صفحات ۱–۶۴۳
از
سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
(فرمودہ ۱۳؍ دسمبر ۱۹۲۴ء بعد از نماز عصر بمقام مسجد اقصیٰ قادیان)
سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔
آج کل میری صحت اور ڈاکٹری مشورہ اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ میں کل کے خطبہ کے بعد اس قدر جلدی کوئی اور تقریر کروں لیکن بعض ایسے واقعات پیدا ہو گئے کہ جن کی وجہ سے مجبور ہو گیا اور باوجود اس کے کہ صحت کا تقاضا اس کے خلاف ہے آج پھر آپ لوگوں کے سامنے کچھ بیان کروں گا۔
پیشتر اس کے کہ میں کوئی اور مضمون بیان کروں میں یہ بتلا دینا چاہتا ہوں کہ کل کی حالت سے آج کی حالت بالکل متضاد ہے۔ کل کی حالت تو دعا کی تھی اور آج کی حالت غضب کی ہے۔ کل تو میں اس انسان کی طرح تھا جس کے جسم کا ہر ذرہ اپنے رب کے سامنے پگھل کر اپنے لئے اور دوسروں کے لئے دعائیں کر رہا ہو اور آج اس حالت میں ہوں کہ میرے تمام حواس اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ میں کسی کے لئے بد دعا نہ کروں۔
مجھے بعض لوگوں کے ایسے خیالات معلوم ہوئے ہیں جو اس قسم کی بد ظنیوں پر مشتمل تھے کہ جن میں میرے اخلاص اور ایمان پر ایسا حملہ تھا جس سے سر سے لے کر پیر تک میرے جسم کے اندر خون جوش مار رہا ہے۔ بعض نادانوں اور جاہلوں نے میرے کل کے خطبہ سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ گویا میں اپنی بیوی کی وفات پر صبر کے دامن کو چھوڑ بیٹھا ہوں اور اب قریب ہے کہ میں غم کے مارے ہلاک ہو جاؤں اس لئے وہ تسلی دینے لگے ہیں۔ ممکن ہے کہ بعض اور لوگوں کو بھی اس قسم کا خیال ہوا اور انہوں نے اظہار نہ کیا ہو۔
ان نادانوں نے میرے پہلے حالات پر نظر نہ کی اور اگر کی تو باوجود ان حالات کے جانتے ہوئے بھی مجھ پر بد ظنی کی۔ نبی کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ(9:128)۱؎ کہ یہ رسول تو تم میں ہی رہا ہے تم اس کے حالات سے خوب واقف ہو۔
اسی طرح آج میں بھی کہتا ہوں۔ او نادانو! اور جاہلو! میں بھی تم میں بچپن سے رہتا ہوں۔ تم نے میرے حالات کو جانتے ہوئے پھر میرے متعلق کیونکر اس قسم کی بد ظنی کی اور میرے پہلے حالات پر کیوں نظر نہ کی۔ تم جانتے ہو کہ جس زمانہ میں غم اور حُزن کے مارے تمہاری کمریں ٹیڑھی ہو رہی تھیں اس وقت میرے جادۂ استقلال میں فرق نہ آیا۔ اور میں نے کبھی غم اور حُزن کو پاس نہیں آنے دیا۔ یعنی تم اس پرانے تجربہ کی بناء پر سمجھ سکتے تھے کہ یہ خیال تمہاری اپنی نظر کی نابینائی کا نتیجہ ہے۔ تم اپنی نظر کی نابینائی کو میری طرف تو منسوب نہ کرتے۔
تم میرے ان مضامین کو جو میں نے راستہ سے لکھے دیکھتے۔ اگر ان مضامین اور خطبہ میں کوئی ترتیب نظر نہ آتی تو دھوکا کا احتمال ہو سکتا تھا لیکن اگر ان میں باہم ترتیب ہو اور ایک ایک اینچ باہم مطابق ہو تو تم کو سمجھ لینا چاہئے تھا کہ تمہارا خیال تم کو غلطی میں مبتلاء کر رہا ہے اور تمہارا یہ خیال محض ایک بد ظنی ہے۔
میں سمجھتا ہوں دو چیزیں ہیں جن کی وجہ سے ان کو غلطی لگی اور انہوں نے بد ظنی کی۔ ایک میرے چہرہ پر غم کے آثار اور آنسو۔ دوسرے میرا مجلس میں آتے وقت لوگوں سے الگ رہنے کی درخواست کرنا یا مجلس سے علیحدہ کھڑے رہنا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو آنکھیں دی ہوئی تھیں ، اگر ان میں کچھ بینائی ہوتی تو ان کو معلوم ہوتا کہ میری یہ علیحدگی آٹھ دن سے جاری ہے۔
اور اس کی وجہ اعصابی درد ہے جس کا لقوہ کی صورت اختیار کرنے کا ڈر تھا اور اسی وجہ سے باوجودیکہ امتۃ الحی کی حالت اچھی تھی مگر میں مسجد میں نہیں آتا تھا۔ میں نے ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سے بھی جو میرے معالج تھے کہا تھا کہ جب لوگ مجھ پر ہجوم کر کے آتے ہیں تو معاً مجھے اعصابی دورہ شروع ہو جاتا ہے ، میرے پٹھے کھنچنے لگتے ہیں اور قریب ہوتا ہے کہ مجھے لقوہ ہو جائے لیکن اب اس واقعہ کے بعد باوجود اس تکلیف کے موجود ہونے کے معاً نماز میں آنا شروع کر دیا ہے تاکہ میری طرف کوئی یہ منسوب نہ کرے کہ میں ایسے رنج میں مبتلا ہوں جس کو برداشت نہیں کر سکتا۔
دوسری وجہ بیماری کی زیادتی کی یہ تھی کہ جب میں باہر آتا تھا تو لوگ میرے پاس درخواستیں لاتے تھے کہ ہمیں فلاں تکلیف ہے اور ہم اس انتظار میں تھے کہ حضور تشریف لاویں تو حضور کے پاس عرض کریں۔ یا ہمیں فلاں امر کی ضرورت تھی اور افسروں نے حضور کی واپسی تک اسے ملتوی رکھا ہوا تھا اور ادھر میری یہ حالت ہے کہ مجھے جب معلوم ہو کہ فلاں کو یہ تکلیف ہے اور میں اس تکلیف کو دور نہیں کر سکتا یا اس کی ضرورت کو پورا نہیں کر سکتا تو مجھے سخت بے چینی ہوتی ہے۔ غالباً میں نے میاں بشیر احمد صاحب سے ذکر کیا تھا کہ مجھ پر ایک جنون کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے جب مجھ پر حاجت مند لوگوں کا ہجوم جمع ہوتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ میں فلاں شخص کی ضرورت کو پورا نہیں کر سکتا۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب اور میری والدہ صاحبہ بھی میری اس حالت سے واقف ہیں کیونکہ ان کے پاس میں نے ذکر کیا تھا کہ ادھر مجھے دورہ ہوتا ہے اور ادھر میں ان کی تکلیف پڑھتا ہوں تو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا ایسا نہ ہو کہ میں جلسہ سے پہلے زیادہ بیمار ہو جاؤں۔ اس وجہ سے میں ان دنوں میں جب تک کہ خدا تعالیٰ کوئی سامان نہ کر دے لوگوں سے الگ رہوں گا۔ یہ واقعات تھے جن کی وجہ سے میں باہر کم آتا اور لوگوں سے الگ رہتا تھا۔
بلکہ یہاں تک حالت رہی ہے کہ اسی وجہ سے میں مرحومہ کی ایسی تیمارداری بھی نہیں کر سکا جیسا کہ میرا دل تیمارداری کرنے کو چاہتا تھا حتیٰ کہ انہوں نے اپنی مرض الموت میں مجھ سے کہا بھی کہ جب آپ آتے ہیں تو میری بیماری میں کمی معلوم ہونے لگتی ہے اس کا مطلب یہی تھا کہ تم کم آتے ہو۔
باقی رہا دوسرا سوال میں اس کو کئی حصوں میں تقسیم کرتا ہوں۔ پہلی بات غم کے متعلق ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مجھے غم ہے اور بہت غم ہے۔ اس کا اثر میرے چہرے پر بھی ظاہر تھا جو اب نہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ اب غم نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ میں ضبط کر سکتا ہوں اور مجھے اپنے جذبات پر قابو ہے اور بہت قابو ہے اور میں ایسی حالت میں ہنس بھی سکتا ہوں۔ اور کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے گھر لڑکا پیدا ہوا ہے اور میں اس وقت غم کی حالت میں ہوتا ہوں۔ گھر میں میرا بچہ بیمار ہوتا ہے یا اور قومی غم ہوتے ہیں لیکن معا میں اپنے چہرہ کو ہنسی والا بناتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ یہ میرا فرض ہے کہ اس شخص کی خوشی میں شامل ہوں۔ لیکن تم ایسا نہیں کر سکتے بلکہ تم میں سے کئی لڑ پڑیں گے کہ ہمارے گھر تو ماتم ہے اور تم ہمیں یہ بتانے آئے ہو کہ میرے گھر لڑکا پیدا ہوا ہے۔ مگر میں ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ جب خدا تعالیٰ نے یہ کام میرے سپرد کیا ہے اور اس کے فضل سے میں نے اسے سنبھالا ہے تو میرا فرض ہے کہ میں جماعت کے غموں اور خوشیوں میں شامل ہوں۔ پھر میں ان غموں کو بھی ظاہر کرتا ہوں تاکہ کوئی بیماری پیدا نہ ہو کیونکہ غموں کے دبانے سے بھی اعصاب پر برا اثر پڑتا ہے لیکن جب ایسا موقع ہو کہ اس غم کو دبانا ہو تو دبا بھی سکتا ہوں۔ آج تم میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں جو مجھ سے زیادہ خوشی والا چہرہ بنائے اور مجھ سے زیادہ ہنس سکتا ہو گو میرے دل میں اس وقت غضب ہے۔
میں نے جو اسلام کو سمجھا ہے۔ اس کو غرور کہو، عُجْب کہو، خود پسندی، اپنی تعریف آپ کرنے کا عادی کہہ لو لیکن میں یقین واثق سے کہتا ہوں کہ میں نے تم سب سے زیادہ سمجھا ہے اور اس پر میں فخر نہیں کرتا اور اس خوبی کو اپنی طرف منسوب نہیں کرتا بلکہ اس کو خدا کا فضل جانتا ہوں اور اسی وجہ سے میں جب کبھی بھی سیکھنے کی مجھے ضرورت ہوتی ہے کہتا ہوں کہ اے خدا! تُو اس بات کو جانتا ہے میں کسی علم کو اپنی طرف کبھی منسوب نہیں کرتا بلکہ اس کو محض تیرا فضل و احسان ہی خیال کرتا ہوں۔ باقی رہا غم کرنا یا آنسوؤں سے رونا یہ دعا میں تو جائز ہی ہے لیکن اس کے علاوہ بھی جائز ہے۔
حدیث میں آتا ہے جب رسول اللہ ﷺ کے چچا فوت ہوئے آپؐ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ آپؐ کو کہا گیا کہ اپنے چچا کو دیکھ لیں مگر آپؐ نے جواب دیا کہ میں ان کی اس حالت کو دیکھ نہیں سکتا ۱؎۔ یہ وہ شخص ہے جو ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہے۔ پھر حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد ایسے غمگین رہے کہ اس کے بعد بارہ سال تک آپؐ زندہ رہے اس عرصہ میں جب کبھی حضرت خدیجہؓ کا آپؐ ذکر فرماتے تو آپؐ کی آنکھوں میں آنسو آ جایا کرتے تھے۔ جب آپؐ اس کے کسی رشتہ دار کو دیکھ لیتے تو آپؐ پر رقت طاری ہو جاتی۔ اور جب ان کی سہیلیوں کو دیکھتے تو بھی آپؐ بے اختیار ہو جاتے۔ حتیٰ کہ آپؐ کی دوسری بیویوں میں رشک پیدا ہو جاتا۔ اور حضرت عائشہؓ فرماتیں کہ آپؐ اس بڑھیا کو یاد کر کے کیوں اتنا بیتاب ہو جاتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا تم نہیں جانتیں کہ اس نے کتنی خدمت اور فرمانبرداری میری مشکلات کے وقت میں کی ۲؎۔ پھر ایک دفعہ نبی کریم ﷺ اپنے نواسہ پر روئے تو ایک جاہل نے آپؐ کو کہہ دیا، رسول ہو کر پھر روتے ہیں تو حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے شقی القلب نہیں بنایا۔ تجھے اگر شقاوت حاصل ہے تو نہ رویا کر۔“
ایک دفعہ حضرت عائشہ سخت بیمار ہوئیں اور بیماری کی شدت کے باعث آہ آہ کرنے لگیں۔ تو آپ نے ایک رنگ میں ان کو ایسا کرنے سے منع فرمایا۔ لیکن حضرت عائشہ نے ذرا غصہ سے کہا کہ آپ کو کیا میں مر جاؤں گی تو آپ اور شادی کر لیں گے اس پر آپ نے فرمایا کہ اچھا اگر تم ایسا کہتی ہو تو میں ہی پہلے مروں گا۵؎۔ چنانچہ آپ کا اس وقت کا یہ کہا ہوا پورا ہو گیا اور آپ کی وفات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پہلے ہوئی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کا ہمیشہ غم رہا۔ پھر جب حضرت جعفر شہید ہوئے تو تقریر کرتے ہوئے آپ کی گالوں پر تار تار آنسو جاری تھے اور آپ نے فرمایا کہ جعفر شہید ہو گئے اور اب زید نے عَلَم اُٹھایا ہے۔ پھر فرمایا اب زید شہید ہو گئے اور یہاں تک کہ پھر سَیْفٌ مِّنْ سُیُوْفِ اللّٰهِ نے عَلَم اُٹھایا اور دشمنوں کو شکست ہو گئی۔ جب جنگ سے خبر آئی کہ فلاں فلاں شخص شہید ہوئے ہیں تو ان کے رشتہ دار اپنے گھروں میں روتے تھے تو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آہ! جعفر پر رونے والا بھی کوئی نہیں۔ بعض نادان عورتوں نے حکم سمجھ کر ان کے گھر میں جا کر پیٹنا شروع کر دیا ۔۶؎
حضرت حمزہؓ کی شہادت پر برابر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور تھمتے نہیں تھے۔ ان کی وفات کے سالہا سال بعد جب ان کا قاتل وحشی آپ کے سامنے آیا تو آپ نے فرمایا تُو بے شک مسلمان ہے اور میں تجھے معاف کرتا ہوں لیکن میرے سامنے نہ آیا کر۔۷؎ تجھے دیکھ نہیں سکتا۔ حالانکہ وحشی ہی وہ شخص تھا جو عین لشکرِ کفار کے قلب میں اس وقت گھس گیا جب کہ باقی فوج پیچھے ہٹ گئی تھی اور لوگ اس کو بھی پیچھے ہٹنے کے لئے کہہ رہے تھے لیکن اس نے کہا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا جب تک میں حضرت حمزہ کے قتل کے عوض میں کسی بڑے کافر سردار کو نہ قتل کروں گا اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ چنانچہ اس نے اس وقت مسیلمہ کو قتل کر دیا۔ یہ اس کے ایمان اور اخلاص کا حال تھا مگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تُو میرے سامنے نہ آیا کر میں تجھے نہیں دیکھ سکتا۔
اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حال سن لو۔ مولوی عبدالکریم صاحب بیمار ہوئے تو مولوی صاحب نے بار بار حضرت صاحب کی خدمت میں درخواست بھیجی کہ حضور مجھے اپنی زیارت کرا جائیں لیکن آپ نے فرمایا کہ میں مولوی صاحب کی تکلیف کو نہیں دیکھ سکتا۔ مجھے اس وقت خود دورہ شروع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے اس کمرہ کو بھی چھوڑ دیا جس میں مولوی صاحب کے کراہنے کی آواز آتی تھی پھر ان کی وفات کے بعد مغرب اور عشاء کی نماز میں آنا ہی چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہاں جب مولوی صاحب کو موجود نہیں پاتے تھے اور وہ یاد آ جاتے تو آپ کو سخت تکلیف ہوتی اور فرماتے کہ مجھے بیماری کا دورہ شروع ہو جاتا ہے۔
پس آنسوؤں سے رونا اور اظہار غم افسردگی اور اس کا اتنا لمبا اثر جو سالوں تک رہے یہ تو ثابت شدہ باتیں ہیں۔ انبیاء اور ان کے متبعین کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک غم ان کو ان وجودوں کے متعلق ہوتا ہے جن کے ساتھ ان کا صرف جسمانی تعلق ہو اور ایک غم ان کو ان وجودوں کے متعلق ہوتا ہے جو ان کے ممدو معاون ہوتے ہیں اور یہ غم بہت عرصہ تک جاری رہتا ہے اور ان کی یاد پر ہمیشہ ان کے آنسو بہتے اور ان پر رقت کی حالت طاری ہو جاتی ہے کیونکہ وہ احسان فراموش نہیں ہوتے۔
ہمارے سلسلہ میں سے ماسٹر عبدالحق فوت ہوئے ان کا ذکر کرتے وقت اب بھی مجھے رقت آ جاتی ہے حالانکہ ان کا ایک بیٹا بھی موجود ہے اور وہ ہنس ہنس کر ان کا ذکر کر لے گا لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ جیسا وہ کام کرتے تھے ایسا کام کرنے والا مجھے آج تک نہیں ملا۔ وہ زندگی وقف کر کے قادیان چلے آئے ہوئے تھے اور انگریزی میں ترجمہ کرنے کا کام اس تیزی سے کر سکتے تھے کہ میں اردو میں مضمون اتنی جلدی نہیں لکھ سکتا تھا۔ اب چودھری ظفر اللہ خان صاحب ان کے قریب قریب کام کر لیتے ہیں مگر نہ تو انہوں نے ابھی زندگی وقف کی ہے اور وہ باہر رہتے ہیں اور نہ اس قدر تیزی سے کام کر سکتے ہیں۔
اسی طرح مجھے اب امتہ الحی کی وفات پر جو افسوس اور صدمہ ہے اور میں اپنے فرائض میں سے سمجھتا ہوں کہ اسے قائم رکھوں اور یہ شقاوت ہو گی اگر میں یاد نہ رکھوں جیسا کہ نبی کریم ﷺ کی شہادت سے میں نے بتایا ہے۔
میرے نزدیک کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی جب تک کہ اس کی عورتوں میں تعلیم نہ ہو اور خصوصاً یورپ کے سفر میں میں نے معلوم کیا ہے کہ جب تک عورتیں مردوں کا ہاتھ نہ بٹائیں تب تک وہ قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ اگر ہماری عورتوں میں دینی تعلیم نہ ہو تو ہماری قوم خواہ کس قدر بھی ترقی کرے، میں اس ترقی پر فخر نہیں کر سکتا۔ میں نے ان سے جب شادی کی اس وقت میری نیت بطور احسان کے تھی کہ ان کے ذریعے سے بآسانی عورتوں میں تعلیم دے سکوں گا اس لئے میں نے ارادہ کیا کہ فوراً ان کو تعلیم دوں مگر وہ اس شوق میں مجھ سے بھی آگے بڑھی ہوئی
نکلیں۔ ابتداء میں کبھی سبقوں میں ناغے بھی کر دیتا تھا مگر وہ کہہ کرا اور زور دے کر اپنی تعلیم کو جاری رکھتی تھیں اور اس میں انہوں نے بہت ترقی کی۔
وہ قرآن شریف کا ترجمہ اچھی طرح پڑھا لیتی تھیں۔ بلوغ المرام پڑھاتی تھیں، اسی طرح اور دینی کتب لڑکیوں کو پڑھاتی تھیں۔ اور وفات سے چار پانچ روز ہی پہلے مجھ سے مشورہ کر رہی تھیں کہ لڑکیوں کو مشکوٰۃ پڑھانی ہے۔ جس کی قیمت اب بہت بڑھ گئی ہے لڑکیوں کو علیحدہ علیحدہ خریدنے کی استطاعت نہیں اب کیا کیا جائے۔
تو تعلیم کی یہ خواہش جو ان میں تھی وہ دیگر عورتوں میں نظر نہیں آتی۔ عام طور پر عورتوں میں یہ خواہش اس حد تک ہے کہ تہذیب نسواں پڑھ لیں، دینی تعلیم کا احساس نہیں ہماری جماعت میں اور بھی عورتیں تو ہیں جو علم رکھتی ہیں اور بعض باتوں میں امتۃ الحی سے بھی زیادہ علم رکھنے والی ہیں لیکن دین کے معاملہ میں خاص طور پر تعلیم دینی ان میں نہیں پائی جاتی۔ میر محمد اسحاق صاحب کی بیوی بے شک تعلیم کی بہت شائق ہیں لیکن ان کے اندر وہ جنون نہیں جو امتہ الحی کے اندر تھا۔ پھر ان کا وہ اثر بھی نہیں ہو سکتا جو خلیفہ کی بیوی کا ہو سکتا ہے اور وہ میرے خیالات کی ترجمانی بھی نہیں کر سکتیں۔ اس کے بعد حافظ روشن علی صاحب کی بیوی ہیں۔ میری بڑی بیوی بھی پڑھائی میں تو امتۃ الحی کے برابر ہیں لیکن بعض روکوں کی وجہ سے کچھ بچوں کی کثرت اور ان کی تربیت میں مشغول رہنے کی وجہ سے ان کو وسیع مطالعہ کرنے کا موقع نہیں ملا۔
اور اب میری عمر بھی اس قابل نہیں کہ اور شادی کروں اور دس سال تک اس کو تعلیم دوں اور تربیت کروں اس لئے عورتوں کے متعلق مجھے نہایت تاریک پہلو نظر آتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کوئی سامان پیدا کر دے گا مگر اس کے لئے جس دعا کی ضرورت ہے وہ ایک درد اور تڑپ کو چاہتی ہے۔ پس میں نے اپنے غم و درد کا اظہار کسی کے سامنے نہیں کیا۔ ہاں خدا تعالیٰ کے حضور اس قدر غم و درد کا اظہار کیا ہے جس سے میں یقین کرتا ہوں کہ میری دعائیں عرش کو اس طرح ہلائیں گی جس طرح دردمند شخص کی دعائیں ہلایا کرتی ہیں۔
مجھے جو افسوس اور غم ہوا ہے وہ اس واسطے ہوا کہ مجھے نظر آتا ہے کہ عورتوں میں جو میں نے تعلیم کے متعلق سکیم سوچی تھی وہ تمام درہم برہم ہو گئی۔ یورپ کے سفر میں خاص سکیم تعلیم کی تیار کی تھی اور میں نے ارادہ کیا ہوا تھا کہ واپس جا کر اس سکیم کو جاری کروں گا لیکن انسانوں میں سب سے زیادہ جس ہستی سے مجھے امید تھی کہ وہ اس سکیم کو چلانے میں میری مددگار ہوگی وہ وفات پا گئی ہے تو اب اس کے بعد اس تمام سکیم کے بدل جانے کی وجہ سے مجھے بہت غم تھا۔ درحقیقت انسانوں میں سب سے زیادہ ہستی جس پر مجھے اس تعلیمی سکیم کے متعلق بڑی امیدیں تھیں وہ امتہ الحی تھی اب میری وہ سکیم اس واقعہ کے بعد بدل گئی اور نئے فکر کی اس کے لئے ضرورت پڑی۔
کوئی کام بغیر آلات کے نہیں ہو سکتا۔ روشنی دیکھنے کا کس قدر بھی شوق ہو لیکن اگر آنکھیں نہ ہوں تو یہ شوق پورا نہیں ہو سکتا۔ چلنے کا کتنا شوق ہو لیکن وہ شوق بغیر ٹانگوں کے پورا نہیں ہو سکتا۔ پس جب تک ہتھیار نہ ہوں تب تک کوئی کام نہیں ہو سکتا۔
اور میرے اپنے خیال اور ارادہ میں جس ہستی کے اوپر میرا ہاتھ تھا اور جس پر مجھے بڑی امیدیں تھیں وہ ہستی مجھ سے جدا ہو گئی اس وجہ سے مجھے غم ہے۔ ورنہ ایسے انسان کی موت پر بھلا کیا غم ہو سکتا ہے جس کے لئے اس قدر دعاؤں کا موقع ملا اور جس کے لئے آخری حد تک جو تیمارداری ممکن تھی اور میری برداشت کے اندر تھی وہ کی اور اپنی محبت کے اظہار کے لئے دل پر پتھر رکھ کر وہ کام کئے جو دوسروں کے لئے کرنے ناممکن ہیں۔ میں نے بھی اس کے لئے دعائیں کیں اور جماعت نے بھی دعائیں کیں۔ پھر ایک بہت بڑی جماعت نے جنازہ پڑھا اور باہر کی جماعتیں بھی جنازہ پڑھیں گی۔ پھر مقبرہ بہشتی میں مدفون ہوئیں بھلا اتنی خوش نصیبی کس کو نصیب ہے۔
میری ہمشیرہ مبارکہ بیگم نے کہا کہ امتہ الحی تو بڑی ہی خوش نصیب نکلیں ، جس کے لئے اتنی دعائیں ہوئیں اور اتنے بڑے مجمع نے نماز جنازہ ادا کی۔ پس اس کی موت پر کیسا غم اور کیسا رونا۔
ہاں ایک رونا اپنی طبیعت کے لحاظ سے بھی ہوتا ہے۔ جو طبیعت مدت تک ایک انسان کے ساتھ رہنے کی عادی ہو چکی ہوتی ہے تو اس عادت کے خلاف ہونے پر ضرور رونا آتا ہے جو ایک طبعی امر ہے ، لیکن وہ حُزن کس طرح ہو سکتا ہے۔
حُزن تو گذشتہ چیز پر ہوتا ہے اور میں اگلی چیز کا خیال کرتا ہوں جو آئندہ آنے والی ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ مستورات کی تعلیم اور پھر دینی تعلیم میرے ذمہ ہے اور کامیابی کے لئے یہ نہایت ضروری ہے۔ اور یہ کون انسان برداشت کر سکتا ہے کہ وہ پوری محنت کرے اور پھر وہ ناکام رہے۔
میرے غم کی مشابہت حضرت یعقوبؑ کے غم سے ہو سکتی ہے۔ میرا واقعہ بھی حضرت یعقوبؑ کی طرح ہے۔ مجھے بھی لوگوں نے کہا کہ یہ تو اس غم میں مر جائے گا جس طرح کہ حضرت یعقوب کو
ان کے بیٹوں نے کہا کہ یہ بوڑھا اب اس غم میں ہلاک ہو جائے گا حالانکہ حضرت یعقوبؑ کو حضرت یوسف کی موت کا فکر اور اندیشہ نہیں تھا کیونکہ ان کو خدا تعالیٰ نے بتایا ہوا تھا کہ یوسف ان کو مل جائے گا لیکن ان کے نادان بیٹے نہیں جانتے تھے اور حضرت یعقوبؑ نے بھی ان کو کسی مصلحت کی وجہ سے نہیں بتایا تھا۔ مگر حضرت یعقوبؑ غم کرتے تھے اور یا یٰۤاَسَفٰی عَلٰی یُوۡسُفَ(12:85) کہتے تھے۔ تو وہ یوسف پر افسوس نہیں کرتے تھے بلکہ وہ تو ان بیٹوں کے لئے غم کرتے اور روتے تھے تاکہ یوسف ان کا بھائی جلد مل جاوے اور ان کو معاف کرے اور وہ خدا کی نظر میں منظور ہوں۔ مگر وہ نادان یہی کہتے تھے کہ یہ بڑھا تو بس غم میں مر ہی جائے گا۔ حضرت یعقوب کے متعلق اللہ تعالیٰ وَّہُوَ کَظِیۡمٌ(16:59) کا لفظ فرماتا ہے اور کَظِیْمٌ اس شخص کو کہتے ہیں جس پر غم کی وجہ سے اس قدر رقت غالب ہو کہ اس کی وجہ سے وہ کلام نہ کر سکے۔ تم میں سے بھی بعض لوگوں نے مجھے یہی کہا اور سمجھ لیا کہ بس اب تو یہ اپنی بیوی کے غم میں ہلاک ہو جائے گا۔ ان نادانوں کو یہ علم نہیں کہ میرے پانچ بچے فوت ہو چکے ہیں ان میں سے ایک پر میں نے صرف ایک آنسو بہایا تھا اس لئے کہ تا میں شقی القلب نہ ٹھہروں اور اس لئے کہ رسول اللہ بھی اپنے بچے کی وفات پر روئے تھے لیکن اس وقت جو مجھ کو افسوس ہوا ہے وہ اس لئے ہے کہ جو سکیم میں نے تیار کی تھی وہ اس طرح درہم برہم ہو گئی۔
یہ حُزن نہیں تھا بلکہ آئندہ کے لئے غم تھا۔ اس ایک بچہ کی وفات پر جو میں نے ایک آنسو بہایا تھا اس کا واقعہ اس طرح ہے کہ جب میں بمبئی صحت کے لئے گیا تو وہاں میری لڑکی بیمار ہو گئی اس کی بیماری کی حالت میں میں ایک دن کے لئے کہیں باہر گیا۔ میری عدم موجودگی میں مجھے وہ اس قدر یاد کرتی کہ ابا ابا کہہ کر مجھے پکارتی۔ اس کی نزع کی حالت تھی اس وقت میں گھر واپس آیا تو دیکھا کہ وہ تڑپتی اور کہتی تھی۔ کیا میرے ابا آ گئے اور گھر والوں نے بتایا کہ وہ آپ کے پیچھے آپ کو بہت یاد کرتی اور پکارتی رہی ہے۔ ان حالات کا طبعی اثر میرے قلب پر ہوا اور میں نے آنحضرت ﷺ کی سنت پر ایک آنسو بہا دیا۔
بچوں کی وفات پر گو میں طبعی اثر سے خالی نہ تھا۔ خدا نے مجھے شقی القلب نہیں بنایا ہے لیکن ایسا اثر نہیں ہوا کیونکہ مجھے کوئی یقینی علم نہیں تھا کہ یہ دین کے لحاظ سے کیسے ہوں گا لیکن یہاں تو ایک وجود کو دس سال تک تربیت کر کے تیار کیا اور اس پر بڑی امیدیں تھیں ایسا وجود ہمارے ہاتھ سے جاتا رہا جس سے مستورات کی تعلیم و تربیت میں بہت بڑی مدد کی توقع تھی۔ لوگوں کی تو
ایسے موقع پر عجیب حالت ہوتی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ ایک شخص کے ہاں یہاں مُردہ بچہ پیدا ہوا۔ اس شخص کی بیوی کو صرف خیال تھا کہ وہ زندہ پیدا ہوا ہے حالانکہ دایہ کہتی تھی کہ پیدا ہی مُردہ ہوا ہے لیکن وہ دونوں میاں بیوی اس بچے کی قبر پر چھ ماہ تک جاتے رہے مگر میں نے اپنے پانچ بچوں پر باوجو د طبعی اثرات کے بھی محسوس نہیں کیا۔
اس میں شک نہیں کہ بعض اوقات میں رویا ہوں اور شدید رویا ہوں مثلاً حضرت مولوی عبدالکریم کی وفات پر اور حضرت خلیفہ اول کی وفات پر۔ صرف اس لئے کہ وہ سلسلہ کے لئے بطور ستون تھے اور ان پر رونا مُردوں پر رونا نہیں تھا بلکہ درحقیقت وہ زندوں پر رونا تھا جو ان فوائد سے محروم ہو گئے تھے جو ان وجودوں سے پہنچ رہے تھے۔ اسی طرح میں امتہ الحی پر بھی ضرور رویا لیکن پچھلوں کے لئے جن کے متعلق میرا خیال تھا کہ ان کے سر پر سے ایک مفید وجود اٹھ گیا۔
اس کی وفات کے متعلق تو مجھے پہلے سے ہی اطلاع ہو گئی تھی۔ تین سال ہوئے کہ میں نے خواب دیکھا کہ وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے میرے پاس آئی ہے اور اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہہ کر کہنے لگی ”میں جاتی ہوں“۔ اور اس کے بعد جلدی جلدی گھر سے نکل گئی۔ میں نے میر محمد اسماعیل صاحب کو اس کے پیچھے روانہ کیا تو انہوں نے واپس آ کر بتایا کہ وہ بہشتی مقبرہ کی طرف چلی گئی ہیں۔ اسی طرح سفر میں واپسی کے وقت جہاز میں رؤیا دیکھی کہ سمندر کی طرف سے ایک عورت کی نہایت دردناک چیخوں کی آواز آ رہی ہے۔ میں نے اس کو وہاں جہاز میں حافظ روشن علی صاحب اور دوسرے دوستوں کے سامنے بیان کیا اور یہ واقعہ قریباً بیداری کا تھا۔ اسی طرح وفات سے دو دن پہلے دیکھا کہ حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول تشریف لائے ہیں اور میرے پاس چارپائی پر بیٹھ گئے ہیں۔ ان کا رنگ بالکل زرد ہے۔ آپ نے میرے پاؤں کی جراب کو پکڑا اور فرمایا یہ جراب تو بالکل بوسیدہ ہو گئی ہے۔ پھر اس میں سے ایک دھاگا نکالا اور اسے ذرا کھینچا تو وہ بالکل ٹوٹ گیا اور کچھ روئی سی نکل آئی اور فرمانے لگے یہ تو بالکل ہی بوسیدہ ہے۔ دیکھو اس کے تو دھاگے بھی اب بوسیدہ ہو گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس کا یہاں علاج نہیں۔ ولایت میں تو اس کا علاج ہو سکتا ہے۔ اس سے بھی میں نے یہی نتیجہ نکالا کہ وفات کے دن اب بالکل قریب معلوم ہوتے ہیں۔ مولوی صاحب پر بھی اس واقعہ کا اثر ہوا ہو گا۔ جو ان کے زرد رنگ سے معلوم ہوتا ہے۔ جراب سے مراد بیوی ہی تھی جو اس حد تک کمزور ہو گئی تھی کہ اب وہ بچ نہیں سکتی تھی۔ ہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ولایت میں ایسی امراض کا علاج ہو سکتا ہو گا۔ یا شاید اس کا کوئی اور مفہوم
پھر مبارکہ بیگم نے بتلایا کہ ایک دفعہ میرے آنے سے پہلے اوپر کھڑے ہو کر امتہ الحی نے ایک مصرعہ کہا۔ جس کا مفہوم غالباً یہ تھا ؎
اے بلبل بوستان تُو خاموش کیوں ہے
اور مجھ سے کہا کہ میں جب فوت ہو جاؤں گی تو آپ اس پر مصرعے لگانا۔ مبارکہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا کہ نہیں میں آپ سے پہلے فوت ہوں گی۔ میری وفات پر آپ نے اس پر مصرعے جوڑنے ہوں گے۔ تو امتہ الحی نے کہا نہیں۔ میں آپ سے ناراض ہو جاؤں گی اگر آپ نے پھر ایسا کہا۔ میں پہلے وفات پاؤں گی میری وفات پر اس مصرعہ پر ضرور مصرعے لگانے ہوں گے۔ پھر دیکھو میں آخری حالتوں میں بھی بے صبرا اور مایوس نہیں ہوا۔ امتہ الحی جب اپنی مرض الموت میں کرب کی وجہ سے کہتیں کہ دعا کرو کہ مجھ کو آسانی کے ساتھ موت آجاوے تو میں سختی سے کہتا کہ یہ ایمان کے خلاف ہے کہ میں اس حالت کو نزع کی حالت قرار دے کر خدا تعالیٰ سے مایوس ہو کر یہ دعا کروں کہ تجھ پر موت آئے اور یہ گھڑیاں اس صورت میں آسان ہوں بلکہ میں نزع کے وقت بھی یہ دعا کرتا تھا کہ خدا ان کے کرب کو دور کر دے۔ بھلا اتنا تو سوچو کہ میں اگر بے صبرا ہوتا تو اتنی باتوں کے ہوتے ہوئے اور اس علم کے باوجود جو مجھے دیا گیا تھا کیوں سفر اختیار کیا۔
مجھ کو یہ علم بھی تھا کہ میری ایک بیوی میرے پیچھے فوت ہو جائے گی مگر میں نے سفر کو ملتوی نہیں کیا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ اس نے میرے آنے تک اس واقعہ کو مہلت دے دی ورنہ میں تو یہاں سے ہی اعلان کر کے گیا تھا کہ میرے اس سفر میں بہت سے ابتلاء مقدر رہیں جن سے مجھے اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی ہوئی ہے لیکن میں وہ ظاہر نہیں کرتا۔ مجھے یہاں سے چلتے وقت بھی علم تھا کہ میری دو بیویوں میں سے ایک مر جائے گی۔ باوجود اس علم کے پھر بھی میں نے اسلام کی خاطر یہ لمبا سفر اختیار کیا۔ اگر بے صبرا ہوتا تو آپ بیٹھ جاتا اور کہتا کہ جاؤ مضمون پڑھ دو۔ اگر علم ہوتے ہوئے اور احساس رکھتے ہوئے کہ دو میں سے ایک کی موت مقدّر ہے اور میں جانتا تھا کہ منذر رؤیا اگر بیان کر دی جاوے تو واقعہ ہو جاتی ہے میں نے اسلام کے لئے اس سفر کو ملتوی نہیں کیا۔ تو کیا اب وفات پر مجھے اس رنگ کا صدمہ ہو سکتا تھا جو ایک دنیا دار کو ہوتا ہے۔ کتنے لوگ ہیں کہ اگر وہ شقی القلب نہ ہوں اور میرے جیسے ان کے احساسات ہوں اور ان کو وہ علم ہو جو مجھے علم تھا
پھر ان کو اسلام کے لئے کہا جاوے کہ فلاں جگہ سفر کو جاؤ تو وہ سفر اختیار کریں گے۔ اور میں کہہ سکتا ہوں کہ تم میں سے ایک بھی نہیں جو ایسی حالت میں ایسا سفر اختیار کرے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ ایک مرتبہ حضرت خلیفہ اول نے مجھے ایک جگہ جانے کا حکم دیا اس وقت ناصر احمد کو نمونیہ تھا اور ڈاکٹر کہتے تھے کہ وہ چند گھنٹوں کا مہمان ہے لیکن میں نے حضرت خلیفہ اول سے اس کی بیماری کا ذکر تک بھی نہ کیا تاکہ کسی عُذر کا موجب نہ سمجھا جاوے اور میں خدا تعالیٰ پر بھروسہ کر کے سلسلہ کی ضرورت کے لئے حکم پا کر سفر پر چلا گیا۔
تمہاری اور میری مثال تو اس شخص کی سی ہے جو کہ کسی کے گھر میں اپنا مال رکھے۔ جب لینے جاوے تو وہ گھرو الا شور مچاوے۔ چور ہے۔ چور ہے۔ اسی طرح میں نے اس وقت جو درد محسوس کیا اور جس افسوس کا اظہار کیا وہ میرا افسوس اور درد مُردوں کے لئے نہیں بلکہ زندوں پر ہے۔ مجھے تمہاری ترقی کی فکر ہے اور اس کے لئے جو ایک ذریعہ ہو سکتا تھا وہ جاتا رہا اس پر بھی تمہاری یہ حالت ہے کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ اور تم یہ سمجھتے ہو کہ میں مرنے والی پر رویا ہوں اور تم مجھے صبر کی تعلیم دیتے ہو۔ میں سچ کہتا ہوں تمہیں صبر کے معنے ہی معلوم نہیں تم یہ بھی نہیں جانتے کہ صبر کیا چیز ہے۔ ایک چیز موجود ہو پھر انسان اپنے جذبات کو قابو میں رکھے تب صبر کہلائے گا۔ دل میں جرأت ہو، ہاتھ میں طاقت ہو، پھر تھپڑ کھا کر چپ رہے تو وہ صبر اور عفو کہلائے گا نہ یہ کہ مقابلہ کی طاقت ہی نہیں اور کہہ دے کہ میں نے بڑا صبر دکھایا ہے۔
اب سنو کل کا خطبہ اس کے پہلے حصہ میں ایک سیکنڈ کے لئے بھی مجھے وفات کا خیال نہیں آیا۔ صرف ایک مثال پر آیا وہ بھی ایک سیکنڈ کے لئے آیا تھا اور اس وقت مجھے بے شک رونا آیا لیکن وہ رونا ان مُردوں کے لئے نہیں تھا جو قبروں میں پڑے ہیں بلکہ وہ ان مُردوں کے لئے تھا جو میرے سامنے بیٹھے تھے۔ میرے آنسو یورپ کے مُردوں پر تھے جن کے لئے میں سمجھتا تھا کہ مرحومہ میری سکیم میں مددگار ہو گی۔ ایک بزرگ کا قصّہ ہے کہ وہ جب کبھی قبرستان میں گذرتے تو منہ پر کپڑا ڈال دیتے۔ اور جب بازاروں میں سے گذرتے تو ایسا نہ کرتے۔ ایک شخص نے ان کی یہ حالت دیکھ کر کہا کہ یہ کیا اُلٹی بات آپ کرتے ہیں۔ تو اس بزرگ نے کہا کہ تجھے وہاں زندے نظر آتے ہیں یہاں قبرستان میں مُردے نظر آتے ہیں مجھے وہاں مُردے نظر آتے ہیں اور یہاں زندہ نظر آتے ہیں۔ پس میں جو روتا تھا تو وہ ان زندوں کے لئے نہیں روتا تھا جو قبروں میں ہیں بلکہ تم مُردوں کے لئے روتا جو دنیا میں میرے سامنے ہو۔ تمہیں معلوم ہی نہیں کہ مُردہ کون ہے اور
زندہ کون ہے تم مُردہ اس کو سمجھتے ہو جو دنیا میں کھاتا پیتا چلتا پھرتا نہ ہو اور زندہ اس کو سمجھتے ہو جو چلتا پھرتا ہو اور خوب کھاتا پیتا ہو حالانکہ مُردہ وہ ہے جو کھاتا پیتا اور چلتا پھرتا ہو لیکن اس کے دل میں خدا کی یاد نہیں۔ ایک انسان جس کی روحانیت اور اخلاق بگڑے ہوئے ہیں جس کے اندر ایمان نہیں وہ مُردہ ہے اور جس کے اندر یہ باتیں ہوں وہ ہمیشہ زندہ ہے۔ تمہارا چلنا پھرنا اور کھانا پینا یہ کوئی زندگی نہیں۔ زندگی تو احساس کو کہتے ہیں کیا انجن کو کوئی زندہ کہہ سکتا ہے ، مشینوں کو زندہ کہتا ہے ، حالانکہ وہ بھی تو چلتے ہیں۔ انہیں اس لئے زندہ نہیں کہتے کہ ان میں احساس نہیں۔ زندگی احساس کا نام ہے اگر تمہارے اندر احساس ہے تو تم اگر کروڑوں من مٹی کے ڈھیروں کے نیچے بھی ہو گے تو بھی زندہ ہی رہو گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر بھی وہ احساس ہی کام کرتا تھا اور اس احساس کی وجہ سے آپ ہمیشہ زندہ ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ سے اس طرح رونے کی آواز آتی تھی جس طرح ہنڈیا کے اُبلنے کی آواز آتی ہے۔۸؎اس زمانہ میں تو جذبات کا اظہار کر لیا کرتے تھے لیکن آج اس قسم کا زمانہ ہے کہ ہمیں اپنے جذبات کو دبانا پڑتا ہے۔ نماز میں رِقّت آتی ہے تو اسے دبا جاتے ہیں۔
پس میرے دل پر صدمہ ہے کہ تم میں ابھی تربیت کے آثار نظر نہیں آتے جب تک مجھے یہ تسلی نہ مل جائے کہ بوجھ اٹھانے والے اور سنبھالنے والے لوگ موجود ہیں۔
بعض لوگوں کو میرے متعلق خوابیں آئی ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ میری بیوی کے متعلق ہوں کیونکہ بیوی بھی مرد کا ایک حصہ ہوتی ہے۔ پس میرے غم اور میرے رونے کی وجہ تمہاری حالت ہے۔ تمہاری حالت کو دیکھ کر مجھ پر جنون کی حالت طاری ہوتی ہے کہ تمہارے اندر ابھی وہ قوت و طاقت نہیں کہ جس کے ساتھ تم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکو۔ تم میں وہ وجود نظر نہیں آتے کہ دوسروں کے لئے اپنے دل میں درد پیدا کر سکیں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ تمہارے اندر رِقّت پیدا کرے ، قربانی کا جوش پیدا کرے ، باہم محبت پیدا کرے۔ پس اپنے اندر اخلاص ، محبت ، دین کے لئے قربانی اور خدا سے محبت اور اس کی خشیت پیدا کرو۔
دوسری وجہ میرے غم کی یہ ہے کہ میں اب آئندہ کے متعلق بھی خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔ رسول کریم ﷺ بجلی چمکنے پر بہت گھبرائے پھرتے تو ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ بجلی چمکنے پر آپ کیوں گھبراتے ہیں۔ اس نے سمجھا کہ بچے ہی بجلی سے ڈرا کرتے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ مجھے
ڈر آتا ہے کہ کہیں یہ عذاب کا نشان نہ ہو اور قوم پر عذاب نہ آجائے۔‘۔
اب ان تین ماہ کے اندر ہمارے خاندان سے چار آدمی فوت ہو گئے ہیں۔ یہ موتیں کبھی رحمت کا موجب ہوتی ہیں اور کبھی عذاب کا موجب ہوتی ہیں۔ مجھے کیا علم ہے یہ کس بات کا باعث ہے۔
پس میری تو یہ حالت ہے کہ میں ہوا کا رخ دیکھتا ہوں اور تم آندھیوں میں اڑتے پھرتے ہو اور تمہیں احساس تک نہیں۔ تمہاری مثال اس شخص کی ہے جو کہ ہاتھی کے پاؤں کے نیچے آجائے یا کسی مکان کے نیچے آجاوے، بدن چور چور ہو، مرنے کے قریب ہو، مگر اس پر بھی یہ کہے کہ کون گر گیا ہے یا کون دب گیا ہے۔
پس تمہیں تو رگر کر بھی حِسّ نہیں ہوتی اور میرے دل میں خوف پیدا ہوتا ہے اور میں خدا سے ڈرنے پر فخر کرتا ہوں۔ میں کسی انسان سے نہیں ڈرتا۔ میں خدا کے افعال کو اس کے اشاروں سے تاڑتا ہوں اور تم اس کے افعال سے بھی کچھ نہیں سمجھتے۔ دیکھو جب حضرت صاحب کو اپنی وفات کے متعلق خدا کی طرف سے علم دیا گیا تو آپ کرب کی وجہ سے گھنٹوں ٹہلا کرتے۔ اور اسی وقت بچوں تک کو استخارہ اور دعاؤں کے لئے کہتے۔ مجھے بار بار بلا کر کہتے کہ محمود! متواتر الہام وفات کے ہو رہے ہیں۔ یہی حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا تھا جب سورۃ اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ وَالۡفَتۡحُ(110:2) نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر کی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں لوگوں نے کہا کہ بڈھے کو کیا ہو گیا یہ تو انعام ہوا ہے۔ حضرت ابوبکر نے کہا تم نہیں جانتے یہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جدا ہونے کی خبر ہے، انعام نہیں۔ پس جب تک تم چھوٹے چھوٹے اشاروں سے نہ سمجھو انعام الٰہی کو سمجھ نہیں سکتے۔ اسی طرح نبی کریمؐ کا حال تھا۔ پس کیا حضرت صاحب تمہاری شکلوں کو دیکھنے کے لئے دنیا میں اور زندہ رہنا چاہتے تھے اور گھبراتے تھے کہ یہ صورتیں میری نظروں سے غائب ہو جائیں گی۔ کیا تم انہیں خدا سے زیادہ محبوب تھے۔ تم بھی کبھی خدا کے قرب اور تقویٰ میں ترقی نہیں کر سکتے جب تک تم چھوٹی چھوٹی باتوں سے اپنے اندر خشیت پیدا نہ کرو اور پھر اس کے ساتھ ہمت نہ ہو۔ میں اپنے گھر میں عزیزوں کو بھی کئی دنوں سے یہی کہہ رہا ہوں کہ وہ سب ان دنوں میں استخارے اور دعائیں کریں تا خدا تعالیٰ ان پر ظاہر فرمادے کہ یہ واقعات کیا نتیجہ پیدا کرنے والے ہیں اور ساتھ ہی وہ ہمت کو نہ چھوڑ بیٹھیں اور مایوس نہ ہوں خوف اور رجا کے اندر اپنے ایمان رکھیں۔ پس یہ وجہ تھی اس درد و غم کی۔ اور میرے اندر تو ان دنوں تمہارے لئے دعاؤں کے
واسطے ایک جوش تھا اور میرا دل پگھلا ہوا تھا۔ اس درد اور غم میں میں تمہارے لئے دعاؤں میں لگا ہوا تھا لیکن تمہاری حالت نے میرے دل میں قبض پیدا کر دی ہے۔
میرے اندر اس درجہ گداز کی حالت تھی کہ ممکن تھا اور میں چاہتا تھا کہ کچھ دن اسی گداز میں گذر جاتے تاکہ میں تمہارے لئے ایسی دعائیں کرتا جو عرش پر پہنچتیں اور اسے ہلا دیتیں۔ آنحضرت اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْهِ کو لیلۃ القدر کا علم دیا گیا تھا اور آپ چاہتے تھے کہ اس سے لوگوں کو واقف کریں گے مگر دو آدمیوں کی لڑائی نے اس علم کو اٹھا لیا۔ لیکن بعض نادانوں کی حالت نے میرے دل میں قبض پیدا کر کے جماعت کو بھی ان دعاؤں سے محروم کر دیا ہے۔ مجھے آتی دفعہ ماسٹر عبد الرحمٰن نے ایک رقعہ دیا ہے اور میں اس کو پڑھ کر خوش ہو گیا کہ انہوں نے میرے خطبہ کے مفہوم کو سمجھ لیا ہے۔
(الفضل ۳۔ جنوری ۱۹۲۵ء)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
(فرمودہ ۲۸۔دسمبر ۱۹۲۴ء بموقع جلسہ سالانہ)
حضور نے تشہد و تعوذ کے بعد سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی اور فرمایا۔ میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہماری ہدایت کے لئے مسیح موعود کو بھیجا اور ہمیں اس کے قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ(62:5)۱؎ پھر میں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہماری جماعت کے دلوں میں اس بات کا جوش اور تڑپ رکھ دی ہے کہ وہ اس پیغام کو پہنچائیں۔ اس زمانہ میں مسلمانوں کی جو حالت ہے اور جس حالت میں وہ مبتلاء ہو رہے ہیں اس کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ بہت بڑا معجزہ ہے کہ آپ کے طفیل عورتوں تک میں بھی یہ خواہش موجود ہے کہ اولاد ایسی ہو جو خادم دین ہو۔ وہ عورتیں جو پہلے اپنے وقت کو لڑائی جھگڑوں یا غیبت میں گنواتی تھیں اب حضرت مسیح موعود کو قبول کر کے دین کی خدمت میں صرف کرتی ہیں۔ تاہم میں اس امر کے اظہار سے رُک نہیں سکتا کہ جہاں ہماری جماعت کے مردوں کے لئے دینی ترقی کے راستے طے کرنے باقی ہیں وہاں ہماری جماعت کی عورتوں کے لئے بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے بلکہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مردوں کی نسبت عورتوں میں ابھی دینی ترقی کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ دینی اور دنیاوی حالت اور چیز ہے اور کام کرنے کی قابلیت اور چیز ہے۔ ایک ہیں کہ انہیں دل میں بہت جوش ہے مگر اس کے لئے سامان نہیں۔ یا تو سامان ہیں مگر طرزِ استعمال نہیں۔ مثلاً ایک آدمی بیمار ہے اور وہ چاہتا ہے کہ میں اچھا ہو جاؤں اور کونسا بیمار ہے جو یہ نہ چاہتا ہو کہ مجھے صحت حاصل ہو جائے مگر وہ جنگل میں جہاں کوئی معالج یا ڈاکٹر نہیں مل سکتا یا اگر حسن اتفاق۔سے مل
تو سکتا ہے لیکن اس کے پاس ڈاکٹر کو دینے کے لئے فیس نہ ہو۔ یا اگر فیس ہو بھی تو دوائی نہیں تو محض اچھا ہونے کی خواہش اور جوش سے وہ تندرست نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح بعض دفعہ انسان کے دل میں جوش تو ہوتا ہے لیکن اس کو سامان میسر نہیں آتے۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جوش بھی ہوتا ہے اور سامان بھی میسر آجاتے ہیں مگر ان سامانوں سے کام لینا نہیں آتا تو وہ جوش اور وہ سامان کسی کام نہیں آتے۔ تو ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے دل میں تڑپ ہو اور جوش ہو پھر سامان ہوں اور ان سامانوں کے استعمال کا علم ہو۔ یہی حالت ہماری عورتوں کی ہے۔
میں دیکھتا ہوں کہ ان کے دل میں دین کی تعلیم اور اسلام کے حاصل کرنے کی خواہش ہے۔ لیکن جب تک اس کے پورا کرنے کے سامان میسّر نہ ہوں تو کتنا ہی شوق اور جوش ہو کہ خدا کی راہ میں کام کریں لیکن اگر سامان ہی نہ ہوں نہ ان کے استعمال کا طریقہ آتا ہو تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ عورتیں جماعت کا ایک ایسا حصہ ہیں کہ جب تک ان کی تعلیم و تربیت اس طرح نہ ہو بلکہ مردوں سے زیادہ نہ ہو میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت کی ترقی اور تربیت میں بڑی سخت روک رہے گی۔ ان کی مثال اس ہیرے والے کی ہو گی جو ہیرا رکھتا ہو مگر اس کے استعمال سے بے خبر ہو۔ وہ اسے ایک گولی سمجھ کر پھینک دیتا ہے۔
مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں بمبئی گیا ان دنوں وہاں ایک شخص پر مقدمہ چل رہا تھا کہ اس نے چوری کے ہیرے خریدے ہیں۔ بات یہ تھی کہ ایک جوہری جا رہا تھا جاتے ہوئے اس کے ہیروں کی پڑیا گر گئی جو ایک لڑکے کے ہاتھ آئی۔ پندرہ سولہ ہیرے تھے اس نے سمجھا کہ شیشہ کی گولیاں ہیں حالانکہ وہ کئی لاکھ کے ہیرے تھے۔ ایک شخص نے دیکھا کہ ہیرے ہیں اس نے پیسہ کے چار چار خرید لئے۔ ان بچوں کو معلوم نہ تھا کہ کیا چیز ہے اور ان کا استعمال کیا ہے۔ اسی طرح ہمارے ہاتھ میں کیسی ہی قیمتی چیز ہو اگر ہمیں علم نہیں یا اس کا استعمال نہیں جانتے تو اس کی گویا کچھ بھی قیمت نہ ہو گی۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری عورتوں کے دل میں جوش ہے، ان کو خدا سے ملنے کی تڑپ ہے، خدا کی راہ میں کام کرنے کے لئے بے قرار ہیں مگر ہم ان کے لئے اب تک کوئی سامان نہیں کر سکے۔
یورپ میں میں نے دیکھا ہے کہ عورتیں مقابلہ علم کے لحاظ سے یہاں کی عورتوں سے جانور اور آدمی کا مقابلہ ہے۔ وہاں ہر ایک عورت تعلیم یافتہ ہے۔ کوئی عورت ایسی نہ ہو گی جو تعلیم یافتہ نہ ہو۔ اور کوئی عورت اس قسم کی نہیں مل سکتی جو اس بات کو سمجھتی نہ ہو کہ تعلیم کی کیا قدر ہوتی ہے اور اس کی قوم کو کس طرح فائدہ اٹھانا چاہئے۔ وہاں میں نے دیکھا ہے کہ عورتیں مردوں کی طرح میدانِ عمل میں نکلتی ہیں۔ وہ ویسی ہی تقریریں کرتی ہیں جیسی مرد تقریر کرتے ہیں۔ وہ اسی طرح مختلف قسم کی سوسائٹیوں میں شریک ہوتی ہیں جیسے مرد ان کے ممبر ہوتے ہیں۔ اور وہ تمام معاملات میں مردوں کی طرح اس سوسائٹی میں دخل دیتی ہیں۔ ملکی معاملات اور حکومت کے کام میں بھی اسی طرح دخیل ہیں جس طرح مرد۔ پارلیمنٹ کی ممبر بنتی ہیں۔ مردوں کی طرح معقولیت سے پارلیمنٹ کے کاموں میں حصہ لیتی ہیں۔ یورپ میں کوئی میدان نہیں جہاں مرد جاویں اور عورتیں نہ جاویں۔ وہاں عورتیں مردوں سے لڑتی ہیں کہ ہمیں کیوں کام پر نہیں جانے دیتے اور مطالبہ کرتی ہیں اور اپنے مطالبات میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ انسانیت کے لحاظ سے مرد و عورت دونوں برابر ہیں۔ خدا نے جیسی دو آنکھیں دو کان زبان ناک وغیرہ اعضاء برابر بنائے ۔ دل دونوں میں ہے ہاتھ پاؤں دونوں کے ہیں اپنے علم کے مطابق جو مرد کر سکتا ہے عورت بھی کر سکتی ہے۔ بے شک بعض کام ہیں جو عورتیں نہیں کر سکتیں جیسے جنگ کا کام۔ مگر پھر بھی بہت سی عورتیں ملتی ہیں جنہوں نے میدانِ جنگ میں اپنی قابلیت کے جوہر دکھلائے۔ ایک موقع پر ابو سفیان کی بیوی نے اسلام کی وہ خدمت کی جو مرد نہیں کر سکتے تھے۔ عیسائیوں کی فوج دس لاکھ تھی اور مسلمان مرد ساٹھ ہزار تھے۔ کافروں نے ایسا حملہ کیا کہ مسلمان بھاگنے لگے۔ اسلامی لشکر عرب سے دور تھا اور انہیں بہت خطرہ ہو گیا جب یہ لشکر بھاگتا ہوا عورتوں کے خیمہ کے پاس پہنچا تو ہندہ نے جس نے کفر کے زمانہ میں حضرت حمزہؓ کی لاش کے ناک کان کٹوادیئے تھے اپنے خیمہ کی چوبیں اٹھالیں اور عورتوں سے کہا کہ تم میں سے ہر ایک اپنے اپنے باپ بھائی وغیرہ کو روکے کہ وہ یہاں نہ آئیں واپس جا کر لڑیں۔ ابو سفیان خود بھی آ رہے تھے اس لئے ہندہ نے ابو سفیان کے گھوڑے کو ڈنڈے مار کر پیچھے پھیر دیا اور کہا کہ اگر اس طرح بھاگ کر آؤ گے تو اپنے ہاتھ سے قتل کر دوں گی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کا لشکر جو بے دل ہو کر واپس آرہا تھا پھر پیچھے مڑا اور دس لاکھ کو شکستِ فاش دی۔ وہ فتح محض عورتوں کی بہادری کا نتیجہ تھی۔
میں یہ کہہ رہا تھا کہ یورپ میں عورتیں مردوں سے ہمیشہ مطالبہ کرتی رہتی ہیں کہ ہمیں کام کیوں نہیں کرنے دیتے۔ جس کانفرنس میں میں گیا تھا اس کی سیکرٹری ایک عورت تھی محنت سے سب کام کرتی۔ میں نے وہاں کے حالات کا مطالعہ کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ہمارے ملک کے مَردوں کے دماغ وہاں کے مَردوں سے اچھے ہیں اور عورتوں کے دماغ بھی وہاں کی عورتوں سے اچھے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ جو بات ہمارے یہاں کی ان پڑھ زمیندار آسانی سے سمجھ سکتی ہیں وہاں کے تعلیم یافتہ مَردوں کو سمجھنے میں دقّت ہوتی ہے۔
دماغی حیثیت سے ہمارے دماغ اچھے ہیں ایسا ہی عورتوں کے دماغوں کی حالت ہے۔ پس اس افسوس کے بعد کہ ہماری عورتوں کی تعلیم و تربیت کے انتظام میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے میں اپنی جماعت کی عورتوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنی کمزوریوں کے خیال کو چھوڑ کر دینی اور دنیاوی تعلیم میں کوشش کریں۔ وہ یاد رکھیں کہ محض جوش کام نہیں آتے جب تک اس کے ساتھ علم و ہنر نہ ہو۔ میں جانتا ہوں کہ تم سے بہتوں کے دل میں جوش ہے کہ وہ خدمتِ دین کریں۔ مگر یہ جوش اس وقت کام آئے گا جب تعلیم و تربیت کے ساتھ ہو۔ اگر تعلیم و تربیت نہ ہو تو کوئی نتیجہ پیدا نہ ہو گا۔ پس اگر تم چاہتی ہو کہ کوئی کام کریں تو علم حاصل کرو اور سیکھنے کی کوشش کرو۔ علم تمہیں وہ قابلیت عطا کرے گا جو تم کام کرنے کے طریق سے واقف ہو جاؤ گی۔
(الفضل ۵۔ فروری ۱۹۲۵ء)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
(فرمودہ ۱۲؍ فروری ۱۹۲۵ء بعد از نماز عصر بمقام مسجد اقصیٰ قادیان)
سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔
دوستوں کو یاد ہو گا کہ سفر ولایت کے اختیار کرنے سے پہلے میں نے تمام جماعت سے مشورہ لیا تھا کہ میں اس سفر کو اختیار کروں یا نہ کروں اور اس وقت میں نے ان کو یہ بھی جتلا دیا تھا کہ اگر میرے جانے کے متعلق جماعت کا مشورہ قرار پایا تو پھر اس کے لئے ضروری ہے کہ جماعت کو زیادہ بوجھ کا متحمل ہونا پڑے گا کیونکہ کام بہت بڑے پیمانے پر ہو جائے گا اور اخراجات بہت زیادہ ہو جائیں گے۔ اور اگر میری بجائے کوئی اور بھیجا گیا تو اخراجات کم ہوں گے۔ لیکن باوجود اس علم کے اکثر احباب کی طرف سے مشورہ یہی قرار پایا کہ میں خود اس سفر کو اختیار کروں اور جماعت کے نوے فی صدی نے یہی رائے دی۔ کہ مجھے خود جانا چاہئے اور اس سفر کے اخراجات کے لئے اس وقت قرض لے لیا جائے جس کو بعد میں جماعت ادا کر دے گی۔ چنانچہ دوستوں کے مشورہ کے مطابق میں نے اس سفر کو اختیار کیا اور اس کے اخراجات کی مقدار جو وفد کے ممبروں کی آمد و رفت پر یا اس سفر کی تبلیغی کوششوں پر صرف ہوا پچاس ہزار روپیہ ہے اور بیس ہزار روپیہ ان کتابوں پر صرف ہوا جو اس سفر کی غرض کے لئے چھپوائی گئیں جو چھ یا سات کی تعداد میں ہیں۔ اسی طرح جماعت سے مشورہ لیتے وقت میں نے یہ سوال بھی پیش کیا تھا کہ جب میرے جانے سے تبلیغ کے لئے زیادہ تحریک کی گئی تو پھر اس تحریک کو جاری بھی رکھنا پڑے گا۔ اور اس طرح مشن کے اخراجات آگے سے بہت زیادہ بڑھ جائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ملک شام میں جب ہمارا وفد پہنچا تو وہاں ایک بڑی جماعت کو سلسلہ میں داخل ہونے کے لئے تیار پایا اور وہ اب بھی سلسلہ میں داخل ہونے کے لئے تیار ہے اور اگر کوشش کی گئی اور اس تحریک کو وہاں جاری رکھا گیا تو اِنْشَاءَ اللہُ ملک شام ترقیاتِ سلسلہ کے لئے ایک اعلیٰ ذریعہ ثابت ہو گا کیونکہ پہلی پیشگوئیوں اور حضرت مسیح موعودؑ کے الہامات سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ملک سلسلہ کی ترقیات میں خاص دخل رکھتا ہے۔ خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ابدال شام مسیح موعودؑ کے لئے دعا کر رہے ہیں اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کی تبلیغ ملک شام کی طرف بھی ہو گی اور وہ سلسلہ میں داخل ہو کر مسیح موعود کے لئے دعائیں کریں گے اور اس کی تبلیغ کو زیادہ وسعت دیں گے کیونکہ دعا دنیا میں دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک خالق کی طرف اور ایک مخلوق کی طرف۔ پس ان کی دعا کے صرف یقیناً یہی معنے نہیں کہ وہ مسیح موعود کے لئے خدا سے دعا کریں گے بلکہ اس کے یہ بھی معنے ہیں کہ مسیح موعود کے ذریعے دوسرے لوگوں کو خدا کی طرف بلائیں گے۔ دعا کے معنے پکارنے اور بلانے اور التجاء کرنے کے ہیں۔ پس ان کا پکارنا اور بلانا اور التجاء کرنا خدا تعالیٰ سے بھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعے خدا تعالیٰ کی طرف لوگوں کو بلائیں گے۔ گو ہر شخص جو دعا کرتا ہے وہ بندوں کے لئے خدا کو پکارتا ہے مگر اس کا مفہوم یہ بھی ہے کہ وہ لوگ حضرت مسیح موعودؑ کی محبت میں اس قدر سرشار ہوں گے کہ ساری دنیا کو حضرت مسیح موعودؑ کی طرف دعوت دینے کے لئے کھڑے ہو جائیں گے تا لوگ اس ذریعہ سے خدا کا قرب حاصل کریں۔ تو اللہ تعالیٰ نے خصوصیت کے ساتھ ان لوگوں کو اس کام کے لئے چنا ہے اور پیشگوئیوں میں ان کا ذکر فرمایا ہے۔ اسی طرح ولایت اور دوسرے ممالک میں اس سفر کی وجہ سے خاص تحریک پیدا ہو گئی ہے اور ایک خاص جوش پیدا ہو گیا ہے اور سلسلہ کو خاص شہرت حاصل ہو گئی ہے۔ مجھے خط آیا ہے کہ ۳۔ دسمبر تک اخباروں میں برابر ہمارے متعلق مضامین شائع ہو رہے ہیں حالانکہ ۲۴۔ اکتوبر کو ہم نے ولایت کو چھوڑ دیا تھا۔ اس کے بعد ڈیڑھ ماہ تک ہمارے وفد کے متعلق مضامین اخباروں میں نکلتے رہے۔ اب اگر اس تحریک کو چھوڑ دیا جائے اور جاری نہ رکھا جائے تو نتیجہ یہ ہو گا کہ سارا کا سارا روپیہ جو اس سفر پر خرچ ہوا ضائع چلا جائے گا اور سب محنت برباد ہو جائے گی۔ اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ اسی سفر کا نتیجہ ہے کہ بیت المال کے بل رُک گئے ہیں اور اب تک ادا نہیں ہوئے اور تین ماہ کی تنخواہیں بیت المال کے ذمہ ہیں اس تکلیف کا باعث بھی سفر ولایت کے اخراجات ہیں۔ پہلا سترّ ہزار روپیہ تو ایسا ہے کہ جس کے ادا کر دینے کا ذمہ خود جماعت نے لیا ہے۔ باقی تیس ہزار روپے ایسے ہیں جن کے کچھ بل رُکے پڑے ہیں یا جن کی آئندہ کام جاری رکھنے کے لئے ضرورت ہے۔ اور یہ بھی عقلاً ماننا پڑتا ہے کہ گو جماعت نے مشورہ دیتے وقت لفظاً اس روپے کی ادائیگی کا ذمہ نہیں لیا مگر کام کے بڑھنے اور اخراجات کے ترقی کر جانے کا ان کو علم دیا گیا تھا اس لئے گویا جماعت کا یہ بھی اقرار تھا کہ وہ ان اخراجات کو بھی برداشت کرے گی۔ پس میں نے جماعت سے ایک لاکھ روپیہ کی اپیل شائع کی ہے جس کی ادائیگی کی تجویز میں نے یہ کی ہے کہ جماعت کے افراد اپنی ایک ماہ کی آمدنی تین ماہ کے اندر اندر ادا کر دیں جس سے سترّ ہزار سے تو وہ قرضہ ادا کیا جائے جو اس سفر ولایت کے اختیار کرنے کے لئے لیا گیا اور اس کی ادائیگی کے دن اب قریب آگئے ہیں۔ اور باقی تیس ہزار سے وہ بل جو رک کے پڑے ہیں ادا کئے جائیں اور نظارت کے کام کو ترقی دی جائے اور تبلیغ کو زیادہ وسیع کیا جائے اور اسی طرح ملک شام کی طرف بھی خاص توجہ کی جائے۔ اس ایک لاکھ کے پورا کرنے کے لئے جو ایک ماہ کی آمدنی تین ماہ میں ادا کرنے کی میں نے تجویز کی ہے اس سے زیادہ سے زیادہ جماعت پر یہی بوجھ ہو گا کہ ان کو سال میں ایک ماہ کی بجائے دو ماہ کی آمدنی دینی پڑے گی۔ کیونکہ اگر باقی چندوں کا حساب کیا جائے تو سال میں ایک ماہ کی آمدنی جماعت دیتی ہے اس لئے سال میں ایک ماہ کی بجائے دو ماہ کی آمدنی دے دینا ان پر کوئی بوجھ نہیں ہو سکتا گو بعض پہلے سے اپنی آمد کا پانچواں حصہ ادا کرتے ہیں۔ ممکن ہے وہ استثناء کی صورت میں چندہ کا بوجھ محسوس کریں۔ اور اگر اس چندے کو بوجھ بھی فرض کر لیا جائے تو بھی جو بوجھ خدا کے لئے اور اس کے دین کی اشاعت کے لئے ہم نے اپنے سر پر اٹھایا ہے تو بہرحال اسے اٹھانا ہی چاہئے۔ ضرب المثل ہے کہ جب اُکھلی میں سر دیا تو پھر جو ضربیں پڑیں ان سے کیا ڈرنا۔ جب کوئی شخص الٰہی سلسلوں میں داخل ہوتا ہے تو پھر اس کو ان سب بوجھوں کو بھی اٹھانا پڑتا ہے جو اس سلسلہ کی ترقی کے لئے کام کرنے والوں کے حق میں مقدر ہوتے ہیں۔ اس سفر میں میں نے جو یورپ اور اسلام کی حالت دیکھی ہے۔ اور اسلام کے مقابلہ میں دشمنوں کی کوششوں کو دیکھا ہے تو میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اسلام کی اشاعت میں ہمیں ایک ذرہ بھر بھی دل میں ڈر نہ رکھنا چاہئے پہلے تو مجھے یہ خیال آ جاتا تھا کہ جماعت کے کمزور لوگوں کا خیال رکھا جائے ایسا نہ ہو کہ وہ بوجھ کے متحمل نہ ہونے کی وجہ سے کوئی ٹھوکر کھائیں۔ مگر اب میں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ کمزوروں کی کمزوری کا خیال رکھنا اتنا ضروری نہیں جتنا کہ اسلام کی کمزوری کا خیال ضروری ہے۔ ان کی کمزوری سے دین کی کمزوری زیادہ حق رکھتی ہے کہ اس کی طرف توجہ کی جائے۔ اور اس کا زیادہ خیال رکھا جائے۔ ایک ایسا شخص جو خدا کی راہ میں قدم بڑھاتا ہے اور اس کے لئے ہر ایک قسم کی قربانی اختیار کرتا ہے وہ ایسے ہزار آدمیوں سے بھی بدرجہا بہتر ہے جو نہ خود آگے بڑھیں بلکہ دوسروں کے بڑھنے میں بھی روک ہوں اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اس امر کا خیال ہرگز نہ کروں کہ اس بوجھ کا کمزوروں پر کیا اثر پڑے گا۔ جس قدر کوشش کرنے والے اور خدا کی راہ میں ہر طرح کی قربانی کرنے والے ہیں وہ ممتاز ہو جائیں اور کمزوروں کا خیال چھوڑ دیا جائے بلکہ ان کا جدا ہو جانا ہی بہتر ہے۔
یہ وقت ہے کہ جو کچھ بھی ہے ہم خدا کی راہ میں قربان کر دیں اور ہماری کوئی کوشش ادھوری نہ رہے تاکہ خدا کی نصرت بھی ہم پر ادھوری نہ ہو۔ جب انسان ڈرتے ڈرتے خدا کی راہ میں کوشش کرتا ہے تو اس کی نصرت بھی کھلے طور پر نازل نہیں ہوتی۔ چونکہ ہمیشہ ایسی تحریکوں میں حصہ لینے کا قادیان کے لوگوں کو سب سے پہلے موقع دیا جاتا ہے اس لئے اب بھی عام جماعت میں اس اعلان کے شائع کرنے سے پہلے آپ کو موقع دیا جاتا ہے۔ منافق اور کمزور لوگ ایسی قربانی کی تحریکوں میں بہت گھبراتے ہیں اور وہ کوشش کرتے ہیں کہ اس قربانی سے بچ جائیں یا ان کے کان میں وہ آواز نہ پڑے یا سب سے آخر ان کے کان تک وہ تحریک پہنچے۔ لیکن مومن ایسی تحریکوں پر گھبراتا نہیں بلکہ خوش ہوتا ہے اور اس کو فخر ہوتا ہے کہ تحریک سب سے پہلے مجھ تک پہنچی۔ وہ ڈرتا نہیں بلکہ اس پر اس کو ناز ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کا وہ شکریہ ادا کرتا ہے اور سب سے زیادہ اس کی راہ میں قربانی کرتا ہے اور درجہ بھی سب سے بڑھ کر پاتا ہے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ جو جو قربانیاں حضرت ابوبکر نے کیں یا جس جس خدمت کا ان کو موقع حاصل ہوا ہے وہ آرزو کرتے تھے کہ مجھے سب سے پہلے ان قربانیوں کا کیوں موقع ملا۔ انہوں نے بڑی خوشی کے ساتھ اپنے آپ کو خطرات میں ڈالا اور خدا کی راہ میں تکلیفیں اٹھائیں اس لئے انہوں نے وہ درجہ پایا جو حضرت عمرؓ بھی نہ پاسکے۔ کیونکہ جو پہلے ایمان لاتا ہے اس کو سب سے پہلے قربانیوں کا موقع ملتا ہے حالانکہ خطرات حضرت عمرؓ کے ایمان لانے کے وقت بھی تھے۔ تکلیفیں دی جاتی تھیں، نمازیں نہیں پڑھنے دیتے تھے، صحابہ وطنوں سے بے وطن ہو رہے تھے، پہلی ہجرت حبشہ جاری تھی، ترقیوں کا زمانہ ان کے ایمان لانے کے بہت بعد شروع ہوا مگر پھر بھی جو مرتبہ حضرت ابوبکرؓ کو ابتداء میں ایمان لانے اور ابتداء میں قربانیوں کا موقع میسر آنے کی وجہ سے حاصل ہوا حضرت عمرؓ اس کی برابری نہ کر سکے۔ یہی وجہ ہے ایک دفعہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا اختلاف ہو گیا تو آپؐ نے فرمایا کہ تم لوگ جس وقت اسلام سے انکار کر رہے تھے اس وقت ابوبکر نے اسلام کو قبول کیا اور جس وقت تم اسلام کی مخالفت کر رہے تھے اس نے اسلام کی مدد کی اب تم اس کو کیوں دکھ دیتے ہو۔ تو ان کے پہلے ایمان لانے اور قربانیوں کا اظہار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حالانکہ تکلیفیں حضرت عمرؓ نے بھی اٹھائیں اور قربانیاں انہوں نے بھی کی تھیں۔ پس حضرت ابوبکر کو اس سبقت پر فخر حاصل تھا۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضرت ابوبکر یہ چاہتے ہوں گے کہ کاش! فتح مکہ کے وقت ان کو ایمان لانے کا موقع ملتا بلکہ اگر دنیا کی بادشاہت کو بھی ان کے سامنے رکھ دیا جاتا تو حضرت ابوبکرؓ اس کو نہایت حقیر بدلہ قرار دیتے اور منظور نہ کرتے بلکہ وہ اس مرتبہ کے معاوضہ میں دنیا کی بادشاہت کو پاؤں سے ٹھوکر مارنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کرتے۔ حالانکہ ان تکلیفوں سے طبعی طور سے مومن کو رنج بھی ہوتا ہے مگر ایمان کی وجہ سے اس تکلیف کو بھی وہ انعام سمجھتا ہے جیسا کہ کسی کا باپ شہید ہو جائے تو کچھ شک نہیں کہ اس کو طبعی طور پر اس کا رنج بھی ہو گا مگر وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ اس کے باپ کو شہادت کا مرتبہ کیوں ملا۔ اگر بظاہر اس کو رنج پہنچتا ہے تو دل میں فرحت اور اطمینان بھی اس کو ہوتا ہے۔ مومن کے اس رنج میں بھی ایک ایسی باریک خوشی ہوتی ہے کہ دنیا کی کسی خوشی کو بھی وہ اس کے برابر قرار نہیں دے سکتا۔ پس اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے میں سب سے پہلے قادیان کے احباب کو جو اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اور تمام رشتہ داریوں کو قطع کر کے قادیان میں ہجرت کر آئے ہیں اور ان کو جو دراصل اس بستی کے رہنے والے ہیں جو کہ خدا کے مسیح کی بستی ہے اس فضیلت کی وجہ سے ان کو اس تحریک میں حصہ لینے کا حق دار سمجھتا ہوں تاکہ آپ دوسروں کے لئے نمونہ بنیں۔ اور آپ کے نمونہ سے دوسروں کو اس تحریک میں شامل ہونے کا موقع حاصل ہو۔ اب میں وہ اپیل پڑھ کر سناتا ہوں۔
(الفضل ۱۷۔ فروری ۱۹۲۵ء)
(تحریر فرمودہ ۱۰۔ فروری ۱۹۲۵ء)
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
هُوَ النَّاصِرُ
قُلۡ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَنُسُکِیۡ وَمَحۡیَایَ وَمَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(6:163)۲؎
اَلسَّلَامُ عَلَیْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُہٗ۔ آج سے آٹھ ماہ پہلے میں نے آپ لوگوں سے مشورہ دریافت کیا تھا کہ کانفرنس مذاہب لندن نے جو مجھے لیکچر کی درخواست دی ہے کیا میں اس کو قبول کر کے خود انگلستان جاؤں یا مضمون لکھ کر بعض اور دوستوں کے ہاتھ روانہ کر دوں۔ میری تحریر کے جواب میں جماعتہائے احمدیہ میں سے نوے فی صدی نے یہ مشورہ دیا تھا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور مجھے خود جا کر اہل مغرب کو اسلام کی طرف بلانا چاہئے۔ اخراجات کثیرہ جن کا اس سفر میں پیش آنا ایک لازمی امر تھا ان کے متعلق احباب نے یہ مشورہ دیا تھا کہ اس وقت قرضہ کے طور پر ان کا انتظام کر لیا جائے بعد میں جماعتہائے احمدیہ اس روپیہ کو خاص چندہ کے طور پر جمع کر دیں گی۔ میں نے اس مشورہ کو باوجود سخت مشکلات کے قبول کر لیا اور انگلستان کی طرف روانہ ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے جس رنگ میں اس سفر کو برکت دی اور سلسلہ احمدیہ کی شہرت دوام کا موجب بنایا اور اس کے ذریعہ سے دنیا کے گوشہ گوشہ میں اس کا نام بلند کیا اور ہزاروں قلوب میں سلسلہ کی ہیبت اور عظمت کو قائم کیا وہ محتاج بیان نہیں سب احباب اس سے واقف ہیں یہ شہرت قادیان بیٹھے ہوئے دس پندرہ سال میں بھی لاکھوں روپیہ خرچ کر کے نہیں ہو سکتی تھی مگر یہ جو کچھ تھا ایک بیج تھا۔ تیرہ سو سال کی پیشگوئیاں صرف اسی قدر شہرت کا سامان پیدا کر کے ختم نہیں ہو سکتیں اس سفر کا نتیجہ موجودہ نتیجہ سے بہت زیادہ اہم انشاء اللہ نکلے گا اور مخالفوں کی آنکھوں کو خیرہ اور مومنوں کے دلوں کو مسرور و خوش کرے گا مگر اب تک بھی جو نتیجہ نکل چکا ہے دوست تو دوست دشمن بھی اس کا اعتراف کر رہے ہیں خصوصاً شام اور انگلستان میں سلسلہ احمدیہ کی محبت کا بیج اس قدر سعید روحوں میں بو دیا گیا ہے کہ انسانی عقل اس کو دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتی ہے اور خدا کی قدرت نمائی پر ششدر۔ اس سفر میں اور اس کے بعد جو جو تکالیف مجھ کو پہنچی ہیں اور جو تکالیف دوسرے ممبرانِ وفد کو پہنچی ہیں وہ بھی آپ لوگوں کو معلوم ہیں ان کے بیان کرنے کی مجھے ضرورت نہیں۔ ہاں میں یہ کہنے سے نہیں رک سکتا کہ وہ دلوں کو ہلا دینے والی اور کمروں کو جھکا دینے والی ہیں خصوصاً وہ تکالیف جو مجھے اس سفر میں یا اس کے معاً بعد پیش آئی ہیں اور جن کی مجھے اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت اطلاع دے دی تھی وہ ایسی ہیں کہ انہوں نے میری ہستی کی بنیاد کو ہلا دیا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کی معرفت کی امید اور اس کے دین کا کام میرے سامنے نہ ہوتا تو اس دنیا میں میری دلچسپی کا سامان بہت ہی کم باقی رہ گیا ہے۔ میری صحت متواتر بیماریوں سے جو تبلیغ ولایت کے متعلق تصانیف اور دورانِ سفر کے متواتر کام کرنے کے نتیجہ میں پیدا ہوئیں بالکل ٹوٹ چکی ہے اور غموں اور صدموں نے میرے جسم کو زکریا علیہ السلام کی طرح کھوکھلا کر دیا ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ اگر کبھی بھی میرا جسم راحت اور آرام کا مستحق اور میرا دل اطمینان کا محتاج تھا تو وہ یہ وقت ہے لیکن صحت کی کمزوری، جانی اور مالی ابتلاؤں کے باوجود بجائے آرام ملنے کے میری جان اور بھی زیادہ بوجھوں کے نیچے دبی جا رہی ہے کیونکہ سفرِ مغرب کی وجہ سے اور اشاعتِ کتب کی غرض سے جو روپیہ قرض لیا گیا تھا اس کی ادائیگی کا وقت سر پر ہے بلکہ شروع ہو چکا ہے اور بیت المال کا یہ حال ہے کہ قرضہ کی ادائیگی تو الگ رہی کارکنوں کی تنخواہیں ہی تین تین ماہ کی واجب الاداء ہیں۔ پس یہ غم مجھ پر مزید برآں پڑ گیا ہے کہ قرضہ کے ادا نہ ہونے کی صورت میں ہم پر نادہندگی اور وعدہ خلافی کا الزام نہ آئے۔ اور اسی طرح وہ لوگ جو باہر کی اچھی ملازمتوں کو ترک کر کے قادیان میں خدمتِ دین کے لئے بیٹھے ہیں ان کو فاقہ کشی کی حالت میں دیکھنا اور ان کو ان کی ان تھک خدمت کے بعد قوتِ لایموت کے لئے روپیہ بھی نہ دے سکنا کوئی معمولی صدمہ نہیں ہے۔ تیسرا صدمہ مجھے یہ ہے کہ اس قدر تکالیف برداشت کر کے جو سفر کیا گیا تھا اس کے اثرات کو دیرپا اور وسیع کرنے کے لئے ضروری تھا کہ فوراً سفر کے تجربہ کے ماتحت شام اور انگلستان میں تبلیغ کا راستہ کھولا جاتا مگر مالی تنگی کی وجہ سے اس کام کو شروع نہیں کیا جا سکتا اور سب
محنت کے برباد ہونے کا خطرہ ہے۔ ان صدمات کے بعد جو میری صحت اور میرے جسم کو پہنچے ہیں اور جو اپنی ذات میں ہی ایک انسان کو ہلاک کر دینے کے لئے کافی ہیں اس قدر قومی صدمات کا بوجھ میرے لئے نا قابلِ برداشت ہوا جا رہا ہے۔ پس میں نے اب فیصلہ کیا ہے کہ اس وعدہ کے مطابق جو احباب نے سفر ولایت کے متعلق مشورہ لیتے وقت کیا تھا ایک خاص چندہ کی اپیل کروں۔
سفر ولایت پر پچاس ہزار روپیہ خرچ آیا ہے اور اس خاص لٹریچر کی اشاعت پر جو اس سفر کی غرض کے لئے چھپوایا گیا بیس ہزار روپیہ موجودہ مالی تنگی کو رفع کرنے اور سفر سے جو تحریک اسلامی اور مغربی بلاد میں پیدا کی گئی تھی اس کے چلانے اور اس سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے تیس ہزار روپیہ کی ضرورت ہے۔ یہ کُل ایک لاکھ روپیہ ہوتا ہے اور میں اس کے لئے اب جماعت سے اپیل کرتا ہوں اور اس کے پورا کرنے کے لئے یہ تجویز کرتا ہوں کہ ہر شخص جو احمدی کہلاتا ہے اس غرض کے لئے اپنی ایک مہینہ کی آمد تین ماہ میں یعنی پندرہ فروری سے پندرہ مئی تک علاوہ ماہواری چندہ کے جو وہ دیتا ہے اس خاص تحریک میں ادا کرے۔ زمیندار لوگ دونوں فصلوں کے مواقع پر علاوہ مقررہ چندہ کے دو سیر فی من پیداوار پر ادا کریں اور اس طرح جماعت کی عزت اور سلسلہ کے کام کو نقصان پہنچنے سے بچایا جائے۔
اے عزیزو! آپ لوگوں کے کہنے پر ولایت کے وفد کے لئے لوگوں سے قرض لیا گیا ہے کیونکہ برلن کی زمین فروخت نہ ہو سکی تھی اور آپ لوگ یہ بھی سمجھ سکتے تھے کہ جب اس قدر زور سے غیر ممالک میں سلسلہ کی تبلیغ کی جائے گی تو ضرور ہے کہ اس کام کو جاری رکھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے بھی بہت سے روپیہ کی ضرورت ہو گی پس آپ لوگوں کا فرض ہے کہ اس رقم کو جلد سے جلد مہیا کر دیں تا وہ لوگ جن سے روپیہ قرض لیا گیا تھا ان کو حسب وعدہ وقت پر روپیہ ادا کیا جا سکے اور تاکہ آئندہ کام کو اس صورت میں چلایا جائے کہ سب محنت اکارت نہ جائے۔ چاہئے کہ ہر ایک احمدی سچے جوش سے اس کام کو پورا کرنے کے لئے لگ جائے اور آرام نہ کرے جب تک کہ وہ خود اس ذمہ داری کو ادا نہ کر لے اور جب تک کہ دوسروں کو بھی اس کام میں شریک نہ کر لے اور چاہئے کہ احباب اس طرح تندہی اور انتظام سے کام کریں کہ کوئی احمدی ایسا نہ رہے جس نے اس تحریک میں حصہ نہ لیا ہو۔
یہ ایک ماہ کی آمد تین ماہ میں دینے کی شرط میں نے صرف کمزوروں اور ایسے لوگوں کو مد نظر رکھ کر لگائی ہے جو پہلے ہی بعض مالی مشکلات میں مبتلاء ہوں ورنہ میں جانتا ہوں کہ کئی مخلصین اپنے اخلاص کی وجہ سے اور کئی آسودہ حال لوگ اپنی آسودگی کی وجہ سے ایسے ہیں کہ وہ ایک ماہ کی آمد سے زائد دینا چاہتے ہیں اور دینے کی مقدرت رکھتے ہیں میں ایسے لوگوں سے کہوں گا کہ میری قیدوں کی وجہ سے اپنے ایمان اور اپنے اخلاص کو مقیّد نہ کرو بلکہ آگے بڑھو اور خدا کے فضل سے حصہ لینے کی بیش از پیش کوشش کرو کہ یہ دن روز نہیں آتے اور ایسی عیدوں کے چاند ہر سال نہیں چڑھتے۔ خدا کے رسولوں کا زمانہ ڈھونڈنے سے نہیں ملتا نہ تلاش کرنے سے حاصل ہوتا ہے یہ دن تو خدا ہی لاتا ہے اور اپنی پوشیدہ حکمتوں کے ماتحت لاتا ہے پس ان دنوں سے بڑھ کر قیمتی اور نایاب دن اور کوئی نہیں پس ان سے جس قدر فائدہ حاصل کرسکتے ہو کرلو۔
اے بھائیو! آپ لوگوں نے اس شخص کا زمانہ پایا ہے جس کے زمانہ کی خبر نوحؑ سے لے کر رسول کریمﷺ تک سب رسولوں نے دی تھی۔ ہاں اس کا زمانہ جو دنیا کے لئے منجی ہے اور سارے جہان کو ایک دین پر جمع کرنے کے لئے آیا ہے جس کا زمانہ قیامت کا زمانہ ہے کیونکہ اس میں سب دنیا کو اکٹھا کرنے کے لئے خدا کی قرنا پھونکی گئی ہے۔ وہ آدمِ ثانی ہے کیونکہ اس کی قدسی تاثیرات سے اب دنیا کو ایک نئی پیدائش حاصل ہونے والی ہے جس طرح پہلے آدمؑ کے ذریعہ سے اس کو جسمانی پیدائش ملی تھی اب اس آدمِ ثانی کے ذریعہ سے اسے ایک روحانی پیدائش ملے گی۔ دل بدل دیئے جائیں گے علوم و عرفان کے دروازے کھول دیئے جائیں گے خدا تعالیٰ کے زندہ اور قدیر ہونے کے ثبوت اس طرح مہیا کئے جائیں گے کہ گویا انسان اپنی آنکھوں سے اس کو دیکھ لے گا اور قیامت اور حشر ما بعد الموت کی حقیقت اس طرح منکشف کی جائے گی کہ گویا لوگ مُردوں کو اپنے سامنے دیکھیں گے۔ آپ لوگوں نے خدا تعالیٰ کی قدرت کا نشان پر نشان دیکھا اور معجزہ پر معجزہ مشاہدہ کیا اور نہ صرف یہ کہ خدا کے جری حضرت احمد علیہ السلام کے ہاتھ پر ہی لاکھوں معجزات دیکھے بلکہ آپ کے بعد آپ کے خلفاء کے ہاتھ پر بھی آپ نے زندہ خدا کے قادرانہ نشانات کا مشاہدہ کیا۔ پس کیا اس زمانہ کو پا کر اور اس قدر نشان کو دیکھ کر بھی آپ لوگوں کے دلوں میں دنیا کی کوئی ملوثی رہ سکتی ہے؟ اگر شہزادہ عبد اللطیف اور مولوی نعمت اللہ صاحب شہید کے نمونے ساری جماعت کی ایمانی حالت کا نقشہ ہیں تب مجھے یہ کہنا چاہئے کہ نہیں اور ہرگز نہیں۔ پس میں نہیں سمجھ سکتا کہ آپ لوگوں میں سے آج مجھے کوئی بھی یہ جواب دے گا کہ فَاذۡہَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوۡنَ(المائدۃ: ۲۵)۳؎۔ بلکہ میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے نشانات کو جو بارش کی طرح نازل ہو رہے ہیں دیکھ کر آپ میں سے ہر ایک شخص یہ کہتے ہوئے آگے بڑھے گا کہ ہم آپ کے آگے لڑیں گے اور پیچھے لڑیں گے اور دائیں لڑیں گے اور بائیں لڑیں گے اور اس روحانی اور علمی مقابلہ کے میدان کو نہیں چھوڑیں گے جب تک کہ اسلام کی فتح نہ ہو لے اور دشمن پیٹھ دکھا کر بھاگ نہ جائے اور میں امید واثق رکھتا ہوں کہ آپ لوگ میری اس آواز کے جواب میں کہ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ(3:53) ۴؎ خدا کے دین کی اشاعت کے لئے کون میری مدد کے لئے آگے بڑھتا ہے یک زبان ہو کر بلا استثناء پکار کر کہیں گے کہ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ(3:53) ۵؎ ہم خدا کے دین کے خادم اور مددگار ہیں جو اپنے مالوں سے کیا اپنے خون کے قطروں سے دین کے پودوں کی آبیاری کرنے کے لئے تیار ہیں۔
اے بھائیو! میں اس سفر سے پہلے کئی دفعہ یہ خیال کیا کرتا تھا کہ جماعت سے کام لیتے وقت مجھے اس امر کا خیال رکھنا چاہئے کہ لوگ کام سے ملول نہ ہو جاویں اور ان کے دل تھک نہ جاویں لیکن اس سفر میں جو نازک حالت اسلام کی میں نے دیکھی ہے اور جو طاقت اور قوت اور ہوشیاری اس کے دشمنوں میں میں نے پائی ہے اس کے بعد میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ یہ زمانہ ڈرنے کا زمانہ نہیں اور یہ وقت ادھوری کوششوں کا وقت نہیں۔ جو بزدل ہے اس کو واپس جانے دینا چاہئے اور صرف بہادروں کو لے کر جو اسلام کے لئے ہر ایک شئے کو قربان کرنے کے لئے تیار ہیں آگے بڑھنا چاہئے اور بلا کسی قربانی کے خوف کے ،بلا کمزوروں کے لحاظ کے آگے ہی بڑھتے چلے جانا چاہئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے آپ پر اور آپ کے اور ہمارے مطاع پیارے محمد عربی پر بے انتہاء درود ہوں سچ فرمایا تھا کہ نرم پاؤں والوں کو جو کانٹوں کے چبھنے سے ڈرتے ہیں واپس ہو جانا چاہئے کیونکہ میرا رستہ خطرناک ہے اور دشوار گزار گھاٹیوں میں سے میں نے گزرنا ہے وہی میرے ساتھ چلے جو موت میں راحت دیکھتا ہو اور قربانی میں لذت پاتا ہو۔ اس میں کوئی بھی شک نہیں کہ کفر کو جو ظاہری غلبہ حاصل ہے اور اسلام کی اشاعت کے جو آسمانی سامان پیدا ہو رہے ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک زبردست حملہ کی ضرورت ہے ایسا حملہ کہ اس میں ہمیں اپنے سر اور پاؤں کی کچھ خبر نہ رہے ،عزیز ،رشتہ دار ،دوست ،مال ،جائداد ،اپنی جان اور عزت کسی چیز کی بھی پروا نہ ہو صرف اور صرف ایک خیال ہو کہ خدائے واحد کا نام دنیا میں قائم ہو اور اسلام کی حکومت دنیا میں پھیل جائے نہ زمینوں پر بلکہ لوگوں کے دلوں پر۔ پس اب اس تجربہ کے مطابق میرا رویہ ہو گا اور میں سمجھتا ہوں کہ ان بیش از پیش قربانیوں کے کرنے میں جن کا اب آپ سے مطالبہ کیا جائے گا میں آپ میں سے ہر ایک کو دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرتا ہوا دیکھوں گا اور آپ میں سے ہر ایک شخص اپنے عمل سے ثابت کر دے گا کہ وہ شہزادہ عبد اللطیف اور مولوی نعمت اللہ صاحب کا ہم عنان ہے اور ان سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔ جس امر کا میں نے اس وقت مطالبہ کیا ہے یہ بالکل حقیر اور ذلیل قربانی ہے اس سے بڑی قربانیاں سامنے ہیں اور بعد کو آنے والی ہیں کیونکہ اسلام کی ترقی کے دن آ رہے ہیں بلکہ دروازہ پر آ چکے ہیں اور ترقی کے ساتھ ساتھ قربانیاں بھی بڑھتی چلی جائیں گی۔ ایک ماہ کی آمد سال میں دینے کے تو صرف یہ معنی ہیں کہ ماہواری اور دوسرے چندوں کو ملا کر گویا آپ لوگ سال میں سے دو ماہ کی آمد خدا کے نام پر دیتے ہیں اور دس ماہ کی آمد اپنے پر خرچ کرتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ صرف چھٹا حصہ خدا کی راہ میں دیتے ہیں حالانکہ بیعت کے وقت آپ نے اقرار کیا تھا کہ آپ کا جو کچھ بھی ہے وہ خدا کا ہی ہے۔ پس یہ قربانی کوئی قربانی نہیں اور سچا مومن اسے قربانی کہتے ہوئے بھی شرماتا ہے اور میں عنقریب اس مالی قربانی کے علاوہ بعض جسمانی اور علمی قربانیوں کا آپ سے مطالبہ کرنے والا ہوں جس کے لئے میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ پہلے سے تیار ہو جائیں گے۔
میرے پیارے بھائیو! خدا تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو اور آپ کے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھولے یہ زمانہ اشاعت کا زمانہ ہے اور اشاعت کا زمانہ سخت مالی قربانیوں کو چاہتا ہے پس نہ صرف یہ کہ آپ کو ہر سال مالی امداد میں پہلے سالوں سے زیادہ حصہ لینا چاہئے بلکہ چاہئے کہ آپ لوگ کوشش کریں کہ آپ اپنی آمدنوں کو بڑھائیں اور اپنے وقت کو ضائع ہونے سے بچائیں۔ ہر ایک احمدی کو چاہئے کہ وہ خود بھی کام کرے اور گھر کے ہر ایک ممبر سے اس کی حیثیت اور اس کے علم کے مطابق کام لے اور کوئی شخص فارغ نہ بیٹھے تاکہ دین کو طاقت حاصل ہو اور اسلام دوسرے دینوں پر غالب ہو جائے۔ اور وہ کیسی خوش گھڑی ہو گی جب ایسا ہو گا اس نتیجہ کے مقابلہ میں ہماری کوششیں کیسی حقیر اور بے حقیقت ہیں۔
میں یہ بھی تاکید کرنی چاہتا ہوں کہ چاہئے کہ اس تحریک کی طرف متوجہ ہو کر ہمارے احباب ماہواری چندہ سے غافل نہ ہوں اس میں کسی قسم کی کمی نہیں ہونی چاہئے۔ اور یہ بھی چاہئے کہ ہر جگہ پر میری یہ تحریر سنا دی جائے اور فوراً اس کے مطابق عمل شروع کر دیا جائے اور جماعت کے تمام افراد امیروں اور سیکرٹریوں کی مدد کرنے کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں اور اس ذمہ داری کو محسوس کریں کہ یہ خدا کا کام ہے کسی شخص کا کام نہیں کہ وہ اکیلا کرتا پھرے اور چاہئے کہ
جماعت کی عورتوں کو بھی ان کے ذرائع کے مطابق اس تحریک میں شامل کیا جائے تاکہ سب لوگ ثواب میں شریک ہوں۔
اب اس دعا پر اس تحریر کو ختم کرتا ہوں کہ اے میرے رب! میرے مولا! تو اس کمزور جماعت کے افراد کو دیکھتا ہے کہ وہ کس طرح تیرے دین کی اشاعت کے لئے کوشش کر رہے ہیں تو ان کی ہمت میں برکت دے ، ان کے عرفان میں برکت دے ، ان کے ایمان میں برکت دے ، ان کے علم میں برکت دے ، ان کے اخلاص میں برکت دے ، ان کے عمل میں برکت دے ، ان کے دین میں برکت دے ، ان کی دنیا میں برکت دے ، ان کی جانوں میں برکت دے اور ان کے مالوں میں برکت دے۔ ہر ایک جو اس تحریک میں حصہ لیتا ہے اس پر خاص الخاص فضل فرما اور ہر ایک جو اس تحریک کو کامیاب بنانے میں کوشش کرتا ہے اس کو اپنی رحمت سے حصہ وافر عطا فرما اور ان تمام کے لئے غیر معمولی اور غیر مترقّب طور پر دینی اور دنیاوی ترقی کے راستے کھول دے اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ وَاٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
خاکسار میرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی قادیان (۱۰۔ فروری ۱۹۲۵ء)
از سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
(فرمودہ فروری ۱۹۲۵ء)
دو احمدیوں کے کابل میں سنگسار کئے جانے کی خبر جب قادیان میں پہنچی تو احمدیوں نے ایک پروٹسٹ میٹنگ کی۔ حضرت خلیفۃ المسیح بھی تشریف لائے اور میٹنگ کی کارروائی ختم ہونے پر مندرجہ ذیل تقریر فرمائی۔
بعد از تشہد فرمایا۔
یہ بات متواتر تجربات سے ثابت ہو چکی ہے کہ ظالم کے ظلم کا وبال آخر ظالم پر ہی پڑتا ہے۔ آج تک کوئی ایک نظیر بھی ایسی دنیا میں نہیں ملتی کہ کوئی ظالم ظلم کر کے پھر کامیاب ہو گیا ہو۔ ہمیشہ ظالموں نے اپنے ظلم سے صداقت اور راستی کو دنیا سے مٹانا چاہا مگر وہ اپنے مقصد میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ اگر کوئی ایک آدھ مثال ایسی ہوتی کہ ظالم ظلم کر کے کامیاب نہ ہوا ہو یا دو تین چار پانچ چھ یا دس بھی ایسی مثالیں ہو تیں تو یہ شک ہو سکتا تھا کہ شاید اس گیارھویں دفعہ ظالم اپنے ظلم میں کامیاب ہو جائے گا اور یہ شبہ پیدا ہو سکتا تھا کہ شاید اب وہ اپنے ظلم سے اس صداقت اور راستی کو مٹا ڈالنے میں کامیاب ہو جائے لیکن ہزارہا سال گزر گئے اور ان میں ہزاروں ہی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ہمارے دل میں یہ شک اور شبہ پیدا نہیں ہو سکتا کہ شاید اب کوئی ظالم ظلم کر کے اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکے اور اس کے ظلم سے صداقت اور راستی دنیا سے مٹ جائے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر دنیا میں آئے گو ان سب کی تاریخ دنیا میں محفوظ نہیں مگر پھر بھی دنیا کے اس حصے میں جس کی تاریخ اب تک محفوظ ہے اس محفوظ حصے میں ہی کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ ظالم ظلم کر کے پھر خود منہ کے بل نہ گرا ہو۔ صداقت ہمیشہ بلند ہی رہی۔ اسی طرح اب بھی ظلم کا خمیازہ ظالم ہی کو اٹھانا پڑے گا اور صداقت ہمیشہ بڑھے گی۔ کسی کا اپنی طاقت اور قوت کے گھمنڈ میں کسی کو مار ڈالنا یا قتل کر دینا صداقت میں شک اور شبہات کا موجب نہیں بن سکتا اور نہ اس سے ہمارے دل میں یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ ہمارا کیا حال اور انجام ہو گا۔
صداقت اپنے آپ اپنی جڑ پکڑتی ہے کسی انسان کی مدد کی وہ محتاج نہیں۔ جو اپنے پاؤں پر آپ کھڑا ہونے والا ہو اس کو اس امر کی ضرورت نہیں ہوتی کہ کوئی چھوٹی یا بڑی طاقت اس کی امداد میں کھڑی ہو۔ مجھے اس بات کا خیال نہیں اور نہ ہمارے دلوں میں اس قسم کا خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ جس کام اور جس صداقت کے قیام کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں کھڑا کیا ہے یا وہ لوگ جو احمدی اور حضرت مسیح موعودؑ کی طرف منسوب ہیں وہ کامیاب نہیں ہوں گے اور صداقت دنیا میں پھیلنے سے رُک جائے گی۔ بلکہ مجھے یہ خیال آتا ہے کہ امیر کی یہ بالکل بچوں کی سی حرکات ہیں جس طرح بچہ اسکول جانے سے انکار کرتا ہے اور باپ اس کو پکڑ کر اسکول لے جاتا ہے۔ کہیں وہ کاٹتا ہے اور کہیں وہ لاتیں مارتا ہے کہیں کپڑے پھاڑتا ہے یہی حالت حکومت کابل کی ہے وہ لاتیں مارتی اور ہمیں کاٹتی ہے مگر وہ اخلاقی سکول جو اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود کے ذریعہ کھولا گیا اس میں اس کو ضرور داخل ہونا پڑے گا۔ ماں باپ بچے کو اس کی لاتیں چلانے اور کاٹنے کی وجہ سے اس کو اسکول لے جانے سے باز نہیں رہتے اسی طرح ان کو بھی اس اخلاقی اسکول میں داخل ہونے کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو گا۔ یا ان کی مثال اس جانور کی ہے کہ جو دولتیام چلاتا اور بسا اوقات لوگوں کو زخمی بھی کر دیتا ہے۔ لیکن کونسا جانور ہے جس نے آخر کار کان نیچے نہ ڈال دیئے ہوں اور پھر ادھر سے ادھر یکے نہ کھینچتے پھرتے ہوں۔ یا گورنمنٹ افغان کی مثال اس نئے بیل کی ہے جو گردن پر جُوٗا رکھنے سے پہلو تہی کرتا اور دولتیام چلاتا ہے۔ مگر آخر اس کو جوئے کے نیچے گردن رکھنی پڑتی ہے۔ پہلے بھی آخر جوتے ہی گئے اور یہ بھی آخر جوتے ہی جائیں گے اور خدا کا کام ان کو بھی کرنا ہی پڑے گا۔ مگر مجھے جو خیال آتا ہے وہ یہ آتا ہے کہ ان کی ان بد بختیوں اور وحشیانہ حرکات اور بے وقوفیوں کا نتیجہ ان کے حق میں کیسا ہو گا۔ مجھے جس وقت گورنمنٹ کابل کی اس ظالمانہ اور اخلاق سے بعید حرکت کی خبر ملی میں اسی وقت بیت الدعا میں گیا اور دعا کی کہ الٰہی تو ان پر رحم کر اور ان کو ہدایت دے اور ان کی آنکھیں کھول تا وہ صداقت اور راستی کو شناخت کر کے اسلامی اخلاق کو سیکھیں اور انسانیت سے گری ہوئی حرکات سے وہ باز آجائیں۔ میرے دل میں بجائے جوش اور غضب کے بار بار اس امر کا خیال آتا تھا کہ ایسی حرکت ان کی حد درجہ کی بیوقوفی ہے۔
امیر اور اس کے ارد گرد بیٹھنے والے گذشتہ تاریخ تو جانتے ہوں گے اور تاریخی حالات اس میں انہوں نے پڑھے ہوں گے اور اگر اس سے بے خبر ہیں تو کم از کم مسلمان کہلانے کی حیثیت سے وہ قرآن تو پڑھتے ہوں گے اور ان حالات کو بھی پڑھتے ہوں گے کہ ظالموں نے اپنے ظلموں سے صادقوں اور راست بازوں کو ذلیل کرنا چاہا اور صداقت اور راستی کے مٹانے کے لئے سر سے پاؤں تک زور مارا مگر آخر کار مٹائے جانے والے وہی ہوئے جو کہ ظالم تھے۔ انہوں نے اس قرآن میں پڑھا ہو گا کہ ظالموں نے راست بازوں کی جماعتوں کو حقیر اور کمزور سمجھا اور اپنی قوت اور طاقت کے گھمنڈ میں ان کو ہر طرح کا دکھ دینے کی کوشش کی لیکن خدا نے ان کو یہی جواب دیا کہ تم کیا طاقت رکھتے ہو۔ تم سے پہلے تم سے زیادہ طاقتیں رکھنے والی قومیں گذری ہیں جنہوں نے خدا کے راست بازوں کو نابود کرنا چاہا اور جو صداقت وہ لائے اس کو دنیا سے مٹانا چاہا تمہاری طاقت ان کی طاقت کے دسویں حصے کے برابر بھی نہیں مگر باوجود اس کے وہ راست بازوں کا وجود دنیا سے مٹانہ سکے اور صداقت دنیا میں پھیل کر رہی۔
پس کوئی حکومت اپنی طاقت کے متعلق بے خوف نہیں ہو سکتی کیونکہ حکومتیں ترقی بھی کرتی ہیں اور گرتی بھی ہیں اور نہ کوئی بادشاہ تغیرات زمانہ سے مطمئن ہو سکتا ہے۔ گورنمنٹ افغان کا یہ فعل محض ہماری شرافت کی وجہ سے ہے کیونکہ ہم مذہب کی حکومت کی وجہ سے ان کے مقابلہ میں اخلاق کو ان کی طرح وحشیانہ رنگ میں استعمال نہیں کرتے ورنہ جس طرح وہ ظلم کر رہے ہیں کیا ہماری جماعت ظالم کے ظلم سے اپنے آپ کو نہیں بچا سکتی۔ بیشک وہ ہم سے زیادہ ہیں اور ہم ان کے مقابلہ میں کمزور ہیں مگر باطنیوں کی بھی کوئی بڑی جماعت نہیں تھی جب اخلاق کو مذہب کی قید سے انہوں نے آزاد کر دیا تو بڑی بڑی حکومتیں اور بادشاہ بھی ان سے کانپتے تھے۔ جس کو وہ اپنے مخالف پاتے تھے اس کو مخفی قتل کر دیتے تھے۔ مذہب کی جو حکومت اخلاق پر ہوتی ہے نہ کوئی بادشاہ کر سکتا ہے نہ کوئی گورنمنٹ۔ جب انسان مذہب اور اخلاق سے دور جا پڑتا ہے تو نہ کسی بادشاہ کا اس کو ڈر رہتا ہے اور نہ کسی حکومت کا اس کے دل میں کوئی خوف ہوتا ہے۔ کم سے کم ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے امیر صاحب اس قسم کے مظالم ہماری جماعت پر کرتا ہے تو اس کو یہ خیال نہ آتا ہو گا کہ اگر یہ لوگ بھی مذہب کی اخلاقی قید سے آزادی اختیار کریں تو وہ اس کے مظالم کو روک سکتے ہیں لیکن وہ تو اخلاق سے کام نہیں لیتا لیکن ان کے اخلاق مذہب کی حکومت کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور یہ کوئی خلاف انسانیت کام نہیں کرتے۔
میں ان کی اس حرکت پر جو انہوں نے ہمارے دو اور بھائیوں کو سنگسار کر دینے کی ہے اپنے دل میں کوئی غیظ اور غضب نہیں پاتا بلکہ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں خدا کے قول اور اخلاق کے خلاف ہم سے اور ہماری نسلوں سے ایسی حرکت سرزد نہ ہو۔
مجھے اس بات کا اتنا رنج نہیں کہ گورنمنٹ کابل نے ہمارے بھائیوں کو شہید کر دیا ہے اور نہ اس کی اتنی فکر ہے جو بات کہ مجھ پر اثر کرتی ہے وہ یہ ہے کہ نہ یہ زمانہ نہیں رہے گا امیر بھی مٹ جائے گا اور اس کے معاون اور مددگار بھی نہیں رہیں گے لیکن جس عقیدہ کی بناء پر انہوں نے یہ ظلم کئے وہ عقیدہ دنیا میں رہے گا اور اس عقیدہ والے بھی دنیا میں رہیں گے کیونکہ غیر احمدیوں کی بھی یہودیوں کی طرح قلیل تعداد دنیا میں قائم رہے گی اس وقت کا خیال کر کے مجھے ان پر اور ان کی نسلوں پر رحم آتا ہے جو امیر اور اس کے ساتھیوں کی اس عقیدہ میں وارث ہوں گی کیونکہ یہ تو دنیا سے مٹ جائیں گے لیکن ان کا یہ فعل دنیا میں محفوظ رہے گا اور اس کا جو وبال ان کو بھگتنا پڑے گا وہ سخت خطرناک ہو گا۔ حضرت عیسیٰ کے ساتھ بد سلوکی کرنے والے یہودی تو دنیا سے مٹ گئے لیکن ان کا وہ فعل دنیا میں محفوظ ہے آج جہاں کہیں بھی یہودی پائے جاتے ہیں عیسائی جو کچھ ان کے ساتھ سلوک کرتے ہیں اور جس ذلت کی زندگی یہودی بسر کر رہے ہیں دنیا دیکھ رہی ہے۔ مجھے اس بات کا خیال نہیں آتا کہ گورنمنٹ افغان نے ہمارے آدمیوں کو سنگسار کر دیا ہے مجھے ڈر ہے تو اس بات کا ہے کہ ہماری نسلیں جب تاریخ میں ان کے ان مظالم کو پڑھیں گی اس وقت ان کا جوش اور ان کا غضب عیسائیوں کی طرح ان کو کہیں اخلاق سے نہ پھیر دے کیونکہ جس وقت ان کو طاقت اور حکومت حاصل ہو گی ایک طرف وہ ان کی ظالمانہ اور وحشیانہ حرکات کو پڑھیں گے اور دوسری طرف یہ دیکھیں گے کہ وہ لوگ جنہوں نے ان کے بزرگوں پر ایسے ایسے ظلم اور ستم روا رکھے محض اس گھمنڈ میں کہ ہماری طاقت زبردست ہے اور یہ کمزور ہیں ہم حاکم ہیں اور یہ محکوم ہیں اس لئے ہم جو چاہیں ان کے ساتھ سلوک کریں کہیں وہ بھی یہ نہ کہہ دیں کہ چلو آج ہم بھی ان پر حاکم ہیں اور یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہم بھی جو چاہیں ان کے ساتھ سلوک کریں اس لئے ان تجربات اور واقعات کی بناء پر اس تقریر کے ذریعہ میں آئندہ آنے والی نسلوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ طاقت اور قوت کے زمانہ میں اخلاق کو ہاتھ سے نہ جانے دیں کیونکہ اخلاق اصل وہی ہیں جو قوت اور طاقت کے وقت ظاہر ہوں، ضعیفی اور ناتوانی کی حالت میں اخلاق اتنی قدر نہیں رکھتے جتنی کہ وہ اخلاق قدر رکھتے ہیں جبکہ انسان برسر حکومت ہو اس لئے میں آنے والی نسلوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جب خدا تعالیٰ ان کو ہماری ان حقیر خدمات کے بدلے میں حکومت اور بادشاہت عطا کرے گا تو وہ ان ظالموں کے ظلموں کی طرف توجہ نہ کریں جس طرح ہم اب برداشت کر رہے ہیں وہ بھی برداشت سے کام لیں اور وہ اخلاق دکھانے میں ہم سے پیچھے نہ رہیں بلکہ ہم سے بھی آگے بڑھیں۔
(الفضل ۱۹۔ فروری ۱۹۲۵ء)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
(رقم فرمودہ مئی ۱۹۲۵ء)
ہمارے عقائد جن کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک مختصر سا نقشہ ہمارے مذہب کا ذہن میں کھینچ سکتا ہے یہ ہے :۔
ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہے اور ایک ہے وہ ان تمام صفات سے متصف ہے جو قرآن کریم میں بیان کی گئی ہیں۔
ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور انسانوں سے علیحدہ موجود ہیں۔ خیالی یا وہمی وجود نہیں ہیں بلکہ حقیقتاً وہ ایسی ہستیاں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مادی اسباب کی آخری کڑی کے طور پر مقرر فرمایا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے لئے عالم مخلوقات میں ایک ایسی حرکت پیدا کرتے ہیں جو مختلف مدارج طے کرنے کے بعد وہ نتائج پیدا کر دیتی ہیں جن کو ہم اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہیں۔
ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے کلام نازل کیا کرتا ہے۔ اور جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے (جس کی حد بندی کرنے کی ہم کوئی وجہ نہیں پاتے خواہ لاکھوں اور کروڑوں خواہ اربوں سال ہوں) تبھی سے خدا تعالیٰ اپنے خاص خاص بندوں سے دنیا کی راہنمائی کے لئے کلام کرتا چلا آیا ہے۔ اب بھی کرتا ہے اور آئندہ کرتا رہے گا۔
ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ کلام الٰہی کئی اقسام کا ہے۔ ایک قسم شریعت یعنی ایسا کلام جو شریعت کا حامل ہوتا ہے اور ایک قسم تفسیر اور ہدایت ہوتی ہے یعنی کلام شریعت کی تفسیر اس کے ذریعہ سے کی جاتی ہے اور اس کے سچے معنے بتائے جاتے ہیں اور لوگوں کو حقیقی راستہ کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے خواہ وہ اس کلام کے حامل کے ذریعہ سے دنیا کو بتایا گیا ہو اور خواہ وہ اس سے پہلے کسی حامل کلام کے ذریعہ دنیا کو بتایا گیا ہو۔ اور ایک قسم الہام کی یہ ہے کہ اس کی غرض وثوق اور یقین دلانا ہوتی ہے۔ پھر ایک قسم الہام کی یہ ہے کہ اس میں اظہارِ محبت مد نظر ہوتا ہے۔ اور ایک قسم الہام کی یہ ہے کہ اس میں تنبیہ مد نظر ہوتی ہے اور اس قسم کا کلام کافروں اور مشرکوں پر بھی نازل ہو جاتا ہے۔ ہمارا یہ یقین ہے کہ کلامِ شریعت اس دنیا کے لئے قرآن کریم پر ختم ہو گیا ہے۔
ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ حاملینِ شریعت کی آخری کڑی محمد رسول اللہ ﷺ ہیں اور قرآن کریم کے بعد کوئی شرعی کتاب خدا کی طرف سے نازل نہیں ہو سکتی اور نہ رسول کریم ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی مبعوث ہو سکتا ہے جو کوئی نیا حکم شریعت لائے یا کسی مٹے ہوئے حکم کو نئے طور پر دنیا میں قائم کرے۔ یعنی نہ تو یہ ہو سکتا ہے کہ شریعت میں کوئی زیادتی کرے اور نہ یہ ہو سکتا ہے کہ پچھلے کلام کا کوئی حکم جو منسوخ ہو چکا ہو کسی نئے نبی کے ذریعہ سے قائم ہو۔
پھر ہم یقین کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ وقتاً فوقتاً دنیا کی ہدایت کے لئے بعض انسانوں کو جو اس کے کلام کے حامل ہونے کی قابلیت رکھتے ہیں اور جو لوگوں کے لئے نمونہ بننے کی طاقت رکھتے ہیں اپنے کلام سے مشرف کر کے دنیا کی ہدایت کے لئے مامور کرتا رہا ہے جو کہ کبھی تو کلامِ شریعت لے کر دنیا میں آئے ہیں اور کبھی صرف ہدایت ہی لے کر آتے ہیں خود ان پر کوئی ایسا کلام نازل نہیں ہوتا جس میں کوئی نیا حکم ہو۔
ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ دوسری قسم کے نبی جو شریعت نہیں لاتے اور صرف پہلی شریعت کی تفسیر اور تشریح کرنے کے لئے نازل ہوتے ہیں وہ ایسے زمانہ میں نازل ہوتے ہیں جب کہ اختلافات، روحانیت سے بُعد، خدا تعالیٰ سے دوری، تقویٰ کی کمی اور نیکی کا فقدان کلامِ شریعت کے صحیح معنے کرنے کی قابلیت اس وقت کے لوگوں سے مٹا دیتا ہے اور اگر کسی امر میں لوگ معنے دریافت بھی کر لیں تو اس قدر اختلافِ آراء ہو چکا ہوتا ہے کہ کسی شخص کو یقین اور تسلی نہیں ہو سکتی کہ یہ معنے درست ہیں۔ اور جب کہ خدا تعالیٰ کی طاقت اور قدرت لوگوں کی نظر سے بالکل مخفی ہو جاتی ہے اس کا وجود قصوں اور روایتوں میں محدود ہو جاتا ہے اور اس کے تازہ بتازہ جلوے دنیا میں نہیں آتے اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا نبی بھیجا جاتا ہے جو کلامِ الٰہی کی صحیح تفسیر جو اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے لوگوں تک پہنچا دیتا ہے اور تازہ نشانات کے ساتھ خدا تعالیٰ کے جلوے کو ظاہر کرتا ہے جس سے وراثتی ایمان جو درحقیقت ایک کوڑی کے برابر حقیقت نہیں رکھتا یقین اور وثوق کا مقام حاصل کرلیتا ہے۔
ہمارا یہ یقین ہے کہ امت کی اصلاح اور درستی کے لئے ہر ضرورت کے موقع پر اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء بھیجتا رہے گا۔ اور ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ قرآن کریم اور احادیث میں اس زمانہ کی نسبت خصوصیت کے ساتھ یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ اس وقت جب کہ رسول کریمﷺ کی تعلیم کو جو صفحات کاغذ پر تو موجود ہوگی لیکن لوگوں کے قلوب پر سے مفقود ہو جائے گی اور بلحاظ ایمان اور یقین کے وہ ثریا پر چلی جاوے گی آپ ہی کی امت میں سے ایک ایسا شخص ظاہر ہوگا جو پھر قرآن کریم کی حقیقت لوگوں پر ظاہر کرے گا اور ان کے ایمانوں کو تازہ کرے گا۔
ہمارا یہ یقین ہے کہ وہ شخص موعود ظاہر ہوچکا ہے اور ان کا نام مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ہے۔ ہم رسول کریمﷺ کی بتائی ہوئی ہدایت اور آپ سے پہلے انبیاء کی پیشگوئیوں کے مطابق یہ یقین رکھتے ہیں کہ آپ مسیح موعود تھے جن کے ذریعہ خدا تعالیٰ عیسائیت کے فتنہ کو پاش پاش کرے گا۔ اور آپ مہدی موعود تھے جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی اصلاح کرنی ہے اور آپ کرشن اور دوسرے بزرگ جو مختلف اقوام میں آئے ہیں ان کے مثیل تھے جن ناموں کے ذریعہ آپ نے ان قوموں کو اسلام کی طرف لانا ہے آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے تکمیلِ اشاعت کا کام کرنا ہے اور وہ کر رہا ہے۔
ہمارا یہ یقین ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اس پر ایمان لانا اور اس کا ساتھ دینا اور اس کی جماعت میں داخل ہونا ضروری ہے ورنہ وہ غرض و غایت ہی مفقود ہو جاتی ہے جس کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور آیا کرتے ہیں۔ اگر خدا تعالیٰ کے مامور کی جماعت میں داخل ہونا ضروری نہ ہو تو جیسا قرآن سے ظاہر ہے کہ نبی کی مخالفت اس وقت کے بڑے لوگوں کی طرف سے ضروری ہے کسی کو کیا ضرورت ہے کہ وہ ایک غیرضروری کام کے لئے ساری دنیا کی مخالفت سہیڑے۔ تبھی ایک جماعت اس مقصد کو لے کر کھڑی ہو سکتی ہے کہ وہ اس مامور کی تائید کرے گی اور اس کے کام کو دنیا میں پھیلائے گی جب کہ وہ سمجھتی ہو کہ بغیر اس کے ہم خدا تعالیٰ کی رضاء کو حاصل نہیں کر سکتے۔ پس وہ دنیا کی اشد ترین مخالفت کو جس سے بڑھ کر اور مخالفت نہیں ہوتی خدا تعالیٰ کی رضاء کے لئے برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔
ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔
ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہر انسان جب مرجاتا ہے اس کے اعمال کے مطابق اس کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے اس عرصہ میں جس کو قبر کا زمانہ کہتے ہیں مگر جس سے مراد مٹی کی قبر نہیں بلکہ اس سے مراد وہ خاص مقام ہے جس میں مُردوں کی ارواح رکھی جاتی ہیں۔ اور اس وقت بھی جزاء و سزا ملے گی جب یہ قبر کا زمانہ ختم ہو جائے گا اور حشر کبیر کا زمانہ شروع ہو جائے گا۔
ہمارا یہ یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سب صفات کے ساتھ اپنا اثر ظاہر کرتی ہے اور اس کی رحمتِ عظیم کے ماتحت آخر ایک دن ایسا آئے گا کہ تمام کے تمام بنی نوع انسان خواہ کیسی ہی بدی اور بدکاری اور کیسے ہی فسق اور کفر میں شرک یا دہریت میں مبتلاء ہوں ان کو اس کی رحمت اپنے اندر سمیٹ لے گی اور بالآخر وہ بات جو انسان کی پیدائش کے وقت خدا تعالیٰ نے ان سے کہی پوری ہو جائے گی یعنی وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ(51:57)۱؎تمام کے تمام اس کے عبد بندے اور اس کے عبادت گزار ہو جائیں گے۔ ہر شخص اپنے درجے کے مطابق بدلہ پائے گا۔ نہ کسی کی کوئی نیکی ضائع ہو گی اور نہ کسی کی بدی ضائع ہو گی۔ نادان ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ آخر میں جب دوزخ کے سلسلہ کو مٹا دیا جائے گا تو پھر سزا کا ہے کی ہوئی۔ دنیا میں روزانہ لوگوں کو سزا ملتی ہے پھر وہ چُھٹ جاتے ہیں مگر وہ سزا ہی کہلاتی ہے۔ دوزخ کی سزا تو اپنے زمانے کی وسعت میں اتنی ہے کہ اس کا خیال کر کے بھی دل کانپ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو قرآن کریم میں ابد کے لفظ سے ذکر کرتا ہے یعنی ہمیشہ گویا اس کو یوں سمجھنا چاہئے کہ وہ نہ ختم ہونے والی ہو گی تو کون شخص ایسا ہے جو اتنی لمبی سزا برداشت کر سکے۔ پھر اس سے زیادہ کیا سزا ہو سکتی ہے کہ ایک خدا تعالیٰ کا نافرمان اس وقت جب کہ اس کے بھائی قربِ الٰہی کے میدان میں دوڑ رہے ہوں گے اور آناً فاناً روحانیت میں ترقی کر رہے ہونگے وہ اپنی گناہ آلود روح دوزخ کی آگ میں جلا کر صاف کر رہا ہو گا کسی گھوڑ دوڑ کے سوار سے پوچھو کہ اس کو دوڑتے وقت روک لیا جائے اور بعد میں چھوڑا جائے تو اس کو کتنا صدمہ پہنچتا ہے۔
ہمارا یہ یقین اور وثوق ہے کہ انسانی روح ترقی کرتے کرتے ایسے درجے کو حاصل کرے گی جب کہ اس کی طاقتیں موجودہ طاقتوں کی نسبت اتنی زیادہ ہوں گی کہ اسے ایک نیا وجود کہا جا سکتا ہے۔ لیکن چونکہ وہ اسی روح کی نشوونما ہو گی اس لئے اس کا نام یہی ہو گا جو اس کو اب اس دنیا میں حاصل ہے۔ اس وقت روح اس قابل ہو جائے گی کہ اللہ کے ایسے جلوے کو دیکھے اور ایسی رؤیت اس کو حاصل ہو کہ باوجود اس کے کہ وہ حقیقی رؤیت نہ ہو گی مگر پھر بھی اس دنیا کے مقابلہ میں رؤیت اور یہ دنیا اس کے مقابلہ میں حجاب کہلانے کی مستحق ہو گی۔
ہمیں لوگوں سے یہ اختلاف ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے صرف یہودیوں میں نبوت کا سلسلہ مخصوص کیا ہوا ہے اور باوجود قرآن شریف کی متعدد آیات کی موجودگی کے وہ باقی تمام قوموں کو خدا اور اس کے نبیوں سے محروم رکھتے ہیں۔ پھر ہمیں ان لوگوں سے یہ اختلاف ہے کہ ان کا خیال ہے کہ خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کے بعد ہر قسم کے کلام کو روک دیا ہے حالانکہ کلام شریعت کے سوا کسی قسم کا کلام رکنے کی کوئی وجہ نہیں۔ کلام شریعت کے کامل ہو جانے سے کلام ہدایت اور کلام تفسیر کی ضرورت معدوم نہیں ہو جاتی بلکہ اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ اگر کلام شریعت آسکتا ہے تو پھر کسی پچھلے کلام شریعت کے مخفی ہو جانے میں چنداں حرج نہیں لیکن اگر کلام شریعت آنا بند ہو جائے تو اس کی تفسیر کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے ورنہ ہدایت کی کوئی راہ نہیں رہتی۔ اگر کہا جائے کہ انسان تفسیر کرتے ہیں تو ان کی تفسیروں میں اتنا اختلاف ہوتا ہے کہ ایک ایک تفسیر میں بیسیوں متضاد خیالات بیان کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ کلام الٰہی تو یقین اور وثوق کے لئے آتا ہے امورِ مذہبی میں بھی اگر شک اور شبہ ہی باقی رہا تو نجات کہاں سے حاصل ہوگی۔
پھر ہمیں لوگوں سے یہ اختلاف ہے کہ وہ تو یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت اصلاح کے لئے موسوی سلسلہ کے مسیح کو آسمان سے نازل کیا جائے گا اور ہم کہتے ہیں کہ باہر سے کسی آدمی کے منگوانے میں رسول کریم ﷺ کی ہتک ہوتی ہے جب کہ آپؐ ہی کے شاگرد اور آپ ہی سے فیض یافتہ انسان امت کی اصلاح کا کام کر سکتے ہیں تو باہر سے کسی آدمی کے لانے کی کیا ضرورت ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ اب کسی ایسے آدمی کے آنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ دین اور مذہب کامل ہو چکا ہے اب اس قسم کے مامور کی ضرورت نہیں جو امت محمدیہ سے نہ ہو۔
پھر ہمیں ان لوگوں سے یہ بھی اختلاف ہے کہ ہم ایمان رکھتے ہیں مامور کے آنے کی غرض محض شریعت کا لانا نہیں ہوتا بلکہ جیسا کہ بتایا گیا ہے کلام الٰہی کی صحیح تفسیر اور یقین اور وثوق کا پیدا کرنا ہوتا ہے اور اپنے نمونہ سے لوگوں کی اصلاح کرنا اس کا کام ہوتا ہے۔ شریعت کے حاصل ہو جانے سے یہ ضرورت پوری نہیں ہو جاتی۔ صرف اس صورت میں رسول کریم ﷺ کے بعد ہر قسم کے مامور کی ضرورت باطل ہو سکتی ہے جبکہ امت محمدیہؐ میں کسی قسم کا فساد پیدا ہی نہ ہو تا لیکن ذرا بھی کوئی شخص آنکھ کھول کر دیکھے تو چاروں طرف اس کو فساد ہی فساد نظر آئے گا۔ پھر کیسے تعجب بلکہ حماقت کی بات ہے کہ لوگ کہتے ہیں رسول کریم کے بعد بیماری تو ہو گی لیکن آپؐ کے بعد کوئی طبیب نہیں ہو گا۔ اگر بیماری ہو گی تو طبیب بھی ضرور ہو گا۔ اگر طبیب نہیں آتا تو بیماری بھی نہیں ہونی چاہئے۔ مگر مسلمانوں کی مذہبی، اخلاقی اور روحانی کمزوری تو اب اندھوں کو بھی نظر آ رہی ہے۔
پھر ہمارا ان لوگوں سے یہ اختلاف ہے کہ ہم یقین رکھتے ہیں قرآن شریف اپنے معارف اور مطالب ہمیشہ ظاہر کرتا رہتا ہے مگر ہمارے مخالف یہ کہتے ہیں کہ سب معارف پچھلے لوگوں پر ختم ہو گئے اب یہ کلام نَعُوْذُ بِاللّٰهِ ایسی ہڈی کی طرح ہے جس سے سارا گوشت نوچ لیا گیا ہو۔ تعجب ہے دنیا کے پردے پر تو نئے علوم نکلیں مگر خدا کے کلام سے کوئی نیا نکتہ نہ نکلے۔
پھر ہمارا یہ اختلاف ہے کہ ہم لوگ اس بات پر یقین اور وثوق رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کی دعائیں سنتا ہے مگر یہ لوگ ان باتوں کی ہنسی اڑاتے ہیں۔
پھر ہم لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان شرائط کے ساتھ اپنی قدرت کے نشانات اب بھی ظاہر کرتا ہے جو قرآن شریف میں اس نے بتائی ہیں لیکن ہمارے مخالفین کے دو گروہ ہیں۔ ایک تو وہ ہے جو کہتا ہے کہ اس تعلیم کے زمانہ میں ایسی باتیں مت کرو۔ اور دوسرا گروہ وہ ہے جو کہتا ہے خدا تعالیٰ کی قدرت نمائی تبھی ہو سکتی ہے جب کہ وہ اپنے مقرر کردہ قوانین کو بھی توڑ دے اور اپنی سنت کے خلاف کرے۔ اس وجہ سے وہ ایسی باتیں دنیا میں دیکھنی چاہتے ہیں جن کی نسبت خود خدا فرماتا ہے کہ میں ایسا نہیں کرتا۔ وہ لوگ عالم کہلاتے ہوئے اس قسم کی باتیں کرتے ہیں کہ چونکہ خدا قادر ہے اس لئے وہ جھوٹ بول سکتا ہے (نعوذ باللہ) حالانکہ وہ نہیں سمجھتے کہ جھوٹ بولنا تو کمزوری کی علامت ہے۔ یہ ان کے نزدیک قدرت کی عجیب دلیل ہے کہ چونکہ وہ کمزور ہے اس لئے وہ قادر نہیں۔
اسی طرح ہمارا ان لوگوں سے یہ اختلاف ہے کہ یہ لوگ اپنی نادانی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو چھوڑ دیا ہے اور اسلام کو بھلا دیا ہے اور اس لئے ان کو ترقی کرنے کے لئے ایسی کوشش کی ضرورت ہے جس میں شریعت اور اس کی ہدایت کی کوئی پرواہ نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن ہم لوگ اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہی پہلے اسلام کو قائم کیا اور اب بھی وہی قائم کرے گا اور ہم اس کے وعدوں کی وجہ سے مایوس نہیں۔
ہمارا ان لوگوں سے یہ اختلاف ہے کہ ہم بعث مابعد الموت کے متعلق یہ یقین رکھتے ہیں کہ اس زندگی میں انسان نئی طاقتوں کے ساتھ مبعوث کیا جاتا ہے۔ وہ اسی روح میں سے اور اسی انسان کے بعض ذرات میں سے نشوونما پا کر اس حالت کو حاصل کرتا ہے لیکن یہی ذرات اور یہی جسم وہاں نہیں جاتا۔ لیکن ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ ہم اس عقیدہ کی وجہ سے حشر اجساد کے قائل نہیں۔
ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ جنت کی نعمتیں بعینہٖ اسی رنگ میں ظاہر ہوں گی جس رنگ میں قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں۔ لیکن ہم ساتھ ہی یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ وہاں کا عالم ہی اور ہے اس لئے جس مادے کی چیزیں یہاں ہیں اس مادے کی چیزیں وہاں نہیں ہوں گی مگر ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ اس عقیدہ کی وجہ سے ہم جنت کے منکر ہو گئے۔
ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ دوزخ ایک آگ ہے لیکن ہم ساتھ ہی یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ وہ اس دنیا کی آگ کی قسم سے نہیں بلکہ وہ اس آگ سے کئی باتوں میں ممتاز ہے۔ وہ اپنی سختی میں اس سے بہت زیادہ ہے اور وہ انسان کے قلب کو صاف کر سکتی ہے مگر یہ آگ قلب کو صاف نہیں کرتی۔ ہمارے مخالف کہتے ہیں ہم اس عقیدہ کی وجہ سے دوزخ کے منکر ہو گئے ہیں۔
ہمارا یہ یقین ہے کہ آخر اپنی سزاؤں کو بھگت کر خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو پانے کی قابلیت حال کر کے انسان دوزخ میں سے نکالے جا کر جنت میں داخل کئے جائیں گے اور سب کے سب آخر خدا تعالیٰ کی نعمت کے وارث ہو جائیں گے ہمارے مخالف کہتے ہیں اس کی وجہ سے ہم ابدی عذاب کے منکر ہو گئے ہیں۔ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ خدا کی رحمت کو چھوڑ کر ان کے ابدی عذاب کو کیا کریں۔
یہ تو اصولی باتیں ہیں جن میں ہمیں دوسرے لوگوں سے اختلاف ہے۔ قرآن کریم کی آیات کی تفسیر میں انہیں اصول کے ماتحت پھر ایک وسیع خلیج ہمارے اور ان کے درمیان واقع ہو جاتی ہے۔ وہ اپنی تنگ حوصلگی کے ماتحت قرآن کریم کے معنے کرتے ہیں لیکن ہم قرآن کریم کو الہام کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ (الفضل مورخہ ۱۴۔ مئی ۱۹۲۵ء)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَالنَّاصِرُ
(تحریر فرمودہ جون ۱۹۲۵ء) (۱)
چونکہ ان دنوں حج بیت اللہ کے جواز یا عدم جواز کا سوال پیش ہے۔ اور مختلف لوگ اس کے متعلق اپنی آراء شائع کر رہے ہیں۔ اور ہندوستان کے مسلمان سیاسی لیڈروں نے تو زور دے کر اس سال حج کے لئے جہاز روانہ کرائے ہیں۔ اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ میں احمدیہ جماعت کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے اپنی رائے ظاہر کردوں تاکہ ہماری جماعت کے لوگ بے فائدہ تکلیف اور دکھ سے بچ جائیں۔ اور تا جو اور لوگ مجھ پر حسن ظنی رکھتے ہیں اور ان لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے ایک مخلصانہ مشورہ سے محروم نہ رہ جائیں۔
میں اپنے تمام دوستوں کو شروع مضمون میں ہی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس سال حج کرنا فتنہ کا موجب ہے۔ اور شریعت کے حکم کے ماتحت اس سال حج کے ارادہ میں التواء کرنا بہتر ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ حج بہر صورت اور ہر حالت میں فرض نہیں ہے بلکہ اسی وقت اور اسی پر فرض ہوتا ہے جب اور جس شخص میں بعض شرائط پائی جاویں۔ اور انہی شرائط میں سے ایک امن کا وجود بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ حج اس پر فرض ہے کہ جس میں وہاں پہنچنے کی استطاعت ہو۔ یعنی آمد و رفت کا کرایہ ہو، گھر والوں کا خرچ ہو، راستہ میں امن ہو، اس کی صحت اچھی ہو اور سفر کی تکالیف کو برداشت کر سکتا ہو وغیرہ وغیرہ۔ اور چونکہ اس سال مکہ مکرمہ کی راہ مخدوش ہے اس لئے میرے نزدیک ہندوستان کے لوگوں کے لئے اور ان دیگر ممالک کے لوگوں
کے لئے جن کو بحری سفر کے ذریعہ سے مکہ مکرمہ تک پہنچنا پڑتا ہے اس سال حج ضروری نہیں ہے بلکہ اس کا ملتوی کرنا بہتر ہے۔ انسان غیب کے حالات کو نہیں جانتا اور ہم نہیں کہہ سکتے کل کیا ہو۔ مگر فیصلہ موجودہ حالات پر لگایا جاتا ہے اور وہ حاجیوں کے لئے مخدوش ہیں۔
میری رائے کی بنیاد مندرجہ ذیل امور پر ہے۔ ان دنوں امیر ابن سعود اور شریف علی والی حجاز کے درمیان جنگ ہو رہی ہے۔ اور باوجود کوشش کے فریقین نے جنگ کو ملتوی کرنے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا۔ اس لئے بالکل ممکن ہے کہ حاجیوں کو لڑائی کے قدرتی نقصانات برداشت کرنے پڑیں۔ اور وہی مثل صادق آئے کہ ”جوگی جوگی لڑیں اور کھپروں کا نقصان“ دو جنگجو مسلح ایک دوسرے کو فنا کر دینے کا ارادہ کرنے والی قوموں کے درمیان ایک غیر مسلح بے بس جماعت کا آجانا جن خطرات کا موجب ہو سکتا ہے ان کا قیاس کر لینا کچھ مشکل نہیں اور ان کی موجودگی میں حج کا ارادہ کرنا جائز نہیں ہو سکتا۔
موجودہ حالت حجاز کی یہ ہے کہ امیر ابن سعود امیر نجد اس وقت مکہ مکرمہ پر قابض ہیں۔ شریف علی ملک الحجاز جدہ اور ساحل سمندر کے اکثر علاقہ پر قابض ہیں۔ امیر ابن سعود کی فوجوں نے جدہ کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔ اور ان کی پوری کوشش اس امر میں خرچ ہو رہی ہے کہ شریف علی کا تعلق عرب کی ان جنگجو قوموں سے نہ ہو جو اندرون عرب میں بستی ہیں تاکہ وہ اپنی فوجی طاقت کو بڑھا سکیں۔ شریف علی ایک قلیل فوج کے ساتھ جس کے افسر اکثر شامی لوگ ہیں جو قدیم ترکی فوج کے بقیہ ہیں اور انہوں نے ترکی کالجوں میں فنون حرب سیکھے ہوئے ہیں فوج کا ایک حصہ بھی شامی لوگوں پر مشتمل ہے۔ اور باقی حجازی قبائل کے لوگ ہیں۔ جدہ اور اس کے گرد و نواح میں اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ غلہ جو حجاز کو سمندر کی جانب سے آیا کرتا ہے مکہ مکرمہ اور پاس کے علاقہ میں نہ پہنچنے دیں تاکہ امیر نجد تنگ آکر محاصرہ اٹھا لیں اور لوگوں میں بھی فاقوں کی وجہ سے امیر نجد کی حکومت کے خلاف بے اطمینانی پیدا ہو جائے اور وہ ان کو چھوڑ کر شریف علی سے مل جاویں۔ چونکہ حج کا مروّجہ راستہ جدہ میں سے ہو کر گزرتا ہے۔ اس لئے اس راستہ سے ہو کر حج کو جانا تو بالکل ناممکن ہے۔ مگر اس راستہ کے سوا کچھ اور راستے بھی ہیں۔ جن میں سے ایک رابغ ہے جو مکہ مکرمہ کی قدیم بندرگاہ ہے۔ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں اسی بندر (بندرگاہ) سے مکہ کے لوگ پار کے ممالک کی طرف جاتے تھے۔ اور صحابہ کرام ہجرت حبشہ کے وقت اسی بندر سے ابی سینیا یا بعض لوگوں کے نزدیک یمن کی طرف ہجرت کر کے گئے تھے‘ یہ بندر
مکہ مکرمہ سے پانچ منزل پر واقع ہے۔ اور معمولی حالات میں مکہ سے رابغ تک انسان پانچ دن میں پہنچ جاتا ہے۔ رابغ اور دِو اور بندر اس وقت امیر ابن سعود کے قبضہ میں ہیں۔ اور اس وجہ سے تحریک کی جارہی ہے کہ حاجیوں کے جہاز اگر اس بندر پر جاویں تو آسانی سے مکہ پہنچ سکتے ہیں۔ مگر اس خیال کے لوگوں کی نظروں سے چند امور پوشیدہ ہیں۔
۱۔ رابغ گو پرانا بندر ہے لیکن بڑے جہازوں کے ٹھہرنے کے قابل نہیں۔ کیونکہ وہاں عام طور پر بڑے جہاز نہیں ٹھہرتے اور خصوصاً چونکہ وہ اب مکہ کا بندر نہیں ہے اس لئے وہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان کی منزلیں غیر آباد ہو چکی ہیں۔ پس نہ تو رابغ میں حاجیوں کے آرام کے لئے کافی جگہ مل سکتی ہے اور نہ راستہ کی منزلوں میں ان کے ٹھہرنے کی کوئی مناسب صورت ہو سکتی ہے۔ مزید برآں عرب میں سب سے اہم سوال کھانے پینے کا ہوتا ہے اور پانچ منزلوں پر کافی ذخیرہ کھانے پینے کا مہیا کر دینا ایک بہت بڑا کام ہے۔ امیر ابن سعود نے انتظام کا وعدہ کیا ہے مگر یاد رکھنا چاہیئے کہ امیر ابن سعود جنگی آدمی ہیں۔ اور عرب کے باشندے ہیں۔ وہ انتظام کے جو معنے سمجھتے ہیں وہ بالکل اور ہیں۔ ایک عرب سپاہی کھجور کی گٹھلیاں کھا کر یا درختوں کی چھال کھا کر کئی دن گذارہ کر لیتا ہے۔ اور پانی کا ایک گھونٹ اس کی تشنگی کے بجھانے کے لئے کافی ہوتا ہے یہ چیزیں ہندوستانی آدمیوں کے لئے گذارہ نہیں کہلا سکتیں۔ اور خصوصاً عورتوں بچوں کے لئے تو ایسے حالات میں یقینی تباہی ہے۔ وہ جو کچھ بھی انتظام کریں گے اس میں ہندوستانی طریقِ رہائش کا لحاظ نہیں رکھا جا سکتا۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہوٹلوں اور اعلیٰ قہوہ خانوں کا انتظام نہیں کر سکتے۔ کیونکہ یہ انتظام تو پہلے بھی نہ تھا۔ میرا مطلب انتظام سے یہ ہے کہ پینے کو پانی مل جائے اور کھانے کو غلہ اور کافی اونٹ ہوں۔ جن پر لوگ سوار ہو کر مکہ پہنچ سکیں۔ میرا جہاں تک خیال ہے امیر ابن سعود کے لئے باوجود اس کے کہ ان کی کامیابی اس سال کے حج کی کامیابی پر منحصر ہے، یہ انتظام بھی مشکل ہو گا۔
۲۔ دوسری دقت یہ ہے کہ رابغ گو امیر ابن سعود کے قبضہ میں ہے مگر اس کا راستہ ساحل کے کنارے کنارے مکہ کی طرف جاتا ہے اور یہ علاقہ شریف علی کے قبضہ میں ہے۔ چونکہ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں شریف علی کو حاجیوں کے مکہ پہنچنے میں سخت نقصان کا اندیشہ ہے اس لئے وہ بھی آسانی سے ان قافلوں کو گذرنے نہیں دیں گے۔ اور ضرور ہے کہ اگر خود مصلحتاً حاجیوں کے قافلوں پر دست درازی نہ کریں تو ارد گرد کے قبائل کو اکسا کر ان سے حملہ کروا دیں اور حاجیوں کو مال اور جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔
۳۔ مگر سب سے اہم سوال رابغ تک پہنچنے کا ہے۔ قوانینِ دُوَل کے مطابق ہر بادشاہ اپنے ساحل کے تین میل کے اندر سمندر کا مالک سمجھا جاتا ہے۔ اور کھلے سمندر میں بھی ہر بادشاہ کا جو دوسرے بادشاہ سے لڑائی کر رہا ہو حق ہے کہ اس کے ملک میں جانے والے غلہ اور ان اشیاء کو لُوٹ لے جو جنگ میں کام آتی ہیں۔ چونکہ شریف علی کے پاس جنگی بیڑا ہے اور امیر ابنِ سعود کے پاس نہیں ہے اس لئے امیر ابنِ سعود تو حاجیوں کے جہازوں کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ مگر شریف علی ہر اس جہاز کو جس کی منزل مقصود امیر ابنِ سعود کا علاقہ ہو، لوٹ سکتے ہیں اور پکڑ سکتے ہیں۔ چونکہ شریف علی کی کامیابی کا انحصار ہی اس امر پر ہے کہ امیر ابنِ سعود کو غلہ نہ پہنچے۔ اس لئے وہ پورا زور لگائیں گے کہ حاجیوں کے جہاز جو کئی ہزار ٹن غلہ بھی لے جا رہے ہیں منزل مقصود تک نہ پہنچ سکیں اور راستہ میں ہی پکڑ لئے جاویں۔ اس سے ایک تو امیر ابنِ سعود کو نقصان پہنچے گا دوسرے غلہ کی بہتات کی وجہ سے شریف علی کی طاقت بڑھ جائے گی۔ پس اندریں حالات شریف علی حتیٰ المقدور حاجیوں کو رابغ نہیں پہنچنے دیں گے اور راستہ میں ہی گرفتار کر کے جدہ لے جانے کی کوشش کریں گے اور یہ کام ان کے لئے بہت آسان ہے۔ اگر رابغ پر کھڑے ہوئے جہاز کو بھی وہ جنگی جہاز کے ذریعہ سے گرفتار کرنے کی کوشش کریں تو امیر ابنِ سعود بوجہ جنگی بیڑا نہ رکھنے کے کچھ نہیں کر سکتے اور اس امر میں شریف علی بالکل قوانینِ دُوَل کے دائرہ کے اندر کام کر رہے ہوں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ حاجیوں کے اُتر جانے کے بعد جہاز پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں۔ اگر ایسا ہوا تو حاجی خوراک سے بالکل محروم رہ جائیں گے۔
شریف علی کو یہ بھی تقویت حاصل ہے کہ بوجہ ان خبروں کے کہ امیر ابنِ سعود اور شیخ سنوسی کا آپس میں کوئی سمجھوتہ ہوا ہے اٹلی کا میلان ان کی طرف ہے اور اٹلی کا علاقہ مسووا رابغ کے مقابلہ پر ہے اور وہاں اٹلی کے ساحلی جہاز ملک کی حفاظت کے لئے رہتے ہیں۔ یہ جہاز بغیر اس امر کے ظاہر ہونے دینے کے کہ وہ شریف علی کی حمایت کر رہے ہیں بحیرہ احمر میں سے گزرنے والے ان جہازوں کی خبر رکھ سکتے ہیں جو رابغ جا رہے ہوں۔ اور وقت پر تشریف علی کو اطلاع دے سکتے ہیں۔ اٹلی آگے بھی کافی ذخیرہ سامانِ حرب کا حجازی حکومت کو دے چکا ہے۔ ان حالات میں حاجیوں کے جہازوں کی حالت بہت خطرہ میں ہو گی۔
میں یہ نہیں کہتا کہ ان حالات میں جہازوں کا پہنچنا ناممکن ہے۔ نہایت زبردست بیڑوں کی موجودگی اور تجربہ کار بحری کمانڈروں کی موجودگی میں بھی بعض جہاز دھوکا دے کر نکل جاتے ہیں۔
مگر خطرہ کا حصہ ایسے موقعوں پر بہت زیادہ ہوتا ہے اور ایسے خطرہ میں اپنی جان کو ڈال کر حج کر لئے جانا شریعت کے حکم کے خلاف ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ اس دفعہ کا حج سیاسی حج ہے۔ امیر ابن سعود کی تمام کوششیں حج کی تائید میں صرف اس لئے ہیں کہ اگر اس سال حج نہ ہو تو ڈیڑھ دو لاکھ من غلہ جو ان دنوں عرب میں پہنچ جاتا ہے وہ نہیں پہنچے گا۔ اور اس سے ان کو بہت نقصان پہنچے گا۔ دوسرے وہ چونکہ بیرونی اسلامی دنیا سے بالکل بے تعلق ہیں وہ چاہتے ہیں کہ اس موقع پر تمام دنیا کے مسلمانوں سے ان کے تعلقات قائم ہو جائیں۔ تیسرے حج کی آمد پر اہل مکہ اور ارد گرد کے قبائل کا سال بھر گزرتا ہے۔ اگر حج نہ ہو تو ان لوگوں کی حالت پریشان ہو جائے گی۔ اور حکومتِ نجد پر ان کا بوجھ پڑے گا۔ اور اگر حکومت ان کا انتظام نہیں کرے گی تو ملک میں ایسی بے چینی پیدا ہوگی جس کا سنبھالنا حکومت کے لئے مشکل ہوگا۔ پس امیر ابن سعود اپنا سارا زور اس امر کے لئے خرچ کر رہے ہیں کہ کسی طرح لوگ حج کے لئے آویں تاکہ غلہ بھی مکہ میں پہنچ جائے‘ لوگوں کے گزارہ کا بھی سامان ہو جائے اور عالمِ اسلام کی رائے کو بھی وہ اپنے حق میں کر لیں۔
ہندوستان کے مسلم لیڈر بھی حج کی تائید محض سیاست کی وجہ سے کر رہے ہیں۔ وہ شریف علی کے دشمن ہیں کیونکہ انہوں نے ترکوں کے خلاف جنگ کرنے میں سب سے زیادہ حصہ لیا تھا۔ اور وہ جانتے ہیں کہ اگر اس سال حج نہ ہوا تو شریف علی کی طاقت بہت بڑھ جائے گی۔ امیر ابن سعود کی نسبت یہ مشہور کیا جا رہا ہے کہ وہ ترکوں کے ساتھ ہیں۔ وہ ایک زمانہ میں ترکوں کے سخت دشمن تھے۔ موجودہ زمانہ میں ان کا میلان ترکوں کی طرف اگر ہے تو اس کی وجوہ محض سیاسی ہیں دلی محبت اس کا باعث نہیں۔ مگر بہرحال چونکہ شریف کی طاقت کو توڑ رہے ہیں اس لئے ہندوستان کے مسلمان ان کی تائید میں ہیں۔ گو وہ مذہبًا ہندوستان کے رائج الوقت مذہب کے خلاف ہیں یعنی حنفی مذہب کے سخت مخالف ہیں۔ اور اس خاندان کے درخشندہ گوہر ہیں جن سے وہابیت نکلی ہے۔ پس ہندوستان کے لیڈروں کی تائید امیر ابن سعود کی محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ شریف علی کی مخالفت کی وجہ سے ہے۔ لَا بِحُبِّ عَلِيٍّ بَلْ بِبُغْضِ مُعَاوِيَةَ پھر ایک دفعہ اپنا رنگ دکھا رہا ہے۔ مگر خدا کرے کہ اس ذاتی بُغض و عناد کا شکار وہ غریب حاجی نہ ہوں جو اپنی سادہ لوحی سے مؤیدین امیر ابن سعود کے مواعید و مواثیق پر یقین کر کے حج کے لئے روانہ ہو چکے ہیں یا ہو رہے ہیں۔ آئندہ واقعات ہی اس امر کو ظاہر کریں گے جو خدا تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ مگر موجودہ حالات پر قیاس کر کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ حاجیوں کی جانیں اور مال سخت خطرہ میں ہیں۔ گو دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالٰی ایسے سامان پیدا کر دے کہ وہ غریب لوگ جو اس کے جلال کے ظاہر کرنے والے گھر کی زیارت کی غرض سے اس خطرہ کے وقت میں گھروں سے نکلے ہیں ہر قسم کے شر سے محفوظ رہیں۔ آمین۔
میں اِنْشَاءَ اللّٰہُ تعالٰی اگلے مضمون میں عرب کے موجودہ فتنہ کے متعلق سیاسی نقطہ نگاہ سے بھی کچھ روشنی ڈالوں گا۔
خاکسار مرزا محمود احمد (الفضل ۴؍جون ۱۹۲۵ء)
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھُوَالنَّاصِرُ
(تحریر فرمودہ جون ۱۹۲۵ء) (۲)
میں نے پچھلے مضمون میں حج بیت اللہ کے متعلق اپنی رائے لکھی تھی کہ موجودہ حالات کو مدّ نظر رکھتے ہوئے اس سال حج کے لئے جانا شریعت کے احکام کے خلاف ہے۔ گو خطرات اس قسم کے نہیں ہیں کہ کہا جاسکے کہ ضرور ہی ہر شخص تکلیف اٹھائے گا مگر ایسے ضرور ہیں کہ غالب گمان یہ ہے کہ لوگوں کو تکلیف ہوگی اور ممکن ہے کہ وہ تکلیف سینکڑوں کے لئے ہلاکت کا موجب ہو یا ان کی صحت اور دماغ پر نا قابلِ تلافی اثر ڈالے اور ایسے حالات میں حج فرض نہیں رہتا بلکہ پسندیدہ بھی نہیں ہوتا۔ اور اس کی تحریک کرنے والے شریعت کی روح کو اور اس کے مغز کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ مجھے خصوصیت سے اس امر پر تعجب آتا ہے کہ آج سے کچھ سال پہلے یہی لوگ جو آج حج کے فرض ہونے پر زور دے رہے ہیں ، لوگوں کو روک رہے تھے کہ مکہ کی حالت مخدوش ہے لوگوں کو حج کے لئے نہیں جانا چاہئے۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت مکہ پر شریف علی کا قبضہ تھا۔ اور یہ لوگ چاہتے تھے کہ ان کو کسی طرح نقصان پہنچے۔ پس اس وقت کا طریقِ عمل موجودہ طریقِ عمل سے مل کر بتا رہا ہے کہ حج کی تحریک حج کی خاطر سے نہیں ہے ، بلکہ محض سیاسی وجوہ سے ہے۔ اور یہ بات نہایت قابلِ افسوس ہے اور دین کو بازیچۂ اطفال بنانے کے مترادف۔
اس سال حج کو جانے کے متعلق جو میری رائے ہے اس کو بیان کرنے کے بعد میں چاہتا ہوں کہ فتنہ حجاز کے متعلق بھی کچھ بیان کروں۔ کیونکہ حجاز کی حکومت کا سوال سب مسلمان کہلانے والے فرقوں سے تعلق رکھتا ہے خواہ احمدی ہوں خواہ غیر احمدی۔
جس وقت ترک جنگِ عظیم میں شامل ہوئے ہیں اس وقت دُوَلِ مُتَّحِدہ یعنی برطانیہ، فرانس اور اٹلی نے کوشش شروع کی کہ عرب لوگ ان کے ساتھ مل جاویں اور ترکوں کا ساتھ چھوڑ دیں۔ اس سے ان کی تین غرضیں تھیں۔ ایک تو یہ کہ ترکوں کی طاقت کمزور ہو جائے گی۔ اور ان کو کچھ حصہ فوج کا عربوں کے مقابلہ کے لئے رکھنا پڑے گا۔ خصوصاً یہ خیال تھا کہ مصر محفوظ ہو جائے گا۔ کیونکہ مصر کی طرف راستہ عرب علاقہ میں سے گذر کر جاتا ہے۔ دوسری یہ کہ ترکوں کو غلہ مہیا کرنے والے حصے زیادہ تر عرب علاقے ہیں۔ یعنی عراق اور شام۔ پس عربوں کو ساتھ ملانے سے اتحادیوں کو امید تھی کہ ترکوں کو غلہ وغیرہ مہیا کرنے میں دقت ہوگی۔ تیسری وجہ یہ تھی کہ اتحادی خیال کرتے تھے کہ اگر عرب لوگ ساتھ مل گئے تو عالم اسلامی کو جو ہمدردی ترکوں سے ہے وہ نہ رہے گی۔ کیونکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ساکنین ہمارے ساتھ مل جاویں گے۔
چونکہ ترکی حکومت کے دورِ جدید میں عربوں پر سخت ظلم کئے جاتے تھے ان کو اچھے عہدے نہیں دیئے جاتے تھے عربی زبان کو مٹایا جاتا تھا اور عرب قبائل کو جو مدد سلطان عبد الحمید خاں کی طرف سے ملتی تھی وہ بند کر دی گئی تھی۔ اس لئے عرب بد دل تو پہلے ہی سے ہو رہے تھے بعض شامی اُمراء اور شریف مکہ کے نمائندوں کے ساتھ تبادلہ خیالات کے بعد عرب لوگ اس شرط پر اتحادیوں کے ساتھ ملنے کے لئے تیار ہو گئے کہ کُل عرب کی ایک حکومت بنا کر عربوں کو پھر متحد کر دیا جائے گا۔ چونکہ شریف مکہ ہی اس وقت کھلے طور پر لڑ سکتے تھے اس لئے انہی کو امید دلائی گئی اور انہی کو امید پیدا بھی ہوئی کہ وہ سب عرب کے بادشاہ مقرر کر دیئے جائیں گے۔ اس معاہدہ کے بعد شریف حسین شریف مکہ نے اپنے آپ کو اتحادیوں سے ملا دیا۔ اور ترکوں کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ یہ جون ۱۹۱۶ء میں ہوا۔ جبکہ قطر پر مشہور انگریزی جنرل ٹاؤن شنڈ کو سب فوج سمیت ترکوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے تھے۔ اور جبکہ ترکی فوجیں غلبہ حاصل کر رہی تھیں۔ پس عربوں کا اس وقت اتحادیوں کی مدد کے لئے کھڑا ہونا بتاتا ہے کہ وہ نہایت سنجیدگی سے اپنی آزادی حاصل کرنے کے درپے تھے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی بتاتا ہے کہ اتحادیوں کو ان کا مدد دینا انتہائی درجہ کی قربانی پر مشتمل تھا اور ان کا شکریہ اتحادیوں پر لازم۔
اس بغاوت کا نتیجہ یہ ہوا کہ گو اتحادیوں کو کچھ تو فائدہ پہنچ گیا مگر جو فوائد ان کو مد نظر تھے وہ نہ پہنچے۔ مسلمانوں کی عام ہمدردی ان کو حاصل نہ ہوئی بلکہ مسلمانوں کے دل اتحادیوں کے بغض سے اور بھی بھر گئے۔ اور عربوں کو بھی انہوں نے بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ شام اور عراق میں سوائے معدودے چند لوگوں اور قبیلوں کے اکثر حصہ آبادی کھلے طور پر کچھ نہ کر سکی مگر یہ ضرور ہوا کہ ترکوں کی توجہ بٹ گئی اور مصر پر حملہ کا خیال ان کو چھوڑنا پڑا۔ کیونکہ اس صورت میں ان کا عقب غیر محفوظ ہو گیا۔
میرے نزدیک بغاوت، بغاوت ہی ہے اور اس لحاظ سے میں ترکوں سے پوری ہمدردی رکھتا ہوں۔ اور شریف مکہ کے اس فعل کو نہایت بُرا اور قبیح خیال کرتا ہوں۔ مگر میں ساتھ ہی یہ خیال کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق یہ فعل ہوا۔ کیونکہ اس طرح مقاماتِ مقدسہ اتحادیوں کی دست بُرد سے محفوظ ہو گئے۔ آخری دو سالوں میں اٹلی اس قدر تنگ آ چکا تھا کہ جنگ کو جلد سے جلد ختم کرنا چاہتا تھا۔ اور کوئی تعجب نہیں کہ چونکہ اس کا افریقی علاقہ مسوع اور عرب کے ساحل کے مقابل پر ہے، وہ کچھ فوج جدہ میں اتار کر مقاماتِ مقدسہ پر قبضہ کرنا چاہتا۔ اور اٹلی جس مقامِ تہذیب پر ہے اس کو سوچ کر جسم کے رونگٹے اس خیال سے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پس میں ہمیشہ یہ خیال کرتا ہوں کہ اس طرح عربوں کا اتحادیوں سے مل جانا مقاماتِ مقدسہ کی حفاظت کا ایک ظاہری ذریعہ بن گیا اور خدا تعالیٰ کی تدابیر میں سے اسے ایک تدبیر سمجھنا چاہئیے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے جبکہ میں ہندوستان کے لئے سَوَرَاج (حکومتِ خود اختیاری۔ مرتّب) کا مطالبہ کرنے والے اور حکومت بہ رضائے باشندگان کا اصل پکار پکار کر سنانے والے مسلمان لیڈروں کو دیکھتا ہوں کہ وہ عربوں کی اس بغاوت کے خلاف جوش دکھاتے ہیں۔ اگر ہندوستان کے باشندوں کا حق ہے کہ وہ اپنے ملک کی حکومت کا آپ فیصلہ کریں تو باشندگانِ عرب کا کیوں حق نہیں کہ وہ اپنے ملک کی حکومت اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کریں۔ ان کا عربوں کو گالیاں دینا ان کے دعویٰ اور ان کے عمل میں ایسا تضاد پیدا کرتا ہے کہ ہر عقلمند اس کو دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے۔
غرض کہ جون ۱۹۱۶ء میں شریف نے ترکوں کے خلاف جنگ شروع کی۔ اور جنگ کے بعد شام کی حکومت امیر فیصل بن شریف حسن کو دے دی گئی۔ فلسطین اور عراق کے درمیان کا علاقہ عبداللہ بن شریف حسن کو اور حجاز کی حکومت خود شریف کے ہاتھ میں آئی۔ اس عرصہ میں فرانس نے شام کا مطالبہ کیا۔ اور انگریزوں نے وہ علاقہ اس کے سپرد کر دیا۔ چونکہ فرانس نہیں چاہتا تھا کہ شام آزادی حاصل کرے اور امیر فیصل کے ارادے اس وقت بہت بلند تھے وہ ایک متحدہ عرب حکومت کے خواب دیکھ رہے تھے۔ فرانس کے نمائندوں اور ان میں اختلاف ہوا۔ اور امیر فیصل کو شام چھوڑنا پڑا۔ انگریزوں نے اس کو بدلہ میں ان کو عراق کا بادشاہ بنا دیا۔ سیاسی طور پر عرب کی آئندہ امیدوں پر یہ ایک بہت بڑا حربہ تھا۔ کیونکہ شام کی آزادی کا سوال بالکل پیچھے جا پڑا ۔ اور شام کی شمولیت کے بغیر عرب کبھی متحد نہیں ہو سکتا تھا۔ کیونکہ شامی سب عرب میں سے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور ترقی کرنے کی استعداد رکھتے ہیں۔ اور پھر ان کا ملک نہایت سرسبز بھی ہے۔ عراق سرسبز ہے مگر عراق سے انگریزوں کے فوائد ایسے وابستہ ہیں کہ یہ امید نہیں کی جاسکتی تھی اور نہ کی جاتی ہے کہ عراق کسی قریب زمانہ میں ایسا آزاد ہو جائے کہ عرب کو متحد کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ دوسرے عراقی تعلیم میں بہت پیچھے ہیں اور ان میں عرب کو متحد کرنے کی روح بھی موجود نہیں۔
اس تبدیلی کا ایک اور بھی اثر پڑا ۔ امیر فیصل نے دیکھ لیا کہ عرب کو متحد کرنے کے ان کے ارادے خواب و خیال بن گئے۔ وہ انگریزوں کے ممنون احسان بھی ہو گئے کیونکہ جب وہ سب کچھ کھو چکے تھے ۔ انگریزوں نے ان کو حکومت دے دی نہ اور کچھ نہیں تو نام کا بادشاہ ان کو بنا دیا۔ اس وجہ سے ان کی آزاد طبیعت واقعات کی غلام بن گئی۔ اور وہ ہمت و جوش جو انہوں نے پہلے چند سالوں میں دکھایا تھا اب ایک مایوسانہ تسلی سے بدل گیا۔
جہاں اس تبدیلی کا یہ اثر پڑا کہ شریف حسین کے سب سے ہوشیار اور ذکی فرزند امیر فیصل کو اپنی آئندہ امیدوں کو خیر باد کہہ کر ایک شام کی بادشاہت پر قناعت کرنی پڑی۔ وہاں اس کا ایک اور بھی اُلٹا اثر ہوا ۔ اور وہ یہ تھا کہ امیر نجد ابن سعود کے غضب کی آگ امیر فیصل کے امیر عراق ہونے پر بھڑک اٹھی۔ امیر نجد جیسا کہ آگے بیان ہو گا شریف مکہ کے خاندانی دشمن تھے ۔ اور ان کی دشمنی کئی نسل پرانی دشمنی تھی۔ جب عرب کے شریف کے خاندان کے نیچے متحد کر دینے کا سوال اٹھتا تھا تو طبعاً ان کو بُرا لگتا تھا۔ کیونکہ اس کے یہ معنی تھے کہ نہ صرف ان کا دشمن خاندان اس قدر اقتدار دیا جائے بلکہ وہ ان کے علاقہ پر بھی قبضہ کر لے اور ان کو اس کے ماتحت ہو کر رہنا پڑے ۔ پس جب انہوں نے دیکھا کہ امیر فیصل کو شام سے جواب مل گیا ہے تو ان کو بہت خوشی ہوئی۔ اور جب انہوں نے دیکھا کہ دُوَلِ متحدہ نے خلاف وعدہ عرب کو مختلف ریاستوں میں تقسیم کر دیا اور پاک حکومت میں جمع کرنے کی نہ خود کوشش کی اور نہ عربوں کو اس کے لئے کوشش کرنے کی اجازت دی وہ طبعاً خوش ہوئے اور انہوں نے مزید اطمینان کے لئے انگریزوں سے ایک معاہدہ کر لیا۔ بظاہر تو معاہدہ یہ تھا کہ وہ حجاز کے علاوہ پر حملہ نہ کریں گے مگر اس کا لازمی مفہوم
یہ بھی تھا کہ ان کے علاقہ پر بھی انگریز یا اور کوئی عرب حکومت حملہ نہیں کر سکے گی ۔ گورنمنٹ کی طرف سے کئی لاکھ روپیہ سالانہ ان کو اس معاہدہ کے بدلہ میں ملتا بھی تھا۔ جو بحرین کی انگریزی قنصل کے ذریعہ سے ان کو دیا جاتا تھا اور اسی قنصل کے ذریعہ سے ان سے مراسم دوستانہ طے کئے جاتے تھے۔
غرض شریفی خاندان کے کمزور ہونے پر ابن سعود خوش تھے کہ امیر فیصل عراق کے بادشاہ مقرر ہوں گے ۔ امیر ابن سعود جانتے تھے کہ سر دست عراق انگریزوں کے تصرف میں ہے اور نہایت ضرور حالت میں ہے۔ اس میں نجد پر حملہ کرنے کی طاقت نہیں ۔ لیکن ان کو یہ بھی نظر آتا تھا کہ کسی نہ کسی دن عراق طاقتور ہو جائے گا۔ انگریزوں کی تربیت میں وہاں کے باشندے جنگی فنون سیکھ جائیں گے اور مالدار بھی ہو جائیں گے ۔ اس وقت عراق اور حجاز اگر مل کر اس پر حملہ کر دیں تو چونکہ نجد کا علاقہ عراق اور حجاز کے درمیان میں ہے ، امیر نجد کو اپنی حفاظت نہایت مشکل ہو جائے گی۔ مگر وہ اس وقت کچھ نہیں کر سکتے تھے ۔ وہ عراق پر حملہ نہیں کر سکتے تھے کیونکہ عراق پر حملہ انگریزوں پر حملہ تھا۔ جس کی ان میں تاب نہ تھی۔ وہ حجاز پر بھی حملہ نہیں کر سکتے تھے ۔ کیونکہ وہ انگریزوں سے اسی غرض سے روپیہ لے رہے تھے کہ وہ حجاز پر حملہ نہ کریں گے ۔ مگر وہ ہوشیار آدمی تھے اگر وہ عراق اور حجاز پر حملہ نہیں کر سکتے تھے تو کم سے کم اس کے لئے تیاری کر سکتے تھے ۔ چنانچہ اس عرصہ میں انہوں نے خوب تیاری شروع کر دی اور ایک لشکر جرار تیار کرتے رہے مگر امیر حجاز انگریزوں کی مدد کے بھروسہ پر بالکل مطمئن رہے ۔
(الفضل ۹ جون ۱۹۲۵ء)
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ
(تحریر فرمودہ جون ۱۹۲۵ء) (۳)
اس عرصہ میں بعض نئے امور پیدا ہونے شروع ہوئے ۔ انگریزی نمائندہ مصر نے شریف مکہ سے وعدہ کیا تھا کہ عرب کو آزاد ہونے کے بعد ایک حکومت بنا دیا جائے گا۔ وہ اس وعدہ کے پورا کرنے پر زور دیتے تھے ۔ اور ہر عرب تین طاقتوں کے اثر کے نیچے تقسیم ہو چکا تھا۔ شام پر فرانس کا قبضہ تھا (اصلی عرب میں شام وغیرہ شامل نہیں لیکن موجودہ زمانہ میں چونکہ عراق، فلسطین اور شام میں عرب ہی زیادہ تر آباد ہیں اور بولی بھی عربی ہے ۔ اس لئے اس سب علاقہ کو عرب ہی کہا جاتا ہے) عراق اور فلسطین انگریزوں کے تصرف کے نیچے تھے ۔ نجد ایک آزاد امیر ابنِ سعود کے ماتحت تھا۔ اگر انگریز چاہتے بھی تو ایسا نہ کر سکتے تھے۔ شریف کو غصہ تھا کہ مجھ سے وعدہ خلافی کی گئی ہے۔ انگریزوں کو شکوہ تھا کہ جب تم اپنے علاقہ کے سنبھالنے کی بھی طاقت نہیں رکھتے تو سارے عرب کو اپنے ماتحت لانے کے لئے کس طرح خواہشمند ہو۔ شریف مکہ کو بھی انگریزوں کی طرف سے ایک معقول مدد ملتی تھی ۔ انگریز چاہتے تھے کہ وہ اس مدد کے بدلے میں انگریزوں سے اور بھی رعایت کریں۔ ادھر عالم اسلامی کا یہ حال تھا کہ وہ شریف مکہ کے سخت خلاف ہو رہا تھا کہ یہ انگریزوں کی طرف کیوں مائل ہیں۔ شریف نے جب دیکھا کہ ادھر انگریز ان کی اس خواہش کو پورا کرنے سے گریز کر رہے ہیں کہ عرب کو ایک حکومت کر دیا جائے بلکہ اُلٹا اس روپیہ کے بدلے جو ان کو دیا جاتا ہے بعض ایسے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں کہ جو ان کی آزادی کو تباہ کر دے گا۔ اور ادھر عالمِ اسلام ان کے اس رویہ کے خلاف ہے تو چونکہ ان کی دیرینہ خواب پوری ہوتی نظر نہ آتی تھی انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ انگریزوں کو ناراض کریں گے اور عالمِ اسلامی کو خوش۔ اور وہ یہ امید رکھتے تھے کہ ان کے اس رویہ سے مسلمانوں کی ہمدردی ان کے ساتھ ہو جائے گی۔ یہ فیصلہ کر کے انہوں نے انگریزی معاہدہ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو انگریزوں سے مدد ملنی بند ہو گئی۔ انگریز حجاز کے بچانے کے لئے جو رقم ابنِ سعود کو دیتے تھے اس کو انہوں نے بند کر دیا۔
امیر ابنِ سعود نے یہ دیکھ کر کہ اس سے عمدہ موقع کوئی نہ ملے گا‘ حجاز سے ایک علاقہ کا مطالبہ کیا۔ شریف حسین نے اس علاقہ کے دینے سے انکار کیا اور وہ جنگ شروع ہو گئی جو اب شروع ہے۔ امیر ابنِ سعود نے چاہا تھا کہ وہ ساتھ ہی يُردن پار کے علاقہ پر جس کے امیر شریف کے لڑکے امیر عبداللہ مقرر ہیں‘ حملہ کر دیں مگر چونکہ اسے انگریزوں نے اپنی حفاظت میں رکھا ہوا ہے تا کہ عراق اور فلسطین کے درمیان کا راستہ کھلا رہے اس لئے اس میں تو ان کو کامیابی نہ ہو سکی مگر حجاز سے باقاعدہ جنگ شروع ہو گئی۔ شریف حسین کو امید تھی کہ جنگ کے شروع ہونے پر انگریز پرانے تعلقات کی بناء پر ان کی مدد کریں گے مگر یہ امید بر نہ آئی۔ انگریزوں نے صاف کہہ دیا کہ جب تک وہ معاہدہ پر دستخط نہ کریں گے‘ اس وقت تک ان کی مدد نہ کی جائے گی۔ مسلمانوں نے ان کی ہمدردی نہ کی اور سمجھا کہ اب ان کو ترکوں سے بغاوت کرنے کی سزا ملنے لگی ہے۔ بیٹوں کی طرف سے بھی مدد نہ ملی جو موجودہ حالات میں ان کو انگریزی حکومت سے معاہدہ کر لینے کا مشورہ دیتے تھے۔ صرف ان کی اپنی طاقت باقی رہ گئی اور وہ امیر نجد کے مقابلہ پر کچھ حیثیت نہ رکھتی تھی۔ جس کی وجوہ یہ تھیں
(۱) انہوں نے حکومت کو باقاعدہ بنانے کے خیال سے مغربی حکومتوں کی طرح تمام محکمہ جات جاری کر دیئے تھے ملک کی آمد کم ہے نتیجہ یہ ہوا کہ ٹیکس بڑھانے پڑے اور بدو امیر جو سرکاری امداد کے ہمیشہ سے امیدوار رہے ہیں‘ ان سے ناراض ہو گئے۔
(۲) دوسرے ملکوں کی ہمدردی کے حصول کے غرض سے انہوں نے بدوؤں کو ڈاکہ سے روکنا شروع کیا اور اگر وہ ڈاکہ ڈالتے تو ان کو سزا دیتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بدو اور بھی ان سے ناراض ہو گئے۔
(۳) بدوؤں کی آمدن کے خیال سے انہوں نے اونٹوں وغیرہ کے کرائے زیادہ مقرر کئے۔ اس سے باہر کے لوگ بھی ناراض ہو گئے اور بدو الگ ناراض تھے۔
(۴) جب انگریزی مدد بند ہوئی تو انہوں نے مالیہ کو پورا کرنے کے لئے حاجیوں سے بہت زیادہ ٹیکس وصول کرنے شروع کئے جس سے بے اطمینانی اور بڑھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نہ اہل مکہ نہ اہل بادیہ اور نہ دوسرے ملکوں کو ان سے ہمدردی رہی۔ اگر وہ اخراجات کم رکھتے اور بدوؤں کو فوجی کام میں مشغول رکھتے اور ان کی مالی امداد کرتے رہتے اور آخری سالوں میں حاجیوں کو تکلیف نہ دیتے بلکہ آمد کے بڑھانے کے اور ذرائع تلاش کرتے تو ان کی طاقت اس قدر کمزور نہ ہوتی۔ خلاصہ یہ کہ جب جنگ شروع ہوئی تو اپنے لوگ بے دلی سے کام کرتے تھے۔ دشمن تجربہ کار تھا۔ بیرونی مدد تھی نہیں‘ ان کی فوج کو شکست پر شکست ہونے لگی اور آخر طائف بھی امیر نجد نے لے لیا۔ جب مکہ پر چڑھائی ہوئی تو شریف حسین جن کو یہ ڈر تھا کہ شاید شہر کے لوگ بھی ان کے خلاف کھڑے ہو جاویں اور ان کے لئے بھاگنے کا بھی رستہ نہ رہے‘ خلافت سے دست بردار ہو گئے۔ اور ان کے بڑے لڑکے شریف علی نے ان کی جگہ عنان حکومت اپنے ہاتھ میں لی۔ شریف علی چونکہ فوجی امور کا تجربہ اپنے والد سے بہت زیادہ رکھتے تھے انہوں نے فوراً فوج کو ترتیب دے کر جدہ کو اپنا صدر مقام قائم کیا۔ اور بجائے کھلے میدان میں جنگ کرنے کے ساحل سمندر کے پاس کے شہروں میں محصور ہو گئے۔ اور اس طرح ایک سال کے قریب سے وہ اپنی حفاظت کرتے چلے آتے ہیں۔
یہ تو فوجی حالات ہیں۔ اب میں اس کشمکش کے جو سیاسی یا تمدنی یا علمی اثرات عرب پر پڑ رہے ہیں یا پڑ سکتے ہیں ان کو بیان کرتا ہوں۔ مگر پیشتر اس کے کہ میں ان اثرات کو بیان کروں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ امیر ابن سعود کے خاندان کے کچھ تاریخی حالات بھی بیان کروں کیونکہ ان کے بغیر اس حرکت کی حقیقی اہمیت سمجھ میں نہیں آسکتی
۱۱۱۵ھ مطابق ۱۶۹۱ء کو ایک بچہ نجد کے شہر عیانہ میں پیدا ہوا۔ جس کا نام محمد رکھا گیا۔ خدا تعالیٰ نے اس بچہ کی قسمت میں عرب کے اندر سینکڑوں سال کی موت کے بعد ہیجان پیدا کرنے کا کام مقرر فرمایا تھا۔ یہ زمانہ وہ تھا کہ اسلام پر شرک کی گھٹائیں چھا رہی تھیں اور رسوم اور بدعات کا کوئی ٹھکانا نہ رہا تھا۔ خدا تعالیٰ کی غیرت بھڑک رہی تھی اور تمام اسلامی ممالک میں اسلامی محبت سے پُر دل‘ فکر و اندوہ کا شکار ہو رہے تھے تب خدا تعالیٰ کی غیرت نے مختلف ممالک میں مختلف لوگ مسلمانوں کو بیدار کرنے کے لئے پیدا کئے۔ ہندوستان میں شاہ ولی اللہ صاحب پیدا ہوئے ۔ عرب میں خدا تعالیٰ نے محمد بن عبد الوہاب کو چنا۔ آپ اپنی جوانی کی عمر میں ہی علم کے شوق میں اپنے وطن کو چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے ۔ اور پہلے عراق کے شہروں میں تعلیم پاتے رہے ، بعد میں دمشق اور مدینہ منورہ میں تکمیل تعلیم کے لئے چلے گئے ۔ وہاں انہوں نے اس وقت کے مشہور علماء سے باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور اپنے وطن نجد کو واپس آئے ۔ نجد کی مذہبی حالت اس وقت ناگفتہ بہ تھی۔ لوگ دین سے بالکل بے بہرہ تھے ۔ شرک اس قدر عام تھا کہ پتھروں کی پوجا تک شروع ہوگئی تھی انہوں نے وطن پہنچتے ہی توحید کا وعظ کہنا شروع کر دیا۔ اور اپنی زندگی کو بدعات اور رسوم کے مٹانے کے لئے وقف کر دیا ۔ جیسا کہ قاعدہ ہے ان کی مخالفت ہوئی مگر اللہ تعالیٰ نے محمد ابن سعود کو جو دراعیہ کے رئیس تھے ۔ ان کی تعلیم کے قبول کرنے کے لئے شرح صدر دے دیا ۔ انہوں نے اس طریق کو قبول کرتے ہی اس کی اشاعت پر اس جوش سے زور دینا شروع کیا کہ تھوڑے ہی دنوں میں محمد بن عبدالوہاب کا طریقہ اس علاقہ میں پھیل گیا۔ نئے طریق کے جوش سے بھر پور ہو کر محمد بن سعود نے پاس پاس کے علاقوں پر حملے کرنے شروع کئے ۔ اور جبراً لوگوں سے رسوم و بدعات چھڑوانے لگے حتیٰ کہ ان کی وفات سے جو ۱۷۴۲ء میں ہوئی پہلے ہی تمام مشرقی نجد اور رحاء میں محمد بن عبدالوہاب کا طریق پھیل گیا۔
ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے عبدالعزیز بن محمد بن سعود نے نجد سے بھی پرے تک اس طریق کو رائج کیا حتیٰ کہ ۱۷۹۸ء میں ترکوں کو مجبور ہو کر اس پر چڑھائی کرنی پڑی ۔ مگر اس ترکی فوج کو زک ہوئی اور وہابی طاقت کو اور بھی شہرت حاصل ہوگئی۔ عبدالعزیز کے بیٹے سعود نے عراق کے ایک حصہ پر بھی قبضہ کرلیا۔ کربلا کو لوٹ کر مقابر کو برباد کیا۔ مکہ مکرمہ کو بھی فتح کر لیا۔ آخر امیر عبدالعزیز ایک شیعہ کے ہاتھ سے مارے گئے ۔ اور سعود بن سعود بادشاہ ہوئے ۔ ان کے زمانہ میں مدینہ منورہ بھی فتح ہو گیا ۔ چونکہ وہابی فوجوں نے مزار مبارک میں جن قدر قیمتی چیزیں تھیں ان کو لوٹ لیا تھا ۔ اور بعض عمارتوں کو توڑ دیا تھا ۔ ( یہ لوگ پختہ قبر کے قائل نہیں) اس وجہ سے سب عالمِ اسلامی میں جوش پیدا ہوا مگر چونکہ خود ترکوں میں اس وقت طاقت نہ تھی ، مصر کی بڑھتی ہوئی حکومت کو ان کی سرکوبی مقرر کی گئی ۔ اور انہوں نے ترکی حکومت کی ہدایت کے ماتحت دس ہزار فوج سمیت طوسون پاشا جو محمد علی پاشا خدیوِ مصر کا لڑکا تھا حجاز پر حملہ آور ہوا ۔ اول اول تو مصری فوجوں کو شکست ہوئی مگر آخر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ وہابیوں سے چھین لئے گئے ۔ (محمد بن عبدالوہاب کے پیروؤں کا نام آہستہ آہستہ وہابی پڑ گیا۔ اس لئے میں نے وہی نام لکھا ہے ۔ ورنہ یہ لوگ اس نام کو استعمال نہیں کرتے) مگر اس سے زیادہ
مصری لشکر کچھ نہ کر سکا۔ اور آخر ۱۸۱۳ء میں خود محمد علی پاشا اس مہم کو سر کرنے کے لئے آئے۔ پھر بھی کچھ نہ ہوا۔ بلکہ ۱۸۱۴ء میں طوسون پاشا کو طائف پر پھر سخت شکست ہوئی۔ مگر اسی سال سعود بن سعود فوت ہو گئے۔ ان کے بیٹے عبد اللہ نے مصریوں سے صلح کرنی چاہی مگر محمد علی پاشا نے انکار کر دیا اور نجد پر حملہ کر کے وہابی فوجوں کو شکست دی۔ اور عبد اللہ بن سعود کو صلح پر مجبور کیا۔ مگر مصری فوجوں کی واپسی پر عبد اللہ نے معاہدہ کی پابندی سے انکار کر دیا۔ اس وقت طوسون پاشا کی جگہ ابراہیم پاشا کمانڈر مقرر ہو چکے تھے۔ انہوں نے بدوی قبائل کو پھاڑ کر اپنے ساتھ ملا لیا۔ اور پھر عبد اللہ بن سعود کو شکست دی۔ اور نجد کے کئی شہروں کو فتح کرنے کے بعد ۱۸۱۸ء میں داریہ کو جو نجد کا دارالخلافہ تھا فتح کر لیا۔ عبد اللہ اپنے چار سو ہمراہیوں سمیت قید ہوئے۔ اور ان کو قسطنطنیہ بھیج دیا گیا۔ جہاں کہ باوجود ابراہیم پاشا کی سفارش کے ان کو قتل کر دیا گیا۔ دارالامارۃ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اور نجد کے تمام شہروں میں مصری فوجیں رکھی گئیں۔ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد ترکی جو عبد اللہ کے بیٹے تھے۔ انہوں نے بغاوت کر کے پھر اپنی حکومت قائم کی مگر خراج مصر کو ادا کرتے رہے۔ ان کے بیٹے فیصل بن سعود نے چونکہ خراج دینے سے انکار کر دیا اس لئے ان پر پھر چڑھائی ہوئی۔ اور ان کو قید کر کے قاہرہ پہنچا دیا گیا۔ اور ان کی جگہ ان کے ایک رشتہ دار خالد کو ریاض میں جو اب نجد کا دارُ الْاِمَارَتْ ہو گیا تھا حاکم مقرر کر دیا گیا۔ ۱۸۴۲ء میں فیصل بن سعود قاہرہ سے بھاگ کر پھر نجد پہنچے اور ملک نے ان کو اپنا بادشاہ تسلیم کیا۔ بظاہر وہابی طاقت پھر قائم ہو گئی مگر عمان، یمن اور بحرین پر وہابی تسلط نہ کر سکے۔
اسی زمانہ میں جبل شمر میں ایک نئی طاقت بڑھنے لگی۔ یہ طاقت عبد اللہ بن رشید کی تھی۔ ۱۸۳۶ء میں جب فیصل بن سعود کو مصریوں نے قید کر کے قاہرہ بھیج دیا تو اس عرصہ میں عبد اللہ بن رشید نے اپنی حکومت کو شمال مغربی علاقہ میں مضبوط کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد اس کے بیٹے طلال نے اور بھی اس ریاست کو مضبوط کیا۔ کنویں لگوائے، باغات لگائے، قلعے بنوائے، سکول جاری کئے اور ملک کی وسعت کو بڑھانا شروع کیا حتیٰ کہ خیبر، تیما اور جوف کے علاقے بھی جبل (دار الامارۃ ابن رشید) کے ماتحت ہو گئے۔ مگر وہابیوں سے جنگ سے بچنے کے لئے ابن رشید کی حکومت نے ان سے تعلق کو قائم رکھا۔ اور کسی طرح ان کو ناراض نہ ہونے دیا۔ اور اس طرح اپنی طاقت کو بڑھایا۔ مگر بالمقابل ابن سعود کی حکومت کمزور ہوتی چلی گئی اور مشرقی قبائل آزاد ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ ۱۸۶۷ء میں ترکوں نے نجد کو اپنی حکومت سے ملا لیا اور نجد کو ترکی حکومت کا ایک صوبہ قرار دیا۔
۱۸۹۱ء میں حکومت ابن سعود نے یہ دیکھ کر کہ ابن رشید کی طاقت بہت بڑھ گئی ہے ، مشرقی ریاستوں سے سمجھوتہ کر کے ایک مشترکہ حملہ اس پر کیا۔ مگر سب نے شکست کھائی اور محمد ابن رشید اس وقت کا امیر سب نجد کا بادشاہ ہو گیا۔ اور اس طرح ترکوں کی حکومت نجد پر اور بھی مضبوط ہو گئی۔ کیونکہ ترک ابن رشید کے ساتھ اور ابن سعود کے مخالف تھے۔ ۱۹۰۴ء تک برابر ابن رشید کا غلبہ رہا۔ مگر ۱۹۰۴ء میں شیخ کویت جو انگریزی حکومت کے ماتحت تھا اس نے ابن سعود اور بعض اور قبائل سے مل کر ابن رشید پر حملہ کیا اور اس کو شکست دیتے دیتے اس کے دار الامارۃ تک لے گئے۔ ترکوں نے ابن رشید کی مدد کے لئے فوج بھیجی جو بغیر جنگ کئے صلح کر کے واپس لوٹ گئی۔ مگر اس دن سے وہابی طاقت پھر بڑھنے لگی۔ حتیٰ کہ جنگ عظیم کے زمانہ میں ان کی طاقت بہت ہی ترقی کر گئی۔
مندرجہ بالا حالات سے یہ امور بخوبی روشن ہو جاتے ہیں کہ (۱) موجودہ جنگِ حجاز کوئی نئی جنگ نہیں بلکہ یہ ایک ڈیڑھ سو سالہ پرانا قصہ ہے۔ اور سُنّیوں وہابیوں کی جنگ ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سو سال میں قریباً بغیر وقفے کے وہابیوں نے سب عرب پر قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر سُنّیوں نے ان کا مقابلہ کیا ہے۔ کبھی عرب قبائل ان کی طرف سے لڑے ہیں کبھی مصری کبھی ترک۔ (۲) دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ابن سعود کی حکومت ہمیشہ ہی پچھلے ڈیڑھ سو سال میں ترکوں کے مخالف رہی ہے اور ان سے جنگ کرتی رہی ہے۔ (۳) تیسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ابن سعود اسی جُرم کے مرتکب ہیں جس کے مرتکب شریف مکہ ہوئے ہیں۔ یعنی وہ بھی غیر مسلم حکومتوں کی مدد سے ترکوں سے لڑچکے ہیں بلکہ پچھلے چند سال تک بھی وہ انگریزوں سے روپیہ لیتے رہے ہیں۔
اس تاریخ کو بیان کرنے کے بعد اب میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اس جنگ کا اثر سیاسی اور مذہبی طور پر عرب پر کیا پڑے گا۔ پہلے تو میں سیاسی اثر کو لیتا ہوں جیسا کہ اوپر کے واقعات سے ظاہر ہے۔ یہ جنگ سُنّی وہابی کا جھگڑا ہے۔ سُنّی ہمیشہ اپنی کثرت کے گھمنڈ پر مقامات مقدسہ کے قبضہ کے دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ اور وہابی اس امر کے مدعی رہے ہیں کہ تم لوگوں نے ان مقامات کو نجس کر دیا ہے اس لئے تمہارا ان پر کوئی حق نہیں۔ ترکی حکومت کے زمانہ میں بھی وہابیوں کو مکہ میں آزادی نہ تھی۔ جب میں
۱۹۱۲ء میں حج کے لئے گیا ہوں اس وقت ترکی حکومت تھی میں بعض وہابیوں سے ملا تھا وہ لوگ سخت تنگ تھے اپنے عقیدہ کا اظہار تک نہیں کر سکتے تھے۔ ایک بڑے عالم نے جو سب مکہ میں عالم مشہور تھا بتایا کہ وہ دراصل وہابی ہے مگر ظاہر اپنے آپ کو حنبلی کرتا ہے کیونکہ دفعہ اسے وہابیت کے الزام میں قید کر دیا گیا تھا۔ معلوم ہوا کہ سب وہابی اپنے آپ کو اس زمانہ میں حنبلی کہتے تھے کیونکہ حنبلیوں کی فقہ اہل حدیث سے قریب ترین ہے اور اس وجہ سے وہ اس نام کے نیچے اپنے آپ کو چھپا سکتے ہیں۔ وہ لوگ الگ الگ نماز پڑھ لیتے تھے جماعت کرانے کی اجازت نہ تھی۔ دوسروں کے پیچھے نماز پڑھنے کو ناپسند کرتے تھے۔ جماعت کے وقت اِدھر اُدھر ہو جاتے جب لوگ نماز پڑھ لیتے تو وہ اکیلے اکیلے خانہ کعبہ میں نماز پڑھ لیتے یا گھروں پر پڑھ لیتے۔ اگر کسی کی نسبت شبہ ہو جائے کہ وہ وہابی ہے تو اس کی جان کی خیر نہ ہوتی تھی کیونکہ حکومت تو بعد میں دخل دیتی عوام الناس ہی اس کو اپنے قدموں میں روند ڈالتے۔ میں نے دیکھا کہ یہ لوگ سُنّی علماء کی نسبت زیادہ عالم اور زیادہ ہوشیار تھے اور اچھے بارسوخ تھے۔ شریف حسین کے لڑکوں کے اتالیق جو ایک نہایت ہی سمجھدار اور لائق آدمی تھے اور احمدیت کے بہت ہی قریب تھے گو انہوں نے اظہار نہیں کیا مگر میں سمجھتا ہوں وہ بھی وہابی تھے کیونکہ ان کو قریباً سب مسائل میں وہابیوں سے اتفاق تھا۔ خود کہتے تھے کہ مکہ میں انسان اپنے عقیدہ کو ظاہر کر کے نہیں رہ سکتا۔ ان صاحب کو میں نے سب مکہ کے علماء میں سے زیادہ سمجھدار اور وسیع الحوصلہ دیکھا۔ مجھے نصیحت کرنے لگے کہ میرے جیسے لوگوں کو آپ احمدیت کی تبلیغ کریں دوسرے علماء کے پاس نہ جاویں ورنہ فساد ہو جاوے گا۔ میں نے کہا اگر حق سنانے میں کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کچھ ڈر نہیں، بہت متاثر ہوئے اور کہا ایمان کی علامت تو یہی ہے۔
غرض ترکی حکومت میں بھی وہابیوں کو مکہ میں آزادی نہ تھی وہابی کا لفظ بطور گالی کے مکہ میں استعمال ہوتا تھا بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ کسی کو کُتّا کہہ دینے سے وہ اس قدر بُرا نہ مناتا ہو گا جس قدر کہ وہابی کہہ دینے سے۔ جب شریف حسین نے آزادی اختیار کی تو ان کے زمانہ میں بھی سنا ہے کہ یہ ظلم برقرار رہا بلکہ ابنِ سعود نے حج کی اجازت اپنی قوم کے لئے طلب بھی کی تو ان کو اجازت نہ دی گئی۔ اور کیا تعجب ہے کہ شریفی خاندان کی موجودہ تباہی اسی ظلم کے سبب سے ہو۔
مذکورہ بالا واقعات سے ظاہر ہے کہ سُنی حلقہ میں وہابیوں کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور چونکہ عرب کا بیشتر حصہ اب تک سُنی ہی ہے اس لئے زیادہ حصہ عربوں کا نجدیوں کے مخالف ہے۔ چونکہ وہابی لوگ ہمیشہ سے سخت گیر رہے اور جبراً اپنے مسائل پر عمل کرواتے ہیں اس لئے کسی کو یہ طاقت تو نہیں کہ ان کے ماتحت رہ کر ان کی مخالفت کرے مگر اہل مکہ اور سب اہل حجاز کے دل کبھی ان کی طرف مائل نہیں ہو سکتے کیونکہ اہل مکہ اور ارد گرد کے قبائل کے خون اور پوست جن رسومات کی آمد سے بنے ہوئے ہیں وہابی اس کے مخالف ہیں۔ اگر وہابیوں کی حکومت کچھ عرصہ تک رہے تو اہل مکہ کا بیشتر حصہ بھوکا مرنے لگے۔ پس حجاز کی نسبت یہ امید کرنا کہ وہ دل سے وہابیوں کا ساتھ دے ناممکنات کی امید کرنا ہے۔ اہل مدینہ کا بھی وہی حال ہے جو اہل مکہ کا۔ ان کے گوشت پوست میں بھی حُبّ رسول بھری ہوئی ہے وہ کیسے ہی مجرم ہوں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار کا ادب ان کے رگ و ریشہ میں پُر ہے۔ وہ مرجاویں گے مگر کبھی منظور نہ کریں گے کہ آپ کا مزار معمولی صورت میں رکھا جاوے خواہ وہ تلوار کے ڈر سے سر جھکا دیں مگر وہ کبھی اس طریق کو دل سے قبول نہ کریں گے۔ فلسطین کے عربوں کا بھی یہی حال ہے۔ وہ بھی مجاور ہیں اور مقابر کے محافظ اور ان کی ہمدردی وہابیوں سے کبھی نہیں ہو سکتی۔ اہل شام وہابیوں کے سخت مخالف ہیں اور شریف حسین اور اس کے خاندان کے دلدادہ۔ چونکہ وہ اور فلسطین کے باشندے فرانس کی حفاظت میں ہیں وہابیوں کا ان پر کوئی زور نہیں اور اس وجہ سے ان کا اپنے حالات کو ظاہر میں بدلنا بھی بعید از قیاس ہے۔ عراق کے لوگ تو مشہور مجاور ہیں۔ عراق کا گاؤں گاؤں زیارتوں سے بھرا ہوا ہے اس کے حاکم بھی شریف فیصل ، شریف حسین کے لڑکے ہیں اس سے بھی امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ کبھی وہابیوں کی تائید کرے۔ یمنی لوگ شریف حسین کے مخالف ہیں گو مذہب وہابیوں کے مخالف ہیں مگر سیاستاؐ کوئی تعجب نہیں کہ ابن سعود کا ساتھ دیں مگر ان میں بھی دو ٹکڑے ہیں ایک ٹکڑا اگر ابن سعود کے ساتھ ہو گا تو دوسرا ضرور ان کی مخالفت کرے گا۔
ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بظاہر حال معلوم ہوتا ہے کہ
(۱) اگر ابن سعود شریف حسین کو شکست بھی دے دیں تو حجاز پر دیر تک ان کا قابض رہنا مشکل ہو گا
(۲) اگر وہ حجاز پر قابض بھی ہو جاویں تو آئندہ کے لئے اس امید کو بالکل قطع کر دینا ہو گا کہ عرب کبھی ایک حکومت بن کر اپنی آپ حفاظت کر سکے کیونکہ اس صورت میں دوسرے عرب صوبے نجد و حجاز سے متحد ہونا تو الگ رہا اس کے ساتھ امن سے رہنا بھی پسند نہیں کریں گے۔ اور چونکہ گو اس وقت وہ کمزور ہیں مگر اصل میں ان کی متحدہ طاقت زیادہ ہے اس لئے ہمیشہ عرب میں فساد کا دروازہ کھلا رہے گا۔
دوسری مشکل یہ پیش آتی ہے کہ عرب کی آئندہ ترقی کے لئے یہ ضروری ہے کہ شامی جو زیادہ تعلیم یافتہ اور سمجھدار ہیں اس کے انتظامی صیغہ میں زیادہ حصہ دار ہوں کیونکہ یہ وہ زمانہ ہے کہ اس میں خالی تلوار کام نہیں دیتی بلکہ علم اور علم کی ترقی کا دیتی ہے۔ وہابیوں کی حکومت میں یہ بات ناممکن ہے۔
تیسری یہ مشکل ہے کہ عرب پر مشرقی علاقہ سے حکومت کرنا بالکل ناممکن ہے۔ جب سے عرب کی تاریخ کا پتہ چلتا ہے ہمیشہ اس پر حکومت مغربی یا شمال مغربی یا جنوب مغربی علاقہ سے ہوتی رہی ہے اور یہ بات اتفاقی نہیں بلکہ اس کی طبعی وجوہ ہیں۔ پس اگر وہابی حکومت ریاض میں رہی تو حجاز بالکل کمزور ہو جائے گا اور ممکن ہے دوسری حکومتوں کے قبضہ میں چلا جاوے جو اسلام کے لئے ماتم کا دن ہو گا۔ لیکن اس کا ریاض سے بدل کر مکہ میں یا مدینہ میں لانا وہابی مفاد کے مخالف ہو گا کیونکہ اس طرح امیر اپنے اس ذخیرہ سے دور ہو جاوے گا جہاں سے وہ اپنی فوجی طاقت کو مضبوط کرتا تھا بلکہ اس واحد مرکز سے محروم ہو جاوے گا جس پر وہ اعتماد کر سکتا ہے۔
پس حالات موجودہ میں وہابیوں کا حجاز پر قبضہ کر لینا گو عارضی طور پر کچھ مفید ہو مگر انجام کار عرب اور پھر سارے عالم اسلامی کے لئے مُضِرّ ہو گا بلکہ خود وہابی طاقت کو بھی نقصان پہنچے گا۔ عربوں کے متحد ہونے کا خیال ایک وہم ہو جائے گا اور عرب کبھی بھی ایک منظم حکومت کی شکل میں نہ آسکے گا۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ شریف حسین کے خاندان کی موجودگی میں بھی گو دِقّتیں ہیں لیکن اگر شریف آئندہ کو اپنی اصلاح کر لیں، ترکوں سے اپنے تعلقات درست کر لیں، وہابیوں پر ظلم چھوڑ دیں بلکہ ان کو کامل مذہبی آزادی دیں، عالم اسلام کی ہمدردی کو حاصل کریں اور عالم اسلام بھی ان سے جاہلانہ مطالبات نہ کرے تو ان کے ہاتھ پر عرب کا جمعہ ہو جانا نسبتاً بہت آسان ہو گا۔ مگر بہرحال مشکلات دونوں امور میں زیادہ ہیں البتہ میرے نزدیک شریف خاندان کے برسرِ اقتدار رہنے کی صورت میں کم ہیں۔
اب میں اس سوال کا مذہبی پہلو لیتا ہوں۔ مذہبی پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے اس میں کوئی شک نہیں کیا جاسکتا کہ وہابیوں کی حکومت میں گو بعض امور میں ضرورت سے زیادہ سختی بھی ہوگی مگر پھر بھی نجدی لوگ مذہب کے زیادہ پکے ہیں، نمازوں کے پابند ہیں، شرک سے حتی المقدور بچتے ہیں اور ہمارا پچھلا تجربہ بتاتا ہے کہ احمدیت میں جس قدر جلد وہابی داخل ہوتے ہیں اس قدر جلد کوئی دوسرا فرقہ مسلمانوں کا داخل نہیں ہوتا۔ پس جماعت احمدیہ کے فوائد کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ حجاز پر وہابیوں کی حکومت ہمارے لئے گو مشکلات بھی پیدا کرے گی کیونکہ وہابی مخالفت بھی احمدیت کی بہت کرتے ہیں مگر انجام کار اِنْشَاءَ اللّٰهُ ہمارے سلسلہ کے لئے مفید ہوگی اور تمام امور کو مد نظر رکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ اگر کم سے کم کچھ عرصہ کے لئے وہابی حجاز پر حکومت کریں تو وہ ایک ایسا اثر ضرور وہاں چھوڑ جاویں گے جو ہمارے سلسلہ کی اشاعت کے لئے مفید ہوگا۔
میں آخر میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کر کے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں کہ اس فتنہ و فساد میں سے وہ ایسے خیر و خوبی کے پہلو پیدا کر دے کہ اسلام کا بول بالا ہو اور حجاز مسیحی اثر سے بالکل پاک رہے اور دجال کا رُعب خانہ خدا میں رہنے والوں کے دلوں سے دُور رہے۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ۔
خاکسار مرزا محمود احمد (الفضل ۲۰۔ جون ۱۹۲۵ء)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
(فرمودہ جولائی ۱۹۲۵ء)
میری طبیعت کل سے کچھ ناساز ہے۔ اس وجہ سے میں نے ہدایت کی تھی کہ بجائے میرے بعض اور دوست تقریریں کر دیں اور میں صرف جلسہ میں اس غرض کے لئے شریک ہو جاؤں گا کہ ان ایام میں جو دوست باہر سے تشریف لائے ہیں اور جنہیں پہرہ وغیرہ کاموں کی وجہ سے ملاقات کا موقع نہیں ملا ان کو ملاقات کا موقع مل جائے۔ اب بھی میرے سینہ میں درد ہے اس لئے میں زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ چونکہ بالکل خاموش رہنے سے بھی پوری ملاقات نہیں ہوتی اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ چند منٹ میں کچھ بیان کروں جس میں خصوصیت کے ساتھ دوستوں کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلاؤں تا وہ خدا تعالیٰ کے ان فضلوں اور برکتوں اور انعامات سے محروم نہ رہیں جو ان فرائض کی ادائیگی پر خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر کئے گئے ہیں اور جو خدا تعالیٰ کی پاک جماعتوں کے لئے ہی مقدر کئے گئے ہیں۔
میرے نزدیک سچائی کی مخالفت کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتی۔ اگر انسان اپنے نفس میں پاکیزگی اور طہارت، اخلاص اور محبت پیدا کر لے اگر صداقت اور راستی کے حامل پوری پوری اس بات کی طرف توجہ کریں کہ خدا تعالیٰ سے ان کو کامل پیار اور تعلق خدا سے کامل محبت ہو تو میرے نزدیک صداقت اور راستی ایک ایسا حربہ ہے جو ہزاروں پردوں کو چیر کر سینوں کے اندر داخل ہو جاتی ہے اور کوئی چیز اسے روک نہیں سکتی خواہ کیسے ہی مضبوط قلعے ہوں اور کیسی ہی سخت دیواریں کیوں نہ ہوں۔ صداقت اور راستی ایک ایسا بھالا یا نیزہ ہے کہ کوئی ڈھال اس کو روک نہیں سکتی کیا یہ واقعہ نہیں کہ بہت سے ایسے لوگ جو سخت سے سخت صداقت کے دشمن ہوئے ہیں اور شب و روز اس کے مٹانے میں مصروف رہے ہیں ان پر بھی بالآخر صداقت نے ایسا اثر کیا کہ وہ اس کے گرویدہ ہو کر سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہو گئے۔ ہمیں اس سلسلہ میں بھی بکثرت ایسے آدمی نظر آتے ہیں جو ایک وقت سلسلہ کے شدید ترین دشمن تھے اور اپنے بُغض و عِناد میں جو ان کو سلسلہ سے تھا حد سے بڑھے ہوئے تھے لیکن ایک چھوٹے سے کلمہ نے ہی ان کے قلب پر ایسا اثر کیا کہ گویا ان کو ذبح کر ڈالا اور انہوں نے اپنی ساری عمر پشیمانی میں گزاری اور افسوس کرتے رہے کہ کیوں وہ اس قدر صداقت کی مخالفت کرتے رہے۔ پس اگر ہماری اپنی اصلاح ہو اور ہمارے قلب صاف ہو جائیں اور خدا تعالیٰ کی محبت اور مخلوقِ خدا کی ہمدردی ہمارے اندر جوش مارنے لگ جائے تو یقیناً کسی مخالف کی مخالفت ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی بلکہ ان کی مخالفت ہمارے کام اور ہمارے مقصد میں بڑی بھاری معاون ہو سکتی ہے۔
ابھی کل پرسوں ہی کی بات ہے۔ ایک شخص کا مجھے خط پہنچا ہے۔ وہ نئے احمدی ہوئے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے۔ میں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ مجھے سلسلۂ حقہ کی طرف راہنمائی مولوی ثناء اللہ کی وجہ سے ہوئی ہے۔ میں ان کے اخبار کا خریدار تھا اور بہت غور اور توجہ سے اس کو اور ان کی دیگر کُتب کو پڑھتا تھا لیکن میرے اندر کوئی تعصب نہیں تھا۔ احقاقِ حق میرے مدنظر تھا۔ جوں جوں میں ان کتابوں کو پڑھتا تھا۔ مجھے ان کے کلام میں جابجا ہنسی، تمسخر اور فریب نظر آتا تھا۔ تب میں نے خیال کیا کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی گدی کے وارثوں سے تو ایسی حرکات سرزد نہیں ہو سکتیں۔ اگر ان کے اندر یہی تقویٰ اور یہی شرافت رہ گئی ہے تو پھر یقیناً یہ جھوٹے ہیں۔ دیکھو دل کی پاکیزگی اور طہارتِ صداقت کی طرف کس طرح انسان کو کھینچ کر لے آتی ہے۔ حضرت مسیح موعود عَلَیْہِ السَّلَامُ کے پاکیزہ دل سے نکلی ہوئی صداقت نے اس کے دل پر ایسا گہرا اثر کیا کہ مخالفین کی مخالفت اس اثر کو مٹانہ سکی اور پاکیزہ دل سے نکلی ہوئی صداقت نے اپنا کام کر کے ہی چھوڑا۔
پس اسلام کی اور سلسلہ کی سچی خدمت تبھی ہو سکتی ہے کہ ہم پہلے اپنے قلوب کی اصلاح کریں۔ خدا تعالیٰ کی محبت ہمارے اندر پیدا ہو اور عام مخلوق کی ہمدردی ہمارے اندر جوش مارے۔ اس لئے میں اپنے دوستوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائیں کہ وہ صداقت اور راستی کے سچے حامل بن سکیں۔
قرآن کریم میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر زمانہ میں رسالت کے لئے خدا تعالیٰ بندوں میں سے کسی ایک بندے کو منتخب کرتا ہے، ہر ایک کو رسول نہیں بنا دیتا۔ اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی پاکیزگی، طہارت، اخلاص، محبت، جوش، ہمدردی میں سب سے آگے ہوتا ہے۔ ورنہ پیغام اور احکام الٰہی تو ایک مؤمن بھی پہنچاتا ہے اور اس طرح وہ بھی رسول ہی ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ اس کو خدا کا پیغام بذریعہ وحی ملتا ہے۔ یعنی جو کلام اس پر نازل ہوتا ہے وہ فرشتہ لاتا ہے اور نبی اسے تمام بندوں تک پہنچاتا ہے۔ لیکن ہم جو اس کا کلام بندوں تک پہنچاتے ہیں وہ ہمیں فرشتہ کے واسطہ سے نہیں ملتا بلکہ ایک ایسے انسان کی وساطت سے ملتا ہے جسے خدا تعالیٰ رسالت کے لئے منتخب کرتا ہے مگر پیغام دونوں ایک ہی پہنچاتے ہیں۔ فرق اگر ہے تو درجہ کا ہے جس کی وجہ سے ہمارے منتخب کئے جانے سے پہلے خدا تعالیٰ نے اس کو ہم میں سے چن لیا ہوتا ہے۔ اگر ہمارا اخلاص، ہماری محبت، ہماری خلق اللہ سے ہمدردی زیادہ بڑھی ہوئی ہوتی تو خدا تعالیٰ ہمیں براہِ راست رسالت کے لئے منتخب کرتا۔ دوسرا فرق جو اس کے اور ہمارے درمیان ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ مرتبہ اور مقام کی وجہ سے سب کچھ براہِ راست مشاہدہ کرتا ہے۔ اس وجہ سے جس طرح اس کے اندر ایمان کی لہر اور اخلاص و محبت کا جوش پیدا ہو سکتا ہے ہمارے دلوں میں وہ ایمانی لہر اور وہ جوشِ اخلاص پیدا نہیں ہوتا۔ پس ہر ایک وہ شخص جو امت محمدیہ میں سے خدا تعالیٰ کے احکام اور اس کے کلام کو دنیا تک پہنچاتا ہے وہ ایک رنگ میں رسول ہی ہے۔ اس لئے اس کے واسطے ضروری ہے کہ وہ بھی ظلی طور پر رسول کریم ﷺ کا علم، معرفت، اخلاص اور محبت الٰہی اور ہمدردیٔ خلق اپنے اندر پیدا کرے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اسی جوہر کو اپنے اندر کامل طور پر پیدا کیا جس کی وجہ سے اس زمانہ میں وہی رسالت کے لئے منتخب کئے گئے اور پھر ان کے واسطہ سے ہم بھی پیغام الٰہی کے پہنچانے والے بنے۔ پس جو لوگ نائب رسول ہو کر رسول بنتے ہیں جب تک وہ بھی خدا تعالیٰ کی محبت اور بنی نوع انسان کی ہمدردی کامل طور پر اپنے اندر پیدا نہیں کرتے اور جب تک یہ جوش یہ عزم ان کے اندر پیدا نہیں ہوتا کہ ہم نے خود بھی خدا کو پانا ہے اور دوسری مخلوق کو بھی جو اس کے صحیح راستہ سے بہکی پھرتی ہے اس تک پہنچانا ہے اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے۔ جب تک یہ روح ہم میں پیدا نہ ہو تبلیغ کا پورا حق ادا نہیں ہو سکتا اور جب ایسی روح انسان کے اندر پیدا ہو جائے۔ تو پھر اس کے کلام میں بھی ایسا اثر پیدا ہو جاتا ہے کہ مخالفین کی مخالفت اس کی راہ میں اور اس کے مقصد میں کوئی روک نہیں ہو سکتی۔
وہ ایک خدائی تیر ہوتا ہے جو کبھی خطا نہیں جاتا بلکہ دلوں کے اندر گھس جاتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے چلائے ہوئے تیر کبھی خطا نہیں جاتے۔ دیکھو موت بھی خدا کے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔ ”اِنَّ الْمَنَایَا لَا تَطِیْشُ سِهَامُهَا۔“۳؎ یہی وجہ ہے کہ جس وقت موت آتی ہے تو کوئی روک نہیں سکتا۔ بدر کی جنگ میں بھی خدا نے اپنا تیر چلایا تھا جبکہ صحابہ کی مٹھی بھر جماعت نے کفار کے بڑے لشکر کو سخت ہزیمت دے دی تھی۔ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ریت کی مٹھی پھینکی تھی جس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وہ تُو نے نہیں پھینکی بلکہ ہم نے پھینکی ہے۔ ۴؎پھر خدا کے پھینکنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ ادھر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹی پھینکی اور ادھر زور سے آندھی چلی جس سے ریت اور کنکر اُڑ اُڑ کر کفار کی آنکھوں میں پڑنے شروع ہو گئے کیونکہ جدھر سے آندھی آئی کفار کا اس طرف منہ تھا اور صحابہ کی اس طرف پشت تھی پھر ہوا کا رخ مطابق ہونے کی وجہ سے صحابہ کا نشانہ بھی خوب لگتا تھا اور ان کے تیروں میں زیادہ تیزی اور طاقت بھی پیدا ہو گئی۔ اس کے مقابلہ میں کفار کا مخالف ہوا کی وجہ سے نشانہ خطا جاتا تھا کیونکہ آندھی نے ان کی آنکھوں کو اس قابل نہ چھوڑا تھا کہ وہ نشانہ لگا سکتے نتیجہ یہ ہوا کہ تین سو بے سازو سامان مسلمانوں نے ایک ہزار با ساز و سامان کفار کو مولی گاجر کی طرح کاٹ کر رکھ دیا۔
پس اگر آپ اپنے قلوب کی اصلاح کریں، اپنے اندر جوش و اخلاص پیدا کریں تو یہ ناممکن ہے کہ تمہارے کلام میں وہ طاقت اور وہ تاثیر خدا تعالیٰ پیدا نہ کرے جو دلوں کو مسخر کرنے والی ہوتی ہے۔ اس وقت تمہارا بیان اور تمہارا کلام ایک مقناطیسی اثر پیدا کر لے گا جس سے سخت سے سخت دل بھی تمہاری طرف کھنچے چلے آئیں گے۔ پس اگر سچے جوش اور اخلاص کے ساتھ آپ لوگ کھڑے ہوں، اگر دردمند دل لے کر آپ کام کریں، اگر آپ کے دل میں یہ تڑپ ہو کہ ہم اور ہمارے بھائی خدا تعالیٰ کی بھڑکتی ہوئی آگ سے بچ جائیں تو دوسرے لوگوں کے دل ایسے پتھر کے دل نہیں ہیں کہ وہ تمہاری سچی ہمدردی اور خیر خواہی کی باتوں سے خود بخود کھنچ نہ چلے آئیں۔ اور جس طرح مقناطیس لوہے کو کھینچ لیتا ہے اسی طرح اگر آپ اپنے قلوب کو پاکیزہ بنائیں تو کعبہ کی طرح لوگ تمہارے گرد جمع ہو جائیں گے۔
اس کے بعد میں بعض اور باتیں جو میں نے پہلے سنی ہیں یا جن کا اب مولوی جلال الدین صاحب کے لیکچر سے مجھے علم ہوا ہے ان کے متعلق کچھ بیان کرتا ہوں۔
مجھے یہ سن کر سخت حیرت ہوئی کہ غیر احمدیوں کے جلسہ میں ایک مولوی صاحب نے یہ کہا ہے کہ عیسائیوں سے ، یہودیوں سے ، آریوں سے ، سکھوں سے ہماری صلح ہو سکتی ہے مگر احمدیوں کے ساتھ ہم کسی طرح صلح نہیں کر سکتے کیونکہ یہ کافر اور مرتد ہیں۔ آریہ ، سکھ ، یہودی اور عیسائی ان سے بدرجہا بہتر ہیں۔ یہ آواز جس وقت میرے کان میں پڑی ، مجھے سخت حیرت ہوئی اور یہ کلمہ سن کر میں نے اپنے دل میں اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے آمادگی نہ پائی کیونکہ میری سمجھ میں یہ بات نہ آتی تھی کہ ایک شخص جو رسول اللہ ﷺ کو نَعُوْذُ بِاللّٰہِ ظالم، قاتل، ڈاکو، شہوت پرست وغیرہ بڑے سے بڑے الفاظ سے یاد کرتا ہے اسے ایک مولوی اس شخص سے بہتر کس طرح کہہ سکتا ہے جو رسول کریم ﷺ کے دین کا سچا خادم ہو ، آپ کا کلمہ پڑھنے والا ہو ، آپ کی محبت میں ایسا گداز ہو کہ آپ سے بڑھ کر کسی چیز سے اس کو اُنس اور پیار نہ ہو اور آنحضرت ﷺ کی غلامی کو اپنے لئے باعثِ فخر سمجھتا ہو۔ میرے خیال میں وہی شخص یہ کہہ سکتا ہے جس کا دل بالکل سیاہ ہو چکا ہو جو سخت تاریکی اور ظلمت میں پڑ گیا ہو۔ جس کے دماغ پر اندھیرا چھا گیا ہو۔ کیونکہ جس کے دل میں ایک ذرہ بھی آنحضرت ﷺ کی محبت ہو اور اپنے سر میں وہ صحیح دماغ رکھتا ہو وہ کبھی ایک ایسے شخص کو جو اسلام کا دشمن اور بانیِ اسلام کا دشمن ہے، اور جو ہر بڑے سے بڑا کلمہ آنحضرت ﷺ کی شان میں کہنے سے دریغ نہیں کرتا اسے ایک آن کے لئے بھی ایک ایسے شخص پر فوقیت نہیں دے سکتا جو رسول کریم کا عاشق اور آپ کی محبت میں گداز اور آپ کے دین کی جان اور مال سے خدمت کرنے والا ہو۔ غرض مجھے یہی خیال آیا کہ ایک مولوی کے منہ سے ایسا کلمہ نہیں نکل سکتا۔ اور ہمارے مقابلہ میں وہ آریوں عیسائیوں کو ترجیح نہیں دے سکتے۔ بے شک ان کو ہم سے اختلاف ہے اور وہ ہم سے دشمنی اور عداوت رکھتے ہیں۔
مگر اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد آپ کی اتباع اور آپ کی غلامی سے آپ کی امت کا ایک فرد نبی بھی ہو سکتا ہے۔ گویا انہیں اگر ہمارا کوئی بڑا جرم نظر آتا ہے تو وہ یہی ہے کہ ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی ہو سکتا ہے۔ جو باوجود نبی ہونے کے آپ کے دین کا خادم اور آپ کا غلام ہی ہو گا۔ اس بناء پر وہ ہم سے دشمنی اور عداوت رکھتے اور ہمیں کافر اور دجال قرار دیتے ہیں۔ فرض کر لو یہ عقیدہ ایک جُرم ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس جُرم کا مجرم کہ آنحضرت ﷺ کے بعد آپ کے متبعین کامل نبوت کے مقام کو پا سکتے ہیں اور باوجود نبی ہونے کے وہ آپ کے غلام ہی ہوں گے جو آپ کے دین کو اور قرآن کریم کے پاک علوم کو دنیا کے کناروں تک پہنچائیں گے اس جُرم کے برابر یا اس سے بڑھ کر ہو سکتا ہے جو آنحضرت ﷺ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ دجّال، کذّاب، شہوت ران، فاسق اور فاجر قرار دے۔ ان دونوں جُرموں کو ایک ادنیٰ سے ادنیٰ عقل رکھنے والے گاؤں کے جٹ کے سامنے بھی رکھ دیا جائے اور اس سے پوچھا جائے کہ دونوں میں سے بڑی بات کونسی ہے۔ تو وہ یہی کہے گا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اپنی غلامی میں نبوت جاری رہنے کے عقیدہ کے مقابلہ میں یہ جُرم بہت ہی بڑا ہے کہ آپ کو علی الاعلان نَعُوْذُ بِاللّٰهِ دجّال، کذّاب، فاسق اور فاجر کہا جائے۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی صحیح الفطرت اور صحیح الدماغ غیر احمدی ایک آن کے لئے بھی اس بات کو ماننے کے لئے تیار ہو کہ وہ لوگ جو آنحضرت ﷺ کے غلاموں میں اپنے آپ کو شمار کرتے ہیں اور آپ کے دین کو چاروں طرف دنیا میں پھیلانے والے ہیں اور آپ کی محبت اور آپ کے دین کی اشاعت میں ہر ایک قسم کی قربانی نہایت فراخدلی کے ساتھ کرتے ہیں ان سے وہ ان لوگوں کو بدرجہا بہتر سمجھے جو کہ آنحضرت ﷺ کو ایک سے زیادہ بیویاں کر کے نَعُوْذُ بِاللّٰهِ شہوت رانی کرنے والا، ڈاکو، زانی، فاسق، فاجر، سچے دین سے کچھ تعلق نہ رکھنے والا قرار دیتے، دنیا میں اسلام کے پھیلنے کو گمراہی کا پھیلنا خیال کرتے اور اسلام اور بانیِ اسلام سے ہر طرح دشمنی رکھنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ یہی وہ عقیدے ہیں جو آریہ اور عیسائی اسلام اور آنحضرت ﷺ کی نسبت رکھتے ہیں۔ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ آپ کی امت کا انسان آپ کی غلامی میں نبوت کا مرتبہ حاصل کر سکتا ہے۔
دور جانے کی ضرورت نہیں۔ انہی مولوی صاحب سے دریافت کیا جائے ۔ اگر ان کے اپنے بیٹے کے متعلق دونوں قسم کے عقائد میں سے ایک اختیار کرنے کا سوال ہو تو وہ اس کے لئے کونسا عقیدہ پسند کریں گے۔ کیا یہ کہ وہ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ رسول اللہ کو فاسق، فاجر، ڈاکو، زانی گمراہ تسلیم کرے۔ یا یہ کہ وہ یہ اعتقاد رکھے کہ آنحضرت ﷺ کی امت کے افراد آپؐ کی غلامی میں نبوت کا مرتبہ بھی حاصل کر سکتے ہیں اور خواہ وہ کتنی بھی آپ کی اتباع میں ترقی حاصل کر جائیں پھر بھی ان کو یہی فخر ہو گا کہ وہ آپؐ کے غلام کہلائیں۔ وہ باوجود نبی ہونے کے آپؐ کے خادم ہی ہوں گے۔ پھر میں ہر ایک غیر احمدی سے دریافت کرتا ہوں۔ وہی انصاف سے بتائے کہ ان میں سے اگر کسی کو ایسا موقع پیش آئے کہ اس کے لئے صرف یہی دو راہیں ہوں تو وہ کونسی راہ اختیار کرے گا۔ کیا وہ یہ پسند کرے گا کہ آریہ یا عیسائی ہو کر رسول اللہ ﷺ کا اور آپ کے دین کا دشمن ہو جائے یا وہ اس عقیدے کو تسلیم کر لینا منظور کرے گا کہ آپؐ کے بعد آپ کے خادموں میں سے نبی ہو سکتا ہے۔ اور وہ نبی ہو کر بھی آپ کا خادم ہی رہے گا اور آپ کے دین کی اطاعت اور اشاعت کرے گا۔ فرض کرو مولوی مرتضیٰ حسن صاحب کے نزدیک دونوں عقیدے دو گمراہیاں ہیں۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ دونوں میں سے بڑی گمراہی کونسی ہے۔ اور کونسا عقیدہ اپنے بیٹے کے لئے وہ پسند کریں گے۔ اگر تو وہ یہ اعلان کر دیں کہ میں اپنے بیٹے کے لئے یہ پسند کروں گا کہ وہ آریہ یا عیسائی ہو کر رسول اللہ ﷺ کا اور اسلام کا دشمن ہو جائے۔ وہ بے شک آپ کو تمام انسانوں سے بد تر انسان کہنا شروع کر دے مگر یہ عقیدہ نہ رکھے کہ آپ کی اتباع اور غلامی میں کوئی نبی بھی ہو سکتا ہے۔ تو میں سمجھوں گا کہ انہوں نے جو کچھ کہا دیانتداری سے کہا۔ لیکن اگر وہ ایسا اعلان نہ کریں تو پھر ان کا یہ کہنا جھوٹ یا تعصب ہو گا کہ آریوں اور عیسائیوں سے جو رسول اللہ کو جھوٹا، زانی، فاسق، فاجر خیال کرتے ہیں، ان کی صلح ہو سکتی ہے لیکن احمدیوں سے باوجود آنحضرت ﷺ سے محبت رکھنے اور آپ کے دین کی اطاعت اور اشاعت کرنے کے محض اس وجہ سے ان کی صلح نہیں ہو سکتی کہ وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آپ کے بعد آپ کی امت میں سے آپ کی اتباع سے نبی ہو سکتا ہے۔ جو نبی ہو کر بھی آپ کا خادم اور غلام ہی رہے گا۔
اس کے مقابلہ میں ہماری یہ حالت ہے کہ باوجود اس کے کہ سب سے بڑھ کر ہم سے دشمنی اور عداوت کرنے والے غیر احمدی ہی ہیں اور باوجود اس کے کہ ان کے ملکوں میں ہمارے آدمیوں کو نہایت بیدردی اور ظلم کی راہ سے قتل کیا جاتا ہے لیکن مذہب کے لحاظ سے آریوں اور عیسائیوں سے کروڑوں درجے میں غیر احمدیوں کو افضل جانتا ہوں۔
یہ ہم کہیں گے کہ عیسائیوں کی حکومت اور ان کے ملک میں ہمارے لئے بہت امن اور انصاف ہے۔ مگر افغان گورنمنٹ میں ہمارے ساتھ ظلم اور بے انصافی ہوتی ہے۔ لیکن جب مذہب کا سوال آئے گا تو میں امیر امان اللہ خان۳؎کو کروڑوں درجے کنگ جارج سے بڑھ کر سمجھوں گا کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کی عزت کرتے ہیں، انہیں خدا کا سچا رسول مانتے ہیں جو کہ ہمیں تمام چیزوں سے زیادہ عزیز اور پیارے ہیں۔ لیکن کنگ جارج آپ کی صداقت کے قائل نہیں۔ تو مذہبّاً امیر امان اللہ خان صاحب کو میں کنگ جارج سے زیادہ معزز سمجھتا ہوں باوجود اس کے کہ امیر امان اللہ خان کی حکومت میں ہمارے آدمیوں پر سخت ظلم ہوئے۔ لیکن مذہبّاً کنگ جارج سے ان کی عزت میرے دل میں بہت زیادہ ہے کیونکہ جس کی غلامی کا مجھے فخر حاصل ہے اور جسے یہ مولوی لوگ کافر، کذّاب اور دجّال کہتے ہیں اس سے میں نے یہی سیکھا ہے اور یہی اس نے تعلیم دی ہے اور میرا یہ حوصلہ اسی کی بدولت ہے کہ باوجود حکومت کابل سے اس قدر دکھ اٹھانے کے امیر امان اللہ خان کی اس قدر محبت اور عزت میرے دل میں ہے کیونکہ خواہ ان کی حکومت میں ہم سے کیسا ہی بڑا سلوک کیا گیا اور ہمیں کتنے ہی دکھ دیئے گئے مگر وہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے نام لیوا ہیں۔ دیکھو میرے دل میں اس شخص کی بدولت جسے یہ مولوی صاحبان نَعُوْذُ بِاللّٰهِ کافر، دجّال اور کذّاب مانتے ہیں یہ حوصلہ ہے کہ میں اس شخص کو جو ہم سے بڑے سے بڑا سلوک کرتا اور ہر قسم کا ظلم ہم پر روا رکھتا ہے لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کا نام لیوا ہے ان کی نسبت جن کی حکومت ہمیں امن و امان حاصل ہے اور ہم آزادی سے تبلیغ اسلام کر سکتے ہیں مذہب کے لحاظ سے اچھا سمجھتا ہوں۔ لیکن ان مولویوں کے دلوں میں جو اپنے آپ کو رسول اللہ کے تخت کا وارث اور جانشین قرار دیتے ہیں رسول اللہ کی یہ محبت ہے کہ آپ کے ایک عاشق صادق اور آپ کی دین کے ایک سچے خادم اور آپ کے نام لیوا سے آریوں اور عیسائیوں اور یہودیوں کو بہتر جانتے ہیں۔ عیسائیوں اور یہودیوں سے تو ان کی صلح ہو سکتی ہے جو رسول کریم ﷺ کو کاذب قرار دیتے ہیں لیکن رسول اللہﷺ کے سچے عاشق اور آپ کی دین کے ایک سچے خادم سے ان کی صلح نہیں ہو سکتی۔
پہلے تو مجھے یہ خیال آیا کہ ایک اسلام کے مدعی اور محمد رسول اللہ اﷲ ﷺ سے محبت کا دم بھرنے والے کے منہ سے ایسا کلمہ کس طرح نکل سکتا ہے اور میں اپنے دل میں اس کے تسلیم کرنے کے لئے آمادگی نہیں پاتا تھا مگر مجھے ساتھ ہی اپنے اسی پیارے کا یہ فقرہ یاد آ گیا کہ اَلْکُفْرُ مِلَّةٌ وَّاحِدَةٌ۔ جس سے مجھے یقین ہو گیا کہ مولوی جلال الدین صاحب کو کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی۔ مولوی مرتضیٰ حسن صاحب نے ضرور ایسا کلمہ کہا ہو گا جب انہوں نے یہ کہا کہ احمدیوں سے جو کہ رسول کریم اﷲ ﷺ کی جان و دل سے عزت کرنے والے، آپ سے محبت رکھنے والے اور آپ کی دین کی اشاعت میں جان اور مال قربان رنے والے ہیں ان کی صلح نہیں ہو سکتی۔ لیکن آریوں، عیسائیوں اور یہودیوں سے ہو سکتی ہے جو رسول اللہ اﷲ ﷺ کے دشمن اور آپ کے دین کو شب و روز مٹانے کے لئے کوشاں ہیں تو یہ رسول کریم اﷲ ﷺ کے قول کی تصدیق کی ہے۔ کیونکہ رسول کریم اﷲ ﷺ نے بھی یہی بات فرمائی ہے کہ اسلام کے مقابلہ میں سب کفر جمع ہو جاتے ہیں۔ مولوی مرتضیٰ حسن صاحب کے اس قول نے بتا دیا کہ کافر کون ہے اور مؤمن کون۔ آریہ، عیسائی، یہودی سب کافر ہیں۔ ان کے ساتھ ہمارے مخالفین کا جمع ہونا بتلاتا ہے کہ وہ ان سارے کفروں میں غرق ہو رہے ہیں اور سارے احمدیت کے مقابلہ میں مِلَّةٌ وَّاحِدَةٌ بن رہے ہیں۔ یہ ہے ان مولویوں کا اسلام جس پر انہیں فخر ہے۔
دوسری بات جو مولوی جلال الدین صاحب کے لیکچر سے مجھے معلوم ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ہماری طرف سے جو یہ آیت پیش کی جاتی ہے۔ یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ رُسُلٌ(7:36)۔ تو غیر احمدی مولوی صاحب نے کہا ہے کہ اس آیت میں ہم لوگ مراد نہیں بلکہ بنی آدم مراد ہیں۔ شاید وہ اپنے آپ کو بنی آدم شمار نہ کرتے ہوں مگر میں تو اپنے آپ کو بنی آدم میں سے ہی شمار کرتا ہوں۔ بے شک پہلے لوگ بھی بنی آدم تھے مگر ہم بھی آدم ہی کی اولاد ہیں اس لئے بنی آدم ہونے کی حیثیت سے ہم اس آیت سے باہر نہیں اور ہم میں بھی نبی آ سکتے ہیں۔ ہاں اگر وہ یہودیوں کے نقش قدم پر چل کر بنی آدم نہیں رہے بلکہ ان کی طرح قِرَدَةً اور خنازیر بن گئے ہیں تو پھر واقعہ میں ان میں کوئی نبی نہیں آسکتا اور اسی وجہ سے وہ اب تک نبی کی شناخت سے محروم ہیں اور حضرت مسیح موعودؑ کے قبول کرنے کی انہیں توفیق نہیں ملتی۔
میں نے سنا ہے ایک دیوبندی مولوی صاحب نے کہا اب ہمیں فتح حاصل ہوگئی۔ لیکن سمجھ میں نہیں آتا وہ کس منہ سے کہتے ہیں کہ ان کو فتح حاصل ہوگئی اور احمدیوں کو شکست۔ کیا جو جماعت روز بروز ترقی کر رہی ہو وہ شکست خوردہ ہوتی ہے۔ انہوں نے ہزاروں کوششیں کیں، ہر طرح روکیں ڈالیں اور مخالفت کی مگر آج تک نتیجہ یہی نکلا کہ وہ روز بروز کم ہوتے جارہے ہیں اور ہم ترقی کر رہے ہیں۔ ہماری جماعت کو جو لوگ بڑھا رہے ہیں آخر انہیں میں سے نکل نکل کر آرہے ہیں۔ میرے دیکھنے کی بات ہے کہ اس مسجد کے پرانے صحن میں جو بہت چھوٹا تھا ہمارا سالانہ جلسہ ہوتا تھا جس میں باہر کے لوگ شامل ہوتے تھے اور اتنا صحن بھی کافی سے زیادہ ہوتا تھا۔ مگر آج یہ حالت ہے کہ معمولی تقریبوں پر بھی اُس وقت کے سالانہ جلسہ سے زیادہ لوگ صرف یہاں کے جمع ہو جاتے ہیں۔ جمعہ کے روز یہ تمام صحن بھر جاتا ہے جو پہلے کی نسبت بہت وسیع کیا گیا ہے۔ ایسی حالت میں حیرت انگیز بات نہیں کہ آج وہ کہتے ہیں ”قادیان فتح ہو گیا“ اور یہ عنوان رکھ کر اشتہار شائع کرتے ہیں کہ ”مرزائیت کا خاتمہ“۔ ”مرزائیت کا جنازہ بے گوروکفن“ گویا ان کی طرف سے یہ اشتہار شائع ہونے کی دیر تھی کہ احمدیت کا خاتمہ ہو گیا لیکن میں پوچھتا ہوں بقول ان کے اگر مرزائیت کا خاتمہ ہو گیا ہے تو پھر ان کے یہ کہنے کا کیا مطلب کہ تمام مرزائی جماعتیں مل کر تجہیز و تکفین کریں۔ وہ مرزائی جماعتیں کہاں سے آگئیں جنہیں تجہیز و تکفین کے لئے کہا جاتا ہے۔ یہ مولوی صاحبان مرزائیت کسی الگ وجود کو تو قرار نہیں دیتے۔ احمدیوں کو ہی مرزائیت کہتے ہیں۔ پھر جب ان کے نزدیک مرزائیت یعنی احمدیوں کا خاتمہ ہو گیا تو پھر تجہیز و تکفین کے لئے کسے بلاتے ہیں مگر بات یہ ہے کہ وہ بھی خوب جانتے ہیں کس کا خاتمہ ہو رہا ہے اور کس کی تجہیز و تکفین کی ضرورت ہے۔ دراصل ان کے اپنے گھروں میں ماتم پڑا ہوا ہے۔
ان کی مثال تو ان چوہوں کی سی ہے جنہوں نے بلی کے مارنے کے لئے مشورہ کیا تھا۔ ان میں سے ایک نے کہا ہماری اتنی بڑی تعداد ہے اگر ہم جرات سے کام لیں تو بلی کی کیا طاقت وہ ہمارا مقابلہ کر سکے۔ یہ آئے دن ہمیں مارتی رہتی ہے اس کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ اس پر دس پندرہ چوہوں نے کہا۔ ہم اس کی ایک ٹانگ پکڑیں گے۔ دس پندرہ نے کہا ہم دوسری ٹانگ پکڑ لیں گے۔ غرض اس طرح سب نے بلی کے تمام اعضاء تقسیم کر لئے اور بہت خوش ہو رہے تھے کہ اب ہمارے غلبہ پالینے میں کیا شک ہو سکتا ہے۔ ایک بوڑھا چوہا خاموش بیٹھا ان کی باتیں سنتا رہا۔ جب وہ سب اپنی اپنی باتیں کہہ چکے تب اس نے کہا کہ اور تو سب کچھ تم نے بانٹ لیا لیکن یہ بتاؤ بلی کی میاؤں کون پکڑے گا۔ اتنے میں بلی نے میاؤں کی اور سب بھاگ کر بلوں میں گھس گئے۔ اسی طرح ان مولویوں نے بھی مرزائیت کا خاتمہ سمجھ لیا اور اس کا جنازہ نکال بیٹھے ہیں۔
ان کو یہ خبر نہیں کہ یہ جنازہ ان کو بہت مہنگا پڑے گا۔ مرزائیت کے خاتمہ کے تو یہ معنے ہیں کہ کوئی ایک احمدی بھی نہ رہے اور تمام مرزائی جماعتیں دنیا سے مٹ جائیں۔ مگر کیا ان کے خیال کر لینے اور اشتہار دے دینے سے ایسا ہو سکتا ہے۔ احمدیت کو وہ مُردہ نہ خیال کریں بلکہ زندہ سمجھیں۔ اور اگر وہ مُردہ بھی خیال کریں تو مثل مشہور ہے ہاتھی زندہ لاکھ کا مُردہ سوا لاکھ کا۔ یہ اچھا مرزائیت کا جنازہ ہے کہ روز بروز اس جماعت کی ترقی ہو رہی ہے۔ اور جو زندہ کہلاتے ہیں وہ مٹ رہے ہیں۔ میرے خیال میں دل میں تو وہ بھی دعائیں کرتے ہوں گے کہ ایسا جنازہ ان کا بھی نکلے۔ کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ عجیب مُردے ہیں جو ہم زندوں کو کھینچ کھینچ کر اپنے اندر شامل کرتے جاتے ہیں۔ تعجب ہے اس قوم پر کیسی بچوں کی سی ان کی حرکتیں ہیں۔ بھلا وہ قوم جس کا ایک ایک فرد ان کے سو سو مولویوں پر بھاری ہے۔ اور وہ اس کے مقابلہ میں کچھ ہستی نہیں رکھتے اس کو بھی کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ مُردہ ہے اور اس کا جنازہ نکل گیا ہے۔
مسئلہ نبوت کے متعلق میں نے سنا ہے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ رسول کریمﷺ کے صاحبزادہ ابراہیم کو خدا نے وفات ہی اسی لئے دی کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا تھا مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ خود بخود پیدا ہو گیا تھا کہ خدا نے اسے اس لئے وفات دے دی کہ وہ نبی نہ بن جائے۔ جب وہ خود بخود پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ خدا نے پیدا کیا تھا تو اسے پیدا ہی کیوں کیا کہ پھر نبی بن جانے کے ڈر سے وفات دے دی۔ ہاں اگر نَعُوْذُ بِاللّٰهِ یہ ثابت ہو جائے کہ خدا تعالیٰ پر بھی غفلت کا کوئی وقت آسکتا ہے تو یہ بھی تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ اسی غفلت میں اس نے ابراہیم کو پیدا کیا ہو گا اور بعد میں جب معلوم ہوا کہ وہ زندہ رہا تو نبی بن جائے گا اور ختم نبوت ٹوٹ جائے گی تو پھر اس کو وفات دے دی لیکن اگر خدا تعالیٰ پر غفلت کا وقت نہیں آتا تو پھر کون بے وقوف ہے جو یہ کہے کہ خدا نے پہلے اس کو پیدا کیا اور پھر اس لئے مار دیا کہ کہیں وہ نبی نہ بن جائے۔
پھر ایک اور اشتہار انہوں نے شائع کیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں۔ مرزا صاحب نے نبی بن کر ہم کو نئی بات کیا بتلائی ہے کہ ہم انہیں مانیں۔ لیکن جس وقت وہ آپ پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں اس وقت ان کو یہ خیال کیوں پیدا نہیں ہوتا کہ جب حضرت مرزا صاحب نے کوئی نئی بات نہیں بتائی تو پھر فتویٰ کس بات پر لگاتے ہیں۔ اگر ہم پر وہ کفر کا فتویٰ اس لئے لگاتے ہیں کہ جو معنی وہ خاتم النّبیّین کے کرتے ہیں وہ ہم نہیں کرتے تو ان کو چاہئے پہلے وہ حضرت عائشہؓ پر کفر کا فتویٰ لگائیں۔ پھر حضرت مغیرہؓ پر جو کہتے تھے میرے بچوں کو خاتم النّبیّین کی تاء کی زیر کے ساتھ قراءت یاد نہ کراؤ۔ پھر اس پر بھی بس نہیں ہوگی بلکہ یہ فتویٰ تو اس سے بھی اوپر جائے گا۔ یعنی رسول اللہ ﷺ پر بھی ان کو فتویٰ لگانا پڑے گا۔ کیونکہ جب آپ کو یہ معلوم تھا کہ آپ کے بعد نبی نہیں ہو سکتا تو آپ نے یہ کیوں فرمایا کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور نبی ہوتا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک شیعہ کا قصہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک عمر رسیدہ شیعہ سخت بیمار ہو گیا۔ جب اس کے بچنے کی کوئی امید نہ رہی تو بیٹوں نے درخواست کی کہ آپ ہمیں کوئی ایسا نکتہ بتا جائیں جس سے ہمارا ایمان کامل ہو جائے۔ کہنے لگا صبر کرو، ابھی میں اچھا ہوں۔ جب حالت زیادہ نازک ہو گئی تو بیٹوں نے پھر یاد دہانی کرائی تب اس نے کہا۔ نہایت ہی راز کی بات آج میں تم پر ظاہر کرتا ہوں اور وہ یہ کہ کچھ کچھ بُغض تم امام حسن سے بھی رکھنا کہ وہ خلافت سے کیوں دست بردار ہو گئے تھوڑی دیر کے بعد پھر بیٹوں نے درخواست کی کوئی اور بات۔ کہنے لگا کچھ کچھ بُغض امام حسین۔ سے بھی رکھنا کہ انہوں نے مدینہ کیوں چھوڑا۔ کچھ دیر کے بعد پھر بیٹوں نے درخواست کی کوئی اور نکتہ آپ بتائیں۔ کہنے لگا اتنا ہی کافی ہے جو میں نے بتا دیا۔ لیکن جب بیٹوں نے اصرار کیا تو کہنے لگا اچھا تھوڑا بُغض حضرت علیؓ سے بھی رکھنا کہ وہ شروع میں ہی بزدلی نہ دکھاتے تو خلافت دوسروں کے ہاتھ میں کیوں جاتی۔ اس کے بعد بیٹوں نے پھر اصرار کیا کہ کوئی اور بات بھی بتائیں۔ تو اس نے کہا اچھا تھوڑا بُغض رسول کریم ﷺ سے بھی رکھنا کہ انہوں نے جرأت کر کے اپنے سامنے ہی کیوں نہ حضرت علی کے ہاتھ پر بیعت کروا دی۔ اس کے بعد بیٹوں نے پھر اصرار کیا تو کہا۔ اچھا کچھ بُغض جبرائیل سے بھی رکھنا کہ اس کو تو وحی حضرت علی کے لئے دی گئی تھی وہ بھول کر رسول کریم کی طرف کیوں چلا گیا۔ اس کے بعد وہ فوت ہو گیا۔ اس پر کسی جلے ہوئے سنی نے کہہ دیا اگر وہ تھوڑی دیر زندہ رہتا تو یہ بھی کہہ دیتا تھوڑا سا بغض خدا سے رکھنا کہ جبرائیل کو بھیجنے میں اس نے دھوکا کھایا۔ معلوم ہوتا ہے کسی سنی نے یہ قصہ بنایا ہے جس میں اس نے یہ دکھایا ہے کہ اگر شیعوں کے عقیدوں کو تسلیم کیا جائے تو پھر سب سے بغض رکھنا پڑتا ہے۔
یہی حال غیر احمدیوں کے عقیدہ کا ہے۔ اگر ہم ان کے عقیدہ کے خلاف خاتم النّبیّین کے معنے کرنے سے کافر ہو سکتے ہیں تو پھر ان کا فتویٰ حضرت عائشہؓ پر، دیگر صحابہ اور علماء امت پر حتیٰ کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر بھی لگے گا۔ اگر وہ ایمانداری سے ہم پر فتویٰ لگاتے ہیں تو پھر ان کو چاہئے کہ اس کی پوری پابندی کریں اور پہلے فتویٰ رسول اللہ ﷺ پر لگائیں۔ ان سے تو وہ طالب علم بڑھ کر نکلا جس نے کہہ دیا تھا کہ محمد رسول اللہ نے نماز میں حرکتِ ثقیل کی اس لئے ان کی نماز ٹوٹ گئی۔ میں کہتا ہوں اگر وہ اپنے فتویٰ کو سچائی پر مبنی سمجھتے ہیں تو پھر ان کو چاہئے کہ وہ حضرت عائشہؓ، حضرت مغیرہؓ، دیگر ائمہ اور خود آنحضرت ﷺ پر یہی فتویٰ کیوں نہیں لگاتے کہ وہ بھی خاتم النّبیّین کے ان معنوں کے قائل نہیں تھے جو معنے کہ یہ لوگ کرتے ہیں۔
صاحبزادہ ابراہیم کے متعلق جو رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔ لَوْ عَاشَ اِبْرَاهِيمُ لَكَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا۔۷؎ کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔ میں اس کے متعلق ایک اور بات بھی بتلاتا ہوں جو غیر احمدیوں اور غیر مبائعین کے لئے مفید ہے۔ وہ کہا کرتے ہیں کہ نبوت کسبی نہیں بلکہ وہبی ہے ہم کہتے ہیں اگر نبوت محض وہبی ہے تو ابراہیم کو زندہ رکھنے میں کیا حرج تھا۔ اس پر موہبت نہ کی جاتی اور وہ نبی نہ بنتے۔ مگر رسول کریم ﷺ کے ارشاد سے ظاہر ہے اگر وہ زندہ رہتے تو اس زمانہ اور عرصہ میں وہ تقویٰ اور طہارت کے اس مقام پر پہنچ جاتے جو نبوت کی موہبت کا جاذب ہوتا ہے۔ پس بے شک نبوت موہبت ہے لیکن اس کے لئے کسب شرط ہے جس کے نتیجے میں موہبت ہوتی ہے۔ اگر کوئی کسب نہ کرے اور نبوت مل جائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ فاسقوں اور فاجروں کو بھی نبوت مل سکتی ہے۔ اگر نہیں تو کیا وجہ ہے ایسے لوگ جن کی پاکیزہ زندگیاں نہیں ان کو نبوت نہیں مل سکتی۔ اور انبیاء کی پاکیزہ زندگیوں کو کیوں ان کی صداقت کی دلیل ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس سے پتہ لگتا ہے کہ وہب سے پہلے کسب کا ہونا ضروری ہے۔ پس صاحبزادہ ابراہیم کی فطرت بھی ایسی صحیح تھی کہ اگر وہ زندہ رہتا تو ایسا تقویٰ اور طہارت پیدا کرتا کہ خدا کا وہب اس پر ضرور ہوتا۔
اسی طرح خاتم النبیّین میں خاتم کے معنے مُہر کے ہیں۔ اور مہر تصدیق کے لئے ثبت کی جاتی ہے۔ جس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ مُہر ثبت کرنے والا اقرار کرتا ہے کہ یہ میری طرف سے ہے۔ اسی غرض کے لئے پہلے بادشاہ رکھتے تھے اور اپنے احکامات پر تصدیق کے لئے ثبت کیا کرتے تھے اور چونکہ ان میں یہ رواج تھا کہ وہ کوئی کاغذ بغیر مہر کے لیتے دیتے نہیں تھے اس لئے آنحضرت ﷺ نے بھی جب بادشاہوں کو تبلیغی خطوط لکھے تو آپ نے ان پر ثبت کرنے کے لئے مہر بنوائی۔ تو مہر ہمیشہ کلام کی تصدیق کے لئے ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے خاتم النبیّین کے یہ معنے ہوں گے کہ آنحضرت ﷺ تمام انبیاء کی تعلیم کی تصدیق کرنے والے ہیں۔ گویا جس تعلیم کی آپ تصدیق کریں گے وہ صحیح ہو گی اور جس پر آپ کی تصدیق نہ ہو گی وہ صحیح نہ ہوگی۔ اسی لئے قرآن کریم میں آیا ہے۔ وَمُہَیۡمِنًا عَلَیۡہِ(5:49)۷؎ کہ قرآن کریم ان انبیاء کی تعلیم کا محافظ ہے اور وہ سب تعلیمیں اس میں جمع کر دی گئی ہیں۔ یعنی آنحضرت ﷺ کے ذریعے ان کی تمام صداقتیں محفوظ کر لی گئی ہیں۔ اب قرآن کا جو بیان ہے وہ صحیح ہے۔ اگر تورات یا انجیل میں اس کے خلاف پایا جاتا ہے تو ان کا بیان صحیح نہیں سمجھا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی کتابوں کے متعلق جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے اگر وہ کچھ بیان کریں تو تم سنو تو سہی لیکن لَا تُصَدِّقُوْهُمْ وَلَا تُكَذِّبُوْهُمْ۸؎ نہ اس بیان میں ان کی تصدیق کرو اور نہ تکذیب۔ گویا جب آپ نے ان کے تمام صحیح بیان محفوظ کر لئے ہیں تو جو باتیں آپ نے بیان نہیں کیں خواہ اس لئے کہ آئندہ ان کی کوئی ضرورت نہیں اور خواہ اس لئے کہ وہ صحیح نہیں ہمیں ان کی تصدیق یا تکذیب کی ضرورت نہیں۔ پس جن باتوں کو قرآن کریم نے غلط قرار دیا ہے ان کو غلط سمجھو اور جن کو صحیح قرار دیا ہے ان کو صحیح سمجھو اور جن سے خاموشی اختیار کی ہے تمہیں بھی خاموشی اختیار کرنی چاہئے تصدیق یا تکذیب کی کوئی ضرورت نہیں۔
غیر احمدی مولویوں نے اپنے جلسہ میں یہ بیان کیا ہے کہ اگر مسیح موعود کے دولت لٹانے سے مراد معارف اور حقائق بیان کرنا ہے تو بھی ہم سے بڑھ کر مرزا صاحب نے قرآن کے معارف بیان نہیں کئے اور انہوں نے اشتہار شائع کیا ہے جس میں لکھا ہے:۔ ”مرزا صاحب کے معارفِ قرآنیہ، نئے علمِ کلام، جدید لاثانی دلائل، نئے انوکھے اچھوتے مسائل کی دھوم تھی۔ غُل تھا۔ مگر جب پوچھا گیا کہ وہ معارف کیا ہیں...... تو جواب ندارد"۔
پھر حضرت مسیح موعود کے بیان کردہ معارف کے متعلق لکھا ہے:۔ "کم سے کم کس قدر معارفِ قرآنیہ ہونے چاہئیں، کتنے دلائل اور علوم محققہ ہوں جن سے انسان مسیح موعود مہدی مسعود ہو سکے ان کی صرف فہرست بتا دو۔ تو پھر خدا چاہے یہ ہم بتلا دیں گے کہ یہ معارف بالکل مسروقہ ہیں"۔ اگر وہ لوگ اپنی اس بات پر مضبوط اور قائم ہیں اور اس کو صداقت کا معیار قرار دینے کے لئے تیار ہیں تو اس بات کا میں ذمہ لیتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب کی کتابوں میں سے وہ حقائق اور معارف پیش کروں جو ان مولوی صاحبان نے کبھی بیان نہیں کئے اور نہ پہلی کتابوں میں قرآن کریم سے اخذ کر کے بیان کئے گئے ہیں۔ کہہ دینے کو تو انہوں نے کہہ دیا کہ مرزا صاحب نے کوئی معارف بیان نہیں کئے اور جو کئے ہیں وہ سرقہ ہیں۔ پچھلی کتابوں میں موجود ہیں لیکن اگر اس بات پر ثابت قدم رہیں اور اس کو سچائی کا معیار سمجھیں تو اس کا میں ذمہ لیتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود کی کتب سے ایسے قرآنی حقائق اور معارف پیش کروں جو ان مولوی صاحبان نے کبھی بیان نہیں کئے اور نہ حضرت مسیح موعود سے پہلے کسی نے لکھے ہیں۔
مگر مولوی صاحبان کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ قرآن کریم میں وہ معارف ہیں جو پہلی کتب میں نہیں ہیں۔ پس حضرت مرزا صاحب کے دعویٰ کے پرکھنے سے پہلے ہمیں جدت و کثرت کا معیار قائم کرلینا چاہئے۔ اور اس کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ غیر احمدی علماء مل کر قرآن کریم کے وہ معارفِ روحانیہ بیان کریں جو پہلی کسی کتاب میں نہیں ملتے اور جن کے بغیر روحانی تکمیل ناممکن تھی۔ پھر میں ان کے مقابلہ پر کم سے کم دُگنے معارف قرآنیہ بیان کروں گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لکھے ہیں اور ان مولویوں کو تو کیا سوجھنے تھے پہلے مفسرین و مصنفین نے بھی نہیں لکھے۔ اگر میں کم سے کم دُگنے ایسے معارف نہ لکھ سکوں تو بے شک مولوی صاحبان اعتراض کریں طریق فیصلہ یہ ہو گا کہ مولوی صاحبان معارفِ قرآنیہ کی ایک کتاب ایک سال تک لکھ کر شائع کر دیں اور اس کے بعد میں اس پر جرح کروں گا جس کے لئے مجھے چھ ماہ کی مدت ملے گی۔ اس مدت میں جس قدر باتیں ان کی میرے نزدیک پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں ان کو میں پیش کروں گا۔ اگر ثالث فیصلہ دیں کہ وہ باتیں واقع میں پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں تو اس حصہ کو کاٹ کر صرف وہ حصہ ان کی کتاب کا تسلیم کیا جائے گا جس میں ایسے معارف قرآنیہ ہوں جو پہلی کتب میں نہیں پائے جاتے۔ اس کے بعد میں چھ ماہ کے عرصہ میں ایسے معارف قرآنیہ حضرت مسیح موعودؑ کی کتب سے یا آپ کے مقرر کردہ اصول کی بناء پر لکھوں گا جو پہلے کسی مصنف اسلامی نے نہیں لکھے۔ اور مولوی صاحبان کو چھ ماہ کی مدت دی جائے گی کہ وہ اس پر جرح کر لیں اور جس قدر حصہ ان کی جرح کا منصف تسلیم کریں اس کو کاٹ کر باقی کتاب کا مقابلہ ان کی کتاب سے کیا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ آیا میرے بیان کردہ معارف قرآنیہ جو حضرت مسیح موعود کی تحریرات سے لئے گئے ہوں گے اور جو پہلی کسی کتاب میں موجود نہ ہوں گے ان علماء کے ان معارف قرآنیہ سے کم از کم دُگنے ہیں یا نہیں جو انہوں نے قرآن کریم سے ماخوذ کئے ہوں اور وہ پہلی کسی کتاب میں موجود نہ ہوں۔ اگر میں ایسے دُگنے معارف دکھانے سے قاصر رہوں تو مولوی صاحبان جو چاہیں کہیں۔ لیکن اگر مولوی صاحبان اس مقابلہ سے گریز کریں یا شکست کھائیں تو دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دعویٰ منجانب اللہ تھا۔ یہ ضروری ہو گا کہ ہر فریق اپنی کتاب کی اشاعت کے معا بعد اپنی کتاب دوسرے فریق کو رجسٹری کے ذریعہ سے بھیج دے۔ مولوی صاحبان کو میں اجازت دیتا ہوں کہ وہ دُگنی چوگنی قیمت کا وی پی میرے نام کر دیں۔
