتیاط سے وہ حدیثیں جمع کی تھیں جیسا کہ اسلام کے محدثین نے۔ تاہم یہ غلطی ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ جب تک حدیثیں جمع نہیں ہوئی تھیں اس وقت تک لوگ نمازوں کی رکعات سے بے خبر تھے یا حج کرنے کے طریق سے نا آشنا تھے کیونکہ سلسلہ تعامل نے جو سنت کے ذریعہ سے اُن میں پیدا ہو گیا تھا تمام حدود اور فرائض اسلام ان کو سکھلا دیئے تھے۔ اس لئے یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ان حدیثوں کا دنیا میں اگروجود بھی نہ ہوتا جو مدت دراز کے بعد جمع کی گئیں تو اسلام کی اصلی تعلیم کا کچھ بھی حرج نہ تھا۔ کیونکہ قرآن اور سِلسلہ تعامل نے ان ضرورتوں کو پورا کر دیا تھا۔ تاہم حدیثوں نے اُس نور کو زیادہ کیا۔ گویا اِسلام نورٌ علیٰ نور ہو گیا۔ اور حدیثیں قرآن اور سنت کے لئے گواہ کی طرح کھڑی ہو گئیں۔ اور اسلام کے بہت سے فرقے جو بعد میں پیدا ہو گئے اُن میں سچے فرقے کو احادیث صحیحہ سے بہت فائدہ پہنچا۔ پس مذہب اسلم یہی ہے کہ نہ تو اس زمانہ کے اہل حدیث کی طرح حدیثوں کی نسبت یہ اعتقاد رکھا جائے کہ قرآن پر وہ مقدم ہیں اور نیز اگر اُن کے قصّے صریح قرآن کے بیانات سے مخالف پڑیں تو ایسا نہ کریں کہ حدیثوں کے قصوں کو قرآن پر ترجیح دی جاوے اور قرآن کو چھوڑ دیا جائے۔ اور نہ حدیثوں کو مولوی عبداللہ چکڑالوی کے عقیدہ کی طرح محض لغو اور باطل ٹھیرایا جائے بلکہ چاہئے کہ قرآن اور سنت کو حدیثوں پر قاضی سمجھا جائے اور جو حدیث قرآن اور سنت کے مخالف نہ ہو اس کو بسر و چشم قبول کیا جاوے۔ یہی صراطِ مستقیم ہے۔ مبارک وہ جو اس کے پابند ہوتے ہیں۔ نہایت بدقسمت اور نادان وہ شخص ہے جو بغیر لحاظ اس قاعدہ کے حدیثوں کا انکار کرتا ہے۔
ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اگر کوئی حدیث معارض اور مخالف قرآن اور سنت نہ ہو تو خواہ کیسے ہی ادنیٰ درجہ کی حدیث ہو اس پر وہ عمل کریں اور انسان کی بنائی ہوئی فقہ پر اس کو ترجیح دیں۔
(ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ۲۰۹ تا۲۱۲)ہماری کتب مسلّمہ و مقبولہ جن پر ہم عقیدہ رکھتے ہیں اور جن کو ہم معتبر سمجھتے ہیں بہ تفصیل ذیل ہیں۔
اوّل قرآن شریف۔ مگر یاد رہے کہ کسی قرآنی آیت کے معنے ہمارے نزدیک وہی معتبر اور صحیح ہیں جس پر قرآن کے دوسرے مقامات بھی شہادت دیتے ہوں کیونکہ قرآن کی بعض آیات بعض کی تفسیر ہیں اور نیز قرآن کے کامل اور یقینی معنوں کے لئے اگر وہ یقینی مرتبہ قرآن کے دوسرے مقامات سے میسّر نہ آ سکے یہ بھی شرط ہے کہ کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل بھی اس کی مفسّر ہو۔ غرض ہمارے مذہب میں تفسیر بالرائے ہرگز جائز نہیں۔ پس ہر یک معترض پر لازم ہو گا کہ کسی اعتراض کے وقت اس طریق سے باہر نہ جائے۔
دوم دوسری کتابیں جو ہماری مسلّم کتابیں ہیں اون میں سے اوّل درجہ پر صحیح بخاری ہے اور اس کی وہ تمام احادیث ہمارے نزدیک حجّت ہیں جو قرآن شریف سے مخالف نہیں۔ اور ان میں سے دوسری کتاب صحیح مسلم ہے۔ اور اس کو ہم اس شرط سے مانتے ہیں کہ قرآن اور صحیح بخاری سے مخالف نہ ہو۔ اور تیسرے درجہ پر صحیح ترمذی، ابن ماجہ، مؤطا، نسائی، ابو داؤد، دارقطنی کتب حدیث ہیں۔ جن کی حدیثوں کو ہم اس شرط سے مانتے ہیں کہ قرآن اور صحیحین سے مخالف نہ ہوں۔ یہ کتابیں ہمارے دین کی کتابیں ہیں اور یہ شرائط ہیں جن کی رُو سے ہمارا عمل ہے ……… پس ہریک معترض پر واجب ہو گا کہ کسی اعتراض کے وقت ان کتابوں اور ان شرائط سے باہر نہ جائے۔
(آریہ دھرم۔ روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۸۶، ۸۷)کتاب و سنّت کے حجج شرعیہ ہونے میں میرا یہ مذہب ہے کہ کتاب اللہ مقدم اور امام ہے۔ جس امر میں احادیث نبویّہ کے معانی جو کئے جاتے ہیں کتاب اللہ کے مخالف واقع نہ ہوں تو وہ معانی بطور حجۃ شرعیہ کے قبول کئے جائیں گے لیکن جو معانی نصوص بینہ قرآنیہ سے مخالف واقع ہوں گے ان معنوں کو ہم ہرگز قبول نہیں کریں گے بلکہ جہاں تک ہمارے لئے ممکن ہو گا ہم اس حدیث کے ایسے معانی کریں گے جو کتاب اللہ کی نص بین سے موافق و مطابق ہوں اور اگر ہم کوئی ایسی حدیث پائیں گے جو مخالف نص قرآن کریم ہو گی اور کسی صورت سے ہم اس کی تاویل کرنے پر قادر نہیں ہو سکیں گے تو ایسی حدیث کو ہم موضوع قرار دیں گے کیونکہ اللّٰہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍۭ بَعۡدَ اللّٰہِ وَاٰیٰتِہٖ یُؤۡمِنُوۡنَ یعنی تم بعد اللہ اور اس کی آیات کے کس حدیث پر ایمان لاؤ گے۔ اس آیت میں صریح اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر قرآن کریم کسی امر کی نسبت قطعی اور یقینی فیصلہ دیوے یہاں تک کہ اس فیصلہ میں کسی طور سے شک باقی نہ رہ جائے اور منشا اچھی طرح سے کھل جائے تو پھر بعد اس کے کسی ایسی حدیث پر ایمان لانا جو صریح اس کے مخالف پڑی ہو مومن کا کام نہیں ہے۔ پھر فرماتا ہے فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍۭ بَعۡدَہٗ یُؤۡمِنُوۡنَ اِن دونوں آیتوں کے ایک ہی معنے ہیں۔ اس لئے اس جگہ تصریح کی ضرورت نہیں۔ سو آیات متذکرہ بالا کی رو سے ہر ایک مومن کا یہ ہی مذہب ہونا چاہئے کہ وہ کتاب اللہ کو بلاشرط اور حدیث کو شرطی طور پر حجت شرعی قرار دیوے اور یہی میرا مذہب ہے۔ (الحق مباحثہ لدھیانہ۔ روحانی خزائن جلد۴ صفحہ۱۱، ۱۲)
جس کو خدا تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے فہم قرآن عطا کرے اور تفہیم الٰہی سے وہ مشرف ہو جاوے اور اُس پر ظاہر کر دیا جائے کہ قرآن کریم کی فلاں آیت سے فلاں حدیث مخالف ہے اور یہ علم اس کا کمال یقین اور قطعیت تک پہونچ جائے تو اس کے لئے یہی لازم ہو گا کہ حتی الوسع اوّل ادب کی راہ سے اس حدیث کی تاویل کرکے قرآن شریف سے مطابق کرے اور اگر مطابقت محالات میں سے ہو اور کسی صورت سے نہ ہو سکے تو بدرجہ ناچاری اس حدیث کے غیر صحیح ہونے کا قائل ہو۔ کیونکہ ہمارے لئے یہ بہتر ہے کہ ہم بحالتِ مخالفتِ قرآن شریف، حدیث کی تاویل کی طرف رجوع کریں۔ لیکن یہ سراسر الحاد اور کفر ہو گا کہ ہم ایسی حدیثوں کی خاطر سے کہ جو انسان کے ہاتھوں سے ہم کو ملی ہیں اور انسانوں کی باتوں کا اُن میں ملنا نہ صرف احتمالی امر ہے بلکہ یقینی طور پر پایا جاتا ہے قرآن کو چھوڑ دیں !!! (الحق مباحثہ لدھیانہ۔ روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۲۱)
واضح ہو کہ احادیث کے دو حصہ ہیں۔ ایک وہ حصہ جو سِلسلۂ تعامل کی پناہ میں کامل طور پر آ گیا ہے۔ یعنی وہ حدیثیں جن کو تعامل کے محکم اور قوی اور لاریب سِلسلہ نے قوت دی ہے اور مرتبہ یقین تک پہنچا دیا ہے۔ جس میں تمام ضروریاتِ دین اور عبادات اور عقود اور معاملات اور احکامِ شرع متین داخل ہیں۔ سو ایسی حدیثیں تو بلاشبہ یقین اور کامل ثبوت کی حد تک پہونچ گئے ہیں اور جو کچھ ان حدیثوں کو قوت حاصل ہے وہ قوت فنِ حدیث کے ذریعہ حاصل نہیں ہوئی اور نہ وہ احادیث منقولہ کی ذاتی قوت ہے اور نہ وہ راویوں کے وثاقت اور اعتبار کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے بلکہ وہ قوت ببرکت و طفیل سِلسلہ تعامل پیدا ہوئی ہے۔ سو مَیں ایسی حدیثوں کو جہاں تک اُن کو سلسلۂ تعامل سے قوت ملی ہے ایک مرتبہ یقین تک تسلیم کرتا ہوں۔ لیکن دوسرا حصّہ حدیثوں کا جن کو سِلسلہ تعامل سے کچھ تعلّق اور رشتہ نہیں ہے اور صرف راویوں کے سہارے سے اور اُن کی راست گوئی کے اعتبارپر قبول کی گئی ہیں ان کو مَیں مرتبہ ظن سے بڑھ کر خیال نہیں کرتا اور غایت کار مفید ظن ہو سکتی ہیں کیونکہ جس طریق سے وہ حاصل کی گئی ہیں وہ یقینی اور قطعی الثبوت طریق نہیں ہے بلکہ بہت سی آویزش کی جگہ ہے۔ (الحق مباحثہ لدھیانہ۔ روحانی خزائن جلد۴ صفحہ۳۵)
پس ایسا ہی صاحب معترض نے کسی سے سُن لیا ہے کہ احادیث اکثر احاد کے مرتبہ پر ہیں۔ اور اِس سے بلاتوقف یہ نتیجہ پیدا کیا کہ بجز قرآن کریم کے اور جس قدر مسلّماتِ اسلام ہیں وہ سب کے سب بے بنیاد و مشکوک ہیں جن کو یقین اور قطعیت میں سے کچھ حصّہ نہیں۔ لیکن درحقیقت یہ ایک بڑا بھاری دھوکہ ہے جس کا پہلا اثر دین اور ایمان کا تباہ ہونا ہے۔ کیونکہ اگر یہی بات سچ ہے کہ اہل اسلام کے پاس بجز قرآن کریم کے جس قدر اور منقولات ہیں وہ تمام ذخیرہ کذب اور جھوٹھ اور افترا اور ظنون اور اوہام کا ہے تو پھر شاید اسلام میں سے کچھ تھوڑا ہی حصّہ باقی رہ جائے گا وجہ یہ کہ ہمیں اپنے دین کی تمام تفصیلات احادیث نبویہ کے ذریعہ سے ملی ہیں۔ مثلاًیہ نماز جو پنج وقت ہم پڑھتے ہیں گو قرآن مجید سے اس کی فرضیت ثابت ہوتی ہے مگر یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ صبح کی دو رکعت فرض اور دو رکعت سنّت ہیں اور پھر ظہر کی چار رکعت فرض اور چار اور دو سنت اور مغرب کی تین رکعت فرض اور پھر عشاء کی چار۔ ایسا ہی زکوٰۃ کی تفاصیل معلوم کرنے کے لئے ہم بالکل احادیث کے محتاج ہیں اسی طرح ہزار ہا جزئیات ہیں جو عبادات اور معاملات اور عقود وغیرہ کے متعلق ہیں اور ایسی مشہور ہیں کہ ان کا لکھنا صرف وقت ضائع کرنا اور بات کو طول دینا ہے۔ علاوہ اس کے اسلامی تاریخ کا مبدء اور منبع یہی احادیث ہی ہیں۔ اگر احادیث کے بیان پر بھروسہ نہ کیا جائے تو پھر ہمیں اِس بات کو بھی یقینی طور پر نہیں ماننا چاہئے کہ درحقیقت حضرت ابو بکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تھے جن کو بعد وفات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی ترتیب سے خلافت ملی اور اسی ترتیب سے ان کی موت بھی ہوئی۔ کیونکہ اگر احادیث کے بیان پر اعتبار نہ کیا جاوے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان بزرگوں کے وجود کو یقینی کہہ سکیں۔ اور اس صورت میں ممکن ہو گا کہ تمام نام فرضی ہی ہوں اور دراصل نہ کوئی ابوبکر گذرا ہو نہ عمر نہ عثمان نہ علی۔ ……… ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کا نام عبداللہ اور والدہ کا نام آمنہ اور دادا کا نام عبدالمطلب ہونا اور پھر آنحضرت صلعم کی بیویوں میں سے ایک کا خدیجہ اور ایک کا نام عائشہ اور ایک کا نام حفصہ رضی اللہ عنھن ہونا اور دایہ کا نام حلیمہ ہونا۔ اور غارِ حرا میں جا کر آنحضرت کا عبادت کرنا اور بعض صحابہ کاحبشہ کی طرف ہجرت کرنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بعد بعثت دس۱۰ سال تک مکہ میں رہنا اور پھر وہ تمام لڑائیاں ہونا جن کا قرآن کریم میں نام و نشان نہیں اور صرف احادیث سے یہ تمام امور ثابت ہوتے ہیں۔ تو کیا ان تمام واقعات سے اس بنا پر انکار کر دیا جاوے کہ احادیث کچھ چیز نہیں؟ اگر یہ سچ ہے تو پھر مسلمانوں کے لئے ممکن نہ ہو گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک سوانح میں سے کچھ بھی بیان کر سکیں۔ دیکھنا چاہئے کہ ہمارے مولیٰ و آقا کی سوانح کا وہ سلسلہ کہ کیونکر قبل از بعثت مکہ میں زندگی بسر کی اور پھر کس سال دعوت نبوت کی اور کس ترتیب سے لوگ داخل اسلام ہوئے اور کفار نے مکہ کے دس سال میں کِس کِس قسم کی تکلیفیں پہنچائیں اور پھر کیونکر اور کس وجہ سے لڑائیاں شروع ہوئیں اور کس قدر لڑائیوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنفسِ نفیس حاضر ہوئے اور آنجنابؐ کے زمانہ زندگی تک کن کن ممالک تک حکومتِ اسلام پھیل چکی تھی۔ اور شاہانِ وقت کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتِ اسلام کے خط لکھے تھے یا نہیں اور اگر لکھے تھے تو کیا ان کا نتیجہ ہوا تھا؟ اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق کے وقت کیا کیا فتوحات اسلام ہوئیں اور کیا کیا مشکلات پیش آئیں؟ اور حضرت فاروق کے زمانہ میں کن کن ممالک تک فتوحات اسلام ہوئیں۔ یہ تمام امور صرف احادیث اور اقوالِ صحابہ کے ذریعہ سے معلوم ہوتے ہیں۔ پھر اگر احادیث کچھ بھی چیز نہیں تو پھر اُس زمانہ کے حالات دریافت کرنا نہ صرف ایک امر مشکل بلکہ محالات میں سے ہو گا۔ اور اس صورت میں واقعاتِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی نسبت مخالفین کو ہر یک افترا کی گنجائش ہو گی اور ہم دشمنوں کو بے جا حملہ کرنے کا بہت سا موقعہ دیں گے۔ اور ہمیں ماننا پڑے گا کہ جو کچھ ان احادیث کے ذریعہ سے واقعات اور سوانح دریافت ہوتے ہیں وہ سب ہیچ اور کالعدم ہیں۔ یہاں تک کہ صحابہ کے نام بھی یقینی طور پر ثابت نہیں۔ غرض ایسا خیال کرنا کہ احادیث کے ذریعہ سے کوئی یقینی اور قطعی صداقت ہمیں مل ہی نہیں سکتی۔ گویا اسلام کا بہت سا حصہ اپنے ہاتھ سے نابود کرنا ہے بلکہ اصل اور صحیح امر یہ ہے کہ جو کچھ احادیث کے ذریعہ سے بیان ہوا ہے جب تک صحیح اور صاف لفظوں میں قرآن اس کا معارض نہ ہو تب تک اس کو قبول کرنا لازم ہے۔ کیونکہ یہ بات مسلّم ہے کہ طبعی امر انسان کے لئے راست گوئی ہے اور انسان جھوٹ کو محض کسی مجبوری کی وجہ سے اختیار کرتا ہے۔ کیونکہ وہ اس کے لئے ایک غیر طبعی ہے۔ پھر ایسی احادیث جو تعامل اعتقادی یا عملی میں آ کر اسلام کے مختلف گروہوں کا ایک شعار ٹھہر گئی تھیں اُن کی قطعیت اور تواتر کی نسبت کلام کرنا تو درحقیقت جنون اور دیوانگی کا ایک شعبہ ہے۔ مثلاً آج اگر کوئی شخص یہ بحث کرے کہ یہ پنج نمازیں جو مسلمان پنجوقت ادا کرتے ہیں ان کی رکعات کی تعداد ایک شکی امر ہے۔ کیونکہ مثلاً قرآن کریم کی کسی آیت میں یہ مذکور نہیں کہ تم صبح کی دو رکعت پڑھا کرو۔ اور پھر جمعہ کی دو اور عیدین کی بھی دو دو۔ رہی احادیث تو وہ اکثر احاد ہیں جو مفید یقین نہیں۔ تو کیا ایسی بحث کرنے والا حق پر ہو گا۔ اگر احادیث کی نسبت ایسی ہی رائیں قبول کی جائیں تو سب سے پہلے نماز ہی ہاتھ سے جاتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے تو نماز پڑھنے کا کوئی نقشہ کھینچ کر نہیں دکھلایا صرف یہ نمازیں احادیث کی صحت کے بھروسہ پر پڑھی جاتی ہیں …………
درحقیقت یہی ایک بھاری غلطی ہے جس نے اس زمانہ کے نیچریوں کو صداقت اسلام سے بہت ہی دور ڈال دیا۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ گویا اسلام کی وہ تمام سُنن اور رسوم اور عبادات اور سوانح اور تواریخ جن پر حدیثوں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ وہ صرف چند حدیثوں کی بنا پر ہی قائم ہیں۔ حالانکہ یہ اُن کی فاش غلطی ہے۔ بلکہ جس تعامل کے سِلسلہ کو ہمارے نبی صلعم نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا تھا وہ ایسا کروڑ ہا انسانوں میں پھیل گیا تھا کہ اگر محدثین کا دنیا میں نام و نشان بھی نہ ہوتا تب بھی اس کو کچھ نقصان نہ تھا۔ یہ بات ہر ایک کو ماننی پڑتی ہے کہ اس مقدس معلّم اور مقدس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کی باتوں کو ایسا محدودنہیں رکھا تھا کہ صرف دو چار آدمیوں کو سکھلائی جائیں اور باقی سب اس سے بے خبر ہوں۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر اسلام ایسا بگڑتا کہ کسی محدث وغیرہ کے ہاتھ سے ہرگز درست نہیں ہو سکتا تھا۔ اگرچہ ائمہ حدیث نے دینی تعلیم کی نسبت ہزار ہا حدیثیں لکھیں مگر سوال تو یہ ہے کہ وہ کونسی حدیث ہے کہ جو اُن کے لکھنے سے پہلے اُس پر عمل نہ تھا اور دنیا اس مضمون سے غافل تھی۔ اگر کوئی ایسی تعلیم یا ایسا واقعہ یا ایسا عقیدہ ہے جو اس کی بنیادی اینٹ صرف ائمہ حدیث نے ہی کسی روایت کی بنا پر رکھی ہے اور تعامل کے سلسلہ میں جس کے کروڑ ہا افراد انسانی قائل ہوں اس کا کوئی اثر و نشان دکھائی نہیں دیتا اور نہ قرآن کریم میں اس کا کچھ ذکر پایا جاتا ہے تو بلاشبہ ایسی خبر واحد کا جس کا پتہ بھی سو ڈیڑھ سو برس کے بعد لگا یقین کے درجہ سے بہت ہی نیچے گری ہوئی ہو گی اور جو کچھ اس کی ناقابلِ تسلّی ہونے کی نسبت کہو وہ بجا ہے لیکن ایسی حدیثیں درحقیقت دین اور سوانح اسلام سے کچھ بڑا تعلق نہیں رکھتیں بلکہ اگر سوچ کر دیکھو تو ائمہ حدیث نے ایسی حدیثوں کا بہت ہی کم ذکر کیا ہے جن کا تعامل کے سِلسلہ میں نام و نشان تک نہیں پایا جاتا۔ پس جیسا کہ بعض جاہل خیال کرتے ہیں یہ بات ہرگز صحیح نہیں ہے کہ دنیا نے دین کے صد ہا ضروری مسائل یہاں تک کہ صوم و صلوٰۃ بھی صرف امام بخاری اور مسلم وغیرہ کی احادیث سے سیکھے ہیں۔ کیا سو ڈیڑھ سو برس تک لوگ بے دین ہی چلے آتے تھے؟ کیا وہ لوگ نماز نہیں پڑھتے تھے؟ زکوٰۃ نہیں دیتے تھے؟ حج نہیں کرتے تھے؟ اور ان تمام اسلامی عقائد کے امور سے جو حدیثوں میں لکھے ہیں بے خبر تھے؟ حَاشَا وَ کَلَّا ہرگز نہیں۔
(شہادت القرآن۔ روحانی خزائن جلد۶ صفحہ۲۹۸تا۳۰۳)افسوس ان لوگوں کی حالت پر جو فلسفۂ باطلہ کی ظلمت سے متاثر ہو کر ملایک اور شیاطین کے وجود سے انکار کر بیٹھے ہیں اور بینات اور نصوص صریحہ قرآن کریم سے انکار کر دیا اور نادانی سے بھرے ہوئے الحاد کے گڑھے میں گِرپڑے۔ اور اس جگہ واضح رہے کہ یہ مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جن کے اثبات کے لئے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے استنباط حقائق میں اِس عاجز کو متفرد کیا ہے۔ فا لحمد للّٰہ علٰی ذالک۔ (آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد۵ صفحہ ۸۹)
خدا تعالیٰ جو اپنے تنزہ اور تقدس میں ہر یک برتر سے برتر ہے اپنی تدلّیات اور تجلّیات میں مظاہر مناسبہ سے کام لیتا ہے اور چونکہ جسم اور جسمانی چیزیں اپنے ذاتی خواص اور اپنی ہستی کی کامل تقیدات سے مقید ہو کر اور بمقابل ہستی اور وجود باری اپنا نام ہست اور موجود رکھا کر اور اپنے ارادوں یا اپنے طبعی افعال سے اختصاص پا کر اور ایک مستقل وجود جامع ہویّت نفس اور مانع ہویت غیر بن کر ذات علت العلل اور فیاض مطلق سے دور جا پڑے ہیں اور ان کے وجود کے گِردا گرد اپنی ہستی اور انانیت اور مخلوقیت کا ایک بہت ہی موٹا حجاب ہے اس لئے وہ اس لائق نہیں رہیں کہ ذات احدیت کے وہ فیضان براہ راست اُن پر نازل ہو سکیں جو صرف اس صورت میں نازل ہو سکتے ہیں کہ جب حجب مذکورہ بالا درمیان نہ ہوں اور ایک ایسی ہستی ہو جو بکلّی نیستی کے مشابہ ہو کیونکہ ان تمام چیزوں کی ہستی نیستی کے مشابہ نہیں۔ ہر ایک چیز اس قسم کی مخلوقات میں سے بزبان حال اپنی ہستی کا بڑے ز ور وشور سے اقرار کر رہی ہے۔ آفتاب کہہ رہا ہے کہ مَیں وہ ہوں جس پر تمام گرمی و سردی و روشنی کا مدار ہے۔ جو ۳۶۵ صورتوں میں تین سو پینسٹھ قسم کی تاثیریں دنیا میں ڈالتا ہے اور اپنی شعاعوں کے مقابلہ سے گرمی اور اپنی انحراف شعاعوں سے سردی پیدا کرتا ہے اور اجسام اور اجسام کے مواد اور اجسام کی شکلوں اور حواس پر اپنی حکومت رکھتا ہے۔ زمین کہہ رہی ہے کہ مَیں وہ ہوں کہ جس پر ہزار ہا ملک آباد ہیں اور جو طرح طرح کی نباتات پیدا کرتی اور طرح طرح کے جواہر اپنے اندر طیار کرتی اور آسمانی تاثیرات کو عورت کی طرح قبول کرتی ہے۔ آگ بزبانِ حال کہہ رہی ہے کہ مَیں ایک جلانے والی چیز ہوں اور بالخاصیت قوتِ احراق میرے اندر ہے اور اندھیرے میں قائم مقام آفتاب ہوں۔ اِسی طرح زمین کی ہر ایک چیز بزبان حال اپنی ثنا کر رہی ہے۔ ………
غرض یہ تمام چیزیں بزبان حال اپنی اپنی تعریف کر رہی ہیں اور محجوب بانفسہا ہیں۔ یعنی اپنے خواص کے پردے میں محجوب ہیں۔ اس لئے مبدء فیض سے دور پڑ گئی ہیں اور بغیر ایسی چیزوں کی توسط کے جو اِن حجابوں سے منزہ ہوں مبدء فیض کا کوئی ارادہ اُن سے تعلق نہیں پکڑ سکتا کیونکہ حجاب اس فیض سے مانع ہے۔ اِس لئے خدا تعالیٰ کی حکمت نے تقاضا کیا کہ اُس کی ارادات کا مظہر اوّل بننے کے لئے ایک ایسی مخلوق ہو جو محجوب بنفسہٖ نہ ہو بلکہ اس کی ایک ایسی نرالی خلقت ہو جو بر خلاف اور چیزوں کے اپنی فطرت سے ہی ایسی واقع ہو کہ نفس حاجب سے خالی اور خدا تعالیٰ کے لئے اس کی جوارح کی طرح ہو اور خداتعالیٰ کے جمیع ارادات کے موافق جو مخلوق اور مخلوق کے کل عوارض سے تعلق رکھتے ہیں اس کی تعداد ہو اور وہ نرالی پیدائش کی چیزیں مرایا صافیہ کی طرح اپنی فطرت رکھ کر ہر وقت خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں اور اپنے وجود میں ذُوْجِہَتَیْن ہوں۔ ایک جہت تجرد اور تنزہ کی جو اپنے وجود میں وہ نہایت الطف اور منزہ عن الحجب ہوں جس کی وجہ سے وہ دوسری مخلوق سے نرالی اور خدا تعالیٰ کے وجود سے ظلّی طور پر مشابہت تامہ رکھتے ہوں اور محجوب بانفسہا نہ ہوں۔ دوسری جہت مخلوقیت کی جس کی وجہ سے وہ دوسری مخلوقات سے مناسبت رکھیں اور اپنی تاثیرات کے ساتھ اُن سے نزدیک ہو سکیں۔ سو خداتعالیٰ کے اس ارادہ سے اس عجیب مخلوق کا وجود ہو گیا جس کو ملائک کہتے ہیں۔ یہ ملائک ایسے فنا فی طاعت اللہ ہیں کہ اپنا ارادہ اور فیشن اور توجہ اور اپنے ذاتی قویٰ یعنی یہ کہ اپنے نفس سے کسی پر مہربان ہونا یا اس سے ناراض ہو جانا اور اپنے نفس سے ایک بات کو چاہنا یا اس سے کراہت کرنا کچھ بھی نہیں رکھتے بلکہ بکلی جوارح الحق کی طرح ہیں۔ خدا تعالیٰ کے تمام ارادے اوّل انہی کے مرایا صافیہ میں منعکس ہوتے ہیں اور پھر اُن کی توسط سے کل مخلوقات میں پھیلتے ہیں۔ چونکہ خداتعالیٰ بوجہ اپنے تقدسِ تام کے نہایت تجردّ اور تنزہ میں ہے۔ اس لئے وہ چیزیں جو انانیت اور ہستی محجوبہ کی کثافت سے خالی نہیں اور محجوب بانفسہا ہیں اس مبدء فیض سے کچھ مناسبت نہیں رکھتیں اور اسی وجہ سے ایسی چیزوں کی ضرورت پڑی جو مِنْ وَجْہٍ خدا تعالیٰ سے مناسبت رکھتی ہوں اور مِنْ وَجْہٍ اس کی مخلوق سے۔ تا اس طرف سے فیضان حاصل کریں اور اس طرف پہنچا دیں۔
(آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد۵ صفحہ ۱۶۱تا۱۷۰ حاشیہ)فرشتوں کا وجود ماننے کے لئے نہایت سہل اور قریب راہ یہ ہے کہ ہم اپنی عقل کی توجہ اِس طرف مبذول کریں کہ یہ بات طے شدہ اور فیصل شدہ ہے کہ ہمارے اجسام کی ظاہری تربیت اور تکمیل کے لئے اور نیز اس کام کے لئے کہ تا ہمارے ظاہری حواس کے افعال مطلوبہ کما ینبغی صادر ہو سکیں خدا تعالیٰ نے یہ قانون قدرت رکھا ہے کہ عناصر اور شمس و قمر اور تمام ستاروں کو اس خدمت میں لگا دیا ہے کہ وہ ہمارے اجسام اور قویٰ کو مدد پہنچا کر اُن سے بوجہ احسن ان کے تمام کام صادر کرا دیں۔ اور ہم ان صداقتوں کے ماننے سے کسی طرف بھاگ نہیں سکتے کہ مثلاً ہماری آنکھ اپنی ذاتی روشنی سے کسی کام کو بھی انجام نہیں دے سکتی جب تک آفتاب کی روشنی اُس کے ساتھ شامل نہ ہو۔ اور ہمارے کان محض اپنی قوت شنوائی سے کچھ بھی سُن نہیں سکتے جب تک کہ ہوا متکیّف بصوت ان کی ممد و معاون نہ ہو۔ پس کیا اِس سے یہ ثابت نہیں کہ خدا تعالیٰ کے قانون نے ہمارے قویٰ کی تکمیل اسبابِ خارجیہ میں رکھی ہے اور ہماری فطرت ایسی نہیں ہے کہ اسبابِ خارجیہ کی مدد سے مستغنی ہو۔ اگر غور سے دیکھو تو نہ صرف ایک دو بات میں بلکہ ہم اپنے تمام حواس تمام قویٰ تمام طاقتوں کی تکمیل کے لئے خارجی امدادات کے محتاج ہیں۔ پھر جبکہ یہ قانون اور انتظام خدائے واحد لاشریک کا جس کے کاموں میں وحدت اور تناسب ہے ہمارے خارجی قویٰ اور حواس اور اغراض جسمانی کی نسبت نہایت شدت اور استحکام اور کمال التزام سے پایا جاتا ہے تو پھر کیا یہ بات ضروری اور لازمی نہیں کہ ہماری رُوحانی تکمیل اور روحانی اغراض کے لئے بھی یہی انتظام ہو۔ تا دونوں انتظام ایک ہی طرز پر واقع ہو کر صانع واحد پر دلالت کریں۔ اور خود ظاہر ہے کہ جس حکیم مطلق نے ظاہری انتظام کی یہ بنا ڈالی ہے اور اسی کو پسند کیا ہے کہ اجرام سماوی اور عناصر وغیرہ اسباب خارجیہ کے اثر سے ہمارے ظاہر اجسام اور قویٰ اور حواس کی تکمیل ہو۔ اس حکیم قادر نے ہماری روحانیت کے لئے بھی یہی انتظام پسند کیا ہو گا۔ کیونکہ وہ واحد لاشریک ہے اور اس کی حکمتوں اور کاموں میں وحدت اور تناسب ہے اور دلائل انّیہ بھی اِسی پر دلالت کرتی ہیں۔ سو وہ اشیاء خارجیہ جو ہماری روحانیت پر اثر ڈال کر شمس اور قمر اور عناصر کی طرح جو اغراض جسمانی کے لئے ممد ہیں ہماری اغراض روحانی کو پورا کرتی ہیں۔ انہی کا نام ہم ملائک رکھتے ہیں۔ پس اس تقریر سے وجود ملائک کا بوجہ احسن ثابت ہوتا ہے اور گو ہم پر اُن کی کُنہ کھل نہ سکے اور کھلنا کچھ ضرور بھی نہیں لیکن اجمالی طور پر قانون قدرت کے توافق اور اتحاد پر نظر کر کے اُن کاوجود ہمیں ماننا پڑتا ہے کیونکہ جس حالت میں ہم نے بطیب خاطر ظاہری قانون کو مان لیا ہے تو پھر کیا وجہ کہ ہم اسی طرز اور طریق پر باطنی قانون کو تسلیم نہ کریں۔ بے شک ہمیں باطنی قانون بھی اسی طرح قبول کرنا پڑے گا کہ جس طرح ہم نے ظاہری قانون کو مان لیا۔ یہی سِر ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز میں بعض جگہ ان دونوں قانونوں کو مشترک الفاظ میں بیان کر دیا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ وَالذّٰرِیٰتِ ذَرۡوًا۔ فَالۡحٰمِلٰتِ وِقۡرًا۔ فَالۡجٰرِیٰتِ یُسۡرًا۔ فَالۡمُقَسِّمٰتِ اَمۡرًا ۔ یعنی ان ہواؤں کی قسم ہے جو سمندروں اور دوسرے پانیوں سے بخارات کو ایسا جدا کرتی ہیں جو حق جدا کرنے کا ہے۔ پھر اُن ہواؤں کی قسم ہے جو اِن گراں بار بخارات کو حمل دار عورتوں کی طرح اپنے اندر لے لیتی ہیں۔ پھر اُن ہواؤں کی قسم ہے جو بادلوں کو منزل مقصود تک پہنچانے کے لئے چلتی ہیں۔ پھر اُن فرشتوں کی قسم ہے جو درپردہ ان تمام امور کے منصرم اور انجام دہ ہیں۔ یعنی ہوائیں کیا چیز ہیں اور کیا حقیقت رکھتی ہیں جو خود بخود بخارات کو سمندروں میں سے اٹھاویں اور بادلوں کی صورت بناویں اور عین محل ضرورت پر جا کر برساویں۔ اور مقسّم امور بنیں یہ تو در پردہ ملائک کا کام ہے۔ سو خدا تعالیٰ نے ان آیات میں اوّل حکماء ظاہر کے طور پر بادلوں کے برسنے کا سبب بتلایا اور بیان فرمایا کہ کیونکر پانی بخار ہو کر بادل اور اَبر ہو جاتا ہے اور پھر آخری فقرہ میں یعنی فَالۡمُقَسِّمٰتِ اَمۡرًا میں حقیقت کو کھول دیا اور ظاہر کر دیا کہ کوئی ظاہر بین یہ خیال نہ کرے کہ صرف جسمانی علل اور معلولات کا سلسلہ نظام ربّانی کے لئے کافی ہے بلکہ ایک اور سلسلہ علل روحانیہ کا اس جسمانی سِلسلہ کے نیچے ہے جس کے سہارے سے یہ ظاہری سلسلہ جاری ہے۔ اور پھر ایک دوسری جگہ فرماتاہے۔ وَالۡمُرۡسَلٰتِ عُرۡفًا۔ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا۔ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا۔ فَالۡفٰرِقٰتِ فَرۡقًا۔ فَالۡمُلۡقِیٰتِ ذِکۡرًا۔ یعنی قسم ہے اُن ہواؤں کی اور اُن فرشتوں کی جو نرمی سے چھوڑے گئے ہیں اور قسم ہے اُن ہواؤں کی اور اُن فرشتوں کی جو زور اور شدت کے ساتھ چلتے ہیں۔ اور قسم ہے ان ہواؤں کی جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں اور اُن فرشتوں کی جو ان بادلوں پر مؤکّل ہیں۔ اور قسم ہے اُن ہواؤں کی جو ہر یک چیز کو جو معرض ذکر میں آجائے کانوں تک پہنچاتی ہیں۔ اور قسم ہے اُن فرشتوں کی جو الٰہی کلام کو دلوں تک پہنچاتے ہیں۔ اِس طرح خدا تعالیٰ نے آیت فَالْمُدَبِرَاتِ أَمْرًا میں فرشتوں اور ستاروں کو ایک ہی جگہ جمع کر دیا ہے یعنی اس آیت میں کواکب سبعہ کو ظاہری طور پر مدبّر ما فی الارض ٹھہرایا ہے اور ملائک کو باطنی طور پر ان چیزوں کا مدبّر قرار دیا ہے۔ چنانچہ تفسیر فتح البیان میں معاذ بن جبل اور قشیری سے یہ دونوں روائتیں موجود ہیں۔ اور ابن کثیر نے حسن سے یہ روایت ملائک کی نسبت کی ہے کہ تدبّر الامر من السّماء الی الارض یعنی آسمان سے زمین تک جس قدر امور کی تدبیر ہوتی ہے وہ سب ملائک کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔ اور ابن کثیر لکھتا ہے کہ یہ متفق علیہ قول ہے کہ مدبّراتِ امر ملائک ہیں۔ اور ابن جریر نے بھی آیات فَالْمُدَبِرَاتِ أَمْرًا کے نیچے یہ شرح کی ہے کہ اس سے مراد ملائک ہیں۔ جو مدبّر عالم ہیں۔ یعنی گو بظاہر نجوم اور شمس و قمر و عناصر وغیرہ اپنے اپنے کام میں مشغول ہیں مگر درحقیقت مدبّر ملائک ہی ہیں۔ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد۵ صفحہ ۱۳۳تا۱۳۷ حاشیہ)
جہاں تک ہم نظر اٹھا کر دیکھتے ہیں اور جس قدر ہم اپنے فکر اور ذہن اور سوچ سے کام لیتے ہیں صریح اور صاف اور بدیہی طور پر ہمیں نظر آتا ہے کہ ہر یک فیضان کے لئے ہم میں اور ہمارے خداوند کریم میں عللِ متوسّطہ ہیں جن کی توسط سے ہر یک قوّت اپنی حاجت کے موافق فیضان پاتی ہے۔ پس اِسی دلیل سے ملائک اور جنّات کا وجود بھی ثابت ہوتا ہے کیونکہ ہم نے صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ خیر اور شر کے اکتساب میں صرف ہمارے ہی قویٰ کافی نہیں بلکہ خارجی ممدات اور معاونات کی ضرورت ہے جو خارق عادت اثر رکھتے ہیں۔ مگر وہ ممد اور معاون خدا تعالیٰ براہ راست اور بلاتوسط نہیں بلکہ بتوسط بعض اسباب ہے۔ سو قانون قدرت کے ملاحظہ نے قطعی اور یقینی طور پر ہم پر کھول دیا کہ وہ ممدات اور معاونات خارج میں موجود ہیں۔ گو اُن کی کُنہ اور کیفیت ہم کو معلوم ہو یا نہ ہو مگر یہ یقینی طور پر معلوم ہے کہ وہ نہ براہِ راست خدا تعالیٰ ہے اور نہ ہماری ہی قوتیں اور ہمارے ہی مَلکے ہیں۔ بلکہ وہ ان دونوں قسموں سے الگ ایسی مخلوق چیزیں ہیں جو ایک مستقل وجود اپنا رکھتی ہیں۔ اور جب ہم ان میں سے کسی کا نام داعی الی الخیر رکھیں گے تو اُسی کو ہم روح القدس یا جبرائیل کہیں گے اور جب ہم اُن میں سے کسی کا نام داعی الی الشر رکھیں گے تو اُسی کو ہم شیطان اور ابلیس کے نام سے بھی موسوم کریں گے۔ یہ تو ضرور نہیں کہ ہم رُوح القدس یا شیطان ہر یک تاریک دل کو دکھلاویں اگرچہ عارف اُن کو دیکھ بھی لیتے ہیں اور کشفی مشاہدات سے وہ دونوں نظر بھی آ جاتی ہیں۔ (آئینہ کمالات ِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد۵ صفحہ ۸۶ تا۸۸)
خدا آپ لوگوں کو ہدایت دے قرآن شریف میں کہیں نہیں لکھا کہ خدا متغیر ہے بلکہ یہ لکھا ہے کہ انسان متغیر ہے۔ اس لئے اس کے مناسب حال خدا اس کے لئے تبدیلیاں کرتا ہے۔ جب بچہ پیٹ میں ہوتا ہے تو صرف اُس کو خون کی غذا ملتی ہے اور جب پیدا ہوتا ہے تو ایک مدت تک صرف دودھ پیتا ہے اور پھر بعد اس کے اناج کھاتا ہے اور خدائے تعالیٰ تینوں سامان اس کے لئے وقتاً فوقتاً پیدا کر دیتا ہے۔ پیٹ میں ہونے کی حالت میں پیٹ کے فرشتوں کو جو اندرونی ذرّات ہیں حکم کر دیتا ہے کہ اُس کی غذا کے لئے خون بناویں۔ اور پھر جب پیدا ہوتا ہے تو اس حکم کو منسوخ کر دیتا ہے۔ تو پھر پستان کے فرشتوں کو جو اس کے ذرّات ہیں حکم کرتا ہے جو اُس کے لئے دودھ بناویں۔ اور جب وہ دودھ سے پرورش پا چکتا ہے تو پھر اس حکم کو بھی منسوخ کر دیتا ہے۔ تو پھر زمین کے فرشتوں کو جو اس کے ذرات ہیں حکم کرتا ہے جو اُس کے لئے اخیر مدت تک اناج اور پانی پیدا کرتے رہیں۔ پس ہم مانتے ہیں کہ ایسے تغیر خدا کے احکام میں ہیں …… خدا نے تو قرآن شریف میں ہمیں یہ سکھلایا ہے کہ یہ طبعی سلسلہ خود بخودنہیں بلکہ ان چیزوں کے تمام ذرّات خدا کی آواز سنتے ہیں اور اُس کے فرشتے ہیں یعنی اس کی طرف سے ایک کام کے لئے مقرر شدہ ہیں۔ پس وہ کام اُس کی مرضی کے موافق وہ کرتے رہتے ہیں۔ سونے کے ذرّات سونا بناتے رہتے ہیں اور چاندی کے ذرّات چاندی بناتے رہتے ہیں اور موتی کے ذرّات موتی بناتے ہیں اور انسانی وجود کے ذرّات ماؤں کے پیٹ میں انسانی بچہ طیار کرتے ہیں اور یہ ذرّات خود بخود کچھ بھی کام نہیں کرتے بلکہ خدا کی آواز سنتے ہیں اور اسی کی مرضی کے موافق کام کرتے ہیں۔ اسی لئے وہ اس کے فرشتے کہلاتے ہیں اور کئی قسم کے فرشتے ہوتے ہیں یہ تو زمین کے فرشتے ہیں۔ مگر آسمان کے فرشتے آسمان سے اپنا اثر ڈالتے ہیں جیسا کہ سورج کی گرمی بھی خدا کا ایک فرشتہ ہے جو پھلوں کا پکانا اور دوسرے کام کرتا ہے اور ہوائیں بھی خدا کے فرشتے ہیں جو بادلوں کو اکٹھے کرتے اور کھیتوں کو مختلف اثر اپنے پہونچاتے ہیں۔ اور پھر ان کے اوپر اور بھی فرشتے ہیں جو اُن میں تاثیر ڈالتے ہیں۔ علوم طبعی اس بات کے گواہ ہیں کہ فرشتوں کا وجود ضروری ہے اور ان فرشتوں کو ہم بچشم خود دیکھ رہے ہیں۔ (نسیم دعوت۔ روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ ۴۶۱ تا۴۶۳)
قرآن شریف میں تین قسم کے فرشتے لکھے ہیں:۔
(۱) ذرّاتِ اجسام ارضی اور روحوں کی قوتیں۔
(۲) اکاش۔ سورج۔ چاند۔ زمین کی قوتیں جو کام کر رہی ہیں۔
(۳) ان سب پر اعلیٰ طاقتیں جو جبرائیل و میکائیل و عزرائیل وغیرہ نام رکھتی ہیں جن کو وید میں جم لکھا ہے ……… اور فرشتہ کا لفظ قرآن شریف میں عام ہے۔ ہر ایک چیز جو اس کی آواز سنتی ہے وہ اس کا فرشتہ ہے۔ پس دنیا کا ذرّہ ذرّہ خدا کا فرشتہ ہے کیونکہ وہ اُس کی آواز سنتے ہیں اور اُس کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔
(نسیم دعوت۔ روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ ۴۵۶، ۴۵۷)
محققین اہل اسلام ہرگز اس بات کے قائل نہیں کہ ملائک اپنے شخصی وجود کے ساتھ انسانوں کی طرح پیروں سے چل کر
زمین پر اترتے ہیں۔ اور یہ خیال ببداہت باطل بھی ہے کیونکہ اگر یہی ضرور ہوتا کہ ملائک اپنی اپنی خدمات کی
بجا آوری کے لئے اپنے اصل وجود کے ساتھ زمین پر اُترا کرتے تو پھر اُن سے کوئی کام انجام پذیر ہونا بغایت
درجہ محال تھا مثلاً فرشتہ ملک الموت جو ایک سکنڈ میں ہزار ہا ایسے لوگوں کی جانیں نکالتا ہے جو مختلف بلاد
و امصار میں ایک دوسرے سے ہزاروں کوسوں کے فاصلہ پر رہتے ہیں اگر ہر یک کے لئے اس بات کا محتاج ہو کر کہ اول
پیروں سے چل کر اس ملک اور شہر اور گھر میں جاوے اور پھر اتنی مشقت کے بعد جان نکالنے کا اس کو موقع ملے تو
ایک سکنڈ کیا اتنی بڑی کارگذاری کے لئے تو کئی مہینے کی مہلت بھی کافی نہیں ہو سکتی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک
شخص انسانوں کی طرح حرکت کر کے ایک طرفۃ العین کے یا اس سے کم عرصہ میں تمام جہان گھوم کر چلا آوے ہرگز
نہیں۔ بلکہ فرشتے اپنے اصلی مقامات سے جو اُن کے لئے خدائے تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں ایک ذرّہ کے برابر بھی
آگے پیچھے نہیں ہوتے جیسا کہ خدائے تعالیٰ ان کی طرف سے قرآن شریف میں فرماتاہے۔
وَمَا مِنَّاۤ اِلَّا لَہٗ مَقَامٌ مَّعۡلُوۡمٌ وَّاِنَّا لَنَحۡنُ الصَّآفُّوۡنَ
سورۃ صافات جزو ۲۳ پس اصل
بات یہ ہے کہ جس طرح آفتاب اپنے مقام پر ہے اور اُس کی گرمی و روشنی زمین پر پھیل کر اپنے خواص کے موافق
زمین کی ہر یک چیز کو فائدہ پہنچاتی ہے اِسی طرح روحانیاتِ سماویہ خواہ ان کو یونانیوں کے خیال کے موافق
نفوسِ فلکیہ کہیں یا دساتیر اور وید کی اصطلاحات کے موافق ارواح کواکب سے ان کو نامزد کریں یا نہایت سیدھے
اور موحدانہ طریق سے ملائک اللہ کا ان کو لقب دیں، درحقیقت یہ عجیب مخلوقات اپنے اپنے مقام میں مستقر اور
قرار گیر ہے اور بحکمت کاملہ خداوند تعالیٰ زمین کی ہر یک مستعد چیز کو اس کے کمال مطلوب تک پہنچانے کے لئے
یہ روحانیات خدمت میں لگی ہوئی ہیں ظاہری خدمات بھی بجا لاتے ہیں اور باطنی بھی۔ جیسے ہمارے اجسام اور ہماری
تمام ظاہری قوتوں پر آفتاب اور ماہتاب اور دیگر سیّاروں کا اثر ہے۔ ایسا ہی ہمارے دل اور دماغ اور ہماری
تمام روحانی قوتوں پر یہ سب ملائک ہماری مختلف استعدادوں کے موافق اپنا اپنا اثر ڈال رہے ہیں۔ جو چیز کسی
عمدہ جوہر بننے کی اپنے اندر قابلیت رکھتی ہے وہ اگرچہ خاک کا ایک ٹکڑا ہے یا پانی کا وہ قطرہ جو صدف میں
داخل ہوتا ہے۔ یا پانی کا وہ قطرہ جو رحم میں پڑتا ہے وہ ان ملائک اللہ کی روحانی تربیت سے لعل اور الما س
اور یاقوت اور نیلم وغیرہ یا نہایت درجہ کا آبدار اور وزنی موتی یا اعلیٰ درجہ کے دل اور دماغ کا انسان بن
جاتا ہے …………
قرآن شریف نے جس طرز سے ملائک کا حال بیان کیا ہے وہ نہایت سیدھی اور قریب قیاس راہ ہے اور بجز اس کے ماننے کے انسان کو کچھ بن نہیں پڑتا۔ قرآن شریف پر بدیدۂ تعمق غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان بلکہ جمیع کائنات الارض کی تربیت ظاہری و باطنی کے لئے بعض وسائط کا ہونا ضروری ہے۔ اور بعض بعض اشاراتِ قرآنیہ سے نہایت صفائی سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض وہ نفوس طیبہ جو ملائک سے موسوم ہیں ان کے تعلقات طبقات سماویہ سے الگ الگ ہیں۔ بعض اپنی تاثیرات خاصہ سے ہوا کے چلانے والے اور بعض مینہ کے برسانے والے اور بعض بعض اور تاثیرات کو زمین پر اوتارنے والے ہیں۔ پس اس میں کچھ شک نہیں کہ بوجہ مناسبت نوری وہ نفوس طیبہ ان روشن اور نورانی ستاروں سے تعلق رکھتے ہوں گے کہ جو آسمانوں میں پائے جاتے ہیں مگر اس تعلق کو ایسا نہیں سمجھنا چاہئے کہ جیسے زمین کا ہر یک جاندار اپنے اندر جان رکھتا ہے بلکہ اُن نفوس طیبہ کو بوجہ مناسبت اپنی نورانیت اور روشنی کے جو روحانی طور پر انہیں حاصل ہے روشن ستاروں کے ساتھ ایک مجہول الکنہ تعلق ہے اور ایسا شدید تعلق ہے کہ اگر ان نفوس طیبہ کا اُن ستاروں سے الگ ہونا فرض کر لیا جائے تو پھر اُن کے تمام قویٰ میں فرق پڑ جائے گا۔ انہیں نفوس کے پوشیدہ ہاتھ کے زور سے تمام ستارے اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں اور جیسے خدائے تعالیٰ تمام عالم کے لئے بطور جان کے ہے ایسا ہی (مگر اس جگہ تشبیہ کامل مرادنہیں ) وہ نفوس نورانیہ کواکب اور سیارات کے لئے جان کا ہی حکم رکھتے ہیں۔ اور ان کے جدا ہو جانے سے ان کی حالت وجودیہ میں بکلّی فساد راہ پا جانا لازمی و ضروری امر ہے اور آ ج تک کسی نے اس امر میں اختلاف نہیں کیا کہ جس قدر آسمانوں میں سیّارات اور کواکب پائے جاتے ہیں وہ کائنات الارض کی تکمیل و تربیت کے لئے ہمیشہ کام میں مشغول ہیں۔ غرض یہ نہایت جچی ہوئی اور ثبوت کے چرخ پر چڑھی ہوئی صداقت ہے کہ تمام نباتات اور جمادات اور حیوانات پر آسمانی کواکب کا دن رات اثر پڑ رہا ہے اور جاہل سے جاہل ایک دہقان بھی اس قدر تو ضرور یقین رکھتا ہو گا کہ چاند کی روشنی پھلوں کے موٹا کرنے کے لئے اور سورج کی دھوپ ان کو پکانے اور شیریں کرنے کے لئے اور بعض ہوائیں بکثرت پھل آنے کے لئے بلاشبہ مؤثر ہیں۔ اب جبکہ ظاہری سِلسلہ کائنات کا ان چیزوں کی تاثیرات مختلفہ سے تربیت پا رہا ہے تو اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ باطنی سِلسلہ پر بھی باذنہٖ تعالیٰ وہ نفوس نورانیہ اثر کر رہی ہیں جن کا اجرام نورانیہ سے ایسا شدید تعلق ہے کہ جیسے جان کو جسم سے ہوتا ہے۔
اب اِس کے بعد یہ بھی جاننا چاہئے کہ اگرچہ بظاہر یہ بات نہایت دور از ادب معلوم ہوتی ہے کہ خدائے تعالیٰ اور اُس کے مقدس نبیوں میں افاضہ انوار وحی کے لئے کوئی اور واسطہ تجویز کیا جائے لیکن ذرا غور کرنے سے بخوبی سمجھ آ جائے گا کہ اس میں کوئی سوء ادب کی بات نہیں بلکہ سراسر خدا تعالیٰ کے اس عام قانون کے مطابق ہے جو دنیا کی ہر یک چیز کے متعلق کھلے کھلے طور پر مشہود و محسوس ہو رہا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام بھی اپنے ظاہری جسم اور ظاہری قویٰ کے لحاظ سے انہی وسائط کے محتاج ہیں اور نبی کی آنکھ بھی گو کیسی ہی نورانی اور بابرکت آنکھ ہے مگر پھر بھی عوام کی آنکھوں کی طرح آفتاب یا اس کے کسی دوسرے قائم مقام کے بغیر کچھ دیکھ نہیں سکتے اور بغیر توسط ہوا کے کچھ سن نہیں سکتے لہٰذا یہ بات بھی ضروری طور پر ماننی پڑتی ہے کہ نبی کی روحانیت پر بھی اِن سیّارات کے نفوسِ نورانیہ کا ضرور اثر پڑتا ہو گا بلکہ سب سے زیادہ اثر پڑتا ہو گا کیونکہ جس قدر استعداد صافی اور کامل ہوتی ہے اسی قدر اثر بھی صافی اور کامل طور پر پڑتا ہے۔ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ یہ سیارات اور کواکب اپنے اپنے قالبوں کے متعلق ایک ایک رُوح رکھتے ہیں جن کو نفوس کواکب سے بھی نامزد کر سکتے ہیں اور جیسے کواکب اور سیاروں میں باعتبار ان کے قالبوں کے طرح طرح کے خواص پائے جاتے ہیں جو زمین کی ہر یک چیز پر حسب استعداد اثر ڈال رہے ہیں ایسا ہی اُن کے نفوس نورانیہ میں بھی انواع اقسام کے خواص ہیں جو باذنِ حکیم مطلق کائنات الارض کے باطن پر اپنا اثر ڈالتے ہیں اور یہی نفوسِ نورانیہ کامل بندوں پر بشکل جسمانی متشکل ہو کر ظاہر ہو جاتے ہیں اور بشری صورت سے متمثل ہو کر دکھائی دیتے ہیں اور یاد رکھنا چاہئے کہ یہ تقریر از قبیل خطابیات نہیں بلکہ یہ وہ صداقت ہے جو طالب حق اور حکمت کو ضرور ماننی پڑے گی۔
(توضیح مرام۔ روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۶۶ تا۷۲)واضح رہے کہ فرشتوں کے نزول سے بھی ہمیں انکار نہیں۔ اگر کوئی ثابت کر دے کہ فرشتوں کا نزول اسی طرح ہوتا ہے کہ وہ اپنے وجود کو آسمان سے خالی کر دیں تو ہم بشوق اس ثبوت کو سنیں گے۔ اور اگر درحقیقت ثبوت ہو گا تو ہم اس کو قبول کر لیں گے۔ جہاں تک ہمیں معلوم ہے فرشتوں کا وجود ایمانیات میں داخل ہے۔ خدا تعالیٰ کا نزول سماء الدنیا کی طرف اور فرشتوں کا نزول دونوں ایسی حقیقتیں ہیں جو ہم سمجھ نہیں سکتے۔ ہاں کتاب اللہ سے اتنا ثابت ہوتا ہے کہ خلق جدید کے طور پر زمین پر فرشتوں کا ظہورہو جاتا ہے۔ دحیہ کلبی کی شکل میں جبرائیل کا ظاہر ہونا خلق جدید تھا یا کچھ اَور تھا۔ پھر کیا یہ ضرور ہے کہ پہلی خلق کو نابود کر لیں۔ پھر خلق جدید کے قائل ہوں۔ بلکہ پہلا خلق بجائے خود آسمان پر ثابت اور قائم ہے اور دوسرا خلق خدا تعالیٰ کی وسیع قدرت کا ایک نتیجہ ہے کیا خدا تعالیٰ کی قدرت سے بعید ہے کہ ایک وجود دو جگہ دو جسموں سے دکھاوے۔ حاشا و کلّا ہرگز نہیں اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ (اشتہار انعامی بنام شیخ محمد حسین بطالوی مشمولہ سرّ الخلافہ۔ روحانی خزائن جلد۸ صفحہ ۴۱۴، ۴۱۵)
واعتقد أن للّٰہ ملائکۃ مقربین۔ لکلّ واحدٍ منھم مقام معلوم لاینزل احدٌ من مقامہٖ ولایرقٰی ونزولھم الذی قدجاء فی القراٰن لیس کنزول الانسان من الاعلٰی الی الاسفل ولاصعودھم کصعود الناس من الاسفل الی الاعلٰی۔ لان فی نزول الانسان تحوّل من المکان و رائحۃ من شق الانفس و اللغوب ولایمسھم لغب ولاشق ولایتطرق الیھم تغیر فلا تقیسوا نزولھم و صعودھم باشیائٍ اخریٰ بل نزولھم و صعودھم بصبغ نزول اللّٰہ و صعودہ من العرش الی سماء الدنیا۔ لان اللّٰہ ادخل وجود ھم فی الایمانیات۔ وقال مَا یَعۡلَمُ جُنُوۡدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ فآمنوا بنزولھم و صعودھم ولا تدخلوا فی کنھما۔ ذالک خیر واقرب للتقویٰ۔ وقد وصفھم اللّٰہ بالقائمین والساجدین والصافّین والمسبّحین و الثابتین فی مقامات معلومۃ و جعل ھٰذہ الصفات لھم دائمۃ غَیرُ منفکۃ وخصھم بھا۔ فکیف یجوز ان یترک الملا ئکۃ سجودھم و قیامھم و یقصموا صفوفھم و یذروا تسبیحھم و تقدیسھم و یتنزلوا من مقاماتھم ویھبطوا الارض ویخلوا السمٰوٰت العلی بل ھم یتحرکون حال کونھم مستقرین فی مقاماتھم کالملک الذی علی العرش استوی۔ وتعلمون ان اللّٰہ ینزل الی السماء فی اٰخر کل لیل ولایقال أنہ یترک العرش ثم یصعد الیہ فی اوقات اخریٰ فکذالک الملائکۃ الذین کانوا فی صبغۃ صفات ربھم کمثل انصباغ الظل بصبغۃ اصلہ لانعرف حقیقتھا و نؤمن بھا۔ کیف نشبہ احوالھم باحوال انسانٍ نعرف حقیقۃ صفاتہ و حدود خواصہٖ و سکناتہ و حرکاتہ و قد منعنا اللّٰہ من ھٰذا و قال: وَمَا یَعۡلَمُ جُنُوۡدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ فاتقوا اللّٰہ یا ارباب النھٰی۔ 431 (آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۳۸۴تا۳۸۷)
اب جبکہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کے رو سے یہ بات نہایت صفائی سے ثابت ہو گئی کہ نظام روحانی کے لئے بھی نظام ظاہری کی طرح مؤثرات خارجیہ ہیں جن کانام کلام الٰہی میں ملائک رکھا ہے تو اس بات کا ثابت کرنا باقی رہا کہ نظام ظاہری میں بھی جو کچھ ہو رہا ہے اِن تمام افعال اور تغیرات کا بھی انجام اور انصرام بغیر فرشتوں کی شمولیت کے نہیں ہوتا۔ سو منقولی طور پر تو اس کا ثبوت ظاہر ہے۔ کیونکہ خداتعالیٰ نے فرشتوں کا نام مدبّرات اور مقسّمات امر رکھا ہے۔ اور ہر یک عرض اور جوہر کے حدوث اور قیام کا وہی موجب ہیں۔ یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کے عرش کو بھی وہی اٹھائے ہوئے ہیں جیسا کہ آیت اِنۡ کُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَیۡہَا حَافِظٌ سے کلّی طور پر فرشتوں کا تقرر ہر یک چیز پر ثابت ہوتا ہے۔ اور نیز قرآن کریم کی آیت مندرجہ ذیل بھی اس پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے۔ وَانۡشَقَّتِ السَّمَآءُ فَہِیَ یَوۡمَئِذٍ وَّاہِیَۃٌ وَّالۡمَلَکُ عَلٰۤی اَرۡجَآئِہَا ؕ وَیَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّکَ فَوۡقَہُمۡ یَوۡمَئِذٍ ثَمٰنِیَۃٌ یعنی جب قیامت واقع ہو گی تو آسمان پھٹ جائے گا اور ڈھیلا اور سُست ہو جائے گا اور اس کی قوتیں جاتی رہیں گی۔ کیونکہ فرشتے جو آسمان اور آسمانی اجرام کے لئے جان کی طرح تھے وہ سب تعلقات کو چھوڑ کر کناروں پر چلے جائیں گے اور اس دن خدا تعالیٰ کے عرش کو آٹھ فرشتے اپنے سر پر اور کاندھوں پر اُٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس آیت کی تفسیر میں شاہ عبدالعزیز صاحب لکھتے ہیں کہ درحقیقت آسمان کی بقا بباعث ارواح کے ہے یعنی ملائک کے جو آسمان اور آسمانی اجرام کے لئے بطور روحوں کے ہیں۔ اور جیسے رُوح بدن کی محافظ ہوتی ہے اور بدن پر تصرف رکھتی ہے اسی طرح بعض ملائک آسمان اور آسمانی اجرام پر تصرف رکھتے ہیں اور تمام اجرام سماوی اُن کے ساتھ ہی زندہ ہیں اور انہی کے ذریعہ سے صدور افعالِ کواکب ہے۔ پھر جب وہ ملائک جان کی طرح اس قالب سے نکل جائیں گے تو آسمان کا نظام اُن کے نکلنے سے درہم برہم ہو جائے گا جیسے جان کے نکل جانے سے قالب کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ پھر ایک اور آیت قرآن کریم کی بھی اِسی مضمون پر دلالت کرتی ہے۔ اور وہ یہ ہے وَلَقَدۡ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡیَا بِمَصَابِیۡحَ وَجَعَلۡنٰہَا رُجُوۡمًا لِّلشَّیٰطِیۡنِ سورۃ الملک الجزو نمبر ۲۹ یعنی ہم نے سماء الدنیا کو ستاروں کے ساتھ زینت دی ہے اور ستاروں کو ہم نے رجم شیاطین کے لئے ذریعہ ٹھہرایا ہے۔ اور پہلے اس سے نص قرآنی سے ثابت ہو چکا ہے کہ آسمان سے زمین تک ہر یک امر کے مقسّم اور مدبّر فرشتے ہیں اور اب یہ قول اللہ جلّ شانہٗ کا کہ شُہب ثاقبہ کو چلانے والے وہ ستارے ہیں جو سماء الدنیا میں ہیں بظاہر منافی اور مبائن ان آیات سے دکھائی دیتا ہے جو فرشتوں کے بارے میں آئی ہیں لیکن اگر بنظر غور دیکھا جائے تو کچھ منافی نہیں کیونکہ ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں کہ قرآن کریم کی تعلیم سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ فرشتے آسمان اور آسمانی اجرام کے لئے بطور جان کے ہیں اور ظاہر ہے کہ کسی شے کی جان اس شئے سے جُدا نہیں ہوتی۔ اِسی وجہ سے خداتعالیٰ نے قرآن کریم کے بعض مقامات میں رَمیِ شُہُب کا فاعل فرشتوں کو ٹھہرایا اور بعض دوسرے مقامات میں اس رمی کا فاعل ستاروں کو ٹھہرایا کیونکہ فرشتے ستاروں میں اپنا اثر ڈالتے ہیں۔ جیسا کہ جان بدن میں اپنا اثر ڈالتی ہے۔ تب وہ اثر ستاروں سے نکل کر ان ارضی بخارات پر پڑتا ہے جو شہاب بننے کے لائق ہوتے ہیں تو وہ فی الفور قدرت خدا تعالیٰ سے مشتعل ہو جاتے ہیں۔ اور فرشتے ایک دوسرے رنگ میں شُہب ثاقبہ سے تعلق پکڑ کر اپنے نور کے ساتھ یمین اور یسار کی طرف ان کو چلاتے ہیں۔ اور اس بات میں تو کسی فلسفی کو کلام نہیں کہ جو کچھ کائنات الجوّ یا زمین میں ہوتا ہے علل ابتدائیہ ان کے نجوم اور تاثیرات سماویہ ہی ہوتی ہیں۔ ہاں اس دوسرے دقیق بھید کو ہر یک شخص نہیں سمجھ سکتا کہ نجوم کے قویٰ فرشتوں سے فیضیاب ہیں۔ اس بھید کو اوّل قرآن کریم نے ظاہر فرمایا اور پھر عارفوں کو اس طرف توجہ پیدا ہوئی۔ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۱۳۷ تا۱۴۳حاشیہ)
