فہرست

انوار العلوم جلد ۶

صفحات ۱–۵۵۸

ضرورتِ مذہب

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ

ضرورتِ مذہب

(فرمودہ ۵؍ مارچ ۱۹۲۱ء)

۵؍مارچ کو لاہور میں جن طلباء کالج نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے ملاقات کی۔ ان کی طرف سے یہ سوال پیش کیا گیا کہ مذہب کی کوئی ضرورت نہیں نہ اس سے کوئی فائدہ ہے۔ ہاں لوگ اگر اس کو بعض ظاہری فوائد حاصل کرنے کے لئے اختیار کرلیں تو بُرا نہیں۔

اس کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ ضرورت دو طرح کی ہوتی ہے (۱) ایک چیز میں ذاتی فوائد انسان کے لئے ہوتے ہیں۔ وہ خیال کرتا ہے کہ مجھے اس کے قبول کرنے میں کچھ فائدہ ہوگا۔ (۲) اپنے نفع کا خیال نہیں ہوتا۔ محض اس چیز کی ذاتی خوبی ہوتی ہے۔ جیسے ماں باپ کا تعلق۔ جوان ہو کر انسان ان کی خدمت کسی فائدہ کے خیال سے نہیں کرتا۔ جو کچھ اُسے لینا ہوتا ہے وہ تو پہلے ہی لے چکتا ہے۔ اس وقت ان کی خدمت کسی فائدہ کے لئے نہیں کی جاتی، بلکہ محض ان کے ماں باپ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اور بعض باتوں میں اخلاق کا خیال ہوتا ہے۔

اب ہم مذہب کے متعلق دیکھتے ہیں کہ اوّل اس سے ہمیں کیا فائدہ ہے۔ دوم یہ کہ ہمارے لئے اس میں کوئی ذاتی کشش ہے؟ جب ہم یہ دیکھتے ہیں تو مذہب میں یہ دونوں باتیں پاتے ہیں۔ یعنی ایک تو اس میں ہمارے لئے موجودہ اور آئیندہ کے فوائد ہیں اور دوسرے اس میں ذاتی دلکشی اور خوبیاں بھی ہیں جن کی وجہ سے مذہب سے محبت ہونی چاہئے۔

مذہب سے لاپروائی کی وجہ

میرے نزدیک مذہب سے لاپروائی کی وجہ یہ ہے کہ مذہب پر غور کرتے ہوئے محدود نظر سے کام لیا جاتا ہے۔ لوگ ایسے کام تو کرتے ہیں جو بظاہر ان کے لئے مال حاصل ہونے کا ذریعہ نظر آتے ہیں لیکن مذہب میں چونکہ یہ بات نظر نہیں آتی اس لئے گو اس کو مانتے ہیں مگر محض اس لئے کہ وہ ماں باپ سے سُنتے ہیں پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ مذہب کے لئے بہت دفعہ ان کو مال قربان کرنا پڑتا ہے اس لئے اس زمانہ میں کہ لوگوں کی طبیعتیں مادیت کی طرف مائل ہیں مذہب سے متنفر ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مذہب میں فائدہ نہیں۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ مذہب کو استعمال ہی نہیں کیا جاتا۔ یا اگر استعمال کیا جاتا ہے تو غلط طریق سے۔ پس جب مذہب کو استعمال ہی نہ کریں اور اپنی ناواقفیت اور نادانی سے اسے چھوڑ بیٹھیں تو اس کا فائدہ کیا ہو۔ عقلمندی یہ ہے کہ جس چیز کا فائدہ ثابت ہو اُسے ضرور استعمال کرنا چاہئے۔ دیکھو بہت سی اشیاء تھیں جن کا استعمال کرنا لوگوں نے چھوڑ دیا تھا۔ مگر جب سائنس نے ان کا فائدہ ثابت کر دیا تو ان کو قبول کر لیا گیا۔ چنانچہ ہم طب میں ہی دیکھتے ہیں کہ اسپغول یونانی اطباء مُدّتوں سے استعمال کرتے تھے اور پیچش میں مفید بتاتے تھے مگر ڈاکٹروں نے اس کے ان فوائد کا انکار کر دیا۔ لیکن جب ان کو فوائد معلوم ہوئے تو انھوں نے دوبارہ استعمال شروع کر دیا۔

جو لوگ مذہب پر عمل کرتے ہیں مگر ان کے عمل کا نتیجہ اچھا نہیں نکلتا ان کا طریقِ عمل غلط ہوتا ہے۔ تاہم وہ اگر چھوڑتے ہیں تو کہا جا سکتا ہے کہ اپنی طرف سے کوشش کرنے کے بعد انھوں نے چھوڑا ہے لیکن جو لوگ مذہب کو غلط جان کر اس کا انکار نہیں کر سکتے وہ قابلِ عزت نہیں ہو سکتے۔ اور اگر دیکھا جائے تو ایسے ہی لوگ بکثرت اہل مذاہب میں پائے جاتے ہیں۔

طریقِ استعمال کو دیکھنا چاہئے

پس کسی چیز کے متعلق یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کا طریقِ استعمال تو غلط نہیں۔ اگر صحیح طریق کے باوجود نتیجہ بُرا نکلے تو وہ چیز خراب ہے اور اگر غلط طریقِ استعمال سے بُرا نتیجہ ہو تو وہ چیز بُری نہیں ہوگی۔ دیکھو کونین موسمی بخار میں مفید ہے۔ لیکن اگر محرقہ بخار میں دیکر اس کی خوبی کا کوئی انکار کرے تو وہ غلطی کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں ہمارے ملک میں بہت سی چیزوں کو ردّی سمجھ کر ضائع کیا جاتا تھا، مگر یورپ نے ان سے فوائد اُٹھائے ہیں۔ چنانچہ ہندوستان میں بانس کے جنگل ہوتے ہیں جو کہ ضائع ہی جاتے تھے لیکن یورپ نے بانس سے کاغذ بنایا اور عمدہ طریق سے استعمال کر کے فائدہ اُٹھایا۔

کارخانۂ عالم کا انتظام منتظم کو چاہتا ہے

اب ہم انسان کی حالت پر غور کرتے ہیں کہ کیا یہ ایسا ہے جیسا سمندر میں حباب اور حباب میں مختلف رنگ جو فوراً مٹ جاتے ہیں۔ پھر اس کے علاوہ اور عالم ہیں دیگر ستاروں کے متعلق تو یقینی تحقیق نہیں مگر MORS (مریخ) کے متعلق خیال ہے کہ اس میں آبادی ہے۔ انسان کے متعلق جب ہم خیال کرتے ہیں تو اس کی پیدائش لغو معلوم نہیں ہوتی اور پھر اس کے لئے جو سامان ہیں وہ کیسے اکمل اور ابلغ ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ ہوا دُم دار ستارے کے متعلق ایک امریکن ہیئت دان نے شائع کیا تھا کہ وہ زمین سے ٹکرائے گا اور زمین ٹکرڑے ٹکرڑے ہو جائیگی۔ اس خیال سے بہت سے لوگوں نے یورپین ملکوں میں خود کشیاں کر لی تھیں۔ بعض نے کہا کہ ٹکرائے گا نہیں مگر ایسی گیسز پیدا ہونگی جن سے دم گھٹ جائیں گے۔ لیکن وہ دن آیا اور گذر گیا۔ معلوم ہوا وہ ایسے خفیف ذرے تھے کہ زمین پر ان کا کچھ اثر نہ تھا۔ دیگر ستاروں کے متعلق بھی مانا جاتا ہے کہ جب وہ زمین کے برابر آتے ہیں تو فوراً اپنا رستہ بدل لیتے ہیں پس یہ تغیرات بتاتے ہیں کہ اتفاقی نہیں بلکہ کوئی ہستی ہے جو اپنے ارادے کے ماتحت تغیرات کرتی ہے۔ فرض کرو کوئی اینٹ گری پڑی ہو۔ اس کے متعلق خیال کیا جاسکتا ہے کہ اتفاقاً گر گئی ہے ، ہوا نے گرادی۔ مگر عمارت کے متعلق یہ نہیں کہا جائیگا کہ اتفاقاً تیار ہوگئی ہے۔ یا اگر کہیں سیاہی گر جائے تو ممکن ہے کہ اس سے آنکھ کی سی شکل بن جائے۔ مگر یہ ممکن نہیں کہ آنکھ بنے، ناک چہرا اور اور انسان کی مکمل تصویر سیاہی گرنے سے ہی بنے اور پھر انسان کے غم یا خوشی کی علامات بھی اس سے ظاہر ہوں۔ اگر انسان کی ایسی تصویر ہوگی تو اس سے پتہ لگے گا کہ کسی ہوشیار مصور کی کاریگری ہے۔

اب دیکھو آنکھ پیدا کی گئی ہے تو اس کے لئے لاکھوں کوس کے فاصلہ پر سورج بنایا گیا ہے۔ اسی طرح معدہ بنایا گیا ہے تو وہ چیزیں بھی بنائی گئی ہیں جن سے وہ پُر ہوتا ہے۔ ان انتظامات سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مدبّر بالا رادہ ہستی کے ماتحت یہ کارخانہ اپنا کام کر رہا ہے اور یہ اتفاق نہیں ہے۔ پس دنیا کی تدوین بتاتی ہے کہ اس کا پیدا کر نیوالا کوئی ہے اور پیدا کرنے میں اس کی کوئی غرض ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ اس نے پیدا کر کے یونہی چھوڑ دیا۔ اتفاق کے معنی ہوتے ہیں جس کام میں سلسلہ نہ ہو لیکن جس میں سلسلہ ہو وہ اتفاق نہیں کہلاتا۔

مذہب کی ضرورت کا احساس کس طرح ہوسکتا ہے

پس انسان کی پیدائش کی غرض ہے اور مذہب انسان کے فائدے کے لئے ہے مگر بہت سے فوائد محسوس نہیں ہوتے۔ مثلاً جب ریل نہ تھی تو ہمیں اس کی ضرورت بھی محسوس نہ ہوتی تھی لیکن آج جب ریل آگئی ہے تو جس گورنمنٹ میں نہ ہو اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ یہ ضرورت کی چیز اس میں نہیں یا ڈاک کا جب ایسا انتظام نہ تھا تو اس کی ضرورت بھی محسوس نہ ہوتی تھی مگر جب ہوا تو جہاں نہ ہو وہاں اعتراض ہوتا ہے۔ اسی طرح جب تک خدا نہیں ملتا۔ اس وقت تک اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن جب مل جائے ۔ تو پھر انکار نہیں ہو سکتا اور انسان اس کے بغیر اپنی زندگی کو اچھی طرح نہیں گزار سکتا۔ پس مذہب کی ضرورت کا سوال خدا کی ہستی سے وابستہ ہے اگر خدا ہے تو مذہب کی بھی ضرورت ہے۔

خدا کی ہستی کا ثبوت

اب سوال ہوتا ہے کہ خدا کا کیا ثبوت ہے اور اگر ہے تو اس کا ہم پر کیا اثر پڑتا ہے کیونکہ یہ بات مسلّم ہے کہ ہر چیز کا اثر لازمی ہے۔ اور خدا کا بھی اثر ہونا چاہئے۔ چنانچہ ایک امریکن سائنس دان نے لکھا تھا کہ اگر خدا ہے تو اس کو ماں باپ سے زیادہ مہربان ہونے کے باعث ہم پر ماں باپ سے زیادہ مہربانی کا اظہار کرنا چاہئے ۔ وہ ہم سے بولے۔ یہ اس کا صحیح فطرتی مطالبہ تھا۔ پس اگر خدا ہے اور اس نے ہمیں پیدا کیا ہے تو ہمیں اس کا ثبوت بھی ملنا چاہئے ورنہ اگر اس کا ہم سے تعلق نہیں تو اس کی عبادت بے معنی بات ہوگی لیکن یہ واقعہ ہے اور جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں خدا ہے اور ایسا ہے جو اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو انعام دیتا اور جو اس کی نافرمانی کرتے ہیں ان کو سزا دیتا ہے۔ وہ اپنی صفات کا اظہار کرتا ہے۔ گونگا نہیں ۔ وہ اپنے بندوں کو اپنی رضا کی راہیں بتاتا ہے۔

جس قدر مذاہب ہیں وہ بتاتے ہیں کہ ان کے بانیوں سے خدا نے مکالمہ کیا۔ سکھ اپنے گوروؤں کو پیش کرتے ہیں۔ اور دیگر مذاہب والے اپنے بزرگوں کو۔ مگر سب اپنے گذشتہ بزرگوں کو پیش کرتے ہیں مسلمان بھی مانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خدا نے کلام کیا اور مسلمان مانتے رہے ہیں کہ خدا اپنے پیاروں سے باتیں کرتا ہے مگر تھوڑے عرصہ سے ان میں یہ غلطی آگئی ہے کہ انھوں نے سمجھ لیا خدا نے اب بولنا چھوڑ دیا ہے۔

اسلام کی فضیلت دیگر مذاہب پر

سب مذاہب کے پیروؤں کا اپنے مذہب کی ابتداء میں ماننا کہ خدا کلام کرتا تھا اور اب اس سے انکار کرنا بتاتا ہے کہ وہ مذاہب اپنی اصلی حالت پر نہیں رہے۔ لیکن اسلام اب بھی وہ بات پیش کرتا ہے جو مذہب کا مغز اور تمام مذاہب کا طغرائے امتیاز رہا ہے یعنی مکالمہ الٰہیہ۔ چنانچہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعہ خدا نے اپنا کلام دُنیا میں پیش کیا اور آپ کے بعد بھی یہ سلسلہ بند نہیں ہوا۔ بلکہ خدا کے فضل سے جاری ہے۔

مکالمہ الٰہیہ کی ایک مثال

میں اپنا واقعہ پیش کرتا ہوں ابھی تھوڑا عرصہ ہوا ایک ڈاکٹر مطلوب خان جو کالج سے عراق میں بھیجے گئے تھے ان کے متعلق ان کے ساتھیوں کی طرف سے اور سرکاری طور پر خبر آئی کہ وہ فوت ہو گیا ہے۔ ان کے والد اس خبر سے تھوڑا عرصہ پہلے قادیان آئے تھے جو بہت بوڑھے تھے۔ مجھے خیال تھا کہ مطلوب خان اپنے باپ کا اکیلا بیٹا ہے۔ بعد میں معلوم ہوا وہ سات بھائی ہیں۔ ماں باپ کا ایک بیٹا ہونے کے خیال سے اور اس کے باپ کے بوڑھا ہونے پر مجھے قلق ہوا۔ ادھر ہمارے میڈیکل سکول کے لڑکوں کو جب اس کی موت کا حال معلوم ہوا تو انہوں نے کہا کہ وہ ملٹری خدمات کرنے سے انکار کر دینگے مجھے لڑکوں میں بے ہمتی پیدا ہونے کے خیال سے بھی قلق ہوا۔ اس پر میں نے دُعا کی اور مجھے رؤیا میں بتایا گیا کہ گھبراؤ نہیں وہ زندہ ہے۔ میں نے صبح کے وقت اپنے بھائی کو یہ بتایا اور انھوں نے اس کے رشتہ دار کو بتایا اور یہ خبر عام ہو گئی۔ اس سے کچھ دنوں کے بعد خبر آئی کہ وہ زندہ ہے دشمن کے قبضہ میں آگیا تھا۔ غلطی سے مُردہ سمجھ لیا گیا۔ کیا انسانی دماغ اس خبر کو وضع کر سکتا تھا اگر دماغی اثرات کے ماتحت اس خبر کو رکھا جائے تو ایسا ہو نہیں سکتا کیونکہ دماغ خیالات کے اُلٹ نہیں دکھایا کرتا۔ حالات اور خیالات کے خلاف کسی امر کا رؤیا میں معلوم ہونا اور پھر اس کا پورا ہو جانا یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ جن بندوں کا خدا سے تعلق ہوتا ہے ان کو خدا خود باتیں بتاتا ہے اور غم و فکر سے انہیں نجات دیتا ہے میرے دل کو جو اس خبر سے صدمہ ہوا تھا وہ میرے خدا نے اس طرح دُور کر دیا اور ہماری جماعت میں سینکڑوں ایسے آدمی ہیں جن سے خدا باتیں کرتا ہے اور ان کو عزت دیتا اور ان کے مخالفوں کو ذلت پہنچاتا ہے اور پہلے مدد کا وعدہ کر کے پھر ایفاء کرتا ہے ایسے لوگوں کی اگر ساری دنیا بھی مخالف ہو جائے تو ناکام رہتی ہے اور وہ کامیاب ہوتے ہیں۔

حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئیاں خدا کی ہستی کا ثبوت ہے

حضرت مسیح موعودؑ نے جب دعویٰ کیا کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور خدا مجھ سے کلام کرتا ہے تو اپنے بیگانے سب آپ کے مخالف ہو گئے۔ اسی لاہور میں آپ پر پتھر پھینکے گئے۔ امرتسر میں ایک موقع پر عوام نے کثرت سے پتھر مارے۔ پھر پادریوں نے آپ پر اقدامِ قتل کے مقدمے کرائے اور سب نے ملکر آپ کے خلاف زور لگایا۔ لیکن خدا نے آپ کو ان فتنوں کے متعلق قبل از وقت اطلاع دے دی تھی کہ یہ سب فتنے دُور ہو جائیں گے اور کوئی نقصان نہ پہنچائیں گے۔ چنانچہ خدا کے فضل سے اسی طرح ہوا۔ دُنیا آپ کی جماعت کو مٹانا چاہتی تھی مگر کچھ نہ کر سکی اور آپکی جماعت دن بدن بڑھتی گئی ۔ آپ نے کہا کہ میں ایک معمولی آدمی ہوں کوئی دنیاوی عزت و وجاہت نہیں رکھتا طاقت و شوکت نہیں رکھتا لیکن خدا نے مجھے بتایا ہے کہ مجھے عزت ملے گی اور تمام دُنیا میں میرے ماننے والے پھیل جائیں گے۔ اب دیکھ لو یہ بات کس طرح پوری ہو رہی ہے۔

اسی طرح آپ کو خبر ملی۔ طاعون آئے گی اور ملک میں پھیلے گی اور قادیان میں بھی آئیگی مگر میرا مکان محفوظ رہے گا چنانچہ اس مکان کے ارد گرد طاعون پڑی مگر اس مکان کو ہمیشہ خدا نے محفوظ رکھا۔ یہ تو اس دُنیا کے فوائد ہیں جو مذہب کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں اور آخرت کے فوائد بے شمار اور بے اندازہ ہیں اور اس دُنیا کے بعد اسی طرح حاصل ہوتے ہیں جیسے آپ لوگ اب اس لئے پڑھتے ہیں کہ آئندہ فائدہ اُٹھائیں یہ نہیں کہ آپ کا اب پڑھنا وقت کا ضائع کرنا ہے۔ پس ظاہر ہے کہ مذہب کی ضرورت ہے اور اگر صحیح طریق سے جو اسلام بتاتا ہے اس پر عمل کیا جائے تو خدا مل جاتا ہے اور اس دُنیا میں بھی جو خدا سے تعلق رکھتا ہے وہ فائدہ اُٹھاتا ہے۔ آئندہ بھی اس کو انعام ملیں گے۔

دوسری بات کسی چیز کے متعلق اس کی ذاتی خوبیاں ہیں۔ سو ہمارا دعویٰ ہے کہ اسلام میں ذاتی خوبیاں بھی اتنی اور ایسی ہیں جو اور کسی مذہب میں نہیں پائی جاتیں۔ اس وقت مسلمان کہلانے والوں کے اعمال کے جو بُرے نتائج نکل رہے ہیں ان کی وجہ سے اسلام پر الزام نہیں آسکتا۔ کیونکہ اسلام کے بتائے ہوئے طریق کے خلاف چلنے سے ایسا ہو رہا ہے۔ اس کے بعد حسب ذیل سوالات ہوئے۔

اوّل یہ کہ دیگر مذاہب میں بھی بعض ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو پیشگوئیاں کرتے ہیں پھر اسلام کی یہ خصوصیت نہ رہی۔

دوم حضرت مرزا صاحب کے سلسلہ کا پھیلنا ان کی صداقت کا ثبوت نہیں کیونکہ روس میں لینن کو بھی بڑی کامیابی ہوئی ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ اور دوسرے لوگوں کی پیشگوئیوں میں فرق

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا۔ پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ بعض مذاہب کے لوگ پیشگوئی کے منکر ہیں مگر کبھی کبھی لوگ پیشگوئیاں شائع کرتے رہتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں کہتے کہ یہ ہمارے مذہب کی تعلیم اور خصوصیت ہے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا علم یہ کہتا ہے۔ تمام منجم یہی کہتے ہیں کہ ہم اپنے علم کی بناء پر پیشگوئی کرتے ہیں خدا کی طرف سے نہیں کہتے یورپ کے جو لوگ اس علم کے ماہر ہیں وہ اپنے آپ کو کسی مذہب کا قائمقام نہیں بتاتے۔ بلکہ پیشگوئی کرنے کو نتیجہ علم بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو اس طرح مشق کرے گا اور اس علم کو جان لے گا وہ خواہ کوئی بھی ہو اور کسی بھی مذہب کا ہو پیشگوئی کر سکے گا۔

پھر ایسے لوگ جو پیشگوئیاں کرتے ہیں اور جو پوری ہو جاتی ہیں وہ ایسی ہوتی ہیں جن کے حالات پیدا شدہ ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک طالب علم روز پڑھتا ہے۔ بہت ہی ہوشیار ہے اس کا واقف آ کر کہتا ہے کہ یہ پاس ہو جائیگا اور وہ پاس ہو بھی جائے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ یہ قیاس ہے اور قیاس بھی بعض اوقات درست ہوتا ہے۔ لیکن ایک ایسی بات جس کے حالات پیدا شدہ نہ ہوں۔ بلکہ مخالف ہوں۔ مثلاً ایک ایسا لڑکا جو اسکول نہ جاتا ہو۔ اس کے متعلق کہا جائے کہ پاس ہوگا اور وہ پاس ہو جائے تو یہ پیشگوئی ہوگی پھر ایک خبر کے دو یا تین یا چار پہلو ہوں مگر اس کا ایک پہلو معین کر دیا جائے اور وہی پورا ہو تو یہ پیشگوئی ہوگی اور بعض دفعہ پیشگوئی میں سینکڑوں پہلو بھی ہو سکتے ہیں مثلاً سو آدمی دوڑیں اور ایک کے متعلق کہا جائے کہ وہ سب سے آگے نکلے گا اور وہ نکل بھی جائے تو یہ ایسی پیشگوئی پوری ہوگی جس کے سو پہلو تھے۔ منجم جو پیشگوئی کرتے ہیں اس کے پہلو نہیں ہوتے اور وہ اپنے متعلق بھی نہیں بتا سکتے کہ اس خبر کے پورا ہونے کا ان پر کیا اثر ہوگا بسا اوقات وہ زلزلہ کی خبر دیتے ہیں۔ یا بیماری کی خبر دیتے ہیں۔ مگر خود بھی اسی کے ذریعہ ہلاک ہو جاتے ہیں۔ لیکن انبیاء کی پیشگوئی میں یہ بات نہیں ہوتی۔ وہ مخالف حالات میں ہوتی ہے اور اس کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں۔ اور اس میں ایک شوکت پائی جاتی ہے اور حاکمانہ اقتدار ہوتا ہے۔ مثال کے لئے حضرت مسیح موعودؑ کی بنگال کے متعلق پیشگوئی دیکھئے تقسیم بنگال کے متعلق جب پارلیمنٹ فیصلہ کر چکی تھی کہ بحال رہیگی اور بنگالی مایوس ہو چکے تھے۔ تو اس وقت حضرت مسیح موعودؑ نے خدا تعالیٰ سے علم پا کر خبر دی کہ ”پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا، اب ان کی دلجوئی ہوگی۔“؎اس خبر کو بنگالیوں نے اس قدر حیرت اور استعجاب سے سُنا کہ ایک بنگالی اخبار نے لکھا گورنمنٹ تو بار بار کہہ رہی ہے کہ جو حکم جاری کیا گیا ہے وہ فیصل شدہ ہے اور اس میں اب کسی قسم کی ترمیم نہیں ہو سکتی لیکن پنجاب سے ایک پاگل کی آواز آتی ہے کہ اس کے متعلق بنگالیوں کی دلجوئی ہوگی مگر باوجود ان فیصلوں کے خدا کا جو منشاء تھا وہ پورا ہوا۔ اور بنگالیوں کی دلجوئی کے لئے اس حکم میں ترمیم کی گئی ۔ پھر بعض دفعہ پیشگوئی میں کئی مرکب پہلو ہوتے ہیں ۔ مثلاً حضرت مولوی نور الدین صاحب کا جب ایک لڑکا فوت ہوا تو مخالفوں نے اس پر ہنسی اڑائی ۔ اس وقت حضرت مسیح موعودؑ نے خدا سے علم پا کر پیشگوئی کی کہ مولوی صاحب کے ہاں ایک لڑکا ہوگا جو تیرہ تا اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچے گا۔ چنانچہ غلام کا لفظ اس کے لئے آیا تھا ۔ پھر وہ موٹا ہوگا ۔ آنکھیں اس کی بڑی بڑی ہونگی ۔ خوش رنگ ہوگا ۔ اس کی ٹانگوں پر پھوڑوں کے نشان ہونگے ۔ اس وقت مولوی صاحب کی عمر قریباً ساٹھ سال کی تھی ۔ اس لئے ایک تو اس میں مولوی صاحب کی عمر کی پیشگوئی تھی ۔ دوسرے بچے نہیں بچتے تھے اور کمزور ہوتے تھے ۔ اس کے خلاف بتایا گیا کہ وہ زندہ رہیگا اور برخلاف دوسروں کے مضبوط ہوگا چنانچہ وہ بچہ ہوا ۔ اور جس قدر علامات بتائی گئی تھیں ۔ وہ ساری اس میں پائی گئیں ۔ پھر آپ نے زلزلہ کی پیشگوئی کی اور فرمایا کہ میری جماعت کی اس سے ترقی ہوگی ۔ اس زلزلہ سے دھرم سالہ میں تباہی پڑی ۔ وہاں ایک احمدی پر جھوٹا مقدمہ تھا جو حضرت مسیح موعودؑ کو دعا کیلئے لکھا کرتا تھا اور آپ اس کیلئے دُعا فرماتے تھے ۔ جب زلزلہ آیا تو مجسٹریٹ ، وکیل ، مدعی سب دب کر مر گئے مگر احمدی کو کوئی نقصان نہ پہنچا ۔ کیا یہ خدا کا تصرف نہیں تھا اور یہ کہنا کہ فلاں نے بھی چونکہ ترقی کی ہے ۔ اس لئے حضرت مرزا صاحب کی ترقی ان کی صداقت کی علامت نہیں غلطی ہے ۔ کیونکہ اگر کسی اور نے ترقی کی ہے تو اس کا قبل از ترقی دعویٰ نہ تھا کہ مجھے کامیابی حاصل ہو گی اگر وہ کامیاب نہ ہوتا تو اس کی ذات پر کوئی اثر نہ پڑتا ۔ لیکن حضرت مرزا صاحب کا تو قبل از وقت دعویٰ موجود ہے اور اس کے مطابق آپ کو ترقی حاصل ہوئی ہے ۔ حضرت مرزا صاحب کے مقابلہ میں دوسرے لوگوں کی ایسی مثال ہے جیسے چند لڑکے دوڑیں ۔ ان میں سے کسی نے تو آگے نکلنا ہی ہے مگر حضرت مرزا صاحب کی مثال ایسی ہے جیسے دوڑنے والوں میں ایک کہے میں سب سے آگے بڑھ جاؤں گا اور اپنے خلاف حالات ہونے کے باوجود وہ آگے بڑھ جائے اس کی مثال یہ ہے کہ حضرت صاحب کی لاہور کے جلسہ مو تسو میں تقریر پڑھی گئی جس کے متعلق قبل از وقت آپ نے اشتہار کے ذریعہ اعلان کر دیا تھا کہ میرا مضمون سب سے بالا رہیگا چنانچہ جس قدر مضمون اس جلسہ میں پڑھے گئے ان سے بالا رہا ۔ اور مخالفین نے اس بات کا اعتراف کیا۔ کیا یہ کسی کے اختیار میں ہے کہ اس طرح اعلان کر سکے ۔ انسان کیسے تجویز کر سکتا ہے کہ سب مذاہب کے وکیل میرے مقابلہ میں کچھ نہیں کر سکیں گے ۔

(الفضل ۴؍مارچ ۱۹۲۱ء)

موازنہ مذاہب

از

سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

موازنہ مذاہب

(سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی تقریر جو حضور نے ۹؍ مارچ ۱۹۲۱ء کو مالیر کوٹلہ میں فرمائی)

تشہد، سورہ فاتحہ اور سورہ نُوْر کا رکوع پنجم تلاوت کرنے کے بعد فرمایا:۔

مذاہب میں اختلاف

مختلف مذاہب جو دنیا میں پائے جاتے ہیں ان کے دعاوی میں بھی اور اعمال میں بھی بہت فرق نظر آتا ہے۔ بڑے سے بڑا عقیدہ خدا کی ذات ہے لیکن اس عقیدے کے متعلق بھی اختلاف ہے۔ کوئی ایک خدا مانتا ہے کوئی دو کوئی تین۔ کچھ ہیں جو کہتے ہیں کہ ۳۳ کروڑ خدا ہیں، بعض ہر چیز کا جُدا جُدا خدا مانتے ہیں۔ یہ اتنا اہم مسئلہ ہے کہ اس پر تمام مذاہب کی بنیاد ہے۔ لیکن اس میں بھی تمام مذاہب کا اتفاق نہیں۔

صفاتِ الٰہی میں اختلاف

پھر صفاتِ الٰہی ہیں۔ ان میں بھی اختلاف ہے کوئی کہتے ہیں کہ ہر چیز بے محنت ملتی ہے۔ کوئی کہتے ہیں کہ عمل کے بغیر کچھ نہیں کوئی کہتے ہیں کہ گناہوں سے ہی یہ کارخانہ چل رہا ہے۔ کوئی کہتے ہیں کہ کچھ کرو خدا کا تعلق ہی کچھ نہیں کوئی کہتے ہیں کہ خدا ہے مگر گناہ نہیں معاف کر سکتا۔ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ خدا کو جزئیات کا علم نہیں بڑی بڑی باتوں کا علم ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ اپنے ارادے سے کام نہیں کرتا جس طرح

مشین کام کرتی ہے اسی طرح خدا کرتا ہے۔ ایسے بھی انسان ہیں جو کہتے ہیں پیدا کرنے والا خدا نہیں چیزیں خود بخود پیدا ہوتی ہیں۔ کچھ اور ہیں جو کہتے ہیں کہ صحت خدا سے آتی ہے اور بیماری اور سے۔ یہ پارسی لوگ ہیں۔ اسی طرح وہ یہ کہتے ہیں کہ نیکی اور کی طرف سے آتی ہے اور بدی اور کی طرف سے۔

کلام الٰہی کے متعلق اختلاف

غرض صفات یا افعالِ الٰہی میں بھی اختلاف ہے۔ اسی طرح خدا کے کلام میں بھی اختلاف ہے بعض کہتے ہیں خدا کی طرف سے کلام آتا ہے بعض کہتے ہیں کہ جو انسان کے دل میں خیال آتا ہے وہ وحی ہے۔ اسی کے ماتحت رسالت بھی آجاتی ہے۔ رسولوں کے متعلق بھی اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ رسول محض چٹھی رساں ہوتے ہیں۔ ان کو چٹھی کے مضمون سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، بعض کہتے ہیں کہ وہ گنہگار بھی ہوتے ہیں اور ان کی طرف عیب منسوب کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ان کے وجود اور ہمارے وجود میں کوئی فرق نہیں اور بعض کہتے ہیں نعوذ باللہ وہ خدا ہی کا وجود ہو جاتے ہیں اور بشریت کی کمزوریوں سے بھی پاک ہو جاتے ہیں اور خدا کی صفات ان میں آ جاتی ہیں۔ یہی حال کتابوں کے متعلق ہے۔ ان کے منکر بھی ہیں اور قائل بھی۔

فرشتوں کے متعلق اختلاف

پھر فرشتوں کے متعلق اختلاف ہے بعض کہتے ہیں وہ بھی گناہ کرتے اور سزا پاتے ہیں۔ بعض فرشتوں کو شہوانی خیالات میں ملوث کر کے کہتے ہیں کہ اب تک سزا پا رہے ہیں بعض ان کو مجسم قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی اور انسان کی زندگی میں کوئی فرق نہیں۔

بعث بعد الموت میں اختلاف

اسی طرح بعث بعد الموت کا عقیدہ ہے۔ بعض اس کے قائل ہیں بعض اس کے منکر، بعض کہتے ہیں کہ انسان کی روح ہمیشہ مختلف قالب اختیار کر کے اس دنیا میں آتی رہتی ہے بعض کہتے ہیں نہیں وہ پھر یہاں نہیں آتی۔ بعض کلیۃً اس کے منکر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان مر گیا بس مر گیا۔ اس کے بعد کچھ نہیں بعض کو اُٹھنے کی کیفیت میں اختلاف ہے۔ بعض دوزخ و جنت کو مادی مقامات خیال کرتے ہیں بعض رُوحانی۔

غرض مذاہب کی کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں جس میں اختلاف نہ ہو۔ خدا کی ہستی سے لے کر جنت و دوزخ تک میں اختلاف ہے۔

دُنیا کے مذاہب

یہ غلط ہے جیسا کہ ہمارے ملک کے لوگ عموماً کہتے ہیں کہ مذہب صرف دو ہی ہیں ہندو اور اسلام۔ مذاہب کی اس قدر تعداد ہے کہ جن کا شمار نہیں ۔ اگر ان سب کے حالات لکھے جائیں تو بہت بڑا کتب خانہ تیار ہو سکتا ہے۔ چنانچہ یورپ والوں نے مذاہب کا انسائیکلو پیڈیا لکھنا شروع کیا ہے جو اب تک اگرچہ مکمل نہیں ہوا مگر جتنی اس کی جلدیں نکل چکی ہیں۔ ان میں ہزاروں مذاہب کے نام اور حالات درج ہو چکے ہیں اور ایک شخص ان حالات کو پڑھ کر حیران ہو جاتا ہے کہ کس کو مانے اور کس کو چھوڑے ۔

اختلاف کی ابتداء

مگر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اختلاف اصل میں پیدائش سے شروع ہوتے ہیں جس گھر میں انسان پیدا ہوتا ہے ان گھر والوں کے خیالات جس قسم کے ہوتے ہیں انہی خیالات میں وہ پرورش پاتا ہے اور وہی اس کے خیالات ہو جاتے ہیں۔ ایک شخص مسلمان کے گھر میں پیدا ہوتا ہے۔ وہ قرآن کریم کو سمجھنا تو کیا ایک لفظ بھی نہیں پڑھ سکتا۔ کلمہ شہادت تک سے ناواقف ہوتا ہے اور ساری عمر میں ایک آدھ دفعہ بھی کلمہ شہادت نہیں پڑھتا مگر مسلمان کہلاتا ہے اور اسلام کے نام پر دوسروں سے لڑنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص ہندو کے گھر میں پیدا ہوتا ہے۔ اگر مسلمان مولوی اور ہندو پنڈت میں بحث ہو تو مسلمان کو جھوٹا اور پنڈت کو سچا بتائے گا اور پنڈت کے کہنے سے ہندو مذہب کے نام پر دوسرے کی جان کا دشمن ہو جائیگا اور کہے گا کہ یہ مسلمان ہندو مذہب کی ہتک کرتا ہے اور یہی حال مسلمان کا ہوگا۔ اگرچہ یہ دونوں ہی مذہبی کتب کے شائع شدہ ترجمہ سے بھی ناواقف ہونگے اور اس طرح اپنے عمل سے اپنے مذہب کی ہتک کر رہے ہونگے ۔

اگر ان سے پوچھا جائے کہ تم ہندو یا مسلمان کیوں ہو تو وہ اس کا جواب نہیں دے سکیں گے ہاں یہ کہدینگے کہ چونکہ فلاں بات ہمارے مذہب کی کتاب میں ہے اس لئے ہم مانتے ہیں یا مولوی صاحب یا پنڈت صاحب نے ہمیں یوں بتائی ہے اس لئے ہم مانیں گے۔

یہی حال ایک عیسائی کا ہوگا۔ وہ عیسائیت کے لئے تلوار تک اُٹھالے گا مگر اس کا جواب دینے سے انکار کریگا کہ وہ کیوں عیسائی ہوا۔ ہاں یہ کہدے گا کہ میرے ماں باپ عیسائی ہیں ان سے میں نے سُنا ہے کہ عیسائی مذہب سچا ہے اور ہم اس کے پیرو ہیں۔ اس لئے میں بھی عیسائی ہوں۔ یہ جہالت اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔

ایک بوڑھے حاجی کی اپنے مذہب سے بے خبری

۱۹۱۳ء میں جب میں حج کے لئے گیا تو ایک ہندوستانی بوڑھا ضعیف عبدالوہاب نام بھی ہمارا ہمسفر تھا۔ حج کے بعد ہیضہ کی وباء پھوٹ پڑی اور چونکہ مدینہ شریف کے حالات اطمینان بخش نہ تھے اور میری صحت بھی اچھی نہ تھی اس لئے میں نے ارادہ کیا کہ امسال مدینہ شریف کی زیارت کو ملتوی کر دیا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اگر موقع دیا تو کرینگے۔ وہ بوڑھا عبدالوہاب بہت معمر اور نہایت کمزور تھا اور اس کے پاس زادِ راہ بھی نہ تھا میں نے اس کو کہا کہ تم بھی لوٹ چلو اس نے کہا کہ میں مدینہ ضرور جاؤں گا۔ کیونکہ میرے بیٹوں نے کہا تھا کہ وہاں ضرور جانا۔ میں نے اس کو بتایا کہ جس حال میں تم ہو اس میں تم پر مدینہ شریف جانا شریعت کی رُو سے ضروری نہیں مگر وہ جانے کیلئے بہت مصر ہُوا اور چلا گیا۔ غالباً اسی سفر میں فوت ہو گیا ہوگا۔ میں نے اس سے پوچھا میاں عبدالوہاب تمہارا مذہب کیا ہے کہنے لگا پھر بتاؤں گا۔ میں نے کہا یہ سوال تو ایسا نہیں جو تم پھر بتانے کے لئے رکھ چھوڑو ابھی بتا دو۔ اس نے کہا سوچ کر بتاؤں گا میں اور حیران ہُوا۔ پھر پوچھا تو اس نے کہا کہ وطن سے لکھ کر بھیج دوں گا۔ آخر میرے اصرار پر کہنے لگا کہ اچھا سوچ کر بتاتا ہوں۔ میرا مذہب علیہ ہے میں حیران ہوا کہ یہ کونسا مذہب ہے۔ میں نے پوچھا یہ کونسا مذہب ہے۔ کہنے لگا سوچنے تو دو۔ دو تین دفعہ کی اُلٹ پھیر کے بعد اس نے کہا۔ اعظم رحمتہ اللہ علیہ میرا مذہب ہے۔ جس سے اس کا مطلب تو معلوم ہو گیا کہ وہ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کی طرف اشارہ کرتا ہے مگر اس کی تمام حیرانی سے یہ معلوم ہو گیا کہ اس نے یہ بھی کہیں بچپن میں ہی سُنا ہو گا۔ یہ تو اس کی حالت تھی۔

مذہب سے بے خبری

اسی طرح میں نے ایک اور تاجر کو اس وقت جبکہ حاجی لبیک لبیک کے نعرے لگا رہے تھے دیکھا کہ وہ گندے عشقیہ شعر پڑھ رہا تھا۔ میں نے بعد میں اس سے حج کی غرض پوچھی تو اُس نے بتایا کہ ہمارے ملک میں لوگ حاجی کا زیادہ اعتبار کرتے ہیں۔ اب میں یہاں سے جاکر اپنی دکان پر بورڈ لگواؤں گا کہ حاجی فلاں۔ اس سے میری تجارت چمک جائیگی۔ یہ مسلمانوں ہی کی حالت نہیں بلکہ میں نے ہندوؤں، عیسائیوں، سکھوں کو اکثر ٹٹولا ہے تو معلوم ہُوا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جس مذہب کی طرف منسوب کرتے ہیں اس سے قطعاً ناواقف ہیں۔ وہ دلائل سے کسی مذہب کے پابند نہیں۔ بلکہ آبائی طور پر پابند ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچہ فطرتاً اسلام پر پیدا ہوتا ہے، مگر ماں باپ اس کو یہودی یا مجوسی یا عیسائی بنا دیتے ہیں میں نے سینکڑوں نہیں ہزاروں مسلمانوں کو دیکھا ہے کہ وہ کلمہ شہادت صحیح نہیں پڑھ سکتے لیکن مذہب کے لئے لڑنے مرنے کے لئے تیار ہیں۔ اگر ہم آہنگر یا زمیندار یا سنار سے اس کے کام کے متعلق گفتگو کریں ۔ تو وہ اپنے اپنے کام کی تشریح کر کے بتائیں گے ۔ مگر ایک ہندو ایک عیسائی ایک مسلمان اپنے مذہب کی حقیقت نہیں بتا سکتا۔ کیوں؟

مذہب سے اتنی بے خبری کیوں؟

اصل بات یہ ہے کہ لوگ مذہب کو مانتے ہیں سماعی طور پر اور اس میں ان کو ظاہری فائدہ کوئی نظر نہیں آتا اس لئے وہ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ اگر وہ غور کریں اور ان لوگوں کی طرف توجہ کریں جو مذہب کا کچھ فائدہ بتاتے ہیں تو ان کو حقیقت معلوم ہو۔ مگر وہ جن کے پاس جاتے ہیں وہ ان کو بتاتے ہیں کہ اگلے جہاں میں اس مذہب کے بدلے میں یہ ثواب ملے گا وہ ملے گا اس زندگی میں مذہب کا کوئی نتیجہ نہیں۔ حالانکہ لوگوں کی نظروں میں اگلا زمانہ خود مشتبہ ہے جب اگلے جہاں پر لوگوں کو یقین نہیں معلوم ہوتا تو پھر کیسے اگلے جہاں میں کچھ ملنے کے خیال پر کوئی شخص کسی مذہب کے لئے غور و فکر اور محنت اور توجہ سے کام لے سکتا ہے پس کسی مذہب کو ماں باپ سے سُنکر ماننا کچھ انعام کا موجب نہیں جب تک انسان خود غور و فکر سے کام نہ لے۔ اگر لوگ ماں باپ سے سُنے ہوئے پر کفایت نہ کریں بلکہ مسلمان سوچیں کہ وہ کیوں مسلمان ہیں۔ ہندو غور کریں کہ وہ کیوں ہندو ہیں ۔ عیسائی فکر سے کام لیں کہ وہ کیوں عیسائی ہیں تو فتنے بہت کم ہو جائیں۔ اختلاف مٹ جائیں اور حقیقت ان کے قریب ہو جائے جب لوگ اس طرح غور کریں گے تو ان کا جو جواب ہو گا وہ قابلِ توجہ ہوگا۔ اب تو لوگ ڈرتے ہیں۔ اس لئے کہ اگر ایک مسلمان انگریزی پڑھا ہوا آزاد خیال یہ سوال محلہ کی مسجد کے مولوی صاحب کے پاس لے جائے تو وہ بجائے اس کو معقولیت سے سمجھانے کے پہلے اس کو کافر اور مُرتد قرار دیدے گا اور کھانے کو دوڑے گا۔ اس صورت میں بھلا کوئی شخص کس طرح مذہب کی حقیقت کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے اور یہی حال دیگر مذاہب کے لوگوں اور ان کے پنڈتوں اور پادریوں کا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس بات کی آزمائش کیلئے کہ لوگ اپنے اپنے مذہب سے ناواقف ہیں۔ اسی شہر کے لوگوں سے پوچھا جائے کہ وہ اپنے اپنے مذہب کے کیوں پابند ہیں تو سو فیصدی ایسے نکلیں گے جو سوائے اس کے کچھ نہیں جواب دینگے کہ ہمارے ماں باپ نے ہمیں بتایا ہے یا ہمارے مولوی، پنڈت یا مہنت یہ کہتے ہیں یا ہماری مذہبی کتابوں میں یوں لکھا ہے اور وہ خیال کرینگے کہ یہ ہمارا جواب درست ہے۔ حالانکہ یہ جواب غلط اور ناقابلِ التفات ہوگا۔

مذہب ایک ایسی چیز ہے کہ اس پر سب سے پہلے توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر خدا ہے تو اس کی تحقیق سب سے پہلے کرنی چاہئے اور اگر نہیں تو ہندو مسلمان یا سکھ عیسائی موسائی وغیرہ کے جھگڑے فضول ہیں۔

مذہب کی ضرورت کیا ہے؟

پس اگر کوئی سوال سب سے پہلے حل کرنے کے قابل ہے تو یہ کہ مذہب کی ضرورت کیا ہے اور ہم کسی مذہب کو کیوں مانیں۔ اس کے متعلق میں سب سے پہلے ہر ایک مذہب کے شخص کو یہی نصیحت کروں گا وہ غور کرے کہ وہ جس مذہب کا پابند ہے کیوں وہ اس کو مانتا اور دوسرے مذاہب کی تکذیب کرتا ہے؟ ہر ایک مذہب کے آدمیوں کو چاہئے کہ وہ غور کریں اور غور کرنے کے بعد جس مذہب کو سچا پائیں اس کو قبول کریں۔ اور جس کو سچا نہ پائیں خواہ وہ پہلے اسی کی طرف منسوب ہوں اس کو رد کر دیں۔

میں نے چونکہ اس مسئلہ پر خود غور کیا اور اسلام میں بمقابلہ دیگر مذاہب کے خوبیاں پائیں اور میں نے معلوم کیا کہ مذہب کی غرض کو یہی مذہب پورا کرتا ہے اس لئے میں نے اس کو قبول کیا اس لئے میں اس کی طرف سے کھڑا ہوا ہوں۔ میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہمارے نزدیک ہر مذہب کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنا دعویٰ اور دلائل خود پیش کرے۔ یہ نہیں کہ دعویٰ وہ کرے اور دلیلیں کہیں اور سے اس کے لئے لائی جائیں۔

خدا اپنی ذات اور اپنے رَسُولوں کو خود منواتا ہے

اگر خدا ہے تو اس پر حق ہے کہ وہ اپنی صفات آپ ظاہر فرمائے اور ہم سے اپنی ذات منوائے اسی طرح اگر وہ کہتا ہے کہ فلاں شخص اُس کا رسول ہے تو وہ دلائل اس کو دے جس کے ذریعہ سے ہم اُس کو مانیں اور اسی طرح دیگر مسائل کے لئے ہے کہ وہ خود بتائے۔

اسلام کا دعویٰ

پس اس عقیدے کے مطابق میں اسلام کی صداقت کے دلائل قرآن کریم کے ہی بتائے ہوئے بیان کروں گا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسلام خدا کی طرف سے ہے اور اس لئے اس کی صداقت کے دلائل خود پیش کرتا ہے۔ چنانچہ یہ رکوع جو میں نے پڑھا ہے اس میں اللہ فرماتا ہے۔ اَللّٰہُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ(النور: ۳۶) کہ اللہ آسمان و زمین کا نُور ہے۔ اس کے نُور کی مثال ایسی ہے کہ جیسا کہ ایک طاق ہو۔ اور اس کے پیچھے کوئی سوراخ نہ ہو۔ اس کے اندر چراغ ہو۔ ایسے طاق کے چراغ کی روشنی ایک طرف پڑتی ہو۔ اس سے روشنی محفوظ ہو کر جدھر پڑتی ہے بہت زیادہ پڑتی ہے اور چراغ ایک گلوب سے ڈھکا ہوا ہے اور گلوب بھی نہایت صاف اور مجلّٰی ہے جس سے روشنی اور بڑھ جاتی ہے اور اس کی روشنی تار کی مانند صاف ہے اور چراغ میں جو روغن ڈالا گیا ہے وہ مبارک درخت سے نکالا ہوا ہے! ایسا درخت نہ شرقی ہے نہ غربی۔ یعنی وہ ایسا درخت ہے جس پر ہر طرف سے دھوپ پڑتی ہے۔ ایسے درخت کی نشوو نما خوب ہوتی ہے اور وہ تیل بھی اپنی صفائی میں ایسا بڑھا ہوا ہے کہ خود بخود اس کو آگ لگ جائے جیسا کہ پٹرولیم ہوتا ہے۔

ایسا چراغ جس میں اتنی صفات ہوں اس کی روشنی کا کیا کہنا۔ اس لئے فرمایا کہ نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ۔ وہ نور ہے اور پھر اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اور نُور نازل ہوتا ہے اور پھر جس کو چاہتا ہے اللہ ہدایت دیتا ہے۔

اللہ نے لوگوں کے لئے اسلام کا دعویٰ پیش فرمایا ہے کہ اسلام خدا کا نُور ہے اور سچا مذہب ہے اور اس کی روشنی تمام مذاہب کی روشنیوں سے اعلیٰ ہے اور اس کی تعلیمات سب سے اکمل اور اتم ہیں۔

صداقت اسلام کی دلیل

مگر یہ سارا بیان ایک دعویٰ کی صورت میں ہے۔ اس لئے آگے اس کی دلیل دیتا ہے فِیۡ بُیُوۡتٍ اَذِنَ اللّٰہُ اَنۡ تُرۡفَعَ وَیُذۡکَرَ فِیۡہَا اسۡمُہٗ ۙ یُسَبِّحُ لَہٗ فِیۡہَا بِالۡغُدُوِّ وَالۡاٰصَالِ(24:37) کہ یہ نُور ایسے گھروں میں ہے جو آج کسمپرسی اور غریب اور ادنیٰ درجہ کے ہیں۔ مگر خدا نے ان کے متعلق فیصلہ کر دیا ہے کہ انکو اٹھایا جائیگا اور ان کو بلند کیا جائیگا۔ اللہ کا ان مکانوں کو بلند کرنا اور عزت دینا ثبوت ہوگا اس امر کا کہ یہ مذہب اسلام خدا کی طرف سے ہے۔

اسلام کی صداقت کے لئے یہ دلیل ہے کہ اس کے ماننے والے دُنیا میں معزز و مکرم ہونگے اور ان کو ایک روشنی دی جائے گی جس کے مقابلہ میں دُنیا میں تاریکی ہوگی۔ اسلام کے گھر بلند کئے جائینگے اور مخالفوں کے گھر انکے مقابلہ میں نیچے کئے جائینگے اور یہ اسلام کی صداقت کی دلیل ہزار ہا ثبوتوں میں سے ایک ہے۔

آنحضرتؐ کی حالت دعویٰ سے پہلے

اب ہم دعویٰ اور دلیل کیلئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی طرف دیکھتے ہیں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اس وقت آپ کی دنیاوی حیثیت کوئی بڑی نہ تھی۔ ابھی آپ شکمِ مادر ہی میں تھے کہ آپ کے والد فوت ہو گئے تھے اور بہت چھوٹی عمر تھی کہ ماں فوت ہوگئی۔ آپ کو کوئی بڑا ترکہ بھی نہیں ملا تھا اس کے بارے میں متفرق روایتیں ہیں۔ زیادہ سے زیادہ جو کچھ آپ کو ملا وہ ایک اونٹ اور پانچ بکریاں تھیں۔ آپ کی کوئی ذاتی تجارت نہیں تھی۔ بلکہ بڑی عمر ہوئی تو حضرت خدیجہؓ کی تجارت کرنے لگے اور نفع ان کو دیتے تھے اور وہ کچھ معاوضہ آپ کو دیدیتی تھیں۔ عرب میں کوئی حکومت نہ تھی۔ مگر مکہ والوں نے جو ”دارالندوہ“ قائم کر رکھا تھا، اس کے بھی آپ ممبر نہ تھے۔ دنیاوی علوم آپ نے حاصل نہ کئے تھے۔ آپ کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا تھا اس تمام ضعف اور کمزوری پر طرہ یہ کہ جب آپؐ نے دعویٰ کیا تو تمام عرب مخالف ہو گیا۔ آپ وہ بات کہتے تھے جو جمہورِ عرب کے خلاف تھی اور عرب اس کو ماننے میں اپنی ہلاکت دیکھتے تھے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسٹر گاندھی

دنیا میں بڑے بڑے فاتح ہوئے ہیں اور لوگ بھی ہوئے ہیں جن کے ساتھ لوگ چل پڑے۔ مثلاً آج ہمارے ہندوستان میں مسٹر گاندھی ہی ہیں ان کی جے کے نعرے بھی آج ہندوستان میں لگائے جاتے ہیں ممکن ہے کوئی کہہ دے کہ آنحضرت کے ساتھ اگر دُنیا ہوگئی تو کیا ہوا۔ مسٹر گاندھی کے ساتھ بھی تو لوگ ہو ہی گئے ہیں۔ اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسٹر گاندھی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ کیونکہ آنحضرت عرب سے وہ بات منوا رہے تھے جو عرب ماننے کے لئے تیار نہ تھا۔ مگر مسٹر گاندھی وہ بات کہتے ہیں جس کا مطالبہ خود ہندوستان کر رہا ہے۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ کسی زمیندار کے پیٹ میں درد ہونے لگا۔ کسی نے کچھ علاج بتلایا کسی نے کچھ۔ ایک شخص نے جو زمینداری کا ایک اوزار لئے کھڑا تھا کہا کہ اس کو گڑ گھول کر پلا دو۔ مریض نے جب یہ بات سُنی تو کہا کہ ہائے اس کی بات کوئی نہیں سُنتا۔ تو وہ بات جو مسٹر گاندھی کہہ رہے ہیں لوگوں کے مطلب کی اور ان کی منشاء کے مطابق ہے اس لئے اس کو ماننے کے لئے تیار ہیں۔ ایک اور مثال ہے جو اگرچہ فرضی ہے مگر حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک بزرگ نے لکھا ہے ایک اونٹ کہیں جا رہا تھا۔ آگے سے چوہا ملا اس نے اونٹ کی مہار پکڑ لی اور جدھر اونٹ جا رہا تھا ادھر ہی چل پڑا ۔ تھوڑی دور جا کر چوہے نے خیال کیا کہ میں ہی اس کو چلا رہا ہوں۔ آخر ایک دریا پر پہنچے اور وہاں اونٹ رک گیا۔ چوہے نے کہا چل اس نے کہا نہیں چلتا۔ جب تک میرا دل چاہا چلا۔ اب دل نہیں چاہتا میں نہیں چلوں گا۔ تو چونکہ ان لیڈروں کی زبان سے وہی نکل رہا ہے ۔ جو لوگ چاہتے ہیں اس لئے اگر لوگ ان کے پیچھے چل رہے ہیں تو یہ کوئی بڑی بات نہیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کے چڑھاووں کی حفاظت کی فکر نہیں کی۔ ان کے بُتوں کی حفاظت نہیں کی جن پر چڑھاوے چڑھتے تھے اور جن سے ان کی گزر اوقات ہوتی تھی۔ بلکہ آپ نے ان کے اس چڑھاووں کے رزق کو بند کر دیا اور کہدیا کہ ان خداؤں کو چھوڑو اور ایک خدا کو مانو۔ پس مسٹر گاندھی وغیرہ لیڈروں کی مثال تو ایسی ہے کہ جیسے کوئی گاڑی یا موٹر جدھر جا رہی ہو وہ چلتی جائے اور ایک شخص پیچھے ہاتھ رکھ دے اور کہے کہ میں اس کو چلا رہا ہوں۔ لیکن آنحضرتؐ نے جدھر گاڑی چل رہی تھی ادھر سے اس کا رُخ پلٹ کر دوسری طرف کو پھیر دیا۔ زرتشتی دو خداؤں کے قائل تھے۔ آپ نے ان سے یہ عقیدہ چھڑوایا۔ عیسائی حضرت مسیح ناصری کو اپنے گناہوں کا کفارہ بنا کر اپنی نجات ان کی صلیبی موت میں جانتے تھے اور اسی پر بھروسہ کئے بیٹھے تھے ۔ آپ نے اس کے خلاف آواز بلند کی جو ان کے وہمی باغات کو جلا کر خاکستر کر گئی۔

قوم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سلوک کیا

آپؐ کی قوم آپ کی بات ماننے کے لئے تیار نہ تھی بلکہ آپ کے خلاف کھڑی ہو گئی۔ اور تیرہ سال تک آپ کو بیشمار تکالیف دیتی رہی۔ پھر وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ہوتے ان پر نئے سے نئے مظالم توڑے گئے۔ اور عورتوں کو اونٹوں سے باندھ کر چیرا گیا۔ گرم ریت پر لٹائے گئے اور ان کو مارا گیا اور اتنا مارا گیا کہ وہ بے ہوش ہو گئے۔ اور جب ان کو ہوش آتی، بُتوں کو ان کے سامنے پیش کیا جاتا مگر پھر بھی جب وہ خدا کا ہی نام لیتے تو ان کو اور عذاب دیتے۔ اس فتنہ کا حال حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو ذر غفاریؓ نے جب سُنا کہ مکہ میں ایک شخص نے خُدا کا رَسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو انہوں نے اپنے بھائی کو بھیجا۔ لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک اس کو پہنچنے نہ دیا اور واپس چلا گیا ۔ پھر وہ خود آئے مگر کسی سے پوچھتے بھی نہ تھے کہ کوئی دھوکا نہ دیدے۔ حضرت علیؓ سے ملاقات ہوئی، بڑی ردوکد کے بعد انہوں نے اپنا مقصد ظاہر کیا کہ میں آنحضرتؐ کو دیکھنے آیا ہوں۔ حضرت علیؓ نے ان کو کہا کہ میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ۔ جب کوئی غیر شخص نظر آئیگا تو میں جھٹ ایک طرف ہو کر بیٹھ جایا کرونگا۔ اور تم آگے نکل جایا کرو۔ اسی طرح حضرت ابو ذرؓ حضرت علیؓ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پہنچے اور ایمان لے آئے۔ مگر ان پر یہ اثر ہوا کہ ایمان لا کر خاموش نہ رہ سکے۔ مکان سے نکلتے ہوئے کلمہ شہادت زور سے پڑھا۔ اس پر مشرکین جمع ہو گئے اور آپ کو مارنے لگے اور آپ بیہوش ہو گئے بعض لوگوں نے آپ کو چھڑا دیا اور اسی طرح ہوش آنے پر آپ نے پھر ایسا ہی کیا۔ لوگ پھر مارنے لگے۔ (بخاری باب بنیان الکعبۃ باب اسلام ابی ذرؓ) ایسی ایسی مصیبتیں تھیں جو آنحضرتؐ اور صحابہؓ کو پہنچائی گئیں۔ ان حالات میں آپ کے اصحاب کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنی پڑی اور کفار نے ان کا وہاں تک تعاقب کیا۔ مگر وہاں کے

دربار میں جب مسلمان پیش ہوئے اور انہوں نے صفائی سے اپنے عقائد بتائے تو کفار کو مجبوراً واپس آنا پڑا۔ لیکن ابھی مصائب کا خاتمہ نہیں ہو گیا۔ آپ کو پھر تکالیف پہنچائی گئیں۔ اور آپ نے حضرت ابوبکرؓ کو ساتھ لے کر مکہ سے ہجرت کی۔ پھر کفار نے پیچھا کیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت کی۔

اس حالت میں کون کہہ سکتا تھا کہ جس کے چند ساتھیوں کی جمعیت بھی منتشر ہو گئی اور جس کو وطن سے بے وطن ہونا پڑا۔ وہ کبھی غالب ہو گا۔ جب آپ مدینہ میں پہنچے تو ان لوگوں نے وہاں بھی آرام نہ لینے دیا۔ بار بار چڑھ کر گئے۔ چنانچہ ایک دفعہ جنگ احزاب میں دس ہزار کی جمعیت لیکر مدینہ پر چڑھ آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کے اردگرد خندق کھودنا پڑی۔ صحابہ کے ساتھ آپ بھی خندق کی کھدائی کے کام میں شریک تھے۔ احادیث و تاریخ سے ثابت ہے کہ جب آپ نے کدال چلائی اور ایک پتھر پر لوہا پڑا اور اس میں سے شعلہ نکلا تو آپ نے بلند آواز سے کہا اللہ اکبر! صحابہؓ نے بھی اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ دوسری دفعہ آپ نے کدال ماری اور پھر شعلہ نکلا۔ پھر آپ نے بلند آواز سے کہا اللہ اکبر اور صحابہؓ نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا۔ تیسری دفعہ پھر آپ نے کدال چلائی اور شعلہ نکلا۔ آپ نے زور سے اللہ اکبر کہا اور صحابہؓ نے بھی کہا۔ پھر آپ نے صحابہ سے پوچھا کہ تم نے کیوں اللہ اکبر کہا۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ چونکہ حضور نے اللہ اکبر کہا تھا اس لئے ہم نے بھی کہا ورنہ ہم نہیں جانتے کہ کیا بات ہے ، اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا جب میں نے پہلی دفعہ کدال ماری اور شعلہ نکلا تو مجھے دکھایا گیا کہ مجھے قیصر کے ملک پر فتح حاصل ہوئی اور دوسری دفعہ معلوم ہوا کہ کسریٰ کے ملک پر اور تیسری دفعہ حیرہ کے بادشاہوں کی حکومت زیروز بر ہوتی دکھائی گئی۔ جب آپ نے یہ فرمایا تو منافقین اور مخالفین نے ہنسنا شروع کر دیا کہ یہ عجیب لوگ ہیں کہ پاخانہ پھرنے کی تو ان کو اجازت نہیں اور کہا یہ جا رہا ہے کہ قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں ہمیں ملیں گی اور ہم ان پر قابض ہونگے لیکن ان کی ہنسی جھوٹی ثابت ہوئی اور خدا کی بات پوری ہوئی اور اس سے ثابت ہو گیا کہ اسلام سچا ہے اور اس کی یہ دلیل ہے کہ یہ جن گھروں میں ہے وہ بلند کئے جائیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

خدا تعالیٰ نے سورہ احزاب میں مسلمانوں کی حالت کا نقشہ یہ کھینچا ہے کہ زمین باوجود فراخی کے ان کے لئے تنگ ہو گئی تھی اور دُنیا نے فیصلہ کر لیا تھا کہ مسلمان اب پس جائیں گے۔ اس وقت خدا ان کو بشارت دیتا ہے کہ تم مخالفین کو پیس دو گے اور دنیا کی حکومت تمہاری ہی ہوگی۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ صدیق کے عہد مبارک میں شام فتح ہوا۔ یہ ترقی اور یہ شان اور ادنیٰ حالت سے بلندی پر قدم کا

پہنچنا ثبوت ہے اس بات کا کہ اسلام سچا ہے۔ کیونکہ خدا نے بتایا تھا کہ ایسا ہو گا اور ایسا ہی ہوا اور دشمن سے دشمن کو اقرار کرنا پڑا کہ ہاں اسلام نے ترقی کی۔ اور اس کی ترقی کی اس وقت پیشگوئی کی گئی تھی جبکہ مسلمانوں کو اپنے گھر میں بھی کوئی آرام سے نہیں بیٹھنے دیتا تھا۔ مگر پھر حکومت آئی اور غریبوں اور فقیروں کو خدا تعالیٰ نے حکومتیں دیں۔

حضرت ابوہریرہؓ کا واقعہ

چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ کا واقعہ ہے کہ جب وہ ایک علاقہ کے گورنر بنائے گئے۔ اور ان کے پاس کسریٰ کا ایک رومال تھا جب کھانسی آئی تو انہوں نے اس رومال سے منہ صاف کیا اور کہا بَخٍ بَخٍ اَبُو هُرَيْرَةَ۔ اس کے معنے ہیں واہ واہ ابو ہریرہ ۔ آج تو کسریٰ کے رومال میں تھوکتا ہے مگر ایک وقت تو تیری یہ حالت تھی کہ تجھ پر دنوں فاقے گذرتے تھے اور تو حضرت ابوبکرؓ کے پاس جاتا تھا کہ وہ بڑے صدقہ کرنے والے تھے اور ان سے آیت صدقہ کے معنے پوچھتا تھا اور وہ بتاتے تھے۔ حالانکہ معنے تجھ کو بھی آتے تھے پھر حضرت عمرؓ کے پاس جاتا۔ اور وہ بھی کچھ نہ کھلاتے۔ آخر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا اور آپ چہرہ سے ہی پہچان جاتے اور پوچھتے ابوہریرہ بھوک لگی ہے اور پھر آپ دودھ کا پیالہ منگواتے اور مجھ سے پہلے اور لوگوں کو پینے کو دیتے اور میں خیال کرتا کہ مستحق زیادہ میں تھا۔ آخر مجھ کو ملتا اور میں سیر ہوتا (بخاری کتاب الرقاق باب کیف کان عیش النبی و اصحابه و تخلیهم من الدنيا) اسی طرح کئی فاقے گذر جاتے اور لوگ مجھے مرگی زدہ خیال کر کے مارتے لیکن آج یہ حال ہے کہ گردن کش بادشاہوں کے خاص درباری رومالوں میں تو تھوکتا ہے۔ یہ کامیابی یہ عروج یہ رفعت کوئی معمولی نہیں ہے۔

فرانس کا ایک مصنف لکھتا ہے کہ میں حیران رہ جاتا ہوں جب میں یہ سوچتا ہوں کہ کھجور کے ایک ادنیٰ درجہ کے چھپر کے نیچے چند آدمی بیٹھے ہیں۔ جن کے جسم پر پورا کپڑا نہیں اور پیٹ بھی سیر نہیں۔ وہ باتیں یہ کرتے ہیں کہ قیصر و کسریٰ کی سلطنتوں کو فتح کر لیں گے اور وہ کر کے بھی دکھا دیتے ہیں۔

پس یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو مذہب لائے وہ حق ہے کیونکہ اس کے لئے جو نشان رکھا گیا تھا وہ پورا ہو گیا۔

مخالفوں کا اس دلیل پر ایک اعتراض

یہ اسلام کی صداقت کا ثبوت ہے۔ لیکن اگر دشمن آج اس کو جھٹلا دے اور کہدے کہ یہ مسلمانوں نے بعد میں قرآن کریم میں آیتیں ملا دی ہیں جیسا کہ مخالفوں نے کہا بھی ہے اس لئے یہ اسلام کی صداقت کی دلیل نہیں ہے کیونکہ اگر یہ دلیل ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ آج جبکہ مسلمانوں کی تعداد بے شمار ہے، وہ دن بدن شکست کھا رہے ہیں؟ اس کا کیا جواب دیا جائیگا۔ مخالف کہہ سکتا ہے کہ ہم مانتے ہیں کہ مسلمانوں کو ترقی ملی اور یہ بھی مانتے ہیں کہ اسلام نے یورپ میں برطانیہ کے کناروں تک اپنا اثر پہنچایا۔ چنانچہ بعض آثار معلوم ہوئے ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ برطانیہ کے ساحل تک اسلام پہنچ گیا تھا۔ اور ادھر چین تک اس کا اثر تھا۔ غرض جتنی دُنیا اس وقت مہذب کہلا سکتی تھی اور معلوم تھی، اس تمام پر اسلام کا اثر تھا۔ مگر یہ اسلام کی ترقی اسلام کی صداقت کی دلیل نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ مسلمانوں نے جب ترقی پائی تب اس کو پیشگوئی بنا لیا۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ اب مسلمان اس وقت سے بہت زیادہ ہوتے ہوئے ذلیل سے ذلیل تر ہوئے جا رہے ہیں۔ آپ صاحبان غور کریں اس کا کیا ہم جواب دے سکتے ہیں۔

دیکھو ایک وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردم شماری کرائی۔ تو مسلمانوں کی تعداد سات سو معلوم ہوئی۔ اس وقت مسلمانوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ کو یہ خیال ہے کہ ہم ہلاک ہو جائیں گے اور دُنیا ہمیں پامال کر دیگی حالانکہ اب تو ہم سات سو ہیں۔ یا تو یہ حال تھا یا اب یہ حال ہے کہ مسلمانوں کی تعداد کروڑ ہا ہے مگر وہ ہر طرف شکست پر شکست اور ذلت پر ذلت اُٹھا رہے ہیں اور ان کے دل اس طرح کانپ رہے ہیں جس طرح پتہ ہوا میں اُڑتا ہے۔

اس اعتراض کا جواب

مخالفوں کے اس اعتراض کے دو جواب ہو سکتے ہیں۔ یا تو ان کے اعتراض کو دُرست مان لیا جائے اور کہہ دیا جائے کہ نعوذ باللہ یہ قرآن کا دعویٰ باطل ہے اور یہ مسلمانوں نے واقع میں بعد میں ملالیا۔ یا مسلمانوں کو یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ مسلمان جھوٹے ہیں۔ گویا یا تو مسلمان خدا تعالیٰ کو نعوذ باللہ جھوٹا بنائیں یا خود جھوٹے بنیں۔ ان دو صورتوں میں سے تیسری کوئی صورت نہیں۔ مگر ہم خدا تعالیٰ کو جھوٹا بنانے کی بجائے مان لیں گے کہ مسلمان ہی مسلمان نہیں رہے۔ اگر مسلمانوں کی حالت ٹھیک ہوتی تو وہ بلند کئے جاتے اور عزت کے مقام ان کو مرحمت ہوتے۔ مگر اب مسلمانوں کو جس حالت میں دیکھتے ہیں دُنیا سے کمتر دیکھتے ہیں۔ دولت اور زمینداری ان کے پاس نہیں۔ اتفاق و اتحاد ان کے پاس نہیں۔ انتظام ان میں نہیں۔ تعلیم اور تعلیم ان میں نہیں ظاہری تعلیم کے لئے جس قدر اچھے کالج ہندوستان میں ہیں وہ سب ہندوؤں اور سکھوں کے ہیں اور مسلمانوں کے کالج بدترین حالت میں ہیں۔ دیگر معاملات میں بھی ان کی حالت بہت خراب ہے۔ پھر یہ کیا وجہ ہے۔ کیا اسلام خدا کا سچا مذہب نہیں۔ یا کیا خدا بدل گیا اور پہلے خدا کی بجائے کوئی اور خدا آگیا یا اس کی طاقت میں کمی آگئی ہے۔ نعوذ باللہ یا وہ اپنے وعدے بھول گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام بھی سچا ہے، خدا تعالیٰ بھی وہی ہے، اس کے وعدے بھی سچے ہیں، اس کی طاقت میں بھی کوئی کمی نہیں آئی، وہ اپنے وعدوں کو بھی نہیں بھولا بلکہ مسلمانوں نے اسلام کو چھوڑ دیا اور ان عقائد سے پھر گئے اور رسمی اسلام کے پرستار ہو گئے۔ پس جب انھوں نے حقیقی اسلام کو چھوڑ دیا تو خدا نے بھی ان کو چھوڑ دیا۔ ابھی چند سال گزرے ہیں کہ عوام میں مشہور تھا کہ قسطنطنیہ کے بادشاہ کے ساتھ یورپ کے بادشاہوں کے سفیر رکاب تھام کر چلتے ہیں لیکن آج قسطنطنیہ کی زندگی اور موت یورپ کے لوگوں کے قبضہ میں ہے۔ مسلمانوں کی حالت بگڑ گئی۔ جیل خانے ان سے بھر گئے۔ فواحش کی ان میں گرم بازاری ہو گئی۔

مسلمان اہل نہ رہے کہ خدا کے وعدے ان سے پورے کئے جائیں

پس ان حالات کی وجہ سے مسلمان خدا کے اس وعدے کے اہل نہ رہے کہ ان کو بلند کیا جائے۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ ان کے گھروں میں تسبیح و تمحید صبح و شام ہو گی اور ذکر اللہ سے ان کی زبانیں تر اور سینے پُر ہونگے ۔ مگر آج کتنے مسلمان ہیں جو نماز پڑھتے ہیں اور کتنے ہیں جو سمجھ کر پڑھتے ہیں اور کتنے ہیں جو اس مقصد سے واقف ہیں جو نماز میں پوشیدہ ہے۔ وہ شرائط جو خدا تعالیٰ نے بتائی تھیں ان میں پائی نہیں جاتیں اور یہ خدا تعالیٰ کے کلام کی اور خدا کے اسلام کی اور خدا کی اور خدا کے رسول محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کر رہے ہیں اس لئے کس طرح خدا کے وعدوں کو پا سکتے ہیں۔ مسلمان جب تک خدا کی، خدا کے رسول کی اور اس کے کلام کی عزت نہیں کرینگے ان کو کوئی عزت نہیں دی جائیگی۔

مسلمان آنحضرتﷺ کی ہتک کر رہے ہیں

ایک موٹا مسئلہ ہے اور اسی میں مسلمانوں کی حالت کا پتہ لگ جاتا ہے کہ وہ کیسے ہیں۔ مسلمانوں نے یہ مان لیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو خاک کے نیچے مدفون ہیں اور حضرت مسیحؑ کو ذرا تکلیف پیش آئی تو خدا نے ان کو آسمان پر چڑھا لیا۔ اور ان کے دشمنوں کو انہیں ہاتھ تک نہیں لگانے دیا۔ میں کہتا ہوں اگر آسمان پر رکھے جانے کا کوئی اہل تھا تو وہ ہمارے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے لیکن یہ لوگ اس کو پسند نہیں کرتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ مدفون زیر زمین ہیں اور مسیح کے لئے بڑے پُرجوش قلب سے کہتے ہیں کہ وہ آسمان پر ہیں۔ جب انھوں نے عیسائیوں کے مقابلہ میں حضرت نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس طرح ہتک کی تو خدا تعالیٰ نے بھی ان کو ذلیل کر دیا اور فیصلہ کر دیا کہ جس طرح یہ حضرت عیسیٰ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھاتے ہیں۔ اسی طرح ہم ان کو عیسیٰ کے نام لیواؤں کے مقابلہ میں گرا دینگے اور خاک میں ملا دینگے۔ پس خدا کی غیرت نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہتک کو گوارا نہ کیا۔ اس لئے اس نے ان مسلمانوں کو ذلیل کیا اور عیسائیوں کو ان پر غالب کر دیا۔ یہ لوگ جوش سے کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ علیہ وسلم کی بگڑی ہوئی اُمت کو مسیح ناصری سنوارینگے۔ خدا نے کہا بہت اچھا ہم مسیح کے ماننے کے مدعیوں کو ہی تم پر مسلط کرتے ہیں۔ پس جو کچھ ان کے ساتھ ہو رہا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کا نتیجہ ہے اور جب تک یہ حضرت عیسیٰ کو آنحضرتؐ سے افضل مانتے رہیں گے ذلیل رہیں گے کیونکہ خدا نے ان کو یہ سزا دی ہے اس لئے اس سزا میں ان کے گھروں کو عزت دینے کی بجائے ذلیل کیا جائیگا اور برباد کیا جاویگا۔ انھوں نے حضرت عیسیٰ کو خدا بنایا کہ وہ زندہ ہیں نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں۔ مُردوں کو زندہ کرتے ہیں اور جانور پیدا کرتے ہیں۔ جب ان کی یہ حالت ہو گئی تو خدا تعالیٰ ان کی کیسے مدد کر سکتا تھا۔

قرآن کی حفاظت کے وعدے کا ایفاء

اب ایک اور سوال ہے کہ خدا نے وعدہ کیا تھا کہ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ(15:10)۔ دیکھنا یہ چاہئے کہ خدا نے اسلام کی حفاظت اور قرآن کریم کی حفاظت کا کیا سامان کیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا نے تو سامان کیا ہے مگر لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ خُدا ان کو مجبور کریگا کہ وہ ادھر متوجہ ہوں۔ خدا نے ایک شخص کو اسلام کی خدمت کے لئے اور اس کو تمام دنیا کے مذاہب کے مقابلہ میں بلند کرنے کے لئے مبعوث کیا ہے وہ شخص حضرت مرزا غلام احمد صاحب ہیں جن کو ہم مانتے ہیں کہ وہ آنے والے مسیح نبی اللہ اور مہدی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اسلام کو دُنیا میں دوبارہ غالب کرینگے اور اس کے مخالفوں کے سر اس کے آگے جھکا دینگے اور ہم اس کے آثار دیکھ رہے ہیں۔

خدا نے اسلام کے لئے کیا کیا

دُنیا ان پر طرح طرح کے اتہام لگاتی ہے۔ مخالف ان کو دجال، فریبی اور کاذب اور کیا کیا نام دیتے ہیں۔ مگر یہ عجیب بات ہے کہ اسلام جو خدا کا پیارا مذہب ہے وہ تو مٹ رہا تھا اور ہر طرف سے دشمنوں کے نرغے میں تھا۔ خدا تعالیٰ نے بجائے اس کی حفاظت کے ایک اور ایسا شخص بھیج دیا جو اس کو مٹائے اور اس کو نابود کر دے۔ کیا یہ خُدا کی اسلام سے محبت کا ثبوت ہے یا عداوت کا؟ اگر اسلام خدا کا پیارا مذہب ہے جیسا کہ واقع میں ہے تو ضرور تھا کہ اس مصیبت اور آفت کے وقت میں خدا تعالیٰ اس کی خدمت اور حفاظت کیلئے کوئی پاک انسان مبعوث کرتا نہ کہ اُلٹا اس کو پاؤں تلے روندنے کے لئے نعوذ باللہ ایک اور دجال کو بھیجتا۔ حضرت مرزا صاحب کو لوگ نہ مانیں ۔ انہیں گالیاں دیں، انہیں بدتر سے بدتر ٹھہرائیں ۔ مگر اتنا تو سوچیں کہ خدا نے اسلام کے لئے کیا یہی کیا جبکہ اسلام ڈوب رہا تھا ایک اور ڈبونے والا بھیجدیا۔ محبت کا تو تقاضا یہ تھا کہ خدا اس کی حفاظت کے سامان کرتا اور اُسے دشمنوں سے بچاتا۔

مہر مادری

مشہور قصہ ہے ۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے حضور دو عورتیں جھگڑتی ہوئی آئیں ان میں سے ایک عورت کے بچے کو بھیڑیئے نے کھا لیا ۔ وہ دوسری کے بچے کو اپنا بتلاتی تھی اور کہتی تھی کہ اس کا بچہ مارا گیا ہے۔ اس وقت معاملہ بہت ٹیڑھا تھا۔ حضرت سلیمان نے کہا کہ چھری لاؤ۔ میں ابھی فیصلہ کرتا ہوں۔ بچے کو کاٹ کر آدھا ایک کو دے دیتا ہوں اور آدھا دوسری کو۔ اس وقت جس عورت کا بچہ تھا فوراً بے تاب ہو کر بول اُٹھی کہ یہ بچہ میرا نہیں اسی کا ہے ، اسی کو دیدیا جائے مگر دوسری خاموش رہی ۔ حضرت سلیمان نے کہا کہ یہ بچہ اسی کا ہے جو کہتی ہے کہ میرا نہیں (بخاری کتاب الفرائض باب اذا ادعت المرءة ابناً) کیونکہ اس کو اس سے ہمدردی پیدا ہوئی اور دوسری کو کچھ اثر نہ ہوا۔

پس مسلمان رسول اللہؐ کے بچے کہلاتے ہیں اور دین خدا کا ہے۔ مگر لوگ اس پر غالب آرہے ہیں۔ اور دمبدم اس پر پتھروں کی بوچھاڑ کرتے رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں بجائے پتھروں سے بچانے کے خدا ایک اور پتھر پھینکنے والے کو بھیجدیتا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے ، کیا یہ بات ہو سکتی ہے ۔ اس خیال کے لوگوں سے تو ہندہ ابوسفیان کی بیوی ہی زیادہ سمجھدار رہی جب اور عورتوں کے ہمراہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرنے لگی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک نہ کرنے کا اقرار کرایا تو وہ بے اختیار بول اُٹھی کہ کیا ہم اب بھی شرک کرینگے حالانکہ ہم نے بتوں کی اس قدر مدد کی ۔ مگر ان سے کچھ نہ ہو سکا اور آپؐ اکیلے تھے مگر آپ نے خدا سے اسقدر نصرت پائی۔ اگر یہ بت سچے ہوتے تو آپ کس طرح کامیاب ہو سکتے تھے۔

پس جب اسلام خدا کا پیارا ہے اور اس کی نصرت و حفاظت کا وعدہ ہے تو کیا وجہ ہے کہ خدا بجائے اظہارِ محبت کے اس کو نقصان پہنچا رہا ہے ۔ اور اس کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں کرتا۔

عام مسلمان اور احمدی

آج وہ لوگ جن کی ساری عزت ہی رسولِ کریمؐ کی اولاد ہونے کے باعث تھی، عیسائی ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گندی سے گندی گالیاں دیتے ہیں اور لکھوکھا انسان عیسائی ہوچکے ہیں۔ مگر خدا تعالیٰ کو کوئی حمایتِ اسلام کا خیال نہ پیدا ہوا۔ مسلمانوں کا ایک یہ خیال کہ حضرت عیسیٰ زندہ ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے یہی ایک ایسا خیال ہے جو اسلام کو عیسائیت کے مقابلہ میں ٹھہرنے نہیں دے سکتا اور کوئی مسلمان واعظ عیسائیوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا عیسیٰ زندہ ہے اور محمّدؐ فوت ہوگئے اس وقت مسلمانوں کی زبانیں بند ہوجاتی ہیں۔ مگر حضرت مرزا صاحب نے ایسے وقت میں اسلام کی یہ خدمت کی اور اپنے شاگردوں کو ایسا تیار کیا کہ ان کے آگے سے پادری اس طرح بھاگتے ہیں جس طرح لاحول سے شیطان۔ عیسائیوں کے مقابلہ میں ہمارا ایک لڑکا چلا جائے تو پادری گھبرا کر وہاں سے چلے جاتے ہیں۔

احمدیت کا اثر

مَیں نے ایک دوست کو عربی کی تکمیلِ تعلیم کے لئے مصر بھیجا تھا۔ وہاں ایک مُسلمان قریب تھا کہ عیسائی ہوجائے۔ وہ ان کو ملا اُنھوں نے اس کو وفاتِ مسیح کا مسئلہ سمجھایا۔ پھر وہ پادری کے پاس گیا اور گفتگو کی۔ وہ پادری بے اختیار بول اُٹھا اَنْتَ مِنَ الْقَادِیَانِ اور گفتگو کرنے سے انکار کردیا۔ دیکھو یا تو وہ وقت تھا کہ یورپ امریکہ سے لوگ ہمارے ملک میں عیسائی بنانے کے لئے آتے تھے یا اب ہمارے مبلغ ان ممالک میں اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دُنیا کا نقشہ ہی بدل دیا کہ یا تو مسلمانوں کو پادریوں کے آگے چھپنے کے لئے جگہ نہ ملتی تھی۔ یا اب پادریوں کے لئے چھپنے کی جگہ نہیں یہاں تلوار نہیں طاقت نہیں محض خدا کی تائید ہے جو اپنا کام کررہی ہے۔ اب یورپ میں اس قسم کے لوگ پیدا ہوگئے ہیں، جو لکھتے ہیں کہ ہم نہیں سوتے جب تک کہ حضرت مرزا صاحب پر درود نہ بھیج لیں اور سینکڑوں انسان عیسائیت سے نکل کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلمہ پڑھنے لگ گئے ہیں۔

حضرت مرزا صاحب نے پیشگوئی فرمائی ہے کہ اب اسلام کی ترقی آپ کے ذریعہ دُنیا میں ہوگی اور باقی مذاہب آہستہ آہستہ مٹاکر اسلام ہی قائم کیا جائے گا۔ اب ہم اس کے آثار دیکھ رہے ہیں۔ مَیں نے حج کے دنوں میں (بحالتِ رؤیا) آسمان پر ستاروں سے لکھا ہوا لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ دیکھا تھا۔ تب مَیں نے اسی حالت میں اپنے نانا صاحب کو کہ وہ بھی میرے ہمراہ حج میں تھے کہا کہ وہ دیکھو اور پھر کہا آنے والے آئیں گے۔ پس یہ خدا کے وعدے پورے ہورہے ہیں۔

اگر حضرت مرزا صاحب جھوٹے ہیں تو اسلام کی صداقت کی کوئی دلیل نہیں!

اگر حضرت مرزا صاحب جھوٹے ہیں تو مسلمانوں کے پاس اسلام کی صداقت کی کوئی دلیل نہیں ۔ لوگ ان کو دجال اور جھوٹا وغیرہ ناموں سے یاد کرتے ہیں مگر وہ نہیں خیال کرتے کہ اگر آپ اسلام کے دشمن ہوتے تو آپ اسلام کی تائید میں سینہ سپر کیوں ہوتے اور اسلام کے دشمنوں سے جنگ کیوں کرتے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اعتراض کیا گیا کہ یہ شیطان کی پرستش کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ میں تو شیطان کے خلاف وعظ کہتا ہوں کیا شیطان پرست بھی شیطان کے خلاف وعظ کہہ سکتا ہے پس اسی طرح جو لوگ حضرت مرزا صاحب کو اسلام کا دشمن کہتے ہیں وہ اتنا تو سوچیں کہ کیا کوئی دشمن کی خدمت کے لئے اتنی کوشش کیا کرتا ہے ۔

حضرت مرزا صاحب سے خدا کا وعدہ

پس حضرت مرزا صاحب کے معاملہ میں لوگوں کو غور اور فکر سے کام لینا چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ وہ کیا کر رہے ہیں حضرت مرزا صاحب کو خدا تعالیٰ نے وعدہ دیا ہے کہ آپ کے ذریعہ اسلام کے انوار اب دوبارہ دُنیا میں پھیلیں گے ۔ ایک وقت میں آپ اکیلے تھے ۔ مگر آج کئی لاکھ کی جماعت آپ کے کام کو دُنیا میں جاری کرنے کے لئے سرتوڑ کوشش کر رہی ہے اور وہ دن قریب ہیں جو دُنیا میں آپ ہی کی جماعت نظر آئے گی۔ لوگ مخالفت کرتے رہیں آپ کو جسقدر بُرے ناموں سے یاد کر سکتے ہیں کریں مگر ان کی تمام مخالفتیں بے اثر ہونگی اور خدا حضرت مرزا صاحب کو تمام دُنیا میں عزت اور غلبہ دیگا ۔ خدا نے حضرت مرزا صاحب کو فرمایا کہ دُنیا میں ایک نبی آیا پر دُنیا نے اس کو قبول نہ کیا ۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دیگا۔لوگ تو شب و روز آپ کو جھوٹا کہنے میں مصروف ہیں مگر خدا اپنے زور آور حملوں سے آپ کی سچائی دُنیا کے کناروں تک پھیلا رہا ہے ۔

پس آج مسلمانوں کے پاس اسلام کی صداقت کا اگر ثبوت ہے تو حضرت مرزا صاحب کا وجود ہے کیونکہ آپ بھی ادنیٰ حالت سے خدا کے وعدے کے مطابق بلند کئے جا رہے ہیں۔ اگر لوگ آپ کو ماننے کے لئے تیار نہیں تو ان کے پاس اسلام کی صداقت کا بھی کوئی ثبوت نہیں ۔ وہ یا تو آپ کو قبول کریں یا اگر آپ کو چھوڑتے ہیں تو ان کو اسلام بھی چھوڑنا پڑیگا۔ کیونکہ صداقتِ اسلام کی جو دلیل تھی وہ ان کے پاس نہیں بلکہ حضرت مرزا صاحب کے ذریعے نظر آ رہی ہے۔

دنیا کی حالت

دُنیا میں تغیرات آرہے ہیں جنگوں نے دُنیا کو بے حال کر رکھا ہے اور زلزلوں نے زیر و زبر کر دیا ہے۔ بیماریاں ہلاکت کے ہاتھ پھیلا رہی ہیں اور یہ عذاب دُنیا کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے جب تک دُنیا اصلاح کی طرف نہیں آئیگی۔ غور تو کرو کہ خدا رحمنٰ و رحیم ہے۔ پھر وہ کیوں اس قدر پُر درد عذاب دُنیا پر بھیج رہا ہے۔ اگر دُنیا کی حالت اچھی ہو تو خدا کیوں اس کو بھٹی میں ڈالے۔ وجہ یہی ہے کہ لوگ خُدا کے مأمور نبی کا انکار کر رہے ہیں اور اب تک کر رہے ہیں معمولی بادشاہ یا لیڈر کا حکم ٹالا جائے تو لوگ نقصان اُٹھاتے ہیں۔ پھر جب خدا کے ایک مامور کی ہتک ہو اور خدا کی نافرمانی ہو پھر دُنیا کیسے امن میں رہ سکتی ہے۔ دُنیا آج جن عذابوں میں مبتلا ہے۔ آج سے چالیس سال پہلے ان عذابوں کا نام و نشان نہ تھا۔ لیکن آج ایسے عذاب آرہے ہیں کہ لوگ حیران ہیں۔ ایک بزرگ کا قول ہے وہ کہتے ہیں کہ جب میرا گھوڑا اڑتا ہے تو میں سمجھ لیتا ہوں کہ میں نے خدا کی نافرمانی کی۔ کیونکہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی نہ کرتا تو میرا جانور میری نافرمانی نہ کرتا۔ لیکن آج لوگ اسقدر نفس پرستیوں میں غرق ہیں اسقدر خدا ان کو بھولا ہوا ہے کہ وہ اپنے گھوڑے کے اڑنے سے نصیحت کیا لیتے خود اُن پر عذاب کے ہزاروں کوڑے پڑ رہے ہیں۔ مگر پھر بھی وہ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ کیا لوگوں کے دل مرگئے۔ کیا ان کے کان میں کسی دردمند کی نصیحت کی آواز نہیں جاتی اور دل پر اثر نہیں کرتی۔

نصیحت

میں آپ کو دردمند دل کیساتھ اور خیر خواہ قلب کے ساتھ نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے ایمان کی فکر کرو اور اپنی حالت پر غور کرو اپنے اعمال سے اسلام کی ہتک نہ کرو اور اس کو جھوٹا ثابت نہ کرو۔ ذرا اپنی اصلاح کرو۔ خدا کی نشانیوں کو غور سے دیکھو۔ اسلام کے لئے شرم کا موجب نہ بنو۔ بلکہ فخر کا موجب بنو اور اپنی اصلاح کی فکر کرو۔

اللہ تعالیٰ آپ کو سمجھ دیوے۔ اسلام سچا ہے اس کی سچائی دُنیا میں پھیلے گی۔ خدا سے توفیق چاہو اور اسلام کی صداقت ثابت کرنے کا موجب بنو۔ ورنہ یاد رکھو تم اپنی موجودہ حالت میں اسلام کو جھوٹا ثابت کر رہے ہو۔ اس سے ثابت ہے کہ اسلام تم میں نہیں ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ اسلام تمہیں بلند نہ کرتا۔ تم اسلام کو مانتے ہو تو سوچ سمجھ کر مانو اور ہر ایک مذہب والے کو بھی میں یہی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ غور کرے کہ وہ اپنے مذہب کا پابند ہے تو کیوں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب لوگوں کو حق کے قبول کرنے کی توفیق دے۔ آمین

(الفضل ۹؍ مئی ۱۹۲۱ء)

معیارِ صداقت

از

سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

معیارِ صداقت

(تقریر حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی جو حضور نے ۲۱۔ و ۲۲ مارچ ۱۹۲۱ء کی درمیانی شب کو مرزا گل محمد صاحب ابن مرزا نظام الدین صاحب کے مکان پر فرمائی)

حضور نے سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔

تمہید

میں آج آپ لوگوں کے سامنے پہلے تو وہ اسباب بیان کرونگا جن کی وجہ سے وہ انتظام کرنا پڑا جو خلاف معمول یہاں نظر آ رہا ہے۔ اس کے بعد ان لیکچروں کے متعلق کچھ بیان کرونگا جو ان دنوں میں غیر احمدیوں کے یہاں ہوئے اور پھر وہ باتیں بتاؤنگا جو صداقت کا نشان ہوتی ہیں۔

ہم نے حفاظت کے لئے یہ سامان کیوں کئے

قادیان دارالامان ہے لیکن یہاں ایسا انتظام تھا جو فوجی انتظام کے مشابہ تھا۔ ہم میں سے ہر ایک کسی خاص کام پر مقرر تھا۔ حتیٰ کہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی کاموں پر مقرر تھے جو اپنے متعلقہ کام چستی سے کر رہے تھے۔ ہماری گلیوں، ہمارے مکانوں، ہمارے مقبروں اور ہماری مسجدوں پر پہرے تھے۔ برطانیہ کی گورنمنٹ کے ماتحت جو ایک با امن گورنمنٹ ہے اس انتظام پر کئی

لوگوں کو تعجب ہوتا ہوگا اور ممکن ہے کہ جو لوگ آتے ہی کسی کام پر لگا دیئے گئے ان کو خیال ہو کہ کیا وجہ تھی جس کے باعث ہمیں یہ انتظام کرنا پڑا اور یہ ضرورت کیوں پیش آئی۔ قادیان میں پہلے بھی جلسے ہوئے ، آریوں کے جلسے باقاعدہ ہوتے ہیں ، سکھوں کے جلسے بھی باقاعدہ ہوتے ہیں ، غیر احمدیوں کا جلسہ بھی پیچھے دو تین سال ہوئے ہوا تھا اور ان کے علماء آتے رہتے ہیں ، وعظیں کرتے ہیں۔ چنانچہ پچھلے دنوں مولوی نور احمد صاحب ساکن لکھو کے یہاں آئے ۔ ان کے ساتھ ہمارے بعض دوستوں کا برسرِ بازار مباحثہ بھی ہوا پچھلے دنوں جو باقاعدہ جلسہ غیر احمدیوں کا ہوا تھا اس میں ان کے اور مولویوں کے علاوہ مولوی ثناء اللہ صاحب بھی آئے تھے مگر ان مواقع میں سے ہم نے کسی موقع پر کوئی ایسا انتظام نہیں کیا تھا۔ پھر اس دفعہ کیا ضرورت پیش آئی تھی کہ یہ انتظام کیا گیا؟

ہمارے دشمنوں کے ناپاک ارادے

اس کے لئے یاد رکھو کہ ہم یہ نہ کرتے مگر ہماری آنکھوں نے بعض خاص باتیں دیکھیں اور ہمارے کانوں نے سنیں اس لئے ہمیں احتیاطاً یہ انتظام کرنا پڑا۔ ہم چھ مہینے سے ان کے جلسہ کے متعلق سن رہے تھے مگر ہمیں اس کے متعلق کچھ خیال نہ تھا نہ ہم نے اس کے لئے باہر اپنے آدمیوں کو اطلاع دی تھی نہ ہمیں کسی تدبیر کا خیال تھا۔ لیکن چند ہی دن ہوئے جبکہ مجھے ایک ایپلیکیشن کی شہادت کے لئے لاہور جانا پڑا تو ایک دن صبح کی نماز کے بعد ایک دوست نے بتایا کہ لاہور کے تمام بڑے بازاروں میں قریباً ہر دس بیس گز کے فاصلہ پر ایک بڑا اشتہار چسپاں ہے جس میں لکھا ہوا تھا کہ :۔

”قادیانی جماعت کے کافۃ المسلمین کے خلاف مذہبی مسائل کا تصفیہ اور اختلاف کا سدباب کرنے کے لئے علماء ہند کا ایک عظیم الشان جلسہ“ ہوگا۔

(اشتہار بعنوان جمعیتہ العلماء اور مرزائی جماعت قادیانی)

اُسی وقت ایک دوست نے ایک اخبار کا کٹنگ دکھایا جس میں لکھا تھا کہ خلافت کے بارے میں چونکہ احمدی لوگ عام مسلمانوں سے اختلاف رکھتے ہیں اس لئے ان کے اقوال وافعال کا سدباب کرنے کے لئے علماء ہند قادیان جائینگے۔ تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ ان کی مدد کریں۔

(پیسہ اخبار)

اب یہ ظاہر ہے کہ افعال کا سدباب دلائل سے نہیں ہوا کرتا کیونکہ ہمیشہ بات کا جواب بات ہوتی ہے اور افعال کا افعال سے۔ پس افعال کے سدباب کی نیت سے جو قوم چلی تھی اس کی غرض فتنہ کے سوا

اور کچھ نہ تھی اور پھر تمام ہندوستان کے مسلمانوں کا قادیان میں جمع ہو کر علماء کی مدد کرنے سے سوائے اس کے اور کیا مطلب ہو سکتا تھا کہ کوئی فتنہ اُٹھایا جائیگا۔ اگر علماء نے محض مسائل بیان کرنے تھے تو ہندوستان کے عوام ان کی کیا مدد کر سکتے تھے۔ ہاں جب علماء کی نیت فتنہ ڈلوانے کی تھی اس وقت ضرورت تھی کہ لوگ ان کی مدد کرتے۔

امرتسر میں مولویوں کی حرکتیں

ان باتوں سے ظاہر ہے کہ ان کی نیت اچھی نہ تھی ساتھ ہی جبکہ ہم ان علماء کہلانے والوں میں سے بعض کی وہ حرکتیں دیکھ چکے تھے جو پچھلے سال امرتسر میں میرے لیکچر کے دوران میں انہوں نے کی تھیں تو ہمارے دلوں میں ان پر حسنِ ظنی کرنے کی کوئی وجہ بھی باقی نہ رہتی تھی۔ امرتسر میں جو کچھ ان لوگوں نے کیا جن لوگوں نے اس کو دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ کس طرح بعض مولوی کہلانے والوں نے قلندروں کی سی حرکتیں کیں۔ کس طرح وہ اُچھلے تھے اور آگے پیچھے پھدکتے پھرتے تھے اور صفحہ، صفحہ، سطر سطر اور مطبع مطبع پوچھتے تھے۔ اس وقت پولیس والے ان کو سمجھاتے تھے۔ مجسٹریٹ ان کو روکتے تھے مگر وہ نہیں رُکتے تھے۔ حالانکہ صفحہ سطر کی بحث تب ہوتی جب کوئی ایسی کتاب ہوتی ہے جسے وہ نہ جانتے تھے یا کوئی غیر معروف حوالہ ہوتا۔ بلکہ ایک ایسی کتاب جس کو ہم اور وہ دونوں مانتے تھے اور جو درسوں میں پڑھائی جاتی ہے اس کے متعلق اس قسم کا مطالبہ پھر لیکچر کے دوران میں نہایت ہی تہذیب سے گری ہوئی بات تھی۔ اگر وہ لوگ اس حدیث کے وجود ہی کے منکر ہوتے تب بھی ان کا مطالبہ حتیٰ بجانب ہوتا۔ مگر دلوں میں جانتے ہوئے کہ ایسی حدیث موجود ہے یہ شور مچانا ان کی گری ہوئی حالت کا شاہد تھا۔

اس نظارہ کے دیکھنے والے جانتے ہیں کہ کبھی وہ کُرسی پر چڑھتے تھے کبھی نیچے اُترتے تھے اور شور کرتے تھے کہ ہمارا خون ہو جائیگا تب ہم بولنے دینگے اور وہ بندروں کی طرح پھدک رہے تھے۔ اس وقت جو معزز ہندو اور سکھ صاحبان بیٹھے تھے ان میں سے بعض نے کہا کہ غصہ تو ہمیں ہونا چاہئے تھا کہ ہمارے مذہب کا نقض ظاہر کیا جا رہا تھا کیونکہ میں اس وقت ہندو مذہب اور اسلام کا مقابلہ کر رہا تھا، یہ لوگ کیوں شور مچاتے ہیں پس امرتسر کے واقعہ کو یاد کر کے علماء کہلانیوالوں میں سے بعض کے متعلق ہم جس قسم کے فتنہ کی بھی اُمید کرتے تھے بدظنی نہیں کہلا سکتی۔

علاوہ ازیں ہمیں مختلف مقامات سے خطوط ملے جن میں لکھا تھا کہ غیر احمدیوں میں مشہور ہے کہ اس دفعہ قادیان میں غیر احمدیوں کا جلسہ ہو گا جس میں وہ احمدیوں کے ساتھ وہ سلوک کرینگے جو بدترین ہو گا۔ بلکہ ریلوں میں راولپنڈی سے امرتسر تک لوگوں کو اس طرح جوش دلایا جاتا تھا کہ چل کر ایک دفعہ اس جماعت کا فیصلہ کر دینا چاہئے اور بہت سے گندے منصوبوں کا اظہار کیا جاتا تھا یہ افواہیں تھیں جن کے باعث کسی پر کوئی الزام نہیں آ سکتا۔ لیکن اگر یہ افواہیں صداقت کا جامہ پہن لیتیں تو کیا ہوتا۔ اگر ہم پہلے سے تیار نہ ہوتے تو پھر اس کا کیا اثر ہو سکتا تھا۔

قادیان میں ہمارے مقدس مقامات

ہم نے تو گورنمنٹ کے افسران کو، یہاں کے ڈپٹی کمشنر صاحب کو ، گورنمنٹ پنجاب کے سیکرٹریوں کو لکھ دیا تھا کہ قادیان میں ، ہمارے مقدس مقامات ہیں اور ہمارے لئے قادیان کے بعض مقامات ویسے ہی مقدس ہیں جیسا کہ ہمارے نزدیک اور دوسرے انبیاء کے ماننے والے لوگوں کے نزدیک ان انبیاء کے مقامات مقدس ہیں ۔ پس اگر کوئی شخص ان مقامات کے خلاف کوشش کریگا اور کوئی فتنہ برپا کرنے کی سعی کریگا تو ہم پہلے فنا ہو لینگے تب وہ ان مقامات کی طرف قدم بڑھا سکیگا۔ اور افسروں نے تسلیم کیا تھا کہ قانوناً جو شخص فتنہ کھڑا کرتا ہے وہی مجرم ہے۔ اگر ثابت ہو جائے کہ ایک فریق نے دوسرے کے حملہ سے بچنے کے لئے مقابلہ کیا تھا تو وہ قابل سزا نہیں اور حکام نے فتنہ کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنے کا بھی وعدہ کیا۔

ہماری پوزیشن

غرض ہم نے قبل از وقت حکام کو بھی اطلاع دے دی اور خود بھی اپنا انتظام کیا اور ہم نے قادیان کے وہ حصے مخصوص کر لئے جن میں ہم ہی ہم آباد ہیں۔ صرف دو گھر غیروں کے ہیں۔ ہم نے ان مقامات پر اپنا پہرہ لگا دیا اور اپنے پہرہ داروں کو ہدایت کر دی کہ وہ ان لوگوں کو جن کے گھر ہمارے محلہ میں ہیں آنے سے نہ روکیں اور نہ ان کے مہمانوں کو اور نہ ان کے ملنے والوں کو۔ ہاں اگر کوئی اور شخص اِدھر آنا چاہے تو چونکہ اس کا کوئی کام ہمارے ہاں نہیں اس کو ادھر مت آنے دو۔ کیونکہ ممکن ہے کہ وہ اس طرح دھوکا دیکر ہمارے گھروں میں آجائیں۔ پنجاب میں ایسے واقعات ہو چکے ہیں کہ لوگ دھوکا دیکر آئے اور آکر فتنہ کیا۔

کیا ہم بزدل ہیں

میں جانتا ہوں کہ یہاں بھی ان لوگوں نے ہم پر بزدلی کا الزام لگایا ہے اور باہر جا کر بھی ہمیں بزدل کہیں گے۔ مگر ان کو میں کہنا چاہتا ہوں کہ اگر بزدلی دشمن کے بد ارادوں کو معلوم کر کے اپنی حفاظت کے لئے چوکس ہو جانے اور اپنی جان دینے کے لئے تیار ہو جانے کا ہی نام ہے تو ہم بزدل ہیں لیکن وہ اس کا کیا نام رکھتے ہیں کہ بقول ان کے انہوں نے اپنے مقدس مقامات اور اپنے خلیفۃ المسلمین کے شہر پر اور اس کی فوجوں پر خود قبضہ کیا اور تلواریں چلائیں۔ وہ بتائیں کہ دونوں میں سے بزدل کون ہے۔

ہم نے کبھی کسی کو دُکھ نہیں دیا

ہم وہ لوگ ہیں جنھیں اپنی جانوں کی پرواہ نہیں ہم نے کسی پر حملہ نہیں کیا ہم کسی پر حملہ نہیں کرتے۔ بلکہ اگر ہمیں کوئی گالیاں دے تو صبر کرتے رہے ہیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ہمارے مقدّسوں پر اور ہمارے مقدّس مقاموں پر کوئی حملہ کرنا چاہے اور ہم صبر کر کے بیٹھ جائیں یا اس وقت خود حفاظتی کی تیاری کریں جب دشمن کا حملہ ہو ہی جائے ایسی صورت میں ہم پر شریعت، اخلاق اور قانون فرض کرتے ہیں کہ حفاظت کریں۔ اگر ہم ایسے وقت میں خاموش رہیں تو ہم مؤمن نہیں فاسق ہونگے۔

مخالفوں کا حضرت اقدس کی قبر مبارک کھودنے کا ناپاک ارادہ

پس اگر یہ خبریں جو ہمیں ملیں محض افواہیں ہوں جو دشمنوں نے ہمیں گھبرا دینے کے لئے مشہور کی تھیں (جو بات کہ فی الواقع نہیں ہے) تو بھی ہمارا کوئی نقصان اس انتظام سے نہیں ہوا۔ ہمیں چار دن میں اس کام کی مشق ہو گئی۔ اگرچہ ہمارے پاس کافی وجوہ ہیں کہ دشمن کا ارادہ بد تھا۔ ان کے اشتہار اس امر کے شاہد تھے۔ مختلف مقامات سے ایک ہی قسم کی اطلاعات آ رہی تھیں۔ پٹیالہ، لدھیانہ، امرتسر، لاہور اور قادیان کے ارد گرد کے دیہات میں چرچا تھا کہ اس دفعہ مرزا صاحب کی قبر کھودینگے اور دیکھیں گے کہ وہ سچے نبی تھے یا جھوٹے۔ اگر سچے تھے تو ان کے جسم کو مٹی نے نہیں کھایا ہو گا اور ان کے کتب خانوں کو جلایا جائے گا کیونکہ ان سے دُنیا میں گمراہی پھیلتی ہے۔ لاش کو مٹی کے کھانے کے اعتراض کا جواب تو میں اعتراضوں میں بتاؤں گا کہ یہ اعتراض فضول ہے مگر ہم کو ایسی خبریں پندرہ سولہ جگہوں سے پہنچیں اس لئے ہم نے اپنے پہرے کا بندوبست کیا۔ اگر یہ لوگ کہیں کہ ہم نے جان بچائی اور گھر میں بند ہو کر بیٹھ گئے تو یہ ان کی عقل کی کوتاہی ہے کیونکہ ہمیں جان کی پرواہ نہیں اور یہ جو کچھ تھا یہ اس لئے تھا کہ ہم اپنی جان کو ان چیزوں کی حفاظت کے مقابلہ میں کچھ نہیں سمجھتے۔

قادیان کی حفاظت کیلئے ہم کیا قربانی دینگے

مجھے بزدلی سے طبعاً نفرت ہے۔ میں نے پچھلے سال جب امرتسر میں لیکچر دیا اور مولویوں نے شور شروع کیا اور ان کا ارادہ اینٹ پتھر پھینکنے کا معلوم کر کے بعض دوست میری محبت سے میرے آگے کھڑے ہو گئے تو میں نے ان کو کھٹکا بٹھا دیا۔ اس وقت بعض دوستوں نے گھبرا کر مجھے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں اور لیکچر نہ دیں تو میں نے ان کو جھڑک دیا کہ کیا تم مجھے بزدل بناتے ہو۔ یہ شور کرتے رہیں میں لیکچر ختم کر کے بیٹھوں گا۔ ہمارے مخالفوں کو اس واقعہ کا بھی غصہ تھا پس ہمیں جان کی پرواہ نہیں بلکہ قادیان ہمارا مقدس مقام اور اس کی تقدیس ایسی ہی ہے جیسی اوروں کے مقدس مقاموں کی ۔ پس ہم یہ پسند کرینگے کہ ہمیں اور ہمارے بیوی بچوں کو کاٹ کاٹ کر ریزہ ریزہ کر دیا جائے مگر ہم اس امر کو ہرگز پسند نہ کرینگے کہ ان مقامات کی بے حُرمتی کی جائے ۔ پس اب دشمن گو بظاہر ہم پر ہنسے مگر اس کا دل رو رہا ہے کہ وہ اپنے ارادہ میں ناکام رہا۔

رعایت اسباب

بعض دوستوں نے ذکر کیا ہے کہ جب میں نے امرتسر میں لیکچر دیئے تھے تو کسی مولوی نے کہا تھا کہ ہائے افسوس وہ لیکچر دیکر یہاں سے زندہ واپس چلا گیا ۔ تو ہم خدا کے فضل سے وہاں بھی ان کے شر سے محفوظ رہے اور وہاں سے بھی یہ ذلت کے ساتھ واپس ہوئے اور خدا نے ہمیں محفوظ رکھا ۔ ان کا قصہ اصحاب فیل کے مطابق تھا۔ خدا مومن کا محافظ ہوتا ہے مگر اسباب کی رعایت ضروری ہوتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار مبارک کے متعلق بھی ایک دفعہ اس قسم کی افواہیں مشہور ہوئی تھیں تو مسلمانوں نے فوراً اس کی حفاظت کا سامان کر لیا تھا ۔ پس گو مقدس مقامات کی حفاظت اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی مدد کا نزول بندوں کی اپنی کوشش پر بھی منحصر ہوتا ہے سوائے ان مقامات کے کہ جن کی حفاظت کا اس نے خاص طور پر وعدہ فرمایا ہو پس گو اگر ہم کوشش نہ کرتے تو ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ خود حفاظت کا سامان کرتا مگر ہمارا فرض بھی تھا کہ ہم اپنے ایمانوں کا ثبوت دیتے ۔ پس خوب یاد رکھو مومن بہت ہوشیار ہوتا ہے اور وہ فوراً احتیاط کی راہ اختیار کر لیتا ہے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں افواہ کی بناء پر حفاظت

ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اطلاع ملی تھی کہ مدینہ سے دو سو میل کے فاصلہ پر ایک عیسائی حکومت تھی اس کا ارادہ ہے کہ مدینہ پر حملہ کرے۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ اس حکومت نے کبھی بھی مدینہ پر حملہ نہیں کیا۔ لیکن اس خبر کی بناء پر صحابہؓ خاص طور پر تیار رہتے تھے۔ بلکہ ایک دفعہ معمولی سے شور پر تمام صحابہؓ اپنے گھروں سے نکل کر کھڑے ہوئے اور کوئی کدھر کو چل دیا اور کوئی کدھر کو۔ کچھ لوگ مسجد میں جمع ہو گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی تعریف فرمائی جو مسجد میں آگئے ۔

خود حفاظتی مؤمن کا فرض ہے

پس گو مؤمن فتنہ سے بچتا ہے اور خود کوئی ایسا موقع پیدا نہیں ہونے دیتا جس سے وہ فتنہ میں پڑے اور کسی پر حملہ کرے لیکن جب کوئی اس پر حملہ آور ہو تو وہ شریعت اخلاق اور قانون کی طرف سے مجاز ہے کہ اس حملہ کے دفاع کے لئے ہر ممکن کوشش کرے۔ بلکہ بعض اوقات اگر وہ ایسا نہ کرے تو وہ ایمان سے باہر ہو جائیگا۔

ہم ہر ممکن طریق سے امن کے قیام کے حامی ہیں

پس ہم نے جو کچھ کیا ان حالات کے ماتحت کیا۔ یہ میں نے اس لئے بتایا ہے کہ کسی کو حیرت نہ ہو کہ یہ کیا انتظام تھا ورنہ ہم نے نہ کبھی فساد کیا نہ فساد کرنا چاہتے ہیں نہ کرینگے۔ یہاں ہر قوم کا جلسہ ہوتا ہے مگر کبھی کوئی فساد نہیں ہوا۔ حالانکہ ابھی پچھلے دنوں میں آریوں کا جلسہ ہوا اور ان کے بعض لیکچراروں نے اسلام پر حملہ کیا اور گالیاں دیں اور ہمارے بعض لوگوں نے بھی سُنا مگر وہ خاموش رہے۔ حالانکہ میں نے ان کو کہا کہ یہ درست نہیں کہ جہاں کوئی گالیاں دے ہم اس کی گالیاں سُنتے رہیں۔ یہ بہتر ہوتا کہ وہ وہاں سے آجاتے۔ یہ ہماری ہی جماعت ہے جو گالیاں سننے کے باوجود صبر سے کام لیتی ہے۔ ورنہ اگر باہر ایسا واقعہ ہوتا تو کُشتوں کے پُشتے لگ جاتے۔

ہم دین کیلئے جان دینے سے پر ہیز نہیں کرتے

ابھی ہمارے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب بی اے بیرسٹر لاہور سے آرہے تھے تو ان سے ایک شخص نے پوچھا کہ کہاں جاتے ہو۔ انھوں نے بتایا کہ قادیان جا رہا ہوں۔ اس نے کہا کہ آپ نہ جائیں وہاں فساد ہوگا۔ چوہدری صاحب نے جواب دیا کہ ہماری جماعت فساد نہیں کرے گی۔ اُس نے کہا کون روکے گا انھوں نے جواب دیا کہ ہمارا خلیفہ ہے جو فساد کو روک دیگا۔

ہمارے مخالفوں کو معلوم نہیں کہ اگر ہم دین کے کام کے لئے جان دینے کو کہیں تو ہماری جماعت کے لوگوں کو جان دینے سے بھی عذر نہیں ہو سکتا اور یہ محض ظنی بات نہیں بلکہ واقعہ ہے۔ برطانیہ کی کابل سے جنگ ہوئی ہمارے نزدیک چونکہ حکومت برطانیہ حق پر تھی اور اس وقت تک کابل کی حکومت ہمارے مذہب کو جبراً مٹانا چاہتی تھی اس لئے ہمارا برطانیہ کی مدد کرنا مذہبی فرض تھا۔ میں نے اپنی جماعت میں اس جنگ میں شامل ہونے کے لئے اعلان کیا اور با وجود اس کے کہ ہمارے بہت سے لوگ جرمن کی جنگ کے وقت بھرتی ہو چکے تھے پھر بھی ایک قلیل عرصہ میں پندرہ سو درخواستیں آگئیں۔

پس ان لوگوں نے گالیوں کو سُنا اور برداشت کیا۔ کیونکہ میرا حکم تھا کہ فساد سے بچو۔ ورنہ بعض جوشیلے ایسے تھے جو گھر بیٹھے روایتاً واقعات سُنکر جوش میں آ رہے تھے۔ ان کو فساد سے روکنے والی بات محض شریعت اور میرا حکم تھا۔

ہم نے اپنی حفاظت کا سامان خود کیا

اگر ہمارے آدمی ان کے جلسہ میں جاتے اور ان کی بدزبانی سُنتے اور ان کی طرف سے فساد ہوتا تو ہمارے حق میں کسی نے گواہی نہیں دینی تھی۔ عدالت میں لوگ صریحاً جھوٹ بول دیتے۔ کیونکہ یہ قوم ہماری دشمن ہے۔ دُنیا آج منافقت چاہتی ہے اور ہم میں منافقت نہیں اگر فساد ہوتا تو سوائے شاذ کے کوئی ہمارا گواہ نہ ہوتا اور گورنمنٹ کے حکام تک بھی ہمیں کو الزام دیتے پس یہ ہماری احتیاط کا نتیجہ نکلا کہ دشمن اپنے جن بد ارادوں سے آیا تھا وہ اس کو اپنے ساتھ ہی لے گیا اور کوئی کسی قسم کا فساد نہیں ہوا۔ فساد کے نہ ہونے اور دشمن کا اپنے بد ارادوں میں ناکام رہنے میں گو گورنمنٹ کے حکام کی موجودگی کا بھی دخل تھا۔ مگر انھوں نے عملی طور پر اس کام میں کوئی حصہ نہیں لیا اور اس میں روک زیادہ تر ہماری احتیاط ہی تھی اور اسی طرح ہمارا یہ حکم کہ ہمارے آدمی بلا اجازت جلسہ میں نہ جاویں۔

انکو ہم پر غصہ ترکوں کی خلافت کے باعث ہے

اب سوال ہوتا ہے کہ انکو ہم پر خفگی کی وجہ کیا ہے، جیسا کہ انہوں نے اپنے اشتہاروں میں بھی ظاہر کیا ہے ان کو ہم سے خلافت کے بارے میں اختلاف ہے اور کہتے ہیں کہ ہم ان کی خلافت کے بارے میں مدد نہیں کرتے مگر ان کا یہ اعتراض کم فہمی پر مبنی ہے۔ کیونکہ کسی کو مجبور کرنا کہ وہ ان کا ہم خیال ہو جائے ایک بہت ہی بُرا اور گندہ فعل ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ترکوں کے بادشاہ خلیفۂ رسول اللہ ہیں۔ اور برخلاف اس کے ہمارا عقیدہ ہے کہ مسلمان خراب ہو گئے ان کی اصلاح کے لئے محمد رسول اللہ کا ایک غلام مسیح اور مہدی بنا کر مبعوث کیا گیا۔ اب خلیفہ وہی ہو سکتا ہے جو مسیح موعود کا غلام ہو۔ پس وہ ہم سے اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں جو ہمارے مذہب کے خلاف ہے۔ اگر ہم ان کی خاطر اپنے مذہب کو چھپا کر سلطانِ ترکی کی خلافت کے مسئلہ میں ان کے ہم خیال ہونے کا اظہار کریں تو ہم منافق ہونگے اور منافقوں کو اپنے ساتھ ملا کر ان کو کیا نفع ہوگا۔ بلکہ ہمارا ملنا ان کے لئے مضر ہوگا کیونکہ اگر ہم ان کے ساتھ اس مسئلہ میں مل جاتے تو ہندوستان میں منافقت بڑھ جاتی۔ اور اس زمانہ میں جبکہ پہلے ہی نفاق چاروں طرف پھیلا ہوا ہے اور ضرورت ہے کہ اس کو مٹا کر تقویٰ اور صداقت کو قائم کیا جائے ۔ ان لوگوں کا ہمیں نفاق اختیار کرنے پر مجبور کرنا اچھے ثمرات نہیں پیدا کر سکتا تھا۔ ہم سلطانِ ترکی کو خلیفہ نہیں مان سکتے۔ کیونکہ ہمارے لئے خلیفہ وہی ہو سکتا ہے جو مسیح موعود کا متبع اور جانشین ہو۔

باوجود بے تعلق ہونے کے ہم نے ترکوں کے لئے کیا کیا

وہ ہمیں کہتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ان کے شورش پھیلانے میں کیوں شریک نہیں ہوتے۔ لیکن جب ہمارے نزدیک شورشوں میں حصہ لینا جائز ہی نہیں تو ہم کیوں اپنے مسلک اور اپنے مذہب کو چھوڑیں۔ ہاں ہم نے باوجود بے تعلق اور علیحدہ ہونے کے پھر بھی معاہدہ ترکی کے بارے میں اتحادیوں سے جو غلطیاں ہوئی تھیں، ادب سے ان کے متعلق گورنمنٹ کو مشورہ دیا کہ ان کی اصلاح ہونی چاہئے۔ چنانچہ ان مشوروں کے مطابق ایک حد تک تھریس اور سمرنا کے معاملہ میں پچھلے معاہدہ میں اصلاح بھی کی گئی ہے۔

ہمارا عربوں کی آزادی کے متعلق مشورہ

ہم نے عربوں کے معاملہ میں لکھا کہ وہ غیر قوم اور غیر زبان رکھتے ہیں وہ آزاد رہنا چاہتے ہیں۔ نہ ان کو ترکوں کے ماتحت رکھا جائے نہ اتحادی ان کو اپنے ماتحت رکھیں۔ باوجود اس کے کہ یہ لوگ اپنے لئے تو یہ قاعدہ بناتے ہیں کہ انگریزی سلطنت سے آزاد ہوں مگر ان کو یہ بات پسند نہیں کہ عرب بھی آزاد ہوں۔ گویا جو چیز یہ خود ناپسند کرتے ہیں عربوں کو اس کے پسند کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ پس ہمارے مطالبات کی صحت کا انکار نہیں کیا گیا بلکہ اس کو تسلیم کر کے موجودہ وقت میں جو اصلاح کی گئی اس کو ملحوظ رکھا گیا۔ مگر جو کچھ یہ غیر احمدی لوگ مطالبہ کرتے تھے وہ پورا نہیں کیا گیا کیونکہ وہ درست نہ تھا۔

ہماری ترکوں کے لئے عملی کوششیں

پس ہم سے جس قدر ہو سکتا تھا ہم نے کیا۔ رسالے ہم نے لکھ کر شائع کئے ، چٹھیاں میں نے گورنمنٹ کو لکھیں اور جو غلطیاں میں نے گورنمنٹ کو بتائیں گورنمنٹ نے فراخ حوصلگی سے ان میں سے بعض کو تسلیم کیا اور ان کی اصلاح کے متعلق کوشش کرنے کا وعدہ کیا۔ ہم نے ہزایکسیلنسی گورنر پنجاب کو میموریل بھیجا ۔ ہم نے گورنر جنرل کو بھی لکھا۔ ولایت میں اپنے مبلغین کو ترکوں سے ہمدردی اور انصاف کرنے کے متعلق تحریک کرنے کے لئے ہدایت کی۔ امریکہ میں اپنا مبلغ بھیجا کہ علاوہ تبلیغِ اسلام کے ترکوں کے متعلق جو غلط فہمیاں ان لوگوں میں مشہور ہیں ان کو دُور کرے۔ چنانچہ وہ وہاں علاوہ تبلیغِ اسلام کے یہ کام بھی کر رہا ہے اور کئی اخبارات میں ترکوں کی تائید میں آرٹیکل لکھے گئے ہیں۔

غرض ہماری طرف سے باوجود ترکوں سے بے تعلق ہونے کے محض اسلام کے نام میں شرکت رکھنے کے باعث ان کے لئے اس قدر جدوجہد کی گئی ہے۔ مگر ترکوں نے ہمارے لئے کیا کیا جب ہمارے بعض آدمی ان کے علاقے میں گئے تو ان کو گرفتار کر لیا گیا۔ تو یہ لوگ کس قدر ناشکر گذار ہیں کہ باوجود اس قدر کوشش کے پھر ہمارے خلاف ایسے ایسے منصوبے گھڑتے اور اس قدر بد ارادوں کے ساتھ آتے ہیں۔

ہمارے مخالفوں کا بے اصولاپن

ہمیں کہتے ہیں کہ ہم ان کی خاطر گورنمنٹ سے بگاڑ لیں اور عدمِ تعاون کریں۔ مگر یہ واعظینِ عدمِ تعاون جو ساری دُنیا کو عدمِ تعاون کے لئے مجبور کرتے اور ہمارے خلاف اس لئے جوش میں اندھے ہو جاتے ہیں کہ ہم عدمِ تعاون نہیں کرتے خود اس قسم کے ارادوں کے ساتھ آنے کے باوجود اپنے جلسہ میں جب سرکاری مجسٹریٹ اور پولیس کو دیکھتے ہیں تو ان کی تعریف کرتے کرتے ان کے ہونٹ خشک ہو جاتے ہیں۔ ہم عدمِ تعاون کو خلافِ اسلام خیال کرتے ہیں اس لئے ہم پولیس وغیرہ سے اگر مدد لیں تو ہمارے مذہب کی رُو سے نا جائز نہیں۔ مگر یہ جو عدمِ تعاون کے قائل ہیں ان کا تو فرض تھا کہ مجسٹریٹ اور پولیس کو اپنے جلسہ میں قدم نہ رکھنے دیتے اور کہتے کہ جائیے ہم اپنا انتظام آپ کرینگے۔ یوں تو عدمِ تعاون پر یہ زور اور جلسہ میں ان کی تعریف اور خوشامد کی جائے ۔ حالانکہ ان سے تعاون ان کی شریعت کی رُو سے حرام ہے۔ پس مجسٹریٹ اور پولیس کا ان کے جلسہ میں ہونا ان کے لئے کلنک کا ٹیکا تھا تو وہ جن بد ارادوں کے ساتھ آئے تھے ان میں سخت محرومی کے ساتھ وہ یہاں سے واپس ہوئے اور یہ خدا کا عین فضل اور کرم ہے۔

ظالم گورنمنٹ کے مقابلہ میں ہمارا رویہ

ہم بغاوت کے لئے نہ کبھی تیار تھے نہ ہیں نہ ہونگے۔ اگر ہمارے نزدیک گورنمنٹ ایسی ظالمانہ ہو جائیگی جس کا ظلم ناقابلِ برداشت ہو گا تو ہم اس کا ملک چھوڑ دینگے۔

کیا ہم گورنمنٹ کے خوشامدی ہیں

ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم اس گورنمنٹ کے خوشامدی ہیں۔ مگر حیرت ہے کہ وہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ اس گورنمنٹ سے ہمیں کونسا زائد فائدہ ملتا ہے۔ جتنا کہ باوجود مخالفت کے مسٹر گاندھی اور مسٹر محمد علی و شوکت علی اُٹھا رہے ہیں۔ گورنمنٹ سے جو ایک ایکسٹریمسٹ فائدہ اُٹھا رہا ہے وہی میں بھی لے رہا ہوں اس لئے میں کیوں خوشامد کرتا۔ بلکہ اگر دیکھا جائے تو میں بعض اوقات نقصان اٹھاتا ہوں اور مسٹر محمد علی و شوکت علی نہیں اُٹھاتے۔ اس لئے کہ گورنمنٹ میرے متعلق خیال کرتی ہے کہ اس کے ساتھ تھوڑے سے آدمی ہیں اور محمد علی اور شوکت علی کے ساتھ زیادہ ہیں۔ وہ ان سے ڈرجاتی ہے لیکن ہمارے حقوق کو بعض اوقات پامال کر دیتی ہے۔ پس ہمیں کوئی زائد فائدہ نہیں مل رہا جس کے لئے ہم خوشامد کریں۔ ہمیں گورنمنٹ کے حکام سے بھی بعض اوقات نقصان اُٹھانا پڑتا ہے کیونکہ وہ لوگ آخر ہندو یا مسلمان ہی ہوتے ہیں اور چونکہ ہمارے خیالات ان کو نئے معلوم ہوتے ہیں طبعاً وہ ان سے نفرت کرتے ہیں ۔

پس ہم جو گورنمنٹ کی تائید کرتے ہیں اُس میں ہمارا کوئی خاص نفع نہیں بلکہ ہمیں خواہ اس سے نقصان پہنچے ہم اس کی تائید کرینگے کیونکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ ہم جس گورنمنٹ کے ماتحت ہوں اس کی اطاعت کریں۔ اگر وہ ظلم کرے تو ہم اس کے ملک میں رہ کر اس کے خلاف کچھ نہیں کرینگے بلکہ اس کے ظلم سے نکل جائیں گے اور اس کا ملک چھوڑ دینگے ۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ احمدی کچھ دنوں بعد دیکھیں گے کہ گورنمنٹ ان سے کیسی غداری کرتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جب ہماری وفاداری کی بنیاد گورنمنٹ سے اُمید پر ہے ہی نہیں تو گورنمنٹ ہم سے کیا غداری کریگی۔ اب وہ ہمیں کیا زائد نفع پہنچاتی ہے جو آئندہ پہنچائے گی۔

اگر ذاتی طور پر دیکھا جائے تو بھی معلوم ہو گا کہ ہمارے خاندان کو گورنمنٹ سے خاص فائدہ نہیں پہنچا بلکہ نقصان پہنچا ہے۔ ہمارا خاندان اس علاقہ کا حاکم اور مالک تھا۔ یہ علاقہ ہم سے جاتا رہا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب جن کو جابر بادشاہ کہا جاتا ہے انھوں نے ہمارا کچھ علاقہ واپس کر دیا تھا اور ہماری ملکیت کو تسلیم کیا تھا۔ جب انگریزی راج آیا تو انگریزی عدالتوں نے ہمارا باقی علاقہ تو کیا واپس کرنا تھا یہ فیصلہ کر دیا کہ ان کا کوئی حق نہیں اس طرح وہ علاقہ بھی جاتا رہا۔ مگر پنجاب چیفس کی رپورٹ میں تسلیم کیا گیا کہ واقعی وہ علاقہ ان کا ہے۔

غلطیاں ہر گورنمنٹ سے ہوتی ہیں

ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ گورنمنٹ قوانین کے ماتحت چلتی ہے اور اپنی طرف سے قانون کی رعایت رکھتی ہے اور یہ ایک بہت بڑی خوبی ہے۔ اس سے غلطیاں ہوتی ہیں اور ہونی چاہئیں۔ کیونکہ یہ انسانی حکومت ہے اگر اسلامی حکومت ہو تو اس سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔

ہم موجودہ صورت میں عدم تعاون کو غلط سمجھتے ہیں

اس لئے ہم مذہبًا عدم تعاون کے طریق پر کاربند نہیں ہو سکتے لیکن یہ لوگ ہم سے زیادہ مجرم ہیں کہ باوجود یہ طریق اختیار کرنے کے پھر تعاون کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں کالج چھوڑے مدرسے چھوڑے اور ہمارے لڑکوں کو مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور ہماری لاہور کی جماعت کے پریذیڈنٹ کو خط لکھا گیا کہ یا تو آپ کے طلباء کالج میں نہ جاویں ورنہ ہم ان کو مارینگے لیکن ہمارے طلباء چونکہ اس مسئلہ کو غلط جانتے ہیں اس لئے وہ ان کے ساتھ اس غلطی میں نہ شامل ہو سکتے تھے نہ ہوئے ۔ اگر چہ ان میں سے بعض کے ساتھ بہت بُرا سلوک بھی کیا گیا ۔ مگر چند روز کے بعد وہ جوش ٹھنڈے ہو گئے اور وہی جو دوسروں کو مار مار کر مجبور کرتے تھے کہ کالج چھوڑیں خود واپس آگئے اور پھر شرمندگی کے ساتھ دعویٰ بھی کرنے لگے کہ ہم نے کچھ کیا تو سہی۔ حالانکہ جو کچھ انھوں نے کیا یہ ایسا تھا کہ اگر نہ کرتے تو بہت اچھا تھا۔ انھوں نے جو کارروائی کی اس سے اپنے لیڈروں کو ذلت پہنچائی اور اس تحریک کو بے وزن کر دیا۔

ہمارا اور ان کا نقطئہ نگاہ

اصل بات یہ ہے کہ ہمارا نقطۂ نگاہ ان کے نقطۂ نگاہ سے اعلیٰ ہے ہمارا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ دین پھیل جائے اور ان کا محض یہ خیال ہے کہ دنیا ان کو مل جائے ۔ ہمیں اسلام تباہ ہوتا ہوا نظر آرہا تھا اور یہ اس کی طرف سے غافل ہیں ۔ ابھی بیں سال بھی نہیں گذرے کہ ہمارے ملک کے مسلمانوں میں یہ خیالات پھیلے ہوئے تھے کہ خلیفۃ المسلمین سلطان ترکی کی فوج ۱/۲ ۲ کروڑ ہے اور تمام یورپ کی حکومتوں کے سفیر جب سلطان کی سواری نکلتی ہے رکابیں تھام تھام کر ساتھ چلتے ہیں۔ اگرچہ جتنی وہ فوج بتلاتے تھے اتنی اس کے ملک کی آبادی ہی ہو گی۔ یہ لوگ اس قسم کی شان وشوکت کے خیالات میں مست تھے اور ادھر اور اقوام تو الگ رہیں سید زادے جن کی تمام تر عزت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل تھی اسلام کو چھوڑ چھوڑ کر عیسائیت کا جامہ پہن رہے تھے اور سٹیجوں پر کھڑے ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گندی سے گندی گالیاں دیتے تھے اور صرف ہندوستان میں مسلمانوں میں سے قریباً پانچ لاکھ کے قریب لوگ عیسائی ہو چکے تھے۔ اس حالت کو دیکھ کر آج سے چالیس برس پہلے ایک خدا کے مرد نے کھڑے ہو کر آواز دی اور کہا کہ مسلمانو! ہوشیار ہو جاؤ ۔ اب بھی وقت ہے کہ تم غفلت چھوڑ دو اور اسلام کی حفاظت کی فکر کرو۔ مگر مسلمانوں نے اس آواز کو حقیر سمجھا۔ انھوں نے کہا کہ اسلام تو عین عروج پر ہے۔ ہمیں سلطنت کی ضرورت ہے اس کیلئے کوشش کرنی چاہئے ۔ ہمیں مذہب کی فکر ہے اور ان کو محض سلطنت کی۔ لیکن ان کا خیال تو جب اور جس طرح پورا ہوگا، اسی سے ظاہر ہے کہ جو کچھ ان کے پاس تھا اسے بھی کھو رہے ہیں اور ہم اپنے ارادے میں کامیاب ہو رہے ہیں کیونکہ ہمارا یقین ہے اور سچا یقین ہے کہ جب یورپ مسلمان ہوگا تو اس کی حکومتیں بھی مسلمان ہونگی۔ ہم گویا ایک پتھر سے دو شکار کر رہے ہیں اور یہ اپنے ایک پتھر کو یونہی ہوا میں اُچھال رہے ہیں۔ پس ہمارا اصل مدعا حکومت نہیں مذہب ہے اور ان کو مذہب سے واسطہ نہیں حکومت چاہتے ہیں۔ مگر ہم اپنے کام کے ثمر دیکھ رہے ہیں کہ وہ یورپ جو اسلام کا دشمن کہا جاتا ہے اور ہے اس میں ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو رات کو نہیں سوتے جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیج لیں۔

حکومت اعلیٰ اخلاق سے ملتی ہے

پس ہم کہتے ہیں کہ جو اعلیٰ مقصد ہے اس پر چلو۔ مگر یہ ہمیں ادنیٰ مقصد کی طرف کھینچ رہے ہیں۔ حکومت قابلیت اور اخلاق سے آتی ہے اور ان کے پاس نہ قابلیت ہے نہ اخلاق ہیں۔ پھر محض شور سے کیا بن سکتا ہے اگر ان کا مذہب درست ہو جائے تو ان کی سب باتیں درست ہو سکتی ہیں۔ ورنہ بغیر اخلاق کی درستی کے کچھ نہیں ہو سکتا۔

ہندو مسلم اتحاد کی حقیقت

یہ لوگ ہندو مسلم اتحاد کو لئے پھرتے ہیں مگر ان کے دل ایک دوسرے کے بغض سے بھرے ہوئے ہیں۔ وہ ظاہر میں اتفاق و اتحاد کے گیت گاتے ہیں مگر باطن میں ایک دوسرے کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کے درپے ہو رہے ہیں۔ ہم سے بعض مسلمانوں نے جو بڑے اتحاد کے حامی ہیں کہا کہ یہ پالیسی ہے جب انگریز نکل گئے تو ہم کابل کی مدد سے ہندوؤں کو اپنے ماتحت کر لیں گے۔ اسی طرح چونکہ ہندو ہمیں ان سے الگ سمجھتے ہیں اس لئے بعض خیالات ہم پر ظاہر کر دیتے ہیں۔ ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم ۲۲ کروڑ ہیں انگریز جائیں پھر ہم ان مسلمانوں کو قابو کر لیں گے۔ پس جو صلح کرتے ہیں اور اس نیت سے کرتے ہیں جو محبت کا ہاتھ بڑھاتے ہیں اور ان کے دل میں اسقدر کپٹ ہے وہ کب اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

تمام دُنیا سے صلح کرو

لیکن ہم کہتے ہیں کہ اگر یہ صلح ہو بھی جائے تو بھی اس صلح کے باوجود پھر جنگ ہی رہی کیونکہ آپس میں تو صلح کرنا چاہتے ہیں مگر انگریزوں سے جنگ کرتے ہیں۔ مگر جب تک دُنیا میں یہ صورت رہیگی کہ ایک قوم دوسری سے صلح اس لئے کریگی کہ تیسری سے جنگ رکھے اس وقت تک کبھی امن نہ ہو گا جرمن و فرانس کی جنگ اسی لئے ہوئی ۔ جب ایک طرف دھڑا بندی ہوئی تو دوسری طرف بھی ایسا ہی ہوا۔ یہ طریق امن کے بحال کرنے کا غلط ہے۔ ہم لوگ ساری دنیا سے صلح کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ایک کو پامال کرنے کے لئے دوسرے سے صلح نہیں کر سکتے۔ بلکہ ہم سب سے صلح کے خواہاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ ہندو مسلم اتحاد ہی کی ضرورت نہیں بلکہ ساری دنیا سے اتحاد اور صلح کرو تب کامیابی ہوگی۔

پنجاب کے ایک مشہور پیر صاحب کا بے اصولاپن

یہ ان لوگوں کا بے اصولا پن ہے کہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ یہ حالت انکی سیاسی طور پر ہی نہیں مذہبی طور پر بھی ہے۔ پنجاب کے ایک مشہور پیر صاحب ہیں۔ ایک مقام پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا لیکچر تھا۔ انھوں نے احمدیوں سے کلام کرنے والے اور جو ان کے لیکچر میں جائے اس کے نکاح کے ٹوٹنے کا فتویٰ دیدیا تھا۔ با وجود اس کے بہت سے لوگ لیکچر میں آئے اور کہا کہ نکاح تو سوار روپیہ میں پڑھا جاتا ہے یہ موقع تو پھر شاید ملے یا نہ ملے ۔غرض ان پیر صاحب کا یہ فتویٰ تھا مگر اس فتویٰ کے خلاف خود ان کی حالت یہ تھی کہ حضرت خلیفہ اول کے وقت میں مجھ کو کسی کام کے لئے لاہور جانے کا اتفاق ہوا۔ میں جب واپس آ رہا تھا تو لاہور کے اسٹیشن پر میرے ساتھ میاں محمد شریف صاحب بھی تھے جو آجکل امرتسر میں ای۔ اے۔ سی ہیں اور اور دوست بھی تھے ۔ جب ہم گاڑی کے قریب آئے تو ایک گاڑی میں سر پر سبز کپڑا ڈالے وہ پیر صاحب بیٹھے تھے اور کھڑکی کے پاس کچھ لوگ جمع تھے۔ میاں محمد شریف صاحب نے مجھے کہا کہ میرے خیال میں یہ فلاں پیر صاحب ہیں۔ اگر چہ میں نے ان کو کبھی دیکھا تو نہیں مگر قرائن سے سمجھتا ہوں کہ وہی ہیں۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ چونکہ ہمارے بہت عنید ہیں اس لئے بہتر ہو کہ آپ دوسرے کمرے میں بیٹھ جائیں۔ مجھے ان کی یہ بات پسند نہ آئی۔ مگر تاہم انہوں نے اور کمرہ دیکھا اور چونکہ اور کوئی کمرہ اس درجہ کا نہ تھا اس لئے میں اسی میں بیٹھ گیا۔ گاڑی چلنے سے پیشتر لوگوں نے کہا پیر صاحب کچھ کھانا حاضر کریں۔ پیر صاحب نے کہا کہ نہیں مجھے بالکل اشتہاء نہیں، لیکن جب گاڑی چلی تو اپنے نوکر سے کہا کہ کچھ کھانے کو ہے تو مجھے دے سخت بھوک لگی ہوئی ہے۔ اس نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں۔ پیر صاحب نے کہا مجھ سے تو بھوک برداشت نہیں ہو سکتی۔ اس نے کہا کہ میانمیر تک صبر کریں وہاں کھانے کا بندوبست کر دونگا۔ پیر صاحب نے کہا کہ مجھ سے وہاں تک بھی برداشت نہیں ہو سکتی۔ میں ان کی اس بات پر حیران ہوا کہ جب اتنی بھوک تھی اور لوگ کھانا لانے کو کہہ رہے تھے تو اس میں شرم کی کونسی بات تھی۔ مگر ان کو تو کہا کہ مجھے بالکل بھوک نہیں اور گاڑی چلتے ہی بیقراری کا اظہار کرنے لگے۔ آخر اس کو کہا کہ کچھ خشک میوہ ساتھ تھا وہ ہے اس نے کہا کہ ہاں ہے۔ پیر صاحب نے کھڑکی کے راستہ میوہ کا رومال نوکر سے لے لیا اور رومال کھول کر کھانا شروع کیا۔ ساتھ ہی مجھ سے باتیں کرنے لگے کہ آپ کا اسم مبارک میں نے نام بتایا کہا کہ کدھر چلے۔ میں نے کہا قادیان۔ کہا آپ مرزا صاحب کے مُرید ہیں ۔ میں نے کہا۔ ہاں۔ کہا۔ آپ رہنے والے کہاں کے ہیں۔ میں نے بتایا کہ قادیان کا رہنے والا ہوں ۔ پوچھا کہ کیا آپ کا مرزا صاحب سے رشتہ بھی ہے۔ میں نے کہا کہ ہاں۔ پوچھا کیا؟ بتایا کہ اُن کا بیٹا ہوں ۔ پیر صاحب نے کہا اچھا آپ ان کے بیٹے ہیں۔ مجھے تو آپ سے ملنے کا بہت ہی اشتیاق تھا۔ یہ کہہ کر اپنی جگہ سے اُٹھ کر میرے سامنے آبیٹھے اور میوہ کا رومال میرے سامنے رکھ دیا کہ آپ بھی کھائیں ۔ اگرچہ غیرت بھی تقاضا نہیں کرتی تھی لیکن مجھے زکام تھا۔ اس لئے میں نے کہا مجھے زکام ہے میں یہ نہیں کھاؤں گا کیونکہ اس میں ترش میوہ تھا۔ پیر صاحب نے کہا کہ یہ سب ڈھکوسلے ہیں جو کرتا ہے خدا کرتا ہے۔ آپ کھائیں تو سہی۔ میں نے کہا کہ او ہو پیر صاحب آپ سے بڑی غلطی ہوئی کہنے لگے کیا؟ میں نے کہا یہ بات آپ کو لاہور کے اسٹیشن پر بتانی چاہئے تھی۔ آپ بھی نہ ٹکٹ لیتے اور میں بھی نہ لیتا۔ مجھے خدا نے قادیان پہنچانا ہوتا تو پہنچا دیتا اور آپ کو امرتسر۔ کم از کم پیسے تو بچتے ۔ کہنے لگے آخر یہ تو اسباب کی رعایت ہے۔ میں نے کہا اسی طرح یہ بھی رعایت اسباب ہے۔ تب پیر صاحب بولے کہ ہاں یہی میرا مطلب تھا۔ مگر کھانے کے لئے پھر اصرار کرتے رہے آخر انھوں نے کہا کہ ان خشک انجیروں کا تو کچھ حرج نہیں۔ آخر میں نے بھی اس خیال سے کہ پیر صاحب کی مجھ سے باتیں کرنے کی علامت میرے پاس رہے انہوں نے جو دو انجیر دیئے تھے وہ میں نے جیب میں ڈال لئے۔ جو ایک احمدی نے مجھ سے لے لئے کہ پیر صاحب کو یہ بات یاد دلائیں لیکن میں حیران تھا کہ آخر پیر صاحب میں یہ اتنا تغیر کیسے آگیا اور نکاح کے ٹوٹنے کے فتوے جو انہوں نے دیئے ہوئے ہیں وہ ان کو فراموش کیوں ہو گئے۔ اتنے میں پیر صاحب کہنے لگے کہ ایک دین کے معاملہ میں آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا فرمائیے۔ کہا کہ ایک احمدی اور ایک شخص کا مقدمہ ہے آپ احمدی کو لکھیں کہ وہ آپس میں صلح کر لیں۔ کیونکہ عدالت میں فریقین کو جھوٹ بولنا پڑیگا۔ میں نے کہا کہ احمدی اگر واقعی احمدی ہے تو وہ جھوٹ بولے گا نہیں۔ باقی رہا میرا اس کو خط لکھنا۔ سو جب تک مجھے خود معلوم نہ ہو کہ واقعات کیا ہیں میں خط کیسے لکھ سکتا ہوں۔ انھوں نے بڑا زور دیا کہ آپ لکھ دیں۔ میں نے کہا کہ جب تک میں جاکر حالات معلوم نہ کروں اس وقت تک میں خط لکھنے کا وعدہ نہیں کر سکتا، لیکن جب میں یہاں آیا اور معلوم کیا تو معلوم ہوا کہ دوسرا فریق مقدمہ پیر صاحب ہی تھے۔

غرض ان لوگوں کا یہ بے اصولاپن ہے کہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں اور ان کے اعمال میں کوئی ترتیب نہیں۔ ایسی صورت میں ہم کب ان سے اشتراک کر سکتے ہیں۔ یہ بے اصولاپن تو انہی کو مبارک رہے۔

ہمارے ساتھ غیر احمدیوں کی بدسلوکیاں

لوگ کہتے ہیں کہ انگریز ظلم کرتے ہیں ہم انگریزوں کی غلطی کو صحیح نہیں کہہ سکتے۔ اگر انگریز کوئی غلطی کرتے ہیں تو ہم ان کو بتاتے ہیں۔ ہم ان کے مذہب پر اصولی طور پر اعتراض کرتے ہیں اور ہم نے اس بارے میں اصولاً سخت سے سخت ان کو لکھا۔ لیکن باوجو د حکومت کے کبھی انھوں نے جوش نہیں دکھایا۔ مگر ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ ان کے پاس کوئی حکومت نہیں۔ انھوں نے بارہا اور مختلف مقامات پر ہم پر سختی اور ظلم کیا ہے ایسی صورت میں ہم تو یہی کہیں گے کہ خدا گنجے کو ناخن نہ دے۔ انھوں نے قادیان میں ہمارے ساتھ کیا کیا۔ احمدیوں کے گھروں میں پانی دینے سے سقے بند کر دیئے۔ کنووں پر پہرے بٹھا دیئے اور بچوں کو پانی سے پیاسا تڑپا دیا اور وہ کربلا کا واقعہ جس پر مسلمان ہر سال روتے ہیں۔ ہمارے لئے قصور میں انھوں نے تازہ کر دیا۔ اور کئی کئی دن تک ہمارے آدمیوں کو پانی نہ دیا۔ کیا یہ ظلم نہیں۔ پھر کٹک میں ایک احمدی کی لاش کو انہی غیر احمدی لوگوں نے قبر سے نکال کر کتوں کے آگے ڈال دیا اور احمدیوں کے دروازوں کے سامنے کھڑے ہو گئے کہ کوئی نکلے تو سہی کس طرح نکلتا ہے اور لاش کو دفن کرتا ہے۔ قریب تھا کہ کتے لاش کو پھاڑ ڈالیں کہ پولیس کو کسی بھلے مانس نے اطلاع دی اور پولیس نے آکر دفن کرائی۔ مقدمہ ہوا کسی شخص نے گواہی نہ دی اور صاف کہہ دیا کہ ہم موجود نہ تھے اسی طرح کی کارروائیاں مختلف مقامات پر ہوتی رہتی ہیں۔ پس اس صورت میں ہم ان سے کسی انسانیت کے سلوک کی کس طرح توقع کر سکتے ہیں۔

کوئی نبی اور کوئی بات نہیں جس پر اعتراض نہ کیا گیا ہو

دوسرا اختلاف ان کو ہم سے حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق ہے یہ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے ہمارا مذہب برباد کر دیا۔ نبیوں کی ہتک کی اور کہتے ہیں ان پر بہت سے اعتراض ہیں۔ پچھلے سال میرا لیکچر اسلامیہ کالج میں ہوا کہ اسلام میں فتنوں کا آغاز کیسے ہوا۔ اسی مضمون پر علی التواتر دو سال میری وہاں تقریریں ہوئیں۔ پہلے حضرت عثمانؓ کے عہد کے واقعات پر اور دوسرے سال حضرت علیؓ کے واقعات پر جب پچھلے سال میں تقریر کے لئے کھڑا ہوا تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا کہ اور باتیں تو بعد میں ہونگی میرے ساتھ پہلے اس مسئلہ کا تصفیہ کر لو کہ زمین چلتی ہے یا سُورج۔ یہ ایک طے شدہ اور صاف مسئلہ ہے لیکن دُنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے نزدیک ابھی تک یہ بھی حل شدہ نہیں ۔ پس دُنیا میں کوئی مسئلہ اور کوئی شخص ایسا نہیں جس پر اعتراض نہ ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب پر فلاں اعتراض پڑتا ہے فلاں اعتراض پڑتا ہے مگر میں ان کو کہتا ہوں کہ وہ دُنیا میں ایک تو ایسا شخص پیش کریں جس پر کوئی اعتراض نہ ہو پس محض اعتراضات پر کسی مسئلہ کی تحقیق کی بنیاد رکھنا جہالت ہے۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض نہیں کئے گئے ۔ کیا عیسائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض نہیں کرتے۔ کیا یہود کو حضرت مسیح پر اعتراض نہیں تھے اور نہیں ہیں ۔ کیا بنی اسرائیل کے اعتراضات داؤد اور سلیمانؑ پر نہیں ہیں۔ پھر کیا ہندوستان کے مقدسوں رامچندر جی اور کرشن جی پر اعتراضوں کی کمی ہے۔ کیا فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰؑ پر اعتراض نہ کئے تھے۔ کیا ایران کے بزرگ زرتشت پر اعتراض نہیں کئے گئے اور کیا کسی قوم میں کوئی شخص ایسا گزرا ہے جس پر کوئی اعتراض نہ ہوا ہو۔

پس محض اعتراضوں سے کام نہیں چل سکتا۔ اگر اعتراض سے کوئی مسئلہ حل ہو سکے تو ان کو ماننا پڑیگا کہ دنیا میں جس قدر راست بازوں کو مانا جاتا ہے غلطی ہے۔ کیونکہ اعتراض ان پر بھی ہیں اس لئے ان کو بھی چھوڑ دینا چاہئے ۔ غرض دنیا میں کوئی مسئلہ نہیں جو ایسے یقینی دلائل سے ثابت ہو کہ اس پر کوئی اعتراض پڑ ہی نہ سکتا ہو۔ زمیندار تک جانتے ہیں کہ سیدھی لکیر ہوتی ہے۔ لیکن یورپ میں ایک گروہ سائنسدانوں کا پیدا ہوا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ جس کو ہم سیدھی لکیر کہتے تھے وہ ہماری غلطی تھی پس دُنیا میں کوئی شخص اور کوئی چیز اعتراض سے خالی اور بچی ہوئی نہیں۔ اس لئے محض اعتراضوں پر زور دینا بے ہودگی ہے۔

مخالفین صداقت معلوم کرنے کے ذرائع نہیں جانتے

غیر احمدیوں کے جلسہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کنویں کا مینڈک

کہا گیا لیکن ان کو خود معلوم نہیں کہ وہ جہاں ہیں دُنیا وہاں سے بہت آگے نکلی ہوئی ہے وہ اپنا سرمایہ علم ان چند فرسودہ کتابوں کو سمجھتے ہیں جن کی سائنس کے مقابلہ میں کچھ بھی حقیقت نہیں۔ ان کو معلوم ہی نہیں کہ انسان کا دماغ کہاں سے کہاں تک پہنچ چکا ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ تمدن اب کہاں تک جا چکا ہے۔ وہ اپنے اسی پرانے رطب ویابس کے ذخیرے پر خوش ہیں اور اسی کی بناء پر دُنیا کو کافر و فاسق و فاجر بنا کر خوش ہو لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلام مٹ رہا ہے لیکن اگر ان کا اسلام نہ مٹے جس کے ایسے تنگ دل محافظ ہوں تو کیا ہو۔ پس وہ اس پر خوش ہیں کہ ہم نے کسی پر اعتراض کر دیا اور سننے والے خوش ہو گئے۔ ان کو معلوم ہی نہیں کہ تحقیق و تنقید کے اب کیسے کیسے ذرائع معلوم ہوئے ہیں جن کے مقابلہ میں یہ لوگ دم نہیں مار سکتے۔ وہ جانتے ہی نہیں کہ واقعات کی رُو کدھر چل رہی ہے اور ان کو معلوم ہی نہیں کہ کسی چیز کی صداقت معلوم کرنے کے کیا ذرائع ہوا کرتے ہیں۔ ان کو معلوم ہی نہیں کہ اعتراض تو ہر چیز پر ہوتے ہیں۔ مگر موازنہ کیا جاتا ہے کہ اعتراض کثیر ہیں اور معقول ہیں یا نہیں اور اُصول کے مطابق خوبیاں زیادہ ہیں یا نہیں۔ جدھر کثرت ہوتی ہے اس کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ ہنسی کرتے ہیں مگر یہ ان کی جہالت کی بات ہے۔ گورنمنٹ نے زراعت کا محکمہ بنایا ہے اس کی طرف سے بارش کے متعلق اطلاع شائع ہوتی ہے۔ اس میں غلطیاں بھی ہوتی ہیں اس لئے اور تو اور بعض کونسل کے ممبر تک اعتراض کر دیتے ہیں کہ یہ محکمہ اُڑا دیا جائے۔ مگر ان کو معلوم نہیں کہ یورپ امریکہ میں یہ محکمہ بہت مفید کام کر رہا ہے اور ہندوستان میں بھی اس سے بہت فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔ پس یہ لوگ محدود علم کے مالک ہیں اس لئے خوش ہوتے ہیں ہنسی اُڑاتے ہیں اور اعتراض کرتے ہیں۔

ہر نبی پر ہنسی اُڑائی گئی

مگر قرآن کریم افسوس کے ساتھ اعلان کرتا ہے۔ یٰحَسۡرَۃً عَلَی الۡعِبَادِ ۚؑ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ(یٰس: ۳۱)۔ اے افسوس بندوں پر خدا کی طرف سے ایک بھی نبی نہیں آیا جس پر لوگوں نے ہنسی نہ اڑائی ہو۔ اب یہ لوگ خوش ہوتے ہیں کہ مرزا صاحب پر اعتراض ہو گیا۔ لیکن وہ بتائیں کہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض نہیں ہوئے۔ حضرت عیسیٰ پر سخت سے سخت اعتراض نہیں ہوئے۔ حضرت موسیٰ پر اور دیگر انبیاء پر اعتراض نہیں ہوئے۔ پس جب تک اُصولی طور پر کسی صداقت کا فیصلہ نہ کیا جائے اس کی صداقت کبھی ثابت نہیں ہو سکتی۔

مسلمانوں کی موجودہ حالت

اصل سوال تو یہ ہے کہ اب کسی موعود کے آنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ دُنیا خراب ہو چکی ہے مسلمانوں کی حالت سخت درجہ بگڑ چکی ہے یا نہیں۔ اگر دنیا کی حالت بھی خراب ہے اور اگر مسلمانوں کی حالت بھی بگڑی ہوئی ہے تو کیا اب بھی کسی مصلح کی ضرورت نہیں۔ کیا جیل خانوں میں مسلمانوں کی کثرت نہیں۔ کیا لاکھوں نہیں کروڑوں مسلمان شراب سے بدمست نہیں ہوتے۔ کیا بداخلاقی میں تمام اقوام سے مسلمان بڑھتے نہیں جا رہے۔

ایک لطیفہ ہے کہ ایک جگہ کوئی اندھی عورت بیٹھی تھی۔ سردی کا موسم تھا اس پر جو چادر تھی وہ کسی شخص نے اُتار لی۔ عورت نے کہا بچہ حاجی میری چادر دیدے۔ اُس نے چادر تو دیدی مگر پوچھا کہ مائی تُو یہ بتا کہ تجھے یہ معلوم کیسے ہوا کہ میں حاجی ہوں۔ عورت نے کہا کہ مجھے نظر تو آتا نہیں کہ میں نے تجھے دیکھ کر کسی علامت سے پہچان لیا ہو ہاں میں یہ جانتی ہوں کہ ایسے سختی کے کام تو حاجی ہی کیا کرتے ہیں۔

میں نے خود حج کے ایام میں دیکھا کہ ۹۹ فیصدی حاجی اس قسم کے ہوتے ہیں جو حج کی اصل غرض سے محض ناواقف ہوتے ہیں۔ ایک ہندوستانی کو میں نے دیکھا کہ عرفات کو جاتے ہوئے جبکہ لوگ نعرے لگا رہے تھے۔ اَللّٰھُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ۔ اس وقت وہ اُردو کے عاشقانہ شعر پڑھ رہا تھا۔

میں پوچھتا ہوں کیا مسلمانوں کی یہ حالت کسی مصلح کے آنے کی متقاضی نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا رحیم کریم انسان جو کسی کے کانٹا چبھنا بھی گوارا نہیں کرتا فرماتا ہے جو لوگ عشاء اور صبح کی نماز کے لئے مسجد میں حاضر نہیں ہوتے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں کسی کے سر پر لکڑی اُٹھوا کر لے جاؤں اور ان کے گھروں کو آگ لگا کر ان کو جلا دوں۔ (مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحہ ۴۳۵)

دیکھو اس وقت کے منافقوں کی یہ حالت تھی کہ وہ نماز تو پڑھتے تھے مگر ان میں اتنی سستی تھی کہ وہ عشاء اور صبح کی نماز کے وقت مسجد میں حاضر نہیں ہو سکتے تھے۔ مگر اس زمانہ کے مومن کہلانے والوں میں کتنے ہیں جو پانچوں نمازوں میں سے ایک بھی مسجد میں نہ سہی گھر پر پڑھتے ہوں۔ پھر کیا یہ لوگ اسلام پر فخر کر سکتے ہیں یا یہ لوگ اسلام کو اپنے افعال سے ذلیل کرتے ہیں اور مؤمن کہلا کر اسلام کے لئے عار ہیں۔ کونسی بدی اور بدکاری ہے اور کونسی بداخلاقی ہے جس میں یہ مبتلاء نہیں۔ رشوتیں یہ لیتے ہیں ۔ جھوٹ یہ بولتے ہیں۔ سرحدی مسلمان سرحدی ہندوؤں کو لوٹتے ہیں۔ ایک دوست نے لطیفہ سنایا کہ ایک غیر احمدی شخص ان کو ایک غیر احمدی مولوی کے پاس لے گیا اور کہا مولوی صاحب مجھے ایک ملازمت ملتی ہے جس میں بیس روپیہ تنخواہ ہے مگر میرا خاندان بہت زیادہ ہے اس میں میرا گذارہ نہیں ہو سکتا۔ ہاں تنخواہ کے علاوہ اُوپر کی آمدنی ننانوے روپیہ ہے کیا میں یہ ملازمت اختیار کر لوں کوئی گناہ تو نہیں اور ساتھ ہی ایک روپیہ نذر کا پیش کیا۔ مولوی صاحب نے روپیہ لیکر جواب دیا کہ کیا حرج ہے کر لو معقول آمد ہے۔ نکاح پر نکاح پڑھنے کا پنجاب میں عام طور پر رواج ہے۔ ایک مولوی سے ہمارے حضرت خلیفۃ المسیح نے پوچھا کہ تم نے یہ نکاح کیوں پڑھا؟ اس نے کہا کہ مولوی صاحب سُن تو لیجئے میں نے کس طرح نکاح پڑھا ہے مجھ پر بڑا ظلم ہوا حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرماتے تھے کہ مجھے رحم آگیا کہ کسی مجبوری سے ہی اس نے کیا ہوگا۔ پوچھا کیا ہوا تھا اُس نے جواب دیا۔ ان لوگوں نے پڑی کے برابر روپیہ میرے سامنے رکھ دیا۔ پھر میں نکاح نہ پڑھتا تو کیا کرتا۔ کیا یہی علماء ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نبی کے ورثاء ہیں۔

مصر کے ایک جوئے باز شیخ الاسلام

یہ تو ہمارے ملک کی حالت ہے مصر میں مَیں نے دیکھا کہ پورٹ سعید کے شیخ الاسلام (مفتی) کی ڈاڑھی مُنڈی ہوئی تھی اور علی الاعلان برسرِ بازار جُوا کھیل رہا تھا۔ عمان کا ایک عالم جو مجھے مل چکا تھا اور مجھ سے واقف ہو گیا تھا کہ مَیں ایک مذہبی آدمی ہوں وہ بھی اس کے ساتھ جُوا کھیل رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر اُس نے بہت ٹالنا چاہا مگر وہ مفتی صاحب جب نہ ٹلے تو آخر اس نے صاف کہا کہ مَیں اب نہیں کھیلوں گا۔ اگر کوئی مخفی غلطی اور کمزوری اور گناہ ہو تو اسے بشری کمزوری پر محمول کریں۔ مگر علی الاعلان اس طرح شریعت کی ہتک کرنی کیا اس امر پر دلالت نہیں کرتا کہ ان کے دلوں میں اسلام کی محبت ہی نہیں رہی۔ کیا دیکھتے نہیں کہ کس طرح علی الاعلان سود لیا جاتا ہے اور علماء دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں کہتے۔

کیا کسی مصلح کی ضرورت نہیں

پس ایسے خطرناک زمانہ میں جبکہ علماء اور عوام غرباء اور امراء سب بگڑے ہوئے ہیں۔ کیا کسی مصلح کی ضرورت نہیں ہمارے لئے اس وقت دو ہی سوال ہیں۔ اول یہ کہ کیا اسلام کی موجودہ حالت کسی مصلح کی محتاج ہے یا نہیں۔ دوسرے اگر محتاج ہے تو وہ مصلح کہاں ہے۔ محض اعتراض کر کے بیٹھ رہنے سے آج کام نہیں چل سکتا۔

خدا کی نصرت مسلمان کہلانیوالوں کے ساتھ نہیں

ہم اس زمانہ میں دیکھتے ہیں کہ مسلمان کہلانے والے خدا کے پیارے نہیں رہے کیونکہ خدا تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ(الرعد: ۱۲) کہ خدا تعالیٰ کسی قوم سے اپنی نعمتوں کو واپس نہیں لیا کرتا جب تک کہ وہ قوم ناشکری کر کے اس نعمت کو رَد نہ کرے۔ اب اس وقت کے مسلمانوں کی حالت کو دیکھو کہ کیا وہ خدا کی نعمتیں پا رہے ہیں یا زحمتوں میں مبتلاء ہیں۔ کیا مسلمانوں کو نصرت الٰہی مل رہی ہے یا اُن پر خدا کا غضب ٹوٹ رہا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک وہ وقت تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی مردم شماری کا حکم فرمایا تھا اور کل سات سو مسلمان نکلے تھے۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ نے دریافت کیا تھا کہ یا رسول اللہ

کیا آپ کو خیال ہے کہ اب بھی جبکہ ہم سات سو تک پہنچ گئے ہیں دشمن کے حملوں سے ہلاک ہو جائیں گے لیکن آج دیکھ لو کہ سات کروڑ آدمی صرف ہندوستان میں ہے، لیکن ان کے دل اسقدر ہل رہے ہیں جس طرح تیز ہوا سے پتے ہلتے ہیں۔ مگر مسلمان جب سات سو تھے وہ اُٹھے اور بجلی کی طرح گوندے اور تمام دنیا پر غالب ہو گئے۔ جو فوجیں لیکر ان کے مقابلہ میں اُٹھا وہ پاش پاش ہو گیا۔

فرانس کا ایک مصنف لکھتا ہے کہ تم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اور کچھ کہو۔ مگر اس کی ایک بات ضرور حیرت میں ڈالنے والی ہے۔ ایک کچی مسجد میں چند ننگے بھوکے اس کے اردگرد بیٹھے ہیں مسجد ایسی ہے کہ اس پر چھت بھی اچھی نہیں۔ بارش ہوتی ہے تو پانی ٹپکتا ہے اور فرش پر پانی جمع ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ مشورے یہ کر رہا ہے کہ قیصر و کسریٰ کی سلطنتوں کو فتح کرینگے اور اسی کے مطابق وہ کر کے بھی دکھا دیتے ہیں۔ یہ کیا بات ہے؟

تو اگر آج مسلمان خدا کے پیارے ہیں خدا کے محبوب ہیں تو کیوں ذلیل ہیں۔ کیا خدا کے پیارے ذلیل ہوا کرتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ ان میں ان باتوں کا فقدان ہے جو خدا کا پیارا بناتی ہیں، اس لئے یہ ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں اور ان کا کوئی معاملہ ٹھیک نہیں۔ ان کے اعمال میں خلوص و درستی نہیں اور خدا تعالیٰ کا جو ان سے معاملہ ہے وہ بتا رہا ہے کہ یہ اب بگڑ چکے ہیں اور وقت ہے کہ خدا کی طرف سے کوئی مردِ خدا مبعوث ہو۔

اب سوال ہوتا ہے کہ ان کی حالت تو واقعی قابلِ اصلاح ہے وہ آدمی کہاں ہے۔ اگر خدا نے ان کے لئے کوئی چارہ کار تجویز کیا ہے تو کیا؟ اگر با وجود اسلام کی اس گری ہوئی حالت کے خدا نے ان کے لئے کوئی سامان نہیں کیا تو معلوم ہوا یہ دعویٰ درست نہیں کہ اسلام سچا مذہب ہے اور اگر اسلام سچا ہے تو ضروری ہے کہ اس وقت اسلام کے پیروؤں کی حالت کو سدھارنے کے لئے اور ان کو اسلام کی حقیقت پر قائم کرنے کے لئے کوئی شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث فرمایا جائے۔

اعتراضات کے جواب

اب میں ان مولویوں کے ان چند اعتراضات کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جو مجھ تک پہنچے ہیں اور میں مختصراً ان کے جواب اس وقت دیتا ہوں۔

نبی کی لاش کا صحیح و سلامت رہنا

پہلا اعتراض جو قادیان میں تو نہیں بیان کیا گیا۔ مگر راستہ بھر میں اس کا تذکرہ ہوتا آتا تھا یہ ہے کہ اگر مرزا صاحب سچے ہیں تو ان کی قبر (نعوذ باللہ من ذلک) کھود کر دکھائی جائے کیونکہ نبی کی علامت یہ ہے کہ اس کی لاش کو مٹی نہیں کھاتی۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا قرآن کریم میں یہ بات بیان کی گئی ہے؟ اگر نہیں تو پھر قرآن کریم کے سوا ہر ایک خبر محتاج تصدیق کی ہے۔ بڑی سے بڑی حدیث اپنی صداقت کے ثبوت کی محتاج ہے۔ پس چونکہ قبر کا کھودنا ایک ناشائستہ فعل ہے۔ اور اس وقت تک نہیں کیا جا سکتا جب تک اس کی ضرورت یقینی دلائل سے ثابت نہ ہو۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ پہلے اس بیان کی صداقت ثابت کر کے دکھاؤ۔ حدیث صحیح بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی کیونکہ حدیثیں لوگوں نے اپنے پاس سے بھی بنالی ہیں پس پہلے خدا کے فعل سے اس حدیث کی صداقت ثابت کرو۔ پھر ہم سے یہ مطالبہ کرو پہلے کم سے کم تین نبیوں کی قبریں کھود کر ہمیں دکھاؤ کہ ان کی لاشیں اب تک صحیح سلامت ہیں۔ پھر اس کے بعد ہم بھی اس معیار پر مرزا صاحب کی صداقت ثابت کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے، لیکن جب تک یہ لوگ اس حدیث کی صداقت کو عملی طور پر ثابت کر کے نہیں دکھا سکتے ، ہم سے اس قسم کا مطالبہ کرنا بے حیائی نہیں تو اور کیا ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ کی طرف جھوٹ منسوب کرنا

دوسرا اعتراض یہ ہے کہ نعوذ باللہ مرزا صاحب جھوٹ بولتے تھے ۔ لیکن ان بے خبر معترضوں کو معلوم نہیں کہ وہ حضرت مرزا صاحب کو جھوٹا کہہ کر ان کی صداقت ثابت کر رہے ہیں۔ کیونکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ ہر نبی کو جھوٹا کہا گیا۔ کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا نہیں کہا گیا ۔ کیا ان کے متعلق یہ نہیں کہا گیا کہ ان کی فلاں پیشگوئی جھوٹی نکلی اور فلاں پیشگوئی کذب ثابت ہوئی۔ پس جھوٹ سے کونسا نبی بری ہے۔ کیا ابراہیم علیہ السلام پر ان کی کتابوں میں جھوٹ کا الزام نہیں ۔ کیا ان کے نزدیک ابراہیم نے تین جھوٹ نہیں بولے۔ حدیثوں اور انکی تفسیروں میں ان کے تین جھوٹ لکھے ہیں کہتے ہیں بیوی کو بہن کہا جھوٹ بولا۔ موٹے تازے تھے کہا بیمار ہوں جھوٹ بولا۔ بتوں کو خود توڑا اور جھوٹ بولکہ دوسرے بَت پر الزام لگایا۔ صحیح احادیث میں اسبارے میں جو کچھ ہے ہم اس کی تاویل کرتے ہیں اور باقی تفسیروں کے بیان کو رَد کرتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ کیا جواب دے سکتے ہیں کیونکہ ان کتب میں جن کو یہ وحی من السماء کی طرح مانتے ہیں حضرت ابراہیم کے جھوٹ لکھے گئے ہیں۔ پس جب ایک شخص ان کے نزدیک تین جھوٹ بول کر نبی ہو سکتا ہے اور بہت بڑا نبی ہو سکتا ہے تو حضرت مرزا صاحب نے بھی اگر بفرض محال جھوٹ بولا تو اس سے وہ جھوٹے کیسے ثابت ہو سکتے ہیں۔ بلکہ وہ تو ابراہیمؑ کے مثیل ثابت ہونگے جیسا کہ ان کا دعوٰی بھی ہے۔ پس حضرت مرزا صاحب پر جھوٹ کا الزام لگانے والے ابراہیمؑ اور دیگر نبیوں کی نبوت کو پہلے رد کریں۔ ان پر جو الزام ان کی تفسیروں میں موجود ہیں اُنکو دُور کرنے کے لئے اپنی تفسیریں پھاڑ دیں پھر حضرت مرزا صاحب پر یہ اعتراض کریں۔ جب تک یہ تفسیریں اور ان کے یہ اعتقاد موجود ہیں ان کو ہرگز یہ حق نہیں کہ حضرت مرزا صاحب پر اعتراض کریں۔ ورنہ وہ جھوٹ کے الزام کے باوجود ان کے اپنے اعتقاد و مسلمات کی رُو سے نبی ہیں اور ان پر یہ کوئی اعتراض نہیں کر سکتے۔

غلطی اور جھوٹ میں فرق

دراصل یہ چھچھوری بات ہے۔ غلطی اور جھوٹ میں بہت فرق ہے۔ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو اصل بات یاد ہوتی ہے لیکن لکھتے یا بولتے وقت حوالہ دینے میں غلطی ہو جاتی ہے۔ فرض کرلو کہ اگر کوئی قرآن کریم کی ایک آیت پڑھے وہ سورۃ نساء کی ہو اور اس کی زبان سے نکل جائے یا لکھا بھی جائے کہ آل عمران میں یہ آیت ہے تو کیا اس کو کوئی عقلمند جھوٹ کہے گا۔ جھوٹ تو تب ہوتا کہ اس آیت کا قرآن کریم میں وجود ہی نہ ہوتا۔ اسی طرح حدیث کے حوالے میں اگر حضرت مسیح موعودؑ نے مسلم کی بجائے بخاری یا کسی اور کتاب کا نام لکھ دیا۔ تو اس میں کوئی جھوٹ نہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ایسی غلطی عموماً ہو جاتی ہے اور بہت دفعہ ایک حدیث کے بہت سے اجزاء ہوتے ہیں جو متفرق مقامات اور متفرق کتب میں ملتے ہیں یا ان کی شرحوں میں کوئی بات آگئی ہوتی ہے۔ لکھنے میں اصل کتاب کا یا ایک کتاب کا نام لے دیا جاتا ہے بخاری کے متعدد ابواب اس قسم کے ہیں کہ ان کے نیچے جو حدیثیں درج ہیں ان کا عنوان سے کچھ تعلق نہیں۔ شارحین اس کی تاویلیں کرتے ہیں۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ امام بخاریؒ باب کی عبارت اس حدیث کے ایسے ٹکڑوں کی بناء پر لکھ دیتے ہیں جو اس جگہ انھوں نے درج نہیں کئے ہوتے۔ اسی طرح اگر حضرت مرزا صاحب سے کسی صحیح حدیث کو لکھ کر اصل کتاب کی بجائے کسی دوسری کتاب کا نام لکھا گیا تو ان پر جھوٹ کا الزام بد دیانتی اور بیہودگی ہے۔ چلو ہم اس کو سنتِ بخاری کہہ دینگے پھر وہ کیا اعتراض کریں گے۔

حضرت مسیح موعودؑ پر نبیوں کی ہتک کا جھوٹا الزام

پھر کہتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے نبیوں کی ہتک کی اور حضرت عیسیٰؑ کو گالیاں دیں۔ لیکن اس سے زیادہ ان کی کیا کم فہمی ہو سکتی ہے کہ حضرت اقدسؑ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دینے کا الزام لگایا جائے۔ کیا دُنیا میں کوئی شخص جس کا مثیل ہونے کا دعویٰ کرے اور اپنے متعلق یہ کہے کہ میں اس جیسا ہوں اس کو گالیاں دے سکتا اور اس کو نفرت کی نگاہ سے دیکھ سکتا ہے۔ کیا ان بے خبروں اور معترضوں کو علم نہیں کہ جب عیسائیوں کی زبان اور قلم سے ہمارے سیّد و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ بزرگ میں گند و خرافات بکا جانے لگا اور انھوں نے گندی سے گندی اور ناپاک سے ناپاک گالیاں دینا اپنا شیوہ بنا لیا اس وقت حضرت مسیح موعود نے ان کو یہ محسوس کرانے کے لئے کہ یہ طریق غلط ہے، انجیل کے پیش کردہ یسوع کو اور اس کی انجیلی حیثیت کو سامنے رکھ کر سختی سے جواب دیا۔ اس طریق نے عیسائیوں کے قلموں کو توڑ دیا اور ان کی زبان کو بند کر دیا۔ کیا حضرت مرزا صاحب نے یہ طریق اختیار کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خدمت نہیں کی اور آپؐ کو دشمنوں کی بد زبانیوں سے نہیں بچایا۔ پھر حیرت ہے کہ ان کو کیوں غصہ آتا ہے کہ عیسیٰ کو گالیاں دی جاتی ہیں۔ جائیں یہ عیسائی ہو جائیں۔ ہم محمدی ہیں ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غیرت ہے۔ اگر آپؐ پر اب بھی کوئی اس طریق سے حملہ کرے گا تو ہم پھر وہی طریق اختیار کرینگے۔ ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کسی انسان سے محبت نہیں ہو سکتی۔ حضرت مرزا صاحب نے جو طریق اختیار کیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائیوں نے اپنا طریق عمل بدل دیا اور گورنمنٹ کو بھی ایک قانون بنانا پڑا۔ پس یہ کیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ کرنے والے لوگ ہیں کہ جس طریق سے آپؐ کی عزت کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے یہ اسی کو بُرا کہتے ہیں اور اس کو گالیاں قرار دیتے ہیں۔

حضرت صاحب پر دعویٰ الوہیت کا الزام

پھر اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے الوہیت کا دعویٰ کیا اور ثبوت یہ کہ انھوں نے کہا کہ میں نے آسمان بنایا اور زمین بنائی۔ لیکن ان مولویت کے مدعیوں کو معلوم نہیں کہ یہ خواب اور کشف کی بات ہے اور خواب اور کشف معنے رکھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنا ایک کشف بیان کیا ہے اور اس کشف میں انسان کا اپنا کچھ دخل نہیں ہوتا لیکن اگر کشف اور خواب پر اعتراض ہو سکتا ہے تو احادیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کشف دیکھا کہ آپ کے ہاتھ میں دو کڑے ہیں۔ کیا کوئی ان مولویوں جیسا بے خبر اعتراض کر سکتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ من ذلک عورتوں کی طرح زیور پہنا کرتے تھے۔ پھر یہ مولوی صاحب جنہوں نے یہ اعتراض پیش کیا ہے غالباً انہی کے پیر مولوی محمد علی مونگھیری نے اپنی ایک خواب بیان کی ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ وہ اپنی ماں سے جماع کر رہے ہیں۔ کیا یہ ایک گندا خواب نہیں۔ پھر شیشہ کے مکان میں رہنے والے ہم پر کیوں پتھر پھینکتے ہیں۔ آسمان و زمین کا بنانا خواب میں دیکھنا تو بُرا نہیں۔ مگر ماں سے جماع کرنا کہاں کی خوبی ہے۔ پھر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنے پیر مولوی فضل الرحمٰن صاحب سے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ اسکے معنے یہ ہیں کہ آپ کو بڑا درجہ ملے گا۔ اس پر ہمارے ایک دوست نے لکھا تھا کہ ان پیر صاحب کے مرید اس بڑے درجہ کے حصول کے لئے آنکھیں بند کر کے ماں کے ساتھ جماع کرنے کا تصوّر کر کے بیٹھ جاتے ہونگے اور اس طرح روحانی منازل طے کرتے ہونگے۔ یہ ان مولویوں کی تہذیب ہے اور یہ ان کی واقفیت ہے اور اور اسی پر یہ خوش ہیں۔ یہ دوسرے کو شرک کا الزام دیتے ہیں اور خود خدا بننا چاہتے ہیں کیونکہ عالمِ رؤیا پر حکومت کرنی چاہتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔

علمِ تعبیر والوں نے لکھا ہے کہ جو خواب میں دیکھے کہ پاخانہ جمع کرتا ہے وہ مال جمع کریگا۔ کیا یہ علم کے وارث مولوی جس کی اس قسم کی خواب سُنیں گے اس پر یہ الزام لگائیں گے کہ وہ نہایت گندہ اور غلیظ ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس خواب کے مطابق آئے ہوئے مال سے ایسا شخص ان مولویوں کی دعوت کرے تو یہ اس کا کھانا کھانے سے انکار کریں۔

محمدی بیگم والی پیشگوئی

ایک اعتراض محمدی بیگم کے متعلق ہے لیکن یہ خدا کی حکمت ہے کہ اس نے آج اس مکان کو جس میں تقریر ہو رہی ہے اس پیشگوئی کے حل کرنے کے لئے چنا ہے۔ کیونکہ اس مکان کا اس پیشگوئی سے خاص تعلق ہے اور کیا یہ ایک عظیم الشان نشان نہیں کہ اس مکان میں جس کے ساکنوں کے متعلق پیشگوئی کی گئی تھی اس پیشگوئی پر جو اعتراض کئے جاتے ہیں ان کا جواب دیا جا رہا ہے۔

اس پیشگوئی میں انذار تھا اور وحی کے صاف الفاظ یہ ہیں۔ تُوْبِیْ تُوْبِیْ فَإِنَّ الْبَلَاءَ عَلٰی عَقِبَیْكِ۔ اے عورت توبہ کر توبہ کر کہ عذاب تیرے پیچھے ہے۔ احمد بیگ حضرت مسیح موعودؑ کا دُور کا رشتہ دار تھا اور حضرت اقدسؑ کے تمام خاندان میں مشرکانہ خیالات پھیلے ہوئے تھے۔ ہمارے خاندان میں پہلے پنڈت پروہت بھی اسی طرح ہوتے تھے جس طرح مولوی اور ہمارے خاندان کی ریاست ان پروہتوں کی بیوفائی ہی سے گئی تھی۔ حضرت صاحب کے دادا جب بچے تھے اس وقت کوئی سکھ ملنے کو آیا اور اس نے کہا۔ واہگورو جی کا خالصہ۔ واہگورو جی کی فتح۔ اسی طرح انہوں نے بھی یہی لفظ دہرا دیئے ان کے والد اندر چلے گئے اور کہا۔ اب یہ ریاست سلامت نہیں رہے گی۔ چنانچہ ان کی حکومت کے دوران میں اسلام کی جگہ مشرکانہ خیالات اور ہندووانہ رسومات آگئی تھیں اور اس وقت سے برابر برّصغیر میں خاندان کے اکثر لوگوں میں چلا آرہا تھا۔

ان حالات کو دیکھ کر حضرت اقدس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ مرزا احمد بیگ کی بڑی لڑکی کے رشتہ کے لئے آپ کوشش کریں تا شاید اس قسم کے رشتہ کے سبب سے ان لوگوں کی اصلاح میں زیادہ مدد ملے۔ اور ان لوگوں کی اصلاح کی کوئی صورت ہو جائے۔ جب تحریک کی گئی تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ رشتہ کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ یہ تو آپ کی رشتہ میں بہن لگتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک شادی آپ کی پھوپھی زاد بہن سے ہوئی تھی یہ جائز ہے۔ ایک عورت نے کہا کہ

انھوں نے بھی اپنی بہن ہی سے نکاح کیا (نعوذ باللہ من ذلک) چونکہ ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی تھی۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت رنج ہوا اور آپ نے اس امر میں خدا تعالیٰ کی طرف توجہ فرمائی۔ اور الہام ہوا کہ اس گستاخی کی سزا میں اب ان کے لئے یہ بات مقرر کی جاتی ہے کہ یہ اس لڑکی کا رشتہ آپ سے کریں اور اگر نہ کرینگے تو پھر اس اس طرح کا عذاب نازل ہو گا اور اسی وقت یہ الہام بھی ہوا۔ تُوْبِیْ تُوْبِیْ فَإِنَّ الْبَلَآءَ عَلٰی عَقِبِكِ اے عورت توبہ کر توبہ کر کیونکہ بلا تیرے پیچھے آرہی ہے۔

یہ پیشگوئی رسول کریمؐ کی عظمت کے اظہار کے لئے کی گئی۔ مگر مولوی خوش نہیں کہ آپ کی عظمت ظاہر ہو۔ یہ تب خوش ہوتے ہیں اور ان کے سینوں میں تب ٹھنڈک پڑتی ہے جب رسول کریمؐ ہی کی ہتک ہو۔ غرض جب یہ معاملہ ہوا اس وقت حضرت نے پیشگوئی شائع فرمائی کہ اگر یہ نکاح مجھ سے نہ ہوا تو اس لڑکی کا والد تین سال میں اور جس سے نکاح ہو گا وہ ڈھائی سال میں فوت ہونگے۔ چنانچہ نکاح کے چند ماہ بعد احمد بیگ مرگیا اور اس کے مرنے سے تمام خاندان میں کہرام پڑ گیا اور مرزا سلطان محمد پر بھی خوف طاری ہو گیا اور اس نے آپ کی ہتک میں کوئی حصہ نہیں لیا۔ اب جب اس پر خوف طاری ہوا اور اس نے اس طریقِ ہتک سے بالکل علیحدگی رکھی جس میں دوسرے لوگ خاندان کے حصہ لے رہے تھے بلکہ یہ لکھا کہ میں مرزا صاحب کو نیک اور خادمِ اسلام سمجھتا ہوں تو پھر خدا اس کو کیوں سزا دیتا۔ پیشگوئی کی غرض ان میں خدا کا خوف پیدا کرنا اور ان خیالاتِ ہندوانہ سے توبہ کرانا تھی جن میں وہ مبتلا تھے اور یہ بات پیشگوئی کے بعد حاصل ہو گئی۔ لڑکی کا باپ جس نے مخالفت سے توبہ نہ کی ہلاک ہو گیا۔ لڑکی کا خاوند خائف ہوا اور حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق اظہارِ حسنِ ظنی کرتا رہا۔ پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ جن لوگوں نے یہ کہا تھا کہ اس قسم کے رشتوں کا آپس میں نکاح نہیں ہو سکتا انھوں نے اپنے خیالات کو ایسا چھوڑا کہ اپنی ایک لڑکی حضرت مسیح موعودؑ کے ایک بیٹے کو (جو ان سے وہی رشتہ رکھتی تھیں جو محمدی بیگم حضرت مسیح موعودؑ سے) بیاہ دی۔

جب حالات ایسے بدل گئے اور جب وہ لوگ جو مخالفت کر رہے تھے ڈر گئے تو پھر کوئی وجہ نہ تھی کہ ان کو عذاب ملتا اور اس کو کوئی جھوٹ نہیں کہہ سکتا۔ اگر باوجود اصلاح کرنے کے سزا ملے تو یہ اندھی نگری چوپٹ راجہ والا معاملہ ہو گا۔ جن لوگوں نے ان میں سے سرکشی کی وہ سب ہلاکت اور عذاب میں گرفتار ہوئے۔ اس پیشگوئی کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ میں اس گھر کو (جس میں آج تقریر ہو رہی ہے) بیواؤں سے بھر دونگا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اگر وہ لوگ زندہ ہوتے تو ہمیں یہاں لیکچر کا موقع کیسے ملتا۔

پھر پیشگوئی تھی کہ ہم اس گھر میں کچھ حُسینی سنّت سے داخل ہونگے۔ کچھ حُسنی سے اور حُسینی سنت تو لڑائی تھی۔ چنانچہ خدا کی تلوار نے اس خاندان کے سرکشوں کو ختم کیا اور حسنی سنت صلح تھی کہ ایک بچہ جو بچا وہ احمدی ہو گیا۔

پس خدا رَحْمٰن و رحیم ہے۔ وہ توبہ و انابت کرنے والے پر رحم فرماتا ہے۔ مرزا سلطان محمد صاحب نے رجوع کیا اور ان سے عذاب ٹل گیا۔ اگرچہ لوگوں نے ان کو بہت جوش دلایا مگر انہوں نے حضرت مرزا صاحب کی ہتک نہیں کی اور یہ بھی کیا کم ہے کہ ہمیشہ ان کا ذکر آتا ہے مگر وہ خاموش رہتے ہیں۔ لیکن میں اعلان کرتا ہوں کہ لوگ مرزا سلطان محمد صاحب کو شوخی پر آمادہ کریں۔ حضرت صاحب کا اعلان موجود ہے کہ اگر وہ شوخی کریگا تو پھر وہ بچ نہیں سکتا۔ وہ اس کا تجربہ کرکے دیکھ لیں۔ اگر اسی طرح نہ ہو جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے تو پھر بیشک جو چاہیں ہم پر الزام دیں۔

حضرت صاحب کی عمر کے متعلق اعتراض

پھر ایک اعتراض حضرت صاحب کی عمر کے متعلق بھی کیا گیا ہے اس کا جواب ایک اشتہار کی صورت میں شائع ہو چکا ہے۔ عجیب بات ہے کہ مولوی ثناء اللہ اپنی زندگی میں تو لکھتے رہے کہ آپ کی عمر اسی سال کے قریب ہے اور آپ کی اس پیشگوئی کے متعلق کہ آپ کی عمر اسی سال کی یا چند سال کم یا چند سال زیادہ ہوگی لکھتے رہے کہ آپ ان تمام منزلوں کو طے کر چکے ہیں۔ مگر جب آپ ۱۹۰۸ء میں فوت ہوئے تو آپ کی عمر مولوی ثناء اللہ کے نزدیک ستر سال سے بھی کم ہو گئی۔ کیا یہ مولوی ثناء اللہ کی چالاکی نہیں ۔ جب خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی عمر چوہتر سال کے قریب تھی۔ اور جبکہ دوسرے لوگ جو آپ کے واقف تھے انکی شہادت سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی عمر اسی مدت کے قریب تھی اور جبکہ آپ کے ایسے دشمنوں کی شہادت سے جو بچپن سے آپ سے واقف تھے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی عمر اسی کے قریب تھی اور جبکہ خود مولوی ثناء اللہ صاحب کی اپنی تحریروں سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے علم میں بھی حضرت مسیح موعود کی عمر اسی مدت کے قریب تھی بعض ایسے حوالوں کی بناء پر جو اس قدر شہادتوں کے خلاف نظر آتے ہوں اس پیشگوئی پر اعتراض کرنا شرارت نہیں تو اور کیا ہے۔ پرانے زمانہ میں پیدائش کے رجسٹر نہ تھے۔ نہ اس طرح حساب رکھے جاتے تھے۔ پس بعض اوقات اگر حضرت مسیح موعود کی عمر کے متعلق سرسری طور پر کوئی ایسی میعاد بھی بتا دی گئی ہے جس سے کچھ کم عمر ثابت ہو تو اسکو حجت نہیں پکڑا جا سکتا۔

طاعون کی پیشگوئی

پھر اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے پیشگوئی کی تھی کہ قادیان میں طاعون نہیں پڑیگی۔ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ حضرت صاحب نے کبھی اور کہیں یہ پیشگوئی نہیں کی کہ قادیان میں طاعون نہیں پڑیگی۔ وہ اس کا ثبوت دیں اور وہ الہام پیش کریں ہاں حضرت صاحب نے یہ پیشگوئی فرمائی کہ میرے گھر میں طاعون نہیں آئیگی اور میرے گھر میں کوئی طاعون کا کیس نہیں ہو گا۔ درآنحالیکہ آپ کے گھر میں سو کے قریب مرد وزن رہتے تھے۔ مگر ایک دفعہ بھی آج تک اس گھر میں طاعون کا کیس نہیں ہوا حتّٰی کہ چوہا بھی نہیں مرا اور آپ کے مکان کے گرد اس طرح طاعون پھیلتی رہی ہے جس طرح جنگل میں آگ اور اس گھر میں جس میں میں اس وقت تقریر کر رہا ہوں طاعون پڑی اور اس سے موتیں ہوئیں مگر آپ کا گھر جو اس سے دیوار بدیوار ملحق ہے ہر طرح محفوظ رہا اور محفوظ ہے۔

مدعی کی پرکھ کیلئے تین باتیں درکار ہیں

پس یہ اعتراض لغو ہیں اور ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ ہاں اصولاً طے ہونا چاہئے کہ کسی مدعی کی صداقت کے معلوم کرنے کے لئے قرآن کریم کیا معیار پیش کرتا ہے اور وہ کونسی باتیں ہیں جو سچے مدعی میں پائی جانی چاہئیں۔ میں اس جگہ تین موٹی موٹی باتیں جو قرآن کریم نے اُصول کے طور پر ہر ایک مدعی کے صدق یا کذب کے معلوم کرنے کے متعلق پیش کی ہیں بیان کرتا ہوں:۔ (۱) ماضی کے متعلق (۲) حال کے متعلق (۳) مستقبل کے متعلق۔ جس میں یہ تین باتیں اچھی ہونگی وہ صادق اور راست باز ہو گا۔

مدعی کا ماضی

اول ماضی کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ(یونس: ۱۷)، فرمایا کہ تم ایک مُدّعی کے دعویٰ سے پہلے کی زندگی کی طرف دیکھو۔ فرمایا کہ محمد رسول اللہ نے تم میں چالیس سال تک زندگی بسر کی کیا اس چالیس سال کے لمبے زمانہ میں جس میں جوانی کی اُمنگوں کا زمانہ بھی شامل ہے کوئی اُس کی زندگی پر اعتراض کیا جا سکتا ہے پس جب جوانی اور جوشوں اور اُمنگوں کے زمانہ میں اس نے انسانوں پر جھوٹ نہیں بولا تو کیا بڑھاپے میں وہ خدا پر جھوٹ بولے گا بلکہ اب تک تم اس کو ”اَلْاَمِیْنُ“ کے لقب سے ہی یاد کرتے رہے۔ پس اب جبکہ کل تک تم اس کو صادق اور راست باز بتاتے تھے یہ کیا ہو گیا کہ یہ صبح کو بگڑ گیا اور راتوں رات اس کی قلب ماہیت ہو گئی۔ ہر ایک بدی بتدریج پیدا ہوتی ہے یہ کبھی نہیں ہوتا کہ ایک شخص رات کے وقت صادق سوئے اور صبح کو بدترین جھوٹ کا مرتکب ہو کر پہلے تو انسانوں پر بھی جھوٹ نہ بولتا تھا اور اب خدا پر جھوٹ بولنے لگا۔

مسیح موعودؑ کا ماضی

اس کے مطابق ہم حضرت مرزا صاحب کی دعویٰ سے پہلے کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو آپ نے یہاں کے ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں کو بار بار باعلان فرمایا کہ کیا تم میری پہلی زندگی پر کوئی اعتراض کر سکتے ہو مگر کسی کو جرأت نہ ہوئی بلکہ آپ کی پاکیزگی کا اقرار کرنا پڑا۔

مولوی محمد حسین بٹالوی جو بعد میں سخت ترین مخالف ہو گیا اس نے اپنے رسالہ میں آپ کی زندگی کی پاکیزگی اور بے عیب ہونے کی گواہی دی اور مسٹر ظفر علیخان کے والد نے اپنے اخبار میں آپ کی ابتدائی زندگی کے متعلق گواہی دی کہ بہت پاکباز تھے پس جو شخص چالیس سال تک بے عیب رہا اور اس کی زندگی پاکباز رہی وہ کس طرح راتوں رات کچھ کا کچھ ہو گیا اور بگڑ گیا۔ علماءِ نفس نے مانا ہے کہ ہر عیب اور اخلاقی نقص آہستہ آہستہ پیدا ہوا کرتا ہے۔ ایک دم کوئی تغیر اخلاقی نہیں ہوتا ہے۔ پس دیکھو کہ آپ کا ماضی کیسا بے عیب اور بے نقص اور روشن ہے۔

مدعی کا حال

دوسری بات کسی مدعی کا حال دیکھنا ہوتا ہے اس کے لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّا لَنَنۡصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَیَوۡمَ یَقُوۡمُ الۡاَشۡہَادُ(المؤمن: ۵۲)، فرمایا کہ ہم اپنے رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کی نصرت فرماتے ہیں اس دُنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ پس جو خدا کا رسول ہو اس کے ساتھ خدا کی نصرت ہوتی ہے۔ اگر نصرت نہیں تو وہ خدا کا مُرسل اور رسول نہیں ۔ لوگ قریب ہوتا ہے کہ اس کو ہلاک کر دیں مگر خدا کی نصرت آتی ہے اور اس کو کامیاب کرتی ہے اور اس کے دشمنوں کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیتی ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ کا حال

یہی معاملہ حضرت مسیح موعودؑ کے مقابلہ میں ہوا۔ آپ کو طرح طرح سے مارنے کی کوشش کی گئی۔ لوگ مارنے پر متعین ہوئے جن کا علم ہو گیا اور وہ اپنے ارادے میں ناکام ہوئے۔ مقدمے آپ پر جھوٹے اقدامِ قتل کے بنائے گئے۔ چنانچہ ڈاکٹر مارٹن کلارک نے جھوٹا مقدمہ اقدام قتل کا بنایا اور ایک شخص نے کہہ بھی دیا کہ مجھے حضرت مرزا صاحب نے متعین کیا تھا۔ مجسٹریٹ وہ جو اس دعویٰ کے ساتھ آیا تھا کہ اس مدعی مهدویت و مسیحیت کو اب تک کسی نے پکڑا کیوں نہیں میں پکڑوں گا۔ مگر جب مقدمہ ہوتا ہے وہی مجسٹریٹ کہتا ہے کہ میرے نزدیک یہ جھوٹا مقدمہ ہے۔ بار بار اُس نے یہی کہا اور آخر اس شخص کو عیسائیوں سے علیحدہ کر کے پولیس افسر کے ماتحت رکھا گیا اور وہ شخص رو پڑا اور اس نے بتا دیا کہ مجھے عیسائیوں نے سکھایا تھا اور خدا نے اس جھوٹے الزام کا قلع قمع کر دیا۔ اسی طرح ہماری جماعت کے پُر جوش مبلغ مولوی عمر الدین صاحب شملوی اپنا واقعہ سُنایا کرتے ہیں کہ وہ بھی اسی معیار پر پرکھ کر احمدی ہوئے ہیں۔ وہ سُناتے ہیں کہ شملہ میں مولوی محمد حسین اور مولوی عبدالرحمن سیاح اور چند اور آدمی مشورہ کر رہے تھے کہ اب مرزا صاحب کے مقابلہ میں کیا طریق اختیار کرنا چاہئے ۔ مولوی عبدالرحمن صاحب نے کہا کہ مرزا صاحب اعلان کر چکے ہیں کہ میں اب مباحثہ نہیں کرونگا ہم اشتہار مباحثہ دیتے ہیں اگر وہ مقابلہ پر کھڑے ہو جائیں گے تو ہم کہیں گے کہ انہوں نے جھوٹ بولا کہ پہلے تو اشتہار دیا تھا کہ ہم مباحثہ کسی سے نہ کرینگے اور اب مباحثہ کے لئے تیار ہو گئے اور اگر مباحثہ پر آمادہ نہ ہوئے تو ہم شور مچا دینگے کہ دیکھو مرزا صاحب ہار گئے۔ اس پر مولوی عمر الدین صاحب نے کہا کہ اس کی کیا ضرورت ہے میں جاتا ہوں اور جا کر ان کو قتل کر دیتا ہوں۔ مولوی محمد حسین نے کہا کہ لڑکے تجھے کیا معلوم یہ سب کچھ کیا جا چکا ہے۔ مولوی عمر الدین صاحب کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ جس کی خدا اتنی حفاظت کر رہا ہے وہ خدا ہی کی طرف سے ہوگا۔ انھوں نے جب بیعت کرلی تو واپس جاتے ہوئے مولوی محمد حسین صاحب بٹالہ کے سٹیشن پر ملے اور کہا تُو کدھر؟ انہوں نے کہا کہ قادیان بیعت کر کے آیا ہوں۔ کہا تُو بہت شریر ہے تیرے باپ کو لکھوں گا۔ انھوں نے کہا کہ مولوی صاحب یہ تو آپ ہی کے ذریعہ ہوا ہے جو کچھ ہوا ہے۔

پس مخالف اس کو مارنا چاہتے ہیں وہ بچایا جاتا ہے۔ خدا اس کی اپنے تازہ علم سے نصرت کرتا اور ہر میدان میں اس کو عزت دیتا ہے۔

جھوٹے مدعی کو لمبی مدت نہیں ملتی

حال کے متعلق ایک اور بات بھی ہے کہ خدا کبھی کسی جھوٹے مدعی کو تئیس سال کی عمر نہیں دیتا۔ جیسا کہ فرمایا تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ لَاَخَذۡنَا مِنۡہُ بِالۡیَمِیۡنِ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡہُ الۡوَتِیۡنَ(الحاقۃ: ۴۵ تا ۴۷) جھوٹے مدعی کو تباہ کر دیا جاتا ہے اور ہلاک کر دیا جاتا ہے اور کبھی اس کو لمبی مہلت نہیں ملتی۔ پس ہمارے مخالف کسی جھوٹے مدعی کو ۲۳ سال دعویٰ کے بعد زندہ رہتا ہوا دکھائیں۔ وہ نہیں دکھا سکتے۔ ان کو مدعی کی اپنی تحریر دکھانی ہوگی یہ نہیں کہ مخالف کی بات دکھائیں کیونکہ مخالف کیا کچھ نہیں کیا کرتے۔ مثلاً حضرت صاحب ہی کے متعلق کہتے ہیں کہ آپ نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا نعوذ باللہ۔ پس ضروری ہے کہ مدعی کا اپنا بیان دکھائیں۔

مدعی کا استقبال

تیسری بات مدعی کے استقبال کے متعلق ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیۡ(المجادلة: ۲۲)۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے لکھ لی ہے فرض کر دی ہے کہ خدا اور اس کے رسول ہی غالب ہونگے اور خدا اور خدا کے رسول ہی فاتح ہونگے یہ اب تک ہوا اور آئندہ ہو گا۔

حضرت مسیح موعودؑ کا استقبال

ہم حضرت مرزا صاحب کے آئندہ زمانہ کے متعلق آپ کے حال سے قیاس کرتے ہیں۔ آپ کمزور تھے اور آپ اکیلے تھے مگر تمام دُنیا آپ کی دشمن تھی۔ عیسائیوں کو آپ سے بغض، ہندوؤں کو آپ سے عناد اور سکھوں کو اگرچہ نہیں ہونا چاہئے تھا مگر ان کو بھی آپ سے غصہ تھا اس لئے کہ آپ نے ست بچن میں بابا نانک صاحب کی تعریف اور خوبی بیان کرتے ہوئے ان کے مسلمان ہونے کا ذکر کیا تھا اور مسلمان جن کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں حضرت عیسیٰ کے لئے عیسائیوں سے زیادہ جوش اور محبت ہے وہ بھی آپ کی جان کے دشمن ہو گئے تھے۔

پھر گورنمنٹ بوجہ مہدویت اور مسیحیت کے دعویٰ کے آپ سے بدظن تھی۔ خفیہ پولیس کے آدمی باقاعدہ یہاں سے ڈائری بھیجتے رہے اور غالباً اب بھی ہونگے اور ایک پولیس مین تو یہاں رہتا ہے۔ ہمارے مہمانوں کی فہرست اب تک گورنمنٹ کے ہاں جاتی ہے۔ لیکن ان تمام موانع اور دشمنیوں کے باوجود آپ کے سلسلہ کو ترقی ہوئی۔ آپ ایک تھے مگر آپ کے ماننے والے لاکھوں ہو گئے۔ کیا حضرت مرزا صاحب کی فتح کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ مخالفوں کی موجودگی میں آپ نے اعلان کیا کہ جو نیک اور متقی ہونگے وہ سب میرے ساتھ شامل ہو جائیں اور ان کو اپنے ساتھ ملا لونگا اور آپ نے ایسا کر کے دکھا دیا۔ لوگوں نے کہا کہ ہمارے بیٹے کنجر خانے میں جائیں عیسائی ہو جائیں مگر احمدی نہ ہوں۔ لیکن پھر بھی لوگ احمدی ہو رہے ہیں اور بکثرت ہو رہے ہیں۔ کیا یہ آپ کی فتح نہیں۔

قادیان کی ترقی کے متعلق پیشگوئی فرمائی کہ بیاس تک ہو گی چند سال میں ایک میل تک قادیان پھیل گیا ہے اور اس سے ہم قیاس کر سکتے ہیں کہ عنقریب بیاس تک اس کی آبادی پہنچ جائے گی فرمایا تھا کہ يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ۔ لوگ قادیان میں دُور دُور سے آئیں گے اور راستے گھس جائینگے اور ایسا ہی ہوا۔ خود ان مولویوں کا آنا بھی ایک نشان ہے۔ مولوی آئے اور راستہ کی خرابی کی شکایت

کی مگر یہ حضرت مرزا صاحب کی صداقت ہے کہ وہ لوگ یہاں آئے اور خدا کی پیشگوئی پوری ہوئی۔

آئندہ کیلئے حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئیاں

حضرت صاحب نے آئندہ کے لئے پیشگوئی فرمائی ہے کہ آئندہ آپ ہی کا سلسلہ رہ جائیگا اور باقی فرقے بالکل کم تعداد اور کم حیثیت رہ جائیں گے اور ہم اس کے آثار دیکھ رہے ہیں اور اس کا کچھ اور حصہ ہم اپنی زندگی میں دیکھیں گے۔ ان کو اپنی کثرت پر گھمنڈ ہے لیکن یہ یاد رکھیں کہ ان کی کثرت کو قلت سے بدل دیا جائیگا اور ان کی کثرت چھین کر خدا کے پیارے کو دی جائے گی اور وہ قلت جو آج ہمارے لئے قابل ذلت خیال کی جاتی ہے کل ان کو ذلیل کریگی۔ ہم تھوڑے ہیں لیکن وہ یاد رکھیں زمانہ ختم نہیں ہو گا اور قیامت نہیں آئیگی جب تک حضرت مرزا صاحب کے ماننے والے ساری دنیا پر نہ پھیل جائیں۔ یورپ میں احمدیت ہو گی، امریکہ میں احمدیت ہو گی، چین و جاپان، عرب و ایران و شام غرض ساری دنیا میں احمدیت ہی احمدیت ہو گی۔ ان سب ممالک کو خدا کا کلام سنایا جائیگا اور ایک دن وہ ہوگا کہ خدا کا سورج احمدیوں ہی احمدیوں پر چڑھے گا۔ حضرت مرزا صاحب کی پیشگوئیاں ہیں جو پوری ہونگی۔ یہ تو عام پیشگوئی ہے لیکن ایک ملک کے متعلق ایک خاص پیشگوئی بھی ہے جو میں سناتا ہوں۔ حضرت مرزا صاحب نے فرمایا ہے کہ زارِ روس کا عصا مجھے دیا گیا اور امیرِ بخارا کی کمان آپ کو ملی۔ (مضموناً تذکرہ ص۵۸۴ ایڈیشن چہارم)

پس ہم اُمید کرتے ہیں کہ روس کی حکومت عنقریب احمدی ہوگی۔ زار کی سلطنت مٹ چکی ہے عصاء زارِ روس سے چھینا جا چکا ہے اور آدھا حصہ پیشگوئی کا پورا ہو چکا ہے مگر اب دوسرا حصہ بھی انشاء اللہ پورا ہوگا اور دنیا اپنی آنکھوں سے خدا کے مقدس کی صداقت کو دیکھ لے گی۔

کیا یہ شاندار استقبال نہیں کہ جماعت ایک سے کئی لاکھ ہوگئی اور ایک نکلتا ہے تو اس کی جگہ بیسیوں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ کیا ان اُصول کے مطابق آپ کی صداقت میں شک کیا جاسکتا ہے تینوں کے تینوں زمانے آپ کی صداقت کی گواہی دے رہے ہیں۔

غرض ثبوتوں اور اُصولوں کو دیکھنا چاہئے۔ محض اعتراض پر پڑے رہنا کوئی بات نہیں۔ یہ ایک لغو بات ہے۔ قرآن جو اُصول بتاتا ہے اس کے رُو سے آپکی صداقت ظاہر و باہر ہے۔ اعتراض ہوتے ہیں ان کے لئے اُصول بھی ہوتے ہیں جب تک کسی اُصول کے ماتحت گفتگو نہ ہو دنیا میں کوئی مسئلہ نہیں حل ہو سکتا۔

جماعت کو نصیحت

اب میں اپنی جماعت کو بھی ایک نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ

تمہارے دشمن تمہیں پامال کرنے پر تلے ہوئے ہیں لیکن اگر تم ایمان سے معمور سینہ رکھتے ہو وہ تمہیں پامال نہیں کر سکتے آپ اپنے اقوال افعال ، عقائد اخلاق اور معاملات کو دُرست کریں حضرت مسیح موعودؑ کے قدم بقدم چلو، کمزوریاں اور سُستیاں چھوڑ دو ، تمہیں بہت بڑا کام درپیش ہے ، بڑی مہم ہے جو تمہیں سر کرنی ہے ، تم نے احمدیت کو پھیلانا ہے یہ نہیں ہو سکتا جب تک تم بداخلاقی کو نہ چھوڑو، بد معاملگی کو نہ چھوڑو اور نمازوں اور دیگر دین کے احکام میں پوری پابندی نہ اختیار کرو کوشش کرو کوشش کرو کہ فتح پاؤ ۔ تمہیں سچی فتح ہو گی اور دشمن کی جھوٹی فتح بھی اس کے لئے سوگواری کا موجب ہو گی اور دشمن تم سے اس طرح جائیگا جیسے لاحول سے شیطان بھاگتا ہے ۔ اگر تم اس تمام علاقے کو احمدی بنا چکے ہوتے تو آج دشمن کو اتنا بھی موقع نہ ملتا کیونکہ مولویوں کی قوم بزدل قوم ہے اور ان کو ظاہری سامانوں پر ہی بھروسہ ہے ۔ وہ اس قوتوں اور طاقتوں کے خزانے سے غافل ہیں جو خدا تعالیٰ سے ملتا ہے ۔ پس تم میں سے ہر ایک اپنے فرض منصبی کو بجا لائے اور لوگوں کو احمدی بنانے کے درپے ہو جائے ۔ پھر تم دیکھو گے کہ دشمن کے لئے ہماری کامیابی ماتم کا موجب ہو گی ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کامیابی دے ۔ ہماری حالت کو درست بنائے ، ہماری کمزوریوں کو معاف کرے ہمیں کامیابی دے اور کامیابی کو روشن کرے ۔ آمین

(الفضل ۱۱؍ اپریل ۱۹۲۱ء)

بیعت کرنیوالوں کیلئے ہدایات

از

سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی

بیعت کرنیوالوں کیلئے ہدایات

(تقریر حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی فرمودہ ۲؍مئی ۱۹۲۱ء)

۲؍ مئی بعد نمازِ مغرب ایک صاحب جونا گڑھ (گجرات کاٹھیاواڑ) کے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں بیعت کے لئے پیش ہوئے چونکہ ان کو دارالامان (قادیان) آئے ہوئے دو تین دن ہی ہوئے تھے اور ایک ایسے علاقہ سے آئے تھے جہاں احمدیت کے متعلق واقفیت رکھنے والے بہت کم لوگ ہیں اس لئے حضور نے بیعت لینے سے قبل انہیں مخاطب کر کے ایک تقریر فرمائی جو اندھیرے میں جس قدر ضبط کی جاسکی درج ذیل کی جاتی ہے۔ احباب اس سے جہاں خود فائدہ اُٹھائیں وہاں غیر احمدیوں میں بھی اس کی اشاعت کریں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ سلسلہ احمدیہ میں کس طرح اور کن لوگوں کو داخل کیا جاتا ہے۔

حضور نے فرمایا:۔ بیعت کا معاملہ چونکہ ایک اہم معاملہ ہے اس لئے قبل اس کے کہ آپ بیعت کریں میں چند باتیں آپ کو سُنانا چاہتا ہوں۔

سمجھ کر بیعت نہ کرنے کا نقصان

اگر آپ اس وقت پوری تحقیق کر کے سلسلہ میں داخل نہ ہوئے اور اچھی طرح سمجھ کر بیعت نہ کی تو ممکن ہے جب آپ مخالفین کی باتیں سنیں تو اپنے اقرار پر قائم نہ رہ سکیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آپ کے دل پر ایک زنگ لگ جائیگا۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ یہ سلسلہ جھوٹا ہے تو اس لئے کہ آپ نے جلد بازی سے کام لیا اور پوری تحقیق کئے بغیر اس کو اختیار کر لیا اور اگر سچا ہے تو اس لئے کہ سچے راستہ کو چھوڑ کر بھٹک گئے اور راستی سے دُور ہو گئے۔

احمدیت میں داخل کرنے کی غرض

ہمارا یہ طریق نہیں ہے کہ لوگوں کو یونہی سلسلہ میں داخل کر لیں بلکہ ہماری غرض لوگوں میں تقویٰ طہارت پیدا کرنا اور انہیں بُرائیوں اور فواحش سے بچا کر اسلام پر قائم کرنا ہے اس لئے ہم ہر ایک کو یہی کہتے ہیں کہ وہ پہلے تحقیقات کرے اور اچھی طرح سمجھ لے پھر احمدیت کو قبول کرے اس میں جلد بازی نہ کرے کیونکہ اگر وہ جلد بازی سے قبول کرتا ہے اور پھر ٹھوکر کھا کر سلسلہ سے علیحدہ ہوتا ہے تو ایک ایسا آدمی ہمارے ہاتھ سے جاتا رہا جس کے آنے کی پہلے تو توقع کی جاسکتی تھی لیکن اب اس کا آنا اگر محال نہیں تو پہلے کی نسبت بہت زیادہ مشکل ضرور ہو گیا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ درخت پر جب کچا پھل لگا ہو تو اُمید کی جاسکتی ہے کہ پکے گا اور پک کر ہاتھ میں آئے گا لیکن اگر کچے کو ہی توڑ لیا جائے تو پھر وہ نہیں پک سکے گا۔

ساری دنیا ہمارے لئے باغ ہے

چونکہ ہم ساری دُنیا کو سمجھتے ہیں کہ ہمارے لئے باغ ہے اس لئے ہم نہیں چاہتے کہ کوئی پھل کچا توڑیں۔ ہم چور کی طرح نہیں کہتے کہ چلو پکا نہ سہی تو کچا ہی سہی کیونکہ خدا نے دنیا کو ہمارے لئے ہی بنایا ہے اگر آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں۔ یا سال، دو سال یا دس بیس سال حتیٰ کہ ہزار دو ہزار سال تک آخر دنیا کو اسی سلسلہ میں داخل ہونا پڑے گا اور اسی کے قدموں میں گریگی جسے خدا تعالیٰ نے دُنیا کی اصلاح کے لئے کھڑا کیا ہے پس ہم نہیں چاہتے کہ کوئی کچا پھل توڑ لیں اس لئے ہر ایک اس شخص کو جو سلسلہ میں داخل ہونا چاہے کہتے ہیں کہ وہ خوب سمجھ سوچ لے۔ ہاں جب اسے سمجھ آجائے تو پھر یہ بھی پسند نہیں کرتے کہ وہ ایک منٹ کی بھی دیر لگائے کیونکہ کیا معلوم کب جان نکل جائے۔

یہ پہلی نصیحت ہے جو میں آپ کو کرنا چاہتا ہوں اس کے بعد میں خلاصۃً سلسلہ کی تعلیم سناتا ہوں آپ دیکھیں کہ آیا یہی باتیں آپ نے سمجھی ہیں یا ان میں کچھ کمی ہے اور آپ کو مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

رسول کریمؐ آخری نبی ہیں

ہمارا دعویٰ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، کیا بلحاظ اس کے کہ آپ کی لائی ہوئی کتاب (قرآن کریم) کے بعد کوئی کتاب نہیں اور کیا بلحاظ اس کے آپ کی لائی ہوئی شریعت کے بعد کوئی شریعت نہیں لیکن اسی سے ہم ایک اور نتیجہ پر پہنچے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جو چیز ہمیشہ رکھنے کے لئے ہوتی ہے اس میں اگر کوئی نقص پیدا ہو جائے تو فوراً اصلاح کی جاتی ہے۔ مثلاً وہ کپڑا جو کئی سال پہننا ہو اس میں اگر سوراخ ہو جائے تو فوراً رفو کرایا جاتا ہے لیکن جو کپڑا اتار کر کسی کو دے دینا ہو اس کی پروا نہیں کی جاتی۔ پس چونکہ یہ شریعت آخری شریعت ہے اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جب اس میں کوئی رخنہ پڑے فوراً خدا تعالیٰ اس کی طرف توجہ کرے کیونکہ اس شریعت نے قیامت تک چلنا ہے۔ اگر بدل جانا ہوتا تو پھر ایسی ضرورت نہ تھی لیکن چونکہ یہ دین ، یہ کتاب اور یہ رسول ہمیشہ کے لئے ہے اس لئے اس کے متعلق جو کمزوریاں پیدا ہو جائیں ان کا دُور کرنا ضروری ہے۔ اس کے ماتحت ہمارا یقین ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہمیشہ ایسے وقت کہ جب دین میں فتنہ برپا ہو ایسے لوگ ہوتے رہیں گے جو اس کی اصلاح کریں گے۔

رسول کریمؐ کے غلام کی شان

اس کے ساتھ ہی ہم یہ اعتقاد بھی رکھتے ہیں کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم درجۂ عظمت اور عرفان میں سب انبیاء سے بڑھے ہوئے ہیں اس لئے آپ کے شاگردوں اور غلاموں میں سے جو لوگ دین کی اصلاح کے لئے کھڑے ہونگے وہ پہلے انبیاء کی اُمتوں میں سے کھڑے ہو نیوالوں سے بڑھ کر ہونگے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایسے لوگ ہوئے ہیں کہ خدا ان سے کلام کرتا تھا اس اُمت میں بھی ایسا ہی ہوگا۔اس سے معلوم ہوا کہ پہلے انبیاء کے ذریعے ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں اور جب ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات گذشتہ تمام انبیاء کے کمالات سے بڑھ کر ہیں تو اسی وجہ سے ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے کہ پہلے انبیاء کی اُمتوں میں جو ایسے لوگ پیدا ہوئے جن سے خدا تعالیٰ کلام کرتا تھا وہ محدث تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں نبی بھی ہوا جو اُمتی ہو کر نبی تھا وہ نبیوں میں جا کر ان کی صف میں کھڑا ہوگا اور بعض سے اپنی شان میں بڑھ کر بھی ہو گا مگر پھر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمتی ہی ہو گا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کالج کا ایک لڑکا چھوٹے مدارس کا خواہ ممتحن مقرر ہو جائے لیکن جب کالج میں آئے گا بحیثیت ایک شاگرد کے ہی ہوگا۔ تور سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ شان ہے کہ آپ کی شاگردی میں ایک انسان وہ درجہ حاصل کر سکتا ہے کہ بعض دوسرے انبیاء سے بڑھ سکتا ہے اس کی مثال چاند کی ہے جس کے سامنے تارے ماند ہو جاتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال سورج کی ہے کہ آپ کے سامنے چاند بھی ماند ہے۔

رسول کریمؐ کی اُمت میں نبی

پس ہمارا عقیدہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں نبی ہو سکتے ہیں اور اس زمانہ میں جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ایمان دُنیا سے اُٹھ جائے گا اور علماء بدترین مخلوق ہو جائیں گے میری اُمت یہودیوں کے قدم بقدم چلے گی یہاں تک کہ اگر یہودیوں میں سے کسی نے اپنی ماں سے زنا کیا ہوگا تو ان میں بھی ایسے ہونگے اِس وقت ان کی اصلاح کے لئے مسیح نازل ہوگا۔ اس کے لئے آپؐ نے نزول کا لفظ رکھا جو احترام اور عزت کے طور پر آتا ہے اور ہمارا یقین ہے کہ وہ مسیح موعود حضرت مرزا غلام احمد صاحب ہیں جو اسی گاؤں میں پیدا ہوئے اور وہ اس درجہ پر فائز تھے جو نبوت کا درجہ ہے چنانچہ آپ نے بتایا ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کی خبر دی گئی تھی اور میں ہی وہ مہدی ہوں جس کے آنے کی اطلاع دی گئی ہے میں ہی وہ کرشن اور زرتشت ہوں جو آخری زمانہ میں آنے والا تھا۔ (تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۸۵، ۸۶ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۲۱، ۵۲۲)

مسیح موعودؑ کے مختلف نام

بات دراصل یہ ہے کہ وہ سب قومیں جن میں نبی آئے ان کو بتایا گیا کہ آخری زمانہ میں تم میں ایک نبی آئے گا اور ہر قوم نے اس کا الگ الگ نام رکھا۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ ایک ہی شخص ہے جس کے مختلف قوموں اور مذہبوں نے مختلف نام رکھے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ سب قوموں میں جو زمانہ موعود نبی کے آنے کا بتایا گیا ہے وہ ایک ہی ہے۔ پھر جو آثار بتائے گئے ہیں وہ بھی قریباً ملتے جلتے ہیں اور یہ آثار اس زمانہ میں پورے ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں ممکن نہیں کہ سینکڑوں سال کی خبریں جو پوری ہو رہی ہیں اور جو خدا کے سچے اور پیارے بندوں نے دی ہیں ان کے مطابق آنے والے ایک دوسرے کے مخالف ہوں۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ خدا کی طرف سے بتایا گیا ہو کہ فلاں زمانہ میں مسیح آئے گا اور یہ بھی خدا کی طرف سے بتایا گیا ہو کہ اس زمانہ میں کرشن آئے گا، یہ بھی خدا کی طرف سے بتایا گیا ہو کہ اسی زمانہ میں زرتشت آئیگا اور یہ سب علیحدہ علیحدہ وجود ہوں جو اگر ایک دوسرے کے ساتھ لڑیں ۔ بات یہی ہے کہ مختلف زبانوں میں یہ مختلف نام ہیں اور آدمی ایک ہی ہے۔ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء کے کمال کے جامع تھے اس لئے آپ کے بروز میں بھی سب کمال پائے جائیں گے اسی وجہ سے اس کی آمد کے متعلق سب نبی یہی کہتے رہے کہ میں ہی آؤں گا گویا میرے کمال اس آنے والے میں ہونگے یہ سب کمال مسیح موعود میں پائے گئے۔ چنانچہ آپ نے دعویٰ کیا کہ میں مہدی ہوں ، میں مسیح ہوں، میں

کرشن ہوں، میں زرتشت ہوں۔ پس ہمارا ایمان اور یقین یہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ تمام کمالات کے جامع تھے اس لئے کہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عکس تھے اور یہ صاف بات ہے کہ جیسا انسان خود ہو ویسا ہی اس کا عکس بھی ہو گا۔ اب جو انسان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس ہوگا اس میں وہ خوبیاں ہونگی جو رسول کریمؐ میں پائی جاتی تھیں لیکن اگر اس میں کوئی خوبی نہ مانی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ گویا رسول کریمؐ میں ہی وہ خوبی نہیں۔ دیکھئے اگر کوئی شخص شیشے کے سامنے کھڑا ہو اور شیشے میں جو اس کا عکس پڑ رہا ہو اس میں ناک نظر نہ آئے تو معلوم ہوگا کہ اس شخص کے چہرہ پر ہی ناک نہیں ہے۔ تو ہمارا یقین ہے کہ حضرت مرزا صاحب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عکس ہیں اور ان میں وہ خوبیاں بتوسط رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پائی جاتی ہیں جو آپ میں ہیں۔

احمدیت میں داخل ہونیوالے کا فرض

یہ اعتقاد ہیں جن کو معلوم کرنے کے بعد بیعت کرنی چاہئے اور جب کوئی ان اعتقادات کو معلوم کر کے بیعت کرتا ہے تو پھر اس کا فرض ہے کہ ان ذمہ داریوں کو بھی اٹھائے جو بیعت کرنے کی وجہ سے اس پر عائد ہوتی ہیں۔ جو شخص فوج میں بھرتی ہوگا اس کا فرض ہوگا کہ لڑائی کے لئے جہاں اسے جانا پڑے جائے۔ اسی طرح مسیح موعودؑ کے سلسلہ میں داخل ہونے والے کا بھی فرض ہے کہ جس طرح صحابہ کرامؓ نے دین کے لئے اپنا مال، اپنا وقت، اپنا وطن، اپنے رشتہ دار حتیٰ کہ اپنی جان بھی قربان کر دی تھی وہ بھی اس کے لئے تیار رہے اور ایسا نمونہ بن کر دکھلائے کہ دنیا دیکھے اور معلوم کرے کہ اس میں کوئی ایسی چیز ہے جو ہم میں نہیں ہے۔ پھر ایسے سلسلہ میں داخل ہونے والوں پر ابتلاء بھی آتے ہیں، مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، تکالیف بھی پہنچتی ہیں، ان کو برداشت کرنا چاہئے۔

دشمنوں کے شبہات

پھر یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ دشمن اور شریر لوگ طرح طرح کے اتہام لگایا کرتے ہیں اور کئی رنگ گمراہ کرنے کے اختیار کرتے ہیں۔ اگر انسان بغیر تحقیقات کے اور بغیر دشمنوں کے اتہاموں سے واقف ہونے کے داخل ہو تو جب اس قسم کی باتیں سنے گا تو اسے ٹھوکر لگے گی کہ یہ کیا ہو گیا۔

ہر قوم میں نبی

مثلاً ایک ناواقف آدمی جب یہ سنے کہ حضرت مرزا صاحب نے کرشن ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو کہے گا وہ تو ہندو تھا ایک مسلمان کیونکر ہو گیا۔ مگر جب

اسے یہ معلوم ہو گا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ جس طرح اور قوموں میں نبی آتے رہے ہیں اسی طرح ہندوستان کے لوگوں میں بھی نبی آئے۔ انہی میں سے ایک حضرت کرشنؑ تھے اور قرآن شریف میں ہے کہ مِّنۡ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ(فاطر: ۲۵) کوئی قوم ایسی نہیں جس میں نبی نہ آیا ہو۔ اس آیت پر ایمان رکھنے والا جب یہ سُنے گا کہ ہندوستان میں حضرت کرشنؑ نبی آئے تھے تو کہے گا اگر حضرت مرزا صاحب نے کرشن ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو ٹھیک اور صحیح ہے۔ اگر یہ دعویٰ نہ کرتے تو جھوٹے ہوتے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سب انبیاء کے کمال تھے اس لئے آپ کے بروز میں حضرت کرشنؑ کے کمال بھی ہونے چاہئیں۔

مسیح موعود اور مہدی معہود ایک ہی ہے

پھر مسلمان مسیح موعود اور مہدی معہود کو دو علیحدہ علیحدہ وجود قرار دیتے ہیں مگر دراصل ایک ہی ہے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِمَامُكُمْ مِّنْكُمْ (کہ تمہارا امام تم میں سے ہی ہوگا) میں بتایا ہے کہ یہ ایک شخص کے دو نام ہیں جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی نام ہیں۔

حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئیاں

پھر حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئیاں ہیں۔ ان کے متعلق مخالفین شبہات پیدا کرتے رہتے ہیں اگر پوری واقفیت حاصل کر کے انسان اس سلسلہ میں داخل نہ ہو تو ٹھوکر لگنے کا خطرہ ہوتا ہے لیکن جب پہلے ہی پوری تحقیقات کرلے تو پھر خواہ کتنے شبہات پیدا کئے جائیں پھر ٹھوکر نہیں کھا سکتا مثلاً جب کوئی شخص سورج کو دیکھ لے تو پھر کسی وقت اندھیرا ہو جانے پر خواہ کوئی اسے ہزار بار کہے کہ سورج کا انکار کر دو تو وہ نہیں کرے گا۔ ہاں یہ کہدے گا کہ مجھے نہیں معلوم کہ اندھیرا کیوں ہے اور اس کی کیا وجہ ہے مگر سورج کا میں انکار نہیں کر سکتا کیونکہ سورج کے ہونے کا میرے پاس کافی ثبوت ہے۔ تو کسی امر کے متعلق ایک ہوتے ہیں اس کی صداقت کے ثبوت اور ایک شبہات۔ شبہات سے صداقت کے ثبوت باطل نہیں ہو جایا کرتے۔ مثلاً ایک جگہ پتھر میں سے پانی نکلتا ہو اور انسان اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لے تو یہ نہیں کہے گا کہ پانی نہیں نکلتا۔ ہاں کہہ سکتا ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ کیونکر نکلتا ہے گویا پتھروں سے پانی نکلنے کی وجہ اسے معلوم نہیں پانی کا انکار نہیں کر سکتا۔ یا مثلاً آگ ہے۔ چونا پر پانی ڈالنے سے آگ نکلتی ہے لیکن جس کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس طرح پانی ڈالنے سے بھی آگ نکلتی ہے اس کے سامنے آگ نکالنے پر وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ آگ نہیں کوئی ٹھنڈی چیز

ہے۔ بلکہ وہ یہی کہے گا کہ چونکہ میں آگ کی گرمی کو جانتا ہوں اور اس کو ہاتھ لگانے سے جلتا ہے اس لئے مَیں یہ ہرگز نہیں مان سکتا کہ یہ آگ نہیں ہے۔ ہاں مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ پانی ڈالنے سے کیونکر آگ نکلتی ہے۔

انبیاء کی صداقت کے معیار

یہی طریق انبیاء کے پہچاننے کا ہے ان کی صداقت کے کئی ثبوت ہوتے ہیں۔ ان کے ذریعہ صداقت کی تحقیق کرنی چاہئے کیونکہ اگر اس طرح نہ کیا جائے تو کئی ایسی باتیں ہو سکتی ہیں جن کو گمراہ کرنیوالے لوگ پیش کر کے دھوکا دے دیتے ہیں۔ لیکن جب انسان صداقت کو صداقت سمجھ کر مانے تو ایسی باتوں سے دھوکہ نہیں کھا سکتا کیونکہ اوّل تو کوئی شبہ پیدا نہیں ہوتا اور اگر پیدا ہو تو انسان اس کے ازالہ کا علم حاصل کر سکتا ہے لیکن صداقت کو نہیں چھوڑتا۔ دیکھئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس شخص نے سمجھ سوچ کر مانا ہو اور جو آپؐ کی صداقت کے دلائل اور براہین سے واقف ہو اس کے دل میں اگر کوئی لاکھوں شبہات صداقتِ رسول کریمؐ کے متعلق ڈالنا چاہے تو وہ یہی کہے گا کہ مجھے ان کی وجہ معلوم نہیں یا مَیں ان کا جواب نہیں دے سکتا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کر سکتا۔ کوئی شبہ ہو میری کمئی علم کا ثبوت ہو گا رسول کریمؐ سچے ہیں کیونکہ آپ کی صداقت کے ثبوت میرے پاس ہیں۔ اب مسلمان کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح جھوٹے ہو سکتے ہیں حالانکہ آپؐ کی صداقت کے ثبوت انہیں معلوم نہیں۔ وہ چونکہ باپ دادا سے سنتے آئے ہیں اس لئے کہتے ہیں کہ رسول کریمؐ سچے ہیں لیکن ہمارے پاس خدا کے فضل سے رسول کریمؐ کی صداقت کے ثبوت ہیں اور اگر کوئی آپ پر اعتراض کرے تو ہم اس کا جواب دے سکتے ہیں مگر مَیں کہتا ہوں اگر مخالف کے کسی اعتراض کا جواب نہ بھی آئے تو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صداقت کے متعلق ہمیں شبہ نہیں پڑ سکتا کیونکہ ہم نے آپؐ کو اس طرح مانا ہے جس طرح سورج کو مانتے ہیں۔ پس اوّل تو خدا کے فضل سے ہر ایک اعتراض کا جواب آتا ہے لیکن اگر فرض کر لیا جائے کہ ہمیں کسی اعتراض کا جواب نہ آئے تو اس کی وجہ سے رسول کریمؐ کی صداقت کا انکار نہیں کیا جائیگا کیونکہ ہم نے آپ کو یونہی نہیں مانا بلکہ آپ کی صداقت کے دلائل کو دیکھ کر مانا ہے اور پورا پورا یقین ہے کہ وہی دلائل ہیں جو سچے نبی کے لئے ہوتے ہیں۔

حضرت مرزا صاحب کی صداقت کے دلائل

اسی طرح ہم حضرت مرزا صاحب کو مانتے ہیں ان کی صداقت کے لئے نئے دلائل کی ضرورت نہیں بلکہ ان کے لئے بھی وہی دلائل ہیں جو رسول کریمؐ، حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ اور دیگر انبیاء کے تھے ۔ اب اگر کوئی اِن دلائل کے ہوتے ہوئے آپ کو جھوٹا قرار دیتا ہے تو اس طرح پہلے انبیاء بھی جھوٹے ہو جاتے ہیں لیکن جو ان دلائل کی وجہ سے پہلے انبیاء کو سچا سمجھتا ہے وہ حضرت مرزا صاحب کو بھی سچا سمجھے گا۔ جب کوئی شخص ان دلائل کو معلوم کرکے اور ان سے واقف ہو کر آپ کو مانے گا تو پھر اس کے دل میں کوئی شبہ نہیں پڑ سکے گا۔

رسول کریمؐ کو ابوبکرؓ نے کیونکر مانا

دیکھئے حضرت ابوبکرؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی دلیل سے مانا ہے اور پھر کبھی ان کے دل میں آپ کے متعلق ایک لمحہ کے لئے بھی شبہ نہیں پیدا ہوا اور وہ ایک دلیل یہ تھی کہ انھوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بچپن سے دیکھا تھا اور وہ جانتے تھے کہ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، کبھی شرارت نہیں کی، کبھی گندی اور ناپاک بات آپ کے منہ سے نہیں نکلی بس یہی وہ جانتے تھے اس سے زیادہ نہ وہ کسی شریعت کے جاننے والے تھے کہ اس کے بتائے ہوئے معیار سے رسول کریمؐ کو سچا سمجھ لیا، نہ کسی قانون کے پیرو تھے انہیں کچھ معلوم نہ تھا کہ خدا کا رسول کیا ہوتا ہے اور اس کی صداقت کے کیا دلائل ہوتے ہیں وہ صرف یہ جانتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کبھی نہیں بولا ۔ وہ ایک سفر پر گئے ہوئے تھے جب واپس آئے تو راستہ میں ہی کسی نے انہیں کہا کہ تمہارا دوست (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کہتا ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ انہوں نے کہا کیا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ کہتا ہے۔ اُس نے کہا ہاں۔ انہوں نے کہا پھر وہ جھوٹ نہیں بولتا جو کچھ کہتا ہے سچ کہتا ہے کیونکہ جب اس نے کبھی بندوں پر جھوٹ نہیں بولا تو خدا پر کیوں جھوٹ بولنے لگا۔ جب اس نے انسانوں سے کبھی ذرا بد دیانتی نہیں کی تو اب ان سے اتنی بڑی بد دیانتی کس طرح کرنے لگا کہ ان کی رُوحوں کو تباہ کر دے۔ صرف یہ دلیل تھی جس کی وجہ سے حضرت ابوبکرؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مانا اور اسی کو خدا تعالیٰ نے بھی لیا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے لوگوں کو کہدو فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ(یونس: ۱۷) میں ایک عرصہ تم میں رہا۔ اس کو دیکھو۔ اس میں میں نے تم سے کبھی غداری نہیں کی۔ پھر اب میں خدا سے کیوں غداری کرنے لگا۔ یہی وہ دلیل تھی جو حضرت ابوبکرؓ نے لی اور کہدیا کہ اگر وہ کہتا ہے کہ خدا کا رسول ہوں تو سچا ہے اور میں مانتا ہوں اس کے بعد نہ کبھی ان کے دل میں کوئی شبہ پیدا ہوا اور نہ ان کے پائے ثبات میں کبھی لغزش آئی۔ ان پر بڑے بڑے ابتلاء آئے انہیں جائدادیں اور وطن چھوڑنا اور اپنے عزیزوں کو قتل کرنا پڑا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت میں کبھی شبہ نہ ہوا۔ ایک اور صحابی کا ذکر ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک یہودی سے لین دین کا معاملہ تھا اس کے متعلق رسول کریمؐ نے جو کچھ فرمایا اسے سُنکر صحابی نے کہا یا رسول اللہ یہی درست ہے جو آپ فرماتے ہیں۔ رسول کریم نے کہا یہ معاملہ تو میرے اور اس کے درمیان ہے تم کو کس طرح معلوم ہے کہ جو کچھ میں کہتا ہوں وہ درست ہے۔ صحابی نے کہا یا رسول اللہ جب آپ خدا کے متعلق باتیں بتاتے ہیں اور ہم مانتے ہیں کہ سچی ہیں تو اب جبکہ آپ ایک بندہ کے متعلق فرماتے ہیں تو یہ جھوٹ کس طرح ہوسکتا ہے اسی وجہ سے میں نے کہا ہے کہ جو کچھ آپ فرمارہے ہیں درست ہے۔ یہ سُنکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کے متعلق فرمایا اس کا ایسا ایمان ہے کہ جہاں دو آدمیوں کی شہادت کی ضرورت ہو وہاں اس ایک کی ہی کافی سمجھی جائے۔ ان لوگوں کے دلوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کیوں اس طرح گڑ گئی تھی اور کیوں ان کے دل میں کوئی شک وشبہ نہیں پیدا ہوتا تھا اس کی وجہ یہی ہے کہ انہیں رسول کریمؐ کی صداقت کے دلائل معلوم ہوگئے تھے۔ یہ میں نے حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ اور چند موٹی موٹی باتیں بتائی ہیں۔ اب آپ کی صداقت کے متعلق بیان کرتا ہوں۔