اگر مولوی صاحبان اس طریق فیصلہ کو ناپسند کریں اور اس سے گریز کریں تو دوسرا طریق یہ ہے کہ میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ادنیٰ خادم ہوں میرے مقابلہ پر مولوی صاحبان آئیں اور قرآن کریم کے تین رکوع کسی جگہ سے قرعہ ڈال کر انتخاب کر لیں۔ اور وہ تین دن تک اس ٹکڑے کی ایسی تفسیر لکھیں جس میں چند ایسے نکات ضرور ہوں جو پہلی کتب میں موجود نہ ہوں۔ اور میں بھی اسی ٹکڑے کی اسی عرصہ میں تفسیر لکھوں گا اور حضرت مسیح موعود کی تعلیم کی روشنی میں اس کی تشریح بیان کروں گا اور کم سے کم چند ایسے معارف بیان کروں گا جو اس سے پہلے کسی مفسر یا مصنف نے نہ لکھے ہوں گے اور پھر دنیا خود دیکھ لے گی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کی کیا خدمت کی ہے اور مولوی صاحبان کو قرآن کریم اور اس کے نازل کرنے والے سے کیا تعلق اور کیا رشتہ ہے۔
ہاں اس قسم کے معارف نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائے ہیں اور نہ میں بیان کر سکتا ہوں جس قسم کے یہ بیان کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے حضرت نبی کریم ﷺ کے معجزات بیان کرتے ہوئے کہا کہ معراج کے لئے جب آپ کے پاس گھوڑا لایا گیا تو اس نے شوخی کی جس میں بڑی بڑی حکمتیں تھیں۔ مثلاً ایک تو یہ کہ شاہسوار شوخ گھوڑے کو بہت پسند کرتا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ گھوڑا ڈر گیا کہ معلوم نہیں میں نبوت کا بوجھ اٹھا سکتا ہوں یا نہیں۔ پھر ایک نکتہ انہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ جس وقت گھوڑے پر سوار ہوتے تھے تو اس کا پیشاب پاخانہ بند ہو جاتا تھا۔ انبیاء کے معجزات اور برکات میں اگر یہ بات بھی داخل ہے کہ جس گھوڑے پر نبی سوار ہو اس کا پیشاب پاخانہ بند ہو جائے تو تمام گھوڑے نبی کی بعثت کا حال سن کر یہی دعا کرتے ہوں گے کہ خدایا! اس نبی کا گذر اس طرف نہ ہو ورنہ ہم میں سے کسی کی شامت آ جائے گی۔
اسی طرح یہ کہا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کا پاخانہ زمین نگل لیتی تھی۔ بھلا کوئی پوچھے اس قسم کی باتوں کو کون دیکھنے والا تھا۔ اسی طرح ایک شخص نے شاید سید عبدالقادر جیلانیؒ کا یہ معجزہ بیان کیا تھا کہ ان کے سامنے بھنا ہوا مرغ لایا گیا۔ کھانے کے بعد اس کی ہڈیاں جمع کر کے انہوں نے زندہ کر دیا اور وہ کڑکڑاتا ہوا اُڑ گیا۔
اگر مولوی صاحبان اس قسم کے معجزات اور نشانات کا ہم سے مطالبہ کرتے ہیں اور اس قسم کے معارف اور حقائق ہم سے سننا چاہتے ہیں تو ان کے لئے قرآن و حدیث کی کوئی ضرورت نہیں اس قسم کے معجزات کی بلکہ ان سے کہیں بڑھ کر جن کا ان مولوی صاحبان کو شاید کبھی وہم بھی پیدا نہ ہوا ہو ہندوؤں کی کتابوں میں اسقدر بھر مار ہے کہ اس معاملہ میں مسلمانوں کو ان سے کچھ نسبت ہی نہیں۔ مثلاً ہندو کہتے ہیں ان کا ایک رشی تھا جس کی کسی عورت پر نظر پڑ گئی اور اسے انزال ہو گیا۔ اس نے وہ کپڑا ایک گڑھے میں ڈال دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد گڑھے میں سے رونے کی آواز آنے لگ گئی۔ دیکھا تو بیچ میں بچہ رو رہا تھا۔ اسی قسم کے قصے نسلاً بعد نسلِ ہندوؤں کو بنانے کی اتنی مشق ہے کہ مسلمان اگر ان سے مقابلہ کریں تو ان کو پیٹھ دکھانے کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو گا۔
پھر وہ کہتے ہیں۔ ایک دفعہ نیل کنٹھ کو جو چھوٹا سا پرندہ ہے بھوک لگی تو وہ اپنی ماں کے پاس گیا کہ مجھے سخت بھوک لگی ہے کچھ کھانے کو دو۔ ماں نے کہا میرے پاس تو کچھ نہیں باہر جا کر کھا آؤ مگر برہمن کو نہ کھانا۔ جب وہ باہر آیا تو اس نے ایک بڑی برات دیکھی۔ ان میں ایک برہمن تھا۔ جسے چونچ سے پکڑ کر اس نے درخت پر بٹھا دیا اور منہ کھول کر سب برات کو نگل گیا۔ پھر اسے پیاس لگی تو ایک ندی پر گیا اور اتنا پانی پیا کہ ندی خشک کر دی۔ چنانچہ اب تک ایک ندی کے متعلق کہتے ہیں کہ نیل کنٹھ نے خشک کی تھی۔ اس کے بعد وہ ماں کے پاس آیا اور کہنے لگا اب مجھے ذرا تسکین ہوئی ورنہ میں تو بھوک کے مارے مرا جاتا تھا۔ اب مسلمان جو قصے بناتے ہیں ہندوؤں کی طرح پرانے مشاق نہیں۔ قصوں کے ذریعہ ہندوؤں کا کیا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کیا اس قسم کے معجزات سے وہ لوگوں کو اسلام کے حلقہ میں لا سکتے ہیں؟
حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو اُس قسم کے جھوٹے معجزات کی تردید اور ان کا استیصال کرنے آئے تھے۔ اگر کوئی اس قسم کے معجزات آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کرتا ہے تو وہ اسلام پر نہایت ناپاک دھبہ لگاتا ہے۔ خدا تعالیٰ ایسے نادان دوستوں سے اسلام کو محفوظ رکھے۔ جو اس کو دوستی کے رنگ میں بدنام کرتے ہیں۔ کیونکہ اس قسم کے قصے سن کر بجائے اس کے کہ لوگوں کے دلوں میں اسلام کی عزت اور عظمت پیدا ہو وہ اسلام پر ہنستے ہیں۔
ہاں اگر حقائق اور معارف سے وہ حقیقی معارف مراد ہیں جن سے قرآن کریم بھرا پڑا ہے اور جن میں انسان کے اخلاق اعمال کی درستی اور اس کے تعلق باللہ کے اعلیٰ سے اعلیٰ ذرائع بتائے گئے ہیں تو ان کے لکھنے میں ان مولویوں کو میں اپنے مقابلہ پر بلاتا ہوں۔ اگر وہ آئے تو دیکھیں گے کہ حضرت مرزا صاحب کے ایک ادنیٰ غلام کے مقابلہ میں ان کا کیا حشر ہوتا ہے۔ ان کی قلمیں ٹوٹ جائیں گی۔ ان کے دماغوں پر پردے پڑ جائیں گے اور وہ کچھ نہیں لکھ سکیں گے۔ اگر ان میں ہمت و جرأت ہے تو مقابلہ پر آئیں۔
(اخبار الفضل ۱۴، ۱۶ جولائی ۱۹۲۵ء)
”شاہ“ کا لقب اختیار کیا۔ اس کے خلاف شورش ہوئی تو یہ کابل سے قندھار چلا گیا۔ ۱۹۲۹ء میں اٹلی روما چلا گیا اور وہیں وفات پائی۔ محمد ظاہر شاہ (ابن نادر شاہ) کے دورِ حکومت میں اس کی میت روم سے کابل لائی گئی۔“۔ (اردو جامع انسائیکلوپیڈیا جلد اول صفحہ ۱۲۷ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۷ء)
۴؎
۵؎ الاعراف: ۳۶
۶؎ کنز العمال جلد ۱۰ صفحہ ۴۶۹ روایت ۳۲۲۰۴ مطبوعہ حلب ۱۹۷۴ء
۷؎ المائدة: ۴۹
۸؎ درمنثور جلد ۵ صفحہ ۱۴۷ زیر آیت ولا تجادلوا اهل الكتاب الا بالتى هى احسن ..... مطبوعہ بیروت۔
از
سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ— ھُوَالنَّاصِرُ
(رقم فرمودہ مؤرخہ ۱۳؍جولائی ۱۹۲۵ء)
آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے پروگرام کی ایک کاپی مجھے بھی بھیجی گئی ہے اور خواہش کی گئی ہے کہ میں بھی اس میں شامل ہوں۔ چونکہ نظر بر حالاتِ موجودہ میں خود شمولیت کرنے سے معذور ہوں اس لئے تحریراً میں اپنے نمائندوں کے ذریعہ سے اپنے خیالات زیر بحث مواضیع کے متعلق بیان کرتا ہوں۔ اور یہ بھی بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ یہی خیالات جماعت احمدیہ کے اس حصہ کے ہیں جو میری بیعت میں شامل ہے اور جو اس کے مطابق عمل کر رہا ہے اور دوسری جماعتوں سے مل کر جہاں تک اس کے عقائد اور اس کی قومی ضروریات اجازت دیں عمل کرنے کے لئے تیار ہے۔
چونکہ یہ دعوت مجھے دیر سے پہنچی ہے اور چونکہ بوجہ بیماری میں صرف آج کہ تیرہ تاریخ ہے اس پر کچھ لکھنے کے قابل ہوا ہوں اس لئے مجبوراً نہایت اختصار سے اس پر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتا ہوں۔
مجھے ابتداء ہی میں اس بات کو بتا دینا چاہئے کہ کبھی بھی آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے داعیان کو اپنے مقصد میں کامیابی نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ اس امر کو نہ سمجھ لیں اور سب مسلمانوں کو اپنا ہم خیال نہ بنا لیں کہ اسلام کی اس زمانہ میں دو تعریفیں ہیں۔ ایک مذہبی اور ایک سیاسی۔ مذہبی تعریف ہر ایک شخص کے اختیار میں ہے وہ جو چاہے تعریف کرے اور اس کے مطابق جس کو چاہے کافر بنائے اور جس کو چاہے مسلمان۔ کسی کا حق نہیں کہ اس پر اس سے ناراض ہو گو ہر ایک کا حق ہے کہ اس کو اگر وہ غلطی پر ہے سمجھائے۔ دوسری تعریف سیاسی ہے اور یہ تعریف کوئی فرقہ خود نہیں کر سکتا بلکہ یہ تعریف اسلام کا لفظاً و معناً انکار کرنے والے لوگ کرتے ہیں اور کر سکتے ہیں۔ سیاسی طور پر کون لوگ مسلمان ہیں؟ اس کا جواب نہ دیوبند دے سکتا ہے نہ قادیان نہ فرنگی محل نہ گولڑہ اور نہ علی پور۔ اس کا جواب صرف ہندو اور عیسائی اور سکھ دے سکتے ہیں جن سے مسلمانوں کا سیاسی واسطہ پڑتا ہے۔ اگر ایک جماعت کو دیگر مذاہب کے پیرو مسلمان کہتے اور سمجھتے ہیں تو ایک لاکھ مولویوں کے فتوے بھی اس کو سیاست اسلامیہ سے باہر نہیں نکال سکتے۔ سنّی خواہ شیعوں کو اور شیعہ خواہ سنّیوں کو کافر کہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی معاملات میں ہندو اور سکھ سنّیوں اور شیعوں سے کیا معاملہ کریں گے کیا سنّیوں کے شیعوں کو کافر کہنے کے سبب سے ہندو لوگ سنّیوں اور شیعوں سے الگ الگ قسم کا معاملہ کریں گے؟ نہیں، وہ جو کارروائی ایک قوم کے خلاف کریں گے وہی دوسری کے خلاف بھی کریں گے۔ پس سیاستاً ان کے مفاد ایک ہیں جن پر اسلام کا لفظ حاوی ہے اور اگر وہ اس نکتہ کو نہیں سمجھیں گے تو ان کو ایک ایک کر کے دوسری قومیں کھا جاویں گی اور ان کو اس وقت ہوش آوے گی جب ہوش آنے کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔
اس اصل کے بیان کرنے کے بعد میں تمام ان فرقوں کے لوگوں سے جو اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں کہتا ہوں کہ عقیدتاً وہ خواہ ہمیں کافر کہیں اور خواہ ہم ان کو کافر کہیں۔ اسلام کے نام نے ہمارے سیاسی فوائد کو اس طرح ملا دیا ہے کہ ہم سیاسۃً ایک دوسرے کو مسلمان قرار دینے پر مجبور ہیں اور اگر کوئی ایک فرقہ مذہبی عقیدہ کی بناء پر سیاسی جدوجہد میں بھی الگ کر دیا گیا تو یاد رکھو کہ اس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ وہ اپنی زندگی کے قیام کے لئے دوسری اقوام سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہو گا اور اس صورت میں اسے ان فرقوں کے مقابلہ میں جنہوں نے اسے سیاسۃً کچلنے کی بلکہ مارنے کی کوشش کی تھی ضرور اس جماعت کی رعایت کرنی ہو گی جو اس سے معاہدہ ہو کر اس کی حفاظت کا وعدہ کرے۔ کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ سیاسی میدان میں کوئی قوم بغیر طاقتور ہمسایوں سے معاہدہ کئے زندہ رہ سکے۔ اور یہ آپ لوگ ہرگز امید نہیں کر سکتے کہ ایک جماعت کو آپ لوگ دھتکار کر نکال دیں اور پھر یہ بھی امید کریں کہ وہ دوسری قوموں کی طرف بھی رجوع نہ کرے اور دستِ تظلم کی داد دیتے ہوئے اپنے سیاسی وجود کو فنا کر دے اس قسم کی وفا کی مثالیں افراد میں مل سکتی ہیں اور وہ بھی شعراء کے کلام میں۔ قومیں اس قسم کی وفا کا نمونہ دکھا کر زندہ نہیں رہ سکتیں سوائے اس صورت کے کہ ان کی عقل ماری گئی ہو۔ اگر قلیل التعداد جماعتوں کو حقیر سمجھ کر اپنے سے دور پھینکا گیا محض اس لئے کہ ہمارا مذہبی اختلاف ہے یا اس وجہ سے ہی کہ ہم ایک دوسرے کو کافر سمجھتے ہیں تو ہندوستان میں دوسری ایسی عقلمند قومیں موجود ہیں جو ان دور پھینکے جانے والوں سے سیاسی سمجھوتے کر کے اپنی سیاسی طاقت کو بڑھانے کی خواہش مند ہیں۔ پس ہر ایک چیز کو اس کے مقام پر رہنے دو۔ مذہبی کفر و اسلام کو مذہب کی بحثوں کے موقعوں کے لئے اور سیاسی کفر و اسلام کو سیاسی حل و عقد کے موقعوں کے لئے۔
اس کے بعد میں اپنے خیالات ان سوالات کے متعلق جن پر کانفرنس میں غور کیا جائے گا بتاتا ہوں۔ مگر یہ بھی مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ ایسے اہم امور ایک کانفرنس میں کبھی طے نہیں ہو سکتے کیونکہ ایک ہی وقت میں علم کا حاصل کرنا اور اس کا نتیجہ بھی نکال لینا نہایت ہی مشکل کام ہے۔ پس چاہئے کہ اس کانفرنس میں صرف تبادلہ خیال ہو اور اس کے دو یا تین ماہ کے بعد پھر لوگ اکٹھے ہوں اور اس کانفرنس میں کسی خاص نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ اس عرصہ میں لوگ تمام تجاویز پر خوب غور و فکر کر لیں گے اور ان کی رائے زیادہ مضبوط ہو گی۔
جو سوالات کانفرنس میں پیش ہوں گے ان میں سے سب سے پہلا سوال جو درجہ کے لحاظ سے بھی پہلا ہے یہ ہے کہ تمام ملک ہند کے لئے ایک تبلیغی نظام مقرر کیا جائے اور تبلیغی انجمنوں کے اندر اتحاد پیدا کرتے ہوئے تقسیم کار کی صورت نکالی جائے۔
میرے نزدیک یہ سوال اسلام کے لئے ایسا ہی اہم ہے جیسا کہ انسان کے لئے زندگی اور موت کا سوال۔ اسلام تبلیغ کے ذریعہ سے ہی زندہ رہا ہے اور زندہ رہے گا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مبلغوں کے متعلق فرماتا ہے کہ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ(7:158)؎ وہی لوگ کامیاب ہوں گے یعنی مسلمانوں کی کامیابی ہمیشہ تبلیغ سے وابستہ رہے گی۔
تبلیغ کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام میں جو قوت جذب کرنے کی موجود ہے وہ اور کسی مذہب میں نہیں۔ نہ ہندوؤں میں نہ سکھوں میں نہ مسیحیوں میں وہ اخوت اور مساوات ہے جو اسلام میں ہے اس لئے اسلام کی تبلیغ میں جو آسانیاں ہیں وہ دوسری قوموں کو حاصل نہیں ہیں۔ خصوصاً جبکہ اس امر کو مد نظر رکھا جائے کہ فوج در فوج لوگ جو کسی مذہب کو قبول کرتے ہیں وہ اس کی روحانی خوبیوں کی وجہ سے نہیں کیا کرتے بلکہ اس کی تمدنی اور سیاسی خوبیوں کی وجہ سے کرتے ہیں اور اس قسم کی قومیں ہمیشہ وہی ہوتی ہیں جو تمدناً ادنیٰ ہوں یا ان کو ادنیٰ سمجھا جاتا ہو۔ پس تبلیغ کا بہترین میدان ہندوستان کی وہ قومیں ہوں گی جو تمدناً ادنیٰ ہیں یا ادنیٰ سمجھی جاتی ہیں۔
لیکن ان قوموں کے متعلق یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ان پر مسیحی ایک لمبے عرصہ سے اور ہندو کچھ سالوں سے حملہ آور ہو رہے ہیں۔ مسیحیوں کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ اس وقت تک تیس لاکھ سے زیادہ ایسے آدمیوں میں سے وہ اپنے ساتھ شامل کر چکے ہیں اور اس وجہ سے نئے داخل ہونے والوں کو ان میں ملنا بہ نسبت دوسرے مذاہب کے زیادہ آسان ہے۔ پنجاب میں چار لاکھ کے قریب چوڑھے ہیں جن میں سے نصف کے قریب عیسائی ہو چکے ہیں اور اب عیسائی ہونے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے کیونکہ اب غیر عیسائیوں کو رشتہ کی سخت دقت ہو رہی ہے پس وہ رشتے ناطے کی غرض سے عیسائی ہو جاتے ہیں۔
دوسری فوقیت ان کو یہ ہے کہ ان کے پاس روپیہ ہے۔ وہ ان کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں اور ان کی تمدنی حالت کی درستی کے لئے ان کے واسطے زمیندارہ کا انتظام کرتے ہیں۔
تیسرے پادریوں کے با رسوخ ہونے کی وجہ سے کئی جگہ مجرم پیشہ لوگ مسیحی ہو جاتے ہیں کہ اس طرح جرائم کر کے بھی نسبتاً محفوظ رہتے ہیں اور کئی جگہ نمبر دس کے رجسٹر سے نام کٹوانے کا باعث عیسائی ہو جانا ہوا ہے اور ہوتا ہے۔
چوتھے حکومت کا مذہب بھی مسیحیت کی کشش کو ضرور بڑھاتا ہے۔
دوسرے نمبر پر سکھ ہیں اور ان کو یہ فوقیت ہے کہ وہ پنجاب میں بڑے زمیندار ہیں اور چونکہ ادنیٰ اقوام کا بیشتر حصہ زراعت پر گزارہ کرتا ہے وہ مالک زمیندار کے اثر کو قبول کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔ پھر سکھ ہندوؤں کی نسبت جلد ان لوگوں کو اپنے اندر شامل کر لیتے ہیں اور چونکہ ان میں بھی ایک لاکھ کے قریب یہ لوگ داخل ہو گئے ہیں رشتہ ناطہ کا سوال روک نہیں ڈالتا۔
مسلمانوں کو نہ صرف یہ کہ ان قوموں کی طرف توجہ نہیں بلکہ وہ ان کے مسلمان ہونے میں اس لئے روک ڈالتے ہیں کہ پھر ہمارے گھروں کی صفائی کون کرے گا۔ چنانچہ ایک علاقہ میں چھ ہزار کے قریب ادنیٰ اقوام کے آدمی اسلام کی طرف مائل ہو رہے تھے کہ ایک مسلمان مولوی کو ایک گاؤں والوں نے مقرر کیا کہ وہ ہمارے واعظ کے پیچھے پیچھے جائے تا وہ ان لوگوں کو مسلمان ہونے پر آمادہ نہ کر لے۔ چنانچہ اس مولوی نے سب علاقہ میں دورہ کر کے ان لوگوں کو روکا۔ وہ آج پختہ ہندو ہیں اور کل کو ان زمینداروں کا خون چوسیں گے۔
خلاصہ یہ کہ کامیاب تبلیغ کے لئے ہمیں خاص نظام کی ضرورت ہے جس میں ہمیں اس امر کو مد نظر رکھنا ہو گا کہ کس قوم کو کس ذریعہ سے اسلام کی طرف مائل کیا جاسکتا ہے خالی مبلغ مقرر کر دینا ہرگز کافی نہ ہو گا۔ بوجہ قلت وقت میں اس نظام کو جو میں نے سوچا ہے لکھ نہیں سکا۔ اگر میرے خیالات سے آگاہ ہونے اور ان پر غور کرنے کی ضرورت سمجھی جائے تو میں بعد میں بتا سکتا ہوں۔
انجمنوں میں اتحاد اور تقسیم کار کے سوال کے متعلق میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ امید کہ کوئی فرقہ اپنے خیالات کی اشاعت سے باز آجائے تو امید لا حاصل ہے۔ یہ خیال بھی غلط ہے کہ نو مسلموں میں اپنے خیالات نہ پھیلائے جاویں۔ آخر نو مسلم بہرے نہ ہوں گے وہ کسی قلعہ میں قید نہ ہوں گے وہ لوگوں سے ملیں گے اور اختلافات کی باتیں سنیں گے اس وقت وہ ضرور اسی مبلغ سے ہدایت پائیں گے جس نے ان کو اسلام کا راہ دکھایا ہے اور وہ کس طرح ان کو جواب دینے سے پہلو تہی کر سکتا ہے یا اپنے عقیدہ کے خلاف بتا سکتا ہے۔ بہرحال نماز روزہ کی تلقین میں اسے ضرور اپنے پسندیدہ مسائل ہی بتانے پڑیں گے اور اختلاف وہیں سے شروع ہو جائے گا۔ پس صورت اتحاد یہی ہے کہ ہر ایک جماعت اس امر کو تسلیم کرے کہ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھوانے والا ایک اچھا کام کر رہا ہے خواہ وہ اس کے ساتھ اپنے خیالات بھی منواتا ہو اور دوسری جماعتوں کو اس کے کام سے تعرض نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ کیا رسول کریم ﷺ کو گالیاں دینے والے سے وہ شخص اچھا نہیں جو خواہ خلفاء ثلاثہؓ کو نہ مانتا ہو۔ امام ابو حنیفہؒ کا ادب نہ کرتا ہو مگر رسول کریم ﷺ کو راستباز نبی مانتا ہو۔ یا گو مرزا غلام احمد صاحب علیہ السلام کو مجدد یا نبی یا مسیح موعود تسلیم کرتا ہو لیکن رسول کریم ﷺ کو آخری شارع نبی اور قرآن کریم کو آخری تشریعی وحی قرار دیتا ہو۔
تقسیم کار کا بہترین علاج یہ ہو گا کہ مختلف علاقے مختلف جماعتوں کے سپرد کئے جاویں اور وہ ایک دوسرے کے علاقے میں دخل نہ دیں اور غیر مسلموں کی تبلیغ کو اسی کے سپرد رہنے دیں جس کے سپرد وہ علاقہ ہے۔
مگر یہ سوال حل نہ ہو گا جس وقت تک تنظیم کا سوال نہ حل ہو گا۔ کیونکہ اگر کوئی قوم اس معاہدہ کو توڑ دے گی تو سب کیا کرایا کام دریا برد ہو جائے گا۔
دوسرا سوال تنظیم کا ہے۔ یہ سوال بھی نہایت اہم ہے۔ بغیر تنظیم کے کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی بلکہ زندہ نہیں رہ سکتی۔ تنظیمی پروگرام مقرر کرتے ہوئے ہمیں ان امور کو سوچنا نہایت ضروری ہوگا۔ (۱) مختلف جماعتوں کے اندرونی انتظام پر اس کا اثر نہ پڑے۔ (۲) افراد کو کانشنس کی قربانی نہ کرنی پڑے۔ (۳) ذاتی بلندی کے حصول کے خیالات اس نظام کو بودہ اور کمزور نہ کر دیں۔
دوسری بات اس امر کے لئے یہ ضروری ہو گی کہ اس نظام کی باگیں ایک فی الواقع منتخب شدہ جماعت کے ہاتھ میں ہوں۔ جو وقتاً فوقتاً دوبارہ منتخب ہوتی رہے۔ اس سے ایک طرف تو مسلمانوں کے اندر حقیقی نیابت کا طریق کار راسخ ہوتا چلا جائے گا۔ (۲) دوسرے عامہ رائے کی تربیت ہوتی چلی جائے گی۔ (۳) تیسرے عوام الناس کی دلچسپی کام سے بڑھ جائے گی۔ (۴) ایک ایسی سیاسی مشینری تیار ہو جائے گی۔ جو تحفظِ حقوق کے لئے ہر وقت استعمال کی جاسکے گی۔ (۵) ہم گورنمنٹ کو دکھا سکیں گے کہ موجودہ فرنچائز ناواجب طور پر محدود ہے۔
تیسری بات اس تنظیم کے لئے یہ ضروری ہوگی کہ اس کے مرکزی کام کو مختلف ڈیپارٹمنٹس میں اسی طرح تقسیم کیا جائے جس طرح کہ گورنمنٹ کے محکمے ہوتے ہیں۔ سیکرٹری شپ کا طریق نہ ہو بلکہ وزراء کا طریق ہو۔ ہر ایک صیغہ کا ایک انچارج ہو اور اس کام کا ذمہ دار جو ہر سال اپنے صیغہ کی رپورٹ شائع کرے۔ اور ہر صیغہ کے لئے ایک مطمح نظر مقرر کیا جائے جس کے متعلق وہ ناظر بتائے کہ اس نے اس میں سے کس قدر حصہ کو پورا کر لیا ہے اور باقی کے پورا کرنے کی وہ کب تک امید کرتا ہے۔ مثلاً ایک صیغہ تبلیغ کا ہو، ایک صیغہ تعلیم و تربیت کا ہو جس کے ذمہ یہ بات ہو کہ وہ ہر مسلمان کو تعلیم یافتہ بنانے کی کوشش کرے اور اس کی صحیح تربیت کا نگران ہو۔ اس صیغہ کے متعلق ایک نہایت ضروری سلسلہ سکولوں اور کالجوں کے طلباء کے اندر قومی روح پھونکنے کا ہو۔ ہر جگہ جہاں کوئی سکول یا کالج ہو یہ انتظام کیا جائے کہ لیکچروں، وعظوں، ٹریکٹوں اور دوسرے ذرائع سے نوجوانوں کے اندر قربانی کی روح پھونکی جائے اور خود غرضی کا مادہ دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ سیاستِ حاضرہ میرے نزدیک طلباء کے لئے مفید نہیں ہو سکتی بلکہ اس میں شُغل ان کے لئے مُضر ہوتا ہے لیکن اصولِ سیاست کے ماتحت ان میں قومی روح کا پیدا کرنا نہایت مفید اور ضروری ہے۔ میرے نزدیک مسلمانوں کی بڑی تباہی کا باعث افراد کی عدمِ تربیت اور خود غرضانہ خیالات کا غلبہ ہے۔ وہ دوسری اقوام کے مقابلہ میں اسی وجہ سے ذلیل رہتے ہیں اور ملک کے لئے بھی مفید نہیں ہو سکتے۔ میرا یہ خیال ہے کہ ہم حکومت سے صحیح تعاون کر کے جس قدر جلد حکومت پر قابض ہو سکتے ہیں عدم تعاون سے نہیں۔ گورنمنٹ برطانیہ کی طاقت انگریز افسروں کے ذریعہ سے اسقدر نہیں ہے جس قدر کہ خود غرض نفس پرست ہندوستانی افسروں کے ذریعہ سے۔ اگر ہم کالجوں اور سکولوں کے طلباء کے اندر یہ روح پیدا کر دیں کہ جو ان میں سے ملازمت کو ترجیح دیں وہ اس غرض سے ملازمت کریں کہ اپنی قوم اور اپنے ملک کو فائدہ پہنچائیں گے تو یہ لوگ چند ماہ میں ہی حکومت کو اپنی آزاد رائے اور بے دھڑک مشورہ سے مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ ہندوستانی نقطہ نگاہ کی طرف مائل ہو۔ بے شک ایسے لوگوں کی ملازمت خطرہ میں ہو گی مگر جبکہ یہ لوگ ملازم ہی اس خطرہ کو مدنظر رکھ کر ہوئے ہوں گے تو ان کے دل اس بات سے ڈریں گے نہیں۔ دوسرے کوئی گورنمنٹ ایک وقت میں ہزاروں لاکھوں ملازموں کو اس جرم میں الگ نہیں کر سکے گی کہ تم کیوں سچائی سے اصل واقعات کو پیش کرتے ہو۔ اگر پولیس کے محکمہ پر ہی ایسے حب الوطنی سے سرشار لوگ قبضہ کر لیں تو حکومت ہند میں بہت کچھ اصلاح ہو سکتی ہے۔
ایک صیغہ تجارت کا ہو جو مسلمانوں کی تجارتی کمزوری کو دور کرنے کی کوشش کرے۔ ایک صنعت و حرفت کا، ایک تحفظ حقوق ملازمت کا، ایک حفظان صحت کا، ایک امور خارجیہ کا جو غیر اقوام سے تعلقات کا نگران رہے، ایک عدالت کا جو پنچایت سسٹم کو کامیاب بنانے کی کوشش کرے، ایک احتساب کا جو اس امر کا مطالعہ کرتا رہا کرے کہ مسلمانوں میں اخلاقی و تمدنی خرابیاں تو کوئی پیدا نہیں ہو رہیں۔ اسی طرح ایک صیغہ بیت المال کا اور ایک محاسبہ کا۔ اور یہ سب صیغے ایک دوسرے سے آزاد ہوں تا آزاد طور پر ایک دوسرے کے کام کی نگرانی کر سکیں۔ ان صیغوں کے متعلق ہر بستی اور ہر گاؤں میں ایک انتظامی جال پھیلا ہوا ہو تا کہ صرف سالانہ تقریروں تک یہ کام محدود نہ رہے بلکہ حقیقی کام بھی دکھا سکے۔
اس انتظام کے ماتحت یہ ضروری ہو گا کہ فوراً ایک تحقیقاتی کمیٹی بٹھائی جائے جو اس امر پر غور کرے کہ مسلمانوں کو دوسری اقوام کے اثر سے آزاد ہونے کے لئے کون کون سی چیزوں کی ضرورت ہے۔ مثلاً یہ کہ کون کون سے صیغوں میں مسلمانوں کا حصہ ملازمت اس قدر کم ہے کہ وہ اپنے حقوق کی آزادانہ حفاظت نہیں کر سکتے۔ یا مثلاً کون کون سے پیشے ایسے ہیں کہ ان میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے۔ مثلاً جیسے انجینئرنگ ہے زنانہ طب ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح تجارت اور صنعت و حرفت کے متعلق غور کیا جائے کہ ان کے کون کون سے ضروری شعبے ہیں جو مسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں ہیں یا ان میں ان کا دخل اس قدر کم ہے کہ وہ آزاد قومی زندگی بسر نہیں کر سکتے۔ یہ سب کمیٹی غور کے بعد جن جن امور کی طرف فوری توجہ مناسب سمجھے ان کی طرف مختلف ذمہ دار محکموں کو توجہ دلائے جن کا فرض ہو کہ جلد سے جلد ان کمیوں کو پورا کریں۔ اگر ایسی کمیٹی بنائی گئی اور اس نے محنت سے کام کر کے مختلف شعبہ ہائے عمل میں مسلمانوں کا حصہ معلوم کیا تو مسلمانوں کی آنکھیں کُھل جاویں گی کہ بہ حیثیت ایک قوم کے وہ ہرگز آزاد نہیں ہیں بلکہ ان کی ہمسایہ قومیں ان کو تمدنی امور میں اس طرح دبائے ہوئے ہیں کہ یہ ایک دن بھی آزاد زندگی بسر نہیں کر سکتے۔
تیسرا سوال مسلم بنک کا ہے میں چونکہ سود کے لینے دینے کو ہر حالت میں ناجائز سمجھتا ہوں۔ اس مسئلہ پر کچھ لکھنا مفید نہیں سمجھتا ہاں اگر بلاسود کے بنک کی صورت نکل سکے جو میرے نزدیک نکل سکتی ہے تو ہماری جماعت تفصیل معلوم ہونے اور مطمئن ہونے پر ایسے بنک میں شامل ہو سکتی ہے۔
یہ بھی ایک ضروری شے ہے مگر اس امر کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ روپیہ نااہل لوگوں کے ہاتھ میں نہ رہے۔ اس کا باقاعدہ حساب ہوتا رہے اور ایسے لوگوں کے ذریعہ سے حساب چیک کروائے جاویں جو آزاد ہوں۔ اور یہ بھی ضروری ہے کہ اس نظام کو رجسٹرڈ کروا لیا جائے تاکہ کارکنوں کو عدالتی کارروائی کا بھی خوف رہے۔ بیشک جذباتی طور پر یہ امر ناپسندیدہ معلوم ہو لیکن فطرت انسانی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس قسم کی احتیاطوں کی اشد ضرورت ہے۔ اور جب تک یہ احتیاطیں نہ کی جاویں گی اور دیانت کا اعلیٰ نمونہ نہ دکھایا جائے گا کبھی کام میں برکت نہ ہو گی اور لوگوں کی طبائع میں حقیقی جوش نہ پیدا ہو گا۔ بیت المال کے قیام میں اس امر کو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہو گا کہ جن جماعتوں کے قومی بیت المال موجود ہیں ان کے نظام سے نیا نظام ٹکرائے نہیں کیونکہ کوئی قوم اپنے چلتے ہوئے کام کو اس نئے تجربہ کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار نہ ہو گی اور نہ ہی وہ اپنے مخصوص نظام کو کسی وقت بھی نظام عام کے لئے چھوڑنے پر آمادہ ہو گی۔
پانچواں امر اصلاح رسوم و بدعات و رفع تنازعات کے متعلق ہے۔ یہ ایک نہایت ہی نازک سوال ہے اور
اگر کانفرنس کسی دیر پانہ نظام کی صورت دیکھنا چاہتی ہے تو اسے اس امر میں سوچ سمجھ کر دخل دینا چاہئے۔ بہت سی رسوم اس قسم کی ہیں کہ ان کو مختلف فرقے اپنے مذہب کا جزو سمجھ رہے ہیں اور ان میں دخل دینا ان کے نزدیک مذہبی دست اندازی ہو گا۔ پس اس غرض کے حصول کے لئے کوئی عام قاعدہ بنانا شقاق و فساد کی بنیاد رکھنا ہو گا۔ اگر کانفرنس اپنے کام میں کامیاب ہونا چاہتی ہے تو اس کو چاہئے کہ اصلاحِ رسوم کا کام ہر فرقہ کے علماء اور عمائدین کے ہاتھ میں رہنے دے اور اسی وقت اور اسی حد تک دخل دے کہ کسی جماعت کے علماء اور عمائدین اس کے ساتھ متفق ہوں۔ اس کا ایک آسان طریق میں بتاتا ہوں جو یہ ہے کہ مرکزی نظام کی طرف سے ایک کمیٹی تحقیقاتی بٹھائی جائے جو ہر ضلع میں اپنے ماتحت سب کمیٹیاں مقرر کرے جو اپنے اپنے علاقہ کی قابلِ اصلاح رسوم کی فہرست بنا کر اور ساتھ یہ لکھ کر کہ یہ فلاں فلاں فرقہ یا جماعت میں پائی جاتی ہیں مرکزی کمیٹی کو اطلاع دے۔ مرکزی جماعت تمام رسوم کی ایک فرقہ وار لسٹ بناوے۔ یعنی اس طرح کہ فلاں فرقہ اور جماعت میں فلاں فلاں رسم پائی جاتی ہے جس کی اصلاح تمدنی یا اخلاقی لحاظ سے ضروری ہے اور پھر وہ لسٹ ہر فرقہ کے علماء کی کمیٹی کو دے کہ وہ اس پر اپنی رائے لکھیں کہ اس لسٹ میں کونسے امور کو وہ مذہبی اعمال سمجھتے ہیں اور ان میں کسی قسم کا دخل دینے کو ناپسند کرتے ہیں اور کونسے امور کو وہ مُضِرّ اور قابلِ اصلاح رسوم سمجھتے ہیں۔ جن امور کو وہ رسوم قرار دیں ان کے متعلق ان کی اور عمائدین فرقہ کی مدد سے اصلاح کی کوشش کی جائے۔ اور جن امور کو وہ مذہب کا حصہ یا ضروری قرار دیں ان کو اس قوم کی اصلاح کے وقتی پروگرام سے نکال دیا جائے۔ گو مرکزی جماعت کا یہ حق ہو گا کہ وہ تبادلہ خیالات کے ذریعہ سے کسی فرقہ کے علماء کو اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کرے اور ان پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے کہ وہ امور رسوم ہیں، مذہب کا حصہ نہیں ہیں۔ مگر یہ افہام و تفہیم ایسے رنگ میں ہونی چاہئے کہ بحث اور مباحثہ کا رنگ اختیار نہ کرے۔
اس اصلاحی کام کو کامیاب بنانے کے لئے اور دوسرے نظام کو مکمل کرنے کے لئے یہ ضروری ہو گا کہ ہر فرقہ کے لوگوں سے یہ درخواست کی جائے کہ وہ اپنے علماء کی ایک کمیٹی تجویز کریں جس سے تمام ایسے امور میں اس فرقہ کے متعلق مرکزی نظام مشورہ لے سکے جن کا اثر مذہب پر پڑتا ہے اور جن کی مدد سے وہ اس فرقہ کے نقطۂ خیال کو سمجھنے میں کامیاب ہو سکے۔ ایسی کمیٹیاں اگر ان سے صحیح طور پر کام لیا جائے نہایت ہی مفید ہوں گی۔
تصفیہ تنازعات اور پنچایتوں کا قیام بھی ایک نہایت ہی نازک سوال ہے۔ اور اس میں سب سے بڑی شکل اختلافِ مَابَیْنَ الْجَمَاعَاتِ کی ہے۔ بعض فرقے دوسرے فرقوں کے اسقدر مقہور ہیں کہ ان کو ان سے انصاف کی ہرگز کوئی امید نہیں ہو سکتی جن کی جانیں محفوظ نہ ہوں ان کے مال اور عزتیں کہاں محفوظ ہو سکتی ہیں۔ پس پنچایتوں کا عام قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ (۱) ہر فرقہ کے لوگ آپس کے جھگڑوں کو لازماً آپس میں طے کریں۔ عدالتوں میں ان کو نہ لے جاویں۔ سوائے فوجداری مقدمات کے جن میں سے ایسے مقدمات جن کا عدالتوں میں لے جانا قانونی طور پر ضروری ہے اس قاعدہ سے مستثنیٰ سمجھے جاویں۔ (۲) دو مختلف جماعتوں کے جھگڑے کی صورت میں یہ فیصلہ کیا جاوے کہ جو جماعتیں کہ عام نظام میں شامل ہونا چاہتی ہیں وہ اس میں شامل ہو جاویں۔ جن کو ابھی اپنی ہمسایہ قوم پر اعتبار نہ ہو ان کو مہلت دی جائے کہ وہ اس نظام کی خوبی کا تجربہ کر لیں۔ پھر جو جو قوم مطمئن ہوتی جاوے وہ عام نظام پنچایت میں شامل ہوتی جائے۔
ہاں یہ ضروری ہو گا کہ تجارتی اور صنعتی جھگڑوں کو عام پنچایتوں سے الگ رکھا جائے کیونکہ ان کی باریکیوں کو عام لوگ نہیں سمجھ سکتے۔ پس عام پنچایتوں کے ساتھ ساتھ ایک تجارتی وصنعتی پنچایتوں کا سلسلہ بھی ہونا چاہئے۔
یہ سوال بھی گو توجہ طلب ہے مگر پیچیدہ ضرور ہے۔ میرے نزدیک اس سوال کو ان دنوں خواہ مخواہ ایک قومی رنگ دے دیا گیا ہے۔ میرے نزدیک یہ ضروری ہے کہ مساجد کی حفاظت ہو مگر مساجد کی حفاظت اس طرح نہیں ہو سکتی کہ ہم ان کی چھتوں کا خیال رکھیں اور وہاں لوٹے مہیا کریں بلکہ مساجد کی حفاظت نماز کی طرف توجہ پیدا کرانے سے ہو سکتی ہے۔ جس مسجد کے نمازی موجود ہیں وہ آباد ہے اور اس کی حفاظت کے لئے کسی بیرونی جدوجہد کی ضرورت نہیں۔ پس تحفظ مساجد کا اصل حل مسلمانوں میں مذہبی روح کا پیدا کرنا ہے اور بڑوں اور چھوٹوں کو مجبور کرنا ہے کہ وہ نمازوں میں شامل ہوں۔
بے شک جو مساجد شکستہ ہیں اور جن کا انتظام خراب ہے اُن کا انتظام کرنا چاہئے مگر کثیر التعداد جماعتوں کو ایک منٹ کے لئے بھی قلیل التعداد جماعتوں کی مساجد میں دخل اندازی کا خیال نہیں کرنا چاہئے ورنہ مسجدیں آباد نہ ہوں گی ویران ہوں گی۔ اسلام کی طاقت بڑھے گی نہیں کمزور
اوقاف کے متعلق بھی یہی خیال رہنا چاہئے اور یہی قاعدہ ہونا چاہئے کہ جس غرض کے لئے کوئی وقف ہے اور جس قوم کا وقف ہے۔ اس کا انتظام اسی کے ذریعہ سے ہو نہ کہ دوسری قومیں بلا وجہ اس میں دخل دینے کی کوشش کریں۔
قیام مکاتب نہایت ضروری ہے۔ بغیر تعلیم کے نظام قائم نہیں رہ سکتا۔ اور میرے نزدیک تو اگر روپیہ مہیا ہو سکے تو ابتدائی تعلیم ہر مسلمان کے لئے ممکن الحصول بنا دینی چاہئے بلکہ ہر مسلمان کو مجبور کرنا چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو خواہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں تعلیم دلوائے۔
ساتواں امر ایجنڈے میں ہندو مسلم مناقشات و تعلقات کا ہے۔ اور در حقیقت میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس کانفرنس کی ضرورت ہی اس سوال کے سبب سے پیدا ہوئی ہے۔ اگر ہندوؤں اور مسلمانوں کے تعلقات درست ہوتے تو اس رنگ میں تنظیم اور سنگھٹن کا خیال بھی شاید پیدا نہ ہوتا۔
میری رائے میں ملک کی سخت بد قسمتی ہوگی اگر ہم اس سوال کو حل نہ کر سکیں اگر مسلمان اور ہندو آپس میں محبت سے نہیں رہ سکتے تو وہ ہرگز سیلف گورنمنٹ کے مستحق نہیں۔ اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جن کا یہ خیال ہے کہ ہندوستان آج بھی پوری طرح سیلف گورنمنٹ کے حصول کے قابل ہے بشرطیکہ قومی مناقشات دور ہو جائیں۔ اور سو سال تک بھی سیلف گورنمنٹ کے قابل نہ ہو گا اگر قومی مناقشات دور نہ ہوں خواہ انفرادی طور پر ہندوستان کے باشندے یورپ کے لوگوں سے کتنے ہی زیادہ تعلیم یافتہ اور مہذب کیوں نہ ہو جائیں۔ میرے نزدیک ہمیں اپنی قومی زندگی کے تحفظ کے سامان کرنے کے لئے ہر طرح ہندو مسلم اتحاد کے لئے کوشش کرنی چاہئے اور ایثار اور قربانی سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہئے بشرطیکہ وہ قربانی ہماری قومی زندگی کو کمزور کرنے والی نہ ہو۔
جہاں تک میں سمجھتا ہوں تمام اختلاف کی بنیاد دو امر ہیں۔ (۱) اختلاف کے باوجود اتحاد کرنے کی حقیقت نہ سمجھنا اور جو طبعی اختلافات ہیں ان کو بالجبر مٹانے کی کوشش کرنا۔ (۲) اس امر سے آنکھیں بند رکھنا کہ ہندو مسلمانوں میں حقیقتاً سیاسی اختلاف بھی موجود ہے اور اس اختلاف کی موجودگی میں اتحاد کی صورت صرف یہ ہو سکتی ہے کہ ایسے قواعد بن جاویں جن پر چل کر ہر اک قوم دوسرے کے حملہ سے محفوظ ہو جائے کیونکہ جب تک اطمینان نہ ہو جائے اس وقت تک امن نہیں ہو سکتا۔ پہلے امر کی حقیقت کو نہ سمجھنے کے سبب سے گائے کی قربانی مساجد اور منادر کے احترام کا سوال پیدا ہوتا رہتا ہے۔ ہندو یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان ان کے عقائد کے مطابق عمل کریں اور مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ ہندو ان کے معتقدات کا لحاظ رکھیں۔ حالانکہ اگر دونوں فریق ایک دوسرے کے معتقدات سے متفق ہوتے تو یہ اختلاف ہوتا ہی کیوں۔ ایک ہندو گائے کا جس قدر بھی ادب کرے اس کا کوئی حق نہیں کہ وہ ایک مسلمان سے یہ مطالبہ کرے کہ وہ گائے کو ذبح نہ کرے۔ جس طرح ایک مسلمان کا یہ حق نہیں کہ وہ ایک ہندو کو سود لینے سے باز رکھنے کی کوشش کرے۔ اسی طرح ایک مسلمان کا کوئی حق نہیں کہ وہ ایک ہندو سے یہ درخواست کرے کہ وہ مسجد کے پاس سے گزرتے ہوئے باجہ نہ بجائے۔ نہ ایک ہندو کا حق ہے کہ وہ مسلمانوں کی کسی مذہبی رسم کو مندر کے قرب میں بجالانے میں روک ڈالے۔ اختلاف وسعت حوصلہ سے مٹتا ہے اور وسعت حوصلہ اس کا نام ہے کہ اگر کوئی شخص ہمارے مخالف عقیدہ رکھتا ہے تو ہم اِس کو اس کے عقیدہ کے مطابق کام کرنے دیں۔ خود اپنے عقیدہ کے مطابق کریں۔ قُلۡ یٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰی مَکَانَتِکُمۡ اِنِّیۡ عَامِلٌ(39:40)۱؎ اور لَکُمۡ دِیۡنُکُمۡ وَلِیَ دِیۡنِ(109:7)۲؎ ہم سمجھانے کا حق رکھتے ہیں لیکن لڑنے جھگڑنے کا نہیں۔
پس چاہئے کہ ہندو مسلمان اس امر کو خوب اچھی طرح سمجھ لیں کہ ایک دوسرے کے عقیدے میں اور مذہبی امور میں دخل نہ دیں۔ ہندو گائے کے مسئلہ میں مسلمانوں کو آزاد چھوڑ دیں۔ مسلمان ہندوؤں کو شرک کے مسئلہ میں اور سکھوں کو جھٹکہ اور مسیحیوں کو سور کے مسئلہ میں کچھ نہ کہیں۔ مسلمان مساجد میں نماز پڑھیں اور اس کے باہر جو کچھ چاہے کوئی کرے اس میں دخل نہ دیں اور ہندو مندر میں جو چاہے کریں مگر گلیوں میں مسلمانوں سے نہ اُلجھیں۔ پبلک سڑکوں اور پبلک جگہوں کو خواہ مخواہ کی مذہبی نمائشوں سے بچایا جائے۔
اس سوال کا دوسرا حصہ ہندومسلم تعلقات کے متعلق ہے۔ اور یہ تعلقات اس دوسرے نقص کے سبب سے جسے میں اوپر بیان کر آیا ہوں خراب ہو رہے ہیں۔ یعنی یہ کہ اس امر کو محسوس نہیں کیا جاتا کہ ایک لمبے عرصہ کے بغض و عناد کے سبب سے ہندو مسلم تعلقات خراب ہو رہے ہیں اور یہ کہ تعلقات کی خرابی کا باعث وہ کروڑوں ہندو اور مسلمان ہیں جو روزانہ آپس میں مل رہے ہیں نہ کہ بعض لیڈر۔ لیڈر بعض دفعہ اشتعال کا موجب ہو جاتے ہیں مگر آتشی مادہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے قلوب میں موجود ہے۔ پس لیڈروں کی صلح سے ہرگز امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ہندوستان نہ گاندھیوں، دیش بندھوؤں، نہروؤں اور نہ برجیوں سے آباد ہے نہ علی برادرز اور ابوالکلاموں سے۔ پس نہ ان لوگوں کے سمجھوتے کا اثر عوام پر پڑ سکتا ہے نہ ان کے قلوب کا انعکاس لوگوں کے قلوب پر اور اگر ہر قصبہ اور ہر گاؤں میں لاکھوں کروڑوں ہندو مسلمانوں کے حقوق تلف کرتے ہوئے اور مسلمان ہندوؤں کے حقوق تلف کرتے ہوئے نظر آئیں گے تو امن کو کون قائم رکھ سکے گا۔ پس امن تب ہو سکتا ہے جبکہ اس حالتِ نفاق کو تسلیم کرایا جائے اور بجائے آنکھیں بند کر کے صلح کا اعلان کرنے کے جو چند ماہ سے زیادہ نہ ٹھہرے گا اور وہ بھی ظاہر میں کیونکہ عملاً ایک دوسرے کی گردن برابر کاٹی جاتی رہے گی۔ چاہئے کہ عارضی طور پر ایسے قوانین بنائے جاویں جن سے قلیل التعداد جماعتوں کے حقوق محفوظ ہو جاویں۔ اور ہندو صاحبان اس امر کو تسلیم کر لیں کہ مسلمانوں اور دیگر قلیل التعداد جماعتوں کو ان کی آبادی کے تناسب کے مطابق نیابتی حقوق بھی ملیں اور سرکاری خدمات کا حصہ بھی۔ اور نہ صرف اس معاہدہ پر عمل ہو بلکہ اس کو کانسٹی ٹیوشن میں داخل کیا جائے تا کثیر التعداد جماعت اپنی کثرت رائے سے اس کو کسی وقت بھی قلیل التعداد جماعتوں کی مرضی کے خلاف بدل نہ سکے۔
اسی طرح چونکہ ہندو لوگ مسلمانوں سے خورد و نوش کے سامان نہیں خریدتے اور ہر سال کم سے کم بیس کروڑ روپیہ ہندوؤں کی جیبوں میں مسلمانوں کی طرف سے ایسا جاتا ہے جس کا واپس آنا ناممکن ہوتا ہے۔ مسلمانوں کو اپنی تمدنی ضروریات کے لئے اور اپنی قومی زندگی کی حفاظت سے اس وقت تک کہ ہندو مسلمانوں کا یہ مقاطعہ چھوڑ دیں ہندوؤں سے خورد و نوش کی چیزیں ہرگز نہیں خریدنی چاہئیں اور چھوت کے اس پہلو کو نہایت مضبوطی سے پکڑ لینا چاہئے اور ہندوؤں کو ان سے ناراض نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس طریق کے بغیر مسلمانوں کی مالی حالت کبھی درست نہیں ہو سکتی اور وہ کبھی تمدنی غلامی سے آزاد نہیں ہو سکتے۔
آٹھواں سوال سیاست ہند کے متعلق مسلمانوں کا رویہ ہے۔ اس کے متعلق مجھے یہ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ کوئی عقلمند ایک منٹ کے لئے بھی خیال کرے گا
کہ مسلمانوں کو سیلف گورنمنٹ کے حصول کے لئے کوشش کرنی چاہئے یا نہیں۔ آزادی ہر انسان کا حق ہے اور مسلمان اس حق کو نظر انداز نہیں کر سکتے مگر سوال صرف طریق عمل کا ہے۔ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ میرے نزدیک تعاون زیادہ کار آمد حربہ ہے اور میں ان لوگوں سے جو اس حربہ کو استعمال کئے بغیر عدم تعاون پر عامل ہو گئے ہیں درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایک دفعہ تعاون کا حربہ بھی چلا کر دیکھیں۔ بے شک اس حربہ کا چلانا بہت بڑی جرأت اور رات دن کی محنت چاہتا ہے مگر ملک کی بہتری ایسا کام نہیں جس کے لئے ذاتی آرام کی قربانی نہ کی جاسکے۔ میں ہرگز تسلیم نہیں کر سکتا کہ تعاون کا تجربہ کر لیا گیا ہے۔ تعاون کا نہیں، خوشامد کا، لالچ کا، حرص کا، طمع کا بلکہ جھوٹ اور فریب کا تجربہ اس وقت تک کیا گیا ہے۔ ملک کے فوائد کو مد نظر رکھ کر تعاون کا تجربہ بحیثیت قوم اب تک کُل ہندوستان نے تو الگ رہا کسی ایک قوم نے بھی نہیں کیا۔
پس اس امر کو بلا تجربہ کئے چھوڑ دینا اور ملک کو فتنہ و فساد کی ندی میں دھکیل دینا کہ حوادث زمانہ کی تھپیڑیں کھاتا پھرے کسی طرح درست نہیں ہو سکتا۔ اور کم سے کم میں یہ کہوں گا کہ اگر ایک فریق عدم تعاون کا قائل ہو تو اسے نہیں چاہئے کہ تعاون کے خیال والوں کی ذاتی مخالفت کرے یا ان کی نیت پر الزام لگائے۔
افسوس! مسلمانوں نے اپنے پچھلے غلط رویہ سے کتنا نقصان اٹھایا ہے جبکہ ہندوؤں کے تعاونی لیڈر پنڈت مالویہ صاحب پبلک اور کانگریس میں ویسے ہی معزز رہے جیسا کہ وہ پہلے تھے سر سپرو اور شاستری اسی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے رہے جس سے پہلے دیکھے جاتے تھے۔ مسلمانوں کے لیڈر مسٹر جناح اور فضل الحق، سر شفیع اور اسی قسم کے دوسرے لوگ جو یا عدم تعاون کے قائل نہ تھے یا اس کے اندھادھند مقلدوں میں سے نہ تھے ان کی آواز اس طرح دبا دی گئی کہ گویا انہوں نے ملک کی کوئی خدمت کی ہی نہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہندو تعاون اور عدم تعاون دونوں کے فوائد سے مالا مال ہو گئے اور مسلمانوں دونوں طرف سے گھاٹے میں رہے۔
پچھلے سال کے سفر یورپ میں جن یورپین اہل الرائے سے ملا ہوں میں نے دیکھا ہے سوائے ایک دو کے سب کے سب باوجود اختلاف کے ہندو لیڈروں کے مداح تھے اور سوائے ایک دو کے سب کے سب مسلمان لیڈروں کو حقیر اور بیوقوف سمجھتے تھے۔ اس کا باعث یہی ہے کہ مسلمان ایک وقت میں اپنے لیڈروں کو سر پر چڑھاتے ہیں دوسرے وقت میں ان کو اختلاف پر قعرِ مذلت میں گرا دیتے ہیں۔ حالانکہ اعزاز اور اکرام اور شئے ہے اتباع اور۔ وہ ان کی اتباع نہ کریں مگر اختلاف رائے سے جو دیانتداری پر مبنی ہو ان کی پچھلی خدمات پر پانی کیونکر پھر جاتا ہے۔
دوسرا نقص یہ ہے کہ ہم لوگ اس امر کو نہیں جانتے کہ سودا کیا شئے ہے۔ تمام سیاست سودے پر چل رہی ہے اور جب تک یہ سودا ہم نہ سیکھیں گے اس وقت تک نہ گورنمنٹ کے ساتھ معاملہ میں کامیاب ہوں گے نہ دوسری اقوام سے۔ ہمیں کبھی یہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے کہ جو کچھ کہتے ہیں بس اس سے ایک قدم نہیں ہٹیں گے۔ بے شک ہم حُسنِ تدبیر سے یہ کوشش کریں کہ دلیل سے، حکمت سے دوسرے کو اپنے مطلب کی طرف کھینچ لاویں بلکہ اپنے مطالبہ سے بھی زیادہ حق لے لیں لیکن عدمِ تسامح کی کارروائی پر ہمیں کبھی عمل نہیں کرنا چاہئے۔ ہمیں دنیا کے سامنے کبھی اپنے مطالبات اس صورت میں نہیں رکھنے چاہئیں کہ ان کو مانتے ہو تو مانو ورنہ لو ہم جاتے ہیں بلکہ ہمیشہ اس پر آمادہ رہنا چاہئے اور اس آمادگی کو ظاہر کرنا چاہئے کہ دوسرے کی مشکلات اور اس کے راستہ کی روکوں کو بھی ہم غور سے سنیں گے اور ان کا لحاظ کریں گے۔
میرے نزدیک مسلمانوں کی سیاسی طاقت کے مضبوط کرنے اور گورنمنٹ میں ان کی آواز کو وزن دار بنانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان کے مطالبات کو اس طرح پیش کیا جایا کرے کہ وہ صرف معقول ہی نہ ہو بلکہ دوسروں کو بھی معقول نظر آویں۔ میں مثال کے طور پر ایک امر کو لیتا ہوں اور وہ علیحدہ حقِ نیابت ہے۔ یورپ کے لوگ علیحدہ حقِ نیابت کو ملک کے حق میں سخت مضر خیال کرتے ہیں اور یہ بات بھی درست ہے۔ مگر مسلمانوں کی کمزوری ہندوؤں کا کُل شعبوں پر قبضہ اور مسلمانوں کی ترقی کے راستے بند کر دینا یہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ جب تک اس حالت کی اصلاح نہ ہو جائے جُداگانہ حقِ نیابت کا مطالبہ کریں بلکہ ملازمتوں میں بھی اپنا نسبتی حق مانگیں۔ اب یورپ کے نزدیک جُداگانہ حقِ نیابتی گو خود کشی ہے لیکن ملازمتوں میں حقِ نسبتی کا مطالبہ پورا اور کھلا ہوا جنون ہے۔ اتفاق ایسا ہے کہ ہندوؤں کا بوجہ کثیر التعداد ہونے کے اس اصل کے رائج کرنے میں فائدہ ہے۔ پس وہ اپنے فائدہ کی غرض سے اس کی تائید کرتے ہیں اور اہلِ یورپ سمجھتے ہیں کہ وہ دانا ہیں اور مسلمان پاگل اور ملک کے دشمن۔ مجھ سے لندن کے سب سے بڑے روزانہ اخباروں کے ایڈیٹروں میں سے ایک نے جو مسلمانوں کی تائید میں تھا حیرت سے ذکر کیا کہ یہ پاگلانہ مطالبہ مسلمان کس طرح کرتے ہیں۔ لارڈ منٹو کے وعدے کی وجہ سے وہ جداگانہ حقِ نیابتی کو اڑا نہیں سکتے مگر دل میں سب سمجھتے ہیں کہ یہ ناجائز ہے اور اب جو ملازمتوں کا سوال اٹھا ہے اس کے بارہ میں تو وہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کا ظلم اور دیوانگی ہے۔ پس ضروری ہے کہ مسلمانوں کے مطالبات کو ایسی زبان میں اور واقعات کی روشنی میں گورنمنٹ اور اہلِ انگلستان کے سامنے رکھا جائے کہ وہ سمجھ سکیں کہ ہمارے مطالبات گو اصولاً درست نہ ہوں مگر وقتی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اشد ضروری ہیں اور ان کو اس وقت تک نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ حالات تبدیل نہ ہو جاویں۔ غرض چونکہ انڈین گورنمنٹ ہمارے سامنے جوابدہ نہیں مگر انگلستان میں جوابدہ ہے اس لئے گورنمنٹ کے سامنے اپنی ضروریات کو مدلّل پیش کرنے کے علاوہ ہمارا فرض ہے کہ ہم انگلستان کی عام رائے میں بھی تبدیلی پیدا کریں۔ غیر تو غیر میں نے دیکھا ہے انگلستان میں جو مسلمان طلباء پڑھتے ہیں وہ بھی اپنے ملک سے دُور ہونے کے سبب سے اور ہندوستان کے واقعات سے ناواقفیت کے سبب سے جداگانہ نیابت اور حقوقِ ملازمت کے مطالبات کو لغو اور ملک کے حق میں مُضِرّ خیال کرتے ہیں۔ جب ہمارے اپنے بچوں کا یہ حال ہے تو ہم دوسروں سے کیا امید رکھ سکتے ہیں۔
آخری مسئلہ تعلیم و تجارت و صنعت و حرفت کی ترقی کا مسئلہ ہے تعلیم کے متعلق تو میں صرف اسقدر کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں تعلیم میں اس امر کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ بچوں میں قومی روح پھونکی جائے۔ موجودہ حالت یہ ہے کہ مسلمان نوجوانوں کے سامنے کوئی خوش کن ماضی نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے شاندار مستقبل کی امید ان کے دلوں میں پیدا ہو سکے ہمارے سب بادشاہوں، سب بزرگوں کی ایسی بھیانک شکل ہمارے سامنے پیش کی گئی ہے کہ تعصباً اگر ہم ان کو اچھا کہیں تو اور بات ہے ورنہ دل ان کے اندر کوئی خوبی نہیں دیکھتے۔ مجھے تعجب آتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ ادبی رسالوں میں خود مسلمان مصنّف مسلمان بادشاہوں کی نیتوں پر حملہ کرتے ہیں۔ حالانکہ نیت سے کون واقف ہو سکتا ہے نیت پر حملہ ہمیشہ دشمن کرتا ہے۔ کیونکہ وہ ایک ظاہری جائز بات کو بڑی کر کے دکھا نہیں سکتا جب تک نیت پر حملہ نہ کرے اور جب ایک تعلیم یافتہ مسلمان یہی فعل کرتا ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ اس کی قومی حسّ مر گئی ہے اور وہ اچھے اور برے اخلاق میں تمیز نہیں کر سکتا اور یہ نتیجہ اس غلط تعلیم کا ہے جو اس کو دی گئی ہے۔ پس تعلیم کا یہ پہلو خاص توجہ کا مستحق ہے۔
ہمیں مسلمان بادشاہوں کی وہ خوبیاں جو چھپائی جاتی ہیں ظاہر کرنی چاہئیں۔ اور ان کی وہ غلطیاں جو ان کے زمانہ کے تمدن کا نتیجہ تھیں ان کے متعلق ثابت کرنا چاہئے کہ وہ طبعی غلطیاں تھیں اخلاقی نہ تھیں۔ ہاں جو فی الواقع برے آدمی ہوں ان کی برائی کا بھی اقرار کیا جائے۔ اور کونسی قوم ہے جس میں اچھے اور برے لوگ نہ پائے جاتے ہوں۔ اسلام کے دشمنوں نے باقاعدہ اشاعت کا کام اسلامی بادشاہوں کے خلاف شروع کیا ہوا ہے اور اس کا ازالہ ضروری ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ اگر یہ واقعہ نہیں ہے تو کیا وجہ ہے کہ جس قدر مسلمانوں کو دیندار کہا جاتا ہے ان کو ظالم بتایا جاتا ہے۔ اور جسقدر بادشاہوں یا دوسرے بڑے لوگوں کو عادل یا عاقل ثابت کیا جاتا ہے ساتھ ہی ان کی اسلام سے بیزاری بھی ثابت کی جاتی ہے۔ کیا اس امر کو دیکھتے ہوئے بھی کوئی عقلمند کہہ سکتا ہے کہ واقعات سے بحث کیا جاتی ہے نئے خیالات پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔
اسی طرح یہ ضروری ہے کہ دینی تعلیم کی طرف خاص طور پر توجہ کی جائے بغیر دینی تعلیم کے مسلمان مسلمان نہیں بن سکتے۔ اور جس کو اسلام سے محبت ہے وہ اس اعلیٰ سے اعلیٰ دنیوی تعلیم کو دیکھ کر بھی خوش نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے ساتھ دینی تعلیم نہیں۔
تعلیمی پہلو کو مکمل کرنے کے لئے اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ ایسی تاریخی کُتب لکھی جاویں اور طالب علموں کو پڑھائی جاویں جو اسلامی تمدن پر روشنی ڈالتی ہوں۔ اس وقت تک جو کُتب لکھی جاتی ہیں وہ علاوہ ناقص ہونے کے چند آدمیوں کے حالات پر مشتمل ہوتی ہیں ان سے مسلمانوں کے تمدن کا بہ حیثیت قوم کچھ پتہ نہیں لگتا اور کسی ایک یا چند آدمیوں کے اچھے یا برے یا عالم یا جاہل ہونے سے اس قوم کی حالت کا صحیح اندازہ کامل تو الگ رہا ناقص طور پر بھی نہیں کیا جا سکتا۔
تعلیم کی تکمیل کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ عورتوں کی تعلیم کی طرف خاص طور پر زور دیا جائے عورتوں کی اعلیٰ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی مگر چونکہ عورتوں کے بیشتر حصہ نے ملازمتیں نہیں کرنی ان کی تعلیم میں زیادہ زور دینی تعلیم پر ہونا چاہئے تا وہ اپنے بچوں کو پکے مسلمان بنا کر اپنی قوم کے سامنے پیش کریں۔ اور امور خانہ داری کی تعلیم ہونی چاہئے تا وہ اچھی ساتھی بن سکیں اور صنعت و حرفت کی تعلیم ہونی چاہئے تا وہ
عِنْدَالضَّرُوْرَتِ اپنے گھروں میں بیٹھ کر بھی اپنی معیشت کا سامان پیدا کر سکیں اور عِنْدَالْفَرَاغَتْ غرباء کی مدد کر سکیں۔ اور نرسنگ کی تعلیم ہونی چاہئے تاکہ وہ بوقت ضرورت اپنے ملک اور اپنے خاندان کی خدمت کر سکیں۔ ہاں ان کے ساتھ زبانوں اور حساب وغیرہ کی بھی تعلیم ہو۔ کیونکہ یہ علوم تمدن کے قیام اور عقل کی تیزی کے لئے ضروری ہیں۔
مگر میرے نزدیک سب سے ضروری چیز اس وقت ہمارے لئے یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو یورپ کے تمدن سے آزاد کرائیں۔ تمدنی غلامی سیاسی غلامی سے بہت بڑھ کر ہے۔ سیاسی غلامی میں انسان کا دل آزاد ہوتا ہے لیکن تمدنی غلامی میں اس کا دل بھی غلام ہو جاتا ہے جو بہت زیادہ خطرناک بات ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ مسلمان اپنے ظاہر اور اپنے باطن میں مغربی تمدن کے دلدادہ ہوتے چلے جاتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں جن کا خیال رکھنے میں کوئی بھی قربانی نہیں کرنی پڑتی اسلامی شعار اور آبائی تمدن چھوڑ کر مغربی تمدن اور مغربی عادات اختیار کرتے جا رہے ہیں اور جو قوم ارتقاء کے طور پر نہیں بلکہ نقل کے طور پر دوسری قوم کی عادات کو اختیار کرتی ہے وہ خواہ سیاستاً آزاد بھی ہو جائے حقیقی غلامی سے کبھی آزاد نہیں ہوتی اور اعلیٰ مدارج ترقی پر کبھی بھی نہیں پہنچتی۔
تجارت کے متعلق میں یہ مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ اس امر سے مسلمانوں نے سب دوسرے امور کی نسبت زیادہ تغافل برتا ہے۔ تجارت بالکل مسلمانوں کے قبضہ میں نہیں ہے اس کا ہر ایک شعبہ ہندوؤں کے قبضہ میں ہے اور اس کی وجہ سے مسلمان اقتصادی طور پر ہندوؤں کے غلام ہیں۔ اور ان کی گردنیں ایسی بری طرح ان کی پھندے میں ہیں کہ وہ بغیر ایک جان توڑ جدوجہد کے اس سے آزاد نہیں ہو سکتے۔ آڑھت، صرافی، تجارت در آمد و برآمد، ایجنسی، انشورنس، بنکنگ، ہر ایک شعبہ جو تجارت کے علم سے تعلق رکھتا ہے اس میں وہ نہ صرف پیچھے ہیں بلکہ اس کے مبادی سے بھی واقف نہیں اور اس کے دروازے تک بھی نہیں پہنچے۔ صرف چند چیزیں خرید کر دکان میں بیٹھ جانے کا نام وہ تجارت سمجھتے ہیں اور ان چیزوں کے بیچنے اور خریدنے کا بھی ڈھنگ ان کو نہیں آتا۔ وہ اس کوچہ سے نابلد ہونے کے سبب اس دیانتِ تجارت اور خُلقِ تاجرانہ سے جس کے بغیر تجارت باوجود علم کے بھی نہیں چل سکتی ناواقف ہیں۔ پس ضروری ہے کہ ایک کمیشن کے ذریعہ تجارت کی تمام اقسام کی ایک لسٹ بنائی جائے اور پھر دیکھا جائے کہ کس کس قسم کی تجارت میں مسلمان کمزور
ہیں۔ اور کس کس قسم کی تجارت سے مسلمان بالکل غافل ہیں اور پھر ان نقائص کا ازالہ شریعت کے احکام کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ایک مسلم چیمبر آف کامرس بنائی جائے تاکہ مسلمان تاجروں میں اپنی قومی کمزوری کا احساس ہو۔ اور وہ ایک دوسرے سے تعاون کا معاملہ کرنے کے عادی ہوں۔ اسی چیمبر سے نظام مرکزی بھی نہایت قیمتی مدد اپنے اغراض کے پورا کرنے میں لے سکتا ہے۔
صنعت و حرفت کا میدان میرے نزدیک تجارت سے بھی اہم ہے کیونکہ (۱) اس میں نفع کا زیادہ موقع ہے۔ اور (۲) اس میں دوسرے ملکوں کی دولت کھینچی جاسکتی ہے۔ اور (۳) ملک کے لاکھوں آدمیوں کے گزارہ کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ (۴) تجارت کا دارومدار اس پر ہے۔ جو قوم اس پر اچھی طرح قابو پالے وہ تجارت کو اپنے ہاتھ میں آسانی سے لے سکتی ہے۔ اس کے ذریعہ سے ملک اقتصادی اور سیاسی غلامی سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ مسلمانوں کے لئے اس میدان میں بہت موقع ہے۔ اول تو اس وجہ سے کہ جو ملکی قدیم صنعت و حرفت ہے اس کا بیشتر حصہ مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے۔ گو وہ آج کل مُردہ ہے لیکن اگر اس کو اُبھارا جائے تو مسلمانوں کے پاس ایک بیج موجود ہے۔ دوسرے اس وجہ سے وسیع پیمانے پر صنعت و حرفت کا تجربہ ابھی ہمارے ملک میں شروع نہیں ہوا۔ یہ صیغہ ابھی ابتدائی تجارت کی حالت میں ہے اور بہت ہی قریب زمانہ سے لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔ پس مسلمانوں کے لئے اس میدان کا دروازہ بند نہیں اور وہ آسانی سے اپنا حصہ بلکہ اپنے حصہ سے بڑھ کر اس شعبہ عمل میں حاصل کر سکتے ہیں۔ پس میرے نزدیک اس امر کی طرف فوری توجہ ہونی چاہئے۔ اور اس کا بہترین طریق یہی ہے کہ (۱) ایک بورڈ آف انڈسٹریز مقرر کیا جائے جس کا کام یہ ہو کہ وہ ان صنعتوں کی ایک فہرست بنائے جو اس وقت مسلمانوں میں رائج ہو رہی ہیں اور ان کی جو آسانی سے رائج ہو سکتی ہیں اور انکی جن کی ملک کی اقتصادی آزادی کے لئے ضرورت ہے۔ جو رائج ہیں ان کو تو ایک نظام میں لا کر ترقی دینے کی کوشش کی جائے۔ اور جو ملک میں رائج ہیں مگر مسلمان ان سے غافل ہیں ان کی طرف مسلمان سرمایہ داروں کو توجہ دلا کر ان کو جاری کروایا جائے۔ اور جو ملک میں رائج ہی نہیں مگر ان کی ضرورت ہے ان کے لئے تجربہ کار آدمیوں کا ایک وفد بیرونی ممالک میں بھیجا جائے جو ان کے متعلق تمام ضروری معلومات بہم پہنچائے۔ اور جن جن صنعتوں کا اجراء وہ ممکن قرار دے ان کے لئے ہوشیار طالب علموں کو وظیفہ دے کر بیرونی ممالک میں تعلیم دلوائی جائے اور ان کی واپسی پر مسلم سرمایہ داران کے ذریعہ سے ان صنعتوں کے کارخانے جاری کئے جاویں۔
میں جس قدر کہ ایک مختصر پمفلٹ میں لکھا جاسکتا ہے لکھ چکا ہوں۔ تفاصیل پر بحث اس وقت کر سکتا ہوں جبکہ ان کی ضرورت محسوس ہو۔ اور اس لئے پھر ایک دفعہ اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اپنے مضمون کو ختم کرتا ہوں کہ سب محنت رائیگاں اور سب تدابیر عبث جائیں گی اگر اس امر کو اچھی طرح نہ سمجھ لیا گیا کہ ہم باوجود ایک دوسرے کو کافر کہنے کے اغیار کی نظروں میں مسلمان ہیں اور ایک کا نقصان دوسرے کا نقصان ہے۔ پس سیاسی میدان میں ہمیں مذہبی فتوؤں کو نظر انداز کر دینا چاہئے کیونکہ وہ ان کے دائرہ عمل سے خارج ہیں۔ اسلام ہرگز یہ نہیں کہتا کہ تم اپنی سیاسی ضروریات کے لئے ان لوگوں سے مل کر کام نہیں کر سکتے جن کو تم مسلمان نہیں سمجھتے۔ اگر رسول کریمﷺ مشرکوں کے مقابلہ میں یہود سے سمجھوتہ کر سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان کہلانے والے فرقے اسلام کی سیاسی برتری بلکہ یہ کہو کہ سیاسی حفاظت کے لئے اس میں مل کر کام نہ کر سکیں۔ اگر ہم ایسے موقع پر اتحاد نہ کر سکیں گے تو یقیناً اس سے یہ ثابت ہو گا کہ ہمارا اختلاف اسلام کے لئے نہیں بلکہ اپنی ذات کے لئے ہے اپنے نفسوں کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس بدبختی سے محفوظ رکھے۔ آمین وَآخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
خاکسار میرزا محمود احمد (امام جماعت احمدیہ) قادیان۔ ضلع گورداسپور
از سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
آج آپ لوگوں کو کسی عام جلسہ یا کسی مذہبی مسئلہ کے متعلق کوئی بات سنانے کے لئے جمع نہیں کیا گیا بلکہ ایک ایسی ذمہ داری کی طرف توجہ دلانے کے لئے جمع کیا گیا ہے جس کو اٹھانے اور پورا کرنے میں آپ سب لوگ شریک ہیں۔ آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ اس وقت سلسلہ کے کام دو طریق پر چل رہے ہیں۔ کچھ حصہ کاموں کا مجلس معتمدین کے ذریعہ جو صدر انجمن احمدیہ کہلاتی ہے انجام پاتا ہے اور کچھ نظارت کے ذریعہ ہوتا ہے۔
۱۹۲۴ء میں جو مجلس شوریٰ ہوئی اس میں بڑی بحث و مباحثہ اور تبادلہ خیالات کے بعد یہ فیصلہ ہوا تھا کہ ان دونوں صیغوں کو ملا دیا جائے اور مجلس معتمدین کے کام کو بھی نظارت کے سپرد کر دیا جائے۔ میں نے اس فیصلہ کے بعد غور کر کے اس میں کسی قدر تبدیلی کر دی ہے۔ اور وہ یہ کہ گو جیسا کہ میں نے بارہا سنایا ہے۔ صدر انجمن کا نام اور اس کے کام کا طریق اوروں کا تجویز کردہ تھا نہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا لیکن چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس کے متعلق منظوری ہو چکی تھی۔ اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ تمام نام جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں قرار پا چکے تھے، ان کو قائم رکھا جائے۔ جیسا کہ میں نے ریویو اور تشحیذ الاذہان ملاتے وقت اس نام کو عظمت دی تھی جو حضرت مسیح موعود نے تجویز کیا تھا اور اب رسالہ پر موٹا ریویو آف ریلیجنز لکھا جاتا ہے۔ اور باریک تشحیذ الاذہان پس جب کام ایک ہی رنگ میں ہوتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ اس نام کو چھوڑ دیا جائے جو گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تجویز نہ کیا ہو مگر آپ نے منظور کیا ہو۔ پس بجائے
اس کے کہ نظارت کے قواعد میں تبدیلی کر کے مجلس معتمدین کو اس میں شامل کر دیا جاتا میں نے یہ مناسب سمجھا کہ مجلس معتمدین کے قواعد میں تبدیلی کر کے نظارت کو اس میں شامل کر دیا جائے۔ اس وجہ سے مجلس معتمدین میں ایسی تبدیلیاں کر دی گئی ہیں کہ مل کر کام ہو سکے۔ گو ممکن ہے اس الحاق کی وجہ سے عملاً کوئی فرق نہ پڑے۔ لیکن موجودہ صورت میں یہ کیا گیا ہے کہ نظارتوں کو مجلس معتمدین میں بدل دیا گیا ہے۔ آئندہ نظارت مجلس معتمدین کہلائے گی۔ اس طرح حضرت مسیح موعود کا منظور کردہ نام قائم رہے گا اور صدر انجمن جو پہلے ایک خیالی وجود تھا بلکہ سلسلہ کے عقائد پر سخت حملہ تھا صحیح معنوں میں صدر ہو گی کیونکہ پہلے اس کی تعریف یہ تھی کہ ہر سلسلہ کے آدمی سے مل کر صدر انجمن بنتی تھی۔ جس کے معنے یہ تھے جماعت احمدیہ ایک انجمن ہے نہ کہ سلسلہ۔ بظاہر یہ ایک معمولی بات ہے لیکن کفر و اسلام، نبوت، مجددیت کے سارے مسائل اس میں آجاتے ہیں اگر سلسلہ مسمّٰی انجمن ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کسی سلسلہ کے بانی نہیں۔ اور یقیناً آپ کی نبوت کے متعلق جو عقیدہ ہے وہ بھی غلط ہو گیا۔ اسی طرح آپ کے انکار و عدم انکار سے جو مسائل متفرع ہوتے ہیں وہ بھی غلط ہو جائیں گے حالانکہ سلسلہ احمدیہ حقیقی سلسلہ ہے۔ اور ایسا ہی سلسلہ ہے جیسے سلسلے گذشتہ انبیاء کے وقت قائم ہوتے رہے ہیں۔ ایسی حالت میں تمام جماعت احمدیہ صدر انجمن نہیں کہلا سکتی۔ پھر صدر تو وہ ہوتی ہے جس کی آگے شاخیں ہوں۔ مگر اس تعریف کے ماتحت جب ساری جماعت صدر ہوئی تو پھر شاخیں کون سی ہوں گی۔ کیا غیر احمدی ہندو اور عیسائی شاخیں کہلائیں گی۔
آئندہ مجلس شوریٰ کا نام صدر انجمن احمدیہ قرار پایا ہے اور جیسا کہ جماعت کا حق ہونا چاہئے کہ جماعت چند معتمدین سے زیادہ بااختیار ہو۔ اور مجلس معتمدین کے لئے جماعت کا فیصلہ یا وہ فیصلہ جو خلیفہ نے کیا ہو منظور کرنا ضروری ہو اس لئے آئندہ کے لئے ایسی تبدیلی کر دی گئی ہے کہ وہ اہم امور جو ساری جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور صرف انتظامی معاملات سے تعلق نہیں رکھتے، ان میں مجلس معتمدین کوئی کارروائی نہ کرے گی جب تک انہیں صدر انجمن یعنی مجلس شوریٰ منظور نہ کر لے۔ مثلاً بجٹ کی کارروائی ہے۔ بجٹ پہلے صدر انجمن میں پیش ہو گا اور پھر مجلس معتمدین میں جائے گا۔ پس آئندہ کے لئے یہ کیا گیا ہے کہ نظارت کے کام مجلس معتمدین کے قواعد میں تبدیلی کر کے اس میں شامل کر دیئے گئے ہیں اور صدر انجمن اس جماعت کا نام رکھا گیا ہے جس میں تمام جماعت کے نمائندے شامل ہوں گے۔ پہلے صدر انجمن ایک ذہنی وجود تھا۔ مگر آئندہ اسے یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ امور جو ساری جماعت سے تعلق رکھتے ہوں گے اور جن کی ذمہ داری ساری جماعت پر عائد ہو گی وہ اس کے مشورہ کے بغیر نہ ہوں گے۔ کیونکہ یہ ضروری ہے کہ جنہوں نے کوئی کام کرنا ہو ان سے بذریعہ ان کے قائم مقاموں کے مشورہ لے لیا جائے۔
اس وقت تک دونوں طریقوں کے علیحدہ علیحدہ ہونے کی وجہ سے بعض نقصانات ہو رہے تھے جن کے دور کرنے کے لئے ضروری سمجھا گیا کہ دونوں کو ملا دیا جائے۔ سب سے پہلا نقصان تو یہ تھا کہ کہ خرچ میں زیادتی تھی۔ دو صیغے جو علیحدہ علیحدہ کام کریں ان میں لازماً اخراجات کی زیادتی ہوتی ہے۔ کیونکہ کئی کام جو ایک ہی کلرک یا ایک ہی آفیسر کر سکتا ہے ان کے لئے علیحدہ آدمی مقرر ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے مرکزی اخراجات میں زیادتی تھی۔ اب دونوں صیغوں کو ملا دینے سے ایک فائدہ یہ ہو گا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے اور کام کرنے والوں کو صحیح طور پر کام کرنے کی توفیق دے تو اخراجات پہلے کی نسبت کم ہوں گے۔
دوسرا نقص یہ تھا کہ دو محکموں کے علیحدہ علیحدہ ہونے کی وجہ سے آمدنی کم ہوتی تھی۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ دو صیغوں کی وجہ سے آمد بڑھنی چاہئے کیونکہ ایک دوسرے کا مقابلہ ہوتا ہے مگر یہاں ایسا نہیں تھا۔ وجہ یہ کہ آمد اسی وقت بڑھتی ہے جب صیغہ آزاد ہو اور دوسرے کا حصہ چھین کر لے جائے۔ لیکن اگر دو صیغے کسی اور کے ماتحت ہوں اور ان میں ایسی روایت نہ ہو کہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچا سکیں تو ان کی کوششیں ڈھیلی پڑ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دو صیغوں سے آمد بڑھنے کی بجائے کم ہوتی تھی۔ اور اس کے متعلق یہ مثال موجود ہے کہ مجھے تعجب سے معلوم ہوا کہ مجلسِ معتمدین کے جو کارکن تھے وہ اس شرح سے چندہ نہ دیتے تھے جو مجلس نے مقرر کی ہوئی تھی۔ حالانکہ دوسرے کارکن زیادہ شرح سے چندہ دیتے تھے۔ اس طرح کم از کم ایک ہزار روپے ماہوار کا فرق پڑ جاتا ہو گا۔ اس کے علاوہ جس صیغہ کے متعلق کوئی کام ہوتا تھا وہ اس کا زیادہ لحاظ رکھتا تھا۔ مثلاً تحصیل کا صیغہ اگر نظارت کے ماتحت ہوا تو وہ یہ مدنظر رکھے گا کہ نظارت کی آمد پوری ہو جائے۔ اور اگر مجلسِ معتمدین کے ماتحت ہوا تو اسے یہ مدنظر ہو گا کہ صدر انجمن کی آمدنی پوری ہو۔ اس طرح بھی آمد کم ہوتی تھی۔
پچھلے دنوں مجلسِ معتمدین پر ہزاروں روپیہ قرض ہو گیا تھا۔ اور سولہ ہزار کے بل پڑے تھے۔ اگر تحصیل کا کام اکٹھا ہوتا تو اس قرضہ کی ذمہ داری صیغہ تحصیل کو معلوم ہو جاتی۔ مگر صیغہ تحصیل کا چونکہ زیادہ تعلق صیغہ نظارت سے ہے اس لئے اس کی طرف سے غفلت ہوئی۔ گو قدرتاً ہوئی مگر ہونی نہیں چاہئے تھی۔ اسی طرح ایک زمانہ میں میں نے دیکھا۔ صیغہ تحصیل مجلسِ معتمدین کے ماتحت تھا اس وقت نظارت کی حالت بہت نازک ہو گئی تھی۔ کیونکہ اس وقت تحصیل والوں کی یہ غرض ہوتی تھی کہ مجلس کا کام چلے اور اس کی آمدنی بڑھے۔ پس اس طرح طاقت بڑھنے کی بجائے کمزور ہوتی تھی۔
پھر اس طرح ایک ہلکی سی رقابت بھی دونوں صیغوں میں پیدا ہو گئی اور اس کی آواز بھی برابر میرے کانوں میں پڑتی رہی۔ کبھی تو یہ کہ مجلسِ معتمدین والے یوں کام کرتے ہیں جس سے یہ نقصان ہوا ہے اور کبھی یہ کہ نظارت والے یوں کام کراتے ہیں جس سے فلاں نقصان ہوا ہے۔ یوں تو ایک ہی صیغہ میں دو کام کرنے والوں میں بھی رقابت ہوتی ہے۔ میں نے دیکھا ہے مدرسہ احمدیہ اور ہائی سکول جو ہمارے دو بازو ہیں ان میں بھی کچھ نہ کچھ رقابت پائی جاتی ہے۔ لیکن جب یہ رقابت حد سے بڑھ جائے تو نقصان رساں ہوتی ہے اور دونوں فریق سے تعلق رکھنے والے کی حالت اور بھی مشکل ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سنایا کرتے تھے۔ ہماری مثال اس عورت کی سی ہے جس کی ایک بیٹی کمہاروں کے ہاں بیاہی ہوئی تھی اور دوسری مالیوں کے ہاں۔ جب کبھی بادل آتا تو وہ عورت دیوانہ وار گھبرائی ہوئی پھرتی۔ لوگ کہتے اسے کیا ہو گیا ہے۔ اس کی زبان پر یہ ہوتا ایک بیٹی ہے نہیں اگر بارش ہو گئی تو جو کمہاروں کے ہاں ہے وہ نہیں۔ اور نہ ہوئی تو جو مالیوں کے گھر ہے وہ نہیں۔ کیونکہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے ترکاریاں نہ ہوں گی اور اگر ہو گئی تو کمہاروں کے برتن خراب ہو جائیں گے یہی حالت اس شخص کی ہوتی ہے جس نے دو ایسے فریق سے کام لینا ہو جن کی آپس میں رقابت ہو۔ ان صیغوں میں رقابت گو ایسی نمایاں نہ تھی مگر اس کے احساسات ضرور تھے۔ بعض ایسے لوگوں کے منہ سے جو ذمہ دار کہلاتے ہیں اور میں تو سب کو ذمہ دار سمجھتا ہوں۔ مگر ایک اصطلاح بن گئی ہے۔ انہوں نے الزام تو نہیں لگایا کہ آپ یوں کرتے ہیں۔ مگر یہ کہا کہ نظارت کے معاملات آپ کے سامنے ایسے رنگ میں پیش ہوتے ہیں کہ وہ آپ کی توجہ زیادہ لے جاتے ہیں اور ہم محروم رہ جاتے ہیں۔ میں یہ بحث نہیں کرتا کہ ان کا یہ خیال ٹھیک تھا یا نہیں۔ اور نہ مجھ میں یہ بحث کرنے کی قابلیت ہے۔ کیونکہ ایسی باتیں بہت باریک احساسات سے مستنبط ہوتی ہیں۔ مگر ایسی باتیں میرے کانوں تک ضرور پہنچتی تھیں۔ اس وجہ سے نہ صرف دونوں صیغوں میں کشمکش ہوتی تھی۔ بلکہ جس طرح دو بدخُو بیویوں والے خاوند کی شامت آ جاتی ہے اسی طرح میری حالت ہوتی تھی۔ اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ ان دونوں صیغوں کو ملا دیا جائے۔
پھر ایک اور نقص تھا اور وہ وقت کا ضائع ہونا تھا۔ دونوں صیغوں میں کام کرنے والے چونکہ عموماً ایک ہی تھے۔ وہی ناظر تھے وہی مجلس معتمدین کے ممبر اس لئے کبھی نظارت انہیں اپنی طرف کھینچتی اور کبھی مجلس اور اس طرح بہت سا وقت ضائع ہو جاتا۔ میرے نزدیک ۲۵؍فیصدی سے لے کر پچاس فیصدی تک ایک جگہ کام کرنے کی بجائے دو جگہ کام کرنے سے فرق پڑ جاتا ہے پھر دو جگہ کام ہونے کی وجہ سے کام کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ مثلاً کام کرنے والے ایک جگہ جمع ہوئے۔ وہاں کوئی اہم کام تھا لیکن دوسری جگہ جانے کی وجہ سے اسے وہیں چھوڑنا پڑا۔ اور دوسری جگہ اس کی نسبت کم ضروری کام تھا جسے ایک جگہ سارا کام ہونے کی وجہ سے پیچھے ڈالا جاسکتا تھا۔
پھر بعض اوقات بیرونی لوگ بھی پریشان ہوتے تھے کئی دفعہ میرے پاس خط آتے کہ میں سیکرٹری صاحب صدر انجمن کو کئی دفعہ لکھ چکا ہوں کہ مبلغ بھیجو مگر کوئی توجہ نہیں کی جاتی۔ اسی طرح کوئی یہ لکھتا کہ ناظر دعوت و تبلیغ کو تعلیم کے متعلق خط لکھا تھا مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ ایسے خطوط کے متعلق جو دوسرے صیغہ کے متعلق ہوتے یہاں یہ ہوتا کہ اول تو وہ خط یونہی دفتر میں پڑا رہتا یا پھر پندرہ بیس دن کے بعد اُٹھا کر دوسرے دفتر میں بھیج دیا جاتا۔
اسی طرح بعض لوگ جو یہاں کسی کام کے لئے آتے اور وہ کسی ایسے دفتر میں جا کر اس کام کے متعلق کہتے جس کے متعلق وہ نہ ہوتا تو اس دفتر والے دوسرے دفتر میں بھیج دیتے۔ مثلاً نظارت کا کام تھا جو صدر انجمن میں جا کر کہا گیا تو انجمن والوں نے نظارت میں بھیج دیا۔ دوسری دفعہ صدر انجمن کا کام تھا جسے وہ شخص نظارت میں لے گیا تو نظارت والوں نے انجمن کے ہاں بھیج دیا۔ اس سے اس نے یہ خیال کر لیا کہ دونوں صیغے کام نہیں کرنا چاہتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ باہر سے آنے والے حیران ہوتے اور بے چینی پیدا ہوتی تھی۔
پھر بعض کام کی ذمہ داریوں کے احساس میں فرق پڑ جاتا ہے۔ ایک فریق کہتا ہے دوسرا کرے اور دوسرا کہتا ہے وہ کرے۔ اور کوئی بھی پوری ذمہ داری نہیں سمجھتا۔ دو علیحدہ علیحدہ صیغوں میں یا تو یہ نقص پیدا ہو جاتا ہے کہ ایک دوسرے کا کام چھیننا چاہتے ہیں۔ یا پھر سستی پیدا ہو جاتی ہے اور کوئی فریق بھی اس کام کی ذمہ داری نہیں لینا چاہتا۔ یورپ میں ایسی صورت میں یہ رقابت ہوتی ہے کہ دوسرے کے کام کو بھی اپنا کام قرار دیتے ہیں مگر یہاں چونکہ عام طور پر سستی ہے۔ اس لئے اس کے اُلٹ یہ کہتے ہیں کہ فلاں کام ہمارا نہیں بلکہ دوسروں کا ہے۔ میں نے یورپ کے وزراء کے متعلق بارہا اس قسم کے جھگڑے پڑھے ہیں کہ ایک وزیر کہتا ہے فلاں کام میرا ہے اور دوسرا کہتا ہے میرا ہے۔ میں نے اس قسم کا جھگڑا کبھی نہیں پڑھا کہ ایک وزیر کہے کہ یہ میرا کام نہیں دوسرے کا ہے۔ اور دوسرا کہے میرا نہیں اس کا ہے یہ سُستی اور چُستی کی وجہ سے فرق ہے۔ یورپ میں تو یہ جھگڑا ہوتا ہے کہ سب میرا کام ہے۔ مگر یہاں یہ کہ فلاں بھی میرا نہیں۔ فلاں بھی میرا نہیں۔ پس دو مختلف صیغوں کی وجہ سے کام کرنے والوں کی ذمہ داری کے احساس میں فرق پڑ جاتا ہے۔
ان کے علاوہ اور بھی بہت سے ایسے نقائص تھے جن کی وجہ سے ضروری تھا کہ دونوں صیغوں کو جمع کر دیا جائے۔ رہی یہ بات کہ ان کاموں کو علیحدہ کیوں کیا گیا تھا؟ چونکہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے اور ہوا ہے اور ہوتا چلا آیا ہے۔ کئی لوگوں سے میں نے سنا اور دو نے تو لکھ کر بھی دیا تھا۔ اس لئے اب میں وہ وجوہات پیش کرتا ہوں جن کی وجہ سے صدر انجمن احمدیہ سے نظارت کو علیحدہ تجویز کیا گیا تھا۔
اول یہ کہ مجلس معتمدین کے بنیادی اصول میں جو دراصل ہے ہی اسلام کا بنیادی مسئلہ خلیفہٴ وقت کا وجود شامل نہ تھا۔ ایک ریزولیوشن خلافت ثانیہ میں پاس کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو خلیفہ کہے گا اسے مجلس مانے گی مگر یہ اصولی بات نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ممبروں کی جماعت کہتی ہے میں ایسا کروں گی۔ لیکن جو جماعت یہ کہہ سکتی ہے وہ یہ بھی تو کہہ سکتی ہے میں ایسا نہ کروں گی کیونکہ جو انجمن یہ پاس کر سکتی ہے کہ ہم خلیفہ کی ہر بات مانیں گے وہی اگر آج سے دس سال بعد یہ کہے کہ نہیں مانیں گے تو انجمن کے قانون کے لحاظ سے وہ ایسا کہہ سکتی ہے یا پھر اگر انجمن یہ کہے کہ اس خلیفہ کی تو ہر بات مانیں گے لیکن دوسرے کی نہیں مانیں گے تو بھی وہ اپنے قواعد کے لحاظ سے حق بجانب ہو گی۔ جس طرح حضرت خلیفہ اول کے وقت میں ہوا۔ پس مسئلہ خلافت جس کے لئے ہمیں ایسی قربانی کرنی پڑی جس کی نظیر نہیں مل سکتی اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پرانے ماننے والے، آپ کے دوست کہلانے والے، آپ سے دیرینہ تعلق رکھنے والے ہم نے اس مسئلہ کی خاطر قربان کر دیئے۔ اگر ان میں اور ہم میں یہ دینی اختلاف نہ ہوتا تو وہ ہمیں اپنی اولاد سے زیادہ عزیز تھے۔ اپنے عزیزوں سے زیادہ پیارے تھے کیونکہ ان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیکھنے والے اور آپ کے صحابہ میں سے شامل تھے اور آپ کے ساتھ انہوں نے کام کیا تھا۔ اگر یہ اختلاف نہ ہوتا جس کی وجہ سے ہمیں ان سے علیحدہ ہونا پڑا اور یہ سوال پیدا ہوتا کہ ہم اپنے بچوں کو قربان کریں یا ان کو تو میرے دل میں ذرا بھی خیال نہ آتا کہ ان کے مقابلہ میں بچوں کو قربان نہیں کرنا چاہئے۔ مگر چونکہ ایک ایسے معاملہ میں اختلاف ہو گیا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا اور جس کا ماننا ایمان اور جماعت کے لئے ضروری تھا۔ اس لئے وہ جو ہمیں اولاد سے زیادہ عزیز تھے انہیں ہم نے قربان کر دیا۔ پس اس مسئلہ کے لئے ہم نے ایسی عظیم الشان قربانی کی کہ اس کے مقابلہ میں اور کوئی قربانی نہیں ہو سکتی۔ یہ جان کی قربانی سے بھی بہت بڑھ کر ہے۔ کیونکہ جان میں انسان اپنے آپ کو قربان کرتا ہے مگر یہاں ہمیں سلسلہ کے ایک ٹکڑے کو قربان کرنا پڑا۔ اگر اتنی قربانی کے بعد بھی سلسلہ کی حالت غیر محفوظ ہو۔ یعنی چند لوگوں کے رحم پر ہو جو اگر چاہیں کہ خلافت کا انتظام قائم رہے تو قائم رہے اور اگر نہ چاہیں تو نہ رہے تو یہ کبھی گوارا نہیں کیا جا سکتا۔
اور چونکہ مسئلہ خلافت کے جماعت کے بنیادی اصول میں شامل نہ ہونے سے جماعت ایسے خطرات میں رہ سکتی ہے جو مبائعین کو غیر مبائعین میں بدل دے اور دس گیارہ آدمیوں کے جُنبِشِ قلم سے قادیان معاً لاہور بن جائے اس لئے جماعت کے وہ کام جو تبلیغ اور تربیت سے تعلق رکھتے تھے وہ ایک ایسی انجمن کے حوالے نہیں کئے جاسکتے تھے جو خواہ مبائعین کی انجمن ہی ہو اور خواہ بہترین مخلص ہی اس کے ممبر کیوں نہ ہوں اس کے لئے ضرورت تھی کہ ایک ایسا نقطہ قرار دیا جائے جس پر جماعت قائم کر دی جائے تا اسے اس بارے میں ٹھوکر نہ لگ سکے۔
ان حالات کی وجہ سے میں نے اس مشورہ سے جو میری خلافت کے زمانہ میں سب سے پہلے مسجد مبارک میں ہوا میں نے ایک ایسی جماعت تجویز کی کہ تبلیغ کا کام اس کے سپرد رہے اور وہ براہ راست خلیفہ کی نگرانی میں رہے تاکہ سلسلہ کے اصولی کام خطرہ میں نہ ہوں۔ ایک وجہ تو یہ تھی نظارت الگ تجویز کرنے کی۔
دوسری وجہ یہ تھی کہ مجلس کے قواعد کی بنیاد ایسی طرز پر رکھی گئی تھی کہ جماعت کی نمائندگی کو اس میں کوئی دخل نہ تھا۔ سب سے خطرناک حکومت کی صورت یہ سمجھی گئی ہے کہ چند آدمی حکمران ہوں جو خیال کئے جاتے ہوں کہ لوگوں کے نمائندے ہیں مگر دراصل نمائندے نہ ہوں اور جن کے اختیار میں ہو کہ آئندہ اپنے قائم مقام آپ تجویز کر سکیں۔ یہ سب سے خطرناک طرز کی حکومت ہے اور یہ سب باتیں صدر انجمن میں پائی جاتی تھیں۔ اس کے ممبر جماعت کے نمائندے خیال کئے جاتے تھے مگر وہ نمائندے نہ تھے۔ انہیں کُلّی اختیار تھا کہ اپنے قائم مقام تجویز کر لیں اور جماعت کا کوئی اثر ان پر نہ تھا۔
اس وجہ سے بھی ضروری تھا کہ ایسی بنیاد کام کی رکھی جائے جسے آہستہ گی کے ساتھ اس طرح بدلا جائے کہ جماعت کی نمائندگی صحیح معنوں میں پائی جائے اور جماعت کے نمائندوں کی رائے کا اثر اس انتظام پر ہو۔
تیسری وجہ جو شروع میں سب سے زیادہ محسوس کی گئی وہ یہ تھی کہ مجلس معتمدین اپنے قواعد کے لحاظ سے براہِ راست خلیفہ سے تعلق نہیں رکھتی تھی۔ خلیفہ سے مشورہ لے لینا اور بات ہے اور براہ راست تعلق رکھنا اور۔ مجلس کے کاموں کی یہ صورت تھی کہ وہ ہر معاملہ فیصلہ دے کر میرے سامنے پیش کر سکتی تھی کہ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے آپ کی کیا رائے ہے۔ اور اپنے قواعد کے لحاظ سے وہ ایسا کر سکتی تھی۔ کیونکہ اس کے لئے کوئی قانون ایسا نہ تھا کہ جس کی وجہ سے وہ کوئی فیصلہ کرنے سے قبل خلیفہ سے اس بارے میں مشورہ لینے کے لئے مجبور ہو یا خلیفہ بعد فیصلہ جو مشورہ دے اس کا ماننا اس کے لئے لازمی ہو۔ گو یہ بات ہی فضول تھی کہ فیصلہ کے بعد کوئی مشورہ دیا جائے مگر یہ بھی نہ ہو سکتا تھا۔ کیونکہ اس کی بناوٹ میں خلافت کا کوئی تعلق ہی نہ تھا۔ آئندہ کے لئے اس قسم کے نقصانات کا اپنی طرف سے ازالہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ باقی زمانہ اور وقت خود اصلاح کرتا جائے گا۔
اب یہ صورت تجویز کی گئی ہے کہ صدر انجمن مجلس شوریٰ ہو گی جو بجٹ وغیرہ پر غور کرے گی۔ مجلس معتمدین نہ کوئی بجٹ پاس کر سکے گی نہ اس میں کوئی تبدیلی کر سکے گی جب تک خلیفہ کو اطلاع نہ دے اور مجلس شوریٰ اس پر غور نہ کر لے۔
پس مالی اختیارات مجلس معتمدین سے لے کر صدر انجمن کو دے دیئے گئے ہیں۔ آئندہ صدر انجمن بجٹ پاس کیا کرے اور صدر انجمن نام ہے خلیفہ اور اس کے مشیروں کا۔ مشیر رائے دیں گے اور خلیفہ بجٹ پاس کرے گا۔ گویا اب بجٹ صدر انجمن پاس کرے گی جس کا صدر خلیفہ ہو گا اور مجلس معتمدین اس بجٹ کی پابندی کرے گی جس میں کمی یا زیادتی کا اسے اختیار نہ ہو گا۔
اسی طرح موجودہ انتظام میں قواعد کو اس طرح ڈھالا گیا ہے کہ صدر انجمن کو اختیارات خلیفہ کی طرف سے ملتے ہیں۔ پہلے تو مجلس معتمدین اس طرح اختیارات تجویز کرتی کہ جنہیں دیکھ کر حیرت ہوتی کہ کس طرح مذہب اور یہ اختیارات جمع ہو سکتے ہیں مثلاً مجلس نے پاس کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے احکام ماننا ضروری ہے۔ گویا اس بات کا اس نے فیصلہ کیا کہ یہ ضروری ہے۔ حالانکہ مجلس کا وجود ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم سے ظہور میں آیا تھا۔ اس طریق کی بجائے ہونا یہ چاہئے تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مجلس کو یہ اختیارات دیئے ہیں۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ کوئی شخص کہے میں چار رکعت فلاں وقت پڑھوں گا۔ دو رکعت فلاں وقت، تین رکعت فلاں وقت، حالانکہ بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے نماز پڑھو۔ اس لئے ہم پڑھتے ہیں۔ تو پہلے صدر انجمن اپنا یہ منصب سمجھتی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اختیارات دے۔ اور اختیارات ماتحت کو ہی افسر کی طرف سے نہیں دیئے جاتے بلکہ ماتحت بھی افسر کو اختیار دیتے ہیں جیسے سفر میں اپنے میں سے کسی ایک شخص کو امیر بنا کر اسے اختیارات دیئے جاتے ہیں۔ اسی طرح انجمن کے قواعد میں یہ بات شامل تھی کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بات مانیں گے۔ گویا انجمن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اختیار دیتی تھی کہ آپ ہم سے اپنی بات منوا لیں۔ حالانکہ انجمن کا وجود پیدا ہی آپ کے حکم سے ہوا تھا۔ اور اس وجہ سے اسکی بنیاد یہ ہونی چاہئے تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں یہ اختیارات دیئے ہیں۔ پس انجمن کا پہلا طریق مذہب اور حقیقت کے خلاف تھا جس کا بدلنا ضروری تھا۔
اسی طرح انجمن کے قواعد میں یہ تھا کہ ہم خلیفہ وقت کی بات مانیں گے۔ گویا خلیفہ کو وہ اختیار دیتے تھے کہ تم ہم سے بات منوا لینا۔ حالانکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انجمن کو یہ اختیارات دیئے ہیں۔ حضرت خلیفہ اول کے وقت یہ اختیار ملے یا یہ کہ آپ نے یہ اختیار قائم رکھے اور یہ زائد دیئے اسی طرح ہر خلیفہ کے وقت ہونا چاہئے کیونکہ اصل قائم مقام جماعت کا خلیفہ ہے اس لئے صدر انجمن خواہ کتنے اختیارات رکھے اور خواہ بالکل آزاد کر دی جائے تو بھی اس کے اختیارات نیابتی ہوں گے جو اوپر سے آئے ہوں گے۔ اور خلیفہ اگر دیکھے کہ انجمن غلطی کرتی ہے تو اس سے اختیارات چھین بھی سکتا ہے مگر انجمن کی جو پہلی حالت تھی اس میں خلیفہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ بلکہ انجمن والے خلیفہ کے اختیارات چھین سکتے تھے یعنی وہ کہہ سکتے تھے کہ ہم تمہاری بات نہیں مانیں گے اب یہ رکھا گیا ہے کہ انجمن کو یہ اختیارات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دیئے یا آئندہ جو اختیارات خلفاء دیں گے ان کے مطابق کام کرے گی۔ گویا انجمن کے اختیارات میں اس طرح کوئی تبدیلی نہیں ہوئی مگر نقطہ نگاہ بدل گیا ہے پہلے یہ تھا کہ انجمن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور خلفاء کو اختیار دیتی تھی اور اب یہ ہوگا کہ حضرت مسیح موعود نے پہلے انجمن کو اختیارات دیئے آئندہ خلفاء دیں گے۔
جس امر نے مجھے اس وقت آپ لوگوں کو جمع کرنے کے لئے مجبور کیا ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں قواعد کام نہیں کیا کرتے خواہ وہ کتنے ہی اعلیٰ کیوں نہ ہوں بلکہ کام کرنے والے انسان ہوتے ہیں۔ اگر قاعدے کام کرتے تو قرآن کریم کی موجودگی میں دنیا تباہ نہ ہوتی۔ قرآن کریم سے بہتر قاعدے اور کون سے ہو سکتے ہیں۔ ہم نے جو تجویز آج کی ہے اس کے متعلق خوش ہیں کہ اچھی ہے لیکن ہو سکتا ہے کل تجربہ بتائے کہ اس میں یہ یہ نقص ہیں۔ مگر قرآن کریم نے جو قاعدے بتائے ہیں ان میں کبھی نقص نہیں پیدا ہو سکتا۔ کیونکہ وہ قاعدے اس خدا نے بتائے ہیں جو ہر ایک چیز کا خالق اور مالک ہے اور باریک در باریک راز جانتا ہے۔ مگر اس ہستی کے بتائے ہوئے قاعدے موجود ہوتے ہوئے دنیا خراب ہو گئی پھر ہمارے قاعدوں کی کیا حقیقت ہے۔ میں نے آپ لوگوں کو اس لئے بلایا ہے کہ میں بتاؤں دنیا میں قاعدے کام نہیں کیا کرتے بلکہ انسان کام کرتے ہیں۔ اب ہم نے انتظام کی جو صورت تجویز کی ہے اگر کام کرنے والے اس کو کامیاب بنانے کی کوشش نہ کریں تو ہو سکتا ہے کہ خرچ کم ہونے کی بجائے اور بڑھ جائے۔ اگر کام کرنے والے توجہ نہ کریں اور ماتحت صیغوں میں رقابت اور حسد پیدا ہو تو اس کا نتیجہ فتنہ و فساد ہو سکتا
ہے۔ اور یہ سب باتیں اس انتظام میں بھی پیدا ہو سکتی ہیں جو اب تجویز کیا گیا ہے۔ اور اگر اس سے اعلیٰ کوئی انتظام ہو تو اس میں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ پس میں نے آپ لوگوں کو اس لئے جمع کیا ہے کہ میں ان ذمہ داریوں کی طرف آپ لوگوں کو توجہ دلاؤں جو سلسلہ احمدیہ کے بانی اور اسلام کے لانے والے خاتم النبیین ﷺ کی طرف سے تم پر عائد ہوتی ہیں۔ کیونکہ ان کے بغیر نہ امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ کام چل سکتا ہے۔
جب میں ولایت سے آیا تھا اور کارکنوں نے مجھے ایڈریس دیا تھا تو اس کے جواب میں میں نے کہا تھا کوئی کامیابی کسی ایک شخص کی کوشش کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ اس میں ان سب لوگوں کی کوشش شامل ہوتی ہے جو خفیف سے خفیف خدمت بھی کرتے ہیں۔ اور گو سہرا کسی ایک کے سر بندھ جاتا ہے لیکن دراصل کامیابی سب کی ملی جلی ہوتی ہے۔ آج میں اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ناکامیوں کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔ وہ بھی ایک کی نہیں ہوتیں بلکہ سب کا ان میں دخل ہوتا ہے۔ پس اگر کارکن ہی نہیں بلکہ تمام ممبر بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھنے کی کوشش نہ کریں اور ایک دوسرے سے تعاون کا عہد نہ کریں تو کامیابی نہیں ہو سکتی۔
اس وقت تک طریقِ عمل میں جو نقص معلوم ہوئے ہیں انہیں ہم نے دور کر دیا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان نقائص کو دور کرنے کی وجہ سے کامیابی ہو جائے گی۔ کامیابی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک تمام کے تمام مل کر کوشش نہ کریں اور ایک دوسرے سے تعاون نہ کریں۔
آپ لوگ جانتے ہیں کہ ہمارا مقابلہ ساری دنیا سے ہے اور ہمارے اسباب بہت ہی محدود ہیں۔ میں تو اپنی جماعت کی موجودہ حالت کی مثال اُحد کے مُردوں سے دیا کرتا ہوں جن کے کفن کے لئے کپڑا نہ تھا۔ اگر ان کے سر ڈھانپے جاتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے ۱؎ اور اگر پاؤں ڈھانپے جاتے تو سر ننگے ہو جاتے۔ یہی حال ہمارا ہے ہم ایک کام کی طرف توجہ کرتے ہیں تو اسباب کی کمی کی وجہ سے دوسری طرف نقص پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں ہمارا مقابلہ ایسے دشمن سے جو سینکڑوں سالوں سے اپنی تنظیم کرتا چلا آ رہا ہے آسان نہیں ہے۔ ہم تو دیکھتے ہیں ہندوؤں کا مقابلہ بھی آسان نہیں ہے جو سینکڑوں سال مسلمانوں کے ماتحت رہے۔ گو چند سال سے تعلیم میں مسلمانوں سے بڑھ گئے ہیں۔ ان کی تنظیم ایسی اعلیٰ ہے کہ مسلمان دیکھتے ہیں پسے جا رہے ہیں مگر مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اُٹھتے ہیں مگر پٹ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ میں اپنی جماعت کو ہی انتظامی لحاظ سے بہت پیچھے دیکھتا ہوں۔ یہاں کے لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو تکلیفیں دیں، سلسلہ کو نقصان پہنچایا اور اب بھی اس کوشش میں لگے رہتے ہیں اس کے مقابلہ میں ہم نے چاہا کہ یہاں کی تجارت ہمارے ہاتھ آجائے مگر کیا کامیابی ہوئی؟ یہ امور جو مقامی ہیں اور مقام بھی چھوٹا سا گاؤں ہے۔ اس چھوٹے سے گاؤں میں جہاں ہماری موت اور زندگی کا سوال ہے ہم مقابلہ میں کامیاب نہ ہوئے۔ تو خیال کرو کہ اگر ہمارا انتظام ایسا ہی ناقص ہے تو ہمارے لئے کتنے خوف کا مقام ہے۔ جبکہ ہم ساری دنیا کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہیں۔ اور اس دنیا کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہیں جس کے ادنیٰ ادنیٰ آدمی اگر ہمارے اعلیٰ آدمیوں کی جگہ مقرر کر دیئے جائیں تو دنیوی تجربہ اور ظاہری علوم کے لحاظ سے اعلیٰ نظارت پر کام کر سکیں گے اور ہمارے اعلیٰ ناظروں سے بھی اعلیٰ رہیں گے کیونکہ وہ لوگ سینکڑوں سالوں سے تجربہ کرتے چلے آ رہے ہیں اور کام کرنے کے طریق میں جو جو نقائص انہیں معلوم ہوئے، انہیں دُور کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے ایک ایک بات پر علمی طور پر غور کیا اور اس کے متعلق سالہا سال کی کوششوں سے تدبیریں نکالی ہیں۔ مثلاً شراب ترک کرانے کا کام ہے۔ یورپ دو صدیوں سے اس کے متعلق غور کرتا چلا آ رہا ہے کہ کس طرح کم کی جا سکتی ہے۔ یہاں کا ایک طالب علم بھی کہہ دے گا کہ اس میں کونسی مشکل بات ہے۔ گورنمنٹ شراب بند کرنے کا حکم دے دے تو بند ہو جائے گی۔ لیکن یورپ کو اس کے بند کرانے میں دو صدیاں گزارنی پڑیں۔ شروع شروع میں یورپ والوں نے بھی یہی سمجھا تھا کہ بندش کا حکم دینے سے بند ہو جائے گی مگر ایسا نہ ہوا۔ اور کئی قانون بدلے گئے۔ پہلے ملک میں شراب بننی بند کر دی گئی۔ اس پر باہر سے آکر بکنے لگی اور ملک کی دولت باہر جانے لگی۔ پھر اس پر ٹیکس بہت زیادہ کر دیا گیا تو گھروں میں بنانے لگ گئے۔ اور جو بناتے تھے وہ بھی پینے لگ گئے۔ غرض کئی طریق نکالے گئے مگر کسی میں کامیابی نہ ہوئی۔ آخر یہ قرار دیا گیا کہ جتنا ممکن ہو شراب کو سستا کر دیا جائے اور ناجائز کشید کو بند کر دیا جائے۔ جب شراب سستی ہو گئی تو نتیجہ یہ ہوا کہ گھروں میں بننی بند ہو گئی اور دکانوں پر لائسنس لگا دیئے۔ جن سے معلوم ہونے لگا کہ ملک کا کس قدر حصہ شراب پیتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ کم کرنے لگے۔ اب یورپ میں شراب کا متوالا کوئی شاذ ہی نظر آتا ہے۔ ورنہ پہلے کئی کئی سو روزانہ جیل خانوں میں بھیجے جاتے تھے۔ تو دو سو سال کے عرصہ میں اس حد تک شراب کے کم کرنے میں انہیں کامیابی ہوئی ہے۔
اس قسم کے تجربوں کی وجہ سے ان ممالک کے سب لوگ ان باتوں کو جانتے ہیں۔ اور وہ لوگ ذاتی، قومی اور وراثتی تجربہ کے لحاظ سے ہمارے آدمیوں سے زیادہ ہوشیار ہیں۔ اور ہمیں ان کا مقابلہ کرنا ہے جن کے سامنے ہماری حالت بچہ کی سی ہے اس لئے جب تک ہم غیر معمولی قربانیاں نہ کریں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ مگر ہماری جماعت کے لوگ چھوٹی چھوٹی قربانیوں پر ہی گھبرا جاتے ہیں۔ اس وقت میں پہلے کارکنوں کو توجہ دلاتا ہوں۔ اور پھر قادیان کے دوسرے لوگوں کو کہ اگر تم لوگ دین کی خدمت میں نمونہ نہ بنو تو باہر کے لوگ کس طرح بے نظیر قربانی کر سکتے ہیں۔ اب جہاں قواعد میں اصلاح کی گئی ہے وہاں میں آپ سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ اپنے قلوب میں اور اپنے اعمال میں بھی اصلاح کریں تاکہ وہ کامیابی نصیب ہو جس کا وعدہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ دے رکھا ہے۔
کامیابی کے لئے سب سے پہلی چیز اطاعت ہے۔ ولایت میں فوج کے انتظام کا میں نے ایک واقعہ پڑھا تھا۔ فوج کا دستہ کہیں جا رہا تھا۔ ایک افسر نے ایک سپاہی سے کہا۔ تم ٹھیک نہیں چل رہے ٹھیک قطار میں چلو۔ سپاہی دراصل ٹھیک چل رہا تھا۔ اس نے کہا میں ٹھیک چل رہا ہوں۔ اگرچہ افسر کی غلطی تھی لیکن اس نے کہا آگے سے جواب دینے کی جو گستاخی تم نے کی ہے اس کی وجہ سے تمہیں گرفتار کیا جاتا ہے یہ کہہ کر اسے حراست میں دے دیا گیا۔
اسی طرح کے کئی واقعات ہوتے ہیں۔ گذشتہ لڑائی کے ایام میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی جو سگنل کمپنی تیار کی گئی تھی اور جس میں ہمارے شمشاد علی صاحب بھی تھے۔ ان کے علاوہ اور بھی پانچ چھ احمدی تھے۔ انہوں نے سنایا ایک احمدی کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ تار کے کھمبے لگوا دو۔ اس کے متعلق ایک افسر نے کرنل کے پاس رپورٹ کی کہ اس نے سستی کی ہے۔ اس پر شمشاد علی صاحب کو مقرر کیا گیا کہ تحقیقات کریں اس نے سستی کی ہے یا نہیں؟ ان کی تحقیقات پر ثابت ہوا کہ اس نے سستی نہیں کی۔ مگر چونکہ اُس نے یہ لکھا تھا کہ افسر نے میرے خلاف غلط لکھا ہے اس لئے اس وجہ سے اسے سزا دی گئی۔
غرض فوج میں اطاعت کا ایسا سبق سکھایا جاتا ہے کہ انسان مشین کی طرح بن جاتے ہیں۔ انہیں اپنے فرائض بجالانے کی ایسی عادت ہو جاتی ہے جو باتیں دوسرے لوگ برداشت نہیں کر سکتے وہ کر لیتے ہیں۔
امریکہ کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ سول وار میں ایک نوجوان کو پہرہ پر مقرر کیا گیا جو اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھا۔ افسر اس کا پہرہ بدلنا بھول گئے اور تیسرے دن وہ تھکاوٹ سے بالکل چور ہو گیا اور ایک کھمبے سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا اس پر اسے اُونگھ آگئی۔ اتفاق سے ایک معائنہ کرنے والا افسر اس وقت آگیا اور اس حالت میں اُسے دیکھ لیا۔ اس پر وہ پکڑا گیا اور مقدمہ چلایا گیا۔ اس کی ماں نے رحم کی درخواست کی لیکن کچھ اثر نہ ہوا۔ لکھا ہے فیصلہ دیتے وقت افسر کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ اور اس نے لکھا گو یہ ماں کا اکلوتا بیٹا ہے اور تھکاوٹ سے سخت چور ہو کر اس سے یہ حرکت ہوئی مگر سوائے اس کے کوئی سزا نہیں دی جا سکتی کہ اسے گولی سے مار دیا جائے۔
یہی وہ بات ہے کہ یورپین لوگ ساری دنیا پر حکومت کر رہے ہیں اور اسی میں ان کی کامیابی کا راز ہے۔ پس جب تک کامل اطاعت اور پورا تعاون نہ ہو۔ اس وقت تک کوئی قوم کامیاب نہیں ہو سکتی کجا وہ قوم جو تجربہ میں، وسائل میں اور تعداد میں بہت ہی قلیل ہو وہ کامیاب ہو سکے۔ پس آپ لوگوں کو ایک نصیحت تو میں یہ کرتا ہوں کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور اطاعت کا مادہ پیدا کرو۔ مجھے یہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس کی بہت کمی ہے۔ جب کوئی افسر کسی سے باز پرس کرتا ہے تو جواب میں درشت کلامی سے کام لیا جاتا ہے۔ کم از کم مجھے جو رقعہ لکھا جاتا ہے اس میں یہ ضرور ہوتا ہے کہ فلاں میرا ہمیشہ سے دشمن ہے۔ ہمیشہ مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ عورتیں اس لئے زیادہ جہنم میں جائیں گی کہ خاوندوں کا کفر کرتی ہیں۔؎لےیہی حال ماتحت کارکنوں کا نظر آتا ہے۔ اِلَّا مَا شَاءَ اللہُ یہ نتیجہ ہے غلامی اور ماتحت رہنے کا کہ ان میں عورتوں والے اخلاق پیدا ہو گئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کبھی نیک معاملہ ان سے نہیں کیا گیا۔ چونکہ برداشت کا مادہ ان لوگوں میں بہت کم ہے اس لئے جھگڑے بڑھ جاتے ہیں۔ اگر کوئی ایک دفعہ ظلم بھی برداشت کر لے تو دوسری دفعہ ظلم کرنے والے کو خود شرم آجائے گی۔ حالانکہ بسا اوقات قواعد کی پابندی کرائی جاتی ہے۔
اس کے مقابلہ میں دوسری طرف یہ دیکھا گیا ہے کہ جو بڑے کارکن ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم سے قواعد کی پابندی نہ کرائی جائے یہ بھی غلط خیال ہے۔ اگر وہ قواعد کی پابندی نہیں کریں گے تو چھوٹے کیوں کریں گے۔ کہتے ہیں ایران کا بادشاہ کہیں گیا تو اس کے لئے کوئی شخص انڈے لایا مگر اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا اگر میں انڈے لے لوں گا تو کل سرکاری ملازم تم سے دنبے لیں گے۔ پس یہ غلط ہے کہ بڑوں سے قواعد کی پابندی نہ کرائی جائے۔ ان کے لئے تو زیادہ پابندی ہونی چاہئے کیونکہ اگر کسی رعایت کا کوئی شخص مستحق ہو سکتا ہے تو وہ چھوٹا کارکن ہے جس کے وسائل محدود ہوتے ہیں۔ پس میں بڑوں سے کہتا ہوں کہ قواعد کی پابندی سختی کے ساتھ کریں اور چھوٹوں سے کہتا ہوں کہ اطاعت کا وہ نمونہ دکھائیں کہ یورپ کی فوج بھی ان کے سامنے مات ہو جائے۔
پھر آپس کا تعاون اس طرح ہو کہ ہر ایک سمجھے یہ میرا کام ہے مگر باوجود اس کے جو کام دوسرے کے سپرد ہو اس میں دخل نہ دے۔ اس کے بغیر تعاون نہیں ہو سکتا۔ جب کوئی کام خراب ہونے لگے تو جسے اس کی خرابی معلوم ہو وہ اٹھ کھڑا ہو اور ہر طرح امداد دے۔ اور جب کام ٹھیک چلنے لگے تو علیحدہ رہے۔
وہ کارکن جس کے سپرد کوئی کام ہو اگر تمہارے کسی مشورہ یا امداد سے فائدہ نہیں اٹھاتا تو اس سے تمہیں بددل نہ ہونا چاہئے۔ اگر وہ تمہارے مشورہ کو غلط اور غیر مفید سمجھ کر ۹۹؍دفعہ بھی ردّ کرتا ہے تو بھی تمہارا حق نہیں کہ سوویں دفعہ اسے مشورہ دینے کے لئے نہ جاؤ۔ اس نے اگر ۹۹؍دفعہ تمہارا مشورہ رد کیا ہے تو اپنا وہ حق استعمال کیا ہے جو اس کام کے متعلق اسے دیا گیا ہے۔ تمہارا فرض یہی ہے کہ ہر ضرورت کے موقع پر مشورہ دیتے جاؤ۔ مگر میں یہ دیکھتا ہوں ۹۹؍فیصدی لوگ ایسے ہیں کہ جب وہ کسی کو مشورہ دیتے ہیں اور وہ نہیں مانتا تو آئندہ مشورہ دینا چھوڑ دیتے ہیں۔ یا کسی کام کے لئے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں اگر ان سے فائدہ نہ اٹھایا جائے تو ناراض ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ نتیجہ ہوتا ہے ان کے اس خیال کا کہ وہ دوسرے پر حکومت کرنا چاہتے ہیں نہ کہ تعاون۔ اگر ان کی غرض تعاون ہوتی تو خواہ سو دفعہ بھی ان کا مشورہ رد کیا جاتا پھر بھی وہ پیش کرتے۔
پس آپ لوگوں کو میں ایک نصیحت تو یہ کرتا ہوں کہ آپس میں تعاون سے کام کریں۔ اور اس طرح مشورہ پیش کریں کہ خواہ ہزار دفعہ بھی رد کیا جائے پھر بھی آپ اپنا فرض ادا کرنے سے باز نہ رہیں۔ اور ہر ضرورت کے وقت خدمات پیش کرتے رہیں۔ خواہ ہزار دفعہ ان سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔
اس کے متعلق یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ تعاون دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک ذہنی یعنی جو کام کرنے والا ہے اس کے رستہ میں سہولتیں پیدا کی جائیں۔ ہمارے ہاں یہ تعاون بہت کم ہے اور یورپ میں بہت زیادہ ہے۔ وہاں دیکھتے ہیں کہ ایک بات غلط ہے۔ مگر کہتے ہیں جو شخص کر رہا ہے وہ چونکہ اپنے فن کا ماہر ہے اس لئے یہی سمجھو کہ ٹھیک کرتا ہے۔ اور دوسروں سے بھی یہی کہتے ہیں کہ تم بھی اس کے متعلق یہی سمجھو۔ مگر یہاں ذہنی تعاون بالکل ترک کر دیا جاتا ہے اور بجائے اس کے کہ لوگوں کے جذبات کسی کام کرنے والے کی تائید میں پیدا کئے جائیں اس کے خلاف باتیں مشہور کی جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر اس کے کام میں خرابی نہ ہو تو بھی عام لوگوں کو خرابی نظر آنے لگتی ہے اور کام کرنے والا لوگوں کے اعتراضات بڑھ جانے کی وجہ سے گھبرا جاتا ہے اور اس کے گھبرانے سے کام خراب ہو جاتا ہے۔ اس پر اعتراض کرنے والے کہہ دیتے ہیں ہم نہ کہتے تھے فلاں شخص کام خراب کر دے گا اب دیکھ لو ایسا ہی ہوا ہے۔
کسی کام اور طریق کو کامیاب بنانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ جو فیصلہ ہو اس کی پوری پوری مطابقت کی جائے تاوقتیکہ وہی فیصلہ کرنے والی جماعت یہ فیصلہ نہ کرے کہ ہم سے یہ غلطی ہو گئی تھی جس کی اصلاح کی جاتی ہے۔ دیکھو ولایت میں مزدور پارٹی کے خلاف اُمراء کو اس قدر غصہ تھا کہ جس کی حد نہیں۔ اور مزدوروں نے برسرِاقتدار ہونے کے زمانہ میں ایسے قانون بنائے جو پہلے نہ تھے۔ مگر جب ان کے بعد اُمراء کی پارٹی حکمران ہوئی تو اس نے مزدور پارٹی کے قوانین بدلے نہیں بلکہ ان کی ذمہ داری اُٹھالی ہے۔ اگر ان پر کوئی اعتراض کرتا ہے تو خود جواب دیتے ہیں۔ پس یہ ذہنی تعاون ہے کہ جب کوئی تجویز پاس ہو جاتی ہے تو سارے لوگ اسے صحیح سمجھنے لگ جاتے ہیں اور اُسے کامیاب بنانے میں امداد دینے لگ جاتے ہیں۔
دوسرا تعاون عملی ہے یعنی جو کام کرنے والے ہوں ان کے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹایا جائے۔ یہ کئی طرح ہو سکتا ہے۔ مثلاً کسی دوسرے دفتر کا کام ہوا تو وہ کردیا۔ اب تو یہ حالت ہے کہ میرے پاس اس قسم کی چٹھیاں آئی ہیں کہ ہم قادیان میں چندہ لے کر گئے مگر کوئی لینے والے نہ تھا اس لئے واپس لے آئے۔ ایسے لوگوں نے کسی سے تو پوچھا ہو گا خواہ وہ یہاں کا دودھ بیچنے والا ہی ہو کہ کہاں چندہ جمع کرایا جائے۔ اس کا بھی فرض تھا کہ اس رنگ میں اس کی مدد کرتا۔
اس تعاون میں اخبار والوں کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے۔ یورپ میں جو قومی معاملہ ہو اس میں ساری پارٹیوں کے اخبارات اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ یہی کابل کا واقعہ تھا۔ تمام پارٹیوں کے اخبار زبانی ہمارے آدمیوں سے کہتے تھے کہ بڑا ظلم ہوا ہے مگر اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ہم اس کے خلاف لکھنے سے معذور ہیں کیونکہ موجودہ حکومت کی کابل کے متعلق جو پالیسی ہے اُسے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس وقت لیبر پارٹی برسر حکومت تھی جو چاہتی تھی کہ افغانستان کے ساتھ صلح رکھی جائے۔ دوسرے لوگ اگرچہ صلح کے حامی نہ تھے مگر وہ خود کابل کے خلاف کچھ نہ لکھتے تھے۔ تاکہ برسرِاقتدار پارٹی کی پالیسی کو نقصان نہ پہنچے۔ یہ کہتے تھے کہ خبر کے طور پر شائع کر دیں گے اور جرمنی کے اخبارات نے تو اتنا بھی نہ کیا۔ کیونکہ وہ اسے وہاں کی حکومت کی پالیسی کے خلاف سمجھتے تھے۔
مگر ہمارے اخبارات میں یہ بات نہیں۔ ان میں ایسے مضامین تو چھپ جاتے ہیں جن کی کوئی قیمت اور کچھ وقعت نہیں ہوتی۔ مگر ایسے ضروری مضامین جن سے جماعت کو فائدہ پہنچ سکتا ہو اس لئے نہیں چھپتے کہ وہ الفضل یا فاروق یا الحکم میں چھپ گئے ہیں۔ حالانکہ دنیا کے کون سے اخبارات ہیں جن میں ایک جیسی باتیں نہیں چھپتیں۔ پریس میں اس قدر تعاون ہونا چاہئے کہ جو بات لیں اس پر شور مچادیں۔ آریوں کے اخبارات کو میں نے دیکھا ہے۔ اس قدر شور مچاتے ہیں کہ گورنمنٹ بھی مجبور ہو جاتی ہے۔
غرض دو قسم کا تعاون ہے۔ اور وہ یہ کہ نہ بد خبر پھیلانا اور نہ پھیلنے دینا۔ مگر یہاں کثرت ایسے لوگوں کی ہے جو یا تو بد خبر پھیلاتے ہیں یا بد خبر سن کر خاموش چلے جاتے ہیں اور ایسے لوگوں کا مقابلہ نہیں کرتے۔
اب میں احمدیہ جماعت کے کارکنوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آج کل مالی مشکلات بہت ہیں اس سال آمد کی نسبت بجٹ ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ آمد ڈیڑھ لاکھ ہے اور بجٹ اڑھائی لاکھ۔ اس کے علاوہ ۳۰ ہزار کے صیغہ جات مقروض ہیں۔ ایسی حالت میں اگر یہ بجٹ جو تیار کیا گیا ہے جاری کیا جائے تو نتیجہ یہ ہو گا کہ ساڑھے نو مہینے کے بعد نہ کسی صیغہ کو تنخواہ دی جاسکے گی نہ سائر ، نہ کوئی رسالہ جاری رہ سکے گا نہ کوئی اخبار۔ صاف ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں یہ بجٹ جاری نہیں کیا جاسکتا اس لئے میں نے دو کمیٹیاں بنائی ہیں۔ ایک آمد بڑھانے کی تجاویز پر غور کرنے والی اور دوسری خرچ گھٹانے والی۔ خرچ گھٹانے کے لئے جب تک سب لوگ قربانی نہ کریں کم نہیں ہو سکتا اس لئے سب کے تعاون کی ضرورت ہے اگر خدا نخواستہ سال کے بعد دیوالیہ نکل جائے تو یہ بہتر ہے کہ اسی وقت بعض کام بند کر دیئے جائیں یا بعض اخراجات میں تخفیف کر دی جائے۔
میں نے دیکھا ہے ہر چار سال کے بعد مالی تنگی کا دورہ آتا ہے۔ حضرت خلیفہ اول کے آخری ایام میں خزانہ بالکل خالی تھا۔ علاوہ ازیں اٹھارہ ہزار کے قریب قرضہ بھی تھا۔ پھر ۱۹۱۷ء میں ایسی حالت ہوئی۔ پھر ۱۹۲۱ء میں اور پھر اب ۱۹۲۵ء میں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چار سال کے بعد ایسا ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ جماعت میں تجربہ کار مالی معاملات سے واقف نہیں ہیں اس لئے نقص پیدا ہو جاتے ہیں۔ اگر صیغہ مال سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار ہوتے تو معلوم کر لیتے کہ اس دورہ کی کیا وجہ ہے اور اس سے پتہ لگایا جاسکتا تھا کہ کوئی انتظامی نقص ہے جس کی طرف اگر توجہ کی جاتی تو آج پھر یہ خرابی پیدا نہ ہوتی۔ مگر میں نے دیکھا ہے جب آمد زیادہ ہوتی ہے کارکن کہتے ہیں بجٹ بڑھا دیا جائے۔ پچھلے سال میں نے کہا بجٹ کم کرو مگر کہنے لگے کسی صورت میں کمی نہیں ہو سکتی۔ اور اب جب آمد میں کمی ہو گئی ستر ہزار تک کم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اگر گذشتہ سال ہی بجٹ کم کر دیتے اب ایسا نہ ہوتا۔
میرے نزدیک سلسلہ کی تاریخ میں ایسا تاریک سال کبھی نہیں آیا جیسا یہ سال ہے۔ پہلے ایسے موقع پر کہ کوئی چندہ خاص نہیں لیا جاتا تھا مالی تنگی پیش آتی جو چندہ خاص کے ذریعہ دور ہو سکتی تھی لیکن اب ہم دو دفعہ چندہ خاص لے چکے ہیں۔ ایسی صورت میں جب تک سب لوگ تعاون نہ کریں کام نہیں چل سکتا۔ اس کے لئے ممکن ہے بعض عہدے اُڑائے جائیں ، بعض افراد تخفیف میں لائے جائیں ، بعض دفاتر بند کئے جائیں جس سے بے چینی پیدا ہو گی۔ اس کا دور کرنا ہر ایک کا فرض ہے۔ اسی طرح ذاتی قربانی کی ضرورت ہے۔ اگر تنخواہوں میں کمی کی جائے تو اُسے برداشت کیا جائے۔ اس کے لئے میں نے یہ اصول رکھے ہیں۔ (۱) اس وقت تک کوئی نیا کام نہ بڑھایا جائے جب تک ریزرو فنڈ نہ ہو اور آمد اخراجات سے بڑھ نہ جائے۔ (۲) آئندہ صیغوں کے لئے علیحدہ علیحدہ رقمیں مقرر کی جائیں کہ اتنا اتنا خرچ کرنا ہے۔ (۳) جو تخفیف کی جائے اس میں غرباء اور زیادہ افراد والوں پر بوجھ نہ پڑنے دیا جائے اور ان پر زیادہ اثر ڈالا جائے جو اسے برداشت کر سکیں اس لئے ایسے کارکن جو زیادہ تنخواہ پاتے ہوں یا جن کے گھر کے افراد کم ہونے کی وجہ سے اخراجات کم ہوں انہیں قربانی کے لئے زیادہ تیار ہونا چاہئے۔ (۴) آئندہ کے لئے یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ جن کارکنوں کی تنخواہ میں تخفیف کی جائے وہ تخفیف اس صیغہ کے ذمہ قرض سمجھی جائے۔ یا اگر کسی کی ترقی رد کی جائے تو یہ فرض کیا جائے کہ اسے ترقی دی گئی ہے مگر اس کی تنخواہ سے کاٹ رہے ہیں۔ پھر جب روپیہ آئے تو وہ ادا کیا جائے۔ اس سے یہ خیال رہے گا کہ کارکنوں کا اتنا قرضہ صیغہ جات کے ذمہ ہے۔ اور یہ سمجھ کر بے فکری نہ ہو گی کہ اس طرح آمد میں اضافہ ہو گیا ہے بلکہ یہ خیال رہے گا کہ یہ قرضہ ہے جسے ادا کرنا ہے۔
پہلی خرابی کسی وجہ سے ہو اور اسکی ذمہ داری خواہ کسی پر عائد ہوتی ہو اعلیٰ کارکنوں یا ماتحت کام کرنے والوں پر یا جماعت پر کہ اس نے کافی چندہ نہیں دیا اب یہی دو صورتیں ہیں کہ یا تو صیغہ جات میں تخفیف کر کے کام چلایا جائے یا کام بالکل بند کر دیا جائے۔ ہر ایک کے نزدیک بہتر یہی ہو گا کہ تخفیف کر کے کام چلایا جائے۔ مگر اب کے تخفیف کا اتنا اثر پڑے گا جتنا پہلے کبھی نہیں پڑا اس لئے اس اثر کو وہی برداشت کر سکیں گے جو قربانی کے لئے کھلا دل اور وسیع حوصلہ رکھیں گے۔ اس سے دو دقتیں پیدا ہوں گی۔ ایک تو یہ کہ کارکن کم ہو جائیں گے اس لئے کام زیادہ کرنا پڑے گا۔ دوسرے یہ کہ اخراجات میں مشکلات پیش آئیں گی۔ مگر جو اس قسم کی مشکلات کو برداشت نہیں کر سکتا وہ یہاں کام بھی نہیں کر سکتا۔ پس ہمیں ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار رہنا چاہئے اور قربانیاں کرتے ہوئے کام چلانا چاہئے۔
پس صیغہ جات کا اتحاد بہت سی قربانیوں کا مطالبہ کر رہا ہے اگر یہ اتحاد نہ ہوتا تو بھی مشکل ہوتی۔ موجودہ حالات میں نہ نظارت قائم رہ سکتی تھی نہ صدر انجمن۔ میں نے یہ حالات اس لئے بیان کئے ہیں تا ناواقف لوگ یہ نہ کہیں کہ صیغہ جات کے ملانے کا یہ نتیجہ نکلا ہے۔ ملا دینے سے اس مشکل میں کچھ کمی ہو گی نہ کہ زیادتی اور ہم اس کام کو سنبھال سکیں گے۔
دوسری کمیٹی جو آمد بڑھانے کے لئے تجویز کی گئی ہے اس کے مدنظر یہ باتیں ہوں گی۔ اول عام چندہ کے علاوہ ہر احمدی ہر سال نصف ماہ کی آمدنی دیا کرے۔ دوم عملہ تحصیل کو بڑھایا جائے۔ گورنمنٹ اس عملے پر اپنی آمد کا ۲۵ فیصدی صرف کرتی ہے لیکن ہم دو یا تین فیصدی خرچ کرتے ہیں۔ حالانکہ گورنمنٹ کے پاس وصولی کے اور ذرائع کے علاوہ جبر بھی ہے جو ہمارے پاس نہیں۔
دوسرے سلسلہ کی آمد میں آج تک ایک خطرناک نقص رہا ہے اور میں اس کا مخالف رہا ہوں اور اب بھی ہوں۔ اور میری یہ رائے کبھی نہیں بدل سکتی کہ وصیت کے معاملے کو غلط طور پر سمجھا گیا ہے۔ جن لوگوں کی جائدادیں نہیں تھیں وہ وصیتیں کرتے چلے گئے ہیں حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے وصیت کو مالی قربانی قرار دیا ہے مگر ۶۰؍فیصدی وصیتیں ایسی تھی کہ عام لوگ شب برات اور محرم میں جتنا خرچ کرتے ہیں اس سے بھی کم انہوں نے وصیت میں دیا ہو گا۔ میں اس کی ہمیشہ مخالفت کرتا رہا ہوں اور میں سمجھ نہیں سکتا میری یہ رائے کبھی بدل سکتی ہے کہ ایسے لوگوں کو ایک جگہ جمع کرنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مدنظر نہ تھا۔ میرے نزدیک ہر وہ جائداد جس سے کسی کا گزارہ نہیں چلتا اس کی اگر وصیت کرتا ہے تو وہ وصیت نہیں ہے اس لئے میں نے کارکنوں کو توجہ دلائی ہے کہ اس قسم کی وصیتیں فضول ہیں ان حالات میں چونکہ صاحبِ جائداد لوگوں نے وصیتیں کرنی چھوڑ دی ہیں اس لئے آمد میں کمی آگئی ہے۔
دوسرے یہ کہ وصایا موت کے وقت نہ کرنی چاہئیں۔ اس وقت تو ہر شخص کر دے گا۔ وصیت شوق سے اس وقت کرنی چاہئے جبکہ سامنے موت کا خوف نہ ہو۔
تیسرے وصایا کرنے کی تحریک کرنی چاہئے۔ ایک دفعہ میں نے دیکھا تھا کہ ایک آدمی کو دو تین آدمی یہ کہہ کر وصیت کرنے کے لئے مجبور کر رہے تھے کہ اگر نہ کرو گے تو منافق ہوگے۔ اس پر میں نے منع کیا تھا کہ اس طرح مجبور نہیں کرنا چاہئے نہ یہ کہ تحریک ہی نہیں کرنی چاہئے۔ ہماری جماعت میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ اگر ان سے وصیتیں کرائی جائیں تو انہیں سے کم از کم ایک کروڑ روپیہ وصول ہو سکتا ہے۔
میں نے جماعت کے مال کا اندازہ لگایا تو دیکھا کہ پنجاب کے تین ضلعوں منٹگمری، لائل پور اور سرگودھا کے احمدی اگر اپنی جائداد کے دسویں حصہ کی وصیت کریں تو دس لاکھ اور اگر زیادہ وصیت کریں تو ۳۳؍لاکھ تک رقم مل سکتی ہے۔ اور سارے ہندوستان میں جماعت کی جائداد کا اندازہ لگایا جائے تو کم از کم دس کروڑ کی ہوگی۔ جس میں سے ایک کروڑ مل سکتا ہے۔ جن لوگوں کی جائدادیں نہیں ان کی ماہوار آمدنی وصیت میں رکھی گئی ہے۔ اور خواہ کوئی کتنی قلیل تنخواہ کا ملازم ہو اگر وہ اس تنخواہ کا دسواں حصہ دیتا ہے تو واقعی قربانی کرتا ہے اس طرح تین لاکھ کے قریب آمد ہو سکتی ہے۔ پھر ان لوگوں کو چھوڑ کر جن کی کوئی آمد نہیں یا جائداد نہیں وہ تبلیغ میں کوشش کریں تو یہی خدمت ان کی طرف سے وصیت میں سمجھی جا سکتی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لکھا ہے کثرت سے مال آئیں گے۔؎مگر ہم دیکھتے ہیں
نہیں آئے۔ وجہ یہ کہ وصیتوں کے متعلق غلط راستہ اختیار کر لیا گیا ہے۔ دراصل ایسے رنگ میں اس کی تعمیل ہونی چاہئے کہ وہ لوگ ایک جگہ جمع ہوں جو واقعہ میں قربانی کرنے والے ہوں اور اس کے لئے جائدادیں رکھنے والوں کو عام تحریک کرتے رہنا چاہئے۔
اسی طرح ایک اور خطرناک نقص پایا گیا ہے جس کی طرف کارکنوں کو توجہ دلاتا ہوں۔ اور وہ نقص یہ ہے کہ صیغوں میں یہ میلان بہت کم ہے کہ آمد خود پیدا کریں حتیٰ کہ تجارتی صیغے بھی نقصان میں رہتے ہیں۔
آئندہ اس بات پر زور دینا چاہئے کہ صیغہ جات نہ صرف خرچ کے مطابق آمد پیدا کریں بلکہ نفع بھی حاصل کریں اور اس حد تک اس پر زور دینا چاہئے کہ اگر کسی صیغہ میں جو آمدنی پیدا کر سکتا ہے ایسا نہ ہو تو اس کے کارکن بدل دیئے جائیں یا ہٹا دیئے جائیں۔ دنیا میں کوئی تجارتی صیغہ ایسا نہیں ہو گا جو ہمیشہ گھاٹے میں رہے اور اس کا مینیجر ہٹایا نہ جائے۔ اس نقص کو آئندہ دور کرنا چاہئے۔ اور اگر آمد پیدا کرنے والا صیغہ آمد پیدا نہیں کرتا تو کارکنوں کی تنخواہیں کم کر دینی چاہئیں۔ افسر بدل دینے چاہئیں یا کوئی اور صورت جو مناسب ہو اختیار کرنی چاہئے۔
باوجود اس بات کی طرف توجہ دلانے کے میں یہ کہنے سے رک نہیں سکتا کہ یہ باتیں ہماری اصل اغراض نہیں ہیں ہم روپیہ اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ اشاعت سلسلہ ہو۔ اور اس کی غرض دنیا میں قیامِ روحانیت ہے۔ اس لئے میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ دنیا میں ہمارا فرض وہ روح پیدا کرنا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آکر پیش کی ہے کہ مکالمہ و مخاطبہ کبھی دنیا سے بند نہ ہو۔ ہم ایک غیر احمدی کو کہتے ہیں چونکہ تم سے خدا تعالیٰ کا مکالمہ نہیں ہوتا اس لئے تم غلط راستہ پر ہو۔ یہی بات ہم عیسائیوں، یہودیوں اور دیگر تمام مذاہب والوں سے کہتے ہیں لیکن اگر ہماری جماعت کا معتدبہ حصہ ایسا نہ ہو جو مکالمہ و مخاطبہ کا شرف رکھتا ہو تو پھر ہم اپنی صداقت کا دنیا کو کیا ثبوت دے سکتے ہیں اس لئے میں تمام کارکنوں کو اور خاص کر مدارس کے کارکنوں اور پھر خصوصاً مدرسہ احمدیہ کے کارکنوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نئی پود کی ایسی تربیت کریں کہ خدا تعالیٰ سے جو ہمارا تعلق ہے وہ قائم رہے۔ اگر ہم میں ایک ایسی جماعت نہ ہو جو مکالمہ و مخاطبہ کا شرف رکھتی ہو تو کس طرح ہم دنیا کو یہ منوا سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا تعلق اس دنیا میں بھی اپنے پیارے بندوں سے ہو سکتا ہے۔ مگر اس کے متعلق کچھ عرصہ سے سستی پائی جاتی ہے۔ کوئی خاص تحریک تو پہلے بھی نہ تھی۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیکھ کر لوگوں میں خود بخود اس کی خواہش پیدا ہوتی رہتی تھی۔ مگر اب توجہ کم ہے۔ اور اگر یہی حالت رہی اور خدانخواستہ
اس میں ترقی ہوتی گئی تو وہ نہر جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے چلائی تھی، خشک ہو جائے گی اس لئے ضروری ہے کہ ہماری جماعت کے لئے سب سے مقدم بات یہی ہو۔ اور اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ گُر بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی خالص محبت پیدا کی جائے۔ اس سے جو نتیجہ پیدا ہوتا ہے وہ نہ مجاہدات سے اور نہ عبادات سے پیدا ہو سکتا ہے۔ محبت خالص خدا تعالیٰ کو کھینچ لاتی ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے کہ اس کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے بھی اپنے لئے پابندی مقرر کی ہے۔ حالانکہ وہ پابندیوں سے بالا ہے۔ پس تم خدا تعالیٰ کی خالص محبت پیدا کرنے کی کوشش کرو تاکہ تم سے مکالمہ و مخاطبہ بند نہ ہو۔ جوں جوں زمانہ گزر رہا ہے اس کی ضرورت زیادہ بڑھ رہی ہے۔ قادیان والوں کو میں اس کی طرف خاص طور پر توجہ دلاتا ہوں اور خصوصاً بچوں کی اصلاح کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔ ان کے کان بچپن سے ہی اس بات سے آشنا ہونے چاہئیں کہ ہمارا مقصد خدا کو پانا ہے۔ یہ بات اگر بچوں کے دلوں میں ڈال دی جائے اور ہمیشہ ان کے سامنے پیش کی جائے اور صحیح گر انہیں بتائے جائیں تو ہماری جماعت میں مکالمہ و مخاطبہ کا شرف ہمیشہ جاری رہ سکتا ہے۔
پھر میں نے پہلے بھی بتایا تھا اور اب بھی بتاتا ہوں کہ روحانیت کو قائم رکھنے اور مالی مشکلات کو دُور کرنے کے لئے ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ سادہ زندگی بسر کی جائے۔ وہ لوگ جو مال رکھتے ہیں جس طرح چاہیں کریں ہمیں سادہ زندگی بسر کرنی چاہئے اور کام کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔
پھر یہ کام چونکہ سب کے اتحاد سے ہو سکتے ہیں اِس لئے میں سب کو نصیحت کرتا ہوں کہ آپس میں اتحاد اور محبت بڑھانے کی کوشش کریں۔ پھر چونکہ یہ سب باتیں خدا تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہیں اس لئے میں دوستوں سے چاہتا ہوں کہ اپنی اور سب کی روحانی ترقی سلسلہ کے کاموں اور ترقی کے لئے دُعائیں کرتے رہیں۔ اور یہ بھی چاہتا ہوں کہ ہم اس وقت مل کر دعا کریں کہ خدا تعالیٰ صیغوں کا اتحاد بابرکت کرے اور ہمارے لئے اپنے فضل کے دروازے کھلے رکھے اور ان سامانوں کے استعمال کی توفیق دے جو ترقی کے لئے ضروری ہیں اور ان کے نیک نتائج ہمارے لئے اور ہماری نسلوں کے لئے پیدا کرے۔
آمین ثم آمین
(الفضل ۳۱۔ اکتوبر، ۳، ۵، ۷، ۱۰؍ نومبر ۱۹۲۵ء)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
(فرمودہ ۲۶؍دسمبر ۱۹۲۵ء)
دنیا کا ہر ایک کام ہی اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے ہوتا ہے اور ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ ہم اس بات کے قائل نہیں کہ خدا انسان سے جبراً کوئی کام کراتا ہے، پھر بھی یہ اس کی صفات کا عین تقاضا ہے کہ دنیا کا ایک ذرہ بھی اس وقت تک حرکت نہیں کر سکتا جب تک خدا کا اذن نہ ہو۔ اگر کوئی زندہ خدا نہیں ۔ تو پھر کوئی زندہ مذہب بھی نہیں۔ اور اگر زندہ مذہب نہیں تو اس کی خاطر تکلیف برداشت کرنا اموال اور اوقات صرف کرنا بھی عقل کے خلاف ہے۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ زندہ خدا ہے اور اسی کے حکم سے سب کچھ ہوتا ہے اور علاوہ اس کے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے، خدا تعالیٰ کے امر اور اس کے حکم اور اس کے فیصلہ سے ہو رہا ہے۔ ہماری جماعت کے کاموں میں ایک خاص خصوصیت ہے۔ اور وہ یہ کہ ہماری جماعت کے کام تقدیر عام کے ماتحت نہیں بلکہ تقدیر خاص کے ماتحت ہوتے ہیں۔ ہر انسان جو سانس لیتا ہے تقدیر عام کے ماتحت لیتا ہے۔ اسی طرح ہر قوم جو دنیا میں ترقی اور تنزل کرتی ہے تقدیر عام کے ماتحت کرتی ہے۔ مگر ہم جو قدم اٹھاتے ہیں تقدیر خاص کے ماتحت اٹھاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی عام تقدیر اس کی مؤید ہوتی ہے۔ پس میں سالانہ جلسہ کے شروع کرنے سے قبل جس کی بنیاد خدا تعالیٰ کے ارشاد کے ماتحت اس کے مرسل نے رکھی دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمارے تمام کاموں میں برکت دے، ہماری نیتوں میں برکت دے، ہمارے قلوب درست کرے، ہماری کمزوریوں کو معاف کر کے اپنے فضل سے اس کام کو بلند کرے جس کیلئے اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا۔ میں احباب سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ دعا میں شامل ہوں تا کہ جو کام ہم شروع کرنے والے ہیں وہ خدا کا کام ہو نہ کہ ہمارا۔ اور اس کی ابتدا ہمارے نفوس سے نہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ کے اذن سے ہو۔
(اس کے بعد لمبی دعا کی گئی اور پھر حضور نے فرمایا :)
اب پروگرام کے مطابق انشاء اللہ جلسہ کی کارروائی شروع ہو گی مجھے چونکہ اور کام ہے اس لئے میں جاتا ہوں۔ دوستوں کو چاہئے کہ دُور دراز سے ہمت کر کے آئے ہیں تو جلسہ کے اوقات کو ضائع نہ ہونے دیں اور لیکچر دینے والے جو بات کہیں اسے غور سے سنیں کیونکہ جب تک غور سے کوئی بات نہ سنی جائے اس کا فائدہ نہیں ہوتا اور مومن کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ جب اس کے سامنے خدا کی بات کی جائے تو ڈھیلا ہو کر خدا کے حضور گر پڑتا ہے۔ پس احباب ہر ایک بات غور اور توجہ سے سنیں۔
(الفضل ۸؍ جنوری ۱۹۲۶ء)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
(فرمودہ مورخہ ۲۷؍دسمبر ۱۹۲۵ء بموقع جلسہ سالانہ قادیان)
میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں پھر ایک دفعہ اپنے اُس نشان کو پورا کرنے والا قرار دیا جو کہ اس نے اپنے مامور اور مرسل کے لئے دُنیا میں قائم کیا۔ پھر اس نے ہمیں اس بات کی توفیق دی کہ کسی دُنیوی عزت کے لئے نہیں، کسی دنیوی خواہش کے لئے نہیں، کسی مال و دولت کے لئے نہیں، کسی آرام و آسائش کے لئے نہیں، بلکہ صرف اسی کی ذات اور اسی کے ذکر کو بلند کرنے کے لئے اس کے ایمان پر ثبات کے لئے اِس جگہ جمع ہوئے ہیں۔ پھر میں اللہ تعالیٰ سے اس بات کی دُعا کرتا ہوں کہ وہ ہماری نیتوں کو درست کرے اور ہمارے عملوں کو صالح بنائے۔
اِس کے بعد میں اس مضمون کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جسے میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اِس جلسہ میں آپ لوگوں کے سامنے بیان کرنے کا ارادہ کیا ہوا ہے۔ لیکن پیشتر اس کے کہ میں اِس مضمون کو شروع کروں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس مضمون کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ تو چند ایسے امور پر مشتمل ہے جن کی طرف میں جماعت کو سالانہ اجتماع کے موقع پر توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں اور دوسرا حصہ جس کے متعلق ارادہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آج ہی شروع کردوں کیونکہ وہ لمبا ہے وہ علمی مضمون ہے۔ جیسا کہ میں پچھلے سالوں میں بیان کیا کرتا ہوں۔ اس کی حقیقت آگے چل کر بیان کروں گا۔
(اس موقع پر منتظمین جلسہ گاہ نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ لوگ ابھی بہت سے آ رہے ہیں لیکن جلسہ گاہ میں جگہ نہیں ہے لوگوں سے کہا جائے کہ وہ سُکڑ کر بیٹھیں تاکہ جو لوگ باہر ہیں ان کے لئے بھی جگہ نکل سکے۔ اس پر حضور نے فرمایا)۔
اب کے ہم نے بہت وسیع جلسہ گاہ بنائی تھی مگر خدا تعالیٰ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ میں تمہاری اُمید سے بڑھ کر تمہیں سننے والے دیتا ہوں۔ احباب سُکڑ کر بیٹھیں تاکہ جو دوست باہر ہیں وہ بھی آ سکیں مگر شور نہ ہو اور دوست تقریر غور سے سنیں۔ مجھے کھانسی ہے اور کھانسی کی وجہ سے آواز بیٹھ گئی ہے۔ گو مجھے خدا تعالیٰ سے اُمید ہے کہ وہ مجھے توفیق دیگا کہ میں جو کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں وہ دوستوں کو سنا سکوں مگر اسباب کا لحاظ کرنا بھی ضروری ہے پس احباب خاموشی سے بیٹھیں اور جو کچھ سنایا جائے غور سے سنیں۔
سب سے پہلے میں اُن چند غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں جو میری ذات کے متعلق بعض لوگوں میں پیدا ہو گئی ہیں۔ ہمارے بعض دوست جنہیں باہر جانے کا اتفاق ہوتا ہے اُنہوں نے بیان کیا ہے اور بغیر کسی کا نام لئے بیان کیا ہے اور میں نے بھی ضرورت نہیں سمجھی کہ اُن سے نام پوچھوں میری نسبت بعض لوگوں نے کہا ہے کہ وہ خالی بیٹھے رہتے ہیں کام کیا کرتے ہیں۔ ہمیں تو ان کا کوئی کام نظر نہیں آتا۔ ایسے لوگوں کے لئے میں اپنی طبیعت کے برخلاف اپنے کام بیان کرتا ہوں تاکہ جن دوستوں کو اس بارے میں شک ہو اُن کا شک دُور ہو جائے۔ کیونکہ شکوک زہر کی طرح ہوتے ہیں جو عروق میں بیٹھے رہیں تو ہلاکت اور موت کا باعث ہوتے ہیں۔
میں چونکہ قریب کے گذشتہ ایام کی نسبت زیادہ تفصیل سے اپنے کام بتا سکتا ہوں اس لئے انہی کا ذکر کرتا ہوں تاکہ دوستوں کو معلوم ہو جائے کہ جہاں تک میرے نزدیک میری طاقت ہے اس کے مطابق میں کام کر لیتا ہوں گو میں اس کے لئے بھی تیار ہوں کہ اگر کوئی دوست اس سے زیادہ کام کرنے کا طریق بتائیں تو اس پر بھی عمل کروں مگر اب میں جو کام کرتا ہوں ان کی تفصیل یہ ہے کہ میں صبح ناشتہ کے بعد مدرسہ خواتین میں پڑھاتا ہوں۔ یہ ایک نیا مدرسہ قائم کیا گیا ہے جس میں چند تعلیم یافتہ عورتوں کو داخل کیا گیا ہے ان میں میری تینوں بیویاں اور لڑکی بھی شامل ہیں ان کے علاوہ اور بھی ہیں۔ چونکہ ہمیں اعلیٰ تعلیم دینے کے لئے معلم عورتیں نہیں ملتیں اس لئے چلمن ڈال کر عورتوں کو مرد پڑھاتے ہیں آج کل میں ان عورتوں کو عربی پڑھاتا ہوں مولوی شیر علی صاحب انگریزی پڑھاتے ہیں اور ماسٹر محمد طفیل صاحب جغرافیہ۔ سوا گھنٹہ تک میں انہیں پڑھاتا ہوں۔ اصل وقت تو ۴۵ منٹ مقرر ہے مگر سارے استاد اپنا کچھ نہ کچھ وقت بڑھا لیتے ہیں کیونکہ مقررہ وقت کم ہے اور تعلیم زیادہ ہے۔ اس کے بعد اس کمرہ میں جہاں دوست ملاقات کرتے ہیں جاتا ہوں۔ آج کل اس کی شکل اور ہے کیونکہ ملاقات کے لئے جگہ نکالنے کے لئے وہاں سے سامان اٹھا دیا گیا ہے۔ میرے کام کرنے کے ایام میں اس کی یہ شکل ہوتی ہے کہ وہ کتابوں سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ وہاں آکر میرا دفتری کام شروع ہوتا ہے۔ اس جگہ سوا نو بجے کے قریب آتا ہوں۔ اس وقت میں سلسلہ کے انتظامی کاموں اور کاغذات اور سکیموں کا مطالعہ کرتا ہوں۔ اسی دوران میں دس بجے کے قریب ڈاک آجاتی ہے جس میں روزانہ ساٹھ، ستر، اسی، سو، سوا سو خطوط ہوتے ہیں جو کم از کم دو اڑھائی گھنٹہ کا کام ہوتا ہے۔ اس لئے اس کام سے مجھے ساڑھے بارہ بجے یا ایک بجے فراغت ہوتی ہے۔ اس کے بعد میں کھانا کھانے جاتا ہوں پھر نماز ظہر کے لئے جاتا ہوں۔ نماز پڑھانے کے بعد پھر آکر سلسلہ کے کام جو سلسلہ سے تعلق رکھتے ہیں یا دفاتر کے کاغذات پڑھنے یا تدابیر سوچنے یا بعض علمی مضامین کے لئے مطالعہ کرتا ہوں کیونکہ کئی کتابیں میں نے لکھنی شروع کی ہوئی ہیں۔ اس کے بعد پھر عصر کی نماز کے لئے جاتا ہوں۔ نماز پڑھانے کے بعد وہاں کچھ دیر دوستوں کے لئے بیٹھتا ہوں اور اگر درس ہو تو درس کے لئے چلا جاتا ہوں یا بیٹھ کر خطوط کے جواب لکھاتا ہوں کہ مغرب کی نماز کا وقت ہو جاتا ہے۔ وہ پڑھاتا ہوں اور اس کے بعد کھانا کھا کر عشاء کی نماز تک مطالعہ کرتا ہوں اور پھر عشاء کی نماز کے بعد کام کے لئے اسی کمرہ میں چلا جاتا ہوں جہاں
بجے سے ۱۲؍بجے رات تک ترجمہ قرآن کریم کا کام کرتا ہوں۔ پھر علمی شوق کے لئے ذاتی مطالعہ کرتا ہوں مگر اس کا فائدہ بھی جماعت کو ہی پہنچتا ہے۔ ساڑھے بارہ بجے یا ایک بجے تک یہ مطالعہ کرتا ہوں۔ اس کے بعد جب بستر پر لیٹتا ہوں تو تھکان کیوجہ سے نیند نہیں آتی۔ آنکھوں کے سامنے چیزیں ہلتی ہوئی نظر آتی ہیں کیونکہ تھکان کی وجہ سے اعصاب کانپ رہے ہوتے ہیں اسی حالت میں نیند آجاتی ہے۔ پھر صبح کی نماز کے بعد کام کا یہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
یہ میرا کام ہے جو پچھلے تین چار ماہ سے ہو رہا ہے۔ اسی کام کے دوران میں ہستی باری تعالیٰ کے متعلق جو میں نے ایک جلسہ کے موقع پر تقریر کی تھی اسے قریباً قریباً دوبارہ لکھا ہے۔ اسے دو تین بجے رات تک لکھتا رہتا تھا۔ ان حالات میں جہاں تک میں سمجھتا ہوں میرے وقت میں سے کوئی وقت ایسا نہیں بچتا جب مجھے فراغت ہو۔ کھانا کھاتے ہوئے بھی میں سلسلہ کے متعلق تجاویز اور اہم معاملات پر غور کر رہا ہوتا ہوں اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کھانا کھاتے ہوئے بیویاں یہ سمجھ کر کوئی بات دریافت کرلیں کہ اب یہ فارغ ہے تو باوجود اس طرزِ کی ناپسندیدگی کے مجھے انہیں خشک جواب دینا پڑتا ہے کہ کیا تم میرے چہرہ سے یہ معلوم نہیں کر سکتیں کہ کسی امر کے متعلق غور و فکر کر رہا ہوں تو بسا اوقات کھانا کھانے کے وقت بھی مجھے غور اور فکر میں ہی مشغول رہنا پڑتا ہے۔ گو طبیب اور حکیم کہتے ہیں کہ اس طرح کھانا کھانے سے کھانا اچھی طرح ہضم نہیں ہوتا مگر جب کسی کو کسی بڑے کام کی فکر لگی ہوئی ہو تو پھر اُسے حکیم کا مشورہ نہیں سوجھتا۔
مجھے اپنے متعلق یہ خیال سن کر کہ میں کیا کام کرتا ہوں اُس ہر دلعزیز کی مثال یاد آگئی جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کہیں گدھا لے کر جا رہا تھا ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا۔ راستہ میں انہیں کچھ آدمی ملے جنہوں نے کہا کیسے بیوقوف ہیں پیدل جا رہے ہیں اور گدھا خالی ہے۔ سوار کیوں نہیں ہو جاتے۔ یہ سن کر باپ گدھے پر سوار ہو گیا۔ کچھ دُور جانے کے بعد کچھ اور آدمی ملے جنہوں نے کہا کہ آج کل خون سفید ہو گئے ہیں دیکھو بیٹا تو پیدل جا رہا ہے اور باپ سوار ہے۔ یہ سن کر باپ اُتر بیٹھا اور بیٹے کو چڑھا دیا۔ تھوڑی دُور پر اور آدمی ملے جنہوں نے کہا دیکھو بڑھا تو پیدل جا رہا ہے اور ہٹا کٹا جوان سوار ہے۔ یہ سن کر دونوں نے مشورہ کیا کہ باپ بیٹھتا ہے تو بھی اعتراض ہوتا ہے بیٹا بیٹھتا ہے تو بھی اعتراض ہوتا ہے اب یہی تدبیر ہے کہ دونوں بیٹھ جائیں یہ مشورہ کر کے دونوں گدھے پر بیٹھ گئے۔ آگے چلے تو کچھ اور لوگ ملے انہوں نے کہا شرم نہیں آتی ایک بے زبان جانور پر ہر دو آدمی سوار بیٹھے ہیں۔ یہ سن کر وہ دونوں اُتر بیٹھے اور مشورہ کرنے لگے کہ پچھلی سب صورتیں قابلِ اعتراض تھیں اب کیا کیا جائے۔ آخر سوچ کر سوا اس کے کوئی تدبیر نظر نہ آئی کہ دونوں مل کر گدھے کو اٹھا لیں۔ آخر اسی طرح کیا مگر گدھے نے لاتیں مارنی شروع کیں اور ایک پُل پر الٹ کر گر گیا اور ہلاک ہو گیا اور باپ بیٹا ہر دلعزیزی کی خواہش پر افسوس کرتے ہوئے گھر واپس آگئے۔ اس خیال کا مطلب یہ ہے کہ انسان خواہ کچھ کرے اس پر اعتراض ضرور ہوتا رہتا ہے۔
ہماری جماعت میں ایک تو وہ لوگ ہیں جو رات اور دن کہتے رہتے ہیں کہ آپ ہر وقت کام میں لگے رہتے ہیں کسی وقت کام نہیں چھوڑتے اور ایک وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ کام ہی کیا کرتے ہیں ہمیں تو کوئی کام نظر نہیں آتا اگر نظر نہ آنے والوں کی بات سچی ہے اور یہ بیکار بیٹھنے کی علامت ہے تو اللہ تعالیٰ تو کچھ نہ کرتا ہو گا کیونکہ وہ کسی کو کام کرتا نظر نہیں آتا۔ کام کئی قسم کے ہوتے ہیں کچھ دماغی کام ہوتے ہیں اور کچھ جسمانی۔ ایک شخص جو قوم کے غم میں دن رات تدبیریں سوچتا رہتا ہے دیکھنے والا تو اس کے متعلق یہی کہے گا کہ نکما بیٹھا رہتا ہے۔ مگر کیا کوئی عقلند بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ ایک ٹوکری ڈھونے والا تو کام کرتا ہے مگر دماغی کام کرنے والا نکما بیٹھا رہتا ہے۔ دماغی فکر تو وہ چیز ہے جو ایک دن رات میں انسان کو بوڑھا کر دیتی ہے مگر جسمانی کام انسان کو اور زیادہ طاقتور بناتا ہے حالانکہ دماغی کام نظر نہیں آتا اور جسمانی کام نظر آتا ہے۔ دماغی کام پاس بیٹھنے اور ساتھ رہنے سے معلوم ہو سکتے ہیں۔ جب میں گذشتہ سال ولایت گیا تو کئی انگریز بھی جو ملنے کے لئے آتے گو وہ مسلمان نہ تھے وہ مجھے کام میں مشغول دیکھ کر مشورہ دیتے کہ اس طرح صحت خراب ہو جائے گی آپ کچھ آرام بھی کیا کریں۔ حقیقتِ حال انسان کو ملنے سے ہی معلوم ہو سکتی ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔ خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِاَهْلِيْكُمْ۔ جس سے ظاہر ہے کہ بیوی کی گواہی خاوند کے متعلق بہت وزن رکھتی ہے۔ اس لئے مسلمان حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی گواہی رسول کریم ﷺ کے متعلق پیش کیا کرتے ہیں۔
ابھی چند دن ہوئے ایک مبلغ کے متعلق میرے پاس شکایت پہنچی کہ اس نے یہ یہ باتیں کہیں ہیں۔ اس پر جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا اور باتیں تو غلط ہیں البتہ یہ میں نے کہا ہے کہ جو آدمی ان کے ساتھ رہے اُس سے کام اس سختی سے لیتے ہیں کہ وہ تنگ ہو جاتا ہے۔ پس میرے کام کا اندازہ ساتھ کام کرنے والے کر سکتے ہیں۔
مجھے خدا تعالیٰ نے ایسی عادت ڈالی ہے کہ مجھے بچپن میں بھی مطالعہ کا شوق تھا۔ بچپن سے
میری مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد کا زمانہ ہے۔ میری صحت اس عادت کی وجہ سے اس قدر کمزور ہو گئی تھی کہ ایک دن حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب سے اس کے متعلق مشورہ کیا اور مجھ سے فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ کم سے کم سات گھنٹے ان کو متواتر سونا چاہئے ورنہ صحت خراب ہو جائے گی اور پھر سخت تاکید کی کہ سات گھنٹے متواتر سویا کرو ورنہ صحت زیادہ بگڑ جائے گی اور فرمایا یاد رکھو جو طبیب کا حکم نہ مانے وہ نقصان اٹھاتا ہے تم اس حکم کی پابندی کرو۔ مگر باوجود اس کے سوائے سخت بیماری کے ایام کے میری نیند ساڑھے چار گھنٹہ سے چھ گھنٹہ تک ہوتی ہے اسی وجہ سے اب اعصابی کمزوری اس قدر بڑھ گئی ہے کہ جو لوگ میرے پیچھے نماز پڑھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ سورتیں جو میں روزانہ پڑھتا ہوں بعض اوقات وہ بھی بھول جاتا ہوں اور نظر اس قدر کمزور ہو گئی ہے کہ بعض اوقات آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جاتا ہے لیکن باوجود صحت کی یہ حالت ہونے کے میں دن رات اس طرح کام کرتا ہوں جو میں نے بتایا ہے اور چونکہ اس قسم کے خیالات دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں اس لئے میں نے ان کا ازالہ ضروری سمجھا ہے۔ یہی دیکھ لو جو دوست جلسہ پر آتے ہیں وہ تو سمجھتے ہوں گے کہ میں نے دو دن لیکچر دیا تو یہ کونسا بڑا کام ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ اس لیکچر کے لئے مجھے کس قدر مطالعہ کرنا پڑتا ہے۔ جو مسئلہ میں بیان کرتا ہوں اس کے متعلق مختلف مذاہب کے لوگوں کے خیالات معلوم کرنے کے لئے مجھے بہت کچھ ورق گردانی کرنی پڑتی ہے۔ یہی لیکچر جو میں آج دینا چاہتا ہوں اس کی تیاری کے لئے میں نے کم از کم بارہ سو صفحے پڑھے ہوں گے۔ ان میں سے میں نے بہت ہی کم کوئی بات بطور سند کے لی ہے اور یہ صفحات میں نے محض خیالات کا موازنہ کرنے کے لئے پڑھے ہیں۔ یہ درست ہے کہ میرے دماغ میں جو باتیں آتی ہیں محض خدا کے فضل سے آتی ہیں۔ مگر خدا کے فضل کے جاذب بھی ہونے چاہئیں اور اس کے لئے فکر کی ضرورت ہوتی ہے، مطالعہ کی ضرورت ہوتی ہے، مراقبہ کی ضرورت ہوتی ہے پس یہ لیکچر ایک دن کی تقریر نہیں ہوتی بلکہ لمبے غور، لمبے فکر اور لمبے مطالعہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پھر جلسہ کی تقریریں یونہی چھپ نہیں جاتیں۔ تقریریں لکھنے والا ساری تقریریں مکمل طور پر نہیں لکھ سکتا اسے صاف کر کے لکھنے میں مہینہ کے قریب عرصہ لگ جاتا ہے اور پھر مجھے اس کی لکھی ہوئی تقریروں کی اصلاح کرنی پڑتی ہے تاکہ جس ترتیب سے مضمون بیان کیا جاتا ہے وہی قائم رہے۔
اس کے بعد میں ایک اور بات کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ
میں بہت کم لوگوں کو ملاقات کا موقع دیتا ہوں۔ میں نے پچھلے جلسوں میں سے کسی میں بیان کیا تھا کہ ملاقات اپنے اندر بہت سے فوائد رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جلسہ کے موقع پر باوجود بہت سا کام ہونے کے میں دوستوں کو ملاقات کا وقت دیتا ہوں کیونکہ جو لوگ اس طرح الگ ملتے ہیں ان میں بعض کی ایک سال، بعض کی دوسرے سال اور بعض کی تیسرے سال واقفیت ہو جاتی ہے۔ اور اب میں اپنی جماعت کے ہزاروں آدمیوں کی پہچان رکھتا اور انہیں پہچان سکتا ہوں۔ اس ملاقات کے علاوہ بھی میں دوستوں کو علیحدہ ملاقات کا موقع دیتا رہتا ہوں۔ لیکن الگ ملنا تبھی ضروری ہو سکتا ہے جبکہ خاص طور پر اس کی ضرورت بھی ہو اور کوئی ایسی بات کرنی ہو جو مجلس میں نہ کی جا سکتی ہو۔ مگر بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ دوست آتے ہیں اور الگ ملنا چاہتے ہیں لیکن جب علیحدہ ملاقات کا موقع دیا جاتا ہے تو کہتے ہیں مجھے اپنے لئے دُعا کے لئے کہنا تھا حالانکہ یہ بات وہ مجلس میں بھی کہہ سکتے تھے مگر اس کے لئے میرے وقت میں سے پندرہ بیس منٹ خرچ کرا دیتے ہیں۔ میں نے اپنے جو کام پہلے بتائے ہیں ان میں دوستوں سے ملاقات کا وقت بھی ہوتا ہے۔ اور جو دوست کسی ضروری کام کے لئے علیحدہ ملنے کی درخواست کرتے ہیں انہیں میں علیحدہ ملنے کے لئے وقت دیتا ہوں۔ مگر میں نے چونکہ پچھلے تجربہ سے دیکھ لیا ہے کہ عام طور پر علیحدہ ملاقات کا وقت مقرر کر کے ایسی باتیں کہتے ہیں جو عام مجلس میں بھی کی جا سکتی ہیں اس لئے اب جو شخص علیحدہ ملاقات کے لئے کہتا ہے اس کے متعلق میں اپنے سیکرٹری سے کہتا ہوں کہ پوچھ لو کہ آیا ایسا ضروری کام ہے جو علیحدگی میں ہی کیا جا سکتا ہے اور جب ایسا ہوتا ہے میں وقت دے دیتا ہوں۔ میں نے اپنے جو کام بتائے ہیں ان سے احباب اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میرا کوئی وقت فارغ نہیں ہے۔ دن رات کے ۲۴ گھنٹے مجھے مصروف رہنا پڑتا ہے۔ اب یہ تو میرے لئے ناممکن ہے کہ میں دن رات کے ۴۸ گھنٹے بنالوں۔ پھر میں یہ تو کر سکتا ہوں کہ حوائج ضروریہ مثلاً کھانا، پینا، پیشاب، پاخانہ، سونا وغیرہ میں تھوڑے سے تھوڑا وقت خرچ کروں مگر میں ان ضرورتوں کو بند نہیں کر سکتا ان حالات میں اگر میں بغیر ضرورت کے علیحدہ وقت ملاقات کے لئے دوں تو اس سے دوسرے کاموں میں حرج واقعہ ہو گا۔ بعض دفعہ میں نے دیکھا ہے کوئی دوست ملنے کے لئے آئے تو میرا ہاتھ پکڑ کر پندرہ پندرہ بیس بیس منٹ یہی کہتے جاتے ہیں کہ میرے لئے ضرور دُعا کرنا۔ چونکہ میں ہر بار ان کے جواب میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ضرور دُعا کروں گا اس لئے کسی کسی وقت کہہ دیتا ہوں ہاں ضرور کروں گا اور پھر خاموش ان کی بات سنتا رہتا ہوں۔ میں اِس طریق کو روکنا چاہتا ہوں اور یہ بھی آپ ہی لوگوں کے فائدہ کے لئے تا کہ میں اپنا وقت ضروری کاموں میں لگا سکوں۔ اس طریق کی بجائے اگر کوئی صاحب میرا زیادہ وقت لئے بغیر دُعا کے لئے کہیں تو مجھے اُن کی طرف زیادہ توجہ پیدا ہو کیونکہ میں سمجھوں کہ ان کو میرے وقت کی قدر ہے۔ لیکن جو لوگ دیر تک ہاتھ پکڑے رکھتے ہیں اُن کے سامنے میں بظاہر تو بشاشت قائم رکھتا ہوں لیکن میرا دل تلملا رہا ہوتا ہے کہ ان کی وجہ سے میرے فلاں کام میں حرج ہو رہا ہے۔ اس طریق سے ملاقات کرنے والوں کو میں روکنا چاہتا ہوں لیکن اگر کسی کو ضروری کام ہو تو اس سے میں دن رات میں ہر وقت ملنے کے لئے تیار ہوں۔ میں ملاقات کو نہایت ضروری سمجھتا ہوں اور جس طرح میں انکو غلطی پر سمجھتا ہوں جو بلا ضرورت اور بلاوجہ میرا وقت صرف کرتے ہیں اسی طرح میں اُن کو بھی غلطی پر سمجھتا ہوں جو یہ کہتے ہیں کہ ملنا ہی نہیں چاہئے۔ جب بھی موقع ملے یہاں ضرور آنا چاہئے اور مجھ سے ملنا چاہئے۔ ہاں اگر کوئی ایسی بات کرنی ہو جو مجلس میں نہ کی جا سکتی ہو۔ مثلاً کوئی ایسی بیماری ہو یا اپنے خاص حالات ہوں یا کوئی اور ایسی ہی بات ہو تو اس کے لئے میں علیحدہ ملنے کے واسطے بھی تیار ہوں اب تو بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کئی دوست بعض سوالات لکھ کر لاتے ہیں اور انکے متعلق علیحدہ پوچھتے ہیں۔ اُس وقت مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ اگر یہی سوال مجلسِ عام میں پوچھتے تو اوروں کو بھی فائدہ ہوتا۔ مثلاً یہی سوال کہ نماز میں توجہ کیونکر قائم رہ سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب اور لوگوں کو بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ مگر پوچھنے والے صاحب علیحدہ وقت لے کر پوچھتے ہیں اور عام لوگوں کو اس کے فائدہ سے محروم رکھتے ہیں۔ اِس قسم کی علیحدہ ملاقات کرنے والوں کو روکنا چاہتا ہوں ورنہ ملاقات کا حکم تو قرآن مجید میں بھی موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ(9:119)۷؎ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے سچا تعلق رکھتے ہیں ان سے ملتے رہا کرو۔ پس ملاقات ضروری ہے اور اس قدر ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے جو لوگ ہمارے پاس نہیں آتے اُن کے ایمان کا خطرہ ہے۔ ۸؎بعض لوگ ایسے ہیں جو یہاں آتے تو ہیں لیکن مجلس میں دوسروں کے پیچھے بیٹھے رہتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں وہ سمجھتے ہیں میں اُن کو دیکھ رہا ہوتا ہوں لیکن ہمارے خاندان کے لوگوں کی آنکھیں اس قسم کی ہیں کہ اُوپر کو زیادہ نہیں کھل سکتیں۔ ان کے اوپر گوشت زیادہ ہے۔ جس کی وجہ سے نیچے جھکی رہتی ہیں اور اگر زیادہ کھولیں تو درد ہونے لگتا ہے۔ پس جو دوست یہاں آئیں اُنہیں میں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ مجھے ملیں اور انہیں یہ بھی بتانا چاہئے کہ وہ کب تک رہیں گے اور اپنے اور اپنی جگہ کے حالات سے اطلاع دینی چاہئے اس طرح اُن کی طرف خاص توجہ کرنے کا موقع ملتا ہے اور اُن کے لئے دُعا کی طرف توجہ ہوتی ہے۔
اِس کے بعد میں ایک اَور شبہ کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں۔ بعض دوستوں کا یہ خیال بیان کیا گیا ہے کہ دُعا کے لئے لکھنے کا کیا فائدہ ہے اور وہ اتنے لوگوں کے لئے کہاں دُعا کرتے ہوں گے۔
اِس میں شبہ نہیں کہ اگر کسی کو یہ خیال ہو کہ جس دوست کی دُعا کے لئے چٹھی آئے اُس کے لئے میں آدھ گھنٹہ یا گھنٹہ الگ بیٹھ کر دُعا کرتا ہوں تو یہ درست نہیں۔ میں نہ اِس طرح کرتا ہوں اور نہ کر سکتا ہوں۔ سو کے قریب روزانہ قادیان کے رُقعے ملا کر دُعا کی درخواستیں ہوتی ہیں اور بعض اِس قسم کے خطوط لکھتے ہیں کہ ہمارے لئے دُعا کرتے رہنا۔ ان کو بھی اگر ملا لیا جائے تو یہ تعداد اَور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ان کے لئے اگر ایک ایک منٹ بھی علیحدہ دُعا کے لئے رکھا جائے اور پھر اسلام کی ضروریات کو شامل کیا جائے تو تین چار گھنٹے صرف ایک وقت کی دُعا کے لئے چاہئے ہوتے ہیں اس لئے میں اسی طرح کرتا ہوں جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا کرتے تھے۔ آپ کا قاعدہ تھا کہ خط پڑھتے جاتے اور ساتھ ساتھ دُعا بھی کرتے جاتے۔ میں بھی اسی طرح کرتا ہوں۔ اس وجہ سے خط بھی خاص توجہ سے پڑھا جاتا ہے اور اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک خط سیکرٹری کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور وہ مجھے سنا رہا ہوتا ہے لیکن میں کہتا ہوں اِس میں یہ نہیں بلکہ یہ لکھا ہے اور میری ہی بات درست نکلتی ہے۔ غرض دُعا کی وجہ سے میں خط پڑھنے میں پوری توجہ دیتا ہوں اور خط کا سارا مضمون میرے ذہن نشین ہو جاتا ہے۔ ایک تو اس طرح دُعا کرتا ہوں۔ دوسرے یہ طریق میں نے رکھا ہے کہ نوافل میں دعا کرتا ہوں اور پچھلے دنوں سے تو جماعت کی ترقی اور مشکلات کے ازالہ کے لئے ہر فرض نماز میں دعا کرتا ہوں۔ اس دعا میں علاوہ اس کے کہ رسول کریم ﷺ پر درود پڑھتا ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی درود بھیجتا ہوں۔ ان کے درجات کی بلندی کے لئے دُعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کی بعثت کے اغراض کو ہمارے ذریعہ سے پورا کرے۔ ان کے نہ ماننے والوں اور اعتراض کرنے والوں کو سمجھ دے، سلسلہ کی مشکلات اور تکالیف کو دُور کرے اور ترقی کے سامان پیدا کرے۔ پھر جب سے کابل کے واقعاتِ شہادت ہوئے ہیں روزانہ یہ بھی دُعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمارے وہاں کے بھائیوں کی مدد اور نصرت فرمائے اور انہیں دشمنوں کے ہر شر سے محفوظ رکھے۔ پھر یہ دُعا بھی کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اِسلام کی صداقت کو مشرق اور مغرب میں پھیلائے اور سب انسانوں کو اسلام میں داخل کرے۔ پھر ساری جماعت کے لئے دُعا کرتا ہوں۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جماعت کی مالی، جسمانی، اخلاقی، علمی، روحانی ہر قسم کی روکوں کو دُور کر کے ان تمام اقسام میں ترقی کے سامان پیدا کرے۔ پھر سلسلہ کے جو اہم کام ہوتے ہیں ان کے لئے دُعا کرتا ہوں۔ پھر یہ دُعا کرتا ہوں کہ جنہوں نے مجھے دُعا کے لئے لکھا ہے اللہ تعالیٰ ان کے دُکھ اور تکالیف دُور کر کے اُن کے لئے راحت کے راستے کھول دے۔ اس وقت وہ لوگ جن کی مشکلات کا میرے دل پر خاص اثر ہوتا ہے ان کے نام لے کر ان کے لئے دُعا کرتا ہوں۔
پھر یہ دُعا کرتا ہوں کہ الٰہی! ہماری موجودہ جماعت پر ہی فضل نہ فرما بلکہ اس کی اولاد پر بھی فضل فرما۔ پھر سلسلہ کے کارکنوں کے لئے دُعا کرتا ہوں کہ اُنہیں اپنے فرائض کی ادائیگی کی سمجھ عطا فرما، اپنے فضلوں کا وارث بنا، لوگوں سے ہمدردی اور تعاون کا طریق سکھا، جماعت کا ان کے ساتھ تعاون اور ہمدردی ہو۔
پھر وہ دوست جو تبلیغ کے لئے گئے ہوئے ہیں اُن کے لئے اور اُنکے گھر والوں کے لئے دُعا کرتا ہوں۔ پھر جو مصائب میں مبتلا ہیں اُن کے لئے دُعا کرتا ہوں۔ یہ دعائیں پانچوں وقت بلاناغہ علاوہ نوافل کے فرض نمازوں میں کرتا ہوں۔ اب بھی اگر کوئی کہے کہ میں جماعت کے لئے دعائیں نہیں کرتا تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی دن کے وقت کہے سورج نہیں نکلا ہوا۔ میں جس طرح دعا کرتا ہوں ۹۰ فیصدی ایسے لوگ ہوں گے جو خود بھی اپنے لئے اس طرح دُعائیں نہ کرتے ہوں گے۔
ایک اور خیال مجھے بتایا گیا ہے اور یہ کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ خلیفہ سے چونکہ اختلاف جائز ہے اس لئے ہمیں ان سے فلاں فلاں بات میں اختلاف ہے۔ میں نے ہی پہلے اس بات کو پیش کیا تھا اور میں اب بھی پیش کرتا ہوں کہ خلیفہ سے اختلاف جائز ہے۔ مگر ہر بات کا ایک مفہوم ہوتا ہے۔ اس سے بڑھنا دانائی اور عقلمندی کی علامت نہیں ہے۔ دیکھو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ڈاکٹر کی ہر رائے درست ہوتی ہے ہرگز نہیں۔ ڈاکٹر بیسیوں دفعہ غلطی کرتے ہیں مگر باوجود اس کے کوئی یہ نہیں کہتا کہ چونکہ ڈاکٹر کی رائے بھی غلط ہوتی ہے اس لئے ہم اپنا نسخہ آپ تجویز کریں گے، کیوں؟ اس لئے کہ ڈاکٹر نے ڈاکٹری کا کام باقاعدہ طور پر سیکھا ہے اور اس کی رائے ہم سے اعلیٰ ہے۔ اسی طرح وکیل بیسیوں دفعہ غلطی کر جاتے ہیں مگر مقدمات میں انہی کی رائے کو وُقعت دی جاتی ہے۔ اور جو شخص کوئی کام زیادہ جانتا ہے اس میں اس کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے۔ پس اختلاف کی بھی کوئی حد بندی ہونی چاہئے۔ ایک شخص جو خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے اُسے سمجھنا چاہئے کہ خلفاء خدا مقرر کرتا ہے اور خلیفہ کا کام دن رات لوگوں کی راہنمائی اور دینی مسائل میں غور و فکر
ہوتا ہے۔ اس کی رائے کا دینی مسائل میں احترام ضروری ہے اور اسکی رائے سے اختلاف اُسی وقت جائز ہو سکتا ہے جب اختلاف کرنے والے کو ایک اور ایک دو کی طرح یقین ہو جائے کہ جو بات وہ کہتا ہے وہی درست ہے۔ پھر یہ بھی شرط ہے کہ پہلے وہ اس اختلاف کو خلیفہ کے سامنے پیش کرے اور بتائے کہ فلاں بات کے متعلق مجھے یہ شبہ ہے اور خلیفہ سے وہ شبہ دُور کرائے۔ جس طرح ڈاکٹر کو بھی مریض کہہ دیا کرتا ہے کہ مجھے یہ تکلیف ہے آپ بیماری کے متعلق مزید غور کریں۔ پس اختلاف کرنے والے کا فرض ہے کہ جس بات میں اُسے اختلاف ہو اُسے خلیفہ کے سامنے پیش کرے نہ کہ خود ہی اس کی اشاعت شروع کر دے۔ ورنہ اگر یہ بات جائز قرار دی جائے کہ جو بات کسی کے دل میں آئے وہی بیان کرنی شروع کر دے تو پھر اسلام کا کچھ بھی باقی نہ رہے۔ کیونکہ ہر شخص میں صحیح فیصلہ کی طاقت نہیں ہوتی۔ ورنہ قرآن شریف میں یہ نہ آتا کہ جب امن یا خوف کی کوئی بات سنو تو اُولِی الْاَمْرِ کے پاس لے جاؤ۔ ۵؎ کیا اُولِی الْاَمْرِ غلطی نہیں کرتے؟ کرتے ہیں مگر ان کی رائے کو احترام بخشا گیا ہے اور جب ان کی رائے کا احترام کیا گیا ہے تو خلفاء کی رائے کا احترام کیوں نہ ہو۔ ہر شخص اس قابل نہیں ہوتا کہ ہر بات کے متعلق صحیح نتیجہ پر پہنچ سکے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر کوئی شخص تقویٰ کے لئے سو بیویاں بھی کر لے تو اس کے لئے جائز ہیں۔ ایک شخص نے یہ بات سن کر دوسرے لوگوں میں آکر بیان کیا کہ اب چار بیویاں کرنے کی حد نہ رہی سو تک انسان کر سکتا ہے اور یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمادی ہے۔ آپ سے جب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا میری تو اس سے یہ مراد تھی کہ اگر کسی کی بیویاں مرتی جائیں تو خواہ اس کی عمر کوئی ہو تقویٰ کے لئے شادیاں کر سکتا ہے۔
پس ہر شخص ہر بات کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکتا اور جماعت کے اتحاد کے لئے ضروری ہے کہ اگر کسی کو کسی بات میں اختلاف ہو تو اُسے خلیفہ کے سامنے پیش کرے۔ اگر کوئی شخص اس طرح نہیں کرتا اور اختلاف کو اپنے دل میں جگہ دیکر عام لوگوں میں پھیلاتا ہے تو وہ بغاوت کرتا ہے اسے اپنی اصلاح کرنی چاہئے۔
اس کے بعد میں ایک اور نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ حقہ بہت بری چیز ہے۔ ہماری جماعت کے لوگوں کو یہ چھوڑ دینا چاہئے۔ بعض لوگوں نے مجھے کہا ہے ہم نے ایسے ملہم دیکھے ہیں جو حقہ پیتے تھے اور اُن کو الہام ہوتا تھا۔ اس کے متعلق مجھے ایک لطیفہ یاد آگیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرمایا کرتے تھے کہ کچھ بنیئے بیٹھے یہ کہہ رہے تھے کہ اگر کوئی ایک پاؤ تِل کھائے تو اُسے پانچ روپے انعام دیا جائے گا۔ پاس سے ایک زمیندار گزرا اُس نے یہ سن کر پنجابی میں کہا سلیاں سمیت کہ اینویں ۔ یعنی اُن شاخوں سمیت تِل کھانے ہیں جن میں وہ پیدا ہوتے ہیں یا ان کے بغیر کیونکہ اس نے سمجھا ایک پاؤ تِل کھانا کونسی بڑی بات ہے جس پر انعام مل سکتا ہے۔ بنیئے کہنے لگے کہ تم جاؤ ہم تمہاری بات نہیں کرتے۔ تو طبائع میں اختلاف ہوتا ہے ایک شخص کے نزدیک جو بات بڑی ہوتی ہے دوسرا اُسے معمولی سمجھتا ہے۔ اگر ہم یہ تسلیم بھی کرلیں کہ حُقّہ پینے والے کو خدائی الہام ہوتے ہیں تو کہنا پڑے گا کہ وہ الہام اعلیٰ درجہ کے نہ ہوں گے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ لہسن کھا کر مسجد میں نہ آؤ اس کی بدبُو کی وجہ سے فرشتے نہیں آتے۔لئے پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچا لہسن رکھا گیا تو آپ نے نہ کھایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم بھی نہ کھائیں۔ فرمایا۔ تم سے خدا کلام نہیں کرتا تم کھا سکتے ہو۔لے ان حدیثوں کے ہوتے ہوئے کس طرح مان لیں کہ حُقّہ پینے والے کے پاس فرشتے آتے ہیں جبکہ حُقّہ کی بدبو لہسن سے بھی زیادہ خراب ہوتی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حُقّہ سے کم بدبُو والی چیز کے متعلق فرماتے ہیں کہ میں اسے استعمال نہیں کرتا کیونکہ میرے پاس فرشتے آتے ہیں۔ پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر احتیاط کرتے تھے تو جو شخص الہام کا مدعی ہے یا جسے خواہش ہے کہ اُسے الہام ہو اُسے بھی حُقّہ سے بچنا چاہئے۔ اور میں اس کی شکل دیکھنا چاہتا ہوں جو یہ کہے کہ مجھے الہام کی خواہش نہیں۔ اگر کوئی ایسا شخص نہیں تو پھر کسی کو حُقّہ بھی نہیں پینا چاہئے۔
پھر میں کہتا ہوں ممکن ہے ایسے شخص کو الہام ہو بھی جائے۔ مگر اعلیٰ درجہ کے الہام نہیں ہوں گے اور ہم کہیں گے اگر وہ حُقّہ نہ پیتا تو اس سے اعلیٰ الہام اسے ہوتا جیسا کہ حُقّہ پینے کی عادت رکھتے ہوئے اُسے ہوا۔ اس کے پاس ادنیٰ فرشتے آجاتے ہوں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے بعض اوقات کنجنی کو بھی الہام ہو جاتا ہے۔۵ وہاں فرشتے جاتے ہیں یا نہیں؟ اسی قسم کے فرشتے حُقّہ پینے والے کے پاس آجاتے ہونگے۔ پس اگر کسی حُقّہ پینے والے کو الہام ہوتا ہے تو ہم کہتے ہیں یہ اس کے لئے خوشی کی بات نہیں لیکن اگر وہ حُقّہ پینا چھوڑ دیتا تو اس کے پاس اعلیٰ درجہ کے فرشتے آتے۔
اس کے بعد میں ایک دوست کی عزت اور احترام کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ گزشتہ مجلسِ مشاورت میں ایک سوال اُٹھایا گیا تھا جو ایڈیٹر صاحب ”نور“ کے متعلق تھا۔ خیال کیا گیا تھا کہ ان کے ایماء سے وہ بات سوال کرنے والے نے اٹھائی ہے۔ اس کے متعلق میں نے اگر کی شرط لگا کر کہا تھا کہ اگر انہوں نے ایسا کیا ہے تو غلطی کی ہے۔ مگر بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا اس لئے جب رپورٹ شائع ہوئی تو اس میں سے وہ حصہ کاٹ دیا گیا تھا مگر افسوس ہے کہ ایڈیٹر صاحب فاروق نے اس ذکر کو شائع کر دیا۔ مجھے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ فاروق کے متعلق وہ باتیں کہی تھیں۔ گویا فاروق کی طرف سے میں نے بدلہ لے لیا تھا۔ مگر ”فاروق“ نے اسے کافی نہ سمجھا۔ میں نے اس وقت فاروق کی ممکن سے ممکن حمایت کی تھی مگر ایڈیٹر صاحب فاروق نے اس پر صبر نہ کیا اور ایک بھائی کے خلاف خود قلم چلایا۔ چونکہ اس امر کو اخبار میں شائع کیا گیا ہے اس لئے اس کا ذبت بھی مجلس میں ہی کرتا ہوں۔ یہ اگر کسی کو بڑا لگے تو وہ اپنے نفس پر افسوس کرے جس نے اس سے ایسا فعل کرایا☆۔
اب میں جماعت کی مالی حالت کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ ہمارے سلسلہ کی مالی حالت ان دنوں نہایت کمزور ہے۔ ہمارے دوستوں سے جس قدر ممکن ہو سکتا ہے مدد کرتے ہیں مگر باوجود اس کے ہماری ضروریات پوری نہیں ہوتیں۔ ہماری ضروریات سے مراد میری ذاتی ضروریات نہیں۔ ان ہماری ضروریات میں میں بھی اتنا شریک ہوں جتنے آپ لوگ شریک ہیں کیونکہ ان سے مراد سلسلہ کی ضروریات ہیں۔ اب مشکلات کی جو حالت ہے ان کو زیادہ لمبا نہیں جانے دیا جا سکتا کیونکہ اس سے فتنہ پیدا ہوتا ہے۔ اب بھی یہ حالت ہے کہ کارکنوں کو تین تین ماہ کی تنخواہیں نہیں ملیں اور ان میں سے پچیس تیس آدمی مجھے ایسے معلوم ہیں جنہیں کئی کئی وقتوں کا فاقہ گذر چکا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک پرانے صحابی ایک دن میرے پاس آئے اور آکر رو پڑے کہ اتنے دنوں کا فاقہ ہے۔ اور کام کرتے ہوئے غشی کے قریب حالت پہنچ جاتی ہے۔ اس حالت میں میں نے ارادہ کیا کہ گھر بار چھوڑ کر کہیں جنگل میں جا بیٹھوں مگر اس خیال سے باز رہا کہ خود کشی نہ ہو۔ آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ ایسی حالت میں اس بات کو دیر تک التواء میں نہیں رکھا جا سکتا۔ بے شک باہر کی جماعتوں کے افراد کو تکالیف کا سامنا ہے کیونکہ وہ کوئی امیر کبیر نہیں ہیں۔ مگر میں کہتا ہوں کہ کیا انکو بھی ایسی ہی تنگی درپیش ہے جیسی یہاں ہم کو ہے؟ ایک دن تو ان تکالیف کی وجہ سے مجھے ایسا معلوم ہوا کہ میری قوتِ ارادی بالکل جانے لگی ہے اور قریب تھا کہ میں اپنے تن کے کپڑے پھاڑ ڈالوں۔ بے شک ہماری جماعت پر بہت بوجھ ہے اور وہ بہت کچھ خدا کی راہ میں خرچ کرتی ہے۔ مگر جماعت نے ہی سارا بوجھ اُٹھانا ہے غیروں سے تو ہم نے کچھ لینا نہیں۔ میں نے ابھی کہا ہے کہ ہماری جماعت نے بہت بوجھ اٹھایا ہوا ہے لیکن جماعت کی مجموعی حالت کو دیکھ کر میں کہہ سکتا ہوں کہ ہماری جماعت نے ابھی اتنی مالی قربانی نہیں کی جتنی پہلی جماعتیں قربانی کرتی رہی ہیں۔ میں نے روم میں وہ مقام دیکھا ہے جہاں حضرت مسیح علیہ السلام کے ماننے والے اپنے دشمنوں کی سختیوں اور ظلموں سے بچنے کے لئے رہے۔ میں میل کے قریب وہ مقام لمبا ہے۔ وہاں عیسائی اپنے گھر بار مال و اموال چھوڑ کر چلے گئے تھے اور وہ فاقے پر فاقے اُٹھاتے تھے۔ سورہ کہف میں ان کا نام اصحاب کھف والرقیم رکھا گیا ہے۔ ہم چند گھنٹے کے لئے وہاں گئے۔ مگر کئی دوست وہاں ٹھہرنا برداشت نہ کر سکے حالانکہ وہ لوگ وہاں کئی سال تک دقیانوس کے وقت رہے۔ وہ نہایت تنگ و تاریک گیلی مٹی کے غار ہیں سرکاری فوجوں نے ان میں سے جن کو وہاں مارا ان کی قبریں بھی وہیں بنی ہوئی ہیں اور اُن پر کتبے لگے ہیں کہ یہ فلاں وقت مارا گیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے خدا کے لئے سب کچھ چھوڑ دیا تھا اور ایسی ایسی تکلیفیں برداشت کی تھیں جن کا خیال کر کے اب بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ آپ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام حضرت مسیح ناصری علیہ الصلوۃ والسلام سے بڑے تھے۔ پھر آپ لوگوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری قربانیاں بھی حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والوں سے بڑی ہوں۔ مگر کیا اس وقت تک کی ہماری قربانیاں ایسی ہیں ؟ دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ نے فرمایا ہے۔ جو وصیت نہیں کرتا وہ منافق ہے اور وصیت کا کم از کم چندہ 1/10 حصہ مال کا رکھا ہے اللہ جس میں عام چندہ جو وقتاً فوقتاً کرنا پڑے شامل نہیں۔ مگر ہماری جماعت اس وقت اپنی آمد کا 1/16 حصہ چندہ میں دیتی ہے اور بعض یہ بھی نہیں دیتے بلکہ اس سے کم شرح سے دیتے ہیں اور بعض بالکل ہی نہیں دیتے مگر باوجود اس کے کہا جاتا ہے ہم پر بڑا بوجھ پڑا ہوا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جو کام کرنے کا ہم نے تہیہ کیا ہے وہ کتنا بڑا ہے۔ اب جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم پر بڑا بوجھ پڑ گیا اُن کی حالت اُس شخص کی سی ہے جو ہا تھی اُٹھانے کے لئے جائے اور جب اُٹھانے لگے تو کہے یہ تو بڑا بوجھ ہے یا اُس شخص کی سی ہے جو اپنے ہاتھ میں آگ کا انگارا پکڑنا چاہے اور پھر کے اس سے تو ہاتھ جلتا ہے۔ پس جو قوم یہ کہتی ہے کہ وہ دنیا کو اس طرح اُڑا دینے کی کوشش کر رہی ہے جس طرح ڈائنامیٹ پہاڑ کو اُڑا دیتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ڈائنامیٹ کی طرح پھٹ کر اپنے آپ کو تباہ کر
لے۔ کیا کبھی بارود خود قائم رہ کر کسی چیز کو اڑا سکتا ہے؟ یا ڈائنامیٹ اپنے آپ کو تباہ کئے بغیر کوئی تغیر پیدا کر سکتا ہے؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو تمہیں اسی طرح کرنا پڑے گا۔ اگر تم تھوڑے سے ہو کر دُنیا کو فتح کرنا چاہتے ہو تو ڈائنامیٹ بن کر ہی فتح کر سکتے ہو کیونکہ تھوڑا سا ڈائنامیٹ ہی ہوتا ہے جو ایک بڑے خطہ کو تہ و بالا کر دیتا ہے اور اس کے یہ معنے ہیں کہ ہم دُنیا کو اڑانے سے پہلے آپ اُڑ جائیں گے۔ کیا یہ حالت تم میں پیدا ہو گئی ہے اور اس درجہ تک تم پہنچ گئے ہو؟ اگر نہیں تو ساری دُنیا کو فتح کرنے کا ارادہ رکھتے ہوئے کس طرح کہہ سکتے ہو کہ تم پر بہت بوجھ پڑ گیا تم میں سے ہر ایک کو اپنی حالت پر غور کرنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ اس نے اس مدعا اور مقصد کے پورا کرنے میں کس قدر سعی اور کوشش کی ہے جو ہر ایک احمدی کا اولین فرض ہے اور جس کے لئے وہ پیدا ہوا ہے۔ اگر اس بات کو مدنظر رکھ کر تم اس بوجھ کو دیکھو گے جسے تم نے اس وقت تک اُٹھایا ہے تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ تم میں سے سارے کے سارے ایسے ہیں جنہیں اس بات کا احساس نہیں کہ وہ کس مقصد اور مدعا کو لےکر کھڑے ہوئے ہیں اور اس کے لئے کس قدر سعی اور کوشش کی ضرورت ہے۔ بڑے بڑے مخلص بھی ہیں۔ ایک دوست جن کی تنخواہ ساٹھ روپے ماہوار ہے انہوں نے اپنی آمدنی کے ۳/ حصہ کی وصیت کی ہوئی ہے یعنی بیس روپے ماہوار چندہ دیتے ہیں۔ جب چندہ خاص کی تحریک ہوئی تو اس میں انہوں نے تین ماہ کی تنخواہ دیدی اور اس طرح وہ مقروض ہو گئے۔ اس پر انہوں نے خط لکھا کہ کیا میں قرضہ ادا ہونے تک ۱۰/ حصہ آمد کا چندہ میں دے سکتا ہوں مگر اس سے ۵، ۶ دن بعد ان کا خط آگیا کہ مجھے پہلا خط لکھنے پر بہت افسوس ہوا۔ میں اپنی آمد کا ۳/ حصہ ہی چندہ میں دیا کروں گا۔ تو ایک حصہ جماعت کا ایسے مخلصین کا بھی ہے اور یہ بڑا حصہ ہے۔ مگر میں باقیوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بھی ایسے ہی بنیں۔ اور ہماری تو یہ حالت ہونی چاہئے کہ ایک قطرہ بھی ہمارے اپنے لئے نہ ہو بلکہ ہمارے لئے وہی رہنا چاہئے جو ہمارا نہیں رہا۔ یعنی جان بچانے، ستر ڈھانکنے کے لئے جو خرچ ہو وہ کیا جائے باقی سب کچھ خدا کے لئے سمجھا جائے۔ دیکھیں آپ لوگ جماعت میں داخل ہو کر جو وعدہ کرتے ہیں وہ کتنا بڑا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ ہماری جان، ہمارا مال، ہماری عزت، ہماری آبرو، ہمارا آرام، ہماری آسائش، ہماری دولت، ہماری جائداد غرضیکہ ہمارا سب کچھ خدا کا ہو گیا۔ یہ بیعت کے معنے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ میرا ہے وہ میرا نہیں بلکہ خدا ہی کا ہے۔ مثلاً سو روپیہ تنخواہ ہے تو اس کی نہیں بلکہ خدا کے لئے ہو گئی۔ پھر جو کچھ میں جان بھی شامل ہے ، یہ بھی اس کی نہیں ، پھر جو کچھ میں بیوی بچے ہیں یہ بھی اس کے نہیں ، کوئی عزت اور عہدہ ہے یہ بھی اس کا نہیں۔ یہ اقرار کرنے کے بعد اگر کوئی شخص چندہ خاص کے وقت کہے کہ یہ بہت بڑا بوجھ ہے تو وہ بتائے بیعت کرتے وقت اس نے جو اقرار کیا تھا اس کا کیا مطلب تھا یا تو یہ مانو کہ اس کا یہ مطلب تھا کہ بیعت کرنے یعنی اپنا سب کچھ بیچ دینے سے مراد سارا جسم نہ تھا بلکہ ایک ٹانگ یا ایک ہاتھ مراد تھا یا اس سے مراد سارا مال نہ تھا بلکہ اتنا اتنا مال تھا تو ان کی رعایت رکھ لی جائے لیکن اگر یہ اقرار تھا کہ میں اپنا سارا مال جان ، بیوی ، بچے ، عہدے سب تجھے دیتا ہوں تو پھر وہ کس منہ سے کہہ سکتا ہے کہ بوجھ پڑ گیا۔ بوجھ کے معنے تو یہ ہیں کہ گویا وہ کہتا ہے جس قدر دینے کا میں نے اقرار کیا تھا اس سے زیادہ دینا پڑ گیا یا جس چیز کے دینے کا وعدہ کیا تھا اس کے علاوہ اور بھی دینی پڑی حالانکہ اس کا اقرار یہ ہے کہ اس نے اپنا سب کچھ دیدیا ایسی حالت میں وہ بوجھ کس طرح کہہ سکتا ہے۔ میں امید رکھتا ہوں کہ تمام دوست بیعت کے صحیح مفہوم کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے اور اسلام کے لئے جو کچھ خرچ کرنا پڑیگا کریں گے اور جب تک خرچ کرنا پڑیگا کریں گے۔ کیونکہ جب تک اس بات میں خوشی محسوس نہ ہو کہ اسلام کے لئے سب کچھ قربان کر دیا جائے گا اس وقت تک ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔ میں دُعا کرتا ہوں کہ خدا کرے ایسا ہی ہو۔
موجودہ مالی مشکلات کو دُور کرنے کے لئے فی الحال یہ تجویز کی گئی ہے کہ چونکہ آمد کے بجٹ سے چالیس ہزار خرچ زیادہ ہے اس لئے چندہ خاص مستقل طور پر اس وقت تک مقرر کر دیا جائے جب تک یہ خرچ معمولی آمد سے پورا نہ ہو جائے۔ یعنی ہماری جماعت کے لوگ اپنی ایک ماہ کی آمد کا ۴۰ فیصدی ہر سال عام چندہ کے علاوہ ادا کرتے رہیں۔ میں اس سے نہیں ڈرتا کہ کچھ لوگ کمزور ہوں گے جو اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے تیار نہ ہوں گے۔ ایسے کمزور دوسروں کے لئے طاقت کا باعث نہیں ہوا کرتے بلکہ کمزور کرنے کا موجب ہوتے ہیں وہ ترقی کرنے والوں کے راستہ میں پتھر ہوتے ہیں ان کا ہٹ جانا ہی مفید ہوتا ہے۔ پس اگر اس وجہ سے کچھ لوگ پیچھے ہٹیں گے تو ہٹ جائیں ان سے ہمیں کوئی نقصان نہ ہو گا بلکہ ہماری کمر ان کے بوجھ سے ہلکی ہو جائے گی۔
پس اس وقت تک کہ معمولی آمد ہمارے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے کافی ہو جائے سالانہ ایک ماہ کی آمد کا ۴۰ فیصدی چندہ خاص میں دینا ہو گا۔ آپ لوگ یہ مت خیال کریں کہ یہ کام کس طرح چلے گا۔ میں اس وقت ان کو مخاطب نہیں کرتا جو قوی ہیں بلکہ ان کو مخاطب کرتا ہوں جو کمزور ہیں اور جو ہمارے لئے بوجھ بنے ہوئے ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کا سلسلہ ہے۔ میں نے یہ جگہ اُسوقت دیکھی تھی جب یہ ویران پڑی تھی اور وہ وقت بھی دیکھا ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سیر کے لئے نکلتے تو ایک آدھ آدمی آپ کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ بھی آپ کا ملازم۔ مگر آج خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نہیں بلکہ آپ کے غلام کی یہ حالت ہے کہ ہجوم میں سے چور کی طرح بھاگ کر نکلتا ہے تاکہ ہجوم میں گھر نہ جائے۔ پس وہ خدا جو ایک سے بڑھا کر اتنے آدمی کر سکتا ہے اور جو لاکھوں روپیہ چندہ بھیج سکتا ہے وہ آئندہ بھی اِس سلسلہ کو بڑھائے گا۔ اس وجہ سے میں ایک منٹ کے لئے بھی یہ خیال نہیں کر سکتا کہ یہ سلسلہ ترقی نہیں کرے گا اور دُنیا کی کوئی روک اس کے رستہ میں حائل ہو جائے گی۔ پس میں سوائے ان لوگوں کے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے کہتا ہوں خدا کے فضل سے یہ سلسلہ ان مشکلات سے نکلے گا اور انہی کے ہاتھ سے خدا تعالیٰ فتح و نصرت دیگا جو آج کمزور سمجھے جاتے ہیں ارجو واقعہ میں کمزور ہیں بھی۔ دیکھو بہادر جرنیل وہی سمجھا جاتا ہے جو معمولی سپاہیوں کو لیتا اور ان کے ذریعہ عظیم الشان کام کر کے دکھاتا ہے۔ میں اپنے لئے نہیں کہتا کیونکہ یہ سلسلہ خدا کا سلسلہ ہے اس لئے جس کے سپرد بھی خدا تعالیٰ اس سلسلہ کا انتظام کرے گا۔ اُسے ایسی قوت اور طاقت بخشے گا کہ آج جو کمزور نظر آتے ہیں انہی کے ہاتھوں فتح حاصل ہو گی۔ انہیں اپنے نفسوں پر بدظنی ہو تو ہو مگر مجھے حسنِ ظنی ہے اور اِنْشَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی وہ دن آئے گا جب میری حسنِ ظنی پوری ہو کر رہے گی۔
پھر میں کہتا ہوں اگر مالی اخراجات ہماری جماعت کے لوگوں پر بوجھ ہیں تو دوست کیوں تبلیغ پر خاص زور نہیں دیتے۔ میں نے انہیں کب روکا ہے کہ وہ جماعت کو نہ بڑھائیں۔ وہ کیوں نہیں جلدی جماعت بڑھاتے تاکہ یہ بوجھ کم ہو جائے۔ یہ ہمارا قصور نہیں بلکہ ان کا اپنا ہی قصور ہے۔ آپ لوگ اگر جماعت بڑھائیں تو مالی بوجھ آپ ہی کم ہو جائے۔ گو اصل بات تو یہ ہے کہ مؤمن کا یہ بوجھ مرنے کے بعد ہی کم ہوتا ہے زندگی میں نہیں ہو سکتا۔
اس موقع پر میں دوستوں کو یہ خوشخبری بھی سنانا چاہتا ہوں کہ اِس سال دو اور ملکوں میں ہماری جماعتیں قائم ہو گئی ہیں۔ جن میں ایک تو وہ ملک ہے جہاں عیسائیوں نے سو سال تک تبلیغ کی تھی تب جا کر انہیں کچھ کامیابی ہوئی تھی مگر ہمارے مبلغ کو چند دن میں پندرہ سولہ سعید روحیں مل گئی ہیں۔ وہ سماٹرا اور جاوا کا علاقہ ہے۔ دوسرا وہ ملک ہے جس کا نام لینے سے میرے خون میں جوش اور حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ ایران کا ملک ہے۔ ایران وہ ملک ہے جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نسبت ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مسیح فارسی النسل ہو گا۔ ایران کے دارالخلافہ میں بیس کے قریب آدمی احمدیت میں داخل ہو چکے ہیں اور اس کے متعلق یہ اور بھی خوشی کی بات ہے کہ وہاں ہمارے جو مبلغ گئے ہیں انہیں ہم کوئی خرچ نہیں دیتے۔ وہ شہزادہ عبدالمجید صاحب ہیں جو شاہ شجاع کی اولاد سے ہیں اور لدھیانہ کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے خدمت دین کے لئے زندگی وقف کی تھی۔ میں نے انہیں ایران بھیج دیا۔ ان کے تازہ خط سے معلوم ہوا ہے کہ کئی ایسے لوگ جو با رسوخ اور معزز ہیں اور جن کا ہزاروں آدمیوں پر اثر ہے سلسلہ کے متعلق تحقیق کر رہے ہیں۔
ایک اور بات میں سنانا چاہتا ہوں تاکہ معلوم ہو کہ خدا تعالیٰ ہمارے سلسلہ کی کس طرح تبلیغ کر رہا ہے۔ پچھلے سال ترکستان میں کُردوں کی جو بغاوت ہوئی تھی وہ ایک شخص شیخ سعید کے ماتحت ہوئی تھی۔ وہ اتنی بڑی بغاوت تھی کہ اس کے فرو کرنے کے لئے ٹرکوں کو ۳ لاکھ آدمی جمع کرنے پڑے تھے اور عصمت پاشا وزیر اعظم جیسے مشہور آدمی کو ان کا کماندار مقرر کیا گیا تھا۔ شیخ سعید جب پکڑے گئے اور ان کا بیان لیا گیا تو انہوں نے کہا اگر فلاں واقعہ نہ ہوتا تو میں کبھی بغاوت میں شامل نہ ہوتا۔ کیونکہ میں ارادہ کر چکا تھا کہ میں ہندوستان چلا جاؤنگا اور جماعت احمدیہ میں شامل ہو کر تبلیغ اسلام کرونگا۔ اگرچہ ان کو ٹرکوں نے قتل کرا دیا اور وہ اپنے اس ارادہ کو پورا نہ کر سکے۔ مگر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک کے بڑے بڑے آدمیوں نے احمدیت قبول کی ہوئی ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ یہ صاحب سلسلہ سے پوری طرح واقف نہ تھے ورنہ حکومت کے خلاف بغاوت میں کبھی شامل نہ ہوتے۔
میں نے مالی مشکلات کی وجہ سے کہا ہے کہ اس وقت تک کوئی نیا کام نہ بڑھایا جائے جب تک حالت درست نہ ہو۔ امریکہ کے مشن پر اب خرچ کم کر دیا ہے اور ہندوستان میں آئندہ سال سے زیادہ کوشش کی جائے گی تاکہ یہاں کی جماعت زیادہ بڑھے اور زیادہ بوجھ اُٹھا سکے مگر جہاں یہ ضروری ہے کہ ہماری جماعت زیادہ قربانی کرے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ جن سامانوں کے ذریعہ وہ قربانی کر سکتی ہے ان کو بڑھایا جائے۔ انگریزی میں مثل ہے کہ سونے کا انڈا لینے کے لئے مرغی کو مار نہ ڈالنا چاہئے۔ اس وجہ سے ضروری ہے کہ جماعت کی مالی اصلاح اور ترقی کے لئے کوشش کی جائے۔ اس کے لئے ایک تو یہ ضروری ہے کہ جماعت کے لوگ ایک دوسرے سے تعاون کریں مختلف مقامات پر ٹرنک سازی، سیاہی سازی، لنگیاں بنانا، ازار بند بنانا، کلاہ وغیرہ مختلف قسم کی
صنعتیں جاری ہیں۔ اگر مختلف جگہ کے احمدی تاجر احمدی صناعوں سے اشیاء خریدیں تو ان کی بکری وسیع ہو سکتی ہے اور ان کی آمد زیادہ ہونے کی وجہ سے سلسلہ کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ پس احمدی تاجر احمدی صناعوں سے مال خریدیں اور احمدی گاہک احمدی دکانداروں سے خریدیں تو اس طرح بھی بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ ہمارے مبلغوں کو بھی اس کام میں مدد دینی چاہئے۔ جہاں جائیں دیکھیں کہ کونسی صنعت کوئی احمدی کرتا ہے اور جب دوسری جگہ جائیں تو وہاں کے لوگوں کو بتائیں کہ فلاں مال فلاں احمدی بناتا ہے اس سے خریدا جائے۔
میرے نزدیک اس پہلو میں ترقی دینے کا ایک آسان طریق یہ بھی ہے کہ مجلس مشاورت کے وقت ایک نمائش بھی ہو جایا کرے جس میں احمدی صناع اپنی بنائی ہوئی چیزیں لا کر رکھیں تاکہ دوست واقف ہو جائیں کہ فلاں چیز فلاں جگہ سے مل سکتی ہے اور پھر ضرورت کے وقت وہاں سے منگا لیں۔ پھر احمدیوں کو چاہئے کہ بیکار احمدیوں کو ملازم کرانے کی کوشش کریں۔ بعض دوستوں نے اس بارے میں بڑی ہمت دکھائی ہے مگر اکثر سستی کرتے ہیں اسی طرح جماعت کے لوگوں کو چاہئے تجارتی شہروں میں جا کر تجارت اور صنعت سیکھیں۔
اسی طرح ایک ضروری امر پسماندگان کی مدد ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ سب کچھ دین کے لئے قربان کر دو تو جو لوگ اس پر عمل کرتے ہیں ان کے فوت ہونے پر ان کے پسماندگان کے لئے کچھ نہیں بچتا۔ ایسے حاجتمندوں کے لئے ایک فنڈ ہونا ضروری ہے جس میں چندہ دینا لازمی نہ ہو بلکہ مرضی پر ہو اور اس کے لئے ایسا قانون بنا دیا جائے کہ جو اتنا چندہ دے اسے اتنے عرصہ کے بعد اتنی رقم بالمقطع دی جائے گی یا اگر فوت ہو جائے تو پسماندگان کو اتنی رقم ادا کر دی جائے۔ اگر کسی ایسے فنڈ کا انتظام ہو جائے تو پسماندگان کا انتظام ہو سکتا ہے۔ اس کے متعلق میں تفصیلی طور پر اس وقت نہیں بیان کر سکتا۔ میرا ارادہ ہے کہ مجلس مشاورت میں اسے پیش کیا جائے اور اسے ایسے رنگ میں رکھا جائے کہ سود نہ رہے۔ انشورنس نہ ہو اور کام بھی چل جائے۔ مثلاً یہی فیصلہ ہو کہ اس عمر تک پسماندگان کو گزارہ دیا جائے گا یا یہ کہ بچوں کو اس قدر تعلیم دلائی جائے گی۔
اس قسم کی تحریکات بھی جماعت کی مالی حالت کی درستی کے لئے ضروری ہیں جن کے متعلق تجاویز سوچی جائیں گی تاکہ شرعی لحاظ سے ان میں کوئی نقص نہ ہو اور پسماندگان کے گزارہ کا کوئی معقول انتظام ہو سکے۔ جس سے ہماری جماعت کے لوگوں کو ایک گونہ اعتماد حاصل ہو سکے کہ ان کے بعد ان کی اولاد خطرہ میں نہ ہو گی گو مومن کا اعتماد تو خدا پر ہی ہوتا ہے۔
اب میں وہ مضمون شروع کرتا ہوں جس کے متعلق میں پہلے اشارہ کر چکا ہوں۔ میرے دل میں مدت سے یہ خواہش تھی کہ یہ مضمون بیان کروں۔ یہ ایسا اہم مضمون ہے کہ ہر انسان کے دل میں اس کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے اور بے شمار لوگوں نے اس کے متعلق مجھ سے پوچھا ہے اور اس کے بارے میں نسخہ دریافت کیا ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ وہ کونسے ذرائع ہیں جن پر عمل کر کے انسان گناہوں سے پاک ہو جائے اور نفس میں نیکیاں پیدا ہو جائیں۔ عام طور پر اس کا یہ جواب دیا جاتا ہے کہ نیکی کرو، نیکی کرو اور گناہوں سے بچو، گناہوں سے بچو لیکن جیسا کہ ہر ایک شخص کے تجربہ میں آیا ہے بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے قرآن کریم کو پڑھا، احادیث کو پڑھا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابوں کو پڑھا اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کی مگر ہم کُلّی طور پر نہیں بچ سکے۔ نیکی کرنے کے لئے ہم نے کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے اب بتاؤ ہمارا کیا علاج ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس نقطہ سے بحث کی جائے کہ کس طرح انسان کی اس کمزوری کو دُور کیا جائے کہ وہ باوجود ارادہ اور کوشش کے گناہوں سے بچنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ جب میں نے اس مضمون کے متعلق نوٹ لکھنے شروع کئے تو خیال کر کے کہ یہ مضمون عرفان الٰہی کے مضمون کے بعض حصوں سے ٹکرائے گا اس تقریر کا مطالعہ کیا۔ اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ میں نے اس تقریر میں وعدہ کیا ہوا تھا کہ یہ مضمون بیان کروں گا۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اب میں اس وعدہ کو پورا کرنے لگا ہوں۔
پھر جب میں اس مضمون پر غور کرنے لگا تو ایک پرانی اور بہت پرانی رؤیا مجھے یاد آ گئی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے ایک آدھ ماہ بعد میں نے یہ رؤیا دیکھی تھی اور اس وقت اس کی کوئی تعبیر نہ سوجھتی تھی۔ رؤیا یہ تھی کہ ایک مصلّٰی ہے جس پر میں نماز پڑھ کے بیٹھا ہوں میرے ہاتھ میں ایک کتاب ہے جس کے متعلق مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ شیخ عبدالقادر صاحب جیلانی کی ہے اور اس کا نام مِنْھَاجُ الطَّالِبِیْنَ ہے یعنی خدا تعالیٰ تک پہنچنے والوں کا رستہ۔ میں نے اس کتاب کو پڑھ کر رکھ دیا کہ پھر یکدم خیال آیا کہ یہ کتاب حضرت خلیفہ اول کو دینی ہے اس لئے میں اسے ڈھونڈنے لگا ہوں مگر وہ ملتی نہیں۔ ہاں اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک اور کتاب مل گئی۔ اس وقت میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے۔ وَمَا یَعۡلَمُ جُنُوۡدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ(74:32) اور تیرے رب کے لشکروں کو سوائے اُس کے اور کوئی نہیں جانتا۔
اس کے بعد میں نے اس خیال سے کہ اگر شیخ عبدالقادر صاحب جیلانی کی کوئی کتاب اس نام کی ہو تو اُسے تلاش کروں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول سے پوچھا تو آپ نے فرمایا۔ ان کی اس نام کی تو کوئی کتاب نہیں۔ البتہ غنیۃ الطالبین نام کی کتاب ہے۔ پھر معلوم ہوا کہ اس نام کی کسی اور کی کتاب بھی نہیں ہے۔ پھر خیال آیا کہ ممکن ہے کہ کسی وقت مجھے ہی اس نام کی کتاب لکھنے کی توفیق ملے اور عبدالقادر سے مراد یہ ہو کہ اس میں جو کچھ لکھا جائے وہ میرے دماغ کا نتیجہ نہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی سمجھائی ہوئی باتیں ہوں۔ اس وجہ سے میں نے اس مضمون کا نام مِنْھَاجُ الطَّالِبِیْنَ رکھا ہے۔
اس مضمون کے جن حصوں کا تعلق عرفانِ الٰہی اور مسئلہ نجات سے ہے ان میں سے بعض کو تو چھوڑ دوں گا اور جن کا تسلسلِ مضمون کے لئے ذکر کرنا ضروری ہو گا ان کو مختصراً بیان کروں گا۔ اور اصل بات تو یہ ہے کہ پہلے اس مضمون کے علمی پہلو بیان ہوئے، اب تین عملی پہلو بیان کروں گا۔
اس ضروری اور اہم مسئلہ پر غور کرتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی پیدائش کی غرض کیا ہے۔ وہ خدا تعالیٰ نے خود بیان کر دی ہے۔ فرماتا ہے۔ وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ(51:57)۴؎ کہ ہم نے انسان کو ایک ہی کام کے لئے پیدا کیا ہے اور وہ یہ کہ عبد بن جائے۔ عبودیت کے معنے عربی میں تذلل کے ہیں۔ اور تذلل کا یہ مفہوم ہے کہ جو دوسرے کا نقش قبول کرے۔ تو عبد کے معنے ہیں حکومت تسلیم کر لینا، نقش تسلیم کر لینا، اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے سوائے اس غرض کے انسان کو اور کسی غرض کے لئے نہیں پیدا کیا گیا کہ میرے نقش کو قبول کرے۔ جب انسان کی زندگی کا یہ مقصد ہے تو ہم اس وقت تک اسے پورا نہیں کر سکتے جب تک خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر جذب نہ کر لیں۔
خدا تعالیٰ نے انبیاء کو بھی اسی غرض کے لئے بھیجا۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ رَبَّنَا وَابۡعَثۡ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ وَیُزَکِّیۡہِمۡ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ(2:130)۵؎۔
حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام دُعا فرماتے ہیں۔ اے ہمارے رب ان میں ایسا رسول بھیجیو جو ان میں تیری آیات پڑھے انہیں شریعت سکھائے، حکمت بتائے اور پاک کرے، تُو غالب اور حکمت والا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ رسول کی یہ غرض ہوتی ہے کہ ایمان مضبوط کرے، علم مضبوط کرے، شریعت سکھائے اور حکمت سکھائے یعنی علم کے بعد عمل سکھائے اور اس طرح پاک کر کے خدا تعالٰی کی مقدس مجلس میں بیٹھنے کے قابل بنا دے۔
ہماری جماعت کے لئے یہ سوال کوئی معمولی سوال نہیں بلکہ ان کی زندگی اور موت کا سوال ہے کیونکہ اس وقت خدا کا ایک نبی آیا ہے جسے ہم نے قبول کیا ہے اور جس نے خدا کی آیات پڑھ کر ہمیں سنائی ہیں۔ اگر اس کو مان کر بھی ہم گندے رہے تو اس کو ماننے کا کیا فائدہ ہوا۔ مولوی برہان الدین صاحب جہلمی بہت مخلص احمدی تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ ایک دفعہ بیان فرما رہے تھے کہ مؤمن کے یہ یہ درجات ہونے چاہئیں۔ تقریر ختم ہونے کے بعد مولوی صاحب چیخیں مار کر رو پڑے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہنے لگے پہلے ہم وہابی ہوئے اور ہم نے رسول کریم ﷺ کی باتوں کی اشاعت کرنے کی وجہ سے ماریں کھائیں پھر آپ آئے اور ہم نے آپ کو مانا اس وجہ سے مخالفین سے ماریں کھائیں پتھر کھائے نقصان اٹھائے (مولوی صاحب موصوف یہ باتیں پنجابی میں کہہ رہے تھے جو میں نے اُردو میں بیان کی ہیں۔ لیکن اگلا فقرہ میں اُردو میں بیان نہیں کر سکتا اس لئے پنجابی میں ہی دُہراتا ہوں ۔ کہنے لگے۔ مگر با وجود اس قدر تکالیف اُٹھانے کے میں دیکھتا ہوں کہ میں ”فیر وی چُھڈو دا چُھڈو ہی رہیا“۔ یعنی کسی کام کا نہ بنا۔ پس اگر ایک نبی کو مان کر بھی وہی بات ہو کہ ہم نکھتے کے نکھتے ہی رہیں تو ہمیں کیا فائدہ ہوا۔ ہمارے اندر تو ایسی تبدیلی اور ایسا تغیر ہونا چاہئے کہ ہمیں محسوس ہو کہ ہم نے زندہ انسان کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا ہے بلکہ یہ محسوس ہو کہ ہم نے خدا تعالٰی کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا ہے ورنہ اگر ہم اس میں کامیاب نہ ہوئے تو گویا ہم نے کچھ نہ کیا۔ دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہم سے کیا خواہش رکھتے اور ہمیں کتنا خطرناک ڈراتے ہیں۔ آپ تزکیۂ نفس کی نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں
”تزکیۂ نفس اسے کہتے ہیں کہ خالق و مخلوق دونوں طرف کے حقوق کی رعایت کرنے والا ہو۔ خدا تعالٰی کا حق یہ ہے کہ جیسا زبان سے وحدہٗ لا شریک اسے مانا جائے ایسا ہی عملی طور سے اسے مانیں اور مخلوق کے ساتھ برابر نہ کیا جاوے۔ اور مخلوق کا حق یہ ہے کہ کسی سے ذاتی طور پر بُغض نہ ہو ، تعصب نہ ہو ، شرارت انگیزی نہ ہو ، ریشہ دوانی نہ ہو۔ مگر یہ مرحلہ دُور ہے ابھی تمہارے معاملات آپس میں بھی صاف نہیں۔ گلہ بھی ہوتا ہے، غیبتیں بھی ہوتی ہیں، ایک دوسرے کے حقوق بھی دباتے ہیں۔ پس خدا چاہتا ہے کہ جب تک تم ایک وجود کی طرح بھائی بھائی نہ بن جاؤ گے اور آپس میں بمنزلہ اعضاء نہ ہو جاؤ گے تو فلاح نہ پاؤ گے۔ انسان کا جب بھائیوں سے معاملہ صاف نہیں تو خدا سے بھی نہیں۔ بیشک خدا کا حق بڑا ہے مگر اس بات کو پہچاننے کا آئینہ کہ خدا کا حق ادا کیا جا رہا ہے یہ ہے کہ مخلوق کا حق بھی ادا کر رہا ہے یا نہیں۔ جو شخص اپنے بھائیوں سے معاملہ صاف نہیں رکھ سکتا وہ خدا سے بھی صاف نہیں رکھتا۔ یہ بات سہل نہیں یہ مشکل بات ہے۔ سچی محبت اور چیز ہے اور منافقانہ اور۔ دیکھو مؤمن کے مؤمن پر بڑے حقوق ہیں۔ جب وہ بیمار پڑے تو عیادت کو جائے اور جب مرے تو اس کے جنازہ پر جائے۔ ادنیٰ ادنیٰ باتوں پر جھگڑا نہ کرے بلکہ درگزر سے کام لے۔ خدا کا یہ منشاء نہیں کہ تم ایسے رہو۔ اگر سچی اخوت نہیں تو جماعت تباہ ہو جائے گی۔“۱؎اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّ اَتُوْبُ اِلَیْہِ۔
یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نصائح ہیں تقویٰ کے متعلق۔ پس اپنی زندگی کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے رسول کریم ﷺ کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے ہمارا فرض ہے کہ اپنے اندر تقویٰ پیدا کرنے کی کوشش کریں۔
اب میں یہ تعریف بیان کرتا ہوں کہ انسان کامل کون ہوتا ہے۔ جیسے طب کے لحاظ سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ تندرست آدمی کون ہے۔ اسی طرح روحانیت کے لحاظ سے ہم معلوم کرتے ہیں کہ انسان کامل کون ہوتا ہے۔
انسان کامل بننے کے لئے سب سے ضروری بات یہ ہے کہ انسان کا تعلق مخلوق سے بھی درست ہو اور خدا تعالیٰ سے بھی درست ہو یہ دونوں باتیں ضروری ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انسان کامل کے لئے قرار دی ہیں۔ انسانوں سے تعلق کا درست رکھنا بھی دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ (۱) یہ کہ انسان کا اپنے نفس سے تعلق درست ہو۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں۔ وَ لِنَفْسِکَ عَلَیْکَ حَقٌّ۔۲؎ تیرے نفس کا تجھ پر حق ہے۔ (۲) یہ کہ دوسری مخلوق سے اس کا تعلق درست ہو۔ اپنے نفس کے متعلق جو تعلیم ہے وہ پھر دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ (۱) انسان ان امور سے مجتنب رہے کہ جو اس کے دل کو خراب کرنے والے ہیں۔ (۲) ان امور پر عمل کرے جن سے دل پاک ہوتا ہے۔ دوسرے حصہ کی بھی تین شاخیں ہیں۔ یعنی (i) بنی نوع انسان سے بحیثیت افراد انسان کا تعلق درست ہو۔ (ii) اس کے تعلقات بنی نوع انسان سے بحیثیت جماعت درست ہوں۔ یعنی قانون ملکی کے لحاظ سے دوسروں کے ساتھ تعاون کرے۔ (iii) اس کے تعلقات انسانوں کے علاوہ خدا تعالیٰ کی دوسری مخلوق سے بھی درست ہوں۔
پھر آگے ان کی دو شاخیں ہیں۔ (الف) ان امور سے مجتنب رہے جو بنی نوع انسان یا دوسری مخلوق کے ساتھ اس کے تعلق کو خراب کرتے ہوں۔ (ب) ان امور پر کاربند ہو جن سے بنی نوع انسان یا دوسری مخلوق سے اس کا تعلق احسان پر مبنی ہو جائے۔
پھر خدا تعالیٰ سے تعلق درست رکھنے کے بھی دو حصے ہیں۔ (۱) ان افعال سے اجتناب کرے کہ جو اس تعلق کو توڑنے والے ہیں۔ (۲) ان افعال پر کاربند ہو جو خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو بڑھاتے ہیں۔
اِس تقسیم کے بعد میں یہ بتاتا ہوں کہ دین اور مذہب کے کیا معنے ہیں کیونکہ ان سب باتوں کا خلاصہ دین ہے۔ اور اب میں یہ بتاتا ہوں کہ دین کی تشریح کیا ہے۔ یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ دین دو شقوں میں منقسم ہے۔ یعنی دین کے دو حصے ہیں (۱) اخلاق۔ (۲) روحانیت۔ میں نے بہت لوگوں کو دیکھا ہے۔ جنہیں یہ دھوکا لگا ہے کہ وہ اخلاق کو ہی دین سمجھتے ہیں۔ جس کے اخلاق اچھے ہوں اُس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ وہ بڑا نیک ہے حالانکہ اس کے متعلق ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اس کا آدھا حصہ درست ہے مگر اسے نیک یعنی دیندار اور متقی نہیں کہہ سکتے۔
انسان کے اعمال کا وہ حصہ جو بنی نوع انسان سے تعلق رکھتا ہے اخلاق کہلاتا ہے۔ اور وہی معاملہ جب خدا تعالیٰ سے کیا جائے تو اسے روحانیت کہتے ہیں۔ اگر کوئی انسان بندوں سے جھوٹ بولتا ہے تو وہ بداخلاق ہے اور اگر خدا سے جھوٹ بولتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ اس کی روحانیت مُردہ ہو گئی ہے۔ اور جب کسی کے دونوں پہلو درست ہوں تب ہی وہ دیندار اور متقی کہلا سکتا ہے۔ پس جب اخلاق مطابق شریعت کئے جائیں تو وہ روحانیت کے ساتھ مل کر دین کہلاتے ہیں۔ لیکن جب وہی افعال بغیر روحانیت سے اشتراک کے تمدن کے طور پر کئے جائیں تو ایسے انسان کے متعلق کہتے ہیں کہ بڑا بااخلاق ہے۔ میں پہلے اخلاق کو لیتا ہوں پھر روحانیت کو بیان کروں گا۔ لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اخلاق اور روحانیت میں فرق صرف یہی ہے کہ ہماری طاقتوں کا ظہور انسانوں کے ساتھ معاملات میں اخلاق کہلاتا ہے اور انہی طاقتوں کا خدا تعالیٰ کے متعلق ظہور روحانیت کہلاتا ہے۔ اس لئے جہاں میں اخلاق بیان کروں گا وہاں ساتھ ہی روحانیت کا بھی پتہ لگ جائے گا۔ اور جہاں فرق بتانے کی ضرورت ہو گی وہاں فرق بیان کر دوں گا۔
اخلاق کے مسئلہ پر غور کرنے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ خُلق کیا چیز ہے۔ اس کے متعلق اسلام کے سوا سب مذہبوں نے اور فلسفیوں نے لغزشیں کھائی ہیں اور اس کی عجیب عجیب تعریفیں کی ہیں۔ مثلاً (۱) بعض کے نزدیک خُلق اس گہری جڑ رکھنے والے ملکہ کا نام ہے جس سے انسانی اعمال بلا فکر و رویہ آپ ہی آپ سرزد ہوتے ہیں۔ یا جس کے ماتحت انسان بلا فکر و رویہ کسی فعل کے کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ (۲) بعض کے نزدیک خُلق وہ نیک مادہ ہے کہ جو انسان کے اندر خدا کی ذات پر دلالت کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ (۳) بعض کے نزدیک خُلق وہ مادہ ہے جو لمبے تجربہ کے بعد انسان میں پیدا ہو گیا ہے اور اب ورثہ کے طور پر انسانوں میں آتا ہے۔ یورپ کے فلاسفہ اسی نتیجہ پر پہنچے ہیں۔
میرے نزدیک خُلق اس حالت کا نام ہے جبکہ طبعی تقاضے قوتِ فکر کے ساتھ ملا دیئے جائیں اور ان تقاضوں سے کام لینے والی ہستی مقتدر ہو۔ یعنی چاہے تو ان سے کام لے اور چاہے تو ترک کر دے۔ اگر یہ افعال ایسے وجود سے ظاہر ہوں جس میں قوتِ فکر نہ ہو تو وہ طبعی تقاضے کہلاتے ہیں جیسے حیوانوں میں ہوتا ہے۔ حیوان محبت اور پیار کرتے ہیں مگر ان کو بااخلاق نہیں کہہ سکتے بلکہ طبعی تقاضے کہتے ہیں۔ پھر اگر اس قسم کے افعال ایسے وجودوں سے ظاہر ہوں جنہیں خاص رنگ میں بنایا گیا ہو جیسے نباتات یا جمادات تو انہیں ظہورِ قدرت کہیں گے۔
مضمون کا یہ حصہ مشکل ہے۔ اگر بعض دوست اسے نہ سمجھ سکیں تو جب یہ کتاب کی شکل میں چھپ جائے گا اُس وقت سمجھ جائیں گے۔ مگر اس کے بغیر چونکہ مضمون کا اگلا حصہ نہیں چل سکتا اس لئے بیان کرتا ہوں۔ اگلا حصہ آسان ہے وہ سب دوست سمجھ سکیں گے۔
پس اخلاق کی تعریف بیان کر چکا ہوں۔ اخلاق وہ افعال ہیں جو ایسے لوگوں سے صادر ہوں جن میں سوچنے اور فکر کرنے کی طاقت ہو اور کام کرنے یا نہ کرنے کی قابلیت پائی جائے۔
اب میں اخلاقِ حسنہ کی تعریف بیان کرتا ہوں۔ اخلاقِ حسنہ کی تعریفیں بھی مختلف لوگوں نے مختلف کی ہیں۔ (۱) چنانچہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اخلاقِ حسنہ انسانی طاقتوں کے عقل کے ماتحت استعمال کرنے کا نام ہے۔ (۲) بعض کے نزدیک اخلاقِ حسنہ وہ افعال ہیں جو انسان کو حقیقی خوشی پہنچاتے ہیں۔ (۳) بعض کے نزدیک اخلاقِ حسنہ وہ افعال ہیں جن میں ایثار سے کام لیا گیا ہو یعنی اپنا نقصان کر کے دوسروں کو فائدہ پہنچایا گیا ہو۔
(۴) بعض کہتے ہیں کہ اخلاقِ حسنہ وہ افعال ہیں جو عقل کی روشنی اور اس کے انتظام کے ماتحت ذاتی نفع کی غرض سے ایثار کے طور پر کئے جائیں۔
(۵) مسلمان صوفی کہتے ہیں جو افعال عقل اور شریعت کے ماتحت کئے جائیں وہ اخلاقِ حسنہ ہوتے ہیں۔
امام غزالی نے اخلاقِ حسنہ کی یہی تعریف کی ہے لیکن یہ تعریف میرے نزدیک کچھ اصلاح کی محتاج ہے۔ اور وہ اصلاح یہ ہے کہ وہ افعال عقل اور شریعت کے مطابق بھی ہوں اور ساتھ ہی یہ بات بھی پائی جائے کہ ان کا مرتکب اپنی مرضی، ارادہ اور مقدرت سے ان افعال کو کرے۔ اگر یہ شرط نہیں پائی جاتی تو وہ اخلاقِ حسنہ نہیں کہلا سکتے۔ مثلاً اگر کوئی شخص نیم خوابی کی حالت میں کسی کو ایک روپیہ دیدے اور جاگتے ہوئے صدقہ و خیرات سے پرہیز کرے تو اس کا نیم خوابی میں صدقہ کرنا اچھا خُلق نہیں کہلائے گا۔ کیونکہ اس کا یہ فعل ارادہ کے ماتحت نہیں ہوگا۔ پس وہ افعال اخلاقِ حسنہ ہوتے ہیں جو شریعت اور عقل کے ماتحت ارادہ سے کئے جائیں۔ پھر ایک یہ شرط بھی ہے کہ وہ اعمال خدا تعالیٰ کی صفات کے مطابق ہوں خلاف نہ ہوں۔ یہی تعریف صحیح ہے۔ کیونکہ خوبی وہی ہو سکتی ہے جو نقص اور غلطی سے پاک ہو۔ اور کوئی شئے ہماری عقل کے پاک کہنے سے پاک نہیں ہو سکتی بلکہ خدا تعالیٰ کی صفات کی شہادت سے جو چیز پاک ہے وہی حقیقی طور پر پاک ہو سکتی ہے اور خوبی کہلانے کی مستحق ہے کیونکہ صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہی کامل طور پر بے عیب ہے۔
اب میں اخلاق کے منبع کو بیان کرتا ہوں کہ اخلاق کہاں سے پیدا ہوتے ہیں۔ مختلف لوگوں نے مختلف سرچشمے بتائے ہیں۔ بعض کہتے ہیں اخلاق کا منبع قوتِ فکریہ یعنی عقل، غضب اور شہوت ہیں۔ عقل کام کرتی ہے جیسے سوار کام کرتا ہے اور غضب اور شہوت دو گھوڑوے ہیں۔ عقل کا سوار جب ان دو گھوڑوں کو درست چلاتا ہے تو خُلق پیدا ہوتا ہے اور اگر سوار غلطی کرے تو بد خُلقی پیدا ہوتی ہے محی الدین ابن عربی اس قوتِ فکر کا نام نفسِ ناطقہ رکھتے ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ تمام اخلاق ان تینوں مادوں کے ملنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی عقل اور شہوت کے ملنے سے یا عقل اور غصہ کے ملنے سے یا تینوں کے ایک جگہ جمع ہو جانے سے۔ وہ عقل کو مرد قرار دیتے ہیں اور شہوت اور غصہ کو دو بیویاں۔ جس طرح مرد کے عورت کے ساتھ ملنے سے بچہ پیدا ہوتا ہے اسی طرح کہتے ہیں عقل کے قوتِ غضبیہ یا قوتِ شہوت کے ساتھ ملنے سے اخلاق پیدا ہوتے ہیں۔
بعض کے نزدیک انسان میں خوشی حاصل کرنے کی زبردست خواہش ہے یہ جب عقل سے ملتی ہے تو اخلاق پیدا ہوتے ہیں۔
میرے نزدیک اخلاق کے منبع کو مسلمانوں نے قرآن کریم کی روشنی میں بھی اچھی طرح نہیں سمجھا۔ میں نے قرآن کریم پر غور کر کے یہ سمجھا ہے کہ اخلاق کا منبع بہت گہرا ہے اور دُور تک چلا جاتا ہے۔ اگر صرف انسان میں افعال پائے جاتے جن کو اخلاق کہا جاتا ہے تو جو تعریف پہلوں نے کی ہے وہ صحیح ہوتی مگر اس قسم کے افعال نچلی چیزوں میں بھی نظر آتے ہیں۔ مثلاً وہ کہتے ہیں عقل، شہوت اور غصہ سے مل کر اخلاق بنتے ہیں اور محبت بھی ایک خُلُق ہے جو حیوانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں عقل اور شہوت یا عقل اور غصہ کے ملنے سے تمام اخلاق بنتے ہیں مگر حیوانوں میں عقل نہیں ہوتی لیکن باوجود اس کے محبت جسے اخلاق میں شمار کیا جاتا ہے پائی جاتی ہے۔ اس لئے معلوم ہوا عقل، شہوت اور غصہ اخلاق کا منبع نہیں ورنہ حیوانوں میں کوئی خُلُق نہ پایا جاتا۔
میں نے اِس مضمون پر غور کیا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسا جدید مضمون میری سمجھ میں آیا ہے کہ جس نے اخلاق کے مسئلہ کی کایا پلٹ دی ہے۔ دراصل اخلاق کی جڑ چند قوتیں ہیں جو نہ صرف انسانوں میں بلکہ حیوانات میں بلکہ نباتات میں بلکہ جمادات میں بھی پائی جاتی ہیں اور نہ صرف جمادات میں ہی پائی جاتی ہیں بلکہ ان ذرات میں بھی پائی جاتی ہیں جن سے جمادات بنتے ہیں۔ چنانچہ دیکھ لو انسان سے اُتر کر حیوان میں بھی انسان کے مشابہ اعمال پائے جاتے ہیں۔ انسان میں غصہ ہے، حیوان میں بھی غصہ ہوتا ہے۔ انسان محبت کرتا ہے حیوان بھی محبت کرتا ہے۔ اب ہم اِس سے اور نیچے چلتے ہیں یعنی نباتات کو لیتے ہیں۔ ان میں بھی ہمیں ایسے افعال ملتے ہیں جو حیوانات اور انسانوں میں پائے جاتے ہیں۔ ہاں یہ فرق بے شک ہے کہ نباتات میں وہ افعال بہت ادنیٰ درجہ کے نظر آتے ہیں۔ مثلاً جس طرح انسان میں لینے اور دینے کی خواہش ہے اسی طرح نباتات میں بھی ہوتی ہے۔ اور اب نئی تحقیقات سے ثابت ہو گیا ہے کہ قریباً تمام نباتات میں نر و مادہ ہیں (گو قرآن کریم میں یہ مضمون پہلے سے بیان ہو چکا ہے) اور جب نر مادہ سے ملے تب پھل بنتا ہے۔ کھجور کے متعلق یہ بات ہزاروں سال سے معلوم ہو چکی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نباتات میں شہوت موجود ہے۔ پھر ان میں غصہ بھی پایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر بوس نے آلات کے ذریعہ یہ ثابت کر دیا ہے۔ موٹی مثال چھوئی موئی کی بوٹی دیکھ لو۔ انگلی لگاؤ تو سُکڑ جائے گی۔ اگر اس کے پھل کو ہاتھ لگایا جائے تو اپنے اندر کا بیج باہر پھینک کر سُکڑ جاتا ہے۔ امریکہ میں ایک درخت ہے اگر گوشت والی چیز اس کے قریب جائے تو خوش ہو کر پھیل جاتا ہے اور اگر وہ چیز اس کے ساتھ لگ جائے تو سُکڑ جاتا ہے اور اس کا خون چوس کر اُسے پھینک دیتا ہے۔ اس قسم کی مثالوں سے ثابت ہے کہ نباتات میں بھی یہ احساس پائے جاتے ہیں۔ اب ہم اور نیچے چلتے ہیں اور جمادات کو لیتے ہیں۔ کہتے ہیں انسان میں محبت ایک بہت اعلیٰ خُلق ہے۔ مگر محبت کیا ہے۔ محبت اپنی طرف کھینچنے کو کہتے ہیں۔ پھر کیا مقناطیس لوہے کو اپنی طرف نہیں کھینچتا۔ اس میں بھی یہ جذبہ ہے مگر بہت سادہ جذبہ ہے۔ اس کے مقابلہ میں بجلی کی ایک ہی قسم کی طاقت اگر دو چیزوں میں پیدا کر دی جائے تو وہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے پیچھے ہٹتی ہیں۔ گویا ایک دوسرے سے نفرت کا اظہار کرتی ہیں۔ پس ثابت ہو گیا کہ محبت اور کشش نفرت اور غصہ کا مادہ جمادات میں بھی پایا جاتا ہے۔
پھر میں نے بتایا ہے کہ یہ طاقتیں باریک ذرّات میں بھی موجود ہیں۔ اگر ان میں یہ طاقتیں نہ ہوتیں تو پھر دُنیا بن ہی نہ سکتی تھی۔ اگر ذرّات ایک دوسرے کو کھینچ کر آپس میں اکٹھے نہ ہوں تو کسی چیز کا دُنیا میں قائم ہونا ناممکن ہو جائے۔ یہ جذب کرنے کی طاقت ہی ہے جس نے ذرّات کو آپس میں ملایا ہوا ہے۔ پس ثابت ہو گیا کہ اخلاق کا مادہ بہت گہرا ہے۔ گو یہ درست ہے کہ جتنے جتنے ہم نیچے جائیں بعض اخلاق کا ہی پتہ لگتا ہے اور بعض کا نہیں لگتا۔ مگر اس میں بھی شک نہیں کہ جڑ ہر جگہ موجود ہے۔
اِس امر کو مثالوں سے ثابت کر دینے کے بعد کہ اخلاق کا ظہور جن خاصیتوں سے ہوتا ہے وہ ذرّاتِ عالم میں بھی پائی جاتی ہیں۔ اب میں یہ بتاتا ہوں کہ وہ کونسی خاصیتیں ہیں جو اخلاق کا مادہ ہیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ مادہ کی ابتدائی حالت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح مادہ میں شش جہات ہیں یعنی اُوپر نیچے، دائیں بائیں، آگے پیچھے۔ اسی طرح چھ باطنی جہات بھی ہیں اور وہ بھی اپنی نسبت کے لحاظ سے اسی طرح جوڑا جوڑا ہیں جس طرح ظاہری جہات جوڑا جوڑا ہیں۔ یعنی جس طرح ظاہری جہات ایک نسبت کے لحاظ سے مثلاً دائیں ہوتی ہیں تو دوسری نسبت سے بائیں، ایک نسبت سے آگے ہوتی ہیں اور ایک نسبت سے پیچھے، ایک نسبت سے اوپر ہوتی ہیں تو دوسری نسبت سے نیچے۔ اسی طرح باطنی چھ جہات بھی نسبتوں کے لحاظ سے دو دو قسم ہوتی ہیں یعنی ذکوری و اناثی، دوسروں پر اپنی تاثیر ڈالنے والی اور دوسروں سے اثر قبول کرنے والی۔ یہ ظاہر بات ہے کہ اس چیز پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا جو اثر نہ قبول کر سکے۔ مثلاً آٹا نرم ہوتا ہے، اس میں مٹھی گھس جاتی
ہے مگر میز میں نہیں گھس سکتی کیونکہ یہ اس کے اثر کو قبول نہیں کرتی۔ اس سے معلوم ہوا تبھی کوئی کام ہو سکتا ہے جبکہ ایک طرف کام کرنے کی طاقت اور دوسری طرف اثر قبول کرنے کی قابلیت ہو۔ ہر ذرّہ جو پایا جاتا ہے اس میں کھینچنے اور کھینچے جانے کی طاقت ہے۔
پہلی باطنی جہت جذب یعنی کھینچنے کی طاقت ہے اور اس کے ساتھ کی مَیل یعنی جھکنا۔ جب موافق سامان پیدا ہو جائیں گے وہ کھینچنے لگ جائے گا یا دوسری طرف کھنچ جائے گا۔ اسی طرح دوسری جہت دفع کی ہے اور اس کے ساتھ کی دوسری طاقت اعراض کی۔
تیسری خصوصیت ہر ذرّہ میں اِفناء کی ہے۔ ہر چیز جو اپنا وجود قائم کرتی ہے دوسری اشیاء کو فنا کرتی ہے۔ مثلاً میں اپنا ہاتھ یہاں سے اٹھا کر وہاں رکھوں تو پہلے ہاتھ رکھنے کی جو شکل بنی تھی وہ فنا کر کے دوسری بنائی گئی۔ اسی طرح ذرّات جب اثر قبول کر کے نئی شکل اختیار کرتے ہیں تو پہلی پر فنا وارد ہو جاتی ہے۔ اس کے مقابل کی خصوصیت فنا کی ہوتی ہے۔ یعنی ہر ذرّہ میں جہاں دوسرے کو فنا کرنے کی قابلیت ہے وہاں اس میں خود فنا ہونے کی بھی قابلیت ہے۔
چوتھی خصوصیت اِبقاء کی ہے۔ کوئی چیز گراؤ آگے دیوار ہو تو وہ اُسے ٹھہرا لے گی۔ یہ باقی رکھنے کی طاقت ہے۔ اس کے مقابل کی خصوصیت بقاء ہے یعنی باقی رہنے کی قابلیت۔
پانچویں خصوصیت اِظہار کی ہے۔ یعنی بعض چیزوں کو اُبھارنا، ظاہر کرنا۔ ہر ذرّہ دوسرے کو اُبھارتا ہے، اسے موٹا اور نمایاں کر دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ کی خصوصیت ظہور ہے یعنی ہر ذرّہ میں نمایاں ہونے اور ظاہر ہونے کی خصوصیت بھی ہے۔