ہر یک چیز جس پر نفس کا نام اطلاق پا سکتا ہے اس کی فرشتے حفاظت کرتے ہیں۔ پس بموجب اس آیت کے نفوس کواکب کی نسبت بھی یہ عقیدہ رکھنا پڑا کہ کل ستارے کیا سورج کیا چاند کیا زحل کیا مشتری ملائک کی زیر حفاظت ہیں یعنی ہر یک کے کے لئے سورج اور چاند وغیرہ میں سے ایک ایک فرشتہ مقرر ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے کاموں کو احسن طور پر چلاتا ہے۔ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد۵ صفحہ ۷۷ حاشیہ)
اگرچہ ملائک جسمانی آفات سے بھی بچاتے ہیں لیکن اُن کا بچانا روحانی طور پر ہی ہے۔ مثلاً ایک شخص ایک گرنے والی دیوار کے نیچے کھڑا ہے تو یہ تو نہیں کہ فرشتہ اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر اُس کو دور لے جائے گا بلکہ اگر اس شخص کا اس دیوار سے بچنا مقدر ہے تو فرشتہ اس کے دل میں الہام کر دے گا کہ یہاں سے جلد کھسکنا چاہئے لیکن ستاروں اور عناصر وغیرہ کی حفاظت جسمانی ہے۔ (آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۹۹ حاشیہ نوٹ)
قادر مطلق نے دنیا کے حوادث کو صرف اسی ظاہری سلسلہ تک محصور اور محدودنہیں کیا بلکہ ایک باطنی سِلسلہ ساتھ ساتھ جاری ہے۔ اگر آفتاب ہے یا ماہتاب یا زمین یا وہ بخارات جن سے پانی برستا ہے یا وہ آندھیاں جو زور سے آتی ہیں یا وہ اولے جو زمین پر گرتے ہیں یا وہ شہب ثاقبہ جو ٹوٹتے ہیں اگرچہ یہ تمام چیزیں اپنے کاموں اور تمام تغیرات اور تحوّلات اور حدوثات میں ظاہری اسباب بھی رکھتی ہیں جن کے بیان میں ہیئت اور طبعی کے دفتر بھرے پڑے ہیں لیکن بایں ہمہ عارف لوگ جانتے ہیں کہ ان اسباب کے نیچے اور اسباب بھی ہیں۔ جو مدبّر بالارادہ ہیں جن کا دوسرے لفظوں میں نام ملائک ہے۔ وہ جس چیز سے تعلق رکھتے ہیں اس کے تمام کاروبار کو انجام تک پہنچاتے ہیں اور اپنے کاموں میں اکثر اُن روحانی اغراض کو مدّنظر رکھتے ہیں جو مولاکریم نے ان کو سپرد کی ہیں اور اُن کے کام بے ہودہ نہیں بلکہ ہر ایک کام میں بڑے بڑے مقاصد ان کو مدّنظر رہتے ہیں۔
اب جبکہ یہ بات ایک ثابت شدہ صداقت ہے جس کو ہم اس سے پہلے بھی کسی قدر تفصیل سے لکھ چکے ہیں اور ہمارے رسالہ توضیح مرام میں بھی یہ تمام بحث نہایت لطافتِ بیان سے مندرج ہے کہ حکیم مطلق نے اس عالم کے احسن طور پر کاروبار چلانے کے لئے دو نظام رکھے ہوئے ہیں اور باطنی نظام فرشتوں کے متعلق ہے اور کوئی جز ظاہری نظام کی ایسی نہیں جس کے ساتھ درپردہ باطنی نظام نہ ہو تو اس صورت میں ایک مستر شد بڑی آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ شہب ثاقبہ کے تساقط کا ظاہری نظام جن علل اور اسباب پر مبنی ہے وہ علل اور اسباب روحانی نظام کے کچھ مزاحم اور سدِّراہ نہیں اور روحانی نظام یہ ہے کہ ہر یک شہاب جو ٹوٹتا ہے دراصل اُس پر ایک فرشتہ مؤکل ہوتا ہے جو اس کو جس طرف چاہتا ہے حرکت دیتا ہے۔ چنانچہ شہب کی طرز حرکات ہی اس پر شاہد ہے۔ اور یہ بات صاف ظاہر ہے کہ فرشتہ کا کام عبث نہیں ہو سکتا۔ اس کی تحت میں ضرور کوئی نہ کوئی غرض ہو گی جو مصالح دین اور دنیا کے لئے مفید ہو لیکن ملائک کے کاموں کے اغراض کو سمجھنا بجز توسط ملائک ممکن نہیں۔ سو بتوسط ملائک یعنی جبرائیل علیہ السلام آخر الرسل صلی اللہ علیہ وسلم پر یہی ظاہر ہوا کہ ملائک کے اس فعل رمی شہب سے علّت غائی رجم شیاطین ہے۔ اور یہ بھید کہ شہب کے ٹوٹنے سے کیونکر شیاطین بھاگ جاتے ہیں اس کا سِر روحانی سلسلہ پر نظر کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شیاطین اور ملائک کی عداوت ذاتی ہے۔ پس ملائک ان شُہب کے چھوڑنے کے وقت جن پر وہ ستاروں کی حرارت کا بھی اثر ڈالتے ہیں اپنی ایک نورانی طاقت جوّ میں پھیلاتے ہیں اور ہر یک شہاب جو حرکت کرتا ہے وہ اپنے ساتھ ایک ملکی نور رکھتا ہے کیونکہ فرشتوں کے ہاتھ سے برکت پا کر آتا ہے اور شیطان سوزی کا اس میں ایک مادہ ہوتا ہے۔ پس یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ جنات تو آگ سے مخلوق ہیں وہ آگ سے کیا ضرر اٹھائیں گے کیونکہ درحقیقت جس قدر رمی شہب سے جنات کو ضرر پہنچتا ہے اس کا یہ ظاہری موجب آگ نہیں بلکہ وہ روشنی موجب ہے جو فرشتہ کے نور سے شہب کے ساتھ شامل ہوتی ہے جو بالخاصیت محرق شیاطین ہے۔ …………
جب تک کوئی انسان پابند اعتقاد وجود ہستی باری ہے اور دہریہ نہیں اُس کو ضرور یہ بات ماننی پڑے گی کہ یہ تمام کاروبار عبث نہیں بلکہ ہر یک حدوث اور ظہور پر خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت بالارادہ کا ہاتھ ہے اور وہ ارادہ تمام انتظام کے موافق بتوسط اسباب ظہور پذیر ہوتا ہے چونکہ خدا تعالیٰ نے اجرام اور اجسام کو علم اور شعور نہیں دیا اس لئے ان باتوں کے پورا کرنے کے لئے جن میں علم اور شعور درکار ہے ایسے اسباب یعنی ایسی چیزوں کے توسّط کی حاجت ہوئی جن کو علم اور شعور دیا گیا ہے اور وہ ملائک ہیں۔
اب ظاہر ہے کہ جب ملائک کی یہی شان ہے کہ وہ عبث اور بے ہودہ طور پر کوئی کام نہیں کرتے بلکہ اپنی تمام خدمات میں اغراض اور مقاصد رکھتے ہیں اس لئے اُن کی نسبت یہ بات ضروری طور پر ماننی پڑے گی کہ رجم کی خدمت میں بھی ان کا کوئی اصل مقصد ہے اور چونکہ عقل اس بات کے درک سے قاصر ہے کہ وہ کون سا مقصد ہے اس لئے اس عقدہ کے حل کے لئے عقل سے سوال کرنا بے محل سوال ہے …… پس وہ بوجہ اس کے کہ ادراک تفصیلی سے عاجز ہے اس تفصیل کے لئے کسی اور ذریعہ کی محتاج ہو گی جو حدود عقل سے بڑھ کر ہے اور وہ ذریعہ وحی اور الہام ہے جو اسی غرض سے انسان کو دیا گیا ہے کہ تا انسان کو ان معارف اور حقائق تک پہنچا دے کہ جن تک مجرد عقل پہنچا نہیں سکتی اور وہ اسرار دقیقہ اس پر کھولے جو عقل کے ذریعہ سے کھل نہیں سکتے اور وحی سے مراد ہماری وحی قرآن ہے جس نے ہم پر یہ عقدہ کھول دیا کہ اسقاط شہب سے ملائکہ کی غرض رجم شیاطین ہے۔ یعنی یہ ایک قسم کا انتشار نورانیت ملائک کے ہاتھ سے اور ان کے نور کی آمیزش سے ہے جس کا جنات کی ظلمت پر اثر پڑتا ہے۔ اور جنات کے افعال مخصوصہ اس سے رو بکمی ہو جاتے ہیں اور اگر اس انتشارِ نورانیت کی کثرت ہو تو بوجہ نور کے مقناطیسی جذب کے مظاہرِ کاملہ نورانیت کے انسانوں میں سے پیدا ہوتے ہیں۔ ورنہ یہ انتشار نورانیت بوجہ اپنی ملکی خاصیت کے کسی قدر دلوں کو نور اور حقانیت کی طرف کھینچتا ہے اور یہ ایک خاصیت ہے جو ہمیشہ دنیا میں اِنّی طور پر اس کا ثبوت ملتا رہا ہے … درحقیقت خدا تعالیٰ کا انتظام یہی ہے کہ جو کچھ اجرام اور اجسام اور کائنات الجوّ میں ہو رہا ہے یا کبھی کبھی ظہور میں آتا ہے وہ صرف اجرام اور اجسام کے افعال شتر بے مہار کی طرح نہیں ہیں بلکہ ان کے تمام واقعات کی زمامِ اختیار حکیم قدیر نے ملائک کے ہاتھ میں دے رکھی ہے جو ہر دم اور ہر طرفۃ العین میں اس قادرِ مطلق سے اِذن پا کر انواع اقسام کے تصرفات میں مشغول ہیں اور نہ عبث طور پر بلکہ سراسر حکیمانہ طرز سے بڑے بڑے مقاصد کے لئے اس کرّہ ارض و سما کو طرح طرح کی جنبشیں دے رہے ہیں اور کوئی فعل بھی اُن کا بے کار اور بے معنی نہیں۔
(آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد۵ صفحہ ۱۲۴ تا ۱۳۳ حاشیہ)یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اسلامی شریعت کی رو سے خواص ملائک کا درجہ خواص بشر سے کچھ زیادہ نہیں بلکہ خواص الناس خواص الملائک سے افضل ہیں اور نظام جسمانی یا نظام روحانی میں اُن کا وسائط قرار پانا ان کی افضلیت پر دلالت نہیں کرتا بلکہ قرآن شریف کی ہدایت کے رو سے وہ خدام کی طرح اس کام میں لگائے گئے ہیں۔ جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔ وَسَخَّرَ لَکُمُ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ یعنی وہ خدا جس نے سورج اور چاند کو تمہاری خدمت میں لگا رکھا ہے۔ مثلاً دیکھنا چاہئے کہ ایک چٹھی رساں ایک شاہ وقت کی طرف سے اس کے کسی ملک کے صوبہ یا گورنر کی خدمت میں چٹھیاں پہنچا دیتا ہے تو کیا اس سے یہ ثابت ہو سکتا ہے کہ وہ چٹھی رسان جو اس بادشاہ اور گورنر جنرل میں واسطہ ہے گورنر جنرل سے افضل ہے۔ سو خوب سمجھ لو۔ یہی مثال ان وسائط کی ہے جو نظام جسمانی اور روحانی میں قادرِ مطلق کے ارادوں کو زمین پر پہنچاتے اور ان کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔ اللہ جلّ شانہٗ قرآن شریف کے کئی مقامات میں بتصریح ظاہر فرماتا ہے کہ جو کچھ زمین و آسمان میں پیدا کیا گیا ہے وہ تمام چیزیں اپنے وجود میں انسان کی طفیلی ہیں یعنی محض انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور انسان اپنے مرتبہ میں سب سے اعلیٰ و ارفع اور سب کا مخدوم ہے جس کی خدمت میں یہ چیزیں لگا دی گئی ہیں جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ وَسَخَّرَ لَکُمُ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ دَآئِبَیۡنِ ……
پھر ایک اَور جگہ فرمایا اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِیۡنٍ فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَنَفَخۡتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّہُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ یعنی یاد کر وہ وقت کہ جب تیرے خدا نے (جس کا تو مظہر اتم ہے) فرشتوں کو کہا کہ مَیں مٹی سے ایک انسان پیدا کرنے والا ہوں۔ سو جب مَیں اس کو کمال اعتدال پر پیدا کر لوں اور اپنی روح میں سے اس میں پھونک دوں تو تم اس کے لئے سجدہ میں گرو یعنی کمال انکسار سے اس کی خدمت میں مشغول ہو جاؤ۔ اور ایسی خدمت گذاری میں جھک جاؤ کہ گویا تم اسے سجدہ کر رہے ہو۔ پس سارے کے سارے فرشتے انسان مکمل کے آگے سجدہ میں گر پڑے مگر شیطان جو اس سعادت سے محروم رہ گیا۔
جاننا چاہئے کہ یہ سجدہ کا حکم اس وقت سے متعلق نہیں ہے کہ جب حضرت آدم پیدا کئے گئے۔ بلکہ یہ علیحدہ ملائک کو حکم کیا گیا کہ جب کوئی انسان اپنی حقیقی انسانیت کے مرتبہ تک پہنچے اور اعتدال انسانی اس کو حاصل ہو جائے اور خدائے تعالیٰ کی رُوح اُس میں سکونت اختیار کرے تو تم اس کامل کے آگے سجدہ میں گِرا کرو۔ یعنی آسمانی انوار کے ساتھ اُس پر اُترو اور اُس پر صلوٰۃ بھیجو۔ سو یہ اس قدیم قانون کی طرف اشارہ ہے جو خدائے تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کے ساتھ ہمیشہ جاری رکھتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی زمانہ میں اعتدال روحانی حاصل کرتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی رُوح اس کے اندر آباد ہوتی ہے یعنی اپنے نفس سے فانی ہو کر بقا باللہ کا درجہ حاصل کرلیتا ہے تو ایک خاص طور پر نزول ملائکہ کا اس پر شروع ہو جاتا ہے۔ اگرچہ سلوک کے ابتدائی حالات میں بھی ملائک اس کی نصرت اور خدمت میں لگے ہوئے ہوتے ہیں لیکن یہ نزول ایسا اتم اور اکمل ہوتا ہے کہ سجدہ کا حکم رکھتا ہے۔ اور سجدہ کے لفظ سے خدائے تعالیٰ نے یہ ظاہر کر دیا کہ ملائکہ انسانِ کامل سے افضل نہیں ہیں بلکہ وہ شاہی خادموں کی طرح سجداتِ تعظیم انسان کامل کے آگے بجا لا رہے ہیں۔
(توضیح مرام۔ روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۷۴ تا۷۷)ملائک اللہ (جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں ) ایک ہی درجہ کی عظمت اور بزرگی نہیں رکھتے۔ نہ ایک ہی قسم کا کام انہیں سپرد ہے بلکہ ہر یک فرشتہ علیحدہ علیحدہ کاموں کے انجام دینے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ دنیا میں جس قدر تم تغیرات و انقلابات دیکھتے ہو یا جو کچھ مکمّن قوّۃ سے حیّز فعل میں آتا ہے یا جس قدر ارواح و اجسام اپنے کمالات مطلوبہ تک پہنچتے ہیں ان سب پر تاثیراتِ سماویہ کام کر رہی ہیں اور کبھی ایک ہی فرشتہ مختلف طور کی استعدادوں پر مختلف طور کے اثر ڈالتا ہے۔ مثلاً جبریل جو ایک عظیم الشان فرشتہ ہے اور آسمان کے ایک نہایت روشن نیر سے تعلق رکھتا ہے اس کو کئی قسم کی خدمات سپرد ہیں۔ اُنہی خدمات کے موافق جو اس کے نیر سے لئے جاتے ہیں۔ سو وہ فرشتہ اگرچہ ہر یک ایسے شخص پر نازل ہوتا ہے جو وحی الٰہی سے مشرف کیا گیا ہو (نزول کی اصل کیفیت جو صرف اثر اندازی کے طور پر ہے نہ واقعی طور پر یاد رکھنی چاہئے) لیکن اس کے نزول کی تاثیرات کا دائرہ مختلف استعدادوں اور مختلف ظروف کے لحاظ سے چھوٹی چھوٹی یا بڑی بڑی شکلوں پر تقسیم ہو جاتا ہے۔ نہایت بڑا دائرہ اس کی روحانی تاثیرات کا وہ دائرہ ہے جو حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی سے متعلق ہے۔ اسی وجہ سے جو معارف و حقائق و کمالات حکمت و بلاغت قرآن شریف میں اکمل اور اتم طور پر پائے جاتے ہیں۔ یہ عظیم الشان مرتبہ اور کسی کتاب کو حاصل نہیں اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے (جیسا کہ پہلے بھی ہم اس کی طرف اشارہ کر چکے ہیں ) کہ ہر یک فرشتہ کی تاثیر انسان کے نفس پر دو قسم کی ہوتی ہے۔ اوّل وہ تاثیر جو رحم میں ہونے کی حالت میں باذنہٖ تعالیٰ مختلف طور کے تخم پر مختلف طور کا اثر ڈالتی ہے۔ پھر دوسری وہ تاثیر جو بعد طیاری وجود کے اس وجود کی مخفی استعدادوں کو اپنے کمالات ممکنہ تک پہنچانے کے لئے کام کرتی ہے۔ اس دوسری تاثیر کو جب وہ نبی یا کامل ولی کے متعلق ہو وحی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور یوں ہوتاہے کہ جب ایک مستعدنفس اپنے نور ایمان اور نور محبت کے کمال سے مبدء فیوض کے ساتھ دوستانہ تعلق پکڑ لیتا ہے اور خدا ئے تعالیٰ کی زندگی بخش محبت اس کی محبت پر پرتوہ انداز ہو جاتی ہے تو اس حد اور اس وقت تک جو کچھ انسان کو آگے قدم رکھنے کے لئے مقدور حاصل ہوتا ہے یہ دراصل اس پنہانی تاثیر کا اثر ظاہر ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کے فرشتہ نے انسان کے رحم میں ہونے کی حالت میں کی ہوتی ہے۔ پھر بعد اس کے جب انسان اس پہلی تاثیر کی کشش سے یہ مرتبہ حاصل کر لیتا ہے تو پھر وہی فرشتہ از سر نو اپنا اثر نور سے بھرا ہوا اس پر ڈالتا ہے۔ مگر یہ نہیں کہ اپنی طرف سے بلکہ وہ درمیانی خادم ہونے کی وجہ سے اُس نالی کی طرح جو ایک طرف سے پانی کو کھینچتی اور دوسری طرف اس پانی کو پہنچا دیتی ہے خدائے تعالیٰ کا نور فیض اپنے اندر کھینچ لیتا ہے۔ پھر عین اس وقت میں جب انسان بوجہ اقتران محبتین رُوح القدس کی نالی کے قریب اپنے تئیں رکھ دیتا ہے معًا اُس نالی میں سے فیضِ وحی اس کے اندر گِر جاتا ہے یا یوں کہو کہ اُس وقت جبریل اپنا نورانی سایہ اس مستعد دل پر ڈال کر ایک عکسی تصویر اپنی اس کے اندر لکھ دیتا ہے تب جیسے ایک فرشتہ کا جو آسمان پر مستقر ہے جبریل نام ہے اس عکسی تصویر کا نام بھی جبریل ہی ہوتا ہے یا مثلاً اس فرشتہ کا نام رُوح القدس ہے تو عکسی تصویر کا نام بھی رُوح القدس ہی رکھا جاتا ہے۔ سو یہ نہیں کہ فرشتہ انسان کے اندر گھس آتا ہے بلکہ اس کا عکس انسان کے آئینہ قلب میں نمودار ہو جاتا ہے۔ مثلاً جب تم نہایت مصفّٰی آئینہ اپنے منہ کے سامنے رکھ دو گے تو موافق دائرہ مقدار اس آئینہ کے تمہاری شکل کا عکس بلاتوقف اس میں پڑے گا یہ نہیں کہ تمہارا منہ اور تمہارا سر گردن سے ٹوٹ کر اور الگ ہو کر آئینہ میں رکھ دیا جائے گا بلکہ اُس جگہ رہے گا جو رہنا چاہئے اور صرف اس کا عکس پڑے گا اور عکس بھی ہر یک جگہ ایک ہی مقدار پر نہیں پڑے گا بلکہ جیسی جیسی وسعت آئینہ قلب کی ہو گی اُسی مقدار کے موافق اثر پڑے گا مثلاً اگر تم اپنا چہرہ آرسی کے شیشہ میں دیکھنا چاہو کہ جو ایک چھوٹا سا شیشہ ایک قسم کی انگشتری میں لگا ہوتا ہے تو اگرچہ اس میں بھی تمام چہرہ نظر آئے گا مگر ہر یک عضو اپنی اصلی مقدار سے نہایت چھوٹا ہو کر نظر آئے گا لیکن اگر تم اپنے چہرہ کو ایک بڑے آئینہ میں دیکھنا چاہو جو تمہاری شکل کے پورے انعکاس کے لئے کافی ہے تو تمہارے تمام نقوش اور اعضاء چہرہ کے اپنے اصلی مقدار پر نظر آ جائیں گے۔ پس یہی مثال جبریل کی تاثیرات کی ہے۔ ادنیٰ سے ادنیٰ مرتبہ کے ولی پر بھی جبریل ہی تاثیر وحی کی ڈالتا ہے۔ اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر بھی وہی جبریل تاثیر وحی کی ڈالتا رہا ہے۔ لیکن ان دونوں وحیوں میں وہی فرق مذکورہ بالا آرسی کے شیشہ اور بڑے آئینہ کا ہے۔ یعنی اگرچہ بظاہر صورت جبریل وہی ہے اور اُس کی تاثیرات بھی وہی مگر ہر یک جگہ مادہ قابلہ ایک ہی وسعت اور صفائی کی حالت پر نہیں۔ اور یہ جو اس جگہ مَیں نے صفائی کا لفظ بھی لکھ دیا تو یہ اس بات کے اظہار کے لئے ہے کہ جبریلی تاثیرات کا اختلاف صرف کمیّت کے ہی متعلق نہیں بلکہ کیفیت کے متعلق بھی ہے یعنی صفائی قلب جو شرط انعکاس ہے۔ تمام افراد ملہمین کے ایک ہی مرتبہ پر کبھی نہیں ہوتے جیسے کہ تم دیکھتے ہو سارے آئینے ایک ہی درجہ کی صفائی ہرگز نہیں رکھتے۔ بعض آئینے ایسے اعلیٰ درجہ کے آبدار اور مصفّٰی ہوتے ہیں کہ پورے طور پر جیسا کہ چاہئے دیکھنے والے کی شکل اُن میں ظاہر ہو جاتی ہے اور بعض ایسے کثیف اور مکدّر اور پُرغبار اور دُود آمیز جیسے ہوتے ہیں کہ صاف طور پر اُن میں شکل نظر نہیں آتی بلکہ بعض ایسے بگڑے ہوئے ہوتے ہیں کہ اگر مثلاً اُن میں دونوں لب نظر آویں تو ناک دکھائی نہیں دیتا اور اگر ناک نظر آ گیا تو آنکھیں نظر نہیں آتیں۔ سو یہی حالت دلوں کے آئینہ کی ہے۔ جو نہایت درجہ کا مصفّٰی دل ہے اُس میں مصفّٰی طور پر انعکاس ہوتا ہے اور جو کسی قدر مکدّر ہے۔ اُس میں اُسی قدر مکدّر دکھائی دیتا ہے اور اکمل اور اتم طور پر یہ صفائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو حاصل ہے۔ ایسی صفائی کسی دوسرے کے دل کو ہرگز حاصل نہیں۔ (توضیح مرام۔ روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۸۵تا۸۸)
ان لوگوں کی سمجھ پر سخت تعجب ہے کہ وہ ظاہری بارش ہونے کے لئے جو بادلوں کے ذریعہ سے زمین پر ہوتی ہے بخاراتِ مائیہ کا توسط ضروری خیال کرتے ہیں اور خود بخود قدرت سے بغیر بادل کے بارش ہو جانا محال سمجھتے ہیں لیکن الہام کی بارش کے لئے جو صاف دلوں پر ہوتی ہے ملائک کے بادلوں کا توسط جو عند الشرع ضروری ہے اس پر جہالت کی نظر سے ہنستے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا خدائے تعالیٰ بغیر ملائک کے توسط کے خود بخود الہام نہیں کر سکتا تھا؟ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ بغیر توسط ہوا کے آواز کا سن لینا خلاف قانونِ قدرت ہے۔ مگر وہ ہوا جو روحانی طور پر خدائے تعالیٰ کی آواز کو ملہموں کے دلوں تک پہنچاتی ہے اس قانونِ قدرت سے غافل ہیں۔ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ ظاہری آنکھوں کی بصارت کے لئے آفتاب کی روشنی کی ضرورت ہے مگر وہ روحانی آنکھوں کے لئے کسی آسمانی روشنی کی ضرورت یقین نہیں رکھتے۔