حضرت مرزا صاحب کی صداقت کی پہلی دلیل

فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ(یونس: ۱۷) کے معیار کو ہی دیکھیں۔ اس (قادیان) گاؤں میں ہندو اور غیر احمدی رہتے ہیں اور ایسے لوگ ہیں جو حضرت مرزا صاحب سے ملتے اور آپ سے تعلق رکھتے تھے ان کو مخاطب کرکے آپ لکھتے رہے کہ بتاؤ میں نے کبھی کسی سے فریب، دھوکا، دغا بازی کی، کسی کا مال ناجائز طریقے سے لیا، کسی پر کوئی ظلم اور سختی کی، کبھی جھوٹ بولا، اگر نہیں تو پھر میں خدا پر کس طرح جھوٹ بولنے لگ گیا۔

پھر ایسے بھی لوگ موجود تھے جو آپ کے دشمن تھے آپ سے عداوت رکھتے تھے اور آپ کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتے تھے مگر کوئی سامنے کھڑا نہ ہوسکا اور محمد حسین بٹالوی جس نے آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا اس نے بھی اقرار کیا کہ پہلی زندگی اچھی تھی۔ اس سے ہر ایک عقل مند انسان سمجھ سکتا ہے کہ جب پہلی زندگی اعلیٰ درجہ کی اور پاک تھی تو دعویٰ کے بعد کیا ہوگیا وہ زندگی کیوں اعلیٰ نہ رہی۔

پھر خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ایک یہ معیار بیان فرماتا ہے وَلَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ لَاَخَذۡنَا مِنۡہُ بِالۡیَمِیۡنِ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡہُ الۡوَتِیۡنَ فَمَا مِنۡکُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡہُ حٰجِزِیۡنَ(الحاقة: ۴۵ تا ۴۸) کہ اگر یہ ہم پر جھوٹ بولتا تو ہم اسے تباہ کر دیتے۔ اور یہ بات عقلاً بھی درست ہے کہ خدا پر جھوٹ بولنے والے کو تباہ ہونا چاہئے کیونکہ اگر افتراء کرنے والا بچ رہے تو کوئی پہچان ہی نہ سکے کہ فلاں خدا کی طرف سے ہی ہے۔ دیکھو! اگر کوئی شخص دنیاوی گورنمنٹ کا افسر ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرے تو گورنمنٹ اسے گرفتار کر لیتی ہے پھر جو شخص نبی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرے اسے خدا تعالیٰ کیوں نہ پکڑے ۔ قرآن کریم نے اس دلیل کو رسول کریم کے متعلق پیش کیا ہے اور یہ صرف آپ ہی کے لئے نہیں بلکہ عام ہے لیکن اگر اس کو صرف رسول کریم کے لئے قرار دیا جائے تو یہ دلیل ہی نہیں رہتی کیونکہ اگر پہلے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے اس دلیل کے ماتحت ہلاک ہوتے رہے ہیں تو رسول کریم کے وقت بھی اس کو پیش کیا جا سکتا تھا لیکن اگر پہلے ہلاک نہیں ہوئے تو پھر اس کا پیش کرنا درست نہیں ہو سکتا لیکن چونکہ یہ ایسی دلیل ہے کہ ہر زمانہ میں اپنا اثر دکھاتی رہی ہے اس لئے رسول کریم کے وقت بھی پیش کی گئی اور اب حضرت مرزا صاحب کے وقت بھی پیش کی جا سکتی ہے۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کو دعویٰ کے بعد جتنی زندگی عطا ہوئی اتنی اگر جھوٹے نبی کو بھی مل سکتی ہے تو پھر یہ آیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی دلیل نہیں رہ جاتی۔ کیونکہ حضرت مرزا صاحب کو اپنے الہامات شائع کرنے سے لے کر قریباً تیس سال زندگی حاصل ہوئی جو کہ رسول کریم کی دعویٰ نبوت کرنے سے بعد کی زندگی سے زیادہ ہے۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ مرزا صاحب کے اتنے عرصہ کے الہام اب بنا لئے گئے ہیں مگر آپ کی اس وقت کی کتابیں گورنمنٹ کے ہاں موجود ہیں اور ان میں الہام درج ہیں۔

دوسری دلیل

پھر آپ کو جو الہام ہوئے وہ نہایت صفائی کے ساتھ پورے ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ آپ کو الہام ہوا کہ ” میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا “اور اب ایسا ہی ہو رہا ہے۔ پھر آپ کو بتایا گیا کہ تیرے ذریعہ اسلام کی اشاعت ہوگی چنانچہ ہو رہی ہے۔ خدا تعالیٰ احمدیت کو دنیا میں پھیلا رہا ہے۔ پھر آپ کو کہا گیا کہ قادیان میں لوگ دُور دُور سے آئیں گے يَأْتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ۲؎۔ اب مثلاً آپ ہی اتنی دُور سے آئے ہیں یہاں دنیاوی لحاظ سے کوئی قابل کشش چیز نہیں ہے کہ جسے دیکھنے کے لئے کوئی آوے۔ ادھر مولوی کہتے ہیں کہ جو آئے گا وہ اسلام سے خارج ہو جائے گا اور لوگوں کو روکنے میں پورا پورا زور لگا رہے ہیں باوجود اس کے حضرت مرزا صاحب کا الہام لوگوں کو کھینچ کھینچ کر یہاں لا رہا ہے۔ کوئی کہے یہاں لوگ سیر کے طور پر آ جاتے ہیں مگر انہیں یہ بھی تو خطرہ ہوتا ہے کہ ایمان جاتا رہے گا کیونکہ ان کے علماء نے فتویٰ دے رکھا ہے کہ جو شخص احمدیوں سے ملتا جلتا حتیٰ کہ ان کو دیکھتا ہے وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ مگر باوجود اس کے لوگ آئے اور آ رہے ہیں جو ثبوت ہے اس بات کا کہ يَأْتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ خدا کی طرف سے الہام ہے جو پورا ہو رہا ہے۔

تیسری دلیل

ایک اور ثبوت انبیاء کی صداقت کا خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم رسولوں کو ان کے مخالفین پر غلبہ دیتے ہیں اور یہ ایسی سنت ہے جو کبھی نہیں بدلتی۔

اس ثبوت کی رو سے بھی حضرت مرزا صاحب کی صداقت ثابت ہے کیونکہ ساری دنیا آپ کے مقابلہ پر آئی اور آپ کی باتوں کو روکنا چاہا مگر آپ کا سلسلہ پھیل ہی گیا اور دن بدن پھیل رہا ہے۔

تکالیف برداشت کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے

یہ ایسے معیارِ صداقت ہیں کہ جو سب انبیاء کے لئے مشترک ہیں اور یہ سب حضرت مرزا صاحب کے متعلق پائے جاتے ہیں۔ ان کو دیکھ کر اور سمجھ کر جو شخص بیعت کریگا اسے اگر کسی امر کے متعلق شبہ پیدا ہوگا تو ایسی بات ہوگی کہ کہے گا کہ مجھے اس کا علم نہیں۔ میں اس کے متعلق تحقیقات کروں گا نہ کہ وہ صداقت کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔ پس ہر اس شخص کا فرض ہے جو اس سلسلہ میں داخل ہونا چاہے کہ اس طرح سمجھ کر اور تحقیقات کر کے داخل ہو اور جب داخل ہو جائے تو پھر خواہ اس پر کوئی مصیبت آئے اس کی پرواہ نہ کرے۔ اب تو وہ مصیبتیں اور تکلیفیں نہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت مسلمان ہونیوالوں کو برداشت کرنا پڑتی تھیں۔ اس وقت تو عورتوں کی شرم گاہوں میں نیزے مارے گئے، تپتی ریت پر لٹایا گیا، اونٹوں سے باندھ کر چیرا گیا اور طرح طرح کی تکالیف پہنچائی گئیں جو ہماری جماعت کو نہیں پہنچیں۔ مگر ایسا ایمان ہو کہ انسان کہے کہ اگر ایسی کوئی تکلیف آئی تو بھی میں قائم رہونگا اور اپنی جگہ سے ذرا نہ ہٹوں گا۔ یہ خیال نہ کرے کہ اب اس قسم کی تکالیف کا زمانہ نہیں رہا اس لئے نہیں آئیں گی بلکہ یہ کہے کہ گو زمانہ ایسا نہیں لیکن اگر کوئی ایسی تکلیف آنے تو میں اُسے برداشت کرنے کے تیار ہوں۔ اگر مجھے وطن سے نکالا جائے گا تو نکلوں گا، اگر میرا مال چھین لیا جائے گا تو پروا نہیں کرونگا، اگر قتل کیا جائیگا تو اس کے لئے بھی تیار ہونگا۔ اگرچہ کم ہیں لیکن ہماری جماعت میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ اس قسم کی تکالیف کو برداشت کیا گیا۔ مالابار میں ہماری جماعت ابھی کم ہے، وہاں احمدیوں کی عورتوں کا جبراً دوسری جگہ نکاح کر دیا گیا، جائدادیں چھین لیں اور بھی کئی جگہ طرح طرح کی تکالیف پہنچائی گئیں مگر احمدیوں نے کوئی پرواہ نہ کی۔

پس جب انسان صداقت کو قبول کرے تو اس طرح کرے کہ پھر اس کے لئے ہر ایک چیز جو اُسے قربان کرنی پڑے کر دے اور جب اپنے آپ کو اس بات کے لئے تیار پائے تب بیعت کرے۔ ان باتوں کے سننے کے بعد اگر آپ بیعت کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں مگر پھر بھی میں یہی نصیحت کرتا ہوں کہ خوب سوچ سمجھ کر بیعت کریں اور ان تکالیف اور مشکلات کو برداشت کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کر لیں جو انبیاء کی جماعتوں پر آتی ہیں۔

اس پر جب موصوف نے کہا کہ میں بالکل مطمئن ہوں اور بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں تو بیعت لی گئی اور اس کے بعد حضور نے تبلیغ کرنے اور خلیفہ وقت سے زیادہ تعلق بڑھانے کی تلقین فرمائی۔

(الفضل ۳۰؍مئی ۱۹۲۱ء)

آئینۂ صداقت

از سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی

اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ

خُدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھو النّاصر

دیباچہ

اِس کتاب کی تصنیف کی ضرورت اور غرض

گو اس بات کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے کہ احمدیت کی تبلیغ کے لئے ان اختلافات کے بیان کی جن کے باعث چند سو احمدی کہلانے والے جماعت احمدیہ سے الگ ہو گئے ہیں ضرورت نہیں۔ اور میں نہیں چاہتا تھا کہ ایسے ممالک کے لئے کہ جو اُردو نہیں جانتے اور اِس اختلاف سے ایک حد تک ناواقف ہیں جو کچھ لوگوں نے جماعت احمدیہ میں پیدا کرنا چاہا تھا کوئی تصنیف کروں۔ مگر مولوی محمد علی صاحب ایم اے نے اپنی کتاب سپلٹ میں چونکہ اِس مسئلہ کو لکھ کر ایسے ممالک میں شائع کیا ہے کہ جن کو ان مسائل کے علم سے کچھ فائدہ نہیں ہوسکتا تھا بلکہ جہاں ان خیالات کی اشاعت سے احمدیت کی ترقی کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ اس لئے مجبوراً مجھے بھی ان کی تحریر کا جواب لکھ کر ان ممالک میں شائع کرنے کی ضرورت معلوم ہوئی تاکہ وہ زہر جو انہوں نے اپنی تحریر کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں پھیلایا ہے اس کا تریاق ہو اور راستی کے طالبوں اور صداقت کے دلدادوں کے لئے صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت کا کام دے۔

پس میں اس کتاب کو جویانِ حقیقت کے سامنے پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ حق ان کے دل پر ظاہر کرے اور صداقت پر ان کو آگاہ کرے کہ اس کی ہدایت کے سوا کوئی ہدایت نہیں اور اس کی راہنمائی کے سوا کوئی رہنمائی نہیں۔ وہ دلوں کا حال جاننے والا ہے

اور غیب کی باتوں پر آگاہ ہے۔ کوئی چیز نہیں جو اس سے پوشیدہ ہو اور کوئی راز نہیں جس پر وہ آگاہ نہ ہو۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اھْدِنَا اِلٰی صِرَاطِکَ الْمُسْتَقِیْمِ وَ ثَبِّتْنَا عَلٰی دِیْنِکَ الْقَوِیْمِ وَاَلْھِمْ فِیْ قُلُوْبِنَا الْحَقَّ وَالسَّدَادَ وَ وَفِّقْنَا اَنْ نَّجْتَنِبَ الْفِتْنَةَ وَالْفَسَادَ وَ اخْذُلْ مَنْ عَادَنَا وَ انْصُرْنَا عَلٰی مَنْ مَارَنَا اِنَّکَ اَحْکَمُ الْحٰکِمِیْنَ وَ خَیْرُ الْفَصِلِیْنَ وَاٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔


آئینۂ صداقت

(تحریرہ فرمودہ دسمبر ۱۹۲۱ء)

مولوی محمد علی صاحب کی کتاب دی سپلٹ THE SPLIT

مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے ایک کتاب سپلٹ نامی حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ جو انہوں نے اس امر کے متعلق تحریر کی ہے کہ جماعت احمدیہ میں کیا اختلاف ہے۔

یہ کتاب عام طور پر ہندوستان کے ایسے علاقوں میں کہ جہاں اُردو نہیں سمجھی جاتی یا ہندوستان سے باہر ایسے مقامات پر کہ جہاں سلسلہ احمدیہ پھیلنا شروع ہوا ہے شائع کی گئی ہے اور اس کی غرض ان کی تحریر سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ احمدیہ جماعت سے اپیل کریں کہ وہ ایک دفعہ متفقہ طاقت سے بقول ان کے ان بدخیالات کو مٹا ڈالے جو میری طرف سے شائع کئے جاتے ہیں۔ چنانچہ وہ خود اس کتاب کے صفحہ ۷۶ پر لکھتے ہیں۔

"I appeal to the good sense and moral courage of the Ahmadiyya community to denounce these false doctrines with one voice before they take root like the false doctrines attributed to the Messiah." ۱؎

اشاعت سپلٹ کی وہ غرض نہیں جو بتائی گئی ہے

مگر میرے نزدیک اس کتاب کی تصنیف سے ان کی یہ غرض نہیں اور اس تحریر کو پڑھتے ہی ہر ایک عقلمند انسان اسی نتیجہ پر پہنچے گا۔ کیونکہ جو لوگ ابتداءً حضرت مسیح موعودؑ پر ایمان لائے اور جن کے ملک میں آپؑ پیدا ہوئے اور جن کو آپؑ کی صحبت میں بیٹھنے کا موقع ملا اور جنہوں نے آپؐ کی زبان سے نکلی ہوئی باتوں کو سنا اور سمجھا اور جنہوں نے آپؐ کے ہاتھوں سے لکھی ہوئی کتابوں کو اسی زبان میں پڑھا کہ جس میں وہ لکھی گئی تھیں اور جو تعداد میں دیگر تمام ممالک کے احمدیوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہیں ان کی زبان انگریزی نہیں اور نہ سوائے ایک قلیل تعداد کے جو ایک فیصدی بھی نہیں وہ لوگ انگریزی سمجھ یا پڑھ سکتے ہیں۔

بیرونی ممالک میں سلسلہ کی ترقی میں پیش آنیوالی دَو رُکاوٹوں کا دُور کرنا

اسی طرح اس کتاب کے لکھنے کی یہ غرض بھی نہیں ہو سکتی کہ ہمارے عقائد کے پھیلنے سے جو ان کے نزدیک نہایت اشتعال انگیز اور فتنہ خیز ہیں احمدی جماعت کی ترقی رُک گئی تھی اور ہندوستان سے باہر کے ممالک میں سلسلہ کا بڑھتا ہوا قدم ٹھہر گیا تھا اور اس خطرناک تعلیم کو سن کر لوگ سلسلہ سے بیزار ہو گئے تھے۔ پس احمدیہ جماعت کی خدمت اور اسلام کی محبت کو مدّنظر رکھ کر وہ مجبور ہوئے کہ لوگوں کو بتائیں کہ جو تعلیم میری طرف سے پھیلائی گئی تھی وہ غلط اور مسیح موعودؑ کی تعلیم کے خلاف تھی ۔ مسیح موعودؑ کی تعلیم بالکل اسلام کے مطابق اور انہی لوگوں کے عقائد کے موافق ہے کیونکہ ہندوستان سے باہر سیلون، ماریشس، افریقہ وغیرہ ممالک میں کہ جہاں اس کی اشاعت کی گئی ہے اور جن ممالک کو مدّنظر رکھ کر یہ کتاب لکھی گئی ہے وہاں ان لوگوں کا کوئی مشن نہ پہلے کبھی قائم ہوا اور نہ اب قائم ہے۔

بیرونی ممالک میں احمدیت کی تعلیم کب شروع ہوئی

جس قدر احمدیت کی اشاعت غیر ممالک میں ہوئی ہے وہ سب میرے ہی زمانہ اور میرے ہی ذریعہ سے ہوئی ہے۔ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ(الجمعة: ۵) خدا تعالیٰ نے یہ نعمت اور یہ ثواب میرے لئے ہی مقدر کر رکھا تھا کہ ایسے وقت میں جب جماعت ایک اندرونی آفت سے ایک سخت خطرہ میں تھی اور اپنوں اور بیگانوں کو خیال ہو رہا تھا کہ جماعت احمدیہ کی زندگی کے دن پورے ہو گئے مجھے اس نے یہ طاقت دی کہ میں ہندوستان کے باہر کے ممالک کو بھی جواب تک اس نعمتِ عظمیٰ سے جو خدا تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کے ذریعہ سے دُنیا پر نازل کی محروم تھے ان کا حق اور حصہ ادا کروں۔ پس جس قدر احمدی بھی غیر ممالک میں ہوئے وہ باوجود ان ”تنگ خیالات“ کی اشاعت کے جو مولوی صاحب میری طرف منسوب کرتے ہیں ہوئے ہیں۔ پس ان کے اس کتاب کو تحریر کرنے کا یہ امر بھی باعث نہیں ہو سکتا کہ میرے خیالات کی اشاعت سے سلسلہ کی ترقی کو نقصان پہنچ رہا تھا۔

لوگوں کو سلسلہ میں داخل ہونے کا شوق دلانے کیلئے صحیح عقائد پھیلانا

پھر یہ بھی نہیں خیال کیا جا سکتا کہ گو احمدی جماعتیں غیر ممالک میں میرے ہی ذریعہ سے قائم ہوئی ہیں لیکن مولوی صاحب نے یہ خیال کر کے کہ اگر صحیح عقائد پھیلا دیئے جائیں گے تو لوگ اور بھی شوق سے داخل ہوں گے ۔ کیونکہ اس سے سلسلہ سے ان کی نفرت کم ہو جاوے گی یہ کتاب شائع کر دی ۔ کیونکہ باوجود ان خطرناک خیالات کے جن کو وہ میری طرف منسوب کرتے ہیں ۔ ہندوستان میں جو مذہبی علوم کے لحاظ سے تمام مشرقی ایشیا کا استاد سمجھا جاتا ہے اور جس میں علوم دینیہ کی تعلیم کا دوسرے ممالک سے بہت زیادہ چرچا ہے اور عام طور پر یہاں کے لوگ دوسرے ممالک کے باشندوں سے دین سے بہت زیادہ واقف ہیں ہر سال ہزار ہا آدمی میری بیعت میں شامل ہو کر سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں مولوی صاحب اور ان کے ساتھی جو کہ بقول ان کے

A large number of the educated members of the community

ہیں اور جو پھر ساتھ ہی ؎MORAL COURAGE رکھتے ہیں اب تک چھ سال کے عرصہ میں اسقدر آدمیوں کو احمدی نہیں بنا سکے جسقدر کہ بعض دفعہ صرف ایک مہینہ میں میری بیعت میں شامل ہو جاتے ہیں اور جن میں دینی اور دنیاوی علوم کی اعلیٰ سے اعلیٰ ڈگریوں والے لوگ بھی شامل ہیں ۔

سپلٹ کے شائع کرنے کی اصل وجہ

پس اگر کوئی وجہ اس کتاب کی تحریر کی ہے تو صرف یہ کہ مولوی صاحب اس بغض وکینہ کی وجہ سے جو مجھ سے رکھتے ہیں یہ نہیں دیکھ سکتے کہ مجھے کوئی کامیابی ہو ۔ اور ان کو میری مخالفت کا اس قدر خیال ہے کہ اس میں اگر اسلام اور سلسلہ احمدیہ کو کوئی نقصان بھی پہنچ جاوے تو ان کو اس کی پرواہ نہیں ۔ پس جب انہوں نے شمالی ہند اور دیگر ممالک میں میری ناچیز کوششوں کو بار آور ہوتے دیکھا اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کو مجھ پر نازل ہوتے مشاہدہ کیا تو انہوں نے اور کوئی حیلہ کارگر ہوتا ہوا نہ دیکھ کر یہ تدبیر جسے وہ بہت دفعہ ہندوستان میں بھی استعمال کر چکے ہیں اختیار کی کہ میرے عقائد کو بُری سے بُری شکل میں دکھا کر اور ایسے الفاظ میں لکھ کر کہ جن کے پڑھنے سے ہر ایک غیر احمدی کا سینہ جوشِ غضب سے بھر جاوے اور اس کی آنکھوں میں خون اُتر آئے اور بہت سے غلط واقعات سے اس کو زیب دے کر غیر ممالک میں شائع کیا جس سے ان کی یہ غرض تھی کہ لوگوں میں اس سلسلہ کی نسبت ایک عام جوش پھیل جاوے اور وہ لوگ اس سے بدظن ہو کر اس میں داخل ہونے سے رُک جاویں اور جو تھوڑے سے لوگ باوجود مرکزِ سلسلہ سے دور اور دشمنوں میں گھرے ہوئے ہونے کے ہر قسم کے مخالف حالات کی موجودگی میں خدا تعالیٰ کی آواز کو سن کر اس پر لبیک کہتے ہوئے دوڑ پڑے تھے ان کی آگے ہی بڑھی ہوئی مصیبتیں اور بھی بڑھ جائیں اور غضب سے اندھے ہوئے ہوئے دشمن ان کو اپنے غصہ سے آگ میں جلا کر راکھ کر دیں اور اس طرح مولوی صاحب کے دل کو یہ ٹھنڈک نصیب ہو کہ گو سچے اسلام کا قصر ان ممالک میں برباد ہو گیا اور اس کی بنیادیں ہل گئیں مگر ساتھ ہی میری کوششوں نے بھی ناکامی کا منہ دیکھا۔ نعوذ باللہ من ذلک۔

صداقت کبھی مغلوب نہیں ہوتی

مگر مولوی صاحب کو یہ خیال نہیں آیا کہ الٰہی سلسلوں میں داخل ہونے والے لوگ عموماً وہی ہوتے ہیں جو اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر صداقت کو قبول کرتے ہیں اور کوئی مشکل ان کو صداقت کے راستہ سے ہٹا نہیں سکتی۔ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کو ان کے دشمنوں کی کھنچی ہوئی تلواریں اپنے عقائد سے پھرا سکیں یا صفحۂ ہستی سے مٹا سکیں؟ کیا اس زمانہ کے امام کے دشمنوں نے اپنا پورا زور نہیں لگایا اور احمدیوں کو پیس ڈالنے کی کوشش میں ناکامی کا منہ نہیں دیکھا؟ تو کیا اب آپ کے ڈالے ہوئے تیل سے مخالفت کی جو آگ بھڑکے گی اس کے شعلے غیر ممالک کے احمدیوں کو جلا کر راکھ کر دیں گے اور وہ یا تو تباہ ہو جائیں گے یا مجبور ہو کر حق کو چھوڑ بیٹھیں گے؟ نہیں خدا کی قسم نہیں جس شخص کو ذرہ بھر بھی حلاوتِ ایمان سے حصہ ملا ہے وہ جانتا ہے کہ صداقت کبھی مغلوب نہیں ہوتی اور حق کے قبول کرنے کے بعد ہر ایک مصیبت حق کے چھوڑ دینے کے مقابلہ میں آسان معلوم ہوتی ہے۔

مولوی محمد علی صاحب کی ناکامیاں

کاش! مولوی صاحب ان ناکامیوں کو دیکھ کر ہی کوئی نصیحت حاصل کرتے جو ان کو ہندوستان میں ہوئی ہیں۔ ان کی کوششوں کے نتیجہ میں پانچ سال کے عرصہ میں جس قدر لوگ بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے ہیں ان سے کئی گنے زیادہ نئے احمدی جو ان کے ہم خیالوں سے دنیاوی حیثیت میں بھی کسی طرح کم نہیں میری بیعت میں شامل ہوئے ہیں اور خود ان کے ہم خیالوں میں بھی ایک بہت بڑی تعداد ان کو چھوڑ کر میرے ساتھ آکر مل گئی ہے۔

مولوی محمد علی صاحب کا غیر ممالک کی طرف متوجہ ہونا

جس طرح مسیح ناصری کے بعد لوگ بنی اسرائیل میں اپنے خیالات کی اشاعت سے مایوس ہو کر دوسری اقوام کی طرف متوجہ ہوئے تھے آپ بھی اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں احمدی ہونے والی جماعت سے مایوس ہو کر اب غیر ملکوں کی طرف متوجہ ہوئے ہیں مگر یاد رکھئے کہ پہلے مسیح اور اس مسیح میں فرق ہے۔ وہ موسوی سلسلہ کا خلیفہ تھا اور یہ محمدی سلسلہ کا خلیفہ ہے۔ پس جس طرح پہلے مسیح کی طرح دوسرا مسیح سولی پر نہیں چڑھایا گیا۔ اسی طرح پہلے مسیح کی جماعت کے خلاف اس مسیح کی جماعت بھی ہر ایک صداقت سے پھیر دینے والی تحریک سے محفوظ رہے گی۔

مولوی صاحب کی بدتہذیبی

اس کتاب کی اشاعت کی غرض بتانے کے بعد اصل مضمون شروع کرنے سے پہلے میں اس بات پر افسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ مولوی صاحب اپنی سخت کلامی کی عادت کو یہاں بھی چھوڑ نہیں سکے۔ میرے مقابلہ میں اردو میں جسقدر

مضامین انہوں نے لکھے ہیں ان میں بھی ان کی طرزِ تحریر نہایت مکروہ رہی ہے اور اس کے مقابلہ میں میں نے اس ادب و احترام کو جو شرفاء میں رائج ہے کبھی نہیں چھوڑا بلکہ ان کو بھی اس کمزوری کی طرف بار بار توجہ دلائی ہے۔ مگر مولوی صاحب نے میری نصیحت پر کبھی کان نہیں دھرا اور ہمیشہ اس رویہ کو اختیار کئے چلے گئے ہیں جسے انہوں نے شروع میں اختیار کیا تھا۔ غیر ممالک کے احباب تو اس امر سے واقف نہیں مگر یہاں کے لوگ اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ معین اشخاص کو مخاطب کر کے یا ان کا ذکر کر کے اگر کسی شخص نے مسائل اختلافیہ پر رسائل شائع کرنے میں ابتداء کی ہے تو وہ مولوی محمد علی صاحب ہی ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات سے چند دن پہلے آپ کی نازک حالت کو دیکھ کر مولوی محمد علی صاحب نے ایک ٹریکٹ لکھا تھا جس میں مسائل اختلافیہ پر رائے زنی کی گئی تھی اور اس ڈر سے کہ حضرت خلیفۃ المسیح کو اگر معلوم ہو گیا تو ان کی سب کوشش اکارت جاوے گی انہوں نے کمال دانائی و ہوشیاری سے ٹریکٹ لکھوایا اور چھپوایا۔ نہ حضرت خلیفۃ المسیح کو پڑھ کر یہ ٹریکٹ سنایا نہ اس کے مضمون پر آگاہی دی نہ آپ سے مشورہ لیا۔ حالانکہ احمدیوں میں یہ بات عام طور پر رائج ہے کہ اختلافی امور یا اہم مسائل پر جب کبھی کوئی رسالہ یا اشتہار لکھا جاتا ہے تو اس کے متعلق خلیفۂ وقت سے اجازت لی جاتی ہے۔ چنانچہ خواجہ صاحب نے کفر و اسلام کے متعلق جو مضامین لکھے تھے وہ حضرت خلیفۃ المسیح کو دکھائے تھے۔ کانپور کی مسجد کے متعلق کچھ لکھنے سے پہلے پیغامِ صلح کے سٹاف نے خاص آدمی بھیج کر حضرت خلیفۃ المسیح کی رائے طلب کی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ پورے طور پر مضامین سنائیں یا نہ۔ یا آپ کی رائے کو اس کے اصلی رنگ میں شائع کریں نہ کریں۔ گو ایک قسم کا پردہ ضرور رکھا جاتا تھا۔ مگر اس مضمون کے متعلق دو حرفی ذکر بھی مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الاول سے نہیں کیا۔ حالانکہ آپ کی وصیت کے عجیب و غریب معنے اس میں آپ نے کئے تھے کم سے کم ان معنوں کے متعلق ہی دریافت کرنا چاہئے تھا کہ آپ کی وصیت کے یہ معنے کئے ہیں کیا یہ درست ہیں؟ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا اور اخفاء سے کام لیا۔ اسی طرح قادیان میں ٹریکٹ نہیں چھپوایا لاہور اشاعت کے لئے بھیجا۔ حالانکہ قادیان میں ایک چھوڑ دو تین پریس موجود تھے اور کام بھی ان کو زیادہ نہ تھا۔ لاہور میں بھی ٹریکٹ چھاپ کر رکھ چھوڑا گیا اور اس دن کا انتظار ہوتا رہا جب حضرت خلیفۃ المسیح فوت ہو جاویں تاکہ جو کچھ بھی آپ کی نسبت شائع کیا جاوے اس کی تردید نہ ہو سکے۔

غرض مولوی محمد علی صاحب ہی ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اس قسم کی تحریر لکھی ہے جس میں انہوں نے میرا اور میرے دوستوں کا ذکر کر کے ان کے عقائد کی نسبت یہ لکھا ہے کہ وہ تقویٰ کے خلاف ہیں۔

اور ان اعتقادات کا رکھنے والا متقی نہیں ہو سکتا اور اس تحریر کے بعد برابر ہر ایک تحریر میں وہ سختی سے کام لیتے رہے ہیں اور میرا نام بھی ایسی حقارت سے لکھتے رہتے ہیں کہ شرفاء میں ایک دوسرے کا ذکر اس طرح جائز نہیں سمجھا جاتا۔ گو اس کتاب میں لفظاً انہوں نے ایسی سختی نہیں کی مگر ضَالّ اور مُضِلّ اور اس قسم کے خطاب مجھے ضرور دیئے ہیں جیسا کہ ہر ایک پڑھنے والے پر روشن ہوگا اور میرا نام نہ معلوم کس نسبت سے ایم محمود کر کے لکھتے رہے ہیں مگر میں نے جیسا کہ پہلے شرافت کا لحاظ رکھا ہے اب بھی رکھوں گا۔ اور گو ان کی روز افزوں سختی کے جواب میں زیادہ زور دار الفاظ استعمال کرنے ضروری معلوم ہوتے ہیں مگر میں پسند نہیں کرتا کہ انہی کے رنگ میں چل کر میں آدابِ کلام کو بھی چھوڑ دوں۔

سلسلہ احمدیہ اور سلسلہ مسیحیہ کی مماثلت

مولوی محمد علی صاحب کے اس طریقِ تحریر کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب میں ان کی کتاب کے جواب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں:۔ مولوی محمد علی صاحب شروع کتاب میں ہی تحریر فرماتے ہیں کہ چونکہ سلسلہ احمدیہ سلسلہ مسیحیہ کا مثیل ہے اس لئے ضرور تھا کہ اس میں بھی ایک فریق غلو سے کام لیتا اور حق کو چھوڑ دیتا اور اس پر انہوں نے خاص طور پر زور دیا ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ صرف اسی مشابہت سے ہی ہمارے اور ان کے درمیان بیّن فیصلہ ہو جاتا ہے مگر مولوی محمد علی صاحب شاید یہ بات نہیں سمجھتے کہ مشابہت سے ہر ایک امر میں مشابہت ہونی ضروری نہیں۔ بلکہ مثیل کبھی اس سے جس کا وہ مثیل ہوتا ہے درجہ اور کامیابی میں بڑھا ہوا ہوتا ہے۔

رسول کریمﷺ اور حضرت موسیٰؑ کی مماثلت

حضرت مسیح موعودؑ صرف ایک ہی مثیل نہیں ہیں بلکہ آپؐ کے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک نبی کے مثیل ہیں یعنی حضرت موسیٰؑ کے۔ مگر باوجود اس کے آپؐ کے صحابہؓ کے ساتھ اسی رنگ میں معاملہ نہیں ہوا جس رنگ میں کہ حضرت موسیٰؑ کے صحابہ سے۔ اور نہ آپؐ کے صحابہؓ نے حضرت موسیٰؑ کے صحابہ کا سا نمونہ دکھایا۔ اللہ تعالیٰ خود قرآن کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مثیلِ موسیٰؑ ہونا ان الفاظ میں بیان کرتا ہے ۔ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا(المزمل: ۱۶) ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے جو تم پر نگران ہے جس طرح کہ ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔ اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰؑ کا مثیل اور مشابہ قرار دیا ہے۔ توریت بھی یہی کہتی ہے۔ خدا تعالیٰ حضرت موسیٰؑ کو

مخاطب کر کے فرماتا ہے ”میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا۔“ (استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸۔ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی انارکلی لاہور ۱۹۲۲ء)

رسول کریم ﷺ کی اور حضرت موسیٰؑ کی کامیابیوں کا مقابلہ

پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم موسیٰ کے مثیل اور اس سے مشابہ تھے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں آپ کو حضرت موسیٰ سے بہت سی مشابہتیں ہیں۔ وہاں آپ کی کامیابیاں حضرت موسیٰؑ سے بہت بڑھی ہوئی ہیں۔ حضرت موسیٰ سے بھی ایک وعدہ کیا گیا تھا کہ کنعان کی زمین ان کو دی جاوے گی۔ تاکہ وہ ہمیشہ کے لئے ان کے ٹھہرنے کا مقام ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایک وعدہ دیا گیا تھا کہ حرم (حوالی مکہ) کی سرزمین ان کو دی جاوے گی۔ تا ہمیشہ کے لئے ان کے ٹھہرنے کا مقام ہو۔ مگر حضرت موسیٰؑ جب اس ملک کے فتح کرنے کے لئے چلے تو باوجود اس کے کہ ان کی قوم نے ان سے پوری مدد کا وعدہ کیا تھا عین موقع پر انہوں نے موسیٰ کو یہ جواب دیا کہ اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَہَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوۡا فِیۡہَا فَاذۡہَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوۡنَ(المائدة: ۲۵) یعنی اے موسیٰ ہم اس زمین میں کبھی داخل نہ ہوں گے جب تک کہ اس میں اس کے پہلے قابض لوگ موجود ہیں۔ پس تُو اور تیرا رب جاؤ اور ان سے جا کر لڑو۔ ہم تو یہ بیٹھے ہیں حتیٰ کہ حضرت موسیٰ کے ساتھ صرف چند آدمی رہ گئے اور لڑائی کا ارادہ چھوڑنا پڑا۔ اس کے مقابلہ میں ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ کا انصار سے یہ معاہدہ تھا کہ صرف اس وقت کہ ہم پر مدینہ میں کوئی حملہ آور ہو تمہارا فرض ہو گا کہ تم ہماری مدد کرو۔ اور یہ معاہدہ بیعت عقبہ کے وقت جو انصار سے آپ نے ہجرت کرنے سے پہلے مکہ مکرمہ میں لی تھی کیا تھا۔ چنانچہ مشہور مؤرخ ابن ہشام لکھتا ہے کہ انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کیا تھا کہ يَا رَسُولَ اللّٰهِ اِنَّا بُرَآءُ مِنْ ذِمَامِكَ حَتَّىٰ تَصِلَ اِلىٰ دِيَارِنَا فَإِذَا وَصَلْتَ اِلَيْنَا فَأَنْتَ فِيْ ذِمَّتِنَا نَمْنَعُكَ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْهُ أَبْنَاءَنَا وَ نِسَاءَنَا ؕ یعنی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر ، ہم آپ کی حفاظت کے ذمہ دار نہیں۔ ہاں مدینہ پہنچ کر ہم آپ کے ذمہ دار ہیں۔ ہم جن باتوں سے اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بچاتے ہیں آپ کو بھی بچائیں گے۔ یعنی جس طرح اپنی جانیں دے کر ہم اپنی اولاد اور بیویوں کو قید اور قتل ہونے سے بچاتے ہیں آپ کو بھی بچائیں گے۔ پس جب بدر کی جنگ ہوئی اور آپ نے ارادہ کیا کہ دشمن کو روکنے کے لئے ہم آگے نکل کر اس کا مقابلہ کریں تو لکھا ہے:۔ كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّفُ اَنْ لَا تَكُوْنَ الْاَنْصَارُ تَرَى عَلَيْهَا نَصْرَهُ اِلَّا مِمَّنْ دَهَمَهُ بِالْمَدِيْنَةِ مِنْ عَدُوِّهٖ وَاَنْ لَّيْسَ عَلَيْهِمْ اَنْ يَّسِيْرَبِهِمْ اِلىٰ عَدُوٍّ مِّنْ بِلَادِهِمْ فَلَمَّا قَالَ ذٰلِكَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهٗ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ وَاللّٰهِ لَكَاَنَّكَ تُرِيْدُنَا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ قَالَ اَجَلْ قَالَ فَقَدْ اٰمَنَّا بِكَ وَصَدَّقْنَاكَ وَشَهِدْنَا اَنَّ مَا جِئْتَ بِهٖ هُوَ الْحَقُّ وَاَعْطَيْنَاكَ عَلٰى ذٰلِكَ عُهُوْدَنَا وَمَوَاثِيْقَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فَامْضِ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ لِمَا اَرَدْتَ فَنَحْنُ مَعَكَ فَوَ الَّذِیْ بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَوِ اسْتَعْرَضْتَ بِنَا هٰذَا الْبَحْرَ فَخُضْتَهٗ لَخُضْنَاهُ مَعَكَ مَا تَخَلَّفَ مِنَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ وَّمَا نَكْرَهُ اَنْ تَلْقٰى بِنَا عَدُوَّنَا غَدًا اِنَّا لَصُبُرٌ فِی الْحَرْبِ صُدُقٌ فِی اللِّقَاءِ وَلَعَلَّ اللّٰهَ يُرِيْكَ مِنَّا مَا تَقَرُّ بِهٖ عَيْنُكَ فَسِرْبِنَا عَلٰى بَرَكَةِ اللّٰهِ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوف کرتے تھے کہ کہیں انصار یہ خیال نہ کرتے ہوں کہ ان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد صرف اسی وقت فرض ہے جب کوئی دشمن مدینہ پر حملہ آور ہو اور یہ کہ ان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کا حق نہیں جبکہ آپؐ ان کو ان کے علاقہ سے باہر کسی دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے لے جانا چاہیں ۔ پس جب آپؐ نے کہا لوگو ! تمہارا کیا مشورہ ہے؟ تو سعد بن معاذؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم تو آپ پر ایمان لاچکے ہیں اور آپؐ کی تصدیق کر چکے ہیں اور اس بات کی گواہی دے چکے ہیں کہ آپؐ جو کچھ لائے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اسی وجہ سے ہم نے آپؐ سے پختہ عہد اور اقرار کئے ہیں کہ ہم آپؐ کی اطاعت اور فرمانبرداری کریں گے ۔ پس یا رسول اللہ چلئے ۔ جدھر چلتے ہیں ۔ ہم آپؐ کے ساتھ ہونگے ۔ اور اسی خدا کی قسم جس نے آپؐ کو سچی تعلیم دے کر بھیجا ہے اگر آپؐ ہم کو اس سمندر کی طرف لے جاویں (بحیرہ احمر کی طرف اشارہ ہے جو عرب کے ساحل پر ہے) اور اس کے اندر داخل ہو جاویں تو ہم آپؐ کے ساتھ ہوں گے ۔ اور ہم میں سے ایک شخص بھی پیچھے نہ رہے گا اور ہم اس بات کو ناپسند نہیں کرتے کہ آپؐ ہمیں لے کر کل ہی دشمنوں کا مقابلہ کریں ۔ ہم لڑائی میں صابر اور جنگ میں ثابت قدم ہیں ۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ آپؐ جنگ میں ہم سے وہ بات دیکھیں گے جو آپؐ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کریگی پس چلئے خدا تعالیٰ کی برکت کے ساتھ یا رسولؐ اللہ ۔

رسول کریمﷺ کے صحابہؓ اور حضرت موسیٰؑ کے ساتھیوں کے جواب میں فرق

اس جواب اور اس جواب کا جو حضرت موسیٰؑ کی قوم نے باوجود وعدہ مدد کے دیا تھا مقابلہ کرو اور دیکھو کہ کیا ان دونوں جماعتوں سے زیادہ کوئی اور دو قومیں متفاوت الحالات معلوم ہوتی ہیں مگر اس جواب سے بھی زیادہ عجیب جواب وہ ہے۔ جو مقداد بن عمرؓ نے دیا۔ کیونکہ اس میں انہوں نے وہی الفاظ بتغیر مناسب دہرائے ہیں جو حضرت موسیٰ کی قوم نے حضرت موسیٰ کو دیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ وَ اللهِ لَا نَقُوْلُ لَكَ مَا قَالَتْ بَنُو اِسْرَائِیْلَ لِمُوْسٰی اِذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ ۔ وَلٰکِنْ اِذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا اِنَّا مَعَکُمَا مُقَاتِلُوْنَ ۔ (سیرت ابن ہشام عربی جلد ۲ صفحہ ۲۶۶ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء) خدا کی قسم ہم تجھے وہ جواب نہیں دیں گے جو بنی اسرائیل نے موسیٰ کو دیا تھا کہ جا تُو اور تیرا رب جا کر لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہمارا جواب تو یہ ہے کہ چلئے آپ اور آپ کا رب دشمن کا مقابلہ کریں ہم آپ کے ساتھ مل کر دشمنوں سے لڑیں گے“۔

یہ فرق تو اصحاب موسیٰ اور اصحاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ خدا کے معاملہ میں بھی ہم یہی فرق دیکھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ بغیر اس موعودہ زمین میں داخل ہونے کے اپنی جماعت سمیت اس زمین کے سامنے ہی خیمہ ڈالے ہوئے فوت ہوگئے اور آگے ان کی اولاد کے ہاتھ پر وہ وعدہ پورا ہوا۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہایت شان و شوکت کے ساتھ اپنے صحابہؓ کی جماعت میں گھرے ہوئے جس طرح چاند ہالہ کے اندر ہوتا ہے مکہ میں بذات خاص فاتحانہ طور پر داخل ہوئے اور ہمیشہ کے لئے وہ ملک آپ کو دیا گیا۔

مسیحؑ ناصری اور مسیحؑ قادیانی کی جماعت میں فرق

مسیح ناصری اور مسیح قادیانی جو بوجہ موسوی اور محمدی سلسلوں کے خاتم الخلفاء ہونے کے ایک دوسرے سے مشابہ ہیں ان میں اور ان کی جماعتوں میں بھی وہی نسبت پائی جاتی ہے۔ حضرت مسیح ناصری کے حواریوں میں سے ایک کو جب اس کے مخالفوں نے پکڑا اور کہا کہ ”بیشک تُو بھی ان میں سے ہے (یعنی مسیح کے ساتھیوں میں سے) کہ تیری بولی تجھے ظاہر کرتی ہے، تب اس نے لعنت بھیج کر اور قسم کھا کر کہا۔ میں اس شخص کو نہیں جانتا“ (متی باب ۲۶ آیت ۷۳، ۷۴)مگر مسیح محمدی کے حواریوں میں سے بھی ایک شخص ویسے بلکہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ابتلاء میں مبتلا نہ ہوا اور وہاں تو دو عورتوں نے اور ایک دفعہ چند یہود نے جو حکومت میں کوئی دخل نہ رکھتے تھے پوچھا تھا کہ کیا تُو مسیح کے ساتھ ہے یہاں مسیح محمدی کے حواری سے خود بادشاہ نے دریافت کیا کہ کیا تُو اس مسیح کے ساتھ ہے۔

اور وہاں تین دفعہ کے دریافت پر اس نے انکار پر اصرار کیا۔ اور یہاں کئی دفعہ کے اصرار پر مسیح محمدی کے حواری نے بار بار اقرار کیا۔

سیّد عبداللطیف کا واقعہ شہادت

یہ واقعہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کا ہے کہ جو افغانستان کے ایک جید عالم اور بزرگ تھے۔ آپ نے حضرت مسیح موعودؑ کا ذکر سُن کر اور آپؑ کی بعض کتب پڑھ کر قبول کیا اور پھر خود قادیان تشریف لا کر صحبت سے فائدہ حاصل کیا۔ جب واپس تشریف لے گئے تو چونکہ افغانستان کے سب سے بڑے عالم تھے اور بارسوخ تھے حتیٰ کہ امیر موجودہ کی تاجپوشی پر آپ ہی نے اس کے سر پر تاج رکھا تھا ۔ اس واقعہ کی اطلاع امیر کابل کو بھی دی گئی اور مولویوں نے اس کو بھڑکایا کہ یہ کافر ہو گیا ہے اس کو قتل کرنا چاہئے۔ چنانچہ امیر جب مجبور ہوا تو اس نے پہلے دیگر افسروں کے ذریعہ آپ کو توبہ کے لئے کہا۔ جب آپ نے انکار کیا تو اپنے سامنے بلوا کر خود توبہ کے لئے کہا۔ جب آپ نے پھر انکار کیا تو مولویوں کے فتویٰ کے مطابق سزائے موت کی دھمکی دی۔ جب اس پر بھی بار بار اصرار کیا تو مولویوں کے فتویٰ کے مطابق سنگسار کرنے کا فتویٰ دیا۔ جب آپ کو قتل گاہ میں لے جایا گیا اور بوجہ ان کے درجہ بلند کے امیر کابل مع امراء خاص خود اس کام کو پورا کرنے کے لئے ساتھ گیا اور ان کو آدھا زمین میں گاڑ کر سنگسار کرنے کے لئے کھڑا کیا تو پھر امیر بذاتِ خود آپ کے پاس گیا اور کہا کہ اخوند زادہ اب بھی اس عقیدہ سے توبہ کیجئے اور اپنی جان اور اپنے اہل و عیال پر رحم کیجئے مگر صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید نے جواب دیا کہ نعوذ باللہ میں صداقت سے کیوں کر انکار کر سکتا ہوں جان اور اہل وعیال کیا حقیقت رکھتے ہیں کہ ان کی خاطر ایمان چھوڑ دوں۔ مجھ سے اس فعل کی اُمید نہ کیجئے میں ایمان پر اپنی جان قربان کرنے سے ذرّہ بھر بھی خوف نہیں کرتا۔ اس پر آپ پر پتھروں کی بارش برسائی گئی اور نہایت بیدردی سے آپ شہید کئے گئے۔ یہ واقعہ ۱۹۰۳ء میں ہوا ہے۔ اور اس بیّن فرق کو ظاہر کرتا ہے جو مسیح اوّل اور مسیحِ ثانی کی جماعتوں میں ہے۔

مسیحؑ اوّل اور مسیحؑ ثانی کے ساتھ خدا کا معاملہ اور اس میں تفاوت

اسی طرح مسیح اوّل اور مسیح ثانی کے ساتھ جو معاملہ خدا تعالیٰ نے کیا وہ بھی بالکل متفاوت ہے یعنی مسیح اوّل کو سولی پر لٹکانے میں اس کے دُشمن کامیاب ہو گئے مگر با وجود اس کے کہ مسیح ثانی کو بھی اقدام قتل کے الزام لگا کر دشمنوں نے ہلاک کرنا چاہا خدا تعالیٰ نے اس کو صاف بچا لیا اور اس کے دشمنوں کو اس کے خلاف ہلاک کر دیا۔

سلسلہ محمدیہ اور سلسلہ موسویہ میں بَین امتیاز

غرض جہاں سلسلہ محمدیہ اور سلسلہ موسویہ میں ایک عجیب مشابہت ہے۔ وہاں اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی تائیدوں کے لحاظ سے ایک بیّن امتیاز بھی ہے۔ پس صرف اس وجہ سے کہ دونوں سلسلے مشابہ ہیں یہ کہہ دینا کہ اس لئے حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت ضرور غلو کرنے والی ہے۔ درست نہیں ہو سکتا۔

مسیح موعودؑ کی جماعت پر غلو کا الزام لگانے سے شیعوں کا اعتراض صحابہؓ کے متعلق ضرور ماننا پڑیگا

اگر اسی بات سے نتیجہ نکالنا درست ہے۔ تو کیا شیعوں کا یہ الزام ہم درست تسلیم کرلیں کہ اکثر صحابہؓ منافق تھے کیونکہ اس کی تائید میں بھی کہا جا سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰؑ تھے اور حضرت موسیٰؑ کی جماعت کے کثیر حصہ نے عین موقع پر نفاق دکھایا تھا۔ اس لئے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر صحابہؓ منافق تھے ۔ نعوذ باللہ من ذلک۔

رسول کریم ﷺ اور مسیح موعودؑ کی روحانیت نے اپنے صحابہؓ کو اپنے مثیل کے ساتھیوں کی مشابہت سے بچالیا

جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے آپؐ کی جماعت کے اکثر حصہ کو حضرت موسیٰؑ کے وقت کے لوگوں کی مشابہت سے بچایا اور صرف کچھ لوگ منافقت کا شکار ہوئے ۔ اسی طرح مسیح محمدی کی روحانیت بھی ضروری تھا کہ اپنی جماعت کے کثیر حصہ کو اس غلطی سے بچاتی جو مسیح ناصری کے بعد اس کی جماعت سے ہوئی ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور سوائے ایک قلیل گروہ کے سب جماعت مرکز سلسلہ سے متعلق ہے اور اپنے انہی عقائد پر قائم ہے جس پر پہلے وہ قائم تھی۔ ہاں جس طرح ایک قلیل گروہ جو خلافت کا منکر تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ کو گرانے لگا اور جس کا اظہار حضرت علیؓ کے وقت میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد ہونے کی وجہ سے آپؐ کے بیٹے کی طرح تھے ہوا اسی طرح آج اس وقت جبکہ حضرت مسیح موعودؑ کا ایک بیٹا خلیفہ ہوا ایک قلیل گروہ خلافت کا منکر پیدا ہوا اور جس طرح خوارج نے یہ اعلان کیا تھا کہ اَلطَّاعَةُ لِلّٰهِ وَالْاَمْرُ شُوْرٰی بَیْنَنَا۔ یعنی اطاعت تو صرف اللہ تعالیٰ کی ہوتی ہے باقی انتظامی امور میں تو آپس کا فیصلہ جو مشورہ کے بعد قرار پائے وہی جاری ہونا چاہئے یعنی خلیفہ کوئی چیز نہیں ایک پارلیمنٹ ہو۔ اسی طرح آج اس گروہ نے جس کی انجمن کے پریذیڈنٹ مولوی محمد علی صاحب ہیں یہ آواز بُلند کی ہے کہ خلیفہ کوئی چیز نہیں بلکہ ایک انجمن کے سپرد جماعت کا انتظام ہونا چاہئے۔ مگر جس طرح خوارج پہلے چند سال شور و شر کر کے آخر دب کر بیٹھ گئے اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اس گروہ کا بھی یہی حال ہوگا۔

انجیلی آیات سے مولوی محمد علی صاحب کا استدلال

مولوی محمد علی صاحب نے انجیل کی چند آیات نقل کر کے لکھا ہے کہ مسیح کے دشمنوں نے ان پر یہ اعتراض کیا تھا کہ یہ خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس پر مسیح نے انکار کیا اور کہا کہ مجھے جو خدا کا بیٹا کہا گیا ہے۔ یہ صرف استعارۃً کہا گیا ہے اور انہی معنوں میں کہا گیا ہے جن میں پہلے نبیوں کو خدا کہا گیا تھا۔ مگر آپ کی وفات کے بعد آپ کے حواریوں نے انہی معنوں میں آپ کو خدا کا بیٹا کہنا شروع کر دیا جن معنوں میں کہ خدا کا لفظ رب العالمین کی نسبت استعمال ہوتا ہے اور جن معنوں میں ابنیت کا دعویٰ کرنے کا الزام یہودی حضرت مسیح علیہ السلام پر لگاتے تھے وہ اس سے استدلال کرتے ہیں کہ بعینہٖ اسی طرح مسیح محمدی سے ہونا چاہئے تھا اور ہوا ہے۔ اس کے دشمنوں نے بھی کہا کہ یہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس نے انکار کیا کہ مجھے نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ مجازی طور پر مجھے نبی کہا گیا ہے مگر آپؐ کی وفات کے بعد آپؐ کی جماعت نے مسیح کے حواریوں کی طرح یہی کہنا شروع کر دیا کہ وہ ویسے ہی نبی تھے جیسے کہ ان کے دشمن کہتے تھے۔ میرے نزدیک یہ مشابہت انہوں نے بہت عمدہ دریافت کی ہے مگر اس کو چسپاں انہوں نے غلط کیا ہے۔ ہم ان آیتوں کو جو انہوں نے انجیل سے نقل کی ہیں پڑھ کر دیکھتے ہیں تو ان میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہود آپ پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ خدا کا بیٹا فلاں فلاں معنوں کی رو سے بنتا ہے۔ حضرت مسیح کہتے ہیں کہ نہیں میں خدا کا بیٹا ان معنوں کی رو سے بنتا ہوں جن میں پہلے نبی خدا کہلائے۔ آپ کے بعد آپ کی جماعت نے خدا کے وہ معنے لے کر مسیح کی طرف منسوب کر دیئے جو مسیح کے دشمن لیتے تھے اب اسی مثال کو ہم حضرت مسیح محمدی کے وقت میں تلاش کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ پر آپ کے دشمنوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ آپؑ شریعت والے نبی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ اپنے ایک خط مطبوعہ روزانہ اخبار عام لاہور میں (یہ اخبار پنجاب کا سب سے پرانا اخبار ہے اور اس کے ایڈیٹر اور مالک سب ہندو اصحاب ہیں اس اخبار میں ایک خبر شائع ہوئی تھی کہ گویا حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے دعوائے نبوت سے رجوع کر لیا ہے۔ اس پر حضرت مسیح موعودؑ نے ایک خط اپنے قلم سے اس اخبار کے ایڈیٹر کو ۲۳؍ مئی ۱۹۰۸ء کو اپنی وفات سے دو تین دن پہلے لکھا جس میں سے یہ چند سطور نقل کی جاتی ہیں، تحریر فرماتے ہیں:۔

اخبار عام میں مسیح موعودؑ کا صاحب شرع نبی ہونے سے انکار

”پرچہ اخبار عام ۲۳؍ مئی ۱۹۰۸ء کے پہلے کالم کی دوسری سطر میں میری نسبت یہ خبر درج ہے کہ گویا میں نے جلسہ دعوت میں نبوت سے انکار کیا۔ اس کے جواب میں واضح ہو کہ اس جلسہ میں مَیں نے صرف یہ تقریر کی تھی کہ مَیں ہمیشہ اپنی تالیفات کے ذریعہ سے لوگوں کو اطلاع دیتا رہا ہوں اور اب بھی ظاہر کرتا ہوں کہ یہ الزام جو میرے ذمہ لگایا جاتا ہے کہ گویا میں ایسی نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا اور جس کے یہ معنے ہیں کہ مَیں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسا نبی سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا اور اپنا علیحدہ کلمہ علیحدہ قبلہ بناتا ہوں اور شریعت کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتداء اور متابعت سے باہر جاتا ہوں یہ الزام صحیح نہیں ہے۔“

دشمنوں کا الزام دُور کرنے کے ساتھ ہی حضرت مسیح موعودؑ اپنے دعوے کے متعلق اس خط میں یہ فرماتے ہیں کہ:۔ ”جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ہم کلامی سے مشرف ہوں اور وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا ہے اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جبتک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا۔ اور انہیں امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔ سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہو گا۔“

پھر دوسرے انبیاء علیہم السلام کے متعلق آپ فرماتے ہیں کہ:۔ ”منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے تھے“ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۵، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۹ حاشیہ)

ان تینوں تحریروں کو ملا کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے دشمن آپ پر تشریعی نبی ہونے کا الزام لگاتے تھے لیکن آپؑ اس سے انکار کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ مَیں تو ان معنوں میں نبی ہوں کہ مجھے کثرت سے امورِ غیبیہ پر اطلاع دی جاتی ہے۔ اور پہلے انبیاء بھی انہی معنوں میں نبی

کہلاتے رہے۔ اور یہ امر بالکل حضرت مسیح ناصری کے واقعہ سے مشابہ ہے لیکن اس نشانہ کے ماتحت صرف وہ شخص ان مسیحیوں سے کہ جنہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات پر آپؑ کو ان معنوں میں خدا کا بیٹا کہنا شروع کر دیا جن معنوں میں یہود کہتے تھے کہ آپ کو خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ ہے مشابہ ہو سکتا ہے جو حضرت مسیح موعودؑ کو تشریعی نبی قرار دیتا ہے۔

مسیح ناصری کے غالی متبعین سے ہماری مشابہت درست نہیں

پس حضرت مسیح ناصری کے ان متبعین سے مشابہت جنہوں نے ان کے درجہ میں ان کی وفات کے بعد غلو کیا ہمیں نہیں۔ کیونکہ ہم تو ہرگز ان معنوں کی رو سے حضرت مسیح موعودؑ کو نبی نہیں کہتے جن معنوں کی رو سے عموماً آپ کے دشمن آپؐ پر اعتراض کیا کرتے تھے اور جن معنوں کی رو سے حضرت مسیح موعودؑ اپنے نبی ہونے کا انکار کرتے تھے اور وہی لوگ ان مسیحیوں سے مشابہت رکھتے ہیں جو کہ حضرت مسیح موعودؑ کو ان معنوں کی رو سے نبی کہتے ہیں کہ آپؐ صاحب شریعت تھے یا اپنا کوئی نیا کلمہ بناتے تھے یا قرآن کریم کا کوئی حکم منسوخ کرتے تھے۔ اور خود مولوی صاحب اپنی کتاب سپلٹ حصہ چہارم میں جس کا جواب میں اس وقت لکھ رہا ہوں صفحہ پندرہ۱۵؎ پر لکھتے ہیں۔ کہ ایک شخص احمدی جماعت کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے والا ایسا ہے جو کہتا ہے کہ اب لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ اَحْمَدُ رَّسُوْلُ اللّٰهِ پڑھنا چاہئے۔ پس جبکہ خود مولوی صاحب کی شہادت کی رو سے ایک ایسا شخص موجود ہے جو حضرت مسیح موعودؑ کو ان معنوں کی رو سے نبی کہتا ہے جن معنوں کی رو سے دشمن آپؐ پر اعتراض کرتے تھے اور جن معنوں کی رو سے حضرت مسیح موعودؑ اپنے نبی ہونے سے انکار کرتے تھے تو پھر دیدہ و دانستہ مسیحیوں سے ہمیں مشابہ قرار دینا کون سی دیانت ہے غرض جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں یہ مشابہت ہمیں نہیں بلکہ ان کو حاصل ہے۔ جو حضرت مسیح موعودؑ کو تشریعی نبی کہتے ہیں اور ان کے نام کا کلمہ پڑھنا جائز سمجھتے ہیں۔ مگر مولوی صاحب جان بوجھ کر ہم پر ایسا الزام لگاتے ہیں جس سے ہم بری ہیں۔ یہی شخص جس کا ذکر مولوی صاحب نے کیا ہے۔ صاف لکھتا ہے :۔

”میاں صاحب موصوف حضرت مسیح موعودؑ کو غیر تشریعی اور اُمّتی نبی اور غیر تشریعی امتی رسول اللہ مانتے ہیں۔ اور حضرت مسیح موعودؑ کے الہامات میں جو اوامر و نواہی ہیں۔ ان پر عمل کرنے سے پہلو تہی کرتے ہیں اور حضرت مسیح موعودؑ کی تحریر کے ماتحت ان کو صاحب شریعت رسول ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اپنی غلط بات پر قائم رہنے پر اصرار کرتے ہیں۔“

اور پھر لکھا ہے کہ :۔ ”تمام جماعت احمدیہ کے خلاف میرا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے نہ صرف اپنے آپ کو غیر تشریعی نبی منوایا تھا بلکہ صاف طور پر صاحب شریعت نبی ہونے کا بھی دعویٰ کیا تھا“ پھر قبلہ کے متعلق لکھتا ہے کہ :۔ ”یہی وحی الٰہی یعنی وَاتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰہٖمَ مُصَلًّی(البقرة: ۱۲۶) حضرت مرزا صاحبؒ پر بھی نازل ہوئی تھی۔ فرق اس قدر ہے کہ قرآن کریم میں حضرت ابراہیمؑ سے مراد وہ ابراہیمؑ ہیں جنہوں نے کعبہ بنایا اور مرزا صاحبؒ کی وحی میں ابراہیمؑ سے مراد آپؑ ہیں اور مسجد الحرام کی جاء بجاء قادیان ہے پس حضرت مرزا صاحب نے جو دوسرے مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھنے کو حرام قرار دیا تھا اس لئے نہیں کہ ان کی نماز کچھ اور ہے ۔ اور مرزا صاحبؒ کے مریدوں کی کچھ اور یا کہ مولویوں نے حضرت مرزا صاحبؒ پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا۔ اصل مقصد تحویل قبلہ کیلئے ایک جماعت کا تیار کرنا تھا“ ان عبارات سے صاف ظاہر ہے کہ یہ شخص اس بات کا مدعی ہے کہ مرزا صاحب تشریعی نبی تھے اور یہ کہ آپ نے اپنی جماعت کے لئے نیا قبلہ یعنی قادیان تجویز کیا ہے۔ اور ان کی جماعت کو اسی طرف نماز پڑھنی چاہئے۔ اور آپ کے نام کا کلمہ پڑھنا چاہئے۔ اور یہ بھی کہ میں اور میری جماعت ان اُمور میں اس شخص کے مخالف ہیں۔ پس اگر وہ مشابہت جو مولوی صاحب نے مسیحیوں سے ہم میں پیدا کرنی چاہی ہے اگر کسی گروہ میں پائی جاتی ہے۔ تو اس شخص میں اور اس کے دو تین ساتھیوں میں نہ کہ ہم میں۔ کیونکہ ہم تو انہی معنوں کی رو سے حضرت مسیح موعودؑ کو نبی کہتے ہیں کہ جن معنوں کی رو سے حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے آپ کو نبی کہا۔ حضرت مسیح موعودؑ اپنے اشتہار ایک غلطی کا ازالہ میں فرماتے ہیں:۔ ”جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے۔ صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں۔ اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدیٰ سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔ رسول اور نبی ہوں۔ مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا“۔

اور بخدا ہم حضرت مسیح موعودؑ کو انہی معنوں سے نبی اور رسول مانتے ہیں اور ہمارے مخالف بھی باوجود ہزاروں جھوٹ بولنے کے یہ جرأت نہیں کر سکتے کہ اس بات کا انکار کریں کہ ہم حضرت مسیح موعودؑ کو انہی معنوں کے رو سے نبی مانتے ہیں۔ لیکن کیا مسیحی بھی حضرت مسیح کو انہی معنوں سے خدا کا بیٹا مانتے ہیں جن معنوں کی رو سے کہ حضرت مسیح نے دعویٰ کیا تھا۔ اگر نہیں تو پھر ہمیں ان سے کیا مشابہت ہے۔ ہمیں تو اس گروہ سے مشابہت ہے جو حضرت مسیح کے سچے متبعین میں سے تھا اور جن کی تعریف اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں کرتا ہے۔ ہاں وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود کو تشریعی نبی مانتے ہیں ان کو اس دوسرے گروہ سے مشابہت ہے۔ مگر تعجب ہے کہ باوجود اس کے مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کا ان لوگوں سے خاص تعلق ہے اور ہماری عداوت میں ان سے جوڑ ہے۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی وفات پر جو نام نہاد مجلس شوریٰ قائم ہوئی تھی اس میں یہ شخص بھی شامل تھا۔ (پیغام مورخہ ۲۴؍ مارچ ۱۹۱۴ء) اسی طرح رسالہ المہدی میں اس شخص کا ہمارے خلاف مضمون چھپا۔ اسی طرح بعد میں بھی مولوی صاحب کی آپ سے ملاقات ہوتی رہتی ہے اور وہ بیان کرتا ہے کہ مولوی صاحب اس شرط پر کہ وہ گو خفیہ طور پر اپنے عقائد کا اظہار کرے مگر علی الاعلان اشتہاروں اور لیکچروں کے ذریعہ سے نہ کرے اسے اپنی انجمن کے ماتحت ملازم رکھنے کے بھی خواہش مند ہوئے تھے۔ بلکہ ۱۹۱۵ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر انہوں نے اس کو اپنے سٹیج پر اپنی تائید میں لیکچر دینے کا موقع دیا۔ پس یہ ایک عجیب امر ہے کہ ہیں تو ہم لوگ اس شخص کے ہم خیال مگر تعلق اس کا مولوی محمد علی صاحب سے اور ان کا اس سے ہے اس اتحاد کو دیکھ کر سوائے اس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ۔ کند ہم جنس با ہم جنس پرواز ۔ چونکہ دونوں سلسلہ احمدیہ کے مٹانے کے درپے ہیں۔ اس لئے باوجود اختلاف کے ہمارے خلاف آپس میں مل جانے سے پر ہیز نہیں ۔ کیونکہ گو ذرائع مختلف ہیں مگر مقصد ایک ہے۔

مولوی محمد علی صاحب کے انجیلی حوالجات ہمارے مفید مطلب ہیں

پیشتر اس کے کہ میں اس مضمون کو ختم کروں ۔ یہ بھی بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ نہ صرف یہ کہ مولوی صاحب کی بیان کردہ انجیلی آیات سے ان پیرواں سے جنہوں نے آپ کے درجہ میں غلو کیا ہماری مشابہت ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ ان سے مسیح موعود کے نبی ہونے کی ایک دلیل بھی ملتی ہے تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری پر ان کے مخالفوں نے اعتراض کیا تھا کہ یہ اپنے آپ کو خدا کہتا ہے۔ (کیونکہ خدا کا بیٹا بننا اور خدا کہنا ایک ہی بات ہے) اس کا جواب انہوں نے دیا کہ کیا بائبل میں یہ نہیں کہا گیا کہ تم خدا ہو۔ پس اگر ان لوگوں کو جو نبی تھے۔ خدا کہا گیا ہے۔ تو میں نے بھی اگر اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہا تو اس میں کیا حرج ہے مولوی صاحب اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں۔ اور صحیح نتیجہ نکالتے ہیں کہ مسیح اپنے آپ کو اور معنوں سے خدا کا بیٹا کہتے تھے اور ان کے مخالف اور معنے لے کر ان پر الزام لگاتے تھے کہ یہ خدا بنتا ہے۔ حالانکہ وہ الوہیت کے انہی معنوں سے مدعی تھے جن معنوں کی رو سے پہلے نبی۔ چنانچہ مولوی محمد علی صاحب صفحہ ۵ پر تحریر فرماتے ہیں:۔

He says that before him those who received the word of God were called gods though they were only men. ۴

اب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا معاملہ لیتے ہیں۔ آپ خود تحریر فرماتے ہیں کہ میرے مخالف مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ میں نبی کا دعویٰ ان معنوں کی رو سے کرتا ہوں کہ میں صاحبِ شریعت جدیدہ ہوں (دیکھو خط مطبوعہ اخبار عام جس کا حوالہ پہلے دیا جا چکا ہے) یہ اعتراض بعینہٖ ویسا ہی ہے جیسا کہ حضرت مسیح ناصری پر لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ خدا ہونے کا دعویٰ ان معنوں سے کرتا ہے کہ یہ اللہ یا اس کا جزو ہے۔ اور یہ کفر ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ جواب دیتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے۔ ان معنوں کی رو سے میں نے دعویٰ نبوت نہیں کیا۔ جس طرح حضرت مسیح ناصری نے جواب دیا تھا کہ میں نے ان معنوں کی رو سے خدائی کا دعویٰ نہیں کیا۔ لیکن حضرت مسیح موعودؑ کہتے ہیں کہ یہ معنے جو تم نبی کے کرتے ہو۔ یہ درست نہیں۔ کیونکہ گو نبی صاحبِ شریعت جدیدہ کو بھی کہتے ہیں۔ مگر ضروری نہیں کہ نبی کا لفظ اسی پر بولا جاوے۔ جو صاحب شریعت جدیدہ ہو۔ اور ایسے لوگوں کے سوا دوسروں پر بھی یہ لفظ بولا جا سکتا ہے اور بولا جاتا ہے بلکہ نبی کے اصل معنوں میں یہ شرط ہی نہیں پائی جاتی چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔ ”بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ صرف خدا کی طرف سے پیشگوئیاں کرتے تھے جن سے موسوی دین کی شوکت و صداقت کا اظہار ہو۔ پس وہ نبی کہلائے یہی حال اس سلسلہ میں ہے۔ بھلا اگر ہم نبی نہ کہلائیں، تو اس کے لئے اور کون سا امتیازی لفظ ہے۔ جو دوسرے ملہموں سے ممتاز کرے“ (ڈائری مطبوعہ اخبار بدر۔ پرچہ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء)

اسی طرح فرماتے ہیں کہ: ”یہ ضرور یاد رکھو کہ اس اُمّت کے لئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی۔ جو پہلے نبی اور صدیق پا چکے ہیں۔ پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں۔ جن کی رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے“ (ایک غلطی کا ازالہ مٹ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۹)

تشریح نبوت میں مسیح موعودؑ کی مسیحؑ ناصری سے مشابہت

غرض آپ اپنے مخالفین سے کہتے ہیں کہ جو معنے تم لیتے ہو ان معنوں سے میں نبی نہیں۔ بلکہ ان معنوں کی رو سے نبی ہوں ”جن کی رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے۔“ یہ جواب بھی بعینہٖ اسی طرح کا ہے۔ جو حضرت مسیح ناصری نے دیا کہ مَیں خدا انہی معنوں کی رُو سے ہوں۔ جن کی رُو سے پہلے انبیاء خدا کہلائے۔ اب بتاؤ کہ کیا حضرت مسیح کے جواب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نہیں جیسا کہ خود مولوی محمد علی صاحب تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت مسیحؑ ان معنوں کے رُو سے خدا یا خدا کے بیٹے تھے۔ جن معنوں کی رُو سے پہلے نبی خدا کہلائے۔ اور کیا ان کے وہ متبع جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت مسیح اور معنوں سے خدا ہیں۔ اور پہلے نبی اور معنوں سے وہ گمراہ اور صداقت سے دُور ہیں کہ نہیں؟ تو پھر کیا حضرت مسیح موعودؑ کے اس جواب کے بعد کہ مَیں انہی معنوں کی رُو سے نبی ہوں جن کی رُو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے نہ ان معنوں کی رُو سے جو تم سمجھتے ہو۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ اور قسم کے نبی تھے اور بنی اسرائیل کے نبی بلکہ تمام نبی اور قسم کے (جیسا کہ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھی کہتے ہیں) وہ حق سے دُور سمجھے جائیں گے یا نہیں؟ اگر ان کے معنے درست سمجھ لئے جاویں تو کیا مسیحی نہیں کہہ سکتے ہیں کہ جب تمہارے مسیح نے ہمارے مسیح کی طرح اپنے مخالفوں کو یہی جواب دیا تھا کہ مَیں انہی معنوں سے نبی ہوں جن سے پہلے نبی نبی کہلائے۔ اور باوجود اس جواب کے تم کہتے ہو کہ پہلے نبیوں کی نبوت اور قسم کی تھی اور ہمارے مسیح کی نبوت اور قسم کی تو کیوں ہمارا حق نہیں کہ ہم کہیں کہ باوجود اس جواب کے جو حضرت مسیح ناصری نے دیا ان کی خدائی اور قسم کی تھی اور پہلے نبیوں کی خدائی اور قسم کی۔ کیا مولوی صاحب مسیحیوں پر یہی حجت قائم نہیں کرتے کہ جب مسیح نے خود کہا کہ میں انہی معنوں کی رُو سے خدا ہوں۔ جن معنوں کی رُو سے پہلے نبیوں کو خدا کہا گیا تھا تو وہ اس کو اور معنوں کی رُو سے خدا کیوں کہتے ہیں؟ تو پھر حضرت مسیح موعودؑ کے اس جواب کے بعد کہ مَیں انہی معنوں کی رُو سے نبی ہوں جن کی رُو سے پہلے نبی نبی کہلائے۔ کیوں یہ کہتے ہیں کہ پہلے نبی اور معنوں کی رُو سے نبی تھے اور حضرت مسیح موعودؑ اور معنوں کی رُو سے۔ اگر وہ باوجود اس جواب کی موجودگی کے جو حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے دشمنوں کو دیا یہ کہنے کا حق رکھتے ہیں کہ پہلے نبی فی الواقع نبی تھے اور حضرت مسیح موعودؑ کو صرف نبی کا نام دیا گیا تھا تو پھر ان کو انجیل کے اس فقرہ کا مطلب بھی جسے انہوں نے نقل کیا ہے یہ لینا پڑے گا کہ پہلے نبی فی الواقع خدا تھے اور حضرت مسیح پر صرف خدا کا لفظ بولا گیا یا اس کے اُلٹ مطلب جو مسیحی لیتے ہیں کہ پہلے نبیوں پر یونہی خدا کا لفظ بولا گیا اور حضرت مسیح فی الواقع خدا تھے۔ مولوی صاحب آپ غور فرماویں کہ انجیل کی یہ آیات آپ کو مسیحیوں کے مشابہ ثابت کرتی ہیں یا ہم کو؟ مسیحیوں نے بھی باوجود حضرت مسیح کے اس قول کے کہ خدا کا لفظ پہلے نبیوں پر اور مجھ پر ایک ہی معنوں کی رُو سے بولا گیا ہے کہہ دیا کہ نہیں جب پہلے نبیوں کے لئے بولا گیا تو اس کے اور معنے تھے اور مسیح کے متعلق جب یہ لفظ آیا تو اسکے اور معنے تھے۔ اور آپ نے بھی باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا تھا کہ آپ انہی معنوں کی رو سے نبی ہیں جن معنوں کی رو سے پہلے نبی نبی کہلائے۔ جیسا کہ ان دونوں حوالوں سے جو اوپر گزر گئے ظاہر ہے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ نہیں پہلے نبی اور معنوں سے نبی تھے اور حضرت مسیح موعودؑ اور معنوں کی رو سے۔ فرق صرف اس قدر ہے کہ پہلوں نے معنے بدلتے وقت مسیح کی وفاداری کو ترک نہ کیا اور حد سے زیادہ محبت سے کام لیا اور اپنے استاد کے درجہ کو اصل درجہ سے بڑھا دیا۔ آپ نے حد درجہ کے بغض سے کام لے کر اپنے استاد کے اصل درجہ سے اس کو گرا دیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ وہ اس کے درجہ کو بڑھا سکے نہ آپ اس مسیح کے درجہ کو گھٹا سکے ہیں۔

مولوی محمد علی صاحب کے رفقاء کی مشابہت عیسائیوں سے

مسیحیوں سے آپ کی مشابہت کے متعلق میں دو اُمور اور بھی لکھتا ہوں۔ ایک تو آپ کی اپنی شہادت ہے اور ایک انجیل کی شہادت ہے آپ کی اپنی شہادت یہ ہے کہ ۱۹۰۹ء میں دسمبر کے ایام میں لاہور میں ایک جلسہ احمدیہ جماعت کی طرف سے بعض مسیحی واعظوں کے لیکچروں کی تردید میں ہوا تھا اس میں میرا بھی لیکچر تھا آپ کا بھی تھا ۔ اور خواجہ کمال الدین صاحب کا بھی تھا۔ آپ کا لیکچر ”فضیلت مسیح از روئے قرآن“ پر تھا۔ اور اس میں ایک پادری کے اس اعتراض کا جواب تھا کہ قرآن کریم سے حضرت مسیح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ثابت ہوتے ہیں۔ میرا مضمون ”نجات“ پر تھا کہ اسلام اور مسیحیت دونوں میں سے نجات کے متعلق صحیح تعلیم کس نے دی ہے ۔ خواجہ صاحب کا مضمون غالباً قرآن کریم اور دیگر کتب مقدسہ کے مقابلہ پر تھا ۔ میرے اور خواجہ صاحب کے لیکچر آپ سے پہلے تھے ۔ اور دو مواقع پر آپ کو ہمارے لیکچروں کی طرف اشارہ کرنا پڑا تھا۔ مسیحیوں کے اس اعتراض کا جواب دیتے وقت کہ وَیُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الۡمَہۡدِ وَکَہۡلًا(آل عمران: ۴۷) سے حضرت مسیح کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ آپ نے میری مثال کو پیش کیا تھا کہ ان کی عمر کل بیس سال کی ہے اور دیکھو کہ انہوں نے کیسے عجیب نکات بیان کئے ہیں۔ ابھی ان کا کھیل کود کا زمانہ ہے۔ اس وقت ان کی یہ تقریر يُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ ہی ہے۔ ایسا ہی مسیح کرتے تھے اس طرح آپ نے مجھے تو مسیح سے مشابہت دی تھی۔ گو اب ان کے بگڑے ہوئے پیروؤں سے مشابہت دیتے ہیں۔ لیکن خواجہ صاحب کا ذکر کرتے وقت بے اختیار آپ کے منہ سے یہ الفاظ نکلے کہ جیسا کہ ابھی ہماری جماعت کے پولوس خواجہ صاحب نے کہا ہے۔ یہ فقرہ آپ کے منہ سے نکلنا تھا کہ مجلس میں سناٹا آگیا اور آپ نے بھی خواجہ صاحب کی طرف منہ کرکے اپنے دانتوں میں انگلی دے دی۔ کیا آپ حلفیہ اس واقعہ سے انکار کرسکتے ہیں؟ علاوہ میرے کئی

اور لوگ جو اس جلسہ میں موجود تھے اس امر پر حلفیہ شہادت دینے کے لئے تیار ہیں۔ یہ پرائیوٹ گفتگو نہیں تھی بلکہ خدا تعالیٰ نے پبلک میں عین ایک لیکچر کے دوران میں آپ کے منہ پر یہ الفاظ جاری کرائے تھے۔ اور کیا ہم سمجھیں کہ آپ نے بلاوجہ یہ الفاظ کہے تھے۔ بلاوجہ اس قسم کے لفظ منہ سے نہیں نکلتے۔ فی الواقع آپ محسوس کرتے تھے کہ خواجہ صاحب کدھر جا رہے ہیں۔ اور آپ کے خیالات بے اختیار آپ کی زبان پر جاری ہو گئے۔ گو بعد میں آپ بھی اسی راستہ پر چل پڑے اور آخر خواجہ صاحب کے ہم خیالوں کے لیڈر بن گئے۔ ببیں تفاوت راہ از کجاست تا بکجا۔

مشابہت کا دوسرا پہلو انجیل کی رو سے

انجیل کی شہادت یہ ہے کہ جیسا کہ اناجیل سے ثابت ہے۔ حضرت مسیح کے جانے کے بعد ان کے حواریوں سے سب سے پہلی غلطی یہ نہیں ہوئی کہ انہوں نے ان کو خدا بنا دیا یا خدا کا بیٹا قرار دیا۔ بلکہ انجیل اس جھگڑے سے بالکل پاک ہے۔ یہ خیال تین سو سال بعد جا کر پیدا ہوا ہے۔ اور حکومت اٹلی کے عیسائی ہو جانے کا نتیجہ ہے۔ چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ مسیح کی الوہیت کا خیال اور اقانیم ثلاثہ کا عقیدہ درحقیقت آہستہ آہستہ یورپ کے مذاہب کے اثر سے مسیحیوں میں آیا ہے۔ سب سے پہلا خیال جو ان میں حضرت مسیح کی منشاء کے خلاف پیدا ہوا ہے تو وہ غیر قوموں کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے لئے دین میں نرمی کرنے اور ان کے خیال کے مطابق بنانے کا تھا۔ چنانچہ نئے عہد نامہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پولوس اور برنباس نے انطاکیہ میں شریعت کے احکام کو غیر قوموں والوں کے لئے نرم کر دیا تھا۔ مگر کچھ لوگ یہودیہ سے آئے اور انہوں نے وہاں کے نومسیحیوں کو تعلیم دینی شروع کر دی کہ جب تک تم ختنہ نہ کرواؤ تم نجات نہیں پا سکتے۔ اس پر پولوس اور برنباس سے ان کی بحث ہوئی اور معاملہ حواریوں تک پہنچایا گیا وہ سب جمع ہوئے۔ فریسی نومسیحیوں نے شریعت کے احکام پر زور دیا۔ لیکن پولوس اور برنباس نے اپنی تبلیغی کامیابیوں کا حال سنا کر لوگوں پر اثر ڈالا اور آخر سب نے مل کر یہ پیغام انطاکیہ والوں کے پاس بھیجا کہ ان بھائیوں کو جو غیر قوموں میں سے ہیں اور انطاکیہ اور سوریہ اور قلقیہ میں رہتے۔ رسولوں اور بزرگوں اور بھائیوں کا سلام۔ از بسکہ ہم نے سنا کہ ہم میں سے بعضوں نے جن کو ہم نے حکم نہیں کیا۔ جا کے تمہیں اپنی باتوں سے گھبرا دیا۔ اور تمہارے دلوں کو یہ کہہ کے پریشان کیا کہ ختنہ کرو اور شریعت پر چلو۔ سو ہم نے ایک دل ہو کے بہتر جانا کہ اپنے عزیزوں برنباس اور پولوس کے ساتھ جو کہ ایسے آدمی ہیں کہ انہوں نے اپنی جان ہمارے خداوند یسوع مسیح کے نام پر خطرے میں ڈالی۔ بعض چنے ہوؤں کو تمہارے پاس بھیجیں۔ چنانچہ ہم نے یہوداہ اور سیلاس کو بھیجا۔ اور وہ یہ باتیں زبانی بھی بیان کریں گے۔ کیونکہ رُوحِ قدس نے اور ہم نے بہتر جانا کہ ان ضروری باتوں کے سوا تم پر اور کچھ بوجھ نہ ڈالیں ۔ کہ تم بتوں کے چڑھاوؤں اور لہو اور گلا گھونٹی ہوئی چیزوں اور حرام کاری سے پرہیز کرو۔ اگر تم ان چیزوں سے آپ کو بچائے رکھو گے تو خوب کرو گے سلامت رہو۔ (اعمال باب ۱۵۔ آیات ۲۸ تا ۳۰ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء)

اب آپ لوگ دیکھیں کہ کیا یہی طریق اور رویہ آپ لوگوں نے اختیار نہیں کیا؟ ایک طرف تو آپ غیر احمدیوں کو خوش کرنے کے لئے اور اپنے ساتھ ملانے کے لئے حضرت مسیح موعود کے ذکر کو اسلام کے لئے مُضِر بتا رہے ہیں۔ اور دوسری طرف غیر مذاہب کے لوگوں کو قابو میں لانے کے لئے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ گھٹانے سے بھی پرہیز نہیں کرتے۔ چنانچہ خواجہ صاحب نے خود اقرار کیا ہے کہ ایک شخص نے مجھے لکھا کہ اور تو تمہاری باتیں اچھی ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو تم مسیح سے افضل کہتے ہو یہ بات اچھی نہیں اور یہ بات ہمارے راستہ میں روک بھی ہوگی۔ اس پر میں نے اسے لکھ بھیجا کہ یہ آپ کا غلط خیال ہے۔ ہمیں تو یہ حکم ہے کہ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ(البقرۃ: ۱۳۷)، ہم تو کسی نبی کو دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے ۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ اس آیت کا یہ مطلب نہیں جو انہوں نے اس شخص کو سمجھانا چاہا اور صرف ایک شخص کو اسلام کی طرف راغب کرنے اور اپنی تعداد بڑھانے کی خاطر انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ہتک کی اور پھر عملاً جھٹکے کا گوشت کھا کر شریعت کے حکم کو وسیع کر لیا اور غیر احمدیوں کے پیچھے ولایت میں نماز کی اجازت توڑ مروڑ کر حضرت خلیفہ اول سے حاصل کی اور بہت سی باتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر قوموں کو خوش کرنے کے لئے جہاں تک بھی اسلام کی تعلیم کو وہ توڑ سکتے تھے انہوں نے توڑا۔ پھر کیا مسیحیوں سے آپ کو کامل مشابہت ہوئی یا نہیں ۔ فتدبروا یا اولی الابصار۔

مولوی محمد علی صاحب کا حدیث مشابہت یہود و نصاریٰ سے غلط نتیجہ نکالنا

مولوی صاحب نے اپنی تائید میں ایک حدیث بھی پیش کی ہے جس کا یہ مضمون ہے کہ مسلمان بھی یہود و نصاریٰ کی پیروی کریں گے اور اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ مسیح کا انکار کر کے وہ یہود تو ہو گئے۔ اب نصاریٰ بننے کے لئے ان کو نصاریٰ کا رنگ بھی اختیار کرنا چاہئے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد آپ کی جماعت کا ایک بڑا حصہ آپ کے درجہ میں غلو کرنے لگا لیکن گو ایک رنگ میں بوجہ مسیح سے مشابہت رکھنے کے حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت میں سے بھی بعض لوگ مسیحیوں سے مشابہ ہوئے۔ مگر اس حدیث کا یہ مطلب نہ تھا بلکہ حضرت مسیح موعودؑ نے بیان فرمایا ہے یہود بننے سے مراد مسیح کا انکار تھا اور ضال بننے سے فی الواقع عیسائی ہو جانا۔ یہ حدیث

جو مولوی صاحب نے لکھی ہے درحقیقت کوئی علیحدہ پیشگوئی نہیں بلکہ قرآن کریم کی ایک پیش گوئی کی تشریح ہے سورہ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ دُعا سکھائی ہے :۔ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ(1:6-7) ۔ اے خدا ہمیں سیدھے راستہ پر چلا۔ ان لوگوں کے راستہ پر جن پر تیرا انعام ہوا ۔ اور ایسا نہ ہو کہ ہم انعام پانے کے بعد مغضوب علیہم یا ضال بن جاویں ۔ اس جگہ مسلمانوں کے لئے تین آئندہ کی خبریں بتائی گئی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ان میں بھی ایسے لوگ ہوں گے جو خدا تعالیٰ کے اعلیٰ سے اعلیٰ انعام پاویں گے حتّٰی کہ نبی ہو جائیں گے ۔ اور اسی طرح ان میں سے بعض مغضوب علیہم ہو جاویں گے اور بعض ضال مغضوب علیہم اور ضال کی تشریح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمائی کہ مغضوب علیہم سے مراد یہود اور ضالین سے مراد نصارٰی ہیں ۔ چنانچہ ترمذی میں عدی ابن حاتم سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اَلْیَھُوْدُ مَغْضُوْبٌ عَلَیْھِمْ وَاِنَّ النَّصَارَیٰ ضُلَّالٌ یعنی یہود مغضوب علیہم ہیں اور نصارٰی ضال ہیں۔ پس خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مغضوب علیہم اور ضالین کی تشریح کر کے بتا دیا ہے کہ سورہ فاتحہ میں یہود و نصارٰی بننے سے بچنے کے لئے دعا سکھائی گئی ہے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تم پہلے لوگوں کے طریق اختیار کرو گے اور صحابہؓ کے سوال کرنے پر کہ کیا یہود و نصارٰی کا رنگ ہم اختیار کریں گے ۔ آپؐ کا فرمانا " اور کون کا" کوئی نئی خبر نہیں ۔ بلکہ اسی پیشگوئی کی طرف اشارہ ہے ۔ جو سورہ فاتحہ میں مذکور ہے۔ اب ہم پہلے تو اس پیشگوئی کے وہ معنے دیکھتے ہیں جو خود حضرت مسیح موعودؑ نے کئے ہیں کیونکہ جس کے زمانہ کی خبر اس پیشگوئی میں دی گئی ہے وہی اس کا مطلب بہتر سمجھ سکتا ہے۔ پھر ہم عقلاً بھی اس حدیث پر غور کریں گے ۔

فرقہ مغضوب و ضالّین کی تشریح مسیح موعودؑ کے الفاظ میں

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ کے صفحہ ۷۳ پر فرماتے ہیں ۔ " صرف دو فتنوں کا ذکر کیا ۔ ایک اندرونی یعنی مسیح موعودؑ کو یہودیوں کی طرح ایذاء دینا ۔ دوسرے عیسائی مذہب اختیار کرنا ۔ یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ سورہ فاتحہ میں صرف دو فتنوں سے بچنے کے لئے دُعا سکھلائی گئی ہے۔ (۱) اوّل یہ فتنہ کہ اسلام کے مسیح موعودؑ کو کافر قرار دینا، اس کی توہین کرنا اس کی ذاتیات میں نقص نکالنے کی کوشش کرنا اُس کے قتل کا فتویٰ دینا جیسا کہ آیت غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ(1:7) میں انہی باتوں کی طرف اشارہ ہے (۲) دوسرے نصاریٰ کے فتنے سے بچنے کے لئے دُعا سکھلائی گئی ۔ اور سورۃ کو اسی کے ذکر پر ختم کر کے اشارہ کیا گیا ہے کہ فتنہ نصارٰی ایک سیلِ عظیم کی طرح ہو گا ۔ اس سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں۔“ (تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۲۷ ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۲۱۲)

حضرت مسیح موعودؑ کے اس فیصلہ کے بعد کہ یہود بننے سے مراد مسیح موعودؑ کا مقابلہ کرنا اور نصاریٰ بننے سے مراد فی الواقع اس وقت کے مسلمانوں کا نصاریٰ ہو جانا ہے نہ کہ مسیح موعودؑ کی جماعت کا مشابہ بہ نصاریٰ ہو جانا، مولوی صاحب کا ان آیات و احادیث کے ایک نئے معنے کرنا ان لوگوں کے لئے تو کچھ بھی موجبِ حیرت نہیں جو چار سال سے مولوی صاحب کی رجعتِ قہقری کو دیکھ رہے ہیں۔ مگر ان لوگوں کے لئے تعجب خیز ضرور ہوگا۔ جن کے سامنے مولوی صاحب پہلی دفعہ اس لباس میں پیش ہوئے ہیں۔

مسیح موعودؑ کی تشریح عقلی پہلو سے بھی درست ہے

اب ہم واقعات کی روشنی میں جب اس حدیث کو دیکھتے ہیں تو عقلی طور پر بھی مسیح موعودؑ کے کئے ہوئے معنے ہی ہمیں درست معلوم ہوتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی نسبت خبر دی تھی کہ وہ یہود و نصاریٰ کا رنگ اختیار کر لیں گے۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ سوائے اس کے کہ مسیح موعودؑ کا انہوں نے انکار کیا ہو یہود سے ان کو مذہبًا اور کوئی مشابہت نہیں یعنی یہود کے مذہب کا کوئی ایسا جزو جس سے وہ مذہبًا ممتاز ہوتے ہوں انہوں نے اختیار نہیں کیا۔ اور نہ ان میں سے کوئی بڑی تعداد یہودی ہوئی۔ بلکہ یہود تو عام طور پر دوسروں کو اپنے اندر شامل بھی نہیں کرتے۔ پس یہودیوں کی اتباع سے یقینًا مسیح موعودؑ کا انکار اور اس کو ایذاء دینا ہی مراد تھا لیکن مسیحیوں کی اتباع سے مراد حقیقتًا مسیحیوں کی ہی اتباع لی جاوے گی۔ کیونکہ کیا یہ درست نہیں کہ اس وقت تمام مسلمان کہلانے والے لوگ سوائے احمدیہ جماعت کے حضرت مسیح کے درجہ میں غلو کرتے ہیں؟ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کو فضیلت دیتے ہیں۔ کیا مسیحی خیالات کو انہوں نے اس حد تک اپنے اندر داخل نہیں کر لیا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو وفات یافتہ اور زیرِ زمین مدفون مانتے ہیں۔ اور حضرت مسیح ناصری کو آسمان پر زندہ تسلیم کرتے ہیں؟ اور اس طرح اسے حی و قیوم کے مشابہ بنا کر اس کی خدائی کا اقرار کرتے ہیں۔ پھر کیا وہ خدا تعالیٰ کی طرح اسے مُردوں کا زندہ کرنے والا نہیں مانتے؟ اور اس طرح مسیحیوں کے ہمنوا نہیں ہوتے؟ حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایک چڑیا کے زندہ کرنے کے بھی ان کے علماء قائل نہیں۔ اسی طرح کیا مسیحیوں سے بھی بڑھ کر وہ مسیح کے خالق ہونے کے قائل نہیں؟ کیا وہ نہیں مانتے کہ وہ علمِ غیب رکھتا تھا؟ بلکہ قیامت کا علم جو خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں کیا وہ اسے اس کا بھی عالم نہیں جانتے؟ پھر باوجو د اس قدر مشابہتوں کے کون کہہ سکتا ہے کہ مسلمان نصاریٰ کے مشابہ نہیں ؟ اور کیا مسیحی ایک بڑی تبلیغی جماعت نہیں اور کیا اس وقت تک لاکھوں مسلمان مسیحی نہیں ہو چکے ؟ جب یہ سب واقعات نظری اور بدیہی ہیں۔ تو ان سے آنکھیں بند کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ کے خلاف منشاء آپ کی جماعت میں سے ضالین کی تلاش کے کیا معنے ہوئے۔ اور کیا آپ کا یہ فعل دیانت کے خلاف نہیں۔

مسیح موعودؑ میں رسول کریم ﷺ سے مشابہت کا پہلو بڑھا ہوا تھا

اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت مسیح سے مشابہت کی وجہ سے حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت میں بھی بعض لوگوں نے راستہ سے کجی اختیار کرنی تھی مگر یہ پیشگوئی اس کے متعلق نہیں کیونکہ حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت کا فتنہ ایک خفیف اور نسبتاً بے حقیقت فتنہ تھا اور جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کا اکثر حصہ راہِ راست پر رہا اور تھوڑے تھے جنہوں نے حق سے منہ پھیرا بمقابلہ حضرت موسیٰؑ کے پیروؤں کے کہ ان میں سے ایک جماعت کثیر نے وقت پر قدم پیچھے ہٹالیا۔ اسی طرح ضروری تھا کہ اُمتِ محمدیہ کے مسیح کی جماعت کا کثیر حصہ حق پر قائم رہے اور نسبتاً قلیل حصہ حق سے جُدا ہو۔ اور جہاں حضرت مسیح موعودؑ کی حضرت مسیح ناصری سے مشابہت اور مماثلت مدّ نظر رہنی چاہیئے ۔ وہاں ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رہنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعودؑ موسوی سلسلہ کے خلیفہ نہیں بلکہ محمدی سلسلہ کے خلیفہ ہیں۔ اور صرف مثیل مسیح ہی نہیں بلکہ بروزِ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں۔ خود حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:۔

پر مسیحا بن کے مَیں بھی دیکھتا روئے صلیب

گر نہ ہوتا نام احمدؐ جس پہ میرا سب مدار

یعنی مثیل مسیح ہونے کی وجہ سے مجھے بھی وہی مصائب پیش آنے چاہئیں تھے کہ جو حضرت مسیح ناصری کو پیش آئے اور میں صلیب پر لٹکایا جاتا۔ مگر میں احمدؐ بھی ہوں اور اسی نام پر میرا سب مدار ہے۔ پس میرا معاملہ اور مسیح کا معاملہ مختلف ہے۔ احادیث رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ آخری زمانہ کے مصلح میں مسیحیت محمدیت کے ماتحت ہو گی چنانچہ احادیث سے ثابت ہے کہ مہدی مسیح کے آگے نماز میں امام ہو گا اور جب ہم اس حدیث کو مدّ نظر رکھیں کہ لَا الْمَهْدِيُّ إِلَّا عِيْسٰی(ابن ماجہ کتاب الفتن باب شدة الزمان) (سوائے مہدی کے اور کوئی مسیح کے وقت میں نہیں ہوگا ۔ تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مہدی کی مسیح کو امامت کرانے سے مراد اس کی صفاتِ مہدویت کا صفتِ مسیحیت پر غالب ہونا ہے اور واقعات بھی اسی امر کی تصدیق کرتے ہیں کیونکہ حضرت مسیح موعودؑ کو جو کامیابیاں نصیب ہوئی ہیں وہ حضرت مسیح ناصری سے بہت بڑھ کر ہیں۔

باب اوّل

ان غلط واقعات کی تردید میں جو مولوی محمد علی صاحب نے اختلاف سلسلہ کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے بیان کئے ہیں


مولوی محمد علی صاحب کا تبدیلی عقیدہ کے متعلق مجھ پر بے جا الزام

مسیحیوں سے غلط طور پر ہماری مشابہت بتانے کے بعد مولوی محمد علی صاحب نے اختلافات کی ایک تاریخ بیان کی ہے جس میں انہوں نے اپنی طرف سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے بعد بعض واقعات سے متاثر ہو کر میں نے (یعنی اس عاجز نے) اپنے عقائد میں تبدیلی پیدا کی ہے۔

تعداد عقائد

یہ تبدیلی عقیدہ مولوی صاحب تین امور کے متعلق بیان کرتے ہیں۔ اوّل یہ کہ میں نے حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق یہ خیال پھیلایا ہے کہ آپ فی الواقع نبی ہیں۔ دوم یہ کہ آپ ہی آیت اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ(الصف: ۷) کی پیشگوئی مذکورہ قرآن کریم کے مصداق ہیں۔ سوم یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

ہر سہ عقائد کا بیان

میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرے یہ عقائد ہیں لیکن اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ ۱۹۱۴ء یا اس سے تین چار سال پہلے سے میں نے یہ عقائد اختیار کئے ہیں بلکہ جیسا کہ میں آگے ثابت کروں گا۔ ان میں سے اوّل الذکر اور آخر الذکر حضرت مسیح موعودؑ کے وقت سے ہیں۔ اور ثانی الذکر عقیدہ جیسا کہ خود میں نے اپنے لیکچروں میں بیان کیا ہے جو چھپ بھی چکے ہیں حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے بعد حضرت استاذی المکرم خلیفۃ المسیح الاول سے گفتگو اور ان کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔

نبوت کے متعلق میرا عقیدہ

میں تفصیل سے تو آگے جا کر بیان کروں گا۔ مگر اس جگہ بھی مختصراً بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرا عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انسانوں میں سے سب سے زیادہ سچے اور دین کے لئے سب سے زیادہ غیرت رکھنے والے تھے۔ پس آپؐ کا آنے والے مسیح کو نبی کے لفظ سے بار بار یاد فرمانا اس امر کی شہادت ہے کہ آنے والا مسیح نبی ہوگا۔ مگر قرآن کریم کا اپنی تعلیم کو ہر ملک اور ہر زمانہ کے لئے قرار دینا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کوئی ایسا نبی نہیں آ سکتا جو صاحبِ شریعت ہو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے آپ کو اَنَا آخِرُ الْاَنْبِیَاءِ فرمانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آ سکتا جو آپؐ کی اطاعت سے باہر ہو کر نبی بنے۔ بلکہ جو شخص بھی نبوت کا درجہ پائے گا۔ آپؐ کے متبعین سے ہوگا اور آپؐ کے فیض سے نبی ہوگا۔

اِسْمُہٗ اَحْمَدُ کی پیشگوئی کے متعلق میرا عقیدہ

اس پیشگوئی کے متعلق میرا یہ عقیدہ ہے کہ اس میں دو پیشگوئیاں ہیں ایک ظلّ کی اور ایک اصل کی ۔ ظلّ کی پیشگوئی حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق ہے۔ اور اصل کی پیشگوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہے۔ مگر اس پیشگوئی میں بالتصریح ظلّ کی خبر دی گئی ہے۔ اور ظلّ کی خبر میں التزامی طور پر اصل کی خبر بھی آ گئی ہے۔ اور وہ اس طرح کہ ظلّ نبی کا وجود ایک ایسے نبی کے وجود کو طبعاً چاہتا ہے جو بمنزلہ اصل کے ہو۔ اس لئے اس آیت سے ایک ایسے نبی کی بھی خبر نکلتی ہے جس سے اس پیشگوئی کا اصل مصداق فیوض حاصل کرے گا۔ اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ظلّ نہیں ہو سکتے بلکہ اصل ہیں۔ آپؐ نے کسی انسان سے فیض حاصل نہیں کیا بلکہ اور لوگ آپؐ سے فیض حاصل کرتے ہیں اور ایسا خیال کرنا کہ نعوذ باللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں سے فیض حاصل کرنے والے تھے آپؐ کی ہتک ہے۔ اس لئے اور نیز بعض اور دلائل کی بناء پر میرا یہ عقیدہ ہے کہ اس پیشگوئی کے مصداق اوّل حضرت مسیح موعودؑ ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظلّ ہیں اور مسیح ناصری کے مثیل ہیں۔ لیکن میرے نزدیک یہ ایک پیشگوئی ہے جس کی نسبت الہامی تعیین کسی نبی نے نہیں کی اس لئے اس کے متعلق جو کچھ بھی عقیدہ ہو گا ۔ وہ علمی تحقیقات سے زیادہ نہیں کہلا سکتا۔ پس اگر کوئی شخص اس آیت کے کچھ اور معنے سمجھے۔ تو ہم اسے مخطی کہیں گے۔ خارج از احمدیت یا گنہگار نہیں کہیں گے۔ غرض یہ کہ یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ جسے مذہبی نقطۂ خیال سے ہم کوئی اہمیت دیں۔

میرا عقیدہ مسئلہ کفر غیر احمدیان کے متعلق

میرا عقیدہ ہے کہ کفر درحقیقت خدا تعالیٰ کے انکار کی وجہ سے ہوتا ہے اور جب بھی کوئی وحی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسی نازل ہو کہ اس کا ماننا لوگوں کے لئے حجت ہو۔ اس کا انکار کفر ہے اور چونکہ وحی کو انسان تب ہی مان سکتا ہے کہ جب وحی لانے والے پر ایمان لائے۔ اس لئے وحی لانے والے پر ایمان بھی ضروری ہے۔ اور جو نہ مانے وہ کافر ہے۔ اس وجہ سے نہیں کہ وہ زید یا بکر کو نہیں مانتا۔ بلکہ اس وجہ سے کہ اس کے نہ ماننے کے نتیجہ میں اسے خدا تعالیٰ کے کلام کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ میرے نزدیک سب نبیوں کا کفر اسی باعث سے ہے۔ نہ ان کی اپنی ذات کی وجہ سے۔ اور چونکہ ایسی وحی جس کا ماننا ضروری ہو۔ صرف انبیاء پر ہوتی ہے اس لئے صرف انبیاء کا انکار کفر ہے نہ اور لوگوں کا۔ اور چونکہ میرے نزدیک ایسی وحی جس کا ماننا تمام بنی نوع انسان پر فرض کیا گیا ہے حضرت مسیح موعودؑ پر ہوئی ہے اس لئے میرے نزدیک بموجب تعلیم قرآن کریم کے ان کے نہ ماننے والے کافر ہیں خواہ وہ باقی سب صداقتوں کو مانتے ہوں۔ کیونکہ موجباتِ کفر میں سے اگر ایک موجب بھی کسی میں پایا جاوے تو وہ کافر ہوتا ہے۔ ہاں میرے نزدیک کفر کی تعریف یہ ہے کہ ایسے اصول میں سے کسی اصل کا نہ ماننا جن کے نہ ماننے سے نہ ماننے والا خدا تعالیٰ کا باغی قرار پاوے اور جس کے نہ ماننے سے روحانیت مر جائے۔ یہ نہیں کہ ایسا شخص ہمیشہ ہمیش کے لئے غیر محدود عذاب میں مبتلا کیا جاوے اور چونکہ اسلام کے احکام کی بناء ظاہر پر ہے اس لئے جو لوگ کسی نبی کو نہیں مانتے۔ خواہ اسی وجہ سے نہ مانتے ہوں کہ انہوں نے اس کا نام نہیں سُنا کافر کہلائیں گے گو خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ مستحقِ عذاب نہ ہوں گے کیونکہ ان کا نہ ماننا ان کے کسی قصور کی وجہ سے نہ تھا۔ چنانچہ سب مسلمان بالاتفاق ان لوگوں کو جو مسلم نہیں ہوئے خواہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنا ہو یا نہ سُنا ہو کافر ہی کہتے چلے آئے ہیں اور آج تک ایک شخص نے بھی آئس لینڈ کے اسکمپوز یا امریکہ کے ریڈ انڈنینز یا افریقہ کے ہانٹناٹس یا آسٹریا کے وحشیوں کے مسلمان ہونے کا فتویٰ نہیں دیا اور نہ ان ہزاروں لاکھوں عیسائیوں کی نسبت فتویٰ اسلام دیا ہے جو پہاڑوں یا اندرونِ یورپ کے رہنے والے ہیں اور جنہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا کوئی علم نہیں۔

یہ میرے عقائد ہیں جو درست ہیں یا غلط۔ اس پر میں اس جگہ بحث نہیں کرنی چاہتا۔ اس پر بحث آگے ہوگی۔ اس وقت میں نے صرف اپنے عقائد کا اظہار کر دیا ہے۔

مولوی محمد علی صاحب کی خلاف بیانی

اپنے عقائد کے اظہار کے بعد اب میں اس سلسلہ واقعات کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ جو مولوی محمد علی صاحب نے اپنی کتاب میں درج کیا ہے۔ اور انشاء اللہ تعالیٰ ہر ایک حق بین پر جو تعصب کی پٹی اپنی آنکھوں سے اُتار کر دیکھے گا۔ ثابت ہو جاوے گا کہ مولوی صاحب نے ان واقعات کے بیان کرنے میں دیدہ و دانستہ خلاف بیانی سے کام لیا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کے خوف سے کام نہیں لیا۔ کیونکہ مسائل کے بیان میں یا دلیل کے دینے میں اگر کوئی شخص غلطی کرتا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس نے سمجھنے میں غلطی کی۔ لیکن جو شخص ایک نہیں دو نہیں بلکہ ایک مسلسل سلسلہ واقعات کو غلط بیان کرے۔ اس کی نسبت سوائے اس کے اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر نا واقفوں کو دھوکا دینا چاہا ہے۔

تاریخ اختلاف

مولوی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ:۔ ۱۔ ان عقائد کا رواج دینے والا در حقیقت ایک شخص ظہیر الدین ہے جو کنال ڈیپارٹمنٹ گوجرانوالہ میں ملازم ہے اور اس کی تحریرات نبوت مسیح موعودؑ کے متعلق ۱۹۱۱ء تک کی پائی جاتی ہیں اس کی پہلی کتاب نبی اللہ کا ظہور ہے جو اپریل ۱۹۱۱ء میں ختم ہوئی ہے اور ضرور اس سے پہلے ۱۹۱۰ء کے آخری مہینوں یا ۱۹۱۱ء کے ابتدائی مہینوں میں لکھی جانی شروع ہوئی ہوگی۔ اس کتاب میں اس نے بحث کی ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی نہ تھے بلکہ آپؐ کے بعد بھی نبی آتے رہیں گے۔ ۲۔ اس کتاب کا عام طور پر جماعت میں نوٹس نہیں لیا گیا مگر کسی نہ کسی طرح یہ کتاب یا کوئی اور رسالہ اسی مضمون پر حضرت خلیفہ اوّل کے سامنے پیش کیا گیا جس پر آپ کی اس سے خط و کتابت ہوئی اور آخر حضرت خلیفہ اوّل کی طرف سے ایک اعلان کیا گیا کہ محمد ظہیر الدین چونکہ ایسے خیالات شائع

کرتا ہے جو نئے ہیں اس لئے اس کا احمدیہ جماعت سے کوئی تعلق نہیں ۔ اس پر اس نے معافی مانگی۔

۳۔ مگر یہ توبہ لمبی نہ تھی۔ ۲۰؍اپریل ۱۹۱۲ء کو اس نے ایک اور رسالہ نکالا جس میں احمدیوں کے اس اعتراض کا جواب تھا کہ اس نے نیا کلمہ بنایا ہے اور جواب یہ تھا کہ اس نے اس الزام کو قبول کر لیا تھا۔ اس کے بعد جماعت نے اس سے پھر قطع تعلق کرلیا اور گو کہ ظاہر یہ کہا گیا تھا کہ اس کا جماعت سے علیحدہ کرنا خلافت کے دعویٰ کی وجہ سے ہے مگر چونکہ وہ خود خلافت کے دعویٰ سے منکر ہے اس لئے اس کا باعث یہی نئے عقائد ہیں۔ گو اس کے ان رسائل کا جواب اس کو مخاطب کر کے تو نہیں دیا گیا مگر مختلف کتب و اخبارات میں اس کے ان خیالات کی تردید جماعت کے سنجیدہ لوگوں نے کر دی۔

۴۔ ۱۹۰۹ء میں مولوی سید محمد احسن صاحب نے مباحثہ رامپور کے متعلق جو نواب صاحب رامپور کے ایماء کے ماتحت آپ کے اور مولوی ثناء اللہ امرتسری کے درمیان ہوا تھا، ایک کتاب لکھی ہے۔ اس میں ہم صفحہ ۶۳ پر یہ لکھا دیکھتے ہیں کہ بحث متعلق نبوت جزویہ تابع نبوت کاملہ اس ہیڈنگ کے نیچے انہوں نے لکھا تھا:۔ ”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے ایک شخص کو جزوی نبوت اسلام کی تائید کے لئے مل سکتی ہے“ بعد ازاں اسی عالم بوڑھے نے تشحیذ الاذہان میں جس کے ایڈیٹر ایم محمود تھے۔ ایک مضمون جس کا عنوان ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو ان میں نبوت“ تھا۔ لکھا جس میں اس نے لکھا تھا کہ اس امت میں صرف نبوت جزئیہ مل سکتی ہے۔

۵۔ جس وقت ظہیر الدین اپنے عقائد پھیلا رہا تھا ایم محمود نے ان لوگوں کے کفر کے مسئلہ کو چھیڑ دیا جنہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت نہ کی تھی۔ اور گو ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ مضمون حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول کو دکھا لیا گیا تھا۔ مگر بعد میں جو اعلان خواجہ کمال الدین کی طرف سے مولوی صاحب کے دستخط سے شائع ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس کا کیا مطلب سمجھا۔ اس مضمون میں یہ بتایا گیا تھا کہ ایم محمود کا مضمون اسی صورت میں قابل تسلیم ہے اگر اس کے یہ معنے کئے جاویں کہ جو لوگ حضرت مسیح موعودؑ کو نہیں مانتے وہ درحقیقت آپ کے کافر ہیں نہ کہ دائرہ اسلام سے خارج۔ ورنہ اس صورت میں تو یہ مضمون حضرت مسیح موعودؑ کی تحریرات کے صریح خلاف ہوگا۔

۶۔ حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کی وفات کے قریب یہ سوال پھر نمودار ہوا اور ۱۹۱۳ء کے آخر میں ایم محمود نے پھر اعلان کیا کہ حضرت مسیح موعودؑ کے منکر کافر ہیں۔ آپ کے اس فتویٰ کو بھی کہ غیر احمدی امام کے پیچھے احمدیوں کو نماز پڑھنی جائز ہے انہوں نے غلط ٹھہرایا۔ حالانکہ خود حج میں جو ۱۹۱۲ء میں انہوں

نے کیا انہوں نے غیر احمدیوں کے پیچھے نماز ادا کی۔ اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی زندگی میں جن لوگوں نے پہلے حج کیا تھا وہ بھی ایسا ہی کرتے رہے جب یہ خبر حضرت خلیفۃ المسیح کو ملی تو چونکہ آپ سخت بیمار تھے آپ نے مجھے اس امر میں جماعت کو ہدایت کرنے کا کام سُپرد کیا اور کچھ نوٹ لکھوائے۔

۷۔ اور ایم محمود کو متنبہ کیا کہ کفر و اسلام کا مسئلہ وہ صحیح نہیں سمجھا۔

۸۔ چنانچہ میں نے وہ مضمون لکھا اور مولوی صاحب کو پڑھ کر سُنایا جنہوں نے اسے پسند کیا مگر یہ پمفلٹ گو لکھا گیا تھا مگر آپ کی زندگی میں شائع نہ ہو سکا۔

۹۔ لوگوں نے غلطی سے ان کو خلیفہ تسلیم کر لیا تھا۔ اور اب بہت سے لوگ کھلے طور پر اس کی تعلیم سے مخالفت کا اظہار کر رہے ہیں اور مولوی محمد احسن صاحب نے جو حضرت مسیح موعودؑ کے سب سے پُرانے اور سب سے زیادہ عالم صحابی ہیں اور جنہوں نے ۱۹۱۴ء میں ایم محمود کی بیعت کی تھی ۱۹۱۷ء میں ایک ہینڈ بل شائع کیا کہ ایم محمود اس عہدہ کے قابل نہیں جس کے لئے اس کا انتخاب کیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ غلط عقائد کی اشاعت کر رہا ہے۔ اوّل یہ کہ ان کے عقیدہ کی رُو سے تمام اہل قبلہ کلمہ گو کافر ہیں۔ دوم:۔ حضرت مسیح موعودؑ کامل اور حقیقی نبی ہیں نہ کہ جزوی نبی یا محدث۔ سوم: پیشگوئی مذکورہ سورہ صَف متعلق بشارت احمد صرف مسیح موعودؑ کے متعلق ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہیں۔

۱۰۔ صرف عالم سید ہی نے ایسا اعلان نہیں کیا بلکہ بہت سے تعلیم یافتہ احمدیوں نے اس سے پہلے اخبار پیغام صلح میں ایسے اعلان شائع کئے۔ اور ان کے علاوہ اور تعلیم یافتہ لوگ بھی اس غلطی کو محسوس کر رہے ہیں جس میں احمدیہ جماعت کو ڈالا جا رہا ہے اور ان کی ان تعلیمات سے مخالفت روز بروز نمایاں ہو رہی ہے۔

۱۱۔ مگر ایک قدم ایم محمود نے شروع میں ایسا اُٹھایا ہے کہ جس کی وجہ سے جماعت کو اندھیرے میں رکھا ہوا ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے ہماری نسبت فاسق کا فتویٰ دیدیا ہے اور یہاں تک کہہ دیا ہے کہ کوئی احمدی ان سے تعلق نہ رکھے یہاں تک کہ ان کے ساتھ مل کر کھانا تک نہ کھائے اور نہ ان سے کوئی دوستانہ گفتگو کرے اور نہ انکی شائع کردہ کوئی کتاب یا رسالہ پڑھے اور اس طرح ان کے متبع ان دلائل سے ناواقف ہیں جن کے ذریعہ سے ان کے عقائد کی جو مسیح موعودؑ کے مخالف ہیں۔ تردید کی جاتی ہے۔

یہ گیارہ امر ہیں۔ جو اختلاف کی تاریخ کے متعلق مولوی صاحب نے تحریر فرمائے ہیں اور مَیں چاہتا ہوں کہ مذہبی حصہ کے بیان کرنے سے پہلے میں ان کے متعلق کچھ تحریر کردوں۔ تاکہ ان لوگوں کو جو حالات سے ناواقف ہیں معلوم ہو جائے کہ ان لوگوں میں کہاں تک صداقت کا پاس کیا جاتا ہے۔ کہاں تک یہ لوگ راستی سے پیار کرتے ہیں۔

تاریخ اختلافِ سلسلہ کا پہلا امر

اس بات کا بیان کہ مسائل مختلف فیہ کا بانی ظہیرالدین نہیں ہو سکتا:

سب سے پہلی بات تاریخ اختلاف کے بیان کرتے وقت مولوی صاحب نے یہ تحریر فرمائی ہے کہ ان مسائل اختلافی کا بانی ظہیر الدین ہے جس نے اپریل ۱۹۱۱ء میں نبی اللہ کا ظہور کتاب لکھ کر مسئلہ نبوت مسیح موعود کی بنیاد رکھی۔ مگر میں بتانا چاہتا ہوں کہ مولوی صاحب نے اس بیان میں صریح غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ ظہیر الدین کیا ہستی رکھتا ہے کہ اسے مسیح موعود کی نبوت کا بانی کہا جاوے۔ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت فرمایا تھا کہ آنے والا عیسیٰ بن مریم نبی اللہ ہوگا اس وقت ظہیر موجود تھا۔ کیا ظہیر الدین نے یہ الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جاری کئے تھے؟ کیا مسیح موعود کو جو یہ الہام ہوا تھا کہ دنیا میں ایک نبی آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا یا ظہیر الدین کی طرف سے؟ ظہیر الدین ایک حق سے دور اور صداقت سے مُعَرّٰی اور خود پسند انسان ہے۔ اسے ان پاک باتوں کی طرف نسبت دینا خدا تعالیٰ کے پاک کلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنا نہیں تو اور کیا ہے؟ میں پوچھتا ہوں:۔ هَلْ كَانَ اَحَدٌ مِّنَ الْأَحْمَدِيِّيْنَ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذْ قَضٰى بِنُبُوَّةِ الْمَسِيْحِ الْمَوْعُوْدِ۔

پھر خدا کے لئے اس بات کو تو دیکھو کہ میں ظہیر الدین کی کتاب سے بہت پہلے حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کا اعلان کر چکا ہوں۔ اگر ظہیر الدین نے اس عقیدہ کی بناء ڈالی ہے تو میں پوچھتا ہوں کہ اس کی کتاب کے طبع ہونے سے پانچ سال پہلے حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی میں میں نے کیونکر اپنے مضامین میں حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کا تذکرہ کر دیا اور خود مولوی محمد علی صاحب نے کیونکر میرے ان مضامین کو جن میں صاف طور پر حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کا اعلان تھا پسند کیا۔ اور ان کو ایک نشان حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کا قرار دیا۔ مولوی صاحب تسلیم کرتے ہیں کہ ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کا ظہور اپریل ۱۹۱۱ء میں ختم ہوئی ہے اور لکھتے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ۱۹۱۰ء کے آخر یا ۱۹۱۱ء کے ابتداء میں لکھی گئی ہوگی۔ یہ کتاب چھوٹی تقطیع کے ۱۲۰ صفحوں پر ہے۔ اور زیادہ سے زیادہ ایک ماہ میں

لکھی گئی ہو گی ۔ لیکن اگر مولوی صاحب کی بات کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو مولوی صاحب بتائیں کہ اس ۱۹۱۱ء میں نکلنے والی کتاب کا علم ۱۹۰۶ء میں مجھے کیونکر ہو گیا تھا کہ اس وقت میں نے حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کا بڑے زور سے اعلان کیا ۔ یہ ۱۹۰۵ء کا واقعہ ہے جس وقت میری عمر سترہ سال کی تھی کہ میں نے شیخ عبدالرحیم صاحب مرحوم مالیر کوٹلوی نے ، چوہدری فتح محمد صاحب ایم اے مسلم مشنری اور چند دیگر طالب علموں نے مل کر یہ تجویز کی تھی کہ سلسلہ کی خدمت اور نوجوانوں میں خدمت دین میں حصہ لینے کا جوش پیدا کرنے کے لئے ایک رسالہ جاری کیا جاوے ۔ اور حضرت مسیح موعودؑ کی اجازت سے آپؐ ہی سے نام رکھوا کر ہم نے رسالہ تشحیذ الاذہان جاری کیا۔ اور دوستوں کے مشورہ سے میں اس کا ایڈیٹر مقرر ہوا ۔ اس رسالہ کا پہلا نمبر یکم مارچ ۱۹۰۶ء میں شائع ہوا ۔ اور اس کا انٹروڈکشن جو میں نے لکھا ہے ۔ اس میں حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کا میں نے ذکر کیا ہے اور صاف لفظوں میں میں نے آپؐ کو نبی ظاہر کیا ہے ۔ اس رسالہ کے صفحہ ۱۰ پر مسیح موعودؑ کا ذکر کرتے ہوئے دُنیا کے لوگوں کو مخاطب کر کے میں نے لکھا ہے ۔ ”کیا یہ تیرا خیال ہے کہ میں کسی بڑی قوم کا ہوں یا میرے پاس زر و جواہر ہیں یا میری قوت بازو بہت لوگ ہیں ۔ یا میں بہت بڑا رئیس یا بادشاہ ہوں یا بڑا ذی علم آدمی ہوں ۔ سجادہ نشین ہوں یا فقیر ہوں ۔ اس لئے مجھ کو اس رسول کے ماننے کی حاجت نہیں ۔“ پھر صفحہ ۱۱ پر اسی انٹروڈکشن میں لکھا ہے ۔ ”تھوڑوں نے اس کو قبول کیا اور بہتوں نے انکار کیا۔ جیسا کہ پہلے نبیوں کے متعلق سنت اللہ چلی آئی ہے اب بھی ویسا ہی ہوا ۔ ایسا ہی صفحہ ۸ پر لکھا ہے ۔ ”غرضکہ ہر ایک قوم ایک نبی کی منتظر ہے ۔ اور اس کے لئے زمانہ بھی یہی مقرر کیا جاتا ہے ۔ ہمارے پیارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نشانات اس نبی کی پہچان کے بتائے ہیں اور اس کے پہچاننے کے لئے جو جو آسانیاں ہمارے لئے پیدا کر دی ہیں ۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے ۔ کہ ہمارے رسول کریم کا مرتبہ کسقدر بلند اور بالا تھا“۔ اسی طرح صفحہ ۵، ۶ پر لکھا ہے ۔ اب یہ دیکھنا چاہیئے کہ اس زمانہ میں کسی نبی کی ضرورت ہے یا نہیں ۔ کیا اس زمانہ کو اچھا زمانہ کہا جائے یا بُرا جہاں تک دیکھا جاتا ہے اس زمانہ سے بڑھکر دنیا میں کبھی فسق و فجور کی ترقی نہیں ہوئی ۔ تمام دُنیا ایک زبان ہو کر چلا اُٹھی ہے کہ گناہوں کی حد ہو گئی ہے۔ یہی زمانہ ہے کہ دنیا میں ایک مامور کی حد سے زیادہ ضرورت ہے“ اور یہ وہ مضمون ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے اسے اسقدر پسند فرمایا کہ مسجد میں اسکے پڑھنے کی بہت سے لوگوں کو تاکید کی جن میں سے خواجہ کمال الدین صاحب بھی ہیں اور حضرت مسیح موعودؑ کے سامنے بھی اس کی تعریف کی ۔ مگر حضرت خلیفہ اول کی تعریف شاید مولوی محمد علی صاحب کے لئے ایسی مؤثر نہ ہو۔ جیسے خود ان کی اپنی تحریر ۔ میرے اس مضمون پر جو کچھ خود مولوی محمد علی صاحب نے رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں تشحیذ الاذہان پر ریویو کرتے ہوئے لکھا ہے ۔ وہ اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ اس وقت خود مولوی محمد علی صاحب کے

کیا خیالات تھے۔ مولوی صاحب لکھتے ہیں:۔ ”اس رسالہ کے ایڈیٹر مرزا بشیر الدین محمود احمد حضرت اقدسؑ کے صاحبزادہ ہیں۔ اور پہلے نمبر میں چودہ صفحوں کا ایک انٹروڈکشن ان کی قلم سے لکھا ہوا ہے۔ جماعت تو اس مضمون کو پڑھے گی۔ مگر میں اس مضمون کو مخالفین سلسلہ کے سامنے بطور ایک بَیِّن دلیل کے پیش کرتا ہوں۔ جو اس سلسلہ کی صداقت پر گواہ ہے۔ خلاصہ مضمون یہ ہے کہ جب دنیا میں فساد پیدا ہو جاتا ہے۔ اور لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ کو چھوڑ کر معاصی میں بکثرت مبتلاء ہو جاتے ہیں۔ اور مُردارِ دنیا پر گدھوں کی طرح گر جاتے ہیں۔ اور آخرت سے بالکل غافل ہو جاتے ہیں تو اس وقت میں ہمیشہ سے خدا تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ انہی لوگوں میں سے ایک نبی کو مامور کرتا ہے کہ وہ دُنیا میں سچی تعلیم پھیلائے۔ اور لوگوں کو خدا کی حقیقی راہ دکھائے۔ پر لوگ جو معاصی میں بالکل اندھے ہو رہے ہوتے ہیں وہ دُنیا کے نشہ میں مخمور ہونے کی وجہ سے یا تو نبی کی باتوں پر ہنسی کرتے ہیں اور یا اسے دکھ دیتے ہیں اور اس کے ساتھیوں کو ایذائیں پہنچاتے ہیں اور اس سلسلہ کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں مگر چونکہ وہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے اس لئے انسانی کوششوں سے ہلاک نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ نبی اس حالت میں اپنے مخالفین کو پیش از وقت اطلاع دے دیتا ہے کہ آخر کار وہی مغلوب ہوں گے اور بعض کو ہلاک کر کے خدا دوسروں کو راہِ راست پر لے آوے گا۔ سو ایسا ہی ہونا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جو ہمیشہ سے چلی آئی ہے ایسا ہی اس وقت میں ہوا“ (ریویو آف ریلیجنز مارچ ۱۹۰۶ء جلد ۵ نمبر ۳ صفحہ ۱۱۷، ۱۱۸) یہ وہ ریویو ہے جو مولوی محمد علی صاحب نے میرے اس مضمون پر کیا ہے جو رسالہ تشحیذ الاذہان کے انٹروڈکشن کے طور پر یکم مارچ ۱۹۰۶ء جلد اص۱ میں حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی میں شائع ہوا تھا۔ اب ہر ایک منصف مزاج انصاف و عدل کے ساتھ اس امر کا فیصلہ کرے۔ کہ اگر نبوت کا عقیدہ ظہیر الدین نے گھڑا تھا۔ اور مرزا صاحب نبی نہیں تھے تو پہلا سوال تو یہ ہے کہ مجھے ۱۹۰۶ء میں یہ کیونکر معلوم ہو گیا کہ مرزا صاحب نبی تھے اور میں نے اس امر پر اس قدر زور دیا کہ تشحیذ الاذہان کے انٹروڈکشن کی بنیاد ہی اس بات پر رکھی کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جیسا کہ پہلے نبی آتے رہے ہیں اس وقت بھی اس کی طرف سے ایک نبی کا آنا ضروری ہے اور وہ نبی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔ مگر ہم اس امر کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ظہیر الدین سے اس وقت بھی میری ساز باز تھی اور اسی کے ایماء سے میں نے حضرت مسیح موعودؑ کو نبی لکھ دیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ میرے اس مضمون پر تعریفی رنگ میں مولوی محمد علی صاحب جیسے تجربہ کار محرر نے جو اس وقت جماعت کی اصلاح کے واحد ٹھیکیدار بن رہے ہیں۔ تعریفی رنگ میں ریویو کیونکر لکھ دیا میں نے اپنے مضمون میں صاف طور پر حضرت مسیح موعودؐ کو نبی لکھا تھا اور ایک ہی دفعہ نہیں۔ بار بار نبی کہہ کر آپؐ کو پکارا تھا ۔ اور پھر لکھا تھا کہ آپؐ کا دعویٰ ہے کہ خدا تعالیٰ مجھ پر آدم اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ اور محمد و غیر ہم (علیہم السلام) کی طرح وحی نازل فرماتا ہے۔“ (تشحیذ الاذہان یکم مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۹)

اگر اس وقت تک جماعت میں سے کوئی شخص حضرت مسیح موعودؑ کو نبی نہیں مانتا تھا تو اس پر مولوی محمد علی صاحب کو چونک پڑنا چاہئے تھا کہ یہ کیا ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک شخص کو نبی نبی کہہ کر پکارا جانے لگا ہے۔ مولوی صاحب یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں نے بغیر دیکھے رسالہ پر ریویو کر دیا تھا ۔ کیونکہ انہوں نے اپنے رسالہ میں میرے مضمون کا خلاصہ خود میرے ہی الفاظ میں نقل کیا ہے پس کم سے کم وہ حصہ جو انہوں نے نقل کیا ہے وہ تو انہوں نے ضرور پڑھا ہو گا۔ اسی میں حضرت مسیح موعودؑ کے نبی ہونے کا بھی ذکر ہے پس حیرت ہے کہ اگر نبوت کا عقیدہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد گھڑا گیا ہے تو کیوں اس وقت مولوی صاحب نے شور نہ مچایا۔ مولوی صاحب تو اس بات کو حضرت مسیح موعودؑ کا ایک معجزہ قرار دیتے ہیں کہ ان کے ایک لڑکے کے دل میں اس عمر میں جو کھیل کود کا زمانہ ہے ایسے نیک خیالات پیدا ہوئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی اندر باہر کی زندگی ایک سی ہے۔ ان کو دیکھ کر بچے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ مگر ان کے آج کل کے خیالات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک تباہ کُن خیال تھا ، ایک ضلالت بھرا مضمون تھا ، ایک برباد کر دینے والا عقیدہ تھا ، ایک باطل کو فروغ دینے والا مسئلہ تھا ، جو تشحیذ الاذہان کے ذریعہ دُنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔ بلکہ یوں کہو کہ اسلام کی جڑ ھ پر اس مضمون کے ذریعہ سے تبر رکھ دیا گیا تھا اور اس میں ایسی باتیں بیان کی گئی تھیں کہ بقول مولوی محمد علی صاحب آج تک اسلام میں ایسے اختلاف کی بنیاد نہیں رکھی گئی وہ ایک زہر کا پیالہ تھا جس کے ذریعہ ایمانی زندگی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کیا گیا پس اس مضمون کو بجائے معجزانہ قرار دینے کے اس پر صدائے نفریں بلند کرنی چاہئے تھی اور صفِ ماتم بچھا دینی چاہئے تھی اور بجائے اس کے کہ یہ کہا جاتا کہ دیکھو مسیح موعودؑ کے ایک بچے کے کیسے عمدہ خیالات ہیں جو مسیح موعودؑ کی صداقت پر دلیل ہے۔ چاہئے تھا کہ مولوی صاحب اپنے رسالہ میں مجھے اس وقت ابن نوح قرار دے کر اس بات پر زور دیتے کہ کوئی شخص ان خیالات سے دھوکا نہ کھائے ۔ یہ مسیح موعودؑ کے خیالات نہیں۔ مسیح موعودؑ تو ہرگز اپنے آپ کو نبی نہیں کہتے اور اس طرح اپنی نسبت نبی کا لفظ لکھنے کو ناپسند کرتے ہیں ۔ بلکہ اس مصیبت کے خطرہ سے ڈر کر جو اسلام پر اس مضمون کے ذریعہ آنے والی تھی چاہئے تھا کہ اسی وقت روتے ہوئے اور آہیں بھرتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ کے پاس حاضر ہوتے اور آپؐ کو بھی اس آفتِ عظیمہ پر آگاہ کرتے اور میرے جماعت سے خارج کرنے پر زور دیتے اور اس طرح فتنۂ عظیمہ کو دُور کر کے اجرِ عظیم حاصل کرتے مگر بجائے اس کے آپ نے اس وقت میری تعریف کی ۔ کیا آپ بھی انہی لوگوں میں سے تھے جن کی نسبت آج اپنی کتاب سپلٹ میں لکھتے ہیں کہ:۔

Being brought up within the circle of admirers of his father be contracted the narrow views which fall to the lot of young men brought up under similar circumstances. p.23 ؎

اور کیا صرف خوشامد کے طور پر آپ نے یہ ریویو لکھ دیا تھا یا آپ جانتے تھے کہ مسیح موعودؑ نبوت کا دعویٰ رکھتے ہیں اور آپ اس وقت زندہ موجود ہیں۔ اگر اس وقت میں ان خیالات کی تردید کروں گا تو میرا اندرونہ کھل جاوے گا اور حق ظاہر ہو جاوے گا۔ یا آپ خود بھی اس وقت یہی اعتقاد رکھتے تھے کہ حضرت مسیح موعودؑ نبی ہیں۔ ان تینوں امور میں سے کون سا امر حق ہے؟ آیا یہ میری خوشامد تھی جس نے آپ سے یہ تعریف لکھوائی یا حضرت مسیح موعودؑ کا خوف یا اپنا عقیدہ۔ میں تو یہی کہوں گا کہ اس وقت آپ کا بھی یہی عقیدہ تھا ۔ ظہیر الدین کی طرف اس امر کو منسوب کرنا تو اسی مَثَل کے مطابق ہے کہ اگرچہ گندہ است مگر ایجادِ بندہ است بیٹھے بیٹھے آپ کو ایک خیال سوجھا ۔ اور آپ نے اس پر ایک عمارت بنالی۔ ورنہ جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی سے ہی آپؐ کو نبی مانتی چلی آئی۔ خصوصاً میں اور آپ کہ دونوں کی تحریریں اس پر شاہد ہیں ۔فرق صرف یہ ہے کہ میں آج بھی اسی عقیدہ پر قائم ہوں لیکن آپ ایڑیوں کے بل پھر گئے ہیں ۔

مسیح موعودؑ کی نبوت کا میں پہلے سے ہی قائل تھا

یہ بات اتفاق نہیں کہی جاسکتی کہ حضرت مسیح موعودؑ کے سب سے بڑے مخالف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے بھی انہی الہامات پر جن کو بعد میں انہوں نے عقائدِ کفر یہ پر مشتمل بتایا ہے تعریفی طور پر ریویو لکھا ہے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب براہین کو ایک معجزہ قرار دیا ہے۔ اور اس کے متعلق لکھا ہے کہ ”ہماری رائے میں یہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی ۔ ۔ ۔ ۔ اور اسکا مؤلف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے تو ہم کو کم سے کم ایک ایسی کتاب بتا دے“ اور حضرت مسیح موعودؑ کے موعود جانشین کے سب سے بڑے مخالف نے بھی اس کے ایک مضمون پر جو انہی

عقائد پر مشتمل تھا جن کو بعد میں وہ مخالف اسلام قرار دیتا ہے کچھ مدت پہلے ایک تعریفی ریویو لکھا تھا جس میں وہ لکھتا ہے کہ اس رسالہ کے ایڈیٹر مرزا بشیر الدین محمود احمد حضرت اقدس کے صاحبزادہ ہیں۔ پہلے نمبر میں چودہ صفحوں کا ایک انٹروڈکشن ان کی قلم سے لکھا ہوا ہے۔ جماعت تو اس کو پڑھے گی، مگر میں اس مضمون کو مخالفین سلسلہ کے سامنے بطور ایک بَیِّن دلیل کے پیش کرتا ہوں۔ جو اس سلسلہ کی صداقت پر گواہ ہے۔ پھر اس مضمون کے متعلق لکھتا ہے: ”مگر دین کی یہ ہمدردی اور اسلام کی حمایت کا یہ جوش جو اوپر کے بے تکلف الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے ایک خارق عادت بات ہے۔“ پھر لکھتا ہے۔ ”اب وہ سیاہ دل لوگ جو مرزا صاحب کو مفتری کہتے ہیں۔ اس بات کا جواب دیں کہ اگر یہ افتراء ہے تو یہ سچا جوش اس بچہ کے دل میں کہاں سے آیا؟ جھوٹ تو ایک گند ہے پس اس کا اثر تو چاہئے تھا کہ گندہ ہوتا نہ یہ کہ ایسا پاک اور نورانی جس کی کوئی نظیر ہی نہیں ملتی۔“ پھر وہ لکھتا ہے۔ ”غور کرو کہ جس کی تعلیم اور تربیت کا یہ پھل ہے وہ کاذب ہو سکتا ہے؟ (ریویو آف ریلیجنز اردو جلد پنجم صفحہ ۱۱۸-۱۱۹) کیا یہ خدا تعالیٰ کا تصرف نہیں؟ کیا اس کا ہاتھ اس میں نظر نہیں آتا؟

کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے

خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ بات غلط ہے کہ میں نے نبوت کا مسئلہ ظہیر الدین سے سیکھا ہے۔ بلکہ ظہیر الدین کی کتاب نکلنے سے پانچ سال پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی رسالہ تشحیذ الاذہان کا انٹروڈکشن لکھتے ہوئے میں نے حضرت مسیح موعود کو بطور نبی کے پیش کیا تھا۔ اور اس پر مولوی محمد علی صاحب نے اس کا خلاصہ لکھ کر اس کی تعریف کی۔ اور میرے مذہبی خیالات کو حضرت مسیح موعود کا ایک معجزہ قرار دیا اور دشمنوں کے لئے حجت جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خود مولوی صاحب کے اپنے خیالات اس وقت یہی تھے کہ مرزا صاحب نبی ہیں۔ صرف اسی مضمون پر بس نہیں۔ میرے اور مضامین بھی ہیں جن میں حضرت صاحب کی نبوت کا میں نے ذکر کیا ہے۔ چنانچہ ۱۰؍مئی ۱۹۰۶ء کے بدر میں میرا ایک مضمون چھپا ہے جس کے آخر میں میں نے لکھا ہے :۔ ”خدا کے لئے ہوش کرو اور عاجزی سے خدا کی درگاہ میں سر جھکاؤ۔ اور اس کے رسول برحق کے آگے ان الفاظ میں التجا کرو کہ يَا مَسِيْحَ الْخَلْقِ عُدْ وَانَا (بدر ۱۰؍مئی ۱۹۰۶ء ص۵) پھر یکم نومبر ۱۹۰۶ء کے بدر کے صفحہ ۳ پر میرے مضمون الحکم اور وطن میں یہ فقرہ درج ہے۔ ”زمین و آسمان نہ رہیں لیکن یہ خدا کا نبی ناکام نہیں رہے گا۔“

ان دونوں حوالوں سے بھی ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں ہی میرا یہ عقیدہ تھا کہ آپؐ نبی ہیں۔ اور اس عقیدہ کو میں نے مخفی طور پر اپنے دل میں نہیں رکھا ہوا تھا

بلکہ ہمیشہ اس کا اظہار کرتا رہتا تھا۔

نبوت مسیح موعود پر میرے مضامین کے چند حوالے

ان حوالہ جات کے تحریر کرنے کے بعد جن سے یہ ثابت ہوتا ہے ۔ کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں ہی آپؐ کو نبی یقین کرتا تھا ۔ اور اپنے اس خیال کو شائع کرتا رہتا تھا۔ میں چند اور حوالہ جات بھی اپنی تحریرات سے درج کر دیتا ہوں جو حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے بعد کے ہیں تاکہ حق جُو لوگوں پر ثابت ہو کہ میں نے کسی زمانہ میں بھی اس عقیدہ کے اظہار میں اخفاء سے کام نہیں لیا اور اس کی اشاعت سے باز نہیں رہا۔ بلکہ جب سے میں نے اپنے ہاتھ میں قلم پکڑی ہے۔ برابر ان مضامین کو پبلک کے سامنے لاتا رہا ہوں۔ اور میرے پہلے مضمون کی تحریر سے آج تک ان مضامین کا سلسلہ ایسا پیوستہ ہے کہ کوئی کڑی اس میں سے غائب نظر نہیں آتی۔

وفات مسیح موعود پر ایک مضمون اور نبوت کے متعلق پہلا حوالہ

حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے بعد کی تاریخ میں سب سے بڑا واقعہ خود حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے معاً بعد کے حالات ہیں۔ جیسا کہ قدیم سے سنت اللہ چلی آئی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کی وفات بھی ایسے حالات میں ہوئی کہ دشمنوں میں خیال پیدا ہوا کہ آپؐ ناکام فوت ہوئے ہیں۔ اور بعض احمدی کہلانے والوں کے قدم بھی اس طرح لڑکھڑا گئے جس طرح کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد قبائل عرب کے قدم لڑکھڑا گئے تھے، ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دشمنوں کے حملوں کو رد کرنے اور دوستوں کے دلوں کو مضبوط کرنے کے لئے ضروری تھا کہ ان تمام شکوک و شبہات کا ازالہ کیا جاتا۔ جو حضرت مسیح موعودؑ کے کام کے متعلق مخالفوں کی طرف سے پیدا کئے جاتے تھے۔ چنانچہ اس غرض کے پورا کرنے کے لئے حضرت خلیفہ اول کے علاوہ اور بہت سے احمدیوں نے اس موضوع پر مضامین لکھے جن میں سے ایک میں بھی تھا۔ میرا یہ مضمون رسالہ تشحیذ الاذہان کے پرچہ جون و جولائی ۱۹۰۸ء نمبر ۶، ۷ میں شائع ہوا اور اس کے علاوہ اس کو علیحدہ کتاب کی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ اور اس کتاب کا نام حضرت خلیفہ اول نے ایک الہام کے ماتحت ”صادقوں کی روشنی کو کون دُور کر سکتا ہے“۔ رکھا۔ یہ کتاب اور یہ رسالہ کثرت سے احمدیوں اور غیر احمدیوں میں شائع کیا گیا۔ تاکہ ان شکوک کا ازالہ ہو جو حضرت مسیح موعودؑ کی وفات پر آپؐ کے دشمنوں نے پیدا کئے تھے اس کتاب میں بائیس جگہ میں نے حضرت مسیح موعودؑ کو نبی کے لفظ سے یاد کیا ہے اس جگہ ان تمام عبارتوں کے نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہر ایک شخص اس رسالہ کو منگوا کر اپنا اطمینان کر سکتا

ہے۔ ہاں نمونہ کے طور پر صرف چند سطریں اس میں سے اس جگہ نقل کی جاتی ہیں جس سے بخوبی اس بات کا علم ہو سکتا ہے کہ آیا اس رسالہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نبی بتایا گیا ہے یا نہیں۔ (دیکھئے رسالہ تشحیذ الاذہان جلد سوم صفحہ ۶، ۷) ہاں اگر مخالف اب بھی انکار کریں۔ تو سوائے حضرت مسیح موعودؑ کے اس الہام کے کہ اِنَّمَا اَشْکُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْ اِلَی اللّٰهِ۔ ہم اور کیا کہہ سکتے ہیں۔ ایک نبی آیا۔ اور ان کے لئے رات اور دن غم کھا کر اس دُنیا سے اُٹھ گیا۔ اور یہ لوگ اب تک اس سے انکار کرتے ہیں۔ ہماری خدا سے یہ خواہش نہیں۔ کہ یہ مخالف ہلاک ہوں۔ بلکہ دل ان کے لئے درد محسوس کرتا ہے اور کڑھتا ہے اور ایک تڑپ ہے کہ خدا ان کو ہدایت دے اور اپنے نبی کی شناخت دے۔ اگرچہ یہ لوگ ہم پر طعن و تشنیع کرتے ہیں۔ مگر ہم ان کے لئے دُعائیں کرتے ہیں کہ ”اے خدائے قادر تو ہمارے دلوں کو جانتا ہے۔ اور تجھے علم ہے کہ ہمارے دل ان گم گشتہ راہوں کے لئے کیسی تکلیف پاتے ہیں۔ پس اے عالم الغیب والشھادة ہمارے دکھوں اور تکلیف کو دیکھ اور ہم پر رحم کر۔ اور ان غموں سے ہم کو چھٹڑا۔ اور ہمارے بھائیوں کو ہدایت اور نور کا راستہ جو تیرا نبی ہمارے لئے کھول گیا ہے بتا اور انہیں اس کی شناخت کی توفیق عنایت کر۔“

اس وقت جبکہ حضرت مسیح موعودؑ کی وفات نے تمام احمدیوں کے دل ہلا دیئے ہوئے تھے، میرا نبی کے لفظ سے آپؑ کو بار بار یاد کرنا اور حضرت خلیفہ اوّل خود مولوی محمد علی صاحب اور باقی تمام جماعت کا اس مضمون کے خلاف آواز نہ اُٹھانا بلکہ اسے قبولیت کی نظروں سے دیکھنا اس امر کا ثبوت ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی نسبت اس وقت نہ صرف میرا بلکہ سب جماعت احمدیہ کا یہی عقیدہ تھا کہ آپؑ نبی ہیں۔

اسی طرح ۱۹۰۸ء کے جلسہ میں جو اپریل ۱۹۰۹ءعہ کو منعقد ہوا۔ جو میری تقریر ہوئی اور جس میں خود حضرت خلیفۃ المسیح الاول میر مجلس تھے اور جو بدر اور تشحیذ الاذہان میں شائع ہو چکی ہے۔ میں نے یہ الفاظ کہے تھے:۔ ”یہ وعدہ ہم سے اس بناء پر نہیں کہ ہم مسیح کی وفات کو مان لیں۔ بلکہ خدا نے اپنے رسول یعنی حضرت مسیح موعودؑ کی معرفت ہم سے وعدہ کیا ہے کہ اگر اسی جنس کو خریدیں گے جس کو پہلوں نے خریدا تو ہم سے بھی وہی نیک سلوک ہوگا۔“ (تشحیذ الاذہان فروری ۱۹۰۹ء جلد ۴ نمبر ۱ صفحہ ۲۹)

پھر اسی طرح بیان کیا تھا کہ ”خدا ظالم نہیں۔ ہم اپنے آپ کو ہی دیکھتے ہیں کہ اس کا ایک نبی ہم میں آیا۔ اور اپنا کام کر کے ہم سے جدا ہو گیا۔“ (تشحیذ الاذہان فروری ۱۹۰۹ء جلد ۴ نمبر ۱ صفحہ ۳۶)

اس کے بعد دسمبر ۱۹۱۰ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر میری تقریر ہوئی۔ جو ۱۹ جنوری ۱۹۱۱ء کے اخبار بدر میں شائع ہو چکی ہے۔ اس میں بھی حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت پر میں نے خاص زور دیا۔ بلکہ اس تقریر کا موضوع ہی نبوت ہے اور اس کا محرک مفصلہ ذیل واقعہ ہوا۔ ۱۹۱۰ء میں مکرمی و معظمی جی فی اللہ

مفتی محمد صادق صاحب و مولوی صدر الدین صاحب یکے از رفقائے مولوی محمد علی ایک تبلیغی دورہ پر بھیجے گئے تھے۔ اس دورہ کے دوران میں مولوی شبلی صاحب نعمانی بانی ندوہ سے بھی ان کو ملاقات کا موقع ملا۔ سلسلہ گفتگو میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کا بھی ذکر آیا۔ اور جناب مولوی شبلی صاحب کے سوال پر ان صاحبان نے جواب دیا کہ ہم مرزا صاحب کو لغوی معنوں میں نبی مانتے ہیں۔ گو یہ جواب درست تھا کیونکہ لغوی معنے اور شرعی اصطلاح ایک ہی ہے۔ مگر چونکہ یہ جواب ایک رنگ اخفاء کا رکھتا تھا۔ اور اس طرف اشارہ ہوتا تھا کہ گویا خدا تعالیٰ کے نزدیک نبی کے کچھ اور معنے ہیں۔ مجھے ناپسند ہوا اور مجھے خوف ہوا کہ یہ طریق جماعت میں عام نہ ہو جائے خصوصاً جبکہ میں نے دیکھا کہ اس سال چند دنیاوی تحریکوں (مثلاً مسلم یونیورسٹی) کی رو میں بہہ کر بعض احمدی اپنے مرکز سے ہٹ رہے ہیں۔ تو میں اس جواب سے اور بھی ڈرا۔ اور میں نے چاہا کہ سالانہ جلسہ کے موقع پر خاص طور پر اپنی جماعت کو توجہ دلاؤں۔ حضرت خلیفۃ اول اس تقریر کے موقع پر موجود نہ تھے۔ مگر خواجہ صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب موجود تھے ان لوگوں کی موجودگی میں تمام جماعت کے روبرو میں نے اس موضوع پر تقریر کی۔ اور میری یہ تقریر اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ میں ہمیشہ حضرت مسیح موعودؑ کو نبی سمجھتا رہا ہوں۔ چند فقرات اس تقریر کے جو ۱۹؍ جنوری ۱۹۱۱ء کے پرچہ بدر میں شائع ہو چکی ہے میں ذیل میں درج کرتا ہوں۔ ”وہی خدا ہے جس نے اپنے فضل سے تمہیں توفیق دی کہ تم ایک نبی کی اتباع کرو۔“ (بدر جنوری ۱۹۱۱ء صفحہ ۶ کالم ۳)

پھر احمدیوں اور غیر احمدیوں کے متعلق لکھا ہے:۔

”سوداگروں کے درمیان بھی میں دیکھتا ہوں کہ اگرچہ ایک جنس ہی ہے تو بھی وہ کہتا ہے نہیں جی ہمارا غلہ خاص قسم کا ہے اور تم تو دونوں فریقوں میں بیّن فرق دیکھتے ہو اور پھر تم میں سے بعض ہیں جو کہہ دیتے ہیں کچھ فرق نہیں۔ کیا یہ فرق نہیں کہ تم ایک نبی کے متبع ہو اور دوسری قوم ایک نبی کی مکذّب ہے۔“

یہ بھی یاد رکھو کہ مرزا صاحبؑ نبی ہیں اور بحیثیت رسول اللہ کے خاتم النبیین ہونے کے آپؐ کی اتباع سے آپؑ کو نبوت کا درجہ ملا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ اور کتنے لوگ یہی درجہ پائیں گے۔ ہم انہیں کیوں نبی نہ کہیں جب خدا نے انہیں نبی کہا ہے۔ چنانچہ آخری عمر کا الہام ہے کہ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ اَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَرَّسه

”جو مسیح موعودؑ کے ایک لفظ کو بھی جھوٹا سمجھتا ہے وہ خدا کی درگاہ سے مردود ہے کیونکہ خدا اپنے نبی کو وفات تک غلطی میں نہیں رکھتا۔“ (بدر ۱۹؍ جنوری ۱۹۱۱ء صفحہ ۷)

”تم اپنے امتیازی نشان کو کیوں چھوڑتے ہو تم ایک برگزیدہ کو نبی مانتے ہو اور تمہارے مخالف اس کا انکار کرتے ہیں ۔ حضرت صاحب کے زمانہ میں ایک تجویز ہوئی کہ احمدی غیر احمدی مل کر تبلیغ کریں ۔ مگر حضرت صاحب نے فرمایا کہ تم کونسا اسلام پیش کرو گے ۔ کیا جو خدا نے تمہیں نشان دیئے جو انعام خدا نے تم پر کیا وہ چھپاؤ گے ۔“

”ایک نبی ہم میں بھی خدا کی طرف سے آیا ۔ اگر اسکی اتباع کرینگے تو وہی پھل پائینگے جو صحابہ کرامؓ کیلئے مقرر ہوچکے ہیں ۔“؎

ان عبارتوں سے میرا مذہب نبوت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق بخوبی ظاہر ہے اور یہ تقریر خواجہ کمال الدین صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب کی موجودگی میں ہوئی تھی۔ اور چونکہ میری تقریر کے بعد صدر انجمن احمدیہ کی رپورٹ سنائے جانے اور چندہ کی تحریک کا وقت تھا اور یہ لوگ انجمن کے عہدہ دار تھے اس لئے اس وقت خاص طور پر جلسہ میں موجود تھے اور نہیں کہہ سکتے کہ اس وقت تک ہمیں تمہارے خیالات کا علم نہ تھا ۔ غرض ۱۹۰۶ء سے لے کر ۱۹۱۰ء کے دسمبر تک میری مختلف تحریرات اس پر شاہد ہیں کہ میں ہمیشہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی مانتا رہا ہوں۔ اس کے بعد ۱۹۱۱ء کے مارچ میں میں نے ایک مضمون حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نہ ماننے والوں کے درجہ کے متعلق لکھا۔ جو اپریل ۱۹۱۱ء کے تشحیذ اور ۴؍ مئی ۱۹۱۱ء کے بدر اور ۱۴؍ مئی ۱۹۱۱ء کے الحکم میں شائع ہوا۔ اور اس کے بعد ایک لمبا سلسلہ مضامین اور تقریروں کا شروع ہو گیا جس کا انکار خود مولوی محمد علی صاحب نے بھی نہیں کیا اور نہ کر سکتے ہیں۔

میرے مضامین پر ظہیر الدین کے خیالات کا اثر نہیں

اب ان واقعات کی روشنی میں اس معاملہ کو دیکھ کر کوئی شخص کیا یہ خیال کر سکتا ہے کہ ظہیر الدین اروپی کی تعلیم سے متاثر ہو کر اور اس کی کتاب نبی اللہ کا ظہور پڑھ کر میں نے اپنا خیال دربارہ نبوت مسیح موعود قائم کیا تھا۔ ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کا ظہور جیسا کہ خود مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں کہ ظہیر الدین کا اس مضمون کے متعلق سب سے پہلا رسالہ ہے اور جیسا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں ۔ اپریل ۱۹۱۱ء میں اس کی تصنیف کا کام ختم ہوا ہے اور اس کتاب کے آخری صفحہ پر ہم یہ لکھا پاتے ہیں کہ ۲۶؍ اپریل ۱۹۱۱ء کو اس کی تصنیف ختم ہوئی ہے اور پھر اسی صفحہ پر اس کتاب کے شائع کرنے والے چوہدری برکت علی صاحب کی تحریر درج ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ۵؍ جولائی ۱۹۱۱ء کے بعد یہ کتاب پریس میں گئی ہے۔ اس کے مقابلہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ میرا مضمون مسئلہ کفر و اسلام غیر احمدیاں کے متعلق جو درحقیقت سلسلہ اولیٰ کا آخری مضمون ہے (جیسا کہ پہلے ثابت کیا جا چکا ہے) نہ کہ پہلا ۔ اپریل ۱۹۱۱ء میں تشحیذ الاذہان میں شائع بھی ہو چکا تھا اور جیسا کہ ۶؍ اپریل ۱۹۱۱ء کے پرچہ بدر کے مندرجہ ذیل اقتباس سے ثابت ہے۔ مارچ ۱۹۱۱ء میں ہی

لکھا جا چکا تھا۔ معزز ایڈیٹر بدر ۶؍اپریل ۱۹۱۱ء کے پرچہ بدر میں مولوی ثناء اللہ کا جواب لکھتے ہوئے غیر احمدیوں کے متعلق اپنے عقیدہ کا ذکر فرماتے ہوئے لکھتے ہیں ”اسی مضمون پر جناب حضرت صاحبزادہ محمود احمد صاحب نے ایک مبسوط مضمون لکھ کر حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں پیش کیا ہوا ہے اس میں اُمید ہے کہ اس مسئلہ کے تمام ضروری پہلوؤں پر مفصل بحث ہو گی“۔ اخبارات کے متعلق یہ عام قاعدہ ہے کہ ان پر دوسرے روز کی تاریخ دی جاتی ہے کیونکہ اسی روز وہ ڈاکخانہ میں ڈالے جاتے ہیں پس یہ اخبار درحقیقت ۵؍اپریل کا ہے۔ اور اس میں ایڈیٹر صاحب بدر تحریر فرماتے ہیں کہ ایک مبسوط مضمون حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں پیش کیا ہوا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نوٹ کے تحریر کرنے سے کچھ عرصہ پہلے یہ مضمون حضرت کی خدمت میں پیش ہو چکا تھا۔ پس یہ مضمون مارچ کا لکھا ہوا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ میرا مضمون جو مارچ ۱۹۱۱ء میں لکھا گیا تھا اور اپریل میں شائع ہوا۔ ظہیر الدین اروپی کے مضمون کا جو اپریل میں لکھا گیا اور جولائی میں شائع ہوا نتیجہ کیونکر ہو سکتا ہے؟ اور کیا وہ شخص جو دونوں مضامین کی تاریخوں سے واقف ہوتے ہوئے دُور دراز کے لوگوں کو دھوکا دینے اور دین سے گمراہ کرنے کے لئے ایک ایسی تحریر کو جو میرے آخری مضمون سے ایک ماہ بعد تحریر میں آئی اور تین ماہ بعد شائع ہوئی میرے مضمون کا باعث اور ماٰخذ قرار دیتا ہے دیانتدار کہلا سکتا ہے؟ کیا یہ شخص اس قابل ہے کہ لوگوں کو ہدایت کی طرف بلائے جو شخص دینی معاملات میں بھی اس قدر دلیری سے کام لیتا ہے کہ ایسا صریح دھوکا دینے سے بھی نہیں ڈرتا جو دن کو رات قرار دینے سے نہیں جھینپتا وہ کب اس بات کا استحقاق رکھتا ہے کہ دوسروں کو صداقت کی دعوت دے اور حق کی طرف بلائے۔

میں حیران ہوں کہ مولوی محمد علی صاحب نے یہ جرأت کیونکر کی کہ ظہیر کے مضامین کو میری تحریرات کا ماٰخذ قرار دیا اور میرے خیالات کو اس کے خیالات کا نتیجہ۔ وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ میرا مضمون کفر و اسلام کے متعلق اپریل میں شائع ہوا تھا اور بدر اخبار کا مندرجہ بالا نوٹ شاہد ہے کہ یہ میرا مضمون مارچ میں لکھا جا چکا تھا اور ظہیر الدین کی اسی کتاب میں اسی صفحہ پر جس کا وہ حوالہ دیتے ہیں اور اس تحریر سے جس کا وہ حوالہ دیتے ہیں صرف چار سطر نیچے لکھا ہوا موجود ہے کہ یہ کتاب جولائی میں شائع ہوئی ہے اور ان ہندسوں کی نسبت جن کا وہ ذکر کرتے ہیں زیادہ موٹے ہندسوں میں اس نوٹ کی تاریخ درج ہے جو اس کتاب کے شائع کرنے والے نے لکھا ہے یعنی ۵؍جولائی ۱۹۱۱ء۔ پس باوجود ایسے صریح بینات کی موجودگی اور پھر ان کے علم کے مولوی صاحب کا ظہیر کی کتاب کو میرے مضمون کا محرک قرار دینا ناواقف لوگوں کو مغالطہ دینے کی نیت سے نہیں تو اور کس غرض سے ہے؟ دلائل کی غلطی غلطی کہلا سکتی ہے۔ مگر واقعات کے ایک لمبے سلسلہ کو بگاڑ کر اور توڑ مروڑ کر پیش کرنا

غلطی نہیں کھا سکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ ظہیر الدین اپنے خطرناک عقائد کی وجہ سے اسلام کی تعلیم سے بہت دور جا پڑا ہے اور مولوی محمد علی صاحب نے خیال کیا ہے کہ اگر میرے خیالات کا نتیجہ قرار دیا جائے تو لوگوں میں عام طور سے ان کے خلاف ایک نفرت پیدا ہو جاوے گی اور مولوی صاحب کے خیالات سے اُنس پیدا ہو جائیگا۔ مگر مولوی صاحب چاند پر خاک نہیں ڈال سکتے اور روشنی کو اندھیرا قرار نہیں دے سکتے۔ پس جیسا کہ مَیں ثابت کر چکا ہوں اور جیسا کہ مولوی محمد علی صاحب خوب جانتے ہیں، گو وہ اس کا اظہار کرنا خلافِ مصلحت خیال کرتے ہیں۔ نبوت مسیح موعود کا عقیدہ مَیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت سے ہی ظاہر کرتا چلا آیا ہوں۔ اور آپؐ کی وفات کے بعد بھی ۱۹۰۸ء، ۱۹۰۹ء، ۱۹۱۰ء، ۱۹۱۱ء میں متواتر اس عقیدہ کا اعلان میری طرف سے مختلف مضامین کے ذریعہ سے ہوتا رہا ہے اور اس سلسلہ کا سب سے آخری مضمون بھی جسے مولوی صاحب بھی اپنی اغراضِ مذمومہ کو پورا کرنے کے لئے اوّل مضمون قرار دیتے ہیں ظہیر الدین کے مضمون کے لکھا جانے سے ایک ماہ پہلے لکھا جا چکا تھا۔ اور اس کے مضمون شائع ہونے سے تین ماہ پہلے شائع ہو چکا تھا۔ پس اس کو میرے خیالات کا بانی کہنا یا ان عقائد کا جو میں پھیلاتا ہوں موجد قرار دینا ایک ایسی خلاف بیانی ہے جس کی نظیر دُنیا میں بہت کم ملے گی۔ ان عقائد کے بانی حضرت مسیح موعود ہی نہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہوں نے آنے والے مسیح کو نبی اللہ کہا ہے نہیں بلکہ خود خدا تعالیٰ ہے جس نے خود مسیح موعود کو نبی کہہ کر پکارا ہے۔

بعض مسیحی مؤرخ تعصب سے اندھے ہو کر دنیا کو دھوکا دینے کیلئے اسلام کو اس وقت کے چند غیر معتبر لوگوں کے خیالات کا نتیجہ قرار دینے میں جس جرأت سے کام لے چکے ہیں۔ اس پر تو حیرت آیا ہی کرتی تھی۔ مگر چہ دلاور است دزدی کہ بکف چراغ دارد کا جو نظارہ مولوی صاحب نے دکھایا ہے وہ ان مسیحیوں کی دیدہ دلیری سے بھی بہت بڑھا ہوا ہے۔ کیونکہ وہ تو زمانہ ماضی کے واقعات کو بگاڑنے کی کوشش کرتے تھے اور مولوی صاحب ان خیالات کے متعلق جن کی تائید ۱۹۰۶ء میں وہ خود کر چکے ہیں اور جن کا اظہار ان کی موجودگی میں بعد میں متواتر ہوتا رہا ہے ۱۹۱۱ء کے شائع ہونے والے ایک رسالہ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

تاریخ اختلاف سلسلہ کا دوسرا امر

کیا حضرت خلیفہ اول نے ظہیر کو اسکے رسالہ کی وجہ سے یا نئے عقائد شائع کرنے کی وجہ سے جماعت سے نکالا

دوسرا امر تاریخ اختلاف سلسلہ میں مولوی صاحب نے یہ لکھا ہے کہ :۔

Much notice of this book (Nabi-ullah ka Zuhur by Zahirud Din) does not seem to have been taken by the Ahmadiyya community. But probably the contents of this book or some other leaf-let on the same subject were brought to the notice of the late Maulvi Nurudin sahib then head of the Ahmadiyya community and after some correspondence between Zahir-ud-Din and Maulvi sahib an announcement was made by the latter in the paper Badrh 11th July 1912 to the effect that as Mr. Zahiruddin was promulgating new doctrines he was not to be considered as having any connection with the Ahmadiyya community.؎ (The Ahmadiyya Movement part iv by M. Ali)

مولوی صاحب کے اس بیان میں مندرجہ ذیل باتیں قابل غور ہیں۔ (۱) حضرت خلیفۃ المسیح کے سامنے ظہیر کی کتاب ”نبی اللہ کا ظہور“ یا اسی کے ہم معنی مضمون کا کوئی رسالہ پیش کیا گیا تھا۔ (۲) اس پر آپ کے اور ظہیر الدین کے درمیان خط و کتابت ہوئی۔ گویا اس رسالہ کو پڑھ کر حضرت خلیفۃ المسیح نے ظہیر الدین کو خط لکھا۔ (۳) خط و کتابت سے جب کوئی فائدہ نہ ہوا۔ تو آپ نے اعلان کیا کہ ظہیر الدین چونکہ نئے عقائد شائع کر رہا ہے اس لئے اس کا میری جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔

ان تینوں امور کے متعلق پیشتر اس کے کہ میں تفصیلی طور پر کچھ لکھوں۔ شروع میں ہی اتنا کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ تینوں باتیں غلط ہیں اور سوچ سمجھ کر لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے بنائی گئی ہیں۔

واقعہ ظہیر الدین کے متعلق مولوی محمد علی صاحب کی پہلی غلطی

اس میں کوئی شک نہیں کہ ظہیر الدین اس وقت بعض ایسے عقائد کا اظہار کرتا رہا ہے جو اسلام اور حضرت مسیح موعودؑ کی تعلیم کے سراسر خلاف ہیں۔ مگر اس کی کتاب نبی اللہ کے ظہور میں ایسی کوئی بات نہیں اور نہ کبھی جماعت احمدیہ نے اس کی اس کتاب کو ناپسندیدگی سے دیکھا۔

کیا رسالہ نبی اللہ کا ظہور کی وجہ سے حضرت خلیفہ اوّل ظہیر پر ناراض ہوئے

مولوی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ (۱) ظہیر الدین کی یہ کتاب یا اس کے ہم معنی کوئی ٹریکٹ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے سامنے پیش کیا گیا تھا جس پر آپ ناراض ہوئے۔ حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ آپ ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کے ظہور پر ناراض نہیں ہوئے۔ جس کا ثبوت مندرجہ ذیل واقعہ سے نکلتا ہے۔ ۱۹۱۱ء اور ۱۹۱۲ء میں مولوی یار محمد صاحب

اور عبد اللہ تیاپوری دو اشخاص کی طرف سے کچھ ٹریکٹ شائع ہوئے تھے۔ چونکہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے خاص حکم پا کر جماعت کے امام ہونے کے مدعی تھے۔ اور ان کے ایسے رسائل واشتہارات سے لوگوں کے ابتلاء میں پڑ جانے کا خطرہ تھا اس لئے حضرت خلیفہ اوّل کو ان کے خلاف اپنی ایک تقریر میں اعلان کرنا پڑا مگر آپ نے اس اعلان کے عام الفاظ رکھے اور صرف عبد اللہ تیاپوری کا ذکر نام لے کر کیا ہے۔ اس اعلان کے الفاظ یہ ہیں:۔

”پھر بعض نوجوان ہیں۔ وہ جھٹ تصنیف کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ان میں وہ فہم و فراست نہیں ہوتی جو ایک کتاب کے لکھنے والے میں ہونی چاہیئے۔ محض خیالات سے کچھ نہیں بنتا۔ جب تک سچے علوم سے واقفیت نہ ہو۔ اور پھر ایسی تصنیفیں ایک تفرقہ کا موجب ہو جاتی ہیں۔ پس اگر تم کو مشکلات پڑتے ہیں تو خدا تعالیٰ سے توفیق مانگو اور دُعاؤں سے کام لو۔ عبد اللہ تیاپوری کا ایک ابتلاء ہے وہ رات کو کچھ لکھتا ہے تو شیخ نور احمد کہہ دیتے ہیں کہ اس کو چھاپ دو۔ میں دوستوں کو چوکَس کرتا ہوں کہ ایسے لوگوں سے پرہیز کرو۔ اس قسم کے لوگوں کی ایک جماعت ہے جو ایسے دعوے کرتے پھرتے ہیں“

اس اعلان کے شائع ہونے پر بعض احباب مولوی محمد علی صاحب نے یعنی خواجہ کمال الدین صاحب و ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب و ڈاکٹر میرزا یعقوب بیگ صاحب وغیرہم نے یہ مشہور کرنا شروع کیا کہ یہ اعلان ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کے ظہور کے متعلق ہے۔ ظہیر الدین نے اپنے ایک خط میں حضرت خلیفۃ المسیح کو لکھا کہ آپ نے میری کتاب کے متعلق ایسا اعلان شائع کیا ہے جس پر آپ نے اسے تحریر فرمایا کہ وہ اعلان آپ کی کتاب کے متعلق نہیں۔ بلکہ مولوی یار محمد صاحب و عبد اللہ تیاپوری کے اشتہارات کے متعلق ہے۔ چنانچہ ظہیر الدین اپنے خط بنام حضرت خلیفۃ المسیح الاول مؤرخہ ۲۲؍جون ۱۹۱۲ء میں ان الفاظ میں آپ کے خط کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ”نوازش نامہ آپ کا ملا۔ جواباً عرض ہے کہ اس اعلان سے اگر آپ کا مطلب صرف عبد اللہ تیاپوری اور یار محمد سے ہی تھا۔ تو کیا ہی اچھا ہوتا۔ اگر آپ اس اعلان میں ہر دو صاحبوں کے ناموں کو لکھوا دیتے تاکہ لوگوں کو غلط فہمی کا موقع نہ ملتا“اس خط کے جواب میں حضرت خلیفہ اوّل اسے تحریر فرماتے ہیں:۔

”تم نے لکھا ہے کہ میری طرف اس میں اشارہ ہے۔ میں نے لکھا ہے کہ اس میں آپ کی نسبت اشارہ نہیں ہے۔ حالانکہ میں اپنی طرز میں مناسب نہیں سمجھتا تھا۔ مگر جن کی طرف اشارہ تھا۔ اس کا نام بھی آپ کی طرف لکھ دیا مگر پھر بھی آپ نے بڑی صفائی سے لکھ دیا

کہ نورالدین کے عقائد سے میں مخالفت رکھتا ہوں۔‘ (الحکم ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۱۲ء)

(مکتوب حضرت خلیفہ اوّل۔ ۱۱؍ جولائی ۱۹۱۲ء)

یہ خط و کتابت الحکم میں جو سلسلہ کا سب سے پہلا اخبار ہے۔ ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۱۲ء کے پرچہ میں حضرت خلیفہ اوّل کی زندگی میں ہی شائع ہو چکی ہے۔ اور اسی کے صفحات ۶ ، ۷ سے یہ حوالہ جات نقل کئے گئے ہیں۔ ان حوالہ جات کے پڑھنے کے بعد ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے اپنے بیان میں کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے ظہیر الدین کی کتاب کو پڑھ کر ناپسند کیا۔ اور اس سے خط و کتابت شروع کی، صداقت سے کام نہیں لیا۔ کیونکہ جیسا کہ اس خط و کتابت سے جو آپ کے اور ظہیر الدین کے درمیان ہوئی ہے ، ثابت ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح اس امر کی تردید کرتے ہیں کہ آپ نے ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کے ظہور کے خلاف اعلان کیا تھا۔ اگر ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کا ظہور پڑھ کر اور اسے ناپسند کر کے اس سے خط و کتابت شروع کی گئی تھی۔ تو پھر ناراضگی ثابت کرنے کے لئے کسی اعلان کی طرف ظہیر الدین کو اشارہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ حضرت خلیفہ اول کا خط ہی اس امر کی کافی شہادت ہو سکتا تھا کہ آپ نے اس کتاب کو ناپسند کیا ہے۔ مگر ظہیر الدین بجائے اس خط کی طرف اشارہ کرنے کے حضرت خلیفہ اول کو لکھتا ہے کہ آپ نے میری کتاب کے خلاف ایک اعلان کیا ہے۔ اور آپ اس کی اس بات کی تردید کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ وہ اعلان تو چند اور لوگوں کے اشتہارات کے متعلق تھا۔ اور اپنی بات کے ثبوت میں خلاف اپنی عادت کے ان دو اشخاص کا نام بھی لکھ دیتے ہیں۔ جن کے خلاف وہ اعلان تھا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول نے ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کا ظہور یا اس کے ہم معنی کوئی ٹریکٹ پڑھ کر ہرگز اسے ناپسند نہیں کیا۔ بلکہ آپ تو اس امر کی کہ آپ نے کسی اعلان میں اسے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے تردید کرتے ہیں۔ بلکہ ظہیر الدین کی شکایت کرتے ہیں کہ باوجود آپ کی اس تحریر کے کیوں اس نے بڑی صفائی سے لکھ دیا کہ ”نورالدین کے عقائد سے میں مخالفت رکھتا ہوں“ اگر فی الواقع ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کا ظہور یا اس کے ہم معنی کوئی رسالہ پڑھ کر حضرت خلیفۃ المسیح نے ظہیر الدین سے خط و کتابت شروع کی تھی۔ تو پھر اس شبہ کی تردید کی کیا ضرورت تھی۔ کہ حضرت خلیفۃ المسیح کے اعلان میں ظہیر کی طرف اشارہ ہے۔ اور کیا وجہ تھی کہ اس اعلان میں ظہیر کو شامل نہ کیا گیا۔ اور پھر کیا سبب تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح تحریر فرماتے ہیں کہ جب میں نے تم کو بتا دیا ہے۔ کہ تم اس اعلان کا مصداق نہیں ہو۔ پھر بھی تم لکھتے ہو کہ تم سے مجھے اختلاف عقائد ہے۔ اگر ظہیر کی کتاب کو پڑھ کر حضرت خلیفۃ المسیح نے ناپسند کیا تھا تو اس اعلان میں خواہ اس کا ذکر ہوتا یا نہ ہوتا بہرحال اس کے عقائد سے آپ کو اختلاف رکھنا ثابت تھا۔ مگر آپ اس امر کی تردید فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں ۔ کہ جب میں نے صاف لکھ دیا تھا کہ اس اعلان میں تمہاری طرف اشارہ نہیں تو پھر تم نے کیوں لکھا کہ مجھے آپ سے اختلاف ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس وقت تک ظہیر الدین اور اپنے عقائد میں اختلاف نہیں سمجھتے تھے ۔ اور ظہیر الدین کی اس تحریر کو کہ مجھے آپ کے عقائد سے اختلاف ہے ۔ بلا سبب اور بے وجہ تصور فرماتے تھے ۔

کیا حضرت خلیفہ اوّل نے نبی اللہ کا ظہور پڑھ کر ظہیر سے خط و کتابت شروع کی

دوسرا امر جو مولوی محمد علی صاحب نے واقعہ ظہیر کے بیان کرنے میں غلط بیان کیا ہے یہ ہے کہ ظہیر کی کتاب پڑھ کر حضرت خلیفۃ المسیح نے اس سے خط و کتابت شروع کی ۔ حالانکہ خط و کتابت حضرت خلیفۃ المسیح نے ظہیر سے شروع نہیں کی ۔ بلکہ ظہیر نے شروع کی ہے اور مولوی محمد علی صاحب نے جو ایسے الفاظ تحریر کئے ہیں جن سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے خط و کتابت شروع کی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ظہیر الدین کی کتاب پڑھ کر آپ نے اسے ناپسند کیا اور اسے اس کے متعلق خط لکھا ۔ حالانکہ جیسا کہ اس وقت کے شائع شدہ واقعات سے ثابت ہے ابتداء خط و کتابت کی ظہیر نے کی ہے۔ اور اس کی وجہ جیسا کہ الحکم مورخہ ۱۴؍اکتوبر ۱۹۱۲ء سے ثابت ہے ۔ یوں ہوئی کہ حضرت خلیفۃ المسیح ایک تقریب پر لاہور تشریف لے گئے تھے ۔ وہاں آپ نے ان اختلافی مسائل پر جو آج غیر مبائعین اور مبائعین میں مابہ النزاع ہیں ایک تقریر فرمائی جس میں ایڈیٹر زمیندار بھی موجود تھا۔ اس نے اپنے اخبار میں اس تقریر کی ایک غلط رپورٹ شائع کردیاور لکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے تمام غیر احمدیوں کو مسلمان قرار دیا ہے ۔ ظہیر الدین نے زمیندار کی اس رپورٹ کو پڑھ کر بلا سوچے سمجھے نہایت بے ادبی اور گستاخی کو کام میں لا کر حضرت خلیفۃ المسیح کو ایک خط لکھ دیا جس میں آپ کے عقائد پر حملہ کیا اور ان کو حضرت مسیح موعود کے عقائد کے خلاف قرار دیا اس پر حضرت خلیفۃ المسیح نے اسے نہایت محبت سے جواب دیا اور سمجھایا۔ لیکن چونکہ اس کی طبیعت میں رُشد و ہدایت نہ تھی ۔ وہ اپنی شوخی میں بڑھتا ہی گیا اور باوجود اس کے کہ حضرت کی تصحیح کردہ تقریر الحکم میں شائع ہو چکی تھی ۔ اور پھر باوجود اس کے کہ بعض امور جو اس

نے لکھے تھے ان کی حضرت خلیفۃ المسیح نے تردید کر دی تھی وہ اپنی ضد سے نہ ہٹا اور آپ کی تکذیب پر آمادہ ہو گیا ۔ جیسا کہ اس کے خط مطبوعہ الحکم ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۱۲ء سے ظاہر ہے۔ جس میں وہ حضرت خلیفۃ المسیح کو لکھتا ہے ”بَنوازش نامہ آپ کا ملا ۔۔۔۔۔ اگر آپ کا مطلب صرف عبداللہ تیما پوری اور یار محمد سے ہی تھا“۔ اس کے ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ باوجود اس کے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول اسے یقین دلاتے ہیں کہ آپ کا اعلان اس کے متعلق نہیں تھا۔ بلکہ مولوی یار محمد صاحب اور عبداللہ تیما پوری کے متعلق تھا ۔ پھر بھی وہ اسے باور نہیں کرتا ۔ اور اگر کے ساتھ اسے مشکوک کرتا ہے ۔ اور آگے جا کر اس بات کو پھر دہراتا ہے کہ مجھے آپ کے عقائد سے اختلاف ہے۔

یہ تمام خط و کتابت اور خط و کتابت کی ابتداء کی وجہ ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۱۲ء کے الحکم میں درج ہے اور مولوی محمد علی صاحب کے اس بیان کی تردید کرتی ہے کہ نبی اللہ کے ظہور کو پڑھ کر حضرت خلیفۃ المسیح نے خط و کتابت شروع کی ۔ بلکہ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے خط و کتابت ظہیر الدین نے شروع کی تھی نہ کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے ۔ اور یہ خط و کتابت اس وجہ سے نہیں شروع ہوئی کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے نبی اللہ کا ظہور کتاب پڑھ کر اسے ناپسند کیا تھا ۔ بلکہ اس وجہ سے کہ ظہیر الدین نے زمیندار میں حضرت خلیفۃ المسیح کی لاہور کی تقریر کا غلط خلاصہ پڑھ کر اسے ناپسند کیا تھا۔ مولوی محمد علی صاحب کی کمال دلیری ہے کہ شائع شدہ واقعات کو بگاڑ کر انہیں شائع شدہ واقعات کے صریح خلاف نئے واقعات اپنی طرف سے بنا کر انہوں نے اپنی کتاب میں درج کر دیئے ہیں۔ چہ دلاور است دز دے کہ بکف چراغ دارد ۔

کیا ظہیر کو حضرت خلیفہ اول نے نئے عقائد شائع کرنے کی وجہ سے جماعت سے خارج کیا؟

تیسرا قابل توجہ امر واقعہ ظہیر کے بیان میں مولوی صاحب نے یہ تحریر فرمایا ہے کہ خط و کتابت کے بعد آخر حضرت خلیفۃ المسیح نے یہ اعلان کیا کہ ”چونکہ محمد ظہیر الدین نئے عقائد کی اشاعت کر رہا ہے اس لئے جماعت احمدیہ سے اس کا کوئی تعلق نہ سمجھا جاوے“۔ جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں مولوی صاحب کا یہ بیان بھی بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے اور چونکہ مولوی صاحب نے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ضروری سمجھا ہے کہ کتاب نبی اللہ کے ظہور کو فتنہ کا اصل باعث قرار دیں اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول کو ان عقائد کے مخالف ثابت کریں اس لئے وہ اصل واقعات میں تحریف کر کے یا نئے واقعات بنا کر اپنے مدعا کو ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ حضرت خلیفۃ المسیح کے اعلان میں ہرگز یہ نہیں لکھا کہ چونکہ ظہیر الدین نئے عقائد کا اعلان کر رہا ہے یا انہیں شائع کر رہا ہے۔ اس لئے اس کا ہماری جماعت سے کوئی تعلق نہ سمجھا جائے۔ بلکہ یہ تحریر فرمایا کہ چونکہ باوجود میرے لکھنے کے کہ فلاں اعلان اس کے متعلق نہیں وہ پھر بھی اس امر پر زور دیئے جاتا ہے کہ اسے میرے عقائد سے اختلاف ہے۔ اس لئے اس کے خط کے مطابق نہ کہ اس کی کتاب کی بناء پر یہ اعلان کرتا ہوں کہ اس کا جماعت احمدیہ سے کوئی تعلق نہیں۔

جیسا کہ مولوی محمد علی صاحب نے تحریر کیا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح کا یہ اعلان ۱۱؍جولائی ۱۹۱۲ء کے بدر میں شائع ہوا ہے۔ اور ہم اس جگہ اس اعلان کو تمام و کمال نقل کر دیتے ہیں تاکہ ہر ایک شخص کو معلوم ہو جائے کہ مولوی محمد علی صاحب نے کس دیانت داری سے کام لیا ہے۔ الفاظ اعلان یہ ہیں:۔

اخبار بدر میں ظہیر الدین اروپی کے متعلق ایک اشتہار

کچھ عرصہ ہوا۔ اخبار بدر میں ایک اعلان نکلا تھا کہ بعض لوگ خود بخود اشتہار چھاپتے ہیں۔ ایسے اشتہارات سلسلہ احمدیہ کی طرف سے نہ سمجھے جائیں۔ کیونکہ حضرت خلیفۃ المسیح کی اجازت اور رضامندی سے وہ نہیں ہوتے۔ اس پر منشی محمد ظہیر الدین صاحب اروپی کے ایک خط کی تحریک پر حضرت خلیفۃ المسیح نے حکم دیا ہے کہ اخبار میں شائع کر دیا جاوے کہ اس اعلان کے ساتھ محمد ظہیر الدین کا کوئی تعلق نہ تھا بلکہ وہ اعلان مولوی یار محمد و عبداللہ تیا پوری کے متعلق تھا۔ مگر افسوس محمد ظہیر الدین نے اس کی عجیب تلافی کی ہے کہ اپنے ایک تازہ خط میں مجھے اطلاع کی ہے کہ میرا آپ کے بعض عقائد کے ساتھ اختلاف ہے۔ لہٰذا میں ان کی تحریر کے مطابق اپنی جماعت کو اطلاع دیتا ہوں۔ محمد ظہیر الدین میرے عقائد سے اختلاف رکھتے ہیں۔ پس ایسی صورت میں وہ مینہہ سے بھاگ کر پرنالہ کے نیچے کھڑے ہو گئے۔ بھلا کسی فروعی اختلاف کا ذکر فرماتے تو مقام سکوت ہوتا۔ اب وہ مجھ سے عقائد کا اختلاف رکھتے ہیں اور اپنے عقائد پر مضبوطی سے قائم ہیں۔ اس لئے میرا ان سے کیا تعلق۔ اور میری جماعت کا ان سے کیا علاقہ۔ محمد ظہیر الدین نے عجیب تلافی کی ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(2:157)۔ (بدر ۱۱ جولائی ۱۹۱۲ء صفحہ ۲)

ظہیر الدین کا جماعت سے خارج کیا جانا محض اسکے ایک خط کی بناء پر تھا نہ کہ اس کی کتاب کی بناء پر

یہ اصل عبارت ہے بدر کے اعلان کی۔ اس میں دیکھو نہ صراحتاً نہ اشارتاً یہ بات درج ہے کہ ظہیر الدین نئے عقائد شائع کرتا ہے۔ بلکہ اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ باوجود میرے انکار کے کہ فلاں اعلان اس کے متعلق ہے۔ بجائے اپنی تحریر پر شرمندہ ہونے اور اپنی بے ادبی کی تلافی کرنے کے وہ لکھتا ہے کہ مجھے آپ کے عقائد سے اختلاف ہے۔ اس لئے اسی خط کے مطابق کہ اس کے اور میرے عقائد میں اختلاف ہے۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ اس صورت میں اس کا مجھ سے کیا تعلق اور میری جماعت کا اس سے کیا علاقہ ہے۔

اب حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے اس اعلان کو مولوی محمد علی صاحب کے مندرجہ ذیل فقرہ سے ملا کر پڑھو۔ ”چونکہ محمد ظہیر الدین نئے عقائد شائع کر رہا ہے۔ اس لئے اس کا کوئی تعلق احمدیہ جماعت سے نہ سمجھا جاوے“۔ مولوی صاحب کے یہ الفاظ کہ ظہیر الدین نئے عقائد شائع کر رہا ہے۔ کیا یہ صاف ثابت نہیں کرتے کہ مولوی صاحب اس امر کے ثابت کرنے کے لئے کہ ظہیر الدین کو جماعت احمدیہ سے خارج کرنے کا باعث اس کی کتاب نبی اللہ کا ظہور یا اس کے ہم معنی اور کوئی ٹریکٹ ہوا تھا اپنی طرف سے شائع کرنے کا لفظ بڑھاتے ہیں۔ حالانکہ حضرت خلیفۃ المسیح کے اعلان میں اس کے کسی ٹریکٹ کی طرف اشارہ نہیں۔ بلکہ اس کے اس خط کی طرف اشارہ ہے جو اس نے پرائیوٹ طور پر آپ کی خدمت میں لکھا اور باوجود حضرت خلیفۃ المسیح کے تحریر فرمانے کے کہ آپ نے اس کے کسی اشتہار کے خلاف اعلان نہیں کیا۔ بلکہ مولوی یار محمد صاحب اور عبداللہ تیما پوری کے اشتہارات کے خلاف اعلان کیا ہے اس میں اس نے تحریر کیا کہ ”بزرگوار! مجھے آپکے بعض اعتقادات سے اختلاف ہے۔ اور جب تک آپ میرے اعتقادات کا غلط ہونا ثابت نہ کر دیں گے۔ تب تک میں اپنے عقائد پر قائم ہوں“۔

(الحکم ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۶)

چنانچہ اس کے اس خط کا جواب پرائیوٹ طور پر حضرت خلیفۃ المسیح نے دیا۔ اس میں بھی یہ لکھا ہے کہ تم نے لکھا ہے کہ میری طرف اس میں اشارہ ہے۔ میں نے لکھا ہے کہ اس میں آپ کی نسبت اشارہ نہیں ہے۔ حالانکہ میں اپنی طرز میں مناسب نہیں سمجھتا تھا ۔ مگر جن کی طرف اشارہ تھا۔ اس کا نام بھی آپ کی طرف لکھ دیا۔ مگر پھر بھی آپ نے بڑی صفائی سے لکھ دیا کہ نور الدین کے عقائد سے میں مخالفت رکھتا ہوں۔ اور ان عقائد پر میں بڑا مضبوط ہوں۔ (الحکم ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۱۲ء ص ۷)

اسی طرح ایک اور خط میں تحریر فرماتے ہیں:۔ ”آپ کا چونکہ میرے اعتقاد سے بھی اختلاف ہے۔ جیسا کہ آپ نے لکھا ہے۔ اس واسطے آپ کو میں احمدی نہیں سمجھتا“اُن حوالجات کو جب عام اعلان سے ملا کر پڑھا جاوے۔ تو صاف ثابت ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے ظہیر الدین کو اس کی کسی کتاب یا رسالہ کی اشاعت یا فی الواقع کسی اختلاف عقیدہ کی بناء پر نہیں۔ بلکہ اس کی اس تحریر کی بناء پر جماعت سے خارج کیا ہے کہ اسے حضرت خلیفۃ المسیح سے اختلاف ہے۔ اور وہ اس اختلاف پر مضبوطی سے قائم ہے۔ بلکہ آپ نے اظہار افسوس بھی کیا ہے کہ جبکہ میں نے صاف طور پر لکھ دیا کہ تم میرے اعلان کے مخاطب نہیں ہو۔ تو کیوں تم پھر بھی یہ لکھے جاتے ہو کہ مجھے تمہارے عقائد سے اختلاف ہے۔ اور جبکہ ایک مرید خود اپنے منہ سے کہے کہ اسے خلیفۂ وقت سے اصولی اختلاف ہے اور سمجھانے پر بھی نہ سمجھے۔ اور مقابلہ پر مُصر رہے۔ تو اس کا علاج سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ اسے جماعت سے خارج کیا جاوے۔

ظہیر نے کیوں حضرت خلیفہ اول سے اختلاف عقائد کا اظہار کیا

اس جگہ یہ سوال ہو سکتا ہے کہ جب عقائد کا کوئی اختلاف نہ تھا۔ اور زمیندار کی غلط رپورٹ کی الحکم اصلاح کر چکا تھا اور اس اعلان کی تردید بھی حضرت خلیفۃ المسیح اول نے کر دی تھی۔ جسے بعض لوگوں نے جھوٹ بول کر ظہیر الدین کی کتاب کے متعلق مشہور کر رکھا تھا۔ تو پھر کیا وجہ تھی کہ ظہیر الدین نے اس امر پر زور دیا کہ اسے حضرت خلیفۃ المسیح کے عقائد سے اختلاف ہے۔ سو یاد رہے کہ گو ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کے ظہور میں ایسی کوئی بات نہیں جو عقائد سلسلہ کے خلاف ہو مگر ۱۹۱۲ء میں جس وقت حضرت خلیفۃ المسیح سے اس کا اختلاف شروع ہوا ہے اس شخص کی حالت بگڑنی شروع ہو گئی تھی اور اسے یہ خیال پیدا ہونا شروع ہو گیا تھا کہ یہ بھی مسیح موعود کی بعض پیشگوئیوں کا مصداق ہے یا کم سے کم اس نے دبی زبان سے لوگوں میں اس امر کا اظہار شروع کر دیا تھا اور یہ چاہتا تھا کہ جماعت میں کسی طرح فتنہ ڈالے اور اس نے تمام خط و کتابت میں یہ رویہ اختیار کر رکھا تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح پر جھوٹ کا الزام لگائے۔ چنانچہ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے۔ اس کے خط سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہ حضرت خلیفۃ المسیح کی اس تحریر کو کہ آپ کا اعلان اس کے متعلق نہیں شک کی نگاہوں سے دیکھتا تھا۔ اور درحقیقت اس کا یہ خیال تھا کہ جو کچھ زمیندار میں شائع ہوا ہے۔ وہی درست ہے۔ الحکم کی رپورٹ محض احمدیوں کو خوش کرنے کے لئے ہے۔ اس لئے اپنی تحریرات میں باوجود حضرت خلیفۃ المسیح کے بار بار کے انکار کے لکھتا جاتا تھا کہ مجھے آپ کے عقائد سے اختلاف ہے۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے اس کو جماعت سے خارج کر دیا۔ اور جماعت میں سے کسی نے اسے منہ نہ لگایا تو پھر اس نے بظاہر رجوع کر لیا اور توبہ کر کے احمدی جماعت میں شامل ہو گیا۔ مگر دراصل کسی اچھے موقع کا منتظر رہا۔ پس اس کا اختلاف عقیدہ کا دعویٰ واقعات پر مبنی نہ تھا بلکہ اپنے اندر یہ مفہوم مخفی رکھتا تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح جو عقائد ظاہر کرتے ہیں وہ صرف دکھاوے کے لئے ہیں ورنہ دراصل آپ کے عقائد اور ہیں۔ اور وہ چاہتا تھا کہ اس طرح جماعت کو آپ کے خلاف بدظن کرے ۔ مگر اس کا منصوبہ کارگر نہ ہوا اور سخت ناکامی کا منہ اسے دیکھنا پڑا۔ اس بات کا ثبوت یہ بھی ہے کہ یہ شخص ان چند لوگوں میں سے ہے جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کی ایک رؤیا کے مطابق حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ آخر عمر میں آکر مرتد ہو گئے تھے ۔

مولوی محمد علی کے بیان متعلق بناء اخراج ظہیر از جماعت کی غلطی پر بیرونی شہادتیں

یہ تو وہ اندرونی شہادت ہے جو مولوی محمد علی صاحب کے اس دعویٰ کو رد کرتی ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے ظہیر الدین کو اس لئے جماعت میں سے نکالا تھا کہ آپ کو اس کی کتاب نبی اللہ کے ظہور سے اختلاف تھا۔ اب میں بعض بیرونی شہادتیں پیش کرتا ہوں :۔ اوّل شہادت اس بیان کے غلط ہونے کی یہ ہے کہ اس کتاب کا ذکر سلسلہ احمدیہ کے لٹریچر میں متعدد جگہ آیا ہے۔ لیکن اس کے خلاف کسی نے کچھ نہیں لکھا۔ اگر لکھا ہے تو تعریف ہی کی ہے۔

اخبار بدر

بدر مورخہ ۱۲؍اکتوبر ۱۹۱۱ء کے پرچہ میں اس کتاب کی رسید دی گئی ہے اور ایڈیٹر اخبار کی طرف سے اس کا اشتہار دیا گیا ہے لیکن اس کے برخلاف ایک لفظ نہیں لکھا گیا ہے۔ اگر یہ کتاب ایسی خطرناک تھی ۔ تو کیا وجہ کہ اس کا اشتہار ہمارے اخبارات میں ایڈیٹر اخبار کی طرف سے دیا جاتا اور جماعت کو اس کے گندے مضمون سے آگاہ نہ کیا جاتا۔ بے شک بعض دفعہ اختلاف کو چنداں وقعت نہیں دی جاتی۔ لیکن بقول مولوی محمد علی صاحب کے اس کتاب میں جو مضامین تھے وہ تو ایسے خطرناک تھے کہ ان کی بناء پر حضرت خلیفۃ المسیح نے ظہیر الدین کو جماعت سے خارج کر دیا تھا۔ پھر ایسے خطرناک مضمون کی کتاب کو بے نوٹس کیونکر چھوڑ دیا گیا۔

ریویو آف ریلیجنز

اسی پر اگر بس ہوتی تو ہم کہہ سکتے تھے کہ ایڈیٹر اخبار بدر نے رسید کتاب کے طور پر اشتہار دے دیا تھا۔ ورنہ اس نے اسے پڑھا نہ تھا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ریویو آف ریلیجنز میں جس کے ایڈیٹر خود مولوی محمد علی صاحب تھے۔ اس کتاب پر تعریفی ریویو کیا گیا ہے۔ ہم اس ریویو کو بتمام و کمال اس جگہ نقل کر دیتے ہیں :۔ ”نبی اللہ کا ظہور حصہ اوّل۔ یہ ۱۲۶؍صفحہ کی چھوٹی تقطیع کی ایک کتاب ہے۔ جو ہمارے دوست منشی محمد ظہیر الدین صاحب نے حال میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تصدیق میں تصنیف کی ہے۔ اس میں لفظ خاتم النبیین پر بڑی بسط اور تفصیل سے بحث کی گئی ہے اور اس کے علاوہ اور بہت سے مفید اور قیمتی مضمون اس میں شامل ہیں۔ اور بہت سے شبہات اور اعتراضات کو نہایت مدلل طور سے دُور کیا گیا ہے۔ بہت سی قرآنی آیات پر لطیف پیرایہ میں بحث کی گئی ہے۔ قرآن شریف نے جو نشانات ایک سچے مرسل کے لئے مقرر فرمائے ہیں ان کو آیات کے حوالہ کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ان کو چسپاں کر کے دکھا دیا ہے۔ بعض نئے قسم کے چکر ڈالوی وساوس کا بھی خوبی سے ازالہ کیا گیا ہے۔ کتاب واقعی قابل دید ہے۔ کاغذ اور چھپائی بھی اچھی ہے۔“

(ریویو آف ریلیجنز۔ ماہ اکتوبر ۱۹۱۱ء جلد ۱۰ صفحہ ۳۹۷ و ۳۹۸)

مولوی محمد علی صاحب کا ایک عذر اور اس کا جواب

مَیں نے سُنا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں ترجمہ قرآن کے کام کے باعث مَیں ریویو کی طرف زیادہ توجہ نہیں کرتا تھا۔ اس لئے اس وقت کے شائع شدہ مضامین مجھ پر حُجّت نہیں ہو سکتے۔ ہم ان کے اس بیان کو بھی تسلیم کر لیتے ہیں مگر ہمارا یہ دعویٰ نہیں۔ کہ مولوی محمد علی صاحب کی قلم سے ہی وہ ریویو نکلا ہے۔ اس لئے حُجّت ہے۔ بلکہ ہمارا دعویٰ یہ ہے۔ کہ جماعت نے ہرگز اس کتاب کو اس نظر سے نہیں دیکھا۔ جیسا کہ اظہار اب مولوی محمد علی صاحب کرتے ہیں کیونکہ صدر انجمن احمدیہ کے آرگن میں اس کتاب کو پڑھنے کے بعد اس کے ایڈیٹوریل سٹاف کی طرف سے خواہ مولوی محمد علی صاحب کی قلم سے یا کسی اور کی قلم سے اس کتاب پر ایک نہایت زوردار ریویو نکلا ہے۔ اگر واقع میں وہ ایسی ہی کتاب ہوتی تو ایسا کیوں کیا جاتا۔ یاد رکھنا چاہئے کہ مضمون اور ریویو میں فرق ہوتا ہے۔ مضمون بعض دفعہ ایڈیٹر اپنی رائے کے مخالف بھی چھاپ دیتا ہے کیونکہ ضروری نہیں کہ ہر ایک رائے اس کے مطابق ہو۔ مگر تعریفی رائے ظاہر کرتی ہے کہ ریویو کا ایڈیٹوریل سٹاف اس کتاب کے مصنف کا ہم خیال تھا۔ اور اگر ریویو لکھنے والے نے غلطی کی تھی تو چاہئے تھا کہ احمدیہ جماعت میں سے کوئی اور شخص اس کے خلاف آواز اُٹھاتا یا کم سے کم جب بقول مولوی صاحب کے حضرت خلیفۃ المسیح اوّل نے ظہیر الدین کی اس کتاب کو پڑھ کر اور اس سے خط و کتابت کر کے اس کے اخراج کا اعلان کیا تھا۔ اسی وقت صدر انجمن احمدیہ جس کے رسالہ میں وہ ریویو شائع ہوا تھا یا مولوی محمد علی صاحب جو گو عملاً رسالہ کے ایڈیٹر نہ ہوں۔ مگر لوگوں کی نظروں میں انہی پر رسالہ کی ایڈیٹری کی ذمہ داری تھی۔ یا خود ریویو نویس کی طرف سے اس زہر کا ازالہ کیا جاتا۔ جو اس ریویو کے ذریعہ سے جماعت میں پھیلایا گیا تھا اور لوگوں کو بتایا جاتا کہ اس کتاب میں ایسے گندے مضامین ہیں کہ جن کے باعث حضرت خلیفۃ المسیح کو ظہیر الدین کو جماعت سے خارج کرنا پڑا ہے۔ جو کچھ تعریف اس کتاب کی ہمارے رسالہ میں شائع ہوئی ہے وہ غلطی سے کی گئی ہے اس سے کوئی شخص دھوکا نہ کھاوے۔

ظہیر کی معافی اور توبہ کے اعلان میں الحکم کا اسکے رسالہ نبی اللہ کا ظہور کی تعریف کرنا اور اسے سلسلہ کی بہت بڑی خدمت بتانا

ریویو آف ریلیجنز میں اس کتاب پر تعریفی ریویو نکلنے کے علاوہ ایک اور زبردست ثبوت مولوی محمد علی صاحب کے دعویٰ کے بطلان میں یہ ہے کہ ظہیر الدین کی جماعت سے اخراج اور پھر اس کی معافی کے تمام واقعات حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی زندگی میں سلسلہ کے سب سے پہلے اخبار الحکم میں تفصیل شائع ہوئے ہیں۔ خود اسی مضمون میں اس کتاب کی تعریف لکھی ہوئی ہے۔ یہ کیونکر ہو سکتا تھا کہ ظہیر الدین کی معافی کا اعلان کرتے وقت الحکم اسی کتاب کی تعریف کرتا جس کی اشاعت کی وجہ سے ظہیر الدین کو خارج از جماعت کیا گیا تھا اور اسے معافی مانگنی پڑی تھی۔ کیا جرم میں خود ایڈیٹر الحکم کو حضرت خلیفۃ المسیح جماعت سے نہ نکال دیتے کیا یہ ممکن تھا کہ ادھر تو ایڈیٹر الحکم یہ لکھتا کہ ظہیر الدین سے قصور ہو گیا تھا۔ اب وہ معافی مانگتا اور پریشان ہوتا ہے اور ساتھ ہی وہی قصور خود کرتا اور اس زہریلی کتاب کی تعریف کرتا۔ ہر ایک شخص الحکم کے الفاظ کو پڑھ کر معلوم کر سکتا ہے کہ ظہیر الدین کا اخراج از جماعت اس کتاب یا اس کے ہم معنے کسی ٹریکٹ کی بناء پر نہ تھا۔ (یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اس وقت تک ظہیر الدین نے اس کتاب کے ہم معنی یا اس کے مضمون کے متعلق کوئی ٹریکٹ شائع ہی نہ کیا تھا) الحکم ظہیر الدین کے اخراج از جماعت اور پھر معافی مانگنے کے متعلق نوٹ لکھتے ہوئے تحریر کرتا ہے:۔

”مولوی ظہیر الدین صاحب نے نبی اللہ کا ظہور اور دید کا فتور اور رد چکڑالوی لکھ کر جو خدمت سلسلہ کی کی ہے۔ وہ اس قابل نہیں کہ ہم اس کو بھول جاویں“۔ یہ الفاظ صاف طور پر ظاہر کر رہے ہیں کہ کتاب نبی اللہ کا ظہور ظہیر الدین کے اخراج کا محرک نہ تھی۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اس کے اخراج کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے سلسلہ کا یہ سب سے پہلا اخبار کبھی اس کتاب کو ایسے تعریفی الفاظ سے یاد نہ کرتا۔

ایک اور شہادت جو مولوی محمد علی صاحب کے اپنے بیان پر مبنی ہے

ایک اور شہادت بھی مولوی محمد علی صاحب کے دعویٰ کے جھوٹے ہونے کے متعلق ہے اور وہ یہ کہ اگر مولوی محمد علی صاحب کے نزدیک اس کتاب کے مضامین کی بناء پر حضرت خلیفہ اول نے ظہیرالدین کو جماعت سے خارج کیا تھا۔ تو پھر مجھے جس نے کہ بقول مولوی صاحب ظہیر کی ایک بعد میں شائع ہونے والی کتاب سے متاثر ہو کر پہلے ہی کفر و اسلام کے مسئلہ پر بحث شروع کردی تھی۔ اور میرا مضمون تمام و کمال حضرت خلیفۃ المسیح نے خود پڑھا تھا کیوں جماعت سے خارج نہ کیا۔

مولوی محمد علی صاحب کے مندرجہ بالا حوالجات ان کے تکذیب دعویٰ کے لئے کافی ہیں

میں اُمید کرتا ہوں کہ ان اندرونی اور بیرونی شہادتوں کے معلوم ہونے پر ہر ایک صاحب انصاف اس امر کے تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا کہ مولوی محمد علی صاحب نے دیدہ و دانستہ سلسلہ کی غلط تاریخ بنائی ہے تاکہ دور کے لوگوں کو دھوکا دیں اور جو شخص بھی ان واقعات کو اور اخبارات کے حوالجات کو پڑھے گا۔ وہ نہایت حیرت سے مولوی صاحب کے ان فقروں کو پڑھے گا کہ :۔ 1- Much notice of this book does not seem to have been taken by the Ahmadiyya community. 2- But probably the contents of this book or some other leaflet on the same subject were brought to the notice of the late Maulvi Nuruddin Sahib, then head of the Ahmadiyya community and after some correspondence between Zahiruddin and Maulvi Sahib, an announcement was made by the latter in the paper Badr, dated 11th July 1912. (یہ مضمون ہم تمام و کمال پہلے درج کر آئے ہیں اور وہ خود ہی مولوی صاحب کے دعویٰ کو جھوٹا ثابت کرتا ہے) to effect that as Mr. Zahiruddin was PROMULGATING NEW DOCTRINES he was not to be considered as having any connection with the Ahmadiyya community. SPLIT P. 13, 14

تاریخ اختلاف سلسلہ کا امر سوم

کیا ظہیر کو پھر دوبارہ انہی عقائد کی وجہ سے یا دعویٰ خلافت کی وجہ سے جماعت سے خارج کیا گیا

تیسرا قابلِ توجہ امر اختلاف کے متعلق مولوی محمد علی صاحب کی تحریر میں یہ ہے کہ ظہیرالدین نے اپریل ۱۹۱۴ء کو پھر ایک ٹریکٹ شائع کیا۔ جس میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ اس نے جو نیا کلمہ بنایا ہے تو کوئی غلطی نہیں کی اور یہ کہ اس پر اسے جماعت سے الگ کیا گیا۔ گو ظاہر یہ کیا گیا تھا کہ اس نے خلافت کا دعویٰ کیا ہے مگر اصل باعث وہی اس کے عقائد تھے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ظہیر نے اپریل ۱۹۱۴ء میں پھر ایک ٹریکٹ شائع کیا۔ مگر جہاں تک مجھے معلوم ہے۔ اس کے جماعت سے نکالے جانے کے متعلق کوئی اعلان نہیں ہوا کیونکہ جو کچھ اس نے اس ٹریکٹ میں لکھا تھا۔ وہ اسلام سے اس قدر دور تھا کہ احمدی جماعت کے امام یا دیگر اہلِ علم لوگوں نے اس کی ضرورت ہی نہیں سمجھی کہ اس کو جماعت سے نکالیں۔ جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا کلمہ بنا دے۔ وہ اپنے اسی فعل سے جماعت سے نکل جاتا ہے۔ اس کے جماعت سے نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور اسی سبب سے میرے نزدیک کوئی اعلان اس کے خلاف نہیں کیا گیا۔ پس یہ غلط ہے کہ جماعت احمدیہ یا اس کے امام کی طرف سے یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ظہیر خلافت کا دعویٰ کرتا ہے۔ ظہیر مولوی محمد علی صاحب کی طرح خلافت کا قائل ہی نہیں اس لئے وہ خلافت کا دعویٰ ہی نہیں کر سکتا وہ تو مصلح موعود ہونے کا مدعی ہے۔ اور اس کا دعویٰ ہے کہ جماعت کا امام وہی ہو سکتا ہے۔ جسے الہام سے یا رؤیا سے یا کسی پیشگوئی کے ماتحت مقرر کیا جاوے۔ پس نہ جماعت احمدیہ نے اس پر خلافت کے مدعی ہونے کا الزام لگایا نہ اس وجہ سے اس کو جماعت سے خارج کرنے کا اظہار کیا۔ اگر عملاً اس سے قطع تعلق کیا گیا تو صرف اس کے نئے عقائد کی وجہ سے۔ جیسے جدید کلمہ کا بنانا، نماز قادیان کی طرف منہ کر کے پڑھ لینا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو شریعت والا نبی قرار دینا، حضرت خلیفۃ المسیح کی خلافت کا انکار اور آپ پر قسم قسم کے اتہامات لگانا وغیرہ۔ اس کی ان تحریرات پر جہاں تک مجھے معلوم ہے اگر تحریر میں کسی نے نوٹس لیا ہے تو میر قاسم علی صاحب نے جنہوں نے اپنے اخبار الحق میں جو اس وقت دہلی میں شائع ہوتا تھا اس کے متعلق ان الفاظ میں اظہار کیا ہے۔ ”مجھے ظہیر بلوں کو پڑھ کر افسوس بھی ہوتا ہے اور حیرت بھی۔ افسوس اس لئے کہ مولوی صاحب موصوف ترکستان کو جا رہے ہیں۔ اور اس کو کعبہ کا راہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ اور حیرت اس لئے کہ ان میں کوئی علمی بات یا مفید معلومات تائید سلسلہ یا اسلام کی تائید نہیں ہوتی یا ہوتی ہے تو کم سے کم میرے فہم و علم سے بالا تر ہوتی ہے۔ جس سے میں مستفید نہیں ہو سکتا“ اسی طرح لکھا ہے ”تمام اہلِ قلم احباب سلسلہ کی خدمت میں دست بستہ عرض کروں کہ ظہیر بلوں کی طرف اسی قدر توجہ فرماویں جس قدر کہ عبداللہ اور یار محمد کی طرف فرماتے رہے ہیں“ (الحق مورخہ ۳۰؍مئی و ۷؍جون ۱۹۱۳ء جلدنم نمبر ۲۲، ۲۳ ص ۱۴)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ علاوہ ظہیر کے عقائد کو قابل نفرت اور کعبہ سے ترکستان کی طرف لے جانے والے سمجھنے کے جماعت نے اگر ان کے متعلق کوئی کارروائی کی تو یہی کہ ان کو حقیر خیال کر کے ان کی طرف توجہ ہی نہ کی جاوے۔ اور یہی طریقِ عمل اس وقت تک اختیار کیا جا رہا ہے۔

تاریخ اختلاف سلسلہ کا امر چہارم

مولوی محمد احسن کے مضامین زمانہ قبل از اختلاف میں جزوی نبوت کا لفظ

تاریخ اختلاف کے متعلق چوتھی قابل توجہ بات یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مولوی سید محمد احسن صاحب نے مباحثہ رام پور کی رپورٹ میں یہ ہیڈنگ دے کر ”بحث متعلق نبوت جزویہ تابع نبوت کاملہ“ یہ فقرہ لکھا ہے کہ ”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے ایک شخص کو جزوی نبوت اسلام کی تائید کے لئے مل سکتی ہے“ اسی طرح اس عالم بوڑھے نے تشحیذ الاذہان میں جس کے ایڈیٹر ایم محمود تھے۔ ایک مضمون جس کا عنوان ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروان میں نبوت تھا“ لکھا۔ جس میں اس نے لکھا تھا کہ اس اُمت میں صرف نبوت جزویہ مل سکتی ہے۔ مولوی صاحب کی اس تحریر سے یہ مراد ہے کہ حضرت مسیح موعود کے بڑے بڑے اصحاب کا یہی مذہب تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے صرف جزوی نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ دوسرے یہ کہ خود میری ایڈیٹری میں جو رسالہ نکلتا تھا۔ اس میں مولوی سید محمد احسن صاحب کا مضمون نبوت جزویہ کے متعلق شائع ہوا ہے جس سے معلوم ہوا کہ یا تو میں بھی اس وقت یہی عقیدہ رکھتا تھا یا حضرت خلیفہ اوّل کے خوف سے اس کا اظہار نہیں کر سکتا تھا مگر افسوس ہے کہ مولوی صاحب جو کچھ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ان امور سے ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ اوّل تو مولوی سید محمد احسن صاحب کا کوئی قول ہم پر حُجت نہیں۔ آپ کے قول کو وہی درجہ دیا جا سکتا ہے۔ جو علماء کے اقوال کو دیا جاتا ہے اور تشحیذ الاذہان میں آپ کے مضمون کا شائع ہونا بھی آپ کے مضمون کو کوئی خاص نوعیت نہیں دے دیتا۔ کیونکہ یہ مضمون اکتوبر ۱۹۱۳ء میں شائع ہوا ہے اور میں تشحیذ الاذہان کے کام سے دو سال قبل سے فارغ ہو چکا تھا۔ اس وقت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل اصل میں رسالہ کے ایڈیٹر تھے۔ اور میرا نام رسالہ پر لکھنے کے لئے انجمن تشحیذ الاذہان اس لئے مُصرّ تھی کہ اس سے لوگوں میں رسالہ کی طرف کشش رہے گی۔ کیونکہ اس کے اجراء کے وقت سے میں ہی اس کا ایڈیٹر رہا تھا۔ پس اس وقت رسالہ میں کسی مضمون کا چھپنا مجھ پر حُجّت نہیں۔ کیونکہ میں اس وقت نہ رسالہ سے بحیثیت ایڈیٹر کوئی تعلق رکھتا تھا نہ اس کے مضامین یا اس کے پروف مجھے دکھائے جاتے تھے۔ اور اگر مولوی صاحب رسالہ پر صرف میرا نام ہونے پر مجھے اس کا ذمہ دار قرار دیں گے۔ تو ان کو بھی ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کے ظہور پر جو ریویو رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں شائع ہوا ہے اس کا ذمہ دار ہونا پڑے گا۔

مولوی سید محمد احسن صاحب کا نبوتِ مسیح موعودؑ کو جزوی قرار دینا مولوی محمد علی صاحب کے مفید مطلب نہیں

مولوی سید محمد احسن صاحب کے مضامین کے متعلق میں اس قدر اور بھی بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ان کو اگر دیکھا جاوے۔ تو وہ بھی مولوی محمد علی صاحب کے مدعا کو پورا نہیں کرتے۔ کیونکہ اگر لفظ جزوی نبوت کو جانے دیا جاوے۔ تو ان کے مضامین سے حضرت مسیح موعودؑ کی وہی نبوت ثابت ہوتی ہے جو ہمارے عقیدہ میں حضرت مسیح موعودؑ کو حاصل تھی۔ اور اصل غرض نفس مطلب سے ہی ہوتی ہے۔ الفاظ کچھ تغیر پیدا نہیں کر سکتے۔ مولوی محمد احسن صاحب اپنے مضمون مندرجہ تشحیذ الاذہان میں بے شک تحریر کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت جزوی نبوت ہی تھی۔ مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی تحریر کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰؑ کے بعد جس قدر انبیاء بنی اسرائیل میں آئے ہیں۔ ان کی نبوت بھی جزوی نبوت ہی تھی۔ چنانچہ ان کے الفاظ یہ ہیں :۔

”پس مبشرات کی پیشگوئیاں واسطے تائید اسلام کے نبوت کے ہی ذریعہ سے دی جاویں گی اور یہی نبوت غیر تشریعی ہے یا نبوت جزوی۔۔۔۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد جتنے انبیاء گزرے۔ وہ تمام اس نبوتِ مبشرات کے ساتھ ممتاز کئے گئے کیونکہ نبوت احکام کی بنی اسرائیلی میں تورات پر ختم ہو گئی تھی۔“ (تشحیذ الاذہان اکتوبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۵)

ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ مولوی سیّد محمد احسن صاحب کے نزدیک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کہ لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ (صحیح بخاری کتاب التعبیر باب المبشرات) میں جن مبشرات کا وعدہ اس اُمّت کے لئے دیا گیا ہے۔ اسی کا نام نبوت غیر تشریعی یا جزوی نبوت ہے اور یہ کہ اسی قسم کی نبوت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے نبیوں کو دی گئی تھی۔ اور یہی ہمارا عقیدہ ہے اس سے ایک شوشہ زیادہ کرنا ہم کفر سمجھتے ہیں۔ بلکہ ہم تو یہ شرط بھی لگانا ضروری سمجھتے ہیں کہ حضرت

موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں جو نبی گزرے ہیں۔ ان کی نبوت گو غیر تشریعی ہی تھی۔ مگر یہ نبوت کا انعام ان کو بغیر توسط حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ملا تھا۔ لیکن ہمارے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت علاوہ اس کے کہ غیر تشریعی تھی اس کا فیضان بتوسط آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوا تھا نہ کہ براہِ راست۔ پس مولوی محمد احسن صاحب کے مذہب سے جو حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کے بارہ میں انہوں نے تشحیذ الاذہان میں شائع کیا تھا، ہمیں ہرگز اختلاف نہیں۔ ان کے اس مضمون سے اگر کوئی اختلاف ہمیں ہے۔ تو صرف یہ کہ وہ اس کا نام نبوت جزویہ رکھتے ہیں ہم اس نبوت کو نبوت جزوی نہیں کہتے۔ پس مولوی محمد علی صاحب کا سیّد صاحب کے اس مضمون کو اپنے لئے بطور دلیل گرداننا ان کی کمال سادگی پر دلالت کرتا ہے۔ وہ شاید جزوی نبوت کے لفظ پر خوش ہو گئے ہیں۔ حالانکہ سیّد صاحب کے مضمون سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کے بعد تمام انبیاء بنی اسرائیل کو جزوی نبوت ملی تھی۔ اور اگر حضرت داؤد، حضرت سلیمان، حضرت عیسیٰ علیہم السلام کی نبوت نبوت جزویہ تھی۔ تو ان معنوں میں حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کو نبوت جزویہ قرار دینے میں ہمیں کچھ اعتراض نہیں۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ مولوی محمد علی صاحب کبھی اس امر کے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ وہ اسی وقت تک دوسروں کے اقوال کو حُجّت ماننے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ جب تک وہ ان کے خیالات کے مطابق ہو جائیں۔

ہم اس جگہ مولوی محمد احسن صاحب کی دوسری تحریروں سے بھی بعض حوالے دے دیتے ہیں۔ تاکہ ہمارے دعویٰ کی مزید تصدیق ہو جاوے۔ مولوی محمد احسن صاحب خود مولوی محمد علی صاحب کا ذکر کرتے ہوئے یوں تحریر کرتے ہیں کہ:۔ ”مولوی محمد علی نہ جزوی نبوت کے معنے سمجھتا ہے نہ مجازی کے نہ ظلی کے۔ کیونکہ وہ تو یہ کہتا ہے کہ جیسے زید کو بوجہ بہادری کے شیر کہہ دیتے ہیں۔ اسی طرح حضرت جری اللہ فی حُلل الانبیاء کو نبی کہا گیا ہے۔ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ وہ اتنا بھی نہ سمجھا کہ یہاں پر اسناد مجازی اگر کہیں حضرت جری اللہ کے کسی کلام میں وارد ہوئی تو مسند الیہ اس کا کون اور کس نہج سے ہے۔ میرے پیارے دوست مجاز تو بالکل جھوٹ ہوا کرتا ہے۔ اگر نعوذ باللہ اس معنے (میں) حضرت نبی مجازی ہیں ۔ تو جھوٹے نبی ہیں ۔ ثم نعوذ باللہ۔ اصل یہ ہے کہ حضرت سیّد المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نبی متقدم ہیں اور

حضرت مسیح موعودؑ جری اللہ فی حلل الانبیاء متاخر نبی ہیں۔ متاخر پر جو متقدم کا اطلاق کیا جائے جیسا کہ اکثر الہامات میں وارد ہے۔ جیسا کہ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَدِیۡنِ الۡحَقِّ(الصف: ۱۰) تو مجاز ہو گا۔ یہ ہیں معنے مجاز کے علیٰ ھٰذا القیاس نبوت جزوی اور ظلی کو بھی وہ نہیں سمجھا۔ خاکسار نے تو ”تتمہ ضروریہ“ میں لکھ دیا ہے کہ ”اس صورت میں اگر اصل و ظل میں تساوی بھی ہو تو کچھ حرج نہیں۔ کیونکہ افضلیت بسبب اصلیت پھر بھی ادھر ہی رہے گی“۔ پس یہ ہیں ظلیت کے معنے۔ اور نہ وہ جزوی کے معنے سمجھا ہے۔ کیونکہ بحکم حدیث متفق علیہ لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ اِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ(صحیح بخاری کتاب التعبیر باب المبشرات) چونکہ حضرت جری اللہ شریعت جدیدہ سوائے شریعت دین اسلام کے اور سوائے قرآن شریف کے کوئی شریعت اور کوئی کتاب اللہ ناسخ شریعت و قرآن نہیں لائے۔ اس لئے آپ جزوی نبی ہوئے۔“

اسی طرح ذیل میں مولوی صاحب موصوف کے رسالہ سنّتِ ضروریہ سے چند فقرات نقل کئے جاتے ہیں۔ جن میں انہوں نے عَلٰی رَغْمِ اَنْفِ مُنْكِرِی النُّبُوَّةِ الْاَحْمَدِيَّةِ۔ آیت خاتم النبین سے نبوۃ فی خیر الامة کو ثابت کرتے ہوئے بڑے زور سے محمد علی صاحب والے خیالات کی تردید کی ہے۔ آپ رسالہ مذکورہ میں لکھتے ہیں۔ ”لفظ رسول اور نبی کے معنوں میں علماء کرام کا بہت اختلاف ہے۔ مگر ان اقوال مختلفہ میں سے اگر ہم اس قول کو اختیار کریں۔ جو تفسیر کبیر میں بھی لکھا ہوا ہے۔ تو کون سا محذور لازم آتا ہے۔ اور وہ قول یہ ہے کہ :۔ اِنَّ الرَّسُوْلَ مِنَ الْاَنْبِيَاءِ مَنْ جَمَعَ إِلَى الْمُعْجِزَةِ الْكِتَابَ الْمُنْزَلَ عَلَيْهِ وَ النَّبِيَّ غَيْرُ الرَّسُوْلِ مَنْ لَّمْ يُنْزَلْ عَلَيْهِ كِتَابٌ وَ اِنَّمَا اُمِرَ اَنْ يَّدْعُوَ إِلٰى كِتَابِ مَنْ قَبْلَهٖ (تفسیر کبیر امام رازی جلد ۲۳ ص ۵ زیر آیت وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ الخ طبع بار دوم)۔ پس اگر ثابت ہو جائے کہ ان معنوں کے اعتبار سے حضرت مسیح موعودؑ نبی ہوں۔ اور رسول نہ ہوں اور جس جگہ پر لفظ رسول بھی مستعمل ہوا ہے۔ اس سے مراد بھی یہی معنے ہیں تو ہم پر کیا اعتراض وارد ہو سکتا ہے۔ (صفحہ ۶۷) اور نیز لکھتے ہیں۔ (تفسیر کبیر امام رازی جلد ۲۳ ص ۲۵ زیر آیت وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ الخ طبع بار دوم) اس آیت ( وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ(الاحزاب: ۴۱)) کے وہ معنی ہونے چاہئیں جس میں مراد الٰہی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ثناء اور مدح پیدا ہووے۔ پس اب وہ معنے اور مراد خاتم النبیین کے بیان کرنے باقی رہے کہ وہ کیا ہیں؟ وہ یہ ہیں کہ آپؐ کی بعثت کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آ سکتا کہ کوئی نیا حکم شریعت کا ایسا لاوے جو کتاب اللہ اور سنت صحیحہ میں موجود نہ ہو یا نعوذ باللہ کسی حکم منصوص اسلامی کو منسوخ کر دیوے (صفحہ ۵۹)

”آپ خاتم النبیین ہیں یعنی تمام کمالات جملہ انبیاء سابقین کے بھی آپ کو حاصل ہیں“ (صفحہ ۶۱) ”مراد خاتم النبیّین سے یہی ہے کہ آپ انتہاء درجہ پر کمالات نبوت کے پہنچے ہوئے ہیں۔ نہ یہ کہ آپ کا فیضان نبوت کسی فرد کو افراد امت میں سے ہرگز نہیں پہنچ سکتا۔“ (صفحہ ۶۴) اور نیز لکھتے ہیں۔ ”اگر صرف انبیاءِ ماسبق کے ہی آپ نبی الانبیاء ہیں۔ تو اوّل تو اسکا ثبوت کیا ہے صرف دعویٰ ہی دعویٰ ہوا جاتا ہے جس کی کوئی دلیل بین موجود نہیں۔ کیونکہ آپ کے اتباع سے تو کوئی اُس درجہ کو پہنچا ہی نہیں۔ پھر دعویٰ نبی الانبیاء کا کیا ثبوت ہے۔ دوسرے البتہ بموجب زعم مخالفین کے صرف ایک درجہ کمال کا تو آپ کو حاصل ہو گا۔ مگر درجہ تکمیل کا نعوذ باللہ آپ کو حاصل نہ ہوا حالانکہ جن انبیاء کے آپ سردار ہیں ان کو بھی یہ درجہ تکمیل کا حاصل تھا۔ حضرت موسیٰ کی اُمت میں بھی صدہا نبی ان کی اتباع کے طفیل سے ہوگئے ہیں۔ حالانکہ حضرت موسیٰ کا صرف اسقدر مرتبہ تھا کہ لَوْ كَانَ مُوْسٰی حَيًّا لَمَا وَسِعَهُ اِلَّا اِتِّبَاعِيْ(صفحہ ۷۱) (الیواقیت والجواہر امام شعرانی) اور پھر لکھتے ہیں کہ ”خاتم النبیین کے ان معنوں سے کس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت وشان ثابت ہوتی ہے کہ جملہ انبیاءِ ماضین و آخرین آپ کے طفیلی رہے“ (صفحہ ۶۶) اور نیز لکھتے ہیں ”ہمارے دو دعوے ہیں۔ اوّل تو یہ کہ بعد بعثت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی نبی شارع ہو کر قیامت تک نہیں آوے گا۔ دوسرا دعویٰ یہ کہ بذریعہ اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے تائید دینِ اسلام کی عندالضرورت نبی جزوی تابع نبوت کلیہ کے طفیلی ہو کر آسکتا ہے۔“ (صفحہ ۶۳)

تاریخ اختلاف سلسلہ کا پانچواں امر

پانچواں قابلِ توجہ امر جو مولوی محمد علی صاحب نے تاریخ اختلافات سلسلہ میں لکھا ہے یہ ہے کہ جب ظہیرالدین اپنے عقائد پھیلا رہا تھا اس وقت میں نے حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت نہ کرنے والوں کے کفر کے مسئلہ کو چھیڑ دیا اور گو ظاہر یہ کیا گیا ہے کہ یہ مضمون حضرت خلیفہ اوّل کو دکھایا گیا ہے مگر حضرت خلیفہ اوّل نے اس مضمون کو جن معنوں میں لیا ہے ۔اس کا پتہ اس طرح لگ جاتا ہے کہ خواجہ کمال الدین صاحب کے ایک خط پر حضرت مولوی صاحب نے دستخط کئے ہیں جس میں یہ لکھا ہے ۔ کہ ایم محمود کا مضمون صرف اسی صورت میں قابلِ قبول ہے جبکہ اس کے یہ معنے لئے جاویں کہ :-

"Those who did not accept the promised Messiah were only devier of or unbelievers in the promised Messiah and not actually outside the pale of Islam."۵

پیشتر اس کے کہ میں مولوی محمد علی صاحب کے اس بیان پر واقعات کے رو سے تنقید کروں پہلے ان کے بیان ہی کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ مولوی محمد علی صاحب نے خواجہ کمال الدین صاحب کے مضمون کا جو خلاصہ دیا ہے وہ ایسا بے معنے ہے کہ ہر ایک عقلمند اسے پڑھ کر حیران ہوتا ہوگا۔ اس فقرہ کے کیا معنے ہو سکتے ہیں کہ جو شخص حضرت مسیح موعودؑ کو نہیں مانتا وہ آپ کو نہیں مانتا؟ کیا کسی عقلمند کے نزدیک ایسا ممکن ہے کہ ایک شخص جو آپ کو نہ مانتا ہو وہ آپ کو مانتا ہو۔ کیا اگر میرے مضمون کا مفہوم یہ قرار دیا جاوے تو وہ مجنونانہ مضمون نہیں۔ اور کیا اس کی تصحیح کر کے حضرت خلیفۃ المسیح کا اس کی اشاعت کی اجازت دینا اس سے بھی زیادہ بیہودہ فعل نہیں۔ کیا یہ لکھنا کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے میرے مضمون کا یہ خلاصہ سمجھ کر اجازت دی تھی خود ہی بلا کسی بیرونی شہادت کے مولوی صاحب کی تردید نہیں کرتا؟

مولوی محمد علی صاحب کی تردید انہیں کے قول سے

اس کے بعد میں مولوی صاحب کی تردید میں خود مولوی صاحب کے ہی بیان کو پیش کرتا ہوں۔ مولوی صاحب اسی کتاب میں تحریر فرماتے ہیں کہ ایم محمود نے ان لوگوں کے کفر کے مسئلہ کو چھیڑ دیا جنہوں نے باقاعدہ طور پر مسیح موعودؑ کی بیعت نہیں کی تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر میرے مضمون میں غیر احمدیوں کے کفر کی بحث نہ تھی بلکہ جیسا کہ مولوی صاحب نے خواجہ صاحب کا قول نقل کیا تھا صرف یہی لکھا تھا کہ جو مرزا صاحب کو نہیں مانتے وہ مرزا صاحب کو نہیں مانتے۔ تو پھر ظہیر الدین کے بعد میں شائع ہونے والے ٹریکٹ کا نتیجہ میرے اس مضمون کو مولوی صاحب نے کیونکر قرار دے دیا۔ اس امر کے ثابت کرنے کے لئے کہ جو مرزا صاحب کو نہیں مانتے وہ مرزا صاحب کو نہیں مانتے۔ آپ کے نبی ہونے یا نہ ہونے کا کیا تعلق ہے یہ بات تو ہر ایک دعویٰ اور ہر ایک حقیقت کے متعلق کہی جاسکتی ہے۔ میں نبی نہیں ہوں۔ مگر یہ فقرہ اگر اس کا کوئی مطلب ہے تو میری نسبت بھی کہا جا سکتا ہے کہ جو مجھے نہیں مانتے وہ مجھے نہیں مانتے۔ نبوت کے مسئلہ کے نتیجہ میں اور اس سے متاثر ہو کر تو صرف کفر کا مسئلہ ہی چھیڑا جا سکتا ہے۔ پس مولوی صاحب کے بیان سے ہی ثابت ہے کہ میرے اس مضمون میں اسی مضمون پر بحث کی گئی تھی کہ حضرت مسیح موعودؑ کے نہ ماننے والے کافر ہیں۔ اور یہ بات ثابت ہے کہ میرے اس مضمون کو حضرت خلیفۃ المسیح نے شروع سے آخر تک پڑھا اور اس کی اشاعت کی اجازت دی۔ چنانچہ مندرجہ ذیل واقعات اس امر کی کافی شہادت ہیں۔

میرے مضمون کفر و اسلام کے لکھے جانے کی وجہ اور اس کے تاخیر اشاعت کا سبب

مارچ ۱۹۱۱ء میں میں نے کفر و اسلام غیر احمدیوں پر بدیں وجہ ایک مضمون لکھا کہ غیر احمدیوں کی تحریک سے متاثر ہو کر بعض احمدیوں نے بھی بعض غیر احمدی اخبارات میں اس قسم کے اشارات شروع کئے کہ غیر احمدیوں اور احمدیوں میں کچھ فرق نہیں اور دونوں مسلمان ہیں۔ اس خیال سے کہ یہ بدعقیدہ جماعت احمدیہ میں پھیل نہ جاوے۔ میں نے ایک مضمون لکھا۔ اور مارچ میں ہی حضرت خلیفۃ المسیح کے پیش کیا کہ آپ اس کو دیکھ لیں۔ چونکہ آپ ان دنوں سخت بیمار تھے ایک مدت تک وہ مضمون آپ کے پاس پڑا رہا۔ بعض اخبارات سلسلہ میں اس کی طرف قبل از وقت اشارہ کر دیا گیا تھا ۔ اس لئے اس کے دیر تک حضرت خلیفۃ المسیح کے پاس پڑے رہنے پر خواجہ کمال الدین صاحب کے ہمخیال لوگوں نے عام طور پر مشہور کر دیا کہ اس مضمون کو حضرت خلیفۃ المسیح نے سخت ناپسند کیا ہے۔ چونکہ بیماری کی حالت میں یاد دہانی کرانا خلاف مصلحت تھا میں خاموش رہا۔ اور تقریباً ایک ماہ کے بعد جب حضرت خلیفۃ المسیح کی صحت کچھ اچھی ہوئی تو آپ نے اس مضمون کو دیکھا۔ اور متعدد جگہ خود اپنے ہاتھ سے اصلاح کی۔ جس وقت آپ اس کی اصلاح سے فارغ ہوئے میں آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ آپ نے وہ مضمون مجھے دیا اور فرمایا کہ میاں مجھے سختی ناپسند ہے۔ آپ نوجوان ہیں میں بوڑھا ہوں (یا اسی مفہوم کے کوئی اور الفاظ تھے) اس وقت مجلس میں مولوی صدر الدین صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے نہ معلوم کس رنگ میں اس امر سے اپنے دوستوں کو لاہور اطلاع دی اور چند ہی دن میں عام طور پر یہ خبر مشہور ہوگئی کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے اس مضمون کو ناپسند کیا ہے۔ حالانکہ اصل بات یہ تھی کہ اس مضمون میں چند اشارات بعض ایسے لوگوں کی طرف بھی تھے جو اس وقت جماعت میں شامل تھے اور حضرت خلیفۃ المسیح نے ان کی طرف اشارہ کو ناپسند کیا تھا تاکہ فتنہ کا موجب نہ ہو۔ اور ان فقرات کو کاٹ دیا تھا۔ اور موجودہ مضمون اب ان کے منشاء کے بالکل مطابق اور آپ کے عقیدہ کے موافق تھا۔ مگر چونکہ عام طور پر لوگوں میں یہ بات مشہور ہوگئی تھی کہ اس مضمون کو حضرت خلیفۃ المسیح نے ناپسند کیا ہے۔ اس لئے میں نے اسے دوبارہ اجازت کے بغیر شائع کرنا پسند نہ کیا۔ بلکہ ارادہ کر لیا کہ اگر حضرت خلیفۃ المسیح کو کچھ بھی ناراضگی ہو تو میں اس مضمون کو شائع نہ کروں۔ چنانچہ اس خیال سے مندرجہ ذیل خط میں نے حضور کی خدمت میں تحریر کیا۔

سیّدنا و امامنا !