چھٹی خصوصیت اِخفاء ہے۔ یعنی کسی چیز کو مخفی کر دینا۔ مثلاً میرے ہاتھ کے پیچھے کوئی چیز ہو تو وہ اسے چھپا دے گا۔ اس کے مقابلہ میں خفاء یا چھپنے کی طاقت ہے یعنی اپنے وجود کو مخفی کر دینا اور دوسرے کے سایہ میں آ جانا۔
یہ طاقتیں جو مادہ کے باریک سے باریک حصہ میں پائی جاتی ہیں اخلاق کی بنیاد ہیں۔ تمام اخلاق کی بنیاد انہی پر ہے۔ اور یہی ترقی کرتے کرتے انسان میں ایک حیرت انگیز صورت میں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ جوں جوں مادہ مرکب ہوتا جاتا ہے اجزاء ملتے جاتے ہیں اس کے افعال میں زیادتی اور صفائی پیدا ہوتی جاتی ہے۔ جوں جوں مادہ ترقی کرتا ہے یہ خاصیتیں اعلیٰ پیرایہ میں اور مختلف اقسام سے ظاہر ہوتی ہیں۔ اور جس قدر ادنیٰ ہوتا جاتا ہے ان خصوصیات کا ظہور ادنیٰ اور محدود ہوتا جاتا ہے جب تک خالص مادی قوانین کے ماتحت یہ خاصیتیں عمل کرتی ہیں اُس وقت تک ہم ان کے ظہوروں کو اچھا اور بُرا تو کہہ سکتے ہیں مگر اخلاقِ فاضلہ یا سینہ نہیں کہہ سکتے۔ جس طرح ہر چیز جو کام نہ دے ہم اُسے بُرا اور جو کام دے اسے اچھا کہنے لگ جاتے ہیں اور اس کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ ان چھ خاصیتوں کا ظہور ان سے قانونِ قدرت کے مطابق پوری طرح ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا۔ دیکھو یہ سوئی اگر کسی پر جا گرے تو اسے بُرا محسوس ہو گا مگر یہ نہیں کہے گا کہ یہ سوئی کی بدخُلقی ہے۔ اسی طرح اگر کسی کو کہیں پڑا ہوا ایک پیسہ مل جائے تو وہ کہے گا اچھی بات ہے مگر یہ نہ کہے گا کہ پیسہ کی بڑی مہربانی ہے۔ پس جب تک افعال مادی ظہور کے مطابق ہوں ہم انہیں اچھا یا بُرا تو کہہ سکتے ہیں مگر اخلاق نہیں قرار دے سکتے۔ اچھا یا بُرا کہنے سے مراد صرف یہ ہوتی ہے کہ ہمارے منشاء کے مطابق وہ کام کر رہے ہیں یا ہمارے منشاء کے خلاف۔
بعض دفعہ اچھائی یا بُرائی نسبتی ہوتی ہے۔ مثلاً ایک شخص کو گولی لگی تو جو اُس شخص کے ہمدرد ہوں گے وہ کہیں گے بُرا ہوا لیکن جو مخالف ہوں گے وہ کہیں گے اچھا ہوا۔ یہ بُرائی اور اچھائی نسبتی ہے ہم اسے خُلق نہیں کہہ سکتے۔ یہ ایک طبعی قوت کا اظہار ہے جو طبعی قوانین کے ماتحت ظاہر ہو رہی ہے۔ ارادہ کا چونکہ دخل نہیں اس لئے اسے خُلق بھی نہیں کہتے مگر فعل ایک ہی قسم کا ہے۔
ہاں مگر جب ترقی کرتے کرتے مادہ انسانی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ چھ خاصیتیں سینکڑوں شکل میں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ چونکہ انسان مادہ سے مرکب در مرکب ہو کر بنا ہے اور اس وجہ سے یہ خاصیتیں بھی اس کے اندر مرکب در مرکب ہوتی چلی گئی ہیں۔ ان کی مثال رنگوں کی ہے جو اصل میں تو صرف چھ سات ہیں مگر ان کو مرکب کر کے سینکڑوں رنگ پیدا کر لئے گئے ہیں۔ چونکہ انسان میں ان خاصیتوں کا ظہور نئے رنگ میں ہونے لگتا ہے اسے خُلق کہتے ہیں۔ گویا وہ ایک نئی پیدائش ہے۔ اور خُلق یعنی جسمانی پیدائش سے ممتاز کرنے کے لئے اسے خُلق کہنے لگے ہیں ورنہ اصل میں وہی چھ خاصیتیں ہیں جو ابتدائی سے ابتدائی مادہ میں بھی پائی جاتی ہیں۔ جب تک وہ جمادات میں کام کرتی ہیں ان کو طاقتیں کہتے ہیں۔ جب نباتات میں ایک زیادہ مکمل ظہور ان کا ہوتا ہے انہیں حِسّیں کہتے ہیں۔ جب حیوانات میں اس سے بھی زیادہ مکمل ظہور ہوتا ہے تو انہیں شہوات یا طبعی تقاضے کہتے ہیں۔ اور جب اس سے بھی زیادہ مکمل صورت میں انسان میں ان کا ظہور ہوتا ہے تو فکر اور ارادے کے بغیر ان کے ظہور کو طبعی تقاضے یا اظہارِ فطرت کہتے ہیں۔ اور جب ارادے یا فکر کے ماتحت ان کا ظہور ہوتا ہے اسے خُلق کہتے ہیں۔ یعنی ترقی کے اعلیٰ درجہ پر پہنچ گئیں۔ جیسے قرآنِ کریم میں بھی انسان کی تخلیق کے متعلق آتا ہے۔ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ طِیۡنٍ(23:13)۔
ثُمَّ جَعَلۡنٰہُ نُطۡفَۃً فِیۡ قَرَارٍ مَّکِیۡنٍ ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَۃَ مُضۡغَۃً فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا ٭ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰہُ خَلۡقًا اٰخَرَ ؕ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحۡسَنُ الۡخٰلِقِیۡنَ(23:14-15)۸۱؎ انسان کو خدا نے سب سے اعلیٰ مخلوق بنا دیا اور سب خلق اس کے ماتحت آگئی۔
اب اس اصل کو سمجھ لینے کے بعد انسانی اخلاق پر غور کرو۔ سب اخلاق کا باعث یہی سیدھے سادھے خواص جو مادے میں پائے جاتے ہیں نظر آتے ہیں جو مختلف مدارج ارتقاء کے بعد اس حالت کو پہنچ گئے ہیں اور اس وجہ سے ان کو اپنی ذات میں ہم ہرگز برا نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ طبعی تقاضے ہیں۔ ہم انہیں تبھی برا کہہ سکتے ہیں جب وہ بے محل استعمال ہوں۔ مثلاً بزدلی ہے، سب لوگ اسے بُرا کہتے ہیں۔ لیکن کیا اس کا یہی مطلب نہیں ہے کہ ایک بات سے انسان پیچھے ہٹتا ہے اور خالی پیچھے ہٹنا بُرا نہیں کہلا سکتا وہ اعراض کے قدرتی جذبہ کا اظہار ہے۔ ہم اسے تبھی بُرا کہیں گے جب کہ وہ فعل عقل اور مقتضائے وقت کے خلاف کیا گیا ہو۔ چنانچہ ہم زُہد کو دیکھتے ہیں تو وہ بھی پیچھے ہٹنے کا ہی فعل ہے لیکن سب لوگ اسے اچھا کہتے ہیں حالانکہ دونوں فعلوں کی شکل ایک ہے۔ لیکن حق یہ ہے کہ یہ فعل بھی اپنی ذات میں نہ اچھا ہے نہ بُرا۔ بلکہ جب عقل اور مقتضائے وقت کے مطابق یہ فعل ہو تو اچھا ہے ورنہ بُرا خواہ اس کا نام زہد رکھو یا کچھ اور۔ اسی طرح صبر ہے، اس میں بھی خاصیتِ اِعراض کا ہی ظہور ہے۔ اور ہم اسے اچھا تبھی کہیں گے جب یہ عقل و مقتضائے وقت کے مطابق ہو ورنہ نہیں۔
اب میں ایک مثال خاصیتِ میل کی بیان کرتا ہوں اور وہ عاشقانہ محبت کی یعنی اُس محبت کی جو مُحبّ اپنے محبوب سے کرتا ہے مثال ہے۔ ایک مرید اپنے پیر سے یا شاگرد اپنے اُستاد سے اس قسم کی محبت کرتا ہے۔ وہ اس کے حسن کو دیکھ کر جو اپنے اندر جذب رکھتا ہے اس کی طرف جھک جاتا ہے۔ جب یہ محبت عقل و مقتضائے وقت کے ماتحت ہوتی ہے خُلقِ حسن کہلاتی ہے۔ اور جب ایسی نہ ہو تو آوارگی اور کمینگی۔ لیکن دونوں حالتوں کے اندر حقیقت ایک ہی پوشیدہ ہے اور وہی خاصیت دوسرے کی کشش کو قبول کر لینے کی جو مادہ میں بھی موجود تھی ایک دوسری شکل میں ظاہر ہوئی ہے۔
قوتِ دفع سے پیدا ہونے والے اخلاق کی مثال میں بہادری کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ بہادری کیا ہے۔ وہی خاصیتِ دفع کی جو مادہ میں موجود تھی اس شکل میں ظاہر ہوتی ہے اور جب موقع مناسب پر استعمال کی جائے تو خُلقِ حسن کہلاتی ہے ورنہ بدخُلقی۔ گالیاں دینے کی عادت بھی اسی خاصیت کی ایک شاخ ہے۔ اس کی غرض بھی دوسرے کے الزام یا حملہ یا ظلم کو اپنے سے دُور کرنا ہوتی ہے۔
قوت جذب کا ایک ظہور ہے۔ قوت جذب دوسری اشیاء کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ یہی مادۂ حرص جس وقت انسانی افعال میں ظاہر ہوتا ہے تو کبھی حرص کی شکل میں اموال اور رتبوں کو کھینچنے میں لگ جاتا ہے اور جب ناجائز طور پر ظاہر ہوتا ہے تو اسے بُرا۔ ورنہ اچھا کہتے ہیں۔ اسی خاصیت کے ماتحت بشاشت یعنی خوش خُلقی سے ملنا بھی ہے اور مدح اور محبت، محبوبی اور ورع اور اشاعتِ حق کے لئے جھگڑنے کی صفات بھی اسی جذبہ کے ماتحت ہیں۔
فناء کی خاصیت سے پیدا ہونے والے اخلاق کی مثال میں تہوّر کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ تہوّر اس جذبہ کو کہتے ہیں کہ انسان اپنی فنا کا فیصلہ کر لیتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ میں اپنی جان کی بالکل پرواہ نہیں کرونگا۔ یہ جذبہ بھی کبھی عقل کے ماتحت ہوتا ہے۔ اس وقت یہ جذبہ نہایت اعلیٰ ہوتا ہے جیسے نعمت اللہ خاں نے کیا کہ جان دینے کا قطعی فیصلہ کر لیا مگر ایمان کی حفاظت کی۔ جب عقل کے ساتھ صحیح طور پر اس کا استعمال کیا جاتا ہے تو کہتے ہیں یہ قربانی ہے لیکن جب عقل کے ماتحت نہ ہو جیسے آگ جل رہی ہو اور کوئی اس میں گر کر اپنے آپ کو جلا دے تو یہ بھی تہوّر ہی ہے۔ لیکن عقل کے ماتحت نہیں اس لئے بُرا ہے۔
دوسری مثال اس جذبہ کی احسان ہے۔ یعنی ایک شخص دوسرے کی خاطر اپنا حق چھوڑ دیتا ہے اور ایک حد تک اپنے لئے فنا کے سامان پیدا کرتا ہے، کیونکہ وہ ان اشیاء کو جو اُسکے بقاء کے لئے تھیں دوسروں کو دیدیتا ہے۔
اِفناء کی خاصیت سے پیدا ہونے والے اخلاق کی مثال میں قتل، غارت، کینہ کو پیش کیا جا سکتا ہے کہ ان اخلاق کی تہہ میں اِفناء کی خواہش کا زور معلوم ہوتا ہے۔
اِبقاء کی خاصیت کے ماتحت پیدا ہونے والے اخلاق کی مثال میں سخاوت، امید، احسان اور اسی قسم کے اور اخلاق کو پیش کیا جا سکتا ہے (احسان کو پہلے فناء کے نیچے بیان کیا گیا ہے۔ اس کی یہ وجہ ہے کہ بعض اخلاق مرکب ہوتے ہیں اور دو خاصیتوں سے مل کر پیدا ہوتے ہیں یا مختلف وقتوں میں مختلف جذبات کا ظہور ہوتے ہیں)
کبر، دوسروں سے آگے بڑھنے کی خواہش، شجاعت، خودپسندی، ظہور کی خاصیت سے پیدا ہونے والے اخلاق میں شمار ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ان کی تہہ میں ظاہر ہونے کی خواہش مخفی ہے۔
افشاءِ سِرّ، ریاء، بے حیائی، صدق ایسے اخلاق میں جو اِظہار کی خاصیت کے غیر مادی ظہور ہیں۔
توکّل ، غفلت اور حیاء کے اخلاق قوّتِ خفاء یعنی پوشیدہ ہو جانے کے مادہ سے ترقی کر کے پیدا ہوتے ہیں۔
اِستہزاء، مزاح، جھوٹی گواہی، رازداری، جھوٹ، اِخفاء کی خاصیت کا غیر مادی ظہور معلوم ہوتے ہیں۔
بعض اخلاق مرکب ہوتے ہیں جیسا کہ حسد، جذب اور افناء سے مرکب ہے اور حقد اعراض اور افتاء سے مرکب ہے۔
بعض اخلاق مختلف حالتوں میں مختلف خاصیتوں کے ماتحت پیدا ہوتے ہیں جیسا کہ مراء اور جدال یعنی ہمت کرنا اور جھگڑنا کبھی اعراض کے ماتحت ہوتا ہے۔ اس وقت اس کی غرض دوسرے کا دعویٰ باطل کرنا ہوتا ہے۔ کبھی ہمت اور جھگڑا حق لینے کے لئے ہوتا ہے۔ اس وقت یہ جذب کی خاصیت کے ماتحت ہوتا ہے۔
غرض انسانی اخلاق کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ درحقیقت مادہ کے خواص کی ایک ترقی یافتہ صورت ہیں اور صرف ارتقاء کی حالت میں غیر مادی صورت اختیار کر گئے ہیں اور بعض صورتوں میں مرکب ہو گئے ہیں۔ اس اصل کے ماتحت جو میں نے اُوپر بیان کیا ہے نہ صرف یہ کہ اخلاق کی جڑ اور حقیقت ہی معلوم ہو جاتی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ اخلاق کی برائی اور بھلائی ذاتی نہیں ہے بلکہ ان کے استعمال کی طرز اور موقع سے وابستہ ہے کیونکہ خاصیات اپنی ذات میں نہ بُری ہیں نہ اچھی۔ مگر اس سے بھی بڑھ کر اس تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دُنیا کو پیدا کرنے والی ایک ہستی ہے کیونکہ اخلاق کی ایسی گہری جڑ آپ ہی آپ پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ صاف ظاہر ہے کہ ابتدائے عالم سے اس امر کا خیال رکھنا کہ انسان کے دل میں اخلاق کی ایک گہری جڑ قائم کی جائے جس سے وہ آزاد ہو ہی نہ سکے بغیر کسی باارادہ ہستی کے فعل کے نہیں ہو سکتا۔ اسی نے انسان کی پیدائش کی غرض کو مدنظر رکھ کر اس کے خمیر میں ہی اخلاق کی آمیزش کی تاکہ ہر حالت اور ہر عمر میں اخلاق کے اثر کو قبول کرنے کی قابلیت رکھے اور ان کی طرف اسے فطرتی میلان ہو۔
اخلاق کی حقیقت کے بیان کرنے کے بعد میں اس سوال کا جواب دینا چاہتا ہوں کہ
یورپ کے لوگ چونکہ فلسفۂ اشیاء کی طرف زیادہ متوجہ ہیں انہوں نے اِس سوال کو خاص اہمیت دی ہے اور ان میں سے محققین نے بڑے غور کے بعد اس سوال کا یہ جواب دیا ہے کہ اعلیٰ اخلاق اپنی ذات میں اچھی چیزیں ہیں اس لئے خود اعلیٰ اخلاق کی خاطر نہ کہ کسی اور غرض سے ان کو قبول کرنا چاہئے۔
اسلامی ماہرین اخلاق نے اِس سوال کا یہ جواب دیا ہے کہ انسان کو اخلاق کا اظہار بہ نیت ثواب کرنا چاہئے۔ اور امام غزالی یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر کوئی صحت کے خراب ہونے کے خیال سے زنا سے بچے تو وہ متقی نہیں ہے۔
اِس خیال پر مغربی خیال کے دلدادہ دو اعتراض کرتے ہیں (۱) جو شخص کسی مریض کا علاج اس کی صحت کے خیال سے نہیں بلکہ ثواب کی خاطر سے کرتا ہے کیا وہ تاجر نہیں۔ پھر جو شخص تجارت کے طور پر ان کاموں کو کرتا ہے وہ کیوں اچھا سمجھا جائے۔ (۲) اگر کوئی شخص زنا سے اپنی حفاظت عزت یا صحت کے لئے بچے تو وہ کیوں عفیف نہیں ہے اور اگر عفیف نہیں ہے تو شریعت نے زنا سے منع کیوں کیا ہے؟ تم کہتے ہو چونکہ اس طرح زنا سے بچنے میں ثواب کی نیت نہیں اس لئے وہ اخلاق نہیں کہلا سکتے۔ ہم پوچھتے ہیں خدا کسی کام کا ثواب کیوں دیتا ہے، اسی لئے نا کہ جس کام کے متعلق وہ کہتا ہے یوں نہ کرو وہ نہ کیا جائے اور جس کام کے متعلق وہ کہے کرو وہ کیا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کیوں کسی کام کے متعلق کہتا ہے کہ یہ کرو اور کیوں کہتا ہے کہ فلاں کام نہ کرو۔ اگر بغیر کسی حکمت کے تو اس کی شریعت بے معنی اور فضول ہوئی اور اگر کسی سبب سے اور حکمت کے ماتحت تو اس حکمت کو مد نظر رکھ کر کام کرنا کیوں اخلاق فاضلہ میں شامل نہ ہو گا۔ جس حکمت کو خدا تعالیٰ حکم دیتے وقت مدنظر رکھتا ہے اگر بندہ اسے کام کرتے وقت مدنظر رکھے تو اس کے کام کی قدر کیوں کم ہو جائے۔ مثلاً خدا تعالیٰ نے اگر زنا صحت یا قیام امن کے لئے منع فرمایا ہے تو جب ہم اسی غرض کو مدنظر رکھتے ہوئے زنا نہ کریں تو یہ کیوں اچھا خُلُق نہ سمجھا جائے اور ہم کیوں ثواب کے مستحق نہ ہوں۔ اور اگر زنا سے منع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تو معلوم ہوا خدا تعالیٰ نے اس کی ممانعت کا یونہی حکم دیا ہے۔
پہلے اعتراض یعنی تجارت کا جواب یہ ہے کہ اس فعل اور تجارت میں کوئی مناسبت نہیں کیونکہ اخلاق حسنہ کی جزاء خدا تعالیٰ نے پہلے مقرر کر رکھی ہے اور کہہ چھوڑا ہے کہ جو فلاں افعال
سے بچے گا اُسے یہ بدلہ دیا جائے گا اور جو فلاں افعال کرے گا اُسے یہ بدلہ دیا جائے گا۔ پس یہ تجارت نہیں بلکہ انعام ہے کیونکہ تجارت میں انسان اپنے کام کی قیمت خود مقرر کرتا ہے یہاں بدلہ اس کی پیدائش سے بھی پہلے کا مقرر شدہ ہے اور طبعی بدلہ ہے۔ خواہ ہم خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کی نیت رکھیں یا نہ رکھیں وہ بدلہ ہمیں مل رہا ہے اور ملے گا پس یہ تجارت نہیں۔ تجارت تو یہ ہے کہ مثلاً ایک کے پاس گھی ہے اور دوسرے کے پاس روپیہ۔ وہ روپیہ دے کر گھی خرید لیتا ہے لیکن بیچنے والا مختار ہے خواہ اپنی چیز دے یا نہ دے۔ مگر یہاں معاملہ برعکس ہے کیونکہ کام لینے والے نے خود ہی انعام کا وعدہ کیا ہے اور کام کرنے والے نے اس سے کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ پھر یہ فرق ہے کہ وعدہ کرنے والا وہ ہے جس کے ہم بہرحال محتاج ہیں۔ اگر وہ افعال جنہیں ہم بہ نیت ثواب کرتے ہیں نہ بھی ہوں تب بھی اسی کے احسان سے جیتے ہیں۔ اس ایسے شخص کے انعام کو جس کے انعام کے بغیر ہم زندہ ہی نہیں رہ سکتے تجارت نہیں کہا جا سکتا تجارت اسی سے ہوتی ہے جس سے ہم مستغنی ہوں خواہ تعلق رکھیں یا نہ رکھیں۔
دوسرا اعتراض بالکل ٹھیک ہے بشرطیکہ یہ کہا جائے کہ اگر بہ نیت ثواب کوئی کام نہ ہو تو وہ اخلاق سے نہیں۔ اصل جواب ان اعتراضوں کا یہ ہے کہ تم لوگ ثواب کی حقیقت کو نہیں سمجھے، ثواب کے معنے اگر روپیہ پیسہ کے ہوں تو بیشک تمہارا اعتراض درست ہو سکتا ہے، مگر ثواب کے معنے روپیہ اور پیسہ کے نہیں ہیں بلکہ اس اعلیٰ مقصد کے حاصل ہونے کے ہیں جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ ہم کامل الصفات ہو جائیں۔ ہمارے اندر وہ طاقت پیدا ہو جائے جس سے پاکیزگی ہمارا ذاتی جوہر ہو جائے اور ہم طہارت کا سرچشمہ ہو جائیں۔ جو انعامات کہ بظاہر مادی معلوم ہوتے ہیں وہ یا تو استعارے ہیں اور یا پھر اصل مقصد نہیں بلکہ لوازمات سے ہیں، اور لوازمات اصل مقصد نہیں ہوتے۔ ایک دوست کی انسان خاطر کرتا ہے، وہ خاطر اصل نہیں بلکہ لازمہ ہے، اصل دلی میلان اور اندرونی اتصال ہے۔ اسی طرح ثواب سے مراد کھانا اور پینا نہیں بلکہ کمال ذاتی کا حصول ہے جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ(51:57) یعنی انسانی پیدائش کی غرض عبد بننا ہے۔ پس ثواب یہ ہے کہ انسان کو عبد بننے کی توفیق عطا ہو اور وہ کامل ہو جائے۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ اس غرض سے کام کرنے سے ہی اخلاق اخلاق کہلا سکتے ہیں ورنہ وہ صرف ظاہری مشقیں ہیں اور کچھ نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو شخص ظاہری اخلاق کے مطابق عمل کریگا وہ دُنیا میں ایک حد تک فائدہ اٹھائے گا۔ لیکن اگر
اس کی غرض ساتھ ہی کامل ہونے کی نہیں اور خدا کی رضا کی اسے جستجو نہیں تو کمال اُسے کس طرح حاصل ہوگا۔ باطنی اور ذہنی افعال کا دارومدار تو نیتوں پر بہت ہی مبنی ہے۔ ہم تو دیکھتے ہیں کہ جسمانی افعال بھی نیتوں سے وابستہ ہیں۔ ورزش کرتے وقت اگر جسم کی طاقت کا خیال رکھا جائے تو اعلیٰ نتیجہ پیدا ہوتا ہے اور اگر نہ رکھا جائے تو ادنیٰ۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ ہم رضائے الٰہی کے لئے اخلاق پر عمل کرتے ہیں اور رضائے الٰہی کے حصول سے یہ مراد نہیں کہ خدا تعالیٰ ہمیں کچھ آئندہ دے بلکہ یہ ہے کہ اس کے دیئے ہوئے کا شکر ادا کریں۔ اور اخلاقی طور پر اس کے حضور سرخرو ٹھہریں۔
علاوہ ازیں میں کہتا ہوں معترض خود اپنی حقیقت کو نہیں سمجھا۔ اگر انعام کا مل جانا خود غرضی ہے تو اس کے اندر بھی خود غرضی موجود ہے۔ ہم اس سے دریافت کرتے ہیں کہ بیمار کا علاج کوئی شخص کیوں کرتا ہے۔ اگر وہ کہے کہ دلی رحم کی وجہ سے ، تو پھر یہ خوبی نہ رہی کیونکہ اگر اسے دل مجبور کرتا ہے کہ ضرور علاج کرو تو پھر علاج کرنے والے کی یہ خوبی نہیں وہ تو اپنے دل سے مجبور ہو کر کر رہا ہے۔ اگر یہ نہیں تو کوئی اور وجہ ہوگی اور وہ تعاون کا خیال ہے۔ انسان سمجھتا ہے آج میں کسی کا علاج کرونگا تو کل میرا بھی کوئی کریگا۔ اس میں بھی اس کام کا بدلہ ملنے کا خیال ہو گیا۔ اس کے مقابل پر ہماری طرف دیکھو کہ ہم یہ نیت نہیں رکھتے کہ جو ہم کام کرتے ہیں ان کا بدلہ روپے پیسہ کی شکل میں ہمیں آئندہ ملے۔ بلکہ یہ نیت کرتے ہیں کہ ہم اس پہلے انعام کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو ہمیں اس وقت تک خدا تعالیٰ کی طرف سے مل چکا ہے۔
اب میں یہ بتاتا ہوں کہ بااخلاق کسے کہتے ہیں۔ مسیحیوں کے نزدیک جس میں سب خوبیاں ہوں اور جو سب عیبوں سے پاک ہو وہ بااخلاق ہوتا ہے۔ باقی مذاہب والے بھی تھوڑے بہت اسی طرف گئے ہیں۔ مگر اسلام کہتا ہے۔ فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَہُوَ فِیۡ عِیۡشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُمُّہٗ ہَاوِیَۃٌ(101:7-10)۹؎ کہ جس کی نیکیاں زیادہ ہوں وہ اچھے اخلاق والا ہے اور جس کی بدیاں زیادہ ہوں وہ بداخلاق ہے۔ دیگر مذاہب والے کہتے ہیں کہ اگر ایک شخص ساری عمر نیکیاں کرتا رہے اور ایک بدی کا مرتکب ہو جائے تو بد اخلاق ہو گا۔ لیکن اسلام کہتا ہے جو شخص کوشش کر کے کثرت کے ساتھ خوبیاں پیدا کر لیتا ہے اس میں اگر بعض عیوب بھی ہوں جن کو خوبیاں چھپا لیں تو وہ بااخلاق ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ دیگر مذاہب والے سمجھتے ہیں کہ شریعت تحکم ہے اس کے احکام کی کوئی وجہ نہیں ہے اس لئے ذرا کوئی حکم توڑا اور انسان پکڑا گیا گویا شریعت تعزیرات کے طور پر ہے۔ مگر اسلام کہتا ہے اخلاق اور شریعت کے احکام اپنی ذات میں مقصود نہیں بلکہ یہ تو ورزشیں ہیں جو انسان میں دلی پاکیزگی پیدا کرنے کے لئے ہیں ان کے ذریعہ مشق کرائی جاتی ہے تاکہ پاکیزگی پیدا ہو اس لئے اگر کسی مشق میں کوئی غلطی ہو جائے تو یہ نہیں کہ ضرور اس کی سزا دی جائے تا وقتیکہ اس غلطی سے مشق کی اصل غرض کو نقصان نہ پہنچتا ہو اور اصل مقصد فوت نہ ہو جاتا ہو۔ جیسے مثلاً سکول میں اگر کوئی لڑکا دس سوالوں میں سے ایک درست نہ نکالے تو اسے سزا نہیں دی جائے گی۔ اسی طرح ڈاکٹر غلطیاں بھی کرتے ہیں لیکن اگر ان کے علاج سے لوگوں کو صحت ہو تو وہ ڈاکٹر سمجھے جاتے ہیں۔ پس اگر کسی میں بعض نقص رہ بھی جائیں تو بھی وہ بااخلاق سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی کہے اچھائین اور کوئی برائی نہیں کروں گا صرف چوری کر لیا کرونگا اس ایک نقص کا تو کوئی حرج نہیں۔ یہ بغاوت ہے اور بغاوت معاف نہیں ہوا کرتی۔ معاف غلطی ہوتی ہے۔ مثلاً ایک طالب علم کہے کہ میں ایک سوال کا جواب نہیں دوں گا تو اسے سکول سے نکالا جائے گا کیونکہ اس نے ممتحن کی ہتک کی۔ لیکن اگر وہ ایک آدھ سوال حل نہ کر سکے تو اس وجہ سے اسے کوئی سزا نہ دی جائے گی۔
اب یہ سوال ہے کہ کیا اخلاق کی اصلاح بھی ممکن ہے گو عام طور پر لوگ کہتے ہیں کہ ممکن ہے مگر اپنے معاملہ میں آکر کہہ دیا کرتے ہیں کہ کچھ نہیں بنتا۔ اسی مجمع میں جس سے پوچھو کہ اخلاق درست ہو سکتے ہیں تو کہے گا ہاں ضرور ہو سکتے ہیں اور اگر کہو تم نے اپنے اخلاق کی اصلاح کرلی ہے تو کہے گا میں نے بہت زور لگایا ہے مگر کچھ نہیں بنتا۔ عام طور پر تو یہ ہوتا ہے کہ لوگ دوسروں کے لئے بڑی رائے ظاہر کرتے ہیں اور اپنے لئے اچھی۔ مگر اس معاملہ میں اُلٹ ہوتا ہے کیونکہ وہ دوسرے لوگوں کے لئے اچھی رائے ظاہر کرتے ہیں اور اپنے لئے بڑی۔ مگر قرآن کریم کہتا ہے اخلاق کی اصلاح ہو سکتی ہے۔ فرماتا ہے فَذَکِّرۡ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّکۡرٰی(87:10)۷؎ اِنْ کے معنے قَدْ کے ہیں۔ کہ اے محمد ﷺ تو لوگوں کو نصیحت کر کہ نصیحت ہمیشہ ہی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ پس قرآن کریم کی اس آیت کے ماتحت اخلاق کی اصلاح ہر حالت میں ہو سکتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس بارے میں جو ارشاد جماعت کو کیا ہے وہ اپنی ذات میں ایک معجزہ ہے بلکہ اتنا بڑا معجزہ ہے کہ وہی آپ کی صداقت کے ثبوت کے لئے کافی ہے۔ قرآن کریم کو چھوڑ کر کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے علم کا وہی منبع ہے اور کسی نے اِس حقیقت کو بیان نہیں کیا۔ آپ نے ایسے الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے کہ وہ دل کو اُمید سے پُر کر دیتے ہیں۔ آپ جماعت کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں:۔ ”یہ خیال نہ کرو کہ ہم گنہگار ہیں ہماری دُعا کیونکر قبول ہوگی۔ انسان خطا کرتا ہے مگر دعا کے ساتھ آخر نفس پر غالب آجاتا ہے اور نفس کو پامال کر دیتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے انسان کے اندر یہ قوت بھی فطرتاً رکھ دی ہے کہ وہ نفس پر غالب آجائے۔ دیکھو پانی کی فطرت میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ وہ آگ کو بجھا دے۔ پس پانی کو کیسا ہی گرم کرو اور آگ کی طرح کر دو پھر بھی جب وہ آگ پر پڑے گا تو ضرور ہے کہ آگ کو بجھا دے جیسا کہ پانی کی فطرت میں برودت ہے ایسا ہی انسان کی فطرت میں پاکیزگی ہے۔ ہر ایک شخص میں خدا تعالیٰ نے پاکیزگی کا مادہ رکھ دیا ہوا ہے۔ اس سے مت گھبراؤ کہ ہم گناہ میں ملوث ہیں۔ گناہ اس میل کی طرح ہے جو کپڑے پر ہوتی ہے اور دُور کی جاسکتی ہے۔ تمہارے طبائع کیسے ہی جذبات نفسانی کے ماتحت ہوں خدا تعالیٰ سے رو رو کر دُعا کرتے رہو تو وہ ضائع نہ کرے گا۔ وہ حلیم ہے ، وہ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ہے“۔۱؎
یہ ایسا پُر اُمید پیغام ہے کہ گو اجمالی طور پر قرآن کریم میں پایا جاتا ہے مگر اور کسی کتاب میں اس کو اس رنگ میں نہیں بیان کیا۔ جس رنگ میں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اجمال کے طور پر قرآن کریم سے اس بیش بہا تعلیم کو لیا ہے اور کسی کتاب نے بیان نہیں کیا۔ اور تشریح کو مدنظر رکھا جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کمال کر دیا ہے۔
اُوپر کی عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان میں ایسا مادہ ہے کہ جب بھی اس کو کام میں لایا جائے سب گناہوں کو دُور کر دیتا ہے اور اصلاح کر دیتا ہے۔
اِس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پھر فطرت کا میلان نیکی کی طرف ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ فطرت کا میلان نہ نیکی کی طرف ہے نہ بدی کی طرف۔ ہاں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اعلیٰ سے اعلیٰ قابلیتیں دیکر بھیجا ہے اور اسے مقدرت دی ہے کہ وہ انہیں نیک وبد طور پر استعمال کرسکے۔ پھر وہ اسے سیدھا راستہ دکھا کر چھوڑ دیتا ہے۔
جیسا کہ فرماتا ہے۔ اِنَّا ہَدَیۡنٰہُ السَّبِیۡلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوۡرًا(الدہر: ۴)۲؎ یعنی ہم نے انسان کو ہر رنگ کی طاقت دیکر قدرت دیدی ہے۔ چاہے کافر بنے چاہے شکر گزار۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان میں یہ طاقت ہے کہ بدی کو دبا سکتا ہے تو دُنیا میں بدی کیوں زیادہ ہے اور نیکی کیوں کم ہے؟
اِس سوال کا جواب میں نے پہلے بھی اپنی ایک تقریر میں دیا تھا۔ مگر پچھلے دنوں چار پانچ آدمیوں نے مختلف مقامات سے یہ سوال لکھ کر بھیجا ہے۔ نہ معلوم ایک ہی وقت میں یہ سوال کس طرح پیدا ہو گیا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ دُنیا میں برائی زیادہ نہیں بلکہ نیکی زیادہ ہے۔ دیکھو ایک چور جس میں چوری کی برائی پائی جاتی ہے وہ اگر کئی نیک کام کرے۔ مثلاً خوش خُلق ہو، سخی ہو، ماں باپ کی خدمت کرنے والا ہو تو اس میں نیک خُلق زیادہ ہوئے یا بُرے؟ پس اخلاق کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ بداخلاقی کم ہو گی اور نیک اخلاق زیادہ ہونگے۔ اکثر نیک اخلاق لوگوں میں پائے جائیں گے اور بداخلاقیاں کم ہوں گی۔ یہ شبہ کہ دُنیا میں بُرائیاں بہ نسبت نیکیوں کے زیادہ ہیں دو وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک تو اِس وجہ سے کہ لوگ دیکھتے ہیں دُنیا میں کافر زیادہ ہوتے ہیں اور مؤمن کم۔ اور دوسرے اس وجہ سے کہ لوگ دیکھتے ہیں کہ اکثر انسانوں میں کچھ عیوب نظر آتے ہیں لیکن یہ دونوں اُمور ہرگز ثابت نہیں کرتے کہ دُنیا میں بدی زیادہ ہے بلکہ باوجود ان دونوں اُمور کے دُنیا میں نیکی زیادہ ہے۔ اگر پہلی بات کو یعنی اس امر کو کہ دُنیا میں کافر زیادہ ہیں لیا جائے تو غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ یہ ایک دھوکا ہے جو حقیقت پر غور نہ کرنے سے پیدا ہوا ہے۔ حقیقت یہ نہیں کہ دُنیا میں کافر زیادہ ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دُنیا میں کافر کہلانے والے زیادہ ہیں کیونکہ اگر تحقیق کی جائے تو دُنیا میں سے اکثر آدمی وہی ملیں گے جن پر باطنی حجت پوری نہیں ہوئی۔ پس گو ان کا نام ظاہر شریعت کی بناء پر کافر رکھا جائے خدا تعالیٰ کے نزدیک ان میں کفر کی حقیقت نہیں پائی جاتی بلکہ ان لوگوں کو خدا تعالیٰ یا پھر موقع دیگا یا ان کے فطری اعمال یعنی شرک و توحید کی بناء پر انہیں سزا یا جزاء دیگا۔ پس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اصل میں ایمان ہی زیادہ ہے اور اسی نسبت سے نیکی بدی کی نسبت زیادہ ہے۔
دوسری وجہ بھی کہ اکثر لوگوں میں کمزوریاں نظر آتی ہیں باطل ہے۔ کیونکہ سوال یہ نہیں کہ
اکثر لوگوں میں کمزوریاں نظر آتی ہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ اکثر لوگوں میں بدیاں نظر آتی ہیں یا نیکیاں اگر اکثر لوگوں میں اکثر نیکیاں نظر آتی ہیں تو نیکی دُنیا میں زیادہ ہوئی۔ اور ہر شخص جو انسانوں کے مجموعی اعمال پر نظر کریگا اسے معلوم ہو گا کہ انسانوں کے اعمال کو مجموعی طور پر دیکھ کر یہی ثابت ہوتا ہے کہ لوگوں میں اکثر نیکیاں ہیں اور کم بدیاں ہیں۔ پس دُنیا میں بدی کم ہوئی اور نیکی زیادہ۔
بعض لوگ اِس موقع پر کہہ دیتے ہیں کہ خواہ کچھ ہو اگر اکثر لوگوں کو سزا ملتی ہے تو پھر شیطان جیتا۔ میں کہتا ہوں نہیں، پھر بھی خدا ہی جیتا اور وہ اس طرح کہ خدا تعالیٰ کا ایک قانون یہ بھی ہے کہ سزا بھگت کر سارے کے سارے انسان جنت میں چلے جائیں گے۔ چنانچہ قرآن کریم کہتا ہے۔ وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ(51:57)۔ میں نے انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میرے بندے بن جائیں۔ اب یہ کس طرح ممکن ہے کہ لوگ خدا کے بندے بن کر بھی سزا میں پڑے رہیں پس معلوم ہوا کہ ایک وقت سب کے سب دوزخ سے نکالے جائیں گے۔ چنانچہ دوسری آیات اور احادیث سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی وقت سب کے سب لوگ جنت میں چلے جائیں گے۔ اس لئے سارے خدا کے عبد ہو گئے اور خدا ہی جیتا۔ پھر شیطان بھی کہاں بیٹھا رہے گا، وہ بھی جنت میں چلا جائے گا۔ اس طرح وہ اپنے نفس کے لحاظ سے بھی ہار گیا۔ اب وہ جو کہتے ہیں شیطان جیتا وہ شیطان کو بھی جنت میں دیکھ کر شرمائیں گے کہ ہم تو اسے جتا رہے تھے یہ خود بھی یہیں آگیا۔
اب پھر میں باکمال انسان کی تعریف دُہراتا ہوں۔ باکمال وہ انسان ہے جو اِس حد تک گناہ سے بچے کہ اس کی روح ہلاکتِ اُخروی سے بچ جائے۔ (ہلاکت اُخروی سے مراد خدا تعالیٰ کی ناراضی ہے) اور اِس حد تک نیکی کرے کہ خدا تعالیٰ کی رضاء کی طرف قدم مارنے کی فوری قوت اس میں پیدا ہو جائے۔ ورنہ یوں تو یہ قوت سب میں پیدا ہو گی۔
اب میں یہ بتاتا ہوں کہ گناہ کیا ہے۔ گناہ وہ عمل ہے کہ جس سے انسان کی روح بیمار ہو جاتی ہے اور رؤیتِ الٰہی کے قابل نہیں رہتی اور اس کے لئے اس سفر میں دقتیں پیدا ہو جاتی ہیں جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ ان اعمال میں سے بعض مادی ہیں اور بعض روحانی۔ جو مادی ہیں ان میں سے اکثر ایسے ہیں کہ جن کی مضرات نظر آتی ہیں۔ جیسے جھوٹ، قتل وغیرہ کے ارتکاب کا نقصان عیاں ہوتا ہے۔
نیکی وہ اعمال ہیں کہ جن سے انسانی روح کو اتنی صحت حاصل ہو جائے کہ وہ رؤیت الٰہی کے قابل ہو جائے۔ تندرست آدمی کا یہی مفہوم ہوتا ہے کہ وہ کام کاج کر سکے۔ ورنہ ڈاکٹر تو ہر ایک میں کوئی نہ کوئی بیماری بتا دے گا۔ پس نیکی یہ ہے کہ رؤیت الٰہی کی قابلیت انسان میں پیدا ہو جائے۔ اس میں بھی روحانی اور مادی دونوں قسم کے افعال شامل ہیں۔
اصل مضمون کے سمجھنے کے لئے یہ بات سمجھنی بھی ضروری ہے کہ گناہ کی اقسام کتنی ہیں۔ سو یاد رکھو کہ اس کی تین اقسام ہیں (۱) دل کا گناہ۔ یہ اصل گناہ ہے۔ (۲) زبان کا گناہ۔ (۳) جوارح یعنی ہاتھ اور پاؤں اور دیگر اعضاء کا گناہ۔
نیکی کی اقسام بھی تین ہی ہیں (۱) دل کی نیکی۔ یہ اصل ہے (۲) زبان کی نیکی (۳) جوارح کی نیکی۔
اُوپر کے بیان کو پڑھ کر یہ خیال ہو سکتا ہے کہ جب بندہ کی ترقی کے لئے خدا تعالیٰ نے اسقدر طاقتیں رکھی ہیں تو گناہ کہاں سے آتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ گناہ کی ابتداء مندرجہ ذیل امور سے ہوتی ہے جہالت یا عدم علم سے۔ یعنی بعض دفعہ انسان طبعی تقاضوں کے پورا کرنے میں قوت فکر سے کام نہیں لیتا اور عارضی خوشی کو مقدم کر لیتا ہے۔ پس عارضی خوشی دائمی راحت سے اس کی نظر کو ہٹا دیتی ہے۔ اس کے موجبات یہ ہیں۔ اول جہالت مستقل ہو یا عارضی۔ جہالت مستقل تو ظاہر ہی ہے عارضی جہالت یعنی باوجود علم کے ایک وقت میں جاہل کی طرح ہو جائے۔ اس کے مندرجہ ذیل اسباب ہیں۔ (۱) لالچ۔ اس سے بھی جہالت پیدا ہوتی ہے (۲) غصہ (۳) سخت ضرورت (۴) صحت کی خرابی (۵) سخت خوف (۶) سخت محبت۔ اس سے بھی جہالت پیدا ہوتی ہے (۷) انتہائی اُمید (۸) سخت مایوسی (۹) ضد (۱۰) خواہش کی زیادتی (۱۱) خواہش کی کمی (۱۲) ورثہ یعنی بعض خیالات ورثہ سے ملتے ہیں اور بسا اوقات دوسرے تمام خیالات پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ یہ بارہ ذریعے ہیں جن سے جہالت پیدا ہوتی ہے۔ (۲) دوسری چیز جس سے گناہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ صحبت کا اثر ہے۔ انسان کے اندر نقل کی طاقت رکھی گئی ہے۔ وہ اپنے ارد گرد جو کچھ دیکھتا ہے اس کی نقل کرتا ہے اور اس کے نتائج پر غور نہیں کرتا۔ صحبت کا اثر زیادہ تر ماں باپ یا دوسرے رشتہ داروں کی طرف سے، کھیلنے والوں کی طرف سے اور اُستادوں کی طرف سے پڑتا ہے۔ قومی رسوم سے جو اثر انسان پر پڑتا ہے وہ بھی اسی قسم میں شامل ہے۔
(۳) گناہ کا ایک موجب غلط علم بھی ہے۔ ایسی باتوں کو انسان علم سمجھ لیتا ہے جو علم نہیں ہوتیں۔ ایسے اُصول پر عمل کرتا ہے جو غلط ہوتے ہیں۔
(۴) گناہ کا ایک موجب عادت بھی ہے۔ باوجود اس کے کہ انسان سچائی سے واقف ہوتا ہے مگر جب موقع آتا ہے اس برائی سے بچ نہیں سکتا۔ مثلاً جانتا ہے کہ شراب پینا بُرا ہے اور ارادہ کرتا ہے کہ نہیں پیوں گا۔ لیکن باہر جاتا ہے، بادل آیا ہوتا ہے، ایک ایسی صحبت میں جا کر بیٹھتا ہے جہاں شراب اُڑ رہی ہے وہاں دوسرے کہتے ہیں لو تم بھی پیو تو اس نے نہ پینے کے متعلق جو ارادہ کیا تھا وہ ٹوٹ جاتا ہے۔
(۵) گناہ کا ایک موجب سُستی اور غفلت ہے۔ ایک بات کا علم ہوتا ہے۔ عادت بھی نہیں ہوتی۔ مگر با وجود اس کے کام کرنے کی امنگ نہیں ہوتی۔ کہتا ہے پھر کر لیں گے۔ اسی میں وقت گزر جاتا ہے اور وہ بُرائی میں مبتلاء ہو جاتا ہے۔ رسول کریم ﷺ کے وقت ایک ایسا ہی واقعہ ہوا۔ ایک مخلص صحابی تھے جو جنگ کے لئے جانے کی تیاری کرنے کی بجائے اس خیال سے بیٹھے رہے کہ جب چاہوں گا چل پڑوں گا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ لشکر کے ساتھ نہ جاسکے۔۳؎غرض کبھی سستی سے بھی انسان گناہ میں مبتلاء ہو جاتا ہے۔ ایسے انسان کے اندر یہ مادہ نہیں ہوتا کہ اُسے مجبور کرے کہ اُٹھو یہ کام کرو۔
(۶) گناہ کا ایک موجب عدمِ موازنہ بھی ہے۔ یعنی یہ فیصلہ کرنے کی طاقت نہ رکھنا کہ یہ کام اچھا ہے یا وہ۔ یا یہ کہ فلاں جذبہ کو کس حد تک کس سے اور کس حد تک کس سے استعمال کرنا چاہئے۔ مثلاً محبت ایک اچھا جذبہ ہے لیکن ایک شخص بیوی سے زیادہ محبت کرے اور ماں سے کم حالانکہ ماں کا اس پر احسان ہے۔ وہ اس کے عدم سے وجود میں لانے کا باعث ہوئی ہے اور بیوی سے اس کا تعاون کا رشتہ ہے وہ صرف اس کی خواہشات کو پورا کرتی ہے یا جیسے آجکل بعض لوگ کہتے ہیں حضرت مرزا صاحب سچے ہیں مگر ہم فلاں پیر کے ہاتھ میں ہاتھ دے چکے ہیں۔ یہ سب باتیں قوتِ فیصلہ کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
(۷) گناہ کا ایک موجب اس زمانہ کے خیالات کی مخفی رَو بھی ہے۔ باقی اُمور کی میں نے تفصیل نہیں بیان کی مگر اس کی بیان کروں گا۔ کیونکہ تفصیل کے بغیر آپ لوگ اسے سمجھ نہیں سکتے۔
بلا اس کے کہ کوئی تحریک کرے یا منوانے کے لئے دلیل دے۔ جب کسی خیال کی رَو دنیا میں چلے گی تو وہ متاثر کرے گا۔ دس بدمعاشوں میں ایک اچھے انسان کو بٹھا دو، وہ بدمعاش خواہ دل میں بدی رکھیں اور اس پر ظاہر نہ کریں تو بھی اس کے دل پر بُرائی کا اثر ہونا شروع ہو جائے گا۔ ایک دفعہ ایک سکھ لڑکا جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اخلاص تھا، اس نے حضرت خلیفہ اول کی معرفت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پیغام بھیجا کہ میرے دل میں کچھ دنوں سے دہریت کے خیالات پیدا ہو رہے ہیں۔ جب حضرت خلیفہ اول نے یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سنائی تو آپ نے فرمایا اسے کہو کالج میں جہاں اس کی سیٹ ہے اُسے بدل لے۔ اُس نے ایسا ہی کیا اور بعد میں پتہ لگا جس دن سے اُس نے سیٹ تبدیل کی اُسی دن سے اس کے خیالات میں اصلاح ہونی شروع ہو گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے دل میں دہریت کے خیالات پیدا ہونے کا سبب ایک دہریہ لڑکے کا قُرب تھا۔ بغیر اس کے کہ وہ لڑکا اپنے خیالات کو ظاہر کرتا اس کے دلی خیالات کا اثر اُس سکھ لڑکے پر پڑتا رہتا تھا۔
پس خیالات کی رَو ایسی چیز ہے کہ جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ اور یہ بات قرآن کریم اور رسول کریم ﷺ سے بھی ثابت ہے۔ اس کی مثال حیوانوں میں بھی بڑی وضاحت کے ساتھ ملتی ہے۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ دو بلیاں آپس میں لڑنے لگتی ہیں لیکن تھوڑی دیر غوں غوں کرنے کے بعد ان میں سے ایک اپنی دُم نیچی کر کے چلی جاتی ہے اور لڑائی نہیں ہوتی۔
اسی طرح شیروں کے متعلق تجربہ کیا گیا ہے۔ چار پانچ کو اکٹھا ایک جگہ چھوڑ دیا جائے تو ان میں سے جو سب سے زبردست ہو گا وہ کھڑا رہے گا اور باقی اپنی دُمیں نیچی کر کے اِدھر اُدھر سرک جائیں گے۔ اس وقت اگر ان کے درمیان گوشت ڈالا جائے تو صرف وہی کھائے گا جو زبردست ہو گا۔ اور باقی بغیر پنجہ مارے چپکے کھڑے رہیں گے۔
مسمریزم جو خیالات کی رَو سے ہی متاثر کرنے والا علم ہے اس کے متعلق میں ایک دفعہ تجربہ کر رہا تھا تاکہ اس علم کے ذریعہ روحانیت پر جو اعتراض کئے جاتے ہیں ان کا جواب دیا جا سکے۔ اس وقت ہماری نانی اماں صاحبہ نے کہا۔ یہ یونہی باتیں ہیں یہ سامنے چڑیا بیٹھی ہے اسے پکڑ کر دکھا دو تو جانیں۔ چڑیا دو اڑھائی گز کے فاصلہ پر بیٹھی تھی۔ میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُسے متاثر کیا اور اُس کے پاس چلا گیا۔ لیکن جب میں نے اُسے پکڑنے کے لئے ہاتھ ڈالا تو چونکہ میرا ہاتھ میری اور اُس کی آنکھوں کے درمیان آگیا اس لئے وہ ہاتھ سے نکل کر اُڑ گئی۔
ایک سیاح لکھتا ہے۔ میں نے جنگل میں دیکھا کہ ایک گلہری بے تحاشا دوڑ رہی ہے مگر دُور نہیں جاتی۔ ہر پھر کر اسی جگہ آجاتی ہے۔ میں نے قریب جاکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک سانپ سر نکالے اس کی طرف دیکھ رہا ہے۔ آخر وہ بالکل اس کے نزدیک چلی گئی اور سانپ اُسے منہ میں ڈالنے ہی والا تھا کہ میں نے اُسے کوڑا مارا اور وہ بھاگ گیا۔ یہ سانپ کے خیالات کا ہی اثر تھا کہ وہ گلہری بھاگ کر دُور نہ جاسکتی تھی اور آخر بالکل قریب آگئی۔
ایک اور سیاح لکھتا ہے۔ افریقہ کے ایک جنگل میں میں نے دیکھا کہ ایک پرندہ پھڑپھڑا رہا ہے قریب جاکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ سانپ اس کی طرف نظر جمائے بیٹھا ہے۔ میں نے سانپ کو مار دیا۔ بعد میں دیکھا تو وہ جانور بھی اس خوف اور صدمہ سے کہ میں پکڑا جاؤنگا، مرا پڑا تھا۔
انگلستان میں ایک اور طریق سے تجربہ کیا گیا ہے۔ اور وہ اس طرح کہ ایک جنس کے دو کیڑے لائے گئے۔ ان میں سے ایک پانچ میل کے فاصلہ پر رکھ دیا گیا مگر وہ دوسرے کیڑے کے پاس خود بخود پہنچ گیا۔ یہ خیالات کی رَو کا ہی نتیجہ تھا۔
امریکہ کے ایک ڈاکٹر نے چیونٹیوں کا گھر بنایا جسے چاروں طرف سے بند کر دیا۔ اس کے بعد دیکھا گیا کہ باہر کی طرف سے چیونٹیاں چمٹی ہوئی تھیں۔ جب اس کمرہ کو کھولا گیا تو معلوم ہوا کہ اسی جگہ چیونٹیاں چمٹی ہوئی تھیں جس طرف چیونٹیوں کا گھر تھا۔ پھر اسے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دیا گیا اور چیونٹیاں ادھر ہی جا چمٹیں، حالانکہ درمیان میں دیوار حائل تھی۔
ان واقعات سے ثابت ہے کہ خیالات کی رَو ایک زبردست طاقت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہے کہ جب آپ کسی مجلس میں بیٹھتے تو ستر بار استغفار پڑھتے۔۴۷؎اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ڈرتے تھے کہ آپ گندے نہ ہو جائیں۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ نبی گندگی کے پاس آنا بھی پسند نہیں کرتے اس لئے آپ بھی استغفار پڑھتے تھے کہ گندگی دُور ہی رہے۔ پھر بعض لوگ ایسے بھی مجلس میں بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں جو خود گندے نہیں ہوتے مگر دوسروں کا اثر قبول کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ پس آپ اس لئے بھی استغفار پڑھتے تھے کہ ان پر کسی گندگی کا اثر نہ ہو۔
گناہ کے خلاف جدوجہد کرنے کے لئے گناہ آلود حالتوں کا جاننا بھی نہایت ضروری ہے اس لئے اب میں گناہ آلود حالتوں کا بھی اس جگہ ذکر کر دیتا ہوں۔
پہلی حالت یہ ہے کہ انسان گناہ کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے مگر کبھی کبھی اس سے گناہ سرزد ہو جاتا ہے۔
دوسری حالت یہ ہے کہ گناہ کو بُرا تو سمجھتا ہے مگر اکثر لالچوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور گناہ میں مبتلاء ہو جاتا ہے۔
تیسری حالت یہ ہے کہ انسان گناہ کو بُرا تو نہیں سمجھتا مگر گناہ کی خواہش بھی نہیں ہوتی۔ یعنی اگر موقع پیش آ جائے تو گناہ سے نفرت بھی نہیں کرتا۔
چوتھی حالت یہ ہے کہ انسان گناہ کو پسند کرتا ہے مگر اس میں حیا کا مادہ ہوتا ہے اس لئے پوشیدہ گناہ کرتا ہے۔ اور اگر گناہ سے رُکتا ہے تو عادت یا رسم کی وجہ سے رُکتا ہے۔
پانچویں حالت یہ ہوتی ہے کہ انسان عادت اور رسم کو توڑ کر گناہ کے ارتکاب پر دلیر ہو جاتا ہے اور گناہ کو پسند کرتا ہے۔
چھٹی حالت یہ ہوتی ہے کہ انسان دوسروں کو بدی کی ترغیب دیتا اور اسے اچھا قرار دیتا ہے۔
ساتویں حالت یہ ہوتی ہے کہ انسان شیطان کا بروز ہو جاتا ہے اور اس کا مقصد ہی بدی پھیلانا ہو جاتا ہے۔
اس کے مقابلہ میں نیکی کی یہ حالتیں ہیں۔
اول۔ بخواہش ثواب نیکی کرنا۔ دوم۔ بطور فرض نیکی کرنا کہ خدا کا حکم ہے۔ سوم۔ نیکی کو نیکی کی خاطر کرنا۔ چہارم۔ نیکی کو بطور عادت کرنا۔ پنجم۔ نیکی میں ہی اپنی خوشی پانا۔ ششم۔ دُنیا میں نیکی پھیلانے کی کوشش کرنا۔ ہفتم۔ نیکی کا مجسم ہو جانا اور نیکی کے پھیلانے کو اپنا مقصدِ وحید قرار دے لینا۔ یعنی ملائکہ کی طرح ہو جانا۔
اس کے اُوپر اور بھی درجے ہیں۔ مگر وہ کسبی نہیں بلکہ وہبی ہیں۔ یعنی نبوت کے مدارج۔
میں اُوپر بتا آیا ہوں کہ اخلاق اور روحانیت میں صرف اس قدر فرق ہے کہ وہی صفات جب بندوں کے متعلق استعمال ہوں تو اخلاق کہلاتی ہیں۔ اور جب خدا تعالیٰ کے متعلق استعمال ہوں تو روحانیت۔ اس لئے جو اصولی علاج ایک کا ہو گا وہی دوسرے کا۔ اس لئے مجھے اخلاقی اور روحانی
بیماریوں کے علاج الگ بتانے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ میں اس جگہ ان علاجوں کے بیان کرنے کی گنجائش پاتا ہوں جو دوسرے مذاہب نے بیان کئے ہیں یا صوفیاء نے بیان کئے ہیں اس لئے میں اُوپر کی ابتدائی تشریحوں کے بعد گناہ کے علاج کے متعلق وہ اسلامی تعلیم جو میری سمجھ میں آئی ہے بیان کرتا ہوں۔
اسلام نے علاجِ گناہ کے متعلق گناہ پیدا ہونے کے بعد، اس کا علاج کس طرح کیا جائے؟ کے سوال سے پہلے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ کیا احتیاط کی جائے کہ گناہ پیدا ہی نہ ہونے پائے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سوال کے جواب میں گناہ کے دُور کرنے کی کنجی ہے۔ کپڑے کے میلا ہو جانے کے بعد اس کے دھونے سے کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم ایسی تدبیر اختیار کریں کہ وہ میلا ہی نہ ہو۔ اس میں کیا شک ہے کہ یہ سب سے بہتر اور ضروری امر ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام نے دوسرے مذاہب کے برخلاف صرف اسی طرف توجہ نہیں دلائی کہ گناہ کا قلع قمع کس طرح کیا جائے، بلکہ اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ سب سے پہلے یہ کوشش کرو کہ گناہ پیدا ہی نہ ہو۔
مگر میں افسوس سے کہتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ قرآن کریم نے ادھر توجہ دلائی اور بعض اسلامی بزرگوں نے بھی اس پر زور دیا ہے، بحیثیت قوم مسلمانوں نے ادھر پوری توجہ نہیں کی اور اس امر کو نظر انداز کر دیا ہے کہ گناہ انسان کے بلوغ سے پہلے پیدا ہوتا ہے۔ جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ فلاں اب گناہ کرنے لگا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ گناہ کا بیج جو اس کے اندر تھا وہ درخت بن کر ظاہر ہو رہا ہے۔ ورنہ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ بیج نہ ہو اور درخت پیدا ہو جائے؟ ہرگز نہیں۔ اگر گناہ کی قابلیت پہلے ہی نہ تھی تو پھر وہ بالغ ہونے پر کہاں سے آگئی۔ پس اصل بات یہ ہے کہ گناہ بچپن سے پیدا ہوتا ہے اور ہر ایک بدی بلوغ سے پہلے انسان کے دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے، بلکہ بعض دفعہ تو پیدا ہونے سے بھی پہلے بعض بدیوں کی ابتداء شروع ہو جاتی ہے۔ جب ایک شخص بالغ ہو جاتا ہے اور علماء کہتے ہیں اسے بدیوں سے بچاؤ، تو اس وقت وہ شخص پورے طور پر شیطان کے قبضہ میں جا چکا ہوتا ہے۔ میرے اس کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ اس میں سب بدیاں پائی جاتی ہیں بلکہ یہ ہے کہ اس میں گناہ کی طاقت اور ان کا شکار ہو جانے کا میلان پیدا ہو چکا ہوتا ہے۔ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ اخلاق مادہ کی چند خاصیتوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ وہی میلان اگر بچپن میں خراب ہو جائیں تو گو بچہ بالکل بے گناہ نظر آئے، مگر اس کے اندر گناہ کے ارتکاب کا پورا سامان موجود ہو گا۔
اب ذرا سوچو تو سہی کہ گناہ کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔ کیا گناہ ورثہ سے نہیں پیدا ہوتے؟ وہ قومیں جو کوئی خاص کام کرنے والی ہوتی ہیں اسی قسم کا میلان ان کی اولاد میں پایا جاتا ہے۔ ایک ایسی قوم جس میں نسلاً بعد نسل بہادری کی روح نہ ہو اور اُسے بہادر بنانے کی کوشش کی جائے وہ لڑائی کے وقت ضرور بزدلی دکھائے گی۔ یا ویسی بہادری نہیں اس سے ظاہر ہو گی جیسی کہ ایک نسلی بہادر قوم سے ظاہر ہو گی۔ تو گو اس قسم کی باتوں کی اصلاح ہو سکتی ہے، مگر پھر بھی ورثہ کا اثر ضرور ہوتا ہے۔
اِسی طرح گناہ لالچ، غصہ، ڈر، محبت، خواہش کی زیادتی وغیرہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اب غور کرو کیا یہ وہی خصلتیں نہیں جو بچپن میں ہی بچہ سیکھتا ہے۔ کیا وہ اس کی چھوٹی چھوٹی بے ضرر نظر آنے والی عادتیں ہی نہیں ہیں جو سارے گناہوں کا موجب ہوتی ہیں۔ ماں باپ کہتے ہیں کہ جی بچہ ہے۔ اِس لئے فلاں فلاں فعل کرتا ہے۔ مگر کیا بچپن ہی کا زمانہ وہ زمانہ نہیں ہے جب سب سے زیادہ گہری جگہ پکڑنے والے نقش جمتے ہیں۔ ایک شخص جو کسی کا مال چوری کر کے لے جاتا ہے اسے اگر بچپن میں اپنے نفس پر قابو کرنا سکھایا جاتا تو وہ بڑا ہو کر چوری کا کیوں مرتکب ہوتا۔ ایک شخص جہاد کے لئے جاتا ہے مگر دشمن سے ڈر کر بھاگ آتا ہے لوگ کہتے ہیں کیسا خبیث ہے۔ مگر غور کرو کیا اُسے وہی بزدلی پیدا کرنے والے قصے نہیں بھگالائے جو ماں اُسے بچپن میں سنایا کرتی تھی۔
اِسی طرح غصہ ہے۔ بچپن میں ماں باپ خیال نہیں رکھتے اس وجہ سے بچہ بڑا ہو کر ہر ایک سے لڑتا پھرتا ہے۔
پھر کیا گناہ قوتِ ارادی کی کمی سے پیدا نہیں ہوتا؟ اور کیا یہ کمی کسی سبب کے بغیر ہی پیدا ہو جاتی ہے۔ آخر وجہ کیا ہے کہ انسان ساری عمر ارادے کر کر کے توڑتا رہتا ہے مگر اس سے کچھ نہیں بنتا؟ یہ ارادہ کی کمی ایک ہی دن میں تو نہیں پیدا ہو جاتی۔ بلکہ یہ بھی بچپن میں اور صرف بچپن میں پیدا ہوتی ہے۔ ورنہ کیا سبب ہے کہ باوجود سچی خواہش کے کہ میں فلاں بدی کو چھوڑ دوں یہ اسے چھوڑ نہیں سکتا۔ اگر تربیت خراب نہ ہوتی تو انسان کی اصلاح کے لئے صرف اس قدر کہہ دینا کافی تھا کہ فلاں بات بڑی ہے اور وہ اسے چھوڑ دیتا۔ اور وہ بات اچھی ہے اور وہ اسے اختیار کر لیتا۔
اب میں اس نقص سے اولاد کو محفوظ کرنے کا طریق بتاتا ہوں۔ پہلا دروازہ جو انسان کے اندر گناہ کا کھلتا ہے وہ ماں باپ کے اُن خیالات کا اثر ہے جو اُس کی پیدائش سے پہلے اُن کے دلوں میں موجزن تھے۔ اور اس دروازہ کا بند کرنا پہلے ضروری ہے۔ پس چاہئے کہ اپنی اولادوں پر رحم کر
کے لوگ اپنے خیالات کو پاکیزہ بنائیں۔ لیکن اگر ہر وقت پاکیزہ نہ رکھ سکیں تو اسلام کے بتائے ہوئے علاج پر عمل کریں تا اولاد ہی ایک حد تک محفوظ رہے۔ اسلام ورثہ میں ملنے والے گناہ کا یہ علاج بتاتا ہے کہ جب مرد و عورت ہم صحبت ہوں تو یہ دُعا پڑھیں۔ بِسْمِ اللّٰهِ اَللّٰهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطٰنَ وَ جَنِّبِ الشَّيْطٰنَ مَا رَزَقْتَنَا۲۵؎ اے خدا! ہمیں شیطان سے بچا اور جو اولاد ہمیں دے اُسے بھی شیطان سے محفوظ رکھ۔
یہ کوئی ٹونا نہیں، جادو نہیں اور ضروری نہیں کہ عربی کے الفاظ ہی بولے جائیں بلکہ اپنی زبان میں انسان کہہ سکتا ہے کہ الٰہی گناہ ایک بڑی چیز ہے اس سے ہمیں بچا اور بچہ کو بھی بچا۔ اُس وقت کا یہ خیال اس کے اور بچہ کے درمیان دیوار ہو جائے گا۔ اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ یہ دُعا کرنے سے جو بچہ پیدا ہو گا اس میں شیطان کا دخل نہیں ہو گا۔
کئی لوگ حیران ہوں گے کہ ہم نے تو کئی دفعہ دُعا پڑھی مگر اس کا وہ نتیجہ نہیں نکلا جو بتایا گیا ہے۔ مگر ان کے شبہ کا جواب یہ ہے کہ اول تو وہ لوگ اس دُعا کو صحیح طور پر نہیں پڑھتے صرف ٹونے کے طور پر پڑھتے ہیں۔ دوسرے سب گناہوں کا اِس دُعا سے علاج نہیں ہوتا بلکہ صرف ورثہ کے گناہوں کے لئے ہے۔
ورثہ کے گناہ کے بعد گناہ کی آمیزش انسان کے خیالات میں اُسکے بچپن کے زمانہ میں ہوتی ہے۔ اس کا علاج اسلام نے یہ کیا ہے کہ بچہ کی تربیت کا زمانہ رسول کریم ﷺ نے وہ قرار دیا ہے جبکہ بچہ ابھی پیدا ہی ہوا ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے اگر ہو سکتا تو رسول کریم ﷺ یہ فرماتے کہ جب بچہ رحم میں ہو اُسی وقت سے اس کی تربیت کا وقت شروع ہو جانا چاہئے۔ مگر یہ چونکہ ہو نہیں سکتا تھا اس لئے پیدائش کے وقت سے تربیت قرار دی اور وہ اس طرح کہ فرمایا کہ جب بچہ پیدا ہو اسی وقت اس کے کان میں اذان کہی جائے۔۲۶؎ اذان کے الفاظ ٹونے یا جادو کے طور پر بچہ کے کان میں نہیں ڈالے جاتے، بلکہ اس وقت بچہ کے کان میں اذان دینے کا حکم دینے سے ماں باپ کو یہ امر سمجھانا مطلوب ہے کہ بچہ کی تربیت کا وقت ابھی سے شروع ہو گیا ہے۔
اذان کے علاوہ بھی رسول کریم ﷺ نے بچوں کو بچپن ہی سے ادب سکھانے کا حکم دیا ہے۔ اور اپنے عزیزوں کو بھی بچپن میں ادب سکھا کر عملی ثبوت دیا ہے۔ حدیثوں میں آتا ہے۔ امام حسنؓ جب چھوٹے تھے تو ایک دن کھاتے وقت آپ نے ان کو فرمایا۔ كُلْ بِيَمِيْنِكَ وَ كُلْ مِمَّا يَلِيْكَ۲۷؎ کہ دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے آگے سے کھاؤ۔ حضرت امام حسنؓ کی عمر اس وقت
اڑھائی سال کے قریب ہو گی۔ ہمارے ملک میں اگر بچہ سارے کھانے میں ہاتھ ڈالتا اور سارا منہ بھر لیتا ہے بلکہ ارد گرد بیٹھنے والوں کے کپڑے بھی خراب کرتا ہے تو ماں باپ بیٹھتے ہنستے ہیں اور کچھ پرواہ نہیں کرتے۔ یا یونہی معمولی سی بات کہہ دیتے ہیں جس سے ان کا مقصد بچہ کو سمجھانا نہیں بلکہ دوسروں کو دکھانا ہوتا ہے۔ حدیث میں ایک اور واقعہ بھی آتا ہے کہ ایک دفعہ بچپن میں امام حسنؓ نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور منہ میں ڈال لی تو رسول کریم ﷺ نے اُن کے منہ میں انگلی ڈال کر نکال لی۔۷۸؎ جس کا مطلب یہ تھا کہ تمہارا کام خود کام کر کے کھانا ہے نہ کہ دوسروں کے لئے بوجھ بننا۔
غرض بچپن کی تربیت ہی ہوتی ہے جو انسان کو وہ کچھ بناتی ہے جو آئندہ زندگی میں وہ بنتا ہے۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ مَا مِنْ مَّوْلُوْدٍ اِلَّا يُوْلَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَاَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ اَوْ يُنَصِّرَانِهِ اَوْ يُمَجِّسَانِهِ۷۹؎ کہ بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ آگے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی سچ ہے کہ ماں باپ ہی اُسے مسلمان یا ہندو بناتے ہیں۔ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ جب بچہ بالغ ہو جاتا ہے تو ماں باپ اُسے گرجا میں لے جا کر عیسائی بناتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ بچہ ماں باپ کے اعمال کی نقل کر کے اور ان کی باتیں سن کر وہی بنتا ہے جو اس کے ماں باپ ہوتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ بچہ میں نقل کی عادت ہوتی ہے۔ اگر ماں باپ اسے اچھی باتیں نہ سکھائیں گے تو وہ دوسروں کے افعال کی نقل کریگا۔ بعض لوگ کہتے ہیں بچوں کو آزاد چھوڑ دینا چاہئے خود بڑے ہو کر احمدی ہو جائیں گے۔ میں کہتا ہوں اگر بچہ کے کان میں کسی اور کی آواز نہیں پڑتی تب تو ہو سکتا ہے کہ جب وہ بڑا ہو کر احمدیت کے متعلق سنے تو احمدی ہو جائے لیکن جب اور آوازیں اس کے کان میں اب بھی پڑ رہی ہیں اور بچہ ساتھ کے ساتھ سیکھ رہا ہے تو وہ وہی بنے گا جو دیکھے گا اور سنے گا۔ اگر فرشتے اُسے اپنی بات نہیں سنائیں گے تو شیطان اس کا ساتھی بن جائے گا۔ اگر نیک باتیں اس کے کان میں نہ پڑیں گی تو بد پڑیں گی اور وہ بد ہو جائے گا۔
پس اگر آپ لوگ گناہ کا سلسلہ روکنا چاہتے ہیں تو جس طرح سگریشن کیمپ ہوتا ہے اُس طرح بناؤ اور آئندہ اولاد سے گناہ کی بیماری دُور کر دو تا کہ آئندہ نسلیں محفوظ رہیں۔
اب میں تربیت کے طریق بتاتا ہوں:۔ (۱) بچہ کے پیدا ہونے پر سب سے پہلی تربیت اذان ہے۔ جس کے متعلق پہلے بتا چکا ہوں۔
(۲) یہ کہ بچہ کو صاف رکھا جائے۔ پیشاب پاخانہ فوراً صاف کر دیا جائے۔ شاید بعض لوگ یہ کہیں یہ کام تو عورتوں کا ہے یہ صحیح ہے۔ مگر پہلے مردوں میں یہ خیال پیدا ہو گا تو پھر عورتوں میں ہو گا۔ پس مردوں کا کام ہے کہ عورتوں کو یہ باتیں سمجھائیں کہ جو بچہ صاف نہ رہے اس میں صاف خیالات کہاں سے آئیں گے۔ مگر دیکھا گیا ہے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی۔ مجلس میں اگر بچہ کو پاخانہ آئے تو کپڑے پر پھرا کر عورتیں کپڑا بغل میں دبا لیتی ہیں اور قادیان کے ارد گرد کی دیہاتی عورتوں کو تو دیکھا ہے، جوتی میں پاخانہ پھرا کر ادھر ادھر پھینک دیتی ہیں۔ جب بچہ کی ظاہری صفائی کا خیال نہیں رکھا جاتا تو باطنی صفائی کس طرح ہو گی؟ لیکن اگر بچہ ظاہر میں صاف ہو تو اس کا اثر اس کے باطن پر پڑے گا اور اس کا باطن بھی پاک ہو گا۔ کیونکہ غلاظت کی وجہ سے جو گناہ پیدا ہوتے ہیں اُن سے بچا رہے گا۔ یہ بات طب کی رو سے ثابت ہو گئی ہے کہ بچہ میں پہلے گناہ غلاظت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جب بچہ کا اندامِ نہانی صاف نہ ہو تو بچہ اسے کھجلاتا ہے۔ اس سے وہ مزا محسوس کرتا اور اس طرح اُسے شہوانی قوت کا احساس ہو جاتا ہے۔ اگر بچہ کو صاف رکھا جائے اور جوں جوں وہ بڑا ہو اسے بتایا جائے کہ ان مقامات کو صفائی کے لئے دھونا ضروری ہوتا ہے تو وہ شہوانی برائیوں سے بہت حد تک محفوظ رہ سکتا ہے۔ یہ تربیت بھی پہلے دن سے شروع ہونی چاہئے۔
(۳) غذا بچہ کو وقت مقررہ پر دینی چاہئے۔ اس سے بچہ میں یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ خواہشات کو دبا سکتا ہے اور اس طرح بہت سے گناہوں سے بچ سکتا ہے۔ چوری، لوٹ کھسوٹ وغیرہ بہت سی برائیاں خواہشات کو نہ دبانے کی وجہ سے ہی پیدا ہوتی ہیں کیونکہ ایسے انسان میں جذبات پر قابو رکھنے کی طاقت نہیں ہوتی۔ اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جب بچہ رویا ماں نے اسی وقت دودھ دے دیا۔ ایسا نہیں کرنا چاہئے بلکہ مقررہ وقت پر دُودھ دینا چاہئے اور بڑی عمر کے بچوں میں یہ عادت ڈالنی چاہئے کہ وقت پر کھانا دیا جائے۔ اس سے یہ صفات پیدا ہوتی ہیں۔ (۱) پابندی وقت کا احساس۔ (۲) خواہش کو دبانا (۳) صحت (۴) مل کر کام کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ کیونکہ ایسے بچوں میں خود غرضی اور نفسانیت نہ ہو گی جبکہ وہ سب کے سب ساتھ مل کر کھانا کھائیں گے (۵) اسراف کی عادت نہ ہو گی۔ جو بچہ ہر وقت کھانے کی چیزیں لیتا رہتا ہے وہ ان میں سے کچھ ضائع کرے گا کچھ کھائے گا لیکن اگر مقررہ وقت پر مقررہ مقدار میں اسے کھانے کی چیز دی جائے گی تو وہ اس میں سے کچھ ضائع نہیں کرے گا۔ پس اس طرح بچہ میں تھوڑی چیز استعمال کرنے اور اسی سے خواہش کے پورا کرنے کی عادت ہو گی (۶) لالچ کا مقابلہ کرنے کی عادت ہو گی۔ مثلاً بازار میں
چلتے ہوئے بچہ ایک چیز دیکھ کر کہتا ہے یہ لینی ہے۔ اگر اُس وقت اُسے نہ لے کر دی جائے تو وہ اپنی خواہش کو دبالے گا اور پھر بڑا ہونے پر کئی دفعہ دل میں پیدا شدہ لالچ کا مقابلہ کرنے کی اس کو عادت ہو جائے گی۔
اسی طرح گھر میں چیز پڑی ہو اور بچہ مانگے تو کہہ دینا چاہئے کہ کھانے کے وقت پر ملے گی۔ اس سے بھی اس میں یہ قوت پیدا ہو جائے گی کہ نفس کو دبا سکے گا۔
زمیندار گنے، مولی، گاجر، گڑ وغیرہ کے متعلق اسی طرح کر سکتے ہیں۔
(۴) بچہ کو مقررہ وقت پر پاخانہ کی عادت ڈالنی چاہئے۔ یہ اس کی صحت کے لئے بھی مفید ہے۔ لیکن اس سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اعضاء میں وقت کی پابندی کی حِسّ پیدا ہو جاتی ہے۔ وقت مقررہ پر پاخانہ پھرنے سے انتڑیوں کو عادت ہو جاتی ہے اور پھر مقررہ وقت پر ہی پاخانہ آتا ہے۔ یورپ میں تو بعض لوگ حاجت سے وقت بتا دیتے ہیں کہ اب یہ وقت ہو گا کیونکہ مقررہ وقت پر انہیں پاخانہ کی حاجت محسوس ہوتی ہے۔ تو بچہ کے لئے یہ بہت ضروری بات ہے۔ وقت پر کام کرنے والے بچہ میں نماز، روزہ کی پختہ عادت پیدا ہو جاتی ہے اور قومی کاموں کو پیچھے ڈالنے کی عادت نہیں پیدا ہوتی۔ علاوہ ازیں بے جا جوش دب جاتے ہیں کیونکہ بے جا جوش کا ایک بڑا سبب بے وقت کام کرنے کی عادت ہے۔ خصوصاً بے وقت کھانا کھانا۔ مثلاً بچہ کھیل کود میں مشغول ہوا۔ وقت پر ماں نے کھانا کھانے کے لئے بلایا مگر نہ آیا۔ پھر جب آیا تو ماں نے کہا ٹھہرو کھانا گرم کر دوں۔ چونکہ اسے اُس وقت بھوک لگی ہوئی ہوتی ہے اس لئے وہ روتا چلاتا اور بے جا جوش ظاہر کرتا ہے۔ کیونکہ وہ اُسی وقت کھانے کے لئے آتا ہے جب اس سے بھوک دبائی نہیں جاتی اور اس وجہ سے نہایت شور کرتا ہے۔
(۵) اسی طرح غذا اندازہ کے مطابق دی جائے۔ اس سے قناعت پیدا ہوتی اور حرص دُور ہوتی ہے۔
(۶) قسم قسم کی خوراک دی جائے۔ گوشت، ترکاریاں اور پھل دیئے جائیں کیونکہ غذاؤں سے بھی مختلف اقسام کے اخلاق پیدا ہوتے ہیں۔ پس مختلف اخلاق کے لئے مختلف غذاؤں کا دیا جانا ضروری ہے۔ ہاں بچپن میں گوشت کم اور ترکاریاں زیادہ ہونی چاہئیں۔ کیونکہ گوشت ہیجان پیدا کرتا ہے اور بچپن کے زمانہ میں ہیجان کم ہونا چاہئے۔
(۷) جب بچہ ذرا بڑا ہو تو کھیل کود کے طور پر اس سے کام لینا چاہئے۔ مثلاً یہ کہ فلاں برتن اُٹھا لاؤ۔ یہ چیز وہاں رکھ آؤ۔ یہ چیز فلاں کو دے آؤ۔ اِسی قسم کے اور کام کرانے چاہئیں ہاں ایک وقت تک اسے اپنے طور پر کھیلنے کی بھی اجازت دینی چاہئے۔
(۸) بچہ کو عادت ڈالنی چاہئے کہ وہ اپنے نفس پر اعتبار پیدا کرے۔ مثلاً چیز سامنے ہو اور اُسے کہا جائے ابھی نہیں ملے گی، فلاں وقت ملے گی، یہ نہیں کہ چُھپادی جائے، کیونکہ اِس نمونہ کو دیکھ کر وہ بھی اسی طرح کرے گا اور اس میں چوری کی عادت پیدا ہو جائے گی۔
(۹) بچہ سے زیادہ پیار بھی نہیں کرنا چاہئے۔ زیادہ چومنے چاٹنے کی عادت سے بہت سی برائیاں بچہ میں پیدا ہو جاتی ہیں۔ جس مجلس میں وہ جاتا ہے اس کی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ پیار کریں اس سے اس میں اخلاقی کمزوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
(۱۰) ماں باپ کو چاہئے کہ ایثار سے کام لیں۔ مثلاً اگر بچہ بیمار ہے اور کوئی چیز اُس نے نہیں کھانی تو وہ بھی نہ کھائیں اور نہ گھر میں لائیں بلکہ اُسے کہیں کہ تم نے نہیں کھانی اس لئے ہم بھی نہیں کھاتے۔ اس سے بچہ میں بھی ایثار کی صفت پیدا ہو گی۔
(۱۱) بیماری میں بچہ کے متعلق بہت احتیاط کرنی چاہئے کیونکہ بزدلی، خود غرضی، چڑچڑاہٹ جذبات پر قابو نہ ہونا اس قسم کی برائیاں اکثر لمبی بیماری کی وجہ سے پیدا ہو جاتی ہیں۔ کئی لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کو بلا بلا کر پاس بٹھاتے ہیں۔ لیکن کئی ایسے ہوتے ہیں کہ اگر کوئی اُن کے پاس سے گزرے تو کہہ اٹھتے ہیں ارے دیکھتا نہیں، اندھا ہو گیا ہے۔ یہ خرابی لمبی بیماری کی وجہ سے پیدا ہو جاتی ہے۔ چونکہ بیماری میں بیمار کو آرام پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے اس لئے وہ آرام پانا اپنا حق سمجھ لیتا ہے اور ہر وقت آرام چاہتا ہے۔
(۱۲) بچوں کو ڈراؤنی کہانیاں نہیں سنانی چاہئیں اِس سے اُن میں بزدلی پیدا ہو جاتی ہے اور ایسے انسان بڑے ہو کر بہادری کے کام نہیں کر سکتے۔ اگر بچہ میں بزدلی پیدا ہو جائے تو اُسے بہادری کی کہانیاں سنانی چاہئیں اور بہادر لڑکوں کے ساتھ کھلانا چاہئے۔
(۱۳) بچہ کو اپنے دوست خود نہ چننے دیئے جائیں بلکہ ماں باپ چنیں اور دیکھیں کہ کن بچوں کے اخلاق اعلیٰ ہیں۔ اس میں ماں باپ کو بھی یہ فائدہ ہو گا کہ وہ دیکھیں گے کن کے بچوں کے اخلاق اعلیٰ ہیں۔ دوسرے ایک دوسرے سے تعاون شروع ہو جائے گا کیونکہ جب خود ماں باپ بچہ سے کہیں گے کہ فلاں بچوں سے کھیلا کرو تو اس طرح ان بچوں کے اخلاق کی نگرانی بھی کریں گے۔
(۱۴) بچہ کو اس کی عمر کے مطابق بعض ذمہ داری کے کام دیئے جائیں تاکہ اس میں ذمہ داری کا احساس ہو۔ ایک کہانی مشہور ہے کہ ایک باپ کے دو بیٹے تھے۔ اس نے دونوں کو بُلا کر اُن میں سے ایک کو سیب دیا اور کہا بانٹ کر کھالو۔ جب وہ سیب لے کر چلنے لگا تو باپ نے کہا جانتے ہو کس طرح بانٹنا ہے۔ اُس نے کہا نہیں۔ باپ نے کہا جو بانٹے وہ تھوڑا لے اور دوسرے کو زیادہ دے یہ سن کر لڑکے نے کہا پھر دوسرے کو دیں کہ وہ بانٹے۔ معلوم ہوتا ہے اس لڑکے میں پہلے ہی بُری عادت پڑ چکی تھی لیکن ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس امر کو سمجھتا تھا کہ اگر ذمہ داری مجھ پر پڑی تو مجھے دوسرے کو اپنے پر مقدم کرنا پڑے گا۔ اس عادت کے لئے بعض کھیلیں نہایت مفید ہیں۔ جیسے کہ فٹ بال وغیرہ۔
مگر کھیل میں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ کوئی بُری عادت نہ پڑے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ماں باپ اپنے بچے کی تائید کرتے ہیں اور دوسرے کے بچہ کو اپنے بچہ کی بات ماننے کے لئے مجبور کرتے ہیں۔ اس طرح بچہ کو اپنی بات منوانے کی ضد پڑ جاتی ہے۔
(۱۵) بچہ کے دل میں یہ بات ڈالنی چاہئے کہ وہ نیک ہے اور اچھا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے کیا نکتہ فرمایا ہے کہ بچہ کو گالیاں نہ دو کیونکہ گالیاں دینے پر فرشتے کہتے ہیں ایسا ہی ہو جائے اور وہ ہو جاتا ہے۔لے
اس کا یہ مطلب ہے کہ فرشتے اعمال کے نتائج پیدا کرتے ہیں۔ جب بچہ کو کہا جاتا ہے کہ تُو بَد ہے تو وہ اپنے ذہن میں یہ نقشہ جمالیتا ہے کہ میں بَد ہوں اور پھر وہ ویسا ہی ہو جاتا ہے۔ پس بچہ کو گالیاں نہیں دینی چاہئیں بلکہ اچھے اخلاق سکھانے چاہئیں اور بچہ کی تعریف کرنی چاہئے۔
آج صبح میری لڑکی پیسہ مانگنے آئی۔ جب میں نے پیسہ دیا تو بایاں ہاتھ کیا۔ میں نے کہا یہ تو ٹھیک نہیں، کہنے لگی ہاں غلطی ہے پھر نہیں کروں گی۔ اسے غلطی کا احساس کرانے سے فوراً احساس ہو گیا۔
(۱۶) بچہ میں ضد کی عادت نہیں پیدا ہونے دینی چاہئے۔ اگر بچہ کسی بات پر ضد کرے تو اس کا علاج یہ ہے کہ کسی اور کام میں اُسے لگا دیا جائے اور ضد کی وجہ معلوم کر کے اُسے دور نیا جائے۔
(۱۷) بچہ سے ادب سے کلام کرنا چاہئے۔ بچہ نقال ہوتا ہے، اگر تم اُسے تُو کہہ کر مخاطب کرو گے تو وہ بھی تُو کہے گا۔
(۱۸) بچہ کے سامنے جھوٹ، تکبر اور تُرش روئی وغیرہ نہ کرنا چاہئے، کیونکہ وہ بھی یہ باتیں سیکھ لے گا۔ عام طور پر ماں باپ بچہ کو جھوٹ بولنا سکھاتے ہیں۔ ماں نے بچہ کے سامنے کوئی کام کیا ہوتا ہے مگر جب باپ پوچھتا ہے تو کہہ دیتی ہے میں نے نہیں کیا۔ اس سے بچہ میں بھی جھوٹ بولنے کی عادت پیدا ہو جاتی ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ بچہ کی غیر موجودگی میں ماں باپ یہ کام کریں بلکہ یہ مطلب ہے کہ جو ہر وقت ان عیبوں سے نہیں بچ سکتے وہ کم سے کم بچوں کے سامنے ایسے فعل نہ کریں تا مرض آگے نسل کو بھی مبتلاء نہ کرے۔
(۱۹) بچہ کو ہر قسم کے نشہ سے بچایا جائے۔ نشوں سے بچہ کے اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں۔ اس وجہ سے جھوٹ کی بھی عادت پیدا ہوتی ہے اور نشہ پینے والا اندھا دھند تقلید کا عادی ہو جاتا ہے۔ ایک شخص حضرت خلیفہ اول کا رشتہ دار تھا وہ ایک دفعہ ایک لڑکے کو لے آیا اور کہتا تھا اسے بھی میں اپنے جیسا ہی بنالوں گا۔ وہ نشہ وغیرہ پیتا اور مذہب سے کوئی تعلق نہ رکھتا تھا۔ حضرت خلیفہ اول نے اُسے کہا تم تو خراب ہو چکے ہو اسے کیوں خراب کرتے ہو، مگر وہ باز نہ آیا۔ ایک موقع پر آپ نے اُس لڑکے کو اپنے پاس بلایا اور اُسے سمجھایا کہ تمہاری عقل کیوں ماری گئی ہے۔ اس کے ساتھ پھرتے ہو، کوئی کام سیکھو۔ آپ کے سمجھانے سے وہ لڑکا اُسے چھوڑ کر چلا گیا۔ مگر کچھ مدت کے بعد وہ ایک اور لڑکا لے آیا۔ اور آکر حضرت خلیفہ اول سے کہنے لگا۔ اب اسے خراب کرو تو جانوں۔ اُس کے نزدیک یہی خراب کرنا تھا کہ اُس کے قبضہ سے نکال دیا جائے۔ حضرت خلیفہ اول نے بہتیرا اس لڑکے کو سمجھایا اور کہا کہ مجھ سے روپیہ لے لو اور کوئی کام کرو، مگر اُس نے نہ مانا۔ آخر آپ نے اُس شخص سے پوچھا اسے تم نے کیا کیا ہے۔ تو وہ کہنے لگا اس کو میں نشہ پلاتا ہوں اور اس وجہ سے اس میں ہمت ہی نہیں رہی کہ میری تقلید کو چھوڑ سکے۔ غرض نشہ سے اقدام کی قوت ماری جاتی ہے۔
جھوٹ سب سے خطرناک مرض ہے کیونکہ اس کے پیدا ہونے کے ذرائع نہایت باریک ہیں اس مرض سے بچہ کو خاص طور پر بچانا چاہئے۔ بعض ایسے اسباب ہیں کہ جن کی وجہ سے یہ مرض آپ ہی آپ بچہ میں پیدا ہو جاتا ہے۔ مثلاً یہ کہ بچہ کا دماغ نہایت بلند پرواز واقع ہوا ہے وہ جو بات سنتا ہے آپ ہی اُس کی ایک حقیقت بنا لیتا ہے۔ ہماری ہمشیرہ بچپن میں روز ایک لمبی خواب سنایا کرتی تھیں۔ ہم حیران ہوتے کہ روز اسے کس طرح خواب آجاتی ہے۔ آخر معلوم ہوا کہ سونے کے وقت جو خیال کرتی تھیں وہ اُسے خواب سمجھ لیتی تھیں۔ تو بچہ جو کچھ سوچتا ہے اُسے واقعہ خیال کرنے لگتا ہے اور آہستہ آہستہ اُسے جھوٹ کی عادت پڑ جاتی ہے۔ اس لئے بچہ کو سمجھاتے رہنا چاہئے کہ خیال اور چیز ہے اور واقعہ اور چیز ہے۔ اگر خیال کی حقیقت بچہ کے اچھی طرح ذہن نشین کر دی جائے تو بچہ جھوٹ سے بچ سکتا ہے۔
(۲۰) بچوں کو علیحدہ بیٹھ کر کھیلنے سے روکنا چاہئے۔
(۲۱) ننگا ہونے سے روکنا چاہئے۔
(۲۲) بچوں کو عادت ڈالنی چاہئے کہ وہ ہمیشہ اپنی غلطی کا اقرار کریں اور اس کے طریق یہ ہیں۔ (۱) اُن کے سامنے اپنے قصوروں پر پردہ نہ ڈالا جائے۔ (۲) اگر بچہ سے غلطی ہو جائے تو اس سے اِس طرح ہمدردی کریں کہ بچہ کو یہ محسوس ہو کہ میرا کوئی سخت نقصان ہو گیا ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ مجھ سے ہمدردی کر رہے ہیں اور اُسے سمجھانا چاہئے کہ دیکھو اس غلطی سے یہ نقصان ہو گیا ہے۔ (۳) آئندہ غلطی سے بچانے کے لئے بچہ سے اس طرح گفتگو کی جائے کہ بچہ کو محسوس ہو کہ میری غلطی کی وجہ سے ماں باپ کو تکلیف اُٹھانی پڑی ہے۔ مثلاً بچہ سے جو نقصان ہوا ہو وہ اس کے سامنے اس کی قیمت وغیرہ ادا کرے اِس سے بچہ میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ نقصان کرنے کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔ کفارہ نہایت گندہ عقیدہ ہے مگر میرے نزدیک بچہ کی اِس طرح تربیت کرنے کے لئے نہایت ضروری ہے۔ (۴) بچہ کو سرزنش الگ لے جا کر کرنی چاہئے۔
(۲۳) بچہ کو کچھ مال کا مالک بنانا چاہئے۔ اس سے بچہ میں یہ صفات پیدا ہوتی ہیں۔ (۱) صدقہ دینے کی عادت (۲) کفایت شعاری (۳) رشتہ داروں کی امداد کرنا مثلاً بچہ کے پاس تین پیسے ہوں تو اُسے کہا جائے ایک پیسہ کی کوئی چیز لاؤ اور دوسرے بچوں کے ساتھ مل کر کھاؤ۔ ایک پیسہ کا کوئی کھلونا خرید لو اور ایک پیسہ صدقہ میں دے دو۔
(۲۴) اِسی طرح بچوں کا مشترکہ مال ہو۔ مثلاً کوئی کھلونا دیا جائے تو کہا جائے۔ یہ تم سب بچوں کا ہے، سب اس کے ساتھ کھیلو اور کوئی خراب نہ کرے۔ اِس طرح قومی مال کی حفاظت پیدا ہوتی ہے۔
(۲۵) بچہ کو آداب و قواعدِ تہذیب سکھاتے رہنا چاہئے۔
(۲۶) بچہ کی ورزش کا بھی اور اُسے جفاکش بنانے کا بھی خیال رکھنا چاہئے کیونکہ یہ بات دنیوی ترقی اور اصلاحِ نفس دونوں میں یکساں طور پر مفید ہے۔
اخلاق اور روحانیت کی جو تعریف میں اوپر بیان کر چکا ہوں اس کے مطابق وہی بچہ تربیت یافتہ کہلائے گا جس میں مندرجہ ذیل باتیں ہوں۔ (۱) ذاتی طور پر بااخلاق ہو اور اس میں روحانیت ہو (۲) دوسروں کو ایسا بنانے کی قابلیت رکھتا ہو (۳) قانونِ سلسلہ کے مطابق چلنے کی قابلیت رکھتا ہو
(۴) اللہ تعالیٰ سے خالص محبت رکھتا ہو جو سب محبتوں پر غالب ہو۔
پہلے امر کا معیار یہ ہے کہ (۱) جب بچہ بڑا ہو تو امور شرعیہ کی لفظاً و عملاً و عقیدۃً پابندی کرے۔ (۲) اس کی قوتِ ارادی مضبوط ہو تا آئندہ فتنہ میں نہ پڑے۔ (۳) اس کا اپنی ضروریاتِ زندگی کا خیال رکھنا اور جان بچانے کی قابلیت رکھنا۔ (۴) اپنے اموال و جائیداد بچانے کی قابلیت کا ہونا اور اس کے لئے کوشش کرنا۔
دوسرے امر کا معیار یہ ہے:۔ (۱) اخلاق کا اچھا نمونہ پیش کرے۔ (۲) دوسروں کی تربیت اور تبلیغ میں حصہ لے۔ (۳) اپنے ذرائع کو ضائع ہونے نہ دے بلکہ انہیں اچھی طرح استعمال کرے جس سے جماعت و دین کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے۔
تیسرے امر یعنی قانونِ سلسلہ کے مطابق چلنے کی طاقت رکھنے کا یہ معیار ہے:۔ (۱) اپنی صحت کا خیال رکھنے والا ہو۔ (۲) جماعتی اموال اور حقوق کا محافظ ہو۔ (۳) کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے دوسروں کے حقوق کو نقصان پہنچے۔ (۴) قومی جزاء اور سزا کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو۔
چوتھے امر کا معیار یہ ہے:۔ (۱) کلام الٰہی کا شوق اور ادب ہو۔ (۲) خدا تعالیٰ کا نام اُسے ہر حالت میں مؤدب اور ساکن بنا دے۔ (۳) دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے بکلی الگ ہو۔ (۴) خدا کی محبت کی علامات اس کے وجود میں پائی جائیں۔
اب بچہ کی تربیت کرنے کے بعد یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ جن میں گناہ پیدا ہو گیا اُن سے کس طرح دُور کرایا جائے؟ یہ کل بیان کروں گا۔
تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ چونکہ مجھے کھانسی کی تکلیف تھی اس وجہ سے کل کی تقریر اور آج کی تقریر کرنے سے جو عورتوں میں کی گئی میرا گلا بیٹھ گیا ہے لیکن احباب گھبرائیں نہیں اللہ تعالیٰ چاہے تو اُن تک آواز پہنچ جائے گی۔
میں اصل تقریر شروع کرنے سے پہلے دوستوں کو یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ذکرِ الٰہی کی عظمت کو اچھی طرح سمجھیں۔ یہاں وہ کسی تماشہ اور کھیل کے لئے جمع نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے اور اُس کا نام لینے کے لئے آتے ہیں اس لئے ذکرِ الٰہی کے آداب کو مدنظر رکھنا چاہئے لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض دوست اس ادب کو مدنظر نہیں رکھتے اور بلاوجہ اور بلاسَبب جلسہ گاہ سے اُٹھ کر باہر چلے جاتے اور ادھر ادھر باتیں کرتے رہتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ جلسہ پر ایک کافی تعداد جو آٹھ سو اور ہزار کے قریب ہوتی ہے غیر احمدیوں کی ہوتی ہے اور وہ لوگ اپنے نفس پر جبر کر کے وعظ سننے کے عادی نہیں ہوتے اور ان کا کثیر حصہ جلسہ گاہ میں آتا اور جاتا رہتا ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ وہی لوگ آنے جانے والے نہیں ہوتے بلکہ بعض احمدی بھی اس جلسہ گاہ سے باہر چلے جاتے ہیں کہ چلو ان کو باہر جا کر تبلیغ کریں۔ مگر یاد رکھنا چاہئے مذہب میں انسان پر سب سے بڑا فرض اپنی جان کا ہوتا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس وقت اپنی ہدایت کی فکر میں ہو اگر کوئی دوسرا گمراہی میں پڑتا ہے تو پڑنے دو اپنی ہدایت کی فکر دوسرے کی خاطر چھوڑ نہ دو۔۱؎ دین کے لئے مال قربان کیا جاتا ہے اور جان قربان کی جاتی ہے مگر دین وہ چیز ہے کہ ساری دنیا کی خاطر قربان کرنے کے لئے کوئی مؤمن تیار نہیں ہو سکتا۔ پس اگر کسی مجبوری کی وجہ سے جلسہ گاہ سے اُٹھنا پڑے اور بعض دفعہ ایسی مجبوریاں پیش آجاتی ہیں جیسے قضائے حاجت کے لئے جانا تو بے شک جاؤ مگر فارغ ہو کر جلدی واپس آجانا چاہئے
کیونکہ کیا معلوم ہے کہ کب وہ گھڑی آجائے جس کے لئے انسان ساری عمر کوشش کرتا رہتا ہے۔ ایک گھڑی ایسی آسکتی ہے کہ اُس وقت ایک کلمہ انسان کو کافر سے مومن بنا دیتا ہے۔ اسے شیطانی سے رحمانی بنا دیتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہی دیکھ لو۔ آپ رسول کریم ﷺ کی مخالفت میں انتہاء کو پہنچے ہوئے تھے مگر ایک بات ان کے کان میں ایسی پڑ گئی جس نے اُن کی حالت بالکل بدل دی۔ وہ رسول کریم ﷺ کے قتل کے لئے نکلے کہ انہیں معلوم ہوا اُن کی اپنی بہن مسلمان ہو چکی ہے۔ اس پر وہ اپنی بہن کے ہاں گئے اور گھر میں قرآن کریم پڑھتے ہوئے سنا۔ غصہ میں آکر اندر گھس گئے اور اپنے بہنوئی کو مارنے لگے۔ اس پر بہن بچانے لگی تو اس کے بھی چوٹ آئی۔ اس حالت کو دیکھ کر اُن کے دل میں کچھ ندامت پیدا ہوئی تھی کہ بہن نے کہا عمر! تم ہم پر اس لئے ناراض ہوتے ہو کہ ہم نے ایک خدا کو مانا ہے یہ سن کر وہ سر سے پاؤں تک کانپ گئے اور اپنی بہن سے کہا جو تم پڑھ رہے تھے وہ مجھے بھی سناؤ۔ اُن کی بہن نے کہا۔ پاک ہو کر آؤ تو سنائیں۔ وہ نہا کر آئے اور اُن کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کی گئی۔ جسے سن کر اُن کے آنسو رواں ہو گئے اور سیدھے رسول کریم ﷺ کے پاس آئے، آکر دستک دی، جب معلوم ہوا کہ عمر ہیں تو بعض نے کہا یہ دروازہ نہیں کھولنا چاہئے وہ سخت آدمی ہیں، نقصان نہ پہنچائیں۔ حضرت حمزہ نے کہا کہ اگر مخالفت کی نیت سے آئے ہیں تو ہمارے پاس بھی تلوار ہے۔ آخر رسول کریم ﷺ نے اندر آنے کی اجازت دے دی۔ جب سامنے آئے تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا عمر! کب تک مخالفت کرتے رہو گے۔ اسپر انہوں نے کہا میں تو غلامی کے لئے آیا ہوں۔۳؎ اب دیکھو انہیں کس طرح ہدایت نصیب ہوئی؟ اگر وہ اس مجلس میں نہ جاتے تو شاید عمر ایمان سے محروم رہتے۔ آپ لوگوں کے لئے سارا سال آرام کرنے کے لئے پڑا ہے اس لئے یہ چند دن کی تکلیف اُٹھا کر بھی خدا تعالیٰ کا کلام سننا چاہئے اور کوئی لمحہ ضائع نہیں کرنا چاہئے۔
دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ میں نے کل بتایا تھا میں نے قرآن کریم کے ترجمہ کا کام شروع کیا ہوا ہے اور خدا کے فضل سے ۲۰؍دسمبر کو سورۂ بقرہ کا ترجمہ ختم ہو گیا ہے۔ اور اُمید ہے کہ اگلے سال ساڑھے سات پاروں کی پہلی جلد شائع ہو جائے گی۔ میں چاہتا ہوں کہ احباب دُعا کریں۔ بغیر اس کے کہ اس کام میں کوئی روک پیدا ہو میں اس کام کو سرانجام دے کر اس فرض سے سبکدوش ہو جاؤں اور تفسیر اور ترجمہ دوستوں تک پہنچا سکوں۔
تیسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کل میں نے مالی مشکلات کی طرف جماعت کو توجہ دلائی
تھی آج میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان مشکلات سے گھبرانا نہیں چاہئے کیونکہ یہ بھی سلسلہ کی سچائی کی ایک علامت ہے۔ ایک فرانسیسی مصنف لکھتا ہے۔ میں نے بیسیوں کتابیں پڑھی ہیں جن میں لکھا ہے کہ محمد (ﷺ) جھوٹا ہے مگر میں ان کتابوں کو کیا کروں جب کہ میں دیکھتا ہوں کہ محمد (ﷺ) ان لوگوں میں جو غریب، وحشی اور غیر تعلیم یافتہ ہیں ایک کچے مکان میں بیٹھا ہوا جو چھوٹا سا کمرہ ہے اور مسجد کے نام سے مشہور ہے اور جس کی چھت پر کھجور کی ٹہنیاں بغیر صاف کئے پڑی ہیں اور جب بارش ہوتی ہے تو اتنا پانی ٹپکتا ہے کہ سجدہ پانی میں کرنا پڑتا ہے، ایسے لوگوں میں جن میں سے کسی کے پاس بھی سارا تن ڈھانکنے کے لئے کپڑا نہیں، یہ مشورہ کر رہا ہے کہ ساری دُنیا کو کس طرح فتح کرنا چاہئے اور پھر ایسا کر کے بھی دکھا دیتا ہے۔ وہ مصنف کہتا ہے لاکھوں صفحوں کے مقابلہ میں جب میں اس واقعہ کو دیکھتا ہوں تو سب باتیں حقیر معلوم ہوتی ہیں۔
اِسی طرح جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دعویٰ کیا تھا اُس وقت اُمراء اور بادشاہ آپ کے ساتھ شامل ہو جاتے تو کیونکر ثابت ہوتا کہ آپ کو جو کامیابی حاصل ہوئی وہ خدا کا فعل تھا، وہ تو امراء اور بادشاہوں کا فعل سمجھا جاتا۔ مگر جب آپ نے دعویٰ کیا تو سب بھائی بند اور عزیز رشتہ دار آپ کے دشمن ہو گئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا سب سے بڑا دوست اور آپ کے علم اور معرفت کا سب سے بڑا معترف مولوی محمد حسین بٹالوی تھا۔ اس نے اعلان کر دیا کہ آپ کا دماغ بگڑ گیا ہے۔ میں نے اسے بڑھایا تھا، میں ہی اسے گراؤں گا۔ ساری دنیا کے علماء نے آپ کا مقابلہ کیا۔ عرب اور عجم سے آپ کے خلاف فتوے منگائے گئے مگر باوجود دُنیا کی اسقدر مخالفت کے آپ اکیلے اُٹھے اور کہا یہ ٹھیک ہے کہ میرے ساتھ کوئی آدمی نہیں اور ساری دُنیا میری دشمن بن گئی ہے۔ مگر میں اس آواز کو کیا کروں جو مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے سنائی دے رہی ہے کہ ”دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اُسے قبول نہیں کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا“۔۳۳
میں اس آواز کا کس طرح انکار کر دوں۔ اُس وقت گورنمنٹ بھی آپ کی مخالف تھی اور تمام لوگ بھی دشمن تھے مگر نتیجہ کیا نکلا؟ وہ ایک طرف تھا اور ساری دُنیا دوسری طرف۔ مگر یہ اتنے لوگ اس کے شکار پکڑے ہوئے یہاں بیٹھے ہیں اور یہ تو اس جگہ کا نظارہ ہے باہر لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں۔
مَیں پچھلے سال جب شام گیا تو دمشق کے ایک بڑے ادیب نے جو ادب کے مجدّد مانے جاتے ہیں مجھے تمسخر سے کہا۔ آپ مرزا صاحب کی کتابوں کی یہاں اشاعت نہ کریں کیونکہ ان میں غلطیاں ہیں اور لوگ ان غلطیوں کو دیکھ کر اُن سے بدظن ہو جائیں گے۔ مَیں نے کہا۔ لو مَیں یہاں بیٹھا ہوں اور اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک تمہارے اس دعویٰ کو باطل نہ کر لوں۔ تم حضرت مسیح موعود کی کتابوں پر جو اعتراض کرنا چاہتے ہو کر لو۔ یہ سن کر وہ کہنے لگا۔ مَیں تو آپ کا خیر خواہ ہوں مَیں آپ کا مقابلہ کرنا نہیں چاہتا۔ مَیں نے کہا ضرور کرو اگر کر سکتے ہو۔ کہنے لگا۔ اس میں آپ کا نقصان ہو گا۔ مَیں نے کہا اگر ہم جھوٹے ہیں تو تمہارا فرض ہے کہ مقابلہ کرو اور اگر ہم سچے ہیں تو تمہارے مقابلہ سے ہمیں نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ فائدہ ہو گا۔ مگر اُس نے کوئی اعتراض نہ کیا۔ پھر کہنے لگا عرب ایک ہندوستانی کو مسیح موعود نہیں مان سکتے۔ مَیں نے کہا مَیں یہاں مشن قائم کرنے والا ہوں۔ ہم یہاں جماعت قائم کریں گے تم زور لگالو۔ خدا کی قدرت ہم وہاں پانچ دن کے لئے ہی گئے تھے۔ جب چلنے لگے تو ایک عالم کا جو عربی، فارسی، انگریزی کا ماہر تھا رات کے دس بجے کے قریب رقعہ آیا کہ مَیں ملاقات کی خاطر صبح سے بیٹھا ہوں ممکن ہے اب بھی مجھے ملاقات کے لئے وقت نہ ملے اس لئے مَیں اس رقعہ کے ذریعہ اطلاع دیتا ہوں کہ مَیں مرزا صاحب پر ایمان لے آیا۔ اب آپ جہاں چاہیں مجھے تبلیغ کے لئے بھیج دیں۔ اور اب تو وہاں ہمارا وفد پہنچ گیا ہے اور اس کے ذریعہ جماعت قائم ہو گئی ہے اور اُسی شخص نے جس نے کہا تھا کہ یہاں کوئی شخص نہیں مان سکتا کہلا بھیجا ہے کہ مجھ پر بدظنی نہ کی جائے مَیں کبھی آپ کی مخالفت نہیں کروں گا۔
پس آپ لوگ اپنی غربت اور کمزوری کا خیال نہ کریں۔ وہ شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ ہم اپنی غربت اور کمزوری کی وجہ سے کامیاب نہ ہوں گے وہ مشرک ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ سلسلہ کا کام اُس نے کرنا ہے۔ پھر جو شخص اپنے آپ کو ناکارہ سمجھتا ہے وہ خدا تعالیٰ پر الزام لگاتا ہے کہ اس علیم ہستی نے دنیا کو فتح کرنے کے لئے یہ ناکارہ ہتھیار چُنا۔ اسے کون اچھا سپاہی کہے گا جو ٹوٹی ہوئی بندوق یا تلوار اُٹھا کر دشمن کے مقابلہ میں نکلتا ہے۔ پھر جس کو خدا تعالیٰ نے سلسلہ کی خدمت کے لئے چُنا وہ ناکارہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ وہ کام کا انسان ہے اور جسے خدا تعالیٰ چُنتا ہے وہ ذلیل نہیں ہوتا بلکہ وہی معزّز ہے۔
مدینہ کے ایک رئیس نے آج سے تیرہ سو سال پہلے کہا تھا کہ مدینہ کا سب سے معزّز وہاں کے سب سے ذلیل شخص (رسول کریمؐ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذَالِكَ) کو مدینہ سے نکال دے گا۔۴؎ اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ وہ کہتا ہے عزت اس کے پاس ہے۔ عزت تو رسول کو ماننے میں ہوتی ہے اس کے الفاظ کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُس کا بیٹا رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور آکر کہنے لگا میں نے سنا ہے میرے باپ نے اس اس طرح کہا ہے۔ اس کی سزا یہ ہے کہ اُسے قتل کیا جائے، مگر یہ نہ ہو کہ کوئی اور قتل کرے۔ کسی وقت شیطان مجھے دھوکا دے کر اس کے خلاف بھڑکائے اس لئے اُس کے قتل کی خدمت میرے سپرد کی جائے۔۵؎ یہ بات سن کر اُسے اپنی عزت کا اچھی طرح احساس ہو گیا ہو گا۔
آپ لوگ اپنے ذرائع، علم، حیثیت کی کمی پر نگاہ نہ رکھیں۔ یہ موجودہ جماعت جن ذرائع سے بنی ہے وہ اس وقت کے ذرائع سے بہت کم تھے اور جب لوگ کئی لاکھ کو کھینچ کر سلسلہ میں لے آئے ہیں تو یہ کئی لاکھ کئی کروڑ کو کیوں نہ لائیں گے۔ تھوڑے ہی دن ہوئے میں نے ایک رؤیا دیکھی کہ میں خطبہ پڑھ رہا ہوں جس میں کہتا ہوں کہ ہمیں اپنے بچوں کی صحت کا خاص خیال رکھنا چاہئے کیونکہ اس وقت جو بوجھ ہمارے کندھوں پر ہے اس سے ہزار گنے زیادہ بوجھ ان کے کندھوں پر ہو گا۔ پس ہماری آئندہ پیدا ہونے والی نسلیں دیکھیں گی کہ دنیا کی زبردست طاقتیں اور قوتیں یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائیں گی کہ اب احمدیت کو کوئی مٹا نہیں سکتا۔ مگر خدا تعالیٰ اسی پر راضی نہ ہو گا وہ جماعت کو اور بڑھاتا جائے گا جب تک کہ لوگ یہ نہ کہہ اُٹھیں کہ دُنیا میں احمدیت ہی ایک مذہب ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اِس زمانہ میں جبکہ آپ کے ساتھ ایک بھی آدمی نہ تھا فرمایا تھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ تمہاری جماعت اسقدر ترقی کرے گی کہ باقی اقوام دنیا کی اس طرح رہ جائیں گی جس طرح آج کل پرانی خانہ بدوش قومیں ہیں۔۶؎ پس کچھ لوگ آج مانیں گے، کچھ کل، کچھ پرسوں، اسی طرح روز بروز اور دن بدن جماعت بڑھتی جائے گی اور ساعت بہ ساعت اس کی قوت ترقی کرتی جائے گی۔ غریب، امیر، عام انسان و خواص و بادشاہ اور رعایا حضرت مسیح موعود پر ایمان لائے گی۔ یہاں تک کہ ساری دنیا میں یہی سلسلہ رہ جائے گا اور باقی مذاہب اس کے مقابلہ میں اسی طرح ماند ہو جائیں گے جس طرح سورج کے سامنے ستارے ماند پڑ جاتے ہیں۔
یہ خدا تعالیٰ کی فرمائی ہوئی باتیں ہیں جو پوری ہو کر رہیں گی۔ پس دنیا کی بڑی سے بڑی روکیں ہمارے ایمانوں کو متزلزل نہیں کر سکتیں اور ہم لوگوں کی مخالفت سے مایوس نہیں ہو سکتے۔ جس شخص نے یہ دیکھا ہو کہ ایک اکیلے انسان کے ذریعہ لاکھوں انسانوں کی جماعت بن گئی ہے وہ آئندہ ترقی سے کیونکر نا امید ہو سکتا ہے۔ ہم ایسے بے ایمان نہیں ہیں کہ لاکھوں نشانات دیکھ کر اور خدا تعالیٰ کے بے شمار وعدے پورے ہوتے دیکھ کر یہ خیال کریں کہ ہم دنیا کو فتح نہیں کر سکیں گے۔ بے شک ہم کمزور ہیں، ہمارے پاس ظاہری سامان نہیں، ہم میں طاقت نہیں لیکن دنیا کو ہم نے فتح نہیں کرنا بلکہ خدا تعالیٰ نے کرنا ہے اور اس کو سب طاقتیں حاصل ہیں۔ پس ہمیں مشکلات اور رکاوٹوں سے گھبرانا نہیں چاہئے بلکہ خدا تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے پر پورا پورا وثوق ہونا چاہئے۔
اب میں اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔ کل یہاں تک مضمون پہنچا تھا کہ انسان کو پاکیزگیِ نفس اور طہارتِ قلب کس طرح میسّر ہو سکتی ہے اور کونسے ذرائع ہیں کہ انسان بلوغت کو پہنچ کر گناہ کو اپنے سے دُور رکھے اور نیکی حاصل کر سکے۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ دُنیا میں انسانی طبائع مختلف قسم کی ہیں۔ کوئی ادنیٰ ہے اور کوئی اعلیٰ۔ اس وجہ سے تمام فطرتوں کے لئے ایک قانون جاری نہیں ہو سکتا اور نہ ایک قسم کا علاج سب کے لئے مفید ہو سکتا ہے۔ دُنیا میں ہی دیکھا جائے تو ایک ہی بیماری کا سب کے لئے ایک علاج مفید نہیں ہو سکتا۔ میں نے دیکھا ہے نزلہ ہوتا ہے تو ایک بیمار ایسا ہوتا ہے کہ اگر وہ قہوہ پی لے تو دو گھنٹہ میں اس کا نزلہ ہٹ جاتا ہے۔ اور کوئی دہی میں میٹھا ملا کر پی لے تو اسی سے اس کا نزلہ جاتا رہتا ہے مگر کئی انسان ایسے ہوتے ہیں کہ کئی دن میں علاج کرانے کے بعد اچھے ہوتے ہیں کئی ایسے ہوتے ہیں کہ حکیموں سے مشورہ لینے کی انہیں ضرورت پڑتی ہے اور کئی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان کی بیماری کے متعلق ڈاکٹروں کی عقلیں چکر میں آجاتی ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی کہ مختلف لوگوں کو مختلف قسم کی بیماریاں ہوتی ہیں اور ان کو مختلف قسم کے علاج سے افاقہ ہوتا ہے۔ یہی حال دیگر اُمور میں بھی ہے چونکہ انسانی قوتوں کے تفاوت کا انکار کرنا ناممکن ہے اس لئے ضروری ہے کہ علاج کے وقت لوگوں کے تفاوت اور استعدادوں کے اختلاف کو مدنظر رکھیں۔ اسی بات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے میں گناہوں سے بچنے کا طریق بھی بیان کرتا ہوں۔ سب سے پہلے میں اس فطرت کو لیتا ہوں جو زنگ سے بالکل پاک ہوتی ہے اور جس میں طاقت ہوتی ہے کہ عقل سے کام لے سکے اور اعمال کو جاری رکھ سکے۔
سب سے پہلے یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اسلام میں پاکیزگی اس کا نام نہیں کہ زبان پر اچھی باتیں ہوں یا اعمال اچھے ہوں بلکہ اسلام میں اصل دل کی پاکیزگی ہے۔ جو انسان دل کا پاک نہیں وہ
خدا تعالیٰ کے نزدیک پاک نہیں ہے۔ ایک شخص قطعاً کوئی گناہ نہ کرے مگر اس کے دل میں گناہ اور بُرائی سے اُلفت ہو اور گناہ کے ذکر میں اُسے لذت محسوس ہو تو وہ نیک اور پاک نہیں کہلا سکے گا جب تک اس کے دل میں بھی یہ بات نہ ہو کہ گناہ میں ملوث نہ ہو۔ اِسی طرح کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ عادت کے ماتحت انہیں غصہ آتا ہے مگر گالی نہیں دیتے لیکن ان کا دل کہہ رہا ہوتا ہے کہ فلاں انسان بڑا بد معاش اور شریر ہے۔ ایسے لوگوں کے متعلق ہم یہ نہ کہیں گے کہ وہ پاکیزہ ہیں بلکہ یہ کہیں گے کہ وہ اپنے گند کو چھپائے بیٹھے ہیں۔ پس اسلام میں پاکیزگی دل کی ہے۔ اعمال اور زبان تو آلات اور ذرائع ہیں جن سے پاکیزگی ظاہر ہوتی ہے۔ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔ وَاِنۡ تُبۡدُوۡا مَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ اَوۡ تُخۡفُوۡہُ یُحَاسِبۡکُمۡ بِہِ اللّٰہُ(2:285)۷؎ کہ جو دل کی حالت ہو وہ محاسبہ کے نیچے آتی ہے خواہ تم دل کی حالت کو چھپاؤ یا ظاہر کرو۔ یہاں خدا تعالیٰ نے کیا عجیب نکتہ بیان فرما دیا کہ زبان اور اعمال تو دلی حالت کا اظہار کرتے ہیں۔ اصلی چیز دلی حالت ہے۔ خدا تعالیٰ اسی کا محاسبہ کرے گا۔ فرماتا ہے تم دلی حالت کو ظاہر کر دیا چھپاؤ۔ یعنی تم اعمال گندے نہ کرو یا زبان سے ظاہر نہ کرو مگر تمہارے دل میں گند ہے تو ضرور پکڑے جاؤ گے دوسری جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔ فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ وَاسۡمَعُوۡا وَاَطِیۡعُوۡا وَاَنۡفِقُوۡا خَیۡرًا لِّاَنۡفُسِکُمۡ ؕ وَمَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ(64:17)۸؎۔ کہ سب اعمال بجالاؤ۔ مگر نفس کو پاک کرو کیونکہ جس کے قلب میں برائی ہوگی وہ پکڑا جائے گا۔
یہ بات سمجھانے کے بعد کہ اصل نیکی دل کی پاکیزگی ہے اب میں یہ بتاتا ہوں کہ جس فطرت پر زنگ نہ ہو اس کے لئے گناہوں سے بچنے کے تین علاج ہیں۔ (۱) یہ کہ اُسے بدیوں کا علم اور نیکیوں کی خبر ہو۔ خواہ دل ایک شخص کو کہتا ہو کہ نیکی کرو لیکن اگر نیکی کا پتہ ہی نہ ہو تو کیا کرے گا اسی طرح دل خواہ اُسے بُرائی سے باز رہنے کی تحریک کرتا ہو لیکن اُسے یہ علم ہی نہ ہو کہ فلاں فعل کا ارتکاب بُرائی ہے تو اس سے کس طرح بچ سکے گا۔ پس ضروری ہے کہ انسان کو معلوم ہو کہ اُسے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ خالی کسی فعل کے کرنے یا کسی فعل کے ارتکاب سے باز رہنے کی استعداد کافی نہیں ہوتی۔ مثلاً کسی شخص کی خواہش ہو کہ وہ اپنے دوست کو خوش کرے ، مگر وہ دوست بتاتا نہیں کہ کس طرح خوش ہو سکتا ہے تو وہ کیا کر سکتا ہے۔ پس سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ بدیوں کا علم اور نیکیوں کی خبر ہو۔ (۲) اسے معلوم ہو کہ بدیوں سے اجتناب اور نیکیوں پر عمل کرنے کے مواقع کیا کیا ہیں۔ یہ ایسی بات ہے کہ نوکر کو کہیں فلاں اسباب اُٹھا کر اندر رکھ دو۔ نوکر رکھنے کے لئے مستعد ہو اور ہم نے اُسے کہہ دیا کہ رکھ دو لیکن اگر اُسے یہ پتہ نہیں کہ کہاں کہاں رکھنا ہے تو وہ میز کی جگہ کرسی اور کرسی کی جگہ میز رکھ دیگا یہی حال اس شخص کا ہو سکتا ہے جسے نیکیوں کے کرنے اور بدیوں سے بچنے کے مواقع کا علم نہ ہو۔ پس مواقع کا معلوم ہونا بھی ضروری ہے۔
(۳) یہ معلوم ہو کہ کونسی بدیاں میرے اندر ہیں جنہیں میں نے دُور کرنا ہے۔ جب تک اِس بات کا عِلم نہ ہو وہ اپنا علاج کس طرح کرسکتا ہے۔ پس روحانی علاج کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ معلوم ہو کہ میرے اندر کیا کیا بدیاں ہیں اور کون کون سی نیکی کی کمی ہے تاکہ بدیوں سے بچوں اور نیکیاں حاصل کرنے کی کوشش کروں۔ اگر ایک شخص کے قلب میں زنگ اور تاریکی اور رُکاوٹ نہیں ہے تو اوپر کی باتیں معلوم ہونے پر وہ نیک ہو جائے گا۔ جب تک اپنی کمزوریوں کا علم نہ ہو کوئی انسان علاج نہیں کرسکتا۔ اور اگر معلوم ہو جائیں تو نہایت آسانی سے علاج کرسکتا ہے۔
اب میں اِن تینوں باتوں کی موٹی موٹی تشریح بیان کرتا ہوں۔ اوّل میں بدیوں اور نیکیوں کے علم کو لیتا ہوں۔ مَیں نے دیکھا ہے بہت لوگ ایسے موجود ہیں کہ اُن میں استعداد ہے کہ نیک ہو جائیں مگر انہیں بدیوں اور نیکیوں کا پتہ نہیں ہوتا۔ کئی لوگ مردوں میں سے بھی اور عورتوں میں سے بھی کہتے ہیں۔ کیا ہم میں (۱) فسق و فجور ہے (۲) ظلم ہے (۳) ہم لوگوں کا مال کھا جاتے ہیں (۴) جھوٹ بولتے ہیں (۵) زنا کرتے ہیں۔ اگر نہیں تو پھر ہم میں کونسی بُرائی ہے۔ گویا جن میں یہ باتیں نہ ہوں وہ سمجھتے ہیں ان میں کوئی عیب نہیں ہے اور لوگ یہ پانچ عیب شرعی قرار دیا کرتے ہیں گویا اس سے زیادہ عیب نہیں۔ حالانکہ یہ لمبا سلسلہ چلتا ہے اور عیب سینکڑوں تک پہنچتے ہیں۔ اس وقت ان سب کا بیان کرنا مشکل ہے۔ وقت کے لحاظ سے بھی اور یوں بھی کہ بعض عیب انسان کے علم سے اوپر ہوتے ہیں اور ایسا انسان جسے سب عیوب کا علم تھا وہ محمدﷺ ہی کی ذات تھی اور انسانوں کو بھی عیوب کی اِطلاع دی جاتی ہے مگر اسقدر علم کسی انسان کو نہ ہوا ہے نہ ہو سکتا ہے جس قدر رسول کریمﷺ کو تھا۔
ایک دفعہ مَیں نے رُویا میں دیکھا کہ مَیں ایک دوست کو سمجھا رہا ہوں کہ ورزش نہ کرنا بھی گناہ ہے مگر یوں ہم اسے گناہ نہیں کہتے۔ لیکن ایک انسان جس کی زندگی پر لاکھوں انسانوں کی زندگی کا مدار ہو اگر وہ اپنی زندگی کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ گناہ کرتا ہے۔ محمد رسول اللہﷺ سے بڑھ کر کون بہادر ہو سکتا ہے مگر جنگ میں آپؐ کی حفاظت کے لئے پہرہ ہوتا تھا اور آپؐ کے گھر پر بھی پہرہ ہوتا تھا۔ کوئی کہے کہ وہ اپنی جان کی حفاظت دوسروں سے مقدم سمجھتے تھے مگر ایسا کرنا ضروری تھا کیونکہ آپ کی حیات سے دنیا کی زندگی وابستہ تھی۔ اگر آپ نہ ہوتے تو دنیا میں اسلام کس طرح قائم ہوتا؟ تو بعض انسانوں کا آرام اور صحت کا قائم رکھنا نیکی ہوتی ہے۔ اس کے خلاف کرنا گناہ ہوتا ہے۔ شیخ عبدالقادر صاحبؒ جیلانی ایک کتاب میں فرماتے ہیں کہ مجھ پر ایسی حالت آتی ہے جب تک خدا مجھے نہیں کہتا کہ عبدالقادر اُٹھ تجھے میری جان کی قسم کھانا کھا لے تو میں کھانا نہیں کھاتا اور جب تک وہ نہیں کہتا کہ میری جان کی قسم کپڑا پہن تو میں نہیں پہنتا ۳؎ اس کا یہی مطلب ہے کہ اس مرتبہ کے انسان کو خدا کہتا ہے کہ اپنی خاطر نہیں میرے لئے یہ کام کر، تو وہ کرتا ہے۔ کیونکہ وہ سب کچھ خدا کے لئے کر رہا ہوتا ہے۔ پس گناہوں کے اس قدر مدارج ہیں کہ انسان کی حالت کے ساتھ ساتھ ان کی کیفیت بھی بدلتی رہتی ہے اسی لئے صوفیاء کہتے ہیں کہ ابرار کے گناہ عوام کی نیکیاں ہوتی ہیں۔
اب میں موٹی موٹی تشریح بدیوں کی کرتا ہوں۔ اول وہ بدیاں جو ذاتی ہوتی ہیں یعنی جن کا اثر انسان کے اپنے نفس پر پڑتا ہے۔
(۲) وہ بدیاں جو دوسروں سے تعلق رکھتی ہیں۔ یعنی اُن کا اثر انسان کے اپنے نفس پر ہی نہیں پڑتا بلکہ دوسروں پر بھی اُن کا اثر ہوتا ہے۔
(۳) وہ بدیاں جو قومی ہوتی ہیں۔ یعنی قوم کی حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ بدی ہوتی ہے۔
(۴) وہ بدیاں جو خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتی ہیں۔
اس کے مقابلہ میں نیکیوں کی بھی چار قسمیں ہیں (۱) ذاتی نیکیاں یعنی جن کا اثر انسان کی اپنی ذات پر پڑتا ہے۔ (۲) وہ نیکیاں جو دوسروں سے بھی تعلق رکھتی ہیں یعنی جن کا اثر دوسروں پر بھی پڑتا ہے (۳) قومی نیکیاں جو بحیثیت قوم نیکیاں سمجھی جاتی ہیں (۴) وہ نیکیاں جو خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتی ہیں۔
اب میں اُن بدیوں کو بیان کرتا ہوں جو ذاتی بدیاں ہیں اور ان کی موٹی موٹی بدیوں کی لسٹ دیتا ہوں تاکہ ان کے ذہن میں آنے سے ان سے بچنے کی طاقت پیدا ہو۔ ان سے آگے جو بدیاں ہیں وہ الہام کے ذریعہ بتائی جاتی ہیں۔
(۱) تکبر۔ یعنی اپنے نفس میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنا۔ کسی اور پر ظاہر کئے بغیر ایک شخص اپنے نفس میں سمجھتا ہے کہ میں بڑا آدمی ہوں تو یہ بات اس کے نفس کو طہارت حاصل کرنے سے
روکتی ہے (۲) سفلَہ پن۔ بازاروں میں آوارہ طور پر پھرنا یا بیٹھنا اور ذلیل پیشے اختیار کرنا۔ یہ بھی نفس کی بدی ہے اور اس کی وجہ سے بھی اعلیٰ ترقی حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کوئی اپنی حالت اور پیشہ نہ بدلے گا۔
(۳) جلد بازی، کسی کام کو بے سوچے سمجھے جلدی میں اختیار کرلینا۔ اس کا نقصان بھی اختیار کرنے والے کو ہی پہنچتا ہے۔
(۴) بد ظنی۔ یعنی دوسرے کے متعلق یہ خیال کرنا کہ وہ ایسا ہے ویسا ہے خواہ اس پر اس خیال کو کبھی ظاہر نہ کرے حتیٰ کہ مر جائے مگر پھر بھی یہ گناہ ہے۔
(۵) ناجائز محبت، خواہ دل میں ہی رکھے اور کسی کو نہ بتائے تو بھی یہ بدی ہے۔
(۶) کینہ، یعنی دل میں یہ خیال رکھنا کہ فلاں کو نقصان پہنچاؤں گا۔ چاہے عملاً کبھی بھی نقصان نہ پہنچائے۔
(۷) بزدلی۔ بزدلی کا دل میں پیدا ہونا گناہ ہے خواہ اُسکے اظہار کا کبھی موقع آئے یا نہ آئے۔
(۸) حسد۔ یعنی دوسرے کے متعلق یہ خیال کرنا کہ اس کی چیز جاتی رہے اور مجھے مل جائے۔
(۹) بے صبری۔ یعنی مصائب پر گھبرا جائے اور جو کام اسے کرنا ہو وہ نہ کر سکے۔
(۱۰) دوں ہمتی، انسان اپنے لئے بڑے مقصد قرار نہ دے بلکہ چھوٹے چھوٹے قرار دے۔ یہ برائی بھی بڑی تباہی کا موجب ہوتی ہے۔ یہ خصوصاً بادشاہوں اور امراء کے لئے سخت تباہی کا باعث ہے۔ کیونکہ اُن کی کم ہمتی سے ان کی رعایا بھی کم ہمت ہو جاتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کیا عجیب نکتہ بیان فرمایا ہے۔ فرماتے ہیں
تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد
تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے
یعنی تُو نے (محمد ﷺ) ترقی کی تو ہم بھی آگے بڑھے۔ پس امراء کے لئے دوں ہمتی بہت بڑا گناہ ہے اور عوام کے لئے بھی گناہ ہے۔
(۱۱) چاپلوسی۔ یونہی کسی کو خوش کرنے کے لئے باتیں بنانا چاپلوسی ہے۔ امراء کے نوکروں میں یہ بدی بہت زیادہ ہوتی ہے۔
(۱۲) ناشکری۔ اس سے دل میں کسی کے احسان کی قدر نہ ہونا مراد ہے۔
(۱۳) بے استقلالی۔ ایک کام اختیار کرنا اور بغیر سر انجام دیئے چھوڑ دینا بے استقلالی ہے۔
(۱۴) سستی۔ اس کی وجہ سے انسان کام ہی نہیں کرتا۔
(۱۵) غفلت ، (۱۶) حق کا انکار ، (۱۷) حق کے اقرار کی جرات کا فقدان۔
(۱۸) نا جائز نزاکت ، یعنی وہ وجود جنہیں نزاکت نہ کرنی چاہئے، وہ کریں یا کوئی اس حد تک نزاکت کرے کہ عمل سے ناکارہ ہو جائے۔
(۱۹) جہالت۔ یعنی علم حاصل نہ کرنا۔
(۲۰) حرص۔ اس میں مبتلاء ہونا بھی برائی ہے۔
(۲۱) ریاء۔ یعنی لوگوں کو دکھانے کے لئے کام کرنا۔
(۲۲) بد خواہی۔ دل میں دوسرے کے نقصان کی خواہش رکھنا۔
(۲۳) ہمت ہار بیٹھنا۔ ذرا مشکل کا سامنا ہوا اور کام چھوڑ دیا۔ یہ بھی خاص طور پر امراء کی بدی ہے۔
(۲۴) بدی سے محبت۔ یعنی بدی کو دیکھ کر برانہ منانا بھی گناہ ہے۔
(۲۵) ہر قسم کا نشہ بھی بدی ہے۔ اس میں شراب، افیون، بھنگ، نسوار، چائے، حقہ سب چیزیں شامل ہیں۔
بعض چیزیں ایسی ہیں جو غذاء کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں جیسے چائے ہے۔ اگر اس کی ایسی عادت ہو کہ چھوڑنے پر صحت پر اثر پڑے تو اس کا استعمال بھی برائی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک وقت یہ ضرورت پیش آئے کہ انسان دور دراز دیہاتوں میں تبلیغ کے لئے جائے اس وقت اگر سماوار وہ اٹھا لے جائے اور چائے کا انتظام کرنا چاہے تو یہ ایسا بوجھ ہو گا جس کی وجہ سے وہ بہت مشکلات میں مبتلاء ہو گا۔ چونکہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ ہر ایک مسلمان سپاہی بنے اور جہاں بھیجا جائے فوراً چلا جائے اس لئے وہ اس قسم کی عادتوں سے منع کرتا ہے جو رکاوٹ کا باعث بن سکتی ہیں۔ میں نے کئی دفعہ سنایا ہے۔ ایک دفعہ ایک سفر میں ایک پٹھان کی نسوار ختم ہو گئی تو اس نے ایک کشمیری سے نہایت لجاجت کے ساتھ پوچھا کیوں بھئی تمہارے پاس نسوار ہے۔ یہ دیکھ کر میں نے کہا:۔ نسوار نے اس کی گردن اس کے سامنے جھکائی ہے۔
یہاں کئی لوگ آتے ہیں جنہیں حقہ کی عادت ہوتی ہے پھر وہ اس کی وجہ سے کئی فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ابتداء میں ہمارے ایک رشتہ دار تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
کے سخت مخالف تھے۔ اور جو لوگ یہاں آتے وہ انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ ان کی عادت تھی کہ اپنے صحن میں چارپائیاں بچھا کر حقہ رکھ دیتے لوگ حقہ کو دیکھ کر جاتے اور وہ گمراہ کرنے کی کوشش کرتے اور کہتے ہم ان کے رشتہ دار ہیں اور ان کے حالات سے واقف اگر کوئی بات ہوتی تو ہم نہ مان لیتے۔ اس طرح کئی لوگوں کو ٹھوکر لگ جاتی۔ ایک دفعہ ایک احمدی آیا اور حقہ پینے ان کے پاس چلا گیا۔ اُسے پہلے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف باتیں سناتے رہے لیکن جب وہ خاموش بیٹھا رہا تو پھر اس کے سامنے حضرت مسیح موعود کو گالیاں بھی دیں۔ اس پر بھی وہ کچھ نہ بولا۔ آخر اُسے کہنے لگے تم کس سوچ میں ہو کیوں کوئی بات نہیں کرتے؟ وہ کہنے لگا۔ میں اس سوچ میں ہوں کہ حقہ کی خبیث عادت مجھے یہاں لائی۔ اگر یہ نہ ہوتی تو میں نہ یہاں آتا اور نہ حضرت صاحب کے خلاف باتیں سنتا۔
اس وقت میں ضمناً یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ پہلے بھی کئی بار اس طرف توجہ دلا چکا ہوں کہ حقہ بہت گندی چیز ہے اسی طرح دوسرے نشے بھی سخت مُضِرّ ہیں ان کو ترک کر دینا چاہئے۔ بعض نشے ایسے ہیں جن کی وجہ سے جھوٹ کی عادت پڑتی ہے۔ میں ان کے نام نہیں لیتا تاکہ جو ان کے عادی ہیں ان کے متعلق بدظنی نہ پیدا ہو۔ مگر یہ بات بالکل سچی ہے بعض نشوں سے اعصاب پر خاص اثر پڑتا ہے اس لئے کسی نشہ کی بھی عادت نہیں ڈالنی چاہئے۔ مجھے کسی چیز کی عادت نہیں ہوتی۔ مجھے بچپن میں بیماری کی وجہ سے افیون دیتے تھے۔ چھ ماہ متواتر دیتے رہے مگر ایک دن نہ دی تو والدہ صاحبہ فرماتی ہیں مجھ پر نہ دینے کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اس پر حضرت صاحب نے فرمایا۔ خدا نے چھڑادی ہے تو اب نہ دو۔ تو میں ہر چیز جو استعمال کرتا ہوں اگر چھوڑ دوں تو کوئی تکلیف نہیں ہوتی لیکن باوجود اس کے چائے جس کا استعمال ہمارے گھروں میں ناشتہ کے طور پر ہوتا ہے کبھی کبھی پینا چھوڑ دیتا ہوں کہ عادت نہ ہو جائے۔ مؤمن کو کسی چیز کے نشہ کی عادت نہ ڈالنی چاہئے یہ بھی ایک بُرائی ہے۔
(۲۶) دوسروں کو حقیر سمجھنا۔
(۲۷) دلی عداوت۔ عداوت کا خواہ اظہار نہ کیا جائے اور دل میں رکھی جائے تو یہ بھی بُرائی ہے۔
(۲۸) دوسروں پر بے اعتباری کرنا۔ انسان دوسرے کے سپرد کوئی کام کرتا ہو اُڈرتا رہے۔
(۲۹) طمع۔ یہ بھی قلبی بدی ہے۔
(۳۰) حد سے زیادہ غم کرنا بھی بدی ہے۔ یعنی انسان غم کو اتنا بڑھائے کہ اس کی عملی طاقتوں کو مضمحل کر دے۔
(۳۱) حد سے زیادہ خوشی بھی بدی ہے۔
(۳۲) بے تعلق باتوں میں دخل دینا۔ ایسی باتیں جن سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو خواہ مخواہ کود پڑنا بھی بدی ہے۔
(۳۳) ہلکا پن۔ جس سے مراد زیادہ باتیں کرنا ہے۔ جب کسی انسان کو زیادہ باتیں کرنے کی عادت ہوتی ہے تو وہ بے سوچے سمجھے جواب دیتا ہے۔
(۳۴) سنگ دلی۔ یعنی رحم نہ ہونا بھی ایک بدی ہے۔
(۳۵) دوسروں کو ایذاء رسانی میں لذت محسوس کرنا۔
(۳۶) اسراف (۳۷) خودکشی
(۳۸) وہ جھوٹ جس میں کسی کا نقصان نہ ہو۔ کئی لوگ بے فائدہ جھوٹ بولتے ہیں۔
اب میں وہ بدیاں بیان کرتا ہوں جو دوسری مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ دو قسم کی ہیں۔ اول وہ بدیاں جو انسانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ دوم وہ بدیاں جو انسانوں کے سوا دوسری مخلوق سے سے تعلق رکھتی ہیں۔
ایک دوست پوچھتے ہیں۔ حقہ چھوڑنے کی ترکیب بتاؤ۔ حقہ کی نسبت افیون چھوڑنے میں زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ ایک دوست تھے جنہوں نے بہت سال افیون کھائی۔ جب وہ چھوڑنے لگے تو ڈاکٹر نے کہا۔ اگر چھوڑ دو گے تو مر جاؤ گے۔ مگر انہوں نے چھوڑ دی۔ اس پر چند دن انہیں تکلیف رہی مگر پھر ان کی صحت اچھی ہو گئی۔ نشہ چھوڑنے کے کچھ علاج تو آگے بتاؤں گا۔ لیکن اس وقت مضمون کو خراب کئے بغیر جو بتا سکتا ہوں وہ یہی ہے کہ چھوڑ دو۔
وہ بدیاں جو انسانوں سے تعلق رکھتی ہیں وہ یہ ہیں۔ (۱) بے ادبی۔ جن کا ادب کرنا ضروری ہو ان کا ادب نہ کرنا بھی بدی ہے (۲) ناجائز اظہار محبت (۳) بے وفائی یعنی آپ تو کام کراتے رہے لیکن جب دوست کو مدد کی ضرورت ہوئی تو جواب دے دیا (۴) چھچھورا پن۔ اس کی تعریف یہ ہے کہ جلد غصہ میں آ جانا۔ ناشائستہ اشارے کرنا۔ فوراً سزا دینے پر آمادہ ہو جانا۔ یونہی سزا دینے کی دھمکیاں دینا۔ میں نے کئی دفعہ قادیان کے دو بنیوں کا قصہ سنایا ہے۔ ایک دوسرے کو گالی دے رہا تھا اور دوسرا کہہ رہا تھا کہ اب گالی دو تو تمہارا سر پھوڑ دوں گا۔ اگر اُسے سر پھوڑنا تھا تو پہلی دفعہ گالی دینے پر ہی پھوڑ دیتا۔ نئی گالی دلوانے کی کیا ضرورت تھی۔ مگر وہ ہر دفعہ یہی کہتا جاتا کہ اب گالی دو تو سر پھوڑ دوں گا۔ آگے سے دوسرا کہتا۔ سو دفعہ گالی دوں گا مگر دیتا نہ تھا۔ میں اس وقت آٹھ سال کا بچہ تھا اور اس نظارہ کو دیکھ کر وہاں کھڑا ہو گیا تھا مگر باوجود اس انتظار کے کہ ایک گالی دے اور دوسرا سر پھوڑے کچھ بھی نتیجہ نہ نکلا بلکہ تھوڑی دیر کے بعد وہ اپنی اپنی دکان پر چلے گئے۔ اور اُس وقت ایک نے دوسرے کو پھر گالی دی اور دوسرا باہر آکر پھر کہنے لگا کہ اب گالی دو تو مزا چکھاؤں۔ بہت دیر تک وہ اسی طرح کرتے رہے۔ یہ چھچھورا پن ہے۔ اور بزدلی کی علامت ہے اس طرح سزا میں حد سے زیادہ سختی کرنا بھی چھچھورا پن ہے یا ذرا کسی سے تکلیف پہنچی اور شور مچا دیا یہ بھی چھچھورا پن ہے۔
میں نے دورانِ تقریر میں سوال کرنے سے روکا ہوا ہے۔ مگر یہ مضمون چونکہ اہم ہے اس لئے بعض سوالات جو دوستوں نے کئے ہیں اُن کے جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں ایک دوست پوچھتے ہیں کہ کونسے پیشے ذلیل ہیں۔ اس سوال کے ذریعہ وہ مجھے ایسی دلدل میں گھسیٹ کر لے جانا چاہتے ہیں جس میں میں جانا نہیں چاہتا۔ مگر میں اُن کو جواب نہ دینا بھی نہیں چاہتا۔ اس لئے بتاتا ہوں کہ وہ پیشے ذلیل ہیں جو انسان کی موجودہ حالت سے آئندہ ترقی میں روک پیدا کریں۔
ایک سوال یہ کیا گیا ہے کہ حُقہ پینے والے کی وصیت منظور ہو سکتی ہے یا نہیں؟ یہ چونکہ پیچیدہ سوال ہے اس لئے اس وقت اس کا جواب نہیں دیتا۔
ایک سوال یہ پوچھا گیا ہے کہ طمع اور حرص میں کیا فرق ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ طمع تو یہ ہے کہ انسان دوسرے سے اُمید رکھے کہ فلاں چیز مجھے دے دے۔ اور حرص یہ ہے کہ فلاں چیز مل جائے خواہ کہیں سے مل جائے۔
(۵) گالیاں دینا۔ اسے ہر جگہ کے لوگ بُرائی سمجھتے ہیں۔ لیکن پنجاب میں رواج ہے کہ بچہ سے کہتے ہیں کہ فلاں کو گالی دو اور جب وہ گالی دیتا ہے تو ہنستے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک معراج گالی دینا ہی ہے۔ یہ واقعہ میں نے خود بھی دیکھا ہے۔
(۶) لعنتیں ڈالنا (۷) بد دُعا۔ لعنت اور بد دُعا میں میں نے فرق کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ بد دُعا انسان کی جسمانی حالت کے متعلق ہوتی ہے اور لعنت روحانیت کے متعلق ہوتی ہے۔ مثلاً جب کوئی یہ بد دُعا دیتا ہے کہ فلاں مر جائے تو یہ بد دُعا ہے اور جو کہتا ہے فلاں پر لعنت ہو۔ اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اُس کا دل ناپاک ہو جائے۔
میں اس سے وہ لعنت مستثنیٰ کرتا ہوں جو بد دُعا کے طور پر نہیں بلکہ اظہار واقعہ کے طور پر ہوتی ہے اور وہ نبی کی طرف سے لعنت ہوتی ہے۔ وہ بد دُعا نہیں ہوتی بلکہ اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ جس پر لعنت کی جاتی ہے اس کا دل ناپاک ہو گیا ہے۔
(۸) خیانت۔ کسی نے مال دیا۔ تو اُسے واپس نہ دیا یا پورا نہ دیا۔
(۹) افشاءِ راز۔ کسی کا کوئی راز معلوم ہوا تو اُسے ظاہر کر دیا۔ مگر یہ کبھی بدی نہیں بھی رہتی۔ مثلاً ایسے وقت میں جب کسی دوسرے کو نقصان پہنچ سکتا ہو تو اُسے نقصان سے بچانے کے لئے راز افشاء کرنا بُرا نہیں ہوتا۔ مثلاً کسی کو معلوم ہو کہ ایک شخص کا ارادہ ہے کہ زید کو قتل کر دے۔ اب اگر زید کو یہ بات بتا دی جائے تو یہ بدی نہیں ہو گی بلکہ اس کا چھپانا بدی ہو گا۔ اسی طرح حکومت کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے اُسے بدنام کرتا ہے یا اُسے نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو جس کو یہ راز معلوم ہو اُس کا فرض ہے کہ ذمہ دار آدمیوں تک یہ بات پہنچائے۔
(۱۰) چغل خوری (۱۱) بشاشت سے نہ ملنا۔ اس سے دوسرے کے قلب پر بُرا اثر پڑتا ہے اور تعلقاتِ محبت قطع ہو جاتے ہیں۔
(۱۲) ناواجب طرفداری۔ دو آدمی لڑ رہے ہوں اُن میں ایک دوست ہو تو اس کی بیجا حمایت کی جائے۔
(۱۳) دھوکا بازی (۱۴) بخل (۱۵) ظلم (۱۶) ظاہری ناشکری یعنی جس کا احسان ہو اس کے متعلق یہ کہنا کہ اس نے کبھی احسان نہیں کیا۔
(۱۷) غلاظت (۱۸) غفلت، (۱۹) جھگڑا (۲۰) فساد۔ میں ان کی تشریح چھوڑتا ہوں کیونکہ لوگ یہ باتیں جانتے ہیں۔
(۲۱) شور مچانا۔ بازاروں میں کھڑے ہو کر شور مچانا یا اجتماع میں اِدھر اُدھر کی باتیں کر کے شور پیدا کرنا۔ اور کام کرنے والوں کے کام میں حرج پیدا کرنا بھی ایک بہت بڑا عیب ہے۔ اہل یورپ کو مَیں نے دیکھا ہے اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ مجالس میں جونہی ایک طرف سے خاموشی شروع ہو سب خاموش ہو جاتے ہیں اس لئے کہ جو خاموش ہو گئے انہیں ہماری آواز سے تکلیف نہ پہنچے۔
(۲۲) ایذاء رسانی (۲۳) جبر (۲۴) ڈاکہ ، (۲۵) قتل (۲۶) چوری۔ میں انتظار کر رہا تھا کہ اس کے متعلق ہی کوئی سوال آئے۔ چنانچہ ایک دوست سوال کرتے ہیں کہ لوگ مراسم دوستانہ کے طور پر چوری کرتے ہیں۔ چنانچہ بعض گاؤں میں دستور ہے کہ ایک دوسرے کا مال چُرا لیتے ہیں۔ یہ بھی بُرائی ہے۔
(۲۷) مار پیٹ (۲۸) فخرِ بے جا (۲۹) بہتان لگانا (۳۰) غیبت کرنا (۳۱) عیب چینی کرنا۔ عیب چینی اور غیبت میں فرق ہے اور وہ یہ کہ غیبت کے معنے ہیں کسی کی بدی لوگوں میں بیان کرنا تا کہ وہ ذلیل ہو اور چغل خوری یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے متعلق کوئی شخص کوئی بڑی بات بیان کرے تو اُسے جا کر بتانا اور ان کی آپس میں لڑائی کرانا۔
(۳۲) عیب لگانا (۳۳) تحقیر کرنا لوگوں میں ذلیل قرار دینا (۳۴) نام دھرنا جیسا کہ ہمارے ملک میں لوگوں کے مختلف قسم کے نام رکھ دیئے جاتے ہیں۔
(۳۵) استہزاء کرنا۔ یعنی حقیر اور ذلیل کرنے کے لئے ہنسی تمسخر کرنا۔
(۳۶) منہ چڑانا۔ بچوں اور عورتوں میں یہ بہت عادت ہوتی ہے۔
(۳۷) منصوبہ بازی کرنا۔ یعنی یہ سوچنا کہ فلاں کو کس طرح نقصان پہنچایا جائے۔
(۳۸) تعذیب۔ یعنی بجائے سزا کے دُکھ دینا
(۳۹) غصہ ہونا۔ وہ غصہ جس کا اظہار کیا جائے۔
(۴۰) انتقام میں شدت۔ یعنی جتنا انتقام لینا چاہئے اس سے زیادہ لینا۔
(۴۱) رشوت لینا (۴۲) رشوت دینا (۴۳) سود لینا (۴۴) سود دینا۔ یہ موٹی موٹی بدیاں ہیں جو دوسرے انسانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔
اب میں وہ بدیاں بیان کرتا ہوں جو انسانوں کے علاوہ دوسری مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں:۔
(۱) بدبودار چیزیں استعمال کرنا۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔ بدبودار چیزیں کھانے سے ملائکہ کو تکلیف ہوتی ہے اور وہ ایسے انسان کے پاس نہیں آتے۔
(۲) بلاوجہ گھر میں کتّا رکھنا، رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے جس گھر میں کتا ہو وہاں فرشتے نہیں جاتے۔ ۱؎
اب میں وہ بدیاں بیان کرتا ہوں جو دوسرے جانوروں سے تعلق رکھتی ہیں:۔
(۱) جانوروں کو بلاوجہ مارنا
(۲) جانوروں سے زیادہ کام لینا۔ اس بُرائی میں عام طور پر زمیندار مبتلاء ہوتے ہیں۔ وہ جانور سے کام لیتے رہتے ہیں اور جب وہ کام دینے کے ناقابل ہو جاتا ہے اور مرنے لگتا ہے تو مذبح والوں
کے پاس بیچ دیتے ہیں۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ ذبح کرنا نا جائز ہے بلکہ یہ کہ اس طرح کام لینا کہ وہ تکلیف سے کام کے نا قابل ہو جائے یہ نا جائز ہے۔
(۳) جانوروں کو کھانا کم دینا اور کام زیادہ لیتے رہنا۔ اس برائی میں زمیندار نہیں مبتلاء ہوتے دوسرے ہوتے ہیں۔ زمینداروں کو تو دیکھا ہے کہ وہ خود بھوکے رہیں گے مگر جانوروں کے چارے کا ضرور انتظام کریں گے۔ مجھے زمینداروں کا یہ فقرہ بہت پسند آتا ہے کہ جب قحط پڑتا ہے تو یہ نہیں کہتے۔ ہمارے کھانے کے لئے کچھ نہیں رہا۔ بلکہ یہ کہتے ہیں چارہ نہیں ملتا۔
(۴) بیمار جانور کا علاج نہ کرنا۔
(۵) جانوروں کی تعذیب، داغ دینا۔ رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ دیکھا ایک گدھے کے منہ پر نشان لگا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: یہاں مت لگاؤ کیونکہ اس جگہ حس زیادہ تیز ہوتی ہے۔ اگر نشان لگانا ہی ہے تو پیٹھ پر لگا دو۔۷۲
(۶) جانوروں کی سردی گرمی کا خیال نہ رکھنا۔
(۷) جانوروں کے شہوانی جذبات کا خیال نہ رکھنا۔ جانوروں میں بھی ایسے ہی قویٰ ہوتے ہیں جیسے انسانوں میں۔ اس لئے یا تو اُن کی شہوت دُور کرنے کا انتظام کرنا چاہئے یا کوئی اور تدبیر کرنی چاہئے۔
(۸) اولاد کی وجہ سے دُکھ دینا۔ یعنی اُن کے سامنے اُن کے بچوں کو ذبح کرنا یا بھوکے رکھنا یا اور کسی طریق سے دُکھ دینا۔
اب میں تیسری قسم کی بدیاں بیان کرتا ہوں جو قومی بدیاں ہیں:۔ (۱) فحش کی اشاعت کرنا۔ اگر کوئی شخص لوگوں میں یہ کہتا پھرتا ہے کہ فلاں شخص جھوٹا ہے تو یہ صرف دوسرے انسان سے تعلق رکھنے والی بدی نہیں بلکہ قومی بدی ہے۔ کیونکہ جس قوم میں یہ اعلان ہوتا رہے کہ اس میں جھوٹ بولنے والے بھی ہیں۔ اُس میں جھوٹ کی عظمت مٹ جاتی ہے اور اس میں یہ بدی پھیلنے لگتی ہے۔ میرے نزدیک فحش کی اشاعت خودکشی ہے۔ (۲) نفسانیت۔ جب قوم کے فوائد کے مقابلہ میں اپنے فوائد ٹکرائیں تو اپنے فوائد کو مدنظر رکھنا اور قومی فوائد کو نظر انداز کر دینا قومی بُرائی ہے۔ (۳) فسق وفجور۔ جیسے کنچنیوں کا پیٹے بیٹھنا یا علی الاعلان شراب پینا۔ (۴) قومی فرائض کی ادائیگی میں سستی کرنا (۵) تربیت اولاد کی طرف توجہ نہ کرنا
(۶) تعلیم اولاد کی طرف توجہ نہ کرنا۔ جو لوگ ان باتوں کی طرف توجہ نہیں کرتے وہ قوم کو تباہ کرتے ہیں کیونکہ اولاد نے ہی آگے قوم بننا ہوتا ہے۔
(۷) غلاظت۔ یہ پہلے بھی بیان کی گئی ہے۔ وہاں اسلئے بیان کی گئی تھی کہ اس سے لوگوں کو بُو آتی ہے اور تکلیف ہوتی ہے۔ لیکن یہاں اس لئے اسے بیان کیا گیا ہے کہ اس سے بیماریاں بھی پیدا ہوتی ہیں جن سے قوم تباہ ہوتی ہے۔
(۸) ذمہ داری کے احساس کا فقدان۔ فقدان کے معنے ہیں کسی چیز کا نہ پایا جانا۔ یعنی انسان یہ محسوس نہ کرے کہ میرے اَوپر جو کام تھا اس کا کرنا میرا فرض تھا۔
(۹) کام یا ذمہ داری کو پورا نہ کرنے اور نقصان ہو جانے کی صورت میں برداشت نہ کرنا۔ خواہ غلطی سے کام نہ کیا ہو یا جان بوجھ کر۔
(۱۰) بغاوت۔
ایک دوست نے ایک سوال کیا ہے۔ چونکہ میں خود بھی اس کے متعلق بیان کرنا چاہتا تھا اس اس لئے اسی موقع پر جواب دیتا ہوں۔ وہ دوست کہتے ہیں :۔ ہماری جماعت کو مخالفین کے مقابلہ میں درشت کلامی اور بد زبانی سے کام نہیں لینا چاہئے۔ انہوں نے ہماری جماعت کے لیکچراروں اور واعظوں کو توجہ دلائی ہے کہ وہ سخت الفاظ استعمال نہ کیا کریں۔ میں بھی اس کے متعلق تاکید کرتا ہوں۔ وہ میری تحریروں میں کبھی ایسے الفاظ نہیں دیکھیں گے۔ کیا مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف بد زبانی اور گالیاں سن کر رنج نہیں ہوتا؟ ہوتا ہے، لیکن میں نے کبھی درشت کلامی کے جواب میں درشت کلامی سے کام نہیں لیا۔ بعض لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعض تحریروں کا حوالہ دیتے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت صاحب بحیثیت مجسٹریٹ تھے اور ان کا فرض تھا کہ لوگوں کو اُن کی اصل حقیقت بتاتے۔ مگر ہماری یہ پوزیشن نہیں ہے اور درشت کلامی اور گالیاں دینا نفس کی کمزوری کی علامت ہے۔ آج کل ممکن ہے کسی کا اس سے دل خوش ہو جائے مگر آئندہ جو اولاد ہو گی وہ جب ان تحریروں کو پڑھے گی تو کہے گی۔ کاش! ہمارے باپ دادا ایسا نہ کرتے۔ کیونکہ وہ ٹھنڈے دل سے ان تحریروں کو پڑھیں گے۔ ان کو طیش نہ ہو گا۔ ان کے سامنے مخالفین کی تحریریں نہ ہوں گی۔ اس وقت وہ ان کتابوں اور اخباروں کو چھپاتے پھریں گے جن میں سخت اور درشت الفاظ ہوں گے۔
(۱۱) مہمانداری کے جذبہ کا نہ ہونا۔ یہ بھی قومی بدی ہے۔
(۱۲) تجارت میں فریب کرنا بھی قومی بدی ہے۔
حدیث میں آتا ہے رسول کریم ﷺ وعظ فرما رہے تھے کہ یکے بعد دیگرے لوگوں نے سوال کرنے شروع کر دیئے۔ اس پر آپ کو جوش آگیا اور آپ نے فرمایا: کرو جس قدر سوال کرنا چاہتے ہو۔۴۳؎ میں وعظ چھوڑتا ہوں۔ اب پوچھو جو پوچھنا چاہتے ہو میں قیامت تک کی باتیں بتاتا ہوں۔ اسی طرح اس وقت میں کہتا ہوں۔ سوال پر سوال آرہے ہیں۔ کیا میں لیکچر چھوڑ کر سوالوں کے جواب دینا شروع کر دوں۔ جو مضمون میں بیان کر رہا ہوں اس کے نوٹوں کے ابھی تک صرف پینتیس صفحے بیان کر سکا ہوں اور پچیس باقی ہیں۔ اگر میں نے سوالوں کے جواب دینے شروع کر دیئے تو مضمون کس طرح ختم ہو گا۔
میں یہ بیان کر رہا تھا کہ تجارت میں فریب کرنا بھی قومی بدی ہے۔ کیونکہ اس سے قوم کا اعتبار اُٹھ جاتا ہے۔ میں جب کشمیر گیا تو میں نے تحقیقات کی کہ چاندی کے برتنوں اور شال وغیرہ کی تجارت جو ایک کروڑ کی تھی لوگوں کی بد دیانتی کی وجہ سے اب صرف سترہ لاکھ کی رہ گئی ہے۔
(۱۳) کارکنوں پر بے تعلق آدمیوں کے سامنے نکتہ چینی کرنا۔
(۱۴) بغیر کسی کا نام لئے قوم کی عام بدی کا اعلان کرنا۔ مثلاً یہ کہنا ہم میں بڑے فریب کرنے والے لوگ ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قوم ایسی ہی ہو جاتی ہے۔
(۱۵) قومی اغراض میں مدد دینے سے دریغ کرنا۔
(۱۶) جن لوگوں سے قوم کو نقصان پہنچے اُن سے دوستی اور تعلق رکھنا۔
(۱۷) حکومت یا جماعت کے کارکنوں سے تعاون نہ کرنا۔
(۱۸) اطاعت کی کمی۔
اب میں وہ بدیاں بیان کرتا ہوں جو خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتی ہیں۔
(۱) بلا وجہ قسم کھانا۔ مجسٹریٹ کے سامنے قسم کھانی پڑے یا کوئی اور ایسا اہم معاملہ ہو جس کے متعلق قسم کھانا ضروری ہو تو قسم کھا سکتا ہے ورنہ یونہی قسم کھانا گویا خدا تعالیٰ کے نام کی تخفیف کرنا ہے۔
(۲) مایوسی کہ اب میری مشکلات دُور نہیں ہو سکتیں۔ یہ خدا تعالیٰ پر بدظنی کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔
(۳) دل میں گندگی جمع کرنا۔ خدا تعالیٰ نے اس لئے دل پیدا کیا ہے کہ اُسے اپنا گھر بنائے
اِسی لئے دل بیت اللہ کہلاتا ہے اور جو دل کو خراب کرتا ہے وہ گویا خدا کو اس کے گھر میں آنے سے روکتا ہے۔
(۴) احکام شریعت کا انکار (۵) پانچویں بدی عقائد باطلہ ہیں مثلاً شرک وغیرہ۔
(۶) چھٹی بدی تمام عقائد حقہ کا انکار ہے۔ مثلاً خدا تعالیٰ کا، ملائکہ کا، رسولوں کا، الہام کا، بہشت کا، دوزخ کا انکار۔
(۷) ساتویں بدی احکام شریعت کا خواہ وہ عبادت کے متعلق ہوں یا تمدن کے متعلق توڑنا ہے۔ جیسے نماز نہ پڑھنا، حج نہ کرنا، ورثہ کے متعلق جو احکام ہیں ان کی تعمیل نہ کرنا، اخلاق کی پابندی نہ کرنا، کیونکہ جب ان احکام کو خدا تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کر لیا ہے تو اُن کو توڑنا گویا اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنا ہے۔ پس جس طرح ان امور کی پرواہ نہ کرنے سے بندوں کو تکلیف ہوتی ہے خدا تعالیٰ کی بھی ناراضگی ہوتی ہے۔
(۸) آٹھویں بدی خدا تعالیٰ سے محبت میں کمی ہے۔
(۹) نویں بدی خدا تعالیٰ اور رسول کی بے ادبی ہے۔
(۱۰) جس قدر بدیاں دوسروں سے تعلق رکھتی ہیں وہ خدا تعالیٰ سے متعلق بھی ہیں۔ مثلاً ناشکری ہے۔ یہ انسانوں کے متعلق ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کے متعلق بھی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اور بھی کئی باتیں ہیں۔
اب میں نیکیاں بیان کرتا ہوں۔ پہلے ذاتی نیکیاں لیتا ہوں۔
(۱) شجاعت بہادری (۲) چستی (۳) علم سیکھنا (۴) تواضع (۵) غیرت یعنی کوئی بدی ہوتی دیکھے تو برا منائے (۶) شکر (۷) حسن ظنی (۸) دلی خیر خواہی (۹) محنت یعنی خوب کام کرنے کی عادت (۱۰) حیا (۱۱) رحم دلی کسی کی تکلیف دیکھ کر اس کے متعلق احساس ہونا (۱۲) استقلال یعنی نیکی کو جاری رکھنا (۱۳) وقار یعنی بے فائدہ اور بلاوجہ دوسروں کی کسی بات میں نقل نہ کرنا۔ ہمارے ملک میں یہ عیب بہت پایا جاتا ہے۔ جو بات انگریز کریں اس کی نقل کرنے لگ جاتے ہیں۔ (۱۴) بلند ہمتی (۱۵) صبر (۱۶) حریت ضمیر یعنی بلاوجہ کسی کی تقلید نہ کرنا (۱۷) شکر قلبی یعنی دل میں محسوس کرنا کہ فلاں نے احسان کیا ہے (۱۸) تحقیق حق یعنی سچائی کو تلاش کرنا (۱۹) کسی کی خوبی کا دلی اعتراف (۲۰) رافت۔ رحمدلی اور رافت میں یہ فرق ہے کہ رحمدلی تو یہ ہے کہ لوگوں کو تکلیف میں دیکھ کر مدد دینے کا خیال پیدا ہونا۔ اور رافت یہ ہے کہ کسی کی تکلیف کو دیکھ کر دکھ محسوس ہونا۔ (۲۱) اپنے حق کی خاطر مقابلہ کرنے کی قوت۔ یہ اور بات ہے کہ کسی پر عفو کرکے کوئی اپنا حق چھوڑ دے۔ یا یوں اپنی سُستی سے نہ لے، لیکن کسی سے دب کر حق نہیں چھوڑنا چاہئے۔
(۲۲) سباق کی قوت یعنی یہ طاقت کہ نیکیوں میں دوسروں سے آگے نکلوں۔
(۲۳) اپنی ہزیمت اور شکست تسلیم نہ کرنا۔ خواہ کئی دفعہ ہارے، مگر اپنی ہار نہ مانے۔ یہ مطلب نہیں کہ منہ سے اقرار نہ کرے بلکہ اِس پر راضی نہ ہو۔ اور اس کے اثر کو دُور کرنے کی کوشش کرتا رہے۔
(۲۴) چوکَس رہنا یعنی اپنے دشمن سے غافل نہ ہونا (۲۵) اقرارِ حق (۲۶) قوتِ برداشت کا ہونا یعنی تکلیفیں برداشت کرنے کی طاقت ہونا (۲۷) جفاکشی کا عادی۔ خواہ کتنا کام آپڑے گھبرائے نہیں (۲۸) جرأت (۲۹) نیکی سے محبت (۳۰) لوگوں کی مدد کی خواہش کہ اگر موقع ملے تو ضرور مدد کروں۔ (۳۱) سادہ زندگی بسر کرنا۔ اپنے نفس کی آسائش پر روپیہ زیادہ صرف نہ کرنا (۳۲) اپنی عزت کی حفاظت کرنا، (۳۳) دوسروں کی خوبیوں کا اقرار کرنا، (۳۴) ہر بات میں میانہ روی اختیار کرنا۔
اب میں وہ نیکیاں بیان کرتا ہوں جو دوسروں سے تعلق رکھتی ہیں۔
فرشتوں سے تعلق رکھنے والی نیکیاں یہ ہیں:۔ (۱) ذکرِ الٰہی۔ لکھا ہے کہ جہاں ذکر الٰہی ہوتا ہے وہاں فرشتے ٹوٹ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ وہاں فرشتے گھیرا ڈال لیتے ہیں۔۴؎ (۲) طہارتِ ظاہری۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں ملائکہ کے نزول کے مواقع ہوتے ہیں وہاں خوشبو لگا کر جانے کا حکم ہے۔ جیسے جمعہ کے لئے نہانا اور خوشبو لگانا مسنون ہے۔۵؎
اب میں وہ نیکیاں بیان کرتا ہوں جو انسانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔
(۱) عدل (۲) احسان (۳) احسان کا شکریہ (۴) صفائی پسندی (۵) سخاوت (۶) وفاداری (۷) رحم کرنا عملاً (۸) دوستانہ (۹) حِلم۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کسی سے کوئی غلطی ہو جائے تو اس کے جو نیک پہلو ہوں ان کو سوچ کر چھوڑ دینا۔ عفو تو یہ ہے کہ قصوروار سمجھ کر معاف کر دینا۔ مگر حلم یہ ہے کہ اس کی خوبیوں کی وجہ سے درگزر کرنا۔ (۱۰) ایثار (۱۱) قرض روپیہ دینا (۱۲) صدقہ (۱۳) تعاون (۱۴) دیانت (۱۵) صلح جوئی یعنی صلح کی کوشش کرنا۔ (۱۶) عفو یعنی معاف کر دینا۔ (۱۷) عہد کی پابندی (۱۸) گرے ہوئے لوگوں کو بلند کرنے کی کوشش کرنا (۱۹) دوسروں کا اعزاز اور اکرام کرنا (۲۰) دوسروں کا ادب کرنا۔ اعزاز تو یہ ہے کہ جو برابر کا ہے اس کی عزت کرنا
اور ادب یہ ہے کہ بڑوں کا احترام کرنا۔ (۲۱) اگر لوگوں میں لڑائی ہو تو اُن کی صلح کرانا۔ (۲۲) اخوت (۲۳) رازداری (۲۴) بشاشت۔
اب میں وہ نیکیاں بیان کرتا ہوں جو دوسرے جانوروں سے تعلق رکھتی ہیں۔ (۱) ان کی غذا کا خیال رکھنا (۲) ان کی طاقت کے مطابق ان سے کام لینا (۳) جن جانوروں سے کام نہ لیا جائے ان کو بھی کھانا دینا۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔ ایک دفعہ کئی دن تک بارش ہوتی رہی اور پرندوں کو دانہ نہ ملا۔ ایک شخص نے ان کو دانہ ڈالا۔ اس وجہ سے اُسے ایمان نصیب ہوا اور وہ جنت میں چلا گیا۔۱؎ قرآن کریم میں بھی آتا ہے۔ وَالَّذِیۡنَ فِیۡۤ اَمۡوَالِہِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ لِّلسَّآئِلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ(70:25-26)۲؎ مومنوں کی یہ بھی صفت ہے کہ ان کے مال میں ان کا بھی حصہ ہوتا ہے جو مانگ سکتے ہیں اور جو نہیں مانگ سکتے ان کا بھی حصہ ہوتا ہے۔ نہ مانگ سکنے والوں میں حیوانات اور پرند شامل ہیں اُن کو بھی کھانے کے لئے دینا چاہئے۔ (۴) بے زبان جانوروں کی سردی گرمی اور اُن کے شہوانی جذبات اور ان کی اولاد کا خیال رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
اب میں وہ نیکیاں بیان کرتا ہوں جو قومی نیکیاں ہیں۔ (۱) زکوٰۃ دینا (۲) ضروریات قومی کے لئے چندہ دینا (۳) مہمان نوازی کرنا (۴) خدمت قومی کرنا (۵) اطاعت حکام (۶) حکام سے تعاون کرنا (۷) حفاظت ملک کرنا (۸) ذمہ داری کا احساس (۹) غلطی پر خوشی سے سزا بھگتنا (۱۰) اشاعتِ حسنات یعنی لوگوں کی نیکیاں پھیلانا (۱۱) دشمنان قوم سے اجتناب کرنا (۱۲) قومی عزت کی حفاظت کرنا۔ قوم پر اگر کوئی حرف لاتا ہو تو اس کی تردید کرنا۔ (۱۳) تجارت میں ایمانداری اور دیانتداری اختیار کرنا (۱۴) تعلیم دینا (۱۵) تربیت کرنا۔
اب میں وہ نیکیاں بیان کرتا ہوں جو خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتی ہیں۔ (۱) ایمان میں کامل ہونا (۲) محبت الٰہی (۳) اعمال شریعت عبادات اور معاملات کو پورا کرنا۔ (۴) رجاء یعنی خدا تعالیٰ پر اُمید رکھنا (۵) خوف یعنی خدا تعالیٰ کی عظمت سے خوف رکھنا (۶) دلی پاکیزگی (۷) توکّل یعنی باوجود اپنی طرف سے کوشش کرنے کے یہ احساس ہونا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی نصرت آئے گی تب کامیابی ہوگی۔ (۸) اخلاق حسنہ سے جو خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اُنکا خیال رکھنا۔ جیسے عہد کی پابندی وغیرہ ہے۔ (۹) تمام عقائد باطلہ کا ردّ کرنا (۱۰) اللہ تعالیٰ کی شان میں اگر کوئی شخص بے ادبی کرے مثلاً کہے اُس نے مجھے کیا دیا ہے۔ مجھ پر بڑا ظلم کیا ہے تو اُسے سمجھانا کہ یہ خدا تعالیٰ کے ادب کے خلاف ہے اس سے باز رہو۔ (۱۱) تبلیغ حق۔ شعائر اللہ کا ادب۔
اب میں دوسرے سوال کو لیتا ہوں کہ کونسے مواقع ہیں کہ جن میں ان اعمال کو برتایا ترک کیا جائے۔ اس کے جواب دو ہیں ایک اجمالی اور دوسرا تفصیلی۔ اگر تفصیلی جواب بیان کرنا چاہوں اور اس میں بھی اختصار سے کام لوں تب بھی کم از کم پندرہ بیس گھنٹے چاہئیں اس لئے میں اجمال کو لیتا ہوں اور موٹی موٹی باتیں بیان کرتا ہوں۔
(۱) وہ حق جو اللہ تعالیٰ کے بندے پر ہیں اس وقت تک اُن کو ترک نہ کرے جب تک مجبور نہ ہو جائے یا خدا تعالیٰ کا کوئی دوسرا حکم اُن سے روک نہ دے۔ مثلاً ہاتھ یا منہ پر زخم ہے اس وجہ سے وضو نہیں کر سکتا یا ہاتھ ہی نہیں اس لئے اُسے دھو نہیں سکتا۔ یہ مجبوری ہے۔ اور دوسرا حکم مقابلہ میں آجانے کی مثال یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے عورت پردہ کرے لیکن یہ بھی خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ حج کے موقع پر خانہ کعبہ میں پردہ اٹھا دینا چاہئے۔ یہ دوسرا حکم پہلے کے مقابلہ میں آگیا اور اس کی وجہ سے خانہ کعبہ میں پردہ نہ کرنا ہی نیکی ہے۔ یا مثلاً حکم ہے کہ ماں باپ کی اطاعت کرو۔ یہ نیکی ہے لیکن اگر ماں باپ کا کوئی حکم خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں آجائے تو اس وقت اُس کا نہ ماننا ہی نیکی ہو گی۔
(۲) دوسرے کے متعلق کوئی ایسی بات نہ کرے کہ جس کا ویسے ہی حالات میں کرنا اپنے لئے پسند نہ کرتا ہو میں اس میں ایک شرط لگاتا ہوں اور وہ یہ کہ میں یہ نہیں کہتا کہ دوسرے سے وہ معاملہ کرے جو یہ پسند کرتا ہو۔ بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ کوئی بات دوسرے کے ساتھ ایسی نہ کرے جسے ویسے ہی حالات میں اپنے لئے پسند نہ کرے یا دوسرے کے ساتھ وہ سلوک نہ کرے جو ویسے ہی حالات میں اپنے لئے پسند نہ کرتا ہو۔ انجیل کا حکم ہے کہ تُو دوسرے کے ساتھ ویسا ہی سلوک کر جیسا اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ مگر یہ حکم صحیح نہیں ہے۔
(۳) افراط و تفریط کا خیال رکھے۔ بعض لوگ ہوتے ہیں وہ یا تو نفل پڑھنے ہی چھوڑ دیتے ہیں یا پھر اتنے پڑھتے ہیں کہ گھر بار کی فکر ہی نہیں کرتے۔ رسول کریم ﷺ کے پاس ایک آدمی کے متعلق شکایت آئی کہ وہ دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو نفل پڑھتا رہتا ہے۔ آپ نے اُسے بلا کر فرمایا:۔ وَ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ۔ کہ تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے یعنی تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے اُسے بھی ادا کرنا ضروری ہے۔
(۴) انسان اس رنگ میں عمل کرے کہ خدا تعالیٰ کی صفت کے ظہور سے ویسا ہی رنگ پیدا ہو جائے۔
اب میں تیسرے سوال کو لیتا ہوں جو یہ ہے کہ کس طرح معلوم ہو کہ کونسی بدیاں انسان کے اندر پائی جاتی ہیں۔ یہ معلوم کرنے کے کئی ذرائع ہیں۔ (۱) محاسبہ نفس ہے۔ جب انسان کو معلوم ہو جائے کہ یہ بدیاں ہیں۔ یہ نیکیاں ہیں۔ تو پھر وہ غور کرے کہ ان میں سے کونسی بدی ہے جو اس میں پائی جاتی ہے یا کونسی نیکی ہے جو نہیں پائی جاتی۔ (۲) اپنے کسی گہرے اور دلی دوست سے کہے کہ وہ اس کے نفس کا مطالعہ کرے۔ کیونکہ کبھی انسان اپنا عیب آپ معلوم نہیں کر سکتا اس لئے دوست سے کہے کہ وہ اس کے اعمالِ ظاہری کا مطالعہ کرے۔ یہ نہ کہے کہ تم میرے متعلق بدی کے لئے تجسّس اور تلاش کرو یہ گناہ ہے بلکہ کہے کہ جو ظاہر اعمال ہیں اُن میں جو نقص ہو وہ بتاؤ اس طرح جو نقص وہ آپ معلوم نہ کر سکتا تھا اُسے دوست بتا دے گا مگر پھر بھی دوست دوست ہی ہوتا ہے کئی عیب وہ بھی چھوڑ دے گا اس لئے تیسرا طریق یہ اختیار کرنا چاہئے کہ جو عیب اُسے دوسروں میں نظر آتے ہوں اُن کے متعلق دیکھے کہ وہ مجھ میں تو نہیں پائے جاتے؟ میں بھی تو انہی افعال کو نہیں کرتا یا یہ کہ دوسروں میں جو نیکیاں نظر آئیں اُن کے متعلق دیکھے کہ مجھ میں ہیں یا نہیں؟ (۴) اس سے بھی بڑھ کر ایک اور بات ہے اور وہ یہ کہ دیکھے دشمن اُس پر کیا عیب لگا رہے ہیں؟ اور پھر سوچے کہ وہ عیب اس میں پائے جاتے ہیں یا نہیں۔ کئی عیب اس طرح معلوم ہو جائیں گے۔ اسی طرح یہ بھی دیکھے کہ دشمنوں کو مجھ میں کونسی نیکیاں نظر آتی ہیں کئی دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ نیکیوں کا اعتراف کرنے کے لئے دشمن بھی مجبور ہو جاتا ہے۔
(۵) بہت اہم اور بہترین ذریعہ بدیوں اور نیکیوں کے معلوم کرنے کا یہ ہے کہ تلاوتِ قرآنِ کریم کرتے وقت جہاں وہ عیب پڑھے جو خدا تعالیٰ نے پہلی قوموں کے بیان کئے ہیں وہاں غور کرے کہ مجھ میں بھی تو یہ عیب نہیں۔ اسی طرح جہاں قرآن کریم میں کسی نیکی کا ذکر آئے وہاں دیکھے کہ مجھ میں یہ نیکی پائی جاتی ہے یا نہیں۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ چونکہ سب نیکیاں اور بدیاں ایک وقت میں انسان کے سامنے نہیں آسکتیں اس لئے آہستہ آہستہ تلاوت کے وقت آتی رہیں گی۔ دوسرے تلاوت کے وقت چونکہ خشية اللہ پیدا ہوتی ہے اس لئے بدیوں سے بچنے اور نیکیاں اختیار کرنے میں بھی اسے بہت مدد ملے گی۔
یہ باتیں ان لوگوں کے متعلق ہیں جن کے دلوں پر بدیوں کی وجہ سے زنگ نہ لگ چکا ہو۔ مگر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں بدیوں کا علم ہوتا ہے مگر باوجود اس کے وہ انہیں چھوڑ نہیں سکتے۔ ان کا کیا علاج ہے؟ مثلاً ایسے لوگ ہیں جنہیں پتہ ہے کہ نماز نہ پڑھنا گناہ ہے مگر نہیں پڑھتے ، جانتے ہیں کہ قتل کرنا گناہ ہے مگر چھوڑ نہیں سکتے۔
اس سوال کا ایک تفصیلی جواب ہے مگر نہ وہ اس وقت لیکچر میں بیان ہو سکتا ہے اور نہ کسی چھوٹی موٹی کتاب میں لکھا جا سکتا ہے۔ پس میں دس پندرہ نکتے اس سوال کے جواب میں اختصار کے ساتھ بیان کر دیتا ہوں۔
(۱) ایسے انسان کو سمجھ لینا چاہئے کہ اس کے دل پر زنگ لگ گیا ہے اور کوئی روک پیدا ہو گئی ہے جو اُسے نیکی نہیں کرنے دیتی اور بدی سے بچنے نہیں دیتی اور یہ شامتِ اعمال ہے یعنی پچھلے گناہوں کا نتیجہ ہے۔ اس کے لئے پہلا علاج یہ ہے کہ استغفار کر کے خدا تعالیٰ سے گذشتہ گناہوں کی معافی مانگے۔
استغفار کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ اس کے معنے پردہ ڈالنے کے ہیں اور یہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک حالت میں تو استغفار یہ ہوتا ہے کہ استغفار کرنے والا کہتا ہے کہ خدایا! ان گناہوں کو جو میں کر چکا ہوں مٹا دے یا جن میں گرفتار ہوں ان کو دُور کر دے اور دوسرا درجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کہتا ہے ، الٰہی! مجھ میں گناہ پیدا ہی نہ ہو۔ جب انبیاء کے متعلق استغفار آتا ہے تو اس کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ گناہ کبھی پیدا ہی نہ ہو۔
(۲) دوسرا طریق یہ ہے کہ انسان اپنے اندر معرفت پیدا کرے۔ معرفت کے یہ معنے ہیں کہ صفاتِ الٰہیہ کو اپنے دل پر جاری کر کے صفاتِ الٰہیہ کا مطالعہ کرے اور ان کو جذب کرنے کی کوشش کرے۔ مثلاً خدا تعالیٰ کی رحمانیت کو دیکھے کہ اُس نے مجھ پر کتنے احسان کئے ہیں اور جب وہ کہتا ہے کہ میرے بندوں کو اپنے مال سے دو تو میں کیوں نہ دوں۔ اس طرح خدا تعالیٰ کی صفات پر غور کرنے سے بدیوں سے بچنے اور نیکیاں کرنے کا ملکہ پیدا ہو گا۔
(۳) نیکی کے نیک انجام اور بدی کے بد انجام پر غور کرے۔ یعنی یہ دیکھے کہ فلاں نے نیکی کی تو اُسے یہ فائدہ پہنچا اور فلاں نے بدی کی تو اُسے یہ نقصان اٹھانا پڑا۔ اس سے بھی عرفان حاصل ہوتا ہے۔
(۴) جب یہ تینوں باتیں کرلے تو چہارم یہ کرے کہ توبہ کرے۔ توبہ کا مفہوم یہ ہے (۱) گذشتہ گناہوں پر ندامت۔ یہ حالت دل میں پیدا ہو۔ (۲) جو فرائض ادا کرنے سے رہ گئے ہوں وہ ادا کرے۔ مثلاً حج رہ گیا ہے وہ کرے۔ مگر نماز ایک ایسا فرض ہے کہ وہ رہا ہوا پھر پورا نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لئے استغفار ہی ہے۔ (۳) جو گناہ خدا نے چُھپائے ہوئے ہوں یعنی جن پر خدا تعالیٰ نے پردہ ڈالا ہو اُن کے علاوہ جس جس کے گناہ یاد ہوں اس سے معافی مانگے۔ (۴) جن کو اس سے نقصان پہنچ چکا ہو ان کو فائدہ پہنچائے یعنی اُن سے حسن سلوک کرے۔ (۵) آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد کرے۔ (۶) نفس کو نیکی کی طرف راغب کرے۔
یہ توبہ کی شرطیں ہیں ان کو بجالائے تب توبہ حقیقی توبہ کہلا سکے گی اور منظور ہوگی۔
(۵) انسان تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ۷؎ کی حالت پیدا کرے۔ یہ نہ خیال کرے کہ اخلاص نہیں ہے بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھ کر نیک کام کرتا ہی جائے۔ مثلاً صدقہ دینے پر تکلیف ہو تو دیتا ہی رہے یا نماز میں توجہ نہ قائم رہے تو بار بار پڑھتا رہے۔ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ انسان کا فرض یہی ہے کہ کام میں لگا رہے اور ہمت نہ ہارے۔ میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے تھے۔ ایک مرید اپنے پیر کو ملنے کے لئے آیا اور انہیں کے پاس ٹھہر گیا۔ رات کو پیر صاحب دُعا کرتے رہے کہ الٰہی فلاں کام ہو جائے۔ آخر آواز آئی یہ کام تو نہیں ہو گا۔ یہ آواز مرید نے بھی سُن لی۔ اس پر وہ حیران ہوا کہ اچھے پیر صاحب ہیں ہم تو ان سے دُعا کرانے کے لئے آتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے انہیں یہ جواب ملتا ہے کہ تمہاری دُعا منظور نہیں کی جائے گی۔ خیر وہ چپکا ہو رہا۔ دوسرے دن پھر اُسی طرح ہوا کہ پیر صاحب ساری رات دُعا کرتے رہے۔ آخر انہیں پھر وہی جواب ملا۔ مرید اور بھی زیادہ حیران ہوا۔ تیسرے دن پھر اسی طرح ہوا۔ آخر مرید نے انہیں کہا۔ تین دن سے آپ کوئی دُعا کر رہے ہیں جس کے متعلق الہام ہوتا ہے کہ نہیں سنی جائے گی پھر کیوں آپ دُعا کرتے چلے جاتے ہیں۔ پیر صاحب نے کہا۔ نادان! میں تو بیس سال سے یہی دُعا کر رہا ہوں اور مجھے یہی الہام ہو رہا ہے مگر میں نہیں گھبرایا اور تو تین دن جواب سن کر گھبرا گیا ہے۔ بات یہ ہے کہ خدا کا کام قبول کرنا یا نہ کرنا ہے اور میرا کام دُعا مانگنا ہے۔ وہ اپنا کام کر رہا ہے اور میں اپنا کام کر رہا ہوں۔ لکھا ہے اس پر معاً الہام ہوا کہ اس عرصہ میں تم نے جتنی دُعائیں کی ہیں سب قبول کی گئیں۔
پس بندہ کا کام یہ ہے کہ اپنے کام میں لگا رہے۔ نماز میں اگر توجہ قائم نہیں رہتی تو نہ رہے یہ اس کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ نماز نہ چھوڑے۔ مگر بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جب انسان ظاہر میں نیکی کرتا ہے تو اس کا اثر باطن پر پڑتا ہے اور انسان پاک ہوتا جاتا ہے۔ لیکن اگر اس طرح بھی کامیابی نہ ہو انسان ارادے کرتا رہے لیکن وہ ٹوٹ ٹوٹ جائیں۔ اُٹھتا رہے مگر پھر گر گر جائے۔ ہمت کرتا رہے مگر ناکامی کا منہ دیکھنا ہی نصیب ہو۔ ایسے انسان کو یقیناً سمجھ لینا چاہئے کہ اس کے دل پر بہت زنگ لگ گیا ہے اور اس کے دُور کرنے کے لئے تفصیلی علاج کی ضرورت ہے کیونکہ اس پر نفس غالب آچکا ہے اور وہ مغلوب ہو گیا ہے اور وہ احساسِ انانیت جس کی طرف میری اس نظم میں جو کل پڑھی گئی اشارہ کیا گیا ہے وہ مٹ گیا ہے اور وہ اس جانور کی طرح ہو گیا ہے جسے انسان نکیل ڈال کر جہاں چاہتا ہے لے جاتا ہے۔ اُس کا نفس بھی اُسے نکیل ڈالے لئے پھرتا ہے۔ پس اس کے لئے پہلے تو اجمالی اصولی علاج اور پھر تفصیلی اصولی علاج بیان کرتا ہوں۔ مگر پیشتر اس کے کہ میں اس کے متعلق کچھ کہوں اس فلسفۂ اخلاق میں جو پہلے سمجھا جاتا تھا اور اس میں جو احمدی نقطۂ نگاہ سے اب سمجھا جاتا ہے فرق بتانا ضروری سمجھتا ہوں۔ مسلمانوں میں فلسفۂ اخلاق کے بانی ابنِ مردویہ ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس پر ایک کتاب لکھی ہے اور بعد میں ابن عربی سب سے بڑے اُستاد سمجھے جاتے تھے۔ ان کے بعد امام غزالی ہوئے جنہوں نے اخلاق پر ایک چار جلد کی کتاب لکھی ہے۔ ان کے بعد کوئی کتاب نہ لکھی گئی اور یہ سمجھ لیا گیا کہ فلسفہ اخلاق ختم ہو گیا۔ اس وجہ سے میں اس کے متعلق روشنی ڈالنا چاہتا ہوں تاکہ وہ لوگ جو اس فلسفہ کی کتابیں پڑھتے ہیں اُن پر وہ غلطیاں ظاہر ہو جائیں جو ان میں پائی جاتی ہیں۔ بے شک وہ باتیں اپنے وقت میں اچھی تھیں مگر اب ان میں غلطیاں ہیں۔
امام غزالیؒ کے فلسفہ اور احمدی فلسفہ میں فرق یہ ہے کہ امام غزالی نے صفاتِ سلبیہ پر بڑا زور دیا ہے۔ لیکن احمدی فلسفہ اخلاق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قائم کیا ہے اس نے اس میں بڑا تغیر کر دیا ہے۔ کیونکہ آپ نے صفاتِ ایجابیہ پر زور دیا ہے۔ یعنی آپ نے یہ فرمایا ہے کہ اخلاق یہ نہیں کہ یہ نہ ہو وہ نہ ہو بلکہ یہ ہے کہ یہ بھی ہو اور وہ بھی ہو۔
اِس میں شبہ نہیں کہ نفس کشی بھی علاج ہے مگر وہ ایک علاج ہے نہ کہ وہی علاج ہے ہم فلسفۂ اخلاق پر بحث کرتے ہوئے مندرجہ ذیل باتیں نہیں بھول سکتے۔ اول خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ(51:57) کہ ہم نے انسان کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے
کہ عبادت کرے۔ پھر فرماتا ہے۔ وَاَمَّا الَّذِیۡنَ سُعِدُوۡا فَفِی الۡجَنَّۃِ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّکَ ؕ عَطَآءً غَیۡرَ مَجۡذُوۡذٍ(ہود: ۱۰۹) کہ انسان کو کبھی ختم نہ ہونے والی نعماء کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔
اِس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اِس لئے پیدا نہیں کیا کہ بعض باتیں نہ کرے بلکہ اِس لئے پیدا کیا ہے کہ کرے۔ چنانچہ یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ فلاں کام نہ کرے۔ بلکہ یہ فرمایا کہ ہم نے اس لئے پیدا کیا ہے کہ عبادت کرے۔ پس ہم دنیا میں کام کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں نہ اس لئے کہ کچھ نہ کریں۔ نفی بطور پرہیز کے ہوتی ہے یعنی مقصد کے حصول میں جو روکیں ہیں اُن کو الگ کر دو۔ لیکن مقصد نفی نہیں ہوتا۔ اگر پیدائش انسانی کی غرض نفی ہوتی تو اس کے پیدا کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ وہ غرض تو اس کے پیدا نہ ہونے کی صورت میں زیادہ اچھی طرح پوری ہو رہی تھی۔ یہ غرض تو ایسی ہے جیسے ہندوؤں کے خدا کی تعریف کہ وہ یہ بھی نہیں اور وہ بھی نہیں۔ خدا تعالیٰ نے انسان کو نفی کے لئے نہیں بلکہ اثبات کے لئے پیدا کیا ہے۔ گو نفی بطور پرہیز کے شامل ہو۔ پس اصل بحث یہ ہے کہ انسان کیا کیا بنے نہ یہ کہ کیا کیا نہ بنے۔
دوسری بات جسے ہم نظر انداز نہیں کر سکتے یہ ہے کہ نفس کی مثال گھوڑے کی سی ہے بے شک گھوڑے کو ورزش کرانی چاہئے اور اتنا دُبلا رکھنا چاہئے کہ خواہ مخواہ سوار کو نہ گرا دے مگر کیا کوئی شخص ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ گھوڑے کو دُبلا کر کر کے سوار بن گیا ہو۔ ایک سفر میں ایک دوست جو سوار نہ تھے کہنے لگے۔ میں گھوڑے پر سوار نہیں ہونگا۔ اگر سوار کرانا ہے تو کوئی دُبلا گھوڑا لاؤ۔ اُن کے کہنے پر ایک دُبلا گھوڑا لایا گیا تو وہ اُس سے بھی خوف ہی ظاہر کرتے رہے اور کہنے لگے کہ کیا اس سے دُبلا اور چھوٹا کوئی گھوڑا نہیں؟ پس اگر سواری نہ آتی ہو تو گھوڑے کو دُبلا کرنے سے نہیں آسکتی۔ اس لئے نفس کو دُبلا کر کے یہ سمجھنا کہ ہم اس پر قابو پا لیں گے اور پھر جس طرح چاہیں گے اُسے چلائیں گے ایک وہم ہے۔ صرف نفس کے دُبلا کرنے سے نہیں بلکہ اُس پر قابو پانے کا ہنر سیکھنے سے نفس پر قابو ہو گا۔
تیسری بات جسے ہم نظر انداز نہیں کر سکتے یہ ہے کہ گناہ نفس کے قبضہ میں آجانے سے ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ نفس کے مر جانے سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ مثلاً بے غیرتی ہے۔ یہ نفس کے مر جانے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ ایسے موقع پر تو یہ ضرورت ہوتی ہے کہ نفس میں طاقت پیدا کی جائے تاکہ وہ ایسے موقع پر کام کر سکے۔
غرض جس طرح کام لینے کے لئے گھوڑے کو کبھی دُبلا کیا جاتا ہے اور کبھی موٹا بھی۔ یہی حالت نفس کی ہے۔ نہ تو اسے بالکل مار دینا چاہئے اور نہ اتنا سرکش بنا دینا چاہئے کہ کوئی بات ہی نہ مانے۔
فلسفہ اخلاق کے متعلق غزالیؒ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بتائے ہوئے طریق میں یہ فرق بھی ہے کہ آپ نے یہ تعلیم دی ہے کہ ایمان کی بناء رجاء اور اُمید پر ہے۔ یہ تو قرآن کریم میں آتا ہے کہ طمع اور خوف کے درمیان ایمان ہوتا ہے۔۵۰ مگر یہ نہیں آتا کہ اُمید اور نا اُمیدی کے درمیان ایمان ہوتا ہے۔ نا امیدی کے متعلق تو یہاں تک آیا ہے کہ اِنَّہٗ لَا یَایۡـَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡکٰفِرُوۡنَ(12:88)۵۱ کہ نا اُمید کافر ہی ہوتا ہے مؤمن نہیں ہوتا۔ تو ایمان کا فلسفہ اُمید پر قائم ہے اور حدیث میں آتا ہے جیسا بندہ گمان کرے گا ویسا ہی خدا تعالیٰ اس سے سلوک کرے گا۔۵۲ پس ایسی کوئی ترکیب کہ جس سے ناامیدی پیدا ہو اسلام نہیں کھلا سکتی۔ مگر خوف کے متعلق بھی یہ یاد رکھنا چاہئے کہ وہ طمع سے کم ہو اور طمع خوف کی نسبت زیادہ ہو۔ بے شک خوف ایمان کا حصہ ہے مگر طمع سے کم ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔ رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ ۔۵۳ کہ میری صفتِ رحمت غضب کی صفات سے زیادہ وسیع ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بندہ کے دل میں بھی خوف سے طمع کی حالت زیادہ زور دار ہونی چاہئے۔
مؤمن کا دل امید سے پُر ہوتا ہے۔ بیشک اُسے خوف بھی ہوتا ہے مگر کم۔ وہ سمجھتا ہے خدا تعالیٰ مجھ سے ایسا معاملہ نہ کرے گا کہ میں تباہ ہو جاؤں۔ اگر ہم مؤمن کے خوف اور امید کو دیکھیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا خوف خدا تعالیٰ پر بدظنی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اپنی کمزوری کی وجہ سے ہوتا ہے۔ لیکن اُس کی امید خدا تعالیٰ کے فضل کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اب کیا یہ سچ نہیں کہ ہماری کمزوری خدا تعالیٰ کے فضل کے مقابلہ میں حقیر ہے۔ پس اگر مؤمن کا خوف خدا تعالیٰ کی بے نیازی کو مد نظر رکھ کر ہو تو اس کی رحمت اس کی بے نیازی پر غالب ہے اور اگر اپنی کمزوری کو دیکھ کر ہو تو خدا تعالیٰ کی طاقت ہماری کمزوری پر غالب ہے۔ پس بہر حال اُمید کا پہلو ہی غالب رہا کیونکہ اس کا محرّک خوف کے محرّک سے ہر طرح زبردست ہے۔
مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ امید مُطِیْع کے لئے ہوتی ہے باغی کے لئے نہیں ہوتی۔ کوئی انسان یہ نہ کہے کہ جو جی چاہے گا کریں گے اور پھر امید رکھیں گے کہ خدا کی رحمت کے مستحق ہو جائیں
گے۔ یہ بغاوت ہے اور باغی کے لئے کوئی امید اور طمع نہیں ہو سکتی۔ طمع مطیع کے لئے ہے۔
دوسری بات یہ یاد رکھنی چاہئے کہ مؤمن کے خوف کا موجب یہ نہیں ہوتا کہ شاید یہ بات نہیں ہو سکے گی یا یہ کہ ایسا نہ کیا تو سزا ملے گی بلکہ اُسے یہ خوف ہوتا ہے کہ جس رستہ پر میں چل رہا ہوں شاید اس پر چل نہ ہو سکے۔ اِسی طرح خوف کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ یہ بات نہ کی تو خدا تعالیٰ سزا دے گا بلکہ یہ ہوتی ہے کہ شاید میں خدا تعالیٰ کی رحمت کو جذب نہ کر سکوں۔
غرض اصل اسلامی تصوف کی بنیاد طمع اور خوف پر ہے اور امید کا پہلو خوف کی نسبت بھاری ہے اور حق یہ ہے کہ اثباتی طاقتیں اُمید سے ہی پیدا ہوتی ہیں اور خوف سے سلبی طاقتیں پیدا ہوتی ہیں اصل مقصد خدا تعالیٰ سے محبت پیدا کرنا ہے اور وہ امید سے پیدا ہوتی ہے خوف سے صرف گناہ دُور ہوتے ہیں۔
دیکھو رسول کریم ﷺ نے کس طرح اپنی امت سے خوف مٹانے کی کوشش فرمائی ہے۔ اول تو قرآن کریم میں وَرَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ(7:157)۔ آجانے سے معلوم ہو گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی رحمت ہر ایک چیز سے بڑھ کر ہے۔ مگر رسول کریم ﷺ نے اس کی اور بھی وضاحت فرمادی۔ حدیث میں آتا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ مُنذر خوابیں شیطانی ہوتی ہیں اور مبشر خوابیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہیں ۵۴؎ چونکہ خوابوں کا بہت بڑا اثر انسان کی طبیعت پر پڑتا ہے۔ اس لئے آپ نے یہ فرما دیا کہ مُنذر خوابوں سے خوف نہیں کھانا چاہئے یہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مُنذر خوابیں انبیاء کو بھی آتی ہیں پس اس سے مراد یہ نہیں کہ ہر مُنذر خواب شیطانی ہوتی ہے بلکہ یہ مطلب ہے کہ اگر کثرت سے مُنذر خوابیں آئیں اور مبشر خواب آئے ہی نہیں یا کم آئے تو انہیں شیطانی خواب سمجھنا چاہئے۔ اس طرح آپ نے مؤمنوں کے دلوں سے خوف کو دُور کر دیا ہے کیونکہ خوابوں کا اثر انسان کے دل پر خاص ہوتا ہے لیکن چونکہ ہو سکتا ہے کہ ایسے شخص کو جسے شیطانی خوابیں آتی ہوں کوئی سچی خواب بھی آجائے اور وہ اس کو شیطانی سمجھ کر نقصان اٹھائے۔ اس لئے اس کا بھی علاج بتا دیا کہ جب ڈراؤنی خواب آئے تو مؤمن کو چاہئے کہ بائیں طرف تھوک دے اور لَا حَوْلَ پڑھے۔ اس میں کیا عجیب نکتہ آپ نے فرمایا ہے۔ لوگ کسی چیز کے متعلق کیوں تھوکتے ہیں۔ اس لئے کہ میں اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ رسول کریم ﷺ نے شیطانی خوابوں کے متعلق مؤمن کے نفس کو جرأت دلائی کہ جب اس قسم کی خواب آئے تو تھوک دو کہ ہم اس کی پرواہ نہیں کرتے۔ اس طریق سے آپ نے اُمید اور ہمت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسرا علاج لَا حَوْلَ پڑھنا فرمایا ہے کیونکہ جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے احتمال ہے کہ ایسی خوابوں میں سے کوئی سچی بھی ہو۔ پس لَا حَوْلَ سے خدا تعالیٰ کے حضور میں استغفار اور اس کی ذات پر توکل کا مقام حاصل ہو جائے گا۔ غرض تھوکنے سے شیطانی خواب کے اثر سے محفوظ ہو جائے گا اور لَا حَوْلَ سے خدائی انذار کے اثر سے محفوظ ہو جائے گا کیونکہ جو شخص خدا تعالیٰ کے آگے اپنے آپ کو ڈال دیتا ہے۔ وہ اس کی سزا سے بچ جاتا ہے۔ پس جو شخص یہ دونوں علاج کرے گا اس کے دل پر سے خوف دُور ہو جائے گا۔ دیکھو کس لطیف اور عمدہ صورت میں رسول کریم ﷺ نے اپنی اُمت پر سے خوف کے غلبہ کو دُور کیا ہے۔
غزالی اور احمدی فلسفہ اخلاق میں فرق بتا کر اب میں وہ علاج بتاتا ہوں جو اس روحانی مریض کے مناسب حال ہیں جو عمل سے بالکل رہ گیا ہے اور باوجود کوشش کے کھڑا نہیں ہو سکتا۔ لیکن ان علاجوں کے بتانے سے پہلے میں اس شبہ کا ازالہ کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ایسے انسان کے لئے کچھ اور عمل بتانے سے فائدہ کیا ہے کیونکہ یہ پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے کہ اس سے عمل ہو ہی نہیں سکتا۔ ایسی صورتوں میں اور عمل بتانے سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ سو اس کا جواب یہ ہے۔ (۱) جب تک نیک عمل کرنا انسان کے لئے ناممکن نہ ہو جائے اس وقت تک عمل کے بغیر اس کے لئے کچھ نہیں ہو سکتا۔ ہاں اگر اس کے لئے عمل ناممکن ہو گیا ہو تو پھر بغیر عمل کے بھی پاکیزگی ہو سکتی ہے مگر جب تک عمل کرنا اس کے لئے ممکن ہے اس وقت تک عمل کے بغیر پاکیزگی نہیں ہو سکتی۔ پس اگر عمل ناممکن ہو جائے۔ جیسے کوئی پاگل ہے کہ وہ کوئی عمل نہیں کر سکتا تو اس کے متعلق رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اُسے پھر موقع دیا جائے گا۔
ہاں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ عمل دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو ہر قسم کی حالت کے لوگوں کے لئے ممکن ہوتے ہیں۔ اور ایک وہ جو دل کی بعض حالتوں میں ناممکن ہوتے ہیں۔ جو عمل بعض قلبی حالتوں میں ناممکن ہو جاتے ہیں وہ جذبات سے اور خیالات سے تعلق رکھتے ہیں لیکن جو عمل کہ ظاہر سے تعلق رکھتے ہیں وہ کسی حالت میں بھی ناممکن نہیں ہوتے۔ مثلاً نماز ہے اس کے متعلق کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نماز پڑھ سکتا ہی نہیں۔ مگر یہ کہہ سکتا ہے کہ ناجائز محبت میرے دل سے نہیں نکل سکتی۔ پس عمل دو قسم کے ہیں۔ ایک جذبات سے تعلق رکھنے والے اور دوسرے وہ جن کا تعلق جذبات سے نہیں ہوتا۔
اب دیکھو جسمانی بیماریوں کے علاج کس طرح کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح کہ ایک شخص ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے ، وہ بہت کمزور ہوتا ہے ، کوئی کام نہیں کر سکتا ۔ اُسے کہا جاتا ہے۔ ورزش کیا کرو۔ اب کیا وہ یہ کہتا ہے کہ میں تو پہلے ہی کام نہیں کر سکتا اور آپ کہتے ہیں ورزش کیا کرو۔ وہ یہ نہیں کہتا کیونکہ اَور کام میں اور ڈاکٹر کے بتائے ہوئے کام میں فرق ہے اور وہ یہ کہ جو کچھ ڈاکٹر بتاتا ہے گو وہ بھی کام ہے مگر بے اختیار میں اور دوسرا اس کی طاقت سے بڑھ کر ہے۔ تو طاقت پیدا کرنے کے لئے بھی ایک عمل ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک ایسا کمزور جو اُٹھ کر کھڑا بھی نہیں ہو سکتا۔ چارپائی پر لیٹا رہتا ہے۔ اس کے متعلق ڈاکٹری یہ کہے گا کہ اسے مالش کیا کرو۔ جب اسے کچھ طاقت آئے گی تو بیٹھ سکے گا پھر اور طاقت آئے گی تو کھڑا ہو سکے گا۔
یہی بات روحانی اعمال میں ہے کہ چھوٹے اعمال پر لگا کر اوپر اٹھایا جاتا ہے۔ ایک لڑکا جو کہتا ہو کہ مجھ سے دسویں جماعت کی ریڈر نہیں پڑھی جاتی۔ اُسے کہا جائے گا۔ اچھا نویں جماعت کی پڑھا کرو۔ اس کے متعلق وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب مجھ سے دسویں جماعت کی ریڈر نہیں پڑھی جا سکتی تو نویں کی کس طرح پڑھوں گا۔ اسی طرح روحانیت میں چھوٹے اعمال سے ترقی کر کے بڑے اعمال تک لے جایا جاتا ہے۔
پہلے بیان شدہ علاجوں کے علاوہ ایسے شخص کے لئے بعض اور امور کی بھی ضرورت ہوتی ہے جنہیں میں آگے چل کر بیان کروں گا۔ پہلے علاج یہ ہیں :۔
(۱) یہ کہ ایسا انسان نیکیوں اور بدیوں کا علم حاصل کرے۔
(۲) ان کے بر محل استعمال کا علم حاصل کرے۔
(۳) محاسبہ نفس کرے۔
(۴) استغفار کثرت سے کرے۔
(۵) خدا تعالیٰ کی معرفت پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ پہلے میں نے کہا تھا خدا کی معرفت پیدا کرے۔ مگر یہاں یہ کہتا ہوں کہ معرفت پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ کیونکہ اس کی نسبت یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ یہ عمل پر پوری طاقت نہیں رکھتا۔
(۶) نیکی اور بدی کا انجام سوچے۔
(۷) تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللهِ کی کوشش کرے۔
اس سے آگے میں جو علاج بتاؤنگا وہ اصولی ہیں۔ ایسے انسان کے متعلق اس بات میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ اس کے اندر بیماری ہے اور بیماری کا علاج بغیر تشخیص کے نہیں ہو سکتا اس لئے
ضروری ہے کہ وہ علمی طور پر معلوم کرے کہ اُسے کیا بیماری ہے۔ اس کے لئے وہ پہلے اپنے دل سے یہ سوال کرے کہ وہ کس بات کے لئے کوشش کر رہا ہے؟ اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ دل کی پاکیزگی کے لئے۔ اور دوسرا یہ ہے کہ اعمال کی اصلاح کے لئے۔ امر اول خدا تعالیٰ کی محبت سے تعلق رکھتا ہے۔ اور دل کی کمزوری کے یہ معنے ہیں کہ صحیح محبت کا مادہ مفقود ہو گیا ہے۔ میں نے کئی دفعہ اپنی ایک روٴیا سنائی ہے کہ میں نے دیکھا حضرت مسیحؑ ایک چبوترہ پر کھڑے بچہ کی شکل میں آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے کھڑے تھے۔ اوپر سے میں نے حضرت مریم کو اُترتے دیکھا۔ وہ کچھ اونچی چبوترہ پر کھڑی ہو گئیں۔ پھر وہاں سے ایک قدم نیچے اُتریں اور حضرت مسیحؑ نے اوپر کی طرف قدم بڑھایا۔ حضرت مسیحؑ ان کی طرف جھکے اور مریم اُن پر جھک گئیں۔ اس وقت میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے۔
Love Creats Love محبت محبت سے پیدا ہوتی ہے۔ پس محبت محبت سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ مگر محبت پیدا کرنے کے لئے بھی سامان ہوتے ہیں اور وہ یہ ہیں۔ (۱) حسن (۲) احسان۔ اب ہم دیکھتے ہیں ایک شخص نے خدا تعالیٰ کا حسن بھی دیکھا یعنی اس کی صفات پر غور کیا۔ اور احسان بھی دیکھے۔ اپنے ساتھ خدا تعالیٰ کے تعلقات پر نظر کی۔ مگر باوجود اس کے اُس کے دل میں محبت نہ پیدا ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کی حالت اس بچہ کی سی ہے جو اپنی ماں سے محبت نہیں کرتا اور محبت کا مادہ اُس میں سے مارا گیا ہے۔ جیسے اگر کسی انسان کے پیٹ میں نہ غذا جاتی ہے اور نہ دوا۔ تو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کا معدہ خراب ہو گیا ہے۔ اس کے لئے پہلا کام یہ ہونا چاہئے کہ اس کے معدہ کو قوت دیں اور روحانیت میں یہ علاج ہے کہ اس کے احساسات اُبھاریں۔ سو ایسے انسان کے لئے پہلا علاج یہ ہے کہ چونکہ ظاہر کا اثر باطن پر ہوتا ہے وہ ظاہری طور پر خشوع و خضوع اختیار کرے۔ نماز پڑھے تو رونے کی صورت بنائے خواہ تصنّع سے ہی بنانی پڑے۔ بعض کام اگر تصنّع اور بناوٹ سے بھی کئے جائیں تو اُن کا اثر باطن پر پڑتا ہے۔ میں نے امریکہ کی ایک کتاب میں پڑھا تھا۔ ایک پروفیسر طالب علمی کی حالت میں بہت قابل تھا آخر اُسے ایک کالج کا پرنسپل بنا دیا گیا۔ مگر اس وقت وہ سخت نا قابل ثابت ہوا۔ اس نے اس کی وجہ ایک علم النفس کے ماہر سے پوچھی تو اس نے بتایا کہ تمہارے دل میں اتنی زیادہ نرمی ہے کہ اس کی وجہ سے تم انتظام قائم نہیں رکھ سکتے۔ اس کا اس نے علاج پوچھا تو اس نے بتایا کہ تم اپنے دانت اور جبڑے جوڑ کر رکھا کرو۔ یعنی منہ کو سختی سے بند کیا کرو جس سے غصہ کی حالت نظر سے اُس نے ایسا ہی کیا اور کچھ عرصہ کے بعد اُس میں ایسا تغیر پیدا ہو گیا کہ ملک میں مشہور ہو گیا کہ سب سے زیادہ سخت
پرنسپل وہی ہے اور اس نے خوب انتظام کر لیا۔
تو ظاہر کا اثر باطن پر ہوتا ہے۔ وہ شخص جو بزدل ہو وہ اگر اکڑ کر چلے تو اس میں جرأت اور دلیری پیدا ہو جائے گی۔ فوج کے سپاہیوں سے ایسا ہی کرایا جاتا ہے۔ ان کو مشق کرائی جاتی ہے کہ اونچی گردن رکھ کر اور چھاتی تان کر چلیں۔ اس سے ان میں بہادری پیدا ہو جاتی ہے۔ پس پہلا علاج یہ ہے کہ کسی شخص میں جو عیب ہو اس کے مقابل کی صفت تصنع سے اختیار کرے اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اس میں فی الحقیقت وہ صفت پیدا ہو جائے گی۔ محبت کا مادہ پیدا کرنے کے لئے انسان ظاہری محبت کے آثار ظاہر کرے۔ مثلاً کسی سے مصافحہ کرے تو خوب بھینچ کر اور تپاک سے کرے۔ ایک شخص اس کے پاس آ کر بیٹھے۔ جب وہ اٹھنے لگے تو خواہ دل میں یہی چاہتا ہو کہ چلا جائے مگر اصرار کرے کہ اور بیٹھو۔ اس طرح جب وہ ظاہر میں محبت کے آثار ظاہر کرے گا تو آہستہ آہستہ اس میں حقیقی محبت کا جذبہ پیدا ہو جائے گا اور پھر وہ خدا تعالیٰ سے بھی محبت کرنے لگ جائے گا کیونکہ پہلے اس کے محبت نہ کرنے کی یہی وجہ تھی کہ اس میں محبت کا جذبہ ہی نہ تھا۔
(۲) اس کے علاوہ دوسرا علاج یہ ہے کہ ماں باپ، بیوی بچوں سے پیار میں زیادتی کرے یہی وہ نکتہ ہے جسے عشق مجازی کہا جاتا ہے۔ صوفیاء نے اسی کو عشق مجازی قرار دیا تھا کہ جن سے محبت کرنا جائز ہے اُن سے محبت میں زیادتی کی جائے مگر بعد میں اس کو بگاڑ کر کچھ کا کچھ بنا لیا گیا۔ عشق مجازی کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ایک شخص کوئی خوبصورت لڑکا تلاش کرے۔ اس سے محبت کرنے لگ جائے یا اور اسی قسم کی ناجائز محبت میں گرفتار ہو جائے بلکہ یہ ہے کہ جن رشتہ داروں سے محبت کرنا جائز ہے اُن سے زیادہ محبت کرے۔ اس طرح اس میں محبت کا جذبہ زیادہ پیدا ہو گا اور پھر خدا تعالیٰ سے محبت کرنے کا جذبہ بڑھے گا۔
دوسری چیز جس کے لئے اپنی روحانیت کی اصلاح کی غرض سے انسان کوشش کرتا ہے وہ اعمال کی اصلاح ہے۔ اس کے لئے یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ایک عمل قوت ارادی سے ہوتا ہے۔ انسان ارادہ کرتا ہے کہ یوں کرنا ہے اور پھر کر لیتا ہے۔ لیکن جو شخص کہتا تو رہتا ہے کہ میں نے فلاں کام کرنا ہے مگر کر نہیں سکتا تو اُس کی اس بے بسی سے ثابت ہوتا ہے کہ اس میں یا تو (۱) اس کا قبضہ ارادہ پر نہیں رہا۔ انسان میں جو ”میں“ ہے وہ کمزور ہو گئی ہے اس وجہ سے وہ ارادہ پر حکومت نہیں کر سکتا ”میں“ بطور مالک کے ہوتی ہے اور ارادہ بطور داروغہ کے۔ مالک کمزور ہو گیا ہے اور وہ داروغہ سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کام کر آؤ بلکہ اس سے ڈرتا ہے۔ اس وجہ سے داروغہ کام کرانے میں سست ہو جاتا ہے (۲) یا پھر یہ کہ ”میں“ تو مضبوط ہے مگر داروغہ بیمار ہو گیا یعنی قوتِ ارادی کمزور ہو گئی ہے اور اس کا جذبات پر قابو نہیں رہا۔ جذبات داروغہ یعنی قوتِ ارادی کے ماتحت بطور ملازم ہوتے ہیں۔ جب داروغہ بیمار ہو گیا تو ملازم سُست ہو گئے۔ اس کا حکم نہیں مانتے۔ گویا اس طرح ”میں“ اور احساسات میں جو واسطہ تھا وہ کمزور ہو گیا۔ (۳) اگر یہ بھی نہیں تو یہ نقص پیدا ہو گیا ہے کہ کوئی ایسی چیز ارادہ اور احساسات کے درمیان آگئی ہے کہ باوجود اس کے کہ ارادہ حکم دینے کی طاقت تو رکھتا ہے اور احساسات ماننے کے لئے بھی تیار ہیں مگر ان میں اتنا فاصلہ ہو گیا ہے یا روک پیدا ہو گئی ہے کہ احساسات تک حکم نہیں پہنچتا۔
پس عملی گناہ یا نیکی میں کمی کے یہ تین سبب ہوتے ہیں یعنی (۱) انانیت کی کمزوری (۲) ارادہ کی کمزوری (۳) بعض اور چیزوں کی دخل اندازی احساسات کو ارادہ کے قبضہ سے نکال لیتی ہے جیسے مثلاً عادت ہے، ایک شخص کو حقہ پینے کی عادت ہے وہ ارادہ رکھتا ہے کہ حقہ نہیں پینا۔ مگر جب سامنے حقہ دیکھتا ہے تو کچھ نہیں کر سکتا اور عادت سے مجبور ہو کر پی لیتا ہے۔
اب مَیں وہ امور بتاتا ہوں جن سے انانیت بڑھتی ہے اور انسان کی قوتِ ارادی مضبوط ہوتی ہے (۱) پہلی چیز جو مَیں کو مضبوط کرتی ہے وہ قوتِ بقاء یعنی قائم رہنے کی خواہش ہے۔ ہر چیز میں یہ خواہش پائی جاتی ہے کہ مجھے باقی رہنا چاہئے۔ ایک معمولی سے کیڑے کو مارو تو وہ تلملاتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ وہ زندہ رہنا چاہتا ہے۔ وہ انسان جس میں مذکورہ بیماریاں پیدا ہو جائیں اسے خیال کرنا چاہئے کہ اگر میری یہی حالت رہی تو مَیں مرا مگر مجھے تو زندہ رہنا ہے اس لئے قوتِ بقاء کو مضبوط کرے۔ یہ ایک طبعی تقاضا ہے اور فکر سے جلدی بڑھ سکتا ہے۔ چنانچہ یہی دیکھ لو ایک حقہ پینے والا حقہ دیکھ کر اس کے پاس جا بیٹھے گا۔ شراب پینے والا شراب دیکھ کر اُس کی طرف دوڑے گا۔ لیکن اگر کوئی تلوار لے کر اُسے وہاں مارنے کے لئے آئے تو پھر دیکھو کس طرح بھاگتا ہے۔ کہتے ہیں شرابی کو اگر جوتیاں ماری جائیں تو اس کا نشہ دُور ہو جاتا ہے۔ یہ بقاء کی خواہش کا ہی غلبہ ہوتا ہے جس کے باعث نشہ دُور ہو جاتا ہے۔
(۲) افتاء کی خواہش کو مضبوط کرے۔ یہ تقاضا پہلے تقاضا کا لازمی نتیجہ ہے۔ ابقاء کی خواہش پوری نہیں ہو سکتی جب تک اِفتاء کی خواہش کو مضبوط نہ کرے۔ اُسے چاہئے کہ اِفتاء کی خواہش کو بھی مضبوط کرے یعنی سوچے کہ جو چیز میرے مقاصد میں حائل ہو گی مَیں اس کو پیس ڈالوں گا۔
(۳) تیسرا ذریعہ انانیت کے بڑھانے کا جذب کی طاقت کو مضبوط کرنا ہے۔ ایسا انسان سوچے کہ جن چیزوں کی مجھے ضرورت ہے وہ میں ضرور لوں گا۔ جن جن چیزوں کا حاصل ہونا مشکل نظر آئے ان کے متعلق یہ احساس دل میں بار بار قائم کرے اس سے انانیت غالب آجائے گی۔
(۴) قوت مقابلہ کی طاقت کو مضبوط کرے۔ یعنی یہ خیال کرے کہ جو چیزیں مضر ہوں گی ان کا میں مقابلہ کروں گا۔
(۵) استقلال کی طاقت کو مضبوط کرے۔ اس سے بھی میں پیدا ہوتی ہے۔ استقلال کبھی کبھی مشکل ہوتا ہے اور بعض کے لئے ناممکن ہوتا ہے۔ مگر بعض لوگ اس کے متعلق بے توجہی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں۔ خیر اس بات کو جانے دو یہ عادت نہ رہنی چاہئے۔ کیونکہ اگر انسان بعض باتوں میں استقلال دکھائے تو دوسری باتوں میں استقلال کی قوت پیدا ہو جاتی ہے اس طرح میں کی طاقت مضبوط ہو جاتی ہے۔
(۶) مصلحت۔ یہ بھی بقاء کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ مصلحت وقت کو غور کر کے کام کرے اس سے تدبیر حکمت، راز رکھنے اور نفس پر قابو رکھنے کی قابلیت پیدا ہو گی اور انانیت ترقی کرے گی۔
(۷) احتیاط۔ ہوشیاری، چوکس رہنا، دُور اندیشی۔ ان باتوں کو ذہنی طور پر پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ ان سے بھی انانیت ترقی کرے گی۔
(۸) اپنی مدح سے نفرت کرے۔ اگر کوئی کرے تو اُسے روک دے۔ اس سے بھی انانیت مضبوط ہوتی ہے۔ مدح انانیت کو مار دیتی ہے اور نہایت تیز چھری ہے جو اُسے ذبح کر دیتی ہے۔ دیکھو قرآن کریم میں کیا لطیف طور پر بیان کیا گیا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَّیُحِبُّوۡنَ اَنۡ یُّحۡمَدُوۡا بِمَا لَمۡ یَفۡعَلُوۡا(3:189)۵۶ کچھ ایسے لوگ ہیں جو یہ پسند کرتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کئے ان کے متعلق ان کی تعریف کی جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگ وہ بات مانتے ہیں جو لوگ ان کے متعلق کہیں اور خود اپنے نفس پر غور نہیں کرتے کہ انہوں نے کوئی کام کیا بھی ہے کہ نہیں یعنی ایسے لوگ خود کام نہیں کرتے جو تھوڑا بہت کام ہو جائے اُسی پر خوش ہو جاتے ہیں اور جو دوسرے بتائیں کہ تم نے یہ کام کیا ہے اسے مان لیتے ہیں کہ ہم نے ایسا ہی کیا ہے۔ گویا دوسروں کی مدح ان کے لئے جو خیالی محل بنا دیتی ہے اس میں ایسے لوگ رہتے ہیں۔ پس مدح سے نفرت کرنے سے انانیت مضبوط ہوتی ہے۔
(۹) نواں علاج عزّتِ نفس کی طاقت کا پیدا کرنا ہے۔ یعنی انسان ہر قسم کی ذلت اور شرمندگی کی برداشت سے انکار کرے۔ کہے میری طرف بدی کیوں منسوب ہو۔ اس طرح نفس کو غیرت آتی ہے۔ اور وہ اُٹھ کھڑا ہوتا ہے اور پھر ارادہ سے کام کرا لیتا ہے۔
(۱۰) دسواں علاج وقار ہے یعنی جو باتیں تم سے متعلق نہ ہوں ان میں خواہ مخواہ دخل نہ دو۔ ہر کام میں دخل دینا چھچھورا پن ہوتا ہے اور اس سے انانیت مُردہ ہو جاتی ہے۔
(۱۱) گیارہواں علاج امید ہے۔ اس طاقت کو اپنے اندر بڑھاؤ۔ اس سے بھی اعزازِ نفس حاصل ہوتا ہے۔ انسان یقین رکھے کہ ایسا ہو جائے گا۔ اس طرح اپنے نفس پر اعتبار کرنے کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔
(۱۲) بارہواں علاج خوش مزاجی ہے۔ اس سے انسان میں طاقت پیدا ہوتی ہے۔ اور کڑھنے سے طاقت ضائع ہو جاتی ہے۔
ان میں سے بہت سی باتیں ایسی ہیں جو مشکل ہیں لیکن اگر کوئی ان میں سے چند پر بھی عمل کرے گا تو اس میں طاقت پیدا ہونی شروع ہو جائے گی۔ یہ سب امور ذہنی ہیں اور ان کی مشق سے انسان کی ذہنی قوتیں نشو و نما پاسکتی ہیں یہاں تک کہ ارادہ ہی ماتحت آجائے۔ ان کے استعمال کا بہتر طریق یہ ہے کہ انسان انسان کی حیثیت پر غور کرے جو میں نے بتائی ہے اور اس سے چند ہی دن میں علیٰ قدرِ مراتب وہ اپنے اندر انانیت کا جذبہ بڑھتا ہوا پائے گا۔
مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انانیت اتنی حد سے بڑھ جاتی ہے اور اس سے گناہ پیدا ہونے لگتے ہیں۔ جیسے ایک ظالم آقا ہو جو خواہ مخواہ نوکروں کو مارتا رہتا ہو۔ ایسی حالت میں اس کا علاج خدا تعالیٰ کی بے نیازی پر غور کرنا ہے۔ انسان سوچے کہ اگر میری بین اس طرح ہر نقص پر گرفت کر رہی ہے تو اگر خدا تعالیٰ مجھ سے یہی سلوک کرے تو میری کیا حالت ہو اور یہ سوچے کہ مجھے جو کچھ ملا ہے وہ خدا تعالیٰ کا عطیہ ہے۔ میں اس کا مالک نہیں ہوں۔ میں تو صرف امین ہوں اور امانت کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ اس لئے مجھے بے جا سختی نہیں کرنی چاہئے۔
جب انانیت پیدا ہو جائے یا وہ پہلے ہی موجود ہو مگر مشکل ارادے کے متعلق ہو یا درمیانی روکوں کے متعلق ہو تو اس صورت میں اس کا مندرجہ ذیل علاج ہے۔
(۱) اول تو وہی ظاہر و باطن کی مشابہت پیدا کرنا ہے جو پہلے بیان کر آیا ہوں کہ ظاہری طور پر انسان تصنع سے ہی کام کرتے اس کا اثر باطن پر پڑے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پر خاص زور دیا ہے۔
(۲) دوسرا علاج کامل توجہ ہے۔ یہ گُر کامیابی کے لئے نہایت ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان خیالات کو ایک ہی رَو میں چلائے اور اپنے دل سے خدا تعالیٰ کے سوا باقی سب چیزوں کے خیالات مٹا دے۔ قرآن کریم میں آتا ہے۔ وَالنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا(79:2)۷۱؎ جو لوگ کسی کام میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں اُس میں غرق ہو جاتے ہیں گویا وہ اپنے خیالات کو اس طرح چلاتے ہیں کہ صرف وہی کام اُن کا مقصد رہ جاتا ہے اور کسی چیز کی خبر انہیں نہیں ہوتی۔ جب کسی کام کے متعلق نَفْس میں پورا پورا نقشہ کھنچ جاتا ہے تب اس میں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ مثلاً ایک شخص جسے جھوٹ بولنے کی عادت ہے وہ یہ خیال کرے کہ مجھے جھوٹ چھوڑ دینا چاہئے تو اس سے کامیابی نہ ہو گی جب تک رات دن اس کی توجہ اسی طرف نہ ہو گی کہ جھوٹ نہیں بولنا اور جھوٹ چھوڑ دینا ہے۔
ایک بات کا بار بار خیال کرنے سے یہ طاقت پیدا ہوتی ہے مگر اس طاقت کے متعلق خطرہ بھی ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ پاگل ہو جاتی ہے۔ یعنی ارادہ کے قبضہ سے نکل جاتی ہے اور اِدھر اُدھر ناچنے لگتی ہے۔ ہمارے ملک میں کئی لوگ پوچھا کرتے ہیں۔ نماز میں دلیلیں آتی ہیں ان کے دُور ہونے کا کوئی علاج بتائیے۔ دلیلیں آنے کا یہی مطلب ہے کہ ایسے شخص کی خیال کی طاقت پاگل ہو گئی ہے اسے توجہ تو پیدا ہوتی ہے مگر خدا تعالیٰ کی طرف نہیں بلکہ اور چیزوں کی طرف۔ وہ خدا تعالیٰ کی طرف لگاتا ہے وہ کہیں اور بھاگ جاتی ہے۔ پس جن لوگوں کو نماز میں دلیلیں آتی ہوں ان کے متعلق یہ خیال غلط ہے کہ انہیں توجہ نہیں پیدا ہوتی۔ اصل بات یہ ہے کہ اُن کی توجہ قوّتِ ارادی کے قبضہ میں نہیں ہوتی خود مختار ہو جاتی ہے اور جدھر چاہتی ہے چلی جاتی ہے۔
ایسی حالت میں اس کو قوّتِ ارادی کے ماتحت رکھنے کی کوشش کرنا چاہئے۔ نماز میں جو شخص اَور خیالات میں پڑ جاتا ہے اس کا مطلب یہ ہے اس کی توجہ ارادہ کی قوت کے قبضہ سے نکل گئی ہے۔ اس صورت میں سب سے پہلا کام اُسے قوت ارادی کے ماتحت لانا ہے۔ اب سوال ہوتا ہے کہ اُسے کس طرح ماتحت لائیں؟ اس کا اصل جواب تو میں آگے چل کر دونگا لیکن ایک اور نسخہ بتاتا ہوں اور وہ یہ کہ اگر ایسے لوگ نماز میں اس امر کا خیال کرنا چھوڑ دیں کہ زور سے توجہ قائم کریں تو پھر ان کی یہ حالت نہ ہوگی۔ معمولی باتوں کی طرح نماز بھی پڑھیں۔
(۳) تیسری چیز قوت ارادی کا استعمال ہے۔ ارادہ کرے کہ میں اس کام کو کرتا ہی جاؤنگا اور
کسی روک کی پرواہ نہیں کرونگا۔ بعض دفعہ چونکہ قوت ارادی کمزور ہوتی ہے اس لئے ایک کام کا انسان ارادہ کرتا ہے مگر پھر گر جاتا ہے۔ اس لئے میں قوت ارادی کو مضبوط اور طاقتور بنانے کے لئے ایک نسخہ تجویز کرتا ہوں جس میں تیرہ دوائیں پڑتی ہیں اور وہ دوائیں قرآن کریم اور احادیث سے ملتی ہیں۔
(۱) اول یہ کہ اس آیت کو انسان ورد میں لائے۔ وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ(51:57) خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ میں نے انسان کو صرف عبادت کے لئے پیدا کیا ہے یعنی اپنا بندہ بننے کے لئے پیدا کیا ہے۔ انسان اس بات کا خیال کرے اور کہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے قرب کے لئے پیدا کیا ہے اور خدا تعالیٰ کی پیدائش رائیگاں نہیں جاسکتی۔ میں ضرور اس کا عبد بنوں گا اور ہو نہیں سکتا کہ نہ بنوں۔ وہ یہ خیال نہ کرے کہ مجھ سے کچھ نہیں ہو سکتا۔ میں کچھ نہیں کر سکتا بلکہ وہ اس طرح نقشہ جمائے اور اس طرح تصور باندھے کہ گویا خدا تعالیٰ نے اسے پکڑ کر کہا ہے کہ اُٹھ کام کر۔ یہ وہی بات ہے جسے صوفیاء مراقبہ کہتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان گردن ڈال کر بیٹھا رہے بلکہ یہ ہے کہ بار بار سوچے اور غور کرے کہ بھلا کبھی یہ ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے عبد بننے کے لئے پیدا کرے اور میں کچھ اور بن جاؤں۔
(۲) اس آیت کے مضمون پر غور کرے کہ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ(95:5)۵۸ خدا تعالیٰ نے مجھے بہترین طاقتیں دے کر بھیجا ہے جو نیکی بھی کسی انسان کے لئے ممکن ہے وہ میرے لئے بھی ممکن ہے اور جو بھی اعلیٰ درجہ حاصل ہونا ممکن ہے وہ میرے لئے بھی ممکن ہے پھر میں کس طرح گر سکتا ہوں۔ اس بات کا بھی خوب نقشہ جمائے اور بار بار اس پر غور کرے۔
(۳) تیسرے اس آیت کا ورد کرے اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِیۡدِ(50:17)۵۹ اور اس رنگ میں اس کا مفہوم سوچے اور اسے ذہن میں نقش کرے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور وہ ان باریک در باریک وساوس کو جانتا ہے جو دل میں پیدا ہوتے ہیں اور دل کو پراگندہ کر سکتے ہیں حتیٰ کہ وہ انسان کے نفس سے بھی زیادہ اس کے قریب ہے۔ نفس جب وسوسے پیدا کرتا ہے وہ جھٹ اس کو مٹا سکتا ہے۔ یہی بات خدا تعالیٰ نے اس آیت میں بیان کی ہے اور بندہ کو تسلی دی ہے کہ خوف کی کیا وجہ ہے جبکہ وسوسوں کے سامان سے زیادہ قریب وسوسے مٹانے کے سامان ہیں۔
(۴) اس آیت پر غور کرے۔ وَلِلّٰہِ الۡعِزَّۃُ وَلِرَسُوۡلِہٖ وَلِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَلٰکِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ(63:9)۶۰ اس کے متعلق اس طرح سوچے کہ میں مؤمن ہوں اور مؤمن کسی سے مغلوب نہیں ہو سکتا۔ پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ میری قوت ارادی غالب نہ آئے۔ اسے اس قدر دُہرائے کہ قوتِ ارادی نفس پر غالب آجائے۔
(۵) یہ آیت پڑھا کرے۔ اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنٌ(الحجر: ۴۳) یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندوں پر شیطان کا قبضہ نہیں ہے۔ وہ سوچے میں خدا تعالیٰ کا بندہ ہوں اور خدا کے بندوں پر شیطان کا تسلط نہیں ہو سکتا۔ پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ بدی مجھ پر غالب آجائے۔
(۶) یہ آیت پڑھے لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ(البقرۃ: ۳۹) اور یہ خیال کرے کہ میں خدا تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا۔ میں مؤمن ہوں اور مؤمن کو سوائے خدا کے کسی کا خوف نہیں ہو سکتا۔
(۷) اس آیت پر غور کرے نَحۡنُ اَوۡلِیٰٓؤُکُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَفِی الۡاٰخِرَۃِ(حم السجدۃ: ۳۲) جو مؤمن ہوتا ہے اس پر فرشتے نازل ہوتے اور کہتے ہیں ہم تمہارے مددگار ہیں پھر تم کیوں گھبراتے ہو۔
(۸) آیت وَلَا تَایۡـَٔسُوۡا مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یَایۡـَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡکٰفِرُوۡنَ(یوسف: ۸۸) پڑھے اور سوچے۔ میں مشکلات سے مایوس نہیں ہو سکتا۔ مایوسی موت ہے جسے قبول کرنے کے لئے میں تیار نہیں ہوں۔ اگر ارادہ نہیں مانتا تو میں اسے سیدھا کر کے چھوڑوں گا۔
(۹) یہ آیت زیر غور رکھے یٰۤاَیَّتُہَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّۃُ ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرۡضِیَّۃً فَادۡخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ وَادۡخُلِیۡ جَنَّتِیۡ(الفجر: ۲۸ تا ۳۱) میں مطمئن ہوں اور غیر محدود امیدیں میرے سامنے کھڑی ہیں۔ پھر مجھے کیا گھبراہٹ ہو سکتی ہے جبکہ خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے اور فرماتا ہے۔ جا اس جنت میں داخل ہو جا جو کبھی برباد نہیں ہو سکتی۔
(۱۰) حدیث یُوْضَعُ لَهُ الْقَبُوْلُ(بخاری کتاب بدء الخلق باب ذکر الملائکۃ) زیر نظر رہنی چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ مؤمن کے متعلق تو اللہ تعالیٰ وعدہ کرتا ہے کہ اس کی قبولیت دنیا میں پھیلائی جائے گی اور وہ ذلیل نہیں ہو گا۔ اس سے بھی قوت ارادی بڑھتی ہے۔
(۱۱) وَسَخَّرَ لَکُمۡ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا مِّنۡہُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ(الجاثیۃ: ۱۴) کی آیت پر غور کرتا ہوا یہ خیال کرے کہ سب ناکامیاں لالچ اور حرص سے پیدا ہوتی ہیں۔ مگر مجھے کسی چیز کی حرص نہیں ہے۔ کیا پہلے ہی خدا تعالیٰ نے میرے لئے سب کچھ نہیں بنا چھوڑا؟
(۱۲) مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕ وَالَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ(الفتح: ۳۰)۶۸ اس میں یہ سوچے کہ بد خیال، بد ارادے اور بد تحریکیں میرے دل میں ہرگز داخل نہیں ہو سکتیں کیونکہ میں اس امت میں سے ہوں جس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ(48:30) کہ وہ کافروں کا اثر قبول نہیں کرتے بلکہ مؤمنوں کا اثر قبول کرتے ہیں۔
(۱۳) وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ(التوبة: ۱۱۹)۶۹ کا ورد کرے اور اس حدیث کو سوچے لَا يَشْقٰی جَلِیْسُھُمْ۷۰ وہ یہ خیال کرے کہ جو نیک ارادے میرے دل میں پیدا ہوتے ہیں وہ دوسروں پر اثر کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے نیکوں کے پاس جاؤ۔ اگر میرا کسی پر اثر نہیں ہوتا تو پھر میں مؤمن نہیں ہو سکتا۔
(۱۴) اس بات پر غور کرے کہ خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کے متعلق فرمایا ہے۔ وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ الۡخُلۡدَ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مِّتَّ فَہُمُ الۡخٰلِدُوۡنَ(الانبیاء: ۳۵)۷۱ ہم نے نہ تجھے اور نہ کسی اور انسان کو ہمیشہ اس دنیا میں رہنے کے لئے بنایا ہے۔ انسان خیال کرے کہ جب مجھے ہمیشہ اس دنیا میں نہیں رہنا تو مجھے اپنے وقت کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔
ان چودہ باتوں میں سے قوتِ ارادی کو وہ طاقت حاصل ہو جاتی ہے کہ وہ جذبات اور احساسات کو دبا لیتی ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ انسان ان باتوں پر پورے طور پر غور و فکر کرے۔
(۴) چوتھا علاج ارادے کو مضبوط کرنے یا اس کے راستہ سے روکیں دُور کرنے کا یہ ہے کہ جس عیب کو دُور کرنا ہو اس پر شروع دن سے ہی یکدم حملہ کر دے۔ جب فوج کسی مقام پر حملہ کرتی ہے تو پہلے حملہ میں سارا زور صرف کر دیتی ہے اسی طرح کسی بدی کے دُور کرنے کے متعلق کرنا چاہئے۔ یعنی جس بدی کو دُور کرنا مدّ نظر ہو اس پر پورا زور صرف کرنا چاہئے۔
(۵) پانچواں علاج یہ ہے کہ جو نیک خصلت پیدا کرنی ہو اس کی عادت ڈالے یا جس خصلت کو چھوڑنا چاہے اُس کے اُلٹ عادت ڈالے۔ مثلاً اگر غصہ پیدا ہو تو نرمی کی عادت ڈالے۔
(۶) فکر اور تَاَنِّیْ کی عادت ڈالے۔ جلد بازی سے بچے۔ اس سے جو عادات پہلے پڑ چکی ہوں گی ان کے حملہ سے محفوظ ہو جائے گا۔ کیونکہ عادات جلد بازی سے فائدہ اٹھا کر ہی حملہ کرتی ہیں اور سوچ کے اور غور کر کے کام کرنے پر وہ حملہ نہیں کر سکتیں۔
(۷) جس بات کے کرنے یا چھوڑنے کا ارادہ کرے اس کی پوری حقیقت کو اپنے ذہن میں لانے کی کوشش کرے اور اس کے تمام پہلوؤں پر غور کرے۔ یہاں تک کہ اس کا ایک مکمل نقشہ
اس کے ذہن میں قائم ہو جائے۔ اس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ جو کام کرنے کا ہو گا اُسے یہ آسانی سے کر سکے گا اور جو چھوڑنے کا ہو گا اُسے آسانی سے چھوڑ سکے گا۔
(۸) جو باتیں جائز ہوں اور اُن کی طرف اُسے رغبت ہو۔ انہیں بعض موقعوں پر ترک کر دے تاکہ مرضی کے خلاف کام کرنے کی اُسے عادت پڑے۔ مثلاً ایک شخص کو چوری کی عادت ہو گئی ہے اور دُور نہیں ہوتی تو اُسے چاہئے کہ بعض جائز باتیں جن کی طرف اُسے رغبت ہے انہیں چھوڑنا شروع کر دے۔ مثلاً ایک وقت دل سونے کو چاہتا ہے اور نہ سوئے۔ ایک چیز کے کھانے کو چاہتا ہو اور یہ نہ کھائے۔ اِس طرح دل کو طاقت حاصل ہوتی چلی جائے گی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک قول ہے میں اس کا یہی مطلب سمجھتا ہوں۔ فرماتے ہیں عَرَفْتُ رَبِّيْ بِفَسْخِ الْعَزَائِمِ ؎۲ کہ میں نے خدا تعالیٰ کو پختہ ارادوں کے بار بار ٹوٹنے سے پہچانا ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ میں نے بعض ارادے کئے جو ٹوٹے۔ میں نے پھر کئے پھر ٹوٹے لیکن جب میں نے بار بار ارادوں کے ٹوٹنے کے باوجود ان کا کرنا نہ چھوڑا اور ہمت نہ ہاری تو مجھے خدا تعالیٰ مل گیا۔ پہلے ہی اگر میں ارادہ کے ٹوٹ جانے پر ناامید ہو کر بیٹھ رہتا اور پھر عزم نہ کرتا تو میں خدا تعالیٰ کے پانے میں ناکام رہتا۔
(۹) انسان اپنے نفس کا بار بار مطالعہ کرے۔ جس طرح ایک حکیم مریض کو بار بار دیکھتا ہے اسی طرح وہ اپنے نفس کو دیکھے۔
(۱۰) مقصد بلند رکھے۔ درمیانی حالت پر قانع نہ ہو جائے۔ جو چیز لینا چاہتا ہے اس کی انتہائی حد مدنظر رکھے۔ جو شخص انتہائی درجہ کا ارادہ رکھتا ہے اُسے کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے۔ اس طرح انسان اپنے نفس پر قابو پا جاتا ہے۔
اُس کوشش کے علاوہ ایک اَور گُر ہے اور وہ دُعا کا گُر ہے جب انسان سے اپنی کوششوں کے ذریعہ کچھ نہ بنے تو اُسے بیرونی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلی چیز اپنی کوشش ہوتی ہے جو اندرونی امداد ہوتی ہے اور دوسری بیرونی امداد ہوتی ہے۔ انسان اپنی طرف سے کوشش کرے اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ سے دُعا کرے کہ مجھ سے تو جو کچھ ہو سکتا ہے کر رہا ہوں۔ اب آپ ہی مدد دیں تو کامیاب ہو سکتا ہوں۔ ایک بزرگ کا قصہ مشہور ہے۔ ان کا ایک شاگرد تھا جسے تصوف کا بہت شوق تھا وہ اس کے سیکھنے کے لئے بہت عرصہ ان کے پاس رہا۔ جب وہ واپس جانے لگا تو ان بزرگ نے پوچھا۔ کیا تمہارے وطن میں شیطان ہوتا ہے؟ وہ حیران ہو کر کہنے لگا۔ شیطان کہاں نہیں ہوتا۔ بزرگ
نے کہا جب تم اپنے وطن پہنچو گے تو اگر شیطان نے تم پر حملہ کیا تو کیا کرو گے؟ اس نے کہا۔ میں شیطان کا مقابلہ کروں گا۔ بزرگ نے کہا۔ اچھا تم نے شیطان کا مقابلہ کیا اور وہ بھاگ گیا۔ لیکن پھر تم خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے لگے اور اُس نے پیچھے سے آپکڑا تو کیا کرو گے؟ اُس نے کہا۔ میں پھر اس کا مقابلہ کروں گا۔ بزرگ نے کہا اگر تم اسی طرح شیطان کا مقابلہ کرتے رہو گے تو خدا تعالیٰ کی طرف کس طرح متوجہ ہو سکو گے؟ اس نے کہا تو پھر آپ ہی بتائیں مجھے کیا کرنا چاہئے؟ انہوں نے کہا۔ بتاؤ اگر تم کسی دوست کو ملنے جاؤ جس کا ایک کتا ہو جو تمہیں گھیر لے تو کیا کرو گے؟ اُس نے کہا میں اُسے لاٹھی مارونگا۔ انہوں نے کہا۔ کتّا بھاگ کر پھر تمہارے پیچھے آپڑا تو کیا کرو گے؟ اُس نے کہا صاحبِ مکان کو آواز دوں گا کہ آؤ اور آکر اپنے کُتے کو روکو۔ انہوں نے کہا۔ یہی طریق شیطان کے متعلق اختیار کرنا۔ خدا تعالیٰ سے کہنا میں آپ کے پاس آنا چاہتا ہوں مگر شیطان مجھے آنے نہیں دیتا۔ آپ ہی اس کو دُور کریں۔ پس برائیوں سے بچنے کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ انسان دُعا کرے کہ الٰہی! میں اپنی طرف سے کوشش کرتا ہوں آگے مدد آپ نے دینی ہے۔
دسویں بات میں نے یہ بیان کی تھی کہ انسان اپنا مقصد بلند رکھے۔ ایک دوست نے اس کے متعلق سوال کیا ہے کہ کیا بلند خواہشات بھی جائز ہیں؟ میرے نزدیک یہ جائز نہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی لکھا ہے کہ الہام کی خواہش نہیں کرنی چاہئے۔ مگر مقاصد کے بلند ہونے اور کسی بات کی طمع اور حرص میں بڑا فرق ہے۔ حرص کا مفہوم یہ ہے کہ انسان جو چیز اچھی دیکھے اسی کے متعلق خواہش کرے کہ مل جائے۔ لیکن مقصد وہ ہوتا ہے جو پہلے مقرر کر لیا جاتا ہے اور پھر اس کے حصول کی کوشش کی جاتی ہے۔ گویا حریص تو سوالی بنتا ہے لیکن مقصد کے حصول کے لئے کوشش کرنے والا علو ہمت والا بنتا ہے۔
اسی طرح الہام کی خواہش کا حال ہے۔ الہام دعوت ہے جو خدا تعالیٰ اپنے کسی بندے کو دیتا ہے اب اگر کوئی کہے میں فلاں دوست سے اس لئے ملنے جاتا ہوں کہ اس کے ہاں مکلّف دعوت کھاؤں تو یہ کیسی کمینہ بات ہوگی اور سب لوگ اُسے بُرا سمجھیں گے۔ لیکن اگر کوئی کہے میں فلاں دوست سے ملاقات کرنے کے لئے جاتا ہوں تو خواہ اُسے کتنی مکلّف دعوت ملے اُسے کوئی بُرا نہ کہے گا۔ اسی طرح الہام کی خواہش کا حال ہے۔ جب کوئی دُعا کرے گا کہ خدا تعالیٰ مجھے اعلیٰ مقام پر پہنچا دے اور اپنا قُرب عطا فرمائے تو اس مقام کے حاصل ہوتے ہی اُسے الہام کی دعوت حاصل ہو جائے گی۔ لیکن اگر کوئی یہ خواہش کرے کہ مجھے الہام ہو تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ اس
دعوت کے حصول کا خواہشمند ہے خدا تعالیٰ کے قُرب کی اسے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اس وجہ سے الہام کی خواہش کرنا درست نہیں ہے۔
اب میں پھر اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔ یہ اصول جو میں نے بیان کئے ہیں اگر ان پر عمل کرنے کے باوجود نیک اعمال میں ترقی نہ ہو اور برائیوں سے انسان بچ نہ سکے تو سمجھنا چاہئے کہ اسے روحانی بیماری نہیں بلکہ جسمانی بیماری ہے۔ اس کے اعصاب میں نقص ہے۔ ایسی حالت میں اسے ڈاکٹروں سے مشورہ لینا چاہئے اور اگر یہ بات میسر نہ ہو۔ تو یہ چار باتیں کرے۔ (۱) ورزش کرے (۲) دماغی کام چھوڑ دے (۳) عمدہ غذا کھائے (۴) اپنا دل خوش رکھنے کی کوشش کرے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بسا اوقات امراضِ روحانی وہم سے بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔ جیسے وہم سے جسمانی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں ایسے ہی وہم سے روحانی بیماریاں بھی لگ جاتی ہیں۔ میرا اپنا ہی تجربہ ہے۔ جب میں طب پڑھنے لگا تو جو بیماری پڑھتا تھا اس کے متعلق خیال ہوتا تھا کہ یہ تو مجھ میں بھی ہے۔ میں یہ خیال کرتا تھا کہ شاید یہ میرا ہی حال ہوگا۔ لیکن ایک ڈاکٹری کے طالبعلم نے مجھے بتایا کہ اُن کے استاد نے جماعت کو نصیحت کی تھی کہ طلباء کو اس قسم کا وہم ہوا کرتا ہے انہیں اس میں مبتلاء نہیں ہونا چاہئے۔ اس لئے میں آپ لوگوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو روحانی بیماریوں کا خیال کر کے یہ سمجھنے لگ جاؤ کہ یہ ہم میں بھی ہیں اور اس طرح خواہ مخواہ اپنے آپ کو ان بیماریوں میں مبتلاء کرلو۔ سنا ہے ایک اُستاد تھا جو لڑکوں پر بڑا ظلم کرتا تھا۔ ایک دن لڑکوں نے ارادہ کیا کسی طرح چھٹی لینی چاہئے۔ ایک لڑکے نے کہا اگر میرا ساتھ دو تو میں چھٹی لے دیتا ہوں۔ میں جا کر کہوں گا اُستاد جی آپ کو آج کیا ہوا ہے آپ کا چہرہ زرد معلوم ہوتا ہے پھر تم آنا اور میری تائید کرنا۔ لڑکوں نے یہ تجویز مان لی۔ اس پر اُس لڑکے نے جا کر کہا۔ اُستاد جی خیریت ہے؟ اُستاد نے کہا۔ کیا بکتا ہے اپنا کام کرو۔ اُس نے کہا آپ کا چہرہ زرد معلوم ہوتا ہے۔ اس پر اُستاد نے اسے گالیاں دیں۔ اور دوسرا ایک اور آگیا۔ اُس نے آکر بھی یہی کہا۔ اُسے بھی گالیاں دیں مگر پہلے کی نسبت کم۔ آخر لڑکوں نے باری باری آنا اور یہی کہنا شروع کیا۔ چھٹے ساتویں لڑکے تک اُستاد جی نے اتنا مان لیا کہ ذرا طبیعت خراب ہے تم تو یونہی پیچھے پڑ گئے ہو۔ جب پندرہ سولہ لڑکوں نے کہا تو اُستاد جی کہنے لگے۔ کچھ حرارت سی محسوس ہوتی ہے۔ اچھا لیٹ جاتا ہوں۔ یہ خیال کرتے کرتے اس کو بخار ہو گیا اور لڑکوں کو چھٹی دے کر گھر چلا گیا۔ لڑکوں نے گھر جا کر اپنی ماؤں سے کہا کہ اُستاد جی بیمار ہو گئے ہیں ان کی عیادت کرنی چاہئے۔ جب عورتیں ان کے گھر جانے لگیں اور اظہار ہمدردی کرنے لگیں تو اُس نے سمجھا میں تو بہت سخت بیمار ہوں آخر اُسی بیماری میں وہ مر گیا۔
یہ تو ایک لطیفہ ہے مگر یورپ میں تحقیقات کی گئی ہے کہ جب سے پیٹنٹ ادویات نکلی ہیں امراض بڑھ گئی ہیں۔ ان دواؤں کے اشتہار میں مشتہرین اس قدر مبالغہ کرتے ہیں کہ ساری مرضیں لکھ کر لکھ دیتے ہیں کہ یہ دوا ان سب بیماریوں کے لئے مفید ہے۔ پڑھنے والے کسی نہ کسی مرض میں اپنے آپ کو مبتلاء سمجھ کر منگوا لیتے ہیں اور پھر ان کا وہم ترقی کرتا کرتا فی الحقیقت انہیں بیمار بنا دیتا ہے۔ پس وہم میں بھی نہیں پڑنا چاہئے۔
دوسری بات یہ سمجھ لو جو قومی طور پر بھی ضروری ہے کہ اشاعتِ فاحشہ نہ ہو۔ کئی لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ خواہ مخواہ لوگوں کو بدنام کرنے کے لئے کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہاں نئے سب لوگ بدمعاش اور دوسروں کا حق مارنے والے ہیں۔ پہلے تو کچھ لوگ اس کے خلاف آواز اُٹھانے والے بھی ہوتے ہیں مگر پھر وہ بھی یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ اگر ایسے لوگ ہیں تو اپنے گھر میں ہمیں ان سے کیا۔ پھر اس سے آگے بڑھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں ایسے لوگ ہیں تو سہی مگر ہم کیا کریں۔ پھر آہستہ آہستہ یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ وہ بھی کہنے لگ جاتے ہیں کہ سب لوگ بد معاملہ اور بدمعاش ہو گئے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بات پر کان نہیں دھرنا چاہئے۔ ورنہ خود بھی انسان اس برائی میں مبتلاء ہو جاتا ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔ جو شخص کسی پر الزام لگاتا ہے وہ خود ایسا ہی ہو جاتا ہے۔۴؎ اس طرح قومیں برباد ہو جاتی ہیں۔ اس لئے جو شخص فواحش کی اشاعت کرے اس کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ اور اس سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ جو بُرا ہے اس کا نام لو عام بات کیوں کہتے ہو کہ سب لوگ ایسے ہو گئے ہیں جو بُرا ہے اس کا نام بتاؤ اور جس برائی میں وہ مبتلاء ہے وہ بھی بتاؤ۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں جو قوم کے متعلق کہتا ہے کہ بد ہو گئی۔ وہی شخص ان کو بد کار بنا دے گا۔۵؎ یعنی لوگوں کو کہنا کہ ہماری قوم بُری ہو گئی یہ خیال قوم کو ویسا ہی بنا دے گا۔ تو ہمیشہ ایسے قومی دشمن کا مقابلہ کرنا چاہئے جو فحش کی اشاعت کرتا اور قوم کو بُرا کہتا ہو۔ لیکن اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی کہتا ہوں کہ جو قوم نڈر ہو جاتی ہے وہ بھی تباہ ہو جاتی ہے۔ اس لئے اصل علاج یہ ہے کہ ایسے ہر امر کو جو کسی کی برائی کے متعلق ہو اسے اولوالامر تک پہنچانا چاہئے تا کہ وہ اس کی تحقیقات کرے اور پھر اگر وہ نقص ٹھیک ہو تو اس کی اصلاح کی کوشش کرے۔
اس لیکچر کے متعلق میرا اندازہ تھا کہ ایک دن میں ختم ہو جائے لیکن جب میں نے اس کے نوٹ لکھے تو دو دن میں ختم ہو جانے کا خیال تھا۔ لیکن ابھی اصولی چالیس گُر باقی ہیں جو میں بیان نہیں کر سکا۔ اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو کتاب میں لکھ دیئے جائیں گے یا کسی اور موقع پر بیان کر دیئے جائیں گے۔ چالیس گر ابھی ایسے باقی ہیں جن سے معلوم ہو سکتا ہے کہ انسان کس طرح نیک بن سکتا ہے۔
اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک بات پر اس لیکچر کو ختم کرتا ہوں وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایسی بات ہے جس میں آپ نے دکھ کا اظہار کیا ہے اور بتایا ہے کہ اگر ہم نیک نہ بنیں تو ہماری غرض جو اس جماعت کے بنانے سے ہے وہ پوری نہیں ہو سکتی کیونکہ اس صورت میں ہماری جماعت خدا کے فضل کی وارث نہیں بن سکتی اس لئے کوشش کرنی چاہئے کہ ہم ان اخلاق کو پیدا کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمارے لئے ضروری قرار دیئے ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ دوست جنہوں نے میرے اس سال کے لیکچر وں کے نوٹ لئے ہیں اور جنہوں نے یہ لیکچر سنے ہیں وہ عملی طور پر ان طریقوں کو استعمال کریں گے تا کہ ہم دنیا کو دکھا سکیں کہ ظاہری اعمال میں بھی ہماری جماعت کے برابر اور کوئی نہیں۔ سچ بات تو یہ ہے کہ اگر ہماری جماعت کا ہر ایک شخص اولیاء اللہ میں سے نہ ہو تو دنیا کو نجات نہیں دلائی جا سکتی اور ہم دنیا میں کوئی تغیر نہیں پیدا کر سکتے۔ یاد رکھو ہمارا مقابلہ دنیا کی موجودہ بدیوں سے ہی نہیں بلکہ ہمارا فرض خیالات بد کی رَو سے مقابلہ کرنا بھی ہے۔ اور ہمیں خیالات کے اس دریا کا مقابلہ کرنا ہے جو ہر طرف لہریں مار رہا ہے۔ پس ہماری پوزیشن بہت ہی نازک ہے۔ میں احباب سے التجاء کرتا ہوں کہ احباب ایسا ہی بننے کی کوشش کریں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمیں بنانا چاہتے ہیں۔ اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دُعا پر اس لیکچر کو ختم کرتا ہوں اور خود بھی اس دُعا میں شامل ہوتا ہوں۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:۔
”میں کیا کروں اور کہاں سے ایسے الفاظ لاؤں جو اس گروہ (یعنی جماعت احمدیہ) کے دلوں پر کارگر ہوں۔ خدایا مجھے ایسے الفاظ عطا فرما اور ایسی تقریریں الہام کر جو ان کے دلوں پر اپنا نور ڈالیں اور اپنی تریاقی خاصیت سے ان کے زہر کو دُور کر دیں۔ میری جان اس شوق سے تڑپ رہی ہے کہ کبھی وہ دن ہو کہ اپنی جماعت میں بکثرت ایسے لوگ دیکھوں جنہوں نے درحقیقت جھوٹ چھوڑ دیا اور ایک سچا عہد اپنے خدا سے کر لیا کہ وہ ہر ایک شر سے اپنے تئیں بچائیں گے اور تکبر سے جو تمام شرارتوں کی جڑ ہے بالکل
ڈور جاپڑیں گے اور اپنے ربّ سے ڈرتے رہیں گے دعا کرتا ہوں اور جب تک مجھ میں دم زندگی ہے کئے جاؤں گا اور دُعا یہی ہے کہ خدا تعالیٰ میری اس جماعت کے دلوں کو پاک کرے اور اپنا رحمت کا ہاتھ لمبا کر کے ان کے دل اپنی طرف پھیر دے اور تمام شرارتیں اور کینے ان کے دلوں سے اُٹھا دے اور باہم سچی محبت عطاء کر دے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ دُعا قبول ہو گی اور خدا میری دُعاؤں کو ضائع نہیں کرے گا۔“۴؎
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ دُعا قبول ہو گی اور خدا تعالیٰ اسے ضائع نہیں کرے گا مگر تم سوچ لو تم اس کے مصداق بنو گے یا بعد میں آنے والے؟ اگر بعد میں آنے والوں کے حق میں قبول ہو گی تو پھر ہمیں کیا فائدہ؟ اس لئے میں کہتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دُعا کو مدنظر رکھ کر کوشش کرو کہ ہم ہی اس کے مصداق ہوں اور اس نظارہ سے ہمیں ٹھنڈک پہنچے جو حضرت مسیح موعودؑ نے کھینچا ہے۔
اس کے بعد میں دُعا کر کے جلسہ ختم کرتا ہوں اور جنہوں نے جانا ہے ان کو اجازت دیتا ہوں۔
بک ڈپو والے کہتے ہیں میں سفارش کروں کہ اُن کی شائع کردہ کتابیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابیں ہیں احباب خریدیں۔ آپ لوگوں کا فرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کُتب کی اشاعت کریں۔ خود خریدیں اور پڑھیں اور ان کو دُنیا میں پھیلائیں یعنی دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔
۶مسلم كتاب المساجد و مواضع الصلوة باب نهى من اكل ثوما او بصلا او كراثا و نحوها
۸حقيقة الوحى صفحہ ۵ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵
۹دقیانوس۔ ایک ظالم حکمران جس کے عہد میں اصحابِ کہف ہوئے۔
۱۰رسالہ الوصیت صفحہ ۳۰ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۲۸
۱۱ضمیمہ رسالہ الوصیت صفحہ ۲۱ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۱۹
۱۲بخاری کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة الجمعة باب قوله و اخرين منهم لما يلحقوا بهم .