اب جبکہ یہ قانونِ الٰہی معلوم ہو چکا کہ یہ عالم اپنے جمیع قویٰ ظاہری و باطنی کے ساتھ حضرت واجب الوجود کے لئے بطور اعضاء کے واقعہ ہے۔ اور ہر یک چیز اپنے اپنے محل اور موقع پر اعضاء ہی کا کام دے رہی ہے اور ہر یک ارادہ خدائے تعالیٰ کا انہی اعضاء کے ذریعہ سے ظہور میں آتا ہے۔ کوئی ارادہ بغیر ان کی توسط کے ظہور میں نہیں آتا۔ تو اب جاننا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ کی وحی میں جو پاک دلوں پر نازل ہوتی ہے جبریل کا تعلق جو شریعت اسلام میں ایک ضروری مسئلہ سمجھا گیا اور قبول کیا گیا ہے یہ تعلق بھی اسی فلسفہ حقہ پر ہی مبنی ہے جس کا ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ حسب قانون قدرت مذکورہ بالا یہ امر ضروری ہے کہ وحی کے القاء یا ملکۂ وحی کے عطا کرنے کے لئے بھی کوئی مخلوق خدائے تعالیٰ کے الہامی اور رُوحانی ارادہ کو بمنصّہ ظہور لانے کے لئے ایک عضو کی طرح بن کر خدمت بجا لاوے جیسا کہ جسمانی ارادوں کے پورا کرنے کے لئے بجا لا رہے ہیں۔ سو وہ وہی عضو ہے جس کو دوسرے لفظوں میں جبریل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جو بہ تبعیت حرکت اس وجود اعظم کے سچ مچ ایک عضو کی طرح بلاتوقف حرکت میں آ جاتا ہے یعنی جب خدائے تعالیٰ محبت کرنے والے دل کی طرف محبت کے ساتھ رجوع کرتا ہے تو حسب قاعدہ مذکورہ بالا جس کا ابھی بیان ہو چکا ہے جبریل کو بھی جو سانس کی ہوا یا آنکھ کے نور کی طرح خدائے تعالیٰ سے نسبت رکھتا ہے اس طرف ساتھ ہی حرکت کرنی پڑتی ہے یا یوں کہو کہ خدائے تعالیٰ کی جنبش کے ساتھ وہ بھی بلا اختیار و بلا ارادہ اسی طور سے جنبش میں آ جاتا ہے کہ جیسا اصل کی جنبش سے سایہ کا ہلنا طبعی طور پر ضروری امر ہے۔ پس جب جبریلی نور خدائے تعالیٰ کی کشش اور تحریک اور نفخہ نورانیہ سے جنبش میں آ جاتا ہے تو معًا اس کی ایک عکسی تصویر جس کو روح القدس کے ہی نام سے موسوم کرنا چاہئے محبت صادق کے دل میں منقش ہو جاتی ہے اور اس کی محبت صادقہ کا ایک عرضِ لازم ٹھہر جاتی ہے تب یہ قوت خدائے تعالیٰ کی آواز سننے کے لئے کان کا فائدہ بخشتی ہے اور اس کے عجائبات کے دیکھنے کے لئے آنکھوں کی قائم مقام ہو جاتی ہے اور اس کے الہامات زبان پر جاری ہونے کے لئے ایک ایسی محرک حرارت کا کام دیتی ہے جو زبان کے پہیہ کو زور کے ساتھ الہامی خط پر چلاتی ہے اور جب تک یہ قوت پیدا نہ ہو اس وقت تک انسان کا دل اندھے کی طرح ہوتا ہے اور زبان اس ریل کی گاڑی کی طرح ہوتی ہے جو چلنے والے انجن سے الگ پڑی ہو لیکن یہ یاد رہے کہ یہ قوت جو رُوح القدس سے موسوم ہے ہر یک دل میں یکساں اور برابر پیدا نہیں ہوتی بلکہ جیسے انسان کی محبت کامل یا ناقص طور پر ہوتی ہے اسی اندازہ کے موافق یہ جبریلی نور اس پر اثر ڈالتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ روح القدس کی قوت جو دونوں محبتوں کے ملنے سے انسان کے دل میں جبریلی نور کے پرتوہ سے پیدا ہو جاتی ہے اِس کے وجود کے لئے یہ امر لازم نہیں کہ ہر وقت انسان خدائے تعالیٰ کا پاک کلام سُنتا ہی رہے یا کشفی طور پر کچھ دیکھتا ہی رہے بلکہ یہ تو انوارِ سماویہ کے پانے کے لئے اسبابِ قریبہ کی طرح ہے یا یوں کہو کہ یہ ایک روحانی روشنی روحانی آنکھوں کے دیکھنے کے لئے یا ایک روحانی ہوا رُوحانی کانوں تک آواز پہنچانے کے لئے منجانب اللہ ہے۔ اور ظاہرہے کہ جب تک کوئی چیز سامنے موجودنہ ہو مجرد روشنی کچھ دکھا نہیں سکتی۔ اور جب تک متکلّم کے مُنہ سے کلام نہ نکلے مجرّد ہوا کانوں تک کوئی خبر نہیں پہنچا سکتی سو یہ روشنی یا ہوا روحانی حواس کے لئے محض ایک آسمانی مؤید عطا کیا جاتا ہے جیسے ظاہری آنکھوں کے لئے آفتاب کی روشنی اور ظاہری کانوں کے لئے ہوا کا ذریعہ مقرر کیا گیا ہے اور جب باری تعالیٰ کا ارادہ اس طرف متوجہ ہوتا ہے کہ اپنا کلام اپنے کسی ملہم کے دل تک پہنچاوے تو اس کی اس متکلّمانہ حرکت سے معاً جبریلی نور میں القاء کے لئے ایک روشنی کی موج یا ہوا کی موج یا ملہم کی تحریک لسان کے لئے ایک حرارت کی موج پیدا ہو جاتی ہے یا اس تموج یا اس حرارت سے بلاتوقف وہ کلام ملہم کی آنکھوں کے سامنے لکھا ہوا دکھائی دیتا ہے یا کانوں تک اس کی آواز پہنچتی ہے یا زبان پر وہ الہامی الفاظ جاری ہوتے ہیں اور روحانی حواس اور روحانی روشنی جو قبل از الہام ایک قوت کی طرح ملتی ہے یہ دونوں قوتیں اِس لئے عطا کی جاتی ہیں کہ تا قبل ازنزول الہام الہام کے قبول کرنے کی استعداد پیدا ہو جائے۔ کیونکہ اگر الہام ایسی حالت میں نازل کیا جاتا کہ ملہم کا دل حواسِ روحانی سے محروم ہوتا یا رُوح القدس کی روشنی دل کی آنکھ کو پہنچی نہ ہوتی تو وہ الہامِ الٰہی کو کن آنکھوں کی پاک روشنی سے دیکھ سکتا۔ سو اِسی ضرورت کی وجہ سے یہ دونوں پہلے ہی سے ملہمین کو عطا کی گئیں۔ اور اِس تحقیق سے یہ بھی ناظرین سمجھ لیں گے کہ وحی کے متعلق جبریل کے تین کام ہیں :۔
اوّل یہ کہ جب رحم میں ایسے شخص کے وجود کے لئے نطفہ پڑتا ہے جس کی فطرت کو اللہ جلّشانہٗ اپنی رحمانیت کے تقاضا سے جس میں انسان کے عمل کو کچھ دخل نہیں ملہمانہ فطرت بنانا چاہتا ہے تو اس پر اُسی نطفہ ہونے کی حالت میں جبریلی نور کا سایہ ڈال دیتاہے۔ تب ایسے شخص کی فطرت منجانب اللہ الہامی خاصیت پیدا کر لیتی ہے اور الہامی حواس اس کو مِل جاتے ہیں۔
پھر دوسرا کام جبریل کا یہ ہے کہ جب بندہ کی محبت خدائے تعالیٰ کی محبت کے زیر سایہ آ پڑتی ہے تو خدائے تعالیٰ کی مربیانہ حرکت کی وجہ سے جبریلی نور میں بھی ایک حرکت پیدا ہو کر محب صادق کے دل پر وہ نور جا پڑتا ہے یعنی اس نور کا عکس محبِ صادق کے دل پر پڑ کر ایک عکسی تصویر جبریل کی اُس میں پیدا ہو جاتی ہے جو ایک روشنی یا ہوا یا گرمی کا کام دیتی ہے اور بطور ملکۂ الہامیہ کے ملہم کے اندر رہتی ہے۔ ایک سرا اس کا جبریل کے نور میں غرق ہوتا ہے اور دوسرا ملہم کے دل کے اندر داخل ہو جاتا جس کو دوسرے لفظوں میں رُوح القدس یا اس کی تصویر کہہ سکتے ہیں۔
تیسرا کام جبریل کا یہ ہے کہ جب خدائے تعالیٰ کی طرف سے کسی کلام کا ظہور ہو تو ہوا کی طرح موج میں آ کر اس کلام کو دل کے کانوں تک پہنچا دیتا ہے یا روشنی کے پیرایہ میں افروختہ ہو کر اس کو نظر کے سامنے کر دیتا ہے یا حرارتِ محرکہ کے پیرایہ میں تیزی پیدا کرکے زبان کو الہامی الفاظ کی طرف چلاتا ہے۔
(توضیح مرام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۹۱ تا۹۴)جب محبت الٰہی بندہ کی محبت پر نازل ہوتی ہے تب دونوں محبتوں کے ملنے سے روح القدس کا ایک روشن اور کامل سایہ انسان کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے اور لقا کے مرتبہ پر اس روح القدس کی روشنی نہایت ہی نمایاں ہوتی ہے اور اقتداری خوارق جن کا ابھی ہم ذکر کر آئے ہیں اسی وجہ سے ایسے لوگوں سے صادر ہوتے ہیں کہ یہ روح القدس کی روشنی ہر وقت اور ہر حال میں اُن کے شامل حال ہوتی ہے اور ان کے اندر سکونت رکھتی ہے اور وہ اس روشنی سے کبھی اور کسی حال میں جدا نہیں ہوتے اور نہ وہ روشنی اُن سے جدا ہوتی ہے۔ وہ روشنی ہر دم اُن کے تنفس کے ساتھ نکلتی ہے۔ اور اُن کی نظر کے ساتھ ہر یک چیز پر پڑتی ہے اور ان کی کلام کے ساتھ اپنی نورانیت لوگوں کو دکھلاتی ہے۔ اسی روشنی کا نام روح القدس ہے مگر یہ حقیقی روح القدس نہیں۔ حقیقی روح القدس وہ ہے جو آسمان پر ہے۔ یہ روح القدس اس کا ظل ہے جو پاک سینوں اور دلوں اور دماغوں میں ہمیشہ کے لئے آباد ہو جاتا ہے اور ایک طرفۃ العین کے لئے بھی اُن سے جدا نہیں ہوتا اور جو شخص تجویز کرتا ہے کہ یہ روح القدس کسی وقت اپنی تمام تاثیرات کے ساتھ اُن سے جدا ہو جاتا ہے وہ شخص سراسر باطل پر ہے اور اپنے پُر ظلمت خیال سے خدا تعالیٰ کے مقدس برگزیدوں کی توہین کرتا ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ حقیقی روح القدس تو اپنے مقام پر ہی رہتا ہے لیکن روح القدس کا سایہ جس کا نام مجازاً روح القدس ہی رکھا جاتا ہے ان سینوں اور دلوں اور دماغوں اور تمام اعضاء میں داخل ہوتا ہے جو مرتبہ بقاء اور لقاء کا پا کر اس لائق ٹھہر جاتے ہیں کہ ان کی نہایت اصفٰی اور اجلٰی محبت پر خدا تعالیٰ کی کامل محبت اپنی برکات کے ساتھ نازل ہو۔ اور جب وہ روح القدس نازل ہوتا ہے تو اس انسان کے وجود سے ایسا تعلق پکڑ جاتا ہے کہ جیسے جان کا تعلق جسم سے ہوتا ہے۔ وہ قوتِ بینائی بن کر آنکھوں میں کام دیتا ہے اور قوت شنوائی کا جامہ پہن کر کانوں کوروحانی حِس بخشتا ہے۔ وہ زبان کی گویائی او ر دل کے تقویٰ اور دماغ کی ہوشیاری بن جاتا ہے اور ہاتھوں میں بھی سرایت کرتا ہے اور پیروں میں بھی اپنا اثر پہنچاتا ہے۔ غرض تمام ظلمت کو وجود میں سے اٹھا دیتا ہے اور سر کے بالوں سے لے کر پیروں کے ناخنوں تک منور کر دیتا ہے۔ اور اگر ایک طرفۃ العین کے لئے بھی علیحدہ ہو جائے تو فی الفور اس کی جگہ ظلمت آ جاتی ہے۔ مگر وہ کاملوں کو ایسا نعم القرین عطا کیا گیا ہے کہ ایک دم کے لئے بھی اُن سے علیحدہ نہیں ہوتا اور یہ گمان کرنا کہ اُن سے علیحدہ بھی ہو جاتا ہے یہ دوسرے لفظوں میں اس بات کا اقرار ہے کہ وہ بعد اس کے جو روشنی میں آ گئے پھر تاریکی میں پڑ جاتے ہیں اور بعد اس کے جو معصوم یا محفوظ کئے گئے پھر نفس امّارہ اُن کی طرف عود کرتا ہے اور بعد اس کے جو روحانی حواس ان پر کھولے گئے پھر وہ تمام حواس بے کار اور معطل کئے جاتے ہیں ……
ہر یک نور اور سکینت اور اطمینان اور برکت اور استقامت اور ہر یک روحانی نعمت برگزیدوں کو روح القدس سے ہی ملتی ہے اور جیسے اشرار اور کفار کے لئے دائمی طور پر شیطان کو بئس القرین قرار دیا گیا ہے تا ہر وقت وہ اُن پر ظلمت پھیلاتا رہے اور ان کے قیام اور قعود اور حرکت اور سکون اور نیند اور بیداری میں ان کا پیچھا نہ چھوڑے ایسا ہی مقربین کے لئے دائمی طور پر روح القدس کو نعم القرین عطا کیا گیا ہے تا ہر وقت وہ اُن پر نور برساتا رہے اور ہر دم اُن کی تائید میں لگا رہے اور کسی دم اُن سے جدا نہ ہو۔
اب ظاہر ہے کہ جبکہ بمقابل بئس القرین کے جو ہمیشہ اشد شریروں کا ملازم اور رفیق ہے مقربوں کے لئے نعم القرین کا ہر وقت رفیق اور انیس ہونا نہایت ضروری ہے اور قرآن کریم اِس کی خبر دیتا ہے تو پھر اگر اس نعم القرین کی علیحدگی مقربوں سے تجویز کی جائے جیسا کہ ہمارے اندرونی مخالف قومی بھائی گمان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ روح القدس جبرائیل کا نام ہے کبھی تو وہ آسمان سے نازل ہوتا ہے اور مقربوں سے نہایت درجہ اتصال کر لیتا ہے یہاں تک کہ اُن کے دل میں دھنس جاتا ہے اور کبھی ان کو اکیلا چھوڑ کر ان سے جدائی اختیار کر لیتا ہے اور کروڑ ہا بلکہ بے شمار کوسوں کی دوری اختیار کر کے آسمان پرچڑھ جاتا ہے اور ان مقربوں سے بالکل قطع تعلقات کر کے اپنی قرار گاہ میں جا چھپتا ہے تب وہ اس روشنی اور اس برکت سے بکلی محروم رہ جاتے ہیں جو اس کے نزول کے وقت ان کے دل اور دماغ اور بال بال میں پیدا ہوتی ہے۔ تو کیا اس عقیدہ سے لازم نہیں آتا کہ روح القدس کے جدا ہونے سے پھر اُن برگزیدوں کو ظلمت گھیر لیتی ہے اور نعوذ باللہ نعم القرین کی جدائی کی وجہ سے بئس القرین کا اثر اُن میں شروع ہو جاتا ہے۔ اب ذرا خوفِ الٰہی کو اپنے دل میں جگہ دے کر سوچنا چاہئے کہ کیا یہی ادب اور یہی ایمان اور عرفان ہے اور یہی محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اس نقص اور تنزل کی حالت کو روا رکھا جائے کہ گویا روح القدس آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم سے مدتوں تک علیحدہ ہو جاتا تھا۔ اور نعوذ باللہ ان مدتوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انوارِ قدسیہ سے جو روح القدس کا پرتو ہ ہے محروم ہوتے تھے۔ غضب کی بات ہے کہ عیسائی لوگ تو حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت یقینی اور قطعی طور پر یہ اعتقاد رکھیں کہ روح القدس جب سے حضرت مسیحؑ پر نازل ہوا کبھی اُن سے جدا نہیں ہوا اور وہ ہمیشہ اور ہر دم روح القدس سے تائید یافتہ تھے یہاں تک کہ خواب میں بھی اُن سے روح القدس جُدا نہیں ہوتا تھا۔ اور ان کا روح القدس کبھی آسمان پر اُن کو اکیلا اور مہجور چھوڑ کر نہیں گیا اور نہ روح القدس کی روشنی ایک دم کے لئے بھی کبھی ان سے جدا ہوئی لیکن مسلمانوں کا یہ اعتقاد ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روح القدس آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا بھی ہو جاتا تھا۔
(آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۷۲تا۷۵)شاید کوئی بے خبر اس حیرت میں پڑے کہ فرشتوں کا اُترنا کیا معنی رکھتا ہے؟ سو واضح ہو کہ عادت اللہ اس طرح پر جاری ہے کہ جب کوئی رسول یا نبی یا محدث اصلاح خلق اللہ کے لئے آسمان سے اُترتا ہے تو ضرور اس کے ساتھ اور اس کے ہمرکاب ایسے فرشتے اترا کرتے ہیں کہ جو مستعد دلوں میں ہدایت ڈالتے ہیں اور نیکی کی رغبت دلاتے ہیں اور برابر اُترتے رہتے ہیں جب تک کفر اور ضلالت کی ظلمت دور ہو کر ایمان اور راستبازی کی صبح صادق نمودار ہو۔ جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔ تَنَزَّلُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوۡحُ فِیۡہَا بِاِذۡنِ رَبِّہِمۡ ۚ مِنۡ کُلِّ اَمۡرٍ سَلٰمٌ ۟ۛ ہِیَ حَتّٰی مَطۡلَعِ الۡفَجۡرِ سو ملائکہ اور روح القدس کا تنزل یعنی آسمان سے اُترنا اُسی وقت ہوتا ہے جب ایک عظیم الشان آدمی خلعت خلافت پہن کر اور کلام الٰہی سے شرف پا کر زمین پر نزول فرماتا ہے۔ روح القدس خاص طور پر اس خلیفہ کو ملتی ہے اور جو اس کے ساتھ ملائکہ ہیں وہ تمام دنیا کے مستعد دلوں پر نازل کئے جاتے ہیں۔ تب دنیا میں جہاں جہاں جوہر قابل پائے جاتے ہیں سب پر اُس نور کا پرتوہ پڑتاہے اور تمام عالم میں ایک نورانیت پھیل جاتی ہے اور فرشتوں کی پاک تاثیر سے خودبخود دلوں میں نیک خیال پیدا ہونے لگتے ہیں اور توحید پیاری معلوم ہونے لگتی ہے اور سیدھے دلوں میں راست پسندی اور حق جوئی کی ایک روح پھونک دی جاتی ہے اور کمزوروں کو طاقت عطا کی جاتی ہے اور ہرطرف ایسی ہوا چلنی شروع ہو جاتی ہے کہ جو اس مصلح کے مدعا اور مقصد کو مدد دیتی ہے۔ ایک پوشیدہ ہاتھ کی تحریک سے خودبخود لوگ صلاحیت کی طرف کھسکتے چلے آتے ہیں اور قوموں میں ایک جنبش سی شروع ہو جاتی ہے۔ تب نا سمجھ لوگ گمان کرتے ہیں کہ دنیا کے خیالات نے خودبخود راستی کی طرف پلٹا کھایا ہے لیکن درحقیقت یہ کام ان فرشتوں کا ہوتا ہے کہ جو خلیفۃاللہ کے ساتھ آسمان سے اُترتے ہیں اور حق کے قبول کرنے اور سمجھنے کے لئے غیر معمولی طاقتیں بخشتے ہیں۔ سوئے ہوئے لوگوں کو جگا دیتے ہیں اور مستوں کو ہشیار کرتے ہیں اور بہروں کے کان کھولتے ہیں اور مردوں میں زندگی کی روح پھونکتے ہیں اور ان کو جو قبروں میں ہیں باہر نکال لاتے ہیں۔ تب لوگ یکدفعہ آنکھیں کھولنے لگتے ہیں اور اُن کے دلوں پر وہ باتیں کھلنے لگتی ہیں جو پہلے مخفی تھیں اور درحقیقت یہ فرشتے اس خلیفۃ اللہ سے الگ نہیں ہوتے۔ اسی کے چہرہ کا نور اور اُسی کی ہمت کے آثار جلیہ ہوتے ہیں جو اپنی قوت مقناطیسی سے ہر ایک مناسبت رکھنے والے کو اپنی طرف کھینچتے ہیں خواہ وہ جسمانی طور پر نزدیک ہو یا دور ہو اور خواہ آشنا ہو یا بکلی بے گانہ اور نام تک بے خبر ہو۔ غرض اِس زمانہ میں جو کچھ نیکی کی طرف حرکتیں ہوتی ہیں اور راستی کے قبول کرنے کے لئے جوش پیدا ہوتے ہیں خواہ وہ جوش ایشیائی لوگوں میں پیدا ہوں یا یورپ کے باشندوں میں یا امریکہ کے رہنے والوں میں وہ درحقیقت انہی فرشتوں کی تحریک سے جو اس خلیفۃ اللہ کے ساتھ اُترتے ہیں ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ یہ الٰہی قانون ہے جس میں کبھی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔ اور بہت صاف اور سریع الفہم ہے۔ (فتح اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۲، ۱۳ حاشیہ)
اِس عاجز کو اپنے ذاتی تجربہ سے یہ معلوم ہے کہ روح القدس کی قدسیت ہر وقت اور ہردم اور ہر لحظہ بلافصل ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی رہتی ہے اور وہ بغیر روح القدس اور اُس کی تاثیر قدسیت کے ایک دم بھی اپنے تئیں ناپاکی سے بچا نہیں سکتا اور انوار دائمی اور استقامت دائمی اور محبت دائمی اور عصمت دائمی اور برکات دائمی کا بھی سبب ہوتا ہے کہ روح القدس ہمیشہ اور ہر وقت ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ پھر امام المعصومین اور امام المتبرکین اور سید المقربین کی نسبت کیونکر خیال کیا جائے کہ نعوذ باللہ کسی وقت ان تمام برکتوں اور پاکیزگیوں اور روشنیوں سے خالی رہ جاتے تھے۔ (آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۹۳۔ ۹۴ حاشیہ)
ناظرین کی توجہ کے لائق یہ ہے کہ ان مولویوں نے بات بات میں حضرت عیسٰیؑ کو بڑھایا اور ہمارے سید و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی۔ غضب کی بات ہے کہ ان کا عقیدہ حضرت مسیحؑ کی نسبت تو یہ ہو کہ کبھی روح القدس اُن سے جدا نہیں ہوتا تھا اور مَس شیطان سے وہ بری تھے۔ اور یہ دونو باتیں اُنہیں کی خصوصیت تھی لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ان کا یہ اعتقاد ہو کہ نہ روح القدس ہمیشہ اور ہر وقت اُن کے پاس رہا اور نہ وہ نعوذ باللہ نقل کفر کفر نباشد مَس شیطان سے بَری تھے باوجود اِن باتوں کے یہ لوگ مسلمان کہلاویں۔ اُن کی نظر میں ہمارے سیّد و مولیٰ محمدصلی اللہ علیہ وسلم مُردہ مگر حضرت عیسیٰؑ اب تک زندہ اور عیسیٰ کے لئے رُوح القدس دائمی رفیق مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ اس نعمت سے بے بہرہ۔ اور حضرت عیسیٰؑ مسِّ شیطان سے محفوظ مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ نہیں۔ جن لوگوں کے یہ عقائد ہوں اُن کے ہاتھ سے جس قدر دین اسلام کو اس زمانہ میں نقصان پہنچ رہا ہے کون اس کا اندازہ کر سکتا ہے۔ یہ لوگ چھپے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہیں۔ چاہئے کہ ہر یک مسلمان اور سچا عاشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِن سے پرہیز کرے۔ (آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۱۱۰۔ ۱۱۱)
یہی حال انبیاء کی اجتہادی غلطی کا ہے کہ روح القدس تو کبھی اُن سے علیحدہ نہیں ہوتا مگر بعض اوقات خدا تعالیٰ بعض مصالح کے لئے انبیاء کے فہم اور ادراک کو اپنے قبضہ میں لے لیتا ہے تب کوئی قول یا فعل سہو یا غلطی کی شکل پر اُن سے صادر ہو تا ہے اور وہ حکمت جو ارادہ کی گئی ہے ظاہر ہو جاتی ہے۔ تب پھر وحی کا دریا زور سے چلنے لگتا ہے اور غلطی کو درمیان سے اُٹھا دیا جاتا ہے گویا اس کا کبھی وجودنہیں تھا۔ حضرت مسیحؑ ایک انجیر کی طرف دوڑے گئے کہ تا اُس کا پھل کھائیں اور روح القدس ساتھ ہی تھا مگر روح القدس نے یہ اطلاع نہ دی کہ اِس وقت انجیر پر کوئی پھل نہیں۔ بایں ہمہ یہ سب لوگ جانتے ہیں کہ شاذ و نادر معدوم کے حکم میں ہوتا ہے۔ پس جس حالت میں ہمارے سیّد و مولیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس لاکھ کے قریب قول و فعل میں سراسر خدائی کا ہی جلوہ نظر آتا ہے اور ہر بات میں حرکات میں سکنات میں اقوال میں افعال میں روح القدس کے چمکتے ہوئے انوار نظر آتے ہیں تو پھر اگر ایک آدھ بات میں بشریت کی بھی بو آوے تو اِس سے کیا نقصان بلکہ ضرور تھا کہ بشریت کے تحقق کے لئے کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا تا لوگ شرک کی بلا میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۱۱۵۔ ۱۱۶)
اس جگہ کئی اعتراض پیدا ہوتے ہیں جن کا دفع کرنا ہمارے ذمہ ہے۔ ازاں جملہ ایک یہ کہ جس حالت میں روح القدس صرف اُن مقربوں کو ملتا ہے کہ جو بقاء اور لقاء کے مرتبہ تک پہنچتے ہیں تو پھر ہر ایک کا نگہبان کیونکر ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ روح القدس کا کامل طور پر نزول مقربوں پر ہی ہوتا ہے مگر اس کی فی الجملہ تائید حسب مراتب محبت و اخلاص دوسروں کو بھی ہوتی ہے ہماری تقریر مندرجہ بالا کا صرف یہ مطلب ہے کہ روح القدس کی اعلیٰ تجلّی کی یہ کیفیت ہے کہ جب بقاء اور لقاء کے مرتبہ پر محبت الٰہی انسان کی محبت پر نازل ہوتی ہے تو یہ اعلیٰ تجلّی روح القدس کی اُن دونوں محبتوں کے ملنے سے پیدا ہوتی ہے جس کے مقابل پر دوسری تجلیات کالعدم ہیں مگر یہ تو نہیں کہ دوسری تجلیات کا وجود ہی نہیں۔ خدا تعالیٰ ایک ذرہ محبت خالصہ کو بھی ضائع نہیں کرتا۔ انسان کی محبت پر اس کی محبت نازل ہوتی ہے اور اُسی مقدار پر روح القدس کی چمک پیدا ہوتی ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کا ایک بندھا ہوا قانون ہے کہ ہر یک محبت کے اندازہ پر الٰہی محبت نزول کرتی رہتی ہے۔ اور جب انسانی محبت کا ایک دریا بہہ نکلتا ہے تو اس طرف سے بھی ایک دریا نازل ہوتا ہے اور جب وہ دونوں دریا ملتے ہیں تو ایک عظیم الشان نور اُن میں سے پیدا ہوتا ہے جو ہماری اصطلاح میں روح القدس سے موسو م ہے۔ لیکن جیسے تم دیکھتے ہو کہ اگر بیس سیر پانی میں ایک ماشہ مصری ڈال دی جائے تو کچھ بھی مصری کا ذائقہ معلوم نہیں ہو گا اور پانی پھیکے کا پھیکا ہی ہو گا مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ مصری اس میں نہیں ڈالی گئی اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ پانی میٹھا ہے۔ یہی حال اُس روح القدس کا ہے جو ناقص طور پر ناقص لوگوں پر اُترتا ہے۔ اُس کے اُترنے میں تو شک نہیں ہو سکتا کیونکہ ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی کو بھی نیکی کا خیال روح القدس سے پیدا ہوتا ہے۔ کبھی فاسق اور فاجر اور بدکار بھی سچی خواب دیکھ لیتا ہے اور یہ سب روح القدس کا اثر ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ نبویّہؐ سے ثابت ہے مگر وہ تعلق عظیم جو مقدسوں اور مقربوں کے ساتھ ہے اُس کے مقابل پر یہ کچھ چیز نہیں گویا کالعدم ہے۔ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۷۷تا۸۰ حاشیہ)
واضح ہو کہ یہ خیال کہ فرشتے کیوں نظر نہیں آتے بالکل عبث ہے۔ فرشتے خدا تعالیٰ کے وجود کی طرح نہایت لطیف وجود رکھتے ہیں۔ پس کس طرح اِن آنکھوں سے نظر آویں۔ کیا خدا تعالیٰ جس کا وجود ان فلسفیوں کے نزدیک بھی مسلم ہے اِن فانی آنکھوں سے نظر آتا ہے؟ ماسوا اس کے یہ بات بھی درست نہیں کہ کِسی طرح نظر ہی نہیں آ سکتے۔ کیونکہ عارف لوگ اپنے مکاشفات کے ذریعہ سے جو اکثر بیداری میں ہوتے ہیں فرشتوں کو روحانی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں اور ان سے باتیں کرتے ہیں اور کئی علوم اُن سے اخذ کرتے ہیں اور مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جو مفتری کذّاب کو بغیر ذلیل اور معذّب کرنے کے نہیں چھوڑتا کہ مَیں اس بیان میں صادق ہوں کہ بارہا عالمِ کشف میں مَیں نے ملائک کو دیکھا ہے اور اُن سے بعض علوم اخذ کئے ہیں۔ اور اُن سے گذشتہ یا آنے والی خبریں معلوم کی ہیں جو مطابق واقعہ تھیں۔ پھر میں کیونکر کہوں کہ فرشتے کسی کو نظر نہیں آ سکتے۔ بلاشبہ نظر آ سکتے ہیں مگر اَور آنکھوں سے اور جیسے یہ لوگ اِن باتوں پر ہنستے ہیں عارف ان کی حالتوں پر روتے ہیں۔ اگر صحبت میں رہیں تو کشفی طریقوں سے مطمئن ہوسکتے ہیں۔ لیکن مشکل تو یہی ہے کہ ایسے لوگوں کی کھوپڑی میں ایک قسم کا تکبر ہوتا ہے۔ وہ تکبر انہیں اس قدر بھی اجازت نہیں دیتا کہ انکسار اور تذلّل اختیار کر کے طالبِ حق بن کر حاضر ہو جائیں۔ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۱۸۱تا۱۸۳ حاشیہ)
ازانجملہ ایک یہ اعتراض ہے کہ خدا تعالیٰ کو فرشتوں سے کام لینے کی کیا حاجت ہے؟ کیا اس کی بادشاہی بھی انسانی سلطنتوں کی طرح عملہ کی محتاج ہے اور اُس کو بھی فوجوں کی حاجت تھی جیسی انسان کو حاجت ہے؟
اماالجواب۔ پس واضح ہو کہ خدا تعالیٰ کو کسی چیز کی حاجت نہیں۔ نہ فرشتوں کی نہ آفتاب کی نہ ماہتاب کی نہ ستاروں کی۔ لیکن اسی طرح اس نے چاہا کہ تا اس کی قدرتیں اسباب کے توسط سے ظاہر ہوں اور تا اس طرز سے انسانوں میں حکمت اور علم پھیلے۔ اگر اسباب کا توسط درمیان نہ ہوتا تو نہ دنیا میں علم ہیئت ہوتا نہ نجوم۔ نہ طبعی نہ طبابت نہ علم نباتات۔ یہ اسباب ہی ہیں جن سے علم پیدا ہوئے۔ تم سوچ کر دیکھو کہ اگر فرشتوں سے خدمت لینے سے کچھ اعتراض ہے تو وہی اعتراض سورج اور چاند اور کواکب اور نباتات اور جمادات اور عناصر سے خدمت لینے میں پیدا ہوتا ہے جو شخص معرفت کا کچھ حصہ رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر یک ذرّہ خدا تعالیٰ کے ارادہ کے موافق کام کر رہا ہے اور ایک قطرہ پانی کا جو ہمارے اندر جاتا ہے وہ بھی بغیر اذن الٰہی کے کوئی تاثیر موافق یا مخالف ہمارے بدن پر ڈال نہیں سکتا۔ پس تمام ذرات اور سیارات وغیرہ درحقیقت ایک قسم کے فرشتے ہیں جو دن رات خدمت میں مشغول ہیں۔ کوئی انسان کے جسم کی خدمت میں مشغول ہے اور کوئی روح کی خدمت میں۔ اور جس حکیم مطلق نے انسان کی جسمانی تربیت کے لئے بہت سے اسباب کا توسط پسند کیا اور اپنی طرف سے بہت سے جسمانی مؤثرات پیدا کئے تا انسان کے جسم پر انواع اقسام کے طریقوں سے تاثیر ڈالیں۔ اُسی وحدہٗ لاشریک نے جس کے کاموں میں وحدت اور تناسب ہے یہ بھی پسند کیا کہ انسان کی رُوحانی تربیت بھی اسی نظام اور طریق سے ہو کہ جو جسم کی تربیت میں اختیار کیا گیا تا وہ دونوں نظام ظاہری و باطنی اور روحانی اور جسمانی اپنے تناسب اور یکرنگی کی وجہ سے صانع واحد مدبّر بالارادہ پر دلالت کریں۔