السلام علیکم! چونکہ حضور نے مضمون پر تو کوئی ایسا نشان لگایا نہیں جس سے معلوم ہو کہ کونسا لفظ سخت ہے۔ اور میں دوبارہ پڑھوں بھی تو مجھے سمجھ نہیں آئے گا۔ کیونکہ جب لکھتے وقت وہ میری سمجھ میں نہیں آئے ۔ تو اب کیونکر آنے لگے۔ اس لئے میں خیال کرتا ہوں کہ میں خواہ مخواہ کیوں آپ کی ناراضگی کا باعث بنوں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیور ہے۔ تو اپنا کام وہ خود دیکھ سکتا ہے اور جبکہ وہ خود ہر ایک کام کر سکتا ہے۔ تو میرا کسی بات پر زور دینا گویا اس کی مدد کا دعویٰ کرنا ہے۔ اگر کوئی بات اس کے منشاء کے خلاف ہو گی تو وہ خود انتظام کرے گا۔ لیکن میری اطلاع کے بغیر الحکم اور بدر میں کئی دفعہ اس مضمون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس کے شائع نہ ہونے پر ممکن ہے کہ جو لوگ پہلے سے ہی بہت سے خطابات دیتے ہیں وہ خیال کریں کہ یونہی ہمارے کام میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے لئے اور تخویف کے لئے یہ مشہور کیا گیا تھا۔ اگر کچھ حرج نہ ہو۔ تو میں بایں الفاظ اخبار میں اعلان کر دوں کہ :-

’ایڈیٹران الحکم وبدر نے خلاف میرے منشاء اور بغیر میری اطلاع کے میرے ایک مضمون کی طرف اپنے اخباروں میں اشارہ کیا ہے لیکن چونکہ بغیر حضرت خلیفۃ المسیح کی اجازت کے میں وہ نہیں چھاپ سکتا تا کہ فتنہ کا باعث نہ ہو۔ اس لئے حضور کو پہلے دکھایا گیا اور چونکہ وہ حضور کی منشاء کے خلاف تھا اس لئے اس کے چھاپنے سے معذور ہوں اور دیگر احباب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ بھی آئندہ مسئلہ متنازع فیہ پر قلم نہ اٹھائیں اور اسے فیصل شدہ سمجھیں۔‘ اور اگر اس تحریر کا شائع کرنا نا مناسب ہو تو بھی کچھ حرج نہیں اور بیسیوں اعتراضوں میں یہ بھی ایک سہی۔ ایں ہم اندر عاشقی بالائے غمھائے دگر۔

محمود

اس میرے خط کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح نے میرے خط پر ہی یہ الفاظ تحریر فرمائے۔ اصل خط مع حضرت خلیفہ اول کی تحریر کے اس وقت تک میرے پاس موجود ہے ۔

”عزیزم من! میں نے مناسب موقع پر نشان لگا دیا ہے۔ مجھے اصل مضمون سے مخالفت نہیں اور ہرگز نہیں۔ مامور جس قدر سختی حکماً کرے۔ وہ معذور ہے کیونکہ مامور ہے۔ مگر اس کو بھی حکم ہے۔ فَبِمَا رَحۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنۡتَ لَہُمۡ ۚ وَلَوۡ کُنۡتَ فَظًّا غَلِیۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِکَ(اٰل عمرٰن: ۱۶۰) آپ کی جوانی اور بدنی کمزوری تیزی چاہتی ہے۔ اس میں نرمی مجھے پسند ہے۔ مضمون چھاپ دو۔“


مضمون کفر و اسلام پر حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی اصلاح اور چھاپنے کی دوبارہ اجازت

اس جواب سے ظاہر تھا اور یہی واقعہ تھا کہ جو جگہیں حضور کے نزدیک سخت تھیں ان پر آپ نے نشان کر دیا تھا۔ اور یہ بھی کہ بعض کمزور احمدیوں کی نسبت جو الفاظ استعمال کئے گئے تھے۔ صرف وہ آپ کو ناپسند تھے کیونکہ جو آیت آپ نے لکھی ہے۔ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین کی نسبت ہے۔ نہ کہ نہ ماننے والوں کی نسبت اور ایسے فقرات آپ نے کاٹ دیئے تھے۔ اور پھر ساتھ اس کے چھاپنے کی دوبارہ اجازت بھی دی۔ اس پر میں نے مضمون چھاپنے کے لئے دے دیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے یہ بھی فرمایا کہ پروف بھی مجھے دکھا لینا۔ چنانچہ رسالہ تشحیذ کے مینیجر صاحب کو کہہ دیا گیا کہ پروف دکھائے بغیر رسالہ طبع نہ ہو۔ مجھے کچھ کام تھا۔ میں امرتسر کچھ دنوں کے لئے چلا گیا۔ پیچھے یہ مشہور ہو گیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح کو تریاق القلوب کا ایک حوالہ دکھایا گیا تھا۔ جس سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے منکروں کو کافر نہیں کہا۔ اس پر پھر میں نے اس حوالہ کی تشریح جو خود حضرت مسیح موعودؑ نے کی ہے۔ آپ کو دکھائی۔ اور پھر یہ سوال پیش کیا کہ اگر آپ کو ناپسند ہے تو میں اس مضمون کی اشاعت کو روک دوں اس کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح نے مجھے فرمایا کہ میں منافق نہیں ہوں۔ آپ اس مضمون کو شائع کریں۔ یعنی میں نے اجازت منافقت سے نہیں دی۔ میری غرض بار بار پیش کرنے کی یہ تھی کہ کسی کو اعتراض کی گنجائش نہ رہے۔ اس کے بعد مضمون کے پروف بھی آپ کو دکھائے گئے اور چونکہ پروف کے دیکھنے میں حضرت خلیفۃ المسیح کو کچھ دیر لگی۔ ہمارے احباب نے پھر مشہور کر دیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے پتھر پریس سے کٹوا دیئے ہیں اور مضمون کی اشاعت سے روک دیا ہے۔ مگر آخر پروف بھی حضرت خلیفۃ المسیح نے دیکھ لئے اور تب جا کر وہ مضمون شائع کیا گیا۔ ان تمام واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ مضمون سرسری طور پر شائع نہیں ہوا۔ بلکہ دو دفعہ خود حضرت خلیفۃ المسیح نے شروع سے آخر تک پڑھا۔ متعدد جگہ خود اصلاح فرمائی (آپ کا اصلاح کردہ مسودہ میرے پاس اب تک پڑا ہے جو میرے بیان پر شاہد ہے) پھر بار بار آپ کے سامنے اس کی اشاعت کا سوال آیا۔ پس یہ مضمون گو میں نے ہی تحریر کیا ہے مگر اس لحاظ سے کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے اسے بار بار دیکھا ہے اور اس کی اصلاح اپنی قلم سے فرمائی ہے۔ آپ کا مضمون ہی کہا جا سکتا ہے۔

مضمون کفر و اسلام کا خلاصہ

اب میں اپنے اس مضمون کا خلاصہ اس جگہ دیتا ہوں اور بعض خاص خاص فقرات بھی نقل کروں گا۔ جس سے ہر ایک شخص یہ نتیجہ نکال

کے گا کہ آیا میرے مضمون کے اصل مطلب کے خلاف کوئی اور معنی کرنے ممکن بھی ہیں یا نہیں۔ اس مضمون کا ہیڈنگ تھی ”مسلمان وہی ہے جو سب ماموروں کو مانے“۔ اور یہ ہیڈنگ ہی اس بات کی کافی شہادت ہے کہ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ جو مرزا صاحب کو نہیں مانتا وہ مرزا صاحب کو نہیں مانتا۔ بلکہ یہ کہ جو مرزا صاحب کو نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں ہے۔ مضمون کے شروع میں ایک تمہید ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ تمام نبیوں اور ان کے سلسلوں کی آپس میں مشابہت ہوتی ہے۔ اسی طرح نبیوں کے مخالف بھی آپس میں مشابہ ہوتے ہیں۔ مگر ہمارے حضرت مسیح موعودؑ کو چونکہ حضرت مسیح سے مماثلت حاصل تھی۔ اس لئے آپ کا اور آپ کی جماعت کا حال ان سے اور ان کی جماعت سے بہت ہی ملتا ہے۔ مگر چونکہ آپ بروزِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں۔ اس لئے آپ کی جماعت کی نسبت یقین ہے کہ زیادہ خطرناک فتنوں سے محفوظ رہے گی۔ اس کے بعد بتایا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے بعد غیر قوموں نے مسیحیوں سے صلح کر کے ان کے دین کو برباد کر دیا۔ ایسا ہی آج کل بھی ہو رہا ہے۔ غیر احمدی ہم کو اپنے اندر ملانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ مسیح موعودؑ کی جماعت کو وہ مقابلہ سے شکست نہیں دے سکا۔ تو اس نے لامذہب لوگوں کو ہمارے پیچھے لگایا ہے تا صلح کے پردہ میں ہمارے سلسلہ کو نقصان پہنچائے اور یہ سوال اُٹھایا گیا ہے کہ ہمارا آپس کا اختلاف ہی کیا ہے کہ اس قدر جدائی ہو۔ اور ایک دوسرے کو کافر کہنے سے کیا فائدہ جنہوں نے مرزا صاحب کو کافر کہا انہوں نے غلطی کی۔ اب احمدیوں کو بھی چاہئے۔ اپنے غصّہ کو جانے دیں مگر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہم میں سے بعض کو سمجھ دی اور انہوں نے مامورین کی قدر کو سمجھ لیا اور اس بات سے انکار کر دیا کہ اس شخص کے انکار کو معمولی انکار قرار دے دیں جس کے لئے آسمان و زمین نے گواہی دی۔ جو سب نبیوں کا موعود تھا جس کی خاطر اللہ تعالیٰ مسلمان کہلانے والے بڑے بڑے علماء و فضلاء اور گدی نشینوں کو ذلت و ہلاکت کی مار مارتا رہا۔ اور جسے الہام کیا کہ تجھ سے کفر کرنے والوں پر قیامت تک میں تیرے متبعین کو فضیلت دوں گا۔

پھر اصل مضمون کے متعلق لکھا ہے کہ:۔

جبکہ ہم حضرت مسیح موعودؑ کو خدا تعالیٰ کا نبی مانتے ہیں تو آپ کے منکروں کو مسلمان کیونکر کہہ سکتے ہیں۔ بیشک ہم ان کو کافر باللہ یعنی دہریہ نہیں کہتے۔ مگر ان کے کافر بالمأمور ہونے میں کیا شبہ ہے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم مرزا صاحب کو راست باز مانتے ہیں۔ پھر ہمیں کیوں کافر کہا جائے۔ وہ سوچیں کہ کیا راست باز جھوٹ بھی بولتے ہیں۔ اگر مرزا صاحب راست باز تھے تو پھر ان کے دعووں کے قبول کرنے میں کیا عذر ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد حضرت مسیح موعودؑ کے حوالجات سے میں نے ثابت کیا ہے کہ آپ کے نزدیک آپ کے منکر کافر ہیں۔ چنانچہ ان حوالوں میں سے بعض کے یہ فقرات ہیں عبدالحکیم پٹیالوی مرتد کو آپ تحریر فرماتے ہیں: ”بہر حال جبکہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔ اور خدا کے نزدیک قابلِ مؤاخذہ ہے۔ تو یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ اب میں ایک شخص کے کہنے سے جس کا دل ہزاروں تاریکیوں میں مبتلا ہے ۔ خدا کے حکم کو چھوڑ دوں اس سے سہل تر یہ بات ہے کہ ایسے شخص کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا جاوے اس لئے میں آج کی تاریخ سے آپ کو اپنی جماعت سے خارج کرتا ہوں“ اس کے بعد میں نے اپنے الفاظ میں اس عبارت کا یہ خلاصہ نکالا ہے: ”اس الزام میں وہی لوگ نہیں ہیں جنہوں نے تکفیر میں جدوجہد کی ہے۔ بلکہ ہر ایک شخص جس نے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں ہے“ پھر آگے دعوت پہنچنے کی تشریح حضرت مسیح موعودؑ کی ہی عبارات سے کی ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی دعوت کو سب دنیا میں پہنچا دیا ہے۔ اس لئے سب دنیا کو دعوت پہنچ گئی۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر ایک شخص کو فرداً فرداً کہہ دیا جاوے“ اس کے بعد حضرت مسیح موعودؑ کی تحریرات سے یہ ثابت کیا ہے کہ جو لوگ حضرت مسیح موعودؑ کو کافر تو نہیں کہتے مگر آپ پر ایمان بھی نہیں لاتے ۔ وہ بھی انہی لوگوں کے ساتھ شامل ہیں۔ جو آپ کو کافر کہتے ہیں حتی کہ جو شخص صرف مزید تسلی کے لئے کچھ مدت انتظار کرتا ہے اور بیعت نہیں کرتا۔ وہ بھی منکروں کے ساتھ ہی سمجھا جائے گا۔ اور پھر میرے اپنے الفاظ میں ان حوالہ جات کا یہ خلاصہ نکالا گیا ہے کہ ”پس نہ صرف وہ شخص جو آپ کو کافر کہتا ہے یا جو آپ کو کافر تو نہیں کہتا ہے مگر آپ کے دعوٰی کو نہیں مانتا۔ کافر قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ وہ بھی جو آپ کو دل میں سچا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا انکار نہیں کرتا لیکن ابھی بیعت میں اسے کچھ توقف ہے کافر قرار دیا گیا ہے“ اس کے بعد اسی مضمون کے متعلق کچھ تائیدی حوالہ جات نقل کئے ہیں۔ اور اس صلح کی تحریک کی کمزوری دکھاتے ہوئے غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کے متعلق حضرت مسیح موعودؑ کی ممانعت کا فتویٰ درج کیا ہے۔ (تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۱۱۱ حاشیہ) آخر میں قرآن کریم کی ایک آیت سے استدلال کیا ہے کہ جو لوگ مرزا صاحب کو رسول نہیں مانتے۔ خواہ آپ کو راست باز ہی منہ سے کیوں نہ کہتے ہوں وہ پکے کافر ہیں۔ یہ ہے خلاصہ میرے اس مضمون کا جسے حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے دو دفعہ پڑھا اور اپنی قلم سے اس میں بعض جگہ پر اصلاح کی۔ اور لکھا کہ اس کے مضمون سے مجھے ہرگز اختلاف نہیں۔ اب اسے پڑھ کر خصوصاً ان فقرات کی موجودگی میں جو میں اوپر لکھ آیا ہوں۔ کیا کوئی عقلمند انسان یہ گمان بھی کر سکتا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے اس کا یہ مطلب سمجھا تھا کہ

جو مرزا صاحب کو نہیں مانتا وہ مرزا صاحب کو نہیں مانتا۔

خواجہ کمال الدین صاحب کے غیر معقول خلاصہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے دستخط کرنے کی وجہ

اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ خواجہ کمال الدین صاحب نے جو غیر معقول خلاصہ اس کا دیا تھا۔ اس پر حضرت خلیفۃ المسیح نے کیونکر دستخط کر دیئے۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ واقعات مندرجہ بالا کی موجودگی میں خواجہ صاحب کے اشتہار پر حضرت خلیفۃ المسیح کی اجازت سے یہ تو ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ میرے مضمون کو رد کر دیا گیا۔ کیونکہ اس کے متعلق خود آپ کی قلمی اجازت اور اصلاح موجود ہے نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کا مضمون آپ نے غلط سمجھا۔ کیونکہ ایک سکول کا طالب علم بھی اس سے وہ مطلب نہیں لے سکتا جو خواجہ صاحب نے نکالا ہے۔ پس ان دونوں باتوں کے ناممکن ہونے کے بعد کونسی صورت رہ جاتی ہے جسے اختیار کیا جا سکتا ہے۔ یہی کہ یا تو حضرت خلیفۃ المسیح نے خواجہ صاحب کے اشتہار کو پڑھا ہی نہیں۔ اور ان سے زبانی سن کر اس کی اشاعت کی اجازت لکھ دی۔ یا یہ کہ خواجہ صاحب کے اس بے معنی مضمون کا جس میں انہوں نے پیچدار عبارتوں سے میرے مضمون کو اڑانا چاہا تھا انہوں نے کچھ اور مطلب سمجھا۔ خواجہ صاحب کا اشتہار بلکہ اس کا وہ خلاصہ بھی جو مولوی محمد علی صاحب نے دیا ہے۔ بتا رہا ہے کہ خواجہ صاحب نے پیچدار عبارت سے کام لینا چاہا ہے۔ ورنہ وہ صاف طور پر اعلان کرتے کہ غیر احمدی مسلمان ہیں۔ میری زندگی میں میرے مضمون کے معنے کرنے کا ان کو کیا حق تھا۔ اگر اس کے متعلق کوئی غلط فہمی تھی تو وہ مجھ سے دریافت کر سکتے تھے۔ ان کا اس طریق کو اختیار کرنا ہی بتاتا ہے کہ وہ دھوکا دینا چاہتے تھے۔ اور اسی لئے انہوں نے پیچدار عبارت تحریر کی جس کو اگر حضرت خلیفۃ المسیح نے پڑھ کر اجازت اشاعت دی تو ضرور اس کا کچھ اور مطلب سمجھا ہے۔ چنانچہ اس کا ثبوت بھی ملتا ہے اور وہ یہ کہ جب خواجہ صاحب کا اشتہار شائع ہوا ہے۔ تو لوگوں میں شور پڑا کہ حضرت خلیفۃ المسیح کبھی کچھ کہہ دیتے ہیں کبھی کچھ۔ ایک طرف میرے مضمون پر آپ نے دستخط کر دیئے تو دوسری طرف خواجہ صاحب کے مضمون پر۔ اور کسی شخص نے یہ امر خود آپ کے سامنے بھی پیش کیا۔ میں اس وقت پاس بیٹھا تھا۔ آپ نے فرمایا کوئی اختلاف نہیں۔ میں نے خواجہ صاحب کے اشتہار پر اس لئے اجازت تحریر کی تھی کہ خواجہ نے مجھے بتایا تھا کہ مجھے میاں صاحب کے مضمون سے کوئی اختلاف نہیں۔ یہ اشتہار صرف اس لئے لکھا گیا ہے کہ ہزاروں احمدی جو سرحد پر ہیں ان کو مخالف لوگ قتل نہ کر دیں پس ان کے جوشوں کو دبانے کے لئے مطلب کو ایسے الفاظ میں پیش کر دیا ہے جن سے رفع فساد ہو جائے۔ اس وقت مجھے یاد ہے۔ دو تین آدمی اور بھی تھے۔ جہاں تک مجھے خیال ہے۔ سرحد کا ہی کوئی آدمی تھا۔ جس نے خط کے ذریعہ یہ سوال کیا تھا۔ اور غالباً مفتی محمد صادق صاحب نے سوال پیش کیا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ مفتی صاحب کو یہ بات یاد ہے یا نہیں۔ مگر میں اس پر حلف اٹھا سکتا ہوں۔ کیا مولوی محمد علی صاحب یا ان کے رفقاء اس امر پر حلف اُٹھانے کے لئے تیار ہیں کہ حضرت خلیفہ اول نے میرے مضمون کا مفہوم وہی سمجھا تھا جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔ نہیں وہ ایسا کبھی نہیں کریں گے۔ بلکہ اور بہانوں سے اس قسم سے بچنا چاہئیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ میرے مضمون کا کچھ اور مفہوم سمجھنا ناممکن ہے۔

تاریخ اختلاف سلسلہ کا چھٹا امر

چھٹا امر جو مولوی محمد علی صاحب کی بیان کردہ تاریخ سلسلہ میں قابل توجہ ہے۔ ان کا یہ لکھنا ہے کہ ۱۹۱۳ء کے آخر میں ایم محمود نے پھر اعلان کیا کہ حضرت مسیح موعود کے منکر کافر ہیں۔ اس کی اطلاع حضرت خلیفۃ المسیح کو ملی۔ حضرت خلیفہ اوّل کے اس فتویٰ کو بھی انہوں نے غلط ٹھہرایا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی احمدی کے لئے نا جائز ہے حالانکہ خود ۱۹۱۲ء میں حج میں انہوں نے غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھی۔ اور حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں جن لوگوں نے حج کیا تھا۔ وہ بھی ایسا ہی کرتے رہے تھے چونکہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول بیمار تھے اس لئے آپ نے مولوی محمد علی صاحب کو حکم دیا کہ وہ اس کے متعلق جماعت کو ہدایت کریں۔ اور کچھ نوٹ بھی لکھوائے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کا خواجہ کمال الدین کو غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت دینا شخصی حالات کے ماتحت تھا

یہ امور بھی ویسے ہی غلط ہیں۔ جیسا کہ پہلے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے کوئی فتویٰ غیر احمدی کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا نہیں دیا۔ اصل بات یہ ہے کہ خواجہ کمال الدین صاحب ہمیشہ سے غیر احمدیوں کے خوف سے اور ان میں رسوخ پیدا کرنے کے لئے کوشش کرتے تھے کہ کسی طرح ان کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت مل جاوے۔ ولایت پہنچنے پر انہوں نے بڑے زور سے حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں لکھنا شروع کیا کہ یہاں غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے سے بڑے فتنہ کا خوف ہے۔ لوگ اسلام سے بدظن ہو جاویں گے اور تبلیغ کا کام خراب ہو جائے گا۔ چونکہ

خواجہ صاحب پہلے سے ہی اس قسم کے بہانے تلاش کر رہے تھے۔ ان کے اس خط کے جواب میں حضرت خلیفہ اول نے کہہ دیا کہ وہ ان کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں۔ جسے فوراً بذریعہ تار اُن کے دوستوں نے ان تک پہنچا دیا اور خواجہ صاحب نے اس اجازت سے فائدہ اُٹھا کر سلسلہ کے اشد مخالف ظفر علی خان ایڈیٹر زمیندار کی اقتداء میں نماز ادا کر کے ہمیشہ کے لئے اپنے ایمان کا خون کیا۔ یہ اجازت فتویٰ نہیں کہلا سکتی۔ کیونکہ حضرت مسیح موعودؑ کے صریح فتویٰ کے خلاف حضرت خلیفہ اوّل یا کوئی اور شخص فتویٰ دینے کا مجاز نہیں۔ ہمارا ہادی اور رہنما مسیح موعودؑ ہے۔ اس کے سوا کوئی ہو وہ بطور خود فتویٰ دینے کا مجاز نہیں۔ خلیفہ اوّل کون تھے ؟ مرزا صاحب کے ایک مُرید تھے اور ان کے ہاتھ پر بک چکے تھے جس طرح ہم سب غلام ہیں وہ بھی ایک غلام تھے۔ ان کو اس سے زیادہ کبھی کوئی دعویٰ نہیں ہوا۔ وہ خود تحریر فرماتے ہیں:۔ ”میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر اعلان کرتا ہوں کہ میں مرزا صاحب کے تمام دعاویٰ کو دل سے مانتا اور یقین کرتا ہوں اور ان کے معتقدات کو نجات کا مدار ماننا میرا ایمان ہے۔ نورالدین“۳

پھر فرماتے ہیں:۔

”سنو تمہاری نزاعین تین قسم کی ہیں۔ اوّل ان امور اور مسائل کے متعلق ہیں جن کا فیصلہ حضرت صاحب نے کر دیا ہے۔ جو حضرت صاحب کے فیصلہ کے خلاف کرتا ہے۔ وہ احمدی نہیں۔ جن پر حضرت صاحب نے گفتگو نہیں کی۔ ان پر بولنے کا تمہیں خود کوئی حق نہیں۔ جب تک ہمارے دربار سے تم کو اجازت نہ ملے پس جب خلیفہ نہیں بولتا یا خلیفہ کا خلیفہ دُنیا میں نہیں آتا۔ ان پر رائے زنی نہ کرو۔“

(تقریر لاہور الحکم ۲۱، ۲۸ جون ۱۹۱۲ء جلد ۱۶ ۲۷)

حضرت خلیفۃ المسیح کے ان الفاظ کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مندرجہ ذیل فتویٰ کو ملا کر پڑھو۔ اور دیکھو کہ کیا یہ وہم بھی کیا جا سکتا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح غیر احمدی کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا فتویٰ دیں گے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:۔

”پس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مُکفر اور مُکذّب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔“

(تحفہ گولڑویہ صفحہ ۲۸، روحانی خزائن جلد ۱۷ ص۱۱۴ حاشیہ)

حضرت خلیفۃ المسیح نے جو کچھ خواجہ صاحب کو تحریر کیا۔ وہ ان کی شخصی حالت کے لحاظ سے تھا نہ بطور فتویٰ کے۔ چنانچہ اس امر کو اس واقعہ سے اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص نے حضرت خلیفۃ المسیح سے غیر احمدیوں کی اقتداء میں نماز پڑھنے کی اجازت منگوائی۔ آپ نے اسے اجازت دے دی ۔ اس پر اس کے بڑے بھائی نے بھی خط لکھا کہ مجھے بھی اجازت دی جاوے۔ اس کے جواب میں حضورؐ نے لکھوایا کہ پہلے اپنے چھوٹے بھائی جیسے ہو جاؤ۔ پھر تم کو بھی اجازت دے دوں گا۔ وہ تو نماز بھی نہیں پڑھتا۔ اگر اس طرح اسے نماز کی عادت پڑ جائے تو ہمارا کیا حرج ہے۔ اس جواب سے ۔ بلکہ خود بڑے بھائی کے خط سے ظاہر ہے کہ جس شخص کو نماز کی اجازت دی تھی۔ وہ بطور فتویٰ نہ تھی بلکہ شخصی مصلحت کے ماتحت ایک اجازت تھی۔ اسی طرح خواجہ صاحب کی کمزوری کو دیکھ کر اور یہ دیکھ کر کہ ان کو ابتلاء نہ آجائے ۔ اگر حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے ان کو اجازت نماز دی تو یہ کوئی فتویٰ نہ تھا بلکہ ایک شخصی فیصلہ تھا۔ باقی رہا یہ امر کہ میں نے اس کا انکار کر دیا یہ ایک بے ثبوت بات ہے جب فیصلہ ہی کوئی نہ تھا تو پھر اس کا رَدّ کرنا کیسا۔ اور جب ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے فیصلہ کے مقابلہ میں کسی کا فیصلہ حجت نہیں۔ تو پھر رَدّ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اگر ایسا فتویٰ آپ دے بھی دیتے تو اس اصل کے ماتحت وہ اس قابل نہ ہوتا کہ اسے اپنے معتقدات میں شامل کر لیا جاوے۔

سفر حج میں میری نماز کے متعلق مولوی محمد علی صاحب کی دھوکا دہی

مولوی صاحب نے جو الزام لگایا ہے کہ میں نے مکہ میں غیر احمدیوں کے پیچھے حضرت خلیفۃ المسیح کے ایک فتویٰ کے ماتحت نماز پڑھی۔ یہ ایک دھوکا ہے جس کے پھیلانے سے باوجود واقعات کے علم کے وہ باز نہیں آتے۔ اصل واقعہ یہ ہے:۔ ۱۹۱۲ء میں مَیں اور سید عبدالحی صاحب عرب مصر سے ہوتے ہوئے حج کو گئے۔ قادیان سے میرے نانا صاحب میر ناصر نواب صاحب بھی براہِ راست حج کو گئے۔ جدہ میں ہم مل گئے اور مکہ مکرمہ اکٹھے گئے۔ پہلے ہی دن طواف کے وقت مغرب کی نماز کا وقت آ گیا۔ میں ہٹنے لگا۔ مگر راستے رُک گئے تھے نماز شروع ہو گئی تھی۔ نانا صاحب جناب میر صاحب نے فرمایا کہ حضرت خلیفۃ المسیح کا حکم ہے کہ مکہ میں ان کے پیچھے نماز پڑھ لینی چاہئے اس پر میں نے نماز شروع کر دی۔ پھر اسی جگہ ہمیں عشاء کا وقت آ گیا وہ نماز بھی ادا کی ۔ گھر جا کر مَیں نے عبدالحی صاحب عرب سے کہا کہ وہ نماز تو حضرت خلیفۃ المسیح کے حکم کی تھی اب آؤ۔ خدا تعالیٰ کی نماز پڑھ لیں جو غیر احمدیوں کے پیچھے نہیں ہوتی اور ہم نے وہ دونوں نمازیں دہرا لیں۔ ایک نماز شاید دوسرے دن ادا کی مگر میں نے دیکھا کہ باوجود نمازیں دہرانے کے میرا دل بند ہوتا جاتا ہے اور مَیں نے محسوس کیا کہ میں اگر اس طریق کو جاری رکھوں گا تو بیمار ہو جاؤں گا۔ آخر دوسرے دن میں نے عبدالحی صاحب عرب سے کہا کہ مَیں تو بوجہ ادب دریافت نہیں کر سکتا۔ آپ دریافت کریں کہ کیا جناب نانا صاحب کو حضرت خلیفۃ المسیح نے خاص حکم دیا تھا یا عام سنی ہوئی بات ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ خاص حکم نہیں دیا تھا بلکہ کسی اور شخص کے متعلق یہ بات آپ نے سُنی تھی اس پر مَیں نے شکر کیا اور با وجود لوگوں کے روکنے کے برابر الگ نماز ادا کرتا رہا۔ اور بیس دن کے قریب جو ہم وہاں رہے یا گھر پر نماز پڑھتے رہے یا مسجد کعبہ میں الگ اپنی جماعت کرا کے اور اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ گو مسجد کعبہ میں چاروں مذہبوں کے سوا دوسروں کو الگ جماعت کی عام طور پر اجازت نہیں۔ مگر ہمیں کسی نے کچھ نہیں کہا بلکہ پیچھے رہے ہوئے لوگوں کے ساتھ مل جانے سے بعض دفعہ اچھی خاصی جماعت ہو جاتی تھی۔ چونکہ جناب نانا صاحب کو خیال تھا کہ ان کے اس فعل سے کوئی فتنہ ہو گا۔ انہوں نے قادیان آکر حضرت خلیفۃ المسیح کے سامنے یہ سوال پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ ہماری واپسی کی خوشی میں قادیان کے احباب یکے بعد دیگرے دعوت کر رہے تھے کہ ایک دن حضرت مسیح موعودؑ کے پُرانے خادم میاں حامد علی صاحب نے جو چالیس سال حضرت کے پاس رہے ہیں۔ ہماری چائے کی دعوت کی۔ حضرت خلیفہ اوّل۔ میر صاحب ۔ مَیں اور سیّد عبدالحی عرب مدعو تھے ایک صاحب حکیم محمد عمر نے یہ ذکر حضرت خلیفۃ المسیح کے پاس شروع کر دیا۔ آپ نے فرمایا۔ ہم نے ایسا کوئی فتویٰ نہیں دیا۔ ہماری یہ اجازت تو ان لوگوں کے لئے ہے جو ڈرتے ہیں اور جن کے ابتلاء کا ڈر ہے ۔ وہ ایسا کر سکتے ہیں کہ اگر کسی جگہ گھر گئے ہوں۔ تو غیر احمدیوں کے پیچھے نمازیں پڑھ لیں۔ اور پھر آکر دہرا لیں، سو الحمد للہ کہ میرا یہ فعل جس طرح حضرت مسیح موعودؑ کے فتویٰ کے مطابق ہوا ۔ اسی طرح خلیفہ وقت کے منشاء کے ماتحت ہوا۔

ایک اعتراض اور اس کا جواب

شاید اس جگہ کسی شخص کو یہ خیال گذرے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے فتویٰ کی موجودگی میں حضرت خلیفۃ المسیح کا حکم سُن کر کیوں غیروں کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ تو اس کا یہ جواب ہے کہ صحابہ کے طریقِ عمل سے یہ امر ثابت ہے کہ وہ خلیفۂ وقت کے حکم کا ادب ضروری سمجھتے تھے خواہ اسے تسلیم نہ ہی کرتے ہوں۔ چنانچہ بخاری اور دیگر کتب احادیث و تواریخ سے ثابت ہے کہ حضرت عثمانؓ نے جب ایک دفعہ خلافِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے منیٰ میں حج کے دنوں میں (سفر کے ایام) بجائے دو کے چار رکعت ہی ادا کی تو بعض صحابہؓ میں جوش ہوا لیکن سب نے آپ کے پیچھے چار رکعت ہی نماز ادا کر لی۔ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوفؓ نے ارادہ کیا کہ وہ تو دو رکعت ہی نماز پڑھیں گے ۔ اتنے میں ان کی ملاقات حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہوں نے حضرت عبدالرحمنؓ سے پوچھا کہ کیا حضرت عثمانؓ نے کوئی نئی بات بتائی ہے۔ انہوں نے کہا نہیں اور کہا میں نے تو دو رکعت ہی نماز ادا کی ہے۔ عبداللہ بن مسعود نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو دو رکعت ہی ثابت ہیں۔ مگر میں نے جب سُنا کہ خلیفۂ وقت نے چار پڑھائی ہیں۔ (حج میں بوجہ کثرت آدمیوں کے منیٰ میں کئی جگہ نماز ہوتی ہے) تو چار ہی پڑھا دیں ۔ اور آپ بھی ایسا ہی کریں ۔ خلیفہ کا خلاف کرنا بُرا ہے۔ اس پر عبدالرحمن بن عوفؓ نے کہا کہ اچھا آئندہ میں بھی ایسا ہی کروں گا ۔ مگر ساتھ ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں یہ لوگ ایسے چُور تھے کہ عبداللہ بن مسعود نے نماز سے فارغ ہو کر دُعا مانگی کہ خدایا میری دُو رکعت ہی قبول کیجئیو پس جب مجھے کہا گیا کہ خلیفہ وقت کا یہی حکم ہے۔ تو میں نے اس طریقِ صحابہ کے مطابق عمل کیا۔ اور اس حکم کو تسلیم کیا۔ (گو بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حکم نہ تھا) اور جس طرح اس صحابی نے زائد رکعت کی نسبت کہا تھا کہ میری دو ہی قبول ہوں میں نے بھی گھر پر آکر اپنی نماز دہرالی پس خدا تعالیٰ نے مجھے ہر ایک سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا کی۔ فالحمد للّٰہ علیٰ ذلک ۔

یہ سب کا سب واقعہ میں بارہا بیان کر چکا ہوں اور کئی دفعہ شائع ہو چکا ہے۔ مگر با وجود اس کے مولوی محمد علی صاحب لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے یہ لکھے چلے جاتے ہیں کہ وہ خود غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھ چکے ہیں اور اب لوگوں کو روکتے ہیں۔ کیا ان واقعات کے علم کے بعد کوئی راست باز مجھ پر یہ اعتراض کر سکتا ہے اور کیا اس طرح نا واقفوں کے سامنے اس معاملہ کو پیش کرنا ایک دھوکا نہیں؟ مولوی صاحب کو یہ واقعات میرے اور میرے ساتھیوں سے ہی معلوم ہوئے ہیں۔ کیا پھر جو دوسرے واقعات ہیں ان کو چھوڑ کر اسی قدر ٹکڑہ بیان کرنا دیانتداری سے بعید نہیں؟

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کا مسئلہ کفر و اسلام کے متعلق مولوی محمد علی صاحب کو نوٹ لکھوانا میرے کسی اعلان کی بناء پر نہ تھا

اب رہا یہ امر کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے بوجہ بیماری کے مولوی محمد علی صاحب کو مسئلہ تکفیر غیر احمدیان پر جماعت کو ہدایت کرنے کا ارشاد فرمایا اور خود بھی نوٹ لکھوائے۔ اس میں سے یہ بات بھی درست ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے بوجہ بیماری کے مولوی محمد علی صاحب کو مضمون لکھنے کے لئے کہا اور یہ بھی درست ہے کہ بعض باتیں آپ نے لکھوائیں بھی۔ مگر یہ غلط اور صریح غلط ہے کہ غیر احمدیوں کے مسلمان ثابت کرنے کے لئے آپ نے مولوی صاحب کو مضمون لکھنے کو کہا۔ اور یہ خلاف واقعہ اور بالکل خلاف واقعہ ہے کہ میرے کسی لیکچر یا اعلان کے باعث کہا۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب ان دنوں قرآن کریم کے ترجمہ انگریزی کے لئے بعض آیات حضرت خلیفہ اول سے دریافت کیا کرتے تھے۔ انہی اجلاسوں میں میری موجودگی میں حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ مولوی صاحب قرآن کی بعض آیات میں عام طور پر لوگوں کو مغالطہ رہتا ہے اور وہ تطبیق نہیں دے سکتے مثلاً وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ لَّہُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذۡکَرُ فِیۡہَا اسۡمُ اللّٰہِ کَثِیۡرًا(الحج: ۴۱) اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ حَقًّا(النساء: ۱۵۲) اور اسی طرح بعض اور آیات میں اختلاف خیال کیا جاتا ہے۔ آپ نوٹ لکھ رہے ہیں اس کے متعلق بھی ایک مضمون لکھیں۔ میں بھی آپ کو کچھ نوٹ لکھواؤں گا۔ چنانچہ ان آیات کے متعلق آپ درمیان میں کچھ ارشاد فرماتے رہے۔ یہ واقعہ میری موجودگی میں ہوا ہے۔ میں اس امر پر حلف اُٹھا سکتا ہوں کیا مولوی صاحب بھی اپنے بیان پر حلف اُٹھانے کے لئے تیار ہیں؟ پس مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ میرے کسی اعلان پر حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے ایسا فرمایا تھا ۔ ایک ایسی غلط بیانی ہے کہ میں حیران ہوں اس کی جرات مولوی صاحب کو کیونکر ہوئی؟

تاریخ اختلاف سلسلہ کا ساتواں امر

ساتواں قابل توجہ امر مولوی صاحب کا یہ تحریر فرمانا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے مجھے تنبیہ کی کہ میں کفر و اسلام کے مسئلہ کو نہیں سمجھا۔ بعض باتیں ہیں کہ جن میں انسان ایسے پہلو نکال سکتا ہے کہ اپنے حریف کو جھوٹا کہنے کی بجائے لکھ دے کہ اسے غلطی لگی ہے۔ مگر مولوی صاحب کا یہ بیان ایسا خود ساختہ ہے کہ اس کے متعلق سوائے اس کے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ جان بوجھ کر انہوں نے غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے اپنی وفات سے پندرہ بیس دن پہلے مولوی محمد علی صاحب کو نوٹ لکھواتے ہوئے کسی ذکر پر فرمایا کہ بعض لوگ میری نسبت کہتے ہیں کہ اسے کیا ہو گیا ہے۔ کہ یہ بھی غیر احمدیوں کو مسلمان کہہ دیتا ہے کبھی کافر۔ لوگ اس بات کو سمجھے نہیں۔ حتیٰ کہ ہمارے میاں بھی نہیں سمجھے۔ چنانچہ اس کے متعلق بعض حاضر الوقت احباب سے میں حلفی شہادت لے کر رسالہ القول الفصل

میں شائع بھی کر چکا ہوں۔ جو اس طرح ہے:۔ ”میں اور چند اور احباب اور حضرت میاں صاحب حضرت خلیفۃ المسیح کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت نے اپنے سلسلہ کلام میں فرمایا کہ کفر و اسلام کا مسئلہ جو بڑا مشکل سمجھا جاتا ہے گو لوگ مجھے کہتے ہیں کہ یہ کبھی مسلم کہتا ہے کبھی کافر۔ لیکن خدا نے مجھے اس میں وہ سمجھایا ہے جو کسی کو نہیں سمجھ آیا۔ حتیٰ کہ میاں کو بھی سمجھ نہیں آیا۔ اور میں خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ شہادت دیتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے یہی فرمایا تھا؟ مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب پرنسپل مدرسہ دینیات ”مندرجہ بالا بیان جہاں تک مجھے یاد ہے۔ بالکل درست ہے۔ سوائے اس کے کہ مجھے کہتے ہیں کہ بجائے آپ نے فرمایا تھا کہ لوگ مجھ پر اعتراض کرتے ہیں کہ کبھی کافر کہتا ہے اور کبھی مسلمان“ مولوی شیر علی صاحب بی اے ایڈیٹر آف ریویو (میگزین) ”مجھے جہاں تک یاد ہے حضرت خلیفۃ المسیح نے ترجمہ قرآن شریف سننے کے وقت جو مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں، فرمایا تھا کہ مجھ پر بھی یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ کبھی میں غیر احمدیوں کو کافر کہتا ہوں اور کبھی مسلمان۔ یہ دقیق مسئلہ ہے کسی نے نہیں سمجھا۔ حتیٰ کہ میاں نے بھی نہیں سمجھا۔ یہ مسئلہ بھی غیر احمدیوں میں صاف ہونے کے قابل ہے۔“ (جناب خان راقم محمد علی خان) صاحب جاگیردار مالیر کوٹلہ عم نواب صاحب مالیر کوٹلہ ”حضرت خلیفۃ المسیح کی صحت دریافت کرنے کے لئے یہ خاکسار حضور کے مکان پر حاضر ہوا۔ دیکھا تو مولوی محمد علی صاحب ترجمتہ القرآن کے نوٹس سنا رہے تھے اور حضرت کے سرہانے جناب حضرت صاحبزادہ صاحب بیٹھے تھے کہ حضرت اقدس نے فرمایا کہ میرے متعلق جو اعتراض کیا جاتا ہے کہ کبھی غیر احمدیوں کو کافر کہتا ہے کبھی مسلمان۔ یہ ایک باریک مسئلہ ہے۔ جو ہمارے میاں نے بھی نہیں سمجھا۔“

(راقم مہر محمد خان مالیر کوٹلوی ثم قادیانی)

پس حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے جو کچھ فرمایا ہے۔ اس میں کفر و اسلام کے مسئلہ کے سمجھنے کا کوئی ذکر نہیں۔ آپ نے تو یہ فرمایا تھا کہ آپ کی تحریرات میں لوگ اختلاف سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کبھی آپ غیر احمدیوں کو مسلمان کہتے ہیں کبھی کافر۔ لیکن یہ ان لوگوں کی غلطی ہے۔ ان عبارتوں کا وہ مطلب نہیں سمجھے اور اختلاف خیال کر لیا۔ اور یہ غلطی جماعت کو ایسی لگی ہے کہ میں (یعنی دیہ عاجز) بھی اس میں مبتلاء ہوں۔ یہ بات حضرت خلیفۃ المسیح کی بالکل درست اور صحیح تھی اور اب تک ہے۔ میں نے ابھی لکھا ہے کہ خواجہ صاحب کے مضمون پر میرے مضمون کی تصدیق کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح کا اجازت تحریر کرنا سمجھ سے باہر ہے اور اس کی تاویل یہی ہوسکتی ہے کہ اگر آپ نے اس مضمون کو پڑھا ہے تو اس کی

پیچدار عبارتوں کی وجہ سے اسے سمجھا نہیں۔ پس حضرت خلیفۃ المسیح کا یہ فرمانا کہ اس امر کو میں بھی نہیں سمجھا۔ بالکل درست تھا۔ میں اب تک بھی نہیں سمجھ سکا کہ ایسا کیونکر ہوا اور آخر تطبیق کے لئے بعض تاویلات کرنی پڑتی ہیں۔ اور قلت کو کثرت اور متشابہ کو محکم کے ماتحت لانا پڑتا ہے۔ مگر آپ کے اس قول سے یہ کیونکر نتیجہ نکلا کہ میں مسئلہ کفر و اسلام کو نہیں سمجھا۔ کیا اگر کوئی شخص اس امر کو نہ سمجھ سکے کہ کیوں حضرت خلیفۃ المسیح نے ایک ایسے شخص کی بھی تصدیق کی جس نے غیر احمدیوں کو کافر قرار دیا تھا اور پھر ایک ایسے شخص کے مضمون پر بھی دستخط کر دیئے جس نے اس پہلے مضمون کے اثر کو زائل کرنا چاہا تھا۔ تو کیا ضروری ہے کہ وہ کفر و اسلام کے مسئلہ کو بھی نہ سمجھ سکے۔ بیشک قرآن کریم میں ایک قوم کی نسبت یہ لکھا ہے کہ یُحَرِّفُوۡنَ الۡکَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِہٖ(النساء: ۴۷)، مگر مولوی صاحب سے اُمید نہ تھی کہ وہ ایسی تحریف سے کام لیں گے۔ اللہ تعالیٰ رحم کرے اور ان کی آنکھیں کھولے۔ پھر سوچنے والے کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے تو یہ فرمایا تھا کہ لوگ اس بات کو نہیں سمجھے حتیٰ کہ ہمارے میاں بھی نہیں سمجھے۔ اس فقرہ کے الفاظ سے بھی تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ میں سب احمدیوں میں سے زیادہ سمجھنے کا حق رکھتا تھا اور جب میں بھی نہیں سمجھا تو دوسرے کسی نے کیونکر سمجھنا ہے پس مولوی صاحب کا اس فقرہ کو نقل کرنا ان کے لئے کیا مفید ہو سکتا ہے۔ اس فقرہ سے یہ کہاں ثابت ہے کہ وہ سمجھتے ہیں بلکہ جس مسئلہ کے متعلق یہ فقرہ کہا گیا ہے اس کے نہ سمجھنے کا فتویٰ تو سب پر لگتا ہے اور اگر سمجھے اس میں تنبیہ ہے ۔ تو مجھ سے زیادہ مولوی محمد علی صاحب کو ہے کیونکہ میرا ذکر تو لفظ ”بھی“ کے بعد کیا گیا ہے اور ان کو عام لوگوں میں شامل کیا گیا ہے۔ مولوی صاحب نے اس جگہ یہ بھی ہوشیاری کی ہے کہ لفظ ”بھی“ جس سے اس فقرہ کے اصل معنے کھلتے ہیں اڑا دیا ہے حالانکہ خود ان کے اخبار پیغام صلح میں جہاں اور تحریفوں کے ساتھ یہ روایت شائع ہو چکی ہے وہاں بھی لفظ ”بھی“ موجود ہے۔ وہاں لکھا ہے۔ ”میاں نے بھی اس کو نہیں سمجھا“ (پیغام صلح ۳۔ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۴)، بلکہ خود مولوی محمد علی صاحب نے اپنے رسالہ کفر و اسلام میں اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس فقرہ میں ”بھی“ کا لفظ لکھا ہے پس یہ ایک اور ثبوت ہے مولوی صاحب کی عادتِ تحریف کا۔

مولوی صاحب کا یہ جُرم اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اوّل کی وفات کے بعد جبکہ ابھی خلافت کا سوال طے نہیں ہوا تھا۔ مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے مولوی صاحب نے اس واقعہ کو بیان کیا تھا اور میں نے ان سے کہا تھا کہ یوں نہیں یوں ہے اور اس وقت چونکہ تازہ بات تھی مولوی صاحب کو انکار کی جرأت نہ ہو سکی تھی اور دبی زبان سے اقرار کر کے وہ اور باتوں میں لگ گئے

تھے اس کے بعد بھی ان لوگوں کی حلفیہ شہادتیں جو اس وقت موجود تھے لیکر شائع کردی گئی تھیں۔ پس مولوی صاحب بھول کا عذر نہیں کرسکتے۔ واقعات اس امر پر شاہد ہیں کہ وہ جان بوجھ کر یہ تحریف کر رہے ہیں۔ وہ لوگ جو اس وقت موجود تھے ان میں سے بعض کی حلفیہ شہادتیں شائع ہوچکی ہیں۔ اور میں بھی اس واقعہ پر حلف اُٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ کیا مولوی صاحب اور ان کے ہم خیال جو اس وقت موجود تھے وہ بھی اپنے بیان پر قسم اُٹھا سکتے ہیں؟ میں جانتا ہوں کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ بلکہ قسم قسم کے عذرات سے اپنے سر سے یہ بار اُتارنے کی کوشش کریں گے۔

تاریخ اختلاف سلسلہ کا آٹھواں امر

آٹھویں بات مولوی صاحب یہ تحریر فرماتے ہیں کہ یہ ٹریکٹ میں نے لکھا اور حضرت خلیفۃ المسیح کو سُنایا اور آپ نے اسے پسند فرمایا۔ لیکن یہ ٹریکٹ آپ کی زندگی میں شائع نہیں کیا جا سکا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مولوی صاحب نے ایک ٹریکٹ مسئلہ کفر و اسلام پر لکھ کر حضرت خلیفۃ المسیح کو سنایا۔ مگر یہ کہ آپ نے اسے پسند کیا ایک ایسا امر ہے جس کے قبول کرنے میں ہمیں عذر ہے۔ حضرت خلیفہ اول کی کوئی سند اس بیان کی تائید میں نہیں اور بیرونی اور اندرونی شہادتیں اس بیان کے خلاف ہیں۔ چنانچہ بیرونی شہادت کے طور پر میں حافظ روشن علی صاحب اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب ایل۔ ایم۔ ایس کا بیان ذیل میں درج کرتا ہوں۔

مولوی محمد علی صاحب کے رسالہ کفر و اسلام کے متعلق واقعات

روایت بزبان حافظ روشن علی صاحب

”مجھے یاد ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے آخری ایام میں جبکہ آپ مرض الموت میں فریش تھے اور ۱۹۱۴ء غالباً فروری کا مہینہ تھا۔ ابھی آپ اس مکان میں تشریف رکھتے تھے جو آپ کا ذاتی ہے جو اندرون قریہ قادیان واقع ہے کہ ایک دن دفتر الفضل میں ہمراہ صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب میں بیٹھا ہوا تھا کہ میرے استاد حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی تشریف لائے انہوں نے بیان کیا کہ مولوی محمد علی صاحب نے ایک مضمون مسئلہ تکفیر کے متعلق لکھا ہے جو وہ حضرت خلیفۃ المسیح کو بروز جمعہ بعد از نماز سنائیں گے۔ اور وہ آپ لوگوں سے علیحدگی میں سنائیں گے جس پر صاحبزادہ صاحب موصوف نے فرمایا ہم بھی اس وقت حاضر ہوں گے۔ مسئلے کا معاملہ ہے ہم ضرور سنیں گے چنانچہ جب جمعہ کا دن آیا۔ تو میں نے یہ عزم کیا کہ بعد نمازِ جمعہ فوراً حضرت خلیفۃ المسیح کے گھر میں پہنچ جاؤں گا چنانچہ جمعہ کی نماز ادا کرتے ہی فوراً میں پہنچا جب میں صحن خانہ میں داخل ہوا تو حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے کمرے سے حسبِ ذیل اشخاص نکلے۔ (۱) مولوی محمد علی (۲) مرزا یعقوب بیگ (۳) شیخ رحمت اللہ (۴) ڈاکٹر محمد حسین شاہ۔ اس وقت مولوی محمد علی صاحب کے ہاتھ میں کاغذ کے اوراق لپٹے ہوئے تھے۔ مجھ سے دریافت کیا کہ کیا نمازِ جمعہ ہو چکی ہے؟ میں نے کہا ہاں۔ اس وقت میرے دل میں یہ یقین ہوا کہ انہوں نے علیحدہ مضمون سنانے کی خاطر نمازِ جمعہ ترک کی ہے۔ پھر معلوم ہوا کہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب بھی ان کے ہمراہ تھے۔ جو میرے داخل ہونے سے پہلے وہاں سے جا چکے تھے۔

”پھر میں اس امر کے دریافت کرنے کے لئے خلیفہ رشید الدین صاحب کے مکان پر گیا اور ان سے دریافت کیا کہ آپ لوگ جمعہ میں شامل نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت خلیفۃ المسیح کو چونکہ غسل دینا تھا۔ اس واسطے ڈاکٹر وہاں مشغول رہے۔ میں نے کہا مولوی محمد علی صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب تو ڈاکٹر نہیں یہ کیوں جمعہ میں حاضر نہ ہوئے انہوں نے کہا وہ مضمون سنانے کی خاطر وہاں ٹھہرے رہے میں نے کہا پھر مضمون انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح کو سنایا؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ دو تین دفعہ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں عرض کی کہ مضمون سناؤں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ اب میں آرام کروں گا۔ سو جس غرض کے لئے انہوں نے نمازِ جمعہ ترک کی تھی اس میں ناکام رہے۔ اس کے بعد میں صاحبزادہ صاحب کے پاس آیا۔ اور ان کو یہ قصہ سنایا۔ پھر میں حضرت خلیفۃ المسیح کے مکان میں آیا اور وہاں یہ قصد کر کے بیٹھا کہ یہاں سے نہ اٹھوں گا جب تک کہ مولوی محمد علی صاحب مضمون سنا نہ لیں یا مایوس ہو کر اپنے مکان پر چلے نہ جائیں۔ مولوی محمد علی صاحب مولوی صدر الدین کے مکان میں ٹھہرے کہ یہ مولوی صاحب کے پاس سے کب اُٹھتا ہے اور میں بیٹھا کہ وہ کب مضمون سناتے ہیں۔ آخر مغرب کا وقت ہو گیا تو مولوی محمد علی باہر کوٹھی چلے گئے جس میں وہ رہتے تھے اور میں نمازِ مغرب کے لئے آیا تو بعد از نمازِ مغرب میں نے حضرت صاحبزادہ صاحب سے عرض کی کہ جمعہ کا دن ختم ہو گیا لیکن وہ اپنا مضمون سنا نہیں سکے۔ آپ نے فرمایا کہ جب وہ اتنا پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں کہ ہمیں اطلاع ہی نہ ہو تو ان کا خیال چھوڑ دو۔ کب تک ہم ان کا پہرہ دیں گے اللہ تعالیٰ سے دُعا کرو اور روزے رکھو تاکہ یہ فتنے اور ابتلاء دُور ہوں۔ چنانچہ پھر ان کی طرف ہم نے خیال نہ رکھا۔ پھر وہ ہفتہ کے دن بھی نہ سُنا سکے اور نہ اتوار کے دن۔ ہاں اتوار اور پیر کی درمیانی شب یا پیر اور منگل کی درمیانی شب کو انہوں نے یہ انتظام کیا کہ کسی کو اندر نہ آنے دیں اور مضمون سنائیں۔ پٹھانوں کا پہرہ لگایا اور ان کو یہ کہا کہ خلیفۃ المسیح کا یہ حکم ہے کہ کوئی اندر نہ آوے۔ چنانچہ اس وقت بغرض عیادت حضرت مکرم و معظم میر ناصر نواب صاحب تشریف لے گئے تو پہرہ والے نے ان کو سنایا کہ اندر جانے کی اجازت نہیں۔ پھر مکرمی صوفی مولوی غلام محمد صاحب بی اے عیادت کے لئے آئے تو ان کو بھی روک دیا گیا۔ پھر مکرمی خلیفہ رشید الدین صاحب ڈاکٹر تشریف لائے تو ان کو بھی پہرہ والے نے روکا مگر انہوں نے فرمایا کہ میں ڈاکٹر ہوں۔ مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔ یہ زبردستی اندر چلے گئے۔ انہوں نے جا کر حضرت خلیفۃ المسیح الاول سے عرض کی کہ کیا آپ نے اندر آنے سے منع فرمایا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ میں نے منع نہیں کیا۔ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے بیان کیا کہ اس وقت مولوی محمد علی صاحب مضمون سُنا رہے تھے۔ جب انہوں نے ختم کیا۔ تو حضرت خلیفہ اول نے دریافت کیا کہ کیا آپکو اس مضمون پر انشراح صدر ہے انہوں نے کہا کہ ہاں۔ تب حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ مجھے اس مضمون پر انشراح نہیں۔ پھر مولوی محمد علی صاحب نے کئی دفعہ اس مضمون کی تصدیق کرانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔“ تحریر مورخہ ۷؍اگست ۱۹۱۹ء بقلم خاکسار عطاء محمد خادم حضرت حافظ روشن علی صاحب۔

”میں تصدیق کرتا ہوں کہ میرا بیان میرا ہے“۔ روشن علی بقلم خود۔

”میں حضرت حافظ روشن علی صاحب کے بیان کی تصدیق کرتا ہوں کہ وہ واقعات پر مبنی ہے اور بالکل درست ہے۔“ خلیفہ رشید الدین ایل۔ ایم۔ ایس سول اسسٹنٹ سرجن پنشنر معالج حضرت خلیفۃ المسیح الاول ۷؍ اگست ۱۹۱۹ء۔

ان شہادتوں کے علاوہ حضرت خلیفہ اول کے صاحبزادہ عزیز عبدالحی مرحوم کی بھی شہادت ہے۔ انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت خلیفہ اول نے اس مضمون کو پسند نہیں کیا تھا اور کہا تھا کہ قابلِ غور ہے۔ آپ اسے ابھی شائع نہ کریں۔ چنانچہ واقعات اس شہادت کی تصدیق کرتے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی میں یہ مضمون شائع نہیں کیا گیا۔ حالانکہ اس کے بعد کا ایک مضمون جو مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی میں آپ کو وفات یافتہ تصور کر کے آپ کی جانشینی

کے متعلق لکھا تھا چھاپ دیا گیا تھا۔ یہ سب واقعات مل کر کس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں؟ اس سوال کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ ہر شخص خود اپنے دل میں اس کا جواب پالے گا۔

تاریخ اختلاف سلسلہ کا نواں امر

نویں بات مولوی محمد علی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ احمدیوں نے اس کی یعنی اس عاجز کی بیعت بہت سی غلط فہمیوں کے ماتحت کر لی تھی۔ اور اب ان میں سے بہت سے کھلے طور پر میرے خیالات سے متنفر ہو رہے ہیں۔ چنانچہ مولوی سید محمد احسن صاحب جو حضرت مسیح موعودؑ کے سب سے پُرانے اور سب سے زیادہ علم والے زندہ صحابی ہیں۔ انہوں نے ایک اعلان شائع کیا ہے کہ ایم محمود خلافت کے قابل نہیں کیونکہ وہ مفصلہ ذیل غلط عقائد کی اشاعت کرتا ہے۔ اول یہ کہ تمام قبلہ گوؤں کو کافر کہتا ہے۔ دوم یہ کہ حضرت مسیح موعودؑ کو کامل اور حقیقی نبی مانتا ہے۔ نہ کہ جزوی نبی یا محدث سوم یہ کہ پیشگوئی مذکورہ سورۃ الصف متعلق احمد کو حضرت مسیح موعودؑ کے حق میں سمجھتا ہے۔

جماعت احمدیہ نے میری بیعت غلط فہمی سے نہیں کی

سب سے پہلے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ خیال کہ لوگوں نے غلط فہمیوں کے ماتحت میری بیعت کر لی تھی بالکل غلط ہے کیونکہ جب میں خلیفہ ہوا ہوں اس سے پہلے میرے عقائد شائع ہو چکے تھے مسئلہ نبوت کے متعلق جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں ۱۹۱۰ء میں میرا لیکچر ہوا تھا۔ جو اخبارات سلسلہ میں شائع ہو چکا تھا۔ اسی طرح اور متعدد مضامین میں نبوت کے متعلق میری تحریرات موجود تھیں مسئلہ کفر کے متعلق ایک مستقل رسالہ لکھ چکا تھا اور بقول مولوی صاحب ۱۹۱۳ء میں۔ پھر میں نے اعلان کر دیا تھا کہ جو حضرت مسیح موعودؑ کو نہیں مانتا وہ کافر ہے۔ پس با وجود اس قدر شہادتوں کے یہ کہنا کیونکر درست ہو سکتا ہے کہ لوگوں نے غلط فہمی سے بیعت کر لی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک قلیل گروہ نے بعد میں بیعت توڑی بھی ہے۔ لیکن اس سے سینکڑوں گنے لوگوں نے بعد میں بیعت خلافت کی ہے۔ جب میں خلیفہ ہوا ہوں ، اس وقت تو بہت ہی تھوڑے لوگ تھے جنہوں نے مجھے قبول کیا تھا زیادہ جماعتیں تو ان لوگوں کی مغالطہ دہی سے رُک گئی تھیں۔ مگر خدا تعالیٰ کے فضل نے دستگیری کی اور سب کو کھینچ کر لے آیا۔ پس یہ خیال کہ غلط فہمی کے ماتحت بیعت کی بالکل غلط ہے۔ اب تک بھی لوگ بیعت خلافت کر رہے ہیں۔ چنانچہ دسمبر سے لیکر اس وقت تک قریباً پچیس آدمی مولوی صاحب کے ہم خیالوں میں سے بیعت خلافت کر چکے ہیں اور ہم نے تو ان لوگوں کی طرف زیادہ توجہ نہیں کی۔ یہ لوگ تو اپنا تمام مال واسباب ہمارے خلاف خرچ کرتے ہیں۔ جہاں ہمارا واعظ احمدیت کی تبلیغ کے لئے جاوے وہاں ان کا واعظ ان کو ہم سے برگشتہ کرنے کے لئے بلکہ بہت دفعہ احمدیت سے ہی برگشتہ کرنے کے لئے جاتا ہے۔ اگر ہم اس سے نصف وقت بھی ان لوگوں کی طرف توجہ کرتے تو انشاء اللہ بہت زیادہ نتیجہ نکلتا۔ مگر ہمارا خیال ہے کہ زیادہ تر وقت اشاعت اسلام اور ترقی احمدیت پر خرچ ہونا چاہئے۔ ہمارے واعظ تمام کے تمام غیر احمدیوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں تبلیغ کے لئے وقف ہیں جبکہ ان کے مبلغ قریباً تمام صرف احمدیوں کو گمراہ کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں مگر پھر بھی ہم میں سے جس قدر ان میں جا کر ملے ہیں ان سے زیادہ ان میں سے نکل کر ہم میں آئے ہیں۔ مولوی صاحب چاہیں تو ہم اس کا ثبوت ان کو دے سکتے ہیں۔

مولوی محمد علی صاحب سے ایک اور رنگ میں طریق فیصلہ

باقی رہا ان کا یہ لکھنا کہ اکثر اہل علم لوگ میرے خیالات کے مخالف ہیں یہ ایک دعویٰ ہے جس کا ثبوت ان کے ذمہ ہے۔ ہاں اگر یہ اصل مقرر کر لیا جاوے کہ جو ان کا ہم خیال ہے وہ عالم ہے اور دوسرے جاہل۔ تب تو بے شک اکثر کیا سب کے سب اہل علم مجھ سے بیزار ہو کر ان سے جاملے ہیں۔ لیکن اگر یہ بات نہیں تو پھر ان کا یہ دعویٰ درست نہیں کیونکہ جسقدر علم دین کے واقف لوگوں کو وہ پیش کر سکیں کہ وہ ان کے ہم خیال ہیں ان سے زیادہ لوگ میں پیش کرتا ہوں کہ میرے ہم خیال ہیں۔ مگر یہ ایک بے ہودہ طریقِ بحث ہے جو حق کے ثابت کرنے کے لئے ضروری نہیں۔ ہاں اگر ان کو شوق ہو تو اس رنگ میں بھی تعداد کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

مولوی محمد علی صاحب کا ایک غلط خیال اور اس کی تردید

مولوی صاحب کی تحریر سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ اہل علم لوگ بھی جو میرے ساتھ ہیں میرے خیالات کے مخالف ہیں لیکن اگر انہوں نے جان بوجھ کر ایسے الفاظ لکھے ہیں کہ جن کا یہ مفہوم ہو تو میں کہوں گا کہ انہوں نے لوگوں کو غلطی میں ڈالنا چاہا ہے کیونکہ جو لوگ میرے ساتھ ہیں۔ وہ سب کے سب عقائد میں مجھ سے متفق ہیں۔ اور اگر کوئی نادر کی طرح ہو تو اس کا مجھے علم نہیں۔ اور نہ نادر سند کے طور پر پیش ہو سکتا ہے۔ ہاں وہ چند لوگ مستثنیٰ ہیں جو کہ کھلے طور مولوی صاحب کے ساتھ ملے ہوئے ہیں لیکن بعض مصالح کی بناء پر بیعت کے توڑنے کا اعلان نہیں کرتے۔ وہ لوگ اپنے عمل سے اپنے منافق ہونے پر مہر کر رہے ہیں۔ لیکن وہ بھی تعداد میں

اتنے تھوڑے ہیں کہ اَلشَّاذُ كَالْمَعْدُوْمِ کے مقولہ کے نیچے ہیں۔

مولوی سیّد محمد احسن صاحب سے پہلے زمانہ کے لوگ میری بیعت میں شامل ہیں

اب میں ان باتوں کا جواب دیتا ہوں جو مولوی محمد علی صاحب نے سیّد محمد احسن صاحب کے متعلق لکھی ہیں۔ اور سب سے پہلے یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ مولوی محمد علی صاحب نے مولوی سیّد محمد احسن صاحب کی نسبت جو یہ لکھا ہے کہ وہ زندہ لوگوں میں سب سے پرانے احمدی ہیں یہ غلط ہے۔ ان سے پہلے کے بیعت کرنے والے لوگ اور اس وقت کے حضرت مسیح موعودؑ سے اخلاص رکھنے والے لوگ جبکہ ابھی سید صاحب نے آپ کا نام بھی نہ سُنا تھا اس وقت زندہ موجود ہیں اور میری بیعت میں شامل ہیں۔ چنانچہ شیخ حامد علی صاحب وہ ہیں جنہوں نے تیسرے نمبر پر حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کی تھی منشی اروڑا صاحب تحصیلدار کپور تھلہ ساتویں یا آٹھویں نمبر پر بیعت کرنے والے ہیں اور ہجرت کر کے کئی سال سے قادیان میں بیٹھے ہیں۔ یہ صاحب حضرت مسیح موعودؑ کے خاص عاشقوں میں سے ہیں۔ جیسا کہ خود حضرت اقدس ازالہ اوہام کے صفحہ ۴۳۴پر ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ ”ان کو اس عاجز سے ایک نسبت عشق ہے“ اور آپ کو بھی ان سے خاص محبت تھی جس سے تمام قادیان آنے والے اچھی طرح واقف ہیں۔ آپ جماعت کپور تھلہ میں سے ہیں۔ جس کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔

”میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ لوگ اس دُنیا اور آخرت میں خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرے ساتھ ہوں گے“ (مکتوب حضرت اقدس بنام محمد خان صاحب کپور تھلہ مورخہ ۲۷ جنوری ۱۸۹۴ء منقول از بدر یکم اکتوبر ۱۹۰۸ء ص۵)

اسی طرح میر عنایت علی شاہ صاحب لدھیانوی ہیں جنہوں نے نویں نمبر پر بیعت کی۔ اسی طرح مولوی عبد اللہ صاحب سنوری جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک بہت بڑے معجزہ کے محافظ ہیں اور جن کی نسبت حضرت مسیح موعودؑ نے یہ پیشگوئی فرمائی ہے:۔

”مَیں بخوبی اس بات پر مطمئن ہوں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کے دل میں اخلاص اور محبت کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور آپ کو فطرتی مناسبت ہے اور ایسی محبت ہے کہ زمانہ کے رنگ بدلانے سے دُور نہیں ہو سکتی“ (منقول از مکتوب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بنام مولوی عبداللہ صاحب سنوری مؤرخہ ۶؍ مارچ ۱۹۰۸ء ۔ یہ پورا خط اسی کتاب میں کسی دوسری جگہ درج کر دیا گیا ہے)

یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرے مریدین میں شامل ہیں۔ پھر منشی ظفر احمد صاحب ہیں کہ یہ بھی

شروع کے بیعت کرنے والے ہیں اور حضرت صاحب سے خاص تعلق رکھنے والے لوگوں میں سے ہیں اور جماعت کپور تھلہ میں شامل ہیں۔ اسی طرح منشی عبدالرحمن صاحب کپور تھلوی اور منشی فیاض الدین صاحب کپور تھلوی ہیں۔ یہ سب لوگ نہایت مخلص اور مولوی محمد احسن صاحب سے بہت پہلے کے بیعت کرنے والے ہیں۔ اسی طرح پیر سراج الحق صاحب نعمانی ہیں جو نہ صرف یہ کہ شروع کی بیعت کرنے والے ہیں بلکہ انہوں نے وقتاً فوقتاً حضرت مسیح موعودؑ کی لمبی صحبت بھی حاصل کی ہے۔ بلکہ جن لوگوں کے اس وقت میں نے نام لکھے ہیں۔ ان میں سے اکثر وہ ہیں کہ جنہوں نے مولوی سید محمد احسن صاحب کی نسبت حضرت مسیح موعودؑ کی لمبی صحبت پائی ہے۔ پس یہ کہنا کہ سید صاحب حضرت مسیح موعودؑ کے سب سے پرانے صحابی ہیں درست نہیں۔ سب سے پہلی کتاب جس میں حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی بیعت کرنے والے لوگوں کے نام درج فرمائے ہیں ازالہ اوہام ہے اور جو نام اس میں درج ہیں اور جن کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کچھ رائے بھی تحریر فرمائی ہے۔ ان میں سے اس وقت جو لوگ زندہ ہیں۔ ان میں سے چودہ آدمی میری بیعت میں شامل ہیں۔ اور کل چار آدمی مولوی صاحب کے ہم خیال ہیں۔ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ پرانے صحابی میرے ہم خیال ہیں یا مولوی صاحب کے؟

سیّد سرور شاہ صاحب اور قاضی امیر حسین صاحب بھی مولوی سیّد محمد احسن صاحب سے کم نہیں!

میں اس امر کے تسلیم کرنے کے لئے بھی تیار نہیں کہ مولوی سید محمد احسن صاحب جماعت کے سب سے بڑے عالم آدمی ہیں علم کا اس رنگ میں فیصلہ کرنا ہر شخص کے لئے آسان نہیں۔ میرے نزدیک مولوی سید سرور شاہ صاحب اور قاضی سید امیر حسین صاحب کسی صورت میں مولوی سید محمد احسن صاحب سے کم نہیں ہیں۔ بلکہ حافظ روشن علی صاحب بھی جو گو نوجوان ہیں۔ مگر علم کے لحاظ سے پیروں میں شامل ہیں۔ غرض نہ قدامت کے لحاظ سے اور نہ علم کے لحاظ سے ان کو دوسروں پر کوئی ایسی فضیلت حاصل ہے کہ ان کے قول کو حجت قرار دیا جاوے ہاں بوجہ اس کے کہ وہ عالم آدمی تھے اور کبر السن تھے ہماری جماعت کے علماء بھی اور دیگر لوگ ان کا احترام اور عزت واجبی طور پر کرتے تھے اور میں تو اب بھی ان کی پہلی عزت کی وجہ سے ان کا ادب ہی کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ سید صاحب کو دھوکا لگا ہوا ہے۔ جب اللہ چاہے گا اور یہ حالت بدل جاوے گی وہ پھر مرکز کی طرف رجوع کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ایسا ہی کرے۔ یہ ایک عارضی ابتلاء ہے جس میں سے میں اُمید کرتا ہوں کہ وہ کامیاب ہو کر نکلیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو کَالَّتِیۡ نَقَضَتۡ غَزۡلَہَا(النحل: ۹۳) کا مصداق نہیں بنائے گا۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْن

خُدا کے بنائے ہوئے خلیفہ کو کوئی معزول نہیں کرسکتا

اب میں ان الزامات کے متعلق کچھ لکھنا چاہتا ہوں جن کی وجہ سے کہا گیا ہے کہ مولوی سید محمد احسن صاحب نے مجھے خلافت سے معزول کیا ہے۔ گو ضمناً میں اس قدر کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ خلیفہ خُدا ہی بناتا ہے اور اسی کی طاقت ہے کہ معزول کرے۔ کسی انسان میں نہ خلیفہ بنانے کی طاقت ہے نہ معزول کرنے کی پس نہ تو میں مولوی سید محمد احسن صاحب کے ذریعہ سے خلیفہ بنا اور ان کے معزول کرنے سے معزول ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے معزول کرنے کے بعد مجھے اور بھی ترقی عطا ہوئی اور ہو رہی ہے۔ اس وقت کے بعد اس وقت پندرہ بیس ہزار آدمی نیا سلسلہ میں داخل ہوچکا ہے اور ترقی روز افزوں ہے۔ اَللّٰھُمَّ زِدْ فَزِدْ

سید محمد احسن صاحب کا بربناءِ عقائد مجھ پر اعتراض درست

سید صاحب نے جو اعتراضات مجھ پر کئے ہیں ۔ ان کے متعلق میں علمی بحث اس جگہ نہیں کروں گا اور نہ یہ ثابت کروں گا کہ وہ عقائد درست ہیں یا غلط کیونکہ عقائد کے متعلق مفصل بحث آگے چل کر کی جاوے گی ۔ اس جگہ میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ سید صاحب موصوف کا مجھ پر ان عقائد کی وجہ سے اعتراض کرنا درست نہیں۔ وہ بیشک کہہ سکتے ہیں کہ ان عقائد کی غلطی چونکہ ان پر ثابت ہو گئی ہے اس لئے وہ ان سے توبہ کرتے ہیں یا وہ کہہ سکتے ہیں کہ ان عقائد کے علاوہ کوئی اور عقائدِ بدعیہ میں نے وضع کئے ہیں اس لئے وہ میری بیعت توڑتے ہیں ، مگر ان عقائد کو نئے اور فاسد عقائد قرار دیکر میرے خلاف اعلان کرنا ان کا حق نہیں ۔ کیونکہ وہ اس سے بہت پہلے ان عقائد کے واقف تھے ۔ بلکہ جب میری بیعت ہوئی ہے اسی وقت ان کو معلوم تھا کہ میرے یہ عقائد ہیں ۔ جیسا کہ مولوی محمد علی صاحب اقرار کر چکے ہیں۔ میرا مضمون کفر و اسلام پر تشحیذ الاذہان اپریل ۱۹۱۱ء کے پرچہ میں شائع ہو چکا تھا اور جیسا کہ وہ اقرار کرتے ہیں اس کے بعد بھی برابر میری طرف سے اس مسئلہ کے متعلق اظہار رائے ہوتا رہا۔ پس جب حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں غیر احمدیوں کو میں کافر قرار دے چکا تھا اور جماعت کا ہر ایک فرد اس مسئلہ سے آگاہ تھا تو مولوی سید محمد احسن صاحب نے میری بیعت کی ہی کیوں تھی اگر یہ عقیدہ ایسا ہے کہ اس کے باعث انسان خلافت کے قابل نہیں رہتا ۔ تو کیا وجہ ہے کہ انہوں نے مسجد نُور میں کھڑے ہو کر میری نسبت خلافت کی تجویز کی بڑے زور سے تائید کی اور اس پر تقریر کی ۔ ان کو تو چاہئے تھا کہ جب لوگوں نے میری بیعت پر زور دیا تھا تو وہ اس کو رد کر دیتے اور فرماتے کہ یہ شخص تو مسلمانوں کو کافر کہتا ہے یہ خلافت کے لائق کیونکر ہو سکتا ہے۔ کفر و اسلام کے مسئلہ پر تو میں نے بعد میں مفصل بحث کبھی کی ہی نہیں۔ اصل مضمون جو

اِس مبحث پر شائع ہوا ہے وہی ہے جو حضرت خلیفہ اوّل کے وقت میں شائع ہوا ہے۔ پس اگر یہی مسئلہ میری خلافت کے منسوخ ہونے کے لئے دلیل ہے تو سیّد صاحب پر الزام آتا ہے کہ اس عقیدہ کے رکھتے ہوئے انہوں نے میری خلافت کی تائید کیوں کی؟ علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اِس مجلس سے پہلے جس میں خلافت کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کیا۔ مولوی محمد علی صاحب مجھ سے ملنے آئے تھے اور اِس وقت مولوی سید محمد احسن صاحب، ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اور نواب محمد علی خان صاحب جاگیردار مالیر کوٹلہ بھی موجود تھے ۔ مولوی محمد علی صاحب نے اِس وقت سوال ہی یہ اُٹھایا تھا کہ خلافت کا فیصلہ اِس وقت اِس لئے مشکل ہو گیا ہے کہ عقائد کا آپس میں اختلاف ہے۔ ایک جماعت مرزا صاحب کو نبی اور ان کے منکروں کو کافر کہتی ہے اور دوسری اس امر کی منکر ہے۔ اور اس پر مولوی سید محمد احسن صاحب ہی تھے جو ان سے ان عقائد کی سچائی پر بحث کرنے لگے تھے گرمئی نے ان کو روکا تھا کہ اس وقت عقائد کا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ اس وقت تو ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ اس عقدہ کو حل کیونکر کیا جاوے۔ عقائد کے تصفیہ کے لئے تو ایک طویل عرصہ چاہئے۔ مَیں اس امر کی صداقت کے لئے حلف اُٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ کیا مولوی محمد علی صاحب بھی اس امر پر حلف اُٹھانے کے لئے تیار ہیں کہ انہوں نے ان دونوں مسئلوں کا ذکر اس مجلس میں نہیں کیا تھا اور سید محمد احسن صاحب ان لوگوں میں سے نہ تھے جنہوں نے ان عقائد کی صحت پر ان سے گفتگو شروع کر دی تھی۔

نبوت مسیح موعودؑ کے متعلق میری ایک تقریر اور مولوی سیّد محمد احسن صاحب کی تائید

باقی رہا مسئلہ نبوت۔ اس کے متعلق بھی جیسا کہ مَیں پہلے لکھ آیا ہوں ۱۹۱۰ء کے جلسہ کے موقع پر مَیں نے ایک تقریر کی تھی اور صاف طور پر کہا تھا کہ مرزا صاحب نبی ہیں۔ اس تقریر کے بہت سے فقرے میں پہلے نقل کر آیا ہوں۔ اس جگہ صرف ایک فقرہ پر اکتفا کرتا ہوں"ایک نبی ہم میں بھی خدا کی طرف سے آیا اگر اس کی اتباع کریں گے تو وہی پھل پائیں گے جو صحابہ کرامؓ کے لئے مقرر ہو چکے ہیں"۔ اس فقرہ میں نہ صرف حضرت مسیح موعود کو نبی کہا گیا ہے بلکہ آپ کا درجہ بھی بتایا گیا ہے کہ آپ کے متبع صحابہؓ کا رنگ رکھتے ہیں۔ اس تقریر کے وقت مولوی سید محمد احسن صاحب موجود تھے اور لیکچر کے ختم ہوتے ہی بلند آواز سے یہ آیۂ کریمہ پڑھنے لگے کہ یَخَافُوۡنَ لَوۡمَۃَ لَآئِمٍ(المائدة: ۵۵) بلکہ دوسرے دن آپ نے مسجد اقصیٰ میں ایک تقریر کی تو اس میں بھی میری اس تقریر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "ایک یہ بھی الہام تھا کہ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ (تذکرہ صفحہ ۲۴۶ ایڈیشن چہارم) مَّظْهَرُ الْحَقِّ وَالْعَلَاءِ الخ (تذکرہ صفحہ ۱۳۹ ایڈیشن چہارم) جو اس حدیث کی پیشگوئی کے مطابق تھا ۔ جو مسیح موعودؑ کے بارے میں ہے کہ يَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُ لَهُ(مشکوٰۃ کتاب الفتن باب نزول عیسیٰ) یعنی آپ کے ہاں ولد صالح عظیم الشان پیدا ہوگا چنانچہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب موجود ہیں منجملہ ذریتِ طیبہ کے اِس تھوڑی سی عمر میں جو خطبہ انہوں نے چند آیاتِ قرآنی کی تفسیر میں بیان فرمایا اور سنایا ہے اور جس قدر معارف اور حقائق بیان کئے ہیں وہ بے نظیر ہیں۔ اب کوئی انہیں معمولی سمجھے اور کہے یہ تو کل کے بچے ہیں ابھی ہمارے ہاتھوں میں پلے ہیں اور کھیلتے کودتے پھرتے تھے تو یاد رہے کہ یہ فرعونی خیالات ہیں۔ چنانچہ فرعون نے بھی حضرت موسیٰؑ سے یہی کہا تھا:۔ اَلَمۡ نُرَبِّکَ فِیۡنَا وَلِیۡدًا وَّلَبِثۡتَ فِیۡنَا مِنۡ عُمُرِکَ سِنِیۡنَ(الشعراء: ۱۹) میرے بھائیو! اگر ایسا خیال کسی کے دل میں آئے تو استغفار پڑھے کیونکہ فرعون کا بُرا انجام ہوا۔ (اخبار بدر ۲۶ جنوری ۱۹۱۱ء جلد ۱۰ نمبر ۳ صفحہ ۲)

پس یہ ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ مولوی سید محمد احسن صاحب کو میرے عقائد کا علم نہ تھا۔ ان کو میرے عقائد کا علم تھا اور ضرور تھا۔ پس پہلے انہی عقائد کے ہوتے ہوئے ان کا میری بیعت کرنا اور پھر انہی عقائد کی بناء پر اس بیعت کو توڑنا کیونکر قابلِ تسلیم ہو سکتا ہے۔ اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ نبوت حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق ہمارا عقیدہ وہی ہے جو تشحیذ الاذہان میں مولوی سید محمد احسن صاحب نے تحریر فرمایا ہے اور صرف نام میں اختلاف ہے۔

اسمئہ احمد کی بحث اور مولوی محمد احسن صاحب کا عدمِ انکار

تیسرا عقیدہ جس کی نسبت کہا گیا ہے کہ یہ نیا بنایا گیا ہے ۔ اسمئہ احمد کا مصداق حضرت مسیح موعودؑ کو قرار دینا ہے۔ یہ عقیدہ بھی غلط ہو یا درست۔ مگر مولوی سید محمد احسن صاحب کے فسخ بیعت سے بہت پہلے شائع ہو چکا ہے اور اس کے بعد وہ برابر مجھ سے تعلق رکھتے رہے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی میں میں نے ایک مضمون اسمئہ احمد والی پیشگوئی میں تحریر کیا تھا مگر آپ کو دکھانے کا موقع نہ ملا۔ وہ شروع ایامِ خلافت میں ہی مکرمی قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل نے رسالہ تشحیذ الاذہان میں شائع کر دیا تھا اور اس کے دو سال بعد مولوی صاحب نے بیعت کے توڑنے کا اعلان کیا ہے اور اس عرصہ میں برابر میری تائید اور مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کی تردید کرتے رہے ہیں پس یہ عقیدہ بھی اصل بناء نہیں ہو سکتا۔

مجھ سے عقائد میں موافقت رکھنے پر سیّد محمد احسن صاحب کی تحریری شہادت

میں اس مضمون کے ختم ہونے سے پہلے مولوی صاحب کی طرف سے ایک تحریری شہادت میں اس امر کی پیش کرتا ہوں کہ مولوی سید محمد احسن صاحب نے ان تینوں عقائد کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے۔ اور ان کے منکروں کو فرعون وغیرہ کہا ہے بلکہ ان کی اشاعت کی وجہ سے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا موعود بیٹا قرار دیا ہے۔

خواجہ کمال الدین صاحب جب ۱۹۱۴ء کے آخر میں ولایت سے واپس آئے تو انہوں نے مولوی محمد علی صاحب کے رفقاء کے جلسہ منعقدہ لاہور میں ایک تقریر کی اور چھپوا کر کثرت سے شائع کی۔ اس کا جواب میں نے ”القول الفصل“ میں دیا۔ اس رسالہ میں میں نے ان تینوں مسئلوں یعنی نبوت حضرت مسیح موعودؑ و کفر غیر احمدیاں اور پیشگوئی اسمہ احمد پر بحث کی ہے۔ چنانچہ ان تینوں مسئلوں کے متعلق میں اس رسالہ میں سے چند فقرات اس جگہ نقل کرتا ہوں۔ نبوت حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق لکھا ہے:۔

”اگر کوئی شخص حقیقی نبی کے یہ معنے کرے کہ وہ نبی جو بناؤٹی یا نقلی نہ ہو۔ بلکہ درحقیقت خدا کی طرف سے خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ اصطلاح کے مطابق قرآن کریم کے بتائے ہوئے معنوں کے رو سے نبی ہو اور نبی کہلانے کا مستحق ہو تمام کمالات نبوت اس میں اس حد تک پائے جاتے ہوں جس حد تک نبیوں میں پائے جانے ضروری ہیں تو میں کہوں گا کہ ان معنوں کے رو سے حضرت مسیح موعودؑ حقیقی نبی تھے۔ گو ان معنوں کی رو سے کہ آپ کوئی نئی شریعت لائے حقیقی نبی نہ تھے۔“ (القول الفصل صفحہ ۱۲ مطبوعہ قادیان جنوری ۱۹۱۵ء)

”ہمارے اعتقاد کے مطابق مسیح موعودؑ کی ظلی اور بروزی نبوت کے صرف اس قدر معنے ہیں کہ آپ کو نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شاگردی اور اطاعت میں ملی ہے اور پہلے نبیوں کو براہِ راست نبوت ملی تھی۔ اور اس کے ہرگز یہ معنے نہیں کہ آپ کی نبوت کوئی آنریری خطاب تھا جس کی کوئی اصل یا حقیقت نہیں۔ اور جس نبوت سے وہ حقوق حاصل نہیں جو نبیوں کو حاصل ہوتے ہیں۔“ (القول الفصل ص ۱۱ مطبوعہ قادیان جنوری ۱۹۱۵ء)

اس رسالہ میں صفحہ ۲ سے لے کر صفحہ ۲۶ تک نبوت کے مسئلہ پر بحث ہے اور اس کے سب پہلوؤں پر مختصراً روشنی ڈالی گئی ہے اور کوئی ایسی بات نہیں جو بیان کرنے سے رہ گئی ہو۔ اس سے آگے صفحہ ۲۷ سے لے کر صفحہ ۳۲ تک اسمہٗ احمد کی پیشگوئی کے متعلق بحث ہے۔ اور اس میں سے بعض فقرات یہ ہیں:۔

”حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے آپ کو احمد لکھا ہے اور لکھا ہے کہ اصل مصداق اس پیشگوئی کا میں ہی ہوں۔ کیونکہ یہاں (آیۃ اسمہٗ احمد واقعہ سورہ صف میں) صرف احمد کی پیشگوئی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم احمد اور محمد دونوں تھے۔“ (القول الفصل صفحہ ۲۷ مطبوعہ قادیان جنوری ۱۹۱۵ء)

پھر لکھا ہے:۔ ”اور اِسْمُہٗ اَحْمَد کا مصداق مسیح موعودؑ ہے“ (القول الفصل صفحہ ۱۱ مطبوعہ قادیان جنوری ۱۹۱۵ء) غرض اس کتاب میں چھ صفحات پر حضرت مسیح موعود کے حوالوں اور حضرت خلیفہ اول کی شہادت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اِسْمُہٗ اَحْمَد والی پیشگوئی کا مصداق ثابت کیا گیا ہے مسئلہ تکفیر غیر احمدیوں کے متعلق صفحہ ۳۳ میں میں نے لکھا ہے:۔ ”دوسرا مسئلہ کفر ہے جس پر خواجہ صاحب نے بحث کی ہے۔ اس مسئلہ پر میں خود حضرت مسیح موعودؑ کی اپنی تحریریں شائع کر چکا ہوں۔ مزید تشریح کی ضرورت نہیں۔ میرا وہی عقیدہ ہے“ اس کے نیچے حاشیہ میں بتایا ہے کہ مفصل دیکھو رسالہ تشحیذ الاذہان اپریل ۱۹۱۱ء۔ یہ وہ رسالہ ہے جس میں میرا چالیس صفحہ کا مضمون تکفیر غیر احمدیان کے متعلق شائع ہوا تھا اور جس میں سے بعض فقرات میں پہلے نقل کر چکا ہوں۔ پھر لکھا ہے:۔ ”پس جو حکم نبی کے انکار کے متعلق قرآن کریم میں ہے۔ وہی مرزا صاحب کے منکر کی نسبت ہے“ (القول الفصل صفحہ ۳۳ مطبوعہ قادیان جنوری ۱۹۱۵ء) ان حوالہ جات سے ثابت ہے کہ القول الفصل میں کھول کھول کر یہ امر بیان کر دیا گیا تھا کہ حضرت مسیح موعودؑ نبی ہیں۔ آپ کے منکر کافر ہیں اور یہ کہ آپ آیت اِسْمُہٗ اَحْمَد کے مصداق ہیں۔ یہ کتاب جنوری ۱۹۱۵ء میں شائع ہوئی ہے اور مولوی سید محمد احسن صاحب کے پاس بھیجی گئی۔ اس کے متعلق مولوی سید محمد احسن صاحب قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل کو تحریر کرتے ہیں:۔ ”القول الفصل اوّل سے اخیر تک خاکسار نے سُنا اس کی نسبت میں عرض کر چکا ہوں کہ اس میں سب طرح سے اتمام حجت منکرین خلافت پر کیا گیا ہے“ پھر ان کے بیٹے سید محمد یعقوب صاحب کا لکھا ہوا ایک خط ان کی طرف سے مجھے بھیجا گیا تھا۔ اس میں وہ لکھتے ہیں:۔ ”رسالہ

اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ وَّمَا هُوَ بِالْهَزْلِ کو خاکسار نے جناب والد صاحب کو سنایا۔ دعاوی صادقہ اور مصدوقہ سن کر ایسے خوش ہوئے کہ عوارض لاحقہ متعلقہ پیری و دیگر امراض کو فراموش کر دیا اور کہنے لگے کہ الحمد للّٰہ میں نے وہ وقت پالیا کہ جس کا میں سالہا سے منتظر تھا۔۔۔۔۔ یہاں پر آل فرعون لاہوریوں کی نسبت جناب والد صاحب کی طرف سے لکھتا ہوں۔ خارجاً معلوم ہوا کہ اس رسالہ الفصل کو ایک شیطان نے یہ کہا کہ مصنف رسالہ شریر ہے، کذاب ہے، چال باز ہے، میں سارے پردے اس کے کھولوں گا۔ یہ قول تو اس کا ایک ادنیٰ ہے۔ اس کا تو وہی حال ہے جو فرعون کا تھا۔۔۔۔ اگر بالآخر توبہ نہ کی تو غرق طوفانِ ضلالت میں ہو جاوے گا۔ آمین۔“ (مؤرخہ ۱۱؍فروری ۱۹۱۵ء)

مولوی سید محمد احسن صاحب کے ان دونوں خطوط سے ثابت ہوتا ہے کہ سید صاحب نے رسالہ القول الفصل کو بغور شروع سے آخر تک سُنا۔ اور اس کے مضمون کو صادقہ اور مصدوقہ پایا۔ یعنی وہ مضامین سچے بھی ہیں اور خدا تعالیٰ اور اس کے راست باز بندوں کی طرف سے ان کی صداقت ثابت بھی کی گئی ہے۔ اور یہ کہ اس کتاب کے سننے سے آپ اس قدر خوش ہوئے کہ آپ کو اپنی بیماری بھی بھول گئی۔ اور آپ نے اس کو سن کر مجھ میں وہ بات پالی۔ جس کے آپ سالہا سال سے منتظر تھے (اس سے آپ کا اشارہ میرے موعود بیٹا ہونے کی طرف ہے جس کا ذکر آپ اکثر خطبات و گفتگو میں فرمایا کرتے تھے) اور اس کتاب کو بُرا کہنے والے کو آلِ فرعون اور فرعون اور طوفانِ ضلالت میں غرق ہونے والا قرار دیا۔ پس اس قدر تائید اور اتفاق کے بعد جو ان مسائل سے سید صاحب ظاہر فرما چکے ہیں۔ انہی مسائل کی بناء پر وہ کس طرح بیعت توڑنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ ایسی بات تو کسی عقلمند کی طرف منسوب نہیں کی جا سکتی۔ ضرور ہے کہ حقیقت کچھ اور ہو۔ اور یا تو مولوی صاحب کو دھوکا دیا گیا ہو یا فریب سے ان کی طرف وہ باتیں منسوب کر دی گئی ہوں۔ جو انہوں نے نہ کہی ہوں۔ پس یہ کہنا کہ سب سے پُرانے اور سب سے عالم صحابی مسیح موعودؑ نے میرے عقائد کے خلاف لکھا ہے ۔ درست نہیں۔ کیونکہ ان مسائل کی اس قدر تائید کے بعد سید صاحب کا ان کو مسائل کفریہ قرار دینا کسی عقلمند کی سمجھ میں نہیں آسکتا۔ مسئلہ تکفیر غیر احمدیاں کے متعلق جو میرا مضمون تشحیذ الاذہان میں شائع ہو چکا ہے۔ اس کی تائید میں مولوی صاحبؒ کا ایک اور خط بھی ہے جس میں سے اقتباس ذیل اُمید ہے کہ حق پسند لوگوں کے لئے مفید ہو گا۔ مولوی صاحب میرے اس مضمون کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:۔

”میری رائے ناقص میں کفر و کافر کی بحث میں آپ نے تبلیغِ کامل کر دی ہے۔ اب اس بحث کی طرف بالکل توجہ نہ فرماویں۔ لَا یَضُرُّکُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اہۡتَدَیۡتُمۡ(المائدة: ۱۰۶)

یہ خط میرے مضمون متعلق تکفیر احمدیاں کے متعلق ہے۔ جو اپریل ۱۹۱۱ء میں شائع ہوا اور یہ خط ۶؍ستمبر ۱۹۱۱ء کو مولوی صاحب نے میرے نام اپنے وطن امروہہ سے لکھا۔

تاریخ اختلافِ سلسلہ کا دسواں امر

دسویں بات مولوی صاحب یہ تحریر فرماتے ہیں کہ سیّد صاحب کے علاوہ اور بہت سے تعلیم یافتہ بھی میرے عقائد سے بیزار ہو رہے ہیں۔ اور میری مخالفت روز بروز نمایاں ہو رہی ہے۔

میں اس امر کے متعلق پہلے بھی لکھ آیا ہوں اور اب پھر لکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے میری جماعت کے تمام لوگ الا ماشاء اللہ عقائد میں میرے متفق ہیں۔ اور کیا عقل اس بات کو تجویز کر سکتی ہے کہ اس آزادی کے زمانہ میں جبکہ نہ میرے پاس حکومت ہے نہ طاقت تعلیم یافتہ لوگ میرے خیالات سے بیزار بھی ہوں اور پھر میرے ساتھ بھی ہوں۔ ان کا میرے ساتھ ہونا ہی اس امر کی علامت ہے کہ وہ میرے ہم خیال ہیں۔ اور اگر فی الواقع مولوی صاحب کا یہ دعویٰ درست ہے تو کم سے کم متو ایسے تعلیم یافتوں کی فہرست شائع کر دیں جو میرے عقائد سے بیزار ہیں اور اگر ان کی مراد ان چند مرتدین سے ہے جو میری جماعت سے نکل کر ان کے ساتھ جاملے ہیں تو میں اس بات کے لئے بھی تیار ہوں کہ مولوی صاحب ان لوگوں کی فہرست کا مقابلہ ان لوگوں کی تعداد سے کر لیں جو ان سے جدا ہو کر اللہ تعالیٰ کے فضل سے میری بیعت میں داخل ہوئے ہیں۔

تاریخ اختلافِ سلسلہ کا گیارہواں امر

گیارہویں بات مولوی صاحب یہ تحریر فرماتے ہیں کہ بوجہ تنگ ظرفی کے میں احمدیوں کو فاسق کہتا ہوں۔ مگر تعجب ہے کہ یہ الفاظ اس شخص کے منہ سے نکلتے ہیں جو اسی کتاب کے ابتدائی صفحات میں مجھے اور میرے ساتھیوں کو ضال کہہ چکا ہے۔ کیا ضال زیادہ سخت لفظ ہے یا فاسق؟ ضال کا لفظ تو ایسا سخت ہے کہ پانچ وقت کی نمازوں میں مسلمانوں کو حکم ہے کہ دعا مانگیں کہ ہم ضال نہ ہو جائیں۔ مگر با وجود اس کے مولوی صاحب ہمیں ضال کہتے ہیں۔ دیکھو سپلٹ صفحہ ۳ تا ۸۔ اگر کہیں کہ ہم تو قرآن کریم اور حدیث کے مطابق کہتے ہیں۔ تو ہمارا جواب یہ ہے کہ ہم آپ کو سورہ نور کی آیت لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ کے ماتحت فاسق کہتے ہیں۔ جس میں خلفاء کے ذکر کے ساتھ فرمایا ہے وَمَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ(النور: ۵۶) اور آپ کے پاس تو ہمیں ضال کہنے کی کوئی دلیل نہیں جیسا کہ میں پہلے ثابت کر چکا ہوں۔ مگر ہمارے پاس دلیل ہے کیونکہ علاوہ قرآن کریم کے صاف ارشاد کے حضرت خلیفۃ المسیح علی الاعلان اپنے نہ ماننے والوں پر فاسق کا فتویٰ لگا چکے ہیں۔ اور آپ لوگ ان کی بات کو تسلیم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

تاریخ اختلاف سلسلہ کا بارہواں امر

بارہویں بات اختلاف سلسلہ کے متعلق مولوی صاحب نے یہ تحریر فرمائی ہے کہ میں نے ایک تدبیر ایسی کر رکھی ہے کہ جس کی وجہ سے جماعت کو اندھیرے میں رکھا ہے اور کہہ دیا ہے کہ کوئی احمدی ان سے تعلق نہ رکھے۔ ان کے ساتھ مل کر کھانا نہ کھائے اور نہ ان سے کوئی دوستانہ گفتگو کرے اور نہ ان کی شائع کردہ کتاب یا رسالہ پڑھے اور اس وجہ سے میرے متبع ان دلائل سے ناواقف ہیں جن کے ذریعہ سے میرے ان عقائد کی جو مسیح موعودؑ کے مخالف ہیں تردید کی جاتی ہے۔ یہ آخری کڑی مولوی صاحب کے بیان کردہ واقعات اختلاف سلسلہ کی بھی ویسی ہی کمزور اور جعلی ہے جیسی کہ پہلی، کیونکہ میں نے کبھی کسی مبائع سے نہیں کہا کہ وہ غیر مبائعین سے دوستی نہ رکھے اور ان سے مل کر کھاوے نہیں اور نہ ان کی کتاب پڑھے۔ یہ ایک جھوٹ ہے جو مولوی صاحب نے مجھ پر باندھا ہے۔ اس کے برخلاف میں دیکھتا ہوں کہ ۱۹۱۵ء میں جب عزیزم عبدالحی مرحوم (ولد حضرت خلیفہ اول) کی وفات پر مولوی صاحب معہ چند رفقاء کے یہاں تشریف لائے تو میں نے ان کی دعوت کی اور مولوی شیر علی صاحب کو بھیجا کہ وہ ان کو بلا لائیں بلکہ اس سے بھی پہلے اسی سال میں مجھے لاہور برائے علاج جانے کا اتفاق ہوا۔ تو مبر مبائعین میں سے بعض نے مولوی صاحب اور ان کے رفقاء کی دعوت کی مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ پھر ایک دفعہ شیخ رحمت اللہ صاحب قادیان تشریف لائے اور سیدھے مقبرہ بہشتی کو چلے گئے۔ مجھے کسی نے اطلاع دی۔ میں نے ان کے بلانے کے لئے آدمی بھیجے اور پھر خود بھی گیا اور ان سے ملا اور ان سے ٹھہرنے کے لئے کہا۔ لیکن بوجہ ضروری کام کے انہوں نے عذر کیا۔ اسی طرح ہماری جماعت کے لوگ جہاں جہاں غیر مبائعین پائے جاتے ہیں ان سے ملتے رہتے ہیں۔ مگر بعض لوگ متفنی ہوتے ہیں اور شرارت پر آمادہ رہتے ہیں اور دھوکا دہی ان کا کام ہوتا ہے اور فساد کی وہ جستجو میں رہتے ہیں اور بد عقیدگی کے بانی اور اختلاف کے محرک ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے بیشک میری جماعت کے لوگ کنارہ کرتے ہیں اور ایسے لوگوں سے اپنی جماعت کے لوگوں کا ملنا بیشک میں ناپسند بھی کرتا ہوں مگر مجھے نہیں یاد کہ میں نے کبھی اس مضمون کا اعلان کیا ہو۔ اور جبکہ مولوی محمد علی صاحب خود ہماری دعوت کو رد کر چکے ہیں تو پھر ان کا کیا حق ہے کہ وہ ہم پر الزام

دھریں ۔ وہ خود دعوتِ مسنونہ کے رد کرنے کے مجرم ہیں۔ اور ان کے اس فعل کے بعد ہم پر ہرگز واجب نہیں ہے کہ ہم ان کی دعوت قبول کریں۔ ان کی دعوت کا قبول کرنا اب بے غیرتی ہے اور مومن بے غیرت نہیں ہوتا۔ میں نے تو مدت تک چاہا کہ ان لوگوں سے تعلقات قطع نہ ہوں اور یہ لوگ راستی کی طرح آویں۔ مگر مولوی صاحب نے شروع میں افتراق اور فساد میں اپنا فائدہ دیکھا۔ قادیان کو چھوڑ کر چلے گئے اور اپنی الگ انجمن بنالی۔ اور مجھ پر طرح طرح کے اتہام لگائے اس کے بعد ان کا کیا حق ہے کہ وہ ہم سے میل جول کی درخواست کریں۔ اول تو خلافت کا انکار کر کے اور جماعت کو فتنہ میں ڈال کر مولوی صاحب اور ان کے وہ ساتھی جو بانیِ فساد ہیں شرعاً اس امر کے مستحق تھے کہ ان سے قطع تعلق کیا جائےاور بالکل ان سے علیحدگی اختیار کی جائے۔ مگر جبکہ ان سے خاص رعایت کر کے ہم نے چاہا کہ ان سے میل جول کریں تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ اور با وجود بار بار کی درخواست کے ہماری دعوت کو رد کر دیا۔ اور اب اُلٹے ہم پر الزام لگاتے ہیں۔

قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل کی تحریر مولوی محمد علی صاحب کے مفیدِ مطلب نہیں

مولوی صاحب اور ان کے رفقاء اس الزام کی تائید میں مکرمی قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل کے ایک مضمون کا حوالہ دیا کرتے ہیں۔ جس میں انہوں نے خواجہ صاحب کی آمد پر ان سے ہوشیار رہنے کے لئے جماعت کو توجہ دلائی تھی۔ مگر ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ اول تو یہ مضمون میرا نہیں بلکہ میری جماعت کے لوگوں میں سے ایک شخص کا خیال ہے۔ دوم۔ یہ کہ قاضی صاحب تو عام احمدیوں کو رئیس المفسدین کے متعلق ایک نصیحت کرتے ہیں۔ عام مبائعین اور غیر مبائعین کے تعلقات یا دونوں فریق کے سربرآوردوں کے آپس کے تعلقات کے متعلق کہاں ذکر کیا گیا ہے۔ چنانچہ خود قاضی صاحب موصوف مولوی صاحب سے ملنے کے لئے پیغام بلڈنگس میں گئے تھے۔ مگر مولوی صاحب نے ان کی طرف بالکل توجہ نہ کی اور اکرام ضیف کا بھی خیال نہ رکھا۔ مگر قاضی صاحب کا مضمون عام ہوتا تو وہ خود کیوں مولوی صاحب کو ملنے جاتے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ ایک بہانہ ہے جو ان لوگوں نے ہم سے جدائی کے لئے بنایا ہے۔ اگر واقع میں دیکھا جائے تو میرے مبائعین ان سے بہت زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔ بہ نسبت اس کے جو ان کے ہمراہی مبائعین سے رکھتے ہیں۔ ہر سال ان کے جلسہ پر ہمارے کچھ نہ کچھ آدمی جاتے ہیں مگر ان کے آدمی سوائے اس سال کے کہ خاص طور پر مدعو کئے جانے پر چند آدمی آئے تھے کبھی نہیں آئے بلکہ جب کوئی ہمارا آدمی چلا جاوے تو اس کی سخت ہتک کی جاتی ہے اور ذلیل کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ایک دوست میاں عبد العزیز صاحب اوورسیئر کا خط چند دن ہی ہوئے مجھے ملا ہے کہ میں ان لوگوں کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے اپنے پاس اُترنے بھی نہیں دیا۔ غرض ان لوگوں کی سختی میرے احباب سے اس قدر بڑھی ہوئی ہے اور پھر دھوکا دہی اس قدر ترقی کر گئی ہوئی ہے کہ ان لوگوں کے پاس جا کر ہمارے احباب کی عزتیں معرض خطر میں ہوتی ہیں اور سوائے ایسے لوگوں کے کہ جن سے انہیں امید ہو کہ شاید ہم میں مل جاویں یا صاحب ثروت لوگ ہوں کہ ان سے کچھ فائدہ اُٹھانا چاہیں دوسروں کو یہ لوگ منہ لگانا بھی پسند نہیں کرتے۔

کتابوں کے متعلق بھی اگر دیکھا جاوے تو میری جماعت میں ایسے بہت لوگ ملیں گے جنہوں نے ان کی کتابیں پڑھیں ہیں بہ نسبت مولوی صاحب کے ایسے ہم خیال لوگوں کے جنہوں نے میری کتب پڑھی ہیں۔

مولوی محمد علی صاحب کے اعتراض کا ایک اور طریق سے دفعیہ

آخر میں میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس وقت کہ میں یہ حصہ مضمون لکھ رہا ہوں۔ مولوی صاحب کا یہ اعتراض کہ ان کے مُرید اس لئے دھوکے میں پھنسے ہوئے ہیں کہ یہ ان کو ہماری باتیں سننے نہیں دیتے۔ ایک اور طرح بھی دُور کر دیا گیا ہے اور بالکل بے حقیقت اور جھوٹا ہو گیا ہے اور وہ اس طرح کہ جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں اس جلسہ پر یعنی ۱۹۱۸ء کے جلسہ سالانہ پر بوجہ میری بیماری کے دسمبر ۱۹۱۸ء سے ملتوی کر کے مارچ ۱۹۱۹ء کو کیا گیا تھا۔ میری طرف سے خاص طور پر غیر مبائعین کو بلوایا گیا تھا۔ چنانچہ تیس کے قریب ان کے چیدہ آدمی آئے جنہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ ان کو بولنے کا وقت دیا جائے چونکہ یہ لوگ مدعو تھے یہ خیال کر کے کہ وہ ہمارے مہمان ہیں میں نے ان کی درخواست کو قبول کر لیا اور انہیں کہا کہ وہ اپنے میں سے ایک آدمی مقرر کریں جو ان کے خیالات کو حاضرین جلسہ کے سامنے بیان کرے اور اتنے وقت کے لئے بول سکے جس قدر وقت کہ انہوں نے ہمارے آدمی کو اپنے جلسے میں بولنے کے لئے دیا

تھا۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چونکہ وفد کے ممبروں میں سے کوئی ایسا موزوں آدمی نہیں ہے جو کہ اس موقع پر بول سکے اس لئے اجازت دی جائے کہ سید مدثر شاہ ان کی طرف سے بولیں انہوں نے یہ بھی درخواست کی کہ ان کے لیکچرار کو تقریر کے لئے اس سے زیادہ وقت دیا جائے جو انہوں نے اپنے جلسے میں ہمارے نمائندے کو دیا تھا ۔ میں نے ان کی دونوں درخواستوں کو منظور کر لیا۔ چنانچہ حافظ روشن علی صاحب کی تقریر کے بعد جس کا عنوان ”نبوت مسیح موعود“ تھا اجازت دی گئی کہ فریق مخالف کے نمائندہ ایک گھنٹہ تک حاضرین جلسہ کے سامنے جنکی تعداد قریب چھ ہزار احمدیوں کی تھی اور جو ملک کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے تھے اپنے خیالات کا اظہار کرے چنانچہ میر مدثر شاہ صاحب نے ایک گھنٹہ تک تقریر کی جب وہ اپنی تقریر کو ختم کر چکے تو ان کے دلائل کو میر محمد اسحق صاحب نے رَد کیا۔ اس واقعہ نے ہمیشہ کے لئے فریقِ مقابل کی اس شکایت کو دُور کر دیا کہ احمدیوں کو ان کے دلائل سننے سے روکا جاتا ہے۔ الحمد للہ کہ فریقِ مقابل کے خیالات سننے سے احمدیوں کا ایمان اپنے عقائد کے متعلق اور بھی مضبوط ہو گیا۔ اور ان پر فریقِ مقابل کے خیالات کی کمزوریاں اور غلطیاں کھل گئیں میر محمد اسحق صاحب کی تقریر سے اس قرآنی صداقت کی ایک اور مثال قائم ہو گئی کہ سچ کے آگے جھوٹ نہیں ٹھہر سکتا ۔

اب میں یکے بعد دیگرے تمام ان باتوں کا جو مولوی محمد علی صاحب کی کتاب ”اختلافاتِ سلسلہ“ میں قابلِ رَد تھیں رَد کر چکا ہوں اور مَیں یقین رکھتا ہوں کہ جو شخص بھی ان دلائل کو منصفانہ نظر سے دیکھے گا اسے پورا پورا یقین ہو جائے گا کہ مولوی محمد علی صاحب اپنی کتاب ”دی سپلٹ“ میں تواتر غلط بیانیوں سے کام لیتے چلے گئے ۔ اور اختلافات سلسلہ کو بیان کرتے وقت انہوں نے کم سے کم چوبیس جگہوں پر جان بوجھ کر اور خدا کے خوف اور فہر سے الگ ہو کر خلاف بیانی سے کام لیا ہے ۔ وہ لوگ جو دور دراز ممالک میں رہتے ہیں اور سلسلہ کے مرکز سے پیوستگی کے ان کے پاس سامان نہیں ہیں اور اس کے حالات سے پوری طرح واقف نہیں ہیں وہ اس طرح واقعات کی حقیقت کا اندازہ نہیں لگا سکتے جس طرح کہ وہ لوگ جنہوں نے کہ ان واقعات کو بچشم خود دیکھا ہے ۔ تاہم وہ زبردست شہادتیں جو اس کتاب میں جمع کر دی گئی ہیں وہ اُمید ہے کہ ان کو بھی آسانی سے صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے قابل کر دیں گی اور اس مقولہ کے مطابق کہ دیگ میں سے ایک چاول ہی کافی ہوتا ہے ۔ وہ پیچدار اور صداقت سے دور باتیں جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے ۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہوں گی کہ وہ شخص جس نے ان کو پبلک کے سامنے پیش کرنے کی دلیری کی ہے کس دل و دماغ کا انسان ہے۔ جن باتوں کے متعلق مَیں نے تحریری ثبوت پیش کر دیا ہے۔ ان باتوں کے متعلق کسی اور شہادت کی ضرورت ہی نہیں۔ مگر جو امور ایسے ہیں کہ جن کے متعلق کوئی تحریری شہادت پیش نہیں کی جا سکتی صرف زبانی شہادت سے ان کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کے متعلق میں مولوی محمد علی صاحب کو چیلنج دیتا ہوں کہ اگر وہ ان کے متعلق میرے بیان کو جھوٹا قرار دیتے ہیں تو قسم کھا کر بیان کریں کہ میں نے ان کے بیان کرنے میں جھوٹ سے کام لیا ہے۔ لیکن میں خوب جانتا ہوں کہ مولوی صاحب اس طریق کو کبھی اختیار نہیں کرینگے کیونکہ وہ قسم اور مباہلہ کے ذریعہ سے فیصلہ کرنے کو نہایت حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ حالانکہ یہ طریقِ فیصلہ اسلام کا پسندیدہ بلکہ اسلام کی صداقت کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ ڈرتے ہیں کہ اس طریقِ فیصلہ کو اختیار کر کے وہ خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑکا کر اپنی ہلاکت کا سامان نہ پیدا کر لیں اور ان کی شامتِ اعمال ان کے پیش نہ آ جائے ۔

وَ اٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

باب دوم

اختلافات سلسلہ کی سچی تاریخ کے صحیح حالات

مولوی محمد علی صاحب نے اختلاف سلسلہ کے بیان کرنے میں جن غلط بیانیوں سے کام لیا ہے۔ ان کی تردید کے بعد اب میں اختلافات کے صحیح حالات تحریر کرتا ہوں۔ تاکہ ہمارے وہ احباب جو اس وقت تک اس اختلاف کی حقیقت سے واقف نہیں اس سے آگاہ ہو جاویں اور وہ لوگ بھی جو سلسلہ میں تو داخل نہیں لیکن اس سے دلچسپی رکھتے ہیں اور اختلاف کو دیکھ کر شش و پنج میں ہیں اصل حالات کا علم حاصل کر کے کسی نتیجہ پر پہنچنے کے قابل ہوسکیں ۔

رُوحانی سلسلوں میں کمزور ایمان والے

ہر ایک رُوحانی سلسلہ میں کچھ لوگ ایسے بھی داخل ہو جاتے ہیں جو گو اس کو سچا سمجھ کر ہی اس میں داخل ہوتے ہیں لیکن ان کا فیصلہ سطحی ہوتا ہے اور حق ان کے دل میں داخل نہیں ہوا ہوتا۔ ان کا ابتدائی جوش بعض دفعہ اصل مخلصوں سے بھی ان کو بڑھا کر دکھاتا ہے۔ مگر ایمان کی جڑیں مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے ہر وقت خطرہ ہوتا ہے کہ وہ مرکز سے ہٹ جائیں اور حق کو پھینک دیں۔ ایسے ہی چند لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سلسلہ میں بھی داخل ہوئے اور ان کی وجہ سے اور بہت سے لوگوں کو بھی ابتلاء آیا۔

خواجہ کمال الدین صاحب کا احمدیت میں داخلہ

خواجہ کمال الدین صاحب جو وولنگ مشن کی وجہ سے خوب مشہور ہو چکے ہیں میرے نزدیک اس سب اختلاف کے بانی ہیں اور مولوی محمد علی صاحب ان کے شاگرد ہیں جو بہت بعد ان کے ساتھ شامل ہوئے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ ہماری طرف سے متعدد دفعہ یہ بات شائع ہو چکی ہے کہ اصل میں خواجہ صاحب کے دل میں حضرت مسیح موعود کے متعلق کئی قسم کے شکوک پیدا ہو گئے تھے اور انہوں نے مولوی محمد علی صاحب سے بیان کئے جس سے ان کے خیالات بھی خراب ہو گئے۔ اسی وجہ سے اس قصہ کے مشابہ قصہ تیار کرنے کے لئے ان کو ظہیر الدین کا قصہ تیار کرنا پڑا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ خواجہ کمال الدین صاحب اس سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں تو اس کو حق سمجھ کر ہی داخل ہوئے تھے۔ لیکن ان کے داخل ہونے کا یہ باعث نہ تھا کہ سلسلہ کی صداقت ان کے دل میں گھر کر گئی تھی۔ بلکہ اصل باعث یہ تھا کہ وہ اسلام سے بیزار ہو کر مسیحیت کی طرف متوجہ ہو رہے تھے اور چونکہ اہل و عیال اور عزیز و اقارب کو چھوڑنا کوئی آسان کام نہیں ان کا دل اس وقت سخت کشمکش میں تھا۔ پس جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کے سامنے انہوں نے مسیحی پادریوں کو بھاگتے دیکھا تو ان کو اس کشمکش سے نجات ہوئی۔ اور ان کو اسلام میں بھی ایک ایسا مقام نظر آنے لگا جہاں انسان اپنا قدم جما کر مغربی علوم کے حملوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ چونکہ یہ فائدہ ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے حاصل ہوا تھا وہ آپ کی جماعت میں شامل ہو گئے اور اس وقت خیال کر کے یہی کہنا چاہئے کہ سچے دل سے داخل ہوئے اور واقع میں جس شخص کے ذریعہ سے انسان ایسے خطرناک ابتلاء سے بچے وہ اسے ہر ایک درجہ دینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ پس مسیح موعودؑ کو خواجہ صاحب نے مانا تو سہی لیکن آپ کے دعوٰی کی صداقت کا امتحان کر کے نہیں بلکہ اس کے احسان سے متاثر ہو کر جو اسے مسیحیت سے بچانے اور اپنے رشتہ داروں کی جدائی سے محفوظ کر دینے کی صورت میں اس نے کیا یہ بات ظاہر ہے کہ ایسا تعلق دیر پا نہیں ہوتا۔ جوں جوں زمانہ گزرتا گیا اور خواجہ صاحب کی نظر سے وہ زمانہ اوجھل ہوتا گیا۔ جب وہ مسیحیت اور اسلام کے درمیان کھڑے تھے۔ اور ایک طرف تو مسیحیت کی دلفریب تعلیم انہیں لبھا رہی تھی اور دوسری طرف اپنے عزیز واقرباء کی جُدائی ان کو خوف دلا رہی تھی ان کا ایمان اور تعلق بھی کمزور ہوتا گیا۔ حتیٰ کہ ڈپٹی آتھم کی پیشگوئی کے وقت وہ مُرتد ہوتے ہوتے بچے۔

مسیح موعودؑ کا مضمون برائے جلسہ اعظم اور خواجہ صاحب

۱۸۹۶ء میں جب لاہور میں جلسہ اعظم کی بنیاد پڑی اور حضرت مسیح موعودؑ کو بھی اس میں مضمون لکھنے کے لئے کہا گیا تو خواجہ صاحب ہی پیغام لے کر آئے تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ کو ان دنوں میں اسہال کی تکلیف تھی باوجود اس تکلیف کے آپ نے مضمون کا لکھنا شروع کیا اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ختم کیا۔ مضمون جب خواجہ صاحب کو حضرت مسیح موعودؑ نے دیا۔ تو انہوں نے اس پر بہت کچھ ناامیدی کا اظہار کیا۔ اور خیال ظاہر کیا کہ یہ مضمون قدر کی نگاہوں سے نہ دیکھا جاوے گا اور خواہ مخواہ ہنسی کا موجب ہوگا۔ مگر حضرت مسیح موعودؑ کو خدا تعالیٰ نے بتایا کہ مضمون بالا رہا چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ نے قبل از وقت اس الہام کے متعلق اشتہار لکھ کر لاہور میں شائع کرنا مناسب سمجھا۔ اور اشتہار لکھ کر خواجہ صاحب کو دیا کہ اسے تمام لاہور میں شائع اور چسپاں کیا جائے اور خواجہ صاحب کو بہت کچھ تسلی اور تشفی بھی دلائی۔ مگر خواجہ صاحب چونکہ فیصلہ کئے بیٹھے تھے کہ مضمون نعوذ باللہ لغو اور بیہودہ ہے انہوں نے نہ خود اشتہار شائع کیا نہ لوگوں کو شائع کرنے دیا۔ آخر حضرت مسیح موعودؑ کا حکم بتا کر جب بعض لوگوں نے خاص زور دیا تو رات کے وقت لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو کر چند اشتہار دیواروں پر اونچے کر کے لگا دیئے گئے تاکہ لوگ ان کو پڑھ نہ سکیں اور حضرت مسیح موعودؑ کو بھی کہا جاسکے کہ ان کے حکم کی تعمیل کردی گئی ہے۔ کیونکہ خواجہ صاحب کے خیال میں وہ مضمون جس کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ ”بالا رہا“ اس قابل نہ تھا کہ اسے ایسے بڑے بڑے محققین کی مجلس میں پیش کیا جاوے۔ آخر وہ دن آیا جس دن اس مضمون کو سنایا جانا تھا مضمون جب سنایا جانا شروع ہوا تو ابھی چند منٹ نہ گزرے تھے کہ لوگ بت بن گئے اور ایسا ہوا گویا ان پر سحر کیا ہوا ہے وقت مقررہ گزر گیا مگر لوگوں کی دلچسپی میں کچھ کمی نہ آئی اور وقت بڑھایا گیا مگر وہ بھی کافی نہ ہوا۔ آخر لوگوں کے اصرار سے جلسہ کا ایک دن اور بڑھایا گیا اور اس دن بقیہ لیکچر حضرت مسیح موعودؑ کا ختم کیا گیا۔ مخالف اور موافق سب نے بالاتفاق کہا کہ حضرت مسیح موعودؑ کا لیکچر سب سے بالا رہا اور خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی بات پوری ہوئی۔ مگر اس زبردست پیشگوئیکو خواجہ صاحب کی کمزوری ایمان نے پوشیدہ کر دیا۔ اب ہم ان واقعات کو سناتے ہیں مگر کجا ہمارے سنانے کا اثر اور کجا وہ اثر جو اس اشتہار کے قبل از وقت شائع کر دینے سے ہوتا۔ اس صورت میں اس پیشگوئی کو جو اہمیت حاصل ہوتی ہر ایک شخص بخوبی ذہن میں لاسکتا ہے۔

خواجہ صاحب کی احمدیت کے مغز سے ناواقفیت

اسی قسم کے اور بہت سے واقعات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ خواجہ صاحب نے احمدیت کے مغز کو نہیں پایا تھا اور ان کا احمدیت میں داخل ہونا درحقیقت اس احسان کا نتیجہ تھا جو حضرت مسیح موعودؑ نے ان پر کیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر دشمنوں کی طرف سے بعض مقدمات ہوئے ان میں خواجہ صاحب پیروکار ہوتے تھے۔ اس دوران میں بھی خواجہ صاحب نے بعض کمزوریاں دکھائیں جن کے بیان کرنے کا یہاں موقع نہیں۔

۱۹۰۵ء میں ”وطن“ اخبار کی ایک تحریک پر کہ ریویو آف ریلیجنز میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر نکال دیا جاوے اور عام اسلامی باتیں ہوں تو غیر احمدی بھی اس میں مدد کریں گے خواجہ صاحب تیار ہوگئے کہ ایسا ہی کرلیا جاوے اور یہ فیصلہ بھی کرلیا کہ ایک ضمیمہ ریویو کے ساتھ ہو جس میں کہ سلسلہ کے متعلق ذکر ہو اصل رسالہ میں عام باتیں ہوں۔ اس فیصلہ پر اس قدر شور ہوا کہ آخر ان کو دبنا پڑا اور یہ تجویز خواجہ صاحب کے دل ہی دل میں رہ گئی۔ مگر خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کی اس تحریک سے ایک شخص ڈاکٹر عبدالحکیم مُرتد کو جو مدت سے گندے عقائد میں مبتلا تھا جرأت ہوگئی اور اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس بارہ میں خط و کتابت شروع کردی اور گو محرک اس خط و کتابت کا خواجہ صاحب کا سمجھوتہ تھا۔ جو ایڈیٹر وطن سے ریویو کے متعلق کیا گیا تھا ۔ مگر دراصل اس خط و کتابت میں بعض ایسے عقائد کی بنیاد پڑ گئی جو آئندہ کے لئے غیر مبائعین کے عقائد کا مرکزی نقطہ قرار پائے۔ عبدالحکیم نے ابتداء ۱۹۰۶ء میں حضرت مسیح موعودؐ کو سب سے پہلا خط لکھا تھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ

۱۔ سوائے ان کے جو ہمیں کافر کہتے ہیں باقی کے پیچھے نماز جائز ہونی چاہئے۔

۲۔ ریویو آف ریلیجنز کے متعلق جو تجویز خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب نے کی تھی اسے مان لیا جاوے اور اس پر عمل کیا جاوے۔

۳۔ حضرت مسیح کا وجود خادمِ اسلام ہے نہ اصل اسلام پس آپ کے وجود کو پیش کرنے کی خاطر اسلام کی اشاعت میں روک نہ ڈالی جاوے۔

۴۔ عام قاعدہ حکمت کے ماتحت پہلے شرک، بدعت وغیرہ بڑے بڑے مسائل لوگوں کے سامنے پیش کئے جاویں پھر حضرت مسیح موعودؑ کی ذات کو پیش کیا جاوے۔

۵۔ صرف وفاتِ مسیح پر اس قدر زور نہ دیا جاوے دوسرے مسائلِ اسلام کی طرف بھی توجہ کی جاوے۔

۶۔ احمدیوں کی اخلاقی حالت بہت گری ہوئی ہے ان کی عملی حالت کی درستی کی طرف خاص توجہ کی جاوے۔

۷۔ ہماری جماعت کا مشنری کام بہت سُست ہے اس کی طرف خاص توجہ کی جائے۔ ہم غیر احمدی مسلمانوں سے سلام تک ترک کر بیٹھے ہیں حالانکہ عدم تبلیغ کے مجرم ہم ہیں۔

۸۔ اسلام کی طرف سچی رہبر فطرت صحیحہ اور سچی تعلیم ہے نہ کہ محض پیشگوئیاں۔ پس قرآنی تعلیم کو مردہ قرار

دینا حد درجہ کی بے باکی ہے (یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے جو وطن کی تحریک کے متعلق کہی گئی تھی کہ حضرت مسیح موعودؑ کا ذکر درمیان سے ہٹا کر کیا مردہ اسلام پیش کیا جاوے۔ مرزا محمود احمد) اگر احمدؐ اور محمدؐ جدا نہیں تو جس رنگ میں محمدیؐ تعلیم تیرہ سو سال سے ہوتی چلی آئی ہے اسے اب مُردہ کیوں قرار دیا جاوے۔ اسلام کی ہتک اس سے زیادہ نہیں ہو سکتی کہ اس کی زندگی کا دارو مدار ایک تیرہ سو سال بعد آنے والے شخص پر رکھا جاوے۔

۹۔ یہ علمی زمانہ ہے قرآن کریم کے علمی مضامین کی اشاعت سے بہت فائدہ کی اُمید تھی ضمیمہ الگ شائع ہوتا مرید اسے لیتے اور ریویو کی اشاعت بڑھ جاتی مگر افسوس کہ احمدی جماعت نے تنگ ظرفی کا نمونہ دکھایا اور جب کہ غیر احمدی تنگ ظرفی کی دیوار کو توڑنے لگے تھے انہوں نے اسے کھڑا کر دیا۔

پھر دوسرے خط میں لکھا ہے:۔ "کیا آپ کے نزدیک تیرہ کروڑ مسلمانوں میں کوئی بھی سچا خدا پرست راستباز نہیں۔ کیا محمدی اثر اس تمام جماعت پر سے اُٹھ گیا۔ کیا اسلام بالکل مُردہ ہو گیا۔ کیا قرآن مجید بالکل بے اثر ہو گیا۔ کیا رب العالمین ، محمدؐ ، قرآن ، فطرت اللہ اور عقل انسان بالکل معطل اور بیکار ہو گئے کہ آپ کی جماعت کے سوا نہ باقی مسلمانوں میں راست باز ہیں نہ باقی دنیا میں بلکہ تمام کے تمام سیاہ باطن سیاہ کار اور جہنمی ہیں"

مجھے اس جگہ اس امر پر بحث نہیں کہ اس کے ان خطوط کا حضرت مسیح موعودؑ نے کیا جواب دیا کیونکہ ان مسائل کے متعلق آگے بحث ہوگی۔ اس وقت اسی قدر کہہ دینا کافی ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے اس کے ان خطوط کے جواب میں لکھ دیا کہ :۔ "اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ ہزار ہا آدمی جو میری جماعت میں شامل نہیں کیا راست بازوں سے خالی ہیں تو ایسا ہی آپ کو یہ خیال بھی کر لینا چاہئے کہ وہ ہزار ہا یہود اور نصاریٰ جو اسلام نہیں لائے۔ کیا وہ راست بازوں سے خالی تھے۔ بہرحال جبکہ خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے ۔ اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے ۔ وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مؤاخذہ ہے۔ تو یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ اب میں ایک شخص کے کہنے سے جس کا دل ہزاروں تاریکیوں میں مبتلا مد ہے خدا کے حکم کو چھوڑ دوں۔ اس سے سہل تر یہ بات ہے کہ ایسے شخص کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا جاوے

اس لئے میں آج کی تاریخ سے آپ کو اپنی جماعت سے خارج کرتا ہوں“۔ گو حضرت مسیح موعودؑ کی اس فوری اور سخت تنبیہ کا یہ نتیجہ تو نکلا کہ جماعت میں سے کسی اور شخص کو اس وقت عبدالحکیم کے خیالات کی تائید اور تصدیق کرنے کی جرأت نہیں ہوئی ،مگر معلوم ہوتا ہے کہ اندر ہی اندر بعض لوگوں کے دل میں یہ خیالات گھر کر چکے تھے اور ان لوگوں کے سردار خواجہ صاحب تھے ۔ واقعات بتاتے ہیں کہ خواجہ صاحب کا ایمان اندر سے کھوکھلا ہو چکا تھا۔ بعد کی ان کی تحریرات سے ظاہر ہے کہ وہ ان خیالات کا شکار ہو گئے تھے اور اب سب دنیا دیکھ رہی ہے کہ وہ یہی عقائد پھیلا رہے ہیں۔

خواجہ صاحب کا مولوی محمد علی صاحب کو اپنا ہم خیال بنانا

جہاں تک میرا خیال ہے مولوی محمد علی صاحب شروع میں ان عقائد کی تائید میں نہ تھے۔ مگر خواجہ صاحب نے ان کو ایک کارآمد ہتھیار دیکھ کر برابر اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کی ۔ اور آہستہ آہستہ حضرت مسیح موعودؑ پر زبانِ طعن کھولنے کی جرأت دلا دی۔ گو میرے نزدیک حضرت مسیح موعودؑ کی وفات تک ان کے ایمان میں زیادہ تزلزل واقع نہیں ہوا تھا۔ مگر آپ کی وفات کے ساتھ ہی معلوم ہوتا ہے بہت بڑا تزلزل مولوی صاحب کے خیالات میں آنا شروع ہوا۔ اور اس کا باعث بعض بہت ہی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوئیں۔ مولوی محمد علی صاحب کی طبیعت شروع سے ہی نہایت غصہ والی رہی ہے اور وہ کبھی اپنے خصم کی بات سن کر برداشت کرنے کے قابل ثابت نہیں ہوئے اور ایک دفعہ جب ان کے دل میں غصّہ پیدا ہو جائے تو اس کا نکالنا بہت مشکل ہو جاتا ہے اور وہ اپنے مخالف کو ہر طرح نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول سے انجمن کے بعض کاموں میں مولوی محمد علی صاحب کو حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں رنجش پیدا ہو جاتی تھی۔

خلافت اولیٰ میں مولوی محمد علی صاحب کے خیالات اور کوششیں

جب حضرت مسیح موعودؑ کی وفات پر آپ کو خلیفہ تجویز کیا گیا۔ تو مولوی صاحب کو بہت بُرا معلوم ہوا اور آپ نے انکار بھی کیا اور پیش کیا کہ خلافت کا ثبوت کہاں سے ملتا ہے۔ مگر جماعت کی عام رائے کو دیکھ کر اور اس وقت کی بے سرو سامانی کو دیکھ کر دب گئے اور بیعت کر لی۔ بلکہ اس اعلان پر بھی دستخط کر دیئے جس میں جماعت کو اطلاع دی گئی تھی کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب الوصیت کے مطابق خلیفہ مقرر ہوئے ہیں۔ مگر ظاہری

بیعت کے باوجود دل نے بیعت کا اقرار نہیں کیا۔ اور اپنے ہم خیالوں اور دوستوں کی مجلس میں اس قسم کے تذکرے شروع کر دیئے گئے جن میں خلافت کا انکار ہوتا تھا اور اس طرح ایک جماعت اپنے ہم خیالوں کی بنالی۔ خواجہ کمال الدین سب سے بہتر شکار تھا جو مولوی محمد علی صاحب کو ملا کیونکہ وہ خود اس فکر میں تھے کہ مولوی محمد علی صاحب کو اپنا ہم خیال بنائیں اور اس کی سب سے بہتر صورت یہی تھی کہ وہ خود مولوی محمد علی صاحب کے خاص خیالات میں ان کے شریک ہو جاویں، چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کو ابھی پندرہ دن بھی نہ گزرے تھے کہ خواجہ صاحب نے مولوی محمد علی صاحب کی موجودگی میں مجھ سے سوال کیا کہ میاں صاحب! آپ کا خلیفہ کے اختیارات کے متعلق کیا خیال ہے؟ میں نے کہا اختیارات کے فیصلہ کا وہ وقت تھا جبکہ ابھی بیعت نہ ہوئی تھی جبکہ حضرت خلیفہ اول نے صاف صاف کہہ دیا کہ بیعت کے بعد تم کو پوری پوری اطاعت کرنی ہوگی اور اس تقریر کو سن کر ہم نے بیعت کی تو اب آقا کے اختیار مقرر کرنے کا حق غلاموں کو کب حاصل ہے میرے اس جواب کو سُن کر خواجہ صاحب بات کا رُخ بدل گئے اور گفتگو اسی پر ختم ہوگئی۔ ان ہی ایام میں مولوی محمد علی صاحب کو بعض باتوں پر والدہ صاحبہ حضرت اُمّ المؤمنین سے بعض شکایات پیدا ہوئیں وہ سچی تھیں یا جھوٹی مگر مولوی صاحب کے دل میں وہ گھر کر گئیں۔ اور آپ نے ان شکایتوں کا اشارۃً رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں بھی ذکر کر دیا۔ چونکہ خلافت کا مجھے مؤید دیکھا گیا اس لئے اس ذاتی بغض کی وجہ سے یہ خیال کر لیا گیا کہ یہ خلافت کا اس لئے قائل ہے کہ خود خلیفہ بننا چاہتا ہے پس خلافت کی مخالفت کے ساتھ ساتھ حضرت مسیح موعودؑ کے خاندان خصوصاً میری مخالفت کو بھی ایک مدعائے خاص قرار دیا گیا اور ہمیشہ اس کے لئے ایسی تدبیریں ہوتی رہیں جن کے ذکر کرنے کی نہ یہاں گنجائش ہے نہ فائدہ۔

اسی عرصہ میں جلسہ سالانہ کے دن آگئے جس کے لئے مولوی محمد علی صاحب کے احباب نے خاص طور پر مضامین تیار کئے۔ اور یکے بعد دیگرے انہوں نے جماعت کو یہ سبق پڑھانا شروع کیا کہ خدا کے مامور کی مقرر کردہ جانشین اور خلیفہ صدر انجمن احمدیہ ہے جس کے یہ لوگ ٹرسٹّی ہیں۔ اور اس کی اطاعت تمام جماعت کے لئے ضروری ہے۔ مگر اس سبق کو اس قدر لوگوں کے مونہوں سے اور اس قدر مرتبہ دہرایا گیا کہ بعض لوگ اصل منشاء کو پا گئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اصل غرض حضرت خلیفہ اوّل کو خلافت سے جواب دینا ہے اور اپنی خلافت کا قائم کرنا۔ صدر انجمن احمدیہ کے چودہ ممبروں سے قریباً آٹھ مولوی محمد علی صاحب کے خاص دوست تھے اور بعض اندھا دھند بعض حسنِ ظنی سے ان کی ہر ایک بات پر اٰمَنَّا وَصَدَّقْنَا کہنے کے عادی تھے۔ صدر انجمن احمدیہ کی خلافت سے مراد درحقیقت مولوی محمد علی صاحب کی خلافت تھی۔ جو اس وقت بوجہ ایک منصوبہ کے اس کے نظم و نسق کے واحد مختار تھے بعض ضروری کاموں کی وجہ سے مجھے اس سال جلسہ سالانہ کے تمام لیکچروں میں شامل ہونے کا موقع نہ ملا اور جن میں شامل ہونے کا موقع ملا بھی ، ان کے سنتے وقت میری توجہ اس بات کی طرف نہیں پھری۔ مگر جیسا کہ بعد کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے بعض لوگوں نے ان کی تدبیر کو معلوم کر لیا تھا۔ اور اب ان کے دوستوں کے حلقوں میں اس امر پر گفتگو شروع ہو گئی تھی کہ خلیفہ کا کیا کام ہے ؟ اصل حاکم جماعت کا کون ہے ؟ صدر انجمن احمدیہ یا حضرت خلیفۃ المسیح الاول مگر خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ مجھے اب بھی اس کا کچھ علم نہ تھا۔ اب جماعت میں دو کیمپ ہو گئے تھے۔ ایک اس کوشش میں تھا کہ لوگوں کو یقین دلایا جاوے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی مقرر کردہ جانشین انجمن ہے اور دوسرا اس پر معترض تھا اور بیعت کے اقرار پر قائم تھا۔ مگر حضرت خلیفۃ المسیح الاول کو ان بحثوں کا کچھ علم نہ تھا۔ اور میں بھی ان سے بالکل بے خبر تھا۔ حتیٰ کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے پاس میر محمد اسحٰق صاحب نے کچھ سوالات لکھ کر پیش کئے جن میں خلافت کے متعلق روشنی ڈالنے کی درخواست کی گئی تھی۔ ان سوالات کو حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے مولوی محمد علی صاحب کے پاس بھیج دیا کہ وہ ان کا جواب دیں۔ مولوی محمد علی صاحب نے جو کچھ جواب دیا وہ حضرت خلیفہ اول کو حیرت میں ڈالنے والا تھا کیونکہ اس میں خلیفہ کی حیثیت کو ایسا گرا کر دکھایا گیا تھا کہ سوائے بیعت لینے کے اس کا کوئی تعلق جماعت سے باقی نہ رہتا تھا۔ حضرت خلیفہ اول نے اس پر حکم دیا کہ ان سوالوں کی بہت سی نقلیں کر کے جماعت میں تقسیم کی جاویں۔ اور لوگوں سے ان کے جواب طلب کئے جاویں اور ایک خاص تاریخ (۳۱؍ جنوری ۱۹۰۹ء) مقرر کی کہ اس دن مختلف جماعتوں کے قائمقام جمع ہو جاویں تاکہ سب سے مشورہ لیا جاوے۔ اس وقت تک بھی مجھے اس فتنہ کا علم نہ تھا حتیٰ کہ مجھے ایک رؤیا ہوئی جس کا مضمون حسب ذیل ہے۔

فتنہ کی اطلاع بذریعہ رؤیا

مَیں نے دیکھا کہ ایک مکان ہے۔ اس کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ تو مکمل ہے اور دوسرا نا مکمل۔ نامکمل حصہ پر چھت پڑ رہی ہے کڑیاں رکھی جا چکی ہیں مگر اوپر تختیاں نہیں رکھی گئیں۔ اور نہ مٹی ڈالی گئی ہے۔ ان کڑیوں پر کچھ بھوسا پڑا ہے اور اس کے پاس میر محمد اسحٰق صاحب میرے چھوٹے بھائی مرزا بشیر احمد صاحب اور ایک اور لڑکا جو حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا رشتہ دار تھا اور جس کا نام نثار احمد تھا اور جو اب فوت ہو چکا ہے (اللہ تعالیٰ اسے غریقِ رحمت کرے) کھڑے ہیں۔ میر محمد اسحٰق صاحب کے ہاتھ میں دیا سلائی کی ایک ڈبیہ ہے۔ اور وہ اس میں سے دیا سلائی نکال کر اس بھوسے کو جلانا چاہتے ہیں۔ مَیں نے ان سے کہا کہ آخر یہ بھوسا جلا یا تو جائے گا ہی۔ مگر ابھی وقت نہیں ابھی نہ جلائیں ایسا نہ ہو کہ بعض کڑیاں بھی ساتھ ہی جل جاویں۔ اس پر وہ اس ارادہ سے باز رہے اور مَیں اس جگہ سے دوسری طرف چل پڑا۔ تھوڑی دُور ہی گیا تھا کہ مجھے کچھ شور معلوم ہوا۔ مڑ کر کیا دیکھتا ہوں کہ میر صاحب بے تحاشہ دیا سلائیاں نکال کر جلاتے ہیں اور اس بھوسے کو جلانا چاہتے ہیں۔ مگر اس خیال سے کہ کہیں مَیں واپس نہ آجاؤں جلدی کرتے ہیں اور جلدی کی وجہ سے دیا سلائی بُجھ جاتی ہے۔ مَیں اس بات کو دیکھ کر واپس دوڑا کہ ان کو روکوں۔ مگر پیشتر اس کے کہ وہاں تک پہنچتا۔ ایک دیا سلائی جل گئی اور اس سے انہوں نے بھوسے کو آگ لگا دی۔ مَیں دوڑ کر آگ میں کود پڑا اور آگ کو بجھا دیا۔ مگر اس عرصہ میں کہ اس کے بجھانے میں کامیاب ہوتا چند کڑیوں کے سرے جل گئے۔ مَیں نے یہ رؤیا مکرمی مولوی سید سرور شاہ صاحب سے بیان کی انہوں نے مسکرا کر کہا کہ مبارک ہو کہ یہ خواب پوری ہو گئی ہے۔ کچھ واقعہ انہوں نے بتایا۔ مگر یا تو پوری طرح ان کو معلوم نہ تھا یا وہ اس وقت بتا نہ سکے۔ مَیں نے پھر یہ رؤیا لکھ کر حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں پیش کی۔ آپ نے اسے پڑھ کر ایک رقعہ پر لکھ کر مجھے جواب دیا کہ خواب پوری ہو گئی۔ میر محمد اسحٰق صاحب نے چند سوال لکھ کر دیئے ہیں جن سے خطرہ ہے کہ شور نہ پڑے اور بعض لوگ فتنہ میں پڑ جائیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مجھے اس فتنہ کا علم ہُوا اور وہ بھی ایک خواب کے ذریعہ۔ اس کے بعد وہ سوالات جو حضرت خلیفۃ المسیح نے جواب کے لئے لوگوں کو بھیجنے کا حکم دیا تھا مجھے بھی ملے اور مَیں نے ان کے متعلق خاص طور پر دُعا کرنی شروع کی اور اللہ تعالیٰ سے ان کے جواب کے متعلق ہدایت چاہی۔ اس میں شک نہیں کہ مَیں حضرت خلیفہ اوّل کی بیعت کر چکا تھا اور اس میں بھی شک نہیں کہ مَیں خلافت کی ضرورت کا عقلاً قائل تھا۔ مگر باوجود اس کے مَیں نے اس امر میں بالکل مخلع بالطبع ہو کر غور شروع کیا اور اللہ تعالیٰ سے دُعائیں لگ گیا کہ وہ مجھے حق کی ہدایت دے اس عرصہ میں وہ تاریخ نزدیک آگئی۔ جس دن کہ جوابات حضرت خلیفۃ المسیح کو دینے تھے۔ مَیں نے جو کچھ میری سمجھ میں آیا۔ لکھا اور حضرت خلیفۃ المسیح کو دے دیا۔ مگر میری طبیعت سخت بے قرار تھی کہ خدا تعالیٰ خود کوئی ہدایت کرے۔ یہ دن اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ میرے لئے سخت ابتلاء کے دن تھے۔ دن اور رات غم اور رنج میں گزرتے تھے کہ کہیں مَیں غلطی کر کے اپنے مولیٰ کو ناراض نہ کر لوں۔ مگر باوجود سخت کرب اور تڑپ کے مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ نہ معلوم ہُوا۔

۳۱؍ جنوری ۱۹۰۹ء کا معرکۃ الآراء دن

حتّٰی کہ وہ رات آگئی جس کی صبح کو جلسہ تھا، لوگ چاروں طرف سے جمع ہونے شروع ہوئے۔

مگر ہر ایک شخص کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ آنے والے دن کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھ رہا ہے۔ بیرونیجات سے آنے والے لوگوں سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں کو یہ امر سمجھانے کی پوری طرح کوشش کی گئی ہے کہ اصل جانشین حضرت مسیح موعودؐ کی انجمن ہی ہے اور خلیفہ صرف بیعت لینے کے لئے ہے اور تمام راستہ بھر خاص طور پر یہ بات ہر ایک شخص کے ذہن نشین کی گئی ہے کہ جماعت اس وقت سخت خطرہ میں ہے۔ چند شریر اپنی ذاتی اغراض کو مدنظر رکھ کر یہ سوال اُٹھا رہے ہیں اور جماعت کے اموال پر تصرف کر کے من مانی کارروائیاں کرنی چاہتے ہیں۔ لاہور میں جماعت احمدیہ کا ایک خاص جلسہ خواجہ کمال الدین صاحب نے اپنے مکان پر کیا اور لوگوں کو سمجھایا گیا کہ سلسلہ کی تباہی کا خطرہ ہے۔ اصل جانشین حضرت مسیح موعودؐ کی انجمن ہی ہے اور اگر یہ بات نہ رہی تو جماعت خطرہ میں پڑ جاوے گی اور سلسلہ تباہ ہو جاوے گا اور سب لوگوں سے دستخط لئے گئے کہ حسب فرمان حضرت مسیح موعودؐ جانشین حضرت مسیح موعودؐ کی انجمن ہی ہے۔ صرف دو شخص یعنی حکیم محمد حسین صاحب قریشی سیکرٹری انجمن احمدیہ لاہور اور بابو غلام محمد صاحب فورمین ریلوے دفتر لاہور نے دستخط کرنے سے انکار کیا۔ اور جواب دیا کہ ہم تو ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں وہ ہم سے زیادہ عالم اور زیادہ خشیۃ اللہ رکھتا ہے اور حضرت مسیح موعودؐ کا ادب ہم سے زیادہ اس کے دل میں ہے۔ جو کچھ وہ کہے گا۔ ہم اس کے مطابق عمل کریں گے غرض محضر نامہ تیار ہوئے لوگوں کو سمجھایا گیا اور خوب تیاری کر کے خواجہ صاحب قادیان پہنچے۔ چونکہ دین کا معاملہ تھا اور لوگوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ اس وقت اگر تم لوگوں کا قدم پھسلا تو بس ہمیشہ کے لئے جماعت تباہ ہوئی۔ لوگوں میں سخت جوش تھا۔ اور بہت سے لوگ اس کام کے لئے اپنی جان دینے کے لئے بھی تیار تھے اور بعض لوگ صاف کہتے تھے کہ اگر مولوی صاحب (حضرت خلیفہ اول) نے خلاف فیصلہ کیا تو ان کو اسی وقت خلافت سے علیحدہ کر دیا جاوے گا۔ بعض خاموشی سے خدا تعالیٰ کے فیصلہ کے منتظر تھے بعض بالمقابل خلافت کی تائید میں جوش دکھا رہے تھے اور خلافت کے قیام کے لئے ہر ایک قربانی پر آمادہ تھے عام طور پر کہا جا سکتا ہے کہ باہر سے آنے والے خواجہ صاحب اور ان کے ساتھیوں کی تلقین کے باعث قریباً سب کے سب اور قادیان کے رہنے والوں میں سے ایک حصہ اس امر کی طرف جھک رہا تھا کہ انجمن ہی جانشین ہے۔ گو قادیان کے لوگوں کی کثرت خلافت سے وابستگی ظاہر کرتی تھی۔

نہایت خطرناک حالت

ایسے وہ برادران جو بعد میں سلسلہ احمدیہ میں شامل ہوئے ہوں اور جنہوں نے وہ درد اور تکلیف نہیں دیکھی جو اس سلسلہ کے قیام کے لئے مسیح موعودؑ نے برداشت کی اور ان حالات کا مطالعہ نہیں کیا جن میں سے گزر کر سلسلہ اس حد تک پہنچا ہے۔ آپ لوگ اس کیفیت کا اندازہ نہیں کر سکتے جو اس وقت احمدیوں پر طاری تھی سوائے چند خود غرض لوگوں کے باقی سب کے سب خواہ کسی خیال یا کسی عقیدہ کے ہوں مُردہ کی طرح ہو رہے تھے اور ہم میں سے ہر ایک شخص اس امر کو بہت زیادہ پسند کرتا تھا کہ وہ اور اس کے اہل و عیال کولہو میں پیس دیئے جاویں بہ نسبت اس کے کہ وہ اختلاف کا باعث بنیں۔ اس دن دُنیا با وجود فراخی کے ہمارے لئے تنگ تھی اور زندگی باوجود آسایش کے ہمارے لئے موت سے بدتر ہو رہی تھی۔ میں اپنا حال بیان کرتا ہوں کہ جوں جوں رات گزرتی جاتی تھی اور صبح قریب ہوتی جاتی تھی کرب بڑھتا جاتا تھا اور میں خدا تعالیٰ کے سامنے گڑگڑا کر دُعا کرتا تھا کہ خدایا میں نے گو ایک رائے کو دوسری پر ترجیح دی ہے مگر الٰہی! میں بے ایمان بننا نہیں چاہتا تُو اپنا فضل کر اور مجھے حق کی طرف ہدایت دے۔ مجھے اپنی رائے کی ہیچ نہیں۔ مجھے حق کی جستجو ہے۔ راستی کی تلاش ہے دُعا کے دوران میں میں نے یہ بھی فیصلہ کر لیا کہ اگر خدا تعالیٰ نے مجھے کچھ نہ بتایا تو میں جلسہ میں شامل ہی نہ ہوں گا تا کہ فتنہ کا باعث نہ بنوں۔ جب میرا کرب اس حد تک پہنچا تو خدا کی رحمت کے دروازے کھلے اور اس نے اپنی رحمت کے دامن کے نیچے مجھے چُھپا لیا اور میری زبان پر یہ لفظ جاری ہوئے کہ قُلۡ مَا یَعۡبَؤُا بِکُمۡ رَبِّیۡ لَوۡلَا دُعَآؤُکُمۡ(الفرقان: ۷۸)، یعنی ان لوگوں سے کہہ دے کہ تمہارا ربّ تمہاری پرواہ کیا کرتا ہے اگر تم اس کے حضور گر نہ جاؤ جب یہ الفاظ میری زبان پر جاری ہوئے تو میرا سینہ کھل گیا اور میں نے جان لیا کہ میرا خیال درست ہے۔ کیونکہ اس آیۂ کریمہ میں قُلْ یعنی کہہ کا لفظ بتانا ہے کہ میں یہ بات دوسروں کو کہہ دوں۔ پس معلوم ہوا کہ جو لوگ میرے خیال کے خلاف خیال رکھتے ہیں ان سے خدا تعالیٰ ناراض ہے نہ مجھ سے تب میں اُٹھا اور میں نے خدا تعالیٰ کا شکر کیا اور میرا دل مطمئن ہو گیا اور میں صبح کا انتظار کرنے لگا۔

یوں تو احمدی عموماً تہجد پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور پڑھتے ہیں۔ مگر یہ رات عجیب رات تھی کہ بہتوں نے قریباً جاگتے ہوئے یہ رات کاٹی۔ اور قریباً سب کے سب تہجد کے وقت سے مسجد مبارک میں جمع ہو گئے تا کہ دُعا کریں اور اللہ تعالیٰ سے مدد چاہیں۔ اور اس دن اس قدر دردمندانہ دُعائیں کی گئیں کہ میں یقین کرتا ہوں کہ عرشِ عظیم ان سے ہل گیا ہوگا۔ سوائے گریہ و بُکا کے اور کچھ سنائی نہ دیتا تھا اور اپنے رب کے سوا کسی کی نظر اور کسی طرف نہ جاتی تھی اور خدا کے سوا کوئی ناخدا نظر نہ آتا تھا۔ آخر صبح ہوئی اور نماز کی تیاری شروع ہوئی۔ چونکہ حضرت خلیفہ اوّل کو آنے میں کچھ دیر ہو گئی۔ خواجہ صاحب کے رفقاء نے اس موقع کو غنیمت جان کر لوگوں کو پھر سبق پڑھانا شروع کیا۔

میں نماز کے انتظار میں گھر ٹہل رہا تھا۔ ہمارا گھر بالکل مسجد کے متصل ہے۔ اس وقت میرے کان میں شیخ رحمت اللہ صاحب کی آواز آئی کہ غضب خدا کا ایک بچہ کو خلیفہ بنا کر چند شریر لوگ جماعت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں میں چونکہ بالکل خالی الذہن تھا مجھے بالکل خیال نہ گزرا کہ اس بچہ سے مراد میں ہوں۔ لیکن میں حیرت سے ان کے اس فقرہ پر سوچتا رہا۔ گو کچھ بھی میری سمجھ میں نہ آیا۔ واقعات نے ثابت کر دیا کہ ان کا خوف بے جا نہ تھا۔ کسی نے تو کسی کو خلیفہ کیا بنانا ہے۔ خدا بیشک ارادہ کر چکا تھا کہ اسی بچہ کو جسے انہوں نے حقیر خیال کیا خلیفہ بنا دے۔ اور اس کے ذریعہ سے دُنیا کے چاروں گوشوں میں مسیح موعودؑ کی تبلیغ پہنچا دے اور ثابت کر دے کہ وہ قادر خدا ہے جو کسی کی مدد کا محتاج نہیں اور ان لوگوں کی فطرتیں پہلے ہی سے اس امر کو محسوس کر رہی تھیں جو خدا تعالیٰ کے حضور میں مقدر تھا۔ غرض حضرت خلیفۃ المسیح کی آمد تک مسجد میں خوب خوب باتیں ہوتی رہیں اور لوگوں کو اونچ نیچ سمجھائی گئی۔ آخر حضرت خلیفۃ المسیح تشریف لائے اور نماز شروع ہوئی۔ نماز میں آپ نے سورہ بروج کی تلاوت فرمائی۔ اور جس وقت اس آیت پر پہنچے کہ اِنَّ الَّذِیۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ یَتُوۡبُوۡا فَلَہُمۡ عَذَابُ جَہَنَّمَ وَلَہُمۡ عَذَابُ الۡحَرِیۡقِ(البروج: ۱۱) یعنی وہ لوگ جو مومن مرد اور مومن عورتوں کو فتنہ میں ڈالتے ہیں۔ اور پھر اس کام سے توبہ نہیں کرتے۔ ان کے لئے اس فعل کے نتیجہ میں عذاب جہنم ہوگا اور جلا دینے والے عذاب میں وہ مبتلاء ہوں گے۔ اس وقت تمام جماعت کا عجیب حال ہو گیا۔ یوں معلوم ہوتا تھا۔ گویا یہ آیت اسی وقت نازل ہوئی ہے اور ہر ایک شخص کا دل خشیتہ اللہ سے بھر گیا۔ اور اس وقت مسجد یوں معلوم ہوتی تھی جیسے ماتم کدہ ہے۔ باوجود سخت ضبط کے بعض لوگوں کی چیخیں اس زور سے نکل جاتی تھیں کہ شاید کسی ماں نے اپنے اکلوتے بیٹے کی وفات پر بھی اس طرح کرب کا اظہار نہ کیا ہوگا۔ اور رونے سے تو کوئی شخص بھی خالی نہیں تھا۔ خود حضرت خلیفۃ المسیح کی آواز بھی شدت گریہ سے رُک گئی اور کچھ اس قسم کا جوش پیدا ہوا کہ آپ نے پھر ایک دفعہ اس آیت کو دہرایا اور تمام جماعت نیم بسمل ہوگئی اور شاید ان لوگوں کے سوا جن کے لئے ازل سے شقاوت کا فیصلہ ہو گیا تھا۔ سب کے دل دہل گئے۔ اور ایمان دلوں میں گڑ گیا اور نفسانیت بالکل نکل گئی۔ وہ ایک آسمانی نشان تھا جو ہم نے دیکھا اور تائید غیبی تھی جو مشاہدہ کی۔ نماز ختم ہونے پر حضرت خلیفۃ المسیح گھر کو تشریف لے گئے اور ان لوگوں نے پھر لوگوں کو حضرت مسیح موعودؑ کی ایک تحریر دکھا کر سمجھانا چاہا کہ انجمن ہی آپ کے بعد جانشین ہے۔ لوگوں کے دل چونکہ خشیتہ اللہ سے معمور ہو رہے تھے اور وہ اس تحریر کی حقیقت سے ناواقف تھے ۔ وہ اس امر کو دیکھ کر کہ حضرت مسیح موعودؑ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ میرے بعد انجمن جانشین ہو گی اور بھی زیادہ جوش سے بھر گئے۔ مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ خشیۃ اللہ کا نزول دلوں پر کیوں ہو رہا ہے اور غیب سے کیا ظاہر ہونے والا ہے آخر جلسہ کا وقت قریب آیا اور لوگوں کو مسجد مبارک (یعنی وہ مسجد جو حضرت مسیح موعودؑ کے گھر کے ساتھ ہے اور جس میں حضرت مسیح موعودؑ پنج وقتہ نمازیں ادا فرماتے تھے) کی چھت پر جمع ہونے کا حکم دیا گیا اس وقت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب میرے پاس آئے اور مجھے کہا کہ آپ مولوی صاحب (حضرت خلیفہ اول) سے جا کر کہیں کہ اب فتنہ کا کوئی خطرہ نہیں رہا۔ کیونکہ سب لوگوں کو بتا دیا گیا ہے کہ انجمن ہی حضرت مسیح موعودؑ کی جانشین ہے۔ میں نے تو ان کے اس کلام کی وقعت کو سمجھ کر خاموشی ہی مناسب سمجھی مگر وہ خود حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں چلے گئے۔ میں بھی وہاں پہنچ چکا تھا۔ جاتے ہی ڈاکٹر صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح سے عرض کی کہ مبارک ہو۔ سب لوگوں کو سمجھا دیا گیا ہے کہ انجمن ہی جانشین ہے۔ اس بات کو سُن کر آپ نے فرمایا۔ کون سی انجمن؟ جس انجمن کو تم جانشین قرار دیتے ہو وہ تو خود بموجب قواعد کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ اس فقرہ کو سُن کر شاید پہلی دفعہ خواجہ صاحب کی جماعت کو معلوم ہوا کہ معاملہ ویسا آسان نہیں جیسا کہ ہم سمجھے تھے کیونکہ ہر ایک خطرہ کو سوچ کر پہلے سے ہی لوگوں کو اس امر کے لئے تیار کر لیا گیا تھا کہ اگر حضرت خلیفہ اول بھی ان کی رائے کو تسلیم نہ کریں تو ان کا مقابلہ کیا جائے۔ عموماً یہ لوگ یہی خیال کرتے تھے کہ حضرت خلیفۃ المسیح ان کے خیالات کی تائید کریں گے اور انہی کی رائے کے مطابق فیصلہ دیں گے۔ چنانچہ ان میں سے بعض جو حضرت خلیفۃ المسیح کی نیکی کے قائل تھے عام طور پر کہتے تھے کہ خدا کا شکر ہے کہ ایسے بے نفس آدمی کے وقت میں یہ سوال پیدا ہوا ہے۔ ورنہ اگر ان کے بعد ہوتا تو نہ معلوم کیا فساد کھڑا ہو جاتا۔

نہایت اہم اور قابل یادگار مجمع

جب لوگ جمع ہو گئے تو حضرت خلیفۃ المسیح مسجد کی طرف تشریف لے گئے قریباً دو اڑھائی سو آدمی کا مجمع تھا جس میں اکثر احمدیہ جماعتوں کے قائم مقام تھے۔ بیشک ایک نا واقف کی نظر میں وہ دو اڑھائی سو آدمی کا مجمع جو بلا فرش زمین پر بیٹھا تھا ایک معمولی بلکہ شاید حقیر نظارہ ہو۔ مگر ان لوگوں کے دل ایمان سے پُر تھے اور خدا کے وعدہ پر ان کو یقین تھا۔ وہ اس مجلس کو احمدیت کی ترقی کا فیصلہ کرنے والی مجلس خیال کرتے تھے اور اس وجہ سے دنیا کی ترقی اور اس کے امن کا فیصلہ اس کے فیصلہ پر منحصر خیال کرتے تھے۔ ظاہر بین نگاہیں ان دنوں پیرس میں بیٹھنے والی پیس کانفرنس کی اہمیت اور شان سے حیرت میں ہیں۔ مگر درحقیقت اپنی شان میں بہت بڑھی ہوئی وہ مجلس تھی کہ جس کے فیصلہ پر دنیا کے امن کی بناء پڑنی تھی۔ اس دن یہ فیصلہ ہونا تھا کہ احمدیت کیا رنگ اختیار کرے گی۔ دُنیا کی عام سوسائٹیوں کا رنگ یا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کا رنگ۔ اِس دن اہلِ دُنیا کی زندگی یا موت کے سوال کا فیصلہ ہونا تھا۔ بیشک آج لوگ اس امر کو نہ سمجھیں لیکن ابھی زیادہ عرصہ نہ گزرے گا کہ لوگوں کو معلوم ہو جاوے گا کہ یہ مخفی مذہبی لہر ہیبت ناک سیاسی لہروں سے زیادہ پاک اثر کرنے والی اور دُنیا میں نیک اور پُر امن تغیر پیدا کرنے والی ہے غرض لوگ جمع ہوئے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل بھی تشریف لائے۔ آپ کے لئے درمیان مسجد میں ایک جگہ تیار کی گئی تھی مگر آپ نے وہاں کھڑے ہونے سے انکار کر دیا۔ اور ایک طرف جانبِ شمال اس حصہ مسجد میں کھڑے ہو گئے جسے حضرت مسیح موعودؑ نے خود تعمیر کروایا تھا۔

حضرت خلیفہ اوّل کی تقریر

پھر آپ نے کھڑے ہو کر تقریر شروع کی اور بتایا کہ خلافت ایک شرعی مسئلہ ہے۔ خلافت کے بغیر جماعت ترقی نہیں کر سکتی اور بتایا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اگر ان لوگوں میں سے کوئی شخص مُرتد ہو جاوے گا۔ تو میں اس کی جگہ ایک جماعت تجھے دوں گا۔ پس مجھے تمہاری پرواہ نہیں۔ خدا کے فضل سے میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ میری مدد کریگا۔ پھر خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کے جوابوں کا ذکر کر کے کہا کہ مجھے کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام نماز پڑھا دینا یا جنازہ یا نکاح پڑھا دینا یا بیعت لے لینا ہے۔ یہ جواب دینے والے کی نادانی ہے اور اس نے گستاخی سے کام لیا ہے۔ اس کو توبہ کرنی چاہئے۔ ورنہ نقصان اُٹھائیں گے۔ دورانِ تقریر میں آپ نے فرمایا کہ تم نے اپنے عمل سے مجھے بہت دُکھ دیا ہے اور منصبِ خلافت کی ہتک کی ہے۔ اسی لئے میں آج اس حصہ مسجد میں کھڑا نہیں ہوا ۔ جو تم لوگوں کا بنایا ہوا ہے۔ بلکہ اس حصہ مسجد میں کھڑا ہوا ہوں جو مسیح موعود علیہ السلام کا بنایا ہوا ہے۔

تقریر کا اثر

جوں جوں آپ تقریر کرتے جاتے تھے۔ سوائے چند سرغنوں کے باقیوں کے سینے کھلتے جاتے تھے اور تھوڑی ہی دیر میں جو لوگ نور الدین کو اس کے منصب سے علیحدہ کرنا چاہتے تھے۔ وہ اپنی غلطی کو تسلیم کرنے لگے۔ اور یا خلافت کے مخالف نہ تھے یا اس کے دامن سے وابستہ ہو گئے۔ آپ نے دوران لیکچر ان لوگوں پر بھی اظہار ناراضگی فرمایا جو خلافت کے قیام کی تائید میں جلسہ کرتے رہے تھے اور فرمایا کہ جب ہم نے لوگوں کو جمع کیا تھا تو ان کا کیا حق تھا کہ وہ الگ جلسہ کرتے۔ ان کو اس کام پر ہم نے کب مامور کیا تھا۔ آخر تقریر کے خاتمہ پر بعض اشخاص نے اپنے خیالات کے اظہار کے لئے کہا۔ خیالات کا اظہار کسی نے کیا کرنا تھا۔ تمام مجلس سوائے چند لوگوں کے حق کو قبول کر چکی تھی۔ مجھ سے اور نواب محمد علی خان سے جو میرے بہنوئی ہیں۔ رائے دریافت کی۔ ہم نے بتایا کہ ہم تو پہلے ہی ان خیالات کے مؤید ہیں۔ خواجہ صاحب کو کھڑا کیا۔ انہوں نے بھی مصلحتِ وقت کے ماتحت گول مول الفاظ کہہ کر وقت کو گزارنا ہی مناسب سمجھا اور پھر فرمایا کہ آپ لوگ دوبارہ بیعت کریں اور خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ الگ ہو کر آپ مشورہ کرلیں اور اگر تیار ہوں تب بیعت کریں۔ اس کے بعد شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم سے جو اس جلسہ کے بانی تھے جس میں خلافت کی تائید کے لئے دستخط لئے گئے تھے۔ کہا کہ ان سے بھی غلطی ہوئی ہے۔ وہ بھی بیعت کریں۔

نمائشی بیعت

غرض ان تینوں کی بیعت دوبارہ لی اور جلسہ برخاست ہوا۔ اس وقت ہر ایک شخص مطمئن تھا اور محسوس کرتا تھا کہ خدا تعالیٰ نے جماعت کو بڑے ابتلاء سے بچایا۔ لیکن مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب جو ابھی بیعت کر چکے تھے۔ اپنے دل میں سخت ناراض تھے اور ان کی وہ بیعت جیسا کہ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا۔ دکھاوے کی بیعت تھی۔ انہوں نے ہرگز خلیفہ کو واجب الاطاعت تسلیم نہ کیا تھا اور جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے (ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیّر جو اس وقت ان لوگوں سے خاص تعلق رکھتے تھے کا بیان ہے) مسجد کی چھت سے نیچے اترتے ہی مولوی محمد علی صاحب نے خواجہ صاحب کو کہا کہ آج ہماری سخت ہتک کی گئی ہے میں اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔ ہمیں مجلس میں جوتیاں ماری گئی ہیں۔ یہ ہے صدق اس شخص کا جو آج جماعت کی اصلاح کا مدعی ہے۔

ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیرؔ کی اگر اکیلی روایت ہوتی تو میں اس کو اس جگہ درج نہ کرتا کیونکہ وہ خواہ کتنے ہی معتبر راوی ہوں۔ پھر بھی ایک ہی شاہد ہیں۔ اور میں اس کتاب میں صرف وہ واقعات درج کرنا چاہتا ہوں جو یقینی طور پر ثابت ہوں۔ مگر بعد کے واقعات نے چونکہ اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ ان کی بیعت محض خوف کی بیعت تھی اور مصلحتِ وقت کی بیعت تھی۔ اس لئے ان کے بیان سے انکار کرنے کی ہمارے پاس کوئی وجہ نہیں اور علاوہ ازیں ابھی چند دن نہ گزرے تھے کہ میری موجودگی میں مولوی محمد علی صاحب کا ایک پیغام حضرت خلیفۃ المسیح کے پاس آیا تھا کہ وہ قادیان سے جانے کا ارادہ کر چکے ہیں۔ کیونکہ ان کی بہت ہتک ہوئی ہے جس سے اس روایت کی صحت ثابت ہوتی ہے۔

واقعات بیان کردہ کے شاہد

یہ وہ واقعات ہیں جن کے دیکھنے والے سینکڑوں لوگ زندہ موجود ہیں اور وہ لوگ جو اس وقت اس مجلس میں موجود تھے۔ ان میں کچھ تو ایسے لوگ ہیں جو اس وقت ان کے ساتھ ہیں اور کچھ ایسے جو میری بیعت میں ہیں۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ اگر غلیظ قسموں سے دریافت کیا جاوے۔ تو دونوں فریق کے آدمی ان واقعات کی صداقت کی شہادت دیں گے کیونکہ اتنی بڑی مجلس میں ہونے والا ایسا مہتم بالشان واقعہ چھپایا نہیں جا سکتا۔

خواجہ صاحب اور ان کے ساتھیوں کی ایمانی حالت

پیشتر اس کے کہ میں واقعات کے سلسلہ کو آگے چلاؤں میں ان لوگوں کی ایمانی حالت کا ایک نقشہ پیش کرتا ہوں جس سے ہر ایک شخص سمجھ لے گا کہ یہ لوگ کہاں تک ایمانداری سے کام لے رہے ہیں۔ پچھلی دفعہ جب خواجہ کمال الدین صاحب ولایت سے آئے۔ تو جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔ انہوں نے اختلافات سلسلہ کے متعلق ایک لیکچر دیا تھا اس میں وہ اس واقعہ بیعت کو اس رنگ میں پیش کرتے ہیں۔ کہ گویا حضرت خلیفہ اوّل نے ان کی روحانی صفائی کو دیکھ کر خاص طور پر ان سے بیعت لی تھی۔ مندرجہ بالا واقعات کو پڑھ کر ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ جو شخص ان حالات کے مطابق کی جانے والی بیعت کو بیعت ارشاد اور ایک انعام اور عزت افزائی اور علامت تقرب قرار دیتا ہے اور دیکھنے والوں کی آنکھوں میں خاک ڈالنی چاہتا ہے۔ کیا اس کی کسی بات کا بھی اعتبار ہو سکتا ہے خواجہ صاحب کے اصل الفاظ اس بارے میں یہ ہیں:۔

”کہا جاتا ہے کہ انہوں نے (مراد حضرت خلیفۃ المسیح الاول ہیں) مجھ سے بیعت دوبارہ لی۔ یہ بالکل سچ ہے۔ بیعت کس امر کی؟ بیعت ارشاد! کیا تم ایمان سے کہہ سکتے ہو کہ انہوں نے مجھ سے تجدید بیعت کرائی۔ وہ بیعت ارشاد تھی نہ بیعت توبہ کی تجدید۔ اس کے بعد ایک اور بیعت رہ جاتی ہے وہ ہے بیعت دم۔ اب جاؤ صوفیائے کرام کے حالات پڑھو اور دیکھو کہ بیعت ارشاد وہ کس مرید سے لیتے ہیں۔ وہ سلسلہ میں داخل کرنے کے وقت مرید سے بیعت توبہ لیتے ہیں اور جب اس میں اطاعت کی استعداد دیکھتے ہیں تو اس سے بیعت ارشاد لیتے ہیں۔ اور پھر جب اس پر اعتماد کلی ہوتا ہے تو بیعت دم۔“ (اندرونی اختلافات سلسلہ احمدیہ کے اسباب صفحہ ۵۵ مطبوعہ لاہور ۱۹۱۴ء)

خفیہ مخالفت

اب میں پھر اس مضمون کی طرف آتا ہوں۔ حضرت خلیفۃ المسیح ان لوگوں کی ان حرکات سے ناراض ہوئے اور سخت ناراض ہوئے۔ ان کو دوبارہ بیعت کرنی پڑی۔ لیکن جہاں دوسرے لوگوں کے دل صاف ہوئے، ان کے دلوں میں کینہ کی آگ اور بھی بھڑک اُٹھی۔ صرف فرق یہ تھا کہ پہلے تو اس آگ کے شعلے کبھی اوپر بھی آجاتے تھے۔ اب ان کو خاص طور پر سینہ میں ہی چھپایا جانے لگا تاکہ وقت پر ظاہر ہوں، اور سلسلہ احمدیہ کی عمارت کو جلا کر راکھ کر دیں۔ مولوی محمد علی صاحب اس واقعہ کے بعد کلی طور پر ان لوگوں کے ہاتھ میں پڑ گئے جو عقیدۂ سلسلہ سے علیحدہ تھے۔ اور ان فتنوں نے ان کو ان لوگوں کے ایسا قریب کر دیا کہ آہستہ آہستہ دو تین سال کے عرصہ میں نامعلوم طور پر ان کے ساتھ متحد فی العقیدہ ہو گئے۔ خواجہ صاحب موقع شناس آدمی ہیں انہوں نے تو یہ رنگ اختیار کیا کہ خلافت کے متعلق عام مجالس میں تذکرہ ہی چھوڑ دیا۔ اور چاہا کہ اب یہ معاملہ دبا ہی رہے تاکہ جماعت احمدیہ کے افراد آئندہ ریشہ دوانیوں کا اثر قبول کرنے کے قابل رہیں۔

خلیفہ کی بجائے ”پریذیڈنٹ“ کا لفظ استعمال کرنا

انہوں نے سمجھ لیا کہ اگر آج اس مسئلہ پر پوری روشنی پڑی، تو آئندہ پھر اس میں تاویلات کی گنجائش نہ رہے گی۔ چنانچہ اس بات کو مدنظر رکھ کر ظاہر میں انہوں نے خلافت کی اطاعت شروع کردی۔ اور یہ تدبیر اختیار کی گئی کہ صدر انجمن احمدیہ کے معاملات میں جہاں کہیں بھی حضرت خلیفۃ المسیح کے کسی حکم کی تعمیل کرنی پڑتی۔ وہاں کبھی حضرت خلیفۃ المسیح نہ لکھا جاتا بلکہ یہ لکھا جاتا کہ پریذیڈنٹ صاحب نے اس معاملہ میں یوں سفارش کی ہے۔ اس لئے ایسا کیا جاتا ہے۔ جس سے ان کی غرض یہ تھی کہ صدر انجمن احمدیہ کے ریکارڈ سے یہ ثابت نہ ہو کہ خلیفہ کبھی انجمن کا حاکم رہا ہے۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کے بعد انہوں نے اس طرح جماعت کو دھوکا دینا بھی چاہا۔ مگر واقعات کچھ ایسے جمع ہو گئے تھے کہ مجبوراً ان کو اس پہلو کو ترک کرنا پڑا۔ اور اب یہ لوگ خلافت کی بحث میں پڑتے ہی نہیں تاکہ لوگوں کو ان پرانے واقعات کی یاد تازہ نہ ہو جاوے۔ اور ان کی ناجائز تدابیر آنکھوں کے سامنے آ کر ان سے بدظن نہ کر دیں۔ غرض انہوں نے یہ کام شروع کیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح کی باتیں تو مانتے مگر خلیفہ کا لفظ نہ آنے دیتے۔ بلکہ پریذیڈنٹ کا لفظ استعمال کرتے۔ مگر خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ ان کی پردہ دری کرے۔

ایک مکان کی فروختگی کا معاملہ

حکیم فضل الدین صاحب ایک بہت مخلص احمدی تھے اور ابتدائی لوگوں میں سے تھے۔ انہوں نے اپنی جائیداد کی وصیت بحق اشاعت اسلام کی تھی۔ اس جائیداد میں ایک مکان بھی تھا۔ انجمن نے اس مکان کو فروخت کرنا چاہا۔ یہ مکان حکیم صاحب نے جس شخص سے خریدا تھا۔ اس نے حضرت خلیفۃ المسیح سے درخواست کی کہ ہمارے پاس اسے کسی قدر رعایت سے فروخت کر دیا جائے۔ کیونکہ ہم سے ہی خریدا گیا تھا اور بعض مشکلات کی وجہ سے بہت سستا ہم نے دے دیا تھا۔ پس اب کچھ رعایت سے یہ مکان ہم ہی کو دے دیا جاوے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے اس بات کو مان لیا۔ اور انجمن کو لکھا کہ اس مکان کو رعایت سے اس کے پاس فروخت کر دو۔ ان لوگوں نے اس موقع کو غنیمت سمجھا۔ خیال کیا کہ جماعت کو جب معلوم ہو گا کہ جماعت کی ایک مملوکہ شئے کو حضرت خلیفۃ المسیح سستے داموں دلواتے ہیں۔ تو سب لوگ ہم سے مل جاویں گے۔ اور اس امر سے انکار کر دیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح سے بہت کچھ گفتگو اور بحث کی اور کہا کہ یہ لوگ بھی نیلام میں خرید لیں، انجمن کیوں نقصان اٹھائے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے بتہرا ان کو سمجھایا کہ ان لوگوں نے مشکلات کے وقت بہت ہی سستے داموں پر یہ مکان دے دیا تھا۔ پس ان کا حق ہے کہ ان سے کچھ رعایت کی جاوے۔ مگر انہوں نے تسلیم نہ کیا۔ آخر آپ نے ناراض ہو کر لکھ دیا کہ میری طرف سے اجازت ہے۔ آپ جس طرح چاہیں کریں۔ میں دخل نہیں دیتا۔ جب انجمن کا اجلاس ہوا، میں بھی موجود تھا۔ ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب۔ حال سیکرٹری انجمن اشاعت اسلام لاہور نے میرے سامنے اس معاملہ کو اس طرح پیش کیا کہ ہم لوگ خداتعالیٰ کے حضور جواب دہ ہیں اور ٹرسٹئی ہیں۔ اس معاملہ میں کیا کرنا چاہئے۔ میں نے کہا جب حضرت خلیفۃ المسیح فرماتے ہیں کہ اس شخص سے کچھ رعایت کی جاوے تو ہمیں چاہئے کہ کچھ رعایت کریں۔ ڈاکٹر صاحب نے اس پر کہا کہ حضرت نے اجازت دے دی ہے۔ جب خط سنایا گیا تو مجھے اس سے صاف ناراضگی کے آثار معلوم ہوئے اور میں نے کہا یہ خط تو ناراضگی پر دلالت کرتا ہے نہ کہ اجازت پر اس لئے میری رائے تو وہی ہے۔ اس پر ڈاکٹر صاحب موصوف نے ایک لمبی تقریر کی۔ جس میں خشیۃ اللہ اور تقویٰ اللہ کی مجھے تاکید کرتے رہے میں نے ان کو بار بار یہی جواب دیا کہ آپ جو چاہیں کریں۔ میرے نزدیک یہی رائے درست ہے چونکہ ان لوگوں کی کثرت رائے تھی۔ بلکہ اس وقت میں اکیلا تھا، انہوں نے اپنے منشاء کے مطابق ریزولیوشن پاس کر دیا حضرت خلیفۃ المسیح کو اطلاع ہوئی۔ آپ نے ان کو بلایا اور دریافت کیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ سب کے مشورہ سے یہ کام ہوا ہے اور میرا نام لیا کہ وہ بھی وہاں موجود تھے، حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے مجھے

طلب فرمایا۔ میں گیا تو یہ سب لوگ بیٹھے ہوئے تھے میرے پہنچتے ہی آپ نے فرمایا کہ کیوں میاں ہمارے صریح حکموں کی اس طرح خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ میں نے تو کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔ آپ نے فرمایا کہ فلاں معاملہ میں میں نے یوں حکم دیا تھا۔ پھر اس کے خلاف آپ نے کیوں کیا؟ میں نے بتایا کہ یہ لوگ سامنے بیٹھے ہیں۔ میں نے ان کو صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ اس امر میں حضرت خلیفۃ المسیح کی مرضی نہیں۔ اس لئے اس طرح نہیں کرنا چاہئے اور آپ کی تحریر سے اجازت نہیں بلکہ ناراضگی ظاہر ہوتی ہے۔ آپ نے اس پر ان لوگوں سے کہا کہ دیکھو تم اس کو بچہ کہا کرتے ہو یہ بچہ میرے خط کو سمجھ گیا اور تم لوگ اس کو نہ سمجھ سکے۔ اور بہت کچھ تنبیہ کی کہ اطاعت میں ہی برکت ہے اپنے رویہ کو بدلو۔ ورنہ خدا تعالیٰ کے فضلوں سے محروم ہو جاؤ گے۔

دوبارہ معافی

اس وقت تو یہ لوگ افسوس کا اظہار کرتے رہے۔ مگر اسی دن سے برابر کوشش شروع ہو گئی کہ لوگوں کو حضرت خلیفۃ المسیح پر بطن کیا جاوے کبھی کوئی الزام دیا جاتا کبھی کوئی! اور علی الاعلان لاہور میں یہ ذکر اذکار رہتے کہ اب جس طرح ہو ان کو خلافت سے علیحدہ کر دیا جاوے ان واقعات کی اطلاع حضرت خلیفۃ المسیح کو ہوئی۔ عید قریب تھی آپ نے عید پر ان لوگوں کو لاہور سے بلوایا (خواجہ صاحب اس واقعہ میں شامل نہ تھے وہ اس وقت کشمیر میں تھے اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں۔ وہ اب خفیہ تدبیروں کو پسند کرتے تھے) اور ارادہ کیا کہ عید کے خطبہ میں ان لوگوں کو جماعت سے نکالنے کا اعلان کر دیا جاوے۔ چونکہ ان کو معلوم ہو گیا تھا کہ ہماری کوششیں بے سود ہیں اور لوگ ہماری باتوں کو نہیں سنتے آخر دوبارہ معافی مانگی۔ اور ان میں سے بعض سے دوبارہ بیعت لی گئی اور اس طرح یہ نیا فتنہ ٹلا۔ مگر اس واقعہ سے بھی ان کی اصلاح نہ ہوئی۔ یہ لوگ اپنی کوششوں میں زیادہ ہوشیار ہو گئے۔

خواجہ صاحب کی شہرت حاصل کرنا

اب خواجہ صاحب نے پبلک لیکچروں کا سلسلہ شروع کیا کہ اس ذریعہ سے رسوخ پیدا کیا جاوے خود لیکچر دیتے خود ہی اپنے ہاتھ سے اپنے لیکچر کی تعریف لکھ کر سلسلہ کے اخبارات کو بھیج دیتے اور نیچے یکے از حاضرین لکھ دیتے۔ اور اس طرح شہرت پیدا کرتے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے جو خزانہ ہمیں دیا ہے۔ وہ ایسا نہیں کہ لوگ اس کا ایک نکتہ بھی سنیں اور بے تاب نہ ہو جاویں۔ کچھ لسانی بھی خواجہ صاحب میں تھی۔ ادھر اپنے ہی ہاتھ سے لکھ کر یا بعض دفعہ کسی دوست سے لکھوا کر اپنی تعریفوں کے شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خواجہ صاحب کی مانگ شروع ہوئی اور لیکچروں کا سلسلہ وسیع ہوا۔ جہاں جہاں جاتے جماعت کو اشارتاً کنایتاً موقع ہو تو وضاحتاً خلافت اور انجمن کے معاملہ کے متعلق بھی تلقین کرتے اور بوجہ اس شہرت کے جو بحیثیت لیکچرار کے ان کو حاصل ہو گئی تھی کچھ اثر بھی ہو جاتا۔

خواجہ صاحب کا غیر احمدیوں کے قریب ہونا

یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ جب انسان ایک غلط قدم اٹھاتا ہے تو دوسرا خود بخود اٹھتا ہے۔ لیکچروں کے سلسلہ کی وسعت کے ساتھ خواجہ صاحب کے تعلقات غیر احمدیوں سے بھی زیادہ ہونے لگے۔ وہ پہلے ہی سے سلسلہ کی حقیقت سے ناواقف تھے اب جو یہ مشکلات پیش آنے لگیں کہ بعض دفعہ جلسہ کے معا ًبعد یا پہلے نماز کا وقت آ جاتا اور غیر احمدی الگ نماز پڑھتے اور احمدی الگ۔ اور لوگ پوچھتے کہ یہ تفرق کیوں ہے؟ تو خواجہ صاحب کو ایک طرف اپنی ہر دلعزیزی کے جانے کا خوف ہوتا دوسری طرف احمدیوں کے مخالفت کا ڈر۔ اس کشمکش میں وہ کئی طریق اختیار کرتے۔ کبھی کہتے کہ یہ نماز کی مخالفت تو عام احمدیوں کے لئے ہے کہ دوسروں سے مل کر متاثر نہ ہوں۔ میرے جیسے پختہ ایمان آدمی کے لئے نہیں میں تو آپ لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنے کے لئے تیار ہوں۔ کہیں جواب دیتے کہ ہم تو ایک امام کے تابع ہیں آپ لوگ ان سے دریافت کریں۔ کہیں کہہ دیتے کہ اگر آپ لوگ کفر کا فتویٰ واپس لے لیں تو ہم نماز پیچھے پڑھنے کے لئے تیار ہیں، غرض اسی قسم کے کئی عذرات کرتے۔ درحقیقت عبدالحکیم کے ارتداد کے وقت سے ہی ان کے خیالات خراب ہو چکے تھے۔ مگر اب ان کے نشوونما پانے کا وقت آ گیا تھا۔ خواجہ صاحب شہرت و عزت کے طالب تھے۔ اور یہ روکیں ان کی شہرت و عزت کے راستہ میں حائل تھیں۔ اور جو کچھ بھی ہو۔ ان روکوں کے دور کرنے کا خواجہ صاحب نے تہیہ کر لیا تھا۔ سب سے پہلے یہ تدبیر اختیار کی گئی کہ پیسہ اخبار اور وطن اخبار میں مرزا یعقوب بیگ سے ایک مضمون دلوایا گیا کہ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کی ممانعت ایک عارضی حکم ہے۔ اور اس طرح اس امر کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی گئی کہ کچھ مدت کے بعد ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنی شروع کر دی جاوے۔ اس تحریر پر جماعت کے بعض لوگوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ اب بات حد سے آگے نکل رہی ہے ابھی وہ اسی فکر میں تھے کہ احمدیوں کی ان حرکات سے دلیر ہو کر غیر احمدیوں نے بھی حملے کرنے شروع کر دیئے اور احمدیوں کو تنگ ظرف اور وسعت حوصلہ سے کام نہ لینے والا قرار دینے لگے۔

ان ہی ایام میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول سے سوال کیا گیا کہ کیا احمدیوں اور غیر احمدیوں میں اصولی فرق ہے یا فروعی؟ اس پر آپ نے جواب دیا کہ اصولی فرق ہے۔ اس پر تو اندھیر پڑ گیا نہایت سختی سے غیر احمدی اخبارات نے حضرت خلیفۃ المسیح پر حملے شروع کر دیئے ۔ کہ ایک معمولی سی بات پر انہوں نے مسلمانوں میں اختلاف ڈلوا دیا ہے۔

تبلیغ احمدیت کا سوال

اس بحث کے ساتھ ساتھ جو احمدیوں اور غیر احمدیوں میں تھی ، ایک سوال خود جماعت میں بھی چھڑا ہوا تھا ۔ اور وہ سوال تبلیغ احمدیت کا تھا ۔ خواجہ صاحب نے جب سے لیکچر دینے شروع کئے سوائے پہلے لیکچر کے ۔ آپ نے یہ بات خاص طور پر مدنظر رکھی تھی کہ حضرت مسیح موعودؑ کا ذکر نہ آوے۔ حالانکہ اس وقت سب امراض کا علاج اللہ تعالیٰ نے مسیح موعودؑ کی غلامی کو قرار دیا ہے۔ بلکہ وہ کوشش کرتے تھے کہ اگر کسی موقع پر سلسلہ مضمون میں حضرت مسیح موعودؑ کا ذکر ضروری ہو جاوے۔ تو وہ اسے بھی ٹلا جاویں۔ وہ یہ بات سمجھ چکے تھے کہ غیر احمدیوں میں اس قسم کے لیکچروں کے بغیر قبولیت نہیں ہو سکتی۔ چونکہ غیر احمدیوں کو اگر عداوت ہے تو صرف مامور من اللہ سے ۔ وہ بھی ایسے لیکچروں میں خوب آتے اور بہت شوق سے آتے اور ہزاروں کا مجمع ہو جاتا ۔ جیسا کہ میں پہلے بیان کر آیا ہوں۔ خواجہ صاحب ان لیکچروں کو مقبول بنانے کے لئے خاص تدابیر بھی اختیار کرتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خواجہ صاحب کے لیکچر خوب مقبول ہونے لگے اور غیر احمدیوں نے بھی تعریفیں شروع کیں اور خواجہ صاحب کی چاروں طرف سے مانگ ہونے لگی احمدیوں نے جو یہ شوق لوگوں کا دیکھا تو اصل بات کو تو سمجھے نہیں ، خواجہ صاحب کی اس کامیابی کو سلسلہ کی کامیابی سمجھا اور خاص طور پر جلسہ کر کے مختلف جگہ کی جماعتوں نے بطور خود یا خواجہ صاحب کی تحریک پر خاص جلسے کرنے شروع کئے اور خیال کرنے لگے کہ اسی طرح غیر احمدیوں کو سلسلہ سے اُنس ہوتے ہوتے لوگ داخل سلسلہ ہونے لگیں گے ۔ یہ وباء کچھ ایسی پھیلی کہ ہمارے سلسلہ کے دوسرے لیکچراروں نے بھی یہی طریق اختیار کرنا شروع کر دیا۔ اور قریب ہو گیا کہ وہ قرنا جو خدا تعالیٰ نے مسیح موعودؑ کے ذریعہ سے پھونکی تھی۔ اس کی آواز ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے ۔ یہ وقت احمدیت کے لئے نہایت خطرناک تھا۔ بعض احمدی لیکچرار مسیح موعودؑ کا ذکر کھلے طور پر کرنے سے ہچکچانے لگے اور جب کوئی سوال بھی کرتا تو ایسے رنگ میں جواب دیا جاتا کہ جس سے مضمون کی پوری طرح تشریح نہ ہوتی تھی۔ یہ بات مداہنت کے طور پر نہ تھی نہ منافقت کے باعث بلکہ یہ لوگ خواجہ صاحب کی اتباع میں یہ خیال کرتے تھے کہ اس طرح سلسلہ کی اشاعت میں زیادہ آسانیاں پیدا ہوں گی جو وعظ حضرت مسیح موعودؑ کا ذکر کرتے بھی تھے تو وہ بھی ایسے پیرایہ میں کہ جو مضامین غیر احمدیوں کو اشتعال دلانے والے ہیں ان کا ذکر بیچ میں نہ آوے۔ مگر سب کی سب جماعت اس خیال کی نہ تھی۔ ایک حصہ ایسا بھی تھا۔ جو خواجہ صاحب کے طریق عمل کو خوب سمجھتا تھا اور اس کی طرف سے خواجہ صاحب پر سوال ہونا شروع ہوا کہ وہ کیوں اپنے لیکچروں میں کبھی بھی سلسلہ کا ذکر نہیں کرتے۔ اس کا جواب خواجہ صاحب ہمیشہ عبدالرحکیم مرتد کے ہم نوا ہو کر یہی دیا کرتے تھے کہ پہلے بڑے بڑے مسائل طے ہو جاویں۔ پھر یہ مسائل آپ حل ہو جاویں گے۔ جب یہ لوگ ہمیں خدمتِ اسلام کرتے دیکھیں گے۔ کیا ان کے دل میں یہ خیال نہ پیدا ہو گا کہ یہی لوگ حق پر ہیں۔ میں تو سڑک صاف کر رہا ہوں۔ جنگل کے درخت کاٹ رہا ہوں ٹیلوں کو برابر کر رہا ہوں۔ جب سڑک تیار ہو جاوے گی جنگل کٹ جاوے گا۔ زمین صاف ہو جاوے گی پھر وقت آوے گا کہ ریل چلائی جاوے۔ کھیتی کی جاوے۔ باغ لگایا جاوے۔ مگر جب سوال کیا جاتا کہ اگر پہلے جنگل کے کاٹنے کی ضرورت تھی اور سڑکوں کی تیاری کا وقت تھا ۔ تو خدا تعالیٰ نے کیوں اس وقت مسیح موعودؑ کو بھیج کر دُنیا کو فتنہ میں ڈال دیا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ ہر ایک لیکچر میں صرف یہی ذکر کریں لیکن بحصہ رسدی اس ضروری صداقت کا بھی تو اظہار ہونا چاہئے۔ اس کا جواب نہ خواجہ صاحب دے سکتے تھے نہ دیتے تھے۔ وہ اس پر یہی کہہ دیا کرتے کہ میں کسی کو کب منع کرتا ہوں۔ میں راستہ صاف کرتا ہوں کوئی اور شخص ان اُمور پر لیکچر دیتا پھرے۔

۲۷؍ مارچ ۱۹۱۰ء کا لیکچر

چنانچہ ان واقعات کو دیکھ کر مجھے ۲۷؍ مارچ ۱۹۱۰ء کو ایک لیکچر دینا پڑا جس میں مَیں نے اس طریق کی غلطی سے جماعت کو آگاہ کیا۔ جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے ایک حصہ میں ہوشیاری پیدا ہو گئی اور وہ اپنی غلطی کو سمجھ گیا مگر پھر بھی میرا وہ لیکچر اس رَو کو نہ دبا سکا۔ جو زور سے بہہ رہی تھی اور مسئلہ کفر و اسلام غیر احمدیان کے ساتھ مل کر وہ برابر ترقی کرتی چلی گئی۔

غیر احمدیوں کی تکفیر کا مضمون

جب حالات یہاں تک پہنچ گئے اور ایک طرف اپنی جماعت کا ایک حصہ غلط طریق پر چل پڑا اور دوسری طرف غیر احمدیوں نے بعض احمدیوں کے رویہ سے شہ پکڑ کہ ہم پر حملہ شروع کر دیا تو میں نے غیر احمدیوں کی تکفیر پر مبسوط مضمون لکھا۔ جو حضرت خلیفۃ المسیح کی اصلاح کے بعد تشحیذ الاذہان کے اپریل ۱۹۱۱ء و مئی ۱۹۱۱ء کے پرچہ میں شائع کیا گیا یہ مضمون اس وقت کے حالات کے ماتحت جماعت کو ایک کونے سے دوسرے کونے تک ہلا دینے والا ثابت ہوا۔ اور خدا تعالیٰ کے فضل سے سوائے ایک قلیل گروہ کے باقی سب جماعت نے اس بات کو دل سے قبول کر لیا کہ واقع میں اگر وہ اس سحر کے اثر کے نیچے رہتے۔ جو ان پر کیا گیا تھا تو وہ ضرور کسی وقت صداقت کو بھول جاتے اور بہتوں نے اس پر شکر و اطمینان کا اظہار کیا۔ اور جماعت میں ایک نئی رُوح اور تازہ جوش پیدا ہو گیا۔ اور ہر ایک احمدی سوائے ایک قلیل تعداد کے اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے آمادہ ہو گیا۔

خواجہ صاحب کا مضمون

چونکہ یہ سب کوشش خواجہ صاحب اور ان کے رفقاء کی تحریک پر ہو رہی تھی جب میرا یہ مضمون شائع ہوا تو خواجہ صاحب کو فکر ہوئی اور انہوں نے ایک مضمون لکھا جس میں میرے مضمون کے معنے بگاڑ کر اس طرح کئے گئے۔ جو بالکل اصل مضمون کے اُلٹ تھے اور جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے خود میرے سامنے بیان فرمایا کہ آپ سے یہ کہہ کر دستخط کروائے گئے کہ خواجہ صاحب کا وہی عقیدہ ہے جو میرا ہے۔ صرف خواجہ صاحب نے ایسے الفاظ میں میرے مضمون کی تشریح کی ہے جو لوگوں کے لئے اشتعال دلانے کا باعث نہ ہو۔

مولوی محمد علی صاحب کے خیالات کی قلبِ ماہیت کا وقت

جہاں تک میرا خیال ہے۔ یہی وہ وقت ہے جبکہ مولوی محمد علی صاحب کے خیالات کی قلب ماہیت ہوئی۔ کیونکہ ان کے پہلے مضامین سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی سمجھتے تھے اس وقت حالات ہی ایسے پیدا ہو گئے تھے کہ اگر کفر و اسلام غیر احمدیان کی بحث میں خواجہ صاحب ناکامیاب ہوتے تو مولوی صاحب کی امیدوں کو سخت صدمہ پہنچتا تھا۔ کیونکہ بوجہ اس قبولیت کے جو لیکچروں کی وجہ سے خواجہ صاحب کو حاصل ہو چکی تھی۔ مولوی محمد علی صاحب اب صفِ اوّل سے صفِ ثانی کی طرف منتقل ہو چکے تھے اور صفِ اوّل پر خواجہ صاحب کھڑے تھے جماعت پر ان کا خاص اثر تھا اور لوگ ان کی باتیں سنتے اور قبول کرنے کے لئے تیار تھے اور مولوی صاحب اور ان کے رفقاء اسی رسوخ سے کام لے کر اپنے ارادوں کے پورا کرنے کی اُمید میں تھے۔ پس اسی مجبوری نے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کے خیالات پر اثر کیا اور آپ انہی دنوں میں کھلے طور پر خواجہ صاحب کے ہمخیال ہو گئے اور اب گویا یہ جماعت عقیدتاً اور سیاسۃً ایک ہو گئی ہے۔ ورنہ اس سے پہلے خود مولوی محمد علی صاحب خواجہ صاحب کی طرزِ تبلیغ کے مخالف تھے اور مارچ ۱۹۱۰ء یا دسمبر ۱۹۱۰ء کی کانفرنس احمدیہ کے موقع پر انہوں نے ایک بحث کے دوران جو احمدیہ جماعت کے جلسوں کی ضرورت یا عدم ضرورت پر تھی۔ بڑی سختی سے خواجہ صاحب پر حملہ کیا تھا۔ پس یہی معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۱۱ء یا گیارہ عیسوی میں مذکورہ حالات کے اثر کے نیچے مولوی محمد علی صاحب کے خیالات میں تغیر پیدا ہوا ہے۔

مولوی محمد علی صاحب کو خاص وقعت دینے کی کوشش

جبکہ خواجہ صاحب کی خاص کوششیں سلسلہ احمدیہ کے اُصول کو بدلنے کے متعلق جاری تھیں۔ اور وہ اپنے اغراض کو پورا کرنے کے لئے ہر طرح سعی کر رہے تھے اور جماعت کو اس کے مرکز سے ہٹا دینے اور غیر احمدیوں میں ملا دینے سے بھی وہ نہ ڈرتے تھے۔ جماعت کے سیاسی انتظام کے بدلنے کی فکر بھی ان لوگوں کے ذہن سے نکل نہیں گئی تھی۔ اس امر کے لئے دو طرح کوشش کی جاتی تھی ایک تو اس طرح کہ حضرت خلیفۃ المسیح کے تمام احکام کو ہدایات پریذیڈنٹ کے رنگ میں ظاہر کیا جاتا تھا۔ جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں اور دوسرے اس طرح کہ مولوی محمد علی صاحب کو خلیفہ کی حیثیت دی جائے تاکہ جماعت پر ان کا خاص اثر ہو جاوے۔ اور دوسرے لوگوں کی نظریں بھی ان کی طرف اُٹھنے لگیں۔ چنانچہ انجمن کے اجلاسات میں صاف طور پر کہا جاتا تھا کہ جو کچھ مولوی صاحب حکم دیں گے وہی ہم کریں گے۔ اور ایک دفعہ شیخ رحمت اللہ صاحب نے صاف طور پر یہ الفاظ کہے کہ ہمارے تو یہ امیر ہیں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ۱۹۱۱ء میں مذہبی کانفرنس کے موقع پر جب مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب اپنے مضامین سنانے کے لئے گئے تو لوگوں کے دریافت کرنے پر خواجہ صاحب نے مولوی محمد علی صاحب کو اپنا پیر یا لیڈر بیان کیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی زندگی میں ہی یہ بات عام طور پر بیان ہوتی چلی آئی ہے۔ مگر خواجہ صاحب نے کبھی اس کی تردید نہیں کی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ درست ہی ہے۔ اسی طرح اور سب معاملات میں مولوی محمد علی صاحب کو اس طرح آگے کرنے کی کوشش کی جاتی تھی کہ لوگوں کی نظریں حضرت خلیفۃ المسیح کی طرف سے ہٹ کر انہی کی طرف متوجہ ہو جاویں۔

بے جا کوششوں کا اکارت جانا

مگر یہ دونوں کوششیں ان کی بیکار گئیں۔ پہلی کوشش تو اس طرح کہ ۱۹۱۰ء میں حضرت خلیفۃ المسیح نے صدر انجمن احمدیہ کو لکھ دیا کہ میں چونکہ خلیفہ ہوں۔ ممبر انجمن اور صدر انجمن نہیں رہ سکتا۔ میری جگہ مرزا محمود احمد کو پریذیڈنٹ مقرر کیا جاوے۔ اس طرح اس تدبیر کا تو خاتمہ ہوا۔ حضرت خلیفۃ المسیح انجمن سے علیحدہ ہو گئے اور آپ کی جگہ میں صدر ہو گیا اور اب یہ ظاہر کرنے کا موقع نہ رہا کہ خلیفہ کی اطاعت بوجہ خلافت نہیں کی جاتی۔ بلکہ بوجہ پریذیڈنٹ انجمن ہونے کے اس کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے۔

دوسری تدبیر خود اپنے ہی ہاتھوں سے اِکارت چلی گئی۔ جونہی خواجہ صاحب کو کچھ شہرت حاصل ہوئی۔ وہ اپنے وجود کو آگے لانے لگے اور لوگوں کی توجہ بھی ان کی طرف ہی پھر گئی اور مولوی صاحب خود ہی پیچھے ہٹ گئے۔ اور ان کی رائے کا وہ اثر نہ رہا جو پہلے تھا۔

حضرت خلیفۃ المسیح کا ۱۹۱۰ء میں بیمار ہونا

۱۹۱۰ء کے آخری مہینوں میں حضرت خلیفۃ المسیح گھوڑے سے گر گئے اور کچھ دن آپ کی حالت بہت نازک ہو گئی۔ حتیٰ کہ آپ نے مرزا یعقوب بیگ صاحب سے جو اس وقت آپ کے معالج تھے دریافت کیا کہ میں موت سے نہیں گھبراتا آپ بے دھڑک طبی طور پر بتا دیں کہ اگر میری حالت نازک ہے تو میں کچھ ہدایات وغیرہ لکھوا دوں۔ مگر چونکہ یہ لوگ حضرت مولوی صاحب کا ہدایات لکھوانا اپنے لئے مضر سمجھتے تھے۔ آپ کو کہا گیا کہ حالت خراب نہیں ہے۔ اور اگر ایسا وقت ہوا تو وہ خود بتا دیں گے مگر وہاں سے نکلتے ہی ایک مشورہ کیا گیا اور دوپہر کے وقت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب میرے پاس آئے کہ ایک مشورہ کرنا ہے آپ ذرا مولوی محمد علی صاحب کے مکان پر تشریف لے چلیں۔ میرے نانا صاحب جناب میر ناصر نواب صاحب کو بھی وہاں بلوایا گیا تھا جب میں وہاں پہنچا تو مولوی محمد علی صاحب، خواجہ صاحب، مولوی صدر الدین صاحب اور ایک یا دو آدمی وہاں پہلے سے موجود تھے۔ خواجہ صاحب نے ذکر شروع کیا کہ آپ کو اس لئے بلوایا ہے کہ حضرت مولوی صاحب کی طبیعت بہت بیمار اور کمزور ہے۔ ہم لوگ یہاں ٹھہر تو سکتے نہیں لاہور واپس جانا ہمارے لئے ضروری ہے پس اس وقت دوپہر کو جو آپ کو تکلیف دی ہے تو اس سے ہماری غرض یہ ہے کہ کوئی ایسی بات طے ہو جاوے کہ فتنہ نہ ہو۔ اور ہم لوگ آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو خلافت کی خواہش نہیں ہے۔ کم سے کم میں اپنی ذات کی نسبت تو کہہ سکتا ہوں کہ مجھے خلافت کی خواہش نہیں ہے۔ اور مولوی محمد علی صاحب بھی آپ کو یہی یقین دلاتے ہیں۔ اس پر مولوی محمد علی صاحب بولے کہ مجھے بھی ہرگز خواہش نہیں۔ اس کے بعد خواجہ صاحب نے کہا کہ ہم بھی آپ کے سوا خلافت کے قابل کسی کو نہیں دیکھتے اور ہم نے اس امر کا فیصلہ کر لیا ہے لیکن آپ ایک بات کریں کہ خلافت کا فیصلہ اس وقت تک نہ ہونے دیں جب تک کہ ہم لاہور سے نہ آ جاویں۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص جلد بازی کرے اور پیچھے فساد ہو۔ ہمارا انتظار ضرور کر لیا جائے۔ میر صاحب نے تو انکو یہ جواب دیا کہ ہاں جماعت میں فساد کے مٹانے کے لئے کوئی تجویز ضرور کرنی چاہیئے۔ مگر میں نے اس وقت کی ذمہ داری کو محسوس کر لیا اور صحابہؓ کا طریق میری نظروں کے سامنے آگیا کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے کے متعلق تجویز خواہ وہ اس کی وفات کے بعد کے لئے ہی کیوں نہ ہو نا جائز ہے۔ پس میں نے ان کو یہ جواب دیا کہ ایک خلیفہ کی زندگی میں اس کے جانشین کے متعلق تعیین کر دینی اور فیصلہ کر دینا کہ اس کے بعد فلاں شخص خلیفہ ہو گناہ ہے۔ میں تو اس امر میں کلام کرنے کو ہی گناہ سمجھتا ہوں۔

جیسا کہ ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے۔ خواجہ صاحب کی اس تقریر میں بعض باتیں خاص توجہ کے قابل تھیں۔ اول تو یہ کہ اس سے ایک گھنٹہ پہلے تو انہی لوگوں نے حضرت خلیفۃ المسیح سے کہا تھا کہ کوئی خطرہ کی بات نہیں وصیت کی ضرورت نہیں۔ اور وہاں سے اُٹھتے ہی آئندہ کا انتظام سوچنا شروع کر دیا۔ دوسری بات یہ کہ ان کی تقریر سے صاف طور پر اس طرف اشارہ نکلتا تھا کہ ان کو تو خلافت کی خواہش نہیں لیکن مجھے ہے۔ مگر میں نے اس وقت ان بحثوں میں پڑنے کی ضرورت نہ سمجھی۔ کیونکہ ایک دینی سوال درپیش تھا اور اس کی نگہداشت سب سے زیادہ ضروری تھی۔

مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب کی خلیفہ ہونے کی خواہش

جیسا کہ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا ہے۔ مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب کی یہ بات کہ ہم خلافت کے خواہشمند نہیں ہیں اس کا صرف یہ مطلب تھا کہ لفظ خلافت کے خواہشمند نہیں ہیں کیونکہ ان لوگوں نے خلافت کی جگہ ایک نئی قسم کا عہدہ پریذیڈنٹ یا امیر جماعت کا وضع کر لیا ہے۔ جو عملاً خلیفہ کا مترادف سمجھا جاتا ہے اور جس کے مدعی اس وقت مولوی محمد علی صاحب ہیں اور خواجہ صاحب تو اب اپنے آپ کو خلیفۃ المسیح لکھتے ہیں۔ گو ان کو خلافت کی کوئی بات بھی میسر نہیں اور شاید یہ خطاب جوان کے دوستوں نے ان کو دیا ہے۔ اور انہوں نے بھی اپنے لئے پسند کر لیا ہے یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا کے طور پر ہے تاکہ دنیا دیکھ لے کہ وہ خلافت کے اس قدر شائق تھے کہ خلیفۃ المسیح ہونا تو الگ رہا اگر خلافت نہ ملے تو خالی نام ہی سے وہ اپنا دل خوش کرتے ہیں۔

فریب دہی

اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بعد کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ تجویز جو خواجہ صاحب اور ان کے رفقاء نے میرے سامنے پیش کی درحقیقت ایک فریب تھا اور گو اس وقت اس امر کا خیال نہیں ہو سکتا۔ مگر اب معلوم ہوتا تھا کہ انہوں نے اپنے خیال میں مجھے خلافت کا شائق سمجھ کر یہ چال چلی تھی کہ اس طرح مطمئن کر دیں اور خود موقع پر پہنچ کر اپنے منشاء کے مطابق کوئی تجویز کریں۔ ورنہ اگر وہ میری خلافت پر متفق تھے تو اس بات کے کیا معنے ہوئے کہ ان کا انتظار کیا جاوے ورنہ فتنہ ہوگا۔ جب ان کے نزدیک بھی مجھے ہی خلیفہ ہونا چاہئے تھا تو ان کی عدم موجودگی میں بھی اگر یہ کام ہو جاتا تو فتنہ کا باعث کیوں ہوتا۔

انصار اللہ

قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ روحانی مریض کے مرض روحانی میں بڑھنے کے لئے بھی سامان پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ اسی طرح ان لوگوں کے ساتھ ہوا ۔ فروری ۱۹۱۱ء میں میں نے ایک رؤیا دیکھی کہ :۔ ”ایک بڑا محل ہے اور اس کا ایک حصہ گرا رہے ہیں اور اس محل کے پاس ایک میدان ہے اور اس میں ہزاروں آدمی پتھیروں کا کام کر رہے ہیں اور بڑی سرعت سے اینٹیں پاتھتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیسا مکان ہے اور یہ کون لوگ ہیں اور اس مکان کو کیوں گرا رہے ہیں؟ تو ایک شخص نے جواب دیا کہ یہ جماعت احمدیہ ہے اور اس کا ایک حصہ اس لئے گرا رہے ہیں تا پرانی اینٹیں خارج کی جائیں (اللہ رحم کرے) اور بعض کچی اینٹیں پکی کی جائیں۔ اور یہ لوگ اینٹیں اس لئے پاتھتے ہیں تا اس مکان کو بڑھایا جائے اور وسیع کیا جائے۔ یہ ایک عجیب بات تھی کہ سب پتھیروں کا منہ مشرق کی طرف تھا۔ اس وقت دل میں خیال گزرا کہ یہ پتھیرے فرشتے ہیں اور معلوم ہوا کہ جماعت کی ترقی کی فکر ہم کو بہت کم ہے بلکہ فرشتے ہی اللہ تعالیٰ سے اذن پا کر کام کر رہے ہیں“ (بدر ۲۳؍فروری ۱۹۱۱ء)

اس رؤیا سے تحریک پا کر میں نے حضرت خلیفۃ المسیح کی اجازت سے ایک انجمن بنائی جس کے فرائض تبلیغ سلسلہ احمدیہ ، حضرت خلیفۃ المسیح کی فرمانبرداری ، تسبیح ، تحمید و درود کی کثرت ، قرآن کریم اور احادیث کا پڑھنا اور پڑھانا ، آپس میں محبت بڑھانا ، بدظنی اور تفرقہ سے بچنا ، نماز باجماعت کی پابندی رکھنا تھے۔ ممبر ہونے کے لئے یہ شرط رکھی گئی کہ سات دن متواتر استخارہ کے بعد کوئی شخص اس انجمن میں داخل ہو سکتا ہے۔ اس کے بغیر نہیں۔ اس انجمن کا اعلان ہونا تھا کہ اعتراضات کی بوچھاڑ ہونی شروع ہو گئی۔ اور صاف طور پر ظاہر کیا جانے لگا کہ اس انجمن کا قیام بغرض حصول خلافت ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس انجمن کے ممبروں میں سے ایک خاصی تعداد اس وقت ان لوگوں کے ساتھ ہے۔ اور وہ لوگ گواہی دے سکتے ہیں کہ اس انجمن کا کوئی تعلق تغیرات خلافت کے متعلق نہ تھا۔ بلکہ یہ انجمن صرف تبلیغ کا کام کرتی تھی اور ان میں سے بعض نے یعنی ان کے واعظ محمد حسین عرف مرہم عیسیٰ اور ماسٹر فقیر اللہ سپرنٹنڈنٹ دفتر سیکرٹری اشاعت اسلام لاہور نے یہ شہادت دی بھی ہے اس انجمن کے قریبًا پونے دو سو ممبر ہو گئے ۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں تبلیغ کے متعلق جو سستی ہوگئی تھی اس کے ذریعہ سے وہ دُور ہوگئی اور سلسلہ حقہ کی خالص تبلیغ کا جوش نہ صرف اس کے ممبران میں ہی بلکہ دوسرے لوگوں میں بھی پیدا ہوگیا اور ایسے لوگ جو سست ہو گئے تھے چست ہو گئے اور جو پہلے سے ہی چست تھے وہ تو چست ہی تھے ۔ خواجہ صاحب نے بھی اس خیال سے کہ دیکھوں اس انجمن میں کیا بھید ہے۔ اس میں داخل ہونا چاہا ، لیکن سات دن کا استخارہ غالباً ان کے راستہ میں روک ہوا یا کوئی اور باعث ہوا جو اس وقت میرے ذہن میں نہیں ہے۔

طریقِ تبلیغ کے متعلق الٰہی اشارہ

چونکہ انجمن انصار اللہ کا قیام تبلیغ سلسلہ احمدیہ کے لئے تھا اس لئے میں اس جگہ ضمناً یہ بھی ذکر کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ جس طرح خلافت کے مسئلہ کے متعلق میں نے اس وقت تک آگے آنے کی جرات نہیں کی جب تک کہ مجھے رویا میں اس کے متعلق بتایا نہیں گیا ۔ اسی طرح تبلیغ کے طریق کے متعلق بھی بغیر استخارہ اور دُعا اور الٰہی اشارہ کے میں نے کچھ نہیں کیا ۔ چنانچہ خواجہ صاحب کے طرزِ تبلیغ کو دیکھ کر جب جماعت میں اعتراضات ہونے شروع ہوئے تو میں نے اس وقت تک کوئی طریق اختیار نہیں کیا۔ جب تک کہ دُعا و استخارہ نہیں کر لیا۔ اس استخارہ کے بعد مجھے رویا میں خواجہ صاحب کے متعلق دکھایا گیا کہ وہ خشک روٹی کو کیک سمجھے ہوئے ہیں اور اسی کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اس پر میں نے ان کے اس رویہ کی تردید شروع کی۔ ورنہ پہلے میں بالکل خاموش تھا۔

خلیفہ اول کی پردہ پوشی

جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں ۔ اس وقت عام طور پر جماعت معاملات کو سمجھ گئی تھی اور احمدیوں نے سمجھ لیا تھا کہ خواجہ صاحب ہمیں کدھر کو لئے جا رہے ہیں اور اکثر حصہ جماعت کا اس بات پر تیار ہو گیا تھا کہ وہ اندرونی یا بیرونی دشمنوں کی کوششوں کا جو ان کو مرکز احمدیت سے ہٹانے کے لئے کی جا رہی ہیں مقابلہ کرے۔ مگر چونکہ خواجہ صاحب اور ان کے رفقاء نے خلافت کے متعلق یہ رویہ اختیار کر لیا تھا کہ بظاہر اس مسئلہ کی تائید کی جائے ۔ اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں اکثر حاضر ہو کر ان سے اظہارِ عقیدت کی جاوے اس لئے جماعت کو ان کے حالات سے پوری طرح آگاہی نہ حاصل ہو سکی۔ ورنہ جس قدر آج کل ان کا اثر ہے وہ بھی نہ رہتا۔ حضرت خلیفۃ المسیح کو ان لوگوں نے یقین دلایا تھا کہ یہ لوگ خلافت کے قائل ہیں

اور اسی طرح دوسرے مسائل میں بھی جیسا رنگ حضرت خلیفۃ المسیح کا دیکھتے اسی طرح ہاں میں ہاں ملا دیتے جس سے اکثر آپ یہی خیال فرماتے کہ یہ لوگ نہایت خیر خواہ اور راسخ العقیدہ ہیں۔ اور ان کی پچھلی حرکات پر پردہ ڈالتے۔ اور اگر لوگ ان کی کارروائیاں یاد دلاتے تو آپ بعض دفعہ ناراض بھی ہوتے اور فرماتے کہ غلطیاں سب انسانوں سے ہوتی ہیں اگر ان سے ہو گئیں تو ان کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہو۔ اب یہ بالکل درست ہیں مگر حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کے ساتھ ہی یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح کو یہ لوگ دھوکا دیتے تھے اور حضرت خلیفۃ المسیح نے اگر انکی کوئی تعریف کی ہے تو یہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے کیونکہ اس سے ان کی تعریف ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ لوگ آپ کے وقت میں منافقت سے کام کرتے تھے کیونکہ جن باتوں کی نسبت حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ یہ مانتے ہیں ان پر یہ الزام مت لگاؤ کہ یہ ان کو نہیں مانتے۔ آپ کی وفات کے بعد انہوں نے اس سے انکار کر دیا۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بناوٹ بناوٹ ہی ہوتی ہے درمیان میں کبھی کبھی ان لوگوں کی حرکات سے حضرت خلیفۃ المسیح سمجھ بھی جاتے تھے کہ یہ لوگ دھوکا دے رہے ہیں۔ اور اس کا اظہار بھی فرماتے تھے۔ مگر پھر ان لوگوں کے معافی مانگ لینے پر خیال فرماتے تھے کہ شاید غلطی ہو گئی ہو اور دل سے ان لوگوں نے یہ حرکت نہ کی ہو۔ کیونکہ حسنِ ظنی آپ کی طبیعت میں بہت بڑھی ہوئی تھی اور رحم فطرت میں ودیعت تھا۔

غرض ایک عجیب سی حالت پیدا ہو گئی تھی۔ ایک طرف تو عام طور پر اپنے زہریلے خیالات پھیلانے کے باعث یہ لوگ جماعت کی نظروں سے گرتے جاتے تھے، دوسری طرف حضرت خلیفۃ المسیح سے خوف کر کے کہ آپ ان کے اخراج کا اعلان نہ کر دیں یہ چاہتے تھے کہ کسی طرح آپ کی زندگی میں جماعت میں ہی ملے رہیں۔ اس لئے آپ کے سامنے اپنے آپ کو نہایت مطیع ظاہر کرتے تھے۔ مگر کبھی کبھی اپنی اصلیت کی طرف بھی لوٹتے تھے اور ایسی حرکات کر دیتے جس سے آپ کو آگاہی ہو جاتی۔ مگر پھر فوراً معافی مانگ کر اپنے آپ کو سزا سے بچا بھی لیتے۔

خواجہ صاحب کے طرزِ عمل کا جماعت پر اثر

اس وقت جماعت میں تبلیغ احمدیت کے متعلق جو کمزوری پیدا ہو گئی تھی اس کا اندازہ اس سے لگ سکتا ہے کہ یا تو مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وقت میں یہ حال تھا کہ عبدالحکیم مرتد حضرت مسیح موعودؑ کو لکھتا ہے کہ احمدی سوائے آپ کے ذکر کے کچھ سننا ہی پسند نہیں کرتے۔ ہر وعظ میں

آپ کا ہی ذکر ہوتا ہے۔ اور یا یہ حال ہو گیا تھا کہ اپریل ۱۹۱۲ء میں جبکہ میں ایک وفد کے ساتھ مختلف مدارس عربیہ کو دیکھنے کے لئے اس نیت سے گیا کہ مدرسہ احمدیہ کے لئے کوئی مناسب سکیم تیار کی جاوے۔ تو لکھنؤ، بنارس، کانپور میں مجھے تقریریں کرنے کا بھی اتفاق ہوا اور سب جگہ میں نے دیکھا کہ وہاں کی جماعتوں کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ سلسلہ کا کوئی ذکر نہ ہو کیونکہ پھر لوگ سنیں گے نہیں یا سن کر مخالفت کریں گے۔ مگر میں نے ان کو جواب دیا کہ میں اپنے لیکچروں کی تعریف کا خواہشمند نہیں۔ حق سنانے کا خواہشمند ہوں اگر لوگ نہ سنیں گے یا سنکر مخالفت کریں گے تو یہ ان کی مرضی ہے۔ میں تو خدا تعالیٰ کے حضور بری الذمہ ہو جاؤں گا۔ لکھنؤ سے تو ایک صاحب نے جو اب میری بیعت میں شامل ہیں حضرت خلیفۃ المسیح کو لکھا۔ کہ کاش! آپ اس وفد کے ساتھ کوئی تجربہ کار آدمی بھی بھیج دیتے۔ یہ لوگ اس رنگ میں تبلیغ کرتے ہیں کہ فساد کا خطرہ ہے۔ میاں صاحب نوجوان ہیں جوش میں وقت کو نہیں دیکھتے ایسا نہ ہو کہ کوئی خون ہو جائے اور ہم لوگ بدنام ہوں۔ اب بھی آپ فوراً ایک ایسے بزرگ کو جو ضرورت زمانہ کو سمجھے بھیج دیجئے۔ جب میں واپس آیا تو حضرت خلیفۃ المسیح نے مجھے اس خط کے مضمون پر آگاہ کیا۔ اور اس خط پر سخت نفرت کا اظہار فرمایا۔ لکھنؤ میں دو لیکچروں کی تجویز تھی۔ ایک لیکچر کے بعد گو مخالفوں کی طرف سے بھی کچھ روک ہوئی۔ مگر اپنی جماعت نے بھی اس روک کو ایک عذر بنا کر مزید کوشش سے احتراز کیا۔ اور دوسرا لیکچر رہ گیا مگر ہم نے ملاقاتوں میں خوب کھول کھول کر تبلیغ کی۔ بنارس میں بھی اسی طرح ہوا۔ یہاں کی جماعت اس وقت اپنے آپ کو میری ہم خیال ظاہر کرتی تھی مگر اس کا بھی یہی اصرار تھا کہ لیکچر عام ہو۔ اور اس کی وجہ وہ یہ بتاتے تھے کہ خواجہ صاحب کے لیکچر کامیاب ہو چکے ہیں ایسا نہ ہو یہ لیکچر کامیاب نہ ہوں تو ان کے مقابلہ میں سبکی ہو۔ مگر میں نے نہ مانا۔ اور سلسلہ کے متعلق لیکچر دیئے۔ لوگ کم آئے۔ مگر میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ تعجب ہے کہ جبکہ لکھنؤ کی جماعت جو اس وقت میرے خیالات سے غیر متفق تھی حضرت خلیفہ اوّل کی وفات پر بیعت میں داخل ہوئی۔ جماعت بنارس بیعت سے باہر رہی۔ شاید یہ سزا تھی۔ اس دنیا داری کے خیالات کی جو ان کے اندر پائے جاتے تھے اور جن کا ذکر اوپر کیا کیا جا چکا ہے۔

غرض جماعت کی حالت اس وقت عجیب ہو رہی تھی۔ ایک طرف تو اس کے دل محسوس کر رہے تھے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر اس طرح ترک کر دیا گیا تو آہستہ آہستہ سلسلہ مفقود ہو جائے گا۔ دوسری طرف خواجہ صاحب کے طریقِ تبلیغ کے بعد ان کو یہ خوف تھا کہ لوگ سلسلہ کا ذکر سننے کے لئے شاید آویں گے ہی نہیں۔ اور اگر آویں گے تو اتنے کم کہ خواجہ صاحب اور ان کے رفقاء کو یہ کہنے کا موقع مل جاوے گا کہ ہمارا ہی طرزِ تبلیغ درست ہے کہ جس کے باعث لوگ شوق سے سننے کے لئے آجاتے ہیں آخر ہوتے ہوتے تعلق کی زیادتی پر احمدی بھی ہو جاویں گے پس وہ شش و پنج کی حالت میں تھے اور اس طریق کو ناپسند کرتے ہوئے اس طریق کی نقل کو اپنے کام کے لئے ضروری سمجھتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ اگر لوگوں پر یہ ثابت ہو جاوے کہ احمدیوں میں خواجہ صاحب سے زیادہ واقف اور لوگ بھی موجود ہیں تو خود بخود وہ ادھر متوجہ ہو جاویں گے اور اس وقت ان کو اصل حال سے آگاہ کیا جاسکتا ہے۔

خواجہ صاحب کے طرزِ عمل کی غلطی

پہلے خواجہ صاحب کی حقیقت کھولنے کے لئے ضروری ہے کہ ان ہی کے ایجاد کردہ طریق سے ان کا مقابلہ کیا جاوے۔ مگر یہ ان کا خیال غلط تھا۔ اگر وہ اس راستہ پر پڑ جاتے تو ضرور کچھ مدت کے بعد اسی رنگ میں رنگین ہو جاتے جس میں خواجہ صاحب رنگین ہو چکے تھے اور آخر احمدیت سے دُور جا پڑتے ان کی نجات اسی میں تھی کہ پہلے کی طرح ہر موقع مناسب پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعاویٰ کو پیش کرتے۔ اور لوگوں کے آنے یا نہ آنے کی پرواہ نہ کرتے۔ اور یہ بھی ایک وہم تھا کہ لوگ سنیں گے نہیں۔ لوگ عموماً شخصیت کی وجہ سے آتے ہیں۔ نہ مضمون لیکچر کے سبب سے۔ ایک مشہور شخص ایک معمولی سے معمولی امر کے متعلق لیکچر دینے کے لئے کھڑا ہو جاوے لوگ اسی پر اکٹھے ہو جاویں گے یہ اور بات ہے کہ پیچھے اس پر جرح و قدح کریں۔

کانپور میں لیکچر

مثلاً اسی سفر میں میرا لیکچر کانپور میں ہوا۔ چونکہ اشتہار میں کھول کر بتایا گیا تھا کہ لیکچر سلسلہ احمدیہ کے امتیازات پر ہوگا۔ خیال تھا کہ لوگ شاید سننے نہ آویں گے مگر لوگ بہت کثرت سے آئے اور جو جگہ تیار کی گئی تھی وہ بالکل بھر گئی اور بہت سے لوگ کھڑے رہے۔ ڈیڑھ ہزار یا اس سے بھی زیادہ کا مجمع ہوا۔ اور عموماً تعلیم یافتہ لوگ اور حکام اور تاجر اس میں شامل ہوئے اور اڑھائی گھنٹہ تک نہایت شوق سے سب نے لیکچر سُنا اور جب میں بیٹھ گیا تو تب بھی لوگ نہ اُٹھے اور انہوں نے خیال کیا کہ شاید یہ سانس لینے کے لئے بیٹھے ہیں آخر اعلان کیا گیا کہ لیکچر ختم ہو چکا ہے۔ اب سب صاحبان تشریف لے جاویں تب لوگوں نے شور مچایا کہ ان کو کھڑا کیا جاوے کہ بہت سے لوگ مصافحہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور میں نے دیکھا کہ وہ لوگ جو دن کے وقت ہمارے منہ پر ہمیں کافر کہہ کر گئے تھے بڑھ بڑھ کر علاوہ مصافحہ کرنے کے میرے ہاتھ بھی چومتے تھے۔ لکھنؤ اور بنارس میں لوگوں کے کم آنے کی اور کانپور میں زیادہ آنے کی وجہ میں سمجھتا ہوں یہی تھی کہ لکھنؤ اور بنارس کے لوگ مجھ سے ناواقف تھے اور کانپور میں بوجہ پنجابی سوداگروں کی کثرت کے ہماری خاندانی وجاہت سے ایک طبقہ آبادی کا واقف تھا ۔ اس واقفیت کی وجہ سے وہ آگئے اور لیکچرسن کر حق نے ان کے دل پر اثر کیا اور پہلا لگاؤ اور بھی بڑھ گیا۔

خواجہ صاحب کا سفر ولایت

غرض جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے ۔ جماعت اس وقت عجیب قسم کے اضداد خیالات میں سے گزر رہی تھی اور یہ حالت برابر ایک دو سال تک اسی طرح رہی ۔ یہاں تک کہ ۱۹۱۲ء آ گیا۔ اس سال کو سلسلہ کی تاریخ میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے ۔ کیونکہ اس میں بعض ایسے تغیرات نمودار ہوئے ۔ کہ جنہوں نے آئندہ تاریخ سلسلہ پر ایک بہت بڑا اثر ڈالا ہے ۔ اور جو میرے نزدیک اختلافات سلسلہ کی بنیاد رکھنے والا سال ثابت ہوا ہے ۔ وہ واقعات یہ ہیں ۔ کہ اس سال خواجہ صاحب کی بیوی فوت ہوگئی ۔ خواجہ صاحب کو چونکہ اس سے بہت تعلق اور اُنس تھا ۔ اس غم کو غلط کرنے کے لئے انہوں نے ہندوستان کا ایک لمبا دورہ کرنے کی تجویز کی ۔ اور اس دورہ کی نسبت ظاہر کیا گیا کہ جماعت کے کاموں کے لئے چندہ جمع کرنے کے لئے ہے۔ یہ وفد مختلف علاقہ جات میں گیا اور آخر کئی شہروں کا دورہ کرتے ہوئے بمبئی پہنچا۔ بمبئی میں ایک احمدی رئیس کے گھر پر یہ وفد ٹھہرا۔ ان صاحب کو ان دنوں کوئی کام ولایت میں درپیش تھا جس کے لئے وہ کسی معتبر آدمی کی تلاش میں تھے ۔ انہوں نے خواجہ صاحب کو ایک بھاری رقم کے علاوہ کرایہ وغیرہ بھی دینے کا وعدہ کیا کہ وہ ولایت جا کر ان کے کام کے لئے سعی کریں۔ سفر ولایت جو دل بستگی ہندوستانیوں کے لئے رکھتا ہے اس نے خواجہ صاحب کو اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دینے کی ترغیب دی اور انہوں نے اس تجویز کو غنیمت جانا اور فوراً ولایت جانے کی تجویز کر دی ۔ چنانچہ بدر اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے ۵۔ دسمبر ۱۹۱۲ء کے پرچہ میں لکھتا ہے :۔

”اس سفر میں خواجہ صاحب کے لئے خدا تعالیٰ نے کچھ ایسے اسباب مہیا کر دیئے ہیں کہ وہ انگلینڈ تشریف لے جاتے ہیں “

حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے جو نصائح خواجہ صاحب کو چلتے ہوئے کیں ۔ ان میں بھی اس امر کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں :۔

(۵) ”بقدر طاقت اپنی کے دین کی خدمت وہاں ضرور کرو“ (پیغام جلد اول نمبر اول صفحہ ۳) خواجہ صاحب چونکہ شہرت کے خواہش مند ہمیشہ سے چلے آئے ہیں ۔ انہوں نے اس موقع کو غنیمت

جان کر اصل معاملہ کو پوشیدہ رکھ کر یہ مشہور کرنا شروع کیا کہ انہوں نے اس سفر ولایت میں تبلیغ کی خاص ضرورت محسوس کی ہے۔ اور اس کے لئے وہ اپنی چلتی ہوئی پریکٹس چھوڑ کر محض اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے ولایت جاتے ہیں۔ اصل واقعات کا تو بہت کم لوگوں کو علم تھا۔ اس خبر کا مشہور ہونا تھا کہ چاروں طرف سے خواجہ صاحب کی اس قربانی پر صدائے تحسین و آفرین بلند ہونی شروع ہو گئی اور اپنی زندگی میں ہی ایک مذہبی شہید کی صورت میں وہ دیکھے جانے لگے۔ مگر صرف زبانی روایات پر ہی اکتفاء نہ کر کے خواجہ صاحب نے اخبار زمیندار میں ایک اعلان کرایا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ مجھے کوئی سیٹھ یا انجمن یا کوئی غیر احمدی رئیس ولایت بھیج رہا ہے یہ بات بالکل غلط ہے۔ میں تو اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے اپنا کام چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ اس اعلان کے الفاظ میں یہ احتیاط کر لی گئی تھی کہ رئیس کے لفظ کے ساتھ غیر احمدی کا لفظ بڑھا دیا گیا تھا۔ اور اب بظاہر اعتراض سے بچنے کی گنجائش رکھ لی گئی تھی۔ کیونکہ ان کو بھیجنے والا نہ سیٹھ تھا نہ انجمن نہ غیر احمدی رئیس۔ بلکہ ایک احمدی رئیس نے انکو بھیجا تھا۔ مگر خواجہ صاحب کا یہ منشاء نہ تھا کہ لوگوں کا ذہن ایک احمدی رئیس کی طرف پھرے۔ بلکہ یہ تھا کہ لوگ یہ سمجھیں کہ وہ کسی مالدار شخص سے فیس لے کر کسی دنیاوی کام پر ولایت نہیں جا رہے ۔ بلکہ اپنی پریکٹس کو چھوڑ کر خدا کا نام پھیلانے کے لئے اور شرک کو مٹانے کے لئے اپنے خرچ پر ولایت جا رہے ہیں؎