۱۳المدثر : ۳۲۱۴الذّٰريٰت : ۵۷۱۵البقرة : ۱۳۰
۱۶بدر ۹ جنوری ۱۹۰۸ء نمبر ۱ صفحہ ۱۲
۱۷بخاری کتاب الادب باب صنع الطعام والتكلف للضيف
۱۸المومنون : ۱۳ تا ۱۵۱۹القارعة : ۷ تا ۱۰۲۰الاعلى : ۱۰
۲۱بدر ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۵، ۱۶ تقریر جلسہ سالانہ۲۲الدهر : ۴
۲۳بخاری کتاب المغازی باب حدیث کعب بن مالک
۲۴سنن ابن ماجه کتاب الادب باب الاستغفار
۲۵بخاری کتاب التوحيد باب السؤال باسماء الله تعالى والاستعاذة بها
۲۶کنز العمال جلد ۱۶ صفحہ ۵۹۹ مطبوعہ حلب ۱۹۷۷ء
۲۷بخاری کتاب الاطعمة باب التسمية على الطعام والاكل باليمين
۲۸بخاری کتاب الزكوة باب ما يذكر فى الصدقة للنبي صلى الله عليه وسلم
۲۹بخاری کتاب القدر باب الله اعلم بما كانوا عاملين
۳۰
۳۱
۳۲سیرت ابن ہشام عربی جلد ۱ صفحہ ۳۶۸، ۳۷۱ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء
۳۳تذکرہ صفحہ ۱۸۴۔ ایڈیشن چہارم
۳۴بخاری کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة المنفقون باب يقولون لئن رجعنا
الى المدينة ليخرجن الاعز......
۳۵ اسدالغابة فى معرفة الصحابة جلد ۳ صفحہ ۱۹۷ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت لبنان ۱۹۷۰ء
۳۶
۳۷ البقرة ۲۸۵ ۳۸ التغابن: ۱۷
۳۹ قلائد الجواهر فى مناقب الشيخ عبدالقادر جيلانى صفحہ ۳۶ مؤلفہ الشيخ محمد بن يحيى التاد فى الحنبلى مطبوعہ عامرہ عثمانیہ پریس مصر ۱۳۰۳ھ
۴۰ درّثمین میں یہ اشعار اس طرح ہیں
تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد
تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھا لیا ہم نے
ہم ہوئے خیرِ امم تجھ سے ہی اے خیرِ رُسل
تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھا لیا ہم نے
۴۱ بخاری کتاب بدء الخلق باب اذا قال احدكم أمين والملئكة فى السماء آمين فوافقت احداهما الاخرى غفر له ما تقدم من ذنبه
۴۲ سنن ابو داود كتاب الجهاد باب النهى عن الوسم فى الوجه والضرب فى الوجه
۴۳ مسلم كتاب الفضائل باب توقيره صلى الله عليه وسلم وترك اكثار سؤاله
۴۴ مسلم كتاب الذكر باب فضل مجالس الذكر
۴۵ بخاری كتاب الجمعة باب الطيب للجمعة
۴۶
۴۷ المعارج: ۲۵، ۲۶
۴۸
۴۹ ھود: ۱۰۹ ۵۰ السجدة: ۱۶، ۱۷ ۵۱ يوسف: ۸۸
۵۲ بخاری كتاب التوحيد باب يحذركم الله نفسه
۵۳ الاعراف: ۱۵۷
۵۴ بخاری كتاب التعبير باب الحلم من الشيطن
۵۵
۵۶ آل عمران: ۱۸۹ ۵۷ النّٰزعٰت: ۲ ۵۸ التین: ۵
۵۹ ق: ۱۷ ۶۰ المنفقون: ۹ ۶۱ الحجر: ۴۳
۶۲ یونس: ۶۳ ۶۳ حم السجدة: ۳۲ ۶۴ یوسف: ۸۸
۶۵ الفجر: ۲۸ تا ۳۱
۶۶ بخاری کتاب التوحید باب کلام الرب مع جبریل و نداء الله الملئکة
۶۷ الجاثية: ۱۳ ۶۸ الفتح: ۳۰ ۶۹ التوبة: ۱۱۹
۷۰ مسلم کتاب الذکر باب فضل مجالس الذکر
۷۱ الانبياء: ۳۵
۷۲ نہج البلاغة حصہ سوئم صفحہ ۹۱۴ قول نمبر ۲۴۳ مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور میں ” عرفت الله بفسخ العزائم “ کے الفاظ ہیں۔
۷۳ ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۱۰۲، ۱۳۵
۷۴ بخاری کتاب الادب باب ما ينهى من السباب واللعن
۷۵ مسلم کتاب البر والصلة والادب باب النهى من قال هلك الناس
۷۶ شهادة القرآن صفحہ ۱۰۲ روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۳۹۸
از سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
(فرمودہ ۲۸؍دسمبر ۱۹۲۵ء بر موقع جلسہ سالانہ)
حضور نے سورۃ الدھر کے پہلے رکوع کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ اس سورۃ میں بلکہ اس رکوع میں جو میں نے پڑھا ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی کے ابتدائی، درمیانی و آخیری انجام بتائے ہیں اس لئے یہ رکوع اپنے مضمون کے لحاظ سے کامل رکوع ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہَلۡ اَتٰی عَلَی الۡاِنۡسَانِ حِیۡنٌ مِّنَ الدَّہۡرِ لَمۡ یَکُنۡ شَیۡئًا مَّذۡکُوۡرًا(76:2) دنیا میں انسان گناہ کا مرتکب تکبر کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور تکبر اس کی عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ وہ باوجود آنکھوں کے نہیں دیکھتا اور باوجود کانوں کے نہیں سنتا۔ اور وہ یہ نہیں جانتا کہ ہر ایک انسان پر ایک زمانہ ایسا آیا ہے، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، فقیر ہو یا بادشاہ، کہ اس کا ذکر دنیا میں کوئی نہ کرتا تھا۔ ہر ایک شخص اپنی زندگی پر غور کر کے دیکھ لے۔ جس کی عمر آج چالیس سال کی ہے اکتالیس سال پہلے اس کو کون جانتا تھا۔ جس کی عمر پچاس سال کی ہے اکاون سال پہلے اس کو کون جانتا تھا۔ پس چاہے کتنا ہی بڑا انسان ہو خیال کرے کہ اس کی زندگی شروع کہاں سے ہوئی ہے۔ دنیا تو پہلے سے آباد چلی آرہی ہے۔ اور جب اس کے پیدا ہونے سے پہلے بھی دنیا آباد تھی اور یہ بعد میں آیا اور اس کے نہ آنے سے پہلے کوئی نقصان نہیں تھا اور دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا جابر و فاتح بادشاہ جو گزرا ہے۔ اس کے نہ رہنے اور مرجانے سے دنیا کو کوئی نقصان نہیں ہوا اور دنیا ویسے ہی آباد چلی آرہی ہے۔ بڑے بڑے بادشاہ جو ایک وقت حکومت کرتے تھے ایک وقت آیا کہ ان کو کوئی جانتا بھی نہ
تھا۔ تو انسان کو چاہئے کہ اپنی پیدائش پر غور کرتا رہے اس سے اس میں تکبّر نہیں پیدا ہو گا اور وہ بہت سے گناہوں سے بچ جائے گا۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّا خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ اَمۡشَاجٍ ٭ۖ نَّبۡتَلِیۡہِ فَجَعَلۡنٰہُ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا(76:3)۔ ہر ایک انسان پر ایسا زمانہ آیا ہے کہ دنیا میں اس کا کوئی مذکور نہ تھا۔ پھر ہم نے اس کو مختلف چیزوں کے خواص سے سمیع اور بصیر انسان بنا دیا۔ انسان کیا ہے۔ ان ہی چیزوں یعنی مختلف قسم کے اناجوں، پھلوں، ترکاریوں اور گوشت کا خلاصہ ہے جو ماں باپ کھاتے ہیں۔ بچہ ماں باپ سے ہی پیدا ہوتا ہے اور کبھی کوئی بچہ آسمان سے نہیں گرا۔ دیکھو اگر کسی شخص کی غذا بند کر دی جائے تو اس کے ہاں بچہ پیدا ہونا تو درکنار وہ خود بھی زندہ نہیں رہ سکے گا۔ پس بچہ ماں باپ کی اس غذا ہی کا خلاصہ ہے جو وہ کھاتے ہیں۔
پھر بچہ ہی سے روح پیدا ہوتی ہے عام لوگوں کا خیال ہے کہ بچہ تو ماں باپ سے پیدا ہوتا ہے، روح کہیں آسمان سے آجاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس پہلے ہی موجود ہوتی ہے۔ مگر یہ خیال روح کی نسبت غلط ہے۔ صحیح یہ ہے کہ روح بھی ماں باپ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ اور یہ ایک بے ہودہ اور لغو خیال ہے کہ بچہ تو ماں باپ سے پیدا ہوتا ہے اور روح آسمان سے آتی ہے۔ یہ آریوں کا خیال ہے کہ روح ہمیشہ سے چلی آتی ہے۔ اس طرح خدا روح کا خالق تو نہ ہوا۔ سورۃ دھر میں اللہ تعالیٰ ماں کے پیٹ میں بچہ کے نشوو نما کو اس طرح بتاتا ہے کہ جس وقت دنیا میں اس کا کوئی مذکور نہ تھا ہم نے چند چیزوں کے خلاصہ سے اس کو سمیع اور بصیر انسان بنایا۔ اور یہ اس غذا ہی کا خلاصہ ہے جو ماں باپ کھاتے تھے۔ بچہ کی پیدائش اور روح کی مثال اس طرح ہے جس طرح جَو اور کھجور سے سرکہ بناتے ہیں اور سرکہ سے شراب۔ اس طرح بچہ سے روح پیدا ہو جاتی ہے۔ گلاب کا عطر گلاب کے پھولوں کا ایک حصہ ہے جو خاص طریقہ پر تیار کرنے سے بن جاتا ہے۔ پس جس طرح پھول کی پتیوں سے عطر نکل آتا ہے اور سرکہ سے شراب بن جاتی ہے اسی طرح بچہ کے جسم سے ہی روح تیار ہو جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں تو ابھی اس قدر علم نہیں ہے یورپ میں دواؤں سے عطر تیار کرتے ہیں۔ دو ایک دوائیاں ملائیں اور خوشبو بن گئی۔ پس جس طرح پھولوں سے خوشبو اور جَو سے شراب بن جاتی ہے اسی طرح جسم سے روح پیدا ہو جاتی ہے۔ پہلے بچے کا جسم پیدا ہوتا ہے اور پھر جسم میں ہی روح پیدا ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّا خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ(76:3) کہ گوشت، ترکاریاں، پانی، طرح طرح کے پھل، ہر ایک قسم کی دالیں جو ماں باپ کھاتے ہیں ان مختلف قسم کی غذاؤں کا خلاصہ نکال کر ہم نے انسان کو پیدا کیا۔
پھر اِنَّا ہَدَیۡنٰہُ السَّبِیۡلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوۡرًا(76:4) ہم نے جو سب چیزوں کے نچوڑ سے خلاصہ بن گیا تھا۔ اس پر انعام کیا اور وہ بولتا چلتا انسان بن گیا۔ پس تم دیکھو کہ تمہاری ابتداء اس طرح پر ہوئی۔ اور پیدائش کے لحاظ سے تمہارے اور گائے، بھیڑ، بکری میں کوئی فرق نہیں۔ اگر فرق ہوا تو احسان سے ہوا ہے اور وہ یہ کہ اس کی طرف وحی بھیجی، اس پر اپنا کلام اتارا اور اس کے اندر یہ قوت رکھ دی کہ چاہے تو شکر کرے اور چاہے تو انکار کرے۔ ہم نے انسان کو ان حقیر چیزوں سے پیدا کیا اور اس میں یہ قوت رکھ دی کہ چاہے ہماری راہ میں جدوجہد کر کے ہماری رضا کو حاصل کر لے اور چاہے ہمارے نبی کا منکر ہو جائے۔ اس کو جو اقتدار حاصل ہے ہم اس میں دخل نہیں دیتے۔ ہاں خدا کا کلام اس پر اترا اور اسے بتلایا کہ اس پر چل کر ترقی کر سکتے ہو۔
کوئی کہہ سکتا ہے خدا نے انسان کو یہ قدرت ہی کیوں دی اور اس کو آزاد کیوں چھوڑا اس سے اس کی کیا غرض تھی؟ سو معلوم ہو کہ اگر خدا انسان کو یہ قدرت نہ دیتا تو وہ ترقی بھی نہ کرتا۔ دیکھو آگ کی خاصیت جلانا ہے۔ آگ میں جو چیز بھی پڑے گی وہ اس کو جلا دے گی۔ چاہے وہ چیز آگ جلانے والے کی ہی کیوں نہ ہو۔ دیکھو اگر کسی گھر میں چراغ جل رہا ہو اور وہ گر پڑے اور سارا گھر جل جائے تو کوئی چراغ کو ملامت نہیں کرے گا۔ اسی طرح کوئی شخص آگ کو کبھی کوئی الزام نہیں دیتا۔ کیونکہ جانتے ہیں کہ آگ کی خاصیت جلانا ہے۔ لیکن اگر کوئی انسان کسی کو بلا وجہ انگلی بھی لگائے تو لوگ اس کو ملامت کریں گے۔ کیونکہ اس میں یہ بھی مقدرت ہے کہ کسی کو ایذاء نہ پہنچائے۔ اسی طرح دیکھو مکان بھی انسان کو سردی سے بچاتا ہے مگر کبھی کسی انسان نے مکان کا شکریہ ادا نہیں کیا۔ اس کے مقابلہ میں کوئی انسان کسی کو ایک کرتا دے دیتا ہے تو اس کا احسان مانتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کو اختیار تھا۔ چاہے دیتا چاہے نہ دیتا تو آگ اگر بچہ کو جلا دے تو بھی کوئی آگ کی مذمت نہیں کرے گا اور انسان اگر انگلی بھی لگائے تو اسے برا بھلا کہیں گے۔ اس کی کیا وجہ ہے یہی کہ آگ کو اختیار نہیں مگر انسان کو اختیار تھا۔ چاہے دکھ دیتا چاہے نہ دیتا۔ اسی طرح پانی کا کام ہے ڈبونا۔ سمندر میں کئی انسان ڈوبتے رہتے ہیں۔ مگر کبھی کوئی سمندر کو ملامت نہیں کرتا۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ قانون ہے۔ اس میں سمندر کو اختیار نہیں۔ پھر سارے انعام اختیار کے ساتھ وابستہ ہیں۔ انسان کو اس لئے بھی اختیار دیا گیا کہ اس کو انعام دیا جائے۔ اور جو انعام کے قابل ہو سکتا ہے وہی سزا کا بھی مستحق ہو سکتا ہے۔ بعض دفعہ بچہ زمین پر گر پڑتا ہے تو زمین کو پیٹتا ہے۔ عورتیں کہتی ہیں۔ آؤ زمین کو پیٹیں اس نے کیوں تمہیں گرایا۔ مگر یہ محض ایک تماشا ہوتا ہے۔ جو بچہ کے بہلانے کے لئے ہوتا ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ انسان کو اختیار اس لئے دیا کہ چاہے بڑھ چڑھ کر انعام لے جائے چاہے سزا کا مستحق ہو جائے۔ کئی مسلمان مرد اور عورتیں کہتی ہیں کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بنانا تھا بنا دیا ہمیں کسی کوشش کی ضرورت نہیں۔ اگر یہ صحیح ہے تو بتلاؤ پھر اب خدا کا کیا حق ہے کہ ہم میں سے کسی کو سزا دے یا انعام۔ دیکھو آگ کا کام خدا نے جلانا اور پانی کا کام ڈبونا رکھا ہے۔ اب اگر کوئی کسی چیز کے جلنے پر آگ کو یا ڈبونے پر پانی کو مارے تو چوہڑی چماری بھی کہے گی یہ پاگل ہے۔ مگر تم میں سے بہت سی عورتیں جو کہتی ہیں اگر ہماری تقدیر میں جہنم ہے تو جہنم میں ڈالے جائیں گے اور اگر بہشت ہے تو بہشت میں جائیں گے کچھ کوشش کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ دیکھو پانی یا آگ کو مارنے والی عورت کو تمام پاگل کہتے ہیں اس لئے کہ آگ یا پانی کا جو کام تھا اس نے وہی کیا۔ پھر خدا اگر انسان کو ایک کام کرنے کے لئے مجبور بنا کر پھر سزا دیتا تو کیا نَعُوْذُ بِاللّٰهِ لوگ اسے پاگل نہ کہتے۔ کیونکہ اس آدمی نے تو وہی کام کیا جو اس کی تقدیر میں تھا پھر چور، ڈاکو، جواری سب انعام کے قابل ہیں کیونکہ انہوں نے وہی کام کیا جو ان کے مقدر میں تھا اور جس کام کے لئے وہ پیدا کئے گئے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ اس کی تردید فرماتا ہے اور کہتا ہے اگر جبر ہوتا تو کافر نہ ہوتے۔ کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو مار مار کے لوگوں سے کہے کہ مجھ کو گالیاں دو یا میرے بچہ کو مارو۔ جب تم میں سے کوئی ایسا نہیں کرتا تو خدا نے جو زبان دی، کان دیئے تو کیا اس لئے کہ مجھ کو اور میرے رسولوں کو گالیاں دو۔ جب دنیا میں کوئی کسی کو اپنے ساتھ برائی کرنے کے لئے مجبور نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ کیوں لوگوں کو برے کاموں کے لئے مجبور کرنے لگا۔ اگر اس نے مجبور ہی کرنا ہوتا تو سب کو نیکی کے لئے مجبور کرتا۔ پس یہ غلط خیال ہے اور خدا اس کو رَد کرتا ہے۔
عورتوں میں یہ مرض زیادہ ہوتا ہے۔ کسی کا بیٹا بیمار ہو جائے تو کہتی ہے تقدیر یہی تھی۔ کوئی اور بات ہو جائے تو تقدیر کے سر تھوپ دیتی ہے۔ میں کہتا ہوں اگر ہر بات تقدیر سے ہی ہوتی ہے اور انسان کا اس میں کچھ دخل نہیں ہوتا تو ایک عورت روٹی کیوں پکاتی ہے تقدیر میں ہو گی تو خود بخود پک جائے گی۔ رات کو لحاف کیوں اوڑھتی ہے اگر تقدیر میں ہو گا تو خود بخود سب کام ہو جائے گا مگر ایسا کوئی نہیں کرتا۔ ایک دفعہ میں لاہور سے قادیان آ رہا تھا اسی گاڑی میں پیر جماعت علی شاہ صاحب لاہور سے سوار ہوئے۔ حضرت صاحب ایک دفعہ سیالکوٹ گئے تو انہوں نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ جو کوئی ان کے وعظ میں جائے یا ان سے ملے وہ کافر ہو گا اور اس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی کیونکہ یہ مسئلہ ہے کہ جب مرد کافر ہو جائے تو اس کی بیوی کو طلاق ہو جاتی ہے۔ ایک دفعہ ایک احمدی ان کے وعظ میں گیا اور ان سے کہا آپ نے میری شکل دیکھ لی ہے۔ میں احمدی ہوں۔ اس لئے آپ اب کافر ہو گئے اور آپ کی بیوی کو طلاق ہو گئی۔ اس پر سب لوگ اس کو مارنے لگ گئے۔ خیر انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں جائیں گے؟ میں نے کہا۔ بٹالہ۔ انہوں نے کہا کیا خاص بٹالہ۔ یا کسی اور جگہ۔ میں نے کہا۔ بٹالہ کے پاس ایک گاؤں ہے وہاں۔ انہوں نے کہا۔ اس گاؤں کا کیا نام ہے۔ میں نے کہا قادیان۔ کہنے لگے۔ وہاں کیوں جاتے ہو۔ میں نے کہا میرا وہاں گھر ہے۔ کہنے لگے کیا تم میرزا صاحب کے رشتہ دار ہو۔ میں نے کہا۔ میں ان کا بیٹا ہوں۔ ان دنوں ان کا کسی احمدی کے ساتھ جھگڑا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ میں اس احمدی سے کہوں کہ مقدمہ چھوڑ دے۔ مگر انہوں نے پہلے غرض نہ بتائی اور کچھ خشک میوہ منگوا کر کہا۔ کھاؤ۔ میں نے کہا مجھ کو نزلہ کی شکایت ہے۔ کہنے لگے۔ جو کچھ تقدیر الٰہی میں ہوتا ہے۔ وہی ہوتا ہے۔ میں نے کہا۔ اگر یہی ہے۔ تو آپ سے بڑی غلطی ہوئی۔ ناحق سفر کی تکلیف برداشت کی اگر تقدیر میں ہوتا۔ تو آپ خود بخود جہاں جانا تھا پہنچ جاتے اس پر خاموش ہو گئے۔ تو تقدیر کے متعلق بالکل غلط خیال سمجھا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ہم کسی کو مؤمن یا کافر نہیں بناتے۔ بلکہ وہ خود ہی شکر گزار بندہ یا کافر بنتا ہے۔ اور ہم نے جب اس کو مقدرت دے دی تو حساب بھی لیتا ہے۔ دیکھو جس نوکر کو مالک اختیار دیتا ہے کہ فلاں کام اپنی مرضی کے مطابق کر، اس سے محاسبہ بھی کرتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ سَلٰسِلَا۠ وَاَغۡلٰلًا وَّسَعِیۡرًا(76:5)۔ جو لوگ انکار کرتے ہیں۔ ان کے لئے زنجیریں اور طوق ہے اور آگ رکھی ہے۔
وہ زنجیر کیا ہے۔ وہ رسوم ہیں جن کا تعلق قوم کے ساتھ ہوتا ہے۔ مثلاً بیٹے کا بیاہ کرنا ہے۔ تو خواہ پاس کچھ نہ ہو قرض لے کے رسوم پوری کرنی ہوتی ہیں۔ یہ زنجیر ہوتی ہے جو کافر کو جکڑے رہتی اور وہ اس سے علیحدہ نہیں ہونے پاتا۔ اس کے مقابلہ میں مؤمن ہے اس کے نکاح پر کچھ خرچ نہیں ہوتا۔ اگر توفیق ہے تو چھوہارے بانٹ دو۔ اگر نہیں تو اس کے لئے بھی جبر نہیں۔ پھر اغلال وہ عادتیں ہیں جن کا اپنی ذات سے تعلق ہے۔ اسلام عادتوں سے بھی روکتا ہے۔ شراب، حقہ، چائے کسی چیز کی بھی عادت نہ ہونی چاہئے۔ انسان عادت کی وجہ سے بھی گناہ کرتا ہے۔ حضرت صاحب کے زمانہ میں حضرت صاحب کے مخالف رشتہ داروں میں سے بعض لوگ حقہ لے
کر بیٹھ جاتے کوئی نیا احمدی جسے حقہ کی عادت ہوتی وہاں چلا جاتا تو خوب گالیاں دیتے۔ چنانچہ ایک احمدی ان کی مجلس میں گیا انہوں نے حقہ آگے رکھ دیا اور حضرت صاحب کو گالیاں دینے لگ گئے۔ اُس سے اس احمدی کو سخت رنج ہوا کہ میں ان کی مجلس میں کیوں آیا۔ انہوں نے جب دیکھا کہ یہ کچھ بولتا نہیں تو پوچھا میاں تم کچھ بولے نہیں۔ احمدی نے کہا۔ بولوں کیا۔ میں اپنے آپ کو ملامت کر رہا ہوں کہ حقہ کی عادت نہ ہوتی تو یہ باتیں نہ سننی پڑتیں۔ آخر اس نے عہد کیا میں آئندہ کبھی حقہ نہ پیوں گا۔ تو عادت انسان کو گناہ کے لئے مجبور کر دیتی ہے۔
پھر سَعِیْر وہ آگ ہوتی ہے جو ان کے اندر لگی ہوتی ہے اور انہیں تسلی نہیں ہونے دیتی۔ دیکھو ایک بت پرست کے سامنے جب ایک مؤمن اپنے خدا کی وحدانیت بیان کرتا ہے۔ تو وہ کس قدر جلتا ہے اور ایک عیسائی کے سامنے جب ایک یہودی کہتا ہے کہ تمہارا خدا وہی ⟨؟⟩ ہے۔ جس کو ہم نے کانٹوں کا تاج پہنایا اور یہ یہ تکلیفیں دیں تو اس کے سینہ میں کس قدر جلن پیدا ہوتی ہے۔ تو کافروں کے دلوں میں ایک آگ ہوتی ہے جو ان کو جلاتی ہے۔ ایک دفعہ ایک یہودی حضرت عمرؓ سے کہنے لگا۔ مجھ کو تمہارے مذہب پر رشک آتا ہے اور میرا سینہ جلتا ہے کہ کوئی بات نہیں جو اس شریعت نے چھوڑی ہو کاش کہ یہ سب باتیں ہمارے مذہب میں ہوتیں۔ تو یہ ایک آگ ہے جو ان کو جلاتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ مؤمن کا حال اس آیت میں بیان فرماتا ہے۔ اِنَّ الۡاَبۡرَارَ یَشۡرَبُوۡنَ مِنۡ کَاۡسٍ کَانَ مِزَاجُہَا کَافُوۡرًا(76:6) یعنی کافروں کے مقابلہ میں خداوند کریم مؤمن کو کافوری پیالہ پلاتا ہے۔ کافور کی خاصیت ٹھنڈی ہے۔ پس جہاں کافر کا سینہ جلتا ہے اس کے مقابلے میں مؤمن کا مزاج کافور ہو جاتا ہے۔ یعنی جہاں کافر جلتا ہے۔ مؤمن خوش ہوتا ہے کہ میرے مذہب جیسا کوئی مذہب نہیں۔ توحید کی تعلیم اور کلام الٰہی اس کے سامنے ہوتا ہے۔ ایک مسلمان جس وقت قرآن پڑھتا ہے کہ وہ لوگ جو خدا پر ایمان لاتے ہیں ان پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے، ان کو الہام ہوتا ہے، تو اس کا دل اس بات پر کس قدر خوش ہوتا ہے کہ میں خدا سے کس قدر قریب ہوں۔ اسلام پر چلنے سے ہی خدا سے تعلق ہوتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں وید کا ماننے والا جب وید پڑھتا ہے تو کس قدر کڑھتا ہے کہ خدا جو وید کے رشیوں سے کلام کرتا تھا اب مجھ سے نہیں کرتا میں کیا اس کا سوتیلا بیٹا ہوں۔ تو مؤمن خوش ہوتا ہے اور کافر جلتا ہے۔
مگر وہ کافوری پیالہ جو مؤمن کو دیا جاتا ہے مشکل سے ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ عَیۡنًا یَّشۡرَبُ بِہَا عِبَادُ اللّٰہِ یُفَجِّرُوۡنَہَا تَفۡجِیۡرًا(76:7) جب رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں لوگ ایمان
لائے تو قتل کئے گئے۔ صحابہ کو بڑی بڑی تکلیفیں دی گئیں۔ حضرت بلال کو گرم ریت پر لٹا کر مارتے اور کہتے کہو لات خدا ہے۔ فلاں بت خدا ہے۔ مگر وہ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ہی کہتے۔ باوجود اسقدر تکلیفوں کے انہوں نے اپنا ایمان نہ چھوڑا۔ تو ایمان لانا کوئی معمولی بات نہیں۔ جنت کے اردگرد جو روکیں ہیں۔ وہ مشکل سے ہٹتی ہیں۔ اور جو لوگ ایمان کی نہر کھود کر لاتے ہیں وہ بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں۔ یہاں جو نہر سے مشابہت دی ہے تو اسی لئے کہ نہر بڑی مشکل سے کھدتی ہے۔ اگر اکیلے کسی کو کھودنی پڑے تو کبھی نہ کھود سکے۔ اب اگر ہماری جماعت کے مرد یا عورتیں خیال کریں کہ ہم کو یونہی ایمان مل جائے اور کوئی قربانی نہ کرنی پڑے تو یہ ناممکن ہے۔ ایمان کے لئے بہت سی قربانیوں کی ضرورت ہے۔ قربانیاں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک تو خدا کی طرف سے ہوتی ہیں۔ اور دوسری بندہ آپ اپنے اوپر عائد کرتا ہے۔ پہلی قربانیاں جو خدا کی طرف سے ہوتی ہیں۔ وہ اس قسم کی ہوتی ہیں مثلاً کسی کا بچہ مر جائے یا کسی کی بیوی مر جائے۔ اس میں بندے کا دخل نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ جو دوسری قربانی ہے اس میں انسان کا دخل ہوتا ہے کہ بھائی بند، بیٹا، بیوی سب مخالف ہیں اور وہ ایمان لاتا ہے اور ان کی پرواہ نہیں کرتا۔ یہ ہے جو ایمان کی نہر کو چیر کر لاتا ہے۔ اسی طرح ایک عورت ہے جس کی سمجھ میں حق آگیا یا کوئی لڑکا لڑکی ہے جس پر حق کھل گیا اور وہ اپنے ایمان پر قائم رہے۔ اور مخالفت کا خیال نہ کرے تو یہی نہر ہے جو کھود کر لاتے ہیں۔ بچپن میں ایمان لانے والوں میں بھائی عبدالرحمن قادیانی ہیں جو پہلے ہندو تھے ان کے والد آکر ان کو لے گئے اور جاکر ایک کمرہ میں بند کر دیا۔ چھ مہینے بند رکھا۔ ایک دن انہیں موقع ملا تو وہ پھر بھاگ کر یہاں آگئے۔ تو ایمان کی نہر حاصل کرنے کے لئے بڑی قربانی کی ضرورت ہے۔ دنیا میں جب کوئی کپڑا، جوتی، روپیہ غرض کوئی چیز مفت نہیں ملتی تو ایمان جیسی نعمت کیسے مفت مل جائے۔ اور نہر کا لفظ ہی بتا رہا ہے کہ یہ بڑا مشکل کام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ مؤمن وہی ہے جو قربانی کرتا ہے۔ اس سے وہ ترقی کرتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ یُوۡفُوۡنَ بِالنَّذۡرِ وَیَخَافُوۡنَ یَوۡمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسۡتَطِیۡرًا(76:8) وہ خدا کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور ڈرتے ہیں اس دن سے کہ انجام کا دن ہوگا۔ انجام کا دن ایک دنیا میں بھی آتا ہے اور ایک آخرت میں آئے گا۔ اول آپ قربانی کرتے ہیں۔ پھر اس سے بڑھ کر دنیا میں خدا کے مظہر بن جاتے ہیں۔ وَیُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّیَتِیۡمًا وَّاَسِیۡرًا(76:9) خدا رزق دیتا ہے وہ بھی لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ حتیٰ کہ آپ محتاج ہوتے ہیں مگر اپنا کھانا غریبوں، مسکینوں اور قیدیوں کو کھلا آتے ہیں۔ پھر اِنَّمَا نُطۡعِمُکُمۡ لِوَجۡہِ اللّٰہِ لَا نُرِیۡدُ مِنۡکُمۡ جَزَآءً وَّلَا شُکُوۡرًا(76:10) وہ کھانا کھلا کر احسان نہیں جتاتے کہ فلاں وقت ہم نے یہ احسان کیا تھا یا دعوت دی تھی بلکہ ان کا احسان اپنے اوپر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ہم کو نیکی کا موقع دیا۔ ان کو کسی کے ساتھ سلوک کرنے میں مزا آتا ہے۔ پس مؤمن جس کے ساتھ سلوک کرتا ہے اس کا احسان سمجھتا ہے کہ اس نے شکر کا موقع دیا۔ عَلٰی حُبِّہٖ کا یہ مطلب ہے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے اللہ ہی کے لئے کرتا ہے۔ شہرت کے لئے نہیں کرتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے کرتا ہے اس کا ایک ہی مقصود ہوتا ہے کہ میرا مولیٰ مجھ سے راضی ہو جائے۔
پھر ان کی احسان کرنے کی ایک اور بھی غرض ہوتی ہے۔ اور وہ یہ کہ اِنَّا نَخَافُ مِنۡ رَّبِّنَا یَوۡمًا عَبُوۡسًا قَمۡطَرِیۡرًا(76:11) اس دن خدا ہمارے کام آئے جو کہ بہت ڈراؤنا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم کو ان خطرات سے بچائے اور ہم پر رحم کرے۔ ایسے لوگوں کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فَوَقٰہُمُ اللّٰہُ شَرَّ ذٰلِکَ الۡیَوۡمِ وَلَقّٰہُمۡ نَضۡرَۃً وَّسُرُوۡرًا(76:12) ایسے ایمان والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ ایسا سلوک کرے گا کہ وہ قیامت کے دن محفوظ رہیں گے اور ان کو اچھا بدلہ دے گا۔ پھر فرماتا ہے۔ وَجَزٰٮہُمۡ بِمَا صَبَرُوۡا جَنَّۃً وَّحَرِیۡرًا(76:13) یہ بدلہ ان کو ان کے ایمان کے بدلے میں ملے گا۔ مُّتَّکِـِٕیۡنَ فِیۡہَا عَلَی الۡاَرَآئِکِ ۚ لَا یَرَوۡنَ فِیۡہَا شَمۡسًا وَّلَا زَمۡہَرِیۡرًا(76:14) وہ سب کے سب بادشاہ ہوں گے۔ وہاں نہ گرمی ہو گی نہ سردی۔ وہ ایک نئی دنیا ہو گی وہاں گرمی بھی نہیں ہو گی یعنی نہ وہاں جوش آئے گا اور نہ ٹھنڈ ہی ہو گی۔ یعنی نہ ہی جوش کم ہو جائے گا ایک ہی رنگ ہو گا۔
دیکھو قرآن کریم کی تعلیم کیا پر حکمت ہے قرآن نے دوزخ کے عذاب میں بتلا دیا کہ وہاں سردی کا بھی عذاب ہو گا اور گرمی کا بھی۔ سرد ملکوں کے لوگوں کو سردی کے عذاب سے ڈرایا ہے اور گرم ملکوں کے لوگوں کو گرمی سے۔ بعض ملک اسقدر برفانی ہیں کہ وہاں کے لوگ برف ہی کے مکان بنا لیتے ہیں۔ وہاں پر اگر کسی کو پانی پینا ہوتا ہے تو برف کو رگڑ رگڑ کر پانی بناتے ہیں۔ وہاں آگ ایک نعمت سمجھی جاتی ہے۔ چونکہ انجیل میں صرف آگ کے عذاب کا ہی ذکر ہے اس لئے جب اس برفانی ملک میں ایک پادری گیا اور وہاں جا کر عیسائیت کی تبلیغ کی اور کہا کہ اگر تم نہ مانو گے تو خدا تم کو آگ میں ڈالے گا تو وہ لوگ یہ سن کر بہت خوش ہوئے کہ اوہو! ہم آگ میں ڈالے جائیں گے۔ کیونکہ آگ ان کے لئے نعمت تھی۔ اس طرح جب پادریوں نے دیکھا کہ یہ آگ سے نہیں ڈرتے تو انہوں نے ایک کمیٹی کی اور کہا کہ آگ کی جگہ برف کا عذاب لکھ دو۔ مگر قرآن شریف میں کسی انسانی دخل کی ضرورت نہیں ہے۔ اس میں برف کا عذاب موجود ہے اس میں تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ پھر فرماتا ہے۔ وَدَانِیَۃً عَلَیۡہِمۡ ظِلٰلُہَا وَذُلِّلَتۡ قُطُوۡفُہَا تَذۡلِیۡلًا(76:15) وہاں سائے جھکے ہوئے ہوں گے اور وہاں ہر قسم کے کھانے ہوں گے۔
(حضور نے اسی طرح دیگر آیات کی تفسیر فرماتے ہوئے اس آیت کے متعلق کہ وَیَطُوۡفُ عَلَیۡہِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ ۚ اِذَا رَاَیۡتَہُمۡ حَسِبۡتَہُمۡ لُؤۡلُؤًا مَّنۡثُوۡرًا(76:20))
فرمایا: اب یہ عورتوں کے متعلق ہے۔ اور عورتیں خوش ہوں گی کہ ان کے آگے جو بچے پھریں گے وہ وہی بچے ہوں گے جو ان کے مر جاتے ہیں۔ وہ خوبصورت موتیوں کے طرح ہوں گے۔ وہ ہمیشہ ایک ہی سے رہیں گے۔ اس دنیا میں تو بچہ بیمار ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ اس کی شکل بگڑ جاتی ہے۔ پھر کوئی بچہ ذہین ہوتا ہے۔ کوئی کند ذہن ہوتا ہے۔ مگر وہاں سب بچے ایک سے ہوں گے۔ گویا موتی بکھرے ہوئے ہوں گے۔
(چونکہ مردوں میں تقریر فرمانے کا حضور کا وقت ہو گیا تھا۔ اس لئے حضور نے بقیہ آیات کی مختصر تفسیر فرما کر ان الفاظ پر تقریر ختم فرمائی کہ)
جب تک تم احمدیت کی تعلیم کو پورا نہیں کرو گی احمدی کہلانے کی مستحق نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تم پوری احمدی بنو تا کہ اگر ایسا وقت آئے جب ہمیں خدا کے دین کے لئے تم سے جدا ہونا پڑے تو تم ہمارے بچوں کی پوری پوری تربیت کر سکو۔ دنیا اس وقت جہالتوں میں پڑی ہوئی ہے تم قرآن کو سمجھو اور خدا کے حکموں پر چلو۔
(الفضل ۲؍ فروری ۱۹۲۶ء)
از سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
(فرمودہ مئی ۱۹۲۶ء)
مبلغ امریکہ حضرت مولوی محمد دین صاحب کی کامیاب مراجعت پر لجنہ اماء اللہ کی طرف سے ان کی خدمت میں ایڈریس پیش کیا گیا۔ اس موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے حسب ذیل تقریر فرمائی:۔
میں اس انتظام دعوت سے پہلے کہہ رہا تھا کہ نہ صرف جس کو مدعو کیا جائے اس کی بیوی کو بھی بلانا چاہئے بلکہ جیسا کہ اسلامی طریق ہے درمیان میں پردہ ڈال کر دوسری طرف مدعو کرنے والی عورتیں بھی بیٹھی ہوں۔ ہمارے ہاں پنجابی دعوت کا یہ طریق ہے کہ مہمان بیٹھا کھاتا ہے اور میزبان ہاتھ پر ہاتھ دھرے اس کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہے مگر اسلامی طریق یہ ہے کہ میزبان بھی کھاتا ہے۔
میں پچھلے دنوں سے جس کی تاریخ یورپ کے سفر سے بعد کی نہیں بلکہ پہلے کی ہے یہ سمجھ رہا تھا اور میں نے اس کا اس مضمون میں ذکر بھی کیا تھا جو یورپ جانے کے وقت لکھا تھا کہ اسلام پر حملہ کرنے والا اہل مغرب کا مذہب نہیں بلکہ ان کا تمدن ہے۔ اس تمدن نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ بعض بری باتیں بھی اچھی اور اچھی باتیں بری ہو گئی ہیں۔ گو ہمارے مذہب نے سب اچھی باتیں بیان کی ہیں۔ مگر چونکہ مسلمانی در کتاب والا معاملہ ہے مسلمانوں کا ان باتوں پر عمل نہیں۔ وہ کتابوں میں بند پڑی ہیں اس لئے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ہم میں پائی جاتی ہیں اور نہ لوگ یہ بات ماننے کے لئے تیار ہیں۔ ورنہ ہماری مثال آریوں کی طرح ہوگی جو ہر ایجاد کے متعلق کہہ دیتے ہیں کہ اس کا ذکر وید میں موجود ہے۔ اگر ہم بھی یورپ والوں سے کہیں کہ اچھی باتیں ہمارے مذہب
میں موجود ہیں تو وہ ہم پر ہنسیں گے جب تک کہ ہم ان باتوں پر عمل کر کے نہ دکھائیں۔ میں نے بتایا تھا کہ یورپین تمدن کی وہ باتیں جو قرآن کریم اور حدیث کے ماتحت نہیں ان کو تو ردّ کر دینا چاہئے لیکن جو قرآن اور حدیث میں موجود ہیں انہیں اختیار کر لینا چاہئے۔ مگر اس طرف توجہ نہ ہوئی اور اس بارے میں اتنی روک مردوں کی طرف سے نہیں ہے جتنی عورتوں کی طرف سے ہے۔ عورتوں میں اتنی دلیری نہیں ہے کہ وہ پرانی رسموں اور رواجوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔ اگرچہ ہم اس وقت پورے طور پر اس بات کا فیصلہ نہ کر سکیں کہ عورتوں کو کس حد تک مردوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہئے مگر یہ تو موٹی بات ہے کہ اسلام نے مردوں عورتوں کا اتحاد ایک حد تک ضروری قرار دیا ہے۔ اسلام نے مرد عورت کا ایک حد تک ملنا منع رکھا ہے مگر ضرورتوں کے موقع پر ایک حد تک ملنا جائز بھی رکھا ہے۔ حدیث میں آتا ہے اگر مرد سوار ہو اور عورت پیدل جا رہی ہو تو عورت کو اپنے پیچھے سوار کر لے۔
جب ایک مرد ایک عورت کو اس طرح سوار کر کے گھر پہنچا سکتا ہے تو قومی اور مذہبی کاموں میں کیوں مرد و عورت مل کر کام نہیں کر سکتے۔ وہ وقت آئے گا اور ضرور آئے گا جب مرد و عورتیں مل کر کام کریں گے۔ معلوم نہیں ہماری زندگی میں آتا ہے یا بعد میں مگر آئے گا ضرور۔ البتہ ڈر ہے تو اس بات کا کہ عورتوں کو اسلام نے جو آزادی دی ہے وہ نہ دینے کی وجہ سے وہ حدود بھی نہ ٹوٹ جائیں جو اسلام نے مقرر کی ہیں۔
ماسٹر محمد دین صاحب نے اپنی تقریر میں ایک نکتہ بیان کیا ہے۔ اور وہ یہ کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ اگلے جہاں کی جنت تو الگ رہی اس دنیا کی جنت بھی ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔ تعلیم و تربیت کا جس قدر اثر بچہ پر ہوتا ہے اتنا اور کسی چیز کا نہیں ہوتا اور یہ ماں کے سپرد ہوتی ہے۔ ہمیں تعلیم و تربیت میں جس قدر مشکلات درپیش ہیں ان میں عورتوں کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔ عورتیں کہتی ہیں ہمیں پیچھے رکھا ہوا ہے ہمیں کوئی کام نہیں دیا جاتا۔ میں کسی پر الزام نہیں لگاتا۔ مگر اس ظلم کی وجہ سے جو متواتر عورتوں پر ہوتا چلا آیا ہے اور وہ گری ہوئی ہیں میں یہ کہنے سے بھی باز نہیں رہ سکتا تھا کہ وہ خود بھی ہمت نہیں کرتیں کہ ہمارا ہاتھ بٹائیں۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ عورتوں کے لئے کوئی باہر کا کام کرنا یا ملازمت کرنا ناجائز ہے مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ عورتوں کے کثیر حصہ کا کام گھر میں ہی ہے۔ یورپ میں جہاں اتنی آزادی اور اتنی تعلیم ہے وہاں بھی نوے فیصدی عورتیں گھروں میں کام کرتی ہیں کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ عورتیں کثرت سے مردوں کی طرح کاروبار میں حصہ لے سکیں جب تک یہ فیصلہ نہ ہو جائے کہ نہ ان کی شادی ہوگی اور نہ بچے جنیں گی۔
پس جب یورپ کی عورتیں انتہائی تعلیم پاکر بھی زیادہ تر گھر ہی میں کام کرتی ہیں تو معلوم ہوا عورتوں کی تعلیم کا جزو اعظم تربیت اولاد اور گھر کا کام ہی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بچوں کے کپڑے سینا اور پہنانا ہی عورتوں کا کام ہے بلکہ بچوں کو تعلیم دینا بھی ان کا فرض ہے۔ اور اس کے لئے ان کا خود تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ بچہ کی مذہبی تعلیم، امور خانہ داری کا انتظام یعنی حساب کتاب رکھنا، صحت کا خیال رکھنا، خوراک کے متعلق ضروری معلومات ہونا، اوقات کی پابندی کا خیال رکھنا، یہ جاننا کہ سونے جاگنے، اندھیرے روشنی وغیرہ کا صحت پر کیا اثر ہوتا ہے کیونکہ عورت نے بچہ کے متعلق ان باتوں کو اُس وقت کرنا ہے جس وقت کے اثرات ساری عمر کی کوششوں سے دور نہیں کئے جاسکتے۔ مگر ہماری عورتیں ابھی ان باتوں کے متعلق کچھ نہیں جانتیں۔ اس کے لئے سب سے پہلی چیز جو ضروری ہے وہ تعلیم یافتہ عورتوں کا میسر آنا ہے۔ اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ پہلے استاد عورتیں میسر آجائیں۔ مردوں کے ذریعہ لڑکیوں کو ایک عرصہ تک تو تعلیم دی جاسکتی ہے زیادہ عمر تک نہیں دی جاسکتی کیونکہ قدرتی طور پر اور رسم و رواج کے لحاظ سے لڑکی جب جوانی کی عمر کو پہنچتی ہے تو اس میں ایک حد تک حیا پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے جسے یورپ میں ضروری نہیں سمجھا جاتا لیکن ہم اسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اب ادھر لڑکی میں اس کا پیدا ہونا ضروری ہوتا ہے اور ادھر مرد اُستاد اسے پڑھانے والا ہو تو اس کے جذبات اور احساسات دب جائیں گے۔ کیونکہ وہ اس عمر کی اُمنگیں اور جذبات کا اظہار نہ کر سکے گی جو عورت اُستاد ہونے پر اس کے سامنے کر سکتی تھی۔ ہمیں لڑکیوں کے لئے ایسے اُستادوں کی ضرورت ہے جو موقع اور محل پر سنجیدگی اور متانت سے بھی کام لیتے ہوں لیکن انہیں ہنسی بھی آتی ہو۔ کھیل کود میں بھی اپنے شاگردوں میں حصہ لے سکیں اور ان میں خوش طبعی پیدا کر سکیں۔ یہ باتیں ہم مردوں کے ذریعہ لڑکیوں میں پیدا نہیں کر سکتے کیونکہ مردوں کے ذریعہ یا تو ان میں وہ باتیں پیدا ہو جائیں گی جنہیں ہم پیدا نہیں کرنا چاہتے اور جن کے پیدا کرنے کی اسلام اجازت نہیں دیتا یا وہ مردہ ہو جائیں گی۔ ان میں زندگی کی روح باقی نہ رہے گی اس لئے ضروری ہے کہ لڑکیوں کے لئے عورتیں اُستاد مہیا کی جائیں۔
جن عورتوں کی پڑھائی کا علیحدہ انتظام کیا گیا ہے وہ دراصل اُستانیاں ہیں نہ کہ طالبات۔ ان میں زیادہ شادی شدہ ہیں اور تھوڑی بن بیاہی ہیں۔ پھر زیادہ وہ ہیں جو پہلے ہی تعلیم یافتہ ہیں اور
تھوڑی ایسی ہیں جو کم علم رکھتی ہیں۔ ان سے ہم اُمید رکھتے ہیں کہ جو اپنے گھروں میں رہنے والی ہوں گی وہ بھی وقت دیں گی اور سکول میں لڑکیوں کو پڑھائیں گی تاکہ لڑکیوں میں تعلیم بڑھے۔
دنیا میں یہ عجیب بات ہے کہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کسی چیز کا منبع وسیع ہوتا ہے مگر علم میں یہ بات ہے کہ منبع چھوٹا ہوتا ہے اور آگے جا کر زیادہ وسعت ہو جاتی ہے۔ اُستاد سے لڑکا زیادہ علم رکھتا ہے جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ شاگرد کو استاد سے ورثہ میں تجربہ اور عقل بھی ملتی ہے۔ اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں بیشک یہ عورتیں ایسی نہ ہوں گی جنہیں ہم مکمل اُستانیاں بنا سکیں مگر ان سے جو تعلیم پائیں گی وہ ان سے اعلیٰ ہوں گی۔ پھر ان سے جو تعلیم پائیں گی وہ ان سے اعلیٰ ہوں گی۔ یہی یورپ میں ہوا اور یہی یہاں بھی ہو سکتا ہے۔ ہم سکول میں بھی مرد مدرّس رکھ کر تعلیم دلا سکتے ہیں مگر اس طرح ایسی کامیابی کی امید نہیں ہو سکتی جیسی اس صورت میں ہے کہ مردوں کے ذریعہ استانیاں تیار کی جائیں اور وہ آگے لڑکیوں کو پڑھائیں تاکہ وہ اپنی شاگردوں سے ہنس کھیل بھی سکیں۔ تربیت تب ہی عمدگی سے ہو سکتی ہے جبکہ استاد شاگرد آپس میں کھیل بھی سکیں، مرد یہ نہیں کر سکتے۔ ہاں اگر یہ استانیاں کام کی ہو جائیں تو یہ لڑکیوں سے مل کر رہ سکیں گی جو لڑکیوں کی استاد بھی ہوں گی اور ہمجولی بھی۔ لڑکیاں ان سے کُھل کر باتیں بھی کر سکیں گی اور ان کے رنگ میں رنگین ہو جائیں گی۔
ہم امید رکھتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو یہ استانیاں تیار ہو کر ہماری جماعت کی تعلیم مکمل ہو سکے گی۔ ہم پر دوسروں کی نسبت بہت زیادہ ذمہ داریاں ہیں۔ دوسرے لوگ یا تو جہالت پسند کرتے ہیں کہ عورتوں کو تعلیم ہی نہ دلائی جائے یا پھر یورپ کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم جہالت کو پسند نہیں کر سکتے کیونکہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں ہر حکمت کی بات مومن کی گم شدہ چیز ہے جہاں پائے لے لے۔۱؎مگر دوسری طرف ہم یورپ کی نقل بھی نہیں کر سکتے اس وجہ سے ہمیں نیا طریق اختیار کرنا ہے۔ نیا اس لئے کہ اب تک جاری نہیں ورنہ اسلام میں تو موجود ہے۔ اب ہم نے جو کوشش شروع کی ہے وہ اگرچہ بہت چھوٹے پیمانہ پر ہے لیکن ہر بات ابتداء میں چھوٹی معلوم ہوتی ہے اور اپنے وقت پر اس کا نتیجہ نکلتا ہے۔ یہی مدرسہ احمدیہ جو اس حد تک ترقی کر گیا ہے اس کے متعلق کئی دفعہ بعض لوگوں نے چاہا کہ اسے توڑ دیا جائے۔ مگر جو توڑنے والے تھے وہ آج خود زبانِ حال سے کہہ رہے ہیں۔ رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ کَانُوۡا مُسۡلِمِیۡنَ(15:3)۲؎کاش! ہم ایسا ہی کرتے۔ غیر مبائعین کی طرف سے آواز آ رہی ہے کہ مولوی نہیں ہیں اس کے لئے کوئی انتظام ہونا چاہئے۔ خواتین کی تعلیم کے متعلق جو کوشش کی گئی ہے وہ ابتدائی حالت میں ہے اور ہم اس کو کافی نہیں سمجھتے لیکن ابتدائی کام اس طرح شروع نہ کریں تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بالکل رہ جاتا ہے۔ اگر تعلیم کا کام اسی طرح جاری رہا تو انشاء اللہ تعالیٰ دو تین سال میں ایسی استانیاں تیار ہو جائیں گی کہ ہم مڈل تک لڑکیوں کا سکول جاری کر سکیں گے۔ پھر مڈل تک تعلیم یافتہ لڑکیوں کو پڑھا کر انٹرنس تک کے لئے استانیاں تیار کر سکیں گی۔ پھر ان سے لے کر اور اعلیٰ تعلیم دلا سکیں گے۔ ابھی ہمیں ایسی استانیوں کی بھی ضرورت ہے جو لڑکیوں کو نرسنگ اور ڈاکٹری کی تعلیم دے سکیں اس کے لئے چودھری غلام محمد صاحب نے اپنی لڑکی کو ڈاکٹری سکول میں داخل کر کے اچھی بنیاد رکھ دی ہے۔ آگے لڑکی کو بھی اس کام کو پورا کرنے کی اللہ تعالیٰ توفیق دے تو ہمیں بنی بنائی لیڈی ڈاکٹر مل جائے گی۔
یہ ابتداء ہے اگر یہ کام جاری رہا اور اگر عورتوں نے ہمت کی تو بہت کچھ کامیابی ہو سکتی ہے اور خدا تعالیٰ بھی ان کی مدد کرے گا۔
یہی ایڈریس جو اس وقت پیش کیا گیا ہے۔ لجنہ کی سیکرٹری نے جو میری بیوی ہیں بہت کوشش کی کہ میں اس کو دیکھ کر اصلاح کر دوں۔ لیکن میں نے کہا میں ایک لفظ کی بھی اس میں کمی بیشی نہ کروں گا۔ میں نے کہا تم سمجھتی ہو اگر تمہارے لکھے ہوئے ایڈریس میں کوئی غلطی ہوئی تو لوگ تمہیں جاہل کہیں گے مگر مرد بھی غلطیاں کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں پھر تمہیں کیا خوف ہے۔ وہ ناراض بھی ہوئیں مگر میں نے ان کے مضمون میں دخل نہ دیا۔ میرا مطلب یہ تھا کہ اس طرح امداد دینا عورتوں میں بزدلی پیدا کرنا ہے۔ عورتیں تبھی کام کر سکتی ہیں جب وہ جرأت اور دلیری سے کام لیں۔ مجھے سب سے بڑی تعلیم جو حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے دی وہ یہی تھی کہ جب میں پڑھتے ہوئے کوئی سوال کرتا تو آپ فرماتے میاں آگے چلو اس سوال کے متعلق گھر جا کر خود سوچنا۔ گویا آپ مجھے کوئی سوال نہیں کرنے دیتے تھے۔ حافظ روشن علی صاحب کی عادت تھی کہ سوال کیا کرتے تھے اور انہیں جواب بھی دیتے تھے مگر مجھے جواب نہ دیتے۔ اور بعض اوقات تو میرے سوال کرنے پر حافظ صاحب پر ناراض بھی ہوتے کہ تم نے اسے بھی سوال کرنے کی عادت ڈال دی ہے۔ عورتیں کہتی ہیں تم ہمیں تعلیم نہیں دیتے اس لئے ہم علم میں پیچھے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں ہمیں کس نے تعلیم دی۔ خدا تعالیٰ نے علم اکٹھا کر کے مردوں کے پاس نہیں بھیج دیا تھا کہ مردوں نے سارے کا سارا خود لے لیا اور عورتوں کو اس میں سے حصہ نہ دیا۔ مردوں نے خود کوشش کر کے سیکھا انہیں آگیا۔ تم بھی کوشش کرو اور سیکھو۔ اور اصل بات تو یہ ہے جس قدر مردوں کو علم
سیکھنے میں بیرونی مدد مل سکتی تھی اس سے زیادہ عورتوں کو مل سکتی ہے کیونکہ مرد انہیں سکھانے کے لئے تیار ہیں مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ عورتیں جرات سے کام لیں۔ مضمون لکھنے تقریر کرنے کی کوشش کریں۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ لوگ ان کے مضمون پڑھ کر یا تقریر سن کر ان کی غلطیوں پر ہنسیں گے مگر ایسے چند ہی لوگ ہوں گے۔ زیادہ تر وہی ہوں گے جو ان کی جدوجہد کو دیکھ کر محسوس کریں گے کہ وہ قابل عزت ہیں۔ یہ بہترین نصیحت ہے جو میں ممبراتِ لجنہ کو کر سکتا ہوں۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہتا ہوں کہ وہ ممبر بڑھانے کی کوشش کریں۔ لجنہ نے ابھی تک اس کے متعلق کچھ نہیں کیا۔ یہی ضروری نہیں کہ جو پڑھی لکھی عورتیں ہوں انہی کو ممبر بنایا جائے بلکہ جو سنجیدگی سے بات کر سکتی اور سن سکتی ہیں خواہ وہ ایک لفظ بھی نہ جانتی ہوں ان کو بھی ممبر بنایا جائے۔ اعلیٰ کام ہمیشہ تعاون سے ہوتے ہیں۔ پس دوسری عورتوں کو بھی لجنہ میں شامل کرنا چاہئے۔ آج اگر لجنہ کی ممبرات پچاس ساٹھ عورتیں ہوتیں تو ان پر بھی کئی قسم کے نیک اثرات ہوتے۔
اب چونکہ مغرب کی اذان ہو گئی ہے اور میرا گلا بیٹھا ہوا ہے اس لئے میں اس دعا پر تقریر ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری جماعت کے اس حصہ کو بھی ترقی کی توفیق عطا فرمائے۔ اور اس پر اپنا فضل نازل کرے جو مستورات کا حصہ ہے۔ آمین
(الفضل ۱۵؍مئی ۱۹۲۶ء)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ؕ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔ ھُوَ النَّاصِرُ
(رقم فرمودہ ۱۹۲۶ء)
ایک کتاب مُسَمّٰی بِہِ هَفَوَاتُ الْمُسْلِمِیْنَلے فِیْ تَفْضِیْحِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ وَ تَقْبِیْحِ اُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ كُتُبِ الْمُؤَرِّخِیْنَ وَالْمُفَسِّرِیْنَ وَالْمُحَدِّثِیْنَ حال ہی میں ایک صاحب کی طرف سے جن کا نام مرزا احمد سلطان ہے لکھنؤ کے مطبع نور المطابع سے شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کے مصنف کا منشاء اس دل آزار اور سبّ و شتم سے پُر کتاب کے شائع کرنے سے ان کے اپنے الفاظ میں یہ ہے کہ:
”مذہب اہل سنت کی کوئی کتاب ایسی نہیں کہ جس میں خدا و انبیاء و رُسل کی تفضیح نہ ہو اور سب سے زیادہ تفضیح حضور سید المرسلین و امہات المؤمنین کی کتب اسلامی میں ہے لیکن ان جملہ تفضیحات میں حضور سید المرسلین و امہات المؤمنین کی تفضیحات و تقبیحات نہائت روح فرسا اور بیخ کن اسلام ہیں اس لئے ان دو قسموں کی احادیث کے تھوڑے تھوڑے نمونے اس غرض سے پیش کئے جاتے ہیں کہ ہمارے غیور مسلمان ان احادیث واہیہ و روایات کاذبہ کو کتب اسلامی سے خارج فرما کر خدا اور رسول کی خوشنودی کا پروانہ حاصل کریں۔ چونکہ وہ موضوعہ عبارات بزرگانِ دین و معتبرانِ اسلام کے نام نامی سے احادیث مشہور کر دی گئی ہیں اس لئے ہفواتِ امام بخاری اور بالخصوص خاتمہ کتاب ھٰذا سے ثابت کر دیا گیا ہے کہ ایسی جملہ احادیث دشمنانِ رسول و معاندانِ امہات المؤمنین کے تحائف ہیں جن کو نا محقق محدثین نے
منقولات اسلاف کے نام نامی سے دھوکا کھا کر اپنی اپنی جامع و مسانید و صحاح و سنن و معاجم میں درج کر لیا ہے پس ان کے اِخراج و اِحکاک و اِحراق کرنے میں اجرِ عظیم اور ثوابِ فخیم ہے“۔ ہفوات صفحہ ۲۔
اس تحریر اور خصوصاً طرزِ بیان سے معلوم ہو سکتا ہے کہ مصنفِ ہفوات کا منشاء اس کتاب کی تصنیف سے حق جوئی اور صداقت طلبی نہیں ہے بلکہ پردہ پردہ میں ائمہ اسلام اور بزرگانِ دین کو گالیاں دینا ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس تصنیف کے اصل مخاطب اہل حدیث صاحبان ہیں اور اگر وہی مسلک ہم اختیار کرتے جو وہ لوگ ہمارے متعلق اختیار کیا کرتے ہیں تو شائد ہمارا طریق بھی یہ ہوتا کہ ہم اس جنگ کا لطف دیکھتے اور ایک دوسرے کی فضیحت اور تحقیر کو خاموشی سے ملاحظہ کرتے لیکن چونکہ ہمارا رویہ تقویٰ پر مبنی ہے اور اسلام کی محافظت اور اس کے خزائن کی نگرانی کا کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے اس لئے میری غیرت نے برداشت نہ کیا کہ یہ کتاب بلا جواب کے رہے اور اسلام کے چھپے دشمن اسلام کے ظاہری دشمنوں کے ساتھ مل کر اس کے اندر رخنہ اندازی کرنے کا کام بلا روک ٹوک کرتے چلے جائیں۔
کسی مذہب کی خوبی اس کے ثمرات سے پہچانی جاتی ہے حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ ”ہر ایک اچھا درخت اچھا پھل لاتا ہے اور بُرا درخت بُرا پھل لاتا ہے۔ اچھا درخت بُرا پھل نہیں لا سکتا نہ بُرا درخت اچھا پھل لا سکتا ہے۔ جو درخت اچھا پھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے پس ان کے پھلوں سے تم انہیں پہچان لو گے“۔لے
اگر ایک شخص دنیا کی اصلاح اور اس کے درست کرنے لئے مامور ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس کی سب کوششیں اکارت جاتی ہیں اور وہ ایک ایسی جماعت چھوڑ جاتا ہے جو بے دین اور منافق اور خدا سے دور ہوتی ہے تو یقیناً اس کا دعویٰ باطل ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص کو اللہ تعالیٰ ایک کام کے لئے بھیجے اور وہ اس کام میں ناکام ہو اس کی تربیت یافتہ اور صحبت سے مستفیض ہونے والی جماعت کا بیشتر حصہ اس کے اثر سے متاثر ہونا چاہئے اور اس کی تعلیم کا حامل اور عامل ہونا چاہئے ورنہ اس کی آمد فضول اور اس کی بعثت عبث ہو جاتی ہے۔ اسی طرح یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک نیک اور پاک جماعت کی تربیت کے ماتحت ایک ایسی جماعت پیدا ہو جائے جو بلا تدریج شرارت اور فتنہ کا مجسم نمونہ بن جائے۔ ہمیشہ خرابی آہستگی سے پیدا ہوتی ہے جس قدر
جماعتیں دنیا میں خراب ہوئی ہیں تدریجاً ہی خراب ہوئی ہیں اور ایک نسل کے بعد دوسری نسل کمزور ہوتے ہوتے آخر اسلاف کے اثر مٹ گئے ہیں۔
پس جو شخص یہ بتانا چاہتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور ان کے بعد خدمتِ اسلام کرنے والے لوگ درحقیقت منافقوں کی ایک جماعت تھی اور اسلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دم تک تھا یا آپ کے بعد آپ کے چند رشتہ داروں کے دلوں میں اس کا اثر محدود ہو گیا وہ یا تو قانونِ قدرت اور انبیاء کی شان سے بالکل ناواقف ہے یا پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پوشیدہ دشمن ہے کہ آپ کو ناکام اور نامراد ثابت کرنا چاہتا ہے اور اسلام کو ایک بے ثمر درخت اور بے اثر تعلیم بتا کر دشمنوں کو خوش کرنا اور اسلام کی وقعت کو گرانا چاہتا ہے۔
دنیائے اسلام کا بیشتر حصہ ان احادیث پر اپنی بہت سی فقہ اور تفصیلاتِ تعلیم کا انحصار رکھتا ہے اور گو اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر احادیث کی کتب نہ ہوتیں تو اسلام کا کوئی حصہ تو مخفی نہ رہتا لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر یہ کتب نہ ہوتیں تو اب جس طرح ایک تدبّر کرنے والے انسان کے لئے اپنے آقا کے کلام میں اپنے تدبّر کی تائید دیکھ کر ایک خوشی کا سامان پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنے آپ کو عالمِ خیال میں اپنے محبوب کی مجلسِ ارشاد میں ہدایت کے موتی چنتے ہوئے پاتا ہے وہ بات نہ رہتی۔ اسی طرح تاریخِ اسلام کا ایک بیشتر حصہ بھی جو مُردہ روحوں کو تازہ کرنے والا اور صدیوں کے گزرنے پر بھی استاد اور شاگرد اور آقا اور غلام اور عکس اور ظل میں شدید اتصال پیدا کرنے کا موجب ہے معدوم ہو جاتا۔ غرض تکمیلِ دین کے لئے گو احادیث کی ضرورت نہیں لیکن فقہ اور قیاس کی رہنمائی کرنے اور اطمینانِ قلب اور زیادتِ تعلق کے لئے وہ ایک بیش بہا ذریعہ ہیں اور سنت کے لئے بھی بطور گواہ ہیں کیونکہ گو سنت حدیث کی محتاج نہیں لاکھوں کروڑوں آدمیوں کا عمل اس پر شاہد ہے لیکن حدیث یہ گواہی تو ضرور دیتی ہے کہ سنت کا تواتر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا بھی ہے یا کوئی عمل اور طریق بعد کے لوگوں کا اختراع ہے مثلاً اس وقت کروڑوں مسلمان بدعات میں مبتلا ہیں اور وہ اپنے زعم باطل میں یہی سمجھ رہے ہیں کہ یہ کلامِ اسلام کا جزو ہیں اور ہمیشہ سے ہوتے چلے آئے ہیں حدیث ہمیں اس امر میں مدد دیتی ہے کہ یہ خیالات بعد میں پیدا ہوئے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک ان کا پتا کھوج الگ رہا اس زمانہ میں بھی ان رسوم کا مسلمانوں میں کچھ پتہ نہ تھا جب احادیث جمع کی جا رہی تھیں اور صاحبِ بصیرت کے لئے وہ موجبِ ہدایت ہو جاتی ہے جیسے اہلِ شیعہ میں تعزیوں کی بد رسم ہے کہ خود بڑے بڑے ائمہ اس رسم کرنا پسند کرتے ہیں ان کی ہدایت کا موجب وہ روایات ہی ہوتی ہیں جو احادیث کے نام سے مشہور ہیں اور انہیں سے معلوم کرتے ہیں کہ اس کا کام کا ثبوت ائمہ اہل بیت کے عمل سے نہیں ملتا اگر وہ روایات نہ ہوتیں تو وہ کیونکر سمجھتے کہ یہ کام حضرت امام زین العابدین کے زمانہ سے چلا آتا ہے یا بعد میں کسی تماش بین طبیعت نے ایجاد کر کے اپنے ہم مذاق لوگوں کی ہمدردی کو حاصل کر کے اس کا رواج عام کر دیا ہے۔
علم حدیث کا ایک اور فائدہ بھی ہے کہ یہ سنت کے متعلق ہمیں یہ علم بھی دیتا ہے کہ کونسی سنت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ مرغوب تھی۔ بے شک نسلاً بعد نسل مسلمانوں کا طریق عمل اس امر کو تو ثابت کر سکتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کو کس طرح کیا یا کس کس طرح کیا لیکن یہ بات تواتر اور عمل سے نہیں معلوم ہو سکتی تھی کہ کئی طریقوں پر جو کام کیا گیا ہے ان میں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زیادہ پسندیدہ کون سا طریقہ تھا یا کس طریق پر آپ خود اکثر عمل فرماتے تھے ایک سالک راہ کے لئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق کے لئے یہ علم نہایت ہی دل کو تقویت دینے والا اور معلومات کے ذخیرہ کو بڑھانے والا ہے۔
علم حدیث کا ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے قرآن کریم کے وہ بہت سے معارف جسے ایک عام انسان خود نہیں معلوم کر سکتا تھا بلکہ اعلیٰ درجہ کی روحانیت کے حصول کے بغیر ان پر اطلاع ہی نہیں ہو سکتی تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ظاہر کر دیئے گئے ہیں اور ہر ایک شخص ان سے فائدہ اٹھا کر قرآن پر تدبر کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے مثلاً قرآن کریم میں دوزخ کا عذاب ابدی قرار دیا گیا ہے مگر اسے غیر متناہی نہیں قرار دیا گیا لیکن عام طور پر لوگ اس امر کو نہیں سمجھ سکے اور انہوں نے قرآن کریم کی آیت وَرَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ(7:157) ؎۳ کی تہ کو نہیں پایا۔ اور نہ اُمُّهٗ هَاوِيَةٌ ؎۴ کی آیت پر غور کیا کہ کیا کوئی شخص ماں کے پیٹ میں ہمیشہ رہتا ہے اور نہ یہ سوچا کہ جنت کے انعامات کی نسبت کیوں باوجود ابد کے الفاظ استعمال ہونے کے غَیۡرَ مَجۡذُوۡذٍ(11:109) ؎۵ (نہ کٹنے والے) اور غَیۡرَ مَمۡنُوۡنٍ(68:4) ؎۶ (نہ کٹنے والے) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور کیوں دوزخ کی نسبت یہ الفاظ استعمال نہیں ہوئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لَيَاْ تِيَنَّ عَلَىٰ جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَيْسَ فِيْهَا اَحَدٌ ؎۷ فرما کر اس نکتہ معرفت کو جو برتر خلق کی جان اور معرفت کی روح ہے ہر ایک شخص تک پہنچا دیا اب جو شخص ضد اور تعصب سے خالی ہو اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔
اسی طرح مثلاً قرآن کریم میں مسیح علیہ السلام کے ایک مثیل کی خبر سورۃ تحریم میں بایں الفاظ دی گئی تھی کہ وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا امۡرَاَتَ فِرۡعَوۡنَ ۘ اِذۡ قَالَتۡ رَبِّ ابۡنِ لِیۡ عِنۡدَکَ بَیۡتًا فِی الۡجَنَّۃِ وَنَجِّنِیۡ مِنۡ فِرۡعَوۡنَ وَعَمَلِہٖ وَنَجِّنِیۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ وَمَرۡیَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِیۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَہَا فَنَفَخۡنَا فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِنَا وَصَدَّقَتۡ بِکَلِمٰتِ رَبِّہَا وَکُتُبِہٖ وَکَانَتۡ مِنَ الۡقٰنِتِیۡنَ(66:12-13)۵ یعنی مسلمانوں کی دو اقسام ہیں ایک تو وہ جو نیک تو ہوتے ہیں مگر کبھی بدی سے مغلوب بھی ہو جاتے ہیں اور ایک وہ جو بکلی پاک ہوتے ہیں مگر اس سے اوپر ایک ترقی کا درجہ بیان فرمایا ہے کہ یہ پاک لوگ جب اللہ تعالیٰ کی وحی سے مشرف ہوتے ہیں تو مری صفت سے ترقی کر کے اپنے اندر مردوں والی طاقت پیدا کر لیتے ہیں اور وہ درجہ مسیحیت کا درجہ ہے اور اس میں ایک مثیل مسیح کی خبر دی گئی ہے اسی طرح سورۃ زخرف کے چھٹے رکوع میں بیان فرمایا ہے وَلَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوۡمُکَ مِنۡہُ یَصِدُّوۡنَ(43:58)۶ جب ابن مریم کو بطور مثال کے بیان کیا جاتا ہے تو تیری قوم اس پر تالیاں پیٹتی ہے سوائے اس کے کہ ایک مسیح کی آمد کی خبر دی گئی ہے اور کبھی بھی مسیح علیہ السلام کو قرآن کریم یا حدیث میں بطور مثال نہیں پیش کیا گیا پس اس میں بھی ایک مسیح کے رنگ میں رنگین شخص کی آمد کی خبر دی گئی تھی مگر اس نکتہ کو وہی سمجھ سکتا تھا جو یا تو معرفت میں ترقی یافتہ ہو یا پھر خود اس زمانہ کو پالے جس کے متعلق یہ اخبار تھیں پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی ہدایت کے لئے ان الفاظ میں لوگوں کو خبر دے دی کہ آئندہ زمانہ میں مسیح کا نزول ہونے والا ہے اگر آپ نہ بتاتے تو عوام الناس اس موعود کی انتظار ہرگز نہ کرتے اور اس کے قبول کرنے کی طرف انہیں کوئی توجہ نہ ہوتی۔ غرض احادیث قرآن کریم کے دقیق مسائل کی وہ تفسیر بھی بیان کرتی ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے اگر کوئی شخص یہ کہے کہ کیوں خود قرآن کریم نے اس مضمون کو اس طرز بیان نہ کر دیا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض قلت تدبر کا نتیجہ ہے کیونکہ اگر اس اعتراض کی روح کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو تفاوت مدارج اور حقیقت تدبر بالکل باطل ہو جائے کئی لوگ اس قدر علم بھی نہیں رکھتے کہ ان معمولی باتوں کو سمجھ سکیں جن کو علوم ظاہری رکھنے والا آدمی بھی ادنیٰ تدبر سے سے سمجھ سکتا ہے لیکن جب وہ شخص ان اشخاص کو تفصیلاً سمجھاتا ہے تو وہ سمجھ لیتے ہیں تو کیا کہہ سکتے ہیں کہ کیوں اللہ تعالیٰ نے انہیں الفاظ میں قرآن کریم کو نہ اتارا جن میں صافی یا رازی نے اس مطلب کو ادا کیا ہے تا کہ سب لوگ سمجھ سکتے۔ بے شک دوسرے انسانوں کے سمجھانے سے بعض مطالب تو حل ہو جاتے ہیں لیکن اس قدر وسعت مطالب میں نہیں رہتی جو قرآن کے الفاظ میں پائی جاتی ہے۔
غرض یہ کہ احادیث کے مجموعہ سے اسلام کی ترقی میں اور روحانیت کی زیادتی میں بہت مدد ملی ہے اور اس کے فوائد بہت سے ہیں جن میں سے چند اوپر بیان کئے گئے ہیں اور ان کے فوائد کا انکار سوائے جاہل یا متعصب انسان کے اور کوئی شخص نہیں کر سکتا۔ اور جن لوگوں نے ان کو ضبط اور جمع کیا ہے وہ ہر بہی خواہ اسلام کے شکریہ اور دعا کے مستحق ہیں جَزَاهُمُ اللّٰهُ عَنَّا وَ عَنْ جَمِیْعِ الْمُسْلِمِیْنَ۔
احادیث کے متعلق یہ امر سمجھ لینا ضروری ہے کہ وہ انسانی کوشش کا نتیجہ ہیں جو صحیح حدیث ہے وہ خدا کے رسول کا قول ہے اور جو غلط ہے اس کی غلطی انسانی علم کی کمی کے سبب سے ہے نہ حدیث کے جمع کرنے والوں نے اپنی کوششوں کو غلطی سے پاک قرار دیا ہے اور نہ وہ غلطی سے پاک کبھی قرار دی گئی ہیں پس اسی حیثیت سے ان پر تنقید کرنی چاہئے کون سا کام انسان کا ہے جس میں غلطی نہیں ہوئی۔ پہلے زمانہ کے علوم کے بعض حصوں کو آج کی تحقیق نے باطل ثابت کر دیا ہے مگر اس سے ان علوم کے مدوّن کرنے والوں کی ذات پر کوئی حرف نہیں آتا۔ موجودہ طب خواہ یونانی ہو خواہ انگریزی اس طب سے ہزاروں گنے بڑھ کر ہے جو آج سے پہلے دنیا میں مروّج تھی اور آئندہ زمانہ کی ترقیا ت موجودہ زمانہ کی طب کو بھی پیچھے چھوڑ جائیں گی مگر باوجود اس کے ان لوگوں کے احسان اور ان کی شان میں ہرگز شبہ نہیں کیا جائے گا جنہوں نے آج سے دو ہزار سال پہلے طب کو مدوّن کیا۔ جالینوس۱؎ کی سینکڑوں غلطیاں ثابت ہو جائیں پھر بھی وہ جالینوس کا جالینوس ہی رہے گا اور ہر علم دوست انسان اس کے احسان اور اس کے علم کی قدر کرے گا کیونکہ سوال یہ نہیں ہے کہ جالینوس کیا جانتا تھا بلکہ سوال یہ ہے کہ جالینوس نے علم میں کس قدر زیادتی کی اور آئندہ علوم کی ترقی میں کس قدر مدد کی۔ اگر اس کی سو بات غلط ثابت ہو جائے تو ہو جائے مگر اس میں کیا شبہ ہے کہ اس نے بعض باتیں ایسی دریافت کیں کہ وہ آئندہ علوم کی ترقی کے لئے بنیاد ہو گئیں۔ پچھلی تحقیق بے شک اس کی تحقیق سے بڑھ کر ہے مگر اس کی تحقیق نہ ہوتی تو یہ بعد کی تحقیق بھی نہ ہوتی۔ سقراط۲؎ اپنے علم الاخلاق کے سبب اور افلاطون۳؎ اپنے فلسفہ کے سبب سے ہمیشہ یاد رکھے جاویں گے گو علم الاخلاق اور فلسفہ کس قدر ہی ترقی کیوں نہ کر جائیں اور نئی تحقیق ان کی تحقیقاتوں میں ہزاروں غلطیاں کیوں نہ ثابت کر دے کسی انسان پرستی کے سبب سے نہیں بلکہ اس سبب سے کہ ان کا دماغ دوسروں کے لئے تحریک کا موجب بنا اور انہوں نے ایک ایسی بنیاد رکھی جس پر اور عمارتیں تیار ہوئیں۔ ایک تاریخی کتاب کا مصنف جو سال ہا سال کی عرق ریزی کے بعد ان واقعات کو جو پراگندہ طور پر ہزاروں دماغوں میں مخفی تھے یکجا اور ترتیب وار جمع کر کے ہر انسان کی پہنچ میں لے آتا ہے محض اس وجہ سے کہ اس کی تحقیق میں بعض غلطیاں رہ گئی ہیں اس شخص کی نسبت حقیر نہیں قرار دیا جاسکتا جس نے واقعات نہیں جمع کئے بلکہ مصنف کی کتاب کے کسی ایک واقع میں غلطی نکال دی ہے کیونکہ مصنف نے اگر بشریت کے ماتحت کوئی غلطی کر دی ہے تو اس نے ہزاروں جدید باتیں بھی تو ہمیں بتائی ہیں جو ہمیں پہلے معلوم نہ تھیں پھر کیا اس کی اس محنت کو ہم نظر انداز کر دیں گے اور اس کی غلطی کو جو محض بشریت سے واقعہ ہو گئی ہے اور جس قسم کی غلطیاں اگر ہم اس کام کو کرتے جو اس نے کیا ہے اور اس زمانہ میں کرتے جس میں اس نے وہ کام کیا ہے خود ہم سے نہ صرف یہ کہ واقعہ ہوتیں بلکہ شائد اس سے کئی گنے زیادہ واقعہ ہو جاتیں اس قدر بڑھا چڑھا کر بیان کریں گے کہ اس کی ساری محنت پر پانی پھیر دیں گے یقیناً اگر ہم شرافت طبع کا کوئی حصہ اپنے اندر رکھتے ہیں تو ایسا ہرگز نہیں کریں گے۔
اُسی وقت کسی کے کام پر اس کو ملامت کی جاتی ہے جب کہ اس کا کام بجائے مفید معلومات کا موجب ہونے کے، بجائے ترقی کی طرف لوگوں کا قدم اٹھانے کے لوگوں کے تباہ ہو جانے کا موجب ہوا ہو اور اُسی وقت ہم کسی کی غلطی پر لعنت و ملامت کرنے کے حق دار ہوتے ہیں جب کہ اس نے جان بوجھ کر لوگوں کو دھوکا دینے کی کوشش کی ہو یا ایک ایسی غلطی میں لوگوں کو ڈالا ہو جو اس زمانہ کی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے معمولی کوشش اور سعی سے دور ہو سکتی تھی یا جب کہ وہ کسی ایسے امر کو جس میں غلطی کا احتمال ہو سکتا تھا اپنے زیر اثر لوگوں کے سامنے یہ کہہ کر پیش کرتا ہے کہ اس میں غلطی کا احتمال ہی بالکل ناممکن ہے اور یہ ایسا ہی غلطی سے پاک ہے جیسے کہ الہام الٰہی سے بتائی ہوئی تعلیم۔ ایسے شخص پر اس لئے ملامت کی جاتی ہے کہ وہ لوگوں کو علم سے محروم کرتا ہے لیکن محدثین نے ایسی کونسی بات کی ہے جس پر ان کو اس قدر گالیاں دی جائیں۔ کیا ان لوگوں کی محنت سے ہزاروں قسم کی بدعات کا قلع قمع نہیں ہوا؟ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقی وعظوں کا ایک ذخیرہ انہوں نے جمع نہیں کر دیا؟ کیا سنت کی حفاظت کا کام انہوں نے نہیں کیا؟ کیا علومِ قرآنیہ کی ترویج اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فہم قرآن کی اشاعت میں انہوں نے مدد نہیں دی؟ کیا ایک اعلیٰ درجہ کی اسلامی تاریخ جس میں عام تاریخی تحقیقات سے بہت زیادہ محنت کے ساتھ حالات جمع کئے گئے ہیں اور جس میں تاریخ سے بڑھ کر یہ جدّت ہے کہ بجائے اپنے الفاظ کے خود راوی کے الفاظ یا متکلم کے الفاظ کو بیان کرنے کی حیرت انگیز حد تک کامیاب کوشش کی گئی ہے انہوں نے تیار نہیں کر دی؟ پھر اس بے نظیر کوشش کے صلہ میں کیا ان کو وہی انعام ملنا چاہئے جو مصنف کتاب نے ان کو دینا چاہا ہے۔ اور جس عطیہ پر صداقت اور احسان شناسی بآواز بلند ”عطائے تُوبلقائے تُو“ کے مقولہ سے اسے مخاطب کر رہی ہیں۔
وہ کونسا علم تھا جسے علمِ حدیث کے رواج سے نقصان پہنچا، یا وہ کونسی تحقیق تھی جو اس علم کی ایجاد کے بعد رُک گئی۔ اگر اس علم سے کوئی نقصان لوگوں کو پہنچا ہے تو اور کونسا علم ہے جس کا غلط استعمال لوگ نہیں کر لیتے۔ اگر علمِ حدیث کو بعض لوگوں نے تدبر فی القرآن میں روک بنا لیا ہے تو بعض دوسروں نے تدبر فی القرآن کو فہم رسول پر اپنے فہموں کو مقدم کرنے کا مترادف بنا دیا ہے۔ پس لوگوں کے غلط استعمال سے ان ہزاروں فوائد پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا جو اس کے علم کے ذریعہ سے حاصل کئے جا سکتے ہیں اور جو فوائد کہ اہلِ علم لوگوں نے ہمیشہ حاصل کئے ہیں اور جن کو وہ حاصل کر رہے ہیں۔
باوجود موضوعات کے ایک انبار کے صحیح روایات کا ایک ایسا مجموعہ موجود ہو گیا ہے جس میں ہزاروں دُرّ بے بہا ملتے ہیں بے شک ان میں کانٹے بھی ہیں لیکن کانٹوں کی موجودگی سے گلاب کے پھول کی قدر میں کمی نہیں آجاتی۔ کون کہتا ہے کہ تم کانٹے اپنے جسم میں چبھو لو، باغبان نے گلاب کا درخت لگایا ہے اس میں کانٹے ضرور لگیں گے تم اس میں سے پھول چنو اور ان کو استعمال کرو۔ روایتیں جمع کرنے والوں نے روایات جمع کر دی ہیں ان کی تحقیقات میں تین وجوہ سے صداقت سے دور روایات شامل ہو سکتی ہیں۔ (۱) یا تو اس وجہ سے کہ ان کی تحقیقات ناقص رہ گئی اور ایک جھوٹا سچا بن کر ان کو کوئی بات بتا گیا۔ (۲) یا اس طرح کہ انہوں نے بھی دیانتداری سے کام لیا اور دوسرے نے بھی لیکن بشریت کے اثر سے غلط فہمی کے ماتحت کوئی بات اس طرح بیان کی گئی جس طرح پہلے راوی نے بیان نہ کی تھی یا جس طرح اصل واقعہ نہ ہوا تھا۔ (۳) یا یہ کہ انہوں نے اس خیال سے ان روایتوں کو نقل کر دیا جو ان کے نزدیک بھی کمزور تھیں تا دونوں قسم کے خیالات کو پہنچا دیں تاکہ لوگوں میں تحقیق اور تدقیق کا ملکہ پیدا ہو اور تاکہ وہ لوگوں کے دلوں پر اپنے اپنے خیالات کے جبریہ عکس ڈالنے کے مرتکب نہ ہوں۔ اول الذکر سے پوری طرح بچ جانا تو انسانی طاقت سے بالکل بالا ہے اور آخر الذکر سے اگر بعض نقصانات بھی پہنچ جاتے ہیں تو اس کے بعض عظیم الشان فوائد سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن کریم میں جن منافقوں کی خبر دی جاتی ہے ان کی شرارتوں کا نقشہ ہمارے دلوں پر کب جم سکتا تھا اگر ان کی مشہور کردہ روایات کا ایک سلسلہ ہم تک نہ پہنچ جاتا۔ ان کی روایتوں کا بقیہ بھی ہمیں الفاظِ قرآنیہ کی حقیقت اور اس رحم اور صبر کا پتہ دیتا ہے جس سے خدا اور رسول نے منافقوں کے متعلق کام لیا۔
غرض بعض روایات کی غلطی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ کام ہی عبث تھا اور نہ محدثین کی خدمتِ اسلام میں کوئی شبہ لاحق ہوتا ہے اور نہ ان کی شان میں کوئی کمی آتی ہے انہوں نے فوق العادت محنت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کے نقشہ کو ہمارے لئے محفوظ کر دیا ہے اور اگر ہم میں سے کوئی ان کی بشری غلطیوں سے ٹھوکر کھاتا ہے تو یہ اس کی بدقسمتی ہے اگر وہ اس قسم کی غلطیوں سے ڈر کر اس کام کو چھوڑ دیتے تو یقیناً اللہ تعالیٰ کے حضور میں مجرم ہوتے اور ان سے پوچھا جاتا کہ کیوں انہوں نے ایک مفید علم کو زندہ گاڑ دیا۔
مصنفِ ہفوات کا یہ قول کہ چونکہ بعض ایسی احادیث مروی ہیں کہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف ہیں اس لئے ان کو جلا دینا چاہئے اور پھاڑ دینا چاہئے اور مٹا دینا چاہئے ان کی نہایت کم علمی اور جہالت پر دلالت کرتا ہے کیا دنیا کا یہ بھی قاعدہ ہے کہ جس کتاب میں کوئی غلطی ہو جائے اسے جلا دیا جائے یا اس حصہ کو بیچ میں سے نکال دیا جائے اگر اس طریق پر عمل کیا جائے تو دنیا سے علوم کا خاتمہ ہو جائے۔ اور یہ تو سخت بد دیانتی ہے کہ مصنف کچھ لکھے اور پچھلے اس کو مٹا ڈالیں۔ اگر یہ صورت اختیار کی جائے تو کسی تصنیف پر اعتبار ہی کیا رہ سکتا ہے مثلاً پچھلی طب کی کتب جو بو علی سینا رحمہ اللہ کی تصنیف ہیں ان کو موجودہ تحقیقات کے مطابق بدل دیا جائے۔ فلسفہ میں جو جدت پیدا ہوئی ہے اس کے ماتحت پچھلی فلسفہ کی کتب میں تبدیلی کر دی جائے گویا اپنے جاہلانہ خیالات میں تبدیلی پیدا کرنے کے سوا اور ہر ایک چیز میں تبدیلی پیدا کر دی جائے۔ مصنفِ ہفوات نے اس قدر نہ سوچا کہ اگر پچھلے مصنفین کی کتب میں اس قسم کی تبدیلی جائز ہو تو روایت کا اعتبار کیا رہ جائے اور درایت کی بنیاد کس امر پر ہو۔ ہزاروں باتیں ہیں جو ایک زمانہ کے خیالات کی روشنی میں قبیح نظر آتی ہیں اور ایک دوسرے زمانہ کے خیالات کی روشنی میں خوبصورت۔ اگر ہر زمانہ کے لوگ اپنے خیالات کے مطابق پچھلی کتب کو بدل لیا کریں تو باقی کیا رہ جائے؟ آپ کی اس تجویز پر عمل کر کے بالکل وہی حال ہو جو اس شخص کا ہوا تھا جس کی دو بیویوں میں سے ایک بوڑھی اور ایک جوان تھی۔
بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کی دو بیویاں تھیں ایک بڑھیا تھی اور ایک جوان۔ جب وہ عمر رسیدہ کے گھر ہوتا تو جس وقت وہ سو جاتا، وہ اس خیال سے کہ یہ اپنے سیاہ بال دیکھ کر خیال کرے گا کہ یہ عورت تو بڑھیا ہو گئی ہے اور میرے بال ابھی سیاہ ہیں اس لئے میری مجالست کے قابل زیادہ جوان ہی ہے اس کے سیاہ بال ایک ایک دو دو کر چنتی رہتی۔ اسی طرح جب وہ جوان عورت کے گھر ہوتا تو وہ بھی اس خیال سے کہ یہ اگر اپنے سفید بال دیکھے گا تو خیال کرے گا کہ میں اب بوڑھا ہو گیا اب اس جوان عورت کی نسبت میری صحبت کے قابل بڑھیا عورت ہی ہے اس لئے سفید بال نوچتی رہتی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ دنوں کے بعد اس کے سر اور داڑھی میں نہ سفید بال رہے اور نہ کالے۔ یہی تجویز آپ کُتُبِ عِلْمِیّہ کے متعلق بتاتے ہیں کہ جس قوم کو کوئی خیال اپنے عقیدہ کے خلاف کسی کتاب میں نظر آوے جھٹ اس کا احکاک وہاں سے کر دے مثلاً احادیث کی تدقیق کے متعلق اختلاف ہے بعض لوگوں کے نزدیک بعض راوی کمزور ہیں بعض کے نزدیک دوسرے۔ مصنف ہفوات کے بتائے ہوئے اصل کے مطابق ہر ایک فریق اپنے فہم کے خلاف جس قدر باتیں پائے ان کو کتب حدیث میں سے نکال دے حنفی جس قدر احادیث میں رفع یدین یا ہاتھ سینے پر باندھنے یا آمین بالجر یا اور دیگر اختلافی مسائل کے متعلق اپنی رائے کے خلاف ذکر دیکھیں ان کو کتب حدیث سے نکال دیں۔ اور اہل حدیث ان سب حدیثوں کا اخراج کر دیں جو حنیفوں کے مسائل کی تائید میں ہیں۔ اگر ایسا ہونے لگ جائے تو آپ جانتے ہیں کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے؟ علم بالکل مفقود ہو جائے اور تحقیق کا دروازہ بند ہو جائے اور تاریخ ایسی مسخ ہو جائے کہ سو سال پہلی بات کا معلوم کرنا بھی بالکل ناممکن ہو جائے اور بد دیانتی اور خیانت کا دروازہ اتنا وسیع ہو جائے کہ اس کا بند کرنا حد امکان سے نکل جائے۔
ہر شخص کا اختیار ہے کہ جس بات کو ناپسند کرے ردّ کر دے لیکن کسی کو یہ اختیار نہیں کہ مصنف کے بیان میں کمی بیشی کر دے۔ اگر کسی کو بخاری کی اکثر احادیث غلط نظر آتی ہیں تو وہ ان کو رَدّ کر سکتا ہے مگر امام بخاری کی تصنیف میں سے اپنے مطلب کے خلاف باتیں نکال کر ایک نئی صورت میں اس کو بدل دینا ہرگز جائز نہیں بلکہ یہ ایک ایسی خیانت ہے، ایک ایسا فریب ہے جس کو صرف کوئی سیاہ باطن اور جاہل انسان ہی جائز قرار دے سکتا ہے۔
ایک اور خطرناک نتیجہ بھی اس جاہلانہ تجویز پر عمل کرنے سے پیدا ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ ایسے زمانوں میں جب کہ کسی قوم پر فترۃ کا زمانہ آیا ہوا ہو اور جہالت اس کے میدانوں میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہو تمام صداقتیں باطل ہو سکتی ہیں۔ اگر مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے لوگ پچھلی چند صدیوں میں جب کہ شرک کا دور دورہ تھا تمام ایسی احادیث کتبِ حدیث سے نکال کر پھینک دیتے جن میں شرک کا ردّ ہے بلکہ بعض لوگوں کے اس خیال پر عمل کر کے کہ قرآن کریم میں بھی کچھ زیادتی ہو گئی ہے جس قدر آیات شرک اور رسوم اور بدعات کے خلاف دیکھتے ان کو نکال دیتے تو نتیجہ کیا ہوتا؟ اسلام کا کیا باقی رہ جاتا۔ وہ لوگ دیانتداری سے اپنے عقیدہ کے مطابق کام کرتے لیکن اس کا نتیجہ حق اور راستی کے خلاف کیسا خطرناک ہوتا۔ اس زمانہ میں تعلیم یافتہ لوگ کثرتِ ازدواج، طلاق اور پردہ کو اپنی عقل کے مطابق تہذیب و شائستگی کے خلاف سمجھتے ہیں۔ کیا ان کا اختیار ہونا چاہئے کہ وہ قرآن و حدیث سے ایسے تمام مضامین کو یہ کہہ کر نکال ڈالیں کہ ایسی باتیں خدا اور رسول کب کہہ سکتے تھے نتیجہ یہ ہوتا کہ چند دنوں کے بعد جس کے آثار ابھی سے شروع ہو گئے ہیں جب دنیا کو معلوم ہوتا کہ یہی طریق مناسب تھا تو وہ ان احکاک شدہ اور احراق شدہ آیتوں اور حدیثوں کو قرآن کریم میں نہ پا کر اس کو ایک نامکمل اور بے معنی کتاب سمجھتے۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ تمام عالمِ اسلام اس مرض میں مبتلا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں۔ اگر وہ لوگ تمام آیاتِ قرآنیہ اور احادیث کو جو ان کی وفات پر دلالت کرتی ہیں نکال دیتے کہ ایسا خلافِ واقعہ امر قرآن اور حدیث میں کہاں سے آ سکتا تھا ضرور کسی مفسد نے پیچھے سے ملا دیا ہے تو کیا دنیا ایک صداقت سے اور اسلام ایک خوبی سے محروم نہ وہ جاتا؟ زمانہ کے حالات بدلتے رہتے ہیں اور لوگوں کے نقطۂ نگاہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ایک وقت میں ایک بات جو بالکل خلافِ تہذیب سمجھی جاتی ہے دوسرے وقت میں عقل و علم کی ترقی کے ساتھ وہی معقول اور مفید ثابت ہو جاتی ہے یا کبھی اس کے خلاف ایک وقت میں ایک بات اچھی سمجھی جا کر دوسرے وقت میں بری خیال کی جانے لگتی ہے۔ اگر مصنفِ ہفوات کے مجوزہ طریقِ احکاک و احراق پر کیا عمل کیا جائے تو ہزاروں صداقتیں جہالت اور فترۃ کے زمانہ میں مٹادی جائیں۔ اور سچے مذہب کے پیروؤں کو تحقیق و تدقیق کے زمانہ میں دوسرے مذہب کے پیرووں کے سامنے منہ دکھانے کی گنجائش نہ رہے۔ اس وقت جو پچھلے لوگوں کی تحقیق کی بعض غلطیاں معلوم ہوتی ہیں تو کیا اسی سبب سے نہیں کہ انہوں نے دیانتداری سے اپنے فہم کے خلاف خیالات کو باقی رہنے دیا بلکہ خود محفوظ کر دیا تاکہ تحقیق کا دروازہ بند نہ ہو جائے۔ اگر وہ لوگ بھی اس احکاک اور احراق کے طریق کو اختیار کرتے تو آج ہمارے لئے صداقت کے معلوم کرنے کا کون سا راستہ کھلا رہ جاتا؟
خلاصۂ کلام یہ کہ مصنفِ ہفوات کا اِحراق و اِحکاک کا مشورہ خیرخواہی و نیک طلبی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ محض ان لوگوں کے کام پر پردہ ڈالنے کے لئے ہے جنہوں نے خدمتِ اسلام میں رات اور دن کو ایک کر دیا۔ اگر مصنفِ ہفوات یہ مشورہ نہ دیتے بلکہ سیدھی طرح یہ بات کہہ دیتے کہ باوجود ان لوگوں کی کوششوں کے بعض کوتاہیاں بھی ہو گئی ہیں تو ان کو خوف تھا کہ اس طرح لوگوں کے دل سے محدثین کی عظمت نہ مٹے گی اور وہ کہہ دیں گے کہ ہاں انسان سے غلطی ہو جاتی ہے اور یہ بات پہلے بھی مسلمان مانتے ہی تھے کہ محدثین غلطی سے پاک نہیں ہیں۔ بعض دفعہ انہوں نے ایک حدیث کو صحیح سمجھا ہے اور وہ بعد میں صحیح ثابت نہیں ہوئی۔ اور بعض دفعہ انہوں نے ایک حدیث کو کمزور سمجھا ہے اور وہ بعد میں کمزور ثابت نہیں ہوئی۔ پس انہوں نے ایسے الفاظ استعمال کئے جن سے دوسروں پر تو کچھ اثر ہو یا نہ ہو مگر ان کا بغض نکل گیا اور اپنی اس عادتِ سب و شتم کو جو گردوپیش کے اثرات سے متاثر ہو کر طبیعت ثانی ہو چکی ہے انہوں نے پورا کر لیا مگر کیا چاند پر تھوکنے سے چاند کا کچھ بگڑتا ہے؟ تھوکنے والے کے منہ پر تھوک آپڑتا ہے اور اسی کی فضیحت ہوئی ہے۔
میرے نزدیک مصنف ہفوات کا یہ طریقِ سبّ و شتم زمانہ کے حالات کو مدنظر رکھ کر بھی نہایت خطرناک ہے اس وقت مختلف قسم کے مصائب اور آلام نے مسلمانوں پر یہ روشن کر دیا ہے کہ خواہ ان میں مذہبی طور پر کس قدر ہی اختلاف کیوں نہ ہو ان کو اپنی ہستی کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ ایک دوسرے پر بے جا حملہ کر کے موانست اور مواسات کے تعلقات کو قطع نہ کریں۔ اختلافِ مذاہب کو قربان نہیں کیا جا سکتا لیکن اس اختلاف کے اظہار کا طریق یہ نہیں کہ ایک دوسرے کے بزرگوں کو گالیاں دی جاویں۔ اگر ہم ایسے مذاہب کے بزرگوں کا بھی ادب کر سکتے ہیں جن کے ساتھ ہمیں نہایت کم وجہ اشتراک پائی جاتی ہے تو ایک کتاب کو ماننے والے اور ایک رسول کی امت کہلانے والے لوگوں کو جو دوسری کسی قوم میں بزرگ مانے جاتے ہوں کیوں ادب سے یاد نہیں کر سکتے۔ اس وقت تک اسلام کو کافی نقصان اس قسم کے اختلافات سے پہنچ چکا ہے اور اگر باوجود خدا تعالیٰ کے قہری نشانوں کے اب بھی دشمنی اور عداوت کے بے محل استعمال کو نہ ترک کیا گیا تو اس رویہ کے اختیار کرنے والے افراد اور ان کے افعال پر خوش ہونے والی جماعتیں ایک ایسا روز بد دیکھیں گی کہ دشمنوں کو بھی ان پر رونا آئے گا۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ شیعہ سنی اور دیگر ناموں سے یاد کئے جانے والے فرقے اپنے مذہب کی تبلیغ نہ کریں۔ میرا طریق عمل میرے قول سے زیادہ اس خیال کو رد کر رہا ہے کیونکہ تبلیغی لحاظ سے اس جماعت نے کہ جس کا امیر اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے بنایا ہوا ہے تمام دنیا میں اپنی تبلیغی کوششوں کے ذریعہ سے حیرت انگیز حرکت پیدا کر رکھی ہے۔ بلکہ میرا یہ مطلب ہے کہ اپنے اپنے محاسن اور خوبیاں بیان کی جائیں اور دوسروں پر بلا وجہ اور بلا ان کی طرف سے حملہ ہونے کے حملہ نہ کیا جائے۔ اور اس حدیث کو یاد رکھا جائے قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْكَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَهَلْ يَشْتُمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ نَعَمْ يَسُبُّ اَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ اَبَاهُ وَ يَسُبُّ اُمَّهٗ فَيَسُبُّ اُمَّهٗ۱؎ فرمایا: بڑے گناہوں میں سے ایک اپنے ماں باپ کو گالیاں دینا بھی ہے۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ کیا کوئی اپنے ماں باپ کو بھی گالیاں دیتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں کسی کے باپ کو گالیاں دیتا ہے پھر وہ اس کے باپ کو گالیاں دیتا ہے۔ یا کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے پھر وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔ یعنی دوسرے کے ماں باپ کو گالیاں دے کر اپنے ماں باپ کو گالیاں دلوانا ایسا ہی ہے جیسا اپنے ماں باپ کو خود گالیاں دے لینا۔
جن لوگوں کو کوئی قوم اپنے روحانی ہادیوں میں سمجھتی ہے ان کی عزت اپنے ماں باپ سے زیادہ کرتی ہے ان کی نسبت بلاوجہ گندے الفاظ استعمال کرنے کا لازمی نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ اس کے بزرگوں کو گالیاں دیں اور اس صورت میں اکسانے والا ہی اپنے بزرگوں کو گالیاں دینے والا سمجھا جائے گا۔ خصوصاً جب صورت ایسی ہو کہ ایک قوم کے بزرگ دوسری قوم کے نزدیک بھی بزرگ ہوں تب تو اس دوسری قوم کے بزرگوں کو گالیاں دینا نہ صرف بڑا ہے بلکہ حد درجہ کی کمینگی کا مظہر ہے کیونکہ ایسا شخص اس امر سے کہ دوسری قوم کے لوگ اس کے بزرگوں کو بھی اپنا بزرگ خیال کرتے ہیں اور اس کی سختی کا سختی سے جواب نہیں دے سکتے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے اور بارہا دیکھا گیا ہے کہ ان لوگوں کو جو اس کے بزرگوں کو اپنا بزرگ خیال کرتے تھے وہ اپنی ناشائستہ حرکت سے ایسا مجبور کر دیتا ہے کہ ان میں سے بعض بطور بدلے کے ان بزرگوں کو برا بھلا کہنے لگ جاتے ہیں اور یہ شخص ایک دوست کو دشمن بنانے کا عذاب مزید براں اپنے اوپر نازل کر لیتا ہے۔
غرض سب و شتم ایک قبیح فعل ہے اور دوسروں کے بزرگوں کو گالیاں دینے والا سخت مجرم ہے اور اگر اس کی زیادتی کے سبب سے دوسری قوم کے لوگ بھی اپنی زبان کھولیں تو اس کا الزام ان پر نہیں بلکہ اس گالیاں دینے والے کے ذمہ ہے اور میں یقین کرتا ہوں کہ اہل شیعہ کے شرفاء اور رؤساء مصنف کی بد کلامیوں اور بلا وجہ کی چھیڑ چھاڑ کو اسی طرح بڑا سمجھیں گے جس طرح کہ دوسرے فریق کو اس کا فعل بڑا معلوم ہوا ہے اور ہونا چاہئے۔
مصنف ہفوات کو جو بغض ائمہ اسلام سے ہے وہ مندرجہ ذیل عبارت سے بخوبی ظاہر ہے وہ لکھتے ہیں۔
”یہ امر ممکن تھا کہ ہم کتب عقائد و اصول حدیث و رجال سے بھی ایسی احادیث کو مجروح و مقدوح کر دیتے لیکن جب یہ مسلمات عقلی ہے کہ راوی کی ثقاہت متنِ حدیث کی صحت کو مستلزم نہیں اور نہ خلافِ قرآن حدیث حجت ہے اور نہ وہ ہفوات درایت کی معیار پر کھری ہیں اس لئے اس بیکار طول کو ترک کر دیا“۔
یعنی گو خود ان اصول کے مطابق جو اہل اسلام نے مقرر کئے ہیں اور خود ان قواعد کے مطابق ائمہ حدیث نے تجویز کئے ہیں ایسی احادیث کی کمزوری ثابت ہو سکتی تھی مگر یہ ایک بیکار طول تھا اس لئے مصنف ہفوات نے اس کو ترک کر دیا مگر ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ یہ ایک بیکار طول تھا بلکہ اگر یہ ثابت ہو جاتا کہ خود ائمہ حدیث نے ایسے قواعد تجویز کئے ہیں جن سے صحیح اور کمزور حدیثوں میں فرق کیا جائے تو لوگ سمجھ جاتے کہ حدیثوں کو کلام الٰہی کی طرح مسلمان غلطی سے پاک نہیں مانتے۔ اور اگر خود انہی ائمہ کے بنائے ہوئے قواعد کے مطابق بعض احادیث ضعیف ثابت ہو جاتیں تو ان کے ذریعہ سے ائمہ حدیث کو گالیاں دینے کا موقع نہیں مل سکتا تھا پس بیکار طول سے بچنے کے لئے نہیں بلکہ اپنی سب و شتم کی عادت کو پورا کرنے کے لئے مصنف ہفوات نے اس طریق کو اختیار کیا ہے اور یہ بات ان کے دلی تعصب پر ایک شاہد ناطق ہے۔
اس تمہیدی نوٹ کے بعد میں ایک ایک کر کے مصنف صاحبِ ہفوات کے اعتراضات کے متعلق اپنی تحقیق بیان کرتا ہوں لیکن ایک دفعہ پھر کھول کر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ کتبِ احادیث کے مؤلفوں کو نہ خود دعویٰ ہے کہ وہ غلطی سے پاک ہیں اور نہ کبھی مسلمانوں کو یہ دعویٰ ہوا ہے کہ ان میں کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی بلکہ ان کی نسبت یہی خیال علماء میں رائج چلا آیا ہے کہ وہ بعض خدام اسلام کی دیانتدارانہ اور ان تھک کوششوں کا خوبصورت اور دل آویز نتیجہ ہیں جس میں گو بعض کمیاں رہ گئی ہوں لیکن ان کے ذریعہ سے جو فائدہ دنیا کو پہنچا ہے یا پہنچتا ہے یا پہنچ سکتا ہے اس کی قیمت کا اندازہ لگانا ہمارے لئے مشکل ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ان لوگوں کی نیک خدمات کا بدلہ ان کو دے گا۔
حدیث قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُبِّبَ إِلَیَّ مِنَ الدُّنْيَا النِّسَاءُ وَالطِّيْبُھ نقل کر کے آپ نے اعتراض کیا ہے۔ ”مسلمانوں کو کسی کنھیا پرست نے یہ عبارت دی اور انہوں نے اس زَمَل کو حدیث سمجھ لیا۔ دیکھئے رسول کی شان یہ ہے کہ معرفت الٰہی اور ہدایتِ خلق اور اجرائے احکامِ خدا میں زیادہ خوش ہو نہ کہ عورتوں اور اس کے لوازم خوشبو سے“۔ ہفوات صفحہ ۴
حیرت پر حیرت اور تعجب پر تعجب ہوتا ہے کہ کیسی اعلیٰ اور اکمل تعلیم روحانی دینے والی حدیث اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی شان کو ظاہر کرنے والی روایت کو مصنفِ ہفوات نے احکاک اور احراق کے لئے چنا ہے اور اس پر ایک بہت گندہ اعتراض کیا ہے۔ اگر اس قسم کے فہم اور اس قسم کی سمجھ پر کتبِ روایات کا اِحکاک اور اِحراق شروع ہوا تو یقیناً صحیح احادیث کا ملنا مشکل ہو جائے گا۔
اس سوال کا جواب کہ کیا اس حدیث کے وہی معنے ہیں جو مصنفِ ہفوات نے سمجھے ہیں نفی میں ہے۔ ہر شخص کی نظر اس کے اپنے تقویٰ اور معرفت کی حد تک ہی جاتی ہے اور مصنفِ ہفوات اس قسم کی بات لکھنے پر مجبور ہے۔ مگر حق یہ ہے کہ اس حدیث کے ہرگز وہ معنی نہیں جو مصنفِ ہفوات نے سمجھے ہیں۔ مصنف ہفوات کا یہ خیال ہے کہ اس حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی صحبت ہی میں وقت گزار دیتے تھے اور معرفتِ الٰہی اور ہدایتِ خلق اور اجرائے احکام میں آپ کو خوشی حاصل نہ ہوتی تھی۔ اس سے زیادہ بعید معنے اس حدیث کے اور کوئی نہیں ہو سکتے۔ نہ تو الفاظِ حدیث میں یہ ذکر ہے کہ آپ عورتوں کی صحبت میں وقت گزارتے تھے اور نہ اس میں یہ کہیں ذکر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دین و دنیا کی چیزوں میں سب سے زیادہ عورتوں سے اور خوشبو سے محبت کرتے تھے۔ پس اس حدیث سے یہ مطلب نکالنا کہ آپ کو خدا تعالیٰ اور اس کے دین کی باتوں میں خوشی حاصل نہ ہوتی تھی یا عورتوں کی نسبت سے کم خوش ہوتے تھے۔ کسی صورت میں جائز نہیں۔ اور محض ہفوات میں داخل ہے۔ یہ معنے ایسے ہی ہیں جیسے کوئی شخص کسی دوست سے کہے کہ مجھے تم سے بہت محبت ہے۔ اور آگے سے کوئی عقل کا کورا یہ سمجھ لے کہ یہ شخص اپنے والدین کا نافرمان ہے ان سے اس کو محبت نہیں ہے یا اس شخص کی نسبت ان سے کم محبت ہے۔ جب کہ ایک لفظ بھی حدیث میں ایسا نہیں ہے جس کے یہ معنی ہوں کہ عورتوں اور خوشبو کی محبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو باقی سب چیزوں سے زیادہ تھی۔ تو مصنفِ ہفوات کے کئے ہوئے معنی الفاظِ حدیث سے کیونکر پیدا ہوئے۔ ہم تو دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں کل کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد بعض ہوتا ہے۔ جیسے ملکہ سبا کی نسبت آیا۔ وَاُوۡتِیَتۡ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ(27:24)۱؎ اس کو ہر ایک چیز دی گئی تھی۔ حالانکہ ایک چھوٹا سا ملک اس کو ملا تھا۔ نہ دنیا کی سب قسم کی نعمتیں اس کو حاصل تھیں اور نہ دین ہی اس کو حاصل تھا پس جب کہ کُلّ کا لفظ استعمال کر کے بھی بعض کے معنے ہوتے ہیں تو جہاں بالکل ہی کوئی لفظ حصر کے لئے استعمال نہیں ہوا وہاں یہ معنی کرنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب ماسوا پر عورتیں اور خوشبو محبوب تھے۔ کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟
دوسرا پہلو مصنفِ ہفوات کے اعتراض پر غور کرنے کا یہ ہے کہ کیا عورتوں سے محبت رکھنا اور خوشبو کو پسند کرنا گناہ ہے یا روحانی ترقی کے حصول کے منافی ہے۔ اور اہلِ اللہ کے طریق سے نہیں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی شئے کی محبت تین طرح کی ہوتی ہے یا تو ایسی محبت کہ دوسری اشیاء کو بالکل بھلا دے۔ یا ایسی محبت جو دوسری اشیاء کی محبت کے ساتھ دل میں رہے۔ اور کسی اور محبت کے طفیل سے پیدا ہو۔ یا ایسی محبت جو محب کو مغلوب تو نہ کر دے لیکن مستقل محبت ہو جسے دوسرے الفاظ میں طبعی محبت کہنا چاہئے۔ جو محبت کہ دوسرے تعلقات بھلا دیتی ہے اور ان کو نظر میں ادنیٰ اور حقیر کر کے دکھاتی ہے وہ تو ماسوی اللہ سے ناجائز ہے اور گناہ ہے لیکن ایسی محبت جو تابع ہو اللہ تعالیٰ کی محبت کے اور اس کی محبت کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہو وہ عین ثواب اور موجبِ زیادتی ایمان اور ترقی درجات ہوتی ہے اور وہ محبت جو نہ تو اللہ تعالیٰ کی وحی اور حکم کے ماتحت پیدا ہو اور نہ ماسوا پر غالب ہو بلکہ حدود کے اندر رہے یہ محبت طبعی محبت کہلاتی ہے اور جائز و حلال ہے۔ گو موجبِ ثواب اور باعثِ ترقی درجات نہیں۔ ہاں یہی محبت نیک اور باخدا انسان کے اندر ترقی کرتے کرتے دوسری قسم کی محبت بن جاتی ہے۔ پس محبت تو نہ نیکی کے منافی ہے نہ نبوت و رسالت کی شان کے خلاف۔ بلکہ بعض وقت تقویٰ کے خلاف ہوتی ہے اور بعض وقت نہ خلاف نہ مطابق اور بعض وقت عین تقویٰ میں داخل ہوتی ہے۔
ان تین قسم کی محبتوں کا ثبوت قرآن کریم سے ملتا ہے۔ چنانچہ سورۃ بقرۃ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّتَّخِذُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَنۡدَادًا یُّحِبُّوۡنَہُمۡ کَحُبِّ اللّٰہِ ؕ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ(2:166)۲؎ ترجمہ: اور لوگوں میں سے ایک جماعت ایسی ہے جو اللہ کے شریک بناتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ سے محبت کرنی چاہئے اور مؤمن سب سے
زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں۔ اس جگہ دو محبتوں کا ذکر ہے۔ ایک جس میں ماسوا کی محبت وہ رنگ اختیار کر لیتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی محبت میں ہونا چاہئے۔ اس کو ناپسند اور ناجائز فرمایا ہے۔ اور ایک محبت وہ بیان فرمائی ہے کہ گو دوسروں کی محبت بھی دل میں ہوتی تو ہے مگر اللہ تعالیٰ کی محبت سے کم ہوتی ہے اور اس سے ادنیٰ درجہ پر ہوتی ہے۔ اس طرح سورۃ توبہ میں فرماتا ہے قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَاَبۡنَآؤُکُمۡ وَاِخۡوَانُکُمۡ وَاَزۡوَاجُکُمۡ وَعَشِیۡرَتُکُمۡ وَاَمۡوَالُ ۣاقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَتِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوۡلِہٖ وَجِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَاللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ(9:24) ترجمہ: کہہ دے کہ اگر تمہارے باپ دادے اور بیٹے اور بھائی اور بیویاں اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور تجارت جس کے ماند پڑ جانے کا تمہیں ڈر ہے اور گھر جن کو تم پسند کرتے ہو تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کے رستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ صادر ہو اور اللہ فاسقوں کو کبھی کامیاب نہیں کرتا۔ اس آیت سے بھی ظاہر ہے محبت دو قسم کی ہوتی ایک وہ جو حرام ہے جو خدا اور رسول کی محبت اور خدمت دین کی خواہش پر غالب آجاوے اور اس میں سستی پیدا کر دے۔ اور ایک جو جائز ہے یعنی جو اللہ تعالیٰ اور رسول کی محبت سے ادنیٰ درجہ پر ہو اور خدمت دینی کے رستہ میں روک نہ ہو۔
تیسری قسم کی محبت جو اہل اللہ اور انبیاء اور رسل کی محبت ہے اس کا ذکر قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیات میں ہے۔ لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَلٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَالۡمَلٰٓئِکَۃِ وَالۡکِتٰبِ وَالنَّبِیّٖنَ ۚ وَاٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَالۡیَتٰمٰی وَالۡمَسٰکِیۡنَ وَابۡنَ السَّبِیۡلِ ۙ وَالسَّآئِلِیۡنَ وَفِی الرِّقَابِ(2:178) ترجمہ: نیکی تمہارے مشرق و مغرب کی طرف منہ پھیرنے کا نام نہیں ہے لیکن سچی نیکی اس شخص کی نیکی ہے جو اللہ اور یومِ آخر پر اور فرشتوں اور کتابوں اور نبیوں پر ایمان لاتا ہے اور اللہ کی محبت کی وجہ سے اپنے قریبیوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر اور لوگوں کے چھڑانے پر خرچ کرتا ہے جو مالی یا جسمانی قید میں گرفتار ہوتے ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی محبت اپنے عزیزوں اور قریبیوں سے بھی اللہ کی محبت کے باعث ہوتی ہے اور اس کے سب رشتہ دار طبعی محبت کے علاوہ الٰہی محبت کی رسی سے بندھے ہوتے ہیں۔
دوسری آیت جس میں اس مضمون کو بیان کیا گیا ہے یہ ہے۔ اِذۡ عُرِضَ عَلَیۡہِ بِالۡعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الۡجِیَادُ فَقَالَ اِنِّیۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَیۡرِ عَنۡ ذِکۡرِ رَبِّیۡ ۚ حَتّٰی تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ رُدُّوۡہَا عَلَیَّ ؕ فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ(38:32-34) ترجمہ۔ جب کہ اس کے (حضرت سلیمان علیہ السلام کے) سامنے سے نہایت اعلیٰ تین سُموں پر کھڑے ہونے والے تیز دوڑنے والے گھوڑے گزارے گئے تو انہوں نے بار بار کہا کہ میں ان دنیاوی سامانوں سے اپنے رب کی یاد کے سبب سے محبت کرتا ہوں (ذاتی محبت نہیں ہے) یہاں تک کہ جب وہ گھوڑے نظر سے دور ہو گئے تو حکم دیا کہ ان کو میرے پاس واپس لاؤ اور ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے (جیسا کہ پیار سے جانوروں پر ہاتھ پھیرا جاتا ہے)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام گھوڑوں سے محبت رکھتے تھے اور اس کی وجہ ان کی طبعی یا جسمانی لذتیں نہ تھیں بلکہ محض اللہ تعالیٰ کے ذکر کے قیام کے لئے وہ ایسا کرتے تھے۔ کیونکہ گھوڑوں کے ذریعہ ان کو جہاد فی سبیل اللہ میں مدد ملتی تھی۔ پس ذکرِ محبوب کے قیام میں مُمِد ہونے کے سبب سے وہ آپ کو پیارے تھے۔
مذکورہ بالا آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک محبت ایسی بھی ہوتی ہے کہ وہ کسی دوسری محبت کے طفیل میں ہوتی ہے اور ایسی محبت اصل محبت کے راستہ میں روک نہیں ہوتی۔ بلکہ اس کی گہرائی اور عظمت پر دلالت کرتی ہے۔
اس قسم کی محبت کا ذکر قرآن کریم میں صحابہ کے متعلق آیا ہے سورۃ حشر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِیۡنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالۡاِیۡمَانَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ یُحِبُّوۡنَ مَنۡ ہَاجَرَ اِلَیۡہِمۡ وَلَا یَجِدُوۡنَ فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ حَاجَۃً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَیُؤۡثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ وَلَوۡ کَانَ بِہِمۡ خَصَاصَۃٌ ؕ۟ وَمَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ(59:10)۱؎ ترجمہ: اور وہ لوگ جو مہاجرین کی آمد سے پہلے مدینہ دارالہجرت میں رہتے تھے اور جنہوں نے ایمان کو اختیار کیا ہوا تھا وہ محبت کرتے ہیں ان سے جو ان کی طرف ہجرت کر کے آئے ہیں اور اس مال کی رغبت نہیں کرتے جو ان کو دیا جاتا ہے اور مہاجرین کو اپنی جانوں پر مقدم کر لیتے ہیں گو خود ان کو بھوک کی تکلیف ہی کیوں نہ ہو اور جو لوگ بخلِ نفس سے بچائے جاتے ہیں وہ کامیاب ہونے والے ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ آپس میں ایک دوسرے سے اللہ کے لئے محبت کرتے تھے اور ان کا یہ فعل، اللہ تعالیٰ کو محبوب تھا اور وہ اس کی تعریف فرماتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ قرآن کریم سے تین قسم کی محبتوں کا ثبوت ملتا ہے۔ ایک وہ محبت جو بری ہوتی ہے۔ دوسری وہ جو طبعی ہوتی ہے۔ نہ اچھی نہ بری۔ تیسری وہ جو موجبِ ثواب ہوتی ہے اور اس کا کرنے والا اللہ تعالیٰ کا محبوب ہوتا ہے کیونکہ وہ طفیلی محبت ہوتی ہے اور خدا کی محبت کا نتیجہ ہوتی ہے پس وہ غیر کی محبت نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کی ہی محبت ہوتی ہے اور اسی کے حکم اور اسی کی رضا کے ماتحت ہوتی ہے۔ اس تیسری قسم کی محبت کا کسی اعلیٰ سے اعلیٰ انسان میں بھی پایا جانا اس کی شان کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کا نہ پایا جانا اس کی شان کے خلاف ہے کیونکہ اس کی محبت کی کمی کے یہ معنی ہوں گے کہ اس کی محبت اللہ تعالیٰ سے ایسی بڑھی ہوئی نہیں کہ وہ اس کی خاطر دوسروں سے بھی محبت کر سکے۔ یہ محبت جس قدر بھی کوئی اعلیٰ مرتبہ کا انسان ہو اسی قدر اس میں زیادہ پائی جائے گی۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اگر یہ بیان کیا جائے کہ آپ اپنی عورتوں سے محبت کرتے تھے تو یہ ہرگز آپ کی شان کے گھٹانے والی بات نہیں ہے آپ کا یہ فعل اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی منشاء کے بالکل مطابق تھا جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ وَمِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ خَلَقَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا لِّتَسۡکُنُوۡۤا اِلَیۡہَا وَجَعَلَ بَیۡنَکُمۡ مَّوَدَّۃً وَّرَحۡمَۃً ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ(الروم: ۲۲) ترجمہ: اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی قسم کے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم اُن کی طرف مائل ہو کر تسلی پکڑو اور پھر تمہارے درمیان محبت اور رحمت کا سلسلہ بنایا ہے اس میں ان لوگوں کے لئے نشان ہیں جو اپنے نفوس میں غور کرنے کے عادی ہیں۔ مصنفِ ہفوات اگر اپنے نفس میں غور کرنے کے عادی ہوتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ عورت و مرد کا تعلق صرف شہوات کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے اندر اللہ تعالیٰ نے بہت سی حکمتیں رکھی ہیں۔ مگر ہر شخص اپنے اوپر دوسروں کی حالت کا بھی قیاس کر لیتا ہے۔
علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ازواجِ مطہرہ کو ایک عظیم الشان نعمت قرار دیا ہے اور جنت میں مؤمن مرد کے پاس اس کی مؤمن بیوی کو رکھنے کا وعدہ فرمایا ہے اور مسلمانوں کو دعا سکھائی ہے کہ وہ اپنی بیویوں کے قرۃ عین بننے کی دعا کرتے ہیں۔
پس اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے منشاء کے مطابق پاک بیویوں کو ایک نعمت سمجھنا اور ان کی قدر کرنا اور ان سے محبت کرنا ایک اعلیٰ درجہ کی نیکی ہے اور نیکی کا وجود نیکوں کی شان کو بڑھاتا ہے نہ کہ گھٹاتا ہے
تیسرا پہلو مصنف ہفوات کے سوال پر غور کرنے کا یہ ہے کہ اس حدیث کے اصل معنوں پر غور کیا جائے کیونکہ بہت دفعہ انسان ایک بات کے معنے غلط کر کے اعتراض کر دیتا ہے لیکن صحیح معنے معلوم ہوں تو اعتراض دور ہو جاتا ہے۔ میرے نزدیک اسی حدیث کے صحیح معنے معلوم نہ ہونے کے سبب سے ہی مصنف ہفوات کو اعتراض پیدا ہوا ہے بلکہ مصنف ہفوات سے ایک خطرناک غلطی یہ ہوئی ہے کہ انہوں نے یہ کوشش کی ہے کہ صحیح معنے معلوم نہ ہو سکیں اور حدیث کا ایک ٹکڑا اس غرض سے محذوف کر دیا ہے۔ گو اصل معنی اس حدیث کے جب میں بیان کروں گا تب معلوم ہوں گے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ حدیث کو پورا نقل کر دینے سے ہر شخص سمجھ لے گا کہ مصنفِ ہفوات نے دیانتداری سے کام نہیں لیا کیونکہ انہوں نے حدیث کا وہ حصہ جو اس اعتراض کو جو انہوں نے کیا ہے بالکل دور کر دیتا ہے۔ چھوڑ دیا ہے۔
حدیث کے اصل الفاظ یہ ہیں حَدَّثَنَا سَلَّامٌ اَبُو الْمُنْذِرِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ حُبِّبَ اِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا النِّسَاءُ وَالطِّيْبُ وَجُعِلَ قُرَّةُ عَیْنِیْ فِی الصَّلَوةِ ایک دوسری روایت میں ہے مِنْ دُنْيَا كُمْ۷۳ ترجمہ: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پسند کرائی گئی ہیں تمہاری دنیا میں سے عورتیں اور خوشبو اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک تو نماز ہی میں رکھی گئی ہے۔ اس آخری فقرہ کی موجودگی میں کیا مصنف ہفوات کا اعتراض پڑ سکتا تھا کہ۔ ”رسول کی یہ شان ہے کہ وہ معرفت الٰہی اور ہدایت خلق اور اجزائے احکام خدا میں زیادہ خوش ہو نہ کہ عورتوں اور اس کے لوازم خوشبو سے معاذ اللہ“ صفحہ ۴۔ پس ان کا اس فقرہ کو چھوڑ دینا بتاتا ہے کہ ان کی نیت اعتراض پیدا کرنا تھی نہ کہ احقاقِ حق۔
پیشتر اس کے کہ میں اصل معنی اس حدیث کے بیان کروں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ حب کے معنے عشق کے نہیں ہوتے جیسا کہ مصنف ہفوات نے سمجھے ہیں۔ بلکہ یہ ایک وسیع معنوں کا لفظ ہے اور لغت میں اس کے یہ معنی لکھے ہیں۔ اَلْحُبُّ نَقِيْضُ الْبُغْضِ وَالْحُبُّ الْوِدَادُ وَالْمَحَبَّةُ۷۴ یعنی حُبّ کا لفظ بُغض کے خلاف معنی رکھتا ہے اور اس کے معنے وداد اور محبت کے ہوتے ہیں ان معنوں کو مدنظر رکھ کر حب کے معنے کسی کو پسند کرنے اس کو چاہنے اس کی خیر خواہی کرنے کے ہوتے ہیں۔ یعنی عشق کے معنے نہیں بلکہ عام خیر خواہی اور پسندیدگی سے لے کر اعلیٰ سے اعلیٰ کشش اور اتصال کے معنی اس لفظ کے ہیں۔ چنانچہ ان معنوں میں یہ لفظ قرآن کریم اور احادیث اور لغتِ عرب میں کثرت سے مستعمل ہے۔ قرآن کریم میں خیر خواہی کے معنوں میں سورۃ قصص میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّکَ لَا تَہۡدِیۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ(28:57)۷۵ ترجمہ: تو ہر اس شخص کو ہدایت نہیں دے سکتا جس کی ہدایت کا تو خواہاں ہے لیکن اللہ جسے پسند کرتا ہے ہدایت دیتا ہے اور خدا ہی جانتا ہے کہ کون لوگ ہدایت کے مستحق ہیں۔ اس حدیث سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کفار سے بھی محبت رکھتے تھے پس اگر مصنف ہفتوات کے معنوں کے مطابق یوں سمجھا جائے کہ محبت کے معنے عشق کے اور ماسوا کو بھلا دینے کے ہوتے ہیں تو اس آیت کے نَعُوْذُ بِاللّٰهِ یہ معنے بن جائیں گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کی محبت اس قدر بڑھ گئی تھی کہ آپ معرفت الٰہی اور اجرائے احکام خدا میں زیادہ خوش نہ ہوتے تھے مگر ایسا خیال کفر ہے آپ کا وجود تو اس آیت کا مصداق تھا۔ قُلۡ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَنُسُکِیۡ وَمَحۡیَایَ وَمَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(6:163)۷۶ پس اس آیت میں محبت کے معنی خیرخواہی کے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ تُو تو سب دنیا کا ہی خیر خواہ ہے اور چاہتا ہے کہ سب کو ہدایت مل جائے مگر تیری یہ خواہش پوری نہیں ہو سکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ انہی لوگوں کے لئے ہدایت کے سامان جمع کرتا ہے جو خود ہدایت کے جویاں ہوتے ہیں اور ہدایت کا مقابلہ نہیں کرتے۔
کسی چیز کو نسبتی طور پر پسند کرنے کے معنوں میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے گو وہ اپنی ذات میں اچھی نہ ہو۔ چنانچہ حضرت یوسف کی نسبت آتا ہے قَالَ رَبِّ السِّجۡنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدۡعُوۡنَنِیۡۤ اِلَیۡہِ(12:34)۷۷ ترجمہ۔ یوسف علیہ السلام نے کہا۔ اے میرے رب! قید خانہ مجھے اس سے جس کی طرف یہ عورتیں مجھے بلاتی ہیں زیادہ پسند ہے۔ اس جگہ محبت کا لفظ ایک ایسی بات کی نسبت استعمال ہوا ہے جو اپنی ذات میں بری ہے لیکن نسبتی ترجیح کے سبب سے اس لفظ کو استعمال کیا گیا ہے۔
طبعی محبت اور عشق کے متعلق میں یہ پہلے آیات لکھ آیا ہوں اس لئے اس جگہ اس کی تکرار کی ضرورت نہیں۔
احادیث میں بھی یہ لفظ کثرت سے ان معنوں میں استعمال ہوا ہے چنانچہ حُبّ کے معنوں کی تشریح میں لسان العرب نے دو حدیثیں لکھی ہیں جن سے حب کے معنوں کی خوب تشریح ہو جاتی ہے ایک حدیث تو یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کی نسبت فرمایا هٰذَا جَبَلٌ يُّحِبُّنَا وَ نُحِبُّهٗ۷۸ وہ ایک ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ محبت کا لفظ نفع رسانی کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے پہاڑ محبت نہیں کیا کرتے۔ پہاڑ کی محبت سے اس کا وہ نفع ہے جو وہ پہنچاتا ہے چونکہ احد کی جنگ میں ایک غلطی کے سبب سے مسلمانوں کو تکلیف اٹھانی پڑی اور لشکر اسلامی کا اجتماع احد پہاڑ پر ہی ہوا اور وہ دشمن کے حملوں سے بچانے کا ایک ذریعہ ہو گیا اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ہمیں نفع پہنچاتا ہے اور ہم اس کے قیام کو پسند کرتے ہیں۔
اسی طرح لسان نے ایک دوسری حدیث انسؓ سے لکھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اُنْظُرُوْا حُبَّ الْاَنْصَارِ التَّمْرَ۷۹؎ انصار کی محبت کھجور سے دیکھو۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ انصار کھجور کے عشق میں سرشار تھے۔ بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ انصار کھجور کے مفید ہونے کو دیکھ کر اس کی حفاظت کرتے تھے اور اس کے بونے اور جمع کرنے میں کوشاں رہتے تھے۔
اسی طرح حدیث میں آتا ہے اِذَا ابْتَلَیْتُ عَبْدِیْ بِحَبِیْبَتَیْہِ فَصَبَرَ۸۰؎ یعنی جب بندے کی آنکھیں ضائع ہو جائیں اور وہ صبر کرے۔ آنکھوں کے لوگ عاشق نہیں ہوتے بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ ان کے فائدہ کو دیکھ کر ان کی قدر کرتے ہیں اور ان کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کو ضائع ہونے سے بچاتے ہیں۔
غرض محبت کے معنے وسیع ہیں کسی چیز کو نفع رساں سمجھ کر اس کی قدر کرنی اور اس کو تباہ ہونے سے بچانے کی کوشش کرنے اور نفع پہنچانے کے علاوہ طبعی کشش اور اتصال اور پھر کلی طور پر کسی کے خیال میں محو ہو جانے تک اس لفظ کا دائرہ وسیع ہے۔
جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ محبت کے معنے صرف عشق کے نہیں ہیں جیسا کہ مصنف ہفوات نے اپنی ناواقفیت سے سمجھا ہے تو اب اس حدیث کے معنی سمجھنے میں کوئی دقت نہیں رہی۔ اس حدیث میں اَلنِّسَاءُ کا لفظ ہے اور اَلنِّسَاءُ کے معنی عورتیں اور بیویاں دونوں ہو سکتے ہیں اور میرے نزدیک اس جگہ عورتوں کے معنے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بیان فرماتے ہیں کہ مجھے دنیا کی باتوں میں سے خصوصیت کے ساتھ عورتوں کی خیر خواہی اور خوشبو کی اشاعت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ مگر باوجود اس کے مجھے اصل لذت عبادت الٰہی میں دی گئی ہے یعنی مخلوق کی اصلاح کی طرف بھی توجہ کرتا ہوں مگر جو لطف اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے میں آتا ہے اتنا لطف اس کام میں نہیں آتا کیونکہ یہ کام درحقیقت ضمنی ہے اصل کام اللہ تعالیٰ سے ملنا ہے ہاں خدا نے چونکہ اس کام کو بھی ضروری قرار دیا ہے اس لئے اس طرف بھی توجہ کرنی پڑتی ہے۔
اس حدیث کو مدنظر رکھو اور اس حالت کو دیکھو جو اسلام سے پہلے عورتوں اور طہارت کی تھی اور معلوم کرو کہ کیا یہ حدیث ایک اعلیٰ درجہ کی صداقت اور خوبی پر مشتمل ہے یا نہیں؟ کیا اس میں کچھ شک ہے کہ اسلام سے پہلے عورتوں کے حقوق کو پامال کیا جاتا تھا اور ان کے لئے ابدی حیات کا انکار کیا جاتا تھا اور ان کو مالوں اور جائدادوں کی طرح ایک مُنتقل ہونے والا ورثہ خیال کیا جاتا تھا اور ان کی پیدائش کو صرف مرد کی خوشی کا موجب قرار دیا جاتا تھا حتیٰ کہ مسیحی جو اپنے آپ کو حقوقِ نسواں کے حامی کہتے ہیں ان کے پاک نوشتوں میں بھی عورت کی نسبت لکھا تھا۔ ”البتہ مرد کو اپنا سر ڈھانکنا نہ چاہئے کیونکہ وہ خدا کی صورت اور اس کا جلال ہے“ اسی طرح لکھا تھا۔ ”اور میں اجازت نہیں دیتا کہ عورت سکھائے“۔۱؎ اسلام ہی ہے جس نے عورتوں کی انسانیت کو نمایاں کر کے دکھایا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے عورتوں کے بلحاظ انسانیت برابر کے حقوق قائم کئے اور وَلَہُنَّ مِثۡلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ(2:229)۲؎ کی تفسیر لوگوں کے خوب اچھی طرح ذہن نشین کی۔ آپ کے کلام میں عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کے حقوق اور ان کی قابلیتوں کے متعلق جس قدر ارشادات ہیں ان کا دسواں حصہ بھی کسی مذہبی پیشوا کی تعلیم میں نہیں ملتا اور یہی مطلب ہے حُبِّبَ اِلَیَّ النِّسَاءُ کا یعنی عورتوں کی قدردانی اور ان کی خوبیوں کا احساس میرے دل میں پیدا کیا گیا ہے۔
وہی سلوک جو عورتوں سے آنحضرت کی بعثت سے پہلے کیا گیا تھا کم وبیش طور پر خوشبو سے بھی کیا گیا تھا۔ عیسائیوں میں اور ہندوؤں کے بعض فرقوں میں بزرگانِ دین کے لئے پاک رہنا اور خوشبو کا استعمال بالکل حرام سمجھا جاتا تھا گندے اور بدبودار لباس کا استعمال اور ناخن نہ کٹوانا میل نہ اتارنا بہت بزرگی خیال کی جاتی تھی اور مختلف اقوام میں بھی خوشبو کے استعمال کو روحانیت کے لئے مُضِرّ سمجھا جاتا تھا حالانکہ جیسا کہ طب سے ثابت ہوا ہے خوشبو صحت کی بہتری اور خیالات کے بلند کرنے میں مُمد ہوتی ہے اور بدبُو اس شخص کے لئے بھی مُضِرّ ہوتی ہے جو گندہ رہتا ہے اور دوسروں کو بھی اس سے ضرر ہوتا ہے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَنْ اَكَلَ مِنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ يَعْنِي الثُّوْمَ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَاِنَّ الْمَلٰٓئِكَةَ تَاَذّٰی مِمَّا يَتَاَذّٰی مِنْه الْاِنْسُ۳؎ یعنی جو شخص اس بُودار پودے لہسن کا استعمال کرے اسے چاہئے کہ مسجدوں میں نہ آئے کیونکہ ملائکہ بھی ان چیزوں سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے بُو کو لوگوں کے لئے مُضِر قرار دیا ہے اور یہی وجہ تھی کہ آپ نے جمعہ کے دن بوجہ اجتماع کے خوشبو کے استعمال کا حکم دیا۔ غرض کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ایک یہ بات تھی کہ آپ نے جگہ کی پاکیزگی کے علاوہ جو مختلف مذاہب میں ضروری سمجھی جاتی تھی شخصی صفائی کو بھی ضروری قرار دیا اور اسی مضمون کی طرف اس حدیث میں اشارہ کیا گیا ہے۔ لیکن چونکہ بعض لوگ افراط کا پہلو اختیار کر لیتے ہیں اس لئے فرما دیا وَ جُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِيْ فِي الصَّلٰوةِ یعنی میری اصل راحت نماز میں ہی رکھی گئی ہے۔ پس چاہئے کہ میرے ان احکام کو دیکھ کر عورتوں سے نیک سلوک ہونا چاہئے اور خوشبو کا استعمال کرنا چاہئے کوئی شخص یہ غلط مفہوم نہ لے لے کہ بس عورتوں کی رضا میں لگا رہے اور ظاہری صفائی میں ہی لگا رہے بلکہ چاہئے کہ عورتوں سے حسن سلوک بھی کرو اور ظاہری پاکیزگی کا بھی خیال رکھو لیکن اصل لذت تم کو اللہ تعالیٰ ہی کی یاد میں حاصل ہو۔
مصنف صاحب ہفوات ان معنوں پر غور کریں اور سوچیں کہ کیا یہ حدیث احکاک اور احراق کے قابل ہے یا اس قابل ہے کہ اس کو دشمنوں کے سامنے اسلام کی خوبیوں کے اظہار اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات کے لئے پیش کیا جائے ان کو چاہئے کہ جب وہ کسی حدیث کے معنی کرنے لگیں تو یہ دیکھ لیا کریں کہ وہ ان کی نسبت نہیں ہے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ہے اور اس کے اندر ان کے خیالات کا اظہار نہیں ہے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیالات کا اظہار ہے اور اپنے خیالات اور جذبات کے مطابق اس کا ترجمہ نہ کیا کریں۔
اگر اس حدیث میں نساء کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس کے معنے بیویاں کیا جائے تب اس حدیث کے یہ معنی ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے بیویوں اور خوشبو کی طرف میری رغبت جرّأ کی ہے ورنہ میری لذت تو نماز ہی میں ہے اور یہ معنی بھی صحیح ہیں۔ اگر اسلام میں رہبانیت کو روکا نہ جاتا اور اس کی اجازت دی جاتی تو اغلب تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم امور خانہ داری میں پڑنے کی بجائے اپنے اوقات کو ذکر الٰہی میں ہی صرف کرتے۔ مگر چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کو ذکر الٰہی کا جزو قرار دیا ہے اور خصوصاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو بہت سی بیویوں کا ہونا ضروری تھا تاکہ وہ عملاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے طریق معاشرت کو سیکھیں اور دوسروں کو سکھائیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حُبِّبَ بصیغہ مجہول فرمایا ہے اَحْبَبْتُ بصیغہ معروف
نہیں فرمایا۔ پس حدیث کے یہ معنے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی حکمت کاملہ کے ماتحت میں نے بہت سے نکاح کئے ہیں اور خوشبو کو پسند کرتا ہوں ورنہ میری لذت تو ذکر الٰہی میں تھی۔ یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ دنیا کی کوئی لذت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بخواہش خود استعمال نہیں فرماتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اس کے ازلی قانون کی متابعت میں بقدر ضرورت دنیا کی چیزوں سے تعلق رکھتے تھے اور یہ مضمون آیت اِنَّ صَلَاتِیۡ وَنُسُکِیۡ وَمَحۡیَایَ وَمَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(6:163) کے عین مطابق ہے اور اس پر اعتراض کرنا کور چشمی کی دلیل ہے۔
میں نے اس اعتراض پر زیادہ بسط سے اس لئے لکھا ہے کہ یہ ایک اصولی سوال ہے اور مصنف ہفوات کی طرح بہت سے لوگ اس وہم میں پڑے ہوئے ہیں کہ استعمال طیبات شائد ایک مکروہ بات ہے جو عام مومنوں کو تو جائز ہو سکتی ہے مگر بزرگوں اور نبیوں کے لئے جائز نہیں حالانکہ معاملہ برعکس ہے۔ طیبات ایک نعمت ہے اور ہر نعمت کے اصل مستحق اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے ہیں اگر ان کا وجود نہ ہوتا تو یہ دنیا ہی پیدا نہ کی جاتی۔ ہاں چونکہ وہ اپنی محبت کو خدا ہی کے لئے وقف کر چکے ہوتے ہیں وہ جس دنیاوی کام کو کرتے ہیں محض احکام الٰہی کی بجا آوری میں کرتے ہیں اور اس کے قانون کے ادب کو مد نظر رکھ کر کرتے ہیں اور وہ لوگ جو ان نعمتوں کے حقیقی مستحق نہیں ہیں وہ زیادہ شوق انہی کا رکھتے ہیں جیسے ایک شخص کسی دوست کو ملنے جاتا ہے تو جب کہ مہمان کی تمام توجہ اپنے دوست کی صحبت سے فائدہ اٹھانے میں لگی ہوئی ہوتی ہے۔ اور وہ کھانا محض دوست کے اظہار محبت کی قدر کے طور پر کھاتا ہے اس کے نوکروں کی توجہ زیادہ تر کھانے کی طرف ہوتی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ ایک حق پسند انسان کی تسلی کے لئے کافی ہے لیکن سب دنیا حق پسند نہیں ہوتی اور خصوصاً مصنفِ ہفوات کے تو ایک ایک لفظ سے تعصب اور بُغض ٹپک رہا ہے ان کی نسبت یہ خیال بہت مشکل ہے کہ وہ بلا اپنے گھر کے بھید معلوم کرنے کے خاموش ہوں بلکہ کوئی تعجب نہیں کہ وہ سب جواب پڑھ کر پھر بھی تحریر فرما دیں کہ ”مسلمانوں کو کسی کنھیا پرست نے یہ عبارت دی اور انہوں نے اس زٹل کو حدیث سمجھ لیا“ پس چاہتا ہوں کہ ان کو بتا دوں کہ وہ کنھیا پرست (نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ) کا لفظ کس کی نسبت استعمال کر رہے ہیں۔ فروع کافی جلد ۲ کتاب النکاح باب حب النساء میں عمر بن یزید امام ابو عبد اللہ سے روا کرتے ہیں قَالَ مَا اَظُنُّ رَجُلًا یَّزْدَادُ فِی الْاِیْمَانِ اِلَّا ازْدَادَ حُبًّا لِّلنِّسَاءِ۴؎ ترجمہ میں ہرگز خیال نہیں کرسکتا کہ کوئی شخص ایمان میں ترقی کرتا ہو بلا اس کے کہ ساتھ ساتھ عورتوں کی محبت میں بھی بڑھتا ہو۔ دوسری روایت حفص بن البختری کی امام ابو عبداللہ سے اسی کتاب اور اسی باب میں درج ہے اور وہ یہ ہے قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اُحْبِبْتُ مِنْ دُنْيَاكُمْ اِلَّا النِّسَاءَ وَالطِّيْبَ۳۵ ترجمہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہاری دنیا میں سے محبت نہیں کرتا مگر عورتوں اور خوشبو سے۔ یہ الفاظ ابو داؤد کی روایت سے بہت زیادہ سخت ہیں کیونکہ اس میں تو حُبِّبَ کے لفظ تھے جن کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ میں خود تو محبت نہیں کرتا مجھ سے محبت کرائی جاتی ہے لیکن امام ابو عبداللہ ایک طرف تو یہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص ایمان میں ترقی ہی نہیں کر سکتا جب تک اسے عورتوں سے محبت نہ ہو۔ دوسری طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ منسوب کرتے ہیں کہ آپ فرماتے ہیں میں تمہاری دنیا میں سے عورتوں اور خوشبو سے محبت کرتا ہوں اب مصنف ہفوات صاحب فرمائیں کہ کیا وہ گھٹیا پرست اور واضح حدیث کے الفاظ اس امام اہل بیت کی نسبت بھی استعمال کریں گے یا صرف یہ الفاظ ابو داؤد ہی کی نسبت استعمال کئے جا سکتے ہیں؟ ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ جب کوئی شخص کسی راستباز انسان پر اعتراض کرتا ہے تو اس کا قدم ٹھہر ہی نہیں سکتا جب تک سب راستبازوں پر حملہ نہ کرے کیونکہ راستباز سب ایک زنجیر سے بندھے ہوئے ہیں اور سب کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے جو ان میں سے کسی ایک کے راستہ میں پتھر رکھتا ہے وہ سب کو گرانے کی کوشش کرتا ہے۔ جو ایک کو دھوکا دیتا ہے وہ سب کو دھوکا دیتا ہے یا تو انسان سب راستبازوں کو قبول کرلے یا اسے سب کو ردّ کرنا پڑے گا۔ اور اس کا دعوائے ایمان اس کے کسی کام نہ آئے گا۔ کیونکہ اس کے اقوال اس کے ایمان کو رد کر رہے ہیں۔
اس سے بھی بڑھ کر وہ روایت ہے جو علی بن موسیٰ رضاؔ سے معمر بن خلاد نے بیان کی ہے اور وہ یہ ہے يَقُوْلُ ثَلٰثٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِيْنَ الْعِطْرُ وَاَخْذُ الشَّعْرِ وَ كَثْرَةُ الطَّرُوْقَةِ☆۳۶ یعنی
تین چیزیں نبیوں کی سنتوں میں سے ہیں اول خوشبو، دوم بال صاف کرنا، سوم کثرت جماع۔ اب مصنف ہفوات بتائیں کہ علی بن موسیٰ الرضا تو عورتوں کی صحبت کی کثرت کو سنت انبیاء قرار دیتے ہیں۔ پھر آپ اسے کنہیا پرستی قرار دے کر کس کو گالیاں دے رہے ہیں؟ آیا ائمہ اہل سنت کو یا خود ائمہ اہل بیت کو؟
مندرجہ بالا احادیث جو اہل شیعہ کی روایات میں سے ہیں۔ مصنف ہفوات کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہوں گی۔ مگر میں دو اور روایتیں لکھ کر جو ان سب سے بڑھ کر ہیں ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ ان کو پھوس کے گھر میں بیٹھ کر آگ سے نہیں کھیلنا چاہئے۔ ایک شیعہ صاحب امام ابو عبد اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت امام ابو عبد اللہ سے پوچھا کہ سب سے زیادہ لذیذ شئے کیا ہے؟ تو آپ نے جواب دیا اَلَذُّ الْاَشْیَاءِ مُبَاضَعَةُ النِّسَاءِ۷؎ سب سے زیادہ لذیذ چیز عورت سے جماع کرنا ہے وہ لفظ جو امام ابو عبد اللہ کی طرف اس شیعہ مخلص نے منسوب کئے ہیں بہت زیادہ ننگے اور واضح ہیں لیکن میں نے ان کا ترجمہ سنجیدہ الفاظ میں کر دیا ہے۔ امید ہے کہ مصنف صاحب ہفوات لغت دیکھ کر خود معلوم کر لیں گے کہ ان لفظوں کا لفظی ترجمہ ہماری زبان میں کیا ہو سکتا ہے۔ اور پھر اس طرزِ تحریر کو بدلنے کی کوشش کریں گے جو الفاظ احادیث کی وجہ سے نہیں بلکہ بخاری کے مترجم کے بعض نامناسب الفاظ سے فائدہ اٹھا کر انہوں نے اپنی کتاب میں اختیار کی ہے۔
دوسری روایت اہل شیعہ کی جو میں پیش کرنا چاہتا ہوں حسب ذیل ہے۔ عقبہ بن خالد بیان کرتے ہیں میں ابو عبد اللہ علیہ السلام کے پاس آیا جب آپ گھر سے نکل کر آئے تو کہا کہ يَا عُقْبَةُ شَغَلْنَا عَنْكَ هٰؤُلَاءِ النِّسَاءُ۸؎ ترجمہ۔ اے عقبہ! ان عورتوں نے ہمیں مشغول رکھا اور تیرے پاس نہ آنے دیا۔ مذکورہ بالا دونوں روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک تو امام صاحب جو نبیوں کی طرح آپ کے عقیدے میں معصوم تھے عورتوں سے تعلق کو سب سے زیادہ لذیذ شئے بتاتے ہیں۔ دوسرے دین کی خدمت پر آنے والے لوگوں سے عورتیں ان کو روک بھی لیتی ہیں اور
وہ ان کی صحبت میں بیٹھے ہوئے خدمتِ دین کو بھول جاتے ہیں۔ کیا اب اہلِ سنت بھی کہہ دیں کہ۔ ”امام کی شان تو یہ ہے کہ وہ معرفتِ الٰہی اور ہدایتِ خلق اللہ اور اجرائے احکامِ خدا میں زیادہ خوش ہو نہ کہ عورتوں اور اس کے لوازمِ خوشبو سے“ (مَعَاذَ اللّٰہ)۔ اور کیا مصنفِ صاحبِ ہفوات اپنے اعوان شیعہ صاحبان کی مدد سے ان کتبِ اہلِ شیعہ کے احکاک سے فارغ ہو لینا چاہئے پھر دوسری طرف توجہ کرنی چاہئے کیونکہ دوسرے کو کہنے کا وہی شخص مستحق ہوتا ہے جو پہلے اپنے گھر کا انتظام کر لے۔
یہ جواب تو اس اصل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہے جو مصنفِ ہفوات نے تجویز کیا ہے لیکن ہم جس اصل کو صحیح تسلیم کرتے ہیں اسکے رو سے امام ابو عبداللہ کی طہارت اور پاکیزگی اور تقوٰی اور بزرگی میں کچھ بھی فرق نہیں آتا۔ نہ ان کتبِ اہلِ شیعہ کی تحقیر ہوتی ہے۔ ہم جب تک بددیانتی ثابت نہ ہو ان کی کوشش کی بھی قدر کرتے ہیں اور میرے نزدیک انہوں نے ائمہ اہلِ بیت کے اقوال نقل کرکے ایک قابلِ قدر خدمت کی ہے۔ اگر اس خدمت میں نادانستہ ان سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو اس سے ان کی شان میں کوئی فرق نہیں آتا۔ نہ ان کی کتابوں کی عظمت کو صدمہ پہنچتا ہے اور اگر دانستہ غلطی کی ہے تو اس کے ذمہ دار وہ خدا تعالیٰ کے حضور میں ہوں گے۔
دوسرا اعتراض مصنفِ ہفوات کا یہ ہے کہ احادیث میں لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے عاشق تھے۔ اور یہ بات غلط ہے۔ اور اس کی تائید میں انہوں نے کئی احادیث نقل کی ہیں جن کے متعلق میں الگ الگ لکھتا ہوں اول تو انہوں نے جواب الکافی سے ایک حدیث نقل کی ہے کہ امّ سلمہؓ نے کہا كَانَ إِذَا رَأَىٰ عَائِشَةَ لَا يَتَمَالَكُ نَفْسَهُ۹؎ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کو دیکھتے تھے تو ان کا اپنے نفس پر قابو نہیں رہتا تھا۔ یہ روایت جواب الکافی میں بلا حوالہ کتاب اور بلا سند درج ہے اس لئے نہیں کہہ سکتا کہ یہ کسی کتاب میں سے مصنفِ کتاب نے درج کی ہے یا یہ کہ ان بے شمار ناقابلِ اعتبار روایات میں سے ایک ہے جو عام طور پر مجالسِ وعظ کی زینت کے لئے لوگوں میں مشہور تھیں۔ مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ اس حدیث کا مضمون قابلِ اعتراض ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف اور قرآنِ کریم کے بتائے ہوئے اخلاقِ محمدی کے برعکس ہے۔ پس یہ روایت بہ سببِ مضمونِ قرآن اور صحیح روایات اور عقل
سلیم کے خلاف ہونے کے غلط ہے۔ اور ان روایات سے معلوم ہوتی ہے جو عبداللہ بن ابی بن سلول کے چیلے چانٹوں کی طرف سے مشہور کی جاتی تھیں اور جن کا ذکر بعد میں منافق مسیحی اور یہودی نو مسلموں نے تازہ رکھا۔ مگر باوجود اسکے کہ یہ روایت میرے نزدیک بالکل ناقابل اعتبار اور صریح دروغ ہے اس کے پیش کرنے سے مصنف ہفوات کا جو منشاء ہے وہ کسی صورت میں پورا نہیں ہو سکتا نہ اس روایت کا جھوٹا ہونا جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں محدثین کی شان کو کم کر سکتا ہے۔ اور نہ ضرورت حدیث کو باطل کر سکتا ہے اور نہ اس کے جھوٹے ہونے سے ہمارے لئے یہ جائز ہو سکتا ہے کہ اس روایت کو کتابوں میں سے نکال پھینکیں۔ اگر ہم ایسا کرنے لگیں تو بعض دوسرے لوگ اس کے مقابل میں صداقتوں کو بھی نکال کر پھینک دیں گے۔
میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ احادیث کی کتب غلطی سے پاک نہیں ہیں اور نہ ہر ایک کتاب نیک نیتی سے لکھی گئی ہے کئی کتب محض مجالس وعظ کو رونق دینے کے لئے لکھی گئی ہیں مگر باوجود اس کے اس فن کے کمال تک پہنچانے والوں کی خدمت اسلام کا انکار نہیں ہو سکتا اور ہزاروں حدیثوں کے جھوٹا نکلنے پر بھی اس فن کی حقارت نہیں کی جاسکتی۔ اس وقت کوئی شخص قابل ملامت ہو سکتا ہے جب کہ وہ ان مُزِیلِ شانِ رسالت احادیث کو صحیح قرار دے اور ان کی ایسی تاویل بھی نہ کرے جس سے وہ اعتراض دور ہو جائے جو ان سے پیدا ہوتا ہے۔
مگر ہم دیکھتے ہیں کہ علماء سلف ایسی روایات کو ہمیشہ باطل قرار دیتے چلے آئے ہیں پس صرف نقل کر دینے کے سبب وہ کسی الزام کے نیچے نہیں آسکتے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ہمیں ہر ایک قسم کی روایات لوگوں کے لئے جمع کر دینا چاہئے۔ ہاں علماء خلف بے شک اس الزام کے نیچے ہیں کہ انہوں نے ان احادیث اور روایات کو اتنا رواج نہیں دیا جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی شان ظاہر ہوتی تھی اور اپنے وعظوں کو عوام میں دلچسپ بنانے کے لئے جھوٹے قصوں اور غلط روایات کو صحیح احادیث قرار دے کر لوگوں میں خوب رائج کیا بلکہ ان کا انکار کرنے والوں کو اسلام کا دشمن اور حدیث کا دشمن قرار دیا۔ ایسے لوگوں کے طریق عمل کو ہم اس سے بھی زیادہ حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جتنا کہ مصنف صاحب ہفوات کے طریق عمل کو دیکھتے ہیں کیونکہ مصنف صاحب ہفوات نے تو ازواج مطہرات اور صحابہ کرام اور علماء اسلام پر حملہ کیا ہے اور ان لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے اور عبداللہ بن ابی بن سلول کے ہم آواز ہو گئے ہیں۔ ہماری جماعت کی کوششیں شروع سے ایسے ناپاک لوگوں کے
خلاف صرف ہوتی رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی جب تک کہ یہ لوگ اہل اکاذیب ہوتے ہوئے حدیث کے نام کو بدنام کرنا اور قرآن کریم پر روایات کو جو محتمل کذب و صدق ہیں۔ مقدم کرنا نہ چھوڑ دیں گے۔
دوسری روایت اس خیال کی تصدیق میں مصنفِ ہفوات نے بخاری کتاب التفسیر سے پیش کی ہے۔ یہ روایت ابن عباس سے مروی ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ابن عباس کہتے ہیں کہ میرے دل میں مدت سے خواہش تھی کہ میں حضرت عمرؓ سے ایک بات دریافت کروں آخر ایک دن موقع پاکر میں نے آپ سے پوچھا کہ وہ دو عورتیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آپس میں ایک دوسرے کی مدد کی تھی وہ کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا وہ حفصہ اور عائشہ ہیں اور پھر فرمایا کہ ہم لوگوں میں عورتیں بالکل حقیر سمجھی جاتی تھیں حتی کہ قرآن کریم میں ان کے حقوق مقرر ہوئے۔ ایک دن کسی بات کو میں سوچ رہا تھا میری بیوی نے مجھے کہا کہ اگر اس طرح کرلو تو اچھا ہے میں ناراض ہوا کہ تیرا حق کیا ہے کہ مجھے مشورہ دے اس پر میری بیوی نے کہا عَجَبًا لَّكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ مَا تُرِيدُ أَنْ تُرَاجَعَ اَنْتَ وَإِنَّ ابْنَتَكَ لَتُرَاجِعُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَظَلَّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ فَقَامَ عُمَرُ فَاَخَذَ رِدَانَهُ مَكَانَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ فَقَالَ لَهَا يَا بُنَيَّةُ إِنَّكِ لَتُرَاجِعِيْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَظَلَّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ فَقَالَتْ حَفْصَةُ وَاللّٰهِ إِنَّا لَنُرَاجِعُهُ فَقُلْتُ تَعْلَمِيْنَ اَنِّی اُحَذِّرُكِ عُقُوبَةَ اللّٰهِ وَ غَضَبَ رَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ يَا بُنَيَّةُ لَا يَغُرَّنَّكِ هٰذِهِ الَّتِی اَعْجَبَهَا حُسْنُهَا حُبُّ رَسُوْلِ اللّٰهِ إِيَّاهَا يُرِيدُ عَائِشَةَ۷؎(ترجمہ) اے ابن خطاب! تجھ پر تعجب ہے کہ تو ناپسند کرتا ہے کہ تیری بیوی تیری بات میں بولے اور تیری بیٹی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کا جواب دیتی ہے یہاں تک کہ آپ کبھی سارا سارا دن ناراض رہتے ہیں۔ یہ سن کر عمر کھڑے ہوئے اور اپنی چادر ٹھیک طرح اوڑھی اور حفصہ کے پاس آئے اور کہا کہ اے بیٹی کیا یہ سچ ہے کہ تُو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں میں بول پڑتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ دن بھر ناراض رہتے ہیں۔ حفصہ نے کہا خدا کی قسم ہم تو آپ کی باتوں کا جواب دے دیا کرتی ہیں۔ پس میں نے کہا یاد رکھ میں تجھے اللہ کے عذاب اور اس کے رسول کے غضب سے ڈراتا ہوں۔ اے بیٹی! تجھے اس بیوی کا طریق عمل دھوکے میں نہ ڈالے جسے اپنے حسن یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر ناز ہے اور اس سے ان کی مراد حضرت عائشہ سے تھی۔
اس ٹکڑۂ حدیث کو نقل کر کے مصنف ہفوات یہ اعتراض کرتے ہیں۔ اول رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شان کہ جس بی بی کا دل خدا سے پھر گیا ہو اس پر آپ فریفتہ ہوں دوم جو بیوی خدا سے منحرف ہو وہ ان کی زوجیت میں رہ جائے۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔ سوم رسول اللہ پر ازواج کی یہ زیادتیاں ہوں کہ آپ کئی کئی دن غم و غصہ میں مبتلاء رہیں یعنی کارِ رسالت سے معطل رہیں۔ ان ہفوات کو عقلِ انسانی ہرگز قبول نہیں کرتی۔
چونکہ عشق کے ہیڈنگ کے نیچے یہ حدیث لکھی گئی ہے۔ اور چونکہ اعتراضات میں عشق کا ذکر نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف ہفوات کے نزدیک عشق کے اعتراض کے علاوہ مزکورہ بالا حدیث پر یہ اعتراض پڑتے ہیں۔
اس حدیث سے عشق کا مفہوم نکالنا تو مصنف ہفوات کی عقل میں ہی آسکتا ہے کیونکہ اس میں نہ عشق کا کوئی ذکر ہے نہ کوئی واقعہ اس میں ایسا لکھا ہے جس میں یہ اشارہ پایا جائے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ سے عشق تھا۔ ہاں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حفصہ کی نسبت زیادہ محبت تھی۔ لیکن یہ کوئی ایسی بات نہیں جس سے عشق کا نتیجہ نکالا جائے یا جس پر کسی قسم کا اعتراض ہو سکے۔ حضرت عائشہ کی نیکی۔ ان کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فدائیت اور ان کے والد کی خدمات و قربانیاں ایسی نہ تھیں کہ ان کی وقعت کو دوسری بیویوں کی نسبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں بڑھا نہ دیتیں۔ پس اس کی وجہ سے حضرت عائشہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زیادہ محبت کرنا قابلِ اعتراض امر نہیں بلکہ اس قدر دانہ طرزِ عمل پر روشنی ڈالتا ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت ایک ممتاز نمونہ پیش کرتی ہے۔ اور اس اعتراض سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ مصنف صاحبِ ہفوات کی نظر میں محبت کا کوئی نہایت ہی غلط مفہوم بیٹھا ہوا ہے اور وہ اپنی جہالت کا غصہ ائمہ حدیث پر نکالنا چاہتے ہیں۔
دوسرا اعتراض بھی کہ جس بی بی کا دل خدا تعالیٰ سے پھر گیا ہو اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح فریفتہ ہو سکتے تھے۔ ایسا ہی غلط ہے جیسا کہ پہلا۔ کیونکہ قرآن کریم میں تو اس کی بجائے یہ بیان ہے کہ ان کا دل اللہ تعالیٰ کی طرف مائل تھا۔ اور وہ اس کی رضا پر چلنے کے لئے بالکل تیار تھیں مصنف ہفوات خود ہی آیت کے ایک غلط معنے کر کے ائمہ حدیث پر اعتراض کرنے لگیں تو اس میں ائمہ حدیث کا کیا قصور ہے؟
وہ الفاظ قرآن جن سے مصنفِ ہفوات نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ حضرت عائشہ کا دل خدا تعالیٰ سے پھر گیا تھا یہ ہیں اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَی اللّٰہِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُکُمَا ۚ وَاِنۡ تَظٰہَرَا عَلَیۡہِ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ مَوۡلٰٮہُ وَجِبۡرِیۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ وَالۡمَلٰٓئِکَۃُ بَعۡدَ ذٰلِکَ ظَہِیۡرٌ(التحریم: ۵) (ترجمہ) اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ تو تمہارے دل تو جھک ہی چکے ہیں اور اگر تم دونوں اس کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو تو اللہ اس کا دوست ہے اور جبریل بھی اور مسلمانوں میں سے نیک لوگ بھی اور پھر اس کے ساتھ فرشتے بھی اس کے مددگار ہیں۔ اس آیت سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں کے دل خدا سے پھر گئے تھے بلکہ اس کے برخلاف یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان بیویوں کے دل اللہ تعالیٰ کی طرف جھکے ہوئے تھے۔ کیونکہ اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَی اللّٰہِ(66:5) کے بعد فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُکُمَا(66:5) فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پچھلا فعل پہلے فعل کا باعث اور موجب ہے۔ اور یہ خیال کرنا کہ کسی شخص کا دل پھر جانا توبہ کا موجب اور باعث ہو گا عقل کے خلاف ہے۔ دل میں خشیت کا پیدا ہونا توبہ کا محرک ہوتا ہے نہ کہ دل کا خدا سے دور ہو جانا۔ پس فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُکُمَا(66:5) کے یہ معنی نہیں ہیں کہ تمہارے دل اللہ تعالیٰ سے پھر گئے ہیں۔ بلکہ یہ معنی ہیں کہ تمہارے دل تو پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف جھکے ہوئے ہیں۔ یعنی یہی کام تمہارا اصل کام ہے اور غلطی دل سے نہیں ہوئی بلکہ سہواً ہوئی ہے۔ ان معنوں کے سوا دوسرے کوئی معنے کرنے لغتِ عرب اور قواعدِ زبان کے بالکل خلاف ہیں اور ہرگز جائز نہیں اور تعجب ہے ان لوگوں پر جو تعریفی کلمات کو مذمت قرار دیتے ہیں۔
غرض اس آیت میں تو تعریف کی گئی ہے کہ اگر اے بیو یو تم توبہ کرو تو تم اس کی اہل ہو۔ کیونکہ تمہارے دل پہلے ہی خدا کی طرف جھکے ہوئے ہیں۔ ہاں اگر توبہ نہ کرو تو ہمیں تمہاری پرواہ نہیں۔ اگر اس آیت کے وہ معنے لئے جاویں جنہیں مصنف صاحب ہفوات نے پسند کیا ہے تو یوں معنے ہوئے۔ اگر تم توبہ کرو تو تمہارے دل تو خدا سے دور ہو ہی چکے ہیں۔ اور اگر تم رسول کے خلاف کام کرو تو خدا اور مؤمن اور فرشتے اس کے مددگار ہیں کیا کوئی عقلمند اس فقرہ کی بناوٹ کو درست کہہ سکتا ہے کیونکہ مقابلہ کے فقروں میں دونوں حصوں کا مقابلہ ہوتا ہے لیکن ان معنوں کے رو سے پہلے فقرہ کے دوسرے حصہ کا مقابلہ کسی جملہ سے نہیں رہتا اور مزید برآں یہ عجیب مہمل بات بن جاتی ہے کہ اگر تم توبہ کرو تو تم تو پہلے ہی گناہ کی طرف مائل ہو چکی ہو کیا گناہ کی طرف میلان کے باعث توبہ نصیب ہوتی ہے یا خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے سے اور اس سے تعلق پیدا کرنے سے۔ پس صحیح معنے وہی ہیں جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں۔ اور ان کی رو سے آیت مذکورہ بالا سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بعض بیویاں رسول کریم کی اللہ سے دور ہو گئی تھیں۔ بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی وہ بیویاں دل سے نیک اور پرہیز گار تھیں۔ جو غلطی ان سے ہوئی تھی وہ سہو اور بشریت کی کمزوری کے ماتحت تھی۔
دوسرا اعتراض مصنف صاحبِ ہفوات کا یہ ہے کہ جو بیویاں خدا سے منحرف ہوں وہ نبی کی زوجیت میں کس طرح رہ سکتی ہیں؟ یہ اعتراض تین وجہ سے باطل ہے۔
اول تو اس وجہ سے کہ حضرت نوح اور حضرت لوط کی بیویاں خدا سے دور تھیں مگر باوجود اس کے وہ ان کی زوجیت میں رہیں۔ اگر مصنف صاحب ہفوات اس سورت کا آخری حصہ پڑھ لیتے تو ان کو یہ ٹھوکر نہ لگتی مگر قرآن کا پڑھنا تو ان کے لئے نہایت مشکل ہے کیونکہ ان کے نزدیک حضرت عثمان نے اس میں بہت کچھ رخنہ اندازی کر دی ہوئی ہے (نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ) ان کے نزدیک تو قرآن کریم کی صرف وہی آیت قابلِ سند اور قابلِ مطالعہ ہے۔ جس میں سے وہ توڑ مروڑ کر کوئی اعتراض خدامِ اسلام پر کر سکیں۔
اسی سورۃ کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوا امۡرَاَتَ نُوۡحٍ وَّامۡرَاَتَ لُوۡطٍ ؕ کَانَتَا تَحۡتَ عَبۡدَیۡنِ مِنۡ عِبَادِنَا صَالِحَیۡنِ فَخَانَتٰہُمَا فَلَمۡ یُغۡنِیَا عَنۡہُمَا مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا وَّقِیۡلَ ادۡخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیۡنَ(66:11)۷؎ (ترجمہ) اور اللہ تعالیٰ کافروں کی دو مثالیں بیان کرتا ہے۔ ایک تو نوح کی بیوی کی اور ایک لوط کی بیوی کی وہ دونوں ہمارے نیک بندوں کے نکاح میں تھیں مگر ان کے خلاف راستہ پر چلیں پس وہ دونوں نبی خدا کے عذاب سے ان کو ذرہ بھی نہ بچا سکے۔ اور ان دونوں سے کہا گیا کہ جس طرح باقی لوگ آگ میں داخل ہوتے ہیں تم بھی آگ میں داخل ہو جاؤ۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ باوجود خدا سے دور ہونے کے ایک عورت نبی کے نکاح میں رہ سکتی ہے کیونکہ مذہب اور عقیدہ کا تعلق نکاح کے ساتھ نہیں۔ (ہاں اہلِ اسلام کے لئے شرط ہے کہ صرف اہلِ کتاب سے شادی کریں) ظاہری اخلاق اور شرافت کا تعلق ہے۔ ایک بدکار اور فاحشہ عورت نبی کی بیوی نہیں رہ سکتی۔ لیکن مذہباً اگر وہ خراب ہے تو وہ نکاح میں رہ سکتی ہے۔
دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ جیسا کہ میں پہلے ثابت کر چکا ہوں۔ اس آیت کے یہ معنے ہی نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بیوی خدا سے دور ہو گئی تھی۔ بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ ان کا دل بالکل خدا کی طرف متوجہ تھا اور جو غلطی ہوئی تھی محض سہواً تھی پس یہ اعتراض اس جگہ پڑتا ہی نہیں۔
تیسرا جواب اس کا یہ ہے کہ یہ آیت تو قرآن کریم کی ہے۔ امام بخاری کی روایت تو نہیں جس پر اعتراض ہے۔ پس اعتراض امام بخاری پر نہیں اللہ تعالیٰ پر ہے۔ اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ یا تو اس آیت کے معنے برے ہیں یا اچھے۔ اگر اس کے یہ معنے ہیں کہ آپ کی دو بیویاں خدا سے پھر گئی تھیں۔ اور اگر یہ درست ہے کہ خدا سے دور ہونے والی بیویاں نبی کی زوجیت میں نہیں رہ سکتیں تو پھر امام بخاری ہی کا یہ فرض نہیں کہ وہ یہ بتائیں کہ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو بیویوں کو الگ کیوں نہ کر دیا۔ بلکہ مصنف ہفوات کا بھی جب تک وہ مسلمان کہلاتے ہیں فرض ہے کہ بتائیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کے حکم کے خلاف کام کیوں کیا۔ پس ان کا یہ اعتراض بخاری پر نہیں بلکہ درحقیقت قرآن کریم پر ہے کیونکہ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُکُمَا(66:5) بخاری کی روایت نہیں بلکہ قرآن کریم کی آیت کا ایک حصہ ہے۔
اور اگر اس آیت کے معنے اچھے ہیں اور اس میں ازواج مطہرات کی تعریف کی گئی ہے تو پھر مصنف ہفوات نے اس آیت کی بنا پر اعتراض کیوں کیا ہے؟ جب بیویاں نیک تھیں تو ان کے علیحدہ کرنے یا نہ کرنے کا سوال ہی کس طرح پیدا ہو سکتا ہے؟
تیسرا اعتراض مصنف ہفوات کا یہ ہے کہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ پر ایسی زیادتیاں کریں کہ کئی کئی دن تک آپ غم و غصہ میں مبتلاء رہیں اور کار رسالت سے معطل رہیں۔
اس اعتراض سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف صاحبِ ہفوات کا دماغ قوتِ ایجاد کا وافر حصہ رکھتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ ناپسند اور مکروہ باتوں کی ایجاد ہی میں مشغول رہتا ہے۔ اول تو حدیث میں کوئی ایسا لفظ موجود نہیں جس میں ازواج مطہرات کی زیادتیوں کا ذکر ہو۔ حدیث کے الفاظ سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ عرب کے دستور کے خلاف اس حریت کی روشنی میں جو اسلام نے پھیلائی تھی۔ اور ان محبت کے تعلقات کے نتیجہ میں جو میاں بیوی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا کرنا چاہتے تھے۔ آپ کی بیویاں بعض دفعہ بعض معاملات میں آپ کو مشورہ دے دیا کرتی تھیں اور بعض دفعہ اس تعلقِ محبت کی بنا پر آپ پر اپنی بات کے منوانے کے لئے زور بھی دے دیا کرتی تھیں۔ کیا اس بات کا نام کوئی شخص زیادتی رکھ سکتا ہے؟ حدیث میں
الفاظ تُرَاجِعِیْنَ کے ہیں یعنی بات کا جواب دینا۔ اور واقعہ بتا رہا ہے کہ جواب دینے سے کیا مراد ہے۔ کیونکہ یہ بات حضرت عمرؓ کی بیوی نے کہی ہے اور اس کا واقعہ حضرت عمرؓ یہ بیان فرماتے ہیں کہ آپ کسی بات کو سوچ رہے تھے کہ آپ کی بیوی نے مشورہ گوئی بات کہہ دی کہ جس امر میں آپ کو فکر ہے۔ آپ اس میں اس اس طریق سے کام کر سکتے ہیں۔ حضرت عمرؓ کو دستورِ عرب کے مطابق عورت کا مشورہ میں دخل دینا ناپسند ہوا ہے اور آپ نے اسے ڈانٹا اس پر اس نے کہا کہ آپ کیوں ناراض ہوتے ہیں؟ اس طرح تو آپ کی بیٹی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کر لیا کرتی ہے۔ پس مراجعت کے معنے خود الفاظِ حدیث سے ہی کھل جاتے ہیں معنے بات میں دخل دے لینا نہ کہ تُو تُو میں میں کرنا اور لڑنا جو مضمون کہ مصنفِ ہفوات نکالنا چاہتے ہیں حضرت عمرؓ کی بیوی نے کب حضرت عمرؓ کی کسی بات کو رد کیا تھا کہ اس کی نسبت یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اگر اس کے لئے یہ لفظ صرف مشورہ دینے پر بولا گیا ہے تو اس حدیث میں وہی لفظ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی نسبت استعمال ہوا ہے تو اس کے وہی معنے کیوں نہ کئے جاویں اور کیوں اس کے معنے زیادتی کے کئے جاویں۔
باقی رہا یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بھی کہا گیا ہے کہ آپ اس جواب سے دن بھر ناراض رہتے تھے تو اول تو یہ حضرت عمرؓ کی بیوی کے لفظ ہیں اور ان کی تصدیق نہ حضرت عمرؓ نے کی ہے نہ حضرت حفصہؓ نے کیونکہ جب انہوں نے حضرت حفصہؓ کے سامنے واقعہ بیان کیا ہے تو انہوں نے اس امر کی تو تصدیق کی ہے کہ ہم آپ سے اصرار کر کے بات کر لیا کرتی ہیں لیکن اس کا اقرار نہیں کیا کہ آپ بھی سارا سارا دن ناراض رہتے ہیں۔ پس یہ ایک عورت کا خیال ہے اور اگر ہم یہ کہہ دیں کہ یہ خیال غلط تھا تو حدیث کی صحت یا امام بخاری کی شخصیت پر کوئی اعتراض نہیں پڑتا۔
دوسرے اگر اس امر کو نظر انداز بھی کر دیا جائے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ناراض رہنے کو بطورِ واقع بیان نہیں کیا گیا بلکہ ایک عورت کے خیال کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس کی حضرت حفصہؓ تصدیق نہیں کرتیں تو بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ پر کوئی زیادتی کرتی تھیں بلکہ صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ مشورہ میں کوئی ایسی بات کہہ بیٹھتی تھیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک کہنی مناسب نہیں ہوتی تھی۔ اور آپ اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرما دیتے تھے اور یہ بات ان دو شخصوں کے تعلقات میں جو اخلاق اور علم میں فرق رکھتے ہوں پیدا ہو جانی بالکل معمولی ہے۔
دوسری ایجاد مصنف صاحبِ ہفوات کے دماغ کی یہ ہے کہ حدیث میں تو یہ لفظ ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن ناراض رہتے اور وہ اپنے اعتراض میں لکھتے ہیں کہ کئی کئی دن تک آپ غم و غصہ میں مبتلا رہتے۔
تیسری ایجاد مصنفِ ہفوات کی یہ ہے کہ حدیث میں تو لفظ غضب کا استعمال ہوا ہے جو اچھے اور برے دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت بھی استعمال ہو جاتا ہے جیسا کہ آتا ہے مَنۡ لَّعَنَہُ اللّٰہُ وَغَضِبَ عَلَیۡہِ(5:61) ۴؎ اور انہوں نے اس لفظ کو بدل کر غم و غصہ کا لفظ استعمال کر دیا ہے تاکہ اعتراض مضبوط ہو جائے۔ کیونکہ غصہ کا لفظ عربی زبان میں بُرے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس لفظ کا مفہوم یہ ہے کہ جس شخص کے اندر یہ مادہ جوش میں آوے خود اس کو تکلیف ہو اور اس کا گلا گھٹ جائے۔ اور یہ حالت صرف ان لوگوں کی ہوتی ہے جو جوش سے اندھے ہو جائیں اور مایسوا کو بھول جائیں۔ قرآن کریم میں یہ لفظ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ دوزخیوں کے کھانے کی نسبت آتا ہے وَّطَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ(73:14) ۴؎ وہ کھانا ان کو ملے گا جو ان کے گلے کو پکڑ لے گا اور نہ باہر نکل سکے گا نہ اندر جا سکے گا۔
لغت میں بھی یہی معنے کئے ہیں کہ غصہ اس حزن کو کہتے ہیں جو انسان کے گلے کو پکڑے ۵؎ یعنی اس کی حالت موت کی سی کر دے جیسے کسی کا گلا بند ہو جائے۔ پس یہ لفظ اللہ تعالیٰ اور اس کے نیک بندوں کی نسبت استعمال نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس کا مفہوم ان کے اندر نہیں پایا جاتا اور حدیث میں یہ لفظ رسول کریمؐ کی نسبت استعمال نہیں ہوا بلکہ غضب کا ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کی نسبت بھی استعمال ہو جاتا ہے۔
مصنفِ ہفوات کے دماغ کی چوتھی اختراع یہ ہے کہ وہ اس حدیث سے یہ مطلب نکالتے ہیں کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت لکھا ہے۔ آپ اپنی بیویوں کی بات پر اظہارِ غضب کرتے تھے اس سے معلوم ہوا کہ آپ کارِ رسالت سے معطل ہو جاتے تھے۔ حالانکہ غضب کرنے اور کارِ رسالت سے معطل ہونے کا کوئی بھی علاقہ نہیں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح مصنف ہفوات نے محبت کا غلط مفہوم سمجھ کر پہلی حدیث پر اعتراض شروع کر دیا تھا اسی طرح غضب کا غلط مفہوم سمجھ کر دوسری حدیث پر اعتراض شروع کر دیا۔ اگر وہ قرآن کریم پر نظر ڈالتے تو ان کو اس قسم کے اعتراضات کر کے خود سبکی نہ اٹھانی پڑتی اور دشمنانِ اسلام کو خوشی کا موقع نہ ملتا۔
میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی نسبت قرآن کریم میں بار بار استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ بعض آیات اور لکھ دیتا ہوں جن سے معلوم ہو گا کہ خدا تعالیٰ بھی غضب کرتا ہے۔ سورۃ مجادلہ میں فرماتا ہے تَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ(58:15)۔۴۶ سورۃ نساء میں ہے وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَلَعَنَہٗ(4:94)۔۴۷ سورۃ فتح میں ہے وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ(48:7)۔۴۸ اور اگر مصنف ہفتوات نماز کے فریضہ کے ادا کرنے کی طرف بھی کبھی متوجہ ہوتے ہیں تو ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ سورہ فاتحہ جسے ایک مسلمان کم سے کم بتیس دفعہ دن میں پڑھتا ہے اس میں غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ(1:7)۔۴۹ ایک قوم کی نسبت آتا ہے۔ اور اس غضب کی مدت قیامت تک ہے جیسا کہ فرماتا ہے وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّکَ لَیَبۡعَثَنَّ عَلَیۡہِمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ مَنۡ یَّسُوۡمُہُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ؕ اِنَّ رَبَّکَ لَسَرِیۡعُ الۡعِقَابِ ۚۖ وَاِنَّہٗ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ(7:168)۔۵۰ ترجمہ: جب تیرے رب نے خبر دے دی کہ وہ ان لوگوں پر قیامت تک ایسے لوگ مقرر کرتا رہے گا جو ان کو سخت عذاب دیتے رہیں گے۔ ضرور تیرا رب جلد برے کام کا بدلہ دینے والا ہے۔ اور وہ ساتھ ہی بہت بخشنے والا اور مہربان بھی ہے۔ اب اگر غضب کرنے والا اپنے کام سے معطل ہو جاتا ہے اور اسی صورت میں وہ غضب کر سکتا ہے جب اور کسی کی بات کی اسے ہوش نہ رہے تو کیا اللہ تعالیٰ بھی اپنے کام سے معطل ہو جاتا ہے اور اگر باوجود اس کے کہ یہ لفظ بار بار اللہ تعالیٰ کی نسبت استعمال ہوا ہے اللہ تعالیٰ کی شان میں کچھ فرق نہیں آتا تو کیا رسول کی شان خدا سے بڑھ کر ہے کہ اگر اس کی نسبت یہ لفظ استعمال ہو جائے تو اس کی شان میں فرق آجاتا ہے۔
اگر یہ کہو کہ خدا تعالیٰ کی نسبت تو یہ الفاظ بطور استعارہ اور مجاز استعمال ہوتے ہیں اور بندوں کی نسبت اصل معنوں میں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کوئی قاعدہ ایسا نہیں جس میں استعارہ اور مجاز کے استعمال کے لئے یہ حد لگائی گئی ہو کہ فلاں کے لئے وہ استعمال ہو سکتا ہے اور فلاں کے لئے نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کے لئے یہ لفظ بطور استعارہ استعمال ہوتے ہیں تو وہی لفظ اگر اللہ تعالیٰ کے رسول کی نسبت آگیا ہے تو اس کے حقیقی معنے اگر رسول کی شان کے خلاف ہیں تو ہم اسی طرح اس جگہ اس کے مجازی معنے لے لیں گے جس طرح اللہ تعالیٰ کی نسبت اس کے مجازی معنے لیتے ہیں۔
دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ مجاز اور استعارہ کے طور پر وہی لفظ کسی قدوس اور پاک ہستی کی نسبت استعمال کیا جاتا ہے جو پاک ہو۔ پس اگر مجازاً بھی غضب کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال کیا جاتا ہو تب بھی یہ ماننا پڑے گا کہ وہ لفظ اعلیٰ سے اعلیٰ انسان کے لئے بولنا اس کی شان کے خلاف نہیں۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اس لفظ کا استعمال آپ کی شان کے خلاف نہیں۔ کیونکہ یہ کسی عیب پر یا کمزوری پر دلالت نہیں کرتا بلکہ غضب اس موقع پر ایک خوبی ہے جس کا پایا نہ جانا بے غیرتی پر دلالت کرتا ہے
مگر مصنف صاحب ہفوات کی تسلی کے لئے ہم استعارة اور مجاز کے عذر کو بھی قبول کر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا انبیاء اور نیک لوگوں کے لئے اس لفظ کا استعمال قرآن کریم میں دکھا دیتے ہیں۔ سورۃ اعراف میں یہی لفظ حضرت موسیٰ کی نسبت آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤی اِلٰی قَوۡمِہٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا ۙ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِیۡ(7:151)۵۱؎ اور جب موسیٰ اپنی قوم کی طرف ایسی حالت میں لوٹے کہ وہ ان پر غضبناک تھے اور ان کی حالت پر افسوس کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تم لوگوں نے میرے بعد میری جانشینی بہت بری طرح کی ہے۔ اس کے آگے چل کر فرمایا وَلَمَّا سَکَتَ عَنۡ مُّوۡسَی الۡغَضَبُ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ(7:155)۵۲؎ اور جب موسیٰ کا غضب ٹھہر گیا تو انہوں نے تختیاں لے لیں۔ کیا ان آیات کے مطابق یہ سمجھنا چاہئے کہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ حضرت موسیٰ طور سے واپس آئے اور اپنی قوم کے سمجھانے کے عرصہ میں کارِ نبوت سے معطل رہے تھے۔ اگر نہیں تو رسول کریم کی نسبت یہی لفظ اگر استعمال کیا گیا ہے تو اس کے معنی کارِ نبوت سے معطل ہونے کے کیونکر ہو گئے۔ کیا اس لئے کہ مصنف ہفوات نے امام بخاری کے پردہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کو برا بھلا کہنے کی ایک سبیل نکالی ہے یا کم سے کم یہ کہ حدیثوں کی برائی ثابت کرنا ان کا اصل مقصد نہیں بلکہ اصل میں صحابہ اور ائمہ دین کو گالیاں دے کر اپنی طبیعت ثانیہ کے مقتضیٰ کو پورا کرنا مطلوب ہے۔
حضرت موسیٰ کے علاوہ یہی لفظ ایک اور نبی کی نسبت بھی استعمال ہوا ہے اور وہ یونسؑ نبی ہیں جن کو قرآن کریم میں ذوالنون کے لقب سے بھی یاد کیا ہے۔ ان کی نسبت سورۃ انبیاء میں آتا ہے وَذَا النُّوۡنِ اِذۡ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنۡ لَّنۡ نَّقۡدِرَ عَلَیۡہِ فَنَادٰی فِی الظُّلُمٰتِ اَنۡ لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ(21:88)۵۳؎ (ترجمہ) اور ذوالنون کو بھی (ہم نے ہدایت دی تھی) جب کہ وہ غضبناک ہو کر اپنے علاقہ سے چلا اور اسے یقین تھا کہ ہم اس کے ساتھ سختی کا معاملہ نہیں کریں گے۔ پس اس یقین کی بنا پر اس نے مصائب کے وقت پکار کر کہا۔ تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں تو پاک ہے اور میں تو ظالموں میں سے ہوں (یعنی اپنے نفس کو میں نے دکھ میں ڈال
دیا ہوا ہے) اس آیت میں بھی ایک نبی کی نسبت غضب کا لفظ استعمال ہوا ہے مگر باوجود اس کے وہ کارِ نبوت سے معطل نہیں ہوا بلکہ نبی ہے اور نبیوں والا کام کر رہا ہے۔ لوگوں سے ناراض ہے مگر اللہ کی مدد کا کامل بھروسہ رکھتا ہے۔ دنیا کی تنگی کو دیکھ کر بھی یقین رکھتا ہے کہ خدا مجھے نہیں چھوڑے گا اور اس کی امداد کے حصول کے لئے اس کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور اس کے لئے الٰہی رحمت کا دروازہ کھولا جاتا ہے۔
یہی غضب کا لفظ مومنوں کی نسبت بھی استعمال ہوا ہے اور بصورتِ مدح استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ سورۃ شوریٰ میں فرمایا ہے۔ وَاِذَا مَا غَضِبُوۡا ہُمۡ یَغۡفِرُوۡنَ(۵۴) جب ان کو کسی پر غضب آتا ہے تو اپنے غضب کے نتیجہ میں لوگوں کو سزا نہیں دیتے بلکہ باوجود غضب کے ان کے رحم کا پہلو غالب رہتا ہے اور وہ دوسروں کے قصوروں کو معاف کر دیتے ہیں۔ اس جگہ دیکھو مومنون کی تعریف میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ وہ غضب کے وقت سزا سے ہاتھ کھینچے رکھتے ہیں۔ اگر غضب کے معنے کارِ رسالت سے معطل ہونے کے ہوتے تو یہ مومن کارِ مومنیت سے کیوں معطل نہ ہو جاتے۔ اس جگہ سے تو معلوم ہو رہا ہے کہ غضب کے باوجود ایک مومن کا تعلق ایمان بھی قائم رہتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کی جلوہ گری اپنے اندر پاتا ہے اور اس کے رحم کو اپنے اندر منعکس کر کے وہ لوگوں کے گناہ معاف کرتا ہے۔ تو پھر کیا نبیوں کے دل کا ظرف ہی اس قدر تنگ ہے کہ اس میں غضب کے آتے ہی باقی سب حواس وہاں سے غائب ہو جاتے ہیں اور ان کو پھر دنیا و ما فیہا بلکہ خدا اور عقبیٰ کی بھی کچھ فکر نہیں رہتی اور وہ کارِ نبوت سے معطل ہو جاتے ہیں۔ اس عقل و دانش پر تعجب ہے اور اس علم پر ائمہ پر اعتراض کرنے کی جرأت موجبِ حیرت ہے۔ اور اس ستم ظریفی پر عقل دنگ ہے کہ آپ بایں علم و فہم لکھتے ہیں کہ ان ہفوات کو عقل انسانی ہرگز قبول نہیں کرتی۔
تیسری روایت مصنف ہفوات نے اس امر کی سند میں کہ ائمہ حدیث کے نزدیک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ سے عشق تھا بخاری کتاب النکاح سے نقل کی ہے۔ یہ روایت درحقیقت اسی واقع کے متعلق ہے جو اوپر بیان ہو چکا ہے اس لئے واقع کی طرف اشارہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس میں سے یہ الفاظ نقل کر کے مصنف ہفوات نے اعتراض کیا ہے ثُمَّ قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ لَوْ رَأَيْتَنِيْ وَ دَخَلْتُ عَلٰى حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَهَا لَا يَفُوتَنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ أَوْضَأَ مِنْكِ وَأَحَبَّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عَائِشَةَ فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ تَبَسُّمَةً اُخْرٰی۔۵۵میں نے کہا یا رسول اللہ دیکھئے تو سہی میں حفصہ کے پاس گیا اور میں نے اس سے کہا کہ تجھے کوئی بات دھوکا نہ دے کیونکہ تیری ہمسائی تجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ خوش رکھنے والی اور زیادہ پیاری ہے جس سے ان کی مراد حضرت عائشہ تھیں۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ اپنے خاص طرز میں مسکرائے۔
مصنف ہفوات اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عوام کی طرح مبتلائے نفس امارہ تھے۔ اس عقل و دانش پر مجھے تعجب آتا ہے۔ اگر اس کا نام نفس امارہ ہے کہ کسی شخص سے جس سے خدا تعالیٰ نے رشتۂ محبت پیدا کیا ہے محبت کی جائے تو پھر وہ سب روایات جن میں حضرت علی اور حضرت فاطمہ اور حضرت حسن اور حضرت حسین سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا ذکر آتا ہے وہ سب ہی نفس امارہ کی غلامی پر دلالت کرتی ہیں۔ نَعُوْذُ بِاللهِ مِنْ ذٰلِكَ۔ اور اگر کسی شخص سے دوسروں کی نسبت زیادہ محبت کرنا نفس کی غلامی ہے تو لَیُوۡسُفُ وَاَخُوۡہُ اَحَبُّ اِلٰۤی اَبِیۡنَا مِنَّا(12:9)۵۶ کی آیت کے ماتحت حضرت یعقوب نَعُوْذُ بِاللهِ مِنْ ذٰلِكَ۔ نفس امارہ کے غلام ٹھہرے۔ افسوس کہ انسان تعصب میں اندھا ہو کر بالکل غور نہیں کر سکتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔
مجھے اس اعتراض پر اور کچھ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ محبت کے مضمون پر میں پہلے تفصیلاً لکھ آیا ہوں۔ ہاں یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس حدیث کو نقل کر کے مصنف ہفوات نے جو چند فقرات بزعم خود اس کے مضمون کو رَدّ کرنے کے لئے لکھے ہیں ان سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ان صاحب کا عندیہ اصل میں کیا ہے اور اس کتاب کی تصنیف کی حقیقی غرض کیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں۔ اس روایت کو ابن عباس سے کتاب المظالم میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ لیکن اس حدیث میں حضرت عائشہ و حفصہ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمَا کے راز فاش کرنے پر عتاب فرمانے کا بھی ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اوپر کی عشق بازی کی احادیث لغو و بہتان ہیں۔ دوم ابن ماجہ جلد سوم باب اسم اللہ الاعظم صفحہ ۲۲۵ میں حضرت عائشہ سے منقول ہے کہ آنحضرتؐ نے اسم اعظم کی تعریف کی تو حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس کے سکھانے کی فرمائش دو بار کی لیکن آپ نے انکار فرمایا۔۵۷ سوم مولوی حسن الزمان صاحب حیدر آبادی کی کتاب قولِ مستحسن کے صفحہ ۴۰۲ میں عوام بن حوشب کی روایت ہے کہ جناب عائشہ نے حضرت فاطمہ اور حسن و حسین کے ساتھ چادر تطہیر میں گھسنے کی درخواست کی تو آنحضرت نے فرمایا ہٹ جا۔
ان روایات کے نقل کرنے سے مصنف کتاب کا منشاء سوائے حضرت عائشہ کی تحقیر کے اور کیا ہو سکتا ہے۔ اور جو شخص بھی بلا تعصب کے اس کتاب کو پڑھے گا اسے ماننا پڑے گا کہ یہی ان کا منشاء ہے۔
گو اس کتاب کے موضوع سے چنداں اسے تعلق نہیں۔ لیکن چونکہ ان اعتراضات کو میں نے اس جگہ درج کر دیا ہے ان کا جواب بھی اس جگہ دے دینا مناسب سمجھتا ہوں۔ امراول۔ یعنی حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ پر عتاب کا ہونا کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ وہ عتاب خراب ہوتا ہے جو شرارت پر کیا جائے۔ لیکن جو عتاب غلطی پر کیا جائے وہ تو ایک سبق اور نصیحت ہے۔ نبی دنیا میں سکھانے کے لئے آتے ہیں۔ لوگوں میں کمزوریاں ہوتی ہیں۔ تبھی ان کی بعثت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر اس سے بڑے درجہ کے لوگوں کے لئے علومِ روحانیہ کے سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کسی جگہ وہ ٹھوکر کھا جائیں تو ان کو تنبیہ ہوتی ہے اور یہ تنبیہ بطور تلطف ہوتی ہے نہ بہ نظر تحقیر و عذاب۔ پس اگر حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کو جو تنبیہ ہوئی ہے وہ عتاب میں ہے تو کوئی حرج نہیں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کا دل خدا ہی کی طرف مائل تھا۔ پس یہ تنبیہ ان کی عظمت پر دلالت کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی خاص توجہ کی علامت ہے۔
دوسرا اعتراض کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کو اسم اعظم نہیں سکھایا۔ اصل مضمون سے تعلق نہیں رکھتا۔ یہ بات کہ کسی شخص کو کسی دوسرے شخص سے سخت محبت ہے اس امر کا موجب نہیں ہوتا کہ وہ اسے ہر ایک بات بتا دے۔ مگر اس بات کے بیان کرنے سے چونکہ آپ کی یہ نیت ہے کہ حضرت عائشہ کی عظمت کو لوگوں کی نظروں میں کم کریں اس لئے میں اس کا جواب دے دینا بھی مناسب سمجھتا ہوں
اس میں کوئی شک نہیں کہ ابن ماجہ میں حضرت عائشہ سے یہ روایت مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کو اسم اعظم نہیں سکھایا لیکن اس روایت سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اسم اعظم کوئی خاص شئے ہے جو نہایت پیاروں کو سکھائی جاتی ہے ایک حماقت کی بات ہے۔ اسم اعظم کوئی خاص شئے نہیں بلکہ اسم اعظم کے متعلق اس قسم کا خیال مسلمانوں میں یہود سے آیا ہے جو یہودا کے نام کا تلفظ اس قدر مشکل سمجھا کرتے تھے کہ سوائے عالموں کے دوسروں کے لئے اس نام کا لینا یا اس کا سکھانا جائز نہیں جانتے تھے (دیکھو جیوش انسائیکلوپیڈیا و انسائیکلوپیڈیا ببلیکا زیر لفظ نیمز NAMES) اور ان کا یہ خیال تھا کہ اس نام کو صحیح طور سے جو شخص بول سکے اس کی ہر ایک غرض
پوری ہو جاتی ہے مسلمانوں میں جب دیگر اقوام سے میل جول کے نتیجہ میں ان کے خیال اور وساوس داخل ہو گئے تو یہ خیال بھی یہود سے داخل ہو گیا اور صرف اسلامی الفاظ کے پردہ میں یہ یہودی عقیدہ عام مسلمانوں میں راسخ ہو گیا۔ ورنہ یہ خیال کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا نام ہے جو اس کے بندے کے لئے مفید ہے اس کے انبیاء جو ہر ایک چیز کو جو انسانوں کے لئے مفید ہو ظاہر کر دیتے ہیں۔ اس نام کو چھپائے رکھتے ہیں۔ خدا اور اس کے رسولوں کی ہتک ہے۔ اسم اعظم درحقیقت اللہ کا لفظ ہے جو اسم ذات ہے اور تمام اسماء اس کے ماتحت ہیں اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ ہاں مختلف اشخاص کو ان کے مخصوص حالات کے مطابق بعض خاص اسماء سے تعلق ہوتا ہے اس وقت ان ناموں کو یاد کر کے دعا کرنا ان کے لئے بہت مفید ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلِلّٰہِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی فَادۡعُوۡہُ بِہَا(7:181)۵۸ اس وقت موقع کے لحاظ سے ان اشخاص کے لئے وہی اسماء جن کی بلانے سے ان کی حاجت روائی ہوتی ہے ان کے لئے اسم اعظم بن جاتے ہیں خود اس حدیث کے ساتھ جو اور حدیث اسم اعظم کے متعلق مذکور ہیں انہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسم اعظم سے مراد کوئی خاص پوشیدہ نام نہیں ہے چنانچہ اس حدیث کے ساتھ عبد اللہ بن بریدہ کی روایت درج ہے کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کو کہتے سنا اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِاَنَّکَ اَنْتَ اللّٰہُ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ وَ لَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لَقَدْ سَاَلَ اللّٰہَ بِاسْمِہِ الْاَعْظَمِ الَّذِیْ اِذَا سُئِلَ بِہٖ اَعْطٰی وَ اِذَا دُعِیَ بِہٖ اَجَابَ۔۵۹ اس نے اللہ تعالیٰ کو اس کے اسم اعظم سے پکارا ہے جس کے ذریعہ سے پکارنے پر وہ سوال کو قبول کرتا اور پکار کا جواب دیتا ہے۔ پھر ساتھ ہی انس بن مالک کی روایت درج ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا کہ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِاَنَّ لَکَ الْحَمْدُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ الْمَنَّانُ بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ذُو الْجَلَالِ وَالْاِ کْرَامِ تو فرمایا کہ لَقَدْ سَاَلَ اللّٰہَ بِاسْمِہِ الْاَعْظَمِ الَّذِیْ اِذَا سُئِلَ بِہٖ اَعْطٰی وَاِذَا دُعِیَ بِہٖ اَجَابَ۶۰ یعنی اس نے خدا تعالیٰ کو اس کے اس اسم اعظم سے پکارا ہے کہ اگر اس کے ذریعہ سے اس سے سوال کیا جائے تو وہ دیتا ہے اور اگر اسے پکارا جائے تو وہ جواب دیتا ہے۔
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ (۱) اسم اعظم کسی ایک اسم کا نام نہیں بلکہ ان اسماء کا نام ہے جن سے کسی خاص وقت میں دعا مانگنی زیادہ مفید ہوتی ہے کیونکہ مختلف لوگوں نے مختلف دعاؤں اور ناموں سے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کیا ہے اور ان کا نام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسمِ اعظم رکھا ہے (۲) یہ اسمِ اعظم کوئی پوشیدہ امر نہیں ورنہ رسول کریم لوگوں کو یہ کیوں بتاتے کہ ان لوگوں نے اسمِ اعظم کو یاد کر کے دعا مانگی ہے۔ آپ کو تو چاہئے تھا کہ اگر اتفاقاً کسی کے منہ سے اسمِ اعظم نکل گیا تھا تو چپ کر رہتے۔ (۳) جب کہ آپ علیٰ الاعلان اسمِ اعظم کی تلقین کرتے تھے تو ممکن نہ تھا کہ حضرت عائشہ سے چھپاتے کیونکہ وہ دوسروں سے سن سکتی تھیں۔
اصل بات یہ ہے کہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں بعض لوگوں کی خاص حالت کے مطابق بعض اسماء ہوتے ہیں اور وہی ان کے لئے اسمِ اعظم ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس حدیث میں جس پر صاحبِ ہفوات نے اعتراض کیا ہے اسی قسم کے اسم کا ذکر ہے اور اس میں یہ جو بیان ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ نام بتایا ہے جس کے ذریعہ سے اگر اس سے دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے۔ اس سے مراد آپ کی اسی اسم سے تھی۔ جو آپ کے ذاتی امور کے ساتھ مناسبت رکھتا تھا یہ اسم یا بطور الہام یا بطور القاء ہی معلوم کرایا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ نے اس سے فائدہ اٹھا کر کسی ایسے امر کے متعلق دعا کرنی چاہی ہے جو ان میں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان مشترک تھا۔ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت معلوم ہو چکا تھا کہ وہ امر اللہ تعالیٰ کی مشیت کے خلاف ہے آپ نے حضرت عائشہ کو وہ نام نہیں بتایا کہ کہیں جوش میں اس امر کے متعلق وہ دعا نہ کر بیٹھیں۔ لیکن حضرت عائشہ نے اپنے عمل سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت کا ثبوت دے دیا۔ اور ایسی جامع مانع دعا کی جو اسمِ اعظم پر مشتمل تھی اور خدا تعالیٰ سے کوئی دنیاوی چیز نہیں مانگی بلکہ اس کی مغفرت اور رحم ہی مانگا۔ چنانچہ اس حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کی دعا پر ہنس پڑے اور فرمایا کہ اسمِ اعظم تیری دعا میں شامل تھا۔ پس جب کہ حضرت عائشہ کی زبان پر بسب ان کی کامل اتباع کے اللہ تعالیٰ نے خود بطور القاء کے وہ اسم جاری کر دیا جو ان کے مناسبِ حال تھا۔ تو کیسا نادان ہے وہ شخص جو حضرت عائشہ کے درجہ پر اس حدیث کے ذریعہ سے اعتراض کرتا ہے یہ حدیث تو آپ کے بلند درجہ اور اعلیٰ مقام پر دلالت کرتی ہے اور آپ کو جو محبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی اس پر شاہد ہے نہ کہ اس سے آپ کی شان کے خلاف کوئی استدلال ہوتا ہے۔
اس کے بعد آپ نے حضرت عائشہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی نفی کے
ثبوت میں قول مستحسن کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ عمیر بن حوشب کی روایت ہے کہ جب عائشہ نے حضرت فاطمہ اور حسن اور حسین کے ساتھ چادرِ تطہیر میں داخل ہونے کی درخواست کی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پرے ہٹ جا اس روایت کے متعلق مجھے اس سے زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ چادرِ تطہیر شیعہ محاورہ ہے۔ چادرِ تطہیر کا ثبوت قرآن کریم سے نہیں ملتا۔ قرآن کریم میں تو ایک وعدہ تطہیر بیان ہوا ہے اس کا کسی چادر کے ساتھ تعلق نہیں۔ شیعان علی نے نہیں کیونکہ وہ نیک اور پارسا لوگ تھے بلکہ بعض شیعان نفسانیت نے اہل بیت کے معنے حقیقت سے پھیرنے کے لئے جو روایات گھڑی ہیں ان میں چادرِ تطہیر کا ذکر آتا ہے اور ان کی عبارتیں ہی بتاتی ہیں کہ ان سے محض اتہامات المؤمنین کی ہتک اور لوگوں کی عقل پر پردہ ڈالنا مقصود ہے۔ قرآن کریم میں صریح طور پر بیویوں کو اہل بیت کہا گیا ہے۔ چنانچہ سورۃ ہود میں ان رسولوں کے ذکر میں جو لوط کی قوم کی ہلاکت کے لئے مبعوث ہوئے تھے حضرت سارہ کو جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی تھیں اہل بیت کہہ کر پکارا گیا ہے وہ لوگ حضرت سارہ کو مخاطب کر کے کہتے ہیں اَتَعۡجَبِیۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰہِ رَحۡمَتُ اللّٰہِ وَبَرَکٰتُہٗ عَلَیۡکُمۡ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ ؕ اِنَّہٗ حَمِیۡدٌ مَّجِیۡدٌ(11:74) یعنی کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے فیصلہ پر تم پر تو اے اہل بیت! اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکات ہیں اللہ تعالیٰ یقیناً بہت تعریف والا اور بڑی بزرگیوں کا مالک ہے۔ لیکن ان روایات میں صاف الفاظ میں بیویوں کے اہل بیت ہونے سے انکار کیا گیا ہے۔ پس ان خلاف قرآن روایات کو کون مسلمان تسلیم کر سکتا ہے۔ یہ اقوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں ہیں۔ بلکہ ان لوگوں کی افترا پردازیاں ہیں جو باوجود سخت وعیدوں کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے سے نہیں جھجکتے تھے۔
مگر جھوٹ چھپ نہیں سکتا۔ اول تو قرآن کریم سے ہی ان کی یہ روایات ٹکرا جاتی ہیں اور اس لئے قابل قبول نہیں۔ دوسرے خود آپس میں یہ روایتیں سخت ٹکراتی ہیں۔ مثلاً یہی واقعہ پندرہ بیس راویوں سے مذکور ہے اور مختلف روایتوں میں اس قدر سخت اختلاف ہے کہ ان میں تطبیق کی کوئی صورت نہیں۔ حضرت ام سلمہ کی طرف یہ قول منسوب کیا گیا ہے کہ یہ آیت ان کے گھر میں نازل ہوئی ہے حضرت عائشہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے کہ گویا ان کے گھر نازل ہوئی ہے۔ کسی روایت میں ہے کہ جس وقت آیت تطہیر اتری تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ اور حضرت حسنین اور علی کو ام سلمہ کے گھر میں بلا کر ان کو چادر میں داخل کیا۔ کسی میں ہے کہ آپ نے خود ان کے گھر میں جا کر ان کو ایک چادر میں جمع کر کے ان پر یہ آیت پڑھی۔ پھر کسی روایت میں ہے کہ ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ مجھے اس چادر میں داخل کر دو اور آپ نے داخل نہ کیا۔ اور کسی میں ہے کہ عمیر بن حوشب کہتے ہیں کہ عائشہ نے کہا تھا کہ مجھے داخل کرو اور آپ نے داخل نہ کیا۔ اس اختلاف سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل بیت کی محبت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں نے وقتی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے یہ روایات بنائی ہیں اس لئے دروغ گو را حافظہ نہ باشد کے اصل کے مطابق وہ اپنے بیان میں کوئی مابہ الاشتراک پیدا نہیں کر سکے۔ کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ ایک روایت میں تو یہ بیان ہوتا ہے کہ ام سلمہؓ نے کہا کہ میں نے خود چادر تطہیر میں داخل ہونا چاہا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ مگر عمیر بن حوشب کی روایت کے مطابق حضرت عائشہ نے داخل ہونا چاہا مگر اجازت نہ ملی۔ کیا یہ اس امر کا ثبوت نہیں کہ ایک وضاع نے اگر حضرت ام سلمہ کی ہتک کرنی چاہی ہے۔ تو دوسرے نے حضرت عائشہ کی۔
علاوہ ازیں حضرت عائشہ کی جو حدیث مصنف ہفوات نے درج کی ہے اس سے حضرت عائشہ کی ہرگز ہتک ثابت نہیں ہوتی بلکہ آپ کی رفعت ثابت ہوتی ہے۔ ہاں مصنف ہفوات نے اپنے ترجمہ میں ہتک کا مضمون پیدا کرنے کی کوشش بے شک کی ہے وہ لکھتے ہیں کہ جب حضرت عائشہ نے چادر تطہیر میں داخل ہونا چاہا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غصہ کے لہجہ میں فرمایا چل دور ہو تو اپنے درجہ پر ٹھیک ہے۔ یہ ترجمہ خواہ ان کا ہے یا قولِ مستحسن والے کا جس کے حوالہ سے انہوں نے یہ روایت نقل کی ہے بالکل غلط ہے۔ انہوں نے خود ہی الفاظِ حدیث درج کئے ہیں جو یہ ہیں۔ قَالَ تَنَحَّيْ فَإِنَّكِ خَيْرٌ ان الفاظ میں غصہ سے کہا کے الفاظ ہرگز موجود نہیں ہیں۔ اور نہ ”چل دُور ہو“ کے ہیں اور نہ یہ کہ تو اپنی جگہ ٹھیک ہے۔ یہ تینوں باتیں اپنے پاس سے بنا کر داخل کر دی گئی ہیں۔ الفاظِ حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ ایک طرف ہو جاؤ تم بہت ہی اچھی ہو جس کے اگر کوئی معنے نکل سکتے ہیں تو صرف یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ تم میں تو پہلے سے ہی خیر موجود ہے۔ تمہیں چادر تطہیر میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر حق یہ ہے کہ خواہ الفاظ کچھ ہوں۔ یہ احادیث بعض نام نہاد محبانِ اہل بیت نے حقیقی اہل بیت کو بدنام کرنے کے لئے وضع کی ہیں۔
اس جگہ کسی کو شائد یہ شبہ گزرے کہ اس بیان سے تو معلوم ہوا کہ بعض احادیث جھوٹی بھی ہوتی ہیں پھر اعتبار کیا رہا؟ مگر یاد رہے کہ اس شبہ کا ازالہ میں پہلے کر آیا ہوں کہ باوجود بعض احادیث کے غلط ہونے کے حدیثوں پر اس حد تک اعتبار کیا جا سکتا ہے جس حد تک وہ اپنی ضرورت کو پورا کر رہی ہیں۔ اس سے زیادہ نہ ان پر اعتبار کیا جا سکتا ہے اور ان کی ضرورت ہے۔ اسلام کے اصول قرآنِ کریم اور سنت سے ثابت ہیں اور احادیث صرف سنت کی مؤید اور اس پر ایک تائیدی گواہ کے طور پر ہوتی ہیں۔ دوسرے امور کے متعلق وہ بحیثیت ایک معتبر تاریخ کے شاہد ہوتی ہیں۔ اور جس طرح معتبر سے معتبر تاریخ میں غلطیاں پائی جاتی ہیں لیکن اس کے فائدہ سے انکار نہیں ہو سکتا اسی طرح ان میں بھی غلطیاں پائی جاتی ہیں لیکن اس کے فائدہ سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ حدیث میں یہ خوبی ہے کہ اس کے جمع کرنے میں جو احتیاط برتی گئی ہے اس کے سبب سے یہ یورپ کی تاریخوں کا تو ذکر ہی کیا ہے اسلامی زمانہ کی مدوّن شدہ تاریخوں سے بھی بعض حیثیتوں میں زیادہ معتبر ہے اور اس میں جھوٹ کا معلوم کر لینا آسان ہے۔
اگر کہا جائے کہ پھر مصنف ہفوات میں اور ہم میں اختلاف کیا ہے۔ انہوں نے بھی بعض احادیث کو ہی جھوٹا قرار دیا ہے اور ہم نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ بعض احادیث جھوٹی ہو سکتی ہیں بلکہ جھوٹی ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم میں اور مصنف ہفوات میں بہت سے فرق ہیں۔ اول یہ کہ انہوں نے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ بعض احادیث کے غلط ہونے سے کتبِ احادیث کا ہی اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ اور یہ بات جیسا کہ میں ثابت کر چکا ہوں بالبداہت باطل ہے۔ دوم یہ کہ انہوں نے بعض احادیث پر اعتراض کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ان کتب کے مصنفین جن میں وہ احادیث پائی جاتی ہیں جھوٹے اور فریبی اور دشمنِ اسلام تھے اور ان کی کتب کا اعتبار کر کے دوسرے مسلمان بھی ان کے ہم نوا ہیں۔ لیکن جیسا کہ میں ثابت کر چکا ہوں یہ بات غلط ہے بہت سی حدیثیں جن کو ہم غلط سمجھتے ہیں ان کو غلط سمجھتے ہوئے ہی محدثین نے اپنی کتب میں درج کیا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ان کی کتب میں اضداد مطالب کی احادیث ایک ہی جگہ جمع نظر آتی ہیں۔ انہوں نے تحقیق کا ایک معیار مقرر کیا ہے اور اس معیار کے مطابق جو حدیث ان کو ملی ہے خواہ بعض دوسرے طریقوں سے اس کی کمزوری ہی ثابت ہوتی ہو انہوں نے اس کو اپنی کتاب میں لکھ دیا ہے اور یہ ہرگز نہیں کہا جا سکتا باستثناء ایک دو کتب احادیث کے کہ ہر ایک حدیث جو کسی حدیث کی کتاب میں پائی جاتی ہے اس کا مؤلف اسے ضرور صحیح ہی تسلیم کرتا تھا۔ وہ صرف یہ خیال کرتا تھا کہ میرے مقرر کردہ معیار کے چونکہ یہ حدیث مطابق آتی ہے مجھ پر دیانتداری سے اس کا لکھ دینا فرض ہے اور بس۔
پس باوجود بعض کمزور یا وضعی احادیث کے پائے جانے کے کتب احادیث کے اکثر مصنّفین کے درجہ اتقاء میں فرق نہیں آتا۔ ان میں سے بعض اپنے اپنے زمانہ کے لئے رکن اسلام تھے اور اولیاء اللہ میں تھے اور ان کو گالیاں دینے والا خود تقویٰ اور طہارت سے بے بہرہ ہے۔ اور اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ بعض احادیث انہوں نے صحیح سمجھ کر لکھیں۔ لیکن وہ صحیح نہ تھیں۔ اور بعض احادیث کے متعلق یہ سمجھ لینا بالکل قرینِ قیاس ہے بلکہ قیاس کا غالب پہلو اسی طرف ہے تو بھی چند ایک غلطیوں سے بشرطیکہ وہ غلطیاں سہو و خطاء کی حد میں ہوں اور شرارت کا نتیجہ نہ ہوں ایک شخص کے نہایت مفید کام اور عمر بھر کی قربانی کی تحقیر نہیں کی جا سکتی۔
سوم یہ فرق ہے کہ مصنف ہفوات کی غرض یہ نہیں ہے کہ بعض غلط اور کمزور احادیث کی طرف مسلمانوں کو توجہ دلائیں۔ بلکہ ان کی غرض اس پردہ میں ائمہ اسلام اور اہل بیت میں سے پہلے مخاطبین کی ہتک کرنا ہے اور وہ صحیح احادیث کو جان بوجھ کر اپنے اصل مطلب سے پھرا کر دوسرا رنگ چڑھا کر پیش کرتے ہیں تا اہل سنت والجماعت پر بزعمِ خود پھبتی اڑائیں اور ان کی تضحیک کریں اور ان کی غرض کسی غلطی کی اصلاح نہیں ہے بلکہ غلطیاں پیدا کر کے ان کی اُلجھن میں لوگوں کو پھنسانا ہے۔ چنانچہ اکثر احادیث سے جو انہوں نے منتخب کی ہیں بالکل صاف اور واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ صرف بُغض اور تعجب کی وجہ سے انہوں نے ان کو اپنے اصل مطلب سے پھیر کر ائمہ حدیث اور ازواجِ مطہرات اور صحابہ کرام کو گالیاں دینے کا ایک ذریعہ پیدا کیا ہے۔
چہارم یہ فرق ہے کہ ان کا خیال ہے کہ صرف کتب اہل سنت میں اس قسم کی غلط روایات داخل ہو گئی ہیں حالانکہ شیعہ کتب بھی اس قسم کی احادیث سے بھری پڑی ہیں بلکہ اہل سنت کی کتب سے بہت زیادہ کمزور اور وضعی احادیث ان میں موجود پائی جاتی ہیں۔
غرض باوجود بعض احادیث کو غلط ماننے کے ہمارے اور مصنف ہفوات کے خیالات ایک نہیں بلکہ دونوں خیالات میں بعد المشرقین ہے اور ایک خیال اسلام کو اس کی اصل شکل میں دنیا کے سامنے لاتا ہے تو دوسرا اس کو دشمنانِ اسلام کی نظروں میں نہایت مکروہ اور بھیانک کر کے دکھاتا ہے
مصنف ہفوات نے ایک الزام ائمہ حدیث پر یہ لگایا ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک حسین عورت کے طلب کرنے کا الزام لگایا ہے اور اس کے بعد ایک اور الزام یہ نقل کیا ہے کہ انہوں نے نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اقدامِ زنا کا بھی الزام لگایا
ہے۔ اور پہلی بات کی تصدیق کے لئے بخاری کی ایک حدیث جس کے راوی سہل بن سعد ہیں اور جو کتاب الا شربة کے بَابُ الشُّرْبِ مِنْ قَدَحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ میں درج ہے۔ لکھی ہے اور دوسرے الزام کی تصدیق کے لئے بخاری کی ایک اور روایت جو ابو سعید سے مروی ہے اور کتاب الطلاق میں درج ہے بیان کی ہے۔
گو مصنف ہفوات نے یہ اعتراض الگ الگ ہیڈنگوں کے نیچے اور الگ روایتوں کی سند سے لکھے ہیں۔ لیکن میں ان کا جواب اکٹھا ہی دینا چاہتا ہوں۔ کیونکہ ان کو الگ الگ اعتراض مصنف ہفوات کی بوالہوسی نے بنا دیا ہے ورنہ یہ دونوں اعتراض ایک ہی ہیں اور یہ دونوں روایتیں ایک ہی واقعہ کی طرف اشارہ کر رہی ہیں اور ان کو الگ الگ واقعات سمجھانا تو مصنف ہفوات کے بڑھے ہوئے بغض پر دلالت کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ کسی بات کے سمجھنے سے بالکل معذور ہو گئے ہیں اور یا اس پر شاہد ہے کہ وہ علم حدیث سے بالکل کورے ہیں اور صرف کتابیں کھول کر نقل کر دینے کی عادت رکھتے ہیں اور اس نقل میں بھی عقل سے کام نہیں لے سکتے۔ جن لوگوں نے کوئی ایک کتاب بھی حدیث کی پڑھی ہے وہ جانتے ہیں کہ ایک واقعہ کو کئی کئی آدمیوں نے بیان کیا ہے اور ان مختلف لوگوں کی روایت کی وجہ سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ واقعہ دو ہیں۔ اگر ایک واقعہ کو سو آدمی دیکھ کر اپنے اپنے دوستوں کے سامنے بیان کریں تو وہ سو واقعات نہیں ہو جاتے۔ جیسا کہ ظاہر ہے ان دو حدیثوں میں ایک ہی واقعہ دو راویوں کی زبان سے بیان ہوا ہے۔ اور جیسا کہ میں آگے ثابت کروں گا یہ ایسی ثابت شدہ بات تھی کہ مصنف صاحب ہفوات اگر علم حدیث سے محض نابلد اور جاہل آدمی نہیں ہیں تو ان کو اس کا علم ہونا چاہئے تھا۔ اور اگر ان کو اس کا علم تھا تو اس صورت میں صرف یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ اعتراضوں کی تعداد بڑھانے کے لئے انہوں نے ایک واقعہ کو دو بنا دیا ہے۔
جن حدیثوں پر مصنف ہفوات نے اعتراض کیا ہے اور جو اعتراض ان پر کئے ہیں ان کو بیان کر کے میں بتاتا ہوں کہ انہوں نے کس جہالت یا دھوکا دہی کا ثبوت دیا ہے پہلی حدیث وہ یہ لکھتے ہیں عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ ﷺ امْرَأَةٌ مِنَ الْعَرَبِ فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعِدِيَّ أَنْ يُرْسِلَ إِلَيْهَا فَأَرْسَلَ فَقَدِمَتْ فَنَزَلَتْ فِي أُجُمِ بَنِي سَاعِدَةَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ حَتَّى جَاءَهَا فَدَخَلَ عَلَيْهَا۔ الخ میں مضمون کو سمجھانے کے لئے جو حصہ حدیث کا مصنف ہفوات نے چھوڑ دیا ہے اس کو بھی لکھ دیتا ہوں۔ آگے لکھا ہے فَإِذَا امْرَأَةٌ مُنَكِّسَةً رَّأْسَهَا فَلَمَّا كَلَّمَهَا النَّبِيُّ ﷺ قَالَتْ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْكَ فَقَالَ قَدْ اَعَذْتُكِ مِنِّىْ فَقَالُوْا لَهَا اَتَدْرِيْنَ مَنْ هٰذَا قَالَتْ لَا قَالُوْا هٰذَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ لِيَخْطُبَكِ قَالَتْ كُنْتُ اَنَا اَشْقٰى مِنْ ذٰلِكَ۔۶۲ ترجمہ۔ سہل بن سعد بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عرب کی ایک عورت کا ذکر کیا گیا۔ پس آپ نے ابواسید الساعدی کو حکم فرمایا کہ اس کو بلوا بھیجے۔ انہوں نے بلوا بھیجا۔ جب وہ آئی تو بنو ساعدہ کے قلعے میں اتری اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف تشریف لے گئے۔ جب وہاں پہنچے اور اس کے پاس گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک عورت سر جھکائے بیٹھی ہے۔ جب آپ نے اس سے کلام کیا تو اس نے کہا کہ میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ آپ نے فرمایا میں نے تجھے اپنے سے پناہ دی۔ اس پر لوگوں نے اس سے کہا کیا تو جانتی ہے یہ شخص کون تھا؟ اس نے کہا نہیں انہوں نے کہا یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے جو تجھ سے نکاح کی درخواست کرنے آئے تھے۔ اس نے کہا میرے جیسی بدبخت آپ کے لائق کہاں۔
کیا کوئی شخص ساری حدیث کو پڑھ کر کہہ سکتا ہے کہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر کوئی الزام لگایا گیا ہے اگر اس حدیث سے کوئی استدلال کیا جا سکتا ہے تو صرف یہ کہ آپ ایک عورت کے پاس گئے اور اسے نکاح کا پیغام دیا۔ لیکن اس بد بخت نے کسی کے سکھانے سے یا اپنے نفس کی شرارت سے نہ صرف نکاح سے انکار کیا بلکہ نہایت برے لفظوں میں انکار کیا اور اس پر آپ بلا کچھ کہے واپس تشریف لے آئے کیونکہ شرعاً عورت کا حق ہے کہ وہ اپنی رضامندی سے نکاح کرے کوئی اسے کسی خاص جگہ نکاح کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا (میں آگے چل کر بتاؤں گا کہ فی الواقع یہ استدلال بھی درست نہیں کیونکہ اس عورت سے آپ کی شادی ہو چکی تھی) اور پھر اگر اس حدیث سے کچھ معلوم ہوتا ہے تو یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ بادشاہوں سے بالکل مختلف تھا ان کی خواہش کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی میں اس امر کی بالکل پرواہ نہیں فرماتے تھے کہ کوئی شخص آپ کی نسبت ہتک آمیز الفاظ کہہ دے۔
یہ ٹکڑا حدیث کا کس طرح وضاحت سے بتا دیتا ہے کہ مصنف اغوات کی نیت نیک نہیں بلکہ بد ہے کیونکہ وہ اتنا تو بیان کر دیتا ہے کہ ایک عورت کا ذکر کیا گیا اور آپ نے اس کو بلوایا اور اس کے پاس تشریف لے گئے لیکن اس کا اگلا حصہ جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ آپ ایک جماعت سمیت اس کے پاس گئے تھے اور یہ کہ آپ اس کو نکاح کا پیغام دینے گئے تھے اس کو اس نے بالکل چھوڑ دیا تا کہ یہ سمجھا جائے حدیث کا یہ مطلب ہے کہ آپ کسی بدنیتی سے گئے تھے بلکہ اس قدر دلیری سے کام لیا ہے کہ اس اعتراض کو الفاظ میں بھی بیان کر دیا ہے۔ یورپ کے لوگ بھی اسلام پر اعتراض کرتے ہیں۔ مگر میں نے ایسی بے حیائی ان کی طرف سے بھی نہیں دیکھی کہ اس قدر صریح امر کو آدھا بیان کر کے انہوں نے اس پر اعتراض جمائے ہوں۔ شاید یہ مصرع کہ ”چہ دلاورست دزدے کہ بکف چراغ دارد“، مصنف ہفوات کی قسم کے لوگوں کو ہی مد نظر رکھ کر کہا گیا ہے۔