پس یہی وجہ ہے کہ انسان کی روحانی تربیت بلکہ جسمانی تربیت کے لئے بھی فرشتے وسائط مقرر کئے گئے۔ مگر یہ تمام وسائط خداتعالیٰ کے ہاتھ میں مجبور اور ایک کل کی طرح ہیں جس کو اس کا پاک ہاتھ چلا رہا ہے۔ اپنی طرف سے نہ کوئی ارادہ رکھتے ہیں نہ کوئی تصرف۔ جس طرح ہوا خدا تعالیٰ کے حکم سے ہمارے اندر چلی جاتی ہے اور اسی کے حکم سے باہر آتی ہے اور اُسی کے حکم سے تاثیر کرتی ہے۔ یہی صورت اور بتمامہٖ یہی حال فرشتوں کا ہے۔ یَفْعَلُوْنَ مَایُؤْمَرُوْنَ۔
پنڈت دیانندنے جو فرشتوں کے اس نظام پر اعتراض کیا ہے کاش پنڈت صاحب کو خدا تعالیٰ کے نظام جسمانی اور روحانی کا علم ہوتا تا بجائے اعتراض کرنے کے کمالاتِ تعلیمِ قرآنی کے قائل ہو جاتے کہ کیسی قانونِ قدرت کی صحیح اور سچی تصویر اس میں موجود ہے۔
(آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۸۵ تا ۸۸ حاشیہ)اور یہ خیال کہ اگر مدبرات اور مقسمات امر فرشتے ہیں تو پھر ہماری تدبیریں کیوں پیش جاتی ہیں۔ اور کیوں اکثر امور ہمارے معالجات اور تدبیرات سے ہماری مرضی کے موافق ہو جاتے ہیں؟ تو اس کا یہ جواب ہے کہ وہ ہمارے معالجات اور تدبیرات بھی فرشتوں کے دخل اور القاء اور الہام سے خالی نہیں ہیں۔ جس کام کو فرشتے باذنہٖ تعالیٰ کرتے ہیں وہ کام اُس شخص یا اس چیز سے لیتے ہیں جس میں فرشتوں کی تحریکات کے اثر کو قبول کرنے کا فطرتی مادہ ہے۔ مثلاً فرشتے جو ایک کھیت یا ایک گانوء یا ایک ملک میں باذنہٖ تعالیٰ پانی برسانا چاہتے ہیں تو وہ آپ تو پانی نہیں بن سکتے اور نہ آگ سے پانی کا کام لے سکتے ہیں بلکہ بادل کو اپنی تحریکاتِ جاذبہ سے محل مقصود پر پہنچا دیتے ہیں اور مدبراتِ امر بن کر جس کم اور کیف اور حد اور اندازہ تک ارادہ کیا گیا ہے برسا دیتے ہیں۔ بادل میں وہ تمام قوتیں موجود ہوتی ہیں جو ایک بے جان اور بے ارادہ اور بے شعور چیز میں باعتبار اس کے جمادی حالت اور عنصری خاصیت کے ہو سکتے ہیں اور فرشتوں کی منصبی خدمت دراصل تقسیم اور تدبیر ہوتی ہے۔ اِسی لئے وہ مقسّمات اور مدبّرات کہلاتے ہیں اور القاء اور الہام بھی جو فرشتے کرتے ہیں۔ وہ بھی برعایت فطرت ہی ہوتا ہے۔ مثلاً وہ الہام جو خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں پر وہ نازل کرتے ہیں دوسروں پر نہیں کر سکتے بلکہ اُس طرف توجہ ہی نہیں کرتے اور اسی قاعدہ کے موافق ہر یک شخص اپنے اندازہ استعداد پر فرشتوں کے القاء سے فیضیاب ہوتاہے۔ اور جس فن یا علم کی طرف کسی کاروئے خیال ہے اُسی میں فرشتہ سے مدد پاتا ہے مثلاً جب اللہ جلّشانہٗ کا ارادہ ہوتا ہے کہ کسی دوا سے کسی کو دست آویں تو طبیب کے دل میں فرشتہ ڈال دیتا ہے کہ فلاں مسہل کی دوا اس کو کھلا دو۔ تب وہ تربد یا خیار شیر یا شیر خشت یا سقمونیا یا سنا یا کشٹرائل یا کوئی اور چیز جیسے دل میں ڈالا گیا ہو اس بیمار کو بتلا دیتا ہے اور پھر فرشتوں کی تائید سے اس دوا کو طبیعت قبول کر لیتی ہے۔ قَے نہیں آتی۔ تب فرشتے اس دوا پر اپنا اثر ڈال کر بدن میں اس کی تاثیرات پہنچاتے ہیں اور مادۂ موذیہ کا اخراج باذنہٖ تعالیٰ شروع ہوجاتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے نہایت حکمت اور قدرت کاملہ سے سِلسلہ ظاہری علوم و فنون کو بھی ضائع ہونے نہیں دیا اور اپنی خدائی کے تصرفات اور دائمی قبضہ کو بھی معطل نہیں رکھا اور اگر خدا تعالیٰ کا اس قدر دقیق در دقیق تصرف اپنی مخلوق کے عوارض اور اس کی بقاء اور فنا پر نہ ہوتا تو وہ ہرگز خدا نہ ٹھہر سکتا اور نہ توحید درست ہو سکتی۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس عالم میں نہیں چاہا کہ یہ تمام اسرار عام نظروں میں بدیہی ٹھہر جاویں کیونکہ اگر یہ بدیہی ہوتے تو پھر اُن پر ایمان لانے کا کچھ بھی ثواب نہ ہوتا۔ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۱۸۵تا۱۸۸ حاشیہ)
ازاں جملہ ایک یہ سوال ہے کہ جس حالت میں رُوح القدس انسان کو بدیوں سے روکنے کے لئے مقرر ہے تو پھر اُس سے گناہ کیوں سرزد ہوتا ہے اور انسان کفر اور فسق اور فجور میں کیوں مبتلا ہو جاتا ہے؟ اِس کا یہ جواب ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کے لئے ابتلاء کے طور پر دو روحانی داعی مقرر کر رکھے ہیں۔ ایک داعی خیر جس کا نام رُوح القدس ہے اور ایک داعی شرّ جس کا نام ابلیس اور شیطان ہے۔ یہ دونوں داعی صرف خیر یا شر کی طرف بلاتے رہتے ہیں مگر کسی بات پر جبر نہیں کرتے۔ جیسا کہ اس آیت کریمہ میں اِسی امر کی طرف اشارہ ہے۔ فَاَلۡہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَتَقۡوٰٮہَا یعنی خدا بدی کا بھی الہام کرتا ہے اور نیکی کا بھی۔ بدی کے الہام کا ذریعہ شیطان ہے جو شرارتوں کے خیالات دلوں میں ڈالتا ہے۔ اور نیکی کے الہام کا ذریعہ روح القدس ہے جو پاک خیالات دل میں ڈالتا ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ علّت العلل ہے اس لئے یہ دونوں الہام خدا تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کر لئے کیوں کہ اُسی کی طرف سے یہ سارا انتظام ہے ورنہ شیطان کیا حقیقت رکھتا ہے جو کسی کے دل میں وسوسہ ڈالے اور روح القدس کیا چیز جو کسی کو تقویٰ کی راہوں کی ہدایت کرے۔ ہمارے مخالف آریہ اور برہمو اور عیسائی اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے قرآن کریم کی تعلیم پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اس تعلیم کی رو سے ثابت ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ نے دانستہ انسان کے پیچھے شیطان کو لگا رکھا ہے۔ گویا اس کو آپ ہی خلق اللہ کا گمراہ کرنا منظور ہے مگر یہ ہمارے شتاب باز مخالفوں کی غلطی ہے ان کو معلوم کرنا چاہئے کہ قرآن کریم کی یہ تعلیم نہیں ہے کہ شیطان گمراہ کرنے کے لئے جبر کر سکتا ہے اور نہ یہ تعلیم ہے کہ صرف بدی کی طرف بلانے کے لئے شیطان کو مقرر کر رکھا ہے بلکہ یہ تعلیم ہے کہ آزمائش اور امتحان کی غرض سے۔ لمّہ ملک اور لمّہ ابلیس برابر طور پر انسان کو دیئے گئے ہیں یعنی ایک داعی خیر اور ایک داعی شر۔ تا انسان اس ابتلاء میں پڑ کر مستحق ثواب یا عقاب کا ٹھہر سکے کیونکہ اگر اُس کے لئے ایک ہی طور کے اسباب پیدا کئے جاتے مثلاً اگر اس کے بیرونی اور اندرونی اسباب جذبات فقط نیکی کی طرف ہی اس کو کھینچتے یا اس کی فطرت ہی ایسی واقعہ ہوتی کہ وہ بجز نیکی کے کاموں کے اور کچھ کر ہی نہ سکتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ نیک کاموں کے کرنے سے اس کو کوئی مرتبہ قرب کا مِل سکے کیونکہ اس کے لئے تو تمام اسباب و جذبات نیک کام کرنے کے ہی موجود ہیں یا یہ کہ بدی کی خواہش تو ابتداء سے ہی اس کی فطرت سے مسلوب ہے تو پھر بدی سے بچنے کا اُس کو ثواب کس استحقاق سے ملے۔ مثلاً ایک شخص ابتداء سے ہی نامرد ہے جو عورت کی کچھ خواہش نہیں رکھتا اب اگر وہ ایک مجلس میں یہ بیان کرے کہ میں فلاں وقت جوان عورتوں کے ایک گروہ میں رہا جوخوبصورت بھی تھیں مگر مَیں ایسا پرہیز گار ہوں کہ مَیں نے اُن کو شہوت کی نظر سے ایک دفعہ بھی نہیں دیکھا اور خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہا تو کچھ شک نہیں کہ سب لوگ اُس کے اس بیان پر ہنسیں گے اور طنز سے کہیں گے کہ اے نادان! کب اور کس وقت تجھ میں یہ قوت موجود تھی تا اُس کے روکنے پر تو فخر کر سکتا یا کسی ثواب کی امید رکھتا۔ پس جاننا چاہئے کہ سالک کو اپنی ابتدائی اور درمیانی حالات میں تمام اُمیدیں ثواب کی مخالفانہ جذبات سے پیدا ہوتی ہیں اور ان منازلِ سلوک میں جن امور میں فطرت ہی سالک کی ایسی واقع ہو کہ اُس قسم کی بدی وہ کر ہی نہیں سکتا تو اس قسم کے ثواب کا بھی وہ مستحق نہیں ہو سکتا مثلاً ہم بچھو اور سانپ کی طرح اپنے وجود میں ایک ایسی زہر نہیں رکھتے جس کے ذریعہ سے ہم کسی کو اس قسم کی ایذا پہنچا سکیں جو کہ سانپ اور بچھو پہنچاتے ہیں۔ سو ہم اس قسم کی ترکِ بدی میں عند اللہ کسی ثواب کے مستحق بھی نہیں۔
اب اس تحقیق سے ظاہر ہوا کہ مخالفانہ جذبات جو انسان میں پیدا ہو کر انسان کو بدی کی طرف کھینچتے ہیں درحقیقت وہی انسان کے ثواب کا بھی موجب ہیں کیونکہ جب وہ خدا تعالیٰ سے ڈر کر اُن مخالفانہ جذبات کو چھوڑ دیتا ہے تو عند اللہ بلاشبہ تعریف کے لائق ٹھہر جاتا ہے اور اپنے ربّ کو راضی کر لیتا ہے لیکن جو شخص جو انتہائی مقام کو پہنچ گیا ہے اُس میں مخالفانہ جذبات نہیں رہتے۔ گویا اُس کا جن مسلمان ہو جاتا ہے مگر ثواب باقی رہ جاتا ہے کیونکہ وہ ابتلا کے منازل کو بڑی مردانگی کے ساتھ طے کر چکا ہے جیسے ایک صالح آدمی جس نے بڑے بڑے نیک کام اپنی جوانی میں کئے ہیں اپنی پیرانہ سالی میں بھی اُن کا ثواب پاتا ہے۔
(آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۸۰تا۸۵ حاشیہ)اسی طرح شیطان کے وجود پر بھی بعض ناسمجھ اعتراض کرتے ہیں کہ گویا خدا نے خود لوگوں کو گمراہ کرنا چاہا۔ مگر یہ بات نہیں ہے بلکہ ہر ایک دانا اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ ہر ایک انسان میں دو قوتیں ضرور پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک قوت کو عربی میں لمّہ شیطان کہتے ہیں اور دوسری قوت کو لمّہ ملک یعنی انسانی فطرت میں یہ بات مشہود ہے کہ کبھی نامعلوم اسباب سے نیک خیال اس میں پیدا ہوتا ہے اور نیک کاموں کی طرف دل رغبت کرتا ہے۔ اور پھر کبھی بد خیال اس کے دل میں اٹھتا ہے اور بدی اور بدکاری اور ظلم اور شر کی طرف اس کی طبیعت مائل ہو جاتی ہے۔ پس وہ قوت جو بد خیال کا منبع ہے قرآنی تعلیم کی رو سے وہ شیطان ہے اور وہ قوت جو نیک خیال کا منبع ہے وہ فرشتہ ہے۔ (مضمون جلسہ لاہور منسلکہ چشمہ معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۴۳۵)
اگر کوئی کہے کہ جس حالت میں شیطان کو خدا تعالیٰ کی ہستی اور وحدانیت پر یقین ہے تو پھر وہ خداتعالیٰ کی نافرمانی کیوں کرتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی نافرمانی انسان کی نافرمانی کی طرح نہیں ہے بلکہ وہ اسی عادت پر انسان کی آزمائش کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اور یہ ایک راز ہے جس کی تفصیل انسان کو نہیں دی گئی۔ اور انسان کی خاصیت اکثر اور اغلب طور پر یہی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی نسبت علم کامل حاصل کرنے سے ہدایت پا لیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّمَا یَخۡشَی اللّٰہَ مِنۡ عِبَادِہِ الۡعُلَمٰٓؤُا ہاں جو لوگ شیطانی سرشت رکھتے ہیں وہ اِس قاعدہ سے باہر ہیں۔ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۲۲ حاشیہ)
اوّل ہم بیان کر چکے ہیں کہ صاحب انتہائی کمال کا جس کا وجود سلسلہ خط خالقیت میں انتہائی نقطہ ارتفاع پر واقع ہے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اُن کے مقابل پر وہ خسیس وجود جو انتہائی نقطہ انخفاض پر واقع ہے اسی کو ہم لوگ شیطان سے تعبیر کرتے ہیں۔ اگرچہ بظاہر شیطان کا وجود مشہود و محسوس نہیں۔ لیکن اس سلسلہ خط خالقیت پر نظر ڈال کر اس قدر تو عقلی طور پر ضرور ماننا پڑتا ہے کہ جیسے سِلسلہ ارتفاع کے انتہائی نقطہ میں ایک وجود خیر مجسم ہے جو دنیا میں خیر کی طرف ہادی ہو کر آیا اِسی طرح اس کے مقابل پر ذو العقول میں انتہائی نقطہ انخفاض میں ایک وجود شر انگیز بھی جو شر کی طرف جاذب ہو ضرور چاہئے۔ اِسی وجہ سے ہر یک انسان کے دل میں باطنی طور پر بھی دونوں وجودوں کا اثر عام طور پر پایا جاتا ہے پاک وجود جو روح الحق اور نور بھی کہلاتا ہے یعنی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا پاک اثر بجذباتِ قدسیہ توجہات باطنیہ ہر ایک دل کو خیر اور نیکی کی طرف بلاتا ہے۔ جس قدر کوئی اس سے محبت اور مناسبت پیدا کرتا ہے اُسی قدر وہ ایمانی قوت پاتا ہے اور نورانیت اس کے دل میں پھیلتی ہے یاں تک کہ وہ اسی کے رنگ میں آ جاتا ہے اور ظلّی طور پر ان سب کمالات کو پا لیتا ہے جو اس کو حاصل ہیں اور جو وجود شر انگیز ہے یعنی وجود شیطان جس کا مقام ذو العقول کی قسم میں انتہائی نقطہ انخفاض میں واقع ہے اُس کا اثر ہر یک دل کو جو اس سے کچھ نسبت رکھتا ہے شرک کی طرف کھینچتا ہے۔ جس قدر کوئی اس سے مناسبت پیدا کرتا ہے اسی قدر بے ایمانی اور خباثت کے خیال اس کو سوجھتے ہیں یاں تک کہ جس کو مناسبت تام ہو جاتی ہے وہ اسی کے رنگ اور روپ میں آکر پورا پورا شیطان ہو جاتا ہے اور ظلّی طور پر ان سب کمالاتِ خباثت کو حاصل کر لیتا ہے جو اصلی شیطان کو حاصل ہیں۔ اِسی طرح اولیاء الرحمن اور اولیاء الشیطان اپنی اپنی مناسبت کی وجہ سے الگ الگ طرف کھینچے چلے جاتے ہیں۔ (سرمہ چشم آریہ۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ۲۴۸تا۲۵۱ حاشیہ)
میں سچ کہتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری چلاہٹ ایسی ہی اضطراری ہو تو وہ اس کے فضل اور رحمت کو جوش دلاتی ہے اور اس کو کھینچ لاتی ہے اور میں اپنے تجربہ کی بنا پر کہتا ہوں کہ خدا کے فضل اور رحمت کو جو قبولیت دعا کی صورت میں آتا ہے مَیں نے اپنی طرف کھینچتے ہوئے محسوس کیا ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ دیکھا ہے۔ ہاں آج کل کے زمانہ کے تاریک دماغ فلاسفر اس کو محسوس نہ کر سکیں یا نہ دیکھ سکیں تو یہ صداقت دنیا سے اُٹھ نہیں سکتی اور خصوصاً ایسی حالت میں جب کہ میں قبولیتِ دعا کا نمونہ دکھانے کے لئے ہر وقت طیار ہوں۔ (الحکم ۳۱؍اگست ۱۹۰۱ء صفحہ۳ کالم ۱، ۲۔ ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۲۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
سیّد احمد خانصاب کے۔ سی۔ ایس۔ آئی کے رسالہسیّد صاحب اپنے رسالہ مندرجہ عنوان میں دعا کی نسبت اپنا یہ عقیدہ ظاہر کرتے ہیں کہ استجابت دعا کے یہ معنے نہیں ہیں کہ جو کچھ دعا میں مانگا گیا ہے وہ دیا جائے کیونکہ اگر استجابت دعا کے یہی معنے ہوں کہ وہ سوال بہرحال پورا کر دیا جائے تو دو مشکلیں پیش آتی ہیں۔ اوّل یہ کہ ہزاروں دعائیں نہایت عاجزی اور اضطراری سے کی جاتی ہیں مگر سوال پورا نہیں ہوتا جس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ دعا قبول نہیں ہوئی حالانکہ خدا نے استجابت دعا کا وعدہ کیا ہے۔ دوسری یہ کہ جو امور ہونے والے ہیں وہ مقدر ہیں اور جو نہیں ہونے والے وہ بھی مقدر ہیں۔ ان مقدرات کے برخلاف ہرگز نہیں ہو سکتا۔ پس اگر استجابت دعا کے معنے سوال کا پورا کرنا قرار دیئے جائیں تو خدا کا یہ وعدہ کہ ان سوالوں پر جن کا ہونا مقدر نہیں ہے صادق نہیں آ سکتا۔ یعنی ان معنوں کے رو سے یہ عام وعدہ استجابت دعا کا باطل ٹھہرے گا کیونکہ سوالوں کا وہی حصہ پورا کیا جاتا ہے جس کا پورا کیا جانا مقدر ہے۔ لیکن استجابت دُعا کا وعدہ عام ہے۔ جس میں کوئی بھی استثناء نہیں۔ پھر جس حالت میں بعض آیتیں ظاہر کر رہی ہیں کہ جن چیزوں کا دیا جانا مقدر نہیں وہ ہرگز دی نہیں جاتیں اور بعض آیتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی دعا ردّ نہیں ہوتی اور سب کی سب قبول کی جاتی ہیں اور نہ صرف اسی قدر بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمام دعاؤں کے قبول کرنے کا وعدہ کر لیا ہے جیسا کہ آیتسے ظاہر ہے۔ پھر اس تناقض اور تعارض آیات سے بجز اس کے کیونکر مخلصی حاصل ہو کہ استجابت دُعا سے عبادت کا قبول کرنا مراد لیا جائے یعنی یہ معنے کئے جائیں کہ دعا ایک عبادت ہے اور جب وہ دل سے اور خشوع سے اور خضوع سے کی جائے تو اس کے قبول کرنے کا خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔ پس استجابت دعا کی حقیقت بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ وہ دعا ایک عبادت متصور ہو کر اُس پر ثواب مترتب ہوتا ہے۔ ہاں اگر مقدر میں ایک چیز کا ملنا ہے اور اتفاقاً اس کے لئے دعا بھی کی گئی تو وہ چیز مل جاتی ہے مگر نہ دعا سے بلکہ اس کا ملنا مقدّر تھا۔ اور دعا میں بڑا فائدہ یہ ہے کہ جب دعا کرنے کے وقت خدا کی عظمت اور بے انتہا قدرت کا خیال اپنے دل میں جمایا جاتا ہے تو وہ خیال حرکت میں آ کر ان تمام خیالات پر جن سے اضطرار پیدا ہوا ہے غالب ہو جاتا ہے اور انسان کو صبر اور استقلال پیدا ہو جاتا ہے اور ایسی کیفیت کا دل میں پیدا ہو جانا لازمۂ عبادت ہے اور یہی دعا کا مستجاب ہونا ہے۔ پھر سید صاحب اپنے رسالہ کے اخیر میں لکھتے ہیں کہ جو لوگ حقیقت دعا سے ناواقف اور جو حکمت اس میں ہے اس سے بے خبر ہیں وہ کہہ سکتے ہیں کہ جب یہ امر مسلم ہے کہ جو مقدر نہیں ہے وہ نہیں ہونے کا۔ تو دعا سے کیا فائدہ ہے یعنی جبکہ مقدر بہرحال مل رہے گا خواہ دعا کرو یا نہ کرو اور جس کا ملنا مقدر نہیں اُس کے لئے ہزاروں دعائیں کئے جاؤ کچھ فائدہ نہیں تو پھر دُعا کرنا ایک امرِ عبث ہے۔ اس کے جواب میں سید صاحب فرماتے ہیں کہ اضطرار کے وقت استمداد کی خواہش رکھنا انسان کی فطرت کا خاصہ ہے۔ سو انسان اپنے فطرتی خاصہ سے دعا کرتا ہے بلا خیال اس کے کہ وہ ہو گا یا نہیں اور بمقتضائے اُس کی فطرت کے اس کو کہا گیا ہے کہ خدا ہی سے مانگو جو مانگو۔
الدّعاء والاستجابۃ اور رسالہ تحریر فی اصول التفسیر پر ایک نظر۔
اب ہم فائدہ عام کے لئے کچھ استجابت دعا کی حقیقت ظاہر کرتے ہیں۔ سو واضح ہو کہ استجابت دعا کا مسئلہ درحقیقت دعا کے مسئلہ کی ایک فرع ہے اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس شخص نے اصل کو سمجھا ہوا نہیں ہوتا اس کو فرع کے سمجھنے میں پیچیدگیاں واقع ہوتی ہیں اور دھوکے لگتے ہیں۔ بس یہی سبب سیّد کی غلط فہمی کا ہے۔ اور دعا کی ماہیت یہ ہے کہ ایک سعید بندہ اور اُس کے ربّ میں ایک تعلق مجاذبہ ہے یعنی پہلے خدا تعالیٰ کی رحمانیت بندہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ پھر بندہ کے صدق کی کششوں سے خدا تعالیٰ اُس سے نزدیک ہو جاتا ہے اور دعا کی حالت میں وہ تعلق ایک خاص مقام پر پہنچ کر اپنے خواص عجیبہ پیدا کرتا ہے۔ سو جس وقت بندہ کسی سخت مشکل میں مبتلا ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف کامل یقین اور کامل اُمید اور کامل محبت اور کامل وفاداری اور کامل ہمت کے ساتھ جھکتا ہے اور نہایت درجہ کا بیدار ہو کر غفلت کے پردوں کو چیرتا ہوا فنا کے میدانوں میں آگے سے آگے نکل جاتا ہے پھر آگے کیا دیکھتا ہے کہ بارگاہِ الوہیت ہے اور اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔ تب اس کی رُوح اس آستانہ پر سر رکھ دیتی ہے اور قوتِ جذب جو اُس کے اندر رکھی گئی ہے وہ خدا تعالیٰ کی عنایات کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ تب اللہ جلّ شانہٗ اس کام کے پورا کرنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس دعا کا اثر اُن تمام مبادی اسباب پر ڈالتا ہے جن سے ایسے اسباب پیدا ہوتے ہیں جو اس مطلب کے حاصل ہونے کے لئے ضروری ہیں۔ مثلاً اگربارش کے لئے دعا ہے تو بعد استجابت دعا کے وہ اسباب طبعیہ جو بارش کے لئے ضروری ہوتے ہیں اس دعا کے اثر سے پیدا کئے جاتے ہیں اور اگر قحط کے لئے بد دعا ہے تو قادرمطلق مخالفانہ اسباب کو پیدا کر دیتا ہے۔ اِسی وجہ سے یہ بات اربابِ کشف اور کمال کے نزدیک بڑے بڑے تجارب سے ثابت ہو چکی ہے کہ کامل کی دعا میں ایک قوتِ تکوین پیدا ہو جاتی ہے یعنی باذنہٖ تعالیٰ وہ دعا عالمِ سفلی اور علوی میں تصرف کرتی ہے اور عناصر اور اجرام فلکی اور انسانوں کے دلوں کو اس طرف لے آتی ہے جو طرف مؤید مطلوب ہے۔
خدا تعالیٰ کی پاک کتابوں میں اس کی نظیریں کچھ کم نہیں ہیں۔ بلکہ اعجاز کی بعض اقسام کی حقیقت بھی دراصل استجابت دعا ہی ہے اور جس قدر ہزاروں معجزات انبیاء سے ظہور میں آئے ہیں یا جو کچھ کہ اولیائے کرام اِن دنوں تک عجائب کرامات دکھلاتے رہے اس کا اصل اور منبع یہی دعا ہے اور اکثر دعاؤں کے اثر سے ہی طرح طرح کے خوارق قدرتِ قادر کا تماشا دکھلارہے ہیں۔ وہ جو عرب کے بیابیانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گذرا کہ لاکھوں مُردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الٰہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الٰہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں یک دفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسِی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سُنا۔ کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچا دیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اِس اُمی بے کس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ وَ بَارِکْ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ بِعَدَدِ ھَمِّہٖ وَ غَمِّہٖ وَ حُزْنِہٖ لِھٰذِہِ الْاُمَّۃِ وَ اَنْزِلْ عَلَیْہِ اَنْوَارَ رَحْمَتِکَ اِلَی الْاَبَد۔ اور مَیں اپنے ذاتی تجربہ سے بھی دیکھ رہا ہوں کہ دعاؤں کی تاثیر آب و آتش کی تاثیر سے بڑھ کر ہے بلکہ اسباب طبعیہ کے سِلسلہ میں کوئی چیز ایسی عظیم التاثیر نہیں جیسی کہ دعا ہے۔
اور اگر یہ شبہ ہو کہ بعض دعائیں خطا جاتی ہیں اور اُن کا کچھ اثر معلوم نہیں ہوتا تو مَیں کہتا ہوں کہ یہی حال دواؤں کا بھی ہے۔ کیا دواؤں نے موت کا دروازہ بند کر دیا ہے؟ یا اُن کا خطا جانا غیر ممکن ہے؟ مگر کیا باوجود اس بات کے کوئی اُن کی تاثیر سے انکار کر سکتا ہے؟ یہ سچ ہے کہ ہر ایک امر پر تقدیر محیط ہو رہی ہے۔ مگر تقدیر نے علوم کو ضائع اور بے حرمت نہیں کیا اور نہ اسباب کو بے اعتبار کر کے دکھلایا۔ بلکہ اگر غور کر کے دیکھو تو یہ جسمانی اور رُوحانی اسباب بھی تقدیر سے باہر نہیں ہیں۔ مثلاً اگر ایک بیمار کی تقدیر نیک ہو تو اسباب علاج پورے طور پر میسّر آ جاتے ہیں اور جسم کی حالت بھی ایسے درجہ پر ہوتی ہے کہ وہ اُن سے نفع اٹھانے کے لئے مستعد ہوتا ہے۔ تب دوا نشانہ کی طرح جا کر اثر کرتی ہے یہی قاعدہ دعا کا بھی ہے۔ یعنی دعا کے لئے بھی تمام اسباب و شرائط قبولیت اسی جگہ جمع ہوتے ہیں جہاں ارادۂ الٰہی اس کے قبول کرنے کا ہے۔ خدا تعالیٰ نے اپنے نظام جسمانی اور روحانی کو ایک ہی سلسلۂ مؤثرات اور متاثرات میں باندھ رکھا ہے۔ پس سیّد صاحب کی سخت غلطی ہے کہ وہ نظام جسمانی کا تو اقرار کرتے ہیں مگر نظام روحانی سے منکر ہو بیٹھے ہیں !