ترسم کہ نہ رسی بکعبہ اے اعرابی

ایں راہ کہ تو میروی بترکستان است

کہا جاتا ہے کہ بھیجنے والے صاحب یہ نہیں چاہتے تھے کہ کسی کو معلوم ہو کہ وہ خواجہ صاحب کو بھیج رہے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ یہ چاہتے تھے کہ جھوٹ طور پر یہ بھی مشہور کیا جاوے کہ خواجہ صاحب اپنی پریکٹس کو چھوڑ کر اپنے خرچ پر صرف تبلیغ کے لئے ولایت جا رہے ہیں۔ اگر خواجہ صاحب بغیر کسی ایسے اعلان کے ولایت چلے جاتے تو کیا لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ خواجہ صاحب فلاں شخص کے بھیجے ہوئے جا رہے ہیں۔ غیر احمدی سب کے سب اور احمدی اکثر اس واقعہ سے ناواقف تھے اور جو واقف تھے وہ اس اعلان سے دھوکا کھا نہیں سکتے تھے۔ پھر اس اعلان کے سوائے جھوٹے فخر کے اور کیا مدّنظر تھا۔ وَّیُحِبُّوۡنَ اَنۡ یُّحۡمَدُوۡا بِمَا لَمۡ یَفۡعَلُوۡا(اٰل عمران : ۱۸۹)

غرض خواجہ صاحب ولایت روانہ ہو گئے اور پیچھے ان کے دوستوں نے بڑے زور سے اس امر کی اشاعت شروع کی کہ خواجہ صاحب اپنا کام تباہ کر کے صرف تبلیغ دین کے لئے ولایت چلے گئے ہیں۔ ان کی مدد مسلمانوں پر فرض ہے۔ دو سال کا خرچ تو خواجہ صاحب کے پاس تھا ہی۔ اس عرصہ کے بعد اگر وہاں زیادہ ٹھہرنے کا منشاء ہو تو اس کے لئے ابھی سے کوشش کر دی گئی۔

خواجہ صاحب کے ولایت جانے کا اثر

خواجہ صاحب کے اس طرح ولایت جانے پر وہ جوش جو خواجہ صاحب کے خلاف جماعت میں پھیل رہا تھا کہ وہ سلسلہ کی تبلیغ نہیں کرتے اور ایسے طریق کو اختیار کر رہے ہیں۔ جس سے سلسلہ کی خصوصیات کے مٹ جانے کا اندیشہ ہے دب گیا۔ اور خواجہ صاحب کی اس قربانی پر ایک دفعہ پھر جماعت خواجہ صاحب کے گرد جمع ہو گئی مگر بہت کم تھے جو حقیقتِ حال سے واقف تھے۔

سفرِ مصر اور خاص دعائیں

ان ہی دنوں میں مجھے مصر کے راستہ سے حج کے لئے جانے کا موقع ملا۔ گو میرا ارادہ ایک دو سال مصر میں ٹھہرنے کا تھا، مگر حج کے بعد مصر جانے میں کچھ ایسی روکیں پیدا ہوئیں کہ میں نے واپس آجانا مناسب سمجھا۔ اس سفر میں دعاؤں کے ایسے بیش بہا مواقع نصیب ہوئے کہ میں سمجھتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کو قدم ثبات حاصل ہونے میں ایک حصہ ان دُعاؤں کا بھی ہے۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰی ذٰلِكَ۔

حضرت مسیح موعودؑ کے ایک کشف کو خواجہ صاحب کا اپنے اوپر چسپاں کرنا

خواجہ صاحب کو ولایت گئے ابھی کچھ زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ ان کو ایک ہندوستانی مسلمان کی یوروپین بیوی سے جس کا ایک مسلمان سے بیاہ اسے اسلام کے قریب کر ہی چکا تھا۔ ملاقات کا موقع ملا۔ خواجہ صاحب کے مزید سمجھانے پر اس نے اسلام کا اعلان کر دیا۔ خواجہ صاحب نے اس کا خوب اعلان کیا اور لوگوں کو عام طور پر توجہ ہو گئی کہ خواجہ صاحب ایک عمدہ کام کر رہے ہیں۔ احمدیوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے خواجہ صاحب نے یہ لکھنا شروع کیا کہ یہ عورت حضرت مسیح موعودؑ کے ایک کشف کے ماتحت مسلمان ہوئی ہے۔ اس کشف کا مضمون یہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ ولایت گئے ہیں اور وہاں سفید رنگ کے کچھ پرندے پکڑے ہیں چنانچہ اصل الفاظ یہ ہیں:۔

۶”میں نے دیکھا کہ میں شہر لندن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں۔ بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے رنگ سفید تھے اور شاید تیتر کے جسم کے موافق ان کا جسم ہو گا۔ سو میں نے اس کی یہ تعبیر کی، کہ اگرچہ مَیں نہیں۔ مگر میری تحریریں ان لوگوں میں پھیلیں گی اور بہت سے راستباز انگریز صداقت کے شکار ہو جائیں گے “ (ازالہ اوہام جلد دوم صفحہ ۶۷۷ ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۴۶۷) اس کشف کا مضمون ہی بتاتا ہے کہ یہ کشف خواجہ صاحب کے ہاتھ پر پورا نہیں ہوا۔ کیونکہ کشف تو بتاتا ہے کہ پرندے مسیح موعودؑ نے پکڑے ہیں۔ حالانکہ خواجہ صاحب نے جن لوگوں کو مسلمان بنایا ان کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ہرگز نہیں کرایا۔ وہ اسلام جس کی تلقین خواجہ صاحب کرتے رہے ہیں ۔ اس میں تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری بھی شامل ہیں۔ غرض گو اس کشف کا تعلق خواجہ صاحب سے کچھ بھی نہ تھا۔ جیسا کہ بعد کے تجربہ سے ثابت ہوا ۔ وہ احمدیوں میں اپنی مقبولیت بڑھانے کے لئے اس کشف کی اشاعت کرتے رہے۔ شروع میں ایک عرصہ تک خواجہ صاحب نے بالکل پتہ نہیں چلنے دیا کہ وہاں کس قسم کی تبلیغ کر رہے ہیں، مگر یہ سب اعلانات احمدیوں میں ہی تھے ۔ غیر احمدیوں کو یہی بتایا جاتا تھا کہ تبلیغ عام اسلامی اصول کے مطابق ہو رہی ہے اس لئے سب کو چندہ دینا چاہئے اور اس کارِ خیر میں حصہ لینا چاہئے۔

حضرت مسیح موعودؑ کی ایک پیشگوئی کے پورا ہونے پر خواجہ صاحب کا اس کا ذکر نہ کرنا

جب خواجہ صاحب ولایت پہنچے ہیں تو اس وقت بلقان وار (جنگِ بلقان) شروع تھی۔ خواجہ صاحب نے اس کے متعلق ایک ٹریکٹ لکھا اور اس میں حضرت مسیح موعودؑ کا الہام غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِيْ اَدْنَی الْاَرْضِ وَهُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ لکھ کر ترکوں کو حضرت مسیح موعودؑ کی بعثت کی خبر دی۔ ہم لوگ تو اس خبر کو سن کر بہت خوش ہوئے کہ خواجہ صاحب آخر اصل راستہ کی طرف آ گئے ہیں لیکن کچھ ہی دن کے بعد جب ایک دو انگریزوں کے مسلمان ہونے پر غیر احمدیوں نے خواجہ صاحب کی مدد شروع کی اور ان کو یہ بھی بتایا گیا کہ سلسلہ کا ذکر کرنے سے ان کی مدد رُک جاوے گی۔ تو وہی خواجہ صاحب جنہوں نے پیشگوئی کے پورا ہونے سے پہلے اس کا اعلان بلادِ ترکیہ میں کیا تھا۔ اس کے پورا ہونے پر ایسے خاموش ہوئے کہ پھر اس پیشگوئی کا نام تک نہ لیا۔

احمدیہ پریس کے مضبوط کرنے کا خیال

۱۹۱۳ء میں دو اور اہم واقعات ہوئے۔ حج سے واپسی کے وقت مجھے قادیان کے پریس کی مضبوطی کا خاص طور پر خیال پیدا ہوا جس کا اصل محرک مولوی ابو الکلام صاحب آزاد کا اخبار ”الہلال“ تھا۔ جسے احمدی جماعت بھی کثرت سے خریدتی تھی اور خطرہ تھا کہ بعض لوگ اس کے زہریلے اثر سے متاثر ہو جاویں۔ چنانچہ میں نے اس کے لئے خاص کوشش شروع کی اور حضرت خلیفۃ المسیح سے اس امر کی اجازت حاصل کی کہ قادیان سے ایک نیا اخبار نکالا جائے جس میں علاوہ مذہبی امور کے دنیاوی معاملات پر بھی مضامین لکھے جاویں تاکہ ہماری جماعت کے لوگ سلسلہ کے اخبارات سے ہی اپنی سب علمی ضروریات کو پورا کر سکیں جب حضرت خلیفۃ المسیح سے اجازت حاصل کر چکا تو مجھے معلوم ہوا کہ لاہور سے ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب ، ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب بھی ایک اخبار نکالنے کی تجویز کر رہے ہیں۔ چنانچہ اس بات کا علم ہوتے ہی میں نے حضرت خلیفۃ المسیح کو ایک رقعہ لکھا جس کا مضمون یہ تھا کہ لاہور سے مجھے اطلاع ملی ہے کہ فلاں فلاں احباب مل کر ایک اخبار نکالنے لگے ہیں چونکہ میری غرض تو اس طرح بھی پوری ہو جاتی ہے۔ حضور اجازت فرماویں تو پھر اس اخبار کی تجویز رہنے دی جاوے۔ اس کے جواب میں جو کچھ حضرت خلیفۃ المسیح نے تحریر فرمایا اس کا مطلب یہ تھا کہ اس اخبار اور اُس اخبار کی اغراض میں فرق ہے آپ اس کے متعلق اپنی کوشش جاری رکھیں۔ اس ارشاد کے ماتحت میں بھی کوشش میں لگا رہا۔

پیغامِ صُلح اور الفضل کا اجراء

جون ۱۹۱۳ء کے ابتداء میں اخبار پیغامِ صلح لاہور میں شائع ہوا اور وسط میں ”الفضل“ قادیان سے نکلا۔ بظاہر تو سینکڑوں اور اخبارات ہیں جو پہلے سے ہندوستان میں نکل رہے تھے دو اور اخبارات کا اضافہ معلوم ہوتا تھا مگر درحقیقت احمدی جماعت کی تاریخ میں ان اخبارات کے نکلنے نے ایک اہم بات کا اضافہ کر دیا۔

پیغامِ صُلح کی روش

پیغام صلح کے نکلنے سے وہ مواد جو خفیہ خفیہ جماعت میں پیدا ہو رہا تھا پھوٹ پڑا اور کھلے بندوں سلسلہ کی خصوصیات کو مٹانے کی کوشش کی جانے لگی۔ قادیان کی جماعت خاص طور پر سامنے رکھ لی گئی اور سلسلہ کے دشمنوں سے صُلح کی داغ بیل پڑنے لگی۔ اصل غرض تو شاید اس رسالہ سے خواجہ صاحب کے مشن کی تقویت تھی مگر طبعاً ان مسائل کو بھی چھیڑنا پڑ گیا جو مابہ النزاع تھے۔ غیر احمدیوں میں اس اخبار کی اشاعت کی غرض سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مرزا صاحب علیہ الرحمۃ لکھا جانے لگا اور دشمنانِ سلسلہ کی تعریف کے گیت گائے جانے لگے ۔ ترکوں کے بادشاہ کو خلیفۃ المسلمین کے لقب سے یاد کیا جانے لگا۔

غرض پوری کوشش کی گئی کہ احمدیت کا نام درمیان سے اُٹھ جائے اور احمدی اور غیر احمدی ایک ہو جاویں۔

مسجد کانپور کا واقعہ

ان اخبارات کے شائع ہوئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ کانپور کی ایک مسجد کے غسل خانہ کے گرائے جانے پر مسلمانانِ ہند میں فتور برپا ہوا جن لوگوں نے اس مسجد کے گرانے پر بلوہ کیا تھا اور مارے گئے اُن کو شہید کا خطاب دیا گیا اور گورنمنٹ کے خلاف بڑے زور سے مضامین لکھے گئے ۔ پیغامِ صلح نے بھی ان اخبارات کا ساتھ دیا جو اس وقت گورنمنٹ کے خلاف لکھ رہے تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح سے خاص آدمی بھیج کر رائے طلب کی گئی اور مولوی محمد علی صاحب سے مضمون لکھوائے گئے ۔ مولوی محمد علی صاحب کے مضامین تو صریح فسادیوں کی حمایت میں تھے مگر حضرت خلیفۃ المسیح کی صائب رائے کو اس طرح بگاڑ کر شائع کیا گیا کہ اس کا مطلب در کا اور بن گیا ۔ اور اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ گورنمنٹ نے اس موقع پر نہایت ناواجب سختی سے کام لیا ہے اور مسجد کا گرانا درست نہ تھا ۔ حالانکہ آپ نے مجھے یہ لکھوایا تھا کہ غسل خانہ مسجد میں نہیں اور شور و فساد میں لوگوں کو حصہ نہیں لینا چاہئے ۔ جب پیغامِ صلح کے یہ مضامین حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کو دکھائے گئے تو آپ نے ان کو نہایت ناپسند کیا۔ اور خود دو مضامین مجھ سے لکھوائے ۔ جن کے نوٹ اب تک میرے پاس موجود ہیں ۔ ان میں خاص طور پر زور دیا گیا تھا کہ غسل خانے مسجد کا جزو نہیں ہیں اور یہ کہ جو لوگ اس موقع پر شورش کر رہے ہیں وہ غلطی پر ہیں اور منافقانہ کارروائی کر رہے ہیں

لیکن منع فرمایا کہ میں ان مضامین میں آپ کی طرف اشارہ کروں ۔ اپنی طرف سے شائع کردوں۔ جب یہ مضامین شائع ہوئے تو لوگوں میں عام طور پر یہ پھیلایا گیا کہ میں نے ان مضامین میں مولوی محمد علی صاحب کو جن کے مضامین پیغامِ صلح میں شائع ہوئے ہیں گالیاں دی ہیں ۔ چنانچہ ڈاکٹر محمد شریف صاحب بٹالوی حال سول سرجن ہوشیار پور جو اس وقت غالباً سرگودھا میں تھے قادیان میں تشریف لائے تو انہوں نے مجھ سے اس امر کے متعلق ذکر کیا۔ میں نے ان کو جواب دیا کہ یہ مضامین میرے نہیں بلکہ حضرت خلیفۃ المسیح کے لکھوائے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے ؟ کہ حضرت خلیفۃ المسیح جو مولوی محمد علی صاحب کا اس قدر ادب کرتے ہیں ایسے الفاظ آپ کی نسبت لکھوائیں ۔ میں نے اسی وقت وہ اخبار کا پرچہ منگوا کر جس پر ان کو اعتراض تھا اس کے حاشیہ پر یہ لکھ دیا کہ یہ مضمون حضرت خلیفۃ المسیح کا لکھوایا ہوا ہے اور جس قدر سخت الفاظ ہیں وہ آپ کے ہی ہیں میں نے اپنی طرف سے نہیں لکھے اور وہ پرچہ ان کو دے دیا کہ آپ اس پرچہ کو حضرت خلیفۃ المسیح کے پاس لے جاویں اور ان کے سامنے رکھ دیں ۔ پھر آپ کو معلوم ہو جاوے گا کہ آیا ان کا لکھایا ہوا ہے یا میرا لکھا ہوا ہے۔ وہ اس پرچہ کو آپ کے پاس لے گئے اور چونکہ اسی وقت انہوں نے واپس جانا تھا ۔ پھر مجھے تو نہیں ملے مگر اس پرچہ کو اپنے ایک رشتہ دار کے ہاتھ مجھے بھجوایا اور کہلا بھیجا کہ آپ کی بات درست ہے۔ یہ صاحب ایک معزز عہدہ دار ہیں اور ہیں بھی مولوی محمد علی صاحب کے ہم خیالوں میں ، میری بیعت میں شامل نہیں ۔ ان سے قسم دے کر مولوی محمد علی صاحب دریافت کر سکتے ہیں کہ یہ واقعہ درست ہے یا نہیں۔

غرض کانپور کی مسجد کا واقعہ جماعت میں ایک مزید تفرقہ کا باعث بن گیا۔ کیونکہ اس کے ذریعہ سے ایک جماعت تو سیاست کے انتہا پسند گروہ کی طرف چلی گئی اور دوسری اس تعلیم پر قائم رہی جو اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دی تھی اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ مؤخر الذکر جماعت تعداد میں بہت زیادہ تھی ۔

لارڈ ہیڈلے کے مسلمان ہونے کا اعلان

ان ہی ایام میں خواجہ صاحب کو ایک پُرانے مسلمان لارڈ ہیڈلے مل گئے۔ وہ قریباً چالیس سال سے مسلمان تھے مگر بوجہ مسلمانوں کی مجلس نہ ملنے کے اظہارِ اسلام کے طریق سے ناواقف تھے۔ خواجہ صاحب کے ملنے پر انہوں نے اسلام کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ چالیس سال

سے مسلمان ہیں۔ خواجہ صاحب نے فوراً تمام دنیا میں شور مچا دیا کہ ان کی کوششوں سے ایک لارڈ مسلمان ہو گیا ہے۔ اس خبر کا شائع ہونا تھا کہ خواجہ صاحب ایک بُت بن گئے اور چاروں طرف سے ان کی خدمات کا اعتراف ہونے لگا۔ مگر وہ لوگ جن کو معلوم تھا کہ لارڈ ہیڈلے چالیس سال سے مسلمان ہے۔ اس خبر پر نہایت حیران تھے کہ خواجہ صاحب صداقت کو اس حد تک کیوں چھوڑ بیٹھے ہیں؟ مگر خواجہ صاحب کے مدنظر صرف اپنے مشن کی کامیابی تھی۔ جائز یا ناجائز ذرائع سے وہ اپنے مشن کو کامیاب بنانے کی فکر میں تھے۔ میرے نزدیک لارڈ ہیڈلے کے اسلام کا اظہار ان احمدیوں میں سے بیسیوں کی ٹھوکر کا موجب ہوا ہے جو اس وقت ان لوگوں کے ساتھ ہیں کیونکہ بعض لوگ ان کی ان خیالی کامیابیوں کو دیکھ کر یہ یقین کرنے لگے تھے کہ یہ الٰہی تائید بتا رہی ہے کہ خواجہ صاحب حق پر ہیں۔ حالانکہ یہ تائید الٰہی نہ تھی بلکہ خواجہ صاحب کی اخلاقی موت تھی اور جب تک سلسلہ احمدیہ باقی رہے گا اور انشاء اللہ قیامت تک باقی رہے گا۔ خواجہ صاحب کی یہ خلاف بیانی اور چالاکی بھی دنیا کو یاد رہے گی اور وہ اسے دیکھ دیکھ کر انگشت بدندان ہوتے رہیں گے۔

خواجہ صاحب کی اس کامیابی کو دیکھ کر جو بعد میں محض خیالی ثابت ہوئی جماعت کے ایک حصہ کے قدم پھر لڑکھڑا گئے اور جیسا کہ میں نے لکھا ہے وہ اسے آسمانی مدد سمجھ کر اپنی عقل کو غلطی خوردہ خیال کر کے خواجہ صاحب کی ہم خیالی میں ہی اپنی فلاح سمجھنے لگے اور پیغام صلح کے مضامین ان کے لئے اور بھی باعث ٹھوکر ہو گئے لیکن اس کشمکش کا یہ فائدہ بھی ہو گیا کہ جو کوششیں خفیہ کی جاتی تھیں ان کا اظہار ہو گیا اور جماعت ہوشیار ہو گئی۔ کچھ حصہ جماعت کا بیشک ہلاک ہو گیا۔ مگر ان کی ہلاکت دوسروں کے بچانے کا ذریعہ بن گئی۔

پیغام میں جماعت قادیان پر حملے

جب اختلاف کا اظہار ہو گیا تو اب زیادہ پوشیدگی کی ضرورت نہ رہی۔ پیغام صلح میں خوب کھلم کھلا

طور پر قادیان کی جماعت پر اعتراضات ہونے لگے اور ان کے جوابات الفضل میں حضرت خلیفۃ المسیح کے مشورہ سے شائع ہوتے رہے۔ گو یہ لوگ جو نہی حضرت خلیفۃ المسیح کی ناراضگی کا علم پاتے تھے۔ فوراً آکر آپ سے معافی مانگ لیتے مگر پھر جا کر وہی کام شروع ہو جاتا۔ یہ زمانہ جماعت کے لئے بہت نازک تھا کیونکہ دشمن بھی اس اختلاف سے آگاہ ہو گئے جو اندر ہی اندر کئی سال سے نمودار ہو رہا تھا اور انہوں نے اس علم سے فائدہ اٹھا کر ان لوگوں کو فساد پر اور بھی آمادہ کرنا شروع کیا ۔ اور کئی قسم کے سبز باغ دکھانے شروع کئے ۔ حتیٰ کہ حضرت خلیفۃ المسیح کو پیغام صلح کا نام پیغام جنگ رکھنا پڑا۔

خفیہ ٹریکٹ

گو اخبار کے ذریعہ سے بہت کچھ زہر یہ لوگ ہمارے خلاف اُگلتے تھے مگر پھر بھی حضرت خلیفۃ المسیح کا خوف ساتھ لگا رہتا تھا۔ پس ان کے دل کا حوصلہ پوری طرح نہ نکلتا تھا اور خود حضرت خلیفۃ المسیح کے خلاف تو کھلم کھلا کچھ لکھ ہی نہ سکتے تھے۔ اس لئے بنگال کے انارکسٹوں کے شاگرد بن کر مولوی محمد علی صاحب کے ہم خیال لوگوں کی ایک جماعت نے ایسے ٹریکٹوں کا ایک سلسلہ شروع کیا جن کے نیچے نہ پریس کا نام ہوتا تھا اور نہ لکھنے والے کا۔ چنانچہ اس سلسلہ میں ان لوگوں نے دو ٹریکٹ شائع کئے جن کا نام اظہار الحق نمبر ا۔ اور اظہار الحق نمبر ۲ رکھا گیا۔

یہ دونوں ٹریکٹ وسط نومبر ۱۹۱۳ء میں ایک دو دن کے وقفہ سے ایک دوسرے کے بعد شائع ہوئے۔ پہلا ٹریکٹ چار صفحہ کا تھا اور دوسرا آٹھ صفحہ کا۔ دونوں کے آخر میں لکھنے والے کے نام کی بجائے داعی الی الوصیت لکھا ہوا تھا ۔ یعنی حضرت مسیح موعود کی وصیت کی طرف جماعت کو بلانے والا۔

پہلے ٹریکٹ کا خلاصہ

ٹریکٹ اوّل کا خلاصہ یہ تھا کہ اس زمانہ میں جمہوریت کی اشاعت اس بات کی طرف اشارہ کرتی تھی کہ اس زمانہ کا مامور بھی جمہوریت کا حامی ہوگا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ حضرت مسیح موعود سوائے ان امور کے جن میں وحی ہوتی احباب سے مشورہ کر لیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے اس لئے مامور کیا ہے کہ انسانوں کی شانیں جو حد سے زیادہ بڑھا دی گئی ہیں ان کو دُور کریں اور جب آپؐ کو اپنی وفات کے قُرب کی خبر خدا تعالیٰ نے دی تو آپؐ نے اپنی وصیت لکھی اور اس میں اپنے بعد جانشین کا مسئلہ اس طرح حل کیا کہ آپؐ کے بعد جمہوریت ہو گی اور ایک انجمن کے سپرد کام ہو گا ۔ مگر افسوس کہ آپؐ کی وفات پر جماعت نے آپؐ کے فرمودہ کو پسِ پشت ڈال کر پیر پرستی شروع کر دی اور جمہوریت کے رنگ کو نَسْیًا مَّنْسِیًّا کر دیا۔ اس وقت جماعت میں بہت سے لوگ ایسے موجود ہیں جنہوں نے بیعت مجبوری سے کی ہے ورنہ ان کے خیال میں اس بیعت لینے والے کی نسبت (حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اوّل) بہتر لوگ جماعت میں موجود ہیں۔ اور اس امر کا اصل وبال کارکنانِ صدر انجمن احمدیہ پر ہے جنہوں نے بانی سلسلہ کی وفات پر جماعت کو پیر پرستی کے گڑھے میں دھکیل دیا۔ اب یہ حال ہے کہ حصولِ گدی کے لئے طرح طرح کے منصوبے کئے جاتے ہیں۔ اور ایک خاص گروہ انصار اللہ اس لئے بنایا گیا ہے کہ تا قوم کے جملہ بزرگواروں کو نیچا دکھایا جاوے۔ انصار اللہ کا کام ظاہر میں تو تبلیغ ہے لیکن اصل میں بزرگانِ دین کو منافق مشہور کرنا ہے۔ مولوی غلام حسین صاحب پشاوری، میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی، مولوی محمد علی صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب، ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب ان لوگوں کو قابلِ دار بتایا جاتا تھا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے صاف طور پر انجمن کو اپنا جانشین قرار دیا ہے نہ کسی واحد شخص کو۔ حضرت مسیح موعودؑ نے صاف لکھ دیا ہے کہ آپؑ کے بعد صدر انجمن کا فیصلہ ناطق ہوگا۔ اب جماعت کی حالت کو دیکھو کہ غیر مامور کی ہر ایک بات کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ پیغام صلح کو بند کر کے خلیفہ نے جماعت کو اس سے بدظن کر دیا۔ پیغام صلح کی منافقانہ کارروائیوں سے تنگ آ کر حضرت خلیفۃ المسیح نے اعلان فرما دیا تھا کہ اسے میرے نام نہ بھیجا کرو اور پھر جب یہ لوگ بھیجتے رہے تو آپ نے ڈاک سے وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ مرزا محمود احمد) جب ایک معزز طبقہ کی بے عزتی بلا وجہ وہ شخص جو جماعت میں عالم قرآن سمجھا جاتا ہے (یعنی خلیفہ اوّل) محض خلافت کی رعونت میں کر دیتا ہے تو بے سمجھ نوجوان طبقہ سے بزرگانِ جماعت کیا امید رکھ سکتے ہیں؟ بزرگانِ قوم ان کارروائیوں کو کب تک دیکھیں گے اور خاموش رہینگے؟ احمدیو! دوسرے پیرزادوں کو چھوڑو اور اپنے پیرزادوں کی حالت کو دیکھو۔

دوسرے ٹریکٹ کا خلاصہ

دوسرے ٹریکٹ کا خلاصہ یہ تھا۔ جماعت احمدیہ میں کوئی عیار نہیں۔ غیر مامور کی شخصی غلامی (یعنی حضرت خلیفہ اوّل کی بیعت) نے ہماری حالت خراب کر دی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وقت میں جماعت بہت آزادی سے گفتگو کر لیتی تھی۔ اب سخت تقیّد کیا جاتا ہے اور خلیفہ کے کان بھر کر بھائیوں کو تکلیف دی جاتی ہے۔ اگر چندے یہی حالت رہی تو احمدی پیر پرستوں اور غیر احمدی پیر پرستوں میں کوئی فرق نہ رہے گا۔ حضرت مسیح موعودؑ کے ایک سو سال بعد ہی کوئی مصلح

آسکتا ہے اس سے پہلے نہیں ۔ جن کا اس کے خلاف خیال ہے وہ اپنے ذاتی فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا خیال پھیلاتے ہیں ۔ جماعت کی بہتری اسی میں ہے کہ جمہوریت کے ماتحت کام کرے ۔

اس کے بعد جماعت میں فتنہ کی تاریخ اس طرح لکھتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کی گھبراہٹ میں جب حضرت مسیح موعودؑ کے احکام کو پس پشت ڈال کر جماعت نے مولوی نورالدین صاحب کو خلیفہ مان لیا ۔ تو اس وقت سب لوگوں کی زبانوں پر یہ کلام جاری تھا کہ مولوی محمد علی صاحب ہی آپ کے بعد خلیفہ ہوں گے ۔ حاسدوں نے اس امر کو دیکھ کر بیوی صاحبہ (حضرت اماں جان) کی معرفت کارروائی شروع کی اور ان کی معرفت خلیفہ کو کہلوایا کہ آپ کی بیعت تو ہم نے کرلی ہم کسی ارائیں وغیرہ کی بیعت نہیں کریں گے جس پر مولوی صاحب نے ان کی حسب مرضی جواب دیگر ٹال دیا ۔ اس کے بعد انجمن کے معاملات میں دخل دینے اور مولوی محمد علی صاحب کو تنگ کرنے کے لئے ہر جائز و ناجائز کوشش شروع ہو گئی ۔ پھر میر محمد اسحٰق صاحب کے ذریعہ ایک فساد کھڑا کر دیا گیا ۔ (ان سوالات کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر میں پہلے تاریخ سلسلہ کے بیان میں کر چکا ہوں) اور کارکنان انجمن کے خلاف شور ڈال دیا گیا ۔ اور مرزا محمود صاحب کو مدعی خلافت کے طور پر پیش کیا جانے لگا اور مشہور کیا گیا کہ انجمن کے کارکن اہل بیت کے دشمن ہیں ۔ حالانکہ یہ غلط ہے ۔ اہل بیت قوم کا روپیہ کھا رہے ہیں اور انجمن اور اس کے اراکین پر ذاتی حملہ کر رہے ہیں ۔ مولوی محمد علی صاحب پر الزام لگائے جاتے ہیں پیغام صلح کی اشاعت کا سوال پیدا ہوا تو جھٹ الفضل کی اجازت خلیفہ سے مانگی گئی ۔ جنہوں نے ڈر کر اجازت دے دی ۔

ہمارے مضامین میں منتظمین پیغام کا کچھ دخل نہیں نہ ان کو خبر ہے ۔ کانپور کا واقعہ جب ہوا تو منتظمین پیغام نے خلیفہ رجب الدین کو ٹریبیون دے کر قادیان بھیجا اور مولوی صاحب کا خط منگوایا اگر اس کے چھاپنے میں کوئی خلاف بات کی گئی تھی تو مولوی صاحب کو چاہئے تھا اس کی تردید پیغام میں کرتے نہ کہ منتظمین پیغام پر ناراض ہوتے ۔ مولوی صاحب نے اخبار پیغام صلح کو کانپور کے جھگڑے کے باعث نہیں بلکہ ایک معمولی بات پر ناراض ہو کر بند کر دیا تھا ۔

بھائیو! تعجب ہے ایک عالم قرآن (حضرت خلیفہ اول) اس طرح بلاوجہ ایڈیٹر پیغام اور دوسرے متعلقین کو زبانی اور بذریعہ الفضل ذلیل و خوار کرنا شروع کر دیتا ہے ۔ کیا یہی انصاف اسلام سکھاتا ہے ؟

پیغام کے خلاف الحق دہلی نے جو زہر اُگلا ہے اس کا جواب چونکہ قادیان والوں نے نہیں دیا اس لئے وہی اس کے محرک ہیں۔

اس کے آگے ذاتی عیوب کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس کا سمجھنا بغیر تفصیل کے بیرونجات کے لوگوں کے لئے مشکل ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اہل بیت لوگوں کو ورغلا رہے ہیں اور بزرگانِ سلسلہ کو بدنام کر رہے ہیں اور جماعت کو اُکسایا ہے کہ احمدی جماعت کو اس مصیبت سے بچانے کی کوشش کریں اور راقم ٹریکٹ سے اس امر میں خط و کتابت کریں۔

ٹریکٹ لکھنے والا کون تھا ؟

اس ٹریکٹ کے آخر میں گو نام نہ تھا۔ مگر چند باتیں اس کی اس قسم کی تھیں جو صاف طور پر بتلاتی ہیں کہ ان ٹریکٹوں کے لکھنے والے کون تھے ؟

اوّل:۔ یہ تمام کے تمام ٹریکٹ لاہور سے شائع ہوتے تھے جو اس وقت مولوی محمد علی صاحب کے ہم خیالوں کا مرکز تھا۔ مرکز کے لفظ سے یہ مراد نہیں کہ اس وقت بھی قادیان کے مقابلہ پر لاہور کو مرکز ظاہر کیا جاتا تھا۔ بلکہ بوجہ اس کے کہ مولوی محمد علی صاحب کی پارٹی کے اکثر آدمی وہاں ہی رہتے تھے اور اخبار پیغام صلح ان کا آرگن بھی وہیں سے شائع ہوتا تھا۔ لاہور اس وقت بھی مرکز کہلانے کا مستحق تھا گو کھلم کھلا طور پر حضرت خلیفہ اوّل کی وفات پر اسے مرکز قرار دیا گیا ہے۔

۲:۔ اکثر جگہ پر یہ ٹریکٹ پیغام صلح کی مطبوعہ پَتوں میں بند شدہ پہنچا تھا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دفتر پیغام صلح سے یہ بھیجا گیا تھا ۔ یا یہ کہ پیغام صلح کے متعلقین اس کی اشاعت میں دخل رکھتے تھے۔

۳:۔ اس ٹریکٹ کا لکھنے والا لوگوں سے چاہتا ہے کہ وہ اس سے اس کے مضمون کے متعلق خط و کتابت کریں لیکن اپنا پتہ نہیں دیتا جس سے طبعاً یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ پتہ نہیں دیتا تو لوگ اس سے خط و کتابت کیونکر کریں ؟ اور معلوم ہوتا ہے کہ اس نے پہلے پتہ لکھا ہے پھر مصلحتاً اسے کاٹ دیا ہے لیکن چونکہ اصل مضمون میں سے یہ عبارت کہ لوگ اس سے خط و کتابت کریں نہیں کٹی ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مضمون چھپنا شروع ہو گیا ہے تب پتہ کاٹنے کا خیال ہوا اور چونکہ اصل مضمون کا کوئی حصہ کاٹنے میں دیر لگتی تھی اور عبارت خراب ہونے کا خطرہ تھا اس لئے اسے اسی طرح رہنے دیا ہے ۔ اب ہم بعض ٹریکٹوں کو دیکھتے ہیں تو ان پر سے اُنگلی سے رگڑ کر مضمون کے خاتمہ پر کچھ عبارت کٹی ہوئی ہے اور بعض ٹریکٹ ہمیں ایسے بھی ملتے ہیں جن پر ”معرفت اخبار “ کا لفظ کٹنے سے رہ گیا ہے اور باقی کٹا ہوا ہے ۔ یہ الفاظ ”معرفت اخبار“ کے صاف طور پر بتلاتے ہیں کہ پہلے خط و کتابت کے لئے کسی اخبار کا پتہ دیا گیا تھا اور گو یہ اخبار پیغام نہ ہو اور جہاں تک ہمیں معلوم ہے نہیں تھا۔ مگر اس سے یہ پتہ ضرور چلتا ہے کہ اس ٹریکٹ کے لکھنے والے کا تعلق اخبارات سے ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ معاصرانہ تعلقات کی بناء پر ایک اخبار دوسرے اخبار کے عملہ کی خدمت بالعموم کر دیا کرتے ہیں۔

۴:۔ اس ٹریکٹ میں انہی خیالات کی اشاعت تھی جو مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کے تھے سوائے اس کے کہ حضرت خلیفہ اول کی نسبت کسی قدر زیادہ سخت الفاظ استعمال کئے گئے تھے۔ مگر بیسیوں ایسے گواہ ہمارے پاس موجود ہیں جو شہادت دیتے ہیں کہ اپنی علیحدہ مجلسوں میں مولوی محمد علی صاحب کے ہم خیالوں میں سے بعض بڑے آدمی نہایت سخت الفاظ حضرت خلیفہ اول کی نسبت استعمال کیا کرتے تھے اور حضرت مولوی صاحب کی تعریف کی پالیسی آپ کی وفات کے بعد شروع ہوئی ہے بلکہ خفیہ طور پر خطوں میں بھی ایسے الفاظ استعمال کر لیتے تھے۔ چنانچہ ان کے دو بڑے رکنوں کے ان خطوط میں سے جو انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی میں سید حامد شاہ صاحب مرحوم کو لکھے۔ ہم بعض حصہ اس جگہ نقل کرتے ہیں۔ پہلا خط سید محمد حسین صاحب ان کی صدر انجمن کے محاسب کا ہے۔ وہ سید حامد شاہ صاحب کو لکھتے ہیں:۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ ۱/۱۰/۱۹۰۹ اخی مکرمی جناب شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، جناب کا نوازش نامہ پہنچا حال معلوم ہوا۔ قادیان کی نسبت دل کو بٹھا دینے والے واقعات جناب کو شیخ صاحب نے لکھے ہوں گے۔ وہ باغ جو حضرت اقدسؓ نے اپنے خون کا پانی دے دے کر کھڑا کیا تھا۔ ابھی سنبھلنے ہی نہ پایا تھا کہ بادِ خزاں اس کو گرایا چاہتی ہے۔ حضرت مولوی صاحب کی طبیعت میں ضد اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ دوسرے کی سُن ہی نہیں سکتے۔ وصیت کو پسِ پشت ڈال کر خدا کے فرستادہ کے کلام کی بے پروائی کرتے ہوئے شخصی وجاہت اور حکومت ہی پیشِ نظر ہے۔ سلسلہ تباہ ہو تو ہو مگر اپنے منہ سے نکلی ہوئی بات نہ ٹلے پر

نہ ٹلے۔ وہ سلسلہ جو کہ حضرت اقدس کے ذریعہ بنایا تھا اور جو کہ بڑھے گا اور ضرور بڑھے گا۔ وہ چند ایک اشخاص کی ذاتی رائے کی وجہ سے اب ایسا گرنے کو ہے کہ پھر ایک وقت کے بعد ہی سنبھلے تو سنبھلے۔ سب اہل الرائے اصحاب اپنے اپنے کاروبار میں مصروف ہیں۔ اور حضرت مرزا صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کے مرتے ہی سب نے آپ کے احسانات کو بھلا آپ کے رُتبہ کو بھلا، آپ کی وصیت کو بھلا دیا ۔ اور پیر پرستی جس کی بنیاد کو اکھاڑنے کے لئے یہ سلسلہ اللہ نے مقرر کیا تھا ۔ قائم ہو رہی ہے اور عین یہ شعر مصداق اس کے حال کا ہے؎

بیکے شد دین احمدؐ ہیچ خویش و یار نیست

ہر کسے درکارِ خود با دین احمدؐ کار نیست

کوئی بھی نہیں پوچھتا کہ بھائی یہ وصیت بھی کوئی چیز ہے یا نہیں؟ یہ تو اللہ کی وحی کے ماتحت لکھی گئی تھی۔ کیا یہ پھینک دینے کے لئے تھی ؟ اگر پوچھا جاتا ہے تو ارتداد کی دھمکی ملتی ہے۔ اللہ رحم کرے۔ دل سخت بیکلی کی حالت میں ہے۔ حالاتِ آمدہ از قادیان سے معلوم ہوا کہ مولوی صاحب فرماتا ہے کہ بمب کا گولہ دس دن تک چھوٹنے کو ہے جو کہ سلسلہ کو تباہ و چکنا چور کر دیگا۔ اللہ رحم کرے۔ تکبّر اور نخوت کی کوئی حد ہوتی ہے۔ نیک ظنی نیک ظنی کی تعلیم دیتے دیتے بدظنی کی کوئی انتہاء نظر نہیں آتی۔ ایک شیعہ کی وجہ سے سلسلہ کی تباہی۔ اللہ رحم کرے۔ یا الٰہی ہم گنہگار ہیں تُو اپنے فضل وکرم سے ہی ہمیں بچا سکتا ہے۔ اپنی خاص رحمت میں لے لے۔ اور ہم کو ان ابتلاؤں سے بچالے آمین۔ اور کیا لکھوں۔ بس حد ہو رہی ہے وقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاص تائید الٰہی ہو۔ تاکہ یہ اس کا سلسلہ اس صدمہ سے بچ جاوے ۔ آمین۔ سب برادران کی خدمت میں السلام علیکم اور دُعا کی درخواست۔ خاکسار سیّد محمد حسین (تاریخ احمدیت جلد ۴ ص ۲۸۵) دوسرا خط مرزا یعقوب بیگ صاحب ان کی صدر انجمن کے جنرل سیکرٹری کا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس خط کا مضمون شیخ رحمت اللہ صاحب اور سید محمد حسین شاہ صاحب کے علم سے اور ان کی پسندیدگی کے بعد بھیجا گیا ہے۔ کیونکہ وہ لکھتے ہیں کہ شیخ صاحب اور شاہ صاحب کی طرف سے بھی مضمون واحد ہے :۔ حضرت اخی المکرم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ سردست تو قادیان کی مشکلات کا سخت فکر ہے۔ خلیفہ صاحب کا تلون طبع بہت بڑھ گیا ہے

اور عنقریب ایک نوٹس شائع کرنے والے ہیں جس سے اندیشہ بہت بڑے ابتلاء کا ہے۔ اگر اس میں ذرہ بھی تخالف خلیفہ صاحب کی رائے سے ہو تو برافروختہ ہو جاتے ہیں ،سب حالات عرض کئے گئے مگر ان کا جوش فرو نہ ہوا اور ایک اشتہار جاری کرنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ فرماویں ہم اب کیا کر سکتے ہیں؟ ان کا منشاء یہ ہے کہ انجمن کالعدم ہو جائے اور ان کی رائے سے ادنیٰ تخالف نہ ہو۔ مگر یہ وصیت کا منشاء نہیں۔ اس میں یہی حکم ہے کہ تم سب میرے بعد مل جل کر کام کرو۔ شیخ صاحب اور شاہ صاحب بعد سلام مسنون مضمون واحد ہے۔

خاکسار مرزا یعقوب بیگ ۲۹/۹/۱۹۰۹ (تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ ۲۸۸)

۵۔ نہایت واضح اور صاف بات اس امر کی تائید میں کہ یہی لوگ ان ٹریکٹوں کے شائع کرنے والے ہیں۔ یہ ہے کہ ان ٹریکٹوں کے شائع ہوتے ہی مینیجر پیغام صلح سید انعام اللہ شاہ اور پیغام صلح کے انتظامی کاموں کی روح رواں بابو منظور الٰہی دونوں کے دستخط سے ایک تحریر پیغام صلح کے ۱۶؍ نومبر کے پرچہ میں شائع ہوئی جس میں اس الزام کو رد کرتے ہوئے کہ انصار اللہ ہم دونوں کو ٹریکٹوں کا شائع کرنے والا قرار دیتے ہیں ،لکھا ہے۔ جو ٹریکٹ ہم نے دیکھے ہیں ان میں ذرا شک نہیں کہ اکثر باتیں ان کی سچی ہیں۔ جہانتک کہ ان کے متعلق ہمارا علم ہے اور بعض باتیں ہمارے علم اور ہمارے مشاہدہ سے بالاتر ہیں۔ اس لئے ان کی نسبت ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔۔۔۔۔۔ جب ہمارا حضرت مسیح موعودؑ کی ہر بات کے ساتھ پورا پورا ایمان ہے تو دیگر فروعی باتوں کے اختلاف یا ٹریکٹ ہائے کی بیان کردہ باتوں کے ساتھ اتفاق رائے رکھنے کے جرم میں اگر ہماری نسبت غلط فہمی پھیلائی جانی لاہوری انصار اللہ نے مناسب سمجھی ہے اور ہمارے خلاف کچھ لکھنے کا ارادہ کیا ہے۔ تو ہماری طرف سے کچھ کمی بیشی کا کلمہ لکھا گیا تو اس کی ذمہ داری بھی ان پر ہوگی۔

ٹریکٹوں کی اشاعت سے دو باتوں کا ظاہر ہونا

یہ پانچ ثبوت ہیں اس امر کے کہ ان ٹریکٹوں کے شائع کرنے والے مولوی محمد علی صاحب کے رفقاء اور ہم خیال تھے۔ ان ٹریکٹوں کی اشاعت ہم پر دو امر خوب اچھی طرح ظاہر کر دیتی ہے ایک تو یہ کہ مقابلہ کے وقت اس جماعت سے کسی قانون حکومت یا قانون اخلاق یا قانون شریعت کی پابندی کی امید نہیں رکھی جاسکتی کیونکہ اس ٹریکٹ کی اشاعت میں قانون حکومت کو بھی توڑا گیا ہے کیونکہ مطبع کا نام نہیں دیا گیا ۔ حالانکہ یہ قانون کے خلاف ہے۔ قانون اخلاق کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے کیونکہ حضرت خلیفۃ المسیح اور مجھ پر اور میرے دیگر رشتہ داروں پر ناپاک سے ناپاک حملے کئے گئے اور الزام لگانے والا اپنا نام نہیں بتاتا۔ تاکہ اس کے الزامات کی تحقیق کی جاسکے کیونکہ مدعی جب تک ثبوت نہ دے اس کا جواب کیا دیا جا سکتا ہے؟ قانونِ شریعت کو بھی توڑا گیا ہے کیونکہ لکھنے والا اس شخص کی مخالفت کرتا اور اسے مشرک اور بد اخلاق قرار دیتا ہے جس کے ہاتھ پر وہ بیعت کر چکا ہے اور پھر ایسے ناپاک افتراء بغیر ثبوت و دلیل کے شائع کرتا ہے جن کا بغیر ثبوت کے منہ پر لانا بھی شریعت حرام قرار دیتی ہے۔ دوسرا امر یہ کہ یہ لوگ اس بات کا قطعی طور پر فیصلہ کر چکے تھے کہ خواہ کچھ ہو جاوے اپنے مدعا کے حصول کے لئے جماعت کے تفرقہ کی بھی پرواہ نہیں کریں گے اور جماعت کے توڑنے کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی کے زمانہ میں ہی تدابیر شروع کر دی تھیں۔

ٹریکٹوں کے لکھنے والے کئی ایک تھے

ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ ٹریکٹ خود مولوی محمد علی صاحب نے لکھا مگر بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا لکھنے والا ان کے دوستوں اور ہم خیالوں میں سے ضرور تھا اور ایک نہ تھا کئی تھے بلکہ کوئی جماعت تھی کیونکہ ایک سلسلہ ٹریکٹ کی اشاعت اور وہ بھی کثرت سے ایک شخص کا کام نہیں ۔ اس کے انتظام اس کے خرچ اور اس کے ڈسپیچ کے لئے مددگاروں کی ضرورت ہے اور بغیر مددگاروں کے یہ کام ہو نہیں سکتا۔ پس ضرور ہے کہ ان کے ہم خیالوں کی ایک خفیہ سوسائٹی بنائی گئی تھی جس نے یہ کام کیا۔

ٹریکٹوں کا اثر اور ان کا جواب

جب یہ ٹریکٹ شائع ہوئے تو ان کا اثر ایک سب سے زیادہ تھا وہ جماعت جو مسیح موعود کی قائم کردہ تھی اس نے اس ٹریکٹ کی اشاعت پر اپنی ذمہ داری کو پھر بڑے زور سے محسوس کیا اور چاہا کہ اس کا جواب دیا جاوے۔ جماعت کی ناراضگی اور حضرت خلیفۃ المسیح کے غضب سے ڈر کر پیغامِ صلح میں جو تائیدی ریمارکس شائع ہوئے تھے اس کی تردید میں ایک مختصر سا نوٹ متعلقینِ پیغامِ صلح نے آخر میں شائع کیا۔ لیکن اس کے الفاظ ایسے پیچدار تھے کہ ان میں ان ٹریکٹوں کے مضمون کی اگر تردید نکلتی تھی تو تائید کا پہلو بھی ساتھ ہی تھا مگر اصل جواب ایک اور جماعت کے لئے مقدر تھا اور وہ انصار اللہ کی جماعت تھی چونکہ راقم ٹریکٹ نے ان ٹریکٹوں میں انجمن انصار اللہ کے خلاف خاص طور پر زہر اُگلا تھا اور اخبار پیغامِ صلح میں بھی انہی کو مخاطب کیا گیا تھا اس لئے حضرت خلیفۃ المسیح نے خاص طور پر اس ٹریکٹ کا جواب اس جماعت کے سُپرد فرمایا جو آپ کے ارشاد کے ماتحت دو ٹریکٹوں کی صورت میں شائع کیا گیا۔ پہلے ٹریکٹ میں اظہار الحق نمبر اول کا جواب لکھا گیا اور اس کا نام خلافت احمدیہ رکھا گیا ۔ دوسرے میں

نمبر دوم کا جواب لکھا گیا اور اس کا نام اظہار الحقیقتہ رکھا گیا۔ یہ ٹریکٹ خود حضرت خلیفۃ المسیح نے دیکھے اور ان میں اصلاح فرمائی۔ اور یہ فقرہ بھی ایک جگہ زائد فرمادیا ”ہزار ملامت پیغام پریس نے اپنی چھٹی شائع کر کے ہمیں پیغام جنگ دیا۔ اور نفاق کا بھانڈا پھوڑ دیا۔“ اِن ٹریکٹوں کی اشاعت پر ہم نے چاہا کہ ان لوگوں سے بھی جن کی تائید میں یہ ٹریکٹ گمنام آدمی نے لکھے ہیں اس کی تردید میں کچھ لکھ دیا جائے لیکن چونکہ ان لوگوں کے دل میں منافقت تھی اور یہ دل سے اس کی تائید میں تھے اس لئے انہوں نے بیسیوں عذروں اور بہانوں سے اس کام سے انکار کیا۔ سوائے میر حامد شاہ صاحب مرحوم کے کہ جنہوں نے ان سوالات کے جواب لکھ دیئے جو ان کو لکھے گئے تھے اور یہی صاحب ہیں جنکو اللہ تعالیٰ نے آخر بیعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔

گمنام ٹریکٹ شائع کرنے والے نے جس مقصد سے یہ ٹریکٹ شائع کئے تھے وہ مقصد اس کا پورا ہوا یا نہیں اس کو تو وہی خوب جانتا ہوگا۔ ہمیں اِن ٹریکٹوں کی اشاعت سے یہ فائدہ ضرور ہو گیا کہ وہ باتیں جو مولوی صاحب اور ان کے ساتھی خفیہ خفیہ پھیلایا کرتے تھے ان کا علی الاعلان جواب دینے کا ہمیں موقع مل گیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے نفاق کا بھانڈا پھوٹ گیا۔

اس ٹریکٹ کے بعد چند ماہ کے لئے امن ہو گیا۔ منیجر پیغام اور بابو منظور الٰہی کو حضرت خلیفۃ المسیح الاول سے معافی مانگنی پڑی اور بظاہر معاملہ دب گیا۔ لیکن یہ لوگ اپنے کام سے غافل نہ تھے۔

خواجہ صاحب کا غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت مانگنا اور نماز پڑھنا

خواجہ کمال الدین صاحب نے ولایت کے حالات سے فائدہ اُٹھا کر غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت طلب کرنی شروع کی کیونکہ بقول ان کے وہاں کے لوگ احمدیت سے واقف نہیں اور مسلمانوں میں فرقہ بندی کا علم ان کو دینا مناسب نہ تھا۔ خواجہ صاحب کی کمزوری کو دیکھ کر حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے ان کو اجازت دیدی۔ لیکن خواجہ صاحب نے سب سے پہلے ظفر علی خاں ایڈیٹر زمیندار کے پیچھے نماز ادا کی جو سخت معاند سلسلہ اور بدگو آدمی ہے اور اس طرح انگلستان کو بھی وہی پوزیشن دے دی۔ جو ہندوؤں کے اعتقاد میں گنگا کو ہے کہ جو وہاں گیا پاک ہو گیا۔ ہندوستان میں ظفر علی خاں کے پیچھے نماز پڑھنا حرام لیکن انگلستان میں قدم رکھتے ہی وہ پاک ہو جاتا ہے اور اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز ہو جاتا ہے۔

حضرت خلیفہ اول کے متعلق پیغام صلح کی غلط بیانی

میں پہلے لکھ آیا ہوں کہ خفیہ طور پر شائع ہونے والے ٹریکٹوں کے جوابات کے بعد ظاہر طور پر امن ہو گیا تھا۔ لیکن درحقیقت کینہ و بغض کی آگ ان لوگوں کے دلوں میں جل رہی تھی۔ چنانچہ ۱۹۱۳ء کے دسمبر کے جلسہ پر اس کا اظہار ہو گیا۔ اور وہ اس طرح کہ سالانہ جلسہ کی تقریر میں حضرت خلیفۃ المسیح نے ان گمنام طور پر شائع کردہ ٹریکٹوں کا ذکر اپنی تقریر میں کیا اور اس پر اظہار نفرت کیا۔ اس پر آپ کے مطلب کو بگاڑ کر پیغام صلح نے جھٹ پٹ شائع کر دیاکہ حضرت خلیفۃ المسیح نے انصار اللہ کے جواب میں شائع ہونے والے ٹریکٹوں پر اظہار نفرت کیا ہے۔ اور اس سے یہ غرض تھی کہ تا ان گمنام ٹریکٹوں کا اثر پھر قائم کیا جاوے اور ان کے جوابات کا اثر زائل کیا جائے۔ حالانکہ انصار اللہ کے جوابی ٹریکٹ حضرت خلیفۃ المسیح کے حکم کے ماتحت آپ کو دکھانے کے بعد بلکہ آپ کی اصلاح کے بعد شائع ہوئے تھے چنانچہ جب سب سے آخری مرتبہ آپ کے سامنے ان کا مسودہ پیش کیا گیا اور اس کی طبع کے متعلق اجازت طلب کی گئی تو آپ نے اس پر یہ تحریر فرمایا۔ ”اخلاص سے شائع کرو۔ خاکسار بھی دعا کرے گا۔ اور خود بھی دعا کرتے رہو۔ کہ شر، رسیجھے یا کیفر کردار کو پہنچے۔ نورالدین“ یہ تحریر اب تک ہمارے پاس موجود ہے۔ پھر کیسے تعجب کی بات ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح تو ان ٹریکٹوں کے بااثر ہونے کے لئے دعا کا وعدہ فرماتے ہیں اور اگر اظہار الحق کا مصنف باز نہ آئے تو اس کے لئے بددعا کرتے ہیں مگر پیغام صلح حق کی مخالفت کی وجہ سے ایسا اندھا ہو جاتا ہے کہ انصار اللہ کے ٹریکٹوں پر حضرت خلیفۃ المسیح کو ناراض لکھتا ہے۔ اصل سبب یہی تھا کہ وہ چاہتا تھا کہ کسی طرح اظہار الحق کے مضمون کی طرف لوگوں کی توجہ ہو اور اس کے جواب پر لوگ بدگمان ہو جائیں لیکن اس کا یہ حربہ بھی کارگر نہیں ہوا کیونکہ حضرت خلیفۃ المسیح نے ۱۵؍جنوری ۱۹۱۴ء کو ایک تحریر کے ذریعہ شائع فرمایا کہ ”پچھلے سال بہت سے نادانوں نے قوم میں فتنہ ڈالوانا چاہا اور اظہار حق نامی اشتہار عام طور پر جماعت میں تقسیم کیا گیا۔ جس میں مجھ پر بھی اعتراضات کئے گئے۔ مصنف ٹریکٹ کا تو یہ منشاء ہو گا کہ اس سے جماعت میں تفرقہ ڈال دے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی بندہ نوازی سے مجھے اور جماعت کو اس فتنہ سے بچا لیا۔“

خلافت کے متعلق حضرت خلیفۃ اوّل کا خیال

جلسہ سالانہ کے چند ہی دن کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح بیمار ہو گئے اور آپ کی علالت روز بروز بڑھنے لگی۔ مگر ان بیماری کے دنوں میں بھی آپ تعلیم کا کام کرتے رہے۔ مولوی محمد علی صاحب قرآن شریف کے بعض مقامات کے متعلق آپ سے سوال کرتے اور آپ جواب لکھواتے کچھ اور لوگوں کو بھی پڑھاتے۔ ایک دن اسی طرح پڑھا رہے تھے مسند احمد کا سبق تھا۔ آپ نے پڑھاتے پڑھاتے فرمایا کہ مسند احمد حدیث کی نہایت معتبر کتاب ہے بخاری کا درجہ رکھتی ہے مگر افسوس ہے کہ اس میں بعض غیر معتبر روایات امام احمد بن حنبل صاحب کے ایک شاگرد اور ان کے بیٹے کی طرف سے شامل ہو گئی ہیں۔ جو اس پایہ کی نہیں ہیں۔ میرا دل چاہتا تھا اصل کتاب کو علیحدہ کر لیا جاتا۔ مگر افسوس کہ یہ کام میرے وقت میں نہیں ہو سکا اب شاید میاں کے وقت میں ہو جاوے اتنے میں مولوی سید سرور شاہ صاحب آ گئے اور آپ نے ان کے سامنے یہ بات پھر دہرائی اور کہا کہ ہمارے وقت میں تو یہ کام نہیں ہو سکا آپ میاں کے وقت میں اس کام کو پورا کریں۔ یہ بات وفات سے دو ماہ پہلے فرمائی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کم سے کم حضرت خلیفۃ المسیح کا منشاء یہی تھا کہ آپ کے بعد خلفاء کا سلسلہ چلے گا اور یہ بھی کہ خدا تعالیٰ اس مقام پر آپ کے بعد مجھے کھڑا کرے گا۔

مسئلہ کفر و اسلام کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح کا مولوی محمد علی کو ارشاد

چونکہ مسئلہ کفر و اسلام کا تذکرہ جماعت میں ہمیشہ زیر بحث رہتا تھا اور مولوی محمد علی صاحب نے کبھی ان مسائل پر قلم نہیں اُٹھایا تھا اور ان مسائل کے متعلق ان کو بے تعلق حیثیت حاصل تھی۔ مولوی محمد علی صاحب کو قرآن کریم کے بعض مقامات پر نوٹ کرانے کے دوران حضرت خلیفۃ المسیح نے مختلف آیات کے متعلق ایک دن فرمایا کہ یہ آیات کفر و اسلام کے مسئلہ پر روشنی ڈالتی ہیں اور لوگ بظاہر ان میں اختلاف سمجھتے ہیں :۔ مثلاً

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَالنَّصٰرٰی وَالصّٰبِئِیۡنَ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۪ۚ وَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ(البقرة: ۶۳) یا ۔ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡفُرُوۡنَ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَیُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَیَقُوۡلُوۡنَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٍ وَّنَکۡفُرُ بِبَعۡضٍ ۙ وَّیُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ حَقًّا ۚ وَاَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا مُّہِیۡنًا(النساء : ۱۵۱ ، ۱۵۲)

اسی طرح بعض لوگ میری نسبت بھی کہتے ہیں کہ یہ کبھی غیر احمدیوں کو مسلمان کہتا ہے اور کبھی کافر۔ میرا ارادہ تھا کہ کبھی اس پر ایک مضمون لکھوں کہ ان آیات کا کیا مطلب ہے؟ اور میرے اقوال میں جو اختلاف نظر آتا ہے اس کا کیا باعث ہے؟ آپ آج کل قرآن کریم کے نوٹ لکھ رہے ہیں۔ آپ اس پر ایک مضمون لکھیں اور مجھے دکھالیں۔ اس میں ان آیات میں مطابقت کر کے دکھائی جاوے۔ یہ گفتگو میرے سامنے ہوئی۔ اسی طرح کچھ دن بعد جبکہ میں بھی بیٹھا ہوا تھا ۔ حضرت خلیفہ اول نے پھر یہی ذکر شروع کیا اور اپنی نسبت فرمایا۔ کہ میری نسبت لوگ کہتے ہیں کہ یہ کبھی غیر احمدیوں کو مسلمان کہہ دیتا ہے کبھی کافر۔ حالانکہ لوگ میری بات کو نہیں سمجھے۔ یہ ایک مشکل بات ہے حتیٰ کہ ہمارے میاں بھی نہیں سمجھے ۔

مولوی محمد علی صاحب کا کفر و اسلام کے متعلق مضمون

مولوی صاحب کو گو حضرت خلیفۃ المسیح نے ایک بے تعلق آدمی خیال کیا تھا ۔ مگر مولوی صاحب دل میں تعصب و بغض سے بھرے ہوئے تھے ۔ انہوں نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور حضرت خلیفۃ المسیح نے کہا کچھ تھا انہوں نے لکھنا کچھ اور شروع کر دیا۔ بجائے اس کے کہ ان آیات میں تطبیق پر مضمون لکھتے جو بعض لوگوں کے نزدیک ایک دوسری کے مخالف ہیں۔ ”کفر و اسلام غیر احمدیان“ پر ایک مضمون لکھ دیا۔ ادھر پیغام صلح میں یہ شائع کرا دیا گیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا ہے کہ میاں کفر و اسلام کا مسئلہ نہیں سمجھا۔ حالانکہ یہ بات بالکل جھوٹ تھی جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے۔

مولوی محمد علی صاحب کا حضرت خلیفہ اوّل کو مضمون سنانے کی حقیقت

جب مولوی صاحب نے مضمون لکھ لیا تو نہ معلوم کس خوف سے اس بات کی بے حد کوشش کی کہ علیحدہ وقت میں سنایا جاوے۔ چنانچہ ایک دن رات کے وقت پرہ کر کے مضمون سنانا چاہا۔ مگر عین وقت پر ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب پہنچ گئے اور بات رہ گئی۔ دوسری دفعہ جمعہ کی نماز کا ناغہ کر کے مضمون سنایا۔ حضرت خلیفہ اول کے بڑے بیٹے میاں عبدالحی مرحوم کا بیان ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ ابھی اسے شائع نہ کریں اور اس قسم کی بات بھی

کہی کہ میرا مطلب کچھ اور تھا۔ مگر چونکہ مرحوم کی عمر اس وقت چھوٹی تھی۔ ہم ان کی شہادت پر اپنے دعویٰ کی بناء نہیں رکھتے۔ ہمارے پاس ایسی زبردست اندرونی شہادت موجود ہے جو اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ یا تو مضمون کو حضرت خلیفۃ المسیح نے ناپسند کیا اور یا پھر ان کے دکھانے کے بعد اسے بدل دیا گیا اور یا اسے ایسے وقت میں سنایا گیا کہ جس وقت آپ کی توجہ کسی اور کام کی طرف تھی اور آپ نے اس کو سنا ہی نہیں۔ اور وہ شہادت خود مولوی محمد علی صاحب کا مضمون ہے۔ اس مضمون میں کئی ایسی باتیں لکھی گئی ہیں جو حضرت خلیفۃ المسیح الاول جیسے عالم و فاضل آدمی کی طرف تو کجا ایک معمولی سمجھ کے آدمی کی طرف بھی منسوب نہیں ہو سکتیں مثال کے طور پر ہم چند باتیں ذیل میں درج کرتے ہیں :۔

پہلی شہادت

اس میں اسلام کی تعریف قرآن کریم و احادیث سے یہ ثابت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور یومِ آخر پر ایمان لے آنا کافی ہے اور کسی امر کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ مولوی محمد علی صاحب اس رسالہ میں لکھتے ہیں :۔ "بلکہ خود قرآن کریم نے ایک ہی آیت میں بالکل صاف کر دیا ہے جہاں فرمایا وَمَا یُؤۡمِنُ اَکۡثَرُہُمۡ بِاللّٰہِ اِلَّا وَہُمۡ مُّشۡرِکُوۡنَ(یوسف: ۱۰۷) جس میں یہ سمجھایا ہے کہ اکثر لوگوں کا تو یہی حال ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کے باوجود دل کے کسی نہ کسی کونہ میں شرک باقی رہتا ہے۔ پس باوجود مشرک ہونے کے بھی مؤمن کا لفظ بولا جاتا ہے" (مسئلہ کفر و اسلام مصنفہ مولوی محمد علی صاحب صفحہ ۴)

یہ آیت جو مولوی محمد علی صاحب نے لکھی ہے کفارِ مکہ کے حق میں ہے اور سورہ یوسف کے آخری رکوع میں وارد ہے۔ اس آیت سے استدلال کر کے مولوی محمد علی صاحب نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسلام کی تعریف ایسی وسیع ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لانے والے بھی مؤمن ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ایک جزوی امر ہے۔ جس کے فقدان پر انسان کافر نہیں ہو جاتا۔ اس طرح اسی صفحہ پر وہ لکھتے ہیں :۔ "جو شخص لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہُ کا انکار کر دے وہ تو اس دائرے سے ہی خارج ہو گیا لیکن جو شخص لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہُ کا اقرار کر کے کسی اور حصہ کو چھوڑتا ہے تو وہ دائرہ کے اندر تو ہے مگر اس خاص حصہ کا کافر ہے" اس حوالہ سے یہ بھی ثابت ہے کہ ان کے نزدیک جو شخص لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہُ مان لے وہ مسلمان ہو جاتا ہے کسی اور بات کے انکار سے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی انکار شامل ہے اس کے مسلم ہونے میں کچھ شبہ نہیں پڑتا۔ صرف اسقدر ثابت ہوتا ہے کہ وہ اسلام کے ایک حصہ کا کافر ہے

دائرہ اسلام سے وہ خارج نہیں اور اس سے وہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کا انکار بھی ایک جزو کا انکار ہے۔ نہ کہ دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔

یہ عقیدہ ایک ایسا خطرناک عقیدہ ہے کہ اس سے اسلام کی ہی بیخکنی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ قرآن کریم اسلام کے لئے اللہ، ملائکہ، کتب سماویہ، رُسل اور یوم آخر پر ایمان لانا ضروری قرار دیتا ہے۔ پس یہ بات جو مولوی محمد علی صاحب نے لکھی ہے۔ ہرگز حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی لکھائی ہوئی یا پسند کی ہوئی نہیں ہو سکتی کیونکہ آپ کا مذہب بدر ۹؍مارچ ۱۹۱۱ء کے پرچہ میں اس طرح درج ہے۔

لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے ماننے کے نیچے خدا کے سارے ماموروں کے ماننے کا حکم آجاتا ہے .. حضرت آدمؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت مسیحؑ ان سب کا ماننا اسی لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے ماتحت ہے حالانکہ ان کا ذکر اس کلمہ میں نہیں۔ قرآن مجید کا ماننا، سیدنا حضرت محمدؐ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا، قیامت کا ماننا، سب مسلمان جانتے ہیں کہ اس کلمہ کے مفہوم میں داخل ہے۔“

پس حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے اس فتویٰ کی موجودگی میں اور خود اس فتویٰ کے صریح باطل ہونے کے باوجود کون شخص خیال کر سکتا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے یہ مضمون حضرت خلیفۃ المسیح کے لکھوائے ہوئے نوٹوں کے مطابق لکھا ہے اور آپ کی پسندیدگی کے بعد شائع کیا ہے۔

دوسری شہادت

دوسری اندرونی شہادت یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے اپنے اس رسالہ میں قرآن کریم کی ایک آیت کے ایسے غلط معنے کئے ہیں کہ وہ عربی زبان کے قواعد کے بالکل برخلاف ہیں اور حضرت خلیفۃ المسیح کے کئے ہوئے معنوں کے بھی خلاف ہیں بلکہ ایک رنگ میں ان کی تردید حضرت خلیفۃ المسیح نے کی ہے۔ مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں:۔

قُلِ اللّٰہُ ۙ ثُمَّ ذَرۡہُمۡ(الانعام: ۹۲) یعنی اللہ منوا کر ان کو چھوڑ دو۔“

یعنی آیت قُلِ اللّٰہُ ۙ ثُمَّ ذَرۡہُمۡ(6:92) کے یہ معنے ہیں کہ لوگوں سے خدا منوا لو اور پھر ان کو چھوڑ دو۔ اسی قدر ان کے اسلام کے لئے کافی ہے لیکن جب ہم آیت کریمہ کو دیکھتے ہیں تو وہ اس طرح ہے۔ وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖۤ اِذۡ قَالُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ قُلۡ مَنۡ اَنۡزَلَ الۡکِتٰبَ الَّذِیۡ جَآءَ بِہٖ مُوۡسٰی نُوۡرًا وَّہُدًی لِّلنَّاسِ تَجۡعَلُوۡنَہٗ قَرَاطِیۡسَ تُبۡدُوۡنَہَا وَتُخۡفُوۡنَ کَثِیۡرًا ۚ وَعُلِّمۡتُمۡ مَّا لَمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اَنۡتُمۡ وَلَاۤ اٰبَآؤُکُمۡ ؕ قُلِ اللّٰہُ ۙ ثُمَّ ذَرۡہُمۡ فِیۡ(6:92) خَوۡضِہِمۡ یَلۡعَبُوۡنَ(الانعام: ۹۲)۔ یعنی ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات کا اندازہ پورے طور پر نہیں لگایا جبکہ انہوں نے یہ بات کہی کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بندے پر کچھ نہیں اتارا۔ کہہ کون ہے جس نے وہ کتاب اتاری تھی جو موسیٰ ؑ لائے تھے جو نور تھی اور لوگوں کے لئے ہدایت تھی۔ جس کتاب کو تم ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہو۔ اس میں سے بعض کو ظاہر کرتے ہو اور بہت حصے کو چھپاتے ہو۔ اور تم وہ بات سکھائے گئے ہو۔ جو نہ تم جانتے ہو اور نہ تمہارے باپ دادے جانتے تھے (یعنی قرآن کریم میں تو ایسے علوم ہیں جو توریت میں نہ تھے پھر وہ خدا کی کتاب ہوگئی اور یہ نہ ہوئی) کہہ یعنی تو ان کو اپنی طرف سے کہہ دے کہ خدا تعالیٰ نے موسیٰؑ کی کتاب اتاری تھی اور یہ جواب مسکت ان کو دے کر ان کو چھوڑ دے کہ یہ اپنی شرارتوں میں کھیلتے رہیں۔ اس آیت میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں کہ خدا کو منوا کر چھوڑ دو۔ اس میں تو یہ بتایا گیا ہے کہ یہود کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے بندہ پر کبھی الہام نازل نہیں کیا۔ اس کے جواب میں تو ان سے پوچھ کہ موسیٰؑ کی کتاب کس نے نازل کی تھی اور پھر اپنی طرف سے کہہ دے کہ وہ خدا نے نازل کی تھی اور چونکہ یہ جواب ان کے عقیدہ کے مطابق ہے اور یہ اس کا جواب کچھ نہیں دے سکتے اس لئے اس جواب کے بعد اس مسئلہ پر زیادہ گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں پھر ان کو چھوڑ دو کہ دین پر ہنسی کرتے ہیں۔

عربی زبان کے مطابق مولوی محمد علی صاحب کے کئے ہوئے معنے کسی طرح جائز نہیں۔ خود ان کے شائع کردہ ترجمہ قرآن میں بھی یہ معنے نہیں کئے گئے بلکہ وہی معنے کئے گئے ہیں جو میں نے لکھے ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:۔

"And they do not assign to Allah the attributes due to Him, when they say: Allah has not revealed anything to a mortal. Say: Who revealed the Book which Moses brought a light, and a guidance to men, which you make into scattered writings, which you show, while you conceal much? And you were taught what you did not know, (neither) you nor your fathers. Say: Allah; then leave them sporting in their vain discourses." page. 306.

اگر وہ معنی درست ہوتے جو مولوی صاحب نے اس رسالہ میں لکھے ہیں تو کیوں وہ قرآن کریم میں وہ ترجمہ نہ لکھتے؟ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یا تو وہ پہلے سے جانتے تھے کہ یہ ترجمہ غلط ہے اور محض دھوکا دینے کے لئے انہوں نے اس رسالہ میں غلط معنے کر دیئے ہیں۔ اور یا یہ کہ اعتراضوں سے گھبرا کر انہوں نے اپنے ترجمہ میں چھپنے سے پہلے تبدیلی کردی۔ ان کا خود ان معنوں کو غلط تسلیم کر لینا اس امر سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس کے بعد کفر و اسلام کے متعلق انہوں نے متعدد تحریروں میں بحث کی ہے مگر کبھی اس آیت

سے پھر استدلال نہیں کیا۔ غرض ایسے غلط معنے حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی طرف کبھی منسوب نہیں کئے جا سکتے اور نہ یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ آپ نے ان معنوں کو پسند کیا ہوگا۔

اس امر کی تائید میں کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے ہرگز ان معنوں کو پسند نہیں کیا یہ ثبوت بھی ہے کہ آپکے درسِ قرآن کریم کے نوٹوں میں آپ نے وہی معنی کئے ہیں جو ہم نے پہلے لکھے ہیں آپ فرماتے ہیں:۔

فرمایا ” قُلِ اللّٰہُ ۙ ثُمَّ ذَرۡہُمۡ(6:92) کے یہ معنی نہیں کہ اللہ اللہ کرتے رہو کیونکہ محض اللہ اللہ ذکر ہماری شریعتِ اسلامی میں ثابت نہیں بلکہ یہ تو جواب ہے مَنۡ اَنۡزَلَ الۡکِتٰبَ(6:92) کا ۔ یہ کتاب کس نے اتاری؟ تو کہہ اللہ نے۔ (بدر مورخہ ۲۶؍ ستمبر ۱۹۱۲ء جلد ۵ نمبر ۴۶-۴۷)

پس آپ کے مطبوعہ معنوں کے خلاف ایک اور معنی جو عربی زبان کے خلاف ہیں آپ کی طرف منسوب کرنا کس قدر ظلم اور دیدہ دلیری ہے؟ اور جس رسالہ میں قرآن کریم کی آیت کے ایسے غلط معنے کر کے مسئلہ کفر و اسلام کو ثابت کیا گیا ہو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ وہ حضرت خلیفۃ المسیح کی پسند کردہ ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح تو نہ صرف یہ کہ ان معنوں کے خلاف ایک اور معنے کرتے ہیں بلکہ یہ فرما کر کہ قُلِ اللّٰہَ(39:15) جواب ہے مَنۡ اَنۡزَلَ الۡکِتٰبَ(6:92) کا مولوی محمد علی صاحب کے معنوں کو بالکل ردّ کر دیتے ہیں۔

تیسری شہادت

تیسری شہادت اس بات کے رد میں یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے اپنے اس رسالہ میں حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق لکھا ہے کہ ”آپ کا یہ مذہب ہے کہ اگر کوئی شخص ایک دفعہ دل سے اَشْهَدُ اَنْ لَّآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کہہ دے تو وہ مؤمن ہو جاتا ہے ۔ چاہے پھر اس سے شرک کفر یا ظلم سرزد ہو۔ (مسئلہ کفر و اسلام مصنفہ مولوی محمد علی صاحب صفحہ ۲)

یہ قول ایسا بے معنی اور بیہودہ ہے کہ عقل اس کے سننے سے انکار کرتی ہے۔ مگر مولوی محمد علی صاحب نہ صرف یہ کہ اس کو حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب کرتے ہیں بلکہ اسے ان کا مذہب قرار دیتے ہیں مگر با وجود بار بار کے مطالبہ کے کہ امام ابو حنیفہ کی کون سی مخفی کتاب آپ کے ہاتھ آگئی ہے؟ جس میں یہ مذہب ان کا بیان ہے یا ان کے کس شاگرد نے ان سے یہ مذہب نقل کیا ہے وہ بالکل ساکت و خاموش ہیں اور کوئی جواب نہیں دیتے اور صرف کہہ دیتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے ان کو ایسا ہی لکھوایا تھا حالانکہ حضرت خلیفۃ المسیح خود تو امام ابو حنیفہؒ کے وقت میں تھے نہیں۔ آپ نے جو کچھ فرمایا ہوگا حنفیوں کی کتابوں سے ہی فرمایا ہوگا ۔ مگر جس قدر کتب امام ابو حنیفہؒ کے اقوال کے بیان میں ہیں ان میں سے ایک میں بھی یہ قول درج نہیں پس ایسے بیہودہ قول کو ایسے امام کی طرف منسوب کرنا حضرت خلیفۃ المسیح کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ ضرور ہے کہ یہ مولوی محمد علی صاحب کے دماغ کی اختراع ہو یا حضرت خلیفۃ المسیح کی کسی بات کو نہ سمجھ کر انہوں نے اس طرح لکھ دیا ہو۔ ان دونوں صورتوں میں یہ رسالہ حضرت خلیفۃ المسیح کا پسندیدہ اور ان کے منشاء کے مطابق نہیں ہو سکتا یہ تین شاہد اندرونی ہمارے پاس موجود ہیں جو شہادت دیتے ہیں کہ یہ رسالہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا پسندیدہ نہیں۔ لیکن ہم ان شواہد کے علاوہ یہ امر بھی دیکھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ قریباً ایک ماہ حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات سے پہلے یہ رسالہ حضرت خلیفۃ المسیح کو سنایا گیا ہے اسے شائع آپ کی وفات کے بعد کیا گیا ۔ حالانکہ اس کے بعد کا لکھا ہوا ایک مضمون جو اس سے بڑا ہے اس سے پہلے چھاپ کر شائع کیا گیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی خاص حکمت کے ماتحت اس کی اشاعت روکی گئی تھی اور وہ حکمت اس کے سوا اور کیا تھی کہ حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کا انتظار کیا جاتا تھا۔

حضرت خلیفۃ المسیح کی وصیت

حضرت خلیفۃ المسیح کی بیماری چونکہ زیادہ ہو گئی ۔ فروری ۱۹۱۴ء میں ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ آپ قصبہ سے باہر کسی جگہ رہیں تاکہ کھلی ہوا کے مفید اثر سے فائدہ اُٹھا سکیں ۔ خان محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ نے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے رشتہ دامادی رکھتے ہیں اپنی کوٹھی کے ایک حصہ کے خالی کر دینے کا انتظام کر دیا۔ اور آپ وہاں تشریف لے گئے۔ چونکہ آپ کی طبیعت زیادہ کمزور ہوتی جا رہی تھی میں بھی وہیں جا رہا۔ چار مارچ کو عصر کے قریب آپ نے کاغذ قلم و دوات منگوایا اور لیٹے لیٹے ایک وصیت لکھی جس کا مضمون یہ ہے :۔ ’ خاکسار بقائمی ہوش و حواس لکھتا ہے لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ میرے بچے چھوٹے ہیں ، ہمارے گھر میں مال نہیں۔ انکا اللہ حافظ ہے۔ ان کی پرورش یتامیٰ و مساکین سے نہیں۔ کچھ قرض حسنہ جمع کیا جائے لائق لڑکے ادا کریں۔ یا کتب جائداد وقف علی الاولاد ہو۔ میرا جانشین متقی ہو ۔ ہر دلعزیز عالم با عمل ، حضرت صاحب کے پُرانے اور نئے احباب سے سلوک چشم پوشی در گزر کو کام میں لاوے۔ میں سب کا خیر خواہ تھا۔ وہ بھی خیر خواہ رہے۔ قرآن و حدیث کا درس جاری رہے۔ والسلام ‘ نور الدین ۴؍ مارچ ۱۹۱۴ء (الحکم ۷؍ مارچ ۱۹۱۴ء جلد ۱۸ نمبر ۲ ص ۵)

وصیت کا مولوی محمد علی صاحب سے پڑھوانا

جب آپ نے وصیت لکھی۔ مولوی محمد علی صاحب پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ لکھ کر ان کو دی اور کہا کہ اسے پڑھ کر لوگوں کو سنا دیں پھر دوبارہ اور سہ بارہ پڑھوائی۔ اور پھر دریافت فرمایا کہ کیا کوئی بات رہ تو نہیں گئی۔ مولوی محمد علی صاحب جو اپنے دل میں خلافت کے مٹانے کی فکر میں تھے اور تدابیر سوچ رہے تھے اس وصیت کو پڑھ کر حیران رہ گئے اور اس وقت ہر ایک شخص ان کے چہرہ پر ایک عجیب قسم کی مُردنی اور غصہ دیکھ رہا تھا۔ جو حضرت خلیفۃ المسیح کے وصیت لکھوانے کے باعث نہ تھا ۔ بلکہ اپنی سب کوششوں پر پانی پھرتا ہوا دیکھنے کا نتیجہ تھا۔ مگر حضرت خلیفہ اوّل کا رُعب ان کو کچھ بولنے نہ دیتا تھا۔ باوجود مخالف خیالات کے انہوں نے اس وقت یہی لفظ کہے کہ بالکل درست ہے مگر آئندہ واقعات بتائیں گے کہ کسی مرید نے، کسی خادم نے ، کسی اظہار عقیدت کرنے والے نے اپنے پیر اور اپنے آقا اور اپنے شیخ سے عین اس وقت جبکہ وہ بستر مرگ پر لیٹا ہوا تھا اس سے بڑھ کر دھوکا اور فریب نہیں کیا جو مولوی محمد علی صاحب نے کیا۔

خلیفۃ المسیح کی بیماری میں اختلافی مسائل کا چرچا

حضرت خلیفۃ المسیح کی بیماری کی وجہ سے چونکہ نگرانی اُٹھ گئی تھی اور کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ اختلافی مسائل پر گفتگو بہت بڑھ گئی اور جس جگہ دیکھو یہی چرچا رہنے لگا۔ اس حالت کو دیکھ کر میں نے ایک اشتہار لکھا۔ جس کا یہ مضمون تھا کہ جس وقت کہ حضرت خلیفۃ المسیح تندرست تھے۔ اختلافی مسائل پر آپس میں ہماری بحثوں کا کچھ حرج نہ تھا۔ کیونکہ اگر بات حد سے بڑھے یا فتنہ کا اندیشہ ہو تو روکنے والا موجود تھا۔ لیکن اب جبکہ حضرت خلیفۃ المسیح بیمار ہیں اور سخت بیمار ہیں۔ مناسب نہیں کہ ہم اس طرح بحثیں کریں اس کا انجام فتنہ ہو گا۔ اس لئے اختلافی مسائل پر اس وقت تک کہ اللہ تعالیٰ حضرت خلیفۃ المسیح کو شفاء عطا فرمادے اور آپ خود ان بحثوں کی نگرانی کر سکیں نہ کوئی تحریر لکھی جائے اور نہ زبانی گفتگو کی جاوے تاکہ جماعت میں فتنہ نہ ہو۔ یہ اشتہار لکھ کر میں نے مولوی محمد علی صاحب کے پاس بھی بھیجا کہ آپ بھی اس پر دستخط کر دیں تاکہ ہر قسم کے خیالات کے لوگوں پر اس کا اثر ہو اور فتنہ سے جماعت محفوظ ہو جاوے۔ مولوی محمد علی صاحب نے اس کا یہ جواب دیا کہ چونکہ جماعت میں جو کچھ اختلاف ہے اس سے عام طور پر لوگ واقف نہیں۔ ایسا اشتہار ٹھیک نہیں اس سے دشمنوں کو واقفیت حاصل ہو گی اور ہنسی کا موقع ملے گا۔ بہتر ہے کہ قادیان کے لوگوں کو جمع کیا جاوے اور اس میں آپ بھی اور میں بھی تقریریں کریں اور لوگوں کو سمجھائیں کہ اختلافی مسائل پر گفتگو ترک کر

دیں ۔گو مَیں حیران تھا کہ اظہار الحق نامی ٹریکٹوں کی اشاعت کے بعد لوگوں کا جماعت کے اختلاف سے ناواقف ہونا کیا معنے رکھتا ہے ؟مگر مَیں نے مولوی صاحب کی اس بات کو قبول کر لیا ۔مَیں اس وقت تک نہیں جانتا تھا کہ یہ بھی ایک دھوکا ہے جو مجھ سے کیا گیا ہے لیکن بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ مولوی محمد علی صاحب نے اپنے مدعا کے پورا کرنے کے لئے کسی فریب اور دھوکے سے بھی پرہیز نہیں کیا اور اس اشتہار پر دستخط کرنے سے انکار کی وجہ یہ نہ تھی کہ عام طور پر معلوم ہو جاوے گا کہ جماعت میں کچھ اختلاف ہے بلکہ ان کی غرض کچھ اور تھی۔

خلیفۃ المسیح کے ایّام بیماری میں ایک خاص اجتماع

قادیان کے لوگ مسجد نور میں جو سکول کی مسجد ہے اور خان محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کی کوٹھی کے قریب ہے جہاں کہ ان دنوں حضرت خلیفۃ المسیح بیمار تھے جمع ہوئے اور مَیں اور مولوی محمد علی صاحب تقریر کرنے کے لئے وہاں گئے مولوی محمد علی صاحب نے پہلے خواہش ظاہر کی کہ پہلے مَیں تقریر کروں اور مَیں بغیر کسی خیال کے تقریر کے لئے کھڑا ہو گیا اور اس میں مَیں نے وہی اشتہار کا مضمون دوسرے الفاظ میں لوگوں کو سنا دیا اور اتفاق پر زور دیا ۔جب مولوی محمد علی صاحب کھڑے ہوئے تو انہوں نے بجائے اتفاق پر زور دینے کے پچھلے قصوں کو دہرانا شروع کیا اور لوگوں کو ڈانٹنا شروع کیا کہ وہ خواجہ صاحب پر یا ان کے دوسرے ہم خیالوں پر کیوں حملہ کرتے ہیں؟ اور خوب زجر و توبیخ کی ۔لوگ میرے لحاظ سے بیٹھے رہے ورنہ ممکن تھا کہ بجائے فساد کے رفع ہونے کے ایک نیا فساد کھڑا ہو جاتا اور اسی مجلس میں ایک نئی بحث چھڑ جاتی ۔آخر میں کچھ کلمات اتفاق کے متعلق بھی انہوں نے کہے مگر وہ بھی سخت لہجہ میں جس سے لوگوں میں زیادہ نفرت پیدا ہوئی اور افتراق میں ترقی ہوئی ۔

جماعت کے اتحاد کی کوششیں

چونکہ حضرت خلیفۃ المسیح کی طبیعت کچھ دنوں سے زیادہ علیل تھی اور لوگ نہایت افسوس کے ساتھ آنے والے خطرہ کو دیکھ رہے تھے۔ طبعاً ہر ایک شخص کے دل میں یہ خیال پیدا ہو رہا تھا کہ اب کیا ہو گا ؟مَیں تو برابر دعاؤں میں مشغول تھا اور دوسرے دوستوں کو بھی دعاؤں کے لئے تاکید کرتا تھا ۔اس وقت اختلافی مسائل میرے سامنے نہ تھے بلکہ جماعت کا اتحاد مدنظر تھا اور اس کے زائل ہو جانے کا خوف میرے دل کو کھا رہا تھا۔ چنانچہ اس امر کے متعلق مختلف ذی اثر احمدیوں سے مَیں نے گفتگوئیں کیں ۔عام طور پر ان لوگوں کا جو خلافت کے مُقر تھے اور نبوت مسیح موعودؑ کے قائل تھے یہی خیال تھا کہ ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی جا سکتی ۔جس کے عقائد ان عقائد کے خلاف ہوں کیونکہ اس سے احمدیت کے مٹنے کا اندیشہ ہے۔ مگر میں اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ اتحاد سب سے زیادہ ضروری ہے۔ شخصیتوں کے خیال سے اتحاد کو قربان نہیں کرنا چاہئے۔ چنانچہ میں نے اپنے دوستوں کو خاص طور پر سمجھانا شروع کیا کہ خدا نخواستہ حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات پر اگر فتنہ کا اندیشہ ہو تو ہمیں خواہ وہ لوگ تھوڑے ہی ہیں ان میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لینی چاہئے کیونکہ میں نے ان سے کہا کہ اگر کوئی ہمارا ہم عقیدہ شخص خلیفہ ہوا تو وہ لوگ اس کی بیعت نہیں کریں گے اور جماعت میں اختلاف پڑ جائے گا۔ اور جب میں ان میں سے کسی کی بیعت کر لوں گا تو اُمید ہے کہ میرے اکثر احباب اس کی بیعت اختیار کریں گے اور فساد سے جماعت محفوظ رہے گی۔ چنانچہ ایک دن عصر کے بعد جبکہ مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب جو ہماری جماعت کے سب سے بڑے علماء میں سے ایک ہیں میرے ساتھ سیر کو گئے تو تمام سیر میں دو گھنٹہ کے قریب ان سے اسی امر پر بحث ہوتی رہی اور آخر میں نے ان کو منوا لیا کہ ہمیں اس بات کے لئے پورے طور پر تیار ہونا چاہئے کہ اگر اس بات پر اختلاف ہو کہ خلیفہ کس جماعت میں سے ہو؟ تو ہم ان میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلیں۔

حضرت خلیفہ اوّل کی وفات

آخر وہ دن آ گیا جس سے ہم ڈرتے تھے۔ ۱۳؍مارچ کو جمعہ کے دن صبح کے وقت حضرت خلیفۃ المسیح کو بہت ضعف معلوم ہونے لگا اور ڈاکٹروں نے لوگوں کا اندر جانا منع کر دیا۔ مگر پھر بھی عام طور پر لوگوں کا یہ خیال نہ تھا کہ وہ آنے والی مصیبت ایسی قریب ہے۔ آپ کی بیماری کی وجہ سے آپ کی جگہ جمعہ بھی اور دیگر نمازیں بھی آپ کے حکم کے ماتحت میں پڑھایا کرتا تھا چنانچہ جمعہ کی نماز پڑھانے کے لئے میں مسجد جامع گیا۔ نماز پڑھا کر تھوڑی دیر کے لئے میں گھر گیا۔ اتنے میں ایک شخص خان محمد علی خاں صاحب کا ملازم میرے پاس ان کا پیغام لے کر آیا کہ وہ میرے انتظار میں ہے اور ان کی گاڑی کھڑی ہے چنانچہ میں ان کے ہمراہ گاڑی میں سوار ہو کر ان کے مکان کی طرف روانہ ہوا۔ ابھی ہم راستہ میں تھے تو ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے ہمیں اطلاع دی کہ حضرت خلیفۃ المسیح فوت ہو گئے ہیں اور اس طرح میری ایک پُرانی رویا پوری ہوئی کہ میں گاڑی میں بیٹھا ہوا کہیں سے آ رہا ہوں کہ راستہ میں مجھے حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کی خبر ملی ہے۔ یہ خبر اس وقت کے حالات کے ماتحت ایک نہایت ہی متوحش خبر تھی۔ حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کا تو ہمیں صدمہ تھا ہی مگر اس سے بڑھکر جماعت میں تفرقہ پڑ جانے کا خوف تھا۔

حضرت خلیفہ اوّل کی وفات پر پہلی تقریر

اسی وقت تمام جماعت کو اطلاع کے لئے تاریں روانہ کر دی گئیں۔ خدا تعالیٰ کے حضور دُعا میں اکثر حصہ جماعت لگ گیا۔ عصر کے وقت مسجد نُور میں جبکہ جماعت کا اکثر حصہ وہاں جمع تھا۔ مَیں نے ایک تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا۔

حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کے ساتھ ہم پر ایک ذمہ داری رکھی گئی ہے۔ جس کے پورا کرنے کے لئے سب جماعت کو تیار ہو جانا چاہئے۔ کوئی کام کتنا ہی اعلیٰ ہو۔ اگر ارادہ بد ہو تو وہ خراب ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کے پڑھنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اَعُوْذُ پڑھنے کا حکم دیا ہے اور ہر سورۃ سے پہلے بسم اللہ نازل کی ہے۔ اَعُوْذُ میں انسان بد نیتی سے پناہ مانگتا ہے اور بسم اللہ کے ذریعہ عمل نیک کی توفیق چاہتا ہے۔ پس جبکہ قرآن کریم کی تلاوت جو خدا کا کلام ہے اور جس کا پڑھنا خدا تعالیٰ نے فرض کیا ہے۔ اس کے لئے اس قدر احتیاط سے کام لیا گیا ہے تو دوسرے کاموں کے لئے خواہ کتنے ہی نیک ہوں۔ کس قدر احتیاط کی ضرورت ہے؟ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں نماز کے متعلق فرماتا ہے:

فَوَیۡلٌ لِّلۡمُصَلِّیۡنَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنۡ صَلَاتِہِمۡ سَاہُوۡنَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ یُرَآءُوۡنَ(الماعون: ۵ تا ۷)

یعنی عذاب ہے ان نمازیوں کے لئے جو غرض نماز سے ناواقف ہوتے ہیں اور لوگوں کے دکھانے کے لئے نماز پڑھتے ہیں۔ وہ نماز جو خدا تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے اسی کو اس آیت میں نیت کے فرق کے ساتھ موجب عذاب قرار دیا ہے۔ پس جو امانت اب ہمارے سپرد کی گئی ہے اس کے پورا کرنے کے لئے ہمیں خاص دُعاؤں میں لگ جانا چاہئے اور اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ بہت پڑھنا چاہئے تاکہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہم پر نازل ہو اور اس کی رضا ہم پر ظاہر ہو۔ اگر خدا تعالیٰ نے مدد نہ کی تو خطرہ ہے کہ ہم ہلاکت میں نہ پڑ جاویں۔ پس آج سے ہر ایک شخص چلتے پھرتے نمازوں میں اور نمازوں سے باہر دُعا میں لگ جاوے تا خدا ہماری حفاظت کرے اور سیدھے راستہ سے نہ ہٹنے دے اور رات کو اُٹھ کر بھی دعا کرو اور جن کو طاقت ہو روزہ رکھیں۔ اس کے بعد سب لوگوں کے ساتھ مل کر مَیں نے دعا کی اور سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس گئے ۔

(تفصیل ملاحظہ ہو الحکم ۱۴؍مارچ ۱۹۱۴ء جلد ۱۸ نمبر ۳، ۴ صفحہ)

مولوی محمد علی صاحب سے گفتگو

میں مسجد سے نکل کر مکرمی خان صاحب محمد علی خان صاحبؓ کے مکان کی طرف آرہا تھا کہ مولوی محمد علی صاحب مجھ کو ملے اور کہا کہ میں آپ سے کچھ باتیں کرنی چاہتا ہوں۔ میں ان کے ساتھ ہو گیا اور ہم دونوں جنگل کی طرف نکل گئے۔ مولوی محمد علی صاحب نے مجھ سے ذکر کیا کہ چونکہ ہر ایک کام بعد مشورہ ہی اچھا ہوتا ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی وفات کے بعد جلدی سے کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ پورے مشورہ کے بعد کوئی کام ہونا چاہئے۔ میں نے ان سے کہا کہ جلدی کا کام بیشک بُرا ہوتا ہے اور مشورہ کے بعد ہی کام ہونا چاہئے ۔ لوگ بہت سے آرہے ہیں اور کل تک اُمید ہے کہ ایک بڑا گروہ جمع ہو جاوے گا۔ پس کل جس وقت لوگ جمع ہو جاویں مشورہ ہو جاوے جو لوگ جماعت میں کچھ اثر رکھتے ہیں۔ وہ قریب قریب کے ہی رہنے والے ہیں اور کل تک اُمید ہے کہ پہنچ جاویں گے۔ مولوی صاحب نے کہا کہ نہیں اس قدر جلدی ٹھیک نہیں۔ چونکہ اختلاف ہے اس لئے پورے طور پر بحث ہو کر ایک بات پر متفق ہو کر کام کرنا چاہئے ۔ چار پانچ ماہ اس پر تمام جماعت غور کرے ۔ تبادلہ خیالات کے بعد پھر جو فیصلہ ہو اس پر عمل کیا جاوے۔ میں نے دریافت کیا کہ اوّل تو سوال یہ ہے کہ اختلاف کیا ہے؟ پھر یہ سوال ہے کہ اس قدر عرصہ میں اگر بغیر کسی راہنما کے جماعت میں فساد پڑا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے موقع پر بھی اسی طرح ہوا تھا کہ جو لوگ جمع ہو گئے تھے انہوں نے مشورہ کر لیا تھا اور یہی طریق پہلے زمانہ میں بھی تھا۔ چھ چھ ماہ کا انتظار نہ پہلے کبھی ہوا نہ حضرت مسیح موعودؑ کے بعد ۔ مولوی محمد علی صاحب نے جواب دیا کہ اب اختلاف ہے پہلے نہ تھا۔ دوسرے اس انتظار میں حرج کیا ہے؟ اگر خلیفہ نہ ہو تو اس میں نقصان کیا ہو گا؟ وہ کون سا کام ہے جو کل ہی خلیفہ نے کرنا ہے؟ میں نے ان کو جواب دیا کہ حضرت مسیح موعودؑ کی وفات پر جماعت اس بات کا فیصلہ کر چکی ہے کہ اس جماعت میں سلسلہ خلفاء چلے گا۔ اس پر دوبارہ مشورہ کی ضرورت نہیں اور یہ سوال اب نہیں اُٹھایا جا سکتا۔ اگر مشورہ کا سوال ہے تو صرف تعیین خلیفہ کے متعلق ۔ اور یہ جو آپ نے کہا کہ خلیفہ کا کام کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خلیفہ کا کام علاوہ روحانی نگہداشت کے جماعت کو متحد رکھنا اور فساد سے بچانا ہے۔ اور یہ کام نظر نہیں آیا کرتا کہ میں آپ کو معین کر کے وہ کام بتا دوں۔ خلیفہ کا کام رُوحانی تربیت اور انتظام کا قیام ہے نہ رُوحانی تربیت مادی چیز ہے کہ میں بتا دوں کہ وہ یہ یہ کام کرے گا۔ اور نہ فساد کا کوئی وقت معین ہے کہ فلاں وقت تک اسکی ضرورت پیش نہ آوے گی۔ ممکن ہے کل ہی کوئی امر ایسا پیش آجاوے جس کے لئے کسی نگران ہاتھ کی ضرورت

ہو۔ پس آپ اس سوال کو جانے دیں کہ خلیفہ ہو یا نہ ہو۔ مشورہ اس امر کے متعلق ہونا چاہئے کہ خلیفہ کون ہو؟ اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ اس میں دقت ہے۔ چونکہ عقائد کا اختلاف ہے اس لئے تعیین میں اختلاف ہو گا، ہم لوگ کسی ایسے شخص کے ہاتھ پر کیونکر بیعت کر سکتے ہیں؟ جس کے ساتھ ہمیں اختلاف ہو۔ میں نے جواب دیا کہ اوّل تو ان امور اختلافیہ میں کوئی ایسی بات نہیں جس کا اختلاف ہمیں ایک دوسرے کی بیعت سے روکے۔ (اس وقت تک اختلاف عقائد نے اس طرح سختی کا رنگ نہ پکڑا تھا۔) لیکن بہرحال ہم اس امر کے لئے تیار ہیں کہ آپ میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔ اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ یہ مشکل ہے آپ سوچ لیں اور مشورہ کر لیں اور کل پھر گفتگو ہو جاوے۔ میں نے بھی ان سے درخواست کی کہ آپ بھی میرے خیالات کے متعلق اپنے دوستوں سے مشورہ کریں اور پھر مجھے بتائیں تاکہ دوبارہ گفتگو ہو جاوے۔ پس ہم دونوں جدا ہو گئے۔

خلافت سے انکار نہیں ہوسکتا

رات کے وقت میں نے اپنے دوستوں کو جمع کیا اور ان کو سب گفتگو سنائی، سب نے اس امر کا مشورہ دیا کہ خلافت سے انکار تو چونکہ مذہبًا جائز نہیں، قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو خلفاء کا انکار کرتا ہے وہ فاسق ہے اور خلافت کو اپنی نعمت قرار دیتا ہے۔ اس نعمت کو چھوڑنا تو جائز نہیں۔ میں نے ان کو بتایا کہ مولوی صاحب کی باتوں سے میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس امر پر زور دیں گے، مگر یہی رائے قرار پائی کہ یہ ایک مذہبی بات ہے جس کو دوسروں کے لئے قربان نہیں کیا جا سکتا۔ وہ لوگ ایک خلیفہ کی بیعت کر چکے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک بیعت جائز تو ہے حرام نہیں اور ہمارے نزدیک بیعت نہ کرنا اور خود خلافت کو چھوڑ دینا حرام ہے۔ پس جب وہ اس امر کے انکار میں جسے وہ جائز سمجھتے ہیں اسقدر مصر ہیں تو ہم اس بات کو جسے ہم فرض سمجھتے ہیں کیونکَہ ترک کر سکتے ہیں؟ اس پر مجلس برخاست ہو گئی۔

حضرت خلیفہ اول کی وفات پر مولوی محمد علی صاحب کا ٹریکٹ

جیسا کہ میں نے پہلے دن تاکید کی تھی، بہت سے لوگوں نے روزہ رکھنے کی تیاری کی ہوئی تھی۔ جن لوگوں کو تہجد کے لئے اٹھنے کا موقع نہیں ملا کرتا تھا انہوں نے بھی نماز تہجد ادا کرنے کا تہیہ کیا ہوا تھا۔ دو بجے کے قریب میں اٹھا اور نماز تہجد ادا کرنے کی تیاری کی۔ ابھی میں وضو کر رہا تھا کہ ایک شخص نے میرے ہاتھ میں ایک ٹریکٹ دیا اور کہا کہ یہ ٹریکٹ تمام راستہ میں بیرون جات سے آنے والے احمدیوں میں تقسیم کیا گیا ہے جب میں نے اس ٹریکٹ کو دیکھا تو وہ مولوی محمد علی صاحب کا لکھا ہوا تھا اور اس میں جماعت کو اکسایا گیا تھا کہ آئندہ خلافت کا سلسلہ نہ چلے اور یہ کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی بیعت بھی انہوں نے بطور خلیفہ کے نہ کی تھی۔ بلکہ بطور ایک پیر اور صوفی کے اور یہ کہ مولوی محمد علی صاحب کو معلوم نہیں کہ کون خلیفہ ہوگا ؟ بلکہ صرف بطور خیر خواہی کے وہ کہتے ہیں کہ آئندہ خلیفہ نہ مقرر ہو اور یہ کہ میاں صاحب (یعنی مصنف رسالہ) غیر احمدیوں کو کافر کہتا ہے اور یہ درست نہیں اور تقویٰ کے خلاف ہے اور یہ کہ اگر کوئی شخص جماعت کا سر بر آوردہ بنایا جاوے تو وہ ایسا شخص ہونا چاہئے جو غیر احمدیوں کو کافر نہ کہتا ہو۔ کیونکہ حضرت خلیفۃ المسیح کا جانشین متقی ہونا چاہئے اور غیر احمدیوں کو کافر کہنے والا متقی نہیں اور میں اہل بیت اور حضرت مسیح موعودؑ کے دیگر صحابہ کا خیر خواہ اور ان کا احترام کرنے والا ہوں۔ یہ مضمون جو کچھ ظاہر کرتا ہے۔ اس پر اس جگہ کچھ لکھنے کی مجھے ضرورت نہیں۔ ہر ایک شخص ادنیٰ تامل سے اس مضمون کا بین السطور مدعا خود سمجھ سکتا ہے۔

مولوی محمد علی صاحب کی مغالطہ دہی کا انکشاف

جس وقت یہ ٹریکٹ میں نے دیکھا میں حیران ہو گیا اور میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی کیونکہ ابھی دو دن نہ گزرے تھے کہ میرے اس ارادہ پر کہ جماعت میں اعلان کیا جاوے کہ اختلافی مسائل میں اس وقت تک بحث نہ کریں جب تک کہ کوئی سردار ہم میں ایسا نہ ہو جو نگرانی کر سکے اور افراط اور تفریط کو روک سکے۔ مولوی محمد علی صاحب نے یہ مشورہ دیا تھا کہ چونکہ بیرونجات کے لوگ ان جھگڑوں سے ہی ناواقف ہیں اس لئے ان کو اس اشتہار سے ابتلاء آئے گا اور آج اس ٹریکٹ سے معلوم ہوا کہ نہ صرف اشتہار بلکہ ایک ٹریکٹ لکھ کر مولوی محمد علی صاحب پہلے سے لاہور چھپنے کے لئے بھیج چکے تھے اور نہ صرف اسے خود شائع کرانے کا ارادہ تھا بلکہ اس کے اوپر تمام احمدیوں کو ہدایت لکھی گئی تھی کہ وہ اس ٹریکٹ کو ”دوسروں تک پہنچا دیں“۔ یہ بات میری سمجھ سے بالا تھی اور میں حیران تھا کہ میں مولوی محمد علی صاحب کی نسبت کیا سمجھوں؟ جو شخص دو دن پہلے مجھے اس امر کے اعلان سے کہ اختلافی مسائل پر آپس میں اس وقت تک بحث نہ کرو کہ کوئی نگران تم میں موجود ہو اس لئے روکتا تھا کہ اس سے لوگوں کو ابتلاء آجائے گا اور وہ خیال کریں گے کہ ہمارا آپس میں اختلاف ہے وہ اس سے ایک ہفتہ پہلے خود ایک ٹریکٹ اختلافی مسائل پر لکھ کر چھپنے اور شائع کئے جانے کے لئے لاہور بھیج چکا تھا۔ کیا یہ فعل تقویٰ کا فعل تھا؟ کیا اس جواب میں صداقت کا کوئی پہلو تھا؟ کیا یہ صریح مغالطہ دہی نہ تھی؟ کیا یہ ایک پالیسی نہ تھی؟ کیا مولوی محمد علی صاحب کے اس فعل میں خدا تعالیٰ کے خوف کو پسِ پُشت نہ ڈال دیا گیا تھا؟ ہاں کیا ان کا یہ طریق عمل اسی تعلیم کے ماتحت تھا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہے جس کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جس کی طرف مسیح موعودؑ نے رہنمائی کی ہے جس پر عمل درآمد کرنے کے لئے انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے ہاتھ پر دوبارہ عہد کیا تھا۔

مولوی محمد علی صاحب کی غرض صرف وقت گزارنے کی تھی۔ ان کی غرض مجھے روکنے سے جماعت کو ابتلاء سے بچانا نہیں اس کو ابتلاء میں ڈالنا تھی۔ کیونکہ کیا وہ اس سے پہلے اختلافی مسائل پر ایک ٹریکٹ لکھ کر اسے خفیہ خفیہ طبع ہونے کے لئے لاہور نہیں بھیج چکے تھے؟ کیا جماعت کو اختلافی بحثوں میں پڑنے سے روکنے پر تو اس کو علم ہو جاتا تھا کہ ہم میں آپس میں اختلاف ہے اور اس کے ابتلاء میں پڑ جانے کا ڈر تھا؟ لیکن خود اختلافی مسائل پر ٹریکٹ لکھئے جماعت کے ایک حصہ کو غیر متقی قرار دینے پر سازشوں کا الزام لگانے سے کسی فتنہ اور ابتلاء کا ڈر نہ تھا اور نہ کسی کو اس ٹریکٹ کے پڑھنے سے اندرونی اختلاف کا علم ہو سکتا تھا؟

مولوی صاحب جانتے تھے کہ اگر انہوں نے اس ٹریکٹ پر دستخط کر دیئے، تو دنیا ان سے دریافت کرے گی کہ خود انہوں نے کیوں ایسا ٹریکٹ لکھ کر شائع کیا تھا اور ان سے کہے گی کہ اَتَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبِرِّ وَتَنۡسَوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ(البقرۃ: ۴۵)، لیکن دوسری طرف وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اس اشتہار کے مضمون میں جو میں شائع کرنا چاہتا تھا کوئی ایسی بات نہ تھی جس پر وہ گرفت کر سکیں پس انہوں نے اس وقت اس بہانہ سے اپنی جان بچانی چاہی۔

اگر وہ دیانت داری سے کام لیتے تو اگر وہ اشتہار کے مضمون سے متفق تھے جیسا کہ اس وقت انہوں نے ظاہر کیا تھا تو اپنے پہلے ٹریکٹ کو واپس منگوا لیتے اور اس کو شائع نہ کرتے اور اگر اس سے اختلاف رکھتے تھے تو مجھے یہ جواب دیتے کہ اختلاف سے جماعت کو واقف کرنا نہایت ضروری ہے چنانچہ میں خود ایک ٹریکٹ لکھ کر چھپنے اور شائع ہونے کے لئے لاہور بھیج چکا ہوں اس لئے میں اس اشتہار پر دستخط نہیں کر سکتا۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے اس اشتہار پر پسندیدگی کا اظہار کیا لیکن مجھے اس کی اشاعت سے روکنے کا مشورہ اس بناء پر دیا کہ لوگوں کو اختلاف کا علم ہوگا اور خود ایک ٹریکٹ لکھا جس میں یہاں تک لکھ دیا کہ ہمارا اختلاف اس حد تک بڑھا ہوا ہے کہ ایک فریق دوسرے کی نسبت کہتا ہے کہ وہ کافر اور واجب القتل ہے۔ حالانکہ اختلاف کو آج پانچ سال گزر چکے ہیں اور پہلے کی نسبت اختلاف بہت زیادہ ہے مگر اب تک بھی کسی نے ان کو کافر اور واجب القتل قرار نہیں دیا۔ گو ان کو شوق ضرور ہے کہ اپنی نسبت ایسا فتویٰ حاصل کریں جیسا کہ پچھلے دنوں تشحیذ الاذہان کے ایک مضمون سے جس میں غلطی سے ڈائری نویس نے ان کی طرف اشارہ کر دیا تھا باوجود اس کی تردید ہو جانے کے انہوں نے اس کو تشہیر دیکر اپنی مظلومیت کا اظہار شروع کر رکھا ہے۔

خداتعالیٰ سے طلب امداد

غرض جس وقت یہ ٹریکٹ میں نے پڑھا۔ میں حیران ہو گیا اور میں نے فتنہ کو آتا ہوا دیکھ لیا اور سمجھ لیا کہ مولوی محمد علی صاحب بغیر تفریق کے راضی نہ ہوں گے۔ ایسے وقت میں ایک مومن سوائے اس کے اور کیا کر سکتا ہے کہ خداتعالیٰ کے حضور گر جائے اور اس سے مدد طلب کرے۔ میں نے بھی ایسا ہی کیا اور خود بھی دُعا میں لگ گیا۔ اور دوسرے لوگ جو اس کمرہ میں میرے ساتھ تھے ان کو جگایا اور ان کو اس ٹریکٹ سے آگاہی دی اور ان کو بھی دعا کے لئے تاکید کی۔ ہم سب نے دُعائیں کیں اور روزے رکھے اور قادیان کے اکثر احمدی جو میرے ہم خیال تھے اس دن روزہ دار تھے۔

حضرت خلیفہ اوّل سے آخری وقت میں مولوی محمد علی صاحب کا نہایت سنگدلانہ سلوک

مولوی محمد علی صاحب کا یہ ٹریکٹ انکے باطنی خیالات پر بہت کچھ روشنی ڈالتا ہے۔ میں نے بتایا ہے کہ کس طرح اس ٹریکٹ کی خاطر انہوں نے مجھ سے دھوکا کیا۔ مگر میں اب اس سلوک کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو اس ٹریکٹ کی اشاعت سے انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الاول سے کیا۔ سنگدل سے سنگدل آدمی بھی جب اپنے کسی عزیز کو بستر مرگ پر دیکھتا ہے تو اس سے دھوکا کرنا پسند نہیں کرتا۔ لیکن مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الاول سے کیا سلوک کیا؟ آپ نے اپنی وصیت لکھ کر مولوی محمد علی صاحب کو دی اور ان سے تین بار پڑھوائی اور پھر دریافت کیا کہ کیا کوئی بات رہ تو نہیں گئی اور انہوں نے اقرار کیا کہ نہیں بالکل درست ہے۔

یہ وصیت صحت میں نہیں لکھی گئی بلکہ بیماری میں اور عین اس وقت جبکہ دنیاوی سامانوں کے لحاظ سے زندگی کی اُمید بالکل منقطع ہو چکی تھی۔

یہ وصیت اس وقت لکھی گئی جبکہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول اپنی موت کو قریب دیکھ رہے تھے اور اس دُنیا کو چھوڑ کر اپنے آقا و مولیٰ سے ملنے کی اُمید میں تھے۔

یہ وصیت اس وقت لکھی گئی جبکہ اس جماعت کو جسے چھ سال سخت تکلیف کے ساتھ خطرناک سے خطرناک ابتلاؤں کی آندھیوں اور طوفانوں سے بچا کر آپ کامیابی کے راستہ پر لے جا رہے تھے آپ چھوڑنے والے تھے اور اس کی آئندہ بہتری کا خیال سب باتوں سے زیادہ آپ کے پیش نظر تھا۔

یہ وصیت اس وقت لکھی گئی تھی جبکہ آپ اپنے آقا مسیح موعودؑ کے پاس جا کر اسے اپنے کام کو امانت سے ختم کرنے کی خبر دینے والے تھے۔ یہ وصیت اس وقت لکھی گئی تھی جس وقت آپ اپنی عمر کا آخری باب ختم کر رہے تھے۔ یہ وصیت اس وقت لکھی گئی تھی کہ جس کے بعد آپ جماعت کی اور کوئی خدمت کرنے کی اُمید نہ رکھتے تھے۔ یہ وصیت اس وقت لکھی گئی تھی جس وقت ضعف و نقاہت سے آپ بیٹھ بھی نہیں سکتے تھے اور یہ وصیت بھی نہایت تکلیف سے آپ نے لیٹے لیٹے ہی لکھی تھی۔ غرض یہ وصیت اس وقت لکھی گئی تھی جبکہ ایک عظیم الشان انسان اپنی مقدس زندگی کی آخری گھڑیاں گزار رہا تھا جس وقت ایک طرف تو اپنے پیدا کرنے والے اپنے محبوبِ حقیقی کی ملاقات کا شوق اس کے دل کو گدگدا رہا تھا اور دوسری طرف اپنی وفات کے ساتھ ہی اپنی آخری عمر کی محنت و کوشش کے اکارت جانے کا خوف اس کے دل کو ستا رہا تھا۔ غرض وہ اس کی گھڑیاں خوف و رجا کی نازک گھڑیاں تھیں۔ یہ وصیت اس نے لکھی تھی جس کے ہاتھ پر تمام جماعت احمدیہ سوائے معدودے چند آدمیوں کے بیعت کر چکی تھی۔ یہ وصیت اس نے تحریر کی تھی جو علاوہ خلیفۃ المسیح ہونے کے یوں بھی تقویٰ اور دیانت میں تمام جماعت پر فضیلت رکھتا تھا۔ یہ وصیت اس نے لکھی تھی جس کے احسانات دینی و دنیاوی جماعت کے کثیر حصہ پر حضرت مسیح موعودؑ کے ایام زندگی سے ہی ہوتے چلے آئے تھے۔ یہ وصیت اس نے لکھی تھی جو قرآن و حدیث کا کامل ماہر اور ان کا عاشق تھا۔ یہ وصیت اس نے لکھی تھی جس کے ہر ایک حکم کی اطاعت کا اقرار مولوی محمد علی صاحب کر چکے تھے۔ یہ وصیت اس نے لکھی تھی جس کی شاگردی کا جُوا مولوی محمد علی صاحب کی گردن پر رکھا ہوا تھا۔ یہ وصیت اس نے لکھی تھی جس نے باوجود سخت نقاہت اور ضعف کے اپنی بیماری کے آخری ایام میں مولوی محمد علی صاحب کو قرآن پڑھایا۔ غرض یہ وصیت اس کی لکھی ہوئی تھی جس کی اطاعت خدا تعالیٰ کی طرف سے مولوی محمد علی صاحب پر فرض ہو چکی تھی اور جس کے احسانات کے نیچے ان کی گردن جھکی جاتی تھی۔

یہ وصیت مولوی محمد علی صاحب کو پڑھوائی گئی تھی اور ایک دفعہ نہیں بلکہ تین بار۔

یہ وصیت جب لکھی جا چکی اور مولوی محمد علی صاحب اس کو پڑھ چکے تو ان سے دریافت کیا گیا تھا کہ کیا اس میں کوئی بات رہ تو نہیں گئی۔

ہاں یہ وصیت جب لکھی جا چکی اور مولوی محمد علی صاحب سے دریافت کیا گیا کہ اس میں کوئی بات رہ تو نہیں گئی تو انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ یہ بالکل درست ہے۔

غرض یہ وصیت ایک زبردست وصیت تھی۔ اس کا کوئی پہلو نامکمل نہ تھا۔ اس کا لکھنے والا کامل، اس کے لکھنے کا وقت خاص الخاص اس کا علم مولوی محمد علی صاحب کو پوری طرح دیا گیا۔ اور ان سے اس کے درست ہونے کا اقرار لیا گیا پس اس کی تعمیل ان پر واجب اور فرض تھی مگر انہوں نے کیا کیا؟ مولوی صاحب نے اس امانت سے وہ سلوک کیا جو کسی نے کبھی نہ کیا تھا۔

جس وقت وہ حضرت خلیفۃ المسیح کی وصیت پڑھ رہے تھے اس وقت ان کے دل میں یہ خیالات جوش زن تھے کہ میں ایسا کبھی نہیں کرنے دوں گا۔ وہ اپنے پیر کو اس کے بستر مرگ پر دھوکا دے رہے تھے ان کا جسم اس کے پاس تھا۔ مگر ان کی روح اس سے بہت دور اپنے خیالات کی ادھیڑ بن میں تھی۔ اور انہوں نے وہاں سے اُٹھ کر غالباً سب سے پہلی تحریر جو لکھی وہ وہی تھی جس میں اس وصیت کے خلاف جماعت کو اکسایا تھا اور گو مخاطب اس میں مجھے یا اور بعض گمنام شخصوں کو کیا گیا تھا مگر درحقیقت اس وصیت کی دھجیاں اُڑائی گئی تھیں جس کی تصدیق چند ساعت پہلے وہ اپنے مُرشد و ہادی کے بستر مرگ کے پاس نہایت سنجیدگی کے ساتھ کر چکے تھے۔

مولوی محمد علی صاحب یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کی وہ تحریر اس وصیت سے پہلے کی تھی۔ کیا اگر وہ پہلے کی تھی تو کیا وہ اس کو واپس نہیں منگوا سکتے تھے کیا وصیت کے بعد کافی عرصہ اس کے واپس منگوانے کا ان کو نہیں ملا۔

وہ یہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ان کے ٹریکٹ میں یہ لکھا ہوا موجود ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرما دیا ہے کہ ان کا ایک جانشین ہو۔

مولوی محمد علی صاحب صرف ایک بہانہ بناتے ہیں اور وہ یہ کہ حضرت خلیفۃ المسیح کا جانشین سے یہ مطلب تھا کہ ایک ایسا شخص جماعت میں سے چنا جاوے جس کے حکموں کی قدر کی جاوے۔ لیکن ان کی یہ تشریح جھوٹی تشریح ہے۔ وہ قسم کھا کر بتادیں کہ کیا حضرت خلیفۃ المسیح کا یہ مذہب نہ تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود کے خلیفہ ہیں اور آپ کی بیعت بطور خلیفہ کے کی گئی ہے نہ کہ بطور بڑے صوفی

اور بزرگ ہونے کے۔ اور یہ کہ ان کے بعد بھی اسی قسم کے خلفاء ہوں گے۔ مگر وہ ایسا کبھی نہیں کر سکتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے غلط بیانی سے کام لیا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی شائع شدہ تقریریں کثرت سے اس امر پر شاہد ہیں۔

مولوی محمد علی صاحب کا یہ فعل واقعہ میں حیرت میں ڈال دینے والا ہے لیکن جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کی وصیت کو بھی پسِ پشت ڈال دیا ہے تو ان کے اس فعل پر زیادہ حیرت نہیں رہتی۔ کیونکہ باوجود اس کے کہ وہ حضرت مسیح موعودؑ کی وفات پر حضرت مولوی نور الدین کو ”مطابق فرمانِ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مندرجہ رسالہ الوصیت“ جماعت کا خلیفہ تسلیم کر کے اس بارے میں اعلان کر چکے ہیں (دیکھو اخبار بدر پرچہ ۲؍ جون ۱۹۰۸ء جلد ۷ نمبر ۲۲ صفحہ ۶) کہ سب احمدی ان کی بیعت کریں۔ آج لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کی وصیت میں کہیں خلافت کا ذکر ہی نہیں اور آپ نے خلفاء کے لئے احمدی جماعت سے بیعت لینے کی اجازت ہی نہیں دی۔

جماعت کا رجحان معلوم کرنے کیلئے دستخط

غرض جبکہ بعض لوگوں نے دیکھا کہ مولوی محمد علی صاحب نے نہ صرف یہ کہ ہم سے دھوکا کیا ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور حضرت خلیفہ المسیح کی وصایا کی بھی بے قدری کی ہے اور جماعت میں اختلاف ڈلوانا چاہا ہے اور لوگوں سے اپنی تحریر پر رائے بھی طلب کی ہیں۔ تو انہوں نے بھی ایک تحریر لکھ کر تمام آنے والے احباب میں اس غرض سے پھرائی کہ جماعت کا عندیہ معلوم ہو جاوے۔ اور جو لوگ ان کے خیالات سے متفق تھے ان سے دستخط چاہے تا معلوم ہو کہ جماعت کا رجحان کدھر ہے چنانچہ ان دستخطوں سے معلوم ہوا کہ موجودہ جماعت کا نوے فیصدی سے بھی زیادہ حصہ اس بات پر متفق تھا کہ خلیفہ ہونا چاہئے اور وہ بھی اسی رنگ میں جس رنگ میں کہ حضرت خلیفہ اول تھے۔ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء اسے سازش قرار دیتے ہیں۔ لیکن کیا لوگوں کی رائے دریافت کرنی سازش ہے کیا وہ اپنے ٹریکٹ میں اس سے پہلے جماعت سے رائے طلب نہیں کر چکے تھے۔ کیا خود انہوں نے ہی یہ دروازہ نہیں کھولا تھا۔ پس جس دروازہ کو وہ کھول چکے تھے اس میں سے مجبوراً اگر دوسروں کو گزرنا پڑا تو اس پر کیا اعتراض ہے بلکہ مولوی صاحب کے طریقِ عمل اور دوسرے فریق کے طریقِ عمل میں یہ فرق ہے کہ انہوں نے اس دروازہ کے کھولنے میں دھوکے سے کام لیا۔ اور اس نے علی الاعلان حق کی راہ پر چل کر اس کا رُخ کیا انہوں نے بھی لوگوں سے اپنے خیال پر رائے مانگی دوسرے فریق نے بھی اپنی رائے کی تصدیق چاہی۔

مہمانوں کی آمد کا انتظار

ہفتہ کے دن برابر مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا اور اس بات کا انتظار کیا گیا کہ کافی آدمی پہنچ جاویں تا پورے طور پر مشورہ ہو سکے۔ ظہر تک قریباً ہزار آدمی سے زیادہ مختلف جماعتوں سے پہنچ گیا اور ایک بڑا مجمع ہو گیا۔

اپنے رشتہ داروں سے مشورہ

ظہر کے بعد میں نے اپنے تمام رشتہ داروں کو جمع کیا اور ان سے اس اختلاف کے متعلق مشورہ طلب کیا۔ بعض نے رائے دی کہ جن عقائد کو ہم حق سمجھتے ہیں ان کی اشاعت کے لئے ہمیں پوری طرح کوشش کرنی چاہئے اور ضرور ہے کہ ایسا آدمی خلیفہ ہو جس سے ہمارے عقائد متفق ہوں۔ مگر میں نے سب کو سمجھایا کہ اصل بات جس کا اس وقت ہمیں خیال رکھنا چاہئے وہ اتفاق ہے خلیفہ کا ہونا ہمارے نزدیک مذہبًا ضروری ہے۔ پس اگر وہ لوگ اس امر کو تسلیم کر لیں تو پھر مناسب یہ ہے کہ اوّل تو عام رائے لی جاوے اگر اس سے وہ اختلاف کریں تو کسی ایسے آدمی پر اتفاق کر لیا جاوے جو دونوں فریق کے نزدیک بے تعلق ہو۔ اور اگر یہ بھی وہ قبول نہ کریں تو ان لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جاوے اور میرے اصرار پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام اہلِ بیت نے اس بات کو تسلیم کر لیا یہ فیصلہ کر کے میں اپنے ذہن میں خوش تھا کہ اب اختلاف سے جماعت محفوظ رہے گی مگر خدا تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں سے گفتگو

میں باہر آیا تو مولوی محمد علی صاحب کا رقعہ مجھے ملا کہ کل والی گفتگو کے متعلق ہم پھر کچھ گفتگو کرنی چاہتے ہیں۔ میں نے ان کو بلوا لیا اس وقت میرے پاس مولوی سید محمد احسن صاحب، خان محمد علی خان صاحب اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب موجود تھے۔ مولوی صاحب بھی اپنے بعض احباب سمیت وہاں آگئے اور پھر کل کی بات شروع ہوئی۔ میں نے پھر اس امر پر زور دیا کہ خلافت کے متعلق آپ لوگ بحث نہ کریں۔ صرف اس امر پر گفتگو ہو کہ خلیفہ کون ہو۔ اور وہ اس بات پر مُصرّ تھے کہ نہیں ابھی کچھ بھی نہ ہو۔ کچھ عرصہ تک انتظار کیا جاوے۔ سب جماعت غور کرے کہ کیا کرنا چاہئے پھر جو متفقہ فیصلہ ہو اس پر عمل کیا جاوے۔ میرا جواب وہی کل والا تھا اور پھر میں نے ان کو یہ بھی کہا کہ اگر پھر بھی اختلاف ہی رہے تو کیا ہوگا؟ اگر کثرت رائے سے فیصلہ ہونا ہے تو ابھی کیوں کثرت رائے پر فیصلہ نہ ہو۔ درمیان میں کچھ عقائد پر بھی گفتگو چھڑ گئی

جس میں مولوی سید محمد احسن صاحب نے نبوت مسیح موعود پر خوب زور دیا اور مولوی محمد علی صاحب سے بحث کی۔ اور میں اُمید کرتا ہوں کہ اگر مولوی محمد علی صاحب کو حلف دی جاوے تو وہ کبھی اس سے انکار نہ کریں گے۔ مگر میں نے اس بحث سے روک دیا کہ یہ وقت اس بحث کا نہیں۔ اس وقت جماعت کو تفرقہ سے بچانے کی فکر ہونی چاہئے جب سلسلہ گفتگو کسی طرح ختم ہوتا نظر نہ آیا۔ اور باہر بہت شور ہونے لگا اور جماعت کے حاضر الوقت اصحاب اس قدر جوش میں آگئے کہ دروازہ توڑے جانے کا خطرہ ہو گیا اور لوگوں نے زور دیا کہ اب ہم زیادہ صبر نہیں کر سکتے۔ آپ لوگ کسی امر کو طے نہیں کرتے اور جماعت اس وقت تک بغیر کسی رئیس کے ہے تو میں نے مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ بہتر ہے کہ باہر چل کر جو لوگ موجود ہوں ان سے مشورہ لے لیا جاوے۔ اس پر مولوی محمد علی صاحب کے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ آپ یہ بات اس لئے کہتے ہیں کہ آپ جانتے ہیں کہ وہ لوگ کس کے منتخب کرینگے۔ اس پر میں نے ان سے کہا کہ نہیں میں تو فیصلہ کر چکا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلوں۔ مگر اس پر بھی انہوں نے یہی جواب دیا کہ نہیں آپ جانتے ہیں کہ ان لوگوں کی کیا رائے ہے یعنی وہ آپ کو خلیفہ مقرر کریں گے۔ اس پر میں اتفاق سے مایوس ہو گیا اور میں نے سمجھ لیا کہ خدا تعالیٰ کا منشاء کچھ اور ہے کیونکہ با وجود اس فیصلہ کے جو میں اپنے دل میں کر چکا تھا میں نے دیکھا کہ یہ لوگ صلح کی طرف نہیں آتے اور مولوی صاحب کے اس فقرہ سے میں یہ بھی سمجھ گیا کہ مولوی محمد علی صاحب کی مخالفت خلافت سے بوجہ خلافت کے نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ ان کے خیال میں جماعت کے لوگ کسی اور کو خلیفہ بنانے پر آمادہ تھے اور یہی بات درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے چھ سال پہلے وہ اعلان کر چکے تھے کہ:۔

”مطابق فرمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مندرجہ رسالہ الوصیت، ہم احمدیان جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں اس امر پر صدقِ دل سے متفق ہیں کہ اول المہاجرین حضرت حاجی مولوی حکیم نورالدین صاحب جو ہم سب سے اعلم اور اتقیٰ اور حضرت امامؑ کے سب سے زیادہ مخلص اور قدیمی دوست ہیں۔ اور جن کے وجود کو حضرت امام علیہ السلام اُسوۂ حسنہ قرار فرما چکے ہیں جیسا کہ آپ کے شعر

چہ خوش بُودے اگر ہر یک زامت نورِ دیں بُودے

ہمیں بُودے اگر ہر دل پُر از نورِ یقیں بُودے

سے ظاہر ہے کے ہاتھ پر احمد کے نام پر تمام احمدی جماعت موجودہ اور آئندہ نئے ممبر بیعت کریں اور حضرت مولوی صاحب موصوف کا فرمان ہمارے واسطے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا تھا۔“ (یہ اعلان جماعت کے بہت سے سر برآوردہ لوگوں کی طرف سے فرداً فرداً ہر ایک کے دستخط کے ساتھ ہوا تھا۔ جن میں سے مولوی محمد علی صاحب بھی تھے۔ یہ تحریر جو ۲؍ جون ۱۹۰۸ء کے بدر میں بغرض اعلان شائع کی گئی تھی ۲۷؍ مئی ۱۹۰۸ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی خدمت میں بطور درخواست پیش کی گئی تھی اور پھر حضرت ممدوح کی بیعت خلافت ہو چکنے کے بعد اخبار بدر کے پرچہ مذکورہ بالا میں ہی جناب خواجہ کمال الدین صاحب نے بحیثیت سیکرٹری صدر انجمن احمدیہ اس بارہ میں حسب ذیل اعلان شائع کیا تھا۔ ”حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جنازہ قادیان میں پڑھا جانے سے پہلے آپ کے وصایا مندرجہ رسالہ الوصیت کے مطابق۔۔۔۔جناب حکیم نور الدین صاحب سلمہ کو آپ کا جانشین اور خلیفہ قبول کیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ۔۔۔۔یہ خط بطور اطلاع کل سلسلہ کے ممبران کو لکھا جاتا ہے۔ کہ وہ اس خط کے پڑھنے کے بعد فی الفور حضرت حکیم الامتہ خلیفۃ المسیح و المہدی کی خدمت بابرکت میں بذات خود یا بذریعہ تحریر حاضر ہو کر بیعت کریں۔“ اب کوئی نئی وصیت تو ان کے ہاتھ میں آئی نہ تھی کہ جس کی بناء پر وہ خلافت کو ناجائز سمجھنے لگے تھے۔ پس حق یہی ہے کہ ان کو خیال تھا کہ خلافت کے لئے جماعت کی نظر کسی اور شخص پر پڑ رہی ہے۔ جب فیصلہ سے مایوسی ہوئی تو میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ چونکہ ہمارے نزدیک خلیفہ ہونا ضروری ہے اور آپ کے نزدیک خلیفہ کی ضرورت نہیں۔ اور یہ ایک مذہبی امر ہے۔ اس لئے آپ کی جو مرضی ہو کریں۔ ہم لوگ جو خلافت کے قائل ہیں اپنے طور پر اکٹھے ہو کر اس امر کے متعلق مشورہ کر کے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیتے ہیں۔ یہ کہہ کر میں اُٹھ کھڑا ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔

خلیفہ کا انتخاب

عصر کی نماز کا وقت تھا۔ عصر کی نماز پڑھ کر ڈیڑھ ہزار سے دو ہزار تک آدمیوں کے مجمع میں مکرمی خان محمد علی خان صاحب جاگیردار مالیر کوٹلہ نے بحیثیت حضرت خلیفہ اول کے وصی ہونے کے مجلس میں آپ کی وصیت پڑھ کر سنائی اور لوگوں سے درخواست کی کہ وہ آپ کی وصیت کے مطابق کسی شخص کو آپ کا جانشین تجویز کریں۔ اس پر لوگوں نے

میرا نام لیا جس کے بعد مولوی محمد احسن صاحب نے کھڑے ہو کر ایک تقریر کی اور کہا کہ میرے نزدیک بھی یہی خلیفہ ہونے چاہئیں ۔ اس پر لوگوں نے شور کیا کہ بیعت لی جاوے۔ میں نے اس امر میں پس و پیش کیا اور با وجود لوگوں کے اصرار کے انکار کیا۔ مگر لوگوں کا جوش اسی طرح زور پر تھا جس طرح حضرت ابوبکرؓ کے وقت میں اور وہ ایک دوسرے پر ٹوٹے پڑتے تھے ۔ اور بعض لوگوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا کہ آپ بیعت لیں۔ میں نے پھر بھی پس و پیش کیا تو بعض لوگوں نے جو قریب بیٹھے تھے اصرار کیا کہ جماعت کی حفاظت اور بچاؤ کے لئے آپ ضرور بیعت لیں ۔ اور میں نے دیکھا کہ لوگ بیعت کے جوش سے اس قدر بھرے ہوئے تھے اور آگے کی طرف بڑھ رہے تھے کہ میں بالکل آدمیوں میں چھپ گیا۔ اور اگر بعض لوگ ہمت کر کے میری پیٹھ کے پیچھے حلقہ نہ بنا لیتے تو قریب تھا کہ میں کچلا جاتا۔ مجھے بیعت کے الفاظ یاد نہ تھے اور میں نے اسی بات کو عذر بنانا چاہا اور کہا کہ مجھے بیعت کے الفاظ یاد نہیں ہیں۔ اس پر مولوی سید سرور شاہ صاحب نے کہا کہ میں الفاظِ بیعت دہراتا جاؤں گا آپ بیعت لیں۔ تب میں نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ کا یہی منشاء ہے اور اس کے منشاء کو قبول کیا اور لوگوں سے بیعت لی اور جو ازل سے مقدر تھا با وجود میرے پہلو تہی کرنے کے ظہور میں آیا۔

ان دو ہزار کے قریب آدمیوں میں سے جو اس وقت وہاں موجود تھے صرف پچاس کے قریب آدمی ہوں گے جو بیعت سے باز رہے۔ باقی سب لوگ بیعت میں داخل ہوئے اس کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا جنازہ پڑھا گیا۔

بیعت ہو گئی اور اس سے زیادہ لوگوں نے بیعت کی جنہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی بیعت کی تھی اور اس سے زیادہ مجمع نے بیعت پر اتفاق کیا جتنے مجمع نے کہ حضرت خلیفہ اول کی بیعت پر اتفاق کیا تھا۔ مگر باوجود اس کے مولوی صاحب اور آپ کے رفقاء کی تسلی نہ ہوئی اور انہوں نے اس سب کارروائی کو منصوبہ قرار دیا۔ اور تمام جماعت کو اطلاع دی گئی کہ خلافت کا فیصلہ کوئی نہیں ہوا ۔ قادیان میں جو کارروائی ہوئی سب دھوکا اور سازش کا نتیجہ تھی۔

پیغام کی غلط بیانیاں

مخالفت کا جوش اس قدر بڑھ گیا کہ جھوٹ کا پر ہیز بالکل جاتا رہا خود پیغام لکھتا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح کا جنازہ اڑھائی ہزار آدمیوں نے پڑھا ، (۱۷؍ مارچ ۱۹۱۴ء) اور پھر یہی پیغام لکھتا ہے کہ :۔ ’’وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح کی آنکھیں دیکھی ہوئی تھیں انہوں نے اس قسم کی بیعت سے احتراز کیا اور حاضر الوقت جماعت میں سے

نصف کے قریب لوگوں نے بیعت نہ کی“۔ (۲۲؍ مارچ ۱۹۱۴ء)

جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح کے صحبت یافتہ لوگوں میں سے کسی نے بیعت نہ کی۔ اور جو لوگ قادیان میں موجود تھے ان میں سے نصف نے انکار کر دیا۔ مگر حق یہ ہے کہ پچاس سے زائد آدمی نہ تھے جنہوں نے بیعت سے اجتناب کیا اور اس دو یا بقول پیغام اڑھائی ہزار آدمیوں میں سے نصف سے زیادہ وہ لوگ تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی صحبت حاصل کی ہوئی تھی قادیان کے مہاجرین میں سے جن کی تعداد تین چار سو سے کم نہ تھی کل چار پانچ آدمی بیعت سے باہر رہے اور یہ لوگ پیغام کی نظر میں گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح کے صحبت یافتہ ہی نہ تھے۔ مرزا یعقوب بیگ صاحب سیکرٹری احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور نے تو اس سے بھی بڑھ کر کمال کیا اور اخبار عام لاہور میں لکھ دیا کہ کثیر التعداد حاضرین کو اس بات کا پتہ بھی نہیں کہ کون خلیفہ مقرر ہوئے ہیں جب اس صریح جھوٹ پر نوٹس لیا گیا۔ تو ڈاکٹر صاحب اول الذکر مضمون کے راقم نے ۶؍ اپریل کے پیغام میں شائع کیا کہ میری مراد اس فقرہ سے یہ تھی کہ سمجھدار لوگوں میں سے زیادہ حصہ نے بیعت نہ کی۔ اور یہ سمجھداری کا فقرہ ایسا گول مول ہے کہ اس کی تشریح در بطن شاعر ہی رہ سکتی ہے دوسرے لوگ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ کیونکہ ہر ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ جو لوگ میرے ہم خیال ہیں وہ سمجھدار ہیں اور دوسرے لوگ ناسمجھ۔ لیکن اگر سمجھ کا کوئی معیار ہے تو ہر ایک معیار کے مطابق ہم بتا سکتے ہیں کہ نہ صرف زیادہ لوگوں نے بلکہ بہت زیادہ لوگوں نے بیعت اختیار کی۔ راقم مضمون نے اور اس کے مضمون کو شائع کر کے پیغام نے ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کے اس جھوٹ کی خود ہی تردید کی کیونکہ اس نے لکھا کہ مجمع حاضر الوقت یا انصار اللہ تھے یا جٹ جو بیعت کے لئے تڑپ رہے تھے اور جنہوں نے فوراً بیعت کر لی۔ وہ لوگ انصار اللہ تھے یا کون اس کا سوال نہیں جو لوگ بھی تھے خود پیغام کی روایت کے مطابق نہ صرف انہوں نے بیعت کی بلکہ وہ بیعت کے لئے تڑپ رہے تھے اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے صریح اور بالکل صریح جھوٹ لکھا تھا کہ کثیر التعداد حاضرین کو اس امر کا علم بھی نہ تھا کہ خلیفہ کون ہوا ہے۔

پیغام کے مضمون نگار کا یہ جھوٹ کہ کثیر التعداد بیعت کنندگان میں سے انصار اللہ تھے صرف اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ انصار اللہ کی کل تعداد پونے دوسو سے کم تھی۔ لیکن سب انصار اللہ اس وقت قادیان میں موجود نہ تھے حالانکہ خود انہی کے بیان کے مطابق اس وقت اڑھائی ہزار کے قریب لوگ قادیان میں موجود تھے۔

انصار اللہ پر سازش کا جھوٹا الزام

دوسرا طریق لوگوں کو بہکانے کا یہ اختیار کیا گیا کہ انصار اللہ کی نسبت مشہور کیا جانے لگا کہ انہوں نے سازش کر کے یہ کام کرایا ہے۔ حالانکہ انصار اللہ کی کل جماعت سارے ہندوستان میں پونے دو سو سے کم تھی۔ پس اگر یہ مان بھی لیا جاوے کہ انصار اللہ کی سازش تھی تو سو ڈیڑھ سو آدمی اپنی رائے کا کیا بوجھ ڈال سکتا تھا۔ اڑھائی ہزار لوگوں کی رائے کے مقابلہ میں سو ڈیڑھ سو آدمی کی رائے کیا حیثیت رکھتی ہے۔ انصار اللہ نے خلافت کے متعلق کیا سازش کی اس کے متعلق مولوی محمد علی صاحب کے داہنے بازو حکیم محمد حسین عرف مرہم عیسیٰ مبلغ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کی شہادت کا درج کر دینا کافی ہے جو اس نے اس الزام کے وقت لکھ کر دی۔

”میں سچے دل سے اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ میں انصار اللہ کا ممبر ایک مدت تک تھا اور اب بھی اگر میاں صاحب نے مجھے انصار اللہ میں سے نہ نکالا تو میں انصار اللہ کا ممبر اپنے آپ کو سمجھتا ہوں جس قدر کمیٹیاں انصار اللہ کی لاہور میں ہوئیں اور جن میں میں شامل ہوا میں نے کبھی کسی کو حضرت صاحبزادہ صاحب بزرگوار کے لئے خلیفہ بنانے کی سازش کرتے ہوئے یا اس قسم کی گفتگو کرتے ہوئے نہیں پایا وَاللّٰهُ عَلَىٰ مَا نَقُوْلُ شَهِيدٌ اور نہ ہی حضرت صاحبزادہ صاحب بزرگوار کی طرف سے مجھے کبھی کوئی تحریر اس قسم کی آئی کہ جس سے خلیفہ بنانے کی سازش کا کوئی شائبہ پایا گیا ہو اور حضرت صاحبزادہ صاحب کی کوئی اس قسم کی سازش کی گفتگو میرے ساتھ نہیں ہوئی۔“

محمد حسین بقلم خود

اس کے علاوہ ماسٹر فقیر اللہ صاحب سپرنٹنڈنٹ دفتر سیکرٹری انجمن احمدیہ اشاعت اسلام بھی انجمن انصار اللہ کے ممبر تھے۔ اور انہوں نے بھی شہادت لکھ کر دی ہے کہ میں اس انجمن کا ممبر تھا۔ اس میں اس قسم کی سازش پر کبھی کوئی گفتگو میرے سامنے نہیں ہوئی علاوہ ازیں یہ بات اس الزام کو پورے طور پر رد کر دیتی ہے کہ انجمن انصار اللہ کے ممبروں میں سے ایک معقول تعداد مولوی محمد علی صاحب کے ساتھ ہے اگر یہ انجمن میری خلافت کی سازش کے لئے بنائی گئی تھی تو کیونکر ہو سکتا ہے کہ عین اس وقت جبکہ میں خلیفہ ہو گیا وہ لوگ ادھر جاملتے۔ اور پھر یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ جو لوگ ان سے جاملے تھے وہ باوجو د اس سازش سے آگاہ ہونے کے پھر اسے مخفی رکھتے۔ انجمن انصار اللہ میں سے کم سے کم دس آدمی اُس وقت ان کے ساتھ ہیں۔ ان کا وجود ہی اس بات کی کافی شہادت ہے کہ انجمن انصار اللہ پر خلافت کے متعلق سازش کرنے کا الزام ایک جھوٹ ہے جو محض نفسانیت کے شر سے فریب دہی کے لئے بنایا گیا ہے ۔

انصار اللہ کے متعلق یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کے قریب ایک کارڈ باہر بھیجا تھا کہ حضرت کی طبیعت بہت کمزور ہے اور زندگی کا عرصہ کم معلوم ہوتا ہے جو لوگ زیارت کے لئے آنا چاہیں آجائیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انصار اللہ کی سازش تھی ۔ بیشک انجمن انصار اللہ کے سیکرٹری نے ایسا کارڈ لکھا کیونکہ انجمن انصار اللہ کے فرائض میں سے خدمتِ احباب بھی ایک فرض تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ کارڈ انہوں نے کس کو لکھا۔ اگر صرف انصار اللہ کو لکھا جاتا تب بھی کوئی قابلِ اعتراض بات نہ تھی۔ مگر دشمن اپنے عناد سے کہہ سکتا تھا کہ اس کے لکھنے کی اصل غرض یہ تھی کہ اپنے ہم خیال لوگوں کو بلوا لیا جاوے مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ یہ کارڈ تمام انجمن ہائے احمدیہ کے سیکرٹریوں کو لکھا گیا اور صرف انصار اللہ کے نام نہیں گیا۔ پس اس کارڈ سے اگر خلافت کے متعلق ہی نتیجہ نکالا جاوے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انجمن انصار اللہ چاہتی تھی کہ جہاں تک ہو سکے اس موقع پر تمام جماعت کے نمائندہ موجود ہوں تاکہ کافی مشورہ ہو سکے۔ یہ اس کا فعل قابلِ تحسین ہے یا قابلِ ملامت؟ اور کیا یہ کارڈ ہی انجمن انصار اللہ کی بریت نہیں کرتا؟ اگر انجمن انصار اللہ کی کوئی سازش ہوتی تو ان کی تمام تر کوشش لوگوں کو یہاں آنے سے روکنے میں صرف ہوتی ۔ اور وہ ایسی اطلاع صرف انجمن انصار اللہ کے ممبروں کو دیتے تاکہ من مانی کارروائی کر سکیں۔ مگر انجمن انصار اللہ نے وقت پر سب جماعتہائے احمدیہ کو نہ کہ اپنے خاص معتبروں کو طلاع کر دی اور اسی کا نتیجہ تھا کہ قریبًا دو ہزار آدمی اس موقع پر جمع ہو گیا۔ اور پھر کیا یہ درست نہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح کی بیماری کے ایام میں دو دفعہ اسی قسم کی اطلاعیں مولوی صدرالدین صاحب کی طرف سے شائع کی گئی تھیں کہ اگر کارڈ سازش تھا تو کیا انکی تحریر سازش نہ تھی۔

ایک اور غلط الزام

ہمارے بدنام کرنے کے لئے ایک اور ترکیب یہ کی گئی کہ مشہور کیا گیا کہ جو لوگ مجمع میں جمع ہوئے تھے وہ پہلے سے سکھائے ہوئے تھے کہ وقت پر میرا نام خلافت کے لئے لے دیں۔ اور اس کا ثبوت یہ دیا جاتا ہے کہ مولوی محمد اسمعیل صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح کی حیات میں بعض لوگوں سے کہا کہ چالیس آدمی ایسے تیار ہو جاویں جو اس وقت میرے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔ مجھے اس موقع پر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض پیش آمدہ واقعات سے مجبور ہو کر مولوی صاحب موصوف سے ایک قسم کی غلطی ضرور ہوئی اور جس قدر بات حق ہے انہوں نے نہایت صفائی سے مجھ سے بیان کر دی ہے۔ مولوی صاحب کا بیان ہے کہ مجھ سے ایک دوست نے بیان کیا کہ ہم نے سنا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب کو ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے کہا کہ آپ خلافت کے لئے تیار رہیں۔ لیکن انہوں نے جواب دیا کہ میں اس بوجھ کو نہیں اٹھا سکتا اس پر انہوں نے جواب میں کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں ہم سب بندوبست کرلیں گے (یہ روایت قادیان میں ان دنوں مشہور تھی اور اس کے ساتھ یہ فقرہ بھی زائد کیا جاتا تھا کہ آخر میں ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اگر آپ اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے تیار نہیں تو مجھے کھڑا کر دیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہ روایت کہاں تک درست ہے چونکہ اس کا ثبوت اس وقت تک میرے پاس کوئی نہیں۔ اس لئے میں اس کے باور کرنے سے معذور ہوں ۔ خاکسار مرزا محمود احمد

ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ وقت پر کوئی چالاکی کریں اور چند آدمیوں کو لا کر خلافت کا دعویٰ کریں اس کے لئے ہمیں بھی تیار رہنا چاہئے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس پر میں نے بعض دوستوں سے ذکر کیا کہ ایسا خطرہ ہے ایک جماعت ہم میں سے بھی تیار رہنی چاہئے۔ بعض لوگ جن سے ذکر کیا تھا انہوں نے اسے پسند کیا لیکن بعض نے مخالفت کی۔ چنانچہ مخالفت کرنے والوں میں سے وہ میاں معراج الدین صاحب کا نام لیتے ہیں انہوں نے بڑا زور دیا ہے کہ یہ کام خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ایسی کارروائی ہرگز مناسب نہیں۔ اسی طرح میر محمد اسحق صاحب کی نسبت بیان کرتے ہیں کہ گو ان سے ذکر نہ کیا تھا مگر ایک جگہ پر ایک شخص سے میں گفتگو کر رہا تھا کہ انہوں نے کچھ بات سن لی اور کہا کہ آپ لوگ اس خیال کو جانے دیں ہوگا وہی جو خدا چاہتا ہے۔ آپ لوگوں کو آخر شرمندہ ہونا پڑے گا۔ ان کا بیان ہے کہ آٹھ دس آدمیوں سے زیادہ سے ایسا ذکر نہیں ہوا اور ان میں سے بہت سے ایسے لوگ تھے جو انجمن انصار اللہ کے ممبر نہ تھے لیکن کسی قدر بعض دوستوں کے اس خیال پر کہ یہ کام خدا تعالیٰ کا ہے اس پر چھوڑ دو۔ اور زیادہ تر یہ بات معلوم ہونے پر کہ میں نے فیصلہ کر دیا ہے کہ خواہ ان لوگوں کے ہاتھ پر بیعت کر لینی پڑے جماعت کو فتنہ سے بچانا چاہئے اس امر کو ترک کر دیا گیا۔ یہ اصل واقعہ ہے اور گو مولوی محمد اسمعیل صاحب کی اس میں ضرور غلطی ہے۔ لیکن قابلِ غور یہ اُمور ہیں کہ اس میں نہ میرا نہ انجمن انصار اللہ کا کوئی دخل تھا۔ یہ کام انہوں نے اپنے خیال میں خود حفاظتی کے طور پر ایک مشہور روایت کی بناء پر کرنا چاہا تھا۔ آٹھ دس آدمیوں سے زیادہ سے یہ ذکر نہیں کیا گیا۔ فوراً ہی اس کارروائی کو چھوڑ دیا گیا۔ خود بعض انصار اللہ کی انجمن کے ممبروں نے اور میرے خاندان کے ایک آدمی نے ان کو سختی سے اس بات سے روکا اور میرے قطعی فیصلہ کے معلوم ہونے پر وہ اس امر سے بالکل باز آگئے۔ پس یہ واقعہ ہرگز کسی سازش پر دلالت نہیں کرتا۔

مولوی محمد علی صاحب کے ساتھیوں کی سازش

ہاں اس کے مقابلہ میں ایک اور واقعہ ہے جس کے راوی ماسٹر عبدالحق صاحب مرحوم مشہور مضمون نگار ہیں۔ انہوں نے شروع میں میری بیعت نہ کی تھی۔ انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی صدر الدین صاحب وو کنگ مشنری اور ہیڈ ماسٹر مسلم ہائی سکول لاہور اور ٹرسٹئی احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور نے حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کے بعد اس خیال سے کہ لوگ خلافت کو کسی طرح چھوڑ نہیں سکتے یہ تجویز کی تھی کہ کوئی خلیفہ بنایا جاوے۔ مولوی محمد علی صاحب اپنے ٹریکٹ کی اشاعت کی وجہ سے اپنے ہاتھ کاٹ چکے تھے۔ اس لئے سید حامد علی شاہ صاحب کی نسبت تجویز کی گئی کہ ان کی خلافت کے لئے چالیس آدمی تیار کئے جاویں اور وہ بیان کرتے ہیں کہ رات کے وقت مولوی صدر الدین صاحب ہاتھ میں لالٹین لے کر دو ہزار احمدیوں کے ڈیروں پر ماسٹر عبدالحق صاحب اور ایک اور صاحب سمیت چکر لگاتے رہے کہ چالیس آدمی ہی اس خیال سے مل جاویں۔ مگر اتنے آدمی بھی (اس دو ہزار کے مجمع میں سے جس میں بقول ان کے اکثر مجھ سے نفرت کرتے تھے) ایسے نہ ملے جو ان کا ساتھ دیتے۔ ماسٹر صاحب تو فوت ہو گئے ہیں مولوی صدر الدین صاحب ہی قسم کھا کر بیان کر دیں کہ کیا یہ واقعہ درست نہیں اور کیا اس واقعہ کی موجودگی میں ان کا مولوی محمد اسمعیل صاحب کے واقعہ کو پیش کرنا جسے خود اپنے ہی احباب کے سمجھانے پر چھوڑ دیا گیا تھا درست ہو سکتا تھا۔ علاوہ اس واقعہ کے ان لوگوں کے متعلق ایک اور شہادت بھی ملتی ہے اور وہ ڈاکٹر الٰہی بخش صاحب کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں:۔

”مجھے یاد ہے کہ ابھی حضرت اقدس خلیفۃ المسیح الاول ایسے سخت بیمار نہ تھے مگر حالت ان کی دن بدن نازک ہوتی چلی جاتی تھی۔ ایک روز جس کی تاریخ مجھے ٹھیک یاد نہیں ہے۔ اکبر شاہ خان صاحب سے میں نے پہلے ذکر کیا کہ حضرت صاحب کی حالت دن بدن نازک ہوتی جاتی ہے اللہ تعالیٰ خیر کرے۔ اسی اثناء میں خلافت کا ذکر بھی آ گیا اس پر خان صاحب نے کہا کہ فساد کا تو ڈر ہے کیونکہ میاں صاحب کی خلافت لاہوری صاحبان نہیں مانیں گے۔ اگر خواجہ صاحب کی طرف توجہ کی تو دوسرے لوگ نہیں مانیں گے ہاں ایک صورت ہے جس سے فساد بھی نہیں ہوتا اور خلافت بھی قائم ہو سکتی ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ وہ کونسی؟ اس وقت خان صاحب نے کہا کہ اگر میاں صاحب اپنا حوصلہ وسیع کریں تو بات بن جاتی ہے اور وہ مولوی محمد علی صاحب ہیں۔ اگر ان کی بیعت کر لی جائے تو لاہوری بھی مان جاویں گے اور دوسرے بھی مان جاویں گے۔ یہ آپس میں گفتگو تھی۔ مگر حضرت کی زندگی میں۔ بہت دن پہلے۔ (الہی بخش بقلم خود ۲۹؍ اپریل ۱۹۱۴ء)

اس شہادت سے معلوم ہوتا ہے کہ جس قسم کا الزام یہ لوگ ہم پر لگاتے ہیں۔ وہ خود ان پر لگتا ہے اور جو الزام ہم پر لگایا جاتا ہے۔ اس کی نسبت میں ثابت کر چکا ہوں کہ وہ ایک دو آدمیوں کی غلطی سے ہوا اور خود ہماری طرف سے ہی پیشتر اس کے کہ کوئی نتیجہ نکلتا اس کا تدارک کر دیا گیا۔

کتنی جماعت بیعت میں داخل ہے

اسی طرح اور کئی باتیں ہمارے بدنام کرنے کے لئے مشہور کی گئیں۔ مگر خدا تعالیٰ نے سلسلہ کو مضبوط کیا۔ اور باوجود اس کے کہ خود انہی کی تحریروں کے مطابق ننانوے فیصدی جماعت ابتداء میں ان کے ساتھ تھی مگر تھوڑے ہی عرصہ میں خدا تعالیٰ نے سب کو کھینچ کر میرے پاس لا ڈالا اور اب قریباً ننانوے فی صدی جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے میرے ساتھ ہے۔

لاہور میں جماعت سے مشورہ کی تجویز

ان لوگوں نے شور مچایا کہ جو لوگ قادیان میں اس وقت جمع تھے ان کی رائے نہ تھی ان کا مشورہ جماعت کا مشورہ نہ تھا اس لئے اخباروں اور خطوط کے ذریعہ سے تمام جماعت احمدیہ کو دعوت دی گئی کہ وہ ۲۲؍ مارچ کو لاہور جمع ہوں تاکہ پورے طور پر مشورہ کیا جاوے۔ اس تحریک عام پر پیغامِ صلح کے اپنے بیان کے مطابق لاہور کی جماعت کو ملا کر کل ایک سو ڈیڑھ آدمی جمع ہوئے جن میں سے قریباً بیالیس آدمی لاہور سے باہر کے تھے۔ جن میں سے چار پانچ آدمیوں کے سوا باقی کسی جماعت کے نمائندہ نہیں کہلا سکتے۔ بلکہ باقی لوگ اپنے اپنے طور پر ذاتی دلچسپی سے اس جلسہ میں شامل ہوئے تھے۔ مولوی محمد علی صاحب کے لاہور کے ہم خیالوں نے ان بیالیس آدمیوں کے مشورہ سے جن میں صرف چار پانچ آدمی کسی جماعت کی نیابت کا حق رکھتے تھے ۔ جو کچھ فیصلہ کیا اسے کل جماعت احمدیہ کا مشورہ اور فیصلہ قرار دیا گیا اور اعلان کیا گیا کہ میری خلافت جائز و درست نہیں۔ مگر ان ایک سو دس آدمیوں سے بھی دس آدمی بعد میں میری بیعت میں شامل ہو گئے جن میں سے ایک سید میر حامد شاہ صاحب مرحوم تھے جن کو انہوں نے خلیفۃ المسیح بھی منتخب کیا تھا اور کل سو آدمی رہ گئے مگر باوجود اس کے اس جلسہ میں جو فیصلہ ہوا وہ جماعت کا فیصلہ تھا اور جو کل جماعت کا فیصلہ تھا وہ سازش کا نتیجہ اور انصار اللہ کی فریب بازی تھی۔

ان لوگوں کا قادیان کو چھوڑنا

قادیان کی جماعت میں سے سب کے سب سوائے چار پانچ آدمیوں کے میری بیعت میں شامل تھے اور اب قادیان میں کسی کامیابی کی اُمید یہ لوگ دل سے نکال بیٹھے تھے اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ لاہور کو مرکز بنایا جاوے۔ مولوی محمد علی صاحب کے قادیان سے جانے کے لئے عذر تلاش کئے جانے لگے اور آخر ایک دن مجھے اطلاع دی گئی کہ مولوی صاحب جمعہ کی نماز پڑھ کر باہر نکل رہے تھے کہ تین چار بچوں نے (جو پانچ سات سال تک کی عمر کے تھے) ان پر کنکر پھینکنے کے ارادہ کا اظہار کیا۔ میں نے اس پر درس کے وقت سب جماعت کو سمجھایا کہ گو بچوں نے ایسا ارادہ ظاہر کیا ہے مگر پھر ایسی بات سُنی گئی تو میں ان کے والدین کو ذمہ دار قرار دوں گا اور سختی سے سزا دوں گا۔

مولوی محمد علی صاحب کو قادیان سے جانے سے باز رکھنے کی کوشش

بعد میں مَیں نے سنا کہ مولوی محمد علی صاحب کو یہاں خوف ہے اس لئے وہ قادیان سے جانا چاہتے ہیں۔ مَیں نے ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کو ایک خط لکھ کر دیا کہ آپ مولوی محمد علی صاحب کے پاس جاویں اور ان کو تسلی دیں کہ آپ کسی قسم کی فکر نہ کریں میں آپ کی حفاظت کا ذمہ دار ہوں اور آپ قادیان نہ چھوڑیں، خط میں بھی اسی قسم کا مضمون تھا۔ خط کا جواب مولوی محمد علی صاحب نے یہ دیا کہ یہ کب ہو سکتا ہے کہ میں قادیان چھوڑ دوں۔ مَیں تو صرف گرمی کے سبب پہاڑ پر ترجمہ قرآن کا کام کرنے کے لئے جاتا ہوں اور اس کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی زندگی میں ہی میں نے انجمن سے رخصت لے رکھی تھی اور میرا شکریہ بھی ادا کیا کہ میں نے ان کی ہمدردی کی۔ مَیں نے صرف اسی قدر کافی نہ سمجھا بلکہ اس کے بعد ان سے اسی مضمون کے متعلق زبانی گفتگو کرنے کے لئے خود ان کے گھر پر گیا۔ میرے ہمراہ خان محمد علی خان صاحب اور ڈاکٹر رشید الدین صاحب تھے جب ہم وہاں پہنچے تو ابتداءً کچھ ذکر ترجمہ قرآن کے متعلق ہوا۔ اس کے بعد مَیں نے اس امر کے متعلق کلام کا رُخ پھیرا جس کے لئے مَیں آیا تھا کہ فوراً

مولوی محمد علی صاحب نے ایک شخص المعروف میاں بگا کو جو کسی قدر موٹی عقل کا آدمی تھا آواز دی کہ اِدھر آؤ اور اس سے اِدھر اُدھر کی باتیں شروع کر دیں۔ جب میں نے دیکھا کہ مولوی محمد علی صاحب میاں بگا سے کلام ختم ہی نہیں کرتے تو لاچار اُٹھ کر چلا آیا۔ اس کے بعد مولوی صاحب قادیان سے چلے گئے اور قریباً تین ہزار روپیہ کا سامان کتب و ٹائپ رائٹر وغیرہ کی صورت میں ترجمہ قرآن کے نام سے اپنے ساتھ لے گئے۔ اس وقت بعض احباب نے مجھ سے کہا کہ ان سے یہ اسباب لے لیا جاوے کیونکہ یہ پھر واپس نہ آویں گے اور محض دھوکا دے کر یہ اسباب لئے جا رہے ہیں اور بعض نے تو یہاں تک کہا کہ یہ خدا تعالیٰ کی امانت ہے آپ اس کی حفاظت میں کوتاہی نہ کریں مگر میں نے ان سب احباب کو یہی جواب دیا کہ جب وہ کہتے ہیں کہ میں قرآن کریم کے ترجمہ کیلئے ان کتب کو اور اسباب کو لئے جا رہا ہوں اور صرف چند ماہ کے لئے اپنی سابقہ رخصت کے مطابق جا رہا ہوں تو ہمارا حق نہیں کہ ان کی نیت پر حملہ کریں اور میں نے ان کو کچھ نہ کہا۔

مولوی محمد علی صاحب کا سرقہ کرنا

جیسا کہ بعد کے واقعات نے ثابت کیا ان احباب کی رائے درست تھی۔ مولوی صاحب قادیان سے گئے اور ہمیشہ کے لئے گئے اور جو کچھ انہوں نے مجھے لکھا وہ سب ایک بہانہ تھا جس کے نیچے کوئی حقیقت پوشیدہ نہ تھی۔ وہ کتب واسباب جو وہ لے گئے تھے بعد میں اس کے دینے سے انہوں نے با وجود تقاضا کے انکار کر دیا اور جب تک دنیا کے پردہ پر مولوی محمد علی صاحب کا نام باقی رہے گا اس وقت تک ان کے نام کے ساتھ یہ سرقہ کا بد نما عمل بھی یاد گار رہے گا۔ جو شخص اس طرح عاریتاً کتب واسباب لے کر چند ماہ کے بہانہ سے جاتا اور پھر اس کی واپسی سے انکار کر دیتا ہے وہ ہرگز کسی جماعت کا لیڈر ہونے کا مستحق نہیں خصوصاً مسلمانوں کی سرداری کا عمدہ اس سے بہت ہی بالا ہے۔

لاہور کو مدینۃ المسیح بنانا

مولوی صاحب کا قادیان سے جانا تھا کہ لاہور مدینۃ المسیح بن گیا حتیٰ کہ لوگوں کے دلوں میں طبعاً یہ سوال پیدا ہونے لگا کہ کیا مولوی محمد علی صاحب مسیح موعود ہیں کہ جب تک وہ قادیان میں تھے قادیان مدینۃ المسیح تھا اور جب وہ لاہور چلے گئے تو لاہور مدینۃ المسیح ہو گیا۔ خیر اسی طرح لاہور کو بھی کچھ خصوصیت مل گئی اور منتظمان پیغام صلح کی وہ خواہش بر آئی جو ۱۰؍ مارچ کے پرچہ میں بے اختیار ان کی قلم سے نکل گئی تھی اور جس کے یہ الفاظ ہیں:۔

”آخر حضرت مسیح موعودؑ کے یہاں وفات پانے سے کچھ خصوصیت تو اسے (لاہور کو) بھی ملنی چاہئے“۔ اس فقرہ میں جس جاہ طلبی، جس حصول مرتبت، جس لجاجت، جس اُمید، جس خواہش کو مختصر الفاظ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اس کا لطف وہی لوگ حاصل کر سکتے ہیں جو سخن فہمی سے کوئی حصہ رکھتے ہیں۔

رائی کا پہاڑ بنانا

مولوی محمد علی صاحب کا لاہور جانا تھا کہ مخالفت کا دریا اور بھی تیزی سے اُمڈنے لگا وہ بچوں کے کنکر پھینکنے کا ارادہ ظاہر کرنے کا واقعہ تھوڑے دنوں میں تبدیل ہو کر یوں بن گیا کہ بعض لڑکوں نے مولوی صاحب پر کنکر پھینکے مگر شکر ہے لگے نہیں پھر ترقی کر کے اس نے یہ صورت اختیار کی کہ بعض لوگوں نے آپ پر کنکر پھینکے مگر شکر ہے کہ آپ کی آنکھ بچ گئی اور پھر اس سے بھی ترقی کر کے اس نے یہ ہیئت اختیار کی کہ قادیان کے لوگوں نے کنکر پھینکے اور اس کے بعد یہ کہ قادیان کے لوگوں سے آپ کی جان محفوظ نہ تھی۔ چنانچہ ابتداء اس طرح شروع بھی ہو گئی تھی کہ قادیان کے لوگوں نے آپ پر پتھر پھینکے اور یہ آخری روایت مولوی محمد علی صاحب نے امرتسر میں متعدد آدمیوں کے سامنے بیان کی۔

مولوی محمد علی صاحب کے چلے جانے کے بعد قادیان

مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور خیال کیا گیا کہ قادیان

کا سُورج غروب ہو گیا مسیح موعودؑ کا بنایا ہوا مرکز ٹوٹ گیا۔ مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور سمجھ لیا گیا کہ اب اسلام کا یہاں نام باقی نہ رہیگا۔ مرزا یعقوب بیگ صاحب نے تعلیم الاسلام ہائی سکول کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ہم جاتے ہیں ابھی دس سال نہ گزریں گے کہ یہ جگہ عیسائیوں کے قبضہ میں ہو گی۔ مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور گویا قادیان کی روحِ فاعلی نکل گئی عام طور پر کہا جانے لگا کہ اب وہاں کوئی آدمی کام کے قابل نہیں ۔ زیادہ دن نہ گزریں گے کہ قادیان کا کام بند ہو جائے گا۔ مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور گویا قادیان کی برکت سب جاتی رہی علی الاعلان اس امر کا اظہار ہونے لگا کہ چندہ بند ہو جاوے گا اور یہ لوگ بھوکے مرنے لگیں گے تو خود ہوش آجاوے گا۔

مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور قادیان کی دیانت بھی گویا ساتھ ہی چلی گئی کیونکہ اس بات کا خطرہ ظاہر کیا جانے لگا کہ سب روپیہ خلیفہ خود لے لے گا اور جماعت کا روپیہ برباد ہو جاوے گا۔

مولوی محمد علی صاحب چلے گئے اور گویا اسلام پر قادیان میں موت آگئی کیونکہ سمجھ لیا گیا کہ اب اسلام کے احکام کی علی الاعلان ہتک ہوگی اور سلسلہ احمدیہ کو برباد کیا جاوے گا اور کوئی ہوش مند روکنے والا نہ ہوگا۔

مولوی محمد علی صاحب چلے گئے اور قادیان کے مہاجرین کفارِ مکہ کے ہمرنگ بن گئے کیونکہ وعدہ دیا جانے لگا کہ دس سال کے عرصہ میں مولوی صاحب اپنے احباب سمیت قریہ قادیان کو فتح کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مثیل بن کر عزت و احترام کے ساتھ قادیان میں داخل ہونگے۔

مگر حق یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور حضرت مسیح موعودؑ کی وہ الہامی پیشگوئی پوری ہوئی کہ:۔ ”کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں گے پس مقامِ خوف ہے“۔ (تذکرہ صفحہ ۵۳۹ ایڈیشن چہارم)

مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء قادیان سے چلے گئے اور حضرت مسیح موعودؑ کا وہ الہام پھر دوسری دفعہ پورا ہوا کہ ’اُخْرِجَ مِنْهُ الْيَزِيْدِيُّوْنَ‘ (تذکرہ صفحہ ۱۷۹۔ ایڈیشن چہارم) ، قادیان سے یزیدی لوگ نکالے جاویں گے۔ ایک دفعہ تو اس طرح کہ قادیان کے اصل باشندوں نے مسیح موعودؑ کے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور دوسری دفعہ اس طرح کہ وہ لوگ جو اہلِ بیتِ مسیح موعودؑ سے بغض و تعصب رکھ کر یزیدی صفت بن چکے تھے وہ قادیان سے حکمتِ الٰہی کے ماتحت نکالے گئے۔

مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور حضرت مسیح موعودؑ کا الہام اِنِّيْ مَعَكَ وَ مَعَ اَهْلِكَ (تذکرہ صفحہ ۴۳۶۔ ایڈیشن چہارم) اور باوجود ان کے رسوخ اور جماعت کے کاموں پر تسلط کے خدا تعالیٰ نے میرے جیسے ناتواں وضعیف انسان کے مقابلہ پر ان کو نیچا دکھایا۔

مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور خدا تعالیٰ نے اپنے زبردست نشانوں سے ثابت کر دیا کہ میرا سلسلہ شخصیت پر نہیں بلکہ اس کا متکفل میں خود ہوں چاہوں تو اس سے جو ذلیل سمجھا گیا اور بچہ قرار دیا گیا کام لے لوں۔

خداتعالیٰ کی قدرت کا زبردست ثبوت

الغرض مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور اپنے جلال کا ایک زبردست ثبوت دیا اور اس نے اپنی ذات کو تازہ نشانوں سے پھر ظاہر کیا اور وہ اپنی تمام شوکت سے پھر جلوہ گر ہوا اور اس نے عَلٰی رُءُوْسِ الْاَشْهَادِ پکار دیا کہ احمدیت اس کا قائم کیا ہوا پودا ہے اس کو کوئی نہیں اکھاڑ سکتا۔ خلافت اس کا لگایا ہوا درخت ہے اس کو کوئی نہیں کاٹ سکتا۔ اس عاجز اور ناتوان وجود کو اسی نے اپنے فضل اور احسان سے اس مقام پر کھڑا کیا ہے۔ اس کے کام میں کوئی نہیں روک ہو سکتا۔ قادیان اس کی پیاری بستی ہے اسے کوئی نہیں اجاڑ سکتا وہ مکہ ہے مگر بروز محمدؐ کا مکہ وہ غریبوں کا شہر ہے مگر خدائے ذوالجلال کی حفاظت کے نیچے۔ وَآخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔

میرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح از قادیان دارالامان


ترجمہ انگریزی عبارات

۱؎ ”میں جماعت احمدیہ کی دانائی اور اخلاقی جرأت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان باطل عقائد کے متعلق پورے زور سے نفرت کا اظہار کریں۔ پیشتر اس کے کہ یہ ان باطل عقائد کی طرح جو مسیح کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں۔ اپنی جڑ پکڑ لیں۔“ ۲؎ ”جماعت کے تعلیم یافتہ طبقہ کا ایک بڑا حصہ۔“ ۳؎ اخلاقی جرأت“ ۴؎ ”وہ کہتے ہیں کہ ان سے پہلے جن لوگوں پر خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہوتا رہا ہے وہ باوجود آدمی ہونے کے خدا کہلاتے تھے۔“ ۵؎ ”چونکہ اس نے اپنے والد کے مداحوں کے گروہ میں پرورش پائی اس لئے اس کے اندر وہی تنگ خیالات پیدا ہو گئے۔ جو اس قسم کے نوجوانوں میں ایسے حالات کے ماتحت پیدا ہو جایا کرتے ہیں۔“

۴، ۳ ”معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب کا (نبی اللہ کا ظہور مصنفہ ظہیر الدین) جماعت احمدیہ نے کچھ زیادہ نوٹس نہیں لیا۔ مگر غالباً اس کتاب کا مضمون یا اسی قسم کے مضمون کا کوئی اور ٹریکٹ حضرت مولوی نور الدین صاحب مرحوم (جو اس وقت امام جماعت احمدیہ تھے) کے نوٹس میں لایا گیا اور مولوی صاحب موصوف کی طرف سے ایک اعلان اخبار بدر مورخہ ۱۱؍ جولائی ۱۹۱۲ء میں شائع ہوا جس کا مضمون یہ تھا کہ چونکہ محمد ظہیر الدین نئے عقائد کا اظہار اور اشاعت کر رہا ہے اس لئے اس کا جماعت احمدیہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں سمجھنا چاہئیے“

۵ ”وہ جنہوں نے مسیح موعودؑ کو قبول نہیں کیا صرف مسیح موعودؑ کے منکر ہیں اور احاطۂ اسلام سے واقع میں خارج نہیں“

۶ اور وہ اللہ کو اس کی ان صفات سے منسوب نہیں کرتے جن کا وہ مستحق ہے جب وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ایک فانی (انسان) کو کچھ وحی نہیں کی۔ کہو! کس نے وہ کتاب وحی کی تھی؟ جو موسیٰؑ لایا تھا اور لوگوں کے لئے نُور اور ہدایت تھی جس کے تم متفرق صحیفے بناتے ہو۔ جو تم دکھاتے ہو۔ حالانکہ تم بہت کچھ چھپاتے ہو اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جو تم نہ جانتے تھے نہ تم اور نہ تمہارے آباء کہو اللہ۔ پھر ان کو ان کی باتوں میں کھیلتا چھوڑ دے۔“

ہستی باری تعالیٰ

از

سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ

ہستی باری تعالیٰ

آج مَیں ایک ایسے مضمون کے متعلق تقریر کرنی چاہتا ہوں جو سب مضامین کا جامع ہے اور سب مضامین اس کے گرد چکر لگاتے ہیں اور سب اس کے تابع ہیں اور یہ ان کا متبوع ہے۔ مَیں اس وقت تک جس قدر مضامین بیان کرتا رہا ہوں وہ سب اس مضمون کے اجزاء اور اس کی شاخیں تھیں اور آئندہ بھی مجھے جو کچھ توفیق ملے اسی کی تشریح ہو گی۔ اس مضمون کو خواہ کس قدر بھی سنایا جائے ختم نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ ایک غیر محدود ہستی سے تعلق رکھتا ہے اور اس وجہ سے غیر محدود ہو گیا ہے۔ آپ لوگ جس قدر بھی اس مضمون پر غور کریں گے اس کے مطالب کو غیر محدود پائیں گے اور نئے سے نئے مطالب آپ پر ظاہر ہوں گے۔

سب انبیاءؑ نے اس مضمون کو بیان کیا ہے مگر بالآخر یہی کہا کہ لو مضمون بیچ میں ہی رہ گیا اور ہم جاتے ہیں۔ غرض سب انبیاء اور اولیاء یہی کہتے آئے ہیں کہتے رہے ہیں اور جب تک یہ دنیا رنگی کہتی رہے گی اور مرنے کے بعد خلاء میں بھی یہی مضمون ہو گا۔

یہ مضمون ہے۔ ذات باری۔

ذات باری یعنی اللہ کا مضمون بہت وسیع مضمون ہے اور تمام مضامین اس سے نکلتے ہیں دیکھو ملائکہ کیا ہیں؟ خدا تعالیٰ کی مخلوق اور اس کی طرف سے مختلف کاموں پر مقرر ہیں۔ نبی کیا ہیں؟ خدا تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے بھیجے ہوئے۔ آسمانی کتابیں کیا ہیں؟ خدا تعالیٰ کا کلام۔ دُعا کیا ہے؟ خدا تعالیٰ کے حضور التجا۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کیا ہیں؟ خدا تعالیٰ کی عبادات۔ بندوں سے حُسن سلوک کیا ہے؟ اپنے محبوب کے پیاروں سے پیار اور اس ذریعہ سے اپنے محبوب سے ملنے کی خواہش اور اس کے انعامات کی اُمید۔ غرض سارے کے سارے مضمون اس کے گرد اس طرح گھومتے ہیں جس طرح چاند سورج کے گرد گھومتا ہے۔

ہستی باری تعالیٰ کے مضمون کی ضرورت

میرا مضمون خدا تعالیٰ کی ہستی کو ثابت کرنا نہیں بلکہ ذات باری ہے مگر چونکہ اس کا یہ بھی حصہ ہے اس لئے بیان کرتا ہوں۔ اس زمانہ میں گناہ اور بدی کی کثرت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ خدا کا انکار کرتے ہیں اور سب بدیاں اور گناہ خدا کو نہ سمجھنے اور اس پر حقیقی ایمان نہ لانے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اس لئے بھی اس مضمون کو سمجھنے کی بہت ضرورت ہے۔ پھر یورپ کی تعلیم نے کالج کے لڑکوں کو بالکل آزاد بنا دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا جاہل تھے جو خدا کو مانتے تھے۔ نہ کوئی خدا ہے اور نہ اس کے ماننے کی ضرورت۔ میں حج کے لئے گیا تو میرے ساتھ جہاز میں تین طالب علم بھی تھے جو ولایت جا رہے تھے۔ ان میں سے دو مسلمان تھے اور ایک ہندو۔ ان کی ایک پادری سے بحث ہوئی جسے سُن کر مجھے اس خیال سے خوشی ہوئی کہ انہیں بھی مذہب سے تعلق ہے۔ یہ سمجھ کر میں نے ان سے کوئی مذہبی بات کی تو وہ تینوں بول اُٹھے کہ کیا آپ کا یہ مطلب ہے کہ ہم خدا کو مانتے ہیں۔ میں نے کہا ہاں۔ پادری صاحب سے جو آپ مذہب کے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔ وہ کہنے لگے ہم تو قومی مذہب کی حمایت کر رہے تھے نہ کہ خدا کو مان کر اس کے مذہب کی حمایت کرتے تھے۔ یہ حمایت مذہب کی نہ تھی بلکہ ہندوستانیت کی۔ اس زمانہ میں خدا کا انکار حد سے بڑھا ہوا ہے اور یہاں تک دلیری سے انکار کیا جاتا ہے کہ ایک دفعہ گفتگو کے درمیان میں انہیں طالب علموں میں سے ایک نے جو نسلاً ہندو تھا میز پر تنکا پھینک کر کہا میں تو اس میز کو اُٹھا کر دکھا سکتا ہوں تمہارا خدا اس تنکے کو اٹھا کر دکھا دے۔ اس کی باتوں کا مجھ پر ایسا اثر ہوا کہ میں نے آتے ہی ایک ٹریکٹ لکھا جس میں خدا تعالیٰ کی ہستی کے دلائل دیئے۔ مگر آج اس سے زیادہ وسیع مضمون بیان کرنے کا ارادہ ہے اگر خدا تعالیٰ توفیق دے۔

خدا کے انکار کی وجہ

اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کا انکار بہت بڑھا ہوا ہے جس کا بڑا سبب تو یہ ہے کہ گناہ کی کثرت کی وجہ سے تعلق باللہ نہیں رہا اور دلوں پر زنگ لگ گیا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ انگریزی دان لوگ یورپ کے فلسفہ سے

مُتَأَثِّر ہو کر مذہب سے دُور جا پڑے ہیں اور دوسرے لوگوں نے ان کے اثر کو قبول کیا ہے۔ یورپ کے فلسفہ کا اور فلسفیوں کے خدا تعالیٰ سے اس قدر دور ہو جانے کا سبب یہ ہے کہ جب یورپ میں علمی ترقی ہونے لگی اور طبعی اکتشافات کا سلسلہ شروع ہوا تو پادریوں کو یہ بیوقوفی سوجھی کہ انہوں نے اس ترقی کو مذہب کے خلاف سمجھا اور اس کی مخالفت شروع کر دی جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ جانتے تھے کہ مسیحیت کی بنیاد ایسے اُصول پر ہے جن کو عقل ردّ کرتی ہے۔ اگر لوگوں کی توجہ عقل کی طرف ہو گئی تو اس کو کون مانے گا۔ پس انہوں نے تصرف کو قائم رکھنے کے لئے جو ان کو عوام الناس پر حاصل تھا علوم ہی کی مخالفت شروع کر دی اور جو بات بھی علوم طبعیہ کے متعلق نئی دریافت ہوئی اسے کفر قرار دے دیا اور کہہ دیا کہ یہ مذہب کے خلاف ہے اور اس کی طرف توجہ کرنا گناہ ہے۔ چنانچہ ایک شخص نے جب دریافت کیا کہ زمین سُورج کے گرد گھومتی ہے تو اس کے متعلق پادریوں نے فتویٰ دیدیا کہ یہ مذہب سے نکل گیا ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ زمین کے سورج کے گرد گھومنے کا دعویٰ کر کے وہ شخص کس طرح مسیحیت سے نکل گیا مگر اس کا جواب آسان ہے۔ پادریوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ خدا تعالیٰ کا کلام انسان پر نازل ہوا ہے اور انسان زمین پر بستا ہے اس لئے زمین سب سے اعلیٰ ہوئی۔ لیکن اگر زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو زمین سورج کے مقابلہ میں ادنیٰ ہو گئی تو اس کی ذلت میں شبہ نہ رہا اور اس پر بسنے والے بھی ذلیل ہو گئے اس بناء پر اس پر کُفر کا فتویٰ دے دیا گیا اور اسے اتنا تنگ کیا گیا کہ آخر اس نے ایک کتاب لکھی جس میں لکھا کہ میں نے سُورج کے گرد زمین کے گھومنے کے متعلق جو کچھ لکھا تھا اگرچہ عقل کے رو سے ایسا ہی ثابت ہوتا ہے مگر انسانی عقل ہے کیا چیز کہ اس پر بھروسہ کیا جاوے۔ اصل بات یہ ہے کہ شیطان چونکہ انسان اور خدا کا دشمن ہے اور خدا کے نُور کو دُنیا میں پھیلنے سے روکتا ہے اس لئے اس نے میرے دل میں یہ خیال ڈال دیا اور مجھے اس وقت ایسا معلوم ہونے لگا کہ زمین گھومتی ہے۔ یہ عذر کر کے اس نے عقلمندوں کی نگاہ میں تو اپنے دعویٰ کو پختہ کر دیا لیکن پادریوں نے اپنی بیوقوفی سے سمجھا کہ اب اس کو عقل آگئی ہے اور اس کی توبہ قبول کی گئی۔

اِس قسم کی باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایجادیں کرنے والے اور نئی نئی باتیں دریافت کرنے والے خدا کے ہی خلاف ہو گئے۔ انہوں نے سمجھا کہ اگر ثابت شدہ باتوں اور آنکھوں دیکھی باتوں پر عقیدہ رکھنے سے خدا کے کلام کا انکار ہوتا ہے تو خدا کا کوئی وجود ہی نہیں۔ کیونکہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا کا کلام کچھ اور کے اور اس کا فعل کچھ اور۔ اس وجہ سے وہ مذہب کے خلاف ہو گئے اور فلسفی

جو مذہب پر پہلے سے ہی معترض تھے ان کے مددگار ہو گئے اور علوم کی ترقی کے ساتھ ساتھ مذہب کی گرفت بھی کم ہوتی چلی گئی۔

مشرق میں جب ان علوم کا رواج ہوا تو چونکہ کتابیں لکھنے والے مسیحیت سے تنگ آکر دوسری حد کی طرف نکل گئے تھے جس طرح پادری ہر ایک علمی تحقیق کو کلام الٰہی کے خلاف ثابت کرتے تھے۔ انہوں نے ہر ایک علمی تحقیق سے یہ نتیجہ نکالنا شروع کیا کہ خدا ہی کوئی نہیں اور ان کی کتب کے مطالعہ کا یہ نتیجہ نکلا کہ وہ دل جو پہلے ہی زنگ آلود تھے خدا تعالیٰ کی طرف سے بالکل دُور جاپڑے اور طبائع دہریت کی طرف مائل ہوگئیں ۔

فلسفی خیالات کے متعلق ایک اور مصیبت ہے اس میں صرف دماغ کی تروتازگی کا سامان ہے کرنا کرانا کچھ نہیں پڑتا اس لئے بہت سے لوگ اس کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ اس کے خلاف مذہب پر غور و تدبر کرنے کا نتیجہ عملی اصلاح ہے جو لوگوں پر گراں گزرتی ہے۔ مثلاً جو شخص اسلام پر غور کرے گا اور اس کی خوبی کا قائل ہو گا اس کو ساتھ ساتھ کچھ کرنا بھی ہو گا اور مذہب میں ترقی کے ساتھ ساتھ عمل میں بھی ترقی ہوتی چلی جائے گی اگر پہلے فرض شروع کرے گا تو اور غور کرنے پر سنتیں بھی پڑھنے لگ جائے گا اور پھر جب اور غور کرے گا تو اسے معلوم ہو گا نوافل بھی بہت مفید ہیں یہ بھی پڑھنے لگ جائے گا اور جوں جوں غور کرے گا نوافل میں ترقی کرتا جائے گا ۔ غرض مذہب میں انسان جس قدر غور و فکر سے کام لے گا اسی قدر زیادہ پابندیاں اپنے اوپر عائد کرتا جائے گا۔ مگر فلسفہ میں یہ بات نہیں ہوتی صرف دماغ تازہ کیا جاتا ہے اور عملی طور پر کیا کرایا کچھ نہیں جاتا اس لئے لوگ ادھر زیادہ متوجہ ہو جاتے ہیں۔ غرض دہریت اور خدا کے انکار کا اس زمانہ میں بڑا زور ہے۔ ایک وجہ اس انکار کی یہ بھی ہے کہ عام طور پر لوگ خود تحقیق نہیں کرتے بلکہ ان کے مذہب کی بنیاد صرف ماں باپ کے ایمان پر ہوتی ہے اور جن لوگوں کی اپنی تحقیق کچھ ہو ہی نہیں وہ اعتراض کا دفعیہ نہیں کر سکتے بلکہ جلد ان سے متاثر ہو جاتے ہیں ۔ کیونکہ ایک طرف سُنی سُنائی بات ہوتی ہے اور دوسری طرف دلیل۔ اگر وہ لوگ دل سے خدا تعالیٰ کو مانتے ہوتے تو اس قدر دہریت نہ پھیلتی۔ مثلاً یہ میز پڑی ہے یا یہ سائبان ہے۔ اگر کوئی فلسفی کہے کہ یہ میز نہیں یا یہ سائبان نہیں یا اس وقت سورج چڑھا ہوا نہیں۔ تو کیا یہ ممکن ہے کہ آپ لوگوں میں سے کوئی اس کی بات مان لے۔ اسی طرح اگر لوگوں نے خدا تعالیٰ کو دیکھا ہوتا اسے حقیقی طور پر مانتے تو کس طرح ممکن تھا کہ خدا تعالیٰ کا انکار کرنے والوں کی بات مان لیتے ۔ بات یہی ہے کہ ایسے لوگوں نے خود غور نہیں کیا ہوتا دوسروں کے کہنے پر مانتے ہیں اس لئے اگر کوئی ذرا ٹھوکر لگا دے تو کہیں کے کہیں جا گرتے ہیں۔ ایسے لوگ اگر خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرتے ہیں تو اس لئے کہ بحثیں نہ کرنی پڑیں۔ جیسے غیر احمدیوں کو جب کہیں کہ حضرت عیسیٰ کی وفات پر گفتگو کرلو تو اس سے بچنے کے لئے کہہ دیتے ہیں فرض کرلو حضرت عیسیٰ مر گئے۔ اسی طرح جو لوگ مثلاً مسلمانوں کے گھر پیدا ہوئے ہیں وہ اپنے قومی مذہب کو اپنے مذہب کے خلاف دیکھ کر اور بحث سے بچنے کے لئے جب سوال ہو تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم خدا کو مانتے ہیں اور بعض لوگ تو اپنے آپ کو ذہنی کشمکش سے بچانے کے لئے اپنے نفس کو بھی دھوکے میں رکھتے ہیں اور جب ان کے دل میں شک پیدا ہو تو بلا کسی دلیل کے اس کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ لوگ بھی درحقیقت دہریہ ہیں گو بظاہر خدا کو مانتے ہیں۔

لیکن اگر خدا ہے تو اس کے ساتھ ان دھوکا بازیوں سے کام نہیں چل سکتا۔ اگر لوگ محض سنے سنائے اسے مانتے ہیں اور بحث سے بچنے کے لئے ماننے کا اقرار کرتے ہیں تو اس سے ان کی نجات نہ ہو سکے گی۔ ایسے لوگ قیامت کے دن پکڑے جائیں گے اور دہریوں میں شامل کئے جائیں گے اس لئے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کے متعلق غور کیا جائے۔

خدا کے ماننے کا فائدہ

جب کہا جاتا ہے کہ خدا کو مانو تو بعض لوگوں کے دلوں میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم خدا کے وجود یا عدم وجود کی بحث میں پڑیں ہی کیوں۔ اس کا فائدہ ہی کیا ہے؟ اب بھی ہم محنت سے کماتے ہیں اگر خدا کو مان کر بھی محنت ہی کرنی پڑے گی اور جو کوشش اب کرتے ہیں وہی پھر بھی کرنی ہوگی تو پھر خدا کے ماننے سے ہماری زندگیوں میں کون سا تغیر ہوا جس کی خاطر ہم یہ جھگڑا سہیڑیں۔

یورپین محققین کا جواب

یورپ کے لوگوں کے سامنے بھی یہی سوال آیا ہے جس کا جواب انہوں نے یہ دیا ہے کہ اگر خدا کو نہ مانا جائے تو دنیا سے امن اُٹھ جائے گا کیونکہ پولیس تو ہر جگہ نہیں ہوتی۔ ہزارہا لوگ جن کے دل میں چوری کا خیال پیدا ہوتا ہے وہ خدا ہی کے ڈر سے رُکتے ہیں اور اس کے ڈر کی وجہ سے چوری کا ارتکاب نہیں کرتے اس لئے خدا کو ماننا چاہئے اگرچہ واقع میں کوئی خدا نہیں۔ مگر سیاسۃً خدا کے خیال کو ضرور زندہ رکھنا چاہئے تاکہ دنیا میں امن قائم رہے۔ یہ عقیدہ پہلے پہل روما سے شروع ہوا۔ وہاں تین قسم کے خدا مانے جاتے تھے۔ ایک عوام کا خدا جسے کبھی عورت کے بھیس میں اور کبھی کسی اور شکل میں ظاہر ہونے والا قرار دیا جاتا تھا۔ دوسرا فلسفیوں کا جو بہت لطیف اور وراء الوریٰ سمجھا جاتا تھا تیسرا حکومت کا خدا جس کا مطلب صرف یہ تھا کہ امن قائم رکھنے کے لئے ایک بالاہستی کو منوانا عوام الناس کو جُرموں سے بچانے کے لئے ضروری ہے۔ اب یورپ بھی اِس قسم کے خدا کا قائل ہے۔ حالانکہ یہ دہریت ہے اور خدا تعالیٰ کی پاک ذات سے تمسخر۔

اس دلیل کی کمزوری

خدا کے ماننے کے لئے یہ دلیل کہ اس کے ماننے سے امن قائم ہوتا ہے یورپ کی دلیل ہے مگر یہ کوئی دلیل نہیں کیونکہ اگر فی الواقع خدا نہیں ہے تو پھر کیوں دھوکا دے کر لوگوں سے خدا منوایا جائے۔ دھوکا دے کر لوگوں کو گناہوں سے باز رکھنا خود ایک گناہ ہے۔ اور پھر یہ بھی تو سوال ہے کہ خدا تعالیٰ کا وجود ہی کوئی نہیں تو پھر گناہ کیا شئے ہے؟ خدا تعالیٰ کے نہ ہونے کی صورت میں تو گناہ کی تعریف ہی بدلنی پڑے گی۔ پس خدا تعالیٰ کے منوانے کی یہ غرض اپنی ذات میں گناہ ہے اور لوگوں کو ذہنی غلامی میں پھنسائے رکھنا ہے اور دہریت پیدا کرنا ہے۔ کیونکہ جب ایک چیز کو اس کے اصل مقصود سے پھیر دیا جائے تو اس کی حقیقت پر غور کرنے کی طرف توجہ ہی نہیں رہتی۔ اصل جواب اس سوال کا کہ خدا تعالیٰ پر کیوں ایمان لایا جائے یہ ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ موجود ہے اس لئے اس پر ایمان لانا چاہیئے اور دوسری صداقتوں کو جو ہم مانتے ہیں تو یہ سوچ کر تو نہیں مانتے کہ ان کے ماننے میں کیا فائدہ ہے بلکہ اس لئے مانتے ہیں کہ وہ سچائیاں ہیں اور سچائیوں کو معلوم ہونے کے بعد نہ ماننا جہالت اور حماقت ہے اور جبکہ نہایت چھوٹی چھوٹی صداقتوں کے دریافت کے لئے بغیر اس کے کہ اس دریافت سے کسی فائدہ کی پہلے سے کوئی امید ہو لوگ کوشش کرتے ہیں تو کیوں اسقدر اہم مسئلہ کی دریافت کی طرف توجہ نہ کی جائے جو پیدائشِ عالم کی حقیقت پر روشنی ڈالتا ہے جب لوگوں نے زمین کے گھومنے یا اس کے گول ہونے یا ستاروں کے فاصلوں پر غور کرنا شروع کیا تھا تو ان امور کی دریافت میں سوائے زیادتی علم کے اور کیا فائدہ سوچا تھا۔ پس اگر جزئیات کی دریافت کے متعلق بغیر کسی نفع کی اُمید کے کوشش کی جاتی رہی ہے اور کی جاتی ہے تو ذات باری کے مسئلہ کے متعلق کیوں غور نہ کیا جائے؟ درحقیقت جو لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق غور ہی کیوں کریں وہ ایک رنگ میں خدا تعالیٰ کی ذات کا انکار کرتے ہیں۔ ان کی غرض اس علم سے جو فوائد مترتب ہوتے ہیں ان کا معلوم کرنا نہیں ہوتا۔

جب خدا کے نہ ماننے والوں کے سامنے مندرجہ بالا امر پیش کیا جاتا ہے تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ باقی باتیں تو اختیاری ہیں کسی کی مرضی ہو تو زمین کے گھومنے کی تحقیقات کرے اور نہ ہو تو نہ کرے اسے کوئی مجبور نہیں کرتا مگر خدا کو تو جبراً منوایا جاتا ہے اور ہر ایک کو مجبور کیا جاتا ہے کہ خدا کے بارے میں تحقیقات کرے۔ مگر یہ غلط ہے۔ جس طرح ان علوم کی اشاعت ہوتی ہے اسی طرح اس علم کی بھی اشاعت کی جاتی ہے۔ جس طرح دوسرے علوم خاص خاص لوگوں نے جنہوں نے اپنی عمریں ان کی دریافت میں صرف کی ہیں دریافت کئے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ کی ہستی کا انکشاف بھی خاص خاص لوگوں پر جو اس امر کے اہل ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا جلوہ کامل طور پر ان پر ظاہر ہوا ہے۔ اور جب ان پر حقیقت ظاہر ہوگئی ہے تو انہوں نے باقی دُنیا کو اس صداقت کے تسلیم کرنے کی دعوت دی ہے اسی طرح جس طرح ان لوگوں نے جنہوں نے قانونِ قدرت کی باریکیوں کو دریافت کیا اور پھر دوسرے لوگوں کو ان کے ماننے کی دعوت دی۔ اس میں کیا شک ہے کہ سب دُنیا اس تحقیق میں مشغول نہیں ہوئی تھی کہ زمین گول ہے یا نہیں مگر جب یہ صداقت ظاہر ہوگئی تو پھر سب سے ہی اس صداقت کو منوایا جاتا ہے۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کے وجود کا اس کی محبت میں فنا ہو کر بعض لوگوں نے پتہ لگایا تو اب سب پر فرض ہے کہ وہ اسے مانیں خواہ اس کے ماننے میں ان کو کوئی فائدہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ اگر زمین کی گولائی اور جوار بھاٹے کے اصول کے دریافت ہونے کے بعد دنیا کو اجازت نہیں دی جاتی کہ جو چاہے مانے۔ تو کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ کسی کو کچھ نہ کہو خواہ کوئی توجہ کرے یا نہ کرے۔ جن کو خدا تعالیٰ کی ہستی کا علم ہوا ہے ان کا حق ہے اور ان پر فرض ہے کہ وہ دوسروں تک اس علم کو پہنچائیں اور کسی کا حق نہیں کہ ان کی اس کوشش پر اعتراض کرے یا اس مسئلہ پر غور کرنے کو عبث قرار دے۔

تیسرا جواب

یہ ہے کہ خالق کے معلوم کرنے سے حقائق الاشیاء معلوم ہوتے ہیں اور اس طرح خدا کے معلوم ہونے سے دُنیا کے علوم میں بہت کچھ ترقی ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ کے وجود کے نہ سمجھنے کے نتیجہ میں ہی شرک پیدا ہوا ہے اور شرک سے حقائق اشیاء کے دریافت کرنے کی طرف بے توجہی ہوئی ہے۔ اگر ہر ایک چیز کی علت خدا تعالیٰ کے حکم اور اس کے ارادہ کو قرار دیا جاتا تو کیوں ان چیزوں کو جو انسان کے فائدہ کے لئے بنائی گئی ہیں خدا قرار دیکر انسانی تحقیق سے بالا سمجھ لیا جاتا۔

چوتھا جواب

یہ ہے کہ یہاں یہ ہی نہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کے وجود پر غور ہی کیوں کریں کیونکہ غور ہماری طرف سے شروع ہی نہیں ہوتا بلکہ خدا تعالیٰ خود اپنے ایلچی بھیج بھیج کر ہمیں اپنی طرف بلاتا اور ہماری توجہ کو کھینچ رہا ہے۔ پس جب بلاوا دوسری طرف سے آرہا ہے تو یہ سوال ہی غلط ہے کہ ہم کیوں خدا تعالیٰ کے وجود کے دریافت کرنے کی کوشش کریں جب آواز ادھر سے آرہی ہے تو ہماری کوشش کا سوال ہی اُٹھ گیا۔ اگر چلتے چلتے ایک چیز ہمارے سامنے آجائے تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم اسے کیوں دیکھیں کیونکہ وہ چیز ہمارے ارادے سے پہلے ہمارے سامنے آگئی ہے۔ پس جب خدا تعالیٰ کی طرف سے ایلچی کے بعد ایلچی ہماری طرف آرہا ہے تو اب اس سوال کے معنی ہی کیا ہوئے کہ ہم اس سوال پر کیوں غور کریں۔ اس کا جواب صاف ہے کہ اس لئے غور کریں کہ یہ سوال ہمارے سامنے آگیا ہے اور ایسے رنگ میں آگیا ہے کہ اس سے غفلت کرنا ہمارے لئے ناممکن ہے۔ خدا تعالیٰ نے اپنے فرستادوں کا سلسلہ ایسا چلایا ہے کہ ایک منکر خدا کہہ سکتا ہے کہ دق کر دیا ہے اور جب تک لوگ انکار کرتے رہیں گے یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔ حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعودؑ کے آنے پر بھی جو لوگ نہیں مانتے اگر وہ انکار کرتے چلے جائیں گے تو پھر کسی اور رسول کو بھیج دے گا۔

لوگوں میں خدا کا خیال کس طرح پیدا ہوا؟

جب اس سوال کو اس طرح رد کیا جاتا ہے تو منکرانِ خُدا اور طرف رُخ بدلتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ فی الواقع ہوتا تو چاہئے تھا کہ خدا تعالیٰ کا خیال دُنیا میں الہام کے ذریعہ سے پیدا ہوتا مگر ہم جیسا انسانی ارتقاء کی تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کسی بالا ہستی کا خیال آہستہ آہستہ قوموں میں پیدا ہوا ہے۔ چنانچہ وہ بیان کرتے ہیں کہ پہلے اقوام میں ان اشیاء کی پرستش شروع ہوئی ہے جن سے انسان ڈرا ہے۔ جس طرح ایک بچہ ڈر کر لجاجت اور گریہ و زاری کرنے لگ جاتا ہے اسی طرح جب انسان بعض چیزوں سے مرعوب ہوا اور ڈرا تو یہ ان کے آگے لجاجت کرنے لگا اور ہاتھ جوڑنے لگا اس سے عبادت پیدا ہوئی۔ پھر جوں جوں زمانہ گزرتا گیا اپنے سے بالا ہستیوں کا خیال راسخ ہوتا گیا اور تعلیم کی ترقی کے ساتھ انسان نے ادنیٰ چیزوں سے نظر اُٹھا کر صرف بالا ہستیوں کو پوجنا شروع کیا۔ پھر کچھ مدت کے بعد جب اور علمی ترقی ہوئی تو بالا ہستیاں غیر مادی قرار پاگئیں اور جن چیزوں کی پہلے پرستش کی جاتی تھی وہ ان کا مظہر قرار پائیں اور آخری

قدم یہ تھا کہ ایک واحد ہستی جو سب پر فائق تھی تجویز ہوئی۔ پس خدا تعالیٰ کا خیال بندے کی مخلوق ہے نہ کہ کوئی بالا ہستی بندے کی خالق۔ چنانچہ یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ سب سے پہلا علم جو دنیا میں رائج ہوا ہے وہ علم ہیئت تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ چونکہ سورج، چاند، ستارے سب سے زیادہ انسانی عقل کو حیران کرنے والے تھے اس لئے سب سے پہلے انہی کو خدا قرار دیا گیا اور ان کی چالوں پر غور شروع ہوا تا کہ معلوم ہو سکے کہ خدا کا منشاء کیا ہے اور اس سے علم ہیئت کی ترقی ہوئی۔ علم اور فکر کی ترقی سے متاثر ہو کر جب لوگوں نے اس خیال سے تسلی نہ پائی تو پنڈتوں نے ان چیزوں کو بالا ہستیوں کے مظاہر قرار دے دیا پس خیالات کے اس ارتقاء سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا خیال انسانی دماغ کی ایجاد ہے نہ کہ کسی حقیقت پر مبنی یا کسی الہام کا نتیجہ ہے۔ اگر فی الواقع خدا ہوتا اور الہام سے دنیا کو اس خیال کی طرف توجہ پیدا ہوتی تو شروع سے ہی خدا تعالیٰ کی ذات کی نسبت مکمل اور صحیح عقیدہ دنیا میں موجود ہونا چاہئے تھا۔ یہ اعتراض واقع میں قابلِ غور ہے اور اس قابل ہے کہ اس کی طرف توجہ کی جائے۔ جن اقوام نے الہام کی تعریف کو موجودہ زمانہ کے اعتراضات سے ڈر کر بدل دیا ہے انہوں نے تو اس اعتراض کا جواب نہایت آسانی سے دے دیا ہے اور وہ یہ کہ جس خیال کو تم نامکمل کہتے ہو اور جس تصویر کو تم ناقص کہتے ہو وہ بھی الہام کے ذریعہ سے تھی اور چونکہ دنیا کی ذہنی ترقی ابتداء میں کامل نہ تھی اس لئے خدا تعالیٰ نے اپنے وجود کو تمثیلی رنگ میں بنی نوع انسان میں ظاہر کیا تھا اور چونکہ اصل چیز جس کی قدر کی جا سکتی ہے وہ تعلق ہے پس جو شخص بھی نیک نیتی سے سانپ یا بچھو یا ستاروں کو خدا سمجھ کر پُوجتا ہے وہ درحقیقت خدا کو ہی پوجتا ہے اور وہ بھی اپنی عقل کے مطابق ایک الہام پر ہی عمل پیرا ہے۔ پس اگر ابتداء میں خدا تعالیٰ کا خیال ناقص تھا تو اس کا موجب یہ نہ تھا کہ انسان کے دماغ نے اس خیال کو ڈر سے پیدا کیا بلکہ اس کا موجب یہ تھا کہ انسانی دماغ بوجہ ناقص ہونے کے خدا تعالیٰ کے خیال کو مکمل صورت میں اخذ نہیں کر سکتا تھا اس لئے اس کی طاقتوں کے مطابق خدا تعالیٰ کا خیال اس کے دماغ پر نقش کیا گیا اور خدا تعالیٰ کا وجود اسے مختلف مظاہر کی صورت میں دکھایا گیا اور پھر یہ لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ سچ نہیں کہ دنیا کی ہر اک شئے ایک بالا طاقت کی مظہر ہے؟

مجھے اس جواب کی صحت یا اس کے سُقم پر اس وقت بحث کرنے کی ضرورت نہیں مگر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم لوگ جو لفظی الہام کے قائل ہیں یہ جواب منکرینِ خدا کے سامنے پیش نہیں کر سکتے اگر الہام لفظوں میں نازل ہوتا ہے اور یقیناً ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ کے وجود کو بنی نوع انسان کے سامنے

بالکل ابتدائی زمانہ میں بھی اس رنگ میں پیش کیا جا سکتا تھا کہ انسان محسوس کرے کہ خدا تعالیٰ کا وجود دوسری اشیاء سے جو مخلوق ہیں بالکل الگ تھلگ ہے پس ہمیں اور قسم کے جوابوں کی ضرورت ہے۔

میرے نزدیک اس اعتراض کا حقیقی جواب دینے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ اس اعتراض کی حقیقت کیا ہے؟ اگر ہم اس اعتراض کی حقیقت پر غور کریں تو پہلے اس کے مندرجہ ذیل اجزاء معلوم ہوتے ہیں۔

۱۔ خدا تعالیٰ کا خیال ڈر اور حیرت سے پیدا ہوا ہے۔ ۲۔ اس میں تدریجی ترقی ہوئی ہے۔

اب اگر یہ دونوں باتیں صحیح ہیں تو خدا تعالیٰ کے متعلق جو خیال بنی نوع انسان میں پیدا ہوا ہے اس سے یہ ثابت ہونا چاہئے کہ سب سے پہلے جن چیزوں کی عبادت شروع ہوئی ہے وہ وہی چیزیں ہیں جن سے سب سے پہلے بنی نوع انسان کو خوف پیدا ہو سکتا تھا۔ اب اگر ذرا بھی تدبر کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ سب سے پہلے انسان کو خوف درندوں سے ہو سکتا تھا کیونکہ جس وقت انسان کے پاس حفاظت کا پورا سامان نہ تھا اور آبادیوں کا دستور نہ شروع ہوا تھا سب سے زیادہ خطرہ درندوں سے ہی ہو سکتا تھا مگر ہم دیکھتے ہیں کہ درندوں کی پرستش کیڑوں کی پرستش سے بہت کم ہے۔ زیادہ تر سانپ کے پجاری ملتے ہیں۔ شیروں اور بھیڑیوں کی پوجا سانپ سے بہت کم ہوتی ہے حالانکہ سانپ چھپ کر حملہ کرتا ہے اور شیر ظاہر میں اور شیر کی آواز ہے اور سانپ کی نہیں۔ اور شیر کا جسم بڑا ہے اور سانپ کا نہیں۔ اور بھیڑیئے کا حال بھی شیر کی طرح کا ہے۔ پس اگر تدریجی ترقی ہوتی تو سب سے پہلے شیر اور بھیڑیئے اور ریچھ وغیرہ کی پرستش ہوتی مگر ان کی پرستش اس کثرت سے اور اس قدر پرانی نہیں ہے جس قدر کہ سانپ کی ہے جس سے معلوم ہوا کہ خدا کے خیال کے تدریجاً پیدا ہونے کا خیال ہی غلط ہے۔

علاوہ ازیں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہ اعتراض تب ہی پڑ سکتا تھا جبکہ تسلیم کیا جائے کہ انسان اچانک دُنیا میں پیدا ہو گیا تھا اور اس وجہ سے اسے بعض چیزوں کو دیکھ کر حیرت اور خوف پیدا ہوا مگر یہ عقیدہ رکھ کر تو فوراً ایک بالا رادہ ہستی کو تسلیم کرنا ہو گا جس نے ارادہ کیا کہ انسان پیدا ہو اور وہ پیدا ہو گیا اور خود یہ عقیدہ ہی خدا تعالیٰ کے وجود کو ثابت کر دے گا۔ پس خدا تعالیٰ کے انکار کے ساتھ اس امر کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ انسان کی پیدائش بتدریج اور مختلف تغیرات سے ہوئی ہے اور اس قسم کے معترضین کا عقیدہ بھی یہی ہے۔ اب اگر یہ بات درست ہے کہ انسان بتدریج مختلف حالتوں سے ترقی کرتا ہوا بنا ہے تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ انسان بننے کی صورت میں اس نے چاند، سورج، ستاروں اور شیروں، بھیڑیوں اور سانپوں کو اچانک نہیں دیکھا۔ بلکہ وہ اس سے پہلی حالت میں بھی ان چیزوں کو دیکھتا آیا ہے اور بعض کا مقابلہ کرتا چلا آیا ہے اور بعض کو قطعاً نظر انداز کرتا آیا ہے۔ پس اگر جبکہ انسان بندر یا اس سے بڑھ کر کسی اور جانور کی صورت میں سانپ سے خوب آشنا تھا بلکہ اس کا مقابلہ کیا کرتا تھا تو کیونکر ممکن ہے کہ جب وہ اس حالت سے ترقی کر جائے تو اسے پوجنے لگ جائے۔ یہ چیز نئی نہ تھی بلکہ ایسی چیز تھی جس سے وہ نسلاً بعد نسل واقف چلا آیا تھا پس ارتقاء کا مسئلہ بھی اس خیال کو رَدّ کر رہا ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر یہ درست ہے کہ خوف و حیرت سے خدا کا خیال پیدا ہوا تو چاہئے تھا کہ سب سے پہلے چاند اور سورج کی پرستش شروع ہوتی کیونکہ یہ وہ چیزیں ہیں جو سب کو اور سب سے پہلے نظر آتی ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جانوروں کی پرستش ستارہ پرستی سے پہلے کی ہے۔ حالانکہ سورج ، چاند وغیرہ کو ہر شخص شروع سے ہی دیکھتا چلا آیا ہے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ خیال ہی غلط ہے کہ پہلے دوسری چیزوں کی عبادت شروع ہوئی بعد میں ایک وراء الوریٰ ہستی کا خیال پیدا ہوا ہے۔ خود تاریخ اس کو رَدّ کر رہی ہے اور ان لوگوں کا استدلال تاریخ سے درست نہیں ہے۔ پُرانی سے پُرانی اقوام میں ہمیں ایک خدا کے خیال کا پتہ لگتا ہے۔

دُنیا کی سب سے پُرانی قوم کا خیال خدا کے متعلق

دنیا میں پرانی اقوام جو اب تک محفوظ چلی آتی ہیں ان میں سے سب سے پُرانی میکسیکو کی قوم ہے۔ یہ قوم بہت پرانی سمجھی جاتی ہے اور نہایت قدیم خیالات اس میں محفوظ پائے جاتے ہیں۔ جب ہم اس قوم کو دیکھتے ہیں کہ اس میں خدا تعالیٰ کے متعلق کیا خیال ہے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ گو یہ ایک نہایت ہی پُرانی قوم ہے مگر اس میں ایک خدا کا خیال موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں ایک خدا ہے جسکا نام اوونا ولونا (AWONA WILLONA) ہے جو سب کا خالق ہے اور سب پر محیط ہے اور سب باپوں کا باپ ہے۔ ابتداء میں جب کچھ نہ تھا ولونا نے خیال کیا اور اس کے خیال کرنے کے بعد اس خیال سے نمو کی طاقت پیدا ہوئی اور وہ طاقت بڑھتے بڑھتے وسیع فضا کی صورت میں تبدیل ہو گئی اور اس سے خدا کی روشنی جلوہ گر ہوئی اور فضا سکڑنے لگی جس سے یہ چاند اور سورج اور ستارے بنے۔ یہ میکسیکو کے باشندوں کا نہایت ہی پُرانا خیال ہے۔ اب خدا تعالیٰ کے متعلق جو تازہ سے تازہ خیالات ہیں ان کو ان سے ملا کر دیکھو وہ بھی ان کے مشابہ ہیں۔ عیسائیت میں بھی یہ بیان کیا گیا ہے کہ پہلے تاریکی تھی پھر دُنیا بنی اور اسلام میں بھی یہی ہے۔ یہ ہزاروں سال بعد کی تحقیقاتیں بھی یہی ثابت کرتی ہیں اور یہی باتیں ہیں جو سائنس کہتی ہے کہ پہلے بہت باریک ذرات تھے جو بغیر کسی سبب اور ذریعہ کے اکٹھے ہوئے اور بادل بنے۔ ان میں ایک جگہ ٹھوس ہو گئی اس لئے کہ وہاں زیادہ مادہ جمع ہو گیا۔ اس جگہ نے دوسرے ذروں کو کھینچنا شروع کیا اور کرہ بڑھنے لگا اور اس میں گولائی آنے لگی۔ اس طرح بہت بڑا کرہ بنا۔ پھر اسکے ٹکڑے ہو گئے۔ کوئی سورج بن گیا، کوئی چاند، کوئی ستارے۔

افریقہ کے قدیمی باشندوں کے خیال

پھر افریقہ کی طرف آئیے۔ وہاں کے پُرانے اور قدیمی باشندوں کے دماغ اتنے ادنیٰ درجہ کے ہیں کہ اگر انہیں پڑھایا جائے تو بڑھاپے میں سب کچھ بھول جاتے ہیں کیونکہ ان کے دماغ اسقدر ادنیٰ ہوتے ہیں کہ سیکھی ہوئی باتوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ ان میں بھی ایک وراء الوریٰ ہستی کے خیال کا پتہ لگتا ہے۔ چنانچہ ان کے ایک قبیلہ کا خیال ہے کہ ایک وراء الوریٰ ہستی ہے جو سب کی خالق ہے اور اسے وہ نِینگمو (NYONGMO) کہتے ہیں۔

بابلیوں میں خدا کا عقیدہ

پھر بابلیوں میں بھی یہی عقیدہ پایا جاتا ہے۔ چنانچہ بابل کے ایک نہایت ہی پُرانے بادشاہ کی ایک دُعا نکلی ہے جو یہ ہے:۔ کہ اے دائمی بادشاہ تمام مخلوق کے مالک تُو میرا خالق ہے۔ اے بادشاہ تیرے رحم کے مطابق۔ اے آقا جو تو سب پر رحم کرنے والا ہے تیری وسیع بادشاہت رحم کرنے والی ہو۔ اپنی الوہیت کی عبادت کی محبت میرے دل میں گاڑ دے۔ اور جو کچھ تجھے اچھا معلوم دیتا ہے وہ مجھے دے۔ کیونکہ تو ہی ہے جس نے میری زندگی کو اس رنگ میں ڈھالا ہے۔ کتنا اعلیٰ اور نبیوں والا خیال ہے جو اس دُعا میں ظاہر کیا گیا ہے کہ ممکن ہے میں کوئی چیز مانگوں اور وہ میرے لئے مضر ہو۔ اس لئے اے خدا جو کچھ تجھے میرے لئے اچھا معلوم ہوتا ہے وہ دے یہ اس قوم کی دُعا ہے جسے بُت پرست کہا جاتا ہے۔

دیگر اقوام کے خیال

اسی طرح کینیڈا والے قدیمی باشندے ایک خدا کو مانتے ہیں۔ پھر آسٹریلیا کا علاقہ جو چند صدیوں سے ہی دریافت ہوا ہے اور جہاں کے لوگ دُنیا سے بالکل علیحدہ تھے اور اس قدر وحشی اور خونخوار تھے کہ ان کا قریباً خاتمہ کر دیا گیا۔

ان کا ارنٹا (ARUNTA) نامی ایک قبیلہ ہے۔ وہ ایک ایسے خدا کا قائل ہے جو آسمان پر رہتا ہے اسے وہ الجیرا (ALTJIRA) کہتے ہیں ان کا خیال ہے کہ وہ چونکہ حلیم ہے اس لئے سزا نہیں دیتا اور اس لئے اس کی عبادت کی ضرورت نہیں۔

افریقہ کا ایک وحشی قبیلہ جسے زولو (ZULU) کہتے ہیں ان میں بھی یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ ایک غیر مرئی خدا ہے جو سب دُنیا کا باپ ہے۔ اس کا نام اُنکولنکولو (UNKULUNKIVLU) بتاتے ہیں۔

ہندوؤں میں خدا تعالیٰ کی غیر محدود طاقتوں کے متعلق خیال پایا جاتا ہے چنانچہ درونا کے متعلق وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ عالم الغیب اور غیر محدود طاقتوں والا ہے چنانچہ اس کے متعلق ہندوؤں کا پُرانا خیال ہے کہ ”اگر کوئی آدمی کھڑا ہو یا چلے یا پوشیدہ ہو جائے ۔ اگر وہ لیٹ جائے یا کھڑا ہو جائے یا جو دو آدمی اکٹھے بیٹھ کر ایک دوسرے سے سرگوشیاں کریں بادشاہ دروناسے جانتا ہے وہ وہاں بطور ثالث موجود ہے۔ یہ زمین بھی دُرونا کی ہے اور آسمان اپنے وسیع فضا سمیت بھی اسی کا ہے۔ وہ شخص آسمان سے بھی بھاگ کر نکل جائے وہ بھی بادشاہ دُرونا کی حکومت سے باہر نہیں جا سکتا۔“

اسی طرح آسٹریا کے قدیم وحشی باشندے نورینڈیرّا (NURRENDIRE) کو شریعت دینے والا خدا سمجھتے ہیں۔

دومبو ایک پرانا وحشی قبیلہ نوریلی (NURELLI) کے نام سے ایک زبردست خدا کی پرستش کرتا ہے۔ افریقہ کا مشہور مغربی بنتو قبیلہ نزامبی (NZAMBI) تمام دُنیا کا پیدا کرنے والا اور بنی نوع انسان کا باپ قرار دیا جاتا ہے۔

پس اس قدر قدیمی اور وحشی قبائل کے اندر ایک زبردست غیر مرئی خدا کا خیال پایا جانا بتاتا ہے کہ آہستہ آہستہ خدا کا خیال نہیں پیدا ہوا بلکہ الہامی طور پر آیا ہے۔

اہلِ یورپ کا اعتراض

بعض لوگ اوپر کے بیان پر اعتراض کر سکتے ہیں کہ یہ تو مانا کہ ایک غیر مرئی قادر مطلق خدا کا خیال پُرانی اور قدیمی اقوام میں پایا جاتا ہے مگر یہ کس طرح معلوم ہو کہ یہ خیال بھی ان قوموں میں پُرانا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو خود وحشی قبائل میں الہام کا خیال موجود ہے پرانے سے پُرانے قبائل کو لیا جائے وحشی سے وحشی قبائل کی روایات پر غور کیا جائے تو ان میں الہام کا خیال موجود ہے اور وہ یقین کرتی ہیں کہ ان کے پاس جو قانون ہے وہ خدا تعالیٰ نے الہام کیا ہے پس یہ شہادت جو ان اقوام کی ہے جو الہام یا عدم الہام کی حقیقت سے ناواقف ہے بتاتا ہے کہ یہ خیال کسی تدریجی ترقی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ الہام کے ذریعہ سے قدیم زمانہ سے چلا آتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم ویدوں کو لیتے ہیں۔ ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دین اور شریعت کے عالم بالا سے نازل ہونے کا خیال بہت پرانا ہے۔

آسٹریلیا کے وحشی قبائل دنیا کی قدیم ترین حالت کے نمائندے ہیں ان سے جب پوچھا جائے کہ وہ کیوں بعض رسوم کی پابندی کرتے ہیں تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ نرٹیڈ ٹر نے ان کو ایسا ہی حکم دیا ہے یعنی خدا نے۔

امریکہ کے پُرانے قبائل میں بھی یہ خیال موجود ہے کہ ان کے قوانین الہام کے ذریعہ سے بنے ہیں۔

یہ شہادتیں بتاتی ہیں کہ تدریجی ترقی سے یہ خیالات پیدا نہیں ہوئے بلکہ کسی ایک شخص کی معرفت جو اپنے آپ کو ملہم قرار دیتا تھا مختلف قبائل میں پھیلے۔ لوگ ان اشخاص کو جھوٹا کہہ سکتے ہیں، فریبی کہہ سکتے ہیں مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ خیالات تدریجی ترقی کا نتیجہ تھے ورنہ یہ روایات قدیم وحشی قبائل میں نہ پائی جاتیں۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ آثار قدیمہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بہت سی قومیں جن میں اب مشرکانہ خیالات ہیں ابتداء میں ان میں ایک خدا کی پرستش تھی چنانچہ میگز ایک محقق ہے اس نے چین کے متعلق تحقیقات کی ہے کہ گو وہاں ہر چیز کا الگ خدا مانتے ہیں آگ کا خدا، چولہے کا خدا، توے کا خدا غرضیکہ ہر چیز کا خدا الگ الگ ہے گویا ہندوستان سے بھی بڑھ کر شرک ہے کہ جہاں صرف ۳۳ کروڑ دیوتا سمجھا جاتا ہے لیکن پُرانے زمانہ میں وہاں ایک ہی خدا کی پرستش کی جاتی تھی۔ اسی طرح بابل کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے۔ بابل وہ شہر ہے جسے ہمارے ملک کے بچے بھی جانتے ہیں اور ہاروت ماروت کے قصے کی وجہ سے خوب مشہور ہے اس شہر کی تاریخ نہایت قدیم ہے اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس میں پُرانے زمانہ میں ایک خدا کا خیال موجود تھا۔

تیسرا جواب

تیسرا جواب یہ ہے کہ قدیم اقوام کے متعلق یہ کہنا کہ ممکن ہے ان میں ایک خدا کا خیال بعد میں پیدا ہو گیا ہو عقلاً غلط ہے کیونکہ یہ ایک مانا ہوا قاعدہ ہے کہ جو خیال کسی قوم میں بعد میں پیدا ہو اس کی عظمت زیادہ ہوتی ہے اور جو دیوتا بعد میں مانا جائے اس کی عبادت زیادہ ہوتی ہے اور یہ بات تمام قدیم اقوام کے حالات سے معلوم ہوتی ہے کہ ان میں ایک خدا کا خیال تو موجود ہے لیکن پرستش چھوٹے دیوتاؤں کی زیادہ ہے اگر یہ خیال درست ہے کہ تدریج سے ایک خدا کا خیال پیدا ہوا ہے تو چاہئے تھا کہ تمام اقوام میں ایک خدا کی پرستش زیادہ ہوتی اور چھوٹے دیوتا اگر باقی بھی رہتے تو محض روایت کے طور پر حقیقتاً لوگوں کا ان سے لگاؤ نہ ہوتا مگر واقعہ اس کے بالکل برخلاف ہے۔ چھوٹے دیوتاؤں کی پرستش ہی قدیم قبائل کرتے ہیں اور خدا کی پرستش شاذ و نادر ہی کسی قبیلہ میں پائی جاتی ہے پس یہ صورت حالات اس تدریجی ترقی والے مقولہ کو باطل کر دیتی ہے۔ پھر ایک اور ذریعہ بھی اس سوال کو حل کرنے کا ہے اور وہ موجودہ زمانے کے تغیرات سے استنباط ہے۔ اس عقیدہ کی بنیاد کہ خدا کے خیال نے تدریجی ترقی کی ہے اصل میں صرف اس خیال پر مبنی ہے کہ تمام چیزوں میں تدریجی ترقی یا ارتقاء پایا جاتا ہے اور اس سے انسانی دماغ مستثنیٰ نہیں۔ اب ہم اس اصل کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کی حالت کو دیکھتے ہیں۔ دشمن بھی اقرار کرتے ہیں کہ اسلام خالص توحید پر مبنی تھا اس کے ابتداء میں شرک کا ایک شمہ بھی اس کی تعلیم میں شامل نہ تھا مگر آہستہ آہستہ اب اسلام کی کیا حالت پہنچ گئی ہے۔ کیا اب مسلمانوں میں قبر پرست، درخت پرست، جن پرست، بھوت پرست، ستارہ پرست لوگ نہیں پائے جاتے؟ آخر وہ مسلمان کہلانے والے لوگ ہی ہیں جو کہتے ہیں کہ سیّد عبدالقادر جیلانیؒ کے پاس ایک عورت آئی اور آکر کہا میرے بچے کے لئے دُعا کرو کہ صحت یاب ہو جائے۔ انہوں نے کہا دُعا کریں گے اور وہ چلی گئی لیکن وہ پھر آئی اور کہا میرا لڑکا تو مر گیا۔ اس پر انہوں نے عزرائیل کو بلایا۔ وہ آئے تو کہا میں نے جو کہا تھا اس لڑکے کی جان نہیں نکالنی۔ پھر کیوں نکالی؟ انہوں نے کہا مجھے ایسا ہی حکم تھا میں کیا کرتا۔ اس پر اسے پکڑنے لگے اور وہ بھاگا۔ عزرائیل آگے آگے اور یہ پیچھے پیچھے۔ گو یہ بعد میں اُڑے مگر عبدالقادر تھے اس کے قریب پہنچ ہی گئے۔ وہ آسمان میں داخل ہونے ہی لگا تھا کہ انہوں نے پکڑ کر اس کی زنبیل چھین لی اور اس لڑکے کی روح ہی نہیں بلکہ اس دن کی ساری روحیں جو اس نے قبض کی تھیں چھوڑ دیں۔ وہ خدا کے پاس گیا اور جا کر رونے لگا کہ مجھ سے یہ جانیں نکالنے کا کام نہیں ہو سکتا۔ خدا تعالیٰ نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ سیّد عبدالقادر نے مجھے ایک روح کے آزاد کرنے کو کہا تھا۔ میں نے آزاد نہ کی تو انہوں نے چھین کر سب روحیں ہی آزاد کر دیں۔ خدا نے یہ سنتے ہی کہا چپ چپ وہ کہیں یہ باتیں سُن نہ لے۔ اگر وہ اگلی پچھلی ساری روحیں چھوڑ دے تو پھر ہم کیا کریں گے۔

اب بتاؤ لا الہ الا اللہ پر جانیں قربان کرنے والوں کی نسل یہ اور اس قسم کی اور باتیں کر رہی ہے یا نہیں؟ اور کیا اس سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں میں پہلے شرک پایا جاتا تھا اور پھر خدا کا عقیدہ آیا اور اگر تاریخی طور پر ایک قوم ہمارے سامنے موجود ہے جو خالص توحید کے بلند مقام سے چل کر شرک کی تاریکیوں میں آگئی تو کیوں نہ سمجھا جائے کہ پرانی اقوام جن میں شرک پایا جاتا ہے اسی طرح خالص توحید کے نقطہ سے شروع ہوئی تھیں مگر پھر تنزل اور جہالت کے زمانہ میں اصل تعلیم کو بھلا بیٹھیں۔

غرض عقلاً اور نقلاً یہ ہرگز محال نہیں کہ خدا تعالیٰ کا خیال قدیم سے چلا آیا ہو بلکہ عقل اور نقل دونوں اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ یہ خیال قدیم سے اور الہام کے ذریعہ سے دنیا میں چلا آیا ہے اور مشرکانہ خیالات بعد کے ہیں پس منکرین خدا کا یہ اعتراض کہ اگر خدا تعالیٰ واقعہ میں ہوتا تو ابتداء میں ایک خدا کا خیال ہوتا باطل ہے اور اس اعتراض کی بنیاد غلط واقعات پر رکھی گئی ہے۔

اگر خدا ہے تو دکھاؤ

ان ابتدائی بحثوں کے بعد جب خدا تعالیٰ کے وجود کے متعلق فکر کرنے کی ضرورت ثابت ہو جاتی ہے اور اس کے بغیر کوئی چارہ نظر نہیں آتا تو منکرین خدا یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اچھا ہم ماننے کو تیار ہیں لیکن تم خدا ہمیں دکھا دو۔ چنانچہ پڑھے لکھے دہریہ تک بھی یہی کہتے ہیں کہ لاؤ خدا دکھا دو پھر ہم مان لیں گے۔ اگر خدا ہے تو چاہئے تھا کہ آسمان سے آواز آتی کہ میرے بندو اکٹھے ہو جاؤ میں تمہیں اپنا منہ دکھاتا ہوں۔ اگر صبح و شام اسی طرح ہوتا تو سب لوگ خدا کو مان لیتے پس اگر خدا ہے تو دکھا دو ہم مان لیں گے۔

مجمل جواب

اس کا مجمل جواب تو یہ ہے جو صوفیاء نے دیا ہے کہ وہ قریب ہے اور سب سے زیادہ قریب۔ اور وہ دُور ہے اور سب سے زیادہ دُور۔ اور بہت ہی قریب کی چیز بھی دکھائی نہیں دیتی اور بہت دور کی بھی دکھائی نہیں دیتی۔ پس خدا تعالیٰ جو بندہ سے نہایت دور ہے بندہ اسے دیکھ نہیں سکتا۔ اور اسی طرح وہ بندہ سے اس قدر قریب ہے کہ حبل الورید سے بھی زیادہ قریب ہے اس لئے بھی نظر نہیں آتا۔ کیا کبھی کسی نے اپنی حبل الورید دیکھی ہے یا اگر کوئی پانی میں منہ ڈال لے تو اپنے آپ کو دیکھ سکتا ہے؟ پس ایک بات تو خدا کے متعلق ہم یہی کہتے ہیں کہ وہ چونکہ اتنا قریب ہے کہ حبل الورید سے بھی زیادہ قریب ہے اس لئے انسان اسے دیکھ نہیں سکتا۔ انہی دنوں ایک دوست نے سنایا کہ ایک شخص جرمنی وغیرہ سے ہو کر آیا ہمیں نماز پڑھتے دیکھ کر کہنے لگا اس قسم کی ورزش کا کیا فائدہ؟ اس کی بجائے کوئی اور معقول ورزش کر لیا کرو جس کا کچھ فائدہ بھی ہو۔ اسے کہا گیا یہ ورزش نہیں بلکہ عبادت ہے اس نے کہا کس کی عبادت؟ کہا گیا خدا کی عبادت۔ اس نے کہا خدا کہاں ہے؟ اگر ہے تو دکھاؤ۔ حسین تو اپنے آپ کو دکھاتے ہیں۔ اگر خدا سب سے زیادہ حسین ہے تو کیوں چھپا ہوا ہے؟ اس دوست نے کہا کہ میں نے کاغذ پر اللہ لکھ کر دُور سے اسے دکھایا اس نے کہا کچھ نہیں نظر آتا۔ پھر اسے کہا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں یہ بھی فرماتا ہے کہ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِیۡدِ(ق: ۱۷)۔ میں انسان سے اس کی شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں اور اس کاغذ کو اس کی آنکھوں کے بالکل قریب رکھ دیا اور کہا بتاؤ اب تمہیں کیا نظر آتا ہے اس نے کہا اب تو کچھ نہیں نظر آتا۔ اس پر اسے بتایا گیا کہ جب خدا اس سے بھی زیادہ قریب ہے تو وہ تمہیں ان آنکھوں سے کس طرح نظر آجائے۔ تو خدا کو دیکھنے کا مطالبہ کرنے والوں کو مجمل جواب تو یہ دیا جاتا ہے کہ چونکہ خدا قریب سے قریب اور بعید سے بعید ہے اس لئے ان دونوں وجہ سے نظر نہیں آتا۔

ہر چیز کے دیکھنے کا طریق الگ ہے

اور اس کا حقیقی جواب یہ ہے کہ ہر چیز کے دیکھنے اور معلوم کرنے کا طریق الگ ہے اور یہ کہنا کہ دوسری چیزوں کی طرح ہی خدا بھی ہمیں دکھاؤ نہایت ہی بیہودہ اور خلافِ عقل سوال ہے۔ ہم نے کب کہا ہے کہ خدا کوئی مادی چیز ہے جسے اور مادی چیزوں کی طرح دیکھا جاسکتا ہے۔ کہتے ہیں کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا وہ بادشاہ کے پاس جا کر کہنے لگا میں نبی ہوں مجھے قبول کرو۔ بادشاہ نے کہا کس طرح معلوم ہو کہ تم نبی ہو۔ وزیر نے کہا یہ تو کوئی مشکل بات نہیں۔ ابھی اس کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ یہ کہہ کر اس نے اس مدعی نبوت کے سامنے ایک تالا رکھ دیا اور کہا اگر تم نبی ہو تو اسے کھول دو۔ اس نے کہا میں نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے نہ کہ لوہار ہونے کا کہ تالہ کھولوں۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے جو کہلاتے تو فلاسفر یعنی عقلمند ہیں مگر خدا کے متعلق اس قسم کا مطالبہ کرتے ہیں جس قسم کا وزیر نے مدعی نبوت سے کیا تھا۔ انہیں اتنا تو سمجھنا چاہئے کہ ہم آٹے کا خدا نہیں مانتے اور نہ پتھر کا خدا مانتے ہیں۔ اگر اس قسم کے خداؤں کو دیکھنا چاہتے ہیں تو مندروں میں دیکھ لیں۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک وراء الوریٰ ہستی مانتے ہیں۔