گو یہ حدیث ہی مصنف ہفوات کے اعتراض کو رد کر دیتی ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے پچھلے حصہ کو اڑا دیا ہے تاکہ ان کے اعتراض کا پول نہ کُھل جائے۔ لیکن میں ابھی دلائل سے ثابت کروں گا کہ مصنف ہفوات نے جان بوجھ کر اس واقعہ کو بگاڑ کر پیش کیا ہے اور ائمہ حدیث پر ہاتھ صاف کرنے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور احترام کا بھی پاس نہیں کیا۔
دوسری حدیث جس کو مصنف ہفوات نے الگ واقعہ کے طور پر پیش کیا ہے اور جو درحقیقت اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے یہ ہے۔ عَنْ أَبِيْ أُسَيْدٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ حَتَّى انْطَلَقْنَا إِلَى حَائِطٍ يُقَالُ لَهُ الشَّوْطُ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطَيْنِ فَجَلَسْنَا بَيْنَهُمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْلِسُوْا هٰهُنَا وَ دَخَلَ وَ قَدْ اُوتِيَ بِالْجَوْنِيَّةِ فَأُنْزِلَتْ فِيْ بَيْتٍ فِيْ نَخْلٍ فِيْ بَيْتِ اُمَيْمَةَ بِنْتِ النُّعْمَانِ بْنِ شَرَاحِيْلَ وَ مَعَهَا دَايَتُهَا حَاضِنَةٌ لَهَا فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَبِیْ نَفْسَكِ لِيْ قَالَتْ وَ هَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوْقَةِ قَالَ فَأَهْوَى بِيَدِهِ يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهَا لِتَسْكُنَ فَقَالَتْ اَعُوْذُ بِاللهِ مِنْكَ فَقَالَ قَدْ عُذْتِ بِمَعَاذٍ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ يَا اَبَا اُسَيْدٍ اِكْسُهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَاَلْحِقْهَا بِاَهْلِهَا ؎۶ (ترجمہ) ابو اُسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ایک باغ کا رخ کیا جسے شوط کہتے ہیں۔ جب ہم دو باغوں کے درمیان پہنچے تو ان کے درمیان میں بیٹھ گئے آپ نے فرمایا یہاں بیٹھے رہو اور آپ باغ کے اندر داخل ہوئے اور اس جگہ جونیہ پہلے سے ایک گھر میں جو کھجوروں کے درختوں میں تھا لا کر رکھی گئی تھی آپ داخل ہوئے امیمہ بنت نعمان بن شراحیل کے گھر میں (یہ جونیہ کا ہی نام ہے جونیہ اس کے قبیلہ کی نسبت کی وجہ سے اس کو کہا جاتا تھا) اور اس کے ساتھ اس کی دایہ یعنی کھلائی تھی پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا کہ اپنے نفس کو مجھے ہبہ کر دے تو اس نے جواب دیا کہ کیا ملکہ اپنے آپ کو عام آدمیوں کے سپرد کرتی ہے۔ ابو اسید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تا اس پر اپنا ہاتھ رکھیں اور اس کا دل تسکین پائے اس پر اس نے کہا میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں اس بات کو سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تُو نے اس کی پناہ مانگی ہے جو بڑا پناہ دینے والا ہے۔ پھر آپ باہر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے ابا اسید اس کو دو چادریں دیدو اور اس کے گھر والوں کے پاس اسے پہنچا دو۔
اس حدیث کو نقل کر کے مصنف ہفوات نے یہ اعتراض کئے ہیں۔ (۱) اس حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اقدام زنا کا الزام لگایا گیا ہے (۲) زن اجنبیہ پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بڑھایا (۳) محصنہ اجنبیہ (یعنی اجنبی بن بیاہی عورت) نے دہائی دے کر اپنا پیچھا چھڑایا۔
مگر ان اعتراضات پر ہی آپ کی تسلی نہیں ہوئی ایک آریہ رام سنگھ بی اے کی زبانی ایک لمبا طومار اعتراضات کا اس حدیث پر لکھ مارا ہے یعنی (۱) ایک عورت کو بستی سے الگ آبادی سے دور باغ میں بلوایا گیا (۲) بلا پیسے ٹکے قبضہ میں لانا چاہا (۳) اس کو یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ آپ ہیں کون (۴) جب اس عورت نے انکار کیا تو اس کی طرف زبردستی کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا گیا (۵) پھر اس بے حجابانہ ملاقات کے صلہ میں اس عورت کو بیت المال میں سے معاوضہ دیا گیا۔
آریہ بے چارہ کا تو نام پردہ ڈالنے کے لئے لیا گیا ہے درحقیقت یہ اعتراضات بھی خود مصنف ہفوات کی طرف سے ہی ہیں۔ مجھے تعجب آتا ہے کہ اس عقل و دانش اور علم و فہم پر آپ کو کتاب لکھنے اور پھر ائمہ اسلام کے منہ آنے کی کیا سوجھی تھی۔ اس حدیث میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جس سے ظاہر ہو کہ جونیہ کو شہر سے باہر ویرانہ میں بلایا گیا تھا یا یہ کہ وہ زن اجنبیہ تھی یا یہ کہ اس سے زبردستی کی گئی یا یہ کہ اسے بیت المال سے روپیہ دیا گیا تھا۔ بلکہ اس کے برخلاف الفاظ حدیث سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آباد جگہ بلکہ چوراہے پر اتاری گئی تھی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جماعت مسلمین سمیت اس کے گھر تشریف لے گئے تھے۔ خود اس کے ساتھ بھی ایک دایہ تھی۔ آپ نے اس کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کی بلکہ حدیث کے لفظ صاف ہیں کہ اس کی تسلی کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ہاتھ رکھنا چاہا۔ کیا زبردستی ہاتھ ڈالنے سے دوسرے انسان کی تسلی ہوا کرتی ہے؟ اس حدیث سے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا ہے کہ اس کو معلوم نہ تھا کہ آپ کون ہیں کیونکہ اس حدیث میں اس قسم کا کوئی ذکر نہیں۔ اسی طرح بیت المال سے اس کو کسی رقم کے دیئے جانے کا کوئی ذکر نہیں۔ ایک صحابی کو کہا گیا ہے کہ وہ اس کو دو کپڑے دے دے اور اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ بیت المال سے دیدے بلکہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ اپنی طرف سے کپڑے دینے کو کہا گیا ہے۔ خواہ یہ سمجھ لیا جائے کہ اس صحابی کے پاس آپ کا کچھ مال ہوگا خواہ یہ کہ اس سے آپ نے قرض لے کر یہ کپڑے دلوائے۔ تاریخ اس امر پر شاہد ہے کہ آپ بیت المال مسلمانان سے کوئی رقم اپنے ذاتی اخراجات کے لئے نہیں لیتے تھے پھر اس ثابت شدہ حقیقت کے خلاف کوئی نتیجہ کس طرح نکالا جاسکتا ہے؟
مصنف ہفوات کا بغض اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ اس حدیث کے اس حصہ کا ترجمہ جس میں جونیہ پر ہاتھ رکھنے کا ذکر ہے اس نے یوں کیا ہے۔ ”پس آنحضرت نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا (یعنی زبردستی کرنی چاہی) تاکہ اسے تسکین ہو“ صفحہ ۸۔ اس ترجمہ کو دیکھ کر ہی ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ مصنفِ ہفوات اس کتاب کی تصنیف کے وقت جوشِ تعصب سے اندھے ہو رہے تھے۔ کیونکہ ایک طرف تو آپ حدیث کے لفظوں کا یہ ترجمہ کرتے ہیں کہ ہاتھ بڑھایا تا اس عورت کو تسکین ہو۔ اور دوسری طرف خطوط وحدانی میں نوٹ کرتے ہیں ”یعنی زبردستی کرنی چاہی“ اور یہ جملہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ فلاں شخص کو اس نے مارنا چاہا تا اس کے دل سے ڈر نکل جائے۔ فلاں شخص کو اس نے زہر دیا تا وہ بچ جائے۔ اگر آپ نے اس عورت کی تسکین کے لئے ہاتھ بڑھایا تھا تو اس سے زبردستی کرنے کا مفہوم کیونکر نکل آیا۔
غرض حدیث کے الفاظ اس مفہوم کو بہ صراحت ردّ کر رہے ہیں جو مصنف ہفوات نے حدیث سے اخذ کیا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ صراحت اس حدیث کے سیاق و سباق سے ہو جاتی ہے اور کم سے کم ائمہ حدیث ہر ایک اعتراض سے محفوظ ہو جاتے ہیں
اس حدیث کا جو مفہوم امام بخاریؒ نے سمجھا ہے اور اس عورت کا جو تعلق انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خیال کیا ہے وہ اس سے ظاہر ہے کہ یہ حدیث انہوں نے اس مسئلہ کے ثبوت میں تحریر کی ہے کہ کیا طلاق دینی اور خصوصاً عورت کے منہ پر طلاق دینی درست ہے چنانچہ وہ اس حدیث کو اس باب میں بیان کرتے ہیں، بَابُ مَنْ طَلَّقَ وَ هَلْ يُوَاجِهُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ بِالطَّلَاقِ یہ عنوان ظاہر کرتا ہے کہ امام بخاریؒ جونیہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی منکوحہ بیوی خیال کرتے ہیں اور آپ کے اس قول کو کہ تُو نے اس کی پناہ مانگی ہے جو پناہ دینے والا
ہے طلاق قرار دے کر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ضرورت کے وقت طلاق عورت کے منہ پر بھی دی جا سکتی ہے اور یہ بد اخلاقی نہیں کہلائے گی۔ اگر جونیہ امام بخاری کے نزدیک زن اجنبیہ تھی اور اگر اس کا انکار حفاظتِ عصمت کے لئے تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واپس آجانا فضیحت کے خوف سے تھا (نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ) تو اس سے یہ کیونکر ثابت ہو گیا کہ عورت کو اس کے منہ پر طلاق☆دی جا سکتی ہے پس باوجود اس کے کہ امام بخاری اس حدیث سے یہی نتیجہ نکالتے ہیں کہ جونیہ آپ کی منکوحہ بیوی تھی اور اس کے گستاخی آمیز کلام کی وجہ سے آپ نے اس کو طلاق دے دی تھی یہ نتیجہ نکالنا کہ محدثین نے آپ پر اقدام زنا کی تہمت لگائی ہے کہاں تک درست ہے۔ کیا مصنف ہفوات کے نزدیک ایک خاوند کا اپنی بیوی کے پاس جانا زنا ہے اور کیا اسی معیار پر وہ اپنی اور اپنے آباء کی نسل کو پرکھا کرتے ہیں۔
یہ تو اس حدیث کا سیاق ہے۔ سباق بھی اس سے کم واضح نہیں۔ اس حدیث کے بعد جو مصنف ہفوات نے بیان کی ہے دوسری حدیث جو اسی راوی کی بیان کردہ ہے جس نے پہلی روایت بیان کی ہے یہ ہے۔ ’ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَّأَبِیْ أُسَيْدٍ قَالَا تَزَوَّجَ النَّبِیُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‘
اُمَيْمَةَ بِنْتَ شَرَاحِيْلَ فَلَمَّا اُدْخِلَتْ عَلَيْهِ بَسَطَ يَدَهُ اِلَيْهَا فَکَاَنَّهَا کَرِهَتْ ذٰلِكَ فَاَمَرَ اَبَا اُسَيْدٍ اَنْ يُّجَهِّزَهَا وَ يَکْسُوَ هَا ثَوْبَيْنِ رَازِقِيَّيْنِ۔۳؎رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امیمہ بنت شراحیل سے نکاح کیا جب وہ آپ کے پاس لائی گئی اور آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اس نے ایسا ظاہر کیا گویا وہ اس کو ناپسند کرتی ہے۔ پس آپ نے ابا اسید کو حکم دیا ہے کہ اسے واپس اس کے وطن پہنچا دے اور دو رازقی چادریں اس کو دے دے یہ حدیث جیسا کہ اوپر آچکا ہے انہی ابواسید کی بیان کردہ ہے جنہوں نے پہلی حدیث بیان کی ہے اور یہی ہیں جن کو کپڑے دینے کا حکم ملا ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ عورت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی منکوحہ تھی۔
اس سیاق و سباق کی موجودگی میں مصنف ہفوات کا جونیہ کو ایک اجنبی عورت قرار دے کر اور ایک سر تا پا جھوٹا قصہ بنا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر گندے سے گندے اعتراضات کرنا خواہ وہ اعتراضات بظاہر ائمہ حدیث کا نام لے کر ہی کیوں نہ کئے جائیں۔ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ ان کو اسلام اور بانی اسلام سے محبت نہیں بلکہ عداوت ہے اور یہ امر ثابت ہو جاتا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر حقیقت کو چھپایا ہے نہ کہ نادانی سے واقعات کو نظر انداز کیا ہے۔
میرے نزدیک مصنف ہفوات کے اعتراض کی حقیقت پوری طرح تب بے نقاب ہو گی جب میں جونیہ کا تمام واقعہ تاریخ سے بیان کر دوں۔ طبری ابن سعد اور ابن حجر جیسے زبردست مورخین کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اسماء یا امیمہ اس کے نام میں اختلاف ہے (مگر میرے نزدیک ہو سکتا ہے کہ اس کے دو نام ہوں۔ ایسا بہت دفعہ ہوتا ہے کہ ایک شخص کے دو نام ہوتے ہیں یا تو مختلف رشتہ دار مختلف نام رکھ دیتے ہیں یا بعض لوگ خود ہی بڑی عمر میں اپنے لئے ایک اور نام پسند کر لیتے ہیں اور لوگوں میں وہ ان مختلف ناموں کی وجہ سے مشہور ہو جاتے ہیں) کندہ قبیلہ سے تھی اور اس نسبت سے کندیہ کہلاتی تھی۔ اس کے والد کا نام اسود ابو الجون تھا۔ اس وجہ سے وہ جونیہ یا بنت الجون کہلاتی تھی۔ بعض روایات میں اس کو اسود کی پوتی اور نعمان کی بیٹی لکھا ہے۔ لیکن یہ اختلاف بے حقیقت اور اصل مطلب سے بے تعلق ہے۔ جب عرب فتح ہوا اور اسلام پھیلنے لگا تو اس کا بھائی نعمان یا بموجب بعض روایات کے اس کا والد نعمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی قوم کی طرف سے بطور وفد کے حاضر ہوا اور اس موقع پر اس نے یہ بھی خواہش ظاہر کی کہ اپنی ہمشیرہ کی شادی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دے اور بالمشافہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست بھی کر دی کہ میری ہمشیرہ جو پہلے اپنے ایک رشتہ دار سے بیاہی
ہوئی تھی اور اب بیوہ ہے نہایت خوبصورت اور لائق ہے آپ اس سے شادی کر لیں۔ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبائل عرب کا اتحاد منظور تھا آپ نے اس کی یہ درخواست منظور کرلی۔ فرمایا کہ ساڑھے بارہ اوقیہ چاندی پر نکاح پڑھ دیا جائے۔ اس نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم معزز لوگ ہیں مہر تھوڑا ہے۔ آپ نے فرمایا اس سے زیادہ میں نے کسی اپنی بیوی یا لڑکی کا مہر نہیں باندھا۔ جب اس نے رضامندی کا اظہار کیا نکاح پڑھا گیا اور اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ کسی آدمی کو بھیج کر اپنی بیوی منگوا لیجئے۔ آپ نے ابا اسید کو اس کام پر مقرر کیا وہ تشریف لے گئے۔ جونہیہ نے ان کو اپنے گھر میں بلایا تو آپ نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں پر حجاب نازل ہو چکا ہے۔ اس نے اس پر دوسری ضروری ہدایات دریافت کیں۔ آپ نے بتا دیں اور اونٹ پر بٹھا کر مدینہ لائے اور ایک مکان میں جس کے گرد کھجوروں کے درخت بھی تھے لا کر اتارا۔ اس کے ساتھ اس کی دایہ بھی اس کے رشتہ داروں نے روانہ کی تھی جس طرح کہ ہمارے ملک میں ایک بے تکلف نوکر ساتھ کی جاتی ہے تاکہ کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ چونکہ یہ عورت حسین مشہور تھی اور یوں بھی عورتوں کو دلہن کے دیکھنے کا شوق تھا مدینہ کی عورتیں اس کو دیکھنے گئیں اور اس عورت کے اپنے بیان کے مطابق کسی عورت نے اس کو سکھا دیا کہ رعب پہلے دن ہی ڈالا جاتا ہے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیرے پاس آئیں تو تو کہہ دیجئیو کہ میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ اس پر وہ تیرے زیادہ گرویدہ ہو جائیں گے۔ اگر یہ بات اس عورت کی بنائی ہوئی نہیں تو کچھ تعجب نہیں کہ کسی منافق نے اپنی بیوی یا اور کسی رشتہ دار کے ذریعہ یہ شرارت کی ہو۔ غرض جب اس کی آمد کی اطلاع رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی آپ اس گھر کو تشریف لے گئے جو اس کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ اور اس کو اپنے پاس بیٹھنے کے لئے کہا۔ اس نے اس پر کراہت کا اظہار کیا۔ آپ نے اس خیال سے کہ یہ اجنبیت کی وجہ سے گھبرا رہی ہے تسکین اور تسلی دینی کے لئے اس پر ہاتھ رکھا جس پر اس نے وہ نامعقول فقرہ کہا کہ میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ چونکہ نبی خدا کا نام سن کر ادب کی روح سے بھر جاتا ہے اور اس کی عظمت کا متوالا ہوتا ہے اس کے اس فقرہ پر آپ نے اسے کہہ دیا کہ تُو نے بڑے کا واسطہ دیا ہے میں تیری درخواست کو قبول کرتا ہوں اور اسے طلاق دے کر رخصت کر دیا اور ابو اسید کو پھر اس کام پر مقرر کر دیا کہ اسے اس کے گھر واپس کر آئیں۔ اور علاوہ مہر کے حصہ کے دو اَذرتی چادریں بھی اس کو دینے کا حکم دیا تاکہ قرآن کریم کا حکم وَلَا تَنۡسَوُا الۡفَضۡلَ(2:238)۶۵ پورا ہو جو ایسی عورتوں کے متعلق ہے جن کو بلا صحبت طلاق دے دی جائے۔ جب آپ نے اس کو رخصت کر دیا تو ابو اُسید اس کو اس کے گھر پہنچا آئے۔ اس کے قبیلہ کے لوگوں پر یہ بات نہایت شاق گزری اور انہوں نے اس کو ملامت کی مگر وہ یہی جواب دیتی رہی کہ یہ میری بد بختی ہے اور بعض دفعہ اس نے یہ کہہ دیا کہ مجھے دھوکا دیا گیا مجھے کسی نے سکھا دیا تھا کہ تُو اس طرح کہیو اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل تیری طرف خاص طور سے مائل ہو جائے گا۔
یہ ہے اصل واقعہ جو تاریخوں اور احادیث میں مفصل موجود ہے۔ اس موجودگی میں مصنف ہفوات کا احادیثِ بخاری پر یہ اعتراض کرنا کہ ان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر زنا کی تہمت لگائی گئی ہے۔ اور اس اعتراض کو زور دار بنانے کے لئے ایک آریہ صاحب کو بھی اپنی مدد کے لئے لانا مصنفِ ہفوات کے جن اندرونی جذبات پر دلالت کرتا ہے ان کا اندازہ لگانا میں حق پسند لوگوں پر ہی چھوڑتا ہوں۔
مذکورہ بالا حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ جو واقعہ احادیث میں مذکور ہے اس کی بناء پر نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر کسی قسم کا اعتراض کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کے بیان کرنے پر محدثین پر کوئی حرف گیری کی جا سکتی ہے۔ بلکہ اس واقعہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی مندرجہ ذیل خوبیاں نمایاں طور پر ظاہر ہوتی ہیں۔
(۱) اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو عربوں کی اصلاح کی خاطر ان کے جذبات کے خیال رکھنے کا خاص طور پر احساس تھا۔
(۲) اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے اخلاق ایسے اعلیٰ درجہ کے تھے کہ آپ اپنی بیویوں سے بھی جو تمام قوانین تمدن کے ماتحت خاوند کے زیر حکومت سمجھی جاتی ہیں ایسے رنگ میں کلام کرتے تھے جو نہایت مؤدب ہوتا تھا اور جسے سن کر انسان خیال کر سکتا ہے کہ گویا کسی نہایت قابل ادب وجود سے آپ کلام کر رہے تھے۔
(۳) اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو نکاح میں عورت کی رضامندی کا اس قدر خیال تھا کہ نکاح کے بعد اس خیال سے کہ شاید عورت کی رضامندی حاصل نہ کی گئی ہو آپ نے جونیہ سے کہا کہ هَبِیْ نَفْسَكِ لِیْ اپنا آپ مجھے سونپ دے یعنی نکاح پر رضا ظاہر کر۔
(۴) اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ نہایت اشتعال انگیز باتوں پر بھی خندہ پیشانی سے صبر کر جاتے تھے۔
(۵) اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خشیت اللہ آپ کے دل میں اس قدر تھی کہ خدا تعالیٰ کا نام آنے پر آپ حتی المقدور اپنے حقوق کے چھوڑ دینے پر بھی تیار ہو جاتے تھے۔
(۶) اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ان لوگوں سے بھی حسن سلوک کرنے سے دریغ نہیں کرتے تھے جو آپ کے لئے ایذاء اور تکلیف کا موجب بنتے تھے۔
غرض بجائے اس کے کہ اس واقعہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ اعتراض بھی پڑتا ہو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ اخلاقِ حسنہ کا ایک بے نظیر نمونہ تھے پیشتر اس کے کہ میں اس اعتراض کا جواب ختم کروں میں ان استدلالات پر بھی روشنی ڈالنا پسند کرتا ہوں جو میرے اوپر کے بیان کے خلاف بخاری کی نقل کردہ احادیث سے دشمن کر سکتا ہے۔
کہا جا سکتا ہے کہ حدیث میں جو یہ لفظ ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت کا ذکر کیا گیا اور آپ نے اس کو بلوایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا اس سے نکاح نہیں ہوا تھا۔ مگر یہ اعتراض درست نہیں ہو سکتا اس لئے کہ اس عورت کے متعلق جب کہ تاریخ اور حدیث سے ثابت ہے کہ اس کے باپ یا بھائی نے خود اس کا ذکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیا ہے اور نکاح کی درخواست کی ہے اور مہر مقرر کیا ہے اور نکاح پڑھا گیا ہے بلکہ اس عورت کے واقع سے فقہاء یہ استدلال کرتے چلے آئے ہیں کہ عورت کے منہ پر اسے ضرورتاً طلاق دینی جائز ہے۔ تو پھر ان الفاظ سے یہ کیونکر نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اس کا نکاح نہیں ہوا تھا۔ اس حدیث سے تو صرف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ چونکہ اس جگہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کٹورے کا (اصل حدیث اس بارے میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کٹورے میں ایک صحابی نے ایک اپنے دوست کو پانی پلایا ہے) ذکر کرنا مقصود تھا نکاح کے ذکر کو مختصر کر دیا ہے۔ چنانچہ طلاق کے ذکر میں یہی راوی اس واقعہ کا بیان کرتے ہوئے بیان کرتا ہے۔ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَيْمَةَ بِنْتَ شَرَاحِيْلَ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جونیہ عورت سے نکاح کیا تھا۔
دوسرا استدلال یہ کیا جا سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ لفظ استعمال فرمائے ہیں کہ اپنا نفس مجھے دے۔ تو ان سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح نہیں ہوا تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ الفاظ اس امر پر دلالت نہیں کرتے کہ نکاح نہیں ہوا تھا بلکہ اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قومی شرف کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اخلاقِ فاضلہ سے کام لیتے ہوئے یہ الفاظ اسے پاس بلانے کے لئے استعمال فرمائے ہیں اور اس قسم کے الفاظ میں جیسے ایک میزبان دسترخوان پر سے کسی چیز کے اٹھا کر دینے کے لئے مہمان سے کہہ دے کہ فلاں چیز مجھے عنایت فرمائیے۔ اس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہوں گے کہ وہ مہمان کی تھی اور اس سے میزبان سوال کرتا ہے۔ غرض اپنا آپ مجھے عطا کر، کے صرف یہ معنے ہیں کہ میرے قریب ہو کر بیٹھ نہ کہ درخواستِ نکاح۔
دوسرا جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ چونکہ جس وقت نکاح ہوا ہے اس وقت یہ عورت مدینہ میں موجود نہ تھی اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال سے کہ عورت کی رضامندی حاصل کرنا نکاح کے لئے نہایت ضروری ہے ایسا نہ ہو کہ بھائی نے اپنی عزت کے خیال سے بلا اجازت ہی نکاح پڑھوا دیا ہو اور یونہی کہہ دیا ہو کہ بہن راضی ہے۔ اس سے کہا کہ هَبِیْ نَفْسَكِ لِیْ یعنی اب اپنی مرضی کا اظہار کر دے کہ تُو میرے نکاح میں خوشی سے آئی ہے۔ اس نے اس پر چونکہ ناراضگی کا اظہار کیا آپ نے اس کو اس کے گھر بھجوا دیا قرآن کریم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکاح کرنے والی عورتوں کے متعلق لفظ ہبہ استعمال ہوا ہے جیسا کہ سورۃ احزاب میں ہے وَامۡرَاَۃً مُّؤۡمِنَۃً اِنۡ وَّہَبَتۡ نَفۡسَہَا لِلنَّبِیِّ اِنۡ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنۡ یَّسۡتَنۡکِحَہَا(الاحزاب: ۵۱) یعنی وہ عورت بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جائز ہے جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکاح میں لانا چاہیں اور وہ اپنے نفس کو اس امر کے لئے پیش کر دے۔
مصنف ہفوات کی نقل کردہ احادیث سے یہ بھی استدلال کیا جا سکتا ہے کہ اس عورت کا یہ کہنا کہ میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں بتاتا ہے کہ اس کا نکاح نہیں ہوا تھا۔ یہ استدلال بھی غلط ہو گا۔ اس لئے کہ اس عورت نے جیسا کہ خود ظاہر کیا ہے۔ یہ الفاظ اپنا رُعب جمانے کے لئے کہے تھے اور اس نے خیال کیا تھا کہ اس طرح آپ کے دل میں میری محبت بڑھ جائے گی۔ پس ان سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ اس کا نکاح آپ سے نہیں ہوا تھا یا یہ کہ اسے معلوم نہ تھا ابو اسید اس کو لائے۔ راستے میں وہ ان سے وہ طریق پوچھتی رہی جس کا اختیار کرنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے لئے ضروری تھا۔ پھر کیونکہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ناواقف تھی۔ پس اس فقرہ کا محرک صرف یہ خیال تھا کہ اس قسم کی بات کہنے سے اس کا درجہ بڑھ جائے گا۔
ایک یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ اگر واقعہ میں اس کا نکاح ہو چکا تھا تو پھر اس نے یہ کیوں کہا کہ میں ان کو نہیں جانتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ طبعی جواب ہے جو ایسے موقعوں پر دیا جاتا ہے اور علی الخصوص عورتیں دیا کرتی ہیں۔ لوگوں کا یہ سوال کرنا کہ تُو جانتی ہے کہ یہ کون تھا؟ یہ بھی اظہارِ غصہ کے لئے تھا جیسا کہ ناراضگی میں ایسا فقرہ کہا جاتا ہے کہ تجھے معلوم ہے میں کون ہوں؟ یا تجھے معلوم ہے یہ کون ہے؟ اور اس عورت کا جواب بھی غصہ اور نامرادی کے نتیجہ میں تھا کہ میں نہیں جانتی کہ یہ کون ہے یعنی میں نہیں پرواہ کرتی کہ یہ کون تھا چنانچہ حقارت کے لئے لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ فلاں شخص کون ہے حالانکہ بچپن سے اس شخص کے ساتھ تعلق اور واقفیت ہوتی ہے۔
غرض یہ سب استدلال باطل ہیں۔ اور واقعات کے مقابل میں قیاسات کو رکھنا عقل و دانش کے بالکل برخلاف ہے۔ جب کہ اسی روایت کا راوی صاف الفاظ میں یہ بیان کرتا ہے کہ اس عورت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی ہوئی تھی اور جب کہ ابو اسید جو اس عورت کو لائے ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ اس عورت کی شادی ہو چکی تھی۔ اور جب کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اس کی شادی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو چکی تھی اور آپ نے اس کو طلاق دے دی۔ تو پھر بعض اشارات سے جن کے کئی معنے ہو سکتے ہیں یہ نتیجہ نکالنا کہ شادی نہیں ہوئی تھی اور واقعات اور تفصیلات کو ترک کر دینا کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ اسی طرح جب کہ امام بخاریؒ نے اس روایت کے نتیجہ میں یہ نکالا ہے کہ عورت کو اس کے منہ پر طلاق دے جاسکتی ہے۔ اور جب کہ انہوں نے اسی روایت سے پہلے اس عورت کے متعلق حضرت عائشہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ اس عورت کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد نکاح طلاق دی تھی۔ اور جب کہ انہوں نے اس روایت کے بعد اسی راوی کی زبانی یہ روایت نقل کی ہے کہ اس عورت کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کرنے کے بعد بلوایا تھا۔ یہ نتیجہ نکالنا کہ امام بخاریؒ کا اس روایت کے نقل کرنے سے یہ منشاء تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اقدام زنا کا الزام لگایا جائے کیسا صریح جھوٹ اور کھلا کھلا دھوکا ہے۔
میں نے اوپر بیان کیا تھا کہ یہ دونوں روایتیں جو مصنف ہفوات نے بیان کی ہیں درحقیقت ایک ہی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ میرے نزدیک اس امر کا ثابت کرنا بھی مصنف ہفوات کی اصل نیت پر سے پردہ اٹھا دیتا ہے اس لئے میں اس کو ثابت کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔
علاوہ اس کے کہ تمام دوسری روایات اس امر کو ثابت کرتی ہیں کہ یہ دونوں حدیثیں ایک ہی واقعہ کے متعلق ہیں۔ ان دونوں میں مندرجہ ذیل باتوں کا اشتراک بھی اس امر کو روزِ روشن کی طرح ثابت کر دیتا ہے۔
اول۔ دونوں روایتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورت باہر سے لائی گئی تھی۔ دوم۔ دونوں روایتوں میں ایک ہی مکان کا ذکر ہے جس میں وہ عورت اتاری گئی سوم۔ دونوں روایتوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ ابواسید کو اس عورت کو لانے اور لے جانے کا کام سپرد ہوا۔ چہارم۔ دونوں روایتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس عورت کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے تسکین دہ الفاظ میں کلام کیا۔ لیکن اس نے کہا کہ میں آپ سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں۔ پنجم۔ دونوں روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس کے اس قول پر اسے علیحدہ کر دیا۔ کیا کوئی عقل تجویز کر سکتی ہے کہ یہ سب واقعات ایک ہی شخص سے دو دفعہ گزرے تھے اور کیا صرف اس وجہ سے کہ ایک حدیث میں اس عورت کا نام نہیں آیا ان دونوں روایتوں کو دو واقعوں کے متعلق قرار دیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں تمام معتبر شراح اور مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ دونوں حدیثیں ایک ہی امر کے متعلق ہیں۔ دیکھو قسطلانی وفتح الباری۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ مصنف صاحبِ ہفوات کی تسلی نہ ہو گی جب تک شیعہ کتب سے ہی یہ ثابت نہ کیا جائے کہ جونیہ بیاہتا بیوی تھیں اور اس غرض کے لئے میں مصنف صاحبِ ہفوات کو شیعوں کی سب سے معتبر کتاب فروع کافی جلد دوم کا حوالہ دیتا ہوں اس کتاب کے صفحہ ۱۷۶ پر کِتَابُ النِّکَاح میں باب اٰخِرُ مِّنْهُ لکھ کر حسن بصری سے روایت کی ہے کہ جونیہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا تھا۱؎ اور پھر امام ابو جعفر سے اس کی تصدیق نقل کی ہے بلکہ ان کی زبان سے یہ اعتراض کرایا ہے کہ اس کو اور ایک اور عورت کو حضرت ابوبکر نے نکاح کی اجازت دے دی حالانکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آجانے کی وجہ سے امہات المؤمنین میں شامل تھی۔ اب کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ایک طرف تو جونیہ کو نکاح کی اجازت دینے پر حضرت ابوبکر پر یہ اعتراض کیا جائے کہ آپ نے ایک ام المؤمنین کو نکاح کی اجازت دے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی اور دوسری طرف یہ کہا جائے کہ بخاری نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات جونیہ سے بیان کر کے آپ پر اقدام زنا کا الزام لگایا ہے۔ اگر جونیہ بیاہتا بیوی نہ تھی تو بقول فروع کافی امام جعفر نے اسے نکاح ثانی کی اجازت دینے پر اعتراض کیوں کیا ہے اور اگر وہ بیاہتا تھی تو اس سے ملاقات کا ذکر اقدام زنا کا الزام کیونکر بن گیا۔ اب کیا امام جعفر کو
نَعُوْذُ بِاللّٰهِ الزام دیں کہ انہوں نے حضرت ابوبکر کو بدنام کرنے کے لئے ان پر ایک اتہام لگایا یا مصنف ہفوات کو بے دین قرار دیں کہ بخاری کی عداوت میں اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر حملہ کیا۔
ایک اعتراض مصنف ہفوات نے یہ کیا ہے کہ مصنف کتاب فردوسِ آسیہ لکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں اُولٰٓئِکَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا یَقُوۡلُوۡنَ(24:27)۶۸؎ کے الفاظ آتے ہیں ان کے یہ معنی ہیں کہ صفوان اور عائشہ اور صدیق بری ہیں اس سے جو منافق کہتے ہیں اور اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ فردوس آسیہ کے مصنف کے نزدیک حضرت عائشہؓ پر نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ کسی منافق نے حضرت ابوبکر کے ساتھ ناجائز تعلق کا بھی الزام لگایا تھا۔
تعجب ہے کہ مصنف ہفوات نے دعویٰ تو یہ کیا تھا کہ احادیث میں جو ہتک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کی گئی ہے اس کو پیش کریں گے لیکن آگئے فردوسِ آسیہ پر اور وہ بھی اس کے اقوال اور خیالات پر جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل غرض ان کی صرف اعتراض کرنا اور اہل سنت سے لوگوں کو بدظن کرنا ہے نہ کہ احادیث کی تحقیق و تدقیق۔
چونکہ میرا کام ان احادیث اور ائمہ احادیث کے متعلق حقیقت کو ظاہر کرنا ہے جن پر مصنف ہفوات نے اعتراض کئے ہیں اس لئے فردوسِ آسیہ کے مصنف کے بریت کی کوشش کرنا میرے مقصد سے دور ہے۔ مگر ضمناً میں اس قدر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ گو میں نہیں جانتا کہ مصنف فردوسِ آسیہ کس تقویٰ اور کس علم کا آدمی تھا۔ مگر اس کی مذکورہ بالا تحریر سے وہ نتیجہ نکالنا جو مصنف ہفوات نے نکالا ہے درست نہیں۔
مصنف ہفوات کو معلوم ہونا چاہئے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو اولاد کے افعال پر ماں باپ کے افعال کو قیاس کر لیا کرتے ہیں اور کسی بچہ کے بد فعل کو دیکھ کر کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس کے ماں باپ بھی ایسے ہی ہوں گے۔ پس کیا تعجب ہے کہ بعض منافقوں نے جن کو حضرت ابوبکر سے بلا وجہ بغض تھا اور جو ان کو اسلام کے لئے بمنزلہ ستون دیکھ کر ان کی تباہی اور بربادی کی فکر میں لگے رہتے تھے۔ یہ بھی کہہ دیا ہو کہ جیسی بیٹی ثابت ہوئی ہے (نَعُوْذُ بِاللّٰهِ) ایسا ہی باپ ہو گا۔ یا کم سے کم مصنفِ آسیہ کو یہ خیال پیدا ہوا ہو۔ پس اس صورت میں اس آیت میں حضرت ابوبکر کی بریت بھی خود بخود آگئی کیونکہ جب حضرت عائشہ پر سے اللہ تعالیٰ نے اعتراض دور
کر دیا تو حضرت ابوبکر پر سے خود ہی اعتراض دور ہو گیا۔
قرآن کریم میں بھی اسی قسم کے خیالات کے لوگوں کا ذکر ہے۔ چنانچہ حضرت مریم کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ان کے ہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تو لوگوں نے ان سے مخاطب ہو کر کہا یٰمَرۡیَمُ لَقَدۡ جِئۡتِ شَیۡئًا فَرِیًّا یٰۤاُخۡتَ ہٰرُوۡنَ مَا کَانَ اَبُوۡکِ امۡرَاَ سَوۡءٍ وَّمَا کَانَتۡ اُمُّکِ بَغِیًّا(مریم: ۲۹۔۲۸) ترجمہ۔ اے مریم تُو نے ایک حیرت انگیز کام کیا ہے۔ اے ہارون کی بہن تیرا باپ تو برا آدمی نہ تھا اور نہ تیری ماں فاحشہ تھی۔ یعنی یہ کس طرح ہوا کہ ان نیکوں کی اولاد خراب ہو گئی ہو۔ خراب اور بدکار تو بدوں کی اولاد ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کو بھی وہ جواب سکھایا کہ ان کا منہ بند ہو گیا یعنی انہوں نے اس اعتراض کے جواب میں صرف اتنا کیا کہ فَاَشَارَتۡ اِلَیۡہِ(مریم: ۳۰) حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف اشارہ کر دیا۔ یعنی ان کو انہی کے معیار سے ملزم کیا۔ ان کا تو یہ اعتراض تھا کہ بد کی اولاد بد ہوتی ہے اور نیک کی نیک۔ حضرت مریم علیہا السلام نے حضرت مسیح کی زندگی کو پیش کر دیا کہ اگر یہ معیار درست ہے تو دیکھو یہ میرا لڑکا کیسا ہے؟ اگر تمہارا خیال درست ہے تو پھر بدکاری کے نتیجہ میں یہ نیک اور نمونہ پکڑنے کے قابل لڑکا کہاں سے پیدا ہوا؟ تمہارے اصل کے مطابق تو خود اس لڑکے کا چال چلن ہی میری بریت کے لئے کافی ہے۔ چنانچہ ان کے اس دعویٰ کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ حضرت مسیح کا یہ دعویٰ پیش کرتا ہے۔ قَالَ اِنِّیۡ عَبۡدُ اللّٰہِ ۟ؕ اٰتٰنِیَ الۡکِتٰبَ وَجَعَلَنِیۡ نَبِیًّا وَّجَعَلَنِیۡ مُبٰرَکًا اَیۡنَ مَا کُنۡتُ ۪ وَاَوۡصٰنِیۡ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مَا دُمۡتُ حَیًّا وَّبَرًّۢا بِوَالِدَتِیۡ ۫ وَلَمۡ یَجۡعَلۡنِیۡ جَبَّارًا شَقِیًّا وَالسَّلٰمُ عَلَیَّ یَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَیَوۡمَ اَمُوۡتُ وَیَوۡمَ اُبۡعَثُ حَیًّا ذٰلِکَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ(مریم: ۳۱ تا ۳۵) ترجمہ: مسیح نے اس پر کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے اور مجھے مبارک کیا ہے۔ جہاں بھی میں رہوں اور مجھے تاکید کی ہے کہ جب تک میں زندہ رہوں عبادت اور زکوٰۃ کی ادائیگی پر کاربند رہوں۔ اور مجھے اس نے اپنی ماں سے بہت ہی نیک سلوک کرنے والا بنایا ہے (یعنی اگر میری ماں بدکار ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس سے نیک سلوک کرنے کا خاص حکم کیوں دیتا؟ اور اس کی مرضی کا پاس کیوں رکھتا؟) اور مجھے لوگوں کے حقوق چھیننے والا اور نیکی سے محروم رہنے والا نہیں بنایا۔ اور اس نے میرے تینوں زمانوں پر سلامتی نازل کی ہے جب میں پیدا ہوا اس وقت بھی اور جب میں مروں گا اور جب دوبارہ اٹھوں گا اس وقت بھی ایسا ہی ہو گا۔ مریم کا بیٹا عیسیٰ ایسا تھا یعنی ایسے آدمی کی والدہ پر وہ لوگ اعتراض کر سکتے تھے کہ وہ بدکار تھی۔ اور پھر مذکورہ بالا حالات کی
مصنف ہفوات بجائے اس گندے اعتراض کے جو انہوں نے اپنی جبلی کمزوری کے ماتحت اختیار کیا ہے اگر قرآن کریم پر غور کرتے اور انسانوں کے مختلف طبقات کو دیکھتے تو مصنف فردوس آسیہ کے قول کے وہ معنی بھی کر سکتے تھے جو اوپر بیان ہوئے ہیں اور جن پر کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا۔
اسی اعتراض کے تحت میں مصنف ہفوات نے ایک اور اعتراض بھی کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ مصنف آسیہ نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا جمال عائشہ کی شکل میں دکھلایا اور پھر درمیان سے پردہ اٹھا دیا اس پر مصنف ہفوت کو اعتراض ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے نَعُوْذُ بِاللّٰهِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عورتوں کو محبت دیکھ کر عائشہ کی شکل میں حلول کیا۔
اس اعتراض کی بناء بھی کسی حدیث پر نہیں ہے۔ مصنف ہفوات کو چاہئے تھا کہ اول وہ حدیث لکھتے جس میں یہ بات بیان ہے پھر اعتراض کرتے اور اگر ایسی کوئی حدیث ان کو معلوم نہ تھی یا اگر کوئی تھی تو ایسی تھی کہ اس کو پیش کرتے ہوئے ان کو اپنی انصاف پسندی پر سے پردہ اٹھنے کا احتمال تھا تو خاموش رہتے۔ اگر ایسی ہی باتوں پر اعتراض کیا جائے تو شیعہ صاحبان میں بھی ایسی روایات مشہور ہیں کہ جن کو سن کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ ایک روایت مشہور ہے کہ معراج کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرش پر حضرت علی کی ہی تصویر کو دیکھا تھا۔ پس اس قسم کی روایات اگر عوام الناس میں پھیل جائیں تو ان کی وجہ سے کسی مذہب یا اس کے ائمہ پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔
یہ جواب تو اس بات کو مدنظر رکھ کر ہے کہ ایسی کوئی صحیح حدیث اہل سنت میں نہیں ہے جس سے معلوم ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کی شکل میں اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔ لیکن اگر اس کو تسلیم کر لیا جائے تو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا کیونکہ یہ ایک عام نظارہ ہے جس سے تمام روحانیت رکھنے والے مومن آگاہ ہیں اور اس پر اعتراض کر کے مصنف ہفوات نے صرف اس امر کو ظاہر کیا ہے کہ ان کو روحانیت سے ذرہ بھی مس نہیں۔
یہ امر لاکھوں مومنوں کے تجربہ سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ عام کشف اور روءیا میں انسانوں کی شکل میں نظر آجاتا ہے اور اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ محدود ہے یا حلول کرتا ہے بلکہ اس روءیا سے صرف اس تعلق کا اظہار مراد ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو بندے سے ہے اور تصویری زبان میں اس تعلق کو ظاہر کر کے ایک گہرا نقش اس کے دل میں جمایا جاتا ہے۔
میں نے خود کئی دفعہ اللہ تعالیٰ کو انسانی شکل میں دیکھا ہے اور مضمونِ رؤیا کے مطابق اس کی شکل مختلف طور پر دیکھی ہے۔ میں ہرگز نہیں سمجھتا کہ وہ شکل خدا تھی یا اس میں خدا تعالیٰ حلول کر آیا تھا۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ایک جلوہ تھی اور اس رؤیا کے مضمون کے مطابق الٰہی صفات کی جلوہ گری پر دلالت کر رہی تھی وہ ایک رؤیت تھی مگر تصویری زبان میں۔ اور اس تعلق کو ظاہر کرتی تھی جو اللہ تعالیٰ کو مجھ سے یا ان لوگوں سے تھا جن کے متعلق وہ رؤیا تھی حضرت استاذی المکرم مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول اپنی طالب علمی کے زمانہ کا ایک واقعہ سناتے تھے کہ ایک دفعہ آپ کے استاد مولوی عبد القیوم صاحب بھوپالوی نے جو مجدّدِ عصر حضرت سید احمد صاحب بریلوی کے خلفاء میں سے تھے خواب دیکھا کہ ایک شخص کوڑھی اندھا اور دیگر ہر قسم کی بیماریوں میں مبتلا بھوپال کے باہر پُل پر پڑا ہے اس سے آپ نے پوچھا کہ تُو کون ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں اللہ میاں ہوں۔ انہوں نے کہا اللہ میاں تو سب حُسنوں کا جامع ہے اور تُو سب عیبوں سے پُر ہے تو اس نے کہا کہ وہ بھی درست ہے لیکن میں بھوپال کے لوگوں کا خدا ہوں یعنی انہوں نے مجھے ایسا سمجھ چھوڑا ہے۔
غرض خدا تعالیٰ کی رُؤیت کئی بناء پر کئی صورتوں میں مومن کو ہوتی ہے اور اس کے ایمان کی زیادتی کا موجب بنتی ہے اور اس پر اعتراض کرنا ایک جاہل اور نادان انسان کا کام ہوتا ہے واقفِ حقیقت اس گڑھے میں نہیں گرتا۔ پس اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ کی شکل میں اللہ تعالیٰ کی رؤیت ہوئی ہو تو اس میں کچھ تعجب کی بات نہیں اور یہ اعتراض کا مقام نہیں اکثر دفعہ رؤیا کی تعبیر ناموں کے معنوں پر ہوتی ہے۔ اگر ایسی رؤیا کسی کو ہو تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ اس کو ایک سلسلہ بخشے گا جو ہمیشہ قائم رہے گا کیونکہ عائشہ کے معنے زندہ رہنے والی کے ہیں اور اس نام کی عورت کی شکل میں اگر اللہ تعالیٰ اپنا جلوہ ظاہر کرے تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ یہ جلوہ نہ مٹنے والا ہے اور عورت اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہ جلوہ امت کے متعلق ہے جو مونث ہے۔ ایسی رؤیا پر اعتراض کرنا کور باطنی اور روحانیت سے حرمان پر دلالت کرتا ہے۔
ایک اعتراض مصنف ہفوات نے یہ کیا ہے کہ فردوسِ آسیہ میں لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے وفات کے وقت مسواک چبوائی تاکہ آپ پر سکرات موت کی آسانی ہو۔ اور اس پر اعتراض کیا ہے کہ یہ کونسی طب کا نسخہ ہے کہ مسواک کسی کے منہ میں چبوا کر لی جائے تو اس سے سکرات موت میں آسانی ہوتی ہے۔
میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ فردوس آسیہ نہ حدیث کی کتاب ہے اور نہ اس پر اہل سنت والجماعت کے مذہب کا انحصار ہے پس اس کے حوالہ سے کوئی حدیث پیش کرنا درست ہی نہیں ہو سکتا جب کتب احادیث موجود ہیں تو ان کا حوالہ دینا مصنف ہفوات کے لئے کیا مشکل تھا صاف ظاہر ہے کہ مصنف ہفوات کو اس میں اپنے ارادہ کی قلعی کھل جانے کا احتمال تھا اور وہ جانتے تھے کہ اصل حوالہ جات کے ظاہر ہوتے ہی بہت سی روایات کی حقیقت ظاہر ہو جائے گی۔
چونکہ یہ واقعہ بخاری میں بھی آتا ہے اس لئے میں بخاری کی روایت اس جگہ نقل کر دیتا ہوں۔ اس سے مصنف ہفوات کے اعتراض کی حقیقت خود بخود ظاہر ہو جائے گی امام بخاری رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ذکر میں حضرت عائشہ کی روایت لکھتے ہیں۔ كَانَتْ تَقُوْلُ اِنَّ مِنْ نِعَمِ اللّٰهِ عَلَیَّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ تُوُفِّىَ فِیْ بَيْتِیْ وَ فِيْ يَوْمِیْ وَ بَيْنَ سَحْرِیْ وَ نَحْرِىْ وَ اَنَّ اللّٰهَ جَمَعَ بَيْنَ رِيْقِیْ وَ رِيْقِهٖ عِنْدَ مَوْتِهِ ـ دَخَلَ عَلَیَّ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ وَ بِيَدِهِ السِّوَاكُ وَ اَنَا مُسْنِدَةٌ رَّسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَرَاَيْتُهٗ يَنْظُرُ اِلَيْهِ وَ عَرَفْتُ اَنَّهُ يُحِبُّ السِّوَاكَ فَقُلْتُ اٰخُذُهٗ لَكَ فَاَشَارَ بِرَاْسِهِ اَنْ نَّعَمْ فَتَنَا وَلْتُهُ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ فَقُلْتُ اٰلِيْنُهٗ لَكَ فَاَشَارَ بِرَأْسِهٖ اَنْ نَّعَمْ فَلَيَّنْتُهُ ـ(۷۱؎)
ترجمہ۔ حضرت عائشہ فرمایا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو مجھ پر احسان کئے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں اور میری باری میں فوت ہوئے ہیں اور میری گردن اور سینہ کے درمیان (یعنی اس مقام پر آپ نے ٹیک لگائی ہوئی تھی) اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے میرے اور آپ کے لعاب کو آپ کی وفات کے وقت جمع کر دیا۔ اور یہ اس طرح ہوا کہ عبدالرحمن (حضرت عائشہؓ کے بھائی) اندر آئے اور ان کے پاس مسواک تھی اور میں نے اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹیک دی ہوئی تھی میں نے دیکھا کہ آپ مسواک کی طرف دیکھ رہے ہیں اور میں نے سمجھا کہ آپ مسواک کرنا چاہتے ہیں پس میں نے آپ سے دریافت کیا کہ کیا آپ کے لئے یہ مسواک لے لوں؟ آپ نے سر سے اشارہ فرمایا کہ ہاں۔ میں نے مسواک لے کر آپ کو دی لیکن آپ کو وہ سخت معلوم ہوئی اس پر میں نے کہا کہ کیا میں اسے آپ کے لئے نرم کر دوں؟ آپ نے سر سے اشارہ فرمایا کہ ہاں۔ پس میں نے مسواک کو نرم کر دیا اور آپ نے
اپنے منہ میں مسواک کرنی شروع کر دی۔
دو طرح اور بھی بخاری میں روایت آتی ہے۔ لیکن مفہوم یہی ہے۔ اس امر کا کہیں بھی ذکر نہیں کہ عائشہ کی مسواک کرنے سے آپ پر سکرات موت کی سہولت ہو گئی جب کہ مصنف ہفوات نے بخاری کو بہ نیت اعتراض پڑھا تھا تو ضرور اس روایت پر بھی ان کی نظر پڑی ہو گی۔ پھر اس کو چھوڑ کر فردوسِ آسیہ کی طرف توجہ کرنے کی یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ اس حدیث پر اعتراض نہیں پڑ سکتا تھا بلکہ اگر وہ اس حدیث کو نقل کر دیتے تو اس سے اعتراض ہی رَد ہو جاتا کیونکہ اس حدیث میں اس روایت کے بالکل خلاف مضمون ہے۔ فردوسِ آسیہ کی عبادت سے مصنفِ ہفوات نے یہ مطلب نکالا ہے کہ گویا حضرت عائشہ کی برکت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سکرات میں کمی ہوئی حالانکہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہؓ اس کو ایک فخر سمجھتی ہیں کہ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری وقت میں خدمت کا موقع ملا۔ بخاری میں اسی موقع کے متعلق ایک اور روایت ہے اور وہ بھی حضرت عائشہؓ سے مروی ہے۔ اس سے اس بہتان کی قباحت اور فضاحت اور بھی زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ کتاب فضائل القرآن میں امام بخاری حضرت عائشہؓ سے باب المعوذات کے نیچے ایک روایت لکھتے ہیں جو یہ ہے عَنْ عَائِشَةَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اِذَا اشْتَكٰى يَقْرَأُ عَلٰى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفُثُ فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ اَقْرَأُ عَلَيْهِ وَاَمْسَحُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا ترجمہ۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی بیماری ہوتی آپ اپنے جسم پر معوذات پڑھ کر پھونک لیا کرتے۔ پس جب آپ کی بیماری بڑھ گئی تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر آپ کا ہاتھ جسم پر پھیر دیتی اور آپ کا ہاتھ اس لئے پھیرتی تا برکت ہو۔
اس روایت سے ظاہر ہے کہ حضرت عائشہؓ یا ائمہ حدیث کے ذہن کے کسی گوشہ میں بھی یہ بات نہ تھی کہ حضرت عائشہؓ کو ایسی برکت حاصل تھی کہ ان کے لُعاب کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب سے مل جانے سے آپ پر سکرات موت آسان ہو جائیں گے۔ اگر یہ بات ان کے ذہن میں ہوتی اور وہ بقول مصنفِ ہفوات اس خیال کے پھیلانے کے خواہش مند ہوتے تو وہ مذکورہ بالا حدیث کو کیوں اپنی کتب میں درج کرتے۔
خلاصہ یہ کہ صحیح احادیث میں یہ بات کہیں بھی بیان نہیں ہے کہ حضرت عائشہؓ کو رسول کریم نے فرمایا کہ مجھے مسواک اس لئے چبا کر دے کہ مجھ پر سکرات موت آسان ہو جائے گی۔
جس بات کو مصنف ہفوات نے چھپایا ہے میں اس کو ظاہر کر دیتا ہوں کہ عقیلی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں اُمْضُغِیْہِ ثُمَّ اٰتِیْنِیْ بِہِ اُمْضُغْہُ لِکَیْ یَخْتَلِطَ رِیْقِیْ بِرِیْقِکِ لِکَیْ یَهُوْنَ عَلَیَّ عِنْدَ الْمَوْتِ۳؎اس کے معنے بے شک یہ کئے جا سکتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے مسواک چبا کر دو تا موت کے وقت کا حال مجھ پر آسان ہو۔ لیکن اس کے بھی یہ معنے نہیں نکل سکتے کہ لُعابِ عائشہؓ میں کوئی ایسی برکت تھی بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ معنی نکلیں گے کہ آپ کو چونکہ عائشہ سے محبت تھی اور پیاروں کا قرب انسان کی تسلی کا موجب ہوتا ہے اس لئے جس طرح آپ کبھی اس جگہ منہ لگا کر پانی پی لیتے تھے جس جگہ منہ لگا کر عائشہؓ نے پیا ہو اسی طرح آپ نے اس وقت ایسی خواہش کی۔
مگر میرے نزدیک حق یہی ہے کہ یہ روایت باطل ہے۔ کیونکہ گو اس روایت سے قطعی طور پر وہی معنے نہیں نکلتے جو مصنف ہفوات نے کئے ہیں۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جو معنے بھی اس کے کئے جائیں وہ واقعات کے خلاف ہیں۔ بخاری کی روایت جو میں اوپر بیان کر آیا ہوں اور دوسری روایات جن کو میں نے بخوف طوالت نقل نہیں کیا یہ روایت ان کے خلاف ہے۔ اور اس لئے قابل اعتبار نہیں۔ بخاری اور دوسری معتبر کتب حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایسے ضعیف ہو چکے تھے کہ اس قدر بھی گفتگو نہیں کر سکتے تھے۔ بخاری کی حدیث میں صاف لکھا ہے کہ حضرت عائشہ کے دریافت کرنے پر کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسواک لینا چاہتے ہیں؟ آپ نے منہ سے ہاں نہیں فرمایا بلکہ سر کا اشارہ فرمایا اور پھر جب آپ چبا نہیں سکے تو خود منہ سے نہیں فرمایا کہ اس کو چبا دو بلکہ حضرت عائشہؓ کے پوچھنے پر بھی سر سے فرمایا کہ ہاں چبا دو۔ پس جب کہ خود حضرت عائشہؓ کی روایت معتبر کتب احادیث میں یوں درج ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک چبانے کے لئے منہ سے کچھ نہیں کہا بلکہ صرف سر ہلایا۔ تو عقیلی کی روایت جس میں ایک فقرہ کا فقرہ درج ہے کس طرح درست ہو سکتی ہے؟ اور جب کہ وہ روایت اہل سنت کی معتبر کتب کی روایات کے خلاف ہے تو اسے ائمہ حدیث اور اہل سنت کے خلاف کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مصنفِ ہفوات نے فردوس آسیہ کے ہی حوالہ سے ایک اور اعتراض ائمہ حدیث پر کیا ہے اور وہ یہ کہ ان کی روایات کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سکرات موت سے نجات اس طرح ہوئی کہ آپ کو حضرت عائشہ کے ہاتھ اور ہتھیلیاں دکھائی گئی تھیں۔
اس روایت کو درج کر کے مصنفِ ہفوات نے یوں اعتراض کیا ہے ”غنیمت ہے کہ پیغمبر معصوم کو دوزخ نہ دکھائی ہاتھ ہتھیلیوں ہی پر خیر گزری، ورنہ ان خوش اعتقاد مولویوں سے یہ بھی دور نہ تھا“ پھر لکھا ہے۔ ”لطیفہ۔ معلوم ہوتا ہے کہ جناب عائشہؓ کے ہاتھوں کی قوتِ مقناطیسی بلکہ قوتِ برقی بڑھتے بڑھتے ملک الموت کا کام کرنے لگی تھی مَاشَاءَ اللّٰہُ“
جس شرافت، جس ادب، جس سنجیدگی کے ساتھ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہؓ کا ذکر کیا گیا ہے وہ مصنفِ ہفوات کے اندرونے کے ظاہر کرنے کے لئے خود ہی کافی ہے۔ اس پر مزید کچھ لکھنے کی مجھے ضرورت نہیں۔ میں اصل اعتراض ہی کے جواب پر کفایت کرتا ہوں۔ یہ حدیث جس کی طرف مصنفِ ہفوات نے اشارہ کیا ہے مسند احمد بن حنبل اور ابن سعد کی ہے۔ مسند احمد بن حنبل میں یہ الفاظ ہیں عَنْ عَائِشَةَ اَيْضًا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنَّهٗ لَيُهَوِّنُ عَلَيَّ الْمَوْتَ لِاَنِّيْ رَاَيْتُ بَيَاضَ كَفِّ عَائِشَةَ فِي الْجَنَّةِ۔۴؎ یعنی حضرت عائشہ نے یہ بھی روایت کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر موت آسان ہو گئی ہے کیونکہ میں نے عائشہ کے ہاتھوں کی سفیدی کو جنت میں دیکھا ہے اور ابن سعد نے مرسل طور پر اس روایت کو یوں بیان کیا ہے اَنَّهٗ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ رَاَيْتُهَا فِي الْجَنَّةِ حَتّٰی لِيَهُوْنُ عَلَیَّ بِذٰلِكَ مَوْتِیْ كَاَنِّيْ اَرٰی كَفَّيْهَا يَعْنِيْ عَائِشَةَ۵؎ ترجمہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جنت میں اس کو دیکھا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہو ہے کہ مجھ پر موت آسان ہو گئی ہے گویا کہ میں عائشہ کی ہتھیلیوں کو جنت میں دیکھ رہا ہوں۔
اصل روایات کو پڑھ لینے کے بعد کوئی عقلمند وہ اعتراض نہیں کر سکتا جو مصنفِ ہفوات نے کئے ہیں۔ ان روایات سے نہ اشارۃً نہ کنایۃً بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت عائشہؓ کی ہتھیلیاں
دکھانے کے سبب سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح نکل گئی نہ یہ کہ ہتھیلیوں کے دیکھنے کے سبب سے آپ کے سکراتِ موت کم ہو گئیں یہ تمام کی تمام بات ایک سر تا پا جھوٹ ہے جس کے کہ مصنف ہفوات اور ان کے ہم آہنگ لوگ خاص طور پر مشتاق معلوم ہوتے ہیں۔
اس حدیث کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ عائشہ کو جنت میں دیکھ کر آپ پر موت آسان ہو گئی ہے اور اس پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ ہر انسان خواہ نبی ہو خواہ غیر نبی بلکہ نبی زیادہ اس امر کی فکر رکھتا ہے، کہ اس کے عزیز اور رشتہ دار بھی خدا کے غضب سے بچ جائیں اور اس کے فضلوں کے وارث ہوں۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ کا جنت میں دکھایا جانا واقع میں ایک خوشی کا امر تھا اور اس پر آپ کا یہ فرما دینا کہ مجھ پر یہ بات دیکھ کر موت آسان ہو گئی ہے۔ آپ کی شان کو بڑھانے والا ہے نہ کہ آپ کی شان کے خلاف۔ جس نبی کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفۡسَکَ اَلَّا یَکُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ(26:4) کہ کیا تو اپنی جان کو ہلاک کر دے گا اس غم میں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ کیا اس کو اپنے اہل کی نسبت اس امر کی خواہش نہیں ہو گی کہ وہ بھی انعامات الٰہیہ کے وارث ہوں اور کیا اگر اللہ تعالیٰ اس کے بعض اہل کی نسبت اس امر کی خوشخبری دے کہ وہ بھی اعلیٰ درجہ کے انعامات کے وارث ہوں گے۔ اور ان کے جسم خاص طور پر روشن بنائے جائیں گے تو اس کی آخری گھڑیاں خوشی سے معمور نہ ہوں گی؟ اے کاش! مصنف صاحب ہفوات اپنے پتھر سے زیادہ سخت دل اور معکوس کوزے سے زیادہ ایمان سے خالی قلب سے اس واقعہ کو نہ جانچتے بلکہ ایک مومن دل کی حالت سے اندازہ لگاتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ یہ حدیث رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف نہیں ہے بلکہ آپ کی شان کو بڑھانے والی ہے اور اسی طرح حضرت عائشہؓ کی عظمت کا اظہار کرنے والی ہے۔ اور غالباً یہی باعث ہے کہ مصنف ہفوات کو یہ حدیث گراں گزری ہے اور ان کو اپنے دماغ پر پورا زور دے کر عجیب قسم کے بے تعلق اعتراض ایجاد کرنے پڑے ہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اس روایت میں سکراتِ موت کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ یہ واقعہ موت سے کسی قدر پہلے کا معلوم ہوتا ہے اور موت کے آسان ہونے کے معنے دل کی خوشی کی ہیں نہ کہ موت کی ظاہری تکلیف کے۔ کیونکہ اس قسم کی تکلیف ایک طبعی امر ہے اور دل کی خوشی یا عدم خوشی کا اس سے کچھ تعلق نہیں۔
فردوس آسیہ ہی کے حوالہ سے كَشْفُ الْغُمَّةِ عَنْ جَمِيْعِ الْاُمَّةِ کی ایک روایت درج کر کے مصنف ہفوات نے ایک اعتراض ائمہ حدیث پر یہ کیا ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے شرمی کا الزام لگایا ہے۔ وہ روایت بقول مصنف ہفوات یہ ہے کہ
”جب آنحضرت میرے (عائشہ کے) گھر تشریف لاتے تو دونوں گھٹنے میرے دونوں زانووں پر رکھتے اور دونوں ہاتھ مونڈھوں پر اور مجھ پر اوندھے ہو جاتے اور سانس چڑھ جاتی تھی“
میں پہلے لکھ آیا ہوں کہ فردوس آسیہ کوئی حدیث کی کتاب نہیں ہے اور نہ اس کی روایات اہل سنت کی مسلّمہ ہیں بلکہ ہم اس کے مصنف کی حالتِ تقویٰ اور علم کو بھی نہیں جانتے۔ پس اس کی روایات پر بناء رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ شیعہ مذہب پر اعتراض کرنے کے لئے کوئی شخص حشاشین اور بھنگی، چرسی، فقیروں کے اقوال پر اپنے دلائل کی بناء رکھے کیونکہ اس قسم کی کتاب کے مصنّفین کی اصل غرض عجیب و غریب روایات کا جمع کرنا ہوتی ہے نہ کہ تحقیق و تدقیق۔
اسی طرح فردوس آسیہ نے جس کتاب سے یہ روایت نقل کی ہے وہ کتاب بھی حدیث کے علم کے لئے مستند نہیں ہے۔ امام شعرانی ان علماء میں سے ہیں جو روایت کی تحقیق سے زیادہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہم کسی روایت سے عبرت کیا حاصل کر سکتے ہیں پس خواہ روایت جھوٹی ہو خواہ سچی وہ اس کو درج کر دیتے ہیں۔ انہوں نے صوفیاء کرام کے سوانح میں جو کتاب لکھی ہے اس میں ایسی روایات بہت سی جمع کر دی ہیں جو گو شیعوں کی روایات کا تو مقابلہ نہیں کر سکتیں مگر پھر بھی عقل کو چکرا دینے کے لئے کافی ہیں اور ان کی غرض اس قسم کی روایات کو نقل کر دینے سے محض یہ ہوتی ہے کہ ہم ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں مگر محقق صوفیاء اور محقق ائمہ حدیث کا یہ طریق نہیں ہے وہ جب روایات کو جمع کریں گے تو بے شک ہر قسم کی حدیث جو اس خاص قانون کے مطابق ہو جسے انہوں نے اپنی تصنیف کے وقت مد نظر رکھا ہو درج کر دیں گے لیکن استعمال کے وقت اس امر کو مد نظر رکھیں گے کہ آیا کوئی حدیث تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے کس پایہ کی ہے۔
اس بات کو کھول دینے کے بعد کہ نہ فردوس آسیہ کا مصنف نہ امام شعرانی روایت کے معاملہ میں اس مقام پر ہیں کہ ان کی بیان کردہ روایت حدیث کی تحقیق کے متعلق کوئی وُقعت رکھتی ہو
میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے کشف الغمہ میں وہ روایت نہیں ملی جو مصنف ہفوات نے درج کی ہے۔ ہاں ایک حدیث اس میں ایسی موجود ضرور ہے جس کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف ہفوات کا اسی کی طرف اشارہ ہے۔ مگر اس حدیث کے الفاظ اور ہیں اور مطلب اور۔
میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ حدیث کس پایہ کی ہے کیونکہ کشف الغمہ کے مصنف مستقل محدث نہیں ہیں اور انہوں نے حوالہ بھی نہیں دیا کہ معلوم ہوتا کہ انہوں نے اس حدیث کو کہاں سے نقل کیا ہے تا اس کی حقیقت معلوم کی جاتی۔ لیکن اس بات میں کچھ شک نہیں کہ کشف الغمہ کی روایت خواہ سچی ہو خواہ جھوٹی اس اعتراض کی حامل نہیں ہو سکتی جو مصنف ہفوات نے کیا ہے مزید وضاحت کے لئے میں اس روایت کے الفاظ کشف الغمہ میں سے درج کر دیتا ہوں جو یہ ہیں۔ كَانَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ اِذَا دَخَلَ عَلَىَّ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ عَلٰى فَخِذِىَّ وَ يَدَيْهِ عَلٰى عَاتِقِىَّ ثُمَّ اَكَبَّ فَاَحْنٰى عَلَىَّ۷؎ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے گھر میں تشریف لاتے تو میری رانوں پر اپنے گھٹنے ٹیکتے اور میرے کاندھوں پر اپنے ہاتھ رکھ دیتے پھر میری طرف جھکتے اور مجھ سے شفقت و پیار کا معاملہ کرتے۔ کشف الغمہ کی اصل روایت اور ہفوات المسلمین کی بیان کردہ عبارت میں یہ نمایاں فرق نظر آرہا ہے کہ اس میں سانس چڑھ جاتی تھی کے الفاظ بالکل موجود نہیں۔ اور اگر یہ روایت کسی اور جگہ بھی درج ہے اور اس میں یہ الفاظ موجود ہیں تو مصنف ہفوات کا فرض ہے کہ اس کا حوالہ دے۔
اصل بات یہ ہے کہ ان الفاظ کو جدا کر کے اعتراض کی جان نکل جاتی ہے کیونکہ شہوت و بوالہوسی کی روح انہی الفاظ سے پیدا ہوتی ہے۔ پس اگر فردوس آسیہ میں یہ الفاظ موجود بھی ہیں تب بھی باوجود اس کے کہ عام طور پر یہ کتاب مل جاتی ہے کشف الغمہ سے حوالہ نہ دینے کی غرض ہی مصنف ہفوات کی یہ معلوم ہوتی ہے کہ کسی طرح ایک اعتراض کی اور زیادتی ہو جائے۔
مصنف ہفوات کا منشاء اس روایت کے نقل کرنے سے یہ ہے کہ وہ اسے حالتِ جماع کا نقشہ قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ اس تلطف و مہربانی کا اظہار ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں پر فرمایا کرتے تھے۔ اور جو تمدن و اخلاق کی اساس ہے۔ جس قدر متمدن اقوام ہیں ان میں یہ بات خصوصیت سے پائی جاتی ہے کہ خاوند کو اپنے گھر میں داخل ہونے پر بیوی سے خاص طور پر تلطف سے پیش آنا چاہئے اور اس روایت میں اگر یہ صحیح ہے اسی نقشہ کو کھینچا ہے اور اس روایت کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ اس میں اس حالت کا ذکر ہے جب کہ حضرت عائشہؓ بیٹھی ہوا کرتی تھیں۔
کیونکہ رانوں پر گُھٹنوں کا ٹیکنا اور کندھوں پر ہاتھوں کا رکھنا بیٹھنے یا کھڑے ہونے کی حالت کو بتاتا ہے نہ کہ لیٹنے کی حالت کو۔ عاتق پر ہاتھ ہمیشہ بیٹھے یا کھڑے ہوئے انسان کے رکھا جا سکتا ہے۔ اور یہ بات تو بچے بھی جانتے ہیں کہ لیٹے ہوئے آدمی کی رانوں پر اگر گُھٹنوں کو ٹیک دیا جائے تو وہ سخت تکلیف کا موجب ہوتا ہے نہ کہ محبت کے اظہار کا ذریعہ۔ غرض جو مفہوم مصنف ہفوات نے اس روایت سے سمجھا ہے وہ ہرگز درست نہیں بلکہ اس کے الفاظ سے فقط یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ جب گھر میں داخل ہوتے تو اپنی بیویوں کو پیار کرتے اور یہ قابلِ اعتراض بات نہیں بلکہ ایک اُسوۂ حسنہ ہے بشرطیکہ کوئی بے رحم سنگدل یا ریا کار صوفی نہ ہو۔
ایک نئے اعتراض کے پیدا کرنے کے لئے پھر وہی کتاب فردوسِ آسیہ مصنف ہفوات کے ہاتھ میں آئی ہے اور اب کے بھی اسی غرض کے لئے کہ اگر اصل کتاب کا حوالہ وہ دے دیں تو اعتراض باطل ہو جاتا ہے۔ وہ فردوسِ آسیہ کے حوالہ سے سنن ابو داؤد کی یہ روایت درج کرتے ہیں کہ ”جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنگِ تبوک سے واپس آئے تو حضرت عائشہ کی گڑیوں کا پردہ ہوا سے اُڑ گیا آنحضرت نے پوچھا یہ کیا ہے؟ حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ یہ میری بیٹیاں ہیں۔ ان میں ایک پردار گھوڑا بھی تھا آنحضورؐ نے پوچھا کیا گھوڑے کے پَر بھی ہوا کرتے ہیں؟ حضرت عائشہ نے عرض کیا کیا حضرت سلیمان کے گھوڑے کے پَر نہ تھے پس آنحضرت ہنس کر چُپ ہو گئے۔“ اس روایت کو نقل کر کے مصنف ہفوات ان الفاظ میں اعتراض کرتا ہے۔ ”راوی نے حضرت عائشہؓ میں طباعی کی فضیلت ظاہر کرنے کی دھن میں رسالت کو غارت کر دیا۔ کیونکہ ذی روح کی تصویر سایہ دار کے دیکھنے پر پیغمبر خدا کا ہنس کر چُپ رہ جانا منافی رسالت ہے۔ بلکہ ان تصاویر کا گھر سے اخراج بلکہ احراق شرط تھا جو نہ ہوا اس وجہ سے پیغمبر بشیر و نذیر نہ رہے۔ کیونکہ ان سے نہی عن المنکر ترک ہو گیا۔ پس اس بناء پر ماننا پڑے گا کہ مَعَاذَ اللّٰهِ آیت اِنَّ الشِّرۡکَ لَظُلۡمٌ عَظِیۡمٌ(31:14) ۷۸؎ ہے۔“۔ صفحہ ۲۲۔ ایڈیشن دوسرا۔ دوسرا اعتراض مصنف ہفوات نے یہ کیا ہے کہ تبوک کے وقت حضرت عائشہ کی عمر سترہ سال کی تھی اور اس عمر میں بیاہی لڑکیاں بالعموم گڑیاں نہیں کھیلا کرتیں۔
یہ حدیث بے شک ابو داؤد میں ہے۔ لیکن اس میں ایک جملہ ایسا بھی ہے جو مصنف ہفوات کے اعتراض کے ایک حصہ کو باطل کر دیتا ہے اور غالباً اسی وجہ سے انہوں نے ابو داؤد کو نکال کر نہیں دیکھا بلکہ فردوس آسیہ کے حوالہ سے اعتراض کر دیا ہے اور وہ جملہ یہ ہے۔ قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوْكَ اَوْ خَيْبَرَ۹؎ یعنی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے یا خیبر سے واپس تشریف لائے تھے تب یہ واقعہ ہوا تھا۔ اس جملہ سے ظاہر ہے کہ راوی کو وقت کے متعلق شک ہے کہ وہ کون سا تھا تبوک اور خیبر میں دو سال سے زائد کا فرق ہے یعنی غزوہ خیبر دو سال پہلے ہوا ہے۔ پس اگر خیبر کو صحیح سمجھا جائے تو اس وقت حضرت عائشہ کی عمر پندرہ سال سے کچھ کم ہی بنتی ہے۔ لیکن جب راوی وقت کے متعلق خود شک میں ہے اور اس شک کا اظہار کرتا ہے اور دو ایسی جنگوں کا نام لیتا ہے جن میں دو سال سے زیادہ کا فرق ہے تو کیا تعجب ہے کہ در حقیقت جس جنگ کے بعد یہ واقعہ ہوا ہے وہ ان دونوں جنگوں کے سوا کوئی اور جنگ ہو اور خیبر سے بھی پہلے ہو اور یہی قرین قیاس معلوم ہوتا ہے اور اسی شک کو پوشیدہ رکھنے کے لئے غالباً مصنف ہفوات نے سنن ابو داؤد کی روایت کو نقل نہیں کیا جو زیادہ معروف کتاب ہے اور فردوس آسیہ کا حوالہ دے دیا ہے۔
اب میں اس اعتراض کا جواب دے کر کہ حضرت عائشہؓ کی عمر گڑیاں کھیلنے کی اجازت دے سکتی تھی کہ نہیں؟ اس دوسرے سوال کا جواب دیتا ہوں کہ کیا گڑیاں کھیلنا شرک ہے اور کیا ذی روح کی تصویر یا تمثال سے کھیلنا شرک ہے۔ اور اِنَّ الشِّرۡکَ لَظُلۡمٌ عَظِیۡمٌ(31:14) کی آیت کے خلاف ہے؟۔
اول تو میں مصنف ہفوات اور ان کی طرز کے لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا وہ روپیہ پیسہ کا استعمال کرتے ہیں یا نہیں؟ کیا اسی کتاب کے چھپوانے پر ان کو کاتبوں، پریس مینوں، مطبع والوں، کاغذ فروشوں کو ان کی مزدوری اور ان کے بل ادا کرنے پڑے تھے یا نہیں؟ اور وہ بل کس سکہ میں انہوں نے ادا کئے تھے؟ کیا جس وقت وہ رائج الوقت سکہ کو استعمال کرتے ہیں یا کسی سے لے کر اپنی جیب میں ڈالتے ہیں تو اپنے آپ کو مشرک قرار دیا کرتے ہیں؟ یا مومن سمجھتے ہیں؟ ان کا گڑیوں پر اس طرح غضبناک ہو کر اعتراض کرنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب کو بھی نظر انداز کر کے یہ فقرہ لکھ دینا کہ۔ ”رسالت کو غارت کر دیا“ بتاتا ہے کہ وہ شرک کے بڑے سخت دشمن ہیں لیکن کیا روپیہ پیسہ کا استعمال انہوں نے چھوڑ دیا ہے یا ان کے کسی بزرگ مجتہد نے چھوڑ دیا ہے؟ حالانکہ روپیہ اور نوٹ اور پیسہ سب پر ذی روح کی تصویر ہوتی ہے۔
اسی طرح کیا آپ نے یا آپ کے ہم خیال لوگوں نے آئینہ دیکھنا چھوڑ دیا ہے کہ اس میں بھی ذی روح کی تصویر بن جاتی ہے اگر کہو کہ اس تصویر کو ہم تو نہیں بناتے۔ مگر سوال یہ ہے کہ آپ اس کو دیکھتے بھی ہیں یا نہیں یا آئینہ کا احراق کر دیا کرتے ہیں کہ اس کے ذریعہ سے اور اسی ذی روح کی تصویر بن جاتی ہے۔ اگر کہیں کہ وہ تو عارضی تصویر ہوتی ہے قائم نہیں رہتی تو کیا عارضی طور پر گڑیاں بنا کر پھر ان کو توڑ ڈالنا جائز ہے؟ اور اس طرح شرک نہیں رہے گا۔ اگر یہ درست ہے تو گڑیاں سب ہی ٹوٹتی رہتی ہیں ان کو کون ہمیشہ کے لئے رکھتا ہے؟۔
مجھے افسوس آتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ لوگ اپنی نادانی اور جہالت سے اسلام کو نہایت تنگ اور محدود مذہب بنا دیتے ہیں حالانکہ جس طرح کسی مذہب میں اپنے پاس سے بڑھا دینا منع ہے اسی طرح اس میں سے کسی حصہ کا کم کر دینا منع ہے۔ قرآن کریم میں جس طرح ان لوگوں کو بڑا کہا گیا ہے جو اپنے پاس سے احکام بنا کر خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ اسی طرح ان لوگوں کو بھی بڑا کہا گیا ہے جو بعض احکام الٰہی کو چھپا دیتے اور مخفی کر دیتے ہیں۔ پس ایمان کا تقاضہ ہے کہ مذہب میں زیادتی اور کمی کسی قسم کی نہ کی جائے بلکہ اس کو اپنی اصل حالت میں رہنے دیا جائے۔
شرک ایک خطرناک شئے ہے اور اس کا مرتکب خدا تعالیٰ کے غضب کو اپنے اوپر نازل کر لیتا ہے لیکن جو شخص شرک کے مفہوم کو خلافِ منشائے شریعت کھینچ تان کر کچھ کا کچھ بنا دیتا ہے وہ بھی کم مجرم نہیں۔ کیونکہ وہ بھی درحقیقت اپنے آپ کو خدائی کی طاقتیں دے کر شریعت کے احکام کی وسعت و تنگی کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے۔
تعجب ہے کہ ایک طرف مسلمانوں میں سے وہ لوگ ہیں جو کسی کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونے کو شرک کہتے ہیں۔ عکس اُتروانے کو شرک کہتے ہیں۔ حتیٰ کہ غلو کرتے کرتے شرک فی الرّسالت کا ایک مرتبہ ایجاد کر لیتے ہیں اور اس طرح شرک کے مسئلہ کو جو خاص ذات باری سے تعلق رکھتا ہے مبہم و مخلوط کر دیتے ہیں بعض بچوں کی کھیلوں تک کا نام شرک رکھ دیتے ہیں۔
دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو بزرگوں کی قبروں پر سجدہ کرتے ہیں۔ ان سے مرادیں مانگتے ہیں۔ بزرگوں کے نام پر بکرے دیتے ہیں ان کے نام پر جانوروں یا بچوں یا اور چیزوں کو وقف کر دیتے ہیں ان کو عالم الغیب خیال کرتے ہیں ان کو خدائی طاقتوں کا وارث سمجھتے ہیں اور بعض تو ان کے مکان یا مزار کی طرف منہ کر کے نماز بھی پڑھ لیتے ہیں اور یہاں تک سمجھ بیٹھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ بھی ان سے خائف اور مرعوب ہے
ببیں تفاوت رہ از کجاست تا بکجا
کاش یہ لوگ دین کو اس کی اصل حالت پر رہنے دیتے اور خدا تعالیٰ کے کام کو اپنے ہاتھ میں لینے کی جرأت نہ کرتے تو نہ یہ خود تکلیف میں پڑتے نہ لوگوں کے ایمان خراب ہوتے اور نہ دشمنوں کو اسلام پر ہنسی اور ٹھٹھا کرنے کا موقع ملتا۔ اور نہ یہ ضَلُّوْا وَ اَضَلُّوْا کی جماعت میں داخل ہو کر خدا کے غضب کو بھڑکا لیتے۔
کیسی عجیب بات ہے کہ یہی لوگ جو گڑیاں کھیلنے کا نام شرک رکھتے اور حضرت عائشہؓ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بالواسطہ زبان طعن دراز کرتے ہیں قرآن کریم میں جب اَنِّیۡۤ اَخۡلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡـَٔۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِ اللّٰہِ(3:50) پڑھتے ہیں تو اس کا ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ میں مٹی سے پرندے بنا کر ان میں پھونکتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم کے ماتحت پرندے ہو جاتے ہیں۔ اور نہیں سمجھتے کہ اگر تمثال بنانی شرک ہے تو پھر کیا مسیح علیہ السلام جو ان کے خیالوں کے مطابق پرندے بنایا کرتے تھے مشرک تھے؟ اگر مسیح علیہ السلام پرندے بنائیں اور ان کو اڑا اڑا کر دکھائیں تو وہ مشرک نہ بنیں اور خود نبی ہو کر ایسی کھیلوں میں مشغول رہیں (حَاشَا وَ كَلَّا وَ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ) تو ان کی ہتک نہ ہو لیکن حضرت عائشہؓ اگر بچپن کی عمر میں گڑیوں سے کھیلیں تو یہ شرک ہو جائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر ان کو نہ روکیں تو اس سے آیت اِنَّ الشِّرۡکَ لَظُلۡمٌ عَظِیۡمٌ(31:14)۔ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ باطل ہو جائے۔
پھر یہ لوگ قرآن کریم میں پڑھتے ہیں کہ یَعۡمَلُوۡنَ لَہٗ مَا یَشَآءُ مِنۡ مَّحَارِیۡبَ وَتَمَاثِیۡلَ وَجِفَانٍ کَالۡجَوَابِ وَقُدُوۡرٍ رّٰسِیٰتٍ ؕ اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُکۡرًا ؕ وَقَلِیۡلٌ مِّنۡ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ(34:14) یعنی حضرت سلیمانؑ کے لئے وہ لوگ ان کی مرضی کے مطابق قلعے اور مجسمے حیوانوں کے اور بڑے بڑے برتن حوضوں کی طرح کے اور بڑی بڑی دیگیں جو ایک جگہ ٹکی رہتی تھیں بناتے تھے۔ اے داؤد کی اولاد! شکر گزاری سے گزر کرو اور میرے بندوں میں سے تھوڑے ہی ہیں جو شکر گزار ہیں۔ لیکن باوجود اس آیت کے پڑھنے کے ہر ایک قسم کا مجسمہ بنانے کو شرک قرار دیتے ہیں اگر ہر ایک قسم کا مجسمہ بنانا شرک ہے تو اللہ تعالیٰ حضرت سلیمان علیہ السلام پر یہ کیسا احسان ظاہر فرماتا ہے کہ تمہارے لئے ایک قوم جانداروں کے مجسمے بنایا کرتی تھی۔ اس صورت میں تو یہ ایک غضب بن جاتا ہے نہ کہ احسان۔
مگر افسوس کہ یہ لوگ قرآن کریم کو آنکھیں بند کر کے پڑھتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا کر پڑھتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی سمجھوں پر پردہ پڑ جاتا ہے اور یہ اسی طرح کورے کے کورے اس سے نکل جاتے ہیں گویا کہ انہوں نے اسے پڑھا ہی نہیں۔
مصنفِ ہفوات نے شرک کی تعریف میں ذی روح کی تصویر کو شامل کیا ہے حالانکہ قرآن کریم میں جو حضرت سلیمان علیہ السلام کی نسبت آیا ہے کہ وہ تماثیل بنواتے تھے اس لفظ تماثیل کے معنوں میں خصوصیت کے ساتھ ذی روح چیزوں کے مجسمے داخل ہیں حتیٰ کہ بعض لوگوں کے نزدیک تو تمثال کہتے ہی ذی روح چیز کے مجسمے کو ہیں۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس وقت تمثال بنانی جائز ہوتی ہو گی شرک ان گناہوں میں سے نہیں ہے جو وقتاً فوقتاً بدلتا رہے۔ اللہ تعالیٰ کی توحید اور تفرید کا ظہور اسی طرح ابتداء میں ضروری تھا جس قدر کہ آجکل ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہر قسم کی تمثال بنانی منع نہیں ہے بلکہ ایسی ہی صورتیں ناجائز ہیں جن کے نتیجہ میں شرک پیدا ہو جایا کرتا ہے اور اس کا احتمال ہوتا ہے یا ایسی صورتوں میں تصاویر کا استعمال منع ہے جہاں شرک کے علاوہ کچھ اور اخلاقی امور مدّنظر ہوں ورنہ ان کے سوا اگر کسی اور غرض کے پورا کرنے کے لئے تصویر یا تمثال ہو تو وہ منع نہیں ہے جیسے بچوں کے کھیلنے کے لئے کھلونے بنا دیئے جاتے ہیں یا گڑیاں یا اور اسی قسم کی چیزیں ان چیزوں کا تو وجود ہی ان کی حقارت کے لئے ہوتا ہے ان سے شرک کا احتمال کب ہو سکتا ہے؟ یا آج تک دنیا میں کبھی ان چیزوں سے شرک ہوا ہے؟ ادنیٰ سے ادنیٰ اقوام میں بھی کبھی گڑیوں اور کھلونوں کے سبب سے شرک پیدا نہیں ہوا۔ ہاں بزرگوں اور صلحاء اور قومی لیڈروں کی تصاویر یا ان کے مجسموں یا اخلاق یا مخفی طاقتوں کی خیالی تصاویر یا مجسموں سے بے شک شرک پیدا ہوتا رہا ہے اور ہوتا ہے پس ان چیزوں کی تصویریں بنانی یا ان کے مجسمے بنانے یا شرک ہیں یا شرک کے پیدا کرنے کا موجب اور ان سے بچنے اور احتراز رکھنے کا شریعت اسلام حکم دیتی ہے۔
اس کے علاوہ شرک کے خیال سے نہیں بلکہ بعض اور مختلف وجوہ کی بناء پر خاص خاص موقعوں پر تصاویر کے استعمال کو ناپسند کیا گیا ہے۔ جیسے مثلاً خواہ گھروں میں خواہ مساجد میں اور ایسے موقعوں پر صرف تصویریں ہی نہیں بلکہ ہر ایک چیز جو ایسی زینت کی ہو کہ توجہ میں یکسوئی نہ رہنے دیتی ہو اور عبادت کی سادگی میں خلل انداز ہوتی ہو منع ہے۔ کیونکہ گو وہ شرک نہ پیدا کرتی ہو مگر ایک نیک کام میں روک ہوتی ہے جیسے کہ باجہ وغیرہ عبادت کے وقت بجانا درست نہیں ہے۔ وہ شرک کا موجب نہیں ہیں لیکن ان سے عبادات کی حقیقت میں فرق پڑتا ہے برخلاف اس کے گڑیوں کی کھیل ایک نہایت مفید کھیل ہے اور اس سے لڑکیاں سینے پر ونے اور امور خانہ داری کی تعلیم نہایت سہولت سے اور بلا طبیعت پر بوجھ پڑنے کے حاصل کر لیتی ہیں۔
ایک اعتراض مصنف ہفوات نے یہ کیا ہے کہ سنن ابوداؤد کی کتاب الصوم میں حضرت عائشہ کی روایت درج ہے کہ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَ هُوَ صَائِمٌ وَّ يَمُصُّ لِسَانَهَا۔۸۲رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بوسہ دیا کرتے تھے درانحالیکہ آپ روزہ دار ہوتے تھے اور اسی طرح آپ ان کی زبان چوستے تھے۔
اس پر مصنف ہفوات یوں اعتراض کرتے ہیں۔ ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مَا عَبَدْ نَاكَ حَقَّ عِبَادَتِكَ کو ہم مقامِ تواضع و انکسار میں سمجھتے تھے لیکن روزہ میں زبان چوسنے سے معلوم ہوا کہ آپ نے اپنی عبادت کی واقعیت بیان کی ہے“۔ ”ایمان سے بولو کیا خدا کے رسول روزہ میں ایسا فعل کر سکتے ہیں؟ کیا ایسا رسول امت کی ہدایت کر سکتا ہے؟ الہیٰ توبہ توبہ“۔
یہی اعتراض مصنف ہفوات نے صفحہ ۴۵۔ ایڈیشن اول وصفحہ ۷۰ ایڈیشن ثانی پر بعنوان ”طغیانی در تقبیل و مباشرت رسول به صوم“ درج کیا ہے۔ میں اس کو بھی اس اعتراض کے ساتھ شامل کرلیتا ہوں کیونکہ اعتراض ایک ہی قسم کا ہے۔ اس جگہ مصنف ہفوات نے بخاری کِتَابُ الصَّوْمِ بَابُ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ کی یہ حدیث درج کی ہے عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَ هُوَ صَائِمٌ حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی کریم روزہ کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے اور مباشرت بھی کر لیا کرتے تھے۔
اس حدیث پر صاحب ہفوات نے یہ اعتراض کیا ہے کہ ”باب اول میں ہم لکھ چکے ہیں کہ بحالت صوم اپنی زوجہ کا بوسہ لینا حرام نہیں لیکن مکروہ ضرور ہے۔ پس پیغمبر معصوم کا فعل مکروہ اختیار کرنا عقل سے بعید ہے اب تقبیل کے بعد بے حیا راوی نے مباشرت کا لفظ کہا ہے۔ جو بحالت صوم بمعنی اقرب بمواقعت ہے اور وہ حرام ہے نتیجہ رسول مرتکب حرام ہوئے لہٰذا رسالت سے موقوف“۔
اس کے بعد بَابُ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ میں سے حضرت عائشہ کی یہ حدیث نقل کی ہے كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ لَيُقَبِّلُ بَعْضَ اَزْوَاجِهِ وَ هُوَ صَائِمٌ۸۳ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض بیویوں کا بحالت صوم بوسہ لے لیا کرتے تھے۔
صاحبِ ہفوات کے تمام اعتراضات کا خلاصہ یہ ہے کہ بحالتِ صوم زبان چوسنا، بوسہ لینا، مباشرت کرنا حرام یا مکروہ ہے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا۔ پس یہ احادیث شرارت سے بنائی گئی ہیں اور کتب احادیث سے ان کا اخراج ضروری ہے۔
اخراج و احراق کے متعلق تو میں پہلے جواب دے آیا ہوں اس جگہ صرف نفسِ حدیث کے متعلق جو اعتراض مصنفِ ہفوات نے کیا ہے اس کا جواب لکھتا ہوں۔
پہلا اعتراض مصنفِ ہفوات کو یہ ہے کہ ابو داؤد کی روایت میں یہ لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ میں حضرت عائشہ کی زبان چوستے تھے۔ یہ آپ کی ذات پر حملہ ہے۔ اگر مصنفِ ہفوات اعتراض کرنے سے پہلے کتب اہل سنت والجماعت کو دیکھ لیتے تو ان کو اس اعتراض کے پیش کرنے کی ضرورت ہی نہ رہتی۔ لیکن یا تو انہوں نے بوجہ تعصب یا جہالت ان کتب کو دیکھا ہی نہیں یا دیدہ و دانستہ نظر انداز کر دیا ہے۔ ابو داؤد کی شرح عون المعبود جلد ثانی صفحہ ۲۸۵ پر اس حدیث کے متعلق لکھا ہے۔ قَالَ فِي الْمِرْقَاةِ قِيْلَ اِنَّ ابْتِلَاعَ رِيْقِ الْغَيْرِ يُفْطِرُ اِجْمَاعًا وَاُجِيْبَ عَلَىٰ تَقْدِيْرِ صِحَّةِ الْحَدِيْثِ.....اَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلوٰةُ وَالسَّلَامُ كَانَ يَبْصُقُهُ وَ لَا يَبْتَلِعُهُ۸۴ یعنی مرقاة میں لکھا ہے کہ دوسرے کا تھوک نگلنا بالاجماع روزہ توڑ دیتا ہے اور اس حدیث کے متعلق بالاجماع کہا جاتا ہے کہ اگر یہ درست فرض کر لی جائے تو اس کی یہ تاویل کی جائے گی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوک نگلتے نہیں تھے بلکہ پھینک دیتے تھے۔ اس جواب سے ظاہر ہے کہ اہل سنت والحدیث اس حدیث کو قابل قبول ہی نہیں سمجھتے اور اگر اس کو صحیح فرض کر لیں تو اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ اس صورت میں یہ تاویل کرنی پڑے گی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوک پھینک دیتے تھے۔ پس جب ائمہ حدیث کے نزدیک یہ حدیث ہی قابل قبول نہیں اور بصورت صحت قابل تاویل ہے تو اس پر اعتراض کیسا؟ کیا کسی شخص پر اس امر کے متعلق بھی اعتراض ہوا کرتا ہے جسے وہ مانتا ہی نہیں۔ اگر کہا جائے کہ پھر انہوں نے اس حدیث کو درج کیوں کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ مؤلفینِ حدیث ہر حدیث جسے وہ نقل کرتے ہیں اس کے مطلب کو صحیح قرار دے کر اسے درج نہیں کرتے بلکہ اس کے لئے ان کے اور اصول ہیں اور بسا اوقات وہ ایک حدیث درج کرتے ہیں اور خود ان کو اس کے
مطلب سے اختلاف ہوتا ہے۔ چنانچہ بعض دفعہ وہ ایک ہی جگہ متضاد مضامین کی روایات لے آتے ہیں اور یہ بات صرف اہل سنت والجماعت کی ہی کتب حدیث میں نہیں ہے بلکہ اہل شیعہ کی کتب حدیث میں بھی ایسا ہی کیا گیا ہے چنانچہ آپ لوگوں کی سب سے معتبر کتاب فروع کافی ہے بَابُ الرَّجُلُ يُجَامِعُ اَهْلَهُ فِي السَّفَرِ میں امام عبد اللہ رحمتہ اللہ علیہ سے عمر بن یزید اور سہل عن ابیہ اور ابو العباس سے ایسی روایات درج ہیں۔ جن کا مطلب یہ ہے کہ رمضان میں جو شخص سفر پر ہوا سے جماع جائز ہے۔ عمر بن یزید کی روایت کے الفاظ یہ ہیں اَنَّهٗ اَنْ يُصِيْبَ مِنَ النِّسَاءِ قَالَ نَعَمْ۵۵ یعنی کیا اسے جائز ہے کہ اپنی بیوی سے صحبت کرے فرمایا ہاں۔ مگر اسی جگہ ساتھ ہی ابن سنان نے انہی امام ابو عبد اللہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت درج کی ہے کہ ایسا کرنا بالکل درست نہیں اور راوی کے اعتراض کرنے پر کہ جب اس کو کھانا پینا جائز ہے تو جماع کیوں جائز نہیں؟ ان کی طرف سے یہ دلیل بیان کی گئی ہے۔ اِنَّ اللّٰهَ رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ فِي الْاِفْطَارِ وَ التَّقْصِيْرِ رَحْمَةً وَّ تَخْفِيْفًا لِمَوْضِعِ التَّعَبِ وَالنَّصَبِ وَ وَعْثِ السَّفَرِ وَ لَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِيْ مُجَامَعَةِ النِّسَاءِ فِي السَّفَرِ بِالنَّهَارِ فِيْ شَهْرِ رَمَضَانَ۵۶ یعنی اللہ تعالیٰ نے مسافر کو افطار اور قصر نماز کی اجازت تھکان اور تکلیف اور سفر کی کوفت کی وجہ سے دی ہے لیکن اسے دن کے وقت سفر میں رمضان کے مہینہ میں عورتوں سے جماع کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ان دونوں حدیثوں میں کس قدر اختلاف ہے ایک میں جماع کو جائز قرار دیا ہے دوسری میں بالکل ردّ کیا ہے۔ اور دونوں روایتیں ایک کتاب حدیث میں درج ہیں اور ایک ہی راوی سے درج ہیں اور بالکل پاس پاس درج ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بھول چوک سے ایسا نہیں ہوا بلکہ مصنف نے جان بوجھ کر ان کو ایک جگہ جمع کیا ہے تا روایات کا اختلاف پڑھنے والے کے سامنے آجائے۔ اب یہ ظاہر بات ہے کہ مصنف دونوں باتوں کا ایک ہی وقت میں تو قائل نہیں ہو سکتا ضرور ہے کہ وہ دونوں باتوں میں سے ایک کو ترجیح دیتا ہو گا مگر باوجو د اس کے وہ درج دوسری روایت کو بھی کر دیتا ہے۔
اسی طرح روزہ میں خوشبو سونگھنے کے متعلق مختلف روایتیں فروع کافی میں درج ہیں خالد اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ امام ابو عبد اللہؓ روزہ میں خوشبو لگائے اور اسے تحفہ خداوندی قرار دیتے۔ حسن بن راشد امام ابو عبد اللہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ خوشبو کا سونگھنا روزہ میں منع ہے۔۵۷
غرض ہر ایک روایت جو مؤلف حدیث اپنی کتاب میں درج کرتا ہے اس کی صحت کا وہ قائل نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات اس حدیث کے مخالف رائے رکھتا ہے اور اس حدیث کو متروک یا منسوخ یا ضعیف یا نا قابلِ احتجاج سمجھتا ہے پس ابو داؤد میں اس روایت کے درج ہونے کے یہ معنی نہیں کہ ابو داؤد اس کو صحیح سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے اس روایت کو درج کیا تھا۔
دوسرا جواب مصنفِ ہفوات کے اعتراض کا یہ ہے کہ اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ ابو داؤد نے اس حدیث کو صحیح سمجھ کر لکھا ہے تب بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا اس لئے کہ یہ مسئلہ اخلاقی نہیں ہے بلکہ شرعی ہے۔ شرعی مسائل روایت سے ثابت ہوتے ہیں نہ کہ درایت سے۔ پس اگر کسی شخص کو کسی شرعی حکم کے متعلق جو اخلاق سے تعلق نہ رکھتا ہو کوئی روایت پہنچے اور وہ اسے درج کر دے تو اس سے یہ کیوں کر سمجھا جائے گا کہ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیا ہے۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے اہل سنت شیعوں پر اس لئے اعتراض کریں کہ ان کے نزدیک پاؤں پر مسح کیا جاتا ہے اور ان روایات کی بناء پر جو ان کے نزدیک ثابت ہیں اور جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ننگے پاؤں کے نہ دھونے سے وضو ہی باطل ہو جاتا ہے اور نماز ہی نہیں ہوتی یہ کہہ دیں کہ دیکھو شیعہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ وضو کرتے تھے اور نہ نماز پڑھتے تھے کیونکہ ان کے نزدیک آپ وضو میں پاؤں نہ دھوتے تھے۔ کیا یہ اعتراض سنیوں کا درست ہو گا؟
اصل بات یہ ہے کہ اس قسم کے اعتراض اخلاقی مسائل اور عقلی مسائل کے متعلق ہوا کرتے ہیں نہ کہ شرعی کے متعلق۔ فرض کرو کہ روزہ میں بعض ہلکی غذاؤں کا کھانا جائز ہوتا تو کیا دشمنانِ اسلام اس پر اعتراض کرنے کا کوئی حق رکھتے تھے کہ یہ ایک خلافِ اخلاق بات ہے۔ یا مثلاً ظہر کی رکعتیں بجائے چار کے تین ہوتیں تو کیا اس پر کوئی یہ اعتراض کر سکتا تھا کہ یہ بد اخلاقی ہو گئی۔ پس اسی طرح اگر کسی شخص کے نزدیک یہ ثابت ہو کہ زبان چوسنی جائز ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کر لیا کرتے تھے تو اس پر یہ تو اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ یہ روایت ثابت نہیں یا یہ کہ دوسری احادیث کے خلاف ہے یا یہ کہ اس نے ایک غلط روایت کو بیان کر دیا ہے۔ لیکن اس پر یہ اعتراض ہرگز نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت یا آپ کے اخلاق پر کوئی اعتراض کیا ہے ایسے موقع پر یہ اعتراض کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک انسان کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے اس قسم کی حدیثیں جب پڑھیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے موقع پر کوئی بچہ اٹھا لیا یا اس کو اتار دیا یا اور اس قسم کا کوئی کام کیا تو بے اختیار بول اٹھا کہ خود محمد صاحب (صلی اللہ علیہ وسلم) کا نماز ٹوٹ گیا۔ کیونکہ کنز (کنز العمال) میں لکھا ہے کہ حرکت کرنے سے نماز ٹوٹ جاتا ہے۔
تیسرا جواب یہ ہے کہ میرے نزدیک اس حدیث کو درست سمجھ کر بھی کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ يَمُصُّ لِسَانَهَا علیحدہ جملہ ہو یعنی راوی نے حضرت عائشہ سے یہ دو باتیں سنی ہوں کہ آنحضرت روزہ میں بوسہ لے لیا کرتے تھے اور یہ کہ آپ اپنی ازواج کی زبان بھی پیار میں چوس لیا کرتے تھے اور اس نے ان کو ایک ہی جملہ میں بیان کر دیا۔ حالانکہ اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ آپ بحالت صوم ایسا کیا کرتے تھے۔ پس اس تاویل سے اس حدیث کا مطلب بالکل صاف ہو جاتا ہے اور اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت روزہ میں بوسہ لینا اور پیار سے زبان کا چوسنا ثابت ہوتا ہے افطار میں نہ کہ روزہ میں۔
اگر کہا جائے کہ اگر روزہ کی حالت میں ایسا نہیں کیا گیا تو پھر اس کے بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اسوہ تھے تمام مسلمانوں کے لئے اس لئے آپ کی ہر ایک حرکت کو مسلمان غور سے دیکھتے اور جو نہ معلوم ہوتی اس کے متعلق دریافت کرتے تا اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق بنائیں۔ اس وجہ سے آپ کی تمام باتیں احادیث میں بیان کی جاتی ہیں حتیٰ کہ یہاں تک بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ پیار سے کبھی اس جگہ گلاس پر منہ رکھ کے پانی پیتے جہاں رکھ کر آپ کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے پانی پیا ہوتا۔ اور غرض ان احادیث کے بیان کرنے کی یہ ہے کہ تا لوگ عورتوں سے حسن معاشرت کریں اور ان کے احساسات اور جذبات کا خیال رکھیں اور ان کے حقوق کو غصب اور ان کی خواہشات کو باطل نہ کریں۔
دوسرا اعتراض مصنف ہفوات کا یہ ہے کہ ان احادیث میں یہ بات لکھی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ میں بوسہ لے لیا کرتے تھے اور یہ بات مصنف ہفوات کے نزدیک مکروہ ہے اور مکروہ فعل رسول نہیں کر سکتا۔
مجھے تعجب پر تعجب ان مسلمان کہلانے والوں پر آتا ہے جو اپنے پاس سے شریعت بھی بنانے لگتے ہیں۔ یہ کب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ میں بوسہ لینا مکروہ ہے؟ یا آپ کی کس بات سے یہ امر مستنبط ہوتا ہے؟ خود ہی ایک مسئلہ گھڑا اور خود ہی اسے رسول پر حاکم بنا دیا۔ جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں مسائل اخلاقیہ ہی صرف ایسے مسائل ہیں کہ جن میں استنباط اور قیاس
درست ہے لیکن تفاصیل شرعیہ ہمیشہ سند سے معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن مصنف صاحبِ ہفوات کا معاملہ بالکل الٹ ہے وہ اپنی عقل سے ایک مسئلہ تجویز کرتے ہیں اور اس سے نص صریح کو رد کر دیتے ہیں اور نص بھی وہ کہ جو عقل سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ تفاصیل شریعت سے تعلق رکھتی ہے۔ کل کو آپ کہہ دیں گے کہ ظہر کے وقت جب کام کا یا آرام کا وقت ہوتا ہے ظہر کی چار رکعت قرار دینا خلاف عقل ہے اصل میں دو چاہئیں اور فلاں حدیث میں جو یہ آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت ظہر کے وقت ادا کیا کرتے تھے اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ ہے کہ گویا آپ دو کی بجائے چار پڑھ کر اپنی نماز فاسد کر دیتے تھے۔ پس ان محدثین نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ظلمِ عظیم کیا ہے اور ایسی سب احادیث اور روایات قابلِ احراق اور اخراج اور تنسیخ اور محدثین قابلِ تکفیر و تفسیق ہیں۔ برایں عقل و دانش بباید گریست۔
بوسہ کو روزہ میں مکروہ قرار دینا علماء کا اجتہاد ہے اور وہ اجتہاد بھی مشروط یعنی روزہ میں جو ان کو بوسہ لینا مکروہ ہے کیونکہ وہ اپنے نفس پر قابو نہیں پاسکتا ممکن ہے کہ کسی ایسی بات میں مبتلا ہو جائے جو شرعاً نا جائز ہے۔ اور اس فتوے میں شیعہ اور سنی دونوں متفق ہیں۔ مؤطا میں عبد اللہ بن عباسؓ کا فتویٰ درج ہے کہ اَرَخَّصَ فِيْهَا لِلشَّيْخِ وَ كَرِهَهَا لِلشَّابِّ۔۵۸ انہوں نے روزہ میں بوڑھے کے لئے بوسہ لینا جائز قرار دیا اور جوان کے لئے منع کیا۔ عبد اللہ بن عمر کا فتویٰ صرف ایک ہے کہ بوسہ لینا دونوں کے لئے منع ہے مگر چونکہ وہ بلا قید ہے اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ ان کا فتویٰ عام تھا یا جوانوں کے متعلق۔ امام ابو حنیفہ کا فتویٰ جو ہدایہ میں لکھا ہے یہ ہے وَ لَا بَأْسَ بِالْقُبْلَةِ اِذَا اَمِنَ عَلٰى نَفْسِهِ وَ يُكْرَهُ اِذَا لَمْ يَأْمَنْ۔۵۹یعنی جب اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو تو جائز ہے اور اگر اپنے نفس پر قابو نہ رکھتا ہو اور خطرہ ہو کہ حدیث شریعت کو توڑ ڈالے گا تو مکروہ ہے۔ شافعیہ کا بھی یہی فتویٰ ہے کہ تُكْرَهُ الْقُبْلَةُ لِلصَّائِمِ الَّذِي لَا يَمْلِكُ اِرْبَہٗ۶۰یعنی اس کے لئے بوسہ لینا مکروہ ہے جو اپنی شہوت پر قابو نہیں رکھتا بلکہ امام شافعی کا قول تو یہ ہے کہ بوسہ لینا ہر حالت میں جائز ہے اگر اس سے بڑھ کر کوئی شخص کوئی عمل خلاف شریعت کر بیٹھتا ہے تو اس کی سزا وہ الگ پائے گا۔ یہ تو اہل سنت کے فتوے ہیں جن سے ظاہر ہے کہ بوسہ لینا روزہ میں مکروہ نہیں بلکہ اس کے لئے مکروہ ہے جو جوان ہو اور اپنی شہوت پر قابو نہ رکھتا ہو۔ اب میں اہل شیعہ کا فتویٰ درج کرتا ہوں۔ فروع کافی جلد اول میں زرارہ کی ایک روایت امام ابو عبداللہ سے درج ہے کہ لَا تَنْقُضُ اَلْقُبْلَةُ الصَّوْمَ ۵۱؎ یعنی روزہ بوسے سے نہیں ٹوٹتا۔ اسی طرح منصور بن حازم سے روایت ہے کہ میں نے ابو عبداللہ سے پوچھا مَا تَقُوْلُ فِي الصَّائِمِ يُقَبِّلُ الْجَارِيَةَ اَوِ الْمَرْاَةَ فَقَالَ اَمَّا الشَّيْخُ الْكَبِيْرُ مِثْلِيْ وَ مِثْلُكَ فَلَا بَأْسَ وَاَمَّا الشَّابُّ الشَّبِقُ فَلَا لِاَنَّهٗ لَا يُؤْمَنُ وَ الْقُبْلَةُ اِحْدَی الشَّهْوَتَيْنِ۔ ۵۲؎ ترجمہ۔ آپ اس روزہ دار کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو لڑکی یا عورت کا بوسہ لے لے؟ آپ نے فرمایا بوڑھا جیسے تو یا میں ہوں اگر بوسہ لے تو کچھ حرج نہیں اور اگر جوان ہو جو شہوت پر قابو نہ پاسکتا ہو تو اسے بوسہ لینا نہیں چاہئے۔ کیونکہ وہ محفوظ نہیں اور بوسہ بھی ایک شہوت ہے۔ یعنی اس سے چونکہ شہوت پیدا ہوتی ہے اور وہ شخص شہوت پر قابو نہیں رکھتا اس لئے ڈر ہے کہ اس قدم کے اٹھانے سے دوسرا بھی اٹھالے۔
مذکورہ بالا فتووں سے جو سنیوں اور شیعوں کے ہیں ثابت ہے کہ روزہ دار کو بوسہ لینا یوں تو جائز ہے مگر ایسی حالت میں منع ہے جب اس سے شر میں پڑ جانے کا خطرہ ہو اور بوڑھا چونکہ بظاہر اس شر میں پڑنے سے محفوظ ہوتا ہے اس کے لئے انہوں نے جائز رکھا ہے کہ بوسہ لے لے۔ ان فتووں کی موجودگی میں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی موجودگی میں مصنف ہفوات کا یہ لکھنا کہ یہ ایک مکروہ فعل ہے اور رسول مکروہ فعل نہیں کر سکتا۔ کیا یہی دلالت نہیں کرتا کہ مصنف ہفوات اپنے فتویٰ پر خدا کے رسول کو بھی چلانا چاہتے ہیں اور خود شریعت بنانے کا دعوے رکھتے ہیں۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں جب تشریف لے گئے ہیں اس وقت آپ کی عمر پچاس سے متجاوز ہو گئی تھی۔ پس اگر فتویٰ یہی سمجھا جائے کہ بوڑھے کو بوسہ لینا جائز ہے جوان کو نہیں تو بھی آپ کی طرف اس قسم کا عمل منسوب کرنا فتویٰ کے خلاف نہیں۔ اور مصنف ہفوات کے مقرر کردہ معیار کے مطابق بھی محل اعتراض نہیں۔ اور اگر اس امر کو دیکھا جائے کہ یہ عمل اس شخص کی نسبت بیان کیا گیا ہے جو خدا کے سامنے مقامِ شہود پر کھڑا تھا اور مقامِ شہود میں سے بھی سدرۃ المنتہیٰ پر باریاب ہو چکا تھا تو پھر تو یہ اعتراض اور بھی لغو ہو جاتا ہے۔ آپ تو عین عُنفوانِ شباب میں بھی اس فتویٰ کے ماتحت نہیں تھے کیونکہ آپ سے زیادہ کون شخص اپنی شہوات پر قابو رکھنے والا تھا خواہ جوان ہو خواہ پیرِ فرتوت۔ مصنف ہفوات کے اعتراض کے تو یہ معنے ہیں کہ گویا نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ سب سے زیادہ رسول کریم شہوات میں پڑ جانے کے محل تھے۔ اس لئے آپ کو تو اس فعل کے قریب ہی نہیں جانا چاہئے تھا حالانکہ اس نہی کا باعث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قطعی طور پر منقطع تھا اور آپ اس سے بالکل محفوظ تھے۔
شاید مصنف ہفوات اس موقع پر یہ کہہ دیں کہ گو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہوگئی تھی مگر آپ بہت قوی تھے اس لئے آپ کے لئے یہ فعل درست نہیں ہو سکتا تھا مگر اول تو اس اعتراض کا جواب مذکورہ بالا بات میں آچکا ہے کہ آپ کی نسبت تو نہی کی علت جوان میں بھی ثابت نہیں اس لئے آپ کے لئے کوئی شرط نہیں کہ آپ بڑھاپے میں ایسا کریں اور جوانی میں نہیں لیکن اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ یہ مسئلہ شرعیہ ہے نہ کہ ایک احتیاطی حکم تب بھی اعتراض نہیں پڑ سکتا کیونکہ فتوٰی کی رو سے بوڑھے کی شرط ہے نہ کہ مضبوط بوڑھے یا کمزور بوڑھے کی۔ امام ابو عبد اللہ رحمتہ اللہ علیہ جن کا فتویٰ کافی میں درج ہے خود اپنی نسبت جو کچھ بیان کرتے ہیں وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کمزور بوڑھے نہ تھے بلکہ مضبوط تھے۔ مذکورہ بالا حدیث کے آخری حصہ میں آتا ہے كَيْفَ اَنْتَ وَ النِّسَاءُ فَقُلْتُ وَ لَا شَيْئٌ قَالَ وَلٰكِنِّيْ يَا اَبَا حَازِمٍ مَا اَشَاءُ شَيْئًا اَنْ يَكُوْنَ ذٰلِكَ مِنِّيْ إِلَّا فَعَلْتُ۳؎ ترجمہ۔ (امام ابو عبد اللہ راوی سے پوچھتے ہیں) تیرا عورتوں کے متعلق کیا حال ہے؟ میں نے کہا بالکل بے طاقت ہوں فرمایا لیکن اے ابا حازم! میں جو کچھ بھی چاہوں عورتوں سے کر لیتا ہوں۔ یعنی میری طاقت بالکل محفوظ ہے۔ پس معلوم ہوا کہ امام عبد اللہ کے نزدیک روزہ میں بوسہ لینا ہر ایک بوڑھے کو جائز ہے نہ کہ کمزور اور ناقابل بوڑھے کو۔
خلاصہ کلام یہ کہ روزہ دار کے لئے بوسہ لینا ہرگز منع نہیں ہے احادیث اور ائمہ اہل سنت واہل شیعہ کے فتاویٰ اسی کے مطابق ہیں اور قیاساً اور احتیاطاً ایسے جوان کے لئے جس کو اپنے نفس پر قابو نہ ہو اس امر کو روک دیا گیا ہے ورنہ یہ شرعی حکم نہیں ہے۔
تیسرا اعتراض مصنف ہفوات کا یہ ہے کہ حدیث میں جو یہ آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ میں اپنی بیویوں سے مباشرت کی اور یہ ایک سخت گناہ ہے۔ کیونکہ مباشرت اقرب بالجماع ہے جو بالکل حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ رحم کرے ان جہلاء پر جو بلا اس کے کہ خدا اور رسول کے کلام کے سمجھنے کی قابلیت رکھتے ہوں مذہب کے امور میں فقیہ بن جاتے ہیں اور اپنی ناسمجھی اور نادانی سے دین کے مسائل کو نہ سمجھ کر ان کے احراق و اخراج کا فتویٰ دے دیتے ہیں۔ مباشرت کا لفظ جس سے صاحب ہفوات کو دھوکا لگا ہے وسیع معنے رکھتا ہے۔ اس کے معنی عورت کو ہاتھ لگانے اور اس کے ساتھ چھونے کے بھی ہیں اور اس کے معنی جماع کے بھی ہیں۔ لسان العرب میں لکھا ہے وَ مُبَاشَرَةُ الْمَرْاَةِ مَلَا مَسَتُهَا وَ قَدْ يُرَدُ بِمَعْنَي الْوَطْئِ فِي الْفَرْجِ وَ خَارِجًا مِّنْهَا۔۴؎عورت سے مباشرت کرنا اس سے چھونے کو کہتے ہیں۔ اور کبھی اس کے معنے جماع کے بھی ہوتے ہیں۔ پھر صاحب لسان نے اس حدیث کی نسبت لکھا ہے وَ فِي الْحَدِیْثِ اَنَّهُ کَانَ يُقَبِّلُ وَ يُبَاشِرُ وَ هُوَ صَائِمٌ اَرَادَ بِالْمُبَاشَرَةِ الْمُلَامَسَةَ۔۵؎ یعنی حدیث میں جو آیا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ لیتے تھے اور مباشرت کرتے تھے اس سے مراد چھونا اور ہاتھ لگانا ہے نہ کچھ اور۔ لسان العرب لغت کی کتابوں میں سے اہم ترین کتاب ہے اور اس کی شہادت کے بعد مجھے کچھ اور کہنے کی ضرورت نہیں صرف اس قدر نصیحت کر دینا میں مناسب سمجھتا ہوں کہ انسان کو اعتراض کرتے وقت اس امر کو ضرور مد نظر رکھنا چاہئے کہ وہ ایسی بات نہ کہے جو قائل کے منشاء کے خلاف ہو۔ اور اگر دل سے انصاف اٹھ چکا ہو تو کم سے کم ایسی بات تو نہ کہے جس کا بطلان بالبداہت ظاہر ہو۔ کیونکہ اس قسم کی باتوں کا لکھنا اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ لکھنے والا اپنی عداوت میں حد سے بڑھا ہوا ہے اور جن کے فائدے کے لئے وہ بات کہتا ہے ان پر اس کی حرکت کا یہ اثر ہوتا ہے کہ ان کے دل ایسے شخص کی نسبت جذبہ حقارت و نفرت سے بھر جاتے ہیں۔
میں مصنف ہفوات کی طرزِ تحریر سے سمجھتا ہوں کہ ان پر کوئی نصیحت جو غیر کے منہ سے نکلی ہوئی ہو اثر نہیں کر سکتی اس لئے میں انہیں کی مسلمہ کتب کے حوالہ سے بتاتا ہوں کہ مباشرت حرام نہیں ہے جیسا کہ وہ لکھتے ہیں بلکہ جائز ہے۔ اور یہ بھی کہ مباشرت کے معنے کسی ایسی حرکت کے ہی نہیں ہیں جو جماع کے مشابہ ہو بلکہ اس سے مراد صرف عورتوں کا چھونا یا ان کے پاس بیٹھنا بھی ہے۔ فروع کافی جلد اول کتاب الصیام میں ایک باب ہے۔ بَابُ الصَّائِمِ يُقَبِّلُ اَوْ يُبَاشِرُ یعنی اس امر کے متعلق باب کہ روزہ دار بوسہ دے یا مباشرت کرے۔ اور آگے یہ حدیث لکھی ہے عَنِ الْحَلَبِیِّ عَنْ اَبِیْ عَبْدِاللّٰهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ اَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَّجُلٍ يَّمَسُّ مِنَ امْرَأَةٍ شَيْئًا اَيُفْسِدُ ذٰلِكَ صَوْمَهُ اَوْ يَنْقُضُهٗ فَقَالَ اِنَّ ذٰلِكَ يُکْرَهُ لِلرَّجُلِ الشَّابِّ مَخَافَةَ اَنْ يَّسْبِقَهُ الْمَنِیُّ۶؎ یعنی حلبی نے امام ابو عبداللہ سے روایت کی ہے کہ آپ سے ایک ایسے شخص کے متعلق پوچھا گیا جو عورت کو کسی طرح چھوتا ہے کیا اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا یا خراب ہو جائے گا؟ فرمایا یہ بات نوجوان کے لئے مکروہ ہے اس ڈر سے کہ اس کی منی خارج نہ ہو جائے اس حدیث سے دو باتیں ظاہر ہیں ایک تو یہ کہ مباشرت کے معنی عورت کو چھونے کے ہیں نہ کہ کچھ اور۔ کیونکہ مباشرت کا باب مقرر کر کے عورت کے چھونے کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے دوسرے یہ کہ
مباشرت حرام نہیں بلکہ جوان کے لئے مکروہ اور بوڑھے کے لئے جائز ہے اور جوان کے لئے بھی اس ڈر سے مکروہ ہے کہ اس سے کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو روزہ کے ٹوٹنے کا موجب ہو۔ لیکن اگر یہ وجہ کسی میں نہ پائی جائے تو کراہت کی پھر کوئی وجہ نہیں۔ اور ظاہر ہے کہ جو وجہ بتائی گئی ہے وہ کسی بیمار میں ہی پائی جا سکتی ہے تندرست اور صحیح القویٰ آدمی کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوتا جو بیان کیا گیا ہے پس درحقیقت کسی کے لئے بھی سوائے قلیل استثنائی صورتوں کے مباشرت منع نہیں رہتی۔ اور مباشرت کو حرام قرار دینا یا تو مصنف ہفوات کی جہالت پر یا شریعت سازی کی حد سے بڑھی ہوئی خواہش پر دلالت کرتا ہے۔
مصنف صاحبِ ہفوات نے جو مضحکہ اوپر کی روایات بیان کر کے اُڑایا ہے اس کا جواب مکمل نہ ہو گا اگر میں اس جگہ کتب شیعہ سے چند ایک روایات درج نہ کر دوں۔ کافی جلد اول صفحہ ۳۷۷ پر کتاب روزہ میں امام ابو عبد اللہ کا فتویٰ درج ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ کیا عورت کھانا پکاتے ہوئے کھانے کا مزہ روزے میں چکھ سکتی ہے؟ تو انہوں نے کہا لَا بَاْسَ۷؎۔ اس میں کوئی حرج نہیں اور اسی حدیث میں لکھا ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ کیا عورت روزہ میں اپنے بچہ کو منہ میں کھانا چبا کر دے سکتی ہے؟ تو انہوں نے کہا لَا بَاْسَ۔ اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔
اس کے بعد حسین بن زیاد کی روایت لکھی ہے کہ باورچی اور باورچن کھانا پکاتے ہوئے کھانا چکھ سکتے ہیں۔ ۸؎مگر اس سے بڑھ کر یہ کہ مسعدہ بن صدقہ کی ایک روایت امام ابو عبد اللہ سے لکھی ہے کہ حضرت فاطمہ اپنے بچوں کو رمضان کے مہینہ میں روٹی چبا چبا کر دیا کرتی تھیں۔ ۹؎
بلکہ ان روایات پر بھی طُرّہ وہ روایت ہے جس میں روزہ دار کے لئے پیاس بجھانے کا نسخہ بتایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ امام ابو عبد اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ روزہ دار کو پیاس لگے تو اس کے بجھانے کے لئے وہ انگوٹھی منہ میں ڈال کر چوسے۔ ۱۰؎یہ سب روایات فروع کافی کے صفحہ ۳۷۷ پر درج ہیں اور شیعہ صاحبان کے لئے نہایت زبردست حُجّت ہیں۔ ان روایات کی موجودگی میں اس روایت پر اعتراض جسے خود اہل سنت کمزور اور ضعیف قرار دیتے ہیں مصنف ہفوات کے لئے کب جائز ہو سکتا ہے؟ وہ ان احادیث کو مدنظر رکھتے ہوئے بتائیں کہ بقول ان کے ادنیٰ امتی تو غبار سے بھی بے چین اور حضرت فاطمہ روٹیاں چبا چبا کر بچوں کو دیں اور خوب لطف اُڑائیں۔ آخر منہ میں اس قدر دیر روٹی چبانے سے ایک حصہ تو ان کے پیٹ میں بھی جاتا ہو گا۔
ایک اعتراض مصنف ہفوات نے یہ کیا ہے کہ ابن ماجہ بَابُ حُسْنِ مُعَاشَرَةِ النِّسَاءِ میں روایت ہے کہ ”مجھے معلوم نہ تھا کہ حضرت زینب مجھ سے ناراض ہیں اور میں بے اجازت اندر چلی گئی انہوں نے کہا یا رسول اللہ جب ابوبکر کی بیٹی اپنا گرتا اُلٹ دے تو آپ کو کافی ہے۔“
اس پر مصنف ہفوات کو یہ اعتراض ہے کہ (۱) کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فی الواقع ایسے ہی تھے جیسا کہ حضرت زینب نے بیان کیا ہے (۲) کیا حضرت زینب ایسی تھیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کریں (۳) کیا حضرت عائشہ ایسی ناواقف تھیں کہ بلا اجازت گھر میں گھس گئیں۔
ان تینوں سوالوں میں سے پہلے کا جواب یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہرگز ایسے نہ تھے کہ آپ کے دل پر کسی انسان کی یا کسی مخلوق کی محبت اس طرح حاوی ہو جائے کہ ماسواء کو بھلا دے اور نہ حضرت زینب کے قول کا یہ مطلب ہے کہ آپ ایسے ہیں۔ بلکہ اصل الفاظ حدیث کے یہ ہیں کہ اَحَسْبُكَ إِذَا قَلَبَتْ لَكَ بُنَيَّةُ أَبِیْ بَكْرٍ ذُرَيْعَتَيْهَا۔۱؎ ترجمہ۔ کیا کافی ہے آپ کے لئے کہ جب ابوبکر کی لڑکی اپنی باہوں کو ننگا کرے۔ مصنف ہفوات کیا کے لفظ کو اُڑا کر خالی کافی ہے پر کفایت کر لیتے ہیں اور اس پر اعتراض بھی وارد کر دیتے ہیں لفظ ”کیا“ ایسے موقع پر کئی معنے دیتا ہے کبھی اس کے معنے تردید کے ہوتے ہیں یعنی ایسا نہیں ہے کبھی اس کے معنے سوال کے ہوتے ہیں کیا یہ بات درست ہے؟ اور کبھی اس کے معنی تعریف کے ہوتے ہیں یعنی ایک شخص کسی کی نسبت کوئی بات کہتا ہے یا سمجھتا ہے تو اس پر طنز کرنے کے لئے ایسے الفاظ کہہ دیئے جاتے ہیں اور کبھی اس کے معنی ایک بات کے اثبات کے بھی ہوتے ہیں یعنی سوال سے مراد کسی امر کا اقرار ہوتا ہے نہ کہ سوال۔ لیکن یہ معنی بعید مجاز کے ہیں اور اسی وقت اس کے یہ معنی کئے جا سکتے ہیں جب کہ اصل معنے یا مجاز قریب کے معنے نہ لئے جاسکیں یا قرینہ ان پر شاہد ہو۔
اس جگہ اس کے معنی حقیقی یا مجاز قریب کے لئے جاسکتے ہیں۔ اور وہی بر محل ہیں۔ پس کوئی وجہ نہیں کہ بات کو پھرا کر کہیں کا کہیں لے جایا جائے۔ بات صاف ہے کہ حضرت زینب استفہام انکاری کے طور پر کہتی ہیں کہ کیا عائشہ کا اپنی باہوں کو ننگا کرلینا آپ کے لئے کافی ہے؟ یعنی ایسا نہیں
ہے۔ یہ تمہید باندھ کر وہ آگے اپنا مطلب کہنا چاہتی ہیں جس کے لئے جیسا کہ الفاظِ حدیث سے ظاہر ہوتا ہے وہ حضرت عائشہؓ نے مخاطب ہو کر باتیں کرنے لگتی ہیں۔
پس یہ اعتراض ہی بالکل لغو ہے کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے تھے یا یہ کہ آپ کی بیویاں ایسی گستاخ تھیں۔ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں الفاظِ حدیث میں تو اس الزام کی نفی کی گئی ہے۔ پس خود الفاظِ حدیث ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناواجب محبت سے اور ام المومنین کو الزامِ گستاخی سے بری کر رہے ہیں۔ پھر تعجب ہے مصنف صاحبِ ہفوات کی عقل پر کہ وہ اس سے اُلٹا نتیجہ نکال رہے ہیں اور لفظ کیا کو بالکل نظر انداز کر کے اپنا بغض نکالنا چاہتے ہیں۔
اب رہا یہ سوال کہ حضرت عائشہؓ جن سے شطر دین سیکھنے کا حکم تھا بلا اجازت حضرت زینبؓ کے گھر کیوں چلی گئیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ ہرگز زینبؓ کے گھر میں نہیں گئیں پس حضرت عائشہؓ پر اعتراض ہی فضول ہے۔ اصل الفاظ حدیث کے یہ ہیں کہ مَا عَلِمْتُ حَتّٰی دَخَلَتْ عَلَيَّ زَيْنَبُ بِغَيْرِ اِذْنٍ وَّ هِیَ غَضْبٰی ثُمَّ قَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ۱۰۲؎ یعنی مجھے یہ امر نہیں معلوم ہوا حتیٰ کہ زینب میرے گھر میں بغیر اذن کے داخل ہو گئیں اس حال میں کہ وہ غضب میں تھیں۔ پھر کہا یا رسول اللہ۔ اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زینب حضرت عائشہ کے گھر میں چلی گئی نہ یہ کہ حضرت عائشہ حضرت زینب کے گھر میں گئیں۔ مصنف ہفوات کو دھوکا اس سے لگا ہے کہ ابن ماجہ کے بعض حواشی میں غلطی سے اس کے اُلٹ معنی لکھے گئے ہیں۔ چونکہ خود ان کو تمیز نہ تھی انہوں نے جھٹ ان معنوں کو لے کر اعتراض کر دیا۔ کسی عرب کے سامنے اس حدیث کو رکھ کر پوچھو وہ یہی معنے کرے گا کہ حضرت زینب حضرت عائشہ کے گھر گئی ہیں نہ حضرت عائشہ حضرت زینب کے گھر۔ کیونکہ مَا عَلِمْتُ وَ هِیَ غَضْبٰی اور ثُمَّ کے الفاظ دوسرے معنی کرنے کی اجازت ہی نہیں دیتے۔ فقرہ کی بناوٹ پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ داخل ہونے والی زینب ہیں نہ کہ عائشہ۔ ابن ماجہ مطبوعہ مصر میں بھی اس حدیث کو اسی طرح لکھا ہے جس طرح میں نے بیان کیا ہے اور حاشیہ سندھی میں لکھا ہے وَ عِنْدَ مَجِيْئِ زَيْنَبَ ظَهَرَ لَهَا تَمَامُ الْحَقِيْقَةِ۔۱۰۳؎ یعنی زینب کے آنے پر عائشہ کو سب حال معلوم ہوا جس سے معلوم ہوا کہ سندھی کے نزدیک بھی اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ زینب عائشہ کے گھر میں آئی تھیں نہ کہ عائشہ زینب کے گھر گئی تھیں۔
اس جگہ یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ خواہ زینب عائشہ کے گھر بلا اجازت گئیں یا عائشہ زینب کے گھر گئیں۔ بہرحال یہ اعتراض تو قائم رہا کہ آنحضرت ﷺ کی ایک بیوی بلا اذن خلافِ شریعت کے طور پر دوسری بیوی کے گھر میں چلی گئیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض اس وقت پڑ سکتا ہے جب کہ حقیقت سے آنکھیں بند کر لی جائیں۔ لیکن ان واقعات کو مدنظر رکھ کر جن کے ماتحت یہ معاملہ ہوا ہے اعتراض تو پڑتا ہی نہیں یا اس کا وہ وزن نہیں رہتا جو اس کو دیا گیا ہے۔ وہ واقعہ جو اس حدیث میں بیان ہوا ہے اس طرح ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ جو لوگ ہدایا لاتے ہیں وہ اس دن تک انتظار کرتے رہتے ہیں جس دن کہ حضرت عائشہ کے گھر میں آنحضرت ﷺ کی باری ہو۔ اور یہ بات ان کو طبعاً ناگوار گزری۔ اس پر انہوں نے مشورہ کر کے حضرت فاطمہ کو آنحضرت ﷺ کے پاس بھیجا کہ آپ یہ اعلان کر دیں کہ جو لوگ ہدایا لاتے ہیں سب بیویوں کی باری میں مساوی طور پر لایا کریں حضرت عائشہ کی خصوصیت نہ مدنظر رکھا کریں۔ اس امر کا اعلان اس شخص کی طرف سے جس کے پاس ہدایا آتے ہوں نہایت مخفی طور پر ہدایا لانے کی ترغیب پر بھی مشتمل قرار دیا جا سکتا تھا اس لئے رسول کریم ﷺ جو اخلاق فاضلہ کا نمونہ تھے ایسے اعلان کا کیا جانا کب پسند فرما سکتے تھے۔ آپ نے حضرت فاطمہ سے صاف کہہ دیا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا۔ چونکہ آپ کی بیویاں اس امر کو اور نظر سے دیکھتی تھیں اور اس میں اپنی سبکی خیال کرتی تھیں انہوں نے پھر زور دینا چاہا اور اسی وقت حضرت زینبؓ دوبارہ اس امر کو پیش کرنے کے لئے رسول کریم ﷺ کے گھر تشریف لائیں۔ اور چونکہ اسی وقت حضرت فاطمہ اس گھر سے رسول کریم ﷺ سے بات کر کے نکلی تھیں انہوں نے اذن لینے کی ضرورت نہیں سمجھی اور خیال کیا کہ اس عرصہ میں کوئی ایسی صورت نہیں پیدا ہو سکتی جس میں مجھے حجاب کی ضرورت ہو۔ پس اس وقت ان کا داخل ہونا ایسا ہی ہے جیسے کسی ایسے گھر میں جس میں سے کہ دوسرے لوگ نکل رہے ہوں کوئی دوسرا شخص اس خیال پر گھس جائے کہ پردہ ہی ہو گا۔
حضرت فاطمہ کو جس قدر پردہ رسول کریم ﷺ سے ہو سکتا تھا اس سے بہت کم پردہ زینبؓ کو تھا جو آپ کی بیوی تھیں پس حضرت فاطمہ کے آنے کے بعد ان کا اس جوش میں جو اس واقعہ سے ان کی طبیعت میں پیدا ہو گیا تھا بلا اذن اندر چلے جانا ہرگز اس نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا جس نظر سے مصنفِ ہفوات کی آنکھ نے اسے دیکھا ہے۔ زیادہ سے زیادہ وہ ایک اجتہادی غلطی تھی اور بس۔
اس کے بعد مصنف ہفوات نے یہ اعتراض کیا ہے کہ بخاری کتاب الصلوٰۃ اور کتاب العیدین اور کتاب الجہاد کی بعض احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت عائشہ کو حبشیوں کا ناچ دکھایا اور یہ کہ آپ کے گھر میں بعض لڑکیوں نے شعر پڑھے۔ مصنف ہفوات اس پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ (۱) حضرت عائشہ نے نامحرموں پر نظر کیوں ڈالی؟ (۲) رسول کریم ﷺ نے منع کرنا تو الگ رہا خود ان کو ناچ کیوں دکھایا؟ (۳) باوجود حضرت ابوبکرؓ کے شعر پڑھنے سے اور حضرت عمرؓ کے ناچ سے روکنے کے آپؐ نہ سمجھے کہ یہ منع ہے اور فرمایا کہ ناچے جاؤ چونکہ یہ امور آپ کی شان کے خلاف ہیں معلوم ہوا کہ یہ احادیث باطل ہیں۔ یہ سوال کہ گانے سے رسول کریم ﷺ نے کیوں منع نہیں فرمایا اس کا جواب یہ ہے کہ شعر خوش الحانی سے پڑھنا اسلام میں جائز ہے اور جب شریعت کے باقی احکام کو جو پردہ اور فحش سے اجتناب کرنے کے متعلق ہیں مدنظر رکھ کر کوئی عورت یا مرد شعر پڑھے تو اسے شریعت باز نہیں رکھتی نہ کہیں قرآن کریم میں نہ حدیث میں یہ مذکور ہے کہ شعر کا خوش الحانی سے پڑھنا حرام اور ممنوع ہے۔ پھر رسول کریم ﷺ جو دین فطرت لے کر آئے تھے اس امر سے کیوں روکتے؟ حضرت ابوبکر نے جو روکا تو یہ ان کا اجتہاد تھا اور رسول کریم ﷺ نے چونکہ ان کو روکنے سے منع فرما دیا تھا معلوم ہوا کہ ان کا یہ اجتہاد غلط تھا۔ پس جب شارع نبی ایک امر کو جائز قرار دیتا ہے تو کسی شخص کا حق نہیں کہ عورت یا مرد کو خوش الحانی سے شعر پڑھنے سے روکے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ شریعت کے پردہ کے حکم پر عمل کیا جائے اور فحش کلامی سے یا فحش کی طرف توجہ دلانے والے جذبات سے پرہیز کیا جائے۔ اگر قومی ترانے یا وعظ ونیکی کی باتیں یا مناظر قدرت کی تشریح یا قومی جذبات کے اُبھارنے کے اشعار ہوں یا جنگوں کے واقعات یا تاریخی امور ان میں بیان ہوں تو ایسے اشعار کا پڑھنا یا سننا نہ صرف یہ کہ ممنوع نہیں بلکہ بعض اوقات ضروری اور لازمی ہے اور فطرت کے صحیح اور اعلیٰ مطالبہ کا پورا کرنا ہے اور جو شخص اس امر کو ناجائز قرار دیتا یا اسے برا مناتا ہے وہ جاہل مطلق ہے اور مذہب اور فطرت کے تعلق اور شریعت کے اسرار سے قطعاً ناواقف ہے اور پھر جو شخص رسول کریم ﷺ کے فعل کو دیکھ کر بھی یہ کہتا ہے کہ اگر آپ نے اس کی اجازت دی ہو تو اس سے آپ پر اعتراض آتا ہے اس کی مثال اس پٹھان کی سی ہے جس کی نسبت پہلے لکھا جا چکا ہے کہ اس نے حدیث میں یہ پڑھ کر کہ رسول کریم ﷺ نے نماز میں حرکت کی تھی کہہ دیا تھا کہ خود محمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا۔ کیونکہ کنز میں لکھا ہے کہ حرکت سے نماز ٹوٹ جاتی ہے نادان مصنف ہفوات بھی اس پٹھان کی طرح نہیں جانتا کہ شریعت کے احکام کا بیان کرنا رسول کا کام ہے نہ مصنف ہفوات جیسے لوگوں کا جو کنوئیں کے مینڈک کی طرح ایک محدود دائرے میں چکر لگاتے رہتے ہیں اور قانون قدرت کی وسعت اور احکام شریعت کی غرض اور غایت سے ایسے ہی نابلد ہیں جیسے کہ ایک جانور ایجاداتِ انسانیہ سے۔ خدا کے رسول نے جب ایک کام کر کے دکھا دیا تو اس کے خلاف جو مسئلہ کوئی بیان کرتا ہے وہ لغو اور بے ہودہ ہے اور اس سے اس مسئلہ کے بیان کرنے والے کی جہالت اور حماقت سے زیادہ اور کچھ ثابت نہیں ہوتا سوائے اس صورت کے کہ اس سے نادانستہ ایسا مسئلہ بیان ہوا ہو جو اقوال و افعال رسالت مآب کے خلاف ہو۔ مصنف ہفوات کو یاد رکھنا چاہئے کہ خوش الحانی سے شعر پڑھنا یا سننا ایک فطرتی تقاضا ہے اور بچپن سے اس کی لذت روح انسانی میں رکھی گئی ہے اور اسلام دین الفطرت ہے۔ خدا کا کلام اور اس کا فعل مخالف نہیں ہو سکتے۔ جس خدا نے یہ جذبہ انسان کے اندر رکھا ہے وہ اس جذبہ کے صحیح استعمال سے اسے روک نہیں سکتا تھا۔
باقی رہا دوسرا سوال کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت عائشہ کو حبشیوں کا ناچ کیوں دکھایا اور غیر محرم پر نظر کیوں ڈلوائی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دونوں اعتراضات بالکل باطل اور جھوٹے ہیں۔ نہ رسول کریم ﷺ نے حضرت عائشہ کو ناچ دکھایا اور نہ غیر محرموں پر نظر ڈلوائی ہے۔ اور مصنف ہفوات نے دیدہ و دانستہ یہ اعتراض کیا ہے کیونکہ جو احادیث انہوں نے نقل کی ہیں وہی ان اعتراضات کو رد کر رہی ہیں۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔ وَ كَانَ يَوْمَ عِيْدٍ يَلْعَبُ السُّوْدَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ فَإِمَّا سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَإِمَّا قَالَ اَتَشْتَهِيْنَ تَنْظُرِيْنَ فَقُلْتُ نَعَمْ فَاَقَامَنِیْ وَرَاءَهُ خَدِّیْ عَلَى خَدِّهِ وَهُوَ يَقُوْلُ دُوْنَكُمْ يَا بَنِيْ اَرْفِدَةَ حَتّٰی اِذَا مَلِلْتُ قَالَ حَسْبُكِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاذْهَبِيْ۔۴؎یعنی عید کا دن تھا اور حبشی لوگ ڈھالوں اور برچھوں سے کرتب کر رہے تھے مجھے یاد نہیں کہ میں نے خود کہا یا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تو دیکھنا چاہتی ہے؟ اس پر عائشہ فرماتی ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ پس آپ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا اور آپ کی گال کے ساتھ میری گال لگی ہوئی تھی پھر آپ نے فرمایا اپنا کام کئے جاؤ اے بنو ارفدہ! یہاں تک کہ جب میں ملول ہو گئی آپ نے فرمایا بس؟ میں نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا اچھا جاؤ۔
حدیث کے الفاظ واضح ہیں اس کا مطلب ظاہر ہے اس میں کسی اندر کے دربار کے ناچ کا ذکر نہیں جنگی مشق کا ذکر ہے جو مسجد کے صحن میں صحابہ رسول کریم ﷺ کر رہے تھے۔ پس اس پر یہ اعتراض کرنا کہ رسول کریم ﷺ نے اپنی بیوی کو ناچ دکھایا پس چاہئے کہ مسلمان تھیٹروں اور ناچ گھروں میں اپنی عورتوں کو لے جایا کریں اول درجہ کی بے حیائی اور شرارت ہے اور ایسا انسان جو جنگ کے فنون کو ناچ گھروں کے اعمال سے تشبیہہ دیتا ہے یا تو خردماغ ہے جس کی عقل میں ادنیٰ سے ادنیٰ بات بھی نہیں آسکتی یا بے شرمی و بے حیائی میں اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اس سے بڑھ کر کسی بے شرمی کا خیال کرنا بھی مشکل ہے۔ کیا فنون حرب کا استعمال ناچ ہوتا ہے تو کیا جنگ کے موقع پر آگے پیچھے حرکت کرنا ناچ ہے؟ اور حضرت علیؓ جنہوں نے سب عمر جنگ میں گزار دی وہ ہمیشہ ناچ گھروں کو ہی زینت دیتے رہے تھے؟ اگر کہو کہ وہ تو جنگ کے موقع پر اس فن کا استعمال کرتے تھے نہ کہ بے موقع۔ تو میں پوچھتا ہوں کہ کیا کوئی فن بلا سیکھے کے بھی آجاتا ہے؟ آخر پہلے تلوار پکڑنی اور پینترے بدلنے انہوں نے سیکھے ہوں گے۔ نیزے کا وار اور ڈھال کا استعمال کرنے کی مشق کی ہو گی تبھی آپ جنگ میں ان چیزوں کو استعمال کرسکتے ہوں گے تو کیا ان مشق کے ایام میں آپ ناچا کرتے تھے؟ وہ فن جو اعلیٰ درجہ کے شریف فنون میں سے ہے جس کے ساتھ قوموں کی عزت اور ترقی وابستہ ہے اس کو ناچ قرار دینا سوائے بے شرموں اور بزدلوں کے کسی کا کام نہیں۔ اور اس کو ناچ قرار دینا گویا خدا کے انبیاء اور اولیاء کو ایکٹر قرار دینا ہے کیونکہ بہت سے انبیاء اور اولیاء فنون حرب میں ماہر تھے اور ان کو استعمال کرتے تھے۔
مصنفِ ہفوات نے اس امر سے بالکل آنکھیں بند کرلی ہیں کہ جس قدر زندہ قومیں ہیں وہ وقتاً فوقتاً فوجی کرتب دکھاتی رہتی ہیں جس سے ان کی ایک طرف تو یہ غرض ہوتی ہے کہ سپاہیوں کے ہاتھ سست نہ ہو جائیں اور ان کی مشق جاتی نہ رہے۔ دوسرے نئی پود کے دل میں جنگی ولولوں کا پیدا کرنا اور ان کے دلوں میں اپنی ذمہ داری کا شعور پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے۔ تیسرے اس فطرتی تقاضا کا پورا کرنا مطلوب ہوتا ہے جو انسان کی طبیعت میں حصول فرحت و سرور کی خواہش کے رنگ میں ازل سے ودیعت کیا گیا ہے۔ جو لوگ نادان اور بے وقوف ہوتے ہیں وہ اس خواہش کو لغو اور بے ہودہ طریق پر پورا کرتے ہیں۔ لیکن نیک اور صالح لوگ اس خواہش کو ایسے رنگ میں پورا کرتے ہیں کہ خوشی کا سامان بھی بہم پہنچ جاتا ہے اور نیک نتائج بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ پس بے وقوف ہے وہ شخص جو ان مشقوں اور مظاہروں کو ناچ گھروں والے ناچوں سے تشبیہہ دیتا ہے اور
ان کو اخلاق کے خلاف قرار دیتا ہے۔ در حقیقت کسی قوم کی مُردنی کی اس سے بڑھ کر کوئی علامت نہیں کہ اس کے افراد فنون جنگ سے نفرت کرنے لگیں اور ان کو شان کے خلاف سمجھنے لگیں اور جس خاندان سے مصنف ہفوات اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں اس کی ہلاکت کی ایک بہت بڑی وجہ یہی تھی کہ وہ عیش پرست اور نکما ہو گیا تھا اور مجھے تعجب ہے کہ باوجود اس سخت گرفت کے جو مصنف ہفوات کے خاندان پر اللہ تعالی نے کی ہے ان کی حکومت چھین لی ان کا مال چھین لیا ہے ان کی عزت چھین لی ہے ابھی تک ان کے اندر انہی بیگمات کے خیالات جوش مار رہے ہیں جنہوں نے دہلی کی جنگ کے موقع پر بادشاہ کو رو رو کر مجبور کر دیا تھا کہ وہ ان کے مکان کے سامنے سے جو بہترین موقع توپ چلانے کا تھا توپ کو ہٹالے اور اس طرح اپنی بزدلی کا اظہار کر کے اور اس کے مطابق بادشاہ سے عمل کرا کے شاہی خاندان اور دلی کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا تھا۔ اگر شاہی خاندان کی عورتیں فنون جنگ کو دیکھنے کی عادی ہو تیں اگر ان کو جنگی مظاہرات کا معائنہ کرنے کا موقع دیا جاتا اگر وہ اپنے زمانہ کے ہتھیاروں کے استعمال کو دیکھ دیکھ کر ان کی ہیبت کو دل سے نکال چکی ہوتیں تو ایسی بداندیشانہ حرکات ان سے کیوں ظاہر ہوتیں۔ اور اگر بادشاہ فنون جنگ کے ماہر ہوتے اور ان کی عمر اس قسم کے کاموں میں بسر ہوتی وہ جنگ اور اسکے نتیجہ سے آگاہ ہوتے تو وہ بیگم کی خواہش کو کیوں مانتے؟ وہ اس کی موت کو اس کی خواہش کے پورا کرنے سے ہزار درجہ بہتر سمجھتے کیونکہ ملک کی عزت اور اس کے وقار کے مقابلہ میں کسی فرد کی خواہ وہ بادشاہ کی چہیتی بیوی ہی کیوں نہ ہو کیا قدر ہوتی ہے؟۔
لوگ کہتے ہیں کہ بیگم نے انگریزوں سے ساز باز کیا ہوا تھا اور وہ تکلف سے کام لیتی تھی مگر میں کہتا ہوں اگر جنگی مظاہرات ہوتے رہتے اور تو ہیں دعتی رہتیں اور ان کے دیکھنے اور ان میں حصہ لینے کا بیگمات کو موقع ملتا رہتا تو بیگم یہ بہانہ کیونکر بنا سکتی تھیں کیا بادشاہ اور دوسرے لوگ ان کو یہ نہ کہتے کہ یہ بات تو ہمیشہ تم دیکھتی رہی ہو آج یہ نیاڈر کہاں سے پیدا ہو گیا ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت جنگ میں حصہ لینے کے لئے نہیں پیدا کی گئی۔ لیکن عورت کا فنونِ حرب سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے ورنہ اگر اس کا دل تلوار کی چمک سے کانپ جاتا ہے اور اس کا خون بندوق یا توپ کی آواز کو سن کر خشک ہو جاتا ہے تو وہ اپنے بچوں کو خوشی سے میدان جنگ میں جانے کی اجازت کب دے سکتی ہے؟ اور ان کے دل سے ان کے جھوٹے خوف کو کب دور کر سکتی ہے؟ وہی اور صرف وہی عورت جو رات اور دن اپنے زمانہ کے ہتھیاروں کی نمائش کو دیکھتی رہی ہے اور اس کے دل سے ان کا خوف دور ہو جاتا ہے اور وہ ان کو ایک کھلونا سمجھنے لگتی ہے اپنے بچوں کو اس ذمہ داری کے اٹھانے کے لئے تیار کر سکتی ہے جو اپنے مذہب اور اپنے ملک کی طرف سے ان پر عائد ہونے والی ہے۔ اور اس میں کیا شبہ ہے کہ جنگ سے قریب ترین نظارہ مصنوعی جنگ کا ہوتا ہے جس میں دیکھنے والا بسا اوقات یہ خیال کرتا ہے کہ اب ایک شخص دوسرے کے وار کے آگے زخمی ہو کر گر جائے گا اور ہتھیار کا حقیقی رُعب اس سے قائم ہوتا ہے۔
غرض جنگ کے کرتب کروانے یا کرنے ناچ کروانا یا کرنا نہیں ہے نہ ان کا عورتوں کو دکھانا ناچ دکھانا ہے بلکہ جنگ کے کرتبوں کی مشق کرانا مذہبی فرض ہے اور ملک کا حق ہے اور زندگی کا نشان ہے اور عورتوں کو ان فنون کے دیکھنے کا موقع دینا ایک قومی ذمہ داری ہے جس کی طرف سے بے توجہی غداری ہے۔ بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ اگر ممکن ہو سکے تو ان کو فنونِ جنگ سکھانے چاہئیں جیسا کہ عرب لوگ سکھاتے تھے تاکہ وقت پر وہ اپنی عصمت اور عزت کی حفاظت کر سکیں اور مصیبت کی ساعت میں اپنے مردوں اور اپنے بھائیوں کا ہاتھ بٹا سکیں۔ اسلام کی تاریخ ان مثالوں سے پُر ہے کہ عورتوں نے جنگ میں خطرناک اوقات میں جب اور لشکر میسر نہ آ سکتے تھے مردوں کا ہاتھ بٹایا اور ان کے ساتھ فتح میں شریک ہوئیں۔ ان کے حالات ہماری رگوں میں فخر کی لہر پیدا کر دیتے ہیں اور ان کے کارنامے ہماری ہمتوں کو بلند و بالا کر دیتے ہیں اور مصنفِ ہفوات ہمیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ پُخیاں تھیں اور قوم اور ملک کے لئے ننگ۔ وہ غیر مردوں کا چہرہ دیکھنے والی تھیں اور حیا اور شرم سے عاری۔ مگر میں کہتا ہوں یہ ننگ ہمارے لئے ستر کا موجب ہے اور یہ عار ہمارے لئے عزت کا باعث ہے۔ تیری عزت اور تیری حیا تیرے لئے مبارک ہو کہ وہ ہمارے لئے موجبِ ننگ و عار ہے۔
مصنفِ ہفوات کا یہ اعتراض کہ کیا حضرت عائشہ نے غیر محرم پر نظر ڈالی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر ڈلوائی ایسا ہی بے وقوفی کا سوال ہے جیسا کہ پہلا۔ غیر محرم پر نظر نہ ڈالنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کسی صورت اور کسی غرض سے غیر محرم کے کسی حصہ پر نظر ڈالنی منع ہے۔ اگر شریعتِ اسلامیہ کا یہ مسئلہ ہوتا تو عورتوں کو چار دیواری سے باہر نکلنے کی اجازت نہ ہوتی اور مکان بھی بند دریچوں کے بنائے جاتے جس قسم کا کہ ظالم بادشاہ قید خانے تیار کراتے ہیں۔ مصنفِ ہفوات کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ عورت بھی اسی قسم کی انسان ہے جس قسم کا کہ مرد ہے اور اس کی طبعی ضروریات بھی مرد ہی کی طرح ہیں۔ خدا کا طبعی قانون دونوں پر یکساں اثر کر رہا ہے اور وہ قانون صحت کی درستی اور جسم کی مضبوطی کے لئے اس امر کا مقتضی ہے کہ کھلی ہوا میں انسان پھرے اور روزانہ کافی مقدار میں نقل وحرکت کرے اور محدود دائرہ میں بند ہونے کا خیال اس کے اعصاب میں کمزوری نہ پیدا کرے۔ جس خدا نے عورت کو ان قوتوں اور ان نقائص کے ساتھ پیدا کیا ہے اور جس خدا نے اس کا ایک ہی علاج مقرر فرمایا ہے اس کا کلام عورت کو اس ایک ہی علاج سے محروم نہیں کر سکتا سزا ایک آدمی کو دی جا سکتی ہے دو کو دی جا سکتی ہے لیکن قوم کی قوم کو نسلاً بعد نسل قید میں نہیں رکھا جا سکتا۔ آخر فطرت بغاوت کرے گی اور قید خانوں کی دیواروں کو توڑ کر رکھ دے گی۔
شریعت کا مقرر کردہ پردہ فطرت کے خلاف نہیں ہے اس کو جو لوگ توڑنے کی کوشش کرتے ہیں وہ فطرت کے تقاضے کو نہیں بلکہ ہواؤ ہوس کے تقاضے اور عیش پرستی کے جذبات کو پورا کرنے کے لئے ایسا کرتے ہیں فطرت کے تقاضے قانونِ قدرت کے اندر اپنے نشان رکھتے ہیں اور ان کا توڑنا خدا کی کُل کائنات کو مخالفت پر کھڑا کر دیتا ہے لیکن عورت کا بے محابا ہر مرد کے سامنے ہونا اس کے ساتھ بے تکلف ہونا اور علیحدہ ہو جانا کسی ایک قانونِ قدرت کو بھی مخالفت پر نہیں آمادہ کرتا بلکہ اُلٹا انسان کو اس کے اعلیٰ مرتبہ سے گرا کر حیوانی تقاضوں اور جذبات کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے پس اس پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا لیکن اس سے زیادہ پردہ کرانا یا اس کی خواہش کرنی خدا کے حکم کی اتباع نہیں ہے بلکہ اس کا مقابلہ ہے اور صرف ایک عارضی اور زیادہ اہم ضرورت کے لئے اس کو جاری کیا جا سکتا ہے جس طرح کہ ایک طبیب ایک بیمار کو چلنے پھرنے سے جو فطری تقاضے ہیں روک دیتا ہے۔
جب کہ شریعت نے عورت کو باہر نکلنے کی اجازت دی ہے اور صرف منہ کا ایک حصہ اور بدن کو ڈھانپنے کا حکم دیا ہے اور ہاتھ اور پاؤں اور دوسری چیزیں جو ایسے موقع پر ظاہر ہو ہی جاتی ہیں ان کو ظاہر کر دینے کی اجازت دی ہے تو یہ ضروری بات ہے کہ ایک عورت جو گھر سے باہر اس حالت میں نکلے گی اس کی نظر مردوں کے جسم کے بہت سے حصوں پر اسی طرح پڑے گی جس طرح کہ عورت کے بعض حصوں پر مرد کی پڑتی ہے۔ غض بصر کے حکم نے یہ بتا دیا ہے کہ اصل چیز جو پردہ کی جان ہے دونوں کی نظروں کو ملنے سے بچانا ہے اور جسم کا وہ حصہ جس پر نگاہ ڈالتے ہوئے آنکھیں ملنے سے رہ ہی نہیں سکتیں یا اس امر کی احتیاط نہایت مشکل ہو جاتی ہے وہ چہرہ ہے۔ بقیہ جسم کو جب کہ وہ مناسب کپڑوں سے ڈھکا ہوا ہو نہ چھپانے کی ضرورت ہے نہ اسے چھپایا جا سکتا ہے جب تک کہ عورتیں بازاروں اور گلیوں میں پھرنا نہ چھوڑ دیں یا قناتیں تان کر وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر نہ کریں لیکن کیا یہ ہر عورت کے لئے ممکن ہے؟
امراء کی عورتیں تو اپنے مکانوں کی وسیع چاردیواریوں میں پھر بھی سکتی ہیں غرباء کی عورتیں کہاں جائیں اور اوسط طبقہ کی عورتیں کس طرح گزارہ کریں؟ مگر امراء کی عورتوں کو بھی میل ملاقات کے لئے ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف جانا پڑتا ہے جب تک کہ ان کی تمام زندگی کو ایک سخت قید کی ہم شکل نہ بنا دیا جائے اس وقت تک ان کو بھی کبھی نہ کبھی باہر نکلنا ہو گا اور ان کی نظر بھی لازماً گلیوں اور سڑکوں پر پھرنے والے اور برآمدوں اور سٹیشنوں اور گاڑیوں پر بیٹھنے والے لوگوں کے بعض حصہ جسم پر پڑے گی سوائے اس صورت کے کہ گھر سے نکلتے ہی ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی جائیں۔ جو عورت یہ کہتی ہے کہ باوجود باہر نکلنے کے اس کی نظر کسی مرد کے کسی حصہ جسم پر کبھی نہیں پڑی وہ جھوٹی ہے اور جو مرد یہ امید رکھتا ہے کہ اس کی بیوی نے کسی مرد کو مذکورہ بالا طریق پر کبھی نہیں دیکھا وہ پاگل ہے۔
پردہ مرد اور عورت کے لئے برابر ہے۔ جب عورت باہر برقع یا چادر اوڑھ کر نکلتی ہے تو کیا مردوں کو اس کے پاؤں اور اس کی چال اور اس کا قد اور اس کے ہاتھوں کی حرکت اور ایسی ہی اور کئی چیزیں نظر نہیں آتیں؟ اور کیا ان کا پردہ ممکن ہے؟ اگر عورت کے بعض حصے مرد کو ضرور نظر آتے ہیں اور ان کا پردہ ناممکن ہے اور اس سے بھی زیادہ بعض حصے ایسے ہیں جن کا پردہ غریبوں کے لئے ناممکن ہے تو پھر اگر اسی قدر حصہ یعنی مرد کا ڈھکا ہوا جسم اور اس کی حرکات عورت کو نظر آتی ہیں تو یہ امراس کے لئے ناجائز کیونکر ہو گیا؟
پردہ مرد اور عورت کے لئے برابر ہے جیسے عورت کے لئے پردہ ہے ایسے ہی مرد کے لئے۔ بعض لوگوں نے یہ سمجھ کر کہ پردہ صرف عورت کے لئے ہے پردہ کے مسئلہ کو عقل کی روشنی میں مسائل کی چھان بین کرنے والے لوگوں کے لئے لَا يُنْحَلُّ عُقْدَہ بنا دیا ہے۔ اگر عورت کو چادر اوڑھ کر باہر نکلنے کا حکم دیا گیا ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ پردہ کا حکم صرف اسی کے لئے ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرد کا اصل دائرہ عمل گھر سے باہر ہے اور عورت کا اصل دائرہ عمل گھر کی چار دیواری ہے۔ پس چونکہ عورت مرد کے اصل دائرہ عمل میں جاتی ہے وہ چادر اوڑھ لیتی ہے اور مرد چونکہ اپنے اصل دائرہ عمل میں ہوتا ہے وہ کھلا پھرتا ہے اگر اس کو اپنے دائرہ عمل میں چادر اوڑھنے کا حکم دیا جاتا تو چونکہ اس کا وہاں ہر وقت کا کام ہے اس کے لئے کام مشکل ہو جاتا اور وہ تھوڑے ہی دنوں میں اپنے مرتبہ عمل سے گر جاتا، جس طرح کہ اگر عورت کو اس کے دائرہ عمل یعنی گھر کی چار دیواری میں چادر اوڑھ کر کام کرنے کا حکم دیا جائے تو وہ گھبرا جائے اور کام نہ کر سکے۔ اس فرق کے مقابلہ میں مرد کو یہ حکم ہے کہ وہ عورت کے دائرہ عمل میں بالکل گھسے ہی نہیں اور اس کو آزادی سے اپنا کام کرنے دے پس حکم برابر ہے عورت اگر مرد کے دائرہ عمل میں گھستی ہے تو اس کے لئے حکم ہے کہ چادر اوڑھ لے اور مرد اگر عورت کے دائرہ عمل میں جانا چاہتا ہے تو اسے حکم ہے کہ بلا عورت کی اجازت کے ایسا نہ کرے اور مرد کے لئے یہ سختی بھی عورت کی رعایت کے طور پر نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ مرد کے دائرہ عمل میں عورت کے بھی حقوق ہیں اور عورت کے دائرہ عمل سے مرد کے حقوق وابستہ نہیں۔ پس عورت کو اجازت کی ضرورت نہیں رکھی بلکہ صرف اوٹ کر لینا کافی رکھا ہے اور عورت کے دائرہ عمل میں مرد کے بلا اجازت داخلہ کو روک دیا ہے۔
پردہ کے مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد حضرت عائشہ کے واقعہ کو سمجھ لینا کچھ بھی مشکل نہیں۔ حضرت عائشہ رسول کریم ﷺ کی اوٹ میں کھڑے ہو کر ان فوجی کرتبوں کو دیکھ رہی تھیں جن کو مصنف ہفوات اپنی نادانی سے ناچ گھروں کے ناچ سے تشبیہ دیتا ہے پس ان کا چہرہ تو اوٹ میں تھا اور وہ لوگ جو کرتب کر رہے تھے ہاتھوں سے یہ کام کر رہے تھے ان کے چہرہ پر نظر ڈالے بغیر اور آنکھ سے آنکھ ملائے بغیر آپ ان کے فنون کو دیکھ سکتی تھیں پس یہ بھی شریعت کے خلاف بات نہ تھی اس طرح ضروری اور علمی امور کو دیکھنا نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ جیسا میں پہلے ثابت کر آیا ہوں ضروری ہے۔
حضرت فاطمہ کی نسبت روایات شیعہ اور سنی سے ثابت ہے کہ وہ بھی گھر سے باہر نکلتی تھیں اور رسول کریم ﷺ کے پاس بھی تشریف لاتی تھیں اور حضرت ابوبکرؓ سے فدک کا مطالبہ کرنے بھی تشریف لے گئی تھیں اور کہیں تاریخ سے ثابت نہیں ہوتا کہ اس وقت قناتیں کھینچ کر پردہ کر دیا جاتا تھا یا یہ کہ مردوں کو راستہ چلنے سے روک دیا جاتا تھا ایسے اوقات میں لازماً ان کی نظر بھی گلیوں میں چلنے والے مردوں کے بعض حصص پر پڑتی ہو گی جس طرح کہ گلیوں میں چلنے والے مردوں کی نظر آپ کے ایسے حصص پر جو چھپائے نہیں جا سکتے پڑتی تھی۔ پس جو امور کہ خود ان لوگوں سے سرزد ہوتے رہے ہیں جن کو کہ آپ لوگ بھی بزرگ سمجھتے ہیں ان پر اعتراض کرنا حد درجہ کی ڈھٹائی نہیں تو اور کیا ہے؟ حضرت عائشہؓ کا صرف اس قدر قصور ہے کہ جس بات کو بہت سے لوگ اپنی منافقت کے پردہ میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں حضرت عائشہؓ اس کو مؤمنانہ سادگی سے بیان کر دیتی تھیں اور یہ قصور عقلمندوں کے نزدیک قصور نہیں بلکہ قابل فخر جرأت ہے۔
مصنفِ ہفوات نے یہ کیا ہے کہ تاریخ بغداد اور شرح نہج البلاغہ معتزلی میں لکھا ہے کہ عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کے پاس ایک دفعہ ایک صاع کھجور کا ٹوکرا پڑا تھا اور آپ اس میں سے کھا رہے تھے میں جو گیا تو مجھے بھی کہا کہ کھاؤ میں نے ایک کھجور اٹھائی اور حضرت عمرؓ نے سب کھجوریں کھالیں اور ایک تھیلیا پانی کی پی اور بار بار شکرِ خدا کا کرنے لگے۔ پھر مجھ سے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو؟ میں نے کہا مسجد سے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا تمہارے عمزاد برادر کیا کرتے ہیں؟ میں نے کہا اپنے ہم سنوں میں کھیلتے ہوں گے (یعنی عبداللہ بن جعفرؓ) انہوں نے کہا نہیں میں تمہارے بزرگ اہل بیت (یعنی علیؓ) کا پوچھتا ہوں؟ میں نے کہا وہ ایک باغ میں اُجرت پر پانی بھرنے جاتے ہیں اور قرآن کی تلاوت کرتے جاتے ہیں۔
اس کے آگے مصنفِ ہفوات نے ان کتب کی عربی عبارت یوں درج کی ہے۔ قَالَ يَا عَبْدَ اللّٰهِ عَلَيْكَ دِمَاءُ الْبُدْنِ اِنْ كَتَمْتَهَا هَلْ بَقِيَ فِيْ نَفْسِهِ شَيْئٌ مِنْ اَمْرِ الْخِلَافَةِ قُلْتُ نَعَمْ وَاَزِيْدُكَ سَئَلْتُ اَبِيْ عَمَّا يَدَّعِيْهِ فَقَالَ صَدَقَ فَقَالَ عُمَرُ لَقَدْ كَانَ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ مِنْ اَمْرٍ ذَرْوٍ مِنْ قَوْلٍ لَا يُثْبِتُ حُجَّةً وَلَا يَقْطَعُ عُذْرًا وَ لَقَدْ كَانَ يَزِيْغُ فِيْ اَمْرِهِ وَ قْتًا مَا وَ لَقَدْ اَرَادَ فِيْ مَرَضِهِ اَنْ يُصَرِّحَ بِاسْمِهِ فَمَنَعْتُ مِنْ ذٰلِكَ اِشْفَاقًا وَ حِيْطَةً عَلَى الْاِ سْلَامِ وَ رَبِّ هٰذِهِ الْبَيْتِ لَا تَجْتَمِعُ عَلَيْهِ قُرَيْشٌ اَبَدًا وَ لَوْ وَلِيَهَا لَا انْتَفَضَتْ عَلَيْهِ الْعَرَبُ مِنْ اَقْطَارِهَا فَعَلِمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِنِّيْ عَلِمْتُ مَا فِيْ نَفْسِهِ فَاَمْسَكَ وَاِلَى اللّٰهِ اِلَّا مَضَاءُ مَا حَتَمَ۔۱۰۵؎ اس کا ترجمہ۔ ان کے اپنے الفاظ میں یوں ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا اے عبداللہ تم پر اونٹوں کی قربانی فرض ہو جائے جو تم چھپاؤ۔ سچ کہو کیا علی کے دل میں اب بھی ادعائے خلافت ہے؟ میں نے کہا ہاں بلکہ میں اس سے زیادہ بتاؤں کہ میں نے اپنے باپ سے بھی یہ بات دریافت کی تو انہوں نے فرمایا کہ علی کا دعویٰ سچا ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ آنحضرت سے علی کے باب میں چند بار ایسے کلمات نکلے ہیں کہ وہ ثابت نہیں ہوتے اور نہ ان سے حجت قطع ہوتی ہے اس محبت کے سبب سے جو ان کو علی سے تھی اور آنحضرت نے اپنے مرض موت میں حق سے باطل کی طرف میل کرنا چاہا تھا کہ نام علی کی صراحت کر دیں لیکن خدا کی قسم میں نے شفقت امت اور محبت اسلام کے سبب سے آنحضرت کو منع کیا کیونکہ قریش خلافت علی پر اتفاق نہ کرتے اگر وہ خلیفہ ہو جاتے تو اطراف عرب میں (یعنی مہاجرین قریش) شورش کرتے۔ پس آنحضرت نے جان لیا کہ میں اس بھید کو سمجھ گیا جو بات آنحضرت کے دل میں تھی بایں وجہ آنحضرت ساکت ہو گئے اور نام علی کی صراحت نہ کر سکے اور اللہ تعالیٰ کو جو منظور تھا وہ حکم جاری ہوا۔
اور اس سے نتیجہ یہ نکالا ہے کہ (۱) کیا رسول خدا علی کی محبت میں ایسے گرفتار تھے کہ معاذ اللہ حق سے باطل کی طرف میل کر جاتے تھے (۲) اور ایسے کوتاہ عقل (نَعُوْذُ بِاللّٰهِ) کہ جو حضرت عمر کو سوجھتی تھی وہ رسول اللہ کو نہ سوجھتی تھی (۳) پھر حضرت عمر کو تو رسول اللہ اور آپ کی امت پر شفقت مگر خود رسول اللہ کو اپنی امت پر شفقت نہ ہو (۴) حضرت عمر کو گستاخ وبے ادب ثابت کر کے ان کے ایمان کی نفی کی گئی ہے۔
پیشتر اس کے کہ میں ان اعتراضات کا جواب دوں۔ اول تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ترجمہ میں صاحب مصنف نے خیانت سے کام لیا ہے پہلی خیانت تو یہ ہے کہ لَقَدْ كَانَ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ مِنْ اَمْرٍ ذَرُو مِنْ قَوْلٍ لَّا يُثْبِتُ حُجَّةً کا ترجمہ مصنف نے یہ کیا ہے کہ آنحضرت سے علی کے باب میں چند بار ایسے کلمات نکلے ہیں کہ وہ ثابت نہیں ہوتے جس کے یہ معنے بنتے ہیں کہ گو رسول کریم ﷺ نے حضرت علی کے حق میں بعض باتیں فرمائی ہیں لیکن وہ غلط ہیں حالانکہ اصل عبارت کے یہ معنے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی طرف سے ایسی باتیں بیان کی جاتی ہیں جو محض اشارات کہی جا سکتی ہیں یا عبارتوں کے ٹکڑے ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں پکڑی جا سکتی کیونکہ وہ باتیں واضح نہیں ہیں۔ ذَرُو مِنْ قَوْلٍ کے معنے یا حصہ کلام یا اشارہ کے ہوتے ہیں اسی طرح لَا يُثْبِتُ حُجَّةً کے معنے نہیں کہ وہ کلمات غلط ہیں بلکہ یہ کہ وہ ایسے واضح نہیں ہیں کہ ان سے دلیل پکڑی جا سکے۔ دوسری خیانت مصنف کی یہ ہے کہ انہوں نے وَ لَوْ وَلِيَهَا لَانْتَقَضَتْ عَلَيْهِ الْعَرَبُ مِنْ اَطْرَافِهَا کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ اگر وہ خلیفہ ہو جاتے تو اطراف عرب میں (یعنی مہاجرین قریش) شورش کرتے۔ گویا حضرت عمر نے یہ فرمایا تھا کہ اگر علی کو رسول کریم ﷺ خلیفہ مقرر کر دیتے تو مہاجرین ان کا مقابلہ کرتے اور سارے عرب میں شور ڈال دیتے۔ حالانکہ یہ ترجمہ بالکل غلط ہے۔ اس عبارت کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر علی خلیفہ ہو جائیں تو عرب لوگ چاروں طرف سے ان کی مخالفت شروع کر دیں گے اور اس میں مہاجرین کی مخالفت یا ان کی شورش کا اشارہ بھی نہیں۔ اگر کہا جائے کہ عرب میں مہاجرین بھی شامل تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اس طرح عرب کے لفظ کے عام معنی کرنے ہیں تو پھر عرب میں حضرت علی کے اپنے رشتہ دار بھی اور تمام بنو ہاشم اور بنو مُطَّلِب بھی شامل تھے مگر یہ کوئی نہیں کہتا کہ اس بات کا یہ مطلب تھا کہ حضرت عباس اور عقیل بھی حضرت علی کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہو جائیں گے۔
مصنف کے ترجمہ کی ایسی غلطیوں کی طرف اشارہ کر کے جو اپنی وضع سے بتا رہی ہیں کہ جان بوجھ کر اپنے مضمون کو زور دار بنانے کے لئے کی گئی ہیں اب میں اس حدیث کی حقیقت پر روشنی ڈالتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس حدیث کے بعض حصے نہایت قابل اعتراض ہیں اور اگر وہ ثابت ہوں تو حضرت عمر پر اعتراض آتا ہے اور اگر نہ ثابت ہوں تو حدیث جھوٹی قرار پاتی ہے میں اس امر میں مصنف ہفوات سے بالکل متفق ہوں کہ یہ حدیث بالکل جھوٹی ہے لیکن اس کا اثر علمائے اہل سنت پر کچھ نہیں پڑتا کیونکہ یہ حدیث اہل سنت کی کتب معتبرہ میں سے نہیں ہے بلکہ اس کا اول راوی ایک ایسا شخص ہے جو گو نہ سنی کہلا سکے اور نہ شیعہ مگر اس کی طبیعت کا اصل رجحان شیعیت کی طرف ہے۔ پس اول تو جیسا کہ میں ثابت کر چکا ہوں بعض حدیثوں کے جھوٹا ثابت ہونے سے نہ علم حدیث پر اور نہ علمائے اہل سنت پر کوئی حرف آسکتا ہے۔ دوم یہ حدیث اہل سنت کی کتب سے نہیں شروع ہوئی اس کی ابتداء ان لوگوں سے شروع ہوئی ہے جو شیعیت کی طرف راجح ہیں۔ پس اگر اس سے کسی پر الزام لگ سکتا ہے تو شیعوں پر۔ سوم میں جہاں تک سمجھتا ہوں یہ حدیث ان بعض شیعوں کی بنائی ہوئی ہے جو جھوٹ کو اپنی تائید کے لئے جائز سمجھتے ہیں اور تقیہ کو دین کا ایک جزو قرار دیتے ہیں۔ اور مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ احادیث پر ایک مجموعی نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اہل شیعہ نے ظلماً اپنے مقاصد کے حصول کے لئے جھوٹی حدیثیں اہل سنت سے بیان کی ہیں تاکہ ان کی کتب سے اپنے مطلب کی روایات پیش کر سکیں۔ ایسی کئی حدیثیں ہیں جن کو درایتاً اور روایتاً انسان جھوٹا ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے اور پھر ساتھ ہی اس کو یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ یہ اہل سنت کی بنائی ہوئی نہیں ہیں بلکہ اہل شیعہ کی ہیں۔
میرا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ اہل سنت لوگوں میں ایسا کوئی شخص نہیں گزرا جس نے جھوٹی حدیث بنائی ہو یا یہ کہ شیعہ لوگ مذہبًا جھوٹ بولتے ہیں۔ حَاشَا وَ کَلَّا اس سے زیادہ میرے ذہن سے اور کوئی بات دور نہیں ہو سکتی۔ میں طبعاً اور اخلاقاً اور علماً اور مذہبًا اس امر کا مخالف ہوں کہ کسی قوم کو محض اختلاف عقائد کی وجہ سے ایسا سمجھ لیا جائے کہ اس میں گویا اخلاقی طور پر کوئی نیک ہی نہیں۔ میرے نزدیک شیعوں میں بھی سچ بولنے والے موجود ہیں جس طرح کہ ہندوؤں اور مسیحیوں اور یہودیوں اور سکھوں اور اہل سنت میں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جس قوم میں روحانیت زیادہ ہو گی اس کے زیادہ افراد بااخلاق ہوں گے اور اس کا معیار اخلاق بھی بالا ہو گا لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ دنیا کی ہر قوم میں ایسے لوگ موجود ملیں گے جو ایک حد تک اخلاق کے پابند ہوں گے اور بڑی بڑی بد خُلقیوں سے پاک ہوں گے۔ اسی طرح خواہ کوئی مذہب کتنا ہی تصرف اپنے پیروؤں پر رکھتا ہو اس کے پیروؤں میں ایسے لوگ ضرور پائے جائیں گے جو بداخلاقیوں کے مرتکب ہوں گے اور انسانیت کا جامہ پھاڑ چکے ہوں گے۔ پس میں بوضاحت بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں ہرگز کسی قوم کو جو میرے ساتھ مذہبًا اختلاف رکھتی ہو اخلاق سے عاری نہیں سمجھتا اور نہ خیال رکھتا ہوں کہ جو لوگ میرے ہم خیال یا ہم مذہب ہیں وہ تمام کے تمام بلا استثناء بدیوں اور گناہوں سے پاک ہیں اور ان میں کوئی بھی بد خُلقی نہیں پائی جاتی مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ اگر کسی قوم میں یہ عقیدہ ہو کہ انسان اپنے عقیدہ اور یقین کے خلاف ضرورتِ وقت کو مد نظر رکھ کر بیان کر سکتا ہے اور عمل پیرا ہو سکتا ہے وہ قوم بہت زیادہ اس خطرہ میں ہے کہ اس کے کمزور اور ضعیف الاخلاق لوگ جھوٹ اور فریب کی مرض میں مبتلاء ہو جائیں اور میں سمجھتا ہوں کہ بعض اہل شیعہ نے اس قسم کا عقیدہ ایجاد کر کے اپنے ہم مذہبوں پر ایک اخلاقی ظلم کیا ہے اور دوست بن کر دشمنوں کا کام کیا ہے۔
مگر میں فطرتِ انسانی کو مد نظر رکھتے ہوئے کہتا ہوں کہ اکثر اہل شیعہ یقیناً اس خیال سے نفرت رکھتے ہوں گے اور ائمہ اہل بیت کو اس ناپاک خیال سے پاک سمجھتے ہوں گے اور اس گند کو ان کی طرف منسوب نہیں کرتے ہوں گے بلکہ یقین رکھتے ہوں گے کہ بعض نادان لوگوں نے یہ باتیں بعد میں گھڑی ہیں نہ تو ائمہ اہل بیت نہ کبار شیعہ اس جرم کے مرتکب ہو سکتے ہیں مگر بہر حال چونکہ بعض لوگوں نے اس قسم کا عقیدہ گھڑا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اہل شیعہ میں سے اہل سنت کی نسبت بہت زیادہ لوگوں کو جھوٹی حدیثیں بنانے کا موقع مل گیا ہے اور ان میں سے بعض نے افسوس سے کہنا چاہئے کہ اہل سنت کا جامہ پہن کر شیعیت کے عقائد کو پردے پردے میں اہل سنت کی روایات میں داخل کرنا چاہا ہے۔
میں کہہ چکا ہوں کہ ائمہ اہل حدیث کا طریق یہ تھا کہ وہ احادیث کے لئے ایک خاص معیار مقرر کر کے جو حدیث اس معیار کے مطابق ان کو پہنچتی تھی وہ اسے روایت کر دیتے تھے۔ گو ان میں سے بعض جھوٹی بھی ہوں۔ اور جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں ان کا یہ طریق نہایت عمدہ اور دُور اندیشی پر مبنی تھا پس اگر اس حدیث کے راوی کو گو یہ صحاح میں یا معتبر کتب حدیث میں درج نہیں دیانتدار قرار دیا جائے تو اس کی نسبت یہی کہا جائے گا کہ اس نے اپنے مقرر کردہ معیار پر اس حدیث کو صحیح پا کر اسے اپنی کتاب میں درج کر دیا۔ گو ممکن ہے کہ وہ خود بھی اسے جھوٹا سمجھتا ہو۔ اور جیسا کہ قوی قرائن سے ثابت ہے یہ کسی ایسے ہی شیعہ کی بنائی ہوئی ہے جس نے اپنے مذہب کو چھپا کر اپنے عقیدہ کی اشاعت کے لئے جھوٹ کو اپنا شیوہ بنایا ہوا ہو۔
میں اپنے اس خیال کی تائید میں مندرجہ ذیل شہادت پیش کرتا ہوں (۱) یہ حدیث جیسا کہ خود اس کی عبارتوں سے ثابت ہے جھوٹی ہے (۲) جب یہ جھوٹی ہے تو اس کو بنانے والا وہی ہو سکتا ہے جس کو اس حدیث کے مضمون سے فائدہ پہنچ سکتا ہو اور (۳) یہ فائدہ ایک شیعہ کو ہی پہنچ سکتا ہے (۴) پس یہ کسی اہلِ شیعہ کی بنائی ہوئی ہے۔
اس امر کا ثبوت کہ یہ روایت محض جھوٹی اور بناوٹی ہے مندرجہ ذیل ہے۔
۱۔ اس روایت کی بنیاد اس امر پر ہے کہ حضرت علیؓ کو خواہش خلافت تھی اور وہ اپنے آپ کو اس کا حق دار سمجھتے تھے حتیٰ کہ حضرت عمر کے وقت تک اس کا اظہار کرتے رہتے تھے اور یہ امر روایۃً و درایۃً بالکل باطل ہے پس معلوم ہوا کہ یہ روایت بالکل جھوٹی ہے کیونکہ واقعات کے برخلاف ہے۔
درایۃً تو یہ امر اس لئے غلط ہے کہ یہ خیال کر لینا کہ حضرت علیؓ جیسا بہادر اور شجاع انسان ایک امر کو حق سمجھ کر پھر اس پر خاموش رہے اور رسول کریم ﷺ کی وصیت کو پس پشت ڈال دے اور عالم اسلام کو تباہ ہونے دے بالکل عقل کے خلاف ہے۔ یہ امر ثابت ہے کہ حضرت علیؓ نے حضرت ابو بکرؓ کی بھی بیعت کی اور پھر حضرت عمرؓ کی بھی بیعت کی اور پھر ان کے ساتھ مل کر کام کرتے رہے ایسا ایک شخص جو دوسرے کی غلامی کا جُوا اپنی گردن پر رکھ لیتا ہے اور اس کی بیعت میں شامل ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے اس کی نسبت یہ خیال کرنا کہ وہ دل میں نیابت کو اپنا حق سمجھتا تھا اور حق بھی لیاقت کی وجہ سے نہیں بلکہ منشائے شریعت کے ماتحت۔ اس کے معنے دوسرے الفاظ میں یہ ہیں کہ وہ شخص اول درجہ کا منافق تھا اور یہ بات حضرت علیؓ کی نسبت امکانی طور پر ذہن میں لانی بھی گناہ معلوم ہوتی ہے کُجَا یہ کہ اس کے وقوع پر یقین کیا جائے۔ پس حضرت علیؓ کا طریق عمل اس خیال کو باطل کر رہا ہے اور جب کہ عقل اس امر کو تسلیم نہیں کر سکتی کہ حضرت علیؓ ظاہر میں حضرت عمرؓ کے دوست بنے ہوئے ہوں اور ان کی بیعت میں ہوں اور دل میں یہ خیال کرتے ہوں کہ خدا اور اس کے رسول کے حکم کے ماتحت وہ خلیفہ ہیں تو ماننا پڑتا ہے کہ یہ روایت عقل کے خلاف ہونے کے سبب بناوٹی اور جھوٹی ہے۔
دوسری بات جو اس کو بالبداہت باطل ثابت کرتی ہے یہ ہے کہ حضرت علیؓ نے اپنی لڑکی کی شادی حضرت عمرؓ سے کی ہے۔ اب کون سا شخص ہے جو حضرت علیؓ کو ایک اعلیٰ درجہ کا ولی تو الگ رہا ایک غیور مسلمان سمجھتے ہوئے بھی یہ خیال کر سکے گا کہ انہوں نے اپنی لڑکی ایک منافق کو دے دی حالانکہ قرآن کریم میں رشتہ ناطہ کے تعلقات میں سب سے زیادہ زور تقویٰ پر دیا ہے۔ اگر حضرت علیؓ جیسا انسان خوف سے یا لالچ سے اپنی لڑکی ایک منافق کو دے سکتا ہے تو ایمان کا ٹھکانا کہیں نہیں رہتا اور اسلام ایک موہوم بات ہو جاتا ہے۔ پس حضرت علیؓ کا حضرت عمرؓ کو اپنی لڑکی بیاہ دینا اس امر پر شاہد ہے کہ وہ ان کو غاصب اور منافق خیال نہیں کرتے تھے بلکہ ایک سچا متقی اور حق دار خلافت سمجھتے تھے۔ میں تو حیران ہوتا ہوں کہ وہ لوگ جو خیال کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ حضرت عمرؓ کو منافق سمجھتے تھے کس طرح خوارج کو اس بات کے کہنے کا موقع دیتے ہیں کہ حضرت علیؓ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ خلافت کی خواہش میں ایسے مخمور تھے کہ انہوں نے اپنی بے گناہ لڑکی، حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی ایک منافق اور بے دین شخص کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے خلاف خلافت اور نیابت کے حق کو غصب کر کے دین کی بربادی اور تباہی میں مشغول تھا دیدی اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(2:157)۔★۶ مصنف صاحبِ ہفوات کو اگر اس نکاح میں شبہ ہو تو وہ شیعہ کتب مثلاً کلینی وغیرہ دیکھیں انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کتب اہلِ شیعہ میں بھی اس نکاح کا ذکر ہے گو ایسے الفاظ میں ہے کہ شریف آدمی رسول کریم ﷺ کے خاندان کے متعلق انہیں استعمال نہیں کر سکتا۔
درایت کے علاوہ تاریخی طور پر بھی ایسے ثبوت ملتے ہیں کہ جو اس بات کو باطل قرار دیتے ہیں کہ حضرت علیؓ دل میں خواہشِ خلافت رکھتے تھے یا یہ کہ حضرت عمرؓ کو ان پر شبہ تھا۔ چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں بعض سفروں کے پیش آنے پر حضرت علیؓ کو اپنی جگہ مدینہ کا امیر مقرر فرمایا تھا۔ چنانچہ تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ واقعہ جسر کے موقع پر جو مسلمانوں کو ایرانی فوجوں کے مقابلہ پر ایک قسم کی زک اٹھانی پڑی تو حضرت عمرؓ نے لوگوں کے مشورہ سے ارادہ کیا کہ آپ خود اسلامی فوج کے ساتھ ایران کی سرحد پر تشریف لے جائیں تو آپ نے اپنے پیچھے حضرت علیؓ کو مدینہ کا گورنر مقرر کیا؎۷ اب ہر اک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر حضرت علیؓ پر حضرت عمرؓ کو ذرا بھی شبہ ہوتا جیسا کہ اوپر کی روایت کے راوی نے ثابت کرنا چاہا ہے تو پھر وہ اپنی غیبت کے دنوں میں ان کو دارالخلافہ مدینہ کا گورنر کیوں مقرر کرتے؟ کیا ایسے شخص کو جس پر بدظنی ہوتی ہے کوئی عقلمند صدر مقام کا با اختیار حاکم بنا سکتا ہے؟ وہ ضرور خوف کرتا ہے کہ ایسا نہ ہو میرے جانے کے بعد ملک میں بغاوت کر کے یہ شخص حکومت پر قابض نہ ہو جائے پس اگر فی الواقع حضرت عمرؓ کو حضرت علیؓ پر کوئی شبہ ہوتا تو کسی صورت میں بھی آپ ان کو اپنی غیبت کے ایام میں مدینہ کا گورنر نہ مقرر کرتے۔ اگر کوئی شیعہ صاحب یہ کہیں کہ اس سفر میں تو حضرت عمرؓ چار پانچ دن کے بعد ہی واپس آگئے تھے اور لشکر کی کمان حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو سپرد کر دی تھی تو انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اس کے بعد جب بیت المقدس کا محاصرہ مسلمانوں نے کیا ہے اور وہاں کے لوگوں نے اس وقت تک ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا ہے جب تک کہ خود حضرت عمرؓ وہاں تشریف نہ لائیں تو اس وقت بھی حضرت عمرؓ حضرت علیؓ کو ہی اپنے بعد مدینہ کا گورنر مقرر کر گئے تھے؎۸ حالانکہ آپ کو کئی ماہ کا سفر پیش تھا جس میں دشمن کچھ کا کچھ کر سکتا ہے۔ پس اگر یہ درست ہے کہ حضرت عمرؓ کو حضرت علیؓ پر شک تھا یا ان کے حضرت علیؓ سے تعلقات اچھے نہ تھے تو کب ممکن تھا کہ وہ انہیں مدینہ جیسے اہم مقام کا جو تمام فوجی طاقت کی کنجی تھی والی مقرر کر جاتے۔ اگر فی الواقع ان کے دل میں کوئی شک ہوتا تو وہ ضرور انہیں اپنے ساتھ لے جاتے تاکہ وہ ان کے پیچھے کوئی فتنہ نہ کھڑا کر دیں۔ اب ایک طرف تو حضرت عمرؓ کا فعل ہے کہ آپ دو دفعہ حضرت علیؓ کو اپنے بعد مدینہ کا گورنر مقرر کرتے ہیں اور ان پر اس انتہائی درجہ کے اعتماد کا ثبوت دیتے ہیں جو ایک بادشاہ اپنی رعایا کے متعلق رکھ سکتا ہے دوسری طرف مذکورہ بالا روایت ہے کہ حضرت عمرؓ کو حضرت علیؓ پر شک رہتا تھا کہ شاید خلافت کے حصول کا خیال اب تک ان کے دل میں باقی ہے ان دونوں چیزوں میں ہم کسے ترجیح دیں؟ حضرت عمرؓ کی فعلی شہادت کو یا ایک راوی کی روایت کو جس کی روایات فتنہ پردازی میں خاص شہرت رکھتی ہیں۔ پس مندرجہ بالا واقعات سے درایتاً و روایتاً دونوں طرح روزِ روشن کی طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ حضرت علیؓ کو حضرت عمرؓ سے کچھ پرخاش نہ تھی اور نہ حضرت عمرؓ کو ان پر کسی قسم کی بدظنی تھی اور اوپر کی روایت محض جھوٹ اور افتراء ہے۔
دوسرا ثبوت اس روایت کے جھوٹے ہونے کا خود اس کی اپنی عبارت ہے اس میں لکھا ہے کہ حضرت علیؓ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں اُجرت پر پانی بھرنے جایا کرتے تھے حالانکہ ایک بچہ بھی جانتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں تمام اہل بیت کے بیش بہا وظائف مقرر کر چھوڑے تھے اور حضرت علیؓ کو حسنین کے وظائف ملا کر کوئی پندرہ بیس ہزار سالانہ مل جاتا تھا۔ اب ایسے شخص کی نسبت جس کی آمد پندرہ بیس ہزار روپیہ سالانہ ہو۔ یہ کہنا کہ وہ کسی کے باغ میں پانی بھر کے روٹی کمایا کرتا تھا کس قدر خلاف عقل ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ کسی شخص نے جسے علم تاریخ سے کوئی لگاؤ نہ تھا آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے بعض حالات سن کر جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی کسب حلال کے لئے مزدوری کر لیا کرتے تھے اس حدیث میں یہ بات بھی درج کر دی ہے اور یہ خیال نہیں کیا کہ حضرت عمر کے زمانہ میں مسلمانوں کی حالت اور تھی اور رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں اور۔
جب یہ ثابت ہو گیا کہ یہ روایت جھوٹی ہے تو ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہو گیا کہ یہ کسی ایسے ہی شخص نے بنائی ہے جسے اس حدیث سے فائدہ پہنچتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اس کا فائدہ سنیوں کو نہیں پہنچتا ہے بلکہ اس حدیث میں حضرت عمر پر اعتراض کیا گیا ہے اس لئے سنی جان بوجھ کر ایسی حدیث ہرگز نہیں بنا سکتا۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس حدیث سے کس قوم کو فائدہ پہنچتا ہے؟ سو ظاہر ہے کہ اس حدیث سے شیعوں کو کئی طرح فائدہ پہنچتا ہے۔ اول اس میں حضرت عمر پر ہنسی اڑائی گئی ہے کہ آپ ایک ٹوکرا کھجوروں کا کھا گئے۔ اور ایک ٹھلیا پانی کا پی گئے۔ دوم حضرت علی کی مظلومیت بتائی گئی ہے کہ جب کہ تمام مسلمانوں کے گھر دولت سے بھر رہے تھے اور ادنیٰ سے ادنیٰ صحابی کا بھی چار ہزار درہم سالانہ مقرر تھا آپ کو کوئی نہیں پوچھتا تھا اور آپ لوگوں کے کھیتوں پر پانی بھر بھر کر گزارہ کیا کرتے تھے۔ تیسرے یہ بتایا گیا ہے کہ جب کہ حضرت عمر ٹوکرے بھر بھر کر کھجوریں کھاتے اور غیبت میں مشغول رہتے حضرت علی مزدوری کرتے اور تلاوت قرآن میں مشغول رہتے۔ چوتھے یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت عباس بھی حضرت علی کے دعوائے خلافت کے مؤید تھے۔ اب ہر اک شخص جو تعصب سے خالی ہوا سے تسلیم کرے گا کہ ان سب باتوں کا فائدہ شیعہ صاحبان کو ہی پہنچتا ہے اور انہی کے عقائد اور دعوؤں کی اس میں تصدیق ہوتی ہے۔ پس جب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ حدیث روایتاً اور درایتاً جھوٹی ثابت ہوتی ہے تو اس امر کے ثابت ہو جانے پر کہ اس حدیث کے مضمون کا فائدہ شیعہ صاحبان کو ہی پہنچتا ہے کس عقل مند کو اس بات کے تسلیم کرنے میں شبہ ہو سکتا ہے کہ اس حدیث کا بنانے والا کوئی دھوکا خوردہ شیعہ تھا جس نے مذہب کی حقیقت کو نہ سمجھتے ہوئے سچ کی تائید کے لئے ہر ایک تدبیر کا اختیار کرنا جائز ہے کے شرمناک مسئلہ پر عمل کیا ہے۔ پس مصنف
صاحبِ ہفوات کو سُنیوں کے بزرگوں کو گالیاں دینے کا حق نہیں انہیں اپنے ہی بھائی بندوں کو کوسنا چاہئے۔
یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ باوجود اس کے کہ اس حدیث کا جھوٹا ہونا روزِ روشن کی طرح ثابت ہے۔ میرے نزدیک اس کا اِحراق اور اِحکاک جائز نہیں کیونکہ جیسا کہ میں شروع میں ثابت کر چکا ہوں کسی کا حق نہیں کہ کسی مصنف کی تصنیف میں اپنی مرضی کے مطابق کوئی تغیّر کر دے۔ اگر مصنف صاحبِ ہفوات فرمائیں کہ جب حدیث جھوٹی ثابت ہو گئی تو اس کے رکھنے کا کیا فائدہ؟ مگر میں کہتا ہوں کہ فائدہ ہو نہ ہو تصنیف ایک امانت ہے اور اس میں تغیّر ایک خیانت ہے جو مسلمان کے لئے جائز نہیں۔ لیکن یہ بھی درست نہیں کہ ایسی حدیث کے رکھنے میں کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اس میں فائدہ ہے۔ ایسی احادیث انسانی اخلاق کے اس تاریک پہلو پر روشنی ڈالتی رہتی ہیں کہ بعض لوگ اپنے خیال کی تائید میں خدا کے مقدس رسولوں پر جھوٹ باندھنے سے بھی پرہیز نہیں کرتے اور اس امر کے معلوم ہونے سے عقل مند انسان بہت سے گڑھوں سے بچ جاتا ہے۔
مصنف صاحبِ ہفوات نے یہ کیا ہے کہ مسلم کتاب الایمان جلد اول میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے حضرت ابو ہریرہ کو اپنی جوتیاں دے کر کہا کہ جو شخص تم کو ملے اسے کہہ دو کہ جو لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کہے وہ جنت میں داخل ہو گا حضرت عمر سب سے پہلے ان کو ملے۔ ان کو حضرت ابو ہریرہ نے یہ بات پہنچائی تو انہوں نے ابو ہریرہ کے اس زور سے گھونسا مارا کہ وہ گر پڑے اور پھر فرمایا کہ واپس چلے جاؤ۔ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے پاس واپس آکر شکایت کی اتنے میں حضرت عمر بھی پہنچ گئے۔ رسول کریم ﷺ نے ان سے ابو ہریرہ کو مارنے کی وجہ پوچھی۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! کیا آپ نے ان سے کہا تھا کہ اس طرح لوگوں کو کہہ دو؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ اس پر حضرت عمر نے کہا کہ ایسا نہ کیجئے ورنہ لوگ خدا تعالیٰ کی عبادت ترک کر دیں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا جانے دو۱۰۹؎۔
مصنف صاحبِ ہفوات نے اس حدیث پر یہ اعتراض کئے ہیں (۱) کیا صحابہ جھوٹ بولا کرتے تھے کہ رسول کریم ﷺ کو ابو ہریرہ کے ہاتھ میں اپنی جوتیاں دینی پڑیں تاکہ لوگ ان کو جھوٹا نہ سمجھیں؟ (۲) کیا حضرت عمر ایسے گستاخ تھے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کے ایلچی کو مارا؟
(۳) کیا رسول کریم ﷺ حضرت عمرؓ سے کمزور تھے کہ حضرت عمرؓ سے ڈر کر آپ نے پہلی بات کا اعلان نہ کرایا؟۔
مصنف صاحب ہفوات نے خود مضمونِ حدیث کو صحیح تسلیم کیا ہے کیونکہ وہ اس کی تشریح کرتے ہیں کہ ”مراد یہ ہے کہ سردست جو توحیدِ خدا کا بھی اقرار کرے وہ داخلِ امن ہے اس کی جان و مال کو کوئی جوکھوں نہیں“۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ ان کو نہ قرآن کریم کا علم ہے نہ تاریخ کا انہیں یہ معلوم نہیں کہ اسلام پر کوئی بھی ایسا زمانہ نہیں آیا کہ اس نے صرف توحید پر ایمان لانے کو موجبِ نجات قرار دیا ہو۔ قرآن کریم کی نہایت ہی ابتدائی سورتوں میں بھی ایمان اور عمل دونوں کو نجات کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ سورۃ العلق جو سب سے پہلی سورۃ ہے جو رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئی اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَیَطۡغٰۤی اَنۡ رَّاٰہُ اسۡتَغۡنٰی اِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجۡعٰی اَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ یَنۡہٰی عَبۡدًا اِذَا صَلّٰی(96:7-11)۱؎ یعنی انسان سرکش ہے کہ وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی مدد سے مستغنی سمجھتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہی ہر ایک امر میں لوٹنا پڑتا ہے۔ کیا تجھے اس شخص کا حال معلوم ہے جو ایک بندہ کو جب وہ نماز پڑھتا ہے روکتا ہے۔ سورۃ شمس میں کہ وہ بھی مکیہ ہے فرماتا ہے قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰٮہَا وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰٮہَا(91:10-11)۱۱؎ جو شخص اپنے نفس کو پاک کرے گا وہ کامیاب ہو گا اور جو اسے روند ڈالے گا وہ ناکام و نامراد رہے گا۔ پھر سورۃ التین مکیہ میں فرماتا ہے اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمۡ اَجۡرٌ غَیۡرُ مَمۡنُوۡنٍ(95:7)۲؎ یعنی سب لوگ تباہ ہوں گے سوائے ان لوگوں کے کہ ایمان بھی لائیں اور نیک عمل بھی کریں انہیں لازوال بدلے ملیں گے۔ سورۃ قارعہ میں جو وہ بھی مکی سورۃ ہے فرماتا ہے فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَہُوَ فِیۡ عِیۡشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُمُّہٗ ہَاوِیَۃٌ(101:7-10)۳؎ جس کے نیک عمل زیادہ ہوں گے وہ تو پسندیدہ زندگی بسر کرے گا اور جس کے نیک عمل بدیوں سے کم ہوں گے اس کا مقام دوزخ ہو گا۔ ان آیات سے ثابت ہے کہ شروع سے اسلام ایمان اور اعمال کی اصلاح پر زور دیتا چلا آیا ہے۔ اور کسی وقت بھی اس نے یہ رخصت نہیں دی کہ صرف لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پر ایمان لے آؤ۔ کیونکر درست ہو سکتا ہے۔
اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ کوئی زمانہ اسلام پر ایسا بھی آیا ہے تب بھی اس حدیث کے یہ معنی نہیں ہو سکتے کیونکہ جیسا کہ تاریخِ اسلام کے واقف لوگ جانتے ہیں حضرت ابو ہریرہؓ ہجرت کے بعد رسول کریم ﷺ کی وفات سے صرف ساڑھے تین سال پہلے ایمان لائے تھے یعنی صلح حدیبیہ
اور جنگِ خیبر کے درمیان کے زمانہ میں۔ دوسرے جیسا کہ اس حدیث کے الفاظ سے بھی ظاہر ہے اور دوسری تاریخی شہادتوں سے بھی معلوم ہوتا ہے یہ واقعہ رسول کریم ﷺ کی وفات سے صرف دو سال پہلے کا ہے جب کہ مدینہ پر بعض مسیحی قبائل کے حملہ کی افواہیں گرم تھیں ان ایام میں رسول کریم ﷺ کا ذرا بھی آنکھوں سے اوجھل ہونا مسلمانوں میں گھبراہٹ پیدا کر دیتا تھا۔ پس جو واقعہ کہ عرب کی فتح کے بعد اور مشرکوں کے مغلوب ہو جانے کے بعد ہوا ہے۔ اس کی نسبت یہ کہنا کہ اس کا یہ مطلب ہے کہ سردست اتنا کافی ہے کہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دو کس قدر حماقت اور بے وقوفی کی بات ہے۔ کیا اس قسم کی آسانیاں ابتداء میں دی جاتی ہیں یا آخر میں؟ پس اس حدیث کا وہ مطلب ہرگز نہیں جو مصنف ہفوات نے سمجھا ہے۔ اور اسی غلط مطلب کا نتیجہ ہے کہ انہیں دَخَلَ الْجَنَّةَ کا ترجمہ یہ کرنا پڑا ہے کہ وہ داخلِ امن ہے اس کی جان ومال کو کوئی جوکھوں نہیں۔ جنت کا یہ ترجمہ خود مصنف ہفوات کی پریشانی پر دلالت کرتا ہے نعمائے دنیوی کا نام تو بے شک جنت رکھا جا سکتا ہے لیکن یہ مضمون بیان کرنے کے لئے کہ ہم اسے کچھ نہیں کہیں گے جنت کے لفظ کا استعمال صرف انہی کے دماغ کی اختراع ہے۔
جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ اس حدیث کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جو صرف لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دے وہ جنت میں داخل ہو جائے گا نہ یہ مطلب کہ اسے ہم کچھ نہیں کہیں گے تو اب سوال یہ ہے کہ اس کا کیا مطلب تھا؟ سو یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ایک تعلیم کا ایک مرکزی نکتہ ہوتا ہے اور اختصار کے لئے کبھی اس مرکزی نکتہ کو بیان کر دیا جاتا ہے اور مراد یہ ہوتی ہے کہ تمام تفصیلات اس کے اندر شامل ہیں اور یہی نکتہ تھا جسے سمجھانے کے لئے رسول کریم ﷺ نے حضرت ابوہریرہ کو بھیجا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ تنہائی کے مقام پر توحید کے حقائق پر غور کرتے ہوئے رسول کریم ﷺ کو جوش پیدا ہوا ہے کہ میں ایک نئے رنگ میں امت کو توحید کے نکتہ مرکزی ہونے کی طرف توجہ دلاؤں اور اس کے لئے آپ نے یہ طریق اختیار کیا کہ ایک صحابی کو اس کا اعلان کرنے کے لئے مقرر کر دیا۔ حضرت عمرؓ راستہ میں ملے تو آپ کو دو خیال پیدا ہوئے (۱) اگر اس پیغام کو محدود معنوں میں لیا جائے (جن معنوں میں کہ مصنف ہفوات نے قلتِ تدبر کی وجہ سے لیا ہے) تو وہ درست نہیں رسول کریم ﷺ کبھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ صرف لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنا کافی ہے جب کہ قرآن و تعلیم رسول کریم ﷺ ان معنوں کو رد کر رہے ہیں۔ پس ابو ہریرہؓ کو سمجھنے میں غلطی لگی ہے اور ان کو روکنا ضروری ہے (۲) اگر اس کی بجائے اس کے عام معنے لئے
جائیں تو یہ درست ہے لیکن ممکن ہے کہ لوگ اس کے معنے غلطی سے کچھ اور لے لیں اور اسلام میں رخنہ اندازی کریں۔ چونکہ آپ جانتے تھے کہ جس نکتہ کو رسول کریم ﷺ سمجھانا چاہتے ہیں خاص لوگ اسے پہلے ہی آپ کی تعلیم کے اثر سے سمجھ چکے ہیں اور عوام ان الفاظ سے دھوکا کھا سکتے ہیں اس لئے آپ نے حضرت ابو ہریرہ کو روکا۔ حضرت ابو ہریرہ چونکہ اس باریک بینی سے حصہ نہ رکھتے تھے جس سے عمرؓ۔ انہوں نے نہ مانا اور اس پر حضرت عمر نے ان کو دھکا دے کر واپس کرنا چاہا اور وہ گر گئے ورنہ عقل اس امر کو باور نہیں کر سکتی کہ بغیر کچھ بات کہنے کے حضرت عمر نے ابو ہریرہ کو مارا ہو۔ غرض جب رسول کریم ﷺ کے پاس پہنچ کر آپ نے حقیقت کا اظہار کیا تو رسول کریم ﷺ نے آپ کی بات کو تسلیم کر لیا۔ اور آپ کا تسلیم کر لینا ہی بتاتا ہے کہ حضرت عمر کے خیال کو آپ نے صحیح سمجھا۔ باقی رہا یہ خیال کہ کیا رسول کریم ﷺ نے اس بات کا خیال نہ کیا جس کا حضرت عمر نے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کا تعلق لوگوں سے اور قسم کا تھا اور حضرت عمر کا اور قسم کا۔ حضرت عمر چونکہ بے تکلفی سے لوگوں میں ملتے تھے آپ اس گروہ سے واقف تھے جو اپنی بے ایمانی یا عقل کی کمزوری کی وجہ سے رسول کریم ﷺ کی باتوں کو غلط رنگ دینے یا غلط طور پر سمجھنے کی مرض میں مبتلاء تھا۔ پس جب انہوں نے رسول کریم ﷺ کو ان لوگوں کی طرف توجہ دلائی کہ ایسے لوگ اس حدیث کو سن کر عمل ہی چھوڑ بیٹھیں گے تو آپ نے بھی ان لوگوں کو ٹھوکر سے بچانے کے لئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ حضرت عمر جیسے لوگ اس مسئلہ کو سمجھ ہی چکے ہیں پس یہ صداقت مسلمانوں میں سے مٹے گی نہیں اپنے حکم کو منسوخ کر دیا اور ان الفاظ میں اعلان کرانے کی ضرورت نہ سمجھی جن الفاظ میں اعلان کرنے کا حکم کہ اس سے پہلے آپ نے حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ کو دیا تھا۔
غرض یہ حدیث ہرگز قابلِ اعتراض نہیں ہے اور اس پر اعتراض صرف جہالت سے پیدا ہوا ہے جو تدبر کرنے والے لوگ ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس حدیث سے بجائے اعتراض کے صحابہ کا درجہ عظیم ظاہر ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ (۱) وہ لوگ دین کے لئے غیرت رکھتے تھے اور رسول کریم ﷺ کے تعلیم کے مغز کی حفاظت پر بہت حریص تھے (۲) وہ لوگ آپ کے اشارات کو خوب سمجھتے تھے اور پیشتر اس کے کہ آپ بالوضاحت کسی امر کو بیان کریں آپ کے کلام کی تمہیدات سے ہی آپ کے مطلب کو سمجھ جاتے تھے (۳) یہ کہ رسول کریم ﷺ کو ان لوگوں کے اخلاص پر پورا یقین تھا اور آپ ان کے مشوروں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ تعجب ہے کہ مصنفِ ہفوات اپنی اندرونی کیفیت کی وجہ سے اس خیال کی طرف تو چلے گئے کہ حضرت عمرؓ کی سمجھ میں جو بات آئی حضرت نبی کریم ﷺ کی سمجھ میں نہیں آئی مگر ادھر ذہن نہ گیا کہ حضرت عمرؓ چونکہ رسول کریم ﷺ کا مفہوم اچھی طرح سمجھ گئے تھے اس لئے آپ نے اس اعلان کرانے کی ضرورت نہ سمجھی تا ناہل لوگ دھوکا نہ کھائیں۔
مصنف صاحبِ ہفوات نے اس جگہ اپنے بُغض کے اظہار کے لئے یہ طریق بھی اختیار کیا ہے کہ بزعمِ خود حضرت عمرؓ کے چند عیوب بیان کر کے لکھے ہیں کہ کیا ایسا شخص رسول کریمؐ کی بات کو رَد کر سکتا تھا؟ میں جیسا کہ بتا چکا ہوں رسول کریم ﷺ کی بات کے رد کرنے کا اوپر کے واقعہ سے کوئی ثبوت ہی نہیں ملتا بلکہ آپؐ کی حقیقی تعلیم کے سمجھنے اور اس کی تصدیق کرنے کا علم ہوتا ہے۔ پس یہ تو سوال ہی نہیں۔ باقی رہا یہ کہ حضرت عمرؓ حضرت رسول کریم ﷺ سے ڈرتے تھے یہ عیب کی بات نہیں خوبی ہے۔ میں اس شیعہ کو دیکھنا چاہتا ہوں کہ جو یہ کہے کہ حضرت علیؓ رسول کریم ﷺ سے نہیں ڈرتے تھے۔ نبیوں سے ڈرنا عین ایمان کی علامت ہے اور صرف بے ایمان ہی اس جذبہ سے خالی ہوتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ پر ایمان خوف و رجاء کے درمیان ہے اسی طرح نبیوں پر ایمان بھی خوف و محبت کے درمیان ہے۔ جب تک دونوں جذبات نہ پائے جائیں ایمان کامل ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن تعجب یہ ہے کہ مصنف ہفوات اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے جو مثال پیش کرتے ہیں وہ حد درجہ کی کمزور اور بودی ہے وہ تفسیر حسینی اور ترمذی کے حوالہ سے اول تو یہ بیان کرتے ہیں کہ جو آیت حرمت شراب کے متعلق نازل ہوتی تھی وہ حضرت عمرؓ اور معاذؓ کو خاص طور پر بلا کر سنائی جاتی تھی۔ لیکن آپ ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ اے خدا! حرمت شراب کے بارے میں اور واضح بیان نازل فرما۔ لیکن جب وہ نہ مانے تو پھر جو کچھ ہوا وہ بقول مصنف یہ تھا کہ حضرت عمرؓ شراب سے باز نہ آئے اور آخر رسول کریم ﷺ نے ان کو مارا اور تب جا کر وہ باز آئے۔
مذکورہ بالا بیان میں مصنفِ ہفوات نے یہ اعتراض کئے ہیں۔ اول حضرت عمرؓ شراب پیا کرتے تھے دوم ان کی حالت کو دیکھ کر رسول کریم ﷺ خاص طور پر بلا کر انہیں احکام حرمت سنوایا کرتے تھے۔ سوم باوجود اس کے وہ باز نہ آتے اور یہی کہتے جاتے تھے کہ خدایا حرمت شراب کے حکم کو اور بھی واضح کر۔ مجھے ہفوات کے مصنف پر تعجب ہے کہ وہ صریح کلام کی موجودگی میں ہمیشہ الٹی چال چلتے ہیں اور غلط معنے ہی لیتے ہیں اصل حدیث کو دیکھ کر کوئی شخص ایک منٹ کے لئے بھی نہیں خیال کر سکتا کہ حضرت عمرؓ کو شراب کی عادت تھی اور وہ اسے چھوڑتے نہ تھے اس لئے ان کو احکام سنائے جاتے تھے مگر وہ پھر بھی نہ مانتے تھے بلکہ الفاظِ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ شراب کے مخالف تھے اور ان کے اس شوق کی وجہ سے رسول کریم ﷺ ان کو شراب کے متعلق آیات سنایا کرتے تھے مگر چونکہ اس وقت تک قطعی حکم ممانعت کا نہ آیا تھا حضرت عمرؓ خواہش کرتے کہ کاش اس سے بھی واضح الفاظ میں شراب حرام کی جائے تاکہ کوئی شخص اس کے قریب بھی نہ جائے۔ چنانچہ حدیث یہ ہے۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ اَنَّهُ قَالَ اَللّٰهُمَّ بَیِّنْ لَّنَا فِی الْخَمْرِ بَیَانَ شِفَاءٍ فَنَزَلَتِ الَّتِیْ فِی الْبَقَرَةِ یَسْـَٔلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ ؕ فَدُعِیَ عُمَرُ فَقُرِاَتْ عَلَیْهِ فَقَالَ اَللّٰهُمَّ بَیِّنْ لَّنَا فِی الْخَمْرِ بَیَانَ شِفَاءٍ فَنَزَلَتِ الَّتِیْ فِی النِّسَاءِ یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُکَارٰی ؕ فَدُعِیَ عُمَرُ فَقُرِاَتْ عَلَیْهِ ثُمَّ قَالَ اَللّٰهُمَّ بَیِّنْ لَّنَا فِی الْخَمْرِ بَیَانَ شِفَاءٍ فَنَزَلَتِ الَّتِیْ فِی الْمَائِدَةِ اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَاءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ اِلٰی قَوْلِهِ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ ؕ فَدُعِیَ عُمَرُ فَقُرِاَتْ عَلَیْهِ فَقَالَ اِنْتَهَیْنَا اِنْتَهَیْنَا ۔۴؎ یعنی عمر بن الخطاب کی روایت ہے کہ آپ نے کہا کہ اے اللہ ہمارے لئے شراب کا مسئلہ اس طرح بیان کر دے کہ پھر اور حاجت نہ رہے اس پر سورۃ بقرہ کی آیت یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡخَمۡرِ وَالۡمَیۡسِرِ(2:220) (تجھ سے شراب اور جوئے کے متعلق دریافت کرتے ہیں تو کہہ دے کہ ان سے پیدا ہونے والا گناہ ان کے نفع سے زیادہ ہے) نازل ہوئی اس پر عمرؓ کو بلایا گیا اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی مگر انہوں نے اس آیت کو سن کر پھر بھی یہ کہا کہ اے اللہ! ہمارے لئے شراب کے متعلق کوئی ایسا حکم دے جو بالکل واضح ہو کہ کسی تاویل کی گنجائش نہ ہو اس پر سورۃ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی کہ اے مؤمنو! جب تم نشہ کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ۔ اس پر عمرؓ کو پھر بلایا گیا اور یہ آیت سنائی گئی مگر آپ نے پھر یہی کہا کہ اے خدا! کوئی واضح حکم جس کے بعد تاویل کی گنجائش نہ رہے شراب کے بارہ میں بیان کر۔ اس پر مائدہ کی یہ آیت اُتری کہ شیطان تو شراب اور جوئے کے ذریعہ سے تم میں عداوت اور بَغض ہی پیدا کرنا چاہتا ہے اور اللہ کی یاد سے اور نماز سے روکنا چاہتا ہے پھر کیا تم (شراب اور جوئے سے) باز آؤ گے؟ (یا نہیں؟) اس پر حضرت عمرؓ نے کہا اب ہم باز آگئے ہم باز آگئے۔
اس حدیث کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عمرؓ شراب کے مخالف تھے کیونکہ حدیث میں صاف بیان ہے کہ جس وقت شراب کے متعلق ابھی کوئی حکم نہ آیا تھا اس وقت حضرت عمرؓ دعا
کیا کرتے تھے کہ خدایا شراب کے متعلق کوئی حکم نازل فرما۔ اگر وہ شراب کے خواہشمند تھے تو انہیں اس دعا کی کیا ضرورت تھی؟ شراب تو پہلے ہی ملک میں رائج تھی اور سب لوگ اس کو استعمال کرتے تھے پھر اس کی حلت کے لئے دعا کرنے کی انہیں کیا ضرورت تھی؟ جو چیز ملک میں پہلے ہی سے رائج ہو اور اس سے منع نہ کیا گیا ہو کیا اس کا مشتاق یہ دعا کر سکتا ہے کہ خدایا اس کے بارہ میں کوئی واضح حکم دے۔ یہ دعا تو صرف وہی کر سکتا ہے جو اس چیز کو رُکوانا چاہتا۔ پس جب کہ شراب کی ممانعت نہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی نہ رسولؐ کی طرف سے تو حضرت عمرؓ کا خدائی حکم کے لئے دعا مانگنا صاف بتاتا ہے کہ آپ اس کے حرام کئے جانے کی دعا کرتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ جب ایک آیت اس بارہ میں اُتری تو رسول کریم ﷺ نے خاص طور پر انہیں بلا کر سنائی تا انہیں خوشی ہو کہ میری خواہش اللہ تعالیٰ کی مرضی کے ساتھ مل گئی۔ مگر چونکہ ملک میں شراب کا بہت رواج تھا حضرت عمرؓ سمجھتے تھے کہ شراب اس طرح نہ رُکے گی۔ انہوں نے پھر دعا کی کہ خدایا اسے اور واضح کر۔ اس دفعہ کی دعا سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ شراب کے مخالف تھے کیونکہ جب خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ شراب میں نقصان زیادہ ہے تو اور بھی وضاحت کی خواہش کے یہی معنے ہیں کہ صرف یہ نہ فرما کہ اس میں نقصان ہیں بلکہ اس کو منع فرما۔ اگر وہ شراب کی تائید میں ہوتے تو اس موقع پر چاہئے تھا کہ یہ دعا کرتے کہ اے خدا! شراب کی خوبیاں بیان فرما اور اس آیت کو منسوخ کر دے مگر وہ تو وضاحت چاہتے ہیں اور بُری چیز کے متعلق حکم کی وضاحت اس کی حرمت کے ذریعہ سے ہی ہو سکتی ہے۔ جب ایک اور آیت نازل ہوئی کہ نشہ کے وقت نماز کے قریب نہ جاؤ (میں ان معنوں کو حدیث کے الفاظ کی بناء پر لے رہا ہوں ورنہ میرے نزدیک اس آیت کے معنی بالکل اور ہیں) تو پھر آپ نے وہی خواہش ظاہر کی کہ اس سے بھی واضح حکم ہو۔ آخر صاف الفاظ میں جب ممانعت ہوئی تو آپ کی تسلی ہو گئی۔ غرض الفاظ حدیث واضح طور پر بتاتے ہیں کہ حضرت عمرؓ شراب کے مخالف تھے اور یہ جو آخر حدیث میں لفظ ہیں کہ ہم باز آگئے باز آگئے ان سے مراد خود حضرت عمرؓ نہیں بلکہ مسلمان بحیثیت قوم ہیں اور ان الفاظ کے یہ معنے ہیں کہ اب ہماری قوم باز آجائے گی کیونکہ حکم صاف طور پر نازل ہو گیا ہے اور اب کسی کو تاویل کی گنجائش نہ رہے گی ورنہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ جو شخص شراب کی حرمت کی خواہش رکھتا ہو وہ خود شراب پیتا ہو اور باز آجانے سے اس کی مراد اپنا نفس ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس جواب سے ہر شخص پر مصنفِ ہفوات کے اعتراض کی لغویت ظاہر ہو جائے گی۔ اور جو ان کی دھمکی ہے کہ حضرت عمرؓ کے باز نہ آنے پر جو کچھ ہوا اسے ہم آگے بیان کریں گے۔ میں بھی اِنْشَاءَ اللہُ اسی موقع پر ان کے اس بیان کی قلعی کھولوں گا۔ وَ التَّوْفِیْقُ مِنَ اللّٰهِ
کیا گیا ہے۔ (اردو جامع انسائیکلوپیڈیا جلد ۱ صفحہ ۱۱۲ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۷ء)
۱۳؎ بو علی سینا (۹۸۰ء۔۱۰۳۷ء) ایشیاء کا جامع العلوم طبیب، فلسفی اور ماہر ریاضیات۔ انہوں نے بہت سی کتابیں لکھی جن میں ”القانون“ اور ”الشفاء“ کو بہت شہرت حاصل ہوئی۔ (اردو جامع انسائیکلوپیڈیا جلد ۱ صفحہ ۵۱ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۷ء)
۱۴؎ مسلم كتاب الايمان باب بيان الكبائر واكبرها۔
۱۵؎ سنن نسائی كتاب عِشرة النساء باب حب النساء۔
۱۶؎ النمل: ۲۴۱۷؎ البقرة: ۱۶۶۱۸؎ التوبة: ۲۴
۱۹؎ البقرة: ۱۷۸۲۰؎ ص: ۳۲ تا ۳۴۲۱؎ الحشر: ۱۰
۲۲؎ الروم: ۲۲
۲۳؎ سنن نسائی كتاب عشرة النساء باب حب النساء
۲۴؎ لسان العرب جلد ۳ صفحہ ۷ زیر لفظ ”حب“ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۹۸۸ء
۲۵؎ القصص: ۵۷۲۶؎ الانعام: ۱۲۴۲۷؎ یوسف: ۳۳
۲۸؎ بخاری كتاب المغازی باب احد يحبنا و نحبه
۲۹؎ لسان العرب جلد ۳ صفحہ ۸ زیر لفظ ”حب“ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۹۸۸ء
۳۰؎ بخاری كتاب المرضى باب فضل من ذهب بصره
۳۱؎ تیمتھیس ۱باب ۲ آیت ۱۲ پاکستان بائیبل سوسائٹی لاہور مطبوعہ ۱۹۹۴ء
۳۲؎ البقرة: ۲۲۹
۳۳؎ مسلم كتاب الصلوٰة باب نهى من اكل ثوما او بصلا او كراثا او نحوها اس باب کے تحت دو مختلف روایتوں میں یہ الفاظ مل جاتے ہیں۔
۳۴ تا ۳۷؎ فروع کافی جلد ۲ كتاب النكاح باب حب النساء۔ مطبوعہ نولکشور ۱۸۸۶ء
۳۸؎ فروع کافی جلد ۲ كتاب النكاح باب غلبة النساء۔ مطبوعہ نولکشور ۱۸۸۶ء
۳۹؎ جواب الکافی صفحہ ۱۸۷ مطبوعہ بار اول مطبع الخلیلی آره انڈیا
۴۰؎ بخاری كتاب التفسير باب تبتغى مرضاة ازواجك قد فرض الله لكم تحلة ايمانكم
۴۱ التحريم: ۵۴۲ التحريم: ۱۱۴۳ المائدة: ۶۱
۴۴ المزمل: ۱۳
۴۵ اقرب الموارد جلد ۲ صفحہ ۸۷۴ زیر لفظ ”غس“ مطبوعہ قم ایران ۱۴۰۳ھ ق
۴۶ المجادلة: ۱۵۴۷ النّسا: ۹۴۴۸ الفتح: ۷
۴۹ الفاتحة: ۷۵۰ الاعراف: ۱۶۸۵۱ الاعراف: ۱۵۱
۵۲ الاعراف: ۱۵۵۵۳ الانبياء: ۸۸۵۴ الشوریٰ: ۳۸
۵۵ بخاری کتاب النکاح باب مو عظة الرجل ابنته لحال زوجها
۵۶ یوسف: ۹
۵۷ ابن ماجہ کتاب الدعاء باب اسم الله الاعظم
۵۸ الاعراف: ۱۸۱
۵۹، ۶۰ ابن ماجہ کتاب الدعاء باب اسم الله الاعظم
۶۱ ھود: ۷۴
۶۲ بخاری کتاب الاشربة باب الشرب من قدح النبی صلی الله عليه وسلم و انيته
۶۳، ۶۴ بخاری کتاب الطلاق باب من طلق و هل يواجه الرجل امراته بالطلاق
۶۵ البقرة: ۲۳۸۶۶ الاحزاب: ۵۱
۶۷ فروع کافی جلد ۲ صفحہ ۱۷۶، ۱۷۷ کتاب النکاح باب اخر منه مطبوعہ نولکشور ۱۸۸۶ء
۶۸ النور: ۲۷۶۹ مریم: ۲۸، ۲۹۷۰ مریم: ۳۰
۷۱ مریم: ۳۱ تا ۳۵
۷۲ بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی صلی الله عليه وسلم و وفاته ”فامره“ کا لفظ حاشیہ میں دیا گیا ہے۔
۷۳
۷۴ مسند احمد بن حنبل جلد ۶ صفحہ ۱۳۸ حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں ”قال انه يهون علی انی رايت بياض كف عائشة فی الجنة“۔
۷۵
۷۷؎کشف الغمة عن جمیع الامة جلد ۲ صفحہ ۸۷ مطبوعہ مصر ۱۹۵۱ء
۷۸؎لقمن: ۱۴(لقمن: ۱۴)
۷۹؎ طبقات ابن سعد جلد ۸ صفحہ ۴۵ مطبوعہ ۱۳۲۱ھ میں روایت کے الفاظ اس طرح ہیں ” و قد رايتها في الجنة ليهون بذلك على موتى كانى ارى كفيها يعنى عائشة “
۸۰؎ال عمران: ۵۰(ال عمران: ۵۰)۸۱؎سبا: ۱۳(سبا: ۱۳)
۸۲؎ابوداؤد کتاب الصوم باب الصائم يبلع الريق
۸۳؎بخاری کتاب الصوم باب القبلة للصائم
۸۴؎عون المعبود (شرح ابوداؤد) جلد ۲ صفحہ ۲۸۵ مطبوعہ ملتان ۱۳۹۹ھ
۸۶،۸۵؎فروع کافی جلد اول کتاب الصيام باب الرجل يجامع اهله فی السفر مطبوعہ لکھنؤ ۱۳۰۲ھ
۸۷؎فروع کافی جلد اول کتاب الصيام باب الطيب الريحان للصائم
۸۸؎مؤطا امام مالک کتاب الصيام باب ماجاء في الرخصة في القبلة للصائم
۸۹؎
۹۰؎
۹۱، ۹۲، ۹۳؎فروع کافی جلد اول کتاب الصيام باب الصائم يقبل او يباشر مطبوعہ لکھنور ۱۳۰۲ھ
۹۵،۹۴؎لسان العرب جلد ۱ صفحہ ۴۱۴، ۴۱۴ زیر لفظ ”بشر“ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۹۸۸ء
۹۶؎فروع کافی جلدا کتاب الصيام باب الصائم يقبل او يباشر لکھنور ۱۳۰۲ھ
۹۷، ۹۸، ۹۹؎فروع کافی جلدا کتاب الصيام باب في الصائم يذوق القدور و يرق الفرخ مطبوعہ لکھنور ۱۳۰۲ھ
۱۰۰؎فروع کافی جلدا کتاب الصيام باب فی الرجل يمص الخاتم والحصاة والنواة مطبوعہ لکھنور ۱۳۰۲ھ
۱۰۱، ۱۰۲، ۱۰۳؎ابن ماجه كتاب النکاح باب حسن معاشرة النساء۔
۱۰۴؎بخاری کتاب العیدین باب الحراب والدرق یوم العید
۱۰۵
۱۰۶؎البقرة : ۱۵۷
۱۰۷؎تاریخ طبری جلد ۴ صفحہ ۳۰۳ مطبوعہ بیروت ۱۹۸۷ء
۱۰۸؎البداية والنهاية جلد ۷ صفحہ ۵۵ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۶ء
۱۰۹؎مشکوٰة کتاب الایمان الفصل الثالث
۱۱۰؎العلق : ۷ تا ۱۱ ۱۱۱؎الشمس : ۱۰، ۱۱ ۱۱۲؎التين : ۷
۱۱۳؎القارعة : ۷ تا ۱۰
۱۱۴؎ترمذی ابواب التفسير تفسير سورة المائدة آيت انما يريد الشيطن ان يوقع بينكم العداوة والبغضاء.......