بالآخر مَیں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر سیّد صاحب اپنے اس غلط خیال سے توبہ نہ کریں اور یہ کہیں کہ دعاؤں کے اثر کا ثبوت کیا ہے تو مَیں ایسی غلطیوں کے نکالنے کے لئے مامور ہوں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اپنی بعض دعاؤں کی قبولیت سے پیش از وقت سیّد صاحب کو اطلاع دوں گا اور نہ صرف اطلاع بلکہ چھپوا دوں گا مگر سیّد صاحب ساتھ ہی یہ بھی اقرار کریں کہ وہ بعد ثابت ہو جانے میرے دعویٰ کے اپنے اس غلط خیال سے رجوع کریں گے۔
سیّد صاحب کا یہ قول ہے کہ گویا قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے تمام دعاؤں کے قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے حالانکہ تمام دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ یہ اُن کی سخت غلط فہمی ہے اور یہ آیت ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ ان کے مدعا کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ کیونکہ یہ دُعا جو آیت ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ میں بطور امر کے بجا لانے کے لئے فرمائی گئی ہے اس سے مراد معمولی دُعا ئیں نہیں ہیں بلکہ وہ عبادت ہے جو انسان پر فرض کی گئی ہے۔ کیونکہ امر کا صیغہ یہاں فرضیت پر دلالت کرتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ کل دعائیں فرض میں داخل نہیں ہیں۔ بلکہ بعض جگہ اللہ جلّشانہٗ نے صابرین کی تعریف کی ہے جو اِنَّالِلّٰہِ پر ہی کفایت کرتے ہیں۔ اور اس دعا کی فرضیت پر بڑا قرینہ یہ ہے کہ صرف امر پر ہی کفایت نہیں کی گئی بلکہ اُس کو عبادت کے لفظ سے یاد کر کے بحالت نافرمانی عذاب جہنم کی وعید اس کے ساتھ لگا دی گئی ہے اور ظاہر ہے کہ دوسری دعاؤں میں یہ وعیدنہیں بلکہ بعض اوقات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو دعا مانگنے پر زجر و توبیخ کی گئی ہے۔ چنانچہ اِنِّیۡۤ اَعِظُکَ اَنۡ تَکُوۡنَ مِنَ الۡجٰہِلِیۡنَ اِس پر شاہد ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر ہر دعا عبادت ہوتی تو حضرت نوح علیہ السلام کو لا تَسْعَلْنِ کا تازیانہ کیوں لگایا جاتا اور بعض اوقات اولیاء اور انبیاء دعا کرنے کو سوئِ ادب سمجھتے رہے ہیں اور صلحاء نے ایسی دعاؤں میں استفتائِ قلب پر عمل کیا ہے یعنی اگر مصیبت کے وقت دل نے دعا کرنے کا فتویٰ دیا تو دُعا کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور اگر صبر کے لئے فتویٰ دیا تو پھر صبر کیا اور دعا سے منہ پھیر لیا۔ ماسوا اس کے اللہ تعالیٰ نے دوسری دعاؤں میں قبول کرنے کا وعدہ نہیں کیا بلکہ صاف فرما دیا ہے کہ چاہوں تو قبول کروں اور چاہوں تو ردّ کروں۔ جیسا کہ یہ آیت قرآن کی صاف بتلا رہی ہے اور وہ یہ ہے بَلۡ اِیَّاہُ تَدۡعُوۡنَ فَیَکۡشِفُ مَا تَدۡعُوۡنَ اِلَیۡہِ اِنۡ شَآءَ سورۃ انعام الجزو نمبر ۷ اور اگر ہم تنزلاً مان بھی لیں کہ اس مقام میں لفظ اُدعُوا سے عام طور پر دعا ہی مراد ہے تو ہم اس بات کے ماننے سے چارہ نہیں دیکھتے کہ یہاں دعا سے وہ دعا مراد ہے جو بجمیع شرائط ہو اور تمام شرائط کو جمع کر لینا انسان کے اختیار میں نہیں جب تک توفیق ازلی یاور نہ ہو۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ دعا کرنے میں صرف تضرع کافی نہیں ہے بلکہ تقویٰ اور طہارت اور راست گوئی اور کامل یقین اور کامل محبت اور کامل توجہ اور یہ کہ جو شخص اپنے لئے دعا کرتا ہے یا جس کے لئے دعا کی گئی ہے اُس کی دنیا اور آخرت کے لئے اس بات کا حاصل ہونا خلاف مصلحتِ الٰہی بھی نہ ہو کیونکہ بسا اوقات دعا میں اور شرائط تو سب جمع ہو جاتے ہیں مگر جس چیز کو مانگا گیا ہے وہ عند اللہ سائل کے لئے خلاف مصلحت الٰہی ہوتی ہے اور اس کے پورے کرنے میں خیر نہیں ہوتی۔ مثلاً اگر کسی ماں کا پیارا بچہ بہت الحاح اور رونے سے یہ چاہے کہ وہ آگ کا ٹکڑا یا سانپ کا بچہ اس کے ہاتھ میں پکڑا دے یا ایک زہر جو بظاہر خوبصورت معلوم ہوتی ہے اس کو کھلا دے تو یہ سوال اس بچہ کا ہرگز اس کی ماں پورا نہیں کرے گی اور اگر پورا کر دیوے اور اتفاقاً بچہ کی جان بچ جاوے لیکن کوئی عضو اس کا بے کار ہو جاوے تو بلوغ کے بعد وہ بچہ اپنی اس احمق والدہ کا سخت شاکی ہو گا اور بجز اس کے اَور بھی کئی شرائط ہیں کہ جب تک وہ تمام جمع نہ ہوں اس وقت تک دعا کو دعا نہیں کہہ سکتے اور جب تک کسی دُعا میں پوری روحانیت داخل نہ ہو اور جس کے لئے دعا کی گئی ہے اور جو دعا کرتا ہے اُن میں استعدادِ قریبہ پیدا نہ ہو تب تک توقع اثرِ دعا امید ِ موہوم ہے اور جب تک ارادۂ الٰہی قبولیت دعا کے متعلق نہیں ہوتا تب تک یہ تمام شرائط جمع نہیں ہوتیں اور ہمتیں پوری توجہ سے قاصر رہتی ہیں۔ سیّد صاحب اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ دار آخرت کی سعادتیں اور نعمتیں اور لذتیں اور راحتیں جن کی نجات سے تعبیر کی گئی ہے ایمان اور ایمانی دعاؤں کا نتیجہ ہیں۔ پھر جبکہ یہ حال ہے تو سیّد صاحب کو ماننا پڑا کہ بلاشبہ ایک مومن کی دعائیں اپنے اندر اثر رکھتی ہیں اور آفات کے دُور ہونے اور مرادات کے حاصل ہونے کا موجب ہو جاتی ہیں کیونکہ اگر موجب نہیں ہو سکتیں تو پھر کیا وجہ کہ قیامت میں موجب ہو جائیں گی۔
سوچو اور خوب سوچو کہ اگر درحقیقت دعا ایک بے تاثیر چیز ہے اور دنیا میں کسی آفت کے دور ہونے کا موجب نہیں ہو سکتی تو کیا وجہ کہ قیامت کو موجب ہو جائے گی؟ یہ بات تو نہایت صاف ہے کہ اگر ہماری دعاؤں میں آفات سے بچنے کے لئے درحقیقت کوئی تاثیر ہے تو وہ تاثیر اس دنیا میں بھی ظاہر ہونی چاہئے تا ہمارا یقین بڑھے اور امید بڑھے اور تا آخرت کی نجات کے لئے ہم زیادہ سرگرمی سے دعائیں کریں اور اگر درحقیقت دعا کچھ چیز نہیں صرف پیشانی کانوشتہ پیش آنا ہے تو جیسا دنیا کی آفات کے لئے بقول سیّد صاحب دعا عبث ہے اِسی طرح آخرت کے لئے بھی عبث ہو گی اور اس پر امید رکھناطمع خام۔
(برکات الدعاء۔ روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۵تا۱۴)ایک بچہ جب بھوک سے بے تاب ہو کر دودھ کے لئے چلّاتا اور چیختا ہے تو ماں کے پستان میں دودھ جوش مار کر آ جاتا ہے۔ بچہ دعا کا نام بھی نہیں جانتا لیکن اُس کی چیخیں دودھ کو کیونکر کھینچ لاتی ہیں؟ اس کا ہر ایک کو تجربہ ہے۔ بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ مائیں دودھ کو محسوس بھی نہیں کرتیں مگر بچہ کی چلّاہٹ ہے کہ دودھ کو کھینچے لاتی ہے تو کیا ہماری چیخیں جب اللہ تعالیٰ کے حضور ہوں تو وہ کچھ بھی نہیں کھینچ کر لا سکتیں؟ آتا ہے اور سب کچھ آتا ہے مگر آنکھوں کے اندھے جو فاضل اور فلاسفر بنے بیٹھے ہیں وہ دیکھ نہیں سکتے۔ بچہ کو جو مناسبت ماں سے ہے اِس تعلّق اور رشتہ کو انسان اپنے ذہن میں رکھ کر دعا کی فلاسفی پر غور کرے تو وہ بہت آسان اور سہل معلوم ہوتی ہے۔
دوسری قسم کا رحم یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک رحم مانگنے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ مانگتے جاؤ ملتا جائے گا ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ کوئی لفّاظی نہیں بلکہ یہ انسانی سرشت کا ایک لازمہ ہے۔ مانگنا انسان کا خاصہ ہے اور استجابت اللہ تعالیٰ کا۔ جو نہیں سمجھتا اور نہیں مانتا وہ جھوٹا ہے بچہ کی مثال جو میں نے بیان کی ہے وہ دعا کی فلاسفی خوب حل کر کے دکھاتی ہے۔
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۸۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)ابتلاؤں میں ہی دعاؤں کے عجیب و غریب خواص اور اثر ظاہر ہوتے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ ہمارا خدا تو دعاؤں ہی سے پہچانا جاتا ہے۔ (الحکم ۱۷؍ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ۲ کالم نمبر۱۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ ۱۴۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
دعا بڑی عجیب چیز ہے مگر افسوس یہ ہے کہ نہ دعا کرانے والے آدابِ دعا سے واقف ہیں اور نہ اِس زمانہ میں دعا
کرنے والے ان طریقوں سے واقف قبولیت دعا کے ہوتے ہیں بلکہ اصل تو یہ ہے کہ دعا کی حقیقت ہی سے بالکل اجنبیت
ہو گئی ہے۔ بعض ایسے ہیں جو سرے سے دعا کے منکر ہیں اور جو دعا کے منکر تو نہیں اُن کی حالت ایسی ہو گئی ہے
کہ چونکہ اُن کی دعائیں بوجہ آداب الدعا کی ناواقفیت کے قبول نہیں ہوتی ہیں کیونکہ دعا اپنے اصلی معنوں میں
دعا ہوتی ہی نہیں اس لئے وہ منکرین دعا سے بھی گِری ہوئی حالت میں ہیں۔ اُن کی عملی حالت نے دوسروں کو دہریت
کے قریب پہونچا دیا ہے۔ دعا کے لئے سب سے اوّل اس امر کی ضرورت ہے کہ دعا کرنے والا کبھی تھک کر مایوس نہ ہو
جاوے اور اللہ تعالیٰ پر یہ سوئِ ظن نہ کر بیٹھے کہ اب کچھ بھی نہیں ہو گا۔ بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ اس
قدر دعا کی گئی ہے کہ جب مقصد کا شگوفہ سرسبز ہونے کے قریب ہوتا ہے دعا کرنے والے تھک گئے ہیں جس کا نتیجہ
ناکامی اور نامرادی ہو گیا ہے اور اس نامرادی نے یہاں تک بُرا اثر پہونچایا ہے کہ پھر دعا کی تاثیرات کا
انکار شروع ہوا اور رفتہ رفتہ اِس درجہ تک نوبت پہونچ جاتی ہے کہ پھر خدا کا بھی انکار کر بیٹھتے ہیں اور
کہہ دیتے ہیں کہ اگر خدا ہوتا اور وہ دعاؤں کو قبول کرنے والا ہوتا تو اس قدر عرصہ دراز تک جو دعا کی گئی ہے
کیوں قبول نہ ہوئی؟ مگر ایسا خیال کرنے والا اور ٹھوکر کھانے والا انسان اگر اپنے عدم استقلال اور تلون کو
سوچے تو اُسے معلوم ہو جائے کہ یہ ساری نامرادیاں اُس کی اپنی ہی جلد بازی اور شتاب کاری کا نتیجہ ہیں جن پر
خدا کی قوتوں اور طاقتوں کے متعلق بدظنّی اور نامراد کرنے والی مایوسی بڑھ گئی۔ پس کبھی تھکنا نہیں چاہئے۔
دعا کی ایسی ہی حالت ہے جیسے ایک زمیندار باہر جا کر اپنے کھیت میں ایک بیج بو آتا ہے اب بظاہر تو یہ حالت ہے کہ اُس نے اچھے بھلے اناج کو مٹی کے نیچے دبا دیا۔ اس وقت کوئی کیا سمجھ سکتا ہے کہ یہ دانہ ایک عمدہ درخت کی صورت میں نشوونما پا کر پھل لائے گا۔ باہر کی دنیا اور خود زمیندار بھی نہیں دیکھ سکتا کہ یہ دانہ اندر ہی اندر زمین میں ایک پودہ کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ تھوڑے دنوں کے بعد وہ دانہ گل کر اندر ہی اندر پودا بننے لگتا ہے اور طیار ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا سبزہ اوپر نکل آتا ہے اور دوسرے لوگ بھی اس کو دیکھ سکتے ہیں۔ اب دیکھو وہ دانہ جس وقت سے زمین کے نیچے ڈالا گیا تھا۔ دراصل اُسی ساعت سے وہ پودا بننے کی طیاری کرنے لگ گیا تھا مگر ظاہر بین نگاہ اس سے کوئی خبر نہیں رکھتی اور اب جبکہ اس کا سبزہ باہر نکل آیا تو سب نے دیکھ لیا۔ لیکن ایک نادان بچہ اُس وقت یہ نہیں سمجھ سکتا کہ اس کو اپنے وقت پر پھل لگے گا۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ کیوں اُسی وقت اُس کو پھل نہیں لگتا مگر عقل مند زمیندار خوب سمجھتا ہے کہ اس کے پھل کا کونسا موقع ہے۔ وہ صبر سے اس کی نگرانی کرتا اور غور و پرداخت کرتا رہتا ہے اور اِس طرح پر وہ وقت آ جاتا ہے کہ جب اُس کو پھل لگتا اور وہ پک بھی جاتا ہے۔
یہی حال دعا کا ہے اور بعینہٖ اسی طرح دعا نشوونما پاتی اور مثمر بثمرات ہوتی ہے۔ جلد باز پہلے ہی تھک کر رہ جاتے ہیں اور صبر کرنے والے مآل اندیش استقلال کے ساتھ لگے رہتے ہیں اور اپنے مقصد کو پا لیتے ہیں۔ یہ سچی بات ہے کہ دعا میں بڑے بڑے مراحل اور مراتب ہیں جن کی ناواقفیت کی وجہ سے دعا کرنے والے اپنے ہاتھ سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ان کو ایک جلدی لگ جاتی ہے اور وہ صبر نہیں کر سکتے۔ حالانکہ خدا تعالیٰ کے کاموں میں ایک تدریج ہوتی ہے۔ دیکھو یہ کبھی نہیں ہو تا کہ آج انسان شادی کرے تو کل کو اُس کے گھر بچہ پیدا ہو جاوے۔ حالانکہ وہ قادر ہے جو چاہے کر سکتا ہے مگر جو قانون اور نظام اس نے مقرر کر دیا ہے وہ ضروری ہے۔ پہلے نباتات کی نشوونما کی طرح کچھ پتہ ہی نہیں لگتا۔ چا ر مہینے تک کوئی یقینی بات نہیں کہہ سکتا۔ پھر کچھ حرکت محسوس ہونے لگتی ہے اور پوری میعاد گذرنے پر بہت بڑی تکالیف برداشت کرنے کے بعد بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔ بچہ کا پیدا ہونا ماں کا بھی ساتھ ہی پیدا ہونا ہوتا ہے۔ مرد شاید ان تکالیف اور مصائب کا اندازہ نہ کر سکیں جو اس مدت حمل کے درمیان عورت کو برداشت کرنی پڑتی ہیں مگر یہ سچی بات ہے کہ عورت کی بھی ایک نئی زندگی ہوتی ہے۔ اب غور کرو کہ اولاد کے لئے پہلے ایک موت خود اس کو قبول کرنی پڑتی ہے تب کہیں جا کر اس خوشی کو دیکھتی ہے۔ اِسی طرح پر دعا کرنے والے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ تلون اور عجلت کو چھوڑ کر ساری تکلیفوں کو برداشت کرتا رہے۔ اور کبھی بھی یہ وہم نہ کرے کہ دعا قبول نہیں ہوئی آخر آنے والا زمانہ آ جاتا ہے اور دُعا کے نتیجہ کے پیدا ہونے کا وقت پہونچ جاتا ہے۔ جبکہ گویا مراد کا بچہ پیدا ہوتا ہے۔ دعا کو پہلے ضروری ہے کہ اس مقام اور حد تک پہونچایا جاوے جہاں پہونچ کر وہ نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے۔ جس طرح پر آتشی شیشے کے نیچے کپڑا رکھ دیتے ہیں اور سورج کی شعاعیں اس شیشہ پر آ کر جمع ہوتی ہیں اور ان کی حرارت وحدّت اس مقام تک پہونچ جاتی ہے جو اس کپڑے کو جلا دے پھر یکایک وہ کپڑا جل اُٹھتا ہے۔ اِسی طرح پر ضروری ہے کہ دعا اس مقام تک پہونچے جہاں اس میں وہ قوت پیدا ہو جاوے کہ نامرادیوں کو جلا دے اور مقصد مراد کو پورا کرنے والی ثابت ہو جاوے۔ ع
پیدا است ندلا را کہ بلند است جنابت435مدت دراز تک انسان کو دعاؤں میں لگے رہنا پڑتا ہے۔ آخرخدا تعالیٰ ظاہر کر دیتا ہے۔ مَیں نے اپنے تجربہ سے دیکھا ہے اور گذشتہ راستبازوں کا تجربہ بھی اس پر شہادت دیتا ہے کہ اگر کسی معاملہ میں دیر تک خاموشی کرے تو کامیابی کی امید ہوتی ہے لیکن جس امر میں جلد جواب مل جاتا ہے وہ ہونے والا نہیں ہوتا۔ عام طور پر ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ ایک سائل جب کسی کے دروازہ پر مانگنے کے لئے جاتا ہے اور نہایت عاجزی اور اضطراب سے مانگتا ہے اور کچھ دیر تک جھڑکیاں کھا کر بھی اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا اور سوال کئے ہی جاتا ہے تو آخر اس کو بھی کچھ شرم آ ہی جاتی ہے خواہ کتنا ہی بخیل کیوں نہ ہو پھر بھی کچھ نہ کچھ سائل کو دے ہی دیتا ہے تو کیا دعا کرنے والے کو کم از کم ایک معمولی سائل جتنا بھی استقلال نہیں ہونا چاہئے اور خدا تعالیٰ جو کریم ہے اور حیا رکھتا ہے جب دیکھتا ہے کہ اس کا عاجز بندہ ایک عرصہ سے اس کے آستانہ پر گِرا ہوا ہے تو کبھی اس کا انجام بدنہیں کرتا اگر انجام بد ہو تو اپنے ظن سے ہوتا ہے جیسے ایک حاملہ عورت چار پانچ ماہ کے بعد کہے کہ اب بچہ پیدا کیوں نہیں ہوتا اور اس خواہش میں کوئی مسقط دوا کھا لے تو اس وقت کیا بچہ پیدا ہو گایا ایک مایوسی بخش حالت میں وہ خود مبتلا ہو گی؟ اِسی طرح جو شخص قبل از وقت جلدی کرتا ہے وہ نقصان ہی اُٹھاتا ہے اور نہ نرا نقصان بلکہ ایمان کو بھی صدمہ پہنچاتا ہے۔ بعض ایسی حالت میں دہریہ ہو جاتے ہیں۔ ہمارے گاؤں میں ایک نجّار تھا اس کی عورت بیمار ہوئی اور آخر وہ مر گئی اُس نے کہا کہ اگر خدا ہوتا تو میں نے اتنی دعائیں کی تھیں وہ قبول ہو جاتیں اور میری عورت نہ مرتی اور اس طرح پر وہ دہریہ ہو گیالیکن سعید اگر اپنے صدق اور اخلاص سے کام لے تو اُس کا ایمان بڑھتا ہے اور سب کچھ ہو بھی جاتا ہے۔ زمین کی دو لتیں خدا تعالیٰ کے آگے کیا چیز ہیں۔ وہ ایک دم میں سب کچھ کر سکتا ہے۔ کیا دیکھا نہیں کہ اس نے اس قوم کو جس کو کوئی جانتا بھی نہ تھا بادشاہ بنا دیا اور بڑی بڑی سلطنتوں کو ان کا تابع فرمان بنا دیا اور غلاموں کو بادشاہ بنا دیا۔ انسان اگر تقویٰ اختیار کرے اور خداتعالیٰ کا ہو جاوے تو دنیا میں اعلیٰ درجہ کی زندگی ہو۔ مگر شرط یہی ہے کہ صادق اور جوانمرد ہو کر دکھائے دل متزلزل نہ ہو اور اِس میں کوئی آمیزش ریاء کاری و شرک کی نہ ہو۔ ابراہیم علیہ السلام میں وہ کیا بات تھی جس نے اس کو ابوالملّت اور ابو الحُنفاء قرار دیا اور خدا تعالیٰ نے اس کو اس قدر عظیم الشان برکتیں دیں کہ شمار میں نہیں آ سکتیں۔ وہ یہی صدق اور اخلاص تھا۔
دیکھو ابراہیم علیہ السلام نے بھی ایک دعا کی تھی کہ اُس کی اولاد میں سے عرب میں ایک نبی ہو۔ پھر کیا وہ اُسی وقت قبول ہو گئی؟ ابراہیم علیہ السلام کے بعد ایک عرصۂ دراز تک کسی کو خیال بھی نہیں آیا کہ اُس دعا کا کیا اثر ہوا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی صورت میں وہ دعا پوری ہوئی اور پھر کس شان کے ساتھ پوری ہوئی۔
(الحکم ۲۸ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱، ۲۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ ۶۹۲ تا۶۹۶ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ دُعا کا قبول ہونا دو طور سے ہوتا ہے ایک بطور ابتلاء اور ایک بطور اصطفاء۔ بطور ابتلاء تو کبھی کبھی گنہگاروں اور نافرمانوں بلکہ کافروں کی دعا بھی قبول ہو جاتی ہے مگر ایسا قبول ہونا حقیقی قبولیت پر دلالت نہیں کرتا۔ بلکہ از قبیل استدراج و امتحان ہوتا ہے۔ لیکن جو بطور اصطفاء دعا قبول ہوتی ہے اُس میں یہ شرط ہے کہ دعا کرنے والا خدائے تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں میں سے ہو اور چاروں طرف سے برگزیدگی کے انوار و آثار اُس میں ظاہر ہوں کیونکہ خدا تعالیٰ حقیقی قبولیت کے طور پر نافرمانوں کی دُعا ہرگز نہیں سنتا بلکہ انہیں کی سنتا ہے جو اس کی نظر میں راستباز اور اس کے حکم پر چلنے والے ہیں سو ابتلاء اور اصطفاء کی قبولیت ادعیّہ میں مابہ الامتیاز یہ ہے کہ جو ابتلاء کے طور پر دعا قبول ہوتی ہے اس میں متقی اور خدا دوست ہونا شرط نہیں۔ اور نہ اس میں یہ ضرورت ہے کہ خدا ئے تعالیٰ دعا کو قبول کر کے بذریعہ اپنے مکالمۂ خاص کے اُس کی قبولیت سے اطلاع بھی دیوے۔ اور نہ وہ دعائیں ایسی اعلیٰ پایہ کی ہوتی ہیں جن کا قبول ہونا ایک امرِ عجیب اور خارق عادت متصوّر ہو سکے لیکن جو دعائیں اصطفاء کی وجہ سے قبول ہوتی ہیں اُن میں یہ نشان نمایاں ہوتے ہیں۔
(۱)۔ اوّل یہ کہ دعا کرنے والا ایک متقی اور راستباز اور کامل فرد ہوتا ہے۔
(۲)۔ دوسرے یہ کہ بذریعہ مکالماتِ الٰہیہ اس دعا کی قبولیت سے اُس کو اطلاع دی جاتی ہے۔
(۳)۔ تیسری یہ کہ اکثر وہ دعائیں جو قبول کی جاتی ہیں نہایت اعلیٰ درجہ کی اور پیچیدہ کاموں کے متعلق ہوتی ہیں جن کی قبولیت سے کھل جاتا ہے کہ یہ انسان کا کام اور تدبیر نہیں بلکہ خدائے تعالیٰ کا ایک خاص نمونہ قدرت ہے جو خاص بندوں پر ظاہر ہوتا ہے۔
(۴)۔ چوتھی یہ کہ ابتلائی دعائیں تو کبھی کبھی شاذ و نادر کے طور پر قبول ہوتی ہیں لیکن اصطفائی دعائیں کثرت سے قبول ہوتی ہیں۔ بسا اوقات صاحب اصطفائی دعا کا ایسی بڑی بڑی مشکلات میں پھنس جاتا ہے اگر اور شخص اُن میں مبتلا ہو جاتا تو بجز خود کشی کے اَور کوئی حیلہ اپنی جان بچانے کے لئے ہرگز اُسے نظر نہ آتا۔ چنانچہ ایسا ہوتا بھی ہے کہ جب کبھی دنیا پرست لوگ جو خدائے تعالیٰ سے مہجور و دور ہیں بعض بڑی بڑی ہموم و غموم و امراض و اسقام و بلیّات لاینحل میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو آخر وہ بباعثِ ضعفِ ایمان خدائے تعالیٰ سے ناامید ہو کر کسی قسم کی زہر کھا لیتے ہیں یا کنوئیں میں گرتے ہیں یا بندوق وغیرہ سے خودکشی کر لیتے ہیں لیکن ایسے نازک وقتوں میں صاحب اصطفاء کا بوجہ اپنی قوت ایمانی اور تعلقِ خاص کے خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہایت عجیب در عجیب مدد دیا جاتا ہے اور عنایت الٰہی ایک عجیب طور سے اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے یہاں تک کہ ایک محرم راز کا دل بے اختیار بول اٹھتا ہے کہ یہ شخص مؤید الٰہی ہے۔
(۵)۔ پانچویں یہ کہ صاحب اصطفائی دعا کا مورد عنایاتِ الٰہیہ کا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ اُس کے تمام کاموں میں اُس کا متولّی ہو جاتا ہے اور عشق الٰہی کا نور اور مقبولانہ کبریائی کی ہستی اور روحانی لذت یابی اور تنعم کے آثار اس کے چہرہ میں نمایاں ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔ تَعۡرِفُ فِیۡ وُجُوۡہِہِمۡ نَضۡرَۃَ النَّعِیۡمِ اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ
(ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات۔ روحانی خزائن جلد۴ صفحہ۴۷۷ تا ۴۷۹)
غرض جبکہ ہماری رُوح ایک چیز کے طلب کرنے میں بڑی سرگرمی اور سوز و گداز کے ساتھ مبدء فیض کی طرف ہاتھ
پھیلاتی ہے اور اپنے تئیں عاجز پا کر فکر کے ذریعہ سے کسی اَور جگہ سے روشنی ڈھونڈتی ہے تو درحقیقت ہماری وہ
حالت بھی دعا کی ایک حالت ہوتی ہے۔ اِسی دُعا کے ذریعہ سے دنیا کی کل حکمتیں ظاہر ہوئی ہیں اور ہر ایک بیت
العلم کی کنجی دعا ہی ہے اور کوئی علم اور معرفت کا دقیقہ نہیں جو بغیر اس کے ظہور میں آیا ہو۔ ہمارا سوچنا
ہمارا فکر کرنا اور ہمارا طلب امرِ مخفی کے لئے خیال کو دوڑانا یہ سب امور دُعا ہی میں داخل ہیں صرف فرق یہ
ہے کہ عارفوں کی دُعا آداب معرفت کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے اور ان کی رُوح مبدء فیض کو شناخت کر کے بصیرت کے
ساتھ اُس کی طرف ہاتھ پھیلاتی ہے اور محجوبوں کی دُعا صرف ایک سرگردانی ہے جو فکر اور غور اور طلبِ اسباب کے
رنگ میں ظاہر ہوتی ہے۔ وہ لوگ جن کو خداتعالیٰ سے ربطِ معرفت نہیں اور نہ اس پر یقین ہے وہ بھی فکر اور غور
کے وسیلہ سے یہی چاہتے ہیں کہ غیب سے کوئی کامیابی کی بات اُن کے دل میں پڑ جائے اور ایک عارف دعا کرنے والا
بھی اپنے خدا سے یہی چاہتا ہے کہ کامیابی کی راہ اُس پر کھلے لیکن محجوب جو خدا تعالیٰ سے ربط نہیں رکھتا وہ
مبدء فیض کو نہیں جانتا اور عارف کی طرح اس کی طبیعت بھی سرگردانی کے وقت ایک اور جگہ سے مدد چاہتی ہے اور
اسی مدد کے پانے کے لئے وہ فکر کرتا ہے۔ مگر عارف اس مبدء کو دیکھتا ہے۔ اور یہ تاریکی میں چلتا ہے اور نہیں
جانتا کہ جو کچھ فکر اور خوض کے بعد دل میں پڑتا ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ
متفکر کے فکر کو بطور دعا قرار دے کر بطور قبول دعا اس علم کو فکر کرنے والے کے دل میں ڈالتا ہے۔ غرض جو
حکمت اور معرفت کا نکتہ فکر کے ذریعہ سے دل میں پڑتا ہے وہ بھی خدا سے ہی آتا ہے اور فکر کرنے والا اگرچہ نہ
سمجھے مگر خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ مجھ سے ہی مانگ رہا ہے۔ سو آخر وہ خدا سے اس مطلب کو پاتا ہے۔ اور جیسا
کہ مَیں نے ابھی بیان کیا ہے۔ یہ طریق طلب روشنی اگر علی وجہ البصیرت اور ہادی حقیقی کی شناخت کے ساتھ ہو تو
یہ عارفانہ دعا ہے۔ اور اگر صرف فکر اور خوض کے ذریعہ سے یہ روشنی لامعلوم مبدء سے طلب کی جائے اور منوّرِ
حقیقی کی ذات پر کامل نظر نہ ہو تو وہ محجوبانہ دعا ہے ………
علاوہ اس کے جیسا کہ تدبیر اور دعا کا باہمی رشتہ قانون قدرت کی شہادت سے ثابت ہوتا ہے ایسا ہی صحیفۂ فطرت کی گواہی سے بھی یہی ثبوت ملتا ہے۔ جیسا کہ دیکھا جاتا ہے کہ انسانی طبائع کسی مصیبت کے وقت جس طرح تدبیر اور علاج کی طرف مشغول ہوتی ہیں۔ ایسا ہی طبعی جوش سے دعا اور صدقہ اور خیرات کی طرف جھک جاتی ہیں ……… پس یہی ایک روحانی دلیل اس بات پر ہے کہ انسان کی شریعت باطنی نے بھی قدیم سے تمام قوموں کو یہی فتویٰ دیا ہے کہ وہ دُعا کو اسباب اور تدابیر سے الگ نہ کریں بلکہ دعا کے ذریعہ سے تدابیر کو تلاش کریں۔ غرض دعا اور تدبیر انسانی طبیعت کے دو طبعی تقاضے ہیں کہ جو قدیم سے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا ہے دو حقیقی بھائیوں کی طرح انسانی فطرت کے خادم چلے آئے ہیں۔ اور تدبیر دُعا کے لئے بطور نتیجہ ضروریہ کے اور دُعا تدبیر کے لئے بطور محرک اور جاذب کے ہے اور انسان کی سعادت اِسی میں ہے کہ وہ تدبیر کرنے سے پہلے دعا کے ساتھ مبدء فیض سے مدد طلب کرے تا اس چشمہ لازوال سے روشنی پا کر عمدہ تدبیریں میسّر آ سکیں۔ (ایّام الصلح۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ۲۳۰ تا۲۳۲)