ہر چیز دیکھ کر نہیں مانی جاتی

اور یہ صاف بات ہے کہ دنیا کی ہر ایک چیز دیکھ کر ہی نہیں مانی جاتی۔ بلکہ اور طریقوں سے بھی مانی جاتی ہے۔ مادہ اشیاء میں سے بھی بعض کے وجود کا علم سونگھنے سے بعض کا چکھنے سے بعض کا ٹٹولنے سے بعض کا سننے سے معلوم ہوتا ہے۔ پس اگر کوئی کہے کہ گلاب کے پھول کی خوشبو مجھے دکھا دو یا لوہے کی سختی مجھے دکھا دو یا خوبصورت آواز دکھا دو۔ تو وہ شخص نہایت ہی نادان ہوگا اور جب مادی چیزوں میں سے بھی سب کی سب دیکھنے سے نہیں مانی جاتیں ۔ تو پھر خدا تعالیٰ کے متعلق یہ کہنا کہ ہم اسے دیکھے بغیر نہیں مانیں گے کس قدر نادانی ہے ۔ علاوہ ازیں سب چیزیں حواس خمسہ سے بھی نہیں معلوم کی جاسکتیں بعض قیاس سے بھی معلوم کی جاتی ہیں ۔ ایسی چیزیں نہ سونگھی جاتی ہیں نہ چکھی جاتی ہیں نہ دیکھی جاتی ہیں نہ ٹٹولی جاتی ہیں نہ سنی جاتی ہیں ۔ جیسے غصہ ہے کس طرح پتہ لگتا ہے کہ فلاں میں غصہ ہے ؟ کیا چھو کر یا سُن کر یا چکھ کر یا دیکھ کر یا سونگھ کر۔ ان پانچوں طریقوں میں سے کسی سے بھی اس کا پتہ نہیں لگایا جا سکتا۔ پھر کیونکر معلوم ہوتا ہے کہ غصہ کوئی چیز ہے اور لوگوں کو آیا کرتا ہے۔ اس طرح کہ انسان سمجھتا ہے کہ میں بھی آدمی ہوں اور دوسرے بھی آدمی ہیں پس وہ اپنے غصہ کی حالت کی کیفیات کو جب دوسروں کی ویسی ہی کیفیات سے ملا کر دیکھتا ہے تو سمجھ لیتا ہے کہ یہ چیز اوروں میں بھی پائی جاتی ہے اور جس وقت وہ کیفیات دوسرے میں دیکھتا ہے خیال کر لیتا ہے کہ اس وقت اس کو غصہ آیا ہوا ہے۔ اسی طرح اور کئی باتیں ہیں جو دوسرے کی کیفیت کو اپنے اوپر چسپاں کرنے سے معلوم ہوتی ہیں مثلاً درد ہے۔ نہ یہ چکھی جاتی ہے نہ سونگھی جاتی ہے نہ دیکھی جاتی ہے نہ چھوئی جاتی ہے نہ سنی جاتی ہے۔ پھر کس طرح پتہ لگایا جاتا ہے کہ کسی شخص کو واقع میں درد ہے اور کس طرح ہے اس طرح کہ اپنے نفس پر وہ حالت گزری ہوئی ہوتی ہے اور اس کے آثار کا علم ہوتا ہے اس لئے جب کوئی کہتا ہے کہ مجھے فلاں جگہ درد ہے تو دوسرے انسان اس کی شکل اور حالت کو دیکھ کر درد کا حال معلوم کر لیتے ہیں اور اپنے تجربہ کی بناء پر جو تکلیف اسے ہو رہی ہوتی ہے اس کا اندازہ کر لیتے ہیں ۔

غرض بعض چیزیں ایسی ہیں کہ ان کا علم حواس خمسہ سے بھی نہیں ہو سکتا۔ ان چیزوں کی بھی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو قیاس سے معلوم ہوتی ہیں دوسری وہ جو اندرونی حسوں سے معلوم ہوتی ہیں۔ مثلاً غیر کا غصہ تو قیاس سے معلوم ہو سکتا ہے۔ لیکن اپنے آپ کو جب غصہ یا پیار آتا ہے تو اس کا پتہ قیاس سے نہیں لگایا جاتا اور نہ وہ سونگھنے، چکھنے، دیکھنے ، سننے اور چھونے سے معلوم ہوتا ہے بلکہ انسان کی اندرونی حسیں اسے محسوس کرتی ہیں۔

پھر بعض ایسی چیزیں ہیں کہ ان کے اثرات سے ان کو معلوم کرتے ہیں جیسے مقناطیس ہے اسے جب لوہے کے پاس رکھا جائے تو اسے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اس سے ہم سمجھ لیتے ہیں کہ اس میں جذب کی طاقت ہے اور جب اس امر کا ہم بار بار تجربہ کر لیتے ہیں تو ہمیں اور بھی یقین ہو جاتا ہے اور اگر اس کے اثر کو ہم منتقل کرسکیں تو اس سے ہمارا یقین اور بھی بڑھ جاتا ہے ۔ کیونکہ اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ حقیقتاً کوئی وجود رکھتی تھی جس کی وجہ سے منتقِل بھی ہوگئی ۔ اس طاقتِ مقناطیسی کو ہم دیکھ کر یا سونگھ کر یا چکھ کر یا چھو کر یا سن کر نہیں مانتے۔ بلکہ اس کے اثر کی وجہ سے مانتے ہیں ۔ اس قسم کی اشیاء بھی لاکھوں کروڑوں ہیں اور کوئی عقلمند ان کا انکار نہیں کرتا۔ پس جبکہ دنیوی اور مادی اشیاء میں حواس خمسہ کے سوا اور ذرائع سے بھی انسان چیزوں کے وجود کا پتہ لگایا کرتا ہے تو خدا تعالیٰ جو مادی نہیں اس کے متعلق یہ شرط کیونکر لگائی جاسکتی ہے کہ اسے دکھا دو یا حواس خمسہ کے ذریعہ سے اس کا ثبوت دو۔ ثبوت بیشک ہر دعویٰ کے لئے ضروری ہے مگر وہ ثبوت دعویٰ کے مطابق ہوتا ہے نہ کہ بے تعلق اور بے جوڑ ۔

خدا تعالیٰ کی ذات

خدا تعالیٰ کی ذات کیسی ہے؟ اس کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ ۫ وَہُوَ یُدۡرِکُ الۡاَبۡصَارَ ۚ وَہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ(الانعام: ۱۰۴) ابصار علم کو بھی کہتے ہیں۔ اس لئے اس کا یہ مطلب ہوا کہ تم خدا کو ان ظاہری آنکھوں سے ہی نہیں بلکہ اپنے علم اور فہم سے بھی نہیں دیکھ یا معلوم کر سکتے۔ مگر جب خدا تعالیٰ خود تم پر اپنا اثر ڈالے تو جس طرح لوہے پر مقناطیس کا اثر پڑنے سے مقناطیس کا پتہ لگ سکتا ہے اسی طرح تم خدا کے اثر سے اس کو معلوم کر سکتے ہو۔

اس مرحلہ پر پہنچ کر منکرینِ خدا کا یہ سوال ہوتا ہے کہ اچھا جس طرح تم چاہو خدا کی ہستی کو ثابت کرو اور جو ثبوت اس کے ہونے کے ہو سکتے ہیں وہ دو۔ اس لئے اب وہ دلائل بیان کئے جاتے ہیں جن سے خدا کی ہستی ثابت ہوتی ہے ۔

ہستی باری کی پہلی دلیل

اس کے لئے پہلی دلیل تو ہم قبولیتِ عامہ کی لیتے ہیں یعنی یہ کہ خدا کا خیال ہر قوم میں پایا جاتا ہے اور خدا کے بڑے سے بڑے منکر بھی اسے تسلیم کرتے ہیں کہ قبولیتِ عامہ بہت بڑی دلیل ہے ۔ چنانچہ سپنسر جو دہریت کا بانی ہوا ہے۔ (اگرچہ اس نے اس کا دعویٰ نہیں کیا لیکن اسی کی کتابوں پر دہریت کی بنیاد رکھی گئی ہے) اس نے لکھا ہے کہ جس بات کو ساری دنیا مانتی ہو وہ بالکل غلط نہیں ہو سکتی اس کی ضرور کچھ نہ کچھ حقیقت ہوتی ہے پس جبکہ ہم ساری اقوام کو دیکھتے ہیں کہ ان میں خدا کا خیال پایا جاتا ہے جیسا کہ ابھی میں نے بتایا ہے تو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ خیال کہیں سے نکلا ہے چنانچہ خدا تعالیٰ نے

اس دلیل کو پیش کیا ہے۔ فرماتا ہے۔ مِّنۡ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ(فاطر: ۲۵) کہ کوئی قوم دُنیا کی ایسی نہیں جس میں میرے پکارنے والے نہیں پھر گئے اور یہ نہیں بتا گئے کہ میں ہوں۔ یہی ہر قوم میں پھرنے والے تھے جنہوں نے ان میں خدا کے ہونے کا خیال پھیلایا۔ پس یہ قبولیتِ عامہ کی دلیل ہے۔ دہریت نے اس کے مقابلہ میں بڑے زور لگائے اور آج ہی نہیں بلکہ پہلے سے لگا رہی ہے مگر پھر بھی دہریت ہی مغلوب ہوتی رہی اور خدا کے ماننے والے ہمیشہ سے ہوتے رہے۔ اور یہ بھی ثابت ہے کہ دہریے بھی مرتے وقت یہی کہتے رہے ہیں کہ ہم خدا کی ہستی کا انکار نہیں کرتے ممکن ہے کہ خدا ہو۔ چنانچہ ولایت میں ایک دہریے نے مرتے وقت بہت بڑی جائیداد اس بات کے لئے وقف کی کہ اس کے ذریعہ خدا کی ہستی پر بحث جاری رہے۔ منکرینِ خدا کے متعلق تو اس قسم کی باتیں ثابت ہیں مگر خدا کے ماننے والوں میں سے کبھی کسی نے مرتے وقت نہیں کہا کہ شاید خدا نہ ہو۔

حضرت مسیح موعودؑ سنایا کرتے تھے کہ ہمارے (ہمارے سے مراد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ہیں) ماموں میر محمد اسمعیل صاحب کے ساتھ ایک دہریہ پڑھا کرتا تھا۔ ایک دفعہ زلزلہ جو آیا تو اس کے منہ سے بے اختیار رام رام نکل گیا۔ میر صاحب نے جب اس سے پوچھا کہ تم تو خدا کے منکر ہو پھر تم نے رام رام کیوں کہا؟ کہنے لگا غلطی ہو گئی، یونہی منہ سے نکل گیا۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ دہریے جہالت پر ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ماننے والے علم پر اس لئے مرتے وقت یا خوف کے وقت دہریہ یہ کہتا ہے کہ ممکن ہے میں ہی غلطی پر ہوں۔ ورنہ اگر وہ علم پر ہوتا تو اس کی بجائے یہ ہوتا کہ مرتے وقت دہریہ دوسروں کو کہتا کہ خدا کے وہم کو چھوڑ دو کوئی خدا نہیں مگر اس کے الٹ نظارے نظر آتے ہیں۔ پس خدا تعالیٰ کی ہستی کی یہ بہت زبردست دلیل ہے کہ ہر قوم میں یہ خیال پایا جاتا ہے۔

ہر قوم میں خدا کا خیال ہونے پر اعتراض

اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ بیشک خدا کے ماننے کا عام خیال پایا جاتا ہے مگر کوئی دو خیال آپس میں متفق دکھا دو۔ ایک اگر کہتا ہے کہ ایک خدا ہے تو دوسرا کہتا ہے دو ہیں، تیسرا کہتا ہے تین ہیں، چوتھا کہتا ہے لاکھوں کروڑوں ہیں، پانچواں کہتا ہے ہر چیز خدا ہے، ایک وشنو اور شِو کو خدا مانتے ہیں، دوسرے ایک نُور کا اور ایک تاریکی کا خدا مانتے ہیں غرض جتنے منہ اتنی باتیں ہیں اس سے معلوم ہوا کہ یہ خیال یقین کی بناء پر نہیں بلکہ وہم ہے ۔

جواب

اس کے متعلق ہم کہتے ہیں۔ اس خیال کا وہ حصہ جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جتنے منہ اتنی باتیں وہ باطل ہے۔ مگر جس حصہ کو سارے کے سارے مان رہے ہیں وہ کیوں باطل قرار دیا جائے۔ سارے کے سارے یہ تو کہتے ہیں کہ خدا ہے سہی۔ اس کے آگے جو کچھ کہتے ہیں اس کے متعلق ہم کہیں گے کہ ان کی یہ تشریحیں غلط ہیں اور خدا ہے والا خیال درست ہے۔ جیسے ایک شخص کہے کہ مَیں نے دس سوار دیکھے، دوسرا کہے مَیں نے بیس دیکھے، تیسرا کہے مَیں نے پچیس دیکھے تو کیا یہ کہیں گے کہ کسی نے ایک بھی سوار نہیں دیکھا۔ اگر انہوں نے فریب اور شرارت نہیں کی اور دھوکا بنا کر نہیں لائے تو یہی کہا جائے گا کہ سوار تو ضرور تھے آگے گننے اور اندازہ لگانے میں ان کو غلطی لگ گئی۔ اسی طرح دنیا کی مختلف قوموں کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ اگر ان کی شرارت نہیں اور وہ دھوکا نہیں دیتے تو بات یہی ہے کہ انہوں نے خدا کے متعلق دیکھا کچھ ضرور ہے مگر بھول جانے کی وجہ سے بعد میں کچھ سمجھنے لگ گئے ہیں۔ ورنہ یہ غیر ممکن ہے کہ ہزاروں قومیں سینکڑوں ملکوں میں رہنے والی جن میں سے بعض کو آپس میں ملنے کا بھی کبھی اتفاق نہیں ہوا سب کی سب ایک زبان ہو کر اس امر کا اقرار کرنے لگیں کہ اس مخلوق کا ایک خالق ہے یہ اتفاق اور اتحاد بلا کسی قوی وجہ کے بالکل ناممکن ہے۔

ہستی باری کی دوسری دلیل

دوسری دلیل جو خدا تعالیٰ کی ہستی کے متعلق قران کریم نے دی ہے۔ یہ ہے قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ(الاخلاص: ۲) کہو خدا ہے اور ہے بھی ایک۔ اس آیت میں جو یہ دو دعوے کئے گئے ہیں کہ (۱) خدا ہے اور (۲) ایک ہے۔ ان میں سے پہلے کا ثبوت تو یہ دیا کہ اَللّٰہُ الصَّمَدُ(112:3) اور دوسرے کے دو ثبوت دیئے کہ (۱) لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَلَمۡ یُوۡلَدۡ(112:4) (۲) وَلَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ(112:5)۔ شرک دو قسم کا ہے ایک تو یہ کہ کئی وجود خدا کی حیثیت رکھنے والے ہوں چاہے اس سے چھوٹے ہوں یا بڑے۔ دوسرے یہ کہ خدا کے سوا باقی ہو تو مخلوق ہی مگر اسے خدائی کا درجہ دیا گیا ہو تو ایک شرک فی الذات ہے اور دوسرا شرک فی الصفات۔ مذکورہ بالا آیات میں اللہ تعالیٰ نے تینوں امور کا ثبوت دیا ہے اوّل خدا کی ذات کا۔ دوسرے خدا کے واحد فی الذات ہونے کا۔ تیسرے واحد فی الصفات ہونے کا۔ چونکہ اس وقت میں اللہ تعالیٰ کے وجود کے متعلق بحث کر رہا ہوں اس لئے میں صرف اس آیت کو لیتا ہوں جس میں ہستی باری پر بحث ہے اور وہ اَللّٰہُ الصَّمَدُ(112:3) کے الفاظ ہیں یعنی خدا اپنی ذات میں کامل ہے۔ صمد کے معنی ہوتے ہیں کہ وہ کسی کا محتاج نہ ہو اور باقی چیزیں اس کی محتاج ہوں۔ اب اس حقیقت کو دنیا میں دیکھو کس طرح واضح طور پر ہر جگہ اس کا ثبوت ملتا ہے۔ دنیا کی کوئی چیز نہیں جو اپنی ذات میں کامل ہو ہر چیز اپنے وجود کے لئے دوسری اشیاء کی محتاج ہے اور بغیر ان کے قائم نہیں رہ سکتی۔

خدا کے سوا ہر چیز دوسری کی محتاج ہے

ELEMENTS کے باریک سے باریک ذرات کی طرف چلے جاؤ۔ ہر ایک ذرہ کا دوسرے ذرہ پر اثر پڑ رہا ہے۔ کہیں نور کا اثر ہو رہا ہے۔ کہیں ایتھر کا اثر ہو رہا ہے۔ انسان کامل چیز سمجھی جاتی ہے لیکن یہ پانی روٹی اور ہوا کا محتاج ہے۔ سورج ہے جو گیس کا محتاج ہے۔ اپنے حجم کو قائم رکھنے کے لئے دوسرے سیاروں سے مواد لینے کا محتاج ہے اور بیسیوں اشیاء کا محتاج ہے۔ زمین ہے تو وہ اپنے وجود کے قیام کے لئے کہیں دوسرے ستاروں کی کشش کی کہیں کرہ ہوا کی۔ ایتھر کی۔ نئے مادہ کی محتاج ہے۔ غرض کسی بڑی سے بڑی چیز کو لیکر باریک در باریک کرتے جاؤ تو محتاج ہی محتاج ثابت ہوگی۔ پس جب ہر چیز جو ہمیں دُنیا میں نظر آتی ہے وہ اپنے وجود کے لئے دوسری اشیاء کی محتاج ہے اور یہ احتیاج بتا رہی ہے کہ دنیا کا کارخانہ اپنی ذات میں قائم نہیں بلکہ اس کا چلانے والا کوئی اور ہے کیونکہ محتاج الی الغیر چیز اپنی خالق آپ نہیں ہو سکتی نہ ہمیشہ سے ہو سکتی ہے۔

کوئی کہہ سکتا ہے کہ چیزوں کی یہ احتیاج موجودہ تحقیقات کی رو سے ہے جب تحقیقات مکمل ہو جائیں گی تو شاید ثابت ہو جائے کہ بحیثیت مجموعی دُنیا کسی کی محتاج نہیں۔ اول تو اس کا یہ جواب ہے کہ شاید نئی تحقیق سے دنیا کی احتیاج اور بھی واضح ہو جائے اور اس کے خالق کا وجود اور بھی زیادہ روشن ہو جائے پس یہ کوئی اعتراض نہیں۔ اس وقت تک تحقیقات کے کئی دور بدلے ہیں مگر یہ مسئلہ زیادہ سے زیادہ قائم ہوا ہے کبھی اس کے خلاف کوئی بات ثابت نہیں ہوئی پس ہر جدید تحقیق کے بعد اس اصل کا اور بھی زیادہ پختہ ہو جانا ہی اس امر کا ثبوت ہے کہ آئندہ تحقیق اسے باطل نہیں کرے گی بلکہ ثابت کرے گی۔ لیکن اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ کوئی ایسا ذرہ معلوم ہو جائے جو اپنی ذات میں کامل ہو تو پھر بھی اس کے جوڑنے جاڑنے والے کی ضرورت رہے گی لیکن درحقیقت یہ عقلاً محال ہے کہ کوئی ذرہ اپنی ذات میں کامل ہو بغیر بالا رادہ ہستی کے اور قادرِ مطلق وجود کے یہ طاقت کسی میں نہیں پائی جا سکتی۔

پھر یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ مادہ جسے اپنی ذات میں مکمل قرار دیا جائے اس کے لئے دوسری شکل اختیار کرنا ناممکن ہے۔ کیونکہ تغیر دوسری شئے سے ملنے سے ہوتا ہے اور ملنے کی طاقت اس میں ہوتی ہے جو نامکمل ہو کامل شئے چونکہ تغیر قبول نہیں کرتی وہ کسی اور چیز سے حقیقی طور پر مل بھی نہیں سکتی۔ اس کا ملنا ایسا ہی ہو سکتا ہے جس طرح کہ کھانڈ کے ذرے آپس میں ملکر پھر کھانڈ کی کھانڈ ہی رہتے ہیں۔ پس اگر ایسا کوئی ذرہ فی الواقع ہے تو یہ دنیا اس سے پیدا ہی نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ دنیا تو بے تعداد تغیرات کا مقام ہے۔ غرض کائناتِ عالم پر غور کرنے سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہاں کی ہر چیز تغیر پذیر ہے اور اپنی ہستی کے قیام کے لئے دوسروں کی محتاج اس لئے کسی ایسی ہستی کا ماننا جو ان محتاج ہستیوں کو وجود میں لانے والی ہو اور ایک قانون کے ماتحت چلانے والی ہو ضروری ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایک مخفی طاقت سے یہ سب کچھ ہوتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ وہ مخفی طاقت بالاِرادہ ہے یا بلا ارادہ۔ اگر بلا ارادہ ہے تو وہ خود دوسری چیزوں سے پیدا ہوتی ہے کیونکہ تمام طاقتیں دوسری چیزوں کی حرکت یا باہمی ترکیب سے پیدا ہوتی ہیں اور اگر بالاِرادہ ہے تو ہمارا دعویٰ ثابت ہے۔ ہم بھی تو ایسی ہی طاقت کو منوانا چاہتے ہیں غرض کہ اَللّٰہُ الصَّمَدُ(112:3) میں خدا تعالیٰ کے وجود کی ایک نہایت عجب دلیل دی گئی ہے۔

تیسری دلیل مسئلہ ارتقاء

وہ مسئلہ جو خدا کے وجود کے خلاف سب سے زیادہ پیش کیا جاتا ہے ارتقاء کا مسئلہ ہے یعنی یہ دنیا جو ہمیں نظر آتی ہے پہلے دن سے اسی طرح نہیں چلی آئی بلکہ پہلے باریک ذرات تھے جو لاکھوں سال بعد ایک سے دو ہوئے، دو سے تین، پھر چار، پانچ حتّٰی کہ اس طرح بڑھتے گئے۔ ادھر نباتات اور حیوانات میں اسی طرح آہستہ آہستہ ترقی ہوتی گئی۔ جو بہتر نسل تھی وہ اور زیادہ بہتر پیدا کرتی گئی حتّٰی کہ بندر بن گیا اور پھر اس سے اوپر بعض اور جانور اور پھر ان سے آدمی بنے۔ ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ بندر سے انسان بنے مگر ہمیں قرآن کریم یہ ضرور بتاتا ہے کہ دنیا کی پیدائش تدریجی تغیر کے ساتھ ہوئی ہے۔ قرآن کریم اس تغیر کے متعلق جو کچھ بتاتا ہے اس کی مثال پہاڑوں سے دی جا سکتی ہے۔ پہاڑ کو جہاں بھی دیکھو گے اس کا ایک سلسلہ نظر آئے گا۔ پہلے چھوٹا ٹیلا آتا ہے پھر اس سے اونچا پھر اس سے اونچا اور جب اونچائی انتہاء کو پہنچ جاتی ہے تو پھر چوٹیاں نیچی ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ آہستہ آہستہ اونچائی بہت کم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد پھر وہ اونچی ہونی شروع ہو جاتی ہیں پھر نیچی ہونے لگتی ہیں۔ حیوانات کی پیدائش میں بھی اس قسم کا ارتقاء ضرور ہوا ہے یعنی قبض اور بسط کی تدریجی روئیں دُنیا میں ضرور چلی ہیں۔ یہ نہیں کہ ایک ہی دن میں سب چیزیں پیدا ہو گئیں یا یہ کہ ایک ہی دن میں ایک شئے پیدا ہو گئی سب چیزیں بھی تدریجاً پیدا ہوئیں اور ہر ایک چیز بھی آہستہ آہستہ ہی کامل ہوئی۔ پس یہ ٹھیک ہے کہ دُنیا میں زندگی کی مختلف رُوئیں چلی ہیں۔ پہلے چھوٹی پھر اس سے بڑی پھر اس سے بڑی۔ مگر یہ سب اپنی اپنی جگہ مستقل رُوئیں تھیں۔ یہ نہیں تھا کہ ایک ہی رو ترقی کرتے کرتے مختلف شکلیں اختیار کر گئی۔ غرض پہلے نہایت ادنیٰ قسم کی مخلوق بنی پھر اس سے اعلیٰ بنی پھر اس سے اعلیٰ۔ مگر یہ ترقی الگ الگ ہوئی اور مستقل طور پر۔ اور یہ غلط ہے کہ ایک ہی ادنیٰ حیوان سے ترقی کرتے کرتے تمام مخلوق بن گئی۔ بات یہ ہے کہ جب زمین اس قابل تھی کہ چھوٹے چھوٹے جاندار اس میں زندہ رہ سکیں اس وقت اس قسم کے جاندار اس میں پیدا ہوئے۔ جب زیادہ صفائی اس کی فضا میں پیدا ہو گئی تو زیادہ اعلیٰ قسم کے جاندار اس میں پیدا ہوئے یہاں تک کہ فضاء بالکل صاف ہو گئی اور اس میں انسان جو سب سے اعلیٰ جاندار تھا پیدا ہوا اور بالکل قرینِ قیاس ہے کہ انسان کی پیدائش کے بعد جس قسم کے جاندار ان سڑاندوں سے پیدا ہو سکتے تھے جو انسان ہی کی پیدائش کے بعد پیدا ہو سکتی تھیں انسان کی پیدائش کے بعد پیدا ہوئے۔ غرض آدمی بے شک ارتقاء کے اُصول کے ماتحت ہی پیدا ہوا ہے مگر ہر جنس کا ارتقاء مستقل تھا نہ کہ ایک چیز دوسری سے پیدا ہوئی۔ لیکن یہ نہیں کہ بندر سے انسان بنے بلکہ یہ کہ انسان انسان سے ہی بنے اور بندر بندر سے اور کتے کتے سے۔ مگر ہم کہتے ہیں خواہ کچھ مان لو اس ارتقاء کا مسئلہ سے دہریت باطل ہو جاتی ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ جو لوگ ادنیٰ جانوروں سے ترقی کر کے انسان کی پیدائش مانتے ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ پہلے کچھ حیوانات پیدا ہوئے پھر انہوں نے ترقی کی اور اَور پیدا ہوئے اور اس ترقی کے ساتھ ساتھ دماغ کی بھی ترقی ہوتی گئی حتیٰ کہ اعلیٰ درجہ کا انسان پیدا ہو گیا۔ اس پر آکر جسمانی ترقی تو بند ہو گئی لیکن انسانی دماغ کی ترقی جاری ہے۔ ہم کہتے ہیں یہی خدا کے ہونے کا ثبوت ہے۔ کیونکہ اگر نیچر ہی سب چیزوں کے پیدا کرنے والی ہوتی خدا نہ ہوتا تو جسمانی ترقی بھی جاری رہتی اور انسان سے آگے کچھ اور بنتا۔ مگر یہ ظاہر ہے کہ جسمانی تغیر بند ہو گیا ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں انسانی روح کو مضبوط اور ترقی یافتہ بنانے کا سلسلہ جاری ہو گیا ہے کون سی عقل اس امر کو تسلیم کر سکتی ہے کہ نیچر ایک مقصد قرار دیتی ہے اور اس مقصد کے حصول پر اپنا راستہ بدل دیتی ہے۔ انسان کی پیدائش پر ارتقاء جسمانی کا سلسلہ بند ہو جانا اور عقلی اور ذہنی ترقی کا سلسلہ رک نہ جانا بتاتا ہے کہ اس تمام

ارتقاء کا بانی اور اس کا ملانے والا کوئی ایسا وجود ہے جس نے اس تمام دنیا کو ایک خاص غرض اور مقصد کے لئے پیدا کیا ہے جب وہ مقصد پورا ہو گیا تو ارتقاء کی لہریں جو جاری تھیں اس نے بند کر دیں۔ اگر خدا تعالیٰ نہیں تو چاہئے تھا کہ انسان کی پیدائش کے بعد بھی برابر مخلوقات میں تبدیلی ہوتی رہتی اور نئے سے نئے حیوانات پیدا ہوتے رہتے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جب وہ حیوان پیدا ہو گیا جس کا ذہن اس قابل تھا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر جذب کر سکے اور روحانی ترقیات حاصل کر سکے تو ارتقاء کی لہر بالکل پلٹ گئی اور بجائے جسمانی ترقی کے خالص ذہنی ترقی شروع ہو گئی گویا مقصود پورا ہو گیا اور اب جسمانی ارتقاء کی ضرورت نہ رہی جس کے ذریعہ سے ایک جنس سے دوسری جنس پیدا کی جائے۔ چنانچہ اس تغیر کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاً انسان کے بچپن کا عرصہ غیر معمولی طور پر لمبا کر دیا گیا اور اس کی وجہ یہی ہے کہ انسان کی پیدائش کی غرض چونکہ علوم کا حصول ہے جو لمبی تربیت کو چاہتا ہے اس لئے اس کے لئے بچپن کا زمانہ بھی لمبا بنایا گیا ہے تا وہ دیر تک ماں باپ کا محتاج رہے اور ان کے ساتھ رہنے پر مجبور ہو اور ان کے علم اور تجربہ کو ان کی صحبت میں سیکھے اور ان کی تربیت سے فائدہ حاصل کرے۔ اگر انسان بندر سے ترقی کر کے ایک اندھی نیچر کے قوانین کے ذریعہ سے بنا تھا تو کیا وجہ کہ بندر اور اس سے اوپر کے ترقی یافتہ جانوروں کے بچپن کا زمانہ جبکہ بہت ہی چھوٹا تھا اور پیدا ہوتے ہی چلنے کے قابل ہو جاتے تھے اور چھ سات ماہ میں اپنے بچاؤ اور حفاظت کا سامان مہیا کرنے کے قابل ہو جاتے تھے تو انسان کے لئے یہ نئی بات پیدا ہوئی کہ وہ چھ سات ماہ تک ایک قدم اُٹھانے کے قابل نہیں ہوتا۔ پھر آہستہ آہستہ ترقی کرتا ہے اور چودہ پندرہ سال تک ماں باپ کی مدد اور اعانت کا محتاج رہتا ہے۔ یہ بچپن کے زمانہ کی لمبائی ان مجبوریوں کی وجہ سے نہیں ہے جو ارتقاء کے مسئلہ کے لازمی نتیجہ میں ہو کہ ہم اسے اس کی طرف منسوب کر دیں بلکہ یہ اس علمی ترقی کی وجہ سے ہے جس کے لئے انسان میں مخفی قوتیں رکھی گئی ہیں پس یہ امر ایک بالا رادہ قادر ہستی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے نہ کہ ارتقاء کی عام رَو کی طرف۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسان کے دانت اس قسم کے اس لئے ہو گئے کہ اس کی غذا مختلف قسم کی تھی۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ انسان کی دُم اس لئے نہیں رہی کہ وہ بیٹھنے کا عادی ہے (گو یہ ایک بیہودہ دلیل ہے) یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس کی اُنگلیوں کی شکل اس لئے بدل گئی کہ وہ اس قسم کا کام نہیں کرتا تھا جو دوسرے جانوروں کو کرنا پڑتا ہے۔ مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا بچپن کا زمانہ لمبا کیوں ہو گیا کیونکہ یہ تغیر مادی اسباب کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ایک آئندہ پیش آنیوالے مقصد کے پورا کرنے کے لئے ہے اور آئندہ ضرورت کو اور پھر علمی ضرورت کو صرف با لارادہ ہستی ہی پورا کر سکتی ہے۔ اس جگہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ انسان کا بچہ چونکہ دیر میں علوم سیکھتا ہے اور حیوان کا بچہ جلدی سیکھ لیتا ہے اس لئے انسان کی بچپن کی عمر لمبی ہوتی ہے اور حیوان کی چھوٹی کیونکہ اوّل تو یہ ارتقاء کے خلاف ہے۔ اگر ارتقاء کا مسئلہ درست ہے اور حیوان ہمیشہ ذہنی ترقی کی طرف قدم مارتا رہا ہے تو چاہئے کہ انسان کا بچہ جلدی سیکھے اور حیوان کا دیر میں لیکن اگر اس وجہ کو فرضاً درست بھی سمجھ لیا جائے تو بھی یہی ماننا پڑے گا کہ دنیا کا پیدا کرنے والا ایک علیم و حکیم وجود ہے۔ کیونکہ نیچر اس امر کا فیصلہ کیا کر سکتی ہے کہ کون علم جلدی سیکھتا ہے اور کون دیر میں؟ یہ کام تو ایک با لارادہ اور علیم و حکیم ہستی ہی کر سکتی ہے۔

دُنیا کس طرح پیدا ہوئی؟

اب میں پیدائش عالم کے متعلق قرآنی اصل بیان کرتا ہوں۔ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ یہ بتاتے ہوئے کہ دُنیا کو اس نے کس طرح پیدا کیا فرماتا ہے۔ قُلۡ اَئِنَّکُمۡ لَتَکۡفُرُوۡنَ بِالَّذِیۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ فِیۡ یَوۡمَیۡنِ وَتَجۡعَلُوۡنَ لَہٗۤ اَنۡدَادًا ؕ ذٰلِکَ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ وَجَعَلَ فِیۡہَا رَوَاسِیَ مِنۡ فَوۡقِہَا وَبٰرَکَ فِیۡہَا وَقَدَّرَ فِیۡہَاۤ اَقۡوَاتَہَا فِیۡۤ اَرۡبَعَۃِ اَیَّامٍ ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیۡنَ ثُمَّ اسۡتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ وَہِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَہَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِیَا طَوۡعًا اَوۡ کَرۡہًا ؕ قَالَتَاۤ اَتَیۡنَا طَآئِعِیۡنَ فَقَضٰہُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِیۡ یَوۡمَیۡنِ وَاَوۡحٰی فِیۡ کُلِّ سَمَآءٍ اَمۡرَہَا ؕ وَزَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡیَا بِمَصَابِیۡحَ ٭ۖ وَحِفۡظًا ؕ ذٰلِکَ تَقۡدِیۡرُ الۡعَزِیۡزِ الۡعَلِیۡمِ(حمٰ السجدۃ : ۱۰ تا ۱۳) فرماتا ہے۔ ایک غالب اور علیم خدا جس کو پتہ تھا کہ وہ کیا کرنے لگا ہے اور کیا کرنا چاہئے اس نے اس دُنیا کو پیدا کیا۔ اے منکرو! تم تو اس خدا کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو وقتوں میں پیدا کیا ہے۔ اور تم اس کے شریک قرار دیتے ہو۔ وہ تو سب جہانوں کو آہستہ آہستہ نشو و نما دیگر کمال تک پہنچانے والا ہے اور اس نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ بلند کئے۔ یورپ کی تحقیقات کہتی ہیں کہ شروع میں پہاڑ نہیں تھے بعد میں بنے۔ اور قرآن مجید بھی یہی کہتا ہے کہ خدا نے پہلے زمین بنائی پھر اس پر پہاڑ بنائے جو کہ زندگی کے لئے ضروری تھے۔ پھر فرماتا ہے وَ بٰرَكَ فِيْهَا اور ہم نے اس زمین میں برکت دی۔ برکت کے معنی زیادتی ،

صلاحیت اور پاکیزگی کے ہوتے ہیں پس اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم نے اس میں نہ ختم ہونے والے ذخیرے پیدا کئے اور اسے پاک کیا۔ گویا دو خوبیاں اس میں رکھیں ایک تو اس میں کثرت سے ایسے سامان پیدا کئے جو آئندہ استعمال ہونے والے تھے چنانچہ سمندروں کی خلق سے اور بعض اندرونی اور بیرونی تغیرات کے قوانین کے ذریعہ سے زمین کے ذخائر میں ایسی کثرت پیدا ہو گئی ہے کہ نہ پانی ختم ہوتا ہے نہ غذا اور نہ دوسری ضروری اشیاء۔ دوسرے معنی بٰرَكَ کے پاکیزہ کر دینے کے ہیں پس اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اسی وقت اس کی فضاء میں ایسی صفائی اور پاکیزگی پیدا کی گئی کہ جس کے ذریعہ سے اس میں جاندار اشیاء کا رہنا ممکن ہو گیا۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ ہم نے اس میں غذائیں پیدا کیں یعنی نباتات و حیوانات پیدا ہوئے جو بوجہ سانس پر زندہ رہنے کے جَوّ کی صفائی کے محتاج تھے اور اس وقت تک پیدا نہیں کئے جا سکتے تھے جب تک کہ پہلے جَوّ کی صفائی نہ ہو جائے اور فرماتا ہے کہ یہ سب کچھ چار اوقات میں ہوا۔ پھر وہ رُوحانی سلسلہ پیدا کیا گیا۔ جو پیدائش کا موجب تھا اور جس کا مظہر انسان ہے اور اس میں انسان کی روحانی ترقیات کے سامان پیدا کئے گئے اور ان کی حفاظت کا انتظام کیا گیا۔ غرض قرآن کریم بتاتا ہے کہ دُنیا کے پیدا کرنے میں تدریجی ترقی کو مدّنظر رکھا گیا ہے پہلے آسمان، زمین، نباتات اور جانوروں کو پیدا کیا گیا۔ ان تمام تغیرات کے بعد جو لاکھوں بلکہ کروڑوں سالوں میں ہوئے انسانوں کو پیدا کیا گیا۔ اسی لئے فرشتوں نے کہا کہ بھیڑ، بکری، گھوڑے، اونٹ وغیرہ تو فساد نہیں کرتے۔ انسان کہیں گھوڑے کی سواری کرے گا کہیں کسی سے کچھ کام لے گا اور کسی سے کچھ اور اس طرح فساد ہوگا۔ تو دلیل ارتقائی جس کو خدا کی ہستی کے رد میں پیش کیا جاتا ہے وہی خدا کی ہستی کا ایک بیّن اور روشن ثبوت ہے۔ چنانچہ ایک دوسری جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَسَخَّرَ لَکُمۡ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا مِّنۡہُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ(الجاثیۃ: ۱۴) اے انسانو! سوچو تو کہ زمین اور آسمان کے درمیان جو چیزیں بھی ہیں یہ سب تمہارے نفع کے لئے کام میں لگی ہوئی ہیں۔ پھر اس امر پر غور کر کے کیا تم اس نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے کہ ایک بالا رادہ ہستی نے یہ سب کچھ ایک پہلے سے تجویز کردہ سکیم کے مطابق کیا ہے۔

منکرین خدا کے مسئلہ ارتقاء پر اعتراض

جس رنگ میں منکرین خدا ارتقاء کو مانتے ہیں اس پر کئی اعتراض وارد ہوتے ہیں اور وہ

یہ کہ تم کہتے ہو کہ انسان کے پیدا ہو جانے کے بعد پھر کوئی تغیّر نہیں ہوا اس کی کیا وجہ ہے؟ وہ کہتے ہیں تغیر کے لئے بڑے لمبے زمانہ کی ضرورت ہے اور انسان پر چونکہ ابھی اتنا زمانہ نہیں گزرا جو تغیر کے لئے ضروری ہے اس لئے اس میں تغیر نہیں ہوا۔ مگر ہم کہتے ہیں موجودہ زمانہ کٹ کر شروع ہوا ہے یا وہی چلا آرہا ہے جو پہلے شروع ہوا تھا اگر وہی چلا آرہا ہے تو اگر فرض کرو چھ ہزار سال کے بعد بندر انسان بن گئے تھے تو بندروں کے انسان بننے کے زمانہ پر چھ ہزار سال گزرنے پر اب کیوں بندر انسان نہیں بنے؟

اس کے مقابلہ میں ہم کہتے ہیں کہ انسان بننے کے بعد اس کی عقلی اور ذہنی ترقی ہوتی جارہی ہے اور جس قسم کا ارتقاء ہم تسلیم کرتے ہیں اس کے مطابق کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔

دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر کامل وجود پیدا ہو جانے کی وجہ سے ترقی رُک گئی ہے۔ تو ہم کہتے ہیں اگر اس کا یہ مطلب ہے کہ سب حیوانات بدل کر کامل انسان بن گئے ہیں تو یہ غلط ہے۔ ہر قسم کے جانور اب تک موجود ہیں اس لئے وہ تغیر جاری رہنا چاہئے ۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ اب چونکہ بہتر مخلوق پیدا ہو گئی ہے اس لئے تغیر کی ضرورت نہیں تو ہم کہتے ہیں کہ ضرورت نہیں کے الفاظ ہی بتا رہے ہیں کہ کسی بالا رادہ ہستی نے ایک مقصد کے لئے دنیا کو پیدا کیا تھا جب وہ مقصد پورا ہو گیا تو ایسے تغیرات جو اس مقصد کے حصول کے لئے ضروری تھے انہیں ترک کر دیا گیا ہے اور یہی دلیل ہستی باری کو ثابت کرتی ہے۔

چوتھی دلیل سبب اور مسبّب کی

چوتھی دلیل ہستی باری تعالیٰ کے متعلق سبب اور مسبّب کی ہے جو عام طور پر استعمال کی جاتی ہے اور جسے ایک ان پڑھ آدمی بھی سمجھ سکتا ہے اس لئے بہت کارآمد ہے۔ کہتے ہیں کسی فلاسفر کو کوئی ان پڑھ زمیندار مل گیا وہ بدوی تھا فلاسفر نے اس سے پوچھا کہ کیا تم خدا کو مانتے ہو؟ اس نے کہا ہاں مانتا ہوں۔ فلاسفر نے کہا خدا کے ہونے کی تمہارے پاس کیا دلیل ہے؟ اس نے کہا اَلْبَعْرَةُ تَدُلُّ عَلَی الْبَعِیْرِ وَ اٰثَارُ الْاَقْدَامِ عَلَی السَّفِیْرِ وَالسَّمَاءُ ذَاتُ الْبُرُوْجِ وَالْاَرْضُ ذَاتُ الْفِجَاجِ کَیْفَ لَا تَدُلُّ عَلَی اللَّطِیْفِ الْخَبِیْرِ جب جنگل میں مینگنی کو دیکھ کر اونٹ کا پتہ لگایا جاتا ہے اور پاؤں کے نشانات سے چلنے والے کا۔ تو یہ ستاروں والا آسمان اور یہ زمین جس میں راستے بنے ہوئے ہیں۔ ان کو دیکھ کر کیوں نہ سمجھوں کہ خدا ہے؟

یہ دلیل جو ایک بدوی نے دی پہلے لوگوں کی عقل یہاں تک ہی پہنچی ہے۔ دُنیا ایک بڑا مقام ہے جس کے پیدا کرنے والا کوئی ہونا چاہئے۔ یہ خیال ان کے لئے کافی تھا۔ یہ دلیل گو ہے تو صحیح مگر اس پر اعتراض بھی بہت سے پڑتے ہیں لیکن چونکہ عام دلیل ہے اور حقیقتاً صحیح ہے اس لئے قرآن کریم نے بھی اس دلیل کو لیا ہے۔ جیسا کہ آتا ہے اَفِی اللّٰہِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ(ابراہیم: ۱۱) اے لوگو! کیا تمہیں اس خدا میں شک ہے جس نے آسمانوں اور اس زمین کو پیدا کیا ہے؟ گو یہ دلیل عام ہے لیکن تعجب ہے کہ سب سے زیادہ اس پر لوگ اعتراض جماتے ہیں اور بالکل ممکن ہے کہ اعتراضوں کی کثرت کا موجب اس کا عام ہونا ہی ہو۔

پیدائش دنیا کے متعلق لوگوں کے خیال

جن لوگوں نے حقیقتِ عالم پر غور کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ دُنیا کو دیکھ کر خدا کی ہستی کا نتیجہ نکالنا درست نہیں پہلے سب قسم کے خیالات کو لینا چاہئے جو دُنیا کے وجود میں آنے کے متعلق پیدا ہو سکتے ہیں پھر ان کا موازنہ کر کے نتیجہ نکالنا چاہئے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں دُنیا کی ابتداء کے متعلق تین خیال پیدا ہو سکتے ہیں۔ ۱۔ یہ کہ دنیا آپ ہی آپ ہمیشہ سے چلی آرہی ہے۔ ۲۔ یہ کہ دُنیا نے اپنے آپ کو آپ پیدا کیا۔ ۳۔ یہ کہ کسی نے دُنیا کو پیدا کیا۔ پہلے خیال کے یہ معنی ہوئے کہ دُنیا کو پیدا کرنے والا کوئی نہیں ہمیشہ سے آپ ہی آپ چلی آرہی ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکلے گا کہ غیر محدود زمانہ کو ماننا پڑے گا اور یہ انسانی عقل کے لئے محال ہے کیونکہ غیر محدود محدود میں نہیں سما سکتا۔ دوسرا خیال کہ دُنیا نے خود اپنے آپ کو پیدا کیا یہ بھی انسانی دماغ میں نہیں آسکتا۔ کیونکہ اگر اس بات کو تسلیم کیا جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ کسی مخفی ضرورت یا خواہش کے ماتحت ممکن الوجود نے وجود کا جامہ پہن لیا اور اس بات کا تسلیم کرنا ناممکن ہے۔ کیونکہ اس صورت میں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ کوئی چیز طاقتِ خلق بالقوۃ رکھتی تھی پھر وہ بالفعل ظاہر ہوگئی اور اگر اس بات کو مانا جائے تو دو سوال پیدا ہو جاتے ہیں۔ پہلا سوال یہ کہ جو چیز اپنے اندر ظہور کی طاقت رکھتی تھی۔ اگر وہ کوئی چیز تھی تو دنیا کی پیدائش کی

حقیقت پھر بھی حل نہ ہوئی۔ کیونکہ یہ سوال پھر بھی باقی رہے گا کہ وہ چیز کس طرح پیدا ہوئی؟ اور دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ مخفی ضرورت یا خواہش کے ماتحت اس نے آپ کو ظاہر کر دیا وہ ضرورت یا خواہش کس نے پیدا کی۔ اگر اس کا کوئی اور خالق تھا تو اسے کس نے پیدا کیا تھا اور اگر نہیں تھا تو وہ پیدا کیونکر ہو گئی۔ اگر کہو کہ آپ ہی آپ۔ تو پھر دُنیا کے متعلق ہی کیوں نہ مان لیا جائے کہ وہ آپ ہی آپ پیدا ہو گئی ہے۔ اگر کہیں کہ پہلی حالت عدم کی تھی نہ کہ وجود کی اس لئے اس کے پیدا کرنے سے سلسلہ سوالات نہیں چلتا تو یہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ اگر ظہور کی مخفی طاقت عدم میں تھی تو ماننا پڑے گا کہ عدم دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ عدم جس میں ظاہر ہونے کی قابلیت ہوتی ہے اور ایک وہ جس میں یہ قابلیت نہیں ہوتی لیکن انسانی ذہن اس امر کو تسلیم نہیں کر سکتا کیونکہ اگر جو چیز محض عدم ہو اس میں کوئی طاقت خواہ مخفی ہو خواہ ظاہری رہ نہیں سکتی۔

تیسرا خیال یہ ہے کہ دنیا کو کسی اور وجود نے پیدا کیا ہے اور یہی خیال مذہبی لوگوں اور فلاسفروں کا ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ دنیا ایک صفت کی طرح ہے مگر یہ خیال بھی درست نہیں کیونکہ

(۱) دُنیا صفت نہیں بلکہ اس میں ایک ارتقاء ہے ایک چیز ہمیں نظر آتی ہے جو برابر ترقی کرتی جاتی ہے۔ پس اسے صفت قرار دینا بالکل غلط ہے صفت تو وہ تب ہوتی اگر یکدم بنتی۔ لیکن جبکہ وہ بعض قوانین کے مطابق ترقی کرتے کرتے اس حالت کو پہنچی ہے تو معلوم ہوا کہ وہ آپ ہی آپ ہے۔ کسی اور ہستی کی پیدا کردہ نہیں ہے۔

(۲) پھر یہ سوال ہے کہ اس نے اس دنیا کو کس چیز سے پیدا کیا ہے؟ صناع لوہے چاندی کی چیزیں تو بنا سکتا ہے مگر وہ لوہا۔ چاندی نہیں بنا سکتا۔ پھر اس دُنیا کو کس چیز سے بنایا؟ اگر مصالحہ پہلے سے موجود تھا تو پھر وہی اعتراض موجود ہے کہ وہ کیونکر بنا؟ اور اگر وہ آپ ہی آپ بنا ہوا تھا تو کیوں آپ ہی آپ جڑ نہیں سکتا تھا اور اگر اسے کسی اور ہستی نے پیدا کیا ہے تو اسے عقل تسلیم نہیں کرتی۔

(۳) فضاء کو بھی مخلوق ماننا پڑے گا کیونکہ اگر مادہ بعد میں پیدا ہوا ہے تو ضرور ہے کہ خلا بھی بعد کی ہی شئے ہو اور جہات بھی بعد کی مخلوق ہوں۔ مگر خلا سے خُلو اور جہات سے آزادی انسانی ذہن میں نہیں آسکتی۔

(۴) اسی طرح پھر یہ سوال بھی پیدا ہو گا کہ جس نے اس دُنیا کو پیدا کیا ہے اسے کس نے پیدا کیا ہے؟

(۵) پھر یہ سوال پیدا ہو گا کہ وہ محدود ہے کہ غیر محدود ہے جس طرح کہ مادے کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے اور دونوں جوابوں میں سے کوئی جواب بھی دیا جائے اس پر ایک لمبا چکر سوالوں کا شروع ہو جائے گا۔

(۶) پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ ہستی غنی ہے۔ اگر غنی نہ مانیں گے تو اس کے سوا اور وجود ماننے پڑیں گے اور اگر ہم غنی مانیں گے تو پھر اسے اندرونی تغیرات سے بھی محفوظ ماننا پڑیگا اور اگر اسے تغیرات سے محفوظ مانا جائے گا تو یہ بھی ماننا پڑیگا کہ وہ دُنیا کی علّت العلل بھی نہیں ہے اور اس صورت میں اسے وجود کے تصور کی بھی کوئی حاجت نہ رہے گی۔

پس یہ خیال بھی غلط ہوا لیکن چونکہ تینوں صورتیں جو دُنیا کی پیدائش کے متعلق ممکن تھیں ناممکن ثابت ہوئیں تو پھر ہمیں ماننا پڑے گا کہ ان ذہن میں نہ آنے والی صورتوں میں سے ایک نہ ایک درست ہے۔ اور چونکہ جو اعتراض سب صورتوں میں پڑتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ آپ ہی آپ کس طرح ہو گئیں۔ اس لئے باوجود اس اعتراض کے ایک نہ ایک صورت کو صحیح تسلیم کرنا ہو گا اور یہ ماننا ہو گا کہ گو یہ اعتراض پڑتا ہے مگر دنیا موجود ہے اور اس کے وجود میں کچھ شک نہیں اس لئے باوجود اس اعتراض کے دنیا کی پیدائش مذکورہ بالا صورتوں میں سے کسی ایک صورت سے ہوئی ہے اور اس نتیجہ پر پہنچ کر ہر ایک شخص کو یقین کرنا پڑے گا کہ وہ صورت اول ہی ہو سکتی ہے یعنی یہ کہ دنیا آپ ہی آپ ہمیشہ سے چلی آتی ہے۔ کیونکہ دوسری اور تیسری صورت میں بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کی علت آپ ہی آپ کیونکر ہو گئی۔ پس جب آگے چل کر پھر اس سوال سے واسطہ پڑنا ہے تو کیوں نہ تسلیم کر لیں کہ دنیا ہی خود بخود پیدا ہو گئی ہے۔

پیدائش دنیا پر لوگوں کے خیالات پر بحث

سب سے پہلے ان معترضین کے اس خیال کو میں رد کرنا چاہتا ہوں کہ خدا کا خیال اسی سبب سے پیدا ہوا کہ دُنیا کا خالق دریافت کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ خدا تعالیٰ کا وجود جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں الہام سے پیدا ہوا۔ پھر کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ایک طرف تو یہی معترضین کہتے ہیں کہ خدا کا خیال لمبے ارتقاء کے بعد پیدا ہوا ہے۔ پہلے تو انسانوں نے بعض چیزوں سے ڈر کر ان کے آگے ہاتھ جوڑنے شروع کئے تھے۔ آہستہ آہستہ خدا اور عبادت کا مسئلہ بن گیا اور دوسری طرف اس خیال کی ایک خالص فلسفیانہ وجہ بتائی جاتی ہے کہ اس کا خیال دنیا کی پیدائش کے سوال کے حل نہ ہونے کے سبب سے پیدا ہوا۔ حالانکہ دونوں خیال متضاد ہیں۔ اب میں معترضین کے مقرر کردہ اصول کو لیتا ہوں اور تسلیم کرتا ہوں کہ پہلی اور دوسری توجیہہ پر جو اعتراض کئے گئے ہیں ایک حد تک درست ہیں لیکن تیسری توجیہہ کے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے وہ محض ایک دھوکا ہے۔ کیونکہ جب کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کسی کی پیدا کردہ ہے تو اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ ایک مکان کی طرح بنائی گئی ۔ بلکہ اس سے مراد یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک مادہ پیدا کیا ۔ اور اس میں ایک قانون کو جاری کیا تا کہ اس کے مطابق وہ ترقی کرے پس ارتقاء ہر گز دُنیا کی پیدائش کے خیال کے مخالف نہیں بلکہ صانع کی نادر صنعت گری پر دلالت کرتا ہے اور ہر ٹکڑہ اس ارتقاء کا اپنے خالق پر دلالت کرتا ہے ۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ کسی اور کو خالق ماننے کی صورت میں یہ سوال پیدا ہو گا کہ اس نے مادہ کہاں سے لیا ؟ اس کا جواب میں آگے چل کر دوں گا ۔ فی الحال اتنا کہنا کافی ہے کہ اگر خدا کو نہ مانا جائے تو بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ مادہ کہاں سے آیا ۔ پس جب یہ سوال دنیا کو خود بخود مان کر بھی باقی رہتا ہے تو پھر یہ خدا کے وجود کے لئے بطور شبہ کے پیدا نہیں کیا جا سکتا ۔

رہا یہ سوال کہ فضاء کو کس نے پیدا کیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ وہمی وجود ہے جو ہمارے دماغ سے تعلق رکھتا ہے ۔ خدا سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ۔ فضاء اور جہات نسبتی امور ہیں اور ان کا تعلق یا مادہ سے ہے یا دماغ سے ۔ پس ان کی بحث خدا تعالیٰ کے سوال میں آ ہی نہیں سکتی ۔ اور یہ جو سوال ہے کہ خدا محدود ہے یا غیر محدود ۔ یہ لغو سوال ہے ۔ کیونکہ اگر یہ مانیں کہ دنیا آپ ہی آپ ہے تو یہ سوال دنیا پر بھی پڑے گا کہ وہ محدود ہے کہ غیر محدود اور دونوں ممکن صورتوں میں سے کسی ایک کو ماننا مشکل ہو گا اور اس پر بہت سے اعتراض پڑیں گے پس اگر دنیا کے آپ ہی آپ ہونے کی صورت میں بھی بلکہ قطع نظر اس کی ابتداء کے سوال کے اس کی موجودہ صورت میں بھی اس پر یہ اعتراض پڑتا ہے کہ وہ محدود ہے کہ غیر محدود ۔ جو دونوں صورتیں ناممکن ہیں تو پھر یہی سوال اگر خدا تعالیٰ کو مان کر پڑے تو اس میں کیا حرج ہے۔ ہم کہیں گے کہ دنیا کی پیدائش کی کوئی صورت بھی فرض کریں یہ اعتراض قائم رہتا ہے اس لئے معلوم ہوا کہ یہ اعتراض نہیں ہے بلکہ ایسا سوال ہے کہ جسے انسانی دماغ سمجھ ہی نہیں سکتا ۔ یا یہ کہ وہ نقطۂ نگاہ ابھی دریافت نہیں ہوا جس کی مدد سے اس سوال کو حل کیا جا سکے ۔ اور ان دونوں صورتوں میں اس دُنیا کا خالق کسی وجود کو ماننا خلافِ عقل نہیں کہلا سکتا ۔

اب میں چوتھے سوال کو لیتا ہوں کہ اگر اس دنیا کو خدا نے پیدا کیا ہے تو پھر خدا کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خیال کہ خدا کے پیدا کرنے والا بھی کوئی ہونا چاہئے مادی تجربات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ حالانکہ جو چیز غیر مادی ہو اس کے متعلق ہم مادی قوانین کو جاری نہیں کر سکتے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض صورتوں میں ایک مادی چیز کا قیاس دوسری مادی چیز پر بھی نہیں کیا جا سکتا۔ پس مادی چیز کا غیر مادی پر قیاس تو بالکل قیاس مع الفارق ہے۔ مثلاً پانی ہے اسے اگر گول برتن میں ڈالا جائے تو گول ہو جاتا ہے اور اگر چپٹے برتن میں ڈالا جائے تو چپٹا۔ اس پر قیاس کر کے اگر کوئی کہے کہ لوہا کیوں اس طرح نہیں ہوتا تو ہم اسے یہی کہیں گے کہ یہ قانون پانی کے لئے ہے لوہے کے لئے نہیں۔ یا اگر کوئی کہے کہ پانی اپنی ایک ہی شکل کیوں نہیں قائم رکھتا جس طرح لوہا رکھتا ہے تو اس سے بھی یہی کہا جائے گا کہ یہ بات لوہے سے تعلق رکھتی ہے پانی سے نہیں۔ پس جب ایک مادی چیز کا قیاس دوسری مادی چیز پر بھی نہیں کیا جا سکتا۔ تو ایک مادی چیز کو غیر مادی شئے پر کس طرح قیاس کر سکتے ہیں چونکہ دنیا میں ہمیں کوئی چیز ایسی نظر نہیں آتی جو آپ ہی آپ ہو۔ اس لئے ہم سمجھ لیتے ہیں کہ کوئی چیز آپ ہی آپ نہیں ہو سکتی ، لیکن جو اشیاء کہ مادی نہیں ہیں ان کے متعلق ہم کوئی ایسا قانون مادی اشیاء کی بناء پر نہیں بنا سکتے اور نہ ان کی کیفیت اور حقیقت ہمارے ذہن میں آ سکتی ہے۔ اگر ہم یہ مانیں کہ دُنیا آپ ہی آپ بن گئی ہے تو اس پر یہ سوال بے شک پڑیگا کیونکہ مادہ کے متعلق ہمیں تجربہ سے معلوم ہو چکا ہے کہ اس کے تغیرات یا اس کی پیدائش آپ ہی آپ نہیں ہوتے بلکہ سبب اور مسبب کا قانون اس پر حاوی ہے پس ہم یہ ہرگز نہیں مان سکتے کہ مادہ آپ ہی آپ ہو گیا یا یہ کہ مادہ سے آپ ہی دنیا بن گئی۔

آخری اعتراض کہ اگر کوئی اس دنیا کا پیدا کرنے والا ہے تو وہ غنی ہونا چاہئے اور اگر غنی ہے تو وہ علت کیونکر بنا۔ یہ سوال جس طرح خدا کے وجود پر پڑتا ہے اسی طرح دُنیا پر۔ کیونکہ اگر وہ محتاج ہے تو آپ ہی آپ کیونکر ہوئی ہے اور اگر غنی ہے تو اس میں تغیر کیونکر ہوا اور وہ اس شکل میں کس طرح بدل گئی اور اگر اس شکل کے باوجود دنیا کو آپ ہی آپ مانا جا سکتا ہے تو کیوں اس کا خالق ایک اور وجود کو نہیں مانا جا سکتا۔

دنیا کے بننے کا طریق نہ معلوم ہونے پر خدا کے ماننے کا فائدہ

یہاں پہنچ کر منکرین اور پہلو بدلتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اچھا چلو مان لیا کہ خدا ہے۔ مگر یہ بات کہ دنیا کس طرح بنی یہ تو حل نہ ہوا۔ پھر خدا کے ماننے کا کیا فائدہ ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ

۱۔ یہ اعتراض پیدا ہی ایک غلط خیال سے ہوا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تلاش اس لئے کی جاتی کہ تا معلوم ہو کہ دُنیا کیونکر پیدا ہوئی ۔ حالانکہ یہ درست نہیں۔

۲۔ اگر یہ درست بھی ہو کہ خدا تعالیٰ کے وجود کی تلاش صرف اس وجہ سے تھی کہ تا دُنیا کی پیدائش کی حقیقت معلوم ہو جائے تو پھر ہم کہتے ہیں کہ وہ سوال حل نہ ہوا تو نہ سہی ایک نئی حقیقت تو دنیا کو معلوم ہو گئی اور علم کی ترقی بہر حال مفید ہوتی ہے۔ اگر ایک سوال کے حل کرنے میں ہمیں ایک اور حقیقت معلوم ہو جائے تو کیا ہم اس حقیقت کو اس لئے ترک کر دیں گے کہ جس سوال کو ہم حل کر رہے تھے وہ حل نہیں ہوا۔

۳۔ جواب یہ ہے کہ ہم نے فرض کیا ہے کہ دنیا آپ ہی آپ آئی ہے۔ اس میں بھی تو یہ سوال حل نہ ہوا۔ اگر اب بھی نہ ہو تو کیا حرج ہے۔

۴۔ چوتھا جواب یہ ہے کہ انسان کو اسی علم کی ضرورت نہیں ہوتی کہ فلاں کام کس طرح ہوا بلکہ اس علم کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ فلاں کام کس نے کیا۔ پیشوں کے متعلق ہی دیکھ لو اگر ایک شخص خوبصورت چھتری دیکھتا ہے تو وہ یہی سوال نہیں کرتا کہ یہ کس طرح بنی بلکہ اکثر اوقات وہ یہ دریافت کرتا ہے کہ یہ کس نے بنائی ہے اور کہاں بنی ہے۔ اگر انسان کو ان دونوں سوالوں کا صحیح جواب مل جائے تو اوّل تو وہ بنانے والے کی قدر کر سکے گا۔ اور دوسرے اگر چھتری خریدنا چاہے گا تو چھتری خرید سکے گا۔ اسی طرح اگر یہ نہ معلوم ہو سکے کہ دنیا کیونکر بنی ہے اور یہی معلوم ہو جائے کہ کس نے بنائی ہے تو بھی یہ علم بہت مفید ہو گا۔ کیونکہ اگر یہ معلوم ہو جائے کہ اس دنیا کو خدا نے پیدا کیا ہے تو اس سے کئی راستے فکر کے نئے کھل جائیں گے مثلاً:

اوّل یہ کہ اگر ہم کو معلوم ہو جائے کہ یہ دُنیا خدا نے پیدا کی ہے تو ہم دیکھیں گے کہ آیا ہم اس سے کوئی فائدہ اٹھا سکتے ہیں یا نہیں؟

دوم۔ یہ کہ ہمیں جو تکالیف پہنچتی ہیں کیا اس کے ذریعہ ہم ان سے بچ سکتے ہیں یا نہیں۔

سوم یہ کہ اگر اس نے ہم کو پیدا کیا ہے تو کس لئے؟ اور کس مقصد سے؟ تاکہ ہم اپنی پیدائش کی غرض اور مقصد کو پورا کر سکیں۔

چہارم۔ ممکن ہے کہ اس کے ساتھ تعلق رکھنے سے ہمیں یہ بھی پتہ لگ جائے کہ دنیا کو اس نے کس طرح پیدا کیا ہے۔ کیونکہ کسی چیز کے بنانے والے سے تعلق رکھنے پر جو چیز اس نے بنائی ہو اس کی حقیقت کا بھی پتہ لگ جاتا ہے۔

یہ چار ایسے عظیم الشان سوال ہیں کہ ان کے حل ہونے پر ہماری حالت کچھ سے کچھ بن سکتی ہے۔

پس یہ کہنا کہ خدا کے ماننے سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے بالکل غلط اور باطل ہے

پانچویں دلیل۔دلیل انتظامی

اب میں پانچویں دلیل لیتا ہوں۔ پانچویں دلیل جس کو دلیل انتظامی کہنا چاہئے اور جو چوتھی دلیل کی ہی درحقیقت ایک ترقی یافتہ صورت ہے اور اس میں دنیا کے وجود سے کسی خالق پر استدلال نہیں کیا جاتا بلکہ دنیا کے انتظام سے خالق پر استدلال کیا جاتا ہے۔ دنیا کا انتظام ہستی باری تعالیٰ پر ایک بہت زبردست دلیل ہے۔ بیشک کوئی شخص فرض کرے کہ زمین اتفاقاً پیدا ہوگئی۔ لیکن اس کائنات میں اکیلا ہی کرّہ نہیں اس کے علاوہ اور بھی کرّے ہیں اور وہ سب الگ کام نہیں کر رہے بلکہ ایک قانون کے ماتحت اور تقسیم عمل کے ماتحت کام کر رہے ہیں۔ ایک چیز کے بغیر دوسری مکمل نہیں اور ایک کے کام میں دوسری دخل نہیں دیتی۔ یہ بھی فرض کرلو کہ انسان آپ ہی پیدا ہو گیا۔ مگر اس امر کو کس طرح فرض کر لیا جائے کہ انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی تمام عالم کو بھی اسی مناسبت پر پیدا کیا گیا ہے کہ وہ انسان کی ضروریات کو خواہ وہ کسقدر ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہوں پورا کر رہا ہے۔

پھر جزئیات کو لو۔ انسان کو پیدا کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی انسان کے ہاتھ ایسے ہیں جو لکھنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ انسان کو ایسا دماغ ملا تھا جو علم کو محفوظ کرنے کا خواہشمند تھا۔ اسے ہاتھ بھی ایسے دیئے گئے جو لکھنے کے لئے بہترین آلہ ہیں۔ اگر اتفاق سے انسان پیدا ہو گیا تھا تو چاہئے تھا کہ اسے دماغ تو وہ ملتا جو علم کے محفوظ رکھنے کا خواہش مند ہوتا۔ مگر ہاتھ مثلاً ریچھ کے سے ہوتے۔ دماغی ترقی کے بالکل مناسب حال جسمانی بناوٹ اسی طرح بدلتی گئی ہے کہ اس کا طبعی بناوٹ کی ضرورت یا عدم ضرورت کے ساتھ کچھ بھی تعلق نہیں یہ محض اتفاق کیونکر کہلا سکتا ہے؟ اسی طرح مثلاً انسان کو آنکھیں ملی ہیں تو دوسری طرف دیکھو کروڑوں کروڑ میل پر سورج بھی پیدا کیا گیا ہے جس کی روشنی میں یہ آنکھوں سے کام لے۔ انسان کی پیدائش کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے اسے اگر بیماری اور شفاء کا مورد بنایا گیا ہے تو ساتھ ہی سب بیماریوں کا علاج بھی مہیا کیا گیا ہے۔

آخر تمام عالم میں ایک نظام اور چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کے پورا کرنے کا سامان جو کروڑوں اشیاء کی پیدائش اور لاکھوں حالتوں میں واقعات کے مناسب بدل جانے والے قانون کو چاہتا تھا اتفاقاً کس طرح ہو سکتا ہے۔ انسانی دماغ اس کو یاد کس طرح کر سکتا ہے کہ اس قدر وسیع نظام آپ ہی آپ اور اتفاقاً ہو گیا۔ یہ نظام بغیر کسی بالا رادہ ہستی اور وہ بھی بغیر کسی عالم الغیب اور قادر ہستی کے کسی صورت میں بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ قرآن کریم نے اس دلیل کو بھی پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

تَبٰرَکَ الَّذِیۡ بِیَدِہِ الۡمُلۡکُ ۫ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرُ ۣالَّذِیۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡغَفُوۡرُ الَّذِیۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ؕ مَا تَرٰی فِیۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ؕ فَارۡجِعِ الۡبَصَرَ ۙ ہَلۡ تَرٰی مِنۡ فُطُوۡرٍ ثُمَّ ارۡجِعِ الۡبَصَرَ کَرَّتَیۡنِ یَنۡقَلِبۡ اِلَیۡکَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّہُوَ حَسِیۡرٌ(الملك: ۲ تا ۵) وہ خدا جس کے ہاتھ میں سب بادشاہت ہے۔ بہت برکت والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے جس نے موت وزندگی کو پیدا کیا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ کون اچھے عمل کرتا ہے اور وہ غالب اور بہت بخشنے والا ہے۔ وہ جس نے سات آسمان پیدا کئے جو ایک دوسرے کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ تو خدا کی پیدا کردہ چیزوں میں کوئی رخنہ نہیں دیکھے گا۔ اس امر کو دیکھ اور پھر اپنی نظر کو پھرا پھرا کر دیکھ۔ کیا تجھے کوئی بھی نقص نظر آتا ہے۔ (یعنی صحیح حاجت ہو اور اس کے پورا کرنے کا سامان نہ ہو) پھر دوبارہ اپنی نظروں کو چکر دے مگر وہ پھر بھی ناکام اور تھک کر واپس آجائیں گی یعنی کل کائناتِ عالم میں ایک ایسا نظام معلوم ہوتا ہے جس میں کوئی بھی نقص نہیں۔ ایک لمبا سلسلہ قوانین کا جاری ہے جو کہیں بھی ٹکراتا نہیں۔ کیا یہ آپ ہی آپ ہو سکتا ہے؟ نہیں بلکہ یہ نظام دلیل ہے کہ ایک ایسی ہستی موجود ہے جو بالارادہ خالق ہے اور مالک ہے اور غالب ہے اور بخشنے والی ہے۔

پہلا اعتراض

اس دلیل کے متعلق بعض اعتراض کئے جاتے ہیں اور وہ یہ ہیں اوّل بعض چیزوں کے متعلق تو انتظام پایا جاتا ہے مگر بعض میں نہیں۔ مثلاً یہ درخت جو جنگلوں میں اُگے ہوئے ہیں یا یہ جانور جو چلتے پھرتے ہیں اور یہ پرندے جو اُڑتے پھرتے ہیں یہ انسان کے لئے کیا کر رہے ہیں۔ ان میں سے دو چار کھانے کے قابل ہیں لیکن باقی لغو ہیں۔ سانپ بچھو اور ایسے ہی موذی جانور۔ زہریلے درخت اور پودے کیا کرتے ہیں؟ ان کا انسان کے فائدہ کے لئے کوئی کام نہیں ہے۔

جواب

اس اعتراض کا مفصل جواب تو صفاتِ باری کے بیان میں آئے گا۔ یہاں مجمل طور پر بتاتا ہوں کہ ان جانوروں کی پیدائش میں بے انتظامی نہیں بلکہ یہ انسان کیلئے خزانے ہیں جو ضرورت کے وقت کام آتے ہیں اور یہ جانور وغیرہ جن کو لغو کہا جاتا ہے ضرورت پر بہت مفید ثابت ہوتے ہیں۔ مثلاً سانپ ہی ہے۔ اس کا زہر دوائیوں میں کام آتا ہے۔ اس طرح بچھو سے دوائیاں بنتی ہیں اور کئی ایسی چیزیں ہیں جن کو پہلے لغو اور فضول سمجھا جاتا تھا مگر اب ان کو بہت مفید سمجھا جاتا ہے۔ بات یہ ہے کہ اس قسم کی چیزیں انسان کے لئے خزانے ہیں جن میں سے کوئی ہوا میں رکھ دیا گیا ہے کوئی سمندر میں کوئی زمین میں تاکہ انسان علمی ترقیاں کرکے انہیں حاصل کرے اور فائدہ اٹھائے۔ جو کچھ ان کے متعلق دریافت ہو چکا ہے وہ لاکھوں فوائد پر دلالت کرتا ہے جو حال ابھی نہیں کھلا اسے ہم معلوم پر قیاس کر سکتے ہیں۔

دوسرا اعتراض

دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ہزارہا بوٹیاں خشکی اور تری میں ایسی پیدا ہوتی ہیں جو یونہی تباہ ہو جاتی ہیں اور ہزارہا جانور خشکی و تری میں ایسے پیدا ہوتے ہیں جو پیدا ہوتے ہیں اور مر جاتے ہیں۔ ان کا کوئی فائدہ نہیں یونہی ضائع ہو جاتے ہیں اگر کوئی خالق بالارادہ ہوتا تو ان اشیاء کو یونہی ضائع ہونے دیتا؟

جواب

ہم کہتے ہیں کہ یہ چیزیں انسان کی علمی اور ذہنی اور جسمانی اور روحانی ترقی کے لئے پیدا کی گئی ہیں ان کا اس طرح پیدا ہونا اور تباہ ہونا بھی تو انسان کی توجہ کو پھیرتا ہے پس فائدہ تو ہوا۔ گو براہِ راست فائدہ نہ اُٹھایا گیا مگر یہ فائدہ اُٹھانا تو انسان کا کام ہے۔ اگر وہ ان سے فائدہ نہیں اُٹھاتا تو یہ اس کا قصور ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ جس طرح ان چیزوں کی پیدائش میں حکمت ہے خدا معلوم ان کی اس طرح ہلاکت میں کیا کیا حکمتیں ہیں جن تک ابھی انسان کا دماغ نہیں پہنچا۔ آخر ہم دیکھتے ہیں کہ کئی چیزیں جلا کر اور راکھ کر کے زیادہ مفید ہوتی ہیں۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ بیشک بعض چیزیں انسان کے لئے ضائع ہو جاتی ہوں مگر خدا تعالیٰ کی نسبت یہ لفظ کیونکر بولے جا سکتے ہیں۔ مرنے والے جانور یا سڑ جانے والی بوٹیاں انسان کے لئے تو ضائع ہو گئیں۔ کیا خدا کے لئے بھی ضائع ہو گئیں۔ کیا وہ بھی ان سے فائدہ اُٹھاتا تھا کہ اس کے لئے ضائع ہوئیں۔ دوسرے جب وہ ان اشیاء کا خالق ہے تو وہ جس حال میں ہوں وہ اس کے قبضہ میں ہیں وہ اس کے لئے ضائع ہو کس طرح سکتی ہیں؟ خدا کے ہاتھ سے نکل کر کوئی چیز کہاں جا سکتی ہے۔ ان چیزوں کی ہلاکت کی مثال تو یہ ہے کہ ایک مکان کی اینٹیں اکھیڑ لی جائیں۔ وہ مکان بیشک گر جائے گا لیکن اینٹیں گھر میں ہی رہیں گی جو دوسرے مکان میں استعمال ہو جائیں گی۔ اسی طرح پیدا کرنا اور مارنا درحقیقت استعمال کے تغیر کا نام ہے۔ خدا تعالیٰ کے لئے مخلوق کا مرنا اور پیدا ہونا نہ حقیقتاً مرنا ہے نہ پیدا ہونا،

تیسرا اعتراض اور جواب

ایک اور بڑا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ غلط ہے کہ انسان جو پیدا ہوا اسے اس قسم کی انگلیاں اس لئے دی گئیں کہ وہ لکھ سکے یا اور جو اعضاء اسے دیئے گئے ہیں وہ اس لئے دیئے گئے کہ دوسری چیزوں سے فائدہ اُٹھا سکے بلکہ بات یہ ہے کہ انسان اس لئے ایسا پیدا ہوا کہ ارتقاء کا دوسرا قدم ایسے ہی انسان پیدا کرنے کی طرف اُٹھ

رہا تھا جیسے جس قسم کے برتن میں پانی ڈالا جائے ویسی ہی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ایک جانور کی لمبی گردن مثلاً اس لئے ہو گئی کہ اس کی غذا اونچے درخت پر تھی۔ اسی طرح جانوروں کی کھالوں نے ویسے رنگ اختیار کر لئے جیسے کہ ان کے گردوپیش کے رنگ تھے یا جن رنگوں کی مدد سے وہ اپنے دشمنوں سے بچ سکتے تھے۔ غرض یہ مناسبت ضرورت سے پیدا ہوئی ہے اور مجبوری کا نتیجہ ہے نہ کہ پہلے سے فیصل شدہ قانون کا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آخر یہ بھی تو سوال ہے کہ یہ قانون کس نے پیدا کیا ہے کہ جو چیز جس رنگ میں زندہ رہ سکے اس قسم کے تغیر اپنے اندر پیدا کر سکتی ہے۔ یہ قانون بھی تو کسی باارادہ ہستی پر ہی دلالت کرتا ہے اندھی نیچر آپ ہی آپ اس قسم کا پیچیدہ قانون کس طرح تیار کر سکتی تھی ؟

چھٹی دلیل۔دلیل اخلاقی

اب میں چھٹی دلیل بیان کرتا ہوں۔ اسے دلیل اخلاقی کہنا چاہئے جس سے یہ مراد ہے کہ انسان کی اخلاقی طاقتیں بھی ایک خدا پر دلالت کرتی ہیں۔ انسان فطرتاً نیکی کا خواہش مند اور اس کی طرف مائل ہے اور چاہتا ہے کہ اچھی باتیں اس میں پائی جائیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس دلیل کو اس طرح پیش فرمایا ہے لَاۤ اُقۡسِمُ بِیَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ وَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالنَّفۡسِ اللَّوَّامَۃِ(القیامة: ۳) تمہارے یہ خیالات کہ کوئی محاسبہ کرنے والی ہستی موجود نہیں ہے بالکل باطل ہیں۔ ہم اس کے ثبوت میں جزاء و سزا کے وقت کو اور خود انسان کے نفس لوامہ کو پیش کرتے ہیں یعنی انسان کے اندر کی اس مخفی طاقت کو جو ہر بُرے فعل پر اندر سے ملامت کرتی ہے اور جب تک وہ بار بار گناہ کا مرتکب ہو کر اس کو مار نہیں دیتا وہ برابر ملامت کرتی رہتی ہے۔ بلکہ جب وہ بظاہر مری ہوئی ہوتی ہے تب بھی کبھی اس میں حرکت ہو جاتی ہے اور وہ انسان کو نیکی کی طرف کھینچتی ہے۔ اگر خدا نہیں ہے تو انسان کے اندر بدیوں سے رکنے کا احساس کیوں ہے۔ پھر تو انسان جو چاہے کرتا رہے۔ یہ نیکی بدی کی پہچان خدا نے بندے کے اندر اپنی ذات پر دلالت کرنے کے لئے ہی رکھی ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے فَاَلۡہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَتَقۡوٰٮہَا(الشمس: ۹) ہم نے انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی نیکی بدی کی پہچان اس کے اندر رکھ دی ہے۔

اے، جے بلفور۱؎ ایک بہت مشہور فلاسفر گزرا ہے۔ اس نے اسی دلیل کو لیا ہے وہ کہتا ہے کہ بعض ایسی چیزیں ہیں جن کو ہم خوبصورت سمجھتے ہیں اور خوبصورت چیزوں کے حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، مگر پتہ نہیں کہ کیوں یہ خواہش انسانوں میں پائی جاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اور ہستی ہے جس نے انسانوں میں خواہش رکھی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کی یہی ایک زبردست دلیل ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ وہ مسیحی ہے اور مسیحی تعلیم کے مطابق تو انسان کی فطرت مسخ شدہ اور گندی ہے پھر نہ معلوم وہ اس سے خدا تعالیٰ کی ہستی پر کس طرح استدلال کرتا ہے۔ یہ دلیل تو ایک مسلمان پیش کر سکتا ہے جس کی الہامی کتاب میں یہ دلیل آج سے تیرہ سو سال پہلے بیان کی گئی ہے اور جس کی الہامی کتاب انسان کی فطرت کو پاکیزہ اور لا انتہاء ترقیات کے قابل قرار دیتی ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ مَیں نے ایک چور سے پوچھا کہ چوری کا مال کھانا تمہیں برا نہیں معلوم ہوتا؟ اس نے کہا بُرا کیوں معلوم ہو۔ کیا ہم محنت کر کے نہیں لاتے؟ فرماتے تھے مَیں نے اس بات کو چھوڑ دیا اور اور باتیں کرنے لگ گیا۔ پھر جب مَیں نے سمجھا کہ اب یہ پہلی بات بھول گیا ہو گا۔ مَیں نے اس سے دریافت کیا۔ اور باتیں کرتے کرتے کہا چوری کتنے آدمی مل کر کرتے ہیں؟ اس نے کہا کم از کم چار پانچ ہوتے ہیں اور سنار کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے جو مال کو پگھلا دے اور اس کی شکل بدل دے۔ آپؐ نے کہا کیا تم مال سنار کو دیدیا کرتے ہو؟ اگر وہ اس میں سے کچھ مال کھا جائے تو کیا کرتے ہو؟ اس پر وہ بے اختیار ہو کر کہنے لگا کہ اگر سنار ہمارا مال کھا جائے تو ہم ایسے بے ایمان کو مار نہ دیں۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ فطرتِ انسانی کے اندر نیکی کا میلان اس طرح راسخ ہے کہ انسان خواہ کس قدر بھی بگڑ جائے وہ میلان اس کے اندر باقی رہتا ہے اور جب بھی کسی محرک کے ذریعہ سے یا نقطۂ فکر کے بدل دینے سے اسے زندہ کیا جائے وہ زندہ ہو جاتا ہے اور نئی طاقت کے ساتھ ظاہر ہو جاتا ہے۔ پس فطرت میں برائی سے نفرت اور نیکی کی خواہش کا ہونا بھی خدا کی ہستی کی بہت بڑی دلیل ہے۔

اعتراضات کا جواب

اس دلیل پر بھی اعتراض کئے جاتے ہیں مثلاً یہ کہ جن کو اخلاق کہا جاتا ہے وہ فطری اخلاق نہیں بلکہ ورثے کے طور پر کچھ باتیں ہیں۔ ہمارے ماں باپ نے تجربہ کر کے جن باتوں کو نقصان دہ پایا ان کو ہم بُرا سمجھتے ہیں اور جن کو مفید پایا ان کو اچھا۔ مثلاً چوری ہے انسان جانتا ہے کہ مَیں نے کسی کا مال چرایا تو وہ بھی ہمارے مال کو چرا لے گا اور اس سے خواہ مخواہ کی پریشانی ہی ہو گی اس لئے اس خوف سے جو انسان کے دل میں اس فعل کے نتائج کے متعلق پیدا ہوا یہ بات اسے اچھی نہ نظر آئی اور آہستہ آہستہ یہ خیال بطور ورثہ کے اگلی نسلوں میں منتقل ہوتا چلا گیا۔ پس بدی سے نفرت درحقیقت اس تجربہ کا ورثہ ہے جو انسان کو اپنے آباء سے ملا ہے۔ اس کا فطرتِ انسانی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ کسی بالا ہستی نے یہ میلان انسان کے

اندر رکھا ہے اور اس لئے یہ ہستی باری کا ثبوت نہیں کہلا سکتا۔

اعتراض پر اعتراض

مگر اس اعتراض پر ہمارا یہ اعتراض ہے کہ تم کہتے ہو کہ یہ باتیں ماں باپ سے ورثہ میں چلی آتی ہیں مگر یہ بتاؤ کہ ماں باپ کے دل میں کس طرح سے یہ احساس پیدا ہوئے؟ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ انہوں نے تجربہ سے ان اخلاق کو معلوم کیا اور جن چیزوں نے نقصان دیا ان کو بُرا قرار دے دیا اور نفع دینے والی چیزوں کو اچھا اور اپنا نفع نقصان ہر شخص سمجھ سکتا ہے کسی کے سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جن چیزوں کو اچھا کہا جاتا ہے وہ سب کی سب مفید ہیں اور جن کو بُرا کہا جاتا ہے وہ سب کی سب مضر۔ اگر نیکیاں ایسی باتیں ہوتیں کہ جن کا کوئی فائدہ نہ ہوتا اور پھر لوگ انہیں کرتے تو کہتے خدا نے دل میں ڈالی ہیں۔ اور نقصان رساں چیزوں سے نقصان نہ ہوتا اور پھر ان سے لوگ بچتے تو سمجھتے خدا نے یہ سکھایا ہے مگر ایسا نہیں ہے۔ اس لئے یہ کہا جائے گا کہ لوگ اچھی باتوں کو ان کے فائدہ کی وجہ سے کرتے اور بُری باتوں کو ان کے نقصان کی وجہ سے چھوڑتے ہیں۔

گو اس کا حقیقی اصلی جواب تو اور ہے۔ مگر بوجہ طوالت میں اسے چھوڑتا ہوں اور صرف اس جواب پر اکتفا کرتا ہوں کہ بعض نیکیاں ایسی بھی ہیں کہ انسان کا ان کے کرنے میں بظاہر کوئی فائدہ نہیں نظر آتا مگر وہ کرتا ہے حتیٰ کہ دہریہ بھی کرتا ہے۔ مثلاً یہ کہ ماں باپ بچے سے جو سلوک کرتے ہیں وہ اس کے بچپن میں ہی کر چکتے ہیں۔ مگر ایک دہریہ بھی اس بات کا اعتراف کرے گا کہ ان کی عزت کرنی چاہئے۔ حالانکہ انسان کے لئے اس میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا اور اس کے خلاف کرنے کا اگر کوئی نقصان ہو سکتا ہے تو یہی کہ لوگ آئندہ بچوں کی پرورش کرنا چھوڑ دیں۔ مگر اس میں ان لوگوں کا کیا نقصان ہو گا جو جوان ہو چکے ہیں اور اپنا گھر بار رکھتے ہیں اور پھر یہ بھی غلط ہے کہ ماں باپ آئندہ بچوں کی پرورش کرنا چھوڑ دیں۔ وہ کبھی نہیں چھوڑ سکتے۔ کسی کو یہ کہہ کر تو دیکھو کہ میاں تم بوڑھے ہو، بچہ کے جوان ہونے تک مر جاؤ گے۔ پھر اس کی پرورش کرنے سے تمہیں کیا فائدہ؟ اسے چھوڑ دو۔ یہ کہنے پر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیا کہتا ہے۔

غرض ماں باپ کی عزت و توقیر کرنا ایسی نیکی ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں نظر آتا۔ مگر اس کے نیکی ہونے کا کوئی انکار نہیں کرتا۔ اسی طرح ساری قوموں میں مردوں کا احترام ضروری سمجھا جاتا ہے مگر اس کا کیا فائدہ ہے؟ اور اس سے کیا نفع ہو سکتا ہے؟ اگر مردہ کو کتے کھا جائیں یا اسے ٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے جا کر پھینک آئیں تو کیا ہو؟ زیادہ سے زیادہ یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس طرح پھینکنے سے سڑ کر بدبو پیدا ہو جائے گی۔ یہ ٹھیک ہے اور اس لئے دبانا ضروری ہے۔ مگر ہم کہتے ہیں ۔ اسے دبانے کے لئے بہت سے آدمی جمع ہو کر کیوں لے جاتے ہیں؟ رسی اس کے پاؤں میں باندھو اور گھسیٹ کر لے جاؤ۔ ایسا کیوں نہیں کیا جاتا اور مردے کو باحترام دفن کرنے میں کونسا فائدہ ہے؟ بظاہر اس میں کوئی فائدہ نہیں سوائے اس کے کہ فطرت انسانی اس فعل کو پسند کرتی ہے اور مردے کی بے حرمتی اس پر شاق گذرتی ہے۔

غرض بہت سی نیکیاں ملتی ہیں جنہیں سب نیکیاں سمجھتے ہیں اور ان کو عمل میں لاتے ہیں حتیٰ کہ دہریے بھی ان پر عمل کرتے ہیں لیکن ان میں بظاہر کوئی مادی فائدہ نہیں ہوتا صرف احساسات کا سوال ہوتا ہے۔ وطن کی خاطر لڑائی میں مرنا بھی ایسے ہی اخلاق میں سے ہے۔ سب دُنیا کے نزدیک یہ ایک قابلِ عزت بات سمجھی جاتی ہے۔ مگر ہم کہتے ہیں کیوں لوگ اپنی عزت و آبرو کے لئے مرنا اچھا سمجھتے ہیں؟ اور کیا کوئی ملک ہے جس میں اپنی عزت اپنی آبرو اپنے ملک کے لئے جان دینا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ مگر اس فعل سے جان دینے والے کو کیا نفع ہو سکتا ہے؟ جب اس نے جان دیدی تو اسے کیا فائدہ؟ مگر کیا باوجود اس حقیقت کے ایسے مواقع پر جہاں موت یقینی ہوتی ہے لوگ ملک و وطن کے لئے جان نہیں دیتے؟ حالانکہ وہ یقینی طور پر جانتے ہیں کہ ہمارے اس فعل سے ہمیں کوئی نفع نہیں پہنچے گا۔

غرض ہر ملک ہر قوم میں یہ اور اسی قسم کی باتوں کو اچھا سمجھا جاتا ہے۔ مگر ان کے ایسے فائدے نہیں ہیں جو کرنے والے کی ذات کو پہنچ سکیں۔ اس لئے معلوم ہوا کہ یہ فطرتی نیکیاں ہیں اور نیکی کی طرف میلان خدا نے ہی فطرت میں رکھا ہے۔

ساتویں دلیل۔ دلیل شہادت

ساتویں دلیل اس بات کی کہ خدا ہے۔ دلیل شہادت ہے اور دنیا میں سارے فیصلے شہادت پر ہی ہوتے ہیں۔ شائد ننانوے فیصدی فیصلے اس کے ذریعہ ہوتے ہوں گے نہ صرف مقدمات میں بلکہ تمام علوم میں۔ دنیا کا ہر شخص جس قدر باتیں جانتا ہے اور جس قدر باتوں کو وہ صحیح مانتا ہے ان کے متعلق دریافت کر کے دیکھ لو عالم سے عالم آدمی بھی ان میں سے ننانوے فیصدی کو صرف شہادت کی بناء پر تسلیم کرتا ہے نہ کہ اپنے ذاتی تجربہ کی بناء پر اور مشاہدہ پر۔ تمام علوم جو یقینی سمجھے جاتے ہیں ان کا بھی یہی حال ہے علم طب ہو کہ علم ہیئت ، علم کیمیا ہو کہ علم انجینئرنگ تمام علوم کا بیشتر حصہ شہادت پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ بعض لوگوں نے تجارب کئے ہوتے ہیں دوسرے ان کی تحقیق پر اپنے علم کی بنیاد رکھ دیتے ہیں ۔ خود تجربہ کر کے نہیں دیکھتے۔ پس جب دُنیا میں ہر بات اور ہر علم کا فیصلہ شہادت پر ہوتا ہے۔ تو کیا وجہ ہے کہ ہستی باری کے معاملہ میں یہ دلیل باطل سمجھی جائے۔ ہم مانتے ہیں کہ شہادت فی الواقع شہادت ہونی چاہیئے یونہی سُنی سنائی بات نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن اگر شہادت کے اُصول کے مطابق کوئی شہادت مل جائے تو پھر اسے ماننا پڑے گا دلیل ہمیشہ شہادت ہوتی ہے نہ کہ عدم شہادت۔ اگر ایک بڑی جماعت سچے اور راست باز لوگوں کی ایک امر کے متعلق شہادت دے کہ انہوں نے اسے دیکھا یا موجود پایا ہے تو جو لوگ اپنی لاعلمی ظاہر کریں ان کا قول ان گواہوں کے مقابلہ پر ہرگز سنا نہیں جائے گا کیونکہ لاعلمی شہادت نہیں ہوتی اور ان شاہدوں کی شہادت کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔

خدا کی ہستی کی شہادت دینے والوں کی اعلیٰ زندگی

اب ہم اس معیار کے مطابق ہستی باری کے سوال پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے موجود ہونے کی شہادت ہزاروں لاکھوں لوگ دیتے ہیں اور وہ لوگ بھی ایسے ہیں کہ ان سے بہتر چال چلن والا کوئی شخص نظر نہیں آتا۔ قرآن کریم اس دلیل شہادت کو ان الفاظ میں پیش کرتا ہے۔ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ(یونس: ۱۷) یعنی اے رسول تو اپنے مخالفوں سے کہہ دے کہ میں نے تمہارے اندر عمر بسر کی ہے۔ پھر تم عقل نہیں کرتے اور میرے دعویٰ کو جھوٹا کہتے ہو۔ کیا اس لمبی عمر میں جو میں نے تم میں بسر کی ہے تم نے میری صداقت مشاہدہ نہیں کی؟ اگر تم نے یہ دیکھا ہے کہ میں کسی حالت میں بھی جھوٹ نہیں بولتا تو اب یہ بات جو میں کہتا ہوں کہ مجھے خدا نے مبعوث کیا ہے تاکہ میں اس کی طرف تمہیں بلاؤں اس میں تم کیوں شک کرتے ہو۔ یہ کس طرح ممکن تھا کہ میں جو ہر خطرہ کو برداشت کر کے سچائی کو قائم رکھتا آیا ہوں اور جس کے چال چلن کی خوبی اور مضبوطی کا دوست دشمن معترف ہے یکدم اور ایک ہی رات میں اس قدر بگڑ گیا ہوں کہ اتنا بڑا جھوٹ میں نے بنالیا ہے کہ دُنیا کے خالق نے مجھے دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے۔ قرآن کریم میں ایک دوسرے نبی کے متعلق آتا ہے کہ اس وقت کے لوگ اس کی نسبت کہتے تھے یٰصٰلِحُ قَدۡ کُنۡتَ فِیۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ ہٰذَاۤ(ھود: ۶۳) اے صالح ہمیں تو تم سے اس سے پہلے بڑی بڑی امیدیں تھیں۔ تم بہت اچھے تھے۔ مگر اب تمہیں کیا ہو گیا۔ حضرت مسیح علیہ السلام بھی اپنے زمانہ کے لوگوں سے کہتے ہیں کہ مجھ میں کوئی عیب تو پکڑو۔ غرض جس قدر انبیاء دُنیا میں گزرے ہیں وہ اپنے چال چلن اور صداقت کی معیت کی وجہ سے ایسے مقام پر تھے کہ ان کے دشمن بھی ان پر اعتراض کرنے کی گنجائش نہیں پاتے تھے اور اسی طرح ان کے اتباع میں سے لاکھوں صاحبِ کشوف و الہام لوگ ہوئے ہیں کہ جن کا چال چلن بھی ہر قسم کے شبہ سے بالا تھا اور ان کی راستبازی کا اعتراف ان کے دشمن بھی کرتے تھے۔

حضرت موسیٰ کی پاک زندگی

دیکھو فرعون حضرت موسیٰؑ کا کتنا سخت دشمن تھا مگر اس میں بھی یہ جرأت نہ تھی کہ ان پر جھوٹ کا الزام لگائے۔ اس نے یہ تو کہا کہ یہ پاگل ہو گیا ہے یونہی باتیں بناتا ہے مگر یہ نہیں کہہ سکا کہ ان کا چال چلن خراب ہے حالانکہ وہ اس کے گھر میں پلے تھے اگر ان میں کوئی خرابی ہوتی تو وہ ضرور بتاتا کہ ان میں یہ خرابی ہے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی

اسی طرح ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دیکھتے ہیں کہ آپؐ کے دشمنوں نے اقرار کیا کہ آپؐ صادق اور امین تھے اور آپؐ پر انہوں نے کوئی الزام نہ لگایا بلکہ دشمن سے دشمن نے بھی آپؐ کی طہارت اور پاکیزگی کی شہادت دی۔ چنانچہ مکہ میں ایک مجلس ہوئی کہ باہر سے جب لوگ مکہ میں آئیں گے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے متعلق پوچھیں گے تو ان کو کیا جواب دیں گے سارے مل کر ایک جواب بنالو تاکہ اختلاف نہ ہو آگے ہی ہم بدنام ہو رہے ہیں کہ ایک کچھ کہتا ہے اور دوسرا کچھ کہتا ہے اس لئے حج پر جو لوگ آئیں گے انہیں کہنے کے لئے ایک بات کا فیصلہ کر لو اس پر ان میں سے ایک نے کہا یہ کہہ دینا کہ جھوٹ کی عادت ہے جو کچھ کہتا ہے سب جھوٹ ہے۔ یہ سن کر ایک شخص جس کا نام نصر بن حارث تھا کھڑا ہوا اور اس نے کہا یہ بات نہیں کہنی چاہئے اگر یہ کہو گے تو کوئی نہیں مانے گا اور لوگ جواباً کہیں گے کہ كَانَ مُحَمَّدٌ فِيْكُمْ غُلَامًا حَدَثًا اَرْضَاكُمْ فِيْكُمْ وَ اَصْدَ قَكُمْ حَدِيْثًا وَاَعْظَمَكُمْ اَمَانَةً حَتّٰى اِذَا رَئَيْتُمُ فِيْ صُدْغَيْهِ الشَّيْبَ وَجَاءَكُمْ بِمَا جَائَكُمْ قُلْتُمْ سَاحِرٌ لَا وَاللّٰهِ مَا هُوَ بِسَاحِرٍ۔ محمدؐ نے تم میں جوانی کی عمر بسر کی ہے اور اس وقت وہ تم سب سے زیادہ نیک عمل سمجھا جاتا تھا اور سب سے زیادہ سچا سمجھا جاتا تھا اور سب سے زیادہ امانت کا پابند تھا یہاں تک کہ جب اس کی کنپٹیوں میں سفید بال آگئے اور وہ تمہارے پاس وہ تعلیم لایا جو وہ لایا ہے تو تم کہنے لگ گئے کہ وہ جھوٹا ہے خدا کی قسم ان حالات میں وہ جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ اس شخص کے اس جواب پر سب نے اپنی غلطی کو تسلیم کیا اور اس اعتراض کی بجائے اور بات سوچنے لگے۔

کیسی سچی بات تھی جو اس شخص نے پیش کی اگر پہلے کبھی رسول کریمؐ کی طرف انہوں نے جھوٹ منسوب کیا ہوتا تو اب کوئی مان سکتا تھا۔ لیکن جب پہلے وہ ساری عمر آپ کو صادق کہتے رہے تھے تو پھر یکدم جھوٹ کے الزام کو کون سچا مان سکتا تھا۔

اسی طرح ہرقل نے جب ابوسفیان سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا کہ انہوں نے کبھی جھوٹ بولا ہے تو اس نے کہا آج تک تو نہیں بولا اور کہا کہ آج تک کا لفظ میں نے اس لئے لگایا تاکہ شبہ پڑ سکے کہ شاید آئندہ بولے۔

اسی طرح ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ پر چڑھ کر لوگوں کو بلایا اور جب وہ جمع ہوگئے تو فرمایا کیا اگر میں تمہیں کہوں کہ فلاں وادی میں ایک فوج جمع ہے جو تم پر حملہ کرنے والی ہے تو مان لو گے؟ انہوں نے کہا ہاں مان لیں گے حالانکہ مکہ والوں کی بے خبری میں اس قدر فوج اس قدر قریب جمع نہیں ہو سکتی تھی۔ پس ان لوگوں کا اس قسم کی بات بھی جو بظاہر نا ممکن الوقوع ہو آپ کے منہ سے سن کر ماننے کے لئے تیار ہو جانا بتاتا ہے کہ آپ کی صداقت پر ان لوگوں کو اس قدر یقین تھا کہ وہ یہ ناممکن خیال کرتے تھے کہ آپ جھوٹ بول سکیں یا دھوکا دے سکیں۔

اس طبقہ اور اس درجہ کے لوگ ہیں جو اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ انہوں نے خدا سے الہام پایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث کیا ہے یہ لوگ دنیا کے سب سے بڑے مصلح گزرے ہیں اور اپنے اخلاق کی خوبی اور مضبوطی کی وجہ سے انہوں نے لاکھوں آدمیوں کے دلوں پر اس طرح قبضہ کیا ہے کہ وہ لوگ اپنی جانیں اور اپنے مال ان کی راہ میں قربان کرنے کو بہترین نعمت خیال کرتے تھے اور پھر دنیا کے ذہنی ارتقاء میں جو ان لوگوں نے یا ان کے اتباع نے حصہ لیا ہے اور کسی نے اس قدر حصہ نہیں لیا۔ پس ان لوگوں کی ایسی کھلی کھلی اور زبردست شہادت کی موجودگی میں کس طرح انکار کیا جاسکتا ہے کہ ایک زبردست ہستی ہے جو اس دنیا کی خالق اور اس کی مالک ہے۔ اگر ایسی زبردست شہادت کو رد کیا جائے تو اصول شہادت کا بالکل ستیا ناس ہو جاتا ہے اور کوئی علم بھی دنیا میں ثابت نہیں ہوسکتا اور عقل سلیم ہرگز تسلیم نہیں کرتی کہ معمولی معمولی شہادتوں کو تو قبول کیا جائے مگر اس قدر زبردست شہادتوں کو رد کر دیا جائے۔

دلیل شہادت پر اعتراض اور اس کا جواب

کہا جا سکتا ہے کہ کیا پتہ ہے کہ ان لوگوں نے فی الواقع ایسی شہادت دی ہے کہ کوئی خدا ہے جس نے انہیں مبعوث کیا ہے اور ان کے بعد لوگوں نے اپنے پاس سے بات بنا کر ان کی طرف منسوب نہیں کر دی ۔ اس کا جواب اوّل تو یہ ہے کہ جس طرح ان کی شہادت تواتر سے پہنچتی ہے اور دنیا کی کوئی شہادت تواتر سے نہیں پہنچتی کروڑوں آدمی نسلاً بعد نسلٍ اور ہزاروں کتب ان کی شہادت کو پیش کرتی چلی آئی ہیں پس ان کی شہادت کے متعلق کسی قسم کا شبہ پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ پھر یہ کہ شہادت کسی خاص زمانہ سے مختص نہیں ہے ہر زمانہ میں ایسے شاہد گذرے ہیں اور اس وقت بھی ایک شخص گذرا ہے جس نے اس شہادت کو تازہ کیا ہے اور اپنی راستبازانہ زندگی کے متعلق اس نے آریوں، ہندوؤں، مسلمانوں، مسیحیوں سب قوموں کو چیلنج دیا لیکن کوئی قوم بھی باوجود اس کے کہ سب قوموں کے لوگ اس کے اردگرد بستے تھے یہ نہ کہہ سکی کہ اس کی زندگی فی الواقع تقویٰ اور راستبازی کا نمونہ نہ تھی۔ بلکہ اس کے خطرناک دشمنوں تک نے یہ شہادت دی کہ وہ اپنی راستبازی میں سارے زمانہ میں بے مثل تھا اور یہاں تک اس کی صداقت اور راستبازی کے لوگ معترف تھے کہ مخالفین نے ان جھگڑوں میں جو اس کے خاندان کے ساتھ تھے تسلیم کر لیا کہ جو وہ کہہ دے ہم اسے مان لیں گے۔ یہ شخص حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام مسیح موعود و مہدی معہود تھے۔ پس جبکہ ہر زمانہ میں اس قسم کے شاہد موجود ہیں تو اس شہادت میں کچھ بھی شک نہیں کیا جا سکتا۔

آٹھویں دلیل

اب میں آٹھویں دلیل بیان کرتا ہوں۔ یہ ان دلیلوں سے جنہیں میں اب تک بیان کر چکا ہوں مختلف ہے اور اس دلیل سے ایک نیا سلسلہ دلائل کا شروع ہوتا ہے اور اس سلسلہ میں اور پہلے سلسلہ دلائل میں یہ فرق ہے کہ پہلی دلیلوں میں تو ہستی باری کا ثبوت صرف عقلاً ملتا تھا اور عقل اپنے فیصلہ میں بعض دفعہ غلطی بھی کر جاتی ہے اس دلیل سے سلسلہ دلائل مشاہدات سے تعلق رکھتا ہے جن میں غلطی ناممکن ہو جاتی ہے گو یہ ایک لمبا سلسلہ دلائل کا ہے مگر میں گنجائش کی قلت کی وجہ سے مختصر پیرایہ میں ایک ہی دلیل کی صورت میں اس سارے سلسلہ پر روشنی ڈالتا ہوں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ خدا نے اپنے وجود کو ثابت کرنے کے لئے ایک دو نہیں چار نہیں دس بیس نہیں بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں دلیلیں رکھی ہیں۔ خدا تعالیٰ کی ہر صفت اس کی ہستی کا ثبوت ہے ہم کہتے ہیں کہ خدا رحیم، کریم، قدیر، سمیع، بصیر ہے۔ پس اگر یہ ثابت ہو جائے کہ انسان سے بالا ایک ہستی ہے جو رحیم ہے اور رحم کرتی ہے۔ کریم ہے کرم کا سلوک کرتی ہے۔ ہماری ضروریات کو پورا کرتی ہے دکھوں اور تکلیفوں کے وقت ہماری حفاظت کرتی ہے۔ عام قانون کے ذریعہ سے بھی اور خاص اسباب پیدا کر کے بھی تو یہ ماننا پڑے گا کہ خدا ہے۔ مخالفین تو ہم سے خدا کی ہستی کی ایک دلیل پوچھتے ہیں ہم کہتے ہیں کہ اگر اس کی صفات کی جلوہ گری پر غور کر کے دیکھو تو اس کی ہستی کے لاکھوں ہزاروں ثبوت موجود ہیں۔

صفات الٰہی

دہریہ کہتے ہیں کہ جس طرح خدا موہوم ہے اس کی صفات بھی موہوم ہیں تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ کوئی علیم ہستی موجود ہے؟ کیا ثبوت ہے کہ کوئی سمیع ہستی موجود ہے؟ کیا ثبوت ہے کہ وہ ہستی لوگوں سے کلام کرتی ہے؟ کیا ثبوت ہے کہ وہ قدیر ہے؟ اس اعتراض کے جواب میں دو قسم کے امور پیش کئے جا سکتے ہیں۔ ایک تو وہ جو ساری دنیا کو نظر آتے ہیں اور ایک خاص دلائل ہیں جو ہر انسان کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً عفو کی صفت ہے اس کا اثر وہی انسان محسوس کر سکتا ہے جس پر اس کا ظہور ہو اور بخشنے کی حالت کو وہ خود ہی محسوس کرے گا۔ مثلاً تم کوئی گناہ کرتے ہو خدا چونکہ ستار ہے اس کے نتیجہ اور سزا سے تمہیں بچا لیتا ہے اور اس کے لئے ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ جنہیں انسانی عقل نہیں پیدا کر سکتی۔ اس لئے معلوم ہوا کہ خدا ہے۔ ایسے امور انسان کے نفس کے اندر ہی پیدا ہو سکتے ہیں اور ان کو وہی سمجھ سکتا ہے ہاں دوسری قسم کے امور کو سب لوگ مشاہدہ کر سکتے ہیں اور میں انہیں کو لیتا ہوں کیونکہ جو بات اپنے ہی ساتھ تعلق رکھتی ہے اس کے متعلق ذکر مفید نہیں ہو سکتا۔ اسے تو وہی سمجھ سکتا ہے جس سے وہ تعلق رکھے۔

خدا کی صفت عزیز کا ثبوت

میں اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کو بطور مثال اس وقت پیش کرتا ہوں جن سے معلوم ہو گا کہ اس دنیا کے اوپر ایک ہستی ہے جس کے ارادہ کے ماتحت سب دنیا کا کارخانہ چل رہا ہے اور سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز کو لیتا ہوں اگر یہ صفت اپنا کام کرتی ہوئی ثابت ہو جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ خدا ہے۔ عزیز کے معنی غالب کے ہیں اور اس صفت کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیۡزٌ(المجادلة: ۲۲) میں نے یہ مقرر کر دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہمیشہ غالب ہوں گے۔

ادھر تو اللہ تعالیٰ یہ اعلان کرتا ہے کہ میرے دین کی تائید کے لئے جو لوگ کھڑے کئے جائیں گے وہ ہمیشہ غالب رہیں گے اور دوسری طرف اس کی یہ سنت ہے کہ بادشاہوں اور طاقتور لوگوں کو

نبی نہیں بناتا الّا ماشاء اللہ بلکہ انہیں لوگوں میں سے نبی بناتا ہے جو ضعیف اور کمزور ہوتے ہیں جن کے پاس نہ کوئی فوج ہوتی ہے نہ ہتھیار نہ دولت ہوتی ہے نہ جتھا۔ ان کو بھیج کر ان کے ذریعہ دنیا کو مفتوح کراتا ہے اور اس طرح دکھا دیتا ہے کہ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیۡ(58:22) بالکل درست اور صحیح ہے جن حالات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کو فتح کیا ہے ان کو سامنے رکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ خدا کی مدد کے سوا آپ کو یونہی غلبہ حاصل ہو سکتا تھا آپ کے پاس نہ مال تھا نہ دولت علم آپ نہ پڑھے ہوئے تھے۔ مال کی یہ حالت تھی کہ ایک ایسی مالدار عورت سے آپ نے شادی کی جو نیک تھی اس نے اپنا مال آپ کو دیدیا اور آپ نے وہ بھی خدا کی راہ میں صرف کر دیا۔ ایسے انسان کو خدا نے رسول بنا دیا اور رسول کے لئے یہ شرط رکھ دی کہ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیۡ(58:22) کہ رسول ضرور ضرور غالب ہوگا ۔ اگر خدا ہے تو ایسا ہی ہونا ضروری ہے۔ اب دیکھو دنیا نے رسول کریم کے ساتھ کیا کیا آپ کے خلاف سارے لوگوں نے زور مارے مگر کیا نتیجہ نکلا ان کی تمام کوششوں کا نتیجہ یہی نکلا کہ آپ نہایت شان کے ساتھ دس ہزار قدوسیوں سمیت مکہ میں پہنچے اور وہی سردار جو آپ پر اتنا ظلم کرتے تھے کہ جب آپ نماز کے لئے خانہ کعبہ میں جاتے تو آپ کو ڈانٹتے آپ پر میلا ڈالتے اس وقت یہ سب آپ کے رحم پر تھے۔ ایک دفعہ آپ پر اتنا ظلم کیا گیا کہ طائف والوں نے پتھر مار مار کر آپ کا جسم لہو لہان کر دیا پھر آپ کے مریدوں کی یہ حالت تھی کہ ان کا بازاروں میں چلنا مشکل تھا پس اس بے سروسامانی میں آپ نے خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے کا دعویٰ کیا اور اعلان کر دیا کہ میں کامیاب ہو کر رہوں گا اور دُنیا پر غلبہ پاؤنگا خدا تعالیٰ میری مدد کرے گا اور مجھے فتح دے گا۔ اگر قوم اس دعویٰ کو آسانی سے قبول کر لیتی تو کہا جاتا کہ جب قوم نے قبول کر لیا تو غلبہ میں کسی غیر معمولی اعانت کا ہاتھ کیوں سمجھا جائے مگر آپ کے ساتھ قوم نے محبت کا سلوک نہیں کیا قبولیت کے ہاتھ آپ کی طرف نہیں بڑھائے۔ اطاعت کی گردن آپ کے آگے نہیں جھکائی۔ بلکہ ساری کی ساری قوم آپ کے خلاف کھڑی ہوگئی اور معمولی مخالفت نہیں کی بلکہ مخالفت میں قوم نے سارا ہی زور خرچ کر دیا۔ قتل کرنے کی کوشش کی ساتھیوں میں سے کئی کو شہید کر دیا حتیٰ کہ صحابہؓ کو ملک سے نکلنا پڑا اور آخر میں خود آپ کو بھی ملک چھوڑنا پڑا لیکن وہی شخص جسے چند سال پہلے صرف ایک ساتھی کے ساتھ رات کے اندھیرے میں اپنے عزیز وطن کو چھوڑنا پڑا تھا چند سال بعد فاتحانہ حیثیت میں واپس آتا ہے اور اگر ان ظالموں سے جنہوں نے انتہائی درجہ کے ظلم اس سے اور اس کے ساتھیوں سے کئے تھے پوچھتا ہے کہ بتاؤ تو میں تم سے کیا سلوک کروں؟ اور جب وہ شرمندگی سے اس کے سامنے گردن ڈال دیتے ہیں۔ تو فرماتا ہے جاؤ میں نے تم سب کو معاف کر دیا۔ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اتفاقاً بعض کمزور لوگوں کو طاقت مل جاتی ہے مگر رسول کریمؐ کے معاملہ میں فتح اور غلبہ اتفاقاً نہیں کہلا سکتا کیونکہ آپ نے اپنی کمزوری کی حالت میں پیشگوئی کر دی تھی کہ مجھے غلبہ ملے گا اور پھر اس دعویٰ کے مطابق آپ کو غلبہ ملا اور پھر آپ کا غالب ہو کر اپنے دشمنوں کو معاف کر دینا بھی بتاتا ہے کہ ایک زبردست طاقت پر آپ کو یقین تھا اور کامل یقین تھا کہ میرے غلبہ کو کوئی شکست سے بدل نہیں سکتا تبھی تو آپ نے ایسے خطرناک دشمنوں کو بلا شرط معاف کر دیا اس قسم کے غلبہ کی مثال دنیا میں اور کہاں ملتی ہے ؟

موجودہ زمانہ میں خدا کی صفت عزیز کا ثبوت

پھر اسی زمانہ میں دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے کھڑا کیا جن کے متعلق مولوی محمد حسین بٹالوی نے جو اس وقت ہندوستان میں بے با رسوخ عالم تھے کہا کہ میں نے ہی اس کو بڑھایا ہے اور میں ہی اسے تباہ کروں گا۔ مگر دیکھو کون مٹ گیا اور کون بڑھا مولوی محمد حسین صاحب کا اب کوئی نام بھی نہیں لیتا حالانکہ یہی مولوی محمد حسین صاحب جب مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت سے قبل کہیں جاتے تھے تو لوگ سڑکوں پر جمع ہو جاتے تھے اور کھڑے ہو کر تعظیم کرتے تھے۔ غرض انہوں نے مخالفت کی اور سب کو مخالفت کے لئے بھڑکایا، شروع شروع میں گورنمنٹ بھی ناراض تھی کیونکہ آپ نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور مہدی کے متعلق مسلمانوں نے جو غلط خیال بنائے ہوئے تھے ان کی وجہ سے گورنمنٹ آپ پر بہت بدظن تھی۔ غرض ہر طرف سے آپ کی مخالفت ہوتی تھی مولویوں نے اپنی طرف سے زور لگانے میں کسر نہ رکھی اور عوام نے اپنی طرف سے کمی نہ کی۔ مگر خدا تعالیٰ نے یہ کہہ رکھا تھا کہ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیۡ(58:22) میں اور میرے رسول ضرور غالب ہو کر رہیں گے پھر اس کلام کے ماتحت دیکھو لوگوں کی مخالفت کا کیا نتیجہ نکلا؟ یہی ناں کہ بہت سے ایسے لوگ جو شروع میں آپ کو گالیاں دیتے تھے آج لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیۡ(58:22) کی رسی میں بندھے ہوئے یہاں بیٹھے ہیں لوگوں نے حضرت مسیح موعود کو کیا کیا دکھ نہ دیئے۔ کیا کیا تکلیفیں نہ پہونچائیں آپ کے راستہ میں کیا کیا رکاوٹیں نہ ڈالیں، مگر کیا کر لیا؟ وہ جو غالب سمجھے جاتے تھے آخر مغلوب ہو گئے اور وہ جو بڑے سمجھے جاتے تھے چھوٹے ہو گئے اور اس طرح لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیۡ(58:22) کی پیشگوئی پوری ہوئی۔


قلوب پر قبضہ زیادہ مشکل

اس موقعہ پر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ تلوار اور طاقت کے ذریعہ جسموں پر غلبہ حاصل کرنا اور بات ہے اور قلوب پر قبضہ کرنا اور بات۔ دلوں پر قبضہ کرنے کا کام نہایت مشکل کام ہے۔ کہتے ہیں ابن سینا کوئی مسئلہ بیان کر رہا تھا ایک شاگرد کو جو اس کی بات بہت پسند آئی تو جھوم کر کہنے لگا آپ تو محمدؐ جیسے ہیں اگرچہ ابن سینا فلسفی تھا اور دین سے اسے تعلق نہ تھا مگر آخر مسلمان تھا اسے یہ بات بہت بُری لگی۔ جہاں بیٹھے تھے اس کے قریب ہی ایک حوض تھا اور سردی کی وجہ سے یخ بن رہا تھا، تھوڑی دیر کے بعد ابن سینا نے اسی شاگرد سے کہا کہ اس حوض میں کود جاؤ۔ شاگرد نے کہا کیا آپ پاگل ہو گئے ہیں؟ اس قدر سردی پڑ رہی ہے اور اتنا ٹھنڈا پانی ہے اس میں کودنے سے تو میں فوراً بیمار ہو جاؤں گا۔ اس پر ابن سینا نے کہا کہ کیا اسی برتے پر تُو مجھے کہتا تھا کہ تُو محمدؐ جیسا ہے؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہزاروں کو کہا آگ میں کود پڑو۔ اور کسی نے نہ پوچھا کہ ایسا کیوں کہتے ہو خوشی سے آگے بڑھ بڑھ کر اپنی جانیں قربان کردیں اور تو میری اتنی سی بات نہیں مانتا اور باوجود اس کے مجھے حضورؐ سے مشابہت دیتا ہے حالانکہ رسول کریمؐ نے اپنی بات ان لوگوں سے منوائی جو آپ کے جانی دشمن تھے۔

غرض انبیاء باوجود بے سروسامانی کے غالب ہوتے ہیں اور ان کے دشمن تباہ۔ اب ہی دیکھ لو کہاں ہیں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور کہاں ہیں حضرت مسیح موعودؑ کے دوسرے دشمن ایک بڑا دشمن تمہارے سمجھانے کے لئے خدا نے رکھا ہوا ہے۔ مگر اس کی بھی باری آجائے گی اور اس کا انجام ایسا عبرتناک ہوگا کہ مسیح موعودؑ کے ماننے والے اسے بطور مثال کے پیش کیا کریں گے۔

کیا نبی ناکام بھی ہوتے ہیں

اس سلسلہ کی اس پہلی دلیل پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہم کہتے ہیں نبوت کا دعویٰ کرنے والے ناکام بھی ہوتے ہیں مثلاً مسیحؑ کو مخالفین نے پکڑ کر سولی پر چڑھا دیا لیکن یہ ان کی ناکامی کی دلیل نہیں ہے بلکہ کامیابی کی ہے۔ کیونکہ خدا نے انہیں بھٹی میں ڈال کر دکھا دیا کہ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیۡ(58:22) سچ ہے۔ اگر حضرت مسیحؑ صلیب پر وفات پا جاتے اور آپؑ کا سلسلہ تباہ ہوجاتا تو بیشک یہ دعویٰ غلط ہو جاتا مگر خدا نے آپؑ کو آگ میں ڈال کر اور پھر زندہ نکال کر دکھا دیا کہ خدا کے نبی پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے بھی لکھا ہے کہ:

کہ یہ جاں آگ میں پڑ کر سلامت آنے والی ہے

اگر انبیاء کی مخالفت نہ ہو تو لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیۡ(58:22) کی شان اور شوکت کس طرح ظاہر ہو۔

صفت تکلم سے خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت

دوسری صفت جسے میں اس وقت پیش کرنا چاہتا ہوں صفتِ تکلم ہے۔ اگر ایک ہستی انسان سے کلام بھی کرتی ہے اور اپنے عندیہ اور منشاء کو ظاہر بھی کرتی ہے تو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ انسان سے بالا ہستی اور کوئی نہیں اور دُنیا پر کوئی حکمران نہیں قرآن کریم میں آتا ہے اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَیۡہِمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَلَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ(حم السجدۃ: ۳۱)، جب مومن کہتے ہیں کہ خدا ہے اور اس پر استقامت دکھاتے ہیں تو ان پر خدا فرشتے بھیجتا ہے کہ جاؤ ان کو سناؤ کہ میں واقع میں ہوں تم کوئی خوف اور غم نہ کرو اور وہ جنت کہ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا اس کی بشارت پا کر خوش و خرم ہو جاؤ۔

ہزاروں اور لاکھوں نبی ایسے ہوئے ہیں جن کو خدا کی طرف سے بتایا گیا کہ میں ہوں اور ان کی جماعتوں میں بھی ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں اور اب ہماری جماعت میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ہے خود مجھے بھی اللہ تعالیٰ کے محض فضل سے اس کا تجربہ ہے۔ اب اگر کوئی مجھے سنائے کہ خدا نہیں تو میں کس طرح اس کی بات مان سکتا ہوں میں تو تعجب سے اس کے منہ کو ہی دیکھوں گا کہ کیسی بیہودہ بات کہہ رہا ہے۔ اگر کوئی فلسفی کہے کہ زید نہیں ہے اور اس کے نہ ہونے کے دلائل بھی پیش کرے مگر زید سامنے بیٹھا ہو تو اس فلسفی کو پاگل ہی کہا جائے گا۔ اسی طرح جس نے خدا کی باتیں سنیں اسے اگر کوئی کہے کہ خدا نہیں ہے تو وہ اسے پاگل ہی سمجھے گا۔

پس ہزاروں نبیوں اور دوسرے لوگوں کو جو الہام ہوتے ہیں اور وہ خدا کی باتیں سنتے ہیں یہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا ایک زبردست ثبوت ہے۔

صفتِ تکلم پر اعتراض اور اس کا جواب

اس دلیل پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ انسانوں سے بولتا اور کلام کرتا ہے تو پھر مذاہب میں اختلاف کیوں ہے؟ اگر خدا بولتا تو کسی کے کان میں کچھ اور کسی کے کان میں کچھ اور کیوں کہتا ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تو ایک ہی تعلیم ملتی ہے۔ ہاں بعد میں لوگ چونکہ اس میں اپنی طرف سے باتیں ملا دیتے ہیں اس لئے اختلاف ہو جاتا ہے۔ جیسے قانونِ قدرت خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے مگر لوگ اس میں ہزاروں قسم کی باتیں اپنی طرف سے ملا دیتے ہیں اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ساری باتیں جو لوگ پیش کرتے ہیں قانونِ قدرت ہی ہے۔ مثلاً کوئی کہے کہ میں نے ایجاد کی ہے کہ لکڑی سے زندہ گھوڑا بنا لیتا ہوں یہ سُن کر یہ نہیں کہا جائے گا۔ کہ قانونِ قدرت غلط ہو گیا ہے بلکہ یہ کہا جائے گا کہ جو کچھ وہ کہتا ہے وہ غلط ہے اور صحیح یہی ہے جو قانونِ قدرت کے ماتحت ہے کہ لکڑی کا زندہ گھوڑا نہیں بن سکتا۔

پس وہ لوگ جو اپنی عقل سے باتیں بناتے اور پھر خدا کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ ان کے عقلی ڈھکوسلوں کا الزام خدا تعالیٰ پر عائد نہیں ہو سکتا بلکہ ان کی عقلوں پر عائد ہو گا اور ایسے لوگوں کے متعلق خدا تعالیٰ نے یہ قانون بنا دیا ہے کہ وَلَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ لَاَخَذۡنَا مِنۡہُ بِالۡیَمِیۡنِ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡہُ الۡوَتِیۡنَ(الحاقة: ۴۵ تا ۴۷) اگر کوئی اللہ کی طرف اپنے پاس سے بات بنا کر جانتے بوجھتے ہوئے منسوب کر دے گا تو وہ اس کی رگِ جان کو کاٹ دے گا اب کوئی خدا پر جھوٹا افتراء کر کے دیکھ لے۔ وہ لوگ جو خدا کے منکر ہیں وہی کھڑے ہو جائیں اور جان بوجھ کر ایسی باتیں بنا کر جنہیں وہ جانتے ہیں کہ خدا نے نہیں کہیں خدا کی طرف منسوب کریں کہ اس نے یہ باتیں کہی ہیں اور ہمیں ان کی اشاعت کے لئے مبعوث فرمایا ہے پھر اصرار سے اس دعویٰ کی اشاعت کریں پھر دیکھ لیں کیا نتیجہ ہوتا ہے۔

اختلافِ زمانہ کی وجہ سے مذاہب میں اختلاف

دوسرا جواب یہ ہے کہ مذاہب میں کچھ حصہ اختلاف کا زمانہ کی ضروریات کے ماتحت ہوتا ہے مگر دراصل وہ اختلاف نہیں کہلا سکتا۔ مثلاً طبیب ایک نسخہ لکھتا ہے مگر جب مریض کی حالت بدل جاتی ہے تو دوسرا لکھتا ہے۔ ان میں اختلاف نہیں کہا جا سکتا بلکہ ضرورت کے ماتحت جیسا مناسب تھا ویسا کیا گیا۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ طبیب کا کیا اعتبار کہ کبھی کچھ دیتا ہے کبھی کچھ بلکہ سب جانتے ہیں کہ مریض کی اندرونی تبدیلی کی وجہ سے نسخہ بدلا ہے ۔ یہی حال دین کا ہے۔ جب بنی نوع انسان کی ذہنی حالت میں ارتقاء حاصل ہوتا ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے نئی تعلیم ان کو مل جاتی ہے۔

خدا ایک مذہب کیلئے سب کو مجبور کیوں نہیں کرتا

اس موقعہ پر یہ سوال بھی کیا جا سکتا ہے۔ کہ اچھا مان لیا کہ جو خدا پر جھوٹ باندھے اسے خدا ہلاک کر دیتا ہے لیکن اس کی کیا وجہ ہے کہ خدا جھوٹے مذاہب کے پیروؤں کو ہلاک نہیں کرتا جھوٹے مذاہب کے ماننے والوں کو مار دینا چاہئے تھا یا ان سب کو ایک مذہب کا پیرو بنا دینا چاہئے تھا۔ اس کا جواب خدا تعالیٰ نے آپ دیا ہے فرماتا ہے۔ شَآءَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلٰکِنۡ لِّیَبۡلُوَکُمۡ فِیۡ مَاۤ اٰتٰٮکُمۡ فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ(المائدة: ۴۹)۔ اگر ہم چاہتے تو سب کو مجبور کر کے ایک مذہب پر لے آتے لیکن اگر اس طرح کرتے تو کسی کو ثواب نہ ملتا اور جو غرض لوگوں کے پیدا کرنے کی تھی وہ پوری نہ ہوتی جس غرض کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے وہ تبھی پوری ہوسکتی ہے کہ وہ آزاد ہو۔ اس میں قبول کرنے کی اور رد کرنے کی دونوں قسم کی طاقتیں ہوں پس چونکہ سب لوگوں کو مجبور کر کے ایک مذہب پر لانا انسان کی پیدائش کی غرض کو بالکل باطل کر دیتا ہے اس لئے خدا ایسا نہیں کرتا۔

سچے مذہب میں اختلاف

یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اچھا مان لیا کہ اختلافِ مذاہب کی یہ وجہ ہے مگر جو مذہب اپنے آپ کو سچا کہتا ہے اس میں بھی تو اختلاف ہے مسلمانوں کو دیکھ لو کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ۔ اگر تم کہو کہ جس طرح پہلے دینوں میں لوگوں نے باتیں ملا دیں اسی طرح اس میں بھی ملا دی ہیں جس سے اختلاف ہو گیا ہے تو ہم کہتے ہیں خدا نے ایسا کلام کیوں نہ نازل کیا جس سے بندوں کو ٹھوکر نہ لگتی۔ خدا ایسا کلام کرتا کہ کوئی انسان اس کے متعلق ٹھوکر نہ کھاتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا کا کلام تو ایسا ہی ہوتا ہے ۔ جسے سارے انسان سمجھ سکتے ہیں لیکن بعض لوگ شرارت سے اور دھوکا دینے کے لئے اس سے کچھ کا کچھ مطلب نکالتے ہیں اور اس سے ان کی کوئی غرض وابستہ ہوتی ہے جیسا کہ اب آریہ کہتے ہیں کہ قرآن سے تناسخ ثابت ہوتا ہے روح و مادہ کی ازلیت ثابت ہوتی ہے اور ممکن ہے کچھ عرصہ کے بعد یہ بھی کہہ دیں کہ نعوذ باللہ قرآن میں نیوگ کی تعلیم بھی پائی جاتی ہے ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کو کون روک سکتا ہے جو چاہتے ہیں کہتے جاتے ہیں۔

پھر اختلاف کا دروازہ کھلا رکھنے سے ایک مقصد انسانی دماغ کی نشوونما بھی ہے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اِخْتِلَافُ اُمَّتِیْ رَحْمَةٌ میری اُمت کا اختلاف رحمت ہے آپ کے اس قول کی وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے کلام میں کچھ باتیں محکمات کی قسم سے بیان کی ہیں اور کچھ متشابہات کی قسم سے۔ محکمات سے مراد یہ ہے کہ ان کے معنی گو ایک سے زیادہ کئے جائیں مگر وہ سب کے سب ایک رنگ میں رنگین ہوں اور متشابہات کا یہ مطلب ہے کہ ایسے الفاظ رکھے گئے ہیں جن کے متعدد معنی ہو سکتے ہیں اور بعض ان میں سے بظاہر مخالف نظر آتے ہیں مگر وہ حقیقتاً مخالف نہیں یعنی گو یہ ممکن نہیں کہ ایک پر عمل کیا جائے تو دوسرے پر بھی عمل ہو سکے لیکن وہ دونوں معنی شریعت کی نص صریح کے مخالف نہ ہوں گے اور دونوں میں سے کسی پر عمل کرنا ایمان یا اسلام کے لئے نقصان دہ نہ ہوگا جیسے عورتوں کی عدت کے لئے قرآن کریم میں قَرْء کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی طہر کے بھی ہیں اور حیض کے بھی مسلمانوں میں سے ایک جماعت طہر کے معنی کرتی ہے دوسری حیض کے گو بظاہر یہ دونوں معنی مخالف نظر آتے ہیں اور ایک ہی شخص ایک وقت میں دونوں پر عمل نہیں کر سکتا۔ مگر شریعت کی کسی نص کے دونوں ہی مخالف نہیں اور نہ ان میں سے کسی ایک پر عمل کرنے سے ایمان و اسلام کو نقصان پہنچ سکتا ہے اس اختلاف کے ذریعے سے شریعت کی باریکیوں پر غور کرنے کی عادت پڑتی ہے مختلف علوم جسمانی و روحانی کی جستجو کا خیال دل میں پیدا ہوتا ہے اور سب سے زیادہ یہ کہ شریعت کے مغز اور اس کے احکام کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ اور اس کے احکام میں سے جو قشر اور چھلکے کی حقیقت رکھتے ہیں انکی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ جس طرح خدا تعالیٰ نے کانیں رکھی ہیں کہ جو کوشش کرے ان سے سونا چاندی نکال لے اسی طرح اس نے قرآن کو بنایا ہے اور یہ امر ایک خوبی اور خدائی کلام کی اعلیٰ صفت ہے نہ کہ کوئی نقص۔ میں نے دیکھا اور تجربہ سے معلوم کیا ہے کہ سورۃ فاتحہ جو ایک چھوٹی سی سورت ہے اس کے معنی کبھی ختم نہیں ہوتے۔ پس اس سے خدا کے کلام پر اعتراض نہیں پڑتا بلکہ اس کی خوبی ظاہر ہوتی ہے۔ ہر شخص اپنی عقل اور اپنی ہمت کے مطابق معنی نکالتا ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتا اور دوسروں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ پس جو اختلاف کہ ذاتی فوائد واغراض کے ماتحت نہیں کئے جاتے یا جہالت یا قلت تدبر کی وجہ سے نہیں ہوتے وہ اصول میں سے نہیں بلکہ فروعات میں سے ہوتے ہیں اور امت کے لئے فائدہ کا باعث ہیں کیونکہ ان پر لوگوں کو غور وفکر کرنے کا موقع ملتا ہے۔ پھر قرآن کریم کی آیات کے ذو معانی ہونے کی یہ بھی وجہ ہے کہ یہی کتاب ادنیٰ درجہ کے مؤمنوں کے لئے بھی ہے اور اعلیٰ درجہ کے مؤمنوں کے لئے بھی۔ معمولی لیاقت کے لوگوں کے لئے بھی اور اعلیٰ روحانی مقامات پر پہنچنے والوں کے لئے بھی۔ پس الفاظ ایسے رکھے گئے ہیں کہ ہر علم کا آدمی اس سے اپنے درجہ کے مطابق مستفیض ہو سکے اور اس کا کوئی حصہ بھی کسی جماعت کے لئے بے فائدہ یا ناقابل فہم نہ ہو یہی چھوٹی سی کتاب ہے جسے ایک معمولی سے معمولی مؤمن بھی پڑھتا تھا اور رسول کریمؐ بھی۔ اگر یہ خوبی نہ ہوتی تو یا اس معمولی مؤمن کی سمجھ کے قابل بات اس میں نہ ہوتی یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو زیادہ کرنے والی بات کوئی نہ ہوتی۔ گویا کلام ایک ہی ہے الفاظ ایک ہی ہیں۔ لیکن ان کو ایسے رنگ میں جوڑا گیا ہے کہ جتنی جتنی کسی کی سمجھ اور عقل ہو اس کے مطابق وہ ان سے معنی نکال لے اور اس کلام کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں کم درجہ کی عقل والوں کی سمجھ میں آنے والی باتیں نہیں ہیں اور نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس میں ادنیٰ درجہ کے لوگوں کے متعلق تعلیم ہے اعلیٰ رُوحانی درجہ رکھنے والے ان سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے بلکہ اس کا ہر ہر لفظ دونوں جماعتوں کے لئے ہے۔

ہر اختلاف رحمت نہیں

اس پر یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ مانا کہ اختلاف رحمت ہوتا ہے مگر اسلام میں ایسے جھگڑے اور اختلاف بھی تو ہیں جو رحمت کا موجب نہیں بلکہ دُکھ کا موجب ہیں۔ مثلاً اونچی اور نیچی آمین کہنے پر ایک دوسرے کو پتھر بھی مارتے ہیں مقدمے بھی چلتے ہیں۔ پھر یہ اختلاف رحمت کس طرح ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک جب انسان گندے ہو جائیں تو ان کی ایسی ہی حالت ہو جاتی ہے کہ فروعی باتوں پر ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں۔ مگر جب کبھی مسلمانوں کی ایسی حالت ہوتی رہی ہے تو خدا تعالیٰ کسی انسان کو بھیج دیتا رہا ہے جو ان کو حقیقت کی طرف لاتا رہا ہے۔ چنانچہ مسلمان اس زمانہ میں بھی ایسی باتوں پر لڑنے جھگڑنے لگے اور نہ سمجھا کہ اس قسم کا اختلاف رحمت نہیں بلکہ عذاب اور دُکھ کا موجب ہے تو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو بھیج دیا اور آپؐ نے ایک فقرہ میں ان سب جھگڑوں کو حل کر دیا۔ چنانچہ دیکھ لو ہماری جماعت میں ان امور پر کوئی اختلاف نہیں غرض بعض باتیں ایسی ہیں جن میں سے ایک صورت ادنیٰ درجہ والوں کے لئے ہے ایک اعلیٰ درجہ والوں کے لئے۔ اور بعض ایسی ہیں جن کی دونوں صورتیں درست ہیں۔ مثلاً آمین اونچی کہنی بھی جائز ہے اور نیچی بھی۔ ہاتھ اوپر باندھے جائیں یا نیچے دونوں طرح جائز ہے۔ اس طرح سب باتوں کا فیصلہ ہو گیا اور کوئی جھگڑا نہ رہا۔

مشاہدہ کی دلیل پر اعتراض اور اس کا جواب

میں نے جو یہ بتایا ہے کہ جس انسان کو خدا کا مشاہدہ ہو جائے خدا کا کلام سنے وہ کس طرح انکار کر سکتا ہے کہ خدا نہیں ہے۔ اس پر ایک اعتراض کیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ مشاہدہ کی دلیل ہر جگہ درست طور پر نہیں چل سکتی۔ مثلاً شعبدہ باز بظاہر روپیہ بنا کر دکھا دیتا ہے دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ اس نے روپیہ بنا دیا ہے لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہوتا کہ اس نے کسی منتر سے روپیہ بنایا ہو اسی طرح کیوں نہ سمجھا جائے کہ اس مشاہدہ میں بھی کوئی دھوکا ہی ہوتا ہو انسان خیال کرتا ہو کہ اسے مشاہدہ یا مکالمہ حاصل ہوا ہے اور فی الواقع کچھ بھی نہ ہو۔

ہم کہتے ہیں مشاہدے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن میں غلطی لگ سکتی ہے دوسرا وہ جن میں غلطی لگنے کا امکان نہیں ہوتا۔ ایک مشاہدہ تو یہ ہے کہ مثلاً کوئی شخص دور سے ایک شکل دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ فلاں شخص ہے لیکن ایک اور شخص اسے ملتا ہے جو بتاتا ہے کہ وہ اُس شخص کو کسی اور جگہ پر دیکھ کر آیا ہے اس وقت اس شخص کی بات قبول کی جاتی ہے جو قریب سے دیکھ کر آیا ہے اور اس کی رد کر دی جاتی ہے جس نے دور سے دیکھا تھا۔ اس لئے نہیں کہ مشاہدہ مشتبہ شئے ہے بلکہ اس لئے کہ خود مشاہدوں کے مختلف درجے ہیں اور پہلے شخص کے مشاہدہ کے مقابلہ میں دوسرے شخص کا قریب کا مشاہدہ جب پیش کیا گیا تو معلوم ہوا کہ پہلے مشاہدہ میں غلطی لگ گئی تھی لیکن ایک مشاہدہ اس قسم کا ہے کہ مثلاً ایک شخص مجھ سے باتیں کرے اور اس وقت لوگ بھی موجود ہوں اور وہ بھی اس امر پر شاہد ہوں کہ ہاں فی الواقع اس نے مجھ سے باتیں کی ہیں اس کے بعد کوئی شخص مجھے آکر کہے کہ میں نے تو اسے لاہور میں دیکھا ہے۔ تو اس صورت میں مجھے اپنے مشاہدہ کے متعلق کوئی شبہ نہ ہو گا بلکہ میں اُس شخص کی نسبت یہی یقین کروں گا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے یا غلطی خوردہ ہے۔ اسی طرح شعبدہ باز اگر اپنی ہتھیلی پر روپیہ بنانے کی بجائے میری ہتھیلی پر روپیہ بنائے تو اس کے روپیہ بنانے میں کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن وہ تو اپنی ہی ہتھیلی پر روپیہ بناتا ہے جس کی نسبت یقین کیا جا سکتا ہے کہ اس نے کسی نہ کسی جگہ روپیہ چھپا کر رکھا ہوا ہو گا پس شعبدہ باز کی شعبدہ بازی مشاہدہ نہیں کہلا سکتی مگر خدا کے کلام میں ایسا شبہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ تو پُر شوکت آواز میں یا من وراء حجاب تعبیر طلب خوابوں کے ذریعہ سے ایک نہیں دو نہیں سینکڑوں بندوں سے کلام کرتا ہے۔

کیا خدا کا مشاہدہ کرنیوالوں کے حواس غلطی تو نہیں کرتے

یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جو لوگ خدا کے مشاہدہ کا اعلان کرتے ہیں ممکن ہے ان کے حواس کی غلطی ہو اور وہ پاگل ہوں یا دھوکا خوردہ مگر ہم کہتے ہیں یہ کیسا پاگل پن ہے کہ اس قسم کے کلام پانے والے سب کے سب اس امر پر متفق ہیں کہ ایک زبردست ہستی ہے جو ہم سے کلام کرتی ہے کبھی پاگلوں میں بھی اس قسم کا اتفاق ہوا کرتا ہے؟ پاگل تو دو بھی ایک بات نہیں کہتے کجا یہ کہ سینکڑوں و ہزاروں لوگ ایسی بات کہیں ان میں سے کتنوں کے متعلق کہو گے کہ ان کے دماغ خراب ہو گئے اس لئے یہ شبہ بالکل غلط ہے۔

صفت مجیب خدا کی ہستی کا ثبوت

تیسری مثال کے طور پر میں خدا تعالیٰ کی صفت مجیب کو بیان کرتا ہوں جس قدر لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے کے مدعی گزرے ہیں سب کہتے چلے آئے ہیں کہ خدا مجیب ہے دُعاؤں کو قبول کرتا ہے۔ اب اگر تجربہ سے ثابت ہو جائے کہ خدا تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ کوئی دُعاؤں کو قبول کرنے والی ہستی موجود ہے تو خدا تعالیٰ کے وجود میں کوئی شبہ نہیں رہتا بلکہ اس امر میں بھی کہ وہ سمیع اور مجیب ہے۔ سمیع تو اس طرح کہ بندہ کہتا ہے اور وہ سنتا ہے اور مجیب اس طرح کہ بندہ کی عرض قبول کرتا ہے اس صفت کے ثبوت کے طور پر میں دُعاؤں کی قبولیت کو پیش کرتا ہوں کس کس رنگ میں انسان دُعا کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کس کس طرح اس کے لئے ناممکن کو ممکن کر کے دکھا دیتا ہے یہ ایک ایسا حیرت انگیز مشاہدہ ہے کہ اس کو دیکھتے ہوئے خدا تعالیٰ کا انکار ایک قسم کا جنون ہی معلوم دیتا ہے ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دُعاؤں کی قبولیت کے ایسے نشان دیکھے ہیں کہ ان کے دیکھنے کے بعد خدا تعالیٰ کے وجود میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا پھر خود اپنی ذات میں بھی اس نشان کا مشاہدہ کیا ہے اور بارہا حیرت انگیز ذرائع سے دُعاؤں کو قبول ہوتے دیکھا ہے۔ نواب محمد علی خان صاحب کے صاحبزادے میاں عبدالرحیم خان صاحب کے واقعہ کو ہی دیکھ لو وہ ایک دفعہ ایسے بیمار ہوئے کہ ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ اب یہ بچ نہیں سکتے۔ حضرت صاحب نے دُعا کی کہ خدایا اگر اس کی موت آچکی ہے تو میں اس کی شفاعت کرتا ہوں تب خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ کون ہے جو خدا تعالیٰ کے اذن کے بغیر اس کی شفاعت کر سکے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ یہ بات سُن کر مجھ پر اسقدر رعب طاری ہوا کہ گویا جسم میں سے جان نکل گئی اور میں ایک مُردے کی طرح جا پڑا اور پھر الہام ہوا کہ اچھا تم کو اجازت دی جاتی ہےچنانچہ آپ نے پھر دُعا کی اور وہ قبول ہوگئی۔ آپ نے اسی وقت باہر نکل کر یہ بات لوگوں کو سنا دی اور میاں عبدالرحیم خان جن کی نسبت ڈاکٹر اور حکیم کہہ چکے تھے کہ اب ان کی آخری گھڑیاں ہیں۔ اسی وقت سے اچھے ہونے لگ گئے اور اب تک خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ ہیں اور اس وقت ولایت تعلیم کے لئے گئے ہوئے ہیں۔ (نظر ثانی کے وقت وہ خدا کے فضل سے بیرسٹری کے امتحان میں کامیاب ہو چکے ہیں)۔

غرض دُعائیں ایسے رنگ میں قبول ہوتی ہیں کہ جو امور ناممکنات میں سے سمجھے جاتے ہیں ماننا پڑتا ہے کہ کسی بالا ہستی کی قضاء کے ماتحت ان کی قبولیت وقوع میں آتی ہے۔

قبولیتِ دُعا پر اعتراض اور اس کا جواب

دُعاؤں کی قبولیت کے متعلق یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہم یہ کیوں نہ سمجھیں کہ جن باتوں کو دُعاؤں کی قبولیت کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے وہ اتفاقاً ہو جاتی ہیں ہم کہتے ہیں یہ اعتراض معقول ہے بعض غیرمعمولی واقعات اتفاقاً بھی ہو جایا کرتے ہیں لیکن دُعاؤں کی قبولیت کے ساتھ بعض امور متعلق ہیں جن کی موجودگی میں نہیں کہہ سکتے کہ جو نتائج پیدا ہوئے ہیں وہ اتفاقاً ہوئے ہیں اول تو یہ کہ دُعاؤں کے ساتھ ساتھ واقعات میں تبدیلی ہوتی جاتی ہے جسے دیکھ کر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ تبدیلی اتفاقی نہیں بلکہ کسی ارادہ کے ماتحت ہو رہی ہے۔ دوسرے یہ کہ ایسے امور بھی دُعاؤں کے ذریعہ سے پورے ہوتے ہیں کہ بغیر دُعا کے اتفاقاً بھی وہ نہیں ہوتے۔ تیسرے یہ کہ اس کثرت سے دُعاؤں کے ذریعہ سے غیرمعمولی حالات پیدا ہوتے ہیں کہ اس کثرت کی موجودگی میں اتفاق کا لفظ بولا ہی نہیں جا سکتا۔ چوتھے یہ کہ دعا کرنے والے کو بسا اوقات قبل از وقت معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو گئی ہے خواہ بذریعہ الہام خواہ بطور القاء کہ اس قبل از وقت علم کے بعد اس کا نام اتفاق رکھنا بالکل درست نہیں۔ غرض قبولیت دعا کے نظارے ایسے طور پر دکھائی دیتے ہیں کہ ان کی موجودگی میں اتفاق کا شبہ تک بھی پیدا نہیں ہو سکتا۔

صفت حفیظ خدا کی ہستی کا ثبوت

چوتھی مثال میں خدا تعالیٰ کی صفت حفیظ کی پیش کرتا ہوں تمام نبیوں نے شہادت دی ہے کہ خدا حفیظ ہے۔ اب آؤ دیکھیں کہ کیا کوئی حفیظ ہستی ہے۔ جو قانونِ قدرت کے علاوہ حفاظت کرتی ہے۔ اگر کوئی ایسی ہستی ثابت ہو جائے تو ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ موجود ہے میں اس صفت کے ثبوت میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کو پیش کرتا ہوں۔ مکہ والوں نے آپؐ کو مارنا چاہا خدا تعالیٰ نے آپؐ کو وقت پر اطلاع دی اور فرمایا کہ یہاں سے چلے جاؤ آپؐ وہاں سے روانہ ہو گئے لیکن بعض مصالح کی وجہ سے راستہ میں ٹھہرنا پڑا۔ قریب کے پہاڑ کی ایک غار میں جس کا منہ چند فٹ مربع ہے اور جسے غار ثور کہتے ہیں آپؐ ٹھہر گئے مکہ والے تلاش کرتے کرتے اس جگہ تک جا پہنچے عربوں میں کھوج لگانے کا علم بڑا یقینی تھا اور یہ ان کے لئے ضروری تھا کیونکہ وہ جنگی لوگ تھے اگر اس کے ذریعہ اپنے دشمنوں کا پتہ نہ لگایا کرتے تو تباہ ہو جاتے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں بھی کھوجی لگائے گئے اور وہی پتہ لگاتے ہوئے اس غار تک مکہ والوں کو لے آئے وہاں آکر انہوں نے کہا کہ یا تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) یہاں ہے یا پھر آسمان پر چڑھ گیا ہے اس سے آگے نہیں گیا۔ جب یہ باتیں ہو رہی تھیں تو نیچے آپ بھی سن رہے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ کو ڈر پیدا ہوا کہ میں اکیلا کیا کر سکوں گا ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ خدا کے رسولؐ کو پکڑ لیں لیکن جس شخص کے متعلق آپؐ ڈر رہے تھے اور جو شخص حقیقتاً مکہ والوں کو مطلوب تھا وہ اس خوف کے وقت میں فرماتا ہے لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا(9:40)۔ غم نہ کھا خدا ہمارے ساتھ ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ کھوجی جن کی بات پر ان لوگوں کو بہت ہی یقین ہوتا تھا وہ کہتے ہیں کہ آپ اس جگہ آئے ہیں مگر کوئی آگے بڑھ کر غار کے اندر نہیں جھانکتا اور یہ کہہ کر کہ یہاں ان کا ہونا ناممکن ہے سب لوگ واپس چلے جاتے ہیں۔

میں جب مکہ گیا تھا تو اس غار کو دیکھنے کے لئے بھی گیا تھا لیکن اوپر چڑھتے ہوئے میرا سانس پھول گیا اور میں وہاں تک نہ جا سکا دوسرے آدمی کو بھیجا کہ جا کر دیکھ آئے۔ اس نے آکر بتایا کہ اس غار کا منہ اچھا چوڑا ہے ایک چارپائی کے قریب ہے لیکن کیا یہ عجیب بات نہیں کہ باوجود اس کے کہ ہر ایک بات اس کی طرف اشارہ کر رہی تھی کہ آپ اس غار میں ہیں اور وہ لوگ اس قدر جوش سے آپؐ کی تلاش میں آئے تھے مگر باوجود آپؐ کی گرفتاری کی دلی خواہش کے اور واقعات کے آپؐ کے وہاں موجود ہونے کی طرف اشارہ کرنے کے ان کو اس قدر توفیق نہ ملی کہ ذرا جھک کر غار میں دیکھ لیتے ان کے سامنے کوئی توپ نہیں تھی جس کا انہیں ڈر ہو سکتا تھا نہ کوئی اور روک اور مشکل تھی لیکن ان میں سے کوئی بھی غار کو نہیں دیکھتا اور سارے واپس چلے جاتے ہیں۔ آپؐ کے اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا کہنے کے بعد ان لوگوں کا اس طرح خائب و خاسر چلے جانا کیا اس امر پر دلالت نہیں کرتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک زبردست طاقت کی حفاظت میں تھے۔

ایک مثال حفاظت الٰہی کی میں حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی میں سے بھی پیش کرتا ہوں کنور سین صاحب جو لاء کالج لاہور کے پرنسپل ہیں ان کے والد صاحب سے حضرت صاحبؑ کو بڑا تعلق تھا حتیٰ کہ حضرت مسیح موعودؑ کو کبھی روپیہ کی ضرورت ہوتی تو بعض دفعہ ان سے قرض بھی لے لیا کرتے تھے ان کو بھی حضرت صاحب سے بڑا اخلاص تھا۔ جہلم کے مقدمہ میں انہوں نے اپنے بیٹے کو تار دی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے وکالت کریں اس اخلاص کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ایامِ جوانی میں جب وہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام مع چند اور دوستوں کے سیالکوٹ میں اکٹھے رہتے تھے حضرت مسیح موعودؑ کے کئی نشانات دیکھے تھے۔ چنانچہ ان نشانات میں سے ایک یہ ہے کہ ایک رات آپ دوستوں سمیت سو رہے تھے کہ آپ کی آنکھ کھلی اور دل میں ڈالا گیا کہ مکان خطرہ میں ہے

آپ نے سب دوستوں کو جگایا اور کہا کہ مکان خطرہ میں ہے اس میں سے نکل چلنا چاہئے۔ سب دوستوں نے نیند کی وجہ سے پرواہ نہ کی اور یہ کہہ کر سو گئے کہ آپ کو وہم ہو گیا ہے مگر آپ کا احساس برابر ترقی کرتا چلا گیا۔ آخر آپ نے پھر انکو جگایا اور توجہ دلائی کہ چھت میں سے چرچراہٹ کی آواز آتی ہے مکان کو خالی کر دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا معمولی بات ہے ایسی آواز بعض جگہ لکڑی میں کیڑا لگ جانے سے آیا ہی کرتی ہے۔ آپ ہماری نیند کیوں خراب کرتے ہیں مگر آپ نے اصرار کر کے کہا کہ اچھا آپ لوگ میری بات مان کر ہی نکل چلیں آخر مجبور ہو کر وہ لوگ نکلنے پر رضامند ہوئے حضرت صاحب کو چونکہ یقین تھا کہ خدا میری حفاظت کے لئے مکان کے گرنے کو روکے ہوئے ہے۔ اس لئے آپ نے انہیں کہا کہ پہلے تم نکلو پیچھے میں نکلوں گا۔ جب وہ نکل گئے اور بعد میں حضرت صاحب نکلے تو آپ نے ابھی ایک ہی قدم سیڑھی پر رکھا تھا کہ چھت گر گئی۔ دیکھو آپ انجینئر نہ تھے کہ چھت کی حالت کو دیکھ کر سمجھ لیا ہو کہ گرنے والی ہے نہ چھت کی حالت اس قسم کی تھی نہ آواز ایسی تھی کہ ہر اک شخص اندازہ لگا سکے کہ یہ گرنے کو تیار ہے۔ علاوہ ازیں جب تک آپ اصرار کر کے لوگوں کو اُٹھاتے رہے اس وقت تک چھت اپنی جگہ پر قائم رہی اور جب تک آپ نہ نکل گئے تب تک بھی نہ گری مگر جونہی کہ آپ نے پاؤں اُٹھایا چھت زمین پر آگئی۔ یہ امر ثابت کرتا ہے کہ یہ بات کوئی اتفاقی بات نہ تھی بلکہ اس مکان کو حفیظ ہستی اس وقت تک روکے رہی جب تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن کی حفاظت اس کے مدنظر تھی اس مکان سے نہ نکل آئے پس صفت حفیظ کا وجود ایک بالا دہستی پر شاہد ہے اور اس کا ایک زندہ گواہ ہے۔

صفت خالقیت۔ خدا کی ہستی کا ثبوت

پانچویں مثال کے طور پر میں صفت خلق کو بیان کرتا ہوں۔ یہ بات واضح ہے کہ اگر تمام تخلیق کے علاوہ جو دنیا میں ایک مقررہ قاعدہ کے ماتحت ہو رہی ہے ایک خاص تخلیق بھی ثابت ہو جائے تو ماننا پڑے گا کہ ایک ایسی ہستی ہے جس کی قدرت میں ہے کہ جو چاہے پیدا کرے اور یہ خدا تعالیٰ کے موجود ہونے کا ایک زبردست ثبوت ہو گا۔ اس صفت کے ثبوت کے طور پر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ پیش کرتا ہوں۔ آپؐ ایک دفعہ کہیں جا رہے تھے کہ آپؐ کے ساتھیوں کے پاس جو پانی تھا وہ ختم ہو گیا۔ اتنے میں آپؐ نے دیکھا کہ ایک عورت پانی لئے جا رہی ہے۔ آپؐ نے اس سے دریافت فرمایا کہ یہاں سے پانی کتنے فاصلہ پر ہے؟ اس نے کہا تین منزل۔ پر چونکہ ایک لشکر آپؐ کے ساتھ تھا اور پانی ختم ہو چکا تھا آپؐ نے اس سے پانی کا مشکیزہ لے لیا اور اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر لوگوں کو پانی دے دیا اللہ تعالیٰ نے اس میں ایسی برکت دی کہ سب کی ضرورت بھی پوری ہوگئی اور اس عورت کے لئے بھی پانی بچ رہا یہ ایک زبردست نشان صفت خالقیت کے ثبوت میں ہے اور اس واقعہ کے سچے ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ جب اس واقعہ کو اس کی قوم نے معلوم کیا تو وہ سب کی سب مسلمان ہوگئی۔ ایک ایسا واقعہ جس پر قوم کی قوم مذہب تبدیل کرلے ۔ راویوں کے ذہن کی بناوٹ نہیں کہلا سکتا۔ اگر کوئی کہے کہ یہ تو ایک قصہ ہے جو بعد میں بنا لیا گیا ہے تو میں کہتا ہوں کہ اس قسم کی تازہ مثالیں بھی موجود ہیں مثلاً حضرت مسیح موعود کا ہی ایک واقعہ ہے جس کے گواہ ابھی زندہ موجود ہیں اور وہ یہ کہ حضرت صاحب ایک دفعہ سوئے ہوئے تھے۔ مولوی عبداللہ صاحب سنوری آپ کے پاؤں دبا رہے تھے۔ انہوں نے پاؤں دباتے دباتے دیکھا کہ کوئی گیلی گیلی چیز آپ کے پاؤں پر گری ہے ۔ ہاتھ لگا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ گیلا سُرخ رنگ ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حیران ہوا کہ یہ کیا چیز ہے اور یہ خیال کر کے کہ شاید چھپکلی وغیرہ کا خون ہو میں نے چھت کی طرف جو دیکھا تو وہ بالکل صاف تھی اور اس پر چھپکلی کا کوئی نشان نہ تھا پھر وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی ٹوپی کو دیکھا تو اس پر بھی کچھ چھینٹے تھے حضرت مسیح موعودؓ اس وقت کسی قدر بیدار ہوئے اور آنکھیں کھولیں تو آپ کی آنکھوں میں آنسو تھے اور میں نے دیکھا کہ آپ کے کُرتے پر بھی کئی چھینٹے ویسے ہی سُرخ رنگ کے پڑے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے پوچھا کہ یہ نشان تازہ بتازہ پڑے ہیں یہ کیسے ہیں؟ پہلے تو آپ نے فرمایا کسی طرح نشان پڑ گئے ہوں گے ۔ مگر جب میں نے زور دیا کہ حضور یہ تو میرے دیکھتے ہوئے پڑے ہیں اور تازہ ہیں تو پھر آپ نے سنایا کہ میں نے رؤیا میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ بطور جج کے بیٹھا ہے اور میں ریڈر کے طور پر سامنے کھڑا ہوں اور کچھ کاغذات دستخطوں کے لئے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے سرخی کی دوات میں قلم ڈبوئی اور قلم کو جھٹڑ کا جس کے چھینٹے میرے کپڑوں پر گرے اور اس کا اثر ظاہر میں بھی ظاہر ہو گیا۔ یہ خواب تفصیل سے آپ کی کتب میں موجود ہے۔

اب دیکھو یہ خلق ہے یا نہیں؟ وہ سرخی اگر خدا نے پیدا نہیں کی تھی تو کہاں سے آئی تھی ؟ غرض اب بھی صفتِ خلق کے ماتحت نشان دکھائے جارہے ہیں مگر اس کے نظائر مومنوں کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔

خود میرا اپنا ایک مشاہدہ ہے ۔ ایک دفعہ میں سو رہا تھا میں نے سوتے سوتے دیکھا کہ میرے منہ میں مشک ڈالی گئی ہے ۔ جب میں اُٹھا تو منہ سے مشک کی خوشبو آرہی تھی میں نے سمجھا شاید خواب کا اثر ہے اور گھر والوں کو کہا کہ میرا منہ سونگھو انہوں نے بھی بتایا کہ مشک کی خوشبو آتی ہے یہ ایک قسم کی نئی پیدائش ہی تھی جو خدا کی صفت خالقیت کے ماتحت ہوئی۔

شاید بعض لوگ کہیں کہ اس قسم کی باتیں خدا کے ماننے والے ہی کہتے ہیں ان کا کیا اعتبار ہو سکتا ہے مگر یاد رکھنا چاہئے کہ ماننے والوں کی باتیں بھی ماننی ہی پڑتی ہیں۔ اگر راستباز سمجھدار آدمی جن کو جھوٹ بول کر کوئی فائدہ نہ پہنچتا ہو ایسے امور کی شہادت دیں تو کیا وجہ ہے کہ ان کی شہادت کو قبول نہ کیا جائے اور اس قسم کی شہادتیں مومن ہی دے سکتے ہیں کیونکہ ایسے واضح نشانات تو مومنوں کو ہی دکھائے جاتے ہیں کیونکہ اگر نہ ماننے والوں کو بھی ایسے نشانات دکھائے جائیں تو پھر ان کا ایمان لانا کوئی خوبی نہیں رہ سکتا اور ان کا ایمان بے فائدہ ہو جاتا ہے۔ سورج کو دیکھ کر اسے ماننے پر کسی انعام کا انسان امیدوار نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح اگر ایسے شواہد غیر مومن دیکھیں تو ان کے ایمان بے نفع ہو جائیں پس یہ نظارے ایمان کے بعد ہی دکھائے جاتے ہیں۔

صفت شافی کی شہادت

چھٹی مثال کے طور پر میں خدا تعالیٰ کی صفت شفاء کو پیش کرتا ہوں۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ بعض مریض ایسے طریق پر اچھے ہوتے ہیں جو طبعی طریقوں کے علاوہ ہیں یا ایسے مریض اچھے ہوتے ہیں جو عام طور پر اچھے نہیں ہو سکتے تو ماننا پڑیگا کہ ایک ایسی ہستی موجود ہے جس کے اختیار میں شفاء ہے اور یہ بھی کہ وہ اپنے اس اختیار کو استعمال بھی کرتی ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ایسے نظارے نظر آتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے غیر معمولی طور پر شفاء بعض مریضوں کو ملتی ہے بغیر اس کے کہ طبعی ذرائع استعمال ہوں یا ان موقعوں پر شفاء ملتی ہے کہ جب طبعی ذرائع مفید نہیں ہوا کرتے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے واقعات میں سے اس قسم کی شفاء کی ایک مثال جنگ خیبر کے وقت ملتی ہے خیبر کی جنگ کے دوران میں ایک دن آپؐ نے صحابہ سے فرمایا کہ خیبر کی فتح اس شخص کے لئے مقدر ہے جس کے ہاتھ میں میں جھنڈا دونگا۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں جب وہ وقت آیا تو میں نے گردن اونچی کر کر کے دیکھنا شروع کیا کہ شاید مجھے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جھنڈا دیں مگر آپؐ نے انہیں اس کام کے لئے مقرر نہ فرمایا۔ اتنے میں حضرت علیؓ آئے اور ان کی آنکھیں سخت دُکھ رہی تھیں آپؐ نے ان کی آنکھوں پر اپنا لعاب دہن لگا دیا اور آنکھیں فوراً اچھی ہو گئیں اور آپؐ نے ان کے ہاتھ میں جھنڈا دیکر خیبر کی فتح کا کام ان کے سپرد کیا۔ (بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ خیبر)

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کے سارے واقعات چونکہ محفوظ نہیں۔ اس لئے اس قسم کی زیادہ مثالیں اب نہیں مل سکتیں ورنہ میں سمجھتا ہوں کہ سینکڑوں ہزاروں مثالیں آپ کی زندگی میں مل سکتی ہوں گی۔ مگر حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں جبکہ دہریت کا بہت زور ہے اور اس کے توڑنے کے لئے آسمانی نشانوں کی حد درجہ کی ضرورت ہے خدا تعالیٰ نے بہت سے نشانات اس قسم کے دکھائے ہیں جن پر ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات کا قیاس کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر میں ایک صاحب عبدالکریم نامی کا واقعہ پیش کرتا ہوں وہ قادیان میں سکول میں پڑھا کرتے تھے انہیں اتفاقاً باؤلے کتے نے کاٹ کھایا اس پر انہیں علاج کے لئے کسولی بھیجا گیا اور علاج ان کا بظاہر کامیاب رہا لیکن واپس آنے کے کچھ دن بعد انہیں بیماری کا دورہ ہو گیا۔ جس پر کسولی تار دی گئی کہ کوئی علاج بتایا جائے؟ مگر جواب آیا:

"NOTHING CAN BE DONE FOR ABDUL KARIM"

افسوس ہے کہ عبدالکریم کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا۔ حضرت مسیح موعودؑ کو ان کی بیماری کی اطلاع دی گئی چونکہ سلسلہ کی ابتداء تھی اور یہ صاحب بہت دور دراز سے علاقہ حیدر آباد دکن کے ایک گاؤں سے بغرض تعلیم آئے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت ہمدردی پیدا ہوئی اور آپؑ نے ان کی شفاء کے لئے خاص طور پر دُعا فرمائی اور فرمایا کہ اس قدر دور سے یہ آئے ہیں جی نہیں چاہتا کہ اس طرح ان کی موت ہو۔ اس دعا کا یہ نتیجہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دورہ ہو جانے کے بعد شفاء دیدی۔ حالانکہ جب سے انسان پیدا ہوا ہے اس قسم کے مریض کو کبھی شفاء نہیں ملی۔

میرے ایک عزیز ڈاکٹر ہیں انہوں نے اپنے زمانہ طالب علمی کا واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ وہ ہستی باری پر ایک دوسرے طالب علم سے گفتگو کر رہے تھے دورانِ گفتگو میں انہوں نے یہی واقعہ بطورِ شہادت کے پیش کیا۔ اس طالب علم نے کہا کہ ایسے مریض بچ سکتے ہیں یہ کوئی عجیب بات نہیں وہ کہتے ہیں کہ اتفاقاً اسی دن کالج میں پروفیسر کا لیکچر سگ گزیدہ کی حالت پر تھا۔ جب پروفیسر لیکچر کے لئے کھڑا ہوا اور اس نے اس امر پر زور دینا شروع کیا کہ اس مرض کا علاج دورہ ہونے سے پہلے کرنا چاہئے اور بہت جلد اس طرف توجہ کرنی چاہئے وہ کہتے ہیں کہ میں نے بات کو واضح کرانے کے لئے کہا کہ جناب بعض لوگ کہتے ہیں کہ دورہ پڑ جانے کے بعد بھی مریض اچھا ہو سکتا ہے۔ اس پر پروفیسر نے جھڑک کر کہا کہ کبھی نہیں جو کہتا ہے وہ بیوقوف ہے۔

غرض یہ ایسی بیماری تھی جس کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا اور نہ کبھی ہوا ہے مگر حضرت مسیح موعودؑ کی دُعا سے اللہ تعالیٰ نے میاں عبدالکریم کو شفاء دی اور وہ خدا کے فضل سے اب تک زندہ ہیں پس ثابت ہوا کہ اس طبعی قانون کے اوپر ایک ہستی حاکم ہے جس کے ہاتھ میں شفاء دینے کی طاقت ہے۔

صفت عالم الغیب

ساتویں مثال کے طور پر میں صفت عالم الغیب کو پیش کرتا ہوں اس میں کیا شک ہے کہ اگر انسان کو بلا ظاہری تدابیر کے ایسے علوم پر آگاہی حاصل ہونے لگے جن کا جاننا انسان کے لئے ناممکن ہے تو ماننا پڑے گا کہ ایک عالم الغیب خدا موجود ہے۔ جس کی طرف سے اپنے خاص بندوں کو خاص علم دیا جاتا ہے۔

بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ کیوں نہ مانا جائے کہ ایسے لوگوں کو علم غیب معلوم کرنے کا کوئی طریق معلوم ہو گیا ہے وہ اسی طریق کے ذریعہ سے علم غیب معلوم کر کے ایک وہی خدا کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔

مگر میں کہتا ہوں کہ اگر یہی بات ہوتی کہ ان لوگوں کو کوئی خاص طریق معلوم ہو گیا ہوتا تو وہ کیوں اس کے ذریعہ سے اپنی بڑائی نہ منواتے اور کیوں خواہ مخواہ اس علم کو کسی اور ہستی کی طرف منسوب کرتے اور ساتھ ہی اپنی کمزوری اور اس کی طاقت کا اظہار کرتے رہتے اور اپنے آپ کو اس کے مقابلہ میں ہیچ اور ذلیل قرار دیتے۔ دیکھو مشہور موجد ایڈیسن جب کوئی ایجاد کرتا ہے تو کیا وہ یہ کہتا ہے کہ مجھے کسی جن نے یا بالا طاقت نے یہ بات بتائی ہے یا جو اور موجد ہیں وہ کبھی ایسا کہتے ہیں کہ ہمیں فلاں شخص نے یہ ایجاد کر کے دی ہے۔ بلکہ موجد تو یہی کہتے ہیں کہ ہم نے خود ایجاد کی ہے اس لئے ہماری قدر کرو۔ لیکن علم غیب کے ظاہر کرنے والے تو سب کے سب کہتے ہیں کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں اس میں ہمارا کوئی دخل نہیں خدا ہی ہمیں سب کچھ بتاتا ہے اور اس کے کہنے کے مطابق ہم کہتے ہیں۔

دوسرے یہ کہ اگر یہ ان کا کِسبی علم ہوتا تو وہ اپنی اولاد کو آگے یہ علم کیوں نہ سکھا جاتے مگر ہم تو دیکھتے ہیں کہ ان کی اولاد اکثر اوقات ان کی طرح خدا سے غیب پانے والی نہیں ہوتی یا اس حد تک نہیں ہوتی۔ پس یہ اعتراض بالکل وہم اور بیہودہ ہے۔

اب میں علم غیب کی چند مثالیں پیش کر کے بتاتا ہوں کہ کس طرح ان سے ایک عالم الغیب ہستی کا ثبوت ملتا ہے۔ پہلی مثال تو حضرت مسیح موعودؑ کی وہ پیشگوئی ہے جو آپ نے جنگ عظیم کے متعلق فرمائی۔ جنگ سے نو سال پہلے آپ نے یہ خبر شائع کر دی تھی کہ ایک عالمگیر تباہی دنیا میں آنے والی ہے جس میں زار روس تباہ ہوگا اور سخت تکلیف اور دُکھ دیکھے گا۔ اس پیشگوئی میں بہت سی

پیشگوئیاں مخفی ہیں۔ اوّل یہ کہ ایک عظیم الشان جنگ ہونے والی ہے جو عالمگیر ہوگی دوسرے یہ کہ زارِ روس اس وقت تک باوجود ملک میں عام بغاوتوں کے پائے جانے کے اپنی ملک کی حکومت پر قابض رہے گا۔ تیسرے یہ کہ اس عالمگیر جنگ میں زارِ روس بھی حصہ لے گا۔ چوتھے یہ کہ اس کے دوران میں ایسے سامان پیدا ہوں گے کہ اس کی حکومت جاتی رہے گی۔ پانچویں یہ کہ وہ اس وقت مارا نہیں جائے گا بلکہ زندہ رہے گا اور اپنی مصیبت اور ذلت کو دیکھے گا جو معمولی نہ ہوگی بلکہ کامل ذلت ہوگی اب دیکھو کہ نو سال کے بعد جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت بھی ہو چکے تھے یہ پیشگوئی کس زور سے پوری ہوئی ایک ایک بات اسی طرح واقع میں آئی جس طرح کہ آپ نے بیان فرمائی تھی یہ کیسا زبردست نشان ہے۔ اگر کوئی ذرا بھی سوچے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ نشان ایک علیم ہستی کے وجود پر زبردست شہادت ہے۔ روس کے بادشاہ کی کتنی بڑی طاقت تھی مگر اچانک ایسے حالات پیدا ہو گئے اور وہ اس طرح ذلیل ہوا کہ پتھر سے پتھر دل کو اس کے حالات سُن کر رحم آجاتا ہے۔ جب وہ معزول ہوا اس وقت وہ خود فوج کی کمانڈ کر رہا تھا اسے دارالسلطنت سے تار گئی کہ پیچھے ملک میں فساد ہو گیا ہے اس نے جواب دیا کہ لوگوں کو سمجھاؤ گورنر نے تار دی کہ لوگ سمجھانے سے نہیں باز آتے اس نے جواب میں تار دی کہ سختی کرو اس پر گورنر کی تار آئی کہ سختی سے اور بھی جوش بڑھ رہا ہے۔ اس پر زار نے جواب دیا کہ اچھا میں خود آتا ہوں۔ راستہ میں پھر تار ملی کہ فساد بڑھ رہا ہے زار نے جواباً پہلے گورنر کو بدل کر دوسرے گورنر کے مقرر کئے جانے کی ہدایت بھیجی۔ ابھی راستہ میں ہی تھا کہ اور تار ملی کہ حالت بہت نازک ہو گئی ہے اور آپ کا آنا مناسب نہیں مگر اس نے جواب دیا کہ نہیں میں آؤں گا۔ ابھی تھوڑی ہی دور ریل چلی تھی کہ پھر تار ملی کہ بغاوت عام ہو گئی ہے مگر اس وقت بھی اسے یہی خیال تھا کہ میں جا کر سب کو سیدھا کر لوں گا اور اس نے ریل کو آگے لے جانے کا حکم دیا ابھی دو چار گھنٹے کا سفر طے کیا تھا کہ ایک سٹیشن پر اس کی ریل ٹھہرا لی گئی اور نئی حکومت کی طرف سے اس کی گرفتاری کے وارنٹ لیکر لوگ آپہنچے اور اسے گرفتار کر لیا وہ ایک زبردست بادشاہ کی حیثیت میں ریل پر چڑھا تھا۔ ہاں ایسے زبردست بادشاہ کی حیثیت میں کہ انگریزی حکومت بھی باوجود اپنی وسعت کے اس سے ڈرتی تھی لیکن ابھی اس کا سفر ختم نہ ہوا تھا کہ اسی گاڑی میں ایک معمولی قیدی کی حیثیت میں قید کیا گیا اس کے بعد اسے جس طرح دُکھ دیئے گئے وہ نہایت ہی دردناک ہیں غنڈوں نے اس کے سامنے اس کی لڑکیوں سے زنا بالجبر کیا اور اس کو مجبور کر کے یہ حرکات دکھاتے رہے اس سے اندازہ کر لو کہ زار کا حال کیسا حال

زار ہوا اور کس طرح حضرت مسیح موعودؑ کی یہ پیشگوئی کہ ؔزار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی باحالِ زارہیبت ناک طور سے پوری ہوئی۔

اس صفت کے متعلق ایک چھوٹا سا تجربہ اپنا بھی سنا دیتا ہوں۔ ہماری جماعت کے ایک ڈاکٹر ہیں ان کے متعلق خبر آئی کہ وہ بصرہ کی طرف مارے گئے ہیں۔ اس خبر کے آنے کے چند روز ہی پہلے ان کے والد اور والدہ قادیان بغرضِ ملاقات آئے تھے۔ میں نے ان کو دیکھا کہ وہ بہت ہی ضعیف تھے جس وقت میں نے یہ خبر سنی میری آنکھوں کے سامنے ان کے ضعف کا نقشہ کھنچ گیا اور ساتھ ہی یہ خیال گذرا کہ ڈاکٹر صاحب ان کے اکلوتے بیٹے ہیں (گو بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے اور بھی بیٹے تھے) اور میرے دل کو اس غم کا خیال کر کے جو ان کو پہنچا ہو گا سخت تکلیف ہوئی اور بار بار میرے دل میں یہ خیال پیدا ہونے لگا کہ کاش وہ نہ مرے ہوں۔ گو بظاہر یہ خیال بیوقوفی کا ہو مگر میں سمجھتا ہوں الٰہی تحریک کے ماتحت اور دُعا کرانے کی غرض سے تھا۔ خیر جب میں رات کو سویا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ تین دن ہوئے ہیں کہ وہ زندہ ہو گئے ہیں۔ میں نے دوسرے دن کھانے کے وقت اپنے بعض عزیزوں کو یہ خواب سنائی میرے چھوٹے بھائی نے کہ جن کی ڈاکٹر صاحب کے ایک رشتہ کے بھائی سے دوستی تھی اور جو قادیان میں رہتے ہیں۔ اس خواب کا ذکر کر دیا۔ انہوں نے اپنے گھر اطلاع کر دی اس کے جواب میں ان کو خط ملا کہ ان کی خواب پوری ہو گئی ہے۔ عراق سے اطلاع آگئی ہے کہ ان کی موت کے متعلق غلطی لگی تھی ان کو بدو پکڑ کر لے گئے تھے اور غلطی سے یہ خیال کر لیا گیا کہ وہ مارے گئے ہیں لیکن بعد میں ایک موقع ملنے پر وہ بھاگ کر خیریت سے واپس آ گئے ہیں۔

اسی قسم کا ایک اور ذاتی تجربہ میں بیان کرتا ہوں۔ گذشتہ سال کے سفرِ کشمیر میں میں نے دیکھا کہ ایروپلین AEROPLANE کے ذریعہ میرے پاس ایک خط آیا ہے۔ میں نے یہ خواب دوستوں کو سنائی اور پھر خود بھول گیا۔ چند ہی دن بعد ایک خط آیا جس پر لکھا تھا BY AIRFORCE اور اسے دیکھ کر میاں عبدالسلام صاحب حضرت خلیفۃ اول کے صاحبزادے نے وہ رؤیا یاد دلائی۔

یہ تو خدا تعالیٰ کے عالم الغیب ہونے کی مثالیں ہیں۔ اس کے سوا اقتداری علم بھی ہستی باری کے دلائل میں سے ایک دلیل ہے۔ اقتداری علم کی بڑی مثال خود قرآنِ کریم ہے۔ اس کے متعلق دعویٰ ہے کہ کوئی ایسا کلام بنا کر نہیں لا سکتا بلکہ اس جیسی تین آیات بھی بنا کر پیش نہیں کر سکتا۔ قرآنِ کریم انہیں الفاظ میں ہے جن کو سب استعمال کرتے ہیں اور عربی بولنے والے لوگوں میں اسلام کے دشمن بھی ہیں اور خود مذہب کے دشمن بھی ہیں دہریے بھی ہیں مگر اب تک کسی میں یہ طاقت نہیں ہوئی کہ قرآنِ کریم کے اس دعویٰ کو رد کر سکے۔

دوسری مثال حضرت مسیح موعودؑ کی عربی کتب ہیں۔ آپ نے بھی ان کے بے مثل ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور چیلنج دیا ہے کہ کوئی ان کا جواب بنا سکتا ہے تو بنا کر دکھائے باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعودؑ عجمی تھے اور آپ کے دشمن بڑے بڑے علماءِ عجم کے علاوہ علمائے عرب بھی تھے مگر سب لوگ آپ کی غلطیاں نکالنے کا دعویٰ تو کرتے رہے مگر آپ کی کتب کی مثل لانے کیلئے سامنے نہ آئے۔ پچھلے دنوں یہاں پروفیسر مارگولیتھ صاحب آئے تھے وہ انگریزوں میں سے عربی کے بڑے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ ان سے میری معجزات پر گفتگو ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ کیا قرآن والا معجزہ اب بھی دکھایا جا سکتا ہے یہ عجیب بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے پکڑ کر ان کے منہ سے اس معجزہ کا مطالبہ کروایا جو حضرت مسیح موعودؑ کے ہاتھ پر ظاہر ہو چکا تھا۔ میں نے کہا ہاں اس زمانہ میں بھی دکھایا جا سکتا ہے بلکہ دکھایا گیا ہے۔ میں نے حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب الھدیٰ اس کے سامنے رکھ دی اور کہا اس کی نظیر لانے والے کے لئے حضرت صاحب نے بیس ہزار کا انعام رکھا ہے اور میں یہ اقرار لکھ دیتا ہوں کہ جو اس کی مثل لے آئے گا اسے میں یہ انعام دے دوں گا اس پر وہ خاموش ہو گیا۔

یہ چند مثالیں میں نے خدا کی صفات کی دی ہیں۔ ان سے پتہ لگتا ہے کہ خدا کی ہر صفت اس کی ہستی کی دلیل ہے۔ پس خدا کو ثابت کرنے کے لئے نہ فلسفہ کی ضرورت ہے۔ نہ کسی اور چیز کی جب کوئی پوچھے کہ خدا کی ہستی کا کیا ثبوت ہے۔ تو اس وقت خدا کی جو صفت بھی بندوں کے ساتھ تعلق رکھنے والی سامنے آئے وہ پیش کر دی جائے۔ اس کے مقابلہ میں کوئی نہ ٹھہر سکے گا۔ خدا تعالیٰ کے کم از کم ننانوے نام ہیں۔ اس لئے ننانوے ہی صفات ہوئیں اور ان میں سے ہر ایک خدا کی ہستی کی دلیل ہے۔

صفات پر اعتراض اور اس کا جواب

ان دلائل کے بیان کرنے کے بعد میں چند ان اعتراضات کا جواب دیتا ہوں جو صفاتِ الٰہیہ پر منکرینِ ہستی باری کیا کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض صفاتِ باری کا ذکر سن کر کہا کرتے ہیں کہ ہم لمبی اور پُرانی بحثوں میں نہیں پڑتے تم کم از کم ہمیں تین باتوں کا مشاہدہ کرا دو۔ یعنی اوّل خدا کے علم کا، دوسرے خدا کی قدرت کا، تیسرے خدا کی خلق کا۔ اگر خدا کو علم ہے تو یہ کتاب پڑی ہے اس کو پڑھ دے اگر قدرت ہے تو یہ تنکا پڑا ہے اسے اُٹھا لے۔ اگر وہ خالق ہے تو یہ مٹی کا ڈلہ پڑا ہے اس سے کچھ بنا کر دکھا دے۔ جب حضرت صاحب نے یہ دعویٰ کیا کہ خدا مجھ پر علم غیب ظاہر کرتا ہے تو ایک پادری نے اسی قسم کا سوال کیا تھا اس نے کہا کہ میں چند سوال لکھ کر بند کر کے رکھ دوں گا آپ خدا سے پڑھوا کر بتا دیں کہ کیا سوال ہیں؟ حضرت صاحب نے اس کے جواب میں فرمایا۔ چلو ہم تمہاری یہی بات مان لیتے ہیں۔ بشرطیکہ عیسائیوں کی ایک جماعت اقرار کرے کہ صحیح جواب ملنے پر وہ مسلمان ہو جائیں گے ورنہ خدا تماشہ نہیں کرتا کہ لوگوں کی مرضی کے مطابق جس طرح وہ کہیں نشان دکھاتا رہے۔

غرض منکرین یہ کہتے ہیں کہ اگر خدا ہے تو اس کے علم کی، قدرت کی اور خلق کی تازہ بتازہ مثالیں جس قسم کی ہم کہتے ہیں دکھا دو۔

جواب

اس کا جواب یہ ہے کہ ہر ایک سوال کی دو غرضیں ہوتی ہیں۔ سوال یا تو اپنے علم کی زیادتی کیلئے کیا جاتا ہے یا دوسرے کے علم کا امتحان لینے کے لئے اور اس کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ جس سے سوال کیا جائے اس کی جو حیثیت ہو اسی کے مطابق سوال کیا جائے مثلاً اگر ایک سپاہی کو ایک لفٹینٹ ملے اور وہ سپاہی اس سے کچھ دریافت کرنا چاہے تو وہ اس طرح نہیں کرے گا کہ اسے کان سے پکڑ کر کہے کہ بتاؤ فلاں بات کس طرح ہے؟ بلکہ سارے آداب کو مدّنظر رکھ کر اس سے بات کرے گا۔ غرض جو اپنے سے بالا ہو اس سے سوال کرنے کے اور آداب ہوتے ہیں اور جو کمتر ہو اس کے آداب اور ہوتے ہیں اور جو لوگ خدا تعالیٰ کے وجود کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں وہ اسے ایک طالب علم یا امیدوار ملازمت کی حیثیت میں نہیں پیش کرتے کہ ممتحن یا ملازم رکھنے والے اپنی مرضی کے مطابق جس طرح چاہیں اور جو چاہیں اس سے پوچھیں وہ بادشاہ ہے سب بادشاہوں کا مالک ہے آقا ہے حاکم ہے خالق ہے محسن ہے ہمارا ذرہ ذرہ اس کی پیدائش ہے اگر ایک شخص اس کی ذاتِ عالی کے متعلق بطورِ فرض کے بھی سوال کرے تو اسے مدنظر رکھنا ہو گا کہ وہ کس ہستی کے متعلق سوال کر رہا ہے۔ ذرا غور کرو کہ اگر کوئی کہے کہ میں سپرنٹنڈنٹ پولیس ہوں یا ڈپٹی کمشنر ہوں تو کیا لوگ یہ کیا کرتے ہیں کہ اپنی مرضی کے سوالات بنا کر اس کے سامنے پیش کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کو حل کر دو۔ تب ہم تمہیں افسر پولیس یا ڈپٹی کمشنر مانیں گے۔ دُنیا میں کوئی شخص بھی حکام کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے ایسا نہیں کرتا بلکہ اگر شک ہو تو ان سے ثبوت طلب کرتے ہیں آگے ان کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ جس رنگ میں چاہیں ثبوت دیں اگر وہ ثبوت ان کے دعویٰ کو ثابت کرنے والا ہو تو لوگوں کو ماننا پڑتا ہے خواہ وہ اس رنگ کا نہ ہو جس رنگ کا ثبوت کہ لوگ چاہتے تھے

اسی طرح کیا کوئی شاگرد یہ بھی کہا کرتا ہے کہ میں استاد کا امتحان پہلے لے لوں پھر سمجھوں گا کہ وہ میرا استاد بننے کے قابل ہے یا نہیں۔ جب وہ اس سے پڑھے گا اسے خود ہی اس کی قابلیت یا جہالت کا علم ہو جائے گا۔ یا بادشاہ کی مثال لو اگر کسی بادشاہ کے متعلق کوئی سوال مثلاً یہی ہو کہ وہ گھوڑے کی سواری جانتا ہے یا نہیں تو کیا منکر اس سوال کو اس طرح حل کرے گا کہ کہے گا کہ فلاں گھوڑے پر چڑھ کر فلاں گلی میں سے گزرے تب میں مانوں گا کہ وہ سوار ہے یا یہ کرے گا کہ اگر بادشاہ سے پوچھ سکتا ہے تو اس سے پوچھ لے گا کہ کیا آپ سواری اچھی جانتے ہیں؟ پوچھ بھی نہیں سکتا تو جو اس کے مقرب ہیں ان سے دریافت کرے گا اور اگر یہ بھی طاقت نہیں تو ایسے موقع کا منتظر رہے گا جب وہ سوار ہو کر نکلے اور یہ اس کی سواری کا اندازہ کر سکے۔ اگر ایسا شخص بادشاہ کے پاس جا کر اس قسم کا سوال کریگا کہ چل کر امتحان دو تو یقیناً یہ سزا پائے گا۔

پس خدا تعالیٰ چونکہ ہمارے ماتحت نہیں بلکہ ہم اس کے ماتحت ہیں اور وہ سب پر غالب اور سب کا حاکم ہے اس لئے اس کا پتہ لگانے کے لئے یہ کہنا درست نہیں کہ جس طرح ہم کہیں اس طرح کر دے تو ہم مانیں گے۔ بلکہ خدا کے انبیاء سے اس کی ہستی کے متعلق دریافت کرنا چاہئے جو خدا تعالیٰ کو اس کی شان کے مطابق تمام آداب کو مد نظر رکھ کر اس کا پتہ لگاتے ہیں یا خود خدا تعالیٰ کی شان کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا پتہ لگانا چاہئے اور خدا تعالیٰ جو ثبوت پیش کرے اگر وہ ثبوت کی حد تک پہنچ جائے تو اسے قبول کرنا چاہئے نہ کہ یہ کہنا چاہئے کہ جس طرح ہم خود چاہیں اس طرح خدا کر دے۔

اگر کہا جائے کہ بادشاہ کی مثال درست نہیں کیونکہ بادشاہ آدمی ہی ہوتا ہے اور وہ انسان کی ہر ایک خواہش کو پورا نہیں کر سکتا لیکن خدا تعالیٰ تو پورا کر سکتا ہے پھر اس کے متعلق کیوں نہ یہ کہیں کہ جس طرح ہم چاہتے ہیں اسی طرح وہ اپنی ہستی کا ثبوت دے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ غلط ہے کہ بادشاہ اس لئے لوگوں کے مطالبات کے مطابق اپنا امتحان نہیں دیتا کہ اس کا وقت خرچ ہوتا ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اسے اپنے عہدہ کے خلاف سمجھتا ہے پس خدا تعالیٰ جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے کس طرح ان مطالبات کو قبول کر سکتا ہے۔

دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ اگر انسان کی خواہش کو پورا کر کے ہی خدا کی ہستی کا ثبوت دیا جا سکتا ہے تو پھر درحقیقت خدا تعالیٰ کا وجود ثابت ہی نہیں کیا جا سکتا فرض کرو دو شخص سندر سنگھ اور آتما سنگھ ہوں اور ان میں مقدمہ ہو۔ ان میں سے ہر ایک کہے کہ میرے نزدیک خدا کی ہستی کا ثبوت یہ ہو سکتا ہے کہ اس مقدمہ میں میں جیت جاؤں اور میں صرف اسی صورت میں اسے مان سکتا ہوں تو خدا تعالیٰ کس کے مطالبہ کو پورا کرے اگر ایک کے مطالبہ کو پورا کرے تو دوسرا نہ مانے گا یا مثلاً گذشتہ جنگ میں ہی جرمن کہتے کہ اگر خدا نے ہمیں فتح دی تو ہم اسے مان لیں گے۔ ادھر انگریز کہتے کہ اگر خدا نے ہمیں فتح دی تو ہم اسے مان لیں گے۔ اب فتح تو ایک فریق کو ہی ہو سکتی تھی۔ اس لئے دوسرا فریق انکار پر قائم رہتا۔ پس اس طرح اگر خدا کا ثبوت طلب کرنا درست ہو تو کم سے کم آدھی دنیا کے لئے تو ہدایت کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ چور کہتے کہ اگر ہمیں چوری میں کامیابی نہ ہوئی تو ہم سمجھیں گے کہ خدا کوئی نہیں۔ ادھر مال والے کہتے اگر ہماری چوری ہوئی تو ہم خدا کے وجود کے ہرگز قائل نہ ہوں گے اگر کوئی خدا ہے تو اسے چاہیئے کہ ہمارے اموال کی حفاظت کرے یہی حال دوسری باتوں میں ہوتا اور اس طرح قانون قدرت بالکل تباہ ہو جاتا۔ اگر کہو کہ خدا کسی ایک کو ہی اس طرح ثبوت دے دیتا۔ تو باقی لوگ مان لیتے ہم کہتے ہیں۔ اگر یہ بات ہے تو کیا وجہ ہے کہ جو ثبوت خدا تعالیٰ نے دیئے ہیں تم ان کے یقینی ہونے کے باوجود ان کو نہیں مانتے اگر تمہارا حق ہے کہ جو تمہارے مطالبے کے سوا ثبوت دیئے جائیں انہیں رد کر دو تو کیوں یہی حق دوسروں کو حاصل نہیں اور اگر سب کو یہی حق حاصل ہو تو نتیجہ وہی نکلے گا جو اوپر بیان ہو چکا ہے اور بجائے ایمان کی ترقی کے بے دینی اور کفر ترقی کرے گا۔

خدا کو ماننے والوں کے اخلاق

غرض خدا تعالیٰ کے نشانات کا مشاہدہ ہو سکتا ہے مگر اس کے منشاء کے ماتحت ہو سکتا ہے۔ یہ ہمارا حق نہیں کہ ہم ان نشانات کی تعیین کریں جن کے ذریعہ سے وہ اپنی چہرہ نمائی کرے۔

ایک اور اعتراض بھی خدا تعالیٰ کی ہستی پر کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا کو ماننے والے کہتے ہیں کہ خدا کے ماننے سے اعلیٰ اخلاق پیدا ہوتے ہیں مگر اس کے برخلاف دیکھا یہ جاتا ہے کہ سب سے بدتر اخلاق خدا کو ماننے والوں کے ہوتے ہیں۔ یورپ کے دہریے بھی اور ایشیاء کے دہریے بھی یہی اعتراض کرتے ہیں۔ ہندوستان والے کہتے ہیں کہ خدا کو زیادہ ماننے والے مسلمان ہیں۔ اگر جیل خانوں میں جا کر دیکھو تو سب سے زیادہ مسلمان ہی قیدی نظر آئیں گے۔ اس طرح ہندو اور مسیحی بھی خدا کو مانتے ہیں ان کی بھی کافی تعداد جیل خانوں میں سڑ رہی ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اخلاق کی خرابی خدا کے ماننے کا نتیجہ نہیں بلکہ خدا کو نہ ماننے کا نتیجہ ہے کسی شخص کا صرف منہ سے کہنا کہ میں خدا کو مانتا ہوں مفید نہیں ہو سکتا۔ کیا کونین کو نین منہ سے کہنے سے بخار اُتر جاتا ہے؟ اگر نہیں تو صرف منہ سے یہ کہنے سے کہ خدا کو مانتا ہوں کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟

پھر ہم کہتے ہیں ہندوستان کے دہریے دیو سماجی ہیں۔ وہ یوں بھی کہتے ہیں اور ٹریکٹوں میں بھی لکھتے ہیں کہ ان کی سماج میں جو لوگ شامل ہوتے ہیں ان میں جرم کم ہوتے ہیں۔ اگر ان کے اِس دعوٰی کو تسلیم کر لیا جائے تو بھی ہم کہتے ہیں کہ اس تعریف کے دیو سماجی مستحق نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ دیو سماجی بنانے سے پہلے ایک فارم پُر کراتے ہیں جس پر داخل ہونے والا اقرار کرتا ہے کہ فلاں فلاں عیب سے پرہیز کرتا ہوں جس کے یہ معنی ہیں کہ ان کی سماج میں اسی شخص کو داخل کیا جاتا ہے کہ جس میں بعض گناہ جو زیادہ نمایاں ہیں پہلے ہی سے نہ ہوں۔ پس ان کے گروہ کی اس میں کیا خوبی ہوئی کیا دوسری جماعتوں میں خوبیوں والے آدمی نہیں پائے جاتے۔ اگر وہ جماعتیں بھی اپنے معیوب آدمیوں کو باہر نکال دیں تو کیا وہ دیو سماج سے ہزاروں گنے بڑھ کر پاک وصاف لوگ نہیں دکھا سکتیں۔ دیو سماجیوں کا دعوٰی ایسا ہی ہے جیسے کہ کوئی فوجی افسر دعوٰی کرے کہ دیکھو ہمارا فوجی انتظام کیسا اعلیٰ ہے کہ اس میں جو آتا ہے اس کی چھاتی چوڑی ہو جاتی ہے قد لمبا ہو جاتا ہے حالانکہ حق یہ ہے کہ فوج میں لیتے ہی ایسے شخص کو ہیں جو اچھے قد کا ہو اور اس کا سینہ چوڑا ہو اور یہ حالت فوج کی وجہ سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ ان حالات کے آدمیوں کو لینے کی وجہ سے فوج کو یہ خوبی حاصل ہوتی ہے۔

یا مثلاً کوئی ہسپتال میں جائے اور جا کر مریضوں کو دیکھے اور کہے یہ اچھا ہسپتال ہے جس میں کانے، لنگڑے، لولے بیمار پڑے ہیں۔ حالانکہ ہسپتال بنایا ہی ایسے لوگوں کے لئے جاتا ہے جو بیمار ہوں۔ پس ہم کہتے ہیں یہ دیو سماج کی تعلیم کا اثر اور خوبی نہیں اگر اس میں عیب کرنیوالے کم ہوتے ہیں کیونکہ اس میں داخل وہی کیا جاتا ہے جس کے متعلق اطمینان کر لیا جاتا ہے کہ وہ عیب چھوڑ چکا ہے پس دیو سماج کوئی مذہب نہیں کہ جس کا کام کمزوروں کی اصلاح ہوتا ہے بلکہ ایک کلب ہے کہ جس کا کام ایک خاص قسم کے لوگوں کو جمع کرنا ہوتا ہے۔ نبی کی مثال تو ڈاکٹر کی ہوتی ہے وہ بیماروں کی اصلاح کرنے کے لئے آتا ہے اس کے ہسپتال میں مریضوں کا ہونا ضروری ہے جو آہستہ آہستہ اس کے ہاتھ سے شفاء پاتے ہیں اور وہ سوائے اس صورت کے کہ بیمار اس سے علاج کرانے سے انکار کرے کسی کو دھتکارتا نہیں۔

پھر یہ بھی غلط ہے کہ دیو سماجیوں میں عیب نہیں ہوتے۔ پیچھے جب ان میں جھگڑے پیدا ہوئے تو ایک دوسرے کے متعلق حتیٰ کہ بانی دیوسماج کے متعلق بھی ایسی ایسی گندی باتیں لکھی گئیں کہ شریف آدمی ان کو پڑھ بھی نہیں سکتا۔ یہی حال یورپ کے دہریوں کا ہے۔ چنانچہ امریکہ کی ایک دہریہ اخبار کی ایڈیٹر لکھتی ہے کہ میں اس وقت تک اٹھارہ آدمیوں سے بلانکاح تعلق پیدا کر چکی ہوں اور مجھے تو اس میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا حالانکہ یہ وہ فعل ہے کہ جسے دہریہ بھی بُرا سمجھتے ہیں۔

کیا خدا کے ماننے سے اعلیٰ اخلاق کا معیار گرجاتا ہے؟

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خدا کے ماننے سے اخلاق کا معیار گر جاتا ہے۔ کیونکہ خدا کے ماننے والا نیکی اس لئے کرتا ہے کہ خدا سے کچھ اُمید رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اگر میں نے نیکی کی تو خدا مجھے انعام دے گا۔ لیکن خدا کو نہ ماننے والا نیکی کو نیکی سمجھ کر کرتا ہے نہ کہ کسی لالچ کی وجہ سے۔ اسی طرح خدا کو ماننے والا خدا کے ڈر کی وجہ سے بُرائی کو چھوڑتا ہے لیکن نہ ماننے والا بُرائی کو بُرائی سمجھ کر چھوڑتا ہے اور نیکی کو نیکی سمجھ کر کرنا اور بُرائی کو بُرائی سمجھ کر چھوڑنا بنسبت لالچ سے نیکی کرنے اور ڈر سے بُرائی کو چھوڑنے کے بہت اعلیٰ ہے۔

ہم کہتے ہیں نیکی کی حقیقی تعریف یہ ہے کہ وہ اس عمل یا خیال کا نام ہے جو ایک کامل اور بے عیب ذات سے مشابہت پیدا کرتا ہو اور بدی اس فعل یا خیال کا نام ہے جو اس کامل اور بے عیب ذات کی پسندیدگی یا فعل کے خلاف ہو۔ اس کامل نمونہ کی مشابہت یا مخالفت کو مدنظر رکھے بغیر نیکی کی کوئی تعریف ہو ہی نہیں سکتی۔ اگر ایسا کامل نمونہ ہی موجود نہیں ہے تو پھر نیکی بدی کی مکمل تعریف بھی ناممکن ہے۔

نیکی کیا ہے؟

جو لوگ خدا تعالیٰ کے ماننے والے نہیں یا جو لوگ خدا تعالیٰ کے وجود کو معرضِ بحث میں لانے کے بغیر اخلاق کی بحث کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں وہ نیکی کی تعریف میں اختلاف رکھتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ نیکی وہ عمل ہے کہ جس سے سب سے زیادہ خوشی حاصل ہو اور جو انہی حالات میں اتنی خوشی نہ پیدا کرے وہ بدی۔

دوسرے کہتے ہیں کہ خوشی کے کیا معنے ہیں؟ ایک شخص ڈاکا مارتا ہے وہ اسی پر خوش ہوتا ہے مگر ڈاکا ڈالنا نیکی نہیں۔ اس لئے نیکی کی یہ تعریف درست نہیں اس کی اصل تعریف یہ ہے کہ جس بات سے سب سے زیادہ نفع پہنچے وہ نیکی ہے اور انہیں حالات میں جن امور میں کم نفع پہنچے یا نقصان پہنچے وہ بدی ہے۔

مگر اس پر یہ سوال پڑتا ہے کہ کس کو نفع پہنچے؟ اگر دوسروں کو تو جب کوئی مال لوٹنے لگے تو کیا اسے روکنا نہیں چاہئے بلکہ کہنا چاہئے کہ جس قدر لے جا سکتے ہو لے جاؤ کیونکہ مال سے اس کو فائدہ پہنچے گا اور یہ نیکی ہے۔

اس پر کہتے ہیں نیکی وہ ہے جس سے اپنی ذات کو زیادہ نفع پہنچے اور بدی وہ ہے جس سے اپنی ذات کو نقصان پہنچے۔ مگر اس تعریف سے تو وہی اعتراض منکرینِ خدا پر عائد ہو گیا جو وہ خدا کو ماننے والوں پر کرتے تھے کیونکہ ان کا اعتراض تو یہی تھا کہ خدا کو ماننے والے نیکی لالچ کی وجہ سے کرتے ہیں لیکن اگر نیکی کی یہ تعریف ہے کہ جس سے اپنی ذات کو سب سے زیادہ خوشی یا نفع پہنچے تو پھر ایک دہریہ بھی تو نیکی کی خاطر نہیں بلکہ خوشی اور نفع کی خاطر کرتا ہے پس اگر خدا کو ماننے والا نیکی خدا کی خوشی کی خاطر کرتا ہے یا بدی سے اس کی سزا سے ڈر کر بچتا ہے تو اس پر اعتراض کیوں ہو؟

بعض یورپ کے فلاسفر نیکی کی تعریف یہ کرتے ہیں کہ نیکی ایک فرض کا نام ہے مگر یہ تعریف بھی ان کے کام نہیں آسکتی کیونکہ فرض وہ چیز ہے جسے کوئی دوسرا وجود ہمارے لئے مقرر کر دیتا ہے۔ اگر نیکی کو فرض قرار دیا گیا تو فرض مقرر کرنے والے وجود کو بھی ماننا پڑے گا۔

غرض منکرین خدا کا یہ دعویٰ کہ ان کے کاموں کا مقصد خدا پرستوں سے اعلیٰ ہے کیونکہ وہ نیکی نیکی کی خاطر کرتے ہیں ایک دھوکا ہے ایک فریب ہے کیونکہ وہ خدا کو چھوڑ کر مجبور ہیں کہ نیکی کی تعریف یہ کریں کہ جس سے اپنی ذات کو سب سے زیادہ خوشی ہو یا فائدہ ہو اور اسی تعریف کے ماتحت وہ لالچ کے الزام سے بچتے نہیں بلکہ اور بھی زیادہ اس الزام کے نیچے آجاتے ہیں ان کے تمام کام اپنے ذاتی نفع اور ذاتی فائدہ کے لئے ہوتے ہیں۔

نیکی بدی کے متعلق مؤمن کا مقام

دوسرا اور حقیقی جواب دہریوں کے اعتراض کا یہ ہے کہ تم نے مؤمن کے کاموں کا جو مقصد قرار دیا ہے وہ فرضی ہے پہلے تم نے فرضی طور پر ایک بات بنائی ہے اور پھر اسے مؤمن کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ کیس وجہ سے فرض کر لیا گیا ہے کہ ایک خدا کو ماننے والا دل سے تو یہ چاہتا ہے کہ بدی کرے مگر خدا کے خوف سے بدی نہیں کرتا یا یہ کہ وہ دل سے تو چاہتا ہے کہ نیکی کے کام نہ کرے مگر لالچ کی وجہ سے نیک کام کرتا ہے۔ ایک سچے مؤمن پر یہ اتہام ہے۔ وہ اس مقام سے بہت بالا ہوتا ہے وہ اس لئے نیکی نہیں کرتا یا بدی سے اجتناب نہیں کرتا کہ خدا دیکھتا ہے اس سے انعام ملے گا یا وہ سزا دیگا بلکہ اس لئے نیکی کرتا اور بدی سے بچتا ہے کہ خدا تعالیٰ اسے یونہی کہتا ہے پس چونکہ وہ خدا تعالیٰ کا ماننے والا ہے وہ اس کے حکم کو بجالانا اپنا فرض منصبی سمجھتا ہے قطع نظر اس کے کہ کسی جزا کی اُمید یا سزا کا خوف اس کے دل میں ہو۔

تیسرا جواب یہ ہے کہ نیکی کرنے پر ثواب کو اور بدی کرنے پر عقاب کو مدّ نظر رکھنا تو ہمارے مذہب میں نہایت ہی ادنیٰ بات سمجھی جاتی ہے۔ اگر کوئی مؤمن یہ کہے کہ میں نمازیں اس لئے پڑھتا ہوں کہ ان کے بدلے میں جنت ملے گی۔ تو یہ تو ایک قسم کا ٹھرک ہو جائے گا اور اسلام کی رُوح کے خلاف ہوگا۔ مومن تو اس لئے نیکی کرتا اور بدی سے بچتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ نیکی اپنی ذات میں حسن رکھتی ہے اور بدی عیب۔ اور عبادات کی قسم کی نیکیاں وہ اس لئے کرتا ہے کہ اس پر خدا تعالیٰ کے بہت احسانات ہیں۔ وہ نماز اس لئے نہیں پڑھتا کہ جنت ملے گی یا روزہ اس لئے نہیں رکھتا کہ دوزخ کا اسے ڈر ہوتا ہے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کی جو عبادت بھی کرتا ہے وہ اس لئے کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسے پیدا کیا اور اپنی صفتِ ربوبیت اور رحمانیت کے ماتحت اس پر احسان کئے۔ گویا مومن کو آئندہ کی لالچ مدّ نظر نہیں ہوتی بلکہ پچھلے احسانوں اور انعاموں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا مقصود ہوتا ہے۔ نماز میں مومن کیا کہتا ہے؟ یہی ناں کہ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ(1:2-4)۔ ان آیات میں دیکھ لو کہ اکثر حصہ پچھلے انعامات کے شکریہ کے متعلق ہی ہے اور آئندہ کا ذکر صرف اختصار کے ساتھ آیا ہے پس مومن کی عبادات بطور شکریہ ہوتی ہیں نہ بغرضِ لالچ۔ اور شکر گذاری کو دنیا کی کوئی قوم بھی برا نہیں کہتی بلکہ سب ہی اسے مستحسن فعل سمجھتے ہیں۔

باقی رہا یہ سوال کہ مذاہب میں نیک کاموں کے بدلہ میں ثواب کا وعدہ دیا جاتا ہے سو اس کا جواب یہ ہے کہ خد اکا معاملہ اس کے اختیار میں ہے اس کے بدلہ دینے کے یہ معنی نہیں کہ مومن اس بدلہ کے لئے یہ کام کرتا ہے ایک دوست دوسرے دوست کو ملنے جاتا ہے تو وہ اس کی خاطر کرتا ہے اور سب ہی جانتے ہیں کہ جب دوست دوست کے پاس جائے گا تو اس کی خاطر بھی ہوگی مگر کوئی نہیں کہتا کہ دوست اس لئے دوست سے ملنے گیا تھا کہ تا اسے اچھے اچھے کھانے کھلائے جائیں۔ اس کا جانا محبت کی وجہ سے تھا اور دوسرے کا اس کی خاطر کرنا بھی اپنی محبت کے تقاضے سے تھا۔

مکمل نیکی خدا کو ماننے والا ہی کرسکتا ہے

چوتھا جواب یہ ہے کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو نیکی کے جس درجہ تک خدا کو ماننے والا پہنچ سکتا ہے دوسرا انسان پہنچ ہی نہیں سکتا نہ دوسرا کوئی شخص ان تمام اقسام کی نیکیوں کو سمجھ سکتا ہے جو ایک خدا پرست کرتا ہے اُس لئے کہ کئی نیکیاں ایسی ہیں کہ جن کے کرنے میں کرنے والے کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے کہ ماں باپ سے نیک سلوک کرنا بچے کے لئے کسی رنگ میں بھی مفید نہیں ہو سکتا۔ پس ان کے آرام کے لئے تکلیف اُٹھانا یا ان پر مال خرچ کرنا ایک دہریہ کے لئے بدی ہونا چاہئے اور وہ روپیہ جو ان پر خرچ کیا جاتا ہے اس کا اپنی ذات پر خرچ کرنا نیکی ہونا چاہئے لیکن دہریہ عملاً ایسا نہیں کرتا وہ بھی ماں باپ سے نیک سلوک کرتا ہے حالانکہ عقلاً یہ کام صرف خدا کا ماننے والا کر سکتا ہے کیونکہ وہ شکر گذاری کو نیکی سمجھتا ہے اور شکر گزاری صرف خدا کو مان کر ہی نیکی کہلا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت سی نیکیاں ہیں جو صرف اسی تعریف کے ماتحت نیکی کہلا سکتی ہیں کہ ایک کامل وجود ہے جو اپنے حسن میں بے مثل ہے۔ اس کی مشابہت پیدا کرنا ہمارے لئے ضروری ہے ورنہ فائدہ اور خوشی کے لحاظ سے وہ نیکیاں نہیں کہلا سکتیں اور جس قدر نیکیاں کہ جان کی قربانیاں یا ساری عمر کے آرام کی قربانیاں چاہتی ہیں وہ سب اسی تعریف کے ماتحت نیکیاں کہلا سکتی ہیں۔ پس خدا پرست ہی کے لئے موقع ہے کہ وہ کافی نیک ہو سکے جو خدا کو نہیں مانتا اگر وہ اپنے دعویٰ کے مطابق عمل کرے تو اس کے لئے نیک بننے کی کوئی صورت ہی نہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ دہریہ خدا کے ماننے والوں کے اخلاق پر تو اعتراض کر جاتا ہے مگر جہاں اس کی تعریف نیکی کی رہ جاتی ہے وہاں وہ اپنے دعویٰ کے خلاف خدا کو ماننے والے کی تعریف کے مطابق نیکی کر کے اپنی ضمیر کو خاموش کرنا چاہتا ہے گو اس کا عمل اس کے دعویٰ کو رد کر رہا ہوتا ہے۔

ادنیٰ کے لئے اعلیٰ کی قربانی

خدا تعالیٰ کے منکرین اللہ تعالیٰ کے وجود کے خلاف ایک یہ اعتراض بھی پیش کیا کرتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ ہوتا تو ہمیں یہ بات نہ نظر آتی کہ اعلیٰ چیزیں ادنیٰ پر قربان کی جاتی ہیں جیسے مچھر اور طاعون کے کیڑے ہیں کہ ان کی پرورش انسان کی قربانی پر ہو رہی ہے پس معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا کی تدبیر کسی با ارادہ ہستی کے حکم کے ماتحت نہیں ہو رہی۔

اس بات کی تفصیل کہ مچھر اور ٹڈی وغیرہ کیوں پیدا کئے گئے ہیں۔ تو میں آگے بیان کروں گا فی الحال اس سوال کا جواب دیتا ہوں جو ادنیٰ پر اعلیٰ کے قربان ہونے کے متعلق کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا کا نظام اور انسان کے پیدا کرنے کی غرض اسی طرح پوری ہو سکتی تھی کہ انسان مرتا اور یہ چیزیں انسان کے مارنے کے ذرائع میں سے بعض ذریعے ہیں پس چونکہ انسان کا مرنا اس کی ترقیات کیلئے ضروری تھا۔ اس لئے بعض ذرائع اس کی موت کے لئے پیدا کئے جانے بھی ضروری تھے پس ان کیڑوں کے ذریعہ سے ادنیٰ پر اعلیٰ قربان نہیں ہو رہا بلکہ اعلیٰ کو اعلیٰ مقام پر لے جایا جاتا ہے۔

قرآن میں دہریت کا کیوں ردّ نہیں

دہریہ لوگ مذاہب پر ایک اور بھی سوال کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اگر خدا ہے تو اسے سب سے

پہلے دہریت کا رَدّ اپنی کتب میں کرنا چاہئے تھا مگر سب کتب دہریت کے متعلق خاموش ہیں حالانکہ مذہب کا سب سے بڑا دشمن یہ مسئلہ ہے پس مذہبی کتب کی خاموشی ثابت کرتی ہے کہ چونکہ یہ کتب انسانوں نے بنائی ہیں اور ان کے زمانہ میں دہریت کے عقائد رائج نہ تھے وہ ان کا جواب دینے کی کوشش بھی نہیں کر سکے ورنہ جو مسئلہ سب سے بڑا ہے اسے بالکل نظر انداز کس طرح کیا جا سکتا تھا۔ قرآن (کریم) جو سب سے آخری کتاب کہی جاتی ہے وہ بھی اس مسئلہ میں بالکل خاموش ہے حالانکہ شرک کے رد میں اس میں بہت زور لگایا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ایسے علاقہ میں رہتے تھے جہاں دہریت کو ماننے والا کوئی نہ تھا اس لئے اس کے متعلق انہوں نے کوئی ذکر نہیں کیا اور شرک کے متعلق بہت کچھ بیان کر دیا کیونکہ ان کے چاروں طرف مشرک ہی مشرک تھے ۔

دوسرے مذاہب سے مجھے اس وقت سروکار نہیں اسلام کے متعلق یہ اعتراض غلط ہے۔ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دہریت کے متعلق علم تھا۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جبکہ لوگ کہیں گے دنیا کو کس نے بنایا؟ جب اسے بتایا جائے گا کہ خدا نے تو وہ پوچھیں گے کہ خدا کو کس نے بنایا ہےاور یہی وہ سوال ہے جو دہریت کے بانی سپنسر نے اپنی کتاب میں اُٹھایا ہے پس اس حدیث میں صاف ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے دہریت کے متعلق علم دیا ہوا تھا حالانکہ عرب دہریوں سے خالی تھا۔

اب میں یہ بتاتا ہوں کہ قرآن کریم میں اس اعتراض کو صاف لفظوں میں کیوں نہیں اُٹھایا گیا۔ یہ بات ظاہر ہے کہ اگر قرآن کریم انسانی طاقت سے بالا ثابت ہو جائے تو علاوہ اس کے کہ یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ خدا بھی ضرور ہے پس قرآن کریم کی سچائی ثابت ہو جانے کے ساتھ دہریت کا بالکل خاتمہ ہو جاتا ہے اور اس صورت میں اس کا ایک ایک لفظ دہریت کا رَدّ بن جاتا ہے۔ پس دہریت کا سوال کوئی مستقل سوال نہیں ہے۔ کلام الٰہی کے سوال کے حل ہونے کے ساتھ یہ خود حل ہو جاتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کے ثابت کر دینے کے بعد کلام الٰہی کا سوال حل کرنا پھر بھی باقی رہ جاتا ہے پس اللہ تعالیٰ نے وہی طریق اختیار کیا جس سے کہ دو سوال ایک دم حل ہو جاتے تھے یعنی قرآن کریم کے ایک بالا ہستی کی طرف سے نازل ہونے کا ثبوت دیدیا اور اس ثبوت میں دہریت کا جواب خود بخود آگیا پس یہ کہنا کہ شرک کا رد قرآن کریم

میں زیادہ ہے۔ بالکل غلط ہے۔ شرک کے رد میں تو خاص خاص آیتیں ہیں اور دہریت کے رد میں قرآن کریم کی ہر ایک آیت ہے اور جب ہر آیت قرآن دہریت کا رد ہے تو الگ ذکر کی کیا ضرورت تھی؟

لیکن حق یہ ہے کہ قرآن کریم میں دہریت کے رد کے دلائل الگ بھی بیان ہیں جیسا کہ شروع مضمون میں ہم نے بیان کیا ہے کہ گو ان کا نام کوئی نہیں رکھا گیا کیونکہ دہریئے خود اپنا نام کوئی تجویز نہیں کرتے۔

خدا تعالیٰ کی ہستی کو مان لینے کے بعد کی حالت

ہستی باری تعالیٰ کا ثبوت دینے اور اس کے متعلق جو اعتراض کئے جاتے ہیں ان کو دُور کرنے کے بعد ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جو مقام حیرت کہلاتا ہے کیونکہ شخص پر یہ ثابت ہو جائے کہ میرا پیدا کرنے والا کوئی موجود ہے تو اس کے دل میں قدرتاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون ہے، کیسا ہے، میرا اس سے کیا تعلق ہے؟ اور مجھے اس سے کس طرح معاملہ کرنا چاہئے؟ غرض بیسیوں سوالات اور خواہشات معاً دل میں پیدا ہو جاتی ہیں اور ان سوالات کے جواب دیئے بغیر ہستی باری تعالیٰ کا مضمون مکمل نہیں ہو سکتا۔ پس اب میں ان سوالات کو جو خدا تعالیٰ کو مان کر انسان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں یا کم سے کم ان میں سے بڑے بڑے سوالات کو لیکر ایک ایک کر کے جواب دیتا ہوں۔

خدا تعالیٰ کا نام

جب انسان کسی چیز کا علم حاصل کرتا ہے تو سب سے پہلے اس کا نام معلوم کرنے کی اس کے دل میں خواہش ہوتی ہے۔ پس میں اسی سوال کو پہلے لیتا ہوں کہ کیا خدا کا کوئی ذاتی نام بھی ہے انسانی فطرت کو مدّ نظر رکھتے ہوئے یہ ایک اہم سوال ہے کیونکہ انسان بلا نام کے کسی چیز کو اپنے ذہن میں لانے سے بہت حد تک قاصر رہتا ہے مگر عجیب بات ہے کہ سوائے اسلام کے اور کسی مذہب میں خدا کا ذاتی نام کوئی نہیں۔ نہ یہودیوں میں، نہ عیسائیوں میں، نہ بدھوں میں، نہ ہندوؤں میں، نہ زرتشتیوں میں، نہ کسی اور مذہب میں۔ صرف صفاتی نام ہیں جیسے ہندوؤں میں ”پرماتما“ کا لفظ ہے۔ یعنی بڑی آتما۔ پرم ایشور یعنی بڑا ایشور۔ ان ناموں سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کو بھی وہ دنیا کا ہی ایک حصہ قرار دیتے ہیں جو گو بڑا ہے مگر دنیا سے کوئی الگ چیز نہیں۔ اسی طرح زرتشتیوں میں جو نام ہیں وہ بھی صفاتی نام ہیں یعنی ان کے معنی ہوتے ہیں اور خدا کے متعلق وہ اسی قدر دلالت کرتے ہیں جو کچھ ان کے معنوں

سے پایا جاتا ہے۔ مسیحیوں میں بھی کوئی نام نہیں سب صفاتی نام ہیں۔ یہودیوں میں خدا کو یہووا کہتے ہیں۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ اس نام کے بھی معنی ہیں۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ یہووا یہوی سے نکلا ہے۔ جس کے معنے ہیں ۔ گرنے والا اور اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ ہستی جو انسان پر نازل ہو۔ مگر اس سے صرف خدا تعالیٰ کے متکلم یا نزول کی صفت معلوم ہوتی ہے اس لئے یہ اسم ذات نہ ہوا ۔ بلکہ اسم صفت ہوا۔ میرے نزدیک یہووا یا ہو ہے یعنی "اے وہ جو ہے" گویا نام کا پتہ نہیں۔ اور جس طرح کوئی ایسا شخص دور فاصلہ پر جا رہا ہو جس کا نام معلوم نہ ہو مگر اسے مخاطب کرنے کی ضرورت ہو تو کہا جاتا ہے۔ ارے ٹھہر جاؤ ۔ اسی طرح یہ نام ارے کا قائم مقام ہے اور اس میں صرف اس امر پر دلالت ہے کہ وہ واجب الوجود ہے اس سے زیادہ اور کسی صفت پر اس سے دلالت نہیں ہوتی ۔

اسلام سے پہلے کسی کو خدا کا اسم ذات نہیں بتایا گیا

اصل بات یہ ہے کہ اسلام سے پہلے کسی قوم کو خدا کا اسم ذات بتایا ہی نہیں گیا اور اس میں ایک بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کا اسم ذات اس کی ساری صفات کو اپنے اندر رکھتا ہے اور ساری صفات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے امتِ محمدیہ پر ہی ظاہر ہوئیں اس لئے اور کسی پر خدا تعالیٰ نے اپنا ذاتی نام ظاہر نہ کیا۔

یہودیوں میں خدا کے نام کی عزت

یہودی "یہووا" نام کا بڑا ادب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیشہ اور ہر ایک کو یہ نام نہیں لینا چاہئے کیونکہ اس طرح اس کی بے ادبی ہوتی ہے اس وجہ سے صرف ان کے علماء ہی یہ نام لیتے تھے اور اس کا صحیح تلفظ انہی کو آتا تھا اور ان کا دعویٰ تھا کہ کوئی دوسرا یہ نام لے تو اس پر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے اور جو شخص بغیر باقاعدہ مولوی ہونے کے یہووا کا نام لے تو اس کے مرنے پر اس کا جنازہ وہ نہیں پڑھتے (یعنی مرنے پر جو رسوم ادا کی جاتی ہیں ورنہ اسلامی جنازہ ان میں نہیں ہوتا ) اور اسے برکت نہ دیتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس کی نجات نہ ہو گی ۔ علماء بھی اگر اس نام کو لوگوں کے سامنے لیتے تو بگاڑ کر لیتے تاکہ گناہ نہ ہو۔ اس نام کے متعلق ان کا اس قدر اخفاء کرنا ہی اس امر کا موجب ہوا کہ مصریوں نے بڑی کوشش سے اس نام کو دریافت کیا اور یہ خیال کر کے کہ اس نام کی برکت سے یہودیوں نے ہم پر فتح پائی تھی اس نام کو اپنے جادوؤں میں داخل کر لیا چنانچہ مصری جادوؤں میں یہووا کا نام ضرور لیا جاتا تھا۔

اسلام میں خدا کا اسمِ ذات

مسلمانوں نے بھی اسی قسم کا دھوکا کھایا ہے اور وہ یہ ہے کہ ان میں عام خیال پھیلا ہوا ہے کہ خدا کا ایک نام ایسا ہے کہ عام لوگوں کے سامنے وہ نہیں لیا جاتا بلکہ صرف خاص خاص علماء کو اس کا علم ہے اور وہ اسے لوگوں سے پوشیدہ رکھتے ہیں اور خدا کا حکم بھی یہی ہے کہ اسے ہر اک پر ظاہر نہ کیا جائے اسے مسلمان ”اسم اعظم“ پکارتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ پیر صاحب کی خدمت کر کے وہ نام حاصل ہوتا ہے اور جسے وہ نام حاصل ہو گیا اسے گویا سب کچھ مل گیا۔ حالانکہ بات یہ ہے کہ یہودیوں کو تو کوئی نام ہی نہیں بتایا گیا تھا۔ جو نام انہیں بتائے گئے تھے وہ یہووا سمیت صفاتی نام تھے اور ہمیں جو اسم اعظم دیا گیا ہے وہ اتنا ظاہر ہے کہ اسے کوئی چھپا ہی نہیں سکتا وہ نام ہے اللہ۔ یہ چھپانے والا نام نہیں بلکہ ظاہر کرنے والا نام ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ بلند آواز سے آذان میں اور نمازوں میں ”اللہ اکبر“ کہو۔ غرض اسلام میں ہی اللہ تعالیٰ کا اسم ذات پایا جاتا ہے اور وہ اللہ کا لفظ ہے۔

اللہ کا لفظ نہ مرکب ہے نہ مُشتق نہ اس کے کوئی معنے ہیں یہ صرف اور صرف نام ہے بعض لوگ جو کہتے ہیں کہ الہٰ سے ہمزہ حذف ہو کر اللہ کا لفظ بن گیا ہے بالکل غلطی کرتے ہیں اس لئے کہ الہٰ کا لفظ تو ہر معبود کے متعلق خواہ جھوٹا ہو یا سچا ہو جس کا ذکر ہو رہا ہو بولا جا سکتا ہے لیکن عرب لوگ اللہ کا لفظ کبھی بھی خدا کے سوا کسی اور معبود کے لئے استعمال نہیں کرتے تھے۔ اگر اللہ لا الہ سے بنا ہے تو وہ بتوں پر اس لفظ کو کیوں نہ استعمال کرتے۔ دوسرے قرآن کریم میں اس لفظ کو ہمیشہ اسم ذات کے طور پر استعمال کیا گیا ہے اور صفات کو اس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جس سے ظاہر ہے کہ اسے قرآن کریم اسم ذات قرار دیتا ہے نہ کہ اسم صفت۔

۳۔ عربی کا قاعدہ ہے کہ جس لفظ کے شروع میں ال تعریف کا ہو اگر اس کو پکارا جائے تو اس کے پہلے حرف ندا کے بعد اَیُّھَا کا لفظ بڑھاتے ہیں لیکن اللہ کو پکارتے ہوئے یٰاَیُّھَا اللہُ نہیں کہتے بلکہ یا اللہ کہتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے لفظ میں ال تعریف کا نہیں ہے بلکہ خود لفظ کا حصہ ہے۔


اللہ کیا ہے؟

نام معلوم کرنے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ذات جس کا نام اللہ ہے وہ کیا ہے؟ گویا اب ہم ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ یا بہودا کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کا نام ہمیں معلوم ہو گیا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ وہ ہے کیا؟

اللہ تعالیٰ کے متعلق اہل یورپ کا خیال

سب سے پہلے میں اللہ تعالیٰ کے متعلق ان اہل یورپ کے خیالات کو بیان کرتا ہوں جو خدا تعالیٰ کے وجود کے قائل ہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ خدا ہے تو سہی لیکن اس نے دنیا کو پیدا کر کے چھوڑ دیا ہے اب اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہم اس قسم کا کوئی نمونہ نہیں دیکھتے کہ خدا اب بھی کچھ پیدا کرتا ہو اس لئے معلوم ہوا کہ اب کچھ کرنے سے وہ معطل ہو گیا ہے اور اس لئے مخلوق کا عملاً اب اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

دوسرا خیال یہ ہے کہ دُنیا کے انتظام کے لحاظ سے تو خدا بیشک معطل ہی ہے لیکن وہ اپنے آپ کو اخلاقی ہدایت کے ذریعہ سے ظاہر کرتا رہتا ہے یعنی لوگوں کے دلوں میں نیک خیال ڈالتا رہتا ہے۔

ان لوگوں کی یہ بھی بڑی مہربانی ہے کہ اتنا وجود تو خدا تعالیٰ کا تسلیم کرتے ہیں۔

آئندہ کے متعلق ان میں سے بعض کا خیال ہے کہ چونکہ اس نے انسان کو پیدا کیا ہے اور دنیا میں بھیجا ہے اس لئے اگر اس کے احکام کی تعمیل نہ کی جائے گی تو سزا دے گا۔ بعض کہتے ہیں خدا کا سزا سے کیا تعلق؟ کیا ہماری یہ مہربانی کم ہے کہ ہم یہ مانتے ہیں کہ اس نے ہمیں پیدا کیا اگر ہم اس کے پیش بیش احکام نہیں مانتے تو سزا کیسی؟ اس لئے وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کے جو احکام مانتے ہیں ان کا انعام دے گا اور جو نہیں مانتے ان کی سزا نہیں دے گا۔ یورپ کے ایک فلاسفر ملؔ نے صرف انعام دینے والے اصل پر بڑا زور دیا ہے۔ بعض لوگوں نے اس کے سزا کی نفی پر بہت ہی زور دینے کی یہ وجہ لکھی ہے کہ اس کے اعصاب بہت تیز تھے اور وہ درد بہت زیادہ محسوس کرتا تھا اس لئے اس کی طبیعت اس امر کو مان ہی نہیں سکتی تھی کہ خدا عذاب بھی دے سکتا ہے۔ پس اس نے بدی کی سزا کا تو انکار کر دیا اور نیکی کے انعام کو قائم رکھا۔

مسیحیوں کا خدا کے متعلق خیال

اب میں مختلف مذاہب کے پیش کردہ خیالات کو ایک ایک کر کے لیتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ وہ خدا تعالیٰ کے متعلق کیا تعلیم دیتے ہیں اور اس بارے میں ان کی تعلیم کہاں تک درست یا غلط ہے۔ چونکہ اس وقت مسیحیت کا غلبہ ہے پہلے میں اسی مذہب کے خیالات کو بیان کرتا ہوں۔ مسیحیوں کا عقیدہ ہے کہ ایک خدا کی تین شاخیں ہیں (۱) خدا باپ (۲) خدا بیٹا (۳) خدا روح القدس اور پھر یہ تینوں مل کر ایک بھی ہیں۔ پھر صفات کے متعلق ان کا خیال یہ ہے کہ خدا کی خاص صفات میں سے ایک صفت عدل کی ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ اگر وہ عادل نہ ہو تو ظالم قرار پائے گا۔ لیکن ظالم ہونا خدا کے لئے محال ہے پس اس کے عدل میں کسی صورت میں فرق نہیں آسکتا۔ اب چونکہ دنیا میں عموماً اور مسیحی دنیا میں خصوصاً گناہوں کا سلسلہ نظر آتا ہے جسے دیکھتے ہوئے نجات بالکل ناممکن نظر آتی ہے کیونکہ اپنے عمل سے انسان نجات نہیں پاسکتا اور خدا کا عدل چاہتا ہے کہ گناہ کی سزا دے پس نجات کی صورت وہ یہ پیش کرتے ہیں کہ خدا نے جب دیکھا کہ میرا عدل بنی نوع انسان کی نجات کی راہ میں روک ہے تو اس نے اپنے اکلوتے بیٹے کو انسان کی شکل میں دنیا میں بھیجا تاکہ وہ لوگوں کے گناہ اٹھا لے۔ چنانچہ حضرت مسیح خدا کے بیٹے ہی تھے جو انسانی شکل میں ظاہر ہوئے اور باوجود بے گناہ ہونے کے بنی نوع انسان کے گناہ اٹھا کر صلیب پر لٹکائے گئے۔ اب جو کوئی ان کے اس طرح کفارہ ہونے پر ایمان لائے وہ نجات پا جائے گا کیونکہ مسیح اس کا کفارہ ہو گئے ہیں اور اب بغیر اس کے کہ خدا کے عدل میں فرق آئے وہ لوگوں کو نجات دے سکتے ہیں۔

عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق خدا پر اعتراض

مگر اس عقیدہ کے مطابق خدا پر کئی الزام عائد ہوتے ہیں۔ گو زبان سے خدا کو رحیم رحیم کہیں لیکن اگر اس کے متعلق یہ مانیں جو عیسائی کہتے ہیں تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ گناہ کرنے کے بعد خواہ کوئی کتنی التجائیں کرے ناک رگڑے خدا اس کی درخواست کو ردّ کر دے گا کیونکہ وہ اس کا گناہ معاف نہیں کر سکتا! اب اگر خدا رحیم ہے اور ہم سے زیادہ رحیم تو جب ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی ہمارا قصور کر کے ہم سے رحم کی التجا کرتا ہے تو ہم اسے معاف کر دیتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ خدا معاف نہیں کرتا یہ کہنا کہ اس سے اس کے عدل میں فرق آتا ہے بالکل باطل ہے کیونکہ جب ہم کسی کو معاف کر دیتے ہیں تو کیا ہماری نسبت یہ کہا جاتا ہے کہ ہم عادل نہیں ہیں۔ اگر باوجود رحم کے ہم عادل کے عادل ہی رہتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ اگر رحم کرے تو وہ عادل نہیں رہتا۔ مسیحیت کو سب سے زیادہ اس بات پر ناز ہے کہ اس میں خدا کو باپ قرار دیا گیا ہے۔ کیا باپ اپنے بچوں سے ویسا ہی سلوک کرتے ہیں جو مسیحی کہتے ہیں کہ خدا بنی نوعِ انسان سے کرتا ہے کہ خواہ وہ کس قدر بھی توبہ کیوں نہ کریں وہ ان کے قصور معاف نہیں کرتا۔ مسیحی یہ نہیں کہہ سکتے کہ دنیوی باپ بوجہ کم علمی اور جہالت کے ایسا کرتے ہیں ورنہ اگر وہ عدل کو مدّنظر رکھیں تو اپنے بچوں کا قصور بغیر کفارہ کے معاف نہ کریں۔ کیونکہ خود مسیح علیہ السلام نے انجیل میں خدا کو باپ سے تمثیل دے کر انسان سے سلوک کی مندرجہ ذیل حکایت کے ذریعہ سے کیفیت بیان کی ہے۔

”کسی شخص کے دو بیٹے تھے۔ ان میں سے چھوٹے نے باپ سے کہا کہ اے باپ مال کا جو حصہ مجھ کو پہنچتا ہے مجھے دے۔ اس نے اپنا مال ومتاع انہیں بانٹ دیا اور بہت دن نہ گزرے کہ چھوٹا بیٹا اپنا سب کچھ جمع کر کے دور دراز ملک کو روانہ ہوا اور وہاں اپنا مال بدچلنی میں اُڑا دیا اور جب سب خرچ کر چکا تو اس ملک میں سخت کال پڑا اور وہ محتاج ہونے لگا۔ پھر اس ملک کے ایک باشندے کے ہاں جا پڑا۔ اس نے اس کو اپنے کھیتوں میں سُوّر چرانے بھیجا اور اسے آرزو تھی کہ جو پھلیاں سُوّر کھاتے تھے ۔ انہیں سے اپنا پیٹ بھرے۔ مگر کوئی اسے نہ دیتا تھا پھر اس نے ہوش میں آکر کہا کہ میرے باپ کے کتنے ہی مزدوروں کو روٹی افراط سے ملتی ہے اور میں یہاں بھوکا مر رہا ہوں۔ میں اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس جاؤں گا اور اس سے کہوں گا کہ اے باپ میں آسمان کا اور تیری نظر میں گنہگار ہوا۔ اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاؤں مجھے اپنے مزدوروں جیسا کر لے پس وہ اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس چلا۔ وہ ابھی دُور ہی تھا کہ اسے دیکھ کر اس کے باپ کو ترس آیا اور دوڑ کر اس کو گلے لگا لیا اور بوسے لئے۔ بیٹے نے اس سے کہا کہ اے باپ میں آسمان کا اور تیری نظر میں گنہگار ہوا۔ اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاؤں۔ باپ نے اپنے نوکروں سے کہا کہ اچھے سے اچھا جامہ جلد نکال کر اسے پہناؤ اور اس کے ہاتھ میں انگوٹھی اور پاؤں میں جوتی پہناؤ اور پلے ہوئے بچھڑے کو لا کر ذبح کرو۔ تاکہ ہم کھا کر خوشی منائیں۔ کیونکہ میرا یہ بیٹا مُردہ تھا اب زندہ ہوا۔ کھویا ہوا تھا اب ملا ہے پس وہ خوشی منانے لگے لیکن اس کا بڑا بیٹا کھیت میں تھا جب وہ آکر گھر کے نزدیک پہنچا تو گانے بجانے اور ناچنے کی آواز سنی

اور ایک نوکر کو بلا کر دریافت کرنے لگا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اس نے کہا تیرا بھائی آگیا ہے اور تیرے باپ نے پلا ہوا بچھڑا ذبح کرایا ہے۔ اس لئے کہ اُسے بھلا چنگا پایا۔ وہ غصّے ہوا اور اندر جانا نہ چاہا۔ مگر اس کا باپ باہر جا کے اسے منانے لگا۔ اس نے اپنے باپ سے جواب میں کہا کہ دیکھ اتنے برس سے میں تیری خدمت کرتا ہوں اور کبھی تیری حکم عدولی نہیں کی۔ مگر مجھے تو نے کبھی ایک بکری کا بچہ بھی نہ دیا۔ کہ اپنے دوستوں کے ساتھ خوشی مناتا۔ لیکن جب تیرا یہ بیٹا آیا۔ جس نے تیرا مال متاع کسیبیوں میں اُڑا دیا تو اس کے لئے تُو نے پلا ہوا بچھڑا ذبح کرایا اس نے اس سے کہا۔ بیٹا تُو تو ہمیشہ میرے پاس ہے اور جو کچھ میرا ہے وہ تیرا ہی ہے لیکن خوشی منانی اور شادماں ہونا مناسب تھا۔ کیونکہ تیرا یہ بھائی مُردہ تھا اب زندہ ہوا ۔ کھویا ہوا تھا اب ملا ہے۔“