از
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
سورۃ یونس رکوع ۶ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
سب سے پہلے میں اُن دوستوں سے جو اس موقع پر تشریف لائے ہیں اور جن کو الگ ملنے کا موقع نہیں ملا اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہتا ہوں۔ اس کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق کے ماتحت کل اِنْشَاءَ اللّٰہُ ایسا مضمون بیان کروں گا جو عام ضروریاتِ سلسلہ کے علاوہ بعض ایسے مسائل پر روشنی ڈالے گا جو سلسلہ کے لئے نہایت ضروری ہیں۔ اور وہ نہ صرف اس زمانہ کی ضروریات کو بلکہ تمام زمانہ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے دوستوں کے لئے نہایت مفید و بابرکت ہوگا۔
آج میں چند متفرق امور پر بولنا چاہتا ہوں۔ اور اگر ممکن ہوا اور فرصت مل گئی تو آج ہی وہ مضمون بھی بیان کرنا شروع کر دوں گا۔ لیکن سب سے پہلے ان متفرق امور کو بیان کرنا چاہتا ہوں کیونکہ وہ بھی جماعت کے اجتماع کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ جتنے بھی ہم پھیلتے ہیں اس سے زیادہ ہی وہ اپنے فضل کو وسیع کر دیتا ہے۔ چونکہ پچھلے سال جلسہ گاہ کافی نہیں معلوم ہوتی تھی اس لئے اس دفعہ پچھلے سال کی نسبت ڈیڑھ ہزار فٹ کی جگہ زیادہ کی گئی تھی مگر باوجود جگہ کے زیادہ کرنے کے پھر بھی آج جگہ خالی نظر نہیں آتی۔ کل تک بعض دوستوں کی رائے تھی کہ شاید اس دفعہ پہلے کی نسبت کم لوگ آئے ہیں۔ یہ بات ہمارے لئے تعجب انگیز تھی اس لئے ہم نے اس تحقیقات کی ضرورت محسوس کی کہ لوگوں کے کم آنے کی کیا وجہ ہے۔ کل صبح کی نماز کے وقت تک منتظمین کی رائے تھی کہ گیارہ سو آدمی کم آیا ہے۔ جو واقع میں فکر کی بات تھی کیونکہ یہ کمی خلافِ معمول تھی جبکہ ہر سال پہلے سے زیادہ لوگ آتے تھے۔
آج جب صبح کی نماز پڑھ کر میں نے سلام پھیرا تو معاً دائیں طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیکھا۔ اس پر میں نے سمجھا کہ ہمارا اندازہ غلط ہے اس دفعہ بھی لوگ ہمارے اندازہ سے زیادہ ہی آئیں گے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائیں اور پھر لوگ کم آئیں۔ بادشاہ کے آنے پر تو لوگ زیادہ آیا کرتے ہیں۔ چنانچہ آج جلسہ گاہ شہادت دے رہا ہے اس بات کی کہ باوجود جلسہ گاہ کے پہلے کی نسبت زیادہ وسیع ہونے کے اب زیادہ آدمیوں کی گنجائش نہیں۔ اور یہ ہمارے لئے نشان ہے کیونکہ دوسری مجالس میں دنیوی فوائد ہیں اور یہاں دنیوی نقصان ہیں۔ ان مجالس میں لوگ خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور یہاں آنے پر دوسرے لوگ ناراض ہوتے ہیں۔ ہمارا معاملہ دوسرے لوگوں سے بالکل الگ ہے۔
قبل اس کے کہ میں اصل تقریر کو شروع کروں۔ میں ان دوستوں کے لئے اپنے جذبات کا اظہار ضروری سمجھتا ہوں جو اس سال ہم سے جدا ہو گئے ہیں اور جو سلسلہ کے لئے عمود تھے۔ جدائی ایک تلخ چیز ہے لیکن خدا کا قانون بھی ہے اس لئے ہمیں وہ تلخ گھونٹ پینا ہی پڑتا ہے۔ بیشک بسا اوقات جدائی رحمت کا موجب ہو جاتی ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کے قانون کا شکوہ نہیں کرتے لیکن یہ بھی اسی کا قانون ہے کہ مفید وجود کے اُٹھ جانے سے ہر دل غم محسوس کرتا ہے۔
اس دفعہ ہمارے سلسلہ میں سے چند دوست ہم سے جدا ہو گئے جن کے ساتھ بعض خصوصیات وابستہ تھیں۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب تھے۔ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ایسے زمانہ میں قبول کیا جبکہ چاروں طرف مخالفت زوروں پر تھی اور پھر طالب علمی کے زمانہ میں قبول کیا اور مولویوں کے گھرانہ میں قبول کیا۔ آپ کا ایسے خاندان کے ساتھ تعلق تھا کہ جس کا یہ فرض سمجھا جاتا تھا کہ حضرت مسیح موعود سے دنیا کو روکیں۔ اور اس وقت ساری دنیا آپ کی مخالفت پر تُلی ہوئی تھی۔ پس ان کا ایسے حالات میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قبول کرنا ان کی بہت بڑی سعادت پر دلالت کرتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب پر مخالفت کا زمانہ ہی نہیں آیا۔ جب انہوں نے ایک دوست سے حضرت مسیح موعود کا دعویٰ سنا تو آپ نے سنتے ہی فرمایا کہ اتنے بڑے دعویٰ کا شخص جھوٹا نہیں ہو سکتا اور آپ نے بہت جلد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کرلی۔ حضرت صاحب نے ان کا نام اپنے بارہ حواریوں میں لکھا ہے۔ اور ان کی مالی قربانیاں اس حد تک بڑھی ہوئی تھیں کہ حضرت صاحب نے ان کو تحریری سند دی کہ آپ نے سلسلہ کے لئے اس قدر مالی قربانی کی ہے کہ آئندہ آپ کو قربانی کی ضرورت نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وہ زمانہ مجھے یاد ہے جبکہ آپ پر مقدمہ گورداسپور میں ہو رہا تھا اور اس میں روپیہ کی ضرورت تھی۔ حضرت صاحب نے دوستوں میں تحریک بھیجی کہ چونکہ اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ لنگر خانہ دو جگہ پر ہو گیا ہے ایک قادیان میں اور ایک یہاں گورداسپور میں۔ اس کے علاوہ اور مقدمہ پر خرچ ہو رہا ہے لہٰذا دوست امداد کی طرف توجہ کریں۔ جب حضرت صاحب کی تحریک ڈاکٹر صاحب کو پہنچی تو اتفاق ایسا ہوا کہ اسی دن ان کو تنخواہ تقریباً ۴۵۰ روپے ملی تھی وہ ساری کی ساری تنخواہ اسی وقت حضرت صاحب کی خدمت میں بھیج دی۔ ایک دوست نے سوال کیا کہ آپ کچھ گھر کی ضروریات کے لئے رکھ لیتے تو انہوں نے کہا کہ خدا کا مسیح لکھتا ہے کہ دین کے لئے ضرورت ہے تو پھر اور کس کے لئے رکھ سکتا ہوں۔ غرض ڈاکٹر صاحب تو دین کے لئے قربانیوں میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ حضرت صاحب کو انہیں روکنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور انہیں کہنا پڑا کہ اب آپ کو قربانی کی ضرورت نہیں۔
ایک دفعہ میری صحت کمزور ہو گئی تو میں گورداسپور چلا گیا۔ حضرت صاحب کو خیال آیا کہ شاید بیوی کے آنے پر میری صحت ٹھیک ہو جائے تو آپ نے ڈاکٹر صاحب کو لاہور لکھ بھیجا کہ محمود احمد کی صحت اچھی نہیں اس لئے آپ اپنی لڑکی یہاں بھیج دیں۔ ڈاکٹر صاحب میڈیکل کالج لاہور میں پروفیسر تھے اور پرنسپل آپ سے کچھ شاکی رہتا تھا۔ اُن کو خیال تھا کہ پرنسپل چھٹی تو دیگا نہیں اس لئے میں استعفٰی دے دوں گا۔ اس خیال سے آپ استعفٰی دینا چاہتے تھے کہ آپ کو دوست نے اس سے روکا اور کہا کہ چھٹی کیوں نہیں لیتے۔ انہوں نے کہا حضرت صاحب نے مجھے یہ لکھا ہے اب میں کسی طرح رُک نہیں سکتا اور میں جلدی قادیان پہنچنا چاہتا ہوں۔ اگر پرنسپل نے چھٹی دیدی تو خیر ورنہ اسی وقت استعفٰی دیدوں گا تا میرے جانے میں دیر نہ لگے۔
پھر قادیان کی رہائش باوجود مشکلات کے اختیار کی۔ میں نے اس خیال سے قادیان کی رہائش سے اُن کو روکا تھا کہ وہ یہاں گزارہ نہیں کر سکیں گے۔ چنانچہ اُنہوں نے تکلیف سے ہی گزارہ کیا لیکن قادیان کی رہائش نہ چھوڑی۔
دوسرے دوست چوہدری نصر اللہ خاں صاحب تھے جو گو اتنے پرانے احمدی نہ تھے لیکن سلسلہ کی خدمات میں بہت آگے نکل گئے تھے۔ میں نے جب ایک دفعہ اعلان کیا کہ سلسلہ کے لئے ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو دین کی خدمت کے لئے اپنے اوقات کو وقف کریں تو اس پر سب سے پہلے لبیک کہنے والے چوہدری نصر اللہ خاں صاحب ہی تھے۔ جو ادب اور احترام ان میں تھا وہ بہت کم لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ کامیاب وکیل تھے، صاحب جائیداد تھے، زمین کافی تھی اس لئے یہاں آزادی سے گزارہ کرتے تھے۔ مگر ان کی فرمانبرداری کو دیکھا ہے کہ گزارہ لینے والوں میں بھی وہ فرمانبرداری نہیں نظر آتی۔
ایک دفعہ ان کے بیٹے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے انہیں جلسہ کے موقع پر کسی دوست کے ہاں اپنے ساتھ ٹھہرنے کے لئے کہا تو چوہدری صاحب نے کہا میں تو یہیں عام لوگوں میں ٹھہروں گا دال روٹی کھاؤں گا زمین پر سوؤں گا۔ پہلے لوگوں نے پلاؤ کھا کھا کر ایمان خراب کر لیا۔ میں اپنا ایمان خراب نہیں کرنا چاہتا۔ چنانچہ وہ عوام میں ہی ٹھہرے۔ ان میں بہت ہی اخلاص تھا۔ ایک دفعہ کوئی معاملہ میرے پاس لائے۔ اور کہا۔ یہ بات یوں ہونی چاہئے۔ میں نے کہا۔ یوں نہیں ہونی چاہئے۔ دوسرے دوستوں نے اس پر رائے زنی کر کے کہا کہ اسے پھر دوبارہ پیش کرو تو کہا میں تو یہاں ایمان لینے آیا ہوں ایمان ضائع کرنے نہیں آیا۔ جب ایک دفعہ پیش کرنے سے حضرت صاحب نے فرما دیا ہے کہ یہ بات یوں نہیں ہونی چاہئے تو پھر میرا تمہارا کیا حق ہے اس کے خلاف بولنے کا۔ باوجود کامیاب وکیل اور صاحب جائیداد ہونے کے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں آ گئے اور سلسلہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔
تو ایک پرانا خادم سلسلہ ہم سے اُٹھ گیا۔ آئندہ نسلوں کی یاد کے لئے اور انہیں بتانے کے لئے کہ ہم میں ایسے مخلص موجود ہیں یہ چند کلمات کہے ہیں تا دوسروں کو بھی تحریک ہو اور کام کر کے دکھائیں۔ دینی خدمات میں ان کی طرح حصہ لیں۔
اب میں ایک تازہ واقعہ کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں۔ جو دہلی میں ہوا ہے اور وہ شردھانند صاحب کا قتل ہے۔ شردھانند صاحب آریوں کے لیڈر تھے اور پہلے منشی رام کے نام سے مشہور تھے کامیاب پلیڈر تھے۔ ان کی اس حد تک تعریف کرنی چاہئے کہ باوجود اس کے کہ ان کا مذہب جھوٹا تھا پھر بھی اس کی اشاعت میں اپنی عمر کو لگا دیا جس کو غالباً وہ سچا سمجھتے تھے۔ ان کا قتل کرنے والا مسلمان ہے۔ وہ بیان کرتا ہے کہ میں نے انہیں اس لئے قتل کیا ہے کہ وہ اسلام کے خلاف تبلیغ کرتے تھے اور میرا مذہب یہ سکھاتا ہے کہ غازی سیدھا جنت میں جاتا ہے۔ بقول خود کابل سے ایک پستول لایا تھا کہ اس کے ذریعہ ایک کافر کو قتل کر کے خدا کے حضور ثواب حاصل کرے۔
یہ واقعہ کئی لحاظ سے اہم ہے۔ ایک تو شردھانند صاحب آریوں اور پولیٹیکل جماعتوں کے لیڈر سمجھے جاتے تھے دوسرے وہ ایک ہی ہندو تھے جن کو مسجد میں ممبر پر چڑھا کر جہاں خدا کا کلام پڑھا جاتا اور سنایا جاتا ہے مسلمانوں نے ان سے تقریر کرائی۔ اور جس کو اس لئے مسجد میں منبر پر کھڑا کیا گیا کہ اس کے ذریعہ سے ہندو مسلمانوں میں اتحاد ہو۔ پانچ سال بعد اسی قوم کا فرد اسے قتل کرتا ہے یہ سمجھتے ہوئے کہ اس قتل کے نتیجہ میں وہ سیدھا جنت میں چلا جائے گا۔ تو اس لحاظ سے بھی یہ واقعہ اہمیت رکھتا ہے کہ یہ ایک مذہبی فعل ہے۔ کسی فساد یا جھگڑے کی بناء پر نہیں بلکہ اس بناء پر کیا گیا ہے کہ اسلام کی یہ تعلیم ہے۔
تیسرے اس لحاظ سے یہ واقعہ اپنے اندر اہمیت رکھتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق ہے۔ آریہ سماج کے لیڈر کے قتل کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئی آج سے ۳۴ سال پہلے شائع کی گئی۔ آپ نے رؤیا میں دیکھا کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا ہے جس کی آنکھوں سے خون ٹپکتا ہے۔ پوچھتا ہے کہ لیکھرام کہاں ہے۔ اور ایک اور شخص ہے جس کے متعلق وہ پوچھتا ہے۔ اس کا نام آپ کو یاد نہ رہا۔ تو دو شخصوں کے قتل کی پیشگوئی تھی۔ ان میں سے ایک لیکھرام صاحب تھے اور دوسرے کا نام آپ کو اس وقت یاد نہ تھا۔لےعجیب حکمت ہے کہ پہلے شردھانند صاحب کا نام منشی رام تھا اور مارے جانے کے وقت ان کا نام شردھانند تھا۔ اسی وجہ سے حضرت صاحب کو ان کا نام یاد نہ رہا۔ پھر وہ لیکھرام کے بھی قائم مقام ہیں۔ چنانچہ بیج نے لکھا ہے کہ جب لیکھرام کے قتل کی خبر جالندھر پہنچی تو سوامی شردھانند صاحب اپنا کام چھوڑ کر لاہور آگئے اور سوامی لیکھرام صاحب کا کام انہوں نے سنبھال لیا۔
بہر حال آریوں میں سے بڑے پایہ کے لیڈر تھے۔ بہت سی باتیں ان کے قتل کی لیکھرام صاحب کے قتل سے ملتی ہیں۔ لیکھرام صاحب ہفتہ کے دن جمعہ وعید سے اگلے روز مارے گئے اور یہ جمعرات کو مارے گئے۔ جو جمعہ کے ساتھ کا دن ہے۔ وہاں بھی قاتل کمبل پوش تھا اور یہاں بھی کمبل پوش ہی ہے۔ وہاں بھی قاتل کو پہلے روکا گیا لیکن اس کو اندر جانے کی اجازت دی گئی اور
یہاں بھی اسی طرح ہوا۔ گو یہ پیشگوئی کے مطابق ہوا لیکن یہ صحیح نہیں کہ جو بات پیشگوئی کے مطابق ہو وہ ضرور اچھی ہوتی ہے۔ مثلاً یہ پیشگوئی کہ نبی کی مخالفت ہوگی۔ اس پر استہزاء کیا جائے گا۔ لیکن باوجود اس کے اس کی مخالفت اور استہزاء اچھی بات نہیں۔ پھر یہ بھی پیشگوئی ہوتی ہے کہ فلاں شخص دین کی راہ میں مارا جائے گا۔ اور ایک شخص کے ناحق مارے جانے کی خبر دی جاتی ہے۔
بہر حال اس فعل کے اندر بعض بھیانک باتیں ہیں جن کے باعث ہم اظہارِ نفرت کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ یہ ایسا ظالمانہ اور ناپاک خیال ہے (کسی کو محض کافر ہونے کی وجہ سے قتل کرنا) کہ اس سے بڑھ کر ناپاک نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ شخص نہ صرف خود برا فعل کرتا ہے بلکہ مذہب کو بھی بدنام کرتا ہے۔ جو قوم اس لئے مارتی ہے کہ اُس کے مذہب پر لوگ حملہ کرتے ہیں وہ گویا ثابت کرتی ہے کہ اس کا مذہب تلوار کا محتاج ہے اس میں خوبی نہیں۔ وہ اپنی خوبی کے زور سے نہیں پھیل سکتا بلکہ تلوار کے زور سے پھیلتا ہے۔ اور ایسا مذہب تو خود اس لائق ہے کہ اسے دنیا سے مٹا دیا جائے۔ لیکن اسلام کی اشاعت تلوار سے نہیں ہوئی ہے۔ جو شخص اسلام کے لئے تلوار اٹھاتا ہے وہ اسلام کا دشمن ہے۔ اس لئے ہم اس فعل کی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے نہایت حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس نے قوم اور ملک کے امن کو برباد کر دیا ہے اور دینِ اسلام کو بدنام کر دیا ہے۔
ہماری قوم نے بیڑا اٹھایا ہے کہ محبت کے ذریعہ حق کو پھیلایا جائے گا۔ نرمی کے ذریعہ حق کو قائم کیا جائے گا اس لئے ہمیں سب سے زیادہ اس فعل پر اظہارِ نفرت کرنا چاہئے۔ ہماری قوم ہی ہے کہ جس نے پانچ آدمی محض اس لئے دے دیئے ہیں کہ مذہب کے نام پر دنیا کے امن کو برباد نہ کیا جائے۔ ہمارے پانچ آدمی لئے صرف اس لئے سنگسار کئے گئے کہ وہ کہتے تھے کہ مذہب کے لئے جہاد جائز نہیں۔ آج صرف ہم ہی یہ دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے عزیز دوستوں نے محض اسی غرض سے تکلیف کے ساتھ جان دے دی کہ مذہب کو امن سے پھیلایا جائے۔
کابل کی سرزمین گواہ ہے۔ ہمارے عزیز دوستوں کی لاشیں نہیں کابل کے پتھر اور ہزاروں پتھر گواہی دے رہے ہیں کہ ہم مذہب کے معاملہ میں زبردستی اور ظلم کو جائز نہیں سمجھتے۔
اس واقعہ میں بھی ہم کہتے ہیں کہ قاتل اس فعل کا ذمہ دار نہیں۔ وہ مجبور ہے، وہ معذور ہے، اسے اس قتل پر مجبور کیا گیا کیونکہ قتل جیسے فعل کو انسانی فطرت قبول نہیں کرتی بلکہ اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انسان اس قسم کے فعل کا مرتکب نہیں ہو سکتا جب تک وہ مجبور نہ ہو۔ اسے کوئی اور طاقت مجبور نہ کرے۔ اس شخص کو مجبور کرنے والی وہ زبردست طاقت تھی کہ جس کا انسان مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اور وہ عقیدہ کی طاقت ہے۔ یہ ایسی زبردست طاقت ہے کہ انسان آگ میں کود سکتا ہے۔ سمندر میں پڑ سکتا ہے۔ پہاڑ سے ٹکرا سکتا ہے۔ لیکن اس طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اور اس عقیدہ کے قائم کرنے والے علماء اور مسلمانوں کے لیڈر ہیں۔ پس شردھانند کے قاتل، خلافت کمیٹیوں اور دیوبندی علماء اور زمیندار کے مضامین ہیں کہ کافروں کا قتل جائز ہے۔ وہ آرام کرسیوں پر بیٹھ کر اس قسم کے مضامین لکھنے والے کہ اسلام کے لئے قتل ضروری ہے اس کے قاتل ہیں۔
آج کس طرح ہندوستان کے ایک گوشہ سے دوسرے گوشہ تک شور اٹھا ہوا ہے کہ اس خون میں سختی سے کام لیا گیا۔ مگر میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ فعل ایسا ہی بُرا ہے کہ جس پر آج تم اسقدر اظہار نفرت کی آواز اٹھا رہے ہو تو اس وقت تم نے کیوں نہ آواز اٹھائی جبکہ ہمارے آدمی محض اس لئے مارے گئے کہ وہ خدا کے دین پر قائم تھے اور تم سے بڑھ کر وہ اسلام پر قائم تھے۔ اور آج تم ایک آریہ لیڈر کے قتل کو ظالمانہ فعل قرار دیتے ہوئے نفرت کی آواز بلند کرتے ہو یہ بتاتا ہے کہ تمہاری طرز منافقانہ طرز ہے۔ پس اگر واقعہ میں یہ فعل ظالمانہ فعل ہے اور اس قابل ہے کہ اس پر اظہارِ نفرت کیا جائے۔ اس کے خلاف آواز اٹھائی جائے تو کابل کی سرزمین میں تمہاری آواز کیوں نہ اٹھی۔ اگر اس وقت تم نے مبارکبادی کی تاریں دی تھیں تو آج تمہیں کس طرح لوگ سچا سمجھ سکتے ہیں۔ آج تم محض ہندوؤں کے ڈر سے جھوٹ بولتے ہو۔ درحقیقت تمہارے دل اس فعل پر خوشیاں منا رہے ہیں۔ میں نے اُس وقت تم سے اپیل پر اپیل کی تھی کہ دیکھو اگر اس وقت تم اظہارِ نفرت نہ کرو گے تو دنیا سے امن اٹھ جائے گا۔ انسانی زندگی جو ذی حرمت چیز ہے خطرہ میں پڑ جائے گی لیکن تم نے بجائے اظہار نفرت کرنے کے خوشی کا اظہار کیا اور اسلام کی تعلیم کے مطابق ثابت کرنا چاہا۔ جس کا آج یہ نتیجہ دیکھ رہے ہو۔ ہم نے تو اپنی عزیز جانیں صرف اِس لئے دی تھیں کہ آئندہ دنیا میں امن قائم ہو لیکن انہوں نے سمجھا کہ ہم اپنی جانیں بچانے کے لئے کہتے ہیں۔ خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ ہماری جانیں تو اسی کے لئے ہیں اور ہم اس کی راہ میں موت سے بہتر کوئی چیز نہیں دیکھتے۔ اس سے بہتر کونسی موت ہو سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے رستہ میں اور اس کے دین کی راہ میں آئے۔ ہم نے اس بات کو اپنی جانیں دے کر دکھا بھی دیا۔ لیکن ہمیں تو یہی نظارہ نظر آرہا تھا کہ آج جو ہمارے قتل کے فتوے دے رہے ہیں اور ہمارے قتل ہونے پر خوشیاں مناتے ہیں جب کہ ہم اسلام کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔ تو کل دوسروں کو تو ضرور ہی قتل کر کے اسلام کو بدنام کریں گے۔ اور اس پر سوائے سید رضا علی اور محمد علی صاحب کے باقی سب نے نہ صرف خود ہمارے خلاف آواز اُٹھائی بلکہ ہمارے موافق آواز اُٹھانے والوں کو بھی روکا بلکہ خوشی اور مبارکبادی کی تاریں دیں۔
اُنہوں نے کہا کہ خدا کی پیدا کی ہوئی چیز کا مار دینا ہی اچھا فعل ہے۔ خدا نے کہا۔ آؤ۔ ہم تمہارے ہی ہاتھوں اچھا فعل کرا کے تمہارے ہی منہ سے اقرار کرائیں گے کہ یہ برا فعل ہے اور تمہیں جھوٹا اور منافق ثابت کریں گے۔ ایک لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہنے والے مسلمان پر پتھر برسائے جاتے ہیں۔ ایک ایک قطرہ خون کا بہا کر ایک ایک دانت توڑا جاتا ہے۔ ایک ایک ہڈی توڑی جاتی ہے۔ یہ موذی محمد رسول اللہ کی گدی پر بیٹھنے کا دعویٰ کرنے والے مبارکبادی کی تاریں دیتے ہیں۔ آج ان کی شرافت اور دعوٰی اسلام کہاں سے آگیا اور اُس وقت کہاں چلا گیا تھا۔ اُس وقت ایک مسلمان ایک لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنے والے کے قتل پر تو درد پیدا نہ ہوا آج ایک ہندو لیڈر پر درد پیدا ہو رہا ہے۔ یہ منافقانہ درد ہے۔ وہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے مرتد کے لئے وہ فتویٰ دیا تھا کیونکہ وہ اس سے مدت پہلے ہر کافر کے قتل کا فتویٰ دے چکے تھے۔ پس آج اگر کوئی شردھانند کا قاتل ہے تو وہ عبدالرشید نہیں بلکہ وہ مولوی اور لیڈر ہیں جنہوں نے قتل کے فتوے دیئے اور اگر کوئی قابل سزا ہے تو عبدالرشید نہیں بلکہ وہ مولوی ہی ہیں جنہوں نے انسان کی جان کو بیدردی سے تلف کرنے کے فتوے دیئے۔
اس کے بعد میں ایک سیاسی مسئلہ پر کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ کہ عرب اور حجاز میں جو اختلاف ہے اس کے متعلق ہمارا کیا رویہ ہونا چاہئے۔ اس اختلاف کے باعث نہایت افسوس ناک اور عبرتناک فسادات ہوئے ہیں اس لئے اس مسئلہ کے متعلق جتنا بھی مسلمان فکر کریں اتنا ہی تھوڑا ہے۔ یہ معاملہ عجیب عجیب رنگ اختیار کر رہا ہے۔ پہلے جب عرب ترکوں سے علیحدہ ہوئے تو ہندوستان کے مسلمان عربوں کے خلاف ہو گئے اور ابنِ سعود کے ساتھ تھے اور اس کی تائید میں تھے۔ جب ابن سعود بادشاہ بنا تو اس کے خلاف ہو گئے۔ صحیح واقعات سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ عربوں نے ترکوں کے خلاف بغاوت نہیں کی تھی بلکہ اسلام کی حفاظت کے لئے وہ اثنائے جنگ میں ترکوں سے علیحدہ ہو گئے۔ اصل بات یہ ہے کہ
جب حجازیوں کو معلوم ہوا کہ اٹلی کی حکومت مکہ و مدینہ پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اٹلی والے اس قسم کے لوگ ہیں کہ جب وہ حملہ کرنا چاہیں تو وہ کسی کے روکے رُکا نہیں کرتے اس لئے اُنہوں نے ترکوں کو لکھا کہ اگر آپ حجاز کی حفاظت اور اٹلی سے مقابلہ کی طاقت رکھتے ہیں تو آپ تیار ہو جائیں ورنہ ہمیں اسلام کی عزت اور لئے علیحدہ کر دیں تا ہم خود حفاظت کا بندوبست کر لیں۔ ترکوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس فوجیں نہیں ہیں۔ تو پھر عرب ان سے علیحدہ ہو گئے اور انگریزوں سے مد د لی۔ میرے نزدیک انہوں نے ارضِ حجاز کی حفاظت کے لئے نہایت دُور اندیشی سے کام لیا۔ مگر اِدھر کے مسلمان اس کے مخالف ہو گئے اس وجہ سے کہ وہ انگریزوں سے کیوں مل گئے۔
ہاں انگریزوں کا عربوں سے معاہدہ تھا کہ وہ تمام عرب کو آزاد کر دیں گے۔ اس معاہدہ کی بناء پر جنگ کے ختم ہونے پر آزادی کا مطالبہ کیا۔ مگر جنگ کے ختم ہونے کے بعد خود یورپ کی حکومتوں میں ملکوں کی تقسیم کے متعلق اختلاف تھا اس لئے انگریز آزادی کا فیصلہ نہ کر سکے اور عربوں کو آزادی نہ ملی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شریف حسین نے غلطی سے چیلنج دے دیا کہ اگر آزاد نہ کرو گے تو میں خلافت کا دعویٰ کر دوں گا اور تمام مسلمانوں کو تمہارے خلاف کھڑا کر دوں گا۔ انگریز جانتے تھے کہ مسلمان تائید تو کیا کریں گے۔ اس کے خلافت کے دعویٰ کے ساتھ ہی خود اس کے مخالف ہو جائیں گے۔ ادھر شریف حسین ابھی عرب کو انگریزوں کے پنجہ سے نکالنے اور آزاد کرانے کی ہی کوشش کر رہا تھا کہ ابنِ سعود خلاف کھڑا ہو گیا۔ اب ابنِ سعود کی طاقت زیادہ تھی وہ آخر جیت گیا اور لڑائی میں قبے وغیرہ بھی گرائے گئے۔ دوسرے لوگوں نے کہا کہ اب یہ ہمارے سپرد کر دو۔ لیکن سعودی لوگ بھلا کہاں وہ چیز دوسروں کو دے سکتے تھے جس پر ان کی طاقت خرچ ہوئی تھی۔ بھلا شیر کے منہ سے بھی کسی نے شکار چھڑایا ہے۔ شیر نے اپنے پنجوں سے شکار مارا۔ اب وہ گیدڑوں کے کہنے سے کہ ہم بھی تمہارے ساتھ تمہارے پیچھے پیچھے پھرتے تھے شکار چھوڑ سکتا ہے؟ تمہارے ریزولیوشنوں سے تو ابنِ سعود نہیں جیتا ہے۔ تم نے اتنے ریزولیوشن ترکوں کی تائید میں پاس کئے تھے تو کیا اس سے وہ جیت گئے۔ ہمارا رویہ عرب کے مسئلہ میں یہی ہے کہ عرب کی بہتری اور بہبودی اس میں ہے کہ وہاں مستقل حکومت ہو خواہ وہ کوئی ہو۔ عرب کبھی ترقی نہیں کر سکتے جب تک ان میں ایک باقاعدہ اور مستقل حکومت قائم نہ ہو۔ اب چونکہ ابنِ سعودی حاکم بن چکا ہے اور اس کو طاقت حاصل ہو چکی ہے اس لئے اب اس کی ہی حکومت کا قائم رہنا عربوں کے
لئے بہتر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سعودیوں میں سختی اور وحشت بھی ہے مگر باوجود اس کے وہ علم کے خواہشمند ہیں۔ ان میں علم کا چرچا ہے اس لئے ان کے حکومت پر رہنے سے ملک میں علم کا چرچا ہو جائے گا۔ اور عرب وحشت و جہالت سے بھی آزاد ہو جائے گا۔ دوسرے ان کے پاس سپاہی ہیں جو گھر سے کھا کر لڑنے والے ہیں۔ ملک کے لئے قربانی کرنے والے سپاہی ہیں۔ ایسے لوگوں کی اگر حکومت قائم رہے تو عرب بہت جلدی اعلیٰ درجہ کی ترقی پر پہنچ سکتا ہے۔ ہاں ایک خوف ہے کہ وہ روضہ رسول اللہ کو نہ کہیں گرا دیں۔ اگرچہ امید تو یہی ہے کہ خود ابنِ سعود اس کی حفاظت کرے گا۔ مگر اس کے ساتھی شاید اسے حفاظت میں کامیاب نہ ہونے دیں۔ اور اس کی حفاظت کے لئے بہتر طریق یہ ہے کہ ان کو یہ یقین دلایا جائے کہ ہم آپ لوگوں کے دوست اور خیر خواہ ہیں۔ اور یہ اس صورت میں ہے کہ آپ روضہ کی حفاظت کریں۔ باقی گالیاں دینا فضول بات ہے۔ گالیوں سے وہ ڈر تو نہیں جائے گا۔ ہاں محبت اور نرمی سے اسے سمجھا سکتے ہیں۔
شردھانند صاحب کے قتل کی نسبت میں اور بات کہنا چاہتا ہوں۔ ان کے قتل سے ہماری جماعت پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوئی ہے۔ جن قوموں میں زندگی ہوتی ہے وہ جسم سے زندہ نہیں ہوتیں۔ وہ روح سے زندہ ہوتی ہیں۔ شردھانند کے قتل نے ہندو قوم کی روح کو زندہ کر دیا ہے۔ پشاور سے لے کر کلکتہ تک کے تمام ہندو بلا امتیاز متفق ہو گئے ہیں کہ ہم سارے مل کر شردھانند کے کام کو جاری رکھیں گے۔ اپنی جانیں اور روپیہ شدھی میں خرچ کر ڈالیں گے۔ اس میں تمام وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس کی موت سے پہلے اس کے مخالف تھے۔ اس کے کام کے مخالف تھے۔ اس کے مارے جانے کے ساتھ ممکن ہے کہ پچاس یا سو سال اور زندگی ہندو قوم کو مل جائے۔ وہ مولوی جن کے فتوؤں اور تحریکوں سے یہ واقعہ ہوا وہ تو گھر میں خوش ہو رہے ہوں گے اور کہتے ہوں گے کہ بڑا اچھا کام ہوا۔ وہ قاتل کیسا خوش قسمت اور اسلام کا خادم ہے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کے فتوؤں کی بدولت اسلام کس خطرہ میں پڑ گیا ہے۔ اسلام کے لئے تاریک دن ہمارے سامنے آگیا ہے۔ اس کی مصیبت کا زمانہ پھر شروع ہو گیا ہے اس لئے سارا بوجھ ہماری گردنوں پر آپڑا ہے۔ ہماری تو وہی مثال ہے ؎
غم اپنے دوستوں کا بھی کھانا پڑے ہمیں
اغیار کا بھی قضیہ چُکانا پڑے ہمیں
اب اسلام پر جو حملہ ہو گا اس کا دفعیہ بھی ہمیں کرنا پڑے گا۔ شردھانند کا کام یہ تھا کہ ہندو مذہب کی ترقی اور اشاعت ہو۔ اس کے ایک دفعہ مرنے پر تمام ہندو اس کے کام کو پہلے سے بہت زیادہ زور کے ساتھ جاری رکھنا چاہتے ہیں تو اے ہمارے دوستو! اور عزیزو! اس قوم کی کتنی بڑی ذمہ داری ہے کہ جس کا قائم کرنے والا کہتا ہے کہ سینکڑوں دفعہ مجھے قتل کیا گیا۔ جو کہتا ہے
صد حسین است در گریبانم
اس کو کون مارنے والے تھے؟ کیا وہی نہ تھے جنہوں نے دینِ اسلام کے راستہ میں روکیں پیدا کیں۔ اگر آج ہندو قوم باوجود ہزاروں اختلافات کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک ہو جاتی ہے اس لئے کہ ایک لیڈر نے جان دی تو اے احمدیو! اگر مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سو دفعہ جان دی تو کیا آپ ایک ہو کر اسلام کی اشاعت کا اقرار نہ کریں گے آپ کو اس نے اسلام کے پہرے دار مقرر کیا ہے اس لئے آپ پورے زور سے اس کی اشاعت میں لگ جائیں اور اس کی حفاظت کریں۔ یاد رکھو اگر اس زمانہ میں مسلمانوں نے اسلام کی حفاظت نہ کی تو اس کا وہی حال ہو گا جو سپین میں مسلمانوں کا ہوا۔ آج دنیا دلائل کے ساتھ فتح ہو سکتی ہے۔ اور دلائل کے ہتھیار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں اتنے دیئے ہیں کہ شمار میں نہیں آسکتے۔ آج اسلام کے لئے مشکلات کے دن ہیں۔ کل ایک دوست نے سوال کیا تھا کہ بیعت کا کیا مقصد ہے۔ بیعت کا مفہوم یہی ہے کہ وفادارانہ طور پر ایک ہاتھ پر جمع ہو کر اقرار کیا جاتا ہے کہ ہم اسلام کے لئے مالوں اور جانوں کو قربان کریں گے۔ اور اس کام کے لئے ایک جماعت کی ضرورت ہے جو اسلام کے لئے رات دن ایک کر کے اپنے مال و جان قربان کر دے۔ اگر اسلام کی حفاظت اور اشاعت کوئی کام ہے تو اس کے لئے جماعت کی ضرورت ہے۔ اور جماعت بن نہیں سکتی جب تک کہ لوگ ایک ہاتھ پر جمع ہو کر اقرار نہ کریں۔ جہاں میں اپنی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں وہاں غیر احمدیوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ یہ دن امن کے دن نہیں ہیں۔ یہ زمانہ گھروں میں بیٹھنے کا زمانہ نہیں ہے۔ تم خدا کو کیا منہ دکھاؤ گے جب تمہارے سامنے اسلام کی یہ حالت ہے۔ آج اللہ تعالیٰ نے ایک ہاتھ بڑھایا ہے۔ اگر تمہیں اسلام سے کچھ بھی محبت ہے تو آؤ آج اس ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اقرار کرو۔ اور دوسروں کے ساتھ مل کر سب کچھ قربان کر دو۔
اس سال دو نئے اخبار جاری کروائے ہیں۔ ایک تو مستقل طور پر جاری ہو گیا ہے وہ سن رائز ہے۔ دوسرا اخبار شرطی طور پر جاری ہوا ہے۔ میں نے کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ کوئی اخبار جاری نہ ہونے دوں گا جب تک کہ اس کے متعلق پہلے غور نہ کر لوں گا۔ وہ جماعت میں اشاعت ہونے والے اخباروں کے متعلق تھا۔ اب جس اخبار کی اجازت دی ہے وہ ایسا اخبار ہے کہ جس کی اشاعت غیر مسلموں میں ہوگی۔ پچھلے دنوں امریکہ میں پانچ ہزار پادری عیسائیت کی تبلیغ کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ اس اخبار کی غرض یہ ہے کہ غیروں میں تبلیغ ہو اور اپنوں میں تبلیغ کے لئے جوش پیدا ہو۔ گویا یہ اخبار تبلیغ کے لئے اور تبلیغ کا جوش پیدا کرنے کے لئے جاری کیا گیا ہے اس لئے دوست نہ صرف خود خریدار بنیں بلکہ زیادہ تر دوسروں کو ہی خریدار بنائیں۔ کیونکہ یہ اخبار نہیں بلکہ اشاعت ہے۔ دوسرا اخبار شرطی ہے۔ جو عورتوں میں ترقی کی روح پیدا کرنے کے لئے جاری کیا گیا ہے۔ یاد رکھو جب تک عورتوں میں ترقی کا احساس نہیں پیدا ہو گا تب تک مرد بھی پورے طور پر کام نہیں کر سکتے۔
یہ سال تبلیغ کے لحاظ سے اعلیٰ درجہ کا سال ہے۔ اس سال اعلیٰ طبقہ کے لوگ زیادہ مقدار میں سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں۔ داخل ہونے والے عموماً بڑے طبقہ کے اور تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔ پھر اس سال نئی جگہوں پر جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔ ہزارہ میں ۱۸ معزز خوانین سے ۱۳ داخلِ سلسلہ ہوئے ہیں۔ یہ علاقہ بالکل الگ پڑا تھا۔ سرحد میں بھی جماعت قائم ہوئی ہے۔ وہاں جماعت قائم ہونے سے افغانستان میں احمدیت پھیل سکتی ہے کیونکہ وہ لوگ کسی حکومت کے ماتحت نہیں۔ نہ انگریزوں کے نہ افغانستان کے ماتحت ہیں۔ ہاں افغانستان سے ان کے تعلقات ہیں۔ ہندوستان سے باہر سماٹرا میں بھی جماعت قائم ہوئی ہے۔ وہاں ایک معزز غیر احمدی نے اپنے پاس سے اخبار جاری کرایا ہے۔ جس میں اس نے کہا ہے کہ احمدیت کے مضامین بھی نکالے جائیں۔ اور وہ باوجود غیر احمدی ہونے کے احمدیہ سکول جاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
دمشق میں جماعت قائم ہو رہی ہے۔ وہاں سے چندہ بھی آیا ہے۔ وہاں سے ایک دوست احسان حِقی صاحب آئے ہوئے ہیں جو یہاں تعلیم پا رہے ہیں۔ (اس وقت ان کو حضرت صاحب نے کھڑا کر کے ان کا تعارف کرایا)۔ یہ معزز خاندان کے ہیں۔ ان کا خاندان جو ایک معزز اور
بارسوخ خاندان ہے تمام کا تمام احمدی ہو گیا ہے۔ یہ صاحب پانچ زبانیں جانتے ہیں اور بہت اخلاص رکھتے ہیں۔ یہاں اُردو زبان اور دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ غرض اس سال تبلیغ کا کام اچھے پیمانہ پر ہوا ہے۔ اب میں ایسا طریق تبلیغ نکالنے والا ہوں کہ اس سے اگلے سال بغیر زائد خرچ کے اور ممالک میں بھی جماعتیں قائم ہوں گی۔
ایک اور خوش کن بات یہ ہے کہ ہمارے وہ عزیز جو دو سال ہم سے جدا رہے دو سال کی قید کے بعد چھوٹ کر آئے ہیں۔ آپ لوگوں نے ان کی تقریر سنی ہو گی۔ کہ روسی گورنمنٹ نے ان کو کیا کیا تکالیف دیں۔ تاریک قید خانوں میں ان کو ڈالا گیا۔ میں نے گورنمنٹ انگریزی کو ان کی خبر معلوم کرنے اور واپس بلانے کے لئے لکھا۔ اس موقع پر میں گورنمنٹ انگریزی کا شکریہ ادا کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس نے کوشش کر کے ان کا پتہ لگایا اور واپس ہندوستان میں بھیج دیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں مسلمانوں سے ہمدردی نہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ سچی بات ہے ہمیں تو اسلام سے ہمدردی ہے۔ اب دیکھو ایک طرف اسلام کی تبلیغ کرنے مسلمان کہلانے والوں کے ہاتھوں پتھروں سے مارے جاتے ہیں اور ایک طرف عیسائی گورنمنٹ ہمارے گم شدہ آدمی کو تکلیفوں اور قید خانوں سے نکال کر ہندوستان واپس لاتی ہے حالانکہ وہ عیسائیت کے خلاف تبلیغ کرنے جاتا ہے۔
محمد امین خاں صاحب کے متعلق بھی افواہ تھی کہ وہ قتل ہو گئے ہیں۔ اب ایک دوست کا خط آیا ہے کہ یہ غیر معتبر افواہ ہے۔
پچھلے سال جلسہ پر معاً میرا حلق خراب ہو گیا۔ تین ماہ تک آواز بالکل خراب رہی۔ جس کے اثر سے قریباً سارا سال میری طبیعت خراب رہی دودھ کا ایک چمچہ سوڈے کے ساتھ بھی ہضم نہیں کر سکتا تھا۔ دست ہو کر نکل جاتا تھا۔ باوجود اس کمزوری صحت کے خدا نے بہت سا کام کرنے کی توفیق بخشی۔ اس سال ترجمہ قرآن کریم بھی کر رہا ہوں۔ اس کا ایک حصہ اگلے سال اِنْشَاءَ اللّٰہُ مکمل ہو کر شائع ہو جائے گا۔
اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں ایک اور عظمت اور قوت حاصل ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ نمائندوں کے انتخاب میں وہ لوگ جو ہمیں کافر سمجھتے تھے اور ہماری شکل تک دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے انہوں نے بھی
اپنی مدد کے لئے ہماری طرف رخ کیا حتیٰ کہ ایک پیر نے میری طرف لکھا کہ پیروں میں سے ایک نمائندہ منتخب ہونا چاہئے۔ چونکہ آپ بھی پیر ہیں اس لئے میرے حق میں ووٹ دلوائیں۔ میں نے اسے جواب دیا کہ پیروں کا کام گدیوں پر ہے کونسلوں میں نہیں۔ آپ کونسل سے باہر قومی مدد کر سکتے ہیں۔ غرض اس ذریعہ سے بھی ہماری جماعت کی خاص عظمت قائم ہو گئی ہے کیونکہ ہماری جماعت کی مدد سے ۱۶؍مسلمان کونسل کے ممبر منتخب ہوئے ہیں۔ جماعت کی طاقت کا اس سے اندازہ ہو سکتا ہے۔ میرے پاس ایک بڑا آدمی پہنچا اور اس نے کہا کہ آپ اپنی جماعت کو میرے حق میں بھی ووٹ دینے کے لئے ارشاد کریں۔ میں نے کہا کہ ہم چونکہ دوسرے آدمیوں کے حق میں ووٹ دینے کا وعدہ کر چکے ہیں اس لئے اب ہم آپ کے لئے ووٹ دینے سے معذور ہیں۔ پھر جب انہوں نے بہت اصرار کیا تو میں نے کہا آپ ہماری طرف اتنا کیوں رخ کرتے ہیں۔ آپ دوسرے لوگوں سے مدد لے سکتے ہیں تو وہ کہنے لگا کہ آپ کے ووٹروں میں دو باتیں ہیں جو اوروں میں نہیں اس لئے ہماری نظریں آپ کی جماعت کی طرف ہی اُٹھتی ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہ بات ہے کہ آپ کے ووٹر آپ کے مشورہ سے خود میرے پاس چل کر آئیں گے لیکن دوسری جگہ تو ایک ایک ووٹر کے گھر پر ہمیں جانا پڑے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ دوسرے ووٹر اگر آٹھ ہزار بھی میرے حق میں ووٹ دینے کا وعدہ کریں تو مجھے ان پر اعتبار نہ ہو گا مگر آپ کے ووٹ اگر ۲۰۰ ہوں ۔ تو میں اپنے لئے ۲۰۰ کے ۲۰۰ ہی ووٹ سمجھوں گا۔ تیسری بات یہ ہے کہ دوسرے ووٹر تو ہم سے آ کر کچھ مانگتے ہیں اور ہمیں ان کو اپنے پاس سے کھانا وغیرہ دینا پڑتا ہے مگر آپ کے لوگ مفت کام کرتے ہیں۔ ایک نے بیان کیا کہ آپ کے آدمی صرف خود ہی ووٹر نہیں بنتے بلکہ دوسروں کو بھی ووٹر بنا لیتے ہیں اور تمام علاقہ کو سنبھال لیتے ہیں۔ ان وجوہات کے باعث اس دفعہ بڑے بڑے آدمی خود ہمارے پاس بار بار چل کر آئے جو ہمیں بالکل حقیر خیال کرتے تھے۔ اور واقعہ بھی ایسا ہی ہوا کہ سوائے ایک ممبر کے باقی سارے کے سارے کہ جن کی ہم نے تائید کی انتخاب میں کامیاب ہو گئے۔ یہ اتحاد اور اخلاص کی طاقت ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ جس اتحاد اور اخلاص سے ہم نے موجودہ الیکشن میں کام کیا ہے۔ اگر آئندہ بھی اسی طرح کام کیا تو تین چار الیکشنوں میں قریباً تمام بڑے بڑے آدمیوں کی توجہ ہماری طرف ہو گی اور اس کے نتیجہ میں کئی فوائد بھی ہمیں حاصل ہونے کی اُمید ہے۔ چنانچہ پچھلے دنوں سردار جوگندر سنگھ صاحب وزیر زراعت پنجاب یہاں آئے تو وہ اس اہمیت کی بناء پر ہمارے ہاں ہی ٹھہرے اور مجھ سے بھی ملے۔ ملاقات کے دوران میں بٹالہ والی سڑک کا بھی ذکر آ گیا جس پر
انہوں نے فرمایا کہ اس محکمہ کا انچارج میں ہی ہوں آپ ہدایت فرمائیں کہ آپ کے سیکرٹری مجھے خط لکھ دیں تاکہ میں محکمہ کو توجہ دلا سکوں۔ اور اب ان کا خط آیا ہے۔ تو انہوں نے کہا پہلے تو یہ منظور شدہ تھا کہ ڈسٹرکٹ بورڈ کے پاس روپیہ جمع ہو گا تو اس سے سڑک بنائی جائے گی لیکن اب اُمید ہے کہ گورنمنٹ کے خرچ سے سڑک پختہ بنائی جائے۔ پھر ہمیں یہ بھی امید ہے کہ الیکشن میں ہماری مدد کا کم از کم یہ نتیجہ تو ضرور ہو گا کہ ممبر ہماری مخالفت نہیں کریں گے۔ چنانچہ شیخ عبدالقادر صاحب بیرسٹر ایٹ لاء نے کہا کہ لوگوں نے الیکشن میں میری اس لئے مخالفت کی تھی کہ میں نے احمدیوں کی مسجد کا افتتاح کیا۔ مگر میں احمدی جماعت کا بہر حال مشکور ہوں کیونکہ اس نے مجھے ایسے کام کرنے کے موقع دیا کہ جو قیامت تک تاریخوں میں میری عزت کا باعث رہے گا اور آئندہ بھی میں جماعت احمدیہ کی ہر خدمت کے لئے تیار ہوں۔
مسجد لندن کے متعلق پانچ سال ہوئے میں نے تحریک کی تھی۔ مسجد برلن کا چندہ بھی اس میں شامل کیا گیا۔ اب میں عورتوں میں تحریک کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں کہ یا تو وہ مسجد لندن اپنے اس روپیہ کے معاوضہ میں لے لیں۔ اور یا اپنا روپیہ بطور قرضہ ہمارے پاس رہنے دیں۔ تاہم اسے سلسلہ کی اور ضروریات کے لئے کام میں لے آئیں۔ ان دو باتوں میں سے جو بات وہ پسند کریں اس کے لئے ہم تیار ہیں۔
افتتاح مسجد کا واقعہ اپنے اندر اس قدر اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اب دنیا کی کوئی تاریخ اس کو نہیں مٹا سکتی اور معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ مقدر ہو چکا ہے کہ یہ مسجد ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تعمیر کے لئے اور اسکی اس شہرت کے لئے ایسے سامان کر دیئے کہ جن سے اس کی اہمیت اس قدر بڑھ رہی ہے کہ حیرانی ہی ہوتی ہے۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے اسے میرے ولایت جانے تک روکے رکھا۔ میرے وہاں جانے سے سلسلہ کی یکدم حیرت انگیز شہرت ہو گئی کیونکہ ولایت کے لئے یہ عجیب بات تھی کہ ایک نبی کا خلیفہ وہاں پہنچتا ہے اس لئے ہر اخبار میں ہمارا ذکر متواتر ہوتا رہا اور کثرت کے ساتھ فوٹو چھپتے رہے حتیٰ کہ ایک جرمن اخبار کے پورے صفحہ میں میرا فوٹو شائع ہوا۔ اسی طرح امریکہ میں بھی ہمارے متعلق خبریں شائع ہوئیں۔ چونکہ میرے وہاں جانے پر میرے ہاتھ سے مسجد کی بنیاد رکھی گئی تھی اس لئے پہلے بنیاد کے موقع پر بڑے بڑے وزیر ولارڈ آئے۔ ان وجوہات کے باعث اب لوگوں کو یہ انتظار لگی ہوئی تھی کہ کب یہ مسجد مکمل ہو تو ہم دیکھیں اور جب مکمل ہونے لگی تو شہرت
کے اور کئی ایک قدرتی سامان پیدا ہونے شروع ہو گئے۔ مثلاً ایک یہ بات شہرت کا باعث بن گئی کہ یہ تحریک کی گئی کہ ابن سعود کے لڑکے کو بلایا جائے۔ چنانچہ ابن سعود نے بھی اس تحریک کو پسند کیا اور اپنے لڑکے امیر فیصل کو جو مکہ کا گورنر ہے بھیجنے کا وعدہ کیا۔ اب امیر فیصل کے خاص افتتاح مسجد کے لئے آنے کی خبر سے اور بھی شہرت ہونے لگی۔ جب امیر فیصل ولایت پہنچا تو بیان کیا جاتا ہے کہ ہندوستان سے مولویوں نے تاریں دیں کہ یہ کیا کام کرنے لگے ہو۔ ہماری کیوں ناک کاٹنے لگے ہو۔ تمہاری اس حرکت سے ہماری ناکیں کٹ جائیں گی۔ اسی طرح مصر سے بھی ہمارے خلاف آوازیں اُٹھیں۔ یہ تاریں گئیں اور اسے روک دیا گیا۔ اب اس کے روکنے پر سارے برطانیہ میں اور بھی شور پڑ گیا کہ روکنے کی کیا وجہ ہوئی۔ یہ کیا بات ہے کہ امیر فیصل مکہ سے چل کر جس کام کے لئے ولایت پہنچتا ہے اس کام سے اسے روکا جاتا ہے کوئی خاص راز ہو گا۔ ولایت کے لوگ راز کے پیچھے بہت پڑ جاتے ہیں۔ راز کو معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ مضمون پر مضمون نکلنے لگے کہ اس میں راز کیا ہے۔ ان مضامین کا ہیڈنگ ہی یہ ہوتا تھا کہ راز کیا ہے جب کئی روز تک بڑے زور سے آرٹیکل پر آرٹیکل نکلے کہ کیا بات ہے جس کی وجہ سے امیر فیصل یہاں پہنچ کر افتتاح مسجد سے رک گیا ہے۔ تو وہاں لوگوں میں اور بھی ہیجان پیدا ہوا کہ چلو اس مسجد کو تو چل کر دیکھیں کہ جس کے افتتاح کے لئے امیر فیصل مکہ سے یہاں پہنچا اور یہاں آکر اس کے افتتاح سے رک گیا۔ دراصل یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی اس منشاء کے ماتحت ہوا کہ ہمارے سلسلہ کی شہرت بھی ہو جائے اور پھر احسان بھی کسی کا نہ ہو۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ افتتاح تو پھر بھی ایک غیر احمدی کے ہاتھ سے ہوا۔ ہم کہتے ہیں کہ ہم نے کب اسلام کو تمہاری طرح تنگ ظرف مانا ہے۔ ہمارے نزدیک اسلام ایسا تنگ ظرف نہیں۔ عجیب بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عیسائیوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں تو ان پر اعتراض نہیں کرتے اور ہمارے صرف چابی دینے پر اعتراض کرتے ہو۔
پھر وہ مسجد اتنی بابرکت ہے کہ اس کے افتتاح کے ساتھ ہی اس کی برکات ظاہر ہونی شروع ہو گئیں۔ افتتاح ہی کے موقع پر چار انگریز مسلمان ہو گئے۔ پھر افتتاح پر ابھی دو ہفتہ ہی گزرے کہ ایک اعلیٰ درجہ کا تعلیم یافتہ نوجوان انگریز مسلمان ہو گیا۔ جس نے اسلام کی تائید میں ایک نہایت لطیف مضمون شائع کیا ہے اسی وجہ سے اس کے باپ نے اس پر تشدد شروع کر دیا جو اس بات کی علامت ہے کہ اب وہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ اسلام تو واقعہ میں پھیلنے لگا ہے۔ پہلے ہمارے کام کو ایک کھیل سمجھتے تھے لیکن اب محسوس کرنے لگے ہیں کہ اسلام پھیل رہا ہے۔ وہاں کا ایک اخبار لکھتا ہے کہ ہزاروں تعلیم یافتہ لوگوں کے دلوں میں محسوس ہو رہا ہے کہ اب ہمیں عیسائیت کو چھوڑنا پڑے گا۔ اور پادریوں نے بھی ہمارے خلاف شور مچانا شروع کیا ہے یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ اسلام کو زبردست چیز خیال کرنے لگے ہیں۔ کیونکہ مقابلہ کا خیال شیر کے مقابل ہی پیدا ہوتا ہے۔ مٹی سے بنے ہوئے شیر کے لئے نہیں پیدا ہوتا۔ ہمیشہ شیر سے ہی کوئی ڈرا کرتا ہے۔
آج ایک اور خوشخبری آپ کو سناتا ہوں۔ آج ہی تار آیا ہے کہ آسٹرین حکومت کا وزیر احمدی ہو گیا ہے۔ اس نے احمدیت کا اعلان کر دیا ہے۔ اور چھ اور انگریزوں نے اس ہفتہ میں احمدیت کا اعلان کیا ہے۔ غرض اس افتتاح کے بعد ۱۳؍ بڑے آدمی سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں یہ گویا تیرہ حواری ملے ہیں۔ حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ پہلے مسیح کے ساتھ جو کچھ ہوا یہاں اس کے اُلٹ ہو گا اس لئے میں کہہ سکتا ہوں کہ ان تیرہ حواریوں میں یہودا اسکریوطی اِنْشَاءَ اللّٰہُ کوئی نہیں ہو گا۔
اللہ تعالیٰ نے مجھے پہلے ہی بشارت دی تھی کہ میرے ولایت جانے سے اسلام کی فتوحات شروع ہوں گی۔ بعض دوستوں نے کہا بھی کہ میرے وہاں جانے سے کیا ہوا۔ حالانکہ اول تو جماعت نے ہی مجھے وہاں بھیجا تھا میں خود اپنے ارادہ سے وہاں نہیں گیا تھا بلکہ مجھے تو خواب میں بعض مصائب و مشکلات بھی دکھائے گئے جو میری غیر حاضری میں ہمارے خاندان میں پیدا ہونے والے تھے۔ لیکن باوجود اس کے جماعت کی کثرت رائے دیکھ کر میں وہاں گیا اور پھر میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ جماعت یہ خیال نہ کرلے کہ میرے وہاں جاتے ہی احمدی ہونا شروع ہو جائیں گے۔ میں تو وہاں تبلیغ کے لئے حالات دیکھنے جاتا ہوں۔ پھر بعد کے حالات سے معلوم ہوا کہ میرے وہاں جانے میں اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت تھی کہ وہ فتوحات جو میرے وہاں جانے کے نتیجہ میں اب شروع ہوئی ہیں وہ کسی اور شخص کی طرف منسوب نہ ہوں اور اسلام پر کسی خاص شخص کا احسان نہ ہو بلکہ براہِ راست حضرت مسیح موعود کی طرف منسوب ہوں۔ پھر میں کہتا ہوں جب نبی بھی کوئی ایسا نہیں گزرا جس نے ایک دن میں فتح حاصل کی ہو تو ایک خلیفہ کو کس طرح ایک دن میں فتوحات مل سکتی ہیں۔ لیکن بہرحال اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سلسلہ ایسی ترقی کر رہا ہے کہ ایک انگریز لکھتا ہے کہ اس سلسلہ کی ترقی کی نظیر پچھلی صدیوں کے کسی سلسلہ میں نظر نہیں آتی۔
اب میں دوستوں کو چند نصائح کرتا ہوں۔ جب جماعتیں بڑھا کرتی ہیں تو حاسد لوگ جماعت کی ترقی کو دیکھ نہیں سکتے اور بعض لوگ کمزور دل ہوتے ہیں۔ جب تک تو ان کا غیروں سے مقابلہ رہتا ہے تب تک ان میں جرأت رہتی ہے جب غیروں سے مقابلہ جاتا رہے تو اپنوں کے ہی گریبان پکڑنے لگتے ہیں۔ میں جماعت کے بعض افراد کے اخلاص میں کمزوریاں دیکھتا ہوں۔ یہ کمزوری علاج چاہتی ہے۔ یہ کمی اور کمزوری آگ کی مانند ہوتی ہے۔ آگ ایک جگہ پر نہیں رہا کرتی وہ اردگرد بھی پھیلتی ہے اس لئے دوست خاص طور پر روحانیت کی فکر کریں۔ انہوں نے اپنی منزلِ مقصود کو پایا نہیں بلکہ ابھی تو وہ ابتدائی حالت میں ہیں۔ دیکھو اسلام چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے اس لئے کام کرنے کی ابھی بہت ضرورت ہے اور کام کے لئے اخلاص، حسنِ ظنی اور قدر کی ضرورت ہوتی ہے۔ بغیر ان باتوں کے کام نہیں ہوا کرتا۔ بدظنی کو ہی دیکھ لو اس مرض سے کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں ایک غلام تھا۔ جس کو اس کا آقا بہت کم قیمت پر فروخت کر رہا تھا۔ خریدار نے آقا سے پوچھا اس کو کیا کیا ہنر آتے ہیں۔ کہا بہت آتے ہیں۔ خریدار نے پوچھا۔ پھر کیوں اسے کم قیمت پر فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن غلام نے کہا کہ مجھ میں بہت خوبیاں ہیں صرف ایک نقص ہے کہ میں ایک جھوٹ بول لیا کرتا ہوں۔ خریدار نے کہا۔ معمولی بات ہے اور اسے خرید لیا۔ اس سے کام کراتا رہا۔ ایک دن غلام روتا ہوا آقا کے پاس گیا اور کہا اور مجھ میں ہزار عیب بھی کیوں نہ ہوں۔ لیکن میں اپنے آقا کا بے وفا نہیں ہوں۔ آقا کی بے وفائی کبھی نہیں کر سکتا۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ آپ کی بیوی بے وفا ہے۔ اس کا ایک شخص سے ناجائز تعلق ہے۔ اور میں نے خود غیر سے ناجائز تعلق رکھتے ہوئے دیکھا ہے۔ اور اب اس کے دوست نے اسے یہ پٹی پڑھائی ہے کہ وہ آپ کو قتل کر دے تاکہ وہ آرام سے اپنے تعلق کو قائم رکھ سکیں۔ ایک دو دفعہ تو آقا نے کہا کہ میں یہ یقین نہیں کر سکتا میری بیوی پاک دامن ہے۔ مگر یہ سن کر غلام نے زور زور سے رونا اور چلانا شروع کر دیا اور کہا کہ غلام کا کام صرف عرض کرنا ہے باقی حضور مالک ہیں۔ تب تو اس آقا کو بڑی فکر ہوئی۔ اس نے پوچھا تمہیں کس طرح پتہ لگا۔ اس نے کہا میں نے دیکھا ہے کہ وہ آپ کی بیوی کو اُسترا دے کر کہہ رہا تھا کہ جب تمہارا خاوند سو رہا ہو تو اس کے گلے پر یہ اُسترا پھیر دینا اگر حضور باور نہ کریں تو اس کا تجربہ کر لیں۔ مگر رات کو سوئیں نہیں خبردار ہو کر رہیں۔ اب تو آقا کو فکر ہوئی اور وہ اس امتحان کے لئے تیار ہو گیا۔ اور پھر اس کے بعد اسی طرح وہ غلام آقا کی بیوی کے پاس گیا اور کہا کہ مجھ میں بہت عیب ہیں۔ مگر میں آپ کا بے وفا نہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ آپ کا خاوند کسی غیر عورت سے ناجائز تعلق رکھتا ہے۔ اور وہ تمہیں قتل کر دینا چاہتا ہے۔ میں نے آپ کو اطلاع دے دی ہے۔ اس نے بھی اولاً تردید کی۔ مگر آخر وہ بھی اس وہم میں مبتلاء ہو گئی اور اس غلام سے کہنے لگی۔ اس کا علاج کیا ہے۔ اس نے کہا کہ علاج یہ ہے کہ آپ کے خاوند کے ڈاڑھی کے دو بال ہوں جن سے تعویذ بنایا جاوے۔ تب اس کا یہ خیال جا سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ کیونکر ممکن ہے۔ غلام نے کہا کہ یہ تو بہت آسان ہے جب وہ سو رہا ہو تو اُسترے سے دو بال اُتار لیں۔ عورت اس کام کے لئے تیار ہو گئی۔ خاوند گھر میں آیا۔ رات کو عمدًا ایسے طور پر لیٹ گیا کہ گویا وہ سو رہا ہے۔ اب اس کی بیوی نے اُسترا لیا اور خوب تیز کیا۔ اس کا گردن کے پاس لانا تھا کہ خاوند نے اسی اُسترے سے بیوی کو غضب میں آکر قتل کر دیا۔ خیر جب وہ پکڑا گیا اور اس سے قتل کا سبب پوچھا گیا تو اس نے وہی ظنی سبب بتایا جو غلام سے سنا ہوا تھا۔ تحقیقات پر عورت بری ثابت ہوئی۔ تب آقا نے غلام سے کہا تُو نے یہ کیا حرکت کی۔ غلام نے عرض کی حضور سے میں نے تو پہلے ہی عرض کر دیا تھا کہ سال میں ایک جھوٹ بولا کرتا ہوں اور وہ یہی جھوٹ تھا۔ اب دیکھو ظن کی بناء پر کیا کچھ ہوا۔ کوئی قوم جیت نہیں سکتی جس میں بدظنی کا مادہ ہو کیونکہ اس صورت میں کام ہونا محال ہوتا ہے۔ ایک قصہ مشہور ہے۔ ایک دفعہ نابینا اور سوجاکھا دونوں کو اکٹھا کھانا کھانے کا موقع پیش آگیا۔ نابینا حریص تھا پہلے تو اس نے جلدی جلدی کھانا شروع کیا۔ پھر اسے خیال ہوا کہ یہ سوجاکھا تو مجھے دیکھ کر جلدی جلدی کھا رہا ہو گا تو دونوں ہاتھوں سے کھانا شروع کر دیا۔ پھر اس پر بھی نہ رہ سکا اس نے خیال کیا کہ ممکن ہے کہ سوجاکھا بھی میری طرح دونوں ہاتھوں سے کھا رہا ہو تو اس نے کپڑے میں کھانا ڈالنا شروع کیا۔ مگر اس پر بھی اکتفاء نہ کر سکا۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ یہ بھی کپڑے میں ڈال لے گا کھانے کا برتن اُٹھا لیا اور کہا تم جاؤ تم تو سارا کھانا ہی کھا جاؤ گے۔ سوجاکھا بیٹھا دیکھ رہا تھا۔ ہنسنے لگا کہ یہ کہاں تک پہنچا ہے تو بدظنی بہت انتہاء پر لے جاتی ہے۔
میں مثال کے طور پر بیان کرتا ہوں کہ ہم سے بعض نے کس طرح بدظنی سے کام لیا ہے۔ ایک دوست نے مجھے لکھا کہ قادیان میں بڑے بڑے کارکنوں پر اتنا روپیہ خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ آدھی تنخواہ پر ان سے زیادہ لائق آدمی مل سکتے ہیں۔ اب دیکھو یہ ایک ظن ہے جو بہت دور تک پہنچتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ آدمیوں کی لیاقتیں محض ڈگریوں پر نہیں ہوتیں۔ کاموں میں محض ڈگریوں کو ہی نہیں مدنظر رکھا جاتا۔ بعض وقت تجربہ کو دیکھا جاتا ہے۔ بعض دفعہ ذہن رسا دیکھا جاتا ہے۔ محض ڈگری کوئی چیز نہیں۔ خاندانی وجاہت بھی ایک چیز ہے۔ ذہن رسا بھی ایک چیز ہے۔ پھر سوسائٹی بھی ایک چیز ہے۔ خاندانی وجاہت کی وجہ سے ایک شخص کو معمولی لیاقت سے وہ عہدہ مل جاتا ہے جو دوسرے کو اعلیٰ لیاقت پر نہیں ملتا۔ اسی طرح ذہن کی وجہ سے ایک انٹرنس پاس کو تین سو ملتے ہیں اور دوسرے بی۔ اے کو اتنے نہیں ملتے۔ یا ایک تجربہ کار انٹرنس پاس کو تین سو ملتے ہیں اور دوسرے بی۔ اے کو ساٹھ ملتے ہیں۔ تو دنیا میں خالی ڈگریوں سے کام نہیں ہوا کرتا بلکہ کام کے لئے اور باتوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً چوہدری فتح محمد صاحب ایم۔ اے ہیں۔ آج سے ۱۴ سال پہلے انہوں نے ایم۔ اے پاس کیا۔ اس وقت وہ ولایت تبلیغ کے لئے گئے۔ اور پہلے بغیر ایک پیسہ تک انجمن سے لینے کے وہاں کام کیا۔ وہ اس رنگ میں گئے تھے کہ خواجہ صاحب صرف ان کو روٹی دے دیا کریں گے۔ ایک ایم اے پاس کے لئے یہ کتنی بڑی قربانی ہے۔ انہیں دنوں میں مسٹر والس پرنسپل نے جو ان کو پڑھاتا رہا متواتر یہاں خط لکھے کہ میں نے چوہدری فتح محمد کے لئے کالج میں ایک پروفیسر کی جگہ خالی کرائی ہے جس طرح بھی ہو انہیں منگوا دو۔ اگر وہ اس وقت اس آسامی پر لگ جاتے تو آج سے چودہ سال پہلے وہ ڈھائی سو لے سکتے تھے اور یہاں چودہ سال کی سروس کے بعد آج ایک سو ستر ملتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں۔ چلو ہم تمہارے کہنے سے آج ہی ان کو علیحدہ کر دیتے ہیں۔ تم ہمیں انہیں کی طرز کا کوئی آدمی لا دو۔ جو ذہن کے لحاظ سے ، لیاقت کے لحاظ سے چوہدری صاحب سے زیادہ تو کیا ان جیسا بھی ہو۔ چودہ سال اس نے ملازمت کی ہو ڈھائی سو روپیہ آج سے چودہ سال پہلے تنخواہ لیتا ہو اور یہ خصوصیات بھی اس میں ہوں تو ہم بڑی خوشی سے رکھنے کے لئے تیار ہیں۔
پھر مفتی محمد صادق صاحب ہیں۔ جو جس سروس کو چھوڑ کر آئے اس وقت ان کے ماتحت آج ۵۰۰ لے رہے ہیں۔ اگر وہ اس سروس پر رہتے تو کم از کم آج ۸۰۰ لے لیتے۔ ہم ان کو علیحدہ کرنے کو تیار ہیں مگر ہمیں تم ان کی طرح کا وہ آدمی دے دو جو گورنمنٹ سے ۸۰۰ تنخواہ بھی لے سکتا ہو۔ اور پھر اس میں مفتی صاحب کی خصوصیات بھی ہوں۔ مثلاً السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ میں سے ہو۔ حضرت مسیح موعود کی صحبت سے انہیں کی طرح فیض یافتہ ہو۔ اور ان کی سی لیاقت اور قابلیت رکھتا ہو۔ ان کا سا تجربہ کار ہو۔ تو آج اگر ان خصوصیات کا آدمی ہمیں ۲۰۰ پر بھی مل جائے تو ہم غنیمت سمجھتے ہیں۔
پھر میر محمد اسحاق صاحب ہیں جو ناظر ضیافت ہیں۔ وہ لنگر کا کام اور دینی خدمات بغیر تنخواہ کے سرانجام دیتے ہیں۔ مدرسہ احمدیہ میں وہ مدرس ہیں اور دوسرے مدرسوں کی طرح ان کو بھی تنخواہ ملتی ہے۔ وہ اسی تنخواہ پر گزارہ کرتے ہیں اور باقی فرائض کو حِسْبَۃً لِلّٰہ سرانجام دیتے ہیں۔
پھر مولوی شیر علی صاحب ہیں۔ ان کو اب ۲۰۰ ملتے ہیں۔ ایک تو ان کی انگریزی کی قابلیت وہ چیز ہے جو اوروں میں نہیں۔ اس کے علاوہ یہ قابلیت ان میں ہے کہ وہ مضمون پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ ان کے مضمون پڑھنے والے دوستوں نے دیکھا ہو گا کہ وہ کس طرح مضمون کی باریکیوں تک پہنچتے ہیں اور کوئی پہلو اس کا باقی نہیں چھوڑتے۔ پھر جب وہ یہاں ملازم ہوئے ہیں۔ اس وقت ان کا نام منصفی (سب ججی) میں جا چکا تھا اور یہاں وہ ۲۰ روپے پر لگے تھے۔
میاں بشیر احمد صاحب ایم۔ اے ہیں۔ وہ ۱۴۰ لیتے ہیں۔ ہمارا خاندان خاندانی حیثیت سے بھی کوئی معمولی خاندان نہیں۔ ہمارے خاندان نے جو گورنمنٹ کی خدمات کی ہیں ان کے لحاظ سے وہ اعلیٰ سے اعلیٰ عہدہ پر لگ سکتے ہیں۔ ان کی لیاقت کا یہ حال ہے کہ انہوں نے جب میرے مضمون کو جو بذریعہ تار افتتاح مسجد پر لندن بھیجا گیا تھا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا۔ اس مضمون کی انگریزی کے لحاظ سے ولایت کے ایک بڑے آدمی نے لکھا کہ وہ انگریزی کے لحاظ سے کم از کم خان بہادر عبدالقادر صاحب کی لیاقت کا مضمون تھا۔ اب ان کی قابلیت کا آدمی ان کے ذہن کا آدمی اگر ہمیں مل جاوے تو ہم بڑی خوشی سے لینے کو تیار ہیں۔
پھر میاں شریف احمد صاحب ہیں۔ ان کو ۱۰۰ روپیہ ماہوار ملتا ہے۔ آج سے آٹھ سال پہلے ان کو ۱۰۰ روپیہ گورنمنٹ نے دینا منظور کیا تھا۔ گورنمنٹ نے ان کو فوج میں لیفٹیننٹ کے عہدہ پر رکھا۔ کمانڈنگ آفیسر انہیں واپس نہیں بھیجتا تھا۔ آخر میں نے کمانڈر انچیف کو بار بار لکھ کر اس کے ذریعہ آرڈر بھجوا کر واپس بلایا۔
مولوی عبد المغنی صاحب ناظر بیت المال بی۔ ایس۔ سی ہیں۔ ان کی چودہ سال کی سروس ہے۔ مدت دراز تک وہ ساٹھ روپے ہی لیتے رہے ہیں۔ اب جب کہ ناظروں کا گریڈ مقرر ہوا۔ تو مناسب سمجھا گیا کہ ان کی تنخواہ میں بھی ترقی کی جاوے۔ چنانچہ کچھ عرصہ سے ان کی تنخواہ زیادہ کی گئی ہے۔ جس زمانے میں وہ یہاں آئے ہیں۔ اس زمانہ میں بی۔ ایس۔ سی فیل کی وہ تنخواہ تھی جو آج ایم۔ اے کی ہے۔ اب تم بتاؤ کہ کیا کوئی دنیا میں ایسی شریف اور مہذب گورنمنٹ ہے جو یہ برداشت کرے کہ وہ پندرہ پندرہ سال کے تجربہ کاروں کو نکال کر نئے آدمی رکھ لے۔ یہ تو اندھی نگری چوپٹ راجا والا معاملہ ہو گا۔ میں ان اپنے کارکن دوستوں کو کہہ سکتا ہوں کہ تم آج ہی قادیان کو چھوڑ دو اور ان ملازمتوں کو چھوڑ دو اور وہ آج ہی شام سے پہلے پہلے استعفیٰ لے آئیں گے۔ جنہوں نے اتنے سال قربانیاں کیں وہ یہ قربانی بھی کر لیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پہلے مجھے ان جیسے آدمی لا دو۔ ان پہلے آدمیوں کو تو یہاں سے جاتے ہی یہاں کی نسبت باہر اچھی جگہیں مل جائیں گی۔ چنانچہ پچھلے دنوں یہاں کے ایک کارکن کو جنہیں تخفیف میں آنا پڑا۔ اور معمولی تنخواہ لے رہے تھے باہر جاتے ہی ۱۲۰؍مل گئے۔ اور پھر اس محکمہ میں جس میں وہ ملازم ہیں ترقی کا بھی کافی میدان ہے۔ لیکن ہمارا یہ مطلب ہے کہ ہمیں تم ان کی بجائے ان کی خصوصیات رکھنے والے آدمی کہاں سے لا دو گے۔ جنہوں نے سلسلہ کے کاموں میں عمریں صرف کر دیں۔ خدارا غور کرو ان کارکن دوستوں کے دلوں پر کیا اثر پڑے گا جب وہ یہ سنیں گے۔ کہ ہمارے متعلق لوگوں کے یہ خیالات ہیں۔ حالانکہ اگر آپ ان کو اپنے سروں پر اٹھاتے تو بھی ان کی خدمات کا بدلہ نہیں دے سکتے تھے۔ پھر ان باتوں کا نقصان ان کارکنوں کو تو نہیں پہنچے گا۔ ان کو تو بہتر سے بہتر ملازمتیں مل جائیں گی۔ ان باتوں سے سلسلہ کو نقصان پہنچے گا۔ ہمارے بعض دوست تو یہ شکایات کرتے ہیں۔ اور ہمارا یہ حال ہے کہ ہم قحط الرجال کے شاکی ہیں۔ یہ ایک شکایت میں نے مثلاً بیان کی ہے۔ ورنہ اور کئی اس قسم کی شکایات ہیں جو محض بدظنی سے پیدا ہوئی ہیں اور سلسلہ کو نقصان پہنچانے والی ہیں۔ پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس قسم کی باتوں سے پرہیز کرو اور سلسلہ میں کام کرنے والوں کی قدر کرو۔ دیکھو جب یہ بات پھیلے گی تو ناواقف تو یہی سمجھیں گے کہ یہاں روپیہ برباد ہو رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ چندوں میں سُست ہوں گے۔ اور اس سے چوہدری صاحب یا مفتی صاحب کو نقصان نہیں پہنچے گا۔ بلکہ سلسلہ کو پہنچے گا۔ سلسلہ کے کام درہم برہم ہو جائیں گے۔ پس اعتراض کرنے والا اس قسم کے کارکنوں پر اعتراض نہیں کرتا۔ بلکہ وہ اس جڑ پر تبر رکھتا ہے۔ جس کی حفاظت کے لئے خود خدا تعالیٰ کھڑا ہے۔ اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ ایسے لوگوں کے ایمان نہ ضائع ہو جائیں۔
اس کے بعد میں اور ضروری بات کی طرف آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں۔ وہ یہ کہ بچوں کی تربیت کی بہت ضرورت ہے۔ احباب جلسہ پر تو بچوں کو ساتھ لے آتے ہیں۔ لیکن صرف اتنی تربیت ہی کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ اول تو یہاں بچوں کو بھیجیں اور اگر استطاعت نہ ہو تو پھر اپنے ہاں ہی بچوں کی خصوصیت سے دینی تربیت کی طرف توجہ کریں۔
یہاں میں نے ایک انجمن بچوں کی بنائی ہے۔ جس کا نام انصار اللہ رکھا اس میں میں خود ان کو ہدایات دیتا ہوں۔ چنانچہ اس کا ایک نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بہت سے لڑکے اب تہجد پڑھنے لگے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تمام بیرونی جماعتوں میں بھی اس قسم کی انجمنیں بنائی جائیں جن میں بچوں کو اخلاقی تربیت کے سبق سکھائے جائیں تاکہ وہ آئندہ قوم کے بہترین افراد ثابت ہو سکیں۔ مگر بہتر طریق یہی ہے کہ بچوں کو یہاں بھیجیں کیونکہ یہاں میں خود تربیت کے متعلق سبق دیتا ہوں۔ ان کی تربیت کرتا ہوں۔ تھوڑے دنوں میں ہی تربیت اعلیٰ رنگ میں ہو گئی ہے۔ دوست بچوں کو قادیان بھیجیں۔ اگر بعض نہیں بھیج سکتے تو اپنے پاس ہی ان کی تربیت کریں۔
ترقیات لیکچر سننے یا لیکچر دینے سے نہیں ہوا کرتیں۔ ترقیات کام کرنے سے ہوا کرتی ہیں۔ سلسلہ میں داخل ہونے کی غرض محض لیکچر نہیں بلکہ دین کی خدمت اور قرب الٰہی کا حاصل کرنا ہے۔ دوست دین کی خدمت کریں۔ کچھ کام کریں اور قرب الٰہی کو حاصل کریں اور قرب الٰہی قربانیوں سے حاصل ہوتا ہے۔ بڑے کاموں کے لئے بڑی اور لمبی قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ لوگوں نے خدا کے فضلوں کا وارث ہونا ہے اور کیا خدا کے فضلوں کا وارث ہونا اس کا مقرب ہونا کوئی معمولی بات ہے۔ اتنے بڑے فضلوں کے تم معمولی کاموں سے تو وارث نہیں ہو سکتے بلکہ بڑے فضلوں کے لئے بڑی اور لمبے عرصہ تک قربانیاں کرنی پڑیں گی۔
اس وقت عام طور پر بڑی قربانی چند دن چندہ دینا سمجھی جاتی ہے حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ معمولی بادشاہوں کا قرب حاصل کرنے کے لئے لوگ ساری ساری عمریں خدمت میں خرچ کر دیتے ہیں۔ معمولی خطاب لینے کے لئے تمام عمر بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں۔ پھر وہ خطاب بھی کوئی حقیقت اپنے اندر نہیں رکھتا گورنمنٹ انہیں خان بہادر کا خطاب دیتی ہے۔ کیا واقعہ میں وہ بہادر ہو جاتا ہے۔ وہ تو بعض وقت نہایت بزدل ہوتا ہے۔ اس خطاب سے بنتا کچھ نہیں۔ لیکن خدا تعالیٰ جس کو جو خطاب دیتا ہے اس کے اندر واقعہ میں وہ بات بھی پیدا کر دیتا ہے۔ اسے واقعہ میں انعام دیتا ہے خالی خطاب ہی نہیں دے چھوڑتا۔ حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں ایک شخص آیا۔ اس نے کہا مجھے بڑے الہام ہوتے ہیں۔ حضرت صاحب نے اسے فرمایا۔ کہ جب تجھے کہا جاتا ہے کہ تُو محمد ہے یا
ابراہیم یا موسیٰ ہے۔ تو کیا کچھ ملتا بھی ہے یا نہیں؟ جو (سیدنا) محمد ﷺ پر انعام ہوئے وہ تمہیں بھی ملتے ہیں یا نہیں؟ اس نے کہا کہ ملتا تو کچھ نہیں۔ تو حضرت صاحب نے فرمایا۔ یہ پھر خدا کی طرف سے الہام نہیں یہ کسی اور ہستی کی طرف سے ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے جب الہام ہوتا ہے تو اس کے مطابق ملتا بھی ہے۔ خدا دنیا کی گورنمنٹ کی طرح تو نہیں۔ خدا میں تو سب طاقتیں ہیں۔ کبھی کوئی خالی ہاتھ بھی کہا کرتا ہے کہ یہ چیز لو۔ وہ تو بچے ہنسی سے کیا کرتے ہیں۔ یہ شیطانی بات ہے خدائی الہام نہیں۔ خدا اگر کہتا کہ تُو محمد ہے تو تجھے محمد والی طاقتیں بھی دیتا۔ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مؤمن کو ولی کا خطاب ملتا ہے۔ اب کیا یہ خطاب یونہی مل جائے گا۔ اگر معمولی بات سے یہ خطاب ملنے لگے تو پھر تو کنجنی بھی ولی ہو سکتی ہے جو ایک مسجد بنا چھوڑے۔ پس خدا کے قرب کے لئے ایک چیز کی قربانی نہیں ہوتی اور نہ ایک وقت میں قربانی ہوتی ہے بلکہ ہر وقت ہر چیز کی قربانی کی جائے۔ تب جا کر خدا کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ میں نصیحت کرتا ہوں کہ خدا کا قرب حاصل کرنے کے لئے بڑی بڑی قربانیوں کی ضرورت ہے۔ آخر سوچو تو سہی تم نے بننا کیا ہے؟ خدا کا درباری۔ کیا یہ عہدہ کوئی معمولی عہدہ ہے۔ اس سے سمجھ سکتے ہو کہ اس عہدہ کے لئے کتنی بڑی قربانیوں کی ضرورت ہے۔ میں نے بچوں کو بتایا تھا کہ جب گاؤں میں ڈپٹی کمشنر آتا ہے۔ تو تم کس طرح اس کے دیکھنے کے لئے اس کے پیچھے پیچھے بھاگتے پھرتے ہو۔ اور تم بڑے خوش ہوتے ہو اور فخر سے اپنے دوستوں کو سناتے ہو کہ میں نے ڈپٹی کمشنر کو دیکھا ہے حالانکہ وہ تمہاری طرف کبھی نظر نہیں اٹھاتا۔ اور اگر وہ کسی بچہ سے کوئی بات کرے تو پھر تو وہ بچہ خوشی سے پھولا نہیں سماتا۔ وہ یوں سمجھتا ہے کہ گویا اسے بڑی نعمت مل گئی ہے۔ مگر اس کے مقابلہ میں نماز کیا ہے۔ نماز ہے خدا کے حضور حاضر ہو کر اس کی زیارت کرنا اور اس سے باتیں کرنا۔ تمہارے اندر اس نماز سے کیوں نہیں خوشی پیدا ہوتی۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ اس مثال سے بچوں کے چہروں پر بشاشت تھی۔ آپ لوگ ایسی جماعت میں سے ہیں کہ جس کا یہ مذہبی عقیدہ ہے کہ اس میں ہمیشہ ایک قائم مقام رہا جس کی اطاعت فرض ہے وہ جس چیز کے لئے کہہ دے کہ فلاں جگہ پر اسے خرچ کرو تو اس کا حق نہیں ہے کہ وہ اسے دوسری جگہ پر خرچ کرے۔ فتح مکہ پر رسول اللہ ﷺ نے مکہ والوں کو مال دیئے تو انصار میں سے ایک نوجوان نے غلطی سے کہہ دیا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال رسول اللہ کے ہم وطن لے گئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ تک یہ بات پہنچ گئی۔ آپ نے انصار کو بلایا اور فرمایا۔ تم نے یہ بات کہی ہے۔ انصار دیندار تھے ان کی چیخیں نکل گئیں۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ہم میں سے ایک نوجوان نے ایسا کہا ہے۔ ہم نے خود اسے بہت ڈانٹا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اے انصار! بے شک تم کہہ سکتے ہو۔ تُو بے وطن تھا ہم نے تجھے اپنے پاس جگہ دی۔ تُو بے کس تھا ہم نے تیرے دائیں اور بائیں اپنی جانیں دیں اور خون کی ندیاں بہا کر تیری حفاظت کی۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ہم ہرگز ایسا نہیں کہتے۔ رسول اللہ نے فرمایا۔ ہاں یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ خدا نے خود نصرت دی اور مکہ پر فتح دی مگر فتح مکہ کے بعد لوگ تو اپنے گھروں میں اونٹ لے گئے۔ اور تم خدا کے رسول کو اپنے گھر لے آئے۔ اے انصار! جو کچھ ہو گیا سو ہو گیا اب دنیا میں رسول کی خلافت تمہیں نہیں ملے گی۔۳؎ہاں آخرت میں تمہیں معاوضہ دیا جائے گا۔ چنانچہ آج تک کوئی انصاری خلیفہ نہیں ہوا۔ اس واقعہ سے پتہ لگتا ہے کہ بعض وقت ایک بات منہ سے نکل جاتی ہے۔ جس کو انسان معمولی سمجھتا ہے لیکن اس کا نتیجہ بہت دور تک پہنچتا ہے۔
اسی طرح یہاں جب ہمارے عقیدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ خلیفہ قائم کرتا ہے وہ اگر اموال تلف کرتا ہے یا تلف کرنے دیتا ہے تو وہ خود خدا کے حضور جوابدہ ہے تم اس پر اعتراض نہیں کر سکتے۔ لیکن اگر بہترین نتائج پیدا کرنے کے لئے خرچ کرتا ہے تو پھر معترض شخص خطرہ میں ہے۔
آپ لوگوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔ جس کے یہ معنے ہیں کہ تم نے اقرار کیا ہے کہ تم ہر چیز کو میرے حکم پر قربان کر دو گے۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اس اقرار کا پورے طور پر خیال نہیں رکھا جاتا۔ اقرار تو یہ تھا کہ جو کچھ میں کہوں وہ تم کرو گے لیکن عمل یہ ہے کہ چند پیسوں پر ابتلاء آجاتا ہے۔ یہ تمام وسوسے تقویٰ کی کمی سے پیدا ہوتے ہیں اس لئے میں تقویٰ کے حصول کے لئے اور اس میں ترقی کے لئے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں۔ خواہ آپ میں سے بعض مجھ سے عمر میں بڑے ہوں لیکن ایک بات آپ میں سے کسی میں نہیں۔ وہ یہ کہ میں خدا کا قائم کردہ خلیفہ ہوں۔ میری تمام زندگی میں لوگ میری بیعت کریں گے۔ میں کسی کی خدا کے قانون کے مطابق بیعت نہیں کر سکتا اور یہ عہدہ میری موجودگی میں تم میں سے کسی کو نہیں مل سکتا۔ نبوت کے بعد سب سے بڑا عہدہ یہ ہے۔ ایک شخص نے مجھے کہا کہ ہم کوشش کرتے ہیں تا گورنمنٹ آپ کو کوئی خطاب دے۔ میں نے کہا یہ خطاب تو ایک معمولی بات ہے۔ میں شہنشاہ عالم کے عہدہ کو بھی خلافت کے مقابلہ میں ادنیٰ سمجھتا ہوں۔ پس میں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے معاملات میں ایسا رنگ اختیار کریں جس میں تقویٰ اور ادب ہو۔ اور میں کبھی یہ بھی نہیں پسند کر سکتا کہ وہ ہمارے دوست جن کو اعتراض پیدا ہوتے ہیں
ضائع ہوں کیونکہ خلافت کے عہدہ کے لحاظ سے بڑی عمر کے لوگ بھی میرے لئے بچہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور کوئی باپ نہیں چاہتا کہ اس کا ایک بیٹا بھی ضائع ہو۔ میں تو ہمیشہ یہی خواہش رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر ابتلاء سے ہمیشہ دوستوں کو محفوظ رکھے۔
مجھے تو اللہ تعالیٰ نے ایسا وسیع دل دیا ہے کہ میں دشمن کے لئے بھی بددُعا کرنا پسند نہیں کرتا۔ ایک شخص نے کہا کہ مولوی ثناء اللہ کے لئے تم بددُعا کیوں نہیں کرتے۔ میں نے کہا مجھے اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا دل دیا ہوا ہے۔ تو جو شخص دشمنوں تک کے لئے بددُعا نہیں کرتا وہ دوستوں کے لئے کیا کیا دُعائیں کرتا ہو گا۔ خدا کے حضور جھکو۔ دُعاؤں میں گریہ و زاری کرو تا تم پر خدا کی طرف سے برکات نازل ہوں۔ تقویٰ اختیار کرو۔ تقویٰ کے قیام کے لئے نماز اور نماز باجماعت کی پابندی ضروری ہے۔ میں نے کئی دفعہ کہا ہے کہ نماز کے لئے جماعت کی پابندی ضروری ہے۔ اگر دوست دو تین میل کے فاصلے پر بھی ہوں تو بیوی بچوں کو ساتھ لے کر جماعت کرا لیا کریں۔ اور دفتروں میں ایک جگہ اکٹھے ہو کر باجماعت ادا کریں۔
دسویں نصیحت یہ ہے کہ تقویٰ کے قیام کے لئے معاملات کی درستگی بھی نہایت ضروری ہے۔ بعض دوست معاملات میں درستی کا خیال نہیں رکھتے۔ بعض لوگ روپیہ قرض پر لیتے ہیں پھر ادا کرنے میں نہیں آتے۔ اس کے نتیجہ میں بدظنی پیدا ہوتی ہے۔ قرض خواہ مظلوم ہوتا ہے اسے دور کی سوجھتی ہیں۔ اور ایک بات پر سب کو قیاس کر لیتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہوتی ہے کہ ایک حجام کو روپوں کی تھیلی ملی۔ وہ اُمراء کی مجلس میں جایا کرتا تھا۔ اس کے پاس تھیلی دیکھ کر اُمراء ہنسی سے پوچھا کرتے۔ سناؤ شہر کی کیا حالت ہے۔ وہ کہتا کوئی کم بخت بھی تو ایسا نہیں جس کے پاس کم از کم پانسو اشرفی نہیں۔ ایک دن ایک امیر نے اس کی تھیلی ہنسی سے اٹھا لی۔ کچھ دن بعد امیر نے پوچھا سناؤ شہر کا کیا حال ہے۔ اس نے کہا شہر کی کیا پوچھتے ہو شہر کا بڑا حال ہے سب لوگ بھوکے مر رہے ہیں۔ امیر نے تھیلی واپس دے کر کہا لو بھائی اپنی تھیلی پاس رکھو شہر نہ بھوکا مرے۔ اس مثال سے انسانی دماغ کی حالت معلوم ہوتی ہے۔ اس پر جو گزرے وہ سمجھتا ہے کہ یہی حال سب کا ہے اس لئے جس کے ساتھ معاملہ اچھا نہ ہو وہ یہ قیاس کر لیتا ہے کہ سب کا ایسا ہی حال ہے یہاں تو بھائی سب بد معاملہ ہیں۔ مگر قرض خواہوں کے لئے بھی مناسب ہے کہ درگذر سے کام لیں اور سب پر ایک بات کا قیاس نہ کر لیا کریں کیونکہ جو بات قوم میں پھیلائی جائے خواہ قوم میں پہلے نہ بھی ہو تو بھی وہ قوم میں پیدا ہو جاتی ہے اسی لئے قرآن کریم نے بدی کی اشاعت سے منع کیا ہے۔۷؎ مثلاً
آج تم یہ کہنے لگو کہ ہماری قوم میں چور بہت ہو گئے ہیں تو اگر قوم میں ایک بھی چور نہ ہو تو بھی دس سال بعد قوم میں ضرور چور اور جھوٹے پیدا ہو جائیں گے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے بدیوں کی نسبت دلوں پر ایک ہیبت بٹھائی ہوتی ہے۔ جب عام زبانوں پر کوئی بات جاری ہو تو وہ ہیبت دلوں سے اُٹھ جاتی ہے اور بات معمولی معلوم ہوتی ہے۔ یہ ڈاڑھی کا ہی معاملہ دیکھ لو۔ آج سے ۵۰ سال پہلے ڈاڑھی منڈانا عیب سمجھا جاتا تھا اس لئے لوگ عام طور پر نہیں منڈایا کرتے تھے بلکہ منڈانے والا لوگوں میں نہیں پھر سکتا تھا لیکن آج کس قدر اس کا رواج بڑھا ہوا ہے۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ اب یہ معمولی بات معلوم ہوتی ہے بلکہ فیشن بن گیا ہے۔ جس بات کو لوگ کرتے ہوئے دیکھتے یا سنتے ہیں وہ معمولی بات معلوم ہوتی ہے۔ اور جس کو کوئی نہیں کرتا اس کی کوئی جرأت نہیں کرتا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص یہ کہتا ہے کہ ہماری قوم گنہگار ہے درحقیقت اس نے قوم کو ہلاک کر دیا۔۵ یہ باتیں بظاہر ابتداء میں چھوٹی نظر آتی ہیں مگر نتائج ان کے خطرناک نکلتے ہیں۔ کیا بیج چھوٹے نہیں ہوا کرتے پھر کتنے بڑے درخت بن جاتے ہیں اسی طرح ایک چھوٹے سے چھوٹا بیج قوموں کو ہلاک کر دیتا ہے۔
پس آپ لوگوں کے دل و دماغ آپ کے قابو میں ہونے چاہئیں۔ وہ کام مت کرو کہ جس سے حضرت مسیح موعودؑ کا سارا کیا کرایا خراب ہو جائے اور آپس کے معاملات کو درست کرو۔ درحقیقت ایک بد معاملہ شخص قوم کے بیسیوں مسکینوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ ہاں اگر کوئی معاملہ خراب کرتا ہے تو تمہارے لئے بھی مناسب ہے کہ صبر کرو اور شور مت کرو آخر مال چوری بھی تو ہو جاتے ہیں۔ بڑی بڑی قیمتی چیزیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ اگر کسی کے بد معاملہ سے نقصان ہوا ہے تو سمجھ چھوڑو کہ چلو چوری ہو گیا۔
پھر یہ سوچو کہ اس وقت اسلام پر بڑی مشکلات کا زمانہ ہے۔ مشکلات کے زمانہ میں جھگڑے نہیں ہوا کرتے۔ بتاؤ جب طوفان آرہا ہو تو کیا اس وقت لوگ آپس میں لڑا کرتے ہیں۔ اس وقت چیزیں سنبھالنے کی ہوش نہیں ہوتی۔ اس وقت تو جان کی فکر ہوتی ہے۔ دیکھو اس وقت اسلام کو کفر کھا رہا ہے اور ہمارے کندھوں پر تمام دنیا کا بوجھ ہے۔ اب تو یہ ضرورت ہے کہ ایسی نصرت حاصل کرو کہ کفر کو کھانے لگ جاؤ اور نصرت کے حصول کے لئے تقویٰ حاصل کرو۔
اب یہ بتاتا ہوں کہ تقویٰ کیا چیز ہے۔ اس کے معنے کئی دفعہ میں ایک مثال سے بیان کرچکا ہوں جو اب پھر بیان کرتا ہوں۔ حضرت ابوہریرہؓ سے کسی نے پوچھا۔ تقویٰ کیا چیز ہے۔ انہوں نے جواب دیا۔ تنگ گلی میں چاروں طرف کانٹے ہوں اور زمین پر کنکر ہوں تو بتاؤ ایسے رستہ سے تم کیونکر گزرو گے۔ اس نے کہا کپڑے چاروں طرف سے سمیٹ کر ہی گزروں گا۔ یہ بظاہر چھوٹی سی بات ہے لیکن درحقیقت بہت لطیف بات ہے۔ اسی طرح ایک بزرگ نے کہا کہ چھوٹی باتوں کو بڑا سمجھو۔ یعنی چھوٹے گناہوں کو بڑا سمجھو۔ یہ پہاڑ جو نظر آتے ہیں ذرات سے ہی بنے ہیں۔ پس مؤمن ہر ایک حرکت میں یہ دیکھے کہ میری اس حرکت کا مجھ پر اور میری قوم پر کیا اثر پڑے گا۔ اب میں یہ بتاتا ہوں کہ تقویٰ کے حصول کے ذرائع کیا ہیں میں تقویٰ پر کوئی خاص مضمون بیان نہیں کرتا بلکہ انہیں باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جو کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں۔
تقویٰ کے معنے ہیں کہ انسان خدا کو اپنی ڈھال بنائے۔ یہ لفظ وقایہ سے نکلا ہے جس کے معنے بچاؤ اور حفاظت کے ہیں۔ تو تقویٰ کے معنے ہوئے کہ انسان اپنے اندر ایسی حالت پیدا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کا محافظ ہو جائے۔ اب غور کرو خدا کیوں محافظ بنے گا۔ اس کی کوئی وجہ ہونی چاہئے۔ انسان کس شخص کی حفاظت کرتا ہے۔ یہ ہم جانتے ہیں کہ ہم سب سے زیادہ حفاظت اس کی کرتے ہیں جو ہمارا کام کرتا ہے۔ جس کو ہم جانتے ہیں کہ اس کے نقصان سے ہمیں نقصان پہنچے گا۔ اسی طرح ہم کو یہ معلوم کرنا چاہئے کہ ہم کونسے کام کریں کہ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمارا محافظ ہو جائے۔ تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ایک ذریعہ تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آنے کا اور تقویٰ کے حصول کا وہ یہ ہے کہ انسان کلمۃ اللہ کے اعلاء میں لگ جائے۔ اس کی شان کا اظہار کرے۔ اسی طرح جب وہ کام کرے گا تو اللہ تعالیٰ یقیناً اس کی حفاظت کرے گا۔ اس کو ایسی راہوں پر چلائے گا کہ جن پر چلنے سے اس کی حفاظت ہوگی۔ اب سوال یہ ہے کہ اعلاء کلمۃ اللہ کس طریق سے ہو۔ بعض کام اللہ تعالیٰ جبر سے کرتا ہے اور بعض ربوبیت سے۔ سب سے پہلا کام اللہ تعالیٰ کا ربوبیت ہے۔ جیسا کہ سورۃ فاتحہ میں آیا ہے۔ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(1:2)۷؎ اس میں اس کی پہلی صفت ربوبیت کی بیان ہے۔ اب انسان بھی اپنے ذریعہ سے اس کی صفت ربوبیت کی شان کا اظہار اور اس کے کلمہ کا اعلاء کر سکتا ہے کہ جب وہ اس کی طرح ربوبیت کی صفت اپنے اندر پیدا کرے یعنی انسان پہلے مجازی رب بنے تب اللہ تعالیٰ اس کے دل میں تقویٰ ڈالے گا۔
اب میں ربوبیت کے معنے بیان کرتا ہوں۔ ربوبیت کے معنے یہ ہیں کہ انسان دوسروں کی بھلائی اور تربیت میں لگ جائے اپنی زندگی کو اپنے نفس کی بھلائی کے لئے نہ سمجھے بلکہ مخلوق کی ہمدردی میں اپنی زندگی کو لگا دے۔ جب یہ ایسے کاموں میں لگ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اسکی حفاظت
کرے گا۔ اگر کوئی غلطی بھی اس سے سرزد ہو گی تو اللہ تعالیٰ اس کا محافظ رہے گا کیونکہ وہ بچہ کی طرح ہو گا جس کی حفاظت اس کی ماں کرتی ہے۔
یہ ہے کہ انسان دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرے۔ جس دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت ہو اسے وہ کبھی ضائع نہیں کرتا۔ اور محبت پیدا کرنے کا طریق یہ ہے کہ روزانہ کچھ وقت اس کی صفات پر غور کرے۔ جب روزانہ اس کی صفات پر غور کر کے اپنے اندر محبت پیدا کرے گا تو کوئی چیز اس محبت کو مٹا نہیں سکے گی۔ پس روزانہ ایک وقت اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور کرو۔ یہ سوچو کہ تمہارے ساتھ اس کی کونسی صفات تعلق رکھتی ہیں اور کس رنگ میں اور کس قدر ان کا فیضان تم کو پہنچ رہا ہے۔ پھر اس کے انعامات پر نظر ڈالو ان کو اپنے سامنے لاؤ تب ایک محبت کا دریا تمہارے دلوں میں موجزن ہو جائے گا۔ مشکلات اور مصائب بھی نعمت ہوا کرتے ہیں مثلاً موت ہی کو لے لو۔ یہ بڑی مصیبت خیال کی جاتی ہے لیکن خیال کرو اگر یہ موت دنیا میں نہ ہوتی اور کوئی نہ مرتا۔ تو آج زمین پر آدمی ایک دوسرے کے ساتھ پھنسے ہوئے ہوتے اور یہاں چلنے کی بھی جگہ نہ ملتی۔ اور اس قدر مصیبت ہوتی کہ اگر دو چار صدیاں بھی موت دنیا سے اُٹھالی جاتی تو سب سے بڑی دُعا لوگ موت کے لئے مانگتے۔ اگر غور کرو تو ذرہ ذرہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت نظر آتی ہے۔ غرض جب اللہ تعالیٰ کی صفات اور انعامات پر روزانہ کچھ وقت لگا کر غور کرو گے تو پھر تھوڑے عرصہ بعد ہی دیکھو گے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کی محبت چشمہ کی طرح پھوٹتی ہے۔
ہے۔ جس طرح میں نے بتایا ہے کہ روزانہ ایک خاص وقت میں اللہ تعالیٰ کی صفات اور انعامات پر غور کیا کرو۔ اسی طرح میں یہ بتاتا ہوں کہ ذکر الٰہی کے لئے روزانہ ایک وقت نکالو۔ ہماری جماعت کے لوگ ذکر الٰہی سے بہت غافل ہیں۔ روزانہ خاص وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا خود اپنی ذات میں بہت بڑی نعمت ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ذکر الٰہی دل کے شیشہ کو جلا کرنا ہے۔ اس کو صیقل کرنا ہے۔ نماز تو انسان کو غذا کی طرح ہے اور ذکر الٰہی صیقل کرنا ہے۔ مسنون ذکر تحمید، تہلیل، تسبیح ہے۔ ذکر الٰہی ایک رنگ میں خدا کے حسن کو دیکھنا ہے اس لئے جو لوگ ذکر الٰہی کریں گے وہ ضرور اپنے دل میں نیا جوش اور نئی محبت اور ایک صیقل اپنے اندر محسوس کریں گے۔ غلطی سے ہماری جماعت کے لوگ سمجھتے کہ ذکر ہوتا ہی نہیں اس لئے عام طور پر دوست ذکر کے عادی
نہیں۔ اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں غیر احمدیوں میں ذکر کا غلط طریق چلا آتا ہے۔ انہوں نے چند کلمے بنائے ہوئے ہیں جنہیں وہ رٹتے رہے ہیں اس کے لئے کچھ سانس بھی مقرر ہوتے ہیں۔ یہ تمام فضول طریق ہیں جن سے روحانیت اور بھی خراب ہو جاتی ہے۔ بھلا بتاؤ جب بھائی کا ذکر کرتے ہو تو خاص قسم کا سانس لیا کرتے ہو۔ تو کیا اللہ تعالیٰ ہی ایسا ہے کہ جس کے ذکر کے لئے خاص سانسوں اور خاص آوازوں کی ضرورت ہے۔ یہ طریق نہایت مکروہ اور روحانیت کو برباد کر دینے والے ہیں یہ تو مسمریزم کی طرح ہیں اور مسمریزم کوئی ذکر نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی ان طریقوں کو ناپسند ہے کرتے تھے۔ اور تجربہ بھی بتاتا ہے کہ روحانیت کے لئے یہ خطرناک طریق ہیں۔ جو شخص ان طریقوں سے ذکر کرے گا اس کی روحانیت ماری جائے گی۔ وہ بندر کی طرح ہو جائے گا۔ اس کی ذاتی قابلیت جاتی رہے گی۔ وہ ایک نقال بندر ہو گا۔ جس کی ایک رسی ہو گی کہ جس کے ذریعہ اس کا مُردہ پیر اُسے نچار ہا ہو گا۔ اور میں تجربوں کے ساتھ ان طریقوں کے نقصانات دکھا سکتا ہوں۔ یہ نہ سمجھو کہ مجھے وہ طریق آتے نہیں۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ کوئی موجودہ پیر میرے سامنے لے آؤ۔ وہ جو بھی طریق اختیار کرے اور ادھر میں بھی ایسا طریق اختیار کروں گا کہ اس سے نصف وقت میں میری طرف کے شخص پر وہ حالت طاری ہو جائے گی جو وہ طاری کیا کرتے ہیں۔ مجھے تو کبھی سمجھ نہیں کہ بھلا سانس کا ذکر الٰہی سے کیا تعلق۔ ان پیروں کے اذکار کا تو ایسا معاملہ ہے جیسا کہ افیون کھانے والوں کا ہوتا ہے۔ ایک دوست نے جو احمدی ہونے سے پہلے بھنگ کے عادی تھے۔ بتایا کہ جب میں نے بھنگ پی تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ میں عرش پر پہنچ گیا ہوں اور تمام زمانہ میرے قابو میں آگیا ہے اور دنیا میرے قبضہ میں ہے۔ غرض ان چیزوں کے ذریعہ دماغی قوتوں کو مار دیا جاتا ہے۔ اور اس طریق سے یقیناً ایک بڑا طبقہ مجنون ہو جاتا ہے۔ حقیقی ذکر وہ ہے کہ جس میں انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کو دل میں داخل کرے۔ انسان میں اللہ تعالیٰ نے دو قسم کی قوتیں رکھی ہیں۔ ایک قوت حواس ظاہری کی ہے اور ایک قوت ارادی ہے۔ ان دونوں قوتوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ چنانچہ جب اعصاب کمزور ہو جائیں تو قوت ارادی کمزور ہو جاتی ہے۔ اور تجربہ بتاتا ہے کہ ان سانسوں سے دماغی اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں اور چند دن کے اندر ایسا انسان دیوانہ ہو جاتا ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے بہترین طریق عرفان رکھا ہے۔ لیکن اس کے خلاف دوسرے لوگوں کو دیکھا ہے وہ کہتے ہیں کہ دل سے آوازیں اُٹھتی ہیں حالانکہ یہی تو جنون ہے۔ کیا کبھی دل سے بھی آوازیں آیا کرتی ہیں۔ آواز تو دماغ کے ذریعہ انسان کو پہنچتی ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے دل کو اپنے انوار کا مہبط بنایا ہے۔ مگر دل بولتا تو نہیں کرتا اور نہ دل دیکھا کرتا ہے۔ کسی بات کو محسوس کرنا، یہ دماغ کا کام ہے۔ اور درحقیقت آنکھیں نہیں دیکھتیں بلکہ دماغ دیکھ رہا ہوتا ہے۔ دماغ میں ایسی قوت اور اعصاب اللہ تعالیٰ نے رکھے ہیں کہ جن کے ذریعہ آنکھ دیکھتی ہے ورنہ اگر وہ حصہ کاٹ دیں تو آنکھ خواہ سلامت بھی ہو تو نہیں دیکھ سکتی۔
کا دُعا ہے۔ تقویٰ کے حصول کے ذرائع میں سے دُعا بھی ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ دُعاؤں کی عادت ڈالنے سے بھی تقویٰ نصیب ہوتا ہے۔ اس لئے میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ دُعاؤں پر بہت زور دیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ نئے لوگوں میں دُعاؤں کے لئے وہ جذبہ اور جوش نہیں جو حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ کے لوگوں میں ہے۔ میں ان دوستوں کو خصوصیت کے ساتھ دُعاؤں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ خدا تعالیٰ کے حضور دُعائیں بڑی عجیب چیز ہیں اور بہت بڑا اثر رکھتی ہیں۔
لیکن میں اس موقع پر دُعا کے متعلق چند غلطیوں کا ازالہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ دُعا کے متعلق لوگوں کو چار غلطیاں لگی ہیں۔ ایک غلطی تو یہ ہے کہ دُعاؤں میں کوئی اثر نہیں کیونکہ دیکھا جاتا ہے کہ دُعا کے بغیر بھی تو کام ہو رہے ہیں اور بعض کام باوجود دُعا کے نہیں ہوتے۔ دوسری غلطی یہ ہے کہ دُعا میں توجہ نہیں پیدا ہوتی۔ دُعا کریں تو کیونکر۔
پہلی غلطی کا ازالہ تو یہ ہے کہ پہلے یہ معلوم کرنا چاہئے کہ دُعا کی غرض کیا ہوتی ہے۔ اس کا اصلی مقصد کیا ہے۔ اگر تو دُعا کا صرف یہ مقصد ہے کہ جو کچھ مانگا جائے وہی ضرور مل جائے تب تو اس مقصد کے پورا نہ ہونے کی صورت میں واقعی ظلم ہے۔ بے شک اگر یہی مقصد دُعا کا ہے تب یہ مقصد ضرور پورا ہونا چاہئے اگر پورا نہ ہو تو ظلم خیال کیا جائے گا لیکن ہم کہتے ہیں کہ دُعا کا یہی حقیقی مقصد نہیں کہ جو چیز مانگی جائے وہی ضرور مل جائے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر دُعا کا یہی حقیقی مقصد ٹھہرایا جائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ دنیا میں انسان کوئی کام نہ کرے انسان یہ دعا کرے گا کہ بغیر اس کے کچھ کرنے کے اس کے کام خود بخود ہو جائیں۔ اصل بات یہ ہے کہ دُعا کے ساتھ انسان کو کام بھی کرنا پڑتا ہے۔ دُعا کی قبولیت کے لئے اور بھی شرائط ہیں جو پوری کرنی چاہئیں۔ اب دیکھو۔ طبیب ایک بیمار کو کہتا ہے کہ تم یہ دوائی استعمال کرو لیکن اس کے ساتھ اچھی غذا بھی استعمال کرو فلاں غذا سے پرہیز کرو اور کھلی ہوا میں رہو۔ وہ شخص ان چار باتوں میں سے ایک بات پر عمل کرے اور باقی تین پر عمل نہ کرے اور تندرست نہ ہو تو وہ آکر کہے کہ میں تو تندرست نہیں
ہوا۔ اور طبیب کے علاج کو ناقص کہے تو یہ شخص غلطی پر ہو گا کیونکہ طبیب نے علاج کے ساتھ کچھ شرائط بتائی تھیں جن کے پورا نہ کرنے کی وجہ سے اسے صحت نہیں ہوئی۔ پھر کہتے ہیں کہ جب بعض دفعہ تمام شرائط کے پورے کرنے کے باوجود لوگ مر جاتے ہیں تو کیا لوگ علاج چھوڑ دیا کرتے ہیں یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ دعاؤں میں اثر نہیں اسی طرح باوجود بعض دُعاؤں کے قبول نہ ہونے بھی دُعاؤں کے اثر سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ دُعا کی وہ حقیقی غرض نہیں جو عام طور پر خیال کی گئی ہے۔ یعنی یہ کہ بس جو کچھ مانگا جائے وہ ضرور مل جائے۔ بلکہ حقیقی غرض دُعا کی ایمان اور تزکیہ نفس کا پیدا کرنا ہے۔ دُعا کا حقیقی مقصد تو یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ پر ایمان حاصل ہو اور اس کے دل میں صفائی اور پاکیزگی پیدا ہو اور یہی غرض پیدائش انسانی کی ہے جو کئی ذرائع سے پوری کی جاتی ہے۔ ان میں سے ابتلاء اور مشکلات بھی ہیں۔ اس دنیا میں انسان کی پیدائش کی حقیقی غرض پوری کرنے کے لئے مختلف طریقوں سے اسے تیار کیا جاتا ہے۔ تیاری کے اسباب میں ابتلاء بھی داخل ہیں۔ غرض ابتلاء بھی انسان کی زندگی کا مدعا پورا کرنے کے لئے یعنی اس کے تزکیہ نفس کے لئے ضروری ہیں۔ اب اگر اس کی ہر منہ مانگی چیز اسے مل جائے یا ہر دُعا اس کی منظور ہو جائے تو وہ ابتلاء پھر کس پر آئیں گے اور اس کا مدعا کیسے پورا ہو گا۔ اور ابتلاء کس چیز کا نام ہے۔ یہی ہے نا مثلاً بیماری، موت، لڑائی، بڑے لوگوں کا ظلم، ماتحتوں کی بغاوت، افلاس، غربت، اور انہی چیزوں کے لئے انسان دُعا کرتا ہے۔ انسان دُعا کرتا ہے یا اللہ! میری فلاں مصیبت دور ہو جائے یا بیماری دُور ہو جائے۔ فلاں ضرورت پوری ہو۔ فلاں مال مل جائے یا فلاں رشتہ دار بچ جائے۔ اب اگر ساری کی ساری ہی دُعائیں قبول ہوں اور انسان پر کوئی ابتلاء نہ آئے تو کیا اس کے یہ معنی نہ ہوں گے کہ مثلاً نہ تو کوئی بیمار ہو اور نہ ہی کسی پر موت آئے اور پھر کیا سارے انعامات لیتے ہوئے بھی یہ کبھی کہے گا کہ یا اللہ! میرے دل کی صفائی بھی ہو۔ تو اصل بات یہ ہے کہ اصل غرض تو صفائی قلب ہے جو ابتلاء کے ذریعہ ہوتی ہے۔ پیدائش انسانی کی غرض دل کی صفائی ہے جس کا ایک طریق ابتلاء بھی ہے۔ اس لئے اس غرض کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض دُعائیں بظاہر قبول بھی نہیں ہوتیں اور ابتلاء اور مشکلات نہیں ٹلتے۔ دیکھو انبیاء پر سب سے بڑھ کر مصائب و مشکلات آتے ہیں۔ کیا وہ دُعائیں نہیں کرتے۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھ پر تمام انبیاء سے بڑھ کر مصائب آئے ہیں۔۷؎ لیکن باوجود اس کے جب وہ بھی دُعائیں مانگتے تھے۔ تو معلوم ہوا کہ دُعا کی صرف وہی غرض نہیں جو عام طور پر سمجھی گئی ہے اور نہ یہ صحیح ہے کہ دُعاؤں کا
کوئی اثر نہیں۔ نہ یہ درست ہے کہ ہر دُعا منظور کی جاتی ہے۔ بلکہ دُعاؤں کے اثرات حکمت اور دوسرے قوانین کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور دُعاؤں میں بہت سے فوائد ہیں جن کی خاطر دُعا کا حکم ہے۔
تو یہ ہے کہ دُعا اللہ تعالیٰ کی تقدیرِ خاص کا بندہ کے منہ سے اقرار کرایتی ہے اور خدا تعالیٰ کی صفات پر یقین دلاتی ہے کیونکہ انسان جب دُعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس بات پر قادر یقین کرتا ہے کہ وہ اس کی مصیبت کو دور کر سکتا ہے یا اس کی ضرورت کو پورا کر سکتا ہے تو اس طرح بندہ کو خدا تعالیٰ کی تقدیرِ خاص پر ایمان پیدا ہوتا ہے اور اگر اس کی ایک دُعا بھی قبول ہوتی ہے تو وہ اس کے دل میں یہ یقین پیدا کرتی ہے کہ اس کا خدا وہ خدا ہے جو اس کے لئے اپنے قانون کو بھی بدل سکتا ہے۔
دعا کا یہ ہے کہ انسان جب دُعا کرتا ہے تو اس وقت اقرار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے قریب ہے اور میری آواز کو سنتا ہے۔ دُعا کی اصل غرض یہ نہیں کہ اس کی عارضی ضروریات ہی پوری ہوں بلکہ اس کی اغراض میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بندہ اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف کھینچا جائے اور اس کو خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہو۔ اس کو یہ یقین ہو اور اقرار بھی کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کے قریب ہے۔ چنانچہ اس غرض کو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اس طرح بیان فرماتا ہے۔ وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ(2:187) کہ جب بندہ میرے حضور دُعا کرتا ہے تو میں اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور اس کی آواز کو سنتا ہوں۔ پس دُعا کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ بندہ کو اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے قرب کا مقام حاصل ہو اور وہ اسے اپنی گود میں لے لے۔ جس طرح ایک بچہ جس کو دوائی پلائی جا رہی ہو یا اس کا آپریشن ہو رہا ہو تو وہ ہائے ہائے کرتا ہے۔ اس کے والدین گو اسے اس موجودہ تکلیف سے تو نہیں چھڑا سکتے مگر اسے اپنی گود میں لے لیتے ہیں جس سے بچہ کو تسلی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ اگر دُعا کسی وجہ سے نہ بھی قبول کرے تو بھی اسے اپنی گود میں لے لیتا ہے۔
دعا کا یہ ہے کہ انسان کی دُعا اس کی حسنات میں لکھی جاتی ہے۔ دراصل انسان کے اعمال کے دو نتیجے ہوتے ہیں۔ ہر کام کے دو نتیجے نکلتے ہیں۔ ایک نتائج فوری ظاہر ہوتے ہیں اور ایک نتائج آئندہ زمانہ میں جمع ہو کر نکلتے ہیں۔ مثلاً انسان ہاتھ کو حرکت دیتا ہے۔ اس حرکت کا ایک تو فوری نتیجہ نکلے گا اور ایک نتیجہ آئندہ زمانہ میں نکلے گا جب ہاتھ کو متواتر باقاعدگی کے ساتھ حرکت دیتا رہے گا۔ اس متواتر اور باقاعدہ حرکت دینے کا آئندہ زمانہ میں یہ نتیجہ نکلے گا کہ اس کا ہاتھ مضبوط ہو جائے گا۔ اس کے ہاتھ میں ایک طاقت پیدا ہو جائے گی۔ اب انسان کی اصل غرض تو یہ ہوتی ہے کہ وہ ہلاک نہ ہو جائے۔ عارضی تکلیف مدّ نظر نہیں ہوتی۔ عقلمند آدمی عارضی تکلیف کو تکلیف نہیں سمجھتا۔ مثلاً اس وقت آپ لوگ سردی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ سردی کی عارضی تکلیف برداشت کر رہے ہیں۔ اسی طرح طالب علم، علم حاصل کرنے کے لئے راتوں کو جاگتا ہے محنت کرتا ہے۔ وہ اس تکلیف کو تکلیف نہیں سمجھتا۔ اس لئے کہ اس کے نتیجہ میں آرام اور عزت کا لمبا زمانہ حاصل ہو گا اور لمبی تکالیف سے بچ جائے گا۔ عارضی تکلیف لمبی تکلیف کے مقابلہ میں تکلیف ہی نہیں خیال کی جاتی۔
پس دُعا کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ اس دنیا میں انسان کے اندر اگلے جہان میں کام کرنے کے لئے قابلیت پیدا ہو جائے۔ گو یہاں اس کی دُعائیں قبول نہ ہوں لیکن وہ اگلے جہان میں کام آنے والی حسنات کے بہی کھاتہ میں درج کی جاتی ہیں۔ تو دُعا کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ انسان کو اور انعامات کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔
دعا کا یہ ہے کہ دُعا اللہ تعالیٰ پر توکّل کا نشان ہے کیونکہ بندہ دُعا کے وقت اپنے عجز کا اقرار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور یہ اقرار کرتا ہے کہ تُو ہی قادر و توانا ہے۔ خدا کے فضل کے ہم کبھی امیدوار نہیں ہو سکتے جب تک اس کے حضور اقرار نہ کریں کہ تُو طاقتور ہے اور ہم کمزور ہیں۔ یہ توکّل کا مقام ہے جو بغیر دعا کے حاصل نہیں ہو سکتا۔
دعا کا یہ ہے کہ دُعا کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے یقینی نمونے ہمیں ملتے ہیں۔ میں نے اپنی ذات میں کئی مشاہدے کئے ہیں۔ ایک دفعہ ایک دوست نے مجھے مجملاً ایک مصیبت کی اطلاع دی اور دُعا کے لئے کہا۔ مجھے اس نے یہ نہیں بتایا تھا کہ فلاں مصیبت ہے اور حالات نہیں لکھے تھے۔ ان دنوں ان کی ہمشیرہ بھی بیمار رہتی تھیں اس لئے میں نے خیال کیا کہ ان کی ہمشیرہ زیادہ بیمار ہو گی۔ میں نے دُعائیں کیں تو مجھے رؤیا میں معلوم ہوا کہ کوئی کہتا ہے کہ قانونی غلطی کی وجہ سے تمام حقوق ضائع ہو گئے اور گورنمنٹ کی گرفت کے نیچے آ گئے لیکن اگر وہ توکّل کریں گے اور گھبرائیں گے نہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے ان معاملات کو بالکل اُلٹ دے گا اور اُن کے حق میں بہتر حالات پیدا کر دے گا۔ میں نے ان کو یہی لکھ دیا۔ تھوڑے ہی دنوں بعد ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ قریب تھا کہ واقعہ میں ان کے حقوق ضائع ہو جائیں اور گرفت کے نیچے آئیں۔ میری طرف انہوں نے لکھا کہ اس قسم کے حالات پیدا ہو رہے ہیں کہ مجھے خطرہ ہے کہ میرے پہلے تمام حقوق تباہ ہو جائیں۔ میں نے انہیں لکھا کہ آپ توکل کریں اور گھبرائیں نہیں۔ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ باوجود اس کے کہ ان کے مدمقابل انگریز تھا یہ حالات بالکل بدل گئے حتیٰ کہ اس انگریز نے میری طرف لکھا کہ مجھے مصیبت سے بچائیے۔ جب ہم روزانہ دُعاؤں کی قبولیت کے نمونوں کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہم کیسے ان کے اثرات سے انکار کریں۔
دعا کا یہ ہے کہ اس سے دل میں قوت اور طاقت پیدا ہوتی ہے اور بزدلی دور ہوتی ہے کیونکہ بزدلی مایوسی سے پیدا ہوتی ہے لیکن دُعا کرنے والا مایوس نہیں ہوتا۔ جو شخص دُعا کرے گا اللہ کے حضور یہ یقین لے کر جائے گا کہ خدا ہے اور وہ میری مدد یا حاجت روائی کر سکتا ہے اس سے اس کے دل میں تسلی ہو گی جس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ وہ جزع فزع سے محفوظ رہے گا اور دوسرے سامان بھی کام کے لئے مہیا کرے گا۔
یہ ہے کہ بعض وقت دُعا کا قبول نہ ہونا ہی اس کا قبول ہونا ہوتا ہے۔ بہت سی باتیں ہیں جن کو انسان مفید سمجھتا ہے لیکن وہ مُضِر ہوتی ہیں۔ اس لئے بعض دفعہ دُعا کا قبول نہ کرنا ہی انسان کے لئے رحمت ہوتا ہے۔
یہ ہے کہ جس جگہ پر تدابیر رہ جاتی ہیں وہاں دُعا کام کرتی ہے۔ جب تدابیر اور ظاہری اسباب کا سلسلہ منقطع نظر آتا ہے اس وقت دُعا اپنا اثر دکھاتی ہے۔ میرے ساتھ بیسیوں دفعہ ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ جن میں تمام دنیوی سامان کٹ گئے اس وقت دُعا کے بعد میرے خدا نے میری دُعا سنی اور نہ صرف دُعا سنی بلکہ بشارت دی۔
دعا کا یہ ہے کہ دُعا اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت ہوتی ہے دُعا مانگنے کے بعد جو نتیجہ پیدا ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر زیادہ ثبوت ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ آپ ہی آپ کوئی کام ہو جائے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ دعا توجہ سے ہوتی ہے اور توجہ خود اثر پیدا کرتی ہے تو کیوں نہ کہیں کہ جو کام ہوا ہے وہ توجہ کے اثر کا نتیجہ ہے۔ بے شک یہ اہم سوال ہے جس کا میں یہ جواب دیتا ہوں کہ علم النفس کے ماہر یہ کہتے ہیں کہ توجہ اس وقت اثر کرتی ہے جب ذہن میں یہ لایا جائے کہ ہر بات یوں ہو گی۔ توجہ کے لئے یہ سکھاتے ہیں کہ تم ذہن میں یہ خیال رکھو کہ یہ بات یوں ہو گئی۔ لیکن یہاں تو اس کے اُلٹ دُعا کرنے والا یہ ذہن میں پیدا کرتا ہے کہ یا اللہ! میں کچھ نہیں ہوں مجھ سے یہ کام ناممکن ہے تو ہی یہ کام کر سکتا ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ
توجہ کا اثر جاندار چیزوں پر ہوتا ہے بے جان پر نہیں ہوتا۔ لیکن دُعا میں تو ایسا رنگ پیدا ہوتا ہے کہ جس کا اثر دنیا پر جا کر پڑتا ہے۔ دُعا خالی انسان پر ہی اثر نہیں کرتی بلکہ وہ طبیعات میں بھی تبدیلیاں پیدا کر دیتی ہے۔ انسان یہ توجہ کر سکتا ہے کہ فلاں شخص میرا دوست ہو جائے لیکن یہ توجہ نہیں کر سکتا کہ کھیت سرسبز ہو جائے یا بارش ہو جائے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ کہاں اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ صرف دُعا ہی ایک ذریعہ ہے جس سے کام ہوتے ہیں بغیر اس کے کوئی کام نہیں ہوتا۔ اور بھی تو اس کے قوانین ہیں۔ بغیر دُعا کے جو کام ہو جاتے ہیں ان کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی کو کنویں سے گری ہوئی چیز مل جائے تو دوسرا ہمیشہ کے لئے یہی قانون سمجھ لے کہ اس کا کام بھی بیٹھے بٹھائے ہو جائے گا۔ یہ اتفاقی باتیں ہوتی ہیں۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ تم اپنے مصائب کو دور کرنے یا ضروریات کے پورا کرنے کے لئے دُعا کرو تو اس سے یہ تو ہمارا مطلب نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ دُعا کے بغیر اور کسی طرح بھی رحم نہیں کرتا۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے رحم کے لئے دو قسم کے قانون رکھے ہوئے ہیں ایک قانونِ دُعا ہے اور ایک عام قانونِ قدرت ہے۔ پھر اصل سوال تو یہ ہے کہ وہ کام جو دُعا سے ہوا ہے آیا وہ بغیر دُعا کے ہو سکتا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ وہ کام دُعا کے بغیر واقعی نہیں ہو سکتا۔
پھر توکل کا یہ مفہوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ضرور ہی دُعا کو سن لے گا بلکہ یہ مفہوم ہے کہ خدا ایسا کر سکتا ہے۔ میں اس کے رحم پر اُمید رکھتا ہوں کہ وہ میری دُعا کو سن لے گا۔ پس دُعا کی یہ اہمیت ایسی ہے کہ اس کے بغیر دُعا، دُعا ہی نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے برہمو لوگ بھی دُعا کرتے ہیں حالانکہ وہ قبولیت کے معتقد نہیں۔ اور میرے نزدیک بھی اگر ہماری ضروریات ہمیں مجبور نہ کریں تو دنیا کے متعلق نامنظور ہونے والی دُعا منظور ہونے والی دُعا سے بڑھ کر ہمارے لئے نتیجہ خیز ہے کیونکہ ایک تو وہ عبادت میں شمار ہو گی جو ہماری زندگی کا اصل مقصد ہے اور دوسرے اس کے عوض میں آخرت میں درجہ ملے گا اور ہمیں زیادہ حسنات ملیں گی۔ ہمیں عقلاً بھی یہ دیکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کوئی بچہ تو نہیں کہ وہ ہماری دُعا سے بہل جاتا ہے اور ہماری ہر بات منظور کر لینے پر تیار ہو جاتا ہے۔ یہ غلط خیال ہے جس میں عام مسلمان گرفتار ہیں۔ اگر خدا تعالیٰ ایسا ہی ہے تو وہ ہمارے ماتحت ہوا نہ کہ بادشاہ۔ ہاں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بعض دُعاؤں میں اثر بھی ہوتا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ کوئی خاص منتر ہیں یا خاص لفظ ہیں بلکہ وہ دُعائیں اس لئے اپنا اثر دکھاتی ہیں کہ اس میں دُعا کا وہ مغز ہوتا ہے جس سے انسان پر وہ حالت طاری ہو جاتی ہے جو دُعا میں ہونی چاہئے۔ جیسا کہ سورۃ فاتحہ جامع اور پُر مغز دُعا ہے۔
یہ ہے کہ دُعا میں توجہ نہیں ہوتی۔ دُعا میں توجہ کس طرح پیدا کی جائے۔ اس کا یہی جواب ہے کہ جس کام کو کرنا چاہتے ہو اس کے کرنے کا یہی طریق ہے کہ اسے کرنا شروع کر دو۔ کچھ مدت بعد اس کے کرنے کے لئے خود بخود شوق پیدا ہو جائے گا۔ جو شخص دُعا کرنی شروع کر دے گا اس کے اندر دُعا نہ کرنے کی نسبت آہستہ آہستہ ضرور توجہ پیدا ہو جائے گی اور پھر کسی وقت وہ خاص حالت بھی اس پر طاری ہو جائے گی جو دُعا کے وقت پیدا ہونی چاہئے
ہاں بعض دفعہ دل کے زنگ خوردہ ہونے کی وجہ سے بھی دُعا میں توجہ نہیں پیدا ہوتی۔ ایسے شخص کے لئے ضروری ہے کہ دعا سے پہلے استغفار کرے کہ اے خدا! جو گناہ مجھے معلوم ہیں وہ بھی اور جو نہیں معلوم وہ بھی معاف کر دے اور اس رستی سے مجھے علیحدہ نہ کر جو تیرے اور تیرے بندوں کے درمیان ہے۔ کبھی صحت کی کمزوری کی وجہ سے بھی توجہ نہیں پیدا ہوتی۔ اس کے لئے صحت کی درستی کا لحاظ رکھنا چاہئے۔ میں پھر دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ دعاؤں پر خاص زور دو اور خشوع کے ساتھ باجماعت نمازیں ادا کرو اور اللہ تعالیٰ کو اس کے دین کی خدمت کر کے راضی کرو۔ آپ لوگوں کا اصل کام دین کا پھیلانا ہے۔ بچوں کی طرح وقت ضائع مت کرو۔ باہمی جھگڑوں اور فسادوں کو ترک کر دو اور موت کو یاد رکھو کہ جو ہر انسان کے لئے ضروری ہے۔ بڑے بڑے طبیب اور ڈاکٹر موت سے نہیں بچ سکتے تو اور کون بچ سکتا ہے۔ اس لئے بہتر ہے کہ موت کے آنے سے پہلے پہلے خدا تعالیٰ سے صلح کر لو۔ بہت ہیں جو نیک ہونے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن کیا کوئی کام صرف خواہش سے ہی ہوا کرتا ہے۔ لیٹے رہنے سے تو کامیابیاں نہیں ملا کرتیں بلکہ بڑی جدوجہد کے بعد جا کر کامیابیاں حاصل ہوا کرتی ہیں۔ تو کیا نیکی ہی ایسی چیز ہے جو صرف خواہش سے حاصل ہونی چاہئے۔ لوگ ایک سست اور کاہل کا واقعہ مثال کے طور پر بیان کیا کرتے ہیں کہ وہ ایک دور سے گزرنے والے سپاہی کو کہنے لگا کہ دیکھو لوگ کتنے سست اور کاہل ہیں کہ میری چھاتی سے بیر بھی اٹھا کر میرے منہ میں نہیں ڈالتے۔ اس پر سپاہی نے اس کو ملامت کرنی شروع کی۔ ساتھ والا آدمی بول پڑا ہاں صاحب یہ ایسا سست و کاہل ہے کہ آج ہی کا واقعہ ہے کہ تمام رات کتا میرا منہ چاٹتا رہا اور اس نے اسے ہٹایا تک نہیں۔ اس مثال کے بیان کرنے کی غرض یہ ہے کہ صرف کسی کام کی خواہش سے وہ کام نہیں ہوا کرتا بلکہ اس کے لئے ہمت اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص نیک بننے کے لئے صحیح اور پوری کوشش کرے خدا تعالیٰ اسے ضائع ہونے
دے۔ آخر وہ رحم کرنے والا اور فضل کرنے والا ہے۔ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ کسی کی محنت کو ضائع کر دے۔ پس پورے جوش اور پوری ہمت کے ساتھ تقویٰ پر نہ صرف خود قائم ہو جاؤ بلکہ اسے دنیا میں قائم کرو اور دین کی نصرت کے لئے ایک دوسرے کی مدد کرو، مل کر کام کرو، ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور پیار سے پیش آؤ، ہر بھائی کے ساتھ محبت کا سلوک کرو۔ جھگڑوں کو چھوڑ دو اور مصیبتوں میں ایک دوسرے کے کام آؤ۔ بعض وقت دیکھا ہے کہ ایک بھائی کے جنازہ پر لوگ نہیں جا سکتے لیکن جب ہم نے ایک بھائی کے جنازہ کے لئے کام کو نہیں چھوڑا تو ہمارا کہاں حق ہو سکتا ہے کہ ہمارے مرنے پر دوسرے لوگ اپنے کاموں کو چھوڑیں۔ پس آپس میں ہمدردی اور محبت سے کام کرو۔ ابھی ہماری جماعت میں ہمدردی اور تعاون باہمی کا مادہ کم ہے جس سے بعض وقت دوستوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ میں نے سنا ہے کہ بعض موقع پر میت کے ساتھ ایک بھی آدمی (سوائے اس کے رشتہ داروں کے) نہیں گیا اور لوگ عدم فرصتی کا عذر کرتے ہیں۔ یہ عذر صحیح نہیں۔ مجھے یاد ہے کہ پچھلے سال عین جلسہ کے موقع پر ہی ایک جنازہ خود پڑھایا حالانکہ جلسہ پر مجھے کام بھی بہت تھا اور لیکچر بھی دینا تھا۔ دنیا میں کبھی محبت اور ہمدردی بغیر ایثار کے نہیں ہوا کرتی۔ پس ہمیں وقت اور مال کی قربانی کر کے آپس میں صلح و آشتی پیدا کرنی چاہئے اور اپنے اندر زندگی کی روح پیدا کرنی چاہئے۔
(الفضل ۱۱، ۱۴، ۱۸، ۲۱ جنوری ۱۹۲۷ء)
(فرمودہ ۲۸؍ دسمبر ۱۹۲۶ء)
میں اپنی اصل تقریر شروع کرنے سے پہلے چند امور کا بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اول تو یہ کہ میں ان دوستوں کو جو یہاں کر بھی اس جلسہ کے موقع پر اپنا وقت ضائع کرتے ہیں اور تقریروں کے سننے میں پورا حصہ نہیں لیتے ملامت کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے کل اپنی تقریر کے آخری حصہ میں دیکھا کہ دو ہزار کے قریب دوست قریباً ساڑھے پانچ بجے جلسہ گاہ سے اٹھ کر گئے اور ساڑھے سات بجے تک ان کو واپس آنے کی توفیق نہیں ہوئی جو نہایت قابلِ افسوس بات ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لمبی دیر تک بیٹھنا گراں ہوتا ہے اور انسان دیر تک بیٹھنے سے اُکتا جاتا ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ دیر تک بولنا اس سے بھی بہت زیادہ مشکل کام ہے۔ پھر اگر ایک شخص باوجود صحت کے نہایت کمزور ہونے اور اس عضو کے ماؤف ہونے کے جس پر کام کا دارومدار ہے متواتر چھ گھنٹے تک بول سکتا ہے تو میں ہرگز یہ تسلیم نہیں کر سکتا کہ دوسرا آدمی اس سے زیادہ دیر تک سننے کی بھی قابلیت نہیں رکھتا۔ آخر سامنے گیلریوں پر بیٹھنے والے اور سٹیج پر بیٹھنے والے بھی تو شروع سے آخر تک اطمینان سے تقریر سنتے رہے حالانکہ سٹیج پر بیٹھنے والے بوجہ جگہ کی تنگی کے بہت تنگی سے بیٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض دوست جو بینچوں پر بیٹھے ہوئے تھے وہ اٹھ کر چلے گئے۔ شاید وہ بینچوں پر بیٹھنا اسی لئے پسند کرتے ہیں کہ اپنی مرضی سے درمیان میں چلے جایا کریں اور اپنے وقت کو ضائع کریں۔ میں اس بات کو نہیں سمجھ سکتا کہ جو شخص اپنے وقت اور مال کو خرچ کر کے یہاں آتا ہے وہ اپنے نفس پر کیونکر جبر نہیں کر سکتا اور کس طرح وہ اپنے وقت کو چائے کی دکانوں اور باہر فضول پھرنے پر ضائع کر دیتا ہے۔ اگر چائے پر ہی وقت خرچ کرنا تھا تو وہ یہاں کی نسبت ان کے گھروں میں یا بڑے شہروں کے ہوٹلوں میں بہت اچھی مل سکتی تھی اور اگر یہاں ان کے آنے کی غرض سیر و تفریح تھی تو بہتر تھا کہ بجائے یہاں آنے کے بڑے بڑے شہروں کی سیر گاہوں میں جاتے۔ وہ دہلی چلے جاتے اور وہاں وائسرائے کے مکانوں، بادشاہی عمارتوں کو دیکھتے یا لاہور کی ٹھنڈی سڑک پر سیر کرتے۔ پھر لارنس گارڈن (باغ جناح) میں تفریح حاصل کرتے اور جب چائے کی خواہش ہوتی تو لورینگ (قبل از تقسیم ہند لاہور کا ایک معروف ریستوران) میں جا کر پی لیتے۔ لیکن یہاں آنے کی غرض تو خدا کی باتیں سننا ہے۔ اگر یہ غرض مدّ نظر نہیں تو پھر یہاں آنا بے فائدہ ہے۔ ہاں حاجات بھی انسان کے ساتھ بے شک لگی ہوئی ہیں اور ان کا پورا کرنا بہرحال ضروری ہے۔ حاجت کو روک کر تو نماز بھی جائز نہیں لیکن جب انسان کسی حاجت کی قضاء کے لئے جائے تو وہ حاجت پوری کر کے واپس بھی آ سکتا ہے۔ جو دوست واپس نہیں آتے میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کیا خدا کے کلام سے اتنا ہی متاثر ہونا چاہئے کہ پیشاب کے لئے گئے تو واپس آنا ہی بھول گئے۔ جب ابھی یہاں ہی تمہارے اندر اثر کی یہ حالت ہے تو گھر پہنچنے پر تو بالکل ہی اثر جاتا رہے گا اور سب باتوں کو فراموش کر دو گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پانسو کے قریب غیر احمدی دوست بھی آئے ہوئے ہیں اور تین سَو کے قریب دوسرے لوگ ہوں گے لیکن کل جلسہ گاہ سے اٹھنے والے دوست زیادہ تر احمدی ہی تھی۔ پس آج اپنی اصل تقریر شروع کرنے سے پہلے دوستوں کو آگاہ کرتا ہوں کہ اگر وہ آرام اور اطمینان سے میری تقریر کو سننا چاہتے ہیں تو بیٹھ سکتے ہیں اور اگر درمیان میں بغیر حاجت کے اٹھ کر جانا ہے تو بجائے اس وقت اٹھ کر جانے اور خلل اندازی کے ابھی ہی چلے جائیں تاکہ درمیان میں ان کے اٹھنے سے سامعین کو توجہ میں خلل نہ واقع ہو اور نہ ان کا وقت ضائع ہو۔ اس کے بعد میں چند ضروری متفرق امور کی طرف جو کل کی تقریر کا بقیہ ہیں آپ لوگوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔
پہلی قابل توجہ بات یہ ہے کہ میں نے پچھلے سال نفس اور اولاد کی اخلاقی اور روحانی تربیت پر تقریر کی تھی۔ میرے نزدیک وہ لیکچر اپنے نفس کی اور اپنی آئندہ نسلوں کی روحانی اور اخلاقی اعلیٰ درجہ کی تربیت کے متعلق نہایت ہی اہم اور مفید ترین معلومات پر مشتمل ہے۔ یہ لیکچر چھپ کر کتابی صورت میں تیار ہو چکا ہے۔ بکڈپو نے جو کہ بعض دوستوں کے مشترکہ سرمایہ سے قائم کیا گیا ہے اس کتاب کو شائع کیا ہے۔ دوستوں کو چاہئے کہ اس کو خرید کر پڑھیں۔
اس سال اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک اور کتاب کے لکھنے کی توفیق فرمائی ہے اور وہ کتاب ہفوات المسلمین کا جواب ہے۔ ہفوات المسلمین ایک شیعہ نے لکھی ہے جس کے مضمون سے حضرت نبی کریم ﷺ اور آپ کی ازواج اور صحابہ رَضِیَ اللہُ عَنۡہُمۡ کی ذات پر نہایت ناپاک حملے ہوتے ہیں اور ان کی اشاعت سے تمام ہندوستان میں اسلام کے خلاف خطرناک زہر پھیل رہا ہے۔ اور یوں کہنا چاہئے کہ اس نے ہندوستان میں ایک آگ لگا دی تھی۔ اسی وجہ سے گورنمنٹ نظام نے اس کو ضبط کر لیا تھا لیکن اس کا اور بھی الٹا اثر پڑا کہ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ فی الواقع مسلمانوں کے پاس اس کا کوئی جواب ہی نہیں تب ہی تو اس کو ضبط کیا جا رہا ہے۔ اخبار اہل حدیث میں بھی اس کے جوابات نکلنے شروع ہوئے تھے مگر چند سوالوں کا جواب دے کر خاموشی اختیار کر لی گئی جس سے کتاب نے اور بھی ناجائز فائدہ اٹھایا اور مشہور کر دیا کہ معلوم ہوا کہ باقی مطالبات کا کوئی بھی جواب نہیں۔ اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ اس کا جواب لکھا جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں نے اس کے جواب میں کتاب حق الیقین لکھی ہے۔ یہ کتاب بھی ایسی معلومات پر مشتمل ہے جو علمی بھی ہیں اور جو اسلام سے بہت گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ علاوہ اس کے مخالفین اسلام کے جوابات کے لئے نہایت مفید معلومات کا ذخیرہ اپنے اندر رکھتی ہے۔ علمی مباحثوں میں بھی کام آسکتی ہے اور اسلام کا مطالعہ کرنے کے لئے نہایت مفید ہے۔ احباب کو چاہئے کہ اس کو بھی بکثرت شائع کریں۔
ان کے علاوہ بعض اور دوستوں کی بھی کتابیں ہیں جو نہایت مفید اور ضروری ہیں۔ ایک کتاب الواح الہدیٰ بک ڈپو نے شائع کی ہے۔ یہ کتاب قاضی اکمل صاحب کی مرتبہ ہے اور درحقیقت ریاض الصالحین کا ترجمہ ہے۔ ریاض الصالحین تربیت کے لحاظ سے ایک بے نظیر کتاب ہے۔ اور بالخصوص بچوں کی تربیت میں بہت مفید ہے۔ اسی بناء پر میں نے بچوں کی انجمن انصار اللہ کے لئے جو سکیم بنائی اس میں ضروری قرار دیا گیا کہ ہر طالب علم کے پاس تین چیزیں ضروری ہونی چاہئیں۔ ایک قرآن شریف دوسرے کشتی نوح تیسری ریاض الصالحین۔ دوسری جگہوں پر اس کتاب کی قیمت بھی زیادہ ہے۔ غالباً ایک روپیہ ہے اور یوں بھی عربی میں ہے جس کو ہر شخص سمجھ نہیں سکتا۔ اس لئے تجویز کی گئی ہے کہ کتاب کے بعض فقہی مسائل کو حذف کر کے اس کا ترجمہ قادیان میں ہی چھپوا لیا جائے۔ چنانچہ قاضی صاحب نے اس ضرورت کو پورا کر دیا اور اسکی قیمت بھی تھوڑی رکھی گئی ہے یعنی بارہ آنہ۔ یہ کتاب نہ صرف بچوں کی تربیت کے لئے ضروری ہے بلکہ بڑوں کی اخلاقی حالت کی اصلاح میں بھی بے نظیر ہے۔ اخلاق کے متعلق آنحضرت ﷺ کے اقوال اور آیات کا یہ ایسا مجموعہ ہے کہ میرے خیال میں ایسا کوئی اور مجموعہ نہیں ہے۔ بہت ہی بے نظیر کتاب ہے۔ مجھے اتنی پسند ہے کہ میں کبھی سفر پر نہیں جاتا مگر اس کو ساتھ رکھتا ہوں۔ پہلے عربی میں تھی جس سے ہر شخص فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا۔ اب ترجمہ کر دیا گیا ہے احباب کو چاہئے کہ اس بہترین مجموعہ کو ضرور خرید کر زیر مطالعہ رکھیں۔ یہ تینوں کتابیں بک ڈپو نے چھپوائی ہیں۔ وہاں سے ملیں گی۔
ایک اور کتاب چشمہ ہدایت ڈاکٹر نور محمد صاحب نے مختلف مذہبی مسائل پر تصنیف کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب ان نوجوانوں میں سے ہیں جو ضروری مشاغل کے باوجود دینیات میں مشغول رہتے ہیں۔ اکثر طور پر ان کو آریوں سے مباحثات کرنے پڑتے ہیں۔ ان کے زہر کے ازالہ کے لئے انہوں نے یہ کتاب تالیف کی ہے۔ آریوں کے مسائل پر بہت عمدہ روشنی ڈالی ہے۔ یہ کتاب بھی مفید معلومات کا ذخیرہ ہے۔ میں اس کی سفارش کرتا ہوں کہ احباب اس کو بھی خریدیں۔ قادیان میں ہر کتب فروش سے مل سکے گی۔
ایک اور ضروری کتاب احکام القرآن ہے۔ یہ کتاب ہمارے دوستوں کے لئے بہت مفید ہے کہ اس میں ہمیں قرآن کریم کے تمام اوامر و نواہی ایک خاص صورت میں معلوم ہو جاتے ہیں جو حضرت مسیح موعودؑ کے نشان کردہ ہیں۔ حکیم محمد الدین صاحب نے (جو حضرت مسیح موعودؑ کے پرانے صحابی اور نہایت مخلص ہیں) قرآن پاک کے اوامر و نواہی کو جن پر حضرت مسیح موعودؑ نے نشان لگائے ہوئے تھے ایک جگہ کر کے اور با ترجمہ شائع کر دیا ہے۔ میرے نزدیک یہ بہت ہی مفید کتاب ہے۔ اس مجموعہ کو پیش نظر رکھنے سے انسان کی بہت کچھ اصلاح ہو سکتی ہے۔ دوسرا فائدہ اس میں یہ ہے کہ اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خیال میں جو اوامر و نواہی تھے۔ ان پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ یہ کتاب پچھلے سال سے شائع ہو چکی ہے لیکن آج کل چونکہ لوگ چٹکلے پسند ہیں۔ جن کتابوں میں چٹکلے ہوں وہی زیادہ فروخت ہوتی ہیں اس لئے یہ کتاب فروخت نہیں ہوئی۔ اب تو انہوں نے اس کی قیمت بھی نصف کر دی ہے یعنی ۸ آنہ کر دی ہے۔ احباب کو چاہئے کہ اس کو بھی ضرور خرید کر فائدہ اٹھائیں۔
اس کے بعد میں دوستوں کو وصیت کی طرف خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں۔ وصیت ہماری جماعت کے لئے نہایت اہم اور اصل چیز ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ جو شخص وصیت نہیں کرتا اس کے ایمان میں نفاق کا حصہ ہے۔ پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں۔ وصیت کی طرف خاص توجہ کریں۔ جماعت کا کثیر حصہ ابھی تک وصیتوں سے خالی ہے۔ اس وقت ہماری جماعت کی ترقی کے لئے مالی قربانیوں کی بہت ضرورت ہے۔ خدا تعالیٰ کا منشاء ہے کہ ہم مالی قربانیوں میں پورا حصہ لیں۔ چنانچہ ایک دوست نے خواب دیکھا ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر ہماری جماعت بے نظیر کامیابی اور ترقی دیکھنا چاہتی ہے تو ہر احمدی اپنے مال کا چوتھائی حصہ خدا کے دین کی اشاعت کے لئے قربان کرے۔ چنانچہ انہوں نے لکھا ہے کہ میں اب سے ایسا ہی ادا کیا کروں گا۔
یہ زمانہ ایسا ہے کہ نہایت اہم کاموں کی ضرورت پیش آرہی ہے جس کے لئے روپیہ کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ مثلاً اب ہر ضلع میں ایک تربیت کرنے والے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے اگر ہر ضلع میں ایک ایک مبلغ رکھا جائے تو صرف پنجاب اور سرحدی علاقہ کے لئے دس ہزار ماہوار خرچ کی ضرورت ہے اور اس رنگ میں تبلیغ کے بغیر جماعت کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ پس مالی قربانیوں کی طرف توجہ کی بہت ضرورت ہے۔
پھر ہماری جماعت میں بہت سے دوست بے روزگار بھی ہیں۔ ان کے لئے ایک جگہ کا اعلان اخبار میں ہو چکا ہے۔ وہاں کئی سو احمدی معقول روزگار پر لگ سکتے ہیں۔ اس کے لئے دوست چوہدری غلام احمد صاحب ایڈووکیٹ پاک پٹن سے مل سکتے ہیں اور مفصل حالات دریافت کر سکتے ہیں۔
آج مجھے معلوم ہوا ہے کہ کل رات ساڑھے بارہ بجے رات تک مہمانوں کو کھانا ملتا رہا ہے۔ مہمانوں کو جلدی کھانا کھلا دینا چاہئے۔ جب انہیں ساڑھے بارہ بجے کو کھانا ہی ملے گا تو انہیں ذکر کرنے کا کہاں موقع ملے گا اور دن کے وقت وہ تقریریں کیسے سن سکیں گے۔ اصل میں قادیان کی آبادی ابھی محدود ہے اور مہمان ہر سال پہلے سے زیادہ آتے ہیں اس لئے انتظام یہاں کے محدود دوستوں کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔ میرے نزدیک
باہر کے دوستوں سے مشورہ کر کے ان میں سے باقاعدہ طور پر میزبان لئے جایا کریں جیسا کہ بعض دوست اب بھی کام میں شریک ہوتے ہیں مگر باقاعدہ طور پر کام لینے سے خاطر خواہ کامیابی حاصل ہو سکتی ہے اور باہر کے دوستوں کو مدد کرنے میں کوئی عذر نہیں ہو سکتا کیونکہ ایک لحاظ سے ہم سب ہی میزبان ہیں اس لئے باہر کے دوستوں سے بھی اس موقع پر مدد لے لیا کریں۔
آج مسجد لندن کے متعلق ایک اور شہادت ملی ہے کہ ولایت کے ایک بڑے آدمی نے لکھا ہے کہ ابن سعود نے ایک نادر موقع ہاتھ سے کھو دیا اس کے لئے موقع تھا کہ وہ یہ دکھاتا کہ اس کا تعلق اس جماعت سے ہے جو اسلام کو خوبصورتی کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ میرے نزدیک اس کے بیٹے کو جو ولایت سے دنیوی فوائد پہنچے ہیں وہ آپ کی جماعت کے طفیل ہی پہنچے ہیں اگر آپ اسے نہ بلاتے تو اس کو یہ فوائد کیسے پہنچتے۔ (الفضل ۲۱؍ جنوری ۱۹۲۷ء)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
(فرمودہ مؤرخہ ۲؍مارچ ۱۹۲۷ء بمقام بریڈ لاء ہال لاہور زیر صدارت خان بہادر سر محمد شفیع کے سی ایس آئی)
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ(1:2-7)۱؎
جیسا کہ آپ صاحبان کو معلوم ہے۔ آج میں آپ لوگوں کے سامنے اس لئے کھڑا ہوا ہوں کہ ہندو مسلم فسادات کے بواعث، ان کا علاج اور مسلمانوں کے لئے آئندہ طریقِ عمل بیان کروں۔ میرے نزدیک ہر وہ شخص جو خواہ کسی مذہب کے ساتھ تعلق رکھتا ہو، خواہ کسی ملت میں منسلک ہو، خواہ کسی عقیدہ اور کسی خیال کا ہو جسے کچھ بھی ہمدردی اپنے ملک سے ہو گی بلکہ میں کہتا ہوں جس کے دل کے کسی گوشہ میں بھی ملک کی خیر خواہی کا احساس ہو گا بلکہ میں کہتا ہوں جس کے اندر ایک ذرہ بھر بھی دردمندی کا مادہ ہو گا وہ ان فسادات کے سبب ایک تکلیف دہ احساس محسوس کئے بغیر نہیں رہے گا۔
ابھی چند سال کی بات ہے کہ پلیٹ فارموں پر سے یہ آواز بلند کی جاتی تھی کہ ہم بھائی بھائی ہیں ہم ایک وطن کے رہنے والے ہیں، ہمارے تعلقات کو کوئی بگاڑ نہیں سکتا، ملک کے خیر خواہ انسانوں کے لئے یہ آواز کیسی بھلی تھی اور اس سے کیسی لذت محسوس ہوتی اور کس قدر سرور حاصل ہوتا تھا۔ مگر یہ آواز ہی تھی اور ایک عارضی وقت کے لئے تھی کیونکہ چند ہی دن یہ اتفاق اور صلح رہی اور پھر فتنہ و فساد پیدا ہو گیا۔ یا تو وہ وقت تھا کہ جابجا اس قسم کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں اور اس قسم کے مضامین لکھے جا رہے تھے کہ ہم ایک ہیں اور ہم جدا نہیں ہو سکتے یا اب یہ حال ہے کہ وہ جو کہتے تھے ہم بھائی بھائی ہیں ایک دوسرے کے دشمن ہو گئے اور ایک دوسرے کو وطن سے نکالنے کی تیاریاں کرنے لگے۔ یہ اس لئے ہوا کہ ان کا اتفاق اور صلح صحیح بنیادوں پر نہیں تھی۔
میرے نزدیک اس وقت تک کوئی مذہب ترقی نہیں کر سکتا، کوئی تمدن ترقی نہیں کر سکتا، کوئی سیاست ترقی نہیں کر سکتی جب تک کہ امن نہ ہو۔ جس طرح کھیت بغیر پانی کے ہرا نہیں ہو سکتا اسی طرح ترقی بغیر امن کے حاصل نہیں ہو سکتی۔ امن ترقی کے لئے اس پانی کی طرح ہے جس سے کھیت ہرا بھرا ہوتا ہے۔ غرض ترقی خواہ مذہب کی ہو، خواہ ملک کی، خواہ سیاست کی ہو خواہ تمدن کی امن کے بغیر نہیں ہو سکتی اور بغیر امن کے کوئی ترقی نہیں کر سکتا۔ چونکہ امن ترقی کا اصل ذریعہ ہے یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں جتنے متمدن ممالک ہیں وہ فسادات کے مٹانے میں لگے ہوئے ہیں اور نہ صرف عام لوگ اپنے اپنے طور پر یہ کام کر رہے ہیں بلکہ وہاں کی پارلیمنٹیں اور وہاں کے ذمہ دار حکام بھی رات دن اسی کام پر لگے ہوئے نظر آتے ہیں کہ کسی طرح فسادات مٹائیں اور ترقی کریں۔ ان ملکوں میں اس قسم کی تقریریں کی جاتی ہیں جن سے امن کی خوبیاں لوگوں کے ذہن نشین ہوں اور لوگوں کو فسادات سے بچایا جائے۔
مگر ایک یہی بدبخت ملک ہندوستان ہے جس میں بجائے ایسی تقریریں کرنے کے جن سے امن قائم ہو اور لوگ امن کے سائے تلے ترقی کرتے چلے جائیں اس قسم کی تقریریں کی جاتی ہیں کہ فسادات بڑھیں، قومی اور فرقہ وارانہ نفرتیں زیادہ ہوں اور ملک کا امن جاتا رہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بحیثیت ملک ہونے کے ہندوستان ترقی کرنے سے رُکا ہوا ہے کیونکہ جب کسی ملک کے باشندے ایک دوسرے کے برخلاف اپنی طاقتیں خرچ کریں گے تو ضرور ہے کہ ترقی کرنے سے رُکے رہیں۔ ہمارے ملک میں اگر تمدن کو کسی مطلب کا سمجھا جاتا ہے تو نفرت پیدا کرنے کا ذریعہ ، اگر سیاست کو کسی کام کا خیال کیا جاتا ہے تو فتنہ و فساد کرانے کا آلہ ، اگر سوسائٹیوں کو کسی مصرف کا سمجھا جاتا ہے تو فساد اور بدامنی پھیلانے کا ہتھیار۔ غرض کیا تمدن، کیا سیاست، کیا سوسائٹی اور کیا مذہب سب کے سب فساد کے لئے استعمال کئے جا رہے ہیں اس وجہ سے ہماری حالت سخت خراب ہے۔ ہم دوسروں کی نظروں میں بھی گرے ہوئے ہیں اور اپنی نظروں میں بھی گرے ہوئے ہیں لیکن افسوس کہ ہم اپنی حالتوں پر جیسا کہ چاہئے غور نہیں کرتے۔ اگر ہم غور کریں تو صاف نظر آجائے کہ ہم سخت گرے ہوئے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ہم بہت جلد شورشوں کا شکار بن جاتے ہیں
ملک میں جو کچھ عرصہ سے فسادات ہو رہے ہیں ان کے دور کرنے کے لئے جو کوششیں اس وقت کی گئیں اور جس رنگ میں سعی کو کام میں لایا گیا جہاں تک میں نے غور کیا ہے یہی معلوم ہوا ہے کہ وہ صحیح نہیں۔ وہ کوششیں غلط راستوں پر لے جاتی ہیں جن پر چلنے سے فسادات بڑھا کرتے ہیں مٹا نہیں کرتے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی علاج بغیر تشخیص کے نہیں ہوتا اور صحیح علاج کے لئے صحیح تشخیص کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ جہاں صحیح تشخیص نہیں ہوتی وہاں صحیح علاج بھی نہیں ہوتا۔ جب ہم ان کوششوں پر نگاہ ڈالتے ہیں جو اس ملک سے فتنہ و فساد مٹانے کے لئے کی گئیں تو کہنا پڑتا ہے کہ وہ صحیح تشخیص پر مبنی نہیں تھیں۔ چونکہ فسادات کی اصل وجہ ہی کی تشخیص نہیں کی گئی تھی اس لئے یہ ممکن نہ تھا کہ جو کوششیں فسادات کے مٹانے اور صلح کے پیدا کرنے کے لئے کی گئیں وہ کامیاب ہوتیں۔ سو ایسا ہی ہوا۔ سال دو سال کے لئے بظاہر امن کی صورت اور صلح کا رنگ پیدا ہو گیا مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایسی کوششیں صحیح اور درست طریق پر نہ تھیں اور ان کی کیفیت ایسی ہی تھی جیسی مرض کی تشخیص کئے بغیر اس کے علاج کرنے کی سعی کی جائے اس لئے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ عرصہ عارضی خاموشی رہی پھر فسادات بڑھ گئے اور وہ بات جو صلح کی شکل میں نظر آرہی تھی مٹ گئی اور باوجود تین چار سال تک وقت، طاقت، اثر اور روپیہ استعمال کرنے کے بھی اسے قائم نہ رکھا جا سکا
اس وقت تک صلح کے لئے جو دو طریق استعمال کئے گئے ہیں وہ بالکل نادرست تھے۔ ان میں سے پہلا طریق تو یہ تھا کہ ہمارے ملک کے سیاسی لیڈر جمع ہو جاتے اور کہہ دیتے آؤ صلح کر لیں۔ جب ان کا آپس میں سمجھوتہ ہو جاتا تو اعلان شائع کر دیتے کہ صلح ہو گئی ہے۔ حالانکہ لیڈروں کے درمیان تو لڑائی پہلے سے ہی نہ تھی اور نہ ہی لیڈروں کے درمیان لڑائی ہوا کرتی ہے۔ لڑتے تو عام لوگ ہیں۔ وہ سیاسی لیڈروں کے ایسے اعلانات کے باوجود کہ صلح ہو گئی ہے پھر بھی لڑتے رہے کیونکہ لڑائی محمد علی و شوکت علی صاحبان۔ گاندھی جی اور پنڈت مالویہ کے درمیان نہ تھی۔ لڑائی تو عوام کے درمیان تھی اور یہ ناممکن ہے کہ لڑیں تو عوام اور صلح کریں لیڈر۔ اس طرح کبھی صلح نہیں ہو سکتی۔ غرض چونکہ لیڈروں میں لڑائی نہ تھی اس لئے ان کی صلح کا اثر عوام پر نہیں ہو سکتا تھا مگر باوجود اس کے یہ سمجھ لیا جاتا تھا کہ صلح ہو گئی۔ لیڈر اگر صحیح اقرار بھی کریں کہ لوگ آئندہ نہیں لڑیں گے تو بھی فساد نہیں رُک سکتے کیونکہ لڑنے والے ان کی صلح کو قبول نہیں کر سکتے۔
دوسرا طریق یہ تھا کہ کچھ پبلک کو بلا کر کہہ دیا جاتا کہ تم آپس میں بھائی بھائی ہو تمہیں لڑنا نہیں چاہئے۔ اس پر بعض جگہ اعلان تو ہو گیا کہ ہندو مسلمان نہیں لڑیں گے لیکن نتیجہ اس کا بھی کچھ نہ نکلا کیونکہ محض اعلانوں سے کبھی صلح نہیں ہوئی جب تک لڑائی کے اسباب کو دور نہ کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ لوگ بلاوجہ لڑا کرتے تھے یا ان کی لڑائی کی کوئی وجہ ہوتی تھی اور کیا ایسے اعلان لڑائی کی اصل وجہ دریافت کر کے کئے جاتے تھے؟ یا یونہی۔ واقعات بتائیں گے کہ لوگ بلاوجہ نہیں لڑا کرتے اور لیڈروں کے اعلان بغیر اس لڑائی کی وجہ معلوم کئے ہوتے تھے۔ جس طرح ہر انسان میں غصہ کا مادہ ہوتا ہے مگر کسی باہوش انسان کو بلاوجہ کسی پر غصہ نہیں آتا اور نہ بلاوجہ کسی سے لڑتا ہے کسی وجہ سے ہی اسے غصہ آتا ہے۔ اسی طرح قومیں بھی بلاوجہ نہیں لڑا کرتیں اور ملکوں کی لڑائیاں بھی کسی وجہ سے ہی ہوا کرتی ہیں۔ جب ہر لڑائی کے لئے کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے اور لڑائی بند تب ہی ہو سکتی ہے جب اس کی وجہ مٹ جائے۔ تو ہندو مسلمانوں کی لڑائی کے متعلق کیسے امید کی جا سکتی تھی کہ صرف لیڈروں کے منہ سے کہہ دینے سے بند ہو جائے گی حالانکہ نہ اس کی وجہ دریافت کی گئی اور نہ اس وجہ کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ قاعدے کی بات ہے کہ جوش میں انسان ہر قربانی کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ جب ہندو مسلمانوں میں صلح کا جوش تھا اس وقت اس جوش سے شاید اگر دائمی نہیں تو ایک لمبے عرصہ کے لئے صلح ہو جانی ممکن تھی بشرطیکہ لیڈر پبلک کے اس جوش سے پورا اور صحیح رنگ میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے لیکن انہوں نے فسادات کی وجہ تو دریافت نہ کی جس کے دور کرنے سے فساد دور ہو سکتے تھے اور جو کچھ کیا وہ یہ تھا کہ کچھ لوگوں کو بلا کر کہہ دیا صلح کر لو لڑو نہیں اور لوگوں نے بھی جلسوں کے موقعوں پر کہہ دیا ہم نہیں لڑیں گے اور تماشے کے طور پر عوام الناس نے کہنا شروع کر دیا آج سے ہم بھائی بھائی ہیں۔ ہمیں آپس میں ایک دوسرے کو گلے لگا لینا چاہئے۔ آج سے ہماری صلح ہو گئی۔
اسی بریڈ لا ہال میں آج سے چار پانچ سال پہلے میں نے ایک تقریر کی تھی اس میں بھی ہندو مسلمانوں کی صلح کے متعلق اظہارِ خیالات کیا تھا۔ میرے نزدیک اس صلح کی مثال ایسی تھی جیسے دو زمیندار جو آپس میں بھائی ہوں اور جن میں جائداد تقسیم کر دی گئی ہو وہ کھیت کے کسی منڈیر کے لئے لڑ پڑیں۔ ایک کہے یہ حصہ میرا ہے دوسرا کہے میرا۔ اس موقع پر ان کا باپ اگر انہیں کہے خبردار مت لڑو نقصان اٹھاؤ گے تو کوئی تعجب نہیں کہ وہ باپ کی نصیحت سن کر رو بھی پڑیں اور بغیر اس کے کہ وہ باپ سے پوچھیں کہ ہم صلح کن اصول پر کریں وہ آپس میں گلے مل جائیں۔ لیکن گو وہ بظاہر صلح کر لیں گے لیکن ان میں سے ہر ایک دل میں یہ خیال کرے گا کہ ہمارے باپ کا مطلب یہ تھا کہ میرا دوسرا بھائی مجھ پر ظلم نہ کرے اور اب امید ہے کہ اس صلح کے بعد وہ میرا حق مجھے دے دے گا اور وہ دل میں خوش خوش چلا جائے گا کہ اب متنازعہ زمین مجھے مل جائے گی۔ اس کے بعد جب ان دونوں میں سے کوئی متنازعہ فیہا حصہ زمین میں ہل چلائے گا تو دوسرا لٹھ لے کر کھڑا ہو جائے گا اور کہے گا عجیب احمق ہے کہ ابھی باپ نے سمجھایا اور اس کے سامنے فیصلہ کر کے آیا ہے اور ابھی اس کے خلاف کر رہا ہے۔ اس طرح پہلے سے بھی زیادہ زور سے لڑائی شروع ہو جائے گی۔ ایسی صلح درحقیقت نئے فساد کی وجہ بن جاتی ہے اور اس سے امن قائم نہیں ہو سکتا۔ چونکہ ان مجالس میں جو لیڈروں کی طرف سے قائم کی جاتی ہیں یہ فیصلہ نہیں کیا گیا تھا کہ ہندو مسلمانوں کے مطالبات کیا ہیں، جھگڑا کن باتوں پر ہے اور ان کے متعلق صفائی کس طرح ہو سکتی ہے اس لئے نتیجہ یہ ہوا کہ جب لوگ جلسوں کو چھوڑ کر گھروں میں گئے تو ہندوؤں کے جو مطالبے مسلمانوں سے تھے ان کے متعلق ہندوؤں نے سمجھ لیا اب وہ پورے ہو گئے اور مسلمانوں کے جو مطالبات ہندوؤں سے تھے ان کے متعلق مسلمانوں نے سمجھ لیا چونکہ لیڈروں نے اب صلح کرا دی ہے اس لئے وہ پورے ہو جائیں گے۔ مگر جب ہندوؤں نے اپنے حقوق کا مطالبہ مسلمانوں سے کیا اور مسلمانوں نے اپنے حقوق کا مطالبہ ہندوؤں سے کیا تو دونوں کا غصہ اور بھی بڑھ گیا کیونکہ ہر ایک صلح کا مفہوم یہ خیال کرتا تھا کہ اب دوسرا اپنا مطالبہ چھوڑ دے گا۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ پہلے سے بھی زیادہ فساد پیدا ہو گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ لیڈروں کے صلح کے اعلانات سے پبلک اس دھوکا میں آگئی کہ صلح ہو گئی حالانکہ یہ کوئی صلح نہ تھی بلکہ یہ تو ایک قسم کی لڑائی تھی۔ اس طرح جب بھی کیا جائے گا اس سے پہلے کی نسبت زیادہ فساد ہو گا کیونکہ یوں اپنے حق کے لئے لڑنے والوں کو اگر کسی وقت سمجھایا جائے تو کچھ نہ کچھ سمجھ سکتے ہیں لیکن جہاں یہ سمجھ لیا گیا ہو کہ ہمیں صلح کے پردہ میں دھوکا دیا گیا وہاں لڑائی کا کم ہونا مشکل ہوتا ہے۔ ہندو مسلمانوں میں بھی یہی ہوا۔ اگر ہندو اور مسلمانوں نے یہ نہ سمجھ لیا ہوتا کہ ہم ایک دوسرے کی طرف سے دھوکا دیئے گئے ہیں تو ان کی آپس میں لڑائی نہ ہوتی۔ اور اگر ہوتی تو سمجھانے سے کم ہو جاتی مگر یہاں دونوں نے یہ سمجھا کہ ہم کو دھوکا دیا گیا ہے۔ حالانکہ ان کو دھوکا نہیں دیا گیا تھا بلکہ ان کے نفسوں نے دھوکا کھایا تھا کہ جو بات صلح نہ تھی اسے صلح سمجھ لیا تھا۔ مسلمانوں نے جب دیکھا کہ ہندوؤں نے باوجود صلح کے ان باتوں کو نہیں چھوڑا جن سے مسلمانوں کو رنج پہنچتا تھا تو انہیں غصہ آیا کہ ابھی صلح کا فیصلہ ہوا تھا لیکن انہوں نے اس کی کچھ پرواہ نہیں کی اور ابھی تک بدستور وہی کام کر رہے ہیں جن سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔ ادھر ہندوؤں نے جب دیکھا کہ مسلمانوں نے وہی باتیں کرنی شروع کر دیں جن سے انہیں ناراضگی تھی تو انہیں بھی غصہ آیا۔ مطلب یہ کہ دونوں نے سمجھا ہمیں دھوکا دیا گیا ہے اور یہ دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے جس کے نتیجہ میں ملک کا امن برباد ہو گیا۔ اس وقت میں چاہتا ہوں کہ اس کے متعلق میں اپنے خیالات آپ لوگوں کے سامنے ظاہر کروں کہ اس نزاع کے اصل بواعث کیا ہیں؟ اور ان حالات میں جب کہ نزاع پیدا ہو چکی ہے اور ملک کا امن خطرہ میں پڑ گیا ہے امن کس طرح قائم ہو سکتا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ جو باتیں میں بیان کرونگا اگر انہیں غور سے سنا جائے گا اور ان کے مطابق عمل کیا جائے گا تو بہت جلد امن قائم ہو جائے گا۔
میں ان فرقہ وارانہ فسادات اور نزاعات کے بواعث تفصیلی طور پر تو اس قلیل وقت میں بیان نہیں کر سکتا مختصر طور پر جو کچھ کہہ سکتا ہوں وہ کہوں گا۔ میرے نزدیک موجودہ فسادات کے بواعث یہی ہیں جو میں بیان کروں گا اس لئے جس طرح سبب نہیں رہتا تو مرض بھی نہیں رہتا اسی طرح اگر یہ بواعث نہ رہیں تو فسادات بھی نہ رہیں گے۔
سب سے پہلا باعث جو ان فسادات کا ہے وہ یہ ہے کہ ملک میں سیاسی رواداری اور مساوات کا خیال مفقود ہے۔ سیاسی رواداری کی تو ہم لوگوں نے قیمت ہی نہیں سمجھی اور مساوات کے اصول کی اہمیت سے بے خبر ہیں اس لئے بجائے اس کے کہ رواداری کا چرچا عام ہو ہر ایک یہی خیال کرتا ہے کہ جس چیز پر اس کا قبضہ ہو گیا وہ اسی کے لئے ہے اور اسی کے فائدہ کے لئے ہے دوسروں کے فائدہ کے لئے نہیں۔ یہ رواداری کے جذبہ کے نہ ہونے کا ہی نتیجہ ہے کہ ہر ایک آدمی ایسا خیال کرتا ہے۔ اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ رواداری کا جذبہ لیاقت اور علم سے پیدا ہو سکتا ہے لیکن وہ قوم کیا لیاقت حاصل کر سکتی ہے جس کے لئے تعلیمی راستہ ہی نہ کھلا ہو۔ میں اس بات کو ضرور تسلیم کرتا ہوں کہ ہر ایک قوم کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ اس کے افراد لیاقت پیدا کریں۔ لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ایک قوم کے لئے بغیر حکومت میں مناسب حصہ پانے کے ترقی ہی ناممکن ہوتی ہے اور دوسری قوم اس قدر ترقی کر چکی ہوتی ہے کہ بغیر خاص مدد کے پہلی قوم قدم آگے کو نہیں اٹھا سکتی۔ اور اس وقت ترقی یافتہ قوم کا فرض ہوتا ہے کہ وہ وطنی جذبہ کا اظہار کرے اور نہ صرف یہ کہ پیچھے رہی ہوئی قوم کو اس کا حق دے بلکہ اسے رعایت دے تاکہ وہ بھی ترقی کر سکے۔ یہی صحیح جذبہ رواداری کا ہے جس کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی اور نہ اس کے بغیر امن ہو سکتا ہے۔ ایک ملک کی مختلف قوموں کی مثال ایک سڑک کی ہے جس پر مختلف لوگ چل رہے ہوں بیشک راستہ میں ہر ایک شخص کو خود ہمت کر کے آگے بڑھنا چاہئے لیکن جب یہ صورت پیدا ہو جائے کہ کچھ لوگ راستہ میں دیوار کی طرح کھڑے ہو گئے ہوں تو پچھلوں کے لئے آگے بڑھنا بالکل ناممکن ہو گا ان کی سب کوششیں اکارت جائیں گی۔ پس اس وقت اگلی قوم کا فرض ہو گا کہ وہ بیشک آگے کو چلے لیکن سارا راستہ نہ روکے دوسروں کے آگے بڑھنے کے لئے بھی راستہ چھوڑ دے ورنہ پسماندہ قومیں کبھی ترقی نہیں کر سکتیں۔
سیاسی رواداری کا یہ فقدان ہمارے ملک میں اس سبب سے ہے کہ اس ملک میں جمہوریت کبھی قائم نہیں ہوئی۔ ہندو راجے بھی یہاں ہوئے اور مسلمان بادشاہ بھی یہاں گزرے مگر سب کی حکومت قومی ہوا کرتی تھی۔ یعنی کیا ہندو اور کیا مسلمان دونوں کی حکومتیں رہی ہیں مگر وہ بادشاہوں کی حکومتیں تھیں۔ ہندوؤں میں سے عام طور پر راجپوت حکومت کرتے رہے ہیں۔ اس وقت گویا راجپوتوں کی قومی حکومت تھی۔ ان کے سوا جو قومیں ہندوؤں کی تھیں ان کے لئے ترقی کے کوئی سامان راجپوت قوم کی طرف سے نہ کئے جاتے تھے۔ اسی طرح مسلمانوں کی اگر حکومت اس ملک میں قائم ہوئی تو اسے ایک لحاظ سے کہہ سکتے ہیں کہ مغلوں کی تھی یا پٹھانوں کی تھی کیونکہ ان میں سے بعض ایسے تھے جو مغل بادشاہ تھے اور بعض ایسے پٹھان بادشاہ تھے نہ کہ ملکی بادشاہ تھے اس وجہ سے باوجود سینکڑوں سال تک بڑی بڑی حکومتوں کے قائم ہونے کے ہر قوم کا ہر بادشاہ سمجھتا تھا کہ مجھے اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لئے تلوار اور جتھے کی ضرورت ہے۔ اور جب ایک بادشاہ کو اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لئے تلوار اور جتھے کی ضرورت ہو لازمی طور پر یہ بات پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ
اس کے لئے اپنی قوم یا اپنے لوگوں کی طرف دیکھے اور انہیں ہر قسم کی رعایات دے اور دوسرے لوگوں کو ان فوائد سے محروم رکھے۔ ہندوستان میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے کیونکہ ہر بادشاہ یا ہر راجہ یہ محسوس کرتا تھا کہ اگر اپنے جتھے کی رعایت نہ کی جائے گی اور اگر اسے خاص حقوق نہ دیئے جائیں گے تو وہ اس کی مدد نہ کرے گا اور لڑائی کے موقع پر اس کا ساتھ نہ دے گا اور حکومت قائم نہ رہے گی۔ ایسا جتھہ ان کی اپنی قوم ہی کا ہوتا تھا۔ اور ان خاص مراعات کی وجہ سے جو ان کو ملتی تھیں بادشاہ کی قوم خیال کرتی تھی کہ گویا حکومت انہی کی ہے اور اس کی حفاظت کا خیال اسے رہتا تھا۔ غرض اس ملک کے بادشاہوں اور راجوں کو اپنا جتھہ قائم کرنے کے لئے یہ طریق اختیار کرنا پڑتا اور اس جتھہ کے فوائد کے لئے دوسرے گروہوں اور فرقوں اور جماعت کے فوائد کو نظر انداز کر دیا جاتا اور صرف انہیں لوگوں کو خاص حقوق ملتے جو ان کی اپنی قوم یا اپنے جتھے کے ہوتے۔
اس طریقِ عمل کا نتیجہ یہ ہوا کہ قومی پاسداری یا دھڑا بندی کے خیالات لوگوں کے دلوں میں راسخ ہو گئے۔ اور یہ خیال ورثہ کے طور پر جو اپنے باپ دادوں سے اس ملک کے باشندوں کو ملے بلاشبہ یہ بڑا ورثہ ہے۔ اور جب تک اس کی اصلاح نہ ہو گی اس وقت تک جس قوم کے ہاتھ میں کوئی اختیار ہو گا وہ دوسروں کو مٹا دے گی۔ اس کے افراد باپ دادوں کی طرف سے یہی دیکھتے چلے آئے ہیں کہ ہر ایک قوم کا فرد اپنی ہی قوم کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتا ہے اور دوسروں کی پرواہ نہیں کرتا اور جب کوئی قوم اس اختیار کے مل جانے پر دوسری قوموں کو مٹانے کی کوشش کرے گی لازماً فساد بڑھے گا اور جب فساد بڑھے گا تو امن اٹھ جائے گا۔ اور امن کے اٹھ جانے کی صورت میں ترقی کی کوئی امید نہیں ہو سکتی۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اس طریقہ کی اصلاح کی جائے کیونکہ جب تک اس طریقہ میں اصلاح نہ ہو گی اور لوگ ایک دوسرے کی مدد کرنا نہ سیکھیں گے نہ صرف یہ کہ اپنوں میں سے ایک دوسرے کی مدد نہ کریں گے بلکہ غیروں اور دوسری قوموں کے آدمیوں کی مدد نہ کریں گے اور ان میں مساوات کا مادہ موجود نہ ہو گا اور سیاسی رواداری کا جذبہ پیدا نہ ہو گا ترقی نہیں کر سکیں گے۔
دوسری وجہ جو ان فسادات کی ہے اور جس کا اثر بھی بہت بڑا ہے وہ مذہبی رواداری کا فقدان ہے۔ جس طرح اس ملک میں سیاسی رواداری نہیں اسی طرح مذہبی رواداری بھی نہیں۔ لوگ برداشت ہی نہیں کر سکتے کہ کسی دوسرے مذہب کو اچھا کہہ سکیں بلکہ اُلٹا یہ خیال بیٹھ گیا ہے کہ جب تک ایک مذہب دوسرے مذہب کی برائی نہ کر لے اس وقت تک اس کی برتری ثابت نہیں ہو سکتی۔ ہم اس بات کے عادی ہو گئے ہیں کہ دوسروں میں کیڑے نکالیں ان کو جھوٹا کہیں۔ جا بجا کہتے پھریں کہ فلاں مذہب بہت بُرا ہے اس میں تعفن پیدا ہو گیا ہے اور اس حد تک تعفن پیدا ہو گیا ہے کہ پاس جاتے ہوئے دماغ پھٹ جاتا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ پچھلا زمانہ انحطاط کا زمانہ گزرا ہے اس میں ہر قسم کی قابلیت کم ہو گئی تھی اس وقت لوگوں میں بلند ہمتی نہ رہی تھی اس لئے بجائے اس کے کہ اپنے مذہب پر غور کرتے ان کی خوبیاں معلوم کرتے اور دوسروں کو ان سے آگاہ کرتے لوگوں نے یہ طریق اختیار کر لیا کہ اپنی بڑائی ظاہر کرنے کے لئے دوسرے مذہبوں کو بُرا کہنے لگ گئے۔ مذہب کی خوبیوں سے واقف ہونے کے لئے عبادت، خدا کی محبت اور وقت کی قربانی کی ضرورت تھی لیکن ہمارے ملک میں نہ عبادت رہی نہ خدا کی محبت نہ مذہب کے لئے وقت کی قربانی کی عادت۔ اس لئے ان کی جگہ یہ بات پیدا ہو گئی کہ دوسرے مذاہب کو بُرا بھلا کہنے لگ گئے کیونکہ بلند ہمتی نہ رہی تھی۔ دوسرے مذاہب کو بُرا کہہ دینے اور ان کے نقائص بیان کر دینے سے ہی لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ہم نے بڑا کام کر لیا۔
یہ دو وجہیں ہیں ملک کے فسادات کی جنہیں سیاسی اور مذہبی عدم رواداری کہا جاتا ہے اور یہ اس ملک کے لوگوں نے خود پیدا کی ہیں ورنہ خدا تعالیٰ کی طرف سے وہ رواداری کے جذبہ سے محروم نہیں کئے گئے۔ پچھلے اعمال کے اثرات سے یہ بات پیدا ہوئی کہ نہ سیاسی رواداری باقی ہے اور نہ مذہبی رواداری۔ اور جب تک یہ نقص دور نہ کیا جائے گا اور ملک میں عدم رواداری کا جو مادہ پیدا ہو گیا ہے اسے خارج نہ کیا جائے گا اس وقت تک ترقی نہیں ہو سکے گی۔ لیکن یہ حالت ایک دن میں پیدا نہیں ہو سکتی اس کے پیدا کرنے میں دیر لگے گی پس اس وقت تک کہ یہ حالت پیدا ہو ہمیں ایسی شرائط طے کر لینی چاہئیں جن پر عمل کر کے عارضی طور پر یہ بڑے جذبات ان لوگوں کے دلوں میں دبے رہیں جو اس مرض میں مبتلاء ہیں اور ان کے بار بار ظاہر ہونے سے ملکی امن کو نقصان پہنچے۔
میں نے دیکھا ہے عدم رواداری سے دو خطرناک نتیجے پیدا ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ دشمن کوئی اچھی بات کہہ ہی نہیں سکتا۔ رواداری کے فقدان کی وجہ سے ہندو فرض کر لیتے ہیں کہ مسلمان جو کچھ کرتے ہیں بُرا کرتے ہیں اور مسلمان یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہندو جو کچھ کرتے ہیں بُرا کرتے ہیں خواہ اچھی بات ہی ہو پھر بھی اسے بُرا ہی کہتے اور بُرا ہی سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دوسرے کی بات کو اچھا کہنے میں ہماری ہتک ہے۔ پس گو دوسرے مذہب کا آدمی اچھی بات ہی کر رہا ہو لیکن رواداری کے نہ ہونے کے سبب اسے بُرا ہی سمجھا جاتا ہے۔
دوسرا نتیجہ یہ ہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ ہر شخص جو کچھ کہتا ہے بدنیتی سے کہتا ہے یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی کوئی بات کہے اور دوسرے کو وہ ناپسند ہو لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ چونکہ اسے ناپسند ہے اس لئے کہنے والے نے بدنیتی سے کہی ہے۔ مگر یہاں نیتوں پر بھی حملہ کیا جاتا ہے اور جب کسی کی نیت پر حملہ کیا جاتا ہے تو لازماً یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ دوسرے کو غصہ آئے اور اس غصہ سے وہ خیال کرنے لگ جائے کہ یہ مجھے اس لئے ذلیل کرنا چاہتا ہے کہ خود ترقی کرے۔ درحقیقت یہ نقص اس لئے پیدا ہوا ہے کہ قوم پرستی کی وجہ سے ہمارے ملک میں یہ خیال راسخ ہو گیا ہے کہ ترقی بغیر دوسروں کو گرانے کے نہیں ہو سکتی۔
اس موقع پر یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اسلام کی تعلیم مذکورہ بالا امور کے متعلق کیا ہے۔ سیاسی رواداری ایک ایسی چیز ہے جس کے متعلق اتنی سی بات بیان کر دینا ہی کافی ہو گا کہ اسلامی ملکوں میں اسلامی حکومتوں کے ماتحت لوگ بڑے بڑے اعلیٰ عہدوں پر قائم رہے اور یہ بات کہ غیر مذہب کے لوگوں کو اعلیٰ عہدوں پر مقرر کیا گیا ہو خاص حکومت یا کسی خاص اسلامی ملک یا کسی خاص زمانہ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ہر اسلامی حکومت میں ایسا کیا جاتا تھا اور ہر اسلامی ملک میں اس رواداری کو استعمال میں لایا جاتا رہا۔ جہاں جہاں اسلامی حکومت ہوئی ہے وہاں لائق اور قابل آدمیوں کو اعلیٰ عہدوں پر مقرر کیا گیا اور یہ نہ دیکھا گیا کہ فلاں آدمی اپنی قوم کا فرد ہے یا غیر قوم کا۔ چنانچہ انجینئر، اطباء، کمانڈر، حتیٰ کہ وزارت تک کے عہدے ان لوگوں کو دیئے گئے جو یہودی تھے یا عیسائی یا کسی اور قوم کے فرد۔ یہی حال ہندوستان میں بھی رہا اور بادشاہوں نے ہندوؤں کو بھی بڑے بڑے عہدوں پر مقرر کیا بلکہ بعض حالتوں میں غیر مذہب کے لوگ مسلمانوں سے بھی ترقی کر جاتے تھے کیونکہ جو بڑے بڑے مسلمان بادشاہ گزرے ہیں وہ جانتے تھے کہ انہیں مذہبی طور پر بھی حکم ہے کہ کسی کا حق نہ ماریں خواہ وہ شخص اپنی قوم کا ہو یا غیر قوم کا۔ چونکہ مسلمانوں کو مذہبی طور پر اس قسم کی رواداری اختیار کرنے کا حکم ہے اس لئے وہ اس سے احتراز نہیں کرتے تھے۔
میں نے فسادات کی اصل وجہ بیان کرتے وقت ایک وجہ مذہبی رواداری کا فقدان بتائی تھی اور بتایا تھا کہ جس طرح سیاسی رواداری کا مادہ ملک میں نہیں رہا اسی طرح مذہبی رواداری کا جذبہ بھی مفقود ہو گیا ہے۔ سیاسی رواداری کے متعلق اسلام کی جو تعلیم تھی اس کا ذکر اوپر کر چکا ہوں کہ مسلمان حکومتوں میں یہودی، عیسائی، ہندو اور دوسری اقوام کے لوگ اعلیٰ اعلیٰ عہدوں پر مقرر کئے گئے اور مطلقاً اس بات کا خیال نہ کیا گیا کہ وہ حکمرانوں کی اپنی قوم کے نہیں۔ اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مذہبی رواداری کے متعلق اسلام کی کیا تعلیم ہے اور اس تعلیم کے مطابق ایک مسلمان کہاں تک دوسری اقوام سے نیک سلوک کرنے کے لئے مجبور ہے۔ مذہبی رواداری کی اسلام میں اس قدر مضبوط بنیاد موجود ہے جس کی نظیر کسی اور جگہ نہیں پائی جاتی۔ دوسرے لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک دوسرے کو جھوٹا ثابت نہ کر لیا جائے اپنی سچائی ثابت نہیں ہو سکتی مگر اسلام کی یہ تعلیم نہیں۔ اسلام جہاں اپنی خوبیوں کو پیش کرتا ہے وہاں وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ہر قوم جو زمین پر قائم ہوئی اس میں کوئی نہ کوئی خدا کا نبی آیا۔ جیسا کہ فرماتا ہے مِّنۡ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ(35:25)۷؎ ہر قوم میں نذیر آیا۔ اب دیکھو کتنا بڑا فرق ہے اسلام میں اور دوسرے مذاہب میں۔ دوسرے مذاہب یہ ہرگز نہیں سکھاتے کہ ان کے سوا کسی اور قوم میں بھی نبی آئے لیکن یہ اسلام کی تعلیم ہے جو بتاتی ہے کہ تمام قوموں میں نبی آتے رہے ہیں۔ اب اس تعلیم کے ماتحت مسلمان اس بات کے پابند ہیں کہ ہر قوم میں نبی مانیں اور جب وہ ہر قوم میں نبی مانیں گے تو پھر کیا وہ کسی قوم کو کہہ سکتے ہیں کہ تمہارا نبی جھوٹا تھا۔ اگر کوئی ایسا کہے تو وہ اس نبی کو ہی جھوٹا نہیں کہے گا بلکہ قرآن شریف کی اس آیت کو بھی جھٹلائے گا۔ دیکھو ایک عیسائی اطمینان کے ساتھ گندے سے گندے الفاظ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر سکتا ہے لیکن ایک مسلمان گھر میں بھی اور باہر بھی ”مسیح“ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کر کے پکارے گا یعنی حضرت عیسیٰ پر سلامتی ہو اور برکتیں نازل ہوں۔ یہ اسلام ہی کی تعلیم کا اثر ہے کہ عیسائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں لیکن ہم حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر درود بھیجتے ہیں۔ یہی حال ہندوؤں اور دوسرے مذہب والوں کا ہے کہ وہ تو ہمارے انبیاء کو گالیاں دیتے اور برے الفاظ بولتے ہیں مگر ایک مسلمان ان کے سب پیشواؤں کی عزت کرتا ہے اور ان کے لئے عزت اور ادب کے الفاظ استعمال کرتا ہے کیونکہ جب قرآن کریم کہتا ہے وَاِنۡ مِّنۡ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ(35:25) تو ہر مسلمان کو ماننا پڑے گا کہ ہندوؤں میں بھی نبی گزرے کیونکہ ہندو بھی دنیا میں ایک قوم ہے اور جب یہ ماننا پڑے گا تو کیونکر اس شخص سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ہندوؤں کے بزرگوں کو گالیاں نکالے۔
میں تو مانتا ہوں کہ کرشن اور رام چندر جی نبی تھے۔ ممکن ہے دوسرے مسلمان میرے ساتھ متفق نہ ہوں لیکن وہ بھی اگر انہیں اچھا نہ کہیں تو انہیں بُرا بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ سب قرآن کو ماننے والے ہیں۔ اگر مسلمان مسلمان ہیں اور اگر قرآن شریف کی تعلیم ان کے لئے حجت ہے تو وہ ہرگز ہرگز اس آیت کے ماتحت جو میں نے پڑھی ہے کسی قوم کے نبی کو بُرا نہیں کہہ سکتے۔ قرآن شریف میں جو یہ کہا گیا ہے کہ ہر قوم میں نبی آئے اس میں یہ بھی مصلحت ہے کہ مسلمانوں کو بتایا جائے کہ وہ کسی قوم کے نبی کو بُرا نہ کہیں کیونکہ وہ خدا کی طرف سے ہیں۔ لیکن جہاں تک میں جانتا ہوں ہندو اس کے مقابل پر اپنی کوئی تعلیم نہیں پیش کر سکتے جس میں انہیں اس قسم کی تعلیم کے ذریعہ مذہبی رواداری کا سبق دیا گیا ہو اور جس سے وہ دوسرے مذاہب کے بزرگوں کی عزت کرنا سیکھیں۔ جس طرح میں کرشن اور رام چندر جی کی عزت کرتا ہوں کیونکہ وہ قرآن کی تعلیم کے مطابق نبی تھے اسی طرح ہندو وید سے جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ تعلیم نہیں پیش کر سکتے کہ وہ بھی دوسری اقوام کے نبیوں کو نبی کہیں مگر بہرحال ان کو عقلاً یہ ضرور تسلیم کرنا ہو گا کہ کم سے کم دوسری اقوام کے بزرگوں کو بُرا کہنا مذہب کا حصہ نہیں ہو سکتا۔
پھر خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ ہی نہیں بتایا کہ تمام قوموں میں نبی آئے بلکہ یہ بھی بتایا ہے وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوۡلًا(16:37)۳؎ کہ تمام قوموں میں رسول آئے۔ پس کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ قرآن میں نذیر کا لفظ ہے رسول نہیں ہے اور نذیر کچھ اور ہوتا ہے۔ غرض قرآن کریم کے رو سے ہر قوم میں نبی اور رسول آتے رہے ہیں اور کسی ملک میں بھی کسی نبی کا پتہ ملے مجھے اس کے ماننے میں عذر نہیں ہو سکتا۔ خواہ ہندوستان میں ہو، خواہ چین میں۔ کیونکہ جب قرآن کریم کہتا ہے کہ ہر قوم میں نبی آئے تو مجھے ماننا پڑے گا کہ ضرور آئے۔ اس صورت میں کسی ایسے شخص کے متعلق جسے کسی قوم یا کسی ملک کے لوگ نبی کہتے ہوں میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ جھوٹا تھا۔ فرض کر لیا جائے اگر میں اسے اچھا نہیں کہہ سکتا تو کم از کم یہ جرأت بھی مجھ میں پیدا نہیں ہو سکتی کہ میں اسے بُرا کہوں کیونکہ تعجب نہیں جسے میں بُرا کہوں اور جھوٹا ٹھہراؤں وہ فی الواقع خدا کی طرف سے ہو۔ پس ایک مسلمان جب قرآن
شریف کی اس تعلیم کو دیکھے گا تو پھر وہ کسی قوم یا کسی ملک کے بزرگ کو بھی بُرا نہیں کہہ سکتا۔ ہندو قوم میں کوئی بزرگ ہو یا عیسائی یا یہودی قوم کا اس تعلیم کے ماتحت ایک مسلمان کسی کو بُرا نہیں کہہ سکتا۔ یہی حال ہر ملک کے بزرگوں کا ہے کہ انہیں مسلمان بُرا نہیں کہہ سکتے۔ خواہ کوئی شخص فرانس میں گزرا ہو، خواہ جاپان میں، خواہ جرمنی میں، خواہ روس میں، خواہ ایران میں، خواہ افریقہ میں، خواہ امریکہ میں غرض کسی جگہ کا ہو جسے اس کے ملک کے لوگ بزرگ قرار دیتے ہیں اسے مسلمان اگر سچا نہیں سمجھتا تو اسے بُرا بھی نہیں کہہ سکتا کیونکہ وہ ڈرتا ہے کہ قرآن کریم نے جو فرمایا ہے کہ ہر قوم میں نبی آئے ہیں شاید یہ بزرگ ان نبیوں میں سے ہی ہو۔ پس میں آج یہ ظاہر کر دینا چاہتا ہوں کہ میں عقیدتاً کسی ایسے شخص کو جسے اس کی قوم یا اس کا ملک نبی بتاتا ہے بُرا نہیں کہہ سکتا اور اس کی ہتک نہیں کر سکتا کیونکہ ممکن ہے وہ نبی ہو اور میں اس کی ہتک کروں تو خدا تعالیٰ کے سامنے مجھے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ پس میں ہتک کر ہی نہیں سکتا بلکہ ہتک کرنا تو دور کی بات ہے میں ایسے سب لوگوں کی عزت کرتا ہوں کیونکہ خدا کا نور جس قوم میں چاہے چمکتا ہے اس لئے میں اس کے جلوے کا احترام کرتا ہوں۔ قرآن شریف کی تعلیم کے لحاظ سے میں کہہ سکتا ہوں کہ میرے لئے کسی دوسرے مذہب والوں کی ہتک کرنے کا دروازہ ہی بند ہو گیا ہے۔
جو باتیں میں نے بیان کی ہیں۔ اگر ہر ایک کی سمجھ میں آجائیں اور ہندو بھی اس بات پر عمل کرنا شروع کر دیں کہ کسی کے مذہبی بزرگ کو بُرا نہ کہیں تو مذہبی رواداری پیدا ہو سکتی ہے۔ جو لوگ دوسروں کے بزرگوں کو بُرا کہتے ہیں وہ اتنا تو سوچیں کہ اگر وہ دوسروں کے بزرگوں کی ہتک نہ کریں تو ان کا کیا نقصان ہوتا ہے۔ کیا یہ ضروری ہے کہ دوسرے کا دل دکھا کر اپنا مطلب پورا کیا جائے۔
میں چاہتا ہوں کہ ملک سے ہندو مسلم سوال مٹ جائے اور وہ اس طرح مٹ سکتا ہے کہ ہندو بھی اسی قسم کی رواداری کو اپنا شعار بنا لیں جس قسم کی رواداری کی مسلمانوں کو تعلیم دی گئی ہے۔ میں نے جو یہ کہا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ ملک سے ہندو مسلم سوال اُٹھ جائے اس سے میری غرض اس اصل کی طرف اشارہ کرنا نہیں کہ ہم پہلے ہندوستانی ہیں اور پھر مسلمان یہ بالکل بیہودہ بات ہے اور کسی حقیقت پر اس اصل کی بنیاد نہیں ہے اور اس اصل کے ماتحت مذہب کی بنیاد ہی کھوکھلی ہو جاتی ہے۔ اصل میں اس فقرہ کی کہ میں پہلے
ہندوستانی اور پھر مسلمان یا ہندو ہوں کوئی حقیقت ہی نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی شخص اپنے مذہب کو سچا تسلیم کرتا ہے تو اس کے نزدیک ہر ایک خوبی جو روحانی یا اخلاقی ہو اس کے مذہب میں پائی جانی چاہئے اور جس کے نزدیک ہر ایک مذہبی اور اخلاقی خوبی اس کے مذہب میں پائی جاتی ہے وہ اور چیز کو اپنے مذہب پر مقدم کس طرح کر سکتا ہے بلکہ وہ اس امر کا خیال بھی کس طرح کر سکتا ہے کہ کوئی اچھی چیز اس کے مذہب سے ٹکرا سکتی ہے۔ پس جب ہم اسلام کو سچا مذہب سمجھتے ہیں تو یہ کہہ بھی نہیں سکتے کہ ہم پہلے ہندوستانی ہیں اور پھر مسلمان۔ کیونکہ اگر ہندوستانیت کوئی اچھی چیز ہے تو سچے مذہب کو اس کے مخالف ہونا ہی نہیں چاہئے اور اگر بُری ہے تو پھر ہم نہ پہلے ہندوستانی ہیں نہ بعد میں۔ غرض دونوں صورتوں میں ہندوستانیت اور اسلام کا مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا اور ہم پہلے اور پیچھے کہہ کر ان کے مدارج قرار دیں۔ اگر مذہب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ بہرحال مقدم ہے اور اگر ہندوستانیت کوئی اچھی چیز ہے تو وہ ضرور مذہب کا جزو ہونی چاہئے اور جزو کُل پر مقدم نہیں ہو سکتا۔ بات یہ ہے کہ اگر ہم ملک کو مذہب پر مقدم رکھیں گے تو ملک کا بھی کچھ نہیں بنا سکیں گے اور اگر مذہب کو ملک پر مقدم رکھیں گے تو ملک کے لئے بھی مفید ہوں گے اور دین بھی درست ہو گا اور میں یہ کہتا ہوں کہ میں پہلے بھی مسلمان ہوں پھر بھی مسلمان۔ کیونکہ اگر میں مسلمان ہوں تو میں ہندوستانی بھی ہوں یعنی وطن کا بھی خیر خواہ ہوں اگر ذرا بھی اس پر غور کیا جائے تو معلوم ہو سکتا ہے کہ ایمان اور مذہب سے ہی حب الوطنی پیدا ہوتی ہے جیسا کہ مروی ہے کہ حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْاِيْمَانِ۷؎ لیکن اگر مذہب چھوڑ کر حب الوطنی اختیار کی جائے یا حب الوطنی کو مذہب پر مقدم کر لیا جائے تو نہ مذہب رہتا ہے اور نہ حب الوطنی۔ کیونکہ حب الوطنی سے مذہب نہیں پیدا ہوا کرتا بلکہ مذہب سے حب الوطنی پیدا ہوا کرتی ہے۔ پس جب میرا مذہب مجھے سکھاتا ہے کہ مذہب کو حب الوطنی پر مقدم رکھنا چاہئے تو میں یہ کہتا ہوں کہ میں پہلے بھی مسلمان پھر مسلمان اور میرے مسلمان ہونے میں ہی ہندوستانیت شامل ہے گویا میں پہلے مسلمان ہوں اور پھر ہندوستانی نہ کہ پہلے ہندوستانی اور پھر مسلمان۔ پس میں نے یہ جو کہا ہے کہ ہندو مسلم سوال اُٹھ جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پہلے ملک اور پھر مذہب کو رکھا جائے بلکہ یہ مطلب ہے کہ قومی بُغض اور تنافر مٹ جائے۔ ہاں مسلمانوں کی نازک حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہندوؤں کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ وہ خیال رکھیں کہ چونکہ مسلمان ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہیں انہیں ساتھ ساتھ لے کر چلیں اسی طرح مسلمانوں کو بھی یہ سمجھنا چاہئے کہ ہندو بھی ہم میں سے ہیں اور اسی ملک کے رہنے والے ہیں ہمیں
ان کے ساتھ مل کر رہنا چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسری طرف مذہبی رواداری بھی ہونی چاہئے ایک دوسرے کو برا نہیں کہنا چاہئے اور آپس میں محبت کے ساتھ رہنا چاہئے۔ لیکن میں افسوس کے ساتھ اس بات کا اظہار کرتا ہوں بجائے اس کے کہ یہ باتیں اختیار کی جائیں ان کے بر خلاف کوشش کی جا رہی ہے اور ملک میں یہ ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ پس دو بڑی قومیں جو ہندوستان میں بستی ہیں اگر ان باتوں کو اختیار کر لیں تو ان کی زندگی آرام سے گزر سکتی ہے اور اگر وہ ان کے خلاف کوشش کریں گی جیسا کہ کر رہی ہیں تو امن کی زندگی تو کجا وہ زندہ ہی نہیں رہ سکتیں۔ ہندوؤں کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں کا خیال رکھیں اور انہیں اپنا سمجھیں اور مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ہندوؤں کا خیال رکھیں اور انہیں اپنا ہی سمجھیں۔ اگر دونوں قوموں میں سمجھوتہ ہو کر یہ طریق اختیار کر لیا جائے تو ہندو مسلم سوال بالکل مٹ جائے گا اور امن اور ترقی کی راہیں کھل جائیں گے۔ مگر افسوس کہ اس وقت بالکل اس کے خلاف ہو رہا ہے۔ مثلاً گو مسلمان پہلے ہی سرکاری دفاتر میں بہت کم ہیں مگر پھر بھی ہندوؤں کی کوشش ہوتی ہے کہ انہیں دفاتر سے نکال دیا جائے اور جو حقوق انہیں حاصل ہیں ان سے بھی انہیں محروم کر دیا جائے۔ اسی طرح بعض اوقات مسلمانوں کا حال ہو جاتا ہے۔ حالانکہ دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا چاہئے اور ہندوؤں کو مسلمانوں کی نسبت زیادہ خیال ہونا چاہئے کیونکہ مسلمان کمزور حالت میں ہیں۔
میں چونکہ انصاف سے کہنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں اس لئے میں صاف صاف کہتا ہوں کہ مسلمان اس لئے ہندوؤں کا ساتھ نہیں دیتے کہ وہ جانتے ہیں ہندو طاقتور ہیں وہ ہمیں نقصان پہنچائیں گے اور ہمارے معاملہ میں انصاف سے کام نہ لیں گے اور ہندو مسلمانوں سے اس لئے رواداری نہیں برتتے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے اس لئے ان کو نکال کر تمام ملک میں ایک ہی قوم کی حکومت قائم کر لینی چاہئے۔ اگر ہندوؤں کی طرف سے رواداری کا سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیا جائے تو وہ آسانی کے ساتھ ہندوؤں کے ساتھ مل سکتے ہیں مگر ایسا نہیں کیا جاتا۔ اور میں دیکھتا ہوں کہ ایک طرف تو مذہبی رواداری کا جذبہ مفقود ہے اور دوسری طرف مذہبی منافرت پھیلائی جا رہی ہے لیکچروں کے ذریعہ سے بھی اور کتابوں کے ذریعہ سے بھی ایک دوسرے کے جذبات کو بھڑکایا جاتا ہے۔ انبیاء کو گالیاں دی جاتی ہیں بزرگوں کی توہین کی جاتی ہے۔ اس قسم کے تمام کام حقارت اور نفرت کے جذبات میں ہیجان پیدا کرنے والے ہیں جن سے قومیں آرام سے نہیں رہ سکتیں۔ اور ان کی زندگیاں امن سے نہیں گزر سکتیں۔
منافرت اور حقارت پھیلانے کے لئے جہاں کتابیں شائع کی جارہی ہیں وہاں اس بات کی بھی اشاعت کی جاتی ہے کہ اسلام جبر سے پھیلا۔ یہ مضمون کثرت سے پھیلایا جارہا ہے حالانکہ جس قدر امن کے ساتھ اسلام صرف اپنی تعلیمی خوبیوں کے لحاظ سے پھیلا اس کی مثال کہیں نظر نہیں آتی لیکن باوجود اس کے یہی کہا جاتا ہے اور بڑے زور شور سے کہا جاتا ہے کہ اسلام جبر سے پھیلا۔ اچھا اگر فرض بھی کر لیا جائے اسلام جبر سے پھیلا تو اس زمانہ میں ان پرانے اور پچھلے قصوں کو دُہرانے سے کیا حاصل؟ اور ان کو تازہ کرنے سے کیا فائدہ؟ ایسے لوگ جو یہ تسلیم نہیں کرتے کہ اسلام جبر سے نہیں پھیلا اگر وہ فرض بھی کر لیں کہ اسلام جبر سے پھیلا اور اس جبر کے فرضی اور وہمی قصے بھی پھیلائے جائیں تو بھی اس سے ہندوؤں کو کیا فائدہ؟ یہ جبر جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ہوا ہو چکا اب واپس نہیں آسکتا۔ اس صورت میں پچھلے قصوں کے دہرانے سے سوائے لڑائی اور فساد کے اور کوئی بات پیدا نہیں ہو سکتی۔ لیکن میں کہتا ہوں اسلام کے لئے کوئی جبر نہیں کیا گیا اسلام جب جبر کی تعلیم ہی نہیں دیتا تو یہ بات کس طرح قابل تسلیم ہو سکتی ہے کہ مسلمانوں نے اس کے لئے جبر روا رکھا۔ اس مجمع میں ہندو بھی ہیں اور مسلمان بھی۔ میں ان سب سے کہتا ہوں وہ گھروں میں جا کر اس پر غور کریں کہ پچھلے قصوں کے دُہرانے سے فائدہ کیا ہے ان سے سوائے فساد پیدا ہونے کے اور کیا امید ہو سکتی ہے۔ پچھلے قصوں کو دُہرانا عام اس سے کہ وہ فرضی ہوں یا اصلی ہمیشہ فساد کا موجب ہوا کرتا ہے۔ پس میں ہندوؤں سے کہتا ہوں اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ جبر ہوا تو اب اس جبر کے قصے بیان کرنے سے فساد پیدا ہو گار کے گا نہیں اس لئے چاہئے کہ اول تو وہ اپنے اس غلط خیال کو دل سے نکال دیں کہ اسلام جبر سے پھیلا اور اگر یہ نہیں مان سکتے تو بھی چاہئے کہ ملک کے امن کی خاطر ان فرضی قصوں کو جن کو وہ اصلی سمجھتے ہیں دُہرائیں نہیں کیونکہ باوجود اس بات کے جان لینے کے کہ اس قسم کے پرانے قصے بیان کرنے سے فتنہ و فساد ہوتا ہے اگر کوئی شخص اس بات سے نہ رُکے تو وہ ملک اور قوم کا خیر خواہ نہیں بلکہ دشمن ہے۔ وہ امن پسند نہیں بلکہ فساد کو پسند کرتا ہے۔