جو شخص مشکل اور مصیبت کے وقت خدا سے دعا کرتا اور اس سے حلِّمشکلات چاہتا ہے۔ وہ بشرطیکہ دعا کو کمال تک پہنچاوے خدا تعالیٰ سے اطمینان اور حقیقی خوشحالی پاتا ہے اور اگر بالفرض وہ مطلب اس کو نہ ملے تب بھی کسی اور قسم کی تسلّی اور سکینت خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کو عنایت ہوتی ہے اور وہ ہرگز ہرگز نامرادنہیں رہتا اور علاوہ کامیابی کے ایمانی قوت اس کی ترقی پکڑتی ہے اور یقین بڑھتا ہے۔ لیکن جو شخص دعا کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف مُنہ نہیں کرتا وہ ہمیشہ اندھا رہتا اور اندھا مرتا ہے۔ … جو شخص روح کی سچائی سے دُعا کرتا ہے وہ ممکن نہیں کہ حقیقی طور پر نامراد رہ سکے بلکہ وہ خوشحالی جو نہ صرف دولت سے مل سکتی ہے اور نہ حکومت سے اور نہ صحت سے بلکہ خدا کے ہاتھ میں ہے جس پیرایہ میں چاہے وہ عنایت کر سکتا ہے۔ ہاں وہ کامل دعاؤں سے عنایت کی جاتی ہے۔ اگر خدا تعالیٰ چاہتا ہے تو ایک مخلص صادق کو عین مصیبت کے وقت میں دُعا کے بعد وہ لذت حاصل ہو جاتی ہے جو ایک شہنشاہ کو تخت شاہی پر حاصل نہیں ہو سکتی سو اِسی کا نام حقیقی مراد یابی ہے جو آخر دُعا کرنے والوں کو ملتی ہے۔ (ایّام الصلح۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۲۳۷)
کیا یہ تسلّی بخش ثبوت نہیں ہے کہ قدیم سے خدا تعالیٰ کا ایک روحانی قانونِ قدرت ہے کہ دُعا پر حضرت احدیت کی توجہ جوش مارتی ہے اور سکینت اور اطمینان اور حقیقی خوشحالی ملتی ہے۔ اگر ہم ایک مقصد کی طلب میں غلطی پر نہ ہوں تو وہی مقصد مل جاتا ہے اور اگر ہم اس خطا کار بچہ کی طرح جو اپنی ماں سے سانپ یا آگ کا ٹکڑہ مانگتا ہے اپنی دُعا اور سوال میں غلطی پر ہوں تو خدا تعالیٰ وہ چیز جو ہمارے لئے بہتر ہو عطا کرتا ہے اور باایں ہمہ دونوں صورتوں میں ہمارے ایمان کو بھی ترقی دیتا ہے کیونکہ ہم دُعا کے ذریعہ سے پیش از وقت خدا تعالیٰ سے علم پاتے ہیں اور ایسا یقین بڑھتا ہے کہ گویا ہم اپنے خدا کو دیکھ لیتے ہیں اور دعا اور استجابت میں ایک رشتہ ہے کہ ابتدا سے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا برابر چلا آتا ہے۔ جب خدا تعالیٰ کا ارادہ کسی بات کے کرنے کے لئے توجہ فرماتا ہے تو سنت اللہ یہ ہے کہ اس کا کوئی مخلص بندہ اضطرار اور کرب اور قلق کے ساتھ دعا کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے اور اپنی تمام ہمت اور تمام توجہ اس امر کے ہو جانے کے لئے مصروف کرتا ہے۔ تب اس مرد فانی کی دعائیں فیوضِ الٰہی کو آسمان سے کھینچتی ہیں اور خدا تعالیٰ ایسے نئے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن سے کام بن جائے۔
یہ دعا اگرچہ بعالم ظاہر انسان کے ہاتھوں سے ہوتی ہے مگر درحقیقت وہ انسان خدا میں فانی ہوتا ہے۔ اور دعا کرنے کے وقت میں حضرت احدیت و جلال میں ایسے فنا کے قدم سے آتا ہے کہ اس وقت وہ ہاتھ اس کا ہاتھ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ یہی دعا ہے جس سے خدا پہچانا جاتا ہے اور اس ذوالجلال کی ہستی کا پتہ لگتا ہے جو ہزاروں پردوں میں مخفی ہے۔
(ایّام الصلح۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ۲۳۸، ۲۳۹)نادان خیال کرتا ہے کہ دعا ایک لغو اور بے ہودہ امر ہے مگر اسے معلوم نہیں کہ صرف ایک دعا ہی ہے جس سے خداوند ذوالجلال ڈھونڈنے والوں پر تجلّی کرتا ہے اور اَنَا الْقَادِرُ کا الہام ان کے دلوں پر ڈالتا ہے ہر ایک یقین کا بھوکا اور پیاسا یاد رکھے کہ اس زندگی میں روحانی روشنی کے طالب کے لئے صرف دعا ہی ایک ذریعہ ہے جو خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین بخشتا اور تمام شکوک و شبہات دور کر دیتا ہے۔ (ایّام الصلح۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۲۳۹، ۲۴۰)
یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ دعا جو خدا تعالیٰ کی پاک کلام نے مسلمانوں پر فرض کی ہے اس کی فرضیت کے چار ۴ سبب ہیں۔ (۱) ایک یہ کہ تا ہر ایک وقت اور ہر ایک حالت میں خدا تعالیٰ کی طرف رجوع ہو کر توحید پر پختگی حاصل ہو۔ کیونکہ خدا سے مانگنا اس بات کا اقرار کرنا ہے کہ مرادوں کا دینے والا صرف خدا ہے (۲) دوسرے یہ کہ تا دعا کے قبول ہونے اور مراد کے ملنے پر ایمان قوی ہو۔ (۳)تیسرے یہ کہ اگر کسی اور رنگ میں عنایت الٰہی شاملِ حال ہو تو علم اور حکمت زیادت پکڑے (۴)چوتھے یہ کہ اگر دعا کی قبولیت کا الہام اور رؤیا کے ساتھ وعدہ دیا جائے اور اُسی طرح ظہور میں آوے تو معرفت الٰہی ترقی کرے اور معرفت سے یقین اور یقین سے محبت اور محبت سے ہر ایک گنا ہ اور غیر اللہ سے انقطاع حاصل ہو جو حقیقی نجات کا ثمرہ ہے۔ (ایّام الصلح۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۲۴۲)
سورۃ فاتحہ میں جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ مسلمانوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ دعا میں مشغول رہیں۔ بلکہ دُعا اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ سکھلائی گئی ہے اور فرض کیا گیا ہے کہ پنجوقت یہ دعا کریں۔ پھر کس قدر غلطی ہے کہ کوئی شخص دعا کی روحانیت سے انکار کرے۔ قرآن شریف نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ دعا اپنے اندر ایک روحانیت رکھتی ہے اور دُعا سے ایک فیض نازل ہوتا ہے جو طرح طرح کے پیرایوں میں کامیابی کا ثمرہ بخشتا ہے۔
ہماری تقریر مذکورہ بالا سے ہر ایک منصف سمجھ سکتا ہے کہ جس طرح باوجود تسلیم مسئلہ قضا ء و قدر کے صد ہا امور میں یہی سنّت اللہ ہے کہ جدوجہد سے ثمرہ مترتب ہوتا ہے۔ اسی طرح دعا میں بھی جو جدوجہد کی جائے وہ بھی ہرگز ضائع نہیں جاتی۔ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ایک جگہ پر اپنی شناخت کی یہ علامت ٹھہرائی ہے کہ تمہارا خدا وہ خدا ہے جو بے قراروں کی دعا سنتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ پھر جبکہ خدا تعالیٰ نے دعا کی قبولیت کو اپنی ہستی کی علامت ٹھہرائی ہے تو پھر کس طرح کوئی عقل اور حیا والا گمان کر سکتا ہے کہ دعا کرنے پر کوئی آثارِ صریحہ اجابت کے مترتب نہیں ہوتے اور محض ایک رسمی امر ہے جس میں کچھ بھی روحانیت نہیں؟ میرے خیال میں ہے کہ ایسی بے ادبی کوئی سچے ایمان والا ہرگز نہیں کرے گا جبکہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے کہ جس طرح زمین و آسمان کی صنعت پر غور کرنے سے سچا خدا پہچانا جاتا ہے اسی طرح دعا کی قبولیت کو دیکھنے سے خدا تعالیٰ پر یقین آتا ہے۔ پھر اگر دعا میں کوئی روحانیت نہیں اور حقیقی اور واقعی طور پر دعا پر کوئی نمایاں فیض نازل نہیں ہوتا تو کیونکر دعا خدا تعالیٰ کی شناخت کا ایسا ذریعہ ہو سکتی ہے جیسا کہ زمین و آسمان کے اجرام و اجسام ذریعہ ہیں؟ بلکہ قرآن شریف سے تو معلوم ہوتاہے کہ نہایت اعلیٰ ذریعہ خدا شناسی کا دعا ہی ہے اور خدا تعالیٰ کی ہستی اور صفت کاملہ کی معرفت تامہ یقینیہ کاملہ صرف دعا سے ہی حاصل ہوتی ہے اور کسی ذریعہ سے حاصل نہیں ہوتی۔ وہ امر جو ایک بجلی کی چمک کی طرح یکدفعہ انسان کو تاریکی کے گڑھے سے کھینچ کر روشنی کی کھلی فضا میں لاتا اور خداتعالیٰ کے سامنے کھڑا کر دیتا ہے۔ وہ دعا ہی ہے۔ دعا کے ذریعہ سے ہزاروں بدمعاش صلاحیت پر آجاتے ہیں ہزاروں بگڑے ہوئے درست ہو جاتے ہیں۔
(ایّام الصلح۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۲۵۹، ۲۶۰)جب اللہ تعالیٰ کا فضل قریب آتا ہے تو وہ دعا کی قبولیت کے اسباب پہونچا دیتا ہے۔ دل میں ایک رقت اور سوز و گداز پیدا ہو جاتا ہے۔ لیکن جب دعا کی قبولیت کا وقت نہیں ہوتا تو دل میں اطمینان اور رجوع پیدا نہیں ہوتا۔ طبیعت پر کتنا ہی زور ڈالو مگر طبیعت متوجہ نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کبھی خداتعالیٰ اپنی قضا و قدر منوانا چاہتا ہے اور کبھی دعا قبول کرتا ہے اِس لئے مَیں تو جب تک اذنِ الٰہی کے آثار نہ پالوں قبولیت کی کم امید کرتا ہوں اور اُس کی قضاء وقدر پر اس سے زیادہ خوشی کے ساتھ جو قبولیت دعا میں ہوتی ہے راضی ہو جاتا ہوں کیونکہ اس رضا بالقضاء کے ثمرات اور برکات اس سے بہت زیادہ ہیں۔ (الحکم مورخہ ۳۱؍جولائی و ۱۰؍اگست ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۳ کالم نمبر۱۔ ملفوظات جلد اوّل صفحہ۳۰۴ ایڈیشن۲۰۰۳ء)
یہ سچی بات ہے کہ جو شخص اعمال سے کام نہیں لیتا وہ دعا نہیں کرتا بلکہ خدا تعالیٰ کی آزمائش کرتا ہے۔ اس لئے دُعا کرنے سے پہلے اپنی تمام طاقتوں کو خرچ کرنا ضروری ہے اور یہی معنی اس دعا کے ہیں۔ پہلے لازم ہے کہ انسان اپنے اعتقاد اعمال میں نظر کرے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ اصلاح اسباب کے پیرایہ میں ہوتی ہے۔ وہ کوئی نہ کوئی ایسا سبب پیدا کر دیتا ہے کہ جو اصلاح کا موجب ہو جاتا ہے۔ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۷۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
پنجابی میں ایک مثل ہے ’’جو منگے سو مر رہے مرے سو منگن جا‘‘۔ لوگ کہتے ہیں کہ دعا کرو۔ دعا کرنا تو مرنا ہوتا ہے۔ اِس (پنجابی مصرعہ) کے یہی معنے ہیں کہ جس پر نہایت درجہ کا اضطراب ہوتا ہے وہ دعا کرتا ہے دعا میں ایک موت ہے اور اُس کا بڑا اثر یہی ہوتا ہے کہ انسان ایک طرح سے مر جاتا ہے مثلاً ایک انسان ایک قطرہ پانی کا پی کر اگر دعویٰ کرے کہ میری پیاس بجھ گئی یا اُسے بڑی پیاس تھی تو وہ جھوٹا ہے ہاں اگر پیالہ بھر کر پیوے تو اس بات کی تصدیق ہو گی۔ پوری سوزش اور گدازش کے ساتھ ایک رنگ میں جب دعا کی جاتی ہے حتیٰ کہ روح گداز ہو کر آستانۂ الٰہی پر گر پڑتی ہے اور اسی کا نام دعا ہے اور الٰہی سنت یہی کہ جب ایسی دعا ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ یا تو اُسے قبول کرتا ہے اور یا اُسے جواب دیتا ہے۔ (البدر مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۸۶ کالم نمبر ۲۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ ۶۳۰ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
جب تو دعا کے لئے کھڑا ہو تو تجھے لازم ہے کہ یہ یقین رکھے کہ تیرا خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے تب تیری دعا منظور ہو گی اور تو خدا کی قدرت کے عجائبات دیکھے گا جو ہم نے دیکھے ہیں اور ہماری گواہی رؤیت سے ہے نہ بطور قصہ کے اُس شخص کی دعا کیونکر منظور ہو اور خود کیونکر اس کو بڑی مشکلات کے وقت جو اس کے نزدیک قانون قدرت کے مخالف ہیں دعا کرنے کا حوصلہ پڑے جو خدا کو ہر ایک چیز پر قادر نہیں سمجھتا۔ مگر اے سعید انسان تو ایسا مت کر۔ تیرا خدا وہ ہے جس نے بے شمار ستاروں کو بغیر ستون کے لٹکا دیا اور جس نے زمین و آسمان کو محض عدم سے پیدا کیا۔ کیا تو اُس پر بدظنّی رکھتا ہے کہ وہ تیرے کام میں عاجز آ جائے گا بلکہ تیری ہی بدظنی تجھے محروم رکھے گی۔ ہمارے خدا میں بے شمار عجائبات ہیں مگر وہی دیکھتے ہیں جو صدق اور وفا سے اُس کے ہو گئے ہیں۔ وہ غیروں پر جو اُس کی قدرتوں پر یقین نہیں رکھتے اور اس کے صادق وفادار نہیں ہیں وہ عجائبات ظاہر نہیں کرتا۔ (کشتی نوح۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۲۱)
جہاں تک مجھے خدا تعالیٰ نے دعاؤں کے بارے میں علم دیا ہے وہ یہ ہے کہ دعا کے قبول ہونے کے لئے تین شرطیں ہیں:۔
اوّل دعا کرنے والا کامل درجہ پر متقی ہو کیونکہ خدا تعالیٰ کا مقبول وہی بندہ ہوتا ہے جس کا شعار تقویٰ ہو اور جس نے تقویٰ کی باریک راہوں کو مضبوط پکڑا ہو اور جو امین اور متقی اور صادق العہد ہونے کی وجہ سے منظور نظر الٰہی ہو اور محبت ذاتیہ الٰہیہ سے معمور اور پُر ہو۔
دوسری شرط یہ ہے کہ اس کی عقد ہمت اور توجہ اس قدر ہو کہ گویا ایک شخص کے زندہ کرنے کے لئے ہلاک ہو جائے اور ہر ایک شخص کو قبر سے باہر نکالنے کے لئے آپ گور میں داخل ہو۔ اِس میں راز یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنے مقبول بندے اس سے زیادہ پیارے ہوتے ہیں جیسا کہ ایک خوبصورت بچہ جو ایک ہی ہو اس کی ماں کو پیارا ہوتا ہے۔ پس جبکہ خدائے کریم و رحیم دیکھتا ہے کہ ایک مقبول و محبوب اس کا ایک شخص کی جان بچانے کے لئے روحانی مشقتوں اور تضرعات اور مجاہدات کی وجہ سے اِس حد تک پہنچ گیا ہے کہ قریب ہے کہ اس کی جان نکل جائے تو اس کو علاقہ محبت کی وجہ سے ناگوار گذرتا ہے کہ اسی حال میں اُس کو ہلاک کر دے۔ تب اس کے لئے اس دوسرے شخص کا گناہ بخش دیتا ہے۔ جس کے لئے وہ پکڑا گیا تھا۔ پس اگر وہ کسی مہلک بیماری میں گرفتار ہے یا اور کسی بلا میں اسیر و لاچار ہے تو اپنی قدرت سے ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جس سے رہائی ہو جائے اور بسا اوقات اُس کا ارادہ ایک شخص کے قطعی طور پر ہلاک کرنے یا برباد کرنے پر قرار یافتہ ہوتا ہے لیکن جب ایک مصیبت زدہ کی خوش قسمتی سے ایسا شخص پُردرد تضرعات کے ساتھ درمیان میں آ پڑتا ہے جس کو حضرتِ عزت میں وجاہت ہے تو وہ مثل مقدمہ جو سزا دینے کے لئے مکمل اور مرتب ہو چکی ہے چاک کرنی پڑتی ہے کیونکہ اب بات اغیار سے یار کی طرف منتقل ہو جاتی ہے اور یہ کیونکر ہو سکے کہ خدا اپنے سچے دوستوں کو عذاب دے۔
تیسری شرط استجابت دعا کے لئے ایک ایسی شرط ہے جو تمام شرطوں سے مشکل تر ہے کیونکہ اس کا پورا کرنا خدا کے مقبول بندوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اس شخص کے ہاتھ میں ہے جو دعا کرانا چاہتا ہے اور وہ یہ ہے کہ نہایت صدق اور کامل اعتقاد اور کامل یقین اور کامل ارادت اور کامل غلامی کے ساتھ دعا کا خواہاں ہو اور یہ دل میں فیصلہ کرلے کہ اگر دعا قبول بھی نہ ہو تا ہم اس کے اعتقاد اور ارادت میں فرق نہیں آئے گا اور دعا کرانا آزمائش کے طور پر نہ ہو بلکہ سچے اعتقاد کے طور پر ہو اور نہایت نیازمندی سے اس کے دروازے پر گرے اور جہاں تک اس کے لئے ممکن ہے مال سے خدمت سے ہر ایک طور کی اطاعت سے ایسا قرب پیدا کرے کہ اس کے دل کے اندر داخل ہو جائے اور بایں ہمہ نہایت درجہ پر نیک ظن ہو اور اس کو نہایت درجہ کا متقی سمجھے اور اس کی مقدس شان کے برخلاف ایک خیال بھی دل میں لانا کفر خیال کرے اور اس قسم کی طرح طرح کی جاں نثاری دکھلا کر سچے اعتقاد کو اس پر ثابت اور روشن کردے اور اس کی مثل دنیا میں کسی کو بھی نہ سمجھے اور جان سے مال سے آبرو سے اُس پر فدا ہو جائے۔ اور کوئی کلمہ کسر شان کا کسی پہلو سے اس کی نسبت زبان پر نہ لائے اور نہ دل میں۔ اور اس بات کو اُس کی نظر میں بپایۂ ثبوت پہنچا دے کہ درحقیقت وہ ایسا ہی معتقد اور مرید ہے اور بایں ہمہ صبر سے انتظار کرے اور اگر پچاس دفعہ بھی اپنے کام میں نامراد رہے پھر بھی اعتقاد اور یقین میں سُست نہ ہو کیونکہ یہ قوم سخت نازک دل ہوتی ہے اور اُن کی فراست چہرہ کو دیکھ کر پہچان سکتی ہے کہ یہ شخص کس درجہ کا اخلاص رکھتا ہے اور یہ قوم باوجودنرم دل ہونے کے نہایت بے نیاز ہوتی ہے۔ اُن کے دل خدا نے ایسے بے نیاز پیدا کئے ہیں کہ متکبر اور خود غرض اور منافق طبع انسان کی کچھ پروا نہیں کرتے۔ اس قوم سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو اِس قدر غلامانہ اطاعت اُن کی اختیار کرتے ہیں کہ گویا مر ہی جاتے ہیں مگر وہ شخص جو قدم قدم پر بدظنی کرتا ہے اور دل میں کوئی اعتراض رکھتا ہے اور پوری محبت اور ارادت نہیں رکھتا وہ بجائے فائدہ کے ہلاک ہوتا ہے۔
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۲۲۶تا۲۲۸)یہ بالکل سچ ہے کہ مقبولین کی اکثر دعائیں منظور ہوتی ہیں بلکہ بڑا معجزہ اُن کا استجابت دعا ہی ہے۔ جب ان کے دلوں میں کسی مصیبت کے وقت شدت سے بے قراری ہوتی ہے اور اِس شدید بے قراری کی حالت میں وہ اپنے خدا کی طرف توجہ کرتے ہیں تو خدا اُن کی سنتا ہے اور اس وقت ان کا ہاتھ گویا خدا کا ہاتھ ہوتا ہے۔ خدا ایک مخفی خزانہ کی طرح ہے۔ کامل مقبولوں کے ذریعہ سے وہ اپنا چہرہ دکھلاتا ہے۔ خدا کے نشان تبھی ظاہر ہوتے ہیں جب اس کے مقبول ستائے جاتے ہیں اور جب حد سے زیادہ اُن کو دکھ دیا جاتا ہے تو سمجھو کہ خدا کا نشان نزدیک ہے بلکہ دروازہ پر کیونکہ یہ وہ قوم ہے کہ کوئی اپنے پیارے بیٹے سے ایسی محبت نہیں کرے گا جیسا کہ خدا ان لوگوں سے کرتا ہے جو دل و جان سے اس کے ہو جاتے ہیں۔ وہ اُن کے لئے عجائب کام دکھلاتا ہے اور ایسی اپنی قوت دکھلاتا ہے کہ جیسا ایک سوتا ہوا شیر جاگ اٹھتا ہے۔ خدا مخفی ہے اور اس کے ظاہر کرنے والے یہی لوگ ہیں۔ وہ ہزاروں پردوں کے اندر ہے اور اس کا چہرہ دکھلانے والی یہی قوم ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ خیال کہ مقبولین کی ہر ایک دعا قبول ہو جاتی ہے یہ سراسر غلط ہے۔ بلکہ حق بات یہ ہے کہ مقبولین کے ساتھ خدا تعالیٰ کا دوستانہ معاملہ ہے کبھی وہ اُن کی دعائیں قبول کر لیتا ہے اور کبھی وہ اپنی مشیت اُن سے منوانا چاہتا ہے۔ جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ دوستی میں ایسا ہی ہوتا ہے بعض وقت ایک دوست اپنے دوست کی بات کو مانتا ہے اور اُس کی مرضی کے موافق کام کرتا ہے اور پھر دوسرا وقت ایسا بھی آتا ہے کہ اپنی بات اس سے منوانا چاہتا ہے۔ اِسی کی طرف اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے جیسا کہ ایک جگہ قرآن شریف میں مومنوں کی استجابت دعا کا وعدہ کرتا ہے اور فرماتا ہے ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ یعنی تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا اور دوسری جگہ اپنی نازل کردہ قضاء و قدر پر خوش اور راضی رہنے کی تعلیم کرتاہے جیسا کہ فرماتا ہے۔ وَلَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَالۡجُوۡعِ وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ؕ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ پس ان دونوں آیتوں کو ایک جگہ پڑھنے سے صاف معلوم ہو جائے گا کہ دعاؤں کے بارے میں کیا سنت اللہ ہے اور رب اور عبد کا کیا باہمی تعلق ہے۔
(حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۲۰، ۲۱)بعض جاہل کہتے ہیں کہ کیوں کامل لوگوں کی بعض دعائیں منظور نہیں ہوتیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اُن کی تجلّی حسن کو خدا تعالیٰ نے اپنے اختیار میں رکھا ہوا ہے۔ پس جس جگہ یہ تجلّی عظیم ظاہر ہو جاتی ہے اور کسی معاملہ میں اُن کا حسن جوش میں آتا ہے اور اپنی چمک دکھلاتا ہے تب اس چمک کی طرف ذرّات ِ عالم کھنچے جاتے ہیں اور غیر ممکن باتیں وقوع میں آتی ہیں جن کو دوسرے لفظوں میں معجزہ کہتے ہیں۔ مگر یہ جوشِ روحانی ہمیشہ اور ہر جگہ ظہور میں نہیں آتا۔ اور تحریکات خارجیہ کا محتاج ہوتاہے یہ اس لئے کہ جیسا کہ خدائے کریم بے نیاز ہے اس نے اپنے برگزیدوں میں بھی بے نیازی کی صفت رکھ دی ہے سو وہ خدا کی طرح سخت بے نیاز ہوتے ہیں اور جب تک کوئی پوری خاکساری اور اخلاص کے ساتھ ان کے رحم کے لئے ایک تحریک پیدا نہ کرے وہ قوت اُن کی جوش نہیں مارتی اور عجیب تر یہ کہ وہ لوگ تمام دنیا سے زیادہ تر رحم کی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں مگر اس کی تحریک اُن کے اختیار میں نہیں ہوتی۔ گو وہ بارہا چاہتے بھی ہیں کہ وہ قوت ظہور میں آوے مگر بجز ارادۂ الٰہیہ کے ظاہر نہیں ہوتی۔ بالخصوص وہ منکروں اور منافقوں اور سست اعتقاد لوگوں کی کچھ بھی پروا نہیں رکھتے اور ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح اون کو سمجھتے ہیں اور وہ بے نیازی اُن کی ایسی شان رکھتی ہے جیسا کہ ایک معشوق نہایت خوبصورت برقعہ میں اپنا چہرہ چھپائے رکھے اور اسی بے نیازی کا ایک شعبہ یہ ہے کہ جب کوئی شریر انسان ان پر بدظنی کرے تو بسا اوقات بے نیازی کے جوش سے اس بدظنی کو اَور بھی بڑھا دیتے ہیں کیونکہ تخلق باخلاق اللہ رکھتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ ۙ فَزَادَہُمُ اللّٰہُ مَرَضًا جب خداتعالیٰ چاہتا ہے کہ کوئی معجزہ ان سے ظاہر ہو تو اُن کے دلوں میں ایک جوش پیدا کر دیتا ہے اور ایک امر کے حصول کے لئے سخت کرب اور قلق اُن کے دلوں میں پیدا ہو جاتا ہے تب وہ بے نیازی کا برقع اپنے منہ پر سے اتار لیتے ہیں اور وہ حسن اُن کا جو بجز خدا تعالیٰ کے کوئی نہیں دیکھتا وہ آسمان کے فرشتوں پر اور ذرّہ ذرّہ پر نمودار ہو جاتا ہے۔ اور ان کا منہ پر سے برقع اٹھانا یہ ہے کہ وہ اپنے کامل صدق اور صفا کے ساتھ اور اس روحانی حسن کے ساتھ جس کی وجہ سے وہ خدا کے محبوب ہو گئے ہیں اُس خدا کی طرف ایک ایسا خارق عادت رجوع کرتے ہیں اور ایک ایسے اقبال علی اللہ کی ان میں حالت پیدا ہو جاتی ہے جو خدا تعالیٰ کی فوق العادت رحمت کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور ساتھ ہی ذرہ ذرہ اس عالم کا کھنچا چلا آتا ہے اور اُن کی عاشقانہ حرارت کی گرمی آسمان پر جمع ہوتی اور بادلوں کی طرح فرشتوں کو بھی اپنا چہرہ دکھا دیتی ہے۔ اور ان کی دردیں جو رعد کی خاصیت اپنے اندر رکھتی ہیں ایک سخت شور ملأِ اعلیٰ میں ڈال دیتی ہیں۔ تب خدا تعالیٰ کی قدرت سے وہ بادل پیدا ہو جاتے ہیں جن سے رحمت الٰہی کا وہ مینہ برستا ہے جس کی وہ خواہش کرتے ہیں۔ اُن کی روحانیت جب اپنے پورے سوز و گداز کے ساتھ کسی عقدہ کشائی کے لئے توجہ کرتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی توجہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے کیونکہ وہ لوگ بباعث اس کے جو خدا سے ذاتی محبت رکھتے ہیں محبوبانِ الٰہی میں داخل ہوتے ہیں تب ہر ایک چیز جو خداتعالیٰ کے زیر حکم ہے اُن کی مدد کے لئے جوش مارتی ہے اور رحمتِ الٰہی محض اُن کی مراد پوری کرنے کے لئے ایک خلق جدید کے لئے تیار ہو جاتی ہے اور وہ امور ظاہر ہوتے ہیں جو اہل دنیا کی نظر میں غیر ممکن معلوم ہوتے ہیں اور جن سے سفلی علوم محض ناآشنا ہیں۔ ایسے لوگوں کو خدا تو نہیں کہہ سکتے مگر قرب اور علاقہ محبت ان کا کچھ ایسا صدق و صفا کے ساتھ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہوتا ہے گویا خدا اُن میں اُتر آتا ہے اور آدم کی طرح خدائی روح اُن میں پھونکی جاتی ہے مگر یہ نہیں کہ وہ خدا ہیں لیکن درمیان میں کچھ ایسا تعلق ہے جیسا کہ لوہے کو جبکہ سخت طور پر آگ سے افروختہ ہو جائے اور آگ کا رنگ اس میں پیدا ہو جائے آگ سے تعلق ہوتا ہے۔ اس صورت میں تمام چیزیں جو خداتعالیٰ کے زیر حکم ہیں ان کے زیر حکم ہو جاتی ہیں اور آسمان کے ستارے اور سورج اور چاند سے لے کر زمین کے سمندروں اور ہوا اور آگ تک اُن کی آواز کو سنتے اور اُن کو شناخت کرتے اور ان کی خدمت میں لگے رہتے ہیں اور ہر ایک چیز طبعًا اُن سے پیار کرتی ہے اور عاشق صادق کی طرح ان کی طرف کھنچی جاتی ہے بجز شریر انسانوں کے جو شیطان کا اوتار ہیں۔ عشق مجازی تو ایک منحوس عشق ہے کہ ایک طرف پیدا ہوتا اور ایک طرف مر جاتاہے اور نیز اس کی بناء اس حسن پر ہے جو قابلِ زوال ہے اور نیز اس حسن کے اثر کے نیچے آنے والے بہت ہی کم ہوتے ہیں مگر یہ کیا حیرت انگیز نظارہ ہے کہ وہ حسنِ رُوحانی جو حسن معاملہ اور صدق و صفا اور محبت الٰہیہ کی تجلّی کے بعد انسان میں پیدا ہوتا ہے۔ اس میں ایک عالمگیر کشش پائی جاتی ہے وہ مستعد دلوں کو اس طرح اپنی طرف کھینچ لیتا ہے کہ جیسے شہد چیونٹیوں کو اور نہ صرف انسان بلکہ عالم کا ذرّہ ذرّہ اس کی کشش سے متأثر ہوتا ہے۔ صادق المحبت انسان جو سچی محبت خدا تعالیٰ سے رکھتا ہے وہ وہ یوسف ہے جس کے لئے ذرّہ ذرّہ اس عالم کا زلیخا صفت ہے اور ابھی حسن اس کا اِس عالم میں ظاہر نہیں کیونکہ یہ عالم اس کی برداشت نہیں کرتا۔ خداتعالیٰ اپنی پاک کتاب میں جو فرقان مجید ہے فرماتا ہے کہ مومنوں کا نور اُن کے چہروں پر دوڑتا ہے اور مومن اس حسن سے شناخت کیا جاتا ہے جس کا نام دوسرے لفظوں میں نور ہے۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصّہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ۲۲۱ تا۲۲۴)