(لوقا باب ۱۵ آیت ۲۶ تا ۳۲ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور ۱۹۱۹ء)

اس تمثیل سے حضرت مسیحؑ نے یہ بتایا ہے کہ خدا کو بھی بندہ سے ایسا ہی پیار اور محبت ہے اور جو بندہ گناہ کر کے پچھتاتا ہوا خدا کے پاس آتا ہے خدا اس پر اسی طرح رحم کرتا ہے جس طرح باپ اپنے بیٹے پر۔ مگر یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیحؑ تو خدا تعالیٰ کے بندوں سے تعلق کو اوپر کی تمثیل سے واضح کر کے اسے بہترین عفو کرنے والا قرار دیتے ہیں مگر مسیحی اسے ایسا ظالم قرار دیتے ہیں کہ خواہ کوئی کتنی ہی التجا کرے وہ اسے معاف ہی نہیں کرتا۔ کیا اس باپ نے جس کی حضرت مسیحؑ نے تمثیل دی ہے اپنے آنے والے بیٹے کو پہلے مارا اور پھر معاف کیا تھا۔ یا اس کی ندامت کو قبول کر کے بغیر کسی سزا کے معاف کر دیا تھا اور اس کے آنے پر خوش ہوا تھا۔ اگر اس کے آنے پر باپ نے کہا ہوتا کہ پیٹھ ننگی کر تاکہ پہلے تمہیں سزا دے لوں۔ اور پھر چھوڑ دوں گا۔ یا یہ کہ پہلے بڑے بیٹے کو بلا کر کفارہ کے طور پر کوڑے مارے ہوتے پھر چھوٹے کو معاف کیا ہوتا۔ تب تو کہہ سکتے تھے کہ کفارہ کا خیال درست ہے مگر ایسا نہیں ہوا حضرت مسیحؑ نے اس تمثیل کے ذریعہ سے درحقیقت کفارہ کے مسئلہ کو جڑ سے اکھاڑ دیا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیحؑ کو الہام کے ذریعہ سے پتہ لگ گیا تھا۔ کہ ان کے ماننے والے اس قسم کا عقیدہ بنا لیں گے۔ اس لئے انہوں نے اس تمثیل کے ذریعہ سے اس زہر کا ازالہ کر دیا۔

مسیحیوں کا خدا تعالیٰ کے متعلق جو عقیدہ ہے اس میں یہ بھی نقص ہے کہ وہ ایک طرف تو کہتے ہیں کہ مسیح خدا کے بیٹے تھے اور دوسری طرف یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ موت کا شکار ہوئے اور بعض کے نزدیک وہ لوگوں کے گناہوں کے سبب سے تین دن تک جہنم میں بھی رہے اور سزا پاتے رہے گویا خدا نعوذ باللہ جہنم کی سزا تین دن تک بھگتتا رہا اور یہ عقیدہ ایسا ہے کہ اس کا نقص خود ہی ظاہر ہے۔ اس پر کچھ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔

زرتشتیوں کا خدا کے متعلق خیال

مسیحیوں کے بعد میں زرتشتیوں کے عقائد کو لیتا ہوں۔ ان لوگوں کا خدا تعالیٰ کے متعلق یہ عقیدہ ہے کہ اس سے صرف نُور آتا ہے تکلیف اور دُکھ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں آسکتا اور اس لئے وہ خدا کے مقابلہ میں ایک اور طاقت بھی مانتے ہیں جس سے ظلمت اور گناہ اور دُکھ پیدا ہوتا ہے اور دُنیا میں جس قدر تغیرات ہوتے ہیں ان کے نزدیک وہ سب انہی دو بالا ہستیوں کی جنگوں کے نتیجہ میں ہوتے ہیں کبھی ایک غالب آجاتا ہے کبھی دوسرا لیکن آخری زمانہ کی نسبت انکا خیال ہے کہ اس میں نیکی کی طاقت بدی کی طاقت پر غالب آجائے گی اور شیطان جسے وہ اہرمن کہتے ہیں اس کا سر کچلا جائے گا۔

اس عقیدہ پر اعتراض

اس عقیدہ پر بھی بہت سے اعتراضات وارد ہوتے ہیں مثلاً یہ کہ اس طرح شیطان خدا کی ذات میں شریک ہوا اور بجائے ایک خدا کے دو خدا ہوئے جس عقیدہ کو زرتشتی خود بھی ناپسند کرتے ہیں۔ اس پر ان کے بعض محقق کہتے ہیں کہ اصل میں خدا ایک اور بھی بالا ہستی ہے اس نے دو طاقتیں ایک نیکی کی اور دوسری بدی کی پیدا کی ہیں مگر اس عقیدہ پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اگر یہ بات ہے تو پھر ظلمت خدا ہی کی طرف منسوب ہوئی کیونکہ اگر خدا نے شیطان کو پیدا کر کے پھر اُس سے ظلمتیں پیدا کرائیں تو گویا خدا نے خود ہی ظلمتیں پیدا کیں۔

دوسرا نقص اس عقیدہ میں یہ ہے کہ جن چیزوں کو نقصان رساں سمجھ کر شیطان کی مخلوق قرار دیا جاتا ہے ان کے بھی فوائد معلوم ہو رہے ہیں اور وہ بھی مفید ثابت ہو رہی ہیں۔ اندھیرے کو ہی لے لو۔ اب اگر اندھیرا نہ ہوتا تو صحت افزا نیند نہ ہوتی کیونکہ طب سے ثابت ہوتا ہے کہ اندھیرے کی نیند روشنی کی نیند سے اعلیٰ ہوتی ہے اور زیادہ مفید ہوتی ہے۔ کئی ترکاریاں اور سبزیاں اندھیرے میں نشوونما پاتی ہیں۔ ہر وقت کی روشنی سے آنکھوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں تو اگر یہ درست ہے کہ اندھیرے کا پیدا کرنے والا شیطان ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ خدا نے دنیا کو نامکمل پیدا کیا تھا شیطان کی مہربانی سے وہ مکمل ہوئی۔

ہندوؤں کا خدا کے متعلق خیال

دنیا کا تیسرا بڑا مذہب ہندو ہے۔ ان کے عقائد میں بھی خدا تعالیٰ کے متعلق بعض ایسی تعلیمیں ہیں جو خدا تعالیٰ کو ناقص ثابت کرتی ہیں یا یہ کہ وہ تعلیمیں عقل کے خلاف ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ خدا دنیا میں اوتار لیتا ہے اور مخلوق کا جنم لیتا ہے اور یہ عقیدہ ان میں ایسی بری صورت میں پیش کیا جاتا ہے کہ یہاں تک بھی کہہ دیتے ہیں کہ خدا نے جانوروں میں سے سؤر اور مگر مچھ کا بھی جنم لیا ہے۔ اگر یہ لوگ غور کرتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ خدا کے جنم لینے کے یہ معنی ہیں کہ وہ محدود ہے پھر مگر مچھ اور سؤر کی شکل میں اس کا ظاہر ہونا تو اور بھی حقارت پیدا کرنے والا ہے اور اس عقیدہ سے بجائے خدا تعالیٰ کی عظمت ثابت ہونے کے اس کی ہتک ہوتی ہے۔

اسی طرح ہندوؤں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوا اور بہت سے دیوتا ہیں جنکو کارخانہ عالم کے چلانے میں بہت کچھ دخل حاصل ہے۔ چنانچہ تین تو بڑے بڑے مظاہر تسلیم کئے جاتے ہیں جن میں سے ایک تو پیدا کرنے والا ہے جسے برہما کہتے ہیں اور ایک رزق دینے والا جسے شِو کہتے ہیں اور ایک مارنے والا جسے وشنو کہتے ہیں۔ اس عقیدہ کی وجہ سے ان میں سے اکثر لوگ وشنو اور شِو کی تو پوجا کرتے ہیں مگر برہما کی کوئی پوجا نہیں کرتا کیونکہ خیال کرتے ہیں کہ اس نے تو جو کچھ کرنا تھا کر چکا اب آئندہ تو رزق دینے والے اور مارنے والے سے ہی کام پڑنا ہے اس لئے انہی کی پوجا کرنی چاہئے۔ اس کے متعلق ایک لطیفہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کوئی راجہ تھا اس کے ہاں لڑکا نہ ہوتا تھا۔ وہ برہما کی پرستش کرتا رہا جس کے نتیجہ میں لڑکا پیدا ہو گیا۔ پھر اس نے اس کو چھوڑ دیا کہ اب اس کی کیا ضرورت ہے۔ اب مارنے والے کی پرستش کرنی چاہئے تاکہ بیٹا زندہ رہے۔ اس نے اسی طرح کیا، لیکن جب وہ لڑکا جوان ہوا تو اس نے کہا جس نے مجھ پر احسان کیا ہے کہ مجھے پیدا کیا اس کی پرستش کرنی چاہئے اور وہ برہما کی پرستش میں لگ گیا اس پر باپ اس سے ناراض ہو گیا اور اس کا غصہ بڑھتے بڑھتے اس قدر تیز ہو گیا کہ اس نے مارنے والے پرمیشور سے کہا کہ میرے لڑکے کو مار دے چنانچہ وشنو نے اس لڑکے کو مار دیا مگر برہمانے کہا اس لڑکے نے میری خاطر جان دی ہے اس لئے اسے پھر پیدا کر دینا چاہئے۔ اس نے اسے پھر پیدا کر دیا اور اسی طرح یہ جنگ جاری رہی۔ اب مجھے یہ معلوم نہیں کہ اس جنگ کا خاتمہ کس طرح ہوا

اور صلح کس طرح سے ہوئی۔

آریوں کا خدا کے متعلق خیال

آریہ لوگ گو ہندوؤں میں سے نکلے ہیں لیکن چونکہ انہوں نے اپنے عقائد میں بہت کچھ فرق کر لیا ہے اس لئے میں ان کا الگ ذکر کرتا ہوں۔ ان لوگوں کے عقیدہ میں بھی بہت کچھ کمزوریاں ہیں یہ خیال کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے دنیا کو پیدا نہیں کیا بلکہ دنیا کے ذرات اور ارواح خود بخود ہیں خدا نے صرف جوڑ دیا ہے اور سب صفاتِ اقتداری کے وہ منکر ہیں۔ ان کے نزدیک خدا نہ رازق ہے نہ خالق نہ حفیظ۔ اور جو صورت وہ خدا کی پیش کرتے ہیں اگر اسے تسلیم کر لیا جائے تو ماننا پڑتا ہے کہ اگر خدا مر بھی جائے تو بھی دنیا کا کوئی چنداں حرج نہیں۔ خدا رہے یا نہ رہے ہم ضرور رہیں گے یہ خیال بھی ایسا ہے کہ اسے عقلِ انسانی تسلیم نہیں کر سکتی۔

اسلام خدا کے متعلق کیا کہتا ہے؟

ان سب مذاہب کے مقابلہ میں اسلام کیا کہتا ہے؟ چونکہ اس سوال پر روشنی ڈالنا میرا مقصود ہے اس لئے اس کے متعلق میں تفصیل سے بیان کروں گا۔ سب سے پہلے میں اسلام کی تعلیم خدا کے متعلق خلاصتہً بیان کرتا ہوں۔ اسلام کہتا ہے کہ ایک بالا ہستی جامع جمیع صفات موجود ہے وہ قائم بالذات ہے۔ اپنے وجود میں کامل ہے، دوسروں کا محتاج نہیں، محدود نہیں، جس طرح آسمان پر ہے اسی طرح زمین پر ہے، جگہ اسے بند نہیں کر سکتی، جہات اس پر تصرف نہیں رکھتیں، زمانہ اس پر حکومت نہیں کر سکتا، وہ باوجود دور ہونے کے نزدیک ہے اور باوجود نزدیک ہونے کے دور ہے ، اسے کسی نے نہیں بنایا مگر جو کچھ بھی موجود ہے اس کا بنایا ہوا ہے، وہ سب سے بالا ہے اور سب کچھ اس کے قبضہ و تصرف میں ہے، اس کی مرضی کے بغیر کوئی کچھ نہیں کر سکتا، وہ بادشاہ ہے وہ مالک ہے، وہ ہدایت دینے والا ہے، حفاظت کرنے والا ہے اور عزّت و ذلّت اسی کے اختیار میں ہے وہ سنتا ہے اور دیکھتا ہے اور ہر ایک بات کو جانتا ہے۔

مگر وہ سننے اور دیکھنے اور جاننے کے لئے ہماری طرح آلات کا محتاج نہیں، جو کچھ دُنیا میں نظر آتا ہے سب اسی کی صفات کا ظہور ہے، وہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس نے دنیا کو خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ دنیا اس مقصد کو پورا کرے اس میں اس کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ خود دنیا کا فائدہ اور اس کی ترقی ہے۔

کیا خدا کی کوئی صورت شکل ہے؟

خدا تعالیٰ کے متعلق یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کی کوئی صورت شکل بھی ہے اس کا جواب اسلام یہ دیتا ہے کہ اس کی کوئی صورت شکل نہیں۔ صورت کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ ایک جسم ہے جو مختلف حصے رکھتا ہے اور ہر ایک حصہ کی ایک حد بندی ہے مگر خدا سب حد بندیوں اور سب تقسیموں سے پاک ہے اس لئے اس کی کوئی صورت نہیں ہو سکتی صورت صرف مادی اشیاء کے لئے ہوتی ہے بلکہ ان میں سے بھی کثیف مادی اشیاء کی۔ خدا کوئی جسم نہیں رکھتا بلکہ جسموں اور مادے کا خالق ہے۔

حدیث میں خدا کی صورت بتانے کا کیا مطلب ہے؟

اس بیان پر سوال ہو سکتا ہے کہ بعض حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی صورت ہے ان احادیث کا کیا مطلب ہے؟ چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور آپؐ نے دیکھا کہ ایک شخص اپنے غلام کو مار رہا ہے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا اِنَّ اللّٰهَ خَلَقَ اٰدَمَ عَلٰی صُوْرَتِہٖ(مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحہ ۲۴۴، ۲۵۱، ۳۱۵) کہ آدم کو خدا نے اپنی صورت پر بنایا۔ پس چاہئے کہ اس کی صورت کا ادب اور احترام کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کی صورت ہے ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیوں فرماتے کہ آدم کو خدا نے اپنی صورت پر پیدا کیا ہے تم اس کی صورت کا ادب اور احترام کرو۔ یاد رکھنا چاہئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے دو معنی ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ صورت کے معنی عربی میں وصف اور صفت کے بھی آتے ہیں۔ اس لئے اِنَّ اللّٰهَ خَلَقَ اٰدَمَ عَلٰی صُوْرَتِہٖ کے یہ معنی ہوئے کہ خدا نے آدم کو اپنی صفات پر پیدا کیا ہے۔ جیسے فرمایا عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّهَا(البقرۃ: ۳۲) یعنی خدا نے اپنی وہ ساری صفات جو بندوں سے تعلق رکھتی ہیں آدم کو سکھائیں یعنی انسان کو خدا نے ایسا دماغ دیا کہ جو اس کی صفات کو جلوہ گر کر سکے۔ وہ شخص چونکہ اپنے غلام کے منہ پر مار رہا تھا اور ممکن تھا کہ اس کے دماغ کو صدمہ پہنچے اس لئے رسول کریمؐ نے اسے فرمایا کہ اس طرح نہ مارو اور جس سے وہ غرض جس کے لئے انسان بنایا گیا ہے وہ باطل ہو جائے گی۔ چنانچہ دوسری حدیثوں سے بھی پتہ لگتا ہے کہ رسول کریمؐ نے فرمایا منہ پر نہیں مارنا چاہئے۔ وجہ یہ کہ دماغ مرکز ہے ساری صفات کا اور اس کو صدمہ پہنچنے سے صفات کا ظہور رک جاتا ہے۔ اس لئے رسول کریمؐ نے فرمایا خدا کی صفات کا ادب کرو خدا نے انسان کا دماغ اس لئے پیدا کیا ہے کہ اس کی صفات اخذ کرے۔ مگر تم منہ پر مارتے ہو جس سے خطرہ ہوتا ہے کہ دماغ کو جو اس کے بالکل قریب ہے صدمہ پہنچ جائے اور انسان کی عقل کو نقصان پہنچ جائے جس سے وہ اپنی پیدائش کی غرض کو پورا کرنے سے ہی محروم ہو جائے۔

اس حدیث کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں عَلٰی صُوْرَتِہٖ سے مراد عَلٰی صُوْرَةِ الْاِنْسَانِ ہو۔ یعنی آدم کو اس کے مناسب حال شکل پر پیدا کیا۔ اس صورت میں اس حدیث کا یہ مطلب ہو گا کہ چونکہ وہ زور سے مار رہا تھا اس لئے ممکن تھا کہ غلام کا کوئی عضو ٹوٹ جاتا۔ اس پر رسول کریمؐ نے فرمایا خدا نے تو اسکو اس کے مناسب حال شکل دی تھی کیا اب تم اس کو درست کرنے لگے ہو؟ گویا تعریضاً فرمایا کہ اس طرح مار کر کہ ایک بے کس آدمی کی شکل بگاڑ دینے کے یہ معنی ہوں گے کہ خدا تعالیٰ سے تو اس کی شکل کے بنانے میں غلطی ہو گئی تھی اب تم اس غلطی کی اصلاح کرنے لگے ہو؟ اس صورت میں یہ زجر کا کلام ہے اور اس کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ خدا کی کوئی صورت اور شکل ہے جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔

کیا خدا کی حقیقت معلوم ہوسکتی ہے؟

اب شاید کسی کے دل میں یہ خیال گذرے کہ جب وہ ایسی وراء الوریٰ ہستی ہے کہ جس کا کوئی پتہ ہی نہیں لگ سکتا تو پھر ہم اسے کس طرح سمجھ سکتے ہیں اور کیونکر اس کے وجود کو ذہن میں لا سکتے اور اس کی حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ خدا کی ذات اور حقیقت کو کوئی نہیں پا سکتا۔ کیونکہ جس چیز کی حقیقت کو کوئی پا لیتا ہے اس کو بنا بھی لیتا ہے اور ہمارا خدا کی حقیقت کو پا لینے کا یہ مطلب ہو گا کہ ہم اسے بنا بھی سکتے ہیں۔ مثلاً گھڑی ہے اس کے متعلق اگر کامل علم ہو اس کے پُرزوں کی ساخت کا بھی اور ان کی ترکیب کا بھی اور اس سامان کا بھی جس سے وہ بنتی ہے اور جس طرح وہ بنتی ہے تو پھر اس کا بنانا بھی ہمارے لئے بالکل ممکن ہو گا۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی حقیقت کو سمجھ لینے اور پا لینے کا یہ مطلب ہو گا کہ ہم ایک ویسا ہی خدا بنا بھی سکیں۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کو سمجھنا تو الگ رہا ہم اپنے آپ کو بھی نہیں سمجھ سکتے اور اس بات کو بچے بھی جانتے ہیں۔ چنانچہ بچے ایک کھیل کھیلا کرتے ہیں جس میں ایک دوسرے کو کہتا ہے کہ مجھ کو پکڑو جب دوسرا اس کے کسی عضو کو ہاتھ لگاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ تم نے مجھے تو نہیں پکڑا میرے ہاتھ کو پکڑا ہے یا پاؤں کو پکڑا ہے یا سر کو پکڑا ہے۔ اس کھیل کا بھی درحقیقت یہی مطلب ہے کہ انسان کی حقیقت بھی پوشیدہ ہے صرف چند آثار ظاہر ہیں۔ سارے فلاسفر اس بات کی تعیین کرتے کرتے مر گئے کہ میں کیا چیز ہے؟ مگر وہ کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکے پس جب انسان اپنے آپ کا پتہ نہیں لگا سکتے تو خدا کا پتہ کیا لگائیں گے۔ حدیث میں آتا ہے کُلُّکُمْ فِيْ ذَاتِ اللهِ حَمْقٰی کہ خدا کی ذات کے متعلق تم سارے بالکل حیران پریشان ہو اس کی ذات تمہاری سمجھ میں نہیں آسکتی۔

سب حقیقتیں مخفی ہوتی ہیں

انسان کے اس شک کو دور کرنے کے لئے کہ اگر میں خدا کو نہیں سمجھ سکتا اور اس کی حقیقت معلوم نہیں کر سکتا تو اس کے ماننے کا کیا فائدہ؟ خدا تعالیٰ نے ساری ہی حقیقتوں کو مخفی کر دیا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز کی حقیقت کو بھی ہم نہیں معلوم کر سکتے ایک میز کو لے لو ہم اس کی چوڑائی لمبائی اور رنگ دیکھتے ہیں مگر کیا لمبائی چوڑائی اور رنگ کو میز کہتے ہیں؟ ہم ان چیزوں کو دیکھ کر ایک عرفان ایک وقوف اپنے ذہن میں پاتے ہیں اور وہ میز ہوتی ہے۔ یا مثلاً کوئی شخص دوسرے کو اپنا بیٹا کہتا ہے تو اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ کیا اس لئے کہ وہ اتنا اونچا اور اس رنگ کا ہے۔ نہیں بلکہ اس کیفیت کی وجہ سے جو اس کے ذہن میں پیدا ہوتی ہے۔ غرض اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کو دُور کرنے کے لئے کہ اگر خدا کی ذات مخفی ہی رہتی ہے تو کیا پتہ لگ سکتا ہے کہ وہ ہے اور کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ سب چیزوں کی حقیقت کو مخفی کر دیا ہے۔

خدا کی ہستی کا پتہ کس طرح لگتا ہے؟

اب سوال ہوگا کہ پھر اس وراء الوریٰ ہستی کا پتہ کس طرح لگے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے کل بتایا تھا اس کا پتہ الہام سے لگتا ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ ۫ وَہُوَ یُدۡرِکُ الۡاَبۡصَارَ(الانعام: ۱۰۴) تم خدا تک نہیں پہنچ سکتے مگر اس پر گھبراؤ نہیں ہم خود تمہارے پاس آئیں گے۔ ایک بزرگ کا واقعہ لکھا ہے کہ وہ کبھی گھر سے باہر نہیں نکلتے تھے ایک دفعہ ان کے پاس بادشاہ کا پروانہ آیا کہ جلدی آکر ہمیں فلاں جگہ پر ملو اس پر ان کے دوست گھبرائے کہ کیا سبب ہے کہ بادشاہ نے اس طرح انہیں بلوایا ہے اور انہوں نے چاہا کہ وہ ابھی ٹھہریں پہلے وہ پتہ لے لیں کہ کیا بات ہے۔ مگر وہ چل پڑے۔ شام کے قریب سخت بارش آئی اور اندھیرا ہو گیا اور وہ ایک جھونپڑی میں جو جنگل میں تھی پناہ لینے پر مجبور ہوئے وہاں جا کر انہوں نے صاحب مکان سے رات بسر کرنے کی اجازت طلب کی جو شخص اندر تھا اس نے کہا آجاؤ۔ وہ اندر آگئے تو دیکھا ایک اپاہج لیٹا ہے جب اس کو انہوں نے اپنا پتہ بتایا کہ میں فلاں ہوں تو وہ رو پڑا کہ میں مدت سے دعائیں کر رہا تھا کہ خدا مجھے آپ کی زیارت کرائے معلوم ہوتا ہے خدا تعالیٰ آپ کو میرے لئے ہی لایا ہے ۔ وہ رات بھر وہاں رہے۔ صبح دوسرا ہرکارہ آگیا کہ آپ کو اب آنے کی ضرورت نہیں رہی واپس چلے جائیں اس سے ان کو اور بھی یقین ہو گیا کہ یہ ایک الہیٰ تدبیر تھی۔

جس طرح وہ اپاہج جو چلنے پھرنے سے مجبور تھا اس بزرگ تک پہنچ گیا تھا ۔ اسی طرح ہم جو خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے معاملہ میں اپاہجوں سے بھی بدتر ہیں خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتے ہیں۔ یعنی وہ خود ہم تک آئے اور اپنے وجود کو ہم پر ظاہر فرمائے اور وہ ایسا ہی کرتا ہے اور اپنی ملاقات کے پیاسوں کو خود آکر اپنے شربت دیدار سے سیراب کرتا ہے۔

خدا کی معرفت کس طرح حاصل ہوتی ہے؟

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا علم تو ہمیں الہام کے ذریعہ سے ہو جائے گا لیکن اس کی معرفت ہمیں کس ذریعہ سے حاصل ہو سکتی ہے۔ کیونکہ خالی علم اس تعلق کے لئے کافی نہیں جو خالق اور مخلوق کے درمیان ہونا چاہئے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ کسی چیز کی معرفت کامل حاصل کرنے کے تین طریق ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ اس چیز کو پکڑ کر سامنے کر دیا جائے اور دوسرا آدمی اسے خوب اچھی طرح ٹٹول ٹٹال کر دیکھ لے اور اس کی پوری معرفت پیدا کرلے۔ مثلاً ایک شخص کا نام سیف اللہ ہو۔ جس نے اسکو نہ دیکھا ہو وہ اگر اس کی معرفت حاصل کرنا چاہے تو سیف اللہ کو پکڑ کر اس کے سامنے کر دیں گے کہ وہ یہ شخص ہے۔ دوسرا طریق یہ ہے کہ اس چیز کی بناوٹ کو تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا جائے مثلاً کسی ملک میں میز اور کرسی کا اگر رواج نہ ہو اور اسی ملک کے لوگ برسبیل تذکرہ میز و کرسی کا نام سنیں تو ان کو واقف کرنے کے لئے یہ ذریعہ اختیار کیا جائے گا کہ میز اور کرسی کی شکل اور بناوٹ اور ان کا کام تفصیل سے ان کو بتا دیا جائے گا اور اس سے ایک اندازہ انکے ذہن میں میز اور کرسی کی نسبت پیدا ہو جائے گا تیسرا طریق یہ ہے کہ جو ان چیزوں کے متعلق استعمال کیا جاتا ہے جو مرئی نہیں ہیں یہ ہے کہ ان کی صفات کے ذریعہ سے ان کی معرفت کرائی جاتی ہے۔ مثلاً نور ہے یہ ایسی چیز نہیں کہ اس کی بناوٹ بیان کر سکیں اس لئے ایک اندھے کے سامنے اس کی صفات ہی بیان کی جائیں گی۔ اس کے ذریعہ سے آنکھ بغیر ٹولنے کے معلوم کر لیتی ہے

کہ کسی چیز کی لمبائی کیا ہے چوڑائی کیا ہے اور اونچائی کیا ہے رنگ کی کیفیت اندھا سمجھ نہیں سکتا اس بیان سے اندھا کچھ نہ کچھ اندازہ کرلے گا۔ اسی طرح اور کئی چیزیں ہیں کہ جن کی صفات بیان کرنے سے ان کا پتہ لگایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شناخت بھی اسی طریق سے ہوتی ہے۔ وہ صفات ہی کے ذریعہ سے انسان کے سامنے آتا ہے اور صفات ہی کے ذریعہ سے انسان اسے پہچان سکتا ہے۔

کیا خدا ایک ہی ہے یا ایک سے زیادہ خدا ہیں؟

جب سے تاریخ عالم کا پتہ چلتا ہے یہ سوال بنی نوع انسان کے سامنے رہا ہے کہ کیا خدا ایک ہی ہے یا ایک سے زیادہ ہستیاں ہماری اطاعت و فرمانبرداری کی مستحق ہیں؟ اس سوال کا جواب اسلام نے نہایت واضح اور زور دار الفاظ میں یہ دیا ہے کہ خدا صرف ایک ہے اور کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔ بلکہ عقلاً بھی ایسی ہستی ایک ہی ہو سکتی ہے دو نہیں ہو سکتیں۔ یہ بالکل ناممکن ہے اور ہماری عقل ہی نہیں سمجھ سکتی کہ دو محیط کل ہستیاں ہوں دو کا لفظ ہی حد بندی پر دلالت کرتا ہے اور حد بندی کے ساتھ اس غیر محدود قوت کا خاتمہ ہو جاتا ہے جو خدا کے خیال کے ساتھ لازم و ملزوم ہے۔ پس خدا ایک ہی ہو سکتا ہے دو خدا نہیں ہو سکتے۔

شرک کیا چیز ہے؟

جبکہ اللہ تعالیٰ غیر مرئی ہے تو اس کا شریک بنانے یا سمجھنے سے کیا مراد ہے؟ یہ بھی ایک ایسا سوال ہے جو ہمیشہ سے لوگوں کو حیرت و پریشانی میں ڈالتا رہا ہے وہ لوگ جو بڑے زور سے ایک خدا کے قائل ہوتے ہیں بعض دوسرے لوگ ان کی نسبت الزام لگاتے ہیں کہ یہ مشرک ہیں اور اگر ہم ان کی حالت پر غور کریں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر بعض ایسی باتیں ضرور پائی جاتی ہیں جن کو دل اندر سے بُرا سمجھتا ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ شرک کا مسئلہ ایسا سیدھا سادہ نہیں ہے جیسا کہ سمجھا جاتا ہے بلکہ نہایت باریک مسئلہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اکثر قومیں جو بظاہر شرک کی مخالف ہیں عملاً شرک میں مبتلاء پائی جاتی ہیں اور اس کا سبب یہی ہے کہ وہ شرک کی حقیقت سمجھنے سے قاصر رہی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ شرک کی کوئی ایک تعریف نہیں ہے۔ بلکہ مختلف نقطہ نگاہ سے اس مرض کی حقیقت کو سمجھا جا سکتا ہے جب تک اسے ایک تعریف کے اندر لانے کی کوشش ہوتی رہے گی اس وقت تک یہ مسئلہ عُقْدَۂ لَا یُحَلّ رہے گا۔ میرے نزدیک اسے سمجھنے کے لئے مندرجہ ذیل تقسیم بہت مفید ہو سکتی ہے۔

اوّل یہ خیال کرنا کہ ایک سے زیادہ ہستیاں ہیں جو یکساں طاقتیں رکھتی ہیں اور سب کی سب دنیا کی حاکم اور سردار ہیں یہ شرک فی الذات ہے۔

دوسرے یہ خیال کرنا کہ دنیا کی مدبر ہستیاں ایک سے زیادہ ہیں جن میں کمالات تقسیم ہیں۔ کسی میں کوئی کمال ہے اور کسی میں کوئی۔ یہ شرک ہے اور یہ بھی درحقیقت شرک فی الذات ہی ہے۔

تیسرے وہ اعمال جو مختلف قوموں میں عاجزی اور انکساری کے لئے اختیار کئے گئے ہیں ان میں سے جو حد درجہ کے انتہائی عاجزی کے اعمال ہیں ان کو خدا کے سوا کسی اور کے لئے کرنا شرک ہے۔ مثلاً سجدہ ہے انتہائی تذلل اور ادب کا ذریعہ یہی ہے کہ سجدہ کیا جائے۔ اس سے بڑھ کر اور کوئی طریق نہیں کیونکہ اس میں انسان اپنے آپ کو گویا خاک میں ملا دیتا ہے اس سے بڑھ کر تذلل کا ذریعہ انسانی عقل تجویز ہی نہیں کر سکتی۔ پس یہ عمل صرف خدا کے لئے ہی کرنا چاہئے اور کسی کے لئے نہیں کرنا چاہئے تاکہ خدا تعالیٰ میں اور دوسرے وجودوں میں امتیاز قائم رہے۔ اس خصوصیت کی نسبت یہ خیال کر لینا چاہئے کہ جس قدر اعمال انکسار اور تذلل کے تھے خدا تعالیٰ نے ان کے متعلق کہا کہ ان میں سے ایک میرے لئے رکھ دو اور باقی بیشک اوروں کے لئے استعمال کرو۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ وہی میرے لئے اور وہی دوسروں کے لئے کیونکہ یہ میری شان کے خلاف ہے اس لئے میرے لئے ایک عمل کو علیحدہ کر دو اگر وہ عمل اوروں کے لئے کرو گے تو اس کا یہ مطلب لیا جائے گا کہ تم ان کو بھی میرے برابر قرار دیتے ہو۔ سجدہ کے علاوہ مختلف اقوام میں مختلف حرکات بدن انتہائی تذلل کے لئے سمجھی گئی ہیں جیسے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا، رکوع، دوزانو ہو کر بیٹھنا۔ ان سب کو خدا تعالیٰ نے اپنے لئے مخصوص کر لیا ہے اور عبادت الٰہی کا حصہ بنا دیا ہے۔ پس یہ عمل اب اور کسی کے لئے کرنے جائز نہیں ہیں اور شرک میں داخل ہیں۔

شرک کی چوتھی قسم

چوتھی قسم شرک کی یہ ہے کہ اسباب ظاہری کے متعلق یہ سمجھے کہ ان سے میری سب ضروریات پوری ہو جائیں گی اور اللہ تعالیٰ کے تصرّف کا خیال دل سے مٹا دے اور یہ خیال کرے کہ صرف مادی اسباب ہی ضرورت کو پورا کرنے والے ہیں مثلاً اگر کوئی سمجھے کہ روٹی کھانے سے ضرور پیٹ بھر جائے گا اور خدا تعالیٰ کی قضاء کا اب اس معاملہ میں کوئی دخل نہیں ہے تو یہ شرک ہو گا یا جو کپڑا پہنے اس کے متعلق سمجھے کہ یہ ضرور سردی سے بچائے گا تو یہ بھی شرک ہو گا۔ یا کوئی سامان مہیا کرے اور سمجھے کہ اس کے ذریعہ ضرور میرا کام ہو جائے گا یہ بھی شرک ہے ہاں اگر یہ خیال کرے کہ ان سامانوں میں خدا نے یہ طاقت رکھی ہے اور اس کے فعل اور ارادے کے ماتحت ان کے نتائج پیدا ہوں گے تو یہ شرک نہیں ہوگا۔ پس شرک کی ایک قسم یہ ہے کہ آخری تصرّف جو خدا کو دینا چاہئے وہ اسباب کو دیدے۔ اس شرک کے اندر بھی یہی حقیقت مخفی ہے کہ انتہائی مقام تصرف کا خدا سے لیکر اور چیزوں کو دیدیا ہے۔

شرک کی پانچویں قسم

پانچویں قسم شرک کی یہ ہے کہ خدا کی وہ مخصوص صفات جو اس نے بندوں کو نہیں دیں جیسے مُردہ کو زندہ کرنا۔ یا کوئی چیز پیدا کرنا۔ یا یہ کہ خدا نے کہا ہے میں ازلی ہوں اور میرے سوا اور کوئی ازلی نہیں۔ یا یہ بتایا ہے کہ میں فنا سے محفوظ ہوں جبکہ دوسرے سب فنا کا شکار ہیں ایسے سب اُمور میں خدا تعالیٰ کی خصوصیت کو مٹا دینا اور ان صفات میں کسی اور کو شریک کر دینا خواہ اس عقیدہ کی بناء پر کہ خدا نے اپنی مرضی اور اپنے اذن کے ساتھ یہ صفات یا ان کا کچھ حصہ کسی خاص شخص کو دیدیا ہے شرک ہے۔ اس شرک میں افسوس ہے کہ اب مسلمان بھی مبتلاء ہیں حالانکہ یہ بہت کھلا اور ظاہر شرک ہے۔ مسلمانوں کا عام طور پر یہ خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ ابھی تک زندہ ہیں حالانکہ ہر انسان کے لئے فنا ہے اور فنا سے صرف خدا کی ذات محفوظ ہے اور غیر طبعی زندگی اور وہ بھی ایسی کہ اس میں نہ کھانا ہے نہ پینا نہ حوائج انسانی کا پورا کرنا در حقیقت ابدیت کا ہی دوسرا نام ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ایک دفعہ تو ضرور ہی ایک انسان کو مار دیتا ہے۔ پھر خواہ ابدی زندگی ہی دے دے یہ بھی ایک وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس دُنیا میں جنت نہیں بنائی تاکہ لوگوں کو ایسے آدمی دیکھ کر جو موت سے محفوظ ہوں خدا تعالیٰ کی ابدیت کی حقیقت میں شبہ نہ پیدا ہو جائے۔

شرک کی چھٹی قسم

چھٹی قسم شرک کی یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے اسباب کو بالکل نظر انداز کر دے اور یہ سمجھے کہ کسی شخص یا کسی چیز نے بلا ان اسباب کے استعمال کرنے کے جو خدا تعالیٰ نے کسی خاص کام کے لئے مقرر کئے ہیں اپنی ذاتی اور خاص طاقت کے ذریعہ سے اس کام کو کر دیا ہے مثلاً خدا تعالیٰ نے آگ کو جلانے کے لئے پیدا کیا ہے۔ اب اگر کوئی شخص یہ خیال کرے کہ کسی شخص نے بلا آگ اور بلا ایسے ہی دوسرے ذرائع کے استعمال کرنے کے اپنی ذاتی طاقت سے آگ لگا دی اور قانونِ قدرت کو گویا توڑ دیا یہ شرک ہے لیکن اس میں مسمریزم وغیرہ شامل نہیں کیونکہ یہ طاقتیں خود قانونِ قدرت کے اندر ہیں اور کسی شخص کے ذاتی کمالات نہیں بلکہ سب لوگوں میں موجود ہیں اور قانونِ قدرت کے صحیح استعمال کے نتیجہ میں

پیدا ہوتی ہیں۔ پس جو جو کام اس قسم کی طاقتوں کے ذریعہ سے ہو سکتے ہیں جیسے اعصاب کی حِسّ کو مار دینا۔ بے ہوش کر دینا۔ جسم کو سخت کر دینا وغیرہ ان پر یقین لانا شرک نہیں کہلائے گا۔ پس جو اسباب خدا نے کسی چیز کے ہونے کے لئے رکھے ہیں ان کے بغیر خیال کرنا کہ کوئی شخص اپنے زور سے کام کر دے گا بغیر اس کے کہ یہ سمجھے کہ وہ دعا کر کے خدا سے وہ کام کرا دے گا یہ شرک ہے۔

شرک کی ساتویں قسم

ساتویں یہ سمجھنا کہ خدا کو کسی بندہ سے ایسی محبت ہے کہ ہر ایک بات اس کی مان لیتا ہے یہ بھی شرک ہے کیونکہ اس کے یہ معنی ہوئے کہ وہ بندہ خدائی طاقتیں رکھتا ہے۔ ہر ایک بات جو وہ کہتا ہے قبول ہو جاتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ایسے آدمی کو خدا سمجھا جائے۔ اگر اسے خدا کا غلام بھی سمجھا جائے مگر اس کی نسبت یہ خیال کیا جائے کہ اس سے خدا کو ایسی محبت ہے کہ اس کی ہر ایک بات قبول کر لیتا ہے یہ شرک ہے ۔ سارے پیر فقیر جن کے متعلق لوگ ایسا خیال رکھتے ہیں اس کے اندر آجاتے ہیں۔ ہماری جماعت کو بھی ایسے خیالات سے بچنا چاہئے بعض لوگوں کو میں دیکھتا ہوں بعض دفعہ کہہ دیتے ہیں یا لکھ دیتے ہیں کہ اگر آپ دعا کریں گے تو وہ ضرور ہی قبول ہو گی ۔ خدا تعالیٰ بادشاہ ہے کسی کا غلام نہیں اس قسم کے کلمات سے اللہ تعالیٰ کی ہتک ہوتی ہے اور شرک پیدا ہوتا ہے میں تو کیا چیز ہوں جن لوگوں کے قدموں کی خاک کے برابر بھی میں نہیں یہ رتبہ ان کو بھی حاصل نہ تھا۔

شرک کی آٹھویں قسم

آٹھویں قسم شرک کی یہ ہے کہ کسی ایسی چیز کے متعلق جسے خدا کے قانونِ قدرت نے کسی کام کے کرنے کے لئے کوئی طاقت نہیں دی اس کے متعلق خیال کر لیا جائے کہ وہ فلاں کام کرلے گی۔ جیسے مثلاً خدا نے مُردہ کو طاقت نہیں دی کہ اس دنیا میں کوئی تصرف کر سکے اب اگر کوئی کسی مُردہ کو جا کر کسی تصرف کے لئے کہتا ہے تو شرک کرتا ہے اس طرح بتوں ، دریاؤں ، سمندروں ، سورج، چاند وغیرہ چیزوں سے دُعائیں کرنا اور کرانا بھی شرک ہے۔

شرک کی نویں قسم

نویں قسم شرک کی یہ ہے کہ ایسے اعمال جو مشرکانہ رسوم کا نشان ہیں گو اب شرک کی مشابہت نہیں رکھتے ان کا بلا ضرورت طبعی ارتکاب کرے۔ مثلاً ایک شخص کسی قبر پر جا کر نہ دُعا کرے نہ کرائے نہ صاحبِ قبر کو خدا سمجھے لیکن وہاں دیا جلا کر رکھ آئے تو یہ فعل بھی شرک کے اندر آجائے گا۔ کیونکہ یہ عمل پہلے زمانہ کے مشرکانہ اعمال کا بقیہ ہے وہ لوگ خیال کرتے تھے کہ مردے قبروں پر واپس آتے ہیں اور جن لوگوں کی نسبت معلوم کرتے ہیں کہ انہوں نے ان کی قبروں کا احترام کیا ہے ان کے کام کر دیتے ہیں اس لئے لوگ قبروں پر دیئے یا اور بعض چیزیں رکھ آتے تھے ان یادگاروں کو تازہ رکھنا بھی چونکہ شرک کی مدد کرنا ہے اس لئے شرک میں ہی داخل ہے۔ درختوں پر رسیاں وغیرہ باندھنی یا قبروں پر پردے چڑھانے ٹوٹنے کرنے یہ سب امور اس قسم کے شرک میں شامل ہیں اور سب اسلام کے نزدیک قطعی طور پر حرام ہیں۔ مَیں نے جو یہ لکھا ہے کہ بلا ضرورت طبعی ایسے کام کرنے منع ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مثلاً کہیں جا رہے تھے اندھیرا ہو گیا اور کسی مقبرہ میں ٹھہر گئے ایسی صورت میں یہ نہیں کہ وہاں اندھیرے میں ہی بیٹھا رہے بلکہ اگر روشنی کا سامان کر سکتا ہے تو اس کے لئے جائز ہے کہ دیا جَلائے۔

شرک کی دسویں قسم

دسویں قسم شرک کی یہ ہے کہ خواہ عمل نہ ہو مگر دل میں محبت ادب خوف اور اُمید کے جذبات خدا کی نسبت اوروں سے زیادہ رکھتا ہو یا خدا کے برابر رکھتا ہو۔

ان دس قسموں کے باہر کسی قسم کا شرک میرے نزدیک نہیں بچتا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں سب اقسامِ شرک کی ان دس قسموں میں آجاتی ہیں۔

مجھے ساری عمر اس بات کی جستجو اور تلاش رہی ہے کہ شرک کیا ہے؟ لوگ کہتے ہیں یہ موٹی بات ہے۔ مگر میں طالب علمی کے زمانہ میں اسے سمجھنا چاہتا تھا اور سمجھ نہیں سکتا تھا۔ یہ جانتا تھا کہ یہ بات شرک ہے اور یہ نہیں لیکن ایسی تعریف نہیں ملتی تھی کہ جس کے اندر شرک کی سب اقسام آجاتیں اور ایسی بات داخل نہ ہو جو شرک نہ ہو۔ آخر میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ شرک کی ایک تعریف کرنا ہی غلطی ہے جس طرح خدا تعالیٰ کے وجود کا تصور کبھی ذات کے لحاظ سے ہوتا ہے کبھی ان صفات کے لحاظ سے جن میں مخلوق کو کسی قسم کی بھی قدرت نہیں دی گئی کبھی ان صفات کے لحاظ سے جن میں بظاہر بندے بھی شریک ہوتے ہیں اس لئے سب امور کو مدّنظر رکھ کر شرک کی مختلف اقسام کی تعریف الگ الگ ہی کرنی چاہئے۔

شرک کا رَدّ

شرک کی تعریف بیان کرنے کے بعد میں اس سوال کو لیتا ہوں کہ مشرکانہ خیال کا رَدّ کس طرح کیا جائے؟ مَیں نے اس سوال پر بھی غور کیا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ سوال بھی نہایت پیچیدہ ہے میرے نزدیک عوام الناس اس کے متعلق فلسفیانہ اور باریک بحثوں کو سمجھ نہیں سکتے اور چونکہ لوگ فلسفیانہ بحثوں میں ہی الجھ پڑ جاتے ہیں اس لئے عوام الناس کو چنداں فائدہ نہیں ہوتا۔ شرک کے مقابلہ کا اصل طریق فطرتِ انسانی سے اپیل ہے خدا تعالیٰ نے شرک کے خلاف انسان کی فطرت میں مادہ رکھا ہے اور اس کے پاس اپیل رائیگاں نہیں جاتی ایک مشرک آدمی سے بھی بجائے فلسفیانہ بحث کرنے کے اگر اس کی عقل اور ضمیر سے اپیل کرتے ہوئے اس کی توجہ کو اس طرف پھیرا جائے تو وہ بہت جلد حق کی طرف رجوع کرتا ہے۔ قرآن کریم نے اسی طریق پر زیادہ زور دیا ہے بجائے اس پر بحث کرنے کے کہ خدا کا شریک ہو سکتا ہے یا نہیں۔ لوگوں کو یہ توجہ دلائی ہے کہ خدا تعالیٰ کے احسانات کو یاد کرتے ہوئے دوسروں کو اس کے برابر قرار نہ دو اور پھر ان چیزوں کی کمزوریوں کی طرف توجہ دلائی ہے جن کو لوگ خدا کا شریک قرار دیتے تھے اور اس طرح لوگوں کی صحیح فطرت کو اکسایا ہے جس کا اثر یہ ہوا کہ ملک کا ملک شرک کو چھوڑ کر توحید کی طرف لوٹ آیا۔

اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک قانونِ قدرت بنایا ہے اور جو طاقتیں کسی کو دینی تھیں وہ دے دی ہیں۔ ان سے الگ جو کام انسان کرنا چاہتا ہے اس کے کرنے کی طاقت خدا نے اپنے قبضہ میں رکھی ہے تاکہ اس کی طرف انسان کی توجہ ہو اگر سب کچھ انسان خود کر لیں تو اس کی طرف کون توجہ کرے۔ پس خدا تعالیٰ نے قانونِ قدرت بنا دیا اور پھر یہ فیصلہ کر دیا کہ اگر کوئی اس میں فرق کرنا چاہے تو وہ مجھ سے دُعا کرے اس کے بدلنے کی طاقت میں کسی اور کو نہیں دوں گا۔ پس صرف ایک ذریعہ دعا کا انسان کے ہاتھ میں رکھا گیا ہے اور دُعا صرف خدا تعالیٰ سے کی جاسکتی ہے اور کسی سے نہیں۔

دوسرے سے دُعا کرانا

اگر کوئی کہے کہ پھر دوسرے سے دُعا کرانا بھی ناجائز ہونا چاہئے یہ کیوں جائز ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی اجازت دینے میں ایک حکمت مخفی ہے۔ اگر یہ حکمت نہ ہوتی تو دوسرے سے دُعا کرانا بھی شرک ہوتا اور وہ یہ ہے کہ اکثر انسان کمزور ہوتے ہیں وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہو سکتے اور ان کے لئے کسی نمونے کی ضرورت ہوتی ہے اگر نمونہ نہ ہو تو ان کا خدا تک پہنچنا مشکل ہو جائے۔ پس خدا تعالیٰ نے دُعا کی قبولیت کے مدارج مقرر کر دیئے ہیں تاکہ لوگ صحبتِ صالح کی جستجو کریں اور بد صحبت سے اجتناب کریں کیونکہ یہ قدرتی بات ہے کہ جب کوئی شخص دیکھے گا کہ ایک شخص کی دُعا زیادہ قبول ہوتی ہے تو اس کی طرف توجہ کرے گا اور اس کی صحبت کو قبول کرے گا اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے اعمال میں درستی پیدا ہونے لگے گی دوسرے دُعا کرانے والا کبھی یہ فرض نہیں کرتا کہ اس شخص کو خدا تعالیٰ نے کوئی طاقت دیدی ہے بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کی دُعا کو بوجہ اس کی نیکی کے خدا زیادہ سُنتا ہے۔ مگر یہ ضرور شرط ہے کہ جس سے انسان دُعا کرائے اس کے متعلق یہ خیال ہرگز نہ کرے کہ اس کی سب دُعائیں اللہ تعالیٰ سنتا ہے اگر ایسا سمجھے گا تو وہ مشرک ہو جائیگا خدا تعالیٰ کے استغناء کو اسے ضرور مدّنظر رکھنا چاہئے۔

مُردہ سے دُعا کرانا شرک ہے

یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر دوسرے سے دُعا کرانا شرک نہیں اور ادھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مُردے سنتے ہیں اور احادیث سے بھی یہ امر ثابت ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ مُردوں سے دُعا کرانا شرک ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان امور کے لئے کسی زندہ سے التجا کرنا بھی شرک ہے جو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں اور طبعی قانون سے بالا ہیں۔ پس مُردے سے کیونکر جائز ہو سکتا تھا زندہ سے انسان دُعا کرتا نہیں بلکہ اس سے دُعا کراتا ہے۔ اگر کہا جائے کہ مُردے سے دُعا کرانا تو پھر شرک نہ ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مُردے گو سنتے ہیں مگر ان کا سننا خدا تعالیٰ کے خاص حکم کے ماتحت ہوتا ہے وہ انسانوں کی طرح ہر ایک بات جو ان کی قبر پر کہی جائے نہیں سنتے۔ ہاں ان کی رُوح کو اپنے دنیوی عزیزوں سے ایک تعلق پیدا کرانے کیلئے بعض امور ان کو سنائے جاتے ہیں۔ پس ایسے وجودوں سے دعا کرانے کی خواہش کرنا جن کا ہر ایک بات سننا بھی یقینی نہیں بلکہ خدا کے خاص حکم کے ماتحت ان کو باتیں سنائی جاتی ہیں اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے اتنی دیر انسان خدا سے ہی کیوں دعا نہ کرے ۔ ہاں اگر کشف یا وحی سے کسی انسان کو کسی مُردہ بزرگ کی زیارت کرائی جائے اور اس پر منکشف ہو جائے کہ اسے اس کے لئے دُعا یا شفاعت کی توفیق دی جائے گی اور وہ اس سے دُعا کے لئے کہے تو یہ جائز ہوگا بلکہ یہ خدا تعالیٰ کی حکمتوں میں سے ایک حکمت ہوگی جسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے باریک روحانی علم دیا گیا ہے اگر یہ حالت نہ ہو تو جو شخص اس خیال سے مُردہ سے دُعا کراتا ہے کہ وہ ضرور اس کی باتیں سن رہا ہے اور ضرور دعا کرے گا اور ضرور اس کی سُنی جائیگی وہ مُشرک ہے اور مُشرکانہ فعل کرتا ہے اور جو شخص سمجھتا ہے کہ طبعی قانون کے ماتحت ہے یہ اور دنیا میں ہیں خدا کا خاص فعل ان کو دنیا کی آوازیں سنا سکتا ہے اور خدا کی خاص اجازت سے ہی یہ دُعا کر سکتے ہیں اور خدا چاہے تو ان کی سُنے اور چاہے تو نہ سُنے تو ایسے شخص کا مُردہ سے دعا کی خواہش کرنا شرک نہ ہوگا۔ ہاں بسا اوقات ایک عبث فعل اور وقت کا ضائع کرنا ہو گا اور بسا اوقات مکروہ ہوگا اور بسا اوقات ناجائز ہو گا گو شرک کی حد تک نہ پہنچے کیونکہ

دوسرے سے دُعا کرانے کی اصل حکمت صُحبتِ صالح کی طرف توجہ دلانا ہے۔ اگر مُردوں سے دُعا کرانے کا دروازہ کُھلا ہو تو زندوں سے دُعا کرانے کا رواج اور اس طرح صُحبتِ صالح سے فائدہ اُٹھانے کا رواج بہت کم ہو جائے گا اور اس سے دنیا کی روحانی ترقی کو نقصان پہنچے گا میرے نزدیک زندہ سے دُعا کرانے کا فائدہ خواہ وہ وفات یافتہ سے بہت ہی کم درجہ پر کیوں نہ ہو بہت زیادہ ہو گا (بشرطیکہ یہ تسلیم کر لیا جائے کہ مُردہ سے دُعا کرانے کا اس موقع پر ایسے کوئی فائدہ ہوتا ہے)۔

مُردہ سے دعا کرانے کا جو استثناء مَیں نے بیان کیا ہے اس کی مثال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ملتی ہے آپ کو بعض کشوف کے ذریعہ حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح ناصری سے ملایا گیا اور ان سے دعا کی خواہش کرائی گئی جسے آپؐ نے اپنی بعض تحریروں میں اور نظموں میں بیان کیا ہے اور جاہل اور نادان خشک ملاؤں نے اس پر اعتراض کیا ہے۔

کیا شرک بخشا نہیں جائے گا

جبکہ مَیں نے اس امر پر خاص زور دیا ہے کہ شرک ایک نہایت باریک سوال ہے تو یہ شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ ایسے باریک سوال پر اس قدر سخت گرفت کیوں رکھی ہے کہ وہ بخشا ہی نہیں جائے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہرگز یہ منشاء نہیں کہ شرک باوجود توبہ کے نہیں بخشا جائے گا۔ کوئی گناہ بھی ایسا نہیں کہ جو توبہ سے بخشا نہ جائے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شرک نہیں بخشا جائے گا تو اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ بعض گناہ ایسے ہیں جو بعض نیکیوں کے مقابلہ پر آکر انسان کی روحانی ترقیات میں روک نہیں بنتے پس باوجود ان کے انسان نجات پا جائے گا مگر شرک ان گناہوں میں سے نہیں ہے۔ اگر ایک انسان مُشرک ہو تو خواہ دوسرے اعمال اس کے کسقدر بھی اچھے کیوں نہ ہوں اسے اپنی روحانی پاکیزگی کے لئے جدوجہد کرنی پڑے گی اور ایسے حالات میں سے گزرنا پڑیگا جن میں سے گزرے بغیر روح اگلے جہان میں اپنی امراض کو دور نہیں کر سکے گی اور پھر یہ بھی بات ہے کہ یہ حکم شرکِ جلی کے لئے ہے نہ کہ شرک خفی کے لئے۔ شرک خفی کے متعلق اس کی نیت اور کوشش کو دیکھا جائے گا۔

شرک کے خلاف قرآن کا طریق

شرک کے خلاف لوگ چونکہ غلط بحثوں میں پڑ جاتے ہیں اس لئے ان کی بحثوں کا نتیجہ قطعی نہیں نکلتا مگر جیسا کہ مَیں مختصراً اوپر ذکر کر آیا ہوں اس مسئلہ کے متعلق بحث زیادہ تر تفصیلی کرنی چاہئے۔ مثلاً بجائے اس پر بحث کرنے کے کہ سجدہ کرنا چاہئے یا نہیں اس پر بحث کرے کہ وہ کونسا

وجود ہے جو سجدہ کا مستحق ہے اس کو ہمارے سامنے پیش کرو قرآن کریم نے اس طریق کو اختیار کیا ہے جس کی وجہ سے مشرک کا ناطقہ اس طرح بند ہو گیا ہے کہ اب موحد کے سامنے اس کی زبان نہیں کھل سکتی۔ مثال کے طور پر میں مندرجہ ذیل آیات کو پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلَّاۤ اَسۡمَآءً سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُکُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ ؕ اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ وَلٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ(یوسف: ۴۱) یعنی تم لوگ سوائے چند ناموں کے جو تم نے اور تمہارے آباء نے آپ ہی رکھ لئے ہیں اور کسی کی عبادت نہیں کرتے خدا تعالیٰ نے ان کے متعلق کوئی دلیل نہیں نازل کی اپنی طاقتیں دینے کا اختیار خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے نہ کہ تمہارے اختیار میں پھر ان کو کس نے طاقتیں دیدیں خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے سب انبیاء تو یہی تعلیم دیتے چلے آئے ہیں کہ اس کی پرستش کرو۔ یہی سیدھا اور پکا طریق ہے لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔

اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ ہم یہ بحث نہیں کرتے کہ خدا کے سوا کوئی پرستش کے قابل ہے یا نہیں ہمیں یہ بتا دو کہ کیا جن جن بُتوں کی تم پوجا کرتے ہو ان میں خدا کی طاقت آگئی ہے اگر یہ ثابت کر دو کہ وہ بیٹے دینے کی طاقت رکھتے ہیں، انسانوں کے دُکھ دور کر سکتے ہیں تو ان کے معبود ماننے میں کیا عذر ہو سکتا ہے؟ لیکن اگر ان میں کچھ بھی طاقت نہیں تو وہ معبود کیسے اور ان کی پرستش کیسی؟ فرماتا ہے مشرکوں سے یہی پوچھو کہ جن کو تم خدا کا شریک بناتے ہو ان کے خدا ہونے کی دلیل پیش کرو جب خدائی کے اختیار خدا ہی دے سکتا ہے اور وہ فرماتا ہے کہ اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ(یوسف: ۴۱) سب اختیار میرے ہی پاس ہیں تو ان کے پاس کچھ نہ ہوا مگر تم کہتے ہو کہ وہ یہ بات کرتے ہیں یہ کام کرتے ہیں اس لئے ثبوت دو کہ واقع میں ان میں بعض خدائی طاقتیں ہیں؟

ایک اور جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ہٰذَا خَلۡقُ اللّٰہِ فَاَرُوۡنِیۡ مَاذَا خَلَقَ الَّذِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ(لقمٰن: ۱۲) خدا کی مخلوق ظاہر ہی ہے اگر ان میں بھی کچھ طاقت ہے جن کو تم معبود بناتے ہو تو دکھاؤ انہوں نے جو کچھ پیدا کیا ہے وہ کہاں ہے؟

شاید اس موقع پر کسی کے دل میں خیال گذرے کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم کے سامنے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا اور یوسف علیہ السلام کو ان کے والد نے سجدہ کیا تھا اگر غیر اللہ کے سامنے سجدہ کرنا نا جائز ہے تو پھر ایسا کیوں ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سجدہ کے معنی اطاعت کے بھی ہیں فرشتوں سے کہا گیا تھا کہ آدمؑ کی اطاعت کرو اور حضرت یوسفؑ کے متعلق جو آیت ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ یوسفؑ کی ترقی دیکھ کر اور ان کو سلامت پا کر ان کے والد نے شکریہ کے طور پر خدا کو سجدہ کیا نہ یہ کہ یوسف علیہ السلام کو سجدہ کیا۔

شرک کی سخت ناپسندیدگی کی وجہ

اب میں یہ بتاتا ہوں کہ شرک کو اتنا ناپسند کیوں کیا گیا ہے؟ کہ سارے قرآن میں اس پر نفرت کا اظہار کیا گیا ہے۔

اوّل یہ کہ خدا کا شریک بنانے سے اس کی غیرت بھڑکتی ہے اور وہ پسند نہیں کرتا کہ اس کی شان کسی اور کو دی جائے اور غیرت بھی اعلیٰ صفات میں سے ہے اور اس کا پایا جانا خدا تعالیٰ کے کامل الصفات ہونے پر دلالت کرتا ہے نہ کہ نقص پر۔

دوم بندوں پر رحم اور مہربانی بھی شرک سے روکنے کا باعث ہے اگر لوگ خدا کے سوا اور معبودوں پر بھی یقین رکھیں گے تو اکثر کم ہمتی کی وجہ سے (تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر ایسے ہی ہوتے ہیں) کہہ دیں گے کہ ہمارے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہم نے چھوٹے خداؤں کو خوش کر لیا۔ اس سے آگے جا کر کیا کرنا ہے اور اس طرح خدا تعالیٰ کی عبادت سے جو روحانی ترقیات کے لئے ضروری ہے محروم ہو جائیں گے پس لوگوں کو ہلاکت سے بچانے کے لئے شرک کے دُور کرنے کی طرف اللہ تعالیٰ دوسرے امور کی نسبت زیادہ توجہ فرماتا ہے۔

سوم یہ کہ جو اُمور معبودان باطلہ میں تسلیم کئے جاتے ہیں اگر فی الواقع خدا کے سوا اور وجودوں میں پائے جائیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان حجاب اور پردے پیدا کر چھوڑے ہیں حالانکہ بنی نوع انسان کو پیدا ہی قرب الٰہی کے حصول کے لئے کیا گیا ہے پس شرک کی وجہ سے چونکہ محبت الٰہی کم ہو جاتی ہے اور پیدائش کی غرض پوشیدہ ہو جاتی ہے یوں معلوم ہوتا ہے گویا اللہ تعالیٰ اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان روک پیدا کرنی چاہتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ اس غلط عقیدہ کو مٹا کر انسان کے دل میں اپنی کامل محبت پیدا کرنی چاہتا ہے جو بلا توحید پر ایمان لانے کے ہو ہی نہیں سکتا۔

چوتھے یہ کہ شرک سے جھوٹ‘ جہالت اور بزدلی پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کے بندے ان گناہوں میں مبتلاء ہوں اس لئے وہ اس ناپاکی کو دور فرماتا ہے۔ جھوٹ شرک میں یہ ہے کہ جو طاقتیں خدا نے کسی کو نہیں دیں ان کی نسبت کہا جاتا ہے کہ فلاں، فلاں شخص یا چیزیں وہ موجود ہیں۔ جہالت اس لئے کہ جن چیزوں کو خدا تعالیٰ نے انسان کے فائدہ کے لئے اور خدمت کے لئے بھیجا ہے انہیں وہ اپنا افسر اور حاکم سمجھ کر ان سے فائدہ اُٹھانے سے محروم ہو جاتا ہے اور ایسے ذرائع سے ان سے نفع حاصل کرنا چاہتا ہے جس طریق سے وہ نفع حاصل نہیں کر سکتا اور بزدلی اس لئے کہ جن وجودوں سے اسے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں جن سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا وہ ان سے کانپتا اور لرزتا ہے۔

حتیٰ یہ ہے کہ شرک انسان کا نقطۂ نگاہ بہت ہی محدود کر دیتا ہے اور اس کی ہمت کو گرا دیتا ہے اور اس کے مقصد کو ادنیٰ کر دیتا ہے۔ مشرک انسان یہ خیال کرتا ہے کہ وہ براہِ راست خدا تعالیٰ تک نہیں پہنچ سکتا اور اسے کسی واسطہ کی ضرورت ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اور انسان کے درمیان کوئی واسطہ نہیں رکھا وہ سب انسانوں سے یکساں محبت کرتا ہے۔ ہاں اگر ان کے اعمال میں فرق ہو تو بیشک وہ اعمال کے لحاظ سے تعلق میں بیشک فرق کرتا ہے لیکن بلحاظ بندہ ہونے کے کافر اور مومن سے اس کا یکساں سلوک ہے اور سب کے لئے اس کے دروازے کھلے ہیں جو چاہے اس کے قرب کی تلاش کرے۔ وہ نہیں چاہتا کہ انسان اور اس کے درمیان کوئی واسطہ بن کر کھڑا ہو خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو۔ بلکہ یہ چاہتا ہے کہ انسان خود اس کے سامنے آئے اب دیکھو کہ کوئی بادشاہ اپنی رعایا سے چاہے کہ وہ خود اس سے بات کریں مگر وہ دوسروں سے جا کر کہیں کہ تم ہمارا کام کر دو ہم بادشاہ کے پاس نہیں جاتے تو کیا وہ پسند کرے گا؟ یہ خیال غلط ہے کہ بادشاہ سب سے تعلق نہیں رکھ سکتے آخر ان کے نائب مقرر ہوتے ہیں کیونکہ بادشاہ انسان ہوتا ہے اور اس کی طاقتیں محدود ہوتی ہیں مگر خدا تعالیٰ کی طاقتیں محدود نہیں ہیں۔ بادشاہ کے لئے سب سے تعلق رکھنا ممکن نہیں مگر خدا تعالیٰ کی طاقت اور قدرت میں ہے کہ وہ سب سے براہِ راست تعلق رکھے اور وہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے اور بندے کے درمیان کوئی حجاب بنے کیونکہ اس نے انسان کو پیدا ہی اس لئے کیا ہے کہ وہ اس کا قرب حاصل کرے۔

دیکھو توحید پر ایمان لا کر انسان کی نظر کسقدر وسیع ہو جاتی ہے اس کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ اس کا تعلق براہِ راست خدا تعالیٰ سے ہو اسے خدا تعالیٰ سے ملنے کے لئے کسی شفیع کی ضرورت نہیں نہ کسی نبی کی نہ کسی ولی کی۔

نبیوں کی اطاعت کی وجہ

اس موقع پر کہا جا سکتا ہے کہ اگر یہ بات ہے تو نبیوں کی اطاعت کیوں کی جاتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اطاعت اور چیز ہے اور وسیلہ ڈھونڈنا اور شئے ہے اطاعت تو یہ ہے کہ جس رستے پر وہ چلتے ہیں ہم بھی اس راستہ پر چلیں یا متفقہ عمل کے لئے اس نظام کی پابندی کریں جسے وہ مقرر کرتے ہیں مگر وسیلہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کسی شخص کو اس لئے پیدا کرے یا اس عہدہ پر مقرر کرے کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی اندر نہ آسکے یا یہ کہ اپنے بعض اختیار اسے دیدے تا وہ بھی خدا کی بعض صفات کے ذریعہ سے دنیا میں تصرف کرے۔ نبیوں کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک واقفِ راہ ایسے شخص کو جو کسی مقام کا رستہ نہ جانتا ہو اپنے ساتھ لے جا کر راستہ دکھا دے، دنیا کا کوئی شخص نہ کہے گا کہ یہ راستہ دکھانے والا شخص درمیانی وسیلہ ہے۔ وہ راہنما کہلا سکتا ہے، رہبر کہلا سکتا ہے، استاد کہلا سکتا ہے مگر وہ درمیانی ہرگز نہیں ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کی طاقتوں پر متصرف نہیں ہے۔ رسول لوگوں کو بلانے آتا ہے نہ کہ ان کے سامنے دروازہ بند کر کے کھڑے ہو جانے کے لئے۔

خلفاء کا تعلق بھی انبیاء سے یہی ہوتا ہے وہ انبیاء کی تعلیم پر لوگوں کو عمل کرانے اور نظام قائم کرنے کے لئے ہوتے ہیں نہ کہ نبیوں اور لوگوں کے درمیان روک ہوتے ہیں۔ یہ نکتہ تھا جس کو بیان کرتے ہوئے حضرت احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کے منہ سے نکل گیا تھا کہ

پنجہ در پنجہ خدا دارم

من چہ پروائے مصطفیٰؐ دارم

ایسے نیک انسان کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی کریگا ان کا دوسرا کلام ہرگز اس امر کی تصدیق نہیں کرتا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بے ادب تھے جو کچھ انہوں نے کہا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے ملنے کا راستہ سب کے لئے کھلا چھوڑا ہے اس غرض کے لئے کسی وسیلے کی اسے ضرورت نہیں خواہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کیوں نہ ہوں اور اس میں کیا شک ہے کہ انسان کو قرب الٰہی کے حصول کے لئے کسی وسیلہ کی ضرورت نہیں گو نمونے اور رہنما کی اسے ضرورت ہے۔

انسان کو پیدا کرنے کی غرض

غرض بندہ کو خدا تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا ہے کہ اپنی صفات کی اس پر جلوہ گری کرے جیسے آئینہ بناتے ہیں تاکہ اس میں اپنا عکس دیکھا جائے اگر کوئی اس پر عکس نہ پڑنے دے تو اس شخص پر کس قدر غصہ آتا ہے اسی طرح خدا اور بندہ کے درمیان اگر کچھ حائل ہو تو اسے خدا ناپسند کرتا ہے۔

بچپن میں میں نے ایک رؤیا دیکھی تھی کہ میں ایک جگہ لیکچر دے رہا ہوں اور یہ بیان کر رہا ہوں کہ خدا بندہ کے ساتھ اسی طرح تعلق رکھتا ہے جیسے انسان آئینہ سے پھر کہتا ہوں کہ دیکھو اگر ایک شخص کا آئینہ خراب ہو جائے اور وہ اس میں چہرہ دیکھنا چاہے مگر چہرہ نظر نہ آئے تو وہ کیا کرے گا یہی کہ وہ اسے زور سے اُٹھا کر زمین پر دے مارے گا اور اسے چکنا چور کر دے گا اور اس وقت میں نے اپنے ہاتھ میں ایک آئینہ دیکھا جسے زور سے زمین پر دے مارا اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور اس کے ٹوٹنے کی زور سے آواز آئی۔

میری اس خواب کی یہی تعبیر تھی کہ بندہ کا دل اللہ تعالیٰ کا آئینہ ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی صفات جلوہ گر ہوتی ہیں اور بجائے اس کے کہ وہ اپنے اور بندے کے درمیان خود کسی کو کھڑا کرے اگر کوئی خود آکھڑا ہو تو خدا تعالیٰ اسے سخت ناپسند کرتا ہے۔ نبی کی اطاعت کا حکم دینے کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کسی کو کہیں کہ آئینہ صاف کر دو اور شرک جو وسیلہ قرار دیتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی آئینہ پر گرد ڈال دے یا اسے سیاہ کر دے ہم لوگ آئینہ ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں صاف کر کے خدا کے سامنے کرنے والے ہیں کیونکہ انہوں نے خاص قربانی اور خاص اطاعت سے اس طریق کو معلوم کر لیا ہے جس سے انسان خدا تک پہنچ سکتا ہے وہ ہمیں راستہ بتاتے ہیں اور ہم ان کے پیچھے چلتے ہیں لیکن شرک ایک روک ہے جو خدا اور بندہ کے درمیان حائل ہو جاتی ہے۔

صفات الٰہیہ کیا ہیں؟

شرک کا ذکر کرنے کے بعد میں اب صفات الٰہیہ کا ذکر کرتا ہوں ، پہلا سوال یہ ہے کہ صفات الٰہیہ کیا ہیں ۔ صفات الٰہیہ وہ اسماء ہیں کہ جن کے ذریعہ سے بندے اور خدا تعالیٰ کا تعلق بتایا جاتا ہے یا خدا تعالیٰ کے مقام تنزیہی یا نزول کی کیفیت بتائی جاتی ہے یعنی وہ اپنی ذات میں کیا کمال رکھتا ہے اور بندوں سے کس طرح معاملہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ اَلۡمَلِکُ الۡقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ الۡمُؤۡمِنُ الۡمُہَیۡمِنُ الۡعَزِیۡزُ الۡجَبَّارُ الۡمُتَکَبِّرُ ؕ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ہُوَ اللّٰہُ الۡخَالِقُ الۡبَارِئُ الۡمُصَوِّرُ لَہُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی ؕ یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ۚ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ(الحشر: ۲۴، ۲۵) وہ اللہ ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں بادشاہ ہے، پاک ہے، سلامتی کا سرچشمہ ہے، امن دینے والا ہے، محافظ ہے، غالب ہے، نقصان کی اصلاح کرنے والا ہے، بلند مرتبہ ہے، اللہ پاک ہے ان کے مشرکانہ خیالات سے، وہ اللہ ہے خالق، شکل بنانے والا، صورتیں دینے والا اس کے اندر تمام اچھی صفا پائی جاتی ہیں اور وہ غالب ہے اور حکمت والا ہے۔ یہ وہ نام ہیں جن کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ بندوں سے تعلق رکھتا ہے یا جن کے ذریعہ تمہارے لئے اپنے قرب کا سامان پیدا کرتا ہے یا جن کے ذریعہ بندہ کو اپنے سے جُدا ثابت کرتا ہے۔ نام عربی میں صفت کے لئے بھی آتا ہے اور خدا تعالیٰ کے جو نام قرآن اور احادیث میں آئے ہیں ان سے مراد صفات ہی ہیں اور ان میں سے موٹے موٹے نام یہ ہیں۔ قدوس۔ سلام۔ مؤمن۔ مہیمن۔ عزیز۔ جبار۔ متکبر۔ خالق۔ باری۔ مصوّر۔ حکیم۔ علیم۔ رزاق۔ سمیع۔ بصیر۔ حفیظ۔ کریم۔ حی۔ قیوم۔ رءوف۔ رحیم۔ غنی۔ صمد۔ ودود۔ ان ناموں کے بتانے کی غرض یہ ہے کہ بندہ ان ناموں کے ذریعہ سے معلوم کر سکے کہ وہ خدا سے کس کس طرح تعلق پیدا کر سکتا ہے۔

خدا کے لئے نام تجویز کرنا

اب ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ خدا نے کہا ہے کہ میرے اچھے نام ہیں تو کیا ہم خود بھی کوئی اچھا نام دیکھ کر خدا کی طرف منسوب کر دیا کریں؟ میرے نزدیک ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ وجہ یہ کہ اس میں بڑی بڑی غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَلِلّٰہِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی فَادۡعُوۡہُ بِہَا ۪ وَذَرُوا الَّذِیۡنَ یُلۡحِدُوۡنَ فِیۡۤ اَسۡمَآئِہٖ ؕ سَیُجۡزَوۡنَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ(الاعراف: ۱۸۱) تمام صفات حسنہ خدا کی ہیں پس تم ان کے ساتھ اسے پکارو اور ان لوگوں کو جو خدا تعالیٰ کے ناموں کے بارہ میں اپنی طرف سے باتیں بنا لیتے ہیں تم انکو چھوڑ دو۔ چونکہ انسان جب خود عقل سے صفات الٰہیہ پر غور کرتا ہے تو کچھ کا کچھ بنا لیتا ہے اس لئے اس طرح کرنا ٹھیک نہیں۔ ہاں اگر کوئی شخص جوش محبت میں ایسا کر بیٹھے تو ہم اسے بُرا بھی نہیں کہیں گے۔ جیسے مثنوی والے نے ایک قصہ لکھا ہے کہ ایک گڈریا کہہ رہا تھا کہ اگر خدا مجھے مل جائے تو میں اس کی جوئیں نکالوں، اسے دُودھ پلاؤں، اس کے پاؤں دباؤں۔ حضرت موسیٰؑ نے پاس سے گذرتے ہوئے جب یہ سُنا تو اسے ڈانٹا کہ اس طرح نہ کہو۔ خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو فرمایا تم نے اس کا دل کیوں توڑا۔ اس کا اسی قدر علم تھا یہ اپنے علم کے مطابق اظہار محبت کر رہا تھا لیکن اگر یہی خیال جو جوش محبت میں گڈریا ظاہر کر رہا تھا اس کا عقیدہ بن جاتا اور دوسرے لوگ بھی اس کو سیکھتے تو خدا تعالیٰ کے متعلق کیسا بھدا خیال دنیا میں باقی رہ جاتا۔ چنانچہ ہندوؤں میں اسی قسم کے خیالات نے بڑی ابتری پھیلائی ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب پرمیشور سوتا ہے تو لچھمی اس کے پاؤں سہلاتی ہے۔ چونکہ ان کو دولت سے بہت محبت ہے اس لئے انہوں نے سمجھا کہ پرمیشور کی بھی یہی حالت ہو گی اس لئے انہوں نے سب سے بڑی عظمت خدا کی یہی سمجھی کہ جب وہ سوتا ہو گا تو لچھمی جسے وہ دولت کی دیوی سمجھتے ہیں پرمیشور کے پاس آتی اور اس کے پاؤں سہلاتی ہوگی۔

اس طرح عیسائیوں کے عجیب و غریب خیالات ہیں۔ آج کل ان میں رواج ہے کہ لوگوں کو مذہب کی طرف توجہ دلانے کے لئے ناٹک دکھاتے ہیں ایک قصہ مشہور ہے جس میں یہ نقشہ کھینچا جاتا ہے کہ یسوع کو صلیب پر چڑھانے لگے ہیں ایک دوسرا کمرہ ہے جس میں خدا سو رہا ہے ایک شخص جاتا ہے اور جا کر دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور کہتا ہے کہ باپ اُٹھ بیٹا صلیب پر چڑھنے لگا ہے اس پر خدا آنکھیں ملتا ہوا اُٹھتا ہے اور کہتا ہے میری روح کو شیطان ہی لے جائے اگر مجھے اس بات کا پتہ لگا ہو۔

پس پسندیدہ طریق یہی ہے کہ اپنی طرف سے خدا کے متعلق کوئی بات نہ تجویز کی جائے ۔ جیسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖ(الانعام: ۹۲) اپنی طرف سے خدا کے متعلق باتیں بنانے والے کچھ کا کچھ بنا دیتے ہیں ۔ جیسے عیسائیوں نے اسے عادل بنایا اور پھر کہہ دیا کہ وہ رحم نہیں کر سکتا دیکھو وہ کہاں سے کہاں نکل گئے تو خدا تعالیٰ کے اسماء وہی درست ہو سکتے ہیں جو خدا نے خود بتائے ہیں۔

خدا کے کسی فعل سے بھی نام نہیں بنانا چاہئے

ایک اور سوال ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ اچھا ہم اپنی عقل سے تو خدا کا کوئی نام تجویز نہ کریں لیکن جو باتیں خدا نے اپنی طرف خود منسوب کی ہیں ان سے نام بنالیں تو کیا حرج ہے؟

میرے نزدیک اس طرح بھی نہیں کرنا چاہئے کیونکہ خدا تعالیٰ کا فعل شرائط کے ساتھ مشروط ہوتا ہے۔ لیکن نام میں وہ بات نہیں ہو سکتی جیسے آتا ہے یُضِلُّ بِہٖ کَثِیۡرًا(2:27) اور دوسری جگہ فرما دیا وَمَا یُضِلُّ بِہٖۤ اِلَّا الۡفٰسِقِیۡنَ(البقرة: ۲۷) اب اگر کوئی خدا کو يَا مُضِلُّ کر کے مخاطب کرے تو یہ درست نہیں ہو گا۔ کیونکہ يُضِلُّ کا فعل ایک شرط کے ساتھ استعمال ہوا ہے جو نام سے ظاہر نہیں ہوتی خدا تعالیٰ کے نام وہی ہو سکتے ہیں جو اس نے خود بتائے ہیں۔ یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے ہیں یا پھر مسیح موعود نے بتائے ہیں کیونکہ خدا کے رسول اپنے پاس سے نام نہیں تجویز کرتے بلکہ الہام الٰہی سے ان کو ان پر مطلع کیا جاتا ہے۔

صفات الٰہیہ کی اقسام

اب میں یہ بتاتا ہوں کہ صفات الٰہیہ چار قسم کی ہیں۔

اوّل وہ جن میں خدا کی قدرتوں کا ذکر ہے اور یہ چار قسم کی ہیں اوّل وہ جو بدء سے تعلق رکھتی ہیں یعنی ان میں خدا اور مخلوق کے تعلق کی ابتداء کا اظہار کیا ہے یعنی اس کی پیدائش اس کا وجود میں لانا وغیرہ ابتدائی جیسے مادہ کو پیدا کیا۔ دوسری جو ایصال خیر سے تعلق رکھتی ہیں جیسے رحیم ۔ رحمن وغیرہ ۔ تیسری جو دفع شر سے تعلق رکھتی ہیں جیسے حفیظ ، مہیمن وغیرہ ۔ چوتھی وہ جو نافرمانی پر سزا دینے کے متعلق ہیں۔

دوسری قسم کی صفات وہ ہیں جن سے خدا تعالیٰ اپنا منزہ عن العیوب ہونا بیان کرتا ہے جیسے یہ کہ وہ نہ کسی کا بیٹا ہے نہ باپ، نہ کھاتا ہے، نہ پیتا ہے، نہ سوتا ہے۔ ان صفات میں زیادہ تر ان خیالات کا دفع مدنظر ہوتا ہے جو لوگوں میں خدا تعالیٰ کے متعلق رائج ہوتے ہیں اور غلط ہوتے ہیں یا جن کو انسان اپنے پر قیاس کر کے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر سکتا ہے۔

تیسری قسم کی صفات وہ ہیں جن میں خدا تعالیٰ اپنے ذاتی حُسن کو بیان کرتا ہے۔

چوتھی قسم کی صفات وہ ہیں جن میں خدا تعالیٰ اپنے وراء الوریٰ ہونے کو بیان کرتا ہے۔ جیسے صفت احد ہے کہ وہ اس کے کامل طور پر ایک ہونے پر دلالت کرتی ہے کسی دوسرے وجود کے خیال کو بھی قریب پھٹکنے نہیں دیتی۔

کیا خدا کی صفات انسانی صفات جیسی ہیں؟

اس جگہ ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی جو صفات بیان کی گئی ہیں ان میں سے بہت سی ہیں جو انسان میں بھی پائی جاتی ہیں۔ جیسے مثلاً کہتے ہیں کہ خدا محبت کرتا ہے اسی طرح بندہ بھی محبت کرتا ہے تو کیا اس کی محبت ہماری محبت جیسی ہی ہوتی ہے یا جب کہتے ہیں کہ وہ سنتا ہے تو کیا ہماری طرح ہی سنتا ہے یا جب کہتے ہیں کہ وہ بولتا ہے تو کیا ہماری طرح بولتا ہے؟

اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ جو صفتیں ہم خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ان کا یہ مطلب نہیں کہ وہ صفات جیسی ہم میں پائی جاتی ہیں ویسی ہی خدا میں بھی ہیں بلکہ ان کے ذریعہ سے صرف اس قدر سمجھانا مقصود ہوتا ہے کہ جس طرح مثلاً آنکھوں یا کانوں کے ذریعہ سے ہمیں آواز یا صورت و شکل یا حرکت کا علم ہو جایا کرتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کو بھی آواز و صورت و شکل یا حرکت کا علم ہوتا ہے۔ یا یہ کہ جس طرح انسان اپنے ارادہ کو زبان سے ظاہر کر سکتا ہے خدا تعالیٰ بھی اپنا ارادہ ظاہر کرنا ہے۔ اس سے زیادہ مشابہت خدا تعالیٰ اور بندوں کی صفات میں نہیں ہوتی اور اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہوتی کہ جن آلات سے بندہ کام لیتا ہے خدا بھی لیتا ہے یا یہ کہ جو کیفیات بندے کے اندر پائی جاتی ہیں وہی نعوذ باللہ خدا تعالیٰ میں بھی پائی جاتی ہیں مثلاً غضب میں انسان کی کیفیت یہ ہو جاتی ہے کہ اس کے خون میں جوش پیدا ہو جاتا ہے اور وہ دل اور دماغ کی طرف چڑھتا ہے مگر خدا کے متعلق جب یہ آتا ہے کہ جب اس نے مثلاً یہود پر غضب کیا تو اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہوتی کہ خدا کا بھی جسم ہے اور اس کے جسم میں خون جوش میں آگیا ہے بلکہ اس صفت کا مطلب صرف یہ ہے کہ جس طرح غضب ہماری بہت سخت ناپسندیدگی پر دلالت کرتا ہے خدا تعالیٰ بھی بعض انسانی افعال کو ناپسند کرتا ہے اور ان کے مرتکبین سے بعض قسم کے تعلقات توڑ دیتا ہے۔ یا مثلاً محبت کا جذبہ ہے اس جذبہ کے ساتھ بھی انسان کے خون میں جوش پیدا ہو جاتا ہے مگر اس کے ساتھ تنافر نہیں بلکہ رغبت پیدا ہوتی ہے مگر خدا تعالیٰ کے لئے جب یہ لفظ استعمال کیا جائے تو اس کے ہرگز یہ معنی نہیں ہوتے بلکہ صرف یہ مطلب ہوتا ہے کہ جس طرح ہمیں جس سے محبت ہو اس سے ہم اچھا سلوک کرتے اور اسے دکھوں اور بدیوں سے بچاتے ہیں اور آرام پہنچاتے ہیں خدا تعالیٰ بعض اشخاص کے اخلاص اور محبت کی وجہ سے ان سے اسی طرح کا معاملہ کرتا ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ ان صفات کے ماتحت جو کام ہم کرتے ہیں وہی خدا بھی کرتا ہے لیکن کیفیت میں اختلاف ہے گویا ظہور صفات میں تو اشتراک ہے لیکن وجود صفات میں اشتراک نہیں گویا باوجود لفظی مشارکت کے اللہ تعالیٰ اپنی ہر صفت کے لحاظ سے بھی لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ(الشوریٰ: ۱۲) ہے اور لفظی مشابہت صرف بندوں کو سمجھانے کے لئے قبول کر لی گئی ہے۔

صفات کے متعلق ایک یہ بھی سوال ہے کہ کیا وہ ہمیشہ ظاہر ہوتی رہتی ہیں یا کسی خاص زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات معطل نہیں ہوتیں مومنوں کو بشارت ہو کہ یہ کھڑکی اب بھی کھلی ہے اور یہ دروازہ اب بھی بند نہیں۔

خدا کی صفات غیر محدود ہیں

صفات الٰہیہ کے متعلق یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا جسقدر نام قرآن کریم یا احادیث میں آچکے ہیں خدا تعالیٰ کی صفات اسی قدر ہیں یا اور بھی ہیں؟ اس کا جواب میرے نزدیک یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات بھی اسی طرح غیر محدود ہیں جس طرح کہ اس کی ذات غیر محدود ہے اور ہمیں قرآن اور حدیث میں جو صفات الٰہیہ بتائی گئی ہیں وہ صفات ہیں کہ جو اس دُنیا میں انسان سے تعلق رکھتی ہیں انکے علاوہ اور ایسی صفات ہو سکتی میں جو ملائکہ سے تعلق رکھتی ہیں یا ہم سے تعلق تو رکھتی ہیں لیکن بہشت میں اور اس دنیا کی زندگی سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ان کو ہم یہاں سمجھ سکتے تھے۔

خدا کی اور صفات ہونے کا ثبوت

کوئی کہے یہ تو خیال ہی ہے ہمیں کس طرح یقین ہو سکتا ہے کہ خدا کی اور صفات بھی ہیں؟ میں کہتا ہوں کہ جس سے خدا کی ان صفات کا پتہ لگا جو ہمیں معلوم ہیں اسی سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ خدا کی اور صفات بھی ہیں اور وہ ذات بابرکات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے آپ کی ایک دُعا ہے اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ....اَسْئَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهٖ نَفْسَكَ اَوْ اَنْزَلْتَهٗ فِيْ كِتَابِكَ اَوْ عَلَّمْتَهٗ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِكَ اَوِ اسْتَاْثَرْتَ بِهٖ فِيْ عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ(مسند احمد بن حنبل جلد نمبر ۱ صفحہ ۴۵۲۔ ناشر دارالفکر بیروت ایڈیشن دوم ۱۹۹۴ء) اے خدا میں تجھ سے دُعا مانگتا ہوں ان ناموں کے ذریعہ سے جو تو نے اپنے لئے تجویز فرمائے ہیں، یا جو نام کہ تو نے اپنے کلام میں نازل فرمائے ہیں، یا جو تو نے اپنی کسی مخلوق کو سکھائے ہیں، یا جو تو نے اپنی ذات میں ہی مخفی رکھے اور کسی کو ان کا علم نہیں دیا۔

کتنی لمبی صفات چلی گئیں اور کتنی زبردست دُعا ہے اور یہ اسی کے ذہن میں آ سکتی ہے جسے معرفتِ کامل حاصل ہو۔ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کے ان ناموں سے بھی جو معلوم نہیں ان سے فائدہ اٹھا لیا ہے اور ان کا واسطہ دیگر خدا تعالیٰ سے دُعا مانگی ہے۔

اس حدیث سے واضح ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نام یعنی صفات اور بھی ہیں جو ہم کو معلوم نہیں اور ہم کو کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی معلوم نہ تھے اور نہ کسی اور مخلوق کو معلوم ہیں ہمیں جو خدا کی صفات معلوم ہیں یہ صرف وہ ہیں جو ہمارے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ ان سے زیادہ ہمارے ساتھ اس دنیا میں تعلق رکھنے والی صفات نہیں ورنہ اگر ایک بھی ایسی صفت باقی ہے جو انسانوں سے تعلق رکھتی ہے اور ہمیں معلوم نہیں تو خاتم النبیین ابھی آنے والا ہے۔ مگر خاتم النبیین چونکہ آ گیا ہے اس لئے خدا تعالیٰ کی وہ تمام صفات جو اس دنیا سے تعلق رکھتی ہیں وہ سب اس نے بیان کر دی ہیں۔

مسلمانوں کا خیال ہے کہ خدا تعالیٰ کی ننانوے صفات ہیں جو انسانوں سے تعلق رکھتی ہیں مگر انہوں نے ایک حدیث سے دھوکا کھایا ہے جس کا مطلب اور ہے۔ درحقیقت اس دنیا میں تعلق رکھنے والی صفات بھی بہت سی ہیں جن میں سے بعض ظاہر الفاظ میں اور بعض اشارات میں کلام الٰہی میں

بیان ہوئی ہیں۔

وحدت وجود

اس جگہ ایک اور بات بھی میں بیان کرنی چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفتِ احدیت اور خالقیت یعنی خدا کا ایک ہونا اور کوئی شریک نہ ہونا اور خالق ہونا ان امور کو مدّنظر رکھ کر بعض لوگوں نے بعض شبہات پیدا کئے ہیں۔ وہ خیال کرتے ہیں اور افسوس کہ مسلمانوں میں سے بھی بعض اس خیال میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ خدا کا ایک ہونا اس کی صفات کے لحاظ سے یا الوہیت کے لحاظ سے ہی نہیں بلکہ ہر طریق سے ہے اس لئے وہ کہتے ہیں کہ دنیا میں خدا ہی خدا ہے اور کچھ نہیں ان کے اس خیال کو فلسفہ کے اس مسئلہ سے بھی تقویت مل گئی ہے کہ مادہ مادہ سے ہی پیدا ہو سکتا ہے جو چیز نہ ہو وہ وجود میں نہیں آسکتی چونکہ وحدت وجود کا خیال ہمارے ملک میں عام ہے خصوصاً فقراء اکثر اس مرض میں مبتلا ہیں اس لئے اس خیال کی بے ہودگی کو خوب سمجھ لینا چاہئے جہاں بھی فقیر ہمارے ملک میں پائے جائیں وہاں ان کا فقرہ اللہ ہی اللہ ہے اور سب کچھ اللہ ہی ہے بھی سنائی دے گا۔ وہ کہتے ہیں جب خدا ایک ہے تو اگر کوئی دوسرا وجود مانا جائے تو دو ہو گئے اور خدا کی یکتائی باقی نہ رہی مخلوق کی مثال وہ دریا سے دیتے ہیں جس پر حباب تیر رہے ہوں جس طرح وہ حباب الگ وجود نظر آتے ہیں مگر درحقیقت الگ وجود نہیں ہوتے اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ گو مختلف شکلیں نظر آتی ہیں مگر درحقیقت خدا کے سوا کچھ نہیں ہے جس طرح حباب پانی کی ہی ایک شکل ہے اسی طرح دنیا میں جو کچھ ہے یہ بھی خدا ہی کی ایک شکل ہے مگر اس قسم کی مثالیں بالکل باطل ہیں۔ مثلاً یہی حباب والی مثال لے لو۔ حباب کیا ہے؟ پانی میں ہوا داخل ہو کر حباب بن گیا اسی طرح مخلوق کی مثال حباب کی سی ہے تو یہاں بھی خدا کے سوا کوئی اور وجود ماننا پڑے گا جو ہوا کی طرح خدا میں داخل ہو کر اس کی مختلف شکلیں بنا دیتا ہے۔ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ تِلْكَ الْخُرَافَاتِ۔

بہر حال ان لوگوں کا یہ خیال ہے کہ دراصل چیز ایک ہی ہے آگے اس کی شکلیں مختلف ہیں اس کے لئے انہوں نے مذہبی دلیلیں بھی بنا رکھی ہیں۔ مثلاً وہ یہ کہتے ہیں کہ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کے معنے ہیں خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ہزاروں لاکھوں وجودوں کی عبادت کی جاتی ہے تو کیا کلمہ شریفہ میں یہ دعویٰ جھوٹا کیا گیا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور معبود نہیں، پس کلمہ شریفہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے سوا جن چیزوں کی پرستش کی جاتی ہے وہ بھی خدا کا ہی جزو ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خواہ جس کی بھی پرستش کرو آخر پرستش تو اللہ

کی ہی ہے کیونکہ اس کے سوا کوئی اور وجود ہی نہیں جب اس کے سوا کوئی اور وجود ہی نہیں تو اس کے سوا کوئی معبود بھی نہیں۔

قرآن کریم کی آیت اَجَعَلَ الۡاٰلِہَۃَ اِلٰـہًا وَّاحِدًا(ص: ۶) سے بھی یہ لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ خدا کے سوا اور کچھ نہیں کیونکہ کہتے ہیں کہ کفار نے کلمہ شریفہ کے معنے یہی سمجھے ہیں کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ خدا کا غیر نہیں ہیں بلکہ خدا کا جزو ہیں تبھی وہ کہتے ہیں کہ اس نے تو اتنے معبودوں کو ایک ہی معبود بنا دیا اور وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ چونکہ کفار جو عربی کے ماہر تھے کلمہ شریفہ کے یہی معنے سمجھتے ہیں اور قرآن کریم نے اس کا رد بھی نہیں کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو معنے انہوں نے کلمہ شریفہ کی طرف منسوب کئے ہیں ان کو صحیح تسلیم کر لیا گیا ہے۔

تیسری دلیل یہ لوگ آیت اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِیۡدِ(ق: ۱۷) سے پیش کرتے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم رگِ جان سے بھی انسان کے زیادہ قریب ہیں ! اب یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ کوئی غیر وجود رگِ جان سے زیادہ قریب ہے پس اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ ہم خدا کا جزو ہیں کیونکہ وجودِ مطلق وجودِ مقیّد سے زیادہ قریب ہوتا ہے ۔

چوتھی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت قرآن کریم میں آتا ہے کہ ہُوَ الۡاَوَّلُ وَالۡاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالۡبَاطِنُ(الحدید: ۴) پس جب خدا ہی اوّل ہے وہی آخر وہی اندر وہی باہر تو اور کیا چیز باقی رہی ؟

ایک دلیل یہ بھی دیتے ہیں کہ قرآن کریم میں آیا ہے یَسۡجُدُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ(الرعد: ۱۶) زمین و آسمان میں جو کوئی بھی ہے خدا کو ہی سجدہ کر رہا ہے۔ اب اگر خدا کے سوا دنیا میں کچھ اور بھی ہے تو پھر یہ غلط بات ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اور وجودوں کو بھی سجدہ کرتے ہیں۔ اگر بُت خدا نہیں تو معلوم ہوا کہ خدا کے سوا اور کو بھی سجدہ کیا جاتا ہے اور یہ آیت درست نہیں رہتی اس لئے معلوم ہوا کہ وہ بھی خدا ہی ہیں۔

اگر کہا جائے کہ اگر یہ درست ہے تو پھر شرک کیا چیز ہے اور کیوں لوگوں کو دوسری چیزوں کے آگے سجدہ کرنے سے روکا جاتا ہے تو وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ سب کچھ خدا ہی ہے پھر بھی بعض مظاہر کی پرستش شرک ہی کہلائے گی۔ کیونکہ جو لوگ بتوں کو سجدہ کرتے ہیں وہ انہیں خدا سمجھ کر نہیں کرتے۔ بلکہ خدا کے قائم مقام سمجھ کر کرتے ہیں پس چونکہ وہ یہ خیال کرتے ہوئے ان کو سجدہ کرتے ہیں کہ یہ خدا نہیں ہیں اس لئے ان کا یہ فعل شرک ہے۔

ہر چیز کو اللہ کہنے والوں کے دلائل کا رد

اب میں ان لوگوں کے دلائل کا رد بیان کرتا ہوں۔ اول لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کے وہ معنے جو یہ لوگ کرتے ہیں بالکل غلط ہیں اِلٰہ کے معنی انہوں نے زبردستی سے کر لئے ہیں اور پھر ان پر اپنے دعویٰ کی بنیاد رکھ دی ہے حالانکہ عربی میں اس لفظ کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ کوئی معبود ہو سچا ہو یا جھوٹا دوسرے یہ کہ وہ معبود جو سچا ہو جھوٹا نہ ہو قرآن کریم میں ان دونوں معنوں میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے مگر انہوں نے یہ معنی لے لئے ہیں کہ کوئی جھوٹا معبود بھی نہیں حالانکہ جب قرآن کریم میں دوسری جگہوں پر صاف بیان ہے کہ لوگ خدا کے سوا اور معبودوں کی پرستش کرتے ہیں تو اِلٰہ کے معنے سچے معبود کے سوا جائز ہی نہیں کیونکہ صحیح معنی وہی ہوتے ہیں جو بولنے والے کے منشاء کے مطابق ہوں۔ اب جو اللہ تعالیٰ دوسری جگہوں میں صاف الفاظ میں بیان فرماتا ہے کہ اس کے سوا بھی لوگ دوسروں کی پوجا کرتے ہیں تو لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کے یہ معنی نہیں کئے جاسکتے کہ اس کے سوا نہ کوئی جھوٹا معبود ہے نہ سچا بلکہ اس کے یہی معنے کئے جائیں گے کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور ان معنوں سے ہرگز وحدت وجود کا مسئلہ نہیں نکلتا۔

اب کوئی کہے کہ جب اس لفظ کے دو معنی تھے تو وہی کیوں نہ مانے جائیں جو وحدت وجودی کرتے ہیں اور کیا اس طرح وہ کلمہ جس پر اسلام کی ساری بنیاد ہے مشتبہ نہیں ہو جاتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک لفظ کے مختلف معنی دیکھ کر ہر جگہ پر اس کے تمام معنوں کو استعمال کرنا درست نہیں ہوتا آخر قرآن کریم عربی زبان میں ہے اس زبان کے قواعد کے مطابق ہم فیصلہ کریں گے اور یہ بات کہ ہر لفظ کے ہر معنی ہر جملے میں استعمال نہیں ہوتے عربی زبان سے ہی خاص نہیں سب زبانوں کا یہ قاعدہ ہے کہ لفظ کے خواہ کتنے ہی معنے ہوں جب وہ عبارت میں آ جائے تو اس کے وہی معنے کئے جاتے ہیں جو اس فقرے کے مضمون سے یا اس کتاب کی دوسری جگہوں کے مفہوم سے نکلتے ہوں نہ کہ تمام معنے جو اس لفظ کے لغت میں نکلتے ہوں۔ اب چونکہ یہ ثابت ہے کہ قرآن کریم اس کا بار بار ذکر فرماتا ہے کہ مشرک خدا کے سوا اوروں کی پوجا کرتے ہیں تو جب وہ یہ فرماتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں تو ان دوسری آیتوں سے ملا کر اس کے یہی معنی ہوں گے کہ خدا کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور جب دوسری عبارتوں سے مل کر کلمہ کے معنی واضح ہو جاتے ہیں تو شک و شبہ کا سوال اُٹھ گیا۔

دوسری آیت یعنی اَجَعَلَ الۡاٰلِہَۃَ اِلٰـہًا وَّاحِدًا(ص: ۶) کے بھی وہ معنے نہیں

جو یہ لوگ کرتے ہیں بلکہ یہ ہیں کہ اس نے سارے معبودانِ باطلہ کو مٹا کر ان کی جگہ ایک معبود قرار دے دیا ہے یہاں جَعَلَ بمعنی قرار دینا ہے ورنہ اگر لفظی معنی ہی لئے جائیں گے تو یہ ہو گا کہ ان کو کوٹ کوٹ کر ایک بنا لیا ہے لیکن یہ معنے نہ وہ لیتے ہیں اور نہ ہم اس لئے جَعَلَ کے یہی معنے ہونگے کہ بہت سے معبود تھے ان سب کو مٹا کر اس نے ایک قرار دے دیا۔

اب رہی تیسری آیت اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِیۡدِ(ق: ۱۷)۔ اس کے جو معنی ہمہ اوست والے کرتے ہیں وہ بنتے ہی نہیں۔ وہ کہتے ہیں مقید سے مطلق زیادہ قریب ہوتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کس کے زیادہ قریب ہوتا ہے مقید کی اپنی ذات کی نسبت مطلق اس کے زیادہ قریب کیونکر ہو سکتا ہے پس جب غیر کوئی ہے ہی نہیں تو مطلق و مقید کی بحث یہاں پیدا ہوتی ہی نہیں مقید و مطلق تو غیر کو فرض کر کے بنتے ہیں جب چیز ہی ایک ہے تو مقید کو قید کس نے کیا؟

یہ ساری آیت یوں ہے وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ وَنَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِہٖ نَفۡسُہٗ ۚۖ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِیۡدِ(ق: ۱۷) اور یقیناً ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہمیں پتہ ہے کہ اس کے دل میں شبہات پیدا ہوتے ہیں کہ میں کیا کروں اور کیا نہ کروں۔ مگر اسے معلوم ہونا چاہئے کہ ہم نے اسے پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا بلکہ ہم حَبْلِ الْوَرِیْدِ سے بھی اس کے زیادہ قریب ہیں۔

حبل الورید کے معنی اس رگ کے ہیں جو دل سے دماغ کی طرف خون پہنچاتی ہے اور طب سے پتہ لگتا ہے کہ دماغ کبھی کام نہیں کر سکتا جب تک اُسے خون نہ پہنچے تو گویا دماغ کا کام بھی رگِ جان کی امداد پر منحصر ہے پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زندگی کے ساتھ خیالات اور خیالات کے ساتھ وساوس لگے ہوئے ہیں اور بیشک یہ انسان کے راستہ میں روک بنتے ہیں مگر رگِ جان سے بھی ہم انسان کے زیادہ قریب ہیں کہ رگِ جان کٹے تو مرتے مرتے انسان کو پھر بھی چند سیکنڈ لگیں گے لیکن ہماری مدو بند ہو تو انسان کی تباہی پر کوئی وقت بھی نہ لگے پس کیوں انسان ایسے وساوس اور شبہات کے وقتوں میں ہماری طرف توجہ نہیں کرتا کہ ہم اس کے وسوسوں کو اور شبہوں کو دُور کریں۔ کیا وہ باوجود اس کے کہ اس کا ذرہ ذرہ ہمارے قبضہ میں ہے یہ خیال کرتا ہے کہ اس کے وساوس کا علاج ہمارے پاس نہیں؟ حالانکہ وساوس و خیالات زندگی کا ایک شعبہ ہیں اور زندگی خود ہمارے ذریعہ سے ہے پس اس کی مشکلات کو حل کرنا بھی ہمارے ہی اختیار میں ہے۔

غرض حَبْلِ الْوَرِیْدِ اس جگہ انسان کی زندگی کے سہارے کے معنی میں آیا ہے۔ مگر اس کے غلط معنے لے کر کچھ کا کچھ بنا دیا گیا ہے۔

اور یہ جو ان کی دلیل ہے کہ ہُوَ الۡاَوَّلُ وَالۡاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالۡبَاطِنُ(الحدید: ۴) وہی شروع ہے اور وہی آخر اور وہی اندر ہے اور وہی باہر ہے۔ اس سے یہ استدلال ہوتا ہے کہ سب جگہ خدا ہی خدا ہے یہ دلیل بھی بالکل غلط ہے کیونکہ اول اور آخر اور ظاہر اور باطن چاروں الفاظ اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کچھ اور بھی ہے اگر غیر کوئی ہے ہی نہیں تو پھر اوّل کہنے اور آخر کہنے کی کیا ضرورت تھی اور ظاہر کہنے اور باطن کہنے کی کیا ضرورت تھی پھر تو یہ کہنا چاہئے تھا کہ وہی وہ ہے اور کچھ نہیں۔ اس آیت کا صرف یہ مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ محیط ہے۔ یہ نہیں کہ سب کچھ اللہ ہی اللہ ہے۔ اندر اور باہر کے الفاظ بھی اور اوّل اور آخر کے الفاظ بھی احاطہ پر دلالت کرتے ہیں پس یہ آیت یہ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کے ساتھ تمام چیزوں کا احاطہ کیا ہوا ہے۔

آیت یَسۡجُدُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ(الرعد: ۱۶) کے معنے یہ ہیں کہ ہر چیز خدا کی فرمانبرداری کر رہی ہے۔ سجدہ کے اصل معنی فرمانبرداری کے ہیں اور زمین پر سر رکھنے کے معنے مجازاً بنتے ہیں اور فرمانبرداری کے لحاظ سے کوئی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے باہر ہے؟ دنیا کا ایک ایک ذرّہ خدا کی فرمانبرداری کر رہا ہے مثلاً زبان ہے اسے اگر میٹھا دو گے تو میٹھا چکھے گی اگر کڑوا دو گے تو کڑوا چکھے گی یہ الگ بات ہے کہ وہ خدا کا انکار کر دے۔ مگر جو کام خدا نے اس کا مقرر کیا ہے اسے نہیں چھوڑ سکتی اور اس میں نافرمانی نہیں کر سکتی۔ باقی رہا یہ کہ انسان خدا کی نافرمانی بھی کرتا ہے سو سوال یہ ہے کہ کس جگہ نافرمانی کرتا ہے وہیں جہاں خدا نے اسے مقدرت دیکر امتحان کی غرض سے آزاد چھوڑ دیا ہے پس جس امر میں خدا تعالیٰ نے خود انسان کو مقدرت دیکر امتحان کے طور پر آزاد کیا ہے انسان کی اس نافرمانی کی وجہ سے ہم یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ کوئی چیز خدا کی فرمانبرداری سے باہر ہے کیا ابو جہل اور فرعون خدا کے بنائے ہوئے قانونِ قدرت کی فرمانبرداری کرتے تھے کہ نہیں؟ اگر کرتے تھے تو سب خدا کے فرمانبردار ہیں۔

یہ لوگ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ سے بھی استدلال کرتے ہیں کہ جب خدا ہی سنتا اور دیکھتا ہے تو معلوم ہوا کہ سب کچھ خدا ہی خدا ہے۔ کیونکہ سنتے اور دیکھتے ہم بھی ہیں۔ اگر ہم خدا نہیں تو یہ آیت غلط ہو جاتی ہے۔ حالانکہ اس آیت سے بھی یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے کیونکہ جو چیز کسی کی دی ہوئی ہو

وہ دراصل اس کی ہوتی ہے پس جب نظر خدا کی دی ہوئی ہے جس سے ہم دیکھتے ہیں اور سننے کی طاقت بھی اس کی دی ہوئی ہے جس سے ہم سنتے ہیں تو خدا ہی سنتا اور دیکھتا ہے۔

تائیدی آیاتِ قرآنی

پھر اسکے مقابلہ میں ہم دوسری آیات دیکھتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی یہ سب باتیں غلط ہیں خدا تعالیٰ اپنی ہستی کے متعلق فرماتا ہے۔ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْئٌ کہ اس جیسی کوئی اور ہستی نہیں کوئی چیز خدا کے مشابہ نہیں ہم کہتے ہیں اگر کوئی چیز ہی دنیا میں نہیں بلکہ سب کچھ خدا ہی خدا ہے تو لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْئٌ(الشوریٰ: ۱۲) کا کیا مطلب ہوا؟ وحدت الوجود والے کہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی چیز نہیں سب کچھ ایک ہی ہے ہم کہتے ہیں جب ایک ہی ہے تو یہ کہنے کا کیا مطلب کہ خدا جیسی کوئی چیز نہیں۔

دوسری آیت یہ ہے فَاِنَّہُمۡ عَدُوٌّ لِّیۡۤ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِیۡنَ(الشعراء: ۷۸) خدا کے سوا جو معبود سمجھے جاتے ہیں وہ سب میرے دشمن ہیں کیونکہ میں ان کا مخالف ہوں۔ اب اگر معبودانِ باطلہ بھی واقعہ میں اللہ تھے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ مقید شکل میں تو وہ دشمن ہیں اور مطلق میں دوست مگر یہ معنے بالبداہت باطل ہیں۔

تیسری آیت جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے سوا بھی اور چیزیں ہیں یہ ہے قُلۡ اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ تَاۡمُرُوۡٓنِّیۡۤ اَعۡبُدُ اَیُّہَا الۡجٰہِلُوۡنَ(الزمر: ۶۵) اے جاہلو! کیا تم خدا کے سوا دوسری چیزوں کی عبادت کے لئے مجھے کہتے ہو؟ اس آیت میں ان وجودوں کو جنہیں بُت پرست پوجتے تھے غیر اللہ کہا گیا ہے۔

چوتھی آیت یہ ہے تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ(الانعام: ۱۰۹) کہ ان معبودوں کو جن کی یہ خدا کے سوا پرستش کرتے ہیں گالیاں نہ دو ورنہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کو دشمنی کے جذبات کے ماتحت جہالت و نادانی سے گالیاں دینے لگ جائیں گے۔

اب ہم پوچھتے ہیں اگر وہ بھی خدا ہی ہیں تو مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ کیوں کہا؟ اور اگر کہو کہ چونکہ مشرک ان کو مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ کہتے تھے اس لئے ان کو ان کے عقیدہ کے ماتحت مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ کہا گیا ہے۔ تو پھر یہ سوال ہے کہ بہت اچھا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ تو ان لوگوں کے عقیدہ کی وجہ سے کہا مگر پھر یہ کیوں فرمایا کہ ان معبودوں کو گالیاں نہ دو ورنہ وہ خدا کو گالیاں دینے لگ جائیں گے یہ کیوں نہ کہا کہ ان معبودوں کو گالیاں نہ دو کیونکہ وہ بھی درحقیقت خدا ہی ہیں گو یہ نادان مشرک ان کو مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ سمجھ کر ان کی پرستش کر رہے ہیں کیونکہ خدا کے کسی حصہ کو اس لئے گالی دینا منع نہیں کہ کوئی مطلق خدا کو گالی دینے لگے گا بلکہ اس لئے منع ہے کہ وہ خدا ہے۔

کیا ہر چیز کو خدا ماننے والوں کا ایمان کامل ہوتا ہے؟

پھر وہ کہتے ہیں کہ سوائے ہمارے کسی کو ایمان کامل حاصل نہیں ہوسکتا کیونکہ ایمان بغیر لقاء کے مکمل نہیں ہوسکتا مگر تم خدا کو وراء الوریٰ کہہ کر اس کا ایسا نقشہ کھینچتے ہو کہ اس کا تصوّر نہیں آسکتا مگر ہم اس کو محسوسات اور مشہودات میں دیکھتے ہیں اس لئے ہمارا ایمان کامل ہے۔

ہم کہتے ہیں اگر اس طرح تمہارا ایمان کامل ہوتا ہے تو تم سے زیادہ بت پرست کامل ایمان رکھتے ہیں کہ وہ عین چیز کو سامنے رکھ کر اس کی عبادت شروع کرتے ہیں اور وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ خدا کا تصوّر قائم کرنے کے لئے اس طرح کرتے ہیں۔

اگر کہو کہ وہ غیر اللہ سمجھتے ہیں اس لئے ان کا فعل جائز نہیں تو ہم کہتے ہیں کہ تم عین اللہ سمجھ کر ان چیزوں کی پرستش کیوں نہیں کرتے تاکہ نقاد زیادہ کامل ہو جائے۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ ایمان کے لئے تصوّر کی ضرورت نہیں تصوّر کے معنے تو صورت کو ذہن میں لانے کے ہیں اور خدا تعالیٰ کی کوئی صورت نہیں اور اگر اس کے معنی صفات کو یاد کرنا کرو تو جو وحدت وجود کے قائل ہیں وہ بھی اس قسم کا تصوّر کرسکتے ہیں اور کرتے ہیں اور یہ تصوّر حضورِ قلب کے لئے کافی ہوتا ہے۔ دیکھو بجلی نظر نہیں آتی اب بجلی کا لفظ جب بولتے ہیں تو اس کے ظہور ہمارے ذہن میں آجاتے ہیں مگر کیا ان ظہوروں کا ذہن میں آنا کافی نہیں ہوتا ؟

یہ امر بھی قابل غور ہے کہ تصوّر کا لفظ ان لوگوں کی ایجاد ہے۔ خدا تعالیٰ نے کہاں کہا ہے کہ مجھے تصوّر میں لاؤ۔ خدا نے تو یہ کہا ہے کہ مجھے جانو اور میری معرفت حاصل کرو میرا علم حاصل کرو اور یہ اس کی صفات سے ہوسکتا ہے۔

تیسرا جواب یہ ہے کہ معرفت کے مختلف ذرائع ہیں کبھی کسی چیز کی معرفت تصوّر سے ہوتی ہے کبھی اس کے آثار کے تصوّر سے کبھی مشابہ کیفیات کے تصوّر سے جیسے اپنے غصّے پر قیاس کرکے ہم دوسروں کے غصّہ کو سمجھ جاتے ہیں۔ اور کبھی معرفت قبل از وقت سنی ہوئی تعریف کو یاد کرکے حاصل ہوتی ہے خدا تعالیٰ کی معرفت بھی پچھلے تین ذرائع سے ہوتی ہے۔

بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت جو کچھ بندہ کو معلوم ہوتا ہے اور اس پر جو ایمان اسے حاصل ہوتا ہے اس کی وجہ سے اس کا ذکر آتے ہی صفاتِ الٰہیہ کی یاد اس کے دل میں ایسا ہیجان پیدا کر دیتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف کھنچتا ہوا محسوس کرتا ہے اگر کسی شخص سے کوئی پوچھے کہ اللہ کون ہے؟ تو وہ یہی کرے گا کہ اس کی صفات گن دے۔ کہہ دے کہ وہ رَحْمٰن ہے رَحِیْم ہے رَؤُوْف ہے خالق ہے مالک ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کی ذات کا صحیح تصوّر اس کی صفات ہی کے ذریعہ سے ہوتا ہے کیونکہ بندہ کو اس سے تعلق اس کی صفات ہی کے ذریعہ سے پیدا ہوتا ہے ورنہ دوسری اشیاء کو دیکھ کر اصل خیال انہی کا ہو گا نہ کہ خدا کا۔ ہم کس طرح تسلیم کر لیں کہ رَحْمٰن کے لفظ پر غور کر کے یا خدا کی رحمت کے نشانوں پر غور کر کے تو ہمارے دل میں حقیقی جذبہ محبت پیدا نہ ہو لیکن کدو دیکھ کر بجائے کدو کے خیال کے خدا تعالیٰ کا خیال پیدا ہو جائے۔

کیا ہر چیز کو خدا نہ ماننے سے رؤیت الٰہی نہیں ہوسکتی؟

وحدت وجود کے قائل یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر ہر چیز کو خدا نہ مانا جائے تو پھر رؤیت الٰہی کا انکار ہو جائے گا۔ کیونکہ وحدت شہود کے عقیدہ کی رُو سے رؤیت محال ہے حالانکہ رؤیت الٰہی کے سب ائمہ معتقد ہیں۔

مگر میں یہ کہتا ہوں کہ یہ خیال بالکل باطل ہے رؤیت کا اس عقیدہ سے کچھ بھی تعلق نہیں باوجود خدا تعالیٰ کی ذات کو وراء الورٰی ماننے کے پھر بھی رؤیت ممکن ہے اور ہوتی ہے۔ رؤیت یا قلبی ہوتی ہے یا صفات الٰہی کی جلوہ گری کو دیکھ کر یا اس کی صفات کو اپنے اندر جذب کر کے ہوتی ہے اور ان سب صورتوں میں ہرگز یہ ضروری نہیں کہ ہر ذرہ کو خدا سمجھا جائے۔

اگر کہا جائے کہ وحدت الوجود والوں کی رؤیت اعلیٰ ہو گی کیونکہ قلب سے بھی اور آنکھ سے بھی تو میں کہتا ہوں کہ یہ بھی ایک وسوسہ ہے کیونکہ اگر دنیا کو دیکھ کر خدا کی رؤیت ہو جاتی ہے تو اس میں کمال کیا ہے یہ رؤیت تو چوروں اور ڈاکوؤں کو بھی ہوتی ہے کیا دیدارِ الٰہی ایسی حقیر چیز ہے کہ دل میں یہ خیال کر لینا کہ سب کچھ خدا ہے ہمارے لئے کافی ہوتا ہے۔ بس پھر دنیا کی ہر چیز کو دیکھ کر ہمیں رؤیت الٰہی ہوتی رہتی ہے۔

وحدت الوجود کا مسئلہ کہاں سے پیدا ہوا؟

اب میں اس سوال کے متعلق بتانا چاہتا ہوں کہ یہ مسئلہ پیدا کہاں سے ہوا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ باقی تو سب ڈھکوسلے ہیں یہ شبہ فلسفہ کے اس مسئلہ کی وجہ سے ہوا ہے کہ نیست سے ہست کیونکر ہو گیا؟ جو لوگ اس سوال کا جواب نہ دے سکے انہوں نے اس طریق کو اختیار کر لیا کہ دُنیا میں سب کچھ خدا ہی خدا ہے اور یہ عقیدہ بنا کر انہوں نے صوفیاء کے کلام کے اس قسم کے فقرات کو آڑ بنالیا کہ دنیا میں جو کچھ ہے سب خدا ہی خدا ہے اور سب کچھ خدا کا ہی جلوہ ہے حالانکہ محی الدین ابن عربیؒ جن کو اس خیال کا بانی قرار دیا جاتا ہے ان کی کتب میں بھی غیر اللہ کے الفاظ آئے ہیں اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس طرح اس مسئلہ کے قائل نہ تھے۔ دراصل یہ دھوکا ہے جو صوفیاء کے کلام کے متعلق دیا جاتا ہے کیونکہ جس اعلیٰ درجہ کے صوفی کے کلام کو بھی دیکھا جائے یہی معلوم ہو گا کہ اس قسم کا کلام تشبیہی ہوتا ہے ورنہ دراصل بات یہی ہے کہ وہ یہی سمجھتے ہیں کہ خدا اور ہے اور ہم اور۔

وحدتِ شہود کا عقیدہ

وحدت وجود کے مقابلہ میں وحدت شہود کا عقیدہ ہے اس عقیدے کو ماننے والے کئی فرقوں میں منقسم ہیں اول وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ خدا اور ہے اور مخلوق اور ہے اور خدا مجسم ہے محدود ہے عرش پر بیٹھا ہے وہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو ایسا ماننے میں حرج ہی کیا ہے؟ اگر پوچھا جائے کہ کیا خدا کے بھی ہاتھ پاؤں ہیں؟ تو کہتے ہیں ہاں ہیں۔ مگر انسانوں کی نسبت اعلیٰ درجہ کے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ خدا مجسم ہے اور ان کو مجسمتیہ کہتے ہیں۔

دوسرا فرقہ

(۲) ایک اور لوگ ہیں جو اہلحدیث کہلاتے ہیں یا وہ جو علوم کو زیادہ تر ظاہر کی طرف لے گئے ہیں وہ کہتے ہیں خدا وراء الوریٰ ہستی ہے جس نے دنیا کو پیدا کیا ہے اور دنیا اس سے علیحدہ چیز ہے۔ لیکن باوجود وراء الوریٰ ہونے کے ہم کہتے ہیں کہ وہ عرش پر بیٹھا ہے اس کے ہاتھ بھی ہیں اور پاؤں بھی ہیں گو ہم اسے مجسم نہیں مانتے لیکن ہم جائز نہیں سمجھتے کہ جو صفات اس کی قرآن کریم میں آئی ہیں یا حدیثوں میں مروی ہیں ان کی کوئی تاویل کی جائے۔

تیسرا فرقہ

تیسرا فرقہ وہ ہے جو یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ وراء الوریٰ ہے ہم اس کے متعلق صرف اس قدر کہہ سکتے ہیں کہ وہ مخلوق سے بالکل الگ ہے اور یہ کہ اس کی صفات مخلوق کی صفات سے اور طرح کی ہیں ہاتھ وغیرہ کے جو لفظ استعمال ہوئے ہیں یہ سب تشبیہات ہیں۔ مخلوق کیا ہے اس کی نسبت بھی یہی کہہ سکتے ہیں کہ اسے خدا نے پیدا کیا ہے ہم نہیں جانتے کہ کس طرح پیدا کیا ہے میرے نزدیک عوام الناس کے لئے اس سے زیادہ محفوظ عقیدہ نہیں ہو سکتا۔

چوتھا فرقہ

چونکہ تیسرے فرقہ کا جو عقیدہ بتایا گیا ہے گو اپنے ایمان کے لئے کافی ہو سکتا ہے مگر مخالفوں کے حملوں کے جواب میں کچھ نہ کچھ جواب اثباتی پہلو سے بھی دینا پڑتا ہے اس لئے محققین نے پیدائش عالم کے متعلق اور زیادہ وضاحت کی ہے اور آخر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ خدا تعالیٰ نے عدم کے آئینہ پر اپنی صفات کا انعکاس ڈالا اور اس سے مخلوق پیدا ہوئی۔ اس گروہ نے بہت حد تک الحاد کو دُور کیا ہے مگر اس پر بھی یہ اعتراض پڑتا ہے کہ انعکاس کس چیز پر ہوتا ہے۔ عدم کوئی چیز نہیں جس پر انعکاس ہو۔ اس عقیدہ کے پیش کرنے والے بڑے پاٹے کے لوگ ہیں۔ معلوم ہوتا ہے ان پر حقیقت کھلی ہے مگر یا اسے بیان نہیں کر سکے یا اسے استعارہ میں مخفی کر دیا ہے۔

پانچواں عقیدہ

پانچواں عقیدہ یہ ہے کہ دنیا خدا کا غیر ہے لیکن اس کی غیریت اس قسم کی نہیں جس قسم کی کہ انسانی ذہن میں آیا کرتی ہے بلکہ حق یہ ہے کہ جو کچھ دنیا میں ہے یہ خدا تعالیٰ کے علم اور اس کے ارادہ سے پیدا ہوا ہے نہ نیست سے ہوا ہے کہ نیست کوئی چیز نہیں اور نہ ہست سے ہوا ہے کہ خدا کے سوا اور کوئی چیز قائم بالذات نہیں بلکہ جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے خدا تعالیٰ نے کہا کہ اس قسم کی چیز جو اس کے علم میں تھی ظاہر ہو جائے پس اس کی قضاء نے اسے متمثل کر دیا پس جو کچھ بھی دنیا میں ہے یہ سب تمثلات ہیں جو علم الٰہی کے مطابق قضاء الٰہی سے ظاہر ہوئے۔ باقی رہی پوری کیفیت سو کوئی چیز جب تک غیر حادث نہ ہو اپنی پوری کیفیت کو سمجھ ہی نہیں سکتی پس انسان کا یہ خیال کہ وہ اس حقیقت کو پوری طرح پالے گا ایک خواہش ہے جو کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔

پہلے عدم تھا پھر مخلوق پیدا ہوئی

اصل میں سارے شبہات اس بات سے پیدا ہوتے ہیں کہ عدم سے وجود کس طرح ہو جاتا ہے۔ مگر کہیں قرآن کریم میں یہ نہیں لکھا کہ عدم سے وجود ہو گیا۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ یہ چیزیں نہ تھیں اور پھر پیدا ہو گئیں ۔ عدم سے پیدا ہو گئیں۔ یہ ایک فقرہ ہے جس سے دھوکا لگتا ہے حالانکہ جو لوگ واقف ہیں وہ کبھی اس کے یہ معنی نہیں لیتے کہ عدم سے گھڑ کر وجود بنا بلکہ ان کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ پہلے نہ تھیں پھر ہو گئیں۔

آریہ مذہب بھی اس دھوکے کا شکار ہو رہا ہے کہ جب مادہ نہیں تھا تو خدا نے مخلوق کو پیدا کس طرح کیا؟ اس لئے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مادہ کو پیدا نہیں کیا۔ مگر یہ استدلال بالکل غلط ہے۔ خدا تعالیٰ کی صفات کا بندوں کی صفات پر قیاس کرنا ہی غلط ہے۔ کوئی انسان بغیر آنکھ کے نہیں دیکھ سکتا۔ خدا تعالیٰ بغیر آنکھوں کے دیکھ سکتا ہے۔ کوئی چیز دنیا میں مادہ کے بغیر نہیں بن سکتی۔

خدا تعالیٰ کی نسبت آریہ بھی مانتے ہیں کہ بغیر مادہ کے ہے۔ ہمارا تجربہ بتاتا ہے کہ جب کوئی چیز کہیں رکھی ہوئی ہو تو وہ دوسری چیزوں کی راہ میں روک ہوتی ہے اور ان کے دائرہ کو محدود کردیتی ہے۔ مگر باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کے سوا روح اور مادہ کو بھی آریہ مانتے ہیں پھر خدا تعالیٰ کو محدود نہیں مانتے۔ ان امور سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے متعلق ہم ان قوانین کو جاری نہیں کر سکتے جو مادہ اور روح کی حالتوں پر قیاس کر کے ہماری عقل تجویز کرتی ہے۔ جب یہ بات ہے تو یہ کس دلیل سے کہا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ مادہ کو پیدا نہیں کرسکتا۔ اگر اس کی ذات ہماری عقلوں سے بالا ہے تو ہماری عقلوں کے ماتحت اس کے لئے قانون کس طرح بیان کئے جاسکتے ہیں۔

خدا تعالیٰ مادہ کا خالق ہے

یہ بات کہ خدا تعالیٰ مادہ کا خالق ہے یا نہیں؟ اس کا فیصلہ انسانی قواعد اور انسانی طاقتوں کو مدنظر رکھ کر نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے اور طریق ہیں اور میرے نزدیک وہ ایسے سہل ہیں کہ ان پڑھ آدمی بھی ان کے ذریعہ سے حق کو معلوم کر سکتے ہیں۔ دیکھو جب کبھی کسی کھیت کی مینڈھ کے متعلق جھگڑا پیدا ہو جاتا ہے ایک کہتا ہے میری زمین کی اس جگہ پر حد ہے۔ اور دوسرا کہتا ہے یہاں نہیں وہاں ہے تو اس کے فیصلہ کے لئے حدود برآری کرایا کرتے ہیں۔ یہاں بھی مادہ کے متعلق جھگڑا پیدا ہو گیا کہ یہ آپ ہی آپ ہمیشہ سے ہے یا خدا نے اسے پیدا کیا ہے اس کے متعلق بھی حدود برآری کرانے کی ضرورت ہے اور اس طریق کے اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو حدود برآری کے وقت استعمال کیا جاتا ہے زمین کی حدود برآری کے لئے یہی کرتے ہیں کہ ایک مستقل جگہ منتخب کرتے ہیں جو بدلنے والی نہ ہو مثلاً پرانا کنواں یا پرانا درخت۔ کاغذات میں اس کی جو جائے وقوع درج ہوگی اسے اصل قرار دیکر حدود برآری کریں گے اس کنویں یا درخت کے آگے جس قدر زمین سرکاری کاغذات میں لکھی ہو اس کے مطابق ناپ لیں گے پھر جس قدر زمین کسی کے قبضہ میں ثابت ہو اسے دے دیں گے۔

اسی طرح صفات باری کے متعلق ہم غور کر سکتے ہیں یعنی ایسے امور کو لیکر جو مسلمہ ہیں ہم غور کریں کہ وہ مختلف فیہ مسئلہ کی کس شق کی تائید کرتے ہیں جس خیال اور رائے کی مسلمہ اُمور تائید کریں وہی تسلیم کرنی ہوگی کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا کہ جس رائے کی دوسرے امور تائید کریں وہ غلط ہو اور جس کی دوسرے امور تردید کریں وہ صحیح ہو۔ یہ اسی طرح ناممکن ہے کہ جس طرح یہ ناممکن ہے کہ مختلف درختوں سے پیمائش کے بعد جو جگہ کھیت کی ثابت ہو وہ غلط ہو اور محض خیالی اور وہی مقام درست ہو۔

اس مسئلہ میں جن مقامات کو ہم حدود برآری کے لئے چُن سکتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی دوسری صفات ہیں اگر خدا تعالیٰ کی وہ صفات جن کے متعلق آریہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس کے اندر پائی جاتی ہیں وہ اس امر کی تائید کریں کہ خدا تعالیٰ مادہ کا خالق ہے تو پھر ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ مادہ کا خالق ہے لیکن اگر وہ اس خیال کو رد کریں تو ماننا پڑے گا کہ وہ مادہ کا خالق نہیں ہے۔

خدا کی صفت علیم مادہ کے مخلوق ہونے پر دلالت کرتی ہے

میں ان صفات میں سے جو میرے نزدیک اس سوال پر روشنی ڈالتی ہیں خدا تعالیٰ کی صفتِ علیم کو سب سے پہلے پیش کرتا ہوں آریہ لوگ بھی خدا تعالیٰ کو اس طرح علیم مانتے ہیں جس طرح کہ ہم مانتے ہیں وہ تسلیم کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو ہر اک بات کا علم ہے اور اس کا علم کامل ہے۔ پس خدا تعالیٰ کے خالقِ مادہ ہونے کے سوال کی صحیح حد برآری کرنے کے لئے علیم کامل ایسی صفت ہے جس پر کامل طور پر یقین کیا جا سکتا ہے کیونکہ دونوں فریق تسلیم کرتے ہیں کہ یہ غیر متبدل مقام ہے اس کے حقیقی ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اب اگر غور سے کام لیا جائے تو علم کامل کے معنے یہ ہیں کہ جس چیز کی نسبت علم کامل ہو اس کے بنانے کی بھی قابلیت ہو۔ چنانچہ سینکڑوں چیزیں جو پہلے طبعی قوانین کے ماتحت دنیا میں پیدا ہوتی تھیں ان کے متعلق یورپ والوں نے علم کامل حاصل کر کے ان کو بنانا شروع کر دیا ہے نیل جسے پہلے بویا جاتا تھا جرمن والے اب اسے بنا رہے ہیں۔ عطر جو پہلے پھولوں سے بنائے جاتے تھے جرمن میں اب ان میں سے اکثر کیمیائی ترکیبوں سے بنائے جاتے ہیں کیونکہ خوشبو جن ترکیبوں سے پیدا ہوتی ہے وہ جرمن والوں کو معلوم ہو گئی ہے وہ مختلف ادویہ کو ملا کر جس پھول کی خوشبو چاہتے ہیں بنا لیتے ہیں۔ اسی طرح اور بہت سی چیزیں ہیں جو اب مصنوعی بننے لگ گئی ہیں جیسے ریشم وغیرہ غرض ان امور سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کو کسی چیز کا کامل علم ہو وہ اس کے بنانے پر بھی قادر ہوتا ہے اس بات کے ثابت ہو جانے کے بعد اس میں کوئی بھی شبہ نہیں رہتا کہ اگر خدا تعالیٰ کو علیم کامل ہے تو یقیناً وہ مادہ کے بنانے پر بھی قادر ہے اور اگر وہ مادے کے بنانے پر قادر نہیں تو اس کا علم بھی کامل نہیں پس صفت علم جو ہمارے اور آریوں کی مسلمہ ہے وہ اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ کو مادہ پیدا کرنے پر قادر ہونا چاہئے ۔


صفت مالکیت سے مادہ کے مخلوق ہونے کا ثبوت

اب بھی اگر کسی کی تسلی نہ ہو تو پھر کسی اور صفت کو مستقل قرار دیکر پیمائش شروع کی جاسکتی ہے۔ میں اس غرض کے لئے خداتعالیٰ کی صفت مالکیت کو لیتا ہوں۔ اس صفت کو ہم بھی مانتے ہیں اور فریق مخالف بھی۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ملکیت کس طرح پیدا ہوتی ہے؟ ملکیت یا تو اس طرح پیدا ہوتی ہے کہ کوئی شخص ورثہ سے کوئی چیز حاصل کرتا ہے یا کوئی اسے دیتا ہے یا وہ خریدتا ہے یا خود بناتا ہے یہی چار ذریعے ملکیت کے ہیں یعنی ورثہ، تحفہ، خرید اور خلق یا صنعت۔ خداتعالیٰ جو مالک کہلاتا ہے تو کس لحاظ سے آیا اسے مادہ ورثہ میں ملا ہے یا اسے کسی نے تحفہ دیا ہے یا اس نے خریدا ہے یا بنایا ہے آریہ لوگ بھی اس امر کو تسلیم نہیں کرتے کہ پہلے تین ذریعوں سے خدا کو مادہ پر ملکیت حاصل ہوتی ہے اس لئے اگر وہ مالک ہے تو ماننا پڑے گا کہ اسے ملکیت پیدا کرنے کے سبب سے حاصل ہوئی ہے اور اگر یہ ثابت نہیں ہے تو خداتعالیٰ مادہ کا مالک نہیں ہے بلکہ نعوذ باللہ غاصب ہے۔

خداتعالیٰ کی دیگر صفات سے مادہ کے مخلوق ہونے کا ثبوت

اسی طرح اللہ تعالیٰ کی دوسری صفات لے کر جب اس مسئلہ کو حل کیا جائے تو آخری نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ مادہ مخلوق ہے مثلاً خدا قادر ہے آریہ لوگ بھی خدا کو قادر مانتے ہیں اور ہم بھی لیکن اگر خدا مادہ کو پیدا نہیں کر سکتا تو اس کی قدرت کامل نہ ہوئی وہ کہتے ہیں کہ روح و مادہ کا جوڑنا خدا کی قدرت ہے مگر ان کا بنانا اس سے بھی اعلیٰ قدرت ہے اس لئے یہی درست ہے کہ خدا نے مادہ پیدا کیا پھر وہ کہتے ہیں کہ خدا مہربان اور رحیم ہے ہم بھی یہ مانتے ہیں مگر ہم پوچھتے ہیں اگر خدا روح اور مادہ کا خالق نہیں تو اس کا کیا حق ہے کہ روح اور مادہ کو کسی سبب سے سزا دے جب وہ اپنے وجود میں اس کے محتاج ہی نہیں تو خداتعالیٰ کا یہ بھی حق نہیں کہ ان کے لئے کوئی قانون بنائے اور جب اس کا یہ حق نہیں کہ ان کے لئے کوئی قانون بنائے تو اسے یہ بھی حق نہیں کہ اس قانون کے توڑنے پر انہیں کوئی سزا دے۔ جوڑنے جوڑنے سے ہرگز سزا دینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہو جاتا کیونکہ سزا کا حق تو بادشاہت سے حاصل ہوتا ہے اور وہ اسے حاصل نہیں کیونکہ نہ اس نے روح و مادہ کو پیدا کیا نہ انہوں نے اپنا اختیار اس کے ہاتھ میں دیا۔ غرض روح و مادہ کو اگر مخلوق نہ مانا جائے تو خداتعالیٰ رحیم نہیں بلکہ ظالم قرار پاتا ہے لیکن چونکہ آریہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ خدا رحیم ہے اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ خداتعالیٰ مادہ کا خالق ہے۔

ان چاروں حدود سے مادہ کا مخلوق ہونا ثابت ہو گیا۔ اب بھی اگر کوئی کہے کہ خدا نے مادہ کو پیدا نہیں کیا تو نہی کہیں گے کہ یہ خیال تمہاری سمجھ کے قصور سے پیدا ہوا ہے۔

خدا تعالیٰ کی بعض صفات پر اعتراضات اور ان کے جواب

اب میں چند موٹے موٹے اعتراضات جو صفاتِ الٰہیہ پر کئے جاتے ہیں انہیں لے کر ان کے جواب دیتا ہوں یہ اعتراضات زیادہ تر دہریوں کی طرف سے کئے جاتے ہیں اور بعض فلسفیوں کی طرف سے جو گو خدا کے قائل ہیں مگر قادر و قدیر خدا کو ماننے سے گھبراتے ہیں۔

خدا تعالیٰ کی صفاتِ رحمت پر اعتراض

پہلا اور اصولی سوال خدا تعالیٰ کی صفاتِ رحمت پر ہے کہا جاتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ واقع میں انہی صفاتِ رحمت کا مالک ہے جو اس کی طرف منسوب کی جاتی ہیں تو کیا سبب ہے کہ دُنیا میں قسم قسم کی بلائیں اور تکالیف نظر آتی ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ اس نے شیر چیتے سانپ اور اسی قسم کے اور موذی جانور پیدا کئے ہیں؟

اہلِ یورپ کا جواب

یورپ والے تو اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ خدا کو جو کچھ مل سکا اس سے جو بہتر صورت بنی وہ اس نے بنا دی۔ اس میں اس کا کیا قصور ہے۔ جیسا مادہ تھا ویسی چیز بنا دی۔ مادہ کا پیدا کرنا اس کے اختیار میں نہ تھا اس لئے اس نے جو اچھی سے اچھی صورت ہو سکتی تھی وہ بنا دی۔ گویا ان لوگوں نے اس اعتراض کو دور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی قدرت کا ہی انکار کر دیا ہے۔ بعض اہلِ یورپ یہ جواب دیتے ہیں کہ ان بحثوں میں پڑنا فضول ہے۔ واقع یہ ہے کہ خدا کارحم قانونِ قدرت میں نظر آتا ہے اسی طرح شیر و چیتے بھی نظر آتے ہیں۔ یہ واقعات سب کے سامنے ہیں وجہ دریافت کرنے کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔

اہلِ ہند کا جواب

اہلِ ہند نے اس سوال کو اس طرح حل کیا ہے کہ خدا نے شیر چیتے یونہی نہیں بنائے۔ جن روحوں سے قصور ہو گئے۔ ان کو بطور سزا کے ایسے جانور بنا دیا۔ اس سے خدا کے عدل اور رحم پر کوئی حرف نہیں آتا۔ کیونکہ ہر ایک چیز اپنے اپنے اعمال کی وجہ سے اچھی اور بُری بنی ہے۔ اگر شیر بکری کو کھاتا ہے۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اگلے جنم میں بکری نے شیر کو کھایا ہو گا۔ یا کوئی اور قصور کیا ہو گا۔ گویا یورپ والوں اور ہندوؤں نے یہ مان لیا ہے کہ مخلوق میں ظلم نظر آرہا ہے۔ آگے یورپ والوں نے کہہ دیا کہ خدا مجبور تھا جو کچھ اس سے بن سکا وہ اس نے بنا دیا اور یہاں کے لوگوں نے کہہ دیا خدا کیا کرتا بندوں نے خود جو کچھ کیا اس کا بدلہ پارہے ہیں۔

حقیقی جواب

اس کا جواب اوّل تو یہ ہے کہ دنیا میں دیکھو کوئی رحم بھی نظر آتا ہے یا سب ظلم ہی ظلم ہے؟ اگر رحم نظر آتا ہے تو معلوم ہوا کہ خدا رحیم ہے باقی اگر ایسی چیزیں ہیں جو رحم کے نیچے نہیں آتیں تو ان کے متعلق یہ سمجھنا چاہئے کہ ان کا ہمیں علم نہیں کہ رحم کے نیچے کس طرح آتی ہیں؟ کیونکہ دوسری صفات سے خدا کا رحیم ہونا ثابت ہے اور جن سے ثابت نہیں ان سے معلوم کرنا باقی ہے اور عدمِ علم سے عدمِ شئے لازم نہیں آتی۔

دوسرا جواب

یہ ہے جو خدا تعالیٰ نے قرآن میں دیا ہے وَمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَلَا طٰٓئِرٍ یَّطِیۡرُ بِجَنَاحَیۡہِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمۡثَالُکُمۡ ؕ مَا فَرَّطۡنَا فِی الۡکِتٰبِ مِنۡ شَیۡءٍ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ یُحۡشَرُوۡنَ(الانعام: ۳۹) خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم ہی تو مخلوق نہیں ہو اور بھی مخلوق ہے جس طرح تمہارے پیدا کرنے میں حکمت ہے اسی طرح ان کے پیدا کرنے میں بھی حکمت ہے اگر تمہارے لئے ان کو مسخر کر دیا گیا ہے تو ان کے مسخر ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا کوئی مستقل وجود نہیں بلکہ ان کے وجود سے بھی بعض خدا کی صفات کا ظہور ہو رہا ہے۔

تیسرا جواب

یہ ہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ بعض چیزیں مفید نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ ہمیں ان کے فائدے معلوم نہیں ہوتے اس لئے ان کو نقصان رساں سمجھتے ہیں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ہر ایک چیز تمہارے فائدہ کے لئے پیدا کی ہے اس لئے یہ کہنا درست نہیں کہ بعض چیزیں صرف ضرر رساں ہیں دنیا کی کون سی چیز ہے جس کا صرف نفع ہی ہوتا ہے مگر با وجود اس کے بعض چیزوں کو اچھا کہا جاتا ہے یہ ضرر رساں جانور بھی اپنے اندر فائدے رکھتے ہیں۔ سانپ کا زہر بیسیوں بیماریوں میں مفید ہے شیر کی چربی بیسیوں بیماریوں میں مفید ہے اسی طرح اور بہت سے موذی جانور ہیں جن کے بہت سے فوائد دریافت ہوئے ہیں اور ابھی اکثر حصہ پوشیدہ ہے ابھی علوم چونکہ ابتدائی حالت میں ہیں اس لئے ان کی بناء پر یہ کہنا کہ فلاں چیز مضر ہے درست نہیں بہت سی چیزیں پہلے بے فائدہ سمجھی جاتی تھیں اب مفید ثابت ہو رہی ہیں اسی طرح کئی چیزیں پہلے موذی خیال کی جاتی تھیں اب ان کے فوائد ظاہر ہو رہے ہیں پس اپنے ناقص علم کی وجہ سے ان چیزوں کی نسبت کہنا کہ یہ صرف مُضِر ہیں درست نہیں۔

چوتھا جواب

یہ ہے کہ خدا تعالیٰ رحیم ہے مگر اپنے خزانوں کو حکمت کے ماتحت تقسیم کرتا ہے اور اس بناء پر کوئی عقلمند اس کی نسبت اعتراض نہیں کر سکتا۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ فلاں شخص ظالم ہے کیونکہ اس نے مجھے دس روپے دیئے ہیں سو نہیں دیئے حالانکہ اس کے گھر میں روپے موجود تھے ہرگز نہیں کیونکہ اس کا دس روپے دینا اس کی رحیمی پر دال ہے نہ کہ ظلم پر۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے چیزوں میں بعض فوائد رکھے ہیں اور بعض مضرتیں۔ مضرتوں سے علیحدہ رہو اور جتنے فوائد دیئے ہیں ان کو رحیم سمجھ کر ان سے فائدہ اٹھاؤ۔ کوئی فقیر نہیں کہے گا کہ فلاں شخص ظالم ہے کیونکہ اس نے مجھے ۸؍ آنے دیئے ہیں روپیہ نہیں دیا۔ دینے والے کا رحم ان آٹھ آنوں سے ظاہر ہوتا ہے جو اس نے دیئے ہیں لیکن اس کا ظلم ہرگز اس ہزار روپیہ سے ظاہر نہیں ہوتا جو اس نے نہیں دیا۔

پانچواں جواب

یہ کہ مضرتوں کو خدا تعالیٰ نے اس لئے بنایا ہے تا ظاہر فرمائے کہ کون سے لوگ ناشکرے ہیں پس مضرتوں کا یہ بھی فائدہ ہے کہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ کس کی محبت خود غرضانہ ہے اور کس کا تعلق مخلصانہ۔ کئی لوگ ہوتے ہیں جو آرام اور آسائش میں تو خدا تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں لیکن تکلیف پر شور مچا دیتے ہیں۔ لیکن ایسے بھی ہوتے ہیں جو تکلیف کے وقت بھی خدا کو نہیں بھولتے اور دراصل یہی خدا کے پیارے اور محبوب ہوتے ہیں۔ حضرت لقمان کا واقعہ لکھا ہے کہ وہ ایک دفعہ گرفتار ہو کر کسی کے پاس بک گئے مگر جس مالک کے پاس گئے وہ ان سے بہت اچھا سلوک کرتا تھا۔ ایک دن اس کے پاس بے فصل کا خربوزہ تحفہ آیا اس نے اس میں سے ایک پھانک کاٹ کر انہیں کھانے کے لئے دی جسے انہوں نے بہت ہی مزے سے کھایا۔ اس نے یہ خیال کر کے کہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ خربوزہ انہیں بہت پسند آیا ہے ایک پھانک کاٹ کر اور دی وہ بھی انہوں نے خوب مزے سے کھائی اس نے ایک پھانک اور دی اور اس کے بعد خود شوق سے ایک پھانک کا ٹکڑا منہ میں ڈالا لیکن اسے وہ خربوزہ ایسا بدمزا معلوم ہوا کہ فوراً قے آگئی۔ اس نے حضرت لقمان سے پوچھا کہ ایسا کڑوا خربوزہ تم مزے لے لے کر کیوں کھاتے رہے؟ کیوں نہ مجھے بتایا کہ میں بار بار پھانکیں کاٹ کر تمہیں

دیتا رہا۔ انہوں نے کہا اسی ہاتھ سے میں نے کثرت سے میٹھی چیزیں کھائی ہیں اگر ایک چیز کڑوی بھی مل گئی تو کیا حرج تھا۔ کیا میں ایسا ناشکر گذار تھا کہ اتنی میٹھی چیزیں کھانے کے بعد ایک کڑوی چیز ملنے پر شور مچا دیتا ؟

غرض شکر گذاری کا پتہ مضرّتوں سے ہی لگتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے مضرّتیں بھی پیدا کی ہیں تاکہ اس نے بندوں پر جو احسان کئے ہیں ان کے ذریعہ سے دیکھے کہ بندے ان احسانات کی کیا قدر کرتے ہیں اور ان میں سے کون سے شکر کے جذبہ کو قائم رکھتے اور کون سے شور مچا دیتے ہیں۔

چھٹا جواب

یہ ہے کہ موذی اشیاء کو خدا تعالیٰ نے اس لئے بنایا ہے کہ انسانی فطرت ادنیٰ حالت میں ڈر کی محتاج ہے اور خدا کی طرف لانے کے لئے مصیبتیں آتی ہیں تاکہ ان کے ڈر کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا ہو۔ جیسے ایک چھوٹا بچہ کہیں جانے لگے اور اسے اِدھر اُدھر سے ڈرایا جائے تو سیدھا جاتا ہے اور کسی گڑھے وغیرہ میں گرنے سے محفوظ رہتا ہے یا اس طرح کہ جب کوئی جانور ٹیڑھا جا رہا ہو اور اسے اِدھر اُدھر جانے سے ڈنڈے کے ذریعہ روک دیا جائے تو سیدھا جاتا ہے۔ مگر وہ اشیاء بھی ایک قسم کے ڈنڈے ہیں جو انسانوں کو سیدھا چلانے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں، اگر یہ نہ ہوں تو اکثر لوگ جو سیدھے چلتے ہیں ٹیڑھے رستہ پر نکل جائیں۔

اگر کہا جائے کہ اچھا ڈر پیدا کیا ہے کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری۔ اگر کسی کو شیر کھا جائے یا بیمار مر جائے تو اس کو ڈرانے نے کیا فائدہ دیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر کسی پر شیر نے یا بیماری نے ایسا حملہ کیا کہ وہ مر گیا تو اگر اس حملہ کے وقت اس نے ڈر کر اپنے گناہوں سے توبہ کر لی تو وہ خدا کے انعام کے نیچے آگیا اور اگر اس وقت بھی وہ اپنی شرارت پر مستقل رہا تو پھر ضروری تھا کہ اس کو سزا ملتی۔ اس پر شکوہ کیسا ؟

پھر دنیا میں ہم دیکھتے ہیں ادنیٰ چیز اعلیٰ کے لئے قربان ہوتی ہے۔ اگر اس کے مرنے سے دوسروں کو عبرت حاصل ہو جائے تو پھر کیا ہوا اگر وہ مر گیا اس کے مرنے پر کئی دوسرے بچ جاتے ہیں۔

ساتواں جواب

یہ ہے کہ ان چیزوں کو خدا نے اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ رحیم ہی نہیں بلکہ شدید العقاب بھی ہے۔ جو شریر ہوتے ہیں وہ ان کو ان چیزوں کے ذریعہ سزا دیتا ہے۔ اگر بھیڑیا نہ پیدا ہوتا تو وہ شخص جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف شرارت کرنے پر بھیڑیے نے چیرا کس طرح یہ سزا پاتا ؟ یا اگر طاعون نہ ہوتی تو مسیح موعود کے مخالفوں پر

کس طرح عذاب آتا؟ پس جس طرح خدا تعالیٰ کی رحمیت کی صفت چاہتی ہے کہ بندوں پر جلوہ کرے اور انہیں آرام و آسائش پہنچائے۔ اسی طرح اس کی شدید العقاب کی صفت کا جلوہ ہونا بھی ضروری تھا اور وہ اسی قسم کی چیزوں کے ذریعہ ظاہر ہو سکتی ہے جنہیں نقصان رساں سمجھا جاتا ہے۔

خدا تعالیٰ کی اس صفت پر اعتراض کرنے والوں کی حالت تو ایسی ہی ہے جیسے شتر مرغ کے متعلق ایک مثال بنی ہوئی ہے کہ اسے کسی نے کہا تھا کہ تو مرغ ہو کر اُڑتا کیوں نہیں؟ کہنے لگا احمق کبھی اونٹ بھی اُڑا کرتے ہیں؟ اس نے کہا اگر تجھے اونٹ ہونے کا دعویٰ ہے تو آ پھر ہم تجھ پر بوجھ لادیں۔ کہنے لگا کبھی پرندے پر بھی کسی نے بوجھ لادا ہے؟ وہ اڑنے کے وقت اونٹ بن گیا اور بوجھ لادنے کے وقت پرندہ۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے۔ اگر خدا تعالیٰ میں رحم ہی رحم ہوتا تو کہتے اس میں سزا دینے کی طاقت کیوں نہیں ہے اور جب کہ اس میں سزا دینے کی طاقت بھی ہے تو کہتے ہیں یہ کیوں ہے؟

آٹھواں جواب

یہ ہے کہ جب انسان عسر یسر سے گذرتے وقت صبر و استقامت سے کام لیتا ہے تو اس پر ترقی کے دروازے کھولے جاتے ہیں کیونکہ تمام ترقیات کے پانے کا ذریعہ تنگی اور مشکلات ہی ہیں، اور جو انسان ان میں سے کامیابی کے ساتھ گزرتا ہے وہی خدا کا قرب پا سکتا ہے۔ پس اگر مشکلات نہ ہوتیں تو گویا انسان کو پیدا ہی نہ کیا جاتا کیونکہ اگر تکلیفیں نہ ہوتیں اور ان میں انسان نہ پڑتا تو اس کو خدا کے انعام کس طرح ملتے اور جس غرض کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے وہ کس طرح پوری ہوتی۔ دیکھو سکولوں میں لڑکوں کو دوڑاتے ہیں اگر کوئی لڑکا نہ دوڑے تو اس کے لئے انعام کیسا؟ دوڑنے میں بھی تکلیف ہوتی ہے۔ مگر جو دوڑتا ہے اسی کو انعام ملتا ہے اور تکلیف کے مطابق ہی ملتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ کا قرب جیسا بڑا انعام ہے ویسی ہی بڑی اس کے لئے تکالیف بھی ہیں۔

پھر کہتے ہیں جو لوگ اس طرح مرتے ہیں ان کے رشتہ دار کیا کہتے ہوں گے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ یا تو خدا کو ماننے والے یا نہ ماننے والے۔ ماننے والے تو کہیں گے کہ خدا کے قانونِ قدرت کے ماتحت اپنے عمل کے مطابق یا خدا کی خاص حکمت کے ماتحت مرنے والے نے جان دی ہے اور جو نہیں مانتے انہوں نے جب خدا کو مانا ہی نہیں تو انہوں نے کیا کہنا ہے وہ اپنے ذہنی قانون قدرت کو گالیاں دیتے ہوں گے۔

دیگر اشیاء کے پیدا کرنے کی وجہ

کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ مخلوق تو وہ ہے جو ذی روح ہے ان کے متعلق تم نے کہہ لیا کہ اس کی اپنی جداگانہ ہستی بھی ہے لیکن بجلی وغیرہ نقصان رساں چیزیں کیوں پیدا کی گئی ہیں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی چیزیں بھی خدا تعالیٰ کے قانون کے ماتحت پیدا ہوئی ہیں اور ہمیشہ سے موجود ہیں یہ نہیں ہوتا کہ جب کسی پر بجلی گرنی ہوتی ہے اس وقت اسے پیدا کر کے بھیجتا ہے اس نے ایک قانون بنا دیا ہے اس قانون کے خلاف جو چلتا ہے وہ ہلاک ہوتا ہے۔ پھر ایسی چیزوں میں فائدے بھی ہوتے ہیں بلکہ ان کا فائدہ زیادہ ہے اور نقصان کم ہے۔ مثلاً طبعی طور پر جو دلوں کو ڈرانے والی چیزیں ہیں ان میں سے سب سے زیادہ خطرناک زلزلہ ہے مگر یہی زلزلہ ہے جس کے ذریعہ سے دنیا قابل رہائش بنی ہے اور اب بھی اس کے ذریعہ سے تغیرات پیدا ہو رہے ہیں جن میں سے بعض کو سائنس دان سمجھتے ہیں اور بعض ابھی ان پر بھی مخفی ہیں۔ درحقیقت زلزلہ دنیا کی زندگی کو لمبا کرنے کے لئے آتا ہے اور اس کے ذریعہ سے انسان کے لئے ضروری اشیاء کے خزینے پیدا کرنے یا انہیں محفوظ رکھنے کا سامان پیدا کیا جاتا ہے۔ انبیاء کے وقت اسی لئے زلزلے آتے ہیں کہ دنیا کے قیام کی صورت پیدا ہو۔ اسی طرح اگر کسی پر بجلی گرتی ہے تو اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ ایسا شخص ایک عام قانون کی زد میں آگیا ہے اگر وہ مومن ہے تو اس کو اس کا بدلہ آخرت میں مل جائے گا۔ اور اگر کافر ہے تو اس کو اس کے اعمال کی سزا مل گئی۔ مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بجلی سے اگر ایک آدمی مرتا ہے تو لاکھوں کی جان بچتی ہے کیونکہ بجلیوں کے ذریعہ سے ہزاروں قسم کے زہر اور زہریلے جرمزمرتے ہیں۔ اسی بجلی سے روشنی لی جاتی ہے، ریلیں چلائی جاتی ہیں، کارخانے چلائے جاتے ہیں، لاکھوں آدمی ان بجلی کے کارخانوں میں ملازمت کر کے روٹی کماتے اور زندگی بسر کرتے ہیں، پھر ہزاروں بیماریوں سے لوگ اس کے ذریعہ شفاء پاتے ہیں، کئی بیماریاں اس کے ذریعہ دور ہو جاتی ہیں۔ اس کی موتیں ان لوگوں کو نظر آتی ہیں مگر اس کے زندگی بخش اثر نظر نہیں آتے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اعتراض کرنے سے غرض ہے احقاقِ حق سے غرض نہیں۔

بیماریاں کیا ہیں اور کیوں ہیں؟

دہریے یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ اچھا، بجلی، زلزلہ وغیرہ میں اور موذی جانوروں میں تو حکمتیں ہیں مگر بیماریاں کیوں پیدا کی گئی ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ بیماری کیا چیز ہے؟ اول جب

کسی جگہ زائد فضلہ جمع ہو جائے تو اس کا نام بیماری ہے۔ دوسرے انسان کا جسم کچھ چیزوں سے مل کر بنا ہے ان میں سے اگر کوئی چیز اپنی مقدار کے لحاظ سے کم ہو جائے تو یہ بیماری ہے۔

تیسرے بیرونی چیزوں کے اثرات انسان پر پڑتے ہیں۔ مثلاً انسان کھاتا ہے، سانس لیتا ہے، سونگھتا ہے، پیتا ہے، اس کے جسم کا فعل کبھی تیز ہو جاتا ہے کبھی سست اسی کا نام بیماری ہے۔

فضلہ کی زیادتی سے بیماری

اب ہم ان کے متعلق الگ الگ بحث کرتے ہیں فضلہ کی پیدائش کیوں اور کس طرح ہوتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پانی یا روٹی زیادہ کھا پی لے یا کوئی ایسی چیز کھا لے کہ جس کو معدہ ہضم نہ کر سکتا ہو اور سدا بن جائے جیسے گھر کی نالی میں جب کوئی اینٹ روڑا آ جاتا ہے تو پانی باہر نہیں نکل سکتا اسی طرح پیٹ میں کوئی ایسی چیز ڈال لی گئی جو پھنس گئی۔ اب بیماری کے نہ ہونے کے کیا معنی ہوئے کیا یہی نہیں کہ اس کے جسم میں کبھی بھی فضلہ جمع نہ ہوتا جس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنی ہیں کہ انسان خواہ کس قدر بھی کھا جاتا اسے پچ جانا چاہئے تھا۔ اب اس قانون کے ماتحت دنیا کو چلا کر دیکھو تو کس قدر جلد اس پر تباہی آ جاتی ہے۔ اب تو یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص ایک حد تک کھا کر چھوڑ دیتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ گو منہ کو مزا آ رہا ہے لیکن انجام کار اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا اور جسم میں بیماری پیدا ہو جائے گی لیکن اگر زیادہ کھانے سے بیمار نہ ہوتا تو ایک ہی شخص سینکڑوں آدمیوں کا کھانا کھا جاتا اور پھر بھی سیر نہ ہوتا۔ یا پھر یہ تجویز کی جا سکتی کہ انسان کچھ کھاتا پیتا ہی نہ جس کا یہ مطلب ہے کہ وہ ہر قسم کے تغیر سے محفوظ ہوتا اور گویا خدا ہوتا پھر ایسے انسان کی پیدائش کا مقصد کیا ہوتا؟ مگر اس کے علاوہ بھی میں کہتا ہوں کہ اس حالت کو فرض کر کے ذرا انسانوں سے یہ پوچھ کر تو دیکھو کہ اگر تمہیں سب میٹھی کھٹی نمکین چیزیں کھانے سے روک دیا جائے اور پھر تمہیں کوئی بیماری نہ ہو تو کیا اسے پسند کرو گے؟ اس کا جواب وہ یہی دیں گے کہ یہ تو خود ایک بیماری ہے اس میں مبتلاء ہونا کون پسند کرے گا۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے ایک ایسا شخص جو ناک کے ذریعہ بو کو بھی سونگھ سکے اور بد بو کو بھی اس کو کہا جائے کہ آؤ تمہاری سونگھنے کی قوت ضائع کر دی جائے تا کہ نہ تم خوشبو سونگھ سکو اور نہ بدبو وہ آدمی خوش نہیں ہو گا بلکہ اسے گالی سمجھ کر لڑنے پر آمادہ ہو جائے گا۔

اور اگر یہ کہا جائے کہ زیادہ کھانے کی کسی کو توفیق ہی نہ ملتی۔ جب کوئی شخص ایک یا دو یا تین یا چار روٹیاں حسب استعداد کھا لیتا تو فرشتہ آ جاتا اور آ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیتا اور کہہ دیتا کہ بس اب نہ کھانا ورنہ فضلہ پیدا ہو کر بیمار ہو جاؤ گے۔ مگر اس طرح تو گویا خدا ہی ان کے پاس آ جاتا اور انسان کے لئے امتحان کی کوئی صورت ہی باقی نہ رہتی اور اس کی پیدائش کی غرض باطل ہو جاتی اس کے دائیں اور بائیں فرشتے ہوتے جو ہر وقت اسے ٹوکتے رہتے کہ یہ نہ کھانا وہ نہ کھانا اتنا نہ کھاؤ اتنا کھاؤ۔ فرض کرو ایک چیز آدمی کو کھانی مناسب نہ ہوتی مثلاً یہی فرض کر لو کہ ایک شخص کے لئے کدو مضر ہوتا جب وہ بازار سے خریدتا جھٹ ایک فرشتہ آتا اور اس سے چھین کر دکاندار کو واپس کرتا اور اس سے پیسے چھین کر اسے لا کر دیتا۔ غرض یہ عجیب قسم کا کھیل بن جاتا جس سے انسان کی پیدائش کی غرض بالکل ہی باطل ہو جاتی۔

معترض کہتے ہیں کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ معدہ ہی ایسا بنا دیا جاتا کہ جس قدر انسان کے جسم کے لئے ضرورت ہوتی اتنی چیز جذب کر لیتا اور باقی نکال دیتا لیکن اس کا مطلب یہ ہوا کہ معدہ کے اندر بھی ایک دماغ بنایا جاتا جو موجودہ دماغ سے بھی اعلیٰ ہوتا اور اسے پوری طرح طب کا علم بھی ہوتا کہ جو چیز مضر ہوتی فوراً اسے نکال کر باہر پھینک دیتا مگر کیا اس سے انسان کی انسانیت کچھ باقی رہ جاتی کیا وہ ایک مکمل مشین نہ بن جاتا جس کا اس کے اعمال پر کچھ بھی تصرف نہ ہوتا اور جب اس کا اس کے اعمال پر تصرف نہ ہوتا تو وہ ترقیات کا مستحق کس طرح بنتا اور پھر کیا جو چیز مضر معدہ میں جاتی اس کا نکال کر پھینک دینا خود ایک تکلیف دہ عمل اور بیماری نہ کہلاتا۔

خارجی اثرات سے بیماری

پھر بیماری خارجی اثرات سے پیدا ہوتی ہے مثلاً سردی لگ جاتی ہے جس سے کبھی گردوں میں درد ہو جاتی ہے یا کوئی اور تکلیف پیدا ہو جاتی ہے اس لئے بیماری نہ ہونے کے یہ معنی ہوئے کہ کوئی اثر انسان محسوس نہ کرتا نہ اسے سردی لگتی نہ گرمی۔ گویا ایک نئی قسم کا انسان ہوتا گرم گرم روٹی اور ٹھنڈا پانی اس کے لئے کوئی حقیقت نہ رکھتا۔ گرم لحاف اور پہاڑوں کی خوش کن ٹھنڈی ہوا اس کے لئے بے حقیقت ہوتی کیونکہ اس پر سردی گرمی کا کوئی اثر نہ ہو سکتا۔ اب کسی سے دریافت کرو کہ آیا وہ یہ پسند کرتا ہے کہ اسے کبھی کوئی بیماری نہ ہو اور اس کی ساری حسیں ماری جائیں یا حسوں کا باقی رہنا اور بیماری کا امکان پسند کرتا ہے؟

پھر زبان ناک وغیرہ کی جو حسیں ہیں ان کا غلط استعمال بیماری پیدا کرتا ہے، زبان کا مزا بعض دفعہ طاقت سے زیادہ کھانے کا موجب ہوتا ہے۔ بیماری کے اسباب کے مٹانے کے یہ معنی ہیں کہ زبان کا مزا باطل کر دیا جائے مٹی اور شکر انسان کے منہ میں یکساں معلوم ہوں کڑوا اور میٹھا دونوں اس کے لئے برابر ہوں؟ وہ انسان جو بیماری کا شکار ہوتا ہے اس سے پوچھ کر دیکھو تو کیا وہ موجودہ حالت کو پسند کرتا ہے یا اس قسم کی حالت کو جو دہر یہ تجویز کرتے ہیں۔

پھر بیماری کا باعث جسم کی وہ حس ہے جس سے وہ سختی اور نرمی کو محسوس کرتا ہے یا انسان کے جسم کی نرمی ہے جس سے وہ اپنی ذات میں آرام محسوس کرتا ہے اس نرم جسم پر اگر زور سے چوٹ لگے تو وہ زخمی بھی ہو گا۔ بیماری کے اسباب کے مٹانے کے ایک یہ معنی بھی ہوں گے کہ ان حستوں کو مٹا دیا جائے مگر ان کو مٹا کر دیکھو کیا نتیجہ نکلے گا۔ اپنے عزیزوں کو ہاتھ لگائے گا اور ان کے جسم کو پتھر کی طرح سخت پائے گا بلکہ اپنے جسم میں حس نہ ہو گی اور کچھ محسوس ہی نہیں کرے گا جس طرح فالج زدہ کے جسم کو کوئی چیز چھوتی ہے اور وہ کچھ محسوس نہیں کرتا کیا کوئی شخص بھی اس حالت کو پسند کرے گا؟ دنیا کے بہت سے لطف اور بہت سی دلچسپیاں چھونے کی جس سے ہیں اور اپنے جسم کی نرمی میں ہیں۔ اب اگر بیماری کو دور کرنے کے لئے اس جس کو اور اس نرمی کو دُور کر دیا جائے تو بیشک در داور زخم تو مٹ جائے گا مگر انسان کا کیا باقی رہے گا ؟ وہ ایک پتھر ہو گا جو نہ اپنے جسم کے آرام کو محسوس کر سکے گا نہ دوسروں سے چھونے کا کوئی لطف اسے حاصل ہو سکے گا بلکہ ایسے شخص کو کوئی اُٹھا کر بھی لے جائے تو اسے کچھ معلوم نہ ہو گا۔

اس نقشہ کو کھینچ کر اپنے دل میں دیکھ لو کہ سردی گرمی کا احساس مٹ جائے، گرمی سردی کا موسم یکساں ہو جائے ، ٹھنڈے پانی اور گرم پانی کا احساس باقی نہ رہے ، میٹھا، کڑوا، سلونا کوئی مزا محسوس نہ ہو ، سختی نرمی کا کچھ پتہ نہ لگے ، جسم لوہے کی طرح سخت ہو ، خوشبو اور بدبو کا امتیاز باقی نہ رہے اور اس کے نتیجہ میں بیماری بھی پیدا نہ ہو تو کیا اس زندگی کو دُنیا خود بیماری کہے گی یا نعمت سمجھے گی؟ کسی عقلمند انسان کے سامنے اس تجویز کو پیش کر کے دیکھو وہ اسے جنون قرار دے گا۔ خواہ لاکھ اسے سمجھاؤ کہ اس طرح بیماری کا دروازہ بند ہو جائے گا وہ کبھی تسلیم نہ کرے گا اور یہی کہے گا کہ بیماری تو کبھی کبھی اور کسی کسی کو آتی ہے مگر تمہاری تجویز سے تو ہر شخص کے لئے زندگی کا ہی دروازہ بند ہو جائے گا یہی حسیں تو روزانہ میرے کام آتی ہیں اور میری زندگی کے دلچسپ بنانے کا موجب ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے زندگی کو دلچسپ بنانے کے لئے انسان کو یہ حسیں دی ہیں۔ ان کے استعمال میں جب انسان غلطی کر بیٹھتا ہے تو بیمار ہو جاتا ہے اور بیماری اسی طرح اُڑائی جا سکتی ہے کہ یا یہ حسیں اُڑا دی جائیں یا پھر انسان کا اپنا ارادہ ہی باقی نہ رہے وہ اپنے ہر کام میں

مجبور ہو۔ ثانی الذکر صورت کے اختیار کرنے سے انسان کی پیدائش کی غرض باطل ہو جاتی ہے اور اوّل الذکر صورت اختیار کرنے کو خود انسان ہی پسند نہ کرے گا۔ پس وہی طریق سب سے مناسب ہے جو خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔

ہر کام میں تکلیف ہوتی ہے

اس قسم کے اعتراض کرنے والوں کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ تکلیف تو دنیا کے سارے پیشوں میں ہی ہوتی ہے۔ زمیندار ایک کھیت تیار کرتا ہے تو کیا یونہی کر لیتا ہے؟ ہل چلاتے وقت بیسیوں چکر کاٹتا ہے، سردی گرمی کی تکلیف برداشت کرتا ہے، اس کے بیوی بچے الگ محنت میں شریک ہو کر تکلیف اُٹھاتے ہیں۔ پس یہی نہیں کہ بیماری سے ہی انسان کو تکلیف ہوتی ہے بلکہ کھانے پینے کا انتظام کرتے ہوئے بھی تکلیف ہوتی ہے اس لئے اگر تکلیفوں کو دور کرنے سے ہی خدا تعالیٰ کی صفاتِ رحمت کا پتہ چل سکتا ہے تو یہ بھی سوال ہونا چاہئے کہ سب پیشے موقوف کئے جائیں سب محنتیں اُڑا دی جائیں۔ اب علم حاصل کرنے کے لئے برسوں محنت کرنی اور تکلیف اُٹھانی پڑتی ہے، ہونا یہ چاہئے کہ ادھر بچہ پیدا ہو ادھر سارے علوم کے خزانے اس پر کھل جائیں۔ اب زمیندار کو فصل تیار کرنے میں تکلیف ہوتی ہے مگر چاہئے یہ کہ آپ ہی غلہ اُگے، آپ ہی گھر میں آجائے، آپ ہی آپ روٹی پکے۔ اسی طرح کپڑوں کی تیاری میں تکلیف ہوتی ہے چاہئے یہ کہ آپ ہی کپڑا تیار ہو، آپ ہی آپ لباس سیئے جائیں، غرض کہ جس چیز کی ضرورت ہو وہ آپ ہی آپ ہو جائے۔ تمام کاروبار بند ہو جائیں اور سب پیشے موقوف ہوں نہ لوہار رہے نہ ترکھان، نہ دھوبی رہے نہ درزی، نہ ڈاک والے رہیں نہ ریل والے کوئی بھی نہ رہے۔ گویا جس طرح پرانے زمانہ میں ایدی خانے ہوتے تھے (جن کا نام برلکس تھا کیونکہ ان میں ایسے لوگ رکھے جاتے جو بے ہاتھ ہوتے) ساری دنیا ہی ایدی خانہ بن جائے سب لوگ چارپائیوں پر پڑے ہوئے ہوں، نہ چلنے کی تکلیف نہ اٹھنے کی ضرورت نہ کوئی ہاتھ ہلائے نہ پاؤں، سب کام آپ ہی آپ ہوں، سب ترقیاں بند ہو جائیں، سب مقابلے روک دیئے جائیں یہ دنیا ہے جو تکلیفوں کے سلسلے کے بند ہونے کے خواہشمند پیدا کرنی چاہتے ہیں۔

اگر موت نہ ہوتی

اب میں ایک اور پہلو کو لیتا ہوں اور وہ یہ کہ مرنے سے جو تکلیف ہوتی ہے اسے اُلٹا کر دیکھو کیا صورت بنتی ہے۔ اگر نئی نسلیں تو پیدا ہوتی رہیں لیکن کسی پر موت نہ آئے تو ایک ہزار سال کے عرصہ میں ہی دنیا پر تل دھرنے کی جگہ نہ رہے

اور نہ غذا ہی کافی ملے اور یہی لوگ جو ان امور کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کے رحم پر اعتراض کرتے ہیں خدا تعالیٰ کو بُرا بھلا کہنے لگ جائیں کہ ہمارے باپ دادوں کو دفع بھی نہیں کرتا کہ کہیں گھر خالی ہوں اور ہم اپنے سر چھپائیں اور روٹی پیٹ بھر کر کھانے کو ملے۔

پھر میں کہتا ہوں اگر دُنیا کی موجودہ حالت فی الواقع تکلیف دہ ہے تو خودکشی کا دروازہ کھلا ہے کیوں ایسے معترض یا دوسرے لوگ خود کشی نہیں کر لیتے؟ مگر کس قدر لوگ ہیں جو اس فعل پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور جو اس فعل کے مرتکب ہوتے بھی ہیں تو انہیں دنیا کیا کہتی ہے؟ یہی نہ کہ وہ عارضی طور پر پاگل ہو گئے تھے اگر فی الواقع یہ دنیا تکلیف ہی کی جگہ ہے تو خودکشی کرنے والے پاگل نہیں بلکہ سب سے زیادہ عقلمند ہیں جو ایک منٹ میں اپنی تکلیفوں کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔ پس خودکشی نہ کرنے اور خودکشی کرنے والوں کو پاگل سمجھنے سے معلوم ہوا کہ باوجود ان شبہات کے یہ معترض بھی یہی چاہتے ہیں کہ اور جیئیں مگر جب دل کی یہ حالت ہے تو پھر اعتراض کیوں کرتے ہیں؟

غرض یہ سب باتیں انسان کے لئے ضروری ہیں اور ان پر اعتراض کرنا لغویت ہے یہ نہ تو اس لئے ہیں کہ خدا کی طاقت محدود ہے اور نہ تناسخ ان کا موجب ہے بلکہ ان سب میں خدا تعالیٰ نے حکمتیں رکھی ہیں۔

مصائب پر افسوس کیوں کیا جاتا ہے؟

پچھلے بیان پر معترضین ایک اور اعتراض کرتے ہیں اور وہ یہ کہ اگر یہ درست ہے کہ یہ سب امور حکمت پر مبنی ہیں اور ان کے بغیر دنیا کا گزارہ نہیں ہو سکتا تھا تو پھر جب کسی گھر میں ماتم ہو جاتا ہے تو گھر والے خوشی کیوں نہیں مناتے اور تکلیف کیوں محسوس کرتے ہیں؟ اسی طرح جب کوئی بیمار ہو جائے تو خوش کیوں نہیں ہوتے رنج کیوں کرتے ہیں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے یہ نہیں کہا کہ بیماری سے تکلیف نہیں ہوتی بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اگر بیماری کے اسباب کو مٹا دیا جاتا تو پھر جو کچھ ہوتا وہ تکلیف دہ ہوتا پس ہم یہ نہیں کہتے کہ جو شخص بیمار ہوتا ہے اسے آرام ملتا ہے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ اگر ایسا قانون بنایا جاتا جس سے بیماری دور ہو جاتی تو وہ یا تو انسان کو محض مجبور بنا دیتا اور یہ نہیں ہو سکتا تھا اور یا پھر اس کی حسوں کو باطل کر دیتا جو بیماری کی نسبت ہزار ہا درجے زیادہ ناقابلِ برداشت ہوتا۔ پس ان ترقیات کو مدنظر رکھتے ہوئے جو موجودہ قانون کی وجہ سے انسان کے سامنے ہیں بیماریاں تکلیف وغیرہ سب ایک رحمت ہیں یا رحمت سے بھاگنے کی سزا پس ان کے باوجود خدا تعالیٰ کی رحمانیت اور رحیمیت پر کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا۔

مصائب پر افسوس کیوں کیا جاتا ہے؟

یاد رکھنا چاہئے کہ مصائب تین قسم کے ہوتے ہیں قسم اول کے مصائب وہ ہوتے ہیں جو احکام شریعت کے رد کرنے یا ان کی بے قدری کرنے کے سبب سے نازل ہوتے ہیں۔ دوسری قسم کے مصائب وہ ہیں کہ جو قانون قدرت کے توڑنے کے سبب سے آتے ہیں جیسے مثلاً ایک شخص کے معدہ میں تین چپاتیاں پچانے کی طاقت ہے مگر وہ چار کھاتا ہے اور بیمار ہو جاتا ہے۔ تیسری قسم کے مصائب وہ ہیں جو اتفاقاً پیش آجاتے ہیں ایک شخص کا قصور کچھ نہیں ہوتا لیکن وہ اتفاقاً اس جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں خدا تعالیٰ کی قہری تجلی نازل ہو رہی ہے تو یہ بھی اس میں مبتلا ہو جاتا ہے جیسے مثلاً کوئی شخص راستہ پر جا رہا تھا پہلو کے مکان کی دیوار گری اور وہ نیچے آکر مر گیا ان تینوں قسم کی تکلیفوں کو الگ الگ معلوم کرنا انسان کے لئے عام طور پر مشکل ہے اس لئے ایک خشیت اللہ رکھنے والے دل کا پہلا فرض یہ ہوتا ہے کہ وہ مصیبت کو اپنے اعمال کا نتیجہ سمجھے اور آئندہ نتائج سے خائف ہو۔ پس ایک یہ باعث بھی مصائب پر افسوس کرنے کا ہے۔

دوسرے یہ امر بھی قابل غور ہے کہ تکلیف کا احساس ایک علیحدہ بات ہے اور اس کو حکمت کے ماتحت سمجھنا علیحدہ بات ہے۔ دیکھو جب ڈاکٹر کسی کی بیمار آنکھ میں دوائی ڈالتا ہے تو یہ اچھی بات ہوتی ہے یا بُری؟ اس بات کو کوئی بُری نہیں کہہ سکتا لیکن دوائی لگاتے وقت بیمار درد کی وجہ سے شور مچایا کرتا ہے یا ہنس ہنس کر یہ کہا کرتا ہے کہ آہا ہا اس کا نتیجہ بہت اچھا ہوگا۔ انسانی تکلیف کے متعلق یہ اعتراض تو تب صحیح مانا جائے کہ اگر وہ تکلیف دہ امور جن کا نتیجہ یقیناً دہر یوں کے نزدیک بھی اچھا ہوتا ہے ان پر وہ خوش ہوا کریں مثلاً جب ڈاکٹر کسی کا موتیا کاٹ کر نکالے تو وہ خوشی سے ہنستا جائے کہ اس کا نتیجہ بہت اچھا ہو گا تو نتیجہ پر خوش ہونا اور بات ہوتی ہے اور درمیانی تکلیف پر افسوس کرنا اور۔ ہم درمیانی تکلیف پر افسوس کرتے ہیں نہ کہ نتیجہ پر۔

حیوانات کو کیوں تکلیف دی جاتی ہے؟

اب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ خدا جانوروں کو کیوں تکلیف دیتا ہے؟ چھپکلیاں بھنگے وغیرہ کھا جاتی ہیں۔ بکری کو شیر کھا لیتا ہے۔ ان جانوروں کو تکلیف دینے کی کیا وجہ ہے؟ اور ان کو اس کی کیا جزاء ملے گی؟ انسان بکری کا گوشت کھا کر مزہ حاصل کرتا ہے لیکن بکری کو اس تکلیف کے بدلے کیا ملا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے عمل کو ضائع نہیں کرتا۔ اس عالم کا ذرّہ ذرّہ خدا تعالیٰ کے حکم میں لگا ہوا ہے اور اس کے حکم کے ماتحت کام کر رہا ہے اور ہر ایک ذرّہ اجر کا مستحق ہے۔ اس لئے نہیں کہ وہ اس کا حق دار ہے بلکہ اس لئے کہ خدا نے اس کا حق مقرر کر دیا ہے وہ حق دار تو نہیں مگر اسے حق مل رہا ہے۔ دیکھو وہی ذرّہ جو ایک بکری میں ہو اس بکری کے ذبح ہونے پر اگر وہ ذرّہ ایک بہت بڑے مصلح یا نفع رساں وجود کے جسم کا حصہ بن جائے تو کیا یہ اس کا انعام نہیں اور کیا وہ اس ذریعہ سے ایک بلند مقام پر نہیں پہنچ گیا؟

ہر چیز کو بدلا ملے گا

قانونِ قدرت ہمیں بتاتا ہے کہ ہر چیز کو اس کے عمل کے مطابق بدلہ مل رہا ہے سروائیول آف دی فٹسٹ یا بقائے انسب کا قانون صاف بتا رہا ہے کہ ہر چیز اپنا بدلہ پا رہی ہے خواہ گھاس کی پتی ہی کیوں نہ ہو۔ ہاں بدلے اپنی اپنی حالت کے مطابق ہوتے ہیں۔ انسانی جس چونکہ سب دوسری چیزوں سے ترقی یافتہ ہے انسان کا بدلہ بھی دائمی اور ابدی ہے دوسری چیزوں کی حسیں چونکہ بالکل محدود ہیں اس لئے ان کے بدلے بھی محدود ہیں گو بدلے ہیں ضرور۔ قرآنِ کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَلَا طٰٓئِرٍ یَّطِیۡرُ بِجَنَاحَیۡہِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمۡثَالُکُمۡ(الانعام: ۳۹) زمین پر چلنے یا رینگنے والے جانور یا ہوا میں اُڑنے والے پرندے سب کے سب تمہاری طرح کی امتیں ہیں جو تمہاری طرح ایک جنس۔ ہم نے اپنے فیصلہ میں کسی قسم کی بھی کمی نہیں کی پھر یہ سب ایک دن اپنے رب کے حضور میں پیش کئے جائیں گے کس وضاحت سے اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے سوا دوسرے حیوان بھی اپنے فرائض کی ادائیگی پر بدلے پائیں گے۔ ہاں وہ بدلہ ان کی اپنی جنس کی طاقتوں کے مطابق ہوگا نہ انسان کی طرح کا پس یہ غلط ہے کہ انسان کو اپنے اعمال کا بدلہ ملے گا اور ان چیزوں کو نہیں ملے گا سب کو ملے گا۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ اگر ایک بکری نے دوسری بکری کا سینگ توڑا تو قیامت کے دن دوسری سے خدا تعالیٰ کہے گا کہ تو اس کا سینگ توڑتو کوئی روح ایسی نہیں ہو سکتی جو جزاء نہ پائے ہاں جیسی جیسی روح ہو گی ویسی ویسی اس کو جزاء ملے گی۔ ہمیں سب کی تفصیلوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ غرض کوئی ایسی شئے نہیں جو بدلہ نہ پائے گی۔ لیکن انسان چونکہ کامل ہے اس لئے یہ ابدی نجات پائے گا اور دوسری چیزیں کامل نہیں اس لئے ان کو ابدی زندگی نہیں ملے گی۔ دیکھو جو

انسان مارا جاتا ہے اس کا اس کی بیوی بچوں پر کیسا اثر پڑتا ہے مگر بکری ماری جائے تو اس کے بچے کو پروا بھی نہیں ہوتی اور اگر غم ہوتا بھی ہے تو صرف چند دن کا پھر انسان پر شریعت کی پابندیاں ہوتی ہیں مگر دوسرے جانوروں پر نہیں ہوتیں۔

مخلوق کا پیدا کرنا خدا کے غنیٰ کے خلاف نہیں

صفاتِ رحمت کے علاوہ خدا تعالیٰ کی صفتِ غناء پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ اگر خدا غنی ہے تو اس نے مخلوق کو پیدا کیوں کیا؟ کیا وہ محتاج ہے کہ اسے مخلوق پیدا کرنے کی ضرورت پیش آئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ایک فقیر کسی سخی کو کہہ سکتا ہے کہ اگر میں نہ ہوتا تو تُو سخاوت نہ کر سکتا اس لئے تو میرا محتاج ہے تو ایک بندہ بھی خدا کو کہہ سکتا ہے کہ خدا میرا محتاج ہے۔ مگر کبھی کسی نے نہ سنا ہوگا کہ کسی فقیر نے کہا ہو کہ فلاں سخی محتاج تھا جس سے میں نے آٹھ آنے یا چار آنے لئے اور تب جا کر اسکی احتیاج پوری ہوئی۔ تعجب ہے کہ ایک شخص آٹھ آنے یا چار آنے لیکر تو کہتا ہے کہ یہ امر میری احتیاج پر دلالت کرتا ہے نہ دینے والے کی احتیاج پر مگر خدا کے متعلق انسان زمین و آسمان اور ان کے اندر جو چیزیں ہیں ان کو لیکر کہتا ہے کہ خدا میرا محتاج ہے میں نہ ہوتا تو یہ چیزیں کون استعمال کرتا ؟ دوسرا جواب یہ ہے کہ احتیاج اس چیز کی ہوتی ہے جو مستقل حیثیت رکھتی ہے اور جو ہماری اپنی صفت کا ظہور ہو وہ احتیاج نہیں کہلاتا۔ مثلاً یہ احتیاج ہے کہ ایک ہمارا کام بغیر کسی اور شخص کی مدد کے نہیں ہو سکتا لیکن اپنی کسی صفت کا اظہار احتیاج نہیں ہے بلکہ اسے قدرت کہتے ہیں چونکہ خدا تعالیٰ کسی غیر چیز کی مدد نہیں چاہتا وہ محتاج نہیں کہلا سکتا وہ تو اپنی قدرت سے ایک عالم کو پیدا کرنا ہے پس وہ محتاج نہیں بلکہ مُقْتَدِرْ ہوا اور اس نے ایک چیز پیدا کی اور اسے چن لیا اور اسے بزرگی دی۔

خدا تعالیٰ کی قدرت پر اعتراض اور اس کا جواب

خدا تعالیٰ کی صفت قدرت پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر وہ قادر مطلق ہے تو اتنی دیر میں کیوں پیدا کرتا ہے ؟ خصوصاً یہ اعتراض زمین و آسمان کی پیدائش پر کیا جاتا ہے جس کی نسبت قرآن کریم میں آتا ہے کہ خدا نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا۔


زمین و آسمان کتنے عرصہ میں بنے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تمہاری غلطی ہے کہ آسمان اور زمین چھ دن میں بنے۔ یوم کے معنے دن کے نہیں بلکہ وقت کے ہوتے ہیں۔ چونکہ دن وقت کا پیمانہ ہے اس لئے دن کے لئے بھی یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ زمین و آسمان لاکھوں کروڑوں سال میں بنے کیونکہ موجودہ علوم اسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس پر غالباً کہا جائے گا کہ اس طرح تو اعتراض اور بھی مضبوط ہو گیا کیونکہ تم کہتے ہو کہ زمین و آسمان لاکھوں کروڑوں سال میں بنے ہیں۔

پہلا جواب

اس کا جواب ایک تو یہ ہے کہ کسی واقعہ کی موجودگی میں جس کی حکمت سمجھ میں نہ آئے واقع پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ خدا تعالیٰ ہے اور اس نے اس دنیا کو بنایا ہے تو اس کا قادر ہونا تو ثابت ہو گیا باقی رہا یہ سوال کہ کیوں نہ اس نے ایک ہی منٹ میں بلکہ اس سے بھی کم میں دنیا کو پیدا کر دیا تو اس کی نسبت یہ کہا جائے گا کہ اس سے اس کی قدرت پر اعتراض نہیں پڑ سکتا زیادہ سے زیادہ یہ کہا جائے گا کہ اس امر کی حکمت ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔

دوسرا جواب

دوسرا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے صرف زمین و آسمان کو ہی آہستہ آہستہ پیدا نہیں کیا بلکہ وہ اس دُنیا کی سب چیزوں کو اسی طرح پیدا کرتا ہے اور اس کی حکمت یہ ہے کہ ہر چیز اپنی اردگرد کی چیزوں سے مناسبت حاصل کر سکے تاکہ تمام چیزیں اس سے مل کر کام کر سکیں پس چیزوں کا آپس میں لگاؤ اور انس پیدا کرنے کے لئے اس نے ایسا کیا ہے۔ خدا تعالیٰ تو قادر تھا کہ فوراً کوئی چیز پیدا کر دیتا مگر ہمیں ضرورت تھی کہ آہستہ آہستہ پیدائش ہو تاکہ ہم ایک دوسرے کو جذب کر سکیں جس طرح اگر اسپنج کو جلدی پانی میں سے نکال لیا جائے تو وہ اچھی طرح گیلا بھی نہیں ہوتا پانی جذب کرنے کے لئے کچھ دیر پانی میں رکھے رہنے کا محتاج ہے یا جیسے ماش کی دال بھیگنے کے لئے دیر تک پانی میں رہنے کی محتاج ہے پس یہ دیر خدا تعالیٰ کے ضعف کی وجہ سے نہیں بلکہ ہمارے ضعف کے سبب سے ہے۔

تیسرا جواب

تیسرا جواب یہ ہے کہ اگر اس کی قدرت فوراً پیدا کر دینے کا تقاضا کرتی ہے تو چاہئے تھا کہ ہر ایک چیز ہی فوراً پیدا ہو جاتی مگر ذرا دنیا میں اس قانون کو

جاری کرکے دیکھ لو دنیا کیا بن جاتی ہے۔ اس قانون کے ماتحت بچہ کو نو ماہ کے بعد پیدا نہ ہونا چاہئے بلکہ فوراً پیدا ہو جانا چاہئے۔ سوچو تو سہی اس کا کیا نتیجہ نکلے گا سردی کا موسم ہو آدھی رات کا وقت ہو ایک غریب آدمی کی بے خبری میں یکدم بچہ پیدا ہو جائے اس وقت وہ کہاں سے اس کے لئے کپڑا مہیا کر سکے گا پھر اگر مضبوط آدمی ہوا اور اس نے پھر ایسا ہی فعل کیا جس سے بچہ پیدا ہو جاتا ہے تو اس وقت ایک اور بچہ پیدا ہو جائے گا اور اگر تیسری دفعہ پھر وہی فعل اس سے ہوا تو تیسرا بچہ پیدا ہو جائے گا اس طرح ایک ایک رات میں بعض لوگوں کے کئی کئی بچے پیدا ہونے ممکن ہوں گے اور صبح ہوتے ہوتے ایک بڑے کنبے کی پرورش کا بوجھ سر پر پڑ جائیگا خود ہی اندازہ کر لو کہ اس قانون کے ماتحت ایک سال میں یہ تعداد کہاں تک پہنچ سکتی ہے۔ ایسی حالت ہوتی تو عورت مرد آپس کے تعلقات سے کانوں کو ہاتھ لگاتے کہ ہم اس کے قریب نہ جائیں گے۔

پھر ایک بچہ پیدا ہونے پر عورت کو اس قدر تکلیف ہوتی ہے کہ اس کا بُرا حال ہو جاتا ہے اور ولایت میں تو عورتیں رحم ہی نکلوا دیتی ہیں تاکہ بچہ پیدا ہونے کی تکلیف نہ برداشت کرنی پڑے لیکن اگر ایک ہی وقت میں پلے در پلے بچے پیدا ہو سکتے تو نہ معلوم وہ کیا کرتیں شادی کا ہی نام نہ لیتیں یا پھر ایک ایک مرد کو کئی کئی سو عورتیں کرنے کی اجازت ہوتی۔

اگر خدا آہستہ نہ بڑھاتا

پھر آہستہ پیدا کرنے والا اعتراض آہستہ بڑھانے پر بھی پڑتا ہے کہ آہستہ آہستہ کیوں خدا بڑھاتا ہے۔ اس طرح بھی نہ ہو بلکہ ادھر بچہ پیدا ہوا ادھر یکدم بڑا ہو گیا۔ مگر اس طرح ایک اور مصیبت شروع ہو جائیگی بچہ کے پیدا ہونے پر جوں توں کر کے ماں نے جلدی سے اس کے اندازہ کا گرتا سیا کہ سردی سے مر نہ جائے لیکن جب وہ پہنانے لگی تو کیا دیکھتی ہے کہ وہ پانچ چھ سال کا بن گیا ہے پھر وہ سات آٹھ سال کے بچہ کے اندازہ کا کپڑا سی کر لائی مگر دیکھا کہ وہ تو داڑھی والا مرد بنا بیٹھا ہے۔

غرض فوراً پیدائش اور بڑھنے کی وجہ سے دنیا میں ایک ایسی آفت آ جائے کہ یہی لوگ جو اعتراض کرتے ہیں کانوں کو ہاتھ لگائیں اور کہہ اُٹھیں کہ ہم نے خدا کی قدرت دیکھ لی اور ہم اعتراضوں سے باز آئے۔

ایک لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی شخص باغ میں گیا اور جا کر دیکھا کہ زمین پر پھیلی ہوئی بیلوں کو تو بڑے بڑے پھل لگے ہوئے ہیں اور بڑے بڑے اونچے درختوں کو چھوٹے چھوٹے۔ اس نے کہا لوگ تو کہتے ہیں اللہ میاں بڑا دانا ہے۔ مگر اس نے یہ کیا کیا ہوا ہے۔ انہیں خیالات میں وہ ایک آم کے درخت کے نیچے سو گیا۔ اوپر سے ایک آم اس پر گرا اور وہ اُٹھ کر کہنے لگا اللہ میاں مجھے تیری اس حکمت کی سمجھ آگئی اگر مجھ پر کدو گرتا تو میرا کام ہی تمام ہو جاتا۔ تو نے جو کچھ کیا ہے ٹھیک کیا ہے میری گستاخی تھی جو میں نے اعتراض کیا۔

غرض خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر اعتراض کرنے والے اول درجہ کے جاہل ہوتے ہیں اور نادانی سے اس ذات پر اعتراض کرتے ہیں جو ان کو پیدا کرنے والی ہے اور جس کے مقابلہ میں وہ مکھی جتنی بھی حیثیت نہیں رکھتے۔

خدا کی ہادی صفت پر اعتراض اور اس کا جواب

پھر کہا جاتا ہے کہ خدا کی ہادی صفت نے کیا کیا۔ زیادہ دنیا تو گمراہی کی طرف جا رہی ہے۔

اگر اس اعتراض کا یہ مطلب ہے کہ خدا کسی کو بُرے کام کیوں کرنے دیتا ہے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ خدا لوگوں پر جبر کیوں نہیں کرتا؟ گویا جب کوئی شراب پینے جائے تو اسے روک دے لیکن اگر یہ حالت ہو تو پھر کوئی انعام کا کس طرح مستحق ہو۔ بات یہ ہے کہ اس قسم کے معترض اعتراض کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ دنیا کو خدا نے کیوں پیدا کیا ہے۔ اس بات کو بھلا کر اعتراض کرتے ہیں یا پاگلانہ طور پر اعتراض کرتے ہیں۔ دُنیا کو خدا تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا ہے کہ انسانوں کو انعام اور ترقیاں دے لیکن اگر جبر ہوتا تو انعام دینا غلط ہوتا۔ پس خدا تعالیٰ نے انعام دینے کے لئے انسان کو نیکی اور بدی کا علم دیکر اسے قدرت دے دی ہے اور بتا دیا کہ یہ کام کرو گے تو انعام ملے گا اور یہ نہ کرو گے تو سزا اور یہ صاف بات ہے کہ انعام پانیوالے تھوڑے ہی ہوتے ہیں سارے نہیں ہوا کرتے۔ دیکھو یہ جو یونیورسٹیاں بنی ہوئی ہیں ان میں تیس پینتیس فیصدی طلباء پاس ہوتے ہیں اگر کوئی کہے کہ ان کا کیا فائدہ ہے؟ تو اس کے جاہل ہونے میں کیا شک ہو سکتا ہے۔ مگر ان یونیورسٹیوں کے کام کا نتیجہ تو بہت ادنیٰ ہوتا ہے خدا تعالیٰ نے جس مقصد کے لئے انسان کو پیدا کیا ہے وہ بہت شاندار ہے اس لئے اس کا امتحان بھی بہت سخت ہے۔

خدا نے امتحان آسان رکھا ہے

اگر کہا جائے کہ خدا تعالیٰ کا یہ منشاء تھا کہ انعام دے تو امتحان آسان رکھنا چاہئے تھا۔ اس کا یہ جواب ہے کہ اس سے زیادہ کیا آسان ہوسکتا ہے کہ اکثر نیکیاں خدا تعالیٰ نے وہی رکھی ہیں جن میں انسان کا اپنا فائدہ ہے۔ ان کو نہ کرنا تو ایسا ہی ہے جیسا کسی کو کہا جائے کہ تم اپنے گھر کو لیپ پوت چھوڑ نا مگر وہ ایسا نہ کرے اور کہے کہ اتنا سخت کام ہے اور مزدوری دیتے نہیں تو میں کیوں کروں۔ دیکھو خدا تعالیٰ کہتا ہے چوری نہ کرو اب اگر کوئی چوری کرتا ہے تو اس کا کیا نقصان ہے خدا تعالیٰ کو یا خود اسے؟ یا خدا تعالیٰ کہتا ہے جھوٹ نہ بولو اب اگر کوئی جھوٹ بولتا ہے تو خدا تعالیٰ کا کیا نقصان خود اس کا اعتبار نہیں رہتا۔ اسی طرح جس قدر سوالات خدا نے اس امتحان میں پاس ہونے کے لئے دیئے ہیں وہ انسان کے ہی فائدہ کے لئے ہیں اور چند ایک ایسے بھی ہیں جو بظاہر انسان کے دنیوی یا اخلاقی فائدہ کے نظر نہیں آتے جیسے نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کے احکام ہیں مگر درحقیقت ان میں بھی انسان کا ہی فائدہ مدنظر ہے۔ جیسا کہ نماز کے متعلق آتا ہے اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡکَرِ(العنکبوت: ۴۶) کہ نماز برائیوں اور بدیوں سے روکتی ہے۔ سو اگر سوچا جائے تو خدا تعالیٰ نے امتحان اس طرح کا لیا ہے کہ اپنے دروازہ پر روغن مل دینا، چھت پر مٹی ڈال دینا، اپنے کپڑے دھونا، کھانا دیکھ کر کھانا تاکہ اس میں مٹی وغیرہ نہ ہو، سردی کے وقت آگ جلانا تاکہ تمہاری صحت خراب نہ ہو اور پھر پوچھے کہ کیا تم نے یہ کام کر لئے ہیں؟ اور جنہوں نے کئے ہوں انہیں جنت میں داخل کر دے اس سے زیادہ آسان اور کیا امتحان ہوسکتا ہے؟ اس سے آسان تو پھر یہی ہوسکتا ہے کہ کہہ دیا جائے جو مرضی ہو کرو تمہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔

کیا خدا کی بعض صفات بعض سے افضل ہیں؟

صفات الٰہیہ کے متعلق یہ بھی ایک سوال ہوسکتا ہے کہ کیا خدا کی بعض صفات بعض سے افضل ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ افضل نہیں ہوتیں بلکہ ہر ایک کے الگ الگ دائرے ہوتے ہیں اور وہ ایک انتظام کے ماتحت ہوتی ہیں۔ ہاں کبھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ بعض بعض سے وسیع ہوتی ہیں۔ یعنی بعض کا ظہور زیادہ وسیع ہوتا ہے بعض کی نسبت جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَرَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ(7:157) کہ میری رحمت ہر ایک چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ یعنی مخلوق پر صفاتِ غضبیہ کی نسبت صفاتِ رحمت کا ظہور زیادہ ہوتا ہے پس ہم صفات کے لئے لفظ وسعت کا استعمال کرتے ہیں فضیلت کا نہیں کیونکہ ایک صفت کو دوسری سے افضل کہنا بے ادبی ہے۔


کیا خدا کی صفات ایک دوسری کے متضاد ہوسکتی ہیں؟

پھر یہ سوال ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات ایک دوسری کے متضاد ہیں تو ان کا عمل کس طرح ہوتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک وجود میں دو باتوں کا پایا جانا تضاد نہیں ہوتا۔ تضاد تو یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک چیز آجائے تو دوسری نہ ہوسکے اور یہ بات خدا تعالیٰ کی صفات کے متعلق نہیں کہی جا سکتی۔ کہا جاتا ہے کہ اگر خدا رحیم ہے تو پھر شدید العقاب کیونکر ہو سکتا ہے؟ اگر رحیم ہے تو وہ شدید العقاب نہیں ہو سکتا اور اگر شدید العقاب ہے تو رحیم نہیں ہو سکتا۔

ہم کہتے ہیں کہ اس اعتراض کے اٹھانے والے اپنے متعلق ہی غور کریں۔ اگر کوئی شخص کہے کہ فلاں شخص رحم دل ہے لیکن دوسرا شخص جواب دے کہ نہیں وہ رحم دل نہیں کل میں نے اسے اپنے لڑکے کو مارتے دیکھا تھا تو کیا یہ بات صحیح تسلیم کی جائے گی؟ ہرگز نہیں کیونکہ وہ رحم کے موقع پر رحم کرتا ہے اور سزا کی ضرورت کے وقت سزا دیتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اگر وہ شدید العقاب ہے تو رحیم نہیں ہو سکتا اور اگر رحیم ہے تو شدید العقاب نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ رحم کے موقع پر رحم کرتا ہے اور سزا کے موقع پر سزا دیتا ہے اور سزا کے موقع پر یعنی جہاں سزا سے اس شخص کی اصلاح مد نظر ہو جسے سزا دی گئی ہے سزا کا دینا ہرگز رحم کے خلاف نہیں ہوتا بلکہ رحم ہی کی ایک شاخ سمجھا جاتا ہے۔

اس جگہ ایک اور اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ انسان میں رحم اور غضب الگ الگ موقعوں پر ظاہر ہوتے ہیں لیکن خدا میں تو تم ایک ہی وقت میں ساری باتیں مانتے ہو تمہارے نزدیک خدا کے حکم سے ایک ہی وقت ایک کے ہاں بیٹا پیدا ہو رہا ہے اور اسی لمحہ میں دوسرے کے ہاں موت واقع ہو رہی ہے۔ ادھر نبی پر وہ برکتیں نازل کرتا ہے اور دوسری طرف اسی وقت کافروں پر لعنت ڈال رہا ہوتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ محدود وجود کے اعمال محدود ہوتے ہیں انسان ایک وقت میں دو باتوں پر غور نہیں کر سکتا لیکن خدا تعالیٰ کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ وہ غیر محدود طاقتیں رکھتا ہے وہ جس طرح ایک ہی وقت میں ساری دنیا کے کاموں کو معلوم کر لیتا ہے اسی طرح ایک ہی وقت میں اس کی صفتِ رحم اور صفتِ شدِیْدُ الْعِقَابِ کام کر رہی ہوتی ہیں انسان کی طاقتوں پر خدا کی قدرتوں کا قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ وہ لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ(42:12) ہے۔

تمام صفات الٰہیہ کا ظہور کس طرح ہوتا ہے ؟

یہ سوال بھی قابلِ غور ہے کہ خدا تعالیٰ کی مختلف صفات ایک وقت میں کس طرح جاری ہوتی ہیں ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ایک صفت ایسی بھی ہے جو بعض اصول کے مطابق بعض صفات کو جاری کرتی ہے اور بعض کو بند کرتی ہے۔ یہ صفت بعض آیاتِ قرآن کریم سے بھی مستنبط ہوتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض الہامات سے بھی معلوم ہوتی ہے اور اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کے متعلق شافی کا لفظ استعمال فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ شافی ہے۔ جیسے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قول قرآن کریم میں نقل ہے کہ فَہُوَ یَشۡفِیۡنِ(الشعرآء: ۸۱)

حضرت مسیح موعودؑ پر خدا کی ایک خاص صفت کا اظہار

حضرت مرزا صاحب بھی چونکہ نبی تھے اور آپؑ نے لکھا ہے کہ نبی غوامض بیان کرنے کے لئے آتے ہیں یعنی مخفی امور نکال کر لوگوں کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔ تو آپؑ بھی چونکہ نبی تھے اس لئے ضروری تھا کہ غوامض بیان کرتے انہی میں سے ایک بات یہ ہے کہ آپؑ نے اللہ تعالیٰ کی کئی صفتیں ایسی بیان کی ہیں جو خدا تعالیٰ نے آپؑ پر کھولی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ خدا کی صفات میں سے ایک صفت ایسی بھی ہے جو مختلف صفات کی حد بندیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ اس صفت پر حضرت مسیح موعودؑ کا مندرجہ ذیل الہام دلالت کرتا ہے۔

” اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ وَ اُفْطِرُ وَ اَصُوْمُ “

(تذکرہ صفحہ ۴۹۰ ایڈیشن چہارم)

اب نہ اُفْطِرُ کا لفظ قرآن کریم میں خدا کے لئے آیا ہے اور نہ اَصُوْمُ کا۔ اور جس طرح انسان کے لئے خدا کا کوئی اسم بنانا نا جائز ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کی طرف کوئی تشبیہی فعل منسوب کرنا بھی ناجائز ہے۔ مگر خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو خود آپؑ کے الہام میں اُفْطِرُ وَ اَصُوْمُ کے الفاظ استعمال کر کے بتایا ہے کہ اس کی صفات میں افطار و صوم کی مشابہ ایک صفت ہے جو صفات کے عمل کو جاری کرنے یا بند کرنے کا کام کرتی ہے اُفْطِرُ سے مراد یہ ہے کہ میں اپنی صفت کو جاری ہونے کا حکم دیتا ہوں اور اَصُوْمُ کا یہ مفہوم ہے کہ میں اپنی صفت کے ظہور کو روک دیتا ہوں۔

حضرت مسیح موعودؑ کے ایک الہام کا مطلب

لوگ اس الہام پر اعتراض کرتے ہیں کیونکہ اس کے لفظی معنی یہ ہیں کہ میں روزہ رکھتا ہوں اور روزہ کھولا کرتا ہوں اور لغوی معنے یہ ہیں کہ میں رُکتا ہوں اور روک کو دُور کرنے کے وقت کو پاتا ہوں مگر مراد یہ ہے کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ میں بعض صفات کو روک دیتا ہوں اور دوسرا وقت ایسا آتا ہے کہ میں انہیں جاری کرتا ہوں۔ پس معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کی ایک صفت ایسی ہے جو دوسری صفات سے کام لیتی ہے بعض کو آگے پیچھے کرتی ہے بعض کو روکتی ہے اور بعض کو جاری کرتی ہے۔

کوئی کہہ سکتا ہے کہ اگر اس الہام کا یہی مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ ایک وقت اپنی صفات کو روکتا اور پھر جاری کرتا ہے، تو پھر اُفْطِرُ اور اَصُوْمُ کیوں کہا؟ یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ میں صفات کو روکتا بھی ہوں اور کھولتا بھی ہوں۔

الہام مسیح موعودؑ کے پر حکمت الفاظ

اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی باتیں وسیع معنے رکھتی ہیں اور میں رُکتا ہوں اور کھولتا ہوں کہنے میں وہ لطف نہ ہوتا جو اُفْطِرُ اور اَصُوْمُ میں ہے۔ یہ الفاظ کہہ کر خدا تعالیٰ نے اپنے فعل کو روزہ دار کے فعل سے تشبیہ دی ہے اور تین موٹی موٹی باتیں ہیں جو روزہ دار میں پائی جاتی ہیں۔ اول یہ ہے کہ وہ ان چیزوں سے رُکتا ہے جو اس کے قبضہ اور اختیار میں ہوتی ہیں۔ مثلاً کھانا ہوتا ہے مگر وہ نہیں کھاتا۔ گویا وہ احتیاج کے طور پر نہیں رُکتا بلکہ باوجود قدرت کے اپنی مرضی سے رکتا ہے اسی طرح جب افطار کرتا ہے تو بھوک یا پیاس کی وجہ سے نہیں کرتا بلکہ اپنے ارادے کے ماتحت اور اپنی خوشی سے ایسا کرتا ہے۔

گویا اس مشابہت سے خدا تعالیٰ نے یہ بتایا کہ بعض صفات جن کو خدا تعالیٰ روکتا ہے اپنی مرضی سے روکتا ہے نہ بوجہ احتیاج کے اور بعض صفات جن کو کھولتا ہے ان کو بھی اپنی مرضی سے کھولتا ہے نہ کہ بسبب احتیاج کے۔

دوسرے اس مشابہت سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ خالی رکنا اندرونی تکان کے سبب سے بھی ہو سکتا ہے یعنی گو بیرونی مجبوری کوئی نہ ہو لیکن اپنے نفس میں تکان پیدا ہو جائے جیسے آدمی کا کھاتے کھاتے پیٹ بھر جاتا ہے تو وہ کھانے سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے لیکن روزہ دار اس لئے کھانے سے نہیں رُکتا کہ وہ کھا نہیں سکتا یا اس میں کھانے کی طاقت نہیں رہتی بلکہ اپنی مرضی سے رُکتا ہے۔ سو اس مشابہت سے بتایا کہ خدا تعالیٰ تھک کر اپنی صفات کو نہیں چھوڑتا اور نہ اس میں نئی طاقت آجاتی ہے تو ان کو جاری کرتا ہے بلکہ اپنی مرضی سے اور اپنی خاص حکمت سے صفات کو جاری کرتا یا روکتا ہے۔ تیسری بات اس مشابہت سے یہ بتائی ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفاتِ قہریہ ہمیشہ روحانی تاریکی کے وقت جاری ہوتی ہیں (کیونکہ یہ الہام صفات قہریہ کے متعلق ہے) اور یہ صفات روحانی صفائی پیدا ہونے پر روک لی جاتی ہیں کیونکہ صوم یعنی رُکنے کا وقت نُور کے شروع ہونے سے شروع ہوتا ہے اور افطار ظلمت کے شروع ہونے سے۔ تو گویا اس مشابہت کے ذریعہ سے حضرت مسیح موعودؑ کو اس الہام میں عذاب کے متعلق بتایا گیا کہ جب نیکی اور تقویٰ ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ عذاب دینے کی صفات کو روک دیتا ہے اور جب ظلمت اور تاریکی پھیل جاتی ہے لوگ گناہوں اور بدکاریوں میں بکثرت مبتلاء ہو جاتے ہیں تو ان صفات کو چھوڑ دیتا ہے تاکہ لوگ تباہ وبرباد ہوں۔

اب دیکھو کتنی وسیع اور پُر حکمت تعلیم اس میں بیان کی گئی ہے کہ جب نور جاری ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ عذاب کی صفتوں کو روک دیتا ہے اور جب بدی پھیل جاتی ہے تو ان کو کہہ دیتا ہے کہ اب تمہارا دور جاری ہو جائے۔

الہام مسیح موعودؑ کے ایک اور معنے

پھر خدا کی صفتِ خلق قائم مقام نور ہے اور عدم قائم مقام ظلمت۔ چنانچہ عربی میں خلق کو فلق بھی کہتے ہیں اور فلق کے معنے پو پھٹنے کے ہیں۔ گویا مخلوق بھی نور ہوتی ہے اور عدم کیا ہوتا ہے؟ کچھ نہ ہونا۔ اب ہونا تو روشنی ہوئی اور نہ ہونا اندھیرا۔ اس لئے اُفْطِرُ وَ اَصُوْمُ کے یہ معنی ہوئے کہ خدا کی بعض صفات ایسی ہیں جو عدم کے وقت جاری ہوتی ہیں اور بعض وجود کے وقت جیسے کہتے ہیں کہ اب مادہ کو خدا کیوں نہیں پیدا کرتا اسی لئے کہ جب عدم تھا تو خدا تعالیٰ کی مادہ کو پیدا کرنے کی صفت جاری ہوگئی اور جب وجود میں آگیا تو اب مخلوق کے قائم رکھنے کی صفات جاری ہو گئیں۔

تو یہ کتنا بڑا علم ہے جو حضرت مسیح موعودؑ کے اس الہام سے ظاہر ہوا۔ اب دشمن اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ کیا خدا بھی کھانا کھاتا ہے کہ اس نے چھوڑ دیا۔ ہم کہتے ہیں معترض نادان ہیں جو خدا کے کلام کے معارف نہیں جانتے۔ خدا تعالیٰ نے ایسا علم حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعہ دیا ہے اور آپؐ نے وہ غوامض بیان فرمائے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تیرہ سو سال میں کسی نے نہیں بیان کئے۔ یہ ایک ہی الہام دیکھ لو کتنے وسیع مضمون اس میں بیان کئے گئے ہیں۔

خدا کی صفات کس طرح جاری ہوتی ہیں؟

اب یہ بات رہ گئی کہ خدا کی صفات کس طرح جاری ہوتی ہیں اس کے متعلق پہلے تو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ بندوں سے خدا تعالیٰ کی جو صفات تعلق رکھتی ہیں ان میں خدا نے رحمت کا وسیع دائرہ کھینچا ہے چنانچہ فرماتا ہے وَرَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ(7:157) میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے تو اس صفت کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ سب کو گھیرے ہوئے ہے اور یہ سب صفات کے ظہور پر غالب ہوتی ہے حتیٰ کہ خدا تعالیٰ کے علم پر بھی رحمت ہی غالب ہے۔ شاید اس بات پر تعجب ہو کہ خدا تعالیٰ کے علم پر رحمت کس طرح غالب ہے۔ مگر اس کا پتہ اس سے لگتا ہے کہ مبشرات خدا تعالیٰ کی طرف سے زیادہ آتے ہیں اور منذرات کم حتیٰ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر منذر رؤیا زیادہ آئیں تو شیطانی ہوتی ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے منذر رؤیا نہیں آتیں کیونکہ ایسی خوابیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی آتی تھیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جسے ڈراؤنی خوابیں ہی آتی رہیں وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جس شخص کو متواتر سلسلہ الہامات کا جاری ہو اس میں مبشرات کا پہلو غالب ہوتا ہے کیونکہ متواتر الہام خدا کے پیاروں کو ہی ہو سکتے ہیں اور جو پیارے ہوں وہ عذاب کی نسبت انعام کے زیادہ مستحق ہوتے ہیں۔ غرض خدا تعالیٰ کا علم جو بندوں سے تعلق رکھتا ہے اس پر بھی اس کی رحمت وسیع ہوتی ہے اور دنیاوی علوم کے انکشاف میں بھی صفت رحمت ہی وسیع ہے کیونکہ جو علوم دریافت ہوتے ہیں ان میں رحمت کا پہلو غضب کے پہلو پر غالب ہوتا ہے۔

خدا کی صفت رحمت کی وسعت

یہ وسعت کئی طریق پر ہوتی ہے ایک تو اس طرح کہ انسان گناہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ معاف کر دیتا ہے کئی قسم کی بدپرہیزیاں انسان کرتا ہے مگر اکثر ان کے نتائج سے بچ جاتا ہے اور کبھی پھنس بھی جاتا ہے۔

دوسرے اس طرح کہ خدا تعالیٰ گناہوں کی سزا میں جس کا وہ کسی وجہ سے مستحق ہوتا ہے کمی کر دیتا ہے اور جس قدر سزا دی جاتی ہے اس میں بھی رحمت غالب رہتی ہے تو سزا جو شدید العقاب صفت کے ماتحت ہوتی ہے اس پر بھی رحمت ہی محیط ہے گویا سب سے بڑا دائرہ رحمت کا ہے اور اس کا ایک درجہ تو یہ ہے کہ سزا بالکل معاف کرا دیتی ہے۔ دوسرا یہ کہ سزا کم کرا دیتی ہے

اور تیسرا یہ ہے کہ اگر سزا ملے تو آخر میں بند کرا دے گی۔ جیسے کہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دن دوزخ میں سے سب لوگ نکال لئے جائیں گے اور ہوا دوزخ کے دروازے کھٹکھٹائے گی۔

دوسرے اس صفت کا ظہور اس طرح ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ گناہوں سے بچنے کے سامان پیدا کرتا رہتا ہے، نبی بھیجتا ہے، مجدّد آتے ہیں، مامور مقرر ہوتے ہیں اور پھر مشکلات اور مصائب آتے ہیں تاکہ بندہ کی توجہ خدا کی طرف پھریں۔

چوتھے اس طرح کہ جب خدا تعالیٰ کسی کے متعلق کسی سزا کا حکم دیتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کی دوسری صفاتِ رحمت نہیں روکی جاتیں بلکہ مختلف صفات اپنے اپنے حلقہ میں کام کرتی رہتی ہیں ایک دوسری کے راستہ میں روک نہیں ہوتی۔ مثلاً اگر کسی پر خدا تعالیٰ کی ناراضگی ہو اور جس رنگ کا اس نے قصور کیا ہے اس کے مطابق کوئی صفتِ رحمت اس سے روک لی جائے تو یہ نہیں کیا جائے گا کہ دوسری صفاتِ رحمت کو بھی اس سے روک دیا جائے۔ وہ پہلے کی طرح اس شخص کو اپنے اپنے دائرہ عمل میں فائدہ پہنچاتی رہیں گی۔ یہ خدا تعالیٰ کا فعل انسانی افعال سے بالکل مختلف ہے۔ کسی انسان کا کوئی نوکر جس کو اس نے ہزار روپیہ خرچ کرنے کے لئے دیا ہو اس میں کچھ خیانت کر لے تو وہ اس کو نوکری سے ہٹا دے گا پھر اسی پر بس نہ کرے گا بلکہ اس سے بولنا بھی ترک کر دے گا اور سارے تعلقات قطع کر لے گا۔ اس کے برخلاف خدا تعالیٰ کسی گناہ کی وجہ سے کسی صفتِ رحمت کو روک لیتا ہے تو باقی رحمت کی صفات کو بند نہیں کر دیتا بلکہ ان کو بھی جاری رکھتا ہے۔ مثلاً نبی کے مخالفوں کے متعلق ادھر تو صفت شدید الانتقام جاری ہو گی کہ جو اس کا شدید مخالف ہے اسے مار دو مگر ادھر خدا تعالیٰ کی صفت ستاری بھی اپنا عمل کر رہی ہو گی۔ اس کے دل میں جو کچھ گند ہوتا ہے اس کو ظاہر نہیں کیا جائے گا لوگوں کو اس کے پوشیدہ در پوشیدہ گناہ نہیں بتلائے جائیں گے۔ اگر بیماری کا حکم ہوا ہے تو جائدادیں برابر محفوظ رہیں گی رزق ملتا رہے گا پھر مرنے کے بعد بھی خدا تعالیٰ کی محی کی صفت جاری ہو گی اس کو زندہ کیا جائے گا اور اصلاح کی صفت جاری ہو گی جہنم کے علاج کے ذریعہ سے اس کی روحانی بیماریوں کو دور کیا جائے گا۔ غرض خدا تعالیٰ کی صفات کے جاری ہونے کا اور قاعدہ ہے۔ ہمارا تو یہ حال ہوتا ہے کہ اگر کسی سے محبت ہوئی تو ہر رنگ میں محبت ہی کی جاتی ہے اور اگر ناراضگی ہوئی تو ہر رنگ میں ناراضگی ظاہر کی جاتی ہے مگر خدا تعالیٰ اگر اپنی ایک صفت کو انسان کی کسی غلطی سے روکتا ہے تو باقی صفات کو جاری رکھتا ہے غرض خدا کی صفات کا دائرہ مقرر ہے اور وہ اپنے اپنے دائرہ میں کام کرتی ہیں اور ان میں رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ کا نظارہ نظر آتا ہے۔ مثلاً ایک کافر ہے جو اچھا بھلا ہے اس کے گناہوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے کہ اسے پاگل کر دو اور اسے پاگل کر دیا جاتا ہے اگر ہمارا اتنا اختیار ہو تو ایسے شخص کا گلا ہی گھونٹ دیں اور اسے مار دیں۔ مگر ادھر خدا تعالیٰ کی صفت شدید العقاب کہہ رہی ہوتی ہے کہ اسے پاگل کر دو مگر ادھر خدا تعالیٰ کی صفت رزاقی کہہ رہی ہوتی ہے کہ یہ ہمارا بندہ ہے اس کو رزق دو۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی اور صفات بھی جاری ہوتی ہیں۔

خدا کی صفات کے متعلق ایک اور قانون

دوسرے خدا تعالیٰ کی صفات کے ظہور کے لئے یہ بھی قانون ہے کہ وہ اس قانون کی تائید کرتی ہیں جو قانونِ قدرت کہلاتا ہے س قانون کے ماتحت انسان کے اعمال یا دُنیا کے تغیرات جو رنگ اختیار کر لیتے ہیں اس کے مطابق خدا تعالیٰ کی صفات ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ گویا اس طرح وہ انسانی اعمال یا طبعی تغیرات کی مددگار ہو جاتی ہیں جیسا جیسا عمل ہو اس کے مطابق نتیجہ نکلتا چلا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں اس قاعدے کے متعلق فرمایا ہے کہ کُلًّا نُّمِدُّ ہٰۤؤُلَآءِ وَہٰۤؤُلَآءِ(بنی اسرائيل: ۲۱) ہر شخص جس قسم کی کوشش کرتا ہے اس کے مطابق ہم قطع نظر اس کے کہ وہ مومن ہے کہ کافر نتائج نکالتے رہتے ہیں۔

خدا کی صفات کے دو چکر

تیسرا قاعدہ ظہورِ صفات کے متعلق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات دو دائروں میں کام کرتی ہیں جس طرح زمین کی دو حرکتیں ہیں ایک اپنے اردگرد اور ایک سورج کے گرد اسی طرح خدا تعالیٰ کی صفات کا ایک تو ایسا اثر ہے جو ہر وقت ہوتا رہتا ہے سوائے اس کے کہ احدیت کے مقابلہ میں آئے اگر اس کے مقابلہ میں آئے تو فوراً بند ہو جاتا ہے، دوسرا چکر ان کا یہ ہے کہ انسان اپنے عمل سے جب ان کے اثر کو کھینچے تو ان کا اثر ظاہر ہوتا ہے ورنہ نہیں۔ آگے ان صفات کا کھینچنا دو طرح ہوتا ہے۔ ایک قانونِ قدرت کی مدد سے اور دوسرے بذریعہ دُعا۔ مثال پہلی بات کی یعنی صفاتِ الٰہیہ کے بر وقت ظاہر ہونے کی یہ ہے کہ رزقِ خدا تعالیٰ ایک رنگ میں ہر وقت دے رہا ہے انسان کے جسم کے ہر ایک ذرّے کو اگر خون نہ ملے تو انسان مر جائے اسی طرح ہوا انسان کے اندر جا رہی ہے جس سے خون صاف ہوتا ہے ہر وقت خدا تعالیٰ کی صفات یہ ضرورت پوری کر رہی ہیں خواہ انسان سوتا ہو یا جاگتا ہوش میں ہو یا بے ہوشی میں۔ اسی طرح ستر ہے ہر وقت ستر ہو رہا ہے خدا تعالیٰ نے قانون رکھا ہے کہ انسان کے دماغ کا حال دوسرے کو معلوم نہ ہو۔ انسانی دماغ میں بیسیوں گندے خیال گذرتے ہیں اگر یہ صفت نہ ہوتی تو لوگ آپس میں ہر وقت لڑتے جھگڑتے رہتے۔ کوئی کسی کو ملنے کے لئے جاتا مصافحہ کرتا اور اسے مارنے لگ جاتا کہ تمہارے دل میں میرے متعلق فلاں بُرا خیال آیا تھا۔ اسی طرح میاں بیوی کے دل میں ایک دوسرے کے متعلق کبھی کوئی بُرا خیال آتا تو وہ ایک دوسرے کو معلوم ہو جاتا اور ان کی محبت میں فرق آجاتا۔ تو خدا تعالیٰ کی ستاری کی صفت بھی ہر وقت اپنا عمل کر رہی ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی غفاری کی صفت ہے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں برابر گناہ ہو رہے ہیں کہیں جسمانی اور کہیں شرعی جس طرح کھانے میں کبھی بے احتیاطی ہو جاتی ہے اسی طرح انسانی جسم کے ذرات بھی غلطیاں کر جاتے ہیں بیماریوں کے کیڑے جسم میں داخل ہوتے رہتے ہیں مگر ان بے اعتدالیوں میں سے اکثر کے اثر کو خدا تعالیٰ کی صفت رحمت آپ ہی آپ مٹاتی رہتی ہے صحت پیدا کرنے والے اجزاء فوراً بیماری کے اثرات کو مٹا دیتے ہیں بیماری کے کیڑوں کے مقابلہ میں ان کو ہلاک کرنے والے کیڑے یا زہر پیدا کر دیئے جاتے ہیں۔

معترضین اعتراض کرتے ہیں کہ خدا نے انسان پر کیا رحم کیا مگر طب سے پتہ لگتا ہے کہ نناوے فیصدی بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن کی انسان کے اندر ہی اندر اصلاح ہو جاتی ہے تو ایک تو صفات الٰہیہ کا ظہور ہر آن میں ہو رہا ہے اور وہ کسی وقت معطل نہیں ہوتیں مثلاً خدا تعالیٰ سمیع ہے اگر کوئی منہ سے دُعا نہیں کرتا تو اس کا ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ سے مدد کی التجاء کر رہا ہوتا ہے پھر وہ مجیب ہے وہ ہر ایک عضو کی پکار کو سنتا ہے۔

دوسرا حصہ صفات کا یعنی جو بلانے سے ظاہر ہوتا ہے دو قسم کا ہے ایک وہ جس کی مدد قانونِ قدرت کے ذریعہ سے حاصل کی جاتی ہے دوسرا وہ جس کی مدد قانونِ قدرت نہیں بلکہ قانونِ شریعت کے ذریعہ سے حاصل کی جاتی ہے۔ قانونِ قدرت کے ذریعہ سے جن صفات کی مدد حاصل کی جاتی ہے ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کوئی کھانا پکاتا ہے تو ضرور اس کا کھانا پک جائیگا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی ایک صفت تو ظاہر ہو گئی لیکن اس کا ظہور انسانی فعل کے نتیجہ میں ہو گا یا مثلاً ستاری کی صفت کو لے لو اس صفت کے ظہور کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک قانون بنا رکھا ہے اگر اس کے ماتحت کوئی شخص چوری بھی کرے گا تو بچ جائے گا۔ مثلاً اندھیرے میں چوری کرے اس امر کی احتیاط کرے کہ کوئی دیکھتا نہ ہو لیکن اگر اس قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کی چوری ظاہر ہو جائے گی۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی غفاری کی صفت ہے اگر انسان بدی کے ساتھ نیکی کرتا رہے یا بد پرہیزی کے ساتھ علاج کرتا رہے تو اس صفت کا اثر ظاہر ہوتا ہے اور ایک حد تک بد نتائج سے انسان بچتا رہتا ہے۔

دوسرا ظہور ان صفات کا شرعی ذرائع سے ہوتا ہے۔ جیسے مثلاً دعا سے۔ دعا طبعی قانون کا جزء نہیں بلکہ شرعی قانون کا جزء ہے اور اس کے ذریعہ سے بھی خدا تعالیٰ کی وہ صفات جو خاص اوقات میں ظاہر ہوتی ہیں جلوہ گری کرتی ہیں بلکہ حق یہ ہے کہ اس ذریعہ سے جس قدر صفات الٰہیہ کو متحرک کیا جا سکتا ہے اس قدر قانونِ طبعی کے ذریعہ سے بھی نہیں کیا جا سکتا۔

غرض خدا تعالیٰ کی صفات مختلف دائروں میں عمل کر رہی ہیں اگر ان کو مد نظر نہ رکھا جائے تو صفاتِ الٰہیہ کے ظہور کا مسئلہ مشتبہ ہو جاتا ہے۔

کیا خدا سے تعلق ہوسکتا ہے؟

خدا تعالیٰ کے متعلق ان معلومات کے حاصل ہونے کے بعد جو اوپر بیان کی گئی ہیں طبعاً انسان کے دل میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے خدا سے میرا بھی کوئی تعلق پیدا ہو سکتا ہے؟ اسلام کہتا ہے کہ ہاں ہو سکتا ہے اور اس کا طریق یہ ہے کہ تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللهِ خدا کے اخلاق اپنے اندر پیدا کرو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اِنَّ اللّٰہَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ۔ خدا وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔ پھر فرمایا اِنَّ اللّٰہَ .... جَمِيْلٌ یُّحِبُّ الْجَمَالَ کہ خدا خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بندہ کا خدا سے تعلق پیدا کرنا جائز رکھا گیا ہے اور طریق یہ بتایا ہے کہ انسان خدا کی صفات کو اپنے اندر لے اور اپنے اوپر منعکس کرے اسی طرح ایک اور حدیث ہے جس سے تعلق پیدا کرنے کا پتہ لگتا ہے اور وہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو شخص ان کو یاد کرے وہ جنت میں جائے گاعهحفظ کے معنے محفوظ کرنے کے ہیں اور ضائع نہ کرنے کے۔ اس لئے حدیث کا یہ مطلب ہے کہ جب انسان خدا کی صفت غفاری کا لفظ سنے تو اُسے ضائع نہ ہونے دے بلکہ اپنے اندر اس کے مفہوم کو پیدا کرلے۔ اسی طرح جب رحمٰن کی صفت سنے تو اس صفت کو اپنے اندر محفوظ کر لے۔ ورنہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو خدا کے ننانوے نام یاد کرلے وہ جنّت میں چلا جائے گا کیونکہ اس طرح تو جنّت ایک کھیل بن جاتا۔ پس حق یہی ہے کہ حفظ کے معنے محفوظ کر لینے اور باہر نہ نکلنے دینے کے ہیں اور اس کا یہ مطلب ہے کہ انسان سبحان، قدیر، رحمٰن، رحیم وغیرہ بن جائے اور وہ انسان جو اپنے اندر خدا تعالیٰ کی ننانوے صفتیں پیدا کرلے گا وہ جنّت میں نہ جائے گا تو پھر اور کون جائے گا۔

رؤیت الٰہی

جب اس بات کا پتہ لگ جائے کہ انسان خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرسکتا ہے تو عالم ہی بدل جاتا ہے۔ پہلے تو یہی سوال تھا کہ خدا ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو اس کی کیا صفات ہیں؟ جب صفات کا پتہ لگا تو ان پر غور کیا کہ ان کا ہم پر کیا اور کس طرح اثر پڑتا ہے؟ پھر جب معلوم ہوا کہ وہ نہایت وسیع ہیں اور پھر یہ معلوم ہوا کہ وہ صفات میرے اندر آسکتی ہیں اور اس طرح خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو سکتا ہے تو اس مقام پر انسان کے خیالات میں عجیب تغیر پیدا ہو جائے گا۔ اس وقت اس کی حالت ایسی ہی سمجھ لو جیسے کسی بچہ کو شہر میں لے جائیں وہ ضرور کہے گا کہ میں یہ چیز بھی لے لوں اور یہ بھی لے لوں۔ اسی طرح بندہ کا حال ہو گا جب مذکورہ بالا طاقتوں والا خدا ثابت ہو گیا تو اس کے دل میں طبعاً خواہش ہو گی کہ میں اسے دیکھوں اور اس کا قرب حاصل کروں اور وہ ضرور سوال کرے گا کہ کیا رُؤیت الٰہی حاصل ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اس سوال کے کئی جواب ہیں اس لئے کہ پچھلے علمائے روحانی میں اس کے متعلق اختلاف ہوا ہے بعض کا خیال ہے کہ رؤیت الٰہی ناممکن ہے کیونکہ خدا وراء الوریٰ ہے اور بندہ مادی ہستی ہے اس لئے ناممکن ہے کہ بندہ خدا کو دیکھ سکے۔ بندہ بندہ ہے اور خدا خدا۔ پس رؤیت الٰہی بندہ کے لئے نہ اس دنیا میں ممکن ہے اور نہ اگلی دنیا میں کیونکہ وہاں بھی وہ بندہ ہی رہے گا پھر وہ کہتے ہیں کہ خدا کو خواب میں دیکھنا بھی ناممکن ہے اگر انسان خواب میں خدا کو دیکھ سکتا تو ان آنکھوں سے بھی دیکھ سکتا اس لئے وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی خواب میں خدا کو دیکھے تو شیطان دھوکا دینے کے لئے اسے دکھائی دیتا ہے۔

۲۔ بعض کہتے ہیں کہ اس جہان میں انسان خدا کو نہیں دیکھ سکتا لیکن اگلے جہان میں دیکھ لے گا۔

۳۔ بعض کہتے ہیں کہ دونوں جہان میں خدا کو دیکھنا ممکن ہے یہاں بھی انسان خدا کو دیکھ سکتا ہے اور اگلے جہان میں بھی دیکھے گا۔

رؤیت الٰہی سے مراد کیا ہے؟

وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ دونوں جہان میں خدا کو دیکھنا ناممکن ہے ان کو ہم کہتے ہیں تمہارے اس خیال کی بنیاد اس بات پر ہے کہ خدا وراء الوریٰ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ رؤیت الٰہی سے مراد کیا ہے؟ آیا یہ کہ انسان خدا کی ذات پر محیط ہو جائے اگر یہ ہے تو ٹھیک ہے کہ اس طرح خدا کو کہیں بھی نہیں دیکھ سکتا۔ پھر رؤیت الٰہی سے یہ بھی مراد نہیں ہو سکتی کہ خدا تعالیٰ کی صورت نظر آئے کیونکہ جو لوگ رؤیت کے قائل ہیں وہ خدا تعالیٰ کی کوئی صورت تسلیم نہیں کرتے ان کی مراد اگر رؤیت الٰہی سے کچھ ہے تو یہی کہ خدا تعالیٰ کی صفات تنزل اختیار کر کے تمثیلی صورت میں آتی اور انسان ان کا جلوہ دیکھتا ہے یا یہ کہ اپنے قلب میں انسان خدا تعالیٰ سے ایک ایسا روحانی اتصال پاتا ہے کہ اسے سوائے دیکھنے کے اور کسی چیز سے تشبیہ نہیں دے سکتا اور اس قسم کی رؤیت کو کوئی ردّ نہیں کر سکتا۔ اس طرح اور کئی چیزوں کو انسان دیکھ لیتے ہیں۔ مثلاً علم اور حیا شکل اختیار کر کے آ جاتی ہیں اور ہم دیکھ لیتے ہیں حالانکہ علم اور حیا معانی ہیں اجسام نہیں۔ پس اگر خدا تعالیٰ کی بعض صفات اگر بطور تنزل بندے کے لئے متمثل ہوں یعنی تمثیلی زبان میں ان پر بندہ کو آگاہ کیا جائے تو یہ بات بندہ کے لئے اسی طرح مفید ہو گی جس طرح کسی وجود کا دیکھنا مفید ہو سکتا ہے اور اگر قلب پر صفات الٰہیہ کی تجلی ہو تو یہ بھی ویسی ہی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر مفید ہو گی۔ موٹی مثال ہے کلام اللہ نازل ہوتا ہے ہم اسے پڑھ جاتے ہیں اُس کے بعد لفظ تو غائب ہو جاتے ہیں مگر ایک بات انسان کے اندر پیدا ہو جاتی ہے جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی ہے پس معانی کا شکل اختیار کرنا کوئی بعید بات نہیں۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی صفات کو تصویری زبان میں دکھا دیا جانا بھی ناممکن ہے۔