یہ کہہ دینا کہ اسلام جبر سے پھیلا اور اس کے لئے تلوار کو حرکت دی گئی بالکل غلط بات ہے میں نے اس امر پر خوب غور کیا ہے کہ تمام تاریخ سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ اسلام کی اشاعت بزور تلوار ایک قصہ اور افسانہ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ جن واقعات سے استدلال کیا جاتا ہے وہ انفرادی مثالیں ہیں اور وہ بھی نامکمل۔ کوئی شخص ان مثالوں سے وہ نتائج نہیں نکال سکتا جو نکالے جاتے ہیں۔ ہندوستان ہی کو لو یہاں مسلمانوں کی حکومت چھ سات سو سال رہی ہے اور سو سال اس حکومت کو ختم ہوئے ہو چکے ہیں اگر اس چھ سات سو سال کے عرصہ کی حکومت کی چند مثالیں اور وہ بھی بلا تفصیلات کے پائی جائیں تو کون عقلمند انسان ان سے یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ اسلام جبراً پھیلایا گیا ہے۔ جبر کا اصل مرکز حکومت ہوتی ہے اور حکومت کا جبر افراد سے نہیں قوموں سے ہوتا ہے پس قومی جبر کی مثالیں پیش ہونی چاہئیں۔ قومی جبر ایسا مخفی نہیں ہوتا کہ اس کے لئے انفرادی واقعات جمع کرنے کی ضرورت ہو وہ تو آپ ہی آپ ظاہر ہوتا ہے پھر غضب یہ ہے کہ جو انفرادی واقعات پیش کئے جاتے ہیں ان کے بھی سب حالات محفوظ نہیں اور جب واقعات سامنے نہ ہوں تو ان کے متعلق بحث و مباحثہ سے نتائج صحیح نہیں نکلا کرتے کیونکہ درست نتائج انہی واقعات سے نکلا کرتے ہیں جو سامنے ہوں اور جن کی تحقیق ہو سکتی ہو۔ اب جن واقعات کی بناء پر کہا جاتا ہے اسلام نے جبر کیا اور تلوار سے کام لیا وہ تو سامنے نہیں اور جب وہ سامنے نہیں تو ان کی تحقیق بھی مشکل ہے اس لئے ادھر اُدھر کی باتوں سے اس قسم کی نتیجے نکال لینے فضول ہیں اور بدامنی پھیلانے کا باعث ہیں۔ لیکن باوجود اس کے میں کہتا ہوں اگر کوئی ایسا واقعہ ہے بھی کہ جس سے اس قسم کا نتیجہ نکل سکتا ہے جو نکالا جاتا ہے تو وہ کسی ایک شخص کا جوش تھا نہ کہ اس کے اندر کوئی قومی رنگ تھا۔ پس ایک شخص کے جوش کے سبب ساری قوم پر الزام لگانا عقلمندی کا کام نہیں ہے۔
پچھلے دنوں ہمارا ایک لیکچرار کیمبرج میں یہ لیکچر دے رہا تھا کہ اسلام امن کے ساتھ پھیلا ہے اور اس کی اشاعت کے لئے تلوار نہیں اٹھائی گئی۔ اس لیکچر میں کچھ طالب علم بھی تھے ان میں سے ایک طالب علم نے کھڑے ہو کر سوال کیا کہ اگر اسلام فی الواقع امن سے پھیلا ہے تو پھر جنگیں کیوں ہوتی رہیں اس پر ہمارے لیکچرار نے کہا میں ایک سوال آپ کو پوچھتا ہوں پہلے میرے سوال کا جواب دے لیجئے پھر میں آپ کے سوال کا جواب دونگا میرا سوال یہ ہے کہ عیسائیت میں جنگیں کیوں ہوئیں چونکہ عیسائیت کی آپس میں جو جنگیں ہوئیں ان کے مظالم سے ہر ایک مسیحی خاندان شاکی ہے اس کا جواب دینا سائل کے لئے ناممکن تھا اس لئے یہ سوال ہی سن کر وہ بیٹھ گیا کیونکہ اس سوال ہی میں اس کے سوال کا جواب دیا گیا تھا۔
جبر کئی طرح کا ہوتا ہے اور کئی قسم کے لوگوں کی طرف سے ہوتا ہے۔ بھائی کا بھائی پر بھی جبر ہو سکتا ہے آپس میں رشتہ دار ایک دوسرے پر بھی جبر کرتے ہیں ایک باپ بھی کسی وقت بیٹے پر جبر کر لیتا ہے اور بعض اوقات بیٹا بھی باپ پر جبر کر لیتا ہے اسی طرح اور کئی قسم کا جبر ہوتا ہے اور اس قسم کے جبروں کو کوئی برا نہیں کہتا سب ہی اپنے دوستوں پر زور دے لیتے ہیں اور بعض دفعہ محبت میں سختی بھی کر لیتے ہیں جو جبر منع ہے اور جسے برا کہا جاتا ہے وہ جبر وہ ہے جو ایک فرد یا ایک قوم دوسرے پر اس لئے کرے کہ اس سے ایک ایسی چیز چھڑوائے جسے چھوڑنے پر وہ محبت اور دلیل سے تیار نہ ہو اور جسے وہ محبت کے تعلقات پر مقدم سمجھتا ہو اور قدرتاً ایسے موقع پر انسان اپنی انتہائی کوشش جبر کے اثرات سے بچنے کے لئے کرتا ہے اور اپنا سارا زور مقابلہ پر خرچ کر دیتا ہے۔ اور اب جب جبر ایک قوم کی طرف سے ایک قوم کے خلاف ہو رہا ہے تو لازماً یہ مقابلہ نہایت نمایاں، نہایت وسیع اور نہایت لمبا ہوتا ہے کیونکہ ایک قوم دوسری قوم سے جو ملک کے ہر گوشہ میں پھیلی ہوئی ہوتی ہے وہ کچھ چھڑانا چاہتی ہے جسے وہ نہ دباؤ سے نہ محبت سے چھوڑنے پر رضا مند ہے۔ پس ظالم قوم بھی قسم قسم کی تدابیر اپنی بات منوانے کے لئے کرتی ہے اور مظلوم قوم بھی قسم قسم کی تدابیر ان ظلموں سے بچنے کے لئے کرتی ہے۔ پس اسلام پر جبر کا الزام لگانے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ اس قسم کے جبر کس کس طرح ہوا کرتے ہیں؟ اور مختلف قوموں کی تاریخ پر نگاہ ڈال کر کوئی نتیجہ نکالنا چاہئے مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ انگلستان میں مذہبی جبر ہوتا رہا ہے اور یہ کوئی ایسا جبر نہیں جس کے متعلق کچھ بحث مباحثہ کی ضرورت ہو کوئی شخص اس کے متعلق شک نہیں کر سکتا کہ جبر ہوا یا نہ۔ کیونکہ جبر کر نیوالے خود اقرار کرتے ہیں کہ ہم نے جبر کیا پس انگلستان کی مثال ایسی ہے کہ ہم اس سے بلا تردد نتیجہ نکال سکتے ہیں
مسیحوں کے ابتدائی زمانہ میں روم والوں کی طرف سے ان پر جبر کیا گیا۔ چنانچہ یہ بات مسیحی اور رومی لوگ مانتے ہیں کہ مسیحی جب اپنے ابتدائی زمانہ میں روم گئے تو رومی حکومت کی طرف سے ان پر جبر ہوتے رہے ہیں
اسی طرح ہندوستان میں بھی جبر ہوئے۔ مثلاً بدھوں کے خلاف جبر ہوا۔ انہیں ہندوؤں نے ملک سے نکال کر چھوڑا اور انہیں مذہب تبدیل کرنے کے واسطے بھی مجبور کیا گیا۔
ہندوستان کے ایک گوشے گوا میں بھی جبر ہوا۔ عیسائیوں نے وہاں کے باشندوں پر جبر کیا جس سے مجبور ہو کر وہاں کے تمام باشندے اب عیسائی ہیں۔ غرض یہ اور اس قسم کے اور کئی جبر ہیں جو مختلف مقامات پر ہوئے ان سب کے لئے تاریخی شواہد موجود ہیں اور ان کے متعلق کوئی شخص انکار نہیں کرتا اور خود جبر کرنے والوں کو اس بات کا اقرار ہے کہ انہوں نے جبر کیا۔
ہم جب ان تاریخوں پر غور کرتے ہیں جن میں تفصیلات اس جبر کی درج ہیں جو ان ملکوں میں ہوا۔ اور جب ہم ان کیفیات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ اسلام نے ہرگز جبر نہیں کیا کیونکہ سوائے بعض شخصی مثالوں کے جن کے حالات بھی پوری طرح محفوظ نہیں ہیں اسلام میں قومی جبر کی کوئی شکی مثال بھی نہیں ملتی۔ پس ان حالات میں اسلام پر یہ الزام لگانا کہ وہ جبر کرتا رہا ہے بالکل ظلم ہے۔ دوسری قوموں کے جبر اور اس قسم کے شخصی واقعات کو آپس میں کوئی مناسبت نہیں کیونکہ جبر کے عام نتائج میں سے پہلا اور بڑا نتیجہ جو ہوتا ہے وہ مذہب کی تبدیلی ہے۔ چنانچہ دوسری قوموں کے جبر پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جن پر جبر ہوا وہ اپنے مذہب کو چھوڑ کر جبر کرنے والوں کے مذہب میں داخل ہو گئے۔ چنانچہ مثال کے طور پر میں گوا کے جبر کو پیش کرتا ہوں یہ جبر اٹھارویں صدی میں ہوا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب وہاں سارے عیسائی ہیں۔ سب جانتے ہیں اور خصوصاً جہازوں کا سفر کرنے والے جانتے ہیں کیونکہ جہازوں پر گوا کے ہی عیسائی ملازم ہوتے ہیں کہ گوا کے تمام لوگ جبری طور پر عیسائی کر لئے گئے ہیں۔
پس جبر کا ایک نتیجہ تو تبدیل مذہب ہوا کرتا ہے اور چونکہ اسلام پر بھی جبر کا الزام لگایا جاتا ہے اس لئے ہم دیکھتے ہیں کیا اسلام کے اس جبر کے نتیجہ میں یہاں وہی بات پیدا ہو گئی جو عیسائیوں کے گوا میں جبر کے نتیجہ میں پیدا ہوئی اور کیا فی الواقع اس ملک میں سوائے مسلمانوں کے اور کوئی نظر نہیں آتا۔ جب ہم اس طرف دیکھتے ہیں تو پہلی بات تو یہی ہمارے سامنے آتی ہے کہ اگر واقعہ میں ہندوستان میں مسلمانوں کی طرف سے جبر ہوتا تو جس طرح گوا میں عیسائیوں کے جبر کے سبب عیسائیوں کے سوا اور کوئی نظر نہیں آتا اسی طرح یہاں بھی اس جبر کے باعث مسلمان ہی مسلمان نظر آتے اور ہندو نظر نہ آتے لیکن یہ بات نہیں۔ ہر شخص جانتا ہے کہ یہاں کثرت ہندوؤں کی ہے بلکہ ہندو مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ ہیں اور اپنے پرانے رسم و رواج کو قائم رکھتے ہوئے آباد ہیں اور ان حالات کے ہوتے ہوئے یہ کہنا کہ اسلام نے جبر سے کام لیا ایک بے دلیل بات ہے۔
اوپر کی دلیل کے متعلق ایک بنگالی لیڈر کی رائے مجھے ہمیشہ انسانی افکار کے اختلاف پر حیرت زدہ کرتی ہے۔ ان صاحب سے ہمارے ایک مبلغ انگلستان میں ملے تو انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں اورنگ زیب نے جبر کیا اور زبردستی ہندوؤں کو مسلمان بنایا اور آپ کہتے ہو کہ اس نے ایسا نہیں کیا مگر مجھے یہ غصہ ہے کہ اس نے کیوں نہ ایسا کیا اور کیوں نہ ان سب لوگوں کو جبراً مسلمان بنا لیا تا آج ہندوستان میں ایک ہی مذہب ہوتا۔ غرض جیسا کہ ہندو کہتے ہیں جبر ہوا۔ تو اس کا اثر یہ ہونا چاہئے تھا کہ یہاں ہندو نظر نہ آتے مگر سب جانتے ہیں کہ یہاں اب تک ہندوؤں کی کثرت ہے۔ پس ہر شخص یہ کہنے پر مجبور ہے کہ اسلام نے کوئی جبر ہندوستان میں نہیں کیا۔
دوسری بات جو مذہبی جبر سے پیدا ہوا کرتی ہے وہ اخفاء ہے جن قوموں پر جبر کیا جاتا ہے وہ مذہب کو چھپانے لگ جاتی ہیں اور اپنی رسوم پوشیدہ رکھتی ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی ممالک میں یہ بات نہیں ہے بلکہ ہر قوم جو ان ملکوں میں آباد ہے اپنا مذہب اور اپنا عقیدہ ظاہر طور پر رکھتی ہے اسے کوئی مجبوری نہیں کہ اپنا مذہب چھپائے اور اپنی رسوم پوشیدہ رکھے۔ پھر کیا اس ملک میں یہ بات ہو سکتی ہے جس میں مسلمان خود محکوم ہیں۔ چونکہ یہ کہا جاتا ہے کہ پچھلے زمانہ میں مسلمانوں نے جبر کیا۔ لیکن اگر پچھلے زمانہ پر نظر ڈالی جائے تو اس میں بھی کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی جس سے یہ گمان ہو سکے کہ مسلمانوں کے جبر کے سبب ہندوؤں کو مذہب چھپانا پڑا یا رسم اور رواج کو پوشیدہ رکھنا پڑا۔
انگلستان کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے۔ وہاں جب کیتھولک فرقہ زور پر ہوا تو پروٹسٹنٹ فرقہ والوں کو اپنا مذہب چھپانا پڑا اور رسوم کو پوشیدگی میں رکھنا پڑا۔ کیا ہندوستان میں ہندو اپنے مذہب کو چھپاتے رہے ہیں اور رسوم کو پوشیدہ رکھتے رہے ہیں ہرگز نہیں۔ کیا کسی پہلے زمانہ میں بھی انہیں اپنا مذہب چھپانا پڑا یا رسوم پوشیدہ رکھنی پڑیں؟ ہرگز نہیں بلکہ پہلے زمانوں میں تو رسوم بجالانے میں ان کی امداد کی جاتی رہی ہے بعض مغل سلاطین نے اس بارے میں ان کو خاص رعایتیں دے رکھی تھیں حتیٰ کہ بعض معذوروں کے لئے جائدادیں تک انہوں نے عطا کی تھیں اور یہی حال مذہب کے متعلق تھا۔ چونکہ اسلامی حکومت ایک وقت بہت پھیلی ہوئی تھی اس لئے اس بات کو دیکھنا چاہئے کہ اگر ہندوستان میں نہیں تو کسی اور ملک میں اس نے شاید اس قسم کی مجبوری پیدا کردی ہو کہ لوگ اپنے مذہب کو چھپائیں اور رسوم پوشیدہ رکھیں مگر جب ہم دیکھتے ہیں تو ہندوستان کی طرح وہاں بھی یہی پاتے ہیں کہ نہ آج نہ آج سے پہلے کبھی کوئی ایسی مجبوری پیدا کی گئی جس سے وہاں کے لوگ مذہب کو چھپانے اور رسوم کے پوشیدہ رکھنے پر مجبور ہو جاتے۔
پس جیسا کہ میں ہندوستان کے متعلق کہہ سکتا ہوں مسلمانوں نے اپنے اقتدار کے زمانہ میں اس جگہ کوئی جبر نہیں کیا جس کی وجہ سے ہندوؤں کو اپنا مذہب چھپانا پڑے یا رسوم پوشیدہ رکھنی پڑیں۔ اسی طرح شام، آرمینیا، فرانس، سپین، چین وغیرہ وغیرہ ممالک کے متعلق کہتا ہوں وہاں اسلامی حکومت تھی مگر لوگوں کے لئے کامل آزادی تھی۔ حکومت ان پر جبر نہیں کرتی تھی جس کی وجہ سے انہیں اپنا مذہب چھپانا پڑتا یا رسوم پوشیدہ رکھنی پڑتیں۔ پس جب نہ کسی اور ملک میں اور نہ ہندوستان میں جہاں اسلامی حکومت تھی کسی مذہب کے پیروؤں نے مذہبی رسوم کا اخفاء کیا تو پھر یہ کہنا کہ مسلمانوں نے مذہب میں جبر کیا سخت ظلم ہے۔
تیسری بات جو جبر سے پیدا ہوا کرتی ہے وہ وطن کا چھوڑنا ہے لوگوں پر جب جبر ہوتا ہے تو وہ اگر مذہب تبدیل نہیں کرنا چاہتے اور مذہب کو چھپا کر بھی رکھنا گوارا نہیں کر سکتے تو اپنے وطن چھوڑ دیتے ہیں۔ مگر کیا ہندوستان میں ایسی صورت کبھی پیدا ہوئی یا اس کی ضرورت یہاں کے باشندوں کو کبھی محسوس ہوئی؟ ہندوستان تو ہندوستان تمام اسلامی ممالک میں سے کسی میں بھی ایسی صورت اور ایسی ضرورت کبھی نہیں پیدا ہوئی۔ وہ لوگ جن پر جبر ہو رہا ہوتا ہے اپنے آپ کو بچانے کے لئے جہاں موقع ملے چلے جاتے ہیں۔ چنانچہ رومیوں نے جب مسیحیوں پر جبر کرنے شروع کئے تو مسیحی ایک پہاڑ کی غاروں میں چلے گئے۔ یہ غاریں ایک سو بیس میل لمبی ہیں اور ایسی ہیں جیسے کمرہ در کمرہ مکان بنائے جاتے ہیں۔ ان کو CATACOMBS کہتے ہیں اور میں نے ان کو دیکھا ہے۔ جب مسیحیوں پر رومیوں کی طرف سے ظلم ہوتے تو وہاں چھپ کر اپنی جانیں بچاتے۔ کیا اس کی کوئی مثال ہندوستان میں ملتی ہے۔ ہندوستان کے علاوہ دوسرے تمام اسلامی ممالک پر بھی نظر ڈالی جائے تو وہاں بھی ایسی مثال نظر نہیں آتی۔ جب ایسی کوئی مثال نہیں ملتی تو پھر یہ کہنا کہ اسلام نے جبر کیا اور بزور تلوار پھیلا اسلام اور اسلام کی پاک تعلیم پر جو امن کی تعلیم ہے غلط الزام لگانا ہے۔ پس جب اسلامی حکومتوں میں ایسا
نہیں ہوا اور لوگوں کو مسلمانوں کے خوف سے ملک نہیں چھوڑنا پڑا تو معلوم ہوا کہ اسلامی ممالک میں جبر بھی نہیں ہوا۔
چوتھی بات جو جبر کے نتیجہ میں پیدا ہونی چاہئے وہ مظلوم قوم کا قتل ہے۔ یعنی اگر جبر کے نتیجہ میں لوگ نہ مذہب کو چھپائیں نہ اس کو بدلیں نہ ملک چھوڑیں تو پھر اگر واقعہ میں حاکم قوم ظالم ہے تو وہ اس ملک کے باشندوں کو بہ حیثیت قوم قتل کرتی ہے۔ غرض جبر کے نتائج میں سے ایک نتیجہ قتل بھی ہے۔ چنانچہ انگلستان میں جب جبر کیا گیا تو لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو قتل کر ڈالا گیا۔ ہسپانیہ میں تو صفایا ہی کر دیا گیا۔ اور یہی حال اٹلی وغیرہ میں ہوا۔ مسلمانوں کو تباہ وبرباد کر دیا گیا۔ لیکن کیا ہندوستان میں بھی ایسا ہوا؟ کبھی مسلمانوں نے ہندوؤں کو جبر کے ساتھ قتل کیا؟ سمجھ دار آدمی آپ ہی جواب دیں گے کہ نہیں پھر باوجود اس کے یہ کہنا کہ مسلمانوں نے ہندوستان میں جبر کیا بالکل ناواجب ہے۔
پانچویں بات جو جبر پر دلالت کرتی ہے وہ جائداد کا ضبط کر لینا ہے۔ جب کوئی قوم کسی پر جبر کرتی ہے تو ان کی جائدادیں ضبط کر لیتی ہے اور ان کے پاس کچھ نہیں رہنے دیتی۔ چنانچہ انگلستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب ایک وقت پروٹسٹنٹ فرقہ کا زور ہوا تو انہوں نے کیتھولک فرقہ سے تعلق رکھنے والے لارڈوں کی جائدادیں آئرلینڈ میں ضبط کرلیں اور ان کی جگہ پروٹسٹنٹ لارڈوں کو جا بسایا اور ان کی مدد کے لئے دوسرے لوگوں کو بھی وہاں آباد کر دیا اور ان کی حفاظت کے واسطے فوج بھی متعین کر دی۔ تو جبر سے جائدادیں بھی ضبط کی جاتی ہیں۔ لیکن ہندوستان میں بجائے اس کے جائدادیں دی گئیں اور نہ صرف عام لوگوں کو دی گئیں بلکہ مسلمان بادشاہوں نے مندروں اور شوالوں کے لئے بھی بڑی بڑی جائدادیں دیں جو اس وقت بھی ان کے نام پر ہیں۔
یہ عجیب جبر ہے نہ ہندوستانی باشندوں کو مارا جاتا ہے نہ ان کی جائدادیں ضبط کی جاتی ہیں؟ نہ وطن سے نکالا جاتا ہے اور نہ ہی ان ظلموں سے تنگ آکر اس ملک سے نکلتے ہیں نہ رسوم ادا کرنے سے روکا جاتا ہے نہ جبراً ان سے مذہب تبدیل کروالیا جاتا ہے بلکہ وہ اسی طرح ہندو کے ہندو رہتے ہیں جس طرح مسلمانوں کے ہندوستان میں آنے کے وقت تھے اور اسی طرح اپنی رسوم بجالاتے ہیں اور بجالا رہے ہیں جس طرح وہ اسلامی حکومت کے زمانہ سے پہلے بجالاتے تھے۔ پھر سمجھ نہیں آتا کہ باوجود اس کے جبر ہوا۔ جن باتوں کو جبر کے ثبوت میں ہندو بیان کرتے ہیں تمام تاریخوں کا مطالعہ کرنے سے بھی ان کی صداقت کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اتنا بڑا واقعہ ہو اور تاریخیں اس کے بیان کرنے سے خاموش رہیں ناممکن ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کسی ملک میں ایک طرف اگر کوئی واقعہ ہوتا ہے تو بہت جلد دوسرے سرے تک پہنچ جاتا ہے لیکن یہاں تاریخیں ایسے واقعات کا حقیقی ثبوت دینے سے خاموش ہیں۔ درحقیقت اسلام میں جبر کی تعلیم ہی نہیں اس لئے یہ ہو نہیں سکتا کہ مسلمان کسی پر جبر کریں۔ اگر کسی جگہ شخصی جوش کے ماتحت کسی فرد نے کوئی ایسا کام کر دیا تو قوم اس کی وجہ سے ملزم نہیں ٹھہرائی جا سکتی۔ معلوم ہوتا ہے بعض ایسے واقعات کو لے کر بعض لوگوں نے اپنی قوم کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے کہنا شروع کر دیا کہ جبر ہوا ہے۔ حالانکہ یہ صریح بات ہے کہ انفرادی فعل قومی فعل نہیں بنا کرتا اور انفرادی فعل سے قوم ملزم نہیں ہوا کرتی کیونکہ جب قوم نے کوئی ایسا حکم نہیں دیا تو پھر اگر اس کا کوئی فرد کوئی بڑا کام کرے تو اس سے قوم زیر الزام نہیں آسکتی۔ اسی طرح ان شخصی باتوں سے جن کو لے کر بعض لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اسلام نے جبر سے کام لیا اسلام پر الزام نہیں آسکتا نہ اس قسم کے انفرادی افعال سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ مذہب پھیلا ہی تلوار کے ذریعہ سے۔
ہندو شکایت کرتے ہیں کہ اسلام نے جبر کیا اور بدامنی کا باعث ہوا۔ مگر جس قدر اسلام نے امن پھیلایا اس کی نظیر خود ہندوؤں کے مذہب میں بھی نہیں ملتی۔ خود ہندوستان میں اسلام امن کا ذریعہ ہوا۔ پھر اسلام کی ابتداء عرب سے ہوئی۔ عرب میں جو بدامنی اسلام سے قبل تھی اس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔ وہ بدامنی کس نے دور کی؟ جس مذہب نے وہ بدامنی جس کی نظیر ملنی بھی مشکل ہے دور کی وہ مذہب اسلام تھا۔ اسی پُر امن تعلیم کا نتیجہ تھا کہ آج تک عرب میں غیر مسلم موجود ہیں۔ یہی حال شام کے علاقہ کا ہے۔ اس میں بھی اسلامی حکومت کے وقت سے پہلے عیسائی وغیرہ موجود تھے اور اس وقت تک بھی موجود ہیں۔ مصر فتح ہوا اس میں آج بھی عیسائی دکھائے جا سکتے ہیں۔ تیرہ سو سال ہوئے وہاں حکومت قائم ہوئی اور تیرہ سو سال ہی ان کے اسلام کی ماتحتی میں گزرے۔ ان کی رسمیں بھی وہی ہیں جو پہلے تھیں، ان کے رواج بھی وہی ہیں جو ان میں جاری تھے، ان کی عبادت گاہیں اس وقت سے لے کر اس وقت تک بدستور قائم ہیں، ان کی جائدادیں بھی ہیں، اسی طرح ہندوستان کا حال ہے۔ مسلمانوں کے آنے سے پہلے جو ہندوؤں کی رسمیں اور ان کے رواج تھے اس وقت تک سب وہی ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ جب یہ سب باتیں موجود ہیں تو پھر ماننا پڑتا ہے کہ اسلام نے جبر سے کام نہیں لیا بلکہ وہ امن کا حامی رہا اور امن کی تعلیم دیتا رہا۔
یہ بات پہلے زمانوں میں ہی نہ تھی اب بھی جہاں جہاں اسلامی حکومتیں ہیں وہاں یہی بات ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ جو اور قومیں وہاں آباد ہیں انہیں ہر قسم کے جائز حقوق حاصل ہیں اور ان پر کوئی جبر نہیں کیا جاتا بلکہ ان کی مدد اور مناسب داد رسی کی جاتی ہے۔ چنانچہ حال میں سرحد پر ایک تازہ واقعہ ہوا۔ جو اس بات کی دلیل ہو سکتا ہے کہ اسلام جبر کی تعلیم نہیں دیتا۔ وہاں ایک ہندو شخص ٹیک چند زرگر مارا گیا۔ نواب انب نے مارنے والوں کے گاؤں پر حملہ کر کے ایک سید اور ایک اور شخص کرامت علی کو مار دیا۔ باوجود اس کے کہ پٹھان اُجڈ اور اکھڑ مشہور ہیں ابھی تک ان میں یہ احساس موجود ہے کہ ماتحت غیر قوموں اور ان کے مذہب اور رسم و رواج کی حفاظت اور عزت کرنی چاہئے اور افغانستان میں بھی ایسا ہی کیا جاتا ہے۔ گو ہمارے لئے امن نہیں لیکن غیر مسلموں کے لیے ہے۔ اور ہم دکھا سکتے ہیں کہ ہندو افغانستان کے اندر امن سے آباد ہیں۔ پس جب ہر اس جگہ کہ جہاں اسلامی حکومت قائم ہوئی غیر قوموں پر کوئی جبر نہیں کیا گیا تو ہندوستان کے متعلق برخلاف شہادت کی موجودگی میں ہم کیونکر مان سکتے ہیں کہ مسلمان حکمران ہندوؤں پر جبر کرتے تھے۔ پس اگر کوئی ایسا واقعہ ہوا تو وہ شخصی اور انفرادی تھا اور انفرادی واقعات کو قومی قرار دے کر قوم کی قوم کو ملزم قرار دینا کہاں کی عقلمندی اور کہاں کا انصاف ہے۔
ہر بات کے کچھ شواہد ہوتے ہیں جن سے اس کی معرفت ہوتی ہے اسی طرح جبر کے بھی شواہد ہیں۔ اب جس قوم میں اس کے شواہد پائے جائیں وہی جبر کرنے والی ہو گی۔ مسلمانوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے جبر کیا۔ میں نے ان شواہد میں سے بعض کو پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان میں سے مسلمانوں کے ہاتھ سے کوئی بھی بات پیدا نہیں ہوئی۔ یعنی ہندوؤں کو مذہب تبدیل نہیں کرنا پڑا، انہیں مذہب چھپانے کی بھی ضرورت پیدا نہیں ہوئی، ان میں اپنی ابتدائی رسمیں اور رواج بدستور جاری رہے، ان کو اپنا وطن بھی نہیں چھوڑنا پڑا تو معلوم ہوا ان پر جبر نہیں ہوا۔ یہ صرف مسلمانوں کے برخلاف شور برپا کرنے کے لئے ایک بات پیدا کر لی
ہندوؤں میں سے جس قوم نے زیادہ اسلام قبول کیا وہ راجپوت ہیں جن کے متعلق ہندو کہتے ہیں ان کو جبراً مسلمان بنایا گیا۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ہندوؤں میں سے راجپوتوں نے زیادہ اسلام قبول کیا لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کی بہادر اور لڑنے والی قوم بھی راجپوت ہی تھی اس وجہ سے یہ سن کر تعجب اور حیرت ہوتی ہے کہ اس بہادر اور دلیر قوم کو زبردستی اسلام میں داخل کر لیا گیا اور یہ کہ اس قوم نے مسلمانوں کے جبر کے ڈر سے اسلام قبول کیا۔ اگر یہ بات درست ہے کہ مسلمانوں نے جبر کیا اور مسلمانوں کے ڈر سے راجپوتوں نے اسلام قبول کیا تو چاہئے تھا کہ آج برہمن وغیرہ قومیں نظر نہ آتیں۔ کیونکہ ڈر کی وجہ سے اگر اسلام قبول کیا گیا تھا تو سب سے پہلے برہمن اسلام قبول کرتے کیونکہ یہ راجپوتوں کی طرح بہادر اور دلیر نہ تھے لیکن ہوتا اس کے بالکل اُلٹ ہے کہ برہمن تو برہمن ہی نظر آتے ہیں اور راجپوت مسلمان پائے جاتے ہیں۔ راجپوتوں کے ہاتھ میں ہمیشہ تلوار رہی ہے۔ وہ اسلام کے جبر کا مقابلہ کر سکتے تھے اور جن کے ہاتھ میں تلوار اور دوسرے ہتھیار نہ تھے وہ فوراً اسلام قبول کر لیتے۔ مگر جو ڈرنے والے تھے وہ تو کثرت سے اپنے مذہب پر نظر آتے ہیں اور جو بہادر اور دلیر تھے وہ کم نظر آتے ہیں۔ اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں نے کبھی کسی پر جبر نہیں کیا اور نہ اسلام کی طرف سے ایسی تعلیم دی گئی ہے کہ جبر کر کے لوگوں کو مسلمان بنایا جائے۔
ان سب باتوں کے علاوہ اب میں آپ لوگوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اسلام کو جبر کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے قرآن شریف میں ہے لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ ۟ۙ قَدۡ تَّبَیَّنَ الرُّشۡدُ مِنَ الۡغَیِّ(2:257) یعنی دین میں کوئی جبر نہیں۔ کیونکہ واقعی جو حق بات تھی وہ گمراہی اور ضلالت کے بالمقابل پورے طور پر ظاہر ہو گئی۔ اور خدا تعالیٰ اس آیت میں وجہ بیان فرماتا ہے کہ کیوں اسلام کو جبر کی ضرورت نہیں اسلام کو جبر کی اس لئے ضرورت نہیں کہ قَدۡ تَّبَیَّنَ الرُّشۡدُ(2:257) سچائی صاف صاف ظاہر ہو گئی اور یہ ظاہر ہے کہ جبر اسی وقت ہوتا ہے جب کوئی بات دلیل سے ثابت نہ ہو سکے یا جس کو سمجھایا جائے وہ سمجھنے کے قابل نہ ہو۔ جیسے بچے کہ ان کی عقل چونکہ کمزور ہوتی ہے انہیں بسا اوقات ان کی مرضی کے خلاف اور جبر کرنے والے کی مرضی کے موافق کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے لیکن اسی بچہ میں جب عقل آجاتی ہے تو پھر وہ اپنے آپ ہی سمجھ لیتا ہے اور اپنے نفع اور نقصان کو سوچ سکتا ہے اس حالت میں اس پر کوئی جبر نہیں ہوتا۔ اسلام کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس میں دلائل کو کھول کر بتا دیا گیا ہے اس لئے جبر کی اسے ضرورت نہیں۔ اب اس دعویٰ کے ہوتے ہوئے اگر کوئی مسلمان جبر کرے تو اسلام کے اس دعویٰ کو جھوٹا قرار دیتا ہے۔ اس لئے کسی عقلمند مسلمان کی نسبت یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ وہ جبر کر کے اسلام کے اس عظیم الشان دعویٰ کو جھوٹا کر سکے۔
اسی طرح قرآن مجید کی ایک اور آیت سے بھی یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ قرآن کریم میں مطلقاً جبر کی تعلیم نہیں ہے حضرت شعیبؑ نبی کے پاس اس کی قوم کے سرکردہ لوگوں نے آ کر کہا۔ اے شعیب! اگر تم اور تمہارے ساتھی اپنے دین کو چھوڑ کر ہمارے دین میں واپس نہ آؤ گے تو ہم تم کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ حضرت شعیب جواب دیتے ہیں اَوَلَوۡ کُنَّا کٰرِہِیۡنَ(7:89)۷؎ کیا اگر ہم تمہارے دین کو برا سمجھیں اور اس سے بیزار ہوں اور اگر ہمارا دل نہ بھی چاہتا ہو تو بھی تم ہمیں اس بات پر مجبور کرو گے کہ ہم تمہارے مذہب میں لوٹ آئیں اور اگر ہم نے تمہارا دین قبول نہ کیا تو ہمیں اس شہر سے نکال دو گے۔ کیا ہی لطیف یہ جواب ہے۔ اگر وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن میں جبر کی تعلیم ہے صرف اسی ایک آیت پر غور کرتے تو انہیں سمجھ آ جاتی کہ قرآن جب کہ ایک نبی کی زبان سے یہ کہلوارہا ہے کہ اگر دل نہ بھی چاہتا ہو تو پھر بھی کیا تم مجبور کرو گے کہ تمہارا دین قبول کیا جائے تو وہ خود کیسے کسی کو یہ تعلیم دے سکتا ہے کہ لوگوں پر جبر کر کے انہیں مسلمان بناؤ۔ پھر جیسا کہ بعض اعتراض کرنے والے بالکل غلط کہا کرتے ہیں قرآن تو (نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بنایا ہوا ہے اور ان کی روزانہ ڈائری ہے۔ اگر قرآن شریف واقعی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روزانہ ڈائری ہے اور آپ کا بنایا ہوا ہے تو یہ الفاظ بھی آپ ہی کی زبان سے نکلے ہونگے جو شعیب نبی کے متعلق قرآن میں پیش کئے گئے ہیں جو انہوں نے اپنی قوم کے سرداروں کے جواب میں کہے۔ اگر یہ الفاظ اسی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکلے ہیں جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ قرآن اس نے آپ بنایا تو کیا اس کے متعلق یہ خیال کر لو گے کہ وہ خود جبر کرتے تھے اور اپنے ماننے والوں کو جبر کی تعلیم دیتے تھے۔ کیا ایک شخص جو جبر کو عقل اور فطرت کے خلاف سمجھتا ہے وہ خود جبر کر سکتا ہے۔
غرض اس قسم کی بہت سی مثالیں قرآن شریف سے پیش کی جا سکتی ہیں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کی تعلیم جبر کے خلاف ہے مثلاً قرآن کریم فرماتا ہے وَلَوۡ شَآءَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ کُلُّہُمۡ جَمِیۡعًا ؕ اَفَاَنۡتَ تُکۡرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ(یونس: ۱۰۰) اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو تمام دنیا کی آبادی ایمان لے آتی پھر کیا اے محمدؐ تو لوگوں کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ مسلمان ہو جائیں۔ اگر دنیا کو جبر کے ساتھ منوانا ہوتا اور اگر اسلام میں جبر کی تعلیم ہوتی تو خدا تعالیٰ یہ نہ فرماتا کہ تو لوگوں کو مسلمان ہونے کے لئے مجبور نہیں کر سکتا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر ہم چاہتے تو یہ بات ہماری طاقت میں تھی کہ ہم اپنی مشیت سے کام لے کر تمام لوگوں کو مسلمان بنا دیتے۔ مگر جب ہم نے یہ نہیں کیا تو اے محمدؐ تو کیسے ان کو مسلمان بننے کے واسطے مجبور کر سکتا ہے اور تُو جب ان کو مجبور نہیں کر سکتا تو پھر تیرے لئے یہی ایک راہ ہے کہ ان سے کہہ دے الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ۟ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡیُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡیَکۡفُرۡ(الکہف: ۳۰) کہ حق اور صداقت جو دنیا میں آئی ہے تو وہ تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے اور یہ تعلیم جو تمہارے لئے بھیجی گئی ہے بالکل سچی ہے اور تمہارے واسطے فلاح کا موجب ہے اب تمہارا دل چاہے تو مان لو اور دل نہ چاہے تو نہ مانو۔
کیسی صاف بات ہے کہ حق پیش کر کے کہا جاتا ہے مرضی ہو تو مانو نہ مرضی ہو تو نہ مانو۔ غور کرو اگر جبر اسلام میں ہوتا تو کیا خیال کر سکتے ہو کہ خدا تعالیٰ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سکھاتا ہے کہ دنیا سے تم یہ کہو الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ۟ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡیُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡیَکۡفُرۡ(الکہف: ۳۰)۔ یقیناً وہ ایسا نہ کہتا بلکہ وہ ایسے الفاظ فرماتا جن کا یہ مطلب ہوتا کہ اگر نہیں مانو گے تو ملک سے نکال دیا جائے گا یا تمہاری جائدادیں ضبط کر لی جائیں گی یا تمہیں قتل کر دیا جائے گا لیکن نہ خدا نے یہ فرمایا نہ قرآن کریم میں ایسا حکم ہے نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ارشاد فرماتے ہیں بلکہ خدا، قرآن اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہی کہتے ہیں کہ مرضی ہو تو مانو نہ مرضی ہو تو نہ مانو تم پر جبر نہیں۔ سمجھ نہیں آتی پھر اسلام پر جبر کا الزام لگانے والے کتے کس بناء پر ہیں کہ اسلام میں جبر ہے۔
ایک اور رنگ سے بھی یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچتی ہے کہ اسلام کے متعلق جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ اس میں جبر ہے بالصراحت غلط ہے۔ خدا تعالیٰ کا اس کا نام اسلام رکھنا ہی یہ بات ظاہر کرتا ہے
کہ یہ مذہب جبرو تشدد کے برخلاف صلح و آشتی کا حامی ہو گا کیونکہ لفظ اسلام کے معنی ہیں امن میں رہنا اور امن دینا۔ جس مذہب کے نام کے یہ معنی ہوں کہ وہ امن ہے امن میں رہتا ہے اور امن دنیا کو دیتا ہے اس کے متعلق یہ کہنا کہ وہ جبر کرتا ہے سراسر غلط ہے اور نا سمجھی پر دلالت کرتا ہے۔ پھر خدا تعالیٰ کے اسماء حسنہ جو قرآن نے بیان کئے ان میں سے ایک نام مؤمن ہے۔ جس کے معنی ہیں امن دینے والا۔ پس جو خدا امن دینے والا ہے اور اپنے دین کا نام اسلام رکھتا ہے کیا اس کے متعلق یہ یقین کر سکتے ہیں کہ باوجود اپنا نام مؤمن بتانے اور باوجود اپنے دین کا نام اسلام رکھنے کے وہ اسی اسلام کے ذریعہ بدامنی، تشدد اور جبر کی تعلیم دے۔ اسی طرح مسلمانوں کے مقدس شہر مکہ کے متعلق ہے دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا(3:98) کہ جو اس میں داخل ہوا وہ امن میں ہو گیا کیونکہ کعبہ امن کی جگہ ہے۔ یہاں کعبہ سے مراد وہ خاص مکان بھی ہے جس کی طرف مسلمان منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں اور وہ مذہب ہی ہے جو امن کا حامی ہے۔ یعنی جو اس مذہب میں داخل ہو گا وہ خود بھی امن میں ہو جائے گا اور دوسروں کے لئے بھی امن کا باعث ہو گا۔ اسی طرح قرآن کریم ہے۔ اس کی نسبت فرماتا ہے کہ یَدۡعُوۡۤا اِلٰی دَارِ السَّلٰمِ(10:26) کہ یہ امن کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔ پھر مسلمان کا اپنا نام بھی ”مسلم“ ہے یعنی دنیا میں امن قائم کرنے والا۔ نماز کا نام عربی میں ”اَلصَّلوٰةُ“ ہے۔ جس کا مفہوم ہے شفقت، رحمت، برکت یعنی ان راہوں پر چلاتی ہے جن پر چلنے سے انسان شوخی و شرارت سے بچ جاتا ہے فسق وفجور سے نجات پالیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شفقت اور رحمت پالیتا ہے اور اس کی طرف سے اسے برکت میسّر آجاتی ہے۔ پھر مسلمان کسی دوسرے سے ملتے ہیں تو اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہتے ہیں کہ تم پر اللہ کی سلامتی ہو تم اللہ کی طرف سے امن میں کئے جاؤ۔ آگے جواب دینے والا کہتا ہے تم پر بھی سلامتی ہو۔ کیا جو منہ سے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہے گا کیا وہ آگے جا کر تلوار ہاتھ میں پکڑ لے گا؟ عقل اسے نہیں تسلیم کرتی۔ پھر ہماری نماز کا اختتام بھی سلام پر ہے مسلمان جب نماز سے فارغ ہوتا ہے تو قبل اس کے کہ خدا کے دربار سے رخصت ہو وہ دائیں بائیں منہ کر کے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللهِ کہتا ہوا دنیا میں سلامتی اور امن پہنچاتا ہے۔ اب کوئی بتائے کہ جس کے دائیں بھی امن اور بائیں بھی امن آگے بھی پیچھے بھی امن، نیچے بھی امن اوپر بھی امن ہو جس کا نام امن جس کا کام امن کیا وہ امن کا دشمن اور تشدد اور جبر کا حامی ہو سکتا ہے۔
لیکن فرض کر لو اسلام میں جبر کی تعلیم نہ ہونے کے باوجود مسلمانوں نے جبر کیا تو پھر اب اس شور کا بلند کرنا کیا فائدہ دے گا؟ کیا اس سے جبر واپس آجائے گایا کیا جبر جبر کی پکار لگانے سے اسلام جھوٹا ثابت ہو جائے گا؟ اسلام اگر جھوٹا ہے تو مسلمان جبر نہ بھی کرتے تو بھی سچا ثابت نہیں ہو سکتا اور اگر سچا ہے تو مسلمان جبر بھی کریں تو بھی جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ پس اگر واقعہ میں مسلمانوں نے جبر کیا تو اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ انہوں نے غلطی کی نہ یہ کہ اسلام جھوٹا ہے اسلام ہرگز جھوٹا نہیں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور خدا کا دین ہے۔ ایک شخص اگر علم کی قدر نہ کرے یا ایک طالبعلم اگر علم کو صحیح طور پر نہ سمجھے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ اس طالبعلم میں نقص ہے نہ یہ کہ علم خراب شئے ہے۔ پس بفرض محال اگر کوئی ایسا واقعہ ہوا بھی ہے جسے ہندو جبر سے نامزد کرتے ہیں تو وہ ان مسلمانوں کی غلطی تھی جن کا تعلق اس سے تھا یہ نہیں کہ چند افراد کی غلطی سے اسلام پر الزام لگایا جائے کہ وہ جبر کی تعلیم دیتا ہے۔
اگر ہندو با وجود ان حالات سے اسلام پر جبر کا الزام لگانے سے باز نہ آئیں گے تو پھر دیکھو ہمارے منہ میں بھی زبان ہے ہم بھی جبر کے وہ واقعات بیان کر سکتے ہیں جو ہندوؤں نے دوسروں پر کئے اور غلط نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر کہتا ہوں اگر زیادہ نہیں تو ہندوؤں کو وہ جبر تو ماننے پڑیں گے جو انہوں نے باہر سے آنے والی قوموں پر کئے۔ تمام تاریخیں متفق ہو کر بتاتی ہیں کہ یونانی، ایرانی، ستھین اور بعض چین کی قومیں ہندوستان میں آئیں جنہوں نے اسے فتح کیا اور پھر وہ واپس نہیں گئیں۔ یہ قو میں بہت بڑی تعداد میں تھیں حتی کہ ایک قوم نے سو سال تک پشاور سے متھرا تک حکومت کی ہے تاریخیں یہ بتاتی ہیں کہ وہ ہندوستان میں آئیں اور اس بات کی شہادت دے رہی ہیں کہ چار زبردست قوموں کے ریلے ہوئے اور ساٹھ ستر بلکہ سو سال تک انہوں نے اس ملک میں حکومت کی مگر بعد میں ان کا کوئی پتہ نہیں چلتا کہ وہ کیا ہوئیں۔ البتہ ان کی یعنی ہندوؤں کی چار قو میں نظر آتی ہیں جس سے یہ قیاس گزرتا ہے کہ یا تو ان قوموں کو مار ڈالا گیا یا ملک سے باہر نکال دیا گیا اور یہ جبر تھا یا پھر ان کو جبراً ہندو بنایا گیا ورنہ وہ چالیس لاکھ انسان کسی کنویں میں غرق ہو گئے جو باہر سے ہندوستان میں آئے اور حکومت کرتے رہے۔ پس تاریخی طور پر جب ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جبر ہندوؤں پر نہیں ہوا بلکہ انہوں نے دوسروں پر کیا۔ اسی طرح بدھوں کی تباہی ہے بدھ ہندوستان میں حاکم تھے ان کو اس ملک سے یکدم مٹا دیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چار راجپوت اگنی کنڈ سے پیدا ہوئے اور انہوں نے ان کو تہِ تیغ کیا۔ اوّل تو خواہ وہ اگنی کنڈ سے پیدا ہوئے یا آسمان سے گرے بہرحال انہوں نے بدھوں کو تہِ تیغ کیا اور اب اس مذہب کا اس ملک سے نام و نشان بھی قریباً مٹ گیا ہے۔ لیکن دوسرا سوال یہ ہے کہ اگنی کنڈ سے چار راجپوت تو الگ رہے۔ ایک چوہا بھی پیدا نہیں ہو سکتا اگر ہو سکتا ہے تو آج ہندو صاحبان ایسا کر کے دکھا دیں۔ اصل بات یہ ہے کہ وہی باہر سے آنے والی چار قومیں جن کا نام و نشان اب مٹ گیا ہے انہیں لالچ دے کر کہ ان کو راجپوت کا درجہ دے دیا جاوے گا راجپوت بنا کر بدھوں کو تہِ تیغ کرنے پر مقرر کی گئی ہیں اور اس ناجائز سمجھوتہ کا نام اگنی کنڈ رکھا گیا ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ادھر بدھ اس ملک سے غائب ہوتے ہیں ادھر یہ باہر سے آئی ہوئی قومیں غائب ہو جاتی ہیں۔ پس صاف ثابت ہے کہ سیتھین اور یونانی وغیرہ اقوام پر ہندوؤں نے جبر کیا یا لالچ دے کر ہندو بنا لیا۔ یہ ہے ان لوگوں کے جبر کا نمونہ۔ مگر نہ وہ لوگ موجود ہیں جن پر جبر کیا گیا اور نہ ہی وہ جنہوں نے جبر کیا۔ وہ دونوں گزر گئے اب اگر ہم بھی ان کی طرح شور مچانا شروع کر دیں تو کیا آپ لوگ امید کر سکتے ہیں کہ امن قائم رہے گا۔ پس اگر ہندو امن پسند ہیں تو ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ امن اسی طرح ہو سکتا ہے کہ پچھلی باتوں کو چھوڑا جائے اور آئندہ کے لئے رواداری برتی جائے اور مساوات کا خیال رکھا جائے۔ اگر ایسا نہیں کر سکتے تو ملک میں امن بھی نہیں ہو سکتا پس اگر فی الواقع امن پیدا کرنا چاہتے ہیں تو رواداری قائم کریں اور مساوات برتیں۔
اب تک یہ طریق رہا ہے کہ جس قوم کے فرد سے کوئی قصور ہو تا وہ قوم بجائے اس کے کہ قصور وار کو ملامت کرتی اور جس کا اس نے قصور کیا اس سے عذر خواہی ہوتی یہ کرتی ہے کہ مجرم کی تائید شروع کر دیتی ہے جس سے بجائے امن اور صلح کے فتنہ و فساد بڑھتا ہے کیونکہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ اگر قصور کرنے والے کی تائید کی جائے تو جس کا اس نے قصور کیا ہوتا ہے اس کا غصہ بھی تیز ہو جاتا ہے اور مجرم بھی دلیر ہو جاتا ہے اور دوسروں کو بھی اسی قسم کے افعال کرنے کی جرأت پیدا ہو جاتی ہے۔ غرض اس وقت تک یہی ہوتا رہا ہے کہ مسلمانوں کا کوئی آدمی اگر قصور وار ہوتا تو مسلمان اس کی تائید میں شور مچا دیتے اور ہندوؤں کا کوئی آدمی قصور کرتا تو ہندو اس کی حمایت میں کھڑے ہو جاتے۔ یہی وجہ ہے فساد بڑھتا گیا اور امن قائم نہ ہو سکا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک ترقی کرنے سے رک گیا مگر اب یہ حالت نہیں رہی۔ میں ہندوؤں کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے بھی اپنی حالت میں تبدیلی پیدا کی۔
واقعات بتاتے ہیں کہ انہوں نے بالکل اس میں تبدیلی نہیں کی۔ ہاں مسلمانوں نے ایک عظیم الشان تبدیلی اپنے اندر پیدا کر لی ہے جو امن پیدا کرنے والی ہے
ایک تازہ واقعہ جس نے ملک میں ہلچل مچادی ہے اور ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کر دیا وہ شردھانند جی کا قتل ہے۔ کس نے انہیں قتل کیا میں نہیں جانتا مگر جس نے کیا اس کے فعل کو صرف میں ہی نہیں کہتا بلکہ سارا ہندوستان بلکہ افغانستان بھی بُرا کہتا ہے بلکہ اور بھی جس جس اسلامی ملک میں یہ آواز پہنچی وہاں لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس فعل کے مرتکب نے بڑا کام کیا ہے۔ پس ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک مسلمانوں کا اس واقعہ کے متعلق یہ کہنا کہ جس نے کیا بُرا کیا اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں نے اپنی حالت بدل لی ہے اور وہ بات جو ہندوؤں کی طرح پہلے ان میں پائی جاتی تھی وہ نہیں رہی اور اس کی بجائے ایسا طریق اختیار کیا گیا ہے جو امن قائم کرنے والا ہے اور وہ طریقہ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں اظہارِ نفرت کا ہے۔ سو مسلمان اس شخص کی تائید کر سکتے تھے لیکن انہوں نے کوئی ایسی بات نہیں کی اور صاف صاف کہہ دیا کہ قاتل نے بُرا کیا انہوں نے اپنے اندر ایک تبدیلی کر لی ہے اور یہ تبدیلی نہایت مبارک ہے لیکن ہندوؤں نے کوئی تبدیلی نہیں کی جس کا افسوس ہے۔
شردھانند جی کے قاتل کو میں نے بھی بُرا کہا اور مسلمانوں نے بھی کہا۔ دوسرے ملکوں کے مسلمانوں نے بھی کہا لیکن اس ہماری شرافت کا نتیجہ کیا نکلا ہم نے تو ہندوؤں سے ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ قاتل نے برا فعل کیا ہے لیکن ہندووں نے اُلٹا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینی شروع کر دی ہیں۔ اول تو یہ منطق نرالی ہے کہ اگر ایک مسلمان کہلانے والے نے مارا تو سب نے مارا۔ اگر ایک اس فعل کی وجہ سے بُرا ہے تو مسلمان سب بُرے ہیں لیکن اس کو تسلیم کر کے بھی ہم کہتے ہیں کہ ہم سب برے سہی قاتل سہی جس قدر چاہو بُرا کہو ہمیں سزا دے لو، ہمارے ساتھ سختی کر لو، ہمیں گالیاں چھوڑ گولیاں مار لو لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہ دو، اس کو برا نہ کہو، اس کی شان گستاخی نہ کرو۔ ہم سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن نہیں اگر برداشت کر سکتے تو اس مقدس ہستی کی توہین نہیں برداشت کر سکتے۔ اس پاک وجود کے متعلق گالیاں نہیں برداشت کر سکتے۔ ہاں وہ جس نے دنیا میں امن قائم کیا امن کی تعلیم دی وحشی انسانوں کو انسان بنا دیا اور دنیا کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں کھڑا کر گیا اس کے متعلق یہ نہ کہو کہ وہ ظالم اور مفسد تھا اور یہ فعل اس کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔
یاد رکھو ہم وہ لوگ ہیں جن کے ایک ایک آدمی کو مخالفین پکڑ کر لے گئے اس کو سخت ایذائیں پہنچائیں تکلیفیں دیں یہاں تک کہ اس کے جسم میں سوئیاں چھبوئی گئیں اس کے سامنے ایک سولی لٹکائی گئی اور اسے بتایا گیا یہ تمہارے لئے ہے ان تکلیفوں کے درمیان اس سے پوچھا گیا کیا تم چاہتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس کے سبب تمہیں یہ تکلیفیں پہنچ رہی ہیں یہاں ہوتا اور ان تکلیفوں میں مبتلاء ہوتا اور تم گھر میں آرام کرتے؟ یہ بات سن کر وہ نہایت اطمینان اور سکون سے مسکراتا ہوا کہتا ہے تم تو کہتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں ہوں اور یہ کہ کیا میں پسند کر سکتا ہوں کہ تکالیف ان کو پہنچ رہی ہوں اور میں اپنے گھر آرام سے بیٹھا ہوا ہوں لیکن مجھے تو یہ بھی پسند نہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں کانٹا چبھے اور میں گھر میں آرام سے بیٹھا رہوں۔۱؎
غرض ہمارے جسم کا ہر ذرہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہونے کا متمنی ہے ہماری جان بھی اسی کے لئے ہے ہمارا مال بھی اسی کے واسطے ہم اس پر راضی ہیں بخدا راضی ہیں۔ پھر کہتا ہوں بخدا راضی ہیں کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے بچے قتل کر دو ہمارے دیکھتے دیکھتے ہمارے اہل و عیال کو جان سے مار دو لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہ دو۔ ہمارے مال لوٹ لو ہمیں اس ملک سے نکال دو لیکن ہمارے سردار حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک اور توہین نہ کرو۔ انہیں گالیاں نہ دو۔ اگر یہ سمجھتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے سے تم جیت سکتے ہو اور یہ سمجھتے ہو کہ گالیاں دینے سے تم رک نہیں سکتے تو پھر یہ بھی یاد رکھو کہ کم سے کم ہم تمہارا اپنے آخری سانس تک مقابلہ کریں گے اور جب تک ہمارا ایک آدمی بھی زندہ ہے وہ اس جنگ کو ختم نہیں کرے گا۔
میں نے قادیان سے بھی یہ اعلان کیا تھا کہ شردہانند جی کے قتل کا فعل بہت بڑا فعل ہے اور جس نے کیا اس نے کوئی اچھا کام نہیں کیا لیکن یہ ایک شخص کا انفرادی فعل ہے اسلام کو اس سے کوئی تعلق نہیں اور اسلام کو اس سے ملزم نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ مگر میں یہاں تک دیکھتا ہوں کہ آریوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور یہ اور بھی آگے بڑھے یہاں تک کہ ہمارے اس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس پر ہم اپنی عزت، اپنی آبرو، اپنی جان، اپنا مال، اپنی اولاد غرضیکہ ہر ایک شئے قربان کرنے کو تیار ہیں پہلے سے بھی زیادہ گالیاں دینے لگ گئے ہیں۔ میں بھی چونکہ مسلمان ہوں اور خدا کے فضل سے ان مسلمانوں میں سے ہوں جنہیں خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں اسلام کی خدمت کے لئے چن لیا میرے دل میں درد ہے اور سب سے بڑھ کر درد ہے میں نے جب دیکھا قادیان سے جو ہمدردی کی آواز میں نے اٹھائی تھی اس پر کان نہیں دھرا گیا تو میں نے محسوس کیا مجھے قادیان سے باہر جا کر یہ آواز لوگوں تک پہنچانی چاہئے اور میں اسی درد کو لے کر لاہور آیا ہوں اور میں اسی درد سے یہ لیکچر دے رہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ آپ لوگ اسے توجہ سے سنین اور جو میں کہتا ہوں اسے مانیں اور میں سوائے اس کے کیا کہتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہ دو اور ایک شخص کے فعل سے جسے ساری قوم برملا برا کہہ رہی ہے اس کی ساری قوم اور ہماری قوم کے پیشوا اور ہادی کو اس کا مجرم نہ ٹھہراؤ اگر آپ لوگوں کی عورتیں اور بیویوں اور بچوں اور ماؤں اور باپوں اور رشتہ داروں کو گالیاں دی جائیں اور ان پر عیب لگائے جائیں حالانکہ ان میں عیب ہوتے بھی ہیں تو کیا آپ خاموش رہ سکتے ہیں اور آرام سے بیٹھ سکتے ہیں اگر نہیں تو کیا ہم سے ہی یہ توقع ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جنہیں ہم اپنی جان و مال عزیزوں رشتہ داروں سے کہیں زیادہ عزیز سمجھتے ہیں گالیاں سنیں اور خاموش رہیں اور آرام سے بیٹھے رہیں۔ یقیناً ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔ جب تک آپ لوگ تسلیم نہ کرلیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہیں دیں گے۔
ہم لڑیں گے نہیں اور نہ ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تعلیم ہے کہ لڑا جائے مگر ہم صلح بھی نہیں کر سکتے کہ ہمارے پیارے رسول کو گالیاں دی جاتی ہیں۔ ہماری اس وقت تک اس شخص سے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے صلح نہیں ہو سکتی جب تک وہ گالیاں ترک نہ کرے۔ بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود نے بھی ایک دفعہ فرمایا تھا کہ میں جنگل کے سانپوں سے صلح کرلوں گا لیکن اگر نہیں کروں گا تو ان لوگوں سے جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ان پر ناپاک حملے کرتے اور ان کے حق میں طرح طرح کی بد زبانی کرتے ہیں ؎ ہم صلح پسند ہیں لیکن ہم اس بات کو بھی پسند کرنے والے نہیں کہ صلح و آشتی کی تعلیم دینے والے کو برا کہا جائے۔ ہم بہرے تھے
اس نے ہمیں کان دیئے ہم گونگے تھے اس نے ہمیں زبانیں دیں ہم اندھے تھے اس نے ہمیں آنکھیں دیں۔ ہم راہ سے بھولے ہوئے تھے اس نے ہمیں راہ دکھائی خدارا اسے گالیاں نہ دو۔ غور کرو اس نے شردھانند جی کو مارا نہیں اور نہ مروایا ہے اس کا اس معاملے میں کوئی دخل نہیں۔ پھر اسے کیوں گالیاں دیتے ہو۔ جس نے مارا ہے اسے پکڑلو۔ ایک کو نہیں، بہتوں کو پکڑ لو جیسا کہ تم نے پکڑا بھی اور ایک کو مار بھی ڈالا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہ دو۔
اب میں مسلمانوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ انہیں سوچنا چاہئے سُدھی اور سنگھٹن کے ذریعے ہندو کیا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ یقیناً اس ذریعہ سے انہیں مٹانا چاہتے ہیں۔ اور جب دوسری قومیں انہیں مٹانا چاہتی ہیں تو مسلمانوں کو ہوشیار ہو جانا چاہئے۔ شدھی اور سنگھٹن سے مسلمانوں پر ایک اثر پڑ رہا ہے اور یہ اثر جہاں تک میں دیکھتا ہوں مضر ہے۔ پس اگر مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کا احترام ہے تو انہیں بیدار ہو جانا چاہئے لیکن میں ساتھ ہی کہوں گا کہ شُدھی اور سنگھٹن سے مسلمانوں کو جوش میں بھی نہیں آنا چاہئے بلکہ انہیں اپنا فرض پہچاننا چاہئے۔ انہیں یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ اگر ملکانا شُدھ ہو رہے ہیں تو ہمیں کیا۔ کیونکہ آج اگر ملکانا شُدھ ہو جائیں تو کل دوسروں کی باری بھی آجائے گی۔ پس اس سے بے پروا نہیں ہونا چاہئے۔ اگر ملکانوں کو شدھ ہونے سے نہ بچایا گیا تو کل دوسرے بھی ہو جائیں گے۔ اگر ایک دیوار کے نیچے سے ایک اینٹ نکال لیں تو پھر دوسری آسانی کے ساتھ نکل سکتی ہے تیسری آپ ہی نکل آتی ہے پھر چوتھی پانچویں غرضیکہ ایک وقت آتا ہے کہ دیوار کی دیوار ہی گر پڑتی ہے۔ پس ملکانوں کی حفاظت ہمارا فرض ہے اور ہمیں اس فرض کے پورا کرنے میں غفلت نہیں کرنی چاہئے۔
اگر اسلام کی تڑپ ہے، اگر چاہتے ہو اسلام ترقی کرے، اگر چاہتے ہو مسلمان مسلمان رہیں اور دوسری قوموں میں جذب ہونے سے بچے رہیں تو خود مسلمانوں کو چاہئے مسلمان بن کر رہیں۔ اسلام کا کوئی حکم نہ ہو جسے وہ کر سکتے ہوں اور نہ کریں۔ پس میں نصیحت کرتا ہوں آج اگر کل کی فکر کرو گے تو کل کا فکر کم ہو جائے گا آج جو تمہارے ساتھ ہو رہا ہے اس کی فکر کرو اور اس کے علاج کی طرف توجہ کرو تا آج کا بھی علاج ہو اور کل کا بھی۔ آج ملکانے شدھ کئے جا رہے ہیں۔ ان کو بچاؤ گے نہیں تو کل دوسرے لوگ شدھ ہونگے۔ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا(3:201) وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا ۟ وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ(3:201)۳؎مومن کو سرحد پر گھوڑے باندھنے چاہئیں یعنی سرحدوں کی حفاظت کرنی چاہئے۔ ہندوستان کی ادنیٰ اقوام ہماری سرحد ہیں، ہمیں چاہئے اپنی سرحد پر گھوڑے باندھیں اور ان کی حفاظت کریں۔ اگر دشمن نے اس سرحد پر قبضہ پالیا اور ادنیٰ اقوام کو اپنے ساتھ ملالیا تو پھر جیسے دشمن سرحد سے گذر کر وسطِ ملک میں پہنچ جاتا ہے اسی طرح ہندو اچھوت اقوام سے گذر کر خود مسلمان قوموں پر حملہ کردیں گے۔ پس ہمیں چاہئے کہ ہم ہوشیاری کے ساتھ سرحدوں کی حفاظت کریں اور ادنیٰ اقوام کو جو ہماری سرحد ہیں ان لوگوں کی دستبرد سے بچائیں۔ ملکانوں کو بچانا اور بھی ضروری ہے کیونکہ وہ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں۔ اسلام کی حفاظت اور اشاعت ہمارے لئے فرض ہے مسلمانوں کو چاہئے کہ اس ذمہ داری کو جو بطورِ فرض ان کے سر پر ہے پوری کریں اور خود بھی مسلمان بن کر رہیں اور کمزور مسلمانوں اور ادنیٰ اقوام کے مسلمانوں اور دُور اُفتادہ مسلمانوں کی بھی حفاظت کریں۔ اگر مسلمان ہوشیار نہ ہوئے اور اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کی انہوں نے کوشش نہ کی تو کم از کم میں خدا کے سامنے یہ کہہ سکوں گا کہ میں نے بریڈلا ہال میں ۲۔ مارچ ۱۹۲۷ء کو کہہ دیا تھا اور لوگوں کو ان کا فرض یاد دلا دیا تھا لیکن اے خدا! تیرے بندے غفلت میں رہے اور انہوں نے اس کی پرواہ نہ کی۔
اب میں چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کو ان کے لئے آئندہ کے واسطے وہ طریقِ عمل بتاؤں جس پر انہیں چلنا چاہئے اور جن کی انہیں از حد ضرورت ہے۔ سب سے پہلی بات جو میں انہیں کہتا ہوں یہ ہے کہ وہ پہلے خود پکے مسلمان بنیں۔ شاید مجھے تعلیم یافتہ لوگ پاگل کہیں کہ ہر ایک عیب کا علاج اسلام پر عمل بتاتا ہے مگر وہ خواہ کچھ کہیں حق یہی ہے کہ مسلمانوں کی ترقی کا اصل ذریعہ یہی ہے۔
سب سے پہلی بات جو میں نے کہی کہ پکے مسلمان بن جاؤ اس کے ساتھ میں دوسری بات جو بتاتا ہوں اور وہ بھی از حد ضروری ہے وہ ہے تدبیر۔ تدبیر سے کام مسلمانوں کا خاص کام ہے اور مسلمان جانتا ہے کہ ہمارا مذہب تدبیر سکھاتا ہے اور یہ نہیں کہتا کہ خود تو کرو کچھ نہ اور امید رکھو کہ سب کچھ ہو جائے گا۔ مسلمانوں کا مذہب اس بات کا حامی نہیں بلکہ اس بات کا حامی ہے کہ ہر موقع پر تدبیر سے کام لینا چاہئے۔ چنانچہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی ارشاد فرماتے ہیں کہ مسلمان کو تدبیر کرنی چاہئے۔ چنانچہ آپ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور اپنا اونٹ باہر چھوڑ آیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تمہارا اونٹ کہاں ہے اس نے عرض کی اللہ کے توکّل پر اسے باہر ہی چھوڑ آیا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا جا پہلے اسے رستہ سے مضبوط باندھ اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکّل رکھ۔۴؎اس کا یہی مطلب ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کو تدبیر کی تعلیم دینا چاہتے تھے کہ انسان کا کام اور بالخصوص ایک مسلمان کا کام یہ ہونا چاہئے کہ وہ ہر معاملے میں تدبیر کرے اور ساتھ ساتھ دعا کے سلسلے کو جاری رکھے اور پھر خدا پر توکّل کرے۔ اس کے مطابق میں بھی آج آپ لوگوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جہاں آپ صحیح معنوں میں مسلمان بنیں وہاں صحیح تدبیر کرنے والے بھی ہو جائیں اور جب وہ کریں گے تو خدا تعالیٰ ان کا محافظ ہو جائے گا اور خود ان کی حفاظت کرے گا اور دشمن کے حملوں کا شکار نہیں ہونے دے گا۔
قرآن شریف میں آتا ہے اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ(13:12)۵؎ یعنی اللہ تعالیٰ کسی کی کوئی نعمت نہیں چھینتا جب تک وہ آپ اس نعمت کو خراب نہ کر دے اور اس کی بے قدری کر کے اس قابل نہ ہو جائے کہ اس سے نعمت واپس چھین لی جائے۔ اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو خراب کرنا اور ان کی بے قدری کرنا یہی ہے کہ ان کا صحیح استعمال نہ کیا جائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حکم دیا کہ مسلمانوں کی مردم شماری کی جائے۔ یہ بالکل ابتدائی زمانہ کی بات ہے مردم شماری کی گئی تو صحابہ کی تعداد سات سو نکلی۔ صحابہؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی حضورؐ نے مردم شماری کیوں کرائی ہے کیا آپؐ کا خیال تھا کہ ہم تباہ نہ ہو جائیں اب تو ہم سات سو ہو گئے ہیں اب دنیا کی کوئی طاقت ہمیں تباہ نہیں کر سکتی۔۶؎صحابہ سات سو تھے اور ان کی یہ حالت تھی کہ وہ اپنی اس تعداد کو بہت بڑی تعداد سمجھتے تھے اور حیران ہو کر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ رہے تھے کہ اب دنیا کی کوئی طاقت ہمیں تباہ نہیں کر سکتی۔ آج مسلمان سات سو نہیں صرف ہندوستان میں سات کروڑ سے بھی زیادہ ہیں مگر پھر بھی ڈرتے ہیں۔ صحابہ باوجود قلیل التعداد ہونے کے دنیا کی طاقتوں سے کیوں نہیں ڈرتے تھے اور اس ملک کے مسلمان سات کروڑ سے بھی زیادہ ہو کر دنیا کے ادنیٰ لوگوں سے کیوں ڈر رہے ہیں۔ یہ ایک سوال ہے جو بالطبع یہاں پیدا ہوتا ہے مگر اس کا حل نہایت آسان ہے اور وہ یہ کہ وہ خدا کے ہو چکے تھے اور خدا ان کا ہو چکا تھا اس لئے خدا ان کی ہر موقع پر مدد اور حفاظت فرماتا تھا مگر مسلمان آج خدا کے ساتھ تعلقات توڑ چکے ہیں اس لئے اس نے بھی ان کی طرف سے منہ موڑ لیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ جرأت جو خدا کے بندوں میں ہوتی ہے ان میں نہیں اور اس جرأت کے نہ ہونے سے یہ ادنیٰ ادنیٰ لوگوں سے ڈر رہے ہیں۔
ممکن ہے کوئی کہے دوسری قومیں بھی اس حالت میں ترقی کر رہی ہیں اور اگر مسلمان بھی اسی حالت میں ترقی کرنے کے لئے کوشش کریں تو ان کو کیوں ترقی حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کی ترقی کے لئے یہی شرط ہے کہ وہ خدا کے ہو جائیں اور خدا ان کا ہو جائے اور جب خدا کسی کا ہو جائے تو پھر ترقی کوئی روک نہیں سکتا۔ اسلام کی تاریخ پر نظر ڈال کر دیکھ لو عرب کے ان لوگوں میں جن کے غیر مہذب اور غیر متمدن ہونے کے قصے تمام علاقوں میں مشہور ہیں وہ خوبی پیدا ہو گئی کہ یکدم ان کی حالت پلٹ گئی اور وہ جو غیر مہذب تھے تہذیب کے استاد مانے گئے اور جو غیر متمدن تھے ان کا تمدن دنیا کا تمدن قرار پا گیا اور جو غیر تعلیم یافتہ تھے معلم تسلیم کئے گئے اور جو حکمرانی کے طریق سے نابلد تھے حکمران بنا دیئے گئے۔ یہ سب باتیں اسی لئے حاصل ہوئی تھیں کہ وہ اللہ کے ہو گئے تھے اور اللہ ان کا ہو گیا تھا۔ اب بھی اگر اس نسخہ کو استعمال کیا جائے تو یہی اثر ہو سکتا ہے۔ پس اگر یقین ہے کہ اسلام سچا ہے اور اس یقین کے ہوتے ہوئے مسلمان اس سے تعلق کاٹ کر ترقی حاصل کرنا چاہیں تو یہ ناممکن ہے کیونکہ وہ اسلام کے خزانہ کے محافظ مقرر کئے گئے ہیں اگر وہ اس خزانہ کی طرف سے غفلت کر کے کسی اور طرف توجہ کریں گے تو ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا بھی یہ سلوک ہو گا کہ ان کی طرف سے منہ پھیر لے گا اور جب بھی وہ اس کو چھوڑ کر دنیا کی طرف متوجہ ہوں گے تکلیف اور نقصان اٹھائیں گے۔ دوسروں کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ تو پہلے ہی سچے مذہب پر نہیں ہیں اگر وہ اپنے مذہب سے غفلت کریں تو اس سے سچائی کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ پس اس وقت کی آفات سے بچنے کا علاج یہی ہے کہ پکے مسلمان بن جاؤ تا خدا تعالیٰ تمہارا بن جائے اور ہر موقع پر تمہاری حفاظت فرمائے اور ہر جگہ اپنی مدد تمہیں عطا کرے۔
دوسری بات جس کی طرف میں آپ لوگوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ اتحاد بین المسلمین ہے یعنی مسلمانوں کے بے شمار فرقوں کے درمیان اتحاد و اتفاق۔ مسلمان اس وقت کئی فرقوں پر تقسیم ہو چکے ہیں اور یہ فرقے آپس میں ایک دوسرے کے مخالف بلکہ دشمن ہو رہے ہیں جس سے مسلمانوں کو بحیثیت قوم نقصان پہنچ رہا ہے اور
اگر وہ اتحاد اور اتفاق نہیں کریں گے تو دوسری قومیں ان کو آسانی سے مٹادیں گی اس موقع پر میں ایک مولوی اور ایک سید اور ایک عام آدمی کا قصہ سناتا ہوں جو واقعی اس قابل ہے کہ اس سے سبق حاصل کیا جائے۔ مولوی، سید اور ایک اور آدمی یہ تینوں کسی سفر پر گئے۔ راستہ میں ان کو ایک باغ ملا جس میں گھس گئے اور میوے توڑنے شروع کر دیئے کچھ تو کھائے اور کچھ توڑ توڑ کر ضائع کئے۔ اتنے میں باغ کا مالی آگیا اس نے دیکھا تو دل میں سوچا میں اکیلا ہوں اور یہ تین ہیں اگر میں انہیں کچھ کہتا ہوں تو تینوں میرا بھرکس نکال دیں گے چاہئے کہ تدبیر سے ان پر قابو پاؤں۔ یہ سوچ کر وہ ان کے پاس آیا اور ادھر ادھر کی باتوں کے بعد بڑے نرم الفاظ میں سید سے کہنے لگا آپ سید ہیں سب کچھ آپ کا ہی ہے اور مولوی لوگ رسول کریم کی گدی پر بیٹھنے والے ہیں مگر یہ تیسرا کون ہے جو آپ کی برابری کرے اور دوسرے کو نقصان پہنچائے اس پر سید اور مولوی چپکے کھڑے رہے اور اس نے تیسرے آدمی کو خوب مارا اور ہاتھ پاؤں باندھ کر الگ رکھ دیا۔ اس کے بعد وہ پھر سید سے مخاطب ہو کر کہنے لگا آپ تو آل رسول ہیں سب کچھ آپ کا ہی ہے مگر یہ مولوی کون ہے جو خواہ نخواہ حصہ دار بن بیٹھا ہے یہ کہہ کر اس نے مولوی صاحب کو پکڑ لیا اور خوب مارا اور سید صاحب الگ کھڑے دیکھتے رہے کہ ہم تو اصل مالک ہیں یہ اس ڈاکو کو مار رہا ہے۔ پھر زمیندار نے اس کو بھی باندھ کر ایک طرف پھینک دیا۔ پھر سید کی طرف لپکا اور کہا کہ تُو آل رسول بنا پھرتا ہے شرم نہیں آتی لوگوں کا مال بغیر اجازت کے کھاتا ہے اور ان کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ کہہ کر اس نے سید صاحب کو بھی خوب پیٹا اس ترکیب سے اس نے تینوں کو سزا دے لی۔ مسلمان بھی اگر اسی طرح رہے اور اتفاق و اتحاد نہ کیا تو خطرہ ہے کہ ان تینوں کی طرح ایک ہی قوم کے ہاتھ سے تباہ ہو جائیں گے۔ پس میرے نزدیک موجودہ حالات کے لحاظ سے یہ بہت ضروری ہے کہ اتحاد بین المسلمین ہو ورنہ دوسرے لوگ مسلمانوں کو کچل ڈالیں گے اور مسلمان اگر متحد نہ ہوئے تو منہ دیکھتے کے دیکھتے رہ جائیں گے۔
اب میں اس اشتہار کے سوال کا جواب دیتا ہوں جو مجھے ابھی ملا ہے اور جس میں یہ سوال ہے کہ مسلمانوں کو مسلمان کہتا ہوں کہ کافر۔ مگر پیشتر اس کے کہ میں جواب دوں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ جو بات صاحبِ اشتہار نے پوچھی ہے وہ پہلے سے ہی میرے اس لیکچر کے نوٹوں میں شامل ہے اور مجھے خود اس پر بولنا تھا۔ اب انہوں نے وہی بات پیش کی ہے اس لئے میں ان کی توجہ کے لئے اور دوسرے لوگوں کے واسطے کہتا ہوں کہ میں نے
مسلم لیگ کے جلسہ پر جو لاہور ہوا تھا بتا دیا تھا کہ کسی سے یہ کہنا کہ اپنے مذہب کے لحاظ سے جو تم خیال رکھتے ہو اسے چھوڑ دو اور پھر ہماری طرف صلح کے لئے آؤ یہ سراسر غلط طریق ہے اور مسلمانوں کے فرقوں کے درمیان اس رنگ میں قیامت تک بھی صلح کا ہونا ناممکن ہے۔ ہونا یہ چاہئے کہ سیاسی نقطہ خیال کے مطابق ہر شخص جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا مدعی ہے اور آپ کی شریعت کو منسوخ نہیں قرار دیتا اور کسی جدید شریعت کا قائل نہیں ہے اس کو مسلمان قرار دیا جائے ایسے لوگوں کے درمیان اتحاد ہو۔ پھر میں نے آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے موقع پر بھی بتایا تھا اب پھر کہتا ہوں کہ اسلام کی اس زمانہ میں دو تعریفیں ہیں ایک مذہبی اور ایک سیاسی۔ اب ان تعریفوں سے الگ رہ کر کہنا کہ صلح کر لو ایک غلطی ہے جو سخت نقصان پہنچانے والی ہے۔ اسلام کی مذہبی تعریف کے لحاظ سے ایک لحظہ علیحدگی اختیار کر کے اسلام کی سیاسی تعریف کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو فوراً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک عیسائی یا ایک ہندو کسے مسلمان سمجھتا ہے؟ کیا وہ دیوبندیوں کو مسلمان سمجھتا ہے اور باقی سب کو غیر مسلم؟ کیا وہ احمدیوں کو مسلمان سمجھتا ہے اور باقی سب کو کافر؟ کیا وہ شیعہ لوگوں کو مسلمان سمجھتا ہے اور باقی سب کو کافر؟ نہیں وہ سب کو مسلمان سمجھتا ہے خواہ کوئی دیوبند کا ہو، خواہ قادیان یا فرنگی محل کا۔ اس کے لئے سب ایک ہیں اور وہ سب کے ساتھ ایک ہی قسم کا سلوک کرے گا کیونکہ ہندو یا عیسائی قوم کو اس سے بحث نہیں کہ اسلام کی مذہبی تعریف کے لحاظ سے کون کون مسلمان ہے اور کون کون کافر بلکہ وہ سلوک کرتے وقت یہ دیکھیں گے کہ کون لوگ مسلمان کہلاتے ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھیں گے کہ ان کو تو اسلام کے فلاں فرقہ نے کافر قرار دیا ہوا ہے یا فلاں فرقہ کو فلاں فرقہ نے اپنے سے علیحدہ کر دیا ہے وہ سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکیں گے اس لئے ضروری ہے کہ سیاسی تعریف کے رو سے مسلمانوں کے تمام فرقے اکٹھے ہو جائیں۔ مذہبی تعریف کے لحاظ سے ہم جس کے متعلق چاہیں کہیں لیکن سیاسی امور کے لحاظ سے ہمیں ایک جگہ متحد ہو جانا چاہئے کیونکہ دوسری قومیں مسلمانوں کے تمام فرقوں کو مسلمان سمجھتی ہیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے فرقے ایک دوسرے کو کافر سمجھتے ہیں۔ بریلوی دیوبندیوں کو اسی طرح شیعہ سنیوں اور سنی شیعوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی کو کافر کہیں یا نہ کہیں مگر عقیدتاً ایسا سمجھتے ہیں اور یہ اعتقاد اتحاد میں مانع نہیں ہو سکتا اور اگر اس کے بغیر اتحاد نہیں ہو سکتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مذہب چھڑایا جائے اور مذہب چھوڑ کر قیامت تک بھی صلح نہیں ہو سکتی۔
اتحاد بین المسلمین کے لئے دوسری چیز جس کی ضرورت ہے وہ آزادی رائے ہے باہمی اتحاد کے لئے اس کی اشد ضرورت ہے اگر اسے نظر انداز کردیا جائے تو اتحاد نہیں ہو سکتا اگر ہو جائے تو قائم نہیں رہ سکتا۔
آزادی رائے کے ساتھ ہی اختلاف رائے پیدا ہوتا ہے اور یہ مضر نہیں ہوا کرتا بلکہ رحمت اور برکت کا باعث ہوتا ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں ہے۔ اِخْتِلَافُ اُمَّتِیْ رَحْمَةٌ؎حلہ میری امت کا اختلاف بھی رحمت ہو گا۔ یعنی امت کی حد میں رہ کر جس قدر اختلاف وہ کریں وہ مُضِر نہ ہو گا بلکہ مفید ہو گا۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ تمام ترقیاں اختلاف رائے سے پیدا ہوتی ہیں۔ اگر پچھلے پہلوں سے اختلاف نہ کرتے تو حساب، سائنس، کیمسٹری، فزکس، علم طبقات الارض اور ہیئت اور دوسرے علوم میں کوئی بھی ترقی نہ ہوتی۔ لوگ اپنی جگہوں پر کھڑے رہتے اور پھر قانون قدرت کے اس اصل کے ماتحت کہ جو کھڑا ہوا رہ گیا، وہ تباہ ہو جاتے اور نسل انسانی برباد ہو جاتی۔ پس اختلاف تو ایک ضروری اور مفید شئے ہے اس کا مٹانا قوم کے لئے زہر ہے۔ ہاں اس کا حد کے اندر رکھنا بھی نہایت ضروری ہے تا دریا کی طرح اپنے پاٹ سے باہر ہو کر تباہی اور بربادی کا موجب نہ ہو۔ میں جب ولایت سے واپس آیا تو میں نے اپنے سیکرٹریوں میں سے ایک کو گاندھی جی کے پاس بھیجا کہ میں آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں انہوں نے دہلی کے پروگرام میں فرق کر کے بمبئی میں مجھ سے ملاقات کا وقت مقرر کیا میں نے عند الملاقات ان کو اس مسئلہ کی طرف توجہ دلائی کہ کانگرس اس وقت تک ملک کی نمائندہ نہیں ہو سکتی جب تک ہر خیال کے آدمی اس میں شامل نہ ہوں۔ صرف وہی جماعت ملکی نمائندہ کہلائے گی جس میں اختلاف خیالات رکھنے والے بھی ہوں۔ اختلاف کی حد بندی ہونی چاہئے یہ نہیں ہونا چاہئے کہ یونہی فساد کھڑا کر دیا جائے۔ ہمیشہ نرمی اور محبت کو استعمال کیا جائے۔ پس ہمیں چاہئے کہ اختلاف کی حد بندی تو کریں اور اتحاد بین المسلمین کے لئے آزادی رائے کو قربان نہ کریں بلکہ اس کی موجودگی میں اتحاد کی بنیاد رکھیں۔
ہندوؤں میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ وہ باوجود اختلاف رائے کے قومی مقاصد کے لئے متحد ہوتے ہیں۔ پچھلے دنوں جب شورش ہوئی تو ہندو لیڈروں میں سے گاندھی جی ایک طرف تھے اور پنڈت مالوی صاحب ایک طرف۔ اسی طرح مسلمانوں میں مولوی محمد علی اور ابو الکلام ایک طرف اور مسٹر جناح اور سر شفیع ایک طرف۔ جس طرح گاندھی جی اور مالوی جی کا اختلاف تھا اسی طرح محمد علی اور ابو الکلام صاحب مسٹر جناح اور سر شفیع میں اختلاف تھا لیکن ہندوؤں کی تو یہ حالت تھی کہ جو لوگ مالوی جی کے ہم خیال تھے وہ گاندھی جی کی بھی عزت کرتے اور جو گاندھی جی کے طرف دار تھے وہ مالوی جی سے اظہارِ خلوص کرتے حالانکہ اس وقت ان دونوں اور ان کے ہم خیال لوگوں میں سخت اختلاف تھا۔ اس کے مقابلہ میں مسلمانوں نے یہ طریق استعمال کیا کہ ایک لیڈر کے ہم خیالوں نے دوسرے لیڈر اور اس کے ہم خیالوں کی تذلیل کی اس طرح مسلمانوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے پاؤں کاٹ لئے۔ میں نے اس وقت مسلمانوں کو سمجھایا کہ جن لیڈروں نے خدمات کی ہیں ان سے یہ سلوک نہیں ہونا چاہئے مگر کسی نے نہ سنا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نان کو آپریشن (NON-COOPRATION) کی پالیسی جب ناکام رہی تو ہندوؤں کی طرف سے مالوی جی نے گورنمنٹ میں کہہ دیا کہ گاندھی جی اصلی لیڈر نہیں ہم لوگ اصل لیڈر تھے اور چونکہ ان کی عزت ہر وقت قائم رہی ان کی بات تسلیم کر لی گئی اور کہا گیا کہ ہندو قوم نے بہ حیثیت قوم جادہٴ اعتدال سے اپنا قدم نہیں نکالا تھا لیکن چونکہ مسلمانوں نے اپنے لیڈروں کی ہتک کی تھی وہ یہ نہ کہہ سکے اور مسلمان ہی گھاٹے میں رہے۔ درحقیقت اختلاف پر عداوت کا پیدا کر لینا ایک خودکشی کی پالیسی ہے جس سے اجتناب ضروری ہے۔
اتحاد کے لئے مختلف فرقوں کے حقوق کی نگہداشت بھی نہایت ضروری ہے جب تک پورے طور پر اس کا خیال نہ رکھا جائے اتحاد نہیں ہو سکتا۔ چونکہ انفرادی رنگ میں بھی اور جماعتی رنگ میں بھی ایک دوسرے کے حقوق کی نگہداشت نہیں کی جاتی اس وجہ سے جو جماعتیں قلیل اور کمزور ہیں وہ کثیر اور مضبوط جماعتوں کے ساتھ نہیں ملتیں کیونکہ انہیں خوف ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ ملنے سے کہیں اور نقصان نہ ہو۔ جب مختلف فرقے مسلمانوں میں موجود ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ بغیر ایک دوسرے کے حقوق کی حفاظت کرنے کے وہ آپس میں مل سکیں۔ مثلاً شیعہ ہیں وہ سب مذہبی تعصبوں اور بُغضوں کو چھوڑ کر سنیوں سے ملنا چاہیں تو ان کے لئے اگر کوئی روک ہوگی تو یہی کہ سنی شاید ہمارے حقوق کی نگہداشت نہ کریں اور ہم جو اس وقت تک اپنے حقوق کی آپ حفاظت کرتے چلے آتے ہیں اس حفاظت سے بھی ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ اسی طرح ایک احمدی کا حال ہے کہ وہ بھی اِتِّحَادَ بَیْنَ الْمُسْلِمِیْنَ کی جب خواہش کرے گا تو اس کے راستہ میں بھی یہی روک پیدا ہو گی۔ پھر خود ہی سوچ لو ایک شیعہ سنی سے کس طرح اتحاد کر سکتا ہے، ایک وہابی سنی سے کیونکر مل سکتا ہے، ایک احمدی غیر احمدی سے کیسے صلح کر سکتا ہے۔ پس مسلمانوں کے تمام فرقوں کے درمیان اتحاد اور اتفاق پیدا کرنے کے واسطے یہ ضروری ہے کہ ایک دوسرے کے حقوق کی نگہداشت کی جائے اسی سے متفقہ طور پر قومی رنگ میں دوسری غیر مسلم قوموں کے حقوق کی نگہداشت کرنے کی بھی اہلیت پیدا ہو سکے گی۔
مسلمانوں کی ترقی کے لئے جن امور کی ضرورت ہے ان میں سے ایک امر تبلیغ اسلام ہے قرآن شریف میں تمہیں تمام امتوں سے بہترین امت کہا گیا ہے اور بہترین کہنے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ تم لوگوں کو نیکی کا وعظ کرتے ہو اور بدی سے ڈراتے ہو چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَتَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ(3:111)۸؎ کہ تم سب سے اچھی امت ہو جو دنیا کے نفع کے لئے پیدا کی گئی ہو کیونکہ تم لوگوں کو نیک باتیں بتاتے اور انہیں خدا کے راستہ پر چلانے کے لئے وعظ کرتے ہو اور بدی اور برائی کرنے سے روکتے ہو اور ان پر ظاہر کرتے ہو کہ خدا تعالیٰ ان باتوں سے ناراض ہوتا ہے۔ پس مسلمانوں کا خیر امت ہونا صرف تبلیغ ہی کے سبب سے ہے اور اگر تبلیغ چھوڑ دی جائے تو پھر خیر امت کیسے کہلا سکتے ہیں۔ میں کہتا ہوں اگر ترقی کی خواہش رکھتے ہو اور تمہیں ضرور ترقی کی خواہش رکھنی چاہئے تو تبلیغ کرو۔ عیسائی بالکل معمولی قوم تھی لیکن اس نے تبلیغ شروع کی۔ تکلیفیں تو اس راہ میں اس نے اٹھائیں مگر ترقی بھی کر گئی اور اب تمام دنیا پر پھیلی ہوئی ہے۔
ایک طرف مسیحیوں کو دیکھو اور ایک طرف آریوں کو دیکھو کہ وہ پورے زور کے ساتھ اپنے اپنے خیالات کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں یاجوج ماجوج کو دوسرے ممالک میں پھیلنے سے روکنے کے لئے ایک دیوار بنا دی گئی ہے اور وہ اس دیوار کو چاٹتے رہتے ہیں اسی طرح چاٹ چاٹ کر ایک دن وہ دیوار کو درمیان سے مٹا دیں گے اور سب دنیا میں پھیل جائیں گے۔ یاجوج ماجوج تو جو چاٹیں گے چاٹیں گے عیسائی اور آریہ اس وقت اسلام کی دیوار کو چاٹ رہے ہیں کہ اسلام کو مٹا ڈالیں۔ اسلام کی دیوار یہی مسلمان ہیں جنہیں مرتد کر رہے ہیں اور اگر اسی طرح کچھ عرصہ یہ کام جاری رہا تو یہ دیوار ساری کی ساری صاف ہو جائے گی یعنی اگر مسلمانوں نے روک تھام نہ کی تو ان میں سے کچھ لوگ آریہ ہو جائیں گے اور کچھ عیسائی۔ پس ہمارے لئے ضروری ہے نہیں نہیں بلکہ فرض ہے کہ ہم ان کے حملوں کو بھی روکیں اور تبلیغ بھی کریں۔
مگر تبلیغ بھی یونہی نہیں ہو سکتی اس کے لئے سب سے پہلے اپنے نفس کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ ہمیں فیصلہ کر لینا چاہئے کہ اسلام کا فائدہ ہمارے احساسات پر مقدم ہونا چاہئے۔ میں نے دیکھا ہے کہ اسی وجہ سے مسلمان تبلیغ نہیں کر سکتے اور نقصان اٹھاتے ہیں۔ ملکانوں کے علاقوں میں ایک جگہ سات آٹھ سو کے قریب آدمیوں کو آریہ مرتد کرنے لگے مجھے خبر ملی تو میں نے اپنے مبلغین کو وہاں بھیجا وہ لوگ ہمارے قبضہ میں آگئے تھے مگر دوسری جماعتوں کے مبلغوں نے وہاں پہنچ کر احمدیت اور غیر احمدیت کا سوال چھیڑ دیا اور بجائے اس کے کہ ان لوگوں کو جو آریہ ہو رہے تھے بچاتے انہیں ہمارے متعلق یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ قادیانی کافر ہیں ان کی باتیں نہ سنو۔ اس کے بعد اگر وہ خود ان کو اپنی باتیں سناتے اور مرتد نہ ہونے دیتے تو ایک بات بھی تھی مگر یہ بھی نہ کیا نہ ہمیں کام کرنے دیا نہ آپ کام کیا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہزاروں آدمی جو ہمارے قبضہ میں آسکتے تھے ہمارے ہاتھ سے نکل کر آریوں کے ہاتھوں میں جاپڑے۔ وہ واقعہ میں ہزاروں تھے کیونکہ ان کے ساتھ ان کے بیوی اور بال بچے بھی تھے اور پھر اردگرد کے قصبوں کے بعض باشندے بھی۔ مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان مولویوں نے وہاں بھی مخالفت کی جس کے یہی معنی ہیں کہ انہوں نے اسلام کی مخالفت کی اور اس کی اشاعت میں روک کھڑی کر دی اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ سے یہ بھی کہہ دوں کہ اپنے نفوس کی اصلاح کرو تا آئندہ کے لئے اس طرح نقصان اٹھانے کا خطرہ نہ رہے۔
تبلیغ کے واسطے بھی اور عام ضروریات کے واسطے بھی یہ بہت ضروری ہے کہ مسلمان خود اپنے دین سے واقف ہوں کیونکہ میں نے دیکھا ہے ذرا سا اعتراض پڑتا ہے تو مسلمان گھبرا جاتے ہیں۔ اگر اپنے دین سے پوری واقفیت ہو تو کبھی کسی اعتراض سے نہ گھبرائیں پھر اگر خود ہی واقف نہیں تو دوسروں کو دین وہ کیا بتا سکتے ہیں۔ پھر دین سے واقف نہ ہونے کا یہ نتیجہ بھی ہے کہ مسلمان اعمال کی طرف سے بے توجہ ہیں۔ پس مسلمانوں کو چاہئے کہ خود بھی دین سے واقف ہوں اور اپنے اپنے متعلقین کو بھی اس سے واقف بنائیں خصوصیت سے ایسے مسائل پر کتابیں لکھی جائیں جو بچوں کے لئے مفید ہو سکیں تا بچپن میں ہی ان کے ذہن میں وہ باتیں مضبوطی کے ساتھ بیٹھ جائیں جو بڑے ہو کر کوشش کرنے پر بھی نہیں بیٹھتیں کیونکہ بچپن کا حافظہ تیز اور ذہنی طاقتیں مضبوط ہوتی ہیں۔ پھر چونکہ انہی بچوں نے بڑے ہو کر قوم بننا ہے اس لئے بھی ضروری ہے کہ انہیں اسی وقت سے اس قسم کی تربیت دی جائے کہ وہ صحیح طور پر بہترین قوم بن سکیں ان کے لئے اس قسم کی کتابیں، رسالے اور اخبارات ہونے چاہئیں جو ان کے لئے نہ جسمانی طور پر نقصان دہ ہوں نہ علمی اور روحانی رنگ میں۔ اور اگر ذرا سی کوشش کی جائے تو ایسا لٹریچر آسانی کے ساتھ بہم پہنچ سکتا ہے۔
مسلمانوں کی ترقی کے لئے ایک اور امر جس کی سخت ضرورت ہے یہ ہے کہ امراء غرباء سے میل جول پیدا کریں۔ ہندوؤں میں تو یہ بات ہے کہ ان کے بڑے بڑے لوگ چھوٹے لوگوں سے ملتے رہتے ہیں لیکن مسلمانوں میں یہ بات اول تو ہے نہیں اور جو ہے تو اس قدر کم کہ اسے نہ ہونے کے برابر کہا جا سکتا ہے۔ پس ضرورت ہے کہ جو بڑے ہیں اور جن کو خدا نے امارت دی ہے وہ غرباء سے تعلقات بڑھائیں ان کی ضروریات معلوم کریں ان سے ملتے رہنے سے یہ فائدہ ہو گا کہ وہ سمجھیں گے یہ ہم سے محبت کرتے ہیں پھر وہ بھی محبت کرنے لگیں گے اور محبت سے اتفاق کی روح پیدا ہوا کرتی ہے۔ اب تو مسلمانوں میں سے جو بڑے ہیں ان کے مکانوں کے پاس تک جانے سے عوام خوف کھاتے ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں انہوں نے اپنی طرز ہی اس طرح بنا رکھی ہے کہ لوگ ان سے ڈریں لیکن اگر ان سے اپنی ہی قوم ڈرتی رہی تو کسی ترقی کی امید کس طرح ہو سکتی ہے۔ پس جو بڑے ہیں وہ چھوٹوں سے ملتے رہیں تا چھوٹے درجہ کے لوگوں کو بھی اپنا اور اپنی قومیت کا احساس ہو اور جب احساس پیدا ہو گا تو پھر انہیں اپنی حفاظت کا خیال بھی آئے گا اور ترقی اور کامیابی کی اُمنگیں پیدا ہو جائیں گی۔
چھوت چھات کے ذریعے بھی ہم اپنی طاقت مضبوط کر سکتے ہیں۔ میں دیکھ رہا ہوں چھ سو سال سے مسلمانوں کا کروڑوں روپیہ ایسے طور پر ہندوؤں کے گھر جا رہا ہے جس کی واپسی کی مسلمانوں کو کوئی امید نہیں اور کوئی ذریعہ نہیں کہ وہ وصول ہو سکے۔ میں مثال کے طور پر صرف حلوائیوں کی دُکانوں کو لیتا ہوں مٹھائی کا استعمال اس ملک میں کثرت سے ہے ہر بازار میں ہر دس دُکانوں کے بعد ایک دُکان ہندو حلوائی کی نظر آتی ہے۔ ہندو تو ان سے لیتے ہی ہیں مگر مسلمان بھی انہی سے خریدتے ہیں اس طرح مسلمانوں کا کروڑوں روپیہ ہر سال ہندوؤں کے گھر جا پڑتا ہے۔ اور چونکہ ہندو مسلمانوں سے خوردنی اشیاء نہیں خریدتے یہ کروڑوں روپیہ جو ہر سال ہندوؤں کے پاس جاتا ہے اس کا کوئی حصہ مسلمانوں کے گھر واپس نہیں آتا پس اس طرح ہندوؤں کی دولت روز بڑھ رہی ہے اور مسلمانوں کی کم ہو رہی ہے۔ میں عداوت نہیں پھیلانا چاہتا بلکہ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ اگر چھوت چھات اپنی تمدنی زندگی کے لئے مفید ہے اور اس سے اقتصادی حالت درست ہو سکتی ہے تو ہمیں بھی یہ ذریعہ اختیار کرنا چاہئے اور اپنی بہتری اور بہبودی کے لئے اگر کوئی طریقہ اختیار کیا جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لئے یا دشمنی اور عداوت پیدا کرنے کے لئے ایسا کیا گیا۔ میرے مدنظر مسلمانوں کے مفاد ہیں اور میں نے ان کے مفاد کے واسطے کہا ہے کہ ہمیں چھوت چھات کے ذریعہ وہ روپیہ بچانا چاہئے جو ہندوؤں کے گھر اس وجہ سے ہمیشہ کے لئے چلا جاتا ہے کہ وہ ہم سے چھوت چھات کرتے ہیں اور ہم ان سے نہیں کرتے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر مسلمانوں کا یہ روپیہ مسلمانوں کے ہی پاس رہے تو مسلمانوں کی حالت بہت حد تک درست ہو سکتی ہے۔ پس ان چیزوں میں چھوت چھات جن میں ہندو مسلمانوں سے چھوت چھات کرتے ہیں مسلمانوں کے واسطے ایک علاج کے طور پر ضروری ہے۔
ہمارے مدارس میں تاریخ کی جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ان سے ہمارا قومی کیریکٹر کچھ خراب ہو چکا ہے اور کچھ ہو رہا ہے کیونکہ ان میں مسلمان بچوں کے باپ دادوں کو چور، ڈاکو، لٹیرے وغیرہ کہا گیا ہے اور بچے جب پڑھتے ہیں تو اپنے آپ کو چوروں، ڈاکوؤں اور لٹیروں کی اولاد سمجھتے ہیں پس اس کی اصلاح کی بھی سخت ضرورت ہے۔ گو بڑے ہونے پر جب تحقیقی طور پر ان کے سامنے واقعات آتے ہیں تو ان میں سے بعض کے دماغ سے یہ بات نکل جاتی ہے لیکن بچپن کا اثر مٹانے کی ہر ایک میں طاقت نہیں ہوتی اور پھر جو اس اثر کو مٹا ڈالتے ہیں وہ بھی اس عمر کے بعد جس میں کیریکٹر بنتا ہے اس بات پر قادر ہو سکتے ہیں بھلا وہ بچے جن کے ذہن میں چھوٹی عمر سے یہ ڈالا جائے کہ تمہارے باپ دادے چور اور ڈاکو تھے کس طرح بلند حوصلہ ہو سکتے ہیں اور کس طرح قومی کیریکٹر ان میں پیدا ہو سکتا ہے؟ پس ضرورت ہے کہ موجودہ کُتب تاریخ میں اصلاح کی جائے ان تاریخوں میں تو اورنگ زیب کو بھی جو ایک عابد اور پرہیز گار بادشاہ تھا ڈاکو اور لٹیرا کہا گیا ہے اور سیوا جی کو بڑا ہوشیار، دانا بادشاہ۔ اب بچوں میں اتنا مادہ تمیز کا تو نہیں ہوتا کہ وہ چھان بین کر سکیں اس لئے وہ اس اثر کے ماتحت رہتے ہیں
کہ واقعی سیوا جی بڑا ہوشیار اور دانا راجہ تھا اور اورنگ زیب ایک ڈاکو بادشاہ تھا۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ خواہ مخواہ مسلمان بادشاہوں کی تعریف کی جائے بلکہ میں یہ چاہتا ہوں جو جائز حق ہے وہ ہمارے بادشاہوں کو دیا جائے اور جو ان کی جائز تعریف ہو سکتی ہے وہ کی جائے میں یہ نہیں کہتا کہ اورنگ زیب کو ولی قرار دو لیکن کم سے کم اس کی طرف وہ عیب تو منسوب نہ کرو جو اس نے نہیں کئے۔ اصل میں قومی کیریکٹر پچھلی روایات پر مبنی ہوتا ہے اگر اسلاف کی طرف سے اچھے کارناموں کی تاریخ بچوں تک پہنچے تو وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ایسے اچھے نام کو ذلت سے بچانا ہمارا فرض ہے اور اگر وہ یہ خیال کریں کہ ہمارے اسلاف اچھے نہ تھے تو چونکہ وہ اپنی قومی عزت کچھ سمجھتے ہی نہیں وہ اس کی حفاظت کا بھی چنداں خیال نہیں کرتے اور ان کے اخلاق اعلیٰ نہیں ہوتے اور حوصلہ اور استقلال نشوونما نہیں پاتا پس کتب تاریخ کی اصلاح نہایت ضروری ہے
میں آخر میں ہندوؤں سے بھی اپیل کرتا ہوں اور سچی ہمدردی کے ساتھ کرتا ہوں میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میرے دل کے کسی گوشہ میں بھی ان کی عداوت نہیں ہاں جو کچھ وہ کرتے ہیں اس سے تکلیف محسوس کرتا ہوں اس لئے میں ملک کے نام سے ، مذہب کے نام سے ، انسانیت کے نام سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو بدلو۔ ہم دنیا کے لئے بار اور بوجھ ہو رہے ہیں اور لوگ ہم پر نالاں ہیں کہ ہم بجائے ترقی کے تنزل کرتے چلے جارہے ہیں ہمارا ملک دوسرے ممالک کی طرح عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا مگر آج لوگ ہم پر ہنس رہے ہیں پس اپنی حالت کو بدلو اور اپنے ساتھ رہنے والی قوم کی مدد کرو اور اس سے مدد حاصل کرو۔
مسلمانوں سے بھی میں کہتا ہوں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑو نہیں اور اخلاص سے کام لو وہ کام کرو جو ملک کے لئے عزت کا موجب ہو۔ دلوں سے کینہ ، بُغض، تعصب نکال دو خواہ وہ کینہ اور تعصب اپنوں کے خلاف ہو خواہ غیروں کے۔ ہر قدم پر ملک کی بھلائی کو مدنظر رکھو اپنے ساتھ رہنے والی قوموں کا احترام کرو، ان سے محبت اور پیار سے رہو۔
میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ صلح غلام ہو کر نہیں ہوا کرتی صلح آزاد ہو کر ہوا کرتی ہے۔ پس مسلمانوں کو چاہئے کہ تمدنی اور سیاسی ترقی کر کے دوسری اقوام کی غلامی سے آزاد ہوں۔ دیکھو صلح کرنے والا ہندوں کے نزدیک بھی اور خدا کے نزدیک بھی مکرم ہوتا ہے پس آپ لوگوں کو چاہئے صلح کرنے والے کام کریں صلح سے چونکہ خدا تعالیٰ کی رضا بھی حاصل ہوتی ہے اس لئے میں کہتا ہوں خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہی صلح کرو۔ میں دعا کرتا ہوں کہ ہندوستان کے باشندے خدا کو راضی کرنے والے کام کر سکیں ان سے قوم کی خدمت ہو سکے وہ ملک کے امن اور ترقی کے لئے کوشش کرنیوالے ہوں جو ایسا کرے گا یعنی محبت و پیار اور صلح و آشتی سے رہے گا وہ دنیا کے تاج پر ہیرا بن کر چمکے گا اور میں یہ چاہتا ہوں کہ خدا اس ملک اور اس ملک کے باشندوں کو ہیرا بنا کر چمکائے۔ اے خدا! تُو ایسا ہی کر۔ آمین۔
حضرات! میں اپنی طرف سے اور آپ لوگوں کی طرف سے مرزا صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے اپنے قیمتی خیالات آپ کے سامنے ظاہر فرمائے ہیں اور ایسے نیک سبق ہمیں دیئے امید ہے کہ اگر ان پر عمل کیا جائے تو ملک اور قوم کے واسطے مفید ہوں گے۔
میں امید کرتا ہوں میرے مسلمان بھائی جو کچھ مرزا صاحب نے ملک کی بہتری کے لئے دونوں قوموں کو سبق دیئے ہیں ان کو دل میں جگہ دیں گے اور ان پر غور کریں گے اور میں دوبارہ اپنی طرف سے اور آپ لوگوں کی طرف سے شکریہ کا اعادہ کرتا ہوں اور پھر آپ کو ان سبقوں پر غور کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہوا یہ جلسہ برخاست کرتا ہوں۔
سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کر سکتے ہیں لیکن ان لوگوں سے ہم صلح نہیں کر سکتے جو ہمارے پیارے نبی پر جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے ناپاک حملے کرتے ہیں۔ (پیغامِ صلح صفحہ ۲۱۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۴۸۹)
۱۳؎ آل عمران : ۲۰
۱۴؎ ترمذی ابواب صفة القيامة باب ما جاء فی صفة اوانی الحوض
۱۵؎ الرعد: ۱۲
۱۶؎
۱۷؎ کنز العمال جلد ۱۰ صفحہ ۱۳۶ روایت نمبر ۲۸۶۸۶ مطبوعہ حلب ۱۹۷۱ء
۱۸؎ آل عمران : ۱۱۱
از
سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
(حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی نے ۳۔ مارچ ۱۹۲۷ء کو زیر صدارت جناب ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب، اسلامیہ کالج کی سائنس یونین کی درخواست پر حبیبیہ ہال لاہور میں ”مذہب اور سائنس“ پر لیکچر دیا۔)
تشہد و تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: جیسا کہ اشتہار میں شائع کیا گیا ہے اس مجلس میں مَیں مذہب اور سائنس کے متعلق کچھ بیان کروں گا۔ بادی النظر میں اس مضمون پر بحث کے لئے ایک ایسے آدمی کا کھڑا ہونا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے جو ان دونوں علوم کے متعلق کامل واقفیت رکھتا ہو۔ مَیں عمر کے بیشتر حصہ کو اور اوقات میں سے اکثر وقت کو مذہب کی تحقیق میں صرف کرتا ہوں اور میرے لئے سائنس کے متعلق باریک مطالعہ کے لئے ایسی فرصت کا ملنا ناممکن ہے جو کسی فن کا ماہر ہونے کے لئے ضروری ہے۔ مگر اس امر کے باوجود جو بحث کرنی ہے وہ چونکہ اصول کے متعلق ہے اس لئے میں نے اس مضمون پر لیکچر دینا منظور کر لیا ہے۔
مذہب اور سائنس کا مقابلہ بہت پرانا چلا آتا ہے۔ ترقیِ انسانی کے مختلف دوروں پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقابلہ ہمیشہ سے چلا آیا ہے۔ سائنس کے ماہروں کو جادوگر کہا گیا، ان پر سختی کی گئی، بعضوں کو جلایا گیا اور طرح طرح کے ظلم اُن پر مذہب کے حامیوں کی طرف سے کئے گئے۔ اسی طرح مذاہب کے بانیوں کو سائنس دان اور فلسفی مجنون کہتے چلے آئے۔ ان کو ہمیشہ مرگی، ہسٹیریا اور مالیخولیا کے مریض تصور کرتے رہے۔ چنانچہ سائنس کی تاریخ کا مطالعہ کرنے والوں پر مذہبی لوگوں کے مظالم بخوبی روشن ہیں اور مذہب کی تاریخ کو جاننے والوں کو فلسفیوں کے یہ ناموزوں القاب خوب معلوم ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ مقابلہ کیوں ہے اور یہ تصادم کس وجہ سے ہے؟ آیا کوئی معقول وجہ اس بات کی ہے کہ سائنس مذہب سے ٹکرائے۔ کیا مذہب واقعی سائنس کے خلاف تعلیم دیتا ہے؟ اس بات کے فیصلہ کی آسان صورت کہ آیا ان دونوں میں حقیقی تصادم ہے یا نہیں یہ ہے کہ دونوں کی تعریف بتادی جائے۔ یعنی مذہب کسے کہتے ہیں اور سائنس کس چیز کا نام ہے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ دو شخص جھگڑ رہے ہوتے ہیں۔ ان دونوں کا نقطہ نگاہ ایک ہی ہوتا ہے۔ مگر الفاظ کی غلطی سے ٹھوکر لگ جاتی ہے۔ اور محض لفظی نزاع سے لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔ مولانا روم اپنی مثنوی میں ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ چار شخص اکٹھے جارہے تھے۔ انہوں نے ملکر مزدوری کی جس کے عوض میں انہیں کچھ پیسے ملے۔ اس پر انہوں نے مشورہ کیا کہ ان پیسوں سے کیا چیز خرید کر کھائی جائے۔ ایک نے کہا۔ ہم تو منقہ خریدیں گے۔ دوسرے نے کہا نہیں ہم تو عِنَب لیں گے۔ تیسرا بولا ہمیں تو انگور بہت پسند ہیں۔ اور چوتھا کہنے لگا۔ میں تو داکھ کھاؤں گا۔ اس اختلاف پر ان میں جھگڑا ہو گیا۔ پاس سے ایک شخص گزرا۔ اس نے جھگڑے کا سبب دریافت کیا۔ معلوم ہوا کہ چیز ایک ہی ہے۔ محض لفظی نزاع ہے۔ اور زبانوں کے اختلاف سے مختلف نام لے رہے ہیں۔ اس نے بازار جاکر انگور خریدے۔ اور ان کے آگے رکھ دیئے۔ سب نے مل کر کھائے اور اس راہ گزر کی عقلمندی کی داد دی۔ پس معلوم ہوا کہ بعض دفعہ دو چیزوں میں حقیقی تصادم نہیں ہوتا کیونکہ چیز ایک ہی ہوتی ہے اور محض الفاظ کے اختلاف کی وجہ سے ٹکراؤ معلوم ہوتا ہے۔
مذہب کی تعریف یہ ہے۔ خدا تعالیٰ سے ملنے کا وہ راستہ جو خود اس نے الہام کے ذریعہ دنیا کو بتایا ہو۔ مذہب کے معنی ہی عربی زبان میں راستہ کے ہیں اور دین کے معنی ہیں طریقہ۔
سائنس کی اصولی تعریف یہ ہے۔ وہ علوم جو منظم اصول کے ماتحت ظاہر ہوئے ہوں اور ظاہری صداقتوں سے جن پر استدلال کیا گیا ہو یا پھر اس سے مراد وہ مادی حقائق ہیں جن کی بنیاد مشاہدہ اور تجربہ پر ہو۔ یعنی استدلال صحیحہ سے بعض حقائق معلوم کئے جائیں۔
مذہب اور سائنس کی اس تعریف کے ماتحت کیا تصادم ممکن ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر مذہب اور سائنس کی یہی تعریف ہے جو ابھی بتائی گئی ہے تو پھر ان دونوں میں تصادم نہیں اور تصادم نہیں ہو سکتا۔ مذہب کی حقیقی تعریف یہی ہے ورنہ مذہب سائنس کے تصادم سے بچ نہ سکے
گا۔ مثلاً اگر مذہب کی یہ تعریف کی جائے کہ انسان کے دماغ کی وہ ارتقائی حالت جس پر پہنچ کر وہ علمی ارتقاء سے بعض ایسی باتیں معلوم کر لیتا ہے جو دوسرے معلوم نہ کر سکتے تھے۔ یعنی دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ مذہب قلب غیر عامل (SUB CONCINOUS MIND) کی نشوونما (DEVELOPMENT) کا نتیجہ ہے تو سائنس کا دائرہ بھی یہی ہو گا۔ یعنی وہ علوم جو غور و فکر کا نتیجہ ہوں اور اس تعریف کے ماتحت مذہب اور سائنس کا دائرہ الگ الگ نہیں ہو سکتا۔ اور اگر مذہب کے یہ معنی ہیں کہ وہ خیالات جو جذبات کا نتیجہ ہوں اور کسی اصول پر ان کی بنیاد نہ ہو تو وہ واہمہ اور قوت متخیلہ کا نتیجہ ہیں نہ کہ مذہب۔ ان کو تو زیادہ سے زیادہ لطائف کہہ سکتے ہیں جن پر بحث کی ضرورت نہیں۔ بس مذہب اگر قلب کے اُن خیالات کا نام رکھا جائے جو سب کانشس مائینڈ (SUB CONCINOUS MIND) کے ارتقاء کا نتیجہ ہوں تو وہ سائنس ہی ہے اور مذہب سے جدا نہیں۔ ہاں اگر کوئی ایسی بات ہو جس کی بنیاد علم پر نہ ہو۔ محض دل کے خیالات ہوں تو وہ وہم ہے اور غیر حقیقی چیز ہے نہ کہ مذہب۔
مذہب اُن صداقتوں کا نام ہے جو لقائے الٰہی سے متعلق ہیں۔ اور ان کا علم کائناتِ عالم کے صانع نے الہام کے ذریعہ دیا ہے۔ اور سائنس اُن نتائج کا نام ہے جو کائناتِ عالم پر انسان خود غور کر کے اور تدبّر کرنے کے بعد اخذ کرتا ہے۔ گھر مذہب کے بعض حقائق بھی عقل سے معلوم ہو سکتے ہیں مگر سائنس کی بنیاد محض غورو فکر اور تجربہ و مشاہدہ پر ہے۔
اب اِس تعریف کے ماتحت مذہب اور سائنس میں مقابلہ ہی کوئی نہیں۔ کیونکہ مذہب خدا کا کلام ہے۔ اور سائنس خدا کا فعل۔ اور کسی عقلمند کے قول اور فعل میں اختلاف نہیں ہو سکتا۔ ہاں اگر کوئی جھوٹا ہو یا پاگل ہو تو اختلاف ہو گا۔ خدا کے متعلق دونوں باتیں ممکن نہیں کیونکہ خدا ناقص العقل یا ناقص الاخلاق نہیں۔ پس خدا کے قول اور فعل میں فرق نہیں اسی لئے مذہب اور سائنس میں بھی تصادم نہیں۔
اِس جگہ سوال ہو سکتا ہے۔ کیا واقعی خدا موجود ہے جو کلام کرتا ہے؟ مگر اس وقت خدا کے وجود پر بحث نہیں۔ اِس لئے فرض کر لو کہ خدا ہے اور اس کی طرف سے تعلیم بھی آئی ہوئی ہے۔ پس اگر واقع میں مذہب کوئی چیز ہے تو اس کا سائنس سے تصادم بھی نہیں ورنہ مذہب کا ہی انکار کرنا ہو گا۔ جب تک مذہب کا نام دنیا میں موجود ہے ماننا پڑے گا کہ خدا بھی ہے۔
اگر مذہب اور سائنس میں تصادم ممکن نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان میں مقابلہ چلا آیا ہے۔ آخر ان میں جو جھگڑا ہے اس کی کوئی وجہ ہونی چاہئے۔ کیا سائنس دانوں پر یونہی ظلم کئے گئے۔ ان کو بلاوجہ قتل کیا گیا اور جلایا گیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تصادم حقیقی نہیں۔ سچا مذہب سائنس سے ہرگز نہیں ٹکراتا اور سچی سائنس مذہب کے خلاف نہیں ہو سکتی کیونکہ مذہب خدا کا قول ہے اور سائنس خدا کا فعل۔ پس خدا کے قول اور فعل میں حقیقی تصادم نہیں ہو سکتا۔ اگر تصادم ہو تو ماننا پڑے گا کہ یا تو مذہب کی ترجمانی غلط ہوئی ہے۔ (کیونکہ مذہبی احکام دینے والا تو نہ جھوٹا ہے اور نہ پاگل) یعنی لوگوں نے مذہب کو غلط سمجھا۔ یا پھر خدا کے فعل (سائنس) کے سمجھنے میں غلطی ہوئی۔ ورنہ مذہب اور سائنس دونوں مُنَزَّہٌ عَنِ الْخَطَاءِ ہستی کی طرف سے ہیں۔ جس کے قول اور فعل میں تضاد ممکن نہیں۔ پس معلوم ہوا کہ ہمارے غلط INTERPRETATION (ترجمانی) کی وجہ سے تصادم ہوا ہے۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ ظرف کے ساتھ مل کر چیز نئی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ مثلاً پانی ہے۔ اسے اگر گول برتن میں ڈالا جائے تو گول شکل اختیار کر لے گا اور اگر چپٹے برتن میں ڈالو تو چپٹا نظر آئے گا۔ یہی تقریر جو اس وقت میں کر رہا ہوں۔ اسے ہر شخص الگ الگ طرز پر بیان کرے گا۔ اور اس طرح میرے بیان میں اختلاف نظر آئے گا۔ مگر یہ ہماری اپنی سمجھ کا فرق ہو گا۔ گویا INTERPRETATION الگ الگ ہوں گے۔ پس مذہب اور سائنس میں تصادم ہو تو ماننا پڑے گا کہ یا تو خدا تعالیٰ کے قول کے سمجھنے میں غلطی لگی ہے۔ یا پھر خدا تعالیٰ کے فعل کے سمجھنے میں ٹھوکر لگی ہے۔ مثلاً پانی کے متعلق پہلے سائنس دانوں کا خیال تھا کہ یہ مفرد چیز ہے مگر اب ثابت ہوا ہے کہ یہ مرکب ہے۔ اس وجہ سے کیا پہلوں کو پاگل کہہ دو گے۔ فرض کرو قرآن کہتا کہ پانی مرکب ہے تو کیا سائنس دان اس وقت نہ کہتے کہ سائنس سے ٹکرا رہا ہے۔ حالانکہ اُس وقت سائنس کی ترجمانی میں وہ خود غلطی کھا رہے تھے۔
اسی طرح دنیا کی عمر قرآن سے ۷ ہزار سال ثابت نہیں۔ محض لوگوں نے ایسا سمجھ رکھا ہے۔ اب یہ بات سائنس کے خلاف ہے۔ مگر یہاں پر مذہب کے INTERPRETATION میں غلطی کی گئی ہے نہ یہ کہ قرآن حقیقی سائنس کے خلاف کہہ رہا ہے۔ حضرت محی الدین صاحب ابن عربی نے کتاب فتوحات مکیہ میں لکھا ہے کہ مجھے الہام کے ذریعہ بتایا گیا تھا کہ اہرام مصر لاکھ سال کے بنے ہوئے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ ہمارا دماغ بعض دفعہ خدا تعالیٰ کے فعل اور کبھی خدا تعالیٰ کے قول کے سمجھنے میں غلطی کر جاتا ہے جس سے سائنس اور مذہب میں اختلاف نظر آتا ہے ورنہ اگر واقعہ میں مذہب خدا کی طرف سے ہے اور سائنس اس کا فعل ہے تو پھر ٹکراؤ نہیں ہوگا۔ سائنس تو مذہب کی مؤید ہونی چاہئے نہ کہ خلاف۔ کیونکہ فعل ہمیشہ قول کا مؤید ہوا کرتا ہے نہ کہ مخالف۔ پس سائنس کی کوئی تحقیق مذہب کے خلاف نہیں ہوگی۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہے۔ خدا کے کلام کی آپ کے عمل سے تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے صحابہ نے دریافت کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیسے تھے۔ تو انہوں نے جواب دیا۔ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ۔۱؎ آپ کے اخلاق وہی تھے جو قرآن نے بیان کئے ہیں۔ پس سچائی میں قول اور فعل ٹکراتے نہیں۔ اگر مذہب خدا کی طرف سے ہے تو سائنس ضرور اُس کی مؤید ہوگی۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کے کلام پر غور کرنے سے سائنس کی تائید ہوگی نہ کہ مخالفت۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ وَلَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ(6:35)۲؎ یعنی خدا کے کلام میں جھوٹ نہیں ہو سکتا اس میں جتنا غور کرو گے سچائی ہی سچائی نکلے گی۔ پھر فرماتا ہے۔ وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا(48:24)۳؎ یعنی خدا کے عمل میں بھی غلطی نہیں ہے۔ گویا خدا کے کلام (مذہب) اور اس کے فعل (سائنس) پر جتنا بھی غور کرو گے کبھی اس کی بات کو اس کے عمل کے خلاف نہ پاؤ گے ؎
پس قرآن تو سائنس کی طرف بار بار توجہ دلاتا ہے۔ چہ جائیکہ اس سے نفرت دلائے۔ قرآن نے یہ نہیں کہا کہ سائنس نہ پڑھنا، کافر ہو جاؤ گے کیونکہ اسے اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ لوگ علم سیکھ جائیں گے تو میرا جادو ٹوٹ جائے گا۔ قرآن نے لوگوں کو سائنس کی تعلیم سے روکا نہیں بلکہ فرماتا ہے۔ قُلِ انۡظُرُوۡا مَاذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ(10:102)۴؎ غور کرو۔ زمین اور آسمان کی پیدائش میں۔ آسمان سے مراد سماوی (علوی) علوم اور زمین سے ارضی یعنی جی آلوجی (GEOLOGY)، بائی آلوجی (BIOLOGY)، آرکی آلوجی (ARCHEOLOGY) طبیعیات وغیرہ علوم مراد ہیں۔ اگر خدا کے نزدیک ان علوم کے پڑھنے کا نتیجہ مذہب سے نفرت ہوتا تو قرآن کہتا ان علوم کو کبھی نہ پڑھنا۔ مگر اس کے برخلاف وہ تو کہتا ہے، ضرور غور کرو، ان علوم کو پڑھو اور اچھی طرح چھان بین کرو کیونکہ اسے معلوم ہے علوم میں جتنی ترقی ہوگی اس کی تصدیق ہوگی۔
قرآن کریم کی یہ آیت بھی سائنس کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ وَیَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ(3:191-192)☆فرمایا۔ زمین و آسمان کی پیدائش میں اور دن رات کے اختلاف میں عقلمندوں کے لئے نشان ہیں۔ زمین اور آسمان کی پیدائش میں غور کرنے سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ کوئی چیز فضول اور بے فائدہ پیدا نہیں کی گئی۔
اب دیکھو۔ اس آیت میں سائنس کے متعلق کیسی وسیع تعلیم دی گئی ہے۔ اشیاء کے فوائد اور پھر یہ نتیجہ کہ کوئی چیز بے فائدہ پیدا نہیں کی گئی یہ بغیر تحقیق کے کیسے معلوم ہو سکتا تھا۔ پس قرآن نے خواص الاشیاء کی طرف توجہ دلائی ہے اور ساتھ ہی یہ سنہری اصل بھی سکھا دیا ہے کہ کسی چیز کو بے فائدہ نہ سمجھو۔ ہم نے کوئی چیز فضول پیدا نہیں کی۔ گویا لمبی تحقیق جاری رکھنے اور عاجل نتائج سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ پہلے سائنس دان بعض اعضاء جسم انسانی کے متعلق خیال کرتے ہیں کہ یہ نیچر نے بے فائدہ بنائے ہیں۔ اور یہ محض ارتقاء حیوانی کے مختلف دوروں کی یادگار ہیں جن کی اب ضرورت نہیں اِس لئے ان کا کٹوا دینا ہی بہتر ہے کیونکہ وہ کئی دفعہ بیماری کا موجب ہو جاتے ہیں۔ مگر علوم مروّجہ کی ترقی اور ان کا بڑھتا ہوا تجربہ اور مشاہدہ اس بات کو رد کر رہا ہے اور ان کو قرآن کے اس سنہری اصل کی طرف توجہ دلا رہا ہے۔ مثلاً انسان کی بڑی آنتوں کے ساتھ چھوٹی اُنگلی کے برابر ایک زائد آنت ہوتی ہے۔ جس کو (VERIFORM APPENDIX) کہتے ہیں۔ اس میں بعض دفعہ غذا کے نیم ہضم شدہ ذرات رک جاتے ہیں۔ جن کی وجہ اس کے اندر سوزش ہو کر ورم ہو جاتا ہے۔ جسے (APPENDIX) کہتے ہیں۔ اور ڈاکٹر عموماً اس کو آپریشن کر کے کاٹ دیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ بے فائدہ ہے۔ مگر اب اس کے متعلق تجربہ کیا گیا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ ان کا یہ خیال درست نہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے بارہ بندر لئے۔ اور ان میں سے نصف کے (APPENDIX) کاٹ دیئے۔ اور سب کو ایک ہی قسم کی غذا دی گئی۔ مگر بعد میں معلوم ہوا کہ جن کی وہ آنت کاٹی گئی تھی ان کی چستی میں فرق پڑ گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پہلے ڈاکٹر لوگ معمولی تکلیف پر بھی اس کو کاٹ دیتے تھے مگر اب احتیاط کرتے ہیں۔ پہلے اس آنت کا فائدہ ان کو معلوم نہ تھا مگر فائدہ اس کا تھا ضرور۔ اور تجارب سے معلوم ہوا کہ واقعی یہ آنت بے فائدہ نہیں۔ بتاؤ اگر اس کے متعلق تجربہ نہ کیا جاتا تو قرآن کریم کے اس اصل کی تصدیق کس طرح ہوتی
کہ ہر چیز مفید ہے۔ پس اسلام سائنس کی طرف توجہ دلاتا ہے اور سائنس کی تحقیقاتوں سے اسلام کی تائید ہوتی ہے۔
مذہب اور سائنس کے باہمی تصادم کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بعض لوگ اپنے وہم کو مذہب قرار دیتے ہیں جو لازماً سائنس کے مسلمہ اصول سے ٹکراتا ہے مگر یہ ان لوگوں کی غلطی ہے۔ گویا اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کا وہم درست ہے اور تجارب اور مشاہدات غلط ہیں۔ اِدھر سائنس والے بھی بعض دفعہ غلطی کرتے ہیں کہ محض تھیوری کا نام سائنس رکھ لیتے ہیں اور وہ مذہب کے ساتھ ٹکراتی ہے۔ مگر تھیوری قابل قبول نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کے قول کے مقابلہ میں ایک انسان کی ذہنی اختراع کچھ چیز نہیں۔ جس طرح بعض مذاہب جھوٹے ہو سکتے ہیں مثلاً وہ جو دل کے خیال، وہم اور تخیل کو خدا کا کلام سمجھ لیں اسی طرح تھیوری بھی جھوٹی ہو سکتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کئی تھیوریاں آئے دن بدلتی رہتی ہیں۔ جوں جوں علوم میں ترقی ہوتی ہے پرانی تھیوریوں کو باطل کرتی جاتی ہے۔ مثلاً EINSTEN کی نئی تھیوری نے علم ایس ٹرانومی (ASTRONOMY) کی بہت سی ثقہ باتوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ اسی طرح قدرت کے کرشموں کے مطالعہ سے جو غلط نتائج نکالے جائیں اور وہ مذہب سے ٹکرائیں تو بعد میں اصل حقیقت کے منکشف ہو جانے پر پشیمانی ہوتی ہے۔ پس آئندہ کے لئے فیصلہ کر لو کہ خدا تعالیٰ کے الفاظ اور اپنے تجربہ پر علوم کی بنیاد رکھیں گے اور اس طرح پر تصادم نہیں ہوگا اور اگر ٹکراؤ ہو تو سمجھ لو کہ یا تو خدا کا کلام سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے یا پھر تجربہ میں غلطی کی گئی۔
دو باتوں میں مخالفت تین طرح کی ہو سکتی ہے۔ (۱) اگر ایک کو مانا جائے تو دوسری کا لازماً رد ہو۔ (۲) ایک دوسری کی طرف توجہ کرنے سے روکے۔ مثلاً مذہب یہ کہے کہ سائنس پر غور نہ کرو اور سائنس کہے مذہب کی طرف توجہ نہ کرو۔ (۳) تفصیلی تعلیم میں اختلاف ہو۔ یعنی اصولی باتوں میں نقص نہ ہو بلکہ جزئیات میں اختلاف ہو۔ اسلامی تعلیم میں ان تینوں میں سے ایک قسم کا اختلاف بھی نہیں پایا جاتا۔ کیونکہ (۱) اسلام خدا کا قول ہے اور سائنس اس کا فعل ہے۔ پس نقیض نہ ہوئے۔ (۲) دونوں نے ایک دوسرے کا مطالعہ کرنے سے منع بھی نہیں کیا۔ (۳) جزئیات میں بھی اختلاف کوئی نہیں۔ دونوں آپس میں متحد اور متفق ہیں۔ (۴) قرآن تو حقیقی سائنس کو منکشف کرتا ہے۔ بعض
اسلامی احکام آج سے تیرہ سو سال قبل گو عجیب معلوم ہوتے تھے مگر اب آہستہ آہستہ ان کا فلسفہ اور حکمت ظاہر ہو رہی ہے۔ خواہ ان احکام کا تعلق علم النفس (PSYCHOLOGY) سے ہو یا علم کیمیا (CHEMISTRY) سے۔
سائنس کے متعلق جو اصولی انکشاف قرآن کریم نے کئے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ دنیا میں ہر چیز کا فائدہ ہے۔ اور کوئی چیز اللہ تعالیٰ نے فضول پیدا نہیں کی۔ یہ بات پہلے بیان نہ ہوئی تھی۔ صرف اسلام نے آج سے تیرہ سو سال قبل یہ عظیم الشان علمی نکتہ دنیا کو بتایا کہ کوئی چیز خواہ وہ بظاہر کتنی ہی بُری ہو اس کے اندر ضرور اہم فوائد ہوں گے۔ گویا اصل غرض ہر چیز کی پیدائش کی نیک اور مفید ہے۔ چنانچہ فرمایا۔ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوۡرَ ۬ؕ ثُمَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ یَعۡدِلُوۡنَ(الانعام: ۲) سب تعریف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے جو زمین و آسمان کا خالق ہے۔ اور جو نور اور ظلمت دونوں کا بنانے والے ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ظلمات مثلاً مصائب، تکالیف، آفات، دکھ، درد، بیماری، موذی جانور وغیرہ سب کا خالق ہے۔ اسی طرح نور یعنی آرام و آسائش، سکھ، مفید اشیاء وغیرہ کا بھی خالق ہے اور ہر چیز کی پیدائش سے اس کی حمد ہی ثابت ہوتی ہے۔
پھر فرمایا ۣالَّذِیۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا(الملک: ۳) زندگی اور موت سب سے خدا کی حمد ہی نکلتی ہے۔ کیسا عجیب نظریہ پیش کیا ہے کہ ہر موذی چیز بھی مفید ہے۔ گویا اس طرح موذی اشیاء کے فوائد معلوم کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ مثلاً سنکھیا بڑا خیال کیا جاتا ہے۔ مگر ہزاروں ہیں جو اس کے ذریعہ بچتے ہیں۔ اگر چند لوگ غلطی سے اسے کھا کر مر جائیں تو اس سے سنکھیا کے فوائد کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سنکھیا بہت سی امراض میں استعمال ہو رہا ہے۔ چنانچہ CHRONIC MALARIA (یعنی پرانا موسمی بخار) میں جب کونین فیل ہو جائے۔ اور فائدہ نہ دے سکے۔ تو آرسینک ہی فائدہ دیتا ہے۔ پھر امراض خبیثہ (آتشک) اور RELAPSING FEVER (ہیرے پھیرے بخار) میں بھی آرسینک دیا جاتا ہے۔ پس اگر ایک آدمی سنکھیا سے مرتا ہے تو ہزاروں اس کے ذریعے سے جیتے ہیں۔
پھر افیون کو ایک لعنت خیال کیا جاتا ہے۔ مگر آدھی طب افیون میں ہے۔ مارفیا کی جلدی پچکاری ہزاروں مریضوں کے لئے ایک نعمت ہے۔ اگر ادویہ کے غلط استعمال سے ہم نقصان اٹھائیں تو یہ ہمارا قصور ہے۔ مثلاً چاقو مفید چیز ہے لیکن اگر ایک شخص اس سے بجائے کوئی چیز کاٹنے کے اپنی ناک کاٹ لے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔
قرآن کریم کا یہ طریق ہے کہ ہر بات سے ایک طبعی نتیجہ نکالتا ہے اور اس کے ساتھ اس کا شرعی نتیجہ بھی ہوتا ہے۔ مثلاً اس آیت سے طبعی نتیجہ یہ نکالا ہے کہ ہر چیز مفید ہے۔ اور موذی اشیاء سے بھی خدا کی حمد ہی نکلتی ہے۔ اس سے ایک شرعی نتیجہ بھی نکالا ہے اور وہ یہ کہ ثُمَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ یَعۡدِلُوۡنَ(6:2) یعنی بعض لوگ جو اس حقیقت کو نہیں سمجھے وہ شرک کرنے لگ پڑے ہیں۔ مثلاً زرتشتی مذہب کے لوگ۔ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ موذی اشیاء کا خالق کوئی اور ہے۔ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ خدا چونکہ رحیم ہستی ہے اس لئے موذی اشیاء مثلاً سانپ اور بچھو زہر وغیرہ کی پیدائش اس کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا موذی اشیاء کا خالق کوئی اور ہونا چاہئے۔ مگر یہ غور نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے موذی اشیاء کی پیدائش کی حقیقی غرض کو نہیں سمجھا۔ ورنہ وہ ضرور اس نتیجہ پر پہنچتے کہ ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پس ہر ایک بظاہر لغو اور موذی چیز اصل میں مفید ہے۔ اس کی پیدائش کی غرض نیک ہے۔ اور اس سے خدا کی حمد ہی ثابت ہوتی ہے۔ ہاں اگر ہم قوانین طبعی کی خلاف ورزی کر کے نقصان اٹھائیں تو یہ ہمارا قصور ہے۔ اس سے خدا تعالیٰ کے رحم پر کوئی اعتراض نہیں آسکتا۔
قرآن نے فرمایا۔ ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے نر اور مادہ پیدا کیا ہے۔ یعنی ہر چیز کا جوڑا ہے۔ فرمایا وَمِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَیۡنِ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ(51:50) پھر آتا ہے۔ وَمِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیۡہَا زَوۡجَیۡنِ اثۡنَیۡنِ(13:4) گویا نر اور مادہ مل کر مکمل ہوتے ہیں۔ اگر یہ دونوں آپس میں نہ ملیں تو ان کی مادی قوتیں ظاہر نہیں ہو سکتیں۔ عرب کو کھجور کے جوڑے کا تو علم تھا مگر ان کو ہر درخت کا جوڑا ہونے کا علم نہ تھا اور نہ ہی غیر ذی روح اشیاء کے جوڑے کا علم تھا جب تک کہ قرآن کریم نے اس حقیقت کو اُن پر منکشف نہ کیا۔ ایک یورپین مصنف لکھتا ہے۔ تم عرب کے لوگوں کو جاہل مت خیال کرو اُن کو اس حقیقت کا علم تھا کہ درختوں میں نر و مادہ ہوتے ہیں۔ میں ایک دفعہ گورداسپور گیا اور وہاں کے ایگریکلچرل فارم کا ملاحظہ کیا۔ تو وہاں کے سپرنٹنڈنٹ صاحب نے مجھ کو بتایا۔ یہ گیہوں کے خوشے جو ہیں ان میں سے فلاں نر اور فلاں مادہ ہیں۔ جب سائنس میں اور ترقی ہو گی تو باقی درختوں کے بھی جوڑے معلوم ہو جائیں گے۔ غیر ذی روح اشیاء مثلاً بجلی وغیرہ کا بھی جوڑا ہے۔ منفی اور مثبت بجلی کا آپ کو علم ہے۔ غرض اس اصل کو بیان کر کے قرآن کریم نے علمی دنیا پر ایک عظیم الشان احسان کیا ہے اور اس کے لئے آئندہ تحقیقات کا ایک وسیع میدان کھول دیا ہے۔
قرآن نے اس سے ایک شرعی نتیجہ بھی نکالا ہے اور وہ یہ کہ خدا ایک ہے۔ جوڑا احتیاج پر دلالت کرتا ہے۔ اِس لئے ہر چیز ناقص ہے کیونکہ ہر چیز کو اپنی طاقت کے نشوونما اور قوتوں کے اظہار کے لئے دوسرے سے ملنا ضروری ہے۔ اپنی ذات میں کامل اور احتیاج سے منزّہ صرف ایک ہی ہستی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے جسے جوڑے کی ضرورت نہیں۔
حدیث شریف میں آتا ہے۔ اِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِيْ إِنَاءِ اَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُوْلَاهُنَّ بِالتُّرَابِ۔لہ یعنی جس برتن کو کُتّا چاٹ جائے ۔ اس کو سات دفعہ مٹی سے مل کر دھونا چاہئے۔ ڈاکٹر کاخ جو جرمنی کے مشہور پیتھالوجسٹ ہیں۔ اُنہوں نے PASTEAR INSTITUTES میں جب کام شروع کیا۔ تو اُنہیں چونکہ اسلامی لٹریچر کے مطالعہ کا شوق تھا۔ اِس لئے خیال آیا حدیث میں جو آتا ہے کہ کُتّے کے چاٹئے ہوئے برتن کو مٹی سے ملنا چاہئے۔ اس میں ضرور کوئی حکمت ہو گی۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم دانا آدمی تھے اُنہوں نے ضرور اچھی بات کہی ہو گی۔ پس انہوں نے تحقیقات شروع کی ۔ تو معلوم کیا کہ مٹی کے اندر ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو RABIES (کُتّے کا زہر) کے لئے مفید ہیں اور اس کے مصلح ہیں۔ گویا اُن کو اس حدیث نے اس طرف توجہ دلائی۔
اِسی طرح حدیث میں آتا ہے۔ خَمْسٌ لَّا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِيْ الْحَرَمِ وَالْاِحْرَامِ الْفَأْرَةُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَاَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْكَلْبُ الْعَقُوْرُللہ کہ پانچ چیزیں بڑی ہیں ان کو احرام کی حالت میں اور خانہ کعبہ کے اندر بھی مار دینا چاہئے۔ ان میں سے ایک چوہا ہے۔ گویا اس طرح پلیگ کا راز منکشف کیا گیا۔ اور آج سے تیرہ سو سال قبل بتایا کہ پلیگ کا سبب چوہا ہے جس کی تصدیق حال کی تحقیقاتوں نے کر دی ہے۔ حالانکہ ان کو آج سے تیرہ سو سال قبل پلیگ کے جرم (GERM) کا پتہ نہ تھا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوہے کو مارنے کا حکم دے کر لوگوں کو بتا دیا کہ یہ مُضِرّ جانور ہے۔ اور اس کی اہمیت اس سے معلوم ہو سکتی ہے کہ جس جانور کو بیت اللہ کے اندر مارنے کا حکم ہے۔ (جہاں جوں مارنے کی بھی اجازت نہیں) تو کیا دوسرے مقامات میں اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا اور اس کے انسداد کی تدبیر نہ سوچی جائے گی۔
حدیث شریف میں طاعون کے متعلق بعض اور لطیف اشارات بھی پائے جاتے ہیں۔ مثلاً صحابہؓ نے عرض کی کہ طاعون کیا ہے تو حضورؐ نے فرمایا۔ جِنّ کاٹتے ہیں۔۲؎ جن سے مرض جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔ اب اس کا عام جواب یہ کافی تھا کہ طاعون ایک مرض ہے۔ مگر آپ نے ایسا جواب دیا جس میں اس مرض کے مخفی جرمز کی طرف اشارہ تھا۔ حدیث شریف میں بعض اصطلاحیں استعمال ہوتی ہیں اور ان میں سے لفظ جن بھی ایک اصطلاح ہے۔ یہاں پر جن سے مراد مخفی اور پوشیدہ چیز ہے۔ چنانچہ ایک اور جگہ بھی جن کا لفظ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی حضورؐ نے فرمایا۔ ہڈی جن کی غذا ہے۔۳؎ جس سے مراد کیڑے اور جراثیم (BACTERIA) تھی۔ پس اس جگہ جن کے کاٹنے سے مراد وہ جن نہیں جو لوگ خیال کرتے ہیں بلکہ جراثیم مراد ہیں۔ اس کا ایک اور حدیث سے بھی ثبوت ملتا ہے۔ آپ نے فرمایا۔ طاعون متعدی مرض ہے دوسرے علاقوں میں نہ جانا۔۴؎ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ جن نہیں کوئی اور وجود ہے۔ ورنہ اگر اس سے مراد جن ہی ہو تو سوال ہوتا ہے کہ کیا وہ ہمارا محتاج ہے جو ہمارے ذریعے دوسری جگہ جائے گا۔ خود بخود کیوں نہ چلا جائے گا۔ پھر صحابہ رضوان اللہ علیہم کا یہ عمل تھا کہ جب طاعون پڑتی تو پھیل جاتے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنّ مراد نہیں بلکہ پلیگ کے جراثیم مراد ہیں جو پھیل جانے، باہر کھلی ہوا، دھوپ اور روشنی میں ڈیرا لگانے سے مر جاتے ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت نبی کریم کا یہ فرمان کہ جنّ کاٹتا ہے اس سے مراد پلیگ کے جراثیم تھے نہ کہ حاتم طائی والا جِنّ۔
یہ ایک موٹی سی بات ہے مگر اس کا ثبوت بھی حدیث شریف سے ہی ملتا ہے۔ اور وہ مسواک کی ضرورت اور اس کے کرنے کا پُر حکمت طریق ہے۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اگر مجھے اپنی امت کے لئے یہ حکم دوبھر معلوم نہ ہوتا تو مسواک کو فرض کرتا۔۵؎ آج مسواک کے ساتھ ہنسی اور تمسخر کیا جاتا ہے۔ مگر آپ کے نزدیک مسواک کی اتنی اہمیت تھی کہ نزع کے وقت بھی حضور نے مسواک مانگی اور مسواک کی۔ آج کی تحقیقات نے دانت کا جسم انسانی پر عظیم الشان اثر واضح کر دیا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ کئی مزمن امراض (CHRONIC) کا باعث دانت اور مسوڑھوں کی خرابی ہے۔ جسے (PYORRAOCA) کہتے ہیں۔ امریکہ میں جنون کے اسباب کے متعلق ایک
تحقیقاتی کمیشن بٹھایا گیا۔ اس نے کئی ہزار مجانین کے جسم کا معائنہ کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ۸۰ فیصدی مجانین میں جنون کا سبب دانت اور مسوڑھوں کی پیپ تھی۔ مسوڑھوں کی خرابی کا زہریلا اثر گلے کی غدود کو پہنچتا ہے اور وہاں سے عروق جاذبہ کے رستے دماغ میں جا کر جنون پیدا کر دیتا ہے۔
میں جب کانفرنس مذاہب کے موقع پر لندن گیا تو ایک ماہر فن دانت کے ڈاکٹر سے دانتوں کا معائنہ کرایا۔ اُس نے کہا دانتوں کو باقاعدہ برش کیا کرو۔ پھر برش کرنے کا طریق بھی بتایا اور اس بات پر زور دیا کہ برش کی حرکت اوپر نیچے ہو۔ یعنی صرف دانتوں کی سطح کو صاف نہ کیا جائے بلکہ دانتوں اور مسوڑھوں کے درمیان جو جگہ ہے اس کو اچھی طرح صاف کیا جائے۔ رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی ارشاد ہے کہ اوپر سے نیچے کی طرف حرکت کی جائے ۔۱؎کیونکہ مسوڑھوں کا آخری حصہ نرم ہوتا ہے۔ اور اس کے پیچھے جرمز چھپے رہتے ہیں۔
چونکہ یہ اصولی مضمون ہے اس لئے یہ چار پانچ مثالیں کافی ہیں ورنہ قرآن کی ساری کی ساری تعلیم سائنس پر مبنی ہے جس کا آج سے تیرہ سو سال قبل کسی کو وہم بھی نہ تھا۔ سائنس کی ترقی صرف ۲ سو سال سے ہے اور نئی تحقیقاتیں اسلامی تعلیم کی حکمت ظاہر کر رہی ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ مذہب سائنس کا مؤید ہے۔
اعتراض کیا جاتا ہے کہ مذہب کے بعض نظریات کی بناء چونکہ مادیات پر نہیں ہوتی اِس لئے انسان ہر لغو بات خواہ وہ عقل کے خلاف ہی ہو مان لیتا ہے جس سے اس کی قوت استدلال کمزور ہو جاتی ہے اور وہم بڑھ جاتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مذہب سے وہم نہیں پیدا ہوتا کیونکہ مذہب کی بناء یقین پر ہے۔ اگر وہم ہو تو پھر اتنا وہم سائنس سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ مثلاً ملائکہ کا وجود، بعث بعد الموت، اللہ تعالیٰ کا وجود ان سب کا ثبوت مادیات سے نہیں ملتا مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مذہب لغو باتیں منواتا ہے کیونکہ اگرچہ وہ نظریات جو عقل سے بالا ہوں ، ان کو منواتا ہے مگر دلیل سے۔ مذہب کی سچائی کے لئے ضروری ہے کہ جو امور مادیات سے بالا ہوں ان کے لئے دلیل دے۔ پس اسلام نے اللہ تعالیٰ کی ہستی، ملائکہ کا وجود وغیرہ کے لئے دلائل دیئے ہیں لہٰذا وہم پیدا نہیں ہوتا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اس بات پر شاہد ہے کہ آپ نے وہم کا ازالہ کیا۔ حدیث میں آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم جب فوت ہوئے تو اُس دن اتفاقاً
سورج گرہن ہو گیا۔ صحابہ نے کہا۔ حضورؐ کے صاحبزادہ کی وفات پر سورج نے بھی افسوس کیا ہے اور اس کو صدمہ ہوا ہے۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو قانون طبعی کے ماتحت ہے اس کا میرے بیٹے کی وفات سے کیا تعلق؟ گویا اس طرح آپ نے اپنے عمل سے وہم کا ازالہ کیا نہ کہ اُسے پیدا کیا۔
مگر اس کے مقابلہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ سائنس سے وہم پیدا ہوتا ہے۔ جیسا کہ علم الجراثیم (BACTERIOLOGY) کی ترقی سے ہوا ہے۔ طب کہتی ہے ہر جگہ جراثیم ہیں۔ ڈاکٹر ذرا ذرا سی بات پر خوف کھاتے اور بار بار ہاتھ دھوتے رہتے ہیں۔ طب کا مطالعہ کیا جائے تو جس مرض کا حال پڑھو ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ شاید یہ مرض ہم کو ہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان ان عام علامات (GENERAL SYMPTOMS) کی وجہ سے جو ہر مرض میں مشترک ہوتی ہیں اور ہر انسان میں کم و بیش پائی جاتی ہیں خیال کر لیتا ہے کہ مجھ میں یہ مرض ہے حالانکہ اس مرض کی خاص علامات (SPECIAL SYMPTOMS) اس میں موجود نہیں ہوتیں۔
اسلام نے اس قسم کے وہم کو جو کمزوریٔ دماغ کا نتیجہ ہوتا ہے دُور کیا ہے۔ وہم ہمیشہ غلوّ سے ہوتا ہے مگر اسلام نے ہر بات میں میانہ روی سکھلا کر وہم کا ازالہ کیا ہے۔ فرمایا۔ نماز میں میانہ روی اختیار کرو ہر وقت نماز نہ پڑھتے رہو۔ اور تین وقت نماز پڑھنے سے منع کر دیا۔۷؎پھر فرمایا:۔ جو روزانہ روزہ رکھے اس کو دوزخ ملتی ہے۔۸؎مگر روزہ تو خدا کے لئے رکھا جاتا ہے اس کے بدلہ میں دوزخ کیسی۔ اس کی غرض بھی صرف وہم کو دُور کرنا تھی۔ کیونکہ غلوّ کرنے سے دماغ کمزور ہو کر وہم پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی واسطے فرمایا۔ وَ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ۔۹؎تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے۔ اس لئے نفس کشی نہ کرو۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ دو صحابی آپس میں بھائی بھائی بنے ہوئے تھے۔ ایک دن ایک دوسرے کی ملاقات کے لئے گیا تو دیکھا۔ اس کی بیوی مبتذل حالت میں ہے۔ وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا تمہارے بھائی کو میری کچھ حاجت نہیں۔ وہ تو ہر روز دن کو روزہ رکھتا اور رات کو نماز پڑھتا رہتا ہے۔ صحابی نے اپنے دوست سے کہا۔ دیکھو تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے، تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔ ہر ایک کو اس کا حق دینا چاہئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے قائم اللیل اور صائم الدھر رہنے کو ناپسند فرمایا۔ اور فرمایا۔ زیادہ سے زیادہ کوئی شخص ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھ سکتا ہے۔ اور زیادہ سے زیادہ عبادت یہ ہے
کہ آدھی رات سوئے اور آدھی رات نماز پڑھے۔۲؎گو یا ہر بات میں میانہ روی سکھائی تاکہ وہم پیدا نہ ہو۔
سوال کیا جا سکتا ہے کہ اگر مذہب خدا کی طرف سے ہے تو پھر وہ سائنس کیوں نہیں بتاتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ در حقیقت ایسا ہی چاہئے تھا کہ مذہب سائنس بیان نہ کرے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَسۡـَٔلُوۡا عَنۡ اَشۡیَآءَ اِنۡ تُبۡدَ لَکُمۡ تَسُؤۡکُمۡ(5:102)۱؎ یعنی اے ایمان والو۔ ایسی باتوں کے متعلق سوال نہ کرو جن کے بتا دینے سے تمہیں نقصان ہو۔ اس پر سوال ہو سکتا ہے کہ خدا کی بتائی ہوئی بات سے نقصان کیسے ہو سکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ہمیں تو بتا دینے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہارا دماغی ارتقاء رک جائے گا اور تمہاری خود سوچنے اور غور و فکر کرنے کی قابلیت مر جائے گی اور تمہارا علمی ارتقاء مٹ جائے گا۔ پس ہماری ذہنی ترقی کو قائم رکھنے کے لئے مذہب نے سائنس نہیں بتائی۔ ہاں ضروری باتیں بتا دی ہیں جو ایجاد سے معلوم نہ ہو سکتی تھیں یا دیر سے معلوم ہو تیں۔ مگر ہر ایک بات بتا دینے سے ہمارے ذہنی ارتقاء کو نقصان ہوتا۔ اور یہ مشاہدہ ہے کہ جس کا ذہنی ارتقاء بند ہوا وہ قوم مٹ گئی۔ مومن کے دو دن بھی برابر نہیں ہوتے بلکہ وہ ہر روز ترقی کرتا ہے۔ اگر مذہب ساری کی ساری باتیں بتا دیتا تو انسان ذہنی طور پر اسی دن مر جاتا کیونکہ اس کا ذہنی ارتقاء بند ہو جاتا۔ اس لئے مذہب میں اصول کو لے لیا گیا ہے اور جزئیات میں اجتہاد کی گنجائش رکھ دی ہے تاکہ انسان کا ذہنی ارتقاء بند نہ ہو۔
کہا جائے گا اگر ذہنی ارتقاء کے لئے ضروری تھا کہ مذہب سائنس بیان نہ کرے تو خود مذہب میں علمی ارتقاء کو کیوں بند کر دیا گیا ہے۔ مذہب نے کیوں الہام کے ذریعے تعلیم دی۔ کیوں نہ ہم پر ان باتوں کو چھوڑ دیا تاکہ ہم خود سوچتے اور غور و فکر کے بعد انہیں حاصل کرتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مذہب کے بہت سے مسائل کی بنیاد رضاء الٰہی پر ہے نہ کہ سائنس کی طرح شواہد پر۔ اور رضاء کا علم وہ خود جانتا ہے سائنس نہیں بتا سکتی۔ مثلاً اگر کوئی شخص اپنے کسی دوست سے ملنے جائے اور جا کر خاموش رہے تو اس کا دوست کس طرح معلوم کر سکتا ہے کہ میرا مہمان کیا کھائے گا۔ ہاں مہمان اگر خود منہ سے بولے کہ میں فلاں چیز پسند کرتا ہوں تو میزبان کو اس کی رضاء کا علم ہو سکتا ہے پس رضاء الٰہی کے معلوم کرنے کا ذریعہ الہام ہے۔
پھر مذہب کا تعلق ابد الآباد زندگی سے ہے اور سائنس کا صرف موت تک۔ اس لئے سائنس کی ایجادوں مثلاً ریل اور لاسلکی کی عدم موجودگی میں انسان کو نقصان نہ تھا۔ مگر دین کے بغیر اس کے کامل ہونے سے پہلے ہی دنیا تباہ ہو جاتی اور اخلاق فاضلہ اور روحانیت کے متعلق تجربے کرتے کرتے لاکھوں آدمی دوزخ میں چلے جاتے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اصولی باتوں کا علم جو عقل سے بالا تھیں الہام کے ذریعہ دیا اور جزئیات کو ہمارے عقلی اجتہاد کے لئے چھوڑ دیا۔
علاوہ ازیں بعض مسائل نیچرل قوانین سے بالا ہیں۔ مثلاً صفات الٰہی، ملائکہ کا وجود، بعث بعد الموت وغیرہ۔ ان کو عقل اور سائنس سے معلوم کرنا مشکل تھا۔ یہاں پر عقل بالکل اندھی تھی۔ اور اگر کچھ ثابت کرتی تو زیادہ سے زیادہ یہ بتاتی کہ خدا اور ملائکہ کا وجود ہونا چاہئے نہ یہ کہ واقعی موجود ہے۔ کیونکہ ”ہونا چاہئے“ تو عقل سے ہو سکتا ہے مگر ”ہے“ کے لئے مشاہدہ کی ضرورت ہے جو الہام کے بغیر ممکن نہیں۔ ان وجوہات سے الہام کی ضرورت تھی۔
سائنس کا اثر مادیات پر ہے اور مذہب کا تعلق مافوق المادیات پر۔ مذہب میں یہ چھ باتیں داخل ہیں۔ اخلاق، تمدن، سیاست، الوہیت، روحانیت، حیات بعد الموت۔
اب یہ ساری کی ساری باتیں مادیات سے بالا ہیں اس لئے سائنس کے شواہد سے ان پر استدلال نہیں ہو سکتا۔ پس امور مذہبی کی قطعی تحقیق سائنس سے نہیں ہو سکتی۔ مثلاً خدا کا وجود ہے۔ اب یہ وجود چونکہ مادیات سے بالا ہے اس لئے اس کی ہستی کا ثبوت اور اس کی صفات کا علم سائنس کے تجارب سے نہیں مل سکتا۔ ہاں الہام کے ذریعے اس کی صفات کا علم ہو سکتا ہے۔ پس یہ کہنا کہ خدا کا وجود سائنٹیفک تجربات کے خلاف ہے غلط ہے۔ ہاں یہ درست ہے کہ سائنس کے تجارب سے معرفت الٰہی حاصل نہیں ہو سکتی۔
پس سائنس دان یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں سائنس کے تجربات سے معرفت الٰہی کا کچھ پتہ نہیں چلا مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ سائنس کی تحقیق خدا کے وجود کی نفی کرتی ہے۔ کیونکہ اگر وہ ایسا کہیں گے تو خود گرفت میں آئیں گے۔ اس لئے کہ پروفیسر ہکسلے ۷۲ (HUXLEY) جس نے AGNOSTICISM (دہریت) کی بنیاد ڈالی ہے اس نے یہ نہیں کہا کہ سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ خدا کوئی نہیں بلکہ یہ کہا ہے کہ سائنس کی تحقیقات سے خدا کے وجود کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اور یہ ہے بھی درست۔ کیونکہ سائنس تو وہاں تک پہنچتی نہیں۔ وہ وجود تو فوق المحسوسات ہے اور سائنس کا دائرہ مادیات اور محسوسات تک محدود ہے۔ پس وہ اس کے متعلق تحقیق کر ہی نہیں سکتی۔ اس کی مثال تو ایسی ہے کہ کوئی شخص ریل کے ذریعے کابل جانا چاہے اور راولپنڈی سے ٹرین میں بیٹھ جائے مگر آخر ناکام ہو کر یہ نتیجہ نکال لے کہ کابل کوئی شہر ہی نہیں۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ کابل جانے کا یہ طریق ہی غلط تھا کیونکہ ریل تو وہاں تک جاتی ہی نہیں۔ اسی طرح سائنس دانوں نے سائنس کے تجربات سے خدا کا پتہ لگانا چاہا اور وہ ناکام ہوئے۔ محض اس لئے کہ سائنس وہاں جاتی نہیں اس کا دائرہ اس سے بہت نیچے ہی ختم ہو جاتا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ دنیا میں ہر بات صرف سائنس کے تجربات اور مشاہدات سے ہی تسلیم نہیں کی جاتی بلکہ اس کے اور ذرائع بھی ہیں۔ مثلاً راستبازوں کی شہادت وغیرہ۔
ہم سائنس دانوں سے پوچھتے ہیں کہ ان کو ماں باپ کا پتہ کس نے دیا۔ کیا انہوں نے سائنس کے شواہد اور تجارب سے معلوم کیا ہے کہ فلاں شخص فلاں کا باپ ہے یا کسی اور ذریعہ سے۔ یہ ظاہر ہے کہ اس کا ثبوت ماں باپ کا دعویٰ اس کی اپنی یاد کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے انہی کے گھر میں رہتا ہے اور لوگوں کی شہادت بھی ہے۔ اسی طرح خدا کے وجود کے ثبوت کے لئے (جو کہ فوق المحسوسات ہے) راستبازوں کی شہادت کی ضرورت ہے جو اس بارے میں صاحبِ تجربہ ہوں۔
جو لوگ صحیفہ فطرت سے خدا کا وجود ثابت کرنا چاہتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مشین کھول کر موجد کا پتہ لگانا چاہے۔ مثلاً کوئی شخص اگر سنگر کی سلائی کی مشین کو کھول کر مسٹر سنگر (MR. SINGER) کو دیکھنا چاہے تو وہ اس کو نہیں پائے گا۔ اسی طرح فورڈ کار (FORD CAR) کو کھول کر مسٹر فورڈ (MR. FORD) کو معلوم کرنا چاہے تو اسے نہیں ملے گا۔ وہ تو اسے بنا کر الگ ہو گیا۔ اب مشین کو دیکھ کر آپ عقلاً صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ اس مشین کا بنانے والا کوئی ”ہو گا“۔ یا ”ہونا چاہئے“۔ مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کا بنانے والا مسٹر فورڈ یا سنگر ضرور ”ہے“۔ اس پر یہ سوال ہو سکتا ہے کہ خدا تو ہر وقت اس صحیفۂ قدرت کی مشینری کو چلا رہا ہے۔ اس لئے اس کو تو نظر آنا چاہئے۔ مسٹر فورڈ تو اس لئے فورڈ کار کے اندر نظر نہیں آتا کہ وہ اس کو اب نہیں بنا رہا۔ وہ تو بنا کر الگ ہو گیا ہے۔ اگر ہم اس کو بناتے دیکھتے تو بتا دیتے کہ اس کا بنانے والا ہے۔
مگر درحقیقت یہ اعتراض غلط ہے کیونکہ دیکھا اس صانع کو جا سکتا ہے جو ہاتھ سے کام کر رہا ہو۔ مگر جب کام ارادہ سے ہو رہا ہو تو وہ وجود نہیں ملا کرتا۔ مثلاً کسی کے کان میں چپکے سے کہہ دیا جائے کہ فلاں کام کرو۔ تو دیکھنے والا کس طرح پتہ لگا سکتا ہے کہ کون کام کرا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی چونکہ ہاتھ سے کام نہیں کرتا بلکہ ارادہ سے کرتا ہے اس لئے صحیفۂ قدرت کے اندر اس کو کام کرتے ہوئے دیکھنا بھی مشکل ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِذَاۤ اَرَادَ شَیۡئًا اَنۡ یَّقُوۡلَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ(36:83)۷۳؎ وہ کام کُن کے ذریعہ کرتا ہے نہ کہ ہاتھ سے۔ اور ارادہ سے کام کرنے کی نہایت ادنیٰ مثال مسمریزم کرنے والوں میں مل سکتی ہے جو اپنی توجہ سے اثر ڈالتے ہیں۔ گو بعض ہاتھ سے بھی PASSES کرتے ہیں مگر مخفی توجہ کا اثر بھی ہوتا ہے۔ جس میں بغیر ہاتھ کی حرکت یا زبان سے کلمہ نکالنے کے اثر ہوتا ہے۔
توجہ کا اثر معلوم کرنے کے لئے یہ تجربہ کیا جا سکتا ہے کہ کسی لڑکے کی آنکھیں بند کر کے اسے کمرے کے وسط میں چکر دے کر چھوڑ دو۔ اس طرح جہات جو نسبتی چیزیں ہیں اس کے ذہن سے نکل جائیں گی۔ اب سب ملکر اس پر اثر ڈالو اور ذہن میں تصور کرو کہ یہ مثلاً مغرب کی طرف چلے تو وہ لڑکا مغرب کی طرف چلنے لگ پڑے گا۔ اب دوسروں کو یہ نظر نہ آئے گا۔ کیونکہ کام توجہ اور ارادہ سے ہو رہا ہے نہ کہ ہاتھ سے۔ خدا تعالیٰ مخلوق کا سرچشمہ نہیں بلکہ خالق ہے۔ سرچشمہ تلاش سے مل جایا کرتا ہے مگر خالق نہیں ملا کرتا۔ مثلاً دریائے راوی کے منبع کا پتہ لگانا ہو تو پانی کے کنارے چل پڑو آخر اس کا منبع مل جائے گا۔ مگر خالق کو اس پر قیاس نہیں کر سکتے۔
بعضوں کا یہ خیال ہے کہ قانون قدرت معلوم ہو گیا اور اس کے مخفی در مخفی اسباب کا علم ہو گیا تو بس خدا باطل ہو گیا اور اس کی ضرورت کی نفی ہو گئی۔ مثلاً بچہ کی تحقیق ہے۔ سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ نطفہ سے مختلف شکلیں بدل کر انسان بنتا ہے یا ڈارون ۷۴؎(DARWIN) کی تھیوری نے ثابت کر دیا ہے کہ انسان نے مختلف ارتقائی دوروں میں سے گذر کر یہ شکل اختیار کی ہے۔ یا اگر یہ معلوم ہو گیا کہ پانی دو گیسوں ہائیڈروجن اور آکسیجن کا مرکب ہے تو کیا خدا باطل ہو گیا اور یہ ثابت ہو گیا کہ خدا ان چیزوں کا خالق نہیں۔ یہ تو بچوں والا استدلال ہے۔ کیا اسباب آج معلوم ہوئے ہیں۔ کیا نطفہ کے اجزاء کا پہلے علم نہ تھا کہ رحم مادر میں جا کر بچہ بنتا ہے۔ تو اب اگر اس میں اسباب کی ایک اور کڑی معلوم ہو گئی تو اس سے خدا کی خالقیت کی کیوں نفی ہو گئی۔ مذہب نے سبب کا انکار کبھی نہیں کیا اور نہ یہ کہا ہے کہ صرف ایک سبب خدا ہی ہے اس کے علاوہ اور کوئی نہیں۔ مذہب تو اس بات کو منواتا ہے کہ اسباب کا لمبا سلسلہ ہے اور سب سے آخری سبب جو ہے وہ اللہ تعالیٰ ہے۔
فرماتا ہے۔ اِلٰی رَبِّکَ الۡمُنۡتَہٰی(53:43)۷۵؎ باریک در باریک اسباب ہیں اور پھر یہ سلسلہ خدا تک جاتا ہے۔ گویا آخری سبب (FINAL CAUSE) خدا ہے۔ ان لوگوں کی مثال جن کو اسباب کی تلاش کرنے سے خدا نہیں ملا اور اس کی ذات کا ہی انکار کر دیتے ہیں ایسی ہے۔ جیسے کوئی شخص دو چار ہاتھ مٹی کھود کر چھوڑ دے اور کہے پانی نہیں نکل سکتا اس زمین کے نیچے پانی ہے ہی نہیں حالانکہ اگر وہ گہرا کھودتا تو اسے ضرور پانی مل جاتا۔ قرآن کریم نے خود اسباب کو تسلیم کیا ہے اور اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ہر کام تدریجی ہے۔ اور اس کی نشوونما میں STAGES ہیں۔ چنانچہ فرمایا۔ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّنَ الۡبَعۡثِ فَاِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ ثُمَّ مِنۡ مُّضۡغَۃٍ مُّخَلَّقَۃٍ وَّغَیۡرِ مُخَلَّقَۃٍ لِّنُبَیِّنَ لَکُمۡ(22:6)۷۶؎ اے لوگو! تم دوبارہ اٹھائے جانے کے متعلق شک میں ہو۔ تم کو معلوم نہیں ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر نطفہ سے۔ پھر اس کو علقہ بنایا۔ پھر مضغہ میں اس کو تبدیل کیا۔
اسباب کا وجود تو حقائق کے بیان کے لئے تھا۔ نہ اس لئے کہ ان کی نفی کرے۔ اسباب کے لمبے سلسلہ کی غرض دنیا کی تکمیل کے لئے تھی۔ خواہ کسی قسم کی تکمیل ہو۔ علمی یا عملی اس کے لئے STAGES ضروری ہیں۔ مختلف ترقی کے دور تھے۔ جن میں سے دنیا گزری ہے۔ یہ ہماری ترقی کے لئے ضروری تھے۔ اگر یہ دور مختلف نہ ہوتے تو ہم ترقی نہ کر سکتے۔ پھر لمبے سلسلہ کی ضرورت اس لئے بھی تھی کہ اشیاء ایک دوسرے کا اثر قبول کر سکیں۔ اور اپنے گردو پیش کے حالات سے مناسبت (ADOPTATION) پیدا کر سکیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسباب کا لمبا سلسلہ اور مختلف اشیاء کی ارتقائی STAGES ہماری ترقی کی غرض سے ہماری کمزوری کو مدنظر رکھ کر رکھی ہیں۔ ورنہ وہ تو اس بات پر قادر تھا کہ چند دنوں میں دنیا کی تکمیل کر دیتا اور اسباب کا سلسلہ بالکل نہ ہوتا۔
کہا جاتا ہے مذہب کی بنیاد الہام پر ہے مگر الہام محض دلی خیال کا نام ہے۔ مذہب کے بانیوں نے سوچا کہ ہماری بات لوگ یوں نہ مانیں گے چلو خدا کی طرف منسوب کردو تاکہ جلدی مان لیں۔ گویا یہ مخفی ایک مصلحت وقت تھی اور چونکہ اس میں قومی نفع تھا اس لئے اپنے قلبی خیالات کا نام الہام رکھ لیا گیا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ طبعی قانون سے الہام کی تصدیق نہ ہونا اس بات کا ہرگز ثبوت نہیں کہ الہام خدا کی طرف سے نہیں اور محض قلبی خیالات ہوتے ہیں۔ طبعی قانون سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی جبھی تو اس کا نام الہام ہے۔ ورنہ وہ طبعی اسباب کا نتیجہ ہوا۔ اور اس کا نام سائنس رکھنا چاہئے نہ کہ الہام۔ الہام کی تصدیق طبعی قوانین سے نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ وہ طبعی قوانین سے بالا ہے اور القاء ہے نہ کہ قلبی خیال۔
اصل سوال یہ ہے کہ الہام لفظی ہو سکتا ہے یا نہیں۔ قرآن کریم نے اس کے ثبوت میں خواب اور روٴیا کو پیش کیا ہے۔ جس طرح انسان خواب میں بغیر خارجی محرک کے نظارے دیکھتا ہے اسی طرح یہ خیال بالکل ممکن ہے کہ بولنے کے بغیر الفاظ کان میں ڈالے جائیں اور وہ دل کا خیال نہ ہوں۔ بتاؤ ایسا ممکن ہے یا نہیں کہ انسان اس قسم کا نظارہ دیکھ سکے۔ یقیناً ہر ایک نے کبھی نہ کبھی اس قسم کا نظارہ دیکھا ہو گا۔ چاہے وہ بخار کی حالت میں ہی دیکھا ہو۔ اس نظارہ کو تم جھوٹا سمجھو یا سچا۔ مگر اتنا ضرور ہے کہ وہ واقعہ میں نظارہ ہوتا ہے اور دل کا خیال نہیں ہوتا۔ یہ الگ بات ہے کہ تم اس کو جھوٹ کہو، تخیل سمجھو یا بیماری کا نتیجہ خیال کرو۔ پس ایسے نظارے دیکھے جاتے ہیں جن کا ثبوت شواہد سے ملتا ہے نہ کہ طبعی قوانین سے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دماغ میں ایسی کیفیت ہے جس سے ایسے نظارے معلوم ہو سکتے ہیں۔ اور اگر آنکھ اس دماغی کیفیت سے نظارے دیکھ سکتی ہے تو کیا کان آواز نہیں سن سکتے۔ یہ الگ سوال ہے آیا کہ وہ آواز جھوٹی ہے یا سچی۔ بیماری کا نتیجہ ہے یا تخیل۔ انسان کمرے میں الگ بیٹھا ہوا ہو تو بعض دفعہ اپنا نام کان میں پڑتا ہے۔ یا جنگل میں اگر اکیلا ہو تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اس کو بلا رہا ہے۔ گو تم اس کو وہم ہی خیال کرو مگر یہ ناممکن نہیں ہے۔ پس ان نظاروں اور ان آوازوں کے متعلق ثبوت یہ مانگنا ہو گا کہ یہ وہم ہے یا خدائی الہام۔ مثلاً میں اس وقت کھڑا ہوں اور مجھ کو ایسا معلوم ہو کہ کسی نے باہر سے آواز دی ہے ”محمود“۔ تو تم مجھ کو پاگل خیال کر سکتے ہو۔ مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ جھوٹ کہہ رہا ہے۔ یا مثلاً یہ کہ آواز کوئی نہیں آئی، محض اس کے دل کا خیال ہے۔
کہا جاتا ہے کیا خدا کی بھی زبان ہے۔ اس کے بھی حلق، دانت اور VOCAL CORDS وغیرہ ہیں۔ جن کی مدد سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ مگر ہم یہ نہیں کہتے کہ خدا کی زبان اور ہونٹ وغیرہ سے آواز نکل کر ملہم کے کان میں سنائی دیتی ہے۔ ہم تو کہتے ہیں:۔ الہام کے ذریعے کان میں آواز پیدا کی جاتی ہے نہ یہ کہ خدا کے ہونٹ اس کو بناتے ہیں۔ الفاظ تو اسی ہوا کی VIBRATIONS لہروں کے ذریعے کان میں جاتے ہیں اور اعصاب کے ذریعے دماغ تک پہنچتے ہیں۔ مگر فرق یہ ہے کہ یہ الفاظ فکر کا نتیجہ نہیں ہوتے، قلبی خیالات نہیں ہوتے بلکہ بنے بنائے الفاظ خدا کی طرف سے کان میں ڈالے جاتے ہیں۔
یہ قاعدہ ہے کہ جو خیال باطل ہو یا وہم کا نتیجہ ہو، اس کی تصدیق صرف ایک حِسّ کرتی ہے۔ مثلاً وہ نظارہ جو قلبی خیالات کا نتیجہ ہو یا وہمی ہو اس کی تائید صرف آنکھ کرتی ہے۔ مگر کان اور ہاتھ اس کو جھٹلاتے ہیں۔ مثلاً اندھیرے میں کسی کو کوئی آدمی کمرے کے اندر کھڑا نظر آئے تو اگر یہ نظارہ وہم کا نتیجہ ہو گا تو اس شخص کو ہاتھ سے چھونے سے کچھ معلوم نہ ہو گا۔
قرآن کریم میں آتا ہے۔ وَکَلَّمَ اللّٰہُ مُوۡسٰی تَکۡلِیۡمًا(4:165)۷؎ اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا نے زبان سے کلام کی بلکہ یہ لفظ زور دینے کے لئے اور شان کے اظہار کے لئے ہے۔ یعنی وہ ایسا کلام تھا کہ اس کی تصدیق نہ صرف کان بلکہ دیگر حواس بھی کرتے تھے۔ پس الہام کی تصدیق کئی حواس کرتے ہیں اور نہ صرف ملہم کے حواس بلکہ دوسرے لوگ بھی اس کو محسوس کرتے ہیں۔
دوسرا فرق الہام اور وہم میں یہ ہے کہ الہام پانے والوں کو دوسروں پر عقلی برتری حاصل ہوتی ہے۔ مگر وہم تو بدتر عقل والوں کو ہوا کرتا ہے۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تمام عرب نے گواہی دی کہ یہ شخص سب سے بڑھ کر صاحب عقل و فراست ہے۔ چنانچہ کعبہ کی تعمیر کے وقت جب سنگ اسود کو نصب کرنے پر مکہ والوں میں جھگڑا ہوا کہ کس قبیلہ کا سردار اس کو اٹھا کر نصب کرے۔ اور قریب تھا کہ کشت و خون سے زمین سرخ ہو جائے۔ اس وقت کسی نے کہا اس نوجوان (محمد رسول اللہ) سے پوچھو۔ تو حضور نے جس عقلمندی اور موقع شناسی سے اس وقت کام کیا وہ تاریخ اسلام کے جاننے والوں پر خوب روشن ہے۔ ۸؎ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دماغ نہایت اعلیٰ تھا۔ وہم تو ایک اندرونی بات ہے اور جنون کی علامت ہے جو ایسے عقیل کے متعلق وہم و گمان بھی نہیں آسکتا۔
تیسرے الہام پانے والوں کی اخلاقی حالت NORMAL (درست) ہوتی ہے۔ ان میں جوش اور ہیجان نہیں ہوتا۔ مگر وہمی کی حالت ABNORMAL (نادرست) ہوتی ہے۔ اس کی طبیعت میں جوش ہوتا ہے۔ بات کرتے ہوئے کانپتا ہے۔ سُرعت اور عجلت سے کام لیتا ہے۔ ایک ہی بات کی دھن لگی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ دوسروں سے مل کر کام نہیں کر سکتے۔ قوم بنانا، جتھہ بنانا، سوسائٹی قائم کرنا ان لوگوں کا کام نہیں ہوتا۔ کسی ماہر امراض دماغی (MENTAL SPECIALIST) سے پوچھو کہ وہمی لوگ بھی وہ کام کر سکتے ہیں جو الہام کے مدعی دنیا میں آکر کرتے ہیں۔
اس کے مقابل میں الہام پانے والوں کی طبیعت میں صبر ہوتا ہے، سکون کی حالت ہوتی ہے، گھبراہٹ نہیں ہوتی، ان میں رحم اور حلم ہوتا ہے، ان کی ہر طرف نگاہ ہوتی ہے، ہر شعبۂ زندگی پر نظر ہوتی ہے۔ ان کی تعلیم میں ہدایات ہوتی ہیں، ان کا کلام پُر حکمت ہوتا ہے، وہ دنیا کی رہنمائی کرتے ہیں، کشت و خون سے دنیا کو نجات دیتے ہیں، وہ امن کے شہزادے ہوتے ہیں اور قوموں کے درمیان صلح اور اتحاد کی بنیاد ان کے ہاتھوں سے رکھی جاتی ہے۔ اگر ان صفات والوں کو پاگل کہا جائے تو پھر ایسے پاگل تو دنیا میں سب ہی ہوں۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: نٓ وَالۡقَلَمِ وَمَا یَسۡطُرُوۡنَ مَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ بِمَجۡنُوۡنٍ(القلم: ۲، ۳)
قسم ہے قلم کی اور اس کی جو وہ لکھتے ہیں۔ نہیں ہے تو اپنے رب کے فضل سے دیوانہ۔ قلم کی قسم ہے یعنی قلم کو اور ان علوم کو جو اس زمانہ میں رائج ہیں اس بات پر گواہ ٹھہرایا ہے کہ تیری باتیں مجنونہ نہیں۔ اس میں ایک پیشگوئی ہے کہ دنیا خواہ کتنی ہی علمی ترقی کر جائے، دماغی امراض کا کتنا ہی باریک مطالعہ کیا جائے، تجھ کو ہرگز مجنون ثابت نہ کر سکیں گے۔ ساری علمی کتابوں کی قسم ہے۔ سارے علوم مقابلہ پر لے آئیں، تیرے عمل کو پرکھ لیں، تیری تعلیم پر جرح کرلیں، تجھ کو ہرگز دیوانہ ثابت نہیں کر سکتے۔ تیرا عمل اس کے برعکس ہو گا۔ یعنی اس میں اطمینان ہے، اُمنگ ہے، شوق ہے، وسطی چال ہے، اعلیٰ تربیت ہے، تُو نے دوسروں کی تربیت کی، ہزاروں کاموں کی تجاویز کیں، خدا تعالیٰ کے کلام کے حقیقی معانی بیان کئے۔ کیا یہ سب باتیں مجانین کیا کرتے ہیں۔
چوتھے الہام پانے والوں کی پالیسی ہمیشہ غالب آتی ہے۔ اگر ان میں دماغی نقص ہوتا تو وہ غالب کیوں ہوتے۔ پاگل کے کام کے نتائج نہیں ہوا کرتے۔ جنون (HALLUCINATIONS) کی تصدیق واقعات سے نہیں ہوا کرتی۔ اور پاگلوں (DELUSIONS) کی ایک بڑے سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتیں۔ مگر یہ کس طرح ہوا کہ ایک مجنون (HELLUCINATIONS) کی تمام دنیا کی تجاویز پر غالب آگئیں۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے مخالفوں کو چیلنج دیا کہ تم میرے مقابل پر سارے مل جاؤ، متفق ہو جاؤ، پھر بھی میری پالیسی غالب رہے گی اور میں ہی جیتوں گا۔ اگر یہ خدا کا کلام نہ تھا تو وہ غالب کیوں ہوا۔
یہ بات عام تجربہ اور مشاہدہ سے پایۂ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ وہ افکار جو دماغی کیفیت کا نتیجہ ہوں بڑھاپے میں جا کر کمزور ہو جاتے ہیں۔ اور حِسّیں عمر بڑھنے سے کم ہو جاتیں ہیں۔ مگر انبیاء علیہم السلام میں اس کے برخلاف بڑی عمر میں جا کر زیادہ شاندار الہام ہوتے ہیں۔ اور الہام بھی زیادہ ہوتا ہے۔ یعنی نہ صرف یہ کہ الہام اکثر دفعہ ہوتا ہے بلکہ وہ اپنی کیفیت، کمیت، اور جلال میں بھی زیادہ شاندار ہوتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ جب دماغ کمزور ہو گیا، اس میں فاسفورس مٹ گیا اور اس کے CELLS کمزور ہو گئے تو الہام زیادہ ہونے لگ گئے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انبیاء کے الہام کسی خاص دماغی کیفیت کا نتیجہ نہیں ہوتے۔ ورنہ عام قانونِ طبعی کے ماتحت ان کو بڑھاپے میں کم ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر یہاں بالکل اس کے برعکس ہے۔ ان کا الہام جوانی میں اگر ستارہ کی طرف ہو تو بڑھاپے میں سورج کی مانند ہوتا ہے جو کہ نیچر کے قانون کے خلاف ہے۔ پس ثابت ہوا کہ الہام وہم کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ خدا کا کلام ہوتا ہے۔
آخر میں مَیں نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ قطع نظر میرے مذہب کے تم بھی چونکہ اسلام کی طرف منسوب ہوتے ہو اس لئے مذہب اسلام کا مطالعہ کرو۔ قرآن کو ہاتھ میں لو اور اس پر غور کرو۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ سائنس مذہب کے خلاف نہیں ہے۔ کوئی سچی سائنس مذہب کے خلاف نہیں اور کوئی سچا مذہب سائنس کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی مسئلہ کے متعلق شک ہو تو اسے میرے سامنے پیش کرو۔ میں تم کو بتا دوں گا کہ کوئی سائنس کا مسئلہ اور کوئی صحیح فلسفہ اسلام کے خلاف نہیں۔ تم کو سب سے اچھا مذہب ملا ہے۔ تم اس کی قدر کرو۔ یہ وہ مذہب ہے جس کے متعلق کفار بھی رشک کرتے اور کہتے تھے کہ کاش یہ ہمارا مذہب ہوتا۔ رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ کَانُوۡا مُسۡلِمِیۡنَ(15:3)۔
اس کا تاریخی ثبوت یہ ہے کہ ایک دفعہ ایک یہودی اور ایک مسلمان کا جھگڑا تھا اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس فیصلہ کے لئے آئے۔ فیصلہ کے بعد یہودی نے کہا کہ مذہب تو یہ جھوٹا ہی ہے مگر ہے مکمل۔ کوئی مسئلہ نہیں جو اس میں بتایا نہ گیا ہو۔
تم اپنے مذہب کی قدر کرو اور اس کا احترام کرو۔ اسلامی روح اپنے اندر پیدا کرو۔ پھر تمام تدابیر کامیاب ہوں گی۔ تم قرآن کو ہاتھ میں لو۔ اس کا مطالعہ کرو۔ اس کو غور سے STUDY کرو۔ اس کتاب کا احترام کرو۔ اس کی آیات پر ہنسی نہ کرو۔ صرف کُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا(52:20)۳۱؎ کا مسئلہ ہی یاد نہ ہو بلکہ مذہب بھی سیکھو۔ یاد رکھو اس میں وہ علوم ہیں جو تمام دنیا کے تمدن کو ہیچ کر دیں گے۔ تم اگر اسلام کا سچا نمونہ اختیار کرو گے تو تم کو روحانی اور جسمانی دونوں امور میں دنیا پر برتری حاصل ہو گی۔ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا نعرہ پھر بلند ہو گا۔ اور اسلام کی حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل کی طرح پھر دنیا پر قائم ہو گی۔ اِنْشَاءَ اللّٰہُ
(الفضل ۲، ۵، ۷، ۹۔ اگست ۱۹۳۰ء)
۱۸؎ مسلم كتاب الصيام باب النهى عن الصوم الدهر میں حدیث کے الفاظ یہ ہیں ”لا صيام من صام الابد“
۱۹، ۲۰؎ بخاری كتاب الصوم باب حق الاهل في الصوم
۲۱؎ المائدة :۱۰۴
۲۲؎ ہکسلے THOMAS HENRY HUXLEY (۱۸۲۵ء۔۱۸۹۵ء) انگریز حیاتیات دان اور ڈارون کا حامی۔ ڈارون کے نظریات کا محافظ ہونے کی وجہ سے زیادہ شہرت پائی۔ (THE NEW ENCYCLOPAEDIA BRITANNICA VOL:V P.229، 15TH EDITION)
۲۳؎ یس:۸۳
۲۴؎ ڈارون CHARLES ROBERT DARWIN (۱۸۰۹ء۔۱۸۸۲ء) ماہرِ موجودات (NATURALIST) جس نے طب اور مذہب کا مطالعہ کیا۔ اس کے انکشافات، مشاہدات اور تحقیقات سے ارتقاء کا وہ نظریہ قائم ہوا جو ڈارونیت (DARUINISIM) کہلاتا ہے۔ (THE NEW ENCYCLOPAEDIA BRITANNICA (MICROPAEDIA) VOL: III P.385، 15TH EDITION)
۲۵؎ النّٰزعٰت: ۴۵۲۶؎ الحج: ۶۲۷؎ النساء: ۱۶۵
۲۸؎ سیرت ابن ہشام (عربی) جلد ۱ صفحہ ۷۹ مطبوعہ بیروت
۲۹؎ القلم: ۳، ۲۳۰؎ الحجر: ۳
۳۱؎ البقرة: ۱۸۸، ۶۱۔ الاعراف: ۳۲۔ الطور: ۲۰۔ المرسلت: ۲۴
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ؕ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ۔ هُوَ النَّاصِرُ
برادران! اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ
پچھلے منگل‘ بدھ اور جمعرات کو لاہور میں جو فساد ہوا ہے اس کے واقعات سے تو آپ لوگ دوسروں کی نسبت زیادہ واقف ہیں‘ اس لئے ان کے متعلق مجھے کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ ہاں میں اس امر پر افسوس کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ بے گناہ مسلمانوں کو جو نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکل رہے تھے‘ بعض ہندوؤں اور سکھوں نے ہندوؤں کے اشتعال دلانے پر بے دردی سے قتل کر دیا اور پھر ان کے جنازہ کے وقت بلا کسی انگیخت کے سنگ باری کر کے جلتی ہوئی آگ پر اور تیل ڈالا۔ ہاں میں اس موقع پر ان لوگوں کی موت پر بھی افسوس کرتا ہوں جو سکھوں یا ہندوؤں میں سے اس جوش و فساد کے موقع پر مارے گئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان میں سے اکثر اسی طرح بے گناہ تھے جس طرح کہ مسلمان کیونکہ ان کا جُرم ثابت نہیں کیا گیا۔ جس طرح سوامی شردھانند کے مارے جانے پر قاضی محبوب علی صاحب کا مارا جانا جائز نہ تھا اسی طرح مسلمان مقتولین کے بدلہ میں ان لوگوں کا مارا جانا درست نہ تھا اور گو اَلْبَادِئُ اَظْلَمُ کے ماتحت ہندو اور سکھ صاحبان یقیناً ظالم ہیں جنہوں نے ابتداء کی اور بے در دانہ ابتداء کی اور پھر اپنے ظلم پر اصرار کیا اور اس کو جاری رکھا۔ لیکن باوجود اس کے ہندوؤں اور سکھوں کے مقتولین پر بھی ہمیں اخلاقاً اور شرعاً اظہارِ افسوس کرنا چاہئے اور چاہئے کہ ایسے مواقع پر آئندہ اس قسم کا بدلہ نہ لیا جائے۔ اسلام کا فخر اس کی مظلومیت میں ہے اور ہمیں رسول کریم ﷺ فِدَاهُ نَفْسِیْ وَ رُوْحِیْ کے اسوۂ حسنہ پر چل کر بتا دینا چاہئے کہ
مسلمان کے جذبات ہمیشہ اس کے قابو میں رہتے ہیں۔
ہمیں اپنا بدلہ اس تعلیم سے اور اس تعصب سے لینا چاہئے جس کے نتیجہ میں یہ واقعات ظاہر ہو رہے ہیں اور ہمیں یہ عہد کر لینا چاہئے کہ ہندوستان کے ہر گھر میں اسلامی تعلیم کو قائم کر دیں۔ تاکہ یہ اختلافِ مذاہب رہے اور نہ یہ خونریزیاں ہوں۔ ان تمام فسادات کا علاج صرف تبلیغِ اسلام ہے اور اس کام کے لئے ہمیں کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہئے۔ عارضی جوش اسلام کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اسلام ہم سے اس قربانی کا مطالبہ کرتا ہے جو ہر روز کی جائے‘ دن کو بھی اور رات کو بھی۔ وہ ہم سے چاہتا ہے کہ ہم اپنے آرام اور اپنی آسائش کو اس کے لئے قربان کر دیں۔ ہم اس کی اشاعت کے لئے اپنے سارے ذرائع کو استعمال کریں اور سانس نہ لیں‘ آرام کی نیند نہ سوئیں جب تک اس امر میں کامیاب نہ ہو جائیں۔ پس پچھلے واقعات سے سبق حاصل کر کے آپ لوگوں کو چاہئے کہ اشاعتِ اسلام کی طرف توجہ کریں۔ اور اپنے اموال اور اپنے اوقات اس راہ میں خرچ کریں۔
میں آپ لوگوں کو یہ بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ سکھ صاحبان کے گُرو اسلام کے بہت بڑے مداح تھے۔ اور مسلمان اولیاء سے ان کے گہرے تعلقات تھے بلکہ ہماری تحقیق کی رو سے تو حضرت باوا نانک رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَيْهِ مسلمان تھے۔ تبھی تو انہوں نے مکہ کا حج کیا اور باوا فرید صاحب رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَيْهِ کے ساتھ مل کر کھانا کھایا اور ان کے جانشینوں نے میاں میر صاحب رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَيْهِ سے امرتسر کے گوردوارہ کا پتھر رکھوایا۔ لیکن بہرحال اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ان کے تعلقات مسلمانوں سے ہندوؤں کی نسبت زیادہ تھے اور صرف بعد میں سیاسی اختلافات کی وجہ سے سکھ صاحبان ہندو صاحبان سے مل گئے۔ لیکن اب بھی توحید کے مسئلہ میں وہ مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ پس مسلمانوں کو چاہئے کہ سکھ صاحبان سے تعلقات کو بڑھائیں اور اس شورش کی وجہ سے اس امر کو نظر انداز کر دیں کہ سکھ صاحبان صرف ہندوؤں کا ہتھیار بنائے گئے ہیں ورنہ وہ دل سے مسلمانوں کے دشمن نہیں ہیں۔ بلکہ بوجہ اپنے بزرگوں کی نصائح اور توحید پر ایمان رکھنے کے مسلمانوں کا داہنا بازو ہیں اور مسلمانوں کی ذرا سی توجہ کے ساتھ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کر کے مسلمانوں کے ساتھ مل کر ملک سے فساد اور شورش کو مٹانے کی طرف متوجہ ہو جائیں گے۔ خصوصاً جب کہ ان کا سیاسی فائدہ بھی مسلمانوں سے ملنے میں ہے۔ کیونکہ ہندوؤں سے مل کر وہ اس صوبہ میں قلیل التعداد ہی رہتے ہیں لیکن مسلمانوں سے مل کر وہ ایک زبردست پارٹی بنا سکتے ہیں جو پنجاب کو اس کی پرانی شان و شوکت پر قائم کرنے میں نہایت مفید ہو سکتی ہے۔
اس کے بعد میں مسلمانوں کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہر جگہ ہر قصبہ اور ہر شہر کے مسلمانوں کو جلسے کر کے گورنمنٹ کو توجہ دلانی چاہئے کہ وہ یا تو سب کو ہتھیار رکھنے کی اجازت دے یا پھر کسی کو بھی اجازت نہ دے۔ ورنہ ہر وقت کے خوف کی وجہ سے مسلمانوں کی اخلاقی حالت بہت ہی گر جائے گی۔ لیکن جب تک گورنمنٹ اس بارہ میں کوئی کارروائی نہ کرے، جہاں قانون اجازت دیتا ہے، وہاں کے مسلمانوں کو اپنے پر فرض کر لینا چاہئے کہ ہر ایک شخص اپنے گھر میں ایک سونٹا رکھے اور جب بھی وہ گھر سے باہر نکلے سونٹا لے کر نکلے خواہ وہ نماز کے لئے ہی کیوں نہ جاتا ہو۔ اگر اس امر کی طرف پہلے توجہ کی جاتی تو اس قدر جان کا نقصان نہ ہوتا۔ ہاں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ایک مسلمان کو یہ عہد کر لینا چاہئے کہ وہ اسلامی تعلیم کے مطابق کبھی حملہ میں ابتداء نہیں کرے گا بلکہ صرف مجبوری کی حالت میں جب اپنی جان کو خطرہ میں دیکھے گا، سونٹے کو استعمال کرے گا اور وہ بھی اس وقت تک کہ حملہ آور بے کار ہو جائے اور انسانی جان کے لینے سے بکلی اجتناب کرے گا۔
ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ مسلمان مقتولین و مجروحین اور ان کی جو بے قصور گرفتار کئے گئے ہیں خصوصاً اور ہندو اور سکھ مقتولین و مجروحین کی عموماً مدد کریں۔ تا ان گھروں پر جن کے آدمی مارے گئے ہیں یا زخمی ہوئے ہیں، دوہری مصیبت نازل نہ ہو۔ ایک مصیبت جان کی اور دوسری فاقہ کشی کی۔ ہمیں اس امداد میں اسلامی تعلیم کے مطابق اس قدر وسیع الحوصلہ ہونا چاہئے کہ ہندو اور سکھ مقتولین اور مجروحین کی امداد سے بھی غفلت نہ کی جائے۔ مسلمان ہمیشہ مصیبت زدہ دشمن کی مدد کرتے چلے آئے ہیں حتّٰی کہ ٹرک اس گئے گزرے زمانہ میں بھی جنگی قیدیوں کو آپ بھوکا رہ کر کھانا کھلاتے رہے ہیں۔ پس ہماری ہمدردی کی بنیاد قرآن کریم کے پیش کردہ خدا کی طرح ربوبیت عالمین پر ہونی چاہئے۔ میں اس غرض کے لئے اپنی جماعت کی طرف سے دو سو روپیہ کا وعدہ کرتا ہوں۔ اور امید کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کے احباب اپنے اپنے حلقہ اثر میں دوسرے بہی خواہان بنی آدم سے بھی مناسب رقوم جمع کر کے اس غرض کیلئے بھجوائیں گے تاکہ جلد سے جلد مصیبت زدگان کی مناسب امداد کی جائے۔
میں نے اپنے چیف سیکرٹری خان ذوالفقار علی خان صاحب برادر مولوی محمد علی صاحب ایڈیٹر و مالک ہمدرد دہلی اور فارن سیکرٹری ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب سابق مبلغ امریکہ کو جو دونوں کہ اس وقت لاہور میں ہیں، ہدایت کی ہے کہ وہ جہاں تک ہو سکے اس مشکل کے وقت میں مسلمانوں کی امداد کریں اور جماعت کے دوسرے دوستوں سے بھی مدد دلوائیں۔
مجھے نہایت افسوس ہے کہ لاہور میں جہاں کے باشندوں کو میں نے ہمیشہ اپنے نفس پر قابو رکھنے والا اور حوصلہ مند پایا ہے، اس قسم کا فساد ہوا اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ فساد آخری فساد ہوگا۔ اور اس سے سبق حاصل کر کے وہ لوگ جو ہندوستان میں فساد کی آگ بھڑکانے میں خاص لذت حاصل کر رہے ہیں۔ اور جن میں سے بعض بدقسمتی سے لاہور کے باشندے ہیں آئندہ اپنے رویہ میں تبدیلی کریں گے اور غور کریں گے کہ کس طرح اس فساد کے موقع پر وہ ہندو جو احمدیوں کے درمیان رہتے تھے، ہر ایک شر سے محفوظ رہے ہیں۔ اور نصیحت حاصل کریں گے کہ تبلیغ کے جوش کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ انسان انسانیت سے بھی خارج ہو جائے۔ ان ہندو صاحبان کا جوشِ تبلیغ، احمدیوں سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ پس جس طرح باوجود انتہائی درجہ کا جوشِ تبلیغ رکھنے کے ایک احمدی ایک ہندو پر ہاتھ نہیں اٹھاتا، ایک ہندو کیوں ایک مسلمان پر ہاتھ اٹھائے۔
میں اس امر کا اظہار کر کے اس اشتہار کو ختم کرتا ہوں کہ میں نے ایک رسالہ لکھا ہے کہ اس وقت مسلمان اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کس طرح کر سکتے ہیں۔ تمام احباب سے درخواست ہے کہ دو پیسہ کا ٹکٹ بھیج کر یہ رسالہ صیغہ ترقی اسلام قادیان سے مفت طلب کریں۔ شاید کہ خدا تعالیٰ ان کے ہاتھ سے کوئی خدمت لے لے اور ان کے لئے دین و دنیا کی بہتری کے سامان جمع ہو جائیں۔ وَآخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
خاکسار میرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ قادیان گورداسپور (الفضل ۱۳؍ مئی ۱۹۲۷ء)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ؕ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ— هُوَالنَّاصِرُ
(رقم فرمودہ مئی ۱۹۲۷ء)
اس وقت مسلمانوں کی حالت جس قدر نازک ہو رہی ہے اس سے ہر اک مسلمان کہلانے والے کا دل پگھل رہا ہے۔ وہ زمانہ تو گیا ہی تھا جبکہ مسلمان ہندوستان پر حاکم تھے اور پشاور سے چین تک اور ہمالیہ سے راس کماری تک ان کی حکومت تھی۔ ایک باہر کی قوم کی نگرانی میں کم سے کم انہیں یہ امید ضرور تھی کہ اپنے ہم وطنوں کے ساتھ برابر کی عزت یا برابر کی ذلت کے ساتھ بسر کریں گے۔ لیکن یہ امید بھی پوری نہ ہوئی۔ اور ہر شعبۂ زندگی میں وہ ناکام رہے۔ ملازمتیں ان کے لئے بند ہو گئیں، تجارتیں ان کی تباہ ہو گئیں، صنعت و حرفت ان کی جاتی رہی، وہ بادشاہ تھے رعایا بنے اور رعایا بننے کے بعد رعایا کے ایک دوسرے حصہ نے جو درحقیقت ان کی اپنی برادری میں سے تھا برادرانِ یوسف کا سا سلوک ان سے کرنا شروع کیا۔ مگر مسلمان جو قریب میں ہی حکومت اپنے ہاتھ سے کھو چکے تھے انہوں نے اس تغیر کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ مگر افسوس کہ ہندو صاحبان نے تمدنی اور سیاسی برتری اور غلبہ کو کافی نہ سمجھا اور مسلمانوں کے مذہب پر دست اندازی کرنی شروع کی۔ شدھی اور سنگھٹن کا جال پھیلا کر اس بات کا اعلان کر دیا کہ ہندوستان میں ہندو ہی رہ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر مونجے، بھائی پرمانند اور سادر کر وغیرہ نے جو موجودہ ہندو حملہ کے لیڈر ہیں صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ یا مسلمان ہندو ہو جائیں یا ہم ان کو ہندوستان سے باہر نکال دیں گے۔ ہندوستان ہندوؤں کا ہے اور وہی اس میں رہ سکتے ہیں۔ اس مقصد کو کھلے طور پر پیش کر دیا گیا ہے۔ بعض سیاسی لیڈروں نے اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے لیکن وہ پردہ اس قدر باریک ہے
کہ حقیقت ظاہر ہو رہی ہے۔ تبلیغ جو اشاعت مذہب کا ایک مقدس فرض تھا ایک سیاسی آلہ کار بنا لیا گیا ہے۔ ملک کے تمام گوشوں میں بیواؤں، یتیموں اور غریب و بے کس لوگوں کو ورغلا کر ہندو بنایا جا رہا ہے۔ مسلمان بادشاہوں کے بناوٹی مظالم سنا سنا کر نو مسلم قوموں کی قومی غیرت بھڑکائی جاتی ہے اور انہیں پھر ہندو بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہندوؤں کے مقروض مسلمانوں پر ساہو کاروں کا دباؤ ڈال کر انہیں اسلام سے پھرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ چماروں اور چوہڑوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ اگر وہ مسلمانوں سے چھوت شروع کر دیں تو ان کو ساتھ ملا لیا جائے گا۔ گویا دنیا کے پردہ پر سب سے زیادہ گندی قوم مسلمان ہے۔ غرض مختلف قسم کی تدابیر سے جن میں سے بیشتر حصہ ناجائز ہے ہندو مذہب کی اشاعت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مسلمانوں کا کوئی حق نہیں کہ وہ ہندوؤں کی اس جائز جدوجہد کے خلاف کوشش کریں جو وہ اپنے مذہب کے پھیلانے کے لئے کر رہے ہیں۔ بلکہ میرے نزدیک تو جو ناجائز کوشش کی جاتی ہے اس کے خلاف آواز اُٹھانے کا بھی کوئی حق نہیں۔ کیونکہ ضروری نہیں کہ ہمارے نقطۂ نگاہ کو ہر اک شخص تسلیم کرے۔ ہندو آزاد ہیں کہ جس امر کو وہ جائز سمجھتے ہیں اس کے مطابق عمل کریں۔ ہم انہیں ان کے عمل کی برائی کی طرف توجہ دلا سکتے ہیں مگر ہمارا یہ حق نہیں کہ ان کو مجبور کریں کہ جس طرح ہم سمجھتے ہیں اسی طرح وہ عمل کریں۔ کیونکہ یہ جبر ہو گا اور جبر اسلام میں جائز نہیں ہے۔ مگر اب جبکہ یوپی، بہار، سی پی وغیرہ صوبہ جات میں جہاں ہندو اثر غالب ہے مسلمان مرتد ہو رہے ہیں اور لاکھوں دیہاتی مسلمان خاندان اور شہر کے کمزور مسلمانوں کو رفتہ رفتہ ہندو تمدن کے زیر اثر لایا جا رہا ہے تاکہ آگے چل کر ان کو بآسانی مرتد کیا جا سکے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے۔ موجودہ حالت کو دیکھ کر ہر اک مسلمان سمجھ رہا ہے کہ اگر جلد اس رو کو روکا نہ گیا بلکہ اس کے مقابلہ میں ہندوؤں میں تبلیغ اسلام کا سلسلہ جاری نہ کیا گیا تو تھوڑے ہی دنوں میں مسلمانوں کی تعداد بہت ہی کم ہو جائے گی۔ اور پیارا اسلام جس نے آٹھ سو سال عزت سے اس ملک میں بسر کئے تھے ایک گمنام بے وطن کی طرح اس ملک سے نکلنے پر مجبور ہو گا۔ لیکن ہر اک مسلمان جبکہ اس درد کو محسوس کر رہا ہے وہ یہ نہیں جانتا کہ وہ کس طرح اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کر سکتا ہے۔ وہ اگر ایک کاروباری آدمی ہے تو جب وہ مسلمانوں کا ارتداد یا مذہبی و تمدنی و تعلیمی مشکلات کا حال سنتا ہے تو وہ خیال کرتا ہے۔ کہ کاش! میں آزاد ہوتا۔ ملازم یا تاجر یا پیشہ ور نہ ہوتا تو اس علاقہ میں جا کر اپنے بھولے بھٹکے بھائیوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا۔ اگر وہ دینی علوم سے ناواقف ہوتا ہے تو خیال کرتا ہے کہ کاش!
میں دین کی تعلیم سے اچھی طرح واقف ہوتا تو تبلیغ میں حصہ لیتا۔ اگر وہ لیکچر دینے کا عادی نہیں تو وہ خیال کرتا ہے کہ اگر مجھے لیکچر دینے کی عادت ہوتی تو میں ایسے دھواں دھار لیکچر دیتا کہ ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک آگ لگا دیتا۔ اگر وہ مصنف نہیں تو حسرت کرتا ہے کہ اگر میں مصنف ہوتا تو دشمنانِ اسلام کو ایسے دندان شکن جواب دیتا کہ پھر انہیں اسلام پر حملہ کرنے کی جرأت نہ رہتی۔ غرض قسم قسم کے خیالات اس کے دل میں آتے ہیں اور پیچ و تاب کھا کر رہ جاتا ہے۔ اس کی ساری قربانی جو وہ اسلام کے لئے کرتا یا کر سکتا ہے، اس کی ساری خدمت جو وہ ہدیہ کے طور پر اپنے رب کے حضور میں پیش کرتا یا کر سکتا ہے ایک سرد آہ ہوتی ہے کہ وہ بھی فرطِ یاس سے منہ تک آتے آتے رہ جاتی ہے۔ اسلام کا درد رکھنے والے کی وہ گھڑیاں کچھ عجیب رقت خیز گھڑیاں ہوتی ہیں۔ اس کا اپنے جی ہی جی میں تڑپ تڑپ کر رہ جانا، اس کا اندر اندر ہی اپنے ہی غضب میں جل بجھ کر رہ جانا خود ایک تکلیف دہ قربانی ہوتا ہے مگر اس سے اسلام اور مسلمانوں کو کیا فائدہ؟
اے اسلام کا درد رکھنے والے انسانو! میں آپ لوگوں کی اس حالت کو اپنی باطنی نظر سے دیکھتا ہوں اور آپ کی یہ کرب کی گھڑیاں میری روحانی آنکھوں کے سامنے ہیں اور اسی لئے میں نے اس وقت قلم اٹھایا ہے تاکہ میں آپ لوگوں کو یہ بتاؤں کہ آپ کے لئے خدمت کے بہت سے راستے کھلے ہیں۔ آپ اپنے گھر بیٹھے اور اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کر سکتے ہیں اور انہیں دشمنوں کے حملہ سے بچا سکتے ہیں۔
پیشتر اس کے کہ میں یہ بتاؤں کہ آپ اس وقت اسلام اور مسلمانوں کی کیا خدمت کر سکتے ہیں میں یہ بتانا چاہتا ہوں۔ کہ موجودہ فتنۂ ارتداد کی وجہ کیا ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر آپ اچھی طرح نہیں سمجھ سکیں گے کہ آپ اسلام کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔ میں نے اس فتنۂ ارتداد کے مختلف پہلوؤں پر نظر کر کے اس حقیقت کو پا لیا ہے جو اس فتنہ کے نیچے مخفی ہے وہ ہمہ گیر تنزل ہے۔ جو مسلمانوں کی عام حالت میں رونما ہو رہا ہے۔ مذہب اسلام سے نہ پہلے کوئی بیزار ہوا نہ اب بیزار ہوتا ہے۔ اس فتنہ کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے آج ترقیات کے تمام راستے بند ہیں اور وہ جہالت اور جمود کی انتہائی گہرائیوں میں گرے ہوئے ہیں۔ علم میں وہ اپنی ہمسایہ قوموں سے پیچھے ہیں، تجارت میں وہ پیچھے ہیں، صنعت و حرفت میں وہ پیچھے ہیں، ملازمتوں میں وہ پیچھے ہیں، صرافی میں وہ پیچھے ہیں۔ اور نہ صرف وہ ان امور میں دوسری قوموں سے پیچھے ہیں بلکہ اکثر شعبہ ہائے زندگی میں ان کے آگے بڑھنے کا راستہ بھی مسدود ہے۔ ہمسایہ
قوم ان کے راستہ میں کھڑی ہے اور یہ نیت کر کے کھڑی ہے کہ ہم کسی کو آگے نہیں بڑھنے دیں گے۔ ہر طرف سے ترقی کے راستے بند ہونے کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کی تربیت میں بھی نقص آگیا ہے۔ زندگی کے مختلف پہلوؤں کا چونکہ انہیں تجربہ نہیں رہا ان میں مایوسی، گھبراہٹ، جلد بازی، عدمِ رواداری، بے استقلالی اور اسی قسم کے بیسیوں عیوب پیدا ہوگئے۔ ان میں سے سینکڑوں یہ خیال کرنے لگ گئے ہیں کہ اگر اسلام سچا ہوتا تو مسلمان اس حالت کو کیوں پہنچتے اور ہندو اسقدر ترقی کیوں کرتے۔ غرضیکہ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی پوری پوری تصدیق ہو رہی ہے کہ كَادَ الْفَقْرُ اَنْ يَّكُوْنَ كُفْرًا۔لے غربت بھی ترقی کرتے کرتے کفر کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ پس اس فتنہ کا مقابلہ جس طرح کہ مذہبی ذرائع سے کیا جانا ضروری ہے۔ سیاسی اور تمدنی ذرائع سے بھی اس کا مقابلہ ہونا ضروری ہے اور آج جو شخص ایک انگلی بھی ان ذرائع کے مہیا کرنے کے لئے اٹھاتا ہے وہ اسلام کی حفاظت میں اپنی خدمت کے مطابق حصہ لیتا ہے۔
ان تمہیدی فقرات سے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ آپ خواہ کسی شعبۂ زندگی میں حصہ لے رہے ہیں آپ اسلام کی خدمت اپنے دائرہ میں خوب اچھی طرح کرسکتے ہیں۔ اور اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ مندرجہ ذیل امور میں سے سب میں یا بعض یا کسی ایک میں حصہ لے کر آپ اسلام کی خدمت میں حصہ لے سکتے ہیں۔
(۱) اگر آپ مسلمانوں کی تمدنی حالت درست کرنے میں مدد دے سکتے ہیں اور کسی محکمہ میں مسلمانوں کی ملازمت کا انتظام کرسکتے ہیں۔ تو آپ آج سے اقرار کرلیں کہ جہاں تک آپ کے اختیار میں ہوگا آپ جائز طور پر مسلمانوں کی بیکاری کو دُور کرنے میں مدد دیں گے اور اپنے اس ارادہ سے صیغہ ترقی اسلام قادیان ضلع گورداسپور کو اطلاع دیں گے جسے اس کام کے لئے میں نے مقرر کیا ہے۔
(۲) اس انجمن کے مراکز۔ کام کی زیادتی کے ساتھ اِنْشَاءَ اللہ ہر صوبہ میں قائم کئے جائیں گے۔
(۳) چونکہ کئی مسلمان مسلمانوں کی ضرورت کو پورا کرنے کا ارادہ تو رکھتے ہیں لیکن انہیں مناسب آدمیوں کا علم نہیں ہوتا اس لئے آپ کو اگر ایسے مسلمانوں کا علم ہو جو کسی قسم کے روزگار کے متلاشی ہیں تو ان لوگوں کو تحریک کریں کہ وہ اپنے نام سے صیغہ ترقی اسلام کو جسے موجودہ فتنہ کے دُور کرنے کے لئے میں نے قائم کیا ہے اطلاع دیں۔ یہ بھی آپ کی ایک اسلامی خدمت ہوگی۔ یہ صیغہ ہر جگہ تحریک کر کے مسلمانوں کی بیکاری کے دُور کرنے کی کوشش کرے گا۔
(۴) اگر آپ پیشہ ور ہیں۔ اور آپ کے نزدیک آپ کے پیشہ کے ذریعہ سے ملک کے مختلف گوشوں میں انسان روزی کما سکتا ہے۔ تو آپ یہ ارادہ کر لیں کہ آپ مسلمان مستحقین کو اپنا پیشہ سکھا کر انہیں کام کے قابل بنانے کی ہر سعی کو استعمال کریں گے۔ اور اس ارادہ سے صیغہ ترقی اسلام کو اطلاع دیں۔
(۵) چونکہ بہت سے لوگ اپنے پیشے سکھانا چاہتے ہیں لیکن مستحق آدمیوں کا ان کو علم نہیں ہوتا اس لئے اگر آپ پیشہ سکھا نہیں سکتے مگر آپ کو ایسے نوجوانوں کا حال معلوم ہے۔ جو مناسب پیشہ نہ جاننے کے سبب سے بیکار ہیں تو ایسے نوجوانوں کے نام سے صیغہ ترقی اسلام کو اطلاع دیں۔ یہ بھی آپ کی اسلامی خدمت ہو گی۔
(۶) مسلمان ہر جگہ پر ظلم کا شکار ہو رہے ہیں۔ اگر آپ صاحب رسوخ ہیں اور اسلام کی خدمت کا درد اپنے دل میں رکھتے ہیں تو آپ آج سے ارادہ کر لیں کہ مسلمان مظلوموں کی مدد کے لئے آپ حتی الوسع تیار رہیں گے۔ اور اپنے ارادہ اور پتہ سے مذکورہ بالا صیغہ کو اطلاع دیں تا جو کام آپ کے مناسب حال ہو اس سے آپ کو اطلاع دی جائے۔
(۷) اگر آپ یہ نہیں کر سکتے۔ تو یہ بھی آپ کی اسلامی خدمت ہو گی کہ آپ ایسے مظلوموں کے ناموں اور پتوں سے صیغہ مذکورہ بالا کو اطلاع دیں تا جہاں تک اس کے امکان میں ہو اصلاح کی کوشش کرے۔
(۸) اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اقتصادیات کا علم دیا ہے اور ذہنِ رسا عطا کیا ہے اور آپ کو بعض ایسے کام اور پیشے معلوم ہیں جن میں مسلمان ترقی کر سکتے ہیں تو اس کے متعلق صیغہ مذکور کو تفصیلی علم دیں تا اگر اس کے نزدیک وہ کام یا پیشہ مسلمانوں کے لئے مفید ہوں تو وہ ان کی طرف انہیں توجہ دلائے۔
(۹) اگر آپ کو بعض ایسے محکموں کا حال معلوم ہو جن میں مسلمان کم ہیں اور ان کی طرف توجہ مسلمانوں کے لئے مفید ہے تو ان سے صیغہ مذکورہ کو اطلاع دیتے رہیں۔ یہ بھی ایک اسلامی خدمت ہے۔
(۱۰) اگر آپ بارسوخ آدمی ہیں اور اپنے علاقہ کے حُکّام پر اثر رکھتے ہیں تو آپ اپنا نام اس غرض کے لئے پیش کر سکتے ہیں کہ اگر اس علاقہ کے مسلمانوں کی کسی ضرورت کے لئے کسی ڈیپوٹیشن کی ضرورت ہو تو اس میں شامل ہونے کے لئے بشرطیکہ آپ کے حالات اجازت دیں تیار ہیں۔
(۱۱) بعض تعلیمی صیغے ایسے ہیں کہ ان کی طرف توجہ مسلمانوں کے آئندہ مفاد کے لئے از حد ضروری ہے۔ پس اگر آپ پروفیسر ہیں یا تعلیم کے کام سے دلچسپی رکھتے ہیں تو ایسے تعلیمی شعبوں سے صیغہ مذکورہ کو اطلاع دیتے رہا کریں جن میں مسلمان کم ہیں اور جن میں شمولیت مسلمانوں کے لئے مفید ہے اور خود بھی مسلمان طالب علموں کو تحریک کرتے رہیں کہ وہ ان شعبوں میں داخل ہوں تا آئندہ اسلامی کام میں مفید ہو سکیں۔
(۱۲) اگر آپ کو خدا تعالیٰ نے آسودگی دی ہے اور اولاد عطا کی ہے اور اسلام کی خدمت کا شوق دیا ہے تو اندھا دھند پرانی لکیر پر چل کر ایک ہی لائن پر اپنے بچوں کو نہ چلائیں بلکہ اپنے بچہ کو اعلیٰ تعلیم دلانے سے پہلے اپنے احباب سے مشورہ کر لیں کہ کس تعلیم سے نہ صرف بچہ ترقی کر سکتا ہے بلکہ مسلمانوں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ صیغہ مذکورہ بالا کو اطلاع دینے پر وہ بھی ہر قسم کا مشورہ دینے کے لئے تیار رہے گا۔ اگر اس کا مشورہ آپ کو مفید نظر آئے تو اس پر آپ عمل کر سکتے ہیں۔
(۱۳) آپ اس طرح بھی اسلام کی خدمت کر سکتے ہیں کہ خود بھی سادہ زندگی کو اختیار کریں اور اپنے بچوں کو بھی سادہ زندگی اختیار کرنے کی تحریک کریں۔ سادہ زندگی قربانی کی روح اور جرأت پیدا کرتی ہے جس کی قومی ترقی کے لئے ازحد ضرورت ہے۔
(۱۴) اگر آپ کو خدا تعالیٰ نے عزت دی ہے تو غرباء سے اور اگر آپ شہری ہیں دیہاتیوں سے تعلق بڑھائیں تا اسلامی برادری کا احساس قلوب میں پیدا ہو اور اس کا چھوڑنا طبائع پر گراں گزرے۔
(۱۵) اگر آپ کو توفیق ملے تو تعاون باہمی کی انجمنیں اپنے علاقوں میں قائم کریں۔ لیکن اس کے لئے بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ ذرا سی بددیانتی بلکہ غفلت سے بھی اس قسم کی انجمنیں بجائے فائدہ دینے کے ضرر رساں ہو جاتی ہیں اور بُغض اور عداوت پیدا ہو جاتی ہے۔
(۱۶) ہندو مسلمانوں سے چھوت کرتے ہیں اور کھانے کی چیزیں ان سے نہیں خریدتے نہ ان کے پکے ہوئے کھانے کھاتے ہیں۔ اس کا یہ نقصان ہو رہا ہے کہ:۔
(i) نو مسلم اقوام چونکہ چھوت کرنے والے کو بڑا خیال کرتی آئی ہیں وہ مسلمانوں کو اس سلوک پر راضی دیکھ کر یہ خیال کرتی ہیں کہ مسلمان اپنے آپ کو ہندوؤں سے ادنیٰ سمجھتے ہیں اور اس خیال کی وجہ سے وہ ہندوؤں کی طرف جانے کو پسند کرتی ہیں۔
(ii) کروڑوں روپیہ سالانہ مسلمانوں کے گھروں سے غیروں کے ہاں جاتا ہے جس کی واپسی کی کوئی صورت نہیں کیونکہ ہندو ان چیزوں کو مسلمانوں سے نہیں خریدتے۔ پس آپ آج سے عہد کرلیں کہ کسی ایسے شخص کی پکی ہوئی یا اس کے ہاتھ کی چھوئی ہوئی چیز کا استعمال نہیں کرنا جب تک کہ وہ اپنی روش کو بدل کر مسلمانوں سے خریدنا اور ان کے ہاتھوں کا کھانا نہ شروع کردیں۔ اس طرح کروڑوں روپیہ مسلمانوں کا بچ جائے گا۔
(iii) ہزاروں لاکھو ں نومسلم ارتداد سے محفوظ ہو جائیں گے۔
(iv) ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کو کام مل جائے گا۔ ہندو صاحبان اس کا نام بائیکاٹ رکھتے ہیں، اسے فساد کہتے ہیں مگر یہ رائے ان کی غلط ہے۔ اگر یہ بائیکاٹ اور فساد ہے تو وہ اتنے عرصہ سے کیوں اس بائیکاٹ کو رائج اور اس فساد کو کھڑا کرتے آئے ہیں۔ آج مسلمانوں کی اقتصادی ترقی کا راز اس چھوت کے مسئلہ میں مخفی ہے۔ ہر ایک جو اس کو نظر انداز کرتا ہے وہ قومی غدار یا قومی ضروریات سے غافل ہے۔ میں نے آج سے قریباً ۱۵؍ سال پہلے سے اس آواز کو اُٹھایا ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اس طرف توجہ کے ساتھ ہی مسلمان اقتصادی آزادی کا سانس لینے لگیں گے۔ اس لئے ضروری ہے کہ آپ تمام مسلمانوں کو بار بار تحریک کرتے رہیں اور اس کے متعلق لیکچر کراتے رہیں۔ ضرورت کے وقت آپ صیغہ ترقی اسلام سے مدد لے سکتے ہیں۔ اور آپ کی طرف سے اطلاع آنے پر لیکچرار بھیجے جاسکتے ہیں۔
(۱۷) مسلمانوں کو اس امر کی بار بار تحریک کرنی چاہئے کہ وہ وقتی طور پر اپنے جوش کا اظہار کرنے کی بجائے استقلال سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔ ہر ایک فساد جو پیدا ہوتا ہے وہ اسلام کو مادی اور روحانی طور پر کمزور کردیتا ہے۔ پس فساد سے بچنے اور مستقل ارادہ سے کام کرنے کی طرف آپ اپنے گرد و پیش کے لوگوں کو تحریک کرتے رہیں۔
اس وقت تک میں نے دُنیوی تدابیر بتائی ہیں۔ اور ان کو پہلے بیان کرنے کی یہ وجہ نہیں کہ وہ زیادہ اہم ہیں بلکہ یہ کہ اس وقت ملک کی حالت ایسی ہو رہی ہے کہ لوگ دین کی بات فوراً سُننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ پس میں نے چاہا کہ جو لوگ دین سے بے پروا ہیں وہ بھی اس طرف متوجہ ہو جائیں۔ دینی کاموں میں سے مفصلہ ذیل آپ کرسکتے ہیں۔
(۱۸) آپ کے محلہ اور آپ کے گاؤں میں ایسے لوگ ہیں جن کو ہندو تہذیب نے ہزاروں سالوں سے غلام بنا رکھا ہے۔ چونکہ ہندو کہتے ہیں کہ ان کا مذہب کروڑوں سال سے ہے اس صورت میں یہ اقوام کروڑوں سال سے جانوروں سے بدتر سلوک برداشت کرتی چلی آئی ہیں۔ ان کی ہدایت کی طرف توجہ کریں۔ اور اگر یہ نہیں تو جس جگہ کوشش کرنا آپ کے نزدیک مفید نتائج پیدا کرسکتا ہے اس کی اطلاع فوراً صیغہ ترقی اسلام کو بھیج دیں تا وہ حتی المقدور اس کام کو بجالانے کی کوشش کرے۔
(۱۹) مسلمانوں کو بیدار کرنے کے لئے چونکہ وقتاً فوقتاً اشتہارات کی تقسیم کی ضرورت رہتی ہے۔ اگر آپ اپنے پتہ سے اطلاع دیں اور اس خدمت کو اپنے ذمہ لیں کہ آپ مرسلہ اشتہارات کو مناسب موقعوں پر اپنے شہر یا محلہ میں لگادیں گے تو یہ بھی ایک دینی خدمت ہے۔
(۲۰) چونکہ اس قدر عظیم الشان کام بغیر عام تربیت کے نہیں ہو سکتا۔ اگر آپ چاہیں اور آپ کے لئے ممکن ہو تو ایک خدمت آپ اس وقت یہ کرسکتے ہیں کہ اس لٹریچر کو منگوا کر جو اس وقت کی ضرورت کے مطابق شائع کرایا جائے گا اپنے علاقہ میں فروخت کریں۔ صیغہ ترقی اسلام نہایت چھوٹے چھوٹے ٹریکٹ موجودہ ٹریکٹ کے سائز کے شائع کراتا رہے گا جو سستے داموں پر دیئے جائیں گے۔ ان کو اگر آپ مناسب قیمت پر اپنے علاقہ میں فروخت کریں تو آپ فائدہ بھی اُٹھا سکتے ہیں اور خدمتِ اسلام بھی کر سکتے ہیں۔
(۲۱) اگر آپ کے قصبہ اور شہر میں کوئی اسلامی انجمن ایسی نہیں جو تبلیغی کام میں حصہ لے رہی ہو تو آپ ایسی انجمن کو قائم کر کے دینی خدمت کر سکتے ہیں۔ انجمن کے قیام کے لئے صحیح مشورہ دینے یا بعد میں اس کے جلسوں پر لیکچر دینے کے لئے صیغہ ترقی اسلام کو لکھنے پر جہاں تک ممکن ہوگا آپ کی مد دلیکچرار بھیج کر کی جائے گی۔
(۲۲) ہندو لوگ ہر علاقہ میں خفیہ خفیہ ارتداد کی تحریک جاری کر رہے ہیں۔ آپ ایک بہت بڑی اسلامی خدمت کریں گے اگر آپ ان کی حرکات کو تاڑتے رہیں اور جس وقت اپنے علاقہ کے متعلق یا کسی خاص شخص کے متعلق ذرا سا بھی شبہ پڑے تو صیغہ ترقی اسلام کو اطلاع دیں تا فوراً اس کے تدارک کی کوشش کی جائے۔
(۲۳) بیواؤں، مظلوم عورتوں اور یتیموں کو آریہ اور مسیحی خصوصاً بہکا رہے ہیں۔ آپ ایک بڑی خدمت اسلام کریں گے اگر ان کے حالات پر نگاہ رکھیں اور ان کی مدد اور ہمدردی کریں اور دوسروں کو بھی اس کی تحریک کریں۔
(۲۴) اگر آپ کو شوقِ تبلیغ ہے اور آپ عربی کی تعلیم رکھتے ہیں یا کم سے کم انٹرنس تک تعلیم یافتہ ہیں تو ہم بڑی خوشی سے آپ کی مذہبی تعلیم کا انتظام کرنے کے لئے تیار ہیں۔ تبلیغی کام کے لئے تین ماہ سے چھ ماہ تک کا عرصہ کافی ہو گا۔ اگر اتنے عرصہ کے لئے آپ فرصت نکال کر دینی تعلیم حاصل کر لیں تو اس طرح آپ اپنے طور پر تبلیغ اسلام کے لئے بہت مفید ہو سکیں گے۔
(۲۵) اگر آپ کے ہاں پہلے سے انجمن قائم ہے۔ تو آپ تبلیغی لیکچروں یا مباحثوں کا انتظام کر کے خدمتِ اسلام کر سکتے ہیں۔ اطلاع ملنے پر مذکورہ بالا صیغہ آپ کی ہر طرح مدد کرے گا۔
(۲۶) آپ مسلمانوں کی دینی تعلیم کے لئے ایسے لیکچروں کا انتظام کر کے بھی جن میں اسلامی تعلیم کی خوبیاں بیان کی جائیں اسلام کی خدمت کر سکتے ہیں۔ اطلاع ملنے پر صیغہ مذکورہ آپ کی مدد کرے گا۔
(۲۷) آپ دین کی خدمت کے لئے اپنے اموال میں سے ایک حصہ الگ کر کے دینِ اسلام کی مدد کر سکتے ہیں۔ اس رقم کو جہاں آپ مناسب سمجھیں اور جسے آپ سمجھیں کہ اسلام کی خدمت کر رہا ہے اور دیانت داری سے اسلام کی خدمت کر رہا ہے دے سکتے ہیں۔ لیکن کچھ نہ کچھ مالی امداد اس وقت اپنی حیثیت کے مطابق ضرور کریں۔
(۲۸) آپ مسلمانوں میں یہ خیال پیدا کر کے کہ آپس میں گو ہمارے کس قدر اختلاف ہوں لیکن دشمنانِ اسلام کے مقابلہ میں ہمیں ایک ہو جانا چاہئے اور اسلام کے محافظوں کو اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے والوں کو بہرحال اسلام کے دشمنوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والوں پر فضیلت دینی چاہئے اور اسلام کی خدمت کے وقت ان کی پیٹھ میں خنجر نہیں گھونپنا چاہئے۔ ایک بہت بڑی خدمتِ اسلام کر سکتے ہیں۔
(۲۹) آپ مسلمان زمینداروں میں یہ خیال پیدا کر کے کہ وہ اپنے علاقوں کی ادنیٰ اقوام کو مسلمان بنانے میں مبلغینِ اسلام کی مدد کریں خدمتِ اسلام میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اس وقت بہت سے مسلمان زمیندار ادنیٰ اقوام کی تبلیغ میں اس لئے روک بنتے ہیں کہ مسلمان ہو کر یہ ہمارے کام چھوڑ دیں گے۔ یہ ایک وسوسہ ہے۔ انہیں بتانا چاہئے کہ اگر یہ مسلمان نہ بنیں گے تو نہ صرف کام چھوڑیں گے بلکہ دشمنوں سے مل کر اُن کا مقابلہ کریں گے۔
(۳۰) آپ ایک بہت بڑی دینی خدمت کریں گے اگر مسلمانوں کو ہر موقع پر اس خطرہ سے آگاہ کرتے رہیں جو اس وقت اسلام کو پیش آ رہا ہے۔
(۳۱) آپ کی خدمت اور بھی بڑھ جائے گی اگر آپ ایسے لوگوں کے ناموں اور پتوں سے صیغہ مذکورہ بالا کو اطلاع دیتے رہا کریں جو کسی نہ کسی رنگ میں خدمت اسلام میں حصہ لینے کے لئے تیار ہوں۔
(۳۲) اگر آپ ان امور میں سے کسی امر کی تعیین کر سکتے ہوں تو کم سے کم اس قدر ضرور کریں کہ اپنی زندگی کو اسلام کی تعلیم کے مطابق بسر کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرح آپ اسلام کو اعتراض سے بچانے میں ہماری مدد کریں گے اور اللہ تعالیٰ آپ کو مزید ترقی کی توفیق دے گا۔
اگر آپ ان کاموں میں کسی ایک یا زیادہ کاموں کے کرنے کے لئے تیار ہیں تو بھی اور اگر کسی معین کام کے کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں لیکن یوں اس غرض اور مقصد سے دلچسپی رکھتے ہیں تو بھی ساتھ کے فارم پر دستخط کر کے اور اپنا پتہ لکھ کر مذکورہ بالا انجمن کے نام ارسال کر دیں تاکہ آپ کی خواہش پوری ہو اور اسلام کی خدمت میں آپ کو بھی حصہ ملے۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے آپ سُستی سے کام نہ لیں گے اور خود بھی اس تحریک میں شامل ہوں گے اور دوسروں کو بھی شامل کرنے کی تحریک کریں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور آپ کا مددگار ہو۔ وقت نازک ہے اور حالات دم بدم بدل رہے ہیں۔ ایک ایک منٹ کی دیر خطرناک ہے۔ آپ سوچ لیں کہ کیا آپ سپین کی طرح اسلام اور مسلمانوں کا نام ہندوستان سے مٹ جانے پر راضی ہیں۔ اگر نہیں تو پھر اس جدوجہد کے لئے تیار ہو جائیں جو آپ کی ساری قوتوں کو اپنی طرف مشغول کرے۔ ایک زبردست اور منظم قوم کا آپ نے مقابلہ کرنا ہے اور بغیر اعلیٰ درجہ کے نظام کے آپ اس کام میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ ساتھ کے فارم پر دستخط کرنے سے آپ پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ جب آپ سے کوئی تحریک کی جائے گی تو آپ آزاد ہوں گے کہ اپنے حالات کے مطابق جو راہ چاہیں اختیار کریں۔ وَ اٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ خاکسار میرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ قادیان دارالامان (الفضل ۱۷، ۲۳؍ مئی ۱۹۲۷ء)
از سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ؕ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ — هُوَالنَّاصِرُ
(رقم فرمودہ مؤرخہ ۵؍ مئی ۱۹۲۷ء)
آج اسلام کی جو حالت ہے وہ مسلمانوں کی نظر سے پوشیدہ نہیں۔ ایک طرف ہندوستان کو مسیحیت کھاتی چلی جاتی ہے تو دوسری طرف ہندو مت۔ حکومت پہلے ہی مسلمانوں کے ہاتھوں سے جا چکی ہے مگر اب وہ غلامی کے بھی نا قابل سمجھے گئے ہیں۔ ارتداد یا اخراج دو صورتیں ہندو صاحبان کی طرف سے مسلمانوں کے سامنے پیش کی گئی ہیں اور علی الاعلان کہا جاتا ہے کہ ان دونوں صورتوں میں سے ایک نہ ایک ان کو قبول کرنی ہو گی یا مرتد ہو کر توحید کی پاک تعلیم کو چھوڑ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات باکمال سے تعلق محبت کو توڑ کر ہزاروں بتوں کا بندہ بننا ہو گا اور نا معلوم الاسم رشیوں کے دامن سے وابستگی کرنی ہو گی یا اس ملک سے جس میں وہ ہزاروں سال سے آباد ہیں (اکثر مسلمان ہندوستان کے قدیم باشندوں میں سے ہیں) ہمیشہ کے لئے نکل جانا ہو گا اور ہندوستان کو ہندو مذہب کے پیروؤں کے لئے خالی کر دینا ہو گا۔
کیا مسلمان ان دونوں صورتوں میں سے کسی ایک صورت کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں؟ کیا وہ ارتداد اختیار کر سکتے ہیں یا کیا وہ سات کروڑ کی مسلمان آبادی کو کسی اور جگہ جا کر بسا سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو کیا انہوں نے اس امر پر غور کیا ہے کہ ان مصائب سے بچنے کے لئے انہیں کیا کچھ کرنا چاہئے۔ ریزولیوشن خواہ کس قدر اخلاص سے پاس کئے جائیں ان سے کچھ نہیں بن سکتا۔ دھمکیاں خواہ کس قدر جوش سے دی جائیں ان سے کچھ نہیں بن سکتا۔ گالیاں خواہ کس قدر غصہ سے دی جائیں ان سے کچھ بن نہیں سکتا۔ یہ واقعہ کہ ہر ایک ہندو مسلمانوں کو ہندو بنانے کے لئے تیار ہے
ایک نہ پوشیدہ ہو سکنے والی صداقت کی صورت میں ہمارے سامنے ہے اور کوئی مسلمان اس کا انکار نہیں کر سکتا۔ وہ دن گئے جب ہم سمجھتے تھے کہ ہندو مذہب دوسروں کو اپنے اندر شامل نہیں کرتا۔ آج ہندوستان کے گوشہ گوشہ سے شدھی کی آواز آ رہی ہے۔ کونہ کونہ سے سنگٹھن کی پکار اٹھ رہی ہے۔ اور شدھی کیا ہے؟ صرف اسلام کو مٹا کر اس کی جگہ ہندو مذہب کو قائم کرنے کا نام ہے اور سنگٹھن کیا ہے؟ صرف اس کوشش کو ایک انتظام اور تدبیر کے ساتھ کرنے کا ذریعہ ہے۔ ان تدابیر کا نتیجہ یہ ہے کہ آج مسلمان اس قدر کمزور ہو رہے ہیں کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوئے تھے۔ ہزاروں آدمی جو آج سے چند ماہ پہلے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنا اپنے لئے نجات کا موجب سمجھتے تھے آج پتھر کے بتوں کے آگے جھکنا فخر خیال کرتے ہیں۔ اور ہزاروں آدمی جو آج سے چند ماہ پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا اپنی زندگی کے بہترین اعمال میں سے تصور کرتے تھے آج آپؐ کو گالیاں دینا ثواب کا کام سمجھ رہے ہیں۔ پنجاب میں کیا، سندھ میں کیا، یوپی میں کیا اور بنگال میں کیا ہزاروں کی تعداد میں کلمہ گو اسلام سے الگ ہو کر ہندوؤں میں جاملے ہیں اور آج ہر ایک میدان مسلمانوں کے لئے کربلا بن رہا ہے۔؎
ہر طرف کفر است جوشاں ہمچو افواجِ یزید
دینِ حق بیمار و بے کس ہمچو زین العابدین
اس تحریک کے اثر کے نیچے کئی گھر برباد ہو گئے ہیں۔ بچے ماؤں سے اور بیویاں خاوندوں سے جدا کر دی گئی ہیں۔ ان گھروں کی چیخ و پکار جو اپنی عورتوں اور بچوں کو دین اسلام کی خدمت کے لئے تیار کرنے کی خواہش رکھتے تھے لیکن جن کی عورتیں مندروں میں اور لڑکے گروکلوں میں جا داخل ہوئے ہیں پتھر سے پتھر دل کو بھی موم کر رہی ہے۔ اور اگر یہی حالت دیر تک قائم رہی تو اسلام کا نام اسی طرح ہندوستان سے مٹ جائے گا جس طرح کہ وہ سپین سے مٹ گیا تھا۔ اسلام کے دشمن ہیں وہ لوگ جو ان حالات کو دیکھ کر بھی بیدار نہیں ہوتے اور جاہل ہیں وہ اشخاص جو اس حالت کو مشاہدہ کرتے ہوئے بھی مسلمانوں کو تھپک تھپک کر سلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آج مسلمان بیدار نہ ہوئے تو قیامت تک بیدار ہونے کا موقع نہ ملے گا۔ اور ایک دن آئے گا کہ ان کی آنکھیں اس حالت میں کھلیں گی کہ ہندوستان کے آسمان پر شرک کی گرد و غبار کے سوا کچھ نظر نہ آئے گا۔
بے شک بہت سے مسلمانوں کے دل میں درد ہے اور جلن ہے اور وہ اس حالت کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں لیکن غم اور غصہ سے بنتا کیا ہے۔ دشمن ہمارے ریزولیوشنوں کا سن کر اور جوش کو دیکھ کر ہنستا ہے اور سمجھتا ہے کہ میرا مقابلہ اس قوم سے ہے جسے صحیح جدوجہد کے طریق سے آگاہی بھی نہیں اس لئے میری فتح یقینی ہے۔ مسلمانوں کا جھنڈے لے کر جلوس نکالنا یا مسجد کے آگے باجے لے جانے پر لڑ پڑنا کیا فائدہ دے سکتا ہے۔ اگر ہر لڑائی میں برابر کے ہندو اور برابر کے مسلمان مارے جائیں۔ نہیں نہیں۔ اگر ایک ایک مسلمان کے مقابلہ میں دو دو ہندو بھی مارے جائیں تو کیا بنے گا۔ یہی کہ سب مسلمانوں کا خاتمہ ہو جانے پر ہندو ہی ہندوستان پر قابض رہیں گے کیونکہ ایک ایک مسلمان کے مقابلہ میں چار چار ہندو ہیں۔ مگر سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ اسلام لڑائیوں اور فساد سے روکتا ہے۔ ہم ان طریقوں سے اسلام کی خدمت کس طرح کرسکتے ہیں کہ جو اسلام کی تعلیم کے خلاف ہیں۔ اگر ہم خود بھی اسلام کی تعلیم کے خلاف عمل کر رہے ہیں تو دوسروں پر ہماری باتوں کا کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ پس ان طریقوں سے بچنا چاہئے کہ یہ طریقے اسلام کی تعلیم کے خلاف بھی ہیں اور بے فائدہ بھی ہیں۔ ہندوستان میں اسلام کو امن جبھی نصیب ہو سکتا ہے اگر ایک طرف تو موجودہ مسلمانوں کی تربیت کی جائے اور دوسری طرف ہندوؤں کو مسلمان بنایا جائے اسلام نے مسلمانوں کی ترقی کا راز ہی تبلیغ میں پوشیدہ رکھا ہے۔ اور مسلمانوں کی فضیلت ہی دعوۃ الی الخیر کو بتایا ہے۔ فرماتا ہے
کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَتَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ(3:111)؎ل تم سب سے اچھی امت ہو کیونکہ تمہیں خدا تعالیٰ نے دنیا کی بھلائی کے لئے پیدا کیا ہے۔ تم لوگوں کو نیک باتوں کی نصیحت کرتے اور بد باتوں سے روکتے ہو۔
پس اگر مسلمانوں کو امن نصیب ہو گا تو اسی طرح کہ وہ مسلمانوں کی تربیت کریں اور انہیں مرتد ہونے سے بچائیں اور سب سے پہلے ہندوستان کے دیگر مذاہب کے پیروؤں کو اپنے اندر شامل کرلیں۔ اسی ذریعہ سے ملک میں امن ہو گا اور اسی ذریعہ سے اسلام کو دنیا میں غلبہ نصیب ہو گا۔ پس چاہئے کہ آج سے ہر ایک مسلمان اس فرض کی ادائیگی کے لئے تیار ہو جائے۔ چند علماء اس کام کو ہرگز نہیں کرسکتے۔ اگر علماء پر اس بات کو رکھا گیا تو شکست یقینی ہے۔ فتنہ ہر جگہ رونما ہے اور اس کے لئے ایسی جدوجہد کی ضرورت ہے جو ہندوستان کے ہر گوشہ میں کی جائے۔ ایک باقاعدہ نظام کے ماتحت اگر ارتداد کو روکا نہ گیا اور دعوۃ اسلام نہ دی گئی تو کامیابی کی کوئی امید نہیں۔ پس اس امر کے لئے مسلمانوں کو تیار ہو جانا چاہئے۔
اے برادران! ذرا غور تو کرو کہ آپ کا ایک بچہ بیمار ہو جاتا ہے تو آپ اس کے لئے بے تاب ہو جاتے ہیں اور اس وقت تک صبر نہیں کرتے جب تک وہ اچھا نہ ہو جائے۔ تو کیا وجہ ہے کہ اسلام اس حالت کو پہنچ گیا ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ دوسرے مذاہب کو کھاتا تھا لوگ اسے
کھانے کی فکر میں ہیں آپ کے دل میں حرارت نہیں پیدا ہوتی۔ کیا ایک بچہ جتنی بھی آپ کو اسلام سے محبت نہیں رہی؟ کیا خدا تعالیٰ کے لئے آپ اس قدر قربانی بھی نہیں کر سکتے جس قدر کہ اپنے معمولی دوستوں کے لئے کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ یاد رکھو کہ آپ خدا تعالیٰ کے دین کی مدد کے لئے ایک قدم اُٹھائیں گے تو وہ آپ کی مدد کے لئے دو قدم اٹھائے گا اور آپ کے دل کو آخر کار اسی نورِ ایمان سے بھر دے گا جس سے کہ اس نے صحابہؓ کے دلوں کو بھر دیا تھا۔ وہ فرماتا ہے۔ وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا(29:70) جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم انہیں اپنے خاص راستوں پر چلا کر اپنے حضور میں لے آتے ہیں۔ پس یقین جانئے کہ اس فتنہ کو اللہ تعالیٰ نے آپ کی ہدایت کا ذریعہ بنایا ہے۔ اور وہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی پرانی دوستی کو آپ سے پھر تازہ کرے اور اپنے قرب کی راہیں آپ کے لئے پھر کھولے۔ پس اُٹھو اور خدمتِ اسلام کے لئے ایستادہ ہو جاؤ۔ اور اپنی اپنی جگہ پر دشمنانِ اسلام کے علمی مقابلہ کی تیاری کرنی شروع کر دو۔
میں یہ بھی اعلان کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالت کو مدِ نظر رکھ کر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جہاں کہیں بھی آریوں کے مقابلہ کی ضرورت ہو یا اسلام کی تائید میں لیکچر دلانے کی ضرورت ہو وہاں جلد سے جلد مبلغ بھیجے جائیں۔ پس تمام ہمدردانِ اسلام کو میں مطلع کرتا ہوں کہ جہاں کہیں بھی دیگر مذاہب کی طرف سے اسلام کے خلاف زہر اُگلا جاتا ہو یا جہاں کہیں بھی اسلام کی تعلیم سے واقف کر کے مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کی حقیقت پر آگاہ کرنا منظور ہو وہاں جلسہ کا انتظام کر کے صیغہ ترقی اسلام قادیان کو اطلاع دیں اِنْشَاءَ اللہ فوراً مبلغ بھیجے جائیں گے۔
جن ہمدردانِ اسلام کے دل میں اسلام کی خدمت کا شوق ہو اور وہ نہ جانتے ہوں کہ کس طرح اپنے گھر پر رہ کر اور اپنے کام میں مشغول رہ کر وہ خدمتِ اسلام میں حصہ لے سکتے ہیں ان کے لئے میں نے ایک رسالہ لکھا ہے ”آپ اسلام اور مسلمانوں کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟“ پس آپ کو چاہئے کہ فوراً محصول ڈاک دو پیسے کے ٹکٹ بھیج کر صیغہ ترقی اسلام سے یہ رسالہ مفت طلب کریں۔ اگر کوئی صاحب دو پیسے ڈاک کے لئے بھی خرچ نہ کرنا چاہیں یا ان میں اسقدر بھی توفیق نہ ہو تو ان کا خط ملنے پر انہیں رسالہ مفت اپنے پاس سے ٹکٹ لگا کر بھیج دیا جائے گا۔ یہ اعلان کر کے میں خدا تعالیٰ کے سامنے بری الذمہ ہوں۔ اگر اب بھی مسلمان نہ جاگے تو میں اس کے حضور عرض کروں گا کہ اے خدا! جو کچھ ہم سے ہو سکتا تھا ہم نے کیا۔ مگر وہ تیرے بندے بیدار نہ ہوئے۔ انہوں نے دولتِ اسلام کو اپنی آنکھوں سے لُٹتا ہوا دیکھا اور حرکت نہ کی۔ خدا اور رسول کی ہتک ہوتی ہوئی اپنے کانوں سے سنی لیکن ان کے دلوں میں غیرت نہ پیدا ہوئی۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ اسلام کی آواز بے جواب نہ جائے گی۔ اسلام سے محبت رکھنے والے چاروں طرف سے لَبَّیْک کہتے ہوئے آئیں گے اور دیوانہ وار اس کے جھنڈے کے گرد جمع ہو جائیں گے۔ تب خدا کی نصرت نازل ہو گی اور اس کی محبت جوش میں آئے گی۔ تاریک بادل چھٹ جائیں گے اور اس کے فضل کی شعاعیں دنیا کی تاریکی کو مٹا دیں گی۔ وَ اٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ قادیان ضلع گورداسپور۔ پنجاب ۵؍ مئی ۱۹۲۷ء (الفضل ۳۱؍ مئی ۱۹۲۷ء)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔ هُوَالنَّاصِرُ
(رقم فرمودہ مؤرخہ ۲۹؍مئی ۱۹۲۷ء)
مسیحی اور آریہ جس طرح سالہا سال سے بانیٔ اسلام عَلَیْہِ السَّلَامُ فَدَتْهُ نَفْسِیْ وَ اَھْلِیْ کے خلاف زہر اُگلتے چلے آرہے ہیں اسے وہ لوگ خوب اچھی طرح جانتے ہیں جو ان کی کُتب کے پڑھنے کے عادی ہیں۔ وہ کُتب اس قدر گندے الفاظ سے پُر ہیں کہ ایک مسلمان کے لئے ان کا پڑھنا ناممکن ہو جاتا ہے لیکن چونکہ مسلمان ان کُتب سے عام طور پر واقف نہیں ہوتے انہیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کُتب کے مصنّفین ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کس قسم کے خیالات کی اشاعت کر رہے ہیں اور اس وجہ سے ان میں وہ بیداری بھی نہیں پیدا ہوتی جو قومی زندگی کے لئے ضروری ہے۔ وہ اپنی ذمہ داری سے غافل رہتے ہیں اور اسلام کی خدمت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کا خیال ایک دبی ہوئی چنگاری کی طرح ان کے سینوں میں مخفی رہتا ہے۔ اسی نقص کو دیکھ کر بانیِ سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے اپنی کتب میں ان گالیوں کی نقل کر کے جو مسیحی اور آریہ مصنّفین کی کتب میں ہمارے مقدس رسولؐ کو دی گئی ہیں مسلمانوں کو بیدار کرنا چاہا تھا۔ لیکن افسوس کہ بعض انسانی فطرت کے ناداقفوں نے اس کا نام بے ادبی رکھا اور اس کے خلاف شور مچایا حالانکہ کفار کی گالیوں کو قرآن کریم بھی نقل کرتا ہے اور خدا تعالیٰ سے زیادہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی نگہداشت رکھنے والا اور کون ہو گا؟ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اس گہری عداوت کی رَو سے جو اندر ہی اندر مختلف مذاہب کے پیروؤں کے دلوں میں پیدا کی جارہی تھی ناواقف رہے اور جبکہ دوسری اقوام اسلام کی دشمنی کے خیالات میں پل کر ہوشیار ہو رہی تھیں مسلمان غفلت کی نیند سو رہے تھے اور انہیں معلوم نہ تھا کہ دوسری اقوام کے دلوں میں ہماری نسبت کیا خیالات پیدا کئے جارہے ہیں۔ ان فتنہ انگیز مصنفوں کی جرأت بھی اس غفلت کی وجہ سے بڑھتی گئی۔ اور آخر ”رنگیلا رسول“، ”مسلمانوں کا خدا“ اور ”وچتر جیون“ جیسی کُتب شائع ہونے لگیں جو زبان درازی اور فحش کلامی میں پہلی کُتب سے بھی سبقت لے گئیں۔ اگر مسلمان پہلے ہی ہوشیار ہو جاتے اگر وہ پہلے ہی اس مرض کے علاج کی طرف توجہ کر لیتے تو یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ مگر افسوس کہ علاج سے بے پرواہی کی گئی اور باطل پرستی کی روح اور بھی دلیر ہو گئی اور اس نے مذکورہ بالا کُتب سے بھی بڑھ کر قدم مارا۔ پہلے تجربہ کی بناء پر یہ یقین کر لیا گیا کہ مسلمان کا دل لوہے کا ہے، اس کا کلیجہ پتھر کا ہے، وہ ہر اک حملہ کو برداشت کر سکتا ہے، اس کی غیرت قصۂ ماضی ہو چکی ہے اور اس کا عزم حکایتِ گذشتگان بن چکا ہے۔ چنانچہ آج مجھے اس تازہ حملہ کو مسلمانوں کے سامنے رکھنے کا ناخوشگوار فعل ادا کرنا پڑا ہے۔ ممکن ہے بعض لوگ مجھے بھی گالیاں دیں کہ میں نے دشمن کے اقوال نقل کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فَدَتْهُ نَفْسِیْ وَاَھْلِیْ کی ہتک کی ہے۔ لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ گو لوگ مجھے گالیاں ہی دیں لیکن ہر اک شخص جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا ایک ذرہ بھی دل میں رکھتا ہے وہ اس حملہ کی حقیقت کو معلوم کر کے بیدار ہو جائے گا۔ پس میں اس ذلت کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے قیام کے لئے اور مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنے کی خاطر برداشت کرنی پڑے بخوشی قبول کرتا ہوں۔
یہ تازہ حملہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات پر ایک مضمون کی صورت میں رسالہ ورتمان امرتسر میں شائع ہوا ہے۔ اس کا لکھنے والا کوئی دیوی شرن شرما ہے۔ جس نے ایک ڈرامہ کی صورت میں معراج نبویؐ کی نقل میں ایک مضمون شائع کیا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اس میں محمدؐ کی بجائے مھامند کر کے بیان کیا ہے اور حضرت عائشہؓ کا نام بگاڑ کر آشہ لکھا ہے اور حضرت زینبؓ کا نام جنبھی۔ اور حضرت علیؓ کا نام مرتضیٰ سے بگاڑ کر مرتیو نجار رکھ دیا ہے مگر ان ناموں کے بگاڑنے سے بھی تمسخر مراد ہے۔ یہ کوشش مقصود نہیں کہ مسلمان حقیقت کو نہ سمجھیں اور ان کا دل نہ دُکھے کیونکہ جو واقعات اس قصہ میں بیان ہیں وہ سب کے سب اس طرح بیان کئے گئے ہیں کہ ہر اک شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی گالیاں دی گئی ہیں اور کوئی خیالی قصہ مذکور نہیں ہے۔
شروع میں مضمون نگار نے لکھا ہے کہ ایک نورانی جسم آسمان کی سیر کرانے کے لئے میرے پاس آیا اور میرے لئے ایک سواری لایا جسے دنیا کے لوگ سن سنا کر براق کہتے ہیں۔ میں اس سواری میں بیٹھ کر پہلے جنت کی سیر کے لئے گیا۔ وہاں میں نے سری رامچندر، سری کرشن، شنکر آچاریہ، دسوں گورو اور پنڈت دیانند، پنڈت لیکھرام اور سوامی شردھانند کو دیکھا۔ اس کے بعد وہ لکھتا ہے کہ میں نے دوزخ کے دیکھنے کی خواہش ظاہر کی اور وہاں میں نے دیکھا کہ ”ایک دراز ریش بڑھا، برہنہ بدن آگ میں تپی ہوئی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا بہت سی برہنہ عورتیں اس کے گرد حلقہ کئے تھیں جو نہایت ہی حسین تھیں مگر بدن زخموں کی کثرت سے چھلنی ہو رہے تھے جن سے پیپ بہہ رہی تھی۔ پیاس کی شدت سے بڑھھے کی زبان لٹک رہی تھی۔ پانی نایاب تھا۔ اس لئے بار بار وہی پیپ پیتا تھا۔ لیکن پیاس نہ بجھتی تھی“۔ وہاں اور بھی مرد و عورت تھے۔ ”لیکن بڑھھے کے نزدیک ایک سب سے زیادہ حسین لڑکا اور ایک نوجوان بیٹھے تھے“۔ پھر لکھتا ہے کہ میرے پہنچنے پر بڑھا میرے پاؤں پر گر کر بولا۔ ”للہ مجھے بخشو۔ کئی سالوں سے عذاب میں مبتلاء ہوں۔ میری شفاعت کرو“۔ میں نے کہا ”مہامند! تم تو خود کو شفیع کہا کرتے تھے۔ اب میری شفاعت کی کیا ضرورت ہے“ مہامند نے جواب دیا ”یا حبیب اللہ۔ میں آپ سے وعدہ کر کے پھر گیا......... خدا کے نام ان سب عورتوں کی عصمت دری کی ......... اب رحم کیجئے۔ خطا معاف کیجئے۔ میری شفاعت کیجئے“۔ میں: ”یہ امر ناممکن ہے خدا کی سزا میں کمی بیشی میرے احاطۂ اختیار سے باہر ہے۔ میں شفیع نہیں ہوں“۔ بڑھا مایوس ہو کر بیہوش ہو گیا۔ تب اس لڑکی اور ایک عورت نے میرے پاؤں پکڑ لئے .......... میں نے لڑکی کا سر اُٹھا کر کہا ”آئشہ تم کیوں اضطراب میں ہو تمہارا خاوند تو شفیع ہے“ آئشہ: ”یا حبیب اللہ! کیا اپنی نفسانی خواہشات کی آگ خدا کے نام پر کثیر التعداد عورتوں کی عصمت دری کرنے والا انسان بھی شفیع ہو سکتا ہے اور جس کی جان نزع کے وقت آسانی سے نہیں نکلتی تھی۔ میری جوٹھی مسواک کے تھوک سے جس کی تکلیف کم ہوئی تھی وہ میرا شفیع نہیں ہو سکتا۔ اب میں بخوبی سمجھتی ہوں“۔ میں: ”لیکن آئشہ تمہارا گناہ بھی ناقابل معافی ہے۔ مہامند کے مرنے کے بعد علم ہو جانے پر تمہیں یہ راز طشت از بام کر دینا چاہئے تھے۔ مگر تم نے دنیا کی حرص میں اس کی تبلیغ کی۔ اس لئے اور سزا بھگتو“ اس کے بعد دوسری عورت بولی۔ ”لیکن حضور میں قطعی بے قصور ہوں۔ میں اپنے خاوند کی خوشی سے ان کی نفس پرستی کا شکار ہوئی“ میں: ”جہنمی کیوں جھوٹ بولتی ہے۔ مہامند تیرا سسر تھا۔ تُو نے اپنے خاوند جنت کو کیوں نہ بتایا کہ عالم بالا کے فرشتوں کے سامنے شادی ہونے کا دعویٰ بالکل غلط ہے اور صریح دھوکا ہے۔ تُو بھی مقررہ میعاد تک عذاب کا مزہ چکھ“۔ آگے حضرت علیؓ کے متعلق بھی لکھا ہے۔ لیکن میں اسے نہیں سمجھا اس لئے اسے چھوڑتا ہوں۔
ہر ایک مسلمان اس امر کو سمجھ سکتا ہے کہ اس افسانے کے پردہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے واقعہ، حضرت عائشہؓ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسواک چبا کر دینے کے واقعہ اور حضرت زینبؓ کے نکاح کے واقعہ کی طرف اشارہ کر کے افتراء اور جھوٹ کی نجاست پر منہ مار کر اور اصل واقعات کو بگاڑ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور امہات المومنین رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُنَّ کو ایسی گندی گالیاں دی گئی ہیں کہ شاید ایک چُو открытый چُوڑھا بھی اس قسم کی گالیاں دینے سے دریغ کرے گا۔ لیکن ان دشمنانِ اسلام کو آج ہماری ساری قوم کا اس قدر بھی پاس نہیں رہا جس قدر کہ ایک معمولی آدمی کے احساسات کا ہوتا ہے۔ اور اس قسم کے مصنّفین میں اس قدر بھی شرافت نہیں رہی جس قدر کہ ایک چُوڑھے میں ہوتی ہے؟ کیا اس سے زیادہ اسلام کے لئے کوئی اور مصیبت کا دن آ سکتا ہے؟ کیا اس سے زیادہ ہماری بے کسی کوئی اور صورت اختیار کر سکتی ہے۔ کیا ہمارے ہمسائیوں کو یہ معلوم نہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فَدَتْهُ نَفْسِیْ وَ اَهْلِیْ کو اپنی ساری جان اور سارے دل سے پیار کرتے ہیں اور ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ ان پاکبازوں کے سردار کی جوتیوں کی خاک پر بھی فدا ہے۔ اگر وہ اس امر سے واقف ہیں تو پھر اس قسم کی تحریرات سے سوائے اس کے اور کیا غرض ہو سکتی ہے کہ ہمارے دلوں کو زخمی کیا جائے اور ہمارے سینوں کو چھیدا جائے اور ہماری ذلت اور بے بسی کو نہایت بھیانک صورت میں ہماری آنکھوں کے سامنے لایا جائے اور ہم پر ظاہر کیا جائے کہ مسلمانوں کے احساسات کی ان لوگوں کو اس قدر بھی پرواہ نہیں جس قدر کہ ایک امیر کبیر کو ایک ٹوٹی ہوئی جوتی کی ہوتی ہے۔ لیکن میں پوچھتا ہوں کہ کیا مسلمانوں کو ستانے کے لئے ان لوگوں کو کوئی اور راستہ نہیں ملتا۔ ہماری جانیں حاضر ہیں، ہماری اولادوں کی جانیں حاضر ہیں، جس قدر چاہیں ہمیں دُکھ دے لیں لیکن خدارا نبیوں کے سردار محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے کر آپ کی ہتک کر کے اپنی دُنیا اور آخرت کو تباہ نہ کریں کہ اس ذات بابرکات سے ہمیں اس قدر تعلق اور وابستگی ہے کہ اس پر حملہ کرنے والوں سے ہم کبھی صلح نہیں کر سکتے۔ ہماری طرف سے بار بار کہا گیا ہے اور میں پھر دوبارہ ان لوگوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہماری جنگل کے درندوں اور بن کے سانپوں سے صلح ہو سکتی ہے۔ لیکن ان لوگوں سے ہرگز نہیں ہو سکتی
جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والے ہیں۔ بیشک وہ قانون کی پناہ میں جو کچھ چاہیں کر لیں۔ اور پنجاب ہائیکورٹ کے تازہ فیصلہ کی آڑ میں جس قدر چاہیں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے لیں۔ لیکن وہ یاد رکھیں کہ گورنمنٹ کے قانون سے بالا ایک اور قانون بھی ہے اور وہ خدا کا بنایا ہُوا قانونِ فطرت ہے۔ وہ اپنی طاقت کی بناء پر گورنمنٹ کے قانون کی زد سے بچ سکتے ہیں لیکن قانونِ قدرت کی زد سے نہیں بچ سکتے۔ اور قانونِ قدرت کا یہ اٹل اصل پورا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جس کی ذات سے ہمیں محبت ہوئی ہے اسے بُرا بھلا کہنے کے بعد کوئی شخص ہم سے محبت اور صلح کی توقع نہیں رکھ سکتا اور اب جبکہ ہندو صاحبان کی طرف سے ہمارے رسولِ پاکؐ کی اس قدر ہتک کی گئی ہے کہ جس کا واہمہ بھی آج سے پہلے ہمیں نہیں ہو سکتا تھا۔ اور جبکہ باقی قوم نے ان لوگوں کو ملامت نہیں کی بلکہ ان کا ساتھ دیا ہے تو اب مسلمانوں سے اس وقت تک صلح کی امید رکھنی اور محبت کی توقع رکھنا بالکل فضول اور عبث ہے جب تک یہ لوگ اپنے افعال پر ندامت کا اظہار نہ کریں۔ آہ! میں انسانی فطرت کے اس ناپاک اظہار کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہوں کہ ہم لوگ تو ہندو رشیوں اور ہندو بزرگوں کا ادب کرتے اور ان کا احترام کرتے ہیں اور انہیں خدا تعالیٰ کا برگزیدہ تسلیم کرتے ہیں لیکن یہ لوگ ہمارے آقا اور سردارؐ کے متعلق اس قسم کے گندے الفاظ استعمال کرتے ہیں اور اس ناپاک فعل سے ذرہ بھی نہیں شرماتے۔ مگر میرے نزدیک اس میں ان کا قصور نہیں۔ وہ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں اب غیرت نہیں رہی۔ وہ کبھی کبھی بیجا جوش تو دکھا بیٹھتے ہیں۔ لیکن غیرت جو مستقل عمل کو اُبھارنے والی ہے ان میں کم ہے اس لئے وہ دلیر ہو رہے ہیں۔ اور وہی تدابیر اختیار کر رہے ہیں جو سپین میں مسیحیوں نے اختیار کی تھیں اور وہ یہ تھیں کہ جب انہوں نے ارادہ کر لیا کہ سپین سے مسلمانوں کو نکال دیا جائے تو انہوں نے اپنی قوم کو اُبھارنے کے لئے یہ طریق اختیار کیا کہ بعض لوگ مساجد میں مسلمانوں کا لباس پہن کر چلے جاتے اور جب مسلمان جمع ہو جاتے تو ایک یا ایک سے زیادہ آدمی کھڑے ہو کر بے نقط گالیاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالنے لگ جاتے۔ مسلمان ان کی تدبیر سے واقف نہ تھے بعض جوشیلے نوجوان ان کو قتل کر دیتے تو وہ سب ملک میں شور مچا دیتے کہ دیکھو اس طرح ظالمانہ طور پر مسیحیوں کو مارا جاتا ہے۔ اس کارروائی کا نتیجہ یہ ہُوا کہ سب قوم بیدار ہو گئی اور اس میں ایک آگ بھڑک اُٹھی اور اس جوش سے فائدہ اُٹھا کر مسیحی ریاستوں نے مسلمانوں کو جو پہلے ہی کمزور ہو رہے تھے ملک سے نکال دیا۔ یہی تدبیر مذکورہ بالا قسم کی ہندو مصنفین استعمال کر رہے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو اس قدر جوش دلانا چاہتے ہیں کہ مسلمان آپے سے باہر ہو کر خونریزی پر اُتر آئیں۔ اور اس طرح انہیں اپنی سنگھٹن میں مدد ملے۔ لیکن کیا مسلمان اس دھوکے میں آئیں گے؟ آخر سوامی شردھانند کے قتل سے اسلام کو کیا فائدہ ہوا خونریزی ہرگز کوئی نفع نہیں دے سکتی۔ وہ اخلاقی اور تمدنی طور پر قوم کو سخت نقصان پہنچاتی ہے۔ پس مسلمانوں کو اس قسم کی تحریروں سے ضرور واقف ہونا چاہئے۔ لیکن اپنے جوشوں کو دبا کر غیرت پیدا کرنی چاہئے۔ اور سوچنا چاہئے کہ آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس قدر شدید حملوں کی ہندوؤں کو جرأت کیوں ہوئی ہے؟ اگر وہ اس امر پر غور کریں گے تو انہیں معلوم ہو گا کہ اس کا سبب صرف یہی ہے کہ ان کے نزدیک مسلمان آپؐ کے ناخلف فرزند ہیں۔ پس وہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کی جرأت نہیں۔ پس اگر مسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعویٰ رکھتے ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ ہندو قوم پر ثابت کر دیں کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے قیام کے لئے ہر اک قربانی کے لئے تیار ہیں۔ اور اگر وہ اس امر کے لئے تیار ہوں تو انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اس قسم کے حملوں کا دفعیہ صرف اور صرف تین طرح ہو سکتا ہے۔
(۱) اپنی عملی حالت کی اصلاح سے۔ تاکہ ہمارے عمل کو دیکھ کر ہر اک دشمنِ اسلام یہ کہنے پر مجبور ہو کہ جس اُستاد کے یہ شاگرد ہیں اس کی زندگی کیا ہی شاندار اور مزکیٰ ہو گی۔
(۲) تبلیغ کے ذریعہ سے۔ تاکہ جو لوگ گالیاں دینے والے ہیں ان کی تعداد خود بخود کم ہونے لگے۔ اور جو پہلے گالیاں دیتے تھے اب درود پڑھنے لگیں۔ مکہ کے لوگوں کی گالیاں کس طرح دُور ہوئیں۔ اسی طرح کہ وہ اسلام کو قبول کر کے درود بھیجنے لگے۔ پس اب بھی اس دریدہ دہنی کا یہی علاج ہو سکتا ہے۔ اس تدبیر سے ہر اک شریف الطبع تو اسلام کی خوبیوں کا شکار ہو جائے گا۔ اور شریر الطبع جن کو اپنی تعداد پر گھمنڈ ہے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر خود ہی ان طریقوں سے باز آ جائیں گے۔
(۳) تیسرا طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی تمدنی حالت کو درست کیا جائے۔ ان ہندو مصنّفین کو اس امر پر بھی گھمنڈ ہے کہ ان کی قوم دولتمند ہے اور گورنمنٹ میں اسے رسوخ حاصل ہے۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ یہ بات سچی ہے۔ مگر اس کی وجہ خود مسلمانوں کی غفلت ہے۔ مسلمان جو کچھ کماتے ہیں اسے خرچ کر دیتے ہیں۔ اور اکثر ہندوؤں کے مقروض ہیں اور ایک ارب کے قریب روپیہ سالانہ مسلمان ہندوؤں کو سود میں ادا کرتے ہیں اور اشیائے خوردنی کی خرید میں اس کے علاوہ روپیہ ادا کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہندو لوگ روز بروز دولت مند ہو رہے ہیں اور مسلمان روز بروز گر رہے ہیں۔ وہ طاقتور ہو رہے ہیں اور یہ کمزور۔ پنجاب جہاں ایک ہندو کے مقابلہ میں دو مسلمان ہیں۔ وہاں بھی ہندوؤں کے دس روپیہ کے مقابلہ میں مسلمانوں کے پاس بمشکل ایک ہے۔ اور ملازمتوں میں بھی دو دو تین تین ہندوؤں کے مقابلہ میں ایک ایک مسلمان بمشکل ملتا ہے۔ پس اس حالت کو بدلنا مسلمانوں کا اہم فرض ہے۔ ہر اک جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے جو چاہتا ہے کہ آپ کو گالیاں نہ دی جائیں۔ اس کا فرض ہے کہ بجائے وحشت دکھا کر اسلام کو بدنام کرنے کے صحابۂ کرامؓ کی طرح غیرت دکھائے۔ اور دائمی قربانی سے اسلام کو طاقت دے۔ ہر اک مسلمان کو چاہئے کہ جس طرح ہندو مسلمانوں سے چھوت کرتے ہیں وہ بھی ہندوؤں سے چھوت کرے اور سب کھانے کی چیزیں مسلمانوں ہی کے ہاں سے خریدے۔ اور دوسری اشیاء کے لئے بھی ممکن حد تک مسلمانوں کی دکانیں کھلوانے کے لئے کوشش کرے اور ان کی امداد کا خیال رکھے۔ بائیکاٹ کو میں ذاتی طور پر ناپسند کرتا ہوں۔ لیکن یہ بائیکاٹ نہیں بلکہ ترجیح ہے اور ترجیح پر کوئی شخص اعتراض نہیں کر سکتا۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس وقت ہر اک وہ شخص جو اسلام سے محبت کا دعویٰ رکھتا ہے۔ اب غفلت کی نیند کو ترک کر کے عمل کے میدان میں آئے گا۔ اور ہندوؤں کی تمدنی غلامی سے آزاد ہونے اور دوسروں کو آزاد کرانے کی پوری کوشش کرے گا۔ تاکہ ان لوگوں کو یہ معلوم ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی غیرت مسلمانوں میں پائی جاتی ہے اور وہ آپ کی عزت کے قیام کے لئے مستقل قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اگر مسلمان اس کام پر آمادہ ہو جائیں گے تو یقیناً وہ ہندو جو دل سے برے نہیں ہیں لیکن بعض شوریدہ سر لوگوں کے شور سے ڈرے ہوئے ہیں اس خطرہ کو محسوس کریں گے جو تمدنی طور پر ان کے سامنے پیش ہے اور وہ خود ہی ان لوگوں کو باز رکھیں گے۔ اور حکومت کو بھی یہ احساس ہو گا کہ مسلمان بھی سنجیدگی سے کسی کام کے کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں اور محض وقتی جوش کا شکار نہیں ہوتے اور اس کے افسروں کے دلوں میں بھی مسلمانوں کا احترام پیدا ہو گا اور وہ خیال کریں گے کہ یہ ایک عقلمند قوم ہے اور اپنے جوشوں کو دبا کر اور امن کے قیام کو اپنا اولین مقصد قرار دے کر اپنے مذہبی فوائد کی نگہداشت کرتی ہے۔
اے بھائیو! میں دردمند دل سے پھر آپ کو کہتا ہوں کہ بہادر وہ نہیں جو لڑ پڑتا ہے۔ جو لڑ پڑتا ہے وہ بزدل ہے کیونکہ وہ اپنے نفس سے دب گیا ہے۔ بہادر وہ ہے جو ایک مستقل ارادہ کر لیتا ہے اور جب تک اس کو پورا نہ کر لے اس سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ پس اسلام کی ترقی کے لئے اپنے دل میں تینوں باتوں کا عہد کرلو۔ اول یہ کہ آپ خشیت اللہ سے کام لیں گے اور دین کو بے پرواہی کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے۔ دوسرے یہ کہ آپ تبلیغ اسلام سے پوری دلچسپی لیں گے اور اس کام کے لئے اپنی جان اور اپنے مال کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ اور تیسرے یہ کہ آپ مسلمانوں کو تمدنی اور اقتصادی غلامی سے بچانے کے لئے پوری کوشش کریں گے اور اس وقت تک بس نہیں کریں گے جب تک کہ مسلمان اس کچل دینے والی غلامی سے بالکل آزاد نہ ہو جائیں۔ اور جب آپ یہ عہد کرلیں تو پھر ساتھ ہی اس کے مطابق اپنی زندگی بھی بسر کرنے لگیں۔ یہی وہ سچا اور حقیقی بدلہ ہے ان گالیوں کا جو اس وقت بعض ہندو مصنفین کی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فَدَتْهُ نَفْسِیْ وَ اَھْلِیْ کو دی جاتی ہیں۔ اور یہی وہ سچا اور حقیقی علاج ہے جس سے بغیر فساد اور بدامنی پیدا کرنے کے مسلمان خود طاقت پکڑ سکتے ہیں اور دوسروں کی مدد کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ ورنہ اس وقت تو وہ نہ اپنے کام کے ہیں نہ دوسرے کے کام کے۔ اور وہ قوم ہے بھی کس کام کی جو اپنے سب سے پیارے رسول کی عزت کی حفاظت کے لئے حقیقی قربانی نہیں کر سکتی؟ کیا کوئی دردمند دل ہے جو اس آواز پر لبیک کہہ کر اپنے علاقہ کی درستی کی طرف توجہ کرے اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث ہو؟
وَ اٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
والسلام خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ قادیان ضلع گورداسپور ۲۹۔ ۵۔ ۱۹۲۷ء (الفضل ۱۰؍ جون ۱۹۲۷ء)
از سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ؕ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ— هُوَالنَّاصِرُ
(تحریر فرمودہ مورخہ ۲۳؍ جون ۱۹۲۷ء)
ابھی پانچ ہی دن ہوئے کہ سید دلاور شاہ صاحب بخاری اپنے ایک عزیز کے ساتھ اس نوٹس کے متعلق جو ہائی کورٹ کی طرف سے ”مستعفی ہو جاؤ“ والے مضمون کے متعلق انہیں ملا تھا میرے پاس قادیان تشریف لائے اور مجھ سے دریافت کیا کہ انہیں اس موقع پر کیا کرنا چاہئے۔ اور ضمناً ذکر کیا کہ بعض لوگ مشورہ دیتے ہیں کہ اظہار افسوس کر دینا چاہئے۔ میں نے انہیں کہا کہ ہمارا فرض ہونا چاہئے کہ صوبہ کی عدالت کا مناسب احترام کریں لیکن جبکہ ایک مضمون آپ نے دیانت داری سے لکھا ہے اور اس میں صرف ان خیالات کی ترجمانی کی ہے جو اس وقت ہر ایک مسلمان کے دل میں اٹھ رہے ہیں تو اب آپ کا فرض سوائے اس کے کہ اس سچائی پر مضبوطی سے قائم رہیں اور کیا ہو سکتا ہے۔ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا سوال ہے اور ہم اس مقدس وجود کی عزت کے معاملہ میں کسی کے معارض بیان پر بغیر آواز اُٹھانے کے نہیں رہ سکتے۔ میں قانون تو جانتا نہیں اس کے متعلق تو آپ قانون دان لوگوں سے مشورہ لیں مگر میری طرف سے آپ کو یہ مشورہ ہے کہ آپ اپنے جواب میں یہ لکھوا دیں کہ اگر ہائی کورٹ کے ججوں کے نزدیک کنور دلیپ سنگھ صاحب کی عزت کی حفاظت کے لئے تو قانون انگریزی میں کوئی دفعہ موجود ہے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کے لئے کوئی دفعہ موجود نہیں۔ تو میں بڑی خوشی سے جیل خانہ جانے کے لئے تیار ہوں۔
جیسا کہ سب احباب کو معلوم ہے اس مضمون کو نہایت خوبصورت الفاظ میں سید دلاور شاہ صاحب نے اپنے جواب کے آخر میں درج کر دیا اور مؤمنانہ غیرت کا تقاضا یہی تھا کہ وہ اپنا حقیقی جواب وہی دیتے جو انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں دیا۔
کل خبر آگئی ہے کہ اس مقدمہ کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ اور سید دلاور شاہ صاحب بخاری ایڈیٹر مسلم آؤٹ لک کو چھ ماہ قید اور ساڑھے سات سو روپیہ جرمانہ ہوا ہے اور مولوی نور الحق صاحب پروپرائیٹر کو تین ماہ قید اور ایک ہزار روپیہ جرمانہ ہوا ہے۔ ہمیں قانون کے اس نقص پر تو حیرت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فِدَاهُ نَفْسِیْ وَ رُوْحِیْ کی عزت پر ناپاک سے ناپاک حملہ کرنے والوں پر تو مہینوں مقدمہ چلے اور آخر میں براءت ہو اور ہائی کورٹ کے متعلق ایک ایسی بات لکھنے پر جو صرف تاویلاً اس کی ہتک کہلا سکتی ہے آٹھ دن کے اندر اندر دو معزز شخص جیل خانہ میں بھیج دیئے جائیں۔ بہ بیں تفاوتِ رہ از کجاست تا بہ کجا۔
ہمارے بھائی آج جیل خانہ میں ہیں لیکن اپنے نفس کے لئے نہیں، اپنی عزت کے لئے نہیں، کسی دنیوی غرض کے لئے نہیں، اس وجہ سے نہیں کہ وہ حکومت کو کمزور کرنا چاہتے تھے نہ اس لئے کہ وہ کسی کے حق کو دبانا چاہتے تھے بلکہ صرف اس لئے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے لئے غیرت کا اظہار کیا۔ ان کی یہ بہادرانہ روش ہمیشہ کے لئے یادگار رہے گی کہ دونوں نے سارا بوجھ اپنے ہی سر پر اُٹھانے کی کوشش کی ہے اور دوسرے کی براءت کی کوشش کی ہے۔ اس مصیبت کی آگ میں سے یہ ایک ایسی خوشبو اُٹھی ہے کہ باوجود صدمہ زدہ ہونے کے دماغ معطر ہو رہا ہے۔ گورنمنٹ کے جیل خانے بے وفاؤں اور غداروں کے لئے تیار کئے گئے تھے لیکن آج انہیں دو وفادار شخص جنہوں نے دو جہان کے سردار سے بھی وفاداری کی اور گورنمنٹ کی بھی وفاداری کی زینت دے رہے ہیں۔
محترم ججان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان دونوں صاحبان نے یہ کہہ کر کہ یہ فیصلہ غیر معمولی ہے اور غیر معمولی حالات میں ہوا ہے اور اس کی تحقیق ہونی چاہئے عدالت عالیہ کی ہتک کی ہے۔ مگر میرے نزدیک عدالت عالیہ کی یہ رائے درست نہیں۔ یہ کہنا کہ جن حالات میں یہ فیصلہ ہوا ہے اس سے لوگوں کے دلوں میں شکوک پیدا ہو رہے ہیں اس لئے اس کی تحقیق کرنی چاہئے اور یہ کہنا کہ جج نے کوئی بددیانتی کی ہے اس میں بہت بڑا فرق ہے۔ اور میں خیال کرتا ہوں کہ عدالت عالیہ پنجاب بیسیوں مقدمات میں اس فرق کو تسلیم کر چکی ہو گی۔ کیا اس میں کوئی شک ہے کہ ملک معظم کی وفادار رعایا کے کروڑوں افراد اس فیصلہ پر جس کا حوالہ مسلم آؤٹ لک نے دیا حیران و انگشت بدنداں ہیں اور کیا عدالت عالیہ کا یہ فرض نہیں کہ جب ملک کی ایک بڑی تعداد ایک فیصلہ پر حیران ہو اور خود گورنمنٹ بھی جو اس قانون کی وضع کرنے والی ہے اس کے عجیب اور خلافِ امید ہونے کا اظہار کرے تو اس کے متعلق ایسے حالات بہم پہنچائے کہ جس سے پبلک کی تسلی ہو اور اس کی گھبراہٹ دور ہو سکے۔ اس میں کیا شک ہے۔ کہ ملک کا امن عدالت عالیہ پر اعتبار سے قائم رہ سکتا ہے۔ پس اس وجہ سے عدالت عالیہ کو معمولی شکوک کا بھی خیال رکھنا چاہئے اور انسانی فطرت کی کمزوریوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔
عدالت عالیہ کو خواہ کسی فیصلہ کی صحت پر کس قدر ہی یقین ہو اور وہ ایک جج کی دیانت پر خواہ کس قدر ہی اعتماد رکھتی ہو اس سے پبلک کی تسلی تو نہیں ہو جاتی اور اس سے پبلک میں عدالت عالیہ کا وقار تو قائم نہیں ہو جاتا۔ پس عدالت عالیہ کو ایسے مواقع پر خود ہی پبلک کے احساسات کا خیال رکھنا چاہئے اور اس خیال سے تسلی نہیں پا لینی چاہئے کہ لوگوں کے خیالات غلط ہیں۔ خیالات خواہ کس قدر ہی غلط ہوں مگر جب وہ پیدا ہو جائیں تو بے امنی پیدا کرنے کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اور عدالت کا فرض ہے کہ نہ صرف لوگوں کے خیالات کی درستی کی غرض سے بلکہ خود اپنی عزت کو صدمہ سے بچانے کے لئے وہ کوئی ایسی تدبیر اختیار کرے جس سے لوگوں کے شبہات کے دور ہونے کا موقع نکل آئے۔ مسلم آؤٹ لک نے صرف اس قسم کی تدبیر اختیار کرنے کی طرف توجہ دلائی تھی اور اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا تھا۔ پس فاضل ججان کا اس کے ایڈیٹر اور مالک کو سزا دینا اور سخت سزا دینا میری رائے میں درست نہ تھا۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس مقدمہ کے متعلق غیر معمولی واقعات موجود تھے۔ دفعہ ۱۵۳۔ الف ہر صوبہ کی گورنمنٹ کے نزدیک ایک خاص مفہوم رکھتا تھا اور پبلک اس مفہوم سے متفق تھی۔ غالباً مختلف صوبوں میں مختلف گورنمنٹیں اس دفعہ کے ماتحت اگر مقدمات چلا نہ چکی تھیں تو لوگوں کو اس امر کی دھمکی ضرور دے چکی تھیں اور لوگ بھی اس کا یہی مفہوم سمجھ کر معافیاں مانگ مانگ کر اپنی جان بچا رہے تھے۔ اگر ایک ہی وقت میں قانون کی وضع کرنے والی جماعت اور جن کے لئے وہ قانون بنا تھا سب کے سب اس قانون کے ایک معنوں پر متفق تھے بلکہ جیسا کہ ایک بعد کے فیصلہ سے معلوم ہوا ہے ایک ہمسایہ صوبہ کی عدالت عالیہ بھی اس قانون کا وہی مفہوم لیتی تھی تو کیا اس صورت میں پبلک میں ہیجان پیدا ہونا ایک لازمی امر نہ تھا۔ کیا پبلک اس موقع پر یہ نتیجہ نہیں نکالے گی کہ غیر معمولی حالات میں ایک غیر معمولی فیصلہ ہوا ہے۔ اور کیا خود ہائی کورٹ کی عزت کے قیام کے لئے اس امر پر روشنی ڈالنا ہائی کورٹ کے لئے ضروری نہ تھا۔ اگر بغیر اس کے کہ کنور صاحب پر بد دیانتی کا الزام لگایا جائے پبلک کے لئے یہ فیصلہ استعجاب و حیرت کا موجب تھا تو پھر مسلم آؤٹ لک کا مطالبہ عدالت عالیہ کی ایک بہت بڑی خدمت تھی نہ کہ جرم جس کی پاداش میں اسے سزا دی جائے۔
اگر معاملہ کسی معمولی قانون کی تشریح کا ہوتا تو اور بات تھی۔ مگر یہاں تو معاملہ یہ تھا کہ ایک قانون کے ایک معنے سالہا سال سے ثابت شدہ سمجھے گئے تھے گورنمنٹ کی نظر میں بھی اور پبلک کی نگاہ میں بھی اور کنور صاحب نے ان مسلّمہ معنوں کو غلط قرار دیا تھا۔ پس ایسے وقت میں اگر مسلم آؤٹ لک نے اپنی آواز اُٹھائی خصوصاً اس حال میں کہ اس فیصلہ سے مسلمانوں کے دل مجروح ہو رہے تھے تو اگر فاضل ججان کے نزدیک وہ آواز بے موقع بھی تھی تو زیادہ سے زیادہ اسے نامناسب قرار دینا چاہئے تھا نہ یہ کہ وہ اس قدر سخت سزا دیتے۔ پھر ہائی کورٹ کو دیکھنا چاہئے کہ کیا اس سزا سے ہائی کورٹ کی وہ عزت قائم ہو گئی جسے وہ قائم کرنا چاہتا تھا۔ اس سزا کے بعد تو مسلمانوں کے دل اور بھی غم و غصہ سے بھر گئے ہیں۔ اور وہ پہلے تو صرف ایک جج کے فیصلہ کی نوعیت پر معترض تھے اب عدالت عالیہ کے بہت سے ججوں کے متفقہ فیصلہ کے وہ اپنے مفاد اور منشائے قانون کے سخت خلاف سمجھ رہے ہیں۔ پس بجائے فائدہ کے اس فیصلہ سے نقصان پہنچا ہے۔ اور خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔
میں کنور صاحب کے فیصلہ کے متعلق صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرے نزدیک فاضل ججوں نے اس امر کو نہیں سمجھا کہ کنور صاحب کے فیصلہ کے خلاف مسلمانوں کے دلوں میں جوش کیوں ہے۔ اگر وہ ایک مسلمان کی حیثیت میں اپنے آپ کو فرض کرتے جس طرح کہ مسٹر جسٹس دلال نے اپنے آپ کو فرض کیا تھا تو یقیناً وہ صحیح نتیجہ پر پہنچ جاتے۔ گو اس وقت تک مسلمان اس کو واضح الفاظ میں بیان نہ کر سکتے ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس فیصلہ میں ہر ایک مسلمان اپنی ہتک محسوس کرتا ہے۔ وہ یہ نہیں خیال کرتا کہ اس فیصلہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی گئی ہے کیونکہ کنور صاحب نے صاف لکھا ہے کہ آپ کی نسبت ہتک آمیز الفاظ لکھنے والے کو سزا ملنی چاہئے۔ (گو وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس فیصلہ سے آپ کی ہتک کا دروازہ کُھل گیا ہے) مگر وہ یہ ضرور خیال کرتا ہے کہ اس فیصلہ کا یہ مطلب ہے کہ ایک مسلمان کو یہ تو حق ہے کہ اگر اسے کوئی شخص گالی دے تو اس پر وہ ناراض ہو لیکن اسے اس شخص سے نفرت کرنے کا حق نہیں ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے۔ اگر اس موقع پر منافرت پیدا ہوتی ہے تو یہ اس کی اشتعال انگیز طبیعت کا نتیجہ ہے۔ اس کے فطرتی تقاضوں کا نتیجہ نہیں ہے۔
اب ایک مسلمان کے نزدیک یہ خیال کہ اس کی نسبت یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر خود اُسے گالی دی جائے تو اُسے غصہ آجانا چاہئے لیکن اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی جائے تو اس کے دل میں جائز طور پر منافرت کے جذبات نہیں پیدا ہونے چاہئیں اس کی سب سے بڑی ہتک ہے۔ وہ اسے بے غیرتی کا اور سب سے بڑی بے غیرتی کا الزام سمجھتا ہے اور ایک منٹ کے لئے بھی اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔ حق یہ ہے کہ ہر سچا مسلمان اپنی ذات کے متعلق سخت کلامی کو اکثر اوقات معافی کے قابل سمجھتا ہے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فِدَاهُ نَفْسِیْ وَ رُوْحِیْ کے متعلق ایک ادنیٰ کلمہ گستاخی کا سن کر بھی وہ برداشت نہیں کر سکتا اور اگر اسے یہ معلوم ہو کہ ایسا کلمہ استعمال کرنے والا اپنی قوم کی تائید اپنے ساتھ شامل رکھتا ہے تو وہ اس قوم کو بھی نہایت ہی حقیر اور ذلیل سمجھتا ہے۔ پس جب ایک مسلمان یہ سنتا ہے کہ ایک فاضل جج قانونِ منافرت بین الاقوام کے معنے صرف یہ لیتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف بہ حیثیت قوم کچھ نہ کیا جائے اور یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کچھ کہنا باعثِ منافرت نہیں کہلا سکتا تو وہ اس میں اپنی ہتک سمجھتا ہے اور اپنے ایمان پر حملہ خیال کرتا ہے اور جج کی نیت اچھے ہونے یا بُرے ہونے کا اس میں کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر فاضل ججان ہائی کورٹ مسلمانوں کے اس احساس کو مدنظر رکھتے تو انہیں مسلم آؤٹ لک کے مضمون کی حقیقت کو سمجھنا آسان ہو جاتا۔ مگر افسوس ہے کہ انہوں نے مضمون کے مختلف پہلوؤں پر غور نہیں کیا اور یہی سمجھ لیا کہ اس میں ایک جج پر بدنیتی کا الزام لگایا گیا ہے اور ایک ایسا فیصلہ کر دیا جس سے مسلمانوں کے دل اور بھی مجروح ہو گئے ہیں اور ان کی طبائع میں اور بھی جوش پیدا ہو گیا ہے۔ اور اب مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ ہمدردی کریں جو ان کے نزدیک صرف اسلام کی عزت کی حفاظت کے لئے جیل خانہ گئے ہیں۔ اور ہر سچا مسلمان اس وقت تک صبر نہیں کرے گا جب تک کہ وہ اس بارہ میں اپنے فرض کو ادا نہ کرے۔
فیصلہ کے متعلق اپنے خیالات ظاہر کرنے کے بعد میں اس سوال کو لیتا ہوں کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ اور پیشتر اس کے کہ میں اپنے خیالات کو بیان کرو میں ان تین امور پر جو اس وقت تک بطور علاج کے بیان کئے گئے بحث کرنی چاہتا ہوں۔
ایک علاج بعض لوگوں نے یہ تجویز کیا ہے کہ ہم عدالت عالیہ سے مقاطعہ کریں۔ میرے نزدیک علاج وہ ہوتا ہے جس کا ہمیں فائدہ پہنچے۔ لیکن اگر اس علاج پر غور کیا جائے تو بجائے فائدہ کے ہمیں اس سے نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہم اس امر کے متعلق تو خود فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں جو ہماری ذات سے تعلق رکھتا ہو لیکن جو امر دوسروں کی ذات سے تعلق رکھتا ہو۔ اس پر ہماری نیتوں کا کچھ اثر نہیں ہو سکتا۔ مسلمانوں کو تین قسم کے مقدمات پیش آسکتے ہیں۔ ایک وہ مقدمات جو باہم مسلمانوں میں ہوں۔ خواہ مالی حقوق کے متعلق ہوں یا فوجداری ہوں۔ مگر قابل دست اندازی پولیس نہ ہوں۔ ایسے مقدمات تو قطع نظر اس فیصلہ کے مسلمانوں میں آپس میں ہی طے ہونے چاہئیں۔ اگر ہم اپنے جھگڑے خود فیصلہ کرنے کی قابلیت نہیں رکھتے تو ہم درحقیقت اس نظام اسلامی سے بے بہرہ ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں قائم فرمایا تھا۔ ہماری جماعت بڑی سختی سے اس امر کا لحاظ رکھتی ہے کہ تمام مالی مقدمات اور تمام فوجداری اختلافات جن کو برطانوی عدالت میں لے جانے کے ہم قانوناً پابند نہیں اپنی جماعت کے قاضی ہی طے کریں۔ اس قسم کے ایک واقعہ کے متعلق پچھلے دنوں اخبارات میں ایک مضمون بطور اعتراض شائع ہوا تھا۔ مگر میرے نزدیک یہ امر قابل اعتراض نہیں بلکہ قومی اتحاد کے لئے ضروری ہے اور قومی دولت اس سے محفوظ رہ جاتی ہے۔
دوسری قسم کے مقدمات وہ ہو سکتے ہیں جو گو دو مسلمان فریق میں ہوں لیکن قابل دست اندازی پولیس ہوں اور قابل راضی نامہ ہوں۔ اور تیسری قسم کے مقدمات وہ ہیں جو مسلمانوں اور غیر قوموں میں ہوں۔ ان دونوں قسم کے مقدمات میں ہی عدالت کا مقاطعہ مقاطعہ کہلا سکتا ہے۔ لیکن کیا ایسا مقاطعہ ہم سے ممکن ہے؟ ایک وقت میں ایسے سینکڑوں کیس عدالت میں داخل ہوتے ہیں جن کا ہزاروں مسلمانوں پر اثر پڑتا ہے۔ پس کیا یہ بات اسلام کے فائدہ کی ہوگی کہ ہزاروں غریب مسلمان اس مقاطعہ کی وجہ سے جیل خانہ میں جائیں اور ہزاروں مسکینوں، غریبوں، بیواؤں، یتیموں کے حقوق عدم پیروی کی وجہ سے تلف ہو کر غیر قوموں کو مل جائیں۔ اس طریق کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ مسلمان جو آگے ہی اقتصادی طور پر تباہ ہو رہے ہیں بالکل تباہ ہو جائیں گے۔ پس ہمیں اس تدبیر کو ہرگز اختیار نہیں کرنا چاہئے جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔
دوسرا طریق یہ بتایا جاتا ہے کہ مسلمان اس فعل کو متواتر کریں جو مسلم آؤٹ لک والوں نے کیا ہے۔ میرے نزدیک یہ طریق بھی علاوہ قانون شکنی کے (پہلے یہ فعل قانون شکنی نہ تھا، لیکن اب ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد یہ فعل قانون شکنی ہو گیا ہے) اپنی ذات میں بے فائدہ ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہائی کورٹ اس امر کا پابند نہیں کہ اس شخص پر مقدمہ چلائے جو اس کی نظر میں عدالت کی ہتک کرنے والا ہے۔ اگر وہ اس کا پابند ہوتا تو کہا جا سکتا تھا کہ لاکھوں مسلمان مسلم آؤٹ لک کی نقل کریں۔ ہائی کورٹ کہاں تک لوگوں کو جیل خانہ میں ڈالے گا۔ آخر تنگ آ جائے گا۔ لیکن جب کہ وہ ہر ایک پر مقدمہ چلانے کا پابند نہیں تو وہ صرف یہ طریق اختیار کرے گا کہ بڑے بڑے لوگوں کو پکڑے گا دوسروں کے فعل کو نظر انداز کر دے گا۔ اس سے صرف مسلمان کمزور ہو جائیں گے اور کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ مثلاً مسلمانوں کے لاہور میں چار روزانہ اخبارات ہیں اگر روزانہ ان میں مسلم آؤٹ لک کے نوٹ کے ہم معنی نوٹ شائع ہوں تو ہر روز چار آدمیوں پر ہائیکورٹ مقدمہ چلائے گا ان چار آدمیوں کو یا آٹھ آدمیوں کو روزانہ گرفتار کر کے بھی ہائی کورٹ کو کیا نقصان پہنچے گا۔ اور پھر اس طریق سے اسلام کو کیا فائدہ ہو گا۔ اگر چھوٹے چھوٹے آدمیوں کو اس امر کے لئے آگے بھیجا گیا تو یہ قابل شرم ہو گا اور انتہائی درجہ کی قومی غداری ہو گی۔ اور اگر بڑے بڑے سب لوگ اس طرح جیل خانوں میں چلے گئے تو اسلام کو نقصان پہنچانے والے اور بھی خوش ہوں گے۔ انہیں ہندوستان میں اسلام کو نقصان پہنچانے اور اپنی من مانی کارروائیاں کرنے کا اور بھی موقع مل جائے گا۔ پس یہ تدبیر بھی قابلِ عمل نہیں ہے۔ سکھوں کی کوششوں پر قیاس نہیں کرنا چاہئے کیونکہ وہاں عملی جدوجہد تھی۔ وہ ایک گردوارہ میں زبردستی
گھس جاتے تھے۔ اگر سرکار سب کو نہ پکڑتی تو گردوارہ ہاتھ سے جاتا تھا۔ اگر پکڑتی تو جیل خانے کفایت نہ کرتے تھے۔ لیکن یہاں تو صرف بعض الفاظ کے دُہرانے کا سوال ہے۔ بغیر کسی قسم کے نقصان کے خطرہ کے ہائی کورٹ ہزاروں آدمیوں کے فعل کو نظر انداز کر سکتا ہے۔
تیسری تدبیر سول نافرمانی بتائی جاتی ہے۔ علاوہ اس کے کہ میں اس تدبیر کا مذہباً مخالف ہوں عقلاً بھی میرے نزدیک اس تدبیر کو اختیار کرنا درست نہیں۔ سول نافرمانی ہائی کورٹ کے خلاف نہ ہوگی بلکہ گورنمنٹ کے خلاف ہوگی اور گورنمنٹ کا اس معاملہ میں کوئی قصور نہیں ہے۔ گورنمنٹ اس وقت اس معاملہ میں ہمارے ساتھ ہے۔ گورنر صوبہ بڑے زور دار الفاظ میں ہائی کورٹ کے فیصلہ پر استعجاب ظاہر کر چکے ہیں اور اس کو منسوخ کرانے کی ہر ممکن تدبیر اختیار کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں۔ وہ بے شک بوجہ غیر مذہب کے پیرو ہونے کے اور قانون کی اُلجھنوں کے اس طرح جلدی سے عمل نہیں کر سکتے جس طرح کہ ہمارے دل چاہتے ہیں۔ لیکن وہ ظاہر کر چکے ہیں کہ ان کا مقصد اور ہمارا مقصد اس قانون کے بارہ میں ایک ہی ہے۔ پس سول نافرمانی کرنے کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم گورنمنٹ کو جو اس معاملہ میں ہم سے اتفاق رکھتی ہے اپنا مخالف بنالیں۔ لیکن سول نافرمانی چونکہ گورنمنٹ کے خلاف ہوگی وہ اس چیلنج کو قبول کئے بغیر نہیں رہ سکے گی اور اس طرح ہم اپنے ہاتھوں سے ہندوؤں کے تیار کردہ گڑھے میں گر جائیں گے جس میں ہمیں گرانا ان کی عین خواہش ہے۔
ہمیں ایک لمحہ کے لئے بھی اس امر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ ہمارا جھگڑا اس وقت ہندوؤں سے ہے اور ان میں بھی درحقیقت آریہ سماجیوں سے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہندوستان میں کامل آزادی نہیں حاصل کر سکتے جب تک کہ مسلمان اس ملک میں باقی ہیں۔ وہ ہندوستان میں برہمنک قانون کو جاری کرنا چاہتے ہیں جو برطانوی اور اسلامی قانون آزادی کے بالکل بر خلاف ہے۔ اور وہ جانتے ہیں کہ اس اختلاف کی وجہ سے جب بھی ہندو اپنے مقصد کو پورا کرنا چاہیں گے، انگریز اور مسلمان ملکر ان کے راستہ میں روک بنیں گے وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان دو طاقتوں کے مقابلہ میں وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ پس وہ پہلے مسلمانوں کو کمزور کر کے نکھتا کرنا چاہتے ہیں اس کے بعد وہ انگریزوں سے نپٹیں گے۔ مگر اس تحریک کے بانی ہوشیار بھی بہت ہیں۔ وہ مسلمانوں اور انگریزوں کو لڑوانا چاہتے ہیں اور بسا اوقات انگریز ان کے فریب میں آکر مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھنے لگتے ہیں۔ اور بعض اوقات مسلمان کی بات پر مشتعل ہو کر انگریزوں کو اپنا مخالف خیال کرنے لگتے ہیں۔ مگر ہمیں اس دھوکے میں نہیں آنا چاہئے۔ میرے نزدیک انگریزوں اور مسلمانوں کے اکثر اختلافات کا اب فیصلہ ہوچکا ہے۔ آئندہ تمدنی جنگ میں یہ دونوں مل کر اپنے اپنے حقوق کی حفاظت اچھی طرح کر سکتے ہیں۔ انگلستان کی نجات مسلمانوں سے صلح رکھنے میں ہے اور مسلمانوں کا فائدہ انگریزوں سے تعاون کرنے میں۔ ہم سب دنیا سے نہیں لڑ سکتے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مشرکوں کے مقابلہ میں اہلِ کتاب سے معاہدہ کیا تھا۔لے پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم تدابیر اختیار نہ کریں اور اس میں کوئی شک نہیں۔ کہ باوجود بیسیوں قسم کے عیوب کے انگریزی قوم تمام موجودہ غیر اسلامی اقوام سے ہمارے زیادہ قریب ہے۔ اور در حقیقت دوسری قوم صرف روسیوں کی ہے جو اسلام کو سختی سے مٹارہی ہے جیسا کہ احمدی مبلغوں اور دوسرے بہت سے ایسے مسلمانوں کی عینی شہادت سے ثابت ہے جو پہلے برطانوی حکومت کے سخت دشمن تھے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ جو لوگ سیاسی طور پر میرے اس خیال سے متفق نہ ہوں ان کو بھی ضرور یاد رکھنا چاہئے کہ اس موجودہ مسئلہ میں ہمیں برطانیہ کے قائم مقاموں سے کوئی جنگ نہیں ہے۔
جس قدر پیش کردہ تجاویز ہیں ان کے نقائص بیان کرنے کے بعد میں اپنی تجاویز کو پیش کرتا ہوں۔ میرے نزدیک ہمیں قدم اُٹھانے سے پہلے یہ غور کر لینا چاہئے کہ ہمارا مقصد اس وقت کیا ہے۔ میرے نزدیک ہمارا مقصد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت ہے۔ مسلم آؤٹ لک کا معاملہ اس مقصد کے حصول کی جدوجہد کا ایک ظہور ہے۔ پس ہمیں بجائے اس پر اپنا زیادہ وقت خرچ کرنے کے اس سے جس قدر ممکن ہو فائدہ اُٹھانا چاہئے۔ مسلم آؤٹ لک کے فیصلہ نے مسلمانوں کی آنکھیں ان کی بے بسی کے متعلق کھولدی ہیں۔ لوہا گرم ہے۔ اس کو اس طرح کوٹنا ہمارا کام ہے کہ اس سے اسلام کے لئے کارآمد اشیاء تیار ہو سکیں۔ ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ اس کام کو جاری ہی نہ رکھیں بلکہ ترقی دیں جو مسلم آؤٹ لک کرتا تھا۔ اور اس کے لئے میں اپنی جماعت کی طرف سے آٹھ سو روپیہ کی امداد کا اعلان کرتا ہوں۔ میرے نزدیک کم سے کم پانچ ہزار روپیہ اس کام کے لئے جمع کر دینا چاہئے اور یہ روپیہ مسلم آؤٹ لک کی ترقی پر خرچ ہونا چاہئے اور مسلم آؤٹ لک کے خریداروں کے بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔
اس کے بعد اصل معاملہ کے متعلق یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دوسرے بزرگانِ اسلام کو عموماً
اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصاً گالیاں دینے کی جرأت ہندوؤں کو صرف ان کے اقتصادی اور تمدنی غلبہ کی وجہ سے ہے۔ وہ اس غلبہ کے بعد ہماری غیرت کو مٹا کر ہمیں شُودر بنانا چاہتے ہیں۔ میں ان پر اعتراض نہیں کرتا۔ ہر ایک قوم کا حق ہے کہ اپنے مفاد کے لئے ہر ممکن جدوجہد کرے لیکن ساتھ ہی ہر اس قوم کا بھی جس کے مفاد کے خلاف اس کے کاموں کا اثر پڑتا ہو حق ہے کہ اپنے حقوق کی حفاظت کرے۔ اگر ہندوؤں کا حق ہے کہ وہ اپنی دولت کو بڑھانے کے لئے مسلمانوں سے چھوت چھات کریں اور اپنی قوم کی ہر ممکن ذریعہ سے پرورش کریں تو کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کو یہ حق حاصل نہ ہو۔ مجھے تعجب آتا ہے کہ ہندو خود چھوت چھات کرتے ہیں اور سنگٹھن کی تائید میں لیکچر دیتے پھرتے ہیں۔ لیکن جس وقت مسلمان وہی کام کرتے ہیں تو شور مچا دیتے ہیں کہ دیکھو یہ ملک کے امن کو بگاڑتے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک ہر کوشش جو مسلمانوں کو ہندوؤں کی غلامی سے آزاد کرانے کے لئے کی جائے وہ ملک کے امن کے خلاف ہے۔ مگر ہم نے اس امن کو کیا کرنا ہے جس سے ہماری ہستی ہی مٹ جائے۔ اور پھر اس فساد کے ذمہ دار ہندو لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی بیداری کی وجہ سے پیدا ہو نہ کہ مسلمان۔ وہ شخص جو اپنے حقوق کی حفاظت کرتا ہے وہ کس طرح مفسد کہلا سکتا ہے۔ مفسد وہ ہو گا جو اسے اس کے جائز حق کے لینے سے روکتا ہے۔ اصل میں یہ شور ہی بتاتا ہے کہ ہندو قوم اس تدبیر سے سب سے زیادہ گھبراتی ہے۔ پس اِس تدبیر پر ہمیں سب سے زیادہ زور دینا چاہئے۔ اور اس زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے سب سے پہلی جدوجہد ہماری یہی ہونی چاہئے کہ ہم ہندوؤں سے چھوت چھات کریں۔
میں تمام ان مسلمانوں سے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دل میں رکھتے ہیں پوچھتا ہوں کہ کبھی اُنہوں نے یہ بھی خیال کیا ہے کہ رنگیلا رسول و چتر جیون اور ورتمان وغیرہ قسم کی کُتب اور رسالے انہی کے روپیہ سے چھاپے جاتے ہیں اور انہی کے روپیہ سے ان کتب کے لکھنے والوں کی مدافعت کی جاتی ہے۔ اگر ان میں واقعہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غیرت ہے تو وہ کیوں وہ ہتھیار ہندوؤں کو مہیا کر کے دیتے ہیں جن سے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر حملہ کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی تمدنی بربادی ہی ان سب خرابیوں کی ذمہ دار ہے اور اس کا
دور کرنا ان کا سب سے پہلا فرض ہے۔ اپنے روپیہ کو محفوظ کر کے وہ دیکھیں تو سہی کہ کس طرح مخالفینِ اسلام کی طاقت آپ ہی آپ ٹوٹ جاتی ہے اور خود ان میں پھوٹ پڑ جاتی ہے۔ جو لوگ آج مسلم آؤٹ لک کے بہادر ایڈیٹر اور جری مالک کے پیچھے جیل خانہ جانے کے لئے تیار ہیں میں ان سے کہتا ہوں آپ کا کام جیل خانہ کے باہر ہے۔ ان چیزوں میں ہندوؤں سے چھوت چھات کرو جن میں ہندو، چھوت کرتے ہیں اور دوسری چیزوں میں مسلمانوں کی مدد کرو تو یہ بہترین تدبیر ہو گی جس سے آپ ان جیل میں جانے والوں کی مدد کر سکیں گے اور ان کے کام کو کامیاب بنا سکیں گے۔ چاہئے کہ اس وقت سب جگہ کے مسلمان اس امر پر اتفاق کر لیں کہ جلد سے جلد ہر قسم کی دکانیں مسلمانوں کی نکل آئیں اور جہاں تک ہو سکے مسلمان ان ہی سے سودے خریدیں۔ بائیکاٹ کے طور پر نہیں بلکہ صرف ہندوؤں کی تدابیر کے جواب کے طور پر اور اپنی قوم کو ابھارنے کے لئے۔
اے بھائیو! یاد رکھو کہ صرف جلسوں میں ریزولیوشن پاس کرنے سے کچھ نہ بنے گا کیونکہ ان کا کوئی مادی اثر نہیں۔ جیل خانوں میں جانے سے کچھ نہیں بنے گا کیونکہ اس میں خود ہمارا اپنا نقصان ہے۔ عقلمند وہ کام کرتا ہے جس سے اس کا فائدہ ہو۔ اور اس وقت اسلام اور مسلمانوں کا فائدہ اس میں ہے کہ مسلمانوں کی تمدنی حالت کو درست کیا جائے۔ ان کی اپنی دکانیں کھولی جائیں۔
آڑھت بالکل ہندوؤں کے قبضہ میں ہے اور اس سے مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔ ہمیں مسلمانوں کی آڑھت کی دکانیں کھلوانے کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔ جب تک آڑھت کی دکانیں نہیں کھلیں گی کبھی مسلمان زمیندار اور دُکاندار نہیں پنپ سکتے۔ اندھیر ہے کہ جو روپیہ اس وقت ہندو تبلیغ پر خرچ ہو رہا ہے اس کا کافی حصہ مسلمانوں کے گھروں سے خاص اس غرض سے جاتا ہے۔ عام طور پر ہندو آڑھتی ہر مسلمان زمیندار سے ہر سودے کے وقت ایک مقررہ رقم لیتا ہے کہ اتنی گئو شالہ کے لئے ہے، اس قدر دھرم ارتھ کے لئے، اتنی یتیموں کے لئے۔ اور اس سے مراد مسلمان یتیم خانے اور مسلمانوں کے کام نہیں ہوتے بلکہ خاص ہندوؤں کے کام ہوتے ہیں۔ اب غور کرو کہ پنجاب میں کس قدر رقم مسلمان خالص ہندو کاموں کے لئے دیتے ہیں۔ پس جب تک مسلمان ان رقوم کو بند نہ کریں گے اور اپنی رقوم کو اسلام کی ترقی کے لئے خرچ نہیں کریں گے وہ پروپیگنڈا جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کے خلاف ہو رہا ہے کبھی بند نہ ہو گا۔ لوگ کہتے ہیں مٹھائیاں و برف وغیرہ کہاں سے لیں۔ میں کہتا ہوں۔ اے بھائیو! تمہارے بھائی اسلام کی عزت کے لئے برفوں سے نہیں اپنے بیوی بچوں کی صحبتوں سے بھی محروم ہو گئے ہیں کیا تم برف اور مٹھائی ترک نہیں کر سکتے۔ اور کیا مسلمان کا دماغ اور سب کام کر سکتا ہے مگر یہ کام نہیں کر سکتے۔
دوسرا کام جو حقیقی کام ہے لیکن ابتداءً اس کا اثر ہندوؤں پر ایسا نہ ہو گا جیسا کہ پہلے کام کا، وہ تبلیغ اسلام ہے۔ ہندوؤں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے خلاف حملہ کرنے کی جرأت صرف اس خیال سے ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہندوستان میں خالص ہندو مذہب قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اگر ہم تبلیغ کے کام کو خاص زور سے اختیار کریں تو اسلام میں ایسی طاقت ہے کہ کوئی مذہب اس کے مقابلہ میں ٹھہر ہی نہیں سکتا۔ پس یقیناً اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ بہت جلد بہت سی ہندو اقوام جو برہمنک اصولِ مدارج سے تنگ آ چکی ہیں اسلام میں داخل ہونے لگیں گی اور ہندوؤں کو معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کو ہندو بنا لینے کا خیال بالکل وہم ہے اور خود بخود ان کا جوش ٹھنڈا ہو جائے گا۔
تیسری تدبیر یہ ہے کہ مسلمان اپنے سیاسی حقوق کا استقلال سے مطالبہ کریں۔ میں حیران ہوں کہ مسلمان کس طرح اس امر پر راضی ہو گئے کہ پچپن فی صدی آبادی کے باوجود چالیس فی صدی حقوق انہوں نے طلب کئے لیکن ملے اب تک وہ بھی نہیں۔ مسلمانوں کی یہ ایک بہت بڑی غلطی تھی کہ وہ ملازمتوں کو حقیر چیز خیال کرتے تھے۔ ملازمت اگر ایسی ہی حقیر ہوتی تو ہندو جو ایک بیدار قوم ہے کیوں اس طرح اس کی خاطر اپنی تمام تر طاقت خرچ کر دیتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملازمت اپنی ذات میں بڑی شئے نہیں لیکن اس کا واسطہ تمدنی ترقی سے اس قدر ہے کہ اس میں کمی یا زیادتی قوم کو تباہ کر سکتی یا بنا سکتی ہے۔ ملازمت کے سوا قومی گزارہ کا ذریعہ یا زراعت ہے یا ٹھیکہ داری یا صنعت و حرفت۔ مگر کیا زراعت کی کامیابی نہروں، تحصیل کے عملہ اور جوڈیشری پر موقوف نہیں۔ ٹھیکہ داری پبلک ورکس ریلوے اور نہروں سے متعلق نہیں۔ اور تجارت اور صنعت و حرفت گورنمنٹ سپلائی کے ساتھ وابستہ نہیں۔ جن لوگوں کے پاس ملازمتیں ہوں گی وہی ان کاموں میں ترقی کریں گے اور کر رہے ہیں۔ جس قدر بڑے بڑے مالدار ہندو اس وقت ہیں ان میں سے اکثر کو دیکھ لو کہ ان کی ترقی کا پہلا زینہ سرکاری ٹھیکہ داری پاؤ گے اور اس کا باعث ہندو افسر ہو گا۔
پس مسلمانوں کو یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ اپنی تعداد کے مطابق یا کم سے کم پچاس فی صدی تک اپنے حقوق کو حاصل کرنے کی متواتر کوشش کریں۔ اور اس وقت تک بس نہ کریں جب تک کہ یہ حق ان کو مل نہ جائے۔ میں نے سنا ہے کہ ملازمتیں تو الگ رہیں تعلیم میں بھی مسلمانوں کی ترقی کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پیشہ سکھانے والے کالجوں میں مسلمان کُل چالیس فی صدی داخل کئے جائیں۔ اگر یہ صحیح ہے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ مسلمان کبھی اپنے حق کو حاصل ہی نہ کر سکیں۔ کیونکہ جو لوگ چالیس فیصدی کالجوں میں داخل کئے جائیں گے وہ پچپن فی صدی یا پچاس فی صدی حق پانے کے قابل کبھی ہو ہی نہیں سکتے۔ پس چاہئے کہ مسلمان ایک ایک کر کے ہر ایک صیغہ کے متعلق نہ ختم ہونے والی جدوجہد کریں اور اس وقت تک بس نہ کریں جب تک ان کے حقوق انہیں مل نہ جائیں۔ اگر انہیں اپنے اوپر رحم نہیں آتا تو کم سے کم اپنی آئندہ نسلوں پر رحم کریں اور انہیں دائمی غلامی میں نہ چھوڑیں۔
یہ تینوں تجویزیں اس وقت مسلمانوں کے آزاد ہونے کے لئے نہایت ضروری ہیں۔ لیکن ان پر کبھی کامیابی سے عمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ تمام مسلمان کہلانے والے لوگ اکٹھے نہ ہو جائیں۔ مسلمانوں کی ناکامی ان کے تفرقہ کا نتیجہ ہے۔ وہ مخالفینِ اسلام کے دھوکے میں آکر آپس میں ایک دوسرے کی گردن کاٹتے رہتے ہیں اور دشمن ہنستا ہے کہ میں خود انہی کے ہاتھوں ان کو تباہ کرا دوں گا۔ آؤ آج سے فیصلہ کر لو کہ خواہ کس قدر ہی اختلاف مذہبی یا سیاسی ہو غیر قوموں کے مقابلہ میں ہم ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔ ہمارے مذہبی، سیاسی، تمدنی، اقتصادی اختلاف ہمیں آپس میں مل کر کام کرنے سے نہیں روکیں گے۔ ہم اپنے مذہب پر قائم رہیں اور محبت سے اس کی تلقین کریں۔ اپنا کوئی اصل نہ ترک کریں نہ کسی سے ترک کرائیں۔ لیکن ہم باوجود ہزاروں اختلافات کے اس امر کو نہ بھولیں کہ ایک نقطہ ہے جس پر ہم سب جمع ہو جاتے ہیں۔ اور ایک مقام ہے جہاں آ کر ہم سب بسیرا کر لیتے ہیں۔ وہ نقطہ کلمۂ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ہے۔ اور وہ مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سایۂ مبارک ہے۔ پس مخالفینِ اسلام کے مقابلہ کے لئے ہم سب کو جمع ہو جانا چاہئے تا کہ ہمارا اختلاف ہماری تباہی کا موجب نہ ہو۔ یہ اتحاد ایسا ہو کہ ہم اس میں سے کسی کو باہر نہ رہنے دیں۔ خلاَفتی یا خوشامدی، لیگ کا ماننے والا یا کانگرسی، عدمِ تعاونی یا ملازمِ سرکار کسی کو بھی ہم اپنے سے دُور نہ کریں کیونکہ اس عظیم الشان جدوجہد میں ہمیں ہر ایک میدان کے سپاہی کی ضرورت ہے۔ خلاَفتی کی بھی ہمیں اسی طرح ضرورت ہے جس طرح خوشامدی کی۔ ابھی سے ہر ایک اپنا اپنا کام کر سکتا ہے۔ اس لئے چاہئے کہ مفید تجویز کسی کی طرف سے پیش ہو خواہ وہ ہمارا کس قدر ہی دشمن ہو ہم سب ملکر اس کی تائید کریں اور ایک زبان ہو کر سارے ہندوستان میں اس کی دھوم مچادیں۔ اور جن لوگوں سے ہمیں اختلاف بھی ہو گو ان کے خیالات کی ہم تردید کریں لیکن استہزاء سے کام نہ لیں اور تذلیل نہ کریں تا کوئی شخص بھی ہمارا ہاتھ سے جاتا نہ رہے۔
میں نے ان اغراض کو پورا کرنے کے لئے چھ اضلاع میں مبلغ مقرر کئے ہیں اور باقی ضلعوں میں مقامی انجمنوں کے ذریعہ سے کام کروا رہا ہوں۔ ان لوگوں سے علاوہ چھوت چھات کی تحریک کرنے، تمدنی آزادی کی ترغیب دینے اور مل کر کام کرنے کی تحریص دلانے کے یہ بھی کام لیا جائے گا کہ تمام مسلم اخبارات کی اشاعت کی تحریک بھی وہ ہر جگہ کریں کیونکہ پریس کی مضبوطی قوم کی آواز کے بلند کرنے کے لئے ضروری ہے۔ اس وقت تک مسلمانوں کی ترقی مشکل ہے جب تک کہ مسلمانوں کا پریس نہایت مضبوط نہ ہو۔ اور اسی طرح یہ تحریک بھی کرائی جائے گی کہ مسلمان، زمیندار اور تاجر اپنا کام مسلمان وکلاء کو دیا کریں تاکہ مسلمان وکلاء آزاد ہو کر کام کر سکیں۔ یہ پیشہ آزاد ہے مگر بوجہ کام کی کمی کے مسلمان وکلاء اس طرح کام نہیں کر سکتے جس طرح کہ ہندو وکلاء کر سکتے ہیں۔
ان تمام تدابیر پر عمل کرنے کے لئے میرے نزدیک تمام اسلامی سوسائٹیوں، انجمنوں، اخباروں، رسالہ جات اور جماعتوں کی طرف سے سب سے پہلے یہ اعلان ہو جانا چاہئے کہ ہم اسلام کے عام فوائد کے معاملہ میں اپنے اختلافات سے قطع نظر کر کے آپس میں ملکر کام کیا کریں گے تاکہ عوام الناس میں بھی ادھر توجہ پیدا ہو جائے اور وہ سمجھ لیں کہ اب کام کرنے کا وقت آگیا ہے اور یکدم سب مقامات پر عملی جدوجہد شروع ہو جائے۔
اس کا مناسب ذریعہ علاوہ اوپر کے اعلان کے جس کا میں اپنی طرف سے تو اس مضمون میں وعدہ شائع کر دیتا ہوں یہ بھی ہے کہ مسلم آؤٹ لک کے ایڈیٹر اور مالک کے قید ہونے کے مثلاً پورے ایک ماہ بعد یعنی ۲۲۔ جولائی کو جمعہ کے دن ہر مقام پر ایک جلسہ کیا جائے جس میں مسلمانوں کی اقتصادی اور تمدنی آزادی کے متعلق مسلمانوں کو آگاہ کیا جائے اور سب سے وعدہ لیا جائے کہ وہ اپنے حلقہ میں تبلیغ اسلام کا کام جاری کریں گے۔ اور ہندوؤں سے ان امور میں چھوت چھات کریں گے جن میں ہندو اُن سے
چھوت چھات کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ کہ وہ اپنی تمدنی اور اقتصادی زندگی کے لئے پوری سعی کریں گے، اپنے قومی حقوق کو قوانین حکومت کے ماتحت حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں گے، اسلامی فوائد میں سب ملکر کام کریں گے اور اسی دن ہر مقام پر ایک مشترکہ انجمن بنائی جائے جو مشترکہ فوائد کے کام کو اپنے ہاتھ میں لے۔ اسی طرح اس دن تمام لوگ مل کر گورنمنٹ سے درخواست کریں کہ ہائی کورٹ کی موجودہ صورت مسلمانوں کے مفاد کے خلاف ہے اور ان کی ہتک کا موجب۔ پچپن فی صدی آبادی والی قوم کے کُل دو جج ہیں اور ان میں سے ایک سروس سے لیا ہؤا اور ایک صوبہ سے باہر سے لایا ہؤا۔ اس میں مسلمان اپنی ہتک محسوس کرتے ہیں۔ یہ سمجھنا کہ ہر شعبہ کے لئے مسلمان قابل سے قابل مل سکتے ہیں لیکن جج نہیں مل سکتا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ گورنمنٹ نے جو کچھ کیا انصاف ہی سے کیا ہو گا مگر ہمارے نزدیک اس معاملہ میں مسلمانوں کے حقوق پر کافی غور نہیں کیا گیا اور اس کا ازالہ جلد سے جلد ضروری ہے اور اس کے لئے ہم باادب یہ درخواست کرتے ہیں کہ کم سے کم ایک مسلمان جج پنجاب کے بیرسٹروں میں سے اور مقرر کیا جائے اور اسے نہ صرف مستقل کیا جائے بلکہ دوسرے ججوں سے اس طرح سینئر کیا جائے کہ سر شادی لال صاحب کے بعد وہی چیف جج ہو۔
اسی طرح ایک جلسہ میں حاضرین سے دستخط لے کر ایک محضر نامہ تیار کیا جائے کہ ہمارے نزدیک مسلم آؤٹ لک کے ایڈیٹر اور مالک نے ہرگز عدالت عالیہ کی ہتک نہیں کی بلکہ جائز نکتہ چینی کی ہے جو موجودہ حالات میں ہمارے نزدیک طبعی تھی اس لئے ان کو آزاد کیا جائے اور جلد سے جلد کنور دلیپ سنگھ صاحب کے فیصلہ کو مسترد کرا کے مسلمانوں کی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ادنیٰ بے ادبی بھی برداشت نہیں کر سکتے دلجوئی کی جائے۔ کوشش یہ ہونی چاہئے کہ کم سے کم پانچ چھ لاکھ مرد و عورت کے دستخط یا انگوٹھے اس محضر نامہ پر ہوں تاکہ نہ صرف ہندوستان بلکہ اس کے باہر بھی اس کا اثر ہو۔ اور اس کا ایک طبعی اثر مسلمانوں کے دماغوں پر ایسا پڑے کہ دوسرے امور میں جدوجہد بھی ان کے لئے آسان ہو جائے۔ یہ محضر نامہ ابھی سے تیار ہونا شروع ہو جانا چاہئے۔ اس سے لوگوں کو کام کرنے کا موقع بھی مل جائے گا اور لوگوں پر اثر بھی اچھا ہو گا۔
میرے نزدیک ایک ماہ بعد کی تاریخ رکھنی اس لئے مناسب ہے کہ تا اس عرصہ میں تمام ملک کو اس غرض کے لئے بیدار کیا جا سکے۔ جلسہ جمعہ کی نماز کے بعد آسان ہو گا۔ لیکن جس جگہ قانوناً جلسہ کو روک دیا جائے اس جگہ نماز جمعہ کے خطبہ میں امام ان باتوں کو بیان کر سکتا ہے۔ اس طرح قانون کے مقابلہ کے بغیر کام ہو جائے گا۔
میرے نزدیک فی الحال یہی تدابیر مناسب ہیں۔ گو بہت سے لوگ اس وقت بہت جوش رکھتے ہیں۔ مگر میں کہتا ہوں کہ کامیابی کے لئے ساری قوم کی قربانی ضروری ہوتی ہے۔ صرف چند آدمیوں کی قربانی زیادہ فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ پس ہمیں سب مسلمانوں کو تیار کرنا چاہئے اور اس کے لئے بہت بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ جب کام شروع کیا جائے گا تب معلوم ہو گا کہ کس قدر مشکلات راستہ میں آئیں گی۔ اور جن کو ناجائز فوائد کے حاصل کرنے سے روکا جائے گا کس کس طرح نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔
میں آخر میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ یہ وہ تجاویز ہیں جو میرے ذہن میں آئی ہیں۔ باقی مسلمان بھائی خود بھی غور کر لیں اور جو تجاویز بھی مفید ہوں انہیں اختیار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن میرا یہ خیال ہے کہ اگر اس پروگرام کو اختیار کیا جائے تو اِنْ شَاءَ اللّٰہُ مفید ہو گا اور ایک ایسی رو چل جائے گی کہ جس سے کام لے کر بہت سے مفاسد کی اصلاح ہو سکے گی ورنہ ہم تو اس کی طرف توجہ کر ہی رہے ہیں اور اِنْ شَاءَ اللّٰہُ کریں گے۔ بائیس جولائی یا جس تاریخ پر بھی اتفاق ہو اس کے آنے تک ہمیں ہر ممکن ذریعہ سے اس تحریک کو عام کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ جو غرض اس تحریک سے ہے وہ پوری ہو سکے۔
میں مضمون ختم کرنے سے پہلے پھر تمام مسلمانوں کو یقین دلاتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کے لئے ہماری جماعت ہر جائز اور مطابق اسلام قربانی کرنے کے لئے تیار ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اور آپ لوگوں کو بھی توفیق عطا فرمائے۔
خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ قادیان ۲۳؍ جون ۱۹۲۷ء (الفضل یکم جولائی ۱۹۲۷ء)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
(تحریر فرمودہ ۷؍ جولائی ۱۹۲۷ء بمقام کنگزلے شملہ)
برادران! اَلسَّلَامُ عَلَیْكُمْ
کچھ عرصہ ہوا میرے پاس قادیان کے کچھ سکھ صاحبان بطور وفد آئے۔ اور انہوں نے شکایت کی کہ ماسٹر عبدالرحمٰن صاحب بی اے کی کتاب ”گورو نانک صاحب کا مذہب“ میں ان کے پیشواؤں پر حملہ کیا گیا ہے۔ میں یہ یقین نہیں کر سکتا تھا کہ کوئی احمدی ایسا کرے۔ لیکن چونکہ بعض حوالے مجھے ایسے سنائے گئے جو میرے نزدیک واقعہ میں قابل اعتراض تھے‘ اس لئے میں نے انہیں تسلی دلائی کہ اس کتاب کے متعلق تحقیق کر کے میں مناسب کارروائی کروں گا۔ اس وعدہ کے مطابق میں نے صیغہ تالیف و تصنیف کو توجہ دلائی کہ وہ اس کتاب کا مطالعہ کر کے رپورٹ کرے۔ صیغہ کی رپورٹ کو پڑھنے اور ان عبارتوں کے دیکھنے کے بعد جو رپورٹ میں نقل کی گئی ہیں‘ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ گو یہ کتاب قانون کی زد میں نہ آتی ہو مگر سکھوں کا دل دُکھانے کے لئے کافی ہے۔
میں اس امر کا قائل نہیں ہوں کہ ہمیں صرف اس بات سے بچنا چاہئے جو قانون کی زد میں آتی ہو بلکہ ہمارے لئے گورنمنٹ انگریزی کے قانون سے بھی بڑا قانون ایک اور ہے اور وہ شریعت اسلام کا قانون ہے۔ اسلام ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم بد گوئی اور سخت کلامی سے احتراز کریں اور بچیں۔ اگر ہم سچے مسلمان ہیں تو ہمیں ایسی تحریر و تقریر سے بچنا چاہئے جو بدگوئی پر مشتمل ہو۔ مزید برآں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پہلے شخص ہیں جنہوں نے حضرت باوانانک رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْهِ کی نسبت تحقیق سے لکھا ہے کہ وہ ایک ولی اللہ اور خدا رسیدہ بزرگ تھے اور اسلام کے ماننے والے تھے۔ پس ایسے بزرگ کے جانشینوں کو بغیر کسی قطعی ثبوت کے سخت الفاظ سے یاد کرنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحقیق پر پانی پھیرنا ہے اور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہتک ہے۔ لیکن اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ سکھ مذہب گورؤوں کے زمانہ میں ہی بگڑ گیا تھا تب بھی کسی شخص کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسروں کے احساسات کا لحاظ نہ کرتا ہوا ایسے الفاظ استعمال کرے جو خواہ مخواہ ایک حصہ بنی نوع انسان کا دل دُکھانے والے ہوں۔ خصوصاً ایک تبلیغی جماعت کا تو یہ فرض ہے کہ وہ سخت کلامی سے کام نہ لے تا وہ دوسروں اقوام متنفر ہو کر اس کی بات سننے سے احتراز نہ کرنے لگیں۔ پس ان حالات میں جب کہ مجھ پر قطعی طور پر ثابت ہو گیا ہے کہ اس کتاب کے صفحہ ۶۵ تک بہت سے ایسے الفاظ ہیں جو سکھ صاحبان کے دل کے دُکھانے والے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے خلاف ہیں۔
میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ سلسلہ کے نام پر میں اس کتاب کو ضبط کرتا ہوں۔ آئندہ کسی سلسلہ کے اخبار میں اس کا اشتہار نہ چھپے، کوئی احمدی اسے نہ خریدے اور جو خرید چکے ہیں وہ فوراً اس کتاب کو تلف کر دیں اور جب تک اس کتاب کے سخت الفاظ بدل کو مہذب طریق سے مضمون کو پیش نہ کیا جائے، اس کتاب کی بندش رہے۔ اور نہ احمدی اسے خود خریدیں اور نہ دوسروں کو خریدنے کی تحریک کریں چونکہ اس سے پہلے بھی ماسٹر صاحب کو کہا جا چکا تھا کہ وہ ایسے طریق سے باز رہیں جس سے اقوام میں منافرت پھیلتی ہو لیکن انہوں نے احتیاط کا طریق اختیار نہیں کیا۔ اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ انہیں کسی اشتہار یا کتاب کے شائع کرنے کی اس وقت تک اجازت نہ ہوگی جب تک کہ صیغہ تالیف و تصنیف اسے دیکھ نہ لے اور اگر وہ بغیر منظوری کے کوئی تحریر شائع کریں گے تو فوراً اس کے متعلق جماعت میں اعلان کر دیا جائے گا کہ اسے کوئی نہ خریدے۔ میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ مجھے جماعت کے بعض لوگوں کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ سکھ صاحبان کی طرف سے بھی ایسے مضمون شائع ہو رہے ہیں جن میں اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی جاتی ہے۔ چونکہ مجھے ایسے مضمون دکھائے نہیں گئے میں نہیں کہہ سکتا کہ کوئی تازہ واقعہ ایسا ہوا ہے یا نہیں۔ لیکن اگر کوئی ایسا تازہ واقعہ ہوا ہے تو اس کو میرے سامنے پیش کرنا چاہئے۔ اگر سکھ صاحبان ہمارے رسولؐ اور ہمارے مذہب کی توہین اور ہتک کرتے ہیں تو میں اس کے خلاف اسی طرح آواز بلند کروں گا کہ جس طرح آریہ کتب کے خلاف میں نے آواز بلند کی تھی۔ لیکن ایسے امور میرے سامنے پیش کرنے چاہئیں۔ ہر ایک شخص کو یہ اختیار نہیں ہے کہ اپنے خیال سے ہی ایسا کام شروع کر دے جو فساد کا موجب ہو سکتا ہو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت میں ہمیں ہر ایک قربانی سے جس کی شریعت نے اجازت دی ہے دریغ نہیں ہو سکتا اور اس معاملہ میں ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ بغیر اس کے کہ خلیفہ وقت کے سامنے جو ان کاموں کا ذمہ دار ہے معاملہ کو پیش کیا جائے‘ آپ ہی آپ حقیقی یا خیالی مظالم کا بدلہ لینا شروع کر دیا جائے۔ اگر احمدیوں میں بھی اسی طرح ہونا ہے تو پھر کسی خلیفہ کی ضرورت ہی کیا ہے۔
میرا تجربہ یہ ہے کہ گو بہت سے سکھ پچھلی شورش میں دھوکا کھا کر ظلم کرنے والوں کی حمایت میں کھڑے ہو گئے تھے لیکن بعض بڑے لیڈروں نے اس طریق کو ناپسند کیا ہے اور صاف کہہ دیا ہے کہ ہم ان لوگوں کی تائید میں جنہوں نے ظلم کیا ہے‘ مسلمانوں سے لڑنے پر تیار نہیں ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ جلد یہ فریق دوسروں کی آواز کو دبا دے گا۔
میں امید کرتا ہوں کہ جماعت کے مصنف اور لیکچرار آئندہ مجھے اس قسم کے اعلان کے شائع کرنے کا موقع نہ دیں گے۔ نہ صرف سکھوں کے متعلق بلکہ تمام دوسرے مذاہب کے متعلق بھی۔
والسلام خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح کنگزلے۔ شملہ ۷۔۷۔۱۹۲۷ء (الفضل ۱۶؍ ستمبر ۱۹۲۷ء)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ— هُوَ النَّاصِرُ
(رقم فرمودہ جولائی ۱۹۲۷ء)
جس سُرعت سے ہندوستان میں حالات بدل رہے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آج مسلمانوں کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ ایک وقت ایسا ہوتا ہے کہ انسان سو بھی سکتا ہے لیکن اب وہ وقت آگیا ہے کہ مسلمان اگر سونا بھی چاہیں تو ان کے لئے ناممکن ہے۔ خدا تعالیٰ کے فرشتے انہیں مار مار کر اٹھا رہے ہیں۔ اور انہوں نے سخت دل دشمن کو ان پر مسلط کر دیا ہے تاکہ وہ ان کی نیند کو ان پر حرام کر دے۔ اب اُن کے لئے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار کرنا لازمی ہے۔ یا تو بیدار ہو کر اپنی زندگی کو قائم رکھیں یا مر کر زمین کو اپنے وجود سے پاک کر دیں۔ سب درمیانی راہیں آج ان پر بند ہیں اور سب دوسرے دروازے آج ان کے لئے مقفل ہیں۔
کتاب ”رنگیلا رسول“ کے فیصلے نے ہندوؤں میں سے ان لوگوں کو جو بزرگانِ دین کی ہتک میں لذت محسوس کرتے ہیں اور خدا کے پیاروں کو گالیاں دینا ان کی غذا ہے اس قدر دلیر کر دیا ہے کہ وہ خدا کے برگزیدہ رسول اور نبیوں کے سردار اور پاکیزگی و طہارت کے مجسمہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم فِدَاهُ اَبِیْ وَ اُمِّیْ پر ایک سے ایک بڑھ کر ناپاک حملے کر رہے ہیں اور ان کی فطرت اس غلاظت اور نجاست پر منہ مارنے سے کراہت نہیں کرتی۔ حالانکہ یہ ایسا گندہ فعل ہے کہ انسانیت اس کے خیال سے کانپتی ہے اور شرافت ایسے ذکر سے نفرت کرتی ہے۔ شریف الطبع لوگ تو معمولی آدمی کو گالیاں دینے سے بھی دریغ کرتے ہیں کجا یہ کہ اس قسم کے مصنف اس پاکباز کو گندے سے گندے الفاظ سے یاد کرتے ہیں جس پر طہارت کو فخر ہے اور پاکیزگی کو ناز۔
کتاب ”رنگیلا رسول“ اور ”وچتر جیون“ سے یہ ہولی شروع ہوئی۔ کنور دلیپ سنگھ صاحب کے فیصلے سے جرأت پا کر ورتمان نے اس ظلم کو اور بڑھایا۔ اور اس کے بعد پے درپے پرتاپ اور ملاپ وغیرہ کے ایڈیٹروں نے اپنی دریدہ دہنی کا ثبوت دیا۔ اس ناپاک حملے کے جواب میں مسلمانوں نے کیا کیا اور اس کا کیا بدلہ ملا وہ ظاہر ہے۔ مسلم آؤٹ لک میں کنور دلیپ سنگھ صاحب کے فیصلے پر جرح کی گئی تو ایڈیٹر اور مالک ہتک عدالت کے جُرم میں قید خانے میں ڈال دیئے گئے۔ وہ ہندوستان کی سرزمین جس پر کل تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حکومت کر رہے تھے آج اس کی عزت کی حفاظت کرنے والے عدالت عالیہ کی ہتک کے مرتکب قرار پا کر قید خانے کی دیواروں کے پیچھے محبوس ہیں۔ یہ کیوں ہے؟ اسی لئے کہ مسلمانوں نے اپنے فرائض کو بھلا دیا اور اپنی ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال دیا۔ خدا تعالیٰ ظالم نہیں۔ وہ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ(13:12)۷؎ اللہ تعالیٰ یقیناً کسی قوم سے اس کی نعمتیں نہیں چھینتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو ان نعمتوں کے استحقاق سے محروم نہیں کر دیتی۔ پس اے مسلمانو! اپنے حال پر غور کرو اور اپنی مشکلات پر نظر ڈالو۔ ایک دن وہ تھا کہ خدا کی نصرت تم کو کرۂ ارض کے کناروں تک لے جا رہی تھی اور آج تم دوسری قوموں کا فٹ بال بن رہے ہو۔ جس کا جی چاہتا ہے پیر مار کر تمہیں کہیں کا کہیں پھینک دیتا ہے۔ ایک وقت وہ تھا کہ تمہارے رحم پر تمام دُنیا تھی اور تم دنیا سے رحم کا سلوک کرتے تھے لیکن آج تم دنیا کے رحم پر ہو اور دنیا تم سے رحم کا سلوک نہیں کرتی۔ آہ! وہ دن کیا ہوئے جب تم دنیا کے رکھوالے تھے اور کیا ہی اچھے رکھوالے تھے۔ ہر قوم اور ملت کے بے کس تمہاری حفاظت میں آرام سے زندگی بسر کرتے تھے۔ تمہارا نام انصاف کا ضامن تھا اور تمہاری آواز عدل کی کفیل۔ مگر آج تم لاوارث اور بے یار و مددگار ہو۔ اپنی عزت کی حفاظت تو الگ رہی اس پاک ذات کی عزت کی حفاظت بھی تم سے ممکن نہیں جس پر تمہارے جسم کا ہر ذرہ فدا ہے اور جس کی جوتیوں کی خاک بننا بھی تمہارے لئے فخر کا موجب ہے۔ آسمان تمہارے لئے تاریک ہے اور زمین تمہارے لئے تنگ ہے۔ اے بھائیو! کیا کبھی آپ نے اس امر پر غور کیا کہ یہ سب کچھ مسلمانوں کی اپنی سستیوں اور غفلتوں کا نتیجہ ہے ورنہ خدا تعالیٰ ہرگز ظالم نہیں۔ یہ دن کبھی بھی نہ آتے اگر مسلمان اپنی سستیوں اور غفلتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہ کرتے اور اپنی اصلاح کی فکر کرتے۔ لیکن اب بھی کچھ نہیں گیا۔ اگر اب بھی آپ لوگ ہمت سے کام لیں اور اللہ تعالیٰ سے صلح کر کے بجائے اس پر الزام لگانے کے اور یہ کہنے کے کہ اس نے ہمیں ذلیل کر دیا ہے اپنے عیب اور نقص کو محسوس کرنے لگیں اور اپنی سستیوں اور غفلتوں کو ترک کر دیں تو یقیناً یہ مصائب کا زمانہ بدل جائے گا اور
یہ مشکلات کے بادل پھٹ جائیں گے۔
اے بھائیو! آپ کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ بغیر عقل اور تدبیر سے کام لینے کے موجودہ مشکلات دُور نہیں ہو سکتیں۔ ہو گا وہی جس کے مستحق ہمارے اعمال ہمیں بنائیں گے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ ہائی کورٹ کے ایک جج نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ انگریزی قانون کی رو سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت سے سخت ہتک کرنے والا شخص بھی قابل سزا نہیں۔ یہ فیصلہ ہمارے نزدیک غلط ہے لیکن اس میں کیا شک ہے کہ صوبہ کی اعلیٰ عدالت کے ایک رکن نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ اور جب تک یہ فیصلہ نہ بدلے اس وقت تک یہی فیصلہ ملک کا قانون ہے۔ مسلم آؤٹ لک نے اس فیصلہ پر جرح کی اور اس کے ایڈیٹر اور مالک کو ہتک عدالت کے جرم میں قید خانے میں داخل کر دیا گیا ہے۔ اب ہمارا کام یہ ہے کہ
(۱) ان لوگوں کو قید سے رہا کرائیں کہ جن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت میں قید کیا گیا۔ (۲) فیصلے کو جلد سے جلد بدلائیں۔ (۳) ان حالات کی اصلاح کرائیں جن کی وجہ سے اس قسم کی ہتک آمیز تحریرات لکھی گئیں اور ان کے لکھنے والے بری کئے گئے۔
آپ خوب اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ حکومت ہمارے اختیار میں نہیں ہے اور نہ ہم اکیلے ہی ہندوستان کے باشندے ہیں۔ حکومت انگریزوں کے اختیار میں ہے اور ہندوستان کی آبادی کا اکثر حصہ ہندو ہے۔ پس ہم خود کچھ کر نہیں سکتے اور گورنمنٹ کو بھی دخل دیتے وقت اس امر کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس کے فیصلے کا آبادی کے دوسرے حصہ اور زیادہ حصہ پر کیا اثر پڑتا ہے۔ پس بغیر اس کے کہ ہم حُسن تدبیر سے کام لیں ہمارے لئے کامیابی ناممکن ہے۔ اور اگر ہم جوش میں اپنے آپ کو ہلاک بھی کر دیں تو اس سے اسلام کو کوئی فائدہ نہ ہو گا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے کا دروازہ اور بھی کھل جائے گا۔ پس ہمیں چاہئے کہ اپنی عقل کو قائم رکھتے ہوئے ان تدابیر کو اختیار کریں جو موجودہ مشکلات کو حل کر دیں اور مسلمانوں کی موجودہ ذلت کو عزت سے بدل دیں۔
آپ سب لوگوں کو معلوم ہو گا کہ گورنر صاحب پنجاب نے بڑے زور دار الفاظ میں کنور دلیپ سنگھ صاحب کے فیصلہ کے خلاف آواز بلند کی تھی اور اس پر تعجب اور حیرت کا اظہار کیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ وہ ضرور یا تو اس فیصلے کو بدلوا ئیں گے یا پھر قانون کی اصلاح کرائیں گے تاکہ آئندہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی کسی کو جرأت نہ ہو۔ اس عرصے میں ورتمان کے رسالے میں ایک مضمون شائع ہوا اور میں نے اس کی طرف ایک اشتہار کے ذریعہ سے توجہ دلائی اور گورنمنٹ نے اس رسالہ کو ضبط کرنے کے علاوہ اس کے ایڈیٹر اور مضمون نگار پر مقدمہ چلا دیا۔ یہ مقدمہ اب ہائی کورٹ میں پیش ہے اور اس کے فیصلے پر یا تو قانون کی وہ تشریح قائم ہو جائے گی جو اب تک سمجھی جاتی رہی ہے۔ یا پھر گورنمنٹ قانون کی ایسی تشریح کر دے گی کہ آئندہ کسی جج کو اس قانون کے وہ معنے کرنے کا موقع نہ ملے جو کہ کنور دلیپ سنگھ صاحب نے کئے تھے۔ میں نے قانون دان لوگوں سے معلوم کیا ہے کہ کتاب ”رنگیلا رسول“ کے مصنف کے خلاف پریوی کونسل میں اپیل نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ پریوی کونسل یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ اس کے سامنے ایسے ہی مقدمات آنے چاہئیں جن میں کسی شخص کی بریت یا سزا میں تخفیف کی خواہش کی گئی ہو۔ اور سزا کی زیادتی یا سزا دینے کے متعلق اپیلوں کو سننے کے لئے وہ تیار نہیں۔ پس یہی راستہ گورنمنٹ کے لئے کھلا تھا وہ ایک نیا مقدمہ چلائے۔ اور اس کا موقع اُسے ورتمان کے مضمون سے مل گیا ہے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ موقع میرے ذریعہ سے بہم پہنچا دیا۔
ان حالات میں آپ لوگ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اس معاملے میں ہماری تکلیف کا موجب گورنمنٹ نہیں بلکہ جیسا کہ گورنر صاحب صاف کہہ چکے ہیں گورنمنٹ اس معاملہ میں مسلمانوں کو مظلوم سمجھتی ہے اور ان سے ہمدردی رکھتی ہے لیکن وہ ہندو جو اس وقت فساد کے درپے ہیں چاہتے ہیں کہ کسی طرح گورنمنٹ سے ہمیں لڑا کر اپنا کام نکالیں اور گورنمنٹ کی نظروں میں مسلمانوں کو فسادی ثابت کر کے اس کی ہمدردی کو اپنے حق میں حاصل کر لیں۔ اے بھائیو! آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اگر وہ اس کوشش میں کامیاب ہو جائیں تو اسلام کے لئے کس قدر مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ بے شک بعض لوگ کہہ دیں گے کہ ہم جانیں دے دیں گے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ کیا بے فائدہ جان دیدینے سے اسلام کا نفع ہو گا یا نقصان؟ یقیناً جس طرح موقع پر جان دینے سے گریز کرنے والا آدمی مجرم ہے اسی طرح وہ شخص بھی مجرم ہے جو بے موقع جان دے کر اسلام کی طاقت کو کمزور کرتا ہے۔ ہر شخص جو اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتا ہے اسلام کی چھت کے نیچے کا ایک ستون ہے اور اس کا ٹوٹنا اسلام کے لئے مضرّ۔ پس ہر ایک شخص جو بے جا جوش میں آ کر اپنے آپ کو تباہ کرتا ہے اسلام کو نقصان پہنچانے والا ہے نہ کہ فائدہ پہنچانے والا۔ پس میں خلوص دل اور گہری محبت کے جذبات سے متاثر ہو کر آپ لوگوں سے کہتا ہوں کہ یہی وقت اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کا ہے۔ اسلام کی حالت پر نظر کرتے ہوئے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور مسلمانوں کے فوائد کا خیال کرتے ہوئے
آج ہر قسم کے ایسے افعال سے اجتناب کریں جو کہ آپ کے جوشوں کو تو نکال دیں لیکن اسلام کی طاقت کو نقصان پہنچا دیں۔ اے بھائیو! وہ دو بہادر اور وفادار جو آج قید خانے کو زینت دے رہے ہیں ان میں سے ایک یعنی ”مسلم آؤٹ لک“ کا ایڈیٹر میرا روحانی فرزند ہے اور ایک مخلص احمدی ہے اور آپ لوگ جانتے ہیں کہ کس بہادری سے اس نے غیرتِ اسلامی کا ثبوت دیا ہے۔ اس کا اور اس کے بھائی کا قید میں رہنا مجھے جسقدر شاق گزر سکتا ہے اس کا اندازہ دوسرے لوگ نہیں کر سکتے۔ اسی طرح میری صحت کمزور ہے اور آج کل تو روزانہ بخار ہوتا ہے مگر اس حالت میں بھی دن اور رات موجودہ اسلامی مشکلات کی فکر میں اور ان کے دُور کرنے کی تدابیر میں لگا رہتا ہوں۔ پس میں جو کچھ کہتا ہوں محض اسلام کی عزت اور آپ لوگوں کے فائدہ کے لئے کہتا ہوں۔ خدا اور اس کے رسول کے لئے جس وقت جان دینا ہی ضروری ہو گا اس وقت اگر میں زندہ ہوا تو اِنْشَآءَ اللّٰهُ تَعَالٰی میں سب سے آگے ہوں گا اور خدا کے فضل سے کسی کو آگے نکلنے نہیں دوں گا۔ لیکن عقل کہتی ہے کہ اس وقت ہمارے فوائد اس امر سے وابستہ ہیں کہ ہم حُسنِ تدبیر سے اور گورنمنٹ کے ساتھ صلح رکھ کر اپنے مقاصد کو حاصل کریں۔
اے بھائیو! اس وقت ہندوستان میں اسلام کی زندگی اور موت کا سوال پیش ہے اور اس وقت ہماری ذرا سی کوتاہی ہمیں خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بنا دے گی۔ پس اس بیداری کو جو خدا تعالیٰ نے مسلمانوں میں پیدا کی ہے رائیگاں نہ جانے دو۔ چاہئے کہ ہم اس شخص کی طرح کام نہ کریں کہ جسے سوتے سے جگایا جاتا ہے تو اٹھ کر جگانے والے کو مار کر پھر لیٹ جاتا ہے بلکہ ہماری بیداری حقیقی بیداری ہو اور ہم ان کاموں میں بڑے زور سے لگ جائیں جو اسلام کی ترقی اور مسلمانوں کی بہبودی کے لئے ضروری ہیں۔ اسلام کی زندگی آپ کی موت سے نہیں بلکہ آپ کی زندگی سے وابستہ ہے۔ یہ نہ خیال کرو کہ اس وقت تک ہماری زندگی سے اسلام کو کیا فائدہ پہنچا ہے۔ کیونکہ اس وقت تک آپ کی زندگی غفلت کی زندگی تھی حقیقی زندگی نہ تھی۔ اسلام کے لئے زندگی بسر کر کے دیکھو تو تھوڑے ہی دنوں میں سب غلامی کے بند ٹوٹنے لگ جائیں گے اور ذلت کی گھڑیاں جاتی رہیں گی۔
اس وقت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں میں غیرت کا چشمہ پھوڑ دیا ہے جو روز بروز ایک زبردست دریا کی شکل میں تبدیل ہوتا جاتا ہے۔ اس دریا کے پانی کو پھیلنے نہ دو کہ وہ اس طرح ضائع ہو جائے گا اور پھر یہ دن میسر نہ ہوں گے۔ اس دریا کو اس کے کناروں کے اندر رہنے دو اور اسلام کے دشمنوں کے کھودے ہوئے گڑھوں کی وجہ سے جو آبشاریں بن رہی ہیں ان سے بجلی لے کر ایک نہ دبنے والی طاقت پیدا کرو تا خدا آپ پر راضی ہو اور آئندہ آنے والی نسلیں آپ پر فخر کریں۔
میرے نزدیک ہر ایک اسلام کا درد رکھنے والے کا اس وقت یہ فرض ہے کہ اس موقع پر بجائے وقتی جوش دکھانے کے وہ یہ عہد کرے کہ وہ آئندہ قرآن کریم کو اپنا ہادی بنائے گا اور اسلام کے احکام کے مطابق زندگی بسر کرے گا۔ اور مسلمانوں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے گا۔ اور مسلمانوں کی ہر قسم کی مدد کے لئے آمادہ رہے گا۔ اور اسلام کی طرف منسوب ہونے والوں سے لڑائی جھگڑے کو بند کر دے گا۔ اور خواہ وہ اس کے کتنے دشمن ہوں وہ انہیں اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منکروں پر ترجیح دے گا۔ اور تبلیغ اسلام کو اپنا مقدم فرض سمجھے گا۔ اور اس کے متعلق مالی اور جسمانی اور اخلاقی امداد پر کمر بستہ رہے گا۔ اور ہندوؤں سے ان تمام امور میں چھوت چھات سے کام لے گا جن میں وہ مسلمانوں سے چھوت چھات کرتے ہیں۔ اور حتی الامکان مسلمانوں سے ہی سودا خریدنے کی کوشش کرے گا۔ اور مسلمانوں کی ہر قسم کی دکانیں کھلوانے کا ہمیشہ خیال رکھے گا۔ اور سود سے پرہیز کرے گا۔ اور اگر وہ اس خلاف شرع کام میں مبتلاء ہو چکا ہے تو اپنے علاقہ میں کو آپریٹو سوسائٹی کھلوا کر اس سے لین دین رکھے گا تاکہ ہندوؤں کی غلامی سے آزاد ہو جائے اور رفتہ رفتہ سود کی لعنت سے بھی بچ سکے۔ اور اگر وہ ملازم ہے تو حتی الامکان مسلمانوں کے پامال شدہ حقوق انہیں دلوانے کی کوشش کرے گا۔ اور اگر ایسے مقدمات پیش آتے ہیں تو وہ مقدور بھر مسلمان وکیلوں کے پاس جائے گا۔ اور ان متھی بھر مسلمان حکام کی عزت کی حفاظت کا ہمیشہ خیال رکھے گا کہ جنہیں برادرانِ وطن ہر طرح کا نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اور اسلامی اخبارات کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتا رہے گا اور اسلامی لٹریچر کی اشاعت میں ہر ممکن طریق سے حصہ لے گا۔ اور مسلمانوں میں صلح اور آشتی پھیلانے اور ان میں سے تفرقہ دور کرنے کی کوشش کرتا رہے گا۔ یہ وہ کام ہے جس کی اسلام کو اس وقت سخت ضرورت ہے۔ اور یہ وہ قربانی ہے جس سے اسلام کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ یہ کام یقیناً لڑ کر مر جانے سے ہزار درجہ بڑھ کر مشکل ہے۔ پنجاب کے ہر شہر میں جوش سے بڑھ بڑھ کر جان دینے والے آدمی ایک دن میں ہی پیدا کئے جا سکتے ہیں لیکن اس قربانی کے لئے جو لمبی اور نہ ختم ہونے والی قربانی ہے بہت ہی کم آدمی اس وقت میسر آسکتے ہیں۔ لیکن اسلام کو فتح اسی طرح نصیب ہو گی اور اسے غلبہ اسی طرح حاصل ہو گا۔ پس اس کی طرف توجہ کرو اور خدا پر توکل کر کے اٹھ کھڑے ہو۔ جو سست ہیں انہیں ہوشیار کرو۔ اور جو سو رہے ہیں انہیں جگاؤ اور جو کمزور ہیں انہیں سہارا دو اور جو روٹھے ہوئے ہیں۔ انہیں مناؤ۔ اور خدا کی راہ میں ہر ایک ذلت برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ کہ عزت وہی ہے جو خدا کی طرف سے ملتی ہے۔ اور معزز وہی ہے جس کی قوم معزز ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کی تمام دولتیں اور تمام عزتیں آپ کو اس وقت تک حقیقی عزت نہیں بخش سکتیں جب تک کہ آپ کی سب قوم معزز نہیں ہو جاتی۔
یہ تو اصلی کام ہے۔ باقی رہا وقتی کام سو اس کے لئے میرے نزدیک بہترین تجویز یہ ہے کہ اول تو جلد سے جلد ایک وفد ہز ایکسیلنسی گورنر پنجاب کے پاس جائے اور انہیں اس امر کی طرف توجہ دلائے کہ مسلم آؤٹ لک کے ایڈیٹر اور مالک کو فوراً آزاد کیا جائے اور اس وفد میں ہر فرقہ کے لوگ اور تمام پنجاب کے نمائندے شامل ہوں۔ میں نے اس غرض سے ہز ایکسیلنسی کو چٹھی بھی لکھوائی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس وفد کو ملنے سے انہیں کیا عذر ہو سکتا ہے۔ پس ہمیں امید رکھنی چاہئے کہ ہمارے معقول مطالبے کو منظور کرنے میں گورنمنٹ کو کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ اور اگر بفرضِ محال اس میں کوئی دقت محسوس ہوئی تو اس کے متعلق اس وقت کے پیدا ہونے پر غور کیا جا سکے گا۔
دوسری تدبیر یہ ہے کہ ایک محضر نامہ تمام پنجاب اور دہلی اور سرحدی صوبہ کے لوگوں کی طرف سے گورنمنٹ کے پیش کیا جائے جس میں اس سے پُر زور مطالبہ کیا جائے کہ وہ کنور دلیپ سنگھ صاحب جج ہائی کورٹ پنجاب کے فیصلے کے اثر کو مٹا کر فوراً اس امر کا انتظام کرے کہ آئندہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی شخص ایسے الفاظ استعمال نہ کرے جو اس مصنف کے خَبث باطن اور ناپاک فطرت کو نہایت ہی گندے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے مسلمانوں کی دل شکنی کا موجب ہوں۔ بلکہ نہ صرف آپ کے لئے بلکہ تمام مذاہب کے بزرگوں کی عزت کی حفاظت کے لئے مناسب تدابیر اختیار کرے۔ اسی طرح گورنمنٹ سے یہ مطالبہ بھی کیا جائے کہ وہ کنور دلیپ سنگھ صاحب کو جن کے فیصلہ متعلقہ کتاب ”رنگیلا رسول“ کی وجہ سے صوبے کی اکثر آبادی کو ان پر اعتماد نہیں رہا اس عہدہ جلیلہ سے الگ کر کے مسلمانوں کی بے چینی کو دُور کرے۔ نیز یہ بھی مطالبہ کیا جائے کہ مسلم آؤٹ لک کے مدیر اور مالک کو قید سے رہا کر دیا جائے کیونکہ انہوں نے مسلمانوں کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہوئے درحقیقت ہائی کورٹ کی عزت کو بچانے کی کوشش کی ہے نہ کہ اس کے اعتبار کو مٹانا چاہا ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہائی کورٹ نے ان کی قید کا حکم دے کر اپنے ہاتھوں اپنی عزت کو سخت صدمہ پہنچایا ہے اور چونکہ اس وقت ہائی کورٹ میں ہندوستانی ججوں میں سے اکثریت ہندوؤں کی ہے۔ اور پنجاب کے مسلمانوں کی اس بات میں سخت ہتک ہے کہ مسلمان بیرسٹروں میں سے ایک بھی جج مقرر نہیں۔ بلکہ ایک جج تو سروس سے لیا گیا ہے اور ایک جج یو پی سے بلایا گیا ہے۔ حالانکہ پنجاب میں مسلمانوں کی آبادی ۵۵؍فیصدی ہے اور اکثر مقدمات مسلمانوں کے ہی ہوتے ہیں۔ پس مسلمانوں کو ان کے حقوق دیئے جائیں۔ اور کم سے کم ایک مسلمان جج پنجاب کے بیرسٹروں میں سے فوراً مستقل طور پر مقرر کیا جائے اور جو موجودہ مسلمان جج ہیں۔
انہیں اگر گورنمنٹ رکھنا چاہتی ہو تو انہیں فوراً مستقل کر دے۔ اور یا انہیں واپس کر کے ان کی جگہ دوسرے مسلمان حج مقرر کئے جائیں تا مسلمانوں کی بے چینی دُور ہو اور چاہئے کہ اگلا چیف حج پنجاب کا مسلمان بیرسٹر حج مقرر ہو۔
اسی طرح یہ بھی مطالبہ کیا جائے کہ پنجاب جس میں اکثر حصہ آبادی کا مسلمان ہیں اس میں مسلمانوں کو پچیس فیصدی ملازمتیں بھی حاصل نہیں ہیں بلکہ بعض صیغوں میں تو ۱۰ فیصدی بھی مسلمان اعلیٰ ملازم نہیں ملیں گے۔ اس کا خطرناک اثر مسلمانوں کے تمدن اور ان کے حقوق کی حفاظت پر پڑتا ہے۔ پس جس قدر جلد ممکن ہو مسلمانوں کو کم سے کم نصف ملازمتیں دی جائیں تاکہ ان کے حقوق کی حفاظت ہو سکے۔
یہ محضر نامہ چھپ کر تیار ہے۔ میرے نزدیک اس پر کم سے کم پانچ چھ لاکھ مسلمانوں کے مرد ہوں یا عورتیں دستخط ہونے چاہئیں۔ یہ اتنی بڑی تعداد ہے کہ حکومت ہند اور حکومت برطانیہ کے اوپر اثر کئے بغیر نہیں رہے گی اور یہ محضر نامہ بھی دستخطوں کی تکمیل کے بعد ایک وفد کے ذریعہ گورنمنٹ کے سامنے پیش ہونا چاہئے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ایک بہت بڑا وفد جو سب فرقوں کے نمائندوں پر مشتمل ہو گا جب اسے پیش کرے گا تو گورنمنٹ اس متفقہ مطالبہ کو رد نہیں کر سکے گی کیونکہ ملک کا فائدہ اور گورنمنٹ کی مضبوطی بھی اسی امر میں ہے کہ وہ ان مطالبات کو جلد سے جلد پورا کرے۔ جو لوگ اس محضر نامہ پر دستخط کرانے کی خدمت کو اپنے ذمہ لینا چاہیں وہ مجھے یا صیغہ ترقی اسلام قادیان کو اطلاع دیں تا ان کے نام مطبوعہ فارم بھجوا دیئے جائیں۔
اسی طرح میری یہ تجویز ہے کہ ۲۲ جولائی بروز جمعہ بعد از نماز جمعہ پنجاب، دہلی اور سرحدی صوبہ کے ہر شہر، قصبہ اور گاؤں میں تمام فرقہ ہائے اسلامی کا ایک مشترکہ جلسہ کیا جائے جس میں اوپر کے امور کی تائید میں ریزولیوشن پاس کئے جائیں۔ اور تاروں اور خطوں کے ذریعہ سے گورنمنٹ کو اسلامی حقوق کی حفاظت کی طرف توجہ دلائی جائے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگر حقیقی اصلاح کے کام کے ساتھ ساتھ ان تدابیر پر عمل شروع کیا جائے تو اِنْشَآءَ اللّٰهُ یقیناً مسلمانوں کو کامیابی ہو گی۔ یہ کام اتنی بڑی محنت اور قربانی کو چاہتے ہیں کہ اگر مسلمان ان میں کامیاب ہو جائیں تو دنیا سمجھ لے گی کہ اب ان کا مقابلہ ناممکن ہے۔ اور ان کی آواز اس قدر کمزور نہ رہے گی جس قدر کہ اب ہے بلکہ ہر ایک ان کی آواز سے ڈرے گا اور اس کا ادب کرے گا اور اس پر کان رکھے گا۔
اے بھائیو! میں نے اس اشتہار کے ذریعہ سے اپنے فرض کو ادا کر دیا۔ اب کام کرنا آپ کے اختیار میں ہے۔ وقت کم اور کام بہت ہے۔ چاہئے کہ اسلام کے لئے درد رکھنے والے لوگ آج سے ہی اس کام کو ہاتھ میں لیں اور علاوہ تبلیغی اور تمدنی اصلاح کے کاموں کو محضرنامہ پر دستخط کرانا اور ۲۲ جولائی کے جلسے کے لئے تیاریاں شروع کر دیں۔ محضر نامے پر کم سے کم پانچ لاکھ مسلمانوں کے دستخط ہونے چاہئیں۔ اور جلسوں میں اس قدر لوگ جمع ہونے چاہئیں کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوئے ہوں۔ یاد رکھیں یہ اسلام کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ آپ اپنے عمل سے جواب دیں۔ کیا اسلام آپ کے نزدیک زندہ رہنا چاہئے یا نہیں؟ منہ کے دعوؤں سے کچھ نہیں بنتا۔ ایک لمبی اور تکلیف دہ قربانی کی ضرورت ہے۔ اور دنیا آپ کے منہ کے الفاظ سے نہیں بلکہ آپ کے اعمال سے دیکھے گی کہ آپ کو اسلام سے کس قدر محبت ہے۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ کا کیا جواب ہو گا۔ ہاں میں سمجھتا ہوں ہر ایک مسلمان کا اس وقت ایک ہی جواب ہو گا اور وہی جواب ہو گا۔ جو حج کے موقع پر ہمارے بھائی دے چکے ہیں۔ یعنی لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ۔ اے خدا! ہم تیرے دین کی خدمت اور تیرے رسول کی عزت کی حفاظت کے لئے حاضر ہیں۔ حاضر ہیں۔ حاضر ہیں۔ وَاٰخِرُ دَعۡوٰٮہُمۡ اَنِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(10:11)۔
والسلام خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ قادیان ضلع گورداسپور (الفضل ۱۵ جولائی ۱۹۲۷ء)
از
سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ۔ هُوَ النَّاصِرُ
(تحریر فرمودہ مؤرخہ ۷؍جولائی ۱۹۲۷ء بمقام قادیان)
میں متواتر اعلان کر چکا ہوں کہ اس وقت مسلمانوں کی حفاظت صرف اس امر میں ہے کہ وہ ان امور میں کہ جو سب مسلمانوں میں مشترک ہیں، متحد ہو کر کام کریں اور اپنی طاقت کو ضائع نہ ہونے دیں۔ اس جدوجہد کے نتیجہ میں جو ہم نے پچھلے دنوں کی ہے خدا کے فضل سے مسلمانوں میں اس قدر بیداری پیدا ہو چکی ہے کہ اہل ہنود دل ہی دل میں کڑھ رہے ہیں اور ایسی تجاویز سوچ رہے ہیں جن کے ذریعہ سے مسلمانوں میں تفرقہ اور شقاق پیدا کر دیں۔ میں نے پہلے بھی مسلمانوں کو اس طرف توجہ دلائی ہے اور اب پھر توجہ دلاتا ہوں کہ ہمیں تمام ایسی باتوں سے اجتناب کرنا چاہئے جو دشمنوں کو ہنسنے کا موقع دیں اور ہماری طاقت کو پراگندہ کر دیں۔
تمام احباب جانتے ہیں کہ ہماری طرف سے تمام مسلمان کہلانے والوں کے ایک مشترکہ جلسہ کرنے کی تحریک ایک ماہ سے کی جا رہی ہے۔ اور خدا کے فضل سے اس کام میں جو ہمارا ذاتی نہیں ہے بلکہ اسلام کا ہے، تمام بہی خواہانِ اسلام ہم سے مل کر کام کر رہے ہیں۔ ان جلسوں کے لئے شروع دن سے بائیس جولائی کی تاریخ اور نماز جمعہ کے بعد کا وقت مقرر تھا۔ لیکن مجھے معلوم ہوا ہے کہ خلافت کمیٹی کی طرف سے حال ہی میں ایک اعلان ہوا ہے کہ ان کی طرف سے بھی بائیس جولائی کو اسی وقت جلسے کئے جائیں۔ (انقلاب مؤرخہ ۷؍جولائی صفحہ ۷ ب کالم ۴)
میرا خیال ہے کہ اس تاریخ کے مقرر کرتے وقت کارکنانِ خلافت کے ذہن میں یہ بات نہ ہوگی کہ ایسے جلسے پہلے مقرر ہو چکے ہیں۔ ورنہ وہ اس زمانہ میں جب کہ مسلمانوں میں پورے اتحاد کی ضرورت ہے بائیس جولائی کو الگ جلسے مقرر نہ کرتے مگر اب جب کہ ان کی طرف سے اعلان ہو چکا ہے ، میں مسلمانوں کے فوائد کو مد نظر رکھتے ہوئے ان سے خواہش کرتا ہوں کہ چونکہ ہماری طرف سے ایک ماہ سے اعلان ہو رہا تھا اور تیاری مکمل ہو چکی ہے اور متواتر اخباروں اور پوسٹروں کے ذریعہ سے تحریک ہوتی رہی ہے اور بعض اہم مقامات کی طرف واعظ بھی بھیجے جاچکے ہیں اور ہزاروں روپیہ کا خرچ برداشت کیا جاچکا ہے ، اس لئے خلافت کمیٹی مہربانی فرما کر اپنے جلسوں کو یا تو کسی دوسرے دن پر ملتوی کر دے یا کم سے کم وقت ہی بدلا دے۔ مثلاً یہ کہ جن جلسوں کا انتظام ہم نے کیا ہے ، وہ جمعہ اور عصر کے درمیان ہونگے تو وہ بعد از مغرب اپنے جلسے مقرر کر دے۔ اگر اس قدر خرچ اور محنت سے اور نیز سب فرقوں کے سربر آوردہ لوگوں کے مشورہ کے ساتھ جلسوں کا انتظام نہ ہو چکا ہوتا تو میں خود ہی جلسہ کی تاریخیں بدل دیتا۔ کیونکہ وقت اور دن کی نسبت اتحاد بہت زیادہ اہم شے ہے۔ لیکن ایک ماہ کی مسلسل تیاری کے بعد ہمارے لئے اس قدر مجبوریاں ہیں کہ ہمارے لئے دن اور وقت کا بدلنا بہت مشکل ہے۔ خصوصاً اس لئے کہ جو جلسے بائیس کو ہماری تحریک پر مقرر ہوئے ہیں ، وہ صرف ہماری جماعت کی طرف سے نہیں ہیں بلکہ شیعہ ، سنی ، اہل حدیث ، حنفی ، احمدی سب کی طرف سے مشترکہ جلسے ہیں۔
بائیس تاریخ کوئی مذہبی تاریخ نہیں کہ اس سے جلسے اِدھر اُدھر نہ کئے جاسکتے ہوں۔ اس لئے بجائے اس کے کہ طاقت کو منتشر کیا جائے اور دشمنوں کو ہنسی کا موقع دیا جائے ، کیوں نہ دو مختلف تاریخوں میں جلسے ہوں اور طاقت کو پراگندہ ہونے سے محفوظ رکھا جائے۔
اگر ایک ہی وقت میں مسلمانوں کی کچھ جماعت ایک طرف اور کچھ دوسری طرف جاتی ہوئی نظر آئی تو ہندو لوگ کہیں گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے معاملہ میں بھی یہ لوگ ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ اور اس سے اسلام کی عزت کو جو صدمہ پہنچے گا ، اس کا اندازہ ہر اک اسلام کا درد رکھنے والا انسان خود ہی لگا سکتا ہے۔ ہندوؤں کو جو دلیری اور جرأت اس سے حاصل ہوگی ، اس کا خیال کر کے میرا دل کانپ جاتا ہے اور میری روح لرز جاتی ہے۔
اس آفت و مصیبت کے زمانہ میں کہ اسے کربلا کا زمانہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا کیونکہ کفر و ضلالت کے لشکر محمد رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو اسی طرح گھیرے ہوئے ہیں کہ جس طرح کربلا کے میدان میں حضرت امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کو یزید کی فوجوں نے گھیرا ہوا تھا۔ آہ! آج اسلام کی وہی حالت ہے جو ذیل کے شعر میں بیان ہوئی ہے کہ
ہر طرف کفر است جوشاں ہمچو افواج یزید
دین حق بیمار و بے کس ہمچو زین العابدین
پس میں امید کرتا ہوں کہ مرکزی خلافت کمیٹی اپنے فیصلہ میں مندرجہ بالا تبدیلی کر کے دشمنانِ اسلام کے دلوں پر ایک کاری حربہ چلائے گی اور ان کی تازہ امیدوں کو خاک میں ملا دے گی اور مقامی انجمن ہائے خلافت بھی اپنے جلسوں کو کسی اور وقت اور دن پر ملتوی کر دیں گی اور ان جلسوں کو جو تمام اسلامی فرقوں اور سوسائٹیوں کی طرف سے مشترک طور پر ہونے والے ہیں، ان میں اپنے مقرر وقت پر منعقد ہونے میں مزاحم نہ ہوں گی بلکہ مددگار اور شریک بنیں گی۔
پھر ان احباب کو جو سول نافرمانی کو اس وقت کی مشکلات کا حل سمجھتے ہیں۔ مخلصانہ مشورہ دیتا ہوں کہ یہ خیال در حقیقت گاندھی جی کا پھیلایا ہوا ہے اور اس کے عیب و ثواب پر پوری طرح غور نہیں کیا گیا۔ میرے نزدیک اگر غور کیا جائے تو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے لئے موجودہ حالات میں سول نافرمانی سے زیادہ خطرناک اور کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ اور یقیناً اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی تمدنی اور اقتصادی حالت پہلے سے بھی خراب ہو جائے گی۔ اور عدم تعاون کے دنوں میں ہندوؤں نے مسلمانوں کو جو نقصان پہنچایا تھا اور جس کے اثر کو وہ کئی سالوں میں جا کر بہ مشکل دور کر سکے ہیں اس سے بھی زیادہ اب نقصان پہنچ جائے گا۔
اے بھائیو! ہمیں سوچنا چاہئے کہ اس وقت ہمارا مقصد کیا ہے اور پھر اس کے مطابق ہمیں علاج کرنا چاہئے کیونکہ دانا وہی ہوتا ہے جو تشخیص کے بعد مرض کا علاج شروع کرتا ہے۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہمارا اس وقت مقصد یہ ہے کہ رسول کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کی جو ہتک کی جاتی ہے‘ اس کا سدّباب کریں اور آپ کی عزت کی حفاظت کا مقدس فرض جو ہم پر عائد ہے اس کو بجالائیں۔ اگر میرا یہ خیال درست ہے تو کیا پھر پہلی بات کی طرح یہ بھی سچ نہیں ہے کہ یہ ہتک ہندوؤں کی طرف سے کی جا رہی ہے نہ کہ گورنمنٹ کی طرف سے۔ پس ہمارا مقابلہ ہندوؤں سے ہے نہ کہ گورنمنٹ سے۔ گورنمنٹ تو اس وقت حتی الوسع ہماری مدد پر کھڑی ہے اور ہمیں ان اخلاقی ذمہ داریوں کے ماتحت جو اسلام نے ہم پر عائد کی ہیں‘ ان کا شکریہ ادا کرنا چاہئے نہ کہ ان کی مخالفت کرنی چاہئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہائیکورٹ کے ایک جج کے فیصلہ کے نتیجہ میں ہندوؤں کو اور بھی دلیری ہو گئی ہے اور انہوں نے پہلے سے بھی سخت حملے اسلام پر شروع کر دیئے ہیں۔ لیکن پھر کیا یہ بھی درست نہیں کہ گورنمنٹ اس فیصلہ کو بدلوانے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ اور غیر معمولی ذرائع سے جلد سے جلد اس مفسدہ پردازی کا ازالہ کرنے پر تُلی ہوئی ہے اور ہزایکسلینسی (HIS EXCELLENCY) گورنر پنجاب نے مسلمانوں کے وفد کے جواب میں نہایت پُر زور الفاظ میں مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار اور ان گندے مصنفوں کے خلاف ناراضگی کا اظہار اور ہائی کورٹ کے فیصلہ پر تعجب کا اظہار کیا ہے۔ جب حالات یہ ہیں تو پھر کیا اخلاق‘ کیا عقل اور کیا فوائدِ اسلام ہمیں اجازت دیتے ہیں کہ ہم سول نافرمانی کو جو ہندوؤں کے خلاف نہیں بلکہ گورنمنٹ کے خلاف ہے‘ اختیار کریں اور کیا اس ذریعہ سے ہندو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے سے باز آجائیں گے۔
مگر علاوہ اس کے کہ سول نافرمانی اس موقع پر اخلاق کے خلاف ہے‘ وہ اسلام اور مسلمانوں کے فوائد کے بھی خلاف ہے۔ سول نافرمانی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک کہ لاکھوں آدمی اس کے لئے تیار نہ ہوں۔ سول نافرمانی دو غرضوں کیلئے ہو سکتی ہے۔ ۱۔ جب کہ ہم کوئی کام کرنا چاہیں جسے گورنمنٹ منع کرتی ہو۔ ۲۔ جب کہ ہم گورنمنٹ کو کسی کام کے کرنے سے روکیں یا اس سے کوئی کام کروانا چاہیں۔
صورت اول میں اس قدر کافی ہوتا ہے کہ بہت سے آدمی اس کام کو کرنے لگیں کہ جس سے گورنمنٹ روکتی ہو۔ اگر گورنمنٹ ان کو روکے تو وہ نہ رکیں حتیٰ کہ گورنمنٹ مجبور
ہو جائے کہ انہیں گرفتار کرے۔ چونکہ گورنمنٹ لاکھوں آدمیوں کو قید میں ڈال نہیں سکتی، اس لئے جو امور معمولی ہوتے ہیں اور گورنمنٹ کے قیام کا ان سے تعلق نہیں ہوتا، وہ ان میں لوگوں کے مطالبہ کو پورا کر کے اپنے حکم کو واپس لے لیتی ہے۔ اس صورت میں کامیابی کیلئے اس قدر تعداد آدمیوں کی چاہئے کہ جن کو گورنمنٹ جیل خانوں میں رکھ ہی نہ سکے۔ جب گورنمنٹ کی طاقت سے قیدی بڑھ جاتے ہیں تو اسے دینا پڑتا ہے۔ مگر یہ صورت تبھی کامیاب ہو سکتی ہے کہ جب کسی ایسے کام کے کرنے کا ہم ارادہ کریں جس کی گورنمنٹ اجازت نہیں دیتی۔
دوسری صورت یہ ہوتی ہے، کہ گورنمنٹ سے لوگ کوئی مطالبہ پورا کرانا چاہیں یا دوسرے لوگوں کو کسی کام سے روکنا چاہیں۔ اس صورت میں چونکہ ان کا کام کچھ ہوتا ہی نہیں، انہیں سول نافرمانی کے لئے کوئی اور چیز تلاش کرنی پڑتی ہے۔ مثلاً وہ کہہ دیتے ہیں کہ جب تک گورنمنٹ ہمارا مطالبہ پورا نہیں کرے گی، ہم اسے لگان نہیں دیں گے یا ٹیکس نہیں دیں گے۔ اس صورت میں بھی قریباً ساری کی ساری قوم کی قربانی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ جن کی جائدادیں گورنمنٹ اپنے حق کے لئے قرق کرائے، اگر ان کی جائدادوں کو دوسرے لوگ خریدنے پر تیار ہو جائیں تو گورنمنٹ کا کیا نقصان ہو گا، انہی لوگوں کا اپنا نقصان ہو گا۔
غرض کوئی صورت بھی ہو، سول نافرمانی بغیر سارے ملک کے اتفاق کے یا کم سے کم ایک بڑے حصہ کے اتفاق کے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ پچھلے چند سالوں میں جرمنی کے لوگوں نے فرانسیسیوں کے خلاف اس علاقہ میں جو فرانس والوں نے لے لیا تھا، سول نافرمانی کی تھی۔ مگر وہ باوجو د ایک قوم اور بڑے تعلیم یافتہ ہونے کے کامیاب نہ ہو سکے۔ اور آخر مجبوراً انہیں اپنا رویہ بدلنا پڑا۔ مگر جو سامان جرمنوں کو حاصل تھے، وہ مسلمانوں کو حاصل نہیں۔ اور پھر سب ملک میں صرف وہی آباد نہیں ہیں بلکہ اس ملک میں ایک بڑی تعداد سکھوں اور ہندوؤں کی بھی ہے۔ پس سول نافرمانی سے گورنمنٹ کے کام نہیں رُکیں گے۔ بلکہ صرف یہ نتیجہ ہو گا کہ جو تھوڑی بہت تجارت اور زمینداری مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے وہ بھی ہندوؤں کے ہاتھ میں چلا جائے گا اور یہی اس وقت ہندوؤں کی خواہش ہے۔ ہم سول نافرمانی کی صورت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت نہیں کریں گے بلکہ اپنی طاقت کو کمزور کر کے اور اپنے دشمن بڑھا کر لوگوں کو آپ کی ہتک کا اور موقع دیں گے۔
جیسا کہ میں بتا آیا ہوں ، سول نافرمانی بغیر لاکھوں آدمیوں کی مدد کے نہیں ہو سکتی۔ پس اب ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ لاکھوں آدمی سول نافرمانی کرنے والے کہاں سے آئیں گے۔ کیا اپنے نوجوانوں کو جو تعلیم حاصل کر رہے ہیں ، ہم اس کام کیلئے پیش کریں گے یا اپنے تاجروں کو یا اپنے زمینداروں کو یا اپنے پیشہ وروں کو۔ ان میں سے کسی ایک کو اس کام کے لئے پیش کرو نتیجہ اسلام اور مسلمانوں کیلئے نہایت خطرناک پیدا ہو گا۔ طالب علم اگر اس کام کے لئے آگے بڑھے تو مسلمان جو تعلیم میں آگے ہی پیچھے ہیں اور بھی پیچھے رہ جائیں گے اور ہماری ایک نسل بالکل بے کار ہو جائے گی۔ اگر تاجروں یا پیشہ وروں کو جیل خانہ بھجوایا گیا تو ہندوؤں کو اُن سے اور بھی فائدہ پہنچے گا اور مسلمان اور بھی زیادہ سختی سے اقتصادی طور پر ان کے غلام بن جائیں گے۔ اور دس مسلمان جو روٹی کھاتے ہیں ، وہ بھی اپنے کام سے جائیں گے۔ اگر زمیندار قید خانوں میں بھیجے گئے ، تب بھی ہندوؤں کو عظیم الشان فائدہ پہنچے گا۔ غرض بغیر لاکھوں آدمیوں کو سول نافرمانی پر لگانے سے کام نہیں چل سکتا اور اس قدر تعداد میں مسلمان اگر سول نافرمانی کے لئے تیار بھی ہو جائیں تو یقیناً مسلمانوں کی طاقت پنجاب میں بالکل ٹوٹ جائے گی اور ہم جو یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح ہندوؤں کی غلامی سے آزاد ہوں تا کہ ہماری آواز میں اثر پیدا ہو اور بھی زیادہ پست حالت کو پہنچ جائیں گے اور کہیں ہمارا ٹھکانہ نہیں رہے گا۔
بے شک اگر صرف شُغل کرنا ہمارا مقصد ہو تو چند ہزار آدمی اس کام پر لگ کر شور پیدا کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہمارا مقصد اسلام کی حفاظت اور مسلمانوں کو طاقتور بنانا ہے تو یہ غرض حاصل نہیں ہو سکتی۔ جب تک کہ سب ملک میں مسلمان ہی نہ بستے ہوں اور جب تک سب کے سب سول نافرمانی پر آمادہ نہ ہو جائیں۔ اور چونکہ صورت حالات اس کے برخلاف ہے ، اس لئے سول نافرمانی سے کامیابی کی امید رکھنا بالکل درست نہیں۔
پھر ہم اس امر کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے کہ جو لوگ جیل خانوں میں جائیں گے ، ان کے رشتہ داروں کا گذارہ کس طرح ہوگا۔ مسلمانوں کے پاس حکومت نہیں کہ وہ جبریہ ٹیکس سے سب کے گذارہ کی صورت پیدا کر لیں گے۔ جو لوگ قید ہوں گے ان کے رشتہ دار یقیناً قرض پر گذارہ کریں گے اور وہ قرض ہندو بنئے کے پاس سے انہیں ملے گا جس کی وجہ سے وہی لوگ جو اسلام کی مدد کیلئے نکلیں گے درحقیقت اسلام کو اور زیادہ کمزور کر دینے کے موجب ہو جائیں گے۔
یہ امر بھی نہیں بھلایا جا سکتا کہ سول نافرمانی ہمیشہ عدم تعاون کے بعد ہوتی ہے۔ تعاون اور سول نافرمانی کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ میں مسٹر گاندھی سے بہت اختلاف رکھتا ہوں لیکن ان کی یہ بات بالکل درست تھی کہ انہوں نے پہلے عدم تعاون جاری کیا اور اس کا دوسرا قدم سول نافرمانی رکھا۔ ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ مدد نہ کرنے اور نافرمانی کرنے میں فرق ہے۔ مدد نہ کرنا ادنیٰ درجہ کا انقطاع ہے اور نافرمانی اعلیٰ درجہ کا انقطاع ہے۔ اور یہ ممکن نہیں کہ ہم ادنیٰ انقطاع کئے بغیر اعلیٰ انقطاع کر دیں۔ جو لوگ سول نافرمانی کریں گے جب ان کو گورنمنٹ سزا دینے لگے گی تو کیا پچاس ساٹھ ہزار مسلمان جو سرکاری ملازمت میں ہے وہ سرکاری حکم کے ماتحت سول نافرمانی کرنے والوں کا مقابلہ کرے گا یا نہیں۔ اگر وہ مقابلہ نہیں کرے گا تو سب کو ملازمت چھوڑنی پڑے گی اور عدم تعاون شدید صورت میں شروع ہو جائے گا اور میدان بالکل ہندوؤں کیلئے خالی رہ جائے گا اور اگر ملازم طبقہ سول نافرمانی کرنے والوں کا مقابلہ کرے گا تو کیا یہ جنگ گھر میں ہی نہ شروع ہو جائے گی۔ پولیس فوج اور عدالتوں کے ملازم اگر خود مسلمانوں پر دست درازی کریں گے تو کیا آپس میں ایک دوسرے سے تنافر پیدا ہو گا یا نہیں۔ اور کیا ان چالیس پچاس ہزار ملازموں کے رشتہ دار جو چالیس پچاس لاکھ سے کم نہ ہوں گے، دوسرے لوگوں سے جو ان کو بُرا بھلا کہیں گے برسرِ پیکار ہوں گے یا نہیں۔ اور کیا اس کے نتیجہ میں ہر گاؤں اور ہر شہر میں مسلمانوں میں ایک خطرناک جنگ شروع ہو جائے گی کہ نہیں؟ غرض سول نافرمانی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک پہلے عدم تعاون نہ جاری کیا جائے۔ سول نافرمانی جاری کرنے سے پہلے سب مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ فوج سے پولیس اور ایگزیکٹو اور جوڈیشل غرض ہر قسم کی ملازمتوں سے علیحدہ ہو جائیں تاکہ مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑنا نہ پڑے۔ اور سب ملک کے مسلمان آپس میں دست و گریبان نہ ہو جائیں۔ لیکن کیا حالات اس بات کی اجازت دیتے ہیں؟ اگر ایسا ہوا تو مسلمانوں کا اس میں فائدہ نہ ہو گا، ہاں ہندوؤں کا فائدہ ہو گا۔ ایک مسلمان کی جگہ دس ہندو اور سکھ بھرتی ہونے کے لئے تیار ہوں
گے اور مسلمانوں کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے گی۔
خلاصہ یہ کہ سول نافرمانی کا تبھی فائدہ ہو سکتا ہے جب لاکھوں آدمی اس کے لئے تیار ہوں اور جب کہ پہلے عدم تعاون کا فیصلہ کر لیا جائے، ورنہ سوائے شور کرنے کے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ پس جو لوگ سول نافرمانی کیلئے تیار ہوں، میں انہیں مشورہ دوں گا کہ وہ ذرا زیادہ ہمت دکھائیں اور جو وقت ان کے پاس فارغ ہو، اسے تبلیغ اسلام پر خرچ کریں۔ اگر دو چار ہزار آدمی تبلیغ کے لئے نکل کھڑا ہو اور ادنیٰ اقوام کے گھروں پر جا کر شفقت اور ہمدردی سے ان کو اسلام کی دعوت دے تو اسلام کو کس قدر فائدہ ہو سکتا ہے۔ اگر یہ لوگ ملک میں پھر کر زمینداروں کو سادہ زندگی بسر کرنے کی تلقین کریں اور ہندو بنئے سے سودی قرض لینے سے منع کریں تو اسلام کو کس قدر تقویت پہنچ سکتی ہے۔ اگر وہ اپنے فارغ وقت کو اپنے جاہل بھائیوں کو دین کی باتیں سمجھانے اور قومی ضروریات سے واقف کرانے پر لگائیں تو قومیت کو کس قدر نفع حاصل ہو سکتا ہے۔ پھر میں کہتا ہوں کہ اگر وہ فارغ ہیں تو ہزاروں گاؤں جن میں سب سودا ہندو بنئے سے لیا جاتا ہے، وہاں جا کر وہ ایک دکان کھول لیں اور اس طرح مسلمانوں کو ہندو دکاندار کے ذلت آمیز سلوک سے محفوظ کریں تو قومی احساس میں کس قدر ترقی ہو سکتی ہے۔
پس اے دوستو! یہ کام کا وقت ہے، جیل خانہ میں جانے کا وقت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں اس وقت بیداری پیدا کر دی ہے، اس بیداری سے فائدہ حاصل کرو۔ یہ دن روز نصیب نہیں ہوتے، پس ان کی ناقدری نہ کرو۔ خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کرو کہ اس نے دشمن کے ہاتھوں آپ لوگوں کو بیدار کر دیا۔ اب جلد سے جلد اسلام کی ترقی اور مسلمانوں کی بہبودی کے کاموں میں لگ جاؤ۔ اس وقت ہر ایک جو مسلمان کہلاتا ہے، اس کے میدانِ عمل میں آنے کی ضرورت ہے۔ جیل خانہ میں لوگوں کو بھرنے کا موقع نہیں بلکہ ان کو ان میں سے نکالنے کا موقع ہے۔ دشمن آپ لوگوں کی کوششوں کو دیکھ کر گھبرا رہا ہے۔ وہ محسوس کر رہا ہے کہ اب آپ نے اس کے مخفی حملہ سے بچنے کا صحیح ذریعہ معلوم کر لیا ہے۔ پس وہ تلملا رہا ہے اور اپنے شکار کو ہاتھوں سے جاتا دیکھ کر سٹ پٹا رہا ہے۔ ایک تھوڑی سی ہمت، ایک تھوڑی سی کوشش، ایک تھوڑی سی قربانی کی ضرورت ہے کہ صدیوں کی پہنی ہوئی زنجیریں کٹ جائیں گی اور اسلام کا سپاہی اپنے مولیٰ کی خدمت کیلئے پھر آزاد ہو جائے گا اور ہندوؤں کی غلامی کے بند ٹوٹ جائیں گے۔
اے بھائیو! ہمت اور استقلال سے اور صبر سے اپنی دینی اور تمدنی اور اقتصادی حالت کی درستی کی فکر کرو اور خداتعالیٰ کی طرف سچے دل سے جھک جاؤ اور اس کی مرضی پر اپنی مرضی کو قربان کر دو اور اس کے ارادوں کے سامنے اپنے ارادوں کو چھوڑ دو۔ اور اس کے کلام کی محبت کو اپنے دل میں جگہ دو اور اس کی شریعت کو اپنا شعار بناؤ۔ اور اس کے ہر ایک اشارہ پر عمل کرنے کیلئے تیار رہو اور اپنے نفس کو بالکل مار دو۔ تب وہ اپنا وعدہ وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا(29:70) کے ماتحت آپ کو اس راستہ پر چلائے گا جو اس کی مرضی کے مطابق ہے۔ اور اپنی نصرت کا ہاتھ آپ کی طرف بڑھائے گا اور آپ کے بازو کو قوت بخشے گا اور آپ کے دشمنوں کو ذلیل کرے گا اور ہر اک میدان میں خواہ علمی ہو، خواہ تمدنی ہو، خواہ اقتصادی ہو، آپ کو فتح دے گا۔
ہاں ضرورت ہے تو اس بات کی کہ متواتر اور لگاتار قربانی کی جائے اور عقل سے کام لیا جائے اور خداتعالیٰ کی نصرت پر نظر رکھی جائے اور بے فائدہ جوش سے اپنی قوتوں کو ضائع نہ کیا جائے اور خواہ مخواہ دشمن کے تیار کردہ گڑھوں میں نہ گرا جائے۔ وہ لوگ جو مسلمانوں کو ہمیشہ اپنا غلام بنائے رکھنا چاہتے ہیں، وہ گورنمنٹ سے ہمیں لڑوا کر ہماری طاقت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس وقت جو مسلمانوں کی توجہ مذہبی، اقتصادی، تمدنی آزادی کی طرف ہو رہی ہے، اس کا رُخ دوسری طرف پھیرنا چاہتے ہیں۔ مگر میں امید کرتا ہوں کہ مسلمان اس دھوکے میں نہیں آئیں گے۔ گورنمنٹ نے پیچھے جو کچھ بھی کیا ہو، اس وقت وہ مسلمانوں کی جائز مدد کر رہی ہے اور اگر کسی جگہ بعض مجسٹریٹ مسلمانوں کی تکلیف کا موجب ہو رہے ہیں تو اس کی وجہ گورنمنٹ کی پالیسی نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مجسٹریٹوں کے دل ان ہندوؤں کی باتوں سے متاثر ہیں کہ جو ملک میں امن دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ پس ہمیں وقتی جوش سے متاثر ہو کر اپنے اصل کام کو نہیں بھولنا چاہئے۔ آج سے ہمارا فرض ہو کہ تبلیغ کریں مسلمانوں کی تمدنی اور اقتصادی حالت کو درست کریں اور جس حد تک ممکن اور مذہبیًا جائز ہو مسلمانوں میں سے اختلاف کے مٹانے کی اور مستقل جدوجہد کے ساتھ ان جائز حقوق کو جن کے ہم اس ملک کے باشندہ ہونے کے لحاظ سے مستحق ہیں، حاصل کریں۔ اور اس کے لئے پہلا قدم آپ کا ۲۲؍ جولائی کے جلسوں کو غیر معمولی طور پر کامیاب بنانا ہے۔ میں اب اپنی بات کو ختم کرتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ ہر اک دوسری بات کو فراموش کر کے آپ صرف اس امر کو مد نظر رکھیں گے کہ آج اسلام اور مسلمانوں کا فائدہ کس امر میں ہے۔
والسلام خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ قادیان (الفضل ۲۰؍ جولائی ۱۹۲۷ء)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ۔ هُوَ النَّاصِرُ
برادرانِ اسلام! اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ آج آپ لوگ جو نصرتِ اسلام اور مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے جمع ہوئے ہیں، میں آپ کے سامنے اسلام کی ترقی کے متعلق کچھ باتیں پیش کرنا چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ ان پر مناسب غور فرمائیں گے۔ آپ لوگ اس امر سے ناواقف نہیں ہیں کہ اسلام کو اس وقت کس قدر نقصانات پہنچ رہے ہیں اور ہر میدان میں مسلمان کمزور ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ جیسا کہ آپ لوگ خوب اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں یہی ہے کہ کبھی بھی مستقل اور مدبرانہ جدوجہد مسلمانوں کی بہتری کی نہیں کی گئی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ تجارت میں مسلمان پیچھے ہیں، ٹھیکیداری میں مسلمان پیچھے ہیں، صنعت و حرفت میں مسلمان پیچھے ہیں، تعلیم میں مسلمان پیچھے ہیں، آرمٹ میں مسلمان پیچھے ہیں، تنظیم میں مسلمان پیچھے ہیں، اعلیٰ پیشوں میں مسلمان پیچھے ہیں، تبلیغ جو مسلمانوں کا ابتدائی فرض رکھا گیا تھا‘ اس میں بھی وہ سب قوموں سے پیچھے ہیں۔ زراعت بعض صوبوں میں ان کے قبضہ میں ہے مگر صرف نام کے طور پر۔ زمینیں مسلمانوں کے نام درج ہیں لیکن پیداوار ہندوؤں کے گھر جاتی ہے۔ اس کمزوری کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر معاملہ میں مسلمانوں کی آواز بے اثر اور ان کی کوشش بے سود جا رہی ہے۔ اغیار نے ان کے تمدن اور اقتصاد پر اس قدر قبضہ پا لیا ہے کہ وہ مسلمان جو غلاموں کے آزاد کرنے کیلئے پیدا کیا گیا تھا‘ آج خود غلام بن رہا ہے۔ وہ گرد و پیش کے حالات سے اس قدر مجبور ہو رہا ہے کہ گو وہ سب سے زیادہ شور مچائے مگر حقیقی آزادی نصیب ہونی اس کے لئے مشکل ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب لوگ اس کی سب سے محبوب چیز یعنی اس کے مذہب کی بھی عزت کرنے کیلئے تیار نہیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(2:157)۔
اے بھائیو! ان تاریک حالات میں اللہ تعالیٰ نے ایک روشنی کی صورت پیدا کر دی ہے۔ یعنی دشمنانِ اسلام کے دلی ارادوں کو شدھی اور سنگھٹن کی شکل میں ظاہر کر دیا ہے۔ جن کا سب سے گندہ پہلو وہ ناپاک اور گندہ لٹریچر ہے جو اسلام اور مقدس بانیِ اسلام کے خلاف لکھا جا رہا ہے۔ ہندوؤں کی عداوت کے اس خطرناک اظہار سے سوئے ہوئے مسلمان بھی بیدار ہو رہے ہیں۔ اور ان میں بھی صحیح اصول پر کام کرنے کا جوش پیدا ہو رہا ہے چنانچہ پچھلے دو ماہ میں اقتصادی غلامی سے آزادی کے لئے چھوت چھات کی تحریک مسلمانوں میں بڑے زور سے جاری ہے اور اس کا زبردست اثر پیدا ہو رہا ہے۔ اس وقت تک ہزاروں دکانیں مسلمانوں کی کھل چکی ہیں اور لاکھوں روپے کا فائدہ مسلمانوں کو حاصل ہو چکا ہے۔ ہندو ساہوکار سے سود پر روپیہ لینے کے خلاف ایک عام رَو جاری ہے جو اگر کامیاب ہو گئی تو اِنْ شَاءَ اللّٰهُ کُلّی طور پر مسلمانوں کو ہندوؤں کے قبضہ سے آزاد کرا دے گی۔ کفایت شعاری کی تحریک مسلمانوں میں پیدا ہو رہی ہے۔ تنظیم کی طرف وہ متوجہ ہو رہے ہیں اور اپنے کھوئے ہوئے حقوق لینے کی بھی انہیں فکر پیدا ہونے لگی ہے۔
اس تحریک کو دیکھ کر ہندو کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح یہ تحریک دب جائے اور اس کے لئے انہوں نے دو تدبیریں اختیار کی ہیں۔ ایک تو وہ مسلمانوں کو جوش دلا کر گورنمنٹ سے لڑوانا چاہتے ہیں‘ دوسرے فرقہ وارانہ منافرت پھیلا کر ہم میں آپس میں پھوٹ ڈلوانی چاہتے ہیں اور اس کے لئے وہ گورنمنٹ میں بھی اور پبلک میں بھی انتہائی کوشش کر رہے ہیں۔ خفیہ ہی خفیہ حکام اور بعض مسلمانوں کے ذریعہ سے ایسی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں کہ مسلمان ایک طرف تو گورنمنٹ سے الجھ جائیں اور دوسری طرف آپس میں لڑنے لگیں۔ اگر اس وقت آپ لوگوں نے ان کی چالوں کو نہ سمجھا اور ان کے دھوکے میں آ گئے تو پھر سمجھ لیجئے کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ سختی کے ساتھ مسلمانوں کو اپنا غلام بنا کر رکھیں گے اور اسلام کو ذلیل کرنے کی کوشش کریں گے۔
ان کی ان کوششوں کو باطل کرنے کیلئے یہ نہایت ضروری ہے کہ پورے جوش اور مستقل ارادہ کے ساتھ تبلیغ اور اتحادِ باہمی کی تحریکات کو جاری رکھا جائے۔ چھوت چھات‘ بنئے کے سود سے پرہیز کی تلقین کی جائے۔ گورنمنٹ سے اپنی تعداد کے مطابق حقوق کا مطالبہ کیا جائے۔ سرحدی صوبہ جس میں اسی فیصدی مسلمان بستے ہیں اور ذکاوت اور عقل میں ہندوستان کے کسی صوبہ سے پیچھے نہیں ہیں اور جنہیں محض ہندوؤں کی مخالفت کی وجہ سے حقوقِ نیابت سے محروم رکھا گیا ہے‘ اس کو نیابتی حقوق دلوانے کی کوشش کی جائے اور جب تک ان تحریکات میں پوری طرح کامیابی حاصل نہ ہو جائے اس جدوجہد کو ترک نہ کیا جائے۔
اے بھائیو! یہ جلسہ اس جدوجہد کا پہلا مظاہرہ ہے نہ کہ اس کا اختتام‘ اس قدر عظیم الشان کام ایک دن میں نہیں ہو جاتے‘ وہ مہینوں یا سالوں کی کوشش چاہتے ہیں اور بہترین دماغوں کی خدمات اور بہت بڑی وقتی اور مالی قربانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پس آپ لوگ اس جلسہ میں شامل ہو کر یہ خیال نہ کریں کہ آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ اس جلسہ میں تو جو کچھ آپ نے کیا ہے وہ صرف یہ ہے کہ آپ نے اپنے بھائیوں کے سامنے یہ اقرار کیا ہے کہ ہم اسلام کی ترقی کیلئے ہر ایک قربانی کرنے کیلئے تیار ہیں۔ مگر صرف اقرار کر دینے سے کام نہیں ہو جاتے۔ اصل کام اس جلسہ کے بعد شروع ہو گا۔ جب کہ آپ کی آزمائش ہو گی کہ آپ اپنے عہد کو اپنے عمل سے پورا بھی کرتے ہیں یا نہیں۔ عہد خواہ کس قدر ہی جوش سے کیا جائے‘ نفع نہیں دیتا لیکن کام خواہ کتنا بھی تھوڑا ہو مفید ہوتا ہے۔ خالی ریزولیوشن پاس کر دینا سچائی کی ہتک کرنا ہے۔ سچائی ہمارے منہ کے تحفوں کو قبول نہیں کرتی۔ وہ ہماری عملی قربانی چاہتی ہے پس آج کے ریزولیوشن درحقیقت عہد ہیں جو آپ نے کئے ہیں اور اب آپ کا فرض ہے کہ ان ریزولیوشنوں کے مطابق جدوجہد شروع کریں اور اپنے ملنے والوں اور ہمسایوں کو اپنا ہم خیال بنا کر انہیں بھی اس جدوجہد میں شریک کریں یہاں تک کہ ایک مسلمان بھی باقی ایسا نہ رہے جو آپ کے خیالات کے مخالف ہو اور اس جدوجہد میں شریک نہ ہو۔ ہاں یہ مدنظر رہے کہ فساد اور دنگا اسلام کو پسند نہیں۔ امن کے ساتھ لیکن بہادری کے ساتھ اپنا کام کریں اور دلیل کے زور سے اپنے خیالات سے اختلاف رکھنے والوں کو اپنی بات منوائیں نہ کہ زبردستی۔ ہاں جو لوگ بلاوجہ آپ کے کام میں روک ڈالنا چاہیں‘ ان سے بھی نہ ڈریں کہ بزدل دین اور دنیا دونوں میں ذلیل ہوتا ہے۔ اگر آپ اس تجویز کے مطابق عمل کریں گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ کی مدد سے آپ لوگ کامیاب ہوں گے اور خدا تعالیٰ کی تائید آپ کو حاصل ہو گی۔
اس کام کے لئے ہر شہر‘ ہر قصبہ اور ہر گاؤں میں ایسی کمیٹیاں بننی چاہئیں جن میں ہر ایک فرقہ کے آدمی شامل کئے جائیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ وہ معاملات جو
دشمنانِ اسلام سے تعلق رکھتے ہیں یا سیاسی ہیں، ان میں اسلام کی تعریف یہی ہے کہ ہر اک شخص جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے، وہ مسلمان ہے۔ دشمن بھی یہی تعریف اسلام کی سمجھتا ہے اور وہ اس تعریف کے مطابق ہم سے سلوک کرتا ہے۔ پس اس تعریف کے مطابق ہی ہمیں مشترکہ معاملات میں کام کرنا چاہئے۔ اور اپنی اپنی تعریفوں کو خالص مذہبی معاملات تک محدود رکھنا چاہئے کہ یہی ایک راہ صلح کی ہے۔ یاد رکھئے کہ کوئی ایک حصہ مسلمان کہلانے والوں کا اکیلا اس عظیم الشان کام کو نہیں کر سکتا جو ہمارے سامنے ہے۔ اور نہ کوئی ایک سوسائٹی جس کا دائرہ محدود ہو، اس کام کو کر سکتی ہے۔ وہی کمیٹی اس عظیم الشان کام کو کر سکتی ہے جس میں سب فرقوں کے لوگ شامل ہوں اور جس کا دروازہ کامل طور پر سب مسلمان کہلانے والوں کے لئے کھلا ہو۔ بے شک ہر مجلس یا کمیٹی کا حق ہے کہ وہ ایسا کام اپنے ذمہ لے جو اس کے دائرہ عمل کے اندر ہو۔ لیکن اس کام کو جو سب مسلمان کہلانیوالوں کے ساتھ وابستہ ہے اور امتیاز کی اجازت نہیں دیتا کسی ایسی کمیٹی کا اپنے ہاتھ میں لینا جس میں ہر اک فرقہ کو آزادی کے ساتھ شمولیت کا حق نہ ہو اور جو صرف چند آدمیوں کی رائے کے ماتحت سب لوگوں کو ملانا چاہے کبھی اور کبھی کامیابی تک نہیں پہنچا سکتا۔ پہلے اس قسم کے تدابیر سے اسلام کو نقصان پہنچ چکا ہے اور مسلمانوں کی تجارتیں تباہ ہو چکی ہیں، کالج برباد ہو چکے ہیں، ملازمتیں کھوئی گئی ہیں، زمینیں نیلام ہو چکی ہیں اور آئندہ اس قسم کی کوشش پھر مسلمانوں کو تباہ اور برباد کر دے گی۔ پس ناجائز جوش پیدا کر کے قوم کو تباہی کے رستہ پر ڈالنے اور الگ الگ جدوجہد کرنے کی بجائے ہر اک شہر اور قصبہ میں ایسی کمیٹیاں بننی چاہئیں جو تمام مسلمان کہلانے والے لوگوں پر مشتمل ہوں اور جو دلیری اور جرأت سے اسلامی حقوق کے لئے مناسب کوشش کرنے کیلئے تیار ہوں۔ اور کام کا پروگرام ایسا بنایا جائے جس میں وہ مسلمان بھی شامل ہو سکیں جو کہ گورنمنٹ میں رسوخ رکھتے ہیں۔ کیونکہ اگر عمدگی سے ان سے کام لیا جائے تو یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کی بہت کچھ مدد کر سکتے ہیں اور پچھلی ناکامیوں کا سبب ہی یہی تھا کہ کام ایسے رنگ میں شروع کیا گیا تھا کہ گورنمنٹ کے ملازم یا گورنمنٹ کے ساتھ رسوخ رکھنے والے لوگ مسلمانوں کی مدد نہیں کر سکتے تھے بلکہ انہیں ان کی مخالفت کرنی پڑتی تھی۔ اس طرح یہ نقص بھی تھا کہ طریقِ عمل ایسا چنا گیا تھا کہ بعض نہایت کار آمد اور زبردست سوسائٹیاں اور جماعتیں اپنے مذہبی عقیدوں کی وجہ سے اس طریقِ عمل کو اختیار ہی نہیں کر سکتی تھیں۔ پس اب پھر جو اللہ تعالیٰ نے محض رحم فرما کر اتحاد کا موقع نکالا ہے، اسے ضائع نہ کیا جائے اور تمام مسلمان کہلانے والوں کی مشترکہ کمیٹیاں بنائی جائیں اور ایک دوسرے کے مذہبی امور میں دخل نہ دیا جائے اور طریق عمل ایسا چنا جائے کہ گورنمنٹ ملازم اور گورنمنٹ میں رسوخ رکھنے والے مسلمان بھی اس میں حصہ لے سکیں یا کم سے کم ان کو اس کام کی مخالفت کرنے کی ضرورت نہ پیش آئے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اگر اس طرح کام کیا گیا تو اِنْشَآءَ اللّٰہُ ضرور کامیابی ہوگی اور تھوڑے ہی عرصہ میں اسلام کے دشمنوں کو ہوش آ جائے گا۔ پس کیا ہی اچھا ہو کہ آج آپ لوگ اس امر کا بھی عہد کر کے اُٹھیں کہ ایک ہفتہ کے اندر اندر آپ ایک ایسی کمیٹی تیار کر لیں گے اور اپنے علاقہ میں آج کے پاس شدہ ریزولیوشنوں کے مطابق عملدرآمد شروع کر دیں گے۔ میں نے آئندہ کام کے متعلق ایک تفصیلی سکیم سوچی ہے جسے میں اگر ایسی کمیٹیاں بن گئیں تو آہستہ آہستہ ان کے سامنے پیش کروں گا تا کہ جو امور انہیں پسند ہوں وہ ان پر عمل کر کے اسلام کی خدمت کر سکیں اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ انہیں پسند ہی کریں گے کیونکہ وہ ایسی تدابیر ہیں کہ جو ہر فرقہ اور ہر طبقہ کے لوگوں کے لئے قابلِ عمل ہیں۔ اور ان پر عمل کر کے آئندہ کا پروگرام باحسن وجوہ پورا ہو سکتا ہے۔ میں آخر میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی دستگیری فرمائے اور انہیں ایسی سمجھ دے کہ وہ ان امور میں مشترک ہو کر کام کرنے لگیں جن پر عمل کرنا مسلمانوں کی ترقی کے لئے نہایت ضروری ہے۔ وَآخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ والسلام خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ قادیان (الفضل ۲۲؍ جولائی ۱۹۲۷ء)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ۔ هُوَ النَّاصِرُ
(تحریر فرمودہ مؤرخہ ۲۸؍ جولائی ۱۹۲۷ء)
سرحد کی خبر ہے کہ راجپال کی کتاب اور ورتمان کی تحریرات کی وجہ سے وہاں کے خوانین نے ان ہندوؤں کو جو تجارت کرتے تھے اپنے اپنے علاقہ سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔ اس پر ملاپ کا ایڈیٹر نہایت سخت ناراض ہے۔ اور اس تمام فعل کا الزام خصوصیت سے میری تحریرات پر رکھتا ہے۔ اس امر میں ملاپ کے ایڈیٹر صاحب سے ہمدردی رکھتا ہوں۔ اور انہیں یقین دلاتا ہوں کہ ان ہندوؤں کی حفاظت میں جو سرحد پر رہتے ہیں ہم نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے اور درحقیقت ہم حیران ہیں کہ سرحد کے پُر جوش افغان جن کی تربیت پنجاب سے بالکل جداگانہ ہے ،کس طرح اپنے جوشوں کو خلافِ معمول دبائے ہوئے ہیں۔ ملاپ کے ایڈیٹر صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ سرحدی افغان اسلامی شعار کی اس قدر غیرت رکھتے ہیں کہ چند سال ہوئے ایک سپاہی نے ایک انگریز افسر کو صرف اس لئے مار دیا تھا کہ اس نے قبلہ کی طرف پاؤں کئے ہوئے تھے۔ ہم اس فعل کو خواہ احکام شریعت کے خلاف سمجھیں لیکن اس امر کو نظر انداز نہیں کرسکتے کہ ان کے نزدیک یہ امر شریعت کے مطابق تھا۔ پس اس قدر جلد ان لوگوں میں یہ تغیر پیدا ہو جانا کہ رسول کریم ﷺ کی ہتک کے موقع پر بجائے جوش میں آکر خون کرنے کے انہوں نے مہلت دے کر ہندو دکانداروں کو اپنی زمینوں سے چلے جانے کا حکم دیا ، ایک بہت بڑی بات ہے اور گو میرے نزدیک ابھی انہیں اور ترقی کی ضرورت ہے۔ مگر یہ تبدیلی خوش کن تبدیلی ہے جس کے لئے میں خوانین سرحد کو مبارک باد دیتا ہوں۔ میں خوش ہوں کہ اس تبدیلی میں ہماری جماعت کا بھی حصہ ہے۔ کئی علاقوں کی نسبت جب معلوم ہوا کہ وہاں کے افغان جوش میں ہیں تو ہمارے آدمیوں نے انہیں سمجھایا کہ وہ اسلام کی عزت کے
خیال سے قتل و غارت سے پرہیز کریں۔ چنانچہ انہوں نے اقرار کیا۔ اور کیا ہندو صاحبان اس امر کو نہیں سمجھ سکتے کہ وہ لوگ جو تھوڑے تھوڑے جوش پر قتل کر دیا کرتے تھے‘ ان کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کے معاملہ میں اس قدر صبر سے کام لینا کوئی معمولی بات ہے اور کیا یہ قابلِ قدر تبدیلی نہیں؟ ہمارے آدمیوں نے مزید کوشش کی ہے کہ ان لوگوں کو اپنی جگہ سے نکالا بھی نہ جائے اور بعض بااثر علماء نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کے لئے بھی کوشش کریں گے۔ اور اگر اس امر میں ان علماء کی کوششیں کامیاب ہو گئیں تو موجودہ ایجی ٹیشن کا یہ سب سے خوشگوار نتیجہ ہو گا اور دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ عالم اسلام کس طرح آناً فاناً خوشگوار تبدیلی پیدا کر رہا ہے۔
میں ہندو اخبارات کو یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ بعض ہندوؤں نے اس موقع پر نہایت اشتعال انگیز رویہ اختیار کیا ہے اور باوجود سرحد کے مخصوص حالات سے واقف ہونے کے اور وہاں پشت ہاپشت سے رہنے کے بجائے اس امر پر اظہار افسوس کرنے کے کہ بعض خبیث الطبع لوگوں نے پاکبازوں کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہتک کی ہے‘ الٹا ان لوگوں کے خیالات کی تائید کر کے سرحد کے باغیرت مسلمانوں کو اور جوش دلایا۔ اگر بعض لوگ ایسا نہ کرتے تو شاید معاملات اس حد تک نہ پہنچتے جس حد تک کہ اب پہنچ گئے ہیں۔ بہرحال ہم اب بھی کوشش کر رہے ہیں اور سرحد کے خوانین سے ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ہندوؤں کو اسلام پر اعتراض کرنے کا ایک اور موقع نہیں دیں گے۔ انہیں سب سے زیادہ چھوت چھات اور مسلمانوں کی دکانیں کھلوانے اور ہندوؤں سے سودا نہ لینے کی طرف توجہ دلانی چاہئے اور اس کے نتیجہ میں اگر وہاں کے ہندو آپ ہی آپ کام نہ ہونے کے سبب سے اس ملک کو چھوڑ دیں تو اس کا الزام ان پر نہ ہو گا۔ لیکن انہیں چاہئے کہ خود ہندوؤں کو اپنے علاقہ سے نکل جانے کے لئے نہ کہیں۔ میں سرحد کے بااثر اصحاب کو اس طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ افغانستان، روس اور ہزارہ کی تجارت کروڑوں روپیہ کی ہے اور یہ سب کی سب ہندوؤں کے قبضہ میں ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ جلد سے جلد اس تجارت کو اپنے ہاتھ میں لے کر اسلام کی مدد کریں۔ اس قدر روپیہ سالانہ ان کے ہاتھوں سے جا کر اسلام کی بیخ کنی کی کوششوں پر یا مسلمانوں کے کمزور کرنے پر خرچ ہوتا ہے۔ پس انہیں چاہئے کہ وہ اپنی دکانیں کھولیں اور کم سے کم اسلامی ممالک کی تجارت تو اپنے ہاتھ میں لیں اور اگر وہ اس سال کوشش کر کے اس تجارت کو اپنے ہاتھ میں لے لیں تو یقیناً اگلے سال اس کا اثر پنجاب کی تجارت پر پڑے گا اور پنجاب میں بھی مسلمانوں کی تجارت مضبوط ہو جائے گی۔
اس کے بعد میں پھر ایڈیٹر ملاپ اور ان کے ہم آواز لوگوں سے بھی کہتا ہوں کہ اوپر جو مشورہ میں نے دیا ہے‘ وہ اپنے مذہب کے مطابق دیا ہے۔ ہمارا مذہب سختی کا حکم نہیں دیتا۔ اس لئے اس نازک وقت میں بھی جب کہ ہمارے احساسات کو نہایت بُری طرح کچلا گیا ہے‘ ہم امن اور صلح کی تعلیم دے رہے ہیں۔ لیکن میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ آریہ سماج کے کسی ممبر کا کوئی حق نہیں کہ وہ سرحدی افغانوں کے اس فعل پر کوئی اعتراض کرے۔ آریہ سماج کی اپنی تعلیم یہ ہے کہ مذہب کی ہتک کرنے والے کو ملک سے نکال دیا جائے۔ دیکھئے پنڈت دیانند صاحب اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں کیا لکھتے ہیں۔
”جو شخص وید اور عابد لوگوں کی وید کے مطابق بنائی ہوئی کتابوں کی بے عزتی کرتا ہے۔ اس وید کی بُرائی کرنے والے منکر کو ذات‘ جماعت اور ملک سے نکال دینا چاہئے۔“ (ستیارتھ پرکاش صفحہ ۵۹۔ ایڈیشن چہارم)
اگر پنڈت دیانند صاحب کے نزدیک وید ہی نہیں بلکہ وید کے مطابق لکھی ہوئی کتابوں کی بُرائی کرنے والے کو بھی ملک سے نکال دینا چاہئے۔ (اور شاید اس قانون کے مطابق ملاپ اور پرکاش وغیرہ کی بُرائی کرنے والے کو بھی ملک سے نکال دینا چاہئے کیونکہ ان اخبارات کو بھی ویدوں کے مطابق ہی لکھنے کا دعویٰ کیا ہے ۔) تو کیا وجہ ہے کہ جس جگہ رسول کریم ﷺ کی ہتک کی جائے اور اس ہتک پر دوسرے ہندو رضامندی کا اظہار کریں تو وہی سلوک جو پنڈت دیانند صاحب نے مذہب کی ہتک کرنے والوں کے لئے مقرر کیا ہے‘ ان سے نہ کیا جائے۔ کیا صرف وید کی ہتک کرنے والا ہی اس امر کا مستحق ہے کہ اسے ملک سے نکالا جائے۔ دوسرے مذاہب کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ بھی اپنے مذہب کی ہتک کرنے والوں کو ملک سے نکال دیں۔ مگر میں باوجود پنڈت صاحب کی اس تعلیم کے سرحد کے خوانین سے یہی کہوں گا کہ ہم قرآنِ کریم کے ماننے والے ہیں جو رحم اور صلح کی تعلیم دیتا ہے۔ پس وہ اپنے خدا داد رسوخ سے کام لے کر اپنے بھائیوں کے جوشوں کو ٹھنڈا کریں اور اقتصادی تدابیر کے اختیار کرنے سے زیادہ کچھ نہ کریں۔ اور جو ہندو مسلمانوں کے چھوت چھات اختیار کرنے اور سود ترک کرنے کے باوجود بھی ان کے ملک میں رہنا چاہیں انہیں اپنے ملک میں امن سے زندگی بسر کرنے دیں جیسا کہ وہ اب تک کرتے رہے ہیں۔
آخر میں میں ملاپ کے ایڈیٹر صاحب کی اس شرانگیز تحریر کی طرف خود ہندو صاحبان کو توجہ دلاتا ہوں جو انہوں نے اپنے مضمون کے آخر میں لکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ:۔ ”گورنمنٹ کا فرض ہے کہ جن علاقوں سے ہندؤوں کو جلاوطن کیا گیا ہے۔ ان علاقوں پر چڑھائی کر کے ان علاقوں کو انگریزی علاقہ کے ساتھ شامل کرلینا چاہئے۔“ اس وقت جب کہ سرحد پر پہلے سے ہی جوش پھیلا ہوا ہے‘ یہ الفاظ سوائے فساد کی آگ بھڑکانے کے اور کیا اثر کر سکتے ہیں۔ افغانان سرحد جو سینکڑوں سال سے اپنی آزادی کیلئے سر بکف رہے ہیں اور گورنمنٹ برطانیہ نے کروڑوں روپیہ خرچ کر کے سرحد پر امن قائم کیا ہے‘ اس تحریر کا اثر سرحد کے افغانوں پر اور گورنمنٹ کی پالیسی پر کیا ہوگا۔ کیا افغان اس تحریر کو دیکھ کر یہ نتیجہ نہ نکالیں گے کہ ہندو ہماری آزادی کو برباد کرنا چاہتے ہیں اور کیا ان کا جوش ان کے ہم مذہبوں کے خلاف آگے سے بھی تیز نہ ہو جائے گا اور کیا اس تحریر کے نتیجہ میں انگریزی سیاست کو جو نہایت قیمتی جانیں قربان کرنے اور کروڑوں روپیہ خرچ کے بعد وہاں قائم ہوئی ہے‘ ایک زبردست ٹھیس نہ لگے گی۔ میں ہندو صاحبان کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس قسم کے غیر ذمہ دار اشخاص کو روکیں کہ سارے فساد کے یہی بانی ہیں۔ یہ لوگ موقع کی نزاکت اور کام کرنے والوں کی مشکلات کو نہیں دیکھتے اور نادان دوست کی طرح اپنی قوم کو فائدہ پہنچانے کی بجائے اس کو نقصان پہنچا دیتے ہیں۔ اور میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ نوجوانان سرحد اس موقع پر نہایت بُردباری سے کام لے رہے ہیں۔ اور ہر اک معقول بات کو قبول کرنے کیلئے تیار ہیں۔ پس ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس قسم کے فتنہ انگیز مضامین کی روک تھام کی جائے۔
میں ہندو صاحبان سے یہ بھی خواہش کرتا ہوں کہ جس طرح وہ سرحد کے بھائیوں کی ہمدردی کی طرف متوجہ ہیں اسی طرح وہ چمبہ اور دوسری ریاستوں میں جو مسلمانوں کو نقصان پہنچ رہا ہے‘ اس کی طرف بھی توجہ کریں اور اس ظلم کو جو کمزور مسلمانوں پر کیا جا رہا ہے دور کریں۔ ورنہ ان کا کوئی حق نہیں کہ ابتداء خود کر کے اس کے انجام سے محفوظ رہنے کیلئے واویلا کریں۔ وَآخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ خاکسار مرزا محمود احمد ۲۸۔۷۔۱۹۲۷ء (الفضل ۲؍ اگست ۱۹۲۷ء)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ٭ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ۔ هُوَ النَّاصِرُ
جیسا کہ قاعدہ ہے کہ ہر ایک اہم امر کے ساتھ چند ضمنی امور پیدا ہو جایا کرتے ہیں جو بعض وقت اصل معاملہ سے بھی زیادہ لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں، اسی طرح موجودہ بے چینی میں بھی ہوا ہے۔ راجپال کی کتاب کے متعلق مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہوئی۔ گورنمنٹ اس کے علاج کی فکر میں تھی کہ کنور دلیپ سنگھ صاحب کا فیصلہ ہوا۔ ملک کی بدقسمتی سے وہ فیصلہ گورنمنٹ اور مسلمانوں کے خیالات کے خلاف ہوا۔ اس پر طبعاً مسلمانوں کے بے چینی اور بڑھی۔ اتنے میں ورتمان میں ایک مضمون شائع ہوا جو مسلمانوں کے نزدیک پہلے سب مضامین سے بڑھ گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ باوجود اس کے کہ گورنمنٹ اپنی طرف سے مسلمانوں کی دلجوئی کے لئے ہر ایک ممکن کوشش کر رہی تھی بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر آج سر ہیلی کی جگہ کوئی مسلمان گورنر ہوتا تو وہ بھی ہتک رسول کریم ﷺ کے مضامین کے معاملہ میں سر ہیلی سے زیادہ کچھ نہ کرتا اور کچھ نہ کر سکتا۔ مگر بعض طبائع جوش کے انتہائی اثرات کے ماتحت اس خدمت کا اندازہ نہ کر سکیں اور شورش اور بڑھ گئی۔
اس شورش کے متعلق اب دو اور شاخسانے پیدا ہو گئے ہیں۔ پنجاب کونسل میں لاہور کے پچھلے جلسوں کے ذکر کے دوران میں سر جیفرے مانٹ مورنسی وزیر مالیہ نے بیان کیا کہ جس وقت ایک جلسہ کو منتشر کرنے کا حکم دیا گیا اور ڈپٹی کمشنر صاحب اس جلسہ میں پہنچ گئے تو چوہدری افضل حق صاحب جو اس جلسہ کے پریذیڈنٹ تھے اور اس وقت نہایت سخت تقریر کر رہے تھے انہوں نے ڈپٹی کمشنر صاحب کو دیکھتے ہی اپنی تقریر کا لہجہ بدل لیا اور نرم الفاظ استعمال کرنے لگے۔ دوسری بات سر جیفرے مانٹ مورنسی نے یہ بیان فرمائی کہ گورنمنٹ برطانیہ نے مسلمانوں کی خاطر اس وقت جب کہ مسلمان بالکل مُردہ کی طرح ہو گئے تھے ،معاہدہ لوزین میں بہت کچھ قربانیاں کر کے ان کی مدد کی ۔ پس اس وقت جب کہ خطرہ معمولی ہے مسلمانوں کو گورنمنٹ پر اعتبار کرنا چاہئے ۔
سر جیفرے مانٹ مورنسی کی تقریر کے ان دونوں حصوں پر ایک حصہ رعایا میں اس قدر جوش پیدا ہو گیا ہے کہ وہ پہلے مظاہرات سے کم نہیں ہے ۔ لیکن میرے نزدیک اس قضیئہ نامرضیہ میں دونوں فریق کی غلطی ہے ۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ سر جیفرے مانٹ مورنسی نے جن الفاظ میں چوہدری افضل حق صاحب کا ذکر کیا ہے ، وہ الفاظ نامناسب تھے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کے الفاظ پر جن الفاظ میں گرفت کی گئی ہے ، وہ بھی نامناسب ہیں ۔ ہمیں اپنی تحریر و تقریر میں اخلاق کے قوانین کو کسی صورت میں نظر انداز نہیں کرنا چاہئے اور یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ اخلاق کے قوانین حکومت اور رعایا دونوں پر یکساں طور پر حاوی ہیں ۔ گورنمنٹ اپنی تمام شان کے باوجود ان قوانین سے بالا نہیں ۔ اور رعایا اپنی تمام بے بسی کے باوجود ان قوانین سے بری نہیں ۔ سر جیفرے مانٹ مورنسی کا عہدہ گورنر کے بعد ممتاز ترین عہدوں میں سے ہے اور غالباً وہ کچھ عرصہ کے بعد گورنری کے عہدہ پر مقرر ہونے والے ہیں ۔ پس انہیں اپنی شان کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی طنز آمیز گفتگو میں حصہ نہیں لینا چاہئے تھا ۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ دلوں میں بل پڑے ہوئے بہت مشکل سے نکلتے ہیں ۔ چوہدری افضل حق صاحب کے متعلق اگر انہیں کوئی ایسی رپورٹ آئی بھی تھی جو ان کے اخلاق پر اعتراض کا موجب ہوتی تھی تو انہیں برسرِ اجلاس ان پر اس طرح حرف گیری مناسب نہ تھی ۔ کیونکہ اس قسم کی باتوں کے نتیجہ میں اصلاح نہیں بلکہ فساد پیدا ہوتا ہے ۔ مگر جہاں تک میں سمجھتا ہوں ، انہیں اصل معاملہ میں غلطی لگی ہے اور اس کے متعلق میں دوسرے مضمون میں روشنی ڈالوں گا ۔ میرے نزدیک جن الفاظ میں انہوں نے معاہدہ لوزین کا ذکر کیا ہے ، وہ بھی ایک مدبر کی شان کے خلاف ہیں ۔ انہوں نے مسلمانوں کی حالت کو ایسا ذلیل کر کے دکھایا ہے اور پھر ان کی نجات کو اس طرح کلی طور پر گورنمنٹ برطانیہ کے احسان پر مبنی قرار دیا ہے کہ ایک مسلمان اس کو پڑھ کر ذلت محسوس کرتا ہے اور بجائے شکریہ کے افسردگی اور اپنی انتہائی بے بسی کا احساس اس کے دل میں پیدا ہوتا ہے مگر میں اس مضمون میں بھی ان سے اختلاف رکھتا ہوں ۔ اور بعد میں اس کے متعلق اپنے خیالات ظاہر کروں گا ۔
سر جیفرے کو مخلصانہ مشورہ دینے کے بعد میں ان صاحبان کو بھی جنہوں نے سر جیفرے کی تقریر کے مذکورہ بالا حصہ پر سختی سے اعتراض کئے ہیں کہتا ہوں کہ کیا سخت زبانی سے دنیا میں کبھی بھی نفع ہوا ہے۔ الفاظ کی سختی سے مقصد کی بلندی کبھی ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ الفاظ کی سختی سے ہمدردوں کی ہمدردی میں کمی پیدا ہو جاتی ہے۔ ہمیں اسلام نرمی کا حکم دیتا ہے اور ہمیں اپنے جوشوں کو ہمیشہ قابو میں رکھنا چاہئے اور ہر ایک بات کو دلیل سے ثابت کرنا چاہئے کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ اس وقت تک کسی ایک شخص نے بھی گورنمنٹ کے اس اعتراض کو جو اس نے چوہدری افضل حق صاحب کے لہجہ کے متعلق کیا ہے، صحیح طور پر دور کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اصل جواب یہ تھا کہ وہ تقریر لکھ دی جاتی جو چوہدری افضل حق صاحب کر رہے تھے اور بتایا جاتا کہ اس تقریر کے فلاں حصہ کے موقع پر ڈپٹی کمشنر صاحب آئے تھے۔ اس طریق سے ہر ایک شخص آسانی سے سمجھ جاتا کہ گورنمنٹ کا نکالا ہوا نتیجہ غلط ہے یا درست۔ لیکن افسوس ہے کہ ایسا نہیں کیا گیا اور پھر جب کہ ایسا نہیں کیا گیا تو ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ سر جیفرے مانٹ مورنسی مجبور تھے کہ اس رپورٹ پر اعتبار کرتے جو ان کو بھیجی گئی تھی۔ اور گو ہم ان کے رویہ کو غلط کہیں مگر ہم ان کی طرف غلط بیانی کا گندہ الزام لگانے کا ہرگز حق نہیں رکھتے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سر جیفرے جو کچھ کہہ رہے تھے اپنے نزدیک صحیح سمجھ کر کہہ رہے تھے، ان کے الفاظ پر مجھے اعتراض ہے۔ ان کے اس واقعہ کی طرف کونسل میں اشارہ کرنے پر بھی مجھے اعتراض ہے۔ مگر یہ بات ہرگز ثابت نہیں بلکہ اس کا امکان بھی ثابت نہیں کہ وہ یہ بات اپنے پاس سے بنا کر کہہ رہے تھے۔ وہ ان رپورٹوں کے مطابق جو انہیں پہنچیں، تقریر کر رہے تھے۔ اور باوجود اس کے کہ ہم ان رپورٹوں کو غلط کہیں ہمارا حق نہیں کہ ہم ان کی طرف جھوٹ یا بدنیتی کو منسوب کریں۔ اس طرح ہر ایک بات پر نیت اور راستبازی پر حملہ کر دینے سے ملک میں ہرگز امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اور یہ طریق خود ہمیں بدنام اور ذلیل کر دیتا ہے۔ اور ہماری کم حوصلگی کو ظاہر کرتا ہے۔
اے بھائیو! ادب اور احترام کسی کے لئے ذلت کا موجب نہیں ہوتا بلکہ ہماری عزتِ نفس پر دلالت کرتا ہے۔ پس ہمیں ہمیشہ دوسروں کے ادب اور احترام کا خیال رکھنا چاہئے۔
علاوہ ازیں ہمیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ سر جیفرے آج پہلی دفعہ ہندوستان نہیں آئے انہوں نے اپنی عمر اس جگہ گزاری ہے۔ اور سب لوگ ان کے اخلاق اور ان کے رویہ سے واقف ہیں۔ اور جہاں تک مجھے معلوم ہے ان کے ملنے والے ان کے اخلاق کی تعریف اور ان کی خیر خواہی کی مدح کرتے ہیں۔ پس صرف ایک ایسی بات کی وجہ سے جس میں ہم ان سے اختلاف رکھتے ہوں ‘ ان پر حملہ آور ہونا آئین اخلاق کے خلاف ہے۔ دنیا آگے ہی مسلمانوں کو وحشی قرار دیتی ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے اخلاق سے اس اعتراض کو دور کریں اور اپنی زبانوں اور اپنے اعمال سے ثابت کر دیں کہ اسلام کی تعلیم نے ہمارے اخلاق میں ایسی تبدیلی پیدا کر دی ہے کہ اس کی نظیر دنیا کی اور قوموں میں نہیں ملتی۔
(الفضل ۲۔ اگست ۱۹۲۷ء)
از
سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ— هُوَ النَّاصِرُ
(تحریر فرمودہ مؤرخہ ۱۰؍ اگست ۱۹۲۷ء)
ورتمان کے مقدمہ کا فیصلہ ہو گیا اور سیر دوزخ کا مضمون لکھنے والا اور اس کا چھاپنے والا دونوں ایک سال اور چھ ماہ کے لئے دنیا کی دوزخ میں ڈال دیئے گئے۔ لوگ خوش ہیں۔ بعض لوگ مجھے مبارک باد کے تار دے رہے ہیں اور بہت سے خطوط کے ذریعہ سے اپنی خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ مگر میرا دل غمگین ہے۔ میرا دل غمگین ہے کیونکہ میں اپنے آقا اپنے سردار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتکِ عزت کی قیمت ایک سال کے جیل خانہ کو نہیں قرار دیتا۔ میں ان لوگوں کی طرح جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والے کی سزا قتل ہے۔ ایک آدمی کی جان کو بھی اس کی قیمت نہیں قرار دیتا میں ایک قوم کی تباہی کو بھی اس کی قیمت نہیں قرار دیتا۔ میں ایک دنیا کی موت کو بھی اس کی قیمت نہیں قرار دیتا بلکہ میں اگلے اور پچھلے سب کفار کے قتل کو بھی اس کی قیمت نہیں قرار دیتا۔ کیونکہ میرے آقا کی عزت اس سے بالا ہے کہ کسی فرد یا جماعت کا قتل اس کی قیمت قرار دیا جائے۔ کیونکہ کیا یہ سچ نہیں کہ میرا آقا دنیا کو جلا دینے کے لئے آیا تھا نہ کہ مارنے کے لئے۔ وہ لوگوں کو زندگی بخشنے آیا تھا نہ کہ ان کی جان نکالنے کے لئے۔ اور وہ زمین کو آباد کرنے کے لئے آیا تھا نہ کہ ویران کرنے کے لئے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے اس کے حق میں گواہی دیتا ہے کہ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَجِیۡبُوۡا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحۡیِیۡکُمۡ(8:25) ؎ اے مؤمنو! اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہو جبکہ وہ تمہیں زندہ کرنے کے لئے تمہیں بلاتے ہیں۔ غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت دنیا کے احیاء میں ہے نہ کہ موت میں۔ پس
میں اپنے نفس سے شرمندہ ہوں کہ اگر یہ دو شخص جو ایک قسم کی موت کا شکار ہوئے ہیں۔ اور بد بختی کی مُہر انہوں نے اپنے ماتھوں پر لگالی ہے اس صداقت پر اطلاع پاتے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوئی تھی تو کیوں گالیاں دے کر برباد ہوتے۔ کیوں اس کے زندگی بخش جام کو پی کر ابدی زندگی نہ پاتے اور اس صداقت کا ان تک نہ پہنچنا مسلمانوں کا قصور نہیں تو اور کس کا ہے؟ پس میں اپنے آقا سے شرمندہ ہوں کیونکہ اسلام کے خلاف موجودہ شورش درحقیقت مسلمانوں کی تبلیغی سستی کا نتیجہ ہے۔ قانون ظاہری فتنہ کا علاج کرتا ہے نہ دل کا اور میرے لئے اس وقت تک خوشی نہیں جب تک کہ تمام دنیا کے دلوں سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بغض نکل کر اس کی جگہ آپؐ کی محبت قائم نہ ہو جائے۔ لوگوں کے مونہوں پر مُہر لگانے سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ یہ تو صرف ہمارے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ محمد رسول اللہ کی عزت تو اس میں ہے کہ دل اس کی محبت کے جذبات سے پر ہوں اور آنکھیں اس کے فراق میں نمناک اور زبانیں اس کی تعریف میں گویا۔
اگر سیردوزخ کا مضمون لکھنے والا اور اس کے چھاپنے والا دونوں قید ہو گئے ہیں تو اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ ہمارے جذبات کو جو صدمہ پہنچا تھا اس کا بدلہ لے لیا گیا ہے۔ لیکن اے مسلمان کہلانے والے! اس بات کو مت بھول کہ جو کچھ ان دونوں نے لکھا اور شائع کیا ہے وہ کروڑوں آدمیوں کے دلوں میں ہے اور جب تک اس کو مٹایا نہ جائے اس وقت تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فِدَاهُ اَبِیْ وَ اُمِّیْ کی عزت قائم نہیں ہو سکتی۔ پس تو خوش نہ ہو کہ اگر تو سچا مؤمن ہے تو تیری خوشی اپنے انتقام میں نہیں۔ بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقام میں ہے۔ اور وہ انتقام یہ ہے کہ تو اس وقت تک سانس نہ لے کہ جب تک دنیا میں ایک بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر باقی ہے۔ تو اس پر خوش نہ ہو کہ تو نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت میں دنیا کو مار دیا بلکہ اس پر خوش ہو کہ تو نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں دنیا کو زندہ کر دیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بخش آواز کو بعید ترین حصص دنیا میں پہنچا دیا۔ آہ! ہم کس بات پر خوش ہیں؟ کیا اس بات پر کہ انگریزی حکومت نے جو مذہباً عیسائی ہے ہزاروں روپیہ خرچ کر کے اور بیسیوں آدمی مقرر کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کی اور اس بات کا ہمیں خیال بھی نہیں آتا کہ اس عزت کی حفاظت کے لئے ہم نے کچھ بھی نہیں کیا اور نہ کچھ کرنے کی فکر ہے۔ ہمیں دوسروں کے کئے پر کیا خوشی ہو سکتی ہے؟ اور ان کی غفلت پر
شکوہ کا کیا حق پہنچتا ہے؟ جبکہ ہم خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت سے غافل ہیں۔ مسیحی ایک انسان کو خدا منوانے کے لئے ہزاروں میل کا سفر کرتے ہیں اور جانوں کو خطرہ میں ڈال کر اور کروڑوں روپیہ سالانہ خرچ کر کے اپنے مذہب کی تلقین کرتے پھرتے ہیں۔ ہندو جواب تک اپنے مذہب کی تعریف بھی نہیں کر سکے اور جن کے فرقوں کا باہمی اختلاف اس سے بھی بڑھا ہوا ہے جتنا کہ ان کے بعض فرقوں اور اسلام یا مسیحیت میں ہے۔ لاکھوں روپے خرچ کر کے ہر صوبہ میں پرچار کر رہے ہیں اور شدھی کی رَو چل رہی ہے۔ لیکن اے مسلمان کہلانے والو! جن کے نبی کی زبان پر خدا تعالیٰ نے خود یہ الفاظ جاری کئے کہ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا(7:159)۱۲؎ اے تمام بنی نوع انسان! میں اللہ کی جانب سے تم سب کی طرف پیغام ہدایت دے کر بھیجا گیا ہوں۔ اور جن کی اپنی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَتَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ(3:111)۱۳؎ تم سب سے بہتر امت ہو کہ جن کو تمام بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے تم نیکی کو دنیا میں پھیلاتے ہو اور بدی سے لوگوں کو باز رکھتے ہو۔ تم بتاؤ کہ تم نے نور اسلام اور پیغام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اشاعت کے لئے کیا کیا؟ اگر آپ لوگ اپنے فرض کو ادا کرتے تو آج دنیا میں رسول کریم اور اسلام پر حملہ کرنے والا کوئی نظر نہ آتا۔ دنیا پر اسلام کی حکومت ہوتی اور تمام دل نگین محمد سے منقش ہوتے۔ بجائے گالیوں کے اس مقدس ہستی پر درود بھیجا جاتا۔ اگر آپ لوگوں کو اشاعت اسلام اور شریعت کے قیام کے لئے قربانی کرنے کی جرأت نہیں تو پھر دوسروں کی حرکات کا گلہ کیا۔ اور گورنمنٹ کی مدد سے رسول کریم کی عزت کی حفاظت پر فخر کیسا۔
کیا آپ لوگوں میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ پہلے اسے زہر دیا جائے اور پھر علاج کر کے اسے بچا لیا جائے۔ وہ ڈوب جائے اور پھر لوگ اسے نکال لیں۔ یا اس کا مال چور لے جائیں اور پھر پولیس اس مال کو برآمد کر دے۔ اگر آپ اسے پسند نہیں کرتے بلکہ یہ پسند کرتے ہیں کہ آپ کو زہر دیا ہی نہ جائے اور آپ سلامتی سے سمندر کے کنارے پر کھڑے رہیں۔ یا تختۂ جہاز پر امن سے بیٹھے ہوئے ہوں۔ اور آپ کا مال گھروں میں محفوظ رہے اور کوئی اسے ہاتھ نہ لگائے۔ تو بخدا یہ بتائیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آپ اس امر پر کیوں خوش ہوتے ہیں کہ پہلے لوگ انہیں گالیاں دیں اور پھر جیل خانوں میں چلے جائیں۔ کیوں یہ کوشش نہیں کرتے کہ لوگ انہیں گالیاں ہی نہ دیں۔ اور یہ کام بغیر اشاعت اسلام اور اصلاحِ نفس کے ہو ہی نہیں سکتا۔ پس اٹھو اور
اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو اسلام کی اشاعت کے لئے اور اپنی اور اپنے بھائیوں کی اصلاح کے لئے خرچ کرو۔ پھر دیکھو کہ کس طرح دنیا پر امن قائم ہو جاتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نور دنیا کے چاروں کونوں میں درخشاں نظر آتا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ اپنی پچھلی سستی کا کفارہ کرو اور اپنی غفلتوں کو ترک کردو۔ اور قومی ہمدردی کا نقش اپنے دل میں جماؤ اور ہر اک مسلمان کہلانے والے کی تکلیف کو اپنی تکلیف قرار دو۔ اور چھوت چھات جس کی وجہ سے مسلمانوں کی اقتصادی حالت تباہ ہو رہی ہے اسے ہندوؤں کے مقابلہ پر اسوقت تک اختیار کرو جب تک کہ وہ اس کو مسلمانوں کے متعلق نہ چھوڑیں۔ اور اپنے اخلاق کی درستی کرو اور درندگی اور وحشت کو چھوڑ کر استقلال اور حکمت سے کام کرنے کی عادت ڈالو۔ اور نفس پرستی کے خیالات کو دلوں سے نکال دو۔ اور پھر اس دروازہ کی طرف دوڑو جس کے سوا تمہارے لئے کہیں پناہ نہیں۔ اور اس بارگاہ میں حاضر ہو جس کے سوا تمہارا کوئی چارہ کار نہیں اور ایک پختہ عہد اور نہ ٹوٹنے والا اقرار کرو کہ آئندہ اپنے مال اور اپنی جان اور اپنی ہر اک چیز کو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول اور اشاعتِ اسلام کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار رہو گے۔ اور اپنی خواہشات اور اپنی اُمنگوں اور اپنے اہل و عیال کے آرام اور اپنے حاضر و مستقبل کے فوائد کو خدا تعالیٰ کی راہ میں فدا کردو گے اور سادہ اور پاک زندگی بسر کرنے کی کوشش کرو گے۔ کیونکہ وہ شخص جو میدانِ جنگ کی طرف جانے سے پہلے اپنے آپ کو تیار نہیں کرتا میدانِ جنگ میں بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ پس سادہ زندگی اور اسراف سے پرہیز اور خدمتِ دین کی عادت ڈال کر اس جہادِ عظیم کے لئے اپنے آپ کو تیار کرو جو اسلام کو پیش آنے والا ہے۔ اور یاد رکھو کہ جب تک وقت سے پہلے اس کے لئے تیاری نہیں کرو گے تو خواہ کیسے ہی مخلصانہ ارادے ہوں اور نیک نیتیں ہوں وقت پر کچھ نہ بن سکے گا اور اپنی ذمہ داری کو ادا نہ کر سکو گے۔
پس اے بھائیو! ورتمان کے ایڈیٹر اور مضمون نگار کی قید پر خوش نہ ہو بلکہ سمجھو کہ ان کی قید ہمارے لئے ایک تازیانہ ہے اور ہمیں بتاتی ہے کہ ہم خود تو تبلیغ اسلام کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت نہ کر سکے لیکن ایک غیر مذہب کی گورنمنٹ نے اپنے قانون کے ذریعہ سے آپ کی عزت کی حفاظت کی۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ گورنمنٹ سے اس بارہ میں مدد نہیں لینی چاہئے کیونکہ باوجود پرہیز کے اگر مرض پیدا ہو تو علاج کرنا ہی پڑتا ہے۔ لیکن میرا یہ مطلب ہے کہ ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کے لئے گورنمنٹ کے قانون پر ہی بھروسہ نہیں کرنا چاہئے۔ کہ وہ جُرم کو نہیں روک سکتا بلکہ صرف مجرم کو سزا دیتا ہے۔ اور خود تبلیغِ اسلام اور شریعت کے قیام کے کام پر اس طرح زور دینا چاہئے کہ دل محبتِ رسولؐ سے بھر جائیں اور کوئی شخص آپؐ کو برا سمجھنے والا باقی ہی نہ رہے۔
مذکورہ بالا اہم فرض کی طرف توجہ دلانے کے بعد میں عزتِ رسول کے تحفظ کے بارہ میں ایک اور امر کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ گو جیسا کہ میں اوپر لکھ چکا ہوں عزتِ رسول کریمؐ کا تحفظ خود ہمارے ہاتھوں میں ہے اور ہماری کوششوں پر منحصر ہے۔ لیکن پھر بھی چونکہ بعض لوگ نصیحت کو نہیں مانتے اور جُرم کے ارتکاب پر دلیر ہوتے ہیں ایسے لوگوں کو روکنے کے لئے قانون کی بھی ضرورت ہوتی ہے اس لئے ہمیں مقدمۂ ورتمان کے فیصلہ پر بے فکر نہیں ہو جانا چاہئے۔ کیونکہ گو اس فیصلہ نے یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ دفعہ ۱۵۳۔ الف میں ان لوگوں کی سزا کے لئے بھی قانون مہیا کر دیا گیا ہے کہ جو مقدس ہستیوں کو گالیاں دے کر ان کے پیروؤں کا دل دُکھاتے ہیں۔ لیکن اس قانون میں ابھی بہت سی خامیاں ہیں کہ جب تک وہ دُور نہ ہوں گی ملک میں امن قائم نہ ہو سکے گا۔ پس ہمارا فرض ہے کہ ہمت کی کمر کس کر کھڑے ہو جائیں۔ اور اس وقت تک آرام نہ کریں جب تک کہ وہ خامیاں دور ہو جائیں۔ اور ایک مکمل قانون بن جائے جس کے ڈر سے وہ شریر الطبع لوگ جو دلیل اور برہان کی قدر نہیں کرتے اپنے خُبثِ باطن کے اظہار سے رُکے رہیں۔ اور ان آسمانِ روحانیت کے ماہتابوں پر خاک ڈالنے کی کوشش نہ کریں جن کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے پاک کیا اور جن کے کندھوں پر اپنے تقدس کی چادر اس نے ڈال دی۔ ہمارا فرض ہے کہ ایک آواز ہو کر گورنمنٹ کو توجہ دلائیں کہ وہ قانون کو ایسا مکمل کر دے کہ آئندہ اس کی کمزوری کی وجہ سے ملک میں فتنہ پڑنے کا اندیشہ نہ رہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ گورنمنٹ خود اس کام کو کرنا نہیں چاہتی۔ (گورنمنٹ نے جس ہمدردی سے ورتمان اور راجپال کے مقدموں میں کام کیا ہے وہ بتاتا ہے کہ وہ پورے طور پر ہمارے جذبات سے ہمدردی رکھتی ہے اور اس کی ان خدمات کا شکریہ نہ ادا کرنا اول درجہ کی اخلاقی کمزوری اور کمینگی ہو گی۔ اور میں اس اشتہار کے ذریعہ سے بھی اپنی اور اپنی جماعت کی طرف سے گورنمنٹ پنجاب اور صوبۂ سرحدی کا اور خصوصاً سر ہیلی کا اس ہمدردی پر شکریہ ادا کرتا ہوں جو اس موقع پر انہوں نے مسلمانوں سے ظاہر کی اور یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ ان کی حکمتِ عملی نے ملک کو خطرناک فسادات میں پڑنے سے بچانے میں بہت بڑی مدد دی ہے)۔ میرا یہ مطلب ہے کہ چونکہ یہ قانون مختلف مذاہب کے لوگوں سے تعلق رکھتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ گورنمنٹ کو مسلمان اپنے منشاء سے اطلاع دیں تاکہ اسے اپنی ذمہ داری کے ادا کرنے میں آسانی ہو اور وہ اہلِ ملک کی خواہش کے مطابق قانون بنا سکے۔
شاید بعض لوگوں کو خیال گزرے کہ اس سے پہلے قانون کی ترمیم کے متعلق جو مطالبہ کیا جا رہا تھا میں اس میں کیوں شریک نہیں ہوا اور کیوں ورتمان کے مقدمہ کے پہلے قانون کے مطابق چلانے پر میں زور دیتا رہا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ میرے نزدیک اس مقدمہ کا پہلے قانون کے مطابق ہونا ضروری تھا۔ اور اس وقت قانون کی تبدیلی کا مطالبہ کرنا قومی مصلحت کے خلاف تھا کیونکہ اس میں کیا شک ہے کہ اگر اس مقدمہ کے فیصلہ سے پہلے ہم قانون کی تبدیلی کا مطالبہ کرتے اور کوئی قانون پاس ہو جاتا تو اس کا یہ نتیجہ ہوتا کہ معزز جج صاحبان ورتمان کے مقدمہ کا فیصلہ اس قانون کے ماتحت کر دیتے اور دفعہ ۱۵۳۔ الف کے متعلق بحث کرنے کی ضرورت نہ رہتی اور یہ تسلیم کیا جاتا کہ کنور دلیپ سنگھ صاحب کا فیصلہ بالکل صحیح تھا حالانکہ ہم یہ جانتے تھے کہ وہ فیصلہ غلط ہے۔ اور اس فیصلہ کے قائم رہنے میں مسلمانوں کی سخت ہتک تھی۔ پس اس وقت میں اس مطالبہ کو ناجائز سمجھتا تھا۔ اور میرا یہ خیال تھا اور صحیح خیال تھا کہ موجودہ قانون کی تشریح پہلے ہو جانی چاہئے اور یہ فیصلہ ہو جانا چاہئے کہ کنور صاحب کا فیصلہ درست نہ تھا۔ اس کے بعد ہمیں قانون کے نقص کی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ کیونکہ قانون میں نقص یہ نہیں کہ دفعہ ۱۵۳۔ الف راجپال اور ورتمان کے ایڈیٹر کو سزا دینے کے لئے کافی نہیں جیسا کہ کنور صاحب کا خیال تھا بلکہ اس میں اور نقصان ہیں۔ پس اب جب قانون کی تشریح ہو گئی ہے اور یہ ثابت ہو گیا ہے کہ قانون بانیِ مذہب اور مذہب پر حملہ کرنے والوں کو دو علیحدہ جُرموں کا مرتکب نہیں قرار دیتا تو اب ضروری ہے کہ قانون کی اصلاح کی جائے۔ اور ان دوسرے نقصوں کو دور کیا جائے جن کی وجہ سے یہ قانون اس غرض کو پورا نہیں کر سکتا جس کے لئے اسے بنایا گیا ہے۔
ہم اس قانون کے نقص کے دیر سے شاکی ہیں۔ چنانچہ ۱۸۹۷ء میں بانیِ سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے گورنمنٹ کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ مذہبی فتن کو دور کرنے کے لئے اسے ایک زیادہ مکمل قانون بنانا چاہئے۔ لیکن افسوس کہ لارڈ ایلگن نے جو اس وقت وائسرائے تھے اس تجویز کی طرف مناسب توجہ نہ کی۔ اس کے بعد سب سے اول ۱۹۱۴ء میں مَیں نے سر اڈوائیر کو اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ گورنمنٹ کا قانون مذہبی فتن کے دور کرنے کے لئے کافی نہیں اور جب تک اس کو مکمل نہ کیا جائے گا ملک میں امن قائم نہ ہو گا انہوں نے مجھے اس بارہ میں مشورہ کرنے کے لئے بلایا۔ لیکن جس تاریخ کو ملاقات کا وقت تھا اس سے دو دن پہلے استاذی المکرم حضرت مولوی نور الدین صاحب امام جماعت احمدیہ فوت ہو گئے اور دوسرے دن مجھے امام جماعت منتخب کیا گیا۔ چونکہ وہ جماعت کے لئے ایک سخت فتنہ کا وقت تھا میں سر اڈوائر سے مل نہ سکا اور بات یونہی رہ گئی۔
اس کے بعد ۱۹۲۴ء میں میں سر میکلیگن سابق گورنر پنجاب سے ملا اور انہیں اس قانون کے نقصوں کی طرف توجہ دلائی۔ مگر باوجود اس کے کہ میں نے انہیں کہا تھا کہ آپ گورنمنٹ آف انڈیا کو توجہ دلائیں۔ انہوں نے یہ معذرت کر دی کہ اس امر کا تعلق گورنمنٹ آف انڈیا سے ہے اس لئے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد میں نے پچھلے سال ہزایکسلنسی گورنر جنرل کو ایک طویل خط میں ہندوستان میں قیام امن کے متعلق تجاویز بتاتے ہوئے اس قانون کی طرف بھی توجہ دلائی لیکن افسوس کہ انہوں نے محض شکریہ تک ہی جواب کو محدود رکھا۔ اور باوجود وعدہ کے کہ وہ ان تجاویز پر غور کریں گے غور نہیں کیا۔ میرے اس خط کا انگریزی ترجمہ چھ ہزار کے قریب شائع کیا گیا ہے۔ اور تمام حُکّامِ اعلیٰ، سیاسی لیڈروں، اخباروں، پارلیمنٹ کے ممبروں اور دوسرے سربر آوردہ لوگوں کو جا چکا ہے۔ اور کلکتہ کے مشہور اخبار ”بنگالی“ نے جو ایک متعصب اخبار ہے لکھا ہے کہ اس میں پیش کردہ بعض تجاویز پر ہندو مسلم سمجھوتے کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔ سر مائیکل اڈوائر اور ٹائمز آف لندن کے مسٹر براؤن نے ان تجاویز کو نہایت ضروری تجاویز قرار دیا اور بہت سے ممبران پارلیمنٹ اور دوسرے سربر آوردوں نے ان کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ لیکن افسوس کہ ان حُکّام نے جن کے ساتھ ان تجاویز کا تعلق تھا ان کی طرف پوری توجہ نہ کی۔ جس کا نتیجہ وہ ہوا جو نظر آرہا ہے۔ ملک کا امن برباد ہو گیا اور فتنہ و فساد کی آگ بھڑک اٹھی۔
یہ بتا چکنے کے بعد کہ بزرگانِ دین کی عزت کی حفاظت کے متعلق میں شروع سے ہی کوشش کرتا چلا آیا ہوں۔ اب میں یہ بتاتا ہوں کہ موجودہ قانون میں کیا کیا نقص ہیں۔
(۱) موجودہ قانون صرف اس شخص کو مجرم قرار دیتا ہے جو بہ نیت فتنہ کوئی مضمون لکھے براہِ راست انبیاء کی ہتک کو جُرم نہیں قرار دیتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا کہ راجپال کے مقدمہ کی طرح ہمیشہ ہی عدالتوں میں یہ بحث رہے گی کہ کسی شخص نے فساد ڈلوانے کی نیت سے کتاب لکھی تھی یا نہیں۔ یا اس سے فساد کا احتمال ہو سکتا تھا یا نہیں۔ یا دو قوموں میں فساد پڑ سکتا تھا یا نہیں۔ اور اگر کوئی جج اس رائے کا ہو جائے کہ فساد ڈلوانے کی نیت نہ تھی۔ یا یہ خیال کر لے کہ ان حملوں کی وجہ سے فساد نہیں پڑ سکتا تھا۔ یا یہ کہ دو قوموں میں فساد نہیں پڑ سکتا تھا تو پھر خواہ کیسی ہی گندی کتاب لکھی گئی ہو۔ اس کے لکھنے والے پر کوئی گرفت نہیں ہو سکے گی۔ پس قانون میں ایک ایسی دفعہ زیادہ ہونی چاہئے جس کی رو سے ہر وہ شخص جو خدا تعالیٰ کی یا کسی مذہب کے بانی کی یا نبی کی ہتک کرے یا اس پر تمسخر اڑائے خواہ فساد کا احتمال ہو یا نہ ہو اسے سزا دی جاسکے۔ کیونکہ اگر فساد کے احتمال پر سزا کی بنیاد رکھی گئی تو قومیں اپنے بانیوں اور بزرگوں کی ہتک کرنے والوں کو سزا دلوانے کے لئے فساد کے آثار پیدا کرنے پر مجبور ہوں گی۔ اور یہ ناقص قانون بجائے امن پیدا کرنے کے فساد پیدا کرنے کا موجب ہوتا رہے گا۔ اور اس کا نتیجہ یہ بھی ہو گا کہ جو قومیں اپنے مذہب کی تعلیم کے مطابق فساد سے احتراز کریں گی ان کے بزرگوں کی ہتک سے روکنے کے لئے کوئی قانون ہی نہ ہو گا اور یہ سخت ظلم کی بات ہوگی۔
(۲) دوسرا نقص اس قانون میں یہ ہے کہ اس قانون کے ماتحت صرف گورنمنٹ ہی مقدمہ چلا سکتی ہے اور اس وجہ سے کسی ایسی کتب یا رسالے جن میں گندے سے گندے حملے بزرگانِ دین پر کئے جاتے ہیں ان پر کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا اور اس کے نتیجہ سے فساد بڑھتا ہے۔ اگر ایسا رسالہ ہندوؤں نے لکھا ہوتا ہے اور گورنمنٹ اس پر مقدمہ نہیں چلاتی تو مسلمانوں کا غصہ بڑھتا ہے۔ اور اگر مسلمانوں کی طرف سے ایسا رسالہ شائع ہوتا ہے اور اس پر نوٹس نہیں لیا جاتا تو ہندوؤں کا غصہ بڑھتا ہے۔ اور اس وجہ سے فساد کے مٹنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ پس ضروری ہے کہ اس قانون کی اصلاح اس طرح کی جائے کہ علاوہ گورنمنٹ کے اس بزرگ کے پیرو بھی جس کی ہتک کی گئی ہو اس ہتک کرنے والے پر نالش کر سکیں اور اسے سزا دلوا سکیں۔ راجپال کے مقدمہ میں گورنمنٹ کے خلاف مسلمانوں کے جوش کی بڑی وجہ یہی تھی کہ پریوی کونسل میں کیوں اپیل نہیں کی جاتی۔ اگر خود مقدمہ چلانے کی اجازت ہوتی تو مسلمان خود اس کام کو کر سکتے تھے اور گورنمنٹ کے خلاف کوئی جوش نہ پیدا ہوتا۔ پس قانون کی یہ اصلاح ضروری ہے کہ بزرگانِ دین کے پیروؤں کو بھی ان کی ہتک کرنے والوں پر نالش کرنے کی اجازت ہے۔ تاکہ اگر گورنمنٹ کسی پر مقدمہ چلانا مناسب نہ سمجھے تو بجائے ایجی ٹیشن کے لوگ خود مقدمہ چلا کر شریر کو اس کے کردار کی سزا دلا سکیں۔ جب تک یہ اصلاح نہ ہو گی گورنمنٹ پر رعایا کے مختلف حصے خواہ مخواہ ناراض رہیں گے اور اسے کبھی امن حاصل نہیں ہو گا۔ بے شک اس تبدیلیٔ قانون میں بعض نقائص بھی ہیں لیکن ان کا علاج ہو سکتا ہے جیسا کہ میں نے اپنے خط بنام وائسرائے میں ثابت کیا ہے۔
(۳) تیسری اصلاح جس کی اس قانون میں ضرورت ہے یہ ہے کہ جوابی کتاب لکھنے والے پر اس وقت تک مقدمہ نہ چلایا جائے جب تک کہ اصل کتاب والے پر بشرطیکہ اس نے گندہ دہنی سے کام لیا ہو مقدمہ نہ چلایا جائے۔ اس وقت یہ ہو رہا ہے کہ ایک شخص پر گورنمنٹ مقدمہ چلا دیتی ہے حالانکہ اس نے ایک نہایت گندی کتاب کا جواب لکھا ہوتا ہے۔ اس کو چھوڑ دیتی ہے جس نے حملہ میں ابتداء کی ہوتی ہے مگر شرط یہ ہونی چاہئے کہ دوسری کتاب پہلی کتاب کا حقیقی جواب ہو نہ کہ نئی مستقل کتاب۔
(۴) چوتھا نقص اس قانون میں یہ ہے کہ یہ قانون صوبہ دار ہے۔ ایک صوبہ کا اثر دوسرے پر نہیں پڑتا۔ مثلاً ورتمان جسے گورنمنٹ نے ضبط کیا ہے اس کی ضبطی صرف پنجاب سرحد اور یوپی میں ہوئی ہے۔ اگر ہندو اسے بنگال، بمبئی، مدراس، بہار وغیرہ میں شائع کرتے رہیں تو اس میں ان پر کوئی جُرم عائد نہیں ہوتا۔ حالانکہ سارا ہندوستان ایک ہے۔ ایک جگہ کی کتاب کا بد اثر سارے ملک پر پڑتا ہے۔
پس قانون یہ ہونا چاہئے کہ جب ایک گندی کتاب کو ایک صوبہ کی گورنمنٹ ضبط کرے تو سب صوبوں کی حکومتیں قانوناً مجبور ہوں کہ وہ اپنے صوبوں میں بھی اس کتاب کا چھپنا یا شائع ہونا بند کر دیں۔ یا اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ اس قانون پر عملدرآمد گورنمنٹ آف انڈیا کے اختیار میں ہو جو کسی صوبہ کی گورنمنٹ کے توجہ دلانے پر ایک عام حکم جاری کر دے جس کا سب صوبوں پر اثر ہو۔ ورنہ موجودہ قانون کی رو سے اس قسم کی شرانگیز کتابیں یکے بعد دیگرے مختلف صوبوں میں چھپ کر شائع ہو سکتی ہیں۔ اور جب تک کہ سب صوبوں میں ان کا چھپنا بند ہو اس وقت تک ملک میں خون کا دریا بہہ سکتا ہے۔ چنانچہ اس وقت بھی ملک کے قانون کے لحاظ سے راجپال کی کتاب بنگال، بمبئی، مدراس اور برہما میں چھاپ کر شائع کی جا سکتی ہے اور یہ بات قانون کے خطرناک نقص پر دلالت کرتی ہے۔
غرض موجودہ قانون میں یہ نقص ہیں جن کا ازالہ ضروری ہے۔ اور جب تک ان کا ازالہ نہ ہو گا نہ بزرگانِ دین کی عزتوں کی حفاظت ہو سکے گی اور نہ ملک میں امن قائم ہو گا۔ پس چاہئے کہ ہندوستان کے تمام شہروں سے مشترکہ جلسے کر کے مندرجہ بالا نقصوں کی طرف اپنی اپنی گورنمنٹوں کی معرفت ہندوستان کی حکومت کو توجہ دلائی جائے تا ایسا نہ ہو کہ ورتمان کے فیصلہ سے مطمئن ہو کر گورنمنٹ قانون میں اصلاح کا خیال چھوڑ دے۔ یا ایسی اصلاح کرے جو ہماری ضرورتوں کو پورا کرنے والی نہ ہو۔ میں امید کرتا ہوں کہ تمام مسلمان اول الذکر کام کی طرف تو خود فوری توجہ کریں گے۔ اور دوسری بات کی نسبت اپنی اپنی گورنمنٹوں کی معرفت گورنمنٹ آف انڈیا کو توجہ دلائیں گے اور اپنے منشاء سے آگاہ کریں گے۔ اور چونکہ یہ کام امن کے قیام کے لئے ہے اور خود گورنمنٹ کو بدنامی سے بچانا ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ کو اہل ملک کی خواہش کے مطابق قانون کی تبدیلی سے انکار نہیں ہوگا۔ ہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ دوسرا کام گو عارضی ہے لیکن پہلا کام ایک مستقل کام ہے اور اس وقت تک پورا نہ ہو گا جب تک کہ تمام مسلمان کہلانے والے لوگوں کی مشترکہ کمیٹیاں ہر قصبہ اور ہر شہر میں قائم نہ ہو جائیں گی۔ پس اے بھائیو! اٹھو اور اس قسم کی کمیٹیاں جلد سے جلد قائم کرو۔ ہمت اور استقلال سے خدا کے دین کی اشاعت اور قوم کی ترقی کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔ تب خدا خود آسمان سے تمہاری مدد کے لئے آئے گا اور اس کا نور تمہارے آگے آگے چلے گا۔ وَآخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
والسلام خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ قادیان ۱۰۔ اگست ۱۹۲۷ء
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
(تحریر فرمودہ یکم ستمبر ۱۹۲۷ء بمقام کنگزلے شملہ)
(شملہ میں ۷؍ ستمبر ۱۹۲۷ء کو تمام فرقوں کے لیڈروں کی جو کانفرنس مسئلہ اتحاد کے متعلق غور و خوض کرنے کے لئے منعقد ہوئی اس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ اس موقع پر اتحاد کے بارہ میں حضور نے جو بیس امور پیش فرمائے ان کا ترجمہ درج ذیل ہےـ)
۱۔ ہر جماعت کو اپنے مذہب کی تبلیغ و اشاعت کی اور دوسروں کو اپنے مذہب میں داخل کرنے کی پوری آزادی ہونی چاہئے لیکن ناجائز ذرائع نہیں استعمال کرنے چاہئیں۔
۲۔ کسی جماعت کے مذہب یا بانیٔ مذہب یا دوسرے پاکباز لوگوں کے متعلق جن کو کوئی فرقہ قابل تعظیم سمجھتا ہو، گندی اور معاندانہ تحریروں اور تقریروں کا سدّ باب ہونا چاہئے اور کسی قوم کے مذہب پر کسی ایسے عقیدہ یا دستور کی بناء پر جس کو وہ قوم اپنے مذہب کا جزو نہ سمجھتی ہو، کوئی اعتراض نہ کیا جائے۔ متعلقہ جماعتیں اس کے متعلق ذمہ دار سمجھی جائیں اور ایسا کرنے والے کا اس کی قوم کی طرف سے بائیکاٹ ہونا چاہئے یا کوئی دوسری مناسب سزا اس کو ملنی چاہئے حتیٰ کہ وہ اپنی قابل اعتراض تصنیف یا تحریر کو علانیہ تلف کر دے اور غیر مشروط معافی مانگے۔
۳۔ ہر قوم کو مکمل آزادی ہونی چاہئے کہ وہ اپنے افراد کی اقتصادی اصلاح کر سکے اور کہ ان کو کاروبار کرنے یا دکانیں کھولنے کی ترغیب دے اور ان کی سرپرستی کی تحریک کرے۔ یہ بات خصوصیت سے مسلمانوں کی حالت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ اس میدان میں بہت پیچھے ہیں اور اقتصادی آزادی کیلئے ان کا تجارت کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے۔
۴۔ ممکن ہے کہ ہندو مسلمانوں سے اپنے بعض مذہبی عقائد کی بناء پر چھوت چھات کرتے ہوں۔ مگر مسلمانوں کی اقتصادی حالت پر اس کا بہت بُرا اثر پڑ رہا ہے جو کہ آزادانہ ہندو دکانداروں سے تمام اشیاء خریدتے ہیں۔ حالانکہ ہندو اکثر اشیاء مسلمانوں سے نہیں خریدتے۔ لہٰذا کسی دشمنی کے جذبات سے متاثر ہو کر یا انتقام کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی اقتصادی اصلاح کیلئے ہم ان میں اس تحریک کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ان اشیاء کی دکانیں کھولیں جو ہندو ان سے نہیں خریدتے اور مزید برآں ہم اپنے ہم مذہب لوگوں کو یہ بھی تلقین کر رہے ہیں کہ وہ ایسی اشیاء صرف مسلم دکانداروں سے لیں۔ چونکہ یہ تحریک مسلم قوم کیلئے ایسی ہی مفید ہے جیسے کہ سودیشی تحریک ہندوستان کے لئے سمجھی جاتی ہے۔ اس لئے ہم امید کرتے ہیں کہ اس سلسلہ میں ہماری کوششیں کسی انتقام یا دشمنی کی بناء پر نہ سمجھی جائیں۔
۵۔ کسی قوم کے مذہبی یا سوشل عقائد سے کوئی تعرض نہ ہونا چاہئے۔ اگر مسلمان گائے ذبح کرنا چاہیں تو ان کو پوری آزادی ہونی چاہئے۔ اسی طرح عیسائیوں، سکھوں، ہندوؤں کو سؤر مارنے یا جھٹکے کرنے یا باجہ بجانے میں پوری آزادی ہو۔ مگر کوئی فعل بھی ایسی طرز میں نہ ہونا چاہئے جس سے دوسری قوم کے احساسات کے مجروح ہونے کا احتمال ہو۔ مثلاً مسلمانوں کو قربانی کی گایوں کا جلوس نہ نکالنا چاہئے یا کسی اور طرح بھی ان کی خواہ مخواہ نمائش نہ کرنی چاہئے اور یہی طریق سؤر یا جھٹکے کے متعلق ہونا چاہئے۔ ہمارے خیال میں مسلمانوں کو باجہ بجائے جانے پر کوئی اعتراض نہ ہونا چاہئے۔ مگر یہ نہایت انسب ہوگا کہ اگر قانون کی رو سے عبادت کے وقت معابد کے سامنے باجہ بجانا ممنوع قرار دیا جا سکے۔
۶۔ مذہبی امور میں ہر قوم کو مکمل آزادی ہونی چاہئے اور اس اصل کو ہندو مسلم اتحاد کا ایک ضروری جزو قرار دینا چاہئے۔ بدقسمتی سے اس وقت بھی بہت سی ایسی جگہیں ہیں۔ خاص کر پنجاب میں جہاں مسلمانوں کی قلیل آبادی کو اذان دینے یا مساجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں۔ اسی طرح بعض دیسی ریاستوں میں تبلیغ کے راستہ میں رکاوٹیں پیدا کی جاتی ہیں۔
۷۔ پرائیویٹ بینکرز کا مروجہ ساہوکارہ طریق نہایت قابلِ اعتراض ہے اور اگرچہ ایسے ساہوکار ہندو اور مسلم میں کوئی تمیز روا نہیں رکھتے مگر پھر بھی زیادہ نقصان مسلمانوں کا ہی ہوتا ہے اور اس وجہ سے سینکڑوں ہزاروں خاندان تباہ ہو گئے ہیں۔ بدقسمتی سے جب بھی ہم نے اس کے خلاف آواز اٹھائی اور مسلمانوں کو گورنمنٹ کو آپریٹو بنکوں کے ساتھ لین دین کی تلقین کی تو ہمیشہ ہم پر ہندوؤں سے بائیکاٹ کرانے کا الزام لگایا گیا۔ لہٰذا اس کے متعلق ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ ہندوؤں کو ایک ایسا قانون پاس کرانے میں جس کی رو سے پرائیویٹ ساہوکارہ باضابطہ ہو سکے ہماری مدد کرنی چاہئے اور ہماری کوششوں کو جو ہم مسلم رقبوں میں مسلمانوں کے فائدہ کیلئے کو آپریٹو بنک کھلوانے کے سلسلہ میں کریں، فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کا ذریعہ نہ بنائیں۔
۸۔ مسلمان تعلیم میں بہت پیچھے ہیں۔ اس لئے وہ سرکاری ملازمتوں میں اپنا جائز حصہ نہیں حاصل کر سکتے اور یہ ظاہر ہے کہ ان کی مدد کرنے کی بجائے ان کے راستہ میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں۔ جس کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمانوں پر تمام ترقیوں کے دروازے عملی طور پر بند ہو گئے ہیں۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ جہاں تک ہمسایہ اقوام کی طاقت میں ہے۔ اس معاملہ میں تناسب اعداد کے لحاظ سے مسلمانوں کو سہولتیں بہم پہنچائی جائیں اور جس طرح کہ ملازمتوں کو ہندوستانیوں کے لئے مخصوص کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، مختلف قوموں کے تناسب کے لحاظ سے بھی ملازمتوں میں ان کی نیابت منظور کی جائے۔ اور ہر صوبہ میں ہر قوم کی نیابت اس کی تعداد کے لحاظ سے ہونی چاہئے۔
۹۔ یہ بات بطور اصل تسلیم کی جائے کہ جس صوبہ میں جو قوم زیادہ تعداد میں ہو وہ کونسل میں قلیل تعداد نہ رکھے۔ اور جب کسی قلیل التعداد قوم کو خاص مراعات دینا ہوں تو یہ مذکورہ بالا اصول کے عین مطابق کیا جائے۔
۱۰۔ یونیورسٹیوں کے بارہ میں بھی یہی اصل ہونا چاہئے کیونکہ یہ ضروری ہے کہ ہر صوبہ کی ذہنی بالیدگی ایسی قوم کے سپرد کی جائے جس کی تعداد اس صوبہ میں زیادہ ہو۔
۱۱۔ صوبہ سرحدی میں اصلاحات کا نفاذ اسی طرح اور اسی حد تک ہونا چاہئے جہاں تک کہ دوسرے صوبوں میں ہے اور اس صوبہ میں ہندوؤں کو وہی حقوق دیئے جائیں جو مسلمانوں کو ان صوبوں میں ملے ہیں۔ جہاں وہ قلیل التعداد ہیں۔
۱۲۔ سندھ اور بلوچستان ایک علیحدہ صوبے کی صورت میں تبدیل کر دیئے جائیں اور ہندوؤں کو وہی حقوق دیئے جائیں جو مسلمانوں کو ان صوبوں میں حاصل ہیں جہاں وہ قلیل التعداد ہیں۔
۱۳۔ چونکہ دیسی ریاستوں کو بھی برٹش انڈیا کے ہم پایہ ہونا چاہئے۔ اس لئے یہ فیصلہ ہو جانا چاہئے کہ کسی ریاست میں وہاں کی حکمراں قوم کو قطع نظر اس کی تعداد کے بعض خاص حقوق دیئے جائیں اور اس کی فوقیت ہونی چاہئے۔ بنابریں حیدر آباد ہمیشہ ایک مسلم ریاست رہے۔ جس میں مسلمانوں کو فوقیت ہو اور کشمیر ایک ہندو ریاست رہے جہاں کہ ہندوؤں کو فوقیت حاصل ہو۔ میرے خیال میں حکمران قوم کو قطع نظر اس کی تعداد کے ۶۰ فیصدی حقوق ملنے چاہئیں۔
۱۴۔ مختلف صوبہ جات کے اختیار خود انتظامی کے اصول کو اس شرط پر تسلیم کرنا چاہئے کہ ایسے صوبہ جات ہمیشہ مرکزی حکومت کے فوائد و آئین کے اندر رہیں گے۔
۱۵۔ مخلوط انتخاب کا طریقہ اصولاً صحیح ہے مگر ہندوستان کی موجودہ حالت کے مطابق نہیں اور ہمارے خیال میں یہ مسلم مفاد کے لئے خطرناک ہے۔ بہرحال جماعت احمدیہ اور پنجاب کے مسلمان اور بعض دوسرے صوبوں کے مسلمان بھی فی الحال مخلوط انتخاب کے طریقہ کو منظور کرنے کیلئے تیار نہیں۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ جداگانہ انتخاب کا حق مسلمانوں کے لئے جاری رہنا چاہئے۔ اور دوسری جماعتوں کو بھی جو اسے پسند کریں، ملنا چاہئے اس اصل کو کانسٹی ٹیوشن (CONSTITUTION) میں اس طرح شامل کیا جاوے کہ جب تک منتخب مسلم ممبران اسمبلی میں سے ۲/۳ متواتر ۳۔ اسمبلیوں میں اس کی تنسیخ کے لئے رائے نہ دیں، نہ بدلا جائے۔ اور پھر مخلوط انتخاب کا طریقہ اس وقت تک اس صوبہ میں رائج نہ کیا جائے جب تک ممبران کی کثیر تعداد اس کے مخالف ہو۔ اور کانسٹی ٹیوشن میں ایسی دفعہ موجود ہونی چاہئے جس کی رو سے مخلوط انتخاب کا فیصلہ ہو جانے کے بعد بھی اگر کسی وقت مسلم ممبروں کی تین چوتھائی اس کو اپنے حق میں مضرّ خیال کرنے لگے اور پھر جداگانہ انتخاب کی طرف عود کرنا چاہئے تو اس معاملہ کا تصفیہ مسلمان رائے دہندگان کے مشورے پر چھوڑا جائے۔ تاہم مخلوط انتخاب بطور تجربہ ایک ایسے صوبہ میں رائج کیا جائے جس کی قلیل التعداد اقوام اس کے رواج کو پسند کریں۔ مثلاً بمبئی میں یہ ہو سکتا ہے اگر سندھ کو اس سے علیحدہ کر دیا جائے۔
۱۶۔ مذہبی امور میں سے کوئی بات فیصلہ نہ کی جائے جب تک اس قوم کے تین چوتھائی ممبر جس پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے اس کے حق میں رائے نہ دیں اور فیصلے کرنے کے بعد بھی اگر اتنی ہی تعداد ممبروں کی اس کو چھوڑنا چاہئے تو اس کو چھوڑ دیا جائے۔
۱۷۔ اس وقت تمام فرقہ وارانہ مخالفت اور لڑائیوں میں ایک قوم دوسری قوم کو پیش دستی کا الزام دیتی ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ اتحاد کانفرنس کے آخری فیصلہ سے پہلے یا تو یہ طے ہو جائے کہ تمام مصائب کی ذمہ داری کس قوم پر ہے۔ یا پھر یہ طے ہو جانا چاہئے کہ اگر آئندہ کوئی رنجیدہ واقعہ ہو تو کسی فریق کو گذشتہ واقعات کا حوالہ دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ورنہ فطرتاً یہ خیال پیدا ہو گا کہ ذمہ داری کے اظہار کے ڈر سے صلح کی جا رہی ہے۔
۱۸۔ ہر صوبہ میں ایک بورڈ بنایا جائے جس کی شاخیں تمام اضلاع میں ہوں اور جب بھی کوئی فرقہ وارانہ مخاصمت پیدا ہو تو لوکل بورڈ کے ممبروں کو فوراً جائے وقوع پر پہنچ کر تفتیش کرنی چاہئے اور جس قوم کی طرف سے ابتداء ثابت ہو اس کے لیڈروں کو اسے مناسب سزا اور مظلوم پارٹی کو ہر ممکن طریق سے مدد دینی چاہئے۔
۱۹۔ انڈین نیشنل کانگریس صحیح معنوں میں قومی جماعت ہونی چاہئے اور ہر خیال اور عقیدہ کے لوگوں کو اس کا ممبر بننے کی اجازت ہو اور حلفِ وفاداری صرف انہیں الفاظ میں لیا جانا چاہئے کہ:۔
”میں اپنے آپ کو ہندوستانی سمجھتا ہوں اور ہمیشہ ہندوستان کی بہبودی کو مد نظر رکھوں گا۔“
اس کے سوا ممبری کیلئے کوئی شرط نہیں ہونی چاہئے تا کہ ہر خیال اور عقیدہ کے لوگ اس میں شامل ہو سکیں۔ بے شک کثیر التعداد جماعت کو کانگریس کا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہئے۔ مگر جیسا کہ برٹش پارلیمنٹ میں دستور ہے مخالف پارٹیوں کو اپنے خیال کے مطابق کام کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔ ہمارے خیال میں صرف یہی طریقہ ہے جس سے کہ ہندوستانی متحد ہو سکتے ہیں۔
۲۰۔ ہر قوم یا فرقہ کو اس کی اپنی تنظیم سے متعلقہ باتوں میں کامل آزادی ہونی چاہئے تا کہ وہ اپنے مفاد کی حفاظت کر سکے۔
خاکسار مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ کنگزلے شملہ یکم ستمبر ۱۹۲۷ء
(الفضل ۱۴؍ ستمبر ۱۹۲۷ء)