کبھی ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ ایک طالب نہایت رقت اور درد کے ساتھ دعائیں کرتا ہے مگر وہ دیکھتا ہے کہ ان دعاؤں کے نتائج میں ایک تاخیر اور توقف واقع ہوتا ہے اس کا سِر کیا ہے؟ اس میں یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اوّل تو جس قدر امور دنیا میں ہوتے ہیں اُن میں ایک قسم کی تدریج پائی جاتی ہے۔ دیکھو ایک بچہ کو انسان بننے کے لئے کس قدر مرحلے اور منازل طے کرنے پڑتے ہیں۔ ایک بیج کا درخت بننے کے لئے کس قدر توقف ہوتا ہے۔ اِسی طرح پر اللہ تعالیٰ کے امور کا نفاذ بھی تدریجاً ہوتا ہے۔ دوسرے اس توقف میں یہ مصلحت الٰہی ہوتی ہے کہ انسان اپنے عزم اور عقد ہمت میں پختہ ہو جاوے اور معرفت میں استحکام اور رسوخ ہو۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس قدر انسان اعلیٰ مراتب اور مدارج کو حاصل کرنا چاہتا ہے اسی قدر اس کو زیادہ محنت اور وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پس استقلال اور ہمت ایک ایسی عمدہ چیز ہے کہ اگر یہ نہ ہو تو انسان کامیابی کی منزلوں کو طے نہیں کر سکتا۔ اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ پہلے مشکلات میں ڈالا جاوے۔ اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا اسی لئے فرمایا ہے۔ (الحکم مورخہ ۱۷؍دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ۲ کالم نمبر۳۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ ۱۴۹ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان ایک امر کے لئے دعاکرتا ہے مگر وہ دعا اس کی اپنی ناواقفی اور نادانی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یعنی ایسا امر خدا سے چاہتا ہے جو اس کے لئے کسی صورت سے مفید اور نافع نہیں ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اُس کی دعا کو تو ردّ نہیں کرتا لیکن کسی اور صورت میں پورا کر دیتا ہے مثلاً ایک زمیندار جس کو ہل چلانے کے لئے بیل کی ضرورت ہے وہ بادشاہ سے جا کر ایک اونٹ کا سوال کر ے اور بادشاہ جانتا ہے کہ اس کو دراصل بیل دینا مفید ہو گا اور وہ حکم دے دے کہ اس کو ایک بیل دے دو۔ وہ زمین دار اپنی بیوقوفی سے یہ کہہ دے کہ میری درخواست منظور نہیں ہوئی تو اُس کی حماقت اور نادانی ہے لیکن اگر وہ غور کرے تو اس کے لئے یہی بہتر تھا۔ اِس طرح پر اگر ایک بچہ آگ کے سُرخ انگارے دیکھ کر ماں سے مانگے تو کیا مہربان اور شفیق ماں یہ پسند کرے گی کہ اُس کو آگ کے انگارے دیدے؟ غرض بعض اوقات دعا کی قبولیت کے متعلق ایسے امور بھی پیش آتے ہیں۔ جو لوگ بے صبری اور بد ظنی سے کام لیتے ہیں وہ اپنی دعا کو ردّ کرا لیتے ہیں۔ (الحکم مورخہ ۲۴؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۲ کالم نمبر ۱۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ ۷۰۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
دعا اور اس کی قبولیت کے زمانہ کے درمیانی اوقات میں بسااوقات ابتلا پر ابتلا آتے ہیں اور ایسے ایسے ابتلا بھی آ جاتے ہیں جو کمر توڑ دیتے ہیں۔ مگر مستقل مزاج سعید الفطرت ان ابتلاؤں اور مشکلات میں بھی اپنے رب کی عنایتوں کی خوشبو سونگھتا ہے اور فراست کی نظر سے دیکھتا ہے کہ اس کے بعدنصرت آتی ہے۔ اِن ابتلاؤں کے آنے میں ایک سّر یہ بھی ہوتا ہے کہ دُعا کے لئے جوش بڑھتا ہے کیونکہ جس جس قدر اضطرار اور اضطراب بڑھتا جاوے گا اُسی قدر روح میں گدازش ہوتی جائے گی اور یہ دعا کی قبولیت کے اسباب میں سے ہیں۔ پس کبھی گھبرانا نہیں چاہئے اور بے صبری اور بے قراری سے اپنے اللہ پر بدظن نہیں ہونا چاہئے یہ کبھی بھی خیال کرنا نہ چاہئے کہ میری دعا قبول نہ ہو گی یا نہیں ہوتی۔ ایسا وہم اللہ تعالیٰ کی اس صفت سے انکار ہو جاتا ہے کہ وہ دعائیں قبول فرمانے والا ہے۔ (الحکم، مورخہ ۲۴؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۱، ۲۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ ۷۰۷، ۷۰۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
دعائیں حقیقت میں بہت قابلِ قدر ہوتی ہیں اور دعاؤں والا آخر کار کامیاب ہو جاتا ہے۔ ہاں یہ نادانی اور سوئِ ادب ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے ارادہ کے ساتھ لڑناچاہے مثلاً یہ دعا کرے کہ رات کے پہلے حصّہ میں سورج نکل آوے۔ اِس قسم کی دعائیں گستاخی میں داخل ہوتی ہیں۔ وہ شخص نقصان اٹھاتا ہے اور ناکام رہتا ہے جو گھبرانے والا اور قبل از وقت چاہنے والا ہو مثلاً اگر بیاہ کے دس دن بعد مرد و عورت یہ خواہش کریں کہ اب بچہ پیدا ہو جاوے تو یہ کیسی حماقت ہو گی۔ اس وقت تو اسقاط کے خون اور چھیچھڑوں سے بھی بے نصیب رہے گی۔ اسی طرح جو سبزہ کو نمو نہیں دیتا وہ دانہ پڑنے کی نوبت ہی آنے نہیں دیتا۔ …… مسلمان دعا سے بالکل ناواقف ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ جن کو بدقسمتی سے ایسا موقعہ ملا کہ دعا کریں مگر انہوں نے صبر اور استقلال سے چونکہ کام نہ لیا اس لئے نامراد رہ کر سید احمد خانی مذہب اختیار کر لیا کہ دعا کوئی چیز نہیں۔ یہ دھوکا اور غلطی اسی لئے لگتی ہے کہ وہ لوگ حقیقت دعا سے ناواقف محض ہوتے ہیں اور اس کے اثر سے بے خبر اور اپنی خیالی امیدوں کو پورا نہ ہوتے دیکھ کر کہہ اُٹھتے ہیں کہ دعا کوئی چیز نہیں اور اس سے برگشتہ ہو جاتے ہیں۔ دعا ربوبیت اور عبودیت کا ایک کامل رشتہ ہے۔ اگر دُعاؤں کا اثر نہ ہوتا تو پھر اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ (الحکم مورخہ ۱۷؍دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۳ کالم نمبر۱۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ ۱۴۹، ۱۵۰ جدید ایڈیشن)
پس دعاؤں سے کام لینا چاہئے اور خدا تعالیٰ کے حضور استغفار کرنا چاہئے کیونکہ خدا تعالیٰ غنی بے نیاز ہے اس پر کسی کی حکومت نہیں ہے۔ ایک شخص اگر عاجزی اور فروتنی سے اس کے حضور نہیں آتا وہ اس کی کیا پرواہ کر سکتا ہے۔ دیکھو اگر ایک سائل کسی کے پاس آ جاوے اور اپنا عجز اور غربت ظاہر کرے تو ضرور ہے کہ اُس کے ساتھ کچھ نہ کچھ سلوک ہو لیکن ایک شخص جو گھوڑی پر سوار ہو کر آوے اور سوال کرے اور یہ بھی کہے کہ اگر نہ دو گے تو ڈنڈے ماروں گا تو بجز اس کے کہ خود اس کو ڈنڈے پڑیں اور اس کے ساتھ کیا سلوک ہو گا؟ خدا تعالیٰ سے اڑ کر مانگتا ہے اور اپنے ایمان کو مشروط کرنا بڑی بھاری غلطی اور ٹھوکر کا موجب ہے۔ دعاؤں میں استقلال اور صبر ایک الگ چیز ہے اور اڑ کر مانگنا اور بات ہے۔ یہ کہنا کہ میرا فلاں کام اگر نہ ہوا تو میں انکار کردوں گا یا یہ کہہ دوں گا یہ بڑی نادانی اور شرک ہے اور آداب الدعا سے ناواقفیت ہے ایسے لوگ دعا کی فلاسفی سے ناواقف ہیں۔ قرآن شریف میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ ہر ایک دعا تمہاری مرضی کے موافق مَیں قبول کر وں گا۔ بے شک یہ ہم مانتے ہیں کہ قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ لیکن ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ اسی قرآن شریف میں یہ بھی لکھا ہوا ہے۔ وَلَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَالۡجُوۡعِ الآیۃ
ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ میں اگر تمہاری مانتا ہے تو میں اپنی منوانی چاہتا ہے۔ یہ خداتعالیٰ کا احسان اور اس کا کرم ہے کہ وہ اپنے بندہ کی بھی مان لیتا ہے ورنہ اس کی الوہیت اور ربوبیت کی شان کے یہ ہرگز خلاف نہیں کہ اپنی ہی منوائے وَلَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ جو فرمایا تو اس مقام پر وہ اپنی منوانا چاہتا ہے۔ کبھی کسی قسم کا خوف آتا ہے اور کبھی بھوک آتی ہے اور کبھی مالوں پر کمی واقع ہوتی ہے۔ تجارتوں میں خسارہ ہوتا ہے۔ اور کبھی ثمرات میں کمی ہوتی ہے۔ اولاد ضائع ہوتی ہے اور ثمرات برباد ہو جاتے ہیں اور نتائج نقصان دہ ہوتے ہیں۔ ایسی صورتوں میں خداتعالیٰ کی آزمائش ہوتی ہے۔ اُس وقت خدا اپنی شانِ حکومت دکھانا چاہتا ہے اور اپنی منوانا چاہتا ہے۔ اُس وقت صادق اور مومن کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ نہایت اخلاص اور انشراح صدر کے ساتھ خدا کی رضا کو مقدّم کر لیتا ہے اور اُس پر خوش ہو جاتاہے کوئی شکوہ اور بدظنی نہیں کرتا۔ اس لئے خداتعالیٰ فرماتاہے پس صبر کرنے والوں کو بشارت دو۔ یہ نہیں فرمایا کہ دعا کرنے والوں کو بشارت دو بلکہ صبر کرنے والوں کو۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ انسان اگر بظاہر اپنی دعاؤں میں ناکامی دیکھے تو گھبرا نہ جاوے بلکہ صبر اور استقلال سے خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم کرے۔ اہل اللہ کو نظر آ جاتا ہے کہ یہ کام ہونہارہے۔ پس جب وہ یہ دیکھتے ہیں تو دعا کرتے ہیں ورنہ قضاء و قدر پر راضی رہتے ہیں۔ اہل اللہ کے دو ہی کام ہوتے ہیں۔ جب کسی بلا کے آثار دیکھتے ہیں تو دُعا کرتے ہیں لیکن جب دیکھتے ہیں کہ قضاء و قدر اس طرح پر ہے تو صبر کرتے ہیں جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچوں کی وفات پر صبر کیا۔ جن میں سے ایک بچہ ابراہیم بھی تھا۔
(ملفوظات جلد دوم صفحہ۲۹۶، ۲۹۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)میرا صد ہا مرتبہ کا تجربہ ہے کہ خدا ایسا کریم و رحیم ہے کہ جب اپنی مصلحت سے ایک دعا کو منظور نہیں کرتا تو اس کے عوض میں کوئی اور دعا منظور کر لیتا ہے جو اس کے مثل ہوتی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰیَۃٍ اَوۡ نُنۡسِہَا نَاۡتِ بِخَیۡرٍ مِّنۡہَاۤ اَوۡ مِثۡلِہَا ؕ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۳۴۰)
یہ خیال مت کرو کہ ہم بھی ہر روز دعا کرتے ہیں اور تمام نماز دعا ہی ہے جو ہم پڑھتے ہیں کیونکہ وہ دعا جو معرفت کے بعد اور فضل کے ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے وہ اور رنگ اور کیفیت رکھتی ہے۔ وہ فنا کرنے والی چیز ہے۔ وہ گداز کرنے والی آگ ہے۔ وہ رحمت کو کھینچنے والی ایک مقناطیسی کشش ہے۔ وہ موت ہے پر آخر کو زندہ کرتی ہے۔ وہ ایک تند سیل ہے پر آخر کو کشتی بن جاتی ہے۔ ہر ایک بگڑی ہوئی بات اس سے بن جاتی ہے اور ہر ایک زہرآخر اس سے تریاق ہو جاتا ہے۔
مبارک وہ قیدی جو دعا کرتے ہیں۔ تھکتے نہیں۔ کیونکہ ایک دن رہائی پائیں گے۔ مبارک وہ اندھے جو دعاؤں میں سُست نہیں ہوتے کیونکہ ایک دن دیکھنے لگیں گے۔ مبارک وہ جو قبروں میں پڑے ہوئے دعاؤں کے ساتھ خدا کی مدد چاہتے ہیں کیونکہ ایک دن قبروں سے باہر نکالے جائیں گے۔ مبارک تم جب کہ دعاکرنے میں کبھی ماندہ نہیں ہوتے اور تمہاری روح دعا کے لئے پگھلتی اور تمہاری آنکھ آنسو بہاتی اور تمہارے سینہ میں ایک آگ پیدا کر دیتی ہے اور تمہیں تنہائی کاذوق اُٹھانے کے لئے اندھیری کوٹھٹریوں اور سنسان جنگلوں میں لے جاتی ہے اور تمہیں بیتاب اور دیوانہ اور از خود رفتہ بنادیتی ہے کیونکہ آخرتم پر فضل کیا جاوے گا۔ وہ خدا جس کی طرف ہم بلاتے ہیں نہایت کریم و رحیم۔ حیاوالا۔ صادق۔ وفادار۔ عاجزوں پر رحم کرنے والا ہے۔ پس تم بھی وفادار بن جاؤ اور پورے صدق اور وفا سے دعا کرو کہ وہ تم پررحم فرمائے گا۔ دنیا کے شور وغوغاسے الگ ہو جاؤ اور نفسانی جھگڑوں کا دین کو رنگ مت دو۔ خداکے لئے ہاراختیارکر لو اور شکست کو قبول کر لو تابڑی بڑی فتحوں کے تم وارث بن جاؤ۔ دعاکرنے والوں کوخدامعجزہ دکھائے گا اور مانگنے والوں کو ایک خارق عادت نعمت دی جائیگی۔ دعاخداسے آتی ہے اور خداکی طرف ہی جاتی ہے۔ دعا سے خدا ایسا نزدیک ہو جا تاہے جیساکہ تمہاری جان تم سے نزدیک ہے۔ دُعاکی پہلی نعمت یہ ہے کہ انسان میں پاک تبدیلی پیداہوتی ہے پھر اس تبدیلی سے خدا بھی اپنے صفات میں تبدیلی کرتاہے اور اس کے صفات غیر متبدل ہیں مگر تبدیلی یافتہ کے لئے اس کی ایک الگ تجلّی ہے جس کو دنیا نہیں جانتی گویا وہ اور خدا ہے حالانکہ اور کوئی خدا نہیں مگر نئی تجلّی نئے رنگ میں اس کو ظاہر کر تی ہے۔ تب اس خاص تجلّی کے شان میں اس تبدیل یافتہ کے لئے وہ کام کرتا ہے جودوسرں کے لئے نہیں کرتا۔ یہی وہ خوارق ہے۔
غرض دعا وہ اکسیر ہے جو ایک مشتِ خاک کو کیمیا کردیتی ہے۔ اور وہ ایک پانی ہے جو اندردنی غلاظتوں کو دھو دیتا ہے۔ اس دعا کے ساتھ رُوح پگھلتی ہے اور پانی کی طرح بہہ کر آستانۂ حضرت احدیت پر گرتی ہے۔ وہ خدا کے حضور میں کھڑی بھی ہوتی ہے اور رکوع بھی کر تی ہے اور سجدہ بھی کرتی ہے اور اِسی کی ظل وہ نمازہے جو اسلام نے سکھلائی ہے۔ اور رُوح کا کھڑا ہونایہ ہے کہ وہ خدا کے لئے ہر ایک مصیبت کی برداشت اور حکم ماننے کے بارے میں مستعدی ظاہر کرتی ہے اور اس کا رکوع یعنی جھکنا یہ ہے کہ وہ تمام محبتوں اور تعلقوں کو چھوڑ کر خدا کی طرف جھک آتی ہے اور خدا کے لئے ہو جاتی ہے اور اس کا سجدہ یہ ہے کہ وہ خدا کے آستانہ پر گِر کر اپنے تئیں بکّلی کھو دیتی ہے اور اپنے نقشِ وجود کو مٹا دیتی ہے۔ یہی نماز ہے جو خدا کو ملاتی ہے۔ اور شریعت اسلامی نے اس کی تصویر معمولی نماز میں کھینچ کر دکھلائی ہے تاوہ جسمانی نماز روحانی نماز کی طرف محرک ہو۔ کیونکہ خداتعالے نے انسان کے وجودکی ایسی بناوٹ پیدا کی ہے کہ روح کا اثر جسم پر اور جسم کا اثر روح پر ضرور ہوتا ہے۔ جب تمہاری روح غمگین ہو تو آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ اور جب روح میں خوشی پیدا ہو تو چہرہ پر بشاشت ظاہر ہو جاتی ہے یہاں تک کہ انسان بسا اوقات ہنسنے لگتا ہے۔ ایسا ہی جب جسم کو کوئی تکلیف اور درد پہنچے تو اس درد میں روح بھی شریک ہوتی ہے۔ اور جب جسم کُھلی ٹھنڈی ہوا سے خوش ہو تو روح بھی اس سے کچھ حصہ لیتی ہے پس جسمانی عبادات کی غرض یہ ہے کہ روح اور جسم کے باہمی تعلقات کی وجہ سے روح میں حضرت احدیت کی طرف حرکت پیدا ہو اور وہ روحانی قیام اور رکوع اور سجود میں مشغول ہو جائے۔
(لیکچر سیالکوٹ۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۲۲۲ تا۲۲۴)یہ شبہ کر نا کہ یہ استعانت بعض اوقات کیوں بے فائدہ اور غیرمفید ہوتی ہے اور کیوں خدا کی رحمانیت و رحیمیت ہر یک وقت استعانت میں تجلّی نہیں فرماتی؟پس یہ شبہ صرف ایک صداقت کی غلط فہمی ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ ان دعاؤں کو کہ جو خلوص کے ساتھ کی جائیں ضرور سنتا ہے اور جس طرح مناسب ہو مدد چاہنے والوں کے لئے مدد بھی کرتا ہے مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کی استمداد اور دعا میں خلوص نہیں ہوتا۔ نہ انسان دلی عاجزی کے ساتھ امداد الٰہی چاہتا ہے اور نہ اس کی روحانی حالت درست ہوتی ہے بلکہ اس کے ہونٹوں میں دعا اور اُس کے دل میں غفلت یا ریاء ہوتی ہے یاکبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا اُس کی دعا کو سن تو لیتا ہے اور اس کے لئے جو کچھ اپنی حکمت کاملہ کے رُو سے مناسب اور اصلح دیکھتا ہے عطا بھی فرماتا ہے لیکن نادان انسان خدا کی اُن الطاف خفیہ کو شناخت نہیں کر تا اور ببا عث اپنے جہل اور بے خبری کے شکوہ اور شکایت شروع کر دیتا ہے اور اس آیت کے مضمون کو نہیں سمجھتا۔ اَنۡ تَکۡرَہُوۡا شَیۡئًا وَّہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ۚ وَعَسٰۤی اَنۡ تُحِبُّوۡا شَیۡئًا وَّہُوَ شَرٌّ لَّکُمۡ ؕ وَاللّٰہُ یَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ یعنی یہ ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو بُری سمجھو اور وہ اصل میں تمہارے لئے اچھی ہو اور ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو دوست رکھواور وہ اصل میں تمہارے لئے بُری ہو اور خدا چیزوں کی اصل حقیقت کو جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۴۳۰، ۴۳۱ حاشیہ در حاشیہ نمبر۱۱)
خدائے تعالیٰ نے اس سورۃ فاتحہ میں دعا کرنے کا ایسا طریقہ حسنہ بتلایا ہے جس سے خوب تر طریقہ پیداہونا ممکن نہیں اور جس میں وہ تمام امور جمع ہیں جو دعامیں دلی جوش پیدا کرنے کے لئے نہایت ضروری ہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ قبولیت دعا کے لئے ضرورہے کہ اُس میں ایک جوش ہو کیونکہ جس دعا میں جوش نہ ہو وہ صرف لفظی بڑبڑہے حقیقی دعا نہیں۔ مگر یہ بھی ظاہر ہے کہ دعا میں جوش پیدا ہونا ہر یک وقت انسان کے اختیار میں نہیں بلکہ انسان کے لئے اشد ضرورت ہے کہ دُعا کرنے کے وقت جو امور دلی جوش کے محرک ہیں وہ اس کے خیال میں حاضر ہوں اور یہ بات ہر یک عاقل پر روشن ہے کہ دلی جوش پیدا کرنے والی صرف دو ہی چیزیں ہیں۔ ایک خدا کو کامل اور قادر اور جامع صفات کاملہ خیال کر کے اس کی رحمتوں اور کرموں کو ابتدا سے انتہا تک اپنے وجود اور بقا کے لئے ضروری دیکھنا اور تمام فیوض کا مَبدء اُسی کو خیال کرنا۔ دوسرے اپنے تئیں اور اپنے تمام ہم جنسوں کو عاجز اور مفلس اور خدا کی مدد کا محتاج یقین کرنا یہی دو امر ہیں جن سے دعاؤں میں جوش پیدا ہوتا ہے اور جو جوش دلانے کے لئے کامل ذریعہ ہیں۔ وجہ یہ کہ انسان کی دُعا میں تب ہی جوش پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے تئیں سراسر ضعیف اور ناتواں اور مددالٰہی کا محتاج دیکھتا ہے۔ اور خدا کی نسبت نہایت قوی اعتقاد سے یہ یقین رکھتا ہے کہ وہ بغایت درجہ کامل القدرت اور ربّ العالمین اور رحمن اور رحیم اور مالک امر مجازات ہے اور جو کچھ انسانی حاجتیں ہیں سب کا پورا کرنا اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ سو سورۃ فاتحہ کے ابتدا میں جو اللہ تعالیٰ کی نسبت بیان فرمایا گیا ہے کہ وہی ایک ذات ہے کہ جو تمام محامد کاملہ سے متصف اور تمام خوبیوں کی جامع ہے اور وہی ایک ذات ہے جو تمام عالموں کی رب اور تمام رحمتوں کا چشمہ اور سب کو ان کے عملوں کا بدلہ دینے والی ہے پس ان صفات کے بیان کرنے سے اللہ تعالیٰ نے بخوبی ظاہر فرمادیا کہ سب قدرت اُسی کے ہاتھ میں ہے اور ہر یک فیض اسی کی طرف سے ہے اور اپنی اس قدر عظمت بیان کی کہ دنیا اور آخرت کے کاموں کا قاضی الحاجات اور ہر یک چیز کا علّت العلل اور ہر یک فیض کا مبدء اپنی ذات کوٹھہرایا جس میں یہ بھی اشارہ فرما دیا ہے کہ اس کی ذات کے بغیر اور اُس کی رحمت کے بدو ں کسی زندہ کی زندگی اور آرام اور راحت ممکن نہیں۔ اور پھر بندہ کوتذلّل کی تعلیم دی اور فرمایا۔ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ اس کے یہ معنے ہیں کہ اے مبدء تمام فیوض ہم تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ یعنی ہم عاجز ہیں آپ سے کچھ بھی نہیں کر سکتے جب تک تیری توفیق اور تائید شامل حال نہ ہو۔ پس خدائے تعالیٰ نے دُعا میں جوش دلانے کے لئے دو محرک بیان فرمائے۔ ایک اپنی عظمت اور رحمتِ شاملہ۔ دوسرے بندوں کا عاجز اور ذلیل ہونا۔ اب جاننا چاہیے کہ یہی دو محرک ہیں جن کا دعا کے وقت خیال میں لانا دعا کرنے والوں کے لئے نہایت ضروری ہے۔ جو لوگ دعا کی کیفیت سے کسی قدر چاشنی حاصل رکھتے ہیں انہیں خوب معلوم ہے کہ بغیر پیش ہونے ان دونوں محرکوں کے دُعا ہو ہی نہیں سکتی اور بجز ان کے آتش شوق الٰہی دُعا میں اپنے شعلوں کو بلندنہیں کرتے۔ یہ بات نہایت ظاہر ہے کہ جو شخص خدا کی عظمت اور رحمت اور قدرت کاملہ کو یادنہیں رکھتا وہ کسی طرح سے خدا کی طرف رجوع نہیں کرسکتا اور جو شخص اپنی عاجزی اور درماندگی اور مسکینی کا اقراری نہیں اُس کی روح اس مولیٰ کریم کی طرف ہرگز جھک نہیں سکتی۔ غرض یہ ایسی صداقت ہے جس کے سمجھنے کے لئے کوئی عمیق فلسفہ درکار نہیں بلکہ جب خدا کی عظمت اور اپنی ذلت اور عاجزی متحقق طور پر دل میں متنقّش ہو تو وہ حالت خاصہ خود انسان کو سمجھا دیتی ہے کہ خالص دعا کرنے کا وہی ذریعہ ہے۔ سچے پرستار خوب سمجھنے ہیں کہ حقیقت میں انہی دو چیزوں کا تصوّر دعا کے لئے ضروری ہے۔ یعنی اوّل اس بات کا تصّور کہ خدائے تعالیٰ ہر یک قسم کی ربوبیت اور پرورش اور رحمت اور بدلہ دینے پر قادر ہے اور اس کی یہ صفات کاملہ ہمیشہ اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں۔ دوسرے اِس بات کا تصوّر کہ انسان بغیر توفیق اور تائید الٰہی کے کسی چیز کو حاصل نہیں کر سکتا۔ اور بلاشبہ یہ دونوں تصّور ایسے ہیں کہ جب دُعا کرنے کے وقت دل میں جم جاتے ہیں تو یکایک انسان کی حالت کو ایسا تبدیل کر دیتے ہیں کہ ایک متکبر اُن سے متاثر ہو کر روتا ہوا زمین پر گرپڑتا ہے۔ اور ایک گردن کش، سخت دل کے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ یہی کل ہے جس سے ایک غافل مُردہ میں جان پڑجاتی ہے انہی دو باتوں کے تصور سے ہر یک دل دعا کرنے کی طرف کھینچا جا تا ہے۔ غرض یہی وہ رُوحانی وسیلہ ہے جس سے انسان کی روح رو بخدا ہوتی ہے اور اپنی کمزوری اور امدادِ ربّانی پر نظر پڑتی ہے۔ اِسی کے ذریعہ سے انسان ایک ایسے عالمِ بے خودی میں پہنچ جاتا ہے جہاں اپنی مکدّر ہستی کا نشان باقی نہیں رہتا اور صرف ایک ذاتِ عظمیٰ کا جلال چمکتا ہوا نظر آتا ہے اور وہی ذات رحمت کل اور ہریک ہستی کا ستون اور ہر یک درد کا چارہ اور ہر یک فیض کا مبدء دکھائی دیتی ہے۔ آخر اس سے ایک صورت فنا فی اللہ کے ظہور پذیر ہو جاتی ہے جس کے ظہور سے نہ انسان مخلوق کی طرف مائل رہتا ہے نہ اپنے نفس کی طرف نہ اپنے ارداہ کی طرف اور بالکل خدا کی محبت میں کھویا جاتا ہے۔ اور اُس ہستی حقیقی کی شہود سے اپنی اور دوسری مخلوق چیزوں کی ہستی کالعدم معلوم ہوتی ہے۔ اس حالت کا نام خدانے صراط مستقیم رکھا ہے جس کی طلب کے لئے بندہ کو تعلیم فرمایا اور کہا اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ یعنی وہ راستہ فنا اور توحید اور محبت الٰہی کا جو آیات مذکورئہ بالا سے مفہوم ہورہا ہے وہ ہمیں عطا فرما اور اپنے غیر سے بکلی منقطع کر۔ خلاصہ یہ کہ خدائے تعالیٰ نے دعا میں جوش پیدا کرنے کے لئے وہ اسباب حقہ انسا ن کو عطا فرمائے کہ جو اسقدر دلی جوش پیدا کرتے ہیں کہ دعاکرنے والے کو خودی کے عالم سے بیخودی اور نیستی کے عالم میں پہنچا دیتے ہیں۔ اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ بات ہر گز نہیں کہ سورۃ فاتحہ دعا کے کئی طریقو ں میں سے ہدایت مانگنے کا ایک طریقہ ہے بلکہ جیسا کہ دلائل مذکورہ بالا سے ثابت ہو چکا ہے درحقیقت صرف یہی ایک طریقہ ہے جس پر جوش دل سے دعا کا صادر ہونا موقوف ہے اور جس پر طبیعت انسانی بمقتضا اپنے فطرتی تقاضا کے چلنا چاہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جیسے خدا نے دوسرے امور میں قواعد مقررہ ٹھہرا رکھے ہیں ایسا ہی دعا کے لئے بھی ایک قاعدہ خاص ہے اور وہ قاعدہ وہی محرک ہیں جو سورۃ فاتحہ میں لکھے گئے ہیں اور ممکن نہیں کہ جب تک وہ دونوں محرک کسی کے خیال میں نہ ہوں تب تک اس کی دعا میں جوش پیدا ہو سکے۔ سو طبعی راستہ دعا مانگنے کا وہی ہے جو سورۃ فاتحہ میں ذکر ہو چکا ہے۔ پس سورۂ ممدوحہ کے لطائف میں سے یہ ایک نہایت عمدہ لطیفہ ہے کہ دعا کو مع محرکات اُس کے کے بیان کیا ہے۔ فَتَدَبَّر (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۶۸تا۵۷۵ حاشیہ نمبر ۱۱)
اے ارحم الراحمین! ایک تیرا بندہ عاجز اور ناکارہ پُر خطا اور نالائق غلام احمد جو تیری زمین ملک ہند میں ہے اس کی یہ عرض ہے کہ اے ارحم الراحمین تو مجھ سے راضی ہو اور میرے خطیئات اور گناہوں کو بخش کہ تو غفور اور رحیم ہے۔ مجھ سے وہ کام کرا جس سے تو بہت ہی راضی ہو جائے۔ مجھ میں اور میرے نفس میں مشرق اور مغرب کی دوری ڈال اور میری زندگی اور میری موت اور میری ہر ایک قوت جو مجھے حاصل ہے اپنی ہی راہ میں کر۔ اور اپنی ہی محبت میں مجھے زندہ رکھ اور اپنی ہی محبت میں مجھے مار اور اپنے ہی کامل محبّین میں مجھے اٹھا۔
اے ارحم الراحمین!جس کام کی اشاعت کے لئے تو نے مجھے مامور کیا ہے اور جس خدمت کے لئے تو نے میرے دل میں جوش ڈالا ہے اُس کو اپنے ہی فضل سے انجام تک پہنچا اور عاجز کے ہاتھ سے حجت اسلام مخالفین پر اور ان سب پر جو اسلام کی خوبیوں سے بے خبر ہیں پوری کر اور اس عاجز اور اس کے محبوں اور مخلصوں اور ہم مشربوں کو مغفرت اور مہربانی کے ظلّ اور حمایت میں رکھ کر دین و دنیا میں آپ ان کا متکفل بن اور اپنے رسول مقبولؐ اور اس کے آل اور اصحاب پر زیادہ سے زیادہ درود وسلام وبرکات نازل کر۔ آمین یا رب العالمین436
(الفضل مورخہ ۱۱؍اکتوبر ۱۹۴۲ء صفحہ نمبر ۳ کالم نمبر ۴)اے میرے قادر خدا ! میری عاجزانہ دعائیں سن لے اور اس قوم کے کان اور دل کھول دے۔ اور ہمیں وہ وقت دکھا کہ باطل معبودوں کہ پرستش دنیا سے اُٹھ جائے اور زمین پر تیری پرستش اخلاص سے کی جائے۔ اور زمین تیرے راستباز اور موحد بندوں سے ایسی بھرجائے جیسا کہ سمندر پانی سے بھرا ہوا ہے۔ اور تیرے رسول کریم محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور سچائی دِلوں میں بیٹھ جائے۔ آمین
اے میرے قادر خدا! مجھے یہ تبدیلی دنیا میں دکھا۔ اور میری دُعائیں قبول کر جو ہر یک طاقت اور قوت تجھ کو ہے۔ اے قادر خدا! ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین۔ وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن۔
(تتمہ حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۶۰۳)