حضرت موسیٰؑ اور رؤیت الٰہی

وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اگلے جہان میں خدا کی رؤیت ہو سکے گی اس جہان میں نہیں ہو سکتی وہ مندرجہ ذیل آیت کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰی لِمِیۡقَاتِنَا وَکَلَّمَہٗ رَبُّہٗ ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَیۡکَ ؕ قَالَ لَنۡ تَرٰٮنِیۡ وَلٰکِنِ انۡظُرۡ اِلَی الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَکَانَہٗ فَسَوۡفَ تَرٰٮنِیۡ ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلۡجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا وَّخَرَّ مُوۡسٰی صَعِقًا ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبۡحٰنَکَ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ(الاعراف: ۱۴۴) وہ کہتے ہیں دیکھو قرآن سے ثابت ہے کہ حضرت موسیٰؑ خدا کے پاس گئے اور جا کر کہا اے خدا مجھے اپنا وجود دکھا اللہ نے کہا تو ہرگز نہیں دیکھے گا اور کہا کہ پہاڑ کی طرف دیکھ اگر وہ ٹھہرا رہا تو تم بھی دیکھ لو گے لیکن جب پہاڑ پر بجلی گری اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تو حضرت موسیٰؑ بیہوش ہو گئے اور جب انہیں افاقہ ہوا تو کہا اے اللہ تو پاک ہے میں توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا مؤمن بنتا ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ رؤیت الٰہی ناممکن ہے کیونکہ حضرت موسیٰؑ نے اس کی خواہش کی مگر ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی اور وہ بیہوش ہو گئے۔

پہلا جواب اس کا یہ ہے کہ اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ رؤیت الٰہی نہیں ہو سکتی درست نہیں کیونکہ جواب میں یہ نہیں کہا گیا کہ تو اس دُنیا میں نہیں دیکھ سکے گا بلکہ کہا گیا ہے کہ لَنْ تَرینِیْ تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکے گا اب اگر اس کے یہ معنی ہیں کہ رؤیت الٰہی ناممکن ہے تو پھر اگلے جہان میں بھی وہ ناممکن ہو گی اس لئے جو لوگ اگلے جہان میں رؤیت کے قائل ہیں انہیں بھی اس آیت کی کوئی توجیہ کرنی پڑے گی۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت موسیٰؑ جو خدا تعالیٰ کے نبی تھے کیا وہ یہ نہ سمجھ سکتے تھے کہ رؤیت الٰہی ممکن ہے یا نہیں اگر کوئی اور معمولی بات ہوتی تو اور بات تھی مگر یہ تو ایسا مسئلہ تھا کہ جس دن حضرت موسیٰؑ نے نبوت کا دعویٰ کیا اسی دن پتہ لگ جانا چاہئے تھا مگر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کو پہلے رؤیت ہوئی تھی۔ چنانچہ آتا ہے وَہَلۡ اَتٰٮکَ حَدِیۡثُ مُوۡسٰی اِذۡ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَہۡلِہِ امۡکُثُوۡۤا اِنِّیۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّیۡۤ اٰتِیۡکُمۡ مِّنۡہَا بِقَبَسٍ اَوۡ اَجِدُ عَلَی النَّارِ ہُدًی فَلَمَّاۤ اَتٰٮہَا نُوۡدِیَ یٰمُوۡسٰی اِنِّیۡۤ اَنَا رَبُّکَ فَاخۡلَعۡ نَعۡلَیۡکَ ۚ اِنَّکَ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًی وَاَنَا اخۡتَرۡتُکَ فَاسۡتَمِعۡ لِمَا یُوۡحٰی(طٰهٰ: ۱۰ تا ۱۴)۔

حضرت موسیٰؑ نبی ہونے سے قبل آ رہے تھے کہ انہوں نے آگ کی روشنی دیکھی اور سمجھ گئے کہ یہ جلوۂ الٰہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے جب اس نے اس کو دیکھا تو اپنے اہل کو کہا کہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے یہ ایک کا لفظ بتاتا ہے کہ موسیٰؑ جانتے تھے کہ یہ کشفی نظارہ ہے ورنہ وہ کہتے کہ وہ دیکھو آگ نظر آ رہی ہے اور جب کشفی نظارہ تھا تو اس سے مراد جلوۂ الٰہی ہی ہو سکتا ہے اور آگے جو لفظ قبس وغیرہ کے استعمال کئے گئے ہیں وہ بھی حقیقی آگ پر دلالت نہیں کرتے کیونکہ جب کسی چیز کو کسی اور چیز سے تشبیہ دی جاتی ہے تو اس کی صفات کو بھی اس کی نسبت استعمال کیا جاتا ہے جیسے کہ کسی کو شیر کہیں تو یہ نہیں کہیں گے کہ وہ شیر کی طرح تقریر کرتا ہے بلکہ یہ کہ شیر کی طرح چنگھاڑتا ہے۔ پس چونکہ جلوۂ الٰہی کا نام آگ رکھا گیا تھا اس لئے آگے اس کے آثار وغیرہ

کا نام بھی انگارہ رکھا گیا اور یہ جو حضرت موسیٰؑ نے کہا کہ مَیں لاتا ہوں یا ہدایت پا کر آتا ہوں تو اس کا مطلب یہ تھا کہ حضرت موسیٰؑ نے اس وقت تک یہ نہیں سمجھا تھا کہ یہ جلوۂ نبوت ہے یا جلوۂ ولایت اس لئے انہوں نے اپنے اہل سے کہا کہ اگر وہ ہدایتِ نبوت ہوئی اور حکم ہوا کہ دوسروں کو بھی تعلیم دو تو تمہارے لئے بھی لاؤں گا اور اگر ہدایتِ ولایت ہوئی جو اپنے لئے ہوتی ہے تو مَیں خود ہدایت پا جاؤں گا۔

پس جب وہ وہاں گئے تو معلوم ہوا کہ جلوۂ الٰہی ہے اور کہا گیا کہ فَاخۡلَعۡ نَعۡلَیۡکَ(20:13) یعنی دنیاوی تعلقات چھوڑ دو۔ پس جب وہ وہاں جلوۂ الٰہی دیکھ کر آئے تھے تو انہیں شک ہی کس طرح ہو سکتا تھا کہ رُؤیت ہو سکتی ہے یا نہیں اور اگر کہا جائے کہ طور پر ان کی مراد رؤیت سے ذات کی رؤیت سے تھی تو یہ حضرت موسیٰؑ پر اتہام ہو گا کیونکہ وہ شخص جو فرعون سے لمبے عرصہ تک خدا تعالیٰ کے وراء الورٰی ہونے پر بحث کرتا رہا ہے کیا ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ یہ مطالبہ کرے کہ مَیں خدا تعالیٰ کی ذات کی حقیقی رؤیت کرنا چاہتا ہوں۔ ایسا سوال تو پاگل کے سوا کوئی نہیں کر سکتا۔

حضرت موسیٰؑ نے کس رؤیت کیلئے سوال کیا؟

اس پر سوال ہوتا ہے کہ پھر انہوں نے رؤیت کے لئے سوال کیوں کیا؟ اگر کہا جائے کہ جس طرح اچھی چیز کو انسان بار بار دیکھنے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح انہوں نے کیا تو کہتے ہیں کہ پھر یہاں کیوں بیہوش ہو گئے؟ پہلی دفعہ کیوں بیہوش نہ ہوئے تھے؟

میرے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس مقام پر حضرت موسیٰؑ کو بتایا تھا کہ ہمارا ایک رسول محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تیرا مثیل ہو کر مگر تجھ سے بہت اعلیٰ شان میں آئے گا اس خبر کو معلوم کر کے حضرت موسیٰؑ کے دل میں طبعاً یہ خواہش پیدا ہوئی کہ دیکھوں تو سہی اس پر خدا تعالیٰ کا کس رنگ میں جلوہ ہو گا اور انہوں نے خواہش کی کہ مجھے بھی جلوۂ محمدی دکھایا جائے مَیں بھی تو دیکھوں کہ اس وقت آپ کس شان سے ظاہر ہوں گے؟ خدا تعالیٰ نے فرمایا تو اس کے جلوہ کو برداشت نہیں کر سکے گا چنانچہ خدا تعالیٰ نے انکی خواہش تو پوری کر دی مگر وہ اسے برداشت نہ کر سکے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جلوہ کو برداشت کر لیا کیونکہ آپ کا وہ اصل مقام تھا۔

لیکن اگر یہ معنے بھی نہ کئے جائیں تب بھی رؤیت کا امکان ثابت ہے کیونکہ منکرینِ رؤیت مانتے ہیں کہ موسیٰ کو خدا کی رؤیت سے غش آگیا تھا تو ہم کہتے ہیں تم تو کہتے ہو رؤیت ناممکن ہے پھر ناممکن کو دیکھنے کا کیا مطلب؟ دیکھو یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ سورج کو دیکھ کر آنکھیں چندھیا گئیں مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ علم کو دیکھ کر آنکھیں چندھیا گئیں پس یغش والا لفظ بتاتا ہے کہ کوئی ایسی چیز تھی جسے انہوں نے دیکھا اور جب انہوں نے کچھ دیکھا تھا تو اس سے بیہوش ہی ہو گئے ہوں مگر یہ تو معلوم ہو گیا کہ اس کا دیکھنا انسانی طاقت میں ہے۔

پھر ہم کہتے ہیں اس آیت میں یہ کہاں لکھا ہے کہ خدا نے حضرت موسیٰ پر تجلی کی۔ تجلی تو جبل پر کی ہے۔ پس جب خدا تعالیٰ کی تجلی ادنیٰ مخلوق پر آسکتی ہے اور وہ برداشت کر سکتی ہے تو انسان جو اعلیٰ مخلوق ہے اس پر کیوں نہ آئی اگر کہو کہ پہاڑ میں جو مخفی طاقتیں تھیں ان میں خدا ظاہر ہوا تو پھر حضرت موسیٰ نے اس تجلی کو دیکھا کس طرح؟

اگر کہا جائے کہ حضرت موسیٰ زلزلہ سے ڈر گئے تھے تو ہم پوچھتے ہیں کیا مؤمن اور خاص کر نبی ایسے ہی بزدل ہوتے ہیں اور اگر یہی بات تھی تو انہوں نے بیہوشی سے اُٹھ کر یہ کیوں کہا کہ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ وہ کس چیز پر ایمان لائے تھے؟ کیا اس بات پر کہ میں زلزلہ دیکھ کر ڈر گیا تھا ۔ ان الفاظ کا یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں اس رسول پر جس پر تیری اس شان سے تجلی ہونے والی ہے سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں۔ چنانچہ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ کی نسبت آیا بھی ہے کہ فَاٰمَنَ وَاسۡتَکۡبَرۡتُمۡ(46:11) وہ تو ایمان لے آیا مگر تم نے تکبر کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی وجہ سے فرماتے ہیں کہ لَوْ کَانَ مُوسٰی وَعِیْسیٰ حَیَّیْنِ مَا وَسِعَہُمَا اِلَّا اتِّبَاعِیْ(الیواقیت والجواہر جلد نمبر ۲ صفحہ ۲۲) کہ اگر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ زندہ ہوتے تو ان کو میری اتباع کے سوا چارہ نہ تھا۔

حضرت موسیٰ کی توبہ

اور اگر کہا جائے کہ اگر اس کا یہ مطلب ہے تو حضرت موسیٰ کے توبہ کرنے کے کیا معنے ہوئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جو معنے تم کرتے ہو اس پر بھی یہی اعتراض پڑتا ہے کیونکہ اگر اس کے معنی گناہ سے توبہ کرنے کے ہیں تو انہوں نے کیا گناہ کیا تھا؟ اگر نظارہ کے دیکھنے کی درخواست کرنا گناہ ہوتا تو خدا تعالیٰ اسی وقت ڈانٹ دیتا جس طرح حضرت نوح نے جب اپنے بیٹے کے لئے دُعا کی تو خدا تعالیٰ نے ان کو روک دیا۔ تو چاہئے تھا کہ خدا تعالیٰ ان کو بھی منع فرما دیتا کہ ایسی بات مت کہو نہ یہ کہ جس طرح انہوں نے چاہا اسی طرح کرنے لگ جاتا۔ پس تُبۡتُ اِلَیۡکَ(7:144) کے معنے گناہ سے توبہ کرنے کے نہیں ہیں بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اے تمام صفات کے جامع خدا تیرا اتنا بڑا درجہ ہے کہ میں تیری طرف جھکتا ہوں اور اس رسول کا اوّل مومن ہوں۔

بعض احادیث کا مطلب

رویت الٰہی کے منکر یہ حدیث بھی پیش کرتے ہیں کہ لَنْ یَّرَىٰ اَحَدٌ مِّنْكُمْ رَبَّهُ (عَزَّ وَ جَلَّ) حَتّٰی یَمُوْتَ کہ تم میں سے کوئی اپنے رب کو نہ دیکھے گا جب تک مر نہ جائے مگر ہم کہتے ہیں کہ اس رُؤیت کے معنے وسیع نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت والی رُؤیت بیان کرتے ہوئے اس کی نفی کی ہے کہ جب تک کسی پر موت نہ آجائے وہ اس قسم کی رُؤیت نہیں پا سکتا اور یہ ہم بھی مانتے ہیں۔ اسی طرح حدیث میں آتا ہے هَلْ رَاَيْتَ رَبَّكَ فَقَالَ نُوْرًا اَنّٰی اَرَاهُ یعنی لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا آپؐ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ وہ تو نور ہے میں اسے کس طرح دیکھ سکتا ہوں؟ اس حدیث سے بھی منکرین رُؤیت استدلال کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا دیکھنا ناممکن ہے۔ مگر یہ حدیث سائل کے سوال کے جواب میں ہے۔ ممکن ہے سائل نے خدا کی ذات کے متعلق پوچھا ہو کہ کیا آپ نے اس ذات کو دیکھا ہے یا نہیں؟ اور اس کا جواب دیا گیا کہ میں اسے کیا دیکھ سکتا ہوں۔

رُؤیت الٰہی کے متعلق احادیث

اب میں رُؤیت کے دلائل بیان کرتا ہوں قیامت میں رُؤیت کے متعلق بہت سی احادیث میں ذکر آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے لئے رُؤیت کا امکان ثابت ہے۔ حدیث میں آتا ہے خَيْرُ الرُّؤْيَا اَنْ يَّرَىٰ رَبَّهُ فِي الْمَنَامِ اَوْ يَرٰی اَبَوَيْهِ کہ اچھی خواب وہ ہے کہ انسان خدا کو یا ماں باپ کو خواب میں دیکھے جو نیک ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کو انسان دیکھ تو سکتے ہیں اور جب اور لوگ دیکھ سکتے ہیں تو موسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہیں دیکھ سکتے اسی طرح معبرین لکھتے ہیں کہ اگر کوئی خواب میں خدا کو دیکھے تو جنت میں جائے گا۔ خوابوں کی تعبیریں صلحاء کی خوابوں پر رکھی گئی ہیں اگر یہ ٹھیک نہیں تو ان کو خوابیں کس طرح آئیں اور اگر خدا تعالیٰ کی رُؤیت ناممکن ہے تو پھر علمِ تعبیر میں اسے بیان کیوں کیا گیا ہے؟

رُؤیت کے مدارج

غرض جو آیات یا روایات رُؤیت الٰہی کے رد میں پیش کی جاتی ہیں ان کا وہ مطلب نہیں جو منکرین رُؤیت سمجھتے ہیں اور دوسری آیات اور روایات ایسی ملتی ہیں جو رؤیتِ الٰہی کا امکان ثابت کرتی ہیں بلکہ خود ان آیات سے بھی جو ردّ میں پیش کی جاتی ہیں امکان بلکہ حدوثِ رؤیت ثابت ہوتا ہے۔ اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ رؤیتِ الٰہی کے کئی درجے ہیں حتیٰ کہ ایک ایسی ادنیٰ درجہ کی رؤیت بھی ہے کہ جو بظاہر مؤمن لیکن بہ باطن منافق ہوتا ہے اسے بھی ہو جاتی ہے اور اعلیٰ درجوں کے لحاظ سے اس کے اس قدر درجے ہیں جو کبھی ختم ہی نہیں ہوتے۔

مختلف رؤیتِ الٰہی

ذات کی رؤیت تو ایک ہی ہوتی ہے اور ایک ہی ہونی چاہئے لیکن صفات کی رؤیت مختلف ہوتی ہے۔ دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حضرت خلیفہ اول نے بھی پہچانا اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے بھی مگر حضرت خلیفہ اول کی رؤیت اور تھی اور مولوی عبدالکریم صاحب کی اور۔ پس خدا تعالیٰ کی رؤیت چونکہ صفاتی ہے اس لئے لازماً اس کے بہت سے مدارج ہونے چاہئیں کیونکہ جب بھی صفات باری جلوہ گر ہوں گی اس شخص کے درجہ کے مطابق جلوہ گر ہوں گی جو دیکھنے والا ہو گا جیسا جیسا کوئی شخص ہوگا ویسی ویسی اس کو رؤیت حاصل ہو گی کیونکہ ہر چیز اپنی جنس کو دیکھ سکتی ہے غیر کو نہیں دیکھ سکتی ہم چونکہ مادی ہیں اس لئے مادہ کو دیکھ سکتے ہیں جو ہر کو نہیں دیکھ سکتے۔ پھر بعض ایسی چیزیں ہیں جو ہم سے زیادہ اعلیٰ مادہ سے بنی ہیں یا جن کے متعلق ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ مادی ہیں یا اور کوئی چیز ہیں بہرحال وہ ایسی چیزیں ہیں جو ہماری جنس کی نہیں ہیں ان کو ہم نہیں دیکھ سکتے تو جب تک ایک چیز کو دوسری سے جنسی مناسبت نہ ہو نہیں دیکھ سکتی رؤیتِ الٰہی کے لئے بھی مناسبت ہونی ضروری ہے اور اس مناسبت میں اختلاف بھی ضروری ہے کسی کو زیادہ ہو گی کسی کو کم اس لئے ہر ایک کو اس مناسبت کے مطابق رؤیت ہو گی جو اس میں پائی جائے گی اور خدا تعالیٰ اس مناسبت کے لحاظ سے تنزل کر کے اسے رؤیت کرائے گا۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص ایک اونچی جگہ کھڑا ہو اور مختلف قدوں والے لوگوں نے جو اس کے نیچے کھڑے ہوں اس سے مصافحہ کرنا ہو تو اس وقت اس شخص کو بڑے قد والوں کے لئے کم جھکنا پڑے گا اور چھوٹے قد والوں کے لئے زیادہ اسی طرح رؤیت کے معاملہ میں جن لوگوں میں صفات الہیہ سے زیادہ مناسبت ہو گی ان کے لئے خدا تعالیٰ کو کم نیچے آنا پڑے گا اور جن میں کم ہو گی ان کے لئے زیادہ اور جتنا خدا زیادہ نیچے آئے گا اتنی ہی رؤیت ادنیٰ ہو گی اور جتنا انسان اعلیٰ ہو گا اتنی ہی رؤیت اعلیٰ ہو گی۔


رؤیت الٰہی کے مدارج کا عُلُوّ

یہ رؤیت الٰہی کے مدارج ایسے اعلیٰ ہیں کہ انسان اس دنیا میں انہیں طے نہیں کرسکتا بلکہ دائمی زندگی میں بھی طے نہیں کر سکتا۔ آریہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب انسان کے اعمال دائمی نہیں تو دائمی نجات کیونکر ہوسکتی ہے؟ ہم کہتے ہیں دائمی نجات خدا تعالیٰ کی ایک صفت دینا چاہتی ہے اور وہ صفت احدیت ہے اور صفت احدیت ظاہر نہیں ہوتی اگر بندہ کچھ عرصہ کے بعد مرجاتا تو کہہ سکتا تھا کہ اگر میں اور زندہ رہتا تو خدا تعالیٰ کی حقیقت اور علم کو معلوم کر سکتا تھا مگر خدا تعالیٰ نے دائمی نجات دے کر کہا لے اب بھی تو میری حقیقت معلوم نہیں کرسکتا۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَلَأُ الْاَعْلٰی يَثْلَوُنَهٗ كَمَا تَثْلُوُنَهٗ یہ مت سمجھو کہ تم خدا کو دریافت کر سکو گے ملاء اعلیٰ والے بھی اسی طرح اس کی دریافت میں لگے ہوئے ہیں جس طرح تم اس کی دریافت میں لگے ہوئے ہونگر کوئی انتہائی درجہ کا قرب نہیں پاسکتا۔ جس طرح دوسرے لوگ اس جستجو میں لگے ہوئے ہیں اسی طرح حضرت موسیٰؑ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی لگے ہوئے ہیں کہ خدا کی ساری صفات کو دیکھیں مگر جوں جوں کوشش کرتے ہیں اور زیادہ صفات نکلتی آتی ہیں اور وہ کبھی ختم ہی نہیں ہوتیں اور نہ کسی ایک صفت کی سیر ہی ختم ہوتی ہے۔

غیر محدود انسانی ترقی

مگر یہ سُن کر کہ رؤیت کے مدارج لا انتہاء ہیں گھبرانا نہیں چاہئے کیونکہ ہم خدا کی ذات کو نہیں دیکھ سکتے اور اس کے دیکھنے کے پیچھے نہیں پڑے ہوئے بلکہ ہم نے اس کی صفات کو دیکھنا ہے اور ان کے غیر محدود ہونے کے یہ معنی ہیں کہ ہماری ترقی بھی غیر محدود ہے اور ہم بہت بڑی ترقی کرسکتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی شخص کو کوئی سونے کی کان مل جائے اور اسے کھودنے پر اسے معلوم ہو کہ اس کا سونا کبھی ختم ہی نہیں ہوگا تو یہ شخص افسردہ نہیں ہوگا بلکہ خوش ہوگا۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کا کبھی طے نہ ہونا اور اس کی رؤیت کے مدارج کا کبھی ختم نہ ہونا ہمارے لئے حوصلہ شکن نہیں ہے بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ ہماری ترقی غیر محدود ہے اور ہمارے لئے آگے ہی آگے بڑھنے کا سامان موجود ہے۔

اب میں ان رؤیتوں کے بعض وہ موٹے موٹے مدارج بیان کرتا ہوں جو حدیثوں سے معلوم ہوتے ہیں۔

رؤیت الٰہی کا پہلا درجہ

ایک تو وہ درجہ ہے جس میں منافق بھی شامل ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کو جب حشر میں لوگ کھڑے کئے جائیں گے تو ان کو آواز آئے گی کہ صلیب کے متبع اس کے پیچھے اور بتوں کے پجاری بتوں کے پیچھے اور دوسرے مشرک جن جن کو خدا کا شریک مقرر کرتے تھے ان کے پیچھے چل پڑیں اور یہ چیزیں ان کے لئے تمثل کر کے لائی جائیں گی ان کے پجاری ان کے پیچھے چلے جائیں گے۔ ان کے جانے کے بعد مسلمان باقی رہ جائیں گے یعنی ساری اُمتوں کے مسلمان ان کے ساتھ منافق بھی ہوں گے تب خدا آئے گا اور ایسی شکل میں آئے گا کہ جسے بندے پہچانتے ہوں گے اور کہے گا کہ مَیں خدا ہوں میرے پیچھے آؤ وہ کہیں گے نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْكَ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْكَ اَللّٰهُ رَبُّنَا ہم تیرے پیچھے نہیں چلتے اور ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں پھر خدا تعالیٰ غائب ہو جائے گا اور کسی دوسری شکل میں جلوہ گری کرے گا اور کہے گا میرے پیچھے آؤ اس وقت وہ کہیں گے هٰذَا مَکَانُنَا حَتّٰی نَرٰی رَبَّنَا کہ ہم تیرے متبع نہیں اور ہم یہاں سے نہیں ہٹیں گے جب تک خدا تعالیٰ کو نہ دیکھ لیں

یہ ظاہر ہونے والا وجود بھی درحقیقت خدا تعالیٰ کی متمثل صفات ہی ہوں گی اس لئے اس کا دیکھنا بھی خدا کا دیکھنا ہی ہے اور منافق اس رؤیت میں مؤمنوں کے شریک ہوں گے لیکن کافر اس سے بھی محروم رہیں گے جس طرح منافقوں نے ظاہر میں اسلام کو دیکھا ہوتا ہے حقیقی طور پر نہیں دیکھا ہوتا اسی طرح جب خدا تعالیٰ اپنی اصلی صفات میں جلوہ گر نہیں ہو گا بلکہ اس کی صفاتِ تنزل کا ایک نہایت ہی کثیف پردہ اوڑھے ہوئے ہونگی جیسے کہ خواب میں بعض لوگ خدا تعالیٰ کو باپ کی شکل میں دیکھ لیتے ہیں اور جس کے متعلق کہ بندہ کو خیال بھی نہیں آسکے گا کہ یہ خدا کا جلوہ ہے۔ اس وقت تو منافق دو قسم کی تجلی دیکھ لیں گے مگر جب پھر اس کے بعد خدا آئیگا اور اعلیٰ تجلی کر کے کہے گا کہ سجدہ کرو اور سب اس کے آگے جھکیں گے تب منافقوں کی آنکھیں چندھیا جائیں گی اور وہ سجدہ کرنے کی کوشش کریں گے مگر جھک نہ سکیں گے۔ تب ان کو کہا جائے گا کہ تم میرے لئے عبادت نہ کرتے تھے اس لئے آج حقیقی تجلی پر عبادت کی توفیق چھینی گئی۔

اس وقت ان کو جہنم میں گرا دیا جائے گا چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے یَوۡمَ یُکۡشَفُ عَنۡ سَاقٍ وَّیُدۡعَوۡنَ اِلَی السُّجُوۡدِ فَلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ خَاشِعَۃً اَبۡصَارُہُمۡ تَرۡہَقُہُمۡ ذِلَّۃٌ ؕ وَقَدۡ کَانُوۡا یُدۡعَوۡنَ اِلَی السُّجُوۡدِ وَہُمۡ سٰلِمُوۡنَ(القلم: ۴۳، ۴۴)

اس سے معلوم ہوا کہ رؤیت الٰہی کے دو مدارج تو ایسے ہیں کہ ان میں منافق بھی خدا کو دیکھ سکیں گے لیکن تیسری تجلی کی جو حقیقی تجلی تھی وہ برداشت نہ کر سکیں گے۔

خدا تعالیٰ کی رؤیت کے مختلف مدارج کا ثبوت حدیث سے

پھر دوسری حالت کے متعلق آتا ہے کہ جب مؤمن جنت میں داخل ہو جائیں گے تو آواز آئے گی کہ خدا نے تم سے جتنے وعدے کئے تھے وہ سب پورے کر دیئے صرف ایک وعدہ باقی ہے جنتی کہیں گے خدا نے تو ہم سے سارے وعدے پورے کر دیئے اور کیا باقی ہے؟ وہ کہے گا کہ میں نے اپنے آپ کو ابھی تمہیں دکھانا ہے یہ وعدہ باقی ہے حالانکہ تین دفعہ وہ پہلے دیکھ آئے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رؤیت کے اس قدر مدارج ہیں کہ بعض رؤیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سے ادنیٰ درجہ کی رؤیتیں رؤیت کہلانے کی بھی مستحق نہیں ہوتیں کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو تین رؤیتوں کے بعد اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا کہ ابھی میرا رؤیت والا وعدہ پورا نہیں ہوا۔

رؤیت الٰہی کے حصول کا طریق

اس دنیا میں رؤیت الٰہی کے حصول کا طریق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی جتنی زیادہ صفات انسان جمع کرے اتنا ہی زیادہ جلوہ دیکھتا ہے اور چونکہ مؤمن کا درجہ بڑھتا جاتا ہے اس لئے اس کی رؤیت بھی بڑھتی جاتی ہے اور جو رؤیت اگلے جہان میں ہونے والی ہے وہ بھی ترقی کرتی چلی جائیگی بعض کو تو اس دنیا کے ہفتہ کے عرصہ میں خدا تعالیٰ دوسرا جلوہ دکھائے گا یعنی بعض ایسے لوگ جنت میں ہوں گے کہ جن کی روحانیت صرف اس درجہ تک ترقی یافتہ ہو گی کہ وہ روحانی ترقی کا اگلا جہان ایک ہفتہ میں طے کر سکیں گے اس لئے ان کو ہر دوسری رؤیت ایک ہفتہ کے بعد ہو گی اور جو ان سے بڑھ کر ترقی یافتہ ہوں گے انہیں صبح بھی دیدار ہو گا اور شام کو بھی اور اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اگر صبح انہیں ایک روحانی درجہ حاصل تھا تو شام کو اور درجہ حاصل ہو گا اور اگلی صبح اور درجہ حاصل ہو گا۔ ممکن ہے کہ اس سے بڑے مدارج کے لوگ بھی ہوں جن کو اس سے بھی کم عرصہ روحانی ترقی کے حصول میں لگے لیکن حدیث سے اسی قدر معلوم ہوتا ہے۔

اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف مدارج کے لحاظ سے مختلف رُوئیتیں حاصل ہوتی ہیں اور جتنی روحانی طاقت زیادہ انسان یہاں پیدا کرے گا اُتنی ہی جلدی وہاں رُؤیت میں ترقی ہوگی اور کم از کم ایک ہفتہ کے اندر اُس کی گویا نئی پیدائش ہوگی۔ اس کی روح اتنی ترقی کرے گی کہ نئی بن جائے گی اور اعلیٰ درجہ کے مومن تو بارہ بارہ گھنٹے میں ترقی کریں گے۔

دیکھو خدا تعالیٰ کے انبیاءؑ کیسے لطیف اشارات سے استدلال کرتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مومن کو صبح بھی تجلی ہوگی اور شام کو بھی۔ اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا علم کسقدر وسیع تھا اور آپؐ کی نظر کہاں سے کہاں پہنچتی تھی ایک حدیث میں آتا ہے کہ اگر تم خدا کی رؤیت چاہتے ہو تو صبح اور عصر کی نماز کی خوب پابندی کرو۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استدلال کیا ہے کہ ان نمازوں کی وجہ سے ہی تجلی ہوگی کیونکہ خدا فعل پر نتیجہ مرتب کرتا ہے صبح کی نماز کے فعل پر صبح کی رؤیت اور عصر کی نماز کے فعل پر پچھلے پہر کی رؤیت ہوگی۔

اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ صبح اور عصر کی نمازوں کی خوب پابندی کرو اس کے یہ معنی نہیں کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نمازوں کا خاص حکم دیا ہے اس لئے باقی چھوڑی بھی جاسکتی ہیں ان نمازوں کے متعلق تاکید کرنے سے صرف یہ مراد ہے کہ چونکہ ان دونوں اوقات میں انسان کے پچھلے اعمال پیش کئے جاتے ہیں اس لئے ان اوقات کی نماز کو باجماعت ادا کرنے کے لئے خاص تعمد کرنا چاہئے ورنہ یہ مراد نہیں کہ دوسری نمازوں کی اہمیت کم ہے۔

رؤیت الٰہی کا پہلا فائدہ کہ وہ خوبصورتی پیدا کرتی ہے

ہر رؤیت انسان کے اندر تغیر پیدا کرتی ہے چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ(القیامۃ: ۲۳، ۲۴) کہ اس دن خدا کے حضور میں حاضر ہونے والوں کے منہ بڑے خوبصورت ہوں گے کیوں؟ اس لئے کہ اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے جب خدا کی تجلی سامنے ہوتی ہے تو اس کی بابرکت شعاعوں سے مومن بھی خوبصورت ہو جاتا ہے اور جب تجلی ہوتی ہے تو اس کا رُوح پر اثر پڑتا ہے اور روح یکدم ترقی کر کے اوپر کے درجہ پر پہنچ جاتی ہے ہماری آج جو روح ہے آخرت میں یہ جسم ہوگی اور عالم برزخ میں نئی روح تیار ہوگی پھر وہ روح بھی ترقیٔ مدارج کے ساتھ نئی روحانی پیدائشیں حاصل کرتی چلی جائے گی۔

غرض خدا تعالیٰ نے یہ طریق رکھا ہے کہ رؤیت کے نتیجہ میں خوبصورتی حاصل ہوتی ہے حدیث میں آتا ہے کہ جب خدا کی لوگوں پر تجلی ہوگی اور وہ واپس گھر جائیں گے تو گھر والے کہیں گے کہ تمہاری شکلیں کیسے بدل گئیں؟ وہ کہیں گے ہم حقدار تھے کہ ہماری شکلیں بدل کر خوبصورت ہو جائیں کیونکہ ہم نے خدا کو دیکھا ہے۔

تو جن کو رؤیتِ الٰہی حاصل ہوتی ہے ان کی روحیں بدلتی جاتی ہیں اسی دنیا میں دیکھ لو جن کو خدا کی رؤیت ہوتی ہے ان کی روحیں کیسی اعلیٰ اور اور ہی طرح کی ہو جاتی ہیں اور نہ صرف ان کی روحیں اعلیٰ ہو جاتی ہیں بلکہ ان کے جسم پر بھی نور برستا اور ان کی نیکی ظاہر ہوتی ہے۔

خدا کا شکل اختیار کرنا

شاید بعض کے دل میں خیال پیدا ہو کہ رؤیت الٰہی کی صورت یہ بتائی گئی ہے کہ خدا کی صفات متمثل ہو کر نظر آتی ہیں پس اصل چیز تو نہ دیکھی گئی پھر دیدار کے کیا معنے ہوئے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ اس طرح کی رؤیت بھی وہی رؤیت نہیں ہوتی بلکہ حقیقی رؤیت ہوتی ہے اس لئے کہ غیر محدود ذات کی رؤیت اسی طرح ہو سکتی ہے اصل غرض تو نتائج سے ہے اور رؤیت کے جو نتائج ہوا کرتے ہیں وہ اسی قسم کی رؤیت سے پورے ہو جاتے ہیں اس کی مثال سورج کی سی ہے جسے آج تک کبھی کسی نے نہیں دیکھا شاید بعض لوگ حیران ہوں گے کہ یہ کیا بات ہے؟ مگر حقیقت یہی ہے کہ اصل سورج کو کسی نے نہیں دیکھا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح اور چیزوں کی رفتار پر وقت لگتا ہے اسی طرح روشنی کی رفتار پر بھی وقت لگتا ہے جس کا اندازہ فی سیکنڈ ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کا ہے۔ چونکہ سورج دنیا سے نو کروڑ میل کے فاصلہ پر ہے اس لئے سورج کی روشنی دُنیا میں آٹھ منٹ کے قریب میں پہنچتی ہے اور چونکہ زمین چکر کھا رہی ہے اس لئے جس وقت سورج کی روشنی ہماری آنکھوں تک پہنچتی ہے اس وقت تک سورج اس جگہ سے آٹھ منٹ کا سفر آگے کی طرف طے کر چکا ہوتا ہے اور ہم جو کچھ دیکھتے ہیں وہ سورج نہیں بلکہ اس کی آٹھ منٹ پہلے کی شعاعیں ہوتی ہیں اور جس جگہ سورج کو دیکھتے ہیں در حقیقت وہ وہاں بھی نہیں بلکہ اس سے قریباً سوا سو میل آگے ہوتا ہے کیونکہ اس عرصہ میں زمین سوا سو میل کے قریب چکر کھا چکی ہوتی ہے۔ اسی طرح جب ہم دیکھتے ہیں کہ سورج ڈوب رہا ہے تو اس سے سات منٹ پہلے سورج ڈوب چکا ہوتا ہے ہم اس عرصہ میں اس کی آٹھ منٹ پہلے کی شعاعیں دیکھتے رہتے ہیں جسے وہ پیچھے چھوڑ جاتا ہے اور ہم انہیں سُورج سمجھتے ہیں۔ پس کبھی حقیقی سورج کسی نے نہیں دیکھا اس کی شعاعیں آتی ہیں جو ایک ٹکی بناتی ہیں اور اتنے عرصہ میں سُورج آگے نکل چکا ہوتا ہے اب کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ چونکہ حقیقی سورج کبھی کسی نے نہیں دیکھا اس لئے رُؤیت کا کوئی فائدہ نہیں۔ باوجود اس کے کہ سورج ڈوب چکا ہوتا ہے مگر اس کی پیچھے چھوڑی ہوئی شعاعیں ہمیں روشنی دیتی ہیں اور ہم ان سے وہی فائدہ اُٹھاتے ہیں جو سورج سے۔ اسی طرح گو خدا تعالیٰ نظر نہیں آتا کیونکہ اس کی ذات غیر محدود ہے مگر ہم اس کی صفات کے تمثلات کو دیکھ کر ولیا ہی فائدہ اُٹھاتے ہیں جو کسی ذات کے دیکھنے سے ہوا کرتا ہے سوائے شکل کی حد بندی کے اور خدا تعالیٰ شکل سے پاک ہے اس لئے اس کا کوئی نقصان نہیں۔ جب ہم ایسی محدود ذاتوں کا نظارہ بھی جو کہ بڑی ہوتی ہیں تمثلی طور پر ہی کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ کی غیر محدود ذات کا نظارہ حقیقی طور سے کس طرح کر سکتے ہیں؟ چنانچہ سورج کو دیکھو وہ پچیس لاکھ میل لمبا چوڑا ہے لیکن ہمیں وہ بہت چھوٹا نظر آتا ہے کیونکہ ہماری آنکھ اس قدر بڑے جسم کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتی ہمیں وہ صرف ایک ٹکیا کے برابر نظر آتا ہے کیونکہ اس کے بعد کی وجہ سے اتنا ہی عکس ہماری آنکھ پر پڑتا ہے اور اس بات کو پرانے زمانے کے دیہاتی لوگ بھی جانتے تھے کہ سورج اس سے بڑا ہے جس قدر کہ ہمیں نظر آتا ہے۔ چنانچہ ان میں ایک مَثَل تھی کہ ”تارا کھاری چند گھماں۔ سورج دا کچھ اوڑک ناں“۔ یعنی ستارے ایک بڑے ٹوکرے کے برابر ہوتے ہیں اور چاند دو بیگھے زمین کے برابر اور سورج اتنا بڑا ہے کہ اس کا اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا۔ گو یہ اندازہ غلط ہے مگر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پرانے زمانہ کا زمیندار طبقہ بھی اس امر کو سمجھتا تھا کہ دور کی چیزیں اور بڑی چیزیں اپنے فوکس اور ہماری آنکھ کے اندازہ کے مطابق ہی نظر آتی ہیں مگر باوجود اس کے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ سورج کا دیکھنا غیر حقیقی ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں یہی حال رؤیت الٰہی کا ہے۔

رؤیت الٰہی کا دوسرا فائدہ

دوسرا فائدہ رؤیت الٰہی کا یہ ہوتا ہے کہ جو صفت سامنے آتی ہے اس سے قلب میں تغیر پیدا ہوتا ہے۔ تعجب ہے خدا کے متعلق تو لوگ کہتے ہیں کہ اس کی رؤیت کا کیا فائدہ؟ لیکن اگر ان کا کوئی عزیز جدا ہونے لگے تو اس کی تصویر اتروا لیتے ہیں یا اگر کوئی مرا ہُوا بچہ یا رشتہ دار خواب میں نظر آئے تو بہت ہی خوش ہوتے اور اس نظارے سے متاثر بھی ہوتے ہیں، اگر ان باتوں سے فائدہ ہوتا ہے تو خدا کی حقیقی جلوہ گری کیوں نہ فائدہ دے گی؟

رویت الٰہی کا تیسرا فائدہ

تیسرا فائدہ یہ ہے کہ خدا کی تجلی خارقِ عادت چیز ہوتی ہے۔ ہوتی تو ایسی ہے کہ بندہ دیکھ سکے مگر اس کے ساتھ ایسی تاثیر ہوتی ہے کہ وہ قلوب کو منور اور روشن کر دیتی ہے اور گویا مخفی اثرات کے ذریعہ سے قلوب کو صاف کر دیتی ہے پس رؤیت حقیقی کے بعد انسان اپنے اخلاق اور اپنی روحانیت کے اندر ایک نہایت ہی عظیم الشان تغیر پاتا ہے اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف جذب ہوتا ہوا محسوس کرتا ہے جیسا کہ انبیاء اور اولیاء کا حال ہے یہ نتائج صرف رؤیت سے ہی پیدا ہو سکتے ہیں۔

ہم خدا سے کس حد تک تعلق پیدا کر سکتے ہیں؟

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ سے ہم کس حد تک تعلق پیدا کر سکتے ہیں؟ یہ سوال گو ہستی باری تعالیٰ کی تحقیق کی ابتداء میں بھی پیدا ہوتا ہے مگر اس وقت اس کا باعث علمی تحقیق کا خیال ہوتا ہے مگر مذکورہ بالا تحقیق کے بعد دوبارہ یہی سوال انسان کے دل میں اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ اب وہ عمل کے ساتھ خدا تک پہنچنا چاہتا ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر گویا انسان کی ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ جیسے کسی کے سامنے زمین و آسمان کے خزانے کھول کر رکھ دیئے جائیں اور وہ پوچھے کہ ان سے کیا فائدہ حاصل کروں اور کہاں اور کس طرح خرچ کروں۔ پس اب ہم یہ بات حل کرتے ہیں کہ خدا کی صفات کے غیر محدود خزانوں سے ہم کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور کس طرح فائدہ اُٹھا سکتے ہیں؟ اور ان کے ذریعہ سے اپنی روحانی حالت کو کس حد تک درست کر سکتے ہیں؟

خدا تعالیٰ کی صفات کے گہرے علم سے ہمیں کیا فائدہ ہوتا ہے؟

پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ جس بندہ کو خدا کی صفات کا علم ہو خواہ وہ ایک حرف بھی نہ پڑھا ہوا ہو دنیا کا بڑے سے بڑا سائنسدان بھی اس کے مقابلہ میں کچھ نہیں ہوتا۔ پس پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ ایسے شخص کے ہاتھ میں علم کا خزانہ آجاتا ہے جب تک کسی چیز کا پتہ نہ ہو تو اس کو استعمال کرنے کا خیال نہیں آتا مثلاً اگر یہ معلوم نہ ہو کہ بخار کا کوئی علاج ہے تو انسان علاج کرانے کی کوشش ہی نہیں کرے گا لیکن جب معلوم ہو جائے کہ علاج موجود ہے تو علاج کرنے کی طرف بھی توجہ پیدا ہو گی۔ تو خدا کی صفات کے خزانوں کے معلوم ہونے سے انسان کے خیالات ہی بدل جاتے ہیں۔ جس طرح ایک ایسا شخص جس کو معلوم ہو کہ اس کی بیماری کا علاج ہے وہ دوائی لے کر استعمال کرے گا جس سے صحتیاب ہو جائیگا لیکن جس کو علاج ہی معلوم نہیں وہ گھر بیٹھا رہے گا اور اسی بیماری سے جس کا علاج کرا کر صحتیاب ہو سکتا تھا مر جائے گا۔ جیسے پہاڑی اقوام میں ہوتا ہے ان کے بیمار یونہی معمولی بیماری سے مر جاتے ہیں کیونکہ کوئی علاج نہیں کرتے اسی طرح خدا تعالیٰ کی صفات کا علم رکھنے والے کے لئے ہر وقت اپنی اصلاح اور روحانی ترقی کا دروازہ کھلا رہے گا لیکن جو ان صفات کا علم نہیں رکھتا وہ یونہی ہاتھ پر ہاتھ دھر کے بیٹھا رہے گا اور روحانی ترقی کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوگی۔

دوسرا نفع یہ ہے کہ جب انسان خدا کا غیر محدود جلوہ دیکھتے ہیں تو معلوم کر لیتے ہیں کہ علوم کا کوئی احاطہ نہیں بلکہ علوم غیر محدود ہیں اور کوئی مسلمان یہ نہیں کہہ سکتا کہ سائنس یا حساب یا ڈاکٹری یا انجینئرنگ میں جتنی ترقی ہونی تھی ہو چکی ہے بلکہ وہ سمجھے گا کہ چونکہ یہ علوم غیر محدود ہستی کی طرف سے آئے ہیں اس لئے ان کی ترقی بھی کبھی ختم نہ ہوگی۔ یہ سمجھ کر وہ کسی علم میں ترقی کرنے سے پیچھے نہ ہٹے گا۔ مسلمانوں نے غلطی کی ہے کہ یونانیوں کے پیچھے چل کر کہہ دیا کہ فلاں علم بھی ختم ہو گیا اور فلاں بھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا قدم ترقی کی طرف سے ہٹ گیا اور آخر جہالت پیدا ہونے لگ گئی جو ایک جگہ ٹھہر جانے کا لازمی نتیجہ ہے۔ اگر وہ خدا تعالیٰ کی صفات پر غور کرتے تو آج ہر علم کے سب سے بڑے عالم دُنیا میں مسلمان ہی ہوتے۔ پس خدا تعالیٰ کی صفات کے سمجھنے سے ایک عظیم الشان فائدہ یہ ہے کہ ایسا انسان کسی علم کو محدود نہیں قرار دے سکتا۔

کوئی مسلمان علوم کو محدود نہیں مان سکتا

اب میں اس امر کی مثالوں سے تشریح کرتا ہوں مثلاً بعض بیماریاں ایسی ہیں کہ ان کے علاج معلوم تھے اور بعض کے نہیں۔ اور آج سے پہلے بعض بیماریوں کے متعلق کہا جاتا تھا کہ لا علاج ہیں حالانکہ لا علاج کا لفظ ایک بے ہودہ لفظ ہے کیونکہ اگر خدا قادرِ مطلق ہے تو کوئی بیماری لاعلاج کس طرح ہو سکتی ہے؟ ہاں اگر اس کے یہ معنی ہیں کہ فلاں بیماری کا علاج ہمیں معلوم نہیں تو اور بات ہے ورنہ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ فلاں بیماری کا کوئی علاج ہی نہیں تو وہ مشرک ہے وہ خدا کو قادرِ مطلق نہیں مانتا۔ آج تک بعض بیماریوں کے متعلق لوگ لکھتے چلے آئے ہیں کہ لا علاج ہیں۔ لا علاج ہیں مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم جنہیں یہ لوگ امی کہتے ہیں انہوں نے فرمایا مَا مِنْ دَاءٍ اِلَّا لَهٗ دَوَاءٌ اِلَّا السَّمَوْتَ۔ کہ کوئی بیماری نہیں جس کا علاج نہ ہو۔ یہ آپؐ نے کیوں کہا؟ اس لئے کہ آپؐ کو معلوم تھا کہ خدا شافی ہے اس لئے سب بیماریوں کا علاج ہونا چاہئے ۔ اب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱۳ سو سال پہلے وہ نکتہ دریافت کر لیا جو یورپ نے آج بھی نہیں کیا۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت جبکہ طب کا علم نہایت محدود تھا فرماتے ہیں یہ نہ کہنا کہ فلاں بیماری کا کوئی علاج نہیں یہ بیوقوفی کی بات ہے تم دریافت کرنے میں لگے رہو اس کا علاج ضرور نکل آئے گا اگر خدا شافی ہے تو اس نے اس مرض کا علاج بھی ضرور قانونِ قدرت میں رکھا ہو گا تم کوشش کرو اور اسے تلاش کر لو۔ دیکھو شافی صفت کا علم رکھنے پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نقطۂ نگاہ اپنے ہمعصروں سے بلکہ اپنے بعد آنے والے لوگوں کے نقطۂ نگاہ سے بھی کسقدر بدل گیا۔ دوسرے لوگ تو یہ خیال کرتے تھے اور آپؐ کے بعد بھی اب تک یہی خیال کرتے رہے کہ جو باتیں ہمیں معلوم ہو چکی ہیں ان سے بڑی اور کیا ہو سکتی ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن کے علم کی بنیاد صفاتِ الٰہیہ کے علم پر تھی با وجود اُمّی ہونے کے فرماتے ہیں کہ یہ کہہ دینا کہ اس مرض کا علاج نہیں بالکل غلط ہے علاج ہر اک شئے کا موجود ہے دریافت کرنا تمہارا کام ہے ۔ آپؐ کے اس ارشاد کے مقابلہ پر علم کا دعویٰ رکھنے والوں کی مایوسی کہو یا تعلّی کہو کس قدر حقیر کس قدر ذلیل اور کس قدر زشت و بد صورت معلوم ہوتی ہے۔ کجا علم کے دعویٰ کے باوجود یہ کہنا کہ گو دنیا کے آرام کے سب سامان میسر نہیں آتے مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سامان پیدا ہی نہیں کئے گئے اور کجا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعویٰ کہ یہ کہنا کہ علمِ طب ختم ہو گیا ہے جہالت ہے۔ ابھی تو ہر بیماری کا علاج نہیں نکلا حالانکہ ہر بیماری کا علاج اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے آپؐ کے مقابلہ پر دوسرے مدعیانِ علم کی حالت بالکل اُس مینڈک کی حالت کی طرح معلوم ہوتی ہے جو کنویں کو ہی بہت بڑا سمجھتا ہے اور آپؐ کی حالت یوں معلوم ہوتی ہے کہ گویا سمندر بھی آنکھوں میں نہیں جچتا۔

لکھا ہے کہ ایک دفعہ ایک امریکن انگلستان میں آیا اور وہ ایک گاڑی پر بیٹھا گاڑی والے نے اس سے پوچھا کیا امریکہ میں دریا ہوتے ہیں۔ وہ کہنے لگا ہاں ہوتے ہیں گاڑی بان نے کہا بڑے بڑے بھی ہوتے ہیں؟ اس نے کہا بڑے بڑے بھی ہوتے ہیں۔ (امریکن نے تو امریکہ کا وہ دریا دیکھا ہوا تھا جو ساری دنیا کے دریاؤں سے بڑا ہے اور گاڑی بان نے صرف اپنے ملک کا دریا ٹیمز دیکھا ہوا تھا جو بڑی نہروں کے برابر ہے) گاڑی بان نے ٹیمز کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ کیا اتنا بڑا دریا بھی امریکہ میں کوئی ہے؟ امریکن نے جواباً دریافت کیا کہ تم دریا کے متعلق پوچھتے

ہو یہ تو ایک نہر ہے اسے دریا کون کہہ سکتا ہے۔ اس پر گاڑی بان کو اس قدر اشتعال آیا کہ مسافر کو کہنے لگا کہ تُو بالکل جھوٹا انسان ہے اب میں تجھ سے بات ہی نہیں کروں گا۔

اہل یورپ ایک محدود دائرہ میں

یہی حالت ان لوگوں کی ہے جن کے دل میں صفات الٰہیہ نے گھر نہیں کیا ان کا دائرہ علم بہت محدود ہوتا ہے۔ یورپ والے علم علم کہتے ہیں لیکن وہ بھی کیسے محدود دائرہ میں گھرے ہوئے ہیں ذرا کوئی نئی بات نکال لیتے ہیں تو شور مچادیتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ خدا نہیں۔ گویا کہ اگر دنیا ایک جاہلانہ اصول پر چلتی ہے تو خدا ہے اور اگر اس کے کام میں کوئی نظام اور قاعدہ نظر آتا ہے تب کوئی خدا نہیں وہ نادان نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ کا تو ہر فعل حکمت پر مبنی ہے اور اس کے بنائے ہوئے تمام قوانین مضبوط اور باریک نظام پر مشتمل ہیں ابھی انہوں نے دریافت ہی کیا کیا ہے۔ مثلاً ان لوگوں نے یہ دریافت کیا ہے کہ انسان بحیثیت ذات ایک مفرد وجود نہیں بلکہ انسانی جسم باریک ذرات سے بنا ہوا ہے جو خود اپنی اپنی زندگی رکھتے ہیں گویا یہ ذی حیات وجود کی بستی ہے اور پھر اس سے بڑھ کر انہوں نے یہ دریافت کیا ہے کہ وہ ذرات جن سے انسان بنا ہے خود باریک ذرات سے مل کر بنے ہیں گویا وہ خود مرکب ہیں ان امور سے انہوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ عالم وجود ایک قانون کے ماتحت بنا ہے اس لئے معلوم ہوا کہ اس کا بنانے والا کوئی نہیں۔ مگر کیا یہ عجیب بات نہیں کہ یہ تو دو قدم مبدأ حیات کی طرف جا کر اس قدر پھول گئے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان اور خدا کے درمیان ستر ہزار حجاب ہیں۔ یعنی کثیر التعداد واسطے در واسطے چلے جاتے ہیں تب کہیں جا کر امر محض تک پیدائش عالم کا سلسلہ پہنچتا ہے اس علم کے مقابلہ میں یورپ کی تحقیق کس قدر حقیر ٹھہرتی ہے بلکہ جہالت نظر آتی ہے۔

موت کے ذریعہ ترقی

اہلِ مغرب کا ہر تحقیق پر یہ شور مچا دینا کہ انہوں نے پیدائش عالم کی گویا کہ وجہ دریافت کر لی ہے اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ علم کو محدود سمجھتے ہیں ورنہ اگر وہ یہ سمجھیں کہ ابھی تو غیر محدود علوم پیچھے چھپے پڑے ہیں تو اس قدر خوش کیوں ہوں اور اترائیں کیوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ آپ کس طرح ایک صفت الٰہیہ پر قیاس کر کے علوم کے غیر محدود ہونے کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ مگر آپؐ نے ایک شرط ساتھ لگائی ہے اور وہ یہ کہ موت کا کوئی علاج نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ موت ترقی کے راستہ میں روک نہیں بلکہ ترقی کا ایک ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعہ سے انسان ترقی کرتا ہے کیونکہ موت کے بعد ہی انسان ان وسیع قوتوں کو پاتا ہے کہ اس دنیا کی عمر بھر کی ترقی اُس دنیا کے گھنٹوں کی ترقی کے برابر نہیں اتر سکتی۔

خدا کی مخلوق کی وسعت

قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے قُلۡ لَّوۡ کَانَ الۡبَحۡرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیۡ لَنَفِدَ الۡبَحۡرُ قَبۡلَ اَنۡ تَنۡفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیۡ وَلَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِہٖ مَدَدًا(الکهف: ۱۱۰) کہ اگر سمندر سیاہی بن جائیں اور ان سے خدا تعالیٰ نے جو علوم بنائے ہیں انہیں لکھنا شروع کیا جائے تو سمندر ختم ہو جائیں گے مگر یہ نہیں ہوگا کہ خدا کے بنائے ہوئے علوم ختم ہو جائیں۔ خدا کے منکر تو ایک ایک ذرہ پر خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے یہ بات معلوم کر لی اور یہ معلوم کرلی لیکن خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ اگر تم تحقیقاتیں کر کر کے ان کو سمندر سے لکھتے جاؤ تو پھر بھی خدا کے خزانے ختم نہ ہوں گے یہ انسانی نقطۂ نگاہ کے مطابق غیر محدود ترقی معلوم صفت واسع کے ماتحت ہے۔

پھر یہ سوال ہوتا ہے کہ ہماری دنیا کی چیزیں تو ختم ہو جاتی ہیں مثلاً کوئلہ ہے اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ کچھ عرصہ تک یہ ختم ہو جائے گا ؟ ہمارے ملک میں کوئلہ کے ختم ہونے کے نتائج کو اچھی طرح نہیں سمجھا جا سکتا۔ مگر یورپ کے اکثر کام چونکہ اس کی مدد سے ہو رہے ہیں وہ اسے بہت بڑی مصیبت سمجھتا ہے غرض کہا جاتا ہے کہ اگر کوئلہ یا تیل ختم ہو جائے تو پھر دُنیا کیا کرے گی ! اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن میں خدا تعالیٰ کے متعلق آتا ہے کہ وہ کفایت کرنے والا ہے (قرآن میں تو یہ صفت فعل کے طور پر استعمال ہوئی ہے لیکن رسول کریمؐ نے اسم کے طور پر اسے استعمال کیا ہے یعنی خدا کا نام کافی بتایا ہے) اب دیکھ لو اگر ایک چیز ختم ہونے لگتی ہے تو اس کی قائم مقام اور نکل آتی ہے کوئلہ ختم ہونے لگا تو تیل نکل آیا اب تیل کے ختم ہونے کا ڈر پیدا ہوا تو ایسی تحقیقاتیں ہو رہی ہیں کہ سورج کی شعاعوں سے یہ کام لے لیا جائے تو دُنیا جب گھبرا اُٹھتی ہے کہ اب مرے اس وقت مؤمن ہنستے ہیں کہ یہ لوگ کیسے نادان ہیں خدا کوئی اور سامان ضرور کریگا چنانچہ ایسا ہی ہوتا ہے۔

خدا کو قادر ماننے کا اثر

در حقیقت صفات الٰہیہ کو ماننے والا انسان ایک وسیع پلیٹ فارم پر کھڑا ہوتا ہے اور ساری دنیا اس کی نظروں میں حقیر ہوتی ہے۔ مثلاً جو شخص خدا تعالیٰ کی صفت قدرت پر یقین رکھتا ہے وہ یہ بھی یقین رکھے گا کہ خدا نے ہر چیز کے اندازے اور قواعد مقرر کئے ہوئے ہیں یہ سمجھ کر وہ سارے بیہودہ ٹونے ٹوٹکوں سے بچ جائیگا۔ کیونکہ اسے معلوم ہوگا کہ یہ باتیں کچھ اثر نہیں رکھتیں اور بیہودہ ہیں اس طرح وہ سارے شکوک اور شبہات سے پاک ہو جائے گا۔

خدا کو رب العالمین ماننے کا اثر

اسی طرح خدا کی رب العالمین صفت ہے اس کے ماتحت ایک مومن اسی دنیا کو سب کچھ نہیں سمجھ سکتا بلکہ یہ بھی یقین رکھتا ہے کہ یہ دنیا خدا کے اُن گنت عالموں میں سے ایک عالم ہے اس کے سوا اور بھی عالم ہیں اور اس بناء پر مثلاً وہ یقین رکھے گا کہ علم ہیئت کی ترقی کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ علوم کی ترقی مومن کے اس عقیدہ کی تصدیق کر رہی ہے۔ لڑائی سے قبل خیال کیا جاتا تھا کہ دُنیا تین ہزار سال کی روشنی کے برابر لمبی ہے یعنی اس قدر لمبی ہے جتنا عرصہ روشنی کی شعاع تین ہزار سال میں طے کر سکتی ہے لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ روشنی کے بارہ ہزار سال سے بھی زیادہ دنیا کا طول ہے اور ابھی کون کہہ سکتا ہے کہ یہ تحقیق بھی غلط ثابت ہو کر اس سے بہت زیادہ لمبائی دنیا کی معلوم ہو گی۔

یہ امر بتانے کے بعد کہ صفات الٰہیہ کے علم سے انسان کو ذہنی طور پر کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے ۔ اب میں بتاتا ہوں کہ صفات الٰہیہ سے انسان عملی طور پر کیا فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟

انسان دنیا میں خدا سے کیا کچھ حاصل کر سکتا ہے؟

انسان چاہتا ہے کہ اسے عزت حاصل ہو اور ادھر دیکھتا ہے کہ خدا کا ایک نام مُعِزّ ہے۔ اس لئے وہ سمجھتا ہے کہ ادھر ادھر جانے کی کیا ضرورت ہے اس کو کیوں نہ کہوں کہ اے مُعِزّ! مجھے عزت دے۔

پھر انسان کو رزق کی ضرورت ہوتی ہے اور خدا رازق ہے جو اس کی اس صفت سے واقف ہے وہ بجائے ادھر ادھر دھکے کھانے کے اسی کے حضور میں کہے گا کہ اے رزاق! مجھے رزق دے۔

یا پھر کبھی ہم مصائب اور مشکلات میں مبتلاء ہوتے ہیں۔ خدا کی صفت کَاشِفَ السُّوْءِ بھی ہے یعنی بدی کو مٹا دینے والا اس لئے ہم اسی سے کہیں گے کہ اے تکالیف کو دُور کرنے والے اور مصائب کو مٹانے والے خدا ہمیں تکالیف سے بچالے۔ تو گویا ہماری مثال ایسی ہوگی کہ ہم ایک ایسے درخت کے نیچے بیٹھے ہیں جسے خوب پھل لگے ہوئے ہیں اور ہمارے ہاتھ میں ایک لمبا بانس ہے جب جی چاہتا ہے بانس کے ذریعہ پھل اتار لیتے ہیں۔

مثلاً کسی کو کوئی بیماری اور دُکھ ہو تو وہ شافی خدا کے سامنے اپنی درخواست کو پیش کرے گا اور کہے گا کہ تُو جو شفاء دینے والا ہے مجھے شفاء عطا فرما۔

یا مثلاً بعض لوگوں کو اولاد کی ضرورت ہوتی ہے مگر دنیا میں کوئی شخص نہیں جو اولاد دے سکے ۔جب ایسا شخص ہمارے پاس آئے گا تو ہم اسے کہیں گے کہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں خدا خالق ہے اسے کہو اے خالق ! مجھے بھی اولاد دے ! یہ صرف باتیں ہی نہیں بلکہ ایسا ہوتا رہتا ہے ۔ یہیں ایک ہندو ہے اس کی شادی کو کئی سال ہو گئے تھے مگر اولاد نہ ہوتی تھی اس نے دعا کی کہ اے خدا ! اگر مرزا صاحب سچے ہیں تو ان کے طفیل مجھے اولاد دے ۔ بیس سال تک اس کے اولاد نہ ہوئی تھی اس کے بعد اس کے اولاد ہو گئی۔

اسی طرح قریب ہی کے گاؤں کا ایک اور ہندو ہے جو ایک دفعہ جلسہ کے ایام میں بٹالہ سے قادیان آنے والی سڑک پر بیٹھ گیا تھا اور سب جلسہ پر آنے والوں کو رَس بھی پلاتا تھا اور یہ بھی بتاتا تھا کہ مرزا صاحب کے صدقے مجھے خدا نے یہ بچہ دیا ہے۔ غرض خدا تعالیٰ چونکہ خالق ہے اس لئے جب دُنیا کے ڈاکٹر کسی بات سے جواب دے دیتے ہیں تو اس کے متعلق ہم کہتے ہیں کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں اگر خدا ہی کی منشاء نہیں تو اور بات ہے ورنہ اس سے حاصل کرنے کا رستہ کھلا ہے۔

اسی طرح اگر کوئی دشمن ہے جو دین کے لئے مُضر ہو اور اس کی موت دین کے لئے مفید ہو سکتی ہو یا طاعون یا اور بیماریوں کے کیڑے ہیں جو ہمارے لئے مُضر ہوتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ مر جائیں تو ہم خدا تعالیٰ کی صفت مُمِیت سے کہیں گے کہ انہیں مار ڈال۔ یا کبھی کوئی چیز کالَمُرْدَہ ہو اور ہمیں اس کی حیات مطلوب ہو تو ہم اس کے لئے خدا تعالیٰ سے اس طرح دُعا کریں گے کہ اے مُحْیِی! اسے زندہ کر دے اور ہمارا تجربہ ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے موقعوں پر دُعائیں سنتا ہے اور بظاہر مُردہ وجودوں کو زندہ کر دیتا ہے جیسے عبدالرحیم خان صاحب کی مثال موجود ہے کہ جب ڈاکٹروں نے جواب دیدیا تو حضرت صاحب نے دُعا کی اور تندرست ہو گئے۔

پھر انسان سے گناہ ہو جاتے ہیں اور لوگ تو گھبرائیں گے کہ کس طرح ان کا اثر دور کریں لیکن ہم کہیں گے خدا غفار ہے اسے کہو وہ بخش دے گا۔

غرض ہر چیز کا خزانہ خدا تعالیٰ کے پاس موجود ہے کوئی ضرورت ایسی نہیں جس کا خزانہ خدا کی صفات میں نہ مل سکتا ہو۔ پس خدا کی صفات کے علم کے ذریعہ سے انسان اپنی تمام ضروریات کو پوری کر سکتا ہے اور گویا صفاتِ الٰہیہ ایسی نالیاں ہیں جو ہماری ضروریات کو پورا کرنے کے لئے جاری ہیں اور ہمارا کام یہ ہے کہ جس چیز کی ضرورت ہو وہ جس نالی سے ملے اس کے نیچے پیالے جا کر رکھ دیں یعنی جس بات کی ضرورت ہو اس کے مطابق جو خدا تعالیٰ کی صفت ہے اس کو پکاریں۔

چنانچہ خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے وَلِلّٰہِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی فَادۡعُوۡہُ بِہَا(الاعراف: ۱۸۱) کہ خدا تعالیٰ کے اندر سب صفات حسنہ پائی جاتی ہیں اس لئے جو ضرورت تمہیں پیش آئے ان کے ذریعہ اس سے مانگو۔ اس آیت سے دُعا کرنے کا بھی یہ نکتہ معلوم ہو گیا کہ جو چیز مانگنی ہو اس کے مطابق جو صفت ہو اس کے ذریعہ سے مانگنی چاہئے۔ پس صفات کا باریک علم دعا کی قبولیت کا ذریعہ ہوتا ہے اور جو اس علم کا پتہ لگا لیتا ہے اس کی دُعا زیادہ قبول ہوتی ہے اور جو خدا تعالیٰ کی صفات کا سب سے زیادہ علم رکھے گا اس کی دُعائیں بھی سب سے زیادہ قبول ہوں گی۔

دُعا کیلئے مناسب صفت کو کس طرح منتخب کرے؟

اگر یہ سوال کیا جائے کہ دُعا کے لئے صفات الٰہیہ کا انتخاب کس اصل پر ہونا چاہئے؟ تو اس کا یہ جواب ہے کہ سب سے پہلے یہ معلوم کرنا چاہئے کہ مثلاً جو تکلیف ہے وہ کیوں ہے؟ اور پھر اس وجہ کو مدّنظر رکھ کر جس صفت کے ذریعہ سے دعا کرنا مناسب ہوگا اس کے ذریعہ سے دُعا کی جائے گی۔ ظاہری علوم میں بھی اس کی مثال دیکھ لو ایک شخص کے پیٹ میں درد ہوتی ہے تو اسے طبیب کسٹرائل دیتا ہے۔ ایک دوسرے کو پیپرمنٹ تیسرے کو قے کراتا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی کہ گو ہے تو سب کے پیٹ میں ہی درد لیکن سبب مختلف ہیں۔ اس طرح انسان کی تکالیف کئی اسباب سے ہوتی ہیں۔ مثلاً قرض کو لے لو کبھی قرض اس وجہ سے چڑھ جاتا ہے کہ انسان سے کوئی ایسا گناہ سرزد ہو جاتا ہے جس کی مناسب سزا اسے مالی تنگی کا پہنچنا ہوتی ہے کبھی اس کی یہ وجہ ہوتی ہے کہ خدا دیکھتا ہے کہ اگر اس کو زیادہ مال دوں گا تو گمراہ ہو جائے گا۔ کبھی اس کی وجہ اس کی سستی ہوتی ہے یہ اس قدر آمد نہیں پیدا کرتا کہ سال کا خرچ چل سکے۔ یا مثلاً کسی پر ذرائع آمد کے محدود ہونے کے سبب سے قرض ہو جائے گا۔ یہ چاروں باتیں خدا تعالیٰ کے الگ الگ اسموں کے نیچے آئیں گی اگر کمی آمد کی وجہ سے قرض ہو تو انسان کہے گا کہ اے باسط! مجھے رزق میں فراخی دے تب خدا اسے رزق دے گالیکن اگر اس کی سستی کے سبب سے اس کی آمدن کم ہے تو وہ یہ دُعا کرے گا کہ اے قیوم! مجھے چستی عطا فرما اور اگر گناہ کے سبب سے مقروض ہے تو کہے گا کہ اے غفور! مجھے بخش دے اور اگر اس سبب سے تنگی ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ شخص فراخی رزق کے ساتھ ایمان کو سنبھال نہیں سکتا تو اس طرح دعا کی جائے گی کہ اے ہادی! مجھے مضبوطی ایمان بخش غرض صفات الٰہیہ کے ماتحت دُعا کرنا ایک مستقل علم ہے اور میں نے صرف موٹی موٹی باتیں بطور مثال بتائی ہیں تا معلوم ہو کہ خدا تعالیٰ کی صفات ہمارے لئے نئے علوم بیان کرتی ہیں۔

حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق صفات الٰہیہ کے نظارے

حضرت مسیح موعودؑ نے خدا کی صفات کا علم سیکھا اور ان کے اثر کے نظارے دکھائے لوگوں نے آپؐ کا مقابلہ کیا اور آپؐ کو ہلاک کرنا چاہا حضرت صاحبؓ نے ان کے مقابلہ کے لئے خدا تعالیٰ کی صفتِ قیوم سے مدد طلب کی اور مخالف ناکام رہے، پھر تکلیف پہنچانے کی کوشش کی اس کے لئے آپؑ نے حفیظ صفت کو بلایا اور آپؑ دشمنوں کی شرارتوں سے محفوظ رہے علم کے متعلق مخالفوں نے آپؑ کو کہا کہ جاہل ہے عربی کا ایک صیغہ نہیں جانتا مگر آپؑ نے کہا مجھے پتہ ہے کہ علم کا خزانہ کہاں ہے میں وہاں سے علم لے آؤں گا۔ چنانچہ آپؑ نے خدا تعالیٰ کی صفتِ علیم کو پکارا اور آپؑ کو بے نظیر علم دیا گیا۔ آپؑ فرماتے تھے کہ ایک دفعہ چالیس ہزار الفاظ کا مادہ ایک منٹ میں خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈال دیا۔

پس دیکھو خدا کی صفات کا علم حاصل کر کے آپؑ کیا سے کیا بن گئے۔ گویا کہ آپؑ اس دُنیا کے آدمی ہی نہ رہے آسمانی عالم کے وجود ہو گئے۔

صفات الٰہیہ کا علم رکھنے والے کے نزدیک بادشاہ کی حقیقت

جو کوئی اس علم کو حاصل کرتا ہے اس کی خاص حالت ہو جاتی ہے دیکھو ایک بادشاہ کی نسبت لوگ کہتے ہیں اس کا بڑا اقبال ہے مگر میں کہتا ہوں اس شخص کے مقابلہ میں اس کی کیا حقیقت ہے جسے صفات الٰہیہ کا علم حاصل ہو گیا۔ دنیوی بادشاہوں کے خزانے ختم ہو جاتے ہیں مگر یہ جس بادشاہ سے تعلق رکھتا ہے اس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے۔ پھر ان بادشاہوں کو ایسی دقتیں پیش آجاتی ہیں جن کا وہ کوئی علاج نہیں کر سکتے چنانچہ جرمنی کے ایک قیصر کو خناق ہو گیا بیسیوں ڈاکٹروں نے زور لگایا مگر کچھ نہ کر سکے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو لوگ اس کے در پر گرنے والے ہیں وہ ایسی بیماریوں سے جو سخت تکلیف دہ ہوں یا ڈراؤنی ہوں محفوظ رہتے ہیں۔ یورپ کے اخبارات نے مذکورہ بالا قیصر کی وفات پر لکھا کہ بڑے بڑے ڈاکٹر تین دن تک ملک الموت سے جنگ کرتے رہے لیکن آخر کار ملک الموت کامیاب ہو گیا۔ یہ بادشاہ اس تکلیف سے مرانہ تھا کہ دیکھنے والے بیتاب ہو ہو جاتے تھے۔ مگر جس شخص سے اس کا تعلق ہو جس کے قبضہ میں ملک الموت ہے وہ کب اس قسم کے خطرات کی پرواہ کر سکتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نبی کی جان ملک الموت اس سے پوچھ کر نکالتا ہے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر وفات کے وقت یہ الفاظ تھے اَللّٰھُمَّ بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلٰیاے خدا اب میں تجھ سے ملنا چاہتا ہوں۔

صفات الٰہیہ سے واقف کی حالت

جس کو صفات الٰہیہ سے کام لینے کا طریق معلوم ہو جاتا ہے اس کے سامنے ساری دنیا ہیچ ہو جاتی ہے اور اگر خدا تعالیٰ کسی وجہ سے اس کے لئے اپنی ایک صفت جاری نہ کرے تو دوسری کھلی ہوتی ہے ادھر چلا جاتا ہے۔ مثلاً اگر اس پر موت آتی ہے اور خدا تعالیٰ استغناء کی وجہ سے اس کے لئے محیی صفت جاری نہیں کرتا اور مار ڈالتا ہے تو اس کی مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْن کی صفت بھی تو ہے اس لئے وہ دوسرے رنگ میں فائدہ اٹھا لیتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ کا بندہ کبھی کسی بات سے نہیں گھبراتا اس کا رنج بھی خوشی کا پہلو رکھتا ہے اور خوشی بھی خوشی کا۔ اگر مرتا ہے تو بھی وہ خوش ہوتا ہے اور اگر زندہ رہتا ہے تو بھی خوش ہوتا ہے۔ اگر اس کا کسی سے جھگڑا فساد ہو جاتا ہے تو خدا کی صفت جبار کو بلاتا ہے کہ اے جبار! اس کی اصلاح کر دے اور خدا تعالیٰ اصلاح کر دیتا ہے اور پھر خواہ کسقدر دشمنی اور عداوت ہو خدا چونکہ ودود بھی ہے اس کے متعلق اس کے دشمنوں کے دل میں محبت پیدا کر دیتا ہے چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا مَّاۤ اَلَّفۡتَ بَیۡنَ قُلُوۡبِہِمۡ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ اَلَّفَ بَیۡنَہُمۡ(الانفال: ۶۴) کہ اگر تم دُنیا کا سارا مال بھی خرچ دیتے تو لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا نہ کر سکتے لیکن اللہ نے ان کے دلوں کو آپس میں جوڑ دیا کیونکہ قلوب کا جوڑنا اسی کا کام ہے۔

مؤمن کے وزراء

پس دیکھو مؤمن کی کتنی عظیم الشان حکومت ہوتی ہے۔ دنیاوی بادشاہ تو چھ سات وزیروں سے کام لیتے ہیں لیکن مؤمنوں کے کم از کم ننانوے وزراء تو ہو گئے۔ کیونکہ ننانوے صفات الٰہیہ جو عام طور پر مشہور ہیں یہ سب کی سب ان چیزوں کو جو ان کے ماتحت ہیں مؤمن کی خدمت میں لگا دیتی ہیں اور اس کا بوجھ ساری دنیا پر بانٹ دیتی ہے۔ مثلاً کبھی مؤمن کی خواہش ہو کہ دُنیا کے کاموں سے فارغ ہو تو اس کے لئے خدا کی صفت وکیل ہے اسے کہے کہ اے وکیل ! تو ہی میرے کام کر دے فوراً وہ صفت اپنے جلوہ سے

دنیا میں ایسے سامان پیدا کر دیتی ہے کہ اس کے کام آپ ہی آپ ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ انبیاء اور ان کے کئی اتباع دنیوی کاموں سے علیحدہ ہو جاتے ہیں مگر خدا ان کے سارے کام پورے کرتا رہتا ہے۔

تیسرا نفع یہ ہوتا ہے کہ ہم ان صفات کو اپنے اندر پیدا کر کے ترقی کر سکتے ہیں۔ یعنی پہلے درجہ میں تو انسان خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنی مدد کے لئے بلاتا ہے جب اس سے ترقی کرتا ہے تو پھر خود صفاتِ الٰہیہ کو اپنے اندر پیدا کرنے لگ جاتا ہے گویا خدا سے یہ نہیں چاہتا کہ اسے رزق دے بلکہ یہ چاہتا ہے کہ رزاقیت دے، ربوبیت دے، ملکیت، رحمانیت دے، خالقیت دے اس حالت میں پہنچ کر انسان کے اخلاق اور ہی رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔ وہ انسانوں میں رہتا ہے لیکن الگ ہی قسم کا انسان ہوتا ہے دشمن بھی اس کے اخلاق دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے اور ان کی خوبی مانتا ہے البتہ عداوت اور دشمنی کی وجہ سے یہ کہتا ہے کہ یہ سب کچھ بناوٹ کے طور پر کرتا ہے۔

غرض پہلے تو انسان خدا کی صفات کا ظہور مانگتا ہے لیکن پھر کہتا ہے کہ یہ صفات ہی دے دے۔ اب ساری صفات اس کے اندر پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں اور اب وہ ایسا شیشہ ہوتا ہے کہ جس پر خدا کا عکس پڑنا شروع ہو جاتا ہے اور دنیا اس کو دیکھتی ہے اسی لئے حضرت مسیح موعودؑ کو الہام ہوا يَا قَمَرُ يَا شَمْسُ اَنْتَ مِنِّىْ وَ اَنَا مِنْكَ (تذکرہ صفحہ ۵۸۸، ۵۹۰ ایڈیشن چہارم) گویا حضرت صاحبؑ کو خدا نے کہا کہ تُو سورج ہے اور میں چاند ہوں اور میں سورج ہوں تُو چاند ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ کے اس الہام کا مطلب

اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ مجھے نہ جانتے تھے تُو نے بتایا کہ وہ ہے اس لئے تُو سورج ہے پھر تو اصل میں روشن نہیں ہے میں نے اپنا پَرتَو تجھ پر ڈالا ہے تب تُو روشن ہوا ہے اس لئے میں سورج ہوں اور تُو چاند ہے۔

اسی طرح بندہ خدا کی صفات کو لے کر خدا کو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے غرض یہ تین قسم کے فوائد ہیں جو صفاتِ الٰہیہ سے حاصل ہو سکتے ہیں۔

لقاء الٰہی

اس کے بعد ایک اور درجہ ہے جسے لقاء کہتے ہیں اس کے معنے ہیں خدا مل گیا۔

لقاء کی تعریف کیا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا کے اندر شامل ہو جانا بلکہ یہ کہ خدا کی صفات جو جلوہ گری کریں ان کو اپنے اندر جذب کر لینا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اس کی لطیف مثال دی ہے فرماتے ہیں لوہا لے کر آگ میں ڈالو تو اس کی پہلی حالت یہ ہو گی کہ معمولی گرم ہو گا اور زیادہ گرم کیا جائے گا تو جلانے کا کام کرے گا مگر اس کی شکل آگ کی سی نہیں ہو گی اس سے ترقی کریگا تو آگ کی طرح چمک پیدا ہو جائے گی۔ اسی طرح بندہ کا لقاء ہوتا ہے بندہ خدا میں محو ہوتے ہوتے اس حد کو پہنچ جاتا ہے کہ لوگ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ یہ بندہ نہیں خدا ہے چنانچہ بعض بندوں کو اسی وجہ سے خدا بنا لیا گیا۔

رؤیت اور لقاء میں فرق

اب میں بتاتا ہوں کہ رؤیت کیا ہے اور لقاء کیا؟ اور ان میں کیا فرق ہے؟ اس لئے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ رؤیت تو عارضی ہوتی ہے یعنی اس کے یہ معنی ہیں کہ خدا کا جلوہ دیکھ لیا اور لقاء کے معنے یہ ہیں کہ خدا مل گیا اس کو پالیا یہ مستقل درجہ کا نام ہے اور اصل لقاء ہی ہے۔ رؤیت کے بعد لقاء کا مقام ہے اور جسے یہ مقام حاصل ہو گیا اسے ایک قسم کی رؤیت ہمیشہ ہی حاصل ہوتی رہتی ہے۔

لقاء الٰہی سے کبھی نا امید نہیں ہونا چاہئے

اب میں لقاء کا کچھ ذکر کرتا ہوں۔ مگر اس سے قبل یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ خدا سے ملنے میں مؤمن کو کبھی نا اُمید نہ ہونا چاہئے اس لئے کہ خدا تعالیٰ خود چاہتا ہے کہ بندہ اس سے ملے اگر یہ خواہش صرف ہماری طرف سے ہوتی تو اور بات تھی مگر اب تو یہ صورت ہے جس طرح کسی شاعر نے کہا ہے۔

ملنے کا تب مزا ہے کہ دونوں ہوں بے قرار

دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی!

پس چونکہ خدا تعالیٰ خود بندہ کے لقاء کو چاہتا ہے اس لئے اس سے نا اُمید نہیں ہونا چاہئے۔

پہلی خطاؤں کی معافی

لقاء کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان پہلے پچھلی صفائی کرے اس کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا آسان طریقہ بتایا ہے۔ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آکر کہا حضور مجھ سے خطا ہو گئی ہے میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا تمہاری ماں زندہ ہے۔ اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا خالہ؟ کہا نہیں فرمایا کوئی اور رشتہ دار جو ہے اس کی خدمت کر دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان رشتوں کا ادب اور خدمت کرنا خطاؤں کو معاف کراتا ہے مگر تین باتیں اس سے پہلے سوچے۔

ایک یہ کہ نیت کرے اور اخلاص اس کے اندر ہو۔ دوسرے یہ کہ سستی اور غفلت ترک کرے۔ تیسرے یہ کہ بات کو سوچنے کی عادت ڈالے اگر ان میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو تو کامیاب نہ ہوگا، اگر کسی کی نیت نیک نہ ہو تو کوئی اسے نوکر نہیں رکھتا اگر کوئی سست ہو تو بھی اسے کوئی نہیں رکھتا اور اگر بات کچھ کہی جائے اور سمجھے کچھ اور تو بھی نہیں رکھتا۔ پس توبہ کے ساتھ یہ تینوں باتیں بھی ہونی ضروری ہیں اور جو لقائے الٰہی کے خواہشمند ہوں انہیں فوراً یہ باتیں پیدا کرنی چاہئیں۔

خدا تک پہنچنے کا رستہ

اس کے بعد میں لقاء کے متعلق موٹا طریق بتاتا ہوں اور تفصیل کو چھوڑ دیتا ہوں کیونکہ تفصیل کی گنجائش نہیں۔ یاد رکھو کہ لقاء کا مطلب خدا تک پہنچنا ہے اور ”تک“ کا لفظ اسی وقت بولا جاتا ہے جبکہ درمیان راستہ ہو جسے ہم نے طے کرنا ہو پس ہمیں لقاء کے لئے راستہ تلاش کرنا پڑے گا جس پر چل کر ہم اس مقصد کو حاصل کرسکیں۔ چونکہ اس مقصد کو صرف قرآن کریم ہی پورا کرسکتا ہے اس لئے ہم اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس مضمون پر اس میں مکمل روشنی ڈالی گئی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ(الفاتحہ: ۲ تا ۶) ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ مؤمن اللہ تعالیٰ سے ایک راستہ دکھانے کی درخواست کرتا ہے پھر دوسری جگہ آتا ہے۔ صِرَاطَکَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ(الاعراف: ۱۷) وہ راستہ مجھے دکھا جو تیری طرف سیدھا چلا آتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ میں جس راستہ کے دکھانے کی دُعا سکھائی گئی ہے وہ وہی راستہ ہے جو سیدھا خدا تک پہنچتا ہے اب یہ سوال ہے کہ وہ کونسا راستہ ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے بہت سے راستے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا(العنکبوت: ۷۰) جو لوگ ہماری ملاقات کے لئے کوشش کرتے ہیں ہم انہیں یقیناً اپنے تک پہنچنے کے راستے بتا دیتے ہیں لیکن ان سب راستوں سے ایک مکمل اور مجمل راستہ ہے جسے ہر شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے اور وہ راستہ وہی ہے جو سورۃ فاتحہ میں بتایا گیا ہے۔ عقل کہتی ہے جب خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں راستہ کے دکھانے کی دُعا سکھائی ہے تو پہلے راستہ بھی بتایا ہوگا تبھی اس کے بعد یہ دُعا

سکھائی کہ اب اس راستہ پر مجھے چلا۔ جب ہم سورۃ فاتحہ پر غور کرتے ہیں تو ہمیں صاف طور پر ایک روحانی راستہ نظر آتا ہے اور وہ راستہ سورۃ فاتحہ میں بیان کردہ چار صفات الٰہیہ ہیں مگر راستہ کا لفظ بتاتا ہے کہ ان صفات کے حاصل کرنے میں ایک ترتیب ملحوظ ہے پہلے ایک صفت کو انسان حاصل کرسکتا ہے اس کے بعد دوسری کو پھر تیسری کو اور ہم تبھی اس راستہ پر چلنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں جب ہمیں یہ بھی معلوم ہو جائے کہ کس ترتیب سے ان صفات کو اپنے اندر ہمیں پیدا کرنا چاہئے ۔

اس سوال کو حل کرنے کے بعد ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ جب بندہ کی طرف آتا ہے تو وہ تنزل اور تشبیہ اختیار کرتا ہے ورنہ اس کی ذات وراء الوریٰ ہے اور جب ایک اعلیٰ ہستی جو وراء الوریٰ ہو وہ محدود سے ملنے کے لئے آئے تو یقیناً وہ تدریجاً تشبیہ اور تنزل اختیار کرتی چلی جائے گی اس کے بغیر وہ اس سے کبھی مل نہیں سکے گی پس صفات الٰہیہ جتنی جتنی بندہ کے ساتھ تعلق زیادہ پیدا کرتی چلی جائیں گی وہ اسی قدر تنزل اور تشبیہ اختیار کرتی چلی جائیں گی اور اس کے مقابلہ میں بندہ جس قدر خدا تعالیٰ کے قریب ہونے کی کوشش کریگا اسی قدر وہ مادیت کو چھوڑ کر وسعت اختیار کرتا چلا جائیگا۔ اس امر کو سمجھنے کے لئے یہ فرض کر لو کہ خدا تعالیٰ کے پاس جانے کا رستہ ایک بڑے دریا کی طرح ہے اس کا وہ نقطہ جدھر بندہ ہے اس کی مثال پہاڑ کی سی ہے اور وہ نقطہ جس طرف خدا تعالیٰ ہے اس کی مثال سمندر کی سی ہے۔ محدود اور چھوٹے نقطہ کی طرف دیکھو دریا چھوٹا ہوتا چلا جائے گا اور وسیع نقطہ کی طرف وسیع ہوتا چلا جائے گا لیکن ساتھ ہی یہ بھی ہوگا کہ جہاں وسعت ہوگی وہاں زور کم ہوگا اور جہاں تنگی ہوگی وہاں زور ہو جائیگا اور شور بھی بڑھتا چلا جائے گا۔ یہی حال خدا تعالیٰ کی صفات کے ظہور کا ہے وہ بھی جوں جوں اس نقطہ کے قریب ہوتی ہیں جو خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے زیادہ وسیع ہوتی چلی جاتی ہیں اور ان کے اثر مخفی ہوتے چلے جاتے ہیں اور جوں جوں وہ بندوں کی طرف آتی ہیں ان کا دائرہ تنگ ہوتا چلا جاتا ہے اور ان کا ظہور زیادہ واضح ہوتا چلا جاتا ہے۔

دنیا میں تو ہم یہ قاعدہ دیکھتے ہیں کہ چھوٹی چیز بڑھ کر بڑی شکل اختیار کر لیتی ہے جیسے بیج درخت کی شکل اختیار کر لیتا ہے یہی حالت انسانی ترقی کی ہے۔ مگر خدا تعالیٰ کی صفات جب ظہور کریں گی تو چونکہ وہ تنزل اور تشبیہ اختیار کرتی ہیں اس لئے ان کا دائرہ تنگ ہوتا چلا جائے گا بالکل اسی طرح جس طرح دریا پہاڑ کی طرف چھوٹا ہوتا ہے یا جس طرح سورج کے لاکھوں میل

انسانی آنکھ کی مناسبت سے ایک ٹکیہ کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اس تمام قاعدہ کو مدنظر رکھتے ہوئے جب ہم خدا تعالیٰ کی طرف جانے والے راستہ کو دیکھیں تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کی صفات جب تنزل اختیار کرتی ہیں تو جو ان کی پہلی منزل ہو گی وہ بندہ کی آخری منزل ہوگی اور جو ان کی آخری منزل ہو گی وہ بندہ کی پہلی منزل ہوگی کیونکہ بندہ نیچے سے اوپر جا رہا ہے اور وہ اوپر سے نیچے کو آ رہی ہیں۔ اسی طرح یہ کہ خدا تعالیٰ کی صفات جب تنزل اختیار کرتی ہیں تو ان کی پہلی منزل زیادہ وسیع ہوگی اور آخری سب سے تنگ۔ لیکن بندہ کی ترقی اس کے اُلٹ ہوگی اس کی پہلی منزل زیادہ محدود ہوگی اور آخری بہت زیادہ وسیع کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر رہا ہے۔

خدا کی بندہ کی طرف آنے کی منزلیں

اس قاعدہ کو مدنظر رکھتے ہوئے سورۃ فاتحہ سے سیر فی اللہ کا راستہ نہایت آسانی سے معلوم ہو جاتا ہے۔ اس سورۃ میں چار صفاتِ الٰہیہ بیان ہوئی ہیں۔ رب العلمین، رحمٰن، رحیم اور ملک یوم الدین۔ پچھلے قاعدہ کے مطابق یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ رب العلمین ان چاروں صفات میں سے تشبیہ اور تنزل کا حصہ کم رکھتی ہے اور زیادہ وسیع ہے اس سے کم رحمانیت اس سے کم رحیمیت اس سے کم مالکیت یوم الدین۔ گویا جب اللہ تعالیٰ نے جو وراء الوریٰ ہے تنزل اختیار کیا تو اس کی صفت رب العلمین ظاہر ہوئی جب اور تنزل کیا تو رحمانیت جب اور تنزل کیا تو رحیمیت اور جب اور تنزل کیا تو مالکیت یوم الدین کی صفت ظاہر ہوئی ، لیکن اس کے مقابلہ میں بندہ اللہ تعالیٰ کی طرف قدم بڑھائے گا تو وہ سب سے پہلے جس منزل پر پہنچے گا وہ مالکیت یوم الدین ہو گی اس کے بعد وہ رحیمیت اور اس کے بعد رحمانیت اور اس کے بعد ربوبیتِ عالمین کی منازل تک پہنچے گا گویا خدا تعالیٰ کی صفات کے تنزل کی منازل کی پہلی منزل بندہ کے لئے آخری ہو گی اور ان کی آخری منزل بندہ کے لئے پہلی منزل ہوگی۔

دوسری بات مذکورہ بالا قاعدہ کی رو سے یہ معلوم ہوئی کہ ملک یوم الدین کی صفت مخفی ہے اس سے ظاہر رحیمیت کی اس سے ظاہر رحمانیت کی اور اس سے ظاہر ربوبیت کی۔

صفت رب العلمین کا جلوہ

غور کر کے دیکھ لو رب العلمین کی صفت نہایت وسیع ہے وہ ساری دنیا سے تعلق رکھتی ہے۔ سورج، چاند جانور وغیرہ سب پر محیط ہے اور اسی وجہ سے زیادہ مخفی ہے رب پیدا کرنے والے کو کہتے ہیں اور

یہ صفت اتنی مخفی ہے کہ بعض اوقات لوگ کہہ دیتے ہیں کہ خدا نے کب کوئی چیز پیدا کی ہے اب پیدا کر کے دکھائے۔ پھر ربوبیت کی صفت کے ماتحت وہ میلان بھی ہے جو ماں باپ کے اندر رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے ماں باپ پرورش کرتے ہیں۔ تو گویا خدا کی ربوبیت یہ ہوئی کہ اس نے بندہ کو پیدا کیا ہے اور اس کے اندر وہ طاقتیں پیدا کی ہیں جن سے آگے انسان پیدا ہو سکے پھر جس طرح بچہ کو ماں باپ بڑھاتے ہیں کہ بڑا ہو کر ان کے کام آئے اسی طرح خدا تعالیٰ کرتا ہے۔ خدا نے انسان کو سمجھنے کی طاقتیں دیں ہیں تاکہ وہ ان کے ذریعہ سے اسے سمجھ سکے اور ان طاقتوں کے پیدا کرنے میں اس نے جبر سے کام لیا ہے یعنی انسان کا اختیار نہیں رکھا کہ وہ طاقتیں لے یا نہ لے بعینہٖ جس طرح ماں باپ بچے کو بچپن میں جبراً تعلیم دیتے ہیں۔ اسی صفت کے ماتحت انسان کو انسانیتِ مُطلقہ دی جاتی ہے اگر خدا تعالیٰ جبراً یہ طاقتیں سب کو نہ دے تو سب انسان مکلف بھی نہ رہیں ہاں جب انسان کو سمجھ آتی ہے تو پھر یہ اس کے ارادہ پر منحصر ہے کہ وہ ان طاقتوں کو استعمال کرے یا نہ کرے جس طرح کہ ماں باپ بچے کو پڑھا دیتے ہیں آگے وہ اس علم سے کام لے یا نہ لے یہ اس کے ارادے پر منحصر ہے۔ چونکہ یہ صفت ہر ذرہ ذرہ سے تعلق رکھتی ہے اس لئے بوجہ اپنی وسعت کے اس قدر نمایاں نہیں اور انسان بھی اس کی طرف قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتا بلکہ بعض خدا تعالیٰ کو ماننے والے بھی کہہ اُٹھتے ہیں کہ کس نے کہا تھا کہ خدا ہمیں پیدا کرے۔

صفتِ رحمانیت اور رحیمیت کا جلوہ

چونکہ ربوبیت کی صفت بہت مخفی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ کی ذات نے اور تنزل کیا اور صفتِ رحمانیت کا جلوہ دکھایا اور رحمانیت کے جلوہ میں ایسی چیزیں انسان کے لئے مہیا کیں کہ جن کی اسے ضرورت تھی۔ جیسے ہوا، سورج، چاند وغیرہ چونکہ یہ جلوہ زیادہ ظاہر ہے لوگ اسکی قدر نسبتاً زیادہ کرتے ہیں اور یہ کہہ اُٹھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمارے آرام کے لئے اسقدر سامان پیدا کیا ہے مگر پھر بھی یہ صفت ایک حد تک مخفی ہی ہے کیونکہ اس کا تعلق انسانی اعمال سے نہیں ہوتا اس لئے اس کا تعلق افراد سے نہیں بلکہ جنس سے ہوتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ نے ایک اور منزل تیار کی اور وہ صفتِ رحیمیت ہے اس کے معنے ہیں کہ انسان کام کرے تو بدلا پائے جو کام نہ کرے وہ نہ پائے۔ اس صفت کے ماتحت خدا تعالیٰ کا تعلق افراد سے بھی قائم ہو گیا پس اس کا ظہور اور زیادہ واضح ہے۔

صفت مالکیت کا جلوہ

پھر صفات الٰہیہ نے اس سے بھی تنزل اختیار کیا اور مالک یوم الدین کے رنگ میں جلوہ کیا ہر ایک انسان الگ الگ خدا کے حضور پیش ہوگا اس طرح خدا ہر ایک کے سامنے ہو گیا اور یہ صفت اتنی ظاہر ہوگی کہ جب قیامت کے دن لوگ خدا کے سامنے پیش ہوں گے تو نبی بھی کہیں گے نفسی نفسی ہر ایک کو اپنی اپنی فکر ہوگی کسی اور کی فکر نہ ہوگی۔ حدیثوں میں آتا ہے رسول کریمؐ فرماتے ہیں کہ جب ایسی حالت ہوگی تو لوگ کہیں گے نبیوں کے پاس چلو اس پر وہ آدمؑ، نوحؑ اور موٗسیٰؑ کے پاس آئیں گے۔ مگر وہ نفسی نفسی کہیں گے پھر لوگ رسول کریمؐ کے پاس آئیں گے اور آپؐ ان کی سفارش کریں گے اور یہ سفارش خدا کے وعدہ کے مطابق ہوگی نہ کہ اپنے زور سے تب لوگوں کا خطرہ دور ہوگا۔

بندہ کا خدا تک پہنچنا

اب جب بندہ اوپر چڑھے گا تو پہلے مالک کی صفت پر پہنچے گا۔ پھر رحیمیت پھر رحمانیت پھر ربوبیت کی صفت پر اور پھر خدا کو دیکھ لے گا۔

اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ بندہ کس طرح ان صفات کو اختیار کرے؟ اور یہ سوال نہایت اہم اور قابل توجہ ہے پہلا جس قدر مضمون تھا وہ درحقیقت اس مضمون کے لئے بطور تمہید کے تھا۔

بندہ کا مٰلک یوم الدین بننا

یاد رکھنا چاہئے کہ بندہ سب سے پہلے مٰلک یوم الدین کی صفت کو حاصل کر سکتا ہے مٰلک یوم الدین کے معنی ہیں جزاء و سزا کا فیصلہ کرنا اور جج بننا۔ اس کے لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ بندہ کے اندر جج بننے کی قابلیت ہے یا نہیں۔ سو ہم جب انسان کی قوتوں پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر بندہ مٰلک یوم الدین ہے اور وہ اس طرح کہ ہر انسان جب کسی کو کوئی کام کرتے دیکھتا ہے تو معاً اس کے متعلق ایک رائے لگا لیتا ہے خواہ کوئی چھوٹا بچہ ہو یا بڑا معمر انسان، زمیندار ہو یا تعلیم یافتہ، جب بھی کسی کو کوئی کام کرتے دیکھتا ہے تو اس پر رائے لگا لیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے ہر ایک انسان میں جج بننے کی قابلیت رکھی ہے خواہ کوئی ادنیٰ ہو یا اعلیٰ پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ اس کے اندر یہ قابلیت ہوتی ہے کہ وہ ججی کرتا ہے کبھی کسی کو نیک قرار دیتا ہے کسی کو بد ، کسی کو شرارتی بناتا ہے کسی کو بھلا مانس یہ ممکن ہی نہیں کہ انسانی آنکھوں کے سامنے سے کوئی چیز گذرے یا کسی اور حس کے ذریعہ سے کسی امر کا علم ہو اور اس کے متعلق انسان کوئی فیصلہ نہ کرے۔ پس ہر انسان جج ہے مگر یہ انسانی حالت مخفی ہے کسی کو پتہ نہیں ہوتا کہ دوسرا شخص اس پر جج بن رہا ہے جس طرح خدا کی رب العالمین والی صفت مخفی تھی اسی طرح بندہ کی مالکیت یوم الدین والی صفت مخفی ہوتی ہے یہ مالکیت ایسی ہے کہ اسے کوئی بادشاہ بھی نہیں چھین سکتا اور اس کا نام حریت ضمیر ہے۔ بادشاہ مال چھین سکتے ہیں، جائدادیں چھین سکتے ہیں۔ وطن سے نکال سکتے ہیں لیکن باوجود اس کے اس ججی کی صفت کو نہیں چھین سکتے۔ اگر پھانسی پر بھی چڑھا دیں گے تو اس وقت بھی پھانسی پر چڑھنے والے کا دماغ کام کر رہا ہوگا اور فیصلہ کر رہا ہوگا کہ یہ بادشاہ ظالم ہے یا انصاف کے ماتحت اسے پھانسی دے رہا ہے۔ یہ صفت درحقیقت خدا تعالیٰ کا ایک جلوہ ہے جو انسان میں پایا جاتا ہے۔

اب یہ تو معلوم ہو گیا کہ خدا نے انسان کو مٰلک یوم الدین بنانے کی طاقت اس میں رکھی ہے مگر اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات تو مومن و کافر سب میں پائی جاتی ہے پس یہ سیر فی اللہ کا زینہ کس طرح بن سکتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ طاقت لقاء تو سب میں رکھی گئی ہے ہاں سیر کے لئے اس طاقت کو خاص طور پر استعمال کرنا پڑتا ہے اور چونکہ لقائے الٰہی خدا تعالیٰ کی صفات کی مشابہت سے حاصل ہوتا ہے اس لئے سیر فی اللہ کے لئے ضروری ہوگا کہ سب سے پہلے انسان اس ججی کی مخفی طاقت کو اسی طرح استعمال کرے جس طرح کہ خدا تعالیٰ اپنی صفت مالکیت کو استعمال کرتا ہے۔

خدا تعالیٰ کی صفت مٰلک یوم الدین کس طرح عمل کرتی ہے؟

قرآن کریم پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی صفت مٰلک یوم الدین کو مندرجہ ذیل اُصول کے مطابق استعمال فرماتا ہے۔ اول اصل اس صفت کے اجراء کے متعلق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ہر چیز کے تمام پہلوؤں کو جان کر فیصلہ کرتا ہے بے جانے کوئی فیصلہ نہیں کرتا۔ اب جو شخص خدا تعالیٰ کی اس صفت کو جلوہ گر دیکھنا چاہے اسے چاہیئے کہ غور کرے کہ کیا وہ بھی اسی طرح کرتا ہے۔ یا وہ جونہی سنتا ہے کہ فلاں شخص نے چوری کی ہے تو کہہ دیتا ہے کہ تب تو وہ بہت بُرا ہے لیکن خدا تعالیٰ اس طرح نہیں کرتا اس لئے خدا کی قضاء اور بندہ کی قضاء میں بہت بڑا فرق ہے۔ وہ سارے حالات معلوم کر کے فیصلہ کرتا ہے اور انسان یونہی فیصلہ کرنے بیٹھ جاتا ہے۔ جس طرح روزمرہ ہر انسان فیصلہ کرنے لگ جاتا ہے سب مجسٹریٹ اسی طرح کرنے لگ جائیں تو دنیا میں اندھیر مچ جائے کوئی کسی کے متعلق جا کر کہے کہ فلاں نے چوری کی ہے اور مجسٹریٹ سنتے ہی فوراً اس شخص کو قید کر ڈالے تو کس قدر ظلم برپا ہو جائے ۔ پس اپنے نفس میں سوچو کہ وہ قضاء جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے سپرد کی ہے اس کو تم کس طرح استعمال کرتے ہو۔ اگر خدا تعالیٰ جس طرح اپنے جج ہونے کی صفت کو استعمال کرتا ہے اسی طرح نہیں کرتے تو اس کی طرف قدم نہیں بڑھا سکتے اور اگر اس کی طرف قدم بڑھانا چاہتے ہو تو چاہئے کہ اپنے دماغ کے گوشوں میں بھی کسی کی نسبت بغیر تحقیق و تدقیق کوئی خیال نہ آنے دو جب تک پہلے کامل تحقیق نہ کرلو۔

جس کا قصور ہو اسی کو سزادو

دوسری اور تیسری خصوصیت خدا تعالیٰ کے فیصلہ میں یہ پائی جاتی ہے کہ جس کا جرم ہوتا ہے اور جس کے متعلق فیصلہ کرنا ہوتا ہے اسے دوسروں کے جرموں کی وجہ سے نہیں پکڑتا اور نہ دوسروں کو اس کی بجائے پکڑتا ہے۔ پس اس شخص کو جو خدا تعالیٰ کی صفت مالکیت کو اپنے اندر جلوہ گر کرنا چاہتا ہے سوچنا چاہئے کہ کیا وہ بھی اسی طرح کرتا ہے کیا وہ اس طرح تو نہیں کرتا کہ جب اسے کسی شخص سے نفرت پیدا ہوتی ہے تو اس کے بھائی سے بھی نفرت کرنے لگ جاتا ہے۔ اسے یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ جس کا قصور ہوتا ہے اسی کو سزا دیتا ہے۔ پس صفت مالکیت میں خدا تعالیٰ کے ساتھ مشابہت پیدا کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جس کی نسبت کوئی فیصلہ کرنا ہو اپنے فیصلہ کو اسی کی نسبت محدود رکھو نہ کہ اس کی وجہ سے اس کے رشتہ داروں اور دوستوں کو بھی بُرا سمجھو اور نہ یہ کرو کہ دوسروں کے جُرم کی وجہ سے اسے پکڑو۔

جرم کے مطابق سزا دو

چوتھی خصوصیت خدا تعالیٰ کی قضاء میں یہ ہے کہ وہ جس قدر جرم کسی کا ہو اتنی ہی سزا دیتا ہے سالک کو چاہئے کہ وہ بھی ایسا ہی کرے یہ نہ ہو کہ مثلاً اسے کسی نے گالی دی اور وہ اس کے بدلہ میں یہ خواہش کرے کہ اگر بس چلے تو اسے مار دوں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرح اگر سزا دینی ہی پڑے یا رائے قائم کرنی ہو تو جرم کے مطابق ہی سزا دے یا رائے قائم کرے۔

فیصلہ کرتے وقت میزان رکھو

پانچویں بات خدا تعالیٰ یہ کرتا ہے کہ جب فیصلہ کرتا ہے تو میزان رکھتا ہے یعنی یہ دیکھتا ہے کہ جرم تو کیا مگر کس حالت میں؟ ایک شخص نے چوری سے کسی کی روٹی کھالی یہ جرم ہے مگر خدا تعالیٰ اس کے جرم کا فیصلہ کرتے وقت یہ بھی دیکھتا ہے کہ اس نے کس حالت میں وہ روٹی کھائی ہے آیا دوسرے کے مال پر تصرف کرنے کے لئے یا یہ کہ وہ بھوک سے مجبور تھا اور اور کوئی ذریعہ پیٹ بھرنے کا اسے معلوم نہیں تھا۔ پس جو سالک ہو اسے بھی چاہئے کہ اسی طرح کرے یہی نہ دیکھے کہ کسی نے کیا جرم کیا ہے بلکہ اس کے حالات اور مجبوریوں کو بھی دیکھے اور اندھا دھند فیصلہ نہ کرے۔ خدا تعالیٰ ہمیشہ ہر کمزوری کی وجہ کو مدنظر رکھتا ہے مثلاً ایک شخص جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعودؑ کا پتہ نہ ہو خدا کا قانون اسے کافر تو قرار دے گا مگر خدا تعالیٰ اسے اس وجہ سے سزا نہیں دے گا کیونکہ بوجہ علم نہ ہونے کے اس کے لئے ناممکن تھا کہ ایمان لا سکے۔

سفارش نہ سنو

چھٹی بات خدا تعالیٰ یہ کرتا ہے کہ کسی کے خلاف کسی کی سفارش نہیں سنتا تمہارے لئے بھی ضروری ہے کہ کسی کے کہنے پر کسی کے متعلق فیصلہ نہ کرو تمہیں خود خدا نے جج بنایا ہے تم کسی کی کیوں سنو۔

ہر فیصلہ میں رحم کا پہلو غالب ہو

ساتویں بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا امور کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنے کے باوجود خدا تعالیٰ جب فیصلہ کرتا ہے تو اس میں رحم کا پہلو غالب رہتا ہے۔ ذرا گنجائش نکل آئی جھٹ معاف کر دیا تمہیں بھی کسی کی بُرائی معلوم ہو جو ادنیٰ اور معمولی ہو تو بُرائی کا فیصلہ ہی نہ کرو بلکہ اس کی نیکیوں کو دیکھ کر حتی الوسع اس کی طرف نیکی منسوب کرو۔

صفت مالکیت پیدا کرنے کا نتیجہ

یہ سات باتیں ہیں جن کا خیال خدا تعالیٰ صفت مالکیت کے اظہار کے وقت رکھتا ہے اگر بندہ بھی ان کو مدنظر رکھے تو آہستہ آہستہ اس کے اندر صفت مٰلک یوم الدین قائم ہو جائے گی اور اسے خدا تعالیٰ سے ایک مشابہت حاصل ہو جائے گی۔

جب بندہ یہ استعداد پیدا کر لیتا ہے تو وہ مادہ کی طرح ہو جاتا ہے گویا اس میں ترقی کرنے کی قابلیت پیدا ہو جاتی ہے اور اس وقت خدا تعالیٰ کی صفت مٰلک یوم الدین جو اس درجہ کے آدمی کے لئے منبع فیض ہے اس پر اپنا پَرتَو ڈالتی ہے اور اس کی روح میں نئی طاقتیں پیدا کر دیتی ہے حضرت مسیح موعودؑ نے جو یہ لکھا ہے کہ ئیں پہلے مریم بنا اور پھر عیسیٰ بنا اس کا یہی مطلب ہے کہ آپ کے اندر پہلے خدا تعالیٰ کی صفات کا اثر قبول کرنے کی قابلیت پیدا ہوئی بعد میں خدا تعالیٰ کے بالمقابل صفت کے اتصال سے نئی قوتیں حاصل ہوئیں جو عیسوی قوتوں سے مشابہ تھیں یا اس حالت کی مثال تیار شدہ زمین کی سمجھ لو۔ جب سالک کی حالت اس طرح کی ہو جاتی ہے تو خدا تعالیٰ کی مٰلک یوم الدین والی صفت اس پر اثر ڈالتی ہے بعینہ اسی طرح جس طرح مرد وعورت ملتے ہیں یا زمین اور بیج ملتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کی صفات ایسی نہیں کہ وہ کسی پر پَرتَو ڈالیں اور نتیجہ نہ نکلے اس لئے جب ان کا ظہور ہوتا ہے تو انسان کے اندر ضرور ہی نئی طاقت اور قوت پیدا ہو جاتی ہے۔

یہ جو میں نے بیان کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفتِ مالکیت اس پر جلوہ کرتی ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ جس طرح یہ لوگوں سے عفو کا معاملہ کرتا تھا خدا تعالیٰ بھی اس سے عفو کا معاملہ کرتا ہے اور چونکہ گناہ ہی ایک ایسی زنجیر ہے جو انسان کی روحانی ترقی کی رفتار کو سست کرتی رہتی ہے جب یہ زنجیر کھل جاتی ہے تو انسان کی روحانی ترقی کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ دنیاوی سفر میں تو یہ ہوتا ہے کہ پہلے لوگ تیز چلتے ہیں اور پھر جوں جوں تھکتے جاتے ہیں آہستہ چلنے لگتے ہیں مگر خدا کی منزلیں ایسی ہیں کہ پہلے انسان آہستہ چلتا ہے اور پھر تیز کیونکہ اسے ہر قدم پر نئی طاقت ملتی جاتی ہے۔

صفتِ مالکیت پیدا کرنے کا فائدہ

اگر لوگ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ کی صفت کو اپنے اندر پیدا کر لیں تو پھر سارے جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں لوگوں میں لڑائی اس لئے ہوتی ہے کہ وہ جی کی طاقتوں کو غلط طور پر استعمال کرتے ہیں اگر انہیں صحیح طور پر استعمال کریں تو کبھی لڑائی نہ ہو۔ قرآنِ کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے اگر زیادہ اللہ ہوں تو فساد ہو جائے اور ادھر فرماتا ہے کہ بحر و بر میں فساد پیدا ہو گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت زیادہ اللہ بن گئے تھے یعنی لوگ خدا تعالیٰ کی صفتِ مالکیت کے ماتحت اپنی قضاء کو کرنے کی بجائے اس صفت کو مستقل طور پر استعمال کرنے لگ گئے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لڑائی اور فساد پیدا ہو گیا۔ اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے کہ فساد ہمیشہ خدا تعالیٰ کی صفات سے علیحدگی اور مستقل پالیسی اختیار کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔

حضرت مسیح نے کہا ہے جو اپنے لئے پسند نہیں کرتے وہ دوسرے کے لئے بھی پسند نہ کرو۔ اگر کوئی یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی اُس کا مال چُرائے تو اس کو بھی چاہئے کہ کسی کا نہ چُرائے۔ اسلام نے بھی ایسی باتیں کہی ہیں مگر ادنیٰ درجہ کے لوگوں کے لئے اور اعلیٰ لوگوں کے لئے یہ کہا ہے کہ یہ نہ دیکھو دوسرا کیا کرتا ہے بلکہ یہ دیکھو کہ خدا کیا کرتا ہے جو کچھ خدا کرتا ہے وہی تم کرو خدا چونکہ غلطی نہیں کرتا اس لئے انسان جب اس کی اتباع کرے گا تو وہ بھی غلطی سے بچ جائے گا۔

بندہ کا درجہ رحیمیت پانا

صفتِ مالکیت بیج کی طرح ہے اس سے اوپر رحیمیت کا درجہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کام سے بڑھ کر بدلا دینا۔ پہلے وہ سات باتیں اپنے اندر پیدا کرنی چاہئیں جو اوپر بیان کی گئی ہیں اور یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ ان کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کریں گے نہ ان سے باہر جائیں گے نہ ان کو چھوڑیں گے اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خدا سالک کے گناہ مٹاتا جائے گا اور اگر کوئی غلطی ہو گی تو اسے نظر انداز کر دے گا اور اس کا یہ فائدہ ہو گا کہ اس کے دل میں بدی سے نفرت پیدا ہو جائے گی۔

اس کے بعد رحیمیت کی مشابہت میں یہ عادت پیدا کرنی چاہئے کہ ہر کام کرنے والے کو اس کے حق سے زیادہ دیا جائے ۔ مثلاً ایک شخص کسی کا نوکر ہو وہ یہ فیصلہ کرے کہ میرا مالک جو تنخواہ مجھے دیتا ہے اور اس کے بدلے جتنے کام کی اُمید مجھ سے رکھتا ہے اس سے زیادہ کام میں کروں گا اور مالک یہ فیصلہ کرے کہ اس کام کی جتنی تنخواہ مقرر ہوئی ہے میں اس سے زیادہ سلوک ملازم سے کروں گا۔ اگر آقا اور نوکر دونوں ایسے ہوں کہ اس اصل پر چلیں تو یہ بھی ایک قسم کا مقابلہ ہو گا مگر کیسا عجیب مقابلہ ہو گا جو صلح اور امن پیدا کر دے گا۔ صحابہؓ میں اس قسم کے واقعات ہوتے تھے ایک دفعہ ایک صحابیؓ اپنا گھوڑا بیچنے کے لئے آئے اور ایک دوسرے صحابیؓ اسے خریدنے لگے گھوڑے کے مالک نے مثلاً دو ہزار درہم قیمت بتائی اور لینے والے نے تین ہزار درہم ۔ بیچنے والا اس پر مُصر تھا کہ میں دو ہزار سے زیادہ نہ لوں گا کیونکہ میرا گھوڑا اس سے زیادہ قیمت کا نہیں ہے لیکن گھوڑا خریدنے والا کہتا تھا کہ میں تین ہزار سے کم نہ دوں گا کیونکہ یہ گھوڑا اس سے کم قیمت کا نہیں ہے۔ اگر ساری دنیا کے لوگوں کی یہی حالت ہو تو خیال کرو کہ دُنیا کیسی خوبصورت بن جائے گی؟

یا مثلاً ایک مزدور ہے جو سمجھتا ہے کہ اتنی مزدوری میں مجھے اتنا کام کرنا چاہئے وہ اس سے زیادہ کرے اور جس نے اسے لگایا ہو وہ مقررہ مزدوری سے کچھ زیادہ دیدے۔ یہی اصول زندگی کے ہر شعبہ میں برتنے کی کوشش کی جائے ۔ مگر سوال ہو سکتا ہے کہ ایک غریب شخص ہے وہ کیا کرے یا زمیندار ہے وہ کیا کرے؟

اس کے متعلق میں زمینداروں ہی کی مثال دیتا ہوں۔ مثلاً ایک زمیندار ہے جب وہ کھیت کاٹنے کے لئے لوگوں کو لگائے اور کہے کہ میں کاٹنے والوں کو اس اس قدر غلہ دوں گا اب اگر وہ اس غلہ سے زیادہ دے یا روٹی کھلا دے تو وہ گویا اس صفت پر عمل پیرا ہو جائیگا۔ یا مثلاً گنے چھیلنے پر لگایا اور اس کے لئے مزدوری مقرر کی جو ادا کر دی گئی مگر چلتے وقت اسے بچوں کے لئے گنے دئے دیئے یا رس دیدی، شکر دیدی، یہ رحیمیت ہو گی ۔ خواہ کتنی ہی تھوڑی چیز مزدوری سے زائد دی جائے وہ اس صفت کے ماتحت آئے گی ۔ پس تم میں سے ہر شخص اس صفت کو استعمال کر سکتا ہے اگر امیر ہے تو بدلا دینے میں زیادہ دے سکتا ہے اور اگر نوکر ہے تو کام کرنے میں زیادتی کرسکتا ہے۔

مگر بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو نہ کسی کے نوکر ہو سکتے ہیں نہ ان کے کوئی نوکر ہو سکتے ہیں۔ جیسے نابینا وغیرہ ان کی بھی رحیمیت ہے اور وہ یہ کہ جو اچھے کام کرنے والے لوگ ہیں انکی لوگوں میں قدر بڑھائیں۔ اس طرح کام کرنے والوں کا دل بڑھتا ہے اور وہ اور زیادہ اچھا کام کر سکتے ہیں۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کسی کا دل بڑھانے سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے لوگ اچھی رائے حاصل کرنے کے لئے بہت سامال و دولت خرچ کر دیتے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ سنایا کرتے تھے کہ ایک عورت نے ایک انگوٹھی بنوائی‘ وہ اسے دوسری عورتوں کو دکھانے کی بہت کوشش کرتی رہی مگر کسی نے توجہ نہ کی۔ آخر اس نے اپنے مکان کو آگ لگا دی اور جب عورتیں افسوس کرنے کے لئے اس کے پاس آئیں اور پوچھا کچھ بچا بھی تو کہنے لگی اس انگوٹھی کے سوا اور کچھ نہیں بچا۔ ایک عورت نے پوچھا یہ تم نے کب بنوائی تھی؟ یہ تو بہت ہی خوبصورت ہے اس نے کہا اگر کوئی پہلے یہی بات کہہ دیتا تو میرا گھر کیوں جلتا۔ غرض صرف منہ کی بات بھی بڑا اثر رکھتی ہے کسی کو ایک کام کرنے پر سو روپیہ دو لیکن ساتھ ہی اس کی مذمت کر دو تو اسے کبھی خوشی نہ حاصل ہو گی یا چپ رہو تو بھی اس کا حوصلہ پست ہو جائے گا۔ پس جو قومیں خدا کی رحیمیت کو جذب کرنا چاہتی ہیں ان کا کام ہے کہ خود رحیم بنیں جو ان کے کارکن ہوں ان کی قدر کریں ان کے کام کی تعریف کریں زبان سے بدلا دینا معمولی بات نہیں ہوتی بلکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں مگر اس پر عمل کرنے میں کسی کا کچھ خرچ نہیں ہوتا جو کوئی مفید کام کرتا ہے تمہارا فرض ہے کہ اس کی تعریف کرو‘ ہماری جماعت میں ابھی یہ بات پیدا نہیں ہوئی۔ ایک شخص ولایت میں دین کی خدمت کر رہا ہوتا ہے اس کی بیوی بچے یہاں پڑے ہوئے ہوتے ہیں جیسے تمہاری بیویوں کو خواہشات ہوتی ہیں اسی طرح اس کو بھی ہوتی ہے مگر اس کی بیوی تنہا سوتی اور تنہا ہی اٹھتی ہے اس کے بچے لاوارثوں کی طرح باپ کی محبت کو ترستے رہے ہوتے ہیں کوئی ان کے پاس نہیں ہوتا۔ ادھر مبلغ اپنی جگہ پر تنہا ہوتا ہے وہ دین کا کام کر کے جب اپنے مکان میں جاتا ہے تو اسے یہ توقع نہیں ہوتی کہ مکان میں کوئی اس کی ضروریات کو پورا کرنے والا ہو گا بلکہ اسے خود ہی آ کر سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔ مگر لوگ ان باتوں کی ذرہ بھر بھی قدر نہیں کرتے اور اگر کسی سے کوئی غلطی ہو جائے تو عیب نکالنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ وہ عیب کو تو دیکھتے ہیں مگر خوبیوں کی طرف توجہ نہیں کرتے اس کا نتیجہ یہ

ہوتا ہے کہ بعض کارکن سست ہو جاتے ہیں۔ اگر حوصلہ بڑھایا جائے تو سب کارکن کام کرنے لگ جائیں۔ پس جو کام کریں ان کی قدر کرنی چاہئے۔ میں خصوصاً قادیان کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ کام کرنے والوں کی قدر کی عادت ڈالو لوگوں کی فکروں ، ذمہ داریوں اور مشکلوں کو نہ دیکھنا اور اعتراض کرتے جانا صفتِ رحیمیت کے خلاف ہے پس رحیمیت کو پیدا کرو اور اس کا استعمال ہر ایک شخص کر سکتا ہے غریب سے غریب بھی کر سکتا ہے۔ خاص اپنے متعلق بھی اور عام بھی کہ جو اچھا کام کرتا ہے اس کی تعریف کر دی جائے پھر علاوہ تعریف کے خدا کے ہاں اس کے لئے دُعا مانگو کہ وہ اچھا کام کر رہا ہے میرے پاس تو اسے دینے کیلئے کچھ نہیں اے خدا ! تُو ہی اپنے پاس سے اسے دے۔

غرض مزدور اپنے آقا کا زیادہ کام کرے اور آقا مزدور کو مزدوری سے زیادہ دے۔ پھر جو دین کا کام کرنے والے ہیں ان کے کام کی قدر کی جائے اور اس سے بھی بڑھ کر تعریف کی جائے جتنا کہ وہ کام کرتے ہیں۔ نیکی پر خوشی کا اظہار کیا جائے تب جا کر صفتِ رحیمیت سے مناسبت پیدا ہوتی ہے اور خدا سے تشابہ پیدا ہوتا ہے اور غیریت جاتی رہتی ہے اور جنس کو جنس سے تعلق ہو جاتا ہے اور یہ صفت خدا تعالیٰ کو انسان کی طرف کھینچتی ہے اور اس کی صفتِ رحیمیت انسان پر جلوہ کرتی ہے اور اس جلوہ کے ماتحت اس کا ثواب بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔ وہ نماز ایک پڑھتا ہے تو ثواب سو کا ہوتا ہے اور اس طرح وہ کہیں کا کہیں نکل جاتا ہے لیکن جو خود رحیم نہیں ہوتا وہ خواہ سارا دن نماز پڑھتا رہے وہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔ صرف اسی شخص کے حق میں کہ جو خود رحیم بنتا ہے خدا تعالیٰ کی صفتِ رحیمیت جوش میں آتی ہے اور خدا تعالیٰ کہتا ہے میں بھی اسے بڑھ کر دوں اور ایسے شخص کو اعلیٰ مقام مل جاتا ہے لیکن جس کے اندر رحیمیت نہیں ہوتی وہ سارا سال نمازیں پڑھتا رہے تو بھی اسے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ مثلاً ایک روحانی مقام اگر پچاس سال کی نمازوں کے بعد ملتا ہو تو جو اپنے نفس میں رحیمیت پیدا نہیں کرتا وہ تو اگر ایک سال نمازیں پڑھے گا تو اس کا ایک ہی سال گذرے گا اور انچاس باقی رہیں گے لیکن وہ جس میں رحیمیت کی صفت ہو گی ایک سال نمازیں پڑھ کے پچاس سال کا ثواب حاصل کرے گا کیونکہ اس کے نفس کی رحیمیت خدا کی رحیمیت کو کھینچے گی اور خدا تعالیٰ کی رحیمیت کا تقاضا ہے کہ بندہ کے تھوڑے کام پر زیادہ بدلہ اور بار بار بدلہ دے۔ پس اس صفت کے ذریعہ سے انسان تھوڑے عرصہ میں بڑے بڑے درجے حاصل کر لیتا ہے۔

بندہ کا درجہ رحمانیت پانا

جب خدا تعالیٰ کی صفتِ رحیمیت انسان کی صفتِ رحیمیت سے ملتی ہے تو اس میں اور نئی زندگی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ گویا پھر ایک رُوحانی جنم لیتا ہے اور رحمانیت کے مقام تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے رحمانیت کے معنی ہیں کہ کسی نے کچھ کام نہ بھی کیا ہو تو بھی اس سے نیک سلوک کرنا۔ جیسے خدا تعالیٰ نے سورج ، چاند ، زمین ، آسمان ، ہوا ، پانی پیدا کئے ہیں یہ انسان کے کسی عمل کے نتیجہ میں نہیں ہیں بلکہ اگر یہ نہ ہوتے تو انسان زندہ ہی نہیں رہ سکتا۔ بندہ کا تیسرا مقام اسی صفت کا حصول ہے اور وہ اس طرح کہ یہ پہلے تو صرف ان لوگوں سے حُسنِ سلوک کرتا تھا جو اس کا کام کرتے تھے اب یہ کوشش کرتا ہے کہ جن سے اس کو کوئی بھی فائدہ نہیں ان سے بھی نیک سلوک کرے اِس صفت کا حصول بھی غریب امیر سب کے لئے ممکن ہے۔ قادیان میں ایک مخلص نابینا تھے حافظ معین الدین ان کا نام تھا انہیں اتنا توکّل حاصل تھا کہ کسی کو کم ہی ہو گا غریب آدمی تھے۔ لنگر خانہ کی روٹی پر ان کا گذارہ تھا اور لوگ انہیں نابینا سمجھ کر کبھی کبھی کچھ مدد کر دیتے تھے وہ با وجود نابینا ہونے کے ادھر ادھر پتہ لگاتے رہتے تھے کہ کسی کے گھر فاقہ تو نہیں یا اور کوئی تکلیف تو نہیں ؟ اور اگر کوئی تکلیف زدہ انہیں معلوم ہوتا تو اپنی روٹی لے جا کر اسے دے آتے۔ یا اگر ان کے پاس پیسے ہوتے تو وہ دے دیتے۔ ان کے اس قسم کے بہت سے واقعات مجھے معلوم ہیں۔ پس اس صفت کی مشابہت پیدا کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ کوئی مالدار ہی ہو غرباء بھی اپنے ذرائع کے مطابق رحمانیت کا جامہ پہن سکتے ہیں اور بغیر کسی پچھلی خدمت کے صلہ یا آئندہ کی اُمید کے نیکی کر سکتے ہیں مثلاً ایک شخص مدرسہ میں ملازم ہے اگر وہ کہے کہ میں اپنے سارے وقت کے پیسے ہی وصول کروں تو یہ رحمانیت نہیں ہو گی۔ جیسے مدرسہ والے عام طور پر کرتے ہیں کہ ملازمت کے وقت سے باہر بھی کسی غریب کو مفت نہیں پڑھا سکتے۔ رحمانیت یہ ہے کہ جبکہ اپنے وقت کے ایک حصہ میں وہ اپنی معیشت کا سامان پیدا کر لیتے ہیں تو دوسرے وقت میں وہ بعض غرباء کو بغیر صلہ کی امید کے نفع پہنچا دیں۔

ایک عالم اسی طریق پر اپنے علم کو خرچ کرے۔ ایک مالدار اپنا مال خرچ کرے اور یہ سمجھے کہ میں تو ایک سوراخ کے طور پر ہوں جس میں سے خدا ہاتھ ڈال کر دوسرے لوگوں کو دے رہا ہے۔ جو لوگ اس مقام پر پہنچ جائیں ان پر خدا کا فیضان پھر تیسری بار نازل ہوتا ہے اور اس دفعہ خدا کی رحمانیت ان کے لئے ظاہر ہوتی ہے۔

بندہ خدا کا مہمان

گویا ایسے بندے خدا کے مہمان ہوتے ہیں اور وہ ہر منزل پر ان کا استقبال کرتا ہے جب انسان مالکیت کی منزل پر ہوتا ہے تو خدا مالکیت کی شکل میں آتا ہے اور کہتا ہے آئیے ۔ جب رحیمیت کی منزل پر ہوتا ہے تو خدا رحیمیت کی شکل میں آتا ہے اور کہتا ہے آئیے ۔ جب انسان رحمانیت کی منزل پر ہوتا ہے تو اللہ جل جلالہ رحمانیت کی صورت میں آتا ہے اور فرماتا ہے آئیے ۔ رحمانیت کا مقام ایک نہایت ہی وسیع مقام ہے اس مقام پر کئی کئی باتیں انسان کو بتائی جاتی ہیں اور رحمانیت کے ساتھ جو ہدایت تعلق رکھتی ہے وہ سکھائی جاتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلرَّحْمٰنُۙ‏ ﴿۱﴾ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ‏ ﴿۲﴾(الرحمٰن: ۲، ۳) رحمن نے قرآن سکھایا ہے ۔ یعنی کلام الٰہی کا نزول صفت رحمانیت سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس مقام والا نیچے نہیں ہٹتا خدا تعالیٰ نئے نئے اخلاق اسے سکھاتا ہے اور نئے نئے ترقی کے سامان اسے دیتا ہے۔

رب العالمین بننا

صفت رحمانیت کو حاصل کرنے پر جب بندہ پر خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت جلوہ کرتی ہے تو اس میں پھر ایک نیا جوش پیدا ہوتا ہے اس لئے وہ چاہتا ہے کہ اور اوپر چڑھے اس وقت اس کے لئے اگلی منزل آسان ہو جاتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ آؤ اب میں رب العالمین کی صفت کا بھی جلوہ گاہ بنوں۔ رب کا کام جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ماں باپ کے کام سے مشابہ ہوتا ہے۔ ماں باپ یہ نہیں کیا کرتے کہ دُودھ گھر میں رکھ دیں کہ بچہ آپ تلاش کر کے پی لے گا بلکہ وہ یہ کرتے ہیں کہ بچہ کو خود تھن سے دودھ پلاتے ہیں اور اگر وہ نہ پیئے تو جبراً پلاتے ہیں۔ اسی طرح جب بندہ اس مقام پر آتا ہے تو لوگوں کے پیچھے پڑ پڑ کر انہیں ہدایت منواتا ہے اور اسی پر کفایت نہیں کرتا کہ صرف وعظ کر دے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت آتا ہے کہ آپؐ ایک دفعہ طائف میں تشریف لے گئے وہاں کے لوگوں نے آپؐ پر پتھر پھینکے اور آپؐ واپس آگئے آتے ہوئے رستہ میں ایک جگہ سستانے لگے باغ والے نے اپنے غلام کے ہاتھ کچھ میوہ آپؐ کے لئے بھیجا آپؐ نے میوہ کی طرف تو کم ہی توجہ کی اس غلام ہی کو تبلیغ کرنے لگ گئےاور آپؐ کا یہ ہمیشہ دستور تھا کہ جہاں مکہ کے لوگ جمع ہوتے آپؐ وہاں چلے جاتے اور انہیں تبلیغ کرتے حج کے لئے جو لوگ آتے ان کے خیموں میں تشریف لے جاتے اور انہیں تبلیغ کرتے اور اس طرح نہیں کہ کوئی مل گیا تو اسے تبلیغ کر دی بلکہ آپؐ تلاش کرتے پھرتے اور ڈھونڈ کر انہیں حق پہنچاتے جس طرح ماں باپ بچے کو تلاش کر کر کے کھلاتے پلاتے

ہیں کہ بھوکا نہ رہ جائے۔

غرض اس صفت کو اپنے اندر پیدا کرنے کے یہ معنے ہیں کہ انسان اپنے آپ کو دنیا کا باپ یا ماں فرض کرے اور لوگوں کے فائدے کا خود خیال رکھے اور خواہ لوگ اس کی بات نہ بھی مانیں تب بھی ان کے پیچھے پڑا رہے۔ جب انسان اپنے قلب کو ایسا بنا لیتا ہے تو ایسے آدمی کو ایسے لوگ بھی مل جاتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ہم اس سے کچھ لے سکتے ہیں ان پر وہ جبر بھی کر سکتا ہے اور سزائیں بھی دے لیتا ہے اور اس طرح ان کی تربیت کرتا ہے اور ان کی اصلاح کرتا ہے ڈیو کچھ لوگوں کو منتخب کر کے ان کو سکھاتا ہے جب وہ مر جاتا ہے تو جن کو اس نے سکھایا ہوتا ہے وہ دوسروں کو سکھاتے ہیں اور اس طرح یہ سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے اور وہ اسی نسل کا باپ نہیں ہوتا جس کو سکھاتا ہے بلکہ اگلی نسلوں کا بھی باپ ہوتا ہے جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آج بھی ہمارے باپ ہیں جس طرح کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے باپ تھے اس مقام کا انسان اپنی ہمدردی کو کسی مذہب کے آدمیوں سے محدود نہیں کرتا بلکہ ہر مذہب کے لوگوں کا ہمدرد ہوتا ہے اور سب کا سچا خیر خواہ ہوتا ہے۔

رب العالمین کا کامل مظہر

یہ وہ مقام ہے جس کے کامل اور اکمل مظہر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور آپؐ کے سوا اور کوئی نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ رب العالمین کا کامل مظہر وہی ہو سکتا ہے جو سپلوں کی بھی تربیت کرے اور پچھلوں کی بھی اور یہ مقام سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کو حاصل نہیں آپؐ ہی ہیں جو فرماتے ہیں کہ جب آدم ابھی مٹی میں تھا اس وقت میں خاتم النبیین تھا۔ آپؐ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس لئے پہلوں کی تربیت کرنے والے نہیں کہ آپؐ نے براہِ راست ان کو سکھایا بلکہ اس لئے کہ پہلے نبی اس لئے آئے تھے کہ لوگوں کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کے نقطہ تک لے جائیں۔ پس رسول کریمؐ ہی کامل طور پر رب العالمین کی صفت کے مظہر تھے اور یہی وہ درجہ ہے جس کا پانے والا الحمد کا مستحق ہوتا ہے اور اسی لئے رسول کریمؐ کا نام محمّدؐ رکھا گیا کہ سب تعریفیں آپؐ میں جمع ہو گئیں اور یہ ناممکن تھا کہ بغیر محمّدؐ نام کے خاتم النبیین نبی ہوتا پس آپؐ کا نام بھی آپؐ کے خاتم النبیین ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

رب العالمین کا دوسرا ظل مسیح موعودؑ ہیں

غرض رسول کریمؐ صفات الٰہی کا کامل مظہر ہیں مگر مسیح موعودؑ بھی بوجہ اس کے کہ وہ آپ کا کامل ظل ہے آپ کے نُور کو حاصل کر کے ظلی طور پر اس مقام کا مظہر ہے اور یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کو الہام ہوا کہ مجھ پر ایمان لائے بغیر کوئی خدا تک نہیں پہنچ سکتا۔ گویا رسول کریمؐ کی اتباع کا صحیح راستہ آپ کو ہی معلوم تھا اور کسی کو نہیں آپ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے لوگوں کے لئے راہنما تھے کیونکہ مقام محمّدی کی ترقی کا آخری نقطہ آپ تھے اور درمیانی اولیاءِ امّت محمّدیہ کو آپ ہی کے نقطہ کی طرف لا رہے تھے اور آپ پہلی قوموں کے لئے اس لئے بھی تربیت کرنے والے ہیں کہ آپ کے ہاتھ پر ہی اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں کی پیشگوئیوں پورا کر کے ان کی سچائیوں کو ظاہر کیا اور آپ ہی کے ذریعہ سے سب دنیا کے نبیوں کی تصدیق کرائی اور تعصب قومی کو دُور کرایا گیا آپ ہی نے کرشن اور رام چندر کی صداقت کو ظاہر کیا جس طرح کہ دوسرے نبیوں کی صداقت کو آپ نے ظاہر کیا۔ گو کہ اس وجہ سے آپ پر کفر کا فتویٰ بھی لگا لیکن جو کچھ ہے ظلی ہے ورنہ حقیقی طور پر جو شخص اگلوں پچھلوں پر روشنی ڈالتا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی ہے۔

جو شخص اس مقام پر پہنچ جاتا ہے اس پر اس مقام کی نسبت سے رب العالمین کی صفت نازل ہوتی ہے اور وہ اس طرح کہ تب یہی عالمین قرار دیدیا جاتا ہے اور خدا اس کا رب ہو جاتا ہے۔ جو شخص اس سے تعلق کرتا ہے خدا تعالیٰ کی کامل ربوبیت کا وہی مستحق ہوتا ہے اور جو اس سے قطع تعلق کرے وہ گویا خدا کے عالموں میں سے نکل جاتا ہے یعنی اس کی کامل ربوبیت نہیں ہوتی اور اس نکتہ میں کفر اور اسلام کا راز مضمر ہے۔

انتہائی مدارج

گو میں نے یہ بتایا ہے کہ اس صفت کے کے کامل مظہر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر یہ بات نہیں کہ اور کوئی اُس کا مظہر نہیں ہے بلکہ حق یہ ہے کہ سب نبی ہی اس مقام پر پہنچے ہوئے ہیں ہاں سب کے درجے الگ الگ ہیں کوئی زیادہ پُر جلال مظہر ہے کوئی کم۔

ان مدارج کو طے کرنے کا علم کس طرح ہو

اب یہ بات رہی کہ کس طرح معلوم ہو کہ انسان نے ان مدارج کو طے کر لیا؟ اس کے لئے یاد رکھنا چاہئے کہ جس طرح مدرسہ میں پڑھنے والے طالبعلموں کو اپنی جماعت سے اوپر کی جماعت میں ترقی تب ملتی ہے جب وہ اس جماعت کے مضامین کو جس میں وہ ہوں اچھی طرح یاد کر لیں اسی طرح وہی شخص اگلی صفت کی طرف ترقی کر سکتا ہے جبکہ وہ پچھلی صفت پر اچھی طرح عامل ہو جائے۔ مگر جس طرح طالب علم کی ترقی اس لئے نہیں روکی جاتی کہ اسے ایک ایک نقطہ کیوں یاد نہیں اسی طرح بندہ اگر ایک صفت سے اچھی طرح مناسبت پیدا کر لیتا ہے تو گو اس میں بعض کمزوریاں ابھی ہوں اسے اوپر کی صفت کے حصول کی طاقتیں مل جاتی ہیں اور قلیل غلطیوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

اس موقع پر یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ پچھلے مضمون سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو مذکورہ بالا چاروں صفات پر باری باری عمل کرنا چاہئے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تو سیر کا طریق ہے کہ الگ الگ منزلیں بنائی گئی ہیں ورنہ یوں انسان کو ہر وقت ہی سب صفات کی مشابہت کی کوشش کرنی چاہئے ہاں ترقی کامل تبھی ہو گی اور اوپر کی صفات پر وہ تبھی پوری طرح کاربند ہو سکے گا جبکہ وہ نیچے کے درجہ کی صفات پر اچھی طرح عمل کرے گا۔

نبی کی بددعا اور مباہلہ

ایک اور سوال ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ جب کہ نبی رب العالمین صفت کے مظہر ہوتے ہیں تو بددعا یا مباہلہ کیوں کرتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نبی خود بخود ایسا کبھی نہیں کرتے بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ایسا کرتے ہیں۔ جیسے کہ حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی کریمؐ طائف میں گئے اور وہاں کے لوگوں نے آپ کو مارا اور آپ واپس آگئے تو پہاڑ کا فرشتہ آپ کے پاس آیا اور کہا اگر حکم ہو تو پہاڑ اکھاڑ کر ان لوگوں پر گرا دوں مگر رسول کریمؐ نے فرمایا نہیں اور آپ نے دُعا کی کہ یا اللہ اس قوم کو پتہ نہیں کہ میں کون ہوں اسی طرح کہا یا اللہ ان کو ہلاک نہ کر شاید ان کی اولاد مسلمان ہو جائے۔

اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی بعض بددعائیں تو کی ہیں مگر وہ سب خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت تھیں۔ مولوی عبدالکریم صاحب سناتے ہیں کہ رات کو ایک دن حضرت صاحب دعا مانگ رہے تھے مجھے ایسا معلوم ہوا کہ جیسے عورت دردِ زہ سے رو رہی ہوتی ہے جب میں نے غور سے سُنا تو معلوم ہوا کہ حضرت صاحب کی گریہ کی آواز آرہی تھی۔ وہ دن طاعون کے تھے آپ دعا فرما رہے تھے کہ الٰہی! اگر ساری مخلوق مر گئی تو پھر تجھ پر ایمان کون لائے گا؟ پس جب نبی کہتے ہیں کہ فلاں تباہ ہو جائے تو خدا تعالیٰ کے حکم سے کہتے ہیں اور خدا کے حکم کے ماتحت بددعا کرتے ہیں۔

پھر سوال ہوتا ہے کہ بددعا تو خدا کے حکم سے کرتے ہیں مگر مباہلہ کیوں کیا جاتا ہے؟ اسکے لئے یاد رکھنا چاہئے کہ مباہلہ اس لئے کیا جاتا ہے کہ جس کو مباہلہ کے لئے بلایا جاتا ہے وہ گمراہی میں حد سے زیادہ بڑھا ہوتا ہے اور یہ بات ربوبیت میں شامل ہے کہ ایک کی ہلاکت سے باقیوں کو بچایا جائے۔ جیسے ایک عضو اگر خراب ہو تو سارے جسم کو بچانے کے لئے اسے کاٹ دیا جاتا ہے۔

اور اس شبہ کا جواب کہ خدا تعالیٰ جو ربّ العالمین ہے وہ کیوں بعض وقت بددعا کا حکم دیتا ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ عالم الغیب ہے وہ بعض دفعہ دیکھتا ہے کہ ایک شخص گمراہی میں اسقدر بڑھ گیا ہے کہ اس کی دنیا کی زندگی کی ایک ایک گھڑی اس کے اخروی عذاب کو لمبا کر رہی ہے اور واپس لوٹنے کا راستہ اس نے اپنے ہاتھ سے بالکل بند کر دیا ہے تب اس کی ربوبیت چاہتی ہے کہ اسے اس دنیا سے رخصت کر دے۔ تا اس کے گناہ اور زیادہ نہ ہو جائیں اور عرصۂ عذاب لمبا نہ ہو جائے۔ وَ اخِرُ دَعْونَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَلَمِیْنَ۔


تحفہ شہزادہ ویلز

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ

خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ

هُوَ النَّاصِرُ

ہمارے ملک معظم کے شہزادہ اور مملکتِ برطانیہ کے ولی عہد!

مَیں آپ کو اپنی جماعت کے تمام افراد کی طرف سے ان کے امام اور بانیٔ سلسلہ کے خلیفہ ہونے کی حیثیت سے ہندوستان میں آنے پر مبارک باد دیتا ہوں اور آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جماعت احمدیہ حکومتِ برطانیہ کی کامل وفادار ہے اور انشاء اللہ وفادار رہے گی۔

جماعتِ احمدیہ جس وقعت اور جس محبت اور جس پیار کی نظر سے تاجدارِ برطانیہ کو دیکھتی ہے اس کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جو کسی کو نہایت عزیز اور محبوب رکھتے ہوں اور اس کے اور ان کے درمیان جدائی اور فراق کی ناقابلِ عبور خندق ہو جس کے عبور کرنے کا خیال بھی ان کے ذہن میں نہ آسکتا ہو کہ اتنے میں وہ جس کی محبت ان کے دلوں پر نقش تھی اور جس کے ملنے کی انہیں اُمید نہ تھی اچانک خود ان کے پاس آپہنچے اور فراق کو وصل سے اور جُدائی کو لقاء سے بدل دے۔

شہزادۂ معظم! آپ جماعت احمدیہ کے قلبی تعلق کا کسی قدر اندازہ اس امر سے لگا سکتے ہیں کہ جب اس جماعت نے دیکھا کہ وہ کسی طرح بھی جناب کو اپنے مرکز میں نہیں بلا سکتی اور آپ کی ملاقات سے مسرور الوقت نہیں ہو سکتی تو اس کے سات ہزار سے زیادہ نمائندوں نے جو دسمبر کے آخر ہفتہ میں

مرکز سلسلہ قادیان میں سالانہ جلسہ کے لئے جمع ہوئے تھے میری تحریک پر اس امر کا فیصلہ کیا کہ ان کی طرف سے ایک تحفہ جناب کے سفر ہندوستان کی تقریب پر جناب کی خدمت میں پیش کیا جائے اور یہ تحفہ اس قسم کا ہو جس قسم کا تحفہ کہ سلسلہ احمدیہ کے بانی نے جناب کی جدہ مکرمہ ملکہ وکٹوریہ کو بھیجا تھا اور انہوں نے کمال شوق سے اس کو قبول کیا اور اس پر خوشنودی کا اظہار فرمایا تھا۔ اس تجویز کے پیش ہونے پر غریب اور امیر سب نے یک زبان ہو کر اس میں حصہ لینے کی خواہش ظاہر کی اور ہر ایک کا دل اس فرحت سے بھر گیا کہ اگر وہ آپ کو اپنے گھر پر نہیں بلا سکتا تو کم سے کم اس تحفہ کے ذریعہ سے وہ اپنے خلوص کی یاد ہمیشہ کے لئے آپ کے دل میں تازہ کرتا رہے گا۔

میرے مکرم شہزادہ ! یہ تحفہ ان چیزوں سے بنا ہوا نہیں جو زمین کی ہیں اور جن کے متعلق ڈر رہتا ہے کہ چور ان کو چُرا لے جائے یا زمین کے کیڑے اس کو کھا جائیں نہ یہ تحفہ ایسا ہے کہ جو آپ کے والد مکرم کے وسیع خزانوں میں ملتا ہو بلکہ یہ تحفہ ایسا نایاب ہے کہ اس وقت دنیا کے تمام بادشاہوں کے خزانے اس سے خالی ہیں اور بڑے بڑے بنکوں کی مجموعی دولت اس کے خریدنے سے قاصر ہے۔

اے شہزادۂ عالی قدر ! یہ تحفہ ایسا نادر ہے کہ باقی اموال اور امتِعہ کی طرح مرتے وقت اسے اسی دُنیا میں چھوڑ کر جانا نہیں پڑتا بلکہ یہ مرنے کے بعد بھی انسان کے ساتھ جاتا ہے اور اس جہان میں نہیں بلکہ اگلے جہان میں بھی کام آتا ہے۔

اے شہزادہ ذی مرتبت ! پھر یہ ایسا تحفہ نہیں کہ مرنے والے کے ساتھ چلا جائے اور پچھلے اس سے محروم رہ جائیں بلکہ یہ تحفہ اپنے اندر تقسیم در تقسیم کی خاصیت رکھتا ہے اور جس کے پاس یہ ہوتا ہے نہ صرف دونوں جہانوں میں اس کا ہی ساتھ دیتا ہے بلکہ اس کی اولاد اور پس ماندگان سے بھی علیحدہ نہیں رہتا اور باوجو د تقسیم ہونے کے اس میں کمی نہیں آتی۔

اے شہزادہ والا شان ! اس تحفہ کی یہ خاصیت ہے کہ یہ جس کے پاس ہو اس کا دل مضبوط ہو جاتا ہے اور اس کے اندر آسمانی نور کا دہانہ آکر کھل جاتا ہے اور وہ شخص ہر قسم کی تاریکی سے بچ جاتا ہے اور خدا کے فرشتے اس پر رحمت کے پروں کا آکر سایہ کرتے ہیں اور اگر وہ پہاڑوں کو کہے کہ چلو تو وہ چلنے لگتے ہیں اور اگر وہ دریاؤں کو کہے کہ مجھے اپنے اوپر چلنے دو تو وہ اسے چلنے دیتے ہیں اور اگر بیماروں کو کہے کہ اچھے ہو جاؤ تو وہ اچھے ہو جاتے ہیں اور دلوں کے اندھے اس کے کہنے کے مطابق دیکھنے لگتے ہیں اور روحانی مردے اس کے حکم پر زندہ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اور

بے کیف پانی اس کے اشارہ پر شراب سے زیادہ دماغ کو مست کرنے والا ہو جاتا ہے ۔

یہ تحفہ کیا ہے؟ یہ وہی ہدایت ہے جو خدا کے برگزیدوں کی معرفت آدمؑ سے لے کر اب تک دنیا کو ملتی رہی ہے اور جس کے ذریعہ سے نوحؑ نے اپنے دشمنوں پر فتح پائی اور موسیٰؑ نے فرعونِ مصر کو غرق کیا اور بنی اسرائیل کو مصر کی سرزمین سے نکال لایا اور داؤدؑ نے جنگل کے درندوں اور ہوا کے پرندوں کو اپنا ہمنوا بنایا اور یسوع مسیح نے روح القدس کو اپنی طرف کھینچا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جلا وطن ہونے کے بعد اپنے مخالفوں کو زیر کیا اور طاقت پا کر اپنے دشمنوں کو معاف کیا اور بادشاہ ہو کر غریبوں ، مسکینوں اور ناداروں کی سی زندگی بسر کی اور اپنی عمر کو ان کی خدمت میں صرف کر دیا جو دنیا میں چھوٹے سمجھے جاتے تھے مگر خدا کی نظر میں ایسے ہی معزز تھے جیسے کہ زبردست سے زبردست بادشاہ۔

اے مکرم شہزادہ ! مگر پیشتر اس کے کہ میں اس تحفہ کو آپ کی خدمت میں پیش کروں بہتر معلوم ہوتا ہے کہ میں آپ کو بتا دوں کہ اس تحفہ کے پیش کرنے والے نہ تو کوئی معمولی آدمی ہیں اور نہ ان کا اس تحفہ کو پیش کرنا کسی دنیوی غرض کو مد نظر رکھ کر ہے۔ کیونکہ یہ تحفہ اس جماعت کی طرف سے پیش ہوا ہے جو اپنے طریق عمل سے اس امر کو ثابت کر چکی ہے کہ وہ اس وقت تمام حکومت برطانیہ میں سب سے زیادہ وفادار ہے اور سب سے زیادہ بے غرض ہے۔ اگر عزت اور وقار کا صرف دولت ہی معیار نہیں ہے بلکہ صادق اور راست باز دل بھی کوئی قدر رکھتا ہے تو پھر میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ کے والد مکرم کی رعایا میں سے سب سے زیادہ معزز اور مکرم جماعت کی طرف سے یہ تحفہ آپ کی خدمت میں پیش ہوتا ہے۔ بیشک اس کی جیبیں سونے اور چاندی کے سکوں سے خالی ہیں مگر کون کہہ سکتا ہے کہ انسان صرف سونے اور چاندی سے ہی مالدار ہوتا ہے ؟ انسان خدا کے کلام سے بھی بلکہ خدا کے کلام سے ہی مالدار بنتا ہے۔ بے شک اس کے نام معزز القاب سے خالی ہیں مگر کیا بندوں کے دیئے ہوئے خطابوں سے خدا کے دیئے ہوئے القاب زیادہ عزت نہیں رکھتے بلکہ حقیقتاً تمام عزتوں کا موجب وہی نہیں ہوتے؟ ہاں۔ بے شک اس کے قبضہ میں وسیع جائدادیں اور زرخیز علاقے نہیں ہیں مگر خدا پر ایمان لانے والے کے دل سے زیادہ وسیع کون سا ملک ہے؟ اور خدا تعالیٰ کے عشق میں چُور ہونے والے کے دماغ سے زیادہ کونسا زرخیز علاقہ ہے؟ بیشک جو تحائف خوش آمدید آپ کو پہلے مل چکے ہیں وہ بہت بڑے بڑے لوگوں کی طرف سے تھے مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ جو آسمان کی بادشاہت میں سب سے چھوٹے ہیں وہ ان بڑے لوگوں سے بڑے ہیں۔

اے شہزادۂ مکرم! یہ تحفہ اس جماعت کی طرف سے آپ کی خدمت میں پیش ہو رہا ہے جس نے تیس سال سے زیادہ عرصہ تک آپ کی دادی آنجہانی علیا حضرت ملکہ وکٹوریہ اور ان کے بعد آپ کے دادا آنجہانی شہنشاہ ایڈورڈ ہفتم اور پھر آپ کے مکرم و معظم والد اپنے موجودہ بادشاہ کی وفاداری اور اطاعت میں اپنوں اور بیگانوں سے گوناگوں تکالیف اُٹھائی ہیں اور اس کے بدلہ میں وہ حکومت سے کبھی بھی کسی صلہ کی طالب نہیں ہوئی۔

اس جماعت کا شروع سے یہ دستور العمل رہا ہے کہ حکومتِ وقت کی فرمانبرداری کرے اور ہر ایک قسم کے فتنہ اور فساد سے بچے اور اس کے بانی نے ان شرائط میں جن پر عمل کرنے کا وعدہ کرنے پر ہی کوئی شخص اس سلسلہ میں شامل ہو سکتا ہے یہ شرط بھی رکھی تھی کہ حکومتِ وقت کی پوری فرمانبرداری کی جائے اور بغاوت کے تمام راستوں سے اجتناب کیا جائے۔ چنانچہ اس حکم کی تعمیل میں اس جماعت کے افراد نے ہمیشہ فتنہ اور فساد سے اپنے آپ کو الگ رکھا ہے اور بہت سے دوسرے لوگوں کے لئے بھی نمونہ بنی ہے۔ آج سے کچھ سال پہلے مسلمانوں میں سے وہ طبقہ جو علماء کے قبضہ میں تھا گو وہ عملاً امن پسند تھا اور گورنمنٹ کے راستہ میں کسی قسم کی رکاوٹیں نہ ڈالتا تھا مگر علماء کی تعلیم کے ماتحت وہ اس امر کو بالکل پسند نہیں کرتا تھا کہ کوئی شخص عقیدۃً اس امر کو تسلیم کرے کہ کسی غیر مذہب کی حکومت کے نیچے مسلمان اطاعت و فرمانبرداری کے ساتھ رہ سکتے ہیں اور چونکہ یہ جماعت نہ صرف عملاً ہر قسم کے فساد کے طریقوں سے دُور رہتی تھی بلکہ عقیدۃً بھی حکومتِ وقت کی فرمانبرداری کو ضروری جانتی تھی اور دوسروں کو بھی یہی تعلیم دیتی تھی اس بات کو نہایت بُرا منایا جاتا تھا اور بعض نادان علماء یہ خیال کرتے تھے کہ اس قسم کی تعلیم کی اشاعت سے مسلمانوں کے ہاتھ سے وہ حربہ نکل جائے گا جس کے ذریعہ سے وہ اسلام کی زندگی کو بچائے ہوئے ہیں اور جس کے سہارے پر ہی آئندہ کی ترقیات کی اُمیدیں قائم ہیں اور اس وجہ سے وہ اس جماعت کو طرح طرح کے دُکھ دیتے تھے اور نقصان پہنچاتے تھے اور انہوں نے فتویٰ دیدیا تھا کہ اس جماعت کے افراد کے ساتھ بولنا یا ان سے سلام کرنا یا ان کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنا بالکل منع ہے بلکہ جو شخص ان کے ساتھ ہاتھ بھی ملائے وہ اسلام سے خارج ہو جائے گا اور اس کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا جو ایک غیر مسلم سے ہونا چاہئے۔

عوام الناس کا ایک حصہ چونکہ اس قسم کی جوش دلانے والی باتوں سے متاثر ہو جایا کرتا ہے یہ حربہ اس جماعت کے خلاف ایک حد تک کامیاب ثابت ہوا یعنی عوام الناس کے جوش اس جماعت کے

خلاف بھڑک اُٹھے اور اس کے افراد کو طرح طرح سے دُکھ دیئے گئے اور تکالیف پہنچائی گئیں اور وہ گھروں سے نکالے گئے اور عدالتوں میں ان کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے اور ان کے نکاح جبراً توڑ دیئے گئے اور بعض جگہ ان کی عزیز اولادیں ان سے چھین لی گئیں اور مار پیٹ کی قسم سے بدنی تکالیف بھی بہت جگہ پر پہنچائی گئیں اور ان کی عزتوں پر بھی حملے کئے گئے مگر انہوں نے خدا تعالیٰ کے جلال کے اظہار کے لئے اور اسلام کی تعلیم کے قائم کرنے کے لئے یہ سب کچھ برداشت کیا لیکن اس گورنمنٹ کے خلاف جو گو ایسا مذہب رکھتی تھی جسے اس جماعت کے مذہب کے ساتھ سب سے زیادہ اختلاف تھا لیکن سیاسۃً ایک امن پسند حکومت تھی کسی قسم کی بدی اپنے دل میں رکھنی پسند نہ کی اور ہمیشہ اس کی نیکیوں کا اظہار کیا اور اس کی کمزوریوں سے چشم پوشی کی تا دُنیا میں امن قائم ہو اور وہ غرض پوری ہو جس کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے تھے یعنی دُنیا میں امن قائم کر کے سب قوموں کو یکجا جمع کیا جائے۔

امن پسندی اور حکومت کی وفاداری کی تعلیم کے نتیجہ میں صرف اسی قدر اس جماعت نے دُکھ نہیں اُٹھایا بلکہ جہاں اس کے مخالفوں کو طاقت حاصل تھی وہاں اس سے بہت زیادہ دردناک سلوک اس سے کیا گیا۔ چنانچہ افغانستان میں ہمارے دو آدمیوں کو صرف اس لئے شہید کیا گیا کہ وہ بانی سلسلۂ احمدیہ کی تعلیم کے مطابق مذہبی جنگوں کے معتقد نہیں تھے۔ ان میں سے ایک صاحب افغانستان کے ایک زبردست عالم تھے اور امیر حبیب اللہ خاں صاحب سابق فرمانروائے افغانستان کی تاجپوشی کی رسم انہوں نے ہی ادا کی تھی۔ ان کو امیر حبیب اللہ خان صاحب نے صرف اسی جُرم میں قتل کروا دیا اور قتل بھی کسی معمولی طریق سے نہیں بلکہ چاروں طرف آدمی کھڑے کر کے پتھر مار مار کر ان کو شہید کیا۔

اس دردناک واقعہ کے متعلق فرینک اے مارٹن FRANK A. MARTIN جو حکومت افغانستان کے انجینئر انچیف کے عہدہ پر ایک لمبے عرصہ تک متعین رہے ہیں۔ اپنی کتاب UNDER THE ABSOLUTE AMIR ”انڈر دی ایبسولیوٹ امیر“ میں یوں لکھتے ہیں :۔ ”چونکہ یہ مولوی صاحب (صاحبزادہ عبداللطیف صاحب) تعلیم دیتے تھے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ مسیحیوں کو بھی بھائی سمجھیں اور ان کو واجب القتل کافر نہ خیال کریں اس لئے اگر ان کی تعلیم کو مان لیا جاتا تو امیر کا بڑا ہتھیار یعنی مذہبی جنگوں کا اعلان جسے وہ انگریزوں اور روسیوں کے خلاف استعمال کر سکتا تھا باطل ہو جاتا تھا پس جب امیر کو مولوی صاحب کا حال معلوم ہوا تو اس نے ان کو واپسی کا حکم دیا جس پر وہ ہندوستان سے واپس آگئے اور راستہ میں نئے عقیدے کی تعلیم دیتے چلے آئے مگر جونہی وہ اندرونِ ملک میں آگئے ان کو قید کر لیا گیا۔“ ۵؎

مسٹر مارٹن لکھتے ہیں کہ جب ملانوں نے ان کے سزا دینے کی کوئی وجہ نہ پائی تو ”امیر نے پھر کہا کہ اس آدمی کو ضرور سزا ملنی چاہئے اور پھر ان کو علماء کے پاس بھیجا گیا اور کہا گیا کہ وہ ایک کاغذ پر جس پر یہ مضمون لکھا ہو کہ وہ مُرتد ہو گیا ہے اس لئے واجب القتل ہے دستخط کر دیں۔ پھر بھی علماء میں سے اکثر نے یہی کہا کہ وہ مذہب کے خلاف کسی جُرم کے ارتکاب کے الزام سے بری ہے لیکن دو مُلاں جو سردار نصر اللہ خان کے دوست تھے اور ان کو اس نے اپنے ساتھ ملا لیا تھا انہوں نے ان کی موت کا فتویٰ لکھ دیا اور ان دو مولویوں کے فتوے کی بناء پر امیر نے ان کی موت کا حکم دیا اور وہ سنگسار کئے گئے۔“ ۵؎

مسٹر مارٹن مولوی صاحب کی شخصیت کے متعلق لکھتے ہیں کہ ”ان کے متبعین بڑی تعداد میں تھے اور بڑے طاقتور لوگ ان میں شامل تھے۔“ ۵؎

گو کچھ عرصہ کے بعد ان تکالیف میں ایک عرصہ کے لئے کمی آگئی تھی مگر جب ہندوستان میں سیاسی تحریک کی ابتداء ہوئی اور وزیر ہند صاحب کے آنے پر ہماری جماعت نے بڑے زور سے اس امر کو پیش کیا کہ برٹش گورنمنٹ کا استحکام اس ملک کے لئے ایک برکت ہے تو پھر اس جماعت کے خلاف جوش پیدا ہو گیا اور ہمیں اس کی پہلے ہی سے امید تھی اور میں نے وزیر ہند صاحب سے بموقع ملاقات کہہ دیا تھا کہ آپ دیکھیں گے کہ اس کے بعد ہماری مخالفت ملک میں بہت بڑھ جائے گی۔ اس دفعہ لوگوں کے جوش نے ایک اور صورت اختیار کی اور بعض علاقوں میں بچوں کو سکولوں سے روک دیا گیا اور وہ تعلیم کو چھوڑ کر گھروں میں بیٹھ رہنے پر مجبور ہو گئے اور ایک جگہ تو ایک احمدی عورت کی لاش قبر میں سے نکال کر کتوں کے آگے ڈال دی گئی اور اگر فوراً مدد نہ پہنچ جاتی تو قریب تھا کہ اس کو کتے کھا جاتے۔ اور اس وقت سے یہ سلسلہ مخالفت بڑھتا ہی چلا گیا مگر اس پر بھی اس جماعت نے اپنے امن پسند رویہ کو ترک نہ کیا اور مارشل لاء کے دنوں میں جبکہ نہایت خطرناک صورت پیدا ہو گئی تھی اور بعض جگہ حکام سرکاری بھی شہروں کو چھوڑ کر محفوظ جگہوں میں جا بیٹھے تھے اس کمزور جماعت نے نہ صرف خود گورنمنٹ کی وفاداری کی بلکہ دوسروں کو بھی اس کی تحریک کی اور ایک معقول تعداد اس کے ذریعہ سے اس فتنہ سے الگ رہی اور گو ہر طرح اس کے افراد کو مفسدوں نے نقصان پہنچایا مگر اس نے اپنے رویہ کو نہ بدلا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں میں اس جماعت کے خلاف اور بھی جوش بڑھ گیا اور بعض علاقوں میں یہ فیصلہ کر دیا گیا کہ نہ احمدیوں کو رہنے کے لئے مکان کرایہ پر دیئے جائیں، نہ کھانے کے لئے اناج وغیرہ مول دیا جائے نہ کنووں پر سے ان کو پانی لینے دیا جائے اور نہ ان کی دکانوں سے کوئی چیز لی جائے۔ دھوبی ان کے کپڑے نہ دھوئیں، سقے ان کے پانی نہ بھریں اور خاکروب ان کے گھروں کی صفائی نہ کریں اور اس فیصلہ پر اس سختی سے عمل کیا گیا کہ بعض جگہ پر کئی کئی دن چھوٹے چھوٹے بچوں کے لئے بھی پینے کو پانی نہ ملا اور کھانے کو اناج میسر نہ آیا۔ مگر پھر بھی اس جماعت نے امن پسندی کے راستہ کو ترک نہ کیا اور اپنی بے لاگ وفاداری کے طریق سے سرمو ادھر ادھر نہ ہوئی اور اب تک مختلف طریقوں سے دُکھ دی جاتی ہے مگر ملک معظم کی حکومت کے استحکام کے لئے ہر ممکن طریق سے کوشش کرتی چلی جاتی ہے اور انشاء اللہ کرتی چلی جائے گی۔

پس اے شہزادہ والا جاہ! یہ تحفہ اس جماعت کی طرف سے آپ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جس نے جناب کے آباء کے تخت کی حفاظت کے لئے ہر قسم کی تکالیف برداشت کر کے اپنی وفاداری کو روزِ روشن کی طرح ثابت کر دکھایا ہے اور خون کے حرفوں کے ساتھ اُفقِ آسمان پر اس کی سنجیدگی اور صداقت اور خلوص کی تصدیق لکھی ہوئی موجود ہے۔ پس ایسی جان نثار اور وفادار رعایا کا حق ہے کہ وہ آپ سے درخواست کرے کہ اس کے اس تحفہ کو قبولیت کا شرف عطا فرمایا جائے اور صرف رسماً ہی قبول نہ کیا جائے بلکہ کم سے کم ایک دفعہ شروع سے لے کر آخر تک جناب اس کو ملاحظہ فرمائیں اور اپنے مکرم والد کی خدمت میں بھی اس کو پیش کریں اور ان کے سامنے بھی اس جماعت کی یہ درخواست پیش کر دیں کہ وہ بھی اپنے قیمتی وقت کا ایک حصہ اس کے ملاحظہ کے لئے نکال کر اس کو شروع سے آخر تک ملاحظہ فرمائیں تا خدا تعالیٰ ان کو اسی طرح دین کی بادشاہت بھی عطا فرمادے جس طرح دُنیا کی بادشاہت ان کو عطا کی ہے اور اسی طرح ان کی روح کو بھی بزرگی دے جس طرح ان کے جسم کو بزرگی دی ہے ۔

اس مؤدبانہ درخواست کے بعد میں تمام جماعت احمدیہ کی طرف سے عموماً اور ان افرادِ سلسلہ کی طرف سے خصوصاً جنہوں نے اس تحفہ کے پیش کرنے میں حصہ لیا ہے وہ تحفہ جناب کی خدمت میں پیش کرتا ہوں جس سے بہتر کوئی چاندی یا سونے کا تحفہ نہیں ہو سکتا۔

ہمارا تحفہ

اور وہ یہ خوشخبری ہے کہ وہ جس کی انتظار مسیحی اور اسلامی دنیا یکساں کر رہی تھی اور جس کی آمد کے لئے بڑے اور چھوٹے چشم براہ تھے اور بہت تھے جو حسرت سے آسمان کی طرف نظر اُٹھاتے تھے اور سرد آہوں کے ساتھ اس امر کی خواہش ظاہر کرتے تھے کہ کاش ! وہ ان کی زندگیوں میں نازل ہو کہ وہ اس کی دیدار سے مشرف ہوں وہ آگیا ہے اور اس نے اپنے جلال اور اپنے نُور سے دُنیا کو روشن اور منور کر دیا ہے۔ مگر وہی اس کی آمد سے فائدہ اُٹھاتے ہیں جو سمجھنے اور بُوجھنے کی تکلیف گوارا کرتے ہیں تاکہ وہ جو نوشتوں میں لکھا تھا پورا ہو۔

”کہ تم کانوں سے تو سنو گے مگر سمجھو گے نہیں اور آنکھوں سے دیکھو گے پر دریافت نہ کرو گے کیونکہ اس قوم کا دل موٹا ہوا اور وے اپنے کانوں سے اونچا سنتے ہیں اور انہوں نے اپنی آنکھیں موند لیں تا ایسا نہ ہو کہ وے اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور کانوں سے سُنیں اور دل سے سمجھیں اور رجوع لاویں اور مَیں انہیں چنگا کروں۔“ (متی باب ۱۳۔ آیت ۱۴، ۱۵ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء)

وہ جو خدا کی بادشاہت سے دُور رہنا چاہتے ہیں کہتے ہیں کہ خدا کی مقدس کتابوں میں لکھا ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہوگا اور ہم تو اس وقت تک کسی کو نہیں مانیں گے جب تک کہ وہ فرشتوں کے ساتھ بادلوں میں سے اُترتا ہوا دکھائی نہ دے کیونکہ کہا گیا تھا کہ ابن آدم کو لوگ بادلوں میں سے بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ اُترتا ہوا دیکھیں گے اور وہ اپنے آگے فرشتوں کو بھیجے گا۔ (مرقس باب ۱۳۔ آیت ۲۶) پس جب تک ہم اسی طرح ہوتا ہوا نہ دیکھیں کسی پر ایمان نہ لائیں گے تا نہ ہو کہ ہم اپنے ایمانوں کو ضائع کر دیں اور اپنے یقین کو صدمہ پہنچائیں۔

مگر افسوس ! کہ مسیح کے کلام پر غور نہ کیا اور جو کچھ اس نے تمثیلوں میں سمجھایا تھا اسے سمجھنے کی کوشش نہ کی اور اس پر ایمان لاتے ہوئے اس کے منکروں کی طرز اختیار کی۔ اس نے تو خود سمجھا دیا تھا کہ

”کوئی آسمان پر نہیں گیا۔ سوا اس شخص کے جو آسمان پر سے اترا۔“

(یوحنا باب ۳ آیت ۱۳ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء)

پھر ان لوگوں نے کیونکر جانا کہ وہ جو ناصرہ میں پیدا ہوا وہ اس جسم کے ساتھ آسمان پر گیا اور دوبارہ اس جسم کے ساتھ آسمان پر سے اُترے گا؟ یقیناً وہ اسی طرح آسمان پر گیا جس طرح وہ اترا تھا اور دوبارہ بھی اس نے اسی طرح آنا تھا جس طرح کہ وہ پہلی دفعہ آیا تھا۔

ہر ایک جو ٹھوکر کھاتا ہے افسوس کے قابل ہے مگر اس کی حالت بہت ہی زیادہ قابلِ افسوس ہے جو دوسرے کو ٹھوکر کھاتے ہوئے دیکھتا ہے اور پھر نہیں سنبھلتا کیونکہ پہلا کہہ سکتا تھا کہ میں بے خبری میں گرا کیونکہ مجھ سے آگے کوئی چلنے والا نہ تھا کہ راستہ کی خرابی مجھ پر ظاہر کرتا مگر پچھلا کوئی عذر نہیں کر سکتا کیونکہ اس نے اپنے اگلے کو گرتے دیکھا اور پھر بھی نہ سنبھلا اور وہیں قدم مارا جہاں پہلے نے مارا تھا اور ٹھوکر کھائی تھی۔ پس یہ زیادہ سزا کا مستحق ہوگا کہ بات کے ظاہر ہو جانے پر بھی اس نے سبق حاصل نہ کیا۔

کیا ملا کی نبی کی کتاب میں نہ لکھا تھا کہ ”دیکھو خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پیشتر میں الیاہ نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا۔“

(ملاکی باب ۴ آیت ۵ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء)

پھر کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ایلیا نبی آسمان سے نازل نہ ہوا بلکہ زمین پر یوحنا کی شکل میں ظاہر ہوا اور انہوں نے جو اپنے دلوں میں کجی رکھتے تھے اس کے سبب سے ٹھوکر کھائی اور مسیح پر ہنسی ٹھٹھا کیا اور کہا کہ اگر تُو مسیح ہے تو الیاس کہاں ہے جس کا مسیح سے پہلے آنا ضروری تھا بلکہ خود اس کے شاگردوں تک نے اس سے پوچھا کہ ”پھر فقیہہ کیوں کہتے ہیں کہ پہلے الیاس کا آنا ضرور ہے؟“

(متی باب ۱۷ آیت ۱۰ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء)

کیونکہ خدا کے راز تبھی ظاہر ہوتے ہیں جب ان کے ظاہر ہونے کا وقت آجاتا ہے اور انہی پر ظاہر ہوتے ہیں جن پر خدا کے علوم کا دروازہ کھولا جاتا ہے۔ چنانچہ مسیح نے لوگوں کو بتایا کہ الیاس

جو آنے والا تھا یوحنا ہی ہے چاہو تو قبول کر لو۔ پس وقت پر ظاہر ہوا کہ آسمان پر سے الیاس کے آنے سے مراد یہی تھی کہ یوحنا جیسا کہ فرشتہ نے اس کی پیدائش سے بھی پہلے بتا دیا تھا مسیح کے آگے الیاس کی طبیعت اور قوت کے ساتھ چلے گا (لوقا باب ۱ آیت ۱۷)، پھر لوگوں کو کیا ہوا کہ خدا کے نوشتوں میں آسمان پر سے آنے کا محاورہ پڑھ کر اور خود مسیح سے اس کی تشریح سن کر ان الفاظ سے ٹھوکر کھاتے ہیں کہ مسیح آسمان پر سے آئے گا۔ کیا خدا کے فرشتہ نے زکریا سے نہ کہہ دیا تھا کہ الیاس کے آسمان پر سے آنے سے مراد ایک اور برگزیدہ شخص کا اسی کی طبیعت اور اسی کی قوت کے ساتھ آنا تھا اور کیا خود مسیح نے نہ فرما دیا تھا کہ الیاس کا آسمان سے آنا یہی تھا کہ یوحنا بپتسمہ دینے والا اس کی خُو بُو کے ساتھ آئے؟ اور کیا نہ کہا گیا تھا کہ جس کسی کے کان سننے کے ہوں وہ سنے مگر افسوس! کہ لوگوں نے پھر بھی نہ سُنا اور پھر بھی اسی دھوکے میں پڑے جس میں مسیح کی آمدِ اوّل کے وقت فقیہی اور فریسی پڑے تھے اور سمجھا کہ مسیح واقع میں آسمان سے اُترے گا۔

کیا وہ لوگ جو مسیح کے آسمان پر سے اُترنے کے منتظر ہیں انہوں نے مقدس نوشتوں کی ان پیشگوئیوں پر بھی نظر نہ کی جن میں مسیح کی آمدِ ثانی کی خبر دی گئی تھی؟ کیا انہوں نے پڑھا نہ تھا کہ مسیح نے کہا کہ:۔

”خبردار کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آویں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہتوں کو گمراہ کریں گے۔“ (متی باب ۲۴ آیت ۵، ۴)

اگر فی الواقع اس نے آسمان پر سے ہی آنا تھا تو اس نے کیوں کہا کہ بعض نشانوں سے دھوکا نہ کھانا جب تک دوسرے بھی پورے نہ ہو جائیں؟ اگر اس نے آسمان پر سے اُترنا تھا تو کیا وہ یوں نہ کہتا کہ وہ زمین پر پیدا ہوں گے اور میں تو آسمان پر سے آؤں گا اس لئے کسی کو دھوکا لگ ہی نہیں سکتا؟ وہ کیوں ان جھوٹے مسیحوں کے دعویٰ پر صبر کرنے کی تلقین کرتا ہے؟ اور انتظار کا حکم دیتا ہے؟ اور نہیں کہتا کہ جو آسمان سے آئے اسے قبول کرو اور جو نہ آئے اسے قبول نہ کرو؟ اور ایسے بیّن نشان کے ہوتے ہوئے اور کوئی نشان کیوں بتاتا ہے؟ پھر اگر مسیح کی یہی تعلیم تھی کہ وہ آسمان پر سے ظاہر ہو گا تو شاگردوں نے اس سے کیوں پوچھا کہ تیرے آنے کا نشان کیا ہو گا؟ کیا مسیح کے آنے کا یہ کم نشان تھا کہ وہ آسمانوں پر سے فرشتوں کی فوج سمیت آئے گا؟ اور کیا اس طرح آنے والے کے متعلق لوگ دھوکا کھا سکتے تھے؟ بات یہی ہے کہ مسیح علیہ السلام تمثیلوں میں کلام کرنے کے عادی تھے اور ان کے کلام کا یہی مطلب تھا کہ ان کی آمدِ ثانی اسی رنگ میں ہو گی

جس طرح ایلیا کی آمد ثانی تھی یعنی ان کی طبیعت اور ان کی قوت کے ساتھ ایک شخص ظاہر ہو گا اور ایسا ہی ہوا جس کی آنکھیں دیکھنے کی ہوں دیکھے اور جسکے کان سننے کے ہوں سنے تا ایسا نہ ہو کہ جس طرح یہود نے ظاہر لفظوں پر جا کر ایک نادر موقع کو ہاتھ سے جانے دیا اور اب تک انتظار کی تکلیف برداشت کر رہے ہیں اسے بھی انتظار اور حسرت کے سوا کچھ میسر نہ آئے اور خدا کی بادشاہت کے دروازے اس پر بند کر دیئے جاویں۔

اے ولی عہد! اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور آپ کے دل کو حق کے قبول کرنے کے لئے کھول دے! جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے کہ آنے والے نے مسیح علیہ السلام کی طبیعت اور ان کی قوت میں ظاہر ہونا تھا نہ کہ خود مسیح علیہ السلام نے آسمان سے اترنا تھا پس ہمیں آنے والے مسیح کے پہچاننے کے لئے اس ہوشیار غوطہ خور کی طرح جو ہر قسم کے بندھنوں اور روکوں کو دُور کر کے سمندر میں غوطہ مارتا ہے تا موتی نکالے نہ کہ ظاہر بین آسمان کی طرف تکتا ہے کہ اس کی طرف موتیوں کی بارش کی جائے اور دل سے آسمانی قوانین کا منکر ہوتا ہے، پیشگوئیوں کے الفاظ میں تدبر کرنا چاہئے اور ان کے صحیح مطلب کو سمجھنے اور ان سے مسیح کی شناخت کے حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تا نہ ہو کہ جب اس کے آنے کی خبر ہو تو ہم ان عورتوں کی طرح جنہوں نے اپنے ساتھ تیل نہ رکھا تھا اِدھر اُدھر تیل کی تلاش میں پھرتے رہیں اور دولہا اپنے انتظار میں چوکس بیٹھنے والی کنواریوں سمیت محل میں داخل ہو جائے اور اس کے دروازے ہمارے لئے بند کر دیئے جائیں اور ہمارے لئے صرف رونا اور دانت پیسنا ہو۔ (متی باب ۲۵- آیات ۱ تا ۱۳ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء)

وہ پیشگوئیاں جو حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی آمد ثانی کے متعلق بیان فرمائی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بعثت اس وقت تک نہ ہوگی جب تک کہ یروشلم میں اس مکروہ چیز کی قربانی نہ کی جائے جس کی کراہت یہود میں اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ وہ اس کا نام بھی لینا پسند نہ کرتے تھے اور اس سے انہوں نے یہ جتا دیا تھا کہ کسی قریب کے زمانہ میں ان کی بعثت مقدر نہیں بلکہ ایک بعید زمانہ میں مقدر ہے۔ اس وقت تک اگر کوئی مسیحیت کا دعویٰ کرے تو حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ جھوٹا ہو گا اور تم اس کو قبول نہ کیجیو۔ مگر جبکہ قوموں پر قومیں چڑھیں اور طاعون دنیا میں پھیلے اور لڑائیاں بکثرت ہوں اور زلزلے آویں اور قحط لوگوں کی زندگیوں کو بدمزہ کر دیں اور فساد دنیا میں پھیل جائے اور اس کے ساتھ سُورج اور چاند بھی اندھیرے ہو جائیں اور آسمان سے ستارے گریں اور آسمان کی قوتیں ہلائی جائیں تب ابن آدم کا نشان آسمان پر ظاہر ہو گا اور وہ جلال کے ساتھ آسمان سے اُترے گا۔

اب ہر شخص جو ان علامات پر غور کرے گا معلوم کر لے گا کہ یہ سب کچھ واقع ہو گیا۔ طاعون بھی پڑی اور ایسی پڑی کہ اس سے پہلے دنیا میں کبھی ایسی سخت ہلاک کر دینے والی طاعون اور اس قدر وسیع علاقہ میں نہ پڑی تھی۔ زلزلے ایسے سخت آئے کہ ان کی نظیر کسی پچھلے زمانہ میں نہیں ملتی۔ قحط باوجو د نہروں کے جاری ہونے اور ریل اور دُخانی جہازوں کے نکل آنے کے ایسے سخت پڑے ہیں کہ دنیا کی زندگی کو انہوں نے بدمزہ کر دیا ہے۔ روز بروز اجناس مہنگی ہی ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ فساد اس قدر پھیلا ہوا ہے کہ بھائی بھائی کو نہ صرف پکڑواتا بلکہ اس پکڑے جانے پر خوش ہوتا ہے اور یہ سب علامتیں ایسی وضاحت سے پوری ہو گئی ہیں کہ ان کے متعلق کسی کو بھی شبہ نہیں۔ ہاں سورج اور چاند کے اندھیرے ہونے اور ستاروں کے گرنے اور آسمانی قوتوں کے ہل جانے کے نشانات ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا ابھی پورے نہیں ہوئے۔ مگر ہر ایک جو آسمانی نوشتوں پر فکر کرنے کا عادی ہے اور خدا کے قانون کو بھی سمجھتا ہے جانتا ہے کہ ان الفاظ کے کیا معنی ہیں؟ کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اگر سُورج واقعہ میں اندھیرا ہو جائے گا تو پھر اس دُنیا میں بسنے کی انسان کے لئے کوئی صُورت نہ ہوگی اس کی زندگی سورج کی روشنی پر منحصر ہے اور سورج کے اندھیرے ہو جانے سے اس دنیا پر انسانی زندگی کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور اسی طرح اگر ستارے گر جائیں تو ساتھ ہی یہ دُنیا بھی تباہ ہو جائے کیونکہ یہ تمام عالم ایک دوسرے سے پیوستہ ہے اور ایک کا قیام دوسرے کے قیام کا موجب ہے اور اگر آسمانی قوتیں ہل جائیں تو پھر تو انسان چھوڑ فرشتوں کے لئے بھی کوئی ٹھکانا نہیں رہتا۔ مگر حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد ابنِ آدم نیکوکاروں کو دنیا کی میراث سونپ دے گا اور شریروں سے حکومت چھین لے گا لیکن سورج اور چاند کے فی الواقع اندھیرا ہو جانے اور ستاروں کے گر جانے سے تو دنیا ہی تباہ ہو جاتی ہے اور مسیح کا نزول اور نیکوکاروں کا دنیا کی میراث لینا بالکل ناممکن ہو جاتا ہے۔ پس ضرور ہے کہ جس طرح آسمانی نوشتوں کا قاعدہ ہے اس پیشگوئی کے الفاظ کے نیچے کوئی اور مطلب پوشیدہ ہو اور وہ یہی ہے کہ اس زمانہ میں سورج اور چاند کو گرہن لگے گا اور آسمان سے کثرت سے شہب گریں گے کہ وہ بھی عُرفِ عام میں ستارے ہی کہلاتے ہیں اور مذہبی لیڈروں کا اثر اپنے مقتداؤں پر سے کم ہو جائے گا کہ مذہبی علم ادب میں آسمانی طاقتوں سے مذہبی رہنما مراد ہوتے ہیں۔ بیشک یہ علامتیں بظاہر معمولی معلوم ہوتی ہیں کیونکہ سورج اور چاند کو تو ہمیشہ ہی گرہن لگتا ہے

اور شُہب بھی ہمیشہ ہی گرتے ہیں اور مذہبی رہنماؤں کا اثر بھی بارہا کم ہو چکا ہے۔ مگر جب ہم غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تینوں بہت بڑی علامتیں ہیں کیونکہ گو انجیل میں جو حضرت مسیحؑ سے ایک لمبا زمانہ بعد لکھی گئی ہے اس پیشگوئی کی تمام تفصیل کا پتہ نہیں لگتا لیکن اسلامی روایات میں اس زمانہ کے سورج اور چاند گرہن کی نسبت ایک شرط بتائی گئی ہے جو مسیح کے زمانہ کے گرہن کو ایک خصوصیت بخشتی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ گرہن چاند کے مہینوں میں سے رمضان میں لگیں گے اور چاند گرہن تو تیرہویں کو لگے گا اور سورج گرہن اٹھائیسویں کو اور یہ نشان جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے کسی مدعیٔ رسالت کے زمانہ میں ظاہر نہیں ہوا۔ لیکن اس زمانہ میں جبکہ مسیح کی آمد کی دوسری علامات پوری ہو گئی ہیں یہ بھی پوری ہو گئی ہے اور ۱۸۹۴ء کے رمضان میں بعینہٖ اسی طرح ہوا ۔ یعنی تیرہویں شب کو چاند گرہن ہوا اور اٹھائیسویں کو سورج گرہن ہوا اور نہایت مکمل گرہن ہوئے جو اپنے کمال کے لحاظ سے بھی خصوصیت رکھتے تھے ۔

اسی طرح ستاروں کا گرنا بھی گو ایک عام حادثہ ہوتا ہے اور ہمیشہ نومبر کے مہینے میں تارے کثرت سے گرا ہی کرتے ہیں مگر یہی ستاروں کا گرنا اگر اپنے اندر کوئی خصوصیت پیدا کرے تو یہ ایک نشان ہو جائے گا جس طرح لڑائیوں کا ہونا یا قحط کا پڑنا یا بیماریوں کا پھیلنا نشان بن سکتے ہیں کہ یہ امور بھی ہمیشہ دنیا میں ہوا ہی کرتے ہیں اسی طرح یہ بھی نشان بن سکتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانہ میں جبکہ باقی سب علامات مسیح علیہ السلام کی آمدِثانی کے متعلق پوری ہو چکی ہیں یہ علامت بھی ایک خصوصیت کے ساتھ پوری ہوئی ہے اور وہ اس طرح کہ گو زمین کے اس علاقہ میں سے گزرنے کے وقت جو شُہب کا علاقہ ہے شُہب کثرت سے گرتے ہی چلے آئے ہیں مگر اس زمانہ میں یہ شُہب خصوصیت سے گرے ہیں اور ۱۸۷۲ء ، ۱۸۷۹ء ، ۱۸۸۵ء میں اس کثرت سے شُہب گرے ہیں کہ جن کی مثال پہلے نہیں ملتی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک دم دار تارہ جسے ایم بیلا کا دُم دار ستارہ کہتے ہیں کیونکہ اس نے اس کی رفتار کا پتہ لگایا تھا ٹوٹ گیا ہے یا یہ کہ اس کے بعض حصص الگ ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے ان سالوں میں کثرت سے شُہب گرے ۔ اس سے پہلے دُم دار تارہ کے اس طرح ٹوٹنے کا تاریخ سے کوئی پتہ نہیں چلتا۔ پس اس زمانہ میں شُہب پہلے زمانوں کی نسبت بہت زیادہ گرے ہیں اور اس لئے ان کو مسیح کی آمد کے نشانات میں شامل کرنے سے اس کی شناخت میں خاص مدد ملتی ہے ۔

مذہبی رہنماؤں کے اثر میں کمی بھی گو اس زمانہ سے مخصوص نہیں لیکن اگر یہ کمی جس حد تک اس زمانہ میں پہنچ چکی ہے اس کی کمیت اور کیفیت کو دیکھا جائے تو یہ بھی ایک روشن علامت ہو جاتی ہے کیونکہ اس وقت جس طرح عام طور پر بے دینی پھیلی ہوئی ہے اور لوگ مذہب کو ایک غیر ضروری چیز سمجھے ہوئے ہیں اور کسی ایک مذہب کے رہنماؤں کا اثر ہی کم نہیں ہوا بلکہ ہر مذہب کے رہنماؤں کا اثر اپنے پیروؤں پر کم نظر آتا ہے اس کی مثال پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملتی۔ اس وقت اگر مذہبی پیشواؤں کا کوئی اثر ہے بھی تو صرف سیاسی امور تک محدود ہے پس یہ مذہب سے دُوری اپنے اندر ایک خصوصیت رکھتی ہے۔

پس جبکہ آسمانی نوشتے پورے ہو گئے تو ضرور ہے کہ مسیح بھی آچکا ہو اور جو اس سے محبت رکھنے والے ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ اس کی جستجو کریں تا ایسا نہ ہو کہ وہ آکر ان کو پکڑے اور کہے کہ کیا میرے آنے میں دیر ہو گئی تھی کہ تم نے سمجھ لیا کہ اب میں نہیں آتا اور سب باغ اور مکان اور جائدادیں تمہاری ہو گئیں اور تم اب جس طرح چاہو ان میں تصرّف کرو؟ اور اگر وہ اس کو تلاش کریں گے تو انکے لئے اس کا ڈھونڈنا کچھ بھی مشکل نہ ہو گا کیونکہ اس نے خود اپنے ظاہر ہونے کی جگہ بتادی ہوئی ہے اور کوئی بات نہیں جو اس نے چھپارکھی ہو۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جب اس نے زمین پر ظاہر ہونا ہے تو میں اسے کہاں ڈھونڈوں؟ کیا اس نے نہیں کہا کہ :۔

”جیسے بجلی پورب سے کوندھ کے پچھم تک چمکتی ویسا ہی ابنِ آدم کا آنا بھی ہوگا“

(متی باب ۲۴ آیت ۲۷ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء)

پس ضرور ہے کہ جس طرح اس نے تمثیل میں ہمیں سمجھایا ہے وہ مشرق میں ظاہر ہو اور مغرب کے دُور کناروں تک اس کی تعلیم پھیل جائے اور ایسا ہی ہوا بھی ہے۔ وہ ہندوستان میں جو مشرق کا ملک ہے اور قدیم سے علم اور فضل کا حامل ہے ظاہر ہوا اور بہت جلد اس کی تعلیم مغرب کے دور دراز ممالک میں پھیل گئی اور اس وقت ایشیائی ممالک کے علاوہ یورپ اور امریکہ کے بلاد میں بھی اس کی روشنی سے فائدہ اُٹھانے والے لوگ موجود ہیں۔

بائبل پر اگر ادنیٰ سا بھی غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہی زمانہ مسیح کی آمد ثانی کا ہے کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :۔

”یہ خیال مت کرو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتاب منسوخ کرنے کو آیا۔ میں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت کا ہرگز نہ مٹے گا جب تک سب کچھ

پورا نہ ہو۔“ (متی باب ۵ آیت ۱۷، ۱۸ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) پس معلوم ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا ایک کام موسیٰؑ کی شریعت کو قائم کرنا تھا کیونکہ وہ اپنی آمد کی غرض شریعت کو قائم کرنا بتاتے ہیں بلکہ اپنے حواریوں کو حکم دیتے ہیں کہ ”فقیہہ اور فریسی موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہیں اس لئے جو کچھ وے تمہیں ماننے کو کہیں مانو اور عمل میں لاؤ۔“ (متی باب ۲۳ آیت ۲ ، ۳ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) اور دوسری غرض ان کی آمد کی جیسا کہ وہ خود فرماتے ہیں یہ تھی کہ خدا کی بادشاہت کی منادی کریں۔ جیسا کہ لکھا ہے کہ مسیح نے اپنے دعویٰ کی ابتداء ہی سے یہ منادی کرنی ”اور یہ کہنا شروع کیا کہ توبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہت نزدیک آئی۔“ (متی باب ۴ آیت ۱۷ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) اور آخر زمانہ میں بھی وہ یہی کہتا رہا کیونکہ جب اس نے حواریوں کو تبلیغ کا کام سپرد کیا تو تب بھی ان کو یہی ہدایت دی کہ ”چلتے ہوئے منادی کرو اور کہو کہ آسمان کی بادشاہت نزدیک آئی۔ (متی باب ۱۰ آیت ۷ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) اور جیسا کہ لوقا کی روایت کے مطابق یہ کہا کہ ”ان سے کہو کہ خدا کی بادشاہت تمہارے نزدیک آئی۔“ (لوقا باب ۱۰ آیت ۹) خدا کی بادشاہت سے مراد مسیح علیہ السلام کی آمد نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ اپنی عمر بھر اس پر زور دیتے رہے کہ ان کی آمد ایسی ہے جیسے بیٹے کی آمد اور خدا کی آمد اس وقت ہوگی جب لوگ ان کو پھانسی دے دیں گے۔ چنانچہ وہ اس واقعہ کو تمثیل میں یوں بیان کرتے ہیں:۔ ”کسی شخص نے ایک انگور کا باغ لگا کے اسے باغبانوں کے سپرد کیا اور مدت تک پردیس میں جا رہا اور موسم پر ایک نوکر کو باغبانوں کے پاس بھیجا تاکہ وے اس انگور کے باغ کا پھل اس کو دیں لیکن باغبانوں نے اس کو پیٹ کے خالی ہاتھ پھیرا۔ پھر اس نے دوسرے نوکر کو بھیجا انہوں نے اس کو بھی پیٹ کے اور بے عزت کر کے خالی ہاتھ پھیرا۔ پھر اس نے تیسرے کو بھیجا انہوں نے گھائل کر کے اس کو بھی نکال دیا۔ تب اس باغ کے مالک نے کہا کہ کیا کروں؟ میں اپنے پیارے بیٹے کو بھیجوں گا شاید اسے دیکھ کر دب جائیں۔ جب باغبانوں نے اسے دیکھا آپس میں صلاح کی اور کہا کہ یہ وارث

ہے۔ آؤ اس کو مار ڈالیں کہ میراث ہماری ہو جائے تب اس کو باغ کے باہر نکال کے مار ڈالا اب باغ کا مالک ان کے ساتھ کیا کرے گا؟ وہ آوے گا اور ان باغبانوں کو قتل کرے گا اور باغ اوروں کو سونپے گا۔‘‘ (لوقا باب ۲۰ آیت ۹ تا ۱۶)

اس تمثیل میں باغ سے مراد وہ ہدایت ہے جو خدا تعالیٰ نے قائم کی اور باغ بنانے والا موسیٰؑ تھا جو خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر جذب کر کے اس کے جلال کے اظہار کے لئے دُنیا میں آیا اور باغ کے باغبانوں سے مراد بنی اسرائیل تھے اور نوکر جو میوہ کا حصہ لینے گئے وہ انبیاءؑ تھے جو موسیٰؑ کے بعد بھیجے گئے اور بیٹا خود حضرت مسیح تھے جو سب کے بعد میں آئے مگر موسیٰؑ کے بعد کے نبیوں میں سے سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کے مقرب اور پیارے تھے لیکن بنی اسرائیل نے ان کی بھی قدر نہ کی اور ان کو صلیب پر چڑھا دیا تو پھر اس تمثیل کے مطابق ہی ہونا رہ گیا کہ وہ نبی ظاہر ہو جس کا ظہور گویا خدا تعالیٰ کا ظہور تھا اور وہ پچھلی سنت کے برخلاف بنی اسرائیل میں سے نہ ہو بلکہ ان کے بھائیوں یعنی بنی اسمعیل میں سے ہو جس کی نسبت حضرت مسیح علیہ السلام کہتے ہیں کہ :۔

”کیا تم نے نوشتوں میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو راج گیروں نے ناپسند کیا وہی کونے کا سرا ہوا۔ یہ خداوند کی طرف سے ہے اور ہماری نظروں میں عجیب؟ اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی اور ایک قوم کو جو اس کے میوہ لاوے دی جائے گی۔ جو اس پتھر پر گرے گا چور ہو جائے گا پر جس پر وہ گریگا اسے پیس ڈالے گا۔‘‘ (متی باب ۲۱۔ آیت ۴۲ تا ۴۴)

اور جس کے حق میں موسیٰؑ نے خبر دی تھی کہ

”خداوند نے مجھے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کہا سو اچھا کہا میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا اور ایسا ہو گا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کے کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لوں گا۔‘‘

(استثناء باب ۱۸ آیت ۱۷ تا ۱۹ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء)

یہ جو نوشتوں میں لکھا گیا اس کا پورا ہونا ضرور تھا ورنہ خدا کے برگزیدوں موسیٰؑ اور مسیح پر جھوٹ کا حرف آتا تھا کیونکہ کہا گیا تھا کہ

”تو جان رکھ کہ جب نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے ۔“ (استثناء باب ۱۸ آیت ۲۲ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) مگر جو کچھ برگزیدوں نے کہا تھا وہ حرف بحرف پورا ہوا اور بنی اسرائیل کے بھائیوں یعنی حضرت ابراہیمؑ کے دوسرے بیٹے اسمعیلؑ کی اولاد میں سے خدا تعالیٰ نے موسیٰؑ کی مانند ایک نبی برپا کیا جس کے ذریعہ سے ہدایت کا باغ بنی اسرائیل سے لے کر مسلمانوں کے سپرد کیا گیا اور وہ جسے راج گیروں نے رد کیا تھا کونے کا پتھر ہوا جو اس پر گرا یعنی جو اس کے شہر پر جا کر حملہ آور ہوا وہ بھی چکنا چور ہوا اور جس پر وہ گرا یعنی جس پر اس نے جا کر حملہ کیا وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوا اور جس نے اس کی بات نہ سنی اس سے خدا نے اس کا حساب لیا۔ اس وجود سے مراد حضرت مسیح علیہ السلام ہرگز نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ خود فرماتے ہیں کہ یہ نبی ان کے صلیب پر لٹکائے جانے کے بعد آئے گا اور نہ کلیسیا اس سے مراد ہو سکتا ہے کیونکہ کلیسیا نبی نہیں ہے اور نوشتے بتاتے ہیں کہ وہ آنے والا ایک نبی ہو گا جو موسیٰؑ کی مانند خدا کے جلال کا ظاہر کرنے والا ہو گا اور شریعت اس کے داہنے ہاتھ میں ہو گی اور وہ مکہ کی پہاڑیوں پر سے جو فاران کہلاتی ہیں دس ہزار قدوسیوں سمیت خدا کے دشمنوں پر حملہ آور ہو گا۔ جیسا کہ لکھا ہے کہ :۔ ”خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا۔ فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت ان کے لئے تھی“ (استثناء باب ۳۳ آیت ۲ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) کلیسیا نہ نبی ہے نہ فاران سے وہ جلوہ گر ہوئی اور نہ دس ہزار قدوسیوں سمیت وہ دنیا میں آئی۔ یہ فاران سے جلوہ گر ہونے والا خدا کا مظہر وہی سرورِ انبیاء سرورِ کائنات سید ولدِ آدم کامل و اکمل و مکمل و مکمّل حامد و احمد و محمد و محمود وجود تھا جس کی قوم کو اس کے بنو عم نے خدا کی بادشاہت سے ہمیشہ کے لئے محروم قرار دیا اور جسے اس کی قوم کے سرداروں نے ردّی کر کے اپنے میں سے نکال پھینکا مگر آخر وہی کونے کا پتھر ہوا۔ اور یا تو صرف ایک ہمراہی سمیت اسے مکہ چھوڑ کر وطن سے بے وطن ہونا پڑا تھا یا اسے خدا نے وہ ترقی دی کہ جب اس کو اور اس پر ایمان لانے والوں کو مٹانے کے لئے اور نیست و نابود کرنے کے لئے اس کی قوم کے لوگ دو سو میل کا فاصلہ طے کر کے ایک زبردست لشکر کے ساتھ اس پر حملہ آور ہوئے تو جیسا کہ مسیح علیہ السلام نے فرمایا تھا

اِس مظہرِ نشانِ خدا پر جو گرا وہ پاش پاش ہو گیا ایک قلیل اور بے سامان جماعت کے ہاتھوں سے تجربہ کار جرنیلوں کو اللہ تعالیٰ نے شکست دلوائی اور ذلیل کروایا اور پھر جب بار بار کے عفو کے بعد بھی اس کے دشمن باز نہ آئے اور معاہدہ پر معاہدہ کر کے توڑنے لگے تو خدا تعالیٰ نے یہ دکھانے کیلئے کہ اس کی فتوحات اسی وجہ سے نہیں ہیں کہ وہ اپنے گھر کے قریب ہوتا ہے اور اس کے دشمن ایک لمبا سفر کر کے اپنے گھروں سے دور اس سے لڑنے آتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور اس کی تائید سے ہیں، اس کو حکم دیا کہ وہ خود دشمن کے قلعوں پر حملہ کرے اور وہ جس طرف گیا فتح و ظفر نے اس کی رکابوں کو آکر تھام لیا اور دشمن اپنے گھروں میں بھی اس کا مقابلہ نہ کر سکا اور حضرت مسیح کے کلام کا دوسرا پہلو پورا ہوا کہ وہ جس پر گرا اسے اس نے چکنا چور کر دیا۔

یہ فاران سے دس ہزار قدوسیوں سمیت آنے والا آتشی شریعت اپنے داہنے ہاتھ میں رکھنے والا جس کے ذریعہ سے نفس کے تمام گند جل جاتے ہیں اور جو کھوٹے دلوں کو صاف کر کے کھرا سونا بنا دیتی ہے جس کی نسبت مسیح علیہ السلام کہتے ہیں کہ:۔

”میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تمہیں کہوں پر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی روحِ حق آوے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتاوے گی اسلئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی لیکن جو کچھ وہ سنے گی سو کہے گی اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گی۔“

(یوحنا باب ۱۶ آیت ۱۲، ۱۳ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء)

وہ جس کی غلامی پر انبیاء کو بھی فخر ہے وہ ہی بانیِ اسلام مثیلِ موسیٰؑ مگر موسیٰؑ سے اپنی تمام شان میں بالا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنھیں آج دُنیا میں ظالم اور بٹ مار کہا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس نے خونریزی سے سطحِ زمین کو رنگ دیا اور ایسا ہونا ضرور تھا کیونکہ تمام انبیاء کے مخالفین کے دل ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوتے ہیں وہ ہر ایک بات کے دونوں پہلوؤں کو بُرا کہتے ہیں۔

”یوحنا کھانا پینا نہیں آیا اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر ایک دیو ہے۔ ابنِ آدم کھانا پینا آیا اور وہ کہتے ہیں کہ دیکھو ایک کھاؤ اور شرابی اور محصول لینے والوں اور گنہگاروں کا یار۔“

(متی باب ۱۱ آیت ۱۸، ۱۹ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء)

مسیح ناصری بلا تلوار کے آیا اور بلا کسی گناہ کے صلیب پر لٹکایا گیا اور انہوں نے اس کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھا اور صلیب پر لٹکا دیا اور ہنسی سے شور مچایا کہ اے یہودیوں کے بادشاہ سلام! (یوحنا باب ۱۹- آیت ۲، ۳) اور بڑے بڑے عالموں نے ٹھٹھے مار مار کر کہا۔

(متی باب ۲۷ آیت ۲۹ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) ”اس نے اوروں کو بچایا۔ پر آپ کو نہیں بچا سکتا۔ اگر اسرائیل کا بادشاہ ہے تو اب صلیب پر سے اتر آوے تو ہم اس پر ایمان لاویں گے۔ اس نے خدا پر بھروسہ رکھا، اگر وہ اس کو چاہتا ہے تو وہ اب اس کو چھڑاوے کیونکہ وہ کہتا تھا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں۔“ (متی باب ۲۷ آیت ۴۲، ۴۳ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) اور کہا کہ :۔ ”تو جو ہیکل کا ڈھانے والا اور تین دن میں بنانے والا ہے۔ آپ کو بچا اگر تُو خدا کا بیٹا ہے صلیب پر سے اُتر آ۔“ (متی باب ۲۷- آیت ۴۰- ۴۳)

مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو خدا تعالیٰ کے جلال و جمال کا کامل مظہر تھا جب اس نے شریر اور سرکش انسان کو اس کے حد سے بڑھ جانے اور اخلاق اور دیانت بلکہ انسانیت کو بکلی ترک کر دینے پر سزا دی تو اس زمانہ کے عالموں نے جو فقیہوں اور فریسیوں کے قائم مقام ہیں مسیح کی مثال کو یاد سے بھلاتے ہوئے اس پر آوازے کسے کہ دیکھو وہ خدا کا نبی کہلاتا ہے اور اس کا مظہر اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے لیکن پھر اس کی تلوار دشمن کے سر پر اٹھتی ہے اور وہ اپنے مخالف کو تہ تیغ کرتا ہے۔ کیا راستبازوں کی یہی علامتیں ہوتی ہیں؟ اور صادق یہی نمونہ دکھایا کرتے ہیں؟ کیوں اس نے عفو سے کام نہ لیا؟ اور کیوں بخشش کا دامن لوگوں کے سروں پر نہ ڈالا؟ اور یہ معترض یہ نہیں دیکھتے کہ اس نے قدرت پر عفو کا نمونہ دکھایا اور قابو پا کر چھوڑ دیا اور گلے میں رسی ڈال کر آزاد کر دیا اور حلق پر چھری رکھ کر زندگی بخشی اور اس قدر گناہوں کو معاف کیا کہ اگر اس کا عفو ہزار نبی پر بھی تقسیم کیا جائے تو سب اپنے عفو سے زیادہ حصہ پائیں۔ ہاں جس طرح خدا تعالیٰ جو رحم کا سرچشمہ اور عفو کا منبع ہے اصلاح کے لئے نہ دکھ دینے کے لئے شریر کو پکڑتا اور سزا دیتا ہے اس نے بھی ایسا ہی کیا تاکہ خدا کا کامل مظہر قرار پائے اور موسیٰؑ کا مثیل ٹھہرے اور اگر وہ ایسا نہ کرتا تو آج یہی معترض جو اس کی دفاعی جنگوں پر حرف گیری کرتے ہیں زور زور سے اپنے گلے پھاڑتے اور آسمان کو سر پر اٹھا لیتے کہ دیکھو وہ موسیٰؑ کا مثیل بنتا ہے لیکن دس ہزار قدوسی اس کے ساتھ نظر نہیں آتے جو فاران کی پہاڑیوں پر سے اس کے ساتھ حملہ آور ہوں اور شریر کو اس کی شرارت کی سزا دیں اور خدا کی بادشاہت کو زمین پر قائم کریں۔ وہ آخری موعود اپنے آپ کو قرار دیتا ہے مگر یہ بات اس کے حق میں کب پوری ہوئی کہ:

”خدا کی مرضی اس کے ہاتھ کے وسیلے بر آوے گی اپنی جان ہی کا دُکھ اُٹھا کے وہ اسے دیکھے گا اور سیر ہو گا۔ اپنی ہی پہچان سے میرا صادق بندہ بہتوں کو راستباز ٹھہرائے گا کیونکہ وہ ان کی بدکاریاں اپنے اوپر اُٹھالے گا۔ اس لئے میں اسے بزرگوں کیساتھ ایک حصہ دوں گا اور وہ لُوٹ کا مال زور آوروں کے ساتھ بانٹ لے گا کہ اس نے اپنی جان موت کے لئے انڈیل دی اور وہ گنہگاروں کے درمیان شمار کیا گیا اور اس نے بہتوں کے گناہ اُٹھا لئے اور گنہگاروں کی شفاعت کی۔“

(یسعیاہ باب ۵۳ آیت ۱۰ تا ۱۲ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء)

اگر وہ جنگ نہ کرتا اور عفو ہی کرتا تو پھر یہ لوگ کہتے کہ اس نے کب لُوٹ کا مال زور آوروں کے ساتھ بانٹا کہ اسے ابدی بادشاہت کا قائم کرنے والا ہم مان لیں؟ جیسا کہ ان کے باپ دادوں نے مسیح علیہ السلام کے وقت میں کہا کہ اس کے ساتھ وہ مدد اور نصرت کہاں ہے جو بادشاہوں کیساتھ ہونی چاہئے؟ اور نہ سمجھے کہ بادشاہت صرف زمین کی ہی نہیں ہوتی بلکہ دل کی بھی ہوتی ہے جس طرح آج کل کے لوگوں نے نہیں سمجھا کہ صرف حلم اور عفو ہی اچھی صفات نہیں ہیں بلکہ شریر کو سزا دینا اور مظلوم کو ظالم کے پنجہ سے چھڑانا اور دنیا میں عدل و انصاف کو قائم کرنا بھی صفات حسنہ میں سے ہیں اور کامل وہی ہے جو ان سب صفات کو اپنے موقع پر استعمال کر کے دکھاتا ہے۔

غرض اے شہزادہ والا تبار! اللہ تعالیٰ آپ کے دل کو حق کے قبول کرنے کے لئے کھول دے مسیح علیہ السلام کے بعد ایک اور نبی کے بعثت کی بھی خبر تھی جس نے موسیٰ کے رنگ میں رنگین ہو کر آنا تھا۔ پس مسیح کی آمدِ ثانی درحقیقت اسی موسیٰ کے نوشتوں کے پورا کرنے کی غرض سے مقدر تھی۔ جس طرح پہلے موسیٰ کے نوشتوں کو پورا کرنے کے لئے اس کی آمدِ اوّل تھی۔ پس ضرور تھا کہ دونوں سلسلوں میں مناسبت قائم کرنے کے لئے وہ اسی قدر عرصہ مثیلِ موسیٰ کے بعد ظاہر ہو جس قدر عرصہ موسیٰ کے بعد وہ اپنی پہلی بعثت میں ظاہر ہوا تھا اور تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمانہ تیرہ چودہ سو سال ہی کا تھا۔ پس علاوہ ان علامات کے ظہور کے جو انجیل میں بتائی گئی ہیں یہ بھی ایک دلیل ہے کہ مسیح کا ظہور اسی زمانہ میں ہونا چاہئے کیونکہ مثیلِ موسیٰ کو ظاہر ہوئے تیرہ سو سال سے اوپر گزر چکے ہیں۔

شاید آپ کے دل میں خیال گذرے کہ اسلام تو ایسی خراب حالت میں ہے مسیح کب اس مذہب میں آسکتا ہے؟ اور اپنے مقدس نام کو اس کی تاریکی کی چادر کے نیچے پوشیدہ کر سکتا ہے؟

مگر جناب کو خیال رکھنا چاہئے کہ مذہب اور اہل مذہب میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور اسی طرح مقدس کتابوں کے مذہب اور کسی خاص فرقہ کے مذہب میں بھی بعض دفعہ اتنا ہی فرق ہوتا ہے جتنا کہ نُور اور ظلمت میں۔ حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ ”یہ خیال مت کرو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتاب منسوخ کرنے کو آیا۔ میں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں۔“ (متی باب ۵ آیت ۱۷) لیکن باوجود اس کے کہ وہ توریت کی خوبی کو تسلیم کرتے ہیں۔ اپنے زمانہ کے فقیہوں اور فریسیوں کی نسبت بیان فرماتے ہیں کہ :۔ ”اے ریا کارو! یسعیاہ نے کیا خوب تمہارے حق میں نبوت کی جب کہا کہ یہ لوگ اپنے منہ سے میری نزدیکی ڈھونڈتے اور ہونٹوں سے میری عزت کرتے ہیں پر ان کے دل مجھ سے دُور ہیں۔“ (متی باب ۱۵ آیت ۷، ۸ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) اسی طرح وہ ان لوگوں کے حق میں فرماتا ہے کہ :۔ ”اے ریا کار فقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس اس لئے کہ آسمان کی بادشاہت کو لوگوں کے آگے بند کرتے ہو نہ تم آپ اس میں جاتے نہ اور جانے والوں کو اس میں جانے دیتے۔ اے ریا کار فقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس کہ بیواؤں کے گھر نگل جاتے اور مکر سے لمبی چوڑی نماز پڑھتے ہو۔ اس سبب تم زیادہ تر سزا پاؤ گے۔ اے ریا کار فقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس کہ تم تری اور خشکی کا دورہ اس لئے کرتے ہو کہ ایک کو اپنے دین میں لاؤ اور جب وہ آچکا تو اپنے سے دونا اسے جہنم کا فرزند بناتے ہو۔ ۔۔۔۔۔۔ اے ریا کار فقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس کیونکہ پودینہ اور انیسوں اور زیرہ کی دہ یکی لگاتے ہو پر شریعت کی بھاری باتوں یعنی انصاف اور رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا۔ لازم تھا کہ تم انہیں اختیار کرتے اور انہیں بھی نہ چھوڑتے ۔۔۔۔۔ اے سانپو اور اے سانپ کے بچو! تم جہنم کے عذاب سے کیونکر بھاگو گے۔“ (متی باب ۲۳ آیت ۱۳ تا ۳۳ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) پھر عوام الناس کی نسبت بتاتے ہیں کہ :۔ ”اس زمانہ کے لوگ بد اور حرامکار نشان ڈھونڈتے ہیں۔“ (متی باب ۱۲ آیت ۳۹ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء)

اب اے شہزادہ ! دیکھو کہ کیا آج کل کے مسلمان اس موسیٰ کی اُمّت سے کسی علیحدہ قسم کے لوگ ہیں کہ ان میں سے مسیح پیدا نہیں ہو سکتا؟ یہ کتنے بھی ظالم ہوں ان کے ظلم سے اسلام کی تعلیم پر کوئی حرف نہیں آسکتا جس طرح مسیح کے زمانہ کے لوگوں کی خرابی سے موسیٰ علیہ السلام اور توریت پر کوئی الزام نہیں آسکتا تھا۔ وہ جو تعلیم کے خلاف چلتا ہے اپنا بوجھ آپ اُٹھائے گا اور اپنی قبر آپ کھودے گا اس کے اعمال سے خدا کے کلام اور اس کے دین پر کیونکر حرف آسکتا ہے؟ اور وہ جو نوشتوں کی ناسمجھ سے ایک نیا عقیدہ بنالیتا ہے اس کے عقیدوں سے نوشتوں پر کیسے اعتراض پڑ سکتا ہے؟ کیونکہ کیا نہیں لکھا کہ صدوقی توریت سے ہی قیامت کا انکار نکالتے تھے؟ اور ان کے علماء ایک دفعہ مسیح علیہ السلام کے سامنے بھی اس غرض سے پیش ہوئے تھے تا اس پر اپنے قول کی صداقت کو ظاہر کریں مگر اس نے ان پر حجت کی اور ان کے منہ بند کر دیئے۔ پس قرآن کریم اور اسلام پر لوگوں کے اعمال اور ان کے غلط عقائد کی بناء پر کوئی زد نہیں پڑ سکتی۔

اسلام ایک نُور ہے جس کے مقابلہ پر سب ادیان کی شمعیں ماند ہیں اور ایک سُورج ہے جس کے آگے کوئی چراغ اپنی روشنی ظاہر نہیں کر سکتا۔ مگر افسوس کہ اپنوں اور بیگانوں نے اس سے منہ پھیر لیا اور اپنی آنکھیں بند کر لیں تا نہ ہو کہ اس کی ضیاء کو ان کی آنکھیں دیکھیں اور اس سے روشنی حاصل کریں اس کی مثال اس ہیرے کی سی ہے جسے ایک بچہ ایک جانور کی طرف پھینکتا ہے اور وہ اس سے ڈر کر بھاگ جاتا ہے وہ بچہ اس کو اس لئے پھینکتا ہے کہ وہ اسے حقیر اور بے قیمت جانتا ہے اور وہ جانور اس سے اس لئے بھاگتا ہے کہ سمجھتا ہے کہ یہ چیز اس نے مجھے صدمہ پہنچانے ہی کے لئے پھینکا ہو گی۔

مگر نبیوں کا خدا قدوسوں کا قدوس جو آسمان پر اپنے تخت حکومت پر جلوہ افروز ہے پسند نہیں کر سکتا تھا کہ اس کا بھیجا ہوا نُور اس بے قدری کی نگاہ سے دیکھا جائے ۔ سو اس نے اپنے پیارے کو بھیجا کہ مسیح ناصری کی طرح جس طرح وہ موسیٰ کی کتاب کا پورا کرنے والا اور اسے ثابت کر نیوالا بنا یہ محمّد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کا پورا کرنے والا اور اس کا ثابت کرنے والا ہو اور اس کی طبیعت اور اس کی قوت کے ساتھ دنیا میں کام کرکے اس کا نام پائے اور ابدالآباد تک خدا کے مسیح کے نام سے یاد کیا جائے تاکہ وہ بات پوری ہو جو کہی گئی تھی کہ :۔ ’’اب سے تم مجھے پھر نہ دیکھو گے جب تک کہ کہو گے مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پر آتا ہے‘‘ (متی باب ۲۳ آیت ۳۹ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) سو وہی اور صرف وہی مسیح علیہ السلام کو دیکھ سکتا ہے جو اس بات پر یقین لائے کہ اس زمانہ میں اس کے نام پر ایک رسول بھیجا گیا ہے اور اس میں مسیح کے رنگ کو دیکھئے ورنہ اور کوئی ذریعہ مسیح کے دیکھنے کا نہیں ہے۔

آنے والا آچکا۔ مبارک ہیں وہ جو اس کو پہچانتے اور اس پر ایمان لاتے ہیں۔ ہاں اسلام کا منادی اور آخری شریعت کا پورا کرنے والا اور اسے ثابت کرنے والا آگیا تا اس کے ذریعہ سے وہ لوگ جو دنیا کے کناروں پر بستے ہیں خدا کی بادشاہت میں داخل ہوں اور نبیوں کے سردار محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کو اختیار کریں جس کی غلامی اختیار کئے بغیر کوئی نجات نہیں اور جو اسے قبول نہیں کرتا اس کے لئے دانت پیسنے اور رونے کے سوا اور کچھ نہیں جس طرح پہلا مسیح کوئی نئی شریعت نہیں لایا تھا بلکہ موسیٰ کے دین کے استحکام اور اس کے قیام کے لئے آیا تھا یہ مسیح بھی مثیلِ موسیٰ کے دین کے استحکام اور اس کی اشاعت کے لئے آیا ہے اور اگر پہلی دفعہ مسیح اس منادی کے لئے آیا تھا کہ دیکھو خدا کی بادشاہت آنے والی ہے پس ہوشیار ہو جاؤ، جہان کا سردار آنے والا ہے چوکَس ہو جاؤ، دائمی نجات کا وارث پیدا ہونے والا ہے خبردار ہو جاؤ تو اس دفعہ مسیح کے آنے کی غرض یہ ہے کہ لوگوں کو بتائے کہ خدا کی بادشاہت آچکی ، جہان کا سردار آچکا ، دائمی نجات کا وارث پیدا ہو چکا آؤ اور اس کی غلامی میں داخل ہو جاؤ اور میرے پیچھے چلو تا میں تمہیں اس کے گھر میں داخل کروں اور اس کے دسترخوان پر تم کو جگہ دوں کیونکہ اس کے گھر کی کنجیاں میرے سُپرد کی گئی ہیں اور اس کے دسترخوان کا انتظام مجھے سونپا گیا ہے۔

اگر کہا جائے کہ ہم کیونکر سمجھیں کہ جو کچھ اس نے کہا وہ درست ہے؟ اور وہ فی الواقع مسیح کا نام پا کر خداوند خدا ہی کی طرف سے آیا ہے اور اس نے جو کچھ اسلام کی نسبت کہا ہے وہ درست ہے؟ کیونکہ ہمیں پہلے سے ڈرایا گیا ہے کہ :۔ ’خبردار ! کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے کیونکہ بہتییرے میرے نام پر آویں گے اور کہیں گے کہ مَیں مسیح ہوں ۔ اور بہتوں کو گمراہ کریں گے‘ (متی باب ۲۴ آیت ۴، ۵) اور یہ بھی لکھا گیا ہے کہ :۔ ’جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اُٹھیں گے اور ایسے بڑے نشان اور کرامتیں دکھاویں گے کہ اگر ہو سکتا تو وے برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے۔‘ (متی باب ۲۴ آیت ۲۴ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر ایک صداقت کے پرکھنے کے کوئی نشان ہوتے ہیں انہی نشانوں کے

ذریعے سے اس کے دعویٰ کو پرکھا جا سکتا ہے۔ بیشک جھوٹے نبیوں کی آمد سے ڈرایا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ بڑے نشان اور کرامتیں دکھائیں گے لیکن یہ بھی تو کہا گیا ہے کہ اگر ہو سکتا تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں اور سچے نبیوں میں فرق کرنے کا بھی کوئی ذریعہ ہے جس کی مدد سے برگزیدے ان کے فریب میں نہیں آسکتے ، ان کی کرامتیں اور ان کے نشان، نبیوں کی کرامتوں اور ان کے نشانوں سے بالکل علیحدہ طرح کے ہونے چاہئیں کیونکہ اگر جھوٹے نبیوں کے نشان بھی سچوں کی طرح کے ہوں تو پھر ہم کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ موسیٰ اور داؤد اور یحییٰ اور خود مسیح بھی سچے نبیوں میں سے تھے ؟ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے نشانوں کو اپنے سچے ہونے کا ثبوت قرار دیا ہے۔ چنانچہ یوحنا کے ایلچیوں کو جب وہ ان سے پوچھنے کے لئے آئے کہ:

”کیا جو آنے والا تھا تُو ہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ تکیں“۔

انہوں نے جواب دیا کہ: ”جو کچھ تم سنتے اور دیکھتے ہو جا کے یوحنا سے بیان کرو کہ اندھے دیکھتے اور لنگڑے چلتے، کوڑھی پاک صاف ہوتے اور بہرے سنتے اور مُردے جی اُٹھتے ہیں اور غریبوں کو خوشخبری سنائی جاتی ہے اور مبارک وہ ہے جو میرے سبب ٹھوکر نہ کھائے“ (متی باب ۱۱ آیت ۳ تا ۶ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء)

اور توریت میں لکھا ہے ، کہ: ”اگر تُو اپنے دل میں کہے کہ میں کیونکر جانوں کہ یہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں ؟ تو جان رکھ کہ جب نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہا ہے تُو اس سے مت ڈر“ (استثناء باب ۱۸۔ آیت ۲۱-۲۲)

پس معلوم ہوا کہ نشان بھی اور پیشگوئیاں بھی نبیوں کی سچائی کے ثبوتوں میں سے ہیں اور وہ کرامتیں جن کا ذکر مسیح علیہ السلام نے جھوٹے نبیوں کے متعلق کیا ہے وہ ان نشانوں سے علیحدہ قسم کے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نبی دکھاتے ہیں اور شعبدوں اور فریبوں کی قسم سے ہیں نہ کہ فوق العادت اور خدا تعالیٰ کے جلال ظاہر کرنے والے نشان۔ اور جب کہ نبیوں کی صداقت ہمیشہ ان نشانوں کے ذریعہ سے ہی ظاہر ہوتی رہی ہے جو کہ ان کے ہاتھوں پر ظاہر ہوئے یا ان پیشگوئیوں کے ذریعہ سے جو وہ کرتے رہے اور جو اپنے وقت پر پوری ہوتی رہی ہیں تو اس زمانہ کے فرستادہ اور رسول کی صداقت بھی اسی ذریعہ سے پرکھی جا سکتی ہے اور چونکہ نبیوں کے ذریعہ سے دو قسم کے نشان ظاہر ہوتے ہیں ایک تو ان کی زندگی اور تعلیم ہی نشان ہوتی ہے دوسرے وہ نشان ہوتے ہیں جو دوسروں کی ذات میں ظاہر ہوتے ہیں اس لئے میں دونوں قسم کے نشان بیان کرتا ہوں اور پہلے آپؐ کی معجزانہ زندگی اور آپؐ کی تعلیم اور آپؐ کے کام کو بیان کرتا ہوں۔

اے شہزادہ باوقار! اللہ تعالیٰ آپ کے سینہ کو حق کی قبولیت کے لئے دل دے! اس زمانہ کے مأمور اور مُرسَل قادیان ضلع گورداسپور صوبہ پنجاب کے رہنے والے تھے اور اسی جگہ آپؑ پیدا ہوئے تھے اور آپؑ کا نام آپ کے ماں باپ نے غلام احمد (علیہ الصلوٰۃ والسلام) رکھا تھا۔ وہ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے تھے جو حضرت مسیح کے خاندان کی طرح بڑے بڑے خاندانوں سے ملتا تھا اور مغلوں اور فارسیوں کے شاہی خاندانوں کی نسل سے تھا اور ہندوستان میں صرف چند پشتوں سے آکر بسا تھا مگر حضرت مسیح کے خاندان کی طرح اس کی حالت اس وقت اسقدر غربت کی تھی کہ اپنی پہلی شان و شوکت کو وہ بہت کچھ کھو چکا تھا۔ آپ کے دادا سکھوں کی طوائف الملوکی کے زمانہ میں ایک سکھ قبیلہ سے جنگ کرتے ہوئے اپنی ریاست کو کھو بیٹھے تھے۔ گو مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ان کی جائداد میں سے پچاس گاؤں واگزار کر کے اور اپنی فوج میں اعلیٰ عہدہ دیکر ان کے والد کو پھر دنیاوی لحاظ سے آسودہ حال بنا دیا تھا مگر خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ اس خاندان سے کچھ اور کام لے۔ پس اس نے سکھ حکومت کو تباہ کر کے برطانیہ کی حکومت کو پنجاب میں قائم کر دیا اور اس کی آمد کیساتھ ہی اس ریاست کا بھی خاتمہ ہو گیا جو اس خاندان کو سینکڑوں سال سے حاصل تھی۔ برٹش گورنمنٹ کے نمائندوں نے بڑے مَرافعوں کے بعد صرف ایک گاؤں کی ملکیت اور تین گاؤں کی تعلقہ داری آپ کے والد کے لئے منظور کی اور باقی سب جائداد ضبط کی گئی مگر اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ جس خاندان کو دین میں عزت دینا چاہتا ہے اس کو وفاداری کے مقام پر کھڑا کر دیتا ہے۔ باوجود اس کے کہ آپؐ کے والد کو برٹش گورنمنٹ سے سخت نقصان پہنچا تھا آپ ہمیشہ اس کے وفادار اور جان نثار رہے اور تنگی اور تُرشی میں اسی طرح اس کا ساتھ دیا جس طرح کہ سکھ گورنمنٹ کا ساتھ دیا تھا اور غدر کے موقع پر جبکہ عام طور پر ملک میں برطانوی حکومت کے خلاف جوش پیدا ہو گیا تھا اور خصوصاً پرانے خاندانوں میں، آپ نے اپنی طاقت سے زیادہ گورنمنٹ کی مدد کی اور پچاس سوار پیش کئے اور آپ کے بڑے بیٹے بانی سلسلہ کے بڑے بھائی جنرل نکلسن کے ساتھ خود جنگ میں شریک ہوئے اور نِرموں گھاٹ پر باغیوں کے زور کے توڑنے میں ایسا حصہ لیا کہ اس مشہور محب وطن نے خاص طور پر اس امر کا اقرار کیا کہ اس علاقہ میں سب سے زیادہ وفادار غدر کے موقع پر قادیان کا خاندان رہا۔

آپ کی پیدائش ۱۸۳۶ءمیں ہوئی ہے اور جس وقت سے کہ آپ پیدا ہوئے اس وقت سے لے کر اس وقت تک کہ آپ فوت ہوئے آپ کی زندگی خدا کی قوتوں اور اس کے جلال کی مظہر رہی ہے آپ جمعہ کے دن عصر کے وقت پیدا ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ ایک اور بچہ جو لڑکی تھی پیدا ہوا تھا اور اس طرح آپ کی پیدائش بھی ایک نشان تھا، کیونکہ لکھا تھا کہ آنے والا موعود توام پیدا ہو گاعہاور جمعہ کے دن عصر کے وقت آپ کی پیدائش اس لئے تھی کہ تا آپ جو اس دنیا کی ہدایت کے لئے آخری موعود تھے اور آدمِ ثانی کا مقام رکھتے تھے آپ کا وقت پیدائش بھی آدمِ اوّل کی پیدائش کے وقت سے اور اس کی پیدائش کے دن سے مطابق ہو۔

آپ کی پیدائش کے زمانہ کے قریب سے دنیا کے مختلف مذاہب میں آنے والے موعود کی جستجو شروع ہو گئی تھی اور اللہ تعالیٰ کا الہام مخفی طور پر دنیا کے مختلف حصوں میں نازل ہو کر لوگوں کو دنیا کے منجی کی آمد کے قرب کی بشارت دینے لگ گیا تھا۔ چنانچہ یورپ اور ایشیا کی مختلف قوموں اور مختلف مذاہب میں انیسویں صدی کے شروع سے آنے والے موعود کا انتظار لگ گیا تھا اور بہت لوگ تھے جو دنیا کو ہوشیار کرنے لگ گئے تھے کہ آخری موعود کا زمانہ قریب ہے۔ اُٹھو اور ہوشیار ہو جاؤ تا ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو سوتا پائے۔ چنانچہ خود انگلستان میں بھی ایسے لوگ تھے جو اس امر کا اعلان کرتے تھے ان میں سے ایک تو پر سبیٹیرین چرچ کا پادری ایڈورڈ ارونگ تھا اس نے ۱۸۲۱ء میں لندن میں وعظ کہنا شروع کیا اور تین مہینوں میں اس کے سامعین کی تعداد پچاس سے پندرہ سو تک بڑھ گئی اور بروہیم BROUGHAM کننگ CANNING میکنٹاش MACKIN TASH ولبر فورس WILLBER FARCE جیسے رجال سیاست اور بااثر آدمی اس کے سامعین میں شامل تھے وہ کہتا تھا کہ بیس سال کے عرصہ میں یروشلم کا علاقہ گندوں سے پاک کر دیا جائے گا اور وہ زمانہ جبکہ دنیا میں نیکی قائم کی جائے گی اور مسیح واپس آ کر دنیا میں حکومت کریں گے نزدیک ہے۔ ان کے شاگرد مسٹر بکسٹر BAXTER کا اپنی نسبت بیان ہے کہ ان کی زبان پر دعا کے وقت یہ الفاظ جاری ہوئے کہ مسیح کی آمد نزدیک ہے اور اس کے آنے پر زندہ ولی ایک جگہ پر

جمع کئے جاویں گے اور مردہ ولی زندہ کئے جاویں گے ان ایڈورڈ ارونگ صاحب کے ذریعہ سے فرقہ کیتھولک اپاسٹولک چرچ کی بنیاد پڑی۔

اسی طرح فرقہ اڈونٹسٹ انیسویں صدی سے مسیح کی آمد کا انتظار کر رہا ہے اور اس نے بہت سی تکالیف اُٹھا کر بھی اپنے خیالات کو ترک نہیں کیا اور اب تک امریکہ میں اس کے افراد اپنے خیالات کی اشاعت میں مشغول ہیں۔

ان کے سوا لاکھوں انسان مسیحیوں اور یہودیوں میں ایسے تھے اور ہیں جو یہ یقین کرتے ہیں کہ مسیح کی آمد کا زمانہ یہی ہے اور انہوں نے اس امر پر کتابیں لکھی ہیں اور لٹریچر شائع کیا ہے۔ مسلمانوں میں بھی عام طور پر یہ یقین پایا جاتا تھا کہ تیرھویں صدی کے آخر یا چودھویں صدی کے شروع میں مسیح نازل ہوں گے اور اس کے متعلق بہت سے صاحبِ کشف لوگوں نے کشوف اور رؤیاء دیکھے تھے اور الہام پائے تھے جس کی وجہ سے تمام عالمِ اسلام کو اس امر پر یقین ہو گیا تھا کہ اب مسیح کے نزول کا زمانہ قریب آگیا ہے اور اس طرح آپ کو اس سے جس کے نام پر آپ نے دنیا کو ہدایت دینی تھی اپنی پیدائش کے وقت سے ہی ایک مناسبت پیدا ہوگئی تھی کیونکہ پہلے مسیح کی پیدائش کے وقت بھی بعض لوگوں کو بتایا گیا تھا کہ مسیح پیدا ہونے والا ہے صرف فرق یہ ہے کہ اس کے وقت میں تو ستاروں سے لوگوں کو توجہ دلائی گئی تھی اور ان کے زمانہ میں غیر مذاہب کے لوگوں کو خوابوں اور قلبی اشاروں اور مسلمانوں کو کشفوں اور الہاموں کے ذریعے سے متوجہ کیا گیا۔

گو آپ کی پیدائش کے ساتھ آپ کے خاندان کی مالی حالت اچھی ہونے لگ گئی تھی مگر آپ کی نوجوانی کے ابتدائی ایام سے آپ کے والد کی مالی حالت خراب ہونے لگی کیونکہ مہاراجہ رنجیت سنگھ فوت ہو گئے اور ان کے بعد طوائف الملوکی ہو گئی اور گورنمنٹ برطانیہ نے پنجاب پر قبضہ کرنے کے ساتھ ہی ان کی جائداد قریباً تمام کی تمام ضبط کرلی جس سے ان کے والد کے دل پر دنیا کی بے ثباتی کا ایک گہرا اثر پڑا اور ان کی اس حالت کو دیکھ کر نہایت ابتدائی عمر سے آپ کے دل پر بھی دُنیا کی بے ثباتی کا ایک نہ مٹنے والا نقش جم گیا۔

باوجود اس کے کہ وہ زمانہ علم کا نہ تھا آپ کے والد نے خود استاد رکھ کر آپ کو تعلیم دلوائی مگر اس زمانہ کے لحاظ سے گو وہ تعلیم اعلیٰ خیال کی جاسکتی ہو۔ خصوصاً شرفاء میں جو کہ تعلیم کو صرف ادنیٰ قوموں کے لوگوں کے لئے مخصوص سمجھتے تھے لیکن مدرسی تعلیم کے لحاظ سے وہ تعلیم کچھ بھی نہ تھی اور ہمیشہ آپ کے دشمن علماء روحانی مقابلہ سے عاجز آکر آپ کو اس امر کا طعنہ دیا کرتے تھے کہ کیا یہ وہ شخص نہیں جس نے کسی اعلیٰ مدرسہ میں تعلیم نہیں پائی پھر یہ عالم کیونکر ہو گیا؟ جس طرح کہ مسیح اول کی روحانی باتوں کو سن کر اس وقت کے لوگ کہا کرتے تھے کہ کیا یہ یوسف بڑھئی کا بیٹا نہیں؟ اور اس کی ماں مریم نہیں؟ پھر اس نے یہ سب کچھ کہاں سے پایا؟(متی باب ۱۳۔ آیت ۵۵۔ ۵۶)

آپؐ کی طبیعت بچپن سے ہی ادب اور صداقت کی طرف مائل تھی اور پُرانے پرانے لوگ جنہوں نے آپؐ کا بچپن دیکھا ہے بیان کرتے ہیں کہ جب آپؐ کسی کو جھوٹ بولتے یا لغو باتوں کی طرف مائل ہوتے یا استادوں کی نقلیں لگاتے دیکھتے تو آپؐ اس سے جُدا ہو جاتے اور کبھی گناہ کی طرف مائل نہ ہوتے بلکہ ہمیشہ علمی مشغلہ رکھتے۔ جب آپؐ جوان ہوئے تو آپؐ کے والد صاحب نے چاہا کہ آپؐ کو کسی کام پر لگائیں لیکن آپؐ نے اس امر کی طرف توجہ نہ کی اور رات دن دین کی باتوں کی طرف متوجہ رہتے اور لوگوں سے کم ملتے۔ کھانا کم کھاتے اور اپنا کھانا الگ منگوا لیتے اور چند یتیم اور غریب لوگوں کو اکٹھا کر کے ان میں تقسیم کر دیتے اور بہت تھوڑا سا کھانا ان کے ساتھ بانٹ کر کھاتے اور جب ان کے والد چاہتے کہ آپؐ کسی کام پر لگیں تو آپؐ کہتے کہ جس کام پر میں نے لگنا تھا لگ گیا ہوں آپ میری فکر نہ کریں مگر آپؐ کے والد بعض دفعہ نہایت افسردگی سے اپنے دوستوں سے ذکر کرتے کہ دیکھو یہ میرا بیٹا اپنے بھائیوں کے سہارے پر زندگی بسر کرے گا۔ اس کا مجھے بہت دُکھ ہے مگر بعض دفعہ خوش ہو کر یہ بھی کہتے کہ اصل کام تو یہی ہے جس میں یہ لگا ہوا ہے۔

اور ایسا ہوا کہ ان دنوں میں آپؐ گھر والوں کے طعنوں کی وجہ سے کچھ دنوں کے لئے قادیان سے باہر چلے گئے اور سیالکوٹ جا کر رہائش اختیار کر لی اور گذارہ کے لئے ضلع کی کچہری میں ملازمت بھی کر لی۔ وہاں کی رہائش کے ایام میں آپؐ کے لئے آسمان کے دروازے کھلنے لگے اور خدا کے فرشتے آپؐ پر نازل ہونے لگے اور آپؐ کو بہت سی باتیں اللہ تعالیٰ غیب کی بتاتا جو اپنے وقت میں پوری ہو جاتیں جس سے مختلف مذاہب کے لوگ جو آپؐ سے تعلق رکھتے تھے آپؐ کی قوتِ قدسیہ کے قائل ہونے لگے اور سب لوگ آپؐ کی نسبت محسوس کرنے لگے کہ آپؐ کی زندگی دُنیا کے لئے عجیب ہو گی۔ اور ایسا ہوا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے لئے کئی قسم کی کرامتیں دکھانی شروع کیں جن کو ہندو مسلمان دیکھ کر حیران ہونے لگے اور خدا تعالیٰ کی طاقتوں پر ان کے ایمان بڑھنے لگے۔

ایک دفعہ آپؐ کچھ اور دوستوں سمیت جن میں ہندو بھی تھے اور مسلمان بھی ایک مکان میں سو رہے تھے کہ آپؐ کی یکدفعہ آنکھ کھلی اور آپؐ کو ایک آواز سنائی دی جس سے آپؐ نے سمجھا کہ یہ چھت اب گرنے والی ہے آپؐ نے اپنے ساتھیوں کو جگایا اور ان کو یہ بات بتائی مگر انہوں نے اس کو معمولی سمجھا اور چھت کو دیکھ کر پھر سو گئے۔ پھر انہوں نے جگایا کہ میں نے آواز سنی ہے اُٹھو اور اس مکان کو خالی کر دو مگر انہوں نے پرواہ نہ کی اور ان کا وہم سمجھا۔ پھر ان کو ایسی ہی آواز آئی اور دل میں ڈالا گیا کہ یہ چھت گرے گی اور صرف آپ کے نکلنے کا انتظار کر رہی ہے۔ اس پر آپؑ نے ان کو جبراً اُٹھایا اور پہلے ان کو نکالا اور آخر میں آپؑ نکلے۔ جونہی کہ آپؑ نے قدم اُٹھا کر سیڑھی پر رکھا چھت گر گئی اور تمام ساتھیوں نے محسوس کیا کہ اگر آپؑ وہاں نہ ہوتے یا پہلے ان کو نکال کر بعد میں خود نہ نکلتے تو ضرور وہ اس چھت کے نیچے دب کر مر جاتے اور وہ آپؑ کو عزت اور تعجب کی نگاہوں سے دیکھنے لگے۔

جبکہ آپؑ سیالکوٹ ہی میں تھے کہ آپؑ کی والدہ سخت بیمار ہو گئیں اور آپؑ کے والد صاحب نے ان کی بیماری کے سبب سے بھی اور اس خیال سے بھی کہ اس قدر عرصہ باہر رہنے کی وجہ سے اور دنیا کے سرد و گرم کے چکھنے کے سبب سے اب آپؑ کی طبیعت دنیا کے کاروبار کی طرف مائل ہو گئی ہوگی آپؑ کو واپس بلوا لیا اور اپنی جائداد کا انتظام آپؑ کے سپرد کر دیا۔ مگر وہ پاکیزگی اور خدا سے لگاؤ جو آپؑ کو حاصل تھا اس کا زور جس طرح کچہری کی ملازمت سے کم نہ ہوا تھا اب جائداد کے انتظام سے بھی اس میں کوئی کمی پیدا نہ ہوئی۔ آپؑ والد کے کہنے پر کام تو کرتے مگر توجہ خدا تعالیٰ ہی کی طرف رہتی اور ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی یاد کو نہ بھولتے۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ ایک مقدمہ پر گئے ہوئے تھے کہ نماز کا وقت آ گیا۔ بعض دوستوں نے کہا کہ اس وقت یہاں سے جانا درست نہیں کیونکہ ابھی مجسٹریٹ آواز دے گا مگر آپؑ نے اس کی پرواہ نہ کی باہر جا کر نماز شروع کر دی۔ اس عرصہ میں مجسٹریٹ نے پہلے مقدمہ سے فراغت حاصل کر کے آپؑ کے مقدمہ کا کام شروع کیا اور آپؑ کو آواز دی گئی مگر آپؑ اطمینان سے نماز پڑھتے رہے اور جب عبادت الٰہی سے فراغت حاصل کر کے عدالت میں گئے تو اس وقت تک مجسٹریٹ مقدمہ ختم کر چکا تھا۔

انہی دنوں میں ایک اور واقعہ پیش آیا جس سے آپؑ کا تعلق باللہ معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ آپؑ ایک ضروری مقدمہ کے لئے گئے ہوئے تھے جس پر آپؑ کے والد کے حقوق کا بہت کچھ انحصار تھا ایک دوست کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے جب مقدمہ سے واپس آئے تو بہت خوش تھے۔ اس دوست نے سمجھا کہ آپؑ مقدمہ جیت آئے ہیں مگر معلوم ہوا کہ مقدمہ آپؑ کے والد کے خلاف ہوا تھا اور آپؑ خوش اس امر سے تھے کہ اب کچھ دن آرام سے عبادت الٰہی کا مزا حاصل کریں گے ان دنوں میں آپؑ نے ثابت کر دیا کہ کس طرح انسان والدین کی اطاعت کرتے ہوئے بھی اپنے مالک اور آقا کو خوش کر سکتا ہے اور ضروری نہیں کہ اپنے ماں باپ کی ہتک کر کے ہی خدا کو خوش کرے۔

آپ کی عمر کوئی چالیس برس کی ہوگی کہ آپ کے والد فوت ہو گئے اور یہ پہلا دن تھا کہ آسمان کے دروازے آپ پر کھولے گئے اور خداوندِ خدا آسمانوں اور زمینوں کا خدا آپ سے ہمکلام ہوا اور اس نے کہا کہ دیکھ مغرب کے وقت تیرا والد فوت ہوگا اور جب ایک آن کے لئے آپ کے دل میں خیال گزرا کہ پھر میں کیا کروں گا؟ کہ اکثر آمدنی انہی کے ذریعہ سے تھی تو پھر اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہوا اور وہ یوں گویا ہوا۔ کہ اے میرے بندے! کیا تیرا رب تیرے لئے کافی نہیں؟ اس وقت سے آپ کی حالت دمبدم بدلنے لگی اور خدا کا جلال روز بروز زیادہ شوکت کے ساتھ ظاہر ہونے لگا اور دیکھو کہ آسمان اور زمین کے راز آپ پر کھلنے لگے اور اکثر باتیں جو آئندہ ہونی ہوتیں آپ پر ظاہر کی جاتیں اور وہ لوگ جو ان کو سنتے تعجب کرتے اور حیرت سے کہتے کہ خدا کے کام عجیب ہیں۔

اس وقت تک آپ کی صداقت اور نیکی کو دیکھ کر لوگوں پر یہ اثر پڑ گیا تھا کہ دشمن بھی آپ کی صداقت کا اقرار کرنے لگ گئے تھے اور آپ کے خاندان سے جن لوگوں کا جھگڑا ہوتا وہ اکثر اس امر پر راضی ہو جاتے تھے کہ جو فیصلہ آپ کر دیں وہ انہیں منظور ہوگا اور جب آپ باوجود اپنا نقصان ہونے کے ہر ایک کا حق اس کو دلواتے تو لوگ تعجب کرتے کہ کس طرح خدا اس شخص میں ظاہر ہوتا ہے۔ اور آپ کی عادت تھی کہ جب آپ کو معلوم ہوتا کہ کسی کا حق کوئی شخص مارتا ہے تو اس کو سمجھاتے اور اس کا حق دلوانے کی کوشش کرتے اور خصوصاً اپنے بھائی کو جو آپ کی اور اپنی جائداد کے منتظم تھے بہت سمجھاتے کہ ہر ایک کا حق اس کو ادا کریں اور دنیا کے نقصان کی پرواہ نہ کریں اور اس طرح وہ بات پوری ہوئی کہ ابنِ آدمؑ آکر دُنیا کو عدل وانصاف سے بھر دیگا۔

جب آپ چالیس سال کے ہوئے تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے پے درپے آپ پر نازل ہونے شروع ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس قسم کے احکام نازل ہوئے جن کا مطلب یہ تھا کہ اسلام اس وقت نہایت بے کس حالت میں ہے اور دُنیا کی نظروں میں حقیر تو اُٹھ کر اس کی مدد کر اور اس کی عظمت اور صداقت کو لوگوں پر ظاہر کر۔ چنانچہ آپؐ نے ایک ضخیم کتاب براہینِ احمدیہ نام اس غرض سے تصنیف کی اور اس میں اسلام کی صداقت اور اس کی دوسرے مذاہب پر فضیلت ثابت کی اور ہر مذہب وملت کے لوگوں کو بلایا کہ اپنی الہامی کتابوں میں جو خوبیاں ہیں ان کو اسلام کے مقابلہ پر ظاہر کریں مگر باوجود بار بار کے بلانے کے لوگ مقابل پر نہ آئے اور ملک کے بڑے بڑے عالموں نے اقرار کیا کہ ایسی کتاب بغیر خدا کی تائید کے نہیں لکھی جا سکتی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ نے کسی بڑے مدرسہ میں تعلیم نہیں پائی نہ کسی بڑے عالم سے علم سیکھا ہے بگر ابھی وہ کتاب مکمل نہ ہوئی تھی کہ اللہ نے آپؐ

پر ظاہر کیا کہ اب ہم تجھ سے ایک اور رنگ میں کام لینا چاہتے ہیں اور تُو مسلمانوں کی روحانی حالت کی درستی کی طرف توجہ کر۔ پھر آپ نے اس بات کے لئے اعلان کیا کہ جو لوگ خدا کے لئے آپ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں بیعت کریں۔ اس وقت سے آپ کی مخالفت ہونی شروع ہو گئی اور اسلام کی تائید کی وجہ سے مسیحی اور ہندو تو پہلے سے ہی مخالف تھے اب مسلمان بھی مخالفت پر آمادہ ہو گئے اور وقت کے علماء نے جو فقیہوں اور فریسیوں کے جانشین تھے اس امر کو پسند نہ کیا کہ لوگ ہماری اطاعت سے نکل کر اس کے ساتھ مل جاویں۔ کیونکہ وہ لوگ جانتے تھے کہ اس کے ساتھ مل کر انسان انسانی روایتوں کے بندھنوں سے آزاد ہو جاتا ہے اور صرف خدا کی حکومت اس کے دل پر باقی رہ جاتی ہے۔ آپ خاموشی سے اپنا کام کرتے چلے گئے مگر ابھی تک آپ پر اللہ تعالیٰ نے پوری طرح نہ کھولا تھا کہ آپ خدا کی نظروں میں کیا ہیں؟ جس طرح کہ مسیح اوّل پر بھی اپنی بعثت کے ابتدائی ایّام میں نہ کھلا تھا کہ خدا نے اسے مسیح بنا کر بھیجا ہے جیسا کہ لکھا ہے کہ اس نے اپنی بعثت کے دوسرے سال حواریوں سے سوال کیا کہ لوگ مجھے کیا سمجھتے ہیں؟ اور جب انہوں نے کہا کہ بعض الیاس، بعض یوحنا، بعض یرمیاہ اور بعض نبیوں میں سے کوئی۔ پھر اس نے پوچھا کہ تم مجھے کیا سمجھتے ہو؟ تو اس پر شمعون نے جواب دیا کہ تُو مسیح ہے اس پر مسیح نے کہا کہ تجھ پر خود خدا نے یہ راز کھولا ہے اور کہا کہ مگر ابھی

”کسو سے نہ کہنا کہ مَیں یسوع مسیح ہوں۔“ (متی باب ۱۶۔ آیت ۲۰)

اسی طرح مسیح ثانی سے ہوا کہ پہلے دو سال تک اس کو معلوم نہ ہوا کہ وہی مسیح ہے۔ مگر آخر ۱۸۹۰ء کے آخر میں وہ وقت آگیا کہ اللہ تعالیٰ کا فرشتہ نازل ہوا اور اس نے حقیقت آپ پر کھول دی جس کا ماحصل یہ تھا کہ تُو ہی وہ مسیح ابن مریم ہے جس کی نسبت پہلے نوشتوں میں خبر دی گئی تھی کہ وہ دنیا کی ہدایت کے لئے آنے والا ہے اور پہلا مسیح باقی نبیوں کی طرح عمر پا کر فوت ہوا اور اپنے باپ سے جو آسمان پر ہے اپنے باقی بھائیوں کی طرح جو اس سے پہلے گزر چکے تھے جا ملا ہے اور یہ جو کہا گیا تھا کہ وہ دوبارہ دنیا میں آئیگا اس سے یہی مراد تھی کہ اس کے نام سے ایک شخص آئے گا جو اس کی طبیعت اور اس کی قوت سے کام کرے گا۔

جس وقت آپ نے اس امر کا اعلان کیا تمام ہندوستان میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک مخالفت کا ایسا جوش امنڈ آیا کہ اس کی نظیر بہت ہی کم ملتی ہے۔ مسیحیوں کی طرف سے بھی سخت مخالفت شروع ہو گئی اور مسلمانوں کی طرف سے بھی اور گورنمنٹ بھی شک کی نگاہوں سے دیکھنے لگی کیونکہ آپ کا دعویٰ مہدی ہونے کا بھی تھا اور مہدی کے نام کے ساتھ اس قدر روایات خونریزی کی وابستہ ہیں کہ گورنمنٹ اس

نام کے سنتے ہی چوکَس ہو جانے اور آپؐ کے سلسلہ کو شک کی نگاہوں سے دیکھنے پر مجبور تھی۔ مگر آپؐ نے کسی کی پرواہ نہیں کی اور خدا نے جو کچھ بتایا تھا اس کا اعلان شروع کر دیا اور لوگوں کو خدا کی طرف بلانا شروع کر دیا اور بڑے زور سے تمام اقوام کو خدا کی بادشاہت میں داخل ہونے کی دعوت دینی شروع کی۔ اور تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ سے آپؐ نے دُنیا کو جو نصیحت کرنی شروع کی اس کا ماحصل یہ تھا کہ خدا تعالیٰ کا برگزیدہ مذہب جس سے اس وقت نجات وابستہ ہے اسلام ہی ہے اور اس کا آخری کلام جس کے ذریعے سے انسان خدا تعالیٰ سے مل سکتا ہے قرآن کریم ہی ہے اور اس کا آخری رسول جو شریعت لے کر آیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہے۔ مجھے اس نے جو سب دُنیا کا پیدا کرنے والا اور سب جہانوں کا مالک ہے اس غرض کے لئے بھیجا ہے کہ میں دُنیا کو جو خدا اور اس کے کلام اور اس کے رسولؐ سے منہ موڑ چکی تھی ان کی طرف پھیر کر لاؤں اور قوموں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاؤں اور اس کی پُر امن حکومت میں داخل کروں اور وہ جو اس سے جدا ہو گئے تھے ان کو اس سے لا کر ملاؤں اور بے ایمانوں کو ایمان دوں اور اندھوں کو آنکھیں بخشوں اور بہروں کو کان دوں اور وہ جن کے جسم برص سے بد نما ہیں ان کو چنگا کروں اور مُردوں کو زندہ کروں اور غافلوں کو ہوشیار کروں اور سوتوں کو جگاؤں اور روٹھے ہوؤں کو مناؤں اور بگڑے ہوؤں کو سنواروں اور گرے ہوؤں کو اُٹھاؤں اور جن کا کوئی والی اور وارث نہیں ان کی خبر گیری کروں اور جن کو خدا کی بادشاہت سے دھتکارا گیا تھا ان کے لئے اس کے دروازے کھولوں اور ان کے حق ان کو دلواؤں اور اس نے اس دن سے بڑے زور سے منادی کرنی شروع کر دی کہ اے لوگو! جو خواہ کسی مذہب کے ہو تمہارے لئے خدا کی رحمت کے دروازے کھلے ہیں تم خدا کو ایک مانو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کو اختیار کرو تو تمہارے لئے آسمان سے برکتیں نازل ہوں گی اور زمین سے افزونی ہو گی اور اے لوگو جو مسلمان کہلاتے ہو مت خیال کرو کہ تم مسلمان کہلا کر خدا کو خوش کر لوگے۔ خدا تعالیٰ منہ کی باتوں سے خوش نہیں ہوتا بلکہ دل کے اعمال سے اور جوارح کی تصدیق سے۔ تم اپنے خیالات کو درست کرو اور اپنے اعمال کی نگہبانی کرو کیونکہ یہی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حضور میں بندہ کو عزت دیتی ہیں یہ مت خیال کرو کہ ہم خدا کے پیارے ہیں وہ ہمیں سزا نہیں دے گا بلکہ ہمارے دشمن کو مارے گا وہ تمہارے دشمن سے پہلے تمہیں مارے گا اور اس کو جہنم میں گرانے سے پہلے تم کو گرائے گا کیونکہ وہ اس کی تعلیم سے ناواقف تھا اور تم واقف تھے اور وہ اندھیرے میں ہونے کے سبب حق اور باطل میں فرق نہیں کر سکتا تھا اور تم کر سکتے تھے۔

اے مسلمانو اور مسلمانوں کی اولادو ! اپنے دل کی سختی کو نرم کرو اور خدا کے لئے حلیمی اختیار کرو اور دین کے نام سے تلوار چلا کر خوش نہ ہو کہ اس طرح تم خدا کے پیارے نہیں بلکہ اس کی نظروں میں ناپسندیدہ ٹھہرتے ہو کیونکہ تم اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے اور اپنے لئے لوٹ حاصل کرنے کے لئے خدا اور رسولؐ اور اس کی کتاب اور اس کے دین کو بدنام کرتے ہو اور اپنے پیٹ پالنے کے لئے لوگوں کے گلے کاٹتے ہو اور خدا تعالیٰ کو بدنام کرتے ہو مگر اپنے لئے عزت چاہتے ہو کیا خدا کا کلام اپنی عزت کے لئے ڈاکے اور قتل کا محتاج ہے ؟ بندہ کا اچھا کلام بھی جب اپنی خوبی منوانے کے لئے ظلم اور تعدی کا محتاج نہیں ہوتا تو پھر خدا کا کلام اس کا محتاج کیوں ہونے لگا ؟ اے سنگدلو ! جس چیز کو تم جہاد سمجھتے ہو اور دین کی جنگ قرار دیتے ہو وہ لوٹ اور ڈاکے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا اور اس کے ساتھ تم نے دین کی مددنہیں کی بلکہ ہر شریف اور نیک انسان کو سچے مذہب سے بدظن کر دیا ہے اور اب تم ہر ایک اس شخص کے گناہ کے ذمہ دار ہو جس کو اس طرح تم نے اسلام سے پھرا دیا ہے۔

اے علماء کے گروہ ! تمہارے لئے اس قدر بس تھا کہ خدا تم سے خوش ہو جاتا بلکہ یہ سب سے بڑی بات تھی اور اس کے سوا کوئی اور پسندیدہ بات نہ تھی مگر تم نے دنیا کی خوشی کو اپنا مقصد قرار دیدیا ہے اور لوگوں کے مونہوں کی طرف دیکھتے ہو اور ان کی آوازوں کی طرف کان رکھتے ہو مگر خدا کی رضا کی پرواہ نہیں کرتے اور اسکی آواز پر کان نہیں دھرتے تم جس بات کے پیچھے پڑے تم نے وہ حاصل کر لی لیکن تم دنیا کی رضا چاہ کر خدا کی رضا حاصل نہیں کر سکتے وہ تم سے اپنا حق چاہے گا اور اپنے مطالبہ کو تم سے پورا کرے گا۔

اے لوگو ! تم مال و دولت جمع کر کے سکھ نہیں پا سکتے بلکہ ہر ایک جو خدا کی غریب اور نادار مخلوق کی خبرگیری کرتا ہے وہی سکھ پائے گا اور جو عاجزوں کی مدد کرتا ہے خداوند کی طرف سے مدد دیا جائیگا اور جو کمزوروں کا خیال رکھتا ہے آسمان پر اس کا خیال رکھا جائے گا اور جب وہ سورہا ہوگا خدا اس کے لئے جاگے گا اور جب وہ غافل ہوگا خدا اس کے لئے ہوشیار ہوگا۔ اور جب وہ اپنے دشمن سے بے خبر ہوگا خدا تعالیٰ اس کی طرف سے اس کے دشمن کا مقابلہ کرے گا کیونکہ اس نے اپنے محدود ذرائع کے ساتھ خدا کے غریب بندوں کی مدد کی اور ان کو ہلاکت سے بچایا پس خدا کی غیرت کب برداشت کرے گی کہ وہ غیر محدود خزانہ رکھتے ہوئے اس سے بخل کرے اور اپنے خزانوں کو اس سے روک لے ؟

جھوٹ مت بولو کہ جھوٹ ایک زہر ہے سچ کو اختیار کرو کہ خدا کے حضور میں راستباز ہی مقبول ہوتے ہیں۔ امانت سے کام لو اور خیانت سے پر ہیز کرو۔

تم سے کہا گیا تھا کہ بد نظری سے کسی عورت کی طرف مت دیکھو مگر میں تمہیں کہتا ہوں کہ اس زمانہ کے سردار محمد مصطفےٰؐ کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تُو کسی نامحرم عورت کو نہ دیکھ خواہ بد نظری سے خواہ نیک نظری سے۔ سوائے اس کے کہ تیری نظر اتفاقی طور پر پڑ جائے کیونکہ دل کے بھی دروازے ہوتے ہیں جس طرح گھروں کے دروازے ہوتے ہیں اور دروازوں کو کھلا چھوڑنا اور چوروں سے مطمئن رہنا نادانی کی بات ہے اور بیوقوفوں کا کام ہے۔

تم سے کہا گیا تھا کہ اسقدر شراب نہ پیئو کہ مست ہو جاؤ مگر میں تم سے کہتا ہوں کہ نبیوں کے سردار کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تم میں سے کوئی شراب نہ پئے نہ مست ہونے کی حد تک اور نہ اس سے کم کیونکہ شراب ایک زہر ہے جو دماغ کی باریک طاقتوں کو ہلاک کر دیتا اور خدا سے ہمکلامی کی طاقت کو مار دیتا ہے اور وہ ایک اژدہا ہے جو انسان کو کھینچ کر ایسے علاقوں میں لے جاتا ہے جہاں وہ نہیں جانا چاہتا تھا۔

تم سے کہا گیا تھا کہ بے سبب غصہ مت ہو۔ مگر راستبازوں کے سردار کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تو یہی نہ کر کہ بے سبب غصہ مت ہو بلکہ تُو دُوسروں کو بھی سمجھا کہ بے سبب غصہ نہ ہوں اور لوگوں پر رحم کریں کیونکہ اگر یہ بے سبب غصہ نہیں ہوتا تو اپنی جان بچاتا ہے مگر یہ خدا سے ملنا چاہتا ہے تو اس کو چاہئے کہ دوسروں کو بھی بچائے۔

تم سے کہا گیا تھا کہ عورت کو سوائے زنا کے طلاق نہ دو مگر میں تمہیں اسلام کے مطابق یہ تعلیم دیتا ہوں کہ زنا ہی ایک بدکاری نہیں اس سے اُتر کر اور اس کے علاوہ بھی بہت سی بدکاریاں اور بدیاں ہیں تو اُن کی وجہ سے بھی جب دیکھے کہ عورت کی اصلاح کسی طرح نہیں ہو سکتی تو اس کو طلاق دے سکتا ہے جیسے اگر کوئی عورت ظالمہ ہے کہ دوسروں کو دُکھ دیتی ہے یا بد نظر ہے یا بے حیا ہے یا خائن ہے کہ لوگوں کے حقوق کو دبا لیتی ہے اور باوجود سمجھانے کے باز نہیں آتی اِس صورت میں وہ تجھ سے نہیں بلکہ ایک خراب شدہ عضو ہے اگر وہ علاج پذیر نہیں ہوتا تو اس کو کاٹ کر پھینک دے۔

تمہیں کہا گیا تھا کہ قسم نہ کھا لیکن اسلام کے مطابق تمہیں یہ تعلیم دیتا ہوں کہ جھوٹی قسم نہ کھا اور نہ بلا ضرورت قسم کھا اور نہ ان چیزوں کی قسم کھا جن کی قسم کھانا قسم کی غرض کو پورا نہیں کرتا۔ ہاں ضرورت کے مطابق سچی قسم ٹُوکھا سکتا ہے کیونکہ دُنیا کے کاروبار کو درست طور پر چلانے کے لئے قسم بھی ایک ضروری شئے ہے اور حکومتوں کے بہت سے کام قسم کے ذریعے ہی چلتے ہیں۔

تم سے کہا گیا تھا کہ ظالم کا مقابلہ نہ کر مگر میں تم سے اسلام کی تعلیم کے مطابق کہتا ہوں کہ ہر جگہ ہر ظالم کا مقابلہ نہ کرنا درست نہیں بلکہ اصل تعلیم یہی ہے کہ ہر ایک بدی کا بدلہ اس کے مطابق ہے۔ ہاں جس جگہ بدی کے معاف کر دینے سے بدکار کی اصلاح کی اُمید ہو یا اور کوئی ایسا فائدہ مترتب ہوتا ہو جو بدکار کو سزا دینے سے زیادہ ہے تو تب تو معاف کر اور سزا نہ دے کیونکہ اس صورت میں اگر تُو سزا دیگا تو بدی کو پھیلانے والا ہو گا نہ اس کو مٹانے والا۔

تم سے کہا گیا تھا کہ اپنے دشمن سے پیار کرو مگر میں تمہیں اسلام کی تعلیم کے مطابق کہتا ہوں کہ تُو اپنی نفسانیت کی وجہ سے کسی کا دشمن نہ ہو اور نہ اپنی نفسانیت کی وجہ سے کسی کو اپنا دشمن بننے کا موقع دے اور چاہئے کہ تیرا دشمن ہونا صرف خدا اور اس کے رسولؐ اور اس کی کتاب کی وجہ سے ہو اور اس صورت میں بھی تُو اس کے لئے دعا کرے اور اس کے لئے ہدایت طلب کرے مگر یاد رکھ کہ اس کے فعل سے پیار نہ کر اور اس کو ایک آنکھ سے پسند نہ کر بلکہ چاہئے کہ جسقدر جلد ہو سکے اس کو مٹا اور دنیا کو بدی سے پاک کر کیونکہ بدی کا قائم رہنا نہ صرف تیرے لئے بلکہ اس کے لئے بھی جو بدی کرتا ہے مُضر ہے۔ تجھے چاہئے کہ بد انسان کا خیر خواہ ہو اور بدی کا دشمن۔

پھر وہ مسیحیوں سے مخاطب ہو کر یوں کہتا کہ اے لوگو جنہوں نے حلم کو اپنا شعار بنایا ہے اور محبت کو اپنا لباس تم کیوں منہ سے وہ باتیں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟ کیا فریسی اور فقیہی یہی کام تم سے پہلے نہیں کرتے تھے؟ اور کیا وہ باوجود موسیٰ اور دوسرے نبیوں پر ایمان لانے کے ہلاک نہیں ہو گئے؟ پھر تم میں کیا فضیلت ہے کہ صرف منہ کی حلیمی اور زبان کی باتوں سے تم خدا کی بادشاہت میں داخل ہو جاؤ؟ چاہئے کہ جس طرح تم کہتے ہو کر کے بھی دکھاؤ تا خدا تمہیں صداقت کی طرف ہدایت کرے اور راستی کو تم پر ظاہر کرے۔ تم لوگوں کو سناتے ہو کہ اگر کوئی تیرے ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی اس کے سامنے پھیر دے لیکن تمہارا اپنا یہ حال ہے کہ بلا اس کے کہ کوئی تمہاری گال پر تھپڑ مارے تم دوسروں کی گالوں پر تھپڑ مارتے ہو اور اگر کوئی تم پر زیادتی کر بیٹھے تو تم اس وقت تک پیچھا نہیں چھوڑتے جب تک اس کو مٹا نہ لو تم چادر مانگنے والے کو کرتا بھی اُتار کر نہیں دیتے بلکہ جس کے جسم پر چادر دیکھتے ہو چاہتے ہو کہ چھین لو بلکہ ساتھ ہی کرتا بھی۔

تم لوگوں سے کہتے ہو کہ اپنے ہمسایوں سے پیار کرو لیکن تمہارا کون سا ہمسایہ ہے جو تم سے

خوش ہے؟ تم اپنے ہمسایوں کو مٹانا چاہتے ہو اور ان کی قبروں پر بیٹھ کر مے کے پیالے اُڑاتے ہو اور ان کے برباد مکانوں میں عیش کی مجالس مقرر کرتے ہو اور ان کی بیواؤں اور ان کے یتیموں کی آہ و زاریوں پر قہقہہ لگاتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ اسی لائق تھے۔

تم لوگوں کو سناتے ہو کہ چاہئے کہ تمہارے عمل دکھاوے کے لئے نہ ہوں لیکن خود تمہارے عمل اسی قسم کے ہوتے ہیں کیا تمہاری ہر ایک بات دکھاوے کے لئے نہیں؟ کیا تمہارا ہر ایک کام ریاء کے طور پر نہیں؟ اور کیا تم نے اپنی تمام ترقی کا مدار اسی کو نہیں سمجھ رکھا کہ لوگوں کو بتاؤ کہ ہم نے کیا کام کئے ہیں؟

تم لوگوں سے کہتے ہو کہ نیکی کو نیکی کے لئے کرو لیکن خود تم ہر ایک کام کرنے سے پہلے یہ دیکھ لیتے ہو کہ اس سے ہمیں سیاسی فائدہ کیا پہنچے گا اور مالی فائدہ کیا پہنچے گا؟ حتیٰ کہ تم اس کلام کو بھی جسے خدا کا کلام سمجھتے ہو اس لئے دُنیا میں پھیلاتے ہو تا تمہارا جتھہ مضبوط ہو جائے اور تمہاری طاقت بڑھ جائے ورنہ تم میں سے اکثر ایسے ہیں جو خدا اور اس کے کاموں پر مطلق یقین نہیں رکھتے۔

تم لوگوں کو خدا کی بادشاہت کے وعدے دیتے اور اس کی طرف بلاتے ہو لیکن تمہارا اپنا یہ حال ہے کہ وہ تسلی دہندہ جس کی نسبت یسوع کہہ چکا ہے کہ وہ ساری سچائی کی باتیں سکھائے گا اس کو آئے ہوئے تیرہ سو سال سے زیادہ گزر چکے ہیں اور اب تک تم نے اس کو قبول نہیں کیا اور نہ صرف یہ کہ اس کو قبول نہیں کیا بلکہ تم اس سے عداوت کرتے ہو اور اس سے پیار کرتے ہو جو بیٹے کے رنگ میں آیا اور اس سے دشمنی کرتے ہو جو باپ کا نام پا کر آیا اور یہ بھول جاتے ہو کہ بیٹے کا گناہ معاف ہو سکتا ہے مگر رُوح کا نہیں۔ تمہیں کیا ہو گیا کہ تم شاخ سے محبت کرتے ہو مگر جڑ کو کاٹتے ہو۔

سب سے بڑا جرم جس کے مقابلہ میں تمہارے سب عیب حقیر نظر آتے ہیں یہ ہے کہ تم اس کی ہتک کرتے ہو جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے اور جو آدمؑ کا خدا ہے اور نوحؑ کا خدا ہے اور ابراہیمؑ کا خدا ہے اور اسحاقؑ اور اسمعیلؑ کا خدا ہے اور یوسفؑ کا خدا ہے اور موسیٰ کا خدا ہے اور داؤد کا خدا ہے اور یسوع کا خدا ہے۔ تم پڑھتے ہو کہ وہ ایک خدا ہے اور تم یہ بھی پڑھتے ہو کہ اس نے بیٹے کو سب کچھ دیا اور تم یہ بھی پڑھتے ہو کہ تم اس کے مقابلہ میں کسی کو کھڑا مت کرو مگر پھر تم یسوع مسیح کو جو اس کا ایک بندہ تھا اور نبیوں میں سے ایک نبی

اور صرف تمثیلی طور پر خدا کا بیٹا کہلاتا تھا جس طرح اور بعض نبیٔ خدا کہلاتے تھے خدا کا حقیقی بیٹا قرار دیتے ہو اور اس کے لئے عبادت کرتے ہو اور اس سے دُعائیں مانگتے ہو اور اس کی بڑائی اس طرح کرتے ہو جس طرح خدا کی کرنی چاہئے اور پھر ساتھ ہی ساتھ ایک ہی سانس سے یہ بھی کہے جاتے ہو کہ شرک نہ کرو کہ شرک ایک بہت بُری چیز ہے اور خدا کی نظروں میں ناپسند۔ اور نہیں ڈرتے کہ اس عظیم الشان گناہ کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ خود یسوع مسیح تمہارے خلاف باپ کے سامنے کھڑا ہوگا اور تم پر گواہی دے گا اور تم سے نفرت کا اظہار کرے گا کیونکہ اس نے عمر بھر یہی تعلیم دی کہ تُو سب سے زیادہ باپ کی عزت کر اور وہ یہی کہتا رہا کہ علم غیب بھی خدا کو ہے اور سب طاقت بھی خدا کو ہے اور سب نشانات بھی اس کے پاس ہیں اور فیصلہ بھی وہی کرے گا اور مالک بھی وہی ہے اور رازق بھی وہی ہے مگر باوجود اس کے تم نے اس کی باتوں کو ردّ کیا۔ تم نے اس سے محبت کر کے دشمنی کی اور پیار جتا کر مخالفت کا اظہار کیا اور اس کے کہلا کر اس کے عمر بھر کے کام کو تباہ کیا اور پھر تم خوش ہو کہ وہ واپس آکر تمہارے کاموں کا اچھا بدلہ دے گا۔ اے نادانو! اچھا بدلہ نہیں بلکہ وہ تمہیں ملزم کرنے کے لئے آوے گا چنانچہ میں اس کے نام پر اس لئے کھڑا کیا گیا ہوں تا تمہاری غلطیوں پر تمہیں آگاہ کروں اور تمہیں اس عذاب کے دن سے ڈراؤں جس دن آسمان ہلائے جاویں گے اور زمین جنبش کھائیگی اور ہر ایک انسانی صنعت جس پر وہ فخر کرتا تھا اور اسے اچھا سمجھتا تھا اپنے بنانے والے کے لئے ہلاکت کا موجب ہوگی اور انسان اپنے ہاتھوں کی محنت سے مارا جائے گا اور اپنی انگلیوں کی صنعت سے قتل کیا جائے گا اور جس پر وہ فخر کرتا تھا وہی اس کو اس کی قبر میں دھکیلے گی۔ پس وقت سے پہلے ہوشیار ہو جاؤ اور اس گھڑی کے آنے سے پہلے توبہ کرلو اور اس کو قبول کر لو جس کی اپنی پہلی بعثت میں مسیح نے خبر دی اور اب اپنی دوسری بعثت میں وہ تمہیں اس کی طرف بلاتا ہے۔ اگر تم اس کو قبول کرلو گے تو میں تمہارا اپنے باپ کے پاس گواہ ہوں گا اور تمہاری راستبازی کو اس پر ظاہر کروں گا اور تم اس کی رضا کو پاؤ گے اور اس کی رحمت کے کاموں کو محسوس کرو گے۔

تم کہتے ہو کہ مسیح صلیب پر لٹک کر فوت ہو گیا اور اس طرح اس کو جو بے گناہ تھا لعنتی قرار دیتے ہو اور جو تمہارے لئے دُکھ اُٹھاتا تھا اسے لوگوں کی نظروں میں حقیر قرار دیتے ہو کیونکہ مقدس نوشتوں میں لکھا تھا کہ جو صلیب پر لٹک کر مرتا وہ لعنتی اور جھوٹا نبی ہوتا ہے۔ پس تم اپنے منہ سے اس کے جھوٹے ہونے کا اقرار کرتے ہو اور اس کے دشمنوں کو اس پر ہنسنے کا موقع دیتے ہو۔ لعنت تو خدا سے دُوری کو کہتے ہیں پھر تم کس طرح کہتے ہو کہ مسیح خدا کا پیارا بھی تھا اور پھر اس کا دل خدا سے پھر گیا؟ خدا سے دل سوائے بدکار کے کسی کا نہیں پھرتا اور اس سے نفرت سوائے سرکش کے کوئی نہیں کرتا پھر تم کیوں یسوع مسیح کو جو خدا کا پیارا اور محبوب تھا لعنتی قرار دیتے ہو؟ کیا پڑھتے نہیں کہ: ”اس زمانہ کے بد اور حرام کار لوگ نشان ڈھونڈتے ہیں۔ پر یونسؑ نبی کے نشان کے سوا کوئی نشان انہیں دکھایا نہ جائے گا۔ کیونکہ جیسا یونسؑ تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسا ہی ابنِ آدمؔ تین رات دن زمین کے اندر رہے گا۔“ (متی باب ۱۲ آیت ۳۹، ۴۰ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) پھر کیوں نہیں غور کرتے کہ کیا یونسؑ مر کر مچھلی کے پیٹ میں گیا تھا؟ کہ ابنِ آدمؔ صلیب پر مر کر قبر میں رکھا جائے؟ کیا یونسؑ تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں مردہ رہا تھا یا زندہ؟ پھر کیوں ابنِ آدمؔ تین دن رات زمین میں مُردہ رہے؟ عقلمند ہو کر کیوں اپنی آنکھیں بند کرتے ہو؟ اور اپنے استاد کو گنہگار ٹھہراتے ہو تا تم راست باز ٹھہرو۔ یونس زندہ ہی مچھلی کے پیٹ میں گیا اور زندہ ہی رہا اور زندہ ہی نکلا۔ اسی طرح ابنِ آدم زندہ ہی قبر میں گیا اور زندہ ہی وہاں رہا اور زندہ ہی وہاں سے نکلا اور یروشلم کو خدا کا یہ نشان دکھایا گیا کہ کس طرح خداوند خدا زندگی اور موت کا خدا صلیب پر سے اپنے بندہ کو زندہ اُتارتا اور دشمن کی آنکھوں کے سامنے اسے موت سے بچا لیتا اور خود مخالفوں کے ہاتھوں سے اپنی باتیں پوری کروا لیتا ہے۔ تمہیں کیا ہو گیا کہ تم پڑھتے ہو کہ وہ قبر میں سے نکلنے کے بعد چھپ کر یروشلم میں پھرتا رہا اور اس نے اپنے زخم تھوما کو دکھائے اور حواریوں سے کہا کہ: ”میرے ہاتھ پاؤں کو دیکھو کہ میں ہی ہوں اور مجھے چھوؤ اور دیکھو کیونکہ روح کو جسم اور ہڈی نہیں جیسا مجھ میں دیکھتے ہو اور یہ کہہ کے انہیں اپنے ہاتھ اور پاؤں دکھائے۔“ (لوقا باب ۲۴ آیت ۳۹، ۴۰ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) اور پھر ان سے لیکر اس نے کھانا بھی کھایا مگر پھر یقین نہیں کرتے کہ خدا نے اسے صلیب کی لعنتی موت سے بچایا اور صرف موت کے ہم رنگ حالت میں سے گزار کر اور یونسؑ نبی کا سا معجزہ دکھا کر لوگوں پر حجت قائم کر دی اور پھر اسے موقع دیا کہ وہ بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو تلاش کرے

اور انہیں بھی خدا کی بادشاہت کی خوشخبری دے۔

غرض آپ اسی طرح کی باتیں کرتے اور لوگوں کو کئی کئی رنگ میں سمجھاتے اور ان مضامین کو جنہیں میں نے اوپر بیان کیا ہے۔ مختلف لفظوں اور مختلف عبارتوں میں کبھی تحریر کے ذریعے اور کبھی تقریر کے ذریعے لوگوں تک پہنچاتے اور اس کے علاوہ اور بہت سی حکمت کی باتیں آپ کرتے اور دوسرے مذاہب کو بھی دعوت دیتے اور ان کی غلطیوں پر ان کو آگاہ کرتے اور خدا کا کلام ان کو سناتے اور جب آپ کوئی مضمون لکھتے یا تقریر کرتے تو اس قدر حکمت کی باتیں آپ کے قلم اور آپ کی زبان سے نکلتیں کہ لوگ حیران ہو جاتے اور تعجب کرتے اور بہت لوگ دل میں ڈرتے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں سچ ہے پر بہت لوگ پادریوں اور پنڈتوں اور مولویوں کے کہنے پر یہ خیال کرتے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں ان کو دوسرے لوگ سکھاتے ہیں اور خود ان کو کچھ نہیں آتا اور اس طرح اقرار کر لیتے کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں وہ ایسا اعلیٰ درجہ کا کلام ہے کہ آپ کی طاقت سے بالا ہے مگر شبہات کی چادروں میں اس حقیقت کو لپیٹنے کی کوشش کرتے اور اپنے انکار میں اور بھی بڑھ جاتے۔

جب مولویوں، عالموں اور پادریوں نے دیکھا کہ آپؐ کی باتیں لوگوں کے دل پر اثر کرتی ہیں اور جو لوگ آپ سے ملتے ہیں آپ کے کلام کو سن کر متاثر ہو جاتے ہیں تو انہوں نے لوگوں میں یہ کہنا شروع کیا کہ اس کی باتیں مت سنو اور اس کی کتابیں مت پڑھو کیونکہ اس کا تعلق شیطان سے ہے اور یہ جادو سے لوگوں کے دلوں کو حق سے پھیر دیتا ہے اور اپنی جھوٹی باتیں ان کی نظروں میں اچھی کر کے دکھا دیتا ہے۔ اور انہوں نے آپ کے خلاف لوگوں میں جوش پیدا کرنا شروع کیا اور پادریوں نے گورنمنٹ کو اُکسانا شروع کیا کہ یہ یسوع مسیح کی ہتک کرتا ہے اور مولویوں نے عوام الناس کو جوش دلانا شروع کیا کہ یہ کفر کی باتیں کرتا ہے کیونکہ وہ ڈرے کہ اگر اس کی تعلیم کو ہم نے نہ روکا تو لوگ اس کی باتوں کو قبول کر لیں گے اور ہماری حکومت جو لوگوں پر ہے جاتی رہے گی اور ایسا ہوا کہ ملک کے بڑے بڑے مولویوں نے مل کر ایک فتویٰ تیار کیا اور اس میں آپ کے خلاف اور آپ کے مریدوں کے خلاف خوب زہر اُگلا اور لکھ دیا کہ یہ شخص واجب القتل ہے اور دین سے خارج ہے اور اس کو نقصان پہنچانا ثواب کا موجب ہے اور اس کو اور اس کے ماننے والوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں بھی دفن نہیں ہونے دینا چاہئے اور ہر ایک مذہب والے نے اپنی رائے سے اس پر الزام قائم کرنا چاہا اور یہ نہ دیکھا کہ خدا کی کتابیں اور اس کے رسولوں کی باتیں کیا ثابت کرتی ہیں؟ مگر اس تمام شورش کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر ایک جگہ اس کے قلیل التعداد ماننے والے دُکھ دیئے جانے لگے اور لوگ اپنی نادانی سے یہ سمجھتے تھے کہ ان کو تکلیف دیکھ ہم خدا کو خوش کرتے ہیں اور کوئی نہ جانتا تھا کہ وہ خدا کو ناراض مگر مولویوں کو خوش کر رہا ہے۔

جب مولویوں اور پادریوں اور دیگر فرقوں کے مذہبی لیڈروں نے دیکھا کہ اب بھی اس کی باتیں اثر کر رہی ہیں تو انہوں نے آپ کے خلاف جھوٹی باتیں شائع کرنی شروع کیں۔ اور گالیوں کے بھرے ہوئے اشتہار جن کو ایک شریف آدمی پڑھ بھی نہیں سکتا شائع کرنے لگے اور ایسے ایسے طریق ایذاء دہی کے ایجاد کئے کہ شاید پہلے نبیوں کے دشمنوں کو وہ نہیں سوجھے تھے۔

اور بعضوں نے یہ دیکھ کر اشتہاروں کے ذریعے ان کے جوش نہیں نکل سکتے کیونکہ گورنمنٹ انگریزی کا قانون فحش کی اشاعت کا مانع ہے یہ طریق ایجاد کیا کہ خطوں میں سخت گندی گالیاں جن کو نہ تحریر میں لایا جا سکتا ہے اور نہ قانون اور اخلاق ان کو تحریر میں لانے کی اجازت دیتے ہیں بغیر ٹکٹ لگانے کے آپ کے پاس بھیج دیتے اور کئی ہزار خطوط اس قسم کے آپ کے پاس پہنچے جن کا محصول ادا کر کے جب ان کو کھولا گیا تو اندر سے گالیوں کے سوا کچھ نہ نکلا۔ مگر آپ ان باتوں کی پرواہ نہ کرتے اور اپنا کام کئے جاتے اور خدا تعالیٰ کے حضور میں عاجزانہ طور سے دعائیں کرتے کہ لوگوں کی آنکھیں کھول دے تا وہ تیرا چہرہ دیکھیں اور میری ضد سے تیرے دروازہ کو نہ چھوڑیں اور اپنے لئے آپ نجات کے دروازے بند نہ کریں۔

آپ دن کو وعظ و نصیحت کرتے اور راتوں کو اللہ تعالیٰ کے حضور میں دُعائیں کرتے تا وہ دنیا پر رحم کرے اور اپنا چہرہ ظاہر کرے اور اسی طرح دن کے بعد دن ، ہفتہ کے بعد ہفتہ اور مہینہ کے بعد مہینہ گزرتا اور اسی کام میں آپ مشغول رہتے اور خدا تعالیٰ کی طرف بلائے بغیر ایک دن بھی آرام نہ کرتے، دیکھنے والے تھک جاتے، باری باری مدد کرنے والے چور ہو جاتے مگر آپ با وجود کمزور صحت اور بڑی عمر کے نہ تھکتے نہ گھبراتے بلکہ خوش خوش خدا تعالیٰ کی تبلیغ میں مشغول رہتے۔ نہ گالیوں کی پرواہ کرتے اور نہ مخالفت کا خیال اور صرف اسی وقت سختی کا جواب دیتے جب یہ سمجھتے کہ اس کے بغیر دین کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ مگر آپ کا دشمن کے حملہ کا جواب اس کی اصلاح کی غرض سے ہوتا تھا نہ کہ کسی کو دُکھ پہنچانے کے لئے۔

جبکہ دشمن اپنی طاقت کے گھمنڈ میں تھا اور یہ خیال کرتا تھا کہ میں اس شخص کو جو اکیلا ہے پیس ڈالوں گا وہ زبردست بادشاہ جس نے اسے بھیجا تھا کہ تا اس کے بندوں سے اس کے حقوق طلب کرے اسے بشارت پر بشارت دے رہا تھا اور تسلی پر تسلی دلا رہا تھا اور بجائے اس کے کہ

اس مخالفت سے وہ ڈرے یا خیال کرے کہ شاید اس مخالفت کو دیکھ کر لوگ مجھ پر ایمان نہ لائیں گے وہ اور بھی زیادہ زور سے خدا تعالیٰ کے ان وعدوں کو جو اس سے ہوئے تھے شائع کر رہا تھا جن میں سے بعض یہ ہیں:۔

”خدا تیرے نام کو اس روز تک جو دنیا منقطع ہو جائے عزت کے ساتھ قائم رکھے گا اور تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا میں تجھے اٹھاؤں گا اور اپنی طرف بلالوں گا پر تیرا نام صفحۂ زمین سے کبھی نہیں اُٹھے گا اور ایسا ہو گا کہ سب وہ لوگ جو تیری ذلت کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور تیرے ناکام رہنے کے درپے اور تیرے نابود کرنے کے خیال میں ہیں وہ خود ناکام رہیں گے اور ناکامی اور نامرادی میں مرینگے لیکن خدا تجھے بکلی کامیاب کرے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دیگا۔ میں تیرے خالص اور دلی مُحبّوں کا گروہ بھی بڑھاؤں گا اور ان کے نفوس و اموال میں برکت دوں گا اور ان میں کثرت بخشوں گا اور وہ مسلمانوں کے اس دوسرے گروہ پر تا بروزِ قیامت غالب رہیں گے۔ جو حاسدوں اور معاندوں کا گروہ ہے خدا انہیں نہیں بھولے گا اور فراموش نہیں کرے گا اور وہ علیٰ حسب الاخلاص اپنا اپنا اجر پائینگے۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسے انبیائے بنی اسرائیل (یعنی ظلی طور پر اُن سے مشابہت رکھتا ہے) تو مجھ سے ایسا ہے جیسی میری توحید۔ تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں اور وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا بادشاہوں اور امیروں کے دلوں میں تیری محبت ڈالے گا یہاں تک کہ وہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ اے منکرو اور حق کے مخالفوا اگر تم میرے بندے کی نسبت شک میں ہو۔ اگر تمہیں اس فضل و احسان سے کچھ انکار ہے جو ہم نے اپنے بندے پر کیا تو اس نشانِ رحمت کی مانند تم بھی اپنی نسبت کوئی سچا نشان پیش کرو اگر تم سچے ہو اور اگر تم بھی پیش نہ کر سکو اور یاد رکھو کہ ہرگز پیش نہ کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو کہ جو نافرمانوں اور جھوٹوں اور حد سے بڑھنے والوں کے لئے تیار ہے۔“(تذکرہ صفحہ ۴۱، ۴۲ ایڈیشن چہارم)

”تُو مغلوب ہو کر یعنی بظاہر مغلوبوں کی طرح حقیر ہو کر پھر آخر غالب ہو جائیگا اور انجام تیرے لئے ہوگا اور ہم وہ تمام بوجھ تجھ سے اُتار لیں گے جس نے تیری کمر توڑ دی خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ تیری توحید تیری عظمت تیری کمالیت پھیلا دے

خدا تعالیٰ تیرے چہرہ کو ظاہر کرے گا اور تیرے سایہ کو لمبا کرے گا۔ دُنیا میں ایک نذیر آیا۔ پر دُنیا نے اِسے قبول نہیں کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ عنقریب اسے ایک ملکِ عظیم دیا جائے گا اور خزائن اس پر کھولے جائیں گے۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے اور تمہاری آنکھوں میں عجیب۔ ہم عنقریب تم میں ہی اور تمہارے اردگرد نشان دکھاویں گے۔ حجت قائم ہو جائے گی اور فتح کھلی کھلی ہوگی۔ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک بھاری جماعت ہیں یہ سب بھاگ جائیں گے اور پیٹھ پھیریں گے۔ اگر لوگ تجھے چھوڑ دینگے پر مَیں نہیں چھوڑوں گا اور اگر لوگ تجھے نہیں بچائیں گے پر مَیں بچاؤں گا۔ مَیں اپنی چمکار دکھلاوں گا ۔ قدرت نمائی سے تجھے اُٹھاؤں گا۔ اے ابراہیم تجھ پر سلام ہم نے تجھے خالص دوستی کے ساتھ چُن لیا خدا تیرے سب کام درست کر دے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا تو مجھ سے ایسا ہے جیسی میری توحید اور تفرید۔ خدا ایسا نہیں جو تجھے چھوڑ دے جب تک وہ خبیث کو طیّب سے جدا نہ کرلے وہ تیرے مجد کو زیادہ کرے گا اور تیری ذریّت کو بڑھائے گا اور رَہْن بعد تیرے خاندان کا تجھ سے ہی ابتداء قرار دیا جائے گا۔ مَیں تجھے زمین کے کناروں تک عزّت کے ساتھ شہرت دوں گا اور تیرا ذکر بلند کرونگا اور تیری محبت دلوں میں ڈال دونگا جَعَلْنَاكَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ ہم نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنایا ، ان کو کہہ دے کہ میں عیسیٰ کے قدم پر آیا ہوں۔ یہ کہیں گے کہ ہم نے پہلوں سے ایسا نہیں سنا۔ سو تُو اُن کو جواب دے کہ تمہارے معلومات وسیع نہیں ۔ خدا بہتر جانتا ہے۔ تم ظاہر لفظ اور ابہام پر قانع ہو اور اصل حقیقت تم پر مکشوف نہیں۔“ ”خدا تیرے دشمنوں کے مقابلہ میں تیرے لئے خود سامان پیدا کرے گا۔ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو ہدایت پائیں گے اور کچھ لوگ سزا کے مستحق ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہونگے جو تیرے خلاف تدبیریں کریں گے اور اللہ تعالیٰ بھی تدبیریں کرے گا اور اللہ اچھی تدبیریں کرنے والا ہے اور یہ لوگ تجھے ایک ہنسی کے قابل اور حقیر وجود سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا اللہ نے اس شخص کو رسول بنا دیا ہے؟ تُو کہہ اے منکرو! مَیں سچا ہوں پس میرے نشانات کا ایک وقت تک انتظار کرو۔ ہم ضرور اپنے نشانات ان کو بیرونی دنیا میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کی اپنی جانوں میں بھی دکھائیں گے جو ہمیشہ کے لئے ایک دِل ہوں گے اور کُھلی کُھلی فتح کا موجب ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ خود ہی تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والے اور جھوٹے کو کامیابی کا راستہ نہیں دکھاتا۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نُور کو اپنے مونہوں کی پھونکوں سے بُجھا دیں اور اللہ چاہتا ہے کہ خواہ منکر اسے کس قدر ناپسند کرتے ہوں وہ اپنے نُور کو قائم کر کے دکھائے۔ (ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ ۴۳۴، ۴۳۵، روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۳۴۱، ۳۴۲)

یہ باتیں اس وقت لوگوں کو ایک مجنونانہ بڑ معلوم ہوتی تھیں اور لوگ دلوں میں ہنستے تھے کہ اس شخص کو کیا ہو گیا کہ ساری دنیا اس کی دُشمن ہے اور سب مذاہب اس پر حملہ کر رہے ہیں؟ اور اس کے ساتھ کوئی جتھا نہیں۔ چند گنتی کے آدمی اس پر ایمان لائے ہیں اور اس کا نام قعرِ گمنامی میں پڑا ہوا ہے اور اس کی عمر آخر ہونے کو ہے اور یہ اس قدر زور سے دعویٰ کر رہا ہے کہ مَیں غالب آؤں گا اور لوگ کثرت سے مجھ پر ایمان لاویں گے اور دُنیا کے کناروں تک میرے نام کو خدا مشہور کرے گا اور مَیں اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گا اور خدا سے دُور جانے والوں کو خدا تعالیٰ کی طرف پھیر کر لاؤں گا۔ مگر آج جب کہ چالیس سال اس دعوے پر گزر گئے ہیں یہ پیشگوئیاں پوری ہو کر دنیا کو حیران کر رہی ہیں۔ دنیا کے کناروں تک آپ کا نام مشہور ہو چکا ہے اور لاکھوں آدمی اس وقت تک ایمان لا چکا ہے۔

جب یہ دعاوی اور خدا کی باتیں شائع کی جاتیں تو مخالف اور بھی زیادہ جوش میں آتے اور ان باتوں کو کفر اور بے دینی کی باتیں قرار دیتے اور لوگوں کو اور بھی زیادہ جوش دلاتے۔ اور ایک طرف تو گورنمنٹ کو توجہ دلاتے کہ یہ حکومت کا خیر خواہ نہیں بلکہ بدخواہ ہے اور موقع کی تلاش میں ہے اور دوسری طرف لوگوں کو کہتے کہ یہ گورنمنٹ کا خوشامدی ہے اور جہاد کا منکر ہے۔

اور ایسا ہوا کہ اپنے دعویٰ کے شروع میں آپ نے کچھ سفر اختیار کئے اور ان سفروں میں یہ حکمت تھی کہ آپؑ مسیح سے مشابہت اختیار کریں۔ جہاں جہاں آپ جاتے لوگ سخت مخالفت کرتے اور آپ کے مکان کے سامنے سارا دن بڑا بھاری مجمع رہتا اور لوگ ہر وقت اس بات پر آمادہ رہتے کہ آپ پر حملہ کریں لیکن گورنمنٹ کے انتظام کے ڈر سے کچھ نہ کر سکتے۔

سب سے پہلے آپؑ لدھیانہ گئے اور یہاں ارد گرد سے علماء نے اکٹھے ہو کر خوب لوگوں کو اُکسایا مگر ڈپٹی کمشنر نے ان کے سردار کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا تب شور دبا۔ پھر آپؑ دہلی گئے جو اس وقت دارالخلافہ ہے اور وہاں ہندوستان کے مولویوں کا جو سردار تھا اسے آپؑ نے

بالمقابل بلایا کہ وہ قسم کھا کر یہ اعلان کر دے کہ کیا فی الواقع حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب تک زندہ موجود ہیں؟ اور اس کے لئے جامع مسجد دہلی جگہ مقرر کی گئی۔ وقتِ مقررہ پر ہزار ہا لوگ آگئے اور بہت سے لوگ اپنی جھولیوں میں پتھر لائے اور بعض سونٹے لائے اور بعض چھریاں اپنے ہاتھوں میں لائے اور لوگوں نے شور مچایا کہ یہ مسیحیت کا مدعی زندہ نہ جائے اور اتفاق یہ ہوا کہ اس وقت مسیح کی طرح آپ کے ساتھ بھی صرف بارہ مرید تھے۔ مگر ان لوگوں نے قابل رشک نمونہ دکھایا اور ہر ایک شخص یہ خواہش کرتا تھا کہ کاش! آج ہم خدا کے رسولؐ کی راہ میں مارے جائیں اور جب لوگوں نے بجائے مولوی کو قسم کھانے پر مجبور کرنے کے بلوہ کر کے آپ کو قتل کرنا چاہا تو ان بارہ مریدوں نے آپ کے گرد حلقہ بنا لیا اور وہ خدا کے شیر دل سپاہی ان لوگوں سے جن کی تعداد دس ہزار سے بھی زیادہ تھی خائف نہ ہوئے اور نہ ان کے ہتھیاروں سے ڈرے۔ مگر سپرنٹنڈنٹ پولیس ایک سو سپاہیوں سمیت وہاں پہنچ گیا تھا۔ اس نے لوگوں میں سے راستہ بنایا اور سپاہیوں کے حلقہ میں آپ کو باہر نکال لایا اور نہایت مشکل سے آپ کو گاڑی پر بٹھا کر گھر پہنچایا۔

اس وقت لوگوں کے جوش کا اندازہ اس واقعہ سے ہو سکتا ہے کہ آپ کے خاندان کی بعض مستورات اپنے رشتہ داروں کے گھر میں ٹھہری ہوئی تھیں۔ صاحب خانہ کی نوکر عورت نے ان سے ذکر کیا کہ یہاں ایک جھوٹا مدعی آیا ہوا ہے میرا بیٹا بھی چھری لے کر گیا ہے تاکہ اس کو مار کر ثواب حاصل کرے اور وہ عورت بہت خوش تھی کہ اس کے بیٹے سے یہ کام ہو۔ گو وہ جانتی تھی کہ اگر اس کا بیٹا اپنے ارادہ میں کامیاب ہوا تو سرکاری قانون کے ماتحت پھانسی پائیگا اس عورت کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ عورتیں بھی آپ ہی کے ساتھ کی ہیں۔

گو آپ کو گھر پر سلامتی سے پہنچا دیا گیا مگر لوگ گھر پر حملہ کرنے سے بھی باز نہ رہتے تھے بعض زبردستی اندر گھس جاتے بعض دھوکے اور فریب سے پولیس کے افسر بن کر اندر آ جاتے۔ مگر آپ برابر خدا کا کلام لوگوں کو پہنچاتے اور کہتے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اسیروں کی آزادی کے لئے آیا ہوں اور وہ جو بوجھوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں ان کو ان بوجھوں کے نیچے سے نکالنے کے لئے آیا ہوں جو خدا نے نہیں بلکہ آدمیوں نے ان پر لاد دیئے ہیں۔ میں اس لئے آیا ہوں تا گناہ کی ناپاکی پاک کر کے انسان کو خدا تعالیٰ تک پہنچا دوں اور تا دلوں سے دنیا کی محبت سرد کر کے خدا تعالیٰ کا عشق ان میں پیدا کروں اور تا دُنیا سے لڑائی اور جھگڑا اور کینہ اور بغض دور کر کے صلح اور امن اور محبت اس کی جگہ قائم کروں۔ مگر لوگ آپ کی تقریروں میں شور کرتے اور بعض کھڑے ہو کر گالیاں دینے لگ جاتے جنہیں سُن کر آپ خاموش ہو جاتے اور جب ان کا جوش ٹھنڈا پڑ جاتا اور وہ تھک جاتے تو پھر اپنی بات سنانے لگ جاتے اور وہ لوگ جو باتیں سنتے حیران ہوتے کہ لوگ کیا کہتے تھے اور اصل معاملہ کیا ہے۔ جہاں جہاں آپؐ جاتے سینکڑوں اندھے آنکھیں پاتے اور بہرے سننے لگتے اور وہ جن کے جسم مبروص تھے پاک ہوتے اور بیمار شفاء پاتے اور بہت مُردے زندہ ہوتے اور ایسا ہوتا کہ وہ شفایاب اور زندہ ہونے والے پھر اپنے اپنے گھروں کو نہ چلے جاتے بلکہ آپؐ کے ساتھ ایسے وابستہ ہو جاتے کہ پھر آپؐ سے جدا نہ ہوتے اور جہاں آپؐ کا پسینہ گرے وہاں وہ اپنا خون بہانے کے لئے تیار ہو جاتے۔

کچھ دنوں کے بعد آپؐ لاہور گئے اور وہاں سے سیالکوٹ اور وہاں سے جالندھر اور وہاں سے لدھیانہ اور پھر واپس قادیان آگئے اور تمام سفروں میں خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے رہے۔

یہ سفر حضرت مسیح موعودؑ کو اس لئے پیش آئے تا پہلے مسیحؑ سے آپؑ کو مشابہت حاصل ہو جائے جو اس لئے دنیا میں بھیجا گیا تھا تا کہ بنی اسرائیل کی گم شدہ بھیڑوں کو اکٹھا کرے اور ان کی تلاش میں جائے۔ ورنہ آپؐ بالعموم قادیان ہی میں رہے اور یہیں سے لوگوں کو تبلیغ کرتے اور کتابوں اور اشتہاروں کے ذریعے باہر کے لوگوں کو پیغامِ حق پہنچاتے یا اپنے شاگردوں کو باہر بھیجتے تا کہ لوگوں کو خدا کے دین کی طرف بلائیں اور ایسا ہونا ضروری تھا کیونکہ لکھا تھا کہ ابن آدم اپنی دوسری بعثت میں خود نہیں باہر جائے گا تا لوگوں کو بلائے بلکہ وہ:۔

”نرسنگے کے بڑے شور کے ساتھ اپنے فرشتوں کو بھیجے گا اور وے اس کے برگزیدوں کو چاروں طرف سے آسمان کی اس حد سے اس حد تک جمع کریں گے۔“

(متی باب ۲۴ آیت ۲۳ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء)

۱۸۹۳ء میں امرتسر میں مسیحیوں سے آپؑ کا ایک بڑا مباحثہ ہوا جو پندرہ دن تک ہوتا رہا اس میں پادریوں نے بعض لنگڑے اور اندھے جمع کئے تا کہ ان کو آپؑ کے سامنے پیش کر کے کہیں کہ اگر آپؐ مسیح ہیں تو ان کو اچھا کریں اور اس طرح آپؑ کو شرمندہ کریں۔ جب وہ لوگ آپؑ کو دکھائے گئے تو آپؑ نے کہا کہ اندھوں کو آنکھیں دینا اور لنگڑوں کو اچھا کرنا تو تمہاری کتب میں لکھا ہے اور وہاں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر تم میں رائی کے برابر ایمان ہو تو بیماروں پر ہاتھ رکھ کر کہو کہ اچھے ہو جاؤ تو وہ اچھے ہو جائیں گے۔ پس بہتر ہوا کہ آپ لوگ خود ہی بیمار لے آئے۔ پس اب ان کو اچھا کر کے بتائیں تا معلوم ہو کہ آپ کے اندر کم سے کم ایک رائی کے دانہ کے برابر تو ایمان ہے!

افسوس! ان نادانوں نے پہلے نبیوں سے سبق نہ سیکھا بلکہ خود مسیح کے حالات سے سبق نہ سیکھا اور نہ معلوم کیا کہ کس طرح خدا کے کلام میں تشبیہیں ہوتی ہیں اگر اس کلام میں تشبیہیں نہیں تو بتائیں کہ آج اس علمی زمانہ میں دیووں کے نکالنے کے کیا معنی ہوں گے؟ اسی طرح ایک دفعہ آپ کو شرمندہ کرنے کی یہ تدبیر کی کہ ایک اشتہار دیا کہ ہم ایک تحریر لکھ کر لفافہ میں بند کر دیتے ہیں آپؐ اس کو پڑھ دیں۔ آپؐ نے جواب دیا کہ میں اس بات کے لئے تیار ہوں بشرطیکہ ایک جماعت پادریوں کی دستخط کر دے کہ اگر میں نے تحریر پڑھ دی تو وہ اسلام قبول کریں گی؟ لیکن کسی کو اس کے بعد مقابلہ پر آنے کی جرأت نہ ہوئی۔

غرض اسی طرح کئی جگہ آپؐ نے حق پہنچانے کے لئے سفر کئے اور ظالم لوگوں سے بہت تکالیف اٹھائیں، گالیاں بھی سنیں، لوگوں نے پتھر بھی مارے، گھر پر حملہ بھی کیا۔ بعض دفعہ لوگ دور تک آپؐ کا پیچھا کرتے تا اگر ہو سکے تو پکڑ کر قتل کر دیں مگر خدا تعالیٰ نے سب کو ناکام رکھا اور اس مخالفت کے زور کے وقت آپؐ بار بار شائع کرتے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ وہ مجھے دشمنوں کے حملوں سے محفوظ رکھے گا اور وہ مجھ کو پہلے مسیح کی طرح دُکھ نہ دے سکیں گے بلکہ اس دفعہ ان کو ظاہری خوشی بھی نصیب نہ ہو گی۔ اور آپؐ کے مخالف آپؐ کو جھوٹا ثابت کرنے کی غرض سے آپؐ کے مارنے کے لئے اور بھی زیادہ کوشش کرنے لگے اور بعض لوگوں کو لالچ دے دے کر مارنے کے لئے بھیجا مگر ہر دفعہ ان کا حملہ ناکام رہا اور یا تو بد نیت دشمن موقع ہی نہ پاسکا اور اس کی نیت کا پہلے سے ہی پتہ لگ گیا اور یا یہ ہوا کہ وہ آپؐ کے سامنے آکر آپؐ کی روحانی طاقت سے ایسا متاثر ہوا کہ خود ایمان لے آیا اور بجائے آپؐ کو مارنے کے خود اپنی جان آپؐ پر قربان کرنے کے لئے تیار ہوا یا کم سے کم سچائی سے ایسا متاثر ہوا کہ اس نے اصل راز ظاہر کر دیا۔ غرض ہر تدبیر میں دشمن ناکام رہے۔

ایک دفعہ آپؐ نے یہ دیکھ کر کہ مخالف لوگوں کو باتیں سننے ہی نہیں دیتے یہ تدبیر کی کہ تمام مذاہب کے لوگوں کو یہ دعوت دی کہ زندہ مذہب کی یہ علامت ہے کہ وہ اپنے اندر زندگی کی رُوح رکھتا ہو۔ پس بجائے بحثوں اور جھگڑوں کے چاہئے کہ ہم خدا سے اپنی سچائی کی شہادت طلب کریں جس کی خدا شہادت دے اس کی صداقت پر یقین لے آویں اور اس کے لئے چاہئے کہ یا تو دُعا کے ذریعے سے مقابلہ ہو۔ یا اس طرح کیا جائے کہ میرے پاس لوگ آکر چالیس دن تک رہیں اگر اس عرصہ میں وہ کوئی تازہ نشان نہ دیکھیں تو بے شک مجھ کو اور میرے مذہب کو جھوٹا کہیں اور اگر

وہ کوئی نشان دیکھیں تو چاہئے کہ وہ بھی اور ان کے ساتھی بھی حق کو قبول کریں۔ مگر چونکہ آپ کے دشمنوں کی غرض حق کا معلوم کرنا نہ تھی بلکہ حق کو مشتبہ کرنا تھی ان دونوں تدبیروں میں کسی ایک تدبیر کو بھی انہوں نے اختیار نہ کیا کیونکہ وہ ڈرتے تھے کہ اگر کوئی نشان ظاہر ہوا تو ہم عوام الناس کو کیا کہہ کر روکیں گے؟ اور پھر اس کی ترقی میں کیا شبہ رہ جائے گا؟ پس ہر ایک طریق فیصلہ جو آپ پیش کرتے وہ اس سے کسی نہ کسی بہانہ سے گریز کرتے تھے اور مقابل پر نہ آتے تھے۔

۱۸۹۶ء میں اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی صداقت کے اظہار کا ایک خاص موقع نکال دیا اور وہ یہ کہ اس سال لاہور میں ایک مذاہب کی کانفرنس بیٹھی اور بعض سوال مقرر کر کے سب مذاہب کے علماء سے چاہا گیا کہ وہ ان کے متعلق اپنے اپنے مذاہب کے خیالات کا اظہار کریں۔ آپؑ کو بھی اس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی اور آپؑ نے باوجود بیماری کے اس کے لئے مضمون لکھا جس کے متعلق قبل از وقت اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ وہ مضمون سب مضامین سے بالا رہے گا۔ چنانچہ اس پیش گوئی کے متعلق اشتہار چھاپ کے لاہور کی گلیوں میں جلسہ سے پہلے ہی لگا دیا گیا۔ اس کانفرنس کی وجہ سے ہر مذہب و ملت کے لوگوں نے ٹھنڈے دل سے آپؐ کے خیالات کو سنا اور سب نے اقرار کیا کہ سب مضامین میں سے آپؐ کا مضمون بالا رہا اور اخبارات میں اس کے متعلق مضامین لکھے گئے اور اس قدر دلچسپی کا لوگوں نے اظہار کیا کہ بوجہ وقت کی کمی کے جلسہ کا ایک دن اور بڑھایا گیا تا آپؐ کا بقیہ مضمون جو وقت مقررہ کے اندر ختم نہیں ہو سکا تھا پڑھا جاسکے۔

نشان پر نشان اور کرامت پر کرامت ظاہر ہونے سے لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا ہونے لگا اور چاروں اطراف سے حق پسند لوگ آ آکر آپؐ کی جماعت میں شامل ہونے لگے جسے دیکھ کر مخالف علماء کو اور بھی فکر پڑی اور چونکہ وہ دیکھ چکے تھے کہ ان کی پہلی کوششوں میں ان کو ناکامی ہوئی تھی کیونکہ وہ جو ایذائیں آپؐ کو پہنچانی چاہتے تھے بوجہ گورنمنٹ کے ظاہر طور پر نہیں پہنچا سکتے تھے اور اخفاء اور ڈر سے تمام تدابیر ادھوری رہ جاتی تھیں۔ اس لئے انہوں نے یہ تدبیر نکالی کہ گورنمنٹ کی ہی عدالتوں میں آپؐ کو گھسیٹ کر لے جاویں اور اسی کے ہاتھ سے آپؐ کو سزا دلوائیں۔

چنانچہ سب سے پہلے مسیحیوں نے آپؐ پر مقدمہ کھڑا کیا اور یہ سمجھ لیا کہ چونکہ گورنمنٹ ہماری ہم مذہب ہے عدالتوں میں ہماری رعایت کی جائے گی۔ ایک بڑے پادری صاحب نے یہ رپورٹ کی کہ آپ نے ان کے مارنے کے لئے ایک آدمی بھیجا ہے اور ایک آوارہ طبع آدمی کو کئی قسم کے حیلوں اور مکروں سے اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ کہہ دے کہ مجھے انھوں نے پادری صاحب کے مارنے کے لئے بھیجا تھا۔ تمام مذاہب کے لوگ اس پر جوش میں آگئے اور پادری صاحب کی مدد کے لئے کھڑے ہو گئے اور خدا کا فرستادہ تمام دنیا کے مقابلہ میں اکیلا رہ گیا مگر اس کو اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ کے اُٹھنے سے پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ ایک فتنہ اٹھنے والا ہے جو گورنمنٹ سے تعلق رکھتا ہے مگر سوائے ظاہری خوف کے کوئی نقصان نہ ہو گا اور آخر میں تم بری کئے جاؤ گے۔

انگریز ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کیپٹن ڈگلس صاحب جو بعد میں چیف کمشنر انڈمان ہوئے ان کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہوا اور لوگوں میں خوب خوشیاں کی جانے لگیں کہ اب مدعی مسیحیت خوب سزا پائے گا۔ مگر جس طرح اللہ تعالیٰ نے پہلے مسیح کے وقت پیلا طوس پر خفی کھول دیا تھا اس دفعہ بھی ایسا ہی ہوا اور کپتان ڈگلس کا دل اس نے کھول دیا اور اس نے بیان سُن کر صاف کہہ دیا کہ مقدمہ بناوٹی معلوم ہوتا ہے اور خبر دینے والا جھوٹا معلوم ہوتا ہے اور انہوں نے انگریز سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ہدایت کی کہ وہ پورے طور پر تحقیق کر کے رپورٹ کریں۔ انہوں نے یہ دیکھ کر خبر دہندہ مشن کمپاؤنڈ میں رہتا ہے شاید ان کے اثر کے نیچے اپنے بیان لکھوا رہا ہو۔ اس کو وہاں سے بلوا لیا اور پھر بیان لیا لیکن وہ شخص پادریوں سے اس قدر ڈرا ہوا تھا کہ پھر بھی اس نے وہی باتیں کیں جو پہلے کہی تھیں مگر سپرنٹنڈنٹ صاحب نے اس سے کہا کہ جو کچھ راست راست ہے وہ بتاؤ اور اب ہم تمہیں مشن میں نہیں بھیجیں گے۔ جب اسے تسلی ہو گئی کہ وہ واپس مشن کے حوالہ نہ کیا جائے گا تو وہ چیخیں مار کر رو پڑا اور اس نے کہا جو کچھ مجھ سے کہلوایا گیا ڈرا دھمکا کر کہلوایا گیا ورنہ مرزا صاحب بالکل بَری ہیں انھوں نے مجھ سے کبھی بات نہیں کی۔ پادریوں نے مجھے دھمکا کر کہ اگر تو ہماری مرضی کے مطابق رپورٹ نہ کرے گا تو تجھ پر کوئی الزام لگا کر پکڑوا دیں گے مجھ سے یہ سب باتیں کہلوائی تھیں۔ آخر جیسا کہ پہلے سے بتا دیا گیا تھا آپ عزت کے ساتھ بری ہوئے اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کیپٹن ڈگلس نے کہا کہ آپ کو اختیار ہے کہ آپ ان لوگوں پر جھوٹا الزام لگانے کے متعلق عدالت میں چارہ جوئی کر کے ان کو سزا دلوائیں مگر آپ نے فرمایا ہمارا یہ کام نہیں ہم نے ان کو معاف کر دیا۔

اس مقدمہ میں دوسرے مذاہب کے سرداروں نے بھی آپ کو زک دینے کے لئے پورا زور مارا مگر سب ناکام ہوئے بلکہ آپ کی صداقت اور بھی ظاہر ہوئی کیونکہ ایک تو مقدمہ کا فیصلہ اس پیشگوئی کے مطابق ہوا جو پہلے سے شائع کر دی گئی تھی۔ دوم آپ کے اخلاق کے نمونہ نے لوگوں کے دلوں پر بہت اثر کیا۔ جھوٹا مقدمہ کرنے والوں کو آپ نے معاف کر دیا اور دورانِ مقدمہ میں ایک بڑا مولوی آپ کے خلاف شہادت دینے آیا۔ اس کی ماں کے متعلق کچھ اعتراض تھا۔ آپ کے وکیل نے اس کی خفت کرنے کے لئے چاہا کہ اس سے اس کے متعلق سوال کرے مگر آپ نے اس کی اجازت نہ دی اور وکیل کو سختی سے منع کر دیا کہ میں اسے شرمندہ کروانا نہیں چاہتا اس سے لوگوں میں آپ کی قبولیت اور بھی بڑھی۔

اس مقدمہ میں ناکامی ہونے کے بعد مخالفوں نے اور زور سے منصوبے کرنے شروع کئے اور پے در پے کئی مقدمات آپ کے خلاف کھڑے کئے اور بعض مقدمات میں تو مجسٹریٹوں کی مخالفت کی وجہ سے آپ کو بڑی بڑی ایذاء بھی دی گئی اور باوجود بڑھاپے اور بیماری کے گھنٹوں عدالت میں کھڑا رہنا پڑا اور بعض دفعہ بیماری کی حالت میں بیٹھ کر پانی پینے تک کی اجازت نہ دی مگر ہر مقدمہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح دی اور ہر فتح کے متعلق آپ کو بہت پہلے سے خبر دیدی اور وہ مجسٹریٹ جنہوں نے آپ کو تکلیف دی بہت جلد آسمانی عذابوں میں مبتلاء ہو کر لوگوں کے ایمان بڑھانے کا موجب ہوئے۔

جوں جوں لوگ معجزات اور نشانات دیکھتے تھے جوق در جوق سلسلہ احمدیہ میں شامل ہونے لگے اور ایک واقعہ نے سب سے زیادہ آپ کی قبولیت کو بڑھایا اور یہ اس طرح ہوا کہ جب ہندوستان میں طاعون پڑی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر یہ اعلان کر دیا کہ اس مرض میں میری جماعت کے لوگ بہت ہی کم مبتلاء ہوں گے اور قادیان میں یہ مرض اس سختی سے نہ پڑے گی جس سختی سے کہ اور شہروں میں پڑتی ہے اور یہ کہ آپ کا گھر اس بیماری سے بالکل محفوظ رہے گا اور ساتھ ہی اپنے مخالفوں کو چیلنج دیا کہ اگر وہ بھی خدا تعالیٰ کے پیارے ہیں تو چاہیئے کہ وہ بھی مقابل پر ایسے ہی اعلان کر دیں مگر کوئی مقابل پر نہ آیا اور بعض لوگ جنہوں نے ایسا اعلان کیا وہ فوراً پکڑے گئے اور خود اس بیماری سے ہلاک ہوئے۔ اس کے مقابلہ میں باوجود اس کے کہ آپ کے گھر کے گرد چار برس تک طاعون آتی رہی اور آپ کی چار دیواری کے ساتھ لوگ مرتے رہے۔ آپ کے گھر میں ایک چوہا بھی اس بیماری سے نہ مرا اور قادیان میں دوسری جگہوں کی نسبت بہت کم طاعون پڑا اور آپ کی جماعت میں شاذ و نادر ہی کوئی کیس ہوا۔ سخت طاعون بھی جن علاقوں میں پڑی

وہاں بھی آپؐ کی جماعت محفوظ رہی اور سوائے اِکے دُکے کے عام طور پر جماعت بچی رہی ان باتوں کو دیکھ کر لوگوں کے دلوں پر بہت اثر پڑا اور لاکھوں آدمی انہی دنوں میں آپؐ کے سلسلہ میں داخل ہوئے۔

اب وہ وقت آگیا کہ اللہ تعالیٰ نے پسند کیا کہ آپؐ کو واپس بلوا کر آپؐ کی جماعت کو اس بوجھ کے اُٹھانے کا موقع دے جس کا اُٹھانا اس نے آپؐ کے ذمہ رکھا تھا۔ چنانچہ آپؐ کو پے در پے الہام ہونے شروع ہوئے کہ آپؐ کی موت قریب ہے اور بعض میں مدت اور بعض میں دن اور بعض میں وہ حالت جس میں آپؐ فوت ہوں گے بتائی گئی اور آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر پا کر اپنی وفات سے دو سال پانچ ماہ پہلے اپنی وصیت شائع کی اور اس میں اپنے وہ الہامات درج کر دیئے جن میں آپؐ کی وفات کی خبر دی گئی تھی اور اس میں آپؐ نے بتایا کہ آپؐ کے بعد جماعت کو اللہ تعالیٰ اسی طرح چلائے گا جس طرح کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چلایا تھا یعنی خلفاء کے ذریعے سے۔

اس کے بعد متواتر وحی میں قربِ وفات کی خبر دی گئی جو باقاعدہ سلسلہ سے تعلق رکھنے والے دو اخبارات اور تین رسالوں میں دوسری وحی کے ساتھ شائع ہوتی رہی۔ آخر ایک ضرورت پر آپؐ کو لاہور کا سفر پیش آیا تو اس وقت وحی نے بتایا کہ اب وقت بالکل قریب ہے اور بہت سے الہامات نے بتایا کہ اسی سفر میں آپؐ کی وفات ہوگی لاہور میں آپؐ کی طبیعت بہت کمزور ہوگئی اور آپؐ بہت کمزور ہو گئے مگر باوجود اس کے اپنا کام برابر کرتے رہے جو لوگ ملنے آتے ان کو وعظ کرتے اور خدا کی طرف بُلاتے اور عام اہلِ لاہور کے لئے آپؐ نے ایک لیکچر دینے کا بھی ارادہ کیا اور اسی لیکچر کی تیاری کے دوران میں جبکہ لیکچر کا مضمون آپؐ ختم کر چکے تھے ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو آپؐ وہیں فوت ہو گئے اور آپؐ کی مبارک لاش کو مطابق وحی الٰہی قادیان لا کر ۲۷؍مئی کو دفن کیا گیا۔ اور یہ الہامات پورے ہوئے جو کئی سال پہلے شائع کئے گئے تھے کہ ”ستائیس کو ایک واقعہ ہمارے متعلق“اور ”ان کی لاش کفن میں لپیٹ کر لائے ہیں“۔ (تذکرہ مت ایڈیشن چہارم)

آپؐ خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کا اس قدر جوش رکھتے تھے کہ آپؐ نے قریباً اسی ۸۰ کُتب علاوہ سینکڑوں اشتہاروں کے لکھیں اور سینکڑوں لیکچر دیئے اور روزانہ ان لوگوں کو تعلیم دینے کے لئے جو باہر سے آتے تھے کئی کئی گھنٹے تک باہر بیٹھتے تھے اور کام میں ہی آپؐ کی تمام راحت تھی حتیٰ کہ مہینوں گزر جاتے اور آپؐ کے ساتھ رہنے والے بھی نہیں سمجھ سکتے تھے کہ

آپؐ آرام کس وقت کرتے ہیں؟ ایک ہی دھن اور ایک ہی فکر تھی کہ دنیا اپنے پیدا کرنیوالے سے صلح کرلے اور نجات حاصل کرلے اور اسی دھن میں آپؐ نے اپنی تمام عمر صَرف کردی۔ اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر بعض لوگ خدا کے لئے ایک دفعہ مرے ہیں یا ایک دفعہ صلیب پر چڑھے ہیں تو آپؐ ان لوگوں میں سے تھے جو خدا تعالیٰ کے لئے روز مرتے تھے کیونکہ اپنے آرام اور اپنی آسائش کا آپؐ کو بالکل فکر نہ تھا جو کچھ خیال تھا وہ لوگوں کی نجات کا تھا حتیٰ کہ جس دن صبح کو آپؐ کی وفات ہوئی اس سے پہلے دن کی شام تک آپؐ تصنیف کے کام میں مشغول رہے پس آپؐ کی موت بھی لوگوں کے لئے تھی جس طرح آپؐ کی زندگی لوگوں کے لئے تھی۔

وہ مخالف جو آپؐ کی زندگی میں آپؐ کو ہر قسم کا دکھ دیتے تھے انہوں نے وفات پر بھی قابلِ شرم حرکات کیں اور سوانگ نکالے اور ہنسی اُڑائی مگر جو کچھ آپؐ نے خدا سے خبر پاکر پہلے سے کہہ دیا تھا وہ اس میں روک نہ ڈال سکے۔ دشمنوں کی تمام خوشیاں دور ہو گئیں اور آپؐ کا سلسلہ آپؐ کے جانشین اور خلیفہ اول حضرت خلیفۃ المسیح مولوی نورالدین صاحب مرحوم و مغفور کی زیر ہدایت آگے سے بھی زیادہ ترقی کے ساتھ پھیلنا شروع ہو گیا اور جب وہ قریباً چھ سال بعد ۱۹۱۴ء میں فوت ہوئے تو مجھ عاجز مرزا بشیر الدین محمود احمد آپؐ کے دوسرے جانشین کے وقت میں اس نے اور بھی ترقی کی اور ہر دن جو چڑھتا ہے وہ آپؐ کے ان الہامات کے پورا ہونے کے نئے آثار پیدا کرتا ہے کہ مَیں تیرے نام کو دُنیا کے کناروں تک پھیلاؤں گا اور تیری جماعت کو بڑھاؤں گا اور اے شہزادہ مکرم! زمین و آسمان ٹل جائیں لیکن اس کی یہ باتیں نہ ٹلیں گی کیونکہ وہ اس نے نہیں کہیں بلکہ خدا نے کہی ہیں اور خدا کی باتوں کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔

آپ کے وہ نشانات جو اپنی ذات کے علاوہ دوسرے لوگوں یا دوسرے ملکوں کے لئے ظاہر ہوئے

اے شہزادۂ مکرم!

اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت کے قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اسلام پر آپ کا خاتمہ کرے اور راستبازوں کے گروہ میں آپ کو شامل کرے! آمین

میں نے اس وقت تک تو آپؐ کی معجزانہ زندگی بیان کی ہے جو اپنی ذات میں آپؐ کی سچائی اور اسلام کی صداقت کا ایک بین ثبوت ہے۔ یا وہ تعلیم لکھی ہے جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ بلا اس تعلیم پر عمل کرنے کے انسان رُوحانی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ اب میں آپ کے چند ایسے نشانات بیان کرتا ہوں جو اپنی ذات میں مستقل ہیں یا دوسرے لوگوں کے متعلق ہیں اور جن سے مزید شہادت اس امر کی ملتی ہے کہ آپؐ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور اسلام جس کی طرف آپؐ بلانے کے لئے آئے تھے ایک زندہ مذہب ہے۔

مگر پیشتر اس کے کہ میں آپ کے ہزاروں نشانوں میں سے مثال کے طور پر بعض نشان بیان کروں ایک دفعہ پھر بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ آپؐ کوئی نیا دین نہیں لائے۔ بلکہ جس طرح مسیح اول موسیٰؑ کے دین کو پورا کرنے کے لئے نازل ہوئے تھے اسی طرح آپؐ حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو پورا کرنے کے لئے نازل ہوئے تھے اور ہمیشہ آپؐ کو یہی دعویٰ رہا کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ تا اسلام کی صداقت کو ثابت کروں اور لوگوں کو اس کی خوبیوں پر آگاہ کروں اور اس کی زندگی بخش تعلیم سے ان کو اطلاع دوں اور اس کے تازہ پانی سے ان کی روحوں کو تازہ کروں۔ میں کوئی جدید شریعت یا جدید حکم نہیں لایا قرآن کریم خدا کا آخری ہدایت نامہ ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے آخری شرعی رسول ہیں میں ایک رسول ہوں مگر بلا شریعت کے اور ایک نبی ہوں مگر بلا کتاب کے اور میری بعثت کی غرض سوائے اسلام کی خدمت اور اس کی اشاعت کے اور کچھ نہیں اور میری ماموریت کا مقصد سوائے اسلام کے روشن چہرہ پر سے اس گرد و غبار کے جھاڑنے کے جو آخری زمانہ میں انسانی خیالات کی آندھی سے پڑ گئی تھی اور کوئی نہیں۔ پس آپ کے

نشانات اسلام کی صداقت کا ایک ثبوت تھے اور آپ کے معجزات قرآنِ کریم کی فضیلت کی ایک دلیل۔

اے شہزادۂ مکرم! آپ کے معجزات اور نشانات کا ایک مبسوط کتاب میں بھی بیان کرنا مشکل ہے کجا یہ کہ چند صفحات میں بیان ہوں وہ اپنی اقسام میں ایسے وسیع تھے کہ قسموں کو ہی انسان بیان کرنے لگے تو کئی صفحات اس کے لئے چاہئیں۔ چہ جائیکہ تفصیل بیان ہو سکے۔

آپ کے معجزات اخلاقی بھی تھے یعنی ایسے معجزانہ اخلاقی کارنامے آپ سے صادر ہوتے تھے کہ ان کو غور سے دیکھنے والا ان میں ہی خدا کا ہاتھ دیکھتا تھا اور عقلمند کے لئے صرف وہی آپ کی راستبازی کے معلوم کرنے کے لئے کافی تھے آپ کی شجاعت، آپ کی حُسنِ ظنی، آپ کی محبت، آپ کا حُسنِ سلوک، آپ کی ہمدردی، آپ کا معاملہ، آپ کی دوستی سب ایسی چیزیں تھیں کہ ہر ایک انسان ان میں اعلیٰ درجہ کی صفائی اور اعلیٰ درجہ کی پاکیزگی دیکھتا تھا اور معلوم کرتا تھا کہ سوائے خدارسیدوں کے یہ بات اور کسی میں نہیں پائی جا سکتی۔

پھر آپ کے معجزات کشفی قسم کے بھی تھے یعنی بہت دفعہ ایسا ہوتا تھا کہ ایک خیال کسی کے دل میں آیا اور فوراً آپ نے اسی قسم کے خیالات کے متعلق گفتگو شروع کر دی جس سے آپ کی صحبت میں بیٹھنے والا معلوم کرتا تھا کہ وہ ایک خدا کے بندے کی صحبت میں بیٹھا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ دوسروں کے خیالات پر آگاہ کرتا چلا جاتا ہے۔

وہ اقتداری رنگ کے بھی تھے یعنی جب آپ کے منہ سے نکل جاتا کہ یہ کام یوں ہو جائے گا تو بالعموم دیکھا جاتا تھا کہ وہ اسی طرح ہو جاتا اور لوگ ایسے ایسے کاموں کو پورا ہوتے دیکھ کر جن کے پورا ہونے کی اُمید نہ ہوتی تھی اس امر کو محسوس کرتے تھے کہ یہ شخص ایک محبوب الٰہی ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے منہ سے نکلی ہوئی باتوں کو پورا کر دیتا ہے یا یوں کہیں کہ خدا تعالیٰ اس کی عزت کو قائم کرنے کے لئے بعض دفعہ اپنی مرضی کو اس کی زبان پر جاری کر دیتا ہے۔

آپ کے معجزات علمی رنگ کے بھی تھے۔ یعنی آپ کو بعض دفعہ ایسا علم دیا جاتا تھا جو انسانی طاقت سے بالا ہوتا تھا اور جس کو دیکھ کر آپ کے دشمن بھی حیران رہ جاتے تھے۔

پھر آپ کے معجزات، بیماروں کے اچھا کرنے کے متعلق بھی تھے یعنی آپ بیماروں کے لئے دعائیں کرتے اور وہ اچھے ہو جاتے۔

پھر آپ کے معجزات اس رنگ میں بھی ظاہر ہوتے تھے کہ لوگوں کے خیالات میں آپ کے ذریعے سے تبدیلی ہو جاتی بہت لوگ آپ سے چاہتے تھے کہ ان کے دلوں میں سے بعض خیالات ہٹ جائیں اور آپ کی دعا سے اور توجہ سے وہ ہٹ جاتے۔

بہت سے معجزات آپ کے قیدیوں کی رستگاری اور مبتلایانِ مصائب کی رہائی کے رنگ میں ظاہر ہوتے تھے۔

بہت سے معجزات آپ کے اس رنگ میں ظاہر ہوتے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے لئے آپ کے دشمنوں اور مخالفوں کو رؤیا اور الہام کے ذریعے سے آپ کی صداقت بتا کر آپ کے سلسلہ میں داخل ہونے کی توفیق دے دیتا تھا ۔ یا اگر وہ نہ مانتے تو ان کے منہ کی بات سے ان پر حجت قائم ہو جاتی۔

بہت سے معجزات آپ کے اس رنگ میں ظاہر ہوتے کہ آپ کی مخالفت کرنے والے جس رنگ میں آپ کو ذلیل کرنا چاہتے اسی رنگ میں خود ذلیل ہو جاتے اور بہت سے ناگہانی موتوں کا شکار ہوتے ۔ جن میں انسان کا دخل نہ ہوتا بلکہ بیماریاں وغیرہ اس کا باعث ہوتیں تا امر مشتبہ نہ ہو جائے۔

بہت سے معجزات بظاہر نظر آنے والے قانون قدرت کی تبدیلی کے رنگ میں ظاہر ہوتے تھے۔

بہت سے معجزات آئندہ کی خبروں پر اطلاع پانے کے رنگ میں ظاہر ہوتے تھے آپ کو قبل از وقت اطلاع مل جاتی اور اسی طرح ہوتا۔

بہت سے معجزات حفاظت کے رنگ میں تھے یعنی اللہ تعالیٰ باوجود مخالف حالات کے آپ کو اور آپ کے دوستوں کو بہت سے صدموں سے محفوظ رکھتا تھا۔

غرض کئی اقسام کے آپ کے معجزات ہیں اور قریباً ہر ایک قسم کے معجزات کی ہزاروں مثالیں ہیں۔ اگر ان کو لکھا جائے تو دفتروں کے دفتر لکھنے پر بھی وہ ختم نہ ہوں مگر ان میں سے مثال کے طور پر چند لکھے جاتے ہیں تا بطور دلیل کے آپ کی صداقت پر گواہ ہوں۔

۱۔ علمی معجزہ

اے شہزادہ عالی وقار! یہ زمانہ علمی ہے اور اس وجہ سے ہم آپؐ کے علمی معجزات کو ہی پہلے بیان کرتے ہیں۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ آپؐ کی تعلیم معمولی تھی۔ آپ کسی مدرسہ میں نہیں پڑھے نہ کسی مشہور عالم سے آپ نے تعلیم پائی، آپ کے والد نے معمولی مدرّس ملازم رکھ دیئے تھے جن سے آپ نے ابتدائی درسی کتب کی تعلیم حاصل کی مگر باوجود اس کے جب آپؐ نے دعویٰ کیا اور آپ کے دشمنوں نے آپ پر اعتراض کیا کہ آپؐ تو جاہل ہیں آپ اس مقام عالی پر

کیونکر پہنچ سکتے ہیں؟ کہ خدا تعالیٰ آپ کو مہدی اور مسیح بنا دے؟ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یکدم عربی زبان کا وسیع علم دے دیا۔ جس زبان میں کہ تمام اسلامی علوم ہیں اور ایک دن میں آپ کو چالیس ہزار الفاظ کا مادہ سکھایا گیا اور ایسا ہوا کہ باوجود اس کے کہ آپ کبھی عرب نہ گئے تھے اور نہ عربوں کی صحبت میں رہنے کا آپ کو اتفاق ہوا تھا اور نہ آپ نے کبھی پہلے عربی عبارت لکھی تھی اور نہ ہندوستان میں عربی تعلیم کا جو طریق مروّج ہے اس سے عربی لکھنے یا بولنے کی طاقت پیدا ہوتی ہے۔ آپ نے روح القدس کی تائید سے فصیح عربی زبان میں نہایت اعلیٰ درجہ کے مضامین پر مشتمل کتب لکھنی شروع کیں اور مخالفوں کو بلایا کہ تم لوگ جو بڑے بڑے علماء ہو میرے مقابل عربی زبان میں کتب لکھ کر دکھاؤ مگر سب اس سے عاجز آگئے اور انھوں نے کہنا شروع کیا کہ اس کے پاس عرب پوشیدہ ہیں جو اسے عربی کتب لکھ کر دے دیتے ہیں ورنہ اسے کچھ نہیں آتا۔ تب آپ نے تمام دنیا کے لوگوں کو مقابلہ کے لئے للکارا اور کہا کہ میں صرف ہندوستان ہی کے علماء کو نہیں کہتا بلکہ دنیا بھر کے علماء کو جن میں عرب اور شام کے لوگ بھی شامل ہیں جن کی مادری زبان عربی ہے۔ کہتا ہوں کہ اگر وہ سچے ہیں اور میری تحریریں انسانی کام ہیں تو میرے مقابل پر عربی زبان میں کتب لکھیں پھر اگر ان کی کتب فصاحت اور بلاغت میں میری کتب سے بڑھ جائیں تو بیشک مجھے جو چاہیں سزا دیں لیکن میں قبل از وقت بتا دیتا ہوں کہ یہ کبھی میرا مقابلہ نہ کر سکیں گے۔

اے شہزادۂ مکرم! آپ اس دعوے کی عظمت اس مثال سے سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کوئی دیسی جس نے نہ کبھی انگلستان دیکھا ہو نہ امریکہ اور نہ انگریزی بولنے والوں کی سوسائٹی میں رہا ہو اور نہ کسی کالج میں اس نے انگریزی تعلیم پائی ہو اگر وہ تمام انگریزوں کو چیلنج دے کہ تم میں سے کوئی میرے مقابل پر آ کر فصیح و بلیغ انگریزی میں کتب لکھے اور کوئی اس کا مقابلہ نہ کر سکے نہ منفرداً نہ نہ بہت سے عالم مل کر تو کسقدر تعجب اور اچنبھے کی بات ہوگی؟ مگر حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ بعینہٖ اسی طرح ہوا ہے۔ آپ نے بار بار علمائے مصر اور شام اور ہندوستان کو چیلنج دیا مگر کوئی شخص آپ کا مقابلہ نہ کر سکا۔ بعض لوگوں نے مقابلہ پر کتب لکھنے کی بجائے آپ کی کتب کی غلطیاں نکالنی شروع کیں مگر ان سے اللہ تعالیٰ نے ایسی ایسی غلطیاں کروائیں کہ وہ اور بھی ذلیل ہوئے۔

اور کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جبکہ لوگ ایک ایک سو روپے کے انعام کے لئے جان توڑ کوشش کرتے ہیں۔ آپ نے اپنے مخالفوں کو مقابل پر آ کر کتب لکھنے کے لئے انعامات بھی مقرر کئے جو بعض دفعہ بڑی بڑی مقدار کے تھے یعنی آپ نے دس دس ہزار کی رقم اس شخص کے لئے جو آپ جیسی فصیح عربی زبان میں کتاب لکھے انعام میں مقرر کی اور فیصلہ کا طریقی بھی نہایت سہل رکھا مگر باوجو د اس کے کوئی مقابلہ پر نہ آیا اور اللہ تعالیٰ نے سب کی ہمتیں پست کر دیں اور زبانیں بند کر دیں اور آپ کا یہ معجزہ ہمیشہ کے لئے صداقت کے طلب گاروں کے لئے ایک نشان ہو گا اور اس کے منکروں کے خلاف حجت اور اس قسم کے معجزات آپ کے ہاتھ پر کئی رنگوں میں اور متعدد دفعہ ظاہر ہوئے۔

دوسرا معجزہ: لاعلاج بیماروں کی شفاء کے متعلق

دوسری مثال آپ کے معجزات میں سے میں ایسے بیماروں کے اچھا کرنے کے متعلق بیان کرتا ہوں جو طبی طور پر لا علاج سمجھے جاتے ہیں اور وہ یہ ہے:۔ کہ ایک لڑکا کئی ہزار میل سے یعنی حیدر آباد دکن کے علاقہ یادگیر سے اس مدرسہ میں پڑھنے کے لئے آیا جسے آپ نے اپنی جماعت کے لڑکوں کے لئے جاری کیا تھا اور غرض یہ تھی کہ اس مدرسہ میں جو لڑکے تعلیم حاصل کرنے کے لئے آئیں گے ان کی دینی تعلیم بھی ساتھ ساتھ ہوتی چلی جائے گی۔ اس لڑکے کا نام عبد الکریم تھا۔ اسے اتفاقاً باؤلے کتے نے کاٹ لیا اور اسے علاج کے لئے کسولی بھیج دیا گیا مگر جب وہ وہاں سے واپس آیا تو اسے دیوانگی کا دورہ ہو گیا اور تشنج پڑنے لگا اور حالت خراب ہو گئی کسولی تار دیا گیا کہ اب اس کے لئے کیا کیا جائے؟ مگر وہاں کے ڈاکٹر نے تار میں جواب دیا کہ افسوس عبدالکریم کے لئے اب کچھ نہیں ہو سکتا۔

"SORRY NOTHING CAN BE DONE FOR ABDUL KARIM"

حضرت مسیح موعودؑ کو اس کا بہت صدمہ ہوا کہ یہ بچہ جس کی ماں بیوہ ہے اور اس نے نہایت شوق سے اس قدر فاصلہ سے دین کی خاطر اس کو یہاں بھیجا ہے اس طرح ضائع ہو جائے اور آپ نے اس کے لئے دُعا کی اور وہ اچھا ہو گیا اور اب تک زندہ ہے اور اپنا کاروبار کرتا ہے۔ یہ وہ نشان ہے کہ علمی دنیا کو اس کی بے نظیری ماننے کے سوا چارہ نہیں کیونکہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے اس وقت تک اس قسم کی شفاء کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ بیشک دیوانگی کے دورہ سے پہلے علاج ہو جاتا ہے اور بعض بلا علاج کے بھی دیوانگی کے حملہ سے بچ جاتے ہیں۔ مگر دیوانگی کا دورہ ہو کر پھر شفاء آج تک کسی مریض کو نہیں ہوئی اور یہ ایسا زبردست معجزہ ہے کہ اس زمانہ کی علمی ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اسی زمانہ کے لئے مخصوص رکھا تھا تا سائنس کے دلدادوں پر اپنی قوت اور اپنے جلال کا اظہار کرے اور بتائے کہ میں خدا ہوں جو

سب طاقتیں رکھتا ہوں چاہوں تو زندہ کر دوں اور چاہوں تو مار دوں۔

تیسرا معجزہ: مُردہ کو زندہ کرنا

اے شہزادۂ بلند اقبال! ہمارا یہ یقین ہے کہ خدا تعالیٰ اس دُنیا میں مُردہ نہیں زندہ کیا کرتا اور اگر مُردہ زندہ کرتا تو کس طرح ممکن تھا کہ لوگ اس کی بادشاہت میں شک لاتے؟ اور اس کی طاقت پر شبہ کرتے؟ مثلاً یسوع مسیح کی نسبت جو لکھا ہے کہ اس نے مُردے زندہ کئے۔ اگر فی الواقع وہ مُردہ زندہ کرتا تو کیا کوئی عقلمند انسان یہ وہم کر سکتا ہے؟ کہ یہودی اس کے دُشمن رہتے اور رومی اس کی غلامی کا جُوّا اپنی گردن پر نہ اُٹھاتے؟ اس نے تو خود بتا دیا تھا کہ جن کو وہ زندہ کرتا تھا وہ حقیقی مُردہ نہ تھے بلکہ وہ لوگ جن کو لوگ مُردوں کی طرح سمجھ بیٹھے تھے اور ان کی زندگی سے مایوس ہو گئے تھے اس کے ہاتھوں سے شفاء پاتے تھے۔ چنانچہ جب وہ اس سردار کی بیٹی کو جس نے اس سے اپنی بیٹی کے زندہ کرنے کی درخواست کی تھی زندہ کرنے گیا تو اس نے یہی کہا تھا کہ:۔

کنارے ہو کہ لڑکی مری نہیں بلکہ سوتی ہے۔“ (متی باب ۹ آیت ۲۴)

پس مُردوں کے زندہ کرنے سے مراد مُردوں کی طرح کے لوگوں کا زندہ کرنا ہے اور ایسے کئی نشان اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کے ہاتھ پر دکھائے ان میں سے ایک واقعہ خان محمد علی خان صاحب کے لڑکے کا ہے۔ خان صاحب موصوف موجودہ والیِ ریاست مالیر کوٹلہ کے ماموں ہیں۔ ان کے صاحبزادہ میاں عبدالرحیم خان ایک دفعہ ٹائیفائیڈ سے سخت بیمار ہوئے اور حالت سخت نازک ہو گئی اور ڈاکٹر اور طبیب مایوس ہو گئے۔ تب اللہ تعالیٰ سے آپ نے دُعا کی کہ وہ اس کو شفاء عطا فرما دے اور اس نے اس دُعا کو قبول کر کے آپ کو اطلاع دی کہ دُعا قبول ہو گئی ہے اور آپ نے خان محمد علی خان صاحب جاگیر دار مالیر کوٹلہ کو جو قادیان میں ہی ہجرت کر کے آئے ہوئے تھے اس کے متعلق اطلاع بھی دے دی۔ چنانچہ اس کے بعد اس بچہ کی حالت یکدم درست ہونی شروع ہو گئی اور وہ بالکل تندرست ہو گیا اور ڈاکٹروں کے خیالات اور آراء باطل گئیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک زندہ ہے اور اس وقت تعلیم کے لئے انگلستان گیا ہوا ہے۔

اس واقعہ کو سترہ سال ہو گئے ہیں۔ حالانکہ طبیب سمجھتے تھے کہ وہ چند ساعت کا مہمان ہے یہی مُردوں کے زندہ کرنے کا نشان ہے جو اللہ تعالیٰ کے پیاروں کے ہاتھوں پر ظاہر ہوتا ہے ورنہ اصلی مُردے اس دُنیا میں واپس نہیں آیا کرتے۔

چوتھا معجزہ: تغیراتِ فضائی کے متعلق

چوتھی مثال آپ کے معجزات میں سے تغیرات فضائی کے متعلق ہم پیش کرتے ہیں۔ جب آپ کی تکذیب بہت بڑھ گئی تو آپ نے دُعا کی کہ اللہ تعالیٰ شریروں اور سرکشوں کے لئے طاعون نازل کرے تا مسیح اوّل کی پیشگوئی بھی پوری ہو کر لوگوں کے لئے حجت ہو اور لوگوں کے دِلوں میں خوفِ خدا بھی پیدا ہو اور اس دُعا کو شائع بھی کر دیا۔ پھر آپ نے ایک کتاب نور الحق میں شائع کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ سُورج اور چاند کے گرہن کے نشان کے بعد بھی اگر لوگ توجہ نہیں کریں گے تو سخت عذاب نازل ہوگا اور پھر یہ خبر دی کہ تمام پنجاب میں گاؤں گاؤں اور شہر شہر وبا پڑے گی اور ان خوابوں اور الہاموں کو کتابوں اور اخباروں میں شائع کرا دیا اس کے بعد ہندوستان اور پنجاب میں وہ سخت طاعون پڑی کہ اس سے تیس لاکھ کے قریب آدمی اب تک مر چکا ہے۔

یہ ایک زبردست نشان ہے کیونکہ کسی انسانی طاقت میں نہیں ہے کہ اس طرح فضا میں تغیرات پیدا کر دے جس سے وبا کے جراثیم میں جوش پیدا ہو جائے اور ملک کا ملک ان کے اثر کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو جائے تمام ہندوستان اس وبا کے اثر اور نشانات کو ظاہر کر رہا ہے اور تباہ خاندان اور اُجڑے ہوئے گھر اس امر پر شہادت دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرستادوں کا انکار ایک خطرناک بات ہوتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ باوجود رحیم کریم ہونے کے برداشت نہیں کر سکتا کیونکہ اگر وہ اس بات کو برداشت کرے تو لوگ ہمیشہ کی زندگی سے محروم رہ جائیں اور شرارت میں بڑھتے جائیں۔

پانچواں معجزہ

پہلی قسم کے معجزات کی ایک اور مثال بھی میں پیش کر دینی مناسب سمجھتا ہوں کیونکہ وہ بہ سبب تازہ ہونے کے زیادہ اہم ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ماموروں کی صداقت ثابت کرنے کے لئے کئی وبائیں بھی پیدا کر دیتا ہے۔

آج سے بیس پچیس سال پہلے آپ نے یہ اعلان کیا تھا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ کئی قسم کی بیماریاں پھیلیں گی اور جانیں ضائع ہوں گی پھر آپ نے خبر دی کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ خدا کا وعدہ ہے کہ ایک نئی وبا بھی جس سے اس ملک کے لوگ ناواقف ہیں اس ملک میں پھیل جائے گی اور انسان حیرت میں پڑیں گے کہ کیا ہونا چاہتا ہے؟ اور یہ کہ ایک سخت اور خوفناک قسم کی طاعون ظاہر ہونے والی

ہے جو اس ملک میں اور دوسرے ملکوں میں ظاہر ہو گی اور پریشان کرے گی اور یہ کہ وہ خصوصیت سے یورپ اور دیگر مسیحی ممالک میں پڑے گی۔

چنانچہ انفلوئنزا کا پچھلا حملہ اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا ایک زبردست ثبوت تھا جس سے دو کروڑ کے قریب لوگ مر گئے اور یہ یورپ سے شروع ہوا اور پھر زیادہ تر یورپ یا دیگر مسیحی ممالک میں ہی پھیلا۔ یا پھر ان ممالک میں کہ جو مسیحیوں کے ماتحت ہیں گو کہا جاتا ہے کہ یہ بیماری نئی نہیں مگر اس حملہ و با کی شکلیں کئی نئی تھیں جو پہلے نہیں دیکھی گئی تھیں اور اب تک کئی نئی صورتوں میں یہ ظاہر ہو رہا ہے اور متواتر اس کی رَو یورپ سے ہی شروع ہوتی ہے اور اس وقت بھی جرمنی اور فرانس اور انگلستان میں تباہی پھیلا رہا ہے اور صرف لندن شہر میں اس رسالہ کی تصنیف سے پہلے ہفتہ میں دوسو کے قریب موت اس مرض سے ہوئی ہے اور بعض مقامات کے متعلق تازہ خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تیسرے حصہ سے زائد ڈاکٹر ہی بیمار ہیں اور ٹرام کاروں وغیرہ کے کام بھی بند ہو رہے ہیں اور پوپ بھی اس مرض میں مبتلا ہے اور اس کی حالت نازک ہے اور ابھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ پیشگوئی کس حد تک اپنا ظہور دکھائے گی اور کب تک لوگ اس وباء کے شکار ہوں گے ؟ (بعد کی خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ پوپ بینی ڈکٹ مر گیا ہے)۔

چھٹا معجزہ: تغیراتِ زمینی کے متعلق

چھٹی مثال آپؐ کے معجزات میں سے ہم تغیراتِ زمینی کے متعلق پیش کرنی چاہتے ہیں۔ حضرت مسیح نے خبر دی تھی کہ ان کی آمدِ ثانی کے موقع پر خطرناک زلزلے بھی آویں گے اور اگر زلزلے نہ آتے تو آپ کے دعوے پر لوگوں کو شک ہوتا پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی تائید کے لئے اور آپ کی صداقت کے اظہار کے لئے آپ کو قبل از وقت اطلاع دی کہ ”زلزلہ کا دھکا“ اور ایک عربی الہام اس کے ساتھ ہوا جس کے یہ معنی ہیں کہ اس زلزلہ سے ایسی سخت تباہی آئے گی کہ دائمی رہائش کے مکان بھی اور وہ مکان بھی جو عارضی رہائش کے لئے بنائے جاتے ہیں تباہ ہو جائیں گے

یہ الہامات اسی وقت اخبارات سلسلہ احمدیہ میں شائع کر دیئے گئے تھے۔ چنانچہ ان کی اشاعت کے کچھ عرصہ بعد ۴؍ اپریل ۱۹۰۵ء کا وہ خطرناک زلزلہ آیا جس سے بیس ہزار کے قریب آدمی مر گئے اور کئی شہر اور گاؤں تباہ ہو گئے اور جیسا کہ الہام میں اشارہ تھا مستقل رہائش کے مکانوں کے علاوہ عارضی رہائش کے مقامات یعنی چھاؤنیاں بھی تباہ ہوئیں۔ چنانچہ دھرم سالہ کی چھاؤنی کے مکانات بالکل برباد ہو گئے اور ڈلہوزی اور دوسری بعض اور جگہوں کی چھاؤنیوں کے مکانات کو بھی صدمہ پہنچا۔ یہ زلزلہ ایسے مقام پر آیا جس کی نسبت تمام ماہرین علم طبقات الارض یہ خیال کر چکے تھے کہ یہاں اب زلزلہ نہیں آسکتا مگر خدا تعالیٰ کے اقتدار کے آگے بندوں کے علم اور ان کی سمجھیں کیا کام دے سکتی ہیں؟ اور پھر اس نشان کی شان اور بھی بڑھ جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس زلزلہ کے بعد جاپان کے ایک مشہور عالم نے جب یہ خبر دی کہ اب ایک سو سال تک کوئی سخت دھکے والا زلزلہ ہندوستان میں نہیں آسکتا اور دھرم سالہ اور اس کے گردونواح میں ماہرین فن کے اطمینان دلانے پر گورنمنٹ نے چھاؤنی کی عمارتیں بھی شروع کرا دیں۔ تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ پھر زلزلہ آئے گا اور آئے گا بھی موسم بہار میں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ فروری ۱۹۰۶ء میں پھر ایک سخت زلزلہ آیا جس سے گو اس قدر نقصان جانوں کا نہیں ہوا کیونکہ لوگ اس وقت چھپروں میں رہتے تھے لیکن مکانات جو دوبارہ تعمیر ہو رہے تھے گر گئے اور بہت سامالی نقصان ہوا۔ اور گورنمنٹ کو کئی سرکاری مکانات کا بنوانا ملتوی کرنا پڑا۔ اس نشان کے متعلق آپ نے یہ بھی بتایا تھا کہ یہ ہندوستان کے باہر دوسرے ملکوں میں بھی ظاہر ہو گا اور متواتر سخت زلزلے آئیں گے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ پچھلے سترہ سال میں جسقدر زلزلے آئے ہیں اور جسقدر موتیں ان سے ہوئی ہیں اور جس قدر مالی نقصان ان سے لوگوں کو اٹھانا پڑا ہے اس قدر نقصان کسی پہلے زمانہ میں تین سو سال کے زلزلے ملا کر بھی نہیں ہوا اور یہ نشان اس امر کا ثبوت تھا کہ آپ کا بھیجنے والا جس طرح فضاء پر تصرف رکھتا ہے اسی طرح زمین کے اندرونی تغیرات بھی اس کے قبضہ میں ہیں اور اس کا علم وسیع ہے۔

ساتواں معجزہ: انسانی نسل کی زیادتی کے متعلق

آپ کے معجزات کی ساتویں مثال کے طور پر ہم وہ معجزہ پیش کرتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان کی نسلی زیادتی یا کمی پر بھی اللہ تعالیٰ کا تصرف ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ کے ایک دشمن مولوی سعد اللہ ساکن لدھیانہ نے آپ کی نسبت بیان کیا کہ یہ مر جائیں گے اور ان کے بعد ان کا سلسلہ تباہ ہو جائے گا کیونکہ پیچھے سلسلہ کا چلانے والا کوئی نہ ہو گا اس پر آپ کو الہام ہوا کہ تیرا دشمن ہی بے اولاد رہ جائے گاتو ایسا نہیں ہو گا۔ جس وقت یہ الہام شائع کیا گیا مولوی سعد اللہ کا ایک لڑکا پندرہ سولہ سال کا موجود تھا اور ابھی وہ جوان آدمی تھا اس کے ہاں اولاد ہو سکتی تھی مگر اس پیشگوئی کے بعد اس کے اولاد کا سلسلہ بند ہو گیا اور آخر وہ خود بھی اپنے لڑکے کی شادی کا انتظام کرتا ہوا ہلاک ہوا۔ اس کی موت پر آپ کے دشمنوں نے لکھا کہ مولوی سعد اللہ کا بچہ چونکہ موجود ہے اس لئے آپ کی پیشگوئی جھوٹی نکلی آپ نے لکھا کہ یہ لڑکا تو پیشگوئی سے پہلے ہی موجود تھا اس پیش گوئی کا اس لڑکے کے متعلق تو یہ اثر ہوگا کہ اس کے اولاد نہ ہوگی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا وہ بھی بے اولاد ہے اور اللہ تعالیٰ کی طاقت اور قدرت کا ثبوت دے رہا ہے اور ثابت کر رہا ہے کہ خدا نسلوں کی زیادتی اور کمی پر بھی قبضہ رکھتا ہے۔

زیادتیِ نسل کی مثال خود آپؐ کی اولاد ہے کہ جس کی نسبت کثرت سے آپ کو الہامات ہوئے تھے۔ اسی طرح اور بہت سے لوگ جن کے اولاد نہ ہوتی تھی یا ہو کر مر جاتی تھی ان کے متعلق آپؐ کی دُعائیں قبول ہو کر ان کو اولاد ملی۔

آٹھواں معجزہ: تقسیمِ بنگال

آپ کے معجزات میں سے آٹھویں مثال کے طور پر ہم آپکی وہ پیش گوئی پیش کرتے ہیں جو آپ نے تقسیم بنگالہ کے متعلق کی جب تقسیم بنگالہ ہوئی اور بنگالیوں نے اس پر شور مچایا اور گورنمنٹ نے ان کی فریاد پر کان نہ دھرے تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ:۔

”پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا اب ان کی دلجوئی ہوگی۔“

یہ الہام ۱۱؍ فروری ۱۹۰۶ء کو ہوا اور اسی وقت کئی اخباروں اور رسالوں میں شائع کر دیا گیا یہ زمانہ جیسا کہ اے شہزادہ والا جاہ! آپ جانتے ہوں گے وہ تھا جبکہ گورنمنٹ اپنی پالیسی پر مُصِرّ تھی اور اپنے حکم کو واپس لینے کے لئے ہرگز تیار نہ تھی۔ بنگالی اپنا پورا زور لگا چکے تھے مگر ان کی تمام کوششیں اکارت جا چکی تھیں اور آخر وہ مایوس ہو کر بجائے تقسیم بنگالہ کے حکم کو بدلوانے کے اس امر پر آمادہ ہو گئے تھے کہ گورنمنٹ کو نقصان پہنچائیں اور بڑے بڑے ماہرینِ سیاست اس امر کا اعلان کر رہے تھے کہ گورنمنٹ سے غلطی ہوئی ہے مگر اب اس حکم کو طے شدہ سمجھنا چاہئے اور زیادہ شور کرنا فضول ہے۔ حتیٰ کہ جس وقت یہ پیشگوئی شائع ہوئی اُس وقت بعض بنگالی اخبارات نے ہی لکھا کہ ہم بنگالی تو مایوس ہو چکے ہیں اور یہ شخص اس قسم کی باتیں لکھتا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ کے بھیدوں کو کون سمجھ سکتا تھا وہ ان لوگوں کی امیدوں کے خلاف جو بنگال کے رہنے والے تھے اور جن کو شکایت تھی اور ان لوگوں کے ارادوں کے خلاف جن کے ہاتھ میں بظاہر اختیار تھا اپنے رسول کو بتا رہا تھا کہ بنگالیوں کی دلجوئی ہو جائے گی۔

اس الہام کے شائع ہونے کے بعد بھی متواتر یہ سوال پارلیمنٹ میں آیا اور گورنمنٹ سے متواتر درخواست کی گئی کہ وہ اپنے حکم کو منسوخ کر دے مگر باوجود بار بار درخواستیں کرنے کے گورنمنٹ نے تقسیم بنگالہ کے سوال پر غور کرنے سے انکار کر دیا اور وزیر ہند لارڈ کریو نے (جن کے ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ نے بعد میں اپنے کلام کے مطابق کام کروایا) تو پارلیمنٹ میں صاف کہہ دیا کہ اس فیصلہ کو ہرگز بدلہ نہیں جا سکتا مگر خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ اس نے اپنے کلام کو پورا کرنے کے لئے یہ سامان کیا کہ اے شہزادۂ ذی شان! آپ کے والد مکرم ہمارے بادشاہ کی تخت نشینی کی تقریب پر یہ تحریک پیدا کر دی کہ ان کی تاج پوشی بحیثیت بادشاہ ہندوستان ہونے کے ہندوستان میں بھی ہونی چاہئے اور اس طرح اس نے آپ کے والد کو اس امر کے لئے منتخب کیا کہ وہ اپنی زبان سے اللہ تعالیٰ کے کلام کو پورا کریں۔ چنانچہ آپ کی ہندوستان میں تشریف آوری اور تاج پوشی کی تقریب پر ہندوستان کو جن مراعات کا دیا جانا تجویز ہوا ان میں ایک تقسیم بنگالہ کی منسوخی بھی تھی اور انہوں نے ہزاروں میلوں کا سفر اختیار کر کے دہلی جدید دارالخلافہ میں بذات خود تقسیم بنگالہ کی منسوخی کا اعلان کر کے گویا اس امر کا اعلان کیا کہ حکومتیں اور افراد اللہ تعالیٰ کے نزدیک یکساں ہیں جس طرح وہ رعایا پر حکومت کرتا ہے حاکموں اور حکومتوں پر بھی حکم کرتا ہے اور جب وہ کوئی فیصلہ کر دے تو خواہ کسقدر ہی بعید از عقل معلوم ہو ہو کر رہتا ہے اور یہ کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب بانی سلسلہ احمدیہ خدا تعالیٰ کے رسول اور مامور ہیں اور اسلام اس کا بھیجا ہوا دین ہے۔

نواں معجزہ: جنگ روس و جاپان

آپ کے معجزات میں سے نویں مثال بھی ہم ایک سیاسی معجزہ کی لیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جس وقت روس اور جاپان کی جنگ چھڑی تو آپ کو الہام ہوا کہ:۔

”ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت“ (تذکرہ صفحہ ۵۱۲ حاشیہ ایڈیشن چہارم)

جیسا کہ اس الہام کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے اس میں بتایا گیا تھا کہ جاپان اس جنگ میں فاتح ہوگا اور یہ کہ اس کو اس قدر عظیم الشان فتح حاصل ہوگی کہ کوریا پر قبضہ کرنے کی جو اسے خواہش ہے اسے وہ پوری کر سکے گا۔ مگر کوریا والے اسے پسند نہیں کریں گے اور اس ملک میں ایک خطرناک فساد اور فتنہ برپا ہو جائے گا اور ملک کی حالت تباہ ہو جائے گی۔ گو جس وقت یہ الہام شائع ہوا ہے اس وقت بڑے سے بڑے سیاسی مدبر اور برسرِ حکومت لوگ بھی اس قسم کی بات منہ سے نہیں نکال سکتے تھے اور جاپان کی اس قدر عظیم الشان فتح کی نسبت امید باندھنا تو الگ رہا بعض لوگ تو یہ بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے کہ وہ فتح بھی پا سکے گا اور خیال کرتے تھے کہ اب تک روس نے جنگ کی اہمیت کو سمجھا نہیں ۔ جب اس کو اس طرف توجہ ہوئی وہ اپنے نہ ختم ہونے والے ذرائع کو استعمال کر کے جاپان کو پیس ڈالے گا اور یہ تو کوئی بھی نہ مان سکتا تھا کہ جاپان اگر فتح پا گیا تو اپنے مطالبات کو پورا کروا سکے گا مگر بعد کے واقعات نے کس طرح اس کلام کی صداقت کا ثبوت دیا ؟ جاپان کامیاب ہوا اور روس میں ایسے خطرناک فسادات پیدا ہو گئے کہ اسے جاپان کے مطالبات کے مطابق صلح کر لینی پڑی اور کوریا پر اس کے اقتدار کو تسلیم کرنا پڑا لیکن کورین نے اس کو سختی سے ناپسند کیا اور جاپان کے اصرار کو دیکھ کر اس کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا اور اس کے بعد سالہا سال تک جو اس ملک کی خطرناک حالت رہی ہے اور جس طرح اس کا امن برباد ہوا ہے وہ خود پکار پکار کر اس نازک حالت کی تصدیق کر رہا ہے جو حضرت مسیح موعودؑ کے الہام میں بتائی گئی تھی۔

دسواں معجزہ : حکومت ایران

دسواں معجزہ بھی ہم سیاسی معجزات میں سے ہی بیان کرتے ہیں اور ان معجزات میں سے اس مثال کا انتخاب کرتے ہیں جو آپ کی وفات کے بعد ظاہر ہوئے یہ معجزہ ایران کے متعلق ظاہر ہوا۔ آپ نے ۱۹۰۶ء میں الہام شائع کیا کہ ”تَزَلْزُلْ در ایوانِ کسریٰ فِتاد“ یعنی شاہ ایران کے محل کے اندر تزلزلہ پڑ جائے گا۔ جس وقت یہ الہام شائع ہوا۔ اس وقت ایران کی نسبت یہ خیال بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ وہاں جمہوریت کی ایسی زبردست لہر بلند ہوگی ۔ مگر اللہ تعالیٰ کی باتوں کا علم بندوں کو اسی وقت ہوتا ہے جب وہ پوری ہو کر اس کے اقتدار اور اس کی طاقت کو ظاہر کرتی ہیں۔ آخر ۱۹۰۹ء میں اس کے آثار ظاہر ہونے لگے اور یکدم ایران میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک جمہوریت کی ایک زبردست لہر بلند ہوئی اور اس کے مقابلہ پر شاہ ایران کی سمجھ پر کچھ ایسے پردے پڑ گئے کہ وہ اس جوش کا اندازہ نہ کر سکے جو ملک میں پیدا ہو گیا تھا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے محل میں تہلکہ مچ گیا اور وہ اپنی بیگمات سمیت دفعتاً اپنے محل اور اپنی سلطنت کو چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوئے اور ملک میں جمہوری حکومت کی بنیاد رکھ دی گئی اور یہ تغیر مسیح موعودؑ کی صداقت کا ایک گواہ ٹھہرا جو ہمیشہ کے لئے اہلِ ایران اور دیگر ممالک کے لئے آپ کے منجانب اللہ ہونے کا ایک نشان ہوگا۔

گیارہواں نشان : عالمگیر جنگ

سب سے آخر میں اے شہزادۂ والا جاہ ! ہم آپ کے سامنے حضرت مسیح موعودؑ کا ایک ایسا نشان پیش کرتے ہیں کہ وہ بھی آپ کی وفات کے بعد ہی ظاہر ہوا ہے ، جس کے گواہ حضورِ ملک معظم

اور خود آپ اور قیصر جرمن اور زارِ روس اور دُنیا کی قریباً ہر حکومت اور ہر ایک بر اعظم اور ہر ایک ملک ہیں اور وہ آپ کی وہ پیشگوئی ہے جو پچھلی عالمگیر جنگ کے متعلق ہے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر ۱۹۰۵ء میں اعلان کیا کہ ایک عظیم الشان زلزلہ کی خبر دی گئی ہے۔ جو جوانوں کو بڈھا کر دیگا اور شہر اس سے برباد ہوں گے اور اس قدر خون بہے گا کہ نہریں مُردوں کے خون سے سرخ ہو جائیں گی اور پہاڑ اس سے اُڑائے جائیں گے اور لوگ اس کے صدمہ سے پاگل ہو جائیں گے اور تمام دنیا پر اس کا اثر ہو گا اور اس کے نتیجہ میں زارِ روس کی حالت بہت ہی زار اور دردناک ہو گی اور پھر آپؐ نے خبر دی کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ چاروں طرف جنگی جہاز پھریں گے تاکہ آپس میں جنگ ہو اور مسافر روکے جائیں گے اور اپنے وطنوں تک ان کا پہنچنا مشکل ہو جائے گا اور زارِ روس سے اس کی حکومت لے لی جائے گی۔

اور پھر آپؐ کو بتایا گیا کہ جہاز ہر وقت سمندر میں جانے کے لئے تیار رکھے جائیں گے زمین تہ و بالا کی جائے گی اور خدا اپنی فوجوں سمیت دنیا کو اس کے گناہوں کی سزا دینے کے لئے نازل ہو گا۔ عرب اپنی قومی ترقی کی طرف توجہ کریں گے اور اس کے حصول کے لئے کوشش کریں گے۔ جس طرح میرا ذکر اور میری یاد مٹ گئی ہے اسی طرح میں شہروں اور علاقوں کو برباد کر دوں گا اور ان شہروں کو دیکھ کر رونا آئے گا اور یہ کہ سولہ سال کے عرصہ میں یہ واقعہ ہو گا۔

پھر ایک اور موقع پر آپؐ بیان فرماتے ہیں کہ وہ خطرناک جنگ جو ہونے والی ہے اس وقت نہ معلوم ہم زندہ ہوں یا نہ ہوں اس لئے ہم نے برطانیہ کی کامیابی کے لئے دُعا کر دی ہے تاکہ اس حکومت نے جو مذہبی آزادی ہمیں دے رکھی ہے اس کا بدلہ ہو۔

گو اس پیشگوئی میں زلزلہ کا لفظ استعمال ہوا ہے مگر عربی میں زلزلہ کو ہر ایک مصیبت کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم میں بھی یہ لفظ جنگ کے متعلق استعمال ہوا ہے اور خود حضرت مسیح موعودؑ نے اس پیشگوئی کے اعلان کے وقت شائع کر دیا تھا کہ اس سے مراد کوئی ایسی آفت ہے جس سے شہر اور کھیت وغیرہ برباد ہوں گے۔

اے شہزادۂ والا مقام! اس پیشگوئی کے الفاظ خود اپنی تشریح کر رہے ہیں اور کسی دوسرے کی تشریح کے محتاج نہیں کس طرح یہ جنگ آناً فاناً ساری دُنیا میں پھیل گئی اور کس طرح جنگی بیڑے اِدھر سے اُدھر پانچ سال تک گشت لگاتے رہے اور جنگی جہاز ہر وقت جنگ کی انتظار میں پھرتے رہے اور کس طرح پہاڑ استعارةً نہیں بلکہ فی الواقع اُڑائے گئے اور شہر اور علاقے برباد

ہوئے کہ ان کی حالت کو دیکھ کر رونا آتا تھا اور کس طرح تمام ممالک پر اس کا اثر پڑا؟ اور مسافروں کے لئے یہ جنگ کیسی خطرناک ثابت ہوئی کہ ہزاروں بلا قصور اور بلا گناہ دشمنوں کے ملک میں روکے گئے اور ان کے رشتہ دار ان کی یاد میں تڑپتے رہے۔ کس طرح دریا واقعی طور پر مردوں کے خون سے رنگے گئے؟ اور جوان اس کے صدمہ سے بوڑھے اور عقلمند پاگل ہو گئے اور ہزاروں آدمی جو اچھے بھلے تھے اپنی عقل کو کھو بیٹھے اور اس طرح زمین تہ و بالا کی گئی کہ اب تک اس کی درستی اور آبادی کا پورا انتظام نہیں ہو سکا گو اربوں روپیہ خرچ کیا جا چکا ہے۔ اور کس طرح بیسیوں جگہیں اسی طرح دُنیا سے مٹ گئیں جس طرح اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی عبادت یورپ کے علاقوں سے مٹ گئی ہے اور پھر عربوں نے جنگ میں شامل ہو کر اپنی قومی زندگی کو کس طرح قائم کیا اور اس کے حصول کے لئے ایک سیل کی طرح اپنے مخالفوں کے مقابلہ میں چل کھڑے ہوئے اور یہ سب کچھ پیشگوئی کے شائع ہونے کے بعد جو کہ ۱۹۰۵ء میں شائع کی گئی تھی مطابق پیش گوئی سولہ سال کے اندر ہوا اور پھر اے شہزادہ ! کس طرح اللہ تعالیٰ نے عین مایوسی اور ناامیدی کے وقت مسیح موعودؑ کی دُعا کو سن کر برطانیہ کی فتح کا سامان پیدا کر دیا۔

اور زارِ روس کے متعلق جو کچھ کہا گیا تھا وہ کس طرح حرف بحرف پورا ہوا ہم نے اس حصہ کو سب سے آخر میں اس لئے لیا ہے کہ یہ سب سے زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔ پیشگوئی میں اس حصہ کے متعلق کئی باتیں بیان کی گئی تھیں۔ ایک تو یہ کہ اس جنگ کے شروع ہونے تک زار کی حکومت کو اندرونی اصلاحات کے مدعی کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔

دوم یہ کہ اس جنگ کے بعد تک اس کی حکومت قائم نہیں رہ سکتی کیونکہ اسی جنگ میں اس کی حالت کے زار ہو جانے کی خبر دی گئی ہے۔

پھر یہ کہ اس سے حکومت چھین لی جائے گی اور یہ نہ ہوگا کہ وہ بادشاہت کی ہی حالت میں مارا جائے۔

اور پھر یہ کہ اس کے بعد زاروں کا خاتمہ ہو جائے گا کیونکہ کہا گیا تھا کہ زار کی حالت خطرناک ہوگی نہ یہ کہ کسی خاص بادشاہ کی۔

اور پھر یہ بتایا گیا تھا کہ وہ آسانی سے مر بھی نہیں سکے گا بلکہ سخت تکالیف اور رسوائیاں اور ناکامیاں اور نامرادیاں دیکھے گا۔

اور اے شہزادۂ ذی شان ! کس طرح یہ باتیں بلفظہٖ پوری ہوئیں اور زارِ روس کی حالت کیسی زار اور مضمحل ہوئی کہ دوست تو دوست دشمن تک بھی اس پر افسوس کرتے اور اس پر رحم کھاتے ہیں۔

غرض اس پیشگوئی کے بیسیوں پہلو اس وضاحت اور اس صفائی سے پورے ہوئے ہیں کہ صرف یہی ایک نشان مسیح موعودؑ کی صداقت کے لئے کافی ہے اور ملک معظم اور آپ بہ سبب اس فتح کے جو مسیح موعودؑ کی دُعاؤں سے آپ کو حاصل ہوئی ہے اور قیصر بہ سبب اس شکست کے جو اس کو حاصل ہوئی اور زارِ روس بہ سبب اس زار حالت کے جو اس پر نازل ہوئی اور دنیا کا ہر حصہ اور ہر ملک اور ہر جنگی جہاز اور ہر پہاڑ جس پر توپخانہ رکھا گیا یا جس پر گولہ باری ہوئی اور ہر دریا جس پر جنگ ہوئی اور ہر سرنگ جو کھودی گئی اور ہر مدبر جس کے ذمہ اس کا انتظام سپرد تھا اور ہر شخص جس نے اس جنگ سے نقصان اٹھایا اور ہر حکومت جس نے اس جنگ میں حصہ لیا اس پیشگوئی کے ذریعے سے مسیح موعودؑ کی صداقت کے گواہ بنے اور اس کی سچائی کے شاہد۔ گو یہ اور بات ہے کہ اس کی صداقت کا منہ سے بھی اقرار کریں یا نہ کریں۔

بعض وہ الہامات جو آئندہ زمانہ کے متعلق ہیں اور

ابھی پورے ہونے ہیں

اے شہزادۂ ذی جاہ! میں چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعودؑ کے معجزات کے بیان کر دینے کے بعد بعض ایسی پیشگوئیاں بھی بیان کر دوں جنہوں نے ابھی پورا ہونا ہے۔

روس کے ملک کے متعلق ان پیشگوئیوں کے علاوہ جو پہلے بیان ہوچکی ہیں اور جو پوری بھی ہو چکی ہیں ۔ آپؐ کی یہ بھی پیشگوئی ہے کہ اس ملک کی حکومت آخر احمدیوں کے ہاتھ میں آجاوے گی اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ بخارا کے ملک میں خاص طور پر اس سلسلہ کو قریب زمانہ میں ہی پھیلا دے گا اور یہ بھی کہ یورپ کا اکثر حصہ آخر اسلام کو قبول کرے گا اور آپؐ پر ایمان لاوے گا اور یہ بھی کہ دنیا کے تمام مذاہب اسلام اور سلسلہ احمدیہ کے سامنے شکست کھا کر مٹتے جائیں گے اور آخر قریباً نیست و نابود ہو جائیں گے اور دنیا میں صرف آپؐ پر ایمان لانے والے لوگ رہ جائینگے اور جو دوسرے مذاہب کے پیرو باقی رہینگے وہ نہایت کم ہونگے اور نہایت ادنیٰ حالت میں ہونگے اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ آئندہ دنیا کی اصلاح کے لئے آپؐ کی ذریت اور آپؐ کی نسل میں سے ایک شخص کو کھڑا کرے گا جو آپؐ کے کام کو تکمیل تک پہنچائے گا اور یہ بھی کہ بادشاہ اور امیر آپ پر ایمان لائیں گے اور اسقدر اخلاص ان میں پیدا ہو گا کہ وہ آپؐ کے کپڑوں سے برکت ڈھویں گے اور یہ بھی کہ جو بادشاہ نہیں آپؐ کی جماعت کی ترقی میں روک ہوں گی اور آپؐ کے دامن سے اپنے آپ کو وابستہ کرنا پسند نہ کریں گی وہ کاٹی جائیں گی اور ان کا نام صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ آپؐ کے ذریعے سے دنیا میں عدل اور انصاف اور محبت کو قائم کرے گا اور خدا تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان ایک نہ ٹوٹنے والا رشتہ قائم ہوگا اور لوگ اپنی سرکشیوں سے باز آجائیں گے اور نیکی اور تقویٰ کا زمانہ دُنیا میں جاری ہوگا اور انسان اپنی پیدائش کے مقصد کو پالے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض پوری ہوگی جو اس مرتبت کا رسول ہے کہ آپؐ باوجود اس شان کے جو خدا نے آپؐ کو دی اور جو دُنیا نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کی اور آئندہ کرے گی اس کے غلام اور اس کے شاگرد ہیں۔

سو مبارک ہیں وہ جو ان نشانات سے جو پورے ہو چکے فائدہ اُٹھاتے ہیں اور خدا سے صلح کر کے اس کے غضب سے محفوظ ہوتے ہیں۔

دعوت الی الاسلام

اے شہزادۂ والا بخت! آخر میں ہم آپ کو اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ کوئی عزت نہیں مگر وہی جو خدا سے ملے اور کوئی رُتبہ نہیں مگر جو اللہ تعالیٰ دے اور کوئی سُکھ نہیں مگر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو۔ پس ہم آپ کو اس صداقت کی دعوت دیتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کی طرف آج سے تیرہ سو سال پہلے بھیجی اور جس کے قیام اور جس کے پورا کرنے کے لئے اس نے اس وقت مسیح موعود کو نازل کیا ہے ۔ بیشک مسیحی اقوام کے لئے یہ نہایت تلخ ہے کہ وہ انیس سو سال تک انتظار کرنے کے بعد مسیح کے وجود کو دوسرے کسی مذہب کے پیروؤں میں پائیں اور ان کی حمیت اور غیرت کو اس سے صدمہ پہنچتا ہے ۔ مگر مبارک وہی ہے کہ جو خدا کی مرضی کو قبول کرے اور اس کی حکمتوں پر اعتراض نہ کرے اور اپنی عزت اور اپنی غیرت اور اپنی خواہش پر اس کی رضا کو مقدم کرے کیونکہ اسی کے لئے دائمی نجات ہے اور وہی ابدی خوشی کو پائے گا۔ پہلوں نے اپنی غیرت کو خدا کی مرضی پر مقدم کر کے کیا سُکھ پایا کہ آئندہ اور لوگ پائیں گے؟ یہود نے یوحنا کو ایلیاء تسلیم کرنا اپنی روایات کے خلاف سمجھا اور اللہ تعالیٰ کے منشاء کو قبول نہ کیا اور وہ آج تک مسیح کے انتظار میں ہیں۔ انتظار کا وقت لمبا ہو گیا مگر آنے والا بھی نہیں آیا کیونکہ وہ جو آچکا دوبارہ کیونکر آئے؟ قیامت تک وہ لوگ انتظار کرتے چلے جائیں گے اور کوئی ایلیاء آسمان سے نازل نہ ہوگا اور نہ کوئی مسیح آئے گا اور وہ اپنی ضد کی وجہ سے آسمان کی بادشاہت سے ہمیشہ کے لئے محروم رہیں گے۔ اسی طرح اگر مسیحی ضد کریں گے اور آسمانی نشانوں کو ردّ کریں گے اور ان سے آنکھیں بند کرلیں گے تو ان کے لئے بھی قیامت تک انتظار کرنا ہوگا جو آنے والے تھے آچکے۔ وہ بھی آگیا جسے خدا کے نام پر آنا تھا اور جس نے موسیٰ کی طرح شریعت کا کلام پانا تھا اور وہ بھی آچکا جس نے مسیح کا نام پا کر آنا تھا اور روحِ حق کی تصدیق کرنی تھی اور اس کے مقصد کی اشاعت کرنی تھی۔ اب ان کے بعد نہ کوئی تسلی دہندہ آئے گا اور نہ کوئی مسیح۔ قیامت تک لوگ انتظار کرتے چلے جائیں سوائے انتظار کی تلخی کے ان کو کچھ نہ ملے گا۔ آنیوالے نے جیسا کہ لکھا تھا مسیح کا نام پا کر آنا تھا نہ کہ خود مسیح نے اور اس کی بعثت اسی طرح ہونی تھی جس طرح یوحنا بپتسمہ دینے والے کی ایلیاء کے رنگ میں ہوئی۔

اے شہزادۂ عالی قدر! جب کوئی بات دلائل سے ثابت ہو جائے تو شک و شبہ سے اس کو باطل کرنا خود اپنا نقصان کرنا ہوتا ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ اسلام کی شکل کو مسلمانوں کے اعمال یا موجودہ خیالات سے بد نما کر کے دکھائیں۔ لیکن جب قرآن کریم خود موجود ہے، جب رسولِؐ اسلام کے اپنے منہ کے الفاظ موجود ہیں تو پھر لوگوں کی باتوں کی طرف جانے کی ہمیں کیا ضرورت ہے؟ کیا سورج کی موجودگی میں ہم لوگوں سے اس کے وجود کی تشریح پوچھا کرتے ہیں؟ یا چاند کے ہوتے ہوئے اس کی روشنی کی کیفیت روایت سے ثابت کیا کرتے ہیں؟ قرآنِ کریم کی تعلیم جیسا کہ میں پہلے مختصراً بیان کر چکا ہوں ایسی ہے کہ کوئی کتاب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ وہ اپنی خوبی میں سورج کی طرح چمکتی ہے اور اس کے مقابلہ میں سب تعلیمیں ماند پڑ جاتی ہیں۔ نہ اس لئے کہ ان نبیوں نے وہ تعلیمیں اپنی طرف سے بنائی تھیں بلکہ اس لئے کہ وہ یا تو خاص وقتوں کے لئے تھیں یا بعد میں لوگوں نے ان میں اپنے خیالات ملا کر ان کو بگاڑ دیا ہے لیکن قرآنِ کریم کی تعلیم ہر زمانہ کے لئے ہے اور مکمل ہے۔ اس میں نہ ایک شوشہ کی تبدیلی کی ضرورت ہے اور نہ گنجائش ہے اور نہ اس کی تعلیم میں انسان کے ہاتھوں نے کوئی تبدیلی پیدا کی ہے۔

اے شہزادۂ بلند اقبال! آپ دیکھیں کہ کس طرح لوگوں نے خدا کے نوشتوں کو بگاڑ دیا ہے؟ وہ نبی جو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے جلال کے قیام کے لئے آیا تھا۔ اس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ واقع میں خدا کا بیٹا ہونے کا مدعی تھا اور یہ کہ خدا کے ساتھ مسیح اور روح القدس بھی الوہیت

کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں۔ اس سے زیادہ ظلم اور اندھیر اور کیا ہو سکتا ہے؟ اور اس سے زیادہ نافرمانی اور بغاوت کی کیا مثال ہو سکتی ہے؟ بادشاہ اور اس کی رعایا کو ایک کر دینا اور آقا اور نوکر کو ملا دینا اور خالق اور مخلوق کو برابری کا درجہ دے دینا سب سے بڑا ظلم ہے جس سے بڑھ کر مذہب میں رہ کر اور کوئی گناہ نہیں ہو سکتا۔ مگر یہ سب کچھ مسیح علیہ السلام کے نام پر کیا جاتا ہے اور اسے عین صداقت سمجھا جاتا ہے۔

اسی طرح خود نجات حاصل کرنے کے لئے خدا کے ایک مقرب کو لعنت کی موت مارا جاتا ہے اور اس پر لعنت کا بوجھ لادا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ تین دن رات اسی حالت میں رہا اور اس عقیدہ کو ثابت کرنے کے لئے خدا کو جس کا رحم دنیا کے ہر انتظام میں نظر آ رہا ہے رحم سے جواب دیا جاتا ہے اور ایک ادنیٰ انسان سے بھی اس کے اخلاق گرائے جاتے ہیں۔ گویا ہم تو اپنے مجرموں کے گناہ معاف کر سکتے ہیں مگر وہ مالک ہو کر بھی معاف نہیں کر سکتا۔

اسی طرح کہا جاتا ہے کہ خدا کی شریعت لعنت ہے گویا نوحؑ اور ابراہیمؑ اور موسیٰؑ اور دیگر انبیاء خدا کی لعنتیں لے کر دُنیا میں آئے تھے لیکن کوئی نہیں بتاتا کہ خدا کے کلام کا کونسا حصہ لعنت ہے؟ کیا یہ لعنت ہے کہ کہا تھا کہ چوری نہ کر، زنا نہ کر اور کسی کو قتل نہ کر؟ یا یہ لعنت ہے کہ کہا گیا تھا کہ جھوٹ نہ بول اور ظلم نہ کر اور دوسروں کے حق نہ مار؟ یا یہ لعنت ہے کہ کہا گیا تھا کہ بد اخلاقی نہ کر اور غیبت نہ کر اور فساد نہ کر؟ یا یہ لعنت ہے جو کہا گیا تھا کہ سچ بول اور لوگوں سے محبت کر اور گناہ گاروں کے گناہ معاف کر؟ یا یہ لعنت ہے کہ بنی نوع انسان کی خیر خواہی کر اور خوش خلقی سے پیش آ۔ اور بیکسوں اور مسکینوں کو اپنے مال میں شریک کر؟ یا یہ لعنت ہے کہ صداقتوں سے پیار کر اور علوم کو حاصل کر اور ایک خدا کی پرستش کر اور اس کا شریک کسی کو قرار نہ دے؟ یا یہ لعنت ہے کہ ہر ایک ظالم سے مظلوم کے حقوق دلوائے جائیں۔ شریروں کو دوسروں پر ظلم نہ کرنے دیا جائے؟ آخر وہ کونسا حکم شریعت کا لعنت ہے جس سے مسیح علیہ السلام نے آکر بچا لیا؟ کیا پھر خدا تعالیٰ کی عبادات یا بعض احتیاطیں کھانے کے متعلق لعنت ہیں؟ کیا فریسی اور فقیہی لوگ اور پہلے لوگ ان عبادتوں کے نہ کرنے کی وجہ سے یا ان کھانوں کے کھا لینے کے سبب سے خدا کے مغضوب ہوئے تھے؟ کہ انکو دُور کر کے مسیح علیہ السلام نے دنیا کو لعنت سے بچا لیا؟ مسیح علیہ السلام تو خود مانتے ہیں کہ عبادات کے احکام وہ خوب بجالاتے تھے اور کھانے بھی وہ شریعت کے مطابق کھاتے تھے پھر ان احکام کی خلاف ورزی تو ان کو جہنم میں لے جانے کا باعث نہیں ہو سکتی تھی

کیونکہ وہ ان احکام کی خلاف ورزی نہ کرتے تھے بلکہ اخلاقی احکام کی خلاف ورزی کرتے تھے لیکن کیا مسیح علیہ السلام کی آمد سے وہ احکام بھی معاف ہو گئے ہیں؟ اگر نہیں تو کون سی لعنت ہے جو مسیح علیہ السلام نے اٹھا لی؟

اصل بات یہی ہے کہ دل مر گئے ہیں اور خدا کے احکام سے آزادی حاصل کرنے کے لئے ان کو لعنت کہا جاتا ہے اور بے گناہ مسیح کو گناہ میں ملوث کیا جاتا ہے ورنہ خود شریعت کو لعنت قرار دینے والے شریعت کے احکام سے کہیں زیادہ قانون بنا رہے ہیں۔

غرض دین بگڑ گئے حالتیں اور بدل گئیں۔ اس لئے ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کی توحید کے قائم کرنے کے لئے اور اس کو خدا کے احکام پر چلانے کے لئے پھر کوئی ہدایت آتی اور وہ اسلام ہے۔

مگر اے صاحب رفعت شہزادہ! ان جھگڑوں میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں مسیح علیہ السلام نے سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کے لئے خود ایک معیار مقرر کر دیا ہے اور وہ اب تک انجیل میں لکھا ہوا موجود ہے مگر لوگ آنکھیں رکھتے ہوئے اسے نہیں دیکھتے اور دل رکھتے ہوئے اسے نہیں سمجھتے اس نشان کے ماتحت اس امر کا آسانی سے فیصلہ ہو سکتا ہے کہ اس وقت خدا تعالیٰ تک پہنچانے کا ذریعہ اسلام ہے یا مسیحیت؟ اور وہ معیار یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں:۔

”اچھے درخت میں بُرا پھل نہیں لگتا اور نہ بُرے درخت میں اچھا پھل لگتا۔ پس ہر ایک درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ اس لئے کہ لوگ کانٹوں سے انجیر نہیں توڑتے اور نہ بھٹکٹیا سے انگور توڑتے۔“

(لوقا باب ۶ آیت ۴۳۔۴۴ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء)

اور اسی طرح ایمان کے ثمرات کے متعلق فرماتے ہیں:۔ ”میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر تمہیں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہوتا تو اگر تم اس پہاڑ سے کہتے کہ یہاں سے وہاں چلا جا تو وہ چلا جاتا اور کوئی بات تمہاری ناممکن نہ ہوتی۔“ (متی باب ۱۷ آیت ۲۰)عہ پھر دُعا کی قبولیت کے متعلق فرماتے ہیں کہ:۔ ”جو کچھ دعا میں ایمان سے مانگو گے سو پاؤ گے۔“ (متی باب ۲۱۔ آیت ۲۲) پھر فرماتے ہیں کہ:۔

”اگر تم میں سے دو شخص زمین پر کسی بات کے لئے مل کر کے دُعا مانگیں وہ میرے باپ کی طرف سے جو آسمان پر ہے ان کے ہو گی‘۔ (متی باب ۱۸۔ آیت ۱۹)

اب اے شہزادہ ! اس معیار کے مطابق کون سا مذہب سچا ثابت ہو گا ؟ وہ جس نے اس قسم کا انسان پیدا کیا ہے جس کا ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں یا وہ جس میں اس کا کچھ بھی نشان نہیں ہے؟ اگر یہ سچ ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے تو اسلام کے اس شیریں پھل کے مقابلہ میں مسیحیت کس پھل کو پیش کرتی ہے ؟ اور اگر یہ سچ ہے کہ کانٹوں کو انگور نہیں لگتے تو اسلام اگر جھوٹا ہے تو اس میں انگور کیونکر لگ گئے ؟ اور مسیحیت اپنی موجودہ صورت میں خدا تعالیٰ کی پسندیدہ ہے تو اس میں کیوں کانٹے ہی کانٹے پیدا ہوتے ہیں ؟ کیا آج ساری مسیحی دنیا میں کوئی ایک بھی شخص ہے جو مسیح موعودؑ سے آدھے نہیں سوویں حصہ کے برابر بھی نشان دکھا سکے بلکہ ایک بھی نشان دکھا سکے ؟ حضرت مسیح تو فرماتے ہیں کہ اگر ایک رائی کے برابر بھی تم میں ایمان ہو تو تم بڑے بڑے کام کر سکتے ہو مگر کیا تمام عالمِ مسیحیت میں ایک بھی آدمی رائی کے دانہ برابر ایمان نہیں رکھتا ؟

اے شہزادۂ ویلز ! زندہ مذہب اپنی زندگی کے آثار رکھتا ہے اور اسلام کی زندگی کے اثر کو ہم اپنے نفس کے اندر محسوس کرتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ تمام نشانات اور تمام قبولیتیں مسیح موعودؑ کے ساتھ ختم ہو گئیں اگر ایسا ہوتا تو ہم اسلام کو بھی مُردہ مذہب سمجھتے ہم یقین رکھتے ہیں کہ اسلام کی برکات ہمیشہ کے لئے جاری ہیں اور ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اگر اب بھی مسیحی دنیا اسلام اور مسیحیت کا اثر دیکھنے کے لئے تیار ہو تو اللہ تعالیٰ اچھے درخت میں اچھے پھل لگا کر دکھا دیگا اور جو اس کا پیارا بیٹا ہے۔ اسے مچھلی کی جگہ سانپ نہیں دے گا نہ روٹی کی جگہ پتھر بلکہ اس کے لئے کھولے گا اور اس کی دعا کو سنے گا۔ پس اے ہمارے واجب التعظیم بادشاہ کے واجب التعظیم ولی عہد ! اگر آپ با وجود ان نشانات اور صداقتوں کے جو اوپر مذکور ہوئیں ابھی یہ خیال کریں کہ خدا کے تعلق اور محبت کے معلوم کرنے کے لئے اس وقت بھی کسی نشان کی ضرورت ہے تو ہم آپ کی خدمت میں درخواست کرتے ہیں کہ آپ اپنے رسوخ سے کام لے کر پادریوں کو تیار کریں جو اپنے مذہب کی سچائی کے اظہار کے لئے بعض مشکل امور کے لئے دُعا مانگیں اور بعض ویسے ہی مشکل امور کے لئے جماعت احمدیہ بھی اللہ تعالیٰ کے حضور التجا کرے مثلاً سخت مریضوں کی شفاء کے لئے جن کو بذریعہ قرعہ اندازی کے آپس میں تقسیم کر لیا جائے پھر آپ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کس کی سنتا ہے اور کس کے منہ پر دروازہ بند کر دیتا ہے ؟ اور اگر وہ ایسا نہ کر سکیں اور ہرگز نہ کریں گے کیونکہ ان کے

دل محسوس کرتے ہیں کہ خدا کی برکتیں ان سے چھین لی گئی ہیں تو پھر اے شہزادہ ! آپ سمجھ لیں کہ خدا نے مسیحیت کو چھوڑ دیا ہے اور اسلام کے ساتھ اپنی رحمتیں مخصوص کر دی ہیں۔

آخر میں اے مکرم شہزادہ ! میں آپ سے التجا کرتا ہوں کہ جس محبت سے خدا کی بادشاہت کی خبر ہم نے آپ کو دی ہے اسی محبت سے آپ اس تمام امر پر غور کریں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں جیسے ہم ہیں ویسے ہی آپ ہیں۔ اس کی نظروں میں چھوٹے اور بڑے بادشاہ اور رعایا سب برابر ہیں۔ ابدی زندگی کے ہم ہی محتاج نہیں بلکہ آپ بھی اس کے محتاج ہیں اور خدا کی رضا کی ہم ہی کو ضرورت نہیں بلکہ آپ کو بھی ہے۔ دُنیا کی بادشاہتیں فانی ہیں اور اس کی عرضی آنی۔ وہی دائمی خوشی کا وارث ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو خوش کرتا ہے ہم نے حق آپ کے سامنے پیش کر دیا ہے اس کا قبول کرنا یا نہ کرنا آپ کے اختیار میں ہے۔ مگر ہم آپ سے باادب التجا کرتے ہیں کہ آپ اسلام کے متعلق سنی سنائی باتوں پر نہ جائیں اور دُشمن کے اقوال پر اپنے خیالات کی بناء نہ رکھیں۔ اسلام ایک پاک اور بے عیب مذہب ہے اور اس کی تعلیم پر چلنے والے ہمیشہ اچھے سے اچھے پھل کھاتے اور خدا تعالیٰ کی عنایتوں اور شفقتوں سے حصہ لیتے رہتے ہیں۔

اس وقت دُنیا گناہ سے بھر گئی ہے اور نافرمانی اور بغاوت پھیل گئی ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ کا غضب بھڑک رہا ہے اب وہ دُنیا کو اپنا چہرہ دکھانا چاہتا ہے اور اس سے اپنا وجود منوانا چاہتا ہے دُنیا نے شرک کے راستہ پر بڑھ بڑھ کر قدم مارا اور انکار پر اصرار کیا اور خدا کے کلام کی ہتک کی اور اس کی ملاقات کے خیال کو دل سے بُھلا دیا اور قیامت کو ہنسی ٹھٹھا سمجھا اور مادیت کا زنگ اس کے دل پر لگ گیا اور لوگوں نے خیال کیا کہ اس کے انبیاء محض طلیق اللسان انسان تھے جنہوں نے لوگوں کو حدود کے اندر رکھنے کے لئے مذہب کی روک بنادی تھی اور وہ خیال کرنے لگی ہے کہ وہ خدا کو بھی سبق پڑھا سکتی ہے اور اس کے کلام پر بھی حکومت کر سکتی ہے۔

عیاشی بڑھ گئی ہے اور دنیا کی محبت دلوں میں گھر کر گئی ہے۔ ایک عاجز انسان کو خدا تعالیٰ کا شریک قرار دیا جاتا ہے اور اس سزا کو جو مسلمانوں کو اسلام کی طرف سے منہ پھیر لینے کی وجہ سے مل رہی تھی اپنی سچائی کی علامت سمجھا جا رہا ہے اور کروڑوں روپیہ اس لئے خرچ کیا جا رہا ہے کہ تا لوگ ایک خدا کی پرستش چھوڑ دیں۔ خدا تعالیٰ نے ان باتوں پر ایک لمبے عرصہ تک صبر کیا اور جب لوگ اس کے پچھلے کلام سے فائدہ اُٹھانے کی طرف متوجہ نہ ہوئے تو اس نے اپنا موعود رسول بھیجا تاکہ اس کی باتوں سے لوگ متاثر ہوں اور اس کے ہاتھ پر نشان پر نشان اور معجزہ پر معجزہ

دکھایا اور اس نے کمال محبت اور ہمدردی کے ساتھ دنیا کو امن کی طرف لانا چاہا اور جب لوگ باز نہ آئے تو پھر تہدید بھی کی اور کہا کہ :۔

”اے یورپ ! تُو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا ! تُو بھی محفوظ نہیں اور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کریگا۔ میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں وہ واحد یگانہ ایک مدت تک خاموش رہا اور اس کی آنکھوں کے سامنے مکروہ کام کئے گئے اور وہ چپ رہا مگر اب وہ ہیبت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا جس کے کان سننے کے ہوں سنے کہ وہ وقت دُور نہیں میں نے کوشش کی کہ خدا کی امان کے نیچے سب کو جمع کروں پر ضرور تھا کہ تقدیر کے نوشتہ پورے ہوتے میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس ملک کی نوبت بھی قریب آتی جاتی ہے۔ نوح کا زمانہ بھی تمہاری آنکھوں کے سامنے آجائیگا اور لوط کی زمین کا واقعہ تم بچشم خود دیکھ لو گے مگر خدا غضب میں دھیما ہے توبہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے جو خدا کو چھوڑتا ہے وہ ایک کیڑا ہے نہ کہ آدمی اور جو اس سے نہیں ڈرتا وہ مردہ ہے نہ کہ زندہ۔“

مگر لوگوں نے پھر بھی توجہ نہ کی اور فاتح اور غالب اپنی فتح اور غلبہ کے گھمنڈ میں رہے اور مغلوب اور مفتوح اپنے دنیاوی شکووں کا رونا روتے رہے ۔ باوجود جگانے کے لوگ نہ جاگے اور باوجود بلانے کے لوگ نہ آئے اور باوجود خدا تعالیٰ کے جلوہ گر ہونے کے لوگوں نے اس کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھا اور باوجود اس کے ہوشیار کرنے کے وہ ہوشیار نہ ہوئے ۔

پس اب اس نے ارادہ کیا ہے کہ اگر لوگ اس کے حق کو تسلیم نہ کریں گے اور اس کے دین کو قبول نہ کریں گے اور اس کے ماموروں پر ایمان نہیں لائیں گے تو وہ ان پر عذاب پر عذاب نازل کریگا اور ان کو دُکھ پر دُکھ پہنچائے گا اور اس وقت تک نہیں باز آئے گا جب تک وہ اس کے احکام کو قبول نہ کریں اور اس کی بادشاہت کو تسلیم نہ کریں جبکہ ادنےٰ سے ادنےٰ حاکم پسند نہیں کرتا کہ لوگ اس سے منہ پھیر کر دوسروں کی طرف توجہ کریں تو وہ جو احکم الحاکمین ہے کب برداشت کر سکتا ہے؟ جب تک خدا کا مُرسَل نہیں آیا تھا لوگوں کے لئے فیصلہ کرنا مشکل تھا مگر اب کسی کے لئے کوئی عذر باقی نہیں ۔ سُورج سر پر آگیا ہے اور اندھیرا جاتا رہا ہے اور وہ لوگ جو آنکھیں کھولتے ہیں خدا کے جلال کو دیکھتے ہیں ۔

آہ ! لوگ نہیں سوچتے کہ جس کی یاد میں کروڑوں انسان گزر گئے اس کا زمانہ خدا تعالیٰ نے

ان کو دیا ہے۔ جو آج سے پہلے مر چکے ان میں سے بہت ہوں گے جو خواہش کرتے ہوں گے کہ کاش! ہم سے سب کچھ لیا جاتا اور مسیح کا زمانہ ہم کو مل جاتا اور جو آئندہ آئیں گے لیکن دیر کے بعد پیدا ہوں گے وہ بھی خواہش کریں گے کہ کاش! ہم سے سب نعمتیں لے لی جاتیں مگر خدا کے مرسل کا قرب پاتے۔

پس اے شہزادۂ والا جاہ! اس وقت کو غنیمت سمجھئے اور ان نشانوں پر یقین لائیے جو خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں دکھائے ہیں اور اس کی بادشاہت میں داخل ہو جائیے کہ خدا کی بادشاہت میں داخل ہونا سب بادشاہتوں سے بڑا ہے باقی سب بادشاہتیں چھوڑنی پڑتی ہیں مگر یہ بادشاہت کبھی نہیں چھڑائی جاتی۔ باقی سب بادشاہتوں کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ایک کے بعد دوسرا وارث ہو لیکن اس بادشاہت کے ایک ہی وقت میں باپ اور بیٹا اور سب جو ان کے ساتھ شامل ہونا چاہیں وارث ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے دروازے کُھل رہے ہیں ان میں داخل ہو جائیے اور اگلی زندگی کے لئے سامان جمع کر لیجئے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے جس قدر زیادہ نعمتیں دی ہیں اسی قدر اس کے مطالبات بھی آپ سے زیادہ ہیں کیونکہ وہ جس کو زیادہ دیتا ہے اس سے پوچھتا بھی ہے کہ میرے ان احسانات کی تُو نے کیا قدر کی؟ پس اللہ تعالیٰ کے احسانات پر نظر کرتے ہوئے اس کی اطاعت میں دوسروں سے زیادہ کوشش کیجئے اور اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہئے آپ نے دیکھا کہ جنگ کے موقع پر آپ کے والد حضور ملک معظم کی آواز پر کس طرح دنیا کے دور کناروں سے لوگ لبیک کہتے ہوئے دوڑ پڑے تھے پس جس طرح آپ کی رعایا نے اپنے بادشاہ کی آواز پر سب کام چھوڑ کر اس آواز کا رُخ کر لیا۔ آپ بھی اس بادشاہ کی آواز پر جو ہمارا اور آپ کا دونوں کا بادشاہ ہے دنیا کی سب روکوں کو دُور کر کے لبیک کا نعرہ لگاتے ہوئے اس کی طرف دوڑ پڑیں تا جس طرح خدا نے آپ کو دنیا کی نعمتیں دی ہیں دین میں بھی حصہ وافر عطا فرمائے۔

خدا تعالیٰ نے دُنیا میں ہدایت کا ایک محل تیار کیا ہے اور ایک بڑی دعوت کا سامان کر کے اپنے بندوں کو بلایا ہے خواہ بادشاہ ہوں یا غیر بادشاہ اور ہم لوگ اس عقیدت کی وجہ سے جو ہمیں آپ کے خاندان سے ہے چاہتے ہیں کہ آپ اس سے محروم نہ رہ جائیں اس لئے اے شہزادہ ویلز! ہم بصد محبت و اخلاص آپ کو اس امر کی اطلاع دیتے ہیں ہم نے آپ کے لئے دروازہ کھول دیا ہے۔ دنیا کی باتوں کی پرواہ نہ کیجئے آگے بڑھئے اور زمین و آسمان کے بادشاہ پہلوں اور پچھلوں کے بادشاہ اور اس جہان اور دوسرے جہان کے بادشاہ کے بلاوے کو قبول کرتے ہوئے اس کے

گھر میں داخل ہو جائیے اور اس کی دعوت سے حصہ لیجئے!!

اَهْلًا وَّسَهْلًا وَّمَرْحَبًا

وَآخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

شہزادۂ معظم!

اگر آنجناب اس کتاب کو مطالعہ کرنے کے بعد دینِ اسلام کے متعلق مزید معلومات حاصل کرنا چاہیں اور اپنی پسندیدگی اور اجازت سے مطلع فرمادیں تو میں آپ کی خدمت میں اسلام کے متعلق اور کتابیں بھیجنا اپنے لئے باعثِ فخر سمجھوں گا۔

خاکسار مرزا محمود احمد


ہزرائل ہائینس پرنس آف ویلز کی خدمت میں جماعت احمدیہ کا ایڈریس

۲۷؍فروری ۱۹۲۲ء کو بPlatform گورنمنٹ پنجاب حسب ذیل ایڈریس قائم مقامان جماعت احمدیہ کی طرف سے ہزرائل ہائینس پرنس آف ویلز کی خدمت میں پیش ہوا ۔

جناب شہزادہ ویلز ! ہم نمائندگان جماعت احمدیہ جناب کی خدمت میں جناب کے ورودِ ہندوستان پر تہ دل سے خوش آمدید کہتے ہیں ۔ اور گو ہم وہ الفاظ نہیں پاتے جن میں جناب کے خاندان سے اپنی دلی وابستگی کا اظہار کما حقہٗ کر سکیں لیکن مختصر لفظوں میں ہم جناب کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ اگر ہمارے ملک معظم کو ہماری خدمات کی ضرورت ہو تو بلا کسی عوض اور بدلہ کے خیال کے ہم لوگ اپنا مال اور اپنی جانیں ان کے احکام کی بجا آوری کے لئے دینے کے لئے تیار ہیں ۔

حضورِ عالی! چونکہ ہماری جماعت نئی ہے اور تعداد میں بھی دوسری جماعتوں کے مقابلہ میں کم ہے اس لئے ممکن ہے کہ جناب کو پوری طرح ہماری جماعت کا علم نہ ہو اس لئے ہم مختصراً اپنے متعلق جناب کو کچھ علم دے دینا ضروری سمجھتے ہیں کیونکہ ایک زمانہ آنے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وسیع ملک کی حکومت کی باگ آپ کے ہاتھ میں آنے والی ہے اور بادشاہ کی حکومت کے استحکام میں جو امر بہت ہی ممد ہوتے ہیں ان میں سے اپنی رعایا کے مختلف طبقوں کا علم بھی ہے ۔

حضورِ عالی! ہم ایک مذہبی جماعت ہیں اور ہمیں دوسری جماعتوں سے امتیاز اپنے مذہبی عقائد کی وجہ سے ہے ہم لوگ مسلمان ہیں اور ہمیں اس نام پر فخر ہے لیکن باوجود اس کے ہم میں اور دوسرے مسلمانوں میں ایک عظیم الشان خندق حائل ہے کیونکہ ہم ان لوگوں کی طرح جو آج سے انیس سو سال پہلے خدا کے ایک برگزیدہ کی آواز پر لبیک کہنے والے تھے اس وقت کے مامور حضرت مرزا غلام احمد صاحبؑ ساکن قادیان ضلع گورداسپور کے ماننے والے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود بنا کر بھیجا ہے اور ہمارے دوسرے بھائی اُن لوگوں کی طرح جنہوں نے حضرت مسیح کا انکار کر دیا تھا اس کے منکر ہیں ہمارا یقین ہے کہ آنے والا مسیحؑ کے رنگ میں آنیوالا تھا نہ کہ خود مسیح نے آنا تھا۔

ہمارے سلسلہ کی بنیاد اکتیس سال سے پڑی ہے اور باوجود سخت سے سخت مظالم کے جو ہمیں برداشت کرنے پڑے ہیں اس وقت ہندوستان کے ہی ہر ایک صوبہ میں ہماری جماعت نہیں ہے بلکہ سیلون، افغانستان، ایران، عراق، عرب، روس، ماریشس، نیٹال، ایسٹ افریقہ، مصر، سیرالیون، گولڈ کوسٹ، نائیجیریا، یونائیٹڈ سٹیٹس اور خود انگلستان میں ہماری جماعت موجود ہے اور ہمارا اندازہ ہے کہ دُنیا میں نصف ملین کے قریب لوگ اس جماعت میں شامل ہیں اور یہی نہیں کہ صرف مختلف ممالک کے ہندوستانی ساکنین ہی اس جماعت میں شامل ہیں بلکہ خود ان ممالک کے رہنے والے اس جماعت میں شامل ہو رہے ہیں۔ چنانچہ لنڈن کے علاقہ پٹنی میں ہمارا مشن قائم ہے اور ایک مسجد بھی ہے اور انگلستان کے تقریباً دوسو آدمی اس سلسلہ میں شامل ہوچکے ہیں اور اسی طرح یونائیٹڈ سٹیٹس کے لوگوں میں بھی یہ سلسلہ پھیل رہا ہے اور ہم لوگ یقین رکھتے ہیں کہ ایک وقت یہ سلسلہ سب جہان میں پھیل جائے گا۔

حضورِ عالی! ان مختصر حالات کے بتانے کے بعد ہم جناب کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہماری وفاداری جناب کے والد مکرم سے کسی دنیاوی اصل پر نہیں ہے اور نہ کوئی دنیاوی طمع اس کا موجب ہے۔ جو خدمات گورنمنٹ کی بحیثیت جماعت ہم کرتے ہیں اسکے بدلہ میں کبھی کسی بدلہ کے طالب نہیں ہوئے ہماری وفاداری کا موجب ایک اسلامی حکم ہے جس کے متعلق بانی سلسلہؑ نے ہمیں سخت تاکید کی ہے کہ کبھی اسے نظر انداز نہ ہونے دیں اور وہ یہ حکم ہے کہ جو حکومت ہمیں مذہبی آزادی دے اس کی ہمیں ہر حالت میں فرمانبرداری کرنی چاہئے اور اگر کوئی حکومت ہمارے مذہبی فرائض میں دست اندازی کرے تو بجائے اس کے ملک میں فساد ڈلوانے کے کے اس کے ملک سے ہمیں نکل جانا چاہئے۔ ہمارے تجربہ نے ہمیں بتا دیا ہے کہ تخت برطانیہ کے زیر سایہ ہمیں ہر قسم کی مذہبی آزادی حاصل ہے حتیٰ کہ اکثر اسلامی کہلانے والے ملکوں میں ہم اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں کر سکتے مگر

تاج برطانیہ کے زیرِ سایہ ہم خود اس مذہب کے خلاف جو ہمارے ملکِ معظم کا ہے تبلیغ کرتے ہیں اور ان کی اپنی قوم کے لوگوں میں ان کے اپنے ملک میں جا کر اسلام کی اشاعت کرتے ہیں اور کوئی ہمیں کچھ نہیں کہتا اور ہم یقین کرتے ہیں کہ اس سلسلہ کی اسقدر جلد اشاعت میں حکومت برطانیہ کے غیر جانبدار رویہ کا بھی بہت کچھ دخل ہے۔ سو حضورِ عالی! ہماری فرمانبرداری مذہبی امور پر ہے اس لئے گو ہم حکومت وقت کی پالیسی سے کس قدر ہی اختلاف کریں کبھی اس کے خلاف کھڑے نہیں ہو سکتے کیونکہ اس صورت میں ہم خود اپنے عقیدہ کی رُو سے مجرم ہوں گے اور ہمارا ایمان خود ہم پر حجت قائم کرے گا۔

حضور ملک معظم کی فرمانبرداری ہمارے لئے ایک مذہبی فرض ہے جس میں سیاسی حقوق کے ملنے یا نہ ملنے کا کچھ دخل نہیں جب تک ہمیں مذہبی آزادی حاصل ہے ہم اپنی ہر ایک چیز تاج برطانیہ پر نثار کرنے کے لئے تیار ہیں اور لوگوں کی دشمنی اور عداوت ہمیں اس سے باز نہیں رکھ سکتی۔ ہم نے بار ہا سخت سے سخت سوشل بائیکاٹ کی تکالیف برداشت کر کے اس امر کو ثابت کر دیا ہے اور اگر ہزار ہا دفعہ پھر ایسا ہی موقع پیش آئے تو پھر ثابت کرنے کے لئے تیار ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ سے اُمید رکھتے ہیں کہ وہ بوقت ضرورت ہمیں اس دعویٰ کے ثابت کرنے کی اس سے بھی زیادہ توفیق دیگا جیسا کہ وہ پہلے اپنے فضل سے دیتا رہا ہے۔ ہم اس امر کو سخت ناپسند کرتے ہیں کہ اختلاف سیاسی کی بناء پر ملک کے امن کو برباد کیا جائے ہمارا مذہب تو ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر مذہبی ظلم بھی ہو تب بھی اس ملک کا امن برباد نہ کرو بلکہ اسے چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں چلے جاؤ۔ لوگ ہمارے ان خیالات پر ہمیں قوم اور ملک کا بدخواہ کہتے ہیں اور بعض گورنمنٹ کا خوشامدی سمجھتے ہیں اور بعض بیوقوف یا موقع کا متلاشی قرار دیتے ہیں، مگر اے شہزادۂ مکرم! ہم لوگوں کی باتوں سے خدا کو نہیں چھوڑ سکتے۔ دنیا ہمیں کچھ کہے جبکہ ہمارے خدا نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہم امن کو برباد نہ ہونے دیں اور صلح کو دنیا پر قائم کریں اور تمام نوعِ انسان میں محبت پیدا کر کے انہیں باہم ملا دیں تو ہم صلح اور محبت کا راستہ نہیں چھوڑ سکتے، ہم بہر حال اپنے بادشاہ کے وفادار رہیں گے اور اس کے احکام کی ہر طرح فرمانبرداری کریں گے۔

حضورِ عالی! آپ نے اس قدر دور دراز کا سفر اختیار کر کے جو ان لوگوں کے حالات سے آگاہی حاصل کرنی چاہی ہے جن پر کسی آئندہ زمانہ میں حکومت کرنا آپ کے لئے مقدر ہے، اس قربانی اور ایثار کو ہم لوگ شکر اور امتنان کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کوئی شخص جو ذرہ بھر بھی حق

اور اس کی محبت اپنے دل میں رکھتا ہے آپ کے اس سفر کو کسی اور نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا۔ پس ہم لوگ آپ کی اس ہمدردی اور ہمارے حالات سے دلچسپی رکھنے پر آپ کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتے ہیں کہ جس طرح آپ نے اپنے باپ کی رعایا کی طرف محبت کی نظر ڈالی ہے وہ بھی آپ پر اپنی محبت کی نگاہ ڈالے۔

حضورِ عالی! ہماری جماعت نے جناب کے ورودِ ہندوستان کی خوشی میں جناب کے لئے ایک علمی تحفہ تیار کیا ہے یعنی اس سلسلہ کی تعلیم اور اس کے قیام کی غرض اور دوسرے سلسلوں سے اس کا امتیاز اور بانیٔ سلسلہ کے مختصر حالات اس رسالہ میں لکھے ہیں اور اس میں جناب ہی کو مخاطب کیا گیا ہے، سلسلہ کے موجودہ امام نے اسے لکھا ہے اور تیس ہزار آدمیوں نے اس کی چھپوائی میں حصہ لیا ہے تاکہ ان کے خلوص کے اظہار کی یہ علامت ہو اور ابھی وقت کی قلت مانع رہی ہے ورنہ اس سے بہت زیادہ لوگ اس میں حصہ لیتے۔

حضور شہزادہ والا تبار! ہم یہ تحفہ بَوساطت گورنمنٹ پنجاب حضور میں پیش کرتے ہیں اور ادب و احترام کے ساتھ ملتجی ہیں کہ کچھ وقت اس کے ملاحظہ کے لئے وقف فرمایا جائے۔

آخر میں پھر ہم جناب کو تہ دل سے ورودِ ہندوستان اور پھر ورودِ پنجاب پر جو مرکزِ سلسلۂ احمدیہ ہے خوش آمدید کہتے ہیں اور آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ اپنے والدِ مکرم سے ہماری طرف سے عرض کر دیں کہ ہماری جماعت باوجود اپنی کمزوری، ناطاقتی اور قلتِ تعداد کے ہر وقت جناب کے لئے اپنا مال و جان قربان کرنے کے لئے تیار ہے اور ہر حالت میں آپ اس جماعت کی وفاداری پر اعتماد کر سکتے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کی عمر میں برکت دے اور آپ کے قدم کو اپنی خوشنودی کی راہوں پر چلائے اور ہر ایک آفت زمانہ سے آپ کو محفوظ رکھے۔ بلکہ اپنی مدد اور نصرت کا دامن آپ کے سر پر پھیلائے۔


۱۹۰۳ء کو ہوئی۔ (انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا جلد ۸ صفحہ ۱۰)

۳؎حبیب اللہ خان (عہد حکومت ۱۸۷۲ء۔ ۱۹۱۹ء) والئی افغانستان۔ اپنے والد امیر عبدالرحمٰن کی وفات کے بعد یکم اکتوبر ۱۹۰۱ء میں مسند نشین ہوا۔ اسی کے عہد میں ڈیورنڈ لائن کا تعین کیا گیا اور برطانیہ نے افغانستان کو آزادی دینے کا وعدہ کیا۔ ۲۰؍فروری ۱۹۱۹ء کو اس نے وادی النگار (ALINGAR) میں قلعہ السراج (لغمان) کے قریب گوش میں پڑاؤ ڈال رکھا تھا کہ اسے قتل کر دیا گیا۔ (اردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد اصفحہ ۵۳۷ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۷ء۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد ۷ صفحہ ۸۸۶، ۸۸۷ مطبوعہ دانش گاہ پنجاب لاہور)

؛

۴؎(UNDER THE ABSOLUTE AMIR By FRANK A. MARTIN P-203 PUBLISHED IN 1907)

۵؎(UNDER THE ABSOLUTE AMIR By FRANK A. MARTIN P-203,204 PUBLISHED IN 1907)

۶؎(UNDER THE ABSOLUTE AMIR By FRANK A. MARTIN P-204 PUBLISHED IN 1907)

قائم مقامانِ جماعت احمدیہ

۱۔ سردار امام بخش خان تمندار کوٹ قیصرانی۔ ضلع ڈیرہ غازیخان ۲۔ خان محمد علی خان جاگیردار مالیر کوٹلہ ۳۔ خان بہادر راجہ پائندا خان جنجوعہ آف دارا پور جہلم ۴۔ مرزا بشیر احمد ایم اے خلف الرشید بانی سلسلہ احمدیہ ۵۔ مرزا شریف احمد آنریری رسالدار۔ خلف الرشید بانی سلسلہ احمدیہ ۶۔ غلام محمد خان آنریری کیپٹن۔ ضلع جہلم ۷۔ غلام محمد خان آنریری لفٹیننٹ۔ ضلع جہلم ۸۔ خان بہادر محمد حسین بی اے ریٹائرڈ سب جج علی گڑھ ۹۔ خان بہادر عبدالحق آنریری مجسٹریٹ پیلی بھیٹ ۱۰۔ خان صاحب نعمت اللہ خان آنریری مجسٹریٹ جالندھر ۱۱۔ ملک مولا بخش آنریری مجسٹریٹ۔ گورالی، گجرات ۱۲۔ سیٹھ عبداللہ الہ دین سوداگر۔ سکندر آباد ۱۳۔ چوہدری نصر اللہ خان پلیڈر ہائی کورٹ سیالکوٹ ۱۴۔ چوہدری ظفر اللہ خان بی اے۔ ایل۔ ایل۔ بی۔ بیرسٹر ایٹ لاء لاہور ۱۵۔ خان صاحب چوہدری فتح محمد خان ذیلدار و آنریری مجسٹریٹ گجرات ۱۶۔ فتح محمد خان صوبیدار میجر پنشنر۔ ضلع جہلم ۱۷۔ پیر اکبر علی ممبر لیجسلیٹو کونسل پنجاب ۱۸۔ مرزا ناصر علی پلیڈر ہائی کورٹ۔ فیروز پور ۱۹۔ قاضی محمد شفیق ایم اے ایل۔ ایل۔ بی پلیڈر پشاور ۲۰۔ میاں محمد صدیق۔ سوداگر کلکتہ ۲۱۔ میاں محمد عیسیٰ بی اے۔ ایل۔ ایل۔ بی۔ کلکتہ ۲۲۔ مولوی سید محمد سرور شاہ پرنسپل احمدیہ دینی کالج قادیان

۲۳۔ میاں محمد ابراہیم سوداگر چرم۔ لاہور ۲۴۔ سیّد بشارت احمد سیکرٹری انجمن احمدیہ۔ حیدرآباد دکن ۲۵۔ مولوی عبدالماجد پروفیسر جوبلی کالج۔ بھاگلپور ۲۶۔ حافظ نور محمد سوداگر ناگپور ۲۷۔ محمد امیر خان ڈیرو گڑھ۔ آسام ۲۸۔ ای عبدالقادر کٹھی۔ سوداگر رنگون۔ برما ۲۹۔ حافظ محمد اسحٰق۔ انجینئر بمبئی ۳۰۔ پروفیسر محمد ایم اے۔ مدراس ۳۱۔ خان غلام اکبر خان جج ہائی کورٹ۔ حیدرآباد دکن ۳۲۔ جنرل اوصاف علی خان سی۔ آئی۔ ای۔ نابہ سٹیٹ ۳۳۔ میاں الٰہی بخش رسالدار میجر امرتسر ۳۴۔ مولوی رحیم بخش ایم اے۔ پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح ۳۵۔ چوہدری فتح محمد سیال ایم اے۔ ناظر تالیف و اشاعت قادیان ۳۶۔ مولوی شیر علی بی اے۔ ناظر اعلیٰ قادیان ۳۷۔ سیّد زین العابدین ولی اللہ شاہ سابق وائس پرنسپل سلطانیہ کالج شام ۳۸۔ مولوی محمد دین بی اے۔ ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز قادیان ۳۹۔ مولوی ذوالفقار علی خان آف رامپور۔ ناظر امور عامہ ۴۰۔ خلیفہ رشید الدین ایل۔ ایم۔ ایس۔ جنرل سیکرٹری صدر انجمن احمدیہ قادیان

قبولیت تحفہ

نمبر ۹۳۸ پی پرنس آف ویلز کیمپ ہند منجانب چیف سیکرٹری ہز رائل ہائنس شہزادہ ویلز

بخدمت ذوالفقار علی خان ایڈیشنل سیکرٹری جماعتِ احمدیہ

قادیان پنجاب مورخہ یکم مارچ ۱۹۲۲ء

جناب من! حسب الحکم ہز رائل ہائنس شہزادہ ویلز میں ممبران جماعت احمدیہ کے اس خیر مقدم کے ایڈریس کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو گورنمنٹ پنجاب کی وساطت سے حضور شہزادہ ویلز کو پہنچا ہے ہز رائل ہائنس شہزادہ ویلز نے شوق و دلچسپی کے ساتھ سلسلہ احمدیہ کی ابتداء اور تاریخ کے حالات کا آپ کے ایڈریس میں مطالعہ کیا ہے اور حضور شہزادہ ویلز اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب وہ اس نہایت خوبصورت کتاب میں جو ممبران جماعت احمدیہ کے چندہ سے بطور تحفہ پیش کی گئی ہے سلسلہ کی تفصیلی تاریخ کا مطالعہ فرمائیں گے۔ ہز رائل ہائنس نہایت گرمجوشی کے ساتھ اس وفادارانہ جذبہ کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس نے آپ کے ہزارہا ہم عقیدہ اصحاب کو اس تحفہ کے پیش کرنے پر آمادہ کیا ہے اور حضور شہزادہ ویلز کی خوشی اس نشان وفاداری کے قبول کرنے میں اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ آپ کو ہز ایکسلنسی گورنر پنجاب کی طرف سے یہ علم دیا گیا ہے کہ جنگ عظیم کے دوران میں اور نیز اس کے بعد آنے والے سخت ایام میں جماعت احمدیہ نے تاج و سلطنت برطانیہ کی وفاداری میں غیر متزلزل ثبات دکھایا ہے مجھے حضور شہزادہ ویلز کی طرف سے حکم ملا ہے کہ میں آپ کو یقین دلاؤں کہ نظر بایں حالات جماعت احمدیہ کو حضور شہزادہ ویلز کے التفات محبت آمیز کا ہمیشہ پورا یقین رکھنا چاہئے ۔

میں ہوں جناب کا نیاز مند خادم ، جی ایف ڈی مانٹ مورنسی چیف سیکرٹری ہز رائل ہائنس پرنس آف ویلز


دعوتِ علماء

از

سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ

خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ

دعوت علماء

اے علماء کرام! جو جلسہ غیر احمدیان کے موقع پر قادیان تشریف لائے ہیں میں آپ لوگوں سے چند باتیں خلوصِ نیت اور محبت بھرے دل کے ساتھ کہنی چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ بھی اسی محبت اور اخلاص کے ساتھ ان پر غور کریں گے جس محبت اور اخلاص سے کہ میں ان کو پیش کرنے لگا ہوں۔

آپ لوگ جانتے ہیں کہ ہمارا اختلاف ایک مذہبی اختلاف ہے کوئی دنیاوی جھگڑا یا حق رسی کا سوال ہمارے اور آپ کے درمیان پیدا نہیں ہوا۔ یہی لوگ جو اس جلسہ کے بانی ہوئے ہیں کچھ عرصہ پہلے اپنی خوشیوں اور اپنے غموں میں ہمارے آباء کی طرف رجوع کرتے تھے اور وہ بھی جس طرح باپ اپنے بیٹے سے محبت کا سلوک کرتا ہے عُسْر اور يُسْر میں ان کے شریک ہوتے اور خود تکلیف اُٹھا کر ان کو آرام پہنچاتے تھے۔ حالات سے ناواقف نوجوان جو چاہیں کہیں اور کریں مگر قادیان اور اس کے اردگرد کے بوڑھے اس امر کی شہادت دیں گے کہ ہمارے آباء نے اپنے عروج کے وقت بھی جب ان کو قادیان اور اس کے اردگرد کے علاقہ پر حکومت حاصل تھی ان سے محبت کا تعلق ہی رکھا تھا اور جب وہ اپنی حکومت کھو بیٹھے اور صرف زمینداروں اور جاگیرداروں کی حیثیت ان کی رہ گئی تب بھی وہ ان سے حُسنِ سلوک ہی کرتے رہے اور یہ لوگ بھی ان سے اعزاز واکرام ہی کے ساتھ پیش آتے رہے۔ یہ اختلاف جو اب نظر آ رہا ہے اسی وقت سے شروع ہوا ہے جب

حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ماموریت کا دعویٰ کیا اور دُنیا کی اصلاح کا کام شروع کیا پس جب ان لوگوں سے جو قادیان اور اس کے نواح کے رہنے والے ہیں ہمارا کوئی دُنیاوی اختلاف نہیں تو آپ لوگ جو دُور دُور کے شہروں سے آئے ہیں آپ کے اور ہمارے درمیان کوئی دُنیاوی اختلاف کیونکر ہو سکتا ہے اور جب کہ ہمارا اختلاف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے تو چاہئے کہ اس اختلاف کو ہم اسی رنگ میں مٹانے کی بھی کوشش کریں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے منشا کے مطابق ہو اور جس سے ان کی خوشنودی ہمیں حاصل ہو۔ یہ نہایت ہی افسوس کا مقام ہوگا اگر ہم خدا تعالیٰ کے لئے آپس میں اختلاف کریں اور پھر اپنے اعمال اور اپنے اقوال سے اس کو ناراض کر دیں۔ اس صورت میں ہماری مثال شاعر کے اس مقولہ کے مطابق ہو جائے گی کہ

نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم

نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

دُنیا تو ہم نے اختلاف سے کھو دی اور دین اختلاف کے مٹانے کے لئے جو طریق ہم نے اختیار کیا اس سے برباد کر دیا۔

جب سے آدم علیہ السلام کی نسل دنیا میں پھیلی ہے اختلاف خیالات چلا آتا ہے اور جب تک اس زمین پر انسان بسے گا اختلاف ہوتا رہے گا۔ پس یہ چاہنا کہ اختلافِ خیالات دُنیا سے مٹ جائے ایک عبث خیال ہے جو نہ آج تک کسی سے پورا ہو سکا اور نہ آئندہ ہو سکے گا۔ اختلافِ طبائع ہی انسان کی ترقی کا باعث ہے۔ اگر طبائع کا اختلاف نہ ہوتا تو آج اس قدر پیشے اور مشاغل دنیا میں کیونکر نظر آتے اور اس قدر علمی ترقی کس طرح ہوتی۔ اسی امر کو مدنظر رکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اِخْتِلَافُ اُمَّتِیْ رَحْمَةٌ میری اُمت کا اختلاف بھی رحمت ہوگا یعنی وہ اختلاف جو اختلافِ طبائع کی حد کے اندر محدود رہے گا۔ غرض اختلاف کا ہونا تو ضروری ہے لیکن ناپسند بات یہ ہے کہ اختلاف بڑھتے بڑھتے حق و باطل کا اختلاف ہو جائے یا یہ کہ اختلاف کے وقت انسان اپنے آپ سے اسقدر باہر ہو جائے کہ تقویٰ اور دیانت کو بالکل چھوڑ بیٹھے اور اپنی بات کی بیج اسے اس قدر ہو جائے کہ وہ اس کے ثابت کرنے اور منوانے کے لئے جھوٹ اور دھوکے سے بھی پرہیز نہ کرے اور خدا کے خوف کو بالائے طاق رکھ کر اپنی غلطی کو سمجھ کر بھی اس پر

مُصر رہے۔ یا جیت ہار کا خیال اسقدر اس کے دامنگیر ہو جائے کہ وہ دوسرے کی بات پر غور ہی نہ کرے یا اگر غور کرے تو اس خیال سے نہیں کہ اگر وہ سچی ہو تو اسے تسلیم کرلوں بلکہ اس خیال سے کہ اس میں سے کوئی نقص نکالوں اور اس کا کوئی عیب پکڑوں اور پھر اس وہی عیب یا نقص کو لوگوں کے سامنے پیش کر کے ان کو حق کے قبول کرنے سے باز رکھوں جب اختلاف یہ رنگ اختیار کرلے تو یہ اختلاف باوجود مذہبی اختلاف ہونے کے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے غضب کا موجب ہوتا ہے اور اس کی غیرت کو بھڑکاتا ہے کیونکہ اس کا مرتکب اپنی عزت کو اللہ تعالیٰ کی عزت پر اور اپنی کامیابی کو اللہ تعالیٰ کے دین کی کامیابی پر مقدم کر لیتا ہے۔ اسے یہ فکر نہیں رہتی کہ خدا کا جلال دُنیا میں ظاہر ہو بلکہ یہ فکر لگ جاتی ہے کہ میری عزت ہو اور لوگ سمجھیں کہ یہ بڑا عقلمند اور دانا انسان ہے۔ یہ مقام نہایت ہی خطرناک ہے لیکن لوگوں کی تعریف اور اپنے نفس کی بڑائی کا خیال بہت سے لوگوں کو اس مقام پر لا کر کھڑا کر دیتا ہے اور اس دنیا کی عزت کی خواہش آخرت کی وسیع زندگی کی ترقیات کو آنکھوں سے اوجھل کر دیتی ہے۔ اس لئے خدا پر یقین رکھنے والے بندوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ہر ایک اختلاف کے موقع پر اپنی نیتوں اور ارادوں کو ٹٹولتے رہیں اور اپنے طریق عمل کو جانچتے رہیں تا ایسا نہ ہو کہ اختلاف مٹانے مٹاتے اپنے آپ کو مٹادیں اور بدی کا قلع قمع کرتے کرتے صداقت اور راستی کے گلے پر چھری پھیر دیں۔ خصوصاً وہ لوگ جن کی باتوں کی طرف لوگ کان رکھتے ہیں اور جن کے فیصلہ کا لوگ احترام کرتے ہیں ان کو تو بہت ہی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ان کی غلطی کا اثر ان کی ذات تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ بہت سے دوسرے لوگ بھی ان کے پیچھے چل کر ہلاک ہو جاتے ہیں اور اس سے زیادہ قابلِ شرم کیا بات ہوگی کہ ایک شخص دوسرے پر اعتبار کر کے اپنا دین اور ایمان بھی اس کے سپرد کر دے اور وہ فخر و مباہات کی بازی میں اس کو بھی ہار دے۔ پس میں آپ لوگوں کو نہایت محبت اور اخلاص سے مشورہ دیتا ہوں کہ جبکہ ہمارا اختلاف محض اللہ کے لئے ہے تو آپ کو اس کے دُور کرنے کے لئے وہی طریق اختیار کرنا چاہئے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کا موجب ہو اور اس کی خوشنودی کا باعث ہو۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ لوگ تمام کے تمام محض فتنہ کی نیت سے قادیان میں آئے ہیں یا آپ کا ظاہر اور باطن ایک نہیں ہے۔ میں مانتا ہوں کہ آپ میں سے بہت سے تہ دل سے یقین رکھتے ہوں گے کہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دعویٰ غلط تھا یا یہ کہ انہوں نے خدا پر افتراء کیا تھا لیکن کسی بات کے باطل ہونے کا یقین اگر وہ سچی ہو تو

اللہ تعالیٰ کے مواخذہ سے انسان کو بچا نہیں دیتا۔ یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اس کے سچے یا جھوٹے ہونے کو انسان ان دلائل کے ذریعے سے پرکھے جن دلائل کے ذریعے سے کہ اسی قسم کی صداقتیں پرکھی جاتی ہیں۔ اگر کوئی شخص ایک بات کی سچائی کو اس ذریعہ سے نہیں معلوم کرتا جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی سچائی کے معلوم کرنے کے لئے مقرر کیا ہے تو وہ لاکھ یقین رکھتا ہو کہ وہ بات جھوٹی ہے خدا تعالیٰ کے حضور سرخرو نہیں ہوسکتا اور اس کا یہ کہنا کافی نہیں کہ میں اس بات کو جھوٹا سمجھتا تھا اس لئے میں نے اسے نہیں مانا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب مخالف آپؐ کا مقابلہ شرارت سے ہی نہیں کرتے تھے بہت تھے جو واقع میں آپؐ کو جھوٹا سمجھتے تھے لیکن کیا وہ اس یقین کی وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ جھوٹے ہیں خدا تعالیٰ کے مواخذہ سے بچ جائیں گے۔ اس وقت بھی لاکھوں کروڑوں ہندو اور عیسائی (مسیحی) سچے دل سے یقین کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم (نعوذ باللہ من ذالک) سچے نہ تھے تو کیا ان کا یہ یقین ان کو سزا سے بچالے گا؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ ان سے یہ سوال کیا جائے گا کہ نبیوں کے پہچاننے کے لئے جو طریق مقرر ہیں کیا انھوں نے ان طریقوں کو استعمال کیا تھا کہ ان کو معلوم ہوا کہ آپؐ جھوٹے تھے؟ ابو جہل کی نسبت تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھوٹے ہونے پر اس قدر یقین تھا کہ اس نے جنگ بدر جیسے نازک موقع پر جبکہ دونوں فریق مقابلہ کے لئے تیار کھڑے تھے مباہلہ تک سے گریز نہ کیااور دُعا کی کہ جو جھوٹا ہو اس پر آسمان پر سے پتھر برسیں یا کوئی اور سخت عذاب نازل ہو۔ چنانچہ قرآن کریم میں سورۃ انفال میں ابوجہل کی اس دُعا کا ان الفاظ میں ذکر ہے:۔

وَاِذۡ قَالُوا اللّٰہُمَّ اِنۡ کَانَ ہٰذَا ہُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِکَ فَاَمۡطِرۡ عَلَیۡنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ(الانفال: ۳۳)

مگر باوجود اس یقین کے جو اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھوٹا ہونے پر تھا (نعوذ باللہ) وہ اللہ تعالیٰ کے حضور بری الذمہ نہیں ہوگا کیونکہ اس سے کہا جائے گا کہ خالی یقین کافی نہیں تو یہ بتا کہ کیا تو نے اس رسولؐ کو ان ذریعوں سے پہچاننے کی کوشش کی تھی جن سے کہ سچے نبی پہچانے جاتے ہیں اور اس سوال کا جواب اس کے پاس کچھ نہ ہوگا۔

غرض صرف کسی شخص کے جھوٹے ہونے کا یقین اس بات کے لئے کافی نہیں ہوتا کہ اس کی مخالفت کی جائے اور یہ یقین اللہ تعالیٰ کی گرفت سے آدمی کو بچا نہیں سکتا۔ خدا تعالیٰ یہ بھی دیکھتا ہے

کہ اس قسم کے یقین کی وجہ کیا تھی؟ کوئی شخص دروازہ بند کر کے بیٹھ جائے اور دوپہر کو سحری کھالے تو اس کا روزہ نہیں ہو جائے گا۔ اس کا یہ بھی فرض تھا کہ دروازہ کھول کر دیکھتا کہ سحری کا وقت کب آیا۔ اسی طرح جو لوگ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے کا دعویٰ کرتے ہیں ان کے متعلق لوگوں کا اسی قدر فرض نہیں کہ وہ دیکھیں کہ ان کا دل ان کے متعلق کیا کہتا ہے؟ یا یہ کہ ان کے بعض خیالات سے اس کی صداقت کا کیا ثبوت ملتا ہے؟ بلکہ ان کا فرض ہے کہ منہاجِ نبوت سے اس کے دعوے کو پرکھیں اور اگر دعویٰ سچا پائیں تو اس کو قبول کر لیں ورنہ رد کر دیں۔

پس آپ لوگ جو قادیان تشریف لائے ہیں۔ میں آپ کو مخلصانہ مشورہ دیتا ہوں کہ آپ منہاج نبوت پر حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے دعویٰ کو پرکھیں اور انکار کرنے سے پہلے اس بات کو اچھی طرح سوچ لیں کہ یہ بات معمولی نہیں ہے۔ اگر مرزا صاحب سچے تھے تو اللہ تعالیٰ کے سامنے آپ پر بڑی ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے اور وہ لوگ جو آپ لوگوں کے کہنے سے حق کے قبول کرنے سے محروم رہ جائیں ان کے گناہ کا وبال بھی آپ کی گردنوں پر پڑتا ہے۔

اسلام کی حالت اس وقت سخت نازک ہے اور مسلمان گرتے گرتے انتہائی ذلت کو پہنچ گئے ہیں اگر آج بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی ترقی کا کوئی سامان نہ ہوتا تو پھر اسلام اور دوسرے مذہبوں میں فرق کیا رہ جاتا؟ اس زمانہ سے پہلے بہت چھوٹے چھوٹے فتنوں کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجدد آتے رہے ہیں اور تقریباً تمام مسلمان اس امر کے قائل ہیں کہ ان مجددوں اور ولیوں کے ذریعے دین اسلام کی حفاظت ہوتی رہی ہے۔ حضرت سید عبدالقادر صاحب جیلانیؒ، حضرت معین الدین صاحب چشتیؒ، حضرت سید احمد صاحب سرہندی رضی اللہ عنہم اور ہزاروں بزرگ ان فتنوں کے فرو کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں، مگر تعجب ہے کہ اس وقت کے فتنہ کے فرو کرنے کے لئے جسکے مقابلہ میں زمانہ ماضی کے فتنے بالکل بے حقیقت ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بھی شخص نہیں بھیجا گیا اور اگر کوئی شخص بھیجا گیا تو نعوذ باللہ من ذالک وہ ایک دجال اور مفتری انسان تھا اور پھر غضب یہ ہوا کہ اس نازک موقع پر اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان پر ایسے نشان بھی ظاہر کر دیئے جو مسیح موعود اور مہدی مسعود کے زمانہ کے لئے مقرر تھے۔ اگر یہ بات فی الواقع سچ ہو تو پھر ماننا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ کا اپنا منشاء ہے کہ مسلمان گمراہ ہوں اور دین اسلام تباہ ہو۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی شان سے یہ بات بعید ہے کہ وہ ایسا کرے، پس حق یہی ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب اللہ تعالیٰ کی طرف مامور ہیں اور ان کو

اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کے قیام اور اس کی مضبوطی کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔

آپ لوگ غور تو کریں کہ کیا جھوٹے آدمیوں سے اللہ تعالیٰ کا یہی سلوک ہوا کرتا ہے جو آپ سے ہوا؟ اور کیا جھوٹے لوگ اسلام کی اسی طرح خدمت کیا کرتے ہیں جو آپ نے کی؟ اس وقت اللہ تعالیٰ آپ کی جماعت کے ذریعے سے جو بظاہر نہایت غریب اور کمزور ہے وہ کام لے رہا ہے جو دوسرے تیس کروڑ مسلمانوں سے نہیں ہو سکتا۔ ان کے ذریعے سے دشمنانِ اسلام سے اسلام کی خوبیوں کا اعتراف کروایا جا رہا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والوں کی زبانوں سے آپ پر درود بھجوایا جا رہا ہے۔ اس کے مقابلہ میں ان لوگوں کے کارنامے کیا ہیں جو تعداد میں، مال میں، رُعب میں، طاقت میں اس جماعت سے ہزاروں گنے بڑھ کر ہیں سوائے اس کے کہ وہ اس خدا کے برگزیدہ کو اور اس کی جماعت کو گالیاں دے چھوڑیں اور وہ کیا کام کر رہے ہیں۔ اسلام میں کسی کو داخل کرنا تو ان کے لئے مشکل ہے وہ لوگ جو اسلام کے لئے اپنے اموال اور اپنی جانوں کو قربان کر رہے ہیں ان کی پیٹھ میں خنجر بھونکنا اور خدمتِ اسلام سے باز رکھنے کی کوشش کرنا ان کا شغل بن رہا ہے۔ پس ان حالات پر غور کریں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق اس خدا کے برگزیدہ کو قبول کریں تا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو عزت نصیب ہو اور اس کے فضل کے آپ لوگ وارث ہوں۔ بیشک اگر آپ لوگ حق کو قبول کریں گے تو ہماری مشکلات اور تکالیف میں بھی آپ کو شریک ہونا ہو گا اور سب دُنیا کی دشمنی آپ کو برداشت کرنی ہو گی اور وہی لوگ جو آج آپ کی باتوں پر مرحبا اور جزاک اللہ کے نعرے لگاتے ہیں آپ کو گالیاں دیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کی راہ میں گالیاں سننے سے زیادہ اور کونسا فخر میں کلام ہو سکتا ہے؟ خدا تعالیٰ کی خاطر ذلت برداشت کرنا، ہی اصل عزت ہے اور یہ بات حق کے قبول کرنے میں آپ کے لئے ہرگز روک نہیں ہونی چاہئے۔

لیکن اگر باوجود ان تمام دلائل اور براہین کے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمدؑ کی صداقت کے اظہار کے لئے نازل کئے ہیں ابھی آپ کو ان کی صداقت میں تر دّد ہے تو پھر میں آپ کو نصیحت کروں گا کہ بجائے ایک خطرناک راستہ پر قدم مارنے کے اور بلا تحقیق اور بلا کافی وجوہ کے ایک مدعی ماموریت پر حملہ آور ہونے کے آپ اپنی قادیان کی آمد کو غنیمت سمجھ کر اس تحقیق میں لگ جاویں جو قادیان سے باہر آپ نہیں کر سکتے تھے۔

مثلاً یہ کہ کیا ان لوگوں کے جو مولوی اور عالم کہلاتے تھے اور کہلاتے ہیں بیانات درست ہیں

جنہیں وہ آپ کے خاندان کے متعلق شائع کر کے لوگوں کو آپ پر بدظن کرتے تھے کیا فی الواقع آپ کا خاندان قادیان اور اس کے اردگرد کے علاقہ میں اسی عزت کا مستحق نہیں رہا جو آپؐ نے اپنی کتابوں میں تحریر فرمائی ہے؟ اور پھر یہ سوچیں کہ جس شخص کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کے لئے بعض علماء کو اس قدر عرقریزی کرنی پڑی کہ جھوٹ سے بھی پرہیز نہ کیا۔ کیا وہ اپنی شان میں اس قدر بالا نہ تھا کہ حق کے ذریعے سے اس پر حملہ نہیں کیا جا سکتا تھا؟ پھر یہ بھی لوگوں سے دریافت کریں کہ کیا آپؐ کی ذاتی وجاہت ایسی ہی گری ہوئی تھی جیسی کہ آپؐ کے مخالف علماء بیان کیا کرتے ہیں؟ اور اس سے نتیجہ نکالتے ہیں کہ آپ نے دنیاوی فوائد کا کوئی راستہ کھلا نہ دیکھ کر مذہبی پیشوائی کی تجویز نکالی؟ اور اگر واقعات اور شہادت سے اس الزام کو سراسر جھوٹ پائیں تو واپس جا کر ان علماء کو خاص طور پر ملیں جو اس قسم کی باتیں آپ کی نسبت لکھا کرتے ہیں اور بیان کیا کرتے ہیں اور ان سے کہیں کہ آپ لوگ اس قدر جھوٹ بول کر اور افتراء سے کام لے کر اسلام کو بدنام نہ کریں اور کچھ تو عالم کہلا کر اپنے نام کی لاج رکھیں اور سچ سے بھی کام لیا کریں۔

اسی طرح آپ اس معیار قرآنی کی تحقیق کریں جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت قرآنی میں بیان فرمایا ہے قُلۡ لَّوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا تَلَوۡتُہٗ عَلَیۡکُمۡ وَلَاۤ اَدۡرٰٮکُمۡ بِہٖ ۫ۖ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ(یونس: ۱۷) یعنی ان سے کہہ دے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو میں ہرگز اس تعلیم کو تمہارے سامنے پیش نہ کرتا اور نہ اللہ ہی اس تعلیم کو تمہارے لئے ظاہر کرتا تم خود ہی غور کر کے دیکھ لو کہ اس سے پہلے ایک عمر میں نے تم لوگوں میں گزاری ہے کیا اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ سکتا ہوں۔ اگر میری گذشتہ زندگی صاف طور پر بتا رہی ہے کہ میں جھوٹ سے بکلی پر ہیز کرنے والا اور سچ کو کسی حالت میں چھوڑنے والا نہیں ہوں تو پھر سوچو کہ تم کیا کہہ رہے ہو اور میری تکذیب میں کہاں تک حق بجانب ہو۔ اس معیار صداقت کی آپ لوگ باہراس طرح تحقیق نہیں کر سکتے جس طرح کہ قادیان میں۔ پس تعصب اور ضد کو اپنے دل سے دور کر کے اس معیار کی آپ لوگ اچھی طرح تحقیق کریں اور دیکھیں کہ کیا فی الواقع آپ دعویٰ سے پہلے ہر مذہب وملت کے لوگوں کی نظروں میں اعلیٰ درجہ کے راستباز اور سچے تھے یا نہیں۔ قادیان اور اس کے گرد و نواح میں ہندو بھی بستے ہیں اور سکھ بھی اور آریہ بھی اور غیر احمدی بھی اور سب مذہبوں کے پیروؤں میں ایسے لوگ زندہ موجود ہیں جو آپ کی جوانی سے بلکہ بعض تو بچپن سے بھی آپ کے حالات سے واقف ہیں ان سے آپؐ کی زندگی کے حالات دریافت کیجئے۔ قادیان کے آریہ صاحبان میں سے لالہ بڈھے مل صاحب ہیں جو شروع سے آپؐ کی مخالفت پر آمادہ رہے ہیں ان سے دریافت کیجئے لالہ ملاوامل صاحب ہیں جو اکثر آپؐ کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے ان سے پوچھئے ، سناتن دھرمیوں میں سے پنڈت جے کشن صاحب ہیں ان سے دریافت کیجئے، سکھ صاحبان میں سے بھائی بوڑ سنگھ اور بھائی گنیشا سنگھ ، بھائی بھگوان سنگھ صاحبان، غیر احمدیوں میں سے میاں امام الدین صاحب برادر میاں شادی صاحب قوم کشمیری و میاں علی بخش صاحب نائی ، نواب راجپوت ، چراغ شاہ قریشی ، نکو ارائیں ، حسینا راجپوت ۔ پاس کے گاؤں والوں سے مثلاً کالمواں کے بھائی جھنڈا سنگھ صاحب سے اور بٹالہ کے شرفاء سے دریافت کیجئے مگر حلفی بیان لیجئے اور پھر سوچئے کہ کیا اس قسم کے راستباز انسان کی نسبت یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جھوٹا تھا۔ رات کو تو وہ راستی اور صداقت کا مجسمہ بن کر بیٹا اور صبح جھوٹ اور افتراء کا پُتلا بن کر اُٹھا۔ کیا سچ کے لئے تکلیف اُٹھانے والوں اور نقصان برداشت کر کے بھی حق نہ چھوڑنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہی بدلا ملا کرتا ہے کہ ان کو دجال اور مفسدین بنا دیا جایا کرتا ہے اور انکے ایمان کو سلب کر دیا جاتا ہے ؟ اور اگر ایسا ممکن ہے تو پھر قرآن کریم کی آیت مذکورہ کا کیا مطلب ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر راستبازوں کی راستبازی کا کیا ثبوت ہے ؟ اسی طرح آپ لوگ قادیان کے باشندوں اور اردگرد کے لوگوں سے یہ بھی دریافت کریں کہ دعویٰ کے بعد بھی دنیاوی معاملات میں وہ لوگ مرزا صاحب کو کیا سمجھتے تھے سچا یا جھوٹا ؟ دنیاوی معاملات کی شرط میں اس لئے لگاتا ہوں کہ جب مخالفت ہو جاتی ہے تو جس امر میں مخالفت ہوتی ہے اس میں عام طور پر کمزور طبع لوگوں کو اپنے جوشوں کو حد کے اندر رکھنے کی طاقت حاصل نہیں ہوتی اور اختلاف کی وجہ سے دوسروں کی اچھی بات بھی ان کو بُری معلوم ہوتی ہے اور جب اس تحقیق کے بعد بھی اسی نتیجہ پر پہنچیں کہ حضرت مرزا صاحب کی زندگی بے لوث اور صادقوں کی زندگی تھی تو سمجھ لیں کہ ان پر جس قدر الزامات بعض مولوی صاحبان لگاتے ہیں وہ صرف ضد اور تعصب کا نتیجہ ہیں ان کی حقیقت کچھ نہیں۔ کیونکہ یہ بات عقل میں نہیں آسکتی کہ ایک شخص کی زندگی شروع سے لے کر آخر تک صدق و راستی کا نمونہ ہو لیکن آخری عمر میں وہ اس بات کا عادی ہو جائے کہ دین کے معاملہ میں اور اللہ تعالیٰ کے متعلق وہ جھوٹ بولنے لگ جائے اگر یہ ممکن ہو تو قرآن کریم کی سچائی مشتبہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر حرف آتا ہے ۔ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ ۔

اسی طرح آپ لوگ اپنے ورودِ قادیان سے فائدہ اُٹھا کر یہ تحقیق بھی کریں کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحبؒ

نے جو اپنے دعویٰ کے ثبوت میں آیت فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(الجن: ۲۷-۲۸) کو پیش کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کثرت سے غیب کی خبریں سوائے اپنے رسولوں کے دوسروں کو نہیں بتایا کرتا اور پھر اپنی بہت سی پیشگوئیوں کا ذکر کر کے قادیان کے ہندوؤں، سکھوں اور ان مسلمانوں میں سے جو آپ کے مخالف ہیں بعض کو بطور گواہ پیش کیا ہے آیا وہ لوگ حضرت مرزا صاحب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بات کی تصدیق کرتے ہیں یا اس سے انکار کرتے ہیں؟ اس وقت بھی ان گواہوں میں سے کئی آدمی زندہ موجود ہیں جو نہ صرف یہ کہ احمدی نہیں بلکہ احمدیت کے سخت دشمن ہیں ان سے آپ لوگ حلفیہ طور پر حضرت مسیح موعودؑ کے بیان کے متعلق شہادت لے سکتے ہیں اور اگر وہ لوگ شہادت دینے سے انکار کریں یا آپ کے بیان کی تصدیق کریں تو پھر آپ لوگ غور کریں کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ جھوٹوں پر بھی کثرت سے غیب کی خبریں ظاہر کرے اور قرآن کریم کی آیت فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(72:27-28) کو اپنے فعل سے جھوٹا کر دے؟ میں ان لوگوں میں سے جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شہادت کے طور پر پیش کیا ہے خصوصیت کے ساتھ لالہ ملاوامل صاحب کو پیش کرتا ہوں وہ آریہ ہیں اور ان کا خاندان قادیان میں آریہ مت کے قیام کے لئے خاص طور پر جوش رکھتا ہے۔ ان کو حضرت مسیح موعودؑ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب کے وہ حوالہ جات سنا کر جن میں انہوں نے لالہ صاحب کی شہادت کو پیش کیا ہے آپ کی مقرر کردہ حلف کے مطابق پوچھا جائے کہ کیا فی الواقع وہ ان باتوں کی تصدیق کرتے ہیں یا نہیں؟ اور جب آپ دیکھیں کہ لوگ شہادت سے جی چراتے ہیں یا یہ کہ دبی زبان سے ان امور کی تصدیق کرتے ہیں تو پھر سمجھ لیں کہ وہ مولوی جنہوں نے یہ وطیرہ اختیار کیا ہوا ہے کہ تقویٰ اور دیانت کو ایک طرف رکھ کر بعض متشابہات کی بناء پر جن کا وجود ہر نبی کی پیشگوئیوں میں پایا جاتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اعتراض کرتے رہتے ہیں کہاں تک حق بجانب ہیں اور ان کے اس خطرناک رویہ سے بیزاری کا اظہار کر کے خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہیں اور خود ہدایت پائیں اور دوسروں کے لئے ہدایت کا موجب بنیں۔ اسی طرح آپ قادیان کے لوگوں سے قادیان کی وہ حالت جو آج سے تیس سال پہلے تھی دریافت کریں اور پھر ایک طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے وعدہ کئے تھے ان کو دیکھیں اور قرآن کریم کی آیات وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰی(طٰہٰ: ۶۲) جس نے جھوٹ باندھا وہ ناکام و نامراد رہ گیا اور وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا(6:22) اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ(الانعام: ۲۲)۔ (اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جس نے اللہ تعالیٰ پر افتراء کیا یا اس کے نشانوں کو جھٹلایا تحقیق ظالم کامیاب نہیں ہوا کرتے) پر غور کریں اور دوسری طرف آپ کے سلسلہ اور کام میں جو روز افزوں ترقی ہو رہی ہے اس کو دیکھیں اور سوچیں کہ آیا یہ نصرت کبھی کسی مفتری علی اللہ کو ملی ہے اور پھر خاص کر اس قدر تحدی کی پیش گوئیوں کے بعد۔

اگر اس طریق پر آپ عمل کریں گے تو میں اللہ تعالیٰ سے یقین رکھتا ہوں کہ وہ آپ پر حق کھول دیگا اور آپ امام وقت کی مخالفت سے بچ جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا(العنكبوت: ۷۰)، جو لوگ ہمارے راستہ میں ہمارے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق کوشش کرتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنے سچے راستوں کی طرف راہنمائی کر دیتے ہیں لیکن اگر اس طریق سے آپ لوگوں کی تسلی اور تشفی نہ ہو یا آپ اس طریق پر عمل کرنا اپنی کسرِ شان سمجھیں تو پھر ایک اور طریق بھی ہے اور وہ یہ کہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ایک عام جلسہ کیا جائے جس میں ایک نمائندہ آپ لوگوں کی طرف سے ہو اور ایک احمدیوں کی طرف سے اور مسائل مختلفہ پر تبادلہ خیالات ہو جائے اس تبادلہ خیالات کی غرض مباحثہ اور مناظرہ نہ ہو بلکہ حق کی تلاش اصل مقصد ہو۔ آپ کا نمائندہ بھی اور احمدیوں کا نمائندہ بھی قسم کھائے کہ میں جو کچھ کہوں گا سچ سچ کہوں گا اور ضد اور ہٹ نہیں کروں گا جو بات مجھے اپنی کمزور معلوم ہو گی اس کا اقرار کر لینے میں مجھے عذر نہ ہوگا اور اس پر میں اصرار نہیں کروں گا۔ اسی طرح سننے والوں کو بھی دونوں ہدایت کریں کہ یہ دین کا معاملہ ہے۔ ہم قیامت کے دن آپ کے جواب دہ نہیں ہو سکتے۔ آپ لوگ اپنی خداداد عقل سے کام لیں اور جو بات آپ کو سچی معلوم ہو اس کے قبول کرنے سے جھجکیں نہیں اور یہ خیال دل سے نکال دیں کہ ہمارا مولوی جیت گیا یا دوسرا مولوی جیت گیا۔ مذہبی اختلاف جوئے بازی نہیں کہ اس میں جیت ہار کا فیصلہ کیا جائے ۔ ہر شخص نے مر کر خدا تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہونا ہے اگر ایک منٹ کی خوشی کے لئے بندہ اسے ناراض کر دے تو اس سے زیادہ جہالت اور کیا ہو گی۔ اس نیت اور ارادہ کے بعد جو تبادلہ خیالات ہو گا میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ انشاء اللہ تعالیٰ بہت مفید ثابت ہوگا اور بہتوں کے لئے موجبِ ہدایت ہوگا۔

میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے بہت سے لوگ اپنے دلوں میں یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ مرزا صاحب نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ اپنے دعویٰ میں جھوٹے تھے مگر آپ لوگ اس امر پر بھی غور کریں کہ جب تک

زبردست دلائل اور خدا کی تائید ساتھ نہ ہو انسان اپنے فیصلہ میں غلطی کرسکتا ہے۔ ابھی دیکھئے ایک سال کے قریب ہی عرصہ ہوا کہ قریباً تمام علماء نے یہ فتویٰ دے دیا تھا کہ ہندوستان دارالحرب ہے اور اب یہاں سے ہجرت کر جانا چاہئے۔ کس شان سے ہجرت کی تیاریاں ہوئیں مگر پھر کیا انجام ہوا؟ شریعت کی بناء پر یہ فیصلہ دیا گیا تھا وہ شریعت اب بھی اسی طرح موجود ہے اور وہ حالات بھی اب تک موجود ہیں مگر ہجرت کا حکم منسوخ کرنا پڑا ۔ یہ جلد بازی کا نتیجہ تھا میں نے اس وقت بھی کہہ دیا تھا کہ یہ کام اچھا نہیں اور اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے اس کا انجام اچھا نہ ہوگا اور دشمنوں کو اس پر ہنسی کا موقع ملے گا چنانچہ اسی طرح ہوا۔

اسی طرح نان کو آپریشنکا فیصلہ تمام ہندوستان کے علماء نے آیات قرآنیہ کی بناء پر کیا اور بعض کے نزدیک تو گویا سارا قرآن کریم ہی اسی غرض سے نازل ہوا تھا مگر باوجود اس کے اب تک سرکار کا کوئی دفتر یا کوئی محکمہ خالی نہیں ہوا بلکہ خود مفتیان اپنی اغراض و مقاصد کے لئے سرکار سے تعلقات قائم کرتے ہیں اور خود اپنے بیان کردہ فتویٰ کے خلاف کررہے ہیں۔ یہ جوش بھی اب کم ہو رہا ہے اور تھوڑے دنوں میں جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا اور صرف اس قدر اثر اس کا باقی رہ جائے گا کہ دشمنانِ اسلام اسلام کے خلاف اس فتویٰ کو پیش کرتے رہیں گے۔ اس کے متعلق بھی میں نے بڑے زور سے مسلمانوں کو نصیحت کی تھی لیکن گو اس وقت ان کو وہ نصیحت بُری معلوم ہوئی مگر آج بہت سے لوگوں کے دل اس کی قدر محسوس کررہے ہیں اور آئندہ اور بھی کریں گے۔

غرض انسان غلطی سے پاک نہیں ہے اور غلطیاں اس سے ہو جاتی ہیں۔ پس اس امر میں بھی آپ کو اس قدر اصرار سے کام نہیں لینا چاہئے اور سچے دل سے غور کرنا چاہئے تا ایسا نہ ہو کہ اس نعمت سے جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لئے اُتاری ہے آپ محروم رہ جائیں۔

اگر یہ صورت فیصلہ بھی آپ کو منظور نہ ہو تو پھر ایک اور صورت میں پیش کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کے حکم کے مطابق فَقُلۡ تَعَالَوۡا نَدۡعُ اَبۡنَآءَنَا وَاَبۡنَآءَکُمۡ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَکُمۡ وَاَنۡفُسَنَا وَاَنۡفُسَکُمۡ ۟ ثُمَّ نَبۡتَہِلۡ فَنَجۡعَلۡ لَّعۡنَتَ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰذِبِیۡنَ(اٰل عمران: ۶۲) مباہلہ کر لیا جائے۔ میں یہ تجویز غصہ اور رنج کے ساتھ نہیں بلکہ بنی نوع انسان کی ہمدردی کو مدنظر رکھ کر پیش کر رہا ہوں اور امید ہے کہ آپ لوگ بھی اس کو اسی نظر سے دیکھیں گے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہم لوگ رحیم نہیں ہو سکتے پس اگر بعض حالات میں آپ کو بھی

اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اختلاف فی مابین کو مباہلہ کے ذریعہ سے مٹانے کی کوشش کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم لوگ اگر تمام باقی تدابیر کو بے فائدہ پائیں یا بے اثر دیکھیں تو اس تدبیر کے ذریعہ سے حق کے اظہار کی کوشش کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ذریعہ سے ایک فریق ہلاکت کی زد کے نیچے آجائے گا مگر چند آدمیوں کی قربانی سے اگر ہزاروں لاکھوں انسانوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہو تو اس قربانی کو گراں نہیں سمجھنا چاہئے۔ یہ خیال درست نہیں کہ کیوں خدا تعالیٰ سے نیکی نہ مانگی جائے اور اس کے عذاب کو طلب کیا جائے اگر وہ ہلاک کر سکتا ہے تو ہدایت بھی تو دے سکتا ہے کیونکہ ہدایت دینے کی طاقت اللہ تعالیٰ میں اب نہیں پیدا ہوئی بلکہ وہ ہمیشہ سے ہادی ہے مگر باوجود اس کے اس نے بعض حالات میں مباہلہ کی اجازت دی ہے۔ پس معلوم ہوا کہ بعض حالات میں مباہلہ ہی فیصلہ کا آسان ذریعہ ہوتا ہے اگر صرف دُعا ہی فیصلہ کا ذریعہ ہوتا تو وہ اپنے رسولؐ کو جو رحمتِ مجسم تھا کبھی مباہلہ کی اجازت نہ دیتا پس جب اور کسی طرح فیصلہ نہ ہو تو مباہلہ فیصلہ کا بہترین ذریعہ ہے۔ امّت محمدیہؐ ہمیشہ سے اس طریقِ فیصلہ کو صحیح سمجھتی آئی ہے اور اس پر عمل کرتی چلی آئی ہے۔ چنانچہ خود صحابہ میں سے بعض نے مباہلہ کے ذریعہ سے فیصلہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے اور امام ابن قیمؒ کا مباہلہ مشہور ہے۔ اس وقت کے علماء بھی مختلف موقعوں پر مباہلہ کے لئے دوسروں کو چیلنج دیتے رہے ہیں اور چیلنج قبول بھی کرتے رہے ہیں پس یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مباہلہ نا جائز ہے یا مباہلہ طریقِ فیصلہ نہیں کیونکہ اگر مباہلہ نا جائز ہے تو پھر کیوں ہمیشہ سے مسلمان اس کو جائز سمجھتے آئے ہیں اور کیوں اس وقت کے علماء بھی ایک دوسرے کو مباہلہ کا چیلنج دیتے رہے ہیں اور اگر یہ طریقِ فیصلہ کا طریق نہیں تو قرآنِ کریم نے اس طریق کو کیوں پیش کیا ہے۔

بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ پہلے مباہلہ کا نتیجہ معیّن ہو جائے پھر مباہلہ ہو سکتا ہے مگر یہ لوگ اس قدر نہیں سمجھتے کہ وہ طریق معیّن کون کرے مباہلہ کے معنی تو یہ ہوتے ہیں کہ دو فریق دُعا کرتے ہیں کہ خدا جھوٹے پر لعنت کرے اور اس پر عذاب نازل کرے پس یہ کس طرح جائز ہے کہ ایک فریق دوسرے سے پوچھے کہ کیا عذاب آئے گا اگر دوسرے فریق پر واجب ہے کہ عذاب کی تعیین کرے تو اس پر بھی تو واجب ہے کہ عذاب کی تعیین کرے کیونکہ مباہلہ کرنے میں دونوں برابر ہیں بعض لوگ یہ کہا کرتے ہیں کہ مباہلہ کا نتیجہ یہ نکلنا چاہئے کہ جھوٹا سؤر اور بندر بن جائے اور اسی وقت عذاب نازل ہو کر ہلاک ہو جائے۔ پس اگر احمدی اس بات کا اعلان کریں کہ ہم بندر بن جائیں گے اور اسی وقت آسمان سے آگ نازل ہو کر ہمیں جلا دے گی تب ہم مباہلہ کرتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ یہ نہیں دیکھتے

کہ اگر احمدیوں کے سچا ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان کے مد مقابل کے لوگ مباہلہ کے بعد بندر اور سؤر بن جائیں اور اسی وقت آسمان سے بجلی گر کر ان کو جلا دے تو پھر یہ بھی تو ضروری ہے کہ اگر دوسرا فریق سچا ہے اور احمدی جھوٹے ہیں تو مباہلہ کے بعد احمدی بندر اور سؤر بن جائیں اور فوراً آسمان سے بجلی گر کر ان کو ہلاک کر دے۔ قرآن کریم سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو گا اس پر عذاب آئے گا نہ یہ کہ ایک فریق اگر جھوٹا ہو گا تو اس پر عذاب آئے گا دوسرا فریق خواہ جھوٹا بھی ہو اس پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔

بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر ہمیں نزلہ یا زکام ہوا تو آپ کہہ دیں گے کہ مباہلہ کے نتیجہ میں ایسا ہوا۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ نزلہ اور زکام صرف انہی کو تو نہیں ہوتا ہمیں بھی ہوتا ہے اگر ان کے نزلہ اور زکام کو ہم مباہلہ کا نتیجہ قرار دیں گے تو کیا وہ ہمارے نزلہ اور زکام کو نہیں پیش کر سکیں گے اور نہیں کہہ سکیں گے اگر یہ مباہلہ کا نتیجہ ہے تو یہ نتیجہ تو تمہیں بھی بھگتنا پڑا ہے۔

غرض مباہلہ کا اثر چونکہ دونوں میں سے جو جھوٹا ہو اس پر پڑتا ہے نہ کہ صرف ایک فریق پر اس لئے دونوں فریق کے حالات مساوی ہیں اور اس سے انکار کرنے کی کوئی وجہ نہیں مباہلہ کے بعد اگر دونوں فریق سے کوئی بھی بندر، سؤر نہ بنایا فوراً آگ نازل ہو کر اس نے کسی فریق کو نہ جلا دیا تو ماننا پڑیگا کہ جو لوگ سمجھتے تھے کہ مباہلہ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جھوٹا بندر اور سؤر بن جاتا ہے اور اسی وقت جلا دیا جاتا ہے اس کی غلطی تھی مباہلہ کا یہ نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ جس رنگ میں چاہے عذاب نازل کر دیتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ مباہلہ کے متعلق جس قدر شبہات ہیں بے بنیاد ہیں اور چونکہ اس کا اثر جو جھوٹا ہو اس پر پڑتا ہے نہ صرف ایک پر اس لئے دونوں فریق کے حقوق اس میں مساوی ہیں اور کسی کو عذر کی گنجائش نہیں۔ پس بہتر یہ ہے کہ اگر دوسرے طریق فیصلہ کے جو میں نے پیش کئے ہیں آپ لوگوں کو منظور نہ ہوں یا ان کا کوئی نتیجہ نہ نکلے تو فساد کے مٹانے کے لئے اس طریق سے فیصلہ کی کوشش کی جائے تاکہ ان لوگوں کو جو قوت فیصلہ نہیں رکھتے فیصلہ کرنے میں مدد ملے۔ یہ موقع نہایت عمدہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں بھی اور آپ لوگوں کو بھی ایک جگہ جمع کر دیا ہے اور سینکڑوں آدمی دونوں فریق کے ایک جگہ جمع ہیں ہر قسم کا انتظام اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہو سکتا ہے۔

بالآخر میں دوبارہ پھر آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگ اپنی ہی جانوں کے ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ ہزاروں آدمی جو آپ کے اقوال کو خدا اور رسول کا کلام سمجھ کر آپ کی بات کو تسلیم کر لیتے ہیں ان کے اعمال کے بھی آپ ذمہ دار ہیں۔ پس دیانت اور تقویٰ چاہتا ہے کہ آپ بہت سوچ سمجھ کر قدم اُٹھائیں اور ہار جیت کے خیال کو دل سے بالکل نکال دیں۔ میں آپ سے سچ سچ کہتا ہوں اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں حضرت مرزا صاحب کے دعوے کو یقین کے ساتھ صحیح سمجھتا ہوں اور قرآنِ کریم کے بتائے ہوئے معیاروں کے مطابق اسے درست پاتا ہوں اور میں نے اس کی صداقت کے نشان اپنے اندر بھی پائے ہیں اور اپنے اردگرد بھی مشاہدہ کئے ہیں۔ میں نے آپ پر ایمان لا کر اللہ تعالیٰ کی زبردست قدرتوں کا مشاہدہ کیا ہے اور میں آپ پر علیٰ وجہ البصیرت ایمان لایا ہوں نہ صرف دلائلِ عقلیہ سے بلکہ مشاہداتِ یقینیہ کی بناء پر اور میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ لوگ بھی اپنے نفسوں میں اللہ تعالیٰ کے نشانات کو اسی طرح دیکھتے ہیں اور اس کی نصرت کو اسی طرح پاتے ہیں۔ اگر یہ بات نہیں اور آپ لوگ اپنے اور خدا تعالیٰ کے درمیان ایک دیوار حائل دیکھتے ہیں اور اس کی تائید اور نصرت کو اپنی ذات کے لئے مشاہدہ نہیں کرتے تو پھر سمجھ لیں کہ آپ کا انجام خطرہ میں ہے آپ خود بھی ایسی زمین پر چل رہے ہیں جس کا حال آپ کو معلوم نہیں اور ان لوگوں کو بھی اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں جو آپ پر اعتبار کر کے اندھادھند آپ کے پیچھے چلے جا رہے ہیں۔

آخر میں میں اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ آپ لوگوں کو ہدایت دے اور وقت کے امام کی شناخت کی توفیق عنایت فرمائے اور آپ کے دلوں میں خشیت پیدا کرے اور دین کو کھیل اور تماشہ بنانے سے آپ کو بچائے اور اپنے بندوں پر رحم کر کے اسلام کے لئے ان کے دل کھول دے۔

اَللّٰھُمَّ اٰمِیْن

خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی، ۲۵؍مارچ ۱۹۲۲